رئیس قادیان · مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری
Raees Qadiyan · Rafeeq Dilavri
PDF 1

رئیس قادیان

آنجہانی مرزا قادیانی کے

مستند حالات

ابوالقاسم مولانا رفیق دلاوری

PDF 2

قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی :

اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ

رئیسِ قادیان

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے مستند حالات

جلد اول

تالیف :

ابوالقاسم مولانا رفیق دلاوریؒ

عالمی مجلسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت

رجسٹرڈ

حضوری باغ روڈ

ملتان

پاکستان

صفحہ 3

فہرست مضامین ”رئیس قادیاں“ جلد اول

عنوان صفحہ

صفحہ 4

باب ۲۰ دعوائے مجددیت ۱۴۱ باب ۲۱ حکیم نور الدین کی ملاقات کے لیے جموں کا سفر ۱۴۴ باب ۲۲ دوسری شادی ۱۴۸ باب ۲۳ غیر مسلم رؤساء و مقتدایان مذاہب کو معجزہ دیکھنے کی دعوت ۱۵۹ باب ۲۴ قادیاں کے یک سالہ قیام پر پنڈت لیکھ رام کی آمادگی ۱۶۴ باب ۲۵ پنڈت لیکھ رام قادیاں میں ۱۷۳ باب ۲۶ قادیاں کے یک سالہ قیام پر منشی اندر من کی رضامندی ۱۷۷ باب ۲۷ قادیانی ہندو رؤساء کے وفد کا مطالبہ اعجاز نمائی ۱۸۰ باب ۲۸ دس بیگاری ہندوؤں کی طرف سے اعجاز نمائی کی جعلی درخواست ۱۸۱ باب ۲۹ غلام احمد کی شخصیت کے متعلق مرزا امام الدین کا اعلان ۱۸۶ باب ۳۰ دوسری شادی کے بعد مزید نکاح کرنے کے متواتر الہامات ۱۸۸ باب ۳۱ عم زاد بھائیوں کی نسل منقطع ہونے کی پیشین گوئی ۱۹۲ باب ۳۲ ”سراج منیر“ اور دوسرے رسالوں کی اشاعت کے سبز باغ ۱۹۵ باب ۳۳ ہوشیار پور میں چلہ کشی ۲۰۲ باب ۳۴ ہوشیار پور میں لالہ مرلی دھر آریہ سے مناظرہ ۲۰۵ باب ۳۵ رسالہ ”سرمہ چشم آریہ“ کی اشاعت ۲۰۹ باب ۳۶ الہامی فرزند عمانوائیل کے تولد کی پیشین گوئی ۲۱۲ باب ۳۷ علمائے موافقین کی ہمدردانہ نصیحت ۲۳۱ باب ۳۸ محمدی بیگم سے شادی کرنے کی پیشین گوئی ۲۳۲ باب ۳۹ ہندو دوستوں پر عینی شاہد ہونے کا افتراء ۲۵۳ باب ۴۰ مسیح زماں کے سودی قرضہ کا افشائے راز ۲۵۶ باب ۴۱ مسیح قادیاں کا نام نادہند خریداروں کی فہرست میں ۲۵۸ باب ۴۲ قادیاں میں ذاتی مطبع قائم کرنے کی حیلہ گری ۲۵۹ باب ۴۳ امام زادہ کی صحت کا الہام ۲۶۴ باب ۴۴ قادیاں سے ہجرت کر جانے کا اعلان ۲۶۵

صفحہ 5

باب ۴۵ حکیم نور الدین صاحب کی دوسری شادی ۲۶۹

باب ۴۶ ہندو سوالوں کے جوابات کا مطالبہ ۲۷۳

باب ۴۷ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے انتقال کی پیشین گوئی ۲۷۶

باب ۴۸ مرزا سلطان محمد کے ہلاک ہونے کی پیشین گوئی ۲۸۰

باب ۴۹ مرزا سلطان محمد کی مدت حیات میں کرم گسترانہ توسیع ۲۸۵

باب ۵۰ مرزا محمود احمد کے تولد کی پیشین گوئی ۲۸۷

باب ۵۱ اخذ بیعت کا عام اعلان ۲۸۹

باب ۵۲ علی گڑھ کا سفر اور اپنی عجز بیانی پر پردہ ڈالنے کی کوشش ۲۹۰

باب ۵۳ دعوائے مماثلت مسیح علمی لغویت ۲۹۳

باب ۵۴ مسیح علیہ السلام کے صلیب دیے جانے میں یہود و نصاریٰ کی ہمنوائی ۲۹۷

باب ۵۵ سرسید احمد خان علی گڑھی کی شاگردی ۳۰۱

باب ۵۶ مولوی محمد حسین بٹالوی سے کشیدگی ۳۰۴

باب ۵۷ حکومت برطانیہ کے زوال کی ہشت سالہ پیشین گوئی ۳۰۷

باب ۵۸ ڈاکٹر جگن ناتھ سول سرجن سے حکیم نور الدین کی شرط اعجاز نمائی ۳۱۲

باب ۵۹ تدبیروں کی نارسائی اور آسمانی منکوحہ سے مرزا سلطان محمد کی شادی ۳۲۰

باب ۶۰ پہلی بیوی کی تعلیق اور خانہ بربادی ۳۲۲

باب ۶۱ رئیس قادیاں کا مخدوم دہلی مولانا نذیر حسین کو دعوت مناظرہ ۳۲۸

باب ۶۲ مولوی محمد بشیر سہسوانی سے مناظرہ ۳۳۱

باب ۶۳ میر عباس علی لدھیانوی کا داغ مفارقت ۳۴۴

باب ۶۴ علمائے ملت سے نشان صدق دکھانے کا مطالبہ ۳۴۹

باب ۶۵ ایک صوفی صاحب کی طرف سے قادیانی چیلنج کا کلہ توڑ جواب ۳۵۱

باب ۶۶ شاہ نعمت اللہ کی پیشین گوئی میں مفید مطلب قطع و برید ۳۵۶

باب ۶۷ مولوی غلام دستگیر قصوری کے مقابلہ سے فرار ۳۶۱

صفحہ 6

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

دیباچہ

الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ و السلام علی خیر خلقہ سیدنا محمد خاتم النبیین واٰلہ وصحبہ اجمعین جن حضرات نے خاکسار راقم الحروف کی کتاب ”آئمہ تلبیس“ کا مطالعہ فرمایا ہے‘ ان سے یہ حقیقت مخفی نہ ہوگی کہ ملت اسلام پر کسی صدی کا شاید کوئی ربع ایسا نہیں گزرتا‘ جس میں تقدس و کبریائی کا کوئی نہ کوئی دکاندار ظاہر ہو کر عامتہ المسلمین کے لیے ایک فتنہ عظیم نہ بن جاتا ہو۔ ہمارے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی بھی انہیں فتنوں کی یادگار ہیں۔ چونکہ قادیانی صاحب ہمیشہ یہ پروپیگنڈہ کرتے رہے کہ نجات آخرت کا مدار میرے اتباع پر ہے جو کوئی مجھے مہدی اور مسیح نہیں مانتا‘ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے‘ اس لیے ہر مسلمان کو حق پہنچتا ہے کہ مرزائی تعلیموں پر تبصرہ کرے اور ان دعووں کو واقعات کی روشنی میں پرکھے۔

گزشتہ نصف صدی میں فتنہ مرزائیت کے خلاف ہزاروں لاکھوں کتابیں شائع ہوئیں‘ لیکن کسی مصنف نے خود داعی مذہب کے پوست کندہ حالات لکھ کر قادیانی لن ترانیوں کا طلسم نہ توڑا اور اس طرح قادیانی تقدس کی دسیسہ کاریاں پردہ خفا میں پڑی رہیں۔ حالانکہ اگر قادیانی دکان آرائی کے صحیح واقعات منظر عام پر آجاتے تو پھر کسی اختلافی مسئلہ پر بحث و مناظرہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی۔ انجام کار خاکسار راقم الحروف نے اس ضرورت کا احساس کیا اور موفق حقیقی نے اپنی رحمت نوازی سے اس عاجز کو اس کام کی طرف متوجہ کردیا۔ چنانچہ اس احقر العباد نے قریباً ڈیڑھ سال کی محنت شاقہ کے بعد قادیانی سوانح حیات مدون کئے‘ جن کو تین جلدوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔

میں نے ابواب کی ترتیب میں عموماً واقعات کی ترتیب کا لحاظ رکھا ہے‘ البتہ بعض ضرورتوں اور مناسبتوں کے لحاظ سے کہیں اس کے خلاف بھی کر دیا ہے۔ مثلاً ”وہ چند ابواب جو جلد کے آخر میں درج ہیں اور جن کو وقوع کے لحاظ سے دوسری جلد میں جگہ ملنی چاہیے تھی۔ اندراج میں مقدم کر دیئے گئے ہیں۔ ترتیب موعود کو نظر انداز کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ چند ایسے ابواب جن کو باہم مناسبت رکھنے کی وجہ سے ایک ہی مقام پر درج کرنا مناسب تھا‘ ان کے لئے پہلی

صفحہ 7

جلد میں قاطبتہ گنجائش نہ رہی‘ اس لئے ان کی جگہ دوسری جلد کے چند ابواب پہلی جلد کے آخر میں درج کر کے ان کو دوسری جلد کے لئے ملتوی و موخر کر دیا۔

مرزائیوں نے از راہ نادانی اپنے مقتداء کو ”سلطان القلم“ کا لقب دے رکھا ہے حالانکہ وہ اردو کی دس سطریں بھی صحت کے ساتھ نہ لکھ سکتے تھے۔ میں نے اس کتاب میں کہیں کہیں ”مسیح صاحب“ کی عبارتوں کو درست کر دیا ہے لیکن اکثر جگہ ان کو بلا اصلاح ہی چھوڑ دیا ہے۔ مرزا جی میں ایک سقم یہ تھا کہ تحریر میں بڑے طوالت پسند تھے۔ جو مقصد دو تین سطروں میں بسہولت ادا ہو سکتا ہے‘ اس کے اظہار میں نصف صفحہ سیاہ کر ڈالتے تھے۔ اس لیے میں نے بعض جگہ ان کی پوری عبارتیں درج نہیں کیں‘ بلکہ ان کا خلاصہ‘ مفہوم یا ضروری اقتباس لے لیا ہے‘ کیونکہ اگر طول لاطائل سے احتراز نہ کیا جاتا تو کتاب کی ضخامت بے کار بڑھ جاتی۔

خاکسار ابوالقاسم رفیق دلاوری لاہور

صفحہ 8

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

پیش لفظ

الحمدللہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ‘ اما بعد

صحیح ابن حبان‘ مسند احمد اور ابن ماجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے:

عن ابی عنبۃ الخولانی رضی اللہ عنہ یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لا یزال اللہ یغرس فی ھذا الدین غرساً ”یستعملہم فی طاعتہ۔ (سنن ابن ماجہ‘ ص ۳

واللفظ لہ‘ مسند احمد‘ ص ۲۰۰ ج ۴‘ موارد الظمآن‘ ص ۵۰)

حضرت ابو عنبہ خولانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد خود آپ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس دین میں نئے نئے پودے لگاتے رہیں گے جن کو اپنی طاعت کے کام میں لگائے رکھیں گے۔

یعنی گلشن دین‘ قیامت تک سدا بہار رہے گا۔ جانے والوں کی جگہ اس میں نئے گل بوٹے لگتے رہیں گے اور اس کی سرسبزی و شادابی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اسلام کی پوری تاریخ گویا اس ارشاد نبوی کی شرح و تفسیر ہے۔ زمانے نے ہزاروں کروٹیں لیں‘ لیکن بحمد اللہ گلشن محمدی ہر دور اور ہر زمانے میں سرسبز و شاداب رہا اور اس کی تازگی و شادابی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ طالع آزماؤں نے جب بھی دین قیم میں رخنہ اندازی کی کوشش کی‘ حق تعالیٰ

صفحہ 9

شانہ نے دین کی پاسبانی کے لیے اپنے طاعت شعار مخلص بندوں کو کھڑا کر دیا جنہوں نے دین قیم کی حفاظت و پاسبانی کا حق ادا کر دیا اور اہل باطل کے دجل و فریب کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

حضرت مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ بھی اس گلشن نبوی کا مہکتا ہوا پھول تھے۔ موصوف دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ عالم حقانی اور سالک ربانی تھے۔ دیگر بہت سے کمالات کے علاوہ بلند پایہ ادیب اور صاحب قلم تھے۔ متعدد جرائد و مجلات سے وابستہ رہے۔ موصوف نے عنان قلم کو رد قادیانیت کی طرف موڑا تو ”ائمہ تلبیس“ اور ”رئیس قادیان“ جیسی گراں مایہ تصانیف ان کے قلم سے نکلیں۔ اول الذکر اسلامی تاریخ میں ابھرنے والے مدعیان کذاب کی تاریخ ہے اور موخر الذکر مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کے تاریخی سوانح کا مرقع ہے، جس میں مرزا قادیانی کے خاندانی حالات اور پیدائش سے لے کر اس کے دعاوی کے مدوجزر کو پوری تفصیل سے قلم بند کیا گیا ہے۔ حضرت مصنفؒ اس کی وجہ تالیف میں لکھتے ہیں:

”گزشتہ نصف صدی میں فتنہ مرزائیت کے خلاف ہزاروں لاکھوں کتابیں شائع ہوئیں، لیکن کسی مصنف نے خود داعی مذہب کے پوست کندہ حالات لکھ کر قادیانی لن ترانیوں کا طلسم نہ توڑا اور اس طرح قادیانی تقدس کی دسیس کاریاں پردۂ خفا میں پڑی رہیں، حالانکہ اگر قادیانی دکان آرائی کے صحیح واقعات منظر عام پر آجاتے تو پھر کسی اختلافی مسئلہ پر بحث و مناظرہ کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی۔ انجام کار خاکسار راقم الحروف نے اس ضرورت کا احساس کیا اور موفق حقیقی نے اپنی رحمت نوازی سے اس عاجز کو اس کام کی طرف متوجہ کر دیا، چنانچہ اس احقر العباد نے قریباً ڈیڑھ سال کی محنت شاقہ کے بعد قادیانی صاحب کے سوانح حیات مدون کیے، جن کو تین جلدوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے“۔

کتاب علمی و ادبی اعتبار سے نہایت وقیع ہے، جس کے مطالعہ سے مرزا قادیانی کی اصل حقیقت الم نشرح ہو جاتی ہے، اور اس کے تمام دعاوی کا طول و عرض معلوم ہو جاتا ہے۔

صفحہ 10

کتاب کی اہمیت کے پیش نظر ”عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا اور فوری اشاعت کے خیال سے قدیم نسخہ کا عکس شائع کر دیا۔ یہ عکسی ایڈیشن متعدد بار شائع ہوا‘ لیکن احباب کا مشورہ ہوا کہ کتاب کے شایان شان نسخہ کمپیوٹر سے شائع کیا جائے۔ بحمد اللہ! یہ اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ حتی الامکان اغلاط کی تصحیح کا اہتمام کیا گیا ہے‘ تاہم اگر کوئی مطبعی غلطی رہ گئی ہو تو اس کی اطلاع کی جائے‘ تاکہ آئندہ اشاعت بہتر سے بہتر شکل میں ہو۔

آخر میں اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ حضرت مصنفؒ کے مندرجہ بالا اقتباس کے مطابق کتاب کے تین حصے تھے‘ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ہمیں دو ہی حصے دستیاب ہو سکے‘ معلوم نہیں کہ تیسرا شائع ہی نہیں ہوا‘ یا ہمیں میسر نہیں آسکا۔ اگر کسی صاحب کے علم میں کتاب کا تیسرا حصہ موجود ہو تو ہماری رہنمائی فرما کر عنداللہ مشکور و ماجور ہوں۔ حق تعالیٰ شانہ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو حضرت مصنفؒ کے لیے بلندی درجات کا ذریعہ بنائیں اور اس کو شرف قبول عطا فرما کر اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ والحمد للہ اولاً و آخراً۔

محمد یوسف عفا اللہ عنہ ۹۔۱۱۔۱۴۱۳ھ

صفحہ 11

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

صفحہ 12

رئیس قادیان

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے مستند حالات

صفحہ 13

باب ١

نام اور پیدائش

والدین نے رئیس قادیاں کا نام ابتداء میں دسوندھی رکھا تھا۔ (تکذیب براہین احمدیہ، ص ۱۴۷) لیکن سندھی کے نام سے بھی مخاطب کیے جاتے تھے جو ایک ہندوانہ اور مشرکانہ نام ہے۔ میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے نے جو مسیح قادیاں کے منجھلے صاحبزادہ ہیں، اس تسمیہ کی یہ وجہ بتائی ہے کہ اس زمانہ میں دستور تھا کہ چھوٹے بچے کو پیار سے سندھی کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ جس بچے کے گلے میں سیندھی (ہنسلی) ڈال کر (غیر اللہ کی) نذر پوری کی جاتی تھی، اس کا نام عموماً سندھی رکھ دیتے تھے (سیرۃ المہدی، مولفہ مرزا بشیر احمد، جلد اول، ص ۳۶) لیکن معلوم نہیں کہ مرزا صاحب کا نام دسوندھی یا سندھی سے غلام احمد کب اور کیونکر ہو گیا؟ ممکن ہے کہ مرزا صاحب نے ہوش سنبھالنے کے بعد خود ہی یہ نام تجویز کر لیا ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ والدین نے رکھا ہو۔ دسوندھی بیگ عرف مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں کہ میری پیدائش موضع قادیاں ضلع گورداسپور میں ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں ہوئی اور ۱۸۵۷ء کی تحریک آزادی میں میری عمر سولہ یا سترہ سال کی تھی، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب کے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ۱۸۷۶ء میں انتقال کیا (سیرۃ مسیح موعود، مولفہ مرزا محمود احمد صاحب، ص ۱۸) اور خود مرزا غلام احمد صاحب نے لکھا ہے کہ جب میرے والد نے دنیا کو چھوڑا تو اس وقت میری عمر چونتیس یا پینتیس سال کی تھی۔ (کتاب البریہ، ص ۱۵۹) تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کی ولادت ۱۸۴۱ء یا ۱۸۴۲ء میں ہوئی تھی۔ یہ وہ بحران انقلاب کے دن تھے جبکہ قضا و قدر کا دست کارفرما پنجاب میں سکھوں کی بساط سیاست کو الٹ کر انگریزی حکومت کے قیام کا سامان مہیا کر رہا تھا۔ مسیح قادیاں نے اپنی پیدائش کے متعلق لکھا ہے کہ میں توام پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا۔ اور میرا یہ الہام کہ یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ (اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں سکونت رکھو) جو آج سے بیس

صفحہ 14

برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے۔ اس میں جو جنت کا لفظ ہے‘ اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی‘ اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی۔ پہلے وہ پیٹ میں سے نکلی تھی اور اس کے بعد میں نکلا تھا۔ (تریاق القلوب‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ تقطیع کلاں‘ ص ۱۵۷) ظاہر ہے کہ مرزا صاحب کے اس بیان کی تصدیق یا تکذیب تو وہی قابلہ کر سکتی ہے جس نے مرزا صاحب کو جنایا اور لڑکے لڑکی کو اپنی آنکھوں سے پیدا ہوتے دیکھا۔ اور چونکہ وہ دائی یا اس زمانہ کی دوسری عورتیں آغوش لحد میں جا چکی ہیں‘ اس لیے توام پیدا ہونے کے متعلق مرزا صاحب کے دعویٰ کی تصدیق یا تکذیب محال ہے۔ تاہم مرزا صاحب کے بے شمار دوسرے من گھڑت افسانوں پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہیں کہ توام پیدائش کا قصہ دراصل مرزا صاحب ہی کے مخیلہ دماغ کی پیداوار ہے۔

شیخ ابن عربیؒ کی پیشین گوئی کا مصداق

مرزا صاحب کو اس افسانہ تراشی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ شیخ اکبرؒ نے اپنی کتاب ”فصوص الحکم“ میں خاتم الاولیاء کی ایک علامت یہ لکھی ہے کہ وہ توام پیدا ہوگا۔ چنانچہ مرزا صاحب شیخ اکبرؒ کی پیشین گوئی کو اپنے اوپر منطبق و چسپاں کرنے کے لیے ”تریاق القلوب“ میں لکھتے ہیں ”شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے فصوص الحکم (فص شیث) میں لکھا ہے کہ آخری کامل انسان ایک لڑکا ہوگا جو چین میں پیدا ہوگا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم مغل اور ترک میں سے ہوگا اور ضروری ہے کہ عجم میں سے ہوگا نہ عرب میں سے۔ اور اس کو وہ علوم اور اسرار دیے جائیں گے جو شیثؑ کو دیے گئے تھے اور انہی کے بعد کوئی اور ولد نہ ہوگا اور وہ خاتم الاولاد ہوگا یعنی اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ اور اس فقرہ کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہوگا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اس سے پہلے نکلے گی اور وہ اس کے بعد نکلے گا اور اس کا سر اس دختر کے پیروں سے ملا ہوا ہوگا‘ جیسا کہ میری ولادت اور میری توام ہمشیرہ کی اسی طرح ظہور میں آئی“۔ (تریاق القلوب‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ تقطیع کلاں‘ ص ۱۵۸) اب فصوص الحکم کی پیشین گوئی کے اصل الفاظ درج کیے جاتے ہیں تاکہ مرزا

صفحہ 15

صاحب کے دعویٰ کی حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے۔ شیخ اکبرؒ قرب قیامت کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وعلی قدم شیث یکون آخر مولود تولد من ھذا النوع الانسانی وھو حامل اسرارہ و لیس بعدہ ولد فی ھذا النوع لھو خاتم الاولاد وتولد معہ اخت لہ فتخرج قبلہ ویخرج بعدھا یکون راسہ عند رجلیھا ویکون مولدہ بالصین ولغتہ لغۃ بلدہ ویسری العقم فی الرجل والنساء فیکثر النکاح من غیر ولادۃ و یدعوھم الی اللہ فلا یجاب فاذا قبضہ اللہ وقبض مومنی زمانہ بقی من بقی مثل البھائم لا یحلون حلالا ولا یحرمون حراما یتصرفون بحکم الطبیعۃ شھوۃ مجردۃ عن العقل والشرع فعلیھم تقوم الساعۃ۔

شیث علیہ السلام کے قدم پر نوع انسانی کا جو آخری فرزند تولد ہوگا وہ شیث علیہ السلام کے علوم و تجلیات کا حامل ہوگا۔ اس کے بعد بنی نوع انسان میں اس قسم کا کوئی بچہ پیدا نہ ہوگا۔ پس وہ نوع انسانی کی آخری اولاد ہوگا۔ وہ اور اس کی بہن توام پیدا ہوں گے۔ لڑکی پہلے متولد ہوگی اس کے بعد لڑکا پیدا ہوگا۔ لڑکے کا سر لڑکی کے دونوں پاؤں سے ملا ہوگا۔ یہ لڑکا چین میں پیدا ہوگا اور اس کی زبان بھی چینی ہوگی۔ ان ایام میں مردوں اور عورتوں میں عقم پیدا ہو جائے گا یعنی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رہے گی۔ نکاح تو بکثرت ہوں گے لیکن اولاد کسی کے نہ ہوگی۔ وہ کامل انسان لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے گا لیکن اس کی آواز پر لبیک کہنے والا کوئی نہ ہوگا۔ آخر جب وہ اور اس کے ہم عصر مومن انتقال کر جائیں گے تو صرف بہائم صفت لوگ پیچھے رہ جائیں گے جو حلال کو حلال اور حرام کو حرام نہیں سمجھیں گے۔ شہوت پرستی ان کا شیوہ ہوگا اور عقل و شرع سے کام نہ لیں گے۔ پس انہی لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔

(شرح فصوص الحکم، مطبوعہ مصر، ص ۴۰-۴۱)

پیشین گوئی کے حقیقی مصداق کی خصوصیات

اس تحریر سے پیشین گوئی کے اصل مصداق کی یہ خصوصیتیں ثابت ہوتی ہیں:

صفحہ 16

اس کی آواز پر کان نہ دھرے گا۔

حرام کی کوئی تمیز نہ ہوگی۔

مرزا صاحب توام پیدا ہونے کی داستان تراش کر کمال جسارت و دیدہ دلیری سے خاتم الاولیاء تو بن گئے لیکن اس دعویٰ سے پہلے اتنا غور کرنے کی زحمت گوارا نہ فرمائی کہ نہ وہ چین میں پیدا ہوئے‘ نہ ان کی زبان چینی تھی‘ نہ ان کے زمانہ میں بنی نوع انسان کا سلسلہ توالد و تناسل منقطع ہوا‘ نہ ان کے وقت میں دنیا کے اندر ایسے لوگ مفقود و ناپید تھے جو حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتے ہوں۔

باب ۲

جائے پیدائش اور مرز و بوم

قادیاں کی وجہ تسمیہ میں مرزائی خیال آفرینی

مرزا غلام احمد صاحب کا مولد و منشاء موضع قادیاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور تھا۔ وجہ تسمیہ کے متعلق مرزا صاحب اور ان کے پیروؤں کے بیانات کا ماحصل یہ ہے کہ شاہ دہلی کی طرف سے مرزا صاحب کے بزرگوں کو بہت سے دیہات بطور جاگیر ملے تھے۔ انہوں نے ان دیہات کے وسط میں ایک قصبہ اپنی سکونت کے لیے آباد کیا۔ چونکہ منصب قضا بھی ان کے سپرد تھا‘ انہوں نے اس قصبہ کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا۔ جب قضا چھوٹ گئی تو صرف قاضیاں رہ گیا۔ پھر ضاد کا تلفظ دال سے بدل کر قادیاں بن گیا۔ اس کے متعلق

صفحہ 17

گزارش ہے کہ قادیاں صرف اسی ایک گاؤں کا نام نہیں جو مرزا غلام احمد کا مولد و منشا تھا بلکہ پنجاب میں قادیاں کے نام سے اور بھی متعدد گاؤں آباد ہیں، خود ضلع گورداسپور میں مرزا صاحب کی قادیاں کے علاوہ ایک اور قادیاں موجود ہے اور مرزا صاحب اور ان کی امت نے قادیاں کے لفظی ارتقا کے متعلق جو موشگافیاں کی ہیں، سرکاری یا غیر سرکاری طور پر ان کی کوئی تصدیق نہیں ہوتی۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ قادیاں کے نام پر جو دوسرے دیہات آباد ہیں وہ بھی اسی لفظی ارتقا کے بوتہ میں تحلیل ہوتے ہوتے قادیاں بنے ہیں حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ان دیہات میں بھی اسی قسم کے واقعات پیش آئے ہوں جنہوں نے ان کے نام میں تبدیلیاں کرتے کرتے انہیں قادیاں سے موسوم کر دیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ ساری سخن تراشی محض مرزا صاحب کے رشحہ فکر اور قوت اختراع کا نتیجہ ہے۔

قادیاں کو دمشق کا لباس مجاز پہنانے کی ناکام کوشش

مرزا صاحب نے کتاب ”کشتی نوح“ کے صفحہ ۴۷ پر ایک خیالی و ذہنی حمل کے ذریعہ سے اپنے عیسیٰ ابن مریم بن جانے کی صراحت فرما دی ہے۔ جب یہ خیال آفرینی ان کو عیسیٰ ابن مریم بنا چکی اور حضرت مرزا صاحب شب و روز اپنی مسیحیت کا ڈھنڈورا پیٹنے لگے تو ان علمائے امت نے، جن کے دل حب اسلام کے جذبہ سے معمور تھے، اعتراض کیا کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام تو دمشق میں نازل ہونے والے تھے جو ملک شام کا صدر مقام ہے اور خلفائے بنی امیہ کا دارالخلافہ رہ چکا ہے اور تم ہندوستان کی ایک سونی اور مبتذل سی بستی میں ظاہر ہوئے ہو۔ تو رئیس قادیاں نے جواب دیا کہ دمشقی روایت، جس میں حضرت مسیح کے دمشق میں نازل ہونے کا ذکر ہے، وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلمؒ نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے۔ (ازالہ اوہام، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، طبع پنجم، ص ۹۳) جب علماء نے اس کے جواب میں فرمایا کہ ساری امت مرحومہ اس امر پر متفق ہے کہ صحیح بخاری کی طرح صحیح مسلم کی بھی تمام حدیثیں صحیح ہیں بلکہ امام نوویؒ نے صحیح مسلم کو بعض حیثیتوں سے صحیح بخاری پر ترجیح دی ہے تو حضرت ”مسیح موعود“ نے اپنے زندقہ و باطنیت کے پٹارے میں

صفحہ 18

سے تحریف بازی کی چند نظر فریب کڑیاں نکال پھینکیں اور بولے کہ اگر آپ لوگ نہیں مانتے تو میں ابھی تمہارے سامنے قادیاں ہی کو دمشق ثابت کیے دیتا ہوں۔ سنو دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر من جانب اللہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات و خیالات کے پیرو ہیں۔ دمشق پایہ تخت یزید رہ چکا ہے‘ اس لیے دمشق کا لفظ بطور استعارہ کہا گیا۔ یہ قصبہ بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں‘ دمشق سے مشابہت رکھتا ہے اور ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پوری پوری تطبیق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سو خدا تعالیٰ نے اسی عام قاعدہ کے موافق اس قصبہ قادیاں کو دمشق سے مشابہت دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیاں کا نام پہلے نوشتوں میں استعارہ کے طور پر دمشق رکھ کر پیش گوئی کی گئی ہوگی (مقتبس از ازالہ اوہام‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ طبع پنجم‘ ص ۳۰- ۳۳) اس ملحدانہ تحریف کا تو مرزا صاحب نے ۱۸۹۱ء میں ارتکاب فرمایا لیکن چونکہ خود حضرت ”مسیح موعود“ صاحب کا دل بھی اس خرافات نگاری پر مطمئن نہیں تھا اس لیے اسلامی تعلیمات کے روشن چہرہ کو مسخ کرنے کا نامبارک ولولہ لے کر دوبارہ اٹھے اور مزید دماغی کدو کاوش شروع کر دی۔ آخر بارہ سال کی دماغ سوزی کے بعد حضرت مہبط وحی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کو اپنی زندیقانہ تحریف کا تختہ مشق بنا کر اپنا نام پہنائے عالم میں روشن کیا۔ اس سلسلہ میں کتاب ”تذکرۃ الشہادتین“ میں جو ۱۹۰۳ء میں شائع کی‘ یہ لکھ کر لوگوں کو دعوت خندہ و تضحیک دی کہ ”صحیح بخاری میں میرا تمام حلیہ لکھا ہے اور پہلے مسیح کی نسبت جو بڑا مرکز مشرق یعنی ہند قرار دیا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود دمشق سے مشرق کی طرف ظاہر ہوگا‘ سو قادیان دمشق سے مشرق کی طرف ہے“۔ (تذکرۃ الشہادتین‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۳۸) یہاں یہ جتلا دینا ضروری ہے کہ نہ تو صحیح بخاری میں مرزا غلام احمد کا کوئی تذکرہ موجود ہے اور نہ یہ لکھا ہے کہ مسیح موعود دمشق سے مشرق کی طرف کسی دور دست گاؤں میں ظاہر ہوگا“۔ یہ توہمات قادیانی صاحب کے نظام حواس کی برہمی کے عملی ثبوت ہیں۔ اس قسم کی مہمل نگاری کے اصل بانی ان کے بے بصر عقیدت مند تھے جو ان کے ہر سیاہ و سپید پر آمنا و صدقنا کہہ کر ان کو ایسی روز افزوں غلط بیانیوں کی جرأت دلاتے رہتے تھے۔

صفحہ 19

حضرت مہدی علیہ السلام کا مولد و منظر

امیر المومنین علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت مہدیؒ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہوں گے۔ ان کی ولادت مدینہ منورہ میں ہوگی اور بیت المقدس کی طرف ہجرت فرمائیں گے۔ اخرجہ نعیم بن حماد اور شیخ علی متقیؒ نے رسالہ ”البرہان فی احوال مہدی آخر الزمان“ میں لکھا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام مدینہ منورہ میں متولد ہوں گے۔ مکہ مکرمہ میں ظہور فرمائیں گے۔ بیت المقدس کی طرف ہجرت کریں گے اور اسی جگہ انتقال فرمائیں گے۔ (حجج الکرامہ، ص ۳۵۸) لیکن اس کے برخلاف امام مستغفری نے ”دلائل النبوۃ“ میں عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کرعہ نامی ایک گاؤں میں پیدا ہوں گے۔ (ایضاً) اسی طرح میزان الاعتدال میں کامل ابن عدی سے نقل کیا ہے کہ مہدی ایک گاؤں سے ظاہر ہوں گے جس کا نام کرعہ ہوگا۔ (میزان الاعتدال، جلد ۲، ص ۱۶۱) غرض مہدی علیہ السلام کی جائے ولادت میں روایات مختلف ہیں۔ میرے خیال میں اگر صحیح ہیں تو وہی روایات صحیح ہو سکتی ہیں جن میں صاحب الزمان مہدی علیہ السلام کا مدینہ منورہ میں متولد ہونا مذکور ہے۔ رہی کرعہ میں پیدا ہونے کی مؤخر الذکر روایتیں سو وہ پایہ اعتبار سے ساقط ہیں کیونکہ ان کا ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ضعیف ہے۔ نسائی نے اس کو متروک الحدیث اور دار قطنی نے منکر الحدیث لکھا ہے اور ابو حاتم نے اسے کاذب بتایا ہے۔ (میزان الاعتدال، جلد ۲، ص ۱۶۰)

کرعہ کو کدعہ میں تبدیل کرنے کی مرزائی شعبدہ گری

حضرات! آپ نے پڑھا کہ کرعہ والی روایت ایک جھوٹے راوی عبدالوہاب بن ضحاک کا من گھڑت افسانہ ہے لیکن مسیح قادیاں کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا کہ کوئی روایت صحیح ہے یا سقیم۔ بلکہ وہ تو ہمیشہ یہ دیکھا کرتے تھے کہ کس چیز سے ان کے آشیانہ مہدویت و مسیحیت کے لیے کوئی تنکا فراہم ہو سکتا ہے؟ جب کوئی روایت خلاف مدعا ہوتی تھی تو صحیحین کی متفق علیہ حدیث سے بھی، جس کی صحت ساری دنیا کے علماء اور ہر زمانہ کے مسلمانوں

صفحہ 20

کے نزدیک مسلم رہی ہے، روگرداں ہو جاتے اور اگر مفید مطلب ہوتی تو چاہے کیسی ہی مبتذل روایت کیوں نہ ہو اسے صحیح قرار دے کر اپنے پروپیگنڈا کا آلہ کار بنا لیتے۔ کرعہ والی روایت کو بھی انہوں نے مفید مطلب سمجھ کر لے لیا اور بساط زندقہ پرستی پر قدم رکھ کر اس سے اپنی خانہ ساز مہدویت پر استدلال کرنے لگے۔ اگر محض کسی ضعیف روایت کو اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرتے تو کوئی انوکھی بات نہیں تھی کیونکہ دنیا میں تقدس کے جتنے جھوٹے دکاندار گزرے ہیں انہوں نے موضوع اور مجروح روایات کی آڑ لے کر خلق خدا کو گمراہ کیا ہے لیکن قادیاں کے ”مسیح موعود“ میں تو یہ کمال تھا کہ لغو روایات سے مطلب براری تو ایک طرف رہی، موضوع یا ضعیف روایتوں میں بھی حسب دلخواہ تصرف کر کے ان کو اپنے سانچے میں ڈھال لیتے تھے، چنانچہ مندرجہ ذیل تحریروں سے آپ کو معلوم ہوگا کہ انہوں نے کرعہ کو کدعہ میں تبدیل کر کے کس طرح مطلب براری کی نامراد کوشش کی۔ لکھتے ہیں: ”ایسا ہی احادیث میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ مہدی موعود ایسے قصبہ کا رہنے والا ہوگا جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہوگا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدعہ دراصل قادیاں کے لفظ کا مخفف ہے“۔ (کتاب البریہ، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۲۲۵۔ ۲۲۶) دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”میری نسبت قرآن کریم نے اس قدر پورے پورے قرائن اور علامات کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ ایک طور سے میرا نام بتلا دیا ہے اور حدیثوں میں کدعہ کے لفظ سے میرے گاؤں کا نام موجود ہے“۔ (تذکرۃ الشہادتین، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۳۸)

لوگ معترض ہیں کہ مرزا نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے کرعہ کو کدعہ میں تبدیل کر کے اپنے دامن تقدس پر بددیانتی کا داغ لگایا۔ لیکن میرے نزدیک بددیانتی کا الزام کسی حد تک بے محل ہے۔ ”بوقت ضرورت“ ایک آدھ حرف کو دوسرے حرف سے تبدیل کر لینے میں کوئی لمبی چوڑی بددیانتی لازم نہیں آتی۔ بلکہ سچ پوچھو تو یہ مرزا صاحب کا بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے کرعہ کی جگہ کدعہ اور کدیہ لکھ کر لغات عرب میں دو لفظوں کا اضافہ فرما دیا۔ ع: ایں چہ احسان است قربانت شوم۔ البتہ میں اس بات کا قائل ہوں کہ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نے آسان طریق چھوڑ کر سنگلاخ راستہ اختیار کیا۔ اگر کرعہ کی روایتوں کے بجائے ان روایات سے مطلب براری کی کوشش فرماتے جن میں حضرت

صفحہ 21

مہدی علیہ السلام کا مدینہ طیبہ میں متولد ہونا مذکور ہے تو ان کے لیے مہدی بننے میں زیادہ سہولت رہتی۔ کیونکہ مدینہ اور قادیاں میں حرف دال مشترک ہے۔ مکہ کو کعبہ بنا کر قادیاں قرار دینے میں جو تکلف کیا گیا‘ وہ مدینہ کو قادیاں بنا لینے کی صورت میں نہ کرنا پڑتا۔ موخر الذکر طریق استدلال میں صرف اتنا کہنے کی ضرورت تھی کہ ”مدینہ سے قادیاں مراد ہے کیونکہ دونوں میں حرف دال موجود ہے“۔ لیکن یہ پیرایہ کیوں نہ اختیار کیا؟ اس لیے کہ یہ بقعہ مطہرہ اسلامی عظمت کا اولین گہوارہ جناب حبیب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کا دارالہجرت اور آپؐ کی آخری آرام گاہ ہے۔ یہیں سے اسلامی علم و عمل کے سرچشمے پھوٹے اور دنیا حلاوت اندوز رشد و سعادت ہوئی۔ مرزا صاحب سمجھتے تھے کہ مسلمان ان کی تمام تعلیوں اور لن ترانیوں کو برداشت کر لیں گے لیکن مدینتہ الرسولؐ کی توہین و تفضیح ہرگز گوارا نہ کریں گے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ قادیانی صاحب نے مکہ کو تو اپنی توجہ کا مرکز بنایا لیکن مدینہ منورہ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔

باب ۳

خاندان کی تعیین کا گورکھ دھندا

فصل ۱- تبدیلی خاندان کی بوالعجبیاں

یہ بھی ایک دلچسپ معمہ ہے کہ جناب غلام احمد صاحب کس خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ عالم شباب میں جبکہ انہوں نے اپنے تئیں بحیثیت مبلغ اسلام لوگوں سے روشناس کرایا‘ وہ اپنے نام سے پہلے مرزا لکھا کرتے تھے جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ مغل خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آٹھ دس سال کے بعد جب ۱۸۹۸ء میں ”کتاب البریہ“ شائع کی تو اس کے صفحہ ۱۳۴ پر بھی اپنی قوم مغل (برلاس) بتائی اور لکھا کہ میرے بزرگ سمرقند سے پنجاب میں وارد ہوئے تھے۔

خاندان تبدیل کرنے کے لیے کیا کیا رنگ بدلے؟

صفحہ 22

لیکن بوالعجبی دیکھو کہ اسی ”کتاب البریہ“ کے صفحہ ۱۳۵ کے حاشیہ پر یہ بھی لکھ دیا کہ میرے الہامات کے رو سے ہمارے آباء اولین فارسی تھے۔ اس کے بعد غلام احمد صاحب ۱۹۰۰ء تک اسی خیال پر پختہ رہے کہ وہ فارسی الاصل ہیں کیونکہ وہ اپنے الہام کے مقابلہ میں خاندانی روایات کو بالکل بے حقیقت اور جھوٹ کا پلندہ خیال کرتے تھے۔ چنانچہ اپنے رسالہ اربعین (نمبر ۲‘ صفحہ ۱۷) میں فرمایا کہ اس خاکسار کا خاندان بظاہر مغلیہ خاندان ہے اور کوئی تذکرہ ہمارے خاندان کی تاریخ میں نہیں دیکھا گیا کہ وہ بنی فارس کا خاندان تھا۔ لیکن اب خدا کے کلام سے معلوم ہوا کہ دراصل ہمارا خاندان فارسی خاندان ہے۔ سو اس پر ہم پورے یقین سے ایمان لاتے ہیں۔ اس کے ایک سال بعد مسیح صاحب نے ایک اور رنگ بدلا۔ یعنی ۵؍ نومبر ۱۹۰۱ء کو ایک رسالہ بنام ”ایک غلطی کا ازالہ“ شائع کیا۔ اس کے صفحہ ۲۱ پر لکھا کہ ”میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی“۔ یعنی مرزا صاحب حضرت اسحق علیہ السلام کی نسل سے بھی تھے اور ان کے بھائی جناب اسمعیل ذبیح علیہ السلام کی اولاد سے بھی“۔ بہرحال اب مسیح صاحب مغل بھی تھے اور فارسی بھی‘ اسرائیلی بھی تھے اور فاطمی بھی۔ لیکن اس سے اگلے سال ان پر ایک اور واہمہ آسوار ہوا جس نے کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ کے صفحہ ۴۰ پر ان سے یہ لکھوا دیا کہ میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب میں پہنچے تھے“۔ اب اس انکشاف کے بعد ”مسیح موعود“ صاحب کی ذات گرامی پانچ قومیتوں میں تقسیم ہو گئی۔ اس تحقیق جدید کے قریبا چھ سال بعد یعنی ۱۹۰۸ء میں جبکہ مسیح صاحب بار حیات سے سبکدوش ہوئے ہیں‘ انہوں نے اپنی کتاب ”چشمہ معرفت“ (صفحہ ۳۱۶) میں پھر اپنا چینی الاصل ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ لکھا کہ شیخ محی الدین ابن عربیؒ نے ایک پیش گوئی کی تھی جو میرے پر پوری ہو گئی اور وہ یہ کہ خاتم الخلفاء جس کا دوسرا نام مسیح موعود ہے چینی الاصل ہوگا۔

ترک‘ ایرانی‘ یہودی‘ فاطمی اور چینی ہونے کے دعاوی

غرض ان بیانات کے بموجب جناب غلام احمد صاحب مغل‘ ایرانی‘ یہودی‘ سید اور چینی سب کچھ تھے۔ بیانات کی اس کثرت و تنوع سے لوگ حیران و پریشان ہیں کہ ان میں

صفحہ 23

سے کس بیان کو سچا سمجھیں اور کس کو جھوٹا اور غلط قرار دیں لیکن پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس ذخیرۂ خرافات میں سے صحیح اور سچا بیان وہی ہو سکتا ہے جو خاندانی روایات کے مطابق ہو۔ چنانچہ مرزا محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح نے اپنی تفسیر کے پارۂ اول (صفحہ ۱۲۰) میں لکھا ہے کہ کسی خاص قوم کے کسی خاص انسان کی اولاد ہونے کا ایک ہی ثبوت ہوتا ہے اور وہ اس قوم کی روایات ہیں۔ (الفضل قادیاں‘ ۲۵؍ ستمبر ۱۹۳۲ء) اور قوم کی روایات یہ ہیں کہ رئیس قادیاں مغل تھے جیسا کہ انہوں نے بکرّات و مرّات لکھا ہے۔

۲۔ دوسرے خاندانوں میں داخل ہونے کے اسباب

اب سوال یہ ہے کہ مغل صاحب نے دوسری قوموں سے رشتہ جوڑنے اور پرائے خاندانوں میں داخل ہونے کی کیوں کوشش فرمائی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب نے بلاضرورت ایرانی اور فاطمی اور چینی اور یہودی نہیں بننا چاہا بلکہ محض اپنے مشن کو کامیاب بنانے کی خاطر دروغ مصلحت آمیز پر عمل کیا۔

فارسی بننے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ قادیاں کے رئیس صاحب کن کن محرکات کی بنا پر دوسری قوموں میں داخل ہوتے رہے۔ سو معلوم ہو کہ فارسی بننے کی تحریک تو صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی اس حدیث نبویؐ نے کی تھی جس میں سرور دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم نے فارسیوں کی حق شناسی اور استعداد ایمانی بیان فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ کا بیان ہے کہ جس وقت سورۂ جمعہ نازل ہوئی تو ہم آستانہ نبوت میں حاضر تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی واخرین منہم لما یلحقوا بہم (ان موجودین کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے بھی پیغمبر مبعوث فرمایا جو ہنوز ان میں شامل نہیں ہوئے) تو صحابہؓ عرض پیرا ہوئے‘ یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت سلمانؓ فارسی بھی وہیں موجود تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک جناب سلمان فارسیؓ پر رکھ دیا اور فرمایا کہ اگر بالفرض ایمان ثریا

صفحہ 24

کے پاس بھی چلا گیا ہوگا تو ان کے ہم وطنوں میں سے بعض افراد اس کو وہاں سے بھی لے آئیں گے۔ جب مرزا صاحب نے یہ حدیث دیکھی تو ان کے منہ سے خود غرضی کی رال ٹپک پڑی اور اس کا مصداق بننے کے لیے فارسی الاصل ہونے کی رٹ لگانی شروع کر دی۔ چنانچہ مرزائی گم کردگان راہ بڑے فخر سے اس حدیث کو اپنے مسیح کے مناقب میں پیش کیا کرتے ہیں۔ لیکن ان کے مقابلہ میں بہائی لوگ کہتے ہیں کہ یہ حدیث مرزا غلام احمد سے پہلے بہاء اللہ کے حق میں پوری ہوچکی ہے کیونکہ وہ خاص فارس کے رہنے والے تھے اور ان کے ماننے والے بھی فارسی نژاد تھے۔ غرض مرزائی اور بہائی اپنے اپنے مقتداء کو اس حدیث کا مصداق ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ حالانکہ مرزائی اور بہائی دونوں فریق حقیقت نفس الامر سے بے خبر ہیں۔ اس حدیث کے حقیقی مصداق حضرات تابعین، تبع تابعین اور دوسرے عجمی خیار امت ہیں۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ (اشعۃ اللمعات، جلد ۴، ص ۷۳۸) میں لکھتے ہیں ”نزد ثریا یعنی در آسمان ہر آئینہ می گیرند آں مرداں از عجم چنانکہ سابقاً معلوم شد کہ اکثر تابعین از عجم اند و بایشان بلند شد پایہ علم دین“۔ اور شیخ ابن تیمیہؒ اس پیشین گوئی کی شرح میں لکھتے ہیں:

وكان كما اخبر صلى الله عليه وسلم فانه حصل فى التابعين وتابعيهم وهلم جرا من ابناء فارس مثل الحسن البصرے ومحمد بن سيرين و سعيد بن جبير و عكرمہ مولے ابن عباس و مجاهد واضعاف هولاء من نالوا ذلك۔

(الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح۔ جلد ۴، ص ۱۳۹)

پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح خبر دی تھی‘ اسی طرح حرف بہ حرف ظہور میں آیا چنانچہ ابنائے فارس میں بڑے بڑے تابعین‘ تبع تابعین اور دوسرے حضرات اس سعادت سے مشرف ہوئے۔ مثلاً حسن بصریؒ‘ محمد بن سیرینؒ‘ سعید بن جبیرؒ‘ حضرت ابن عباسؓ کے غلام عکرمہؒ‘ مجاہدؒ اور بے شمار دوسرے حضرات جو اس پیشین گوئی کے مصداق ٹھہرے۔ ظاہر ہے کہ بہاء اللہ اور مرزا غلام احمد تو بنائے دین کے منہدم کرنے والے تھے۔ وہ اس پیشین گوئی کا مصداق ہرگز نہیں ہوسکتے تھے۔

صفحہ 25

فارسی الاصل ہونے کا تخیل کہاں سے اڑایا؟

اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ فارسی الاصل ہونے کا دعویٰ ”مسیح موعود“ صاحب کا طبع زاد تھا یا کسی کی نقالی تھی؟ جن حضرات نے تاریخ فرشتہ‘ تاریخ بدایونی وغیرہ تواریخ ہند کا مطالعہ کیا ہے‘ ان سے یہ امر مخفی نہ ہوگا کہ آج سے قریباً ساڑھے چار سو سال پیشتر اسی ہندوستان کی سرزمین میں سید محمد جونپوری بھی مرزا غلام احمد کی طرح کوس مہدویت بجا رہا تھا اور اس کو قادیانی صاحب سے کہیں بڑھ کر اپنے مشن میں کامیابی ہوئی تھی۔ سید محمد جونپوری کے پیرو جو مہدوی کہلاتے ہیں آج بھی قلمروئے حیدر آباد اور بعض دوسری اسلامی و غیر اسلامی ریاستوں میں سینکڑوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جن دنوں مرزا غلام احمد صاحب اپنی آئندہ دکان آرائی کے منصوبے سوچ رہے تھے‘ ان ایام میں مملکت حیدر آباد میں مہدویوں نے بڑا اودھم مچا رکھا تھا۔ ان شر انگیزیوں سے متاثر ہو کر مولانا عبدالحی مرحوم لکھنوی کے شاگرد مولانا زمان خان مرحوم نے‘ جنہیں آگے چل کر ایک مہدوی ہی نے جام شہادت پلایا‘ مہدویہ کی تردید میں ”ہدیہ مہدویہ“ نامی ایک کتاب تالیف فرمائی۔ یہ کتاب مطبع نظامی کانپور نے ۱۸۹۳ء میں یعنی مصنف علیہ الرحمۃ کے واقعہ شہادت کے ایک سال بعد طبع کی۔ اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے قصر مرزائیت کی عمارت زیادہ تر مہدویت ہی کے کھنڈروں پر اٹھائی تھی۔ مولانا زمان خان مرحوم نے مہدویہ کے جو جو اقوال و تخیلات بغرض تردید ”ہدیہ مہدویہ“ میں نقل کیے‘ رئیس قادیاں نے ان کو اپنا لیا۔ اور مہدویہ کے ان چبائے ہوئے نوالوں سے اپنے خوان الحاد کو زینت دے لی۔ منجملہ ان کے فارسی الاصل ہونے کا تخیل ہے۔ مہدویہ نے اپنے ”مہدی موعود“ سید محمد جونپوری کو ابنائے فارس کی پیشین گوئی کا مصداق ٹھہرایا تھا۔ مرزا صاحب نے ”ہدیہ مہدویہ“ میں ان کا یہ قول پڑھ کر اس جامہ کو اپنی قامت پر راست کر لینا چاہا‘ چنانچہ آنجناب بھی سید جونپوری کی طرح فارسی الاصل بن گئے۔ مولانا زمان خاں شہید ”ہدیہ مہدویہ“ میں لکھتے ہیں ”مہدویہ نے آیہ وآخرین منھم لما یلحقوا بھم کو خاص اپنے فرقہ مہدویہ پر چسپاں کر لیا ہے‘ حالانکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پر ہاتھ رکھ کر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر ثناء و صفت فرمانا‘ اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ آیتہ مذکورہ میں آخرین منھم سے بلا تخصیص عجمی مسلمان مراد ہیں۔ اسی بنا پر بیضاوی

صفحہ 26

نے لکھا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو صحابہؓ کے بعد قیامت تک ہوں گے کیونکہ حضرت سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت اور تعلیم سب امت کو عام ہے۔ (ہدیہ مہدویہ‘ مطبوعہ کانپور‘ ص ۱۲۴) مولانا زمان خان مرحوم نے اس مسئلہ پر خوب سیر حاصل تبصرہ کیا ہے۔ جو صاحب اس بحث کو دیکھنا چاہیں وہ کتاب ”ہدیہ مہدویہ“ کے صفحات ۱۲۴۔ ۱۲۶ کا مطالعہ فرمائیں۔

سادات کرام میں داخل ہونے کی علت

اور یہ جو حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نے فاطمی ہونے کا دعویٰ کیا تو اس کی علت یہ حدیث تھی:

عن ام سلمۃ قالت سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول المہدی من عترتی من اولاد فاطمۃ۔ (رواہ ابو داؤد)

ام المومنین حضرت ام سلمہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی میری عترت یعنی (سیدۃ النساء حضرت) فاطمہ (زہراء رضی اللہ عنہا) کی اولاد ہوں گے۔

چونکہ مغل صاحب کو مہدی بننے کا اشتیاق تھا‘ اس لیے ضروری تھا کہ فاطمی بنتے لیکن اس کے بعد جب علمائے اسلام نے یہ کہہ کر لے دے شروع کی کہ حضرت مہدی علیہ السلام تو خاندان نبوت میں سے ہوں گے اور تم مغل ہو‘ تو علماء سے جان بچانے کے لیے یہ بھی لکھ دیا کہ میں وہ مہدی نہیں جو عترت رسول اور اولاد فاطمہ کا مصداق ہوگا۔ (براہین حصہ پنجم‘ صفحہ ۱۸۵) اس مرزائی بیان سے مترشح ہوتا ہے کہ گویا ارشادات نبویہ میں متعدد مہدیوں کی بشارت دی گئی ہے‘ حالانکہ احادیث صحیحہ کی رو سے سچے مہدی صرف ایک محمد بن عبداللہ فاطمی علیہ السلام قرب قیامت کو ظاہر ہوں گے جو اسلامی عقیدہ کے بموجب اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ان کو چھوڑ کر جس قدر دوسرے مہدی جن کے حالات میں کتاب ”ائمہ تلبیس“ میں شائع کر چکا ہوں‘ صفحہ ہستی پر نمودار ہوئے یا ہوں گے‘ وہ سب قادیانی قماش کے خانہ ساز مہدی ہیں جو اسلام سے منقطع ہو کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنا رہے ہیں۔ حافظ حقیقی ان غارت

صفحہ 27

رہزنان قافلہ ایمانی کے فتنہ سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے۔ آمین۔ اگر خانہ ساز مہدیوں اور خود ساختہ مسیحوں کے حالات معلوم کرنے کا اشتیاق ہو تو خاکسار راقم الحروف کی کتاب ”ائمہ تلبیس“ کا مطالعہ فرمائیے۔

چینی الاصل بننے کی ضرورت

اور چینی الاصل بننے کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ قادیانی صاحب نے حضرت شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی کتاب ”فصوص الحکم“ میں یہ پیشین گوئی پڑھی تھی کہ دنیا کا آخری کامل انسان ایک لڑکا ہوگا جو چین میں پیدا ہوگا اور چینی زبان میں گفتگو کرے گا۔ گو قادیانی صاحب چین میں پیدا نہ ہوئے تھے اور مادری زبان بھی چینی نہ تھی بلکہ ان کی بیس تیس پشتوں میں سے کسی نے خواب میں بھی چین کی سرزمین نہ دیکھی ہوگی‘ لیکن چودہویں صدی کے مسیح کی مسیحیت اس ضرورت سے قطعاً بے نیاز تھی کہ کوئی دلیل اس کے دعووں کی تصدیق کرے بلکہ اس کا زبان سے کہہ دینا اور قلم سے لکھ دینا ہی پیروؤں کے لیے لاکھوں کروڑوں دلائل و براہین سے بڑھ کر تھا حالانکہ خدائے قدیر کی لسان وحی نے اسی نمونہ کے حق فراموش اور ضلالت کوش گم کردگان راہ سے مطالبہ کیا ہے قل ہاتوا برہانکم ان کنتم صادقین (اے رسولؐ ان لوگوں سے کہئے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنے دعوے کی دلیل پیش کرو)

دعوائے اسرائیلیت کی بنا

مرزا غلام احمد صاحب حسب بیان خود ایک حمل کے ذریعہ سے عیسیٰ ابن مریم بن گئے تھے لیکن چونکہ یہ قلب شخصیت کاغذی پیرہن سے زیادہ کوئی حیثیت نہ رکھتا تھا‘ اس لیے حضرت ”مسیح موعود“ صاحب اپنی اس خندہ زا منطق کی طرف سے نہ صرف خود غیر مطمئن تھے بلکہ انہیں ہر وقت یہ اندیشہ لاحق تھا کہ کہیں ان کے حلقہ بگوش اسے اول فول قرار دے کر برگشتہ نہ ہو جائیں‘ اس لیے حضرت مرزا صاحب نے کلیۃً ابن مریم بننے کے لیے اسرائیلی ہونے کا بھی دعویٰ کیا کیونکہ جناب مسیح علیہ السلام کے ننھیال اسرائیلی تھے‘ لیکن

صفحہ 28

مکمل عیسیٰ ابن مریم بننے میں پھر بھی کسر رہ گئی۔ ضرورت یہ تھی کہ جس طرح انہوں نے عملاً ”اپنی شخصیت تبدیل کی تھی اور خاندان میں تغیرات کیے تھے‘ اسی طرح کامل عیسیٰ ابن مریم کے لیے اپنے بن باپ پیدا ہونے کا بھی اعلان فرماتے اور اپنی والدہ کا نام چراغ بی بی کے بجائے مریم ظاہر کرتے لیکن ماں کا نام تبدیل کرنے میں شاید یہ مشکل حائل تھی کہ مرزا صاحب خود ہی مریم بھی بن چکے تھے۔ اگر ماں کے نام میں رد و بدل کرتے تو انہیں اندیشہ تھا کہ علمائے اسلام مریم بنت مریم پکارنے لگیں گے۔ مرزا جی نے اپنے مریم بننے اور پھر حاملہ ہو کر عیسیٰ ابن مریم بن جانے کی پوری تشریح کتاب ”کشتی نوح“ (صفحات ۴۷-۴۸) میں کر دی ہے‘ جو صاحب دیکھنا چاہیں‘ کتاب مذکور کی طرف رجوع فرمائیں۔ یہودیت کا جامہ زیب تن کرنے کی دوسری وجہ شاید دبے لفظوں میں دجال بننے کی ہوس پر مبنی ہو جو ایک جلیل القدر یہودی سردار ہوگا اور جسے مافوق العادۃ قدرتیں دی جائیں گی۔ گو ملہم قادیاں نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ (صفحہ ۷۳) میں دجال سے با اقبال قومیں مراد لی ہیں اور اسی کتاب میں دوسری جگہ (صفحہ ۲۰۶ میں) نصاریٰ کے پادریوں کو دجال قرار دیا ہے لیکن احتمال ہے کہ جس طرح حضرت مرزا صاحب کرشن اوتار اور کلکی اوتار بنے‘ اسی طرح انہوں نے اپنے آپ کو اسرائیلی یعنی یہودی بنا کر دجال بننے کی بھی کوشش فرمائی ہو۔ اس خیال کی تائید خود حضرت مرزا صاحب کے بعض ارشادات سے ہوتی ہے‘ چنانچہ فرماتے ہیں ”یہ اسی پیش گوئی کا ظہور ہے کہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ ستر ہزار مسلمان کہلانے والے دجال کے ساتھ مل جائیں گے۔ اب علمائے مکفرین بتلاویں کہ یہ باتیں پوری ہو گئیں یا نہیں؟“ (انوار الاسلام‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۳۹) اور خود مرزا صاحب نے اپنے پیروؤں کی تعداد ستر ہزار ہی بتائی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں ”جس زمانہ میں ان مولویوں اور ان کے چیلوں نے میرے پر تکذیب اور بدزبانی کے حملے شروع کیے‘ اس زمانہ میں میری بیعت میں ایک آدمی بھی نہیں تھا۔ گو چند دوست جو انگلیوں پر شمار ہو سکتے تھے‘ میرے ساتھ تھے اور اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ستر ہزار کے قریب بیعت کرنے والوں کا شمار پہنچ گیا ہے“۔ (نزول المسیح‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۴) دوسری جگہ لکھتے ہیں ”کیا براہین احمدیہ کے وقت سات آدمی بھی تھے؟ اور کیا اب ستر ہزار آدمی میرے ساتھ داخل بیعت ہیں یا نہیں؟“ (ایضاً‘ ص ۴۱)

صفحہ 29

باب ۴

بعض خاندانی حالات

رئیس قادیاں نے ”ازالہ اوہام“ اور ”کتاب البریہ“ کے متعدد صفحات اپنے خاندانی حالات کی نذر کر دیے ہیں۔ اگر یہ بیانات بلا مبالغہ صحیح ہوتے تو خاندان کے لیے ایک کارآمد چیز تھی۔ لیکن ان کا مطالعہ کرتے وقت صاف نظر آتا ہے کہ مرزا جی نے ان بیانات میں بہت کچھ مبالغہ اور رنگ آمیزی سے کام لیا ہے۔ بہرحال ان بیانات کا ضروری خلاصہ ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں:

”میرے والد کا نام غلام مرتضیٰ‘ دادا کا نام عطا محمد اور پردادا صاحب کا نام گل محمد تھا۔ ہماری قوم مغل برلاس ہے۔ میرے بزرگوں کے پرانے کاغذات سے‘ جو اب تک محفوظ ہیں‘ معلوم ہوتا ہے کہ وہ پنجاب میں سمرقند سے آئے تھے اور ان کے ساتھ قریباً دو سو آدمی ان کے توابع اور خدام اور اہل و عیال میں سے تھے۔ یہاں آکر انہوں نے اس قصبہ (قادیاں) کو‘ جو ایک جنگل کی شکل میں تھا‘ آباد کیا اور اس کا نام اسلام پور رکھا۔ اس کے بعد بادشاہ کی طرف سے ان کو بہت سے دیہات بطور جاگیر ملے تھے۔ سکھوں کے ابتدائی زمانہ میں میرے پردادا مرزا گل محمد اس نواح کے ایک نامور رئیس تھے جن کے پاس پچاسی گاؤں تھے لیکن بہت سے گاؤں سکھوں کے متواتر حملوں کی وجہ سے ان کے قبضہ سے نکل گئے۔ تاہم قریباً پانچ سو آدمی روزانہ ان کے دسترخوان پر کھانا کھاتے تھے۔ ایک سو کے قریب علماء‘ صلحاء اور حفاظ قرآن ان کے پاس رہتے تھے۔ تین چار سو عمدہ عمدہ عقلمندوں اور علماء میں سے ان کے مصاحب تھے۔ ایک مرتبہ غیاث الدولہ نامی سلطنت مغلیہ دہلی کا وزیر قادیاں آیا تو مرزا گل محمد کو دیکھ کر چشم پر آب ہو گیا اور کہنے لگا اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا کہ اس جنگل میں مغلیہ خاندان کا ایک ایسا لائق رکن موجود ہے جس کے اندر سلطنت و جہانبانی کے تمام ضروری صفات پائے جاتے ہیں تو میں دہلی کی اسلامی سلطنت کو محفوظ رکھنے کے لیے اسی کو دہلی کے تخت سلطنت پر بٹھانے کی کوشش کرتا۔ پردادا صاحب کے

صفحہ 30

بعد میرے دادا مرزا عطا محمد گدی نشین ہوئے لیکن سکھوں نے تمام گاؤں ان سے چھین لیے۔ یہاں تک کہ دادا صاحب کے پاس صرف ایک قادیاں رہ گئی۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد قادیاں پر بھی رام گڑھی سکھوں نے قبضہ کر لیا۔ اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح پکڑے گئے اور ان کے مال و متاع سب لوٹ لیے گئے اور تمام مرد و زن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزین ہوئے۔ اس اثناء میں میرے دادا کو زہر دے کر ہلاک کر دیا گیا۔ رنجیت سنگھ کی حکومت کے آخری ایام میں میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیاں میں واپس آئے اور انہیں پانچ گاؤں واپس ملے۔ ۱۸۵۷ء میں انہوں نے سرکار انگریزی کی خدمت گزاری میں پچاس گھوڑے مع پچاس سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیے تھے“۔ (ازالہ اوہام‘ طبع پنجم‘ ص ۵۳- ۵۸ و کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۱۴۴- ۱۴۶) لیکن ظاہر ہے کہ جب آباؤ اجداد کے پرانے کاغذات کی بنیادی چیز یعنی مرزا صاحب کا مغل ہونا ہی ان کی ”وحی آسمانی“ کے رو سے غلط ٹھہرا اور ”مسیح موعود“ صاحب کو الہام ہوا کہ تم دراصل فارسی الاصل ہو۔ (ایضاً‘ ص ۱۴۴) تو پرانے کاغذات کے دوسرے مندرجات مثلاً دسترخوان پر روزانہ پانچ سو آدمیوں کا کھانا کھانا‘ تین چار سو مصاحبوں اور سو علماء اور حفاظ کا حاشیہ نشین بنے رہنا‘ وزیر دہلی کا قادیاں آنا اور مرزا گل محمد سے کہنا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مغلیہ خاندان کا کوئی لائق رکن موجود ہے تو اسی کو سریر آرائے سلطنت بنانے کی کوشش کرتا اور اس قسم کے دوسرے ڈھکوسلے کہاں تک قابل التفات اور شائستہ اعتماد ہو سکتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ سب افسانہ طرازی حضرت ”مسیح موعود“ صاحب ہی کے دماغ کی میناکاری ہے۔

قاضی فضل احمد صاحب سابق کورٹ انسپکٹر لدھیانہ نے کتاب ”کلمہ فضل رحمانی“ میں مرزا غلام احمد صاحب کے اس حصہ بیان کی پرزور تردید کی ہے جس میں انگریزی حکومت کی امداد کرنا مذکور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب نے اپنی کم از کم نصف درجن تصانیف میں لکھا ہے کہ میرے باپ مرزا غلام مرتضیٰ نے مفسدۂ ۱۸۵۷ء میں انگریزوں کو پچاس سواروں سے مدد دی تھی۔ اس کے متعلق مولوی عبدالحکیم دھرم کوٹی نے رسالہ ”تحفہ مرزائیہ“ میں لکھا ہے کہ ۱۸۵۷ء کی تحریک آزادی میں مرزا غلام مرتضیٰ نے سرکار انگریزی کی ایک سوار سے بھی مدد نہیں کی۔ ان ایام میں غلام مرتضیٰ صاحب کے پاس سرخ

صفحہ 31

رنگ کی ایک چھوٹی سی گھوڑی تھی۔ ان دنوں مرزا غلام احمد کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر دینا نگر کی تھانیداری سے معزول ہو کر عملہ ضلع کے پیچھے پیچھے جوتیاں چٹخاتے پھرتے تھے۔ اگر مرزا غلام مرتضیٰ میں اتنی امداد کی استطاعت ہوتی تو ان کا خلف الرشید کیوں مارا مارا پھرتا؟ اور اگر بالفرض حکومت کو اپنے رسالہ سے مدد دی تھی تو محکمہ فوج کے دفتر میں اس کا کوئی ریکارڈ (اندراج) ضرور ہونا چاہیے تھا۔ اور اس کے صلہ میں کوئی انعام یا جاگیر بھی ضرور ملنی چاہیے تھی۔ (کلمہ فضل رحمانی ص ۲۵) حالانکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

مرزا غلام مرتضیٰ کا سفر کشمیر

قاضی فضل احمد صاحب سابق کورٹ انسپکٹر لدھیانہ نے کتاب ”کلمہ فضل رحمانی“ میں‘ جو ۱۸۹۸ء میں (مرزا غلام احمد صاحب کے لقمہ اجل ہونے سے دس سال پیشتر) شائع ہوئی تھی‘ قادیاں کی اراضی حاصل ہونے کا واقعہ دوسری طرح قلمبند کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”مسیح موعود“ صاحب نے کتاب البریہ اور بعض دوسری تالیفات میں اپنی خاندانی عظمت کے متعلق جو قصیدہ خوانی کی ہے‘ اس کی حیثیت کسی طرح داستان امیر حمزہ سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔ قاضی صاحب موصوف لکھتے ہیں: ”مرزا غلام مرتضیٰ کے دوست مولوی عبدالحکیم بن امان اللہ ساکن موضع دھرم کوٹ رندھاوا تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور نے رسالہ ”تحفہ مرزائیہ“ میں جو ۱۳۰۲ھ میں تالیف کیا تھا‘ لکھا کہ مرزا غلام مرتضیٰ سکھوں کی عملداری میں تلاش معاش کے لیے عازم کشمیر ہوئے۔ اور ایک ٹٹو پر سوار ہو کر موضع دھرم کوٹ رندھاوا آئے اور غریب خانہ پر فروکش ہوئے۔ ماحضر پیش کیا گیا۔ یہاں سے منزل بمنزل کشمیر پہنچے۔ نوکری کے لیے بڑی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ آخر محمد بخش جمعدار کے پاس جو میرے گاؤں دھرم کوٹ کا گلے زئی تھا‘ اس کے لڑکوں پیر بخش اور امیر بخش کی تعلیم کے لیے مشاہرہ پانچ روپے ماہوار اور خوراک ملازم ہو گئے۔ کچھ مدت تک وہاں نوکری کرتے رہے۔ سوئے اتفاق سے سردار سوبھا سنگھ صوبہ دار کشمیر مر گیا۔ اس وجہ سے محمد بخش جمعدار ملازمت سے سبکدوش ہو گیا۔ اور جمعدار محمد بخش اور مرزا غلام مرتضیٰ وطن واپس چلے آئے۔ مرزا غلام مرتضیٰ شیر سنگھ کے عہد حکومت میں دوبارہ کشمیر گئے اور کچھ نوکری ملی لیکن سردار شیر سنگھ کسی بات پر مرزا غلام مرتضیٰ سے ناراض ہو گیا‘ اس لیے

صفحہ 32

مرزا غلام مرتضیٰ اور قادیان تھانہ دار طالب پور کو معزول کر دیا۔ آخر مرزا صاحب نے اپنے وطن قادیاں میں آ کر مطب کھول لیا۔ اس کے بعد انگریزی عملداری میں ڈپٹی گوپال سہائے سے ان کی دوستی ہو گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قادیاں کی ملکیت اراضی مرزا غلام مرتضیٰ کے نام کر دی گئی“۔ (کلمہ فضل رحمانی‘ ص ۲۵) قاضی فضل احمد صاحب ان واقعات کے بعد لکھتے ہیں کہ ”کجا مرزا غلام مرتضیٰ کا پانچ روپیہ ماہوار پر لڑکے پڑھانا اور پھر اس نوکری سے بھی محروم ہو جانا اور کجا پچاس سوار بھرتی کر کے انگریز کو دینا“۔ اس کے بعد قاضی فضل احمد صاحب نے دریافت کیا ہے کہ جب باپ نے ناداری کی حالت میں حکومت کی مدد کی تو اب مرزا غلام احمد نے صاحب جائیداد ہونے کے باوجود سرکار انگریزی کی کون سی امداد کی؟ ہاں فساد انگیزی اور انگریزی رعایا کے باہمی سر پھٹول میں انہوں نے اب تک کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ (ایضاً)

مرزا غلام مرتضیٰ کا مذہب اور ان کی ”پابندی“ مذہب

مولوی محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی نے اپنے نامور رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں لکھا کہ میں نے مرزا غلام مرتضیٰ کو دیکھا ہے اور ان کے دوسرے دیکھنے والے بھی اس وقت بکثرت موجود ہیں۔ وہ صرف حکیمانہ مذہب رکھتے تھے اور اگر مذہب کی طرف کچھ میلان تھا تو تشیع کی طرف تھا اور اس پیرانہ سالی میں جبکہ میں نے ان کو دیکھا ہے‘ ان کو نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ وغیرہ ارکان شرعی کا التزام نہ تھا۔ ممنوعات شرعیہ کا حال ہم نہیں لکھتے‘ یہ خود اسی سے یا اس کے دوستوں سے پوچھنا چاہیے۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ ص ۱۷۲) ان کے تارک صلوٰۃ ہونے کی تائید مسیح قادیاں کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد‘ ایم۔ اے کے بیان سے بھی ہوتی ہے جنہوں نے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھا ہے کہ ہمارے دادا مرزا غلام مرتضیٰ بے نماز تھے یہاں تک کہ پچھتر سال کی عمر میں پہنچ کر بھی نماز نہیں پڑھی۔ (سیرۃ المہدی‘ مولفہ مرزا بشیر احمد‘ ایم۔ اے جلد اول‘ ص ۴۲) میاں بشیر احمد نے بعض اقرباء کی نسبت یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح موعود کے یہ تمام رشتہ دار پرلے درجے کے بے دین اور لا مذہب تھے۔ (ایضاً‘ ص ۲۳)

صفحہ 33

محترمہ چراغ بی بی صاحبہ

مسلمانوں میں تو ایک اور نام مشہور ہے اور وہی نام بچہ بچہ کی زبان پر ہے اور خاکسار راقم الحروف بھی عہد طفلی سے وہی نام سنتا چلا آ رہا ہے لیکن مرزائی صاحبان کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب کی والدہ کا نام چراغ بی بی تھا۔ عجب نہیں کہ یہی نام صحیح ہو اور مشہور نام مخالفوں کا پروپیگنڈا ہو۔ جہاں تک مرزا صاحب کی کتابیں خاکسار راقم الحروف کے مطالعہ سے گزریں، میں نے بیٹے کو ماں کی کسی مذہبی اور روحانی فضیلت کا قائل نہیں پایا۔ اس کی وجہ بجز اس کے اور کچھ نہیں ہو سکتی کہ وہ ایک عام ناخواندہ دنیا دار عورت ہوگی۔ لیکن یعقوب علی تراب نامی ایک مرزائی نے جلال خداوندی اور عاقبت کی جوابدہی سے بے خوف ہو کر چراغ بی بی صاحبہ کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے ہیں۔ تراب صاحب لکھتے ہیں: ”آپ کی والدہ مکرمہ کا نام نامی حضرت بی بی چراغ بی بی تھا اور وہ اپنے نام کی طرح فی الحقیقت دنیا کے لیے چراغ کی طرح روشنی ہی کا موجب ہوئیں کیونکہ جس کے بطن مبارک سے حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام جیسا عظیم الشان انسان پیدا ہوا، جس طرح پر حضرت آمنہ کا نام اللہ تعالیٰ نے ان کے ماں باپ سے اسم با مسمیٰ رکھوا دیا، اسی طرح حضرت مائی چراغ بی بی صاحبہ کے نام میں آنے والے دنیا کے نور کی بشارت مذکور تھی۔ خدا تعالیٰ نے جس کے مدارج اور مناقب میں فرمایا انت منی وانا منک اس عظیم الشان انسان کی ماں دنیا میں ایک ہی عورت ہے جو آمنہ خاتون کے بعد اپنے بخت رسا پر ناز کر سکتی ہے۔ دنیا کی عورتوں میں جو ممتاز خواتین ہیں، ان میں حضرت آمنہ خاتون اور حضرت چراغ بی بی صاحبہ ہی دو عورتیں ہیں جنہوں نے ایسے عظیم الشان انسان دنیا کو دیے۔“ (حیاۃ النبی، مؤلفہ یعقوب علی تراب مرزائی، جلد اول، ص ۳۰) اس لغویت کا جواب یہ ہے کہ اگر چراغ بی بی صاحبہ مرزا غلام احمد صاحب کے جننے پر فخر کر سکتی ہیں تو پھر مسیلمہ، اسود عنسی اور دوسرے خانہ ساز نبی، جن کے حالات زندگی، میں کتاب ”آئمہ تلبیس“ میں شائع کر چکا ہوں، ان کی ماؤں نے کیا قصور کیا ہے کہ انہیں اپنے ”نامور“ فرزندوں کی تولید پر قابل مبارک باد نہ خیال کیا جائے؟ دور نہ جاؤ یہ فضیلت تو نبی بخش راجیکی والا، چراغ الدین جمونی، ظہیر الدین اروپی، یار محمد ہوشیار پوری، فضل احمد چنگا بنگیالوی، عبداللہ شاپوری، عبداللطیف گناچوری، احمد نور کابلی اور دوسرے مرزائی نبیوں کی

صفحہ 34

ماؤں کو بھی بخوبی حاصل ہے کیونکہ جس طرح چراغ بی بی صاحبہ نے ایک عدد نبی جنا ہے‘ اسی طرح ان عورتوں نے بھی اپنی کوکھ سے ایک ایک نبی برآمد کر دیا ہے۔

شرمناک جسارت

لیکن افسوس ہے کہ یعقوب علی مرزائی نے دعوائے اسلام کے باوجود قادیانی صاحب کو مادری فضیلت میں حضرت مفخر کون و مکان علیہ التحیۃ والسلام کا ہمسر بناتے وقت کچھ شرم بھی محسوس نہ کی؟ بے باکی اور بدلگامی دراصل فرقہ مرزائیہ کا ذاتی جوہر ہے۔ اگر اس توہین کا ارتکاب کسی اسلامی سلطنت میں کیا جاتا تو یہ بد نفس مرزائی اپنی شوخ چشمی کا مزا چکھ لیتا۔ توہین رسولؐ کے حق میں جو اسلامی و شرعی قانون ہے سب کو معلوم ہے۔ لیکن ہمیں اس قانون کے نفاذ کی قدرت نہیں۔ تاہم حکام کا فرض ہوتا ہے کہ ایسے اشخاص کے خلاف تعزیرات ہند کے قانون کو حرکت میں لائیں۔ اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ کیا اس عفونت نگار مرزائی نے یہ لکھتے وقت اس حدیث نبوی کی طرف سے آنکھوں پر پٹی باندھ لی تھی؟

عن انسؓ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال حسبک من نساء العلمین مریم بنت عمران و خدیجہ بنت خویلد و فاطمۃؓ بنت محمدؐ و اسیۃ امراۃ فرعون۔

رواہ الترمذی* (مشکوٰۃ)

حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی عورتوں میں ان مخدرات عالیہ کو سب سے زیادہ فضیلت حاصل ہے۔ حضرت مریمؑ (والدہ محترمہ حضرت مسیح علیہ السلام) ام المومنین حضرت خدیجہؓ* حضرت فاطمہؓ آسیہؓ زوجہ فرعون رضی اللہ عنہن۔

مسیح قادیاں کے پردادا مرزا گل محمد کے تین بیٹے تھے۔ غلام نبی‘ عطا محمد اور قاسم بیگ۔ مرزا عطا محمد کے پانچ لڑکے تھے۔ غلام مصطفےٰ‘ غلام محی الدین‘ غلام مرتضیٰ‘ غلام حیدر اور غلام محمد۔ ان میں سے غلام مرتضیٰ صاحب کو مرزا غلام احمد صاحب کے باپ ہونے کا "فخر" حاصل تھا۔ مرزا غلام مرتضیٰ نے ۱۸۷۶ء میں ۸۰ سال کی عمر میں دنیائے رفتنی و گزشتنی کو الوداع کہا۔ ان کی سب سے بڑی اولاد مراد بی بی تھیں جن کی شادی مرزا احمد

صفحہ 35

بیگ ہوشیار پوری کے بھائی محمد بیگ یعنی محترمہ محمدی بیگم طال عمرہا کے حقیقی چچا سے ہوئی تھی۔ ان سے چھوٹے غلام قادر تھے جنہوں نے اپنی حیات مستعار کے پچپن مرحلے طے کر کے ۱۸۸۳ء میں سفر آخرت کیا۔ ان سے چھوٹی شاید جنت نامی ایک لڑکی تھی جس کے متعلق مسیح قادیاں کا من گھڑت دعویٰ ہے کہ وہ میرے ساتھ توام پیدا ہوئی اور جلد رخصت ہوگئی تھی اور سب سے چھوٹے مرزا غلام احمد صاحب تھے۔ (سیرۃ المہدی، مولفہ میاں بشیر احمد، ایم۔ اے، جلد اول، ص ۳۰)

باب ۵

عہد طفولیت

فصل ۱۔ مسیح قادیاں کے ایام طفلی

مثل مشہور ہے ”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“ عنایت ازلی اور مساعدت لم یزلی جن بلند طالع حضرات کو معرفت خداوندی کی دولت جاوید سے سرفراز فرماتی ہے، ان کے امور ابتدائے سن صبا ہی سے بعض ایسی خصوصیتیں ودیعت فرما دیتی ہے جن سے دوسرے ابنائے زمانہ محروم ہوتے ہیں۔ لیکن برعکس مسیح قادیاں کے بچپن میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں پائی جاتی جو انہیں عام بازاری لڑکوں سے ممتاز کر سکے۔ چند واقعات درج کیے جاتے ہیں جن سے ان کی ابتدائی زندگی کے محبوب مشغلوں پر روشنی پڑتی ہے۔ قارئین حضرات اسی سے ان کی بلندی یا پستی فطرت کا اندازہ کر سکیں گے:

ایک مرتبہ لڑکوں نے مرزا غلام احمد صاحب سے کہا کہ گھر سے میٹھا (شکر) لاؤ۔ گھر گئے تو وہاں پسا ہوا نمک رکھا تھا۔ والدہ کے بلا اجازت لے لیا اور شکر سمجھ کر اس سے جیبیں بھر لیں اور لڑکوں کے پاس پہنچ کر پھانکنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دم رک گیا اور سخت تکلیف اٹھائی۔ (سیرۃ المہدی، مولفہ مرزا بشیر احمد، ایم۔ اے، جلد اول، ص ۴۶)

ایک مرتبہ والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا۔ انہوں نے کہا اور تو کوئی چیز نہیں

صفحہ 36

گڑ لے لو۔ انہوں نے گڑ لینے سے انکار کیا تو کوئی اور چیز دی۔ اس سے بھی انکار کیا اور زیادہ ضد کی تو ماں نے ناراض ہو کر کہا ان چیزوں سے بھی روٹی نہیں کھا سکتے تو جاؤ راکھ سے کھاؤ۔ تو وہ سچ مچ روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص (۴۱)

چڑیاں پکڑنے کی مذموم عادت

مرزا غلام احمد صاحب کے منجھلے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد، ایم۔ اے کتاب سیرۃ المہدی میں لکھتے ہیں کہ دادی موضع ایمہ ضلع ہوشیار پور کی رہنے والی تھی۔ حضرت (مرزا) صاحب کئی دفعہ ایمہ گئے۔ وہاں بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ چاقو نہ ہوتا تو سرکنڈے سے ہی ذبح کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایمہ سے چند بوڑھی عورتیں آئیں تو انہوں نے باتوں ہی باتوں میں کہا کہ سندھی (مرزا غلام احمد) ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ سندھی سے ان کی مراد حضرت (مرزا) صاحب تھی۔ چنانچہ آپ کی والدہ اور بعض عورتیں انہیں بچپن میں کبھی سندھی کہہ کر پکار لیتی تھیں۔ سندھی غالباً اس بچے کو کہتے ہیں جس پر کسی منت کے نتیجے میں دس دفعہ کوئی چیز باندھی جائے۔ (ایضاً، ص ۴۶) حضرت (مرزا غلام احمد) صاحب پرندے پکڑنے کے لیے لاسہ بھی تیار کیا کرتے تھے۔ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ لاسہ ایک لسدار چیز ہوتی ہے جسے شکاری لوگ درختوں کے دودھ وغیرہ سے تیار کرتے ہیں اور وہ پرندے پکڑنے کے کام آتا ہے۔ (ایضاً، ص ۲۴۲) باپ کی یہ عادت بیٹے کو بھی ورثہ میں ملی تھی۔ چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میاں محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا، میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔ (ایضاً، ص ۲۷۲) مرزا غلام احمد صاحب بچپن میں تیرنے کے بھی بڑے دلدادہ تھے۔ ایک مرتبہ ڈوب بھی چلے تھے۔ (ایضاً، ص ۹) رئیس قادیاں کا اپنا بیان ہے کہ میں بچپن میں اتنا تیرتا تھا کہ ڈھاب (جوہڑ) بھر جاتی تو ساری قادیاں کے اردگرد ایک ہی دفعہ چکر لگا لیتا تھا۔ قادیاں کی ڈھاب گاؤں کے چاروں طرف محیط ہے۔ بارش کے موقع پر قادیاں جزیرہ بن جاتی ہے۔ (ایضاً، ص ۲۵۸) بعض اوقات سواری بھی کر لیتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک سرکش گھوڑے پر سوار ہوئے۔ گھوڑا ان

صفحہ 37

کو ہلاک کرنے کے قصد سے ایک درخت سے جا ٹکرایا لیکن خود ہی مر گیا اور یہ بچ نکلے۔

(ایضاً ص ۱۱)

کیمیا کی تلاش

لالہ بھیم سین وکیل سیالکوٹ کا بیان ہے کہ جب میں اور مرزا غلام احمد بٹالہ میں پڑھا کرتے تھے تو ان کی عام عادت تھی کہ مٹی کا ایک لوٹا (بمعہ ٹونٹی) پانی سے بھرواتے اور دو لڑکوں سے کہتے کہ اس کو ہاتھ کی ایک ایک انگلی کے سہارے اٹھائے رہو۔ لڑکے انگلیوں کے سہارے لوٹے کو تھام رکھتے۔ اس کے بعد مرزا صاحب کیمیا کے نسخہ کی دوائیں جدا کاغذ کے پرزوں پر لکھ کر گولیاں بناتے اور ایک ایک گولی اس لوٹے میں ڈالتے جاتے اور ساتھ ہی کوئی اسم پڑھتے جاتے تھے۔ جس گولی کی نوبت پر لوٹا گھوم جاتا تھا‘ اس گولی کا نسخہ پکڑ کر علیحدہ رکھ لیتے تھے اور پھر اس نسخہ کا تجربہ کرتے تھے۔ لیکن کیمیا گری میں کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ (کتاب چودہویں صدی کا مسیح‘ مطبوعہ اہلحدیث امرتسر‘ طبع ۱۹۲۲ء‘ ص ۱۱) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح قادیاں کے دل میں بچپن ہی سے زر اندوزی کی ہوس موج زن تھی۔ امرتسر کے ایک عالم دین نے جو وہاں کی ایک جامع مسجد کے خطیب بھی ہیں‘ راقم الحروف سے بیان کیا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور مرزا غلام احمد قادیانی بٹالہ میں ہم سبق تھے۔ ایک مرتبہ مولوی محمد حسین‘ مرزا غلام احمد اور چند اور لڑکے رات کے وقت قصبہ بٹالہ سے باہر کھیتوں میں قضائے حاجت کے لیے گئے۔ گرمی کا موسم تھا۔ جگنو (کرمک شب تاب) اڑ رہے تھے۔ رفع حاجت کے وقت ایک جگنو مرزا غلام احمد کے گریبان میں آ گیا۔ مرزا صاحب نے اس کو ہاتھ سے دبا لیا۔ جب سب لڑکے جمع ہوئے تو غلام احمد صاحب نے ہمجولیوں سے کہا ”دیکھو میرے پیرہن کے نیچے درخشاں چیز کیا ہے؟ اور کہا اگر اسی طرح سے کوئی شعبدہ کیا جائے تو لوگوں کو پھانسا جا سکتا ہے یا نہیں؟“ مولوی محمد حسین صاحب نے کہا‘ ”ہاں ممکن ہے“۔

فصل ۲- اہل اللہ کا بچپن

صفحہ 38

حضرات! آپ نے مسیح قادیاں کے بچپن کے حالات کا مطالعہ کیا‘ اب ذرا اہل اللہ کے ایام طفلی کی ایک جھلک بھی دیکھئے اور قادیانی صاحب کے حالات سے ان کا موازنہ کیجئے۔ یہاں نمونتاً چند عارفین الٰہی کا عالم طفولیت پیش کیا جاتا ہے۔ مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ قادیاں نے ۲۱۔ اپریل ۱۹۳۳ء کو اپنے خطبہ جمعہ میں بیان کیا کہ سید عبدالقادر صاحب جیلانی جب بارہ تیرہ سال کے ہوئے تو ان کی والدہ نے انہیں تحصیل علم کے لیے بغداد بھیجا اور فرمایا کہ یہ میں چالیس اشرفیاں تمہارے باپ کا ترکہ ہے۔ میں ان کو تمہاری گدڑی میں سی دیتی ہوں۔ حسب ضرورت ان کو خرچ کرنا۔ راستہ میں غارت گروں نے قافلہ لوٹ لیا۔ کسی رہزن نے گزرتے ہوئے ان سے پوچھا‘ لڑکے! تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے کہا "ہاں میری گدڑی میں اتنی اشرفیاں سلی ہوئی ہیں"۔ رہزن انہیں اپنے سردار کے پاس لے گیا اور کہنے لگا کہ یہ لڑکا کہتا ہے کہ میرے پاس اتنی اشرفیاں گدڑی میں سلی ہوئی ہیں۔ آخر گدڑی پھاڑی گئی تو اشرفیاں نکل آئیں۔ یہ دیکھ کر تمام قزاق حیرت زدہ ہوئے اور پوچھنے لگے کہ جب ہم لوگ تمہاری سلی ہوئی اشرفیوں کا حال کسی طرح جان نہیں سکتے تھے تو تم نے ازخود یہ راز کیوں افشاء کیا؟ انہوں نے نہایت سادگی سے جواب دیا کہ میں اشرفیوں کی خاطر جھوٹ بول سکتا تھا؟ قزاقوں پر اس نیک کرداری کا اتنا اثر ہوا کہ معاً غارت گری سے تائب ہوگئے۔ (الفضل‘ ۲۱۔ اپریل ۱۹۳۳ء) حضرت غوث الاعظم سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ کی والدہ محترمہ بھی طریقت میں بہرۂ کامل رکھتی تھیں۔ ان کا بیان ہے کہ میرا بچہ عبدالقادر رمضان المبارک میں دن کے وقت دودھ نہیں پیا کرتا تھا۔ انہی ایام رضاعت میں ایک سال ہلال عید کی رویت میں بڑی دشواری پیش آئی۔ لوگ دن بھر میرے پاس آ آ کر دریافت کرتے رہے کہ آج صبح سے تمہارے بچہ نے دودھ پیا ہے یا نہیں؟ میں انہیں جواب دیتی رہی کہ نہیں پیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج روزہ کا دن ہے۔ چنانچہ بعد میں اس تواتر کے ساتھ اس دن روزہ ہونے کی خبریں آئیں کہ عبدالقادر کے رمضان میں دودھ نہ پینے کا گھر گھر چرچا ہونے لگا۔ (طبقات الکبریٰ‘ امام عبدالوہاب شعرانیؒ‘ جلد اول‘ ص ۱۰۸ و قول مجد‘ مولفہ مولوی محمد احسن امروہی مرزائی‘ ص ۱۴۴) جب حضرت سلطان العارفین بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ شکم مادر میں تھے تو اسی وقت سے ان کی کرامتیں ظاہر ہونے لگی تھیں۔ آپ کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں کہ جب میں کوئی ایسا

صفحہ 39

نوالہ منہ میں رکھتی تھی کہ اس میں کسی طرح کا شبہ ہوتا تھا تو بایزیدؒ میرے شکم میں تڑپنے لگتے اور جب تک میں اس لقمہ کو منہ سے نہ نکال ڈالتی‘ قرار نہ پکڑتے۔ اور جب سفیان ثوریؒ شکم مادر میں تھے تو ان کی مادر محترمہ کوٹھے پر تشریف لے گئیں۔ ہمسایہ کی ترشی سے ایک انگلی بھر کر چاٹ لی۔ سفیانؒ پیٹ میں بے چین ہوگئے اور شکم میں اس قدر سر دے دے مارا کہ ان کی والدہ تاڑ گئیں اور جھٹ پڑوسن کے پاس جا کر اس کی معافی مانگی۔ ایک دن ایک خوش الحان قاری نے حضرت فضیل بن عیاضؒ کے سامنے خوش آوازی سے قرآن پڑھا۔ آپ نے فرمایا کہ میرے گھر کی طرف جاتے ہوئے میرے بیٹے کو بھی قرآن سناتے جانا لیکن کوئی ایسی سورت نہ پڑھنا جس میں قیامت کا تذکرہ ہو۔ کیونکہ میرا فرزند قیامت کا ذکر سننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ سوئے اتفاق سے قاری نے سورۃ القارعہ پڑھ دی۔ اس پاک ذات بچے نے چیخ ماری اور جان بحق تسلیم ہوا۔ (تذکرۃ الاولیاء) امام عبدالوہاب شعرانیؒ نے طبقات الکبریٰ میں لکھا ہے کہ عارف باللہ محمد وفاؒ رحمہ اللہ نے ایام طفلی میں کہ ان کی عمر دس سال سے بھی کم تھی‘ متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں۔ (طبقات الکبریٰ‘ جلد ۲‘ ص ۶)

ایک مرتبہ خلیفہ ہارون رشید اور اس کی ملکہ زبیدہ خاتون میں کچھ رنجش ہوئی اور زبیدہ خاتون کے منہ سے نکل گیا ”اے دوزخی!“ ہارون رشید غضبناک ہو کر کہنے لگا۔ اگر میں دوزخی ہوں تو تجھے طلاق ہے اور اسی وقت ایک دوسرے سے علیحدہ ہوگئے لیکن چونکہ خلیفہ کو زبیدہ خاتون سے انتہا درجہ کی محبت تھی‘ اس کی جدائی میں سخت بے چین ہوا۔ آخر اس مشکل کا حل تجویز کرنے کے لیے دارالخلافہ کے تمام علماء کو جمع کیا اور صورت حال پیش کی۔ تمام علماء اس کا جواب دینے سے قاصر رہے اور بالاتفاق کہنے لگے کہ خدائے علام الغیوب کے سوا کوئی نہیں جان سکتا کہ خلیفہ ہارون دوزخی ہے یا بہشتی۔ علماء کی جماعت میں سے ایک لڑکا باہر نکل کر کہنے لگا کہ اگر حکم ہو تو میں جواب دوں۔ لوگ حیرت زدہ ہو کر کہنے لگے‘ لڑکے! شاید تو دیوانہ ہے۔ بھلا جب تمام نامی گرامی علماء جواب دینے سے عاجز ہیں تو تیری کیا بساط ہے؟ خلیفہ نے اس لڑکے کو دیکھ لیا اور اپنے پاس بلا کر کہا ہاں تم جواب دو۔ لڑکے نے ‘ حضرت امام شافعیؒ تھے‘ کہا امیر المومنین! آپ کو میری احتیاج ہے یا مجھے آپ کی؟ خلیفہ نے کہا‘ مجھ کو تمہاری ضرورت ہے۔ یہ سن کر لڑکے نے فرمایا‘ آپ تخت سے نیچے اتر آئیے کیونکہ علماء کا رتبہ بلند تر ہے۔ خلیفہ نے انہیں تخت پر بٹھایا اور

صفحہ 40

خود تخت سے نیچے اتر آیا۔ لڑکے نے کہا، پہلے میرے ایک سوال کا جواب دیجئے۔ خلیفہ نے کہا، اچھا پوچھو۔ لڑکے نے کہا، کیا آپ کبھی قدرت رکھنے کے باوجود کسی گناہ سے محض خوف خدا سے باز رہے ہیں؟ خلیفہ نے کہا، ہاں بیشک! یہ سن کر امام شافعیؒ نے فرمایا، میں فتویٰ دیتا ہوں کہ آپ جنتی ہیں۔ تمام علماء یکبارگی پکار اٹھے، کس دلیل سے؟ امام شافعیؒ نے فرمایا: حق تعالیٰ کا ارشاد ہے واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی فان الجنۃ ھی الماویٰ (جس شخص نے گناہ کا قصد کیا اور پھر خشیت الٰہی نے اس کو اس گناہ سے باز رکھا تو اس کا ملجا و ماویٰ جنت ہے) یہ سن کر تمام علماء عش عش کرنے لگے اور کہا کہ جس شخص کا لڑکپن میں یہ حال ہے، نہیں معلوم کل کو بڑا ہو کر کس عظمت کا مالک ہوگا۔

(تذکرۃ الاولیاء)

حضرت سہل بن عبداللہ تستریؒ نے فرمایا ہے کہ میں اس وقت کے تمام حالات بھی جانتا ہوں جبکہ میں ہنوز شکم مادر میں تھا۔ اور فرمایا میں تین برس کا تھا جبکہ میں اپنے ماموں محمد بن سوارؒ کے ساتھ نماز تہجد پڑھا کرتا تھا۔ وہ مجھ کو اپنے ساتھ جاگتے اور نماز پڑھتے دیکھ کر فرمایا کرتے، اے سہل سو جا کیونکہ میرا دل تیری وجہ سے مشوش ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت ابو بکر وراق کا ایک فرزند مکتب جایا کرتا تھا۔ ایک دن انہوں نے دیکھا کہ رو رہا ہے اور اس کے چہرے کا رنگ فق ہے۔ پوچھا بیٹا! کیا ہوا؟ کہا آج استاد نے ایک آیت پڑھائی ہے جس کی وجہ سے میرا دل سخت بے چین ہے۔ پوچھا وہ کون سی آیت ہے؟ کہا یوما یجعل الولدان شیبا (وہ ایسا دن ہوگا جبکہ لڑکے بھی بوڑھے ہو جائیں گے) غرض وہ لڑکا اس آیت کے خوف سے بیمار رہ کر جان بحق ہو گیا۔

حضرت جنید بغدادیؒ لڑکپن سے محبت الٰہی سے معمور، با ادب اور صاحب فراست تھے۔ ایک روز مکتب سے گھر آئے تو باپ کو روتے دیکھ کر پوچھا ابا جان! رونے کا کیا سبب ہے۔ انہوں نے کہا ”آج مال کی زکوٰۃ میں سے کچھ رقم تمہارے ماموں (شیخ سری سقطی رحمۃ اللہ) کو (جو اولیائے کاملین میں سے تھے) بھیجی تھی۔ لیکن انہوں نے قبول نہیں کی۔ میری آرزو تھی کہ یہ چند درہم اللہ کے دوستوں میں سے کسی کے کام آتے“۔ جنید نے فرمایا مجھے دیجئے! میں ان کو دے کر آتا ہوں۔ غرض وہ درہم لے کر اپنے ماموں کے ہاں پہنچے اور دروازے پر دستک دی۔ حضرت سری سقطیؒ نے پوچھا کون ہے؟ کہا میں جنید ہوں۔

صفحہ 41

دروازہ کھولو اور یہ فریضہ زکوۃ لو۔ ماموں جو بہت نادار تھے‘ فرمانے لگے میں نہیں لوں گا۔ حضرت جنیدؒ نے فرمایا آپ کو اس خدا کی قسم جس نے آپ پر فضل اور میرے باپ کے ساتھ عدل کیا‘ اس کو لے لیجئے۔ حضرت سری سقطیؒ نے فرمایا جنید! مجھ پر کیا فضل کیا اور تمہارے باپ کے ساتھ کیا عدل کیا۔ کہا آپ پر یہ فضل کیا کہ آپ کو اپنی معرفت کے شرف سے نوازا اور میرے والد سے یہ عدل کیا کہ اس کو دنیا میں مشغول کیا اور یہ فریضہ زکوۃ تو بہرحال کسی حقدار کو پہنچانا ہے۔ حضرت شیخ کو یہ بات پسند آئی اور فرمایا کہ پہلے اس سے کہ یہ زکوۃ قبول کروں‘ میں نے تجھے قبول کیا۔ اور دروازہ کھول کر زکوۃ لے لی اور حضرت جنید کو اپنے آغوش عاطفت میں تربیت کرنے لگے۔ حضرت جنیدؒ سات سال کے تھے کہ حضرت سری سقطیؒ ان کو اپنے ساتھ حج بیت اللہ کے لیے مکہ معظمہ لے گئے۔ ایک موقع پر خانہ کعبہ میں چار سو پیروں کے درمیان مسئلہ شکر درپیش تھا۔ ہر ایک نے مسئلہ شکر پر اپنے اپنے خیال کا اظہار کیا۔ سری سقطیؒ کہنے لگے‘ جنید! تم بھی کچھ کہو۔ جنیدؒ نے فرمایا کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ حق تعالیٰ انسان کو جو نعمت عطا فرمائے‘ بندہ اس نعمت کے سبب سے اس کا نافرمان نہ بنے اور اس کو معصیت و نافرمانی کا ذریعہ نہ بنائے۔ مشائخ کرام بے ساختہ بول اٹھے‘ اے نورالعین! تم نے شکر کی بالکل صحیح تعریف کی اور کہا‘ صاحبزادے! اس سے بہتر اور کوئی تعریف نہیں ہو سکتی۔

(تذکرۃ الاولیاء)

کرشن جی کی طفولیت سے مشابہت

مرزا غلام احمد صاحب کے بچپن کو امت مرحومہ کے عارفان الٰہی کے ایام طفلی سے تو کوئی نسبت نہیں۔ ع

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

البتہ کرشن جی کے عالم طفولیت کی اس میں ضرور جھلک پائی جاتی ہے۔ رگھبیر سنگھ صاحب اجمیری ”حیات سری کرشن“ میں لکھتے ہیں: ”اب بلرام اور کرشن دونوں بھائی گوکل میں پرورش پا رہے تھے۔ ان دونوں میں کرشن نہایت شریر‘ نڈر اور شوخ لڑکا تھا۔ یہ اپنی شرارتوں سے جسودھا کو (جس نے ماں کی حیثیت سے کرشن جی کی پرورش کی تھی اور دودھ پلایا تھا) نہایت دق کیا کرتا۔ کرشن ایام طفلی میں جمنا کے کنارے مویشی چرایا کرتا جس میں

صفحہ 42

بچھڑوں کو چرانے میں خوب مشق بہم پہنچائی اور دس سال کی عمر میں تیر چلانا اور بانسری بجانا بھی سیکھ لیا۔ خصوصاً بانسری بجانے میں تو وہ کمال پیدا کیا کہ ہر وقت اس کے گرد بانسری سننے والوں کا ہجوم رہتا۔ ایک دفعہ کسی سے سنا کہ فلاں غار میں ایک کالا ناگ رہتا ہے جس سے لوگوں کو بڑی وحشت ہے۔ یہ سن کر کرشن وہاں پہنچا اور اپنی طفلانہ شرارتوں کے سلسلہ میں اپنی گیند غار میں پھینک دی اور پھر خود ہی اس کے نکالنے کو گھس پڑا۔ اژدہا اس کے پیر کی ٹھوکروں سے زخمی ہو کر بھاگ گیا لیکن تھوڑی دیر میں ٹھوکروں کا یہ اثر ہوا کہ کرشن کا سفید شگفتہ چہرہ سیاہ رنگت میں تبدیل ہوگیا"۔

(حیات سری کرشن، مصنفہ رگھبیر سنگھ صاحب اجمیری، مطبوعہ لاہور، ص ۱۴)

باب ۶

مسیح قادیاں کی تعلیم

میں اپنی کتاب ”معیار الحق“ کے باب ”انبیاء کے بعض خصائص“ میں یہ تفصیل لکھ چکا ہوں کہ خدا کے پیغمبروں نے کبھی کسی بشر سے کسی قسم کا کوئی علم حاصل نہ کیا بلکہ وہ امی و ناخواندہ ہوتے تھے اور ان کی تعلیم لدنی اور روحانی طور پر بذریعہ وحی و الہام ہوتی تھی۔

چنانچہ مروی ہے:

عن عبداللہ بن عمرؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انا امۃ امیۃ لا نکتب ولا نحسب۔ (رواہ البخاری و مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ سید الخلق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم پیغمبر ناخواندہ گروہ ہیں، نہ لکھنا جانتے ہیں اور نہ ہم نے حساب کتاب سیکھا ہے۔

انبیاء کرامؑ کی نامراد نقالی

چونکہ مرزا غلام احمد کو ایسی مہدویت اور مسیحیت کا دعویٰ تھا جو نبوت کی ہم پایہ و ہم

صفحہ 43

متمنی تھی‘ اس لیے وہ ہر بات میں انبیائے کرام کی نقل اتارنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے تھے۔ خدا کے برگزیدہ پیغمبر نہ تو لکھنا جانتے تھے اور نہ پڑھنا اور مرزا صاحب کا متعدد اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا اور انگریز کی خوشامد میں پچاس الماریاں کتابیں لکھنا ایک ایسی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اس کا اخفاء و انکار بالکل ممکن نہ تھا‘ اس لیے اپنے امی و ناخواندہ ہونے کے دعوٰی کی تو جرات نہ ہوئی‘ البتہ ناخواندہ ہونے کے بجائے اپنی طرف سے یہ پخ لگا دی کہ امام الزمان کے لیے لازم ہے کہ وہ دینی امور میں کسی کا شاگرد و مرید نہ ہو بلکہ اس کا استاد اور مرشد صرف خدا ہو۔ چنانچہ لکھتے ہیں ”حالت فاسدہ زمانہ کی یہی چاہتی ہے کہ ایسے گندہ زمانہ میں جو امام الزمان آوے‘ وہ خدا سے مہدی ہو اور دینی امور میں کسی کا شاگرد نہ ہو اور نہ کسی کا مرید ہو اور عام علوم و معارف خدا سے پانے والا ہو۔ نہ علم دین میں کسی کا شاگرد ہو اور نہ امور فقر میں کسی کا مرید“۔ (رسالہ اربعین نمبر ۲‘ ص ۱۱) اس سے آگے چل کر لکھتے ہیں ”اس لیے ضروری ہے کہ ظاہر ہونے والا آدم کی طرح ظاہر ہو جس کا استاد اور مرشد صرف خدا ہو اور اسی کو دوسرے لفظوں میں مہدی کہتے ہیں یعنی خاص خدا سے ہدایت پانے والا۔ اور تمام روحانی امور اسی سے حاصل کرنے والا۔ مہدی کے لیے ضروری ہے کہ آدم وقت ہو اور اس کے وقت میں دنیا بکلی بگڑ گئی ہو اور نوع انسان میں سے اس کا دین کے علوم میں کوئی استاد اور مرشد نہ ہو بلکہ اس لیاقت کا آدمی کوئی موجود ہی نہ ہو۔ مہدی کے مفہوم میں یہ معنی ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں شاگرد یا مرید نہ ہو۔ (ایضاً‘ ص ۱۲۔ ۱۳) اور کتاب ”ایام الصلح“ میں لکھتے ہیں کہ آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا‘ سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے گا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً" کہہ سکتا ہوں کہ میرا حال یہی ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے“۔ (ایام الصلح‘ مولفہ مرزا غلام احمد

صاحب‘ ص ۱۴۷)

دینی تعلیم

سطور مافوق میں مرزا صاحب نے قسم کھائی ہے کہ میں نے قرآن یا حدیث کا ایک

صفحہ 44

سبق بھی کسی استاد سے نہیں پڑھا لیکن بوالعجبی دیکھو کہ ”مسیح موعود“ صاحب نے خود ہی دوسری جگہ اپنی قسم کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے‘ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ”بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر کیے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے‘ نہایت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے۔ اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان کا نام گل علی شاہ تھا۔ ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیاں میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں۔“ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۱۴۸۔ ۱۵۰) مرزا بشیر احمد ابن مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں کہ آپ کے استاد فضل الٰہی قادیاں کے باشندہ حنفی تھے۔ دوسرے استاد فضل احمد فیروزوالہ ضلع گوجرانوالہ کے باشندہ اہلحدیث تھے۔ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی (مرزائی) انہی کے بیٹے تھے۔ تیسرے استاد سید گل علی شاہ بٹالہ کے باشندہ اور شیعہ تھے۔ (سیرۃ المہدی‘ مولفہ مرزا بشیر احمد‘ ایم۔ اے‘ جلد اول‘ ص ۲۳۳)

قادیاں کے الہامی صاحب کو کتب بینی سے اتنا شغف تھا کہ ہر وقت کتابوں کے کیڑے بنے رہتے تھے۔ اغلب ہے کہ اس سلسلہ کتب بینی میں ہزاروں نہیں لاکھوں کتابیں چاٹ گئے ہوں گے۔ چنانچہ خود لکھتے ہیں کہ ”ان دنوں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہیں تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہیے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آ جائے۔“ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۱۵۰) کثرت مطالعہ کی ایک اور شہادت ملاحظہ ہو۔ مرزا صاحب کے سوانح عمری میں لکھا ہے کہ آپ (مرزا صاحب) کو خدا تعالیٰ نے کتابوں کے دیکھنے کا اس قدر شوق اور شغل دیا ہوا تھا کہ مطالعہ کے وقت گویا دنیا

صفحہ 45

میں ہی نہ ہوتے تھے۔ آپ کی عادت شروع سے ایسی ہی تھی کہ اکثر مطالعہ ٹہل کر کرتے تھے اور ایسے محو ہو کر کثرت سے ٹہلتے تھے کہ جس زمین پر ٹہلتے تھے‘ دب دب کر باقی زمین سے متمایز اور پست نیچی ہو جاتی تھی۔ (سوانح عمری مرزا صاحب ملحقہ براہین احمدیہ‘ ص ۶۳) قارئین حضرات! اب ذرا انصاف فرمائیے کہ جو شخص فضل الٰہی‘ فضل احمد اور گل علی شاہ تین استادوں سے تحصیل علم کرے اور کثرت مطالعہ کا یہ عالم ہو کہ بکثرت ٹہلنے سے نیچے کی زمین ہی دب جائے‘ پھر دعویٰ یہ کرے کہ آدمؑ کی طرح میرا کوئی استاد و مرشد نہیں بلکہ صرف خدا استاد و مرشد ہے‘ کہاں تک راست بیانی پر مبنی ہے؟

تعلیم کے لیے ایک مدرس نوکر رکھنے کا افسانہ

مرزا صاحب کی تحریر سے جو اوپر درج ہوئی‘ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مولوی فضل الٰہی اور مولوی فضل احمد صاحبان سے تو مفت پڑھتے رہے لیکن گل علی شاہ صاحب کو حکیم غلام مرتضیٰ نے اپنے بیٹے غلام احمد کی تعلیم کے لیے نوکر رکھا ہوا تھا۔ مگر راقم الحروف کو بٹالہ کے سفر میں معلوم ہوا کہ یہ بیان بالکل بے بنیاد ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب قادیاں میں مرزا غلام مرتضیٰ کا مطب نہ چلا یا وہاں کی قلیل آمدنی پر قانع نہ ہوئے تو انہوں نے بٹالہ آ کر جو ایک بڑا قصبہ ہے‘ مطب کھول لیا اور یہیں ایک مکان بھی بنوا لیا تھا۔ اسی مکان میں باپ اور بیٹا (مرزا غلام احمد) رہتے تھے۔ باپ مطب کرتا تھا اور بیٹا وہاں سے قریب ہی مسجد ہدانیاں میں سید گل علی شاہ شیعی سے تعلیم پاتا تھا۔ راقم الحروف نے بٹالہ میں مسجد ہدانیاں دیکھی ہے اور وہ مکان بھی دیکھا ہے‘ جہاں مرزا غلام مرتضیٰ مطب کرتے تھے۔ حاجی نور محمد صاحب معتمد مجلس شبان مسلمین کی معیت میں بٹالہ کے بعض بڑے بوڑھے سن رسیدہ بزرگوں سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ حکیم غلام مرتضیٰ صاحب بٹالہ میں مطب کرتے رہے ہیں۔ بٹالہ کا مکان آج کل حکیم غلام مرتضیٰ کی اولاد کے قبضہ میں نہیں ہے‘ کیونکہ اسے میر احمد شاہ وکیل نے حکیم غلام مرتضیٰ کی زندگی میں یا ان کی رحلت کے بعد خرید لیا تھا۔ اس بیان کی تائید مرزا احمد علی صاحب امرتسری (شیعی) کی تحریر سے بھی ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”مولوی گل علی شاہ شیعہ مذہب کے فاضل اجل تھے۔ بڑے بڑے رئیس ان کے آستانہ پر حاضر ہوا کرتے تھے بلکہ مرزا غلام احمد کے والد مرزا غلام مرتضیٰ

صفحہ 46

بھی بٹالہ میں ان کے دسترخوان کے ریزہ چین تھے۔ گل علی شاہ کسی رئیس کے در دولت پر کبھی نہیں گئے چہ جائیکہ حکیم غلام مرتضیٰ جیسے قلاش کی نوکری کرتے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی تسلی کے لیے غلط بیانی سے کام لیا ہے"۔ (مراۃ القادیانیہ‘ مؤلفہ مرزا احمد علی امرتسری‘ ص ۲۹۔ ۳۰) بہرحال یہ افسانہ بالکل غلط اور سخت مضحکہ خیز ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ نے اپنے بیٹے کی تعلیم کے لیے کوئی مدرس نوکر رکھا تھا۔ گل علی شاہ صاحب کے پوتے سید باقر حسین ہمدانی کا خیال تھا کہ وہ قادیانی کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا دعویٰ دائر کریں‘ کہ ان کے دادا کی توہین کی گئی۔ لیکن معلوم نہیں کہ اس ارادہ کو قوۃ سے فعل میں کیوں نہ لایا گیا۔ غالباً کوئی زبردست مانع حائل ہو گیا ہوگا۔

قادیانی ملہم بحیثیت نیم مُلّا خطرۂ ایمان

مرزا صاحب نے ”کتاب البریہ“ میں اپنے تحصیل علم کی جو شرح کی ہے‘ اس سے دو باتیں پایہ ثبوت کو پہنچتی ہیں۔ اول یہ کہ ان کی تعلیم ادھوری رہی اور انہیں کسی فن میں کافی دست گاہ حاصل نہ تھی۔ خصوصاً حدیث‘ فقہ‘ تفسیر‘ کلام وغیرہ دینی علوم میں بہت تھوڑا درک تھا۔ دوسرا انہوں نے جتنا کچھ پڑھا وہ بھی بالاہتمام کسی مستند اسلامی درسگاہ میں نہ پڑھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ”مسیح موعود“ صاحب کو صحیح اسلامی تعلیمات سے محروم اور مذہبی معلومات سے بالکل کورا پاتے ہیں۔ اصل میں مرزا صاحب نیم ملا خطرۂ ایمان کی مجسم تصویر تھے۔ عقائد اسلامی کے رد و قبول میں ان کی حالت ہمیشہ مذبذب رہی۔ علمائے ملت اس تذبذب کو فقدان ایمانی اور الحاد پسندی سے تعبیر کرتے ہیں مگر یہی وہ چیز تھی جو ان کے لیے موجب صد ہزار ناز و افتخار بنی ہوئی تھی۔ بہرحال ”مسیح موعود“ صاحب میں کوئی اور خوبی تھی یا نہیں تھی لیکن مسلمانوں کے متاع ایمانی پر ڈاکہ ڈالنے میں ان کو جو کمال حاصل تھا‘ اس کی نظیر اس قسم کے نیم ملاؤں میں بمشکل مل سکے گی۔

باب ۷

سیالکوٹ کی ملازمت اور مختاری کا امتحان

صفحہ 47

سیالکوٹ کی سرکاری ملازمت بھی تاریخ مرزائیت کا ایک اہم باب ہے۔ مرزائی بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ انگریزی حکومت نے مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کے لیے سات سو روپیہ سالانہ کی پنشن تا حین حیات مقرر کر دی تھی۔ اس سے خاندان کے بسر اوقات کی ایک اطمینان بخش صورت پیدا ہو گئی تھی۔ لیکن چونکہ حکیم صاحب کی آنکھیں بند ہوتے ہی یہ بھی بند ہو جانے والی تھی، اس لیے وہ اپنے بیٹے غلام احمد صاحب کے مستقبل کی طرف سے اکثر فکرمند رہا کرتے تھے۔ مرزائی بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملازمت سیالکوٹ کی علت غائی حضرت ”مسیح موعود“ صاحب کی کوئی ایسی ناشدنی حرکت تھی جس نے انہیں گھر میں منہ دکھانے کے قابل نہ رہنے دیا تھا۔ چنانچہ خلیفۃ المسیح مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں: ”اور ایسا ہوا کہ ان دنوں میں آپ گھر والوں کے طعنوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے قادیاں سے باہر چلے گئے تھے اور سیالکوٹ جا کر رہائش اختیار کر لی اور گزارہ کے لیے ضلع کی کچہری میں ملازمت بھی کر لی“۔ (تحفہ شہزادہ ویلز، ص ۳۴۱) اس اجمال کی تفصیل ان کے برادر خورد مرزا بشیر احمد صاحب کے بیان میں ملتی ہے۔ چنانچہ ”سیرۃ المہدی“ میں رقمطراز ہیں۔ ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکا دے کر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور جگہ چلا گیا۔ حضرت مسیح موعود اس شرم سے واپس گھر نہیں آئے۔ چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں، اس لیے آپ شہر سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے“۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۳۴-۳۵) اس بیان میں مرزا محمود احمد صاحب خلیفۃ المسیح اور مرزا بشیر احمد صاحب ایم، اے مولف سیرۃ المہدی کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں کہ مرزا امام الدین مسیح موعود صاحب کو ان کی جوانی کے زمانہ میں پھسلا کر لے گیا اور ان کو دھوکا دیا۔ لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا ”مسیح موعود“ کوئی ناسمجھ لڑکی تھی جسے کوئی بدمعاش اغوا کر کے لے گیا یا کوئی ننھا بچہ تھا جو مٹھائی کا نام سن کر پیچھے چل پڑا؟ جب ”مسیح موعود“ صاحب

صفحہ 48

عاقل بالغ ذی ہوش صاحب علم و خرد تھے تو مرزا امام الدین کا پھسلانا اور دھوکا دینا کیا معنی رکھتا ہے؟ ممکن ہے کہ مرزا امام الدین نے ہی یہ رائے دی ہو کہ چلو ذرا لاہور اور امرتسر کی دلفریبیاں دیکھیں، وہاں کے تماشات سے جی بہلائیں، چمن جوانی کی بہار کے مزے لوٹیں کہ ع

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

مرزا امام الدین تنہا قصوروار نہیں تھا

لیکن ظاہر ہے کہ جب تک خود مسیح صاحب ہوا و ہوس کے غلام نہ ہوتے، فانی دلچسپیوں اور نفسانی خواہشوں سے انس نہ ہوتا، مرزا امام الدین لاکھ سر پٹکتا، وہ اس کے دام اغواء میں نہیں پھنس سکتے تھے۔ پس کوئی ذی عقل انسان ایسی طفل تسلیوں کو ایک منٹ کے لیے بھی باور کرنے پر تیار نہ ہو گا کہ مرزا امام الدین کے پھسلاتے وقت ”مسیح موعود“ صاحب کے ہوش و حواس برقرار نہیں تھے۔ ظاہر ہے کہ کھانے پینے میں سات سو روپیہ کی کثیر رقم خصوصاً ۱۸۶۴ء جیسے ارزاں ترین زمانہ میں جبکہ گیہوں کا نرخ قریباً آٹھ آنہ من، گوشت کا ایک آنہ سیر، گھی کا چار آنہ فی سیر بتایا جاتا ہے، صرف کھانے پینے پر یا اس قسم کی عام مباح تفریحات پر کبھی اٹھ نہیں سکتی تھی۔ اور اگر بالفرض پندرہ بیس روپے جائز تفریحات پر اٹھ ہی گئے تھے تو یہ کوئی ایسا قابل سرزنش فعل نہیں تھا کہ جس کی وجہ سے مسیح صاحب گھر جانے سے ہچکچاتے اور بھاگ کر سیالکوٹ جیسے دور افتادہ مقام پر جا دم لیتے، لیکن دس بیس روپے کا کیا ذکر ہے، اتنی کثیر رقم میں سے ایک حبہ بھی گھر نہیں پہنچا۔ ظاہر ہے کہ اس ضیاع مالیہ پر مرزا غلام مرتضیٰ صاحب اور محترمہ چراغ بی بی صاحبہ، جن کے سال بھر کے مصارف اور خانگی ضروریات کا مدار اسی رقم پر تھا، کس درجہ مضطرب اور بدحواس ہوئے ہوں گے۔ اس وقت مرزا امام الدین سن کہولت کو پہنچا ہوا تھا اور مسیح صاحب کا اوج شباب تھا اور جوش جوانی میں اکثر لوگ بے اعتدالیاں کر گزرتے ہیں۔ پس اگر ”مسیح موعود“ صاحب سے کچھ بے اعتدالیاں ہو گئیں تو میرے نزدیک وہ نظرانداز کر دینے کے قابل ہیں، کیونکہ جوانی دیوانی مشہور ہے اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو عالم شباب سے نکل کر سن کہولت میں قدم رکھ دیتے ہیں۔

صفحہ 49
اچھا ہوا شباب کا عالم گزر گیا
اک جن چڑھا ہوا تھا کہ سر سے اتر گیا

اس لیے کم از کم مجھے عالم شباب کی بے اعتدالیوں پر قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اور اگر اعتراض ہے تو محض اس چیز پر کہ جب حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نہ صرف عاقل بالغ بلکہ بقول مرزائیہ مادر زاد نبی تھے تو وہ مرزا امام الدین کے چکمہ میں کس طرح آگئے اور مرزا امام الدین کو تنہا کیوں مجرم گردانا جاتا ہے؟

جریدہ ”پیغام صلح“ کی ”خوش فہمی“

ینگ مین محمدیہ ایسوسی ایشن لاہور کے اس اعتراض کے جواب میں کہ مرزا غلام احمد اور مرزا امام الدین نے مل کر گلچھڑے اڑائے اور سات سو روپیہ کی رقم خطیر خواہشات نفسانی کی نذر کی‘ لاہوری مرزائیوں کے آرگن ”پیغام صلح“ نے ایک مرتبہ مرزا غلام احمد کو ایک نابالغ اور بے سمجھ لڑکا ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ (دیکھو ”پیغام صلح“ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۳۹ء) مگر یہ بیان سراسر مغالطہ دہی اور ابلہ فریبی ہے۔ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب کی عمر اس وقت حسب تصریح میاں بشیر احمد‘ ایم۔ اے اٹھائیس سال کی تھی کیونکہ میاں بشیر احمد نے سیرۃ المہدی (جلد ۲‘ ص ۱۵۰) میں اپنے والد کا سال ولادت ۱۸۳۶ء اور سال ملازمت ۱۸۶۴ء بتایا ہے اور اٹھائیس سال کی عمر جوانی کی امنگوں کا اوج کمال ہے۔ پس مرزا غلام احمد کو بے قصور اور مرزا امام الدین کو قصوروار ٹھہرانا کسی طرح قرین انصاف نہیں ہے۔ ”پیغام صلح“ کا ایک مزیدار استدلال ملاحظہ ہو۔ نہایت معصومانہ انداز میں لکھتا ہے ”باقی حضرت مسیح موعود کے چال چلن کی پاکیزگی تو اسی سے ثابت ہے کہ وہی مرزا امام الدین عرصہ دراز تک آپ (مرزا غلام احمد) کی زندگی میں زندہ رہا۔ ہر قسم کی مخالفت کرتا رہا لیکن نہ وہ اور نہ کوئی اور قادیاں یا بیرون قادیاں کا کوئی مخالف آپ کے چال چلن پر کوئی عیب رکھ سکا“۔ (پیغام صلح‘ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۳۹ء) لیکن ایسا خیال ایڈیٹر ”پیغام صلح“ کی ”خوش فہمی“ پر دلالت کرتا ہے‘ کیونکہ مرزا غلام احمد تنہا کسی فعل کے مرتکب نہیں ہوئے تھے بلکہ مرزا امام الدین بھی ہر کام میں ان کا شریک حال تھا۔ ایسی حالت میں وہ مرزا غلام احمد صاحب کی عیب گیری نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس کے اظہار سے خود اس کا اپنا دامن

صفحہ 50

عصمت بھی داغدار ہوتا تھا۔ اور چونکہ سات سو روپیہ خرچ کرنے کا واقعہ قادیاں سے باہر کا تھا اور نہیں معلوم کہ امام الدین اور غلام احمد کہاں کہاں سیر سپاٹے اڑاتے پھرے تھے اس لیے عام پبلک ان مخفی حالات پر کسی طرح مطلع نہیں ہو سکتی تھی۔

سیالکوٹ کا قیام اور دور ملازمت

مرزا غلام احمد صاحب سیالکوٹ پہنچ کر نوکری کی تلاش کرنے لگے اور کچھ دنوں کے بعد ضلع کچہری میں نوکر ہو گئے۔ نوکری کی نوعیت میں اختلاف ہے۔ بعض کا بیان ہے کہ اہلمد متفرقات تھے۔ بعض کہتے ہیں کہ محرر تلف کی حقیر اسامی پر ملازم ہوئے۔ مشاہرہ پندرہ روپے ماہانہ بتایا جاتا ہے۔ مرزا صاحب کا اپنا بیان ہے کہ میں سات سال سیالکوٹ رہا ہوں۔ پس یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ قادیانی صاحب شروع ہی میں پندرہ روپے تنخواہ پر ملازم ہوئے تھے یا سات سال میں ترقی کرتے کرتے پندرہ روپے پر پہنچے تھے۔ میاں بشیر احمد صاحب کا بیان ہے کہ مرزا صاحب محلہ کشمیریاں سیالکوٹ میں کرایہ کا مکان لے کر مقیم ہوئے۔ مالک مکان کا نام عمرا جولاہا تھا۔ کچھ عرصہ کے بعد جامع مسجد کے سامنے ایک بالا خانہ پر منصب علی وثیقہ نویس کی رفاقت میں رہنے لگے۔ جب عمرا جولاہا کے مکان پر رہتے تھے اور حاجت مند لوگ حسب دستور آتے تو مرزا صاحب عمرا جولاہا کے بڑے بھائی فضل الدین کو بلا کر کہتے کہ ان لوگوں کو سمجھا دو کہ یہاں نہ آیا کریں۔ جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے وہ میں کچہری ہی میں کر آتا ہوں تو فضل الدین ان کو نکال دیتا۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۲۵۲) میاں بشیر احمد صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے دوران ملازمت میں اپنا دامن رشوت ستانی سے ملوث نہیں ہونے دیا۔ لیکن اکثر واقف کار مرزا صاحب کو رشوت ستانی کا ملزم گردانتے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ الزام صحیح ہو، مگر کسی قطعی دلیل کے بغیر اس قسم کا الزام عاید کرنا سخت بیجا ہے۔ مرزا احمد علی اثنا عشری امرتسری کتاب ”دلیل العرفان“ میں لکھتے ہیں کہ منشی غلام احمد امرتسری نے رسالہ ”نکاح آسمانی کے راز ہائے پنہانی“ میں مرزا غلام احمد کے حین حیات بڑے طمطراق سے لکھا تھا کہ انہوں نے زمانہ محرری میں خوب رشوتیں لیں۔ یہ رسالہ ۱۹۰۰ء میں یعنی مرزا صاحب کی وفات سے آٹھ سال پیشتر شائع ہوا تھا لیکن مرزا صاحب نے اس الزام کی کبھی تردید نہ

صفحہ 51

کی اور نہ زمانہ محرری میں اپنی دیانت ثابت کر سکے۔ (دلیل العرفان، مولفہ مرزا احمد علی امرتسری، ص ۱۱۳) اسی طرح مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی نے مناظرہ روپڑ میں، جو ۲۱۔۲۲ مارچ ۱۹۳۲ء کو ہوا، ہزارہا کے مجمع میں بیان کیا کہ مرزا صاحب نے سیالکوٹ کی نوکری میں رشوت ستانی سے خوب ہاتھ رنگے اور یہ سیالکوٹ ہی کی ناجائز کمائی تھی جس سے مرزا صاحب نے چار ہزار روپیہ کا زیور اپنی دوسری بیوی کو بنوا دیا۔ (روئیداد مناظرہ روپڑ، مطبوعہ کشن سٹیم پریس جالندھر شہر، صفحہ ۳۵)

عیسائیوں سے مناظرے

مرزا غلام احمد صاحب دوران ملازمت میں وقتاً فوقتاً عیسائیوں سے مناظرے بھی کر لیا کرتے تھے۔ جس جگہ جامع مسجد سیالکوٹ کے سامنے منصب علی وثیقہ نویس کے ساتھ رہتے تھے، وہاں سے قریب ہی فضل الدین نامی ایک دکاندار تھا۔ وہ بڑی رات گئے تک دکان کھولے بیٹھا رہتا تھا۔ بعض پڑھے لکھے مسلمان بھی آ موجود ہوتے۔ کبھی کبھی نصر اللہ عیسائی ہیڈ ماسٹر مشن سکول سیالکوٹ بھی آ جاتا اور اس سے مرزا غلام احمد صاحب کی مذہبی جھڑپ ہو جاتی۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۲۵۲) صاحبزادہ بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب کو مباحثہ کا شوق تھا۔ ایک مرتبہ دیسی پادری الایثہ نے کہا کہ مسیحیت کے سوا کسی مذہب میں نجات نہیں۔ مرزا صاحب نے کہا کہ نجات سے تمہاری مراد کیا ہے؟ وہ خاموش ہو گیا۔ میاں بشیر احمد کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الہ داد سابق محافظ دفتر سے مرزا صاحب کی بہت دوستی تھی اور بعض اوقات ان کے گھر پر جایا کرتے تھے۔ (ایضاً، ص ۱۳۸) مولوی عبد الرحمٰن صاحب پنشنر سب جج (منصف) نے جو لاہور میں خاکسار راقم الحروف کے قیام گاہ سے تھوڑے فاصلہ پر رہتے ہیں، راقم سے بیان کیا کہ شیخ الہ داد ریکارڈ کیپر ڈسٹرکٹ کورٹ سیالکوٹ سائیں کیسر شاہ مجذوب متوطن وایانوالی ضلع گوجرانوالہ کے ماننے والوں میں سے تھے۔ ایک مرتبہ مرزا غلام احمد صاحب شیخ الہ داد کو ساتھ لے کر ایک انگریز پادری سے مناظرہ کرنے گئے۔ پادری نے دریافت کیا تم دونوں میں سے کون صاحب مناظرہ کریں گے؟ شیخ الہ داد نے مرزا صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہا یہی گفتگو کریں گے۔ ان کو مناظروں کا بڑا شوق ہے۔ پادری نے مرزا صاحب سے خطاب کرتے ہوئے کہا

صفحہ 52

مسیح (علیہ السلام) کو آپ لوگ بھی مانتے ہیں اور ہم بھی۔ لیکن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو صرف تم لوگ مانتے ہو‘ ہم نہیں مانتے۔ ایسی حالت میں آپ لوگوں کو عیسائی ہو جانے میں کیا عذر ہے؟ مرزا صاحب سے اس کا کچھ جواب نہ بن پڑا اور سوچنے لگے۔ آخر جب بحر تفکر میں غوطہ لگائے بہت دیر ہو گئی تو شیخ الہ داد نے مرزا صاحب کو بتایا کہ وقت ہو گیا۔ پادری نے شیخ الہ داد سے کہا تمہارا اقرار تھا کہ ایک ہی آدمی گفتگو کرے گا‘ لیکن تم نے خلاف وعدہ اپنے مناظر کو لقمہ دیا ہے۔ الہ داد نے کہا پادری صاحب! جب ہمارے مناظر صاحب اس بات کو سمجھ ہی نہیں سکے کھ میں نے انہیں کیا بتایا۔ تو میرا لقمہ آپ کے حق میں کچھ مضر نہیں ہوا۔ غرض مرزا صاحب شکست کھا کر چلے آئے۔ شیخ الہ داد کے اس قول کا کہ ”وقت ہو گیا“ یہ مطلب تھا کہ ”عیسیٰ علیہ السلام اپنے وقت میں نبی ہو چکے۔ اب جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا دور ہے‘ اس لیے جناب خاتم نبوت علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائے بغیر نجات ممکن نہیں“۔ اس واقعہ سے یہ نتیجہ نہ نکالنا چاہیے کہ مرزا صاحب ہمیشہ ہزیمت ہی کھاتے ہوں گے‘ نہیں۔ بعض دفعہ کامیابی بھی پاتے تھے۔ مثلاً میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک پادری سے گفتگو ہوئی۔ پادری نے کہا کہ مسیح کے بن باپ پیدا کیے جانے میں یہ حکمت تھی کہ وہ آدم کی شرکت سے بری رہیں کیونکہ آدم گنہگار تھا۔ مرزا صاحب نے کہا کہ مریم بھی تو آخر آدم ہی کی نسل سے تھیں‘ پھر براۃ کس طرح ممکن ہے؟ خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ عورت ہی آدم علیہ السلام کے گناہ کا باعث ہوئی تھی۔ پادری سے اس کا کچھ جواب نہ بن پڑا۔ (سیرۃ المہدی‘

جلد اول‘ ص ۲۷)

انگریزی تعلیم

مرزا صاحب کو انگریزی زبان میں بھی الہام ہوا کرتے تھے۔ اس الہام بازی سے مرزا صاحب کی امت کو فائدہ تو خاک پتھر بھی نہ ہوتا ہوگا‘ البتہ اس سے الہام کرنے والی ”ذات شریف“ کا بظاہر مرزا صاحب کو یہ جتلانا اور اس پر فخر کرنا مقصود ہوتا تھا کہ ہم تمہارے سفید آقایان فرنگ کی زبان بھی جانتے ہیں اور اس زبان میں بھی القاء کر سکتے ہیں۔ اسی بنا پر مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”نزول المسیح“ میں ارشاد فرمایا کہ میں انگریزی نہیں جانتا‘

صفحہ 53

اس کوچہ سے بالکل ناواقف ہوں۔ ایک فقرہ تک مجھے معلوم نہیں مگر خارق عادت کے طور پر مندرجہ ذیل الہامات ہوئے۔ آئی لو یو (میں تم سے محبت رکھتا ہوں)‘ آئی ایم ود یو (میں تمہارے ساتھ ہوں)‘ آئی شیل ہیلپ یو (میں تمہیں مدد دوں گا)۔ (نزول المسیح‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۱۴۱)۔ لیکن اہل نظر و اصحاب تحقیق نے حضرت ”مسیح موعود“ کے اس دعویٰ کو غلط بیانی اور دروغ مصلحت آمیز پر محمول کیا ہے۔ کیونکہ ”مسیح موعود“ صاحب نے سیالکوٹ میں انگریزی کی دو ایک کتابیں سبقاً پڑھی تھیں۔ اور اسی کا اثر تھا کہ انگریزی کے چند ٹوٹے پھوٹے فقرے لکھ کر الہام کے نام سے اپنی کتابوں میں زیب رقم فرما دیا کرتے تھے۔ چنانچہ مسیح صاحب کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد‘ ایم۔ اے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں کہ مولوی الٰہی بخش ڈسٹرکٹ انسپکٹر نے (سیالکوٹ میں) مشنوں کے لیے ایک انگریزی مدرسہ قائم کیا۔ ڈاکٹر امیر شاہ، پیشتر معلم تھے۔ حضرت ”مسیح موعود“ نے بھی انگریزی کی ایک دو کتابیں پڑھیں۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۱۴۷) اسی طرح مولوی احمد صاحب مرحوم امام مسجد صوفی کشمیری بازار لاہور نے خاکسار سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ میں اور شیخ التفسیر مولانا عبید اللہ سندھی‘ جو کئی سال سے مکہ معظمہ میں قیام فرما ہیں‘ لدھیانہ میں مرزا غلام احمد کو دیکھنے گئے۔ اس وقت وہ صرف مجددیت کے مدعی تھے۔ جب ہم مردانہ میں پہنچے تو اس وقت مرزا صاحب اندر زنان خانہ میں تھے۔ ان کی نشست گاہ میں ایک انگریزی کتاب رکھی تھی۔ مولوی عبید اللہ صاحب نے اس کتاب کو اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگے ”دیکھو اس شخص کا بیان ہے کہ میں انگریزی نہیں جانتا اور میرے جس قدر الہام ہیں وہ منجانب اللہ ہیں حالانکہ یہ شخص یقیناً تھوڑی بہت انگریزی جانتا ہے“۔

دست غیب کی تمنا

مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ اوائل گرما میں محمد صالح نامی ایک عرب وارد شہر ہوئے۔ تو پرکن صاحب ڈپٹی کمشنر نے جاسوسی کے شبہ میں ان کے بیانات قلمبند کیے۔ جن میں مرزا صاحب (جو ان دنوں منشی غلام احمد کہلاتے تھے) ترجمان مقرر ہوئے۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۱۴۶) حکیم مظہر حسن قریشی داروغہ آبکاری چھاؤنی سیالکوٹ نے کتاب ”چودھویں صدی کا مسیح“ میں اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے عرب صاحب اور منشی صاحب

صفحہ 54

کے دوستانہ تعلقات پر بھی روشنی ڈالی ہے چنانچہ حکیم صاحب موصوف رقم طراز ہیں۔ ”یہ عرب سیالکوٹ میں مسافرانہ وارد ہوئے تھے۔ جب ان کے پاس لوگوں کی زیادہ آمد و رفت ہوئی تو پولیس نے انہیں امی گریشن ایکٹ کے ماتحت ضلع مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا۔ چونکہ یہ ہندی نہیں بول سکتے تھے‘ ڈپٹی کمشنر نے ان سے گفتگو کرنے کے لیے ترجمان لانے کا حکم دیا۔ تمام عملہ ضلع میں تلاش ہوئی لیکن منشی غلام احمد کے سوا کوئی عربی دان اہلکار نہ مل سکا۔ ان کی وساطت سے گفتگو ہوئی۔ اس دن سے منشی صاحب عرب صاحب کے دوست بن گئے اور بے تکلفی ہو گئی۔ ایک مرتبہ اظہار گفتگو میں منشی صاحب نے عرب صاحب سے کہا کہ بندگی پابندگی ہے۔ اسی واسطے تو میں ملازمت کو پسند نہیں کرتا۔ ماتحتی بلائے جان ہے‘ چار پانچ برس ہوگئے‘ ہنوز روز اول ہے اور آئندہ ترقی کی بھی کوئی امید نہیں۔

عرب : ہم آپ کو ایک عمل بتلاتے ہیں۔ خدا نے چاہا تو تھوڑے دنوں کے ورد سے نوکری کی پروا نہیں رہے گی۔

منشی غلام احمد : درود و وظائف کا مجھ کو بچپن سے شوق ہے۔

عرب : استقلال چاہیے۔ بے صبری اور تلون مزاجی میں حسرت و یاس کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

منشی : کوئی دست غیب کا عمل بھی یاد ہے؟ مگر مجرب ہو۔ یوں تو کتابوں میں بہت لکھے ہوئے ہیں۔

عرب : یہ سب فضول باتیں ہیں۔ میں ان باتوں کا قائل نہیں ہوں۔

منشی : جفر کی کتابوں میں اس کے بہت سے عمل اور قاعدے لکھے ہیں۔

عرب : بھئی دست غیب یہی ہے کہ کسی کام میں رجوعات اور فتوحات ہو جائے۔

منشی : تو پھر یہ کیا ہوا؟ تدبیر اور محنت سے تو ہر شخص روپیہ پیدا کر سکتا ہے۔

صفحہ 55

عرب : کوئی کام یا کارخانہ انسان جاری کرے۔ اگر اس میں فتوحات اور رجوعات ہو جائے تو وہی دست غیب ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اسی کے واسطے دعائیں اور اوراد ہیں۔ ہاں اگر جفر کے قاعدہ سے ترکیب کے ساتھ کوئی عمل کیا جائے تو اس کا اثر جلد اور حسب مراد ہوتا ہے۔

منشی : نوکری ہی میں ترقی ہو جائے تو بھی غنیمت ہے۔

عرب : منشی جی! اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کی فطرت میں ایک مادہ پیدا کیا ہوتا ہے۔ وہ اپنے فطری مادہ کے مطابق میلان رکھتا ہے۔ آپ کی فطرت میں یہ مادہ نہیں ہے کہ آپ نوکری کے ذریعہ سے دولت جمع کر سکیں۔ آپ ہمیشہ افسروں کے شاکی اور افسر آپ سے ناراض رہتے ہیں۔

منشی : میرا خیال ہے کہ قانون کا مطالعہ کر کے وکالت کا امتحان دوں۔ وکالت میں معقول آمدنی ہے۔ عزت ہے۔ آزادی ہے۔ ملازمت میں خوشامد اور فرمان برداری بری بلا ہے۔ اگر امتحان میں پاس ہو گیا تو بڑی کامیابی ہے۔

(”چودھویں صدی کا مسیح“ مطبوعہ مطبع اہل حدیث امرتسر‘ طبع

۱۳۲۲ھ‘ ص ۱۱)

احترام قرآن کا صحیح مرزائی جذبہ

مرزا غلام احمد صاحب کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد نے سیرۃ المہدی‘ جلد اول کے دو مقامات (ص ۲۴۶ و ۲۵۲) پر مولوی میر حسن صاحب سیالکوٹی کا ذکر کیا ہے۔ مولوی صاحب مرحوم مرے کالج سیالکوٹ میں عربی‘ فارسی اور اردو کے پروفیسر اور علامہ سر ڈاکٹر محمد اقبال مرحوم کے استاد تھے۔ یاد رہے کہ علامہ مرحوم دراصل سیالکوٹ کے باشندہ تھے۔ لیکن عرصہ دراز سے لاہور میں بود و باش اختیار کر لی تھی۔ سیرۃ المہدی جلد اول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی میر حسن صاحب مسیح قادیاں کے خاص سیالکوٹی احباب میں

صفحہ 56

سے تھے۔ اسی بنا پر ایک مرتبہ بشیر احمد صاحب نے سیرۃ المہدی کی تالیف کے وقت ان سے اپنے باپ کے وہ حالات دریافت کیے جو مرزا صاحب کے قیام سیالکوٹ کے دوران میں ان کے علم و مشاہدہ میں آئے تھے۔ چنانچہ اس استدعا کے بموجب انہوں نے مرزا صاحب کے چشم دید حالات لکھ بھیجے۔ چونکہ مولوی صاحب خدانخواستہ مرزائی نہیں تھے، اس لیے قرینہ ہے کہ انہوں نے ہر قسم کے بھلے برے حالات بے کم و کاست لکھ بھیجے ہوں گے لیکن بشیر احمد صاحب نے ان میں سے صرف مفید مطلب چیزیں انتخاب کر لی ہوں گی۔ مثلاً مولوی میر حسن صاحب کا مندرجہ ذیل بیان جو ایک سیالکوٹی پروفیسر صاحب نے خاکسار راقم الحروف سے بیان کیا ”سیرۃ المہدی“ میں درج نہیں ہے اور نہ اس قسم کے واقعات کے اندراج کی کوئی توقع ہو سکتی تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ مولوی میر حسن مرحوم کے سامنے مسیح قادیاں کے سوانح حیات جو کسی مرزائی گم کردہ راہ نے ترتیب دیے ہوں گے پڑھے جا رہے تھے۔ ان میں لکھا تھا کہ مرزا صاحب کے دل میں قرآن پاک کی بڑی عظمت تھی۔ یہ سن کر مولوی میر حسن صاحب مرحوم نے فرمایا کہ ”ہاں عظمت قرآن کا اندازہ اس سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ مرزا صاحب کی تلاوت کا جو قرآن تھا، اس میں مرزا صاحب نے خاتمہ قرآن پر یعنی سورۂ ناس کے اختتام پر قوت باہ کا ایک نسخہ لکھ رکھا تھا“۔

مختاری کا امتحان

لالہ بھیم سین بٹالوی مرزا صاحب کے پرانے ہم سبق تھے۔ یہ دونوں بٹالہ میں مولوی گل علی شاہ شیعی کے پاس بہت دن تک اکٹھے پڑھتے رہے اور دونوں میں باہم انس و ارتباط ہو گیا۔ بڑے ہوئے تو بھیم سین نے قسمت آزمائی کے لیے سیالکوٹ کی راہ لی اور لوکل بورڈ میں اہلمد ہو گئے۔ جب مرزا صاحب نے ۱۸۶۴ء میں پنشن کی رقم غارت کرنے کے بعد روپوش ہونے کا قصد کیا تو بھیم سین کی موجودگی کا لحاظ کرتے ہوئے سیالکوٹ سے بہتر کوئی مامن نظر نہ آیا۔ چنانچہ سیالکوٹ پہنچے اور غالباً لالہ بھیم سین ہی کی کوشش سے کچہری میں نوکر ہو گئے۔ چند سال کے بعد دونوں کی صلاح ہوئی کہ مختاری کا امتحان دیں۔ بھیم سین کی تنخواہ ان دنوں تیس روپے ماہوار تھی۔ غرض دونوں تیاری کر کے امتحان میں شریک ہوئے۔ میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ”مرزا صاحب کو الہام ہوا کہ بھیم سین کے سوا

صفحہ 57

سب فیل ہیں، اس لیے مرزا صاحب بھی فیل ہو گئے۔"۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۱۴۵) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کا الہامی خدا سیالکوٹ ہی میں ان کے پیچھے پڑ گیا تھا۔ اور غالباً اس کا سب سے پہلا فیضان یہی الہام نحوست التیام تھا۔ حالانکہ بیچارے مرزا صاحب نے اس وقت تک کوئی دعویٰ ہی نہیں کیا تھا۔ خدائے ذوالجلال اپنی رحمت سے ہر مسلمان کو اس الہامی کرم فرما کی نظر التفات سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ سیالکوٹ کی ملازمت ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۸ء تک رہی۔ (ایضاً، ص ۳۵) یہ مدت صرف چار سال بنتی ہے اور اگر ابتدائی اور آخری دونوں سالوں کو شمار کر لیا جائے تو پانچ سال بنتے ہیں۔ لیکن مرزا صاحب جب ترک خدمت کے چھتیس سال بعد (۱۹۰۴ء میں) دوبارہ سیالکوٹ وارد ہوئے تو اپنے لیکچر میں بیان کیا کہ میں سات سال تک اس شہر میں رہ چکا ہوں۔ (لیکچر سیالکوٹ، ص ۵۲) معلوم نہیں ہر دو بیانات میں سے صحیح کون سا ہے؟ لیکن دراصل ان میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ منشی صاحب کو سیالکوٹ جاتے ہی فوراً نوکری نہ ملی ہو بلکہ شروع شروع میں دو ڈھائی سال کی مدت جوتیاں چٹخانے اور ملازمت پیشہ لوگوں کے گھروں کا طواف کرنے میں گزری ہو اور آخر کہیں ۱۸۶۴ء میں حصول ملازمت کی سعادت و کامرانی سے بہرہ مند ہوئے ہوں۔ مسیح صاحب نے لکھا ہے کہ "والد کے زیر سایہ ہونے کے ایام میں چند سال تک میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔ آخر میرا جدا رہنا میرے والد صاحب پر بہت گراں تھا، اس لیے ان کے حکم سے جو عین میری منشاء کے موافق تھا، میں نے استعفا دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ (کتاب البریہ، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۱۴-۱۵)۔ میرے نزدیک مرزا صاحب کا یہ فرمانا بالکل بجا ہے کہ وہ سیالکوٹ کی نوکری کراہت طبع کے ساتھ کرتے رہے کیونکہ عملہ ضلع میں نہ کوئی ان سے خوش تھا اور نہ وہ کسی سے خوش تھے۔ اس لیے یہ نوکری ان کی طبیعت کے خلاف تھی۔ ہاں اگر مختاری کے امتحان میں کامرانی کی دیوی اپنے حسن دل آویز کی ایک جھلک دکھا جاتی تو پھر نہ والد صاحب کی خدمت میں حاضری کا کبھی دل میں خیال آتا اور نہ والد پر ہی فرزند گرامی کی مفارقت شاق ہوتی۔ اگر کامیاب ہو جاتے تو مختاری میں دو فائدے تھے، ایک تو موکلوں کی جیبیں خالی کرانے میں

صفحہ 58

روحانی مسرت کے سامان، دوسرا آزادی و خود مختاری کی نعمت۔ لیکن وا حسرتا کہ دل کی دل ہی میں رہی اور مرزا صاحب ان دونوں نعمتوں سے لذت اندوز نہ ہوسکے۔

باب ۸

مقدمہ بازی کے ”مقدس“ مشغلے

گو مرزا صاحب مختاری کے امتحان میں ناکام رہے لیکن اس سے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ قانون دان بن گئے اور قانونی موشگافیوں نے ان کے لیے کامیاب مقدمہ بازی کی راہیں کھول دیں۔ جب یہ مختاری کے امتحان میں ناکام اور منشی گری کی نوکری سے برداشتہ خاطر ہو کر قادیاں پہنچے اور والد نے ان کو جھگڑالو اور مقدمہ بازی کا اہل پایا تو مقدموں کی پیروی ان کے سپرد کر دی۔ چنانچہ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں کہ ”میرے والد صاحب اپنے بعض آباؤ اجداد کے دیہات کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے انگریزی عدالتوں میں مقدمات کر رہے تھے۔ انہوں نے انہی مقدمات میں مجھے بھی لگایا اور ایک زمانہ دراز تک میں ان کاموں میں مشغول رہا۔ افسوس ہے کہ بہت سا وقت عزیز میرا ان بیہودہ جھگڑوں میں ضائع گیا“۔ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ ص ۱۵۱)۔ مرزا صاحب قانون دان تھے اور مقدمہ بازی میں ان کے شغف و انہماک کا یہ عالم تھا کہ خواب بھی دیکھتے تو مقدمہ بازی کے۔ لیکن ان کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عام لوگوں کی طرح کوئی تھرڈ کلاس مقدمہ باز نہ تھے بلکہ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ مقدمہ بازی میں قانونی حربوں اور وکیلانہ داؤ پیچ کے ساتھ ساتھ باطنی تصرف سے بھی کام لیتے تھے اور جب کسی مقدمہ میں کامیاب ہو جاتے تھے تو اسے اپنا معجزہ قرار دیتے ہوئے اپنی بزرگی کی ڈینگیں مارنے لگتے تھے۔ حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب کہ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نے ہنوز مشیخت و تقدس کی مسند کو ایک منٹ کے لیے بھی زینت نہ بخشی تھی۔ اور دل و دماغ ہنوز ٹیچی ٹیچی یا اس قماش کے دوسرے ارواح کے نام سے بھی آشنا نہ تھا۔ مرزا صاحب کے چند کراماتی مقدمے بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں۔

صفحہ 59

مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارا ایک مقدمہ موروثی اسامیوں پر تھا۔ مجھے خواب میں بتلایا گیا کہ اس مقدمہ میں ڈگری ہوگی۔ میں نے متعدد لوگوں کے سامنے‘ جن میں شرپت رائے بھی تھا‘ یہ پیشین گوئی کی کہ اس مقدمہ میں ہماری فتح ہوگی۔ فیصلہ کے دن ہماری طرف سے کوئی شخص حاضر نہ ہوا اور مقدمہ خارج ہوگیا اور میں سخت غمزدہ ہوا‘ دل سخت پریشان تھا کہ میری پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔ اتنے میں غیب سے آواز آئی کہ ڈگری ہوگئی۔ میں نے شرپت رائے کو بلا کر اس کی اطلاع دی لیکن اس نے باور نہ کیا۔ صبح میں خود بٹالہ گیا اور تحصیل دار کے مثل خوان متھرا داس سے مل کر پوچھا کیا ہمارا مقدمہ خارج ہوگیا؟ اس نے کہا نہیں بلکہ ڈگری ہوگئی اور بتایا کہ تحصیل دار نے غلطی سے مقدمہ خارج کر دیا تھا‘ اس وقت میں موجود نہ تھا۔ جب میں واپس آیا تو تحصیلدار نے مجھے وہ فیصلہ شامل مسل کرنے کے لیے دیا۔ میں نے اس فیصلہ کو پڑھ کر تحصیل دار سے کہا‘ یہ فیصلہ غلط ہے کیونکہ جس فیصلہ کی بنا پر آپ نے یہ حکم لکھا ہے وہ تو اپیل کے محکمہ سے خارج ہوچکا ہے۔ تب تحصیلدار نے محکمہ اپیل کا فیصلہ پڑھ کر اپنا پہلا فیصلہ چاک کر دیا اور ڈگری کر دی۔ (حقیقۃ المہدی‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۲۶۰-۲۶۲) ملہم صاحب لکھتے ہیں کہ ۱۸۸۴ء سے پہلے میں مرزا صاحب (حکیم غلام مرتضیٰ) کے وقت میں کسانوں کے ساتھ ایک مقدمہ پر امرتسر میں کمشنر کی عدالت میں تھا۔ فیصلہ سے ایک دن پہلے کمشنر کسانوں کی نہایت رعایت کرتا ہوا اور ان کی شرارتوں کی پروا نہ کر کے برسر عدالت کہنے لگا کہ یہ غریب لوگ ہیں۔ تم ان پر ظلم کرتے ہو۔ اس رات میں نے دیکھا کہ وہ انگریز ایک چھوٹے سے بچے کی شکل میں میرے پاس کھڑا ہے۔ میں اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا ہوں۔ اس کے بعد جب ہم عدالت میں گئے تو اس کی حالت ایسی بدلی ہوئی تھی کہ گویا وہ پہلا انگریز ہی نہ تھا۔ اس نے کسانوں کو بہت ڈانٹا اور مقدمہ ہمارے حق میں فیصلہ کیا۔ اور ہمارا سارا خرچہ بھی ان سے دلایا۔ (البشریٰ یعنی مجموعہ الہامات مرزا صاحب۔ جلد اول‘ حصہ دوم‘ ص ۱۵-۱۶) مرزا صاحب کے اس بیان سے ثابت ہوا کہ ”مسیح موعود“ صاحب اوائل ہی سے ظلم کے حامی اور جور و بیداد کے خوگر تھے۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ غیر قوم کا کوئی حاکم جسے فریقین سے کوئی تعلق نہ تھا‘ مرزا صاحب سے کہتا کہ تم ان لوگوں پر ظلم کرتے ہو۔ اور پھر بوالعجبی دیکھو کہ مسیح صاحب اس انتباہ پر بھی بیدادگری سے باز نہ آئے بلکہ الٹا حاکم پر کوئی نامعلوم

صفحہ 60

اثر ڈال کر انصاف اور عدل گستری کی راہ میں حائل ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کمشنر مظلوموں کے بجائے مرزا صاحب کا حامی بن گیا۔ اس نے مفلوک الحال کسانوں کو ڈانٹنا شروع کیا اور مقدمہ مدعی کے حق میں فیصل کر دیا۔ کاش ”مسیح موعود“ صاحب ان ستیزہ کاریوں اور ظلم آرائیوں سے اپنا دامن بچا کر ایسے اعمال و اشغال کی طرف متوجہ ہوتے جو ان کی نجات کے کفیل ہو سکتے۔۔

اے کہ دستت می رسد کارے بکن پیش ازاں کز تو نیاید ہیچ کار

مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے اپنے ایک زمینداری مقدمہ کے متعلق، جو تحصیل بٹالہ میں دائر تھا، خواب آئی کہ جھنڈا سنگھ نامی ایک دخیل کار پر ہماری ڈگری ہو گئی۔ اس دخیل کار پر بوجہ ایک درخت کیکر (ببول) جس کو اس نے اپنے کھیت سے ہماری اجازت کے بغیر کاٹ لیا تھا، چودہ روپے کی نالش کی گئی تھی۔ سو خواب میں دکھائی دیا کہ دعویٰ مسموع ہو کر ڈگری کی گئی۔ (تریاق القلوب، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، تقطیع کلاں، ص ۳۶)

خود را فضیحت و دیگران را نصیحت

مرزا صاحب کا اس ضرب المثل پر پورا پورا عمل تھا ”خود را فضیحت و دیگران را نصیحت“۔ اپنا تو یہ حال تھا کہ دو تین روپے کے کیکر (ببول) کے لیے چودہ روپے کی نالش داغ دیتے تھے اور پھر یہ نالش کچھ قادیاں میں دائر نہیں ہوتی تھی بلکہ اس کے لیے بٹالہ تک کی خاک چھاننی پڑتی تھی۔ قادیاں سے بٹالہ تک کا فاصلہ مجھے معلوم نہیں لیکن اس مسافت کا تخمینہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آج کل ریل گاڑی آدھ گھنٹہ میں پہنچتی ہے۔ لیکن مرزا صاحب کمال دیدہ دلیری کے ساتھ دوسروں پر طعن کرتے ہیں کہ حضرت اویس قرنیؒ والدہ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اور ان کے اونٹوں کو فرشتے چرایا کرتے تھے۔ ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے والدہ کی خدمت کر کے یہ قبولیت اور عزت پائی، ایک وہ ہیں جو ایک ایک پیسہ کے لیے مقدمات کرتے ہیں اور والدہ کا نام ایسی بری طرح لیتے ہیں۔ (تقاریر مسیح موعود یا ملفوظات احمدیہ، ص ۳۴)۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کیکر کا مقدمہ جس کی زیادہ سے زیادہ قیمت دو ڈھائی روپے تھی، اور جس کے لیے مرزا صاحب بٹالہ تک کی بادِ

صفحہ 61

پیمائی کرتے رہے، ایک پیسہ کے حکم میں داخل نہیں تھا؟ مرزا صاحب تو دو ڈھائی روپے کی جگہ دور دراز کا سفر طے کر کے چودہ روپے کی نالش داغ دیتے اور مہینوں کچہریوں میں خراب ہوتے۔ اہلکاروں کی خوشامدیں کرتے، محرروں کو نذر دے دیتے اور چپراسیوں کی گالیاں سنتے تھے۔ جیسا کہ عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے لیکن صالحین امت کی حالت اس سے بالکل مختلف ہے۔ اہل اللہ میں سے کبھی کسی کے تذکرہ میں یہ نہ پڑھا گیا کہ اس نے کبھی کسی دنیوی عدالت میں مقدمہ بازی کی ہو اور وہ بھی مدعیانہ حیثیت سے۔ خاصان بارگاہ تو ناحق کے مقابلہ میں اپنا حق چھوڑ دیتے ہیں لیکن لڑائی جھگڑا گوارا نہیں کرتے۔ میں نے بعض ثقات سے سنا تھا کہ صاحبزادہ مولوی محمد امین صاحب چشتی مرحوم متوطن چکوڑی بھیلو وال ضلع گجرات کے خلاف ان کے یگانوں میں سے کسی خدا ناترس نے بہت سی زرعی زمین کی ملکیت کے متعلق ناحق دعویٰ دائر کر دیا۔ جب حضرت صاحبزادہ صاحب کے پاس حاضری عدالت کے سمن آئے تو انہوں نے سمن کی پشت پر لکھ دیا کہ مجھے بیان کردہ اراضی پر کوئی دعویٰ نہیں، اس لیے مدعی کو ڈگری دے دی جائے۔ حالانکہ مولوی صاحب ہی یقیناً اس کے مالک تھے۔

رئیس قادیاں کو مقدمہ بازی کا طعنہ

لیکن مسیح قادیاں کے جھگڑوں رگڑوں سے خدا کی پناہ۔ ایک دفعہ جب مسیح صاحب نے اپنی گالیوں کی تیز چھری چلائی تو مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی نے لکھا کہ کوئی ذی علم آدمی تمہاری گالیوں کا یوں بھی حریف نہیں ہو سکتا کہ تم مختاری اور مقدمہ بازی کرتے رہے ہو۔ اس کے جواب میں رئیس قادیاں نے مولوی محمد حسین کو خطاب کر کے لکھا ”تم لکھتے ہو کہ تم مختاری اور مقدمہ بازی کا کام کرتے رہے ہو۔ آپ ان افتراؤں سے باز آ جائیں۔ والد صاحب کے زمانہ میں اکثر وکلاء کی معرفت اپنے زمینداری کے مقدمے ہوتے تھے اور کبھی ضرورتاً مجھے آپ ہی جانا پڑتا تھا۔ یہ عاجز ان پیشوں میں کبھی نہیں پڑا کہ دوسروں کے مقدمات عدالتوں میں کرتا پھرے“۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۴، ص ۳۶)۔ حالانکہ رئیس قادیاں کی مقدمہ بازی کوئی ایسی مخفی چیز نہیں کہ اس پر کوئی پردہ ڈال سکے۔ اور مولوی محمد حسین نے یہ طعنہ نہیں دیا تھا کہ تم دوسروں کے مقدمے کرتے رہے ہو۔ بلکہ ان کا یہی

صفحہ 62

مرزا صاحب کے اپنے مقدموں کی طرف اشارہ تھا۔ پس مسیح قادیاں کا مولوی صاحب سے یہ کہنا کہ افتراؤں سے باز آجاؤ‘ خود افتراء پردازی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر ”مسیح موعود“ صاحب مختاری کے امتحان میں کامیاب ہو جاتے تو دوسروں کے مقدمات کی پیروی میں بھی مدت العمر کچہریوں کی خاک چھانتے پھرتے۔ چونکہ مختار بننے کے ارمان پورے نہ ہوئے لہٰذا اب ڈینگیں مارتے ہیں کہ میں نے دوسروں کے مقدمات نہیں کیے۔ تاہم ”مسیح موعود“ صاحب نے اپنی مقدمہ بازی کے اعتراض کو کمال ہنرمندی سے اٹھانا چاہا ہے۔ فرماتے ہیں ”ان زمینداری تعلقات سے جو ابتدائی زندگی سے میرے ساتھ رہے‘ کوئی تعجب نہ کرے۔ کیونکہ احادیث نبویہ پر غور کرنے سے بصراحت معلوم ہوگا کہ وہ مسیح موعود حارث کہلائے گا۔ (تریاق القلوب‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ تقطیع کلاں‘ ص ۳۷) لیکن یاد رہے کہ کسی حدیث نبوی میں یہ نہیں لکھا کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام (معاذ اللہ) انگریزی عدالتوں میں مقدمے لڑیں گے۔ اور نہ یہ کسی حدیث میں مذکور ہے کہ وہ حارث یعنی کاشتکار ہوں گے۔ قادیاں کے مسیح صاحب کو طومار باندھنے میں یدطولیٰ حاصل تھا کہ بہ یک جنبش قلم رائی کو پہاڑ اور ہاتھی کو چیونٹی بنا دیتے تھے۔ یہاں بھی انہوں نے وہی کمال دکھایا۔ اب وہ حدیث نبوی ملاحظہ ہو جس کی طرف مرزا صاحب نے اشارہ کیا ہے اور جس میں حارث کے ماوراء النہر سے برآمد ہونے کا تذکرہ ہے۔

عن علی قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یخرج رجل من وراء النہر یقال لہ الحارث حراث علی مقدمتہ رجل یقال لہ منصور یوطن او یمکن لآل محمد کما مکنت قریش لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وجب علی کل مسلم نصرہ او اجابتہ (رواہ ابو داؤد)

امیر المومنین علیؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص جس کو حارث حراث کہیں گے ملک ماوراء النہر سے نکلے گا۔ اس کے لشکر کی ہراول فوج کے سردار کا نام منصور ہوگا۔ وہ آل محمد (مہدی علیہ السلام) کو اسی طرح اپنے ہاں جگہ دے گا جس طرح قریش رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت و تمکین کا باعث ہوئے تھے۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس کی اعانت کرے یا (فرمایا کہ) اجابت کرے۔

صفحہ 63

(مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ)

اس حدیث میں حارث اور حراث دو لفظ آئے ہیں۔ رئیس قادیاں کا بیان ہے کہ وہ کشت کار ہوگا حالانکہ وہ فی الحقیقت مزارع نہیں ہوگا بلکہ حارث حراث کے نام سے پکارا جائے گا۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ اشعۃ اللمعات میں لکھتے ہیں: ”و بالجملہ خواہ بطریق علمیت یا وصفت او را بایں دو نام بخوانند“۔ (اشعۃ اللمعات مطبوعہ نولکشور‘ جلد ۴‘ ص ۴۴۰) اور یہ بھی ممکن ہے کہ حارث اس کا نام ہو اور حراث اس کی صفت ہو۔ حراث لغت عرب میں جمع کرنے والے کو بھی کہتے ہیں۔ پس یہاں مقدمہ لشکر کے قرینہ سے الفاظ حدیث کے یہ معنے ہوئے کہ حارث نامی ایک شخص ماوراء النہر سے برآمد ہوگا جو عساکر کا اجتماع کرے گا اور اس کے مقدمہ لشکر کے سردار کا نام منصور ہوگا۔

دام افتادگان قادیاں سے چند سوالات

اب میں دام افتادگان قادیاں سے پوچھتا ہوں کہ :

پیشہ زراعت تھا یا مقدمہ بازی؟ اگر کہو کہ ان کا پیشہ زراعت تھا تو ثابت کرو کہ انہوں نے کسی دن ہل چلائے اور بتاؤ کہ انہوں نے کب زمین میں تخم ریزی کی اور کسانوں کی سی دوسری مشقتیں برداشت کیں؟

ہوا اور کہاں چل دیا؟

کہاں ذکر ہے؟ یعنی وہ لفظ پیش کرو جس کا ترجمہ ”مسیح موعود“ ہو۔

صفحہ 64

غرض قادیانی صاحب ایسی ہی بے پر کی اڑایا کرتے تھے جس کا نمونہ ابھی پیش کیا گیا۔

باب ۹

اراضی مغصوبہ کی بازیابی کے لیے

حضرت ”مسیح موعود“ کے خلاف مقدمہ

قادیاں کے الہامی صاحب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ملہم صاحب کے والد حکیم غلام مرتضیٰ اور ان کے بھتیجوں اور دوسرے اقرباء کی کچھ زمین سکھوں نے اپنے عہد حکومت میں ضبط کر لی تھی اور یہ کہ جب پنجاب میں انگریزی حکومت قائم ہوئی تو مرزا غلام مرتضیٰ نے اس کی بازیابی کے لیے انگریزی عدالتوں میں مقدمات دائر کیے۔ مرزا غلام احمد صاحب نے جو طویل رجسٹری شدہ مکتوب مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی کے نام ۴؍ جنوری ۱۸۹۳ء کو بھیجا، اس میں لکھا تھا کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ان مقدمات پر آٹھ ہزار روپیہ خرچ برداشت کیا۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۴، ص ۳۲) لیکن بوالعجبی دیکھو کہ اس کے پانچ سال بعد کتاب البریہ میں، جو ۲۴؍ جنوری ۱۸۹۸ء کو شائع کی، یہ لکھ مارا کہ ان مقدمات پر میرے والد کے قریباً ستر ہزار روپے خرچ ہوئے تھے۔ (کتاب البریہ، ص ۱۵۵) اور پھر اس کے ساڑھے چار سال بعد کتاب ”تریاق القلوب“ میں، جو ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی، نہ آٹھ ہزار کا ذکر کیا اور نہ ستر ہزار کا۔ بلکہ اس کو ایک سنا سنایا قصہ قرار دیا۔ چنانچہ لکھا کہ ”اعظم بیگ نے اپنی حیلہ سازی سے ہمارے بے دخل شرکاء کو، جو ملکیت قادیاں کی سرکاری کاغذات کے رو سے حصہ دار تھے، مگر ملکیت سے بالکل بے تعلق تھے اور ملکیت قادیاں کے ہزارہا خرچ و ہرج میں کسی کام میں شریک نہیں ہوئے تھے، اٹھایا اور مقدمہ کرا کر ان کو مدد دی۔ بھائی مرزا غلام قادر کو اپنی فتح یابی کا بہت یقین تھا۔ وہ سرگرمی سے جواب دہی میں مصروف ہوئے۔ میں نے سنا ہوا تھا کہ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ان دیہات پر ہزارہا روپیہ خرچ کیا تھا اور شرکاء اس میں شریک نہیں ہوئے۔ (تریاق

صفحہ 65

القلوب، تقطیع کلاں، ص ۳۸) لیکن اس حقیقت کا لحاظ کرتے ہوئے کہ انگریزی عملداری کے آغاز میں غیر معمولی ارزانی کی بنا پر ایک دونی کی قریب قریب وہی قیمت اور حیثیت تھی جو آج کل روپیہ کی ہے، بالقطع کہا جا سکتا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ نے نہ تو ان مقدمات پر ستر ہزار روپیہ خرچ کیا اور نہ آٹھ ہزار بلکہ اگر بہت خرچ ہوا تو ممکن ہے کہ پانچ چار سو روپیہ تک خرچ ہو گیا ہو۔ لیکن جب یہ دیکھا جائے کہ الہامی صاحب کے والد مرزا غلام مرتضیٰ ایک مفلس و قلاش آدمی تھے، جیسا کہ اسی کتاب کے چوتھے باب میں اس کا ثبوت پیش کیا جا چکا ہے تو یقین ہوتا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ نے نہ کوئی مقدمات لڑے تھے اور نہ کوئی ہرج و خرچ برداشت کیا تھا۔ بلکہ یہ افسانہ محض ہمارے الہامی صاحب کے مخیلہ دماغ کی پیداوار ہے اور اگر بفرض محال آٹھ ہزار یا ستر ہزار روپیہ بھی اپنی مرضی سے خرچ کر ڈالا تھا تو اس کے ہرگز یہ معنی نہ تھے کہ مرزا غلام مرتضیٰ کے بھتیجوں کا اور دوسرے اقرباء کا اپنی جدی جائیداد پر کوئی حق ملکیت ہی باقی نہ رہ گیا تھا۔

مظلوموں سے مرزا اعظم بیگ کی ہمدردی

بہر حال جب مرزا غلام مرتضیٰ نے اس سرائے فانی سے کوچ کیا تو ہمارے ”مسیح موعود“ صاحب اور ان کے بھائی مرزا غلام قادر صاحب نے اپنے خویش و اقارب کی زمین پر قبضہ جما کر اس کو بے ڈکار ہضم کر لیا۔ چونکہ غم نصیب مظلوم سخت مفلوک الحال تھے اور انہیں عدالتوں کے گرانبار مصارف ادا کرنے اور قانونی چارہ جوئی کر کے اپنی زمین واپس لینے کی قطعا استطاعت نہ تھی، اس لیے بیچارے خاموش رہ گئے۔ لیکن خدا بھلا کرے مرزا اعظم بیگ لاہوری پینشنر اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر کا جنہوں نے مظلوموں کی طرف سے مقدمات دائر کیے اور ”مسیح صاحب“ اور ان کے بھائی کو بادل ناخواستہ غصب کردہ زمین واپس دینی پڑی۔ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نے اس غصب کے جواز کی جو تابناک دلیل بیان فرمائی ہے، وہ بڑی مزیدار ہے۔ لکھتے ہیں کہ ”میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد مرزا اعظم بیگ لاہوری نے شرکائے ملکیت قادیاں کی طرف سے مجھ پر اور میرے بھائی مرحوم مرزا غلام قادر پر مقدمہ دخل ملکیت کا عدالت ضلع میں دائر کر دیا۔ اور میں بظاہر جانتا تھا کہ ان شرکاء کو ملکیت سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ ایک گم گشتہ چیز تھی جو سکھوں کے وقت میں

صفحہ 66

نابود ہوچکی تھی اور میرے والد نے تن تنہا مقدمات کرکے اس ملکیت اور دوسرے دیہات کی بازیافت کے لیے آٹھ ہزار روپیہ کے قریب خرچ و خسارہ اٹھایا تھا۔ وہ شرکاء ایک پیسہ کے بھی شریک نہیں تھے۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۴، ص ۴۲) لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ ایک گم گشتہ چیز تھی اور مسیح صاحب کے عم زاد بھائیوں نے مقدمہ لڑنے میں کوئی خرچ برداشت نہیں کیا تھا تو بھی ان کے مالکانہ حقوق کیوں اور کس طرح زائل ہو سکتے تھے؟ اور اگر زائل ہوگئے تھے تو پھر عدالت عالیہ نے وہی زمین ان کو واپس کیوں دلائی؟ ہمارے ”مسیح موعود“ صاحب اپنی آنکھوں سے دنیا پرستی کی پٹی اتار کر اس حقیقت کو دیکھتے تو انہیں صاف نظر آتا کہ دنیائے فانی کی ناجائز کام گاریاں ان کا زیادہ دن ساتھ نہیں دے سکتی تھیں اور اگر آج دار دنیا میں کسی کو ناحق پسندی بچ بھی جائے تو عاقبت میں اس کے نتائج نہایت ہولناک ہوں گے۔

”الہامی صاحب“ کی دعائیں

اس سلسلہ میں حضرت مرزا صاحب نے ایک عدد الہام بھی لکھ مارا ہے جو ان کی نظر میں اعجازی حیثیت رکھتا تھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ ان مقدمات کے اثناء میں جب میں نے فتح کے لیے دعا کی تو یہ الہام ہوا کہ میں تیری ہر ایک دعا قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں قبول کروں گا۔ سو میں نے اس الہام کو پا کر اپنے بھائی اور تمام زن و مرد عزیزوں کو جمع کیا اور کھول کر کہہ دیا کہ شرکاء کے ساتھ مقدمہ مت کرو۔ یہ خلاف مرضی حق ہے مگر انہوں نے قبول نہ کیا اور آخر ناکام ہوئے۔ اور میری طرف سے ہزارہا روپیہ کا نقصان اٹھانے کے لیے استقامت ظاہر ہوئی۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۴، ص ۴۲) لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا ”الہامی صاحب“ کو مقدمات کے دائر ہونے اور فتح کی دعا مانگنے سے پہلے یہ معلوم نہ تھا کہ اقربا کو ان کے حصہ کی زمین سے محروم رکھنا خلاف دیانت فعل ہے؟ کیا خانہ ساز مسیح صاحب نے بخاری و مسلم کی یہ متفقہ حدیث کبھی پڑھی یا سنی نہیں تھی؟

عن سعید بن زیدؓ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اخذ شبراً من الارض ظلماً فقد یطوقہ یوم القیامۃ من سبع ارضین۔

حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ

صفحہ 67

علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی دبائے، قیامت کے دن اس زمین کو سات طبق تک کھودا جائے گا، پھر اس کے گلے میں اس زمین کو طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔

الہامی صاحب کو سب کچھ معلوم تھا اور وہ حلال و حرام میں تمیز کرنے سے قاصر نہ تھے لیکن دنیوی حرص و آز نے دل و دماغ پر بے حسی کے موٹے پردے ڈال رکھے تھے اور حب دنیا ”حق بہ حق دار“ کے اصول پر عمل کرنے کی کسی طرح اجازت نہیں دیتی تھی۔ تاہم غنیمت ہے کہ مرزا اعظم بیگ لاہوری نے حضرت ”مسیح موعود“ کو اپنے زوردار کیسہ کے زور سے اتنا تو احساس کرا دیا کہ یہ چیز خلاف مرضی حق ہے اور اس پر آمادہ کر دیا کہ ”مسیح موعود“ صاحب ہزارہا روپیہ کا نقصان اٹھانے کے لیے استقامت ظاہر فرمائیں۔ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب دوران مقدمہ میں سخت تضرع و ابتال سے اور گڑگڑا کر بارگاہ رب العلمین میں دعائیں کرتے رہے کہ خدایا! اس مقدمہ کا فیصلہ ہمارے حق میں کرنا اور اراضی مغصوبہ اس کے مالکوں کو واپس نہ دلانا۔ لیکن تمام دعائیں اور التجائیں صدا بصحرا ثابت ہوئیں۔ کیونکہ اگر دنیا کا نظم و نسق ٹیچی ٹیچی یا اس کے کسی بھائی بند کے ہاتھ میں ہوتا تو شاید وہ ایسی انصاف کش دعا قبول کر لیتا۔ لیکن وہ احکم الحاکمین جس کے دست قدرت میں زمین و آسمان کی بادشاہت ہے، وہ مالک الملک جو مظلوموں کا فریاد رس اور بے کسوں کا ملجاء و ماوٰی ہے، وہ کبھی ظلم کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ خدائے شدید العقاب نے نہ صرف الہامی صاحب اور ان کے بھائی کو اپنی کوشش میں نامراد رکھا بلکہ الٹا ان کو ہزارہا روپیہ کا زیربار کر دیا۔ چنانچہ خود ”الہامی“ صاحب لکھتے ہیں: ”بعض غیر قابض جدی شرکاء نے جو قادیاں کی ملکیت میں ہمارے شریک تھے، دخل یابی کا دعویٰ عدالت گورداسپور میں کیا تب میں نے دعا کی کہ وہ اپنے مقدمہ میں ناکام رہیں۔ جواب میں خدا تعالٰی نے فرمایا، میں تیری ساری دعائیں قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں۔ چیف کورٹ میں مدعی کامیاب ہوگئے اور تمام عدالتوں کا خرچہ ہمارے ذمہ پڑا۔ اور علاوہ اس کے وہ روپیہ جو پیروی مقدمہ کے لیے نیا قرضہ اٹھایا تھا، وہ بھی دینا پڑا۔ اس طرح کئی ہزار روپیہ کا نقصان ہوا اور میرے بھائی کو اس سے بڑا صدمہ پہنچا۔ کیونکہ میں نے ان کو کئی مرتبہ کہا تھا کہ شرکاء نے اپنا حصہ مرزا اعظم بیگ لاہوری کے پاس بیچا ہے۔ آپ کا حق شفعہ ہے،

صفحہ 68

روپیہ دے کر لے لو مگر انہوں نے اس بات کو قبول نہ کیا اور وقت ہاتھ سے نکل گیا۔

(حقیقۃ الوحی‘ ص ۲۳۳)

مرزائیوں سے چند سوالات

اب مرزائیوں سے یہ سوال ہے کہ اگر الہامی صاحب واقعی کوئی متقی اور خدا ترس اور پاکباز آدمی تھے تو انہوں نے مقدمہ دائر ہونے سے پہلے بلکہ اپنے باپ کے انتقال کے ساتھ ہی اپنے اقرباء کی حق رسی کیوں نہ کی؟ اور اگر مقدمہ دائر ہونے سے پہلے الہامی صاحب خواب بے حسی میں پڑے تھے اور سالہا سال حالت غفلت میں اقرباء کے حصے کی آمدنی ہضم کرتے رہے تو جس وقت اقرباء نے نالش کرنے کا نوٹس دیا تھا‘ اس وقت ان کا حق کیوں نہ دے دیا؟ اگر اس وقت بھی حق و ناحق میں احساس نہیں ہوسکا تو نالش ہونے کے بعد ہی ان کا حصہ کیوں نہ بانٹ دیا؟ اور اگر نالش کے بعد بھی حقوق العباد کی طرف سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق ارزانی نہیں ہوئی تھی تو پھر اس وقت ہی اہل حقوق سے انصاف کا برتاؤ کیوں نہ کیا جبکہ موعود صاحب اور ان کے بھائی دو تین ماتحت عدالتوں میں مقدمہ جیت کر اپنی کامیابی کے شادیانے بجا رہے تھے؟ غرض الہامی صاحب نے کسی وقت بھی اقرباء سے منصفانہ برتاؤ نہ کیا۔ آخر ان بیچاروں نے چھوٹی عدالتوں میں ہزیمتیں اٹھانے کے بعد عدالت عالیہ میں مرافعہ دائر کیا۔ اس وقت بھی حضرت ”مسیح موعود“ کے جذبہ حرص و آز نے اقرباء کا حق واپس دینے کی اجازت نہ دی۔ یہاں تک کہ عدالت عالیہ کے صلیب پرست انگریز ججوں نے اراضی مغصوبہ مالکوں کو واپس دلائی۔ اور ظاہر ہے کہ اگر عدالت عالیہ مظلوم اقرباء کو زمین واپس دلا کر داد خواہی نہ کرتی تو پہلے حضرت ”مسیح موعود“ صاحب مدت العمر اور پھر ان کی اولاد تاقیامت اقرباء کی زمین پر قابض و متصرف رہ کر اس کی آمدنی سے اپنا تنور شکم پر کرتی رہتی۔

قادیانی کو شرف مکالمہ و مخاطبہ

اس سوال کے جواب میں مرزائی یہ عذر لنگ پیش کرتے ہیں کہ مرزا صاحب اس وقت

صفحہ 69

بالکل کمسن اور ابتدائی حالت میں تھے۔ اس کے علاوہ زمین پر ان کے بھائی مرزا غلام قادر کا قبضہ تھا۔ اگر یہ زمین ”مسیح موعود“ کے دست اختیار میں ہوتی تو مقدمات کے دائر ہونے سے پہلے ہی زمین واپس کر دیتے۔ لیکن یہ بیان سراسر مغالطہ ہے۔ کیونکہ الہامی صاحب کی عمر اس وقت چالیس سال کی تھی جو پختگی عقل کی انتہا ہے‘ چنانچہ ان کے منجھلے فرزند مرزا بشیر احمد‘ ایم۔ اے نے ان کا سال ولادت ۱۸۳۷ء لکھا ہے۔ (دیکھو سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ ص ۱۵۰) اور یہ مقدمہ ۱۸۷۷ء میں دائر ہوا تھا۔ (دیکھو البشری‘ جلد ۲‘ صفحہ اول) اس سے قطع نظر جس طرح اس اراضی پر ان کے بھائی کا حق ملکیت تھا‘ ان کا بھی تھا اور وہ بھائی کو سمجھا کر تلافی مافات کر سکتے تھے اور اگر بھائی انصاف پر مائل نہیں ہوتا تھا تو علانیہ اس کی مخالفت کر کے اپنی انصاف پسندی اور حق پژوہی کا عملی ثبوت پیش کر سکتے تھے۔ جس کی یہ صورت تھی کہ اسی عدالت کے سامنے جس میں مقدمہ پیش تھا‘ حاضر ہو کر یہ بیان دیتے کہ ہمارے اقرباء واقعی زمین کے حصہ دار ہیں۔ ان کا حق ان کو دلایا جائے۔ اور الہامی صاحب تو مدعی علیہ تھے اور ان پر فرض تھا کہ اس وقت تک اپنے اوپر آب و دانہ حرام کر لیتے جب تک حق داروں کی حق رسی نہ کر لیتے۔ اسلام نے تو ان لوگوں کے لیے بھی ازخود گواہ بننے کا حکم دیا ہے جنہیں فریقین مقدمہ سے کوئی تعلق نہ ہو‘ چنانچہ حضرت زید بن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بہتر آدمی (ازروئے شہادت) وہ ہے جو پیشتر اس کے کہ شہادت دینے کے لیے اس سے کہا جائے‘ وہ گواہی دینے پر آمادہ ہو اور لوگوں سے بیان کرے کہ میں اس معاملہ کا گواہ ہوں۔ (ابو داؤد) یعنی حق پرست آدمی وہ ہے جو خود بخود حاکم کے پاس جا کر گواہی دے تاکہ حق دار کا حق تلف نہ ہو اور اس قسم کی گواہی بڑا کار ثواب ہے اور یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ ایک قوم ایسی پیدا ہو گی جو شہادت کی خواہش کیے جانے سے پہلے گواہی دینے لگے گی۔ کیونکہ موخر الذکر حدیث میں جھوٹی گواہی مراد ہے‘ لیکن اس کے برخلاف حضرت مرزا صاحب نہ صرف چپ سادھے بیٹھے رہے بلکہ وہ اور ان کے بھائی غلام قادر صاحب سالہا سال سودی روپیہ قرض لے کر اس کوشش میں مقدمہ لڑتے رہے کہ دوسروں کے حقوق پر بدستور غاصبانہ قبضہ جمائے رکھیں۔ یہاں تک کہ آخر کار چیف کورٹ نے مظلوموں کی دادرسی کی اور حضرت ”مسیح موعود“ اور ان کے جفا پیشہ بھائی کو بعد از خرابی بسیار ہضم شدہ

صفحہ 70

طمعہ اگلنا پڑا۔ حضرات یہ نہ سمجھنا کہ اس مقدمہ بازی کے وقت حضرت مرزا صاحب عوام کالانعام کے زمرہ میں داخل تھے۔ نہیں، بلکہ خدا کے فضل سے ان ایام میں بھی جیسا کہ انہوں نے خود تشریح کی ہے، ان کا عاجز خدا ان سے ہمکلام ہوتا تھا۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ٹھیک ۱۸۹۰ء میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔ پھر سات سال بعد یعنی ۱۸۹۷ء میں کتاب براہین احمدیہ تالیف ہو کر شائع ہوئی۔ (حقیقۃ الوحی، ص ۲۰۰، سطر اول) اور براہین احمدیہ کی پہلی دو جلدیں ۱۸۸۰ء میں شائع ہوئی تھیں۔ (دیکھو سیرۃ المہدی، جلد ۲، ص ۱۵۱) اس سے ثابت ہوا کہ مرزا جی ۱۸۷۳ء سے شرف ہمکلامی سے مشرف ہو رہے تھے اور یہ مقدمہ اس شرف مکالمہ و مخاطبہ کے چار سال بعد ۱۸۷۷ء میں دائر ہوا تھا۔ اقرباء کی زمین پر یہ قبضہ و تصرف ایک اور حیثیت سے بھی قابل توجہ ہے کہ مرزا جی بزعم خود مثیل مسیح تھے۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت صحاح میں ہے کہ وہ حاکم عادل ہوں گے۔ لیکن ان کے خانہ ساز مثیل کی عدل گستری دیکھو کہ صلہ رحمی اور خویش پروری کی جگہ الٹا اقرباء ہی کی زمین ہتھیا لی۔ اس مثیل سے تو چیف کورٹ کے صلیب پرست جج ہی افضل و فائق رہے جنہوں نے مظلوموں کی فریاد رسی کر کے اپنی انصاف پسندی کا ثبوت دیا۔

باب ۱۰

خاندانی زوال اور اس کا مداوا

میاں بشیر احمد، ایم۔ اے (ابن مرزا غلام احمد صاحب قادیانی) کا بیان ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے بھائی غلام محی الدین نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی کئی فوجی خدمات انجام دی تھیں۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ سکھ حکومت کے خاتمہ پر دونوں بھائی قلعہ پسراواں میں قید کر دیے گئے اور انگریزوں نے خاندانی جائیداد ضبط کر کے صرف سات سو روپیہ سالانہ کی اعزازی پنشن زر نقد کی صورت میں مقرر کر دی۔ جو مرزا غلام مرتضیٰ کی وفات پر ایک سو اسی روپے (پندرہ روپے ماہوار) رہ گئی۔ اور پھر مرزا غلام قادر کی وفات پر وہ بھی

صفحہ 71

بند ہو گئی۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۳۲- ۳۳) غلام قادر مرزا غلام احمد کے بڑے بھائی تھے اور غلام محی الدین، مرزا امام الدین، نظام الدین اور کمال الدین کے والد تھے۔ مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں کہ میرے والد (مرزا غلام مرتضیٰ) صاحب اپنی ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم اور مہموم رہتے تھے۔ انہوں نے پیروی مقدمات میں ستر ہزار روپیہ کے قریب خرچ کیا تھا جس کا انجام آخر ناکامی تھا کیونکہ ہمارے بزرگوں کے دیہات مدت سے ہمارے قبضہ سے نکل چکے تھے اور ان کا واپس آنا ایک خیال خام تھا۔ اسی نامرادی کی وجہ سے والد صاحب مرحوم ایک نہایت عمیق گرداب غم اور اضطراب میں زندگی بسر کرتے تھے۔ (کتاب البریہ، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۱۵۵) ان حالات کے پیش نظر مرزا غلام احمد صاحب رات دن اسی خیال میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے کہ خاندانی زوال کا مداوا کیا ہو سکتا ہے اور ترقی و عروج کی راہیں کیونکر کھل سکتی ہیں؟ ملازمت سے وہ سیر ہو چکے تھے۔ مختاری کے ایوان میں باریابی کی اجازت نہیں ملی تھی۔ فوج یا پولیس کی نوکری سے بھی بوجہ قلت مشاہرہ کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ تجارتی کاروبار سے بھی قاصر تھے کیونکہ اس کوچہ سے نابلد ہونے کے علاوہ سرمایہ بھی موجود نہیں تھا۔ اب لے دے کے تقدس کی دکانداری ہی ایک ایسی چیز باقی رہ گئی تھی جس کی طرف مقتضائے فطرت نے انہیں مائل کر دیا اور یہی ایک ایسا مشغلہ پیش نظر تھا جس کی زرباشیاں حصول عز و جاہ اور عیش و عشرت کی کفیل ہو سکتی تھیں۔ اس بنا پر ذہن ہر طرف سے ہٹ کر ہر مرتبہ اسی طرف منتقل ہوتا تھا کہ مقتدائے زمان بن کر اپنے دنیوی اغراض و مقاصد کی تکمیل کی جائے۔ اس خیال کا سب سے بڑا محرک یہ تھا کہ ان دنوں قادیاں کے گردو نواح میں چند بزرگ ہستیاں موجود تھیں جن کی طرف بڑا رجوع خلائق تھا۔ مثلاً قصبہ بٹالہ میں پیر سید ظہور الحسن اور پیر سید ظہور الحسین صاحبان سلسلہ عالیہ قادریہ کے مشائخ موجود تھے۔ موضع رتڑ چھتر ضلع گورداسپور میں پیر سید امام علی شاہ صاحب نقشبندی مسند آراء تھے۔ اسی طرح موضع مسانیاں میں ایک بڑی گدی تھی۔ ان حضرات کو مرجع خلائق دیکھ دیکھ کر قادیانی صاحب کے منہ سے رال ٹپک رہی تھی کہ مشیخت اور پیری مریدی کا سلسلہ جاری کیا جائے لیکن پھر رہ رہ کر خیال آتا تھا کہ معلوم نہیں یہ کوشش بار آور ہو اور لوگ رجوع کریں یا نہ کریں۔ اسی شش و پنج میں طبیعت نے فیصلہ کیا کہ سردست اسی عزم کو عملی جامہ پہنایا

صفحہ 72

جائے جس کے متعلق سیالکوٹ میں مشورے ہوتے تھے یعنی غیر اسلامی مذاہب کی تردید میں ایک جامع کتاب مرتب کر کے شائع کی جائے۔

مولوی محمد حسین بٹالوی سے مشورہ

قادیانی صاحب اسی ادھیڑ بن میں تھے کہ اتنے میں خبر آئی کہ ان کے بچپن کے رفیق و ہم مکتب مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی لاہور سے بٹالہ آئے ہیں۔ ان کی ملاقات کا قصد کیا۔ جن ایام میں مرزا صاحب سیالکوٹ میں ملازم تھے‘ ان دنوں مولوی محمد حسین دہلی میں شیخ الحدیث مولانا سید نظیر حسین صاحب کی شاگردی میں اکتساب علوم کر رہے تھے اور دہلی سے فارغ التحصیل ہو کر لاہور چلے آئے تھے۔ ایک مرتبہ لاہور سے بٹالہ گئے تو مرزا صاحب نے بٹالہ آ کر ملاقات کی۔ مدت کے بچھڑے ہوئے دوست ایک دوسرے سے مل کر محظوظ ہوئے۔ دوران گفتگو میں مولوی محمد حسین بولے‘ کہو یار اب تو تم اچھے خاصے شیخ چلی بن گئے۔ سنا ہے کہ بالاخانہ سے بہت کم نیچے اترتے ہو۔ ہر وقت اوراد و وظائف اور کتب بینی کا مشغلہ ہے۔ بھائی صاحب! شغل تو خوب ہے‘ میں آپ کے حالات سن سن کر بہت خوش ہوا کرتا تھا۔ مرزا صاحب نے کہا کہ جب سیالکوٹ میں سلسلہ ملازمت ترک کیا تو ایک سال کا طویل عرصہ قانون یاد کرنے میں کھو دیا اور عمر عزیز کو ناحق برباد کیا اور پھر یاس و حرمان کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا لیکن نہیں نہیں۔ قانون تو میں نے ملازمت ہی کے زمانہ میں رخصت لے کر یاد کیا تھا۔ ملازمت سے علیحدہ ہونے کے بعد کچھ عرصہ مقدمات کی پیروی میں مشغول رہا۔ مدت سے آپ کی ملاقات کا اشتیاق تھا۔ جب سنا کہ آپ بٹالہ آئے ہیں تو جی چاہتا تھا کہ پر لگا کر بٹالہ جاؤں اور آپ سے ملوں۔ مولوی محمد حسین نے کہا کہ ”میری آنکھیں بھی ہر وقت آپ کو ڈھونڈ رہی تھیں اور دل ملاقات کے لیے بے قرار تھا“۔ مرزا صاحب نے کہا کہ ”اب میری بھی خواہش ہے کہ قادیاں کو چھوڑ کر کسی شہر میں قیام کروں“۔ مولوی صاحب نے کہا ”میری رائے میں بھی یہی قرین مصلحت ہے۔ جب اور جہاں کا قصد ہو مجھے اطلاع دینا۔ اگر لاہور کا قیام پسند ہو تو وہاں میں ہر طرح سے آپ کی مدد کر سکتا ہوں“۔ مرزا صاحب نے کہا بہت دنوں سے میرا ارادہ ہے کہ غیر مسلم ادیان کے رد میں ایک کتاب لکھوں۔ مولوی محمد حسین نے کہا ہاں یہ بہت مبارک خیال ہے لیکن

صفحہ 73

اس راہ میں ایک بڑی دقت یہ حائل ہے کہ غیر معروف مصنف کی کتاب بہت مشکل سے فروخت ہوتی ہے۔ قادیانی صاحب بولے کہ حصول شہرت تو کوئی مشکل کام نہیں، اصل مشکل یہ ہے کہ تالیف و اشاعت کا کام سرمایہ کا محتاج ہے اور اپنے پاس روپیہ نہیں ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ آپ کام شروع کر کے اپنے اس عزم کو مشتہر کیجئے۔ میں بھی کوشش کروں گا اور اپنے احباب کو بھی سعی بلیغ کی تاکید کروں گا۔ حق تعالیٰ مسبب الاسباب ہے لیکن یہ کام قادیاں میں نہیں ہو سکتا، اس لیے مناسب ہے کہ آپ لاہور یا امرتسر چلے چلئے۔

(چودہویں صدی کا مسیح‘ ص ۴۲۔ ۴۳)

باب ۱۱

رجوعات و فتوحات کی دعا کرانے کے لیے امرتسر کا سفر

مولوی محمد حسین بٹالوی کی ملاقات کے چند روز بعد مرزا صاحب امرتسر گئے اور مولوی عبداللہ مرحوم غزنوی سے ملاقات کی۔ یہ ایک مشہور صوفی المشرب عالم تھے۔ مولوی صاحب نے ان سے فرمایا، تم مسافر معلوم ہوتے ہو۔ مرزا صاحب نے کہا، ہاں آپ کا خیال درست ہے۔ مولوی صاحب نے پوچھا کیا نام ہے اور کہاں کے رہنے والے ہو؟ کہا ضلع گورداسپور میں قادیاں نامی ایک گاؤں ہے، وہاں کا رہنے والا ہوں۔ مولوی صاحب نے دریافت فرمایا، یہاں کس طرح آنا ہوا؟ مرزا صاحب نے کہا میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ قادیاں کے رئیس ہیں۔ میں پہلے سیالکوٹ کی کچہری میں نوکر تھا۔ قلیل تنخواہ میں بسر اوقات نہ ہوتی تھی، اس لیے تیاری کر کے مختاری کا امتحان دیا لیکن ناکام رہا۔ مولوی صاحب نے پوچھا اب کیا منشا ہے؟ مرزا صاحب نے کہا اب نوکری وغیرہ کا تو قصد نہیں، محض توکل پر گزارہ کرنا چاہتا ہوں۔ رجوعات اور فتوحات کی دعا کا خواستگار ہوں۔ آپ دعا فرما دیجئے۔ مولوی صاحب نے کہا تم گھر کے رئیس ہو، خدا کا تم پر فضل ہے، اگر نیک نیتی سے کام لو تو خدائے برتر اسی میں برکت دے گا۔ مرزا صاحب نے کہا میرا قصد ہے کہ مخالفین اسلام کے رد و ابطال میں کتابیں لکھوں۔ اثبات حقیقت اسلام و کتاب اللہ و سنت خیر الانامؐ لکھ کر

صفحہ 74

شائع کروں اور بقیۃ العمر اسی شغل میں بسر کروں۔ مولوی صاحب نے فرمایا، جزاک اللہ ! نہایت مبارک عزم ہے۔ حق تعالیٰ حسن نیت کی توفیق بخشے اور برکت دے۔ آپ کو کیا مشکل ہے۔ عنایت ایزدی سے صاحب اقتدار ہو اور جب تصنیف و اشاعت کا کام چل پڑے گا تو تم پر کچھ بار بھی نہیں رہے گا۔ مرزا صاحب نے کہا یہ ارشاد تو بجا ہے لیکن ابتداء میں اس کام کے لیے روپیہ کی اشد ضرورت ہے اور روپیہ کا انتظام سخت دشوار نظر آتا ہے۔ جائیداد پر بھی روپیہ نہیں مل سکتا کیونکہ وہ پہلے ہی رہن و مکفول ہے۔ اگر خدا نخواستہ آج والد کی آنکھیں بند ہو جائیں تو شاید ساری جائیداد فروخت ہونے پر بھی بار قرض سے سبکدوش نہ ہو سکیں گے۔

اتنے میں شام ہوگئی۔ نماز مغرب پڑھی گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد کھانا آگیا۔ سب نے مل کر تناول فرمایا۔ نماز عشاء کے بعد مولوی عبداللہ صاحب گھر تشریف لے گئے اور مرزا صاحب کے لیے بستر بھجوا دیا۔ مولوی صاحب کی عادت تھی کہ صبح کی نماز کے بعد مختصر سا وعظ فرمایا کرتے تھے۔ اس دن مولوی صاحب نے دوران وعظ میں فرمایا کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرے اس کے لیے خداوند عالم تنگی سے کشائش کی راہیں کھول دیتا ہے اور اسے ایسی ایسی جگہوں سے رزق پہنچاتا ہے جہاں سے اسے وہم و گمان نہیں ہوتا اور جس شخص کو صبر، توکل اور تقویٰ کی نعمت حاصل ہو جائے، وہ کبھی کسی کا محتاج نہیں رہ سکتا اور اس کے سارے کام از خود سدھرتے رہتے ہیں۔ جو کوئی دنیا کا طالب ہو اسے صرف دنیا ہی ملتی ہے اور جو آخرت کا طلبگار ہو اسے آخرت بھی ملتی ہے اور دنیا میں بھی بابرکت رہتا ہے۔ اس کے بعد مرزا صاحب کی طرف خطاب کر کے فرمایا۔ عزیز من! تقویٰ اختیار کرو اور توکل علی اللہ سے اعانت چاہو۔ فتوحات اور رجوعات کے لیے اس سے بہتر کوئی عمل اور وظیفہ نہیں ہے۔ ع

چوں ازو گشتی ہمہ چیز از تو گشت

اس کے بعد مجلس برخاست ہوئی اور مرزا صاحب قادیاں آکر لاہور کی تیاریاں کرنے لگے۔ (چودھویں صدی کا مسیح، ص ۴۸۔ ۵۳)

صفحہ 75

باب ۲

لاہور میں ورود‘ مذہبی چھیڑ چھاڑ اور مناظرانہ سرگرمیاں

مرزا غلام احمد بحیثیت مبلغ اسلام

مولوی محمد حسین کی صلاح اور صوابدید کے بموجب مرزا جی نے مقدمہ بازی اور گوشہ نشینی کے جھمیلوں سے دستبردار ہو کر اپنے مستقبل کے متعلق جو سلسلہ عمل تجویز کیا‘ اس کی پہلی کڑی غیر مسلموں سے الجھ کر شہرت و نمود کی دنیا میں قدم رکھنا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ پنڈت دیانند سرسوتی نے اپنی ہنگامہ خیزیوں سے ملک کی مذہبی فضا میں سخت تموج برپا کر رکھا تھا اور پادری لوگ بھی اسلام کے خلاف ملک کے طول و عرض میں بہت کچھ دریدہ دہنی کر رہے تھے۔ اب مرزا صاحب نے لاہور کا قصد کیا۔ ان ایام میں ان کے بچپن کے دوست و ہم سبق مولوی محمد حسین بٹالوی مسجد چینیاں والی لاہور میں خطیب تھے۔ مرزا صاحب لاہور آ کر ان سے ملے اور انہی کے پاس مسجد چینیاں میں اقامت اختیار کی۔ مرزا صاحب کو غیر اسلامی مذاہب کی کتابوں کے مطالعہ کی طرف کچھ مولوی محمد حسین کے مشورہ کے بعد ہی توجہ نہیں ہوئی بلکہ انہوں نے نیم ملا بننے کے بعد ہی سے ہندو لٹریچر اور مسیحی کتب اور ان تصنیفات کا مطالعہ شروع کر دیا تھا جو غیر اسلامی مذاہب کی تردید میں لکھی گئی تھیں۔ چنانچہ لالہ بھیم سین کا بیان ہے کہ مرزا صاحب تحفۃ الہند‘ تحفۃ الندوہ‘ خلعت الہنود اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے مناظروں کی کتابیں شروع سے دیکھا کرتے تھے۔ (”چودھویں صدی کا مسیح“ ص ۱۱۔ ۱۲) خود مرزا غلام احمد صاحب براہین احمدیہ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں۔ ؎

بہر مذہبے غور کردم بسے شنیدم ز دل صحبت ہر کسے
بخواندم ز ہر ملتے دفترے بدیدم ز ہر قوم دانشورے
ہم از کودکی سوے ایں تاختم دریں شغل خود را بینداختم
صفحہ 76
جوانی ہمہ اندریں باختم دل از غیر ایں کار پرداختم
بماندم دریں غم زمانے دراز نہ خفتم ز فکرش شبان دراز

یعنی میں نے ہر مذہب کی کتابیں خوب پڑھی ہیں۔ ہر مذہب کے آدمیوں سے مبادلہ خیالات کیا ہے۔ کتب مذاہب کے مطالعہ میں بچپن سے منہمک ہوں اور ساری جوانی اسی ایک مشغلہ کی نذر کر دی ہے۔ یہاں تک کہ راحت و آرام سے دستکش رہ کر اکثر راتوں میں بھی مصروف مطالعہ رہا ہوں۔ چونکہ اب لاہور کے مذہبی معرکوں میں علمی حربوں کے جوہر دکھانے کا وقت تھا، اس لیے نہ صرف مولوی محمد حسین کی مشاورت کے بعد سے لاہور آنے تک بلکہ مسجد چینیاں میں اقامت گزین ہونے کے بعد بھی مرزا صاحب نے ان کتابوں کا مطالعہ خاص طور پر زیادہ کر دیا تھا جو علمائے اسلام کی طرف سے ہنود اور نصاریٰ کی تردید میں لکھی جا چکی تھیں۔

لاہور کی ابتدائی سرگرمیاں

اب مرزا صاحب کا لاہور میں قیام ہے اور مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی مشیر خاص ہیں۔ مرزا صاحب کی قابلیت اور بزرگی کا شب و روز پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ، بابو عبدالحق اکاؤنٹنٹ، حافظ محمد یوسف ضلع دار اور لاہور کے تمام دوسرے اہل حدیث اکابر و معززین، معاونین کے زمرہ میں ہیں۔ عمائد شہر کی آمدورفت شروع ہو چکی ہے۔ مشورے ہوتے ہیں۔ طرح طرح کی تدبیریں، جن سے مرزا غلام احمد آسمان شہرت پر آفتاب بن کر چمک سکیں، زیر غور ہیں۔ چند روز کے بعد آریوں سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی گئی ہے اور کبھی عیسائیوں کے مقابلہ میں ہل من مبارز کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ لاہور میں ہر طرف مرزا غلام احمد کا چرچہ ہے، کہیں مناظرہ کا تذکرہ، کہیں حمایت اسلام کا اظہار، کہیں زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت کا افسانہ، غرض ہر جگہ مرزا صاحب ہی کا ذکر خیر ہے۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، بابو عبدالحق اکاؤنٹنٹ، منشی الٰہی بخش وغیرہ جہاں جاتے ہیں، ان کی مدح و توصیف کے پھول برساتے جاتے ہیں۔ لاہور میں آریہ سماج بالکل نئی نئی قائم ہوئی ہے۔ مسٹر عبداللہ آتھم پینشن لے چکے ہیں۔ عیسائیوں اور آریوں کا کوئی نہ کوئی پرچارک سرشام لوہاری دروازہ کے باہر باغ میں آ جاتا ہے اور مرزا صاحب ان

صفحہ 77

میں سے کسی ایک سے الجھ پڑتے ہیں۔ آج غلام احمد صاحب کسی آریہ سے برسر مقابلہ ہیں، دوسرے دن کسی پادری سے جا ٹکرائے ہیں، غرض اسلام کا یہ نوخیز پہلوان ہر وقت کشتی کے لیے جوڑ کی تلاش میں رہتا ہے اور مجمع کو اپنے گرد جمع کر کے اپنے پہلوانی کمال دکھاتا ہے۔ بالجملہ کچھ دن یہی دلچسپ مشغلہ جاری رہا۔ چونکہ مرزا صاحب نے اپنے مجادلوں اور اشتہار بازیوں میں اپنے تئیں خادم و نمائندہ اسلام ظاہر کیا تھا اور وہ پبلک میں صرف مرزا غلام احمد رئیس قادیاں کے نام سے روشناس تھے یعنی نہ تو کسی مہدویت و مسیحیت کے مدعی تھے اور نہ ابھی باقاعدہ الحاد و زندقہ ہی کے کوچہ میں قدم رکھا تھا، اس لیے ہر عقیدہ و خیال کا مسلمان مرزا صاحب کا موید و معاون تھا، خصوصاً وہ تمام علماء جنہوں نے آئندہ چل کر مرزا صاحب کے کفر و ارتداد کا فتویٰ دیا، مرزا صاحب کو حامی و ناصر دین یقین کرتے تھے اور ہر طرف سے ان کی عون و نصرت ہو رہی تھی۔ چند ماہ تک لاہور میں تبلیغی ہنگامے برپا رکھنے کے بعد مرزا صاحب قادیاں چلے گئے اور وہیں سے آریوں کے خلاف اشتہار بازی کا سلسلہ شروع کر کے مقابلہ و مناظرہ کے نمائشی چیلنج دیتے رہے۔ چونکہ بحث و مباحثہ مقصود نہیں ہوتا تھا بلکہ غرض نام و نمود اور شہرت طلبی تھی، اس لیے آریوں کی ہر شرط و مطالبہ کو بلطائف الحیل ٹال جاتے اور اپنی طرف سے ایسی ناقابل قبول شرطیں پیش کر دیتے تھے کہ مناظرہ کی نوبت ہی نہ آتی تھی۔ اس وجہ سے قادیانی صاحب کی ساری اشتہار بازی بے نتیجہ رہی اور بدمزگی بڑھ جانے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا، البتہ اس سے مرزا جی کی دلی آرزو یعنی حصول شہرت و نمود پوری ہو گئی۔

مرزا غلام احمد کی مناظرانہ حیثیت

یہاں یہ جتا دینا بھی ضروری ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب بحث و مناظرہ کے مرد میدان نہیں تھے۔ کاغذی گھوڑے تو بھلے برے دوڑا لیتے تھے لیکن تقریری بحث میں بہت جلد دم توڑ دیتے تھے۔ کبھی نہ دیکھا گیا کہ وہ کسی معرکہ سے کامیاب اور فاتحانہ باہر نکلے ہوں۔ با ایں ہمہ دشمن کو للکارنے اور چیلنج دینے کے بڑے بہادر تھے۔ اگر فریق مقابل علمی سرمایہ سے تہی دست ہوتا تو وہ ان کے طوفان خیز چیلنج سے مرعوب ہو کر دم بخود رہ جاتا اور

صفحہ 78

اگر کوئی عالم شریعت سچ مچ مقابلہ ہی پر ڈٹ جاتا تو اسے پیچ در پیچ شرطوں کی بھول بھلیوں سے باہر نکل کر مقابلہ کا موقع ہی نہ دیتے تھے۔ آج کل کے مرزائیوں کا طریق عمل ہمارے سامنے ہے۔ کیسی ہی ذلت آفرین شکست سے کیوں سابقہ نہ پڑے‘ ہمیشہ اپنی ہی فتح کا راگ الاپتے ہیں اور اپنی شکست و بدحالی اور ہزیمت و فرار کو خصم کی شکست و ہزیمت قرار دیتے ہیں۔ یہی حال ان کے پیر و مرشد کا تھا۔ وہ بھی ہمیشہ اپنی ہزیمت کو دشمن کی ہزیمت سے تعبیر فرمایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر ایچ۔ ڈی۔ گرس ولڈ‘ پرنسپل (یا پروفیسر) فورمن کرسچن کالج لاہور نے کیا خوب لکھا کہ مرزا غلام احمد کی گزر اور اقبال مندی کا مدار سراسر شہرت پر تھا۔ مباحثہ کا نتیجہ کچھ ہی کیوں نہ ہوتا‘ مرزا صاحب بے تکلف اپنی فتح کا اعلان کر دیتے تھے۔ عقلی طور پر وہ اپنے دعاوی کو ولولہ انگیز پیرایہ میں مشتہر کرنے اور اپنی باتوں کو مضبوط بنانے میں بڑے ہوشیار تھے۔ خصوصاً ”عوام الناس کی توجہ جذب کرنے کے فن میں تو استاد کامل تھے۔ (کتاب موسوم بہ ”مرزا غلام احمد قادیانی مسیح و مہدی موعود“ مولفہ ڈاکٹر ایچ ڈی گرس وولڈ‘ ص ۳۵)

مولانا شاہ محمد اسحاقؒ کا ایک پادری سے مناظرہ

ان شاء اللہ العزیز آپ کسی موقعہ پر آگے چل کر پڑھیں گے کہ قادیاں کے ”مسیح موعود“ صاحب عبداللہ آتھم نامی ایک مرتد عیسائی سے دو ہفتے تک تحریری مناظرہ کرتے رہے لیکن اسے مغلوب نہ کر سکے۔ بلکہ روداد مناظرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ باطل پرست ہونے کے باوجود وہ مرزا صاحب کو بری طرح رگیدتا رہا۔ لیکن خدا کے مقبول بندے اہل باطل کے مقابلہ میں مرزا صاحب کی طرح گھنٹوں اور دنوں تک گاؤ زوری نہیں کیا کرتے بلکہ دشمن کو منٹوں اور سیکنڈوں میں پچھاڑتے اور معاً ان کی چھاتی پر سوار ہو جاتے ہیں۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے نواسہ مولانا شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ کے زمانہ میں‘ جبکہ مغلیہ سلطنت کا آفتاب اقبال رو بہ زوال تھا‘ ایک بڑا لسان پادری دہلی آیا اور علمائے اسلام کو مناظرہ کی دعوت دی۔ بعض علمائے سوء کو‘ جو شاہ عبدالعزیزؒ کے خاندان سے حسد و عناد رکھتے تھے‘ شاہ اسحاق صاحبؒ سے بڑی کاوش تھی۔ انہوں نے جا کر اس پادری کو پٹی پڑھائی کہ تم عام علماء کو چھوڑ کر خاص شاہ اسحاق کو اپنا مخاطب بناؤ اور

صفحہ 79

انہی کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ چونکہ شاہ صاحب بالکل سادہ مزاج‘ کم سخن اور دنیا سے منقطع تھے اور زبان میں کسی قدر لکنت تھی‘ معاندین کا خیال تھا کہ یہ لسان پادری شاہ صاحب کو ضرور مات دے گا اور ان کی رسوائی ہوگی۔ اب پادری نے شاہ صاحب کو مقابلہ کے لیے للکارنا شروع کیا۔ شاہ صاحب نے بھی بے تکلف یہ دعوت منظور فرما لی۔ انہی دنوں دہلی میں مولوی فرید الدین مراد آبادی اور مولوی محمد یعقوب صاحب اہل کتاب کے مناظرہ میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ جب انہوں نے سنا کہ شاہ صاحب نے دعوت مناظرہ منظور فرما لی ہے تو بہت گھبرائے اور جا کر شاہ صاحب سے عرض کیا کہ آپ بذات خود مناظرہ نہ فرمائیں‘ ہم کو اپنا وکیل بنا دیں۔ شاہ صاحب نے فرمایا‘ مشکل یہ ہے کہ اس نے میرا ہی نام لیا ہے اس لیے اعراض و انکار کی کوئی صورت نہیں۔ ظفر شاہ بادشاہ دہلی بھی شاہ صاحب کا مخالف تھا۔ قلعہ معلی میں مناظرہ کی ٹھہری۔ دھوم دھام سے مجلس مناظرہ منعقد ہوئی۔ یہ شاہ صاحب کا کچھ باطنی تصرف تھا کہ جب پادری شاہ صاحب کے سامنے آیا تو اس کے جسم پر لرزہ طاری ہوگیا اور ایسا حواس باختہ ہوا کہ ایک لفظ بھی زبان سے نہ نکال سکا۔ جب کچھ دیر ہوگئی تو شاہ صاحب نے پادری سے فرمایا کہ آپ کچھ فرمائیں گے یا میں ہی عرض کروں؟ اس نے کہا آپ ہی فرمائیں۔ شاہ صاحب نے تقریر شروع کی۔ حقانیت اسلام کے دریا بہا دیے اور بطلان مسیحیت کے وہ وہ دلائل پیش کیے کہ اعداء بھی عش عش کر گئے۔ پادری بالکل دم بخود بیٹھا تھا۔ نہ تو اس نے آپ کی تقریر پر کوئی اعتراض کیا اور نہ اپنی طرف سے کوئی سوال کر سکا۔ جب تمام لوگوں پر پادری کا عجز ظاہر ہوگیا تو شاہ صاحب نے ان بدطینت مولویوں کی طرف‘ جنہوں نے اس پادری کو ابھارا تھا‘ متوجہ ہو کر فرمایا کہ ہمارے خاندان کا معمول رہا ہے کہ وہ تفسیر سے پہلے بائبل پڑھا دیا کرتے تھے کیونکہ بائبل پر عبور ہوئے بغیر قرآن فہمی میں وہ لطف نہیں آتا جو تورات‘ انجیل اور زبور پڑھ لینے کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ اسی قاعدے کے بموجب مجھے بھی یہ کتابیں پڑھائی گئی تھیں‘ اس لیے میں عیسائی مذہب کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہوں۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر تمہاری خواہش کے بموجب اسحاق کو شکست اور ذلت ہوتی تو اس میں کچھ مضائقہ نہ تھا کیونکہ مجھے علم کا دعویٰ ہی کب ہے؟ لیکن اسلام تو تمہارا بھی تھا۔ اس سے تمام مخالف پانی پانی ہوگئے اور مناظرہ ختم ہوا۔ (امیر الروایات‘ ص ۲۴۴)

صفحہ 80

باب ۱۳

حکیم مرزا غلام مرتضیٰ کا انتقال

مرزا غلام احمد صاحب امتحان مختاری کی ناکامی کے بعد ۱۸۶۸ء میں قادیاں چلے آئے تھے۔ باپ نے قانون دان اور خصومت پسند پا کر آتے ہی مقدمہ بازی کے کام میں لگا دیا۔ ۱۸۶۸ء سے لے کر ۱۸۷۶ء تک یعنی قریباً آٹھ سال تک برابر لوگوں سے دست و گریبان رہے۔ مقدمہ بازی کے آخری ایام میں حکیم غلام مرتضیٰ کا آفتاب حیات لب بام تھا۔ جب ان کا پیمانہ حیات آب فنا سے لبریز ہوا تو انہیں پیچش کا عارضہ لاحق ہوا۔ مرزا غلام احمد صاحب اس وقت لاہور آئے ہوئے تھے۔ ان کو خط لکھا گیا۔ یہ قادیاں پہنچے تو باپ بستر مرگ پر دراز تھا۔ جب گھر پہنچے تو تیمارداروں نے، جو پاس بیٹھے تھے، کہا غلام احمد تم آگئے؟ یہ سن کر باپ نے منہ سے چادر اٹھائی اور بیٹے کی طرف دیکھ کر کہا، بیٹا غلام احمد تم آگئے؟ خط پہنچ گیا تھا؟ مرزا غلام احمد نے کہا خط تو نہیں ملا، میں نے آپ کو خواب میں بیمار دیکھا تھا۔ (کتاب البریہ، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۱۵۹)۔ باپ نے کہا ہاں مجھے پیچش نے ہلاک کر ڈالا۔ اب کل سے کسی قدر افاقہ ہے۔ آہ دنیا بہت ناپائیدار ہے۔ بیٹا! جس قدر میں نے اس پلید دنیا کے لیے سعی کی ہے، اگر وہی سعی دین کے لیے کرتا تو شاید آج قطب اور غوث ہوتا۔ (ایضاً، ص ۱۵۶) میں نے دنیا کے لیے ناحق عمر عزیز برباد کی۔ اب میرا وقت آخری ہے اور جو دم ہے دم واپسین ہے۔ اس کے بعد شاید دوسرے ہی دن تیر قضا کا نشانہ بن گئے اور مسجد کے گوشہ میں سپرد خاک ہوئے۔

کیا رب العالمین نے مرزا غلام مرتضیٰ کی عزاداری کی؟

مرزا غلام احمد صاحب اپنے باپ کے حادثہ مرگ کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”دوپہر کے وقت ہم سب عزیز ان کی خدمت میں حاضر تھے کہ مرزا صاحب نے مہربانی سے مجھے فرمایا کہ اس وقت تم ذرا آرام کر لو۔ کیونکہ جون کا مہینہ تھا اور گرمی سخت پڑتی تھی۔ میں آرام

صفحہ 81

کے لیے ایک چوبارہ (بالا خانہ) میں چلا گیا اور ایک نوکر پیر دبانے لگا۔ اتنے میں تھوڑی سی غنودگی ہو کر مجھے الہام ہوا والسماء والطارق یعنی قسم ہے آسمان کی جو قضا و قدر کا مبدء ہے اور قسم اس حادثہ کی جو آج آفتاب کے غروب کے بعد نازل ہوگا، اور مجھے سمجھایا گیا کہ یہ الہام بطور عزا پرسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور حادثہ یہ ہے کہ آج ہی تمہارا والد آفتاب کے غروب کے بعد فوت ہو جائے گا۔ سبحان اللہ ! کیا شان خداوند عظیم ہے اور ایک شخص جو اپنی عمر ضائع ہونے پر حسرت کرتا ہوا فوت ہوا ہے، اس کی وفات کو عزا پرسی کے طور پر بیان فرماتا ہے۔ اس بات سے اکثر لوگ تعجب کریں گے کہ خدا تعالیٰ کی عزا پرسی کیا معنی رکھتی ہے مگر یاد رہے کہ حضرت عزت جل شانہ جب کسی کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو ایک دوست کی طرح ایسے معاملات اس سے کرتا ہے۔ (کتاب البریہ، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۲۶۰-۲۶۱) مسیح قادیاں کی اس تحریر سے معلوم ہوا کہ خدائے بے نیاز نے مرزا غلام احمد صاحب سے ان کے والد کے حادثہ مرگ پر ایک دوست کی طرح تعزیت کی۔ لوگ حیرت زدہ ہیں کہ خدائے احکم الحاکمین نے حضرت یوسف صدیق علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کی رحلت پر عزا پرسی نہ کی اور اگر کی ہوتی تو ضرور احادیث نبویہ میں اس کا ذکر ہوتا۔ اسی طرح یعقوب علیہ السلام کے پاس ان کے والد مکرم حضرت اسحاق علیہ السلام کے حادثہ انتقال پر تعزیت نہ فرمائی اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے ان کے پدر بزرگوار جناب ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر کوئی عزا پرسی نہ کی۔ اسی طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ان کے والد اکرم حضرت داؤد خلیفۃ اللہ علیہ السلام کے انتقال پر تعزیت نہ کی حالانکہ یہ تمام باپ بیٹے انبیاء و مرسلین تھے لیکن عزاداری کی تو حکیم غلام مرتضیٰ کے انتقال پر کی جو نہ نبی تھے نہ صدیق، نہ مہاجر تھے نہ شہید، نہ زاہد تھے نہ عارف، نہ عالم تھے نہ حافظ، غرض کچھ بھی نہ تھے۔ لیکن میں اس راز کو افشا کر دینا چاہتا ہوں کہ سنت مستمرہ کے خلاف ایسا کیوں ہوا؟ سو معلوم ہو کہ مرزا غلام مرتضیٰ صاحب میں دو خصوصیتیں ایسی پائی جاتی تھیں جو نہ کسی نبی میں گزری ہیں اور نہ کسی صدیق، شہید، عارف اور ولی میں۔ ان میں سے پہلی خصوصیت یہ تھی کہ وہ حضرت مرزا غلام احمد ”مسیح زمان“ کے والد تھے۔ دوسری یہ کہ وہ بے نماز تھے۔ موخر الذکر خصوصیت کے متعلق مرزا بشیر احمد صاحب، ایم۔ اے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے

صفحہ 82

ہیں۔ ”ایک بغدادی مولوی آیا تو آپ (مرزا غلام مرتضیٰ) نے اس کی کمال خدمت کی۔ مگر اس نے کہا کہ تم نماز نہیں پڑھتے؟ آپ نے کمزوری کا اعتراف کیا۔ تکرار کے بعد مولوی نے کہا کہ تمہیں خدا دوزخ میں ڈالے گا تو آپ نے جوش میں آ کر کہا کہ تم کو کیا معلوم مجھے کہاں ڈالے گا۔ میں خدا سے بدظن نہیں ہوں۔ میری عمر ۷۵ سال کی ہے۔ خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی تو کیا اب مجھے دوزخ میں ڈالے گا؟“ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۳۲) مرزا غلام مرتضیٰ کے عقاید و اعمال کے متعلق مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی نے اپنے ماہوار رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ میں لکھا تھا ”الہامی صاحب کے باپ مرزا غلام مرتضیٰ، جن کو میں نے بھی دیکھا ہے اور ان کے دیکھنے والے بہت سے لوگ اس وقت زندہ ہیں، صرف حکیمانہ مذہب رکھتے (یعنی دہریہ) تھے۔ اگر مذہب کی طرف کچھ میلان تھا تو تشیع کی طرف تھا۔ اور اس پیرانہ سالی میں جبکہ میں نے ان کو دیکھا ہے، ان کو نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ ارکان شرعیہ کا التزام نہ تھا۔ ممنوعات شرعیہ کا حال ہم نہیں لکھتے، یہ خود قادیانی سے یا اس کے دوستوں سے پوچھنا چاہیے“۔ - (اشاعۃ السنۃ، جلد ۱۶، ص ۱۷۱) -

تعزیت کرنے والی ”ذات شریف“

ظاہر ہے کہ جب ایسے عقاید و اعمال رکھنے والے شخص کی موت پر خدا نے ماتم پرسی کی تو یہ وہ خدا نہیں ہو سکتا جو رب السموات والارض ہے بلکہ وہ قادیاں کا عاجی خدا ہوگا جسے ٹپچی ٹپچی یا اس قسم کے کسی دوسرے لغو بیہودہ نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہاں یہ بتلا دینا بھی ضروری ہے کہ جس باپ کے مرنے پر ”خدا“ نے مسیح صاحب کے پاس ماتم پرسی کی تھی، مسیح صاحب اس باپ کے کہاں تک فرماں بردار تھے اور انہوں نے اپنے باپ کی کس حد تک خدمت گزاری کی تھی۔ مرزا احمد علی صاحب امرتسری کتاب ”دلیل العرفان“ میں لکھتے ہیں: ”منشی محمد عبداللہ نے رسالہ ”شہادۃ قرآنی“ کے صفحہ ۵ پر لکھا ہے کہ مولوی باقر علی بٹالوی نے ان سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مرزا غلام مرتضیٰ پر فالج کا سخت حملہ ہوا اور زندگی سے مایوس ہو کر اپنے مخلص احباب کو اور مجھے (مولوی باقر علی کو) الوداعی ملاقات کے لیے بلا بھیجا۔ جب ہم لوگ قادیاں پہنچے تو اس وقت مرزا غلام مرتضیٰ کی یہ حالت تھی کہ کروٹ تک نہ بدل سکتے تھے۔ ان کے ورود پر وہ کچھ مضطرب سے دکھائی دیے۔ دریافت

صفحہ 83

کرنے پر کہنے لگے کہ میں اس خیال سے پریشان ہوں کہ تمہاری مہمان داری کون کرے گا؟ ہم نے کہا آپ کے فرزند مرزا غلام قادر۔ انہوں نے کہا، اسے میں نے کسی ضروری کام کے لیے کہیں باہر بھیجا ہے۔ ہم نے کہا، اچھا غلام احمد جو ہے۔ انہوں نے سرد آہ بھر کر جواب دیا کہ جب وہ میرے پرسا تک کو نہیں آتا تو آپ لوگوں کی کیا پرواہ کرے گا۔ اس نے تو آج کل آوارگی اختیار کر رکھی ہے۔ مولوی باقر علی کا بیان ہے کہ کچھ دنوں کے بعد ڈپٹی قائم علی کے مکان پر مرزا غلام مرتضیٰ سے میری ملاقات ہوئی۔ اثنائے گفتگو میں میں نے غلام احمد کا حال دریافت کیا اور میں نے کہا کہ اب تو شاید اس کا چال چلن ٹھیک ہوگیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ چال چلن کیسا، اس کی تو قیامت تک اصلاح نہیں ہوگی۔ (دلیل العرفان، مولفہ مرزا احمد علی امرتسری، ص ۱۱۳- ۱۱۴)۔ اس بیان کی تائید خود مرزا غلام احمد صاحب کی ایک تحریر سے بھی ہوتی ہے جس سے یہ امر پایہ تحقیق کو پہنچتا ہے کہ مرزا غلام مرتضیٰ اپنے بیٹے مرزا غلام احمد سے ناخوش تھے اور غلام احمد صاحب اپنے والد محترم کے بے فرمان اور عاق تھے۔ مرزا غلام احمد صاحب نے اپنے والد کی رحلت کے کچھ عرصہ بعد لکھا تھا ”ایسا ہی میرا بھائی امام الدین مجھے پیش آیا۔ وہ ان باتوں میں میرے باپ کے مقابلہ کا تھا۔ پس خدا نے ان دونوں کو وفات دی اور زیادہ دیر تک زندہ نہ رکھا اور اس نے مجھے کہا کہ ایسا ہی کرنا چاہیے تھا تاکہ تجھ سے خصومت کرنے والے باقی نہ رہیں“۔ (رسالہ ریویو، جلد ۲، صفحہ ۵۸ --- دلیل العرفان، ص ۱۴۲)

باب ۱۴

مرزا غلام احمد ”عارف کامل“ اور

”باخدا“ صوفی کی حیثیت سے

لاہور اور قادیاں کی مجادلانہ سرگرمیوں کے بعد رئیس قادیاں کو جو شہرت و نمود حاصل ہوئی، وہ ہر قسم کے دام تزویر کے کامیاب بنانے کی ضامن تھی۔ اس وقت مستقبل کے

صفحہ 84

متعلق مرزا غلام احمد کے سامنے دو تجویزیں تھیں۔ کتابوں کی تصنیف و فروخت سے مالی منفعت یا ولی کامل اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اپنی بزرگی کا رنگ جمانا اور حطام دنیوی کا حاصل کرنا۔ پہلی تجویز کے متعلق مرزا صاحب نے کتاب ”براہین احمدیہ“ نام کی ایک کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس کا مواد انہی ایام میں جمع کرنا شروع کر دیا تھا جبکہ مرزا صاحب شروع شروع میں لاہور تشریف لا کر چینیانوالی مسجد میں اقامت گزین تھے۔ چونکہ یہ کام مرزا صاحب کی سی قابلیت کے آدمی کے لیے کئی سال کی تگ و دو اور جاں فشانی کا محتاج تھا‘ اور دوسرا کام یعنی تقدس و کبریائی کا زبانی دعویٰ ان کی نظر میں مہلت طلب اور صبر آزما نہ تھا‘ اس لیے ارادہ کیا کہ پہلے اسی کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ چنانچہ اس فیصلہ کے بموجب لوگوں سے منقطع ہو کر خلوت نشین ہو گئے۔ جس طرح کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیے بغیر کوئی علم و ہنر حاصل نہیں ہو سکتا‘ اسی طرح کسی پیر طریقت کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے اور استفادہ باطنی کیے بغیر کوئے طریقت کی بھی راہ نہیں مل سکتی۔ لیکن مرزا صاحب اس خیال و عقیدہ کے آدمی نہیں تھے۔ ان کے دل میں یہ بے ہودہ خیال سرایت کر گیا تھا کہ بیعت و استفادہ بیکار ہے۔ انسان کو خود ہی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۲۵۳) (اور وہ لوگ جو ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں‘ ہم ان کو اپنے (نجات و فلاح کے) راستے ضرور دکھائیں گے) مگر ظاہر ہے کہ تقدس مآب حضرت مرزا صاحب کی فہم نارسا اس آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے ہی سے قاصر تھی۔ اس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ استاد یا رہبر کی ضرورت نہیں بلکہ اس کا صرف یہ مفہوم ہے کہ کوشش اور جدوجہد ہی فلاح و کامرانی کی کلید ہے۔ غرض اسی غلط فہمی کا شکار ہو کر رئیس قادیاں نے علم طریقت کی طرف کوئی توجہ نہ کی اور پیر کامل کی برکت انفاس سے محروم رہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود بھی مدت العمر کوئے ضلالت میں سرشار رہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ مرزا صاحب نے اس سلسلہ میں سب سے پہلے عزلت گزینی کا طریقہ اختیار کیا۔ دن بھر بالاخانہ میں زاویہ نشین رہنے لگے اور وظائف و عملیات کی کتابوں کا مطالعہ کر کے از خود خشک عملیات و وظائف شروع کر دیے۔ ایک امرتسری دوست نے بٹالہ کے بعض ثقات سے روایت کی کہ مرزا صاحب ان دنوں قادیاں سے باہر رات کے وقت خندق میں جا

صفحہ 85

بیٹھتے اور کالے علم (جادو) کے عملیات بھی پڑھا کرتے۔ اس سلسلہ میں قادیانی صاحب نے خوابوں سے بھی مستقبل کے حالات معلوم کرنے کی کوشش کی۔ اہل اللہ میں یہ استعداد فطرۃً ودیعت ہوتی ہے۔ مرزا صاحب اس صلاحیت سے عاری تھے، اس لیے یہ بے چارے شب و روز خواب ناموں کی ورق گردانی میں مصروف رہتے۔ انہیں خواب ناموں سے اتنا شغف تھا کہ رات کو سوتے وقت بھی خواب نامہ تکیہ کے نیچے رکھ کر سوتے اور دن کو بیدار ہونے کے ساتھ ہی ان کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ رات کو جو جو اضغاث احلام دیکھے ہوتے، ان کی تعبیریں خواب نامہ میں تلاش کرنے لگتے۔ یہاں تک کہ دن کا معتد بہ حصہ اسی بے ہودہ شغل کی نذر ہو جاتا۔ ان ایام میں مرزا صاحب کا یہ بھی معمول تھا کہ اپنے خواب لوگوں کو سنایا کرتے اور دوسروں کے خواب سن کر تعبیر نامہ میں اس کی تعبیر تلاش کرتے اور لوگوں کو بتاتے۔ (ضمیمہ تکذیب براہین، ص ۳۴۶) مرزا صاحب کو غیبی امور کے انکشاف کا یہاں تک شوق چرایا تھا کہ حسب بیان میاں بشیر احمد، ایم۔اے جن دنوں کوئی اہم امر مرزا صاحب کے پیش نظر ہوتا تھا گھر کی عورتوں اور بچوں اور خادمائوں تک سے پوچھا کرتے تھے کہ تم نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے دیکھا ہوتا تو بڑے غور اور توجہ سے سنتے تھے۔ (سیرۃ المہدی، جلد ۲، ص ۶۳)

باب ۱۵

مراق کا عارضہ اور دوسری بیماریاں

یہ امر مسلم ہے کہ انبیاء کرام کے روحانی و جسمانی قویٰ بالکل بے عیب اور غیر انبیاء کے قویٰ سے ممتاز و برتر ہوتے تھے۔ عارضی طور پر بعض معمولی رنجوریاں مثلاً بخار، درد سر وغیرہ ان کے بھی عائد حال ہوتی تھیں لیکن یہ کبھی نہ ہوا کہ کسی نبی کی کوئی بیماری سایہ کی طرح ہمیشہ ساتھ ہی لگی رہی ہو اور قادیانی صاحب کی بیماریوں کی طرح اس نے قبر تک پہنچا کر ہی پیچھا چھوڑا ہو۔ قادیانی صاحب مدعی نبوت بیماریوں کا مجسمہ اور رنجوریوں کا مخزن و معدن تھے۔ ان کی اکیلی ذات میں بیماریاں اس کثرت و تنوع کے ساتھ جمع ہو گئی تھیں کہ

صفحہ 86

پندرہ بیس آدمیوں میں بھی مجتمعاً کہیں نہ پائی جائیں گی۔ ان کی بے شمار بیماریوں میں سب سے زیادہ قابل ذکر ان کا مرض مراق ہے جو دیوانگی کی ایک قسم ہے۔ یہ ایک ایسا مرض ہے کہ جس کا کسی نبی یا ولی میں پایا جانا ناممکنات میں سے ہے۔ یہی وہ مرض ہے جس کے بدولت حضرت ”مسیح موعود“ صاحب اپنے قوائے ذہنیہ کھو بیٹھے تھے۔ معلوم ہو کہ مراق مالیخولیا کی ایک قسم ہے اور مالیخولیا ایک دماغی مرض ہے جو انسان کو غور و تدبر اور فکر صحیح سے باز رکھتا ہے۔ اس میں عموماً ایسی باتیں سوجھتی ہیں جو سراسر عقل کے خلاف ہوتی ہیں۔ (میزان الطب‘ ص ۴۳) ”خلیفۃ المسیح“ حکیم نور الدین لکھتے ہیں۔ مالیخولیا جنون (دیوانگی) کا ایک شعبہ ہے۔ اور مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے۔ (بیاض نور الدین‘ حصہ اول‘ ص ۲۱۱) مراق کے متعلق طب کی مشہور کتاب شرح اسباب میں لکھا ہے۔ نوع من الماليخوليا يسمى المراقی (شرح اسباب‘ جلد اول‘ ص ۷۴) مراق مالیخولیا کی ایک قسم ہے جسے مراقی مالیخولیا کہتے ہیں۔ مراقی کی باتیں اوہام کا مجموعہ ہوتی ہیں چنانچہ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں ”مگر یہ بات تو جھوٹا منصوبہ ہے اور یا کسی مراقی عورت کا وہم“۔ (کتاب البریہ‘ ص ۲۳۹) ڈاکٹر شاہ نواز خاں مرزائی اسسٹنٹ سرجن نے قادیاں کے رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں لکھا کہ مرض مراق میں مریض کو اپنے جذبات پر قابو نہیں رہتا۔ (ریویو آف ریلیجنز‘ اگست ۱۹۲۶ء) اسی طرح مراقی کی تمام باتیں بے ربط اور بے سروپا ہوتی ہیں‘ چنانچہ منشی احمد حسین مرزائی فرید آبادی نے اخبار بدر قادیاں میں لکھا کہ قاضی عبد العزیز تھانیسری نے اس امر کا اعلان کیا ہے کہ میں خلیفہ وقت ہوں۔ جب میں نے اس شخص کا یہ مضمون دیکھا تو ہنس کر ٹال دیا کہ ایسے مراقی اور کمزور طبع آدمی کی بے ربط اور بے سروپا باتوں کا کیا نوٹس لیا جائے۔ (اخبار بدر قادیاں‘ ۶؍ دسمبر ۱۹۰۶ء‘ ص ۴) مراقی آدمی طرح طرح کے ایسے خیالات کرتا ہے جس کی واقعات تردید کر دیتے ہیں۔ (ریویو آف ریلیجنز‘ مئی ۱۹۲۷ء‘ ص ۲۳) کبھی قبض‘ کبھی دست آتے ہیں۔ (بیاض نور الدین‘ حصہ اول‘ ص ۲۱۳) اکثر بے خوابی کی شکایت رہتی ہے۔ ہضم اچھا نہیں ہوتا۔ تپ کا گمان رہتا ہے۔ کبھی ہاتھ پاؤں جلتے ہیں‘ کبھی ٹھنڈے۔ مرض کے بیان کرنے میں بس نہیں کرتا۔ ہر وقت سوچ میں رہتا ہے۔ کمر سے شانوں تک درد محسوس کرتا ہے۔ کانوں میں آوازیں آتی ہیں۔ جس بیماری کا بھی کہیں تذکرہ ہو‘ جھٹ بول اٹھتا ہے کہ یہ مجھ کو ہے۔ (ایضاً) مالیخولیا صفراوی کا

صفحہ 87

مریض غضب ناک‘ بدحواس‘ حیران و پریشان‘ بدخلق‘ بکواسی ہوتا ہے اور زیادہ بیدار رہا کرتا ہے۔ (مخزن حکمت‘ جلد ۲‘ ص ۳۵۲‘ طبع پنجم) مراقی تنہائی پسند ہوتا ہے۔ (شرح اسباب‘ جلد اول‘ ص ۷۰)

مراق کا ذی علم مریض وحی و الہام کا دعویٰ کرتا ہے

بعض مراقیوں کی علامت یہ ہے کہ اگر وہ نیم ملا اور صاحب علم آدمی ہوں تو نبوت‘ خدائی‘ غیب دانی‘ بادشاہت یا اس قسم کا کوئی اور تعلی آمیز دعویٰ کرتے ہیں۔ چنانچہ حکیم اعظم خان کتاب ”اکسیر اعظم“ میں لکھتے ہیں۔ ”اگر مریض دانش مند بودہ باشد دعوائے پیغمبری و کرامات کند و سخن از خدائی گوید و خلق را دعوت کند“۔ (اکسیر اعظم‘ مطبوعہ نولکشور‘ جلد اول‘ ص ۱۸۸)۔ (اگر مراق کا مریض ذی علم آدمی ہو تو پیغمبری اور کرامات کا دعویٰ کرتا ہے اور خدائی باتیں کہتا ہے اور لوگوں کو اپنی پیغمبری کی دعوت دیتا ہے)۔ مریض اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے۔ بسا اوقات آئندہ ہونے والے واقعات کی قبل از وقت اطلاع دیتا ہے۔ بعض مریض اپنے تئیں فرشتہ اور بعض خدا سمجھنے لگتے ہیں۔ (شرح اسباب‘ جلد اول‘ ص ۶۹) بعض عالم اس مرض میں مبتلا ہو کر پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں اور اپنے بعض اتفاقی واقعات کو معجزات قرار دیتے ہیں۔ (مخزن حکمت‘ جلد ۲‘ ص ۳۵۲‘ طبع پنجم)۔ ”مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں‘ کوئی خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں‘ کوئی سمجھتا ہے کہ میں خدا ہوں“۔ (بیاض نور الدین‘ ص ۲۱۲) اس کتاب کا مطالعہ کرنے والوں پر یہ حقیقت آفتاب نصف النہار کی طرح واضح ہو جائے گی کہ اس فصل میں مراقیوں کی جس قدر علامتیں بیان کی گئی ہیں‘ وہ سب کی سب قادیانی صاحب میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔

فصل۔۱ مسیح قادیاں کو اپنے مراق کا اعتراف

مرزا جی دوسرے بے شمار امراض کے علاوہ مرض مراق میں بھی مبتلا تھے جو جنون اور دیوانگی کی ایک قسم ہے۔ یہ صحیح ہے کہ انبیاء کرام کو بھی اعدائے دین ازراہ عناد دیوانگی کی

صفحہ 88

طرف منسوب کرتے رہے۔ لیکن نہ تو ان سے کبھی اس قسم کی کوئی حرکت سرزد ہوئی جو (معاذ اللہ) اختلال حواس پر دلالت کرتی اور نہ خدا کے کسی فرستادہ نے کبھی اس الزام کو صحیح تسلیم کیا۔ یہاں تک کہ خداوند عالم نے کتب و صحف سماوی میں ہمیشہ ان افترائوں کی تردید کی۔ اس کے برخلاف مرزا غلام احمد مدعی نبوت کو خود اپنے مراقی ہونے کا اعتراف تھا‘ چنانچہ لکھتے ہیں کہ

طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ سو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں‘ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی‘ یعنی مراق اور کثرت بول“۔

(رسالہ تشحیذ الاذہان‘ جون ۱۹۰۶ء‘ ص ۶)

ہوں‘ تاہم آج کل کی مصروفیت کا یہ حال ہے کہ رات کو مکان کے دروازے بند کر کے بڑی بڑی رات کو بیٹھا اس کام کو کرتا رہتا ہوں‘ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے“۔

(کتاب منظور الٰہی یعنی مجموعہ اقوال مرزا صاحب‘ مرتبہ منظور الٰہی مرزائی‘ ص ۳۴۸)

(ریویو آف ریلیجنز‘ بابت اپریل ۱۹۲۵ء‘ ص ۴۵)۔

اسی طرح ایک مرزائی مضمون نگار نے لکھا کہ مراق کا مرض حضرت (مرزا) صاحب میں موروثی نہ تھا بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت‘ تفکرات‘ غم اور سوء ہضم تھا جس کا نتیجہ دماغی ضعف تھا اور جس کا اظہار مراق اور دیگر ضعف کی علامات مثلاً دوران سر کے ذریعہ ہوتا تھا۔ (ایضاً‘ بابت اگست ۱۹۲۶ء‘ ص ۱۰)۔ حضرت (مرزا) صاحب نے اپنی بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ مجھ کو مراق ہے۔ (ایضاً)۔

مرزائیوں کے عذر ہائے لنگ

صفحہ 89

جب مرزائیوں سے کہا جاتا ہے کہ تم تو مراقی نبی کے پیرو ہو تو گھبرا کر کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے بے خبری میں اپنے آپ کو مراقی لکھ دیا ہے۔ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مراق دیوانگی کی ایک قسم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب ماشاء اللہ طبیب بھی تھے اور مراق اور مالیخولیا کو اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے، چنانچہ خود مرزا صاحب نے کتاب البریہ میں لکھا کہ میں نے فن طبابت کی چند کتابیں اپنے والد سے، جو ایک نہایت حاذق طبیب تھے، پڑھیں۔ (کتاب البریہ، حاشیہ ص ۱۵۰) اور لکھتے ہیں کہ میں نے طب کی کتابیں پڑھی ہیں اور ان کتابوں کو ہمیشہ دیکھتا رہا ہوں۔ (سیرۃ مسیح موعود، مولفہ مرزا محمود احمد، ص ۱۱)۔ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب طبیب بھی تھے اور ظاہر ہے کہ جو شخص طبیب ہو یا کم از کم نیم طبیب ہو وہ اتنا جاہل نہیں ہو سکتا کہ مراق کا مفہوم سمجھنے سے بھی قاصر ہو۔ بعض مرزائی کہتے ہیں کہ مراق سے کوئی دوسرا مرض مثلاً درد سر یا دوران سر وغیرہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے۔ اس کے جواب میں حکیم عبدالرحمن صاحب ساکن تیجہ کلاں ضلع گورداسپور کی طرف سے ۲۸؍ مئی ۱۹۳۴ء کے جریدہ ”اہل حدیث امرتسر“ میں ایک چیلنج شائع ہوا تھا کہ مراق کا لفظ مفرد طور پر صرف مالیخولیا مراقی کے معنے میں مستعمل ہوتا ہے اور اگر اس کے خلاف کسی طبیب یا ڈاکٹر یا مولوی کو دعویٰ ہو تو مجھ سے مباحثہ کر لے مگر کسی کو مقابلہ کی جرات نہ ہوئی۔

فصل - ۲ مرزا غلام احمد مراق کا کس طرح شکار ہوئے؟

مالیخولیا مراق میں مبتلا ہونے کی دو وجہیں تھیں: ایک تو مسلسل کئی مہینے کے نفلی روزے جو انہوں نے اوائل میں اس خیال سے رکھے ہوں گے کہ شاید ان سے درجہ ولایت مل جاتا ہوگا۔ دوسری کثرت مطالعہ۔ مرزا جی نے دونوں کی خود تشریح کی ہے، چنانچہ ”کتاب البریہ“ میں لکھتے ہیں کہ میں نے اپنی غذا کو کم کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں تمام رات دن میں صرف ایک روٹی پر کفایت کرتا تھا، اسی طرح میں کھانے کو کم کرتا گیا، یہاں تک کہ شاید صرف چند تولہ روٹی آٹھ پہر کے بعد میری غذا تھی۔ غالباً آٹھ یا نو ماہ تک میں نے ایسا ہی کیا اور باوجود اس قدر قلت غذا کے خدا تعالیٰ نے مجھے ہر ایک بلا اور آفت سے

صفحہ 90

محفوظ رکھا۔ (کتاب البریہ‘ ص ۱۶۵) اور لکھا کہ میں نے کئی جاہل درویش ایسے بھی دیکھے ہیں کہ جنہوں نے شدید ریاضتیں اختیار کیں اور آخر یبوست دماغ سے وہ مجنون ہوگئے اور بقیہ عمر ان کی دیوانہ پن میں گزری یا دوسرے امراض سل اور دق وغیرہ میں مبتلا ہوگئے۔ آج کل کے اکثر نادان فقیر جو مجاہدات سکھلاتے ہیں‘ ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ پس ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔ (کتاب البریہ‘ ص ۱۶۷) اور فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے فرشتوں کو انسان کی شکل پر دیکھا۔ یاد نہیں کہ وہ دو تھے یا تین۔ (ان میں سے ایک تو غالباً مرزا صاحب کا رفیق اعلیٰ ٹیچی ٹیچی ہوگا اور دوسرے اس کے بھائی بند ہوں گے۔ راقم) یہ آپس میں باتیں کرتے تھے اور مجھے کہتے تھے کہ کیوں اس قدر مشقت اٹھاتا ہے۔ اندیشہ ہے کہ بیمار نہ ہو جاوے۔ میں نے سمجھا کہ یہ جو ۶ ماہ کے روزے رکھے ہیں ان کی طرف اشارہ ہے۔ (البشریٰ‘ جلد اول‘ حصہ دوم‘ ص ۲۴)۔ ان تحریروں میں قادیانی صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ تقلیل غذا اور خشک مجاہدوں سے دماغ میں یبوست پیدا ہوتی ہے اور جنون و دیوانگی آگھیرتی ہے۔ چنانچہ بہت سے جاہل (و بے مرشد) درویش جنون کا شکار ہوگئے اور ان کی عمر دیوانگی یا سل و دق وغیرہ امراض میں گزری۔ لیکن بوالعجبی دیکھو کہ اپنے متعلق الہامی صاحب نادانی سے یہی سمجھتے رہے کہ وہ تقلیل غذا کے باوجود ہر بلا و آفت سے محفوظ ہیں‘ حالانکہ ان کا مراق بلاشبہ اسی یبس دماغی کا نتیجہ تھا جو کسی مرشد کامل کے حکم کے بغیر تقلیل غذا سے پیدا ہوگیا تھا۔

مراق کی تولید کا دوسرا سبب کثرت مطالعہ تھا۔ معراج الدین مرزائی نے لکھا ہے کہ مرزا صاحب کو خدا تعالیٰ نے کتابوں کے دیکھنے کا اس قدر شوق اور شغل دیا ہوا تھا کہ مطالعہ کے وقت گویا دنیا میں نہیں ہوتے تھے۔ آپ کی عادت شروع سے ایسی ہی تھی کہ اکثر مطالعہ ٹہل کر کرتے تھے اور ایسے محو ہو کر کثرت سے ٹہلتے تھے کہ جس زمین پر ٹہلتے تھے‘ دب دب کر باقی زمین سے متمیز اور بہت نیچی ہو جاتی تھی۔ (سوانح عمری مرزا صاحب‘ ملحقہ براہین احمدیہ‘ ص ۶۳) اور مرزا صاحب خود لکھتے ہیں کہ ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہیں تھا۔ میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہیے۔ کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آوے۔ (کتاب البریہ‘ ص ۱۵۰) لیکن صحت میں فرق آ کے

صفحہ 91

رہا۔

مراقی مسیح کے پیروؤں نے ان کے مراق کے بعض اور وجوہ و اسباب بھی بتائے ہیں، مثلاً ایک نے لکھا کہ حضرت (مرزا) صاحب کی تمام تکالیف مثلاً دوران سر، درد سر، کمی خواب، تشنج دل، بد ہضمی، اسہال، کثرت پیشاب اور مراق وغیرہ کا صرف ایک ہی باعث تھا اور وہ عصبی کمزوری تھی۔ (رسالہ ریویو آف ریلیجنز، قادیاں، ص ۲۶، مئی ۱۹۲۷ء)۔ دوسرا لکھتا ہے کہ مرض مراق حضرت (مرزا) صاحب کو ورثہ میں نہیں ملا بلکہ مراقی علامات کے دو بڑے سبب تھے۔ اول کثرت دماغی محنت، تفکرات، قوم کا غم اور اس کی اصلاح کی فکر۔ دوسرا غذا کی بے قاعدگی کی وجہ سے سوء ہضم اور اسہال کی شکایت۔ (ایضاً، بابت ماہ اگست ۱۹۲۶ء، ص ۹)

فصل۔ ۳ مراقی ہونے کے عملی ثبوت

مسیح صاحب مراقی تھے اور ان کا مراقی ہونا ان کے تمام حرکات و سکنات، عادات و اطوار سے مترشح ہوتا تھا۔ چند دل آویز نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ مرزا صاحب گورداسپور گئے اور مقدمہ کے دوران میں اپنی چھتری میاں محمد علی (موجودہ امیر جماعت احمدیہ لاہور) کو رکھنے کے لیے دی۔ جب مرزا صاحب کچہری سے رخصت ہونے لگے تو میاں محمد علی صاحب نے وہ چھتری الہامی صاحب کو دینی چاہی۔ انہوں نے چھتری ہاتھ میں لے کر اسے بغور دیکھا اور فرمایا کہ یہ کس کی چھتری ہے؟ عرض کیا گیا، حضور ہی کی ہے۔ حضور ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا، اچھا! میں تو سمجھا تھا کہ میری نہیں ہے حالانکہ وہ چھتری مدت سے ان کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۲۲۷)

جوتی پاؤں میں، تلاش گاؤں میں

یعقوب علی صاحب عرفانی ایڈیٹر اخبار الحکم قادیاں نے کتاب ”حیات النبی“ میں لکھا کہ سردی کا موسم تھا۔ مرزا صاحب نے چمڑے کے موزے پہن رکھے تھے۔ رات کو سونے

صفحہ 92

لگے تو پاؤں سے جوتا نکالا۔ ایک جوتا تو نکل گیا اور دوسرا پاؤں ہی میں رہا۔ اس جوتے سمیت ہی رات بھر سوئے رہے۔ اٹھے تو جوتے کی تلاش ہوئی۔ ادھر ادھر بہتیرا دیکھا، پتہ نہیں چلتا ایک پاؤں موجود ہے اور یہ خیال نہیں آتا کہ دوسرا پاؤں میں رہ گیا ہو گا۔ خادم نے کہا کہ شاید کتا لے گیا ہو گا اور اس خیال سے وہ ادھر ادھر دیکھنے بھالنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد جو اتفاق سے مسیح صاحب کا ہاتھ اپنے پاؤں سے چھوا تو معاً فرمانے لگے ’اوہو‘ یہ تو پاؤں ہی میں ہے اور ہم یہ خیال کرتے رہے کہ صرف جراب ہے۔ خیر خادم کو آواز دی کہ جوتا مل گیا، پاؤں ہی میں رہ گیا تھا۔ (حیات النبیؐ، جلد اول، ص ۱۹۱)۔ ایک مرتبہ مرزا صاحب اور سید محمد علی شاہ تلاش روزگار کے خیال سے قادیاں سے چلے۔ کلانور کے قریب ایک نالے سے گزرتے ہوئے مرزا صاحب کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا مگر اس وقت تک انہیں معلوم نہ ہوا، جب تک وہاں سے بہت دور جا کر یاد نہیں کرایا گیا۔ (حیات النبیؐ، جلد اول، ص ۵۸)۔ ماسٹر کریم بخش معروف بہ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی لکھتے ہیں۔ ”مجھے یاد ہے کہ حضرت لکھ رہے تھے۔ ایک خادمہ کھانا لائی اور حضرت کے سامنے رکھ دیا اور عرض کیا کھانا حاضر ہے۔ فرمایا خوب کیا۔ مجھے بھوک لگ رہی تھی اور میں آواز دینے کو تھا۔ وہ چلی گئی اور مرزا صاحب پھر لکھنے میں مصروف ہو گئے۔ اتنے میں کتا آیا اور بڑی فراغت سے سامنے بیٹھ کر کھانا کھایا۔ برتنوں کو بھی خوب صاف کیا اور بڑے سکون اور وقار سے چلا گیا۔ بہت دیر کے بعد ظہر کی اذان ہوئی تو مرزا صاحب کو کھانا یاد آیا۔ آواز دی۔ خادمہ دوڑی آئی۔ عرض کیا، میں تو بہت دیر ہوئی جب کھانا آپ کے آگے رکھ کر آپ کو اطلاع کر گئی تھی“۔ (سیرۃ مسیح موعود، ص ۴۰) ایک مرتبہ ایک ضعیف العمر آدمی نے خاکسار راقم الحروف سے بیان کیا تھا کہ ”ایک عیار جسے ملہم صاحب کے مراقی ہونے کا بخوبی علم تھا، قادیانی صاحب کی مجلس میں آیا اور مریدوں کی طرح ہاتھ پاؤں چوم کر ایک دھیلہ نذر کیا۔ ملہم صاحب نے دھیلے کو گنی (اشرفی) سمجھ کر جیب میں ڈال لیا۔ اس وقت اور لوگ بھی نذرانے پیش کر رہے تھے اور الہامی صاحب حسب معمول تمام رقمیں جیب میں ڈالتے جاتے تھے۔ جب اس شخص کو یقین ہو گیا کہ اس کا پیش کردہ دھیلہ روپوں میں مل چکا ہو گا تو کہنے لگا حضور! میں نے جو گنی نذر کی ہے اس میں سے پانچ روپے حضور کا نذرانہ ہے، باقی دس روپے مجھے عطا فرمائیے۔ ملہم صاحب نے دس روپے کا نوٹ اس کے حوالے کر دیا۔

صفحہ 93

اس کے بعد جب الہامی صاحب اپنے دولت کدہ پر تشریف لے گئے اور محمود احمد کی والدہ کوٹ کی جیبوں سے روپے اور نوٹ نکالنے لگیں تو الہامی صاحب نے فرمایا کہ روپوں میں ایک گنی بھی ہے‘ اسے احتیاط سے الگ کر لینا۔ بیوی نے روپے نکال کر بہت دیکھ بھال کی مگر گنی دکھائی نہ دی۔ آخر کہنے لگیں کہ گنی تو کوئی نہیں‘ البتہ ایک دھیلہ ضرور موجود ہے۔ اب الہامی صاحب کو احساس ہوا کہ فلاں شخص‘ جس نے دس روپے کا نوٹ لیا تھا‘ چکمہ دے گیا ہے۔ اس کے تعاقب میں چند آدمی دوڑائے مگر اب وہ کہاں مل سکتا تھا"۔

چوزہ ذبح کرنے کی بجائے اپنی انگلی کاٹ ڈالی

مرزا بشیر احمد نے ان عجائبات سے بھی بڑھ کر ایک عجیب و غریب واقعہ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ گھر میں مرغی کا ایک چوزہ ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اس وقت گھر میں کوئی اور آدمی اس کام کے انجام دینے والا نہیں تھا۔ اس لیے حضرت (مرزا) صاحب اس چوزہ کو لے کر خود ہی ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری چلانے کے غلطی سے اپنی ہی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون بہہ گیا اور مرزا صاحب توبہ توبہ کہتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ ص ۴) مسٹر عبداللہ خاں مرزائی سابق پروفیسر مندر کالج پٹیالہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ مرزا صاحب کو پسلی میں درد محسوس ہوا۔ اپنے خادم حامد علی سے فرمایا‘ حامد علی چند روز سے میری پسلی میں درد ہے‘ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی چیز چبھتی ہے۔ اس نے جسم پر ہاتھ پھیرا تو ایک بڑی سی اینٹ واسکٹ (صدری) کی جیب میں تھی۔ حامد علی نے اینٹ نکال کر کہا‘ یہ اینٹ آپ کو چبھتی تھی۔ مسکرا کر فرمایا اوہو! چند روز ہوئے محمود نے اسے میری جیب میں ڈالا تھا اور کہا تھا اسے نکالنا نہیں‘ میں اس سے کھیلوں گا۔ (سوانح حضرت مسیح موعود‘ ص ۶۷)۔ مرزا صاحب کو شیرینی سے بہت پیار تھا۔ اس زمانہ میں مٹی کے ڈھیلے جیب ہی میں رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے رکھ لیتے تھے۔ (حالات مرزا صاحب از معراج الدین عمر مرزائی‘ ملحقہ براہین احمدیہ‘ ص ۶۷) ایک مرتبہ بالا خانہ کی کھڑکی سے گر پڑے تو داہنے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور داہنا ہاتھ مدت العمر کمزور رہا۔ اس سے لقمہ تو اٹھا سکتے تھے لیکن پیالہ نہیں اٹھایا جا سکتا تھا۔ نماز میں بھی داہنا ہاتھ بائیں کے

صفحہ 94

سہارے سنبھالنا پڑتا تھا۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۱۹۸)۔ ایک دفعہ مرزا صاحب کے لحاف میں مرا ہوا بچھو پایا گیا۔ دوسری دفعہ لحاف کے اندر چلتا ہوا بچھو دیکھا گیا۔ ایک دفعہ دامن کو آگ لگی تو دوسرے نے آ کر بجھائی۔ (ایضاً‘ ص ۱۹۱) ایک مرتبہ کوئی مرید مرزا صاحب کے لیے گرگابی لے آیا۔ پہن تو لی مگر الٹے سیدھے پاؤں میں امتیاز نہ کر سکتے تھے۔ بسا اوقات الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف اٹھاتے تھے بلکہ جب الٹا پاؤں پڑ جاتا تو پریشان ہو کر یوں گل افشانی فرماتے کہ ان (انگریزوں) کی (ایجاد کردہ) کوئی چیز اچھی نہیں (اسی واسطے پچاس الماریاں کتابیں انگریز بہادر کی تعریف میں لکھی تھیں۔ راقم) بیوی صاحبہ نے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لیے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۵۳) سبحان اللہ ذکاوت ہو تو ایسی ہو۔

مدت العمر گھڑی دیکھنی بھی نہ آئی

چھوٹے چھوٹے بچے گھڑی دیکھ کر فوراً وقت بتا دیتے ہیں لیکن مسیح صاحب کو بوڑھے ہو کر بھی اس کی تمیز نہ ہوئی‘ چنانچہ میاں بشیر احمد ’ایم۔ اے ابن مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مرزا صاحب کو کسی نے ایک جیبی گھڑی تحفۃً دی۔ حضرت (مرزا) صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا‘ تو گھڑی نکال کر ہر ایک ہندسہ پر انگلی رکھ رکھ کر ہندسے گنتے جاتے اور منہ سے بھی گنتی بولتے جاتے۔ غرض گھڑی دیکھ کر وقت معلوم نہ کر سکتے تھے۔ (ایضاً‘ ص ۱۶۲ و ۴۸۴)۔ ایک دفعہ شیخ رحمتہ اللہ نے کہا‘ حضور گھڑی تو اچھی چلتی ہے؟ مرزا صاحب نے ایک رومال کو فرش پر رکھ کر اور ایک دو گانٹھیں کھول کر اس میں سے گھڑی نکالی۔ معلوم ہوا کہ بند ہے۔ چابی دی گئی۔ وقت درست کیا گیا۔ میاں محمد علی صاحب نے آہستہ سے کہا‘ اب جس دن پھر آؤ گے چابی دے دینا۔ مرزا صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ ایک گھڑی ایسی ہے جسے سات دن کے بعد چابی دی جاتی ہے۔ (اخبار الحکم قادیاں‘ ۲۱؍ مئی ۱۹۳۲ء)۔ اسی طرح مرزا بشیر احمد لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ جب جراب پہنتے تو اس کی ایڑی نیچے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ ص ۵۸)۔ بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگے ہوتے تھے۔ (ایضاً‘

صفحہ 95

ص ۱۴۶)۔ الہامی صاحب کھانا کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں تو کھانا کھا کر یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کیا پکا تھا اور ہم نے کیا کھایا۔ (ایضاً، ص ۱۴۱)۔ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے۔ (ایضاً، ص ۵۸)۔ بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ سیر کو جاتے ہوئے کسی خادم کا ذکر غائب کے صیغہ میں کرتے تھے حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور پھر کسی کے بتلانے پر پتہ چلتا تھا کہ وہ شخص تو ساتھ ہی جا رہا ہے۔ (ایضاً، ص ۷۷)۔ سامنے اور پاس بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی کا نام لے کر کہتے کہ فلاں کو بلوا لو۔ چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد کہتے ہیں کہ کسی دوست کی موجودگی کی ضرورت محسوس ہوئی تو فرمایا، فلاں صاحب کو بلوا لو۔ وہ صاحب پاس ہی بیٹھے ہوئے بول پڑے کہ حضور میں تو بیٹھا ہوں۔ فرمانے لگے اخاہ! آپ موجود ہیں۔ یہ بہت خوب ہوا۔ (پیغام صلح، ۱۱ اپریل ۱۹۳۳ء) بسا اوقات ایسا ہوتا کہ ایک شخص مثلاً بھیرہ کو جا رہا ہے، اس سے دریافت کرتے کہ بھیرہ یہاں سے کتنی دور ہے۔ راستہ میں گاڑی کہاں کہاں تبدیل ہوگی؟ لیکن اس سے دوسرے یا تیسرے روز اگر کوئی شخص پھر بھیرہ جانے والا ہوتا تھا تو اس شخص سے بھی وہی باتیں دریافت کرتے جو پہلے سے دریافت کر چکے تھے۔ (الفضل قادیاں، ۳ جنوری ۱۹۳۱ء ص ۶) ایک ہندو کو خط لکھا تو السلام علیکم لکھ دیا۔ کاٹ کر پھر لکھ دیا۔ اور تیسری دفعہ پھر لکھ دیا۔ آخر کاغذ ہی بدل ڈالا۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۲۷۱)۔ الہامی صاحب کو زر نقد جان سے زیادہ عزیز تھا اور چونکہ ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا تھا کہ نقدی کا رومال مرض مراق کی نذر نہ ہو جائے، اس لیے انتہائی احتیاط سے کام لے کر رومال کو صدری کے ساتھ سلوا لیتے تھے۔ چنانچہ میاں بشیر احمد لکھتے ہیں۔ "معمولی نقدی وغیرہ ململ کے رومال میں جو بڑے سائز کا ہوتا تھا باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا سرا واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے یا کاج میں بندھوا لیتے تھے"۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۴۲)۔

حضرات اب آپ غور فرمائیں کہ جس شخص کی دماغی حالت اس درجہ گئی گزری ہو، کیا ایسا فاتر العقل بھی صحیح الدماغ انسانوں میں رہنے کے قابل ہے، چہ جائیکہ وہ کسی انسانی غول کا ہادی و رہبر بن سکے؟ پس تعجب ہے ان لوگوں کی پست فطرتی اور ماؤف ذہنیت پر جنہوں نے ایک ماؤف الدماغ اور مسلوب الحواس شخص کو اپنا رہبر و امام بنایا۔ اس کے

صفحہ 96

علاوہ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جو شخص ایسا مخبوط الحواس ہو، جیسا کہ قادیانی صاحب تھے، وہ بھلا وحی الٰہی اور القائے شیطانی میں کس طرح تمیز کر سکتا ہے؟ جب شیطان اچھے اچھے لوگوں کو راہ حق سے پھیر لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے سامنے قادیانی صاحب جیسے فاتر العقل کی بالکل وہی حیثیت تھی جو چڑیا یا کبوتر کی بلی کے سامنے ہوتی ہے۔

فصل - ۴ اہل و عیال کو مراق کا عطیہ

مثل مشہور ہے کہ خربوزہ کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔ یہ مثل مسیح قادیاں کی بیوی اور بیٹے پر خوب صادق آتی ہے۔ بیوی نے دیکھا کہ میرا محب شوہر مراقی ہے۔ اور محبت کا اقتضاء یہ ہے کہ میں بھی اس کا رنگ اختیار کروں تو والدہ محمود احمد صاحب بھی مراقن بن گئیں۔ چنانچہ ایک مقدمہ کے دوران میں جو اقرباء کے خلاف عدالت گورداسپور میں چل رہا تھا خود جناب ”مسیح موعود“ صاحب نے بیان دیا کہ میری بیوی کو مراق کی بیماری ہے۔ کبھی کبھی وہ میرے ساتھ ہوتی ہے کیونکہ طبی اصول کے مطابق اس کے لیے چہل قدمی مفید ہے۔ (منظور الٰہی، ص ۲۴۴، بحوالہ اخبار الحکم قادیانی، ۱۰ اگست ۱۹۰۱ء) مرزا محمود احمد صاحب موجودہ ”خلیفۃ المسیح“ نے دیکھا کہ والدین نے مراق کی وادی لاہوت میں قدم رکھا ہے اور خلف الرشید ہونے کی حیثیت سے میری سعادت اسی میں ہے کہ والدین کے جوہرِ مصفّیٰ سے اپنے آئینہ دماغ کو جلا دوں تو ان سے اس موہبت کبریٰ کی درخواست کی۔ انہوں نے کچھ حصہ بانٹ دیا لیکن پورا بخرہ نہ دیا اور اگر پوری فیاضی سے کام لیا ہوتا تو ان کی طرح یہ بھی پورے مراقی ہوتے۔ لیکن چونکہ نعمت ناتمام رہی اس لیے مکمل مراقی تو نہ بن سکے البتہ نیم مراقی ہونے میں خطا نہیں۔ چنانچہ انہیں بھی کبھی کبھی مراق کے دورے پڑتے ہیں۔ رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں لکھا ہے کہ ”حضرت خلیفۃ المسیح“ ثانی نے فرمایا کہ مجھ کو بھی کبھی کبھی مراق کا دورہ ہوتا ہے۔ (ریویو آف ریلیجنز، جلد ۲۵، نمبر ۸، بابت اگست ۱۹۲۶ء، ص ۱۱)

فصل - ۵ مرض ہسٹریا کا حملہ

صفحہ 97

قادیاں کے مسیح صاحب مراق کی طرح مرض ہسٹریا میں بھی گرفتار تھے۔ مراق اور مرگی کی طرح اس مرض میں بھی مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔ چنانچہ ڈاکٹر شاہ نواز مرزائی نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں لکھا کہ ”مراق میں تخیل بڑھ جاتا ہے اور مرگی اور ہسٹریا والوں کی طرح مریض کو اپنے جذبات اور خیالات پر قابو نہیں رہتا۔ (ایضاً‘ ص ۶) حالانکہ انبیائے کرام کی ذات ہائے اقدس میں اجتماع توجہ بالارادہ ہوتا تھا۔ اور ان برگزیدہ نفوس کو جذبات پر پوری طرح قدرت حاصل تھی۔ (ایضاً‘ بابت ماہ مئی ۱۹۲۷ء‘ ص ۳۰-۳۱) مرزا صاحب کے مرض ہسٹریا کے متعلق ان کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد ایم۔ اے سیرۃ المہدی میں لکھتے ہیں کہ مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کو پہلی مرتبہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے اٹھ آیا۔ اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی مگر یہ دورہ خفیف تھا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ایک دفعہ نماز کے لیے باہر گئے۔ اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خراب ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی سے پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں سمجھ گئی کہ حضرت (مرزا) صاحب کی طبیعت خراب ہو گئی ہوگی۔ چنانچہ میں نے کسی خادمہ سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے؟ شیخ حامد علی نے کہا کہ کچھ خراب ہو گئی ہے۔ میں پردہ کرا کے مسجد میں چلی گئی۔ آپ لیٹے ہوئے تھے۔ جب میں پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب افاقہ ہے۔ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہو گئی“۔ والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ خاکسار نے پوچھا کہ دورہ میں کیا ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے۔ اور بدن کے پٹھے کھنچ جاتے تھے خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی (سیرۃ

صفحہ 98

الہدیٰ، جلد اول، ص ۱۳) یہاں والدہ محمود احمد صاحب نے اپنے شوہر کو ہسٹریا کا مریض بھی بتایا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ مراق ہی کو ہسٹریا سمجھی ہوں۔ کیونکہ کتب طب میں مالیخولیا مراقی کی ایک علامت یہ لکھی ہے کہ اس میں مریض کو دھوئیں جیسے سیاہ بخارات چڑھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ (شرح اسباب، جلد اول، ص ۷۷) اور مرزا صاحب نے بھی دیکھا تھا کہ کوئی کالی کالی چیز ان کے سامنے سے اٹھ کر آسمان تک چلی گئی ہے۔ صفحات ماسبق سے آپ اس نتیجہ پر پہنچے ہوں گے کہ قادیانی صاحب مالیخولیا، مراق اور ہسٹریا کے مریض تھے۔ اب میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ ان امراض کا مریض الہام وحی، مہدویت، مسیحیت، نبوت وغیرہ قسم کے جتنے بھی دعوے کرے وہ جھوٹا ہے۔ چنانچہ مرزائی ڈاکٹر شاہ نواز خاں اسسٹنٹ سرجن نے رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیاں میں لکھا۔ "ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا، مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لیے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیتی ہے۔ (ریویو آف ریلیجنز، بابت اگست

۱۹۲۶ء، ص ۶-۷)

فصل - ۶ مسیح قادیاں کی دوسری بیماریاں

نہ تو الہامی صاحب کی بیماریوں کا استقصاء کوئی آسان کام ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہے اس لیے یہاں موقع کی رعایت سے صرف چند مشہور بیماریوں کے تذکرہ پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ مرزا صاحب نے لکھا کہ میں دائم المرض آدمی ہوں۔ ہمیشہ درد سر، کمی خواب، تشنج، دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ (ضمیمہ اربعین نمبر ۳ و ۴، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۴) مجھے دو بیماریاں مدت دراز سے تھیں۔ ایک شدید درد سر جس سے میں نہایت بے تاب ہو جایا کرتا تھا اور ہولناک عوارض پیدا ہو جاتے تھے اور یہ مرض قریباً پچیس برس تک دامن گیر رہی اور اس کے ساتھ دوران سر بھی لاحق ہوگیا اور طبیبوں نے لکھا ہے کہ ان عوارض کا آخری نتیجہ مرگی ہوتی ہے۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر قریباً دو ماہ تک اسی مرض میں مبتلا ہو کر آخر مرض صرع (مرگی) میں مبتلا

صفحہ 99

ہو گئے اور اسی سے ان کا انتقال ہو گیا۔ (حقیقۃ الوحی، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۳۳۳) اور فرماتے ہیں کہ مرض ذیابیطس مدت سے دامن گیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لیے جب زینہ چڑھ کر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنی ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھنے تک زندہ رہوں گا۔ (ضمیمہ اربعین نمبر ۳ و ۴، ص ۴۔ ۵) کوئی وقت دوران سر سے خالی نہیں گزرتا۔ مدت ہوئی نماز تکلیف سے بیٹھ کر پڑھی جاتی ہے۔ بعض وقت درمیان میں توڑنی پڑتی ہے۔ اکثر بیٹھے بیٹھے رینگن ہو جاتی ہے۔ اور زمین پر قدم اچھی طرح نہیں جمتا۔ قریب چھ سات ماہ یا زیادہ عرصہ گزر گیا ہے کہ نماز کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی اور نہ بیٹھ کر اس وضع پر پڑھی جاتی ہے جو مسنون ہے۔ اور قراۃ میں شاید قل ہو اللہ بمشکل پڑھ سکوں کیونکہ ساتھ ہی توجہ کرنے سے تحریک بخارات کی ہوتی ہے۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد پنجم نمبر ۲، ص ۸۸) مجھے اسہال کی بیماری ہے اور ہر روز کئی کئی دست آتے ہیں۔ مگر جس وقت پاخانہ کی حاجت ہوتی ہے تو مجھے افسوس ہی ہوتا ہے کہ ابھی کیوں حاجت ہوئی۔ (کتاب منظور الٰہی، یعنی ملفوظات مرزا غلام احمد صاحب، ص ۳۲۹) ایک مرتبہ قولنج زحیری سے سخت بیمار ہوا اور سولہ دن پاخانہ کی راہ سے خون آتا رہا اور سخت درد تھا جو بیان سے باہر ہے۔ جب سولہ دن میرے مرض پر گزرے تو آثار نومیدی کے ظاہر ہو گئے۔ اور میں نے دیکھا کہ بعض عزیز میرے دیوار کے پیچھے روتے تھے اور مسنون طور پر تین مرتبہ سورۃ یٰسین سنائی گئی۔ (حقیقۃ الوحی، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۲۴۲) ایک دفعہ نصف حصہ اسفل میرا بے حس ہو گیا۔ (ایضاً) علاوہ ذیابیطس اور دوران سر، اور تشنج قلب کے دق کی بیماری کا اثر ابھی بکلی رفع نہیں ہوا تھا۔ (نزول المسیح، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۲۰۹) اتفاقاً مجھے درد گردہ شروع ہو گیا۔ اس سے پہلے مجھے ایک دفعہ دس دن برابر درد گردہ رہی تھی اور میں اس سے قریب موت کے ہو گیا تھا۔ (حقیقۃ الوحی، ص ۲۴۵) اور لکھا کہ حافظہ اچھا نہیں، یاد نہیں رہا۔ (نسیم دعوت، ص ۶۹)

حضرت ”مسیح موعود“ نے حکیم نور الدین صاحب کو جو بظاہر مرید لیکن بباطن مسیح

صفحہ 100

صاحب کے ہادی اور گرو تھے ایک خط میں لکھا کہ جس قدر ضعف دماغ کے عارضہ میں یہ عاجز مبتلا ہے مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو۔ جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں۔ اسی طرح ایک اور خط میں لکھا کہ ایک مرض مجھے نہایت خوف ناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ بکلی جاتا رہتا تھا۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد پنجم نمبر ۲، ص ۸۸) نعوظ بالضم برخاستن قضیب (منتخب اللغات) نعوظ بمعنی غلبہ شہوت و ایستادگی ذکر۔ (غیاث اللغات)

مرزائی نبوت و مجددیت کے متعلق ایک لمحہ فکریہ

اب یہ حقیقت قابل غور ہے کہ جو شخص بیماریوں کے نیچے اس طرح بے بسی کے عالم میں پڑا ہو۔ جس طرح مردہ غسال کے ہاتھ میں بے حس و حرکت پڑا ہوتا ہے۔ جس شخص کی نمازوں کا یہ حال ہو کہ اچھی طرح بیٹھ کر نماز بھی ادا نہ کر سکتا ہو اور سورۃ اخلاص کی قرأۃ بھی اس کے لیے مشکل ہو اور پھر جیسی الٹی سیدھی پڑھتا ہو وہ بھی خشوع و خضوع اور حضور قلب سے خالی ہو۔ جسے ہر روز سو مرتبہ یعنی چودہ پندرہ منٹ کے بعد پیشاب کی حاجت ہوتی ہو۔ اور ابھی پہلے پیشاب کے استنجاء سے فارغ نہ ہوا ہو کہ دوسرے پیشاب کا تقاضا سر پر سوار ہو جاتا ہو۔ زکوٰۃ اس نے کبھی نہ دی ہو۔ روزے رکھنے سے وہ عاری ہو۔ حج اس نے نہ کیا ہو نہ دشمنان دین سے جہاد و قتال کیا ہو نہ ان کے ہاتھ سے قتل ہوا ہو۔ بلاد کفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت بھی نہ کی ہو۔ تو ایسا شخص محض ادنیٰ درجہ کا مومن ہو سکتا ہے چہ جائیکہ مجدد، مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ اس کو زیب دے اور مہدی، مسیح اور نبی تو چھوٹا منہ بڑی بات ہے۔ یہ سب اس صورت میں ہے کہ اس نے دین میں کوئی الحاد اور فتنہ انگیزی نہ کی ہو۔ لیکن جس شخص کا اوڑھنا بچھونا ہی زندقہ اور بے دینی ہو جس نے تحریف و تبدیل دین میں باطنیہ کے بھی کان کاٹے ہوں ایسا شخص کسی طرح اہل ایمان کے زمرہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔ تا بہ مدارج قرب و وصال و ماموریت و مجددیت چہ رسد۔

صفحہ 101

باب ۴

مرزا غلام احمد بحیثیت ملہم و صاحب کشف

جب مالیخولیا مراق کا مرض مرزا صاحب کے دل و دماغ پر پوری طرح مسلط ہو چکا تو اس کے بعد ان پر بڑے زور شور سے الہامی آندھیاں چلنے لگیں۔ چونکہ مرزا صاحب نے اپنے ملہم و مستجاب الدعوات ہونے کے متعلق بکثرت اشتہارات شائع کیے۔ ان کے تقدس و مشیخت کی خبر اطراف و اکناف ملک میں پھیل گئی اور اہل حاجات نے دور دور سے قادیاں کا رخ کیا۔ مرزا صاحب جس مقام پر بیٹھے بیٹھے یا لیٹ کر الہام سوچا کرتے تھے اس کو بیت الفکر کے نام سے موسوم فرمایا تھا۔ کیونکہ بیت الفکر عربی میں سوچنے کے مکان کو کہتے ہیں۔ یہ ایک بالاخانہ تھا جس میں ملہم صاحب عزلت گزین تھے۔ (البشریٰ‘ جلد اول‘ ص ۴۵) چونکہ الہامات کی آمد بہت تھی اور ان کا یاد رکھنا دشوار تھا۔ الہامی صاحب الہام کی غنودگی کے بعد اسے فوراً ضبط تحریر میں لے آتے۔ اوائل میں اپنی کسی عام کتاب میں نوٹ کر لیا کرتے تھے۔ پھر ایک بڑے سائز کی کاپی بنوائی۔ اس کے بعد ایک چھوٹے سائز کی مگر ضخیم نوٹ بک بنوا لی۔ (سیرۃ المہدی‘ اول‘ ص ۱۵)

ایک ہندو لڑکا بحیثیت کاتب وحی

الہامی صاحب لکھتے ہیں کہ ان دنوں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نام جو‘ ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا بطور روزنامہ نویس نوکر رکھا گیا اور بعض امور غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے۔ اور پھر شام لال مذکور کے اس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔ (البشریٰ جلد اول حصہ دوم ص ۱۰) یہ لڑکا کئی سال تک الہامی صاحب کا روزنامچہ نویس رہا۔ اور جب شروع شروع میں وہ نوکر رکھا گیا تو اس وقت اس کی عمر صرف بارہ سال کی تھی۔ چنانچہ الہامی صاحب کے عم زاد بھائی مرزا امام الدین نے الہامی صاحب کے متعلق جو اعلان زیر عنوان ”اشتہار صداقت اظہار“ ۳؍ اگست ۱۸۸۵ء کو شائع کیا اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ ”مرزا غلام احمد نے ایک

صفحہ 102

ہندو لڑکے شام لال کو الہامات کا روزنامچہ نویس مقرر کر رکھا ہے۔ جب یہ لڑکا مرزا صاحب کے پاس ملازم ہوا تھا تو اُس وقت اس کی عمر بارہ سال کی تھی اور پرلے درجے کا بے سمجھ اور سادہ لوح تھا بلکہ اس وقت بھی سو تک بمشکل شمار کر سکتا ہے۔ اگر کسی طالب حق کو الہامات کی تحقیق کے لیے قادیاں آنے کا اتفاق ہو تو ایسے گواہوں کو بچشم خود دیکھنا چاہیے‘ تاکہ الہامات کی حقیقت روشنی میں آسکے“۔ (تکذیب براہین‘ صفحہ ۳۲۸)

مرزا امام الدین کے بیان میں اس عقدہ کو حل نہیں کیا گیا کہ روزنامچہ نویسی کے لیے ایک ہندو اور وہ بھی نابالغ اور سادہ لوح لڑکا کیوں انتخاب کیا گیا؟ لیکن راقم کے خیال میں الہام نویس کا ہندو ہونا اس مصلحت پر مبنی تھا کہ قادیاں کے ہندو اس کی شہادت کے بھروسہ پر مرزا صاحب کے الہاموں پر بہ سہولت ایمان لا سکیں۔ اور نابالغ اور سادہ لوح اس لیے انتخاب کیا گیا کہ الہامی صاحب کے ہاتھ میں موم کی ناک بن کر رہے۔ اس سے ہر قسم کی شہادت دلا سکیں اور وہ حالات و مقتضیات کے ماتحت الہامی عبارتوں میں ترمیم و تبدیل کرنے کے لیے الہامی صاحب کے اشاروں پر چلے۔ اور اس کی طرف سے کسی مخالفانہ افشائے راز کا خدشہ نہ ہو۔

لنگر کا اجراء

تھوڑے دن کے بعد لالہ شرمپت رائے اور لالہ ملاوامل نام قادیاں کے دو ہندوؤں سے مرزا صاحب کے خاص دوستانہ روابط قائم ہوگئے۔ اب یہ الہامی صاحب کے مشیر خاص اور رات دن کے حاشیہ نشین تھے۔ مرزا صاحب نے دل میں یہ منصوبہ ٹھہرا رکھا تھا کہ بوقت ضرورت ان سے اپنے الہاموں کی شہادت دلائی جائے گی۔ یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے بھی اس قسم کا کوئی قول و قرار کیا تھا یا نہیں تاہم مرزا صاحب ان کی خوشنودی خاطر کا ایسا ہی خیال رکھتے تھے جس طرح مقدمہ باز لوگ اپنے گواہان مقدمہ کی خاطر مدارت ملحوظ رکھتے ہیں۔ شام لال روزنامچہ نویس جس قدر الہام ضبط تحریر میں لاتا تھا مرزا صاحب ان پر اس سے دستخط کرا لیتے تھے۔ اب معتقدین کا بھی جمگھٹا ہونے لگا۔ خوشامدی مفت خورے‘ قورمہ پلاؤ اڑانے والے ہاں میں ہاں ملانے والے بھی ہر طرف سے امنڈ آئے۔ لنگر جاری کر دیا گیا تاکہ آیا گیا ہر ایک شخص الہامی صاحب کے مطبخ سے کھانا کھا کر جائے اور شہرت

صفحہ 103

و نمود کا باعث ہو۔ اب لوگوں کا تانتا بندھا ہے۔ کوئی فاقہ کش لنگر جاری ہونے کی خبر سن کر آرہا ہے۔ کسی حاجت مند نے دعا کے لیے قادیاں کا رخ کیا ہے۔ مرزا صاحب نیم حکیم بھی تھے اس لیے بعض لوگ دواؤں کے لیے بھی رجوع کرتے تھے۔ چونکہ مستجاب الدعوات ہونے کے اشتہاروں نے اور اس سے پیشتر لاہور کے مناظروں اور اشتہار بازیوں نے بام شہرت پر پہنچا دیا تھا اس لیے نذر و نیاز اور چڑھاووں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ رجوعات و فتوحات کا شجر آرزو بار آور ہونے لگا۔ اور تمناؤں کی کشت زار لہلہاتی نظر آئی۔ اب لوگوں نے بیعت کی درخواستیں کیں۔ مرزا جی ہر ایک کو یہی جواب دیتے تھے کہ ابھی ہم کو کسی سے بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا۔ اس وقت تک صبر کرو جب تک اس بارہ میں حکم الٰہی نہ آئے۔ (چودھویں صدی کا مسیح، ص ۶۲ - ۶۳)

باب ۱۷

مرزائی الہامات کے مصدر و ماخذ

چونکہ اب مرزا صاحب نے باقاعدہ تقدس کی دکان کھول لی تھی اور نہ صرف مالیخولیا مراقی کے دورہ کے اثناء میں الہامات کی بکثرت آمد تھی بلکہ حسب ضرورت صحت حواس کے وقت بھی الہام تراشتے رہتے تھے اس لیے ممکن نہ تھا کہ الہامی صاحب اس ”ذات شریف اور اس کی ذریات کی نظر التفات سے محروم رہتے۔ جو جنت سے آدم علیہ السلام کے اخراج کا ذریعہ ثابت ہوئی تھی۔ میں اپنی کتاب ”معیار الحق“ میں نہایت شرح و بسط سے شیطانی وحی و الہام پر تبصرہ کر آیا ہوں۔ وہاں یہ بھی واضح طور پر بتا دیا ہے کہ شیاطین کیا کیا شکلیں اختیار کر کے اہل تصوف اور متصوفہ کو چکمہ دیتے اور کیسے کیسے سنہری روپہلی جال بچھا کر اہل ایمان کو راہ حق سے پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مرزا صاحب کے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ جنود ابلیس مرزا صاحب پر بھی انہی شکلوں میں ظاہر ہوا کرتے تھے۔ اور القا و الہام کر کے شریعت حقہ کی متابعت سے منحرف کرتے رہتے تھے۔ اور بیچارے مرزا صاحب اس یقین و وثوق کے ساتھ کہ وہ رب السموات والارض اور اس کے ملائکہ

صفحہ 104

مقربین کو دیکھتے اور ان سے ہمکلام ہوتے ہیں کٹھ پتلی کی طرح ان کے اشاروں پر رقص کیا کرتے تھے۔

رب العالمین اور ملائکہ کے عیاناً دیکھنے کا دعویٰ

یہ امر مسلم ہے کہ کوئی بشر دار دنیا میں اپنی سر کی آنکھوں سے رب العالمین کی روئیت کی تاب نہیں لا سکتا۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ کلیم علیہ الصلوۃ والسلام طالب دیدار ہوئے تو رب العالمین عزاسمہ‘ نے فرمایا تھا کہ تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کا کمال اشتیاق دیکھ کر فرمایا کہ تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو۔ اگر وہ بحال و بر قرار رہا تو سمجھ لینا کہ میں بھی روئیت خداوندی کی تاب لا سکوں گا۔ چنانچہ الہ العالمین نے پہاڑ پر ایک تجلی فرمائی۔ پہاڑ کے پرخچے اڑ گئے۔ اور جناب موسیٰ علیہ السلام غش کھا کر گر پڑے۔ بہرحال کوئی بشر دار دنیا میں رب العالمین کو عیاناً نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ دار آخرت میں اہل جنت کو ایسی آنکھیں عطا فرمائی جائیں گی جو خدائے برتر کو بلا کیف و بلا جہت دیکھ سکیں گی۔ اور یہ جو بعض جاہل صوفی کہا کرتے ہیں کہ ہم خدا کو ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو وہ دراصل شیطان کو دیکھا کرتے ہیں اور جیسا کہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اس کا ہمیشہ سے معمول چلا آیا ہے کبھی کبھی حضرت مرزا صاحب کو بھی اپنا روشن اور نورانی چہرہ دکھایا کرتا تھا اور یہ بیچارے اس کو (معاذ اللہ) رب العالمین یقین کرتے تھے۔ چنانچہ قادیانی صاحب کتاب ”ضرورۃ الامام“ میں لکھتے ہیں: ”امام الزمان کا ایسا الہام نہیں ہوتا کہ جیسے ایک کلوخ انداز درپردہ ایک کلوخ پھینک جائے اور بھاگ جائے اور معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا اور کہاں گیا بلکہ خدائے تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے اور یہ کیفیت دوسروں کو میسر نہیں آتی“۔ (ضرورۃ الامام‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۱۳) ایک مرتبہ مرزا صاحب نے اپنے ایک حواری مولوی شیر علی سے بیان کیا کہ میں لدھیانہ میں چہل قدمی کے لیے جا رہا تھا۔ ایک انگریز میری طرف آ کر کہنے لگا ”میں نے سنا ہے کہ خدا آپ کے ساتھ کلام کرتا ہے۔ میں نے کہا ہاں۔ انگریز نے کہا کس طرح کلام کرتا ہے؟ میں نے کہا اسی طرح جس طرح آپ میرے ساتھ ہم کلام ہیں (سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ ص ۲) مرزا کے ۲) مرزا صاحب کے ان

صفحہ 105

بیانات سے ثابت ہوا کہ واقعی معلم الملکوت مرزا صاحب کے قریب ہو کر انہیں اپنا جمال جہاں آرا دکھایا کرتا تھا۔ چنانچہ اسی ملاقات کے دوران میں ایک مرتبہ مرزا صاحب نے ابلیس سے جسے (معاذ اللہ) خدا سمجھے بیٹھے تھے خیریت مزاج بھی پوچھی۔ اس نے جواباً ”یہ انگریزی الہام کیا۔ ”لیس آئی ایم ھیپی“۔ (براہین‘ ص ۴۸۳)۔ (ہاں میں خوش ہوں)۔

خدائے بیچون کے عیاناً دیکھنے کا تخیل کہاں سے اڑایا

یہاں یہ بتلا دینا بھی مناسب ہے کہ الہامی صاحب نے خدائے بیچون کے عیاناً دیکھنے کا تخیل بھی سید محمد جونپوری مدعی مہدویت کے پیروؤں سے چرایا تھا۔ چنانچہ مولانا زمان خاں مرحوم نے ”ہدیہ مہدویہ“ میں سید محمد جونپوری کے جو تیس احکام محکمات نقل کیے ہیں ان میں ایک حکم ”وقوع دیدار خدا کو دنیا میں جائز اور ممکن سمجھنا“ بھی داخل ہے۔ چنانچہ قارئین کرام کی بصیرت افروزی کے لیے تیس احکام محکمات میں سے چند وہ احکام نقل کیے جاتے ہیں۔ جن میں مرزا صاحب نے فرقہ مہدویہ کی خوشہ چینی کی ہے چنانچہ میران جی مہدوی رقم طراز ہے”۔ برجملہ مصدقان مہدی (سید محمد جونپوری) علیہ السلام واضح و لائح باد کہ حاصل احکام محکمات مہدی علیہ السلام مجموع سی حکم اند بعضے ازاں فرائض اعتقادی و بعضے فرائض عملی اند۔ اما احکام فرائض اعتقادی کہ ہر مصدق را براں اعتقاد داشتن فرض است و بجز اعتقاد براں چارہ نیست بست عددند بدیں تفصیل۔

(ہدیہ مہدویہ‘ ص ۳۰۸ - ۳۰۹)

صفحہ 106

پنڈت لیکھرام نے ناطقہ بند کر دیا

مرزا صاحب کو فرشتوں کی دید کا بھی دعویٰ تھا۔ چنانچہ ”آئینہ کمالات“ میں لکھا کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی کہ بار ہا عالم کشف میں میں نے ملائک کو دیکھا ہے۔ ان سے بعض علوم اخذ کیے ہیں اور ان سے گزشتہ یا آنے والی خبریں معلوم کی ہیں جو مطابق واقعہ تھیں۔ (آئینہ کمالات‘ ص ۱۸۲۔ ۱۸۳) لیکن معلوم ہوا کہ یہاں بھی بیچارے مرزا صاحب غلط فہمی ہی میں مبتلا رہے۔ جن لوگوں سے انہوں نے علوم حاصل کیے اور غیب کی خبریں معلوم کیں وہ ملائکہ نہیں بلکہ شیاطین تھے۔ اور اگر ملائکہ ہوتے تو ان کی بتائی ہوئی خبریں کبھی جھوٹی نہ نکلتیں۔ موقع کی رعایت سے یہاں فرشتوں کی قادیانی دید کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ پنڈت لیکھرام جی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں قادیاں میں مرزا صاحب کے مکان پر بیٹھا تھا۔ چند معزز آریہ اور مسلمان بھی تشریف فرما تھے۔ مرزا صاحب اپنی کرامات کی شیخی بگھارنے لگے۔ دوران گفتگو میں فرمایا کہ مجھے فرشتے دکھائی دیتے ہیں“۔ میں نے کہا کیا سچ کہتے ہو؟ کہا ہاں۔ میں نے ایک کاغذ پر لفظ اوم لکھ کر اپنے ہاتھ میں رکھ لیا اور کہا ازراہ مہربانی اپنے فرشتوں سے پوچھ کر بتلائیے کہ میں نے کون سا لفظ لکھا ہے؟ مرزا صاحب تھوڑی دیر تک کچھ منہ میں گنگناتے رہے۔ اس کے بعد کہنے لگے کہ اس طرح نہیں کسی اور جگہ رکھو۔ میں نے کاغذ کو اپنی جیب میں رکھ لیا اور کہا بتائیے کیا لکھا ہے؟ تھوڑی دیر تک اپنے من گھڑت فرشتوں سے پوچھتے رہے مگر کچھ بتلا نہ سکے۔ آخر شرمندہ ہو کر خاموش ہو گئے۔ اس واقعہ کے دس بارہ آدمی گواہ ہیں۔ (تکذیب براہین‘ ص ۴۷)

باب ۱۸

پنڈت دیانند کو قادیان کی دعوت اسلام اور

اس کی حقیقت

صفحہ 107

مرزا صاحب نے براہین احمدیہ ”میں لکھا کہ اس احقر نے پنڈت دیانند آریوں کے سرگروہ کو ان کی وفات سے ایک مدت پہلے راہ راست کی طرف دعوت کی اور آخرت کی رسوائی یاد دلائی اور ان کے مذہب اور اعتقاد کا سراسر باطل ہونا براہین قطعیہ سے ان پر ظاہر کیا اور نہایت عمدہ اور کامل دلائل سے بادب تمام ان پر ثابت کیا گیا کہ دہریوں کے بعد تمام دنیا میں آریوں سے بدتر اور کوئی مذہب نہیں۔ (تکذیب براہین‘ ص ۲۶۳) پہلی چٹھی کے بعد دو دفعہ بذریعہ خط رجسٹری شدہ حقیقت دین اسلام سے بدلائل واضح ان کو متنبہ کیا گیا اور لکھا گیا کہ اگر کسی کے ثبوت میں شک ہو تو اسی جگہ قادیاں میں آکر اپنی تسلی کر لینی چاہئے۔ اور یہ بھی پنڈت صاحب کو لکھا گیا کہ آپ کی آمد و رفت کا معمولی خرچ اور نیز واجبی خرچ خوراک ہمارے ذمہ رہے گا اور وہ خط ان کے بعض آریوں کو بھی دکھلایا گیا اور دونوں رجسٹریوں کی ان کی دستخطی رسید بھی آگئی۔ پر انہوں نے حب دنیا اور ناموس دنیوی کے باعث اس طرف ذرا بھی توجہ نہ کی۔ آخر بصد حسرت اس کو چھوڑ کر اس دارالفنا سے کوچ کر گئے۔ (تکذیب براہین‘ ص ۲۷۲)

پنڈت دیانند جی کے مقابلہ سے فرار

پنڈت لیکھرام نے اس کے جواب میں لکھا کہ مرزا صاحب ان کے مقابلہ سے دُم دباتے رہے اور روبرو آنے سے بُرقع میں منہ چھپائے رکھا اور اب ان کے مرنے کے بعد باتیں بناتے ہیں۔ (ایضاً ص ۲۶۴) مرزا صاحب پنڈت جی کے مقابلہ سے اسی طرح منہ چھپاتے رہے جیسے آفتاب سے چمگادڑ۔ اور یہی حال آج تک ہے کہ مقابلہ میں نہیں آتے (ایضاً ص ۲۷۰) ہم قادیاں میں بھی گئے مگر آپ نے کسی طرح کی تسلی نہ کی اور نہ کوئی معجزہ دکھلایا۔ ظاہر ہے کہ جب پنڈت (دیانند) صاحب کے ایک شاگرد سے بھی عہدہ برآ نہ ہو سکے تو ان کو دعوت دینی ایک جھوٹی شیخی تھی۔ (ایضاً ص ۲۷۲) مرزا صاحب سے جہاں تک ممکن ہوا اس کا موقع نہ دیا کہ سوامی دیانند جی سے مُڈبھیڑ ہو جائے۔ وہ گورداسپور گئے اور بہت دن تک وہاں ٹھہرے رہے اور مناظرے کئے۔ قادیاں سے متعدد آدمیوں نے گورداسپور جا کر ان سے ملاقاتیں کیں لیکن مرزا صاحب چار آنہ یکہ کا کرایہ دے کر نہ گئے اس کے بعد سوامی دیانند جی امرتسر آئے اور مرزا صاحب کو ان کے دعوتی خطوط کے

صفحہ 108

جواب میں کہلا بھیجا کہ خدا کے واسطے آئیے اور گفتگو فرمائیے۔ اگر حق سمجھے تو مانیے۔ ورنہ کوئی جبر نہیں ہے۔ مگر ایک دفعہ ضرور تشریف لائیے۔ اس پیغام کے پہنچتے ہی مرزا صاحب کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔ سب الہام بھول گئے۔ اور حالت نزع طاری ہو گئی۔ نہ قادیاں سے باہر نکلے اور نہ مقابلہ کی جرأت ہوئی (تکذیب براہین، ص ۱۴۶ ۔۔ ۱۴۷) مرزا صاحب نے یہ بھی لکھا تھا کہ پنڈت دیانند کے سفر آخرت کی خبر بھی جو اس کو ۳۰؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء کے دن پیش آیا، قریباً تین مہینے پہلے خداوند کریم نے اس عاجز کو دی تھی۔ چنانچہ یہ خبر بعض آریہ کو بھی بتلائی گئی تھی۔ افسوس کہ پنڈت صاحب کو خدا نے ایسا موقع ہدایت پانے کا دیا کہ اس عاجز کو ان کے زمانہ میں پیدا کیا مگر وہ باوصف ہر طور کے اعلام کے ہدایت پانے سے بے نصیب گئے۔ ایک بندۂ خدا نے بارہا ان کو بھلائی کے لیے اپنی طرف بلایا مگر انہوں نے اس طرف قدم بھی نہ اٹھایا۔ حالانکہ اس عاجز کے دس ہزار روپیہ کے اشتہار کے اول نشانہ وہی تھے اور اسی وجہ سے ایک مرتبہ رسالہ ”برادر ہند“ میں بھی ان کے لیے اعلان چھپوایا گیا مگر ان کی طرف سے کبھی صدا نہ اٹھی۔ یہاں تک کہ خاک میں یا راکھ میں جا ملے۔ (ایضاً، ص ۲۷۳- ۲۷۴)

پنڈت لیکھرام کا تبصرہ

اس کے جواب میں پنڈت لیکھرام نے لکھا کہ اگر ان کی وفات کی خبر خداوند کریم نے تین مہینے پہلے ہی دے دی تھی تو مرزا صاحب نے تین مہینہ کے اندر اس کا اعلان کیوں نہ کیا؟ کیوں عام منادی نہ کرائی تاکہ ہزاروں آدمی آپ کی صداقت پر ایمان لاتے اور آریہ دھرم کو چھوڑ کر مرزائی ہو جاتے۔ ان کی وفات کے بعد ۱۸۸۳ء میں آپ کیوں یہ چالاکی کرنے لگے؟ ان کی وفات سے پہلے ہی لاہور یا امرتسر کی آریہ سماج کے نام کیوں خط نہ لکھا؟ اور کیوں ۱۸۸۳ء میں اس آریہ کا نام نہ شائع کیا جس کو آپ نے یہ خبر دی تھی؟ اور اس بارہ میں سوامی دیانند جی کے نام رجسٹری شدہ چٹھی کیوں نہ بھیجی؟ چونکہ آپ نے ان امور میں سے کوئی کام بھی نہیں کیا اس لیے ہمیں کہنا پڑا کہ مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید۔ بر کلہ خود باید زد۔ (ایضاً، ص ۲۷۴) رسالہ ”برادر ہند“ سوامی جی کے مطالعہ میں نہیں آتا تھا کیونکہ وہ اردو فارسی نہیں جانتے تھے۔ اور پنڈت شو نرائن ایڈیٹر برادر ہند سنسکرت نہیں

صفحہ 109

جانتے۔ پس وہ اشتہار بے سود تھا۔ ہاں اگر کلکتہ کے اخبار بھارت متر یا کسی اور ناگری اخبار میں شائع کراتے تو بھی ایک بات تھی۔ اور تعجب یہ ہے کہ جس طرح آپ کو خدا عربی میں الہام کرتا تھا سنسکرت میں کیوں نہ کیا۔ تاکہ سوامی جی سے سنسکرت میں مباحثہ کر کے فتح یاب ہوتے پس ہم مرزا صاحب کے دعویٰ کو ”اپریل فول“ سے زیادہ وقعت نہیں دے سکتے۔ (ایضاً، ص ۲۷۶) خاکسار راقم الحروف کے نزدیک ”تکذیب براہین“ مولفہ پنڈت لیکھرام کا یہ بیان بے مبالغہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مرزا غلام احمد صاحب کی درخواست کے بموجب حکیم نور الدین نے ”تکذیب براہین“ کے جواب میں ”تائید براہین“ نام جو ایک کتاب لکھی اس میں پنڈت لیکھرام کے اس بیان کی کوئی تردید نہیں پائی جاتی۔ اس سے قطع نظر ”تکذیب براہین“ کی اشاعت کے بعد خود مرزا صاحب نے کم از کم اسی کتابیں اپنے پروپیگنڈا میں لکھیں لیکن کسی میں انہیں اس بیان کے ابطال کی جرأت نہ ہوئی۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ اس بیان کو غیر صحیح یا مبالغہ آمیز تصور کیا جائے۔ غرض جن ایام میں پنڈت دیانند جی، سرستی پنجاب کا دورہ کر کے علماء اسلام اور پرانے خیال کے پنڈتوں کے مقابلہ میں هل من مبارز (کوئی مقابلہ کرنے والا ہے؟) کے نعرے لگا رہے تھے مرزا صاحب قادیاں ہی میں سہمے بیٹھے رہے۔ اور اتنی ہمت نہ ہوئی کہ مولانا احمد حسن پٹاروی اور مولانا محمد قاسم نانوتوی اور دوسرے حاملان شریعت کی طرح پنڈت جی کی فتنہ انگیزیوں کا مقابلہ کر کے اسلام کی طرف سے حفظ و دفاع کی کوئی خدمت انجام دیں۔ مرزا صاحب دو ایک دعوتی رقعے بھیج کر ہی سمجھ بیٹھے کہ ان کی مجددیت کا فرض منصبی ادا ہو گیا۔ حالانکہ ان پر لازم تھا کہ پنڈت جی کا تعاقب کر کے ان کے سامنے اسلام کی حقانیت کے دلائل پیش کرتے اور ان کو مسلمان نہیں تو کم از کم بھگا کر اور منہزم کر کے واپس آتے۔ اصل میں مرزا صاحب کو اپنے من گھڑت معجزات کی لمبی چوڑی فہرستیں تیار کرنے اور ان پر شیخی بگھارنے کے لیے سخن تراشی اور فسانہ طرازی کی ضرورت ہوتی تھی۔ اس لیے یہ قصہ بھی وضع کر لیا گیا۔ ورنہ وہ خوب جانتے تھے کہ اس بیان کی تہ میں کس قدر رسوائی ننگ و عار اور بیچارگی پنہاں ہے۔

صفحہ 110

باب ۱۹

براہین احمدیہ کی تالیف و اشاعت

فصل - ۱ علماء سے قلمی اعانت کی درخواست

مرزائیت کا سب سے پہلا علمی کارنامہ جس پر مرزائیوں کو بڑا ناز ہے مرزا غلام احمد صاحب کی کتاب "براہین احمدیہ" ہے۔ یہ ۵۶۲ صفحات کی کتاب ہے۔ جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس ضخامت کی اس سے بہتر کتاب چھ سات مہینہ میں بہ سہولت لکھی جاسکتی ہے۔ لیکن مصنف علام نے اس کی تالیف و تدوین میں کئی سال لگا دیئے۔ گو اس کا مواد سالہا سال سے جمع ہو رہا تھا لیکن مصنف صاحب ۱۸۷۹ء سے لے کر کئی سال تک صرف اس ایک کام کے لیے وقف رہے۔ ۱۸۸۰ء میں پہلے دو حصے شائع کئے۔ ۱۸۸۲ء میں تیسرا حصہ طبع ہوا۔ اور ۱۸۸۴ء میں چوتھا حصہ گویا کتاب کے پہلے چار حصوں پر جو ۵۶۲ صفحوں پر مشتمل ہیں چھ سال سے زائد عرصہ لگا۔ (تفصیل کے لیے دیکھو سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۸۶ اور جلد دوم، ص ۱۵۱، پہلی چھ سطریں) حالانکہ ان صفحات پر جنہیں حصہ اول سے تعبیر کیا جاتا ہے کوئی علمی مضمون نہیں بلکہ صرف دس ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار ہے۔ جسے صفحات اور حصص کی تعداد بڑھانے کے لیے پہلا حصہ قرار دے لیا ہے۔ اور پھر جہاں تک خاکسار راقم الحروف کی تحقیق کو دخل ہے مرزا صاحب نے اس کتاب میں اپنی کاوش طبع سے شاید ایک حرف بھی نہیں لکھا بلکہ جو کچھ زیب رقم فرمایا ہے وہ یا تو علماء سلف کی کتابوں سے اخذ کیا ہے یا علمائے معاصرین کے سامنے کاسہ گدائی پھرا کر ان کی علمی تحقیقات حاصل کر لی گئی ہیں اور قادیاں کے "سلطان القلم" صاحب نے انہی کو بے حوالہ زینت قرطاس بنا لیا ہے۔ فراہمی مواد کے سلسلہ میں مرزا صاحب نے ہندوستان کے علمائے مشاہیر کو خطوط لکھے اور ان سے درخواست کی کہ حقانیت اسلام کے متعلق مضامین بھیج کر قلمی امداد فرمائیں۔ ان دنوں حیدر آباد دکن میں نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی صاحب علوم عقلیہ میں خاص دست گاہ رکھتے تھے خط و کتابت کر کے براہین کی تالیف میں ان سے استمداد کی۔ انہوں نے اپنی بہت سی بیش بہا علمی تحقیقات قلم بند کر کے مرزا صاحب کے پاس بھیج دیں۔ مرزا جی نے انہیں براہین میں شامل کر لیا اور مولوی صاحب کا

صفحہ 111

حوالہ اس لیے نہ دیا کہ اس سے مولوی صاحب کی عظمت اور مرزا جی کی علمی بے مائیگی کا اظہار ہوتا تھا۔ مولوی چراغ علی مرحوم کے کاغذات میں مرزا جی کے کئی خطوط ملے ہیں جن کے بعض حصے مولوی محمد یحییٰ صاحب تنہا نے کتاب ”سیرۃ المصنفین“ کی جلد دوم (صفحہ ۱۱۹) میں درج کیے ہیں۔ یہ کتاب مکتبہ جامعہ ملیہ دہلی نے طبع کرائی ہے۔ مرزا جی ایک خط میں مولوی چراغ علی کو لکھتے ہیں۔ ”جب آپ سا اولوالعزم صاحب فضیلت دینی و دنیوی تہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دل گرمی کا اظہار فرمائے تو بلا شائبہ ریب اس کو تائید غیبی خیال کرنا چاہیے۔ ماسوا اس کے اگر اب تک کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت ہوں“۔ دوسرے خط میں لکھا۔ ”آپ کے مضمون اثبات نبوت کی اب تک میں نے انتظار کی۔ پر اب تک نہ کوئی عنایت نامہ نہ مضمون پہنچا۔ اس لیے مکرر تکلیف دیتا ہوں کہ براہ عنایت بزرگانہ ہمت جلد مضمون اثبات حقانیت فرقان مجید تیار کر کے میرے پاس بھیج دیں“۔ ایک اور خط میں التماس کی ”آپ کو جو اپنی ذاتی تحقیقات سے اعتراض ہنود پر معلوم ہوئے ہوں یا وید پر جو اعتراض ہوں ان اعتراضوں کو ضرور ہمراہ دوسرے مضمون اپنے کے بھیج دیں“۔ مولوی محمد یحییٰ صاحب تنہا کی طرح مولوی عبدالحق صاحب سیکرٹری انجمن ترقی اردو نے بھی کتاب ”چند ہم عصر“ (صفحات ۴۷۔ ۵۰) میں قادیاں کے الہامی صاحب کے وہ خطوط درج کیے ہیں جن میں انہوں نے براہین احمدیہ کی تالیف میں مولوی چراغ علی مرحوم سے مدد طلب کی تھی۔ کتاب ”چند ہم عصر“ انجمن ترقی اردو (ہند) اورنگ آباد (دکن) نے طبع کرائی ہے۔ اس کتاب میں مندرجہ بالا خطوط کے علاوہ چند اور چٹھیاں بھی درج ہیں۔ چند خطوط کے ضروری اقتباس ملاحظہ ہوں۔ لکھتے ہیں ”میں نے ایک کتاب جو دس حصے پر مشتمل ہے تصنیف کی ہے اور نام اس کا براہین احمدیہ رکھا ہے۔ اور صلاح یہ ہے کہ آپ کے فوائد و فرائد بھی اس میں درج کروں اور اپنے محقر کلام سے ان کو زیب و زینت بخشوں۔ سو اس امر میں آپ توقف نہ فرمائیں اور جہاں تک جلد ہو سکے مجھ کو مضمون مبارک اپنے سے ممنون فرماویں“۔ ایک اور خط مورخہ ۱۹؍ فروری ۱۸۷۹ء میں تحریر فرماتے ہیں ”فرقان مجید کے الہامی اور کلام الٰہی ہونے کے ثبوت میں آپ کا مدد کرنا باعث ممنونی ہے۔ میں نے بھی اسی بارے میں ایک چھوٹا سا رسالہ تالیف کرنا شروع کیا ہے۔ آپ کی اگر مرضی ہو تو وجوہات صداقت قرآن جو آپ

صفحہ 112

کے دل پر القا ہوں میرے پاس بھیج دیں۔ تا اسی رسالہ میں حسب موقع اندراج پا جائے“۔ اور ۲۰ر مئی ۱۸۷۹ء کی چٹھی میں رقم فرما ہیں۔ ”کتاب براہین احمدیہ ڈیڑھ سو جزو ہے جس کی لاگت تخمیناً نو سو چالیس روپیہ ہے اور آپ کی تحریر ملحق ہو کر اور بھی زیادہ ضخامت ہو جائے گی“۔

ان خطوط سے نہ صرف مرزا جی کی مجددیت کی حقیقت عالم آشکار ہو جاتی ہے۔ بلکہ کتاب ”براہین احمدیہ“ کے الہامی ہونے کی بھی خوب قلعی کھلتی ہے۔

فصل-۲ زر طلبی کا سلسلہ اشتہارات

میرا خیال ہے کہ ہندوستان میں مرزا غلام احمد ہی فن پروپیگنڈا کے سب سے پہلے علم بردار اور معلم ہیں۔ گو یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ فن انہوں نے استاد یورپ سے سیکھا تھا یا خود ہی اس کے بانی و موسس تھے۔ تاہم یہ امر یقینی ہے کہ ان سے پہلے ہندوستان میں کسی شخص نے حصول مقاصد کے لیے اتنا بے پناہ پروپیگنڈا نہیں کیا جتنا مرزا صاحب سے ظہور میں آیا۔ اگر کسی کو اس بیان کی صداقت میں شبہ ہو تو وہ مرزا صاحب کی اسی پچاسی تالیفات کے علاوہ ان کے مکتوبات اور مجموعہ اشتہارات کو دیکھے جن میں پروپیگنڈا کا سیلاب موجزن ہے۔ مرزا صاحب نے ملکی جرائد و رسائل میں بھی براہین کے لیے نہایت زبردست پروپیگنڈا کیا۔ اور اس کی طباعت کے لیے قوم سے امداد کی مسلسل اپیلیں کیں۔ اس کے علاوہ درخواستہائے اعانت کے جو اشتہار یکے بعد دیگرے مختلف عنوانوں سے ہزاروں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کرائے وہ بھی ایک درجن سے کسی طرح کم نہ ہوں گے۔ براہین کی طباعت کے لیے حصول اعانت کا جو سب سے پہلا اشتہار اپریل ۱۸۷۹ء میں زیر عنوان ”اشتہار بغرض استعانت از انصار دین محمد مختار صلی اللہ علیہ وآلہ الابرار“ شائع کیا۔ اس میں لکھا کہ ”اس خاکسار نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام اور کچھ نہ بن پڑے۔ اس کتاب کے ساتھ اس مضمون کا ایک اشتہار دیا جاوے گا کہ جو شخص اس کے دلائل کو توڑ دے میں اپنی جائداد تعدادی دس ہزار روپیہ اس کے حوالے کر دوں گا۔ پہلے

صفحہ 113

ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ پندرہ جزو (دو سو چالیس صفحہ) میں تصنیف کیا۔ بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے نو حصے اور زیادہ کر دیئے۔ جن کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو (دو ہزار چار سو صفحہ) ہو گئی ہر ایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار نسخہ چھپے تو چورانوے روپیہ صرف ہوتے ہیں۔ پس کل حصص کتاب نو سو چالیس روپے سے کم میں نہیں چھپ سکتے۔ ازاں جا کہ ایسی بڑی کتاب کا چھپ کر شائع ہونا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے بڑا مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں اعانت کرنے میں جس قدر ثواب ہے وہ ادنیٰ اہل اسلام پر بھی مخفی نہیں۔ لہٰذا اخوان مومنین سے درخواست ہے کہ اس کے مصارف طبع میں معاونت کریں۔ اغنیاء لوگ اگر اپنے مطبخ (باورچی خانہ) کے ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرمائیں گے تو یہ کتاب بہ سہولت چھپ جائے گی۔ ورنہ یہ مہر درخشاں چھپا رہے گا۔ یا یوں کریں کہ ہر ایک اہل وسعت بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں۔ جیسی جیسی کتاب چھپتی جائے گی ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی۔ غرض انصار اللہ بن کر اس نہایت ضروری کام کو جلد تر برانجام پہنچا دیں۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۸ ب) کچھ دنوں کے بعد ایک اور اشتہار زیر عنوان ”اشتہار کتاب براہین احمدیہ بجہت اطلاع جمیع عاشقان صدق و انتظام سرمایہ طبع کتاب“ شائع کیا۔ جس کا مضمون قریب قریب وہی تھا جو پہلے اشتہار کا تھا۔ البتہ اتنا اضافہ تھا۔ بڑی شکر گزاری سے لکھا جاتا ہے کہ حضرت مولوی چراغ علی خاں صاحب معتمد مدارالمہام دولت آصفیہ حیدر آباد دکن نے بغیر ملاحظہ کیے کسی اشتہار کے خود بخود اپنے کرم ذاتی و ہمت اور حمایت و حمیت اسلامیہ سے بوجہ چندہ اس کتاب کے ایک نوٹ دس روپیہ کا بھیجا ہے۔ (ایضاً‘ ص ۹۔۱۰)

براہین کی قیمت

مرزا صاحب ابھی دو ہی اشتہار شائع کرنے پائے تھے کہ روپیہ چاروں طرف سے مینہ کی طرح برسنا شروع ہوا اور مرزا صاحب کا ساغر دل اپنی اسکیم کی کامیابی پر خوشی سے چھلک گیا۔ لیکن حریص تاجروں کا جذبہ حرص و آز قلیل نفع سے تسکین نہیں پاتا اس لیے مرزا صاحب اب سوچنے لگے کہ اگر کتاب کی قیمت دو چند کر دی جائے تو آمدنی بھی دو چند ہونے

صفحہ 114

لگے گی۔ چنانچہ قیمت پانچ کی جگہ دس روپے کر دی۔ اب مرزا صاحب نے ۳؍ دسمبر ۱۸۷۹ء کو یہ اعلان شائع کیا۔ ”واضح ہو کہ جو اصل قیمت اس کتاب کی بلحاظ ضخامت اور حسن اور لطافت ذاتی اس کے اور نیز بنظر اس پاکیزگی خط اور تحریر اور عمدگی کاغذ وغیرہ لوازم اور مراتب کے کہ جن کے التزام سے یہ کتاب چھاپی جائے گی بیس روپیہ سے کم نہ تھی مگر ہم نے محض اس امید سے جو بعض امرائے اسلام جو ذی ہمت اور اولوالعزم ہیں۔ اس کتاب کی اعانت میں توجہ کامل فرمائیں گے۔ صرف پانچ روپیہ مقرر کی تھی۔ مگر اب تک ایسا ظہور میں نہ آیا اور ہم انتظار کرتے کرتے تھک بھی گئے۔ بباعث اس کے جو قیمت کتاب کی نہایت ہی کم تھی اور جبر نقصان اس کا بہت سی اعانتوں پر موقوف تھا جو محض فی سبیل اللہ ہر طرف سے کی جاتیں طبع کتاب میں بڑی توقف ظہور میں آئی۔ ناچار بصد اضطرار یہ تجویز سوچی گئی‘ جو قیمت کتاب کی جو بنظر حیثیت کتاب کے بغایت درجہ قلیل اور ناچیز ہے‘ دوچند کی جائے۔ لہٰذا من بعد جملہ صاحبین باستثناء ان صاحبوں کے جو قیمت ادا کر چکے ہیں یا ادا کرنے کا وعدہ ہو چکا ہے قیمت اس کتاب کی بجائے پانچ روپیہ کے دس روپیہ تصور فرمائیں مگر واضح رہے کہ اگر بعد معلوم کرنے قدر و منزلت کتاب کے کوئی امیر عالی ہمت اس قدر اعانت فرمائیں گے کہ جو کسر کمی قیمت کی ہے اس سے پوری ہو جائے گی تو پھر وہی پہلی ہی قیمت قرار پا جائے گی۔ ان شاء اللہ یہ کتاب جنوری ۱۸۸۰ء میں زیر طبع ہو کر فروری میں شائع ہو جائے گی۔ میں مندرجہ ذیل صاحبوں کا بدل مشکور ہوں کہ جنہوں نے سب سے پہلے اس کتاب کی اعانت کے لیے بنیاد ڈالی اور خریداری کتب کا وعدہ فرمایا۔

صفحہ 115

دکن۔

پور۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۷۸)۔

جلد اول، حصہ ۲، ص ۷)۔

مرزا صاحب کے بے پناہ پروپیگنڈا نے لوگوں کو کتاب کا بڑا مشتاق بنا دیا تھا۔ جب پہلے دو حصے چھپ چکے تو مرزا صاحب کے جذبہ زر طلبی میں اور زیادہ تشنگی پیدا ہوئی اب اس کی قیمت دس روپے کی بجائے مرفہ الحال مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لیے کم از کم پچیس روپے قرار پائی۔ اور ہر ایک سے پچیس روپیہ سے لے کر سو روپیہ تک وصول کیا جانے لگا۔ پچیس روپے سے لے کر سو روپیہ تک قیمت مقرر کرنے کے متعلق مرزا جی نے جو اشتہار شائع کیا اس میں لکھا کہ کتاب ”براہین احمدیہ“ جس میں تین سو مضبوط دلیل سے حقیقت اسلام ثابت کی گئی ہے اور ہر ایک مخالف کے عقاید باطلہ کا ایسا استیصال کیا گیا ہے کہ گویا اس مذہب کو فتح کیا گیا اور پھر زندہ نہیں ہو گا اس کتاب کے بارے میں بجز چند عالی ہمت مسلمانوں کے جن کی توجہ سے دو حصے اور کچھ تیسرا حصہ چھپ گیا ہے جو کچھ اور لوگوں نے اعانت کی وہ ایسی ہے کہ اگر بجائے تصریح کے انا للہ و انا الیہ راجعون پر قناعت کریں تو مناسب ہے۔ پہلے یہ کتاب تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جز (سولہ سو صفحے) تک بڑھا دی گئی اور دس روپیہ عام لوگوں کے لیے اور پچیس روپیہ دوسری قوموں اور خواص کے لیے مقرر ہوئی مگر اب یہ کتاب بوجہ احاطہ جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق تین سو جزو (چار ہزار آٹھ سو صفحات) تک پہنچ گئی ہے۔ جس کے مصارف پر نظر کر کے یہ واجب معلوم ہوتا تھا کہ آئندہ قیمت کتاب سو روپیہ رکھی جائے۔ مگر یہ باعث پست ہمتی اکثر لوگوں کے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اب وہی قیمت مقررہ سابقہ

صفحہ 116

کہ گویا کچھ بھی نہیں ایک دوامی قیمت قرار پائے اور لوگوں کو ان کے حوصلہ سے زیادہ تکلیف دے کر پریشان نہ کیا جائے۔ اور واضح رہے کہ اب یہ کام ان لوگوں کی ہمت سے انجام پذیر نہیں ہو سکتا کہ جو مجرد خریدار ہونے کی وجہ سے ایک عارضی جوش رکھتے ہیں بلکہ اس وقت کئی ایک ایسے عالی ہمتوں کی توجہات کی حاجت ہے کہ جن کا بے بہا ایمان خرید و فروخت کے تنگ ظرف میں سما نہیں سکتا بلکہ اپنے مالوں کے عوض میں بہشت جاودانی خریدنا چاہتے ہیں۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۲۳- ۲۴)

زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے ہتھکنڈے

اب قادیانی صاحب نے لوگوں سے زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنے کے لیے دو ڈھنگ اختیار کیے۔ اول تو یہ کوشش کی کہ کوئی شخص قیمت کا لفظ ہی زبان پر نہ لائے کیونکہ ”خرید و فروخت کا خیال تنگ ظرفی کی دلیل ہے“۔ بلکہ وہ اندھا دھند اپنے متاع عزیز کا ایک بڑا حصہ مرزا صاحب کو خیرات میں دے دے اور اس کے معاوضہ میں مرزا صاحب سے بہشت جاوداں کا تمغہ حاصل کر لے اور اگر کوئی شخص اس طرح نہیں پھنستا تھا یا پچیس روپے سے بھی کم دینا چاہتا تھا تو ہوشیار دکاندار کی طرح اس سے کہا جاتا تھا کہ تم ایک پائی نہ دو بلکہ مفت ہی لے لو۔ کیونکہ ہم غریبوں کو مفت بھی دیتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایسا کون بے حیا مستطیع خریدار ہو گا جو غریب بن کر مفت مانگتا یا پچیس روپے سے کم قیمت پر کتاب مانگنے کی جرأت کرتا۔ مرزا صاحب نے سردار محمد علی خاں، مالیر کوٹلوی کے نام جو خط بھیجا اس میں لکھا تھا کہ ”قیمت کتاب سو روپیہ سے پچیس روپیہ تک حسب مقدرت ہے۔ یعنی جس کو سو روپیہ کی توفیق ہے وہ سو روپیہ ادا کرے اور جس کو کم توفیق ہے وہ کم۔ مگر بہر حال پچیس روپیہ سے کم نہ ہو۔ اور نادار کو مفت للہ ملتی ہے۔ آپ جس صیغہ میں چاہیں لے سکتے ہیں اور چاہیں تو مفت بھیجی جاوے“۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۴، ص ۴) تھوڑے دن کے بعد مرزا صاحب نے ایک اور اپیل شائع کی جس میں لکھا۔ ”امید یہ کی گئی تھی کہ امرائے اسلام جو ذی ہمت اور اولوالعزم ہیں اس کتاب کی اعانت میں دلی ارادت سے مدد کریں گے لیکن اب تک وہ امید پوری نہ ہوئی۔ بلکہ بجز عالی جناب خلیفہ سید محمد حسن خاں صاحب بہادر وزیر اعظم ریاست پٹیالہ (پنجاب) کہ جنہوں نے مسکین

صفحہ 117

طالب علموں کو تقسیم کرنے کے لیے پچاس جلدیں اس کتاب کی خریدیں۔ اور نیز فراہمی خریداروں میں بڑی مدد فرمائی۔ اکثر صاحبوں نے ایک یا دو نسخے سے زیادہ نہیں خریدا۔ لہٰذا بذریعہ اس اعلان کے بخدمت ان ذی ہمت امراء کے جو حمایت دین اسلام میں مصروف ہو رہے ہیں عرض کی جاتی ہے کہ وہ ایسے کار ثواب میں کہ جس سے اعلائے کلمۂ اسلام ہوتا ہے اعانت سے دریغ نہ فرمائیں۔

(تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۸)

ان حضرات کا شکوہ جنہوں نے براہین کو بے مصرف خیال کیا

غرض مرزا صاحب اسی طرح اشتہار پر اشتہار چھاپتے اور پروپیگنڈا کرتے رہے، اس اثناء میں بعض حضرات نے یہ کہہ کر صاف گوئی اور راست بیانی کا حق ادا کیا کہ کتاب ”براہین احمدیہ“ کی اشاعت ہی غیر ضروری ہے۔ مرزا صاحب ان لوگوں کا شکوہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ”ایک اور بڑی تکلیف ہے جو بعض نافہم لوگوں کی زبان سے ہم کو پہنچ رہی ہے اور وہ یہ ہے جو بعض صاحب جن کی رائے باعث کم توجہی کے دینی معاملات میں صحیح نہیں ہے وہ اس حقیقت حال پر اطلاع پا کر جو ”براہین احمدیہ“ کی تیاری پر نو ہزار روپیہ خرچ آتا ہے بجائے اس کے جو دلی غم خواری سے کسی نوع کی اعانت کی طرف متوجہ ہوتے۔ جو زیر باریاں بوجہ کمی قیمت کتاب و کثرت مصارف طبع کے عاید حال ہیں ان کے جبر نقصان کے لیے کچھ للہ فی اللہ ہمت دکھلاتے منافقانہ باتیں کرنے سے ہمارے کام میں خلل انداز ہو رہے ہیں اور لوگوں کو یہ وعظ سناتے ہیں جو کیا پہلی کتابیں کچھ تھوڑی ہیں جو اب اس کی حاجت ہے؟ یہ لوگ اس جہد بلیغ کی تحقیر کر کے لوگوں کو اس کے فوائد عظیمہ سے محروم رکھنا چاہتے ہیں اور نیش زنی کر رہے ہیں۔ کتاب ”براہین احمدیہ“ بغیر اشد ضرورت کے نہیں لکھی گئی۔ ورنہ ضرور نہ تھا کہ جو ہم سالہا سال اپنی جان کو محنت شدید میں ڈال کر اپنی عمر عزیز کا ایک حصہ خرچ کرتے۔

(تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۳۰)

مرزا صاحب نے ایک اعلان میں بعض نوابوں اور رئیسوں کی توہین اور بعض کی تعریف بھی کی۔ چنانچہ لکھا ”حالانکہ بخوبی مشتہر کیا گیا تھا کہ اب باعث بڑھ جانے ضخامت کے اصل قیمت کتاب کی سو روپیہ ہی مناسب ہے کہ ذی مقدرت لوگ اس کی رعایت رکھیں کیونکہ غریبوں کو یہ صرف دس روپے میں دی جاتی ہے سو جبر نقصان کا واجبات سے

صفحہ 118

ہے۔ مگر بجز سات آٹھ آدمی کے سب غریبوں میں داخل ہوگئے۔ خوب جبر (تلافی) کیا۔ ہاں نواب اقبال الدولہ صاحب حیدر آباد نے اور ایک اور رئیس نے ضلع بلند شہر سے ایک نسخہ کی قیمت میں سو سو روپیہ بھیجا ہے۔ اور ایک عہدہ دار محمد افضل خاں نے ایک سو دس روپے اور نواب صاحب مالیر کوٹلہ نے تین نسخہ کی قیمت میں سو روپیہ بھیجا اور سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لدھیانہ نے بطور اعانت پچیس روپے بھیجے ہیں۔ بخیل اور ممسک مسلمانوں کو جو بڑے بڑے لقبوں اور ناموں سے بلائے جاتے ہیں اور قارون کی طرح بہت سا روپیہ دبائے بیٹھے ہیں۔ اپنی حالت کو سردار صاحب کے مقابلہ پر دیکھ لینا چاہیے۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۴۲) جب پروپیگنڈا اور اشتہار بازی کی بدولت انجام کار روپیہ کی خوب ریل پیل ہوئی تو مرزا صاحب نے معاونین و محسنین کرام کا ان الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔ ”اس خداوند عالم کا کیا کیا شکر ادا کیا جائے کہ جس نے براہین کے چھپوانے کے لیے اسلام کے عمائد اور بزرگوں اور اکابر اور امیروں اور دیگر بھائیوں اور مومنوں اور مسلمانوں کو شائق اور راغب اور متوجہ کر دیا۔ پس اس جگہ ان تمام حضرات معاونین کا شکر کرنا بھی واجبات سے ہے کہ جن کی کریمانہ توجہات سے میرے مقاصد دینی ضائع ہونے سے سلامت رہے، میں ان صاحبوں کی اعانتوں سے ایسا ممنون ہوں کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ جن سے میں ان کا شکر ادا کر سکوں۔

(تبلیغ رسالت، جلد ۱، ص ۴۸)

فصل - ۳ خلف وعد اور خریداروں کا روپیہ

ہضم کرنے کی مضحکہ خیز توجیہ

جب قادیانی صاحب تین سو جزو (چار ہزار آٹھ سو صفحات) کی کتاب کی قیمت میں اور کچھ خیرات کے طور پر ہزارہا روپیہ قوم سے وصول کر چکے تو اب تقدس مآب نے صرف چار حصوں یعنی ۵۶۲ صفحات کی کتاب پر ہی لوگوں کو ٹرخا دینے اور ہزارہا روپیہ کی رقم خطیر بے ڈکار ہضم کر جانے کا عزم صمیم فرما لیا۔ لیکن اس بدمعاملگی کے جواز کی بھی کوئی وجہ تجویز ہونی چاہئے تھی۔ سخن تراشی تو مسیح صاحب کے گھر کی لونڈی تھی۔ بات یہ بنائی کہ اب خود رب العالمین اس کتاب کا متولی و مہتمم ہو گیا ہے۔ اس تولیت و اہتمام خداوندی کا

صفحہ 119

یہ مطلب تھا کہ اب میں باقی ماندہ کتاب کی طبع و اشاعت کا کوئی ذمہ نہیں لے سکتا۔ چنانچہ ۱۸۸۴ء میں مرزا صاحب نے براہین احمدیہ (حصہ چہارم) کے آخری صفحہ پر ”ہم اور ہماری کتاب“ کے زیر عنوان یہ اعلان شائع کر دیا۔ ”ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی۔ اب اس کتاب کا متولی اور مہتمم ظاہراً اور باطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کیے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لیے کافی ہیں۔ اس جگہ ان نیک دل ایمانداروں کا شکر کرنا لازم ہے۔ جنہوں نے اس کتاب کے طبع ہونے کے لیے آج تک مدد دی ہے۔ بعض صاحبوں نے اس کتاب کو محض خرید و فروخت کا ایک معاملہ سمجھا ہے۔ اور بعض کے سینوں کو خدا نے کھول دیا۔ اگر حضرت احدیت کا ارادہ ہے تو کسی ذی مقدرت کے دل کو بھی اس کام کے انجام دینے کے لیے کھول دے گا۔ واللہ علی کل شی قدیر ۔“ (تبلیغ رسالت جلد اول ص ۴۷-۴۸) اس تحریر سے مرزا صاحب کا یہ مقصد تھا کہ باقی ماندہ کتاب کے متعلق کسی قسم کی ذمہ داری نہیں لی جاسکتی۔ کیونکہ کتاب کی پیشگی قیمتیں ہضم ہو چکی ہیں۔ البتہ اگر حق تعالیٰ کی خواہش ہو تو وہ کسی سرمایہ دار کو آمادہ کر دے کہ وہ اپنے سرمایہ سے باقی ماندہ کتاب طبع کرا دے اور اس طرح قارون زماں بننے کے دیرینہ مرزائی ارمان پورے کر دے۔ واقعی دیانت داری اور صفائی معاملہ اسی کو کہتے ہیں۔ جس کا قادیاں کے مجدد صاحب نے ثبوت دیا۔

تین سو جزء کے وعدہ کے عدم ایفاء کا اعلان

چونکہ مرزا صاحب براہین کے خریداروں سے کتاب کی قیمت پیشگی وصول کر چکے تھے اور ہزارہا روپیہ کی وصول یابی کے بعد اب خریداروں کی طرف سے کسی نئی رقم کے ملنے کی توقع نہ تھی اس لیے قادیاں کے مجدد صاحب ”براہین احمدیہ“ کو نظر انداز فرما کر اس کی جگہ دوسری کتابیں مثلاً ”سرمہ چشم آریہ“ اور رسالہ ”سراج منیر“ وغیرہ چھپوا کر زر اندوزی کے سامان مہیا فرمانے لگے۔ اور براہین کے متعلق اعلان کر دیا کہ الہامات الٰہیہ کی بنا پر تین سو جزء کے وعدے پورے نہیں کئے جا سکتے۔ چنانچہ ستمبر ۱۸۸۶ء میں اپنی نئی کتاب ”سرمہ

صفحہ 120

چشم آریہ" کے ٹائٹل پیج پر یہ اعلان درج کیا۔ "یہ رسالہ کحل الجواہر سرمہ چشم آریہ نہایت صفائی سے چھپ کر ایک روپیہ بارہ آنہ اس کی قیمت عام لوگوں کے لیے قرار پائی ہے اور خواص اور ذی استطاعت لوگ جو کچھ بطور امداد دیں ان کے لیے موجب ثواب ہے۔ کیونکہ ”سراج منیر“ اور ”براہین“ کی طباعت کے لیے اسی قیمت سے سرمایہ جمع ہوگا‘ اس کے بعد رسالہ ”سراج منیر“ چھپے گا۔ اس کے بعد پنجم حصہ کتاب ”براہین احمدیہ“ چھپنا شروع ہوگا‘ جو بعض لوگ توقف طبع براہین سے مضطرب ہو رہے ہیں ان کو معلوم نہیں کہ اس زمانہ توقف میں کیا کیا کاروائیاں بطور تمہید کتاب کے عمل میں آئی ہیں۔ ۲۳ ہزار کے قریب اشتہار تقسیم کیا گیا اور صدہا جگہ ایشیا و یورپ و امریکہ میں خطوط دعوت اسلام اردو انگریزی میں چھپوا کر اور رجسٹری کرا کر بھیجے گئے۔ بایں ہمہ اگر بعض صاحب اس توقف سے ناراض ہوں تو ہم ان کو فسخ بیع کی اجازت دیتے ہیں وہ ہم کو اپنی خاص تحریر سے اطلاع دیں تو ہم بدیں شرط کہ جس وقت ہم کو ان کی قیمت مرسلہ میسر آوے اس وقت باخذ کتاب واپس کر دیں گے۔ بلکہ ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ایسے صاحبوں کی ایک فہرست تیار کی جائے اور ایک ہی دفعہ سب کا فیصلہ کیا جائے۔ اور یہ بھی ہم اپنے گزشتہ اشتہار میں لکھ چکے ہیں کہ اب یہ سلسلہ تالیف کتاب بوجہ الہامات الٰہیہ دوسرا رنگ پکڑ گیا ہے۔ اور اب ہماری طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں کہ کتاب تین سو جزو تک ضرور پہنچے بلکہ جس طور سے خدائے تعالیٰ مناسب سمجھے گا کم یا زیادہ بغیر لحاظ پہلی شرائط کے اس کو انجام دے گا کہ یہ سب کام اسی کے ہاتھ میں اور اسی کے امر سے ہے (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۹۱)

ان خریداروں کا شکوہ جنہوں نے مسیح صاحب کو دغا باز ٹھہرایا

جب مرزا صاحب لوگوں کی رقمیں شیر مادر سمجھ کر ہضم کر گئے اور خریداروں کو اپنی رقموں کی طرف سے قطعی مایوسی ہوئی‘ تو یہ بالکل قدرتی بات تھی کہ رنجشوں کے بخارات قلزم دل سے اٹھ اٹھ کر ساحل لب سے ٹکراتے اور مظلوم خریدار شکوہ و شکایت کے دفتر کھولتے۔ جب ملہم صاحب نے دیکھا کہ ان کے خلاف ہر طرف طعن و تشنیع کی گرم بازاری ہے تو انہوں نے اس خوف سے کہ مبادا مریدین عقیدت شعار برگشتہ ہو جائیں یکم مئی ۱۸۹۳ء کو آٹھ صفحوں کا ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ ”مجھے ان مسلمانوں کی

صفحہ 121

حالت پر نہایت افسوس ہے کہ جو اپنے پانچ یا دس روپیہ کے مقابل پر ۳۶ جزو (۵۶۲ صفحات) کی ایسی کتاب پا کر جو معارف اسلام سے بھری ہوئی ہے ایسے شرمناک طور پر بدگوئی اور بد زبانی پر مستعد ہو گئے کہ گویا ان کا روپیہ کسی چور نے چھین لیا‘ یا ان پر کوئی قزاق آ پڑا اور گویا وہ ایسی بے رحمی سے لوٹے گئے کہ اس کے عوض میں کچھ بھی ان کو نہیں دیا گیا اور ان لوگوں نے زبان درازی اور بد ظنی سے اپنے نامہ اعمال کو سیاہ کیا کہ کوئی دقیقہ سخت گوئی کا باقی نہ رکھا‘ اس عاجز کو چور قرار دیا‘ مکار ٹھہرایا‘ مال مردم خور کر کے مشہور کیا۔ حرام خور کہہ کر نام لیا‘ دغا باز نام رکھا اور اپنے پانچ یا دس روپیہ کے غم میں وہ سیاپا (سینہ کوبی) کیا کہ گویا تمام گھر ان کا لوٹا گیا۔ لیکن ہم ان بزرگوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ کتابیں جو اس کے عوض میں تم نے لیں جن کے ذریعے سے تم نے وہ علم حاصل کیا جس کی تمہیں اور تمہارے باپ دادوں کو کیفیت معلوم نہ تھی۔ اور وہ بغیر ایک عمر خرچ کرنے کے اور بغیر خون جگر کھانے کے یونہی تالیف ہو گئی تھیں اور بغیر صرف مال یوں ہی چھپ گئی تھی۔ اور اگر درحقیقت وہ بے بہا جواہرات تھی جس کے عوض آپ نے پانچ یا دس روپے دیئے تھے‘ تو کیا یہ شکوہ روا تھا کہ بے ایمانی اور دھوکہ دہی سے ہمارا روپیہ لے لیا گیا۔ آخر ان پرجوش مسلمانوں کو دیکھنا چاہئے جنہوں نے براہین کے ان حصوں کو دیکھ کر بغیر خریداری کی نیت کے صرف حقائق و معارف کو مشاہدہ کر کے صدہا روپیہ سے محض للہ مدد کی۔ اور پھر عذر کیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ (تبلیغ رسالت‘ ج ۳‘ ص ۴۲)

واپسی قیمت کے وعدوں کی حقیقت

مرزا صاحب نے اعتراضات سے تنگ آکر یکم مئی ۱۸۹۳ء کو یعنی براہین حصہ چہارم کی اشاعت کے نو سال بعد ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ ”اب میں ان خریداروں سے تعلق نہیں رکھنا چاہتا جو سچے ارادت مند اور معتقد نہیں ہیں۔ اس لیے عام طور پر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ ایسے لوگ جو آئندہ کسی وقت جلد یا دیر سے اپنے روپیہ کو یاد کر کے اس عاجز کی نسبت کچھ شکوہ کرنے کو تیار ہیں یا ان کے دل میں بھی بدظنی پیدا ہو سکتی ہے وہ براہ مہربانی اپنے ارادہ سے مجھ کو بذریعہ خط مطلع فرما دیں۔ اور میں ان کا روپیہ واپس کرنے کے لیے یہ انتظام کروں گا کہ ایسے شہر میں یا اس کے قریب اپنے دوستوں میں سے کسی کو مقرر

صفحہ 122

کر دوں گا کہ تا چاروں حصے کتاب کے لے کر روپیہ ان کے حوالے کر دے اور اگر ایسی صورت ہو کہ خریدار کتاب فوت ہو گیا ہو اور وارثوں کو کتاب بھی نہ ملتی ہو تو چاہیے کہ وارث چار معتبر مسلمانوں کی تصدیق خط میں لکھوا کر کہ اصلی وارث وہی ہے وہ خط میری طرف بھیج دے تو بعد اطمینان وہ روپیہ بھی بھیج دیا جائے گا اور اگر کسی وارث کے پاس کتاب ہو تو وہ بھی بدستور اس میرے دوست کے پاس روانہ کرے۔ لیکن اگر کوئی کتاب کو روانہ کرے اور یہ معلوم ہو کہ چاروں حصے کتاب کے نہیں ہیں تو ایسا پیکٹ ہرگز نہیں لیا جائے گا۔ جب تک شخص فرستندہ یہ ثابت نہ کرے کہ اسی قدر کتاب ان کو بھیجی گئی تھی۔" (تبلیغ رسالت، جلد ۳، ص ۳۵) مرزا صاحب کی اس نمائشی آمادگی کے متعلق جس میں قیمت کی واپسی کا بڑے طمطراق سے وعدہ کیا گیا ہے منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ لاہور نے کتاب ”عصائے موسیٰ“ میں لکھا کہ براہین کی قیمت کے بارہ میں شاید یہ عذر کیا جائے کہ ہم نے واپسی روپیہ کا اشتہار دے دیا تھا اس لیے ہم بری الذمہ ہو گئے لیکن اول تو پہلے سے ایسی کوئی شرط نہیں تھی۔ ثانیاً ”یہ اعلان صرف اپنے مریدوں میں تقسیم کیا گیا تمام چندہ دہندوں میں اس کی اشاعت ضروری نہ خیال کی گئی۔ تیسرا اس اشتہار میں بھی ایسی چالاکی کی گئی کہ بیچارے مظلوم شرم کے مارے مطالبہ زر کی جرأت نہ کریں اور اگر کریں تو مرزا صاحب کے کسی معتمد علیہ کو تلاش کرتے پھریں اور اگر مل جائے تو اس سے تصدیق نامہ حاصل کریں۔ اور پھر مرزا صاحب کے حضور میں پیش کریں۔ پھر جن لوگوں نے براہین کے لیے روپیہ پیشگی دیا تھا ان کے پاس بھی اشتہار نہیں پہنچا۔ اگر مرزا صاحب کی نیت بخیر ہوتی تو فہرست خریداروں کو دیکھ کر تمام خریداروں کو قیمت واپس کر دی جاتی۔ یہ حق العباد تھا، اس میں جس قدر بھی سعی و اہتمام کیا جاتا تھوڑا تھا۔ (عصائے موسیٰ) معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے واپسی قیمت کا اعلان دو تین مرتبہ کیا تھا لیکن اعلانوں کا مقصد یہ نہیں تھا کہ حقیقت میں لوگوں کی رقمیں واپس دے کر حقوق العباد سے سبکدوش ہو جائیں۔ بلکہ محض دکھلاوے اور ریاکاری کا ایک کھیل کھیلا گیا تھا۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ ۱۸۹۳ء کے متذکرہ صدر اشتہار کے قریباً چھ سال بعد یعنی ۱۸۹۹ء میں مکرر اعلان کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ اس اعلان میں جو ”ایام الصلح“ طبع اول کے صفحہ اول پر درج ہے مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”براہین احمدیہ کا بقیہ نہ چھاپنے پر اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن

صفحہ 123

شریف بھی باوجود کلام الٰہی ہونے کے تیئیس برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دیا تو اس میں کون سا ہرج ہوا۔" لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مرزا صاحب کی طرح خداوند عالم نے بھی (معاذ اللہ) چار ہزار آٹھ سو صفحات کا قرآن شائع کرنے کے سبز باغ دکھا کر لوگوں سے کوئی رقمیں وصول کی تھیں؟ جب ایسا نہیں تو نزول قرآن کی تدریج سے استدلال کرنا انتہا درجہ کی ابلہ فریبی ہے۔ آگے چل کر حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ "اگر یہ خیال ہے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی حمق و نادانی کے باعث ہوگا۔ کیونکہ اکثر "براہین احمدیہ" کا حصہ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنہ تک قیمت لی گئی ہے۔ اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپے لیے گئے ہوں اور جن سے پچیس روپے لیے گئے وہ صرف چند آدمی ہیں۔ پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص "براہین احمدیہ" کے مقابل پر جو منطبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے ہیں کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے۔" (تبلیغ رسالت، جلد ۷، ص ۷۷-۷۸) لیکن افسوس مرزا صاحب اس حقیقت کو بالکل نظر انداز کر گئے کہ انہوں نے شروع میں چار ہزار آٹھ سو صفحہ کی کتاب جس میں تین سو مضبوط دلائل ہونے چاہئیں تھے، پانچ یا دس روپے میں دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پانچ سو باسٹھ صفحہ کی کتاب کے لیے انہیں کسی نے پانچ یا دس یا پچیس یا سو روپے نہیں دیئے تھے۔" اس کے بعد مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو اس قسم کی جہالت اپنے اندر رکھتے تھے انہوں نے کتابیں بھیج دیں اور قیمت واپس لے لی۔ اور کئی دفعہ ہم لکھ چکے ہیں کہ ہم ایسے کمینہ طبعوں کی ناز برداری کرنا نہیں چاہتے اور ہر ایک وقت قیمت واپس دینے پر تیار ہیں۔ چنانچہ خدائے تعالیٰ کا شکر ہے کہ ایسے دنی الطبع لوگوں سے خدا تعالیٰ نے ہم کو فراغت بخشی (ایضاً)

خریداروں کو گالیاں

ظاہر ہے کہ اس سراپا دشنام اعلان کو پڑھ کر کوئی شریف اور باحیا آدمی چند روپوں کے لیے کمینہ سفیہ جاہل، دنی الطبع بننا گوارا نہ کرے گا۔ انصاف و دیانت کا تقاضا تو یہ تھا کہ جس غرض سے روپیہ وصول کیا تھا وہ پوری کی جاتی یا کم از کم مطبوعہ حصہ کی قیمت وضع کر

صفحہ 124

کے باقی روپیہ خریداروں کو بھیج دیا جاتا۔ ایک تو ایفائے عہد نہ کرنا دوسرے لوگوں کا روپیہ ہضم کر جانا تیسرے مطالبہ کرنے والوں کو گالیاں دینا کہاں کی شرافت و ایمانداری ہے؟ حضرت مرزا صاحب کو بخاری و مسلم کی اس حدیث سے سبق آموز ہونا چاہیے تھا، جس میں جناب خیر البشر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منافق کی چند علامتیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے دو علامتیں یہ ہیں کہ امانت میں خیانت کرے اور کسی سے بگاڑ ہو جائے تو گالیاں دے۔ بہرحال مرزا صاحب نے اخیر تک حقوق العباد سے سبک دوش ہونے کا عزم نہ فرمایا۔ یہ صحیح ہے کہ انہوں نے واپسی قیمت کا اعلان کیا تھا لیکن مرزا صاحب اس قسم کے جو اعلان اپنی کتابوں میں درج کرتے تھے۔ ان کا شائع کرنا یا نہ کرنا برابر تھا کیونکہ وہ مرزائیوں کے سوا کسی کی نظر سے نہیں گزرتے تھے۔ اگر خلوص دل کے ساتھ لوگوں کی حق رسی منظور تھی تو ان اعلانوں کو اپنی کتابوں میں درج کر دینے کے بجائے قومی اخبارات میں شائع کرانا چاہیے تھا۔ اور چونکہ تمام لوگ اخبار بینی کے عادی نہیں ہوتے اس لیے اس سے بھی زیادہ ضروری یہ تھا کہ خریداروں کا رجسٹر دیکھ کر ہر ایک کے پتے پر یہ اشتہار بھیجے جاتے۔ لیکن ایسا تو وہ کرے جس کے دل میں خوف خدا ہو اور اس بات کا احساس رکھتا ہو کہ فردائے قیامت کو حقوق العباد کے متعلق سخت باز پرس ہوگی۔ چونکہ مرزا صاحب نے لوگوں کی حق رسی نہ کی اور مطالبات علیٰ حالہا قائم رہے اور اعتراضات میں کوئی کمی نہ آئی اس لیے مرزا صاحب نے ۱۹۰۰ء میں یعنی لوگوں سے قیمتیں وصول کرنے کے قریباً بیس اکیس سال بعد ایک اور نمائشی اعلان اپنے رسالہ ”اربعین“ میں شائع کر کے عندالناس بری الذمہ ہونے کی بے سود کوشش کی لیکن ظاہر ہے کہ اگر بالفرض اس قسم کی نمائشی کاروائیوں سے لوگ کسی کو بری الذمہ ہی سمجھ لیں تو بھی وہ عنداللہ بری نہیں ہو سکتا۔ بہرحال مرزا صاحب نے اپنے رسالہ ”اربعین“ میں جو ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء کو شائع ہوا لکھا۔ اگر میں نے ”براہین احمدیہ“ کی قیمت کا روپیہ تم سے وصول کیا ہے تو تمہیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ ”براہین احمدیہ“ کے وہ چاروں حصے میرے حوالہ کرو اور اپنا روپیہ لے لو۔ دیکھو میں کھول کر یہ اشتہار دیتا ہوں کہ اب اس کے بعد اگر تم ”براہین احمدیہ“ کی قیمت کا مطالبہ کرو اور چاروں حصے بطور ویلیو پے ایبل میرے کسی دوست کو دکھا کر میری طرف نہ بھیج دو اور میں ان کی قیمت بعد لینے ان ہر چہار حصوں کے ادا نہ کروں تو میرے پر خدا کی لعنت

صفحہ 125

ہو اور اگر تم اعتراض سے باز نہ آؤ اور نہ کتاب کو واپس کر کے اپنی قیمت لو تو پھر تم پر خدا کی لعنت ہو (اربعین نمبر ۴‘ ص ۲۸) اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا صاحب نے ۱۹۰۰ء تک بھی لوگوں کی رقمیں نہیں چکائی تھیں۔ بیس اکیس سال تک ہمیشہ زبانی جمع خرچ ہی کرتے رہے لیکن روپیہ نکالنے کا نام نہ لیا۔

جلب زر کے قادیانی ہتھکنڈوں کے متعلق دہلوی خسر کے خیالات

مرزا صاحب کے خسر دوم میر ناصر نواب دہلوی شروع شروع میں چند سال تک مرزائیت کے دام تزویر سے محفوظ تھے۔ انہی ایام میں انہوں نے جلب زر کے مرزائی ہتھکنڈوں کے متعلق ایک نظم زیر عنوان ”مثنوی در حالات مکاری اہل زمانہ“ لکھ کر مولوی محمد حسین بٹالوی کو رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں شائع کرنے کے لیے دی تھی۔ اس میں شاعر نے بو مسیلم احمد اور عیسائے دوران لکھ کر صاف لفظوں میں اپنے داماد کو مخاطب بنایا ہے۔ اس کا ضروری اقتباس ملاحظہ ہو:۔

بعد ازیں یہ عرض ہے اے مسلمین
آج دنیا میں کہیں تقویٰ نہیں
ہیں دغا میں آج کل سرگرم لوگ
سینکڑوں دنیا میں اب پھیلے ہیں روگ
ہے مریدی واسطے پیسوں کے اب
ہائے دنیا میں پڑا ہے یہ غضب
ہر گھڑی ہے مالداروں کی تلاش
تاکہ حاصل ہو کہیں وجہ معاش
کوئی مل جائے جو دولت کا سبب
ایک دم میں ہوں دلدر پاک سب
قرض سے اک دفعہ ہو جائے نجات
گو ملے صدقہ کہ مل جائے زکوٰۃ
صفحہ 126
ہو یتیموں کا ہی یا رانڈوں کا ہو
رنڈیوں کا مال یا بھانڈوں کا ہو
کچھ نہیں تفتیش سے ان کو غرض
حرص کا ہے اس قدر ان کو مرض
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار
یہ ہی لوگوں نے کیا ہے روزگار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ
خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار
جیسے چلنا تھا کہیں ان کا ادھار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے
وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے
بدگمانی کا اسے آزار ہے
سارے بدبختوں کا وہ سردار ہے
ایک تو پلہ سے اس نے زر دیا
دوسرے بدنام اپنے کو کیا
کھا گیا جو مال وہ اچھا رہا
کچھ گھٹا اس کا نہ ہرگز اتقاء
بدمعاش اب نیک ازحد بن گئے
بومسیلم آج احمد بن گئے
عیسیٰ دوراں بنے دجال ہیں
ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں
ظاہری افعال ان کے نیک ہیں
سارے عالم میں وہ گویا ایک ہیں
صفحہ 127
ہر طرح سے مال ہیں وہ نوچتے
ہیں یہی تدبیر ہر دم سوچتے
جس طرح ہو مال کچھ کھا جائیے
کچھ نیا اب شعبدہ دکھلائیے
ہیں امیر اور لیتے ہیں صدقہ زکوٰۃ
دینداری کی نہیں کوئی بات
علم ہے دنیا کمانے کے لیے
دولت دنیا ہے کھانے کے لیے
اپنی تعریفوں سے بھرتے ہیں کتاب
آیت قرآں ہیں گویا ان کے خواب
سینکڑوں کرتے ہیں گو وعدے خلاف
کم نہیں کرتے مگر لاف و گزاف

(رسالہ اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۴‘ نمبر ۱۲‘ صفحہ ۴۱۷- ۴۱۹)

مجدد قادیاں پر کتنا روپیہ خورد برد کرنے کا الزام تھا؟

براہین کی اشاعت کے زمانہ میں اور اس کے کئی سال بعد تک مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی مرزا صاحب کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے بلکہ قادیانی تقدس کی بیل دراصل مولوی محمد حسین ہی کی کوششوں سے منڈھے چڑھی تھی۔ پس اس لحاظ سے کہ مولوی محمد حسین صاحب مرحوم مرزائی دکان داری کے اسرار و خفایا کو سب سے زیادہ جانتے تھے اس بارہ میں ان کی شہادت سب سے زیادہ وقیع اور قابل وثوق سمجھی جائے گی کہ مرزا صاحب نے قوم کا کتنا روپیہ کھایا تھا؟ مولوی محمد حسین بٹالوی نے مرزا صاحب کو لکھا تھا کہ ”آپ مسلمانوں کا دس ہزار سے زیادہ روپیہ براہین کی قیمت اور قبولیت دعاؤں کی طمع دے کر خورد برد کر چکے ہیں اور کتاب براہین ہنوز در بطن شاعر کی مصداق ہے اور قبولیت دعاؤں کے امیدوار آپ کا منہ دیکھ رہے ہیں (کتاب ”دافع الوساوس“ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۳۱۳) اس الزام کے متعلق مرزا صاحب نے اکتوبر ۱۸۹۲ء میں مولوی محمد حسین مرحوم کو ایک مکتوب

صفحہ 128

میں لکھا۔ ”آپ کا یہ خیال کہ گویا یہ عاجز براہین احمدیہ کے فروخت میں دس ہزار روپیہ لوگوں سے لے کر خورد برد کر گیا ہے۔ یہ اس شیطان نے آپ کو سبق دیا ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ آپ کو کیونکر معلوم ہوگیا کہ میری نیت میں براہین کا طبع کرنا نہیں۔ اگر براہین طبع ہو کر شائع ہو گئی تو کیا اس دن شرم کا تقاضا نہیں ہوگا کہ آپ غرق ہو جائیں؟ ہر یک دیر بدظنی پر مبنی نہیں ہو سکتی اور میں نے تو اشتہار بھی دے دیا تھا کہ ہر ایک مستعجل (عجلت پسند) اپنا روپیہ واپس لے سکتا ہے اور بہت سا روپیہ واپس بھی کر دیا (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ ص ۳۰) مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ میں ایک اور بھی پتے کی بات کہی۔ چنانچہ لکھا کہ ”جب مرزا صاحب نے دیکھا کہ تین سو موعودہ دلائل کا تو عالم خیال میں بھی کہیں وجود نہیں اور بقیہ حصوں کی طباعت ناممکن ہے اور اس روپیہ کا جو اس کے عوض میں لیا گیا ہے آسانی سے ہضم ہونا دشوار ہے تو الہامی صاحب نے کتاب کی تیسری اور چوتھی جلد سے الہام بازی کی خاک اڑانی شروع کر دی اور اپنے خریداروں اور معتقدوں کی توجہ اسلام کے عقلی دلائل کی طرف سے ہٹا کر اپنے الہامات کے تماشہ کی طرف منعطف فرما دی۔ (رسالہ اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۸‘ ص ۱۳- ۱۴)

فصل ۔ ۴ تین سو موعودہ دلائل

مرزا صاحب نے براہین کی قیمت وصول کرتے وقت کچھ وعدے کیے تھے۔ جن میں سے ایک یہ تھا کہ وہ اس کتاب میں حقانیت اسلام کے تین سو دلائل درج کریں گے۔ لیکن مرزا صاحب کتاب کے چاروں حصوں میں ایک دلیل بھی پوری نہ کر سکے۔ چنانچہ ان کے فرزند گرامی میاں بشیر احمد ایم اے ”سیرۃ المہدی میں لکھتے ہیں۔ تین سو دلائل جو آپ (مرزا غلام احمد) نے لکھے تھے ان میں سے صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی اور وہ بھی نامکمل طور پر (سیرۃ المہدی‘ جلد ۱‘ ص ۹۳) اس سے ظاہر ہے کہ مرزا صاحب نے تقدس کے بلند بانگ دعووں کے باوجود اپنے وعدے کا کوئی احساس نہ کیا حالانکہ وہ لکھے پڑھے آدمی تھے اور انہوں نے کم از کم سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ضرور پڑھا یا سنا ہوگا کہ جس شخص میں یہ چار خصلتیں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے“۔ جب امانت سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کرے‘ بات کرے تو جھوٹ بولے‘ وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے

صفحہ 129

اور کسی سے جھگڑے تو گالیاں دے۔ (بخاری و مسلم) باوجودیکہ قادیانی صاحب فن سخن سازی اور تاویل کاری کے امام تھے لیکن جب ان پر ہر طرف سے بدعہدی کے اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی تو بے چارے بغلیں جھانکنے لگے۔ لاکھ سر پٹکا لیکن کوئی تاویل سمجھ میں نہ آئی۔ آخر تیس سال کی سوچ بچار کے بعد جب انتقال سے تھوڑے دن پیشتر براہین کا حصہ پنجم مرتب کیا تو اس میں لکھا کہ اسلام کی سچائی ثابت کرنے کے لیے ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ کامل تعلیم کے لحاظ سے کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پھر دوسری قسم فتح کی جو اسلام میں پائی جاتی ہے جس میں کوئی مذہب اس کا شریک نہیں اس کی زندہ برکات اور معجزات ہیں۔ اس لیے ان دو قسم کی دلیلوں کے موجود ہونے کے بعد کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔ اور میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیقت اسلام کے لیے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل لکھنے کے لیے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔ (براہین‘ حصہ پنجم‘ ص ۳-۴) اہل انصاف غور کریں کہ اگر واقعی خدائے برتر نے مرزا صاحب کا دل تین سو دلائل کی تحریر و تسوید کی طرف سے پھیر دیا تھا تو یہ امر دریافت طلب ہے کہ اس ذات بے ہمتا نے ان کے دل کو لوگوں کی ہضم شدہ امانتیں واپس کرنے کی طرف کیوں مائل نہ کیا؟ جب ایسا نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ یہ سب نفس امارہ کے حیلے ہیں، جن کو دیانت و صداقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں۔

کیا اعلان طباعت سے پہلے کتاب مرتب ہو چکی تھی؟

ایک اہم سوال یہ ہے کہ مرزا صاحب نے براہین کا اعلان کرنے اور اس کا جواب دینے والے مخالفین اسلام کے لیے دس ہزار روپیہ کا انعام مشتہر کرنے سے پہلے کتاب کا کتنا مسودہ تیار کر لیا تھا؟ کیا اسی قدر مقالات مدون ہوئے تھے جو ایک ادھوری دلیل پر مشتمل تھے اور چار حصوں میں شائع کر دیئے گئے، یا تین سو موعودہ، یا کسی قدر کم دلائل کا سارا مسودہ تیار ہو چکا تھا؟ اس کے متعلق مرزا بشیر احمد سیرۃ المہدی میں لکھتے ہیں۔ ”جب ۱۸۷۹ء میں براہین کا اعلان کیا تو اس وقت تک اس کا حجم دو اڑھائی ہزار صفحہ تک پہنچ چکا تھا جن

صفحہ 130

میں اسلام کی صداقت پر تین سو دلائل لکھے تھے چنانچہ چار جلدیں شائع ہوئیں۔ مگر اصل کتاب کے صرف چند ورق درج ہوئے ہیں اور صرف ایک دلیل لکھی گئی ہے اور وہ بھی ادھوری۔ (سیرۃ المہدی' جلد اول' ص ۹۳) اور خود مرزا غلام احمد صاحب نے براہین کے دوسرے حصہ میں لکھا۔ یہ کتاب تین سو محکم اور قوی دلائل حقیقت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے۔ دیکھنے سے صداقت اس دین متین کی ہر ایک طالب حق پر ظاہر ہوگی بجز اس شخص کے کہ بالکل اندھا اور تعصب کی سخت تاریکی میں مبتلا ہو۔ (براہین' ص ۴۴۶) اور براہین کے دوسرے حصہ کے شروع میں "عرض ضروری بحالت مجبوری" کے زیر عنوان لکھا۔ "ہم نے صدہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ روشن تر دکھلایا گیا"۔ (ایضاً جلد ۲' ص ب) باپ اور بیٹا کے ان اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ اعلان کے وقت تین سو موعودہ دلائل کا مسودہ تیار تھا لیکن ہر دو بیانات سراپا غلط ہیں۔ چنانچہ فصل۔ ۴ میں مرزا صاحب کا بیان درج کیا جا چکا ہے کہ "میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیقت اسلام کے لیے تین سو دلیل لکھوں لیکن اس کے بعد خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا"۔ اصل یہ ہے جیسا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے رسالہ "اشاعۃ السنہ" میں لکھا تھا کہ مرزا صاحب نے یہ دیکھ کر کہ تین سو موعودہ دلائل کا تو عالم خیال میں بھی کہیں وجود نہیں اور بقیہ حصوں کی طباعت ناممکن ہے اور اس روپیہ کا جو اس کے عوض میں لیا گیا ہے آسانی سے ہضم ہونا دشوار ہے تو تیسری اور چوتھی جلد سے الہام بازی شروع کر دی۔ غرض اس کارروائی میں لوگ مرزا صاحب پر غلط بیانی' وعدہ خلافی اکل حرام' فریب دہی طرح طرح کے الزام عاید کر رہے ہیں۔

فصل۔ ۵ براہین کا لب و لہجہ

براہین کا لب و لہجہ ایسا خراب ہے کہ ممکن نہیں کہ کوئی ہندو یا عیسائی پڑھے اور مشتعل نہ ہو۔ وہی باتیں جو جارحانہ الفاظ اور مبارزانہ انداز میں لکھی تھیں' نرم لہجہ اور دل کش الفاظ میں بھی لکھی جا سکتی تھیں۔ مرزا صاحب نے مذہب کی آڑ لے کر اپنے تمام نفسانی مقاصد حاصل کر لیے لیکن مذہب اسلام کو ان سے کوئی فائدہ نہ پہنچا بلکہ انہوں نے

صفحہ 131

الٹا اصول دین‘ دینی معاشرت اور قومی وحدت و اتحاد کو بے حد نقصان پہنچایا۔

ہندوؤں اور مسلمانوں میں دائمی عناد کی تخم ریزی

مرزا صاحب نے ملت حنیفی کو یہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ان کی دریدہ دہنی نے اسلام اور اہل اسلام کے خلاف آریوں اور عیسائیوں کے دلوں میں عناد و منافرت کی مستقل تخم ریزی کردی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا کہ مرزا صاحب نے براہین کی ان جلدوں میں اور اپنے رسائل و اشتہارات میں ہندوؤں کو کوسنا اور ان کی بہو بیٹیوں کو گالیاں دینا شروع کیا۔ ”شحنہ حق“ کے صفحہ ۱۹ پر لکھا کہ ”تمہیں مجھ کو اپنی لڑکی کا رشتہ تو دینا نہیں جو میری جائیداد کی تحقیق کرتے پھرتے ہو“۔ سرمہ چشم آریہ میں آریہ لڑکیوں کا ذکر مکروہ الفاظ میں کیا۔ اور ان کے معبودوں کو برا بھلا کہا۔ اس کے علاوہ ہندوؤں کو اپنے الہاموں میں دھمکیاں دینی شروع کیں۔ یہ اسباب ہند کے کمال اشتعال اور مستقل عداوت کا ذریعہ بن گئے (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۸‘ ص ۱۳۔ ۱۴) براہین کی مندرجہ ذیل نظم میں گو صراحۃً مخاطب کا نام درج نہ کیا لیکن سیاق و سباق سے اس کا روئے سخن پنڈت دیانند جی کی طرف معلوم ہوتا ہے۔ ذرا پیغمبر قادیاں کی تہذیب ملاحظہ ہو ارشاد ہوتا ہے۔

تو خودی زن رانی ہمچوں زناں
ناقص ابن ناقص ابن نقصاں
خوب گر نزد تو زشت ہست و تباہ
پس چہ خوانم نام تو اے روسیاہ
کوریت صد پردہا برتو فگند
ایں تعصبہائے تو بیخت بکند
گر نماندے از وجود تو نشاں
نیک بودے زیں حیات چوں سگاں
زاغ گر زادے بجایت مادرت
نیک بود از فطرت بد گوہرت
صفحہ 132
زانکہ کذب و فسق و کفرت در سراست
دیں نجاست خواریت زاں بدتر است
تو ہلاکی اے شقی سرمدی
زانکہ از جان جاں سرکش شدی
لیک گر خواہی بیا بنگر زما
صد نشان صدق شان مصطفیٰ
مصطفیٰ مہر درخشاں خداست
برعدوش لعنت ارض و سما است
ایں نشان لعنت آمد کیں خساں
ماندہ اندر ظلمتے چوں شبپراں
نے دل صافی نہ عقلے راہ بیں
راندہ درگاہ رب العالمین
اے خدا بیخ خبیثانے بر آر
کز جفا با حق نمیدا رند کار

(براہین‘ ص ۵۲۹۔ ۵۳۳)

انبیاء کرام علیہم السلام کو پنڈت لیکھرام کی گالیاں

مرزا صاحب نے اعلان کیا تھا کہ جو غیر مسلم براہین کا جواب لکھے گا اس کو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ پنڈت لیکھرام نے تکذیب براہین کے نام سے اس کا جواب لکھا لیکن یہ جواب کیا تھا دشنام دہی اور بدگوئی کا ایک نہایت شرمناک مرقع تھا اور یقین ہے کہ جب سے انسان عالم وجود میں آیا کسی بدنہاد عدوئے حق نے خدا کے برگزیدہ نبیوں اور دوسرے مقربان بارگاہ احدیت کو اتنی گالیاں نہ دی ہوں گی جتنی کہ پنڈت لیکھرام نے اس کتاب میں دیں۔ اسی حقیقت کے پیش نظر مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی کو لکھنا پڑا کہ پنڈت لیکھرام نے جو ایک چلتا پرزا آدمی تھا نہایت بدگو اور زبان دراز آریہ تھا۔ اس نے سالہا سال تک دل کھول کر اسلام اور داعی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کو برا بھلا کہا اور

صفحہ 133

”براہین احمدیہ“ کے جواب میں چند کتابیں جو محض بدگوئی کا مجموعہ تھیں اور جن کا بہت سا حصہ متعصب عیسائیوں کی تحریروں سے انتخاب کیا تھا شائع کیں اور ساتھ ہی عام جلسوں میں ہادی اسلام علیہ التحیۃ والسلام کو برا کہہ کر مسلمانوں کی دل آزاری کرتا تھا۔ (اشاعۃ السنۃ، جلد ۱۸‘ ص ۱۴) اور یہی وجہ تھی کہ انجام کار پنڈت لیکھرام کو کسی مسلمان نے شہر خموشاں میں پہنچا دیا۔ لیکن نظر انصاف سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ پنڈت مذکور کو اسلام اور داعیان اسلام علیہم السلام کے خلاف اشتعال دلانے اور دریدہ دہنی پر مائل کرنے والے یہی حضرت مرزا غلام احمد تھے۔ چنانچہ پنڈت لیکھرام نے ۲۴ جون ۱۸۹۳ء کو مرزا غلام احمد کے نام اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ ”اگر براہین کا جواب لکھنا بے ادبی ہے تو اول مجرم آپ ہیں کیونکہ آپ نے قرآن کی رو سے کفر کیا۔ ہم کو اشتعال دلایا‘ جس کی وجہ سے ہم نے جواب لکھا۔ اگر آپ ہمیں برا طعنہ نہ کرتے تو پرمیشور جانتا ہے کہ ہمیں ہرگز دین اسلام کے خلاف قلم اٹھانے کا کبھی خیال نہ تھا۔ پس اگر خدانخواستہ غضب الٰہی نازل ہوگا تو اول قادیاں میں آپ کی بیٹھک پر برق غضب گرے گی۔ پھر اگر حفاظت خود اختیار جرم ہے تو ہم بھی مجرم سہی (ہفتہ وار اخبار ست دھرم پرچارک جالندھر‘ مورخہ ۲۸ جولائی ۱۸۹۷ء)

فصل-۶ مرزائی الہامات و مکاشفات کی

صحت سے علمائے وقت کا انکار

مرزا صاحب نے براہین کی اشاعت سے پہلے اس کا جو طوفان خیز پروپیگنڈا کیا اس سے لوگ سمجھنے لگے کہ خدا جانے وہ کیسی نادر الوجود چیز ہوگی جس کے عرصۂ شہود میں آنے سے پہلے ہی اتنا شور ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ آخر جب شائع ہوئی تو اس شعر کا مصداق تھی۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں جس کا جو چیرا تو اک قطرۂ خون نکلا

ایک جلد تو براہین ہی کے جلی خط اشتہار کی نظر ہوگئی تھی۔ باقی جلدوں میں مضمون شروع ہوئے تھے لیکن ان کی بنیاد بھی عموماً اپنے ہی من گھڑت الہامات و مکاشفات پر رکھی گئی

صفحہ 134

تھی۔ لیکن چونکہ براہین کے الہامات اصول و عقاید اسلامی کے صراحۃً خلاف نہ تھے بلکہ عموماً مہمل و مغلق کا حکم رکھتے تھے۔ بعض علماء بدستور حسن ظن کے سنہری جال میں پھنسے رہے اور براہین کے الہاموں کو نہ تو قبول کیا اور نہ مسترد بلکہ لغو و بے معنی سمجھ کر نظر انداز کر دیا اور کوئی تعرض نہ کیا۔ اور لطف یہ ہے کہ مرزا صاحب نے بڑی جسارت کے ساتھ قلیل التعداد علماء کے اسی عدم تعرض کو ”قبول کر لینے“ سے تعبیر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔ ”اور سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ میرے دعوائے مسیح موعود ہونے کی بنیاد انہی الہامات سے پڑی ہے اور انہی میں میرا نام خدا نے عیسیٰ رکھا اگر علماء کو خبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس پیچ میں پھنس گئے (اربعین مرتبہ مرزا غلام احمد صاحب، نمبر ۴، ص ۲۱) مگر یہ صریح غلط بیانی ہے مرزا صاحب کے الہامات کو علماء میں سے کسی نے قبول نہ کیا بلکہ ان کی بہت بڑی اکثریت صاف و صریح الفاظ میں ان کو مسترد کرتی رہی۔ خود مرزا صاحب کی تحریر سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ چنانچہ براہین میں لکھتے ہیں کہ ”شہاب الدین نامی ایک شخص ساکن موضع ”مٹھ غلام نبی“ نے آکر بیان کیا کہ مولوی غلام علی صاحب امرتسری اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اور مولوی عبدالعزیز صاحب اور بعض دوسرے مولوی صاحبان اس قسم کے الہام سے جو رسولوں کی وحی کے مشابہ ہے باصرار تمام انکار کر رہے ہیں بلکہ ان میں سے بعض مولوی صاحبان مجانین (دیوانوں) کے خیالات سے اس کو منسوب کرتے ہیں اور ان کی اس بارہ میں یہ حجت ہے کہ اگر یہ الہام حق اور صحیح ہیں، تو صحابہ کرامؓ اس کے پانے کے زیادہ مستحق تھے حالانکہ ان کا پانا مستحق نہیں“۔ (براہین احمدیہ، ص ۵۴۴)

بعض علماء ایسے بھی تھے، جن کی معاملہ فہمی اور فراست ایمانی نے قادیانی فتنہ کو براہین کی اشاعت کے ساتھ ہی بھانپ لیا تھا اور خطرہ ظاہر کیا تھا کہ یہ شخص کسی دن دعوائے نبوت کرے گا۔ چنانچہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کا بیان ہے کہ میں نے حافظ عبدالمنان مرحوم وزیر آبادی کو خود یہ کہتے سنا تھا کہ مجھے خوف ہے کہ کسی دن یہ شخص نبوت کا دعویٰ نہ کر بیٹھے۔ اسی طرح بعض لوگوں کا بیان ہے کہ مولوی غلام علی صاحب مرحوم امرتسری کو بھی مرزا صاحب کی طرف سے فتنہ انگیزی کا خدشہ تھا اور ان کا بھی خیال

صفحہ 135

تھا کہ یہ شخص ضرور نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ اسی طرح مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی محمد لدھیانوی اور لدھیانہ کے دوسرے علماء بھی مرزا صاحب سے سوء ظن رکھتے تھے۔ مولانا ثناء اللہ صاحب لکھتے ہیں ”ہمیں حیرت ہے کہ ان علماء کی فراست کس درجہ تیز تھی کہ انجام کار وہی ہوا‘ جو ان حضرات نے گمان کیا تھا“۔

(تاریخ مرزا‘ ص۹)

براہین بحیثیت کلام الٰہی

مرزا جی کے نزدیک ”براہین احمدیہ“ بھی (معاذ اللہ) کلام الٰہی تھا چنانچہ رسالہ ”دافع البلاء“ صفحہ ۹ پر لکھا کہ ”براہین احمدیہ“ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں آخری دنوں میں طاعون بھیجوں گا اور ازالہ کے صفحہ ۶۲۱ پر لکھا کہ خدائے تعالیٰ نے ”براہین احمدیہ“ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی“۔ اور ”اعجاز احمدی“ صفحہ ۷ پر لکھا کہ میں بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑے شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا۔ ان تحریروں سے ثابت ہوا کہ قادیانی صاحب کے نزدیک براہین بھی کلام الٰہی تھا لیکن جب ایک مرتبہ اعتراض ہوا کہ براہین میں تو خدائے برتر نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا دوبارہ دنیا میں تشریف لانا تسلیم کیا ہے‘ تو مرزا صاحب نے ازالہ صفحہ ۸۱ پر یہ لکھ کر براہین کے کلام الٰہی ہونے کی خود ہی قلعی کھول دی کہ میں نے براہین احمدیہ میں جو کچھ مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے کی بابت لکھا ہے وہ صرف مشہور عقیدے کے لحاظ سے لکھا ہے۔

فصل۔ ۷ براہین کا جواب

مرزا صاحب نے ”براہین احمدیہ“ کے ساتھ اس کا جواب لکھنے والے کے لیے دس ہزار روپیہ انعام کا جو اعلان شائع کیا اس میں لکھا تھا کہ اگر کوئی صاحب منکرین میں سے مشارکت اپنی کتاب کی فرقان مجید سے ان سب براہین اور دلائل میں جو ہم نے دربارہ حقانیت فرقان مجید اور صدق رسالت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی کتاب مقدس سے اخذ کر کے کی ہیں۔ اپنی الہامی کتاب میں سے ثابت کر دکھلائے یا اگر تعداد میں

صفحہ 136

ان کے برابر پیش نہ کر سکے تو نصف ان سے، یا ثلث ان سے، یا ربع ان سے، یا خمس ان سے نکال کر پیش کرے یا اگر کل پیش کرنے سے عاجز ہو تو ہمارے ہی دلائل کو نمبروار توڑ دے تو ان سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہیے تھا، ظہور میں آگیا میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے و حیلتے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دے دوں گا (براہین احمدیہ، ص ۷۷۔ ۴۶) آگے چل کر مرزا صاحب نے اس وعدۂ انعام کو جن کڑی شرطوں سے مشروط کر دیا ان کے مطالعہ سے صاف نظر آتا ہے کہ مرزا صاحب نے محض اپنے بچاؤ کے لیے پیچ در پیچ شرطیں لگا دیں ورنہ نہ کوئی معقول آدمی ایسی ناقابل عمل شرطیں پیش کرتا ہے اور نہ ان کو کوئی قبول کر سکتا ہے۔ براہین کے مضامین نے ہندوؤں اور دوسرے غیر مسلموں کو نعل در آتش کیا ہی تھا لیکن اس سے بھی زیادہ دس ہزار روپیہ کے انعامی اشتہار نے آگ پر تیل کا کام کیا۔ چنانچہ میاں بشیر احمد ابن مرزا غلام احمد صاحب کو اعتراف ہے کہ ”مخالفین“ اسلام کے کیمپ میں اس گولہ باری سے ایک ہلچل مچ گئی۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۸۶) البتہ مسلمان بدیں خیال مرزا صاحب کے بڑے گرویدہ ہوگئے کہ یہ کوئی بڑے محب ملت اور خادم اسلام ہیں ہر طبقہ کے مسلمان کے دل پر مرزا صاحب کی خدمت اسلام کا سکہ جم گیا اور لوگ نادیدہ عاشق زار اور مشتاق دیدار ہوئے۔

نہ تنہا عشق از دیدار خیزد بسا کیں دولت از گفتار خیزد

مذہب کے نام پر قمار بازی

خواجہ حسن نظامی دہلوی کے الفاظ میں جوئے کی شرکت کا یہ پہلا موقع تھا جو یورپ کی تقلید سے مرزا صاحب نے سیکھا تھا اور اس کو حیلہ کا لباس پہنا کر انعام نام دیا تھا۔ ورنہ حقیقت میں انعام کا یہ طریقہ ایک طرح کا شرطیہ جوّا تھا جس کی بازی مرزا صاحب نے مذہب کا نام لے کر لگائی اور پھر مرزائیوں میں اس کا اتنا رواج بڑھا کہ مرزا صاحب کے مقلد ہر موقع پر اس ہتھیار سے کام لینے لگے۔ یہاں تک کہ مرزا صاحب رحلت فرما گئے اور ان کے ایک مرید میر قاسم علی صاحب نے ایک سکھ ثالث کے سامنے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے بازی لگائی کہ اگر مولوی صاحب جیت گئے تو ”اتنی رقم قادیانی صاحب

صفحہ 137

دیں اور اگر میر صاحب جیت گئے تو اتنی ہی رقم مولوی صاحب کو ادا کرنی پڑے گی"۔ بدقسمتی سے میر قاسم علی میں مرزا صاحب جیسی ذو معنی حکمت عملی کی قوت نہ تھی جس کے سبب وہ ہار گئے اور سکھ ثالث نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ قادیاں والوں کو گود بھر کر روپوں کی ڈھیری حریفوں کے آگے رکھنی پڑی اور وہ جیب خالی کر کے گھر کو واپس آئے۔ ورنہ ہمیشہ انعام کے مرعوب کرنے والے الفاظ ہی کام کرتے تھے۔ اس ہار کے بعد کسی مرزائی نے بازی لگانے کی ہمت نہ کی۔ مرزا صاحب نے دس ہزار روپیہ انعام کا طریقہ اس وقت جاری کیا تھا جب کہ مسلمان اس ڈھنگ سے بالکل بے خبر تھے اس واسطے ان کو یہ جدید چیز بہت عزیز معلوم ہوئی۔ اس انعام نے مسلمانوں کے جذبات کو مسخر کر لیا۔ عامتہ المسلمین نے سمجھا کہ جس دعویٰ کی حقانیت میں دس ہزار روپیہ کی عظیم الشان رقم پیش کی جاتی ہے اس کے سچے ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے؟ اور یہی وہ حکمت علم النفس تھی جس کی بنا پر مرزا صاحب نے یہ حربہ ایجاد کیا تھا اور جس کو میر قاسم علی کی شکست نے ابدی نیند سلا دیا۔

براہین کا جواب اور جواب الجواب

براہین کے جواب میں پنڈت لیکھرام نے تکذیب براہین نام ایک کتاب لکھی۔ لیکن مرزا صاحب نے ان کو حسب وعدہ کوئی دس ہزار روپیہ نہ دیا۔ مگر ممکن ہے کہ پنڈت جی نے اس کا مطالبہ ہی نہ کیا ہو۔ ۵؍ اپریل ۱۸۸۶ء کو پنڈت جی نے ایک اشتہار زیر عنوان ”کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے“ شفیق ہند پریس میں چھپوا کر شائع کیا۔ اس اشتہار میں لکھا تھا۔ ”ناظرین اس امر سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ ایک شخص مرزا غلام احمد نام ساکن قادیاں کو یہ دھن سمائی ہے کہ مجھے الہام ہوتے ہیں میں مستجاب الدعوات ہوں۔ مجھے خوارق عادات کی قدرت ہے اور رب العرش مجھے اسرار غیبیہ اور نکات مخفیہ سے ہمیشہ آگاہ کرتا ہے اور نظام عالم کے سبھی احکام میرے ذریعہ سے صادر ہوتے ہیں۔ اپنا رتبہ مسیح اسرائیلی سے کم نہیں جانتے اور مسلمانان حال اور نیکوکاران زمانہ میں سے کسی کو اپنا ہمسر نہیں سمجھتے۔ اول انہوں نے باوجود قرض دار ہونے کے دعویٰ کیا کہ جو کوئی میری کتاب براہین کا جواب دے اس کو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ مگر یقینی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آٹھ نو

صفحہ 138

سال گزر جانے کے باوجود مرزا صاحب نے اب تک پوری کتاب تصنیف و طبع نہیں فرمائی۔ مگر ہاں دام تزویر کے ذریعہ سے دس بارہ ہزار روپیہ مسلمانوں سے کما لیا۔ جس قدر براہین چھپی ہے، اس کا جواب تکذیب براہین لکھا گیا اور اکتوبر ۱۸۸۴ء میں ان کو اس جواب کے سننے کے لیے گورداسپور بلایا گیا لیکن انہوں نے آنے سے انکار کیا۔ (ضمیمہ تکذیب براہین، ص ۳۳۱) جب براہین احمدیہ کا جواب تکذیب براہین شائع ہوا تو مرزائی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ حکیم مولوی نورالدین بھیروی اس وقت تک جموں میں تھے۔ مرزا صاحب نے ان سے درخواست کی کہ تکذیب کا جواب لکھیں۔ انہوں نے ”تصدیق براہین“ کے نام سے اس کی تردید لکھی۔ گو یہ کتاب تکذیب کے صرف پہلے سو صفحہ کا رد ہے اور باقی دو ثلث کتاب کے جواب سے اغماض و تساہل برتا ہے لیکن جس قدر لکھا ہے قابل تحسین ہے۔ پنڈت لیکھرام ایک نہایت فحش گو، بدلگام، منہ پھٹ اور اکھڑ آدمی تھا۔ اس شخص نے ”تکذیب براہین“ میں خدا کے برگزیدہ نبیوں خصوصاً حضرت مفخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضور کے صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہارؓ کو وہ وہ گالیاں دی ہیں اور قرآن پاک کی اس درجہ توہین کی ہے کہ جس سے انسانی شرف و مجد پناہ مانگتا ہے۔ اور یقین ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی پنڈت لیکھرام سے بڑھ کر کسی دریدہ دہن نے خدا کے مقبول بندوں کے خلاف دشنام دہی کی اتنی غلاظت نہ اچھالی ہوگی جس کا نمونہ لیکھرام نے پیش کیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں حکیم نورالدین صاحب نے کتاب ”تصدیق براہین“ نہایت مہذب پیرایہ میں لکھی۔ ساری کتاب میں شاید ایک لفظ بھی ایسا نہ مل سکے گا جس پر کوئی حرف گیری کی جاسکے۔ یا اسے خلاف تہذیب کہہ سکیں۔ یا اس سے کسی کی دل آزاری مقصور ہو۔ اور شاید ”تصدیق براہین“ کے شریفانہ طرز بیان ہی کا اثر تھا کہ پنڈت لیکھرام کے لب و لہجہ میں انجام کار وہ اوباش پن نہ رہا جس کا اس نے تکذیب براہین میں مظاہرہ کیا تھا۔ تکذیب براہین کا دوسرا رد مولوی ابورحمت حسن میرٹھی نے لکھا۔ اس کتاب کا نام ”تہذیب المکذبین“ ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ میں نے ۱۹۰۹ء میں پہلی مرتبہ جو یہ کتاب دیکھی تو وہ اس کا تیسرا ایڈیشن تھا۔ حکیم نورالدین صاحب نے تصدیق براہین میں پنڈت لیکھرام کے صرف الزاموں اور بہتانوں کو اٹھایا ہے لیکن مولوی ابو رحمت چونکہ سنسکرت دان اور ویدوں کے بڑے فاضل بھی تھے انہوں نے تحقیقی

صفحہ 139

اور الزامی ہر قسم کے جواب دیئے ہیں۔ اور ویدک دھرم کی حقیقت خوب آشکارا کی ہے۔

فصل - ۸ ۲۳ سالہ وعدوں کے بعد پانچویں حصہ کی اشاعت

حسب بیان صاحبزادہ میاں بشیر احمد ان کے والد مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۷۸ء میں براہین کی تیاریوں میں مصروف ہوئے۔ ۱۸۷۹ء میں اس کا مسودہ شروع کیا۔ ۱۸۸۰ء میں پہلا اور دوسرا حصہ شائع کیا (جن میں سے پہلا حصہ ایک اشتہار کو قرار دے لیا) ۱۸۸۲ء میں تیسرا اور ۱۸۸۴ء میں چوتھا حصہ شائع کیا (سیرۃ المہدی' جلد ۲' ص ۱۷۱) اس رفتار کے بموجب براہین کا پانچواں حصہ ۱۸۸۶ء تک شائع ہو جانا چاہیے تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ چوتھا حصہ شائع کرنے اور مسلمانوں سے دس ہزار روپیہ سے زیادہ رقم وصول کر لینے کے بعد مرزا صاحب نے اپنے تئیں براہین کی طرف سے بالکل سبکدوش قرار دے لیا۔ لیکن جب ۱۸۸۷ء میں کتاب ”شحنہ حق“ شائع کی تو اس میں حصہ پنجم کے جلد شائع کرنے کا وعدہ ان الفاظ میں درج تھا۔ ”پنڈت لیکھرام نے ہماری کتاب ”براہین احمدیہ“ کے رد میں چند اوراق چھپوائے ہیں۔ اس کتاب کا نام ”تکذیب براہین احمدیہ“ رکھا ہے۔ ہمیں ہرگز امید نہیں کہ کوئی تمیزدار ہندو اس کتاب کو پڑھ کر یہ رائے ظاہر کر سکے کہ اس کے مؤلف کو عقل اور فہم سے کچھ حصہ ملا ہے یا تہذیب اور فراست سے اس کی فطرت کو کچھ تعلق ہے۔ ہم عنقریب گند اور افتراء اس جہل مجسم کا اپنی مبسوط کتاب ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم میں ظاہر کریں گے۔ (شحنہ حق' مولفہ مرزا غلام احمد' ص ۹۹) لیکن مرزا صاحب نے اس وعدہ سے بھی وہی بے التفاتی کا سلوک کیا جو اپنے دوسرے وعدوں سے فرمایا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کا آفتاب حیات لب بام آ پہنچا اور کلنک کا ٹیکا دور کرنے کے لیے جو تئیس یا چوبیس سال سے لگا چلا آرہا تھا حصہ پنجم کو معرض تسوید میں لائے۔ اور شاید یہ مرزا صاحب کی سب سے آخری تالیف تھی جسے ان کی وفات کے چار ماہ بعد اکتوبر ۱۹۰۸ء میں شائع کیا گیا۔ لیکن افسوس ہے کہ مرزا صاحب نے براہین کے حصہ پنجم میں بھی ان زخموں کا کوئی مرہم پیش نہ کیا جو پنڈت لیکھرام نے انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اور قرآن پاک کی توہین کر کے مسلمانوں کے دلوں پر لگائے تھے بلکہ اس کی جگہ اپنے ہی خانہ ساز تقدس کا نغمہ چھیڑ دیا ۔ پہلے باب کا عنوان یہ رکھا ”معجزہ کی اصل اور ضرورت کے بیان

صفحہ 140

میں" اس میں معجزہ کو مذہب کا امتیازی نشان قرار دیا، لیکن آگے چل کر اس اصول کو اسلام کی صداقت کے لیے استعمال نہ کیا بلکہ اپنی سچائی کی بنیاد قرار دے کر دوسرے باب میں اپنے مسیح موعود ہونے کی عمارت کھڑی کر دی اور اس کی تائید میں پیشین گوئیوں کے انبار لگا دیئے۔

پچاس جلدوں کا وعدہ پانچ سے پورا ہو جانے کی مضحکہ خیز منطق

مرزا صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ براہین احمدیہ پچاس حصوں (یا جلدوں) میں ضبط تحریر میں آئے گی۔ لیکن جب ۲۳ یا ۲۴ سال کے خواب نوشیں کے بعد اپنی زندگی کے آخری ایام میں پانچواں حصہ تالیف کیا تو اس میں لکھا "پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لیے پانچوں حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا (دیباچہ براہین، حصہ پنجم، ص ۷) اس شاعرانہ خیال آفرینی کے متعلق التماس ہے کہ اس قسم کی طفل تسلیاں اور مہمل نگاریاں مرزا صاحب کے ماؤف الدماغ اور فریب خوردہ مرید تو قبول کر سکتے ہیں لیکن دنیا کا کوئی دوسرا صحیح العقل انسان ان سے مطمئن نہیں ہو سکتا۔ اگر پچاس کا وعدہ پانچ سے پورا ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر کوئی شخص رمضان کے تین روزے رکھ کر باقی روزے ترک کر دے اور کہنے لگے کہ تیس اور تین کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے اس لیے تیس روزوں کا فریضہ خداوندی ادا ہو گیا تو ارباب قادیاں اپنے مرزائی اصول کے بموجب اس کی تصدیق نہ کریں یا اگر مرزا صاحب کے ذمہ کسی کے پچاس روپے قرض تھے تو وہ پانچ روپے دے کر قرض خواہ کو اس قسم کی حیلہ گرانہ منطق سے کبھی مطمئن نہیں کر سکتے تھے کہ پچاس اور پانچ میں ایک ہی نقطہ کا فرق ہے۔ اس لیے سارا قرضہ ادا ہو گیا"۔ بہرحال مرزا غلام احمد صاحب مسلمانوں کا جو ہزار ہا روپیہ کھا گئے اس کے متعلق یوم الحساب کو ان سے یقیناً سخت باز پرس ہو گی۔ اور رب العالمین کی بارگاہ عالی میں پچاس کی جگہ پانچ حصوں سے وعدہ پورا کرنے کی جسارت کا جو انجام ہو سکتا ہے وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں۔

صفحہ 141

باب ۲۰

دعوائے مجددیت

حدیث بعثت مجددین

بعثت مجددین کے متعلق لاہوری مرزائی جس روایت کی بناء پر اپنے الحاد و خودسری کی عمارت کھڑی کرتے ہیں یہ ہے۔

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ عز وجل یبعث لھذہ الامۃ علی راس کل مائۃ من یجدد لھا دینھا (رواہ ابو داؤد)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ حق تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے سر پر ایسے لوگوں کو بھیجتا رہے گا جو دین کی تجدید کرتے رہیں گے۔

قادیاں کے الہامی صاحب لکھتے ہیں کہ اس حدیث کو تمام اکابر اہل سنت مانتے چلے آئے ہیں (رسالہ اربعین مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، نمبر ۴، ص ۳۰) لیکن یاد رہے کہ یہ حدیث مرزائی اصول کے بموجب صحیح نہیں ہے کیونکہ اس روایت کا سارا مدار حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر ہے اور حضرت ابو ہریرہؓ مرزا کے نزدیک قابل اعتماد نہ تھے چنانچہ مرزا نے ان کی شان میں بدیں الفاظ دریدہ دہنی کی۔ ”ابو ہریرہ غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا (اعجاز احمدی، ص ۱۸) اس سے قطع نظر قادیانی صاحب کے نزدیک جس حدیث کو امام بخاری روایت نہ کریں وہ ضعیف ہوتی ہے۔ چنانچہ ازالہ میں حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے دمشق میں نازل ہونے کی حدیث کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”یہ وہ حدیث ہے جو صحیح مسلم میں امام مسلم نے لکھی ہے جس کو ضعیف سمجھ کر رئیس المحدثین امام محمد اسمعیل بخاری نے چھوڑ دیا ہے“۔ (ازالہ اوہام، ص ۹۳) لیکن بعثت مجددین کی حدیث کو جو اوپر درج ہوئی نہ امام بخاری نے روایت کیا اور نہ مسلم نے بلکہ صحاح ستہ میں سے ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے بھی بخاری اور مسلم کی طرح اس کو چھوڑ دیا ہے۔ پس مرزائی اصول کے بموجب یہ حدیث تو انتہا درجہ کی ضعیف ہے۔ جس سے استدلال کرنا کسی طرح صحیح نہیں سمجھا جا سکتا۔ اور اگر اس حدیث کو صحیح قرار دیا جائے تو پھر یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ ہر سو

صفحہ 142

سال کے بعد ایک ہی مجدد آسکتا ہے یا زیادہ؟ علامہ علی قاریؒ بعثت مجددین کی حدیث کے متعلق لکھتے ہیں کہ مجدد سے ایک شخص نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کی جماعت مراد ہے جن میں سے ہر ایک اپنے اپنے مقام پر علوم شرعیہ میں سے کسی ایک کی یا متعدد علوم کی جو اس سے بن پڑے تقریراً یا تحریراً اشاعت کرے“۔ (مرقاۃ شرح مشکوۃ، جلد اول، ص ۲۴۸) مرزائی کہا کرتے ہیں کہ اس حدیث میں من (جو) کا جو لفظ آیا ہے وہ واحد ہے اور یجدد کا صیغہ بھی واحد ہے اس لیے ہر صدی پر ایک ہی مجدد آسکتا ہے۔ مگر یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ من کا استعمال مفرد کی طرح جمع کے لیے بھی آتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے ومن الناس من يقول امنا بالله و باليوم الاخر وما هم بمومنين (بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور قیامت پر ایمان لائے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں) اور ترمذی، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے قنوت وتر میں پڑھنے کی جو دعا حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ سے روایت کی ہے اس کے ابتدائی کلمات میں بھی لفظ من جمع کے لیے مستعمل ہوا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو اللهم اهدني فيمن هديت و عافني فيمن عافيت و تولني في من توليت (الٰہی مجھے ان لوگوں کے زمرہ میں شامل کر کے ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت دی اور ان لوگوں میں رکھ کر عافیت دے جنہیں تو نے عافیت بخشی اور ان لوگوں میں میری کارسازی فرما جن کی تو نے کارسازی فرمائی (مشکوۃ المصابیح باب الوتر)

پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام نے مجددین امت کی کوئی خاص امتیازی علامت بیان نہیں فرمائی جس سے وہ دوسروں سے ممیز ہو سکیں۔ بلکہ احیاء سنت اور دینی خدمات ہی کے لحاظ سے ان کی شناخت ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر زمانہ اور ہر اسلامی سرزمین میں علمائے حق کی کوئی نہ کوئی جماعت ایسی موجود رہتی ہے جو بدعات و محدثات کو دین حنیف سے الگ کرکے اصلاح و تجدید کا فرض ادا کرتی ہے۔ گو یہ تمام علمائے حق مجدد ہوتے ہیں لیکن صدی کے اول و آخر میں ان نفوس قدسیہ کا فیضان ہدایت زیادہ وسعت اختیار کر لیتا ہے تاکہ دزدان قافلہ ایمانی نے گزشتہ صدی کے اندر دین حنیف میں جس قدر خرابیاں پیدا کر دی ہوں ان کی اصلاح و تجدید ہو جائے۔

دعوائے مجددیت کے لیے کلانوری کی ترغیب

صفحہ 143

چونکہ مرزا صاحب نے براہین میں مخالفین ملت کے مقابلہ میں اسلام کی تائید کی تھی۔ مسلمانوں نے انہیں خادم اسلام سمجھ کر حوصلہ سے زیادہ مالی مدد دی۔ ان دنوں الہام اور استجابت دعا کے دعوؤں کے صدقہ سے رجوعات بھی ہونے لگا تھا اس لیے یہ دیکھ کر کہ مالی فتوحات اور رجوعات خلق کا باغ آرزو سرسبز ہو رہا ہے اور دیرینہ مقاصد کا تیر نشانہ پر لگ چکا ہے مرزا صاحب کے دل میں مقتدائے کل بننے کا سودا سمایا اور سوچنے لگے کہ شاید کامرانی سے کیونکر ہمکنار ہو سکتے ہیں؟ لالہ ملاومل قادیانی اور شرمپت رائے قادیانی جن سے مرزا صاحب کی بڑی دوستی تھی (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۲۰۵) بیان کرتے ہیں کہ حکیم محمد شریف کلانوری حال مقیم امرتسر نے جو مرزا صاحب کے یار غار تھے اور مرزا صاحب اپنے قیام امرتسر کے ایام میں انہی کے پاس ٹھہرا کرتے تھے (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵ نمبر ۳، ص ۶۷) مرزا صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ مجددیت کا دعویٰ کر دیں۔ کیونکہ اس زمانہ کے لیے بھی کسی مجدد کی ضرورت ہے (ضمیمہ تکذیب براہین، ص ۳۳۵) چنانچہ مرزا جی نے مجددیت کا دعویٰ کر کے تجدید کی آڑ میں دین حنیف پر الحاد و زندقہ کا بدنما روغن ملنا شروع کر دیا۔ اب مرزا صاحب ہر طرف اپنی مجددیت کا ڈھنڈورا پیٹنے اور اسی انداز پر پروپیگنڈا کرنے لگے۔ جس طرح اس سے پیشتر اپنی کتاب براہین کا کر چکے تھے۔ بیرونی لوگوں کے جتنے پتے میسر آسکے انہیں خطوط بھجوائے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں رجسٹری چٹھیاں روزانہ گئیں۔ دول یورپ و امریکہ، ایشیاء و افریقہ کے تمام تاجداروں اور ان کے وزراء عمال حکومت مدبروں، مصنفوں، نوابوں، راجاؤں اور دنیا کے تمام مذہبی پیشواؤں کے پاس حسب ضرورت انگریزی یا اردو اشتہارات بھجوائے۔ اس غرض کے لیے سخت کدو کاوش سے دنیا کے ممتاز ترین لوگوں کے پتے حاصل کیے۔ اور حتی الامکان دنیا کا کوئی ایسا مشہور و معروف آدمی نہ تھا جو کسی قسم کی کوئی دینی یا دنیوی اہمیت رکھتا ہو اور اسے اشتہار نہ بھیجا گیا ہو (سیرۃ المہدی، جلد ۲، ص ۱۴) لیکن حرمان نصیبی کا کمال دیکھو کہ کسی مکتوب الیہ نے مرزا جی کو قابل خطاب نہ سمجھا اور ایک متنفس بھی ان کی دعوت سے متاثر ہو کر حلقہ اسلام میں داخل نہ ہوا۔

۲۰ ہزار دعوتی اشتہارات کی تقسیم

صفحہ 144

سچ اور جھوٹ میں فرق دیکھو کہ حضور سرور کون و مکاں علیہ التحیۃ والسلام نے کلہم چھ یا سات فرماں رواؤں کے نام مکتوبات گرامی روانہ فرمائے تھے ایک (کسریٰ) کے سوا ظاہراً یا باطناً سب شرف ایمان و تسلیم سے مشرف ہوئے اور انہوں نے حضورؐ کی خدمت اقدس میں ہدایا روانہ کیے تھے۔ مرزا جی نے بیس ہزار دعوتی اشتہار بھیج کر لوگوں کو اسلام کی طرف بلایا لیکن نہ تو کوئی غیر مسلم حلقہ اسلام میں داخل ہوا اور نہ کوئی کم از کم مرزا صاحب کی مجددیت ہی پر ایمان لایا۔ مرزا جی نے اپنی تجدید کا جو اعلان بیس ہزار کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کرایا یا ڈاک میں بھجوایا اس کا خلاصہ یہ تھا۔ ”کتاب براہین احمدیہ“ جس کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے مولف نے ملہم و مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین تالیف کیا ہے جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ہے جس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں منجانب اللہ اور سچا مذہب فقط اسلام ہے اور دوسرے تمام مذہب ایسے بدیہی البطلان ہیں کہ عقلی تحقیقات سے ان کے اصول صحیح اور درست ثابت نہیں ہوتے بلکہ ان کی پابندی سے انسان نہایت درجہ کا کور باطن اور سیاہ دل ہو جاتا ہے۔ اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے۔ اول تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت اور قدر و منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپیہ دینے کا اشتہار دے رکھا ہے۔ اور مصنف براہین کو اس بات کا بھی علم دیا گیا ہے کہ وہ مجدد وقت ہے اور روحانی طور پر اس کے کمالات مسیح بن مریم کے کمالات سے مشابہ ہیں۔ یہ سب ثبوت کتاب براہین احمدیہ کے پڑھنے سے کہ جو منجملہ تین سو جزو کے قریب ۳۷ جزو کے چھپ چکی ہے ظاہر ہوتے ہیں (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص

۴۱-۴۲)

باب ۲۱

حکیم نورالدین کی ملاقات کے لیے جموں کا سفر

حکیم نورالدین جو مرزا غلام احمد صاحب کے انتقال کے بعد ان کے جانشین اول منتخب

صفحہ 145

ہوئے تھے قصبہ بھیرہ ضلع شاہ پور (سرگودھا) کے رہنے والے تھے۔ علوم عربیہ کی تحصیل ریاست رام پور میں کی تھی۔ وہاں سے فراغت پا کر لکھنؤ گئے اور حکیم علی حسن کے پاس رہ کر طب کی تکمیل کی، کچھ عرصہ مکہ معظمہ میں مولانا رحمۃ اللہ مہاجر کی خدمت میں اور مدینہ منورہ میں مولانا شاہ عبدالغنی صاحب نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ کے پاس رہے۔

مذہبی قلابازیاں اور نیچریت کا قادیانی سرٹیفکیٹ

لیکن ایسے ایسے اکابر کی صحبت اٹھانے کے باوجود طبیعت آزادی کی طرف مائل تھی اس لیے حنفیت پر قائم نہ رہے۔ پہلے اہل حدیث بنے۔ لیکن اس سے بھی جلد سیر ہو گئے۔ ان دنوں ہندوستان کی فضاء نیچریت کے ہنگاموں سے گونج رہی تھی۔ چاہا کہ اس گلشن آزادی کی بھی ذرا سیر کر دیکھیں سرسید احمد خاں کی کتابوں اور رسالوں کا مطالعہ شروع کیا۔ یہ مسلک پسند آگیا اور اسی کی صف میں جلوہ گری شروع کر دی ان دنوں مہاراجہ رنبیر سنگھ جو ایک علم دوست حکمران تھے ریاست متحدہ جموں و کشمیر کی گدی پر متمکن تھے۔ انہوں نے حکیم نور الدین کے طبی کمالات کا شہرہ سنا تو انہیں سو روپیہ ماہوار پر سلک اطباء میں منسلک کر لیا۔ ہفتہ وار اخبار ”رفیق ہند“ نے جو مولوی محرم علی چشتی کے زیر ادارت لاہور سے نکلتا تھا ۱۹؍ اپریل ۱۸۸۴ء کی اشاعت میں لکھا تھا کہ حکیم مولوی نور الدین سات آٹھ سال سے سرکار کشمیر کے درباریوں میں حکیم اول کے عہدہ پر ممتاز ہیں”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکیم صاحب ۱۸۷۰ء کے قریب زمانہ میں وہاں ملازم ہوئے تھے۔ حکیم نور الدین سرسید احمد خاں کے بڑے راسخ الاعتقاد مرید تھے۔ ان کو روپیہ بھیجا کرتے اور ان کی تائید میں مضامین شائع کر کے قلمی معاونت کرتے تھے۔ جن دنوں مرزا غلام احمد صاحب سے حکیم نور الدین کی ملاقات ہوئی ہے ان ایام میں حکیم صاحب پکے نیچری تھے۔ چنانچہ صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ابن مرزا غلام احمد صاحب ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں”۔ خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہونے سے پہلے سرسید خاں مرحوم کے خیالات اور ان کے طریقہ استدلال کی طرف مائل تھے اس لیے بسا اوقات معجزات اور اس قسم کے روحانی تصرفات کی تاویل فرما دیا کرتے تھے اور ان کی تفسیر میں اس میلان کی جھلک احمدیت کے ابتدائی ایام میں بھی نظر آتی ہے۔

صفحہ 146

(سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ صفحہ ۵۷)

قرآن عزیز میں ترمیم و تبدیل کے فاسد ارادے

حکیم نورالدین صاحب بزعم خود مسلمانوں کی ترقی کے بڑے متمنی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب تک مذہب کے بندھن ڈھیلے نہ ہوں گے مسلمان شائد ترقی و عروج سے ہمکنار نہ ہوں گے۔ چنانچہ وہ اکثر اس کے ذرائع پر غور فرمایا کرتے تھے۔ خاکسار راقم الحروف نے میاں عزیز الدین بھٹی مرحوم ساکن محلہ شیخ لال وزیر آباد سے جو ایک صالح و متقی بزرگ تھے۔ ۱۹۱۰ء میں سنا تھا کہ جن ایام میں ہندوستان کے تعلیم یافتہ حلقوں میں مذہب اور نیچریت کی باہمی آویزش برپا تھی حکیم نورالدین بھیروی طبیب خاص مہاراجہ جموں و کشمیر نے سرسید احمد خاں کو لکھ بھیجا کہ رائج الوقت قرآن عرب کے جاہل بدوؤں کی اصلاح کے لیے نازل ہوا تھا۔ اب زمانہ تیرہ سو سال کی مدت مدید میں ترقی و عروج کی ہزاروں منزلیں طے کر گیا ہے۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ قرآن میں عہد حاضر کی ضروریات کے مطابق اصلاح و ترمیم کر لی جائے۔ ”سرسید احمد خاں نے اس کے جواب میں لکھا کہ میرا اصل عقیدہ تو یہ ہے کہ پائے بسم اللہ سے لے کر والناس کے سین تک جو کچھ مابین الدفتین ہے وہ سب کلام الہی ہے۔ اس میں سرمو اسقاط یا اضافہ کی گنجائش نہیں اور ناسوتی و ظلماتی بشر کی کیا بساط ہے کہ کلام الہی میں اصلاح و ترمیم کا حوصلہ کرے۔ اس کے بعد لکھا حکیم صاحب! آپ کو میرے ان ملحدانہ مقالات کا مقصد سمجھنے میں دھوکا ہوا ہے جو وقتاً فوقتاً علی گڑھ سے شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میرے پیش نظر ہے۔ اور میں ہر اس چیز کی جو اس خاص مقصد کی تکمیل میں مزاحم ہو مخالفت کرتا ہوں۔ اس وقت ضرورت ہے کہ ہم مسلمانوں کی عنان توجہ تمام دوسرے معاملات کی طرف سے ہٹا کر علوم و فنون کی طرف پھیر دیں۔ چونکہ ہمارے علماء انگریزی تعلیم اور مغربی تہذیب و تمدن کے خلاف ہیں‘ میں ان کے مسلم الثبوت اسلامی معتقدات کی مخالفت کر کے ”بمرگش بگیر تا بہ تب راضی شود“ کے اصول پر عمل کر رہا ہوں اور مقتضائے زمانہ کا لحاظ کرتے ہوئے اس کوشش میں منہمک ہوں کہ قوم پر سے عموماً اور ابنائے تعلیم جدید پر سے خصوصاً علماء کا ہمہ گیر اثر زائل ہو جائے“۔ الغرض حکیم نورالدین اپنے زندیقانہ عزائم میں ناکام رہے۔ لیکن

صفحہ 147

ظاہر ہے کہ سرسید احمد خاں نے مرض مزعوم کا جو انوکھا علاج تجویز کیا وہ بھی بے شمار دوسرے امراض مہلکہ کی تولید کا باعث بن گیا۔ ۱۹۱۱ء سے پہلے جبکہ جنگ طرابلس شروع ہوئی سرسید کے مساعی نامشکور کے صدقہ سے ہندوستان میں بہت کم انگریزی تعلیم یافتہ افراد ایسے پائے جاتے تھے جو عقاید کے لحاظ سے مسلمان کہلانے کے مستحق ہوں۔ میاں عزیز الدین مرحوم کا بیان ہے کہ جب سرسید سے حکیم نورالدین کی خط و کتابت کی خبر مرزا غلام احمد نے سنی تو ان کا ساغر دل خوشی سے چھلک گیا اور یقین ہو گیا کہ حکیم صاحب سے رابطہ مودت و اتحاد کا استوار کرنا تکمیل مقاصد میں بڑا معاون ہو گا۔ جھٹ رخت سفر باندھ کر جموں کا راستہ لیا۔

وزیر آباد کا قیام

میاں عزیزالدین مرحوم نے بتایا کہ مرزا غلام احمد جموں جاتے ہوئے تین چار دن تک ہمارے محلہ شیخ لال کے قریب پیر حیدر شاہ کے مکان پر قیام فرما رہے، جو باوجود ”اہل حدیث“ ہونے کے پیری مریدی کرتے تھے۔ مرزا غلام احمد ان دنوں اہل حدیث کی جماعت میں صوفی صفا کیش کی حیثیت سے یاد کئے جاتے تھے۔ ہم بھی انہیں دیکھنے گئے۔ اس وقت تک ان کا دامن بظاہر ہر قسم کے الحاد و زندقہ کے داغ سے پاک تھا۔ مرزا صاحب جموں جا کر دس بارہ روز تک حکیم صاحب کے پاس رہے۔ حکیم نورالدین ان دنوں شیخ فتح محمد رئیس جموں کے کرایہ دار تھے۔ یہ ایک وسیع مکان تھا۔ یہاں مختلف مسائل پر گفتگو رہی۔ آخر آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا اور مرزا صاحب مراجعت فرما ہوئے۔ ”جب وزیر آباد میں دوبارہ نزول فرمایا تو ہم مکرر مرزا صاحب کو دیکھنے گئے لیکن اب کی مرتبہ وہ صوفی منش غلام احمد نہیں تھے۔ جو اس سے پیشتر سنے جاتے تھے بلکہ اب تو بڑی بڑی شیخیوں اور لن ترانیوں کا ایک پرغرور مجسمہ دکھائی دیتے تھے“۔ منشی الہی بخش نے اپنی کتاب ”عصائے موسیٰ“ میں لکھا ہے کہ مرزا صاحب اور حکیم نورالدین صاحب بالکل ہم مذاق تھے۔ حکیم صاحب کے دماغ میں مرزا صاحب کی ملاقات سے پیشتر ہی باتباع سرسید احمد خاں بالکلیہ حضرت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے مارنے اور ان کی قبر کھودنے کا خبط موجود تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مرزائیت کی ساری چھیڑ خانی انہوں نے ہی چھیڑی تھی اور مرزا صاحب نے ان کو اپنے مفید

صفحہ 148

مطلب سمجھ کر اس کی تکمیل کا بیڑا اٹھا لیا تھا۔ کند ہم جنس باہم جنس پرواز (عصائے موسیٰ‘

ص ۳۷۶)

باب ۲۲

دوسری شادی

جب مرزا صاحب کی کتاب ”براہین احمدیہ“ شائع ہو کر منظر عام پر آئی تو جوشیلے مسلم نوجوان ایک دینی خدمت سمجھ کر اس کی فروخت میں سرگرم عمل ہوئے۔ ہر شہر میں اس کی فروخت کا خاص اہتمام کیا گیا۔ شیخ غلام احمد مالک اخبار وکیل امرتسر نے یہ انتظام کیا کہ ہال بازار میں ”براہین احمدیہ“ کا ایک خاص دفتر قائم کیا اور نہایت شاندار پروپیگنڈا کر کے باوجود گراں قیمت ہونے کے اس کو تھوڑے ہی روز میں بہت بڑی تعداد میں فروخت کرا دیا۔ پنجاب کے ہر شہر اور قصبہ میں قریب قریب یہی حالت تھی۔ قادیان میں روپیہ کی ریل پیل دیکھ کر مرزا صاحب کی باچھیں کھل گئیں اور دیرینہ نخل آرزو بارور ہوا۔ مال و زر کی فراوانی اور نئی شادی دو لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔ اس لیے مرزا صاحب کو بھی ادھیڑ عمر اور جوان اولاد کی موجودگی میں دوسری شادی کا شوق چرایا۔ چنانچہ اسی سال یعنی ۱۸۸۴ء میں جبکہ براہین کا چوتھا حصہ شائع ہوا ہے دہلی میں نصرت بیگم نام ایک ناکتخدا لڑکی کو اپنے حبالہ نکاح میں لائے۔ کتب طب میں حاملہ کو شدت سے اس کی ممانعت کی گئی ہے‘ کہ ایام حمل سے لے کر بچہ کے دودھ چھڑانے یعنی قریباً تین سال کی مدت تک مرد سے جنسی اختلاط کرے۔ اسی مجبوری کی بناء پر شریعت مطہرہ نے مرد کو بدیں شرط دوسرے عقد نکاح کی اجازت دے دی ہے کہ وہ بیویوں میں نان و نفقہ‘ سلوک و برتاؤ اور قیام شب میں انصاف اور مساوات کا سلوک کر سکے۔ لیکن مرزا غلام احمد صاحب نے پہلی بیوی کو میکے بٹھا کر‘ اور دہلی سے نئی نویلی دلہن لا کر یہ ثابت کر دیا کہ مرزائیوں کو بہ زن نو کن اے دوست ہر نو بہار ٭ کہ تقویم پارینہ ناید بکار۔ کے اصول پر عمل کرنا چاہیے۔ حالانکہ مسلمان پر واجب ہے کہ یا تو بیوی کو محبت و آشتی کے ساتھ گھر میں رکھ کر بوجہ احسن اس کی ضروریات

صفحہ 149

زندگی کا کفیل رہے ورنہ طلاق دے کر حسن اخلاق کے ساتھ رخصت کر دے۔ مگر قادیاں کے مسیح صاحب جنہوں نے اسلامی عقاید کے ساتھ اسلامی اخلاق و عادات کو بھی الوداع کہہ دیا تھا‘ اس اصول کے پابند نہ تھے۔ انہوں نے اپنی پہلی بیوی محترمہ حرمت بی بی کو جو مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کی والدہ تھیں معلقہ کر رکھا تھا۔ نہ گھر میں رکھ کر شریفانہ برتاؤ ہی پسند تھا اور نہ طلاق دے کر اس بیچاری کی گلو خلاصی کرتے تھے۔

دہلی کی شادی کا الہام

قادیاں کے ”مسیح موعود“ صاحب اپنے ہر فعل کی سند کتاب و سنت سے تلاش کیا کرتے تھے‘ لیکن اسلامی اصول استنباط کے ماتحت نہیں بلکہ ملاحدہ باطنیہ کے طرز پر آسمانی تعلیمات کو اپنی ضرورت کے بموجب موم کی ناک بنا لیتے تھے۔ مشکوٰۃ المصابیح میں ایک حدیث بدیں الفاظ مروی ہے۔

عن عبداللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فید فن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر

(رواہ ابن الجوزی فی کتاب الوفا)

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام زمین کی طرف اتریں گے‘ پھر شادی کریں گے‘ ان کے اولاد ہوگی‘ زمین پر پینتالیس سال تک قیام فرما رہیں گے۔ اس کے بعد انتقال کریں گے اور میرے نزدیک میرے مقبرہ میں دفن کیے جائیں گے اور (قیامت کے دن) میں اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ایک ہی مقبرہ سے اکٹھے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان سے اٹھیں گے۔

(مشکوٰۃ المصابیح باب نزول عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام)

مرزا غلام احمد نے اس حدیث کو اپنے اوپر چسپاں کرنے کی کوشش میں لکھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی میرے حق میں ہے کیونکہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں یتزوج ویولد لہ (عیسیٰ بن مریم علیہ السلام شادی کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے)

صفحہ 150

چنانچہ میں نے نصرت بیگم سے شادی کی اور اس کے بطن سے چار بیٹے محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد، مبارک احمد اور چند لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ اس لیے میں ہی اس پیشین گوئی کا مصداق ہوں۔ مرزا صاحب کے اصل الہامی الفاظ جو اربعین نمبر ۲ میں ۲۹؍ ستمبر ۱۹۰۰ء کو سپرد قلم کیے یہ ہیں۔ ”اذکر نعمتی رایت خدیجتی (میری نعمت یاد کر کہ تو نے میری خدیجہ کو دیکھا) یہ الہام براہین احمدیہ میں درج ہے اور یہ حصہ اس الہام کا ہے جس میں مجھے بشارت دی گئی تھی کہ تمہاری شادی خاندان سادات میں ہوگی اور اس میں سے اولاد ہو گی تا پیش گوئی حدیث یتزوج ویولد لہ (عیسیٰ علیہ السلام شادی کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے) پوری ہو جائے۔ یہ حدیث اشارہ کر رہی ہے کہ مسیح موعود کو خاندان سادات سے تعلق دامادی ہو گا۔ کیونکہ مسیح موعود کا تعلق جس سے وعدہ ہو ولد لہ (اس کے اولاد ہوگی) کے موافق صالح اور طیب اولاد پیدا ہو۔ اعلیٰ اور طیب خاندان سے چاہیے۔ اور وہ خاندان سادات ہے اور فقرہ خدیجتی (میری خدیجہ) سے مراد اولاد خدیجہ یعنی بنی فاطمہ ہے۔ (اربعین نمبر ۲، مولفہ مرزا غلام احمد، ص ۳۸)

مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی جس پیشین گوئی کو مرزا صاحب نے اپنے اوپر چسپاں کر لیا ہے اس میں مذکور ہے کہ

گے۔

دفن کیے جائیں گے۔

لیکن قادیانی صاحب کی ملحدانہ جسارت ملاحظہ ہو کہ

صفحہ 151

باایں ہمہ نہایت جسارت اور دیدہ دلیری سے اس بات کے مدعی تھے کہ پیشین گوئی ان کے حق میں پوری ہو چکی ہے کیونکہ انہوں نے بھی شادی کی ہے اور صاحب اولاد ہیں۔ پھر لطف یہ ہے کہ مرزا صاحب اس سے قریباً چار سال پہلے یعنی کتاب ”انجام آتھم“ میں جو ۲۲ جنوری ۱۸۹۷ء کو شائع ہوئی محمدی بیگم سے اپنا عقد ہونے کو بھی اسی پیشین گوئی کا مصداق ٹھہرا چکے تھے۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”وہ اس بات کو نہیں سوچتے کہ احمد بیگ اور اس کے داماد کی پیش گوئی کا ایک جز نہایت صفائی سے میعاد کے اندر پورا ہو چکا ہے اور دو ٹانگوں میں سے ایک ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔ اس پیش گوئی کی تصدیق کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔ (ضمیمہ 'انجام آتھم' ص ۵۲ - ۵۳)۔ (یعنی مرزا صاحب محمدی بیگم سے ضرور شادی کریں گے اور اس سے ضرور اولاد ہوگی)۔

سسرال سے سابقہ تعارف

میر ناصر نواب دہلوی پنجاب کے محکمہ نہر میں نقشہ نویس یا سب اوور سیز تھے۔ غالباً ۱۸۷۷ء کا واقعہ ہے جب کہ میر صاحب اس نہر کی کسی خدمت پر مامور تھے جو قادیاں سے مغرب کی جانب دو ڈھائی میل کے فاصلہ سے گزرتی ہے اور موضع تندلہ میں، جو قادیاں سے چند میل کی مسافت پر ہے، اقامت گزین تھے۔ ان دنوں اتفاق سے مرزا صاحب کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر سے میر صاحب کا تعارف ہو گیا اور انہی دنوں ان کی اہلیہ کی طبیعت علیل ہو گئی۔ مرزا غلام قادر نے میر صاحب سے کہا کہ میرے والد (مرزا غلام مرتضیٰ) بڑے حاذق طبیب ہیں، آپ ان سے علاج کرائیں۔ میر صاحب اپنی بیوی کو ڈولی میں بٹھا کر

صفحہ 152

قادیاں لے آئے۔ حکیم غلام مرتضیٰ نے نبض دیکھ کر نسخہ لکھ دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد مرزا غلام قادر نے میر صاحب سے کہا کہ آپ لوگ تلہ میں رہتے ہیں‘ یہ گاؤں بڑے بڑے بدمعاشوں کا مسکن ہے‘ بہتر یہ ہے کہ آپ لوگ قادیاں چلے آئیں اور ہمارے مکان پر فروکش ہوں۔ میں آج کل گورداسپور رہتا ہوں اور غلام احمد بھی گھر میں بہت کم آتا جاتا ہے‘ اس لیے آپ کو پردہ وغیرہ کی تکلیف نہ ہوگی۔ چنانچہ میر صاحب اہل و عیال کو لے کر تلہ سے قادیاں چلے آئے۔ اس وقت حکیم غلام مرتضیٰ کا انتقال ہوچکا تھا۔ ان ایام میں جس روز بھی مرزا غلام قادر گورداسپور سے قادیاں آتے میر صاحب کے لیے پان لایا کرتے تھے۔ اور میر صاحب کی بیوی مرزا غلام قادر کے لیے کوئی اچھا سا کھانا تیار کر کے اکثر بھجوا دیتی تھیں۔ ایک مرتبہ ان کے لیے شامی کباب تیار کیے۔ جب بھیجنے لگیں تو معلوم ہوا کہ وہ گورداسپور چلے گئے ہیں۔ اس لیے میر صاحب کی بیوی نے نائن سے کہا کہ یہ کباب ان کے چھوٹے بھائی (مرزا غلام احمد) کو دے آؤ۔ مرزا غلام احمد کباب کھا کر ان کے ممنون ہوئے۔ اس کے بعد میر صاحب کی بیوی دوسرے تیسرے دن مرزا غلام احمد کے پاس بھی کھانے کی کوئی چیز بھجوا دیا کرتی تھیں لیکن جب اس کی اطلاع ان کی بھاوج یعنی مرزا غلام قادر کی بیوی کو ہوئی تو انہوں نے بہت برا منایا کیونکہ وہ اپنے دیور کی سخت مخالف تھیں۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ ص ۱۰۹- ۱۱۰)۔ میر صاحب کو قادیاں آئے چھ سات مہینے ہوئے تھے کہ ان کی تبدیلی کسی دوسری جگہ ہوگئی۔ میر صاحب مرزا غلام قادر سے بات کر کے اپنے اہل و عیال کو یہیں قادیاں میں چھوڑ گئے اور پھر ایک مہینہ کے بعد آکر لے گئے۔ یہ ۱۸۷۷ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت میر صاحب کی صاحبزادی نصرت جہاں بیگم کی عمر نو دس سال کی ہوگی۔

(سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۴۳- ۴۴)

شادی کا پیغام اور اس کی منظوری

ان ایام میں ترک تقلید کا مسلک ہندوستان میں نیا نیا رائج ہوا تھا۔ مقلدوں اور غیر مقلدوں کے تعلقات میں بہت کچھ کشیدگی پائی جاتی تھی‘ اس لیے حضرات اہل حدیث حنفیوں سے رشتہ ناطہ نہیں کرتے تھے اور کفو ہو یا غیر کفو‘ لازماً اپنی لڑکی اہل حدیث ہی کو دیتے تھے۔ جب مرزا صاحب کے دل میں نئی شادی کا شوق سرسرایا تو اپنے یار غار مولوی

صفحہ 153

محمد حسین بٹالوی سے اس کا ذکر کیا۔ مولوی محمد حسین صاحب کے پاس تمام اہل حدیث لڑکیوں کی فہرست رہتی تھی۔ مولوی محمد حسین نے مرزا صاحب کو مشورہ دیا کہ میر ناصر نواب سے تمہاری پرانی ملاقات ہے۔ ان کی لڑکی جوان ہے اس کے لیے سلسلہ جنبانی کرو۔ مرزا صاحب نے میر صاحب کو چٹھی لکھی کہ گو پہلے بھی میرے گھر میں بیوی موجود ہے اور اولاد بھی ہے مگر آج کل میں عملاً مجرد ہی ہوں۔ (سیرۃ المہدی، جلد ۲، ص ۱۱۰)۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ ایک اور شادی کروں۔ عملاً مجرد ہونے کا یہ مطلب تھا کہ گو بیوی میرے عقد میں ہے لیکن اس سے ازدواجی تعلقات منقطع کر رکھے ہیں اور اسے معلقہ چھوڑ رکھا ہے۔ کیوں نہ ہو آخر مجدد صاحب ہی تو تھے۔ اگر بیوی کے شرعی حقوق ادا کرتے تو ٹیچی ٹیچی صاحب مجددیت کی مسند سے اٹھا دیتے۔ ان دنوں میر صاحب دہلی میں رخصت پر تھے۔ شروع شروع میں بیوی سے مرزا غلام احمد کے پیغام کا ذکر نہ کیا کیونکہ ان کو یقین تھا کہ وہ اس کو برا منائیں گی۔ اس اثناء میں اور بھی کئی جگہ سے نصرت بیگم صاحبہ کے لیے پیغام آئے۔ لیکن ان کی بیوی صاحبہ کسی جگہ مطمئن نہ ہوئیں۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ میر صاحب کے بہت دیرینہ تعلقات تھے۔ انہوں نے مرزا صاحب کی سفارش میں متعدد خطوط بھیجے لیکن ان کی اہلیہ صاحبہ نے مرزا صاحب کو لڑکی دینا گوارا نہ کیا کیونکہ ایک تو عمر کا بہت فرق تھا، دوسرے ان دنوں دہلی میں غیر ملکیوں کے خلاف بہت تعصب ہوتا تھا۔ آخر ایک دن میر صاحب نے اپنی بیوی صاحبہ سے التماس کی کہ ایک لدھیانوی صاحب نے بڑے اصرار سے درخواست کی ہے اور وہ آدمی بھی بہت اچھا ہے، اس لیے اس کو رشتہ دے دو لیکن بیوی صاحبہ نے انکار کر دیا۔ اس پر میر صاحب کسی قدر ناراضی کے لہجہ میں کہنے لگے کہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے، کیا اسے عمر بھر یوں ہی بٹھا چھوڑو گی؟ بیوی صاحبہ نے کہا کہ ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ہی ہزار درجہ اچھا ہے۔ میر صاحب نے کہا کہ غلام احمد کا بھی خط آیا ہوا ہے۔ بیوی صاحبہ نے کہا، اچھا غلام احمد ہی کو لکھ دو۔ چنانچہ میر صاحب نے اسی وقت قلم دوات لے کر مرزا صاحب کو منظوری پیغام کی اطلاع دے دی۔ اس کے آٹھ دن بعد مرزا صاحب برات لے کر دہلی پہنچ گئے۔ (سیرۃ المہدی، جلد ۲،

ص ۱۱۰۔۱۱۱)

صفحہ 154

مجدد صاحب کی برات

پنڈت لیکھرام کا بیان ہے کہ جب مرزا صاحب کی شادی دہلی میں ہونے والی تھی تو انہوں نے مشہور کر دیا کہ نواب ناصر کے گھر میں میری برات جائے گی۔ قادیاں کے چند ہندو برات میں گئے، مسلمان کوئی نہیں تھا۔ باراتی وہاں پہنچ کر حیرت زدہ ہوئے کہ نہ کوئی ریاست ہے، نہ ملک، نہ فوج، نہ جاہ و حشمت، نواب ناصر تنہا ہیں۔ بہت سے جاہل مرید اس کو کرامات سمجھتے تھے کہ نواب کے ہاں شادی ہوگی۔ لیکن جب انجام کار نواب ناصر صرف میاں ناصر نکلے تو تمام قلعی کھل گئی۔ (تکذیب براہین، ص ۲۷۳) لیکن پنڈت لیکھرام کا یہ بیان کہ تمام باراتی ہندو تھے، مسلمان کوئی نہیں تھا، قرین قیاس نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ قادیاں میں مرزا صاحب کے دو ہی دوست تھے، لالہ ملا وامل اور لالہ شرمپت رائے۔ لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مرزا صاحب ایسے وقت میں جبکہ علمائے ملت نے ہنوز مرزا صاحب کے کفر و ارتداد کا فتویٰ صادر نہیں کیا تھا اور مرزا صاحب بھی اب تک اپنے نہ ماننے والوں کو کافر نہیں قرار دیتے تھے، کسی مسلمان کو ساتھ نہ لے گئے ہوں۔ پس میرے نزدیک میاں بشیر احمد ایم۔ اے کا بیان صحیح معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے ساتھ ایک دو نوکر تھے اور بعض ہندو اور مسلمان ساتھی تھے۔ (سیرۃ المہدی، جلد ۲، ص ۱۱۱) اور پنڈت لیکھرام اور مرزا بشیر احمد کے بیانات میں یوں تطبیق ہو سکتی ہے کہ براتی سب کے سب ہندو ہوں گے اور نوکر مسلمان ہوں گے۔

دلہن کا اضطراب اور برادری کے طعنے

مرزا بشیر احمد نے اپنی تائی صاحبہ کی زبانی بیان کیا ہے کہ جب ہماری برادری کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ سخت ناراض ہوئے کہ ایک بوڑھے شخص کو اور پھر غیر ملکی کو رشتہ دے دیا ہے۔ اور ان میں سے کئی لوگ بوجہ ناراضی نکاح میں بھی شامل نہ ہوئے۔ مگر ہم نے فیصلہ کر رکھا تھا اس لیے نکاح پڑھا کر رخصتانہ کر دیا۔ برادری والوں نے بہت طعن و تشنیع کی اور کہا، اچھا نکاح ہوا ہے کہ کوئی زیور کپڑا ساتھ نہیں آیا۔ جس کا جواب ہماری طرف سے یہ دیا گیا کہ رشتہ داروں کے ساتھ مرزا صاحب کے زیادہ تعلقات نہیں ہیں اور گھر کی

صفحہ 155

عورتیں ان کی مخالف ہیں اور پھر وہ جلدی میں آئے ہیں۔ اس حالت میں وہ زیور اور کپڑے کہاں سے بنوا لاتے۔ الغرض برادری کی طرف سے اس قسم کے طعن و تشنیع بہت ہوئے۔

مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے والدین کی شادی کے تذکرہ میں اپنی نانی کی روایت سے یہ بھی لکھا ہے کہ جب تمہاری اماں قادیاں آئیں تو یہاں سے ان کے خط گئے کہ میں سخت گھبرائی ہوئی ہوں اور شاید میں اس غم اور گھبراہٹ سے مر جاؤں گی۔ چنانچہ ان خطوں کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لوگوں کو اور بھی اعتراض کا موقع مل گیا اور بعض نے کہا کہ اگر آدمی نیک تھا تو اس کی نیکی کی وجہ سے لڑکی کی عمر کیوں خراب کی؟ اس پر ہم لوگ بھی کچھ گھبرا گئے اور رخصتانہ کے ایک مہینہ بعد میر صاحب قادیاں آکر تمہاری اماں کو لے گئے۔ جب وہ بیٹی کو لے کر دہلی پہنچے تو میں نے اس عورت سے پوچھا، جس کو میں نے دلی سے ساتھ بھیجا تھا کہ لڑکی کیسی رہی؟ اس عورت نے تمہارے ابا (مرزا غلام احمد صاحب) کی بہت تعریف کی اور کہا کہ لڑکی یوں ہی شروع شروع میں اجنبیت کی وجہ سے گھبرا گئی ہو گی ورنہ مرزا صاحب نے تو ان کو بہت اچھی طرح رکھا ہے اور وہ بہت اچھے آدمی ہیں۔ اور تمہاری اماں نے بھی کہا کہ مجھے انہوں نے بڑے آرام کے ساتھ رکھا مگر میں یوں ہی گھبرا گئی تھی۔ (سیرۃ المہدی، جلد ۲، ص ۱۱۱۔ ۱۱۲)۔ لیکن اہل نظر جانتے ہیں کہ میاں بشیر احمد صاحب کی والدہ محترمہ نے اپنی گھبراہٹ کی اصل وجہ بیان کرنے میں بہت کچھ پردہ پوشی سے کام لیا تھا اور یہی شریف زادیوں کا شیوہ ہے۔

پچاس مردوں کی طاقت عطا کیے جانے کا معجزہ

حضرت مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ایک ابتلاء اس شادی کے وقت مجھ کو یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سے امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اور دو مرضیں یعنی ذیابیطس اور درد سر دوران سر، قدیم سے میرے شامل حال تھیں جن کے ساتھ بعض اوقات تشنج قلب بھی تھا، اس لیے میری ”مردی کالعدم“ تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لیے میری اس شادی پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا اور ایک خط مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر رسالہ

صفحہ 156

”اشاعۃ السنہ“ نے ہمدردی کی راہ سے میرے پاس بھیجا کہ آپ نے شادی تو کی ہے لیکن مجھے حکیم محمد شریف کلانوری کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے۔ اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کر سکتا، ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے۔ ایسا نہ ہو کوئی ابتلاء پیش آجائے۔ غرض اس ابتلاء کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے دفع مرض کے لیے اپنے الہام کے ذریعہ سے دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے‘ چنانچہ وہ دوا میں نے تیار کی اور وہ بے حد طاقت‘ جو ایک پورے تندرست انسان کو مل سکتی ہے‘ وہ مجھے دی گئی۔ اگر دنیا اس بات کو مبالغہ نہ سمجھتی تو میں اس جگہ اس واقعہ حقہ کو‘ جو اعجازی رنگ میں ہمیشہ کے لیے مجھے عطا کیا گیا‘ بہ تفصیل بیان کرتا‘ تا معلوم ہوتا کہ ہمارے قادر قیوم کے نشان ہر رنگ میں ظہور میں آتے ہیں اور ہر رنگ میں اپنے خاص لوگوں کو وہ خصوصیت عطا کرتا ہے جس میں دنیا کے لوگ شریک نہیں ہو سکتے۔ میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں خداداد طاقت میں پچاس مردوں کے قائم مقام دیکھا۔ (تریاق القلوب‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ تقطیع کلاں‘ ص ۳۵- ۳۶) واقعی یہ ایک عجیب نسخہ ہوگا اور عجب نہیں کہ خلیفہ المسیح حضرت مرزا محمود احمد صاحب اس نسخہ سے نہ صرف خود مستفیض ہو رہے ہوں گے بلکہ مسیح موعود صاحب کے خاص خاص ”صحابوں“ کو بھی اس عجیب الفعل تریاق سے بہرہ مند فرماتے ہوں گے۔ میری تو یہ مجال نہیں کہ حضرت مسیح موعود صاحب کے بیان کی صداقت میں شک لاؤں لیکن اتنا ضرور عرض کروں گا کہ اگر حضرت مسیح موعود صاحب کے مشکوے معلی میں چالیس پچاس حوریں ہوتیں تو پچاس مردوں کی طاقت قرین قیاس تھی لیکن ایک بیوی اور پچاس مردوں کی طاقت ایک بعید از فہم اور بے جوڑ سی بات معلوم ہوتی ہے۔

قوت باہ کی الہامی معجون اور حکیم نور الدین

لیکن تعجب ہے کہ جس الہامی معجون نے حضرت مسیح موعود صاحب کو پچاس مردوں کی طاقت بخشی تھی اس نے حکیم نورالدین صاحب کو کچھ فائدہ نہ دیا۔ چنانچہ حضرت مرزا

صفحہ 157

صاحب کے مندرجہ ذیل مکتوبات میں جو مولوی حکیم نور الدین صاحب کے نام بھیجے گئے اس کی صراحت موجود ہے۔ حضرت مرزا صاحب لکھتے ہیں۔

مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔ دوا جس میں مروارید داخل ہیں جو کسی قدر آپ لے گئے تھے، اس کے استعمال سے مجھ کو بہت فائدہ ہوا۔ قوت باہ کو ایک عجیب فائدہ یہ دوا پہنچاتی ہے اور مقوی معدہ ہے اور کاہلی اور سستی کو دور کرتی ہے اور کئی عوارض کو نافع ہے۔ آپ ضرور اس کو استعمال کر کے مجھ کو اطلاع دیں، مجھ کو تو یہ بہت ہی موافق آگئی۔ فالحمد للہ علیٰ ذلک۔ (خاکسار غلام احمد)۔ ایک اور خط کا ابتدائی حصہ ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں۔

مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ مجھے نہایت تعجب ہے کہ دوا معلومہ سے آں مخدوم کو کچھ فائدہ محسوس نہ ہوا۔ شاید یہ وہی قول درست ہو کہ ادویہ کو ابدان سے مناسبت ہے۔ بعض ادویہ بعض ابدان کے مناسب حال ہوتی ہیں اور بعض دیگر کے نہیں۔ مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے۔ کہ چند امراض کاہلی و سستی و رطوبات معدہ اس سے دور ہو گئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوظ (ایستادگی) بکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔ غرض میں نے تو اس میں آثار نمایاں پائے ہیں۔ اگر دوا موجود ہو اور آپ دودھ اور ملائی کے ساتھ کچھ زیادہ مقدار میں استعمال کریں تو میں خواہشمند ہوں کہ آپ کے بدن میں ان فوائد کی بشارت سنوں۔ چونکہ دوا ختم ہو چکی ہے اور میں نے زیادہ کھالی ہے، اس لیے ارادہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو دوبارہ تیار کی جائے۔

(مکتوبات احمدیہ، جلد پنجم، نمبر ۲، ص ۱۳- ۱۴)

زن مریدی کے متعلق مرزا جی کے قول اور فعل میں تخالف

مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک (بیوی کی) طرف زیادہ ہو جائے یا آمدنی کم ہو یا قوائے رجولیت ہی کمزور ہوں تو پھر ایک سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمارے نزدیک بہتر یہی ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلاء میں نہ ڈالے کیونکہ اللہ

صفحہ 158

تعالیٰ فرماتا ہے ان اللہ لا یحب المعتدین (اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) حلال پر بھی ایسا زور نہ مارو کہ نفس پرست ہی بن جاؤ۔ اگر حلال کو حلال سمجھ کر بیویوں ہی کا بندہ ہو جاوے تو بھی غلطی کرتا ہے۔ خدا کا یہ منشاء نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جاؤ۔ (ملفوظات احمدیہ یا تقاریر حضرت مسیح موعود ص ۴۳) یہ تو حضرت ”مسیح موعود“ کا قول تھا۔ اب ان کا فعل ملاحظہ ہو۔ مرزا صاحب نے اپنی پہلی بیوی حرمت بی بی کو بالکل معلقہ کر رکھا تھا اور وہ بیچاری سالہا سال سے اپنے بھائی کے گھر میں رہتی تھیں اور اخراجات ان کے بیٹے مرزا سلطان احمد، جو ان دنوں تحصیل دار تھے، بھیجا کرتے تھے اور پہلی بیوی کے مقابلہ میں اپنی نئی نویلی دلہن کو، جسے دہلی سے بیاہ کر لائے تھے، بہت چاہتے تھے چنانچہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا غلام احمد صاحب کتاب ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں: مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے اپنی کتاب ”سیرۃ مسیح موعود“ میں لکھا ہے کہ اندرون خانہ کی خدمت گار عورتوں کو میں نے بارہا خود تعجب سے کہتے سنا ہے کہ مرزا بیوی دی گل بڑی مندا اے۔ (مرزا بیوی کی بات بہت مانتا ہے)۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، صفحہ ۲۵۹)۔

اسی طرح میاں بشیر احمد صاحب نے اپنے والد محترم کی زن مریدی کا ایک اور دلچسپ واقعہ زیب رقم کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ مفتی محمد صادق صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں میں کسی وجہ سے اپنی بیوی پر کچھ خفا ہوا جس پر میری بیوی نے حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی بڑی بیوی کے پاس جا کر میری ناراضگی کا ذکر کیا اور حضرت مولوی صاحب کی بیوی نے مولوی صاحب سے ذکر کر دیا۔ اس کے بعد میں جب مولوی عبدالکریم صاحب سے ملا تو انہوں نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ مفتی صاحب! آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہاں ملکہ کا راج ہے۔ بس اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا مگر میں ان کا مطلب سمجھ گیا۔ خاکسار (میاں بشیر احمد) عرض کرتا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم کے یہ الفاظ عجیب معنی خیز ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان دنوں میں برطانیہ کے تخت پر (موجودہ شاہ ایڈورڈ کی پردادی) ملکہ وکٹوریہ متمکن تھیں۔ اور دوسری طرف حضرت مولوی عبدالکریم کا اس طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود علیہ السلام اپنے خانگی معاملات میں حضرت ام المومنین (نصرت بیگم) کی بات بہت مانتے ہیں اور گویا گھر میں حضرت ام المومنین ہی کی حکومت ہے اور اس اشارہ سے مولوی صاحب کا مقصد یہ تھا کہ مفتی صاحب کو اپنی بیوی

صفحہ 159

کے ساتھ سلوک کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔ (سیرۃ المہدی، جلد ۲، ص ۱۰۲- ۱۰۳)

باب ۲۳

غیر مسلم رؤساء و مقتدایان مذہب کو

معجزہ دیکھنے کی دعوت

مرزا صاحب نے براہین میں بڑی تعلیاں اور لن ترانیاں ہانکی تھیں اور بیسیوں اناپ شناپ الہام لکھ مارے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ ان خود ستائیوں اور من گھڑت الہاموں کی اشاعت کے بعد اطراف و اکناف ملک میں ان کے تقدس و مشیخت کا نقارہ بجنے لگے گا اور ان کی عظمت و قیادت کا سکہ عرب و عجم میں رواں ہوگا۔ لیکن مرزا صاحب پر یہ مثل صادق آئی کہ پکائی تھی کھیر ہو گیا دلیا۔ علمائے ملت اتباع و اقتداء کے بجائے کفر کے فتوے لے دوڑے چونکہ دل میں ہر وقت جاہ و نمود کی لگن لگی تھی۔ اب مرزا صاحب نے اپنی بڑائی کا لوہا منوانے کے لیے اعجاز نمائی کے سبز باغ دکھا کر کوس انا ولا غیری بجانا چاہا۔ چنانچہ اس غرض کے لیے ۱۸۸۵ء کے اوائل میں مندرجہ ذیل اشتہار شائع کیا جس کی آٹھ ہزار انگریزی اور شاید ہزار ہا اردو کاپیاں طبع کرا کر تقسیم کرائیں۔

وعدہ اعجاز نمائی کے اشتہارات کا ملخص

رئیس قادیاں نے ایک سال تک قادیاں میں رہ کر معجزہ دیکھنے کا جو دعوت نامہ شائع کیا اس کا خلاصہ یہ ہے۔ ”عاجز مولف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ بنی ناصری (مسیح) کی طرز پر کمال مسکینی، فروتنی و غربت و تذلل و تواضع سے اصلاح خلق کے لیے کوشش کرے۔ اسی غرض سے کتاب ”براہین احمدیہ“ تالیف پائی ہے جس کی ۳۷ جز چھپ کر شائع ہو چکی ہیں۔ لیکن چونکہ پوری کتاب کا شائع ہونا ایک طویل مدت پر موقوف ہے، اس لیے یہ قرار پایا ہے کہ بالفعل بغرض اتمام حجت یہ خط، جس کی دو

صفحہ 160

سو چالیس کاپیاں چھپوائی گئی ہیں، مع انگریزی اشتہار کے جس کی آٹھ ہزار کاپیاں چھپوائی گئی ہیں شائع کیا جائے اور اس کی ایک ایک کاپی بخدمت معزز پادری صاحبان پنجاب و ہندوستان و انگلستان وغیرہ بلاد میں جو اپنی قوم میں خاص طور پر مشہور اور معزز ہوں اور بخدمت برہمو صاحبان و آریہ صاحبان و نیچری صاحبان اور وہ حضرات جو وجود خوارق و کرامات سے منکر ہوں ارسال کی جائے۔ یہ تجویز نہ اپنے فکر و اجتہاد سے قرار پائی ہے بلکہ مولیٰ کریم کی طرف سے اس کی اجازت ہوئی ہے اور بطور پیش گوئی یہ بشارت ملی ہے۔ اس لیے یہ خط چھپوا کر آپ کی خدمت میں اس نظر سے کہ آپ اپنی قوم میں معزز اور مشہور اور مقتدا ہیں، ارسال کیا جاتا ہے۔ اصل مدعا خط جس کے ابلاغ کے لیے میں مامور ہوا ہوں، یہ ہے کہ دین حق صرف اسلام ہے اور کتاب حقانی، جو منجانب اللہ محفوظ اور واجب العمل ہے، صرف قرآن ہے۔ اسلام کی حقانیت اور قرآن کی سچائی پر عقلی دلائل کے سوا آسمانی نشانوں (خوارق و پیش گوئیوں) کی شہادت بھی پائی جاتی ہے، جس کو طالب صادق اس خاکسار مولف براہین احمدیہ کی صحبت اور صبر اختیار کرنے سے معائنہ چشم تصدیق کر سکتا ہے۔ آپ کو اس دین کی حقانیت یا ان آسمانی نشانوں کی صداقت میں شک ہو تو آپ طالب صادق بن کر قادیاں میں تشریف لائیں اور ایک سال تک اس عاجز کی صحبت میں رہ کر ان آسمانی نشانوں کا بچشم خود مشاہدہ کر لیں۔ لیکن اس شرط نیت سے جو طالب صادق کی نشانی ہے کہ بمجرد معائنہ آسمانی نشانوں کے اسی جگہ قادیاں میں شرف اظہار اسلام یا تصدیق خوارق سے مشرف ہو جائیں گے۔ اس شرط نیت سے آپ آئیں گے تو ضرور آسمانی نشان مشاہدہ کریں گے۔ اس امر کا خدا کی طرف سے وعدہ ہوچکا ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں۔ اب آپ تشریف نہ لائیں، تو آپ پر خدا کا مواخذہ رہا اور بعد انتظار تین ماہ کے آپ کی عدم توجہی کا حال درج حصہ پنجم کتاب براہین ہوگا۔ اور اگر آپ آئیں اور ایک سال رہ کر کوئی آسمانی نشان مشاہدہ نہ کریں تو دو سو روپیہ ماہوار کے حساب سے آپ کو ہرجانہ یا جرمانہ دیا جائے گا۔ اس دو سو روپیہ ماہوار کو آپ اپنے شایان شان نہ سمجھیں تو اپنے حرج اوقات کا عوض یا ہماری وعدہ خلافی کا جرمانہ، جو آپ اپنی شان کے لائق قرار دیں گے، ہم اس کو بشرط استطاعت قبول کریں گے۔ طالبان ہرجانہ یا جرمانہ کے لیے ضروری ہے کہ تشریف آوری سے پہلے بذریعہ رجسٹری ہم سے اجازت طلب کریں۔ آپ

صفحہ 161

اپنی شرط اظہار اسلام یا تصدیق خوارق ایک سادہ کاغذ پر‘ جس پر چند ثقات مختلف ادیان و مذاہب کی شہادتیں ہوں‘ تحریر کر دیں۔ جس کو متعدد اردو‘ انگریزی اخباروں میں شائع کیا جائے گا۔ ہم سے اپنی شرط دو سو روپیہ ماہوار جرمانہ یا ہرجانہ یا جو آپ پسند کریں اور ہم اس کی ادائیگی کی طاقت بھی رکھیں‘ عدالت میں رجسٹری کرا لیں اور اس کے ساتھ ایک حصہ جائیداد بھی بقدر شرط رجسٹری کرا لیں۔ (تبلیغ رسالت‘ یعنی مجموعہ اشتہارات مرزا غلام احمد صاحب‘ جلد اول‘ ص ۱۱)

انگریز پادریوں کے قیام کے لیے گول کمرہ کی تعمیر

مرزا صاحب نے انگریز پادریوں کو اعجاز نمائی کے وعدوں کے اشتہارات سب سے زیادہ تعداد میں بھیجے تھے اور انہیں امید تھی کہ کثیر التعداد پادری قادیاں میں ان کے چرنوں میں آ گریں گے۔ اس خیال کے پیش نظر از راہ دور اندیشی اشتہارات کی روانگی کے ساتھ ہی ان موہوم مہمانوں کے قیام کے لیے اپنے مکان سے ملحق بڑی عجلت سے ایک گول کمرہ تعمیر کرایا۔ لیکن ع: اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘ کسی انگریز مہمان کو اس گول کمرے میں فروکش ہونے کی سعادت نصیب نہ ہوئی۔ (عصائے موسیٰ‘ ص ۴۴) قادیاں کے قیام اور یک سالہ انتظار پر وہ مثل صادق آتی ہے کہ نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی۔ بھلا کون ایسا احمق تھا جو اپنے کاروبار اور خدمات مفوضہ‘ سلسلہ ملازمت یا کسی دوسری سبیل معاش کو چھوڑ کر محض مرزا صاحب کا اعجازی کمال دیکھنے کے لیے قادیاں پہنچتا اور رئیس قادیاں کا حاشیہ نشین بن کر ایک سال تک اس انتظار میں قادیاں میں بیٹھا رہتا کہ کب مجدد صاحب نشان دکھاتے ہیں اور وہ قبول مرزائیت کے بعد وطن کو لوٹتا ہے۔ رئیس صاحب نے از راہ دور اندیشی وعدۂ خوارق نمائی کے ساتھ یہ میخ بھی لگا رکھی تھی کہ اعجاز خواہ آدمی طالب صادق بن کر آئے اور اگر بالفرض اس مدت کے اندر کبھی مرزا صاحب کی صداقت میں شک پیدا ہو گیا تو اعجاز بینی ناممکن ہو جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب سچے تھے تو انہیں ایک سال سے کم مدت میں اعجاز نمائی کی کیوں قدرت نہیں دی گئی تھی؟ جب سرور دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم سے چاند کو دو ٹکڑے کر دکھانے کا مطالبہ ہوا تو کیا آنحضرتؐ نے بھی اعدائے دین کے سامنے اس قسم کی لایعنی شرطیں پیش کی تھیں کہ طالب

صفحہ 162

صادق بن کر ایک سال تک انتظار کرو؟ کیا چاند انگلی کے اشارے سے فی الفور دو ٹکڑے نہ ہوا تھا؟ کیا دوسرے معجزات کے ظہور میں کبھی کوئی وقفہ ہوا تھا؟ ہرگز نہیں۔

حضور سرور کون و مکان صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض معجزات باہرہ

یہاں حضور سید کون و مکان علیہ التحیۃ والسلام کے چند معجزات لکھے جاتے ہیں جن کو خود مرزا صاحب نے کتاب ”آئینہ کمالات“ میں لکھا ہے۔ فرماتے ہیں: ”معجزہ شق القمر الٰہی طاقت سے ظہور میں آیا تھا۔ کوئی دعا اس کے ساتھ شامل نہ تھی۔ کیونکہ وہ صرف انگلی کے اشارہ سے‘ جو الٰہی طاقت سے بھری ہوئی تھی‘ وقوع میں آگیا تھا۔ کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو‘ جو صرف ایک پیالہ میں تھا‘ اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزارہا بھوکوں پیاسوں کا ان سے شکم سیر کر دیا اور بعض اوقات تھوڑے سے دودھ کو اپنے لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس سے بھر دیا۔ اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا۔ اور بعض اوقات سخت مجروحوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اچھا کر دیا۔ اور بعض آنکھوں کو‘ جن کے ڈھیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جا پڑے تھے‘ اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ (آئینہ کمالات‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۶۶ - ۶۷) اب سوال یہ ہے کہ یہ تمام معجزات باہرہ فوراً ظاہر ہوئے تھے یا سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے سال بھر کی مہلت مقرر فرمائی تھی؟

باب ۲۴

قادیاں کے یک سالہ قیام پر پنڈت لیکھرام کی آمادگی

پنڈت لیکھرام اوائل میں پشاور کے محکمہ پولیس میں ملازم تھے۔ جب پنڈت دیانند جی سرسوتی سے عقیدت ہوئی تو پولیس کی نوکری چھوڑ کر آریہ پرچارک بنے۔ پہلے آریہ سماج

صفحہ 163

پشاور میں اور پھر آریہ سماج وچھو والی لاہور میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہاں مرزا غلام احمد صاحب کا ایک اشتہار نظر سے گزرا جو باب سابق میں درج کیا جا چکا ہے۔ یہ اشتہار پڑھ کر انہوں نے ارادہ کیا کہ مرزائی ڈھول کا پول ضرور کھولنا چاہیے۔ اس خیال کے پیش نظر مرزا صاحب سے خط و کتابت شروع کر دی۔

پنڈت جی کا پہلا خط بنام مرزا جی

۳ اپریل ۱۸۸۵ء کو پنڈت لیکھرام جی نے مرزا صاحب کے نام یہ خط لکھا۔ جناب مرزا صاحب! خدا ہدایت دیوے۔ آپ کا خط مطبوعہ مطبع مرتضائی لاہور میرے مطالعہ سے گزرا۔ اس خط میں آپ کو خدا کی طرف سے یہ لکھنے کی ہدایت ہوئی ہے کہ جو کوئی غیر مذاہب والوں میں سے آپ کے پاس ایک سال تک رہنے کے باوجود کوئی آسمانی نشان نہ دیکھے اور تسلی پا کر مسلمان نہ ہو اس کو آپ دو سو روپیہ ماہوار کے حساب سے ہرجانہ یا جرمانہ دیں گے۔ اس لیے میں آسمانی نشان دریافت کرنے کے لیے بدیں شرط آپ کی خدمت میں حاضر ہونے پر آمادہ ہوں کہ آپ دو سو روپیہ ماہوار کے حساب سے ایک سال کا دو ہزار چار سو روپیہ سرکاری خزانہ میں داخل کر دیں اور اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ایک سال تک آپ کی ہدایت اور آسمانی نشانات اور معجزات وغیرہ سے تسلی پا کر آپ کے مذہب کو قبول نہ کروں تو وہ دو ہزار چار سو روپیہ مجھ کو دے دیا جائے اور ایک سال تک وہ روپیہ سرکاری خزانہ میں مکفول رہے۔ آپ اس کے واپس لینے کے مجاز نہ ہوں گے۔ مجھے ایک سال تک آپ کی شاگردی منظور ہے۔ اس کا جواب ایک ہفتہ کے اندر آریہ سماج لاہور میں آنا چاہیے۔

(۳؍ اپریل ۱۸۸۵ء)

مرزا جی کے پیچ دار ناقابل قبول شرائط

مرزا صاحب کو یہ خط ملا تو سخت گھبرائے کہ پنڈت تو سچ مچ آمادہ ہو گیا۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ ٹیڑھی پیچ دار اور ناقابل عمل شرطیں پیش کر کے اس مصیبت کو ٹال دیں۔ چنانچہ پنڈت لیکھرام کی چٹھی کے جواب میں لکھا۔ میں نے اپنے مطبوعہ خط کے

صفحہ 164

مخاطب وہ لوگ ٹھہرائے ہیں جو اپنی قوم میں معزز علماء اور مشہور مقتداء ہیں۔ جن کا ہدایت پانا ایک گروہ کثیر پر موثر ہو سکتا ہے۔ مگر آپ اس حیثیت اور مرتبہ کے آدمی نہیں ہیں اور اگر میں اس رائے میں غلطی پر ہوں اور آپ فی الحقیقت پیشوائے قوم ہیں تو بہت خوب‘ میں آپ کو زیادہ تکلیف دینا نہیں چاہتا‘ صرف اتنا کریں کہ پانچ سماجوں یعنی آریہ سماج قادیاں‘ آریہ سماج لاہور‘ آریہ سماج پشاور‘ آریہ سماج امرتسر‘ آریہ سماج لدھیانہ میں جس قدر ممبر ہیں‘ سب کی طرف سے ایک حلفی اقرار نامہ اس مضمون کا پیش کیجئے کہ اگر پنڈت لیکھرام‘ جو ہم سب لوگوں کے پیشوا و مقتداء ہیں‘ اس معاملہ میں مغلوب ہو جائیں گے اور کوئی نشان دیکھ لیں گے تو ہم سب لوگ بلا توقف شرف اسلام سے مشرف ہو جائیں گے۔ اگر آپ ایسا اقرار نامہ مرتب کر کے دو ہفتہ تک میرے نام نہ بھیجیں تو آپ ایک شخص عوام الناس سے سمجھے جائیں گے جو قابل خطاب نہیں۔ (غلام احمد از قادیاں‘ ۷ر اپریل ۱۸۸۵ء)

پنڈت جی کی طرف سے جواب الجواب

پنڈت لیکھرام نے اس کے جواب میں لکھا کہ آپ پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھلانے کے اور۔ میرا خیال تھا کہ آپ مضمون خط کے بموجب وعدے کے سچے ہوں گے مگر وہ غلط نکلا۔ آپ کا یہ کہنا کہ پانچ آریہ سماجوں کے ممبر اقرار نامہ لکھیں اس ضرب المثل کی تصدیق کرتا ہے کہ ”حیلہ جو را بہانہ بسیار“۔ میرے قائل و مغلوب ہونے سے پانچ آریہ سماجوں کے ممبر مسلمان ہونے پر کیونکر مجبور کیے جاسکتے ہیں؟ اگر بالفرض آپ آریہ ہو جائیں تو کیا آپ کے بھائی اور رشتہ دار اور قادیاں کے مسلمان بھی آریہ دھرم قبول کر لیں گے؟ ہرگز نہیں۔ مرزا صاحب ادعائے بے معنی سے خجالت کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اگر آپ کامل تحقیقات کے بعد آریہ ہو جائیں تو یہ آریہ دھرم کی صداقت کی ایک عمدہ دلیل ہوگی۔ اسی طرح میرے جیسے شخص کا مسلمان ہو جانا دین اسلام کے خوارق عادات کا ایک درخشاں ثبوت ہوگا۔ چونکہ آریہ سماج قادیاں کے ممبروں کی زبانی آپ کی کرامتوں کی قلعی مجھ پر اچھی طرح کھل چکی ہے‘ اس لیے مجھے ”آزمودہ را آزمودن جہل است“ پر عمل نہ کرنا چاہیے۔ تاہم اتنا لکھنا ضرور ہے کہ آپ

صفحہ 165

محض ٹال مٹول اور حیلہ سازی کر رہے ہیں۔ ہاں یہ تو میں خود بھی لکھتا ہوں کہ میں آریہ عوام میں سے نہیں ہوں بلکہ خاص ہوں“۔ (لاہور ۸؍ اپریل ۱۸۸۵ء)

مجدد صاحب کا ایک اور عذر لنگ

مرزا صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ دو سو روپیہ ماہوار اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے، اگر ادنیٰ اعلیٰ سب کو دو سو روپیہ دینا تجویز کروں تو اس قدر روپیہ کہاں سے لاؤں اگر آپ دو سو روپیہ ماہوار کسی جگہ پاتے ہیں تو مجھے کچھ عذر نہیں ہے۔ آپ ثابت کر دیں کہ میں اسی حیثیت کا آدمی ہوں۔ اور اگر ایسا ثابت نہ کر سکیں تو آپ کے لیے یہ منظور کرتا ہوں کہ جس قدر آپ نوکری کی حالت میں تنخواہ پاتے رہے ہیں وہی تنخواہ آپ کو دوں گا۔ اور میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ آپ دو تین روز کے لیے قادیاں چلے آئیں اور بالمواجہہ گفتگو کر کے تصفیہ کر لیں۔ مجھے یہ بھی منظور ہے کہ دو تین شریف اور معزز آریہ، جیسے منشی جیون داس لاہور میں ہیں، مجھ سے ملاقات کر کے اس بارہ میں تصفیہ کر لیں۔ آپ نے قادیاں کے آریہ لوگوں کی زبانی میری کرامتوں کی قلعی کھلنے کا جو ذکر کیا ہے، یہ بیان منصفوں کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہے۔ جس حالت میں قادیاں کے بعض آریہ میرے پاس آمد و رفت رکھتے ہیں وہ زندہ موجود ہیں۔ وہ اس عاجز کے نشانوں اور خوارق کے قائل اور مقر ہیں۔ تو پھر نہیں معلوم آپ نے کس سے سن لیا کہ وہ لوگ منکر ہیں۔ اگر میرے بیانات دروغ بے فروغ ہوں تو وہ اب تک کیونکر خاموش رہتے بلکہ ضرور تھا کہ اس صریح جھوٹ کے رد کرنے کے لیے کئی اخباروں میں اصل کیفیت چھپواتے اور مجھ کو رسوا اور شرمندہ کرتے۔ آپ پر لازم ہے کہ اس ظن فاسد سے مخلصی حاصل کرنے کے لیے قادیاں میں آکر اس بات کی تصدیق کر جائیں۔ تا سیہ رو شود ہر کہ دروغش باشد۔

(۱۶؍ اپریل ۱۸۸۵ء)

مرزا جی سے ۲۴۰۰ روپیہ جمع کرانے کا پر زور مطالبہ

پنڈت لیکھرام نے اس کے جواب میں لکھا کہ مرزا صاحب! آپ کے پہلے مطبوعہ خط

صفحہ 166

کا مطلب کچھ اور تھا، ۷؍ اپریل کے خط سے کچھ اور ہی مترشح ہوتا تھا اور ۸؍ اپریل کی چٹھی سے کچھ اور ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ واللہ اعلم۔ آپ اپنی تحریرات سے کیوں پلٹے جاتے ہیں۔ میں ستمبر ۱۸۸۴ء میں گورداسپور گیا تھا۔ میں نے وہاں دریافت کیا کہ مرزا غلام احمد صاحب، جنہوں نے دس ہزار روپیہ انعام کا اعلان کیا ہے، کس حیثیت کے آدمی ہیں؟ تو ایک معزز آدمی کی زبانی، جو آپ کے حالات سے پوری طرح واقف تھا، معلوم ہوا کہ آپ کی ساری جائیداد بھی دس ہزار روپیہ کی نہیں ہے، بلکہ مقروض ہیں۔ اب اس کی تصدیق خود آپ ہی کی تحریر سے ہوگئی کہ اگر ہر ایک کو دو سو روپیہ ماہوار دوں تو اتنا روپیہ کہاں سے لاؤں۔ مرزا صاحب آپ قادیاں کے آریہ بھائیوں پر تہمت لگا رہے ہیں کہ آپ نے ان کو کرامتیں دکھائی ہیں۔ آپ کا یہ بیان صداقت سے بالکل معرا ہے۔ میں قادیاں آکر آپ سے بالمشافہ گفتگو کرنے کو مستعد تھا مگر ایک لائق آریہ بھائی کی زبانی، جو آپ کی ملاقات کو گیا تھا، معلوم ہوا کہ آپ زود رنج اور غصہ ور آدمی ہیں۔ تو خیال گزرا کہ شاید آپ کی ایسی مہربانیوں کو میں برداشت نہ کر سکوں، اس لیے ارادہ فسخ کر دیا۔ لالہ شریپت رائے نے شاید آپ کے دعویٰ کی تکذیب اخبار ”برادر ہند“ یا ”ودیا پرکاشک“ میں کی تھی مگر مجھے اچھی طرح یاد نہیں ہے۔ میں نے کتب ہائے ادیان مختلفہ کا بخوبی مطالعہ کیا ہے اور دلائل عقلی و نقلی سے ان کی بابت بحث کرنے کو موجود ہوں مگر زیادہ طول دینا مجھے پسند نہیں ہے۔ صرف آخری گزارش ہے کہ اگر آپ درحقیقت وعدے کے سچے اور حق کے محقق اور راستی کے طالب اور اصلاح خلق کے لیے مامور ہوئے ہیں تو آپ دو سو روپیہ ماہوار کے حساب سے سال کا دو ہزار چار سو روپیہ خزانہ سرکار میں داخل فرمائیں اور اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ایک سال تک آپ کی ہدایت اور آسمانی نشانات اور معجزات وغیرہ سے تسلی نہ پا کر آپ کا مذہب قبول نہ کروں تو وہ روپیہ مجھ کو مل جائے۔ اور وہ روپیہ ایک سال کی مدت تک مکفول رہے۔ اگر آپ واقعی قادر مطلق جل شانہ کی طرف سے مامور ہوئے ہیں تو اس اقرار نامہ اور ادخال زر سے آپ گریز کیوں فرماتے ہیں۔ جب سچ کو آنچ نہیں اور آپ کو اپنی کرامات پر وثوق ہے تو پھر حیلہ جوئی بے کار ہے۔ اگر آپ کو خدا نے اطلاع دی ہے اور اسی نے پیشین گوئی فرمائی ہے اور آپ بقول خود اپنی پیشین گوئیوں کو بارہا آزما چکے ہیں تو پھر مجھے ضرور ملزم اور لاجواب اور مغلوب ہونا پڑے گا۔ خدا نے آپ

صفحہ 167

ہی سے وعدہ بھی فرمایا ہے اور اب آپ ہی وعدہ پورا کرنے سے پہلو تہی فرما رہے ہیں۔ تو کس طرح تسلیم کیا جائے کہ اس میں تخلف کا امکان نہیں ہے جبکہ آپ کو ہی اس پر اطمینان نہیں۔ اتمام حجت کا دعویٰ کرنا اور اس مضمون کا اشتہار دینا کہ جس روز آفتاب مغرب سے طلوع ہو گا‘ روپے ادا کر دوں گا‘ آپ جیسے کی عقل مندی کو بٹہ لگا رہا ہے۔ آپ کے اس خلف وعد کی وجہ سے کوئی آریہ بھائی آپ کے پاس آنا نہیں چاہتا مکرر سہ کرر تحریر کرتا ہوں کہ میں آپ کے کرامات زر کے پرکھنے کے لیے اپنی طبع کو محک امتحان بنانا چاہتا ہوں اور ایک سال تک آپ کی شاگردی اور قادیاں کی حاضرباشی صدق دل سے منظور کرتا ہوں۔ اگر اس مرتبہ بھی حیلہ حوالہ ہی کرنا ہے تو مزید خط و کتابت بے کار ہے۔

(پنڈت لیکھرام‘ پردھان آریہ سماج پشاور‘ از مقام پشاور‘ ۲۹ اپریل ۱۸۸۵ء)

مرزا جی کا مطالبہ

اس کے جواب میں الہامی صاحب نے لکھا کہ آپ کو اصرار ہے کہ میں آریہ سماج کے گروہ میں ایک بڑا عزت دار آدمی ہوں اور بزرگوار اور عالی مرتبت ہونے کی وجہ سے تمام آریہ سماجوں میں مشہور و معروف ہوں بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ نے اپنے دعویٰ کو بعض اخباروں میں چھپوا کر جابجا مجھے بدنام کرنا چاہا ہے اور یہ لکھا ہے کہ جس حالت میں میں ایسا عزت دار آدمی ہوں اور طالب حق تو پھر کیوں مجھے آسمانی نشان دکھلانے سے محروم رکھا جاتا ہے اور کیوں چوبیس سو روپیہ دینے کی شرط پر مجھ کو قادیاں میں ایک سال تک ٹھہرا کر آسمانی نشانوں کی آزمائش کی اجازت نہیں دی جاتی؟ سو آپ پر واضح ہو کہ آپ کی درخواست ہم منظور کر لیتے ہیں اور جہاں چاہو چوبیس سو روپیہ جمع کرانے کو تیار اور مستعد ہیں لیکن جیسا کہ آپ شرائط مندرجہ خطوط مطبوعہ سے تجاوز کر کے اپنی پوری پوری تسلی کرنے کے لیے مجھ سے چوبیس سو روپیہ نقد کسی دکان یا سرکاری بینک میں جمع کرانا چاہتے ہیں تو اس صورت میں مجھے بھی حق پہنچتا ہے کہ میں بھی آپ کے اس اقرار کو‘ کہ بعد دیکھنے کسی آسمانی نشان کے‘ بلا توقف قادیاں میں ہی مسلمان ہو جاؤں گا۔ آپ ہی کے اعتبار پر نہ چھوڑوں بلکہ جس طرح آپ روپیہ وصول کرنے کے باب میں اپنی پوری پوری تسلی کریں گے اسی طرح میں بھی آپ کے مسلمان ہونے کے لیے کوئی ایسی تدبیر کر لوں جس

صفحہ 168

سے مجھے بھی پورا پورا یقین اور کامل تسلی ہو جائے کہ آپ بھی اسلام سے انکار کرنے کی حالت میں اپنی عہد شکنی کے ضرر سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ سو عدالت کی بات جس میں میں اور آپ برابر ہیں یہ ہے کہ ایک طرف یہ خاکسار چوبیس سو روپیہ جمع کرا دے اور دوسری طرف آپ بھی اسی قدر روپیہ حسب نشان دہی اس عاجز کے بوجہ تاوان انکار اسلام کسی مہاجن کی دکان پر جمع کروا دیں تاکہ جس کو خدا تعالیٰ فتح بخشے اس کے لیے فتح کی ایک یادگار رہے۔ (مرزا غلام احمد‘ از قادیاں‘ ۷ جولائی ۱۸۸۵ء)

۲۴۰۰ روپیہ جمع کرنے پر پنڈت جی کی آمادگی

اس کے جواب میں پنڈت لیکھرام نے لکھا کہ ہماری خط و کتابت کی بنیاد آپ کا وہ اشتہار ہے جو آپ نے مطبع مرتضائی لاہور میں طبع کرا کر شائع کیا تھا اور جس میں آپ نے نہایت صاف الفاظ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مجھے منجانب اللہ یہ حکم ہوا ہے کہ غیر مذہب والوں کو اسلام کی دعوت کروں اور جو شخص میرے پاس ایک سال تک قادیاں میں رہے اور آسمانی نشان اور خوارق عادات دیکھ کر مسلمان نہ ہو تو اسے دو سو روپیہ ماہوار کے حساب سے ایک سال کا دو ہزار چار سو روپیہ ہرجانہ یا جرمانہ دوں گا جس پر میں نے آپ کی خدمت میں التجا کی تھی کہ میں ایک سال تک آپ کی خدمت میں رہنے کو تیار ہوں بشرطیکہ آپ زر موعودہ سرکاری بینک میں جمع کرا دیں۔ اب آپ نے ۷ جولائی ۱۸۸۵ء کی چٹھی میں ایک نئی حجت پیش کر دی ہے یعنی یہ کہ دو ہزار چار سو روپیہ میں بھی آپ کے بالمقابل امانتاً داخل کراؤں تاکہ اگر آپ کے آسمانی نشان یا معجزہ کا مشاہدہ کر کے دین اسلام قبول نہ کروں تو وہ چوبیس سو روپیہ آپ وصول کر لیں۔

صاحب من! اب آپ اپنے مشتہرہ عہد و پیمان سے کیوں بھاگتے ہیں اور آپ نے جادۂ انصاف سے کیوں کنارہ کشی کی ہے؟ کیا دین داروں اور راست بازوں کے یہی کام ہوتے ہیں؟ اب انصاف یہی ہے کہ آپ پہلے اس بات کا اشتہار دے دیں کہ آپ نے جو پہلے اعلان کیا تھا اس کو میں منسوخ کرتا ہوں۔ جب آپ نے اپنے معجزہ کا اعلان کیا تھا تو آپ کو پختہ یقین ہونا چاہیے تھا کہ معجزہ ضرور دکھائیں گے اور اس کا اثر تیر بہدف ہو گا اور مشاہدہ کرنے والا ضرور مسلمان ہو جائے گا۔ کیونکہ معجزہ کے لغوی معنی عاجز کرنے کے

صفحہ 169

ہیں ۔ اگر فریق مقابل کو عاجز و مغلوب نہیں کیا تو وہ اعجاز نہیں ہو سکتا ۔ اس سے ظاہر ہے کہ آپ کو خود ہی اپنے معجزے پر شک ہو گیا ہے کہ یہ شخص میرے معجزے سے عاجز نہیں ہوگا ۔ اس لیے نئی حجت کھڑی کر رہے ہیں۔ تاہم میں "دروغ گو را تا بدروازہ باید رسانید" کے اصول کے ماتحت آپ کی یہ نئی شرط بھی ماننے کو تیار ہوں اور آپ کی طرح میں بھی دو ہزار چار سو روپیہ داخل کر سکتا ہوں ۔

نشان اور تاریخ و وقت کی تعیین کا مطالبہ

اس کے بعد پنڈت جی نے لکھا کہ چونکہ مجھے آپ کے استقلال میں شک ہے اس لیے آپ اس امر کی صراحت فرما دیجئے کہ آپ مجھے کون سا آسمانی نشان دکھائیں گے ؟ آسمانی نشان تین یعنی سورج چاند اور ستارے ہیں ۔ پس میری خواہش ہے کہ ان قدرتی نشانات کے علاوہ آپ ذیل کا کوئی آسمانی نشان دکھلائیں یعنی کوئی دوسرا آفتاب جس کا طلوع غرب سے اور غروب شرق میں ہو یا شق القمر کا معجزہ جو آپ کے خیال میں حق ہے، پس آپ اسی کا اعادہ کر دیں یعنی عادت مستمرہ کے خلاف پورن ماشی کی رات کو چاند کے دو ٹکڑے ہو جائیں، دوسرا چاند کامل اماوس کی رات کو جیسا کہ پورن ماشی ہوتا ہے ظہور کرے۔ ان میں سے تمام کے تمام یا جس ایک کو آپ دکھلا سکیں لیکن آپ معجزہ دکھلانے کی تاریخ اور اس کا وقت بھی مقرر کر دیں تاکہ وہ عام طور پر مشتہر کرا دیا جائے اگر اب بھی آپ نے اس خط کا جواب صاف الفاظ میں بلا حجت بازی کے نہ دیا تو مزید خط و کتابت بند کر دی جائے گی ۔ ( لیکھرام از آریہ سماج امرتسر، ۲۰ جولائی ۱۸۸۵ء )

مرزا صاحب کی شرط کہ معجزہ کے اثبات یا نفی کے لیے ثالث مقرر

ہوں

اس خط کے جواب میں مرزا صاحب نے ۳۱ جولائی ۱۸۸۵ء کو لکھا کہ میں نے اپنے اشتہار میں دو ہزار چار سو روپیہ دینے کا وعدہ ضرور کیا تھا لیکن پیشگی جمع کر دینے کی شرط نہیں کی تھی چونکہ آپ نے میرے وعدہ کو معتبر نہ سمجھا اس لیے اس اشتہار کے برخلاف

صفحہ 170

میرے لیے یہ استحقاق پیدا ہو گیا کہ آپ سے بھی دو ہزار چار سو روپیہ بالمقابل پیشگی رکھواؤں۔ میں اعجاز نمائی کی کوئی شرط نہیں کر سکتا اور نہ مطلوبہ نشان دکھا سکتا ہوں مجھے معلوم نہیں کہ کیا کچھ ظاہر ہوگا۔ ہم صرف بندۂ مامور ہیں۔ ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طور کا نشان ظاہر کرے گا۔ ہم جانتے اور سمجھتے ہیں کہ نشان اسی شے کا نام ہے کہ انسانی طاقت سے بالاتر ہو۔ ہمارا دعویٰ صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ ضرور ایسا نشان دکھائے گا جس کے مقابلہ سے انسانی طاقتیں عاجز ہوں لیکن یہ شرط ہے کہ ہمارے معجزہ کے متعلق اثبات یا نفی کی رائے دینے کے لیے ایسے مقبول الطرفین منصف مقرر ہونے چاہئیں جو فریقین کے مذہب سے الگ ہوں۔

مرزائی عذرات کی دھجیاں فضائے بسیط میں

اس کے جواب میں پنڈت لیکھرام نے لکھا کہ اگر آپ کو فریق مقابل سے بھی روپیہ رکھوانا منظور تھا تو اپنے پہلے ہی اشتہار میں صاف لفظوں میں شرط لگاتے کہ قمار بازوں کی طرح روپیہ دوبدو لگایا جائے گا تاکہ بعد کو شرائط میں ترمیم تنسیخ نہ کرنی پڑتی اور اگر آپ صراحۃً ”لکھ دیتے تو کوئی ادنیٰ عقل کا آدمی بھی ایسی قمار بازی کو قابل التفات نہ سمجھتا چہ جائیکہ راقم آپ سے خط و کتابت کرنے کی زحمت گوارا کرتا۔ آپ کے وعدہ پر اعتبار نہ کرنے کی علت آپ کا بے بنیاد لاف و گزاف اور بے بنیاد دعاوی ہیں۔ میں دیکھ رہا تھا کہ آپ نہ کوئی اہلکار‘ نہ جاگیردار‘ نہ پنشن خوار‘ نہ تاجر‘ نہ حرفت کار‘ نہ کارخانہ دار‘ نہ زمیندار‘ نہ کوئی بڑے صاحب جائیداد ہیں۔ ہاں قادیاں میں جو ایک گاؤں ہے آپ بھی مالکان دہ میں سے اس کے ایک حصہ دار ہیں اور آپ کی حیثیت بھی ایسی ہے جیسی عام لوگوں کی ہوتی ہے اور پھر ایسی معمولی حیثیت پر یہ لاف و گزاف کہ بقول خود آپ نے آٹھ ہزار دو سو چوالیس روپے ان خطوط پر خرچ کر دیے جو آپ نے معزز رئیسوں اور علماء و فضلاء کے نام اس مضمون کے بھیجے تھے کہ جو کوئی ایک سال تک موضع قادیاں میں رہ کر آسمانی نشان نہ دیکھے اسے دو سو روپیہ ماہانہ کے حساب سے دو ہزار چار سو روپیہ دیا جائے گا۔ اس کا حساب لگایا گیا تو قریباً دو کروڑ روپیہ ہوتا ہے اور لطف یہ کہ اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ کے سرورق پر اپنے القاب میں رئیس اعظم قادیاں دام اقبالہ لکھوایا۔ اس پر طرہ یہ

صفحہ 171

کہ آپ نے یہ اعلان بھی کر دیا کہ جو کوئی کتاب ”براہین احمدیہ“ کا رد لکھے گا وہ دس ہزار روپیہ انعام پائے گا۔ خیال کرنا چاہیے۔ اس قدر وسیع و عریض ملک میں اگر سو دو سو آدمی بھی اس کتاب کا رد لکھ دیں تو ان کے لیے لاکھوں روپیہ درکار ہے اور اگر آپ ایسے ہی گنج قارون کے مالک ہیں تو اپنی کتاب کی اشاعت کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں سے بھیک کیوں مانگتے رہتے ہیں؟ اور لطف یہ کہ پنج سالہ دریوزہ گری کے باوجود بقول آپ کے طباعت کتاب کے مصارف بھی بہم نہ پہنچ سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اس لاف زنی کو ذریعہ معاش بنا رکھا ہے۔ انہی وجوہ کے ماتحت میں نے زر مضموں کے پیشگی جمع کرا دینے کی درخواست کی تھی۔ آپ کا یہ گمان صحیح نہیں تھا کہ کوئی شخص ان کڑی شرطوں کی وجہ سے ایک گاؤں میں دہقانوں اور مجہولوں کے اندر ایک سال تک بے زنجیر قید رہنا گوارا نہیں کرے گا اور یہ کہ بصورت خاموشی آپ کا دعویٰ بطور ڈگری یک طرفہ ثابت ہو جائے گا لیکن جبکہ یہ بندہ آپ کے ابطال دعویٰ کے لیے کھڑا ہو گیا اور بوجوہ مذکورہ زر مضموں پیشگی جمع کرانا چاہا تو آپ نے اپنے اشتہار کے برخلاف ایک نیا حیلہ اختراع کر دیا۔ لیکن بندہ نے بھی ثابت قدمی کے ساتھ آپ کو اس حیلہ جدید کی راہ سے بھی بھاگ جانے کی فرصت نہ دی۔ یعنی دو ہزار چار سو روپیہ اپنی طرف سے جمع کرانا بھی منظور کر لیا۔ پس جس صورت میں یہ زر مشروط جانبین سے مساوی جمع ہو گا تو شرائط کا بھی مقبول و مساوی ہونا واجب ہوگا۔

اس کلمہ سے کہ ہم صرف بندۂ مامور ہیں اور زیادہ تر آپ کے اشتہار کی پہلی اور دوسری سطر سے صاف ظاہر ہے کہ آپ نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے اور حضرت عیسیٰ کا نام مبارک لکھ کر ان کے برابر آپ کو ظاہر کیا ہے۔ اس موقع پر بے جا نہ ہو گا کہ اگر ہم حضرات علماء اسلام کو متوجہ کریں کیونکہ خاص و عام اہل اسلام پر اظہر من الشمس ہے کہ حضرت رسالت پناہ ختم المرسلین ہیں۔ پس ایسے دعویدار پر تعزیر شرعی کا فتویٰ کیوں نہیں لگاتے کیونکہ خانگی دشمن سخت خرابی لاتے ہیں اور گھر کا بھیدی لنکا ڈھاتا ہے۔ آپ کا یہ عذر کہ ہم کو معلوم نہیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح کا نشان ظاہر کرے گا نہایت بے جا ہے۔ جس صورت میں آپ ایک اہم خدمت اور نہایت مہتم بالشان کام پر مامور ہوئے ہیں تو آپ اپنے مشن کے اسرار پر مطلع کیوں نہیں؟ اور جب آپ کو معلوم نہیں کہ کس قسم کا

صفحہ 172

نشان ظاہر ہو گا تو بدون ارشاد الہی آسمانی نشان کا دعویٰ کیوں مشتہر کر دیا؟ جب آپ کے الہام کی بسم اللہ ہی غلط ہے تو آگے آپ سے کیا بن پڑے گا؟ ظاہر ہے کہ بایں نادانستی آپ کو نبوت کے اعلیٰ ترین درجہ پر مامور کر دینا خدائے عالم الغیب کا کام نہیں ہو سکتا۔ یہ آپ پر کسی اور ہی ہستی کا فیض ہے۔ ہم نے بھی آپ سے ایسے ہی نشان مانگے تھے جو انسانی طاقت سے بالاتر ہوں، فروتر نہیں مانگے تھے۔ مگر اس سے بھی آپ گریز کر گئے۔ اب آپ نے اپنے دعویٰ کا نصف حصہ چھوڑ دیا کہ نشان آسمانی کا صرف ایک جزو یعنی صرف نشان باقی رکھا اور وہ دوسرا حصہ یعنی لفظ آسمان بھی بے نشان و معدوم کر دیا کیونکہ آپ کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا اور کیسا ہو گا۔ پس آپ کا دعویٰ بکلی باطل ہو گیا۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ معلوم نہیں آپ اپنے مندرجہ بالا اقرار کے باوجود یہ عذر کیوں پیش کرتے ہیں کہ آپ کے معجزہ پر اثبات یا نفی کی رائے دینے کے لیے منصف مقرر ہونے چاہئیں۔ یہ صحیح ہے کہ جب کوئی مقدمہ یا مجہول الکیفیت امر پیش ہوتا ہے تو اس کے لیے منصفوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اس لحاظ سے کہ بشر غیب دان نہیں وہ منصف بھی اندھیرے ہی میں تیر چلاتے ہیں۔ پس اگر آپ کا معجزہ بھی مجہول الکیفیت ہو گا تو آپ اپنے معجزے بھیڑ بکری چرانے والے گڈریوں کو دکھلایا کریں اور ہمیں معاف ہی رکھیں۔ ہم آپ کی لاف زنی کے معجزات دیکھنے سے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ ع: میں باز آیا محبت سے اٹھا لو پان دان اپنا۔ (لیکھرام از آریہ سماج امرتسر ۵؍ اگست ۱۸۸۵ء)

پنڈت جی سے درخواست کہ قادیاں آ کر تصفیہ کر جاؤ

حضرت اقدس مرزا جی نے اس چٹھی کا کوئی جواب نہ دیا اور قادیاں ”شریف“ کے درو دیوار پر سکوت گور چھا گیا۔ آخر پنڈت نے تین مہینہ کے انتظار شدید کے بعد ایک پوسٹ کارڈ بھیج کر یاددہانی کی۔ اس کے جواب میں مرزا صاحب نے پنڈت جی کے نام ایک پوسٹ کارڈ بھیجا جس میں لکھا تھا کہ قادیاں کوئی دور نہیں ہے، آ کر ملاقات کر جاؤ۔ امید ہے کہ باہمی ملاقات پر شرطیں طے ہو جائیں گی۔ (تکذیب براہین، مرتبہ و مولفہ پنڈت لیکھرام، ص ۳۰۶۔ ۳۲۶) پنڈت لیکھرام اور مرزا صاحب میں پانچ چھ مہینہ تک جس لاطائل خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا وہ ۱۸۸۵ء میں پنجاب کے متعدد اخبارات مثلاً آفتاب

صفحہ 173

پنجاب‘ کوہ نور وغیرہا میں شائع ہوتی رہی۔ (تکذیب براہین‘ ص ۳۴۱) چونکہ اس میں پنڈت لیکھرام کی نمایاں فتح اور مرزائیت کی کھلی ہزیمت تھی‘ اس لیے نہ تو خود مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں اس کا کہیں ذکر کیا اور نہ مرزا صاحب کے بعد مکتوبات احمدیہ کی کسی جلد میں اس کو شرف اندراج بخشا گیا۔ کتاب تکذیب براہین مع ضمیمہ نہ صرف مرزا صاحب کی زندگی میں شائع ہوئی تھی بلکہ انہوں نے اس کو حرفاً حرفاً پڑھ کر اپنی متعدد تصنیفات میں پنڈت لیکھرام کی گندہ دہنی کا شکوہ کیا تھا۔ اس سے ظاہر ہے کہ مرزا صاحب اس خط و کتابت سے بے خبر نہیں تھے جو پنڈت لیکھرام نے اپنی کتاب ”تکذیب براہین“ کے اخیر میں درج کی تھی۔ اور چونکہ مرزا صاحب کو اس کی تردید یا اس سے انکار کرنے کا کبھی حوصلہ نہ ہوا اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ اس کو صحیح نہ سمجھا جائے۔ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ قادیاں کی بارگاہ خلافت یا وہاں کا کوئی حاشیہ بردار مرزا صاحب کے دامن تقدس کو رسوائی کے اس داغ سے کبھی پاک و صاف نہیں کر سکتا۔

باب ۲۵

پنڈت لیکھرام قادیاں میں

باب سابق میں آپ نے پڑھا کہ خود مرزا صاحب نے پنڈت لیکھرام کو قادیاں آنے کی دعوت دی تاکہ بالمشافہ گفتگو کر کے یک سالہ قیام کے شرائط طے کر لیں۔ اس دعوت کے بموجب پنڈت لیکھرام سچ مچ وہاں جا دھمکے اور شرائط زیر بحث پر گفتگو کی۔ لیکن مرزا صاحب نے حسب معتاد پھر سخن تراشی اور لیت و لعل سے کام نکالنا چاہا۔ مگر بدقسمتی سے ان کا مد مقابل کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو آسانی سے پیچھا چھوڑ دیتا۔ پنڈت جی نے قادیاں جا کر ان کا ناک میں دم کر دیا اور بری طرح گلے کا ہار ہوئے۔ مرزا صاحب نے ہزار جتن کیے کہ کسی طرح یہ جن پیچھا چھوڑ دے لیکن پنڈت جی سالہا سال پولیس کی نوکری کر چکے تھے‘ کسی طرح نہ ٹلے اور ان کی جان کھا گئے۔ اصل میں مرزا صاحب کو پنڈت جی سے کبھی سابقہ نہ پڑا تھا ورنہ ایسے بے ڈھب آدمی کو جو جان کا لاگو بن گیا تھا کبھی منہ نہ لگاتے اور

صفحہ 174

شروع ہی میں یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ تم میرے صحیح مخاطب نہیں ہو۔ اس سلسلہ میں مرزا صاحب تین فاحش غلطیوں کے مرتکب ہوئے تھے۔ انہوں نے پہلی غلطی تو یہ کی کہ ناحق غیر مسلموں کو ایک سال تک قادیاں رہ کر معجزہ دیکھنے کی دعوت دی۔ دوسری غلطی یہ تھی کہ پنڈت لیکھرام جیسے سخت گیر آدمی سے خط و کتابت شروع کر کے ان کی چال میں آ گئے۔ تیسری چوک ان سے یہ ہوئی کہ پنڈت جی کو اپنے گھر بلا کر اس مثل کے مصداق بنے "آ بیل مجھے مار"۔ پنڈت جی قادیاں پہنچ کر ہاتھ دھو کے ان کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ انہوں نے مرزا صاحب کو ایسا آڑے ہاتھوں لیا کہ جان بچانی مشکل ہو گئی۔ ایک دن پنڈت لیکھرام مرزا صاحب کے مکان پر بیٹھے ہوئے آسمانی معجزہ دیکھنے کے لیے قادیاں کے یک سالہ قیام کی شرطیں طے کر رہے تھے۔ اثنائے گفتگو میں لفظ خوارق عادات زیر بحث آ گیا۔ پنڈت نے کہا کہ خوارق عادات عادت یا سبھاؤ کے توڑنے کو کہتے ہیں۔ چاقو چھری میں قطع کرنے کی عادت ودیعت ہے۔ آگ کا خاصہ جلانا ہے۔ درخت میں غیر متحرک رہنے کی عادت ہے۔ اگر آپ ان خواص و عادات کو خدا کے حکم سے توڑ دیں یعنی آپ کے معجزہ سے چاقو چھری کاٹنے سے باز رہے، آگ جلا نہ سکے، درخت چلنے لگے تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ اور اگر آپ اعجاز نمائی سے قاصر رہیں تو آپ آریہ ہو جائیں اور جھوٹے دعوؤں سے باز آ جائیں۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ قرآن کی اصطلاح میں معجزے کے یہ معنے نہیں ہیں۔ پنڈت نے کہا کہ جب یہ لفظ ہی قرآن میں نہیں تو اس کے لیے قرآنی اصطلاح کا دعویٰ کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے؟ واقعی قرآن میں معجزہ کا لفظ نہیں بلکہ اس کے لیے آیت یعنی نشان کا لفظ مستعمل ہے۔ مرزا صاحب اس بات پر زور دینے لگے کہ قرآن میں یہ لفظ یقیناً موجود ہے۔ پنڈت لیکھرام نے قرآن مجید مرزا صاحب کے سامنے پیش کر کے کہا، براہ خدا نکالیے۔ مرزا صاحب چند منٹ تک کلام پاک کی ورق گردانی کرتے رہے مگر اپنی کوشش میں ناکام رہے۔ آخر مجبور ہو کر فرمایا کہ میں اس دعویٰ سے دست بردار ہوتا ہوں۔ واقعی قرآن میں یہ لفظ نہیں ہے۔ پنڈت لیکھرام نے لکھا ہے کہ اس وقت حکیم کشن سنگھ، لالہ نہال چند، حکیم دیا رام، پنڈت جے کشن، لالہ پچھی سہائے، مرزا غلام احمد صاحب کے عم زاد بھائی مرزا کمال الدین، منشی مراد علی اور ایک ضعیف العمر مسافر بیٹھے ہوئے تھے اور غالباً مرزا جی کو بھی اس بیان کی صداقت سے انکار نہ ہو گا۔

(تکذیب براہین، ص ۸۶)

صفحہ 175

پنڈت کی گاؤ زوریاں اور قادیانی بارگاہ کی رسوائیاں

پنڈت جی نے بہتیری کوشش کی کہ الہامی صاحب کسی طرح قادیاں کے یک سالہ قیام کے معقول اور منصفانہ شرائط کو منظور کریں اور حیلے حوالے چھوڑ کر راہ راست پر آئیں لیکن کامیاب نہ ہوئے۔ جب انہوں نے مغز خالی کر کے دیکھ لیا کہ یہ حیلہ گری سے کسی طرح باز نہیں آتے اور اب شرائط قیام پر مزید گفتگو عبث ہے تو انہوں نے یک سالہ قیام و انتظار کو بالائے طاق رکھ کر فوری اعجاز نمائی کا مطالبہ شروع کر دیا۔ پنڈت جی ہر روز الہامی صاحب کے دولت کدہ پر جاتے اور کہتے کہ اگر اپنے دعوؤں میں سچے ہو تو کوئی معجزہ اور کرامت دکھاؤ۔ لیکن بے چارے مرزا جی کے لیے سر ندامت جھکا لینے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ کیونکہ اعجاز نمائی خانہ ساز مقدسین کے بس کا روگ نہیں۔ اسی کے ساتھ پنڈت جی کا یہ معمول تھا کہ ہر روز سینکڑوں ہندوؤں کو جمع کر کے قادیاں کے بازار میں چلے جاتے اور مجمع کثیر میں نہایت زہر آلود تقریر کر کے مرزائی تجدید کا کھنڈن کرتے اور قادیانی تقدس کی دھجیاں فضائے بسیط میں بکھیر کر حاضرین کو خوب ہنساتے اور مرزائیت اور اس کے بانی کی رسوائی کا مشغلہ پایہ تکمیل تک پہنچا کر واپس آتے۔ خود مرزا جی نے اپنے اسم باسمی رسالہ "فریاد درد" میں ان رسوائیوں کا بہت کچھ رونا رویا ہے۔ چنانچہ اس نوحہ و فغاں کی ایک بانگی ملاحظہ ہو۔ لکھتے ہیں "جن دنوں لیکھرام نے اسلام کی نسبت بد زبانی پر کمر باندھ رکھی تھی اور بات بات میں گالی اس کے منہ میں تھی ان دنوں اس نے جوش میں آکر ایک یہ کارروائی بھی کی تھی کہ مجھ سے بحث کرنے کے لیے قادیاں میں آکر ایک مہینہ کے قریب رہا۔ میں اس سے بحث کرنے کے لیے اس کے ضلع اور گاؤں میں نہیں گیا اور نہ میں نے کبھی ابتدا اس سے خط و کتابت کی۔ وہ خود اپنے وحشیانہ جوش سے قادیاں میں میرے پاس آیا اور اس بات کے تمام ہندو اس جگہ کے گواہ ہیں کہ پچیس دن کے قریب قادیاں میں رہا اور سخت گوئی اور بد زبانی سے ایک دن بھی اپنے تئیں روک نہ سکا۔ بازار میں مسلمانوں کے گزر کی جگہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا رہا اور مسلمانوں کو جوش دینے والے الفاظ بولتا رہا۔ میں نے اندیشہ نقض امن سے مسلمانوں کو منع کر دیا تھا کہ اس کی تقریروں کے وقت کوئی بازار میں کھڑا نہ ہو اور کوئی مقابلہ کے لیے مستعد نہ ہو۔

صفحہ 176

اس لیے باوجود اس کے کہ وہ فساد کے لیے چند اوباشوں کو ساتھ ملا کر ہر روز ہنگامہ کے لیے تیار رہتا تھا مگر مسلمانوں نے میری متواتر نصیحتوں کی وجہ سے اپنے جوشوں کو دبا لیا۔ ان دنوں میں کئی باغیرت مسلمان میرے پاس آئے کہ یہ شخص برملا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جوش میں ہیں، تب میں نے نرمی سے منع کیا کہ ایک مسافر ہے۔ بحث کرنے کے لیے آیا ہے، صبر کرنا چاہیے۔ میرے بار بار روکنے سے وہ لوگ اپنے جوشوں سے باز آئے۔ اور لیکھرام نے یہ طریق اختیار کیا کہ ہر روز میرے مکان پر آتا اور کوئی نشان اور معجزہ مانگتا اور سخت غصے اور ہنسی کے الفاظ اس کے منہ سے نکلتے۔ وہ ہمیشہ صبح یا تیسرے پہر قادیاں میں میرے مکان پر آتا اور اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت طرح طرح کی بے ادبیاں کرتا اور جیسا کہ ظالم پادریوں نے مشہور کر رکھا ہے، بار بار یہی کہتا کہ تمہارے پیغمبر سے کوئی معجزہ ظاہر نہیں ہوا اور نہ کوئی پیش گوئی پوری ہوئی۔ ملاؤں نے مذہب کو رونق دینے کے لیے جھوٹے معجزوں سے کتابیں بھر رکھی ہیں"۔

(کتاب فریاد درد، مولفہ مرزا غلام احمد، ص الف)

اعجاز نمائی سے قاصر رہنا

لیکن سوال یہ ہے کہ جب پنڈت لیکھرام مرزا صاحب کو ان کے کاشانہ تقدس میں جا جا کر ذلیل کر رہے تھے، اسلام اور داعی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں دریدہ دہنی کی جا رہی تھی، مجدد صاحب کا ہر وقت بری طرح مذاق اڑایا جا رہا تھا اور پنڈت جی ہر وقت مصر تھے کہ کوئی معجزہ دکھاؤ تو اگر مرزا صاحب میں واقعی کوئی اعجازی جوہر ودیعت تھا تو ایسی حالت میں ان کی رگ حمیت کیوں جنبش میں نہ آئی؟ انہوں نے اپنا کوئی عدو افگن معجزہ دکھا کر اس بے باک آریہ کو گھٹنے ٹیکنے پر کیوں مجبور نہ کیا؟ اور اس کا سر نیاز خاک مذلت پر رکھوا کر دوسرے شوریدہ سر اعدائے دین کے لیے اسباب عبرت کیوں مہیا نہ کر دیے؟ مرزا صاحب کا دعویٰ تو یہ تھا کہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت میرے بہت زیادہ معجزات اور پیشین گوئیاں ہیں بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے معجزات اور پیشین گوئیوں کو ان معجزات سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیشین گوئیاں اور معجزات اس وقت محض بطور قصہ کہانیوں کے ہیں مگر میرے معجزات اور پیش گوئیاں ہزارہا لوگوں کے لیے واقعات

صفحہ 177

چشم دید ہیں۔ گزشتہ نبیوں کے معجزات اور پیش گوئیوں کا ایک بھی زندہ گواہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ باستثناء ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ آپ کے معجزات اور پیش گوئیوں کا میں زندہ گواہ موجود ہوں اور قرآن شریف زندہ گواہ موجود ہے اور میں وہ ہوں جس کے بعض معجزات اور پیش گوئیوں کے کروڑہا انسان گواہ ہیں۔ (نزول المسیح، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۸۱ ۔ ۸۲) لیکن اس دعویٰ کا عملی ثبوت یہ تھا کہ ایک عدوئے اسلام کے مجبور کرنے پر بھی اپنے کیسۂ معجزات سے ایک عدد معجزہ نکال کر پیش نہیں کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر مرزا صاحب کے دعویٰ اعجاز نمائی میں شمہ بھر بھی سچائی تھی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ایسے نازک وقت میں بھی جبکہ دین حنیف ذلیل کیا جا رہا تھا، ناموس سید کون و مکان صلی اللہ علیہ وسلم خطرے میں تھا، حضرت ”مجدد زمان“ کو کسی اعجاز کی طاقت نہ دی جاتی۔ لیکن چونکہ وہ پنڈت لیکھرام کے مقابلہ میں برابر ذلت پر ذلت سہتے رہے، اس عدوئے اسلام کی مدت قیام میں قادیاں کی فضا پر خفت و رسوائی کی آندھیاں برابر مسلط رہیں اور مرزا جی کو نہ تو کسی عارفانہ کمال پر قدرت ہوئی اور نہ ان کے جسد حمیت و غیرت پر کوئی تازیانہ لگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے تمام دعاوی اعجاز سراسر خدع نفس تھے۔

باب ۲۶

قادیاں کے یک سالہ قیام پر منشی اندرمن کی رضامندی

جن ایام میں پنڈت لیکھرام جی مرزا صاحب سے قادیاں کے یک سالہ قیام کے متعلق خط و کتابت کر رہے تھے۔ انہی دنوں منشی اندرمن مراد آبادی بھی مرزا صاحب سے یہی شرائط طے کرنے میں مصروف تھے۔ مرزا صاحب کے اس اعلان کو پڑھ کر جو امتحان اعجاز نمائی کے متعلق انیسویں باب میں درج ہوا منشی اندرمن مراد آبادی نے مرزا صاحب کے نام ایک خط لکھا۔ مرزا صاحب یا ان کے پیروؤں نے اس خط کو تو شائع نہیں کیا۔ البتہ ”تبلیغ رسالت“ سے جو مرزا صاحب کے اشتہارات کا مجموعہ ہے، اتنا پتہ چلتا ہے کہ منشی جی نے بھی پنڈت لیکھرام کی طرح بطور ضمانت اور اطمینان ،، ہزار چار سو روپیہ بنک میں جمع

صفحہ 178

کر دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ (تبلیغ رسالت' جلد اول' صفحہ ۲۸ و (حاشیہ) اس کے جواب میں حسب بیان مرزا صاحب انہوں نے منشی اندرمن کو لکھا کہ اگر بالفرض ایک سال میں کسی، آسمانی نشان کا آپ کو مشاہدہ نہ ہو تو میں آپ کو چوبیس سو روپیہ دے دوں گا اور اگر آپ کو پیشگی لینے پر اصرار ہو تو مجھے اس سے بھی دریغ و عذر نہیں۔ بلکہ آپ کے اطمینان کے لیے چوبیس سو روپیہ نقد ہمراہ رقیمہ ہذا ارسال خدمت ہے۔ (ایضاً صفحہ ۲۸ ب) اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے چٹھی کے ساتھ ہی روپیہ بھی بھیج دیا تھا۔ اگر اس بیان کو صحیح فرض کر لیا جائے تو بھی یہ محض عبث اور نمائشی فعل تھا۔ کیونکہ وہ تو محض اپنے اطمینان کے لیے روپیہ بنک میں جمع کرانا چاہتے تھے۔ اور اگر واقعی اس رقم کو پیشگی ہی منشی جی کی تحویل میں کر دینا منظور تھا' تاکہ وہ کامل اطمینان اور سکون قلب کے ساتھ قادیاں آ جائیں تو سوال یہ ہے کہ اس کے ساتھ ان کے سامنے پرحیل شرطیں کیوں پیش کی گئیں؟

مرزا صاحب کی پہلی ناجائز و ناقابل عمل شرط

قادیانی صاحب نے منشی جی کے سامنے جو نئی شرطیں پیش کر کے اپنے بچاؤ کی تدبیر نکالی' ذرا اس کو ملاحظہ فرمائیے۔ مرزاجی نے اسی خط میں منشی جی کو لکھا کہ چونکہ آپ نے یہ ایک امر زائد چاہا ہے۔ اس لیے مجھے بھی یہ حق پیدا ہو گیا ہے کہ اس امر زائد کے مقابلہ میں کوئی ضروری شرط کر لوں۔ پہلی شرط یہ کہ جب تک آپ کا سال گزر نہ جائے کوئی دوسرا شخص آپ کے گروہ (آریوں) سے زر موعود پیشگی لینے کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ ہر شخص کو زر پیشگی دینا آسان نہیں ہے۔ (تبلیغ رسالت' جلد اول' صفحہ ۲۸ ب) اس شرط کے متعلق التماس ہے کہ منشی اندرمن بیچارے ہندوستان بھر کے آریوں کی طرف سے اس بات کا بھلا کس طرح ذمہ لے سکتے تھے کہ کوئی دوسرا آریہ جس کو قادیانی کی طرف سے دعوت امتحان بھیجی گئی۔ زر پیشگی جمع کرانے کا مطالبہ نہ کرے گا۔ مرزا جی نے اطراف و اکناف ملک میں غیر مسلم مقتدایان مذہب کے پاس ہزارہا اشتہارات فرداً فرداً بھیجے تھے۔ ان میں سے ہر شخص چاہتا تو زر موعود پیشگی جمع کرنے کا مطالبہ کر سکتا تھا۔ اگر ہر شخص کے لیے پیشگی روپیہ جمع کرنا سہل نہیں تھا تو پھر یہ مضحکہ خیز کھیل ہی کیوں کھیلا تھا؟ اور یہ تو

صفحہ 179

خیریت رہی کہ ہزار ہا مدعوین میں سے صرف تین آدمیوں (پنڈت لیکھرام، منشی اندر من اور گوجرانوالہ کے ایک انگریز پادری) کے سوا کسی نے اس دعوت امتحان کو قابل التفات نہ سمجھا ورنہ مرزا صاحب کو لینے کے دینے پڑ جاتے۔ پنڈت لیکھرام کو تو وہ باتوں ہی میں ٹرخا رہے تھے اور یورپین پادری نے شاید پیشگی رقم کی خواہش ہی نہ کی تھی۔ باقی صرف ایک منشی اندر من کے لیے بلا حیل و حجت اور بغیر کسی نئی شرط کے چوبیس سو روپیہ جمع کر دینا کون سا مشکل کام تھا؟ خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ بقول مرزا صاحب انہوں نے منشی جی کے پاس یہ روپیہ نقد بھیج بھی دیا تھا۔

مرزا جی کے دوسرے بے جا شرائط

مرزا جی نے دوسری نئی شرط یہ پیش کی کہ اگر مشاہدہ نشان آسمانی کے بعد منشی صاحب اظہار اسلام میں توقف کریں اور اپنے عہد کو پورا نہ کریں تو پھر ہرجانہ یا جرمانہ دونوں امر سے ایک ضرور ہے (ایضاً) مگر یہ شرط بھی بے جا تھی۔ کیونکہ جب ابو جہل اور دوسرے سرداران قریش نے حضور خیرالبشر صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ شق القمر کا مطالبہ کیا تھا تو آنحضرت روحی فداہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان منکروں کے سامنے کوئی شرط پیش نہ کی تھی اور یہ نہ فرمایا تھا کہ اگر تم بعد مشاہدہ انشقاق قمر ایمان نہ لاؤ تو تمہیں ہرجانہ یا جرمانہ دینا پڑے گا۔ کیونکہ ایمان جبراً کسی دل میں داخل نہیں کیا جا سکتا اور کوئی شخص شرعاً و عقلاً اس پر مجبور نہیں کہ اپنے ضمیر کے خلاف اسلام کا اظہار کرے کیونکہ ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی فلاح دارین کے لیے شرف ایمان سے مشرف ہو یا مشاہدہ نشان آسمانی کے بعد بھی بدستور اہل شقاوت میں سے رہے۔ من شاء فلیؤمن ومن شاء فلیکفر ارشاد خداوندی ہے قادیانی صاحب نے شرط ثانی کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے الف اور ب کے ذیل میں اس کی جو تصریح کی اس سے آفتاب نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ یہ سب قیل و قال محض امتحان اعجاز نمائی سے بچنے کے حیلے تھے۔ ورنہ دنیا کا کوئی معقول آدمی پہلے غیر مشروط اعلان پر ایسی لایعنی قیود و شرائط کے اضافہ کو قرین انصاف نہ بتائے گا۔ بہر حال مرزا صاحب نے دوسری شرط کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے۔ ”(الف) سب لوگ آپ کے گروہ کے جو آپ کو مقتدا جانتے ہیں یا آپ کے حامی و محبی ہیں اپنا عجز اور اسلام

صفحہ 180

کے مقابلہ میں اپنے مذہب کا بے دلیل ہونا تسلیم کریں اور وہ لوگ ابھی سے آپ کو اپنا وکیل مقرر کرکے اس تحریک کا آپ کو اختیار دیں۔ پھر اس پر اپنے دستخط کریں۔ (ب) در صورت تخلف وعدہ جانب ثانی سے اس کا مالی جرمانہ یا معاوضہ جو آپ کی اور آپ کے مربیوں اور حامیوں اور مقتدیوں کی حیثیت کے مطابق ہو ادا کریں۔ تاکہ اس مال سے اس وعدہ خلافی کی کوئی یادگار قائم کی جائے۔ ایک اخبار تائید اسلام میں جاری ہو یا کوئی مدرسہ تعلیم نو مسلم اہل اسلام کے لیے قائم ہو۔ آپ ان شرائط کو تسلیم نہ کریں تو آپ مجھ سے پیشگی روپیہ نہیں لے سکتے"۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول صفحہ ۲۸ ب) مگر ظاہر ہے کہ منشی اندرمن نے یہ کبھی خواہش نہ کی تھی کہ روپیہ میرے حوالے کر دو بلکہ محض اس خیال سے کہ مبادا کل کو روپیہ وصول کرنے میں مشکلات حائل رہیں۔ انہوں نے صرف رقم موعود کے بنک میں جمع کرا دینے کی خواہش کی تھی اور ایسی خواہش از روئے انصاف کوئی غیر معقول مطالبہ نہیں تھا۔ لیکن مرزا صاحب نے ایک بالکل سیدھی بات میں الجھنیں ڈال کر اسے ایک معمہ بنا دیا۔ ضرورت صرف یہ تھی کہ وہی رقم جو منشی اندرمن کے پاس چٹھی کے ساتھ زرنقد کی شکل میں بھیجی گئی تھی بنک میں جمع کرا دی جاتی اور نئے نئے دجل آمیز شرائط پیش کرکے اپنی شان مجددیت اور دعوائے اعجاز نمائی کی یوں مٹی پلید نہ کی جاتی۔

باب ۲۷

قادیانی ہندو رؤساء کے وفد کا مطالبہ اعجاز نمائی

مرزا غلام احمد صاحب کے عم زاد بھائی مرزا امام الدین نے ۳؍ اگست ۱۸۸۵ء کو ایک اعلان زیر عنوان "اشتہار صداقت اظہار" شائع کرکے غلام احمد کی تجدید و تقدس کا ایک گوشہ عریاں کیا تھا اور قادیاں کے بعض اسرار و غوامض کی پردہ دری کی تھی۔ یہاں اس اشتہار کا وہ حصہ نقل کیا جاتا ہے جس میں حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب کی بارگاہ عالی میں قادیانی ہنود کے ایک ذمہ دار وفد کے حاضر ہونے اور اعجاز نمائی کی درخواست کرنے اور انجام کار بے نیل و مرام مراجعت کرنے کا ذکر ہے۔ مرزا امام الدین نے لکھا۔ "۴؍ اگست ۱۸۸۵ء کو قادیان کے بہت سے معزز و معاملہ فہم ہنود ایک وفد کی شکل میں مرزا

صفحہ 181

غلام احمد کے پاس گئے اور کہا کہ آپ نے جو اطراف و اکناف ملک میں اپنے تئیں صاحب الہام و کرامات مشہور کیا ہے۔ یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اگر آپ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو ہم کو بھی اپنا کوئی کمال دکھائیے۔ الہامی صاحب نے نہ تو صاف اقرار کیا اور نہ انکار۔ بلکہ حیلہ سازیوں سے دفع الوقتی کرتے رہے۔ آخر فرمایا کہ ”آپ سب مل کر چوبیس سو روپیہ جمع کیجئے۔ اسی قدر رقم ہم بھی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ایک سال کے عرصہ میں ہمارے بیس الہاموں میں سے ایک الہام بھی پایہ صداقت کو پہنچ گیا تو ہماری حجت قائم ہو جائے گی اور ہم تمہارا چوبیس سو روپیہ لے لینے کے مستحق ٹھہریں گے“۔ اس کے جواب میں طالبان اعجاز نمائی نے کہا کہ ایسی اٹکل پچو باتیں تو جوتشی اور رملّی بھی بتا دیا کرتے ہیں۔ دس میں سے دو چار باتیں ان کی بھی پوری ہو جاتی ہیں۔ کیا وہ بھی ملہم اور مامور من اللہ ہیں؟ اس کے بعد عمائد ہنود نے کہا کہ مرزا صاحب! آپ میعاد خواہ ایک سال کی جگہ دو سال مقرر کر لیجئے لیکن اس عرصہ میں آپ کو جس قدر الہام ہوں آپ سب کے سب پورے کر دکھائیں۔ اب مرزا صاحب کا ناطقہ بند ہو گیا اور روئے سخن کو دوسری طرف پھیرنا چاہا۔ انہوں نے اپنے مطالبہ پر اصرار کیا۔ الہامی صاحب فرمانے لگے کہ ”طالب حق کا فرض ہے کہ وہ الہام ربانی کے مشاہدہ میں کوئی چون و چرا نہ کرے“۔ انہوں نے کہا مرزا صاحب! اچھا آپ ایک ہی آسمانی نشان مشاہدہ کرا دیجئے لیکن اس کا وقت مقرر کر دینا ضرور ہے۔ آپ کو لازمی طور پر بتا دینا ہوگا کہ یہ الہام فلاں تاریخ کو ظہور پذیر ہوگا۔ الہامی صاحب نے اس سے بھی انکار کیا اور فرمایا کہ ایسا ہونا امر محال ہے۔ اب ان کے گزشتہ الہاموں کا ذکر آیا جو پورے نہیں ہوئے تھے۔ مرزا صاحب سرے سے ان الہاموں سے مکر گئے۔ حالانکہ ان کے گواہ حافظ سلطان محمد صاحب امام مسجد اور بعض دوسرے لوگ اسی مجلس میں موجود تھے۔ مرزا صاحب نے بڑی جرات اور دیدہ دلیری سے کہہ دیا کہ مجھے یہ الہام ہوئے ہی نہیں۔

(تکذیب براہین‘ ص ۴۲۸-۴۲۹)

باب ۲۸

دس بنگالی ہندوؤں کی طرف سے

صفحہ 182

اعجاز نمائی کی جعلی درخواست

جب سر بر آوردہ ہنود کا ممتاز وفد ملہم صاحب کا ناطقہ بند کر کے واپس گیا تو اس سے مرزا صاحب کی بڑی کرکری ہوئی اور دور نزدیک اس باطل شکن وفد کے چرچے ہوئے۔ یہ صورت حالات دیکھ کر مرزا صاحب کے چھکے چھوٹ گئے اور بحالت اضطرار سوچنے لگے کہ اس داغ بدنامی کے مٹانے کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے؟ آخر بہت سے غور و فکر کے بعد قادیان کے دس ناخواندہ اور نیم خواندہ ہنود کو جو مرزا صاحب کے محتاج و دست نگر تھے جمع کیا اور ان کی طرف سے اپنے نام خود ہی ایک درخواست لکھ لی کہ ہم طالبان حق ہیں۔ آپ ہم کو آسمانی نشانات دکھائیں اور اس کے نیچے اپنی طرف سے ایک مضمون لکھا کہ ہمیں ان دس آدمیوں کی درخواست منظور ہے اور اپنے چند مرزائی حاشیہ نشینوں کے نام بحیثیت گواہ درج کر کے اعلان شائع کر دیا۔ (تکذیب براہین، ص ۳۳۱- ۳۳۲)

درخواست اعجاز نمائی کا مضمون

ہنود کی طرف سے یہ درخواست تیار کی گئی تھی:۔ مخدوم و مکرم مرزا غلام احمد صاحب سلمہ، بعد ما وجب کمال ادب عرض کی جاتی ہے کہ جس حالت میں آپ نے لندن اور امریکہ تک اس مضمون کے رجسٹری شدہ خط بھیجے ہیں کہ جو طالب صادق ہو اور ایک برس تک ہمارے پاس آکر قادیان میں ٹھہرے تو خدائے تعالیٰ اس کو ایسے نشان دربارہ اثبات حقیقت اسلام ضرور دکھائے گا کہ جو طاقت انسانی سے بالاتر ہوں۔ سو ہم لوگ آپ کے ہمسایہ اور ہم وطن ہیں۔ لندن اور امریکہ والوں سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں قسمیہ بیان کرتے ہیں کہ ہم طالبان صادق ہیں۔ کسی قسم کا شر اور عناد جو بمقتضائے نفسانیت یا مغائرت مذہب نا اہلوں کے دلوں میں ہوتا ہے۔ وہ ہمارے دلوں میں ہرگز نہیں ہے اور نہ ہم بعض نامنصف مخالفوں کی طرح آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ ہم صرف اس قسم کے نشانوں کو قبول کریں گے کہ ستارے اور سورج اور چاند پارہ پارہ ہو کر زمین پر گر جائیں یا ایک سورج کی جگہ تین سورج اور ایک چاند کی جگہ دو چاند ہو

صفحہ 183

جائیں یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو کر آسمان سے جا لگے۔ یہ باتیں بلاشبہ ضد اور تعصب پر مبنی ہیں۔ لیکن ہم لوگ ایسے نشانوں پر کفایت کرتے ہیں جن میں زمین و آسمان کے زیر و زبر کرنے کی حاجت نہیں اور نہ قوانین قدرت کے توڑنے کی کچھ ضرورت۔ ہاں ایسے نشان ضرور چاہئیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوں جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ وہ سچا اور پاک پرمیشر بوجہ آپ کی دینی راست بازی کے عین محبت اور کرپا کی راہ سے آپ کی دعاؤں کو قبول کر لیتا ہے اور قبولیت دعا سے قبل از وقوع اطلاع بخشتا ہے یا آپ کو بعض اسرار خاصہ پر مطلع کرتا ہے اور بطور پیش گوئی ان پوشیدہ بھیدوں کی خبر آپ کو دیتا ہے یا ایسے عجیب طور سے آپ کی مدد اور حمایت کرتا ہے جیسے وہ قدیم سے اپنے برگزیدوں اور مقربوں اور بھگتوں اور خاص بندوں سے کرتا آیا ہے۔ ایک بات واجب العرض ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ یہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ شخص مشاہدہ کنندہ کسی نشان کے دیکھنے کے بعد اسلام کو قبول کرے۔ سو اس قدر تو ہم مانتے ہیں کہ سچ کے کھلنے کے بعد جھوٹ پر قائم رہنا دھرم نہیں ہے اور نہ ایسا کام کسی بھلے منش اور سعید الفطرت سے ہو سکتا ہے لیکن مرزا صاحب آپ اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ ہدایت پا جانا خود انسان کے اختیار میں نہیں ہے جب تک توفیق ایزدی اس کے شامل حال نہ ہو۔ سو ہم لوگ جو قوم، برادری، ننگ و ناموس وغیرہ صدہا زنجیروں میں گرفتار ہیں کیونکر یہ کر سکتے ہیں کہ ہم خود اپنی ہی قوت سے ان زنجیروں کو توڑ کر اور اپنے سخت دل کو آپ ہی نرم کر کے اپنے نفس پر دروازہ ہدایت کھول دیں گے۔ اور جو پرمیشر سرب شکتی مان کا خاص کام ہے وہ آپ ہی کر دکھائیں گے۔ بلکہ یہ بات سعادت ازلی پر موقوف ہے جس کے حصہ میں وہ سعادت مقدر ہے۔ اس کے لیے شرائط کی کیا حاجت ہے۔ اس کو تو خود توفیق ازلی کشاں کشاں چشمہ ہدایت تک لے آئے گی۔ اس لیے آپ ہم سے ایسی شرطیں موقوف رکھیں۔ اگر ہم آپ کا کوئی نشان دیکھ لیں گے تو قسم کھا کر کہتے ہیں کہ چند اخباروں کے ذریعہ سے بطور گواہان رویت شائع کرا دیں گے اور آپ کی صداقت کی حقیقت کو حتی الوسع اپنی قوم میں پھیلائیں گے۔ اور بلاشبہ ہم ایک سال تک عندالضرورت آپ کے مکان پر حاضر ہوکر ہر ایک قسم کی پیشگوئی وغیرہ پر دستخط بقید تاریخ و روز کر دیا کریں گے اور سال جو نشانوں کے دکھانے کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہ ابتدائے ستمبر ۱۸۸۵ء سے شمار کیا جائے گا۔ العبد لچھمن رام بقلم خود پنڈت پیارا مل

صفحہ 184

بقلم خود، بشن داس ولد رادھا ساہوکار بقلم خود، منشی تارا چند کھتری بقلم خود، پنڈت نہال چند، سنت رام، فتح چند، پنڈت ہرکرن، پنڈت بیج ناتھ چودھری بازار قادیاں بقلم خود، بشن داس ولد ہیرا برہمن (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۵۲)

درخواست کی منظوری

مرزا صاحب نے اس درخواست کے جواب میں لکھا۔ ”عنایت فرمائے من پنڈت نہال چند صاحب و پنڈت پھارا مل صاحب و لچھی رام صاحب و لالہ بشن داس صاحب و منشی تاراچند صاحب و دیگر صاحبان ارسال کنندگان درخواست مشاہدہ خوارق، بعد ماوجب، آپ صاحبوں کا عنایت نامہ جس میں آپ نے آسمانی نشانوں کے دیکھنے کے لیے درخواست کی ہے مجھ کو ملا۔ چونکہ یہ خط سراسر انصاف و حق جوئی پر مبنی ہے اور ایک جماعت طالب حق نے جو عشرہ کاملہ ہے۔ اس کو لکھا ہے اس لیے بہ تمام تر شکر گزاری اس کے مضمون کو قبول و منظور کرتا ہوں اور آپ سے عہد کرتا ہوں کہ اگر آپ صاحبان ان وعدوں کے پابند رہیں گے کہ جو اپنے خط میں آپ لوگ کر چکے ہیں تو ضرور خدائے قادر مطلق جل شانہ کی تائید و نصرت سے ایک سال تک کوئی ایسا نشان آپ کو دکھلایا جائے گا جو انسانی طاقت سے بالاتر ہو۔ اس عاجز کو اس روز بہت خوشی ہوگی۔ جب آپ بعد دیکھنے کسی نشان کے اپنے وعدے کے ایفا کے لیے جس کو آپ صاحبوں نے اپنے حلفوں اور قسموں سے کھول دیا ہے۔ اپنی شہادت روئیت کا بیان چند اخباروں میں مشتہر کر کے متعصب مخالفوں کو ملزم و لاجواب کرتے رہیں گے۔ آپ کو بخوشی اجازت دی جاتی ہے کہ اگر ایک سال تک کوئی نشان نہ دیکھیں یا کسی نشان کو جھوٹا پائیں تو اس کو مشتہر کر دیں اور اخباروں میں چھپوا دیں۔ یہ امر کسی نوع سے موجب ناراضگی کا نہ ہوگا اور نہ آپ کے دوستانہ تعلقات میں فرق آئے گا بلکہ یہ وہ بات ہے جس میں خدا بھی راضی اور ہم بھی اور چونکہ آپ لوگ شرط کے طور پر کچھ روپیہ نہیں مانگتے۔ صرف دلی سچائی سے نشانات دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اس طرف سے بھی قبول اسلام کے لیے شرط کے طور پر آپ سے کچھ گرفت نہیں۔ بلکہ یہ بات بقول آپ لوگوں کے توفیق ایزدی پر چھوڑ دی گئی ہے اور اخیر پر دلی جوش سے یہ دعا ہے کہ خداوند قادر و کریم بعد دکھلانے کسی نشان کے آپ لوگوں کو غیب سے قوت ہدایت پانے کی بخشے تاکہ

صفحہ 185

آپ لوگ مائدہ رحمت الٰہی پر حاضر ہو کر پھر محروم نہ رہیں۔ اے قادر مطلق کریم و رحیم ہم میں اور ان میں سچا فیصلہ کر۔ (خاکسار احقر العباد‘ غلام احمد عفی عنہ)

شہادت گواہان حاضر الوقت

ہم لوگ جن کے نام نیچے درج ہیں اس معاہدہ فریقین کے گواہ ہیں۔ گواہ شد میر عباس علی لدھیانوی‘ گواہ شد فقیر عبداللہ سنوری۔ گواہ شد شہاب الدین۔

(تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۵۳-۵۴)

مرزائی حیلہ گری کی تردید

چند روز کے بعد جب قادیان کے متذکرہ صدر دس ہندوؤں کو معلوم ہوا کہ ان کے نام پر درخواست اعجاز نمائی شائع کر کے ان کو دھوکا دیا گیا ہے تو ایک اشتہار زیر عنوان ”اعلان کابطلان“ چھپوا کر تقسیم کرایا جس کا مضمون یہ تھا۔ ”مرزا غلام احمد ساکن قادیاں نے ہم لوگوں کی طرف سے اس مضمون کا جو اشتہار چھپوا کر شائع کیا ہے کہ یہ لوگ صدق دل سے الہامات و کرامات اور اسلام کی صداقت دیکھنے کے لیے ایک برس کی درخواست کرتے ہیں۔ وہ سر تا پا بے بنیاد ہے۔ اس لیے عام لوگوں کو دھوکے سے بچانے کے لیے اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم میں سے پنڈت مہارا مل‘ بشن داس‘ پنڈت نہال چند‘ سنت رام‘ فتح چند‘ پنڈت ہر کرن جن کے نام اس اشتہار میں درج ہیں۔ اردو کا ایک حرف بھی نہیں پہچانتے۔ البتہ پچھی رام‘ تارا چند‘ بیج ناتھ اور بشن داس ولد ہیرا نند کسی قدر اردو خواندہ ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی ایسا شخص نہیں جو اس قسم کا مضمون تیار کر سکے۔ بلکہ ہم میں سے کسی کو اتنی قابلیت نہیں کہ اس مضمون کو بخوبی سمجھ ہی سکے۔ وہ مضمون مرزا غلام احمد صاحب کا اپنا ہی لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے متفرق طور پر ہم کو اپنے بالاخانہ میں بلایا اور منت سماجت کر کے یہ کہہ کر دستخط کرا لیے کہ حرام (الہام) بتایا جائے گا تم گواہ رہنا۔ نہ ہمیں الہام کے معنی معلوم تھے اور نہ انہوں نے بتائے اور نہ وید کے سوا ہمیں کسی کے الہام پر اعتبار ہے۔ ہم لوگوں کو پہلے اشتہار کے مضمون کی اطلاع نہیں تھی اب جو ہمیں اس کا مضمون بتایا گیا تو

صفحہ 186

معلوم ہوا کہ وہ مضمون بالکل مرزا صاحب نے حسب منشا خود بنا لیا ہے۔ نہ مرزا صاحب کو دم بھر زندگی کا کوئی بھروسہ ہے اور نہ ہمیں اس لیے ایک سال تک ایسی بیہودگی کے ساتھ اس طرح کے خیالی پلاؤ پکانا اور لوگوں کو دھوکے کے جال میں پھنسانا ہمیں کسی طرح گوارا نہیں ہے۔ مرزا صاحب جانیں اور ان کی آمدنی اور خرچ کے الہامات جانیں۔ ہم ایسے شخص کو جسے بناوٹی الہام سے کوئی دنیاوی غرض نکالنی ہو مرزا صاحب کے حوالے کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ پرمیشور ہندوؤں کو ایسے فرضی الہاموں سے بچائے۔ المشتہران:۔ پنڈت نہال چند، پنڈت بہارامل، سنت رام، بچھن رام، بیج ناتھ برہمن، بشن دان کھتری، بشن داس برہمن، فتح چند کھتری، ہرکرن برہمن، بچھن داس، میلا رام۔ (تکذیب

براہین، ص ۳۴۶)

باب ۲۹

غلام احمد کی مشیخت کے متعلق مرزا امام الدین کا اعلان

غلام احمد صاحب کے عم زاد بھائی مرزا امام الدین نے ۳؍ اگست ۱۸۸۵ء کو ”اشتہار صداقت اظہار“ کے زیر عنوان ایک اعلان شائع کیا جس میں لکھا کہ مرزا غلام احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ میں مجدد وقت ملہم اور صاحب کرامات ہوں اور قادر و ذوالجلال عزاسمہ کی طرف سے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے طرز پر کمال مسکنت و فروتنی تذلل و تواضع کے ساتھ اصلاح خلق کے لیے مامور ہوا ہوں اور میں بڑا بزرگ ہوں۔ مگر یہ تمام دعوے بے بنیاد ہیں اگر مسکنت ہوتی تو دس ہزار روپے کی شرطیں نہ لگاتے۔ فروتنی اور انکساری ہوتا تو زود رنج اور غصہ ور نہ ہوتے اور غربت کے لیے لازم تھا کہ تعمیر مکانات پر خلق خدا کا روپیہ برباد نہ کرتے اور بالاخانہ سے اتر کر باہر نکلتے اور اصلاح خلق پر مستعد ہوتے اور تذلل و تواضع کا یہ عالم ہے کہ اکثر مسکینوں اور سائلوں کو جبراً نکلوا دیا جاتا ہے۔ آج کل مرزا غلام احمد کے وعظ و تذکیر کا عموماً یہی مضمون ہوتا ہے کہ مسلمان بھائی میری کتاب براہین میں امداد کریں بلکہ جو شخص تعمیر مساجد، حج اور زکوٰۃ و خیرات کی مد میں سے کتاب

صفحہ 187

براہین کے لیے امداد بھیجے، اس کو ثواب عظیم اور نجات اخروی نصیب ہوگی۔ سید عباس علی لدھیانوی نے براہین احمدیہ کی طباعت و اشاعت میں اپنے حوصلہ سے بڑھ کر امداد کی۔ یہ نہ صرف امراء، روساء اور نوابوں کے پاس جا جا کر ترغیب دہی میں سرگرم رہے بلکہ غرباء سے بھی پائی پیسہ تک نہ چھوڑا۔ میر عباس علی لدھیانوی اور مرزا غلام احمد کے دوسرے معاونوں نے بیوہ عورتوں تک میں ترغیب و تحریک کر کے ان کے ہاتھوں کی انگوٹھیاں تک اتروا لیں اور اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ طوائفوں تک کا مال براہین کی امداد کے لیے حلال طیب سمجھ لیا گیا اور اپنے اشتہارات میں یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر کسی کو میرے الہامات کی صداقت میں شبہ ہو تو وہ قادیاں آ کر تحقیق کر لے۔ چنانچہ اپنے دعوے کی تائید میں بحالت عدم مشاہدہ الہام چوبیس سو روپیہ ہرجانہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ جائے غور ہے کہ اول تو مرزا غلام احمد کو اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ نہیں ہے۔ ورنہ جن لوگوں نے قادیاں آکر ایک سال تک ٹھہرنا منظور کیا تھا ان کے ساتھ شرائط طے کرنے میں حیلے حوالے نہ کرتے۔ خود میں نے آسمانی نشانات کا مشاہدہ کرانے کے لیے بارہا رقعے بھیجے۔ مگر پہلو تہی اور حیلہ جوئی کے سوا ان کا کبھی معقول جواب نہ دیا۔ اگر کسی طالب حق کو الہامات کی تحقیق کے لیے قادیاں آنے کا اتفاق ہو تو ایسے گواہوں کو بچشم خود دیکھنا چاہیے تاکہ الہامات اور نشانات کی حقیقت واضح ہو سکے۔ ۱۰ اگست ۱۸۸۵ء کو قادیاں کے بہت سے معزز اور معاملہ فہم ہندو ایک وفد بنا کر مرزا غلام احمد کے پاس پہنچے اور اعجاز نمائی کا مطالبہ کیا۔ مگر ان کو بھی کسی رنگ میں مطمئن نہ کرسکے اور جب ان کے سابقہ الہاموں کا ذکر آیا تو ان سے صاف مکر گئے۔ قادیاں کے منشی ملاوامل نے ایک روز اپنے دلی جوش سے یہاں تک بھی لکھا کہ میں آپ سے کسی ایسی کرامت کا خواستگار نہیں ہوں جو آپ کے نزدیک ناممکن اور قانون قدرت کے خلاف ہو۔ میں چاہتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ آپ خواہ کیسی ہی ادنیٰ کرامت اور معمولی سے خارق عادت کا مشاہدہ کرا دیں گے میں اسی کو منظور کر لوں گا اور آپ کی شرط اشتہار کو پورا کروں گا۔ بشرطیکہ خارق عادت ایسا ہو جو انسانی طاقت اور انسانی علوم کی رسائی سے باہر ہو۔ اور پھر عدم ثبوت کی صورت میں کسی ہرجانہ کا بھی خواہاں نہیں ہوں۔ پس اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ اتنے پر زور دعوؤں کے باوجود آپ کیوں مرد میدان نہیں بنتے۔ اس کے بعد مرزا امام الدین لکھتے ہیں کہ وہ دس ہندو جن کی طرف سے مرزا

صفحہ 188

غلام احمد نے اشتہار شائع کیا ہے وہ سب اس کے دست نگر اور خوشامدی ہیں۔ جو طالب حق قادیانی اگر ان جعلی اور بے علم گواہوں کو دیکھے گا اس پر ملہم صاحب کی کارستانی اور راست بیانی اچھی طرح واضح ہو جائے گی۔ اس کارستانی کے وقت ملہم صاحب کو ان کے مشیروں اور حاشیہ نشینوں نے بہتیرا سمجھایا کہ یہ کارروائی نتیجہ بخش نہ ہوگی بلکہ مضر ثابت ہوگی اور لوگوں کو طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوں گے۔ اس لیے مناسب ہے کہ ایک آدھ معزز، ذی علم آدمی بھی اس معاہدہ میں ضرور شامل کیا جائے مگر ملہم صاحب نے کسی کی ایک نہ سنی کیونکہ وہ اپنی نسبت بخوبی جانتے ہیں کہ کتنے پانی میں ہیں۔ (تکذیب

براہین، ص ۳۷)

باب ۳۰

دوسری شادی کے بعد مزید نکاح کرنے کے

متواتر الہامات

مرزا غلام احمد صاحب نے مدت العمر دو ہی شادیاں کیں۔ پہلی بارہ چودہ سال کی عمر میں ماموں کی بیٹی سے ہوئی۔ مرزا سلطان احمد اور فضل احمد اسی کے بطن سے متولد ہوئے۔ دوسری دہلی میں شاید پچاس سال کی عمر میں نصرت جہاں بیگم صاحبہ سے کی۔ موخر الذکر سے تین بیٹے محمود احمد، بشیر احمد اور شریف احمد متولد ہوئے جو اب تک موجود ہیں۔ دوسری شادی کے بعد مرزا صاحب کے دل و دماغ پر کئی سال تک اس مطلب کے کشوف و الہامات کا طوفان برپا رہا کہ تمہاری اور بھی شادیاں ہوں گی لیکن چونکہ حق تعالیٰ کو یہ جتلانا منظور تھا کہ قادیاں کے مسیح صاحب قرب الہی اور معرفت خداوندی کی لازوال نعمت سے یکسر محروم ہیں اور ان کے کشف و الہام کا سرچشمہ بھی غیر طاہر ارواح ہیں۔ اس لیے یہ سب کشف و الہام غلط نکلے اور دہلی کی شادی کے بعد کوئی اور دلا رام مرزا صاحب کے بستر عیش کی زینت نہ بن سکی۔ اب ذرا مرزا صاحب کی کشوف و الہامات کی شان و شوکت

صفحہ 189

ملاحظہ ہو۔

بیوہ سے نکاح کرنے کا الہام

مرزا صاحب کا بیان ہے کہ دوسری شادی سے پہلے مجھے الہام ہوا تھا کہ دو بیویاں تمہارے عقد میں آئیں گی۔ ایک کنواری دوسری بیوہ۔ کنواری (نصرت بیگم صاحبہ) سے تو نکاح ہو چکا۔ اب بیوہ سے عقد کا انتظار ہے۔ چنانچہ ”ضمیمہ انجام آتھم“ میں لکھا کہ اسی طرح شیخ محمد حسین بٹالوی کو حلفاً ” پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ قصہ صحیح نہیں ہے کہ یہ عاجز اس شادی سے پہلے جو دہلی میں ہوئی اتفاقاً ” اس کے مکان پر موجود تھا۔ اس نے سوال کیا کہ کوئی الہام مجھ کو سناؤ ۔ میں نے ایک تازہ الہام جو انہی دنوں میں ہوا تھا اور اس شادی اور اس کی دوسری جز پر دلالت کرتا تھا، اس کو سنایا اور وہ یہ تھا کہ بکر و ثیب یعنی مقدر یوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی اور پھر بعد ایک بیوہ سے، میں اس الہام کو یاد رکھتا ہوں۔ مجھے امید نہیں کہ محمد حسین نے بھلا دیا ہو۔ مجھے اس کا وہ مکان یاد ہے جہاں کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس کو الہام سنایا تھا اور احمد بیگ (کی لڑکی) کے قصہ کا ابھی نام نشان نہ تھا اور نہ ابھی اس دوسری شادی کا کچھ ذکر تھا۔ پس اگر وہ سمجھے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا کا نشان تھا۔ جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا اور دوسرا حصہ جو ثیب یعنی بیوہ کے متعلق ہے، دوسرے وقت میں دیکھ لے گا۔ (ضمیمہ انجام آتھم، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۱۴) ۱۸۸۴ء میں کنواری لڑکی سے مرزا صاحب کی جو شادی ہوئی اس سے الہام کا پہلا حصہ پورا ہوگیا۔ اب صرف ایک بیوہ سے عقد تزویج باقی رہ گیا تھا۔ لیکن اس کے قریباً دو سال بعد یعنی ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب کو ایک اور الہام ہوا کہ ایک نہیں بلکہ متعدد عورتیں تمہارے نکاح میں آئیں گی۔ چنانچہ فرماتے ہیں ”پھر خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ تیرا گھر برکت سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس (نصرت بیگم) کے بعد پائے گا تیری نسل بہت ہوگی۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۶۰) لیکن اس الہام کے بعد نہ مرزا صاحب نے کوئی نکاح کیا نہ خواتین مبارکہ یا نامبارکہ ہاتھ آئیں۔ اگر محمدی بیگم سے عقد ہو جاتا تو یہ الہام کھینچ تان کر پورا کیا جا سکتا تھا۔ لیکن رب غیور نے نہ چاہا کہ جھوٹ کو سچ کر دکھائے۔

صفحہ 190

جب الہامی صاحب نے مزید عورتوں سے شادی کرنے کا الہام شائع کیا تو منشی محمد رمضان نام کسی صاحب نے ”پنجابی اخبار“ کی اشاعت مورخہ ۲۰؍ مارچ ۱۸۸۶ء میں الہامی صاحب کا خوب مذاق اڑایا۔ چنانچہ الہامی صاحب خود لکھتے ہیں ”۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی خدائے تعالیٰ کی طرف سے بیان کی گئی تھی کہ اس نے مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی۔ اس پیشگوئی پر منشی محمد رمضان صاحب فرماتے ہیں کہ الہام کئی قسم کا ہوتا ہے۔ نیکوں کو نیک باتوں کا اور زانیوں کو عورتوں کا۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۹۰)

پارسا طبع و نیک سیرت اہلیہ

۸؍ جون ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب نے حکیم نور الدین صاحب کو خط لکھا کہ جو عنایات خداوند کریم جل شانہ کی اس عاجز کے شامل حال ہیں۔ ان کے بارے میں ہمیشہ یہی دل چاہتا ہے کہ اپنے دوستوں سے کچھ اس میں سے بیان کرتا رہوں۔ سو آپ سے بھی جو میرے مخلص دوست ہیں ایک راز پیشگوئی کا بیان کرتا ہوں۔ شاید چار ماہ کا عرصہ ہوا کہ اس عاجز پر ظاہر کیا گیا تھا کہ ایک فرزند قوی الطاقتین کامل الظاہر و الباطن تم کو عطا کیا جائے گا۔ سو اس کا نام (عمانوائیل اور) بشیر ہوگا۔ اب تک میرا خیال تھا کہ شاید وہ فرزند مبارک اسی اہلیہ (نصرت بیگم) سے ہوگا۔ اب زیادہ الہام اس بات میں ہو رہے ہیں کہ عنقریب ایک اور نکاح تمہیں کرنا پڑے گا اور جناب الٰہی میں یہ بات قرار پا چکی ہے کہ ایک پارسا طبع اور نیک سیرت اہلیہ تمہیں عطا ہوگی وہ صاحب اولاد ہوگی۔ اس میں تعجب کی بات یہ ہے کہ جب الہام ہوا تو ایک کشفی عالم میں چار پھل مجھ کو دیئے گئے۔ تین ان میں سے تو آم کے تھے مگر ایک پھل سبز رنگ کا بہت بڑا تھا۔ وہ اس جہان کے پھلوں سے مشابہ نہیں تھا۔ میرا خیال ہے کہ وہ پھل جو اس جہان کے پھلوں میں سے نہیں ہے وہی مبارک لڑکا ہے کیونکہ پھلوں سے مراد اولاد ہے اور جبکہ ایک پارسا طبع اہلیہ کی بشارت دی گئی اور ساتھ ہی کشفی طور پر چار پھل دیئے گئے جن میں سے ایک پھل الگ وضع کا ہے تو یہی سمجھا جاتا ہے۔ اب مخالفین آنکھوں کے اندھے اعتراض کرتے ہیں کہ کیوں اب کی دفعہ لڑکا پیدا نہیں ہوا۔ میری دانست میں اس لڑکے کے تولد سے پہلے ضروری معلوم ہوتا کہ

صفحہ 191

یہ تیسری شادی ہو جائے کیونکہ اسی تیسری شادی میں اولاد ہونے کے اشارات پائے جاتے ہیں۔ غالباً اس تیسری کا وقت نزدیک ہے۔ اب دیکھیں کہ کس جگہ ارادہ ازل نے اس کا ظہور مقرر کر رکھا ہے۔ الہامات اس بارے میں کثرت سے ہوئے ہیں اور ربانی ارادہ میں کچھ جوش سا پایا جاتا ہے۔

(مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۲‘ ص ۵-۶)

تیسری شادی تقدیر مبرم ہے

۲۰ر جون ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب نے جو چٹھی حکیم نور الدین کے نام روانہ کی۔ اس میں لکھا کہ اس عاجز نے جو آپ کی طرف لکھا تھا وہ صرف دوستانہ طور پر بعض اسرار الہامیہ پر مطلع کرنے کی غرض سے لکھا گیا کیونکہ اس عاجز کی یہ عادت ہے کہ اپنے احباب کو ان کی قوت ایمانی بڑھانے کی غرض سے کچھ کچھ امور غیبیہ بتا دیتا ہے۔ اور اصل حال اس عاجز کا یہ ہے کہ جب سے اس تیسرے نکاح کے لیے اشارہ غیبی ہوا ہے تب سے طبیعت متفکر و متردد ہے اور حکم الٰہی سے گریز کسی جگہ نہیں۔ مگر بالطبع کارہ ہے اور ہرچند اول اول یہ چاہا کہ یہ امر غیبی موقوف رہے لیکن متواتر الہامات و کشوف اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ تقدیر مبرم ہے۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۲‘ ص ۸) معلوم ہو کہ تقدیر دو قسم کی ہے۔ معلق اور مبرم۔ معلق وہ ہے جو دعا‘ دوا یا کسی دوسری تدبیر سے ٹل جائے اور مبرم وہ ہے جو کبھی نہ ٹلے اور کوئی دعا‘ دوا اور تدبیر اس کے لیے کارگر نہ ہو۔ سو مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ تیسرا نکاح تقدیر مبرم ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ لیکن باایں ہمہ مرزا صاحب نے کوئی تیسرا نکاح نہ کیا اور یہ تقدیر مبرم جس کے لیے بہت دنوں سے متواتر الہامات و کشوف ہو رہے تھے ٹل گئی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ تمامتر کشف و الہام جن میں تیسری شادی کو تقدیر مبرم بتایا گیا تھا سراسر شیطانی القا تھے۔

تیسری شادی کے منتظر و امیدوار

ان الہامات کے گیارہ سال بعد مرزا صاحب نے کتاب ”انجامِ آتھم“ لکھی۔ یہ کتاب ۲۲ر جنوری ۱۸۹۷ء کو شائع ہوئی تھی۔ اس کے ضمیمہ میں لکھا ہے کہ میں ہنوز تیسری بیوی

صفحہ 192

کا منتظر ہوں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ”براہین کے صفحہ ۴۹۶ کے الہام میں تین جگہ زوج کا لفظ آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم‘ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی اور تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے۔ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس (تیسری شادی کے) وقت حمد اور تعریف ہوگی“۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۵۴) رئیس قادیان کو جو ۱۸۹۷ء تک تیسری شادی کی آس لگی ہوئی تھی تو اس کی یہ وجہ تھی کہ انہیں محترمہ محمدی بیگم سے نکاح ہو جانے کے اب تک الہام ہو رہے تھے چنانچہ اسی کتاب انجام آتھم کے صفحہ ۳۲ پر ایک الہام موجود ہے۔ ویردہ الیک (خدا تعالیٰ محمدی بیگم کو تمہارے پاس لوٹا لائے گا) بہرحال ہمارے الہامی صاحب تیسری شادی کے ارمان دل ہی میں لے کر دنیا سے چل دیئے۔ نہ محمدی بیگم طال عمرہا پر دسترس پائی اور نہ کسی اور بیوی کی صورت دیکھنی نصیب ہوئی حالانکہ مرزا صاحب کو سالہا سال سے اس کے لیے متواتر الہامات ہو رہے تھے اور ان کے حامی خدا نے یہاں تک جتلا دیا تھا کہ یہ تقدیر مبرم ہے جو کبھی ٹل نہیں سکتی۔

باب ۳۱

عم زاد بھائیوں کی نسل منقطع ہونے کی پیش گوئی

۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو الہامی صاحب نے اپنا ایک الہام شائع کیا جس میں لکھا کہ خواتین مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا‘ تیری نسل بہت ہوگی۔ اور ہر ایک شاخ تیرے جدی بھائیوں کی کاٹی جائے گی اور وہ جلد لاولد رہ کر ختم ہو جائے گی۔ اور ایک اجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا۔ (البشریٰ‘ جلد ۲‘ ص ۱۶) اس الہام سے تین باتوں کی پیش گوئی ہے۔ (۱) نصرت بیگم صاحبہ کے عقد کے بعد متعدد خواتین مرزا صاحب کے حبالہ عقد میں آئیں گی اور ان سے بہت اولاد ہوگی اور خوب نسل پھیلے گی۔ (۲) عم زاد

صفحہ 193

بھائی مرزا امام الدین، مرزا نظام الدین اور مرزا کمال الدین دنیا سے لاولد جائیں گے اور ان تینوں کی نسل منقطع ہو جائے گی۔ (۳) خدا ایک اجڑا ہوا گھر الہامی صاحب کی ذات سے آباد کرے گا۔ امر اول کے متعلق التماس ہے کہ الہامی صاحب کی پہلی شادی لڑکپن میں ہوئی تھی اور ان کی ہنوز سولہ ہی سال کی عمر تھی کہ مرزا سلطان احمد ان کے گھر میں متولد ہوئے تھے۔ دوسری شادی ۱۸۸۴ء میں ہوئی۔ جس کا تذکرہ بائیسویں باب میں ہو چکا ہے۔ اس شادی کے قریباً دو سال بعد یعنی بتاریخ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء الہامی صاحب کو القا ہوا کہ اور خواتین مبارکہ بھی آپ کے عقد میں آئیں گی اور جن سے آپ کی نسل بہت پھیلے گی حالانکہ ۱۸۸۴ء کے بعد کوئی مبارکہ یا نامبارکہ خاتون مرزا صاحب کے سلک ازواج میں مسلک نہ ہوئی۔ البتہ محترمہ محمدی بیگم سے نکاح کی توقعات تھیں لیکن بد نصیبی سے وہ پوری نہ ہو سکیں۔ پس یہ پیشین گوئی قطعاً ”جھوٹی نکلی۔ ظاہر ہے کہ اگر منجانب اللہ ہوتی تو اس میں تخلف کا کوئی امکان نہ تھا۔ لیکن چونکہ یہ ناپکار ٹیٹی ٹیٹی یا کسی دوسرے ابلیس زادہ کی بتائی ہوئی اطلاع تھی، اس لیے غلط نکلی اور الہامی صاحب کو اس کی وجہ سے ہدف سہام ملامت بننا پڑا۔

عم زاد بھائیوں کی نسل منقطع نہ ہوئی

الہام میں دوسری پیشین گوئی یہ تھی کہ مرزا امام الدین، نظام الدین اور کمال الدین لاولد مریں گے اور ان کی نسل ہمیشہ کے لیے منقطع ہو جائے گی۔ اس کے متعلق لالہ لکشمن جی آریہ آپدیشک نے کتاب ”قادیانی مسیح کا کچا چٹھا“ میں زیر عنوان ”اپنے خاندان والوں کا ناش“ لکھا کہ یہ پیشین گوئی مرزا صاحب کے اخلاق کا پتہ دیتی ہے کہ اپنے بھائی بندوں اور قریبی رشتہ داروں کی بربادی میں خوش ہونا، کسی خدا ترس یا پابند مذہب شخص کا کام نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب کو معلوم تھا کہ چچا کے بیٹے لاولد ہیں۔ آئندہ ان کے اولاد نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے انہیں اس قسم کا الہام ہوا۔ قادیانی صاحب کے دو چچا تھے۔ ایک کا بیٹا حسن بیگ مرزائی دھما چوکڑی سے بہت عرصہ پہلے مفقود الخبر تھا۔ دوسرے چچا غلام محی الدین کا بڑا بیٹا (مرزا امام الدین) پچپن سال کی عمر تک لاولد تھا اور دوسرے بیٹے نظام الدین کی عمر مرزا صاحب کے الہام کے وقت پچاس سال کی تھی اور اس کے بھی اب

صفحہ 194

تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور تیسرا بیٹا کمال الدین عالم شباب ہی میں عضو تناسل کٹوا کر بھنگ نوش فقراء میں داخل ہو گیا تھا۔ پس نہ کسی کے اولاد تھی اور نہ آئندہ ہونے کی کوئی امید تھی کیونکہ ہر جاہل سے جاہل شخص بھی اس بربادی کا پہلے سے یقین کئے بیٹھا تھا۔ (قادیانی مسیح کا سچا چٹھا مطبوعہ دہلی، ص ۱۲۸- ۱۲۹) باوجودیکہ کسی شخص کو یقین نہ تھا کہ یہ گھرانہ بھی کبھی سرسبز ہو گا اور الہامی صاحب کے عم زاد بھائیوں میں سے کسی کے اولاد ہوگی لیکن خدائے نیرنگ ساز کی قدرت کا اعجوبہ نمایاں دیکھو کہ مرزا صاحب کی اس پیشین گوئی کے بعد مرزا نظام الدین کے گھر ایک لڑکا متولد ہوا۔ جس کا نام گل محمد رکھا گیا۔ پس قطع نسل کی پیشین گوئی بھی باوجود قرین قیاس ہونے کے جھوٹی نکلی۔ لیکن مرزائی خیرہ سری کا کمال ملاحظہ ہو کہ لڑکا متولد ہونے اور اس کے نہ صرف زندہ سلامت موجود رہنے بلکہ جوان سال ہو جانے کے باوجود میاں بشیر احمد ایم۔ اے پسر مرزا غلام احمد صاحب کی نظر میں قطع نسل کا الہام پورا ہو چکا ہے۔ چنانچہ ایم اے صاحب ”سیرت المہدی“ میں لکھتے ہیں۔ اس وقت صرف نظام الدین کا لڑکا گل محمد زندہ ہے جو بیعت میں داخل ہو چکا ہے۔ باقی سب کی اولاد نہیں رہی اور قطع نسل کا الہام پورا ہو گیا۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۳۴)

نسل منقطع کرنے کی عملی جدوجہد

مقامی روزنامہ ”زمیندار“ نے ایک مرتبہ لکھا تھا کہ مرزا گل محمد کی پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہیں اس لیے انہوں نے دوسری شادی کرنی چاہی۔ اس خبر سے قصر خلافت میں زلزلہ آگیا اور محکمہ پیشین گوئی نے اس شادی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی انتہائی کوشش کی۔ چنانچہ پہلی بیوی کے رشتہ داروں کو سکھا پڑھا کر یہ مطالبہ کرایا گیا کہ گل محمد کو دوسری شادی کی اجازت اس شرط پر دی جائے کہ وہ اپنی تمام جائیداد پہلی بیوی کے نام کردیں۔ مرزا گل محمد نے پہلی بیوی کا یہ مطالبہ بھی منظور کرلیا اور ایسی دھوم دھام سے دوسری شادی کی کہ مرزائیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ اور جب ان کی بیوی حاملہ ہوئیں تو محکمہ پیشین گوئی میں کھلبلی مچ گئی چنانچہ اب یہ کوشش شروع ہوئی کہ گل محمد صاحب کے گھر جو بچی یا بچہ پیدا ہو اسے کسی نہ کسی طرح عدم آباد پہنچا دیا جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب بچہ پیدا ہوا تو دائی نے اس کا نال اچھی طرح دھاگے سے نہیں باندھا اور بچہ بہت

صفحہ 195

زیادہ خون خارج ہو جانے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا۔ (روزنامہ زمیندار لاہور مورخہ ۲۹؍ اگست ۱۹۳۵ء) جریدہ ”زمیندار“ نے اس اطلاع کا ماخذ نہیں بتایا لیکن امید ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے کافی تحقیق کے بعد اس خبر کو شائع کیا ہو گا۔ اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو عجب نہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب کی پیشین گوئی کے پورا کرنے کی خاطر مرزا گل محمد کی نوزائیدہ اولاد سے بھی یہی خون آشام سلوک ہوتا رہے۔

تیسری پیشین گوئی بھی جھوٹی نکلی

مرزا صاحب کے الہام میں تیسری پیشین گوئی یہ تھی کہ خدا ایک اجڑا ہوا گھر مرزا صاحب کے ذریعہ سے آباد کرے گا۔ اس اجمال کی تفصیل خود مرزا صاحب نے یوں فرمائی تھی۔ ”یہ ایک پیش گوئی کی طرف اشارہ ہے جو ۲۰؍ جولائی کے اشتہار میں شائع ہو چکی ہے۔ اس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے۔ اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور جو شخص اس لڑکی سے نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہو گا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔ سو اس جگہ اجڑے ہوئے گھر سے وہ اجڑا ہوا گھر مراد ہے“۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۶۰ - ۶۱ حاشیہ) ظاہر ہے کہ الہام کا یہ حصہ بھی جھوٹا نکلا۔ مرزا احمد بیگ نے اپنی لڑکی مرزا صاحب سے نہ بیاہی بلکہ ان کی جگہ مرزا سلطان محمد اس شادی سے شاد کام اور فائز المرام ہوئے۔ مرزا سلطان محمد اور ان کی اہلیہ محترمہ محمدی بیگم طال عمرہا اب تک زندہ سلامت موجود ہیں اور ہر قسم کی خداداد نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور بحمد اللہ ان کا گھر پوری طرح آباد ہے۔

باب ۳۲

”سراج منیر“ اور دوسرے رسالوں کی

صفحہ 196

اشاعت کے سبز باغ

جب الہامی صاحب ”براہین احمدیہ“ کا وصول شدہ سرمایہ چند سال کی سرگرمیوں کی نذر کر چکے تو اب حصول زر کے لیے کسی مزید عملی اقدام اور جدوجہد کی ضرورت محسوس فرمائی۔ باوجودیکہ اب مریدوں سے نذرانہ اور قرض کی شکل میں اچھی آمدنی ہو رہی تھی۔ تاہم عام دنیا داروں کی طرح ان کی ہر وقت یہی کوشش تھی کہ اپنے مداخل اور ذرائع آمد کی توسیع کی جائے۔ جس طرح ایک ہوشیار تاجر اپنے کاروبار کی ترقی کے لیے مختلف تدبیریں اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح ہمارے الہامی صاحب نے تقدس کی الہامی بیع و شرا کے ساتھ ساتھ بعض دوسرے کاروبار بھی شروع کر رکھے تھے۔ مثلاً گراں قیمتوں پر کتابوں کی فروخت کا کاروبار وسیع پیمانہ پر چل رہا تھا۔ دواؤں کی فروخت سے بھی آمدنی تھی اور خاص خاص مرفہ الحال مریدوں سے قرض کے نام پر بھی بڑی بڑی رقمیں وصول کیا کرتے تھے۔ اسی طرح ایک بڑا ذریعہ ان ذہنی اور خیالی کتابوں کی خرید و فروخت کا تھا جن کی اشاعت کے وعدے کر کے ہمارے مجدد صاحب زبردست پروپیگنڈہ کیا کرتے اور پیشگی رقمیں وصول فرما کر کچھ اس طرح خواب بے اعتنائی میں سو جاتے تھے کہ پھر کروٹ بدلنا گناہ عظیم ہو جاتا تھا۔

وعدوں کا غیر متناہی سلسلہ

الہامی صاحب نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کو ایک اشتہار زیر عنوان ”رسالہ سراج منیر“ مشتمل بر نشانہائے رب قدیر شائع کیا۔ جس میں لکھا کہ یہ رسالہ اس احقر مولف براہین نے اس غرض سے تالیف کرنا چاہا ہے تاکہ منکرین حقیقت اسلام کی آنکھوں کے آگے ایک ایسا چمکتا ہوا چراغ رکھا جائے، جس کی ہر ایک سمت سے گوہر آبدار کی طرح روشنی نکل رہی ہے اور بڑی بڑی پیشگوئیوں پر مشتمل ہے۔ اب یہ رسالہ قریب الاختتام ہے اور انشاء اللہ القدیر صرف چند ہفتوں کا کام ہے (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۵۵) اس کے بعد رسالہ ”شحنہ حق“ شائع کیا۔ جس کے صفحہ الف پر یہ اشتہار تھا۔ چونکہ رسالہ سراج منیر چودہ سو

صفحہ 197

روپیہ کی لاگت سے چھپے گا اس لیے چھپنے سے پہلے خریداروں کی درخواستیں آنا ضروری ہیں۔ تا بعد میں دقتیں پیدا نہ ہوں۔ قیمت اس رسالہ کی ایک روپیہ علاوہ محصول ہوگی۔ جب ایک حصہ کافی درخواستوں کا آ جائے گا تو فی الفور کتاب کا طبع ہونا شروع ہو جائے گا۔ آگے چل کر صفحہ ۲۱ پر لکھا کہ اب رسالہ ”سراج منیر“ بہت جلد نکل کر دروغ گویوں کا منہ کالا کرنے والا ہے۔ ملہم قادیان نے ایک موقع پر منشی عبدالحق سے مبلغہ ”پانچ سو روپیہ قرض لیا تھا۔ جب روپیہ کی ریل پیل ہوئی تو الہامی صاحب نے منشی عبدالحق کو لکھ بھیجا کہ اب روپیہ برابر آ رہا ہے اس لیے آپ اپنا پانچ سو روپیہ قرضہ لے لیں۔ تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ قرضہ کے لیے آپ فکر مند نہ ہوں۔ آپ اسی روپیہ سے رسالہ ”سراج منیر“ چھپوا لیں۔ غرض مرزا صاحب کو رسالہ کی پیشگی قیمتوں کے علاوہ اس مد میں پانچ سو روپیہ کی مزید امداد مل گئی۔ اس کے علاوہ مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی لکھتے ہیں کہ مرزا جی نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں رسالہ ”سراج منیر“ کے چند ہفتوں کے اندر شائع کر دینے کا وعدہ کرکے مسلمانانِ پٹیالہ سے سینکڑوں روپیہ وصول کر لیا۔ (اشاعۃ السنۃ، جلد ۸، ص ۱۳) گو مجدد صاحب اس وقت تک سینکڑوں خریداروں سے پیشگی رقمیں وصول کر چکے تھے تاہم عالم خیال کے سوا کتاب کا کہیں پتہ نہ تھا اور ملک میں ہر طرف یہ چرچہ تھا کہ جس طرح مرزا صاحب نے براہین کے نام پر ہزارہا روپیہ وصول کرکے چپ سادھ لی ہے اسی طرح اب ”سراج منیر“ کی رقمیں ہضم کر گئے ہیں۔ ان حالات سے متاثر ہو کر الہامی صاحب کے ایک خاص مرید منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر جالندھر نے قادیانی صاحب سے دریافت کیا کہ رسالہ ”سراج منیر“ کب چھپے گا؟ مرزا جی نے ۱۱؍ مارچ ۱۸۸۷ء کو اس کا یہ جواب دیا کہ ”سراج منیر“ کا کام بڑا ہے اس پر دو ہزار کے قریب روپیہ خرچ ہوگا۔ خیال یہ ہے کہ اول خریداروں کی درخواستیں دو ہزار تک پہنچ جائیں پھر چھپنا شروع ہو۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۳، ص ۳۲) حالانکہ اس سے سوا چار مہینہ پیشتر یعنی نومبر ۱۸۸۶ء کے ایک خط میں حکیم نور الدین صاحب کو اطلاع دے چکے تھے کہ اب رسالہ ”سراج منیر“ کے چھپنے میں کچھ دیر نہیں معلوم ہوتی۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد۵ نمبر ۲، ص ۱۱) منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ کا بیان ہے کہ جب مرزا صاحب نے ”سراج منیر“ کے لیے چندہ کی اپیل کی تو خوب روپیہ وصول ہوا لیکن جب الہامی صاحب اس کے چھپوانے میں لیت و لعل

صفحہ 198

کرنے لگے تو میں نے ۱۸۸۶ء کے اواخر میں مرزا صاحب کو بذریعہ خط وعدہ خلافی کی شکایت لکھ بھیجی۔ ان دنوں الہامی صاحب اپنے خسر کے پاس انبالہ میں تشریف فرما تھے۔ مرزا صاحب یہ خط پڑھ کر سخت برہم ہوئے لیکن پھر بھی رسالہ چھپوا کر خریداروں کی حق رسی کا عزم نہ فرمایا۔ اس کے بعد جب کتاب ”سرمہ چشم آریہ“ شائع کی تو اس کے سرورق پر وعدہ کیا کہ اب اس کے بعد رسالہ ”سراج منیر“ اور اس کے بعد براہین کا پانچواں حصہ چھپنا شروع ہو گا مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔ (عصائے موسیٰ، مولفہ منشی الہی بخش مرحوم، صفحہ ۴۲۸)

گیارہ سال کے بعد

آخر جب دس سال کی مدت مدید کے بعد ایک مرتبہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے ماہوار رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں لکھا کہ مرزا صاحب ”سراج منیر“ کے نام پر لوگوں سے سینکڑوں روپے وصول کر چکے ہیں لیکن اس وقت تک کہ ۱۸۹۷ء ہے اس کو شائع نہیں کیا۔ تو الہامی صاحب کی رگ غیرت گیارہ سال کے بعد جنبش میں آگئی، چنانچہ اسی سال بہتر صفحات کا ایک چھوٹا سا رسالہ چھاپ کر معترضین کے مونہوں پر مہر سکوت لگا دینا چاہی۔ یہ وہی بہتر صفحوں کا رسالہ تھا جس کی چھپائی کا خرچ پہلے چودہ سو روپیہ اور پیچھے دو ہزار روپیہ بتایا جاتا رہا حالانکہ اگر اس رسالہ کا ایک ہزار نسخہ چھاپا جائے تو اس پر زیادہ سے زیادہ لاگت باون روپے یعنی فی نسخہ ایک آنہ سے بھی کم آتی ہے۔ لیکن الہامی صاحب لوگوں سے اس کی قیمت ایک ایک روپیہ وصول کر چکے تھے۔ پھر لطف یہ ہے کہ گیارہ سال کے بعد جب رسالہ چھپا تو قیمتاً دیا گیا۔ (عشرہ کاملہ، صفحہ ۵۵) کیونکہ اول تو گیارہ سال کے بعد بہت سے خریدار طعمہ اجل ہو چکے ہوں گے۔ دوسرے جو شخص گیارہ سال پیشتر کسی کام میں ایک روپیہ دے چکا ہو، وہ اتنے عرصہ دراز کے بعد اس کا مطالبہ کرتے ہوئے خود ہی شرم محسوس کرے گا، اور دل میں سمجھ لے گا کہ چلو کسی مسکین بے نوا کو خیرات دے دی تھی۔ علاوہ ازیں ظاہر ہے کہ یہ وہ موعودہ رسالہ ”سراج منیر“ نہیں جس کے لیے مسلمانوں سے چودہ سو یا دو ہزار روپیہ وصول کیا تھا۔ جس ”سراج منیر“ کی طباعت و اشاعت کا ابتداء میں وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ حقائق اسلام پر مشتمل ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس نام نہاد ”سراج منیر“

صفحہ 199

میں قادیان کی خانہ ساز مسیحیت کے پروپیگنڈے اور اپنی جھوٹی پیشین گوئیوں کو سچا ثابت کرنے کی بہتان طرازی کے سوا اور کچھ درج نہیں۔

ماہوار رسالہ ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ کے وعدے

”سراج منیر“ کی طباعت سے نجات پائی تو حضرت مرزا صاحب نے اپنی عنان توجہ ماہوار رسالوں کی طرف پھیر دی اور ان کے لیے زوردار پروپیگنڈہ شروع کیا۔ سب سے پہلے کتاب ”شحنہ حق“ میں ایک ماہوار رسالہ ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ کا لمبا چوڑا اشتہار شائع کیا۔ جو کتاب مذکور کے سات صفحوں (۹-۱۵) میں پھیلا ہوا ہے اور لکھا کہ اس کا پہلا پرچہ ۲۰ جون ۱۸۸۷ء کو نکلے گا۔ اس کے بعد ہر مہینے باقاعدہ شائع ہوتا رہے گا۔ اس رسالہ کے اغراض و مقاصد کی تشریح ان الفاظ میں کی۔ ”خدا دنیا کو قرآنی شعاعوں سے منور کرے گا اور شر طینتوں پر ان کی کور باطنی ظاہر کرے گا“۔ ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ وہی مومنوں کا دوست صادق ہے جس کے قدوم میمنت لزوم کا اصل موجب دشمن ہی ہوئے۔ ورنہ خدائے کریم علیم ہے کہ اس سے پہلے میں جانتا بھی نہیں تھا کہ ایسے رسالہ ماہواری کے نکالنے کی خدمت بھی مجھ سے ظہور میں آئے گی اور لکھا ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس رسالہ میں پہلے اسی بحث کو چھیڑیں گے کہ خدائے تعالیٰ کی پاک اور کامل صفتیں اور اس کی خدائی صفتیں اور قدرتیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ جسم اور جسمانی ہونے سے منزہ ہے۔ وید میں صحیح اور کامل طور پر پائی جاتی ہیں یا قرآن میں؟ اور لکھا کہ ہم بشارت دیتے ہیں کہ جون ۱۸۸۷ء سے برطبق درخواست ان کے ایسا رسالہ ماہواری شائع کرنا شروع کر دیں گے، لیکن ساتھ ہی ہم باادب عرض کرتے ہیں کہ جب وہ رسالہ ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ شائع ہونا شروع ہو تو پھر لالہ صاحبان مقابلہ سے کہیں بھاگ نہ جائیں اور آگے چل کر لکھا کہ اب آریہ لوگ ایک چلو پانی میں ڈوب مریں کہ ایسی فاش غلطی کھائی۔ ہم ”قرآنی طاقتوں کے جلوہ گاہ“ میں دکھائیں گے کہ وید تو خود دشمن صفات الٰہی ہیں۔ (شحنہ حق، صفحہ ۷۱) انہی ایام میں الہامی صاحب نے ایک خط میں حکیم نور الدین کو لکھا کہ ”میں نے وعدہ کر رکھا ہے کہ رسالہ ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ جون کے ماہ میں شائع ہوگا“۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد نمبر ۵، نمبر ۲، صفحہ ۳۴) مگر الہامی صاحب کا یہ وعدہ بھی کبھی شرمندہ ایفا

صفحہ 200

نہ ہوا۔ شیخ یعقوب علی مرزائی نے لکھا ہے کہ حضرت اقدس ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ ماہوار رسالہ جاری فرمانا چاہتے تھے، مگر بعد کے واقعات و حالات نے حضور کو اور طرف متوجہ کر دیا۔ (ایضاً نمبر ۳، ص ۳۵) معلوم نہیں حضرت ”مجدد“ صاحب نے اس رسالہ کے لیے بھی لوگوں سے پیشگی رقمیں وصول کی تھیں یا نہیں؟ بصورت اول ان رقموں کا بھی وہی حشر ہوا ہوگا جو براہین کی رقموں کا ہوا۔

لوگوں سے زکوٰۃ بھیجنے کی درخواست

”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ جب طاق نسیان پر رکھ دیا گیا تو اب الہامی صاحب نے اعلان کیا کہ مسٹر الیگزینڈر ویب امریکن نے محاسن اسلام پر ایک بیش بہا کتاب لکھی ہے اور ضرورت ہے کہ مسلمانوں کے فائدہ کے لیے اس کا اردو میں ترجمہ کر کے شائع کیا جائے۔ یہ لکھ کر الہامی صاحب نے مسلمانوں سے چندہ کی پرزور اپیل کی اور لوگوں نے اس کے ترجمہ کے لیے انہیں دھڑا دھڑ روپیہ بھیجنا شروع کیا۔ منشی الٰہی بخش مرحوم اکاؤنٹنٹ لاہور نے جو سالہا سال تک مرزائیت کے حاشیہ بردار رہ چکے تھے۔ کتاب ”عصائے موسیٰ“ میں لکھا ہے کہ کتاب موعود کا ترجمہ تو وعدہ وعید میں نابود ہوگیا لیکن اس کے ساتھ ہی وہ روپیہ بھی خورد برد ہو گیا جو مسٹر ویب کی کتاب کے ترجمہ کے لیے وصول کیا تھا، اس کے بعد مرزا صاحب نے ایک مسجد کے لیے روپیہ جمع کیا لیکن نہ وہ مسجد بنی اور نہ یہ معلوم ہوسکا کہ چندہ کا روپیہ کیا ہوا۔ (عصائے موسیٰ مطبوعہ لاہور، ص ۴۲۸) قادیانی صاحب نے ۱۸۸۸ء میں رسالہ ”تجدید دین یا اشعۃ القرآن“ کی اشاعت کا بھی وعدہ فرمایا تھا، لیکن پھر اس کا نام ہی کتابوں میں رہ گیا۔ کسی کو اس کی دید کی سعادت نصیب نہ ہو سکی۔ ۲۸ مئی ۱۸۹۲ء کو رسالہ ”نشان آسمانی“ کے صفحہ ۴۲ پر ایک اپیل شائع کی جس کے دو عنوان تھے۔ باہمت دوستوں کی خدمت میں امداد کی اپیل اور اے مرداں! بکوشید و برائے حق بجوشید اس اپیل میں فرمایا کہ پختہ ارادہ ہے کہ اس رسالہ ”نشان آسمانی و شہادۃ الملہمین“ کی طباعت کے بعد رسالہ ”دافع الوساوس“ طبع و شائع کیا جائے لیکن مجدد صاحب اپنی کتاب ”آئینہ کمالات“ ہی کا دوسرا نام ”دافع الوساوس“ رکھ کر اس وعدہ سے بہ سہولت بری الذمہ ہوگئے۔ اب الہامی صاحب نے وعدہ کیا کہ رسالہ ”حیات النبی و ممات المسیح“ شائع ہوگا

صفحہ 201

اور فرمایا کہ اس رسالہ کا انگریزی ترجمہ کرا کر یورپ اور امریکہ بھی بھیجا جائے گا۔ اس کے بعد بلا توقف براہین احمدیہ کا پانچواں حصہ جس کا دوسرا نام ”ضرورت القرآن“ رکھا گیا ہے۔ ایک جداگانہ کتاب کی حیثیت سے چھپنا شروع ہوگا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ خریدار براہین حصہ پنجم پر اپنا کوئی حق نہ سمجھیں جو براہین کی قیمت کئی سال پیشتر ادا کر چکے تھے۔ اور لکھا کہ اس سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے یہ احسن انتظام خیال کرتا ہوں کہ ہر ایک رسالہ جو میری طرف سے شائع ہو میرے ذی مقدرت دوست اس کی خریداری سے مجھ کو بمال و جان مدد دیں۔ پھر فرمایا کہ اگر میری جماعت میں ایسے اصحاب ہوں جن پر زکوٰۃ فرض ہو تو زکوٰۃ دے کر اسی راہ میں اعانت اسلام کریں۔ جس طرح اس وقت اسلام یتیم اور غریب اور بے کس ہے کوئی اور نہیں۔ اور زکوٰۃ نہ دینے میں جس قدر تہدید شرع میں وارد ہے‘ وہ بھی ظاہر ہے اور قریب ہے کہ منکر زکوٰۃ کافر ہو جائے۔ پس فرض ہے کہ زکوٰۃ کے روپیہ سے کتابیں خریدی جائیں اور وہ کتابیں مفت تقسیم کی جائیں۔ (عصائے موسیٰ‘ ص

۴۲۸)

اربعین اور نور القرآن کے متعلق وعدہ خلافیاں

قادیانی صاحب نے ۲۳؍ جولائی ۱۹۰۰ء کو اعلان کیا۔ ”آج میں نے اتمام حجت کے لیے یہ ارادہ کیا ہے کہ مخالفین اور منکرین کی دعوت میں چالیس اشتہار شائع کروں۔ ہر اشتہار پندرہ پندرہ دن کے بعد نکلا کرے گا۔ جب تک کہ چالیس اشتہار پورے ہو جائیں یا جب تک کہ کوئی مخالف صحیح نیت کے ساتھ بغیر گندی حجت بازی کے جس کی بدبو ہر ایک کو آ سکتی ہے۔ میدان میں آ کر میری طرح کوئی نشان دکھلا سکے۔ اس رسالہ کا نام اربعین ہوگا۔ (رسالہ اربعین‘ نمبر اول‘ صفحہ اول) جب اربعین کے چار نمبر نکل چکے تو الہامی صاحب نے چار ہی کو چالیس قرار دیتے ہوئے نمبر ۴ پر یہ لکھ کر اس سلسلہ کو بند کر دیا کہ ”چونکہ وہ امر پورا ہو چکا جس کا میں نے ارادہ کیا تھا اس لیے میں نے ان رسائل کو صرف چار نمبر تک ختم کر دیا اور آئندہ شائع نہیں ہوگا۔ (رسالہ اربعین‘ نمبر ۴‘ ص ۱۴) لیکن الہامی صاحب کا یہ بیان قطعاً ”غلط“ ہے کہ وہ امر جس کو پیش نظر رکھ کر رسالہ اربعین جاری کیا تھا پورا ہو گیا کیونکہ انہوں نے تو لکھا تھا کہ یا تو چالیس نمبر پورے کئے جائیں گے یا اگر کوئی مخالف

صفحہ 202

میرے مقابلہ پر آ کر کوئی نشان دکھا دے گا تو اس وقت رسالہ کی اشاعت موقوف کردی جائے گی۔ حالانکہ الہامی صاحب نے نہ رسالہ کے چالیس نمبر پورے کئے اور نہ کسی مخالف نے آکر کوئی نشان دکھلایا۔ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ مجدد صاحب نے چار ہی نمبروں میں خریداروں کے سال بھر کے چندے ہضم کر لیے ہوں گے، مرزا جی نے رسالہ اربعین کی اشاعت بند کرنے کے متعلق جو حیلہ جوئی کی ہے وہ اس قدر مضحکہ خیز ہے کہ دنیا کا اجہل سے اجہل انسان بھی اس پر ہنس دے گا۔ لکھتے ہیں کہ "جس طرح خدائے عزوجل نے اول پچاس نمازیں فرض کیں۔ پھر تخفیف کر کے پانچ کو بجائے پچاس کے قرار دے دیا۔ اسی طرح میں بھی اپنے رب کریم کی سنت پر ناظرین کے لیے تخفیف تصدیع کر کے نمبر ۴ کو بجائے نمبر چالیس کے قرار دیتا ہوں۔ (رسالہ اربعین، نمبر ۴، صفحہ ۱۴) لیکن الہامی صاحب کی یہ منطق اسی حالت میں قابل التفات ہو سکتی تھی جبکہ خداوند عالم عزاسمہ نے بھی (معاذاللہ) قادیانی صاحب کی طرح کسی بات کا وعدہ کرکے اس کی خلاف ورزی کی ہوتی یا خریداروں کے پاس بارہ رسالے بھیجنے کی بجائے انہیں چار ہی پر ٹرخا دیا ہوتا۔ خداوند عالم نے تو واقعی تخفیف تصدیع کی تھی کہ پچاس نمازوں کی جگہ پانچ نمازیں کردیں۔ لیکن مرزا جی نے خریداران رسالہ کی تکلیف زیادہ کردی کہ انہیں باقی ماندہ آٹھ رسالہ بھیجنے سے انکار کر دیا۔ الہامی صاحب نے اربعین کی طرح ایک ماہوار رسالہ "نور القرآن" بھی جاری کیا تھا لیکن اس کے دو ہی نمبر نکال چکنے کے بعد ان کا استقلال جواب دے بیٹھا اور رسالہ بند کر دیا۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۳، صفحہ ۳۵)

باب ۳۳

ہوشیار پور میں چلہ کشی

کسی عارف نے فرمایا ہے ۔

اسرار حقیقت نتواں یافت بہ قال نے در باختن دولت و ملت و مال
تا خوں نہ کنی دو دیدہ تر پنجاہ سال ہرگز ندہند راہت از قال بہ حال
صفحہ 203

لیکن قادیاں کے مجدد صاحب بغیر اس کے کہ کبھی کوئی ریاضت کی ہو یا خلوص و نیاز مندی کے ساتھ کسی شیخ طریقت کی خدمت میں حاضر ہوئے ہوں۔ فنا فی اللہ اور بقا باللہ کی تمام منزلیں طے کرنے کے مدعی تھے، وہ ہر وقت اس خیال میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے کہ فسوں طرازی کی دکان کس طرح زیادہ فروغ پاسکتی ہے۔ اس سلسلۂ غور و تفکر میں ایک دفعہ خیال آیا کہ اہل اللہ منازل قرب کے طے کرنے میں بڑی بڑی مشقتیں اٹھاتے رہے ہیں، چلو ہم بھی کچھ ریاضت و مجاہدہ کرکے صوفیائے صفاکیش کی نقالی کر دیکھیں۔ ممکن ہے کہ کچھ رنگ چڑھ جائے ورنہ شہرت و ناموری کا مقصد عظیم تو کسی طرح ہاتھ سے نہیں جا سکتا۔ اس خیال کے پیش نظر انہوں نے ۱۸۸۶ء کے شروع میں چلہ کشی کا ارادہ کیا۔ گو قادیاں میں رہ کر چلہ کاٹنے میں بھی حصول شہرت کا مقصد عزیز حاصل ہو سکتا تھا۔ تاہم قادیانی صاحب نے اس کام کے لیے ایک بعید مقام ہوشیار پور کو منتخب فرمایا۔ جس کی غرض شاید یہ ہو کہ محترمہ محمدی بیگم کے والدین پر اپنے تقدس اور تعلق باللہ کا سکہ جمائیں۔ ان ایام میں محمدی بیگم صاحبہ بھی جن کی عمر اس وقت قریباً چودہ سال کی تھی، ہوشیار پور ہی میں تھیں، اور مرزا جی نے اپنے ۲۰ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں لکھا تھا کہ محمدی بیگم سے عقد ہونے کی پہلی پیشین گوئی اس زمانے کی ہے جبکہ وہ لڑکی ہنوز نابالغ تھی اور اس کی عمر آٹھ نو سال کی تھی۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۸) جب ہوشیار پور جانے کا فیصلہ ہو چکا تو الہامی صاحب نے شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کو جو ان سے حسن اعتقاد رکھتے تھے لکھا کہ ہم تمہارے شہر میں آکر چلہ کشی کا قصد رکھتے ہیں، اس لیے ہمیں شہر کے کنارے کوئی دو منزلہ مکان کرایہ پر دلا دو۔ شہر کے کنارے اور دو منزلہ کی قید اس لیے لگائی تھی کہ خود شیخ مہر علی کا دو منزلہ مکان جسے طویلہ شیخ مہر علی کہتے تھے، شہر کے باہر واقع تھا۔ چنانچہ شیخ مہر علی نے مرزا صاحب کے لیے اپنا دو منزلہ مکان خالی کرا دیا۔

ہوشیار پور میں ورود اور چلہ کشی کا اعلان

طالبان مولیٰ کا شیوہ ہے کہ وہ نہایت خاموشی و رازداری، تجرد و انقطاع، غربت و مسکنت، فقر و فاقہ کے عالم میں اشغال و مجاہدات بجا لاتے ہیں۔ لیکن قادیاں کے حق فراموش مجدد صاحب تین مریدوں کو ساتھ لے کر علی الاعلان چلہ کشی کے لیے نوابی ٹھاٹھ

صفحہ 204

کے ساتھ روانہ ہوئے، قادیاں سے بہلی میں بیٹھ کر دریائے بیاس کے کنارے کنارے چلے۔ گھاٹ پر بذریعہ کشتی دریا سے پار ہونا تھا، کشتی ساحل سے چند قدم کے فاصلہ پر پانی میں کھڑی تھی۔ دوسرے لوگوں نے جوتیاں اتار لیں اور چند قدم پانی میں چل کر کشتی پر سوار ہوئے لیکن مرزا صاحب کی شان ریاست اس کی مقتضی تھی کہ جوتی اتار کر پاؤں گیلا کرنے کی زحمت گوارا نہ فرماتے۔ اس لیے ملاح نے ان کو اپنے کندھوں پر سوار کر کے کشتی پر سوار کرایا۔ مجدد صاحب نے اس کو ایک روپیہ انعام دیا۔ رات کو اپنے ایک صحابی فتح خان کے گاؤں میں ٹھہرے۔ یہ وہی آستانہ قادیاں کا مشہور خدمت گار فتح خان "صحابی" ہے جو تھوڑے دنوں کے بعد قادیاں کا رشتہ ارادت توڑ کر ازسرنو مسلمانوں میں آ ملا تھا۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، صفحہ ۵۵) ہوشیار پور پہنچ کر مرزا صاحب نے تینوں مریدوں کو علیحدہ علیحدہ تین کام سپرد کر دیئے۔ کھانا پکانے کی خدمت عبداللہ سنوری کے سپرد ہوئی۔ سودا سلف خریدنے کا کام فتح خان کو تفویض ہوا۔ مہمان نوازی کی خدمت حامد علی کے دوش ہمت پر ڈالی گئی۔ مجدد صاحب کا کوئی کام ایسا نہیں تھا جو تصنع، ریا، نام و نمود اور شہرت طلبی کے جذبات سے خالی ہو۔ اس لیے چلہ کشی کی نمائش اور اس کا پروپیگنڈہ بھی ضرور تھا۔ مرزا صاحب نے دستی اشتہارات چھپوا کر اعلان کر دیا کہ چالیس دن تک کوئی صاحب مجھے ملنے نہ آئیں اور نہ کوئی صاحب مجھے دعوت کے لیے بلائیں، چالیس روز کے بعد میں دس دن تک ہوشیار پور میں قیام کروں گا۔ اس وقت ہر شخص ملاقات کر سکے گا۔ خدام نیچے ٹھہرے تھے اور مرزا صاحب نے بالا خانہ کو زینت بخشی تھی۔ الہامی صاحب نے خدام کو حکم دے رکھا تھا کہ اوپر بالاخانہ میں کوئی شخص میرے پاس نہ آئے، کھانا اوپر پہنچا دیا جائے۔ خالی برتن دوسرے وقت لے جایا کریں۔ یہ بھی فرمایا کہ میں نمازیں اوپر پڑھوں گا۔ تم نیچے پڑھ لیا کرنا۔ عبداللہ سنوری کا بیان ہے کہ میں کھانا چھوڑنے اوپر جایا کرتا تھا اور حضور سے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ البتہ اگر خود مجھ سے کوئی بات دریافت کرتے تھے تو اس کا جواب دے دیتا تھا۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، صفحہ ۵۵) طالبان مولیٰ کسی ایسی آباد مسجد کے پاس چلہ کشی کرتے ہیں جہاں نماز باجماعت فوت نہ ہو۔ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں، ترک حیوانات کا التزام کرتے ہیں اور غذا کو قوت لایموت تک گھٹا دیتے ہیں۔ لیکن قادیانی صاحب چلہ میں بھی تنعمات کے اسی طرح غلام رہے جس طرح دوسرے ایام

صفحہ 205

میں تھے۔ (دیکھو سیرۃ المہدی، جلد اول، صفحہ ۴۱)

معلم الملکوت سے بالمشافہ گفتگو

یقین کے ساتھ معلوم نہیں کہ اس چلہ کی حقیقی غرض و غایت کیا تھی؟ لیکن بظاہر ایک مقصد یہ تھا کہ شیاطین کو مسخر کیا جائے اور معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب اس مقصد میں کامیاب ہوئے۔ کیونکہ اس چلہ میں ابلیس جسے مرزا صاحب (معاذ اللہ) خدائے ذوالجلال سمجھ رہے تھے۔ بڑی بڑی دیر تک مرزا صاحب سے بالمشافہ گفتگو کرتا رہتا تھا۔ چنانچہ میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں کہ ”میاں عبداللہ سنوری کا بیان ہے کہ ایک دفعہ حضور (مرزا جی) نے مجھ سے فرمایا میاں عبداللہ! ان دنوں میں مجھ پر بڑے بڑے خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلے ہیں۔ بعض اوقات دیر دیر تک خدا تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا رہتا ہے“۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۵۷) اور اس بات کا ایک ادنیٰ ثبوت قادیانی صاحب سے باتیں کرنے والا معلم الملکوت یا اس کا کوئی چیلا تھا یہ ہے کہ انہیں بااقبال عمانوائیل یا بشیر کے ظہور اور محمدی بیگم سے شادی ہونے کے الہام ہوشیار پور میں اسی چلے میں ہوئے تھے۔ (دیکھو تبلیغ رسالت، جلد اول، صفحہ ۵۹۔ ۶۱) حضرت اقدس نے اسی ذات شریف کے کہنے کے بموجب دھڑلے سے دونوں پیشین گوئیاں کردیں جو جھوٹی نکلیں اور الہامی صاحب کو ان میں بہت کچھ خجل اور نادم ہونا پڑا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ اطلاعیں منجانب اللہ ہوتیں تو ان میں تخلف کا کوئی امکان نہ تھا۔

باب ۳۴

ہوشیار پور میں لالہ مرلی دھر آریہ سے مناظرہ

جب کوئی غیر مسلم علمائے حق کے پاس آ کر دین کی کوئی بات دریافت کرتا یا اسلامی تعلیمات کے متعلق کچھ شبہات پیش کرتا ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں کہ کسی سرگشتہ کوئے ضلالت نے ازخود ان کی طرف رجوع کیا اور حق تعالیٰ نے ایسا زرین موقع بہم پہنچایا کہ کسی

صفحہ 206

غیر مسلم کے سامنے محاسن اسلام پیش کریں اور وہ ان دلائل کو پوری توجہ و انہماک سے سنے۔ ایسی حالت میں وہ اسے نرمی اور شیریں کلامی سے سمجھاتے ہیں اور اس کے سامنے صداقت اسلامی کی تصویر اس خوبی سے کھینچتے ہیں کہ وہ بسا اوقات اسلام کا عاشق زار بن کر ملت حنیفی کی دائمی چاکری اختیار کر لیتا ہے۔ چلہ کشی کے بعد ہوشیار پور میں بھی ایک آریہ مرزا صاحب کے پاس اپنے بعض شبہات حل کرنے آیا تھا۔ مرزا صاحب میں بھلا اتنی قابلیت کہاں تھی‘ کہ اسے دین حنیف یا کم از کم اسی مفلوج و مجذوم اسلام کا گرویدہ بنا سکتے جس کے خود پیرو تھے‘ بلکہ یہ دیکھ کر کہ وہ علمی استعداد میں ناقص اور مذہبی امور میں کورا ہے‘ اسے مناظرہ کے پھندے میں الجھا کر حصول شہرت کا آلہ کار بنانا چاہا۔ اس مناظرہ کے بعد مرزا صاحب ہمیشہ ڈینگیں مارا کرتے تھے کہ انہوں نے ہوشیار پور کے مناظرہ میں فتح پائی۔ حالانکہ اگر کوئی ذی علم آریہ برسر مقابلہ ہوتا تو مرزا صاحب کو قدر عافیت معلوم ہو جاتی اور نتیجہ یقیناً اس کے برعکس نکلتا۔ پنڈت لیکھرام آریوں میں کوئی خاص ذی علم آدمی نہیں تھے‘ تاہم وہ بار بار لنگر لنگوٹے کس کر قادیاں جا پہنچتے اور خود مرزا صاحب کی مجلس میں جا کر ان کا ناطقہ بند کر دیا کرتے۔ غرض جب تک ان کا قادیاں میں قیام رہتا مجدد صاحب دم بخود رہتے اور پنڈت جی کے مقابلہ میں حق گوئی اور لب کشائی کی جرأت نہ ہوتی۔ مانا کہ پنڈت لیکھرام ایک منہ زور آدمی تھا لیکن اہل حق کے سامنے ایسے لوگوں کے منہ پر قفل لگ جایا کرتا ہے۔ اگر مرزا صاحب کو درگاہ رب العزت میں کچھ بھی تقرب نصیب ہوتا تو کیا مجال تھی کہ کوئی مخالف زبان کھول سکتا اور اگر کھولتا تو معاً اپنے کیفر کردار کو نہ پہنچتا۔ مناظرہ ہوشیار پور کی جو کیفیت خود الہامی صاحب نے کتاب ”سرمہ چشم آریہ“ میں شائع کی ہے میں اسی کو ذیل میں درج کر دیتا ہوں۔ کیونکہ اس کے سوا میرے پاس کوئی دوسرا ذریعہ معلومات نہیں ہے۔

پہلا مباحثہ

مارچ ۱۸۸۶ء میں جبکہ مرزا صاحب ہوشیار پور میں تھے لالہ مرلی دھر ڈرائنگ ماسٹر سے مذہبی مباحثہ کا اتفاق ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ماسٹر صاحب موصوف نے مرزا جی کے قیام گاہ پر آ کر ان سے کہا کہ اسلامی تعلیمات کے متعلق میرے چند سوالات ہیں اگر آپ

صفحہ 207

اجازت دیں تو پیش کروں۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ اگر آپ کو مذہبی بحث کا شوق ہے تو مناسب ہے کہ فریقین کے مذہبی اصولوں کی حقیقت ظاہر کرنے کے لیے دونوں طرف سے سوالات پیش ہوں، تاکہ جو کوئی ان سوالات و جوابات کو پڑھے، اس کو دونوں مذہبوں کے جانچنے اور پرکھنے کا موقع مل سکے۔ ماسٹر صاحب نے اس تجویز کو منظور کیا اور اسی التزام سے بحث شروع ہوئی۔ پہلے 11 مارچ 1886ء کو رات کو مرزا صاحب کی فرودگاہ پر ماسٹر صاحب کی طرف سے سرور دو جہان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معجزہ شق القمر کے متعلق ایک تحریری اعتراض پیش ہوا۔ اس کے بعد 13 مارچ کو مرزا صاحب کی طرف سے آریوں کے اس اصول پر اعتراض پیش ہوا کہ پرمیشور روحوں کا خالق نہیں ہے اور وہ کسی روح کو خواہ وہ کیسی ہی راستباز اور وفادار اور سچی پرستار ہو، جینے مرنے کے عذاب سے نجات نہ دے گا۔ آغاز مناظرہ سے پہلے اس بات کا فیصلہ ہو چکا تھا کہ جواب الجواب کے جواب پر بحث ختم ہو جائے گی۔ لیکن ماسٹر صاحب نے اس شرط کو نظر انداز کر کے پہلے جلسہ میں جو 11 مارچ کو بوقت شب ہوا تھا۔ یہ ناانصافی کی کہ جب مرزا صاحب کی طرف سے جواب الجواب کے جواب کا وقت آیا تو انہوں نے زیادہ رات گزر جانے کا عذر کر کے جلسہ گاہ سے جانے کا قصد کیا۔ انہیں بہتیرا سمجھایا گیا لیکن وہ اٹھ کر چلے گئے۔ اس وقت حاضرین جلسہ میاں شتروگھن صاحب پسر کلان راجہ رودر سین صاحب والی ریاست سوکیت حال وارد ہوشیار پور، میاں شترنجی صاحب پسر خورد راجہ صاحب موصوف، میاں جنمی جی صاحب پسر خورد تر راجہ صاحب، بابو مولراج نقل نویس، لالہ رام پھمن ہیڈ ماسٹر لدھیانہ، بابو ہرکشن داس سیکنڈ ماسٹر ہوشیار پور وغیرہم تھے۔ میاں شتروگھن نے کئی مرتبہ ماسٹر صاحب سے کہا کہ آپ جواب الجواب لکھنے دیں، ہم لوگ بخوشی بیٹھیں گے تھوڑی دیر اور بیٹھنے میں کوئی تکلیف نہیں بلکہ جواب سننے کا اشتیاق ہے۔ اسی طرح بعض دوسرے ہندوؤں نے بھی ماسٹر صاحب پر زور دیا لیکن ماسٹر صاحب نے کسی ایک کی ایک نہ سنی اور اٹھ کر چل دیئے۔ اٹھ کر چلے جانے کی اصل وجہ ماسٹر صاحب کا یہ خیال تھا کہ اگر مرزا صاحب نے اسی وقت جواب الجواب کا جواب لکھوانا شروع کر دیا تو مجھے بہت کچھ ذلت و رسوائی کا سامنا ہو گا۔ اب مرزا صاحب نے تمام حاضرین جلسہ کی موجودگی میں فرمایا کہ اس کا جواب ناگزیر ہے، مگر آپ اس وقت اس کے لکھنے کی اجازت دیں تو بہتر ورنہ اسے بالفور اپنے طور پر رسالہ کے ساتھ

صفحہ 208

شامل کیا جائے گا۔ چنانچہ سب نے بطور خود لکھا جانا تسلیم کیا اور جلسہ برخاست ہوا۔ (سرمہ

چشم آریہ صفحہ ۴-۵)

دوسرا مباحثہ

دوسرا جلسہ ۴؍ مارچ ۱۸۸۶ء کو دن کے وقت شیخ مہر علی رئیس اعظم ہوشیار پور کے مکان پر ہوا۔ اول حسب قرارداد مرزا صاحب کی طرف سے ایک تحریری اعتراض پیش ہوا کہ حق تعالیٰ کی خالقیت سے انکار کرنا اور پھر اسی کے التزام سے نجات جاودانی سے منکر رہنا جو آریوں کا اصول ہے۔ اس سے خدا تعالیٰ کی توحید و رحمت دونوں معدوم ہو جاتی ہیں۔ جب یہ اعتراض جلسہ عام میں سنایا گیا تو ماسٹر صاحب پر ایک عجیب حالت طاری ہوئی۔ سخت پریشان تھے کہ اس کا کیا جواب دیں۔ گھنٹے سوا گھنٹے تک یہی عذر پیش کرتے رہے کہ یہ ایک سوال نہیں بلکہ دو ہیں۔ اس کے جواب میں مرزا صاحب نے فرمایا کہ سوال فی الحقیقت ایک ہی ہے یعنی حق تعالیٰ کی خالقیت سے انکار اور میعادی نجات اسی غلط اصول کا ایک بد اثر ہے جو اس سے الگ نہیں ہو سکتا۔ اس لحاظ سے سوال کے دونوں ٹکڑے حقیقت میں ایک ہی ہیں، کیونکہ جو شخص خدائے تعالیٰ کی خالقیت سے منکر ہوگا اس کے لیے ممکن نہیں کہ دائمی نجات کا اقرار کر سکے۔ سو انکار خالقیت اور انکار نجات ابدی باہم لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے سے پیدا ہوتا ہے، پس جو شخص یہ ثابت کرنا چاہے کہ خدائے تعالیٰ کے رب العالمین اور خالق کائنات نہ ہونے میں کچھ حرج نہیں اس کو یہ بھی ثابت کرنا لازم آئے گا کہ حق تعالیٰ کے کامل بندوں کا ہمیشہ جینے مرنے کے عذاب میں مبتلا رہنے اور کبھی دائمی نجات نہ پانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ غرض مرزا جی ماسٹر صاحب کو بہت دیر تک سمجھاتے رہے، آخر جب مرزا صاحب کا بیان ان کی سمجھ میں آیا تو جواب لکھنا شروع کیا اور تین گھنٹے کے بعد سوال کے ایک حصہ کا جواب قلمبند کر کے سنایا اور دوسرے ٹکڑے کی نسبت، جو مکتی یعنی نجات کے متعلق تھا، فرمایا کہ اس کا جواب ہم اپنے مکان پر جاکر لکھیں گے اور لکھنے کے بعد بھیج دیں گے۔ مرزا صاحب نے ایسا جواب لینے سے انکار کیا اور کہا کہ آپ کو جو کچھ لکھنا ہو اسی جلسہ میں حاضرین کی موجودگی میں تحریر فرمائیں۔ اگر گھر جا کر لکھنا تھا تو پھر اس مجلس بحث کی ضرورت ہی کیا تھی؟ جب ماسٹر

صفحہ 209

صاحب نے اس کا جواب لکھنا کسی طرح منظور نہ کیا تو ناچار مرزا صاحب نے کہا کہ آپ نے جس قدر لکھا ہے‘ وہی ہمارے حوالے کر دیں تاکہ اس کا جواب لکھا جائے‘ ماسٹر صاحب نے کہا کہ اب ہماری سماج کا وقت ہے ہم زیادہ نہیں بیٹھ سکتے‘ یہ کہہ کر اپنے رفقاء سمیت چل دیئے‘ ناچار مرزا صاحب نے جواب الجواب بطور خود لکھ کر کارروائی کے ساتھ شامل کر دیا۔ اور لطف یہ کہ مرزا صاحب نے اپنا اعتراض قریباً ایک گھنٹے میں سنایا تھا لیکن ماسٹر صاحب نے تین گھنٹے وقت لیا پھر بھی اعتراض کا ایک ٹکڑا چھوڑ دیا۔ ان کا اصل منشا یہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی طرح دن گزر جائے اور اس بلا سے نجات ملے۔ (سرمہ چشم آریہ،

صفحہ ۵۔ ی)

باب ۳۵

رسالہ ”سرمہ چشم آریہ“ کی اشاعت

لالہ مرلی دھر صاحب ہوشیار پوری سے مرزا صاحب کا جو تحریری مباحثہ ہوا تھا مرزا صاحب نے اس کو کتابی شکل میں شائع کر کے اس کا نام ”سرمہ چشم آریہ“ تجویز کیا تھا۔

جذبات زر اندوزی کا مظاہرہ

گو اس رسالہ کی واجبی قیمت آج کل کے مہنگے دور میں بھی دس بارہ آنہ سے کسی طرح زیادہ نہیں ہو سکتی لیکن چونکہ مرزا صاحب کی زندگی کا مقصد وحید فراہمی زر و مال تھا۔ انہوں نے اس کو عام لوگوں کے پاس پونے دو دو روپے میں فروخت کیا۔ مرزا صاحب نے اس رسالہ کا جو اشتہار دیا تھا اس کا ابتدائی حصہ ملاحظہ ہو‘ فرماتے ہیں۔ ”یہ رسالہ کحل الجواہر سرمہ چشم آریہ نہایت صفائی سے چھپ کر ایک روپیہ بارہ آنہ اس کی قیمت عام لوگوں کے لیے قرار پائی ہے اور خواص اور ذی استطاعت لوگ جو کچھ بھی بطور امداد دیں ان کے لیے موجب ثواب ہے۔ کیونکہ ”سراج منیر“ اور ”براہین احمدیہ“ کے لیے اسی قیمت سے سرمایہ جمع ہو گا۔ اور اس کے بعد رسالہ ”سراج منیر“ انشاء اللہ القدیر چھپے گا‘ پھر

صفحہ 210

اس کے بعد پنجم حصہ کتاب "براہین احمدیہ" چھپنا شروع ہوگا۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، صفحہ ۹۱) اس کے چند ماہ بعد مرزا جی نے ایک اور اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ یہ کتاب یعنی "سرمہ چشم آریہ" بتقریب مباحثہ لالہ مرلی دھر ڈرائینگ ماسٹر ہوشیار پور جو عقاید باطلہ وید کی بکلی بیخ کنی کرتی ہے۔ اس دعویٰ اور یقین سے لکھی گئی ہے کہ کوئی آریہ اس کتاب کا رد نہیں کر سکتا کیونکہ سچ کے مقابل پر جھوٹ کی کچھ پیش نہیں جاتی اور اگر کوئی آریہ صاحب ان تمام وید کے اصولوں اور اعتقادوں کو جو اس کتاب میں رد کئے گئے ہیں سچ سمجھتا ہے اور اب بھی وید اور اس کے ایسے اصولوں کو ایشرکرت ہی خیال کرتا ہے تو اس کو اسی ایشور کی قسم ہے کہ اس کتاب کا رد لکھ کر دکھلا دے اور پانچ سو روپیہ انعام پائے۔ یہ پانچ سو روپیہ بعد تصدیق کسی ثالث کے جو کوئی پادری یا برہمو صاحب ہوں گے دیا جائے گا اور ہمیں یہاں تک منظور ہے کہ اگر منشی جیون داس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور جو اس گرد و نواح کے آریہ صاحبوں کی نسبت سلیم الطبع اور معزز اور شریف آدمی ہیں، بعد رد چھپ جانے اور عام طور پر شائع ہو جانے کے مجمع عام میں علماء مسلمانوں اور آریوں اور معزز عیسائیوں وغیرہ میں مع اپنے عزیز فرزندوں کے حاضر ہوں اور پھر اٹھ کر قسم کھا لیں کہ ہاں میرے دل نے یہ یقین قبول کر لیا ہے کہ سب اعتراضات رسالہ "سرمہ چشم آریہ" جن کو میں نے اول سے آخر تک بغور دیکھ لیا ہے اور خوب توجہ کر کے سمجھ لیا ہے۔ اس تحریر سے رد ہو گئے ہیں اور اگر میں دلی اطمینان اور پوری سچائی سے یہ بات نہیں لکھتا تو اس کا ضرر اور وبال اسی دنیا میں مجھ پر اور میری اسی اولاد پر جو اس وقت حاضر ہے پڑے۔ تو بعد ایسی قسم کھا لینے کے صرف منشی صاحب موصوف کی شہادت سے پانچ سو روپیہ نقد رد کنندہ کو اسی مجمع میں بطور انعام دیا جائے گا اور اگر منشی صاحب موصوف عرصہ ایک سال تک ایسے قسم کے بد اثر سے محفوظ رہے تو آریوں کے لیے بلاشبہ یہ حجت ہوگی کہ صاحب موصوف نے اپنی دلی صداقت سے اپنے علم اور فہم کے مطابق قسم کھائی تھی۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، صفحہ ۹۲- ۹۴)

"نسخہ خبط احمدیہ" بجواب "سرمہ چشم آریہ"

پنڈت لیکھرام نے "سرمہ چشم آریہ" کے جواب میں کتاب "نسخہ خبط احمدیہ" شائع

صفحہ 211

کی۔ اس میں مرزا صاحب کے پنج ہزاری انعام کے متعلق لکھا کہ ”سرمہ چشم آریہ“ کا جواب دینے کے لیے مرزا جی نے اپنی قدیم عادت کے بموجب پانچ سو روپیہ انعام کا وعدہ کیا ہے۔ مگر ہم ان کے وعدہ کو اس شعر کا مصداق سمجھتے ہیں۔

گر جاں طلبی مضائقہ نیست زر می طلبی سخن درین است

ہمیں ان کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کا حال بخوبی معلوم ہے اور قرضداری کا حال بھی ہم سے مخفی نہیں۔ پس ہم لینے دینے کے سر پر خاک ڈال کر وہ پانچ سو روپیہ مرزا صاحب کو ان کی نئی شادی کے لیے جس کے متعلق ان کو ابھی ایک تازہ الہام ہوا ہے‘ بطور تمبول کے نذر کرتے ہیں۔

(نسخہ خط احمدیہ بجواب ”سرمہ چشم آریہ“ ص ۱)

باب نمبر ۳۶

الہامی فرزند عنموائیل کے تولد کی پیشین گوئی

آپ پہلے پڑھ آئے ہیں کہ قادیان کے ”مجدد صاحب“ نے اعجازی قوت میں شہرت و ناموری حاصل کرنے کے لیے غیر مسلم مقتداؤں کو قادیان کے یک سالہ قیام کی جو دعوت دی تھی اس میں ”مجدد صاحب“ کو کس طرح نیچا دیکھنا پڑا تھا۔ اس کے علاوہ براہین اور ”سراج منیر“ وغیرہ رسالوں کے متعلق الہامی صاحب کی پیشانی پر بدنامی کا جو بدنما داغ لگا تھا اس سے بھی لوگ سخت نفرت کرنے لگے تھے اور ان کے خلاف ہر طرف تمسخر و تضحیک کی گرم بازاری تھی۔ گو بعض لوگ اب بھی وقتاً فوقتاً دام ارادت میں پھنس رہے تھے۔ تاہم ضرورت تھی کہ رسوائی کے داغ دھوئے جائیں اور کسی ڈھنگ سے لوگوں کے دلوں پر از سر نو عظمت و تقدس کا سکہ جمایا جائے۔ غالباً انہی خیالات کے پیش نظر ”مجدد صاحب“ نے اب کسی پیشین گوئی کا شوشہ چھوڑ کر لوگوں کی توجہ دوسری طرف منعطف کرنے اور نیک نام ہونے کا عزم فرمایا۔ لیکن آگے چل کر آپ کو معلوم ہوگا کہ ”مجدد صاحب“ نے اس کوشش میں بھی منہ کی کھائی اور رہا سہا وقار بھی رخصت ہو گیا۔

صفحہ 212

فصل - ۱ عنموائیل کے صفات و خصوصیات

قادیانی صاحب ۱۸۸۴ء میں محترمہ نصرت جہاں بیگم کو بیاہ کر لائے تھے۔ دوسرے سال وہ حاملہ ہوئیں۔ کتب طب میں یہ معلوم کرنے کے لیے بہت سی علامتیں بیان کی گئی ہیں کہ حمل میں لڑکا ہے یا لڑکی؟ گو ان علامتوں کا نتیجہ کبھی غلط بھی برآمد ہوتا ہے مگر زیادہ تر صحیح ہی نکلتا ہے۔ جب وضع حمل میں تین مہینے کا وقفہ تھا تو میرا خیال ہے کہ مرزا صاحب نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ان کے گھر لڑکا کا تولد ہوگا یا لڑکی کتب طب کی ورق گردانی شروع کر دی ہوگی۔ آخر علامات حمل سے اس نتیجہ پر پہنچے ہوں گے کہ بیوی لڑکے سے حاملہ ہے چنانچہ قرینہ ہے کہ "مجدد صاحب" نے انہی علامات کے بل بوتے پر ایک عدد پیشین گوئی شائع کرنے کا عزم فرمایا۔ اس غرض کے لیے ایک الہامی عبارت تصنیف کی اور ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو ایک اشتہار کی شکل میں شائع کر کے پبلک کو اپنے پہلے "اعجازی شاہکار" سے روشناس کرانے کا فخر حاصل کیا۔ الہامی فرزند کے تولد کی پیشین گوئی کے یہ الفاظ تھے۔ "پہلی پیشین گوئی بالہام اللہ تعالیٰ خدائے رحیم و کریم نے جو ہر چیز پر قادر ہے مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے پایہ قبولیت جگہ دی فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام‘ خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پائیں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آئیں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہو اور تا حق‘ اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔ تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفےٰ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔ سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا‘ ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے۔ اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔ مبارک وہ جو آسمان سے

صفحہ 213

آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمتہ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت و غیوری نے اسے کلمہ تمجید سے بھیجا ہے۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے۔ دوشنبہ ہے۔ مبارک دوشنبہ۔ فرزند دل بند گرامی ارجمند مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلاء کان الله نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔ نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے۔ خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا وہ جلد جلد بڑھے گا۔ اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وکان امرا مقضیا۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۵۹)

اس اعتراض کا جواب کہ قابلہ بھی لڑکے لڑکی میں امتیاز کرلیتی ہے

جب مرزا صاحب کی پیشین گوئی عام طور پر شہرت پذیر ہوئی تو ہوشیار پور کے کسی آریہ نے اعتراض کیا کہ اس پیشین گوئی کو الہام خداوندی سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ مرزا صاحب کی بیوی حاملہ ہے اور لڑکا لڑکی کے پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۷۴) اس کے بعد خود مرزا صاحب نے ایک اشتہار میں لکھا کہ لوگ پہلے ہی سے یہ کہتے تھے کہ قواعد طبی کے رو سے حمل موجودہ کی علامات سے ایک حکیم بتلا سکتا ہے کہ کیا پیدا ہوگا۔ پنڈت لیکھرام اور بعض دیگر مخالف اس عاجز پر یہی الزام رکھتے ہیں کہ ان کو فن طبابت میں مہارت ہے۔ طب کے ذریعہ سے معلوم کر لیا ہوگا کہ لڑکا پیدا ہونے والا ہے، اسی طرح ایک صاحب محمد رمضان نام نے ”پنجابی اخبار“ ۲۰؍ مارچ ۱۸۸۶ء میں چھپوایا کہ لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دینا منجانب اللہ ہونے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ جس نے ارسطو کا ورکس دیکھا ہوگا وہ حاملہ کا قارورہ دیکھ کر لڑکا یا لڑکی پیدا ہونا ٹھیک ٹھیک بتلا سکتا ہے۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۸۹) الہامی صاحب نے ان اعتراضوں کے

صفحہ 214

جواب میں لکھا کہ ایسا اعتراض سراسر حیلہ سازی اور حق پوشی ہے، کیونکہ اول تو کوئی مدعی ایسا دعویٰ نہیں کر سکتا بلکہ ایک حاذق طبیب بھی ایسا دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا کہ اس امر میں میری رائے قطعی اور یقینی ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں۔ صرف ایک اٹکل ہوتی ہے کہ جو بارہا خطا جاتی ہے۔

(تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۷۳)

حضرت مسیحؑ کے معجزۂ احیائے موتیٰ۱ سے اکمل و اتم معجزہ

انہی ایام میں کسی پادری سے مرزا صاحب کی جھڑپ ہو گئی۔ پادری نے مرزا صاحب کی اس پیشین گوئی کا جو الہامی مولود کے متعلق تھی، مضحکہ اڑایا۔ اس سلسلہ گفتگو میں پادری نے اعتراض کیا کہ حضرت مسیح نے تو ازروئے قرآن مردے زندہ کئے اور قرآن میں تمہارے پیغمبر کے احیائے موتیٰ کا کوئی تذکرہ نہیں۔ مرزا صاحب سے اس کا کوئی علمی جواب تو نہ بن پڑا، البتہ جوش میں آکر فرمانے لگے ”دیکھو! میں نے جس ثمرۂ آفاق فرزند کے تولد کی پیشین گوئی کر رکھی ہے، اس کی پیدائش تو حضرت مسیح کے مردے زندہ کرنے سے کہیں فائق و برتر ہے۔ چنانچہ ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں مرزا صاحب نے پادری کے اعتراض کا ان لفظوں میں جواب دیا۔ ”اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہیے کہ یہ صرف پیش گوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جلّ شانہ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے ظاہر فرمایا ہے اور درحقیقت یہ نشان ایک مردہ کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ اعلیٰ و اولیٰ و اکمل و افضل و اتم ہے۔ کیونکہ مردہ کے زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جائے اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلام کی نسبت بائبل میں لکھا گیا ہے جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے اور پھر باوصف ان سب عقلی و نقلی جرح و قدح کے یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لیے زندہ رہتا تھا اور پھر دوبارہ اپنے عزیزوں کو دوہرے ماتم میں ڈال کر اس جہان سے رخصت ہو جاتا تھا۔ سو اگر مسیح علیہ السلام کی دعا سے بھی کوئی روح دنیا میں آئی تو درحقیقت اس کا آنا نہ آنا برابر ہے۔ مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا کو قبول کر کے ایسی بابرکت روح کے بھیجنے کا وعدہ فرمایا

صفحہ 215

ہے جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ پس غور کرنے سے معلوم ہو گا کہ یہ نشان مردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے"۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۷۳)

مدت پیدائش کی نو سالہ تعیین

۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں مرزا صاحب نے اپنے الہامی فرزند کے تولد کی کوئی تاریخ اور مدت معین نہ فرمائی تھی۔ اس کے بعد ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں بھی تاریخ ولادت کوئی نہ بتائی لیکن منتہائے مدت کا تعین فرما دیا تھا۔ چنانچہ لکھا ”لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدۂ الٰہی نو برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا۔ خواہ جلد ہو یا دیر سے‘ بہرحال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا"۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۲‘ ص ۷۲) جب لوگوں نے اس طول مدت پر اعتراض کئے تو مرزا صاحب نے ۸ اپریل ۱۸۸۶ء کو ایک اور اشتہار شائع کیا جس میں لکھا۔ ”واضح ہو کہ اس خاکسار کے اشتہار مورخہ ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء پر بعض صاحبوں نے جیسے منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے یہ نکتہ چینی کی ہے کہ نو برس کی حد جو پسر موعود کے لیے بیان کی گئی ہے۔ یہ بڑی گنجائش کی جگہ ہے۔ ایسی لمبی میعاد میں تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ سو واضح ہو کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے کسی لمبی میعاد سے گو نو برس سے بھی دو چند ہوتی۔ اس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آ سکتا۔ ایسے عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور افضل آدمی کے تولد پر مشتمل ہے‘ انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اور دعا کی قبولیت ہو کر ایسی خبر کا ملنا بے شک یہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہے۔ نہ یہ کہ صرف پیشگوئی ہے۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۷۵) اس کے بعد الہامی صاحب نے ایک اور اشتہار شائع کیا جس کا آخری حصہ یہ تھا۔ اس امر کے انکشاف کے لیے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج ۸ اپریل ۱۸۸۶ء کو اللہ جلّ و شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہوگا۔ یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا اور پھر بعد اس کے یہ

صفحہ 216

بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔ چونکہ یہ عاجز ایک بندہ ضعیف مولیٰ کریم جل شانہ کا ہے۔ اس لیے اسی قدر ظاہر کرتا ہے جو منجانب اللہ ظاہر کیا گیا۔ آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہوگا وہ بھی شائع کیا جائے گا۔ (تبلیغ

رسالت‘ جلد اول‘ ص ۷۶)

بے ہنگم الہام میں متضاد باتوں کا اجتماع

مرزا صاحب نے اس امر کے انکشاف کے لیے فرزند موعود کب پیدا ہوگا۔ بزعم خود جناب الٰہی میں تضرع کی۔ تو اس ذات شریف نے جو اس قسم کے ملہموں کی طرف القا کیا کرتا ہے اور جسے وہ اپنی حرمان نصیبی سے ذات باری تعالیٰ سمجھا کرتے ہیں۔ مرزا صاحب پر ایک چیستان نازل کی جو اوپر درج کی گئی ہے۔ اس الہامی چیستان سے کوئی شخص کچھ نہیں سمجھ سکتا کہ اس ذات شریف نے مرزا صاحب کو کون سی قطعی اور یقینی بات بتائی۔ جب الہامی صاحب نے تعین وقت کی درخواست کی تھی تو چاہیے تھا کہ کوئی خاص وقت اور تاریخ متعین کی جاتی اور ایسا الہام نہ کیا جاتا جو متضاد باتوں کا مجموعہ ہو۔ بہرحال الہامی صاحب نے اپنی جو الہامی عبارت شائع کی۔ اس سے مندرجہ ذیل نتائج جو ایک دوسرے کے نقیض ہیں برآمد ہوتے ہیں۔

عمنوائیل موعود ہی ہوگا۔

مہینہ اور اکثر مدت ڈھائی سال یا کچھ زیادہ ہے۔ (بیان میر عباس علی لدھیانوی

مندرجہ تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۸۶)

پیدا ہو۔ لڑکی نہ ہو۔

بعد گھر میں دوبارہ حمل ہوگا تو اس حمل سے عمنوائیل موعود برآمد ہوگا۔

صفحہ 217

کی مدت میں کبھی آئندہ عرصہ شہود میں آئے گا۔

اب ظاہر ہے کہ اس الہامی منطق سے کوئی شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ ملہم صاحب کے عاجز خدا نے ان کی دعا و توجہ کے بعد انہیں امور پنجگانہ میں سے کونسی بات علی التعیین بتائی۔ اور مقام غور ہے کہ کیا اس قسم کی تضاد بیانی کا مصدر و منبع خدائے قدوس کی ذات یکتا ہو سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ اصل یہ ہے کہ مرزا جی نے اپنے گول مول بیان میں بڑی ہوشیاری سے کام لیا ہے۔ ان ایام میں مجدد صاحب کے مشکوے معلی میں امیدواری تھی۔ اسی حمل کے بھروسے پر مرزا صاحب نے طرح طرح کے بے ہنگم الہامات کا طوفان برپا کر رکھا تھا۔ ان الہامات میں چند متضاد باتیں اس لیے جمع کر دیں تاکہ بوقت ضرورت جن الفاظ سے کچھ مطلب براری ہو سکے اسی سے استدلال کر لیا جائے گا۔ الہام کے سب سے آخری الفاظ یہ تھے۔ ”انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔“۔ معلوم ہوتا ہے کہ مجدد صاحب کے عاجز خدا نے یہ فقرہ انجیل متی باب گیارہ کی تیسری آیت (یوحنا نے اپنے شاگردوں کے معرفت اس سے پچھوا بھیجا کہ آنے والا تو ہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں) سے چرا کر مجدد صاحب پر القا کر دیا اور خطرہ ہے کہ کہیں صلیب پرست لوگ مرزا صاحب کے عاجز خدا پر سرقہ کی نالش نہ کردیں۔ اور پھر لطف یہ ہے کہ اس فقرہ میں بھی دو رنگی کی شان ملحوظ رکھی۔ مقصد یہ تھا کہ موجودہ حمل سے لڑکا پیدا ہونے کی صورت میں اگر مصلحت و صوابدید اس کی مقتضی ہوگی تو انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے سے استدلال کرتے ہوئے اسی کو عنموائیل قرار دیا جائے گا ورنہ الفاظ یا ہم دوسرے کی راہ تکیں‘ کو اپنے ثبوت میں پیش کرتے ہوئے کہہ دیا جائے گا کہ یہ وہ موعود نہیں ہے۔

فصل۔ ۲ عنموائیل کی جگہ عنموائیلی کی پیدائش

جب وضع حمل کے دن قریب آئے تو مرزا صاحب سخت متردد و پریشان تھے۔ ان کا دل امید و بیم کی کشمکش کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔ ہر وقت اسی ادھیڑ بن میں مصروف تھے کہ دیکھیں پردہ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے؟ عالم اضطراب میں بار بار فال نامہ کھول کر فال

صفحہ 218

دیکھنے لگتے تھے۔ کبھی جنتر کی کتابیں نکال کر ان کی ورق گردانی شروع کر دیتے۔ کبھی نہایت تضرع و ابتهال سے دعائیں مانگنے لگتے۔ مریدوں سے بھی ہر وقت دعا ہی کی فرمائشیں ہو رہی تھیں۔ عبداللہ سنوری نام ایک مرزائی کا بیان ہے کہ مرزا صاحب پسر موعود کی پیش گوئی کے بعد ہم سے کہا کرتے تھے کہ دعا کرو لڑکا پیدا ہو۔ ان ایام میں امیدواری بھی تھی۔ بارش ہوئی تو مسجد مبارک کے اوپر جا کر میں نے دعا کی۔ پھر قادیان سے مشرق کی طرف جاکر جنگل میں دعا کی۔ سارا دن بارش میں دعا مانگتے گزرا۔ لیکن عصمت (لڑکی) پیدا ہوئی تو معلوم ہوا کہ دعا قبول نہیں ہوئی۔ (سیرۃ المہدی جلد اول، ص ۸۲) لڑکی کی پیدائش پر لوگوں نے الہامی صاحب کا بڑا مذاق اڑایا اور ہر جگہ تمسخر و استہزاء کی گرم بازاری ہوئی۔ صاحبزادہ میاں بشیر احمد ایم۔ اے اس واقعہ کے متعلق لکھتے ہیں۔ ”عظیم الشان بیٹے کی بشارت کے بعد موافق و مخالف سب منتظر رہے۔ گھر میں امیدواری تھی مگر مئی ۱۸۸۶ء میں لڑکی پیدا ہوئی۔ (قادیان کے حق میں) یہ دوسرا زلزلہ تھا۔ مخالفوں نے استہزا کیا۔ (مریدوں کے حق میں) یہ سخت ابتلا تھا لیکن اعلان کیا گیا کہ الہام میں اس کی تعیین نہیں ہوئی تھی۔ اس بنا پر لوگ (مرید) سنبھل گئے۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۸۷) لڑکی کی پیدائش پر پنڈت لیکھرام نے لکھا کہ چونکہ مرزا صاحب کی بیوی حاملہ تھیں جس کے حال سے نیاز مند بھی آگاہ تھا اور مرزا صاحب طبیب بھی ہیں۔ لڑکا پیدا ہونے کا یقین کر کے الہام ربانی کا نام لے کر اعلان شائع کر دیا۔ مگر بڑا بول ہر ایک کے آگے آتا ہے۔ ؎

ہر کہ گردن بدعوئے افرازد خویشتن را بگردن اندازد

آج معلوم ہوا ہے کہ مرزا صاحب کے گھر میں عمانوائیل کے بجائے عمانوائیلی پیدا ہوئی ہے۔ پس اے ناظرین! مبارک ہو جھوٹ کا ناش اور ست کا پرکاش ہوا۔ مرزا صاحب کو چاہیے کہ آئندہ ایسے جھوٹے دعووں سے باز آئیں۔ (تکذیب براہین، ص ۳۳۱) خود مرزا صاحب نے ایک اشتہار میں لکھا کہ ”ایک اور صاحب ملازم دفتر ایگزامینر صاحب ریلوے لاہور جو اپنا نام نبی بخش ظاہر کرتے ہیں، اپنے خط مورخہ ۱۳؍ جون ۱۸۸۶ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں کہ تمہاری پیش گوئی جھوٹی نکلی اور دختر پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکار اور دروغ گو آدمی ہو۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۹۰)

صفحہ 219

ولادت دختر کے اعتراضوں کا جواب

جب ولادت دختر پر اعتراضات کی آندھیاں افق قادیاں پر ہر طرف سے امنڈ آئیں تو الہامی صاحب نے ایک اعلان زیر عنوان ”اشتہار محک اخیار و اشرار“ شائع کیا جس میں لکھا ”واضح ہو کہ بعض مخالف ناخدا ترس جن کے دلوں کو زنگ تعصب و بخل نے سیاہ کر رکھا ہے ہمارے اشتہار مطبوعہ ۸ اپریل ۱۸۸۶ء کو یہودیوں کی طرح محرف و مبدل کر کے اور کچھ کے کچھ معنے بنا کر سادہ لوح لوگوں کو سناتے ہیں اور نیز اپنی طرف سے اشتہارات شائع کرتے ہیں تا دھوکہ دے کر ان کے یہ ذہن نشین کریں کہ جو لڑکا پیدا ہونے کی پیش گوئی تھی وہ غلط نکلی۔ ہم اس کے جواب میں صرف لعنۃ اللہ علی الکاذبین کہنا کافی سمجھتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی ہم افسوس بھی کرتے ہیں کہ ان بے عزتوں اور دیوثوں کو بباعث سخت درجہ کے کینہ اور بخل اور تعصب کے اب کسی کی لعنت ملامت کا بھی کچھ خوف اور اندیشہ نہیں رہا۔ اور جو شرم اور حیا اور خدا ترسی لازمہ انسانیت ہے وہ سب نیک خصلتیں ایسی ان کی سرشت سے اٹھ گئی ہیں کہ گویا خدائے تعالیٰ نے ان میں وہ پیدا ہی نہیں کیں۔ تعصب اور کینہ کے سخت جنون نے کیسی ان کی عقل مار دی ہے۔ نہیں دیکھتے کہ اشتہار ۲۲ مارچ ۱۸۸۶ء میں صاف صاف تولد فرزند موصوف کے لیے نو برس کی میعاد لکھی گئی ہے اور ۸ اپریل ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں کسی برس یا مہینے کا ذکر نہیں اور نہ اس میں یہ ذکر ہے کہ جو نو برس کی میعاد رکھی گئی تھی اب وہ منسوخ ہو گئی ہے۔ ہاں اس اشتہار میں ایک یہ فقرہ ذوالوجوہ درج ہے کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ مگر کیا اسی قدر فقرہ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مدت حمل سے حمل موجودہ کے ایام باقی ماندہ مراد ہیں کوئی اور مدت مراد نہیں۔ اگر اس فقرہ کے سر پر اس کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض کرنے کے لیے کچھ گنجائش نکل سکتی۔ مگر جب الہامی عبارت کے سر پر اس کا لفظ جو مخصص وقت ہو سکتا ہے وارد نہیں تو اعتراض کرنا بے ایمانی اور بددیانتی نہیں تو اور کیا ہے؟ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۸۴) اس کے جواب میں التماس ہے کہ مرزا صاحب کی الہامی عبارت میں واقعی یہ فقرہ بھی درج تھا کہ ”مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا“۔ لیکن اس فقرہ سے پہلے یہ الفاظ بھی تھے۔ ”ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے“۔ اس پوری عبارت سے مرزا صاحب کا صراحۃً یہی دعویٰ ثابت ہوتا تھا کہ موجودہ حمل سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ عمانوائیل ہی ہوگا۔

صفحہ 220

عنموائیل کے لیے جھولے کی فرمائش

اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب نے واقعی نو ہی سال کی مدت متعین فرمائی تھی تو پھر پسر موعود کا نام لے اس کے لیے لاہور میں جھولہ کیوں تیار کرایا گیا؟ شیخ محمد عبداللہ صاحب (متوطن کوٹ قاضی‘ تحصیل وزیر آباد) سوداگر جرمن سلور انار کلی لاہور جو ۱۸۸۵ء سے لے کر کئی سال تک شیخ عمر الدین‘ امیر الدین سوداگران انار کلی لاہور کے مینجر تھے۔ خاکسار راقم الحروف سے بیان کیا کہ ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کو مرزا صاحب نے عنموائیل کے ظہور کا جو پہلا اعلان شائع کیا وہ لاہور میں میرے ہی اہتمام سے چھپایا گیا تھا۔ اس اعلان کی طباعت کی فرمائش کے ساتھ ہی مرزا صاحب نے یہ بھی پیغام بھیجا تھا کہ الہامی فرزند کے لیے جو عنقریب پیدا ہونے والا ہے۔ ایک اعلیٰ درجہ کا جھولا تیار کرا کر بھیجا جائے۔ میں نے بھگت سنگھ رودگر پرانی انار کلی لاہور کی دکان پر خود بخود جھولنے والے جھولے کا آرڈر دیا۔ اس جھولے پر سولہ روپے لاگت آئی۔ بھگت سنگھ مذکور جو محلہ سید مٹھا لاہور کا رہنے والا ہے۔ اب تک زندہ ہے۔ جب گہوارہ تیار ہو گیا تو بٹالہ کی بلٹی کرائی گئی۔ اس وقت بٹالہ تک ہی ریل جاتی تھی۔ تھوڑے دن کے بعد قادیان سے خبر آئی کہ پسر موعود کی جگہ دختر متولد ہوئی ہے۔ مرزا صاحب کی اس میں بڑی ذلت اور سبکی ہوئی اور بہت سے مرید بدعقیدہ ہو گئے۔

فصل۔ ۳ عنموائیل موعود کی پیدائش اور قادیان میں خوشی کی

لہر

ولادت دختر کے مہینوں بعد تک قادیان کے افق پر اعتراضات کی جو آندھیاں چھائی رہیں اور استہزا و سخریت کا جو بازار گرم رہا انہوں نے مرزا صاحب کے دل پر بہت کچھ افسردگی طاری کردی تھی۔ اس لیے ہر وقت دست بدعا تھے کہ کسی طرح بیوی مکرر حاملہ ہو کر لڑکا جنے اور وہ لوگوں کو عنموائیل کا مژدہ سنا کر سرخرو ہو سکیں۔

صفحہ 221
چہ شود کاں گل رعنا بچمن باز آید مگر ایں جاں زتن رفتہ بہ تن باز آید

آخر خدا خدا کر کے گوہر شاہوار صدف رحم میں منعقد ہوا اور نصرت بیگم صاحبہ نے نو مہینہ کے بعد اپنی کوکھ سے عمنوائیل برآمد کر کے مرزا صاحب کے آغوشِ شوق میں ڈال دیا۔ یہ ایسی شادمانی تھی کہ شاید اس سے پیشتر مدت العمر رئیس قادیان کو اس کا تجربہ نہ ہوا ہوگا۔ زمین و آسمان مسرت کے گہوارے بن گئے اور محبوبہ مراد اپنے جمالِ جہاں آرا کی عالم آشوب ادائیں دکھاتی ہوئی، سرا پردۂ ظلمت سے نکل کر مرزا صاحب سے ہمکنار ہو گئی۔ قادیان میں ہر طرف مسرت کی غیر معمولی لہر دوڑ رہی تھی اور الہامی صاحب کا دل نئی نئی امنگوں سے ہر وقت معمور تھا۔ ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء کو عمنوائیل پیدا ہوا اور مرزا صاحب نے اسی تاریخ کو ایک اعلان زیر عنوان ”خوش خبری“ شائع کر کے یہ مژدۂ جاں فزا اہل ملک کو سنایا۔ ”اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لیے میں نے اشتہار ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ء میں پیشین گوئی کی تھی اور خدائے تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور پیدا ہو جائے گا۔ سو آج ۸؍ ذی قعدہ ۱۳۰۴ھ مطابق ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء کو بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا۔ فالحمد للہ علی ذالک اب دیکھنا چاہیے کہ یہ کس قدر بزرگ پیش گوئی ہے جو ظہور میں آئی۔ آریہ لوگ بات بات میں یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم وہ پیش گوئی منظور کریں گے جس کا وقت بتلایا جائے۔ سو اب پیشین گوئی انہیں منظور کرنی پڑی کیونکہ اس پیشین گوئی کا مطلب یہ ہے کہ حمل دوم بالکل خالی نہیں جائے گا ضرور لڑکا پیدا ہوگا اور وہ حمل کچھ دور نہیں بلکہ قریب ہے۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۹۹) جب عمنوائیل یا بشیر کے تولد کی خبر حکیم نور الدین کے پاس جموں پہنچی تو وہاں بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ حکیم صاحب نے مرزا صاحب کو لکھا کہ میرا سلام میاں بشیر احمد کو پہنچا دیجئے۔ اس کے جواب میں مرزا صاحب نے لکھا کہ میں نے آں مخدوم کا السلام علیکم بشیر احمد کو پہنچا دیا ہے۔ پہلے تو مجھے یہی خیال ہو رہا تھا کیف نکلم من کان فی المہد صبیا (ہم اس بچہ سے کس طرح کلام کریں جو ابھی گہوارہ میں جھول رہا ہے) لیکن تعمیل ارشادِ آں مخدوم کی گئی۔ اس وقت طبیعت اس کی اچھی تھی۔ بار بار تبسم کر رہا تھا چنانچہ السلام علیکم کے بعد بھی یہی اتفاق ہوا کہ دو تین

صفحہ 222

مرتبہ اس نے تبسم کیا اور انگشت شہادت منہ پر رکھ لی۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۲، ص ۴۳) عنموائیل کا عقیقہ بڑی دھوم دھام سے کیا گیا۔ اس تقریب میں تمام مرزائی جن کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز تھی قادیان پہنچے اور بڑا جشن مسرت منایا گیا۔ لڑکے کی خدمت کے لیے متعدد خادمائیں رکھی گئیں۔ ایک مرضعہ کی بھی تلاش کی گئی۔ اس سلسلہ میں منشی رستم علی کورٹ انسپکٹر جالندھر کو لکھا گیا کہ بشیر احمد کو ایک ایسی دودھ پلانے والی عورت کی ضرورت ہے جس کا بچہ پیدا ہوئے پر برس سے زیادہ نہ گزرا ہو اور خوب طاقتور عورت ہو اور بچہ مر جانے کی اس کو بیماری بھی نہ ہو اور اس کے بچے تازہ اور فربہ ہوتے ہوں۔ دبلے اور خشک نہ رہتے ہوں۔ اگر کوئی ایسی بیوہ عورت ملے تو نہایت عمدہ ہے۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۳، ص ۷۶)

فصل ۔ ۴ عنموائیل کی وفات اور مرزائی حلقوں میں ماتم

رئیس قادیان کو عنموائیل عرف بشیر احمد کی یکتائی کے جو متواتر الہام ہوئے ان کا یہی اقتضا تھا کہ مرزا صاحب اپنے تئیں اسی کی غور و پرداخت کے لیے وقف کر دیتے۔ چنانچہ اس فرزند کی محبت مرزا صاحب کو ہر وقت اپنی طرف مصروف رکھتی تھی۔ اور وہ سارا دن اس کی بلائیں لینے اور اس کے رخ زیبا کے دیکھنے میں مصروف رہتے تھے۔ عنموائیل قریباً سوا سال تک زندہ رہا۔ اس عرصہ میں وہ اکثر علیل رہتا تھا۔ مرزا صاحب نے ۶ر نومبر ۱۸۸۷ء کو اپنے مرید منشی رستم علی کورٹ انسپکٹر کو لکھا کہ لڑکا چند روز سے بیمار ہے۔ تھوڑے دن سے فقط مجھے تین تین پہر رات تک اور کبھی ساری رات لڑکے کے لیے جاگنا پڑتا ہے۔ اور ۱۱ر مئی ۱۸۸۸ء کے خط میں رستم علی کو اطلاع دی کہ بشیر احمد سخت بیمار ہو گیا تھا۔ اس لیے یہ عاجز ڈاکٹر کا علاج کرانے کے لیے قادیان سے بٹالہ میں آگیا ہے شاید ماہ رمضان بٹالہ میں بسر ہو۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۳، ص ۶۶-۸۱)

انجام کار وہ وقت آگیا جب کہ مرزا صاحب کو عنموائیل کی وفات کی اندوہناک خبر بھی اسی طرح سنانی پڑی۔ جس طرح وہ اس سے پندرہ سولہ مہینے پیشتر اس کی ولادت کا مژدہ سنا چکے تھے۔ چنانچہ رستم علی کورٹ انسپکٹر کو اطلاع دی کہ آج ۴ر نومبر ۱۸۸۸ء کو میرا لڑکا بشیر

صفحہ 223

احمد انیس روز بیمار رہ کر دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۳، ص ۸۹) اور حکیم نور الدین کو لکھا کہ آج ۴؍ نومبر ۱۸۸۸ء کو میرا لڑکا بشیر احمد تئیس روز بیمار رہ کر انتقال کر گیا۔ (ایضاً نمبر ۲، ص ۱۲۸) اس واقعہ ہائلہ نے قادیانی حلقوں میں صف ماتم بچھا دی اور خود مرزا صاحب کی یہ حالت تھی کہ غم کے مارے نڈھال ہو رہے تھے۔ اور گو بظاہر زندہ تھے مگر حالت مردوں سے زیادہ ابتر تھی۔ الہامی صاحب نے جس چٹھی میں حکیم نورالدین صاحب کو عمانوائیل کے حادثہ مرگ کی اطلاع دی تھی اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اس واقعہ سے جس قدر مخالفوں کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۲، ص ۱۲۸) چنانچہ ایسا ہی ہوا ہر طرف سے طعن و تمسخر کے طوفان امنڈ آئے۔ مرزا صاحب ان مطاعن پر حواس باختہ ہو گئے۔ آخر گھبراہٹ کے عالم میں یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو ایک اشتہار زیر عنوان ”حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر“ شائع کیا جس میں لکھا کہ اس عاجز کے لڑکے بشیر احمد کی وفات سے جو ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء کو پیدا ہوا اور ۴؍ نومبر ۱۸۸۸ء کو اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بلایا گیا، عجیب طور کا شور و غوغا خام خیال لوگوں میں اٹھا اور رنگ برنگ کی باتیں خویشوں وغیرہ نے کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں۔ کچے اور ابلہ مزاج مسلمانوں کے دلوں میں بھی اس کا مضر اثر پڑتا ہوا نظر آیا۔ (تاریخ مرزا، مولفہ مولوی ثناء اللہ صاحب، ص ۱۸)

پیشین گوئی پوری نہ ہونے کی رسوائی

حضرات! جس شیر خوار بچہ نے دنیائے رفتنی و گزشتنی کو الوداع کہا، یہ وہی عمانوائیل ہے جس کے متعلق مرزا صاحب نے بقول خود خدائے برتر سے الہام پا کر کہا تھا کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اس کی یہ شان ہو گی کہ گویا (معاذ اللہ) خود خدائے قدوس آسمان سے اتر آیا۔ لیکن قبل اس سے کہ عمانوائیل کا کوئی جوہر کھلتا اور وہ پیشین گوئی کے بموجب اسیروں کی رستگاری کا موجب بن سکتا خود ہی اسیر موت اور طعمہ اجل ہو گیا۔ غرض مرزا صاحب کی پیشین گوئی جھوٹی نکلی اور انہیں سخت بدنامی اور رسوائی سے دوچار ہونا پڑا اور ظاہر ہے کہ یہ رسوائی ایسی شدید ہے

صفحہ 224

کہ کوئی دوسری ذلت و رسوائی اس کی حریف نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ مرزا صاحب خود فرماتے ہیں کہ کسی انسان کا اپنی پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔

(نزول المسیح، ص ۱۸۶)

حضرات! آپ نے اسی باب کی پہلی فصل میں پڑھا ہوگا کہ الہامی صاحب نے عمانوائیل کی پیشین گوئی کو اسلام کی حقانیت اور قرآن اور حضرت سید العرب و العجم احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کی دلیل ٹھہرایا تھا۔ لیکن ظاہر ہے کہ انہوں نے اس شرمناک جسارت سے اسلام کے ساتھ غداری اور دشمنی کی۔ اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ اگر بالفرض کوئی آریہ یا عیسائی کسی مرزائی پر اعتراض کرے کہ چونکہ مرزا جی نے اپنے الہامی فرزند کی پیدائش کو اسلام، قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کی دلیل ٹھہرایا تھا اور مرزا صاحب کی یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔ اس لیے اسلام، قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی (معاذ اللہ) سچے نہیں تو وہ اس اعتراض کا کیا جواب دے گا؟ ایک مرتبہ الہامی صاحب نے لکھا تھا کہ ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، صفحہ ۱۱۸) ظاہر ہے کہ فرزند موعود کی پیشین گوئی جو بقول ان کے سب سے پہلی پیشین گوئی تھی اور جس کی اساس پر مرزا صاحب نے اپنی عظمت کی بڑی بڑی عمارتیں کھڑی کر رکھی تھیں، جھوٹی نکلی۔ پس یہ ایک ایسی ضرب ہے جو مرزا صاحب نے خود اپنے ہاتھ سے اپنے کذب پر لگا دی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ کور بخت مرزائی آنکھیں رکھتے ہوئے نہیں دیکھتے، دماغ رکھتے ہوئے نہیں سوچتے، کان رکھتے ہوئے نہیں سنتے۔ صم بکم عمی فہم لا یعقلون۔ (قرآن ۲ : ۱۷۱)

کون کون سے مرزائی تائب ہوئے

جب یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی تو اکثر مرزائی بددل ہوگئے اور بعض کو تو خدائے برتر نے توبہ کی بھی توفیق بخشی۔ شیخ محمد عبداللہ صاحب سوداگر جرمن سلور انارکلی لاہور نے بیان کیا کہ مندرجہ ذیل مرزائی اس پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے پر مرزائیت سے تائب ہوئے۔ فتح علی شاہ ڈپٹی کلکٹر ساکن محلہ چابک سواراں، لاہور، خواجہ محمد الدین و امیر الدین کوٹھی والاں متصل کشمیری بازار لاہور، میاں محمد چتو پٹولی رئیس لاہور، مولوی الٰہی بخش پسر محمد چتو پٹولی،

صفحہ 225

مولا بخش پسر محمد چتو پٹولی، حافظ محمد یوسف ضلع دار محکمہ نہر امرتسری۔ یہ سب مرزائی مرزا صاحب کے بڑے معاون اور ان کے دست راست تھے۔ انہوں نے اپنی مالی امداد سے قادیانی صاحب کو بہت کچھ قوی پشت کر رکھا تھا۔ جب یہ علیحدہ ہو گئے، تو مرزا صاحب کی گویا کمر ٹوٹ گئی لیکن دنیا میں اندھوں اور بے وقوفوں کی کمی نہیں۔ قرینہ ہے کہ ان کی علیحدگی کے بعد دوسری بھیڑوں نے ان کی جگہ لے لی ہوگی اور مرزا صاحب نے ان کی اون اتارنی شروع کردی ہوگی۔

فصل ۔ ۵ پسر موعود کے متعلق الہامی صاحب کے عذرہائے

لنگ

عمنوائیل یا بشیر اول ۴/ نومبر ۱۸۸۸ء کو مرا تھا۔ اس ہمت شکن اور کمر توڑ مرگ کے بعد جب کبھی عمنوائیل یا بشیر کی پیشین گوئی پر اعتراضات ہوئے تو مرزا صاحب مختلف اوقات میں مختلف عذرات پیش کرتے رہے۔ میں چاہتا ہوں کہ قارئین کرام ان عذر ہائے لنگ کی بھی ایک سیر دیکھ لیں جو مجدد دوران نے اپنی صفائی میں پیش کئے۔ الہامی صاحب نے سب سے پہلے یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو جو اشتہار زیر عنوان ”حقانی تقریر برواقعہ وفات بشیر“ شائع کیا۔ اس میں یہ عذر لنگ پیش کیا کہ ۸/ اپریل ۱۸۸۶ء اور ۷/ اگست ۱۸۸۷ء کے اشتہار اس ذکر و حکایت سے بالکل خاموش ہیں کہ لڑکا پیدا ہونے والا کیسا اور کن صفات کا ہے بلکہ یہ دونوں اشتہار صاف شہادت دیتے ہیں کہ ہنوز یہ امر الہام کے رو سے غیر منفصل اور غیر مصرح ہے۔ (تاریخ مرزا مولفہ، مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری، ص ۱۹)۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی بات کا حال معلوم کئے بغیر اس کا ڈھول پیٹنا اور آسمان سر پر اٹھا لینا جہل و حماقت کی دلیل ہے۔ ایسا جلد باز عاقبت نااندیش آدمی کسی انسانی غول کا رہنما نہیں بن سکتا۔ اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ اگر ۱۸۸۸ء تک پسر موعود کا حال اچھی طرح منکشف نہیں ہوا تھا تو اس کے بعد کب ہوا اور وہ پسر موعود جو اسیروں کی رستگاری کا موجب ہونے والا تھا کہاں غائب ہو گیا؟ اسے زمین نگل گئی، یا جن بھوت اڑا لے گئے؟ اس سلسلہ میں مرزا جی نے جنوری ۱۸۹۲ء میں ایک اشتہار زیر عنوان ”مصنفین کے غور کے

صفحہ 226

لائق“ شائع کیا جس میں لکھا کہ اگر ہم اپنے اجتہاد سے کسی اپنے بچہ پر یہ خیال بھی کر لیں کہ شاید یہ وہی پسر موعود ہے اور ہمارا اجتہاد خطا جائے تو اس میں الہام الہٰی کا کیا قصور ہے۔ (تبلیغ رسالت، جلد ۲، ص ۶۲)

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم آپ کی اجتہادی غلطی کو تسلیم کئے لیتے ہیں لیکن ازراہ کرم اس عنموائیل اور بشیر کو تو پیش کیجئے۔ جس کے متعلق آپ کو ۲۰؍ فروری، ۲۲؍ مارچ اور ۸؍ اپریل ۱۸۸۶ء کو الہامات ہوئے تھے اور آپ نے اس کی عالمگیر شہرت اور یکتائی کے متعلق پونے دو سال تک اودھم مچائے رکھا تھا۔ الہامی صاحب نے اس کے بعد کتاب ”تحفہ غزنویہ“ میں جو ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی تھی ۱۸۸۶ء کے الہامات اور اشتہارات کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے مولوی عبدالحق غزنوی کے اعتراض کے جواب میں لکھا اور فرزند موعود کی نسبت جو اعتراض تھا۔ سو خدا تعالیٰ نے جیسا کہ وعدہ فرمایا تھا مجھے چار لڑکے عطا فرمائے۔ پھر میں نہیں سمجھتا کہ اعتراض کیا ہوا؟ (تحفہ غزنویہ، ص ۴۴) اس کے متعلق التماس ہے کہ آپ سے چار لڑکوں کا وعدہ بھی ضرور ہوا ہوگا۔ لیکن ہمیں سردست ان سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم تو اس عنموائیل کی تلاش میں سرگرداں ہیں جس کی نسبت آپ نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں لکھا تھا کہ وہ صاحب شکوہ و عظمت و دولت ہوگا۔ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ وہ اس قدر عالی مرتبت ہوگا کہ گویا بقول آپ کے (معاذ اللہ) خود خدا آسمان سے اتر آیا۔ پھر ۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ وہ حسب وعدہ الہٰی نو برس کے عرصہ میں ضرور پیدا ہوگا۔ غرض التماس یہ ہے کہ آپ کہیں سے اس یوسف گم گشتہ کا پتہ لگا کر ہماری تسکین کر دیجئے جس کے لیے ہم ۱۸۸۶ء سے یعقوب وار چشم براہ ہیں۔ اس کے بعد کتاب ”تریاق القلوب“ میں جو ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی قادیانی صاحب نے لکھا کہ بعض نادان دل کے اندھے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یکم فروری ۱۸۸۶ء کی پیشین گوئی میں جو ایک پسر موعود کا وعدہ تھا وہ پورا نہیں ہوا کیونکہ پہلے لڑکی پیدا ہوئی اور اس کے بعد جو لڑکا پیدا ہوا اور جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا تھا وہ سولہ مہینے کا ہو کر فوت ہوگیا۔ حالانکہ ۷؍ اگست ۱۸۸۷ء کے اشتہار میں اسی کو بابرکت موعود ٹھہرایا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض اسی قسم کی خباثت ہے جو یہودیوں کے خمیر میں تھی۔ اشتہار مذکور میں جس لڑکے کی نسبت لکھا گیا تھا وہ بابرکت ہوگا۔

صفحہ 227

اس کی صفت میں اشتہار مذکور میں لکھا ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا جس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ چوتھا لڑکا ہوگا مگر پہلے بشیر کے وقت کوئی تین بیٹے موجود نہیں تھے جن کو وہ چار کرتا۔ (تریاق القلوب، مولفہ مرزا غلام صاحب، تقطیع کلاں)

الہامی صاحب کا بیان کہ مبارک احمد ہی عنموائیل ہے

لیکن تریاق القلوب کی ایک اور مرزائی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ جس تین کو چار کرنے والے مظہر جلال الٰہی اور دنیا کو راہ راست پر لانے والے فرزند کی پیشین گوئی ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کو کی گئی تھی وہ مرزا صاحب کا چوتھا فرزند مبارک احمد تھا جو بتاریخ ۴؍ جون ۱۸۹۹ء کو پیدا ہوا کیونکہ اسی نے پیدا ہو کر مرزا صاحب کے تین بیٹوں کو چار کر دیا۔ چنانچہ مرزا جی نے تریاق القلوب میں جو ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع ہوئی لکھا۔ ’’میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے اس کی نسبت پیش گوئی اشتہار ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی تھی۔ سو خدا نے میری تصدیق کے لیے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لیے اس پسر چہارم کی پیش گوئی کو ۴؍ جون ۱۸۹۹ء کو پورا کردیا۔ (تریاق القلوب، طبع اول، صفحہ ۴۳ و طبع دوم، صفحہ ۶۵) غرض مبارک احمد کی پیدائش کے بعد مرزا جی نے اسی کو ۱۸۸۶ء کا عنموائیل قرار دینے کی کوشش کی لیکن بدقسمتی سے اس کوشش میں بھی نامراد رہے کیونکہ اول تو اسے ۲۲؍ مارچ ۱۸۸۶ء کے اشتہار کے بموجب جس کا خلاصہ فصل اول میں درج ہو چکا ہے نو سال کے اندر اندر یعنی ۲۲؍ مارچ ۱۸۹۵ء تک پیدا ہو جانا چاہیے تھا لیکن مبارک احمد مدت موعود سے سوا چار سال بعد پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ یہ لڑکا بھی عالم طفولیت ہی میں مرزا جی کو داغ مفارقت دے گیا۔ چنانچہ خود مرزا جی لکھتے ہیں۔ ’’میرا لڑکا مبارک احمد نابالغ تھا اور ابھی نو برس کی عمر کو نہیں پہنچا تھا کہ فوت ہوگیا‘‘۔ (تبلیغ رسالت، جلد ۱۰، ص ۱۴۶) اور ظاہر ہے کہ ایک نابالغ بچہ اس بات کا کسی طرح اہل نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ مظہر جلال الٰہی ہو اور دنیا کو راہ راست پر لا سکے۔ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے۔ غرض قادیانی نبوت کی بسم اللہ ہی غلط نکلی۔ یہ پہلی پیشین گوئی قادیانی نبوت کے سنگ اساس کا حکم رکھتی تھی۔ جب بنیاد ہی کمزور رہی تو نبوت کی عمارت کا کھوکھلا رہنا ناگزیر تھا۔ پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے کی حقیقی وجہ الہامی صاحب خود لکھ گئے ہیں چنانچہ

صفحہ 228

فرماتے ہیں۔ ”کیا یہ سچ نہیں کہ مدعی کاذب کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی؟ یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی تورات کی“۔ (آئینہ کمالات‘ مولف مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۳۲۶)

فصل۔ ۶ کیا مرزا محمود احمد ہی عنموائیل موعود ہیں؟

جب عنموائیل کی پیشین گوئی کے متعلق مرزائیوں کا ناطقہ بند ہوتا ہے تو وہ عالم بے بسی میں اپنے موجودہ خلیفہ المسیح مرزا محمود احمد ہی کے سر پر عنموائیلیت کا تاج رکھ دیتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں مرزائی لٹریچر پر کافی عبور ہوتا تو شاید ایسا کرنے کی جرات نہ کرتے۔ الہامی صاحب نے مرزائیوں کے موجودہ خلیفہ کا نام ابتدا میں صرف محمود احمد رکھا تھا۔ (دیکھو تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۱۲۰) لیکن چونکہ مبارک احمد کے حادثہ مرگ کے بعد مرزا جی پر از سر نو اس اعتراض کی بوچھاڑ ہوتی رہتی تھی کہ تمہارا عنموائیل جس کا دوسرا نام بشیر ہو گا کہاں ہے؟ تو ان کا ناطقہ بند ہو جاتا تھا۔ آخر مجبور ہو کر مجدد صاحب نے اس مشکل پر غالب آنے کے لیے دو تدبیریں کیں۔ ایک تو بڑے لڑکے محمود احمد صاحب کے ساتھ بشیر الدین کا دم چھلہ لگا دیا۔ دوسرے جب ۱۸۹۳ء میں (دوسری بیوی کے بطن سے) تیسرا بیٹا متولد ہوا تو اس کا نام ہی بشیر احمد رکھ دیا۔ اس کارروائی کا بجز اس کے اور کچھ مقصد نہ تھا کہ عنموائیل یا بشیر کی پیشین گوئی پر غلط فہمی کا کچھ ایسا روغن قاز مل دیا جائے کہ آئندہ نسلیں جعل ہی کو اصل سمجھتی رہیں۔ غرض اس لحاظ سے کہ مرزا محمود احمد صاحب کے ساتھ بشیر الدین لقب کا اضافہ کیا گیا تھا اکثر بے خبر مرزائی اسی مغالطہ میں پھنسے ہیں کہ مرزا محمود احمد ہی فی الحقیقت بشیر موعود ہیں لیکن ان کا یہ خیال بوجوہ غلط ہے۔

مرزا محمود احمد بشیر موعود نہیں ہو سکتے

الہامی صاحب اوائل میں بشیر اول ہی کو عنموائیل موعود قرار دیتے اور لوگوں سے کہتے رہے کہ یہ لڑکا دین کا چراغ ہو گا اور اس کی شہرت ربع مسکون میں پھیل جائے گی۔ جب وہ قریباً ایک سال کا ہوا تو مرزا صاحب کی اہلیہ محترمہ دوبارہ حاملہ ہوئیں۔ جب اس حمل پر قریباً تین مہینہ کی مدت گزری تو بشیر اول کے عین حیات ۱۵ جولائی ۱۸۸۸ء کو مرزا

صفحہ 229

صاحب نے میاں محمود احمد کے تولد کی پیشین گوئی کی۔ اس پیشین گوئی میں بشیر اول کی نسبت لکھا کہ وہ دین کا چراغ ہو گا اور محمود احمد صاحب کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنے کاموں میں مستعد ہو گا۔ مرزا صاحب کے اصل الفاظ یہ تھے۔ ”اولاد میں وہ لڑکا بھی دیا گیا جو دین کا چراغ ہو گا بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا۔ جس کا نام محمود احمد ہو گا اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا“۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۱۲۰) لیکن بشیر اول اس پیشین گوئی کے ساڑھے تین مہینے بعد یعنی ۴؍ نومبر ۱۸۸۸ء کو طعمہ اجل ہو کر مرزا صاحب کو داغ مفارقت دے گیا اور اسے دین کا چراغ ہونے کی سعادت نصیب نہ ہو سکی۔ اس سے بداہتہً ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کی نظر میں دین کا موہوم چراغ وہی بشیر اول تھا جسے بسیط ارض میں شہرت و ناموری حاصل کرنی چاہیے تھی۔ لیکن میاں محمود احمد ان صفات سے عاری تھے۔ اس بنا پر مرزا جی نے انہیں صرف اس ایک صفت کا حامل بتایا کہ وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم ہو گا۔ پس میاں محمود احمد صاحب عمنوائیل یا بشیر موعود کسی طرح نہیں ہو سکتے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ مرزا صاحب بشیر اول کی وفات کے بعد ہمیشہ اس بات کے متمنی اور امیدوار رہے کہ عمنوائیل موعود ان کے گھر میں پیدا ہو گا۔ مرزا محمود احمد صاحب ۱۸۸۹ء میں پیدا ہوئے تھے۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ ص ۱۵۱) اس کے بعد مرزا صاحب نے عمنوائیل کی پیدائش کی پیشین گوئی ازسرنو ۱۸۹۱ء میں جبکہ مرزا محمود احمد صاحب پونے دو سال کے شیر خوار بچہ تھے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں بدیں الفاظ کی۔ ”خدائے تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک شخص پیدا ہو گا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہو گی۔ وہ آسمان سے اترے گا اور زمین والوں کی راہ سیدھی کرے گا۔ وہ اسیروں کو رستگاری بخشے گا اور ان کو جو شبہات کے زنجیروں میں مقید ہیں رہائی دے گا۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلاء كان الله نزل من السما“ (ازالہ اوہام‘ ص ۶۸) پس ظاہر ہے کہ اگر مرزا محمود احمد صاحب عمنوائیل موعود ہوتے اور بقول مرزا صاحب ان کی یہ شان ہوتی کہ گویا (معاذ اللہ) خود خدا آسمان سے اتر آیا تو مرزا صاحب ان کی موجودگی میں عمنوائیل موعود کے ظہور کی ہرگز پیشین گوئی نہ کرتے۔ مرزا محمود احمد صاحب کے عمنوائیل موعود نہ ہونے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ان کی ولادت کے چار سال بعد مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”آئینہ کمالات“

صفحہ 230

میں جو ۲۶ فروری ۱۸۹۴ء کو شائع ہوئی۔ تیسری مرتبہ عمانوائیل کے تولد کی پیشین گوئی کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت بھی میاں محمود احمد مرزا صاحب کے نزدیک بشیر موعود نہ تھے۔ مرزا محمود احمد صاحب کے بشیر موعود نہ ہونے کا چوتھا ثبوت یہ ہے کہ چونکہ مرزا صاحب عمانوائیل یا بشیر موعود کے عہد کو ہمیشہ تازہ رکھتے تھے اور عادت مبارک یہ تھی کہ ہر تیسرے چوتھے سال اپنے مریدوں کو اس کی بعثت کا مژدہ سنا دیا کرتے تھے۔ اس لیے جب الہامی صاحب کے تیسرے فرزند میاں شریف احمد پیدا ہوئے تو لوگوں نے ازراہ مذاق یہ کہنا شروع کیا کہ مرزا صاحب کے گھر میں حقیقی عمانوائیل نے تو اب جنم لیا ہے۔ اس وقت بھی میاں محمود احمد صاحب چھ سات سال کی عمر میں زندہ سلامت موجود تھے لیکن مرزا صاحب نے قطعاً یہ نہ کہا کہ بشیر موعود تو محمود احمد ہے بلکہ اپنی کتاب انوار الاسلام میں جو ۶ ستمبر ۱۸۹۴ء کو شائع ہوئی لکھا۔ ”یہ سچ ہے کہ ۸ اپریل ۱۸۹۳ء کو ہم نے اطلاع دی تھی کہ ایک لڑکا ہونے والا ہے، سو پیدا ہو گیا۔ ہم نے اس لڑکے کا نام مولود موعود نہیں رکھا تھا۔ صرف لڑکے کے بارہ میں پیشگوئی تھی اور اگر ہم نے کسی الہام میں اس کا نام مولود موعود رکھا تھا تو تم پر کھانا حرام ہے جب تک وہ الہام پیش نہ کرو۔ ورنہ لعنت اللہ علی الکاذبین“ (انوار الاسلام ، ص ۳۹) مرزا محمود احمد صاحب کے بشیر موعود نہ ہونے کی پانچویں دلیل یہ ہے کہ مرزا صاحب کا آخری لڑکا مبارک احمد ۱۸۹۹ء میں پیدا ہوا تھا۔ اس وقت محمود احمد صاحب کی عمر دس سال کی تھی۔ باوجود اس کے مرزا صاحب نے محمود احمد صاحب کو پوچھا تک نہیں اور ایک طفل نوزائیدہ کو عمانوائیل اور بشیر موعود کا رتبہ بخش دیا۔ چنانچہ مرزا صاحب نے تریاق القلوب میں لکھا۔ ”میرا چوتھا لڑکا جس کا نام مبارک احمد ہے اس کی نسبت پیشگوئی اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں کی گئی تھی۔ سو خدا نے میری تصدیق کے لیے اور تمام مخالفوں کی تکذیب کے لیے اس پسر چہارم کی پیشگوئی کو ۱۴ جون ۱۸۹۹ء میں پورا کر دیا“۔ (تریاق القلوب، طبع اول، صفحہ ۴۳، طبع دوم، ص ۹۵) مبارک احمد الہامی صاحب کی امیدوں کا آخری سہارا تھا۔ جب دیکھا کہ نہال آرزو ہر طرح سے بارور ہے تو ارادہ کیا کہ اس بچہ کی شادی کی خوشی بھی دیکھ لیں چنانچہ آٹھ ہی سال کی عمر میں اس کے لیے ایک دلہن بیاہ لائے اور اسے سن تمیز سے پہلے ہی سلک ازدواج میں منسلک کر دیا۔ لیکن وہ اپنی شادی کے چند ہی ماہ بعد مر گیا۔ اگر مرزا محمود احمد صاحب میں صلاحیت

صفحہ 231

ہوتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ مبارک احمد کے جرعہ مرگ پی لینے کے بعد مرزا صاحب انہی کو عضوائیلی منصب تفویض فرما کر اس کا اعلان نہ کر دیتے لیکن ایسا نہ کیا گیا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ مرزا محمود احمد صاحب بشیر موعود نہیں ہیں۔

باب نمبر ۳

علمائے موافقین کی ہمدردانہ نصیحت

جب پسر موعود کی پیشین گوئی نے مرزا صاحب کی عزت دو کوڑی کی کر دی تو مولوی محمد حسین بٹالوی اور بعض دوسرے اہل حدیث علماء نے کمال دل سوزی کے ساتھ مرزا صاحب کو مشورہ دیا کہ آئندہ اس قسم کی بعید از کار پیشین گوئیاں کر کے خواہ مخواہ ذلت و رسوائی کو دعوت نہ دیا کرو۔ لیکن مرزا صاحب بجائے اس کے کہ اس خیر خواہانہ مشورہ سے نصیحت آموز ہوتے الٹا چشم نمائی کرنے لگے کیونکہ انہوں نے تقدس اور مذہب فروشی کی جو دکان چلائی تھی اس میں اس جنس کے بغیر کام نہیں چل سکتا تھا۔ بہر حال مرزا جی نے اپنے اشتہار میں جو ”حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر“ کے زیر عنوان یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو شائع کیا تھا ان ناصحین مشفق کی خوب خبر لی۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”اس محل میں یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض اہل علم احباب کی ناصحانہ تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اس عاجز کی یہ کارروائی پسند نہیں کرتے کہ برکات روحانیہ و آیات سماویہ کو جو بذریعہ قبولیت ادعیہ و الہامات و مکاشفات تکمیل پذیر ہوتا ہے لوگوں پر ظاہر کیا جائے۔ بعض کی ان میں سے اس بارہ میں یہ بحث ہے کہ یہ باتیں ظنی شکی ہیں اور ان کے ضرر کی امید ان کے فائدہ سے زیادہ تر ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقت میں یہ تمام بنی آدم میں مشترک و مساوی ہے۔ شاید کسی قدر ادنیٰ کمی بیشی ہو بلکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ قریباً یکساں ہی ہیں۔ ان کا یہ بھی بیان ہے کہ ان امور میں مذہب اور اتقاء اور تعلق باللہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ یہ فطرتی خواص ہیں جو انسان کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں اور ہر ایک بشر سے مومن ہو یا کافر صالح ہو یا فاسق کچھ تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ صادر ہوتے رہتے ہیں۔

صفحہ 232

یہ تو ان کی قیل و قال ہے جس سے ان کی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور مبلغ علم کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ مگر فراست صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غفلت اور حب دنیا کا کیڑا ان کی ایمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جیسے مجذوم کا جذام انتہا کے درجہ تک پہنچ کر سقوط اعضا تک نوبت پہنچاتا ہے اور ہاتھوں پیروں کا گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی ان کے روحانی اعضا جو روحانی قوتوں سے مراد ہیں۔ باعث غلو محبت دنیا گلنے سڑنے شروع ہو گئے ہیں اور ان کا شیوہ فقط ہنسی اور ٹھٹھا بد ظنی اور بدگمانی ہے۔ دینی معارف اور حقائق پر غور کرنے سے بکلی آزادی ہے۔ بلکہ یہ لوگ حقیقت اور معرفت سے کچھ سروکار نہیں رکھتے اور کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ ہم دنیا میں کیوں آئے اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے؟ بلکہ جیفہ دنیا میں دن رات غرق ہو رہے ہیں۔ ان میں یہ حس ہی باقی نہیں رہی کہ اپنی حالت کو ٹٹولیں کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے اور بڑی بد قسمتی ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس نہایت خطرناک بیماری کو پوری پوری صحت خیال کرتے ہیں اور جو حقیقی صحت و تندرستی ہے اس کو بنظر توہین و استخفاف دیکھتے ہیں اور کمالات ولایت اور قرب الہی کی عظمت بالکل ان کے دلوں پر سے اٹھ گئی ہے اور نومیدی اور حرمان کی سی صورت پیدا ہو گئی ہے بلکہ اگر یہی حالت رہی تو ان کا نبوت پر ایمان قائم رہنا بھی کچھ معرض خطر میں ہی نظر آتا ہے"۔ (تاریخ مرزا، مولفہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری، ص ۲۱)

باب نمبر ۳۸

محمدی بیگم سے شادی کرنے کی پیشین گوئی

فصل - ۱ ایک احسان کے معاوضہ میں لڑکی دینے کا مطالبہ

محمدی بیگم کے باپ احمد بیگ سے الہامی صاحب کی شش گانہ قرابت تھی۔

صفحہ 233

اس کی بیوی تھی۔

بھائی محمد بیگ سے بیاہی گئی تھی۔

گئی تھی۔

علی شیر بیگ الہامی صاحب کے نسبتی بھائی یعنی پہلی بیوی کے برادر حقیقی بھی تھے جسے مرزا صاحب نے تا دم واپسین معلقہ رکھ کر خانماں برباد کر دیا تھا۔ الہامی صاحب کے فرزند فضل احمد کی بیوی جس کا نام عزت بی بی تھا ان کے ماموں زاد بھائی مرزا علی شیر بیگ کی بیٹی تھی اور محمدی بیگم کی والدہ عمر النساء مرزا صاحب کے چچا غلام محی الدین کی بیٹی تھی۔ اس بنا پر محمدی بیگم مرزا صاحب کی بھانجی لگتی تھی۔ بعض حضرات نے مرزا احمد بیگ کو ملہم قادیان کا ماموں زاد بھائی بھی لکھا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو ظاہر ہے کہ وہ حقیقی ماموں کا بیٹا نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی حقیقی بہن الہامی صاحب کے حقیقی ماموں زاد بھائی مرزا علی شیر بیگ کے عقد میں تھی۔ اغلب ہے کہ ماموں کا برادر زادہ ہو گا۔

آسمانی نکاح اٹل ہے

۲۰ مئی ۱۸۸۸ء کے مرزائی اشتہار میں آسمانی نکاح کی پوری تفصیل پائی جاتی ہے۔ مرزا صاحب نے اس اشتہار میں لکھا کہ ”محمدی بیگم کے ماموں (مرزا امام الدین وغیرہ) جو مجھ کو میرے دعوٰی الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے تھے مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔ اس وجہ سے کئی دفعہ ان کے لیے دعا کی گئی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالیٰ نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا (مرزا احمد بیگ) ایک اپنے ضروری کام کے لیے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احمد بیگ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نامی سے بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور

صفحہ 234

مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین ملکیت جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے نام بردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے۔ مرزا احمد بیگ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار پانچ ہزار روپیہ قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ (انگریزی قانون کے بموجب) بجز ہماری رضامندی کے بیکار تھا اس لیے مرزا احمد بیگ نے بتمامتر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تاکہ ہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن خیال آیا کہ جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہیے۔ سو یہی جواب احمد بیگ کو دیا گیا۔ پھر احمد بیگ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔ اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور ان سے کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہوگا لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ پھر ان دنوں میں جو بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ احمد بیگ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا اور بے دینوں کو مسلمان بنائے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلائے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے کہ انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لیے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے جو چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں۔ گو اول میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بد ظنی کی راہ سے بد گوئی کرتے ہیں لیکن آخر خدا تعالیٰ کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے

صفحہ 235

کھلنے سے چاروں طرف سے تیری تعریف ہو گی۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۵- ۱۱۷) غرض الہامی صاحب کو خود غرضی، مطلب براری اور بوالہوسی کا نہایت سنہری موقع ہاتھ آیا۔ ہرچند کہ حقوق قرابت، شرافت نفس، شرف و مجد انسانی اور احسان وایثار کے اعلیٰ صفات کا تقاضا یہ تھا کہ مرزا صاحب یہ کام بلامعاوضہ کردیتے لیکن چونکہ قادیان کے مجدد صاحب ان صفات عالیہ سے عاری تھے۔ اس لیے احمد بیگ سے اس سلوک و مروت کا صلہ لڑکی بیاہ دینے کی شکل میں طلب کیا۔ حالانکہ مرزا صاحب اس عمر سے تجاوز کر چکے تھے جو شادی کے لیے منتہائے خیال ہے۔ احمد بیگ نے اس شرمناک مطالبہ کو نفرت کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ اور حقوق قرابت کا لحاظ کرتے ہوئے ان سے اس حرکت کا کوئی انتقام نہ لیا۔ حالانکہ اگر اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو جب تک اس غیر شریفانہ حرکت کی سزا نہ دے لیتا اس کے جذبات انتقام کو تسکین نہ ہوتی۔

خواہش ازدواج کا مقصد

لدھیانہ کے مسیحی رسالہ ”نورافشاں“ نے ۲۰ مئی ۱۸۸۸ء کی اشاعت میں لکھا کہ ”جب مرزا صاحب کے نکاح میں پہلے ہی دو بیویاں ہیں اور جوان اولاد موجود ہے تو پھر اس لڑکی کی تمنائے ازدواج محض خواہشات نفسانی کا اتباع ہے“۔ اس کے جواب میں مرزا صاحب نے ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں فرمایا کہ ”اس لڑکی سے عقد ہونے کی پہلی پیشین گوئی اس زمانہ کی ہے جبکہ وہ لڑکی ہنوز نابالغ تھی اور اس کی عمر آٹھ نو سال کی تھی۔ تو اس پر نفسانی افترا کا گمان کرنا حماقت ہے“۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۸) قادیانی صاحب نے اس اشتہار کے پانچ روز بعد ایک اور اعلان شائع کیا جس میں محمدی بیگم کی خواستگاری کے یہ وجوہ قرار دیئے۔

کیا مرد اور کیا عورت مجھے میرے الہامی دعاوی میں مکار اور دکاندار خیال کرتے ہیں۔ اس لیے خدا نے ان کی بھلائی (اور اصلاح) کے لیے انہی کے تقاضا اور درخواست سے اس الہامی پیشین گوئی کو (بطور نشان کے) ظاہر فرمایا (تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ مرزا صاحب اپنے الہامی دعووں میں مکار اور دکاندار نہیں

صفحہ 236

ہیں)“۔

کا غیر حقیقی ماموں سے نکاح کرنا معیوب سمجھتے تھے۔ سو خدا تعالیٰ نے (یہ نکاح) ایک ایسا نشان قرار دیا جس سے ان کے دین کی اصلاح، بدعت اور خلاف شرع رسم کی بیخ کنی ہو جائے تاکہ آئندہ اس قوم کے لیے ایسے رشتوں کے بارے میں کچھ تنگی اور جرح نہ رہے۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۱۱۸) لیکن ظاہر ہے کہ چونکہ مرزا صاحب دنیا میں محمدی بیگم کو سلک ازدواج میں منسلک کرنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ اس لیے مخالف لوگ یہ نتیجہ نکالنے میں برسر حق سمجھے جائیں گے کہ نہ یہ نکاح کوئی آسمانی نشان تھا نہ اس سے کوئی اصلاح ممکن تھی بلکہ باغ حسن کی گل چینی کا اشتیاق اور نفسانی جذبات کی تکمیل ہی الہامی صاحب کے پیش نظر تھی۔ اسی طرح مرزا صاحب کے اقارب کا انہیں الہامی دعوؤں میں دکاندار خیال کرنا بھی حقیقت پر مبنی تھا۔

خواہش ازدواج کا اصل محرک

اب محترمہ محمدی بیگم ضعیف العمر ہے۔ بہار جوانی پر خزاں پیری نے چھاپہ مارا ہے لیکن سنا جاتا ہے کہ جب گلزار جوانی عین بہار پر تھا تو چندے آفتاب چندے ماہتاب تھی۔ اسی بنا پر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ”مرزا صاحب مدت سے اس کے شمع رخسار کا پروانہ بنے ہوئے تھے“۔ میرے نزدیک ممکن ہے کہ لڑکی کے حسن و جمال نے بھی شادی کی سفارش کی ہو لیکن اصل محرک غالباً وہ الہامات تھے جن میں قادیان کے مسیحا صاحب کو تیسری بیوی سے عقد کرنے کی بشارت دی گئی تھی۔ محمدی بیگم الہامی صاحب کے عم زاد بھائیوں امام الدین، نظام الدین اور کمال الدین کی حقیقی بھانجی تھی اور اپنی والدہ کے ساتھ زیادہ تر قادیان ہی میں رہتی تھی۔ البتہ ماں بیٹی ان دنوں ہوشیار پور چلی جاتی تھیں جب مرزا احمد بیگ پولیس کی ملازمت سے چھٹی لے کر ہوشیار پور آتے تھے۔ چونکہ قادیان میں محمدی بیگم کے ماموں کا مکان الہامی صاحب کے دولت کدہ سے بالکل ملا ہوا تھا اس لیے ملہم صاحب کو اس لڑکی کے مشاہدہ جمال کے مواقع ہر روز حاصل تھے۔ پس ممکن ہے کہ لڑکی

صفحہ 237

کے حسن و جمال نے بھی کبھی عزم نکاح کی شفاعت و تحریک کی ہو لیکن اصل تحریک شاید اسی الہام نے کی تھی جو کچھ عرصہ سے مرزا صاحب کے دل و دماغ پر مسلط رہتا تھا کہ تمہیں تیسری شادی سے بھی بہرہ مند کیا جائے گا۔ گو عجب نہیں کہ تیسری شادی کے الہامات بھی خواہش عقدی کی بنا پر گھڑ لئے گئے ہوں۔

الہام و وحی آسمانی کے حیلے کیوں تراشے گئے؟

مرزا صاحب کو یقین تھا کہ اگر رسمی طور پر نکاح کی درخواست کریں گے تو منظور نہیں ہوگی کیونکہ کوئی شخص کسی ایسے بوڑھے بوالہوس کو کنواری لڑکی دینا گوارا نہیں کرتا جس کی پہلے بھی دو بیویاں اور جوان اولاد موجود ہو۔ خصوصاً ایسے شخص کو جسے علمائے امت ملت اسلام سے خارج قرار دے چکے ہوں۔ اس لیے مرزا صاحب نے آسمانی وحی و الہام کو سپر بنایا اور کہا خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ محمدی بیگم تیرے عقد میں آئے گی۔ وہ قطعا" تیری بیوی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے ساتھ آسمان پر تیرا نکاح پڑھ دیا گیا ہے۔ اب تو زمین پر اس نکاح کی سلسلہ جنبانی کر۔ لیکن آگے چل کر آپ کو معلوم ہو گا کہ یہی آسمانی نکاح مرزا صاحب کی حسرتوں کا گور غریباں بن گیا۔ دوسری وجہ جو بعض ثقہ راویوں کی وساطت سے خاکسار راقم الحروف تک پہنچی یہ ہے کہ الہامی صاحب نے محمدی بیگم پر کتنیاں اور اس کی اپنی سہیلیاں چھوڑ رکھی تھیں جو اسے مرزا صاحب سے شادی کرنے کی ترغیب دیتی رہتی تھیں اور اسے اس قسم کی باتیں ذہن نشین کی جاتی تھیں کہ سینکڑوں ہزاروں روپیہ کی روزانہ آمدنی کے علاوہ مرزا صاحب کو اتنی بڑی عزت اور عظمت اور جاہ حاصل ہے کہ بڑے بڑے ڈپٹی اور جج اور دوسرے اعلیٰ عہدیدار قادیاں آ کر مرزا صاحب کے پیر چومتے اور نذرانے پیش کرتے ہیں۔ اگر تمہیں ان کی زوجیت کا شرف نصیب ہو تو مدت العمر شاہزادیوں سے بڑھ کر عیش و راحت اور عزت و نمود کی زندگی بسر کرو گی۔ یہ بھی تحریک ہوتی تھی کہ تم اپنی ماں پر زور ڈالو کہ تمہاری شادی مرزا صاحب سے کریں۔ انجام کار ان مسلسل تحریکات نے محمدی بیگم کو بھی مائل کردیا اور اس نے وعدہ کر لیا کہ میں ماں سے اس خواہش کا اظہار کروں گی۔ جب لڑکی ہموار کر لی گئی تو اب یہ مرحلہ باقی رہ گیا کہ کسی طرح لڑکی کے باپ کو بھی آمادہ کیا جائے لیکن اس کی آمادگی مشکل تھی۔ اس لیے اس کو مغلوب

صفحہ 238

کرنے کے لیے خوفناک الہاموں کا حربہ تجویز کیا گیا۔ اب لڑکی کا قلعہ دل مسخر ہو چکا تھا۔ مرزا صاحب کی امیدوں کی بلندی گوش سحاب سے سرگوشیاں کر رہی تھی اور انہیں اپنی کامیابی کا ہر طرح سے کامل وثوق تھا۔ اسی بنا پر ان کا ارادہ تھا کہ اگر محمدی بیگم کے والد اور دوسرے اقربا کسی طرح نہ مانیں گے تو لڑکی سے کہہ دیا جائے گا کہ وہ اقربا سے قطع تعلق کر کے خود بخود مرزا صاحب کے مشکوے معلی میں پہنچ جائے۔ انہی حالات کے ماتحت الہامی صاحب نے فضیلت مآبی کی مسند پر قدم رکھ کر الہاموں اور پیشین گوئیوں کے طوفان برپا کر رکھے تھے۔ گو یہ معلوم نہیں کہ آئندہ چل کر محمدی بیگم کی رضا جوئی طاق اہمال پر کیوں رکھی رہ گئی اور مرزا صاحب کی آسمانی منکوحہ کو پٹی ضلع لاہور کا ایک نوجوان کیوں ہتھیا لے گیا؟ لیکن اس کی وجہ ایک اور راوی نے یوں بیان کی ہے کہ میاں محمود احمد کی والدہ محمدی بیگم کی ماں کے پاس ہر روز یہ پیغام بھیج دیتی تھیں کہ تم شوق سے اپنی لڑکی کو میری سوکن بناؤ لیکن میں بھی اس سے ہر روز بیس سیر اناج پسوایا کروں گی۔ ان متواتر پیغاموں نے محمدی بیگم کو بھی بددل کر دیا تھا۔ موخر الذکر راوی کا بیان ہے کہ اسی بنا پر الہامی صاحب کے فرزند اکبر مرزا سلطان احمد صاحب کہا کرتے تھے کہ ”والد نے محمدی بیگم کے لیے سارے جہان سے لڑائی مول لے رکھی ہے لیکن اپنی بیوی کو نہیں سمجھاتے کہ اس قسم کے نفرت انگیز پیغام بھیج کر ان کے کام میں روڑے نہ اٹکائے“۔

فصل - ۲ ازدواجی الہامات کا طوفان

اوپر لکھا جا چکا ہے کہ مرزا صاحب نے ہبہ نامہ پر دستخط کر دینے کے عوض میں لڑکی لینے کا شرمناک سودا کرنا چاہا تھا۔ الہامی صاحب نے اسی غیر شریفانہ حرکت پر اکتفا نہ کیا بلکہ اب محمدی بیگم کے جرم نا آشنا باپ اور دوسرے اقربا کو الہامی حربے چلا چلا کر خوف زدہ کرنے کا اقدام بھی شروع کر دیا۔ اسی سلسلہ میں چند روز کے بعد مرزا احمد بیگ کے نام ایک خط لکھا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک سے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور کریں تو وہ تمام نحوستیں آپ کی دور کر دے گا۔ اگر یہ رشتہ وقوع میں نہ آیا تو آپ کے لیے دوسری جگہ رشتہ کرنا ہرگز

صفحہ 239

مبارک نہ ہوگا اور اس کا انجام درد اور تکلیف اور موت ہوگی۔ یہ دونوں طرف برکت اور موت ایسی ہیں کہ جن کو آزمانے کے بعد میرا صدق یا کذب معلوم ہو سکتا ہے“۔ (آئینہ کمالات مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۲۷۹) اس خط سے محمدی بیگم کے اقرباء پر کچھ بھی خوف و ہراس طاری نہ ہوا بلکہ الٹا مرزا صاحب کی تحقیر و تذلیل کے درپے ہوئے۔ الہامی صاحب نے یہ خط کمال راز داری سے لکھا تھا اور مرزا احمد بیگ کو تاکید کی تھی کہ یہ راز افشا نہ ہونے پائے لیکن مرزا نظام الدین نے جو مسیح صاحب کا عم زاد بھائی اور محمدی بیگم کا حقیقی ماموں تھا یہ بھانڈا قادیاں کے چوراہے پر پھوڑ دیا۔ چنانچہ الہامی صاحب فرماتے ہیں۔ ”نور افشاں“ نے اعتراض کیا کہ ”اگر یہ الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا اور اس پر کلی اعتماد تھا تو پھر پوشیدہ کیوں رکھا گیا اور کیوں اپنے خط میں پوشیدہ رکھنے کی تاکید کی“۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک خانگی معاملہ تھا اور گو ہم شائع کرنے کے لیے مامور تھے مگر ہم نے دوسرے وقت کی انتظار کی۔ یہاں تک کہ اس لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے جو مرزا امام الدین کا حقیقی بھائی ہے۔ شدت غضب میں آکر اس مضمون کو آپ ہی شائع کر دیا اور پھر زبانی اشاعت پر اکتفا نہ کر کے اخباروں میں ہمارا خط چھپوایا اور بازاروں میں ان کے دکھلانے سے وہ خط جابجا پڑھا گیا اور عورتوں اور بچوں تک اس خط کے مضمون کی منادی کی گئی اور مرزا نظام الدین کی کوشش سے ہمارا وہ خط ”نور افشاں“ میں بھی چھپا۔ (تبلیغ

رسالت‘ جلد اول‘ ص ۱۱۷)

آسمانی بشارت کہ محمدی بیگم انجام کار تمہاری بیوی بنے گی

قادیانی صاحب نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں لکھا کہ ”خدائے کریم جل شانہ نے مجھے بشارت دے کر کہا کہ خدا ایک اجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے گا۔ یہ ایک پیشین گوئی کی طرف اشارہ ہے جو پہلے شائع ہو چکی ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر پیش گوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے اگر وہ اپنی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس کے قریب فوت ہو جائے گا۔ اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہو گا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں

صفحہ 240

میں داخل ہوگی"۔ (تبلیغ رسالت جلد اول، ص ۶۱ حاشیہ) جب تقدس کا کوئی دکاندار دل و دماغ میں کسی قسم کی خواہش کی حد سے زیادہ پرورش کرنے لگتا ہے اور اس کے متعلق کوئی تخیل پختہ کر لیتا ہے تو شیاطین اسی خیال کے بموجب اسے الہام کرنے لگتے ہیں اور وہ اس الہام کو منجانب اللہ یقین کر کے بلا تامل شائع کرتا ہے۔ خواہ بعد کو اسے کتنا ہی رسوا اور روسیاہ کیوں نہ ہونا پڑے۔ چنانچہ مرزا صاحب اپنے ازالہ میں لکھتے ہیں۔ "الہام رحمانی بھی ہوتا ہے اور شیطانی بھی اور جب انسان اپنے نفس اور خیال کو دخل دے کر کسی بات کے انکشاف کے لیے بطور استخارہ یا استخبارہ وغیرہ کی توجہ کرتا ہے۔ خاص کر اس حالت میں کہ جب اس کے دل میں یہ تمنا مخفی ہوتی ہے کہ میری مرضی کے موافق کسی کی نسبت کوئی برا یا بھلا کلمہ بطور الہام مجھے معلوم ہو جائے تو شیطان اس وقت اس کی آرزو میں دخل دیتا ہے اور کوئی کلمہ اس کی زبان پر جاری ہو جاتا ہے اور دراصل وہ شیطانی کلمہ ہوتا ہے"۔ (ازالہ اوہام مولفہ مرزا غلام احمد، طبع پنجم، ص ۲۵۷) چونکہ مرزا صاحب ہر وقت محمدی بیگم کے خیال میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے۔ اس لیے ضرور تھا کہ مرزا صاحب کو بھی اس قسم کے الہام ہوتے۔ چنانچہ اسی سلسلہ میں مرزا صاحب کو ایک الہام ہوا۔ "ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے۔ میری باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا"۔ (آسمانی فیصلہ مولفہ مرزا غلام احمد، ص ۵۶) حضرات! "عقد نکاح باندھ دینا" قادیانی صاحب کا خاص الہامی محاورہ ہے۔ آنکھوں میں نزول الما اتر آنا بھی الہامی صاحب کا ایک مقدس محاورہ تھا۔

خدائی وعدہ میں شک نہ لانے کا الہام

ایک مرتبہ کسی خطرناک بیماری نے مرزا صاحب کو زندگی سے ناامید کردیا۔ حالت یاس میں خیال آیا کہ سفر آخرت درپیش ہے اور محمدی بیگم کی پیشین گوئی ہنوز پوری نہیں ہوئی۔ معاً الہام ہوا کہ "اپنے رب کے وعدے کی سچائی میں قطعاً شک نہ کرو"۔ چنانچہ خود لکھتے ہیں۔ "جب کہ ابھی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تھی جیسا کہ اب تک بھی جو ۲۱ اپریل ۱۸۹۱ء ہے پوری نہیں ہوئی تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کردی گئی۔ اس وقت گویا

صفحہ 241

پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہ سکا اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الحق من ربک فلا تکونن من الممترین یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے“۔

(ازالہ اوہام مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، طبع پنجم، ص ۴۲۱)

موانع نکاح دور کرنے کے آسمانی وعدے

محمدی بیگم کے پیغام نکاح کے بعد قادیاں کے الہامی خدا کی طرف سے مرزا صاحب کو اس قسم کے مسلسل پیام آتے رہے کہ میں ہر قسم کے مانع دور کر کے محمدی بیگم کو تمہاری بیوی بناؤں گا۔ چنانچہ الہامی صاحب نے ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں لکھا۔ ”پھر ان دنوں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لیے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لائے گا“۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۶) اس اعلان کے قریباً تین سال بعد اس جذبہ عناد کا لحاظ رکھتے ہوئے جو محمدی بیگم کے اقرباء کے دلوں میں مرزا صاحب کے خلاف کار فرما تھا جب الہامی صاحب کو یقین ہوا کہ محمدی بیگم ضرور کسی دوسری جگہ بیاہی جائے گی تو مرزا صاحب اس قسم کے الہام شائع کرنے لگے کہ وہ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ ہونے کے بعد ہر حالت میں ان کے بستر عیش کی زینت بنے گی۔ چنانچہ کتاب ازالہ اوہام میں جو ۳ ستمبر ۱۸۹۱ء کو شائع ہوئی لکھا کہ ”راقم رسالہ ہذا اس مقام پر خود صاحب تحریر ہے عرصہ قریباً تین برس کا ہوا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے جن کا مفصل ذکر اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۸ء میں مندرج ہے۔ خدائے تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور

صفحہ 242

پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے"۔ (ازالہ طبع پنجم، ص ۴۱۵) اس پیشین گوئی میں مرزا جی کے الہام رساں نے مرزا جی کو الہام کیا کہ ”محمدی بیگم یا تو کنوار پن کی حالت میں تمہارے دست تصرف میں آئے گی یا بیوہ ہو کر"۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ الہام بجائے خود مرزا کی قصر مسیحیت کو پیوند خاک کر رہا ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مرزا صاحب کو الہام کرنے والا اتنا جاہل اور بے خبر تھا کہ اسے خود ہی معلوم نہ تھا کہ وہ قادیانی صاحب کی آسمانی منکوحہ کو شادی سے پہلے ان کے حجلہ عروسی کی زینت بنائے گا یا شادی کے بعد بیوہ کر کے مرزا صاحب کے سپرد کرے گا۔

فصل ۔ ۳ محمدی بیگم کے نکاح کو اپنے صدق یا کذب کا معیار

ٹھہرانا

بعض دھاتیں بظاہر سونے سے ملتی جلتی ہیں اس لیے ناواقف لوگ ان کی سنہری رنگت اور درخشندگی کو دیکھ کر طلاء خالص یقین کر لیتے ہیں لیکن ان کا اصل یا نقل ہونا اس وقت ممیز ہوتا ہے جب صراف کے پاس پہنچ کر کسوٹی پر کسی جاتی ہیں چونکہ مرزا صاحب بھی ارواح خبیثہ کے القاء کو الہام خداوندی خیال کرتے ہوئے اپنے تئیں برسر حق اور مامور من اللہ یقین کئے بیٹھے تھے اس لیے ضرور تھا کہ وہ بھی اپنے سچا ہونے کے معیار پیش کرتے اور لطف یہ کہ جب بھی ان معیاروں پر انہیں پرکھا جاتا تھا ان کا کذب ہی ظاہر ہوتا تھا۔ مرزا صاحب نے اپنے صدق و کذب کی ایک کسوٹی یہ بتائی تھی کہ اگر محمدی بیگم مجھے مل گئی تو سچا ہوں ورنہ جھوٹا۔ چنانچہ ۱۰ مئی ۱۸۸۸ء کے اخبار ”نور افشاں“ میں ان کا جو خط بنام مرزا احمد بیگ شائع ہوا اس میں فرماتے ہیں ”خدا تعالیٰ نے اپنے کلام پاک سے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اگر آپ اپنی دختر کلاں کا رشتہ میرے ساتھ منظور کریں تو وہ تمام نحوستیں آپ کی دور کردے گا۔ اگر یہ رشتہ وقوع میں نہ آیا تو آپ کے لیے دوسری جگہ رشتہ کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا اور اس کا انجام درد اور تکلیف اور موت ہوگی۔ یہ دونوں طرف برکت اور موت کی پیش گوئیاں ایسی ہیں کہ جن کو آزمانے کے بعد میرا صدق یا کذب معلوم ہو سکتا ہے"۔ (آئینہ کمالات، ص ۲۸۹) اس کے بعد ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار

صفحہ 243

میں لکھا کہ ”جب مرزا نظام الدین کی کوشش سے وہ خط ہمارا ”نور افشاں“ میں چھپ گیا اور عیسائیوں نے اپنی عادت کے موافق بے جا افتراء کرنا شروع کیا تو ہم پر فرض ہو گیا کہ اپنی قلم سے اصلیت کو ظاہر کریں۔ بدخیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا“۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۷) مرزا صاحب نے محمدی بیگم کے عقد نکاح کو اس حیثیت سے بھی اپنے حق و باطل کا معیار ٹھہرایا تھا کہ مرزا صاحب کے اقربا انہیں الہامی دعوؤں میں مکار اور دکاندار خیال کرتے تھے اس لیے حسب بیان مرزا صاحب، خدائے تعالیٰ نے ان کی سچائی ظاہر کرنے کے لیے یہ الہامی پیشگوئی ظاہر فرمائی۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”ایک عرصہ سے یہ لوگ جو میرے کنبے سے اور میرے اقارب ہیں کیا مرد اور کیا عورتیں مجھے میرے الہامی دعاوی میں مکار اور دکاندار خیال کرتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ نے انہی کی بھلائی کے لیے انہی کے تقاضا سے انہی کی درخواست سے اس الہامی پیش گوئی کو ظاہر فرمایا ہے۔ کاش وہ پہلے نشانوں کو کافی سمجھتے اور یقیناً وہ ایک ساعت بھی مجھ پر بدگمانی نہ کر سکتے“۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۹) ظاہر ہے چونکہ محترمہ محمدی بیگم مرزا صاحب کے نکاح میں نہ آئیں اور ان کا یہ بیان کردہ نشان غلط نکلا اس لیے مرزا صاحب خود اپنی زبان سے دکاندار ثابت ہوئے۔

فصل۔ ۴ محمدی بیگم کے حصول کی مختلف تدبیریں

یوں تو مرزا صاحب کو وادی محبت میں قدم رکھے کئی سال گزرے تھے لیکن مخصوص جدوجہد اور اضطرابی کیفیت کے پیش نظر میں ۱۸۹۱ء اور ۱۸۹۲ء دو سال کو محبت و فراق کا خاص موسم قرار دیتا ہوں۔ جس سر میں محبت کا سودا سماتا ہے اس کی حالت کسی سے مخفی نہیں۔ پس علام الغیوب ہی جانتا ہے کہ ان دنوں حضرت مرزا صاحب کے دل محبت منزل پر کیا گزر رہی تھی۔ عربی میں ضرب المثل ہے۔ الانسان حریص علی ما منع (جس کام سے انسان کو روکا جائے، اسی کی طرف اسی کا زیادہ میلان ہوتا ہے) یہ مثل مرزا صاحب پر خوب صادق آتی ہے۔ لڑکی کے اقربا کی طرف سے جتنا زیادہ انکار و اعراض ہوتا تھا اسی قدر مرزا صاحب کی شراب آرزو دو آتشہ اور سہ آتشہ ہوتی جا رہی تھی۔ آخر وہ وقت آگیا جبکہ

صفحہ 244

دل کی بے کلی ساعت بساعت بڑھنے لگی اور زمام صبر و شکیب ہاتھ سے چھوٹتی نظر آئی۔

رباعی

عمرے بشکیب می ستودم خود را در شیوۂ صبر می نمودم خود را
چوں عشق آمد، کدام صبر و چہ شکیب؟ المنۃ للہ آزمودم خود را

کامیابی کے مسلسل الہامی وعدوں کے باوجود مرزا صاحب نے حصول مقصد کے لیے جدوجہد کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ ترغیب و ترہیب، چاپلوسی اور سختی کے تمام سرد و گرم ذرائع استعمال کئے۔ اس سلسلہ میں مرزا صاحب نے

چٹھیاں لکھ کر خواہش کی کہ تم اس نسبت و ناطہ سے انکار کردو۔

وعدہ کیا۔ اب ہر بیان کو جداگانہ عنوان کے ماتحت درج کیا جاتا ہے۔

(۱) مراسلات بنام اقربائے مطلوبہ

مرزا علی شیر بیگ مسیح قادیاں کے حقیقی ماموں زاد بھائی تھے۔ مسیح صاحب کی پہلی بیوی یعنی والدہ مرزا سلطان احمد و فضل احمد جنہیں مسیح صاحب نے کئی سال سے معلقہ کر رکھا تھا یعنی نہ طلاق دیتے تھے اور نہ گھر میں رکھتے تھے۔ انہی کی مظلومہ بہن تھیں۔ ان دوہری قرابتوں کے علاوہ مرزا علی شیر بیگ مرزا صاحب کے سمدھی یعنی فضل احمد کے خسر بھی تھے۔ فضل احمد کی بیوی کا نام عزت بی بی تھا۔ عزت بی بی کی والدہ یعنی مرزا علی شیر بیگ کی بیوی مرزا احمد بیگ کی حقیقی ہمشیرہ تھیں۔ چونکہ الہامی صاحب نے مرزا علی شیر بیگ کی بہن کو گھر سے علیحدہ کرکے میکے چلے جانے اور اسی جگہ بے کسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر رکھا تھا۔ اور منکوحہ ہونے کے باوجود تعلقات زنا شوئی اور نان نفقہ دینے سے اجتناب تھا۔ اس لیے مرزا علی شیر بیگ اور ان کی بیوی اور دوسرے اقرباء الہامی صاحب سے سخت

صفحہ 245

ناخوش تھے۔ چونکہ الہامی صاحب کا خیال تھا کہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ مرزا علی شیر بیگ اور ان کی بیوی کے ناخن تدبیر سے حل ہو سکتا ہے۔ اس لیے مرزا صاحب نے باہمی ناچاقی و ناراضی کے باوجود پہلے ان دونوں کو اور پھر مرزا احمد بیگ کے نام تہدیدی خطوط لکھے۔ قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی نے اپنی کتاب ”کلمہ فضل رحمانی“ کے صفحات ۴۳-۴۸ پر یہ خطوط درج کئے ہیں۔ یہ چٹھیاں مرزا علی شیر بیگ مرحوم کے پاس تھیں۔ شیخ نظام الدین پنشنر ساکن راہوں نے ان سے حاصل کر کے اپنے دوست قاضی فضل احمد سابق کورٹ انسپکٹر کو دے دیں اور قاضی صاحب نے ان کو کلمہ فضل رحمانی میں زیب رقم کر دیا۔ (کلمہ فضل رحمانی، ص ۴۳) یہ خطوط ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔

پہلا خط سمدھی کے نام

مرزا صاحب نے اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ کے نام جو محمدی بیگم کے پھوپھا تھے بتاریخ ۴؍ مئی ۱۸۹۱ء یہ خط لدھیانہ سے جہاں مسیح قادیاں ان دنوں قیام فرما تھے لکھا۔ ”مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ، السلام علیکم و رحمۃ اللہ! اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا۔ مگر میں للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں شامل ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ اور رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے۔ اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار و ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور بچا لے گا اگر آپ کے گھر

صفحہ 246

کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لیے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لیے سب ایک ہو گئے۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لیے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو وہی میرے خون کے پیاسے، وہی میری عزت کے پیاسے ہیں کہ چاہتے ہیں کہ خوار ہو۔ اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدائے تعالیٰ سے خوف کرو کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے؟ صرف عزت بی بی نام کے لیے فضل احمد کے گھر میں ہے۔ بے شک وہ طلاق دے دے ہم راضی ہیں ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہ کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے ہمارا کیا باقی رہ گیا جو چاہے سو کرلے۔ ہم اس کے لیے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا کہیں مرا بھی ہوتا یہ باتیں آپ کی بیوی کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں، خوار ہوں مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے، لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشا ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف سے فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کر دوں گا۔ اگر میرے لیے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا بند کرا دو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد کو جو اب میرے قبضے میں ہے ہر طرح سے درست کرکے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لیے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور

صفحہ 247

سے خط لکھیں کہ باز آ جائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کردیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دیں ورنہ مجھے خدائے تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لیے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا۔ جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب رشتے ناطے ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم۔ راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ۔ ۲ر مئی ۱۸۹۱ء"۔

دوسرا خط محمدی بیگم کی پھوپھی کے نام

اسی تاریخ کو مرزا صاحب نے یہ خط مرزا علی شیر بیگ کی بیوی کے نام لکھ بھیجا جو محمدی بیگم کی پھوپھی تھیں۔ ”والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز میں محمدی (مرزا احمد بیگ کی لڑکی) کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدائے تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا اس لیے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھاؤ اور اگر ایسا نہ ہوگا تو آج میں نے مولوی نور الدین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لیے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے اور اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جاوے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جاوے اور ایک پیسہ اس کو وراثت کا نہ ملے‘ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کا نکاح غیر کے ساتھ کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے۔ عزت بی بی کو تین طلاق ہیں‘ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا۔ اور پھر وہ میری وارثت سے ایک دانہ نہیں پا سکتا

صفحہ 248

اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا لو تو آپ کے لیے بہتر ہو گا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں عزت بی بی کی بہتری کے لیے ہر طرح سے کوشش چاہتا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی ہے۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی بات کچی نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہو گا اسی دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔ (راقم۔ مرزا غلام احمد از لدھیانہ، اقبال گنج۔ ۴ مئی ۱۸۹۱ء“)

تیسرا خط بہو کی طرف سے سمدھن کے نام

انہی کے ساتھ مرزا صاحب نے ایک خط بہو کی طرف سے اس کی ماں کی طرف بھی بھجوایا۔ جو محمدی بیگم کی پھوپھی تھیں۔ اس کا یہ مضمون تھا۔ ”منجانب عزت بی بی بنام والدہ۔ اس وقت میری بربادی اور تباہی کی طرف خیال کرو۔ مرزا صاحب کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے (یعنی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں) اگر تم اپنے بھائی (مرزا احمد بیگ) کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتی ہو۔ ورنہ طلاق ہو گی اور ہزار طرح کی رسوائی ہو گی۔ اگر منظور نہیں تو خیر جلد مجھے اس جگہ سے لے جاؤ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں“۔ اس خط پر الہامی صاحب نے اپنے قلم سے یہ لکھا ”جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے کہا ہے کہ اگر نکاح رک نہیں سکتا تو بلا توقف عزت بی بی کے لیے قادیاں سے کوئی آدمی بھیج دو تاکہ اس کو لے جائے“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بہو بھی قادیاں سے لدھیانہ گئی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان تینوں خطوط سے مرزا صاحب پر کتنے الزام قائم ہوتے ہیں۔ خدائے قدوس پر افترا، قطع رحمی، ظلم، قلم کو قسم کے ساتھ موکد کرنا، جھوٹی قسم کھانا، بے گناہ سے مواخذہ، طلاق بدعی کا حکم، وارث شرعی کو محروم الارث کرنے کی کوشش، الہام بنا لینا وغیرہ۔

چوتھا خط بنام مرزا احمد بیگ

مرزا صاحب نے متذکرہ صدر خطوط کے قریباً ڈھائی مہینہ بعد یعنی ۱۷ جولائی ۱۸۹۱ء کو ایک خط لڑکی کے والد مرزا احمد بیگ کے نام بدیں الفاظ روانہ کیا۔

صفحہ 249

”مشفقی مکرمی! خویشم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ قادیاں میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزنداں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا لیکن بوجہ اس کے یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لیے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزنداں حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لیے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطا فرمائے اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل بکلی صاف ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ پس خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم مجھے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہوگا اگر دوسری جگہ ہو گا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے اس لیے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس رشتے کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتے سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لیے نہایت درجہ موجب برکت ہوگا۔ اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھولے گا۔ جو آپ کے خیال میں نہیں کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیشگوئی اس عاجز کی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہو گا جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہے۔ اور ایک جہان کی اس طرف نظر لگی ہوئی ہے۔ اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا

صفحہ 250

اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لیے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہے ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے، ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے لیے معاون بنیں۔ تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز نہیں بدل سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین و دنیا دونوں آپ کو خدائے تعالیٰ عطا فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمائیں۔ والسلام (خاکسار احقر عباداللہ غلام احمد عفی عنہ، ۱۷ جولائی ۱۸۹۲ء بروز جمعہ) مرزا صاحب نے اس چٹھی کی جو مرزا احمد بیگ کے نام روانہ کی تھی ایک اشتہار میں خود تصدیق فرمائی ہے یہ اشتہار ۱۰ جولائی ۱۸۸۸ء کو شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا ”ایک پیش گوئی پیش از وقوع کا اشتہار“ اس کی پیشانی پر یہ دو شعر درج تھے۔

پیش گوئی کا جب انجام ہویدا ہوگا قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہوگا
جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہوگا کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہوگا

اس کے بعد لکھا تھا کہ اخبار ”نور افشاں“ مورخہ ۱۰ مئی ۱۸۸۸ء میں جو اس راقم کا ایک خط متضمن درخواست نکاح چھاپا گیا ہے اس خط کو صاحب اخبار نے اپنے پرچہ میں درج کرکے عجیب طرح کی زبان درازی کی ہے۔ یہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھا گیا تھا۔ ایک مدت دراز سے بعض سرکردہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کی حقیقی ہمشیرہ زادی کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ نشان آسمانی کے طالب تھے یہ لوگ مجھ کو میرے دعوائے الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے۔

(تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۱)

پانچواں خط بنام مرزا احمد بیگ

صفحہ 251

ایک اور اہم چٹھی جو خود مرزا صاحب نے ”آئینہ کمالات“ (ص ۵۷۳ - ۵۷۴) میں درج کی ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں۔ تب میں نے حق تعالیٰ کے ایماء اور اشارے سے مرزا احمد بیگ کے نام ایک چٹھی لکھی جس میں لکھا کہ ”اے عزیز سنئے۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ میری سنجیدہ عرضداشت کو لغو خیال کرتے ہیں اور میری بات کا اعتبار نہیں کرتے۔ بخدا میں آپ کو کسی طرح سے تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ ان شاء اللہ آپ دیکھیں گے کہ میں آپ کے ساتھ کس قدر احسان کرتا ہوں۔ اگر آپ نے میرے خاندان کے خلاف مرضی میری درخواست کو شرف قبول بخشا تو میں آپ سے قسمی وعدہ کرتا ہوں کہ میں اپنی زمین اور باغ میں سے آپ کو حصہ دوں گا اور اس رشتہ کی وجہ سے آپس کی نزاع رفع ہو جائے گی۔ اگر میری بات مان لی تو آپ مجھ پر مہربانی اور احسان کریں گے اور میں آپ کا بڑا ممنون ہوں گا اور آپ کی درازی عمر کے لیے درگاہ خداوندی میں دعا کروں گا۔ اور آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کی صاحبزادی کو اپنی زمین اور دوسرے مملوکات کی تہائی کا مالک بنا دوں گا اور میں سچ کہتا ہوں کہ اس میں سے جو کچھ مانگیں گے میں آپ کو دوں گا۔ ایسی حالت میں صلہ رحمی، عزیزوں سے محبت اور حقوق قرابت کی نگہداشت میں آپ کو مجھ جیسا کوئی شخص نہ مل سکے گا۔ آپ مجھے اپنی مشکلات میں اپنا معاون و دستگیر پائیں گے۔ آپ کے ہر بوجھ کو اٹھاؤں گا۔ اس لیے انکار میں اپنا وقت ضائع نہ کیجئے اور شک و شبہ کو راہ نہ دیجئے۔ میں یہ خط اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنے پروردگار کے حکم سے لکھ رہا ہوں۔ یہ خط بڑے سچے اور امین کی طرف سے ہے۔ اس کو اپنے صندوق میں محفوظ رکھئے۔ حق تعالیٰ گواہ ہے کہ میں اس بیان میں صادق ہوں اور جو کچھ میں نے آپ سے وعدہ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا بلکہ جو کچھ کہا ہے حق تعالیٰ نے مجھ سے اپنے الہام سے کہلوایا ہے۔ یہ مجھے میرے رب کی وصیت تھی جسے میں نے پورا کیا۔ ورنہ مجھے آپ کی یا آپ کی لڑکی کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔ اگر اس الہام کی مدت گزر جائے اور سچائی ظاہر نہ ہو تو میرے گلے میں رسی اور پاؤں میں زنجیر ڈال دینا اور مجھے ایسی سزا دینا کہ دنیا میں کسی کو نہ دی گئی ہو“۔ (عربی تحریر کا خلاصہ مفہوم)

صفحہ 252

(۲) مرزا سلطان محمد کے نام تہدیدی خطوط کا سلسلہ

مندرجہ بالا خطوط کے علاوہ مرزا صاحب نے لڑکی کے منگیتر مرزا سلطان محمد کے نام بھی بہت سے خطوط لکھے اور اسے ڈرایا، دھمکایا کہ اگر تم نکاح کرو گے تو تم پر خدا کا قہر نازل ہو گا اور تم فنا و برباد ہو جاؤ گے اور یہ نکاح تمہارے حق میں سخت زبون ہو گا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ ”احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پروا نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا، پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک نہ چاہا بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزا میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیشگوئی کو سن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے۔“

(تبلیغ رسالت، جلد ۳، ص ۱۶۶)

(۳) زرپاشی کی قوت تسخیر سے حصول مقصد کی جدوجہد

زر کی قوت تسخیر تمام حربوں سے زیادہ زبردست مانی گئی ہے چنانچہ کسی نے کہا ہے۔۔

اے زر تو خدا نہ ای و لیکن بخدا ستار عیوب و قاضی الحاجاتی

معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے زرپاشی سے بھی مطلب براری کی بہت کچھ کوشش فرمائی تھی۔ چنانچہ میاں بشیر احمد صاحب کا مندرجہ ذیل بیان اس حقیقت پر روشنی ڈالتا ہے۔ ”ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود جالندھر جاکر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے۔ ان ایام میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے کہ ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے پر آیا جایا کرتا تھا اور وہ مرزا صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا۔ اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا اس لیے حضرت (مرزا) صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ مگر یہ شخص

صفحہ 253

اس معاملہ میں بد نیت تھا اور حضرت صاحب سے فقط روپیہ اڑانا چاہتا تھا۔ کیونکہ بعد میں یہی شخص اور اس کے دوسرے ساتھی اس لڑکی کے دوسری جگہ بیاہے جانے کا موجب ہوئے۔ مگر حضرت (مرزا) صاحب نے بھی اس شخص کو روپیہ دینے کے متعلق بعض حکیمانہ احتیاطیں (پالیسیاں اور چالیں) ملحوظ رکھی ہوئی تھیں"۔ (سیرۃ المہدی' جلد اول' ص ۱۷۴)

(۴) محمدی بیگم کے حصول کے لیے مرزا صاحب

اور ان کی بیوی کی دعائیں

محمدی بیگم کے حصول کے لیے مرزا صاحب نے جہاں ایک طرف ظاہری جدوجہد کی دھما چوکڑی مچا رکھی تھی تو دوسری طرف باطنی اور روحانی تدابیر سے بھی غافل نہ تھے۔ چونکہ جماعت کے وقار اور آبرو کا سوال تھا۔ اس لیے نہ صرف خود مرزا صاحب ہر وقت بارگاہ رب العالمین میں سر بسجود تھے بلکہ ساری مرزائی جماعت بھی شبانہ روز دست بدعا تھی۔ اور تو اور حسب زعم مرزا بشیر احمد خود مرزا صاحب کی اہلیہ محترمہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ بھی اپنی آسمانی سوکن کے نزول اور اس کی جلوہ نمائی کے لیے بے قرار تھیں اور منتیں مانتی اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہی تھیں۔ چنانچہ ان کے فرزند ارجمند میاں بشیر احمد صاحب ایم اے "سیرۃ المہدی" میں رقم طراز ہیں۔ "ایک نکاح کے متعلق حضرت کی پیش گوئی کے پورا ہونے کے لیے حضرت کی بیوی مکرمہ نے بارہا رو رو کر دعائیں کی ہیں۔ ایک روز یہی دعا مانگ رہی تھیں تو حضرت نے پوچھا کہ آپ کیا دعا مانگتی ہیں؟ جواب دیا یہ مانگ رہی ہوں (کہ محمدی بیگم آپ کو ملے) حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ سوکن کا آنا تمہیں کیونکر پسند ہے؟ کہا کچھ ہی کیوں نہ ہو مجھے اس بات کا پاس ہے کہ آپ کے منہ کی نکلی ہوئی بات (کسی طرح) پوری ہو جائے"۔ (سیرۃ المہدی' جلد اول' ص ۲۵۹) اگر میاں بشیر احمد کی یہ روایت صحیح ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ سب تقیہ تھا۔

صفحہ 254

باب نمبر ۳۹

ہندو دوستوں پر عینی شاہد ہونے کا افترا

میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے ابن مرزا غلام احمد نے "سیرۃ المہدی" میں لکھا ہے کہ "قادیاں میں ملاوامل اور شرمپت رائے سے مرزا صاحب کی زیادہ میل ملاقات تھی۔ یہی زیادہ آتے جاتے تھے کسی اور سے راہ و رسم نہ تھی"۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۲۰۵) یہ دونوں سالہا سال قادیانی صاحب کی ناک کا بال بنے رہے اور الہامی صاحب بہت عرصہ تک ان کی دوستی پر بھروسہ کر کے طرح طرح کی امیدوں کو اپنے دل میں پرورش کرتے رہے۔ لیکن عاقل کو چاہیے کہ کسی دوست پر اتنا بھی بوجھ نہ ڈال دے کہ جس کے اٹھانے کا وہ متحمل نہ ہو۔ الہامی صاحب نے یہ دیکھ کر کہ ان دونوں سے میرے دوستانہ روابط بہت دیرینہ اور اتنے گہرے ہیں کہ جونسی بات بھی ان کی طرف منسوب کر دوں گا وہ اس سے انکار نہیں کریں گے۔ اپنی کتابوں براہین اور سرمہ چشم آریہ میں یہ لکھ مارا کہ لالہ شرمپت رائے اور لالہ ملاوامل بھی میرے الہاموں کے گواہ ہیں۔ اس بہتان طرازی کو وہ کسی طرح برداشت نہ کر سکے اور بحالت مجبوری ۴؍ نومبر ۱۸۸۶ء کو ایک اعلان زیر عنوان "اشتہار واجب الاظہار" شائع کر کے مجدد صاحب کے الہامات کا بھانڈا قادیاں کے چورستے پر پھوڑ دیا۔ ان کے اشتہار کا ضروری خلاصہ حسب ذیل ہے۔ "ہم کو کسی قوم یا کسی شخص کے ساتھ بغض و عداوت نہیں بلکہ ہم اپنے دوست مرزا غلام احمد صاحب کے مقابلہ میں اشتہار شائع کرنا موجب شرم سمجھتے ہیں۔ مگر کیا کیا جائے یہ ان ہی کی عاقبت نااندیشی کا نتیجہ ہے۔ حقیقت میں ہمارے دل کو اس اشتہار کے شائع کرنے سے اس قدر تکلیف، رنج اور بوجھ ہے جو بجز دانائے حقیقی کے کوئی نہ جانتا ہوگا۔ ہماری غرض صرف راستی کا ظاہر کرنا ہے کیونکہ ہم نے معلوم کر لیا ہے کہ ہماری خاموشی سے راستی کا خون ہوا جاتا ہے۔

قادیانی کے لیے خرق عادت ناممکن ہے

صفحہ 255

اس کے بعد لکھا کہ علاوہ ازیں خلق خدا کی ہمدردی اور خیر خواہی اس کی مقتضی ہے کہ ہم مہر سکوت توڑ دیں۔ کیونکہ ایک تو مرزا صاحب اپنے اوقات الہام اور خرق عادت کے دعوؤں میں جس کا ثابت کرنا ایسا محال ہے جس طرح آفتاب کا مغرب سے طلوع کرنا، صرف کر رہے ہیں۔ دوسرے ناحق لوگوں کی تکلیف و پریشانی کا موجب بنے ہوئے ہیں۔ کیونکہ لوگ دور دراز سے صعوبت سفر اور ہر طرح کا حرج اور خرچ برداشت کر کے قادیاں آتے ہیں اور تمنائے دلی سے محروم و نامراد ہو کر واپس جاتے ہیں۔ قریباً بارہ یا چودہ سال سے ہم دونوں (ملاوا مل اور شرمپت رائے) کی مرزا غلام احمد سے ملاقات ہے۔ اس عرصہ میں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو گا جس میں تین چار مرتبہ ہمارا ان کے پاس جانا آنا نہ ہوا ہو۔ خویش و اقارب میں بھی کوئی شخص ہمیں ان کے برابر عزیز نہ تھا اور ہم ان کی بہت عزت و توقیر کرتے تھے اور وہ بھی ہمیں اپنے اعزہ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ چھ سات سال کا عرصہ ہوا حکیم محمد شریف کلانوری نے جو مرزا صاحب کے بڑے دوست ہیں اور امرتسر میں مطب کرتے ہیں۔ ہم دونوں کے سامنے مرزا صاحب کو یہ مشورہ دیا کہ آپ مجددی کا دعویٰ کریں کیونکہ اس زمانہ کے لیے بھی کوئی مجدد ضرور ہونا چاہیے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے دل پر اس مشورہ کا بڑا اثر ہوا جس کا نتیجہ آج ظاہر ہے۔ حکیم صاحب کا یہ کہنا تھا کہ مرزا صاحب نے ”براہین احمدیہ“ کا مسودہ شروع کر دیا اور اخباروں میں اعلان کر کے جا بجا خطوط روانہ کر دیے۔ رفتہ رفتہ مرزا صاحب نے مکاشفہ اور الہام اور خرق عادت کا دعویٰ شروع کیا۔ اس کے بعد براہین میں لکھ دیا کہ میرے کشف اور الہام اور خرق عادت کے گواہ ملاوا مل اور شرمپت رائے ہیں۔ ہم بھی مصلحتاً آج تک خاموش رہے لیکن افسوس ہے کہ مرزا صاحب نے ہماری خاموشی سے ناجائز فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ صاحب موصوف آج ”سرمہ چشم آریہ“ میں معجزہ شق القمر کے بارہ میں ہماری اسی خاموشی کو سنداً و نظیراً پیش کرتے ہیں۔ ہم وہ سند اور نظیر دیکھ کر حیران رہ گئے اور ہم پر یہ راز کھل گیا کہ اسلام کے پیشواؤں اور پیغمبروں کا بھی (معاذ اللہ) یہی شیوہ چلا آیا ہے جو مرزا صاحب نے اختیار کیا ہے۔ کاش کسی ایک الہام ہی سے ہماری تسلی کی ہوتی تو بھی ایک بات تھی۔ ہم یہاں یہ بھی بیان کر دیتے ہیں کہ ”گواہوں میں نام درج

صفحہ 256

کرتے وقت مرزا صاحب نے ہم سے بالکل دریافت نہیں کیا ورنہ ہرگز ایسا نہ ہوتا۔ انہوں نے دل میں یہ خیال کیا ہو گا کہ یہ میرے اور میں ان کا ہوں۔ کیا یہ میرا کہنا نہ مانیں گے؟ اب صاف باطن اور نیک نہاد لوگ الہام اور خرق عادت کے دعوے کی حقیقت بخوبی معلوم کر لیں گے“۔ (تکذیب براہین‘ ص ۲۳۳ - ۲۳۵)

باب نمبر ۴۰

مسیح زماں کے سودی قرضہ کا افشائے راز

جب مرزا صاحب نے اعلان کیا تھا کہ جو غیر مسلم براہین کا جواب لکھے گا اس کو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا تو پنڈت لیکھرام نے لکھا تھا کہ ”آپ کا دس ہزار روپیہ انعام کا اشتہار محض فریب اور جعل ہے۔ کیونکہ آپ کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بھی اس قیمت کی نہیں ہے۔ قادیاں کے ہندو مسلمان آریہ وغیرہ سب اس بات کے گواہ ہیں بلکہ تمام ضلع گورداسپور کے لوگ آپ کی تلاشی اور وجہ معاش کے فقدان سے آگاہ ہیں اور پنجابی مثل ”آپ میاں مانگتے باہر کھڑے درویش“ بالکل آپ کے حسب حال ہے۔ خود قرضدار اور بسا اوقات نان شبینہ سے ناچار مگر دس ہزار اشتہاری روپوں کے دعویدار ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ صفحہ قرطاس پر تو ہندسوں کی من مانی رقوم لکھ لیتے ہیں مگر زر نقد ندارد ہے“۔ (تکذیب براہین‘ ص ۲۷۳ - ۲۷۴) پنڈت لیکھرام کے اس بیان کی تائید کہ مرزا صاحب مقروض تھے۔ اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ مرزا صاحب دوسری شادی کرنے کے بعد اپنے خسر ثانی کا دم چھلا بنے ہوئے تھے۔ جہاں میر ناصر نواب تبدیل ہو کر جاتے یہ بھی وہاں جا براجتے اور ان ٹکڑوں پر بسر اوقات کرتے۔ جس طرح مرزا صاحب کئی سال تک لدھیانہ میں اپنے خسر کے در دولت پر پڑے ہوئے تھے اسی طرح اس سے پیشتر چھاؤنی انبالہ میں بھی میر ناصر نواب کے گھر کی روٹیاں توڑتے رہے۔ انہی ایام میں الہامی صاحب نے چھاؤنی انبالہ کے ایک مہاجن سے سودی قرضہ بھی لے رکھا تھا۔ جب ”براہین احمدیہ“ کے صدقہ سے فراخ

صفحہ 257

دستی نصیب ہوئی تو الہامی صاحب نے چھاؤنی انبالہ کا قرضہ چکا دینا چاہا۔ قادیاں کے آریوں کو اس کا پتہ چل گیا۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ مرزا صاحب دس ہزاری اشتہار شائع کرتے وقت خود مقروض تھے اور بہت بڑی شرح سود پر قرض لے رکھا تھا۔ حالانکہ شریعت اسلام نے سود کا لینا اور دینا دونوں حرام قرار دیئے ہیں۔ کسی طرح الہامی صاحب کی دو چٹھیاں حاصل کر کے شائع کر دیں۔ یہ چٹھیاں بشن داس انبالوی کے نام بھیجی گئی تھیں۔ الہامی صاحب نے اس پر بہت کچھ پیچ و تاب کھایا۔ آریوں کی اس جسارت و دیدہ دلیری پر شکوہ و شکایت کا جو مواد ان کے نوک قلم سے ٹپکا اس سے ناظرین کو بھی محظوظ کیا جاتا ہے۔ مرزا صاحب رسالہ ”شحنہ حق“ میں فرماتے ہیں۔

”اس اعتراض کی اصلیت صرف اس قدر ہے کہ انبالہ چھاؤنی میں کئی ایک خط میں ایک ہندو دکاندار کی طرف بمراد تصفیہ ایک پرانے برداشتی حساب کے جس کا یونہی مدت تک ملتوی پڑے رہنا قرین مصلحت نہیں تھا، لکھے تھے۔ اور اس دکاندار کو بلایا تھا۔ کہ اب حساب دیر کا ہو گیا ہے تم ٹونبو (دستاویز) ساتھ لاؤ اور جو کچھ حساب نکلتا ہے لے جاؤ اور ٹونبو دے جاؤ۔ اگرچہ ٹھیک ٹھیک یاد نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ شاید ان خطوط میں سے کسی خط میں یہ بھی لکھا گیا ہو کہ تم حساب کے لیے بلائے جانے کا حال ظاہر نہ کرنا۔ اب معترض خیانت پیشہ جس نے سرقہ کے طور پر لالہ بشن داس مکتوب الیہ کے صندوق سے خط چرائے ہیں۔ اس اصل حقیقت میں تحریف و تبدیل کر کے اور اپنی طرف سے کچھ کا کچھ تودہ طوفان بنا کر اور بات کو کہیں سے کہیں لگا کر یہ اعتراض کرتا ہے کہ گویا ہم نے یہ مکروہ فریب کیا اور جھوٹ بولا اور جھوٹ کی ترغیب دی۔ جس ناجائز طور سے یہ خطوط حاصل کئے گئے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ لالہ بشن داس مکتوب الیہ کی دکان پر ایک کینوں والے آریہ نے جو اب باوا نانک صاحب سے بیزار ہو کر دیانندی پنتھ میں داخل ہو گیا ہے۔ ایک دو آریہ اوباشوں کی رازداری اور تحریک سے جیسا کہ دکانداروں کی عادت ہے۔ اپنی دکان کو کھلی چھوڑ کر کسی کام کے لیے بازار میں نکلا۔ اس کے جانے کے ساتھ ہی سکھ صاحب نے اس کے صندوق کو ہاتھ مارا۔ شاید اس دست درازی سے نیت تو کسی اور شکار کی ہو گی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ مالدار آدمی

صفحہ 258

ہے مگر لالہ بشن داس کی قسمت اچھی تھی کہ اس جلدی میں زیور تک جو صندوق میں پڑا ہوا تھا ہاتھ نہ پہنچا۔ صرف دو خط ہاتھ میں آگئے جن کو اس کے انہی ہم مشورہ یاروں نے جو ایک ہی سانچے کے ہیں بہت سی خیانت اور یاوہ گوئی کے ساتھ چھاپ دیا۔ لالہ بشن داس نے اپنی شرافت سے صبر کیا۔ ورنہ سکھ صاحب اور اس کے رفیقوں کو بیگانہ صندوق میں ہاتھ ڈالنے کا ابھی مزہ معلوم ہو جاتا۔ ہماری دانست میں یہ مقدمہ اب بھی دائر ہونے کے لائق ہے کیونکہ گو لالہ بشن داس کے زیور وغیرہ کا کچھ نقصان نہیں ہوا مگر خطوط کی چوری بھی حسب قانون مروجہ انگریزی ایک چوری ہے۔ جس کی سزا میں شاید تین سال تک قید ہے۔ وہ صرف حسابی معاملہ کے خطوط تھے جن کا بے اجازت کھولنا جرم تھا“۔ (شحنہ حق مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۴۷-۴۹)

باب نمبر ۴۱

مسیح قادیاں کا نام نادہند خریداروں کی فہرست میں

انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں ”پنجاب ریویو“ کے نام سے ایک ماہوار رسالہ پادری رجب علی کے زیر ادارت امرتسر سے شائع ہوتا تھا۔ اس رسالہ میں تہذیب اخلاق اور حسن معاشرت کے علاوہ ملکی معاملات پر بحث ہوتی تھی۔ مشاہیر کے سوانح حیات درج ہوتے تھے اور مطبوعات جدیدہ پر تبصرے شائع کئے جاتے تھے۔ اس کا سالانہ چندہ بارہ روپے تھا۔ اس رسالہ کا اپنا مطبع تھا جس کا نام سفیر ہند پریس تھا۔ اس رسالہ کی طرف سے ایک بک ایجنسی بھی قائم تھی۔ اس رسالہ نے ۱۰؍ اپریل ۱۸۸۷ء کی اشاعت میں اپنے ان نادہند خریداروں کی فہرست شائع کی تھی جو رسالہ کے چندہ اور کتابوں کی قیمت میں بڑی بڑی رقمیں بے ڈکار ہضم کر گئے تھے۔ اس نے صفحات ۴۶۳-۴۶۴ پر ۷۵ نادہند خریداروں کی فہرست شائع کی اور باقی ۲۵ نادہندوں کی فہرست آئندہ نمبر میں شائع کرنے کا وعدہ کیا۔ ان نادہند بقایا داروں کی فہرست میں بہترویں نمبر پر ہمیں رئیس قادیاں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ”مسیح موعود“ و

صفحہ 259

"مہدی مسعود" کا نام نامی نظر آتا ہے جن کے ذمے ۱۷۲ روپے چھ آنے کی رقم دکھائی گئی ہے۔ (رسالہ پنجاب ریویو) نے اشاعت مذکورہ کے صفحہ ۴۵۷ پر زیر عنوان "ہمارے نوحہ کا ثبوت" لکھا کہ "ہم گزشتہ اشاعت میں نوحہ کے ذریعہ سے التماس کر چکے ہیں کہ سفیر ہند پریس اپنے نادہند خریداروں کی بدولت اور بعض نامہ نگاروں کے تین لائیبل کیسوں مقدمات ازالہ حیثیت عرفی کے تصدق سے چھ ہزار روپیہ کا مقروض ہو گیا تھا۔ اس میں سے کچھ تو پریس کے صیغہ طبع کتب نے سبکدوشی کرائی اور کچھ دیسی شرفاء اور بعض یورپی صاحبوں نے مدد دی۔ پھر بھی دو ہزار روپیہ کے قریب قرض اس کی گردن پر ہے۔ ہمارے دوست اور کرم فرما جن کے نام ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔ ناراض نہ ہوں کیونکہ ہم ان کو عریضوں کے ذریعہ سے بارہا یاد دلاتے رہے مگر وہ بھول بھول گئے۔ رسالہ مذکورہ نے فہرست خریداران نادہند درج کرنے کے بعد صفحہ ۴۶۳ پر لکھا کہ اگر عدالت منتظم کے ذریعہ سے ان نادہندوں کو جواب دہی کرنی پڑے تو ہمیں معذور سمجھیں"۔ اس فہرست کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیاں کے خانہ ساز مجدد صاحب سفیر ہند پریس امرتسر کی قریباً پونے دو سو روپے کی رقم ہضم کئے بیٹھے تھے اور دینے کا نام نہیں لیتے تھے اور رسالہ مذکورہ نے مجبور ہو کر اس خیال سے نادہندوں کی فہرست شائع کر دی تھی کہ اگر ان لوگوں کو خوف خدا نہیں تو کم از کم بدنامی اور رسوائی کا خیال ہی انہیں حقوق العباد سے سبکدوش ہونے کی ترغیب دے گا۔ ظاہر ہے کہ جس شخص نے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود حقوق العباد کی طرف سے اس درجہ بے اعتنائی برت رکھی تھی وہ حقوق اللہ کیا ادا کرتا ہو گا اور اس کی تعلق باللہ کی ڈینگیں کیا حیثیت رکھتی تھیں؟

باب ۴۲

قادیاں میں ذاتی مطبع قائم کرنے کی حیلہ گری

تقدس مآب حضرت مسیح موعود صاحب کی عادت تھی کہ طرح طرح کے حیلے تراش کر

صفحہ 260

مریدوں سے بڑی بڑی رقمیں قرض لیتے تھے اور پھر جہاں تک خاکسار راقم الحروف کی تحقیق کو دخل ہے یہ قرض ادا نہیں فرماتے تھے بلکہ اس قسم کی رقمیں ”حساب دوستاں در دل“ کا مصداق بن کر رہ جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ قادیاں میں ذاتی مطبع قائم کرنے کا قصد ظاہر کر کے مریدوں سے بڑی بڑی رقمیں اینٹھ لیں لیکن پھر نہ تو پریس لگایا اور نہ اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ لوگوں کی رقمیں ہی واپس دیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے طلب امداد کے لیے منشی رستم علی مرزائی اور حکیم نور الدین صاحب کے پاس جو خطوط بھیجے وہ ملاحظہ ہوں۔ بتاریخ ۱۱؍ مئی ۱۸۸۷ء منشی رستم علی کو لکھا:۔ ”بوجہ چند در چند وجہوں کے دوسری جگہ کتابوں کے طبع کرانے سے میری طبیعت دق آگئی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اپنا مطبع تیار کر کے کام ”سراج منیر“ اور دیگر رسائل کا شروع کرا دوں۔ تخمینہ کیا گیا ہے کہ اس کام کے شروع کرانے میں تیرہ چودہ سو روپیہ خرچ آئے گا‘ جس میں خرید پریس وغیرہ بھی داخل ہے اور آپ نے اقرار کیا تھا کہ ہم تین ماہ کے عرصہ کے لیے دو سو روپیہ بطور قرضہ دے سکتے ہیں۔ سو اگر آپ بندوبست کر سکیں کہ چار سو روپیہ بطور قرضہ چھ ماہ کے لیے تجویز کر کے مجھ کو اطلاع دیں تو میں جانتا ہوں کہ آپ کو بہت ثواب ہو گا۔ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو چھ ماہ کے اندر ہی یہ قرضہ ادا کر دے لیکن چھ ماہ کے بعد بہرحال بلاتوقف آپ کو دیا جائے گا۔ اور باقی آٹھ نو سو روپیہ کسی اور جگہ سے قرضہ لیا جائے گا۔ اگر میں سمجھتا کہ آپ ادھر ادھر سے لے کر کچھ اور زیادہ بندوبست کر سکتے ہیں تو میں باقی آٹھ نو سو روپیہ کے لیے آپ کو لکھتا۔ دوسرے لوگوں کے پاس قرضہ کا نام بھی لیا جاوے تو ساتھ ہی ان کی طبع میں قبض شروع ہو جاتا ہے“۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۳‘ ص ۴۶) اس کے بعد ۹؍ شعبان کو لکھا ”کئی دوستوں کو جن پر کسی قدر امید پڑتی ہے قرضہ کے لیے لکھ دیا ہے اور سب کو لکھا گیا ہے کہ بعد طبع ”سراج منیر“ ایک برس کے وعدہ پر قرض دیں۔ آپ کے مانند چار پانچ آدمی ہیں اور چودہ سو روپیہ قرضہ کا بندوبست کرنا ہے۔ آپ مجھ کو بہت جلد اطلاع دیں کہ آپ ٹھیک اس وعدہ پر کس قدر قرضہ کا بندوبست کر سکتے ہیں تا میں روپیہ منگوانے کے لیے کوئی تجویز کروں اور پھر لاہور میں خرید مطبع کے لیے آدمی بھیجا جاوے“۔ (ایضاً ص ۴۷) اور ۲۹؍ مئی کی چٹھی میں منشی رستم علی کو لکھا ”قرضہ کی بابت تجربہ کار لوگوں سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس تجویز کی تحسین کی لیکن یہ کہا کہ جس حالت میں انہی

صفحہ 261

کتابوں کی فروخت سے قرضہ اتارا جائے گا تو اس صورت میں کم سے کم ادائے قرضہ کی میعاد ایک سال چاہیے۔ کیونکہ ”سراج منیر“ پانچ مہینہ سے کم میں نہیں چھپے گا۔ آپ کو میں نے چھ ماہ کے وعدہ کے لیے لکھا تھا مگر درحقیقت وعدہ ایک سال بہت خوب ہے“۔ ایک اور چٹھی میں لکھا ”آپ نے ایک سال کے وعدہ پر تین سو روپیہ دینا کیا ہے لیکن اس بات کو بھی اپنے لیے گوارا کر لیں کہ یہ وعدہ اس تاریخ سے ہو کہ جب ”سراج منیر“ چھپ کر تیار ہو جائے کیونکہ ”سراج منیر“ کی چھپائی کا کام پانچ یا چھ ماہ تک ختم ہو گا۔ چونکہ یہ روپیہ ”سراج منیر“ ہی کی فروخت سے نکالا جائے گا‘ اس لیے صرف چھ ماہ ایک خطرناک عہد ہے۔ ایسا ہونا چاہیے کہ ایک سال پر چھ ماہ اور زاید کیے جائیں۔ بقیہ فروخت کتب کا جو روپیہ ہے اگر وہ آپ بہت جلد ساتھ لاویں تو آپ کی ملاقات بھی ہو جائے اور روپیہ بھی آ جائے“۔ (ایضاً صفحہ ۳۹) اسی طرح بتاریخ ۲؍ مئی ۱۸۸۷ء حکیم نور الدین صاحب کو جو جموں میں ملازم تھے لکھا ”میں نے مطبع کے بندوبست کے لیے یہ قرین مصلحت سمجھا کہ بعض دوستوں سے بطور قرضہ کچھ لیا جائے۔ تو ایسے بااخلاق آدمیوں کے انتخاب کے لیے جب فہرست خریداران پر نظر ڈالی گئی تو ہزار آدمی میں سے صرف چھ آدمی پر نظر پڑی جن میں سے بعض قوی الاخلاق ہیں اور بعض کا حال کماحقہ معلوم نہیں۔ میرا ارادہ تھا کہ چودہ آدمی منتخب کر کے سو سو روپیہ بطور قرضہ بوعدہ میعاد ایک سال بعد طبع ”سراج منیر“ ان سے لیا جاوے یعنی ابتداء میعاد کی اس تاریخ سے ہو‘ جب چھپ چکے کیونکہ طبع ”سراج منیر“ کے لیے چودہ سو روپیہ تخمینہ کیا گیا ہے۔ میں یہ روپیہ لینا قرضہ کے طور پر چاہتا ہوں کہ دوستوں پر تھوڑا تھوڑا بار ہو جو سو روپیہ سے زیادہ نہ ہو۔ جواب سے جلد مطلع فرما ویں کیونکہ میں نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ رسالہ ”قرآنی طاقتوں کا جلوہ گاہ“ جون کے ماہ میں شائع ہو گا۔ سو میں چاہتا ہوں کہ اپنے ہی مطبع میں وہ رسالہ چھپنا شروع ہو جائے۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۲‘ ص ۳۴) ایک اور خط میں لکھا کہ مجھ کو بندوبست مطبع و دیگر مصارف کے بارے میں بہت کچھ فکر اور خیال تھا جو آپ کے اس مبشر خط سے سب رفع دفع ہوا۔ اگر یہ ممکن ہو کہ ماہ بماہ تین سو روپیہ تک آپ بھیج سکیں یہاں تک کہ چودہ سو روپیہ پورا ہو جائے تو یہ نہایت عمدہ بات ہے۔ مگر اول دفعہ پانسو روپیہ بھیجنا ضروری ہے تا ضروری انتظام کیا جاوے۔ میرا ارادہ ہے کہ یہ کام ماہ رمضان میں جاری ہو جاوے۔ ایک شخص منشی

صفحہ 262

رستم علی نام نے تین سو روپیہ ڈیڑھ سال کی میعاد پر قرضہ طے کیا ہے اور بابو الٰہی بخش صاحب (اکاؤنٹنٹ) بھی کچھ دینا چاہتے ہیں“۔ (ایضاً ص ۲۷) اور ۱۸؍ مئی کی چٹھی میں لکھا۔ ”میرا ارادہ ہے کہ اپنا مطبع تیار کر کے ”سراج منیر“ وغیرہ کتب اس میں چھپواؤں۔ سو اگر خدا تعالیٰ نے اس کام کے لیے سرمایہ میسر کر دیا تو جلد پریس وغیرہ کا سامان ضروری خرید کر کتابوں کا چھپوانا شروع کیا جائے“۔ (ایضاً صفحہ ۳۰) اور ۲۶؍ جولائی ۱۸۸۷ء کی چٹھی میں لکھا۔ ”آج نصف قطعہ نوٹ پانسو روپیہ بذریعہ رجسٹری شدہ پہنچ گیا۔ اب آں مخدوم کی طرف سے پانسو ساٹھ روپے پہنچ گئے“۔ (ایضاً ص ۳۶) اور ۳۱؍ اکتوبر کی چٹھی میں لکھا کہ میں باعث تعلقات مطبع جن سے شاید چھ ماہ تک مخلصی ہوگی۔ اس جگہ سے علیحدہ نہیں ہو سکتا ورنہ میری خواہش تھی کہ اب کی دفعہ خود جا کر آپ سے ملاقات کروں“۔ (ایضاً صفحہ ۴۶) اور ۲۰؍ دسمبر کی چٹھی میں لکھا کہ ”یہ دو سو چالیس روپے ایک حساب سے پورا تین سو ہو گیا ہے کیونکہ پہلے علاوہ پانسو روپیہ کے ساٹھ روپے آپ کے زیادہ آ گئے ہیں اور کل روپیہ جو آج تک آپ کی طرف سے آیا آٹھ سو روپیہ ہوا“۔ (ایضاً صفحہ ۴۴)

حضرات! دیکھا کہ قادیانی صاحب نے کس وثوق کے ساتھ اجرائے مطبع کے ارادے ظاہر کر کے لوگوں سے رقمیں وصول کیں لیکن پریس پھر بھی جاری نہ کیا۔ منشی یعقوب علی ایڈیٹر الحکم قادیاں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے ۱۸۸۷ء میں ارادہ فرمایا کہ قادیاں میں ایک مطبع جاری ہو مگر مشیت ایزدی نے اس وقت اس کے لیے سامان پیدا نہ ہونے دیئے۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد۵‘ نمبر ۳‘ صفحہ ۳۶) لیکن ظاہر ہے کہ کسی چیز کی خریداری کے راستہ میں صرف دو چیزیں حائل ہوتی ہیں۔ ایک روپیہ کا فقدان دوسرے اس چیز کا میسر نہ آنا جس کے خریدنے کا قصد ہو۔ روپیہ تو مسیح صاحب نے جتنا فراہم کر لیا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ صرف ایک حکیم نورالدین نے آٹھ سو روپیہ بھیج دیا تھا۔ رہا پریس سو اس زمانہ میں چھپائی کی مشینیں ہنوز ہندوستان نہیں آئی تھیں اور اطراف و اکناف ملک میں دستی پریس ہی رائج تھے اور ایک دستی پریس مع ضروری سامان کے تین چار سو روپیہ میں بہ سہولت قائم ہو سکتا تھا۔ پس جس صورت میں کہ قادیانی صاحب نے وہ غرض پوری نہ کی کہ جس کے لیے لوگوں سے قرض لیا تھا۔ ثابت ہوتا ہے کہ قیام پریس کا حیلہ محض روپیہ بٹورنے کے لیے تراشا گیا تھا۔ بیچاری قادیاں فراہمی زر کے بعد بھی کئی سال تک مطبع سے

صفحہ 263

خالی رہی آخر جب ہندوستان میں مشین پریسوں کا رواج ہوا تو منشی یعقوب علی مرزائی ایڈیٹر الحکم نے ”ضیاء الاسلام“ پریس کے نام سے وہاں ایک مشین پریس قائم کیا۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۳، ص ۳۷) اب سوال یہ ہے کہ اگر مشیت خداوندی قیام مطبع کے خلاف تھی تو لوگوں کا روپیہ تو واپس کر دیا ہوتا۔ لوگوں کا روپیہ اینٹھ لینا اور پھر تقدیر اور مشیت ایزدی کی آڑ لینا کہاں کی دیانتداری ہے؟ پھر بوالعجبی دیکھو کہ الہامی صاحب نے مطبع قائم نہ کرنے کا کوئی سچا یا جھوٹا عذر بھی پیش نہیں کیا۔ ان کے مصنفات اور مکتوبات لوگوں کی رقمیں واپس دینے یا نہ دینے کی طرف سے بالکل خاموش ہیں۔ حضرت ”مجدد“ صاحب قرض لے کر جو حیلے کیا کرتے تھے ان کی ایک جھلک مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۳ کے صفحات ۳۶ تا ۳۹ میں نظر آتی ہے۔ اس سے قطع نظر الہامی صاحب نے اپنی چٹھیوں میں ادائے قرض کو رسالہ ”سراج منیر“ کی طبع و اشاعت کے سال ڈیڑھ سال بعد پر معلق ٹھہرایا ہے حالانکہ رسالہ ”سراج منیر“ جس کی قیمت الہامی صاحب نے ۱۸۸۶ء میں ایک ایک روپیہ پیشگی وصول کر لی تھی گیارہ سال کے بعد ۷۲ صفحات کے چھوٹے سے رسالے کی شکل میں شائع کیا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ جس رسالہ کی قیمت مرزا صاحب گیارہ سال پیشتر واجبی قیمت سے سات آٹھ حصہ زیادہ لوگوں سے پیشگی وصول کر کے ہضم کر چکے تھے۔ اس سے اب اتنی نئی آمدنی کی کہاں امید ہو سکتی تھی کہ گیارہ بارہ سال کے پرانے قرضے چکا سکتے۔ غرض مرزا صاحب کی ساری کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ قرض لیتے وقت اس بات کا عزم صمیم کر لیتے تھے کہ مدت العمر ادا کرنے کا نام نہ لیں گے۔ فراہمی زر کی مندرجہ بالا سکیم کا تعلق ۱۸۸۷ء سے ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود صاحب نے اس کے پانچ چھ سال بعد بھی اسی زرپاش اسکیم کا احیاء فرمایا تھا۔ چنانچہ منشی الٰہی بخش مرحوم اکاؤنٹنٹ ”عصائے موسیٰ“ میں رقمطراز ہیں۔ روداد جلسہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کے صفحہ ۲۴ پر ایک اور اپیل شائع کی جس کے دو عنوان تھے۔ ”درخواست چندہ“ اور ”قابل توجہ احباب“ اس اپیل میں لکھا کہ ”ہمیں تین قسم کی جمعیت کی سخت ضرورت ہے جس پر حقانی معارف کی اشاعت کا سارا مدار ہے۔ (۱) دو پریس۔ (۲) ایک خوشخط کاپی نویس۔ (۳) کاغذ۔ ان تینوں مصارف کے لیے ڈھائی سو روپیہ ماہانہ کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ہر ایک دوست بلاتوقف اس میں شریک ہو۔ چندہ ماہوار ہمیشہ تاریخ مقررہ پر پہنچ جانا چاہیے۔ تجویز یہ ٹھہری

صفحہ 264

ہے کہ بقیہ براہین اور ایک اخبار جاری ہو“۔ منشی الٰہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ اس کے بعد ”عصائے موسیٰ“ میں سوال کرتے ہیں کہ کیا وعدہ خلافیاں اس وعید کے تحت میں نہیں آتیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں وعدہ کر کے اس کے خلاف کرے۔ بات کرنے میں جھوٹ بولے اور جب کسی سے جھگڑا ہو جائے تو گالیاں دے؟ اور یہ تو وہ وعدے ہیں جو تحریراً ”پبلک تک پہنچ چکے ہیں۔ زبانی اور پرائیویٹ وعدوں کا تو کوئی حساب و انداز ہی نہیں۔ (عصائے موسیٰ، ص ۴۲۸ - ۴۲۹)

باب ۴۳

امام زادہ کی صحت کا الہام

پنڈت لیکھرام نے ”تکذیب براہین“ میں لکھا۔ ”ایک سال کا عرصہ ہوا مرزا صاحب کی مسجد کے امام میاں جان محمد کا لڑکا جس کی عمر پانچ سال کی تھی بخار میں مبتلا ہوا۔ آخر مرض میں اتنا اشتداد ہوا کہ بخار کے ساتھ ہی اسہال آنے شروع ہو گئے۔ اور لڑکے کا خورد و نوش بالکل بند ہو گیا اور یہاں تک لاغر ہوا کہ ایک مشت استخوان رہ گیا۔ ایک دن لڑکے کی حالت بالکل غیر ہو گئی اور بظاہر نزع کے آثار نمایاں ہوئے۔ اس وقت ہر شخص کو یقین تھا کہ لڑکا کوئی دم کا مہمان ہے۔ اس حالت اضطراب میں میاں جان محمد صاحب مرزا صاحب کے پاس دوڑے گئے اس سے پیشتر مرزا صاحب آ کر لڑکے کو دیکھ گئے تھے۔ امام صاحب عرض پیرا ہوئے۔ حضور آپ مستجاب الدعوات ہیں اس فرزند کی صحت کے لیے دعا کیجئے۔ حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ”جان محمد ! تمہارے قدم رکھنے سے پہلے مجھے ابھی ابھی الہام ہوا ہے کہ اس لڑکے کے لیے قبر کھودو“۔ یہ سن کر امام صاحب حواس باختہ ہو گئے۔ اس بے چارے کا یہی اکلوتا بیٹا تھا اور وہ بھی خدا نے پچھلی عمر میں عطا فرمایا تھا۔ غرض میاں جان محمد حالت یاس و اضطرار میں باچشم پرنم و دل پر غم گھر واپس آئے لیکن یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ لڑکا رو بصحت ہے۔ میاں جان محمد کی جان میں جان آئی۔ لڑکا دم بدم اچھا ہونے لگا اور ایک ہفتہ میں بالکل تندرست ہو گیا۔ اب مرزا صاحب

صفحہ 265

فرماتے ہیں کہ الہام تو بالکل سچا ہے، ضرور کسی نہ کسی وقت پورا ہو کر رہے گا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ آپ کے لیے بھی جلد قبر کھودی جائے گی۔ (تکذیب براہین، صفحہ ۱۵۶) لیکن مرزا صاحب نے اس بیان کی صحت سے انکار کیا اور میاں جان محمد کی طرف سے ایک تحریر لکھ کر شائع کی جس میں مرقوم تھا۔ ”یہ بہتان کہ گویا مرزا صاحب نے یہ کہا کہ درحقیقت تمہارے لڑکے کے لیے مجھے الہام ہوا کہ تم اس کی قبر کھودو سراسر افتراء ہے، جس کی کچھ بھی اصلیت نہیں اور میں جانتا ہوں کہ یہ ان نااہل لوگوں کی گھڑت ہے، جو نہ خدا کی لعنت اور نہ خلقت کی لعنت سے ڈرتے ہیں۔ کیا خوب ہو کہ ایک جلسہ ہو کر ایسا شخص میرے روبرو کیا جائے تاکہ میں بھی اس کو بٹھا کر پوچھ لوں کہ اے بھلے مانس کب تیرے روبرو مرزا صاحب نے ایسا الہام مجھ کو سنایا تھا۔ العبد خاکسار جان محمد امام مسجد قادیاں۔ (شحنہ حق مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، صفحہ ۲۰)

ہرچند کہ میاں جان محمد مرزا صاحب کی مسجد کے امام اور ان کے زیر اثر تھے اور مرزا صاحب جو چاہتے ان سے لکھوا سکتے تھے۔ تاہم انہوں نے اپنے بیان میں اس سے انکار نہیں کیا کہ مرزا صاحب کو لڑکے کے مرنے کا الہام ہوا تھا بلکہ صرف قبر کھودنے کے الہامی الفاظ ہونے کی نفی کی ہے۔ پس کوئی وجہ نہیں کہ پنڈت لیکھرام کے بیان کو غلط اور ناقابل التفات سمجھا جائے۔ البتہ معلوم ہوتا ہے کہ قبر کھودنے کا ذکر محض پنڈت جی کی حاشیہ آرائی ہے۔ مرزا صاحب کو صرف اتنا الہام ہوا تھا کہ ”لڑکا نہیں بچے گا“۔ لیکن وہ بچ گیا۔ ہاں اگر خدانخواستہ مرزا صاحب کو اس کی صحت کا الہام ہوجاتا تو پھر اس بیچارے کی خیر نہیں تھی۔ وہ ضرور آغوش لحد میں جا بسیرا کرتا کیونکہ مرزا صاحب کی دعائیں اور ان کی ”آسمانی اطلاعیں“ بالکل اس شعر کا مصداق تھیں۔؎

مانگا کریں گے اب تو دعا ہجر یار کی آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

باب ۴۴

قادیاں سے ہجرت کر جانے کا اعلان

صفحہ 266

مرزا صاحب مخالف عناصر سے ہمیشہ متصادم رہتے تھے اور گاؤ زوری ان کا مایہ خمیر تھی لیکن بسا اوقات اس گاؤ زوری میں سخت گھبرا جاتے تھے اور عالم اضطراب میں قادیاں کو الوداع کہہ دینے کے خیال سے بہت دفعہ ہجرت کے فضائل بیان فرمانے لگتے تھے۔ ۱۸۸۷ء میں الہامی صاحب نے رسالہ ”شحنہ حق“ شائع کیا۔ اس میں لکھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں، لیکن میں کہتا ہوں کہ نہ صرف نبی بلکہ بجز اپنے وطن کے کوئی راست باز بھی دوسری جگہ ذلت نہیں اٹھاتا۔ (”شحنہ حق“ ص ج) ۷ ستمبر و دسمبر ۱۸۹۸ء کو کشف الغطاء (صفحہ ۱۱) میں مسیح علیہ السلام کے متعلق لکھا۔ ”اور پھر پیلاطوس کی حکومت میں یہودیوں کی بہت سی ایذا کے بعد اس کو خدا کی قدیم سنت کے مطابق ان ملکوں سے ہجرت کرنی پڑی اور وہ ہندوستان میں تشریف لائے“۔ ۲۱؍ فروری ۱۸۹۹ء کو حقیقتہ المہدی (صفحہ ۲۱) میں لکھا۔ ”ہجرت سنت انبیاء است“۔ اور ستمبر ۱۹۰۲ء میں کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ شائع کی اس کے صفحہ ۲۰ پر لکھا کہ ”ہر ایک نبی کے لیے ہجرت مسنون ہے اور مسیح نے بھی اپنی ہجرت کی طرف انجیل میں اشارہ فرمایا ہے اور کہا کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔

آریوں کی طرف سے قتل کی دھمکی

۱۸۸۷ء میں بعض آریوں نے مرزا جی کو قتل کی دھمکی دی۔ اس اجمال کی تفصیل خود مرزا صاحب کی زبان قلم سے سنئے۔ فرماتے ہیں۔ ”آریوں نے میری نسبت گندے اشتہار چھاپے ہیں۔ پر دشنام گمنام خط بھیجے ہیں۔ غائبانہ گندی باتیں کیں ہیں۔ بار بار خطوط اور اشتہاروں کے ذریعہ سے مجھے قتل کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ لیکھرام نے جس قدر گندے اور بدبو سے بھرے ہوئے ہماری طرف خط لکھے وہ سب ہمارے پاس موجود ہیں اور گمنام خطوط جو جان سے مار دینے کے بارے میں کسی پرجوش آریہ کی طرف سے پہنچے گو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کس آریہ کی طرف سے ہیں مگر یہ جانتے ہیں کہ شورہ پشتوں کے گروہ میں سے کوئی ایک ہے۔ ایسا ہی جن اشتہاروں کو یہ لوگ وقتاً فوقتاً جاری کرتے ہیں ان کے پڑھنے سے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں کیا بھرا ہوا ہے۔ گمنام خط جس قدر آریوں کی طرف سے آتے ہیں وہ اکثر بیرنگ ہوتے ہیں اور علاوہ ایک آنہ محصول ضائع

صفحہ 267

کرنے کے جب اندر سے کھولا جاتا ہے تو نری گالیاں اور نہایت گندی باتیں ہوتی ہیں"۔ (شحنہ حق، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص۔ ب، ج) اس کے بعد چونکہ یہ لوگ کسی طور سے ناراستی کو چھوڑنا نہیں چاہتے، اس لیے سچ کہنے والے کے جانی دشمن ہو جاتے ہیں۔ سو چونکہ ہمارے نزدیک کلمہ حق سے خاموش رہنا اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے صاف اور روشن علم دیا ہے وہ خلق اللہ کو نہ پہنچانا سب گناہوں سے بدتر گناہ ہے۔ اس لیے ہم ان کی قتل کی دھمکیوں سے تو نہیں ڈرتے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ کسی ظالم آریہ کے اقدام قتل سے ہمارے ہم وطن اور ہم شہر پولیس کی کشاکشی میں پھنس جائیں اس لیے اول تو انہیں ہم یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اس شخص سے جس کا نام لیکھرام یا لیکھ راج ہے پرہیز کریں۔ اس کے ساتھ ان کی درپردہ خط و کتابت اچھی نہیں اور دوسرے ہم یہ بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ اب ہم اپنے پیارے زادبوم قادیاں کو مصلحت مذکورہ بالا کے لحاظ سے چھوڑ دیں اور کسی دوسرے شہر میں جا کر مسکن اختیار کریں۔ کیونکہ جس جگہ میں ہمارا رہنا ہمارے حاسدوں کے لیے دکھ کا موجب ہو ان کا رفع تکلیف کرنا بہتر ہے کیونکہ ہم بخدا دشمنوں کے دلوں کو بھی تنگ کرنا نہیں چاہتے اور ہمارا خدا ہر جگہ ہمارے ساتھ ہے۔ اور اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ ومن یہاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغماً کثیراً وسعۃً یعنی جو شخص اطاعت الہٰی میں اپنے وطن کو چھوڑے تو خدائے تعالیٰ کی زمین میں ایسے آرام گاہ پائے گا جن میں بلا حرج دینی خدمت بجا لا سکے۔ سو اے ہم وطنو! ہم تمہیں عنقریب الوداع کہنے والے ہیں"۔ (شحنہ حق، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص۔ ب، ج)

ہجرت کی توفیق کیوں نہ ہوئی؟

معلوم ہوتا ہے کہ بعض آریہ نوجوانوں نے محض دل لگی کے طور پر دو چار تہدید آمیز چٹھیاں مرزا صاحب کے نام بھیج دی ہوں گی۔ مرزا صاحب کا دل سخت کمزور تھا۔ اس دھمکی کی تاب نہ لا کر لرزہ براندام ہو گئے اور اتنا خوف زدہ ہوئے کہ ترک وطن کا اعلان کر دیا۔ یہ معلوم نہیں کہ الہامی صاحب نے قادیاں سے کفرستان ہند ہی کے کسی دوسرے مقام کی طرف کوچ کرنے کا خیال کیا تھا یا دارالکفر سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا قصد تھا۔ کفرستان سے کفرستان کی طرف جانا تو شرعاً ہجرت ہی نہیں۔ البتہ دارالاسلام

صفحہ 268

کے قصد سے ترک وطن کیا جائے، تو واقعی ہجرت فی سبیل اللہ اور اعلیٰ درجہ کا عمل خیر ہے۔ مرزا صاحب نے بارہا ترک وطن کا عزم فرمایا لیکن اس عزم کو عملی جامہ کبھی نہ پہنا سکے اور اس سعادت سے بہرہ مند ہونا کبھی نصیب نہ ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مرزا صاحب مدعی نبوت و مسیحیت تھے اور ان کا یہ بھی مقولہ تھا کہ ہر نبی کے لیے ہجرت ضروری ہے اس لیے غیرت خداوندی نے طرح طرح کے دواعی و اسباب کے باوجود ہجرت کی توفیق سلب کر لی تاکہ ہر کس و ناکس کو معلوم ہو جائے کہ وہ سچے نبی اور اصلی مسیح نہیں۔ ۱۹۰۰ء میں قادیانی صاحب نے اس بنا پر مکرر ہجرت کا قصد فرمایا کہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے مرزائیوں کے زخم ہائے دل پر رحمت و نوازش کا مرہم رکھنے کے بجائے ان کو چشم نمائی کی تھی اور کہا تھا کہ میں عنقریب تمہاری خبر لوں گا۔ اس واقعہ کی تفصیل میاں بشیر احمد ابن جناب مرزا غلام احمد صاحب نے یہ لکھی ہے:۔ ”جب مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین (قادیان کی) مسجد مبارک کا راستہ دیوار کھینچ کر بند کرنے لگے تو حضرت (الہامی) صاحب نے چند آدمیوں کو مرزا امام الدین کے پاس سمجھانے کے لیے بھیجا۔ مرزا امام الدین نے غصہ سے کہا کہ وہ خود کیوں نہیں آیا؟ اور میں تم لوگوں کو کیا جانتا ہوں؟ پھر طعن سے کہا کہ جب سے آسمانوں سے وحی آنی شروع ہوئی ہے۔ اس وقت سے اسے خبر نہیں کہ کیا ہو گیا ہے“۔ یہ لوگ ناکام واپس آئے پھر حضرت صاحب نے ان کے ساتھ بعض اور مہمانوں کو ملا دیا اور کہا ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس جاؤ اور کہو ہم لوگ دور دراز سے دین کی خاطر یہاں آتے ہیں اور یہ ایک ایسا فعل کیا جا رہا ہے، جس سے ہم کو بہت تکلیف ہوگی کیونکہ مسجد کا راستہ بند ہو جائے گا۔ ان دنوں قادیان کے قریب ایک گاؤں میں ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس آئے ہوئے تھے۔ جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو ایک آدمی آگے بڑھا اور کہا ہم قادیان سے آئے ہیں اور اپنا حال بیان کرنا شروع کیا۔ مگر ڈپٹی کمشنر نے نہایت غصہ کے لہجے میں کہا کہ ”تم بہت سے آدمی جمع ہو کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتے ہو۔ میں تم لوگوں کو خوب جانتا ہوں کہ یہ جماعت کیوں بن رہی ہے۔ میں جلد تمہاری خبر لینے والا ہوں اور تم کو پتہ لگ جائے گا کہ کس طرح ایسی جماعت بنایا کرتے ہیں وغیرہ“۔ غرض ناکام وہاں سے واپس آگئے اور حضرت صاحب کو سارا ماجرا سنایا۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۱۱۹- ۱۲۰)

صفحہ 269

ترک وطن کا مکرر عزم اور سعادت ہجرت سے محرومی

میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ان دنوں مخالفت کا سخت زور تھا اور انگریز حکام بھی جماعت پر بہت بدظن تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ کوئی سازش کے لیے سیاسی جماعت بن رہی ہے اور بٹالہ میں ان دنوں پولیس کے افسر بھی سخت معاند و مخالف تھے اور طرح طرح سے تکلیف دیتے تھے اور قادیاں کے اندر بھی مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین وغیرہ اور ان کی انگیخت سے قادیاں کے ہندو اور سکھ اور غیر احمدی سخت ایذا رسانی پر تلے ہوئے تھے اور قادیاں میں احمدیوں کو سخت ذلت اور تکلیف سے رہنا پڑتا تھا۔ حضرت (مرزا) صاحب نے یہ حالات دیکھے اور جماعت کی تکلیف کا مشاہدہ کیا تو جماعت کے آدمیوں کو جمع کر کے مشورہ کیا اور کہا اب یہاں ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور ہمیں تو کام کرنا ہے۔ یہاں نہیں تو کسی اور جگہ سہی اور ہجرت بھی انبیاء کی سنت ہے۔ پس میرا ارادہ ہے کہ کہیں باہر چلے جائیں۔ اس پر حکیم نور الدین بھیروی‘ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی اور شیخ رحمتہ اللہ گجراتی حال مقیم لاہور نے علی الترتیب بھیرہ‘ سیالکوٹ اور لاہور ہجرت کرنے کی رائے دی۔ آپ نے کہا اچھا وقت آئے گا تو جہاں اللہ لے جائے گا وہاں جائیں گے ۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۱۲۰-۱۲۱) غرض اس مرتبہ بھی فسخ عزیمت کرنا پڑا اور ہجرت کی سعادت نصیب نہ ہوسکی۔ لیکن سطور ماسبق سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کا دارالہجرت دارالاسلام کا کوئی شہر یا قریہ نہیں تھا بلکہ قادیاں سے اسی تیرہ زار ہندوستان کے کسی دوسرے مقام کی طرف منتقل ہونا مقصود تھا۔ اور اگر بالفرض دارالاسلام ہی کا قصد کیا جاتا تو بھی شرعی نقطہ نظر سے اس وقت تک کچھ فائدہ بخش نہ تھا جب تک مرزا صاحب اپنے زندیقانہ عقاید اور جھوٹے دعووں سے تائب ہو کر اسلامی اصول و عقائد کا اتباع نہ کرتے اور اپنی الہامی بھول بھلیوں سے نکل کر تعلیمات نبوت سے تمسک نہ کرتے ورنہ ہجرت وغیرہ کے قصے ہی بیکار تھے۔

باب ۲۵

حکیم نور الدین صاحب کی دوسری شادی

صفحہ 270

حکیم نور الدین صاحب بھی حسن و ملاحت کے کچھ کم قدردان نہ تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کے مرید یا دوست مشفق مرزا صاحب بڑھاپے میں نئی دلہن بیاہ لائے اور ارمان بھرے دل کی آرزوئیں پوری ہوئیں تو ان کی آتش شوق بھی بھڑک اٹھی اور دل میں جنون انگیز جذبات ہجوم کرنے لگے کہ کسی نوخیز مہوش کو حبالۂ نکاح میں لائیں۔

مرا عمر از برائے وصل یار نازنیں باید گر آن دولت نہ باشد زندگی دیگر چہ کار آید

اس وقت حکیم صاحب اپنی عمر کی قریباً ساٹھ منزلیں طے کر چکے تھے۔ الہامی صاحب کی طرح ان کی بھی پہلی بیوی موجود تھی اور ان کی طرح صاحب اولاد بھی تھے۔ لیکن فرق یہ تھا کہ الہامی صاحب نے اپنی پہلی بیوی محترمہ حرمت بی بی کو کئی سال سے معلقہ کر رکھا تھا اور وہ جرم نا آشنا تادم واپسیں اپنے بھائی کے گھر میں اجڑی بیٹھی رہیں لیکن حکیم صاحب اپنی رفیقۂ حیات سے نہایت شریفانہ سلوک کرتے تھے۔ دوسرا فرق یہ تھا کہ مجدد صاحب نے اپنی پہلی اولاد سے قطع تعلق کر رکھا تھا لیکن حکیم صاحب اپنی اولاد کے حق میں شفقت پدری اور حسن سلوک کے تمام لوازم انجام دیتے تھے۔ معاشرت کا یہ فرق شاید اس علت پر مبنی تھا کہ حکیم صاحب کسی آسمانی منصب پر فائز نہیں تھے۔ اگر مرزا صاحب کی طرح وہ بھی مجدد زمان اور مسیح دوران ہوتے تو ان کا بھی اہل و عیال کے ساتھ شاید وہی برتاؤ ہوتا جو قادیاں کے مجدد اعظم کا طغرائے امتیاز تھا۔ بہرحال جب بڑھاپے میں گلشن نوجوانی کی گل چینی کا شوق سرسرایا تو حکیم صاحب نے مرزا صاحب کو لکھا کہ کہیں میرے لیے بھی اپنے حلقہ مریدین میں کسی ”درنا سفتہ“ کا انتظام فرما دیجئے۔

لڑکی والوں کی طرف سے حنفی المذہب ہونے کی لازمی شرط

لدھیانہ میں احمد جان نام ایک شخص پیری مریدی کرتا تھا۔ بد نصیبی سے وہ شخص کسی طرح قادیاں کے دام تزویر میں پھنس گیا اور قبول مرزائیت کے تھوڑے ہی دن بعد دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس نے بارہ تیرہ سال کی ایک نہایت حسینہ لڑکی پیچھے چھوڑی تھی۔ الہامی صاحب نے اپنے مرید خاص میر عباس علی لدھیانوی کو لکھا کہ ”حکیم نور الدین صاحب کے لیے اس لڑکی کی بات چیت کرو“۔ میر عباس علی نے لڑکی کی ماں اور بھائی سے گفتگو کی اور

صفحہ 271

بہلا پھسلا کر ان کو راضی کر لیا۔ لیکن انہوں نے اس ازدواج کو اس شرط کے ساتھ مشروط کیا کہ وہ حنفی ہوں۔ اگر وہابی ہوں گے تو ہمیں قطعاً منظور نہیں ہے۔ گو مرزائی ہو جانے کے بعد نہ کوئی شخص حنفی رہ سکتا ہے، نہ اہل حدیث لیکن چونکہ اس وقت تک مرزا صاحب اور ان کے پیروؤں کو بہت کم لوگ مرتد اور خارج از اسلام گمان کرتے تھے، اس لیے شاید بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوگی کہ تقلید اور عدم تقلید ائمہ بھی مرزائیت کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے۔ ارتداد سے پہلے مرزا صاحب اور حکیم نور الدین صاحب دونوں ”اہل حدیث“ تھے۔ اور چونکہ اس وقت تک ان کے مذہبی رویہ میں اسلام کی کچھ نہ کچھ رمق باقی تھی اس لیے یہ خود بھی اب تک اہل حدیث ہی کہلاتے تھے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی نے الہامی صاحب کی نسبت لکھا کہ ”اہل حدیث جو قادیانی کو اہل حدیث سمجھ کر ان کے پنجہ میں پھنسے ہوئے ہیں، اس دعوائے تحریف کو ایمان و انصاف سے دیکھیں تو ان کو منکر صحت احادیث صحیحین جان لیں۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۳، ص ۲۲۹) اور لکھا کہ ”قادیانی صاحب اہل حدیث کہلا کر بعض احادیث صحیحین کی صحت سے انکاری ہوتے ہیں“۔ (ایضاً ص ۳۳۴) میر عباس علی لدھیانوی نے مرزا صاحب کو اطلاع دی کہ لڑکی والے حنفیت کی شرط لگاتے ہیں۔ وہابی کو وہ لڑکی ہرگز نہ دیں گے۔

اپنے تئیں حنفی ظاہر کرنے کی ترغیب

لیکن اہل حدیث کو حنفی ظاہر کر دینا قادیانی صاحب کے لیے کون سا مشکل کام تھا؟ انہوں نے حکیم صاحب کو لکھ بھیجا کہ وہ اپنے حنفی ہونے کا (منافقانہ) اظہار کر دیں۔ اس سلسلہ میں مرزا صاحب نے ۲۳ر جنوری ۱۸۸۸ء کو حکیم صاحب کے نام جو چٹھی لکھی وہ ملاحظہ ہو۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ”اس عاجز نے آن مخدوم کے نکاح ثانی کی تجویز کے لیے کئی جگہ خط روانہ کیے تھے۔ ایک جگہ سے جو جواب آیا ہے وہ کسی قدر حسب مراد معلوم ہوتا ہے یعنی میر عباس علی شاہ لدھیانوی کا خط جو روانہ خدمت کرتا ہوں۔ اس میں ایک شرط عجیب ہے کہ حنفی ہوں غیر مقلد نہ ہوں۔ چونکہ میر صاحب حنفی ہیں اور میرے مخلص دوست منشی احمد جان صاحب جن کی بابرکت لڑکی سے یہ تجویز درپیش ہے پکے حنفی تھے اور ان کے مرید جو اس علاقہ میں بکثرت پائے جاتے ہیں، سب حنفی ہیں اس لیے حنفیت کی قید

صفحہ 272

بھی لگا دی گئی۔ یوں تو حنیفاً مسلماً میں سب مسلمان داخل ہیں لیکن اس قید کا جواب بھی معقولیت سے دیا جائے تو بہتر ہے۔ منشی احمد جان مرحوم جب تک زندہ رہے خدمت کرتے رہے۔ دوسرے تیسرے مہینے کسی قدر روپے اپنے رزق خداداد سے مجھے بھیجتے رہے۔ چونکہ وہ عالی خیال اور صوفی تھے اس لیے ان میں تعصب نہیں تھا۔ میری نسبت وہ خوب جانتے تھے کہ یہ حنفی تقلید پر قائم نہیں ہیں اور نہ اسے پسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی یہ خیال انہیں محبت اور اخلاص سے نہیں روکتا تھا۔ لڑکی کا بھائی صاحبزادہ افتخار احمد صاحب بھی نوجوان صالح ہے۔ اب دو باتیں تدبیر طلب ہیں۔ اول یہ کہ ان کی حنفیت کے سوال کا کیا جواب دیا جائے۔ دوسرے اگر رضامندی فریقین کی ہو جائے تو لڑکی کے ظاہری حلیہ سے بھی اطلاع ہو جانی چاہیے۔ مجھ سے میر عباس علی صاحب نے اپنے سوالات مستفسرہ خط کا بہت جلد جواب طلب کیا ہے۔ اس لیے مکلف ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو جلد تر جواب ارسال فرما دیں۔ ابھی میں نے تصریح سے آپ کا نام ان پر ظاہر نہیں کیا"۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۲، ص ۵۳-۵۴)

دوسرے خط میں لکھا کہ میں نے خاص صاحب اسرار اور واقف لوگوں سے اس لڑکی کی بہت تعریف سنی ہے۔ صاحبزادہ افتخار احمد صاحب اور ان کے تمام اعزہ متعلقین کے دل پر تقلید حنفی کا بڑا رعب طاری ہے اور مدت دراز کی عادت جو طبیعت ثانیہ کا حکم پیدا کر لیتی ہے اگر خدا تعالیٰ چاہے تو تدریجاً دور ہو سکتی ہے۔ یکبارگی تبدیلی تو قلب ماہیت میں داخل ہے۔ اس موقع میں تمام تر حکمت عملی حلم و رفق و درگزر و زیادت محبت و مودت و غائبانہ دعا میں ہے۔ میرے گھر کے لوگوں کے خیالات موحدین (اہل حدیث) کے ہیں۔ اول تو خیالات میں خشک موحدین کی طرح حد سے زیادہ غلو تھا۔ مگر اب میں نے کوشش کی ہے کہ اس ناجائز غلو کو کچھ گھٹا دیا جائے۔ چنانچہ میرے خیال میں وہ کسی قدر گھٹ بھی گیا ہے۔ میرے گھر کے لوگوں نے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے (یعنی آپ کے گھر والوں نے) لدھیانہ میں کسی تقریب سے یہ ذکر کیا تھا کہ اب تک تو مولوی صاحب (حکیم نور الدین صاحب) کا حنفیوں کا طریق معلوم ہوتا ہے۔ مگر میں ڈرتی ہوں کہ کہیں وہابی نہ ہوں۔ اور اب تک تو میں نے وہابیوں کی بات ان میں کوئی دیکھی نہیں۔ انہوں نے اس کے جواب میں مناسب نہ سمجھا کہ اپنی رائے ظاہر کریں۔ (یہاں سے مرزائی جامع اوراق نے کچھ

صفحہ 273

عبارت حذف کر دی ہے۔ راقم) چونکہ عورتوں کی باتیں عورتوں کے دلوں پر بڑا اثر ڈالتی ہیں اس لیے آپ کے گھر کے لوگوں کی بشیر کی والدہ سے ملاقات منتج حسنات ہوسکتی ہے۔ (ایضاً ص ۲۹) گو مکتوبات احمدیہ کے جامع نے الہامی صاحب کے ان الفاظ کو جو ساری چٹھی کی جان تھے حذف کر کے ان کی جگہ نقطے دے دیئے ہیں لیکن یقین ہے کہ مجدد صاحب نے حکیم صاحب کو لکھا تھا کہ تم مصلحۃً اپنے تئیں حنفی ظاہر کرو۔ میرے اس خیال کی تائید صاحبزادہ بشیر احمد صاحب ایم اے کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ حافظ روشن علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کسی دینی ضرورت کے ماتحت حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نور الدین صاحب کو یہ لکھا کہ آپ یہ اعلان فرما دیں کہ میں حنفی المذہب ہوں حالانکہ آپ جانتے تھے کہ حضرت مولوی صاحب عقیدتاً اہل حدیث تھے۔ حضرت مولوی نور الدین صاحب نے اس کے جواب میں حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں ایک پوسٹ کارڈ ارسال کیا جس میں لکھا۔۔

بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بے خبر نبود ز راہ و رسم منزلہا

اور اس کے نیچے نور الدین حنفی کے الفاظ لکھ دیئے۔ (سیرۃ المہدی، جلد ۲، ص ۴۸) غرض غیر مقلد کو مقلد ظاہر کر کے افتخار احمد اور اس کی ماں کو راضی کر لیا گیا اور حکیم صاحب اُن کی لڑکی کو بیاہ لائے۔ واقعی چودھویں صدی کی مجددیت کو یہی دیانت اور صداقت زیب دیتی تھی۔

باب ۴۶

چند سوالوں کے جوابات کا مطالبہ

میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ مرزا صاحب پہلے تو بڑے طمطراق سے دشمن کو للکارتے تھے اور پہلوانوں کی طرح باقاعدہ خم ٹھونک کر اور اکھاڑے میں اتر کر ھل من مبارز (کوئی مقابلہ پر آئے گا؟) کے نعرے لگاتے تھے لیکن جب وہ دو ہاتھ کرنے کو سچ مچ سامنے آموجود ہوتا تو پھر حیلے حوالے کرنے لگتے اور پیچیدہ اور ناقابل قبول شرطیں پیش کر کے راہ گریز

صفحہ 274

اختیار فرماتے تھے۔ جن ایام میں مجدد صاحب آسمانی فرزند (بشیر اول) کا ڈاکٹری علاج کرانے کے لیے بٹالہ آئے ہوئے تھے ان دنوں بھی انہوں نے ایک ایسی ہی حرکت کی تھی۔ تفصیل کے لیے تبلیغ رسالت جلد اول صفحات ۱۰۳- ۱۱۱ ملاحظہ فرمائیے۔ الہامی صاحب نے ۲۴؍ مئی ۱۸۸۸ء کو بٹالہ میں جو اشتہار چھپوا کر شائع کیا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ”فتح مسیح عیسائی واعظ نے دعویٰ کیا تھا کہ مجھے بھی الہام ہوتا ہے اور میں بھی پیش از وقوع الہامی پیش گوئیاں بالمقابل بتلا سکتا ہوں۔ چنانچہ اس دعویٰ کے پرکھنے کے لیے ۲۱؍ مئی ۱۸۸۸ء کو اس عاجز کے فرودگاہ پر ایک جلسہ قرار پایا۔ دس بجے کے بعد میاں فتح مسیح چند دوسرے عیسائیوں کے ساتھ جلسہ میں تشریف لائے اور بجائے اس کے کہ پیشگوئیاں پیش کرتے دوسری باتیں جو سراسر واہیات اور خارج از مقصد تھیں شروع کر دیں۔ اب اس اشتہار کے جاری کرنے سے یہ غرض ہے کہ اگر کوئی معزز یورپین عیسائی صاحب ملہم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوں تو انہیں ہماری طرف سے اجازت ہے کہ بمقام بٹالہ جہاں ہم آخر رمضان تک رہیں گے کوئی جلسہ مقرر کر کے ہمارے مقابل اپنی الہامی پیشگوئیاں پیش کریں نیز اس اشتہار میں پادری وائٹ بریکٹ صاحب جو اس علاقہ کے ایک معزز یورپین پادری ہیں‘ ہمارے بالتخصیص مخاطب ہیں۔ اور ہم پادری صاحب کو یہ بھی اجازت دیتے ہیں کہ اگر وہ صاف طور پر جلسہ عام میں اقرار کر دیں کہ یہ الہامی طاقت عیسائی گروہ سے مسلوب ہے تو ہم ان سے کوئی پیشگوئی بالمقابل طلب نہیں کریں گے بلکہ حسب درخواست ان کی ایک جلسہ میں صرف اپنی طرف سے ایسی الہامی پیش گوئیاں پیش از وقوع پیش کریں گے‘ جن کی نسبت ان کو کسی طور کا شک و شبہ کرنے کی گنجائش نہیں ہوگی۔ اور اگر ہماری طرف سے اس جلسہ میں کوئی ایسی قطعی و یقینی پیش گوئی پیش نہ ہوئی جو عام ہندوؤں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کی نظر میں انسانی طاقتوں سے بالاتر متصور ہو تو ہم اسی جلسہ میں دو سو روپیہ نقد پادری صاحب موصوف کو بطور ہرجانہ یا تاوان تکلیف دہی کے دے دیں گے اور اگر پادری صاحب اقرار کریں کہ اگر اس پیش گوئی کا مضمون صحیح اور سچا نکلا تو میں بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا۔ اور اگر پیشگوئی کا مضمون صحیح نہ نکلا تو پادری صاحب کو دو سو روپیہ دیا جائے گا۔

یورپین پادری نے تو مرزا صاحب کو ناقابل التفات سمجھ کر اس چیلنج کا کچھ جواب نہ دیا۔ البتہ پادری فتح مسیح نے ۷؍ جون ۱۸۸۸ء کے ”نور افشاں“ لدھیانہ میں جو عیسائیوں کا

صفحہ 275

ماہوار رسالہ تھا اس کے جواب میں لکھا کہ ہم تحقیق الہامات کے لیے اس طور پر جلسہ کر سکتے ہیں کہ چار سوال بند کاغذ میں حاضرین جلسہ میں سے کسی کے ہاتھ میں دے دیں گے۔ مرزا صاحب اسی جلسہ میں بیان کریں کہ وہ کیا کیا سوالات ہیں۔ اور مرزا صاحب منظور کریں تو ہمیں انعقاد جلسہ میں کوئی عذر نہیں ہے“۔ ظاہر ہے کہ ایک خانہ ساز ملہم کے لیے یہ ایک بڑا بے ڈھب امتحان تھا، جس سے عہدہ برآ ہونے کی کوئی صورت نہ تھی۔ اس لیے مرزا صاحب نے حیلے حوالوں کے ہتھیار جن سے وہ ہر وقت مسلح رہتے تھے چلانے شروع کئے اور پادری کے سامنے ایسی شرطیں پیش کیں جو ”نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی“ کا مصداق تھیں۔ مرزا صاحب نے اپنے اشتہار میں لکھا کہ پادری فتح مسیح تو کسی طرح قابل خطاب ہی نہیں۔ البتہ اگر یورپین وائٹ برسٹنٹ میرے مقابلہ پر آئیں تو میں مندرجہ ذیل شرائط پر بند سوالات کے جواب دینے پر آمادہ ہوں۔

دیں۔

ہفتہ کی میعاد رہے گی۔

اقرار کریں کہ اگر دس ہفتہ کے اندر لفافہ کا مضمون بتلا دیا جائے گا تو وہ بلا توقف دین مسیحی سے بیزار ہو کر مسلمان ہو جائیں گے۔

ظاہر ہے کہ ان شرائط کے بعد کسی مزید گفتگو کی امید موہوم تھی۔ اس واسطے معاملہ یہیں تک پہنچ کر رہ گیا۔ ظاہر ہے کہ جو یورپین پادری مرزا صاحب کو منہ ہی لگانا نہیں چاہتا تھا اس سے بھلا کہاں امید ہو سکتی تھی کہ ان کی اشتہار بازی سے مرعوب ہو کر انہیں قابل خطاب سمجھنے لگتا۔ شملہ سے بٹالہ واپس آنا، ہزار روپیہ جمع کرانا اور جلسہ عام منعقد کرا کر حلف اٹھانا جو ان کے مذہب میں ممنوع ہے۔ پھر اپنے سوالات پیش کرنا اور ان کے جوابات کے لیے دس ہفتہ تک بٹالہ میں پڑا رہنا اور مرزا صاحب کو موقع دینا کہ کسی سازش کے ذریعہ سے بند لفافہ کے مضمون پر اطلاع پا سکیں۔

صفحہ 276

باب ۴۷

مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے انتقال کی پیشین گوئی

مرزا صاحب نے اپنی پیشین گوئیوں کو بھی اپنے صدق و کذب کا معیار ٹھہرایا تھا۔ چنانچہ ایک اشتہار میں لکھا تھا۔ ”بد خیال لوگوں کو واضح ہو کہ ہمارا صدق و کذب جانچنے کے لیے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا“۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، صفحہ ۱۱۸) اس بنا پر حق تعالیٰ کی قدرت قاہرہ نے مرزا صاحب کی سینکڑوں ہزاروں پیشین گوئیوں میں سے کبھی ایک پیشین گوئی کو بھی پورا نہ ہونے دیا۔ گو عجب نہیں کہ بعض ایسی پیشین گوئیاں پوری ہو گئی ہوں کہ قرائن حالیہ ان کے ظہور کے مؤید تھے۔ لیکن میں ایسی خبروں کو پیشین گوئیوں کے دائرہ حدود سے خارج سمجھتا ہوں کیونکہ شواہد و قرائن کی موجودگی میں تو زید عمرو بکر ہر شخص پیشین گوئی کر سکتا ہے۔ مثلاً راج پال جس نے ۱۹۲۸ء میں غازی علم دین شہید کے ہاتھوں لاہور میں زندگی کی رسوائی سے نجات پائی تھی اس کے قتل کی نہ صرف خاکسار راقم الحروف نے بلکہ بہت سے دوسرے لوگوں نے بھی پیشین گوئی کر رکھی تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی۔ البتہ مرزا احمد بیگ کے انتقال کی پیشین گوئی ایسی ہے جس کے متعلق مرزائیوں کا دعویٰ ہے کہ پوری ہو گئی اور اس پر وہ بہت کچھ اترایا کرتے ہیں۔ اس لیے اس کے متعلق کچھ عرض کرنا ضروری ہوا۔ پیشین گوئی کے الفاظ یہ تھے۔ ”اس لڑکی کا والد (مرزا احمد بیگ) ایک ضروری کام کے لیے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ نام بردہ (مرزا احمد بیگ) کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نامی کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا اور مفقود الخبر ہے۔ اس کی زمین جس کا حق (انگریزی قانون کی رو سے) ہمیں بھی پہنچتا ہے نامبردہ (مرزا احمد بیگ) کی ہمشیرہ کے نام کے کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی۔ اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپور میں جاری ہے نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار پانچ ہزار روپے قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے

صفحہ 277

نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں۔ چنانچہ ان کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔ چونکہ (انگریزی قانون کی رو سے) وہ ہبہ نامہ بغیر ہماری رضامندی کے بیکار تھا۔ اس لیے مکتوب الیہ (مرزا احمد بیگ) نے بتمام تر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا تاکہ ہم راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے لیکن یہ خیال آیا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے کہ جناب الہی میں استخارہ کر لینا چاہیے۔ وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا۔ جس کو خدائے تعالٰی نے اس پیرائے میں ظاہر کر دیا۔ اس خدا قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (مرزا احمد بیگ) کی دختر کلاں (محمدی بیگم) کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا۔ اور یہ نکاح تمہارے لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے۔ جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہے لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا۔ اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لیے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لیے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالٰی نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی دختر کلاں کو ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔ اس بارہ میں یہ الہام ہوا ہے۔ ”انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے سو خدائے تعالٰی ان سب کے تدارک کے لیے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہو گا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ گو اول میں احمق اور نادان لوگ بدباطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں لیکن آخر خدائے تعالٰی کی مدد کو دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی۔“

(تبلیغ رسالت جلد اول ص ۱۱۵- ۱۱۷)

ساتوں پیشین گوئیاں جھوٹی نکلیں

صفحہ 278

الہامی صاحب کا یہ بیان سات پیشین گوئیوں پر مشتمل ہے۔

کے چھ مہینے بعد دنیا سے گزر جائے گا۔

جائے گی۔

ان کی مدافعت کر کے مرزا صاحب کی مدد کرے گا۔

ظاہر ہے کہ ان سات پیشین گوئیوں میں سے مرزا صاحب کی کوئی بات بھی پوری نہیں ہوئی۔ یہ صحیح ہے کہ مرزا احمد بیگ نے پیشین گوئی کے چھ مہینہ بعد انتقال کیا لیکن اگر اس حادثہ مرگ میں مرزا صاحب کی پیشین گوئی کو کوئی دخل ہوتا تو مرزا احمد بیگ کو اپنے داماد کے بعد انتقال کرنا چاہیے تھا۔ حالانکہ محمدی بیگم کا شوہر سلطان محمد آج تک زندہ موجود ہے۔

داماد اور خسر کے مرنے کی ترتیب کو بدل دیا

محمدی بیگم سے شادی ہونے کا اولین تذکرہ ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار کے حاشیہ پر پایا جاتا ہے۔ (دیکھو تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ ص ۱۱) مرزا صاحب نے اس کے قریباً ڈھائی سال بعد اس پیشین گوئی کی تفصیل ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء کے اس اشتہار میں درج کی جو اوپر قلم بند ہوا یعنی وہ اعلان جو سات جھوٹی پیشین گوئیوں پر مشتمل ہے۔ ان دونوں اشتہاروں میں مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت کا تذکرہ پہلے تھا جس کی مدت ڈھائی سال بتائی تھی۔ اس کے بعد مرزا احمد بیگ کی وفات کا ذکر تھا جس کی میعاد تین سال تھی۔ یہ ترتیب صاف

صفحہ 279

بتا رہی ہے کہ پہلے داماد کو مرنا تھا اور اس کے بعد خسر کے رخت سفر باندھنے کی تیاری تھی لیکن جب قضائے کردگار سے ۱۸۹۳ء کے اواخر میں مرزا احمد بیگ کا انتقال ہو گیا تو مرزا صاحب نے اس کے بعد کتاب ”شہادۃ القرآن“ میں جو ۲۲؍ دسمبر ۱۸۹۳ء کو شائع ہوئی داماد اور خسر کے مرنے کی ترتیب کو بدل دیا۔ یعنی مرزا احمد بیگ کی وفات کو اول اور مرزا سلطان محمد کے انتقال کو دوسرے درجہ پر کیا تاکہ لوگ سابقہ الہاموں کی اس ترتیب کو بھول جائیں، جن میں داماد کے مرنے کو مقدم اور خسر کی موت کو موخر رکھا تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب کی ہوشیاری ملاحظہ ہو لکھتے ہیں۔ ”وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں کہ

فوت ہو“۔ (شہادۃ القرآن مولفہ مرزا غلام احمد صاحب صفحہ ۸۱) حالانکہ پہلے الہاموں اور اعلانوں کی رو سے داماد کو پہلے رخصت ہونا چاہیے تھا۔ اور اگر ارباب قادیاں کے پاس خاطر سے مرزا صاحب کی قائم کی ہوئی ترتیب کا لحاظ نہ رکھا جائے تو بھی پیشین گوئی سچی نہیں سمجھی جا سکتی کیونکہ پانچ سات باتوں میں سے ایک آدھ بات تو اوباشوں اور بازاری لفنگوں کی بھی پوری ہو جاتی ہے۔ رمال اور جوتشی بھی بہت سی باتیں بتا جایا کرتے ہیں۔ ان میں سے کوئی نہ کوئی ضرور پوری ہو جاتی ہے۔ اور ہر شخص اسے اتفاقی واقعہ سمجھتا ہے۔

احمد بیگ کی موت کا آخری مصیبت ہونا

علاوہ ازیں حسب تصریح الہامی صاحب مرزا احمد بیگ کو سلطان محمد کی زندگی میں نہیں مرنا چاہیے تھا کیونکہ الہامی صاحب نے صاف لکھ دیا تھا کہ احمد بیگ کی موت گھر والوں کی آخری مصیبت ہو گی۔ چنانچہ مرزا صاحب نے ”آئینہ کمالات“ کے صفحہ ۵۷۳ پر ایک عربی الہام لکھا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ”خدا نے مجھے وحی کی کہ احمد بیگ سے اس کی بڑی لڑکی کے لیے بات چیت کرو اور اس سے یہ بھی کہہ دے کہ اگر تو نے اس پیغام کو ٹھکرا دیا تو اس لڑکی کا دوسری جگہ نکاح کرنا نہ تو لڑکی کے لیے بابرکت ہو گا اور نہ تمہارے لیے اور

صفحہ 280

اگر تو اس سے متنبہ نہ ہوا تو تجھ پر بہت سی مصیبتیں نازل ہوں گی۔ جن میں سب سے آخری مصیبت تیری موت ہوگی"۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ سلطان محمد سے محمدی بیگم کی شادی ہو جانے کے بعد خاندان کے سلسلہ مصائب کی آخری کڑی مرزا احمد بیگ کی موت ہوگی حالانکہ خسر داماد سے پہلے طعمہ اجل ہوگیا۔ اس لیے پیشین گوئی کا یہ جز بھی پورا نہ ہوا۔

باب ۲۸

مرزا سلطان محمد کے ہلاک ہونے کی پیشین گوئی

الہامی صاحب نے ۱۰؍ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں لکھا تھا کہ اگر احمد بیگ نے اپنی لڑکی کی شادی کر دینے سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہوگا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے ڈھائی سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر میں تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۶) اس اعلان کے بموجب چاہیے تھا کہ مرزا سلطان محمد متوطن پٹی ضلع لاہور (جس سے لڑکی منسوب تھی) اور اس کے دوسرے خویش و اقارب خوف زدہ ہو کر منگنی چھڑا لیتے لیکن وہ مطلق ہراساں نہ ہوئے اور یقین کر لیا کہ حضرت قادیانی ریش دراز اور تقدس مآبی کی آڑ میں شکار کھیلنا چاہتے ہیں۔ جب پہلا اشتہار ان پر کسی طرح اثر انداز نہ ہوا تو الہامی صاحب نے مزید تہدید آمیز اشتہارات شائع کئے اور خطوط میں طرح طرح کی دھمکیاں دیں تاکہ کسی طرح منگنی سے دست بردار ہو جائیں۔ ایک خط میں لکھا کہ تم اس تعلق کو قطع کر دو۔ تمہاری دوسری جگہ شادی کرا دی جائے گی۔ تمہاری جوانی پر مجھے رحم آتا ہے۔ تم اس ارادہ سے باز آ جاؤ۔ اس کے بزرگوں کو بھی خطوط بھیج بھیج کر ڈرایا ، دھمکایا۔ مگر وہ لوگ دل کے مضبوط تھے۔ ان پر ان دھمکیوں کا کوئی اثر نہ ہوا"۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۱۸۶) مرزا صاحب نے اپنے چار ہزاری اشتہار میں جو رسالہ "انوار الاسلام" کے ساتھ منضم ہے، صفحہ ۴ پر لکھا۔ "احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس

صفحہ 281

کی پروا نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے‘ ان سے کچھ نہ ڈرا‘ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزاء میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیشین گوئی کو سن کر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے“۔

مرزا صاحب کو ”سراج الاخبار“ کا مشورہ کہ ابھی سے کوئی تاویل گھڑ لو

مرزا صاحب نے سلطان محمد کی میعاد حیات یوم شادی سے ڈھائی سال بتائی تھی۔ شادی ۷ اپریل ۱۸۹۲ء کو ہوئی۔ اس حساب سے مرزا سلطان محمد کی زیست کا آخری دن ۷ اکتوبر ۱۸۹۴ء تھا لیکن لطف یہ کہ مرزا سلطان محمد آج ۴ ستمبر ۱۹۳۸ء تک زندہ سلامت موجود ہیں یعنی اپنی موت کے بعد چوالیس سال سے زبردستی گلشن دنیا کی سیر کر رہے ہیں اور عالم آخرت میں جانے کا نام نہیں لیتے۔ مرزائی لوگ عام طور پر معجزہ احیاء موتیٰ کے قائل نہیں۔ حالانکہ ان کے سامنے مردہ زندہ ہونے کی ایک زندہ مثال موجود ہے۔ جب ڈپٹی آتھم نصرانی کے متعلق الہامی صاحب کی پیشین گوئی غلط نکلی اور انہوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ پادری عبداللہ نے دل میں رجوع کر لیا ہے تو اس عذر گناہ بدتر از گناہ کے متعلق جریدہ ”سراج الاخبار“ جہلم نے لکھا۔ ”مرزا صاحب کو چاہیے کہ مرزا احمد بیگ کے داماد کی پیشین گوئی کی نسبت بھی ابھی سے کوئی تاویل سوچنا شروع کر دیں کیونکہ اس کی میعاد کے اختتام میں صرف چند روز رہ گئے ہیں اور وہ نوجوان اس وقت راولپنڈی میں دندنا رہا ہے“۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ ص ۴۱) لیکن ”سراج الاخبار“ کو شاید یہ معلوم نہ تھا کہ قادیاں شریف میں اختتام میعاد کے وقت کسی سوچ بچار کی ضرورت نہ تھی بلکہ مرزائی ٹکسال میں ہر قول اور ہر پیشین گوئی کی تاویل اسی وقت تیار کر لی جاتی تھی جبکہ مرزا صاحب کا مخیلہ دماغ کسی پیشین گوئی کو تجویز کرتا یا ٹیلی پیتھی کی کسی اطلاع کے بموجب کسی پیشین گوئی کے اعلان کا قصد کیا جاتا۔

الہامی صاحب کی معتاد سخن سازیاں

جب مرزا سلطان محمد کی ہلاکت کی ڈھائی سالہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی تو ۷ یا ۸ اکتوبر

صفحہ 282

۱۸۹۴ء کو تماش بین چاروں طرف سے امڈ آئے اور مرزا صاحب کے اردگرد تاویل کاری کا تماشہ دیکھنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ مرزا صاحب نے اپنے کیسۂ تاویل میں سے یک عدد تاویلی چھچھوندر نکال کر باہر چھوڑ دی۔ لوگ اس کو دیکھ کر عش عش کر گئے کہ کیسی بدیع و دلفریب چھچھوندر ہے۔ آپ بھی اس چھچھوندر کی دل آویزی اور حسن و جمال کی داد دیجئے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ”احمد بیگ کا داماد جو ڈھائی سال کے اندر فوت نہ ہوا تو اس کی یہی وجہ تھی جو اس عبرت انگیز واقعہ کے بعد جو احمد بیگ اس کے خسر کی وفات تھی ایک شدید خوف اور حزن اس کے دل پر وارد ہوگیا اور نہ صرف اس کے دل پر بلکہ اس کے تمام متعلقین کو اس خوف و حزن نے گھیر لیا۔ ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ احمد بیگ کے مرنے کے بعد اس کے داماد کا کیا حال ہوا ہو گا گویا وہ جیتا ہی مر گیا ہو گا۔ چنانچہ اس کے بزرگوں کی طرف سے دو خط ہمیں بھی پہنچے جو ایک حکیم صاحب باشندہ لاہور (جس کا دنیا میں کہیں وجود نہ تھا۔ راقم) کے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے جن میں انہوں نے اپنے توبہ و استغفار کا حال لکھا ہے۔ سو ان تمام قرائن کو دیکھ کر ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ تاریخ وفات سلطان محمد قائم نہیں رہ سکتی“۔ (تبلیغ رسالت، جلد ۳، ص ۱۱۴) اب ذرا احمدیہ پاکٹ بک کے مولف کا بیان سنو۔ لکھتا ہے۔ ”جب احمد بیگ میعاد مقررہ میں ہلاک ہوگیا تو سلطان محمد پر خوف طاری ہوا۔ اس نے حضرت مسیح موعود کو دعا کے لیے خطوط لکھے اور نہایت تضرع و ابتہال سے جناب باری میں دعا کی تو خدا تعالیٰ غفور رحیم نے سلطان محمد کی زاری کو سنا، عذاب ہٹا لیا“۔ (احمدیہ پاکٹ بک، ص ۴۳۲۔ ۴۳۳) لیکن سوال یہ ہے کہ جب محمدی بیگم کی شادی کے چھ مہینے بعد مرزا احمد بیگ نے دار آخرت کی راہ لی اور مرزا سلطان محمد پر خوف و ہراس طاری ہوا تو الہامی صاحب نے اسی وقت کیوں اعلان نہ کر دیا کہ سلطان محمد نے توبہ کر لی ہے اس لیے اس کی موت کا حکم منسوخ ہوگیا ہے؟ مرزا صاحب اس کے بعد دو سال تک خاموش کیوں بیٹھے رہے۔ اور اس سے پیشتر کہ مرزا سلطان محمد کی موت کا انتظار کرتے کرتے ڈھائی سال کی مدت معہود گزار دی۔ انہوں نے پیشین گوئی کے فسخ کا کیوں اعلان نہ کر دیا؟ جب ایسا نہ کیا تو بعد از وقت ملمع سازی کرنا ”مشتے کے بعد از جنگ یاد آید“ کا مصداق ہے۔ اس سے قطع نظر آگے چل کر آپ کو معلوم ہو گا کہ الہامی صاحب نے سلطان محمد کی موت کو اٹل بتایا البتہ ڈھائی سال کی مدت میں توسیع کر دی۔ رہا یہ کہ سلطان محمد نے

صفحہ 283

مرزا جی کو خط لکھے، بالکل سفید جھوٹ اور محض افسانہ طرازی ہے۔

مرزا سلطان محمد کا بیان کہ میں ہرگز نہیں ڈرا

جب مولوی محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی نے مرزا صاحب کی یہ تحریر پڑھی کہ مرزا سلطان محمد ڈر گیا اس لیے اس کی موت ملتوی ہوگئی تو انہوں نے اس بیان کی تنقیح کا قصد کیا۔ اس وقت مرزا سلطان محمد راولپنڈی میں سرکاری فوج کے رسالہ میں ملازم تھے۔ مولوی محمد حسین مرحوم نے اپنے ایک دوست منشی محمد سعید نقشہ نویس کو خط لکھا کہ مرزا سلطان محمد سے مل کر ان سے اس کے متعلق دریافت کریں۔ منشی محمد سعید رسالہ میں جا کر ان سے ملے اور ڈرنے کے متعلق ان کے خیالات معلوم کئے۔ انہوں نے ڈر جانے کے دعوے کی صداقت سے انکار کیا اور یہ تحریر لکھ دی۔ ”میں مرزا غلام احمد کو جھوٹا اور دروغ گو جانتا تھا اور جانتا ہوں اور میں مسلمان آدمی ہوں۔ خدا کا ہر وقت شکرگزار ہوں“۔

(سلطان محمد بیگ۔ بقلم خود) (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ ص ۱۹۱) رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ نے مرزا سلطان محمد کا یہ بیان قادیاں کے مسیح صاحب کے عین حیات یعنی اواخر ۱۸۹۴ء میں شائع کیا تھا لیکن مسیح صاحب نے اس کی کوئی تردید شائع نہ کی۔ اس کے بعد بھی مرزا غلام احمد صاحب چودہ سال تک اس عبرت کدہ عالم میں موجود رہے لیکن سلطان محمد بیگ کے اس بیان کی تردید کی کبھی جرات نہ ہوئی۔ ۳؍ مارچ ۱۹۳۲ء کو مرزا سلطان محمد کی مندرجہ ذیل چٹھی جریدہ ”اہل حدیث“ امرتسر میں چھپی تھی: ”جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں“۔ (سلطان محمد بیگ) ۳؍ مارچ ۱۹۳۲ء

اس چٹھی کی تصدیق مندرجہ ذیل پانچ گواہوں نے کی۔ (۱) مولوی عبداللہ امام مسجد مبارک پٹی ضلع لاہور۔ (۲) مولوی مولا بخش خطیب جامع مسجد پٹی۔ (۳) مولوی عبدالمجید ساکن پٹی۔ (۴) مستری محمد حسین نقشہ نویس پٹی۔ (۵) مولوی احمد اللہ صاحب‘ امرتسری۔ (”اہل حدیث“ مورخہ ۴؍ مارچ ۱۹۳۲ء) مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ”اہل حدیث“ میں اعلان کیا تھا کہ جو مرزائی اس چٹھی کو غیر صحیح ثابت کر دے

صفحہ 284

اسے وہی تین سو روپیہ انعام دیا جائے گا جو میں نے لدھیانہ میں میر قاسم علی مرزائی سے جیتا تھا۔ اس اعلان پر تمام مرزائی دم بخود رہ گئے اور کسی کو جرات نہ ہوئی کہ اس کے خلاف لب کشائی یا خامہ فرسائی کرتا۔ (محمدیہ پاکٹ بک، ص ۴۸۹)

خوف اور توبہ کا اقتضاء طلاق دینا تھا

یہ حقیقت قابل توجہ ہے کہ مرزا سلطان محمد کے خوف اور توبہ کا مرزائی افسانہ اسی حالت میں قابل التفات ہو سکتا ہے جب کہ مرزا سلطان محمد صاحب اپنی بیوی کو طلاق دے کر مسیح صاحب کے لیے عقد نکاح کا راستہ صاف کر دیتے اور مرزا صاحب کے الہام ”بستر عیش“ کی عملی تصدیق کرتے جو انہیں ۵ر دسمبر ۱۹۰۳ء کو ہوا تھا۔ (البشریٰ جلد‘ ۲ ص ۸۸) کیونکہ قادیاں کی بارگاہ معلیٰ کی طرف سے جو فرد قرار داد جرم مرزا سلطان محمد کے خلاف عاید کی گئی وہ یہی تھی کہ انہوں نے محمدی بیگم کی منگنی چھوڑ کر مرزا احمد بیگ سے قطع تعلق منظور نہ کیا تھا۔ چنانچہ خود مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”سلطان محمد اور اس کے اقارب اس لیے مجرم ٹھہر گئے کہ انہوں نے یہ گناہ کیا کہ ان کو ہم نے بار بار بوساطت بعض مخلصوں اور نیز خطوط کے ذریعہ سے بہت کھول کر سنا دیا تھا کہ یہ پیش گوئی ایک قوم سرکش کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ تم ان کے ساتھ مل کر ویسے ہی مستوجب عذاب مت بنو۔ مگر چونکہ وہ بھی سخت دل اور دنیا پرست تھے اس لیے انہوں نے نہ مانا اور اسی طرح ٹھٹھا اور ہنسی کی اور اپنی بے باکی سے اس رشتہ سے دست کش نہ ہوئے“۔ (تبلیغ رسالت، جلد ۳، ص ۱۱۲) اور توبہ کی حقیقت خود مرزا صاحب نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ ”اگر وہ شخص اس تاخیر عذاب کی وجوہِ کلی اپنے سر پر سے اٹھا لیوے مثلاً اگر کافر ہے تو سچ مچ مسلمان ہو جائے اور اگر ایک جرم کا مرتکب ہے تو سچ مچ اس جرم سے دست بردار ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے ظل امان میں آ جاتا ہے“۔ (ایضاً ص ۱۱۹) پس جس صورت میں کہ مرزا سلطان محمد صاحب اپنے جرم سے دست بردار نہ ہوئے اور محمدی بیگم مرزا صاحب کو تفویض نہ کی تو ان کی توبہ اور خوف و خشیتہ محض ابلہ فریبی ہے۔ اور اگر بفرض محال مرزا سلطان محمد ڈر بھی جاتے اور وہ خدانخواستہ اپنی اہلیہ محترمہ کو طلاق بھی دے دیتے تو کچھ مفید نہ ہوتا۔ کیونکہ حسب بیان مسیح قادیاں مرزا سلطان محمد کی موت تقدیر مبرم تھی۔ چنانچہ

صفحہ 285

عنقریب لکھا جائے گا۔ الہامی صاحب نے ۶؍ اکتوبر ۱۸۹۳ء کے اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا کہ سلطان محمد کے بزرگوں کی طرف سے دو خط ہمیں بھی پہنچے جو ایک حکیم صاحب باشندہ مانجھ پور کے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے جن میں انہوں نے اپنے توبہ و استغفار کا حال لکھا ہے"۔ لیکن یہ بیان قطعاً غلط اور من گھڑت ہے۔ اگر الہامی صاحب اس بیان میں سچے تھے تو انہوں نے اس حکیم کا نام اور پتہ کیوں نہ لکھا اور وہ خطوط کیوں شائع نہ کئے؟ اگر مرزا صاحب کے پاس واقعی اس قسم کے کوئی خط آئے ہوتے تو وہ اپنی عادت مستمرہ کے بموجب ہنگامہ محشر برپا کر دیتے اور بڑے طمطراق سے ان کو اپنی صفائی میں پیش کرتے لیکن جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو صاف ظاہر ہے کہ یہ داستان محض مرزا صاحب کا دماغی اختراع ہے۔ چنانچہ جب مسیح صاحب نے لکھا کہ سلطان محمد کے بزرگوں نے اعتراف قصور کیا ہے تو مولوی محمد حسین بٹالوی نے اس کے جواب میں لکھا کہ مرزا سلطان محمد بیگ نے اپنی اس تحریر میں جو ہماری طرف روانہ کی ہے اس سے بھی انکار کیا ہے کہ ان کے کسی رشتہ دار نے کوئی خط متضمن بہ توبہ و استغفار مرزا غلام احمد کے نام بھیجا ہو"۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ ص ۱۹۲) جب مولوی محمد حسین صاحب کا یہ تردیدی بیان شائع ہوا تو اگر اس وقت کچھ مرزا صاحب کے ہاتھ پلے ہوتا تو ضرور پٹی والوں کے خطوط شائع کر دیتے لیکن مرزا صاحب نے اپنی عافیت اسی میں دیکھی کہ تکلم پر سکوت کو ترجیح دیں۔

باب ۴۹

مرزا سلطان محمد کی مدت حیات میں کرم گسترانہ توسیع

جب پیش گوئی کی ڈھائی سالہ میعاد گزر گئی اور مرزا سلطان محمد کو نصیب اعدا کسی قسم کا کوئی چشم زخم نہ پہنچا تو مرزا صاحب نے ضروری سخن سازی اور تاویل کاری سے فراغت پانے کے بعد مرزا سلطان محمد کی جوانی پر رحم کھا کر بلا تعین وقت ان کی زندگی میں بدیں شرط توسیع فرما دی کہ وہ مرزا صاحب کی زندگی ہی میں دنیا کو الوداع کہہ دیں تاکہ ان کی منکوحہ اور وہ محبت کے مروجہ رسوم کے ساتھ ایک دوسرے سے وابستہ ہو سکیں۔ چنانچہ مرزا

صفحہ 286

صاحب فرماتے ہیں۔ ”پیش گوئی کا دوسرا حصہ جو اس کے داماد کی موت ہے وہ الہامی شرط کی وجہ سے دوسرے وقت پر جا پڑا اور داماد اس کا الہامی شرط سے اسی طرح متمتع ہوا جیسا کہ آتھم ہوا۔ کیونکہ آتھم کی موت کے بعد اس کے وارثوں میں سخت مصیبت برپا ہوئی۔ سو ضرور تھا کہ وہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتے۔ پس اس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور ان کے توبہ اور رجوع کے باعث سے اس وقت فوت نہ ہوا۔ (البتہ آئندہ کسی سال ضرور فوت ہو گا) مگر یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں۔ خدا کا وعدہ ہرگز ٹل نہیں سکتا“۔ (ضمیمہ انجام آتھم مولفہ مرزا غلام احمد صاحب۔ صفحہ ۱۳)

تقدیر مبرم اور مرزائی صدق و کذب کا معیار

الہامی صاحب نے مرزا سلطان محمد کی زندگی میں جو توسیع فرمائی تو اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ الہامی صاحب کے رخت سفر باندھنے کے بعد بھی دنیا میں موجود رہتے بلکہ حکم یہ تھا کہ وہ مرزا صاحب کی زندگی ہی میں توسن حیات کی باگ ملک آخرت کی طرف پھیر کر اپنی منکوحہ کو مرزا صاحب کے قبضہ و تصرف میں دے جائیں۔ چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آ جائے گی“۔ (ایضا ص ۴۱) اسی طرح فرمایا ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جزو (سلطان محمد کی موت) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ نہ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار ہے۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتی ہیں“۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ ص ۵۴)

مرزا جی کے الہامی خدا کی لغوبیانیاں

الہامی صاحب نے ۱۰۔ جولائی ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں لکھا تھا کہ ”اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی (محمدی بیگم) کا انجام نہایت ہی برا ہو گا۔ اور جس کسی دوسرے شخص سے

صفحہ 287

بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے ڈھائی سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی"۔ (تبلیغ رسالت، جلد اول، ص ۱۱۶) لیکن آگے چل کر واقعات نے دکھا دیا کہ مرزا جی کے حامی خدا کی تمام باتیں سراسر لغو و بے بنیاد تھیں۔ اور یہ بھی شاید مسیلمہ کذاب کی طرح قادیانی مسیح کا معجزہ تھا کہ جو کچھ انہوں نے اپنے رقیب اور اس کی دلہن کے مستقبل کے متعلق بتایا تھا سراسر اس کے برعکس ظہور میں آیا۔ محمدی بیگم نے شادی کے بعد مدت العمر وہ آسودگی اور فارغ البالی دیکھی کہ جس کی نظیر بہت کم گھرانوں میں پائی جاتی ہے۔ آج سے قریباً آٹھ سال پیشتر سید محمد شریف صاحب ساکن گھڑیالہ ضلع لاہور کے استفسارات کے جواب میں مرزا سلطان محمد نے سید صاحب کے نام مندرجہ ذیل پیغام بھیجا۔

"مکرم بندہ جناب شاہ صاحب! السلام علیکم میں تادم تحریر تندرست اور بفضل خدا زندہ ہوں۔ خدا کے فضل سے ملازمت کے وقت بھی تندرست رہا ہوں۔ میں اس وقت بعہدہ رسالداری پنشن پر ہوں۔ ایک سو پینتیس ۱۳۵ روپے ماہوار پنشن ملتی ہے۔ گورنمنٹ کی طرف سے پانچ مربع اراضی عطا ہوئی ہے۔ قصبہ پٹی میں میری جدی زمین بھی میرے حصہ میں قریباً سو بیگھہ آئی ہے۔ ضلع شیخوپورہ میں بھی میری تین مربع زمین ہے۔ میرے چھ لڑکے ہیں، جن میں سے ایک لاہور میں پڑھتا ہے۔ حکومت کی طرف سے اس کو پچیس روپے ماہوار وظیفہ ملتا ہے۔ دوسرا لڑکا پٹی میں انٹرنس میں تعلیم پاتا ہے۔ میں خدا کے فضل سے اہل سنت والجماعت ہوں۔ میں احمدی مذہب کو برا سمجھتا ہوں، میں اس کا پیرو نہیں ہوں، اس کا دین جھوٹا سمجھتا ہوں"۔ والسلام (سلطان محمد بیگ پنشنر۔ پٹی ضلع لاہور)۔

(اخبار "اہل حدیث" امرتسر، مورخہ ۱۴؍ نومبر ۱۹۳۰ء)

باب ۵۰

مرزا محمود احمد صاحب کے تولد کی پیشین گوئی

مرزا صاحب کا معمول تھا کہ جب محترمہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ حاملہ ہوتیں تو کتب

صفحہ 288

طب کی ورق گردانی شروع کر دیتے اور علامات حمل کے پیش نظر طبی نقطہ نگاہ سے معلوم کرنے کی کوشش فرماتے کہ حمل لڑکے کا ہے یا لڑکی کا؟ اگر آثار و علامات اس بات پر دلالت کرتے کہ حمل لڑکے کا ہے تو مہینوں کے غور و خوض کے بعد حمل کے چھٹے یا ساتویں مہینے پیشین گوئی فرما دیتے کہ میرے یہاں لڑکا متولد ہوگا۔ چونکہ اس پیشین گوئی کے وقت لڑکے کا نام بھی تجویز کرلیتے تھے اس لیے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا کرتے کہ اس کا نام یہ ہوگا۔ اس کے بعد اگر حسب مراد لڑکا پیدا ہوتا تو اس پر اتراتے اور اس پیشین گوئی کو اپنے معجزات کی فہرست میں درج کر لیتے۔ قادیانی مجدد کے یہاں دوسری بیوی کے بطن سے جتنے لڑکے بھی متولد ہوئے ان کی پیدائش کی پیشین گوئیاں یہی حیثیت رکھتی ہیں۔ گو بعض اوقات پیشین گوئی کے خلاف لڑکے کی جگہ لڑکی بھی پیدا ہو جاتی تھی۔ تاہم ہر ایک کی ولادت کی اطلاع مرزا صاحب کا ایک ”نشان یا معجزہ“ تھا۔ چنانچہ خود لکھتے ہیں۔ ”پھر ایک اور نشان یہ ہے کہ جو یہ تین لڑکے جو موجود ہیں ہر ایک کے پیدا ہونے سے پہلے اس کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ چنانچہ محمود جو بڑا لڑکا ہے اس کی پیدائش کی نسبت اس سبز اشتہار میں صریح پیش گوئی مع محمود کے نام کے موجود ہے‘ جو پہلے لڑکے کی وفات کے بارے میں شائع کیا گیا تھا‘ جو رسالہ کی طرح کئی ورقوں کا اشتہار سبز رنگ کے ورقوں پر ہے اور بشیر جو درمیانی لڑکا ہے‘ اس کی خبر ایک سفید اشتہار میں موجود ہے جو سبز اشتہار کے تین سال بعد شائع کیا گیا تھا۔ اور شریف جو سب سے چھوٹا لڑکا ہے‘ اس کے تولد کی نسبت پیش گوئی ”ضیاء الحق“ اور ”انوار الاسلام“ میں موجود ہے۔ اب دیکھو کہ کیا یہ خدائے عالم الغیب کا نشان نہیں ہے کہ ہر ایک بشارت کے وقت میں قبل از وقت وہ بشارت دیتا رہا؟“ (ضمیمہ انجام آتھم‘ صفحہ ۱۵) مرزا محمود احمد صاحب ۱۵؍ جنوری ۱۸۸۹ء کو پیدا ہوئے۔ (دیکھو مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۳‘ ص ۹۳) اس سے ٹھیک چھ مہینے پہلے مرزا صاحب نے اپنے ایک اشتہار میں جو ۵؍ جولائی ۱۸۸۸ء کو شائع کیا تھا لکھا کہ ”خدائے تعالیٰ نے ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدت تک وعدہ دیا ہے جس کا نام محمود احمد ہوگا اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا“۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد اول‘ صفحہ ۱۲۰) جب کبھی اس قسم کی پیشین گوئی پوری ہوتی تو الہامی صاحب کو پروپیگنڈا کرنے اور اپنے ”معجزات“ کا سکہ بٹھانے کی ایک اچھی دستاویز ہاتھ آ جاتی تھی۔ چونکہ مداری کا سارا مدار پروپیگنڈا بازی پر تھا اس لیے الہامی

صفحہ 289

صاحب اس قسم کے حربے کو صرف ایک آدھ دفعہ استعمال نہیں فرماتے تھے بلکہ اس سے بار بار کام لیتے تھے۔ مثلاً اسی مرزا محمود کی ولادت کی پیشین گوئی ہی کو لیجئے۔ ۱۵؍ مارچ ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں بھی اس پر فخر و مباہات کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”پانچویں پیشین گوئی میں نے اپنے لڑکے محمود کی پیدائش کی نسبت کی تھی کہ وہ اب پیدا ہوگا اور اس کا نام محمود رکھا جائے گا۔ اور اس پیش گوئی کی اشاعت کے لیے سبز سرورق کے اشتہار شائع کئے گئے تھے۔ جو اب تک موجود ہیں اور ہزاروں آدمیوں میں تقسیم ہوئے تھے۔ چنانچہ وہ لڑکا پیش گوئی کی میعاد میں پیدا ہوا اور اب نویں سال میں ہے“۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۶‘ ص ۶۰) اسی طرح دوسری کتابوں اور اشتہاروں میں بھی یہی پیشین گوئی درج کر کے کوس انا ولا غیری بجایا ہے۔

باب ۵۱

اخذ بیعت کا عام اعلان

حضرت ”مجدد“ صاحب گرگٹ کی طرح ہر موسم میں رنگ بدلتے رہتے تھے۔ شروع شروع میں تو عرصہ تک بیعت کو لغو اور بے معنی چیز بتاتے رہے۔ چنانچہ صاحبزادہ بشیر احمد صاحب ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں کہ ”جب کبھی بیعت اور پیری اور مریدی کا تذکرہ ہوتا مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو خود سعی و محنت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا مولوی محبوب علی صاحب اس سے کشیدہ ہو جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی“۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۲۵۳) اس کے بعد الہامی صاحب نے خود اس شجرۂ ممنوعہ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور انفرادی حیثیت سے لوگوں سے بیعت لینے لگے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ دور آیا جبکہ قادیانی صاحب نے لوگوں کو اپنی بیعت کی عام دعوت دی۔ مرزا صاحب نے اس قسم کی عام بیعت پہلی مرتبہ ۲۳؍ مارچ ۱۸۸۹ء مطابق ۲۰؍ رجب ۱۳۰۶ھ کو لدھیانہ میں لی۔ دعوت بیعت کے متعلق مرزا صاحب نے اشتہار بھی چھپوا لئے۔ (ایضاً ص ۶۳) ۱۸۸۹ء میں الہامی صاحب شیخ

صفحہ 290

مہر علی رئیس ہوشیار پور کے لڑکے کی تقریب شادی میں ہوشیار پور گئے۔ اور اپنے ساتھ بیعت کے بہت سے اشتہار لیتے گئے۔ انہی دنوں ہوشیار پور میں مولوی محمود شاہ ہزاروی کا وعظ تھا جو پنجابی زبان کے نہایت شیریں مقال واعظ تھے۔ خطبہ جمعہ سے پیشتر مرزا جی نے مولوی محمود شاہ کو اپنی بیعت کا اشتہار دیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ دوران وعظ میں میرا یہ اشتہار بیعت پڑھ کر لوگوں کو سنا دیں۔ انہوں نے یہ اشتہار اپنے وعظ میں تو پڑھ کر نہ سنایا البتہ جب اکثر لوگ منتشر ہو گئے تو اس وقت موجودہ حاضرین کو پڑھ کر سنایا۔ صاحبزادہ بشیر احمد لکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کو اس سے بہت رنج ہوا اور فرمایا۔ ”ہم اس کے وعدے کے خیال سے ہی اس کے لیکچر میں آئے تھے کہ ہماری تبلیغ ہوگی ورنہ ہمیں کیا ضرورت تھی“۔ (ایضاً) اس کے کچھ دنوں بعد جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو لدھیانہ میں از سر نو اخذ بیعت کی طرح ڈالی۔ سب سے پہلے حکیم نور الدین نے بیعت کی تھی۔

(ایضاً ص ۱۴)

باب ۵۲

علی گڑھ کا سفر اور اپنی عجز بیانی پر پردہ ڈالنے کی کوشش

۱۸۸۹ء میں الہامی صاحب علی گڑھ گئے۔ میر عباس علی لدھیانوی اور شیخ حامد علی ساتھ تھے۔ سید تفضل حسین سپرنٹنڈنٹ دفتر ضلع کے مکان پر ٹھہرے۔ ایک تحصیل دار نے دعوت کی۔ کھانے کے لیے میزیں لگائی گئیں۔ لوگ کرسیوں پر بیٹھ کر میزوں کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ جابجا کانچ کے گلاسوں میں گلدستے رکھے ہوئے تھے۔ میر صاحب نے شاہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے اکابر کو دیکھا ہوا تھا اور جانتے تھے کہ اہل اللہ سنت نبویؐ کے اتباع میں کس طرح بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔ جب کھانا شروع ہوا تو میر عباس علی نے جو اس وقت تک مرزا صاحب کو بڑا دین دار اور باخدا بزرگ سمجھے بیٹھے تھے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا بلکہ خاموش بیٹھے رہے۔ قادیانی صاحب نے کہا میر صاحب! آپ کیوں نہیں کھاتے؟ انہوں نے کہا حضرت! یہ طریقہ سنت کے خلاف ہے اور نصاریٰ کے طریقے

صفحہ 291

کی پیروی ہے۔ مرزا صاحب نے کہا اس میں کچھ قباحت نہیں۔ میر صاحب نے کہا میرا جی نہیں مانتا۔ مرزا صاحب نے فرمایا میر صاحب آخر ہم جو کھاتے ہیں۔ میر صاحب نے کہا آپ شوق سے کھائیے میں تو نہیں کھاتا۔ غرض میر صاحب نے کچھ نہ کھایا۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۶۴) اور شاید یہ پہلا دن تھا جب کہ میر صاحب کے دل سے مرزا صاحب کی بزرگی کا اعتقاد اٹھ گیا۔

وعدہ خلافی اور الہام کی حیلہ گیری

چونکہ مرزا صاحب اپنی بے پناہ اشتہار بازی کے بدولت آسمان شہرت پر چمک رہے تھے، مسلمانان علی گڑھ کو شوق ہوا کہ صداقت اسلام پر ان کی تقریر سنیں۔ مرزا صاحب سے درخواست کی گئی اور انہوں نے منظور کر لی۔ اس منظوری کے بعد لیکچر کا اعلان عام کر دیا گیا۔ جب تیاری مکمل ہو گئی تو الہامی صاحب سید تفضل حسین سے فرمانے لگے کہ ”مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ میں لیکچر نہ دوں“۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب بھلے برے کاغذی گھوڑے تو دوڑا لیتے تھے لیکن تقریر و بیان کے جوہر سے عاری تھے۔ اور ان کا معمول تھا کہ گھر میں اطمینان سے بیٹھ کر کتابوں کی مدد سے لیکچر لکھ لیتے اور اپنی طرف سے کسی کو کھڑا کر کے پڑھوا دیا کرتے تھے۔ لیکن اس موقع پر معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے اچانک فرمائش کر دی ہو گی اور الہامی صاحب نے اس چیز کو ذہن نشین رکھے بغیر کہ کتابیں جن کی مدد سے مضمون تیار کیا جاتا ہے سفر میں ناپید ہیں وعدہ کر لیا۔ لیکن اس کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا تو امتناعی الہام کا حیلہ کر کے چھٹکارا حاصل کرنا چاہا۔ اور اگر ایسا نہ کرتے تو خطرہ تھا کہ جب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ قوت بیان سے عاری ہیں تو بنی بنائی عزت خاک میں مل جائے گی۔ سید تفضل حسین جو اس وقت تک قادیانی صاحب سے بہت کچھ حسن عقیدت رکھتے تھے عرض پیرا ہوئے ”حضور! اب تو سب کچھ ہو چکا ہے اس لیے اگر آپ انکار کریں گے تو بڑی ذلت ہو گی“۔ مرزا صاحب نے فرمایا ”خواہ کچھ ہو ہم تو خدا کے حکم کے مطابق کریں گے“۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں نے بھی باصرار تمام کہا کہ آپ ضرور تقریر کریں۔ لیکن ایک نہ سنی اور کہا کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ غرض لیکچر نہ دیا اور قریباً ایک ہفتہ علی گڑھ میں قیام فرما کر لدھیانہ کو

صفحہ 292

مراجعت فرما ہوئے۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ ص ۶۵)

انتقامی جذبہ

جب علی گڑھ میں مرزائی تقریر کے متعلق لوگوں کی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں تو مولوی اسماعیل صاحب علی گڑھی کے کسی ملاقاتی ڈاکٹر جمال الدین کے منہ سے نکل گیا کہ مرزا صاحب علمی قابلیت سے محروم ہیں۔ اور اپنی عجز بیانی اور خوف امتحانی کی وجہ سے تقریر سے انکار کر دیا ہے۔ یہ سن کر مجدد صاحب ”مار دم بریدہ“ کی طرح پیچ و تاب کھانے لگے اور اس کا غصہ مولوی اسماعیل صاحب کو ہدف دشنام بنا کر اتارا۔ اس کے تھوڑے دنوں بعد جب مرزا صاحب نے رسالہ ”فتح اسلام“ تالیف کیا تو اس میں مولوی صاحب کے خلاف ان الفاظ میں دریدہ دہنی اور زہرپاشی کی۔ ”رہی یہ بات کہ آپ کی عالمانہ عظمت اور ہیبت سے میں ڈر گیا ہوں‘ تو اس کے جواب میں‘ آپ یقیناً سمجھیں کہ جو لوگ تاریکی اور نفسانی ظلمتوں میں مبتلا ہیں۔ اگر وہ دنیا کے تمام فلسفہ اور طبعی کے جامع بھی ہوں تب بھی میری نگاہ میں ایک مرے ہوئے کیڑے سے ان کی زیادہ وقعت نہیں۔ مگر آپ اس مرتبہ علم کے آدمی بھی نہیں۔ صرف پرانے خیال کے ایک خشک ملاّ ہیں اور وہی کمینگی جو تاریک خیال ملاّؤں میں ہوا کرتی ہے آپ کے اندر موجود ہے اور آپ کو یاد رہے کہ اکثر میرے پاس ایسے محقق اور جامع فنون اور معلومات وسیع رکھنے والے آتے اور اسرار و معارف سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں کہ اگر میں ان کے مقابل پر آپ کو طفل مکتب بھی کہوں تو اس قدر کلمہ سے بھی آپ کو وہ عزت دوں گا جس کے آپ مستحق نہیں“۔ (رسالہ ”فتح اسلام“ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۱۷)

بیٹے کو باپ کی علمی بے بضاعتی کا اعتراف

الہامی صاحب کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ایم اے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ظاہری کسبی علوم کے لحاظ سے کوئی بڑے عالموں میں سے نہ تھے اور نہ علم مناظرہ میں آپ کو کوئی خاص دسترس تھی۔ بلکہ شروع شروع میں تو آپ

صفحہ 293

پبلک جلسوں میں کھڑے ہو کر تقریر کرنے سے بھی گھبراتے تھے اور طبیعت میں حجاب تھا۔ مگر جب آپ کو خدا نے اس مقام پر کھڑا کیا تو آپ کے اندر وہ قابلیت پیدا ہو گئی کہ آپ کے ایک ایک وار سے دشمن کی کئی کئی صفیں کٹ کر گر جاتی تھیں۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۱۱۸) اس تحریر میں میاں بشیر احمد صاحب نے یہ حقیقت تو تسلیم کر لی کہ ان کے والد محترم قوت بیان و تقریر سے محروم اور علمی استعداد میں کورے تھے۔ اس کے ساتھ ہی میاں بشیر احمد اس کے بھی مدعی ہیں کہ کچھ عرصہ کے بعد ان کے والد میں ایسی غیر معمولی استعداد ودیعت کی گئی کہ ان کے ایک ایک وار سے دشمن کی کئی کئی صفیں کٹ کر گر جاتی تھیں۔ ”لیکن میاں بشیر احمد صاحب نے اس مضحکہ خیز منطق کی کوئی دلیل پیش نہیں کی اور اگر کوئی دلیل پیش کی ہے تو یہ واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک ہندوستانی سخن طراز مولوی قادیاں آیا (پنجاب میں اضلاع متحدہ آگرہ و اودھ کے باشندوں کو ہندوستانی کہتے ہیں۔ راقم) اور حضرت مسیح موعود کے پاس حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میں ایک جماعت کی طرف سے نمائندہ ہو کر آپ کے دعویٰ کی تحقیق کرنے آیا ہوں۔ پھر اس نے اختلافی مسائل کے متعلق گفتگو شروع کی۔ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود نے کچھ تقریر فرمائی۔ وہ آپ کی بات کو کاٹ کر کہنے لگا کہ آپ کو مسیح اور مہدی ہونے کا دعویٰ ہے لیکن آپ تو الفاظ کا تلفظ بھی اچھی طرح ادا نہیں کر سکتے۔ یہ سن کر مولوی عبد اللطیف کابلی نے (جو بعد کو بجرم ارتداد کابل میں سنگسار ہوا۔ راقم) جھگڑنا شروع کر دیا۔ (ایضاً، جلد ۲، ص ۵۲) میاں بشیر احمد نے یہ واقعہ اس زمانہ کا لکھا ہے جبکہ ان کے والد امجد بقول ان کے اس مقام پر کھڑے کئے جا چکے تھے۔ یعنی مہدی مسیح وغیرہ سب کچھ بن چکے تھے۔

باب ۵۳

دعوائے مماثلت مسیحؑ کی لغویت

الہامی صاحب نے تقدس کی دکان کو فروغ بخشنے کے لیے اپنے دعوؤں اور تعلیموں کا جو سلسلہ عمل ابتدا میں تیار کیا تھا اس میں نبوت یا مسیحیت کی کوئی کڑی نہ تھی۔ یہی وجہ ہے

صفحہ 294

کہ ”براہین“ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور آمد ثانی کا اقرار کیا اور اپنے لیے مثیل مسیح ہونے کا منصب ہی کافی سمجھا۔ مرزا جی نے ”براہین“ میں اپنے مثیل مسیح ہونے کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا تھا۔ ”اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی مشابہ واقع ہوئی ہیں۔ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدے اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا۔ اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ اگر وہ حامد ہیں تو یہ احمد ہے اور اگر وہ محمود ہیں تو یہ احمد ہے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لیے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتدا سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے“۔

(براہین ص ۴۹۸)

مولوی محمد حسین بٹالوی کا تبصرہ

مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی نے دعوائے مماثلت کے متعلق مرزا صاحب کو ۱۱ مارچ ۱۸۹۱ء کی چٹھی میں لکھا کہ آپ کا یہ فرمانا کہ طبیعت اکثر دفعہ ناگہانی طور پر ایسی علیل ہو جاتی ہے کہ موت سامنے نظر آتی ہے اور آپ کئی سال سے اسی حالت میں مبتلا ہیں۔ آپ کی یہ حالت آپ کے دعوائے مثیل مسیح کو توڑ رہی ہے۔ مثیل اور ممثل ہونے کے لیے ہمہ وجوہ اور پوری مشابہت کا ہونا شرط ہے اور آپ خود ”براہین“ کے صفحہ ۴۹۹ میں اس مشابہت تامہ کے مدعی ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ حال تھا کہ وہ باذن اللہ مردوں کو زندہ کرتے ۔ مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو اچھا کرتے تھے۔ آپ کیسے مثیل مسیح ہیں کہ اپنے آپ کو بھی اچھا نہیں کر سکتے۔ آپ کے مرید اور آپ خود اسی مزعومہ مشابہت تامہ کے پیش نظر آپ کی شان میں اشعار ذیل لکھ چکے ہیں۔؎

صفحہ 295
سب مریضوں کی ہے تمہیں پہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لیے
کیونکہ ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا
حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب خوبیوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا

مگر اپنا حال دیکھ کر آپ کو اور آپ کے مریضوں (یا مردوں) کو اب یہ مصرع پڑھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ع مژدہ باد اے مرگ! عیسیٰ آپ ہی بیمار ہے۔ میرے عزیز دوست! پہلے آپ اپنے لیے مسیح بنیں اور خود صحت حاصل کریں۔ پھر دوسرے بیماروں کے لیے مسیح ہونے کا دعویٰ کریں اور اگر آپ اس کے جواب میں کہیں کہ میں صرف روحانی مسیح ہوں۔ روحانی امراض کا علاج کرنے آیا ہوں۔ لہٰذا میرا خود بیمار رہنا دعوائے مسیحائی کے منافی نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس صورت میں آپ کو چاہیے تھا کہ مشابہ مسیح کہلاتے مثیل ہونے کا دعویٰ نہ کرتے۔ حالانکہ آپ فی الحقیقت مثیل مسیح ہونے کی کوشش میں آسمانی نشان دکھانے کے بھی مدعی ہیں۔ ایسی حالت میں آپ یہی آسمانی نشان کیوں نہیں دکھاتے کہ خود بیمار نہ ہوں اور صحت و توانائی حاصل کر کے اس ایک کام کو ہی پورا کریں جو آپ کے ذمے مسلمانوں کا قرض چلا آتا ہے یعنی ”براہین احمدیہ“ کا اتمام اور رسالہ جات ”سراج منیر“ وغیرہ کی اشاعت جن کے عوض میں آپ مسلمانوں سے ہزارہا روپیہ وصول کر چکے ہیں۔ یہ آسمانی نشان دکھانا آپ کے اختیار میں نہیں ہے تو آپ آسمانی نشان دکھلانے کے دعویٰ سے دست بردار ہو جائیں اور مثیل مسیح ہونے کے دعویٰ کی غلطی کا اعلان کر دیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے کسی خاص امر میں مشابہت ہے تو صرف شبیہ یا مشابہ کہلائیے اور قرآن مجید اور محاورات عرب کی طرف رجوع فرما کر غور کیجئے کہ مماثلت کے لیے مشابہت تامہ کا پایا جانا شرط ہے۔

(”اشاعۃ السنہ“ جلد ۱۲‘ ص ۳۷۳)

مماثلت کن امور میں ثابت کرنی چاہیے تھی؟

الہامی صاحب نے ”براہین“ میں جو وجوہ مماثلت لکھے ہیں وہ نہایت لغو ہیں۔ مشابہت و مماثلت تو ایسی صاف اور بین ہونی چاہیے جس میں کسی کو چون و چرا کی گنجائش نہ رہے اور احمق سے احمق انسان بھی پہچان کر معاً تسلیم کرے۔ چنانچہ خود مرزا صاحب ”ایام الصلح“ میں لکھتے ہیں۔ ”مماثلت کیونکر اور کس صورت سے ثابت ہو۔ مماثلت تو امور

صفحہ 296

بدیہیہ اور محسوسہ اور مشہودہ میں ہونی چاہیے تاکہ لوگ اس کو یقینی طور پر شناخت کر کے اس سے شخص مثیل کو شناخت کریں۔ کیا اگر آج ایک شخص مثیل موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے اور مماثلت یہ پیش کرے کہ میں روحانی طور پر قوم کا منجی ہوں اور نجات دینے کی کوئی محسوس اور مشہود علامت نہ دکھلاوے‘ تو کیا عیسائی صاحبان اس کو قبول کرلیں گے کہ در حقیقت یہی مثیل موسیٰ ہے (ایام الصلح‘ ص ۵۸) اگر مرزا صاحب اس دعویٰ میں سچے تھے تو ان کو چاہیے تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے مندرجہ ذیل بدیہی خصوصیات میں اپنی مماثلت ثابت کرتے۔

ص ۱۸۸- ۱۸۹)

۳۱) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی ظاہری اولاد نہیں تھی (الفضل ۱۹؍ مارچ ۱۹۲۵ء‘ صفحہ ۶) دنیوی رشتوں کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی آل نہیں تھی (تریاق القلوب‘ ص ۹۹)

پر چڑھائے گئے۔ (تحفہ گولڑویہ‘ طبع ثانی‘ ص ۲۰۱)

قادیانی صاحب کس مسیح کے مماثل تھے؟

لیکن ہم اپنے مرزائی دوستوں کی خاطر سے تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ قادیانی صاحب مثیل مسیح تھے تاہم یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ وہ کس مسیح کے مثیل تھے؟ ظاہر ہے کہ وہ اس مسیح کے تو مثیل نہیں ہو سکتے۔ جس کے متعلق انہوں نے لکھا کہ ”آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں (فاحشہ عورتوں)

صفحہ 297

سے میلان اور محبت بھی شاید اس کی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا آدمی کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم، مولفہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۷) ہاں آپ (مسیح) کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا۔ اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کے یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ (ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ ۵) کیا تمہیں خبر نہیں کہ مردی اور رجولیت انسان کے صفات محمودہ میں سے ہے۔ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں ہے جیسے بہرا اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفات سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے بچے اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دکھا سکے۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۳، صفحہ ۲۸) اب مرزائی بتائیں کہ کیا ان کے مسیح موعود صاحب اسی مسیح کے مثیل تھے جن کی دادیاں اور نانیاں (نعوذ باللہ) زناکار تھیں اور کسبی عورتیں ان کے سر پر پلید عطر ملتی تھیں۔ اور انہیں کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی اور مردانہ صفت کی اعلیٰ ترین صفات سے بے نصیب تھے؟

باب ۵۴

مسیحؑ کے صلیب دیئے جانے میں

یہود و نصاریٰ کی ہمنوائی

یہود اور نصاریٰ کا بیان ہے کہ یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا اور

صفحہ 298

قتل کیا تھا لیکن خدائے ذوالجلال نے اپنے کلام پاک میں یہود و نصاریٰ کے اس زعم باطل کی تردید کی اور فرمایا۔ وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم (اور نہ یہود نے مسیح کو قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو اشتباہ ہو گیا) لیکن اس ارشاد ربانی کے خلاف قادیاں کے خانہ ساز مسیح موعود کا یہ دعویٰ تھا کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے۔ چنانچہ رسالہ ”نزول المسیح“ میں لکھتے ہیں کہ ”حضرت مسیح بروز جمعہ بوقت عصر صلیب پر چڑھائے گئے۔ جب وہ چند گھنٹہ کی تکلیف اٹھا کر بے ہوش ہو گئے اور خیال کیا گیا کہ مر گئے، تو یک دفعہ سخت آندھی اٹھی (نزول المسیح، ص ۱۸) اور ”ازالہ“ میں لکھا۔ ”مسیح کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور طمانچے کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب دیکھا۔ تب یہودیوں نے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا اور ہاتھوں اور پیروں پر میخیں ٹھونکیں (ازالہ اوہام، طبع پنجم، ص ۱۵۸- ۱۵۹) قادیانی صاحب ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو طعمہ اجل ہوئے تھے۔ مرنے سے ایک دن پہلے انہوں نے احمدیہ بلڈنگ لاہور میں اپنی امت کو یہ مسیحیت نواز پیغام پہنچایا”۔ تم خود غور کر کے دیکھ لو کہ دو ایسی مخالف قوموں کا جو ایک دوسرے کی سخت دشمن اور خون کی پیاسی ہیں اتفاق کسی ایسے امر میں بے معنی نہیں ہو سکتا۔ دیکھو یہود اور عیسائی دونوں اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح صلیب دیا گیا۔ پس صلیبی واقعہ کا ہم کیونکر انکار کر سکتے ہیں۔ تواتر سے جو بات ثابت ہو۔ اس کو ضرور ماننا پڑتا ہے۔ (بدر قادیاں ۲؍ جون ۱۹۰۸ء، صفحہ ۷)

مسیح قادیاں مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کے آہنی چنگل میں

لاہور میں یہ خبر آناً فاناً مشہور ہو گئی کہ قادیاں کے خانہ ساز مسیح نے حسب مصداق كل شي يرجع الى اصلہ حضرت مسیح علیہ السلام کی مصلوبیت کا نصرانی عقیدہ علیٰ رؤس الاشهاد تسلیم کر لیا ہے۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب میر سیالکوٹی ان دنوں لاہور آئے ہوئے تھے۔ ان ایام میں مولوی صاحب کی رگوں میں حمیت اسلامی کے ساتھ جوانی کا خون جوش مار رہا تھا۔ یہ اطلاع سن کر ضبط نہ کر سکے۔ اور سیدھے قادیانی صاحب کے قیام گاہ (واقع احمدیہ بلڈنگ لاہور) میں پہنچ کر پورے اسلامی جلال کے ساتھ باز پرس شروع کر دی۔ خود ساختہ موعود نے بہتیرے جتن کیے کہ کسی طرح یہ بلا ٹل جائے۔ لیکن مولوی صاحب کی

صفحہ 299

گرفت بہت سخت تھی، کسی طرح نجات نہ ملی۔ مولوی محمد ابراہیم صاحب نے یہ دریافت کیا تھا کہ کلام الٰہی کی اس آیت کے کیا معنی ہیں۔ واذ کففت بنی اسرائیل عنک (اے عیسیٰ ابن مریم اس احسان کو بھی یاد کیجئے کہ میں نے بنی اسرائیل کو آپ پر قابو نہ پانے دیا) مولوی صاحب نے فرمایا کہ اگر یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گرفتار کر کے تازیانے لگائے، طمانچے مارے اور ہر ممکن سے ممکن رسوائی کے بعد آپ کو سولی پر چڑھایا اور آپ کے ہاتھوں اور پیروں پر میخیں ٹھونکی گئیں تو خدائے ودود کا یہ احسان کیا معنی رکھتا ہے۔" اس سوال پر قادیانی صاحب کا ناطقہ بند ہو گیا اور بجز دفع الوقتی کے چارہ کار نہ دیکھ کر کہا کہ اس اعتراض کا کل جواب دیا جائے گا۔ لیکن خوش قسمتی سے دوسرے دن راہی ملک عدم ہو کر جواب کی تلخ ذمہ داری سے از خود مخلصی حاصل کر لی۔

قادیانی نے نصب صلیب کو کسر صلیب سے تعبیر کیا

مرزا جی کو اپنی صلیب شکنی کا بڑا گھمنڈ تھا۔ اس صلیب شکنی کے متعلق لاہور کے ایک مسیحی رسالہ ”تجلی“ نے کیا خوب لکھا کہ ”دینی تحقیقات کے لحاظ سے دو باتیں ہیں جن کا تعلق اسلام کے ساتھ ہے اور وہ مرزا جی کی طرف منسوب ہو گئیں۔ ایک مسیح کا واقعی صلیب دیا جانا جس کا تذکرہ انجیل میں وضاحت سے آیا ہے۔ مرزا جی نے قرآن کی آیت ما صلبوہ (صلیب نہیں دی گئی) کی مزیدار تاویل کی اور اس کو صلبوہ (صلیب دی گئی) قرار دے کر بڑے زور شور سے اس کی حمایت کی اور اسی پر اپنے تمام باطل دعووں کی بنیاد رکھی۔ مرزا جی نے مسیح کے صلیب دیئے جانے کے عقیدہ کو اس درجہ تسلیم کیا کہ ما صلبوہ سے قطعی انکار کر کے اس کی ایسی تاویل کی کہ جس سے مائے نافیہ حرف زاید بن گیا۔ یہ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان بہت بڑا اختلاف چلا آتا تھا۔ مرزا جی نے نادانستہ عیسائیوں کی حمایت میں اپنی ساری قوت تاویل صرف کر دی اور لطف یہ کہ وہی بات جسے عیسائی صلیب کا قائم کرنا سمجھتے ہیں۔ مرزا جی نے اس کا نام کسر صلیب رکھ دیا اور مرنے سے ایک دن پہلے تک برابر اسی کے نصب و قیام میں مصروف رہے۔ لیکن ناظرین یہ خیال نہ کرنا کہ اس میں مرزا جی کی کوئی جدت تھی بلکہ یہ لفظ بہ لفظ وہی تحقیقات تھی جو سرسید مرحوم اپنی تفسیر میں بیان کر چکے تھے اور اس میں قادیانی احمد نیچری احمد کا شاگرد

صفحہ 300

پوشیدہ تھا"۔ (تجلی لاہور)

قادیانی صاحب کے صلیبی عقیدہ پر اہل صلیب کا ہدیہ تشکر و امتنان

جب مرزا جی نے حضرت مسیح علیہ السلام کے مصلوب ہونے کے عقیدہ میں نصاریٰ کی ہمنوائی اختیار کی تو یہ بڑی ناسپاسی اور قدر ناشناسی تھی۔ اگر مسیحی حلقوں سے مرزا جی کے شکریہ میں کوئی صدا بلند نہ ہوتی۔ اہل صلیب نے اپنے صحیح احساس و وجدان کا ثبوت دیا اور لاہور کے مسیحی رسالہ تجلی کے ایک نامہ نگار نے لکھا "میں کہہ سکتا ہوں کہ مرزا صاحب نے مسلمانوں کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ مسلمانوں کو اپنے سنہری جال میں پھانس کر ہمیشہ خانہ دوستاں بروب و در دشمناں مکوب کے اصول پر کاربند رہے۔ ہاں عیسائیوں کو ان کی ذات سے بہت فائدہ پہنچا کہ انہوں نے مسیح کے مصلوب ہونے کو قرآن سے ثابت کر دکھایا۔ پس عیسائیوں پر جو نجات کے لیے مسیح کی صلیب کو ضروری خیال کرتے ہیں، واجب ہے کہ مرزا جی کی اس صلیبی خدمت پر ان کے مرہون احسان ہوں کیونکہ مرزا جی حقیقی معنوں میں صلیب کے زبردست حامی تھے اور انہوں نے عیسائیوں کے خلاف جو کچھ لکھا وہ دراصل ان کے ذاتی خیالات نہیں تھے بلکہ دہریوں کے اعتراضات کو اپنی طرف سے پیش کر دیا تھا۔ پس وہ اس صلیب کی خاطر ہے جسے انہوں نے فی الحقیقت نصب کیا نہ صرف مرزا صاحب کا قصور معاف کر سکتے ہیں بلکہ ہم اپنی طرف سے ان کی خدمت میں اس صلیب نوازی پر ہدیہ تشکر و امتنان پیش کرتے ہیں۔ اور ہماری رائے میں اظہار شکریہ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پنجاب کے عیسائی چندہ کر کے خاص قادیاں میں ایک صلیب نصب کر دیں"۔

اجماعی عقیدہ کے منکر پر قادیانی لعنت

حضرات! آپ نے دیکھا کہ کس طرح قادیاں کے الہامی صاحب نے اسلام کے اجماعی عقیدہ کو چھوڑ کر یہود و نصاریٰ کی متابعت اختیار کی۔ حالانکہ خود قادیانی صاحب نے اپنی کتابوں میں اسلام کے اجماعی عقیدہ کے چھوڑنے والے کو ملعون قرار دیا ہے، چنانچہ لکھتے ‘

صفحہ 301

ہیں ”گواہ رہو کہ میرا تمسک قرآن شریف ہے اور میں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہوں جو چشمہ حق و معرفت ہے اور تمام باتوں کو قبول کرتا ہوں جو خیر القرون میں باجماع صحابہ صحیح قرار پائی ہیں۔ نہ ان پر کوئی زیادتی کرتا ہوں‘ نہ ان میں کوئی کمی اور اسی اعتقاد پر زندہ رہوں گا اور اسی پر میرا خاتمہ اور انجام ہو گا اور جو شخص شریعت محمدی میں ذرہ بھر بھی کمی بیشی کرے‘ یا کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے‘ اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو۔ آمین۔ (انجام آتھم‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ ص ۱۴۳)

باب ۵۵

سرسید احمد خاں علی گڑھی کی شاگردی

میں کتاب ”ائمہ تلبیس“ میں ”مرزائیت کے ماخذ اور اصول مذہب“ کے عنوان سے لکھ آیا ہوں کہ مرزا غلام احمد نے یہود‘ نصاریٰ‘ آریہ دھرم‘ مشبہ‘ فلاسفہ‘ اہل نجوم‘ باطنی فرقہ‘ مہدویہ‘ بابیہ‘ بہائیہ اور نیچریہ کے کون کون سے اصول و عقاید اپنے مسلک میں داخل کئے؟ جن ملحدانہ مسائل میں الہامی صاحب نے نیچری مذہب کے بانی سرسید احمد خاں علی گڑھی کی شاگردی اختیار کی‘ ان میں ایک مسئلہ وفات مسیح علیہ السلام بھی ہے۔ سرسید ہی وہ بزرگ ہیں جنہوں نے ہندوستان میں سب سے پہلے وفات مسیح علیہ السلام کی رٹ لگائی تھی۔ جو حضرات اس کی تفصیل دیکھنا چاہیں‘ وہ ”ائمہ تلبیس“ (ص ۵۰۶- ۵۱۴) کا مطالعہ فرمائیں۔

”الفضل“ کا اعتراف

خود مرزائی جریدہ ”الفضل“ قادیاں کو اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ سب سے پہلے سر سید نے وفات مسیح کا اعلان کیا۔ چنانچہ ”الفضل“ نے ۲۰ مئی ۱۹۲۹ء کی اشاعت میں لکھا۔ ”بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود نے آکر کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے ان کی صداقت ثابت ہو سکے۔ جو کچھ انہوں نے کیا ہے‘ ان سے بہت پہلے سرسید وہی کچھ کر

صفحہ 302

گئے ہیں۔ اس لیے مرزا صاحب کے دعاوی کو قبول کرنے کی ہمیں کیا ضرورت ہے اور ہم کیوں کریں؟ اس کے متعلق میں صرف یہی کہوں گا کہ اگر ایسے لوگ آنکھیں، کان اور دل رکھتے تو اپنے لیے کبھی یہ فیصلہ نہ کرتے۔ سب سے بڑا مسئلہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے سرسید کی تقلید میں بیان کیا ہے، وہ وفات مسیح کا مسئلہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سب سے پہلے سرسید نے اس کا اعلان کیا اور بعد میں مرزا صاحب نے اسی کو پیش کر دیا۔ لیکن اگر غور و فکر سے کام لیا جائے تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ سرسید نے جس رنگ اور جس طرز سے اس مسئلہ کا اقرار کیا ہے، اس میں اور جس رنگ میں حضرت مسیح موعود نے اس کو صاف کیا ہے اس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

الفضل نے جو کچھ لکھا ہے، اس سے مجھے حرف بحرف اتفاق ہے۔ گو سرسید نے اپنے زور قلم سے مسیح علیہ السلام کو زمرۂ اموات میں داخل کیا لیکن ان سے یہ کوتاہی ہوئی کہ مسیح علیہ السلام کی جاں ستانی کے بعد آپ کو یوں ہی بے گور و کفن چھوڑے رکھا۔ آخر کئی سال کے بعد شاگرد نے عزم بالجزم کیا کہ جس کام کو استاد نے ادھورا چھوڑ دیا ہے، اس کی تکمیل کی جائے۔ چنانچہ قادیانی صاحب نے حضرت مسیح علیہ السلام کا مرقد تجویز کرنے کے لیے بھی جہاں گردی شروع کی۔ پہلے تو انہیں گلیل میں دفن کیا (ازالہ اوہام، طبع پنجم، ص ۴۷۹) پھر پونے تین سال کے بعد ان کی نعش اطہر کو وہاں سے نکال کر طرابلس کے حدود میں دفن کیا، چنانچہ لکھا کہ حضرت عیسیٰ کی قبر بلاد شام میں موجود ہے اور ہم زیادہ صفائی کے لیے اس جگہ حاشیہ میں اخویم محبی فی اللہ مولوی محمد السعیدی طرابلسی کی شہادت درج کرتے ہیں اور وہ طرابلس بلاد شام کے رہنے والے ہیں اور اسی کی حدود میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے اور اگر کہو کہ وہ قبر جعلی ہے تو اس جعل کا ثبوت دینا چاہیے اور ثابت کرنا چاہیے کہ کس وقت یہ جعل بنایا گیا ہے اور اس وقت دوسرے انبیاء کی قبروں کی نسبت بھی تسلی نہیں رہے گی اور ایمان اٹھ جائے گا اور کہنا پڑے گا کہ شاید وہ تمام قبریں جعلی ہی ہوں۔ (اتمام الحجۃ، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، ص ۱۸- ۱۹) حضرت مسیح علیہ السلام آٹھ سال تک طرابلس ہی میں مدفون رہے۔ آخر قادیانی صاحب نے ارادہ کیا کہ ان کے جسد اطہر کو طرابلس سے ہندوستان کے کسی مقام میں منتقل کر دیں۔ چنانچہ بہت کچھ غور و خوض کے بعد یہ رائے قرار پائی کہ اسے سری نگر (واقع ریاست کشمیر) لا کر یوز آسف

صفحہ 303

کی قبر میں سپرد خاک کر دیا جائے۔ چنانچہ یوز آسف کی قبر کھول کر اس کی بوسیدہ ہڈیاں باہر پھینک دی گئیں اور حضرت مسیح علیہ السلام یوز آسف کی خالی لحد میں لٹا دیئے گئے۔ جب قادیانی مسیح نے اس کام سے فراغت پائی تو ۱۲؍ جون ۱۹۰۲ء کو رسالہ الہدیٰ شائع کیا جس کے صفحہ ۱۰۹ پر لکھا کہ قطعی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ عیسیٰ نے ملک کشمیر کی طرف ہجرت کی۔ اس کے بعد اللہ نے آپ کو اپنے فضل سے نجات دی اور اس ملک میں بہت مدت تک بستے رہے، حتیٰ کہ مر گئے اور مردوں میں جا ملے اور آپ کی قبر شہر سری نگر میں اب تک موجود ہے۔

اس تفصیل کے بعد قارئین کرام بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ قادیانی صاحب نے جس رنگ میں مسئلہ وفات مسیح علیہ السلام کی گتھی کو سلجھایا، سرسید کا دماغ وہاں تک نہ پہنچ سکا تھا۔

مسیح قادیاں سے ایک نیچری کا مناظرہ

جریدہ الفضل قادیاں نے ۲۴؍ مئی ۱۹۱۶ء کی اشاعت میں لکھا کہ اگر بالفرض سرسید نے اسلام کی خدمت کی ہے تو پھر ہم کہتے ہیں کہ اس نے حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں کچھ نہیں کیا کیونکہ اس کی تمام کوشش اور سعی جو اس نے اپنے خیال میں اسلام کے متعلق کی، وہ اس کے ساتھ ہی اس کی قبر میں داخل ہو گئی۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس گفتگو کا ذکر کر دیا جائے جو ایک مرتبہ قادیاں کے خانہ ساز مسیح موعود سے کسی نیچری کی ہوئی تھی۔ چنانچہ قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرسید احمد خاں بہادر کے ایک مرید سے مرزا غلام احمد کی جھڑپ ہو گئی۔ دوران گفتگو میں قادیانی صاحب نے اپنی معتاد خودستائی سے کام لیتے ہوئے نیچری سے کہا کہ تمہارے پیرو مرشد سر سید احمد خان نے مدت العمر اسلام کی کیا خدمت انجام دی؟ کونسا اہم کام کر دکھایا؟ قوم مسلم کی کیا اصلاح کی؟ اس پیرو نے جواب دیا کہ سرسید نے یہ ایک نہایت یادگار کارنامہ انجام دیا کہ اپنی "تفسیر احمدی" میں مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کر کے آپ کی مسیحیت کے لیے راستہ صاف کر دیا۔ یہ ایسا احسان ہے جس کے بار سے آپ مدت العمر سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ مرزا صاحب لاجواب ہوگئے اور بغلیں جھانکنے کے سوا کوئی چارۂ کار نظر نہ

صفحہ 304

آیا۔ (”کلمہ فضل رحمانی“ صفحہ ۵۹) کہا جاتا ہے کہ قطب نما کا موجد اپنی ایجاد و اختراع سے مقامات کا رخ اور جہت معلوم کرنے کے سوا کوئی اور کام نہ لے سکا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد کسی اور شخص نے اس سے ہزارہا من بوجھ اٹھانے کا کام بھی لیا۔ اسی طرح سرسید احمد خان بہادر نے تو حضرت مسیح علیہ السلام کو زمرۂ اموات میں داخل کر کے صرف مغربیت زدہ ابنائے تعلیم جدید کی دلجمعی کی تھی لیکن رئیس قادیاں نے سرسید کی اس ایجاد سے بڑے بڑے کام لیے۔ اس بنیاد پر اپنی مسیحیت کی بلند عمارت کھڑی کی۔ اس کے ذریعہ سے لاکھوں روپیہ کمایا اور داد عیش و عشرت دی اور نہ صرف باپ دادے کے قرضے اتارے بلکہ اپنی اولاد کے لیے ایک ریاست قائم کر گئے۔

باب ۵۶

مولوی محمد حسین بٹالوی سے کشیدگی

میں پہلے لکھ آیا ہوں کہ قادیانی صاحب مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی کے بچپن کے دوست اور ہم سبق تھے کیونکہ جس زمانہ میں مرزا صاحب کے والد حکیم غلام مرتضیٰ صاحب بٹالہ میں مطب کرتے تھے، انہی دنوں مرزا غلام احمد بھی کئی سال بٹالہ میں باپ کے ساتھ رہ کر مولوی محمد حسین کی رفاقت میں تحصیل علم میں مصروف رہے۔ یہ ایک مسلم امر ہے کہ تقدس فروشی کی دکان کھولنے میں مولوی صاحب نے مرزا صاحب کی بڑی مدد کی تھی۔ گو مرزائیت کے فروغ دینے میں حکیم نور الدین کا اقتدار بھی بہت کچھ بروئے کار آیا لیکن اصل یہ ہے کہ اگر مولوی محمد حسین کا دست اعانت مرزا صاحب کی یاری نہ کرتا تو تقدس کا کاروبار حکیم نور الدین کی عون و نصرت کے باوجود بمشکل چل سکتا تھا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ان ایام میں اہل حدیث کی جماعت نے ہندوستان کے اندر نیا نیا جنم لیا تھا۔ یہ حضرات بعض اختلافی مسائل کی بنا پر حنفیوں سے بالکل منقطع ہو گئے تھے اور اس جماعت میں نیا نیا جوش اور ولولہ تھا۔ ان دنوں مولوی محمد حسین نے جو پنجاب کے علمائے اہل حدیث میں اعلم العلماء مانے جاتے تھے اور حکومت کی طرف سے بھی ”شمس العلماء“

صفحہ 305

کا خطاب ملا تھا ”اشاعت السنہ“ کے نام سے ایک ماہوار رسالہ جاری کر رکھا تھا جس میں مسلک اہل حدیث کی تائید کی جاتی تھی اور پرجوش و اولوالعزم اہل حدیث اس رسالہ کی سرپرستی کو اپنا فرض ایمانی سمجھتے تھے اور ہندوستان بھر میں بمشکل کوئی ایسا لکھا پڑھا اہل حدیث ہوگا جو اس رسالہ کا خریدار نہ ہو۔ چونکہ مرزا صاحب مولوی محمد حسین ہی کے ساختہ پرداختہ تھے، اس لیے مولوی صاحب نے تہیہ کر لیا تھا کہ قادیانی صاحب کو سمک سے سماک تک پہنچا کے دم لیں گے، چنانچہ انہوں نے اپنے کثیرالاشاعت رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں مرزا صاحب کے حق میں وہ بے پناہ پروپیگنڈا کیا کہ تھوڑے ہی دنوں میں قادیانی صاحب کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا۔

پہلی بنائے مخاصمت

ایک بٹالوی دوست نے خاکسار راقم الحروف سے بیان کیا کہ ”مرزا صاحب نے اعلان کیا تھا کہ میں نے سراج منیر کے نام سے ایک کتاب محاسن اسلام پر لکھی ہے۔ اس کی طباعت پر چودہ سو روپیہ لاگت آئے گی۔ اور اپیل کی کہ اگر مجھے چودہ سو روپیہ عطا کئے جائیں تو میں اس کتاب کو چھپواؤں۔ لوگوں نے خوب چندہ دیا لیکن مرزا صاحب نے ایک خطیر رقم وصول کر لینے کے بعد بالکل خاموشی اختیار کر لی۔ چونکہ ”براہین احمدیہ“ کی رقمیں بھی کھائے بیٹھے تھے۔ اس لیے ایک مرتبہ مولوی محمد حسین نے سمجھایا کہ ”پہلے براہین کی رقمیں تمہارے ذمہ واجب الادا تھیں۔ اب تم نے ”سراج منیر“ کا بھی چودہ سو روپیہ وصول کر کے چپ سادھ لی ہے۔ یہ بدعمالی بدنامی کا باعث ہے“۔ مرزا صاحب نے کچھ حیلے حوالے کر کے بات کو ٹلا دیا۔ کسی قدر وقفہ کے بعد مولوی صاحب نے مکرر سمجھایا کہ جب لوگ رقمیں مدت سے دے چکے ہیں تو تم کتاب چھپوا کر لوگوں کی شکایت کیوں دور نہیں کر دیتے؟ یہ ایک دوستانہ ہمدردانہ مشورہ تھا۔ لیکن الہامی صاحب نے اس کو بہت برا منایا اور فرط غیظ میں کہا ”میں نے تمہاری وساطت سے روپیہ نہیں لیا تھا جو تم خواہ مخواہ بیچ میں کود پڑے ہو۔ اور کہا کہ چندہ دینے والے تو خاموش ہیں اور تم تقاضا کئے جاتے ہو اور اگر ان لوگوں نے تمہیں اپنا وکیل مقرر کیا ہے تو اپنا وکالت نامہ دکھاؤ“۔ یہ ٹکا سا جواب سن کر مولوی صاحب کلیجہ مسوس کر رہ گئے اور مرزا صاحب سے قطع تعلق کر لیا۔ اس سے

صفحہ 306

بسالت" کا ایک مہتمم بالشان کارنامہ قارئین کرام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

مرزائی الہام ”دولت برطانیہ تاہشت سال بعد ازان آثار ضعف و

اختلال“

جس طرح قادیانی مسیح کی مجلس میں علمائے حق کی غیبت اور عیب جوئی کا ناپاک مشغلہ جاری رہتا تھا، اسی طرح قادیانی صاحب انگریز کی وفاداری کا راگ بھی الاپتے رہتے تھے۔ لیکن باوجود اس مدحت سرائی کے اپنی خاص پرائیویٹ صحبتوں میں کبھی کبھار فرنگیوں پر بھی برس پڑتے تھے۔ ایک مرتبہ الہامی صاحب نے ایک خاص رازداری کی گفتگو میں اپنے اخص الخاص چیلوں سے فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ سلطنت برطانیہ بس آٹھ سال تک برسرعروج ہے۔ اس کے بعد نظام حکومت کے کل پرزے بگڑ جائیں گے اور ضعف و اختلال رونما ہوگا۔ الہام کے اصل الفاظ یہ تھے۔ ”دولت برطانیہ تاہشت سال بعد ازان آثار ضعف و اختلال“ لیکن اس الہام کو در مکنون کی طرح پردہ خفا میں مستور رکھا اور اتنی جرأت نہ ہوئی کہ اپنے دوسرے الہاموں کی طرح اس کو بھی شائع کرتے۔ اتفاق سے ایک مرتبہ الہامی صاحب کا ایک خاص مرید حامد علی نام کسی مسئلہ میں مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی سے چھیڑ خانی کر رہا تھا۔ اثنائے گفتگو میں وہ مولوی صاحب سے اس الہام کا بھی تذکرہ کر بیٹھا۔ حالانکہ یہ ایک سربستہ راز تھا اور الہامی صاحب نہیں چاہتے تھے کہ اس کی بھنک اغیار کے کانوں میں پڑے کیونکہ اس الہام کا عام اعلان ان کی عمر بھر کی انگریز پرستی کو ملیامیٹ کر دیتا تھا۔ مولوی محمد حسین مرحوم نے اس مرزائی پیشین گوئی کا قصہ اپنے حلقہ احباب میں چھیڑ دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ اس کا ہر جگہ چرچا ہونے لگا۔ یہ سوچ کر کہ شدہ شدہ یہ خبر ارباب حکومت کے کانوں تک بھی پہنچ جائے گی الہامی صاحب کے بدن پر مارے خوف کے لرزہ طاری ہو گیا۔ حواس جاتے رہے اور فرط غم میں دست تاسف ملتے تھے کہ ہائے میں نے اس الہام کا اپنوں سے کیوں ذکر کیا جو غیروں تک پہنچ گیا۔ چونکہ یہ الہام ہنوز کسی تحریر میں نہیں آیا تھا اس لیے مرزا صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ بساط جرات پر قدم رکھ کر اس سے بلطائف الحیل مکر جائیں۔ کیونکہ تسلیم کر لینے کی صورت میں انگریز بہادر کی نیلی پیلی آنکھوں کا ڈر تھا۔ اتنے میں کسی مرید نے بتایا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے یہ

صفحہ 307

پیشتر سالہا سال سے مرزا صاحب کی عادت تھی کہ جب اور جہاں کہیں بٹالہ کی راہ سے جاتے مولوی محمد حسین صاحب کے پاس ایک آدھ دن ٹھہر کر منزل مقصود کا راستہ لیتے۔ چنانچہ مرزا صاحب کے نسبتی بھائی یعنی مرزا محمود احمد صاحب کے ماموں ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کا بیان ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے حضرت مسیح موعود کے بڑے گہرے تعلقات تھے۔ مجھے یاد ہے کہ قادیاں سے انبالہ چھاؤنی جاتے ہوئے آپ مع اہل و عیال کے مولوی محمد حسین صاحب کے مکان پر بٹالہ میں ایک رات ٹھہرے تھے اور مولوی صاحب نے بڑے اہتمام سے حضرت (مرزا) صاحب کی دعوت کی تھی۔ (سیرۃ المہدی، جلد

۲، ص۹۴)

باب ۵۷

حکومت برطانیہ کے زوال کی ہشت سالہ پیشین گوئی

سچا ملہم بزدل نہیں ہوتا

قادیانی صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں مامور اور مرسل من اللہ ہوں اور اپنی کتاب مواہب الرحمٰن (ص ۶۶) میں لکھا ہے کہ ”مرسل کو خوف نہیں“۔ مرزا صاحب کا یہ بیان حرف بہ حرف صحیح ہے کیونکہ جو جلیل القدر ہستی خداوند ذوالجبروت کی طرف سے بھیجی گئی ہو خدائی طاقت اور روح اس کی موید ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انبیائے کرام علیہم السلام دنیا کی کسی ماسوائے اللہ کی طاقت سے کبھی مرعوب نہ ہوئے اور کلمہ حق اور قول صدق سے کبھی دست برداری منظور نہ کی۔ گو باطل کا عفریت اپنی تمام تر دہشت ناکیوں کے ساتھ منہ کھولے سامنے کیوں نہ ہوتا تھا۔ قادیانی صاحب کی تعلیوں اور خود ستائیوں کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا کی خدائی (معاذ اللہ) ان کی مزعومہ عظمت کے سامنے ہیچ تھی لیکن ان کے حالات و واقعات زندگی پر نظر کی جائے تو ان کی جرأت کا یہ عالم تھا کہ سلاسل و اغلال اور تختہ دار تو بڑی بات ہے اگر کسی درخت کا پتہ بھی ہلتا تھا تو سہم جاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ کسی بڑی بلا نے آ کر منہ کا نوالہ بنایا۔ یہاں مرزائی ”شجاعت و

صفحہ 308

الہام اپنے ماہوار رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں شائع کر دیا ہے۔ یہ سن کر الہامی صاحب کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ عالم اضطراب میں تلافی کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔ بڑی عجلت کے ساتھ ”کشف الغطاء“ نام ایک رسالہ خاص اس موضوع پر لکھ کر شائع کیا جس کے ٹائیٹل پیج پر بحروف جلی لکھا۔ ”یہ مولف تاج عزت جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کا واسطہ ڈال کر بخدمت گورنمنٹ عالیہ انگلشیہ کے اعلیٰ افسروں اور معزز حکام سے باادب گزارش کرتا ہے کہ براہ غریب پروری و کرم گستری اس رسالہ کو اول سے آخر تک پڑھا جائے یا سن لیا جائے۔

مکرر حکام کے عتاب سے بچنے کا عزم

الہامی صاحب نے مولوی محمد حسین کی مزعومہ شکایت کے جواب میں ”کشف الغطاء“ کے صفحہ ب پر لکھا کہ میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن سے میں اپنی عاجزانہ عرض گورنمنٹ پر ظاہر کروں کہ مجھے اس شخص کے ان خلاف واقعہ کلمات سے کس قدر صدمہ پہنچا ہے اور کیسے درد رساں زخم لگے ہیں۔ افسوس کہ اس شخص نے عمداً اور دانستہ گورنمنٹ کی خدمت میں میری نسبت نہایت ظلم سے بھرا ہوا جھوٹ بولا ہے اور میری تمام خدمات کو برباد کرنا چاہا ہے۔ اس دعویٰ کے میرے پاس پختہ وجوہات اور کامل شہادتیں اور گواہ موجود ہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ بوجہ اس کے کہ میں ایک وفادار خاندان سے ہوں جنہوں نے اپنے مال سے جان سے گورنمنٹ پر اپنی اطاعت ثابت کی ہے۔ میری اس دردناک فریاد کو یہ محسن گورنمنٹ غور سے توجہ فرمائے گی اور جھوٹ بولنے والے کو تنبیہ کرے گی۔ دوسرا امر جو اسی رسالہ میں محمد حسین نے لکھا ہے وہ یہ ہے کہ گویا میں نے کوئی الہام اس مضمون کا شائع کیا ہے کہ گورنمنٹ برطانیہ کی سلطنت آٹھ سال کے عرصہ میں تباہ ہو جائے گی۔ میں اس بہتان کا جواب بجز اس کے کیا لکھوں کہ خدا جھوٹے کو تباہ کرے۔ میں نے ایسا الہام ہرگز شائع نہیں کیا۔ میری تمام کتابیں گورنمنٹ کے سامنے موجود ہیں۔ میں باادب گزارش کرتا ہوں کہ گورنمنٹ اس شخص سے مطالبہ کرے کہ کس کتاب یا خط یا اشتہار میں میں نے ایسا الہام شائع کیا ہے؟“ اور مولوی محمد حسین کو مخاطب کر کے لکھا کہ ”آپ نے ایک واہیات بات بنا رکھی ہے کہ ہشت سالہ پیش گوئی ایسی تھی مگر آپ قانونی مواخذہ

صفحہ 309

سے نہیں ڈرتے۔ کیا آپ کی یہی دیانت ہے کہ اس بارہ میں نہ آپ نے میری کوئی تحریر دیکھی اور نہ تقریر سنی۔ ناحق ایک غلط اور بے اصل خیال دل میں جما لیا۔ میں آپ کو بطور نصیحت کہتا ہوں کہ ضرور افتراؤں سے ڈرا کریں کہ یہ باتیں جو آپ کے منہ سے نکلتی ہیں آپ کے لیے سخت خطرناک ہیں۔ میں گورنمنٹ کا ایسا خیر خواہ ہوں کہ اگر آپ کے وجود اور آپ کے بزرگوں کے وجود میں کوئی شخص اس خیر خواہی کا نمونہ تلاش کرنا چاہے تو تضیع اوقات ہے“۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۴‘ ص ۴۵) حضرات آپ نے دیکھا کہ الہامی صاحب نے کس طرح حقیقت حال پر پردہ ڈالنے اور سچ کو جھوٹ بنانے کی کوشش کی؟ کیا کوئی نیک آدمی اس حق پوشی کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ چہ جائیکہ ایسا شخص جو مجدد وقت اور عیسیٰ دوران ہونے کا مدعی ہو اس کا مرتکب ہو۔

الہامی صاحب کی دوسری جسارت

الہامی صاحب نے مندرجہ بالا الفاظ میں کہ ”نہ آپ نے کوئی میری تحریر دیکھی اور نہ تقریر سنی ناحق ایک غلط اور بے اصل خیال دل میں جما لیا“۔ اپنے ہشت سالہ الہام کی اشاعت اور زبانی بیان دونوں کی نفی کی ہے اور بالفاظ دیگر سرے سے اس الہام کے وجود ہی سے مکر گئے ہیں لیکن اس انکار کے بعد الہامی صاحب کو خیال آیا کہ گو مولوی محمد حسین بارگاہ حکومت میں میری کوئی تحریر پیش نہیں کر سکیں گے لیکن احتمال ہے کہ کوئی زبانی شہادت پیش کر دیں اس لیے ضرورت ہے کہ زبانی بیان سے بھی صاف الفاظ میں مکر جائیں۔ چنانچہ بطور پیش بندی ”کشف الغطاء“ میں یہ بھی لکھ دیا ”اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ محمد حسین کے اس فریب سے خبردار رہے کہ یہ شخص اپنے اس جھوٹے بیان کی تائید کے لیے یہ تدبیر نہ کرے کہ اپنی جماعت اور اپنے گروہ میں سے ہی جو مجھ سے اختلافات مذہب کی وجہ سے دلی عناد رکھتے ہیں جھوٹے بیان گورنمنٹ تک پہنچائے۔ اس شخص اور اس کے ہم خیال لوگوں کی میرے ساتھ کچھ آمد و رفت اور ملاقات نہیں۔ تا میں نے ان کو زبانی کچھ کہا ہو“۔ (کشف الغطاء‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ ص ۲۸)

اس عبارت میں الہامی صاحب نے اپنے ہشت سالہ الہام کے زبانی بیان سے خاص طور پر انکار کیا ہے اور اس کے ناقل کو دروغ گو قرار دیا ہے۔ حالانکہ قادیانی صاحب نے

صفحہ 310

یقیناً اپنے خاص مریدوں کے زمرہ میں اس الہام کا ذکر کیا تھا اور یہ کہ مولوی محمد حسین مرحوم اپنے بیان میں بالکل سچے تھے۔ مگر سچ کو جھوٹ ثابت کر دکھانا مسیح قادیانی کے بائیں ہاتھ کا کرتب تھا۔ مولوی محمد حسین کے پاس کوئی تحریری ثبوت نہ تھا، ناچار اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ چونکہ مسیح موعود صاحب نے کانوں پر ہاتھ رکھے اور حکومت کو یقین دلایا کہ ”مجھے ہرگز اس قسم کا کوئی الہام نہیں ہوا اور نہ میں نے اس کا کسی سے کوئی تذکرہ کیا بلکہ دشمنوں نے مجھ پر افتراء پردازی کی ہے“۔ اس لیے حکومت کو مرزا صاحب کے بیان کی صحت اور مولوی صاحب کی غلط بیانی کا یقین ہو گیا۔ دوسرے لوگوں نے بھی اس واقعہ کو طاق نسیاں پر رکھ دیا کیونکہ مرزا صاحب کے خلاف اس قسم کی کوئی تحریری شہادت موجود نہ تھی۔

باپ کے خلاف بیٹے کی شہادت

مرزا صاحب نے لباس تصنع پہن کر ببانگ دہل جو غلط بیانی کی اس پر برابر پچیس سال تک پردہ پڑا رہا تاآنکہ ان کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد ایم اے نے شاید ۱۹۲۳ء میں کتاب ”سیرۃ المہدی“ کی پہلی جلد شائع کر کے جھوٹ اور فریب کا پردہ چاک کر دیا اور مرزائی روایات سے ثابت کر دکھایا کہ مولوی محمد حسین اپنے بیان میں صادق اور ان کے والد مرزا غلام احمد غلط گو اور حق پوش تھے۔ میاں بشیر احمد لکھتے ہیں ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بیان کیا ہم سے حاجی عبدالمجید صاحب نے کہ ایک دفعہ جب ”ازالہ اوہام“ شائع ہوئی ہے حضرت لدھیانہ میں باہر چہل قدمی کے لیے تشریف لے گئے میں اور حافظ حامد علی ساتھ تھے۔ راستہ میں حافظ حامد علی نے مجھ سے کہا کہ آج رات یا شاید کہا ان دنوں میں حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ سلطنت برطانیہ تاہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال“ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجلس میں جس میں حاجی عبدالمجید صاحب نے یہ روایت بیان کی میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ الہام اس زمانہ سے بھی پرانا ہے۔ حضرت صاحب نے خود مجھے اور حافظ حامد علی کو یہ الہام سنایا تھا اور مجھے الہام اس طرح پر یاد ہے کہ ”سلطنت برطانیہ تاہفت سال بعد ازاں باشد خلاف و اختلال“ میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرا مصرع تو مجھے پتھر کی لکیر کی طرح یاد ہے کہ یہی تھا

صفحہ 311

اور مہلت کا لفظ بھی یاد ہے۔ جب یہ الہام ہمیں حضرت صاحب نے سنایا تو اس وقت مولوی محمد حسین بٹالوی مخالف نہیں تھا۔ شیخ حامد علی نے اسے بھی جا سنایا۔ پھر جب وہ مخالف ہوا تو اس نے حضرت صاحب کے خلاف گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لیے اپنے رسالہ میں

شائع کیا"۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۶۱)

مرزا صاحب نے ضمیمہ کشف الغطاء میں مولوی محمد حسین مرحوم کی نسبت یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ ”ایسے منافق پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے کہ جو گورنمنٹ کو کچھ کہتا ہے اور مسلمانوں کے کان میں کچھ پھونکتا ہے“۔ اور لکھا ”جبکہ یہ فاش جھوٹ اس نے اختیار کیا ہے تو کیونکر اطمینان ہو کہ جو دوسری باتیں گورنمنٹ تک پہنچاتا ہے اس میں سچ بولتا ہے“۔ لیکن اب مرزائی انصاف سے بتائیں کہ مرزا صاحب کی اس تحریر کے بموجب منافق اور دروغ گو مولوی محمد حسین صاحب ہوئے یا کوئی اور؟

دام افتادوں کی دروغ بانی

متذکرہ بالا سطور میں آپ پر یہ حقیقت آفتاب نصف النہار کی طرح واضح ہو چکی ہوگی کہ قادیانی صاحب اپنے ہشت سالہ الہام سے قطعاً مکر گئے تھے۔ جب کبھی الہامی صاحب پر الہام سے مکر جانے کا اعتراض ہوتا ہے تو مرزائی گم کردگان راہ ان کی طرف سے کچھ لنگڑی لولی صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ قاضی محمد یوسف پشاوری نام کسی مرزائی نے ۱۸ اگست ۱۹۳۸ء کے جریدہ الفضل قادیاں میں لکھا کہ ”حضرت مسیح موعود نے الہام سے انکار نہیں کیا بلکہ اس کی عام اشاعت اور اس کی تشریح سے جو مولوی محمد حسین نے کی تھی انکار کیا ہے“۔

مگر میں قاضی صاحب مذکور سے درخواست کرتا ہوں کہ ازبرائے خدا آنکھیں کھول کر اپنے مسیح کے الفاظ پر غور کرو اور عہد جاہلیت کی عصبیت چھوڑ دو۔ مولوی محمد حسین مرحوم نے رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں ہرگز یہ نہیں لکھا تھا کہ مرزا غلام احمد نے اپنا ہشت سالہ الہام شائع کیا ہے اگر مرزائیوں میں حوصلہ ہے تو رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ سے مولوی صاحب کے یہ الفاظ نکال کر پیش کریں۔ ورنہ اس صریح دروغ گوئی پر کچھ شرم کریں۔ مولوی صاحب نے تو صرف یہ لکھا تھا کہ قادیانی کو اس مضمون کا ایک الہام ہوا ہے“۔ اس کے

صفحہ 312

جواب میں الہامی صاحب صاف مکر گئے۔ اور لکھنا شروع کیا کہ اگر مجھے ایسا الہام ہوا ہے تو میری کوئی تحریر پیش کرو۔ حالانکہ ہر کس و ناکس جانتا تھا اور جانتا ہے کہ مرزا جی اس خوف کی وجہ سے جس نے پچاس الماریاں کتابیں انگریز کی حمد و ثنا میں لکھوائیں ایسا الہام شائع کرنے کی جرات نہ کر سکتے تھے۔ میں حضرات قارئین سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مرزا جی کی تحریر کو مکرر پڑھیں اور دیکھیں کہ الہامی صاحب نے تحریراً و تقریراً من کل الوجوہ اپنے ہشت سالہ الہام کی نفی کی ہے یا اس کا اقرار کیا ہے؟

کیا ہشت سالہ برطانوی زوال کی پیشین گوئی پوری ہو گئی؟

مسیح قادیاں کی الہامی زبان نے حلقہ یاران سرپل میں اپنی تمنائے دلی کی غمازی کرتے ہوئے زوال برطانیہ کا جو دلچسپ افسانہ سنایا‘ اس کی تہ میں فی الحقیقت یہ جذبہ کار فرما تھا کہ برطانوی زوال کے بعد مرزائی ملوکیت و فرماں روائی کا دور دورہ ہوگا لیکن نہ دولت برطانیہ کو زوال آیا اور نہ مرزائی سلطنت کا خواب پریشان پورا ہوسکا۔ ۱۴-۱۹۱۸ء کی عالمگیر جنگ میں ایک بڑی حد تک امکان پیدا ہوگیا تھا کہ برطانوی سطوت سرنگوں ہو جائے لیکن اختتام جنگ کے بعد برطانوی اقبال و شوکت کو اور زیادہ ترقی نصیب ہوئی اور انگریزی اقتدار اور حلقہ اثر قبل از جنگ کی نسبت فزوں تر ہوگیا۔ پس قادیانی صاحب کی پیشین گوئی اور ان کے الہام کا معکوس اثر ظاہر ہوا یعنی تنزل کی جگہ ترقی و عروج ہوا۔

باب ۵۸

ڈاکٹر جگن ناتھ سے حکیم نور الدین کی شرط اعجاز نمائی

حکیم صاحب کی ہلاکت آفرین زود اعتقادی

کمزوری‘ خطا کاری اور غلط روی انسان کا خمیر مایہ ہے اس لیے کوئی بشر کمزوریوں سے خالی نہیں۔ جہاں اطبائے ہند میں حکیم نور الدین کا شمار چوٹی کے مسیحوں میں تھا وہاں ان

صفحہ 313

کے اندر یہ ہلاکت آفریں کمزوری بھی بدرجہ اتم ودیعت تھی کہ انتہا درجہ کے ”خوش اعتقاد“ واقع ہوئے تھے۔ ان کی طبیعت کا خاصہ تھا کہ جہاں کہیں کسی نے ڈفلی بجائی بچوں کی طرح بے سوچے سمجھے اس کی آواز پر اٹھ دوڑے۔ اوائل میں حنفی تھے۔ جب ملک میں ترک تقلید کا ہنگامہ برپا ہوا تو معاً تقلید کی پابندیوں سے آزاد ہو کر اہل حدیث بن گئے۔ چند روز کے بعد سرسید احمد خان بانی مدرسۃ العلوم علی گڑھ نے نیچریت کا علم زندقہ بلند کیا تو جھٹ اس کے نیچے جا کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد جب مرزا غلام احمد نے مرزائیت کے طبل غی پر چوٹ لگائی تو سب سے پہلے لبیک کہتے ہوئے اٹھ دوڑے۔ غرض حکیم نور الدین نے کچھ اس قسم کا آوارہ اور عقیدت شعار دل پایا تھا کہ ہر وقت ہر صدا پر لبیک کہنے اور اس کی عظمت کے سامنے جھک جانے پر تیار رہتے تھے اور اس پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں فرماتے تھے کہ سلف صالح کا مسلک حق کیا تھا۔ مذہبی نقطہ نظر سے الہامی صاحب اور حکیم صاحب بالکل ہم مذاق اور قادیانی دکان آرائی کے راز میں ایک دوسرے کے شریک تھے۔ گو حکیم صاحب کو بخوبی معلوم تھا کہ قادیانی الہام و وحی کا سرچشمہ کیا ہے تاہم حسن ظن اور خوش اعتقادی کا ”جوہر“ رکھتے تھے۔ اس لیے جب قیام جموں کے دوران میں قادیانی صاحب نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے اعجاز نمائی کی قدرت بخشی گئی ہے تو اس پر بھی مقتضائے طبع یقین کر لیا۔ قادیانی صاحب ۱۸۹۱ء سے پہلے تین چار مرتبہ جموں گئے تھے۔ چونکہ وہ ہر مرتبہ اپنے معجزات اور نشانات کی ڈینگیں مارا کرتے تھے۔ حکیم صاحب کو کامل وثوق تھا کہ جب کبھی ضرورت ہوگی اعجاز نمائی کی فرمائش کر دی جائے گی اور مرزا صاحب مقبولان بارگاہ کی طرح کوئی خارق عادت فعل دکھائیں گے۔

حکیم نور الدین کا اقرار کہ مرزا جی مردہ زندہ کر دیں گے

راجہ امرسنگھ پریذیڈنٹ کونسل ریاست ہائے جموں و کشمیر کے عہد حکومت میں حکیم نور الدین کا طوطی بول رہا تھا۔ ان ایام میں ڈاکٹر جگن ناتھ سول سرجن جموں بھی جو حکیم نور الدین کی طرح راجہ صاحب کے معالج خاص تھے‘ دربار میں بڑا رسوخ رکھتے تھے۔ ڈاکٹر جگن ناتھ آریہ خیالات کے پیرو تھے اور حکیم نور الدین سے ان کی کبھی مذہبی نوک جھونک بھی ہو جاتی تھی۔ جن دنوں جموں میں مرزا صاحب کے دعوائے مسیحیت کا چرچا ہوا تو ایک

صفحہ 314

دن ڈاکٹر جگن ناتھ نے حکیم صاحب سے ازراہ مذاق کہا کہ ”اگر آپ کے مرزا صاحب واقعی مثیل مسیح ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ حضرت مسیح کی طرح مردے زندہ نہ کر دیں“۔ حکیم صاحب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بے ساختہ بول اٹھے ”ہاں مرزا صاحب مردے زندہ کر سکتے ہیں“۔ ڈاکٹر جگن ناتھ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ یہ سن کر حکیم صاحب کی رگ غیرت جنبش میں آگئی اور کہنے لگے اچھا شرط باندھ لو۔ آخر یہ شرط ٹھہری کہ اگر مرزا صاحب مردہ زندہ کر دکھائیں تو ڈاکٹر صاحب مع اہل و عیال احمدی (مرزائی) ہو جائیں گے اور اگر مردہ زندہ نہ کر سکیں تو حکیم صاحب پانچ ہزار روپیہ جرمانہ دیں گے۔ مدت اعجاز نمائی شاید ایک مہینہ یا بیس روز رکھی گئی تھی۔ یہ قرارداد لکھی گئی اور اس پر تین صاحبوں کی شہادتیں ثبت ہوئیں۔

مرزا صاحب کے نام عرضداشت کہ جموں آ کر مردہ زندہ کر جائیے

جب اقرار نامہ مکمل ہوچکا تو حکیم صاحب نے الہامی صاحب کو لکھا کہ میں نے ڈاکٹر جگن ناتھ سے اس قسم کی شرط کی ہے۔ آپ اس کے لیے جلد تشریف لائیے۔ جب مرزا صاحب کو یہ چٹھی ملی تو سخت پریشان ہوئے کہ یہ ناحق کی مصیبت سر پر آ سوار ہوئی۔ سوچنے لگے کہ نجات کی کیا صورت ہے؟ چونکہ خود تشریف لے جانے میں اعجاز نمائی کا پول کھلتا تھا اس بنا پر وہاں جانے کی تو جرأت نہ ہوئی البتہ ۳۱؍ مارچ ۱۸۹۱ء کو مندرجہ ذیل چٹھی بھیج کر محض سخن تراشی کے بل پر سر سے بلا ٹالنی چاہی۔ ”مخدومی و مکرمی اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلمہ تعالیٰ اس عاجز نے ارادہ کیا تھا کہ بلا توقف جناب الٰہی میں اس بارہ میں توجہ کروں لیکن دورہ مرض اور ضعف دماغ اور ایک امر پیش آمدہ کی وجہ سے اس میں تاخیر ہے اور امید رکھتا ہوں کہ جس وقت خدا تعالیٰ چاہے مجھے اس توجہ کے لیے توفیق بخشی جائے گی۔ اول حضرت احدیت جلّ شانہ سے اجازت لینے کے لیے توجہ کی جائے گی۔ پھر بعد اس کے بقیہ شرائط فریقین امر خارق عادت کے لیے توجہ ہوگی۔ بات مسلم اور واضح

صفحہ 315

رہے کہ راست باز انسان کے لیے ایسے امور کی غرض سے کسی قدر مجاہدہ ضروری ہے۔ الکرامات ثمرۃ المجاہدات‘ علالت طبع بہت حرج انداز ہے اگر یہ مقابلہ صحت اور طاقت دماغی کے ایام میں ہوتا تو یقین تھا کہ تھوڑے دن کافی ہوتے۔ مگر اب طبیعت تحمل شدائد مجاہدات نہیں رکھتی اور ادنیٰ درجہ کی محنت اور خوض اور توجہ سے جلد بگڑ جاتی ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب کو طلب حق ہوگی تو وہ تین باتیں ضرور قبول کریں گے۔

پیش از وقوع بتلایا جاوے۔ اس کے موافق ہو جو خداوند تعالیٰ ظاہر کرے۔

جو منجانب اللہ مقرر ہو۔ ہاں میعاد ایسی ہونی چاہیے جو معاشرت کے عام معاملات میں قبول کے لائق سمجھی گئی ہو۔ اور عام طور پر لوگ اپنے کاموں میں ایسی میعادوں کے انتظار کے عادی ہوں اور اپنے مالی معاملات کو ان میعادوں پر چھوڑتے ہوں یا اپنے دوسرے کاروبار ان میعادوں کے لحاظ سے کرتے ہوں۔ اس سے زیادہ نہ ہو۔

عادت صرف اسی طور سے سمجھا جائے جو انسانی طاقتیں اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہوں۔ مگر یہ سب اس وقت سے ہوگا کہ جب پہلے اجازت الٰہی اس بارے میں ہو جائے۔ خاکسار مرزا غلام احمد (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۲‘ ص ۱۰۳)

حکیم صاحب کا دوسرا معروضہ

جب ۲۱؍ مارچ کی چٹھی جس میں مرزا صاحب نے سخن تراشی کی آڑ میں اعتراف عجز کیا تھا حکیم نور الدین کو ملی تو وہ سخت بدحواس ہوئے کیونکہ ڈاکٹر جگن ناتھ سے باقاعدہ شرط ٹھہر چکی تھی۔ اب حکیم صاحب نے نہ صرف اپنی طرف سے ایک نہایت تاکیدی خط مرزا صاحب کے نام لکھا بلکہ ڈاکٹر جگن ناتھ کی طرف سے بھی اسی شرط کے متعلق ایک چٹھی مرزا صاحب کے نام بھجوائی مگر یہاں حیلوں حوالوں کے سوا رکھا ہی کیا تھا۔ الہامی صاحب

صفحہ 316

نے ان خطوط کے جواب میں بھی وہی ”مرغی کی ایک ٹانگ“ والی مثل پر عمل کیا اور بتاریخ ۱۲؍ اپریل ۱۸۹۱ء حکیم صاحب کو ان دونوں خطوں کے جواب میں لکھا۔ ”مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ڈاکٹر صاحب کا خط پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب ایسے امور کو دکھلانے کے لیے مجھے مجبور کرتے ہیں جو میرا نور قلب شہادت نہیں دیتا کہ میں ان کے لیے جناب الٰہی میں دعا کروں۔ گو یہ عاجز خدائے تعالیٰ کی قدرتوں کو غیر محدود جانتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھتا ہے کہ ہر ایک قدرتی کام وابستہ باوقات ہے اور جب کسی امر کے ہو جانے کا وقت آتا ہے تو اس امر کے لیے دل میں جوش پیدا ہوتا ہے اور امید بڑھ جاتی ہے۔ اور اب ایسی باتوں کی طرف جو ڈاکٹر صاحب کا منشا ہے کہ کوئی مردہ زندہ ہو جائے یا کوئی مادر زاد اندھا اچھا ہو جائے پیدا نہیں ہوتا۔ ہاں اس بات کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے کہ کوئی امر جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو خواہ مردہ زندہ ہو یا زندہ مرجائے۔ ڈاکٹر صاحب نے خواہ مخواہ مردہ وغیرہ کی شرطیں لگا دی ہیں۔ اعجازی امور اگر ایسے کھلے کھلے اور اپنے اختیار میں ہوتے تو ہم ایک دن میں گویا تمام دنیا سے منوا سکتے ہیں لیکن اعجاز میں ایک ایسا امر مخفی ہوتا ہے کہ سچا طالب حق سمجھ جاتا ہے کہ یہ امر منجانب اللہ ہے اور منکر کو عذرات رکیکہ کرنے کی گنجائش بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ دنیا میں خدائے تعالیٰ ایمان بالغیب کی حد کو توڑنا نہیں چاہتا۔ پس جب تک ڈاکٹر صاحب اصول ایمان کے مطابق درخواست نہ کریں میری نظر میں ایک قسم سے وہ دفع وقت کرتے ہیں“۔ خاکسار غلام احمد از لدھیانہ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۲، ص ۱۰۵)

راجہ امر سنگھ نے حکیم صاحب کو کیونکر نجات دلائی؟

جب دوسری چٹھی جس میں اعجاز نمائی سے صاف جواب تھا حکیم صاحب نے پڑھی تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ سخت سٹ پٹائے اور عالم افسردگی میں اپنی حماقت پر سخت متاسف ہوئے۔ لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ اتنے میں مدت موعود بھی منقضی ہوگئی، ڈاکٹر جگن ناتھ نے رقم کا مطالبہ کیا۔ حکیم صاحب لیت و لعل کرنے لگے۔ ڈاکٹر نے سختی سے تقاضا شروع کیا اور جب دیکھا کہ حکیم صاحب ٹال مٹول اور دفع الوقتی سے کام لے رہے

صفحہ 317

ہیں تو عمائد شہر اور اقرار نامہ کے گواہوں کو ایک مجلس میں جمع کیا۔ حکیم صاحب بھی بلائے گئے۔ ڈاکٹر صاحب نے معاہدہ مجلس میں پڑھ کر سنوایا اس کے بعد حکیم صاحب سے رقم کا مطالبہ کیا۔ حکیم صاحب بہت کچھ سخن طرازی سے کام لیتے رہے مگر کوئی معقول جواب نہ بن پڑا۔ ڈاکٹر نے حکیم صاحب اور ان کے مثیل مسیح صاحب کا بری طرح مذاق اڑایا اور اخیر میں کہا کہ جب تک حسب قرارداد مرزا صاحب آ کر مردہ زندہ نہ کر دکھائیں گے یا پانچ ہزار روپیہ جرمانہ ادا نہ کیا جائے گا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔" آخر یہ عبرت ناک مجلس برخاست ہوئی اور حکیم صاحب بصد ذلت و رسوائی واپس آئے۔ جب راجہ امر سنگھ کو معلوم ہوا کہ حکیم پر خدا کی زمین باوجود فراخی کے تنگ ہو گئی ہے اور ڈاکٹر جگن ناتھ نے انہیں بری طرح شکنجہ میں کس رکھا ہے تو ڈاکٹر صاحب کو بلا کر معاملہ رفع دفع کرا دیا اور معاہدہ لے کر چاک کر دیا لیکن حسن ظن اور خوش اعتقادی کا کمال دیکھو کہ اس واقعہ سے حکیم صاحب کے پائے عقیدت میں کوئی تزلزل نہ ہوا اور باوجودیکہ قادیانی صاحب کی وجہ سے سخت ذلت کا منہ دیکھنا پڑا۔ پھر بھی حکیم صاحب نے ان سے تعلقات منقطع نہ کئے لیکن یاد رہے کہ مثیل صاحب بھی کچھ کم قدر شناس نہ تھے۔ انہوں نے حکیم صاحب کی استقامت کی خوب تعریف کی اور مریدوں کو حکم دیا کہ سب لوگ حکیم مولوی نورالدین کی ”قوت ایمانی“ کی مثال کا اتباع کریں۔ جب اس واقعہ کے قریباً پانچ مہینے بعد مرزا جی کی کتاب ”ازالہ اوہام“ شائع ہوئی تو اہل جموں اور دوسرے واقف کار اصحاب یہ دیکھ کر محو حیرت رہ گئے کہ الہامی صاحب نے اپنے ازالہ میں ڈاکٹر جگن ناتھ کی صورت واقعہ کو بالکل مسخ کر کے نہایت دیدہ دلیری سے الٹا ڈاکٹر صاحب کو ملزم گردانا ہے۔ چنانچہ مرزائی گوہر افشانی ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں۔ ”مولوی نورالدین صاحب کے اعتقاد اور اعلیٰ درجے کی قوت ایمانی کا ایک یہ بھی نمونہ ہے کہ ریاست جموں کے ایک جلسہ میں مولوی صاحب کا ایک ڈاکٹر صاحب سے جن کا نام جگن ناتھ ہے اس عاجز کی نسبت تذکرہ ہو کر مولوی صاحب نے بڑی قوت اور استقامت سے یہ دعویٰ پیش کیا کہ خدائے تعالیٰ ان کے یعنی اس عاجز کے ہاتھ پر کوئی آسمانی نشان دکھلانے پر قادر ہے۔ پھر ڈاکٹر صاحب کے انکار پر مولوی صاحب نے ریاست کے بڑے بڑے ارکان کی مجلس میں یہ شرط قبول کی کہ اگر وہ یعنی یہ عاجز کسی مدت مسلمہ فریقین پر کوئی آسمانی نشان دکھلا نہ سکے تو مولوی صاحب ڈاکٹر صاحب کو پانچ ہزار روپیہ جرمانہ دیں

صفحہ 318

گے اور ڈاکٹر صاحب کی طرف سے یہ شرط ہوئی کہ اگر انہوں نے کوئی نشان دیکھ لیا تو بلا توقف مسلمان ہو جائیں گے مگر افسوس کہ ڈاکٹر صاحب ناقابل قبول اعجازی صورتوں کو پیش کر کے ایک حکمت عملی سے گریز کر گئے۔ (ازالہ اوہام‘ ص ۴۶۷)

مرزا جی کی غلط بیانی پر جموں میں غیظ و غضب کا طوفان

جب اہل جموں کو عموماً اور ڈاکٹر جگن ناتھ کو خصوصاً علم ہوا کہ قادیانی صاحب نے ”ازالہ“ میں فرار و گریز کا الٹا الزام ڈاکٹر کے سر تھوپ دیا ہے تو جموں میں ہل چل مچ گئی اور حکیم صاحب اور ان کے خود ساختہ مثیل صاحب پر آوازے کسے جانے لگے۔ حکیم صاحب نے پہلے ہی ہزار مشکل سے جان چھڑائی تھی اور اگر راجہ صاحب نے مداخلت نہ کی ہوتی تو پانچ ہزار روپیہ کے دلدوز مطالبہ سے کسی طرح رہائی ہی ممکن نہ تھی لیکن اب بیچارہ حکیم صاحب کے سر پر ایک نیا طوفان معاندت امنڈ آیا شہر کے رؤسا اور سرکاری عہدہ دار حکیم صاحب کے پاس جا جا کر حیرت سے پوچھنے لگے کہ تمہارے مرزا صاحب نے یہ کیا گوہر افشانی کی ہے؟ بیچارے حکیم صاحب سن کر بہت خفیف ہوتے لیکن ان کے پاس بجز اس کے اور کچھ جواب نہ تھا کہ مرزا صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ حکیم صاحب کو اس بات کا بڑا رنج تھا کہ مرزا صاحب نے ایک فتنہ خوابیدہ کو ناحق بیدار کر دیا۔ ڈاکٹر جگن ناتھ نے حکیم صاحب سے کہا کہ ”لیجئے! پہلے تو میری طرف سے احیاء موتیٰ کا مطالبہ تھا لیکن اب کہتا ہوں کہ مرزا صاحب بلا تخصیص کوئی بھی ادنیٰ سے ادنیٰ نشان اور معجزہ بھی دکھا دیں گے تو میں اس کو قبول کر لوں گا“۔ اب حکیم صاحب نے مرزا صاحب کو چٹھی لکھی کہ پہلے ہی ہزار مشکلوں سے جان چھوٹی تھی۔ اب آپ نے ڈاکٹر جگن ناتھ پر الزام لگا کر ناحق بھڑوں کے چھتے کو چھیڑ دیا ہے اور لکھا کہ اب ڈاکٹر کہتا ہے کہ مرزا صاحب جون سا بھی آسمانی نشان دکھا دیں گے میں اسی کو قبول کر لوں گا“۔ مرزا صاحب نے اپنے رسالہ ”آسمانی فیصلہ“ میں ان واقعات کو کسی قدر کتر بیونت کے بعد یوں لکھا۔ ”میرے مخلص دوست مولوی حکیم نور الدین صاحب ملازم و معالج ریاست جموں نے ایک عنایت نامہ ۷؍ جنوری ۱۸۹۲ء کو اس عاجز کی طرف بھیجا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ ”پریروز ایک عرضی خدمت میں روانہ کی تھی اس کے بعد یہاں جموں میں ایک عجیب طوفان بے تمیزی کی خبر پہنچی“۔ ازالہ اوہام میں

صفحہ 319

حضور والا نے ڈاکٹر جگن ناتھ ساکن جموں کی نسبت ارقام فرمایا ہے کہ وہ گریز کر گئے۔ اب ڈاکٹر صاحب نے بہت سے ایسے لوگوں کو جو اس معاملہ سے آگاہ تھے کہا ہے کہ یہ بات سیاہی سے لکھی گئی ہے سرخی سے اس پر قلم پھیر دو۔ اور یہ کہ میں نے ہرگز گریز نہیں کیا اور نہ کسی نشان کی تخصیص چاہی۔ مردہ کا زندہ کرنا میں نہیں چاہتا اور نہ خشک درخت کا ہرا ہونا یعنی مرزا صاحب بلا تخصیص کوئی ایسا نشان دکھائیں جو انسانی طاقت سے بالاتر ہو۔ اب پھر ڈاکٹر صاحب نے نشان دکھانے کی خواہش ظاہر کی۔

اعجاز نمائی کے لیے یک سالہ انتظار کی پیچ اور دوسری بے ہودہ شرطیں

اس کے بعد قادیانی صاحب لکھتے ہیں کہ آج ۱۱؍ جنوری ۱۸۹۳ء کو ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں ایک خط بھیجا گیا کہ آپ بلا تخصیص کسی نشان دیکھنے پر سچے دل سے مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں، تو پنجاب گزٹ سیالکوٹ، رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور، ناظم الہند لاہور، اخبار عام اور نور افشاں لدھیانہ میں حلفاً یہ اقرار اپنی طرف سے شائع کر دیں کہ ”اگر میں کوئی ایسا نشان دیکھوں جس کی نظیر مشاہدہ کرانے سے میں عاجز آ جاؤں اور انسانی طاقتوں میں اس کا کوئی نمونہ تمام لوازم کے ساتھ دکھلا نہ سکوں تو بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا“۔ اس اشاعت اور اس اقرار کی اس لیے ضرورت ہے کہ خدائے قیوم، بازی اور کھیل کی طرح کوئی نشان دکھلانا نہیں چاہتا جب تک کوئی انسان پوری انکسار اور ہدایت یابی کی غرض سے اس کی طرف رجوع نہ کرے۔ چونکہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ کے اعلام سے ایسے نشانوں کے ظہور کے لیے ایک سال کے وعدے پر اشتہار دیا ہے سو وہی میعاد ڈاکٹر صاحب کے لیے قائم رہے گی۔ طالب حق کے لیے یہ کوئی بڑی میعاد نہیں۔ (آسمانی فیصلہ ص ۴۶۔ ۴۷، تبلیغ رسالت، جلد ۲، ص ۸۸)

کیا سید کونینؐ نے بھی کوئی شرطیں لگائی تھیں؟

ڈاکٹر جگن ناتھ نے اس چٹھی کو قابل التفات نہ سمجھا اور اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جس کی یہ مستحق تھی۔ انکسار اور ہدایت یابی کی غرض اور قادیانی کے یک سالہ مجوزہ

صفحہ 320

انتظار کے متعلق التماس ہے کہ ابو جہل اور دوسرے اعیان قریش نے انکسار اور ہدایت یابی کا ہرگز قصد نہیں کیا تھا بلکہ انہیں محض امتحان منظور تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی درخواست اعجاز نمائی کے بعد ایک سال تک انتظار کرنے کی بھی کوئی شرط نہ لگائی بلکہ معا انگلی کے اشارہ سے چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھا دیا۔ دونوں ٹکڑے زمین کی طرف آئے اور پہاڑ کی دونوں جانب سے ہو کر اپنی جگہ پر چلے گئے۔ اگر کسی مرزائی کو میری بات کا اعتبار نہ ہو تو وہ مرزا صاحب کی کتاب ”سرمہ چشم آریہ“ شروع سے اخیر تک پڑھ جائے۔ یہ کتاب معجزہ شق القمر ہی کے ثبوت میں لکھی گئی تھی۔

باب ۵۹

تدبیروں کی نارسائی اور آسمانی منکوحہ سے

مرزا سلطان محمد کی شادی

ایک مرتبہ حضرت مرزا صاحب کو الہام ہوا تھا۔ اغفر وارحم من السماء ربنا عاج (ہمیں آسمان سے بخش دے اور رحم کر ہمارا رب عاجی ہے۔) مرزا صاحب نے ربنا عاج کا خود یہ ترجمہ کیا تھا کہ ہمارا رب عاجی ہے (براہین احمدیہ‘ ص ۵۵۶) عاج لغت میں استخواں فیل یا گوبر کو کہتے ہیں۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ مرزا جی کا خدا جو ان پر وحی بھیجتا تھا ہاتھی دانت یا گوبر سے بنا ہے۔

عاجی خدا کا کوئی وعدہ سچا نہ نکلا

مرزا جی کے اس عاجی خدا نے ان سے بڑے بڑے وعدے کر رکھے تھے۔ اس نے کہہ رکھا تھا کہ محمدی بیگم تمہاری ہے‘ ہم نے خود اس سے تمہارا نکاح باندھ دیا ہے۔ یہ بھی وحی کی تھی کہ ہمارے وعدہ کی سچائی میں شک نہ کرو اور یہاں تک بھی وعدہ کر رکھا تھا کہ شادی کی راہ میں جس قدر موانع ہوں گے میں ان سب کو دور کر دوں گا۔ انہی وعدوں

صفحہ 321

کے بھروسے پر بیچارے مرزا صاحب نے اس نکاح کو اپنے صدق یا کذب کا معیار بھی ٹھہرا رکھا تھا۔ لیکن افسوس کہ غیبی خدا کے یہ تمام وعدے دھوکے کی ٹٹی ثابت ہوئے اور ۱۷؍ اپریل ۱۸۹۲ء کو پٹی ضلع لاہور کا ایک نوجوان مرزا سلطان محمد نام ملک کے عام رواج کے بموجب سہرے باندھ کر ایک شان دار بارات کے ساتھ بڑے کر و فر سے ہوشیار پور پہنچا اور محمدی بیگم کو بیاہ لایا۔ تعجب تو یہ ہے کہ مرزا صاحب کے غیبی خدا نے آسمان پر تو محمدی بیگم کا نکاح مرزا صاحب سے باندھ رکھا تھا لیکن زمین پر وہ مرزا صاحب کے رقیب کے آغوش میں چلی گئی۔ حق دار کوئی تھا، لے گیا کوئی۔ ؎

میں منتظر وصال وہ آغوش غیر میں قدرت خدا کی درد کہیں اور دوا کہیں

لیکن اس میں بیچارے مرزا صاحب کا کچھ قصور نہ تھا۔ ساری شرارت تو ان کے غیبی خدا اور اس کے دست راست ٹیچی ٹیچی کی تھی۔ جنہوں نے جھوٹے وعدے کر کر کے بیچارے مرزا صاحب کی جگ ہنسائی کرائی اور خود پاس کھڑے ہنستے اور تماشہ دیکھتے رہے۔ کاش ان ظالموں کو مرزا صاحب پر کچھ رحم آیا ہوتا۔

نوحہ فراق

صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود صاحب شعر بھی کہتے تھے، تخلص فرخ تھا۔ ایک کاپی بک پر مندرجہ ذیل اشعار ملے ہیں۔ ؎

عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا ایسے بیمار کا مرنا ہی روا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا مرے دل! ابھی کچھ پاؤ گے تم بھی کہتے تھے کہ الفت میں مزا ہوتا ہے
ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے دل سے صبر گیا! ہوش بھی ورطہ عدم میں پڑے
سبب کوئی خداوند بنا دے کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے
کرم فرما کے آؤ میرے جانی بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے

(سیرت المہدی، جلد اول، ص ۲۰۰)

حضرت صاحبزادہ بشیر احمد صاحب ایم اے نے یہ نہیں فرمایا کہ ان کے والد محترم نے یہ اشعار کس کے فراق میں کہے تھے۔ لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب کو مدت العمر

صفحہ 322

محمدی بیگم کے سوا کسی کی یاد نے نہیں تڑپایا تو خیال ہوتا ہے کہ یہ رشحہ قلم شاید اسی جدائی کے قیامت انگیز واقعہ کی تصویر ہوگی۔

باب ۶۰

پہلی بیوی کی تعلیق اور خانہ بربادی

الہامی صاحب کی پہلی بیوی کا نام حرمت بی بی تھا۔ یہ ان کے حقیقی ماموں مرزا جمعیت بیگ کی صاحبزادی تھیں‘ جو ایمہ ضلع ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔ رئیس قادیاں کے منجھلے بیٹے میاں بشیر احمد ایم اے نے کتاب سیرۃ المہدی کی دوسری جلد میں اپنے باپ کی پہلی شادی کا سال ۱۸۵۲ یا ۱۸۵۳ عیسوی لکھا ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلی شادی کے وقت الہامی صاحب کی عمر صرف بارہ یا تیرہ سال کی تھی۔ کیونکہ انہوں نے کتاب البریہ میں اپنی ولادت ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں بتائی ہے۔ محترمہ حرمت بی بی وہی بے کس مظلومہ ہیں جنہیں خانہ ساز مجدد نے محمدی بیگم کی خواستگاری کے ایام سے محض اس ”جرم“ میں معلقہ کر رکھا تھا کہ وہ اپنے برادر حقیقی مرزا علی شیر بیگ کو جو محمدی بیگم کے پھوپھا تھے۔ اس بات پر کیوں مجبور نہیں کرتیں کہ وہ محمدی بیگم کے باپ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری سے لڑ جھگڑ کر محمدی بیگم کا نکاح خودساختہ مجدد صاحب سے کرا دیں۔ حالانکہ نہ یہ بیچاری حرمت بی بی کے بس کا روگ تھا اور نہ مرزا علی شیر بیگ صاحب ہی کی وہاں دال گلتی تھی۔ کیونکہ محمدی بیگم قادیاں میں اپنے حقیقی ماموؤں مرزا امام الدین اور نظام الدین کے قبضہ میں تھی جو مرزا غلام احمد صاحب کے عم زاد بھائی تھے۔ اور چونکہ الہامی صاحب نے ان سے سخت بگاڑ کر رکھا تھا اور ہمیشہ معاندانہ سلوک روا رکھتے تھے اس لیے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بھانجی الہامی صاحب کے نکاح میں جائے۔ اس کے علاوہ الہامی صاحب نے پیشین گوئی کر رکھی تھی کہ ”یہ لڑکی ضرور میرے حبالۂ نکاح میں آئے گی کیونکہ آسمان پر اس سے میرا عقد ہوچکا ہے“۔ اس لیے مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین چاہتے تھے کہ اس پیشین گوئی کو پورا نہ ہونے دیں اور عملاً ثابت کر دیں کہ مرزا

صفحہ 323

غلام احمد کو خدائے برتر کی طرف سے الہام نہیں ہوتے بلکہ ان الہامات کا سرچشمہ وہی ”ذات شریف“ ہے، جس نے بنی آدم کو گمراہ کرنے اور ہر طرح سے گزند پہنچانے کا عہد کر رکھا ہے۔ واقعی محمدی بیگم کے آسمانی نکاح کی اطلاع اگر منجانب اللہ ہوتی تو زمین و آسمان زیر و زبر ہو سکتے تھے مگر یہ نکاح نہیں ٹل سکتا تھا۔

بے دین اقربا سے میل جول رکھنے کا الزام

ملہم قادیاں کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں کہ ”مسیح موعود (مرزا جی) کو اوائل ہی سے مرزا فضل احمد کی والدہ (حرمت بی بی) سے جن کو لوگ عام طور پر ” پھجے دی ماں“ کہا کرتے تھے بے تعلقی سی تھی، جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور اس کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھی۔ اس لیے حضرت مسیح موعود نے مباشرت ترک کر دی تھی“۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۴۶) میاں بشیر احمد صاحب نے اپنی سوتیلی ماں پر یہ الزام لگایا ہے کہ مسیح صاحب کے اقرباء کی طرف جنہیں دین سے بے رغبتی تھی ان کا میلان تھا لیکن انہوں نے اس بے رغبتی کی شرح نہیں کی حالانکہ اقرباء کی مزعومہ بے رغبتی اسی کے سوا کچھ نہ تھی کہ وہ بھی ”مجدد صاحب“ کو دوسرے مسلمانان عالم کی طرح ان کے دعوؤں میں راست گو نہ سمجھتے تھے۔ مرزا صاحب کے خویش و اقارب کو جو فرقہ حقہ اہل سنت و جماعت کے پیرو تھے، دین سے اعراض نہ تھا حاشا و کلا بلکہ خانہ ساز مجدد صاحب نے ہی اسلام کے شارع عام کو چھوڑ کر اور مومنوں کے منہاج قویم سے منہ موڑ کر دہریت اور بے دینی کی بلاخیز وادی میں جا بسیرا کیا تھا۔ ارشاد خداوندی ہے۔

و من يشاقق الرسول من بعد جو کوئی امر حق ظاہر ہو جانے کے بعد ما تبين له الهدى و يتبع رسولؐ اللہ کی مخالفت کرے اور غير سبيل المومنين نوله مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر کسی دوسرے ما تولى و نصله جهنم و راستے ہولے تو ہم اس کی رسی دراز کر ساءت مصیراً O (۴ : ۱۱۵) دیں گے۔ اس کے بعد اس کو جہنم واصل کریں گے، جو نہایت برا ٹھکانہ

صفحہ 324

ہے۔

اور اگر بفرض محال مرزا صاحب کے قرابت داروں کو دین سے بے رغبتی تھی اور محترمہ حرمت بی بی کا ان کی طرف میلان تھا تو بھی ظاہر ہے کہ تمام لوگ مذہب کی طرف یکساں راغب نہیں ہوتے۔ پس یہ کس دین و آئین کی تعلیم ہے کہ جن اقرباء کو مذہب سے شغف و انہماک نہ ہو ان کا مقاطعہ کر دیا جائے اور اگر بیوی خدا اور اس کے برگزیدہ رسولؐ کے احکام کے ماتحت اپنے اقربا سے قطع تعلق نہ کرے تو اس کو گھر سے نکال کر مدت العمر بے کسی اور کسمپرسی کے زندان میں ڈال دیا جائے؟ میاں بشیر احمد ایم اے کا یہ کہنا بھی انتہا درجہ کی دیدہ دلیری اور شرمناک غلط بیانی ہے کہ ”والدہ سلطان احمد اپنے بے دین اقرباء کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی۔ کیونکہ مظلومہ کے حقیقی بھائی مرزا علی شیر بیگ رحمتہ اللہ علیہ حضرت حاجی محمود صاحب جالندھری نقشبندی قدس سرہ کے خلیفہ تھے۔ قاضی فضل احمد صاحب نے کتاب ”کلمہ فضل رحمانی“ میں لکھا ہے کہ اس زمانہ میں مرزا علی شیر بیگ جیسے باخدا لوگ کبریت احمر کا حکم رکھتے تھے اور چونکہ وہ ایک خدا شناس بزرگ تھے، کلیجہ پر صبر کا پتھر رکھ کر خاموش رہ گئے اور بہن کی مظلومی کو قیامت کے دن احکم الحاکمین کے فیصلہ پر چھوڑ دیا۔ ان کی جگہ کوئی دنیا دار آدمی ہوتا تو ”مجدد صاحب“ کو قدر عافیت معلوم ہو جاتی۔ غرض ایسے فرشتہ خصال عارف باللہ کی پاک سرشت ہمشیرہ محترمہ پر دین سے معرض ہونے کا الزام لگانا اسی شخص کا کام ہو سکتا ہے جس کا دل عقوبت خداوندی کے جذبات سے بالکل بیگانہ ہو اور اگر بفرض محال وہ ایسی ہی تھیں جیسا کہ ان پر بہتان باندھا گیا ہے تو اس حالت میں بھی بیوی کو معلقہ کر رکھنا اور کسمپرسی کی حالت میں چھوڑ دینا کہاں کی ایمانداری تھی؟ اگر مسیح صاحب اس جرم نا آشنا کو اپنے گھر میں آباد رکھنا نہیں چاہتے تھے تو ان کا مذہبی اور اخلاقی فرض تھا کہ دین مہر دے کر آزاد کر دیتے لیکن افسوس کہ انہوں نے ایسا نہ کیا۔ بلکہ جس جرم بے دینی کے وہ خود مجرم تھے ان کے فرزند نے اندھا دھند اس کا الزام الٹا مجدد صاحب کے اقرباء اور ان کی بے کس بیوی کے سر تھوپ دیا۔

بیوی کے معلقہ کر رکھنے کا جرم

میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ والدہ نے فرمایا میری شادی کے بعد حضرت صاحب

صفحہ 325

نے انہیں (پہلی بیوی کو) کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح (ظلم و جور) ہوتا رہا ہوتا رہا لیکن اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اس لیے اب دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا‘ تو میں گنہگار ہوں گا۔ اس لیے اب دو باتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ میں تم کو خرچ دیئے جاؤں گا۔ انہوں نے کہلا بھیجا۔ ”اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی‘ بس مجھے خرچ ملتا رہے میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں“۔ اس کے بعد محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد (اور مرزا سلطان احمد) کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہی۔ تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ صفحہ ۲۶) حضرات! مرزا بشیر احمد کی اس تحریر کا ایک ایک لفظ تصنع‘ ریا اور ملمع سازی سے ہمکنار ہے۔ جب خانہ ساز مجدد صاحب کو اوائل ہی سے اس مظلومہ سے بے تعلقی تھی اور خدائے شدید العقاب کی سخت گیریوں سے بے خوف ہو کر تعلقات زنا شوئی سے دست بردار تھے تو الہامی صاحب کا یہ کہنا کس درجہ ابلہ فریبی ہے کہ ”میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لیے اب دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا‘ تو میں گنہگار ہوں گا“۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ الہامی صاحب دوسری شادی سے پہلے تو بیوی کے اخراج‘ خانہ بربادی اور ترک مباشرت کے مجرم اور گنہگار نہیں تھے البتہ اس وقت سے ان کی گنہگاری کا سلسلہ شروع ہوا جب دہلی سے نئی نویلی دلہن آگئی۔ لیکن یہ خیال سخت مہمل ہے‘ جو شخص ایک منٹ کے لیے بھی اپنی منکوحہ سے بے اعتنائی برتتا ہے اور اسے فلاکت و بے کسی کے عالم میں چھوڑتا ہے وہ احکم الحاکمین کا مجرم شریعت حقہ کا چور ہے اور قیامت کے دن اس سے سخت باز پرس ہوگی۔

میاں بشیر احمد ایم اے کا بیان ہے کہ ”مرزا صاحب والدہ‘ فضل احمد کی علیحدگی کے بعد نان و نفقہ دیتے رہے اور انجام کار ان کو طلاق دے دی“۔ لیکن یہ دونوں بیان سراپا غلط ہیں۔ میاں محمد حسین صاحب ساکن راہواں نے جو مرزا علی شیر بیگ مرحوم کے مرید تھے لکھا کہ مرزا غلام احمد نے والدہ سلطان احمد و فضل احمد کو جو ہمارے ہادی و رہبر کی حقیقی ہمشیر ہیں طلاق نہیں دی تھی اور جب سے ان کی الہامی و آسمانی منکوحہ (محمدی بیگم) کا عقد مرزا سلطان محمد سے ہوا ان کو اپنے سے علیحدہ کر رکھا تھا۔ نہ کسی طرح کا کوئی تعلق رکھا

صفحہ 326

اور نہ حکم شریعت کے بموجب نان نفقہ ہی دیتے تھے بلکہ مرزا سلطان احمد ہی اپنی والدہ کی ضروریات کے تادم واپسیں متکفل رہے اور صرف یہی نہیں بلکہ میرا خیال ہے کہ مرزا غلام احمد تو مرحومہ کی تجہیز و تکفین میں بھی شریک نہیں ہوئے“۔ (کلمہ فضل رحمانی‘ صفحہ ۱۴۲)

محترمہ حرمت بی بی حق فراموش شوہر کو خدا یاد دلاتی ہیں

جب خانہ ساز مجدد صاحب نے مرزا سلطان احمد مرحوم کی مادر محترمہ کو حکم دیا کہ وہ تمام اقرباء سے منقطع ہو جائے تو اس عالی فطرت خاتون نے اپنے حق فراموش شوہر کو سمجھایا کہ ”یہ فعل صراحۃً شریعت حقہ کے خلاف ہے اس لیے نہ خود ایسا کرو اور نہ مجھے اس کے لیے مجبور کرو“۔ لیکن ”مجدد“ صاحب کو بھلا شریعت حقہ سے کیا واسطہ تھا؟ ایک نہ سنی اور کہا کہ ”قرابت داروں نے محمدی بیگم کو دوسری جگہ بیاہ دیا ہے اس لیے اگر تمام رشتہ داروں سے قطع تعلق نہ کرو گی تو گھر سے نکال دوں گا۔ یہ دیکھ کر اس نیک نہاد خاتون نے انہیں خدا یاد دلایا اور کہا کہ ”دنیا کی زندگی حباب کا حکم رکھتی ہے تم مجھ پر ظلم کر کے اپنے لیے خسران ابدی کے سامان مہیا نہ کرو لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور ان کو گھر سے نکال دیا۔ وہ بیچاری بے کسی کی چادر اوڑھ کر اپنے بھائی مرزا علی شیر بیگ مرحوم کے ہاں غربت و انفراد کے غم کدہ میں جا بیٹھیں۔ حضرت ”مجدد“ صاحب کی یہ قساوت ظلم و بیداد کے خونخوار عفریت کی پرستش تھی‘ جس نے عدل خداوندی اور شریعت مطہرہ کے جسم کو پارہ پارہ کر دیا۔ جن ایام میں الہامی صاحب نے اس نیک نہاد خاتون کو گھر سے علیحدہ کر کے محمدی بیگم کے آسمانی نکاح کی خاک اڑا رکھی تھی۔ ان دنوں مرزا سلطان احمد صاحب لاہور میں نائب تحصیلدار تھے۔ لیکن اس سے اگلے سال یعنی ۱۸۹۲ء میں جبکہ مرزا سلطان محمد صاحب ساکن پٹی ضلع لاہور محترمہ محمدی بیگم صاحبہ کو بیاہ کر پٹی ضلع لاہور میں لائے مرزا سلطان احمد صاحب شجاع آباد ضلع ملتان کے تحصیل دار تھے۔ (کلمہ فضل رحمانی‘ ص ۱۴۰) اس کے بعد خدائے برتر نے مرزا سلطان احمد صاحب کو بڑا عروج بخشا۔ چنانچہ ۱۹۱۹ء میں جبکہ پنجاب میں مارشل لا کی بے آئینی کا ہنگامہ بپا تھا‘ خان بہادر مرزا سلطان احمد صاحب ہمارے ضلع (گوجرانوالہ) کے ڈپٹی کمشنر (کلکٹر) تھے۔

صفحہ 327

سوتیلی ماں اور ان کے والد کی توہین

آپ نے اوپر پڑھا کہ مرزا بشیر احمد ایم اے نے خان بہادر مرزا سلطان احمد مرحوم اور مرزا فضل احمد مرحوم کی والدہ محترمہ کو ازراہ تحقیر ”پھجے دی ماں“ لکھا ہے۔ اسی طرح ”سیرۃ المہدی“ میں ان کے نانا مرزا جمعیت بیگ کے متعلق بیان کیا ہے کہ ان کے دماغ میں خلل تھا۔ تعجب ہے کہ میاں بشیر احمد صاحب نے ایسی بعید از کار باتیں لکھتے وقت بزرگوں کا ادب اور شرم و لحاظ کیوں محسوس نہ کیا؟ اصل میں بزرگوں کی توہین و بے ادبی مرزائیوں کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور یہ وہ چیز ہے جو ”قادیاں شریف“ کو اپنے ”مسیح موعود“ سے ارثاً ملی ہے۔ محترمہ حرمت بی بی تو خیر والدہ بشیر احمد کی سوکن تھیں اس لیے ان کی توہین قادیاں کے ”خاندان نبوت“ سے کچھ بعید نہ تھی لیکن کم از کم مرزا جمعیت بیگ صاحب کو تو نظر انداز کر دیا ہوتا، جو بشیر احمد صاحب کی اپنی دادی چراغ بی بی صاحبہ کے حقیقی بھائی تھے اور اگر وہ کہیں کہ صاحب ہم تو ہمیشہ صاف گوئی سے کام لیں گے، کوئی چھوٹا ہو یا بڑا لگی لپٹی رکھے بغیر حقیقت نفس الامر کا اظہار کریں گے تو میں ان سے پوچھنے کا حق رکھتا ہوں کہ انہوں نے اپنے والد مکرم مرزا غلام احمد صاحب کے متعلق صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے یہ کیوں نہ لکھا کہ وہ مراقی تھے اور مرزا جمعیت بیگ کی طرح ان کے دماغ میں بھی خلل تھا؟

ایک پرانا مرزائی الہام

مرزا صاحب نے محمدی بیگم سے شادی کرنے کی الہامی پیشین گوئی کے متعلق لکھا تھا۔ ”براہین احمدیہ“ میں بھی اس وقت سے سترہ برس پہلے اس پیش گوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا۔ وہ الہام یہ ہے۔ یا ادم اسکن انت وزوجک الجنتہ، یا مریم اسکن انت وزوجک الجنتہ، یا احمد اسکن انت وزوجک الجنتہ اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا ہے اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے، پہلا نام آدم۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر

صفحہ 328

فرمایا۔ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی۔ جس کو حضرت مسیح سے مشابہت ملی۔ تیسری زوجہ جس کی انتظار ہے اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت حمد اور تعریف ہوگی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیشین گوئی ہے، جس کا سرّ اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ (ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ ۵۴) ظاہر ہے کہ پہلی جرم نا آشنا بیوی جس کو مرزا صاحب نے گھر سے نکال دیا اور دائمی مفارقت اختیار کر لی۔ حسب بیان میاں بشیر احمد مطلقہ ہوچکی۔ پس مرزا صاحب کا الہام من گھڑت ثابت ہوگیا کیونکہ طلاق کے بعد مرزا صاحب سے اس کی آخرت میں کسی طرح رفاقت نہیں ہو سکتی۔ خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ مرزا صاحب اس بیوی کو (معاذ اللہ) بے دین قرار دے چکے تھے اور اس کے مقابلہ میں ملت موحدین کے تمام علمائے حق نے مسیح صاحب کے زندقہ و ارتداد کا فتویٰ دیا تھا۔ پس الہامی صاحب کا یہ الہام بھی لغو اور من گھڑت ثابت ہوا۔

باب ۶۱

رئیس قادیاں کا قدوم دہلی اور

مولانا نذیر حسین کو دعوت مناظرہ

لدھیانہ میں ہزیمت و رسوائی کا جو دھبہ مرزا صاحب کے دامن عزت پر لگا اس کی تفصیل انشاء اللہ العزیز دوسری جلد میں سپرد قلم ہوگی۔ اس ہزیمت نے مریدوں میں بددلی کی لہر دوڑا دی تھی۔ اس لیے قادیانی صاحب شب و روز اس اُدھیڑ بن میں مصروف رہتے تھے کہ کسی طرح اس داغ رسوائی کو دھویا جائے۔ اسی کوشش میں انہوں نے مولوی محمد حسین کو مسئلہ حیات و ممات مسیح علیہ السلام پر بحث کرنے کا چیلنج دیا تھا مگر مولوی صاحب رئیس قادیاں کی علمی بے مائیگی اور ان کی ترکیب مزاج سے واقف تھے۔ انہوں نے اس چیلنج کو بصد اشتیاق لبیک کہا اور سارا مرزائی منصوبہ اس آندھی کے ایک ہی جھونکے سے خس و

صفحہ 329

خاشاک کی طرح اڑ گیا۔ ادھر سے مایوسی ہوئی تو خیال آیا کہ دہلی چل کر قسمت آزمائی کریں اور یقین ہوا کہ گئی ہوئی وقعت وہیں جا کر واپس مل سکتی ہے کیونکہ وہاں مولوی محمد حسین کے استاد مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کو دعوت مناظرہ دی جائے گی تو وہ اپنی بزرگی اور مرزا کی ناہلی کے پیش نظر انہیں منہ نہ لگائیں گے اور مفت کی شہرت و ناموری حاصل ہو جائے گی۔ اس فیصلہ کے بموجب مرزا صاحب اواخر ستمبر ۱۸۹۱ء میں دہلی جا براجے۔

دہلی میں صور جنگ کی پہلی گرج

مرزا جی نے دہلی جا کر جو اشتہار ۲ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو شائع کیا وہ حسب زعم مرزائیاں توپ کا ایک گولہ تھا جس نے دہلی کی پرسکون فضا میں تلاطم برپا کر دیا۔ اس اشتہار کا اقتباس ملاحظہ ہو۔ ”اے برادران سکنائے دہلی‘ اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی‘ ملائک کا منکر‘ بہشت و دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبی سے بکلی منکر ہے یہ الزام سراسر افتراء ہے میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر بلکہ ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقاید میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدمؑ صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہو گئی اور مجھے مسیح ابن مریمؑ ہونے کا دعویٰ نہیں اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ میں محدث ہوں اور مامور من اللہ ہوں۔ چودہویں صدی کے لیے مسیح ابن مریم کی خصلت اور رنگ میں مجدد دین ہو کر آیا ہوں۔ میں حضرت مسیح ابن مریم کو فوت شدہ اور داخل موتی یقین رکھتا ہوں اور جو آنے والے مسیح کے بارے میں پیش گوئی ہے وہ اپنے حق میں یقینی اور قطعی اعتقاد رکھتا ہوں۔ چونکہ میں اس وقت اس شہر دہلی میں وارد ہوں اور افواہ سنتا ہوں کہ اس شہر کے بعض علماء جیسے حضرت سید مولوی نذیر حسین صاحب اور جناب مولوی

صفحہ 330

ابو محمد عبدالحق صاحب حقانی اس عاجز کی تکذیب و تکفیر کے درپے ہیں اور الحاد اور ارتداد کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اس لیے اتماماً للحجۃ حضرات موصوف کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ حیات مسیح ابن مریم کی نسبت مجھے انکار ہے اگر یہ دونوں حضرات مجھے مخطی خیال کرتے ہیں یا ملحد تصور فرماتے ہیں تو ان پر فرض ہے کہ عامہ خلائق کو فتنہ سے بچانے کے لیے اس مسئلہ میں میرے ساتھ بحث کرلیں۔ تین شرطیں ہوں گی۔

مجلس بحث میں موجود ہو کیونکہ میں اپنی قوم کا مورد عتاب ہوں۔

اور اس پر اپنے دستخط کر کے پیش کرے۔

میں اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد ایک ہفتہ تک جواب کا انتظار کروں گا۔ اگر دونوں حضرات شرائط مذکورہ بالا کو منظور کر کے مجھے طلب کریں تو جس جگہ چاہیں میں حاضر ہو جاؤں گا۔ (خاکسار غلام احمد قادیانی‘ حال وارد دہلی بازار بلیماراں‘ کوٹھی نواب لوہارو۔

تبلیغ رسالت‘ جلد ۲ ص ۲۰- ۲۶)

دہلی کے وہ علماء جنہوں نے مرزا جی کو مناظرہ کا چیلنج دیا

جب مرزا صاحب کا چیلنج مولانا سید نذیر حسین صاحب کے پاس پہنچا تو انہوں نے بہ نفس نفیس مرزا صاحب کے شبہات کو دور کرنا چاہا۔ چنانچہ یکم ربیع الاول مطابق ۵؍ اکتوبر کو اس مضمون کا ایک خط مرزا صاحب کے نام لکھا کہ ”آپ بے تکلف میرے مکان پر آ جائیے اور شکوک پیش کر کے اطمینان کر لیجئے“۔ اس خط کے جواب میں مرزا صاحب نے آنے سے انکار کیا اور جواب میں کہلا بھیجا کہ جب تک یورپین افسر موجود نہ ہوگا میں آپ سے گفتگو نہ کروں گا۔ (اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۴‘ ص ۵) مولانا ممدوح کے علاوہ دہلی کے بعض دوسرے سربرآوردہ علماء نے بھی مرزا صاحب سے مناظرہ کرنے کی خواہش کی اور ان کی تمام شرطوں کو منظور کر کے گفتگو کی دعوت دی۔ ان میں سے ایک مولوی عبدالمجید صاحب واعظ تھے۔ انہوں نے متعدد اشتہارات چھپوا کر مرزا صاحب کو مناظرہ کے لیے مدعو کیا اور

صفحہ 331

اعلان کیا کہ اگر وہ اپنا دعویٰ ثابت کر دیں تو انہیں ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ از انجملہ مولوی رحیم بخش صاحب مدرس مدرسۃ القرآن تھے انہوں نے منظوری جملہ شرائط انہیں مدرسہ میں بلا بھیجا مگر مرزا صاحب نے ادھر کا رخ نہ کیا۔ اسی طرح مولوی مجدّد علی خان صاحب ۷؍ اکتوبر کے اشتہار میں منظوری جملہ شرائط مسجد فتح پوری میں مناظرہ کی دعوت دی لیکن مرزا صاحب مسجد فتح پوری میں بھی نہ پہنچے۔ اسی طرح مولوی عبدالمجید صاحب نے مرزا صاحب کو مقابلہ پر آنے کے لیے مدعو کیا اور اپنے اشتہار مورخہ ۷؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء میں مرزا صاحب کے تمام عذرات اور حیلوں حوالوں کو یہ کہہ کر توڑ دیا کہ ”آپ اپنے قیام گاہ کی چھت پر بیٹھ جائیں۔ میں اس کے بالمقابل دوسرے کوٹھے پر بیٹھ کر گفتگو کروں گا۔ بیچ میں بازار بلماراں حائل رہے گا۔ اس طرح آپ کو کسی طرح کا اندیشہ نہ رہے گا“۔ غرض اسی طرح مرزا صاحب کے مقابلے میں چودہ اشتہارات شائع ہوئے مگر انہیں کسی سے مقابلہ و مباحثہ کا حوصلہ نہ ہوا اور اپنے قیام گاہ کے دروازے سے جس پر پولیس کا پہرہ تھا قدم باہر رکھنا پسند نہ فرمایا۔

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۴ ص ۵)

مولوی عبدالحق مفسر حقانی کے مقابلہ سے گریز

اس اثناء میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو معلوم ہوا کہ قادیانی نے دہلی جا کر فتنہ انگیزی شروع کی ہے تو یہ بھی بعجلت تمام دہلی پہنچے۔ جب الہامی صاحب کو اپنے قدیم دوست کی آمد کا علم ہوا تو بہت گھبرائے اور یہ سوچ کر کہ مولوی عبدالحق حقانی حنفی کو چیلنج دے کر حنفیوں سے ناحق لڑائی مول لی ارادہ کیا کہ حقانی صاحب سے مصالحت کر کے صرف اہل حدیث جماعت سے چھیڑ خانی کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ مگر قادیانی صاحب کا یہ خیال غلط تھا کیونکہ مرزائی الحاد و زندقہ سے مقلد اور غیر مقلد یکساں بیزار تھے۔ اس لیے یہاں حنفی اور غیر حنفی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ بہرحال مرزا صاحب بہ نفس نفیس حقانی صاحب کے مکان پر پہنچے اور کہنے لگے کہ ”حافظ احمد نابینا نے دھوکا دے کر آپ کا نام بھی لکھوا دیا۔ میں تو صرف غیر مقلدوں سے بحث کرنا چاہتا ہوں۔ آپ حنفی ہیں اس لیے مجھے آپ سے مقابلہ کرنا منظور نہیں“۔ مولوی صاحب نے یہ خیال کر کے کہ گرانے سے بھگانا اچھا ہے کہا کہ آپ بذریعہ اشتہار اس مباحثہ سے انکار کر دیں، تو ہم بھی اپنے مطالبہ سے

صفحہ 332

دست بردار ہو جائیں گے۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۴‘ ص ۳) اس ملاقات کے بعد مرزا صاحب نے ۱۸ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ اس عاجز نے ۱۸ اکتوبر کے اشتہار میں حضرت مولوی ابو محمد عبدالحق کا نام بھی درج کیا تھا مگر عندالملاقات اور باہمی گفتگو سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب موصوف ایک گوشہ گزین آدمی ہیں اور ایسے جلسوں سے جن میں عوام کے نفاق اور اشقاق کا اندیشہ ہو طبعاً کارہ ہیں اور اپنے کام تفسیر قرآن کریم میں مصروف ہیں اور اشتہار کے شرائط پورے کرنے سے مجبور ہیں کیونکہ گوشہ نشین ہیں۔ حکام سے میل ملاقات نہیں رکھتے اور بباعث درویشانہ صفت کے ایسی ملاقاتوں سے کراہیت بھی رکھتے ہیں لیکن مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگرد بٹالوی صاحب جو اب دہلی میں موجود ہیں ان کاموں میں اول درجہ کا جوش رکھتے ہیں۔ لہٰذا اشتہار دیا جاتا ہے کہ اگر ہر دو مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح ابن مریم کو زندہ سمجھنے میں حق پر ہیں تو میرے ساتھ پابندی شرائط مندرجہ اشتہار ۱۸ اکتوبر ۱۸۹۱ء بالاتفاق بحث کر لیں۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۲‘ ص ۲۷) مگر موعود صاحب کا یہ حیلہ کارگر نہ ہوا کیونکہ مولوی عبدالحق صاحب نے ۱۸ اکتوبر کو مطبع یوسفی دہلی میں اس مضمون کا ایک اشتہار چھپوا کر مشتہر کیا کہ قادیانی صاحب نے میرے ساتھ مناظرہ نہ کرنے کا جو عذر پیش کیا ہے وہ سراسر دروغ آمیز ہے۔ میں واقعی حکام سے میل جول نہیں رکھتا لیکن بالائی انتظام کے لیے اوپر کے لوگ موجود ہیں۔ پس قادیانی صاحب ۱۸ اکتوبر کو ٹاؤن ہال میں آئیں اور مجھ سے مناظرہ کر لیں۔ ورنہ جھوٹے سمجھے جائیں گے۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۴‘ صفحہ ۴)

تمام مرزائی شرائط کی منظوری

دوسری طرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے الہامی صاحب کو اقرار مباحثہ کے جواب میں ۱۷ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک اعلان شائع کیا جس میں قادیانی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ”آپ نے خاکسار اور حضرت میاں صاحب (مولانا نذیر حسین صاحب) کو مقابل و مباحث بنانا چاہا ہے اور یہ حقیقت ظاہر ہے کہ مباحثہ میں ایک ہی شخص بول سکے گا دونوں مل کر آپ سے ہمکلام نہ ہوں گے۔ لہٰذا یہ اقرار پایا ہے کہ پہلے خاکسار آپ سے گفتگو کرے‘ اگر خاکسار آپ کو ساکت اور لاجواب نہ کر دے تو پھر میاں صاحب سے گفتگو

صفحہ 333

کے مجاز ہوں گے۔ یہی امر بحکم عقل موزوں و مناسب ہے۔ شاگردوں کے ہوتے ہوئے ایک شیخ الکل اور امام وقت کو زیبا نہیں ہے کہ آپ جیسوں کو اپنا مخاطب بنائے اور اگر آپ اپنی ہی شرطیں بلا کم و کاست منظور کرانا چاہتے ہیں تو ہم اس امر کے لیے بھی حاضر ہیں۔ لیجئے۔ بتاریخ ۱۸ اکتوبر ۱۸۹۱ء بوقت ۹ بجے دن کے چاندنی محل میں تشریف لے آئیے‘ اور خاکسار سے گفتگو کر لیجئے۔ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں اور آپ کی تمام شرطیں منظور ہیں“۔ یہ اشتہار چھپوا کر متعدد ذرائع سے قادیانی صاحب کے پاس بھیجے گئے اور زبانی پیغام بھی پہنچائے گئے۔ الہامی صاحب نے اس اشتہار کو پڑھ کر اور پیغامات سن کر کوئی عذر و انکار نہ کیا۔ جس سے ہر ایک کو یقین ہو گیا کہ وہ وقت مقررہ پر چاندنی محل پہنچ جائیں گے اس لیے فرش فروش کا انتظام کیا گیا۔ اب مولوی محمد حسین صاحب اور مولوی عبدالحق صاحب حقانی کی طرف سے ایک مشترکہ چٹھی مرزا صاحب کے نام کی بھیجی گئی جس کا مضمون یہ تھا کہ ”مولوی عبدالحق صاحب نے آپ کو ٹاؤن ہال میں مباحثہ کے لیے بلایا تھا آج یہ قرار پایا ہے کہ بالفعل ایک ہی مناظرہ چاندنی محل میں ہو۔ آپ وقت مقررہ پر ضرور تشریف لائیں کیونکہ فرش وغیرہ پر بہت سا روپیہ خرچ آ چکا ہے“۔ وقت مقررہ پر مرزا صاحب کا سخت انتظار شروع ہوا لیکن انہیں نہ آنا تھا نہ آئے اور جلسہ بے نیل مرام برخاست ہوا۔

(اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۴‘ ص ۴)

الہامی صاحب کی عہد شکنیاں اور مقابلہ سے گریز

مرزا صاحب نے ۱۶ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں لکھا تھا کہ مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگرد بٹالوی صاحب جو اب دہلی میں موجود ہیں۔ ان کاموں میں اول درجہ کا جوش رکھتے ہیں لہٰذا اشتہار دیا جاتا ہے کہ وہ میرے ساتھ پابندی شرائط مندرجہ اشتہار ۱۸ اکتوبر ۱۸۹۱ء بحث کرلیں۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۲‘ ص ۲۷ ۔ ۲۸) لیکن مرزا صاحب نے مولوی محمد حسین کے ساتھ مباحثہ کرنے سے صاف انکار کر کے نقض عہد کیا اور کہا کہ میں خاص مولوی نذیر حسین صاحب سے گفتگو کروں گا کیونکہ مجھے ابوسعید محمد حسین کی گفتگو سے بالطبع نفرت ہے ہاں وہ مولوی سید نذیر حسین صاحب کے مددگار رہیں۔ اس اصرار کی وجہ سے میاں صاحب مجبور ہوگئے کہ بذات خود قادیانی صاحب سے گفتگو کریں۔ اس فیصلہ کے

صفحہ 334

مورخہ ۱۸ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو ایک اور جلسہ چاندنی محل میں تجویز ہوا اور میاں صاحب نے قادیانی صاحب کو ایک چٹھی میں اطلاع دی کہ ”میں بذات خود آپ سے گفتگو کرنے پر آمادہ ہوں۔ آپ ۱۸ اکتوبر کو فلاں وقت چاندنی محل میں آجائیے“۔ لیکن قادیانی صاحب اس عہد کے بھی پابند نہ رہے اور مجلس مناظرہ میں آنے سے صاف انکار کیا اور اس مضمون کا ایک خط لکھ بھیجا کہ ”چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جوش عوام کا حد سے بڑھا ہوا ہے۔ لہٰذا یہ تجویز قرار پائی ہے کہ غلام قادر صاحب فصیح ڈپٹی کمشنر کے پاس جا کر اطلاع دیں تو پھر ایک تاریخ مقرر کر کے جلسہ ہو“۔ اس پر چاندنی محل کا جلسہ برخاست ہوا اور اہل دہلی کو یقین ہو گیا کہ قادیانی کو مباحثہ ہی منظور نہیں ہے۔ وہ محض حیلے حوالے اور دفع الوقتی سے کام لے رہے ہیں۔ مرزا صاحب کے اس فرار و گریز کا نہ صرف دہلی میں بلکہ تمام ہندوستان میں شہرہ ہوا اور ان کے دامن شہرت پر سخت بدنما داغ لگا۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۴‘ ص ۵)

میاں صاحب کی شان میں دریدہ دہنی

مولانا نذیر حسین صاحب ہندوستان بھر کے نامی گرامی علمائے اہل حدیث کے استاد اور شیخ الکل کے لقب سے ممتاز تھے۔ مرزا صاحب نے اپنے ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں ان کی شان میں سخت دریدہ دہنی کی اور لکھا کہ اگرچہ آپ درس قرآن و حدیث میں ریش و بروت سفید کر بیٹھے ہیں مگر آپ کو کسی استاد نے حقیقت تک نہیں پہنچایا اور قال اللہ وقال الرسول کے مغز سے دور‘ مہجور اور بے نصیب محض ہیں۔ آپ کو شرم کرنی چاہئے کہ شیخ الکل ہونے کا دعویٰ اور پھر اس فضیحت کی غلطی کہ مسیح علیہ السلام کو قرآن اور حدیث صحیحہ کے رو سے زندہ سمجھ رہے ہیں۔ اگر آپ کو کچھ شرم ہے تو اب بلا توقف بحث کے لیے میدان میں آجائیں۔ تا سیہ رو شود ہر کہ دروغش باشد۔ میں حیران ہوا کہ آپ کس بات کے شیخ الکل ہیں۔ اگر آپ بحث نہیں کرنا چاہتے تو ایک مجلس میں میرے تمام دلائل وفات مسیح سن کر تین مرتبہ قسم کھا کر کہہ دیجئے کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور میرا یہی عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام بجسدہ العنصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے۔ تب میں آپ کی گستاخی اور حق پوشی اور بددیانتی اور جھوٹی گواہی کے فیصلہ کے لیے جناب الٰہی میں تضرع اور ابتہال کروں گا۔ اور اگر آپ تقویٰ کا طریق چھوڑ کر ایسی گستاخی کریں گے تو ایک سال

صفحہ 335

تک اس گستاخی کا آپ پر ایسا کھلا کھلا اثر پڑے گا جو دوسروں کے لیے بطور نشان کے ہو جائے گا۔ (تبلیغ رسالت، جلد ۲، ص ۳۷)

جامع مسجد دہلی میں مجلس مباحثہ

مولوی محمد حسین بٹالوی اور دوسرے علمائے اسلام کو اس بات پر کامل یقین تھا کہ مرزا صاحب اپنے وعدہ پر قائم نہیں رہیں گے اور مباحثہ نہ ہوگا اور وہ حضرت میاں صاحب کی قسم پر راضی نہ ہوں گے۔ ۱۸ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو مسلمانان دہلی کی طرف سے اس مضمون کا ایک اشتہار شائع کیا گیا کہ مرزا صاحب بدگوئی اور دریدہ دہنی کی وجہ سے جو انہوں نے حضرت شیخ الکل کی شان میں کی اس قابل نہیں رہے کہ حضرت میاں صاحب ان کو اپنا مخاطب بنائیں۔ ہاں مولوی محمد حسین بٹالوی اور میاں صاحب کے دوسرے تلامذہ میں سے جس کسی سے وہ گفتگو پسند کریں ان سے مباحثہ کریں اور اگر مباہلہ کرنا پسند ہے تو مولوی عبدالحق امرتسری یا مولوی عبدالمجید صاحب سے کرلیں۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۴، ص ۶) لیکن اس کے بعد فیصلہ ہوا کہ ۲۰ اکتوبر کو جامع مسجد میں مجلس مناظرہ منعقد ہو اور عوام الناس اور بعض خواص نے میاں صاحب کو اس بات پر راضی کرلیا کہ جامع مسجد کے اجلاس میں تشریف لے چلیں۔ مرزا صاحب کو بھی اس کی اطلاع کر دی گئی۔ مرزا صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ اب میں نے حفظ امن کا انتظام کرلیا ہے۔ میں جامع مسجد میں وقت مقررہ پر پہنچ جاؤں گا۔ ۲۰ اکتوبر کو نماز عصر سے پیشتر ہزارہا مسلمان جامع مسجد میں پہنچ گئے۔ مولانا نذیر حسین صاحب اور دوسرے علمائے دہلی بھی تشریف لے آئے۔ قادیانی صاحب بھی اپنے بارہ پیروؤں کے ساتھ آ موجود ہوئے۔ چونکہ نماز عصر کا وقت ہوگیا تھا مسلمانوں نے نماز باجماعت ادا کی۔ مرزا صاحب اور ان کے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک نہ ہوئے اتنے میں انگریز سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی، جو مرزائیوں کی دعوت پر آیا تھا، جامع مسجد میں آ موجود ہوا۔

نماز کے بعد نواب سعید الدین احمد خان صاحب رئیس لوہارو مولوی عبدالمجید صاحب اور سید بشیر حسین انسپکٹر پولیس مولانا نذیر حسین صاحب کے ایماء سے مرزا صاحب کی جگہ پر گئے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس بھی ساتھ ہولیا۔ ان لوگوں نے جا کر مرزا صاحب سے کہا کہ

صفحہ 336

آپ لکھ دیجئے کہ ”اگر مولانا نذیر حسین صاحب میرے دلائل کو حلف اٹھا کر مسترد کر دیں تو میں اسی مجمع میں توبہ کر لوں گا“۔ مرزا صاحب نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔ ان کے سکوت سے مضطرب ہو کر ایک مرزائی اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ ہاں ایک سال کے بعد توبہ کرلیں گے بشرطیکہ حضرت مرزا صاحب کی بددعا کا کوئی اثر ظاہر نہ ہوا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس: (ہنس کر) یہ تو کوئی بات نہیں۔ اس کو کوئی منظور نہیں کر سکتا۔

مولوی عبدالمجید: (سپرنٹنڈنٹ صاحب سے خطاب کر کے) صاحب! ہم آپ ہی کو حَکَم ٹھہراتے ہیں۔ آپ ان سے دریافت کیجئے کہ آپ نے ۱۷؍ اکتوبر کے اشتہار میں لکھا ہے کہ مولوی نذیر حسین صاحب ایک مجلس میں میرے تمام دلائل وفات مسیح سن کر قسم کھائیں۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۲‘ ص ۳۸) سو کیا آپ اپنے دلائل وفات مسیح پیش کر سکتے ہیں؟ اور اگر مولانا ممدوح آپ کے دلائل کو صحیح نہ تسلیم کریں اور ان کے بطلان پر حلف اٹھالیں تو کیا آپ توبہ کر لیں گے؟ مرزا جی نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔ انگریز سپرنٹنڈنٹ مرزا صاحب اور ان کے دام افتادوں کو دیر تک سمجھاتا رہا کہ تم کیوں بات بڑھاتے ہو؟ ایک مختصر بات کہو۔

مرزا صاحب: ہم صرف مسئلہ حیات و ممات مسیح پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔

مولوی عبدالمجید: ہم نہ صرف مسئلہ حیات و ممات مسیح کا بلکہ آپ کے تمام عقاید کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں جس صورت میں کہ آپ کے بہت سے اور عقاید بھی اسلام کے خلاف ہیں۔ ہم کیوں ایک ہی مسئلہ کا تصفیہ کریں۔ بڑا دعویٰ تو آپ کو مسیحائی کا ہے آپ اس کا کچھ ثبوت پیش کر سکتے ہیں؟

سپرنٹنڈنٹ پولیس: نواب صاحب‘ بخشی اکرام اللہ خان سب

صفحہ 337

رجسٹرار نواب سید سلطان مرزا آنریری مجسٹریٹ اور تمام معززین و اراکین جلسہ۔ بیشک ایسا ہی ہونا چاہیے۔

مرزا صاحب: ہم صرف مسئلہ حیات و ممات مسیح پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سن کر نواب سید سلطان مرزا صاحب اور مولوی عبدالمجید صاحب نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا ہاتھ پکڑ کر انہیں مرزا صاحب کے سامنے کر دیا اور کہا لیجئے یہ مولوی صاحب حاضر ہیں۔ ان سے مسئلہ حیات و ممات مسیح علیہ السلام پر ہی گفتگو کر لیجئے۔ مرزا صاحب مولوی صاحب کو دیکھ کر سہم گئے اور گفتگو سے انکار کر دیا۔

مولوی عبدالمجید: اچھا مرزا صاحب اگر آپ کو مناظرہ سے انکار ہے تو پبلک کی رائے پر کیوں فیصلہ نہیں کر لیتے؟

مرزا صاحب کے پیرو: پبلک تو آپ کے ساتھ ہے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس: (مرزا صاحب کو خطاب کرتے ہوئے) آپ مسیح موعود ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو اس کا ثبوت پیش کیجئے۔ فرض کرو کہ مسیح انتقال کر گئے تو اس حالت میں سب برابر ہیں۔ آپ کو دوسروں سے زیادہ کیا استحقاق ہے کہ آپ کو مسیح سمجھ لیا جائے۔ بہرحال آپ کو اپنے دعوے کا ثبوت دینا ضرور ہے۔

مرزا صاحب: جواب ندارد۔

مولوی صاحب: (بہ آواز بلند) صاحبو! خاموش! ہم ہر مسئلہ میں گفتگو کے لیے تیار ہیں۔ (مرزا صاحب سے خطاب کر کے) آپ کے پاس کوئی شرعی دلیل ہے تو پیش کیجئے۔

خواجہ محمد یوسف: وکیل علی گڑھ منجانب قادیانی صاحب (مولوی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے) حضرت ایک شخص مسلمان ہوتا ہے۔ اسے کیوں مسلمان نہیں کرتے؟

صفحہ 338

مولوی صاحب: اگر توبہ کرے تو ہمارا بھائی ہے۔

خواجہ صاحب: میں ابھی ان سے توبہ لکھوائے دیتا ہوں۔ وہ لکھ دیں گے کہ جو کچھ قرآن و حدیث کے خلاف میں نے لکھا ہے وہ مردود ہے اور میں مسلمان ہوں۔

مولوی صاحب: اگر کسی مغالطہ کے بغیر ایسا لکھ دیں تو ہم ابھی منظور کرتے ہیں۔ مرزا صاحب توبہ نامہ لکھنے لگے مگر وہی الفاظ لکھے جو ۲ اکتوبر کے اشتہار میں شائع کر چکے تھے۔ یعنی مجھ پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ شخص نبوت کا مدعی، معجزات، ملائک اور لیلۃ القدر کا منکر ہے۔ حالانکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں، جو اسلامی عقاید میں داخل ہیں۔

مولوی صاحب: مرزا صاحب! یہ تو آپ پہلے ہی شائع کر چکے ہیں۔ لکھنا تو یہ چاہئے کہ میں نے اپنی کتابوں ”فتح اسلام“، ”توضیح مرام“ اور ”ازالہ اوہام“ میں جو عقیدے اسلامی عقاید کے خلاف لکھے ہیں ان سے توبہ کرتا ہوں۔

خواجہ صاحب: مرزا صاحب نے کوئی امر خلاف اہل اسلام نہیں لکھا مگر سمجھنے کا فرق ہے۔

مولوی صاحب: اچھا مرزا صاحب اسی موضوع پر گفتگو کر لیں کہ ان کے عقاید قرآن و حدیث کے خلاف ہیں یا نہیں؟ ہم ابھی ان کی کتابیں پیش کر دیتے ہیں۔

مرزا صاحب: ہم گفتگو نہیں کرتے۔

اراکین جلسہ: یہ اجتماع اس لیے ہوا ہے کہ آپ اپنے عقاید کا ثبوت پیش کریں۔ یا اگر مولانا نذیر حسین صاحب بحلف آپ کے عقاید کا خلاف قرآن و حدیث ہونا بیان کر دیں تو آپ توبہ کریں۔

مرزا صاحب: ہم صرف مسئلہ حیات و ممات مسیح کا تحریری

صفحہ 339

ثبوت چاہتے ہیں اور کوئی گفتگو نہیں کرتے۔

اراکین جلسہ: مرزا صاحب! یہ مجمع تحریروں کے لیے نہیں ہوا۔ یہ کام تو گھر بیٹھے ہی ہو سکتا ہے اور ہو رہا ہے۔ جب آپ اپنے دعوے کا ثبوت نہیں دے سکتے تو بہتر ہے لوگوں کو رخصت کر دیا جائے۔

نواب سعید الدین خان: (اراکین جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے) اور کچھ نہیں تو مرزا صاحب وفات مسیح علیہ السلام کے متعلق اپنے دلائل پیش کریں۔

مرزا صاحب: ہم تو صرف مولانا صاحب سے حیات مسیح کا تحریری ثبوت چاہتے ہیں۔

اراکین جلسہ: اگر واقعی آپ کی خواہش ہے کہ گفتگو ہو اور یہ گفتگو کسی مفید نتیجہ پر پہنچے' تو نہ صرف مولانا صاحب بلکہ ان کے شاگرد بھی آپ سے گفتگو کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن خلاف مقصود تحریروں کے لیے یہ جلسہ نہیں ہے۔

سپرنٹنڈنٹ: (مولوی عبدالمجید صاحب کو خطاب کر کے) آپ پکار کر کہہ دیجئے کہ مرزا صاحب گفتگو نہیں کرتے۔ لہٰذا جلسہ برخاست۔ سب لوگ خاموشی کے ساتھ رخصت ہوجائیں۔

مولوی صاحب: صاحبو! جلسہ برخاست۔ مرزا صاحب اپنے دعوے کا ثبوت نہیں پیش کر سکتے۔

سپرنٹنڈنٹ: مولوی نذیر حسین صاحب سے بھی جا کر کہہ دیجئے کہ جلسہ برخاست۔ مولوی صاحب اور میر بشارت حسین کوتوال شہر میاں صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ مرزا صاحب گفتگو نہیں کرتے اس لیے جلسہ برخاست ہے۔ اس کے بعد کوتوال نے مرزا صاحب کے پاس جا کر کہا کہ اب تشریف لے جائیے۔ بیٹھنا بے کار ہے۔ مرزا صاحب اس کو غنیمت سمجھے کہ

صفحہ 340

جان بچی لاکھوں پائے۔ بوقت مراجعت مرزا صاحب اس شعر کا مصداق تھے۔

عجائب چال سے ظالم ترا مستانہ آتا ہے اڑاتا خاک سر پر جھومتا مستانہ آتا ہے

(اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۴‘ ص ۶-۹)

واپسی کا عبرت ناک منظر

صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ایم اے ابن مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جامع مسجد سے واپسی کا جو عبرت ناک فوٹو اتارا ہے۔ ذرا اس کو بھی ایک نظر دیکھ لیجئے۔ صاحب موصوف لکھتے ہیں:

”جب زیادہ لوگ مسجد سے نکل گئے تو حضرت (مرزا) صاحب بھی اٹھ کر باہر تشریف لائے اور بہت سے سپاہی اور پولیس افسر آپ کے اردگرد تھے۔ جب آپ شمالی دروازہ پر آئے تو خدام نے اپنی گاڑیاں تلاش کیں کیونکہ ان کو آنے جانے کا کرایہ دگنا کر کے ساتھ لائے تھے اور کرایہ پیشگی دے دیا گیا تھا۔ لیکن معلوم ہوا کہ لوگوں نے مالکوں کو بہکا کر روانہ کر دیا تھا اور دوسری بھی کوئی گاڑی‘ یکہ ٹم ٹم‘ ٹانگہ پاس نہ آنے دیتے تھے۔ اس طرح حضرت کو قریباً پندرہ منٹ دروازہ پر انتظار کرنا پڑا۔ اس اثناء میں لوگوں کے گروہ در گروہ جو مسجد کے باہر کھڑے تھے بلوہ کر کے حضرت کی طرف آنے لگے۔ پولیس کا افسر ہوشیار تھا اس نے حضرت سے کہا کہ آپ فوراً میری گاڑی میں بیٹھ کر اپنے مکان کی طرف روانہ ہو جائیں۔ کیونکہ لوگوں کا ارادہ فاسد ہے۔ چنانچہ حضرت اور مولوی عبدالکریم سیالکوٹی دونوں اس گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوگئے اور باقی لوگ پیدل مکان پر پہنچے۔ اس موقع پر حضرت کے ساتھ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی‘ سید امیر علی‘ غلام قادر صاحب‘ فصیح محمد خان صاحب کپور تھلوی‘ حکیم فضل الدین بھیروی‘ پیر سراج الحق اور چھ اور دوست تھے“۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ ص ۹۰)

باب ۳

صفحہ 341

مولوی محمد بشیر سہسوانی سے مناظرہ

مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی کے شاگردوں میں مولوی محمد بشیر سہسوانی بھی ایک بلند پایہ عالم تھے۔ الہامی صاحب نے ۲؍ اکتوبر اور ۶؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء کو جو اشتہار دہلی میں شائع کئے وہ کسی نے مولوی محمد بشیر صاحب کے پاس بھی بھوپال بھیج دیئے۔ انہوں نے حاجی محمد احمد سوداگر دہلی کے توسط سے ان اشتہاروں کا جواب قادیانی صاحب کے پاس بھیجا، جس میں ان کی تمام شرطوں کو قبول کرتے ہوئے صرف تیسری شرط میں کسی قدر ترمیم چاہی۔ الہامی صاحب نے بھی اس ترمیم کو منظور کر لیا۔ ترمیم کے بعد یہ چار شرطیں قرار پائیں۔

دستخط کر کے پیش کرے۔ اسی طرح فریق ثانی جواب لکھ کر دے۔

مرزا صاحب دعوائے مسیحیت سے دست بردار ہو جائیں گے اور اگر وفات ثابت ہو تو قادیانی صاحب کا اصل دعویٰ یعنی عدم نزول حضرت مسیح علیہ السلام اور قادیانی صاحب کا مسیح موعود ہونا ثابت نہ ہوگا۔ پھر حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول اور مرزا جی کے مسیح موعود ہونے پر بحث کی جائے گی۔

گریز سمجھی جائے گی۔

جب یہ شرطیں طے ہو گئیں تو قادیانی صاحب کی خواہش کے بموجب حاجی محمد احمد نے مولوی محمد بشیر صاحب کو بھوپال سے طلب کیا۔ مولوی صاحب ۱۶؍ ربیع الاول ۱۳۰۹ھ کو دہلی پہنچ گئے اور مرزا جی کو اپنی آمد کی اطلاع دی۔

قادیانی صاحب کی طرف سے معاہدہ کی خلاف ورزی

اب الہامی صاحب نے اپنے سابقہ معاہدہ کو بالائے طاق رکھ کر شرائط میں مندرجہ ذیل

صفحہ 342

تبدیلی فرمائی۔

انہی پر ہوگا۔

سکتے ہیں لیکن مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالمجید ہرگز آنے کے مجاز نہ ہوں گے۔

مولوی محمد بشیر صاحب کے احباب کی رائے تھی کہ ان نئی شرطوں کو مسترد کر دیا جائے مگر مولوی صاحب نے محض اس خیال سے کہ قادیانی صاحب کو مناظرہ سے گریز کرنے کا کوئی حیلہ نہ مل سکے‘ سب شرطیں بلا کم و کاست منظور کر لیں۔ ۱۹ ربیع الاول کو بعد از نماز جمعہ مناظرہ شروع ہوا۔ مولوی صاحب نے مرزا جی کے مکان پر جا کر مجلس مناظرہ میں حیات مسیح علیہ السلام کے پانچ دلائل لکھ کر حاضرین کو سنا دیئے اور دستخط کر کے الہامی صاحب کے حوالے کر دیئے۔

مجلس بحث میں جواب لکھنے سے گریز

الہامی صاحب پر لازم تھا کہ اسی وقت جواب لکھواتے لیکن اتنی قابلیت نہیں تھی کہ اپنے دماغ سے بھی کوئی بات نکال سکیں۔ مجلس بحث میں جواب لکھوانے سے انکار کیا۔ ہر چند حاجی محمد احمد وغیرہ حضرات نے مرزا صاحب کو سمجھایا کہ وہ نقض عہد اور شرائط مقررہ کی خلاف ورزی نہ کریں مگر انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی بلکہ اسی بات پر مصر رہے کہ میں جواب لکھوا رکھوں گا آپ لوگ کل دس بجے آ کر جواب سن لیجئے۔ ناچار مجلس مناظرہ برخاست ہوئی۔ یہ حضرات دوسرے دن دس بجے در دولت پر پہنچے اور اطلاع دی گئی تو الہامی صاحب باہر نہ آئے اور کہلا بھیجا کہ ابھی جواب تیار نہیں ہوا جب تیار ہوگا آپ کو بلا لیا جائے گا۔ دو بجے کے بعد ان حضرات کو بلا کر جواب سنایا اور کہا کہ اس مجلس بحث

صفحہ 343

میں جواب لکھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنے مکان پر جا کر جواب لکھ رکھئے۔ اسی طرح پانچ دن تک سلسلہ بحث جاری رہا۔

خسر کی بیماری کا حیلہ تراش کر مناظرہ سے گریز

چھٹے دن جانبین کے تین تین پرچے ہو چکے تو مرزا صاحب پہلی ہی بحث کو ناتمام چھوڑ کر مناظرہ سے دست بردار ہو گئے اور کہنے لگے کہ اب مجھے زیادہ قیام کی گنجائش نہیں ہے اور زبانی یہ فرمایا کہ میرے خسر نواب ناصر بیمار ہیں اس لیے میرا جلد جانا ضروری ہے۔ چونکہ مولوی محمد حسین اور ان حضرات نے جو قادیانی صاحب کی ترکیب مزاج اور افتاد طبیعت سے واقف تھے اس بات کی پیشین گوئی کر رکھی تھی کہ مرزا صاحب بحث کے اختتام تک پہنچنے سے پیشتر ہی بھاگ کھڑے ہوں گے، اس لیے مرزا صاحب کے فرار کے متعلق پہلے سے ایک مقالہ لکھ رکھا گیا تھا۔ وہ مضمون مرزا صاحب کی موجودگی میں سب حاضرین کو سنا دیا گیا۔ اس میں مرزا صاحب کے نقض عہد پر خوب لے دے کی گئی تھی۔ حاضرین جلسہ نے مرزا صاحب کو ان کی وعدہ خلافی اور گریز پر بہتیری ملامت کی، مگر انہوں نے کسی ملامت اور طعن و تشنیع کی پروا نہ کی اور اسی روز تہیہ مراجعت کر کے رات کو دہلی سے چلے آئے۔ اب الہامی صاحب کے فرار کی اصل وجہ سنئے۔ مرزا صاحب مدعی مسیحیت تھے اور علماء کی طرف سے ہمیشہ یہ مطالبہ ہوتا رہتا تھا کہ آپ مسیح موعود ہونے کا ثبوت دو اس لیے اس بحث سے بچنے کے لیے دو سدیں قائم کر رکھی تھیں۔ ایک مسئلہ حیات و ممات مسیح علیہ السلام دوسرے نزول جناب مسیح علیہ السلام جب الہامی صاحب نے مولوی محمد بشیر کے مناظرہ میں دیکھا کہ پہلا بند جو ان کے زعم میں نہایت مضبوط اور ناقابل تسخیر تھا، ٹوٹنے والا ہے اور دوسرا بند جو بالکل کمزور ہے اس میں مدافعت کی زیادہ قوت نہیں وہ معاً ٹوٹ جائے گا، پھر اصل قلعہ پر حملہ ہوگا جو روئی کے گالے سے زیادہ کمزور ہے اور قادیانی مسیحیت کا قلعہ چشم زدن میں پاش پاش ہو جائے گا، تو مرزا جی کے لیے بجز اس کے کوئی چارہ نہ تھا کہ غنیم کے قلعہ فتح کرنے سے پہلے ہی بھاگ کھڑے ہوں۔ اس مناظرہ کی مفصل روداد انہیں دنوں ایک رسالہ میں شائع ہوئی تھی جس کا نام ”الحق الصریح فی اثبات حیوۃ المسیح“ ہے۔ یہ تصریح اسی رسالہ سے ماخوذ ہے۔ (تاریخ مرزا، ص ۴۲- ۴۴)

صفحہ 344

میاں بشیر احمد ایم اے کی ملمع سازی

مرزا بشیر احمد نے اپنے باپ کو فرار کی رسوائی سے بچانے کے لیے ایک حیلہ تراشا ہے اور نہایت دیدہ دلیری سے ان الفاظ میں ملمع سازی کی ہے۔ ”مولوی محمد بشیر صاحب کے مباحثہ میں باہم فیصلہ ہوا تھا کہ طرفین کے پانچ پانچ پرچے ہوں گے لیکن جب حضرت مسیح موعود نے دیکھا کہ مولوی محمد بشیر صاحب کی طرف سے اب انہی پرانی دلیلوں کا اعادہ ہو رہا ہے، تو آپ نے فریق مخالف کو یہ بات جتلا کر کہ اب مناظرہ کو آگے جاری رکھنا تضیع اوقات کا موجب ہے، تین پرچوں پر ہی بحث کو ختم کر دیا اور فریق مخالف کے طعن و تمسخر کی پروا نہیں کی“۔ (سیرۃ المہدی، جلد ۲، صفحہ ۹۰) لیکن میں کہتا ہوں کہ ”اگر میاں بشیر احمد صاحب سچے ہیں، تو اس دعوے کی کوئی دلیل پیش کریں کہ مرزا صاحب نے فریق مخالف کو جتلا دیا تھا کہ اب مباحثہ جاری رکھنا بیکار ہے“۔ اگر واقعی مولوی محمد بشیر صاحب کا کیسہ دلائل خالی ہوچکا تھا اور وہ بار بار پرانی دلیلیں ہی پیش کر دیتے تھے تو بھی الہامی صاحب کو چاہیے تھا کہ مناظرہ کو اختتام تک پہنچا کر فریق مقابل کو لاجواب اور مغلوب کر دکھاتے تاکہ مخالفوں پر حجت قائم ہو جاتی اور کسی کو طعن و تمسخر کی جرأت نہ ہوتی۔ اس سے قطع نظر اس میں نہایت مہتم بالشان فائدہ یہ بھی تھا کہ مرزائی حضرات کے پاس مرزا صاحب کی ساری تاریخ میں ایک نظیر ایسی بھی موجود ہو جاتی، جس میں مرزا صاحب کو فرار و ہزیمت سے سابقہ نہ پڑا ہوتا۔

باب ۶۳

میر عباس علی لدھیانوی کا داغ مفارقت

میر عباس علی لدھیانوی شاہ سلیمان تونسوی چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ حضرت شاہ صاحب کے وصال کے بعد میر صاحب کو کسی نئے پیر کی تلاش ہوئی۔ ان ایام میں مرزا صاحب نے شہرت و نمود کی دنیا میں نیا نیا قدم رکھا تھا۔ ان کی تعلیاں اور لن ترانیاں گوش

صفحہ 345

رد ہوئیں، تو اصل اور نقل میں امتیاز کئے بغیر اس جنس کاسد کے خریدار بن گئے۔ میر صاحب کے سلسلۂ ارادت کا آغاز ۱۸۸۲ء میں ہوا جبکہ مرزا صاحب نے براہین کا تیسرا حصہ شائع کیا تھا اور اغلب ہے کہ میر عباس علی ہی الہامی صاحب کے سب سے پہلے مرید تھے۔ انہوں نے اس وقت ان کی حلقہ بگوشی اختیار کی جبکہ ہنوز کسی شخص نے مرزا صاحب کی طرف دست ارادت نہ بڑھایا تھا۔ مکتوبات احمدیہ کی سب سے پہلی اور ضخیم ترین جلد انہیں خطوط پر مشتمل ہے، جو الہامی صاحب نے میر عباس علی کے نام روانہ فرمائے تھے۔ میر صاحب نے اپنے مخدوم و مطاع کی خدمت گزاری اور عون و نصرت میں وہ کمال دکھایا کہ تمام مرزائیوں سے گوئے سبقت لے گئے۔ اس اثنا میں کئی مرتبہ ایسے حوادث بھی پیش آئے، جنہوں نے بارہا ان کے پائے عقیدت کو متزلزل کر دیا۔ تاہم اس دام رہائی کی توفیق نہ ہوئی۔ آخر نو سال تک بادیہ ضلالت میں سرگرداں رہنے کے بعد ہدایت کا آوان سعید آ پہنچا۔ مساعدت ازلی نے راہ نمائی فرمائی اور میر صاحب مرزائیت سے تمام علاقے توڑ کر از سر نو دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔

میر صاحب کے خلوص کا اعتراف

مرزا جی نے ۲۱؍ مئی ۱۸۸۳ء کی چٹھی میں میر عباس علی کو لکھا تھا کہ ”جس ذات قدیم نے آپ کو یہ اخلاص بخشا ہے اس نے خود آپ کو چن لیا ہے“۔ ۲۹؍ اکتوبر ۱۸۸۳ء کے خط میں لکھا ”الحمدللہ والمنۃ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو سب سے زیادہ اس عاجز کے انصار میں سے بنایا۔ اس ناچیز کو آپ کے وجود سے فخر ہے اور اپنے خداوند کریم سے آپ کو ایک رحمت مجسم خیال کرتا ہے“۔ اور پہلی جنوری ۱۸۸۴ء کی چٹھی میں فرمایا۔ ”سعید وہ انسان ہے جس پر نیک ظن غالب ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ٹھوکر کھانے سے بچتے ہیں اور اس کا فطری نور ان کو شیطانی تاریکی سے بچا لیتا ہے اور تھوڑے ہیں، جو ایسے ہیں اور الحمدللہ کہ میں آپ کو ان تھوڑوں کے اول درجہ میں دیکھتا ہوں“۔ ۱۹؍ اپریل ۱۸۸۵ء کو لکھا کہ آپ کا اخلاص اور جوش محبت اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء اور ایک اور خط میں جس پر تاریخ درج نہیں لکھتے ہیں کہ ”جس قدر آں مخدوم نے اشاعت دین اور اعلاء کلمہ اسلام کے لیے رنج اٹھایا ہے خدا تعالیٰ اس کے عوض میں آپ پر اس طور سے

صفحہ 346

راضی ہو کہ جیسا اپنے سچے خادموں اور مقبولوں پر راضی ہوا کرتا ہے“۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد اول‘ ص ۲۱‘ ۶۳‘ ۷۰‘ ۸۶‘ ۸۹)

اسی طرح مرزا صاحب نے میر عباس علی کے متعلق اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں لکھا کہ یہ میرے وہ اول دوست ہیں جن کے دل میں خدا تعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جب سب سے پہلے تکلیف سفر اٹھا کر ابرار اخیار کی سنت پر بقدم تجرید محض للہ قادیاں میں میرے ملنے کے لیے آئے‘ وہ یہی بزرگ ہیں۔ میں اس بات کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ بڑے سچے جوشوں کے ساتھ انہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لیے ہر ایک قسم کی تکلیفیں اٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہر ایک قسم کی باتیں سنیں۔ اوائل ایام میں بیس برس تک انگریزی دفتر میں سرکاری ملازم رہے مگر بباعث غربت و درویشی ان کے چہرہ پر نظر ڈالنے سے ہرگز خیال نہیں آتا کہ وہ انگریزی خواں بھی ہیں لیکن وہ دراصل بڑے لائق اور مستقیم الاحوال اور دقیق الفہم ہیں۔ (ازالہ ص ۳۲۱)

میر صاحب کی استقامت کا مرتبہ

میر عباس علی کے جو مناقب و محامد اوپر نقل کئے گئے ان سب سے بڑھ کر انہیں یہ شرف بھی حاصل تھا کہ مرزا صاحب کو ان کی شان میں ایک الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں میر عباس علی مرحوم کے تذکرے میں فرماتے ہیں۔ ”ان کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو ان کے حق میں الہام ہوا تھا اصلہ ثابت و فرعہ فی السماء (ان کی جڑ نہایت مضبوط ہے اور ان کی شاخیں آسمان تک چلی گئی ہیں)۔ (ایضاً ص ۳۲۲) اس الہام کا یہ مطلب تھا کہ ”میر صاحب مرزائیت میں ایسے مضبوط اور راسخ ہیں کہ ان کی حالت میں کبھی جنبش اور تزلزل نہیں ہوسکتا“۔ لیکن جب میر صاحب مرزائیت سے تائب و بیزار ہو کر از سر نو حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے تو مریدوں نے پوچھنا شروع کیا۔ ”حضور خدا نے تو اطلاع دی تھی کہ ان کی جڑ بڑی مضبوط ہے۔ اب ان کی جڑ اکھڑ کیسے گئی؟“ الہامی صاحب کے پاس تاویل کاری اور سخن سازی کی کچھ کمی نہ تھی‘ باتیں بنانی شروع کر دیں‘ جو حضرات اس گلشن سخن سازی کی بہار دیکھنا چاہیں وہ الہامی صاحب کے ”آسمانی فیصلہ“ (ص ۴۹۔ ۵۳) یا (تبلیغ رسالت‘ جلد

صفحہ 347

۲، ص ۷۸ - ۸۵) کا مطالعہ فرمائیں۔ جب سید عباس علی توفیق ایزدی کی مدد سے مرزائیت کے خار زار سے نکل کر اسلام کے چمن زار میں داخل ہوئے تو مسیح صاحب نے اپنے جلے دل کے پھپھولے ان الفاظ میں پھوڑے۔ ”وہ مرتد ہو گیا‘ اس کا انجام بد ہوا‘ جب انسان پر شقاوت کے دن آتے ہیں تو وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتا“۔ (نزول المسیح‘ ص ۲۴۰)

شعبدہ کی قدر شناسی

میر صاحب کی علیحدگی اور توبہ کے مختلف اسباب تھے ان میں ایک سبب تو بٹالوی دوست نے یہ بتایا کہ ایک مرتبہ لدھیانہ میں ایک مسلمان شعبدہ گر آیا۔ ان ایام میں الہامی صاحب اسی جگہ اپنی مسیحیت کی ڈفلی بجا رہے تھے۔ شعبدہ گر الہامی صاحب کے پاس آ کر کہنے لگا کہ یا تو اپنا کوئی کمال دکھائیے یا دیکھئے۔ انہوں نے کہا اچھا اپنا کمال دکھاؤ۔ شعبدہ گر نے کھرپی لے کر تھوڑی سی زمین نرم کی۔ پھر چند بیج بکھیر کر اوپر سے پانی کے چھینٹے دیئے۔ تھوڑی دیر میں چھوٹے چھوٹے پودے نکل آئے‘ جو دیکھتے دیکھتے فٹ ڈیڑھ فٹ بلند ہوگئے۔ پھر ہر ایک کو پانچ پانچ سات سات قسم کے پھول لگے۔ ہر پھول میں علیحدہ علیحدہ قسم کی خوشبو تھی۔ یہ طلسم دیکھ کر سب لوگ محو حیرت رہ گئے۔ جب شعبدہ باز لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا چکا تو قادیانی صاحب سے کہنے لگا۔ ”اگر آپ بھی کوئی عجوبہ دکھائیں تو میں کچھ اور کمال بھی دکھاؤں گا“۔ مرزا صاحب نے کہا ”بھئی ہم تو صرف دعا کرنا جانتے ہیں اس کے سوا ہم میں کوئی کمال نہیں“۔ اس کے بعد مرزا صاحب میر عباس علی سے کہنے لگے کہ اگر سو دو سو روپیہ بھی خرچ ہو جائے‘ تو یہ کمال حاصل کر لینا چاہیے۔ یہ سن کر میر صاحب کے دل میں گرہ پڑ گئی اور یقین ہو گیا کہ یہ شخص دنیا پرست ہے۔ اگر اس کے دل میں عشق الہی کا ذرا بھی شائبہ ہوتا تو کسی شعبدہ پر نہ ریجھتا۔ میر صاحب کے منحرف ہونے کی دو وجہیں خود مرزا صاحب نے یہ لکھی ہیں کہ

ایک نیچری آدمی ہوں‘ معجزات کا منکر اور لیلتہ القدر سے انکاری اور نبوت کا مدعی اور انبیاء علیہم السلام کی اہانت کرنے والا اور عقاید اسلام سے منہ پھیرنے والا۔

صفحہ 348

(تبلیغ رسالت، جلد ۲ ص ۸۲)

میر صاحب کا چیلنج

مرزا صاحب کا بیان ہے کہ میر صاحب نے علیحدگی کے بعد ان کے خلاف اشتہار بھی شائع کیا ہے جو ترک ادب اور تحقیر کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔ میر صاحب نے اس اشتہار میں اپنے کمالات ظاہر کر کے تحریر فرمایا ہے کہ گویا ان کو رسول نمائی کی طاقت ہے۔ چنانچہ وہ اس اشتہار میں اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ میں نے مرزا صاحب سے کہا تھا کہ ہم دونوں کسی مسجد میں بیٹھ جائیں پھر یا تو مجھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرا کے اپنے دعاوی کی تصدیق کرا دو یا میں زیارت کرا کے اس بارہ میں فیصلہ کرا دوں گا۔ مگر مرزا صاحب نے اس بارہ میں میرا مقابلہ نہیں کیا۔ اگر میر صاحب کو یہ قدرت اور کمال حاصل تھا تو پھر انہوں نے اس عاجز سے بدون تصدیق نبوی کیوں بیعت کر لی اور کیوں دس برس تک برابر خلوص نماؤں کے گروہ میں رہے۔ تعجب ہے کہ ایک دفعہ بھی رسول کریمؐ ان کے خواب میں نہ آئے اور ان پر ظاہر نہ کیا کہ اس کذاب اور مکار اور بے دین سے کیوں بیعت کرتا ہے؟“ (ایضاً ص ۸۲)

اگر واقعی میر صاحب نے مسیح قادیاں کو اس قسم کا کوئی چیلنج دیا تھا، تو معلوم نہیں میر صاحب نے الہامی صاحب کی اس تحریر کا کیا جواب دیا ہوگا لیکن ظاہر ہے کہ جب میر صاحب نو دس سال کی طویل مدت تک اسلام سے منقطع ہو کر مرتد ہونے والے تھے، تو یہ کس طرح ممکن تھا کہ محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس خواب میں قدم رنجہ فرماتے؟ آخر جب میر صاحب نے وادی کفر سے نکل کر ریاض اسلام میں قدم رکھا تو رویت رسولؐ کی سعادت یا رسول نمائی عود کر آئی۔

مغربیت و افرنگیت

مرزا صاحب کے حالات زندگی کا مطالعہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف نیچریت کی طرف مائل تھے بلکہ ان کی ہر ادا میں تفرنج اور مغربیت کی شان ہویدا تھی۔ مرزا صاحب نے میر صاحب کے جس اشتہار کا ذکر کیا ہے وہ انہوں نے دبدبہ اقبال برقی پریس

صفحہ 349

لدھیانہ میں چھپوایا تھا۔ میر صاحب نے اس میں لکھا تھا کہ میں اس فیصلے پر پہنچا ہوں کہ مرزا صاحب قطعی نیچری ہیں۔ معجزات انبیاء اور کرامات اولیاء کے قطعی منکر ہیں۔ معجزات اور کرامات کو مسمریزم قیافہ، قواعد طب یا دستکاری پر مبنی جانتے ہیں۔ ان کے نزدیک خرق عادت جس کو تمام اہل اسلام خصوصاً اہل تصوف نے مانا ہے کوئی چیز نہیں۔ سرسید احمد خان اور مرزا غلام احمد کی نیچریت میں بجز اس کے کوئی فرق نہیں کہ وہ بلباس جیکٹ و پتلون ہیں اور یہ بلباس جبہ و دستار اور صوفیائے عظام کے دفتر کو درہم برہم کرنے والے۔

(اشاعۃ السنہ، جلد ۱۳، ص ۴۸۲)

یہاں ضمناً یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ حضرت مرزا صاحب نصاریٰ کی طرح پردہ نسواں کے بھی قائل نہ تھے۔ چنانچہ حسب بیان میاں بشیر احمد صاحب ایک مرتبہ ”مسیح“ صاحب کسی سفر میں تھے۔ اسٹیشن پر پہنچے تو ابھی گاڑی آنے میں دیر تھی۔ آپ (انگریز اور اس کی میم کی طرح) بیوی صاحبہ کے ساتھ سٹیشن کے پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے۔ یہ دیکھ کر مولوی عبدالکریم سیالکوٹی جن کی طبیعت غیور اور جوشیلی تھی حکیم مولوی نور الدین صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ بہت لوگ اور پھر غیر لوگ ادھر ادھر پھرتے ہیں۔ آپ حضرت سے عرض کر دیں کہ بیوی صاحبہ کو کہیں الگ بٹھا دیا جائے۔ مولوی نور الدین صاحب نے کہا کہ میں تو نہیں کہتا آپ خود کہہ کر دیکھ لیں۔ ناچار مولوی عبدالکریم صاحب خود حضرت کے پاس گئے اور کہنے لگے۔ حضور! لوگ بہت ہیں بیوی صاحبہ کو کسی جگہ الگ بٹھا دیجئے۔ حضرت نے فرمایا جاؤ جی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں۔ مولوی عبدالکریم سر جھکائے مولوی نور الدین کی طرف آئے۔ انہوں نے کہا مولوی صاحب! جواب لے آئے؟

(سیرۃ المہدی، جلد اول، ص ۴۹)

باب ۶۴

علمائے ملت سے نشان صدق دکھانے کا مطالبہ

الہامی صاحب کی عادت تھی کہ مریدوں کو مطمئن اور خوش اعتقاد رکھنے اور اپنی گرمی

صفحہ 350

بازار کے لیے وقتاً فوقتاً اپنی اعجازی قوت کی ڈینگیں مارا کرتے اور علمائے امت کو طرح طرح کے چیلنج دیا کرتے تھے۔ مرزا صاحب کی یہ لن ترانیاں مرزائی لٹریچر میں ہمیشہ کے لیے درج رہ گئیں۔ حقیقت ناشناس مرزائی آج ان تعلیوں اور خودستائیوں کو پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ تمام دنیا مرزا صاحب کے مقابلہ سے عاجز تھی۔ لیکن وہ بیچارے اس حقیقت سے بالکل خالی الذہن ہیں کہ اہل حق کی طرف سے ان تعلیوں کا کیا جواب دیا گیا تھا اور مرزا صاحب کا ہر مرتبہ کس طرح ناطقہ بند ہوا تھا؟

الہامی صاحب کا چیلنج

الہامی صاحب کی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں جو تین ستمبر ۱۸۹۱ء کو شائع ہوئی ہے بہت جلی خط میں مرزا صاحب کا یہ چیلنج نظر آتا ہے۔ ”اے حضرات مولوی صاحبان! آپ لوگوں کا یہ خیال کہ ہم مومن ہیں اور یہ شخص کافر اور ہم صادق ہیں اور یہ شخص کاذب اور ہم متبع اسلام ہیں اور یہ شخص ملحد اور ہم مقبول الٰہی ہیں اور یہ شخص مردود اور ہم جنتی ہیں اور یہ شخص جہنمی۔ اگرچہ غور کرنے والوں کی نظر میں قرآن کریم کی رو سے بخوبی فیصلہ پا چکا ہے اور اس رسالہ کے پڑھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ لیکن ایک اور بھی طریق فیصلہ ہے جس کی رو سے صادقوں اور کاذبوں اور مقبولوں اور مردودوں میں فرق ہو سکتا ہے۔ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر مقبول اور مردود اپنی اپنی جگہ پر خدائے تعالیٰ سے کوئی آسمانی مدد چاہیں تو وہ مقبول کی ضرور مدد کرتا ہے اور کسی ایسے امر سے جو انسان کی طاقت سے بالاتر ہے اس مقبول کی قبولیت ظاہر کر دیتا ہے۔ سو چونکہ آپ لوگ اہل حق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لہٰذا آپ پر واجب ہے کہ اس آسمانی ذریعہ سے بھی دیکھ لیں کہ آسمان پر مقبول کس کا نام ہے اور مردود کس کا نام۔ میں اس بات کو منظور کرتا ہوں کہ آپ دس ہفتہ تک اس بات کے فیصلہ کے لیے احکم الحاکمین کی طرف توجہ کریں تا اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کا نشان یا کوئی اعلیٰ درجہ کی پیش گوئی جو راست بازوں کو ملتی ہے آپ کو دی جائے۔ ایسا ہی دوسری طرف میں بھی توجہ کروں گا اور مجھے خدا کی طرف سے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ نے اس طور سے میرا مقابلہ کیا تو میری فتح ہوگی۔ میری اس تحریر کے مخاطب مولوی محی الدین عبدالرحمان صاحب لکھو والے

صفحہ 351

اور میاں عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی (امرتسری) اور مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی ہیں اور باقی انہی کے زیر اثر آ جائیں گے"۔ (ازالہ اوہام، طبع پنجم، ص ۴۶۹)

مولوی محمد حسین کی طرف سے چیلنج کا دندان شکن جواب

اس کے جواب میں مولوی محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی نے اپنے ماہوار رسالہ "اشاعۃ السنہ" میں لکھا "قادیانی صاحب! پہلے آپ خود ہی اپنا کوئی نشان دکھائیں کسی کوڑھی کو اچھا کر دیں، یا کسی کانے کو دوسری آنکھ دیں، یا لکڑی کا سانپ بنا دیں، یا آسمان سے من و سلویٰ یا مائدہ اتروائیں۔ یا جلتی آگ میں کود پڑیں اور بچ جائیں۔ یا کسی خشک درخت کو ہرا کر دکھائیں۔ یا ایسا ہی کوئی اور نشان جو انبیاء اور اولیاء سے ظاہر ہوا ہو اور اگر یہ عذر ہو کہ ایسے نشان دکھانا قانون قدرت کے خلاف ہے چنانچہ حال ہی میں آپ نے جموں کے مشہور ڈاکٹر صاحب کو یہی جواب دے کر ٹلایا ہے تو یہ عذر فضول اور گریز کا ایک حیلہ ہے۔ یہ عذر انہی لوگوں کے سامنے چل سکتا ہے جو اپنے خیالی نیچر یا قانون قدرت کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مسلمان ایسے عذروں کو تار عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور جانتے ہیں۔ آپ اس کے تصفیہ کے لیے پہلے ہم سے بحث کر لیں۔ اگر ہم نے آپ پر ثابت کر دیا کہ ایسے نشان دکھانا قانون قدرت کے خلاف نہیں اور اس کا ثبوت آپ ہی کی کتابوں سے نکال دیا تو پھر آپ کو ایسے نشان دکھانا لازم ہوگا"۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۴، ص ۵۰) اس جواب کے شائع ہونے پر مرزائی درو دیوار پر سناٹا چھا گیا۔ اگر اثنای صاحب طبیعت کے غیور ہوتے تو اس موقع پر خاموش رہنا گناہ سمجھتے لیکن انہوں نے اپنی عافیت اسی میں دیکھی کہ معاملہ کو رفت گزشت سمجھ لیں۔

باب ۶۵

ایک صوفی صاحب کی طرف سے

صفحہ 352

قادیانی چیلنج کا کلہ توڑ جواب

آپ حضرات نے گزشتہ باب میں پڑھا کہ الہامی صاحب نے کتاب ”ازالہ اوہام“ طبع پنجم صفحہ ۲۶۹ میں چند علماء سے دس ہفتہ تک نشان صدق مانگا تھا اور ان کے مقابلہ میں خود بھی نشان دکھلانے کا وعدہ کیا تھا۔

صوفی صاحب کا وعدۂ کرامت نمائی

کسی صاحب نے ”ازالہ اوہام“ میں یہ چیلنج پڑھ کر ایک صوفی صاحب کو جا دکھایا انہوں نے کہا ”مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو لکھ دو کہ وہ ”اشاعۃ السنہ“ میں شائع کر دیں کہ اگر مرزا کو درگاہ خداوندی میں اپنے قبول ہونے اور علمائے اسلام کے مردود ہونے کا زعم ہے تو اس کو واجب ہے کہ کوئی ایسی کرامت دکھائے جو اس کے دعویٰ کی مصدق ہو۔ کرامت ایسی ہونی چاہیے جس کو روئے زمین کے ذی علم اور طبعی و فلاسفر بھی کرامت تسلیم کرلیں اور دکھانے سے پہلے یہ ضروری شرط ہے کہ اس کے جزوی و کلی حالات ایسی وضاحت سے مشتہر کیے جائیں کہ عام و خاص، جاہل و عالم ہر شخص اس کی کیفیت اور صورت واقعہ اچھی طرح سمجھ لے۔ حتیٰ کہ سمجھنے اور دیکھنے میں اس کی کیفیت کے اندر کسی کو اختلاف نہ ہو۔ اگر مرزا اس شرط کے ساتھ کوئی آسمانی کرامت و نشان دس ہفتہ ہی میں دکھلا دے تو اس کی بڑی نوازش ہوگی اور اگر اس میعاد کے اندر ایسی کرامت دکھلانے سے عاجز آجائے تو اس کے اعتراف عجز کے بعد انشاء اللہ العزیز میں وہی کرامت اور آسمانی نشان جو مرزا طلب کرے گا دس کے بجائے پانچ ہی ہفتہ کے اندر دکھا دوں گا۔ اور ایسا آسمانی نشان دیکھنے کے بعد مرزا پر صرف یہ واجب ہوگا کہ وہ اپنے متبدعانہ عقاید سے توبہ کر لے گا اور توبہ نامہ شائع کر دے گا“۔ مولوی محمد حسین صاحب نے اپنے ماہوار رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں صوفی صاحب کا یہ پیغام درج کر کے اخیر میں لکھا کہ ”میں نے بالفعل صوفی صاحب کا نام قلم انداز کر دیا ہے۔ ان کا نام اور پتہ اس وقت شائع کیا جائے گا جب قادیانی صاحب اس شرط سے نشان دکھلانا یا دیکھنا منظور کرکے کسی اخبار میں اس کا اعلان کر دیں گے اگر پہلے سے ان کا نام مشتہر کیا جائے تو قادیانی صاحب ان میں کسی قسم کی جرح

صفحہ 353

نکال کر ٹال مٹول شروع کر دیں گے جیسے کہ ان کی قدیم عادت ہے۔ ہم ان کی حکمت عملیوں سے خوب واقف ہیں"۔

میر عباس علی لدھیانوی کی طرف سے یاد دہانی

جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں صوفی صاحب کا پیغام شائع ہوا تو لوگ بہت دن تک یہ معلوم کرنے کے مشتاق رہے کہ مرزا صاحب مرد میدان بن کر مقابلہ پر آتے ہیں یا نہیں؟ لیکن جب مرزائے قادیاں نے بہت دن تک کروٹ نہ بدلی تو میر عباس علی صاحب لدھیانوی نے مرزا صاحب کے نام یہ رقعہ لکھ کر یاد دہانی کی۔ ”از جانب عباس علی۔ بخدمت مرزا غلام احمد قادیانی۔ عرض ہے کہ جواب فیصلہ آسمانی ”مندرجہ اشاعۃ السنہ‘ صفحہ ۱۵۱“ جو ایک صوفی صاحب بالمقابل آپ کے وعدے کے کرامت دیکھنے یا دکھلانے کی درخواست کرتے ہیں بھیج کر التماس ہے کہ آپ کو اس میں جو کچھ منظور ہو تحریر فرما دیں۔ تاکہ اس کے موافق عمل درآمد کیا جائے اور مضمون صفحہ ۱۵۱ بغور ملاحظہ ہو کہ فریق ثانی آپ کے عاجز ہونے پر کام شروع کر دے گا"۔ (الراقم‘ عباس علی‘ از لدھیانہ‘ ۶؍ مئی ۱۸۹۲ء)

نام نہاد فیصلہ آسمانی کے تصفیہ کا اعادہ

مرزا صاحب نے اس رقعہ کے جواب میں مردانہ وار آمادگی ظاہر کرنے کی بجائے میر صاحب کے نام یہ چٹھی بھیج کر جان بچانے کی کوشش کی۔ ”اما بعد بخدمت میر عباس علی صاحب! واضح ہو کہ اگر درحقیقت کوئی صوفی صاحب اس عاجز کے مقابلہ پر اٹھے ہیں اور جو کچھ ”فیصلہ آسمانی“ میں اس عاجز نے لکھا ہے اس کو قبول کر کے تصفیہ حق اور باطل کا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے وہ چوروں کی طرح کارروائی نہ کریں۔ پردہ سے اپنا منہ باہر نکالیں اور مرد میدان بن کر ایک اشتہار دیں۔ اس اشتہار میں بتصریح اپنا نام لکھیں اور اپنا دعویٰ بالمقابل ظاہر فرمائیں اور پھر اس طرز پر چلیں جس طرز پر اس عاجز نے ”فیصلہ آسمانی“ میں تصفیہ چاہا ہے۔ اگر وہ طرز منظور نہ ہو تو فریقین میں ثالث مقرر ہو جائیں جو کچھ وہ

صفحہ 354

ثالثاً حسب ہدایت اللہ و رسول کے روحانی آزمائش کا طریق پیش کریں وہی منظور کیا جائے۔ چوروں، نامردوں اور مخنثوں کی طرح کارروائی کسی صوفی صافی کا کام نہیں ہے جبکہ اس عاجز نے علانیہ اپنی طرف سے دو ہزار جلد ”فیصلہ آسمانی“ کی چھپوا کر اسی غرض سے تقسیم کی ہیں تاکہ اگر اس فرقہ کفرہ میں کوئی صوفی اور اہل صلاح موجود ہے، تو میدان میں باہر آجائے، تو پھر برقعہ کے اندر بولنا کس بات پر دلالت کر رہا ہے۔ کیا یہ شخص مرد ہے یا عورت جو اپنے تئیں صوفی کے نام سے ظاہر کرتا ہے“۔ (الراقم غلام احمد، ۷ر مئی ۱۸۹۲ء)

میر عباس علی کی طرف سے جواب الجواب

اس کے جواب میں میر عباس علی صاحب نے لکھا۔ ”بعد الحمد و الصلوٰۃ بخدمت مرزا غلام احمد صاحب! آپ کا عنایت نامہ مورخہ ۷ر مئی میرے نیاز نامہ کے جواب میں وارد ہوا۔ اسے اول سے آخر تک پڑھ کر سخت افسوس ہوا کہ آپ نے دانستہ ٹالنے کے واسطے ”سوال از آسمان جواب از ریسمان“ کے موافق عمل کر کے بچنا چاہا ہے۔ اصل مطلب تو آپ نے چھوڑ دیا۔ یعنی آزمائش کے واسطے وقت اور مقام مقرر نہیں کیا بلکہ پھر آپ نے اپنی عادت قدیمہ کے مطابق کاغذی گھوڑے دوڑانے شروع کر دیئے۔ جناب من جس طرح آپ نے ”فیصلہ آسمانی“ میں لکھا تھا اسی طرح ”اشاعۃ السنہ“ میں ان صوفی صاحب نے جواب ترکی بہ ترکی شائع کر دیا ہے۔ آپ کو تو غیرت کر کے بلا تحریک دیگرے خود ہی تیار ہو جانا چاہیے تھا۔ برعکس اس کے تحریک کرنے پر بھی آپ بہانہ کرتے ہیں اور ٹلاتے ہیں۔ صوفی صاحب نے خود قصداً اپنا نام پوشیدہ نہیں رکھا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی مصلحت سے ظاہر نہیں کیا ناحق آپ نے کلمات گستاخانہ صوفی صاحب کی نسبت لکھ کر ارتکاب عصیاں کیا۔ سو آپ کو اس سے کیا بحث ہے؟ آپ کو تو اپنے دعویٰ کے موافق تیار ہونا چاہیے۔ مولوی محمد حسین صاحب خود ذمہ دار ہیں۔ فوراً مقابلہ پر موجود کر دیں گے لہٰذا اب آپ ٹلائیں نہیں۔ مرد میدان بنئے اور صاف لکھئے کہ فلاں وقت اور فلاں جگہ پر موجود ہو کر آزمائش و اظہار کرامت متدعویہ شروع کیا جائے گا اور یہ عاجز بصد عجز و نیاز عرض کرتا ہے کہ اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہو تو حیلہ بہانہ کیوں کرتے ہو؟ میدان میں آؤ دیکھو یا دکھاؤ۔ صاف باطن لوگ دغل باز نہیں ہوتے۔ حیلہ بہانہ نہیں کیا کرتے۔ کیا

صفحہ 355

آسمانی برکات والے حضرات کمیٹیاں مقرر کیا کرتے ہیں؟ یا رجسٹر کھلوایا کرتے ہیں؟ اس قسم کی کارروائی صرف دھوکہ دینا اور دفع الوقتی پر مبنی ہے۔ افسوس صد افسوس‘ اللہ سے ڈرو‘ قیامت پیش نظر رکھو ایسی پیری مریدی پر خاک ڈالو"۔ (عریضہ نیاز میر عباس علی از لدھیانہ‘

روز دوشنبہ ۸ مئی ۱۸۹۲ء)

میدان مقابلہ سے مرزا صاحب کی شاندار پسپائی

مرزا صاحب لوگوں کے غیرت دلانے کی پروا نہیں کیا کرتے تھے۔ کیونکہ ان کا مطمع نظر یہ تھا کہ مبارزت خواہوں کو ہمیشہ شرطوں ہی کی بھول بھلیوں میں الجھائے رکھیں۔ مقابلہ مبارزہ کی حتی الامکان نوبت نہ آئے اور گھر بیٹھے ہی خوش اعتقاد دام افتادوں کے سامنے اپنی عظمت و برتری کی ڈینگیں مارتے رہیں۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ الہامی صاحب اتنی غیرت دلانے کے باوجود مقابلہ پر آمادہ نہ ہوتے۔ لیکن خانہ ساز مسیح صاحب نے حسب معمول اب کی مرتبہ بھی مقابلہ پر فرار کو ترجیح دی اور باوجودیکہ میر صاحب نے صاف لکھ دیا تھا کہ مولوی محمد حسین‘ صوفی صاحب کو مقابلہ پر لانے کے لیے خود ذمہ دار ہیں۔ لیکن الہامی صاحب نے مکرر سہ مکرر یہی رٹ لگائی کہ صوفی پردے سے باہر کیوں نہیں آتا۔ تاہم اس مطالبہ کے بعد مرزا صاحب کو خیال آیا کہ فریق مقابل کہیں سچ مچ صوفی صاحب کو مقابلہ پر نہ لا کھڑا کرے۔ اس لیے چٹھی کے اخیر میں یہ لکھ کر اپنی شاندار پسپائی پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ مکرر واضح رہے کہ اب اتمام حجت کر دیا گیا آئندہ ہماری طرف ایسی پر تعصب تحریریں ہرگز ارسال نہ کریں۔ جب یہ تحریریں چھپ جائیں گی تو منصف لوگ خود معلوم کر لیں گے کہ کس کی بات انصاف پر مبنی ہے۔ (مرزا غلام احمد‘ ۹ مئی ۱۸۹۳ء)

کرامت نمائی مرزا صاحب کے بس کا روگ نہیں تھا

مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی نے اپنے رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں لکھا کہ قادیانی کے ہاتھ سے کسی آسمانی نشان کا ظاہر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا سوئی کے سوراخ میں سے اونٹ کا نکل جانا عادتاً ناممکن ہے۔ کیونکہ آسمانی نشان بجز اہل اسلام کے کوئی نہیں دکھا

صفحہ 356

سکتا اور یہ حقیقت بالاتفاق جمہور علمائے ہندوستان مسلم ہے کہ قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ پس اس کا آسمانی نشان دکھانا بالکل ناممکن ہے اگر اس کو آسمانی نشان دکھانے کی قدرت ہوتی تو وہ آج تک لاکھوں کروڑوں ہندوؤں اور عیسائیوں کو مسلمان کر لیتا اور نہیں تو ڈاکٹر جگن ناتھ ملازم ریاست جموں جیسے مدعیان تسلیم و تصدیق کو ہی کوئی نشان دکھا کر دائرہ اسلام میں لے آتا لیکن اس سے آج تک ایسا نہ ہو سکا۔ یہ اس بات کی بیّن دلیل ہے کہ آسمانی نشان اس کے بس کا روگ نہیں۔ اس کے پاس جو جوہر ہے وہ محض لفاظی اور افترا پردازی ہے۔

باب ۶۶

شاہ نعمت اللہ کی پیشین گوئی میں

مفید مطلب قطع و برید

جو شخص کسی مذہبی فرقہ کا مقتدا ہو اسے تقویٰ اور دیانت کی راہ سے نہیں تو کم از کم اس خیال سے ہی منہیات سے باز رہنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ مبادا اس کے پیرو بدگمان ہو جائیں لیکن رئیس قادیاں کے ”خوش عقیدہ“ پیرو سب کچھ دیکھنے سننے کے باوجود اپنی جبین نیاز ان کے آستانہ الحاد پر رکھ دیتے تھے اور نفرین کی بجائے ہر وقت تائید و نصرت کے لیے کمر بستہ رہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مرزا صاحب کے لیے ہر قسم کی بے اعتدالیوں کا ارتکاب آسان ہو گیا تھا۔ رسالہ ”نشان آسمانی“ میں الہامی صاحب نے جو حرکت کی وہ بطور مثال پیش کی جاتی ہے۔

اپنی مہدویت کے ثبوت میں ایک مخترع شہادت

دعویٰ کے لیے دلیل کی ضرورت ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام اپنے دعویٰ کی تصدیق کے لیے معجزات پیش کیا کرتے تھے لیکن چونکہ رئیس قادیاں کو تائید ربانی حاصل نہ تھی

صفحہ 357

اور باوجود بڑی بڑی لن ترانیوں اور خود ستائیوں کے اپنے دعووں کی تائید میں کوئی بیرونی شہادت پیش نہیں کر سکتے تھے اس لیے ان کے تقدس کا سارا مدار زبانی جمع خرچ اور سخن تراشیوں پر تھا۔ ایک مرتبہ ان کو شوق چرایا کہ اپنے مہدی ہونے کی کوئی بیرونی شہادت پیش کریں۔ اس کوشش میں ۲۶ مئی ۱۸۹۲ء کو نشان آسمانی کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا جس میں اپنے مہدی آخر الزمان ہونے کے ثبوت میں شاہ نعمت اللہ کرمانیؒ کا قصیدہ پیش کیا اور اس کے سرورق پر لکھا۔ ”الحمد للہ والمنہ کہ رسالہ شافیہ کافیہ جو مخالفوں پر حجت اللہ اور موافقوں کے لیے موجب زیارت ایمان و عرفان ہے“۔ اسی کے ساتھ حسب ذیل قطعہ بھی بطور چیلنج اسی ٹائٹل پیج پر بحروف جلی زیب رقم فرمایا

این است نشان آسمانی مثلش بنما اگر توانی
یا صوفی خویش را بروں آر یا توبہ بکن ز بدگمانی

شاہ نعمت اللہ کے قصیدہ میں اختلافات

شاہ نعمت اللہ ایک بلند پایہ صوفی گزرے ہیں۔ ۷۳۰ھ میں بمقام حلب پیدا ہوئے اور ۸۳۲ھ میں بمقام ماہان جو کرمان کے مضافات میں ہے وفات پائی۔ شاہ صاحب کی تالیف میں ایک قصیدہ جس میں انہوں نے حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور اور مستقبل کے بعض دوسرے اہم واقعات کے متعلق برسبیل کنایات کچھ پیشین گوئیاں کی ہیں بہت مشہور ہے۔ یہ قصیدہ غیر مطبوعہ ہونے کی وجہ سے اس درجہ کمیاب تھا کہ ہندوستان بھر میں اس کے چار یا پانچ نسخے پائے جاتے تھے اور پھر یہ جو چند نسخے تھے ان میں بھی کسی قدر اختلاف تھا۔ ان اختلافات کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ صدیوں تک قلمی نسخوں کی نقل در نقل ہوتے ہوتے کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ہو جاتی رہیں۔ شاہ صاحب نے ان اشعار میں حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کا سال بھی حروف ابجد میں بتایا ہے لیکن بدقسمتی سے قصیدہ کے مختلف نسخوں میں یہ حروف ابجد بھی مختلف ہیں اس وجہ سے کسی صحیح نتیجہ تک پہنچنا مشکل ہے ممکن ہے کہ بعض مدعیان مہدویت اور ان کے پیرو ہی ان اختلافات کے اصل ذمہ دار ہوں اور وہی اپنی سنہری روپہلی مصلحتوں کی بنا پر ان میں تغیر و تبدل کرتے رہے ہوں۔

صفحہ 358

قصیدہ کا مصداق بننے کے لیے لفظ محمد کو احمد سے بدل دیا

جس طرح بعض دوسرے مدعیان مہدویت اس قصیدہ کو اپنا آلہ کار براری بناتے رہے ہیں۔ اسی طرح مرزا صاحب نے بھی اس سے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہا اور اس غرض کے لیے تحریف و تبدیل کے کند ہتھیاروں سے اس کا حلیہ بگاڑا لیکن فرق یہ ہے کہ قادیانی صاحب نے جس شد و مد سے اس قصیدہ پر دست شفقت دراز کیا اتنا ان کے پیش روؤں میں سے کسی سے نہ بن پڑا تھا۔ مرزا صاحب نے نہ صرف اشعار کی ترتیب حسب مراد بدل ڈالی اور بعض الفاظ و تراکیب کو مقدم و مؤخر کر دیا بلکہ حضرت مہدی علیہ السلام کے اسم گرامی میں بھی تحریف کر دی۔ ہر شخص جانتا ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا نام نامی محمد بن عبداللہ ہوگا۔ چنانچہ حضرت مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔

عن عبدالله بن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تذھب الدنیا حتی یملک العرب رجل من اھل بیتی یواطی اسمہ ا سمی رواہ الترمذی و ابوداؤد فی روایتہ لہ قال لو لم یبق من ا لدنیا الا یوم لطول اللہ تعالیٰ ذالک الیوم حتی یبعث اللہ فیہ رجلا منی او من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی و اسم ابیہ اسم ابی یملا الارض قسطا و عدلا کما ملئت ظلما و جورا و عن ام سلمۃ قالت سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول المھدی من عترتی من اولاد فاطمۃ۔ رواہ ابو داؤد (مشکوٰۃ)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کا اس وقت تک خاتمہ نہ ہوگا جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص عرب کا مالک نہ ہولے اس کا نام میرے نام کے مطابق ہوگا اس حدیث کو ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا اور ابوداؤد کی ایک روایت میں سرور کون و مکان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر (بالفرض) دنیا کے اختتام میں صرف ایک دن باقی رہ گیا ہوگا تو بھی حق تعالیٰ اس دن کو طویل کر کے میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جن کا نام میرے نام (محمدؐ) سے اور ان کے والد کا نام میرے والد (عبداللہ) کے اسم گرامی سے موافقت رکھتا ہوگا۔ وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جس طرح

صفحہ 359

اس سے پیشتر ظلم و جور سے بھری ہو گی اور حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے کہ سرور انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی میری عترت سے یعنی فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہوں گے۔ اس حدیث کو محدث ابوداؤد نے روایت کیا ہے۔

شاہ نعمت اللہ کے قصیدہ میں بھی احادیث نبویہ کے مطابق حضرت مہدی علیہ السلام کا نام نامی محمد ہی مذکور ہے۔ چنانچہ پروفیسر براؤن نے تاریخ ادبیات ایران میں جہاں یہ قصیدہ نقل کیا ہے اس میں یہ شعر یوں درج کیا ہے۔

میم حامیم دال می خوانیم نام او نامداری بینم

خواجہ عبدالغنی صاحب شملوی کے پاس اس قصیدہ کا جو نسخہ ہے اس میں یہ شعر یوں درج ہے۔

میم وحے میم دال می خوانیم نام او نامدار ی بینم

غرض دونوں نسخے محمد نام میں متفق ہیں۔ لیکن قادیان کے الہامی صاحب نے اپنے آپ کو اس بشارت کا مصداق ثابت کرنے کے لیے اس شعر کو یوں بدل دیا۔

ا ح م و دال می خوانم نام او نامداری بینم

اور اس کی شرح یوں کی کہ کشفی طور پر مجھے علم ہوا ہے کہ نام اس امام کا احمد ہوگا۔

(نشان آسمانی‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ ص ۱۵)

مرزائیوں کے ”سلطان القلم“ نے تحریف تو کی لیکن تحریف و تصرف کے لیے بھی سلیقہ درکار ہے۔ الہامی صاحب اس رد و بدل کے وقت اتنا بھی احساس نہ کر سکے کہ اس سے شعر کا وزن درست نہ رہے گا اور اپنی کم سوادی سے میم اور الف کو ہم وزن سمجھ لیا۔ جب الہامی صاحب پر اس تحریف و تبدیل کا الزام لگایا جاتا ہے تو مرزائی لوگ اپنے مقتدا سے کچھ لنگڑی سی صفائی پیش کیا کرتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے جس نسخہ سے یہ قصیدہ نقل کیا ہے اس میں میم کے بجائے الف ہی ہوگا۔ مگر یہ صفائی بالکل لغو اور بے دلیل ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ جہاں یہ لفظ دوسرے تمام نسخوں میں محمد ہے۔ اس نسخہ میں جس سے مرزا صاحب نے نقل کیا احمد ہو۔ گو قصیدہ کے مختلف نسخوں میں بعض اختلاف پائے جاتے ہیں مگر مرزا صاحب کے سوا کسی نے اس کو محمد کی بجائے احمد نقل نہیں کیا۔ اور اگر بفرض محال مرزا صاحب کے منقول عنہ نسخہ میں الف ہی تھا تو پھر ماننا پڑے گا

صفحہ 360

کہ مرزائیوں کے مامور من اللہ صاحب نے ایک ایسے معاملہ میں صحت و سقم کو تمیز نہ کر سکے منہ کی کھائی جس کا تعلق خود ان کے بنیادی دعویٰ سے تھا۔ ایسی حالت میں یہ اعتراض بھی ہوگا کہ جب الہامی صاحب کی فراست کا یہ عالم تھا تو انہوں نے اتنی اچھل کود کیوں مچائی اور کس برتے پر کتاب کے سرورق پر یہ قطعہ لکھ کر صوفیائے معاصرین کو چیلنج کیا۔

این است نشان آسمانی مثلش بنما اگر توانی
یا صوفی خویش را بروں آر یا توبہ بکن ز بدگمانی

شاہ صاحب کو ہندوستانی ثابت کرنے کی کوشش

مرزا صاحب نے حضرت شاہ نعمت اللہ کو کرمانی نہیں لکھا بلکہ انہیں ہندوستانی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے چنانچہ اپنے رسالہ ”نشان آسمانی“ میں لکھا نعمت اللہ ولی رہنے والے دہلی کے نواح کے اور ہندوستان کے اولیائے کاملین میں سے مشہور ہیں۔ ان کا زمانہ پانچ سو ساٹھ ہجری ان کے دیوان سے بتلایا گیا ہے۔ (”نشان آسمانی“ ص ۹) ظاہر ہے کہ قادیانی صاحب نے اس بیان میں بھی تلبیس سے کام لیا ہے۔ چونکہ رئیس صاحب خود ہندوستان کے رہنے والے تھے اس لیے شاہ صاحب کا وطن بھی ہندوستان بتایا تاکہ پیشین گوئی پڑھنے سے یہی متبادر ہو کہ یہ کشف کسی ہندی مہدی سے متعلق ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب نے یہ شعر

جنگ و آشوب و فتنہ و بیداد درمیان و کنار می بینم

کی جو تشریح کی ہے وہ اس خیال کی مؤید ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔ ”یعنی ہندوستان کے درمیان میں اور اس کے کناروں میں بڑے بڑے فتنے اٹھیں گے اور جنگ ہوگا اور ظلم ہوگا۔“ (”نشان آسمانی“ ص۱۱) حالانکہ ہندوستان کو ان حالات و واقعات سے کوئی دور کی بھی نسبت نہیں۔ الہامی صاحب قصیدہ مذکورہ میں جن دوسرے تصرفات اور تحریفات کے مرتکب ہوئے اس کی تفصیل کے لیے چودھری محمد حسین صاحب کا رسالہ ”کاشف مغالطہ قادیانی فی رد نشان آسمانی“ کا مطالعہ فرمائیے۔ خاکسار راقم الحروف نے بھی رسالہ مذکورہ سے مدد لی ہے۔

باب ۶۷

صفحہ 361

مولوی غلام دستگیر قصوری کے مقابلہ سے فرار

جن ایام میں قادیانی صاحب کے خسر میر ناصر نواب دہلوی نقشہ نویس نہر سرہند کے دفتر واقع چھاؤنی فیروز پور میں کام کرتے تھے۔ الہامی صاحب وقتاً فوقتاً فیروز پور جا براجتے تھے۔ گو بادی النظر میں اس آمدورفت کی غرض خسر کی ملاقات ہوتی تھی لیکن اس کا حقیقی مقصد مسلمانوں کو مرتد کرنا تھا۔ الہامی صاحب فیروز پور جا کر وہاں کے رؤسا کو مرزائیت کی دعوت دیتے اور اپنے قیام گاہ پر قدم رنجہ فرمانے کے لیے مدعو کیا کرتے تھے۔ لیکن چونکہ وہ لوگ مرزائی مسیحیت کی حقیقت سے پوری طرح باخبر تھے ان کی طرف سے ہر دعوت کا یہ جواب ملتا تھا کہ ”ہمارے علماء تمہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔ اس لیے ہم اس وقت تک تمہاری بات پر کان نہیں دھر سکتے۔ جب تک تم ہمارے علماء کو قائل نہ کرو“۔ آخری دعوت کے بعد مرزا صاحب نے کہا اچھا تم اپنے کسی مولوی کو بلا لو۔

ان ایام میں مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری علمائے پنجاب میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور ان کا داماد چھاؤنی فیروز پور میں ایک سربر آوردہ تاجر تھا۔ رؤسائے فیروز پور نے مولوی غلام دستگیر صاحب کے داماد سے کہا کہ مولوی صاحب کو اس کی اطلاع کرو کہ مرزا غلام احمد نے اپنے مقابلہ میں کسی مسلمان عالم کو طلب کیا ہے۔ مولوی صاحب کے پاس پیغام بھیجا گیا۔ انہوں نے کہلا بھیجا کہ کوئی قریبی تاریخ مقرر کر کے مجھے اطلاع دو۔ چنانچہ اتوار کا دن مقرر ہوا اور مطبع صدیقی فیروز پور میں اس مناظرہ کے اشتہار چھپ کر بڑی تعداد میں تقسیم ہوئے۔ مقام مناظرہ مسجد مولوی غلام نبی قرار پایا۔ مولوی غلام دستگیر صاحب تاریخ مناظرہ سے ایک دن پہلے کتابیں لے کر فیروز پور پہنچ گئے اور وقت معہود میں مسجد غلام نبی کے صحن کی ایک جانب کتابوں کا ڈھیر لگا کر جا مقیم ہوئے۔ لیکن الہامی صاحب وقت مقررہ پر مسجد مولوی غلام نبی میں تشریف فرما نہ ہوئے۔ آخر عمائد چھاؤنی فیروز پور مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پیرا ہوئے حضرت والا آپ کی خواہش کے بموجب ہمارا ایک عالم مقام مناظرہ میں پہنچ کر آپ کا انتظار کر رہا ہے‘ جلد تشریف لے چلئے۔ مرزا صاحب نے حیلے حوالے شروع کیے اور رؤسا کو بے نیل و مرام واپس آنا پڑا۔

صفحہ 362

آخر مولوی غلام دستگیر کی تحریک سے وہ لوگ دوبارہ سہ بارہ گئے لیکن الہامی صاحب مقابلہ پر کسی طرح رضامند نہ ہوئے۔ تیسری بار جب زیادہ اصرار ہوا تو فرمانے لگے۔ ”مجھے الہام ہوا ہے کہ آج کل کے مولویوں سے مباحثہ کرنا لاحاصل ہے“۔ لیکن عمائد چھاؤنی نے کسی طرح ان کی جان نہ چھوڑی آخر جب ”مسیح موعود“ صاحب نے دیکھا کہ یہ لوگ تو گلے کا ہار ہو گئے ہیں‘ تو فرمانے لگے کہ میں فیروز پور جیسی چھوٹی جگہ میں بحث کرنا مناسب نہیں خیال کرتا البتہ اگر تمہاری خواہش ہو تو کسی مرکزی مقام مثلاً لاہور میں مناظرہ کرنے کو تیار ہوں۔ مسلم عمائدین نے کہا‘ اچھا آپ لاہور ہی میں مناظرہ کیجئے لیکن کیجئے ضرور کیونکہ ہمیں آپ کو برسر مقابلہ دیکھنے کا بڑا اشتیاق ہے۔ آخر موچی دروازہ لاہور کی مسجد چہل بی بیاں میں بتاریخ ۲۵؍ دسمبر ۱۸۹۲ء مناظرہ قرار پایا مسلمانوں کی طرف سے اس مناظرہ کے متعلق برابر اعلان ہوتے رہے آخر مولوی غلام دستگیر صاحب کتابیں لے کر تاریخ معین پر مناظرہ گاہ میں پہنچ گئے۔ قصور‘ فیروز پور اور پنجاب کے دوسرے اضلاع کے بھی ہزارہا آدمی مناظرہ دیکھنے کے لیے لاہور آ موجود ہوئے۔ لیکن الہامی صاحب نے لاہور آنا پسند نہ فرمایا۔ مولوی غلام دستگیر صاحب پانچ چھ دن تک مرزا صاحب کے انتظار میں لاہور میں مقیم رہے۔ قادیانی صاحب نہ خود آئے نہ کسی کو اپنی طرف سے نمائندہ بنا کر بھیجا اور نہ تار اور رجسٹری شدہ خط کا کوئی جواب دیا۔ ناچار مولوی صاحب قصور واپس چلے گئے۔ یہ واقعات مولوی قمر الدین صاحب خطیب مسجد جامع وزیر آباد نے خاکسار راقم الحروف سے بیان کیے تھے‘ جو ان ایام میں مطبع صدیقی فیروز پور کے مہتمم تھے۔

مرزا صاحب کی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانی صاحب نے اس کے بعد ۱۵؍ جون ۱۸۹۳ء عیسوی کو پھر لاہور ہی میں مولوی غلام دستگیر صاحب سے مناظرہ کرنا منظور فرمایا۔ چنانچہ ایک چٹھی میں منشی رستم علی کورٹ انسپکٹر کو لکھا کہ (مولوی) عبدالحق (غزنوی) نے بدست منشی محمد یعقوب صاحب ایک خط اس مضمون کا لکھا ہے کہ ”اس وقت تم عیسائیوں سے مباحثہ کر رہے ہو اس لیے میں مباہلہ مناسب نہیں سمجھتا جس وقت لاہور میں مولوی غلام دستگیر سے بحث ہو گی اس وقت مباہلہ کروں گا“۔ لیکن اس کے جواب میں لکھا گیا کہ ”جو شخص ہم میں سے مباہلہ سے اعراض کرے اور تاریخ مقررہ پر مقام مباہلہ پر حاضر نہ ہو‘ اس پر خدائے تعالیٰ کی لعنت ہو“۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۳‘ صفحہ ۱۲۱) اور

صفحہ 363

۱۷ ذی القعد ۱۳۱۰ھ کی چٹھی میں جو مولوی عبدالحق غزنوی کو بھیجی تھی مرزا جی نے لکھا کہ ”میں ۱۵ جون ۱۸۹۳ء کے مباحثہ میں لاہور نہیں جاؤں گا بلکہ میری طرف سے اخویم حضرت حکیم نور الدین صاحب یا حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب بحث کے لیے جائیں گے“۔ (تاریخ مرزا‘ صفحہ ۳۶) لیکن نہ تو حضرت مسیح موعود کو مولانا غلام دستگیر کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت ہوئی نہ اخویم حضرت حکیم نور الدین صاحب ہی نے لاہور کا رخ کیا اور نہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب نے بحث کے لیے لاہور آنے کی جرأت کی‘ غرض لاہور کے مرزائی نہایت محجوب اور شرم سار ہوئے بعض مسلمانان لاہور نے ان سے کہا کیا ہم نہیں کہتے تھے۔

بہت جلد ہو جائے گا آشکارا کہ جگنو کو سمجھے ہو تم اک شرارہ
PDF 364

قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی :

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ

رئیس قادیان

آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کے مستند حالات

جلد دوم

تالیف،

ابوالقاسم مولانا رفیق دلاوریؒ

عَالَمِیْ مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّة

حضوری باغ روڈ

ملتان

پاکستان

صفحہ 365

فہرست مضامین ”رئیس قادیاں“ جلد دوم

عنوان صفحہ

باب ۱ قادیانی مطلق العنانی پر علماء لدھیانہ کا احتجاج ۳۶۹ باب ۲ فتوائے تکفیر کی مخالفت ۳۷۱ باب ۳ علماء لدھیانہ کا ورود دیوبند اور قادیانی کے کفر و اسلام کا مذاکرہ ۳۷۹ باب ۴ علماء حرمین کا فتوائے تکفیر ۳۸۱ باب ۵ دعوائے مسیحیت اور حضرت ابن مریم کی پیشین گوئی ۳۸۲ باب ۶ ابن مریم بننے کی مضحکہ خیز کوشش ۳۸۶ باب ۷ مریم بننے اور حاملہ ہونے کے تخیل کا قادیانی ماخذ ۳۸۹ باب ۸ عقیدۂ حیات مسیح کو شرک قرار دینے کی جسارت ۳۹۳ باب ۹ حکیم نور الدین سے مولانا بٹالوی کا پہلا مناظرہ ۴۰۰ باب ۱۰ مولانا بٹالوی کے مقابلہ سے ملہم قادیانی کا فرار ۴۰۳ باب ۱۱ علماء لدھیانہ کو مناظرہ کا چیلنج ۴۰۵ باب ۱۲ علماء لدھیانہ کا مطالبہ کہ قادیانی ملہم اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرے ۴۰۷ باب ۱۳ مولانا بٹالوی کی طرف سے قادیانی صاحب کو راہ راست پر لانے کی جدوجہد ۴۰۹ باب ۱۴ مولانا بٹالوی کا ورود لدھیانہ اور قادیانی صاحب کو مناظرہ کا چیلنج ۴۱۱ باب ۱۵ مناظرہ لدھیانہ ۴۱۳ باب ۱۶ مولانا بٹالوی کو لاہور میں مناظرہ کرنے کا قادیانی چیلنج ۴۱۶ باب ۱۷ مسیحائی دکھانے کے مطالبات اور معجزات مسیح کا انکار ۴۱۷ باب ۱۸ مولانا گنگوہی پر دشنام دہی کی قادیانی غلاظت ۴۱۸ باب ۱۹ اہل انگلستان کے قبول اسلام کی پیشین گوئی ۴۲۰ باب ۲۰ والی مالیرکوٹلہ کی والدہ سے پانچ سو روپیہ کی وصولی ۴۲۷ باب ۲۱ مصر، شام اور فلسطین کے مفتیان عظام کا فتویٰ ۴۲۹ باب ۲۲ اہل و عیال اور خویش و اقارب سے قطع تعلق ۴۳۰

صفحہ 366

باب ۲۳ ملہم قادیاں کا کشف کہ دنیا میں میرے سوا غلام احمد قادیانی کسی کا نام نہیں ۴۳۹

باب ۲۴ مباہلہ کی تحریک اور مسیح قادیاں کی طرف سے ٹال مٹول ۴۴۱

باب ۲۵ بشارت مسیح ہونے کے دعویٰ پر مسلمانوں میں عام ہیجان ۴۴۲

باب ۲۶ قادیانی کے کفر و ارتداد پر علماء ہند کا اتفاق ۴۴۳

باب ۲۷ فتاوائے تکفیر کے جواب میں فیصلہ آسمانی کی دعوت ۴۵۹

باب ۲۸ دجال اکبر کے ظہور سے انکار ۴۶۳

باب ۲۹ قادیانی ملہم کا بیان کہ آنحضرتؐ پر دجال کی حقیقت منکشف نہ ہوئی ۴۶۵

باب ۳۰ قادیاں کے متعلق امیر المومنین عمر فاروق کی پیشین گوئی ۴۶۷

باب ۳۱ فرنگیوں کے دجال ہونے کا مسروقہ تخیل ۴۶۸

باب ۳۲ مولانا محمد زمان خان حیدر آبادی کے ایک اور نظریہ کا سرقہ ۴۶۹

باب ۳۳ مولانا بٹالوی مسیح زمان کے تعاقب میں ۴۷۶

باب ۳۴ مولانا عبدالحکیم کلانوری سے مناظرہ ۴۷۸

باب ۳۵ میر ناصر نواب دہلوی آغوش مرزائیت میں ۴۸۶

باب ۳۶ مولوی محمد احسن امروہی کے ایمان و اسلام کی خریداری ۴۸۹

باب ۳۷ دعوائے مہدویت کی بوالعجبیاں ۴۹۵

باب ۳۸ مسئلہ ظہور مہدی علیہ السلام اور اپنی مہدویت کے متعلق رئیس قادیاں کی قلابازیاں ۴۹۸

باب ۳۹ ایک مہدوی کا قول اپنا کر بعض انبیاء سے افضل بننے کی کوشش ۵۰۰

باب ۴۰ اپنی خود ساختہ مہدویت کے متعلق قادیانی کے مضحکہ خیز معیار ۵۰۱

باب ۴۱ مہدی بننے کے لیے اپنے سنین عمر کو کم دکھانے کی کوشش ۵۰۷

باب ۴۲ حضور سید المرسلینؐ پر مہدی موعود کے چودھویں صدی میں ظاہر ہونے کا افتراء ۵۰۹

باب ۴۳ صاحب الزمان حضرت مہدی علیہ السلام کے خونیں ہونے کا طعنہ ۵۱۰

باب ۴۴ قیام سلطنت کے لیے حکیم نور الدین بھیروی کی مخفی سرگرمیاں ۵۱۱

باب ۴۵ لعنتوں کی قادیانی مشین گن ۵۲۱

باب ۴۶ مولانا بٹالوی کی رسوائی کا چہل روزہ الہام ۵۲۴

باب ۴۷ اپنے مکفرین کو مباہلہ کا نمائشی چیلنج ۵۲۶

صفحہ 367

باب ۴۸ مولوی جلال الدین پیر کوٹی کو شفایابی کے سبز باغ ۵۲۸ باب ۴۹ مسیح قادیاں کے ترک مباہلہ پر محمد علی خان کی پریشانی ۵۳۰ باب ۵۰ مولوی عبدالحق غزنوی سے حافظ محمد یوسف مرزائی کا مباہلہ ۵۳۴ باب ۵۱ شیخ مہر علی کے خلاف آسمانی عدالت میں استغاثہ ۵۳۶ باب ۵۲ مولانا بٹالوی کو عربی تفسیر قرآن لکھنے کا چیلنج ۵۳۹ باب ۵۳ حکیم نور الدین سے مولانا بٹالوی کا ریل گاڑی میں مناظرہ ۵۴۲ باب ۵۴ مباہلہ کا قادیانی چیلنج اور مولوی عبدالحق کا دندان شکن جواب ۵۴۴ باب ۵۵ مولانا بٹالوی کے مرزائی ہو جانے کی پیشین گوئی ۵۴۷ باب ۵۶ عم زاد بھائیوں کی دکان آرائیاں ۵۵۰ باب ۵۷ قادیانی مسیحیت کے متعلق شاہ سیف الرحمن مجذوب کا کشف ۵۵۴ باب ۵۸ حکیم نور الدین سے مولانا اصغر علی روحی کی ایک علمی جھڑپ ۵۵۵ باب ۵۹ رسالہ ”کرامات الصادقین“ میں غلطیاں نکالنے والے کو انعام کا جھوٹا وعدہ ۵۵۸ باب ۶۰ محمدی بیگم کا پیچھا چھڑانے کے لیے ملا محمد بخش کی ایک مزے دار ترکیب ۵۶۰ باب ۶۱ با اقبال فرزند کے قدوم کی دوبارہ پیشین گوئی اور رسوائیوں کا مکرر ہجوم ۵۶۴ باب ۶۲ مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ ۵۶۹ باب ۶۳ مسیح قادیاں کا اعلان کہ کوئی پادری میرے مقابلہ پر نہیں آ سکتا ۵۷۲ باب ۶۴ اعجاز نمائی کا قادیانی وعدہ اور آتھم کی طرف سے قبول اسلام کا مشروط قول و قرار ۵۷۴ باب ۶۵ معجزہ نہ دکھا سکنے کی حالت میں عیسائی ہو جانے کا وعدہ ۵۷۷ باب ۶۶ مولانا بٹالوی کی پیشین گوئی کہ پادریوں کے مقابلہ میں مرزائے قادیاں کو قطعاً شکست ہوگی ۵۷۸ باب ۶۷ قادیانی صاحب کا مطالبہ کہ میرے مقابلہ میں کوئی بڑا نامور پادری کھڑا کیا جائے ۵۸۲ باب ۶۸ پادری کلارک کا بیان کہ کوئی مرتد شخص اسلام کا نمائندہ نہیں بن سکتا ۵۸۳ باب ۶۹ پادری آتھم کے مقابلہ میں قادیانی ملہم کی ہزیمت و رسوائی ۵۸۵ باب ۷۰ مباحثہ امرتسر پر علمائے اسلام کا تبصرہ ۵۸۷ باب ۷۱ ڈپٹی عبداللہ آتھم کی ہلاکت کی پیشین گوئی ۵۹۱ باب ۷۲ پیشین گوئی کی جرات کا طبعی راز ۵۹۴

صفحہ 368

باب ۷۳ پیشین گوئی پوری کرنے کے لیے آتھم کے ہلاک کرنے کی تدبیریں ۵۹۵ باب ۷۴ آتھم کی ہلاکت کے لیے ”مسیح موعود“ صاحب کا ایک دلچسپ کراماتی ٹوٹکہ ۵۹۹ باب ۷۵ پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے پر مرزائی حلقوں میں ماتم ۶۰۱ باب ۷۶ عیسائیوں کا جلوس اور مسیحی تہذیب کا افسوس ناک مظاہرہ ۶۰۳ باب ۷۷ الہ دین مرزائی کا اعلان کہ مرزا جی ایک دکاندار ہیں ۶۰۹ باب ۷۸ پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے پر اسلامی جرائد کا تبصرہ ۶۱۰ باب ۷۹ آتھم کی طرف سے اس مرزائی عذر لنگ کی تردید کہ آتھم نے رجوع کیا ہے ۶۱۲ باب ۸۰ قادیانی ملہم سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کا دلچسپ مطالبہ ۶۱۵ باب ۸۱ مرگ آتھم کی پیشین گوئی کے متعلق قادیانی ملہم کی تضاد بیانیاں ۶۱۷ باب ۸۲ ہلاک آتھم کی پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے پر محمد علی خان کا اضطراب ۶۲۱ باب ۸۳ نام نہاد صلیب شکن کا نسبتی بھائی اور دوسرے مرزائی آغوش صلیب میں ۶۲۵ باب ۸۴ مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کرنے کا انجام ۶۲۸ باب ۸۵ رمضان المبارک میں خسوف و کسوف کا اجتماع اور رئیس قادیاں کی موقع شناسی ۶۳۰ باب ۸۶ قادیاں کی الہامی ڈکشنری میں ”حرام زادہ“ کے الہامی لغت کی بھرمار ۶۳۱ باب ۸۷ مرزائی دشنام دہی پر مولانا بٹالوی کا دلچسپ تبصرہ ۶۳۵ باب ۸۸ لاہور میں ورود اور بریڈلا ہال میں تقریر ۶۳۶ باب ۸۹ ملکہ وکٹوریا اور اس کی اولاد کے قبول اسلام کی پیشین گوئی ۶۳۹ باب ۹۰ صلیبی حکومت کو اپنی جان نثاری کا یقین دلانے کی جدوجہد ۶۵۱ باب ۹۱ قادیانی مسیح کی صحبت میں مرزائیوں کا اخلاقی اور ذہنی زوال ۶۵۴

صفحہ 369

باب ۱

قادیانی مطلق العنانی پر علماء لدھیانہ کا احتجاج

قادیان کے الہامی صاحب کچھ دفعۃً ”مسیح نہیں بن بیٹھے تھے بلکہ جوں جوں مریدوں میں قبول دعویٰ کی صلاحیت پیدا ہوتی گئی، یہ بھی بتدریج اپنے لیے نت نئے روحانی منصب تجویز کرتے گئے۔ سب سے پہلے انہوں نے دعوائے مجددیت کے ساتھ اپنی عظمت کا ڈھول پیٹنا شروع کیا۔ چونکہ مجددیت علماء امت ہی کا منصب ہے۔ حاملین شریعت میں سے کسی نے اس دعویٰ کی تکذیب نہ کی اور اگر قادیانی صاحب اسی دعویٰ پر اکتفا کر کے رجوع خلق کی کوششوں میں مصروف رہتے تو کسی کو مخالفت کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن انہوں نے اپنی مدح سرائی کے ساتھ ہی مسلمانوں میں الحاد و زندقہ کے جراثیم بھی پھیلانے شروع کر دیے۔ اس لیے ان وارثان علوم نبوت کے لیے مخالفت سے چارہ نہ رہا جن پر قادیانی فساد عقیدہ کا حال کھل چکا تھا۔

مجدد قادیان ایک عالم دین کی نظر میں

قادیانی صاحب ۱۳۰۱ھ میں اپنے دہلوی خسر کے پاس لدھیانہ گئے اور پہنچتے ہی اپنی مجددیت کا نغمہ چھیڑ دیا۔ میر عباس علی صوفی، منشی احمد جان مع مریداں، مولوی محمد حسن، مولوی شاہ دین، مولوی نور محمد مہتمم مدرسہ حقانی اور مولوی عبدالقادر وغیرہ علماء نے اس دعوے کو تسلیم کر کے ہر طرح سے امداد پر کمر باندھی۔ شاہزادہ صفدر بیگ کے مکان پر مدرسہ اسلامیہ کے اہتمام کے متعلق ایک جلسہ تھا۔ اس میں منشی احمد جان، مولوی شاہ دین، اور مولوی عبدالقادر صاحبان نے بیان کیا کہ ”کل حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی لدھیانہ تشریف لائیں گے“ اور ان کی مدح و ستائش میں سخت مبالغہ کرتے ہوئے کہا کہ ”جو شخص ان پر ایمان لائے گا وہ گویا اول المسلمین ہو گا“۔ یہ سن کر ایک اور عالم دین مولوی عبداللہ کھڑے ہوگئے اور کہا کہ گو اہل مجلس پر میرا بیان شاق گزرے گا لیکن اس وقت جو بات حق تعالیٰ نے میرے دل میں القاء فرمائی ہے اس کے ظاہر کیے بغیر میری

صفحہ 370

طبیعت کا اضطراب دور نہیں ہو سکتا۔ بات یہ ہے کہ ”مرزائے قادیان جس کو تم اس درجہ بڑھا چڑھا رہے ہو وہ انتہا درجہ کا ملحد اور زندیق شخص ہے“۔ منشی احمد جان بولے کہ ”میرا پہلے ہی خیال تھا کہ کسی نہ کسی مولوی صاحب یا صوفی صاحب کے دل میں مرزا صاحب کی طرف سے ضرور حسد پیدا ہو گا“۔

جلسہ برخاست ہونے کے بعد مولوی عبداللہ کے بھائی مولوی محمد صاحب نے، جو مولانا حبیب الرحمٰن صاحب لدھیانوی سابق صدر مرکزی مجلس احرار اسلام لاہور کے جد امجد یعنی دادا صاحب اور مولوی زکریا صاحب کے والد تھے، اپنے بھائی مولوی عبداللہ سے کہا کہ جب تک کوئی قطعی دلیل موجود نہ ہو، کسی شخص کے خلاف زبان طعن نہ کھولنی چاہیے۔ مولوی عبداللہ مرحوم نے فرمایا کہ ”میں نے اپنی طبیعت کو بہت روکا لیکن آخر الامر خدائے برتر نے اس موقع پر یہ الفاظ میرے منہ سے نکلوا دیے اور میں یقین کرتا ہوں کہ یہ الہام خداوندی ہے“۔ مولوی عبداللہ اس روز بہت مغموم رہے، بلکہ رات کو کھانا بھی نہ کھایا۔ مولوی صاحب نے اس رات قادیانی کے متعلق دو متقی آدمیوں سے استخارہ کرایا اور خود بھی استخارہ پڑھ کر سو گئے۔

مولوی عبداللہ کا خواب

مولوی عبداللہ مرحوم نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک بلند مکان پر اپنے بھائی مولوی محمد اور خواجہ احسن شاہ کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ دور سے تین آدمی دھوتیاں باندھے آتے دکھائی دیے۔ جب نزدیک پہنچے تو تینوں میں سے جو آگے تھا اس نے دھوتی کھول کر اس کو تہ بند کی طرح باندھ لیا۔ خواب ہی میں غیب سے آواز آئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی یہی ہے۔ اسی وقت خواب سے بیدار ہوئے۔ دل کی پراگندگی یک لخت دور ہوئی اور یقین ہو گیا کہ یہ شخص اسلامی پیرایہ میں مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ دوسرے دن خواب کے مطابق قادیانی صاحب دو ہندوؤں کی رفاقت میں لدھیانہ وارد ہوئے۔ دوسرے دو پرہیزگار آدمیوں نے جو استخارہ کیا تھا ان میں سے ایک نے دیکھا کہ مرزا غلام احمد ایک بے علم آدمی ہے۔ دوسرے نے خواب میں دیکھا کہ وہ ایک برہنہ عورت کو گود میں لے کر اس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہا ہے جس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ دنیا جمع کرنے کے درپے ہے، اسے دین کی طرف

صفحہ 371

اصلاً التفات نہیں۔ (فتاوائے قادریہ‘ مرتبہ مولوی محمد صاحب لدھیانوی‘ مطبوعہ مطبع قیصر ہند‘ لدھیانہ‘ صفحہ ۱۔۳)

مولوی محمد صاحب مرحوم لکھتے ہیں کہ اس بات کا ثبوت کہ مرزا غلام احمد مال حرام اپنے کھانے پینے میں صرف کرتا ہے اور اس کی زندگی کا ماحصل زر اندوزی ہے‘ کتاب ”براہین احمدیہ“ کی تجارت ہے۔ اس کتاب کے تین چار حصے چند اجزاء میں طبع کر کے دس دس اور پچیس پچیس روپیہ میں فروخت کیے حالانکہ ان تین چار حصوں کی قیمت دو تین روپیہ سے کسی طرح زائد نہیں ہو سکتی اور وعدہ یہ کیا کہ یہ بہت بڑی ضخیم کتاب ہو گی۔ باقی جلدیں وقتاً فوقتاً طبع ہو کر خریداروں کو پہنچتی رہیں گی۔ جب جل دے کر روپیہ وصول کر لیا تو باقی ماندہ کتاب کا طبع کرانا یک لخت موقوف کر دیا کیونکہ جن لوگوں سے پیشگی رقمیں وصول کر لی تھیں ان کو اب نئی قیمت وصول کیے بغیر کتابیں بھیجنا گویا ایک تاوان تھا اس لیے باقی ماندہ کتاب کی جگہ نئی نئی تالیفات شائع کر کے روپیہ بٹورنا شروع کر دیا۔ (فتاوائے قادریہ‘ صفحہ ۳)۔

فتوائے تکفیر کی اشاعت

جس روز قادیانی صاحب لدھیانہ میں قدوم فرما ہوئے‘ مولوی محمد‘ مولوی عبداللہ اور مولوی اسمعیل صاحبان نے کتاب براہین کا نظر غائر سے مطالعہ کیا۔ اس میں کلمات کفریہ کی بڑی کثرت و فراوانی پائی۔ اس کے بعد شہر میں اعلان کر دیا کہ یہ شخص مجدد نہیں بلکہ زندیق اور خارج از اسلام ہے اور فتوے چھپوا کر گرد و نواح کے شہروں میں روانہ کیے کہ یہ شخص مرتد ہے۔ آئندہ کوئی شخص اس کی کتاب نہ خریدے۔ (فتاوائے قادریہ‘ ص ۳)۔

باب ۲

فتوائے تکفیر کی مخالفت

جب کسی شخص کے کفر و ارتداد کا فتویٰ دیا جاتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ

صفحہ 372

وہ شخص مباح الدم ہے۔ اسے کسی مسلمہ عورت سے نکاح کرنے کا حق نہیں اور وہ مرنے کے بعد مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ اسی بنا پر علمائے امت حتی الامکان کلمہ گویوں کی تکفیر سے سخت احتیاط برتتے رہے ہیں۔ جب لدھیانہ کے تین مولوی صاحبوں کا فتوائے تکفیر علمائے دیار و امصار کے پاس پہنچا تو بہتوں نے تکفیر کی رائے کو صحیح تسلیم نہ کیا کیونکہ براہین کے الہامات ان کی نظر سے نہیں گزرے تھے اور جن علماء نے کتاب کا سرسری نظر سے مطالعہ کیا تھا انہوں نے الہامات کو خود ستائی اور پروپیگنڈا بازی پر محمول کر کے یا کسی تاویل کے ماتحت نظر انداز کر دیا تھا۔

مولانا گنگوہی کا مکتوب

جن حضرات نے فتوائے تکفیر سے اختلاف کیا ان میں حضرت مولانا رشید احمد صاحب چشتی گنگوہی جو ان دنوں علمائے حنفیہ میں نہایت ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور اطراف و اکناف ملک کے حنفی شائقین علم حدیث اس فن کی تکمیل کے لیے ان کے چشمہ فیض پر پہنچ کر تشنگان سعادت سیراب ہو رہے تھے سب سے پیش پیش تھے۔ انہوں نے علمائے لدھیانہ کے فتوائے تکفیر کی مخالفت میں ایک مقالہ لکھ کر قادیانی صاحب کو ایک مرد صالح قرار دیا اور اس کو حضرات مکفّرین کے پاس لدھیانہ روانہ کیا۔ اور اس مضمون کی ایک نقل مولوی شاہ دین لدھیانوی اور مولوی عبدالقادر لدھیانوی کے پاس بھی روانہ فرمائی جو مولانا ممدوح کے مرید تھے۔ مولوی شاہ دین نے یہ تحریر برسر بازار لوگوں کو سنا دی۔ اس سے وہ افراد جو مرزا صاحب کو مجدد مان چکے تھے اور ان سے حسن اعتقاد رکھتے تھے بہت خوش ہوئے۔ مولوی عبداللہ صاحب لدھیانوی کو معلوم ہوا کہ مولانا رشید احمد صاحب نے ایک مرتد شخص کو مرد صالح لکھ دیا ہے تو انہیں سخت تعجب ہوا۔ تاہم مولوی عبدالعزیز نے جمعہ کے دن مولانا رشید احمد کی تحریر کے مدلل جواب دیے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی کی اس تحریر کے ضروری اقتباسات درج کیے جاتے ہیں جس میں مرزا صاحب کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینے کی مخالفت کی گئی تھی۔

مولانا ممدوح نے لکھا کہ گو کتاب ”براہین احمدیہ“ کے بعض اقوال میں کچھ خلجان سا ہوتا ہے مگر تھوڑی سی تاویل سے اس کی تصحیح ممکن ہے۔ لہٰذا آپ جیسے اہل علم سے بہت

صفحہ 373

تعجب ہے کہ ایسے امر متبادر المعانی کو دیکھ کر تکفیر و ارتداد کا حکم فرمایا۔ اگر تاویل قلیل فرما کر اس کو اسلام سے خارج نہ کرتے تو کیا حرج تھا؟ تکفیر مسلم کوئی ایسا سہل امر نہیں کہ ذرا سی بات پر کسی کو جھٹ کافر کہہ دیا جائے۔ خیال فرمائیں کہ فخر عالم علیہ الصلوۃ والسلام کیا فرماتے ہیں۔ مشکوۃ شریف کی کتاب الایمان میں ہے۔

ثلث من اصل الایمان الکف عمن قال لا الہ الا اللہ لا تکفرہ بذنب و لا تخرجہ من الاسلام بعمل (الحدیث۔)

تین باتیں ایمان کی جڑ ہیں: پہلی یہ کہ لا الہ الا اللہ کہنے والے سے زبان کو روکے رکھنا نہ تو اسے کسی گناہ کی وجہ سے کافر کہیں اور نہ کسی عمل کی بنا پر اسلام سے خارج قرار دیں۔

دوسری حدیث یہ ہے کہ جو کوئی مسلمان کی تکفیر کرتا ہے تو یہ تکفیر دونوں میں سے ایک پر ضرور وارد ہوتی ہے۔ اور صاحب مذہب امام الائمہ ابو حنیفہؒ سے منقول ہے۔

لا نکفر احدا من اہل القبلۃ۔ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہیں کہتے۔

اسی بناء پر علمائے حنفیہ نے تکفیر معتزلہ وغیرہ اہل اہواء سے اجتناب کیا ہے۔ اگرچہ ہفوات معتزلہ آپ کو معلوم ہیں کہ کس درجہ کے ہیں‘ علیٰ ہذا بعض علماء کو شیعہ کی تکفیر میں تردد ہے۔ صاحب براہین کا کون سا ایسا قول ہے جو معتزلہ اور شیعہ کے کسی عقیدہ اور قول کے برابر ہو اور اس میں تاویل کی کوئی گنجائش نہ ہو کہ جس کی بناء پر آپ نے کفر و ارتداد کا فتویٰ دیا؟ بلکہ اس کے معتقدین کو بھی کافر کہہ دیا۔ اگرچہ وہ لوگ فقط تائید مذہب اسلام کے معتقد ہیں۔

مولانا اس صورت میں اولین و آخرین میں سے شاید کوئی بھی آپ کی تکفیر سے نجات نہ پا سکیں۔ علماء متکلمین معتزلہ کی تکفیر نہیں کرتے۔ علماء محققین نے ان کلمات کفریہ پر بھی‘ جو اہل فتاویٰ نے بحیثیت کلمات کفریہ نقل کیے ہیں‘ تکفیر میں تامل کیا ہے۔ وروی الطحاوی عن اصحابنا لا یخرج الرجل من الایمان الا جحود ما ادخلہ فیہ ثم ما تیقن انہ ردتہ یحکم بھا وما یشک انہ ردتہ لا یحکم بھا۔ مولانا! سوادِ امت کا اتفاق ترادف وحی و الہام پر ہے۔ صاحب قاموس نے وحی کا ترجمہ الہام سے کیا ہے اور بیضاوی وغیرہ نے و اوحینا الی ام موسیٰ کی تفسیر میں الھمنا فرمایا ہے وفی الاحیاء ثم الواقع فی القلب بغیر

صفحہ 374

حیلتہ بنفسہ الی مالا یدری انہ کیف حصل و الی ما یطلع علیہ السبب الذی منہ استفاد ذالک العلم وھو مشاهدۃ الملک الملقی فی القلب و الاول سمی الھاما و الثانی وحیا یختص بہ الانبیاء والاول یختص بالاولیاء و الاصفیاء انتھی۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ خواہ مخواہ کلام کو پھول پھل لگا کر یہ تکلف کفریہ بنایا جائے۔ الہام کو قطعی کہنے کے یہ معنی ہیں کہ ملہم کے نزدیک جو الہام نہایت صفائی کے ساتھ ہو وہ قطعی ہوتا ہے نہ کہ دیگر خلق کے نزدیک بخلاف وحی کے۔

مرزا کے بیان کردہ الہام یا احمد یتم اسمک ولا یتم اسمی کے معنی انقضا و فنا لیے جائیں تو اس تاویل میں کیا حرج ہے۔ دوسرے معنی لے کر کیوں تکفیر کی جائے کہ خدا تعالیٰ کے نام کو ناتمام لکھا اور اپنے نام کو تمام بتایا۔ اسی پر ان تمام امور کو قیاس کر لینا چاہیے جن کو وہ انبیاء کے ظلال کمالات سمجھ کر کہتا ہے۔ مولانا بندہ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ حضرات یا دوسرے لوگ قائل کے مقالات کو حق تصور کریں یا ان پر اسی طرح اعتقاد رکھیں جس طرح وہ کہتے ہیں۔ یہ بھی ہرگز مطلب نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے یہ سب افتراء کیا ہے۔ ممکن ہے کہ ان کو یہ امور بطور القاء شیطانی پیش آئے ہوں یا حدیث النفس کی قسم کے خطرات ہوں یا واقعی الہامات من اللہ تعالیٰ ہوں مگر اس میں ان کے مخیلہ اور اہوا جس کا اختلاط ہو گیا ہو یا اختلاط نہ ہوا ہو مگر ان کی تاویلات کچھ اور ہوں یا حق ہوں اور اس کے معنی درست اور صحیح ہوں کہ جس سے کوئی غیر مشروع امر مراد نہیں۔ بہرحال تکفیر کسی وجہ اور شک پر جائز نہیں۔ اگر القاء شیطانی بھی ہو تو بھی ارتداد اور تکفیر کی کوئی وجہ پیدا نہیں ہو سکتی۔ اور آپ کا یہ فرمانا کہ اس کا دعویٰ انبیاء سے بڑھ کر ہے یہ بیان میری سمجھ سے باہر ہے۔ کسی مسلمان کی تکفیر کر کے اپنے ایمان کو داغ لگانا اور مواخذۂ اخروی سر پر لینا سخت نادانی ہے۔ یہ بندہ جیسا اس بزرگ (مرزا صاحب) کو کافر فاسق نہیں کہتا اس کو مجدد و ولی بھی نہیں کہتا۔ صالح مسلمان سمجھتا ہوں اور اگر کوئی پوچھے تو ان کے ان کلمات کی تاویل مناسب سمجھتا ہوں اور خود اس سے اعراض و سکوت ہے۔ فقط والسلام (رشید احمد)۔

مولانا گنگوہی کے مراسلہ کا جواب

صفحہ 375

اس کے جواب میں مولوی محمد صاحب لدھیانوی اور ان کے بھائیوں کی جانب سے مولانا رشید احمد مرحوم کو لکھا گیا کہ آپ کا نوازش نامہ متعلق تعدیل صاحب ”براہین احمدیہ“ پہنچا۔ ہماری رائے میں علماء کا ایسے موقع پر توقف کرنا عوام کو گمراہی میں ڈالنا ہے کیونکہ عوام تاویل کا نام تک نہیں جانتے۔ اسی بناء پر علمائے شریعت نے حسین بن منصور حلاج کو قتل کرا دیا حالانکہ اس سے کوئی ایسا کلمہ صادر نہ ہوا تھا جو قابل تاویل نہ ہو۔ آپ جیسے اہل فضل اور صاحب کمال سے تعجب ہوا کہ کلمات کفریہ کی تاویلات کے درپے ہوئے۔ اور مرزا غلام احمد کے حالات سے کماحقہ اطلاع حاصل کیے بغیر اس کو صالح مسلمان قرار دیا اور نادانستہ عوام کو گمراہی میں ڈالا۔ صاحب طریقہ محمدیہ لکھتے ہیں۔ ما يدعيه بعض المتصوفه فى زماننا اذا انكر بعض امورهم المخالف للشرع ان حرمة ذلك فى العلم الظاهر و انا اصحاب العلم الباطن وانه حلال و انكم تاخذون من الكتاب و انا ناخذ من صاحبه محمد عليه الصلوة و السلام فاذا اشكل علينا مسئلة استفتيناها فان حصل قناعة بها والا راجعنا الى الله تعالى ناخذ منه و نحو ذلك من الترهات كله الحاد و ضلال و عدم الاعتماد على الشريعة و العياذ بالله تعالى من ذلك قالوا يجب على كل من سمع مثل هذه الاقاويل الباطلة الانكار على قائله و الجزم ببطلان مقاله بلا شك ولا تردد ولا توقف ولا تلبث و الا فهو من جملتهم يحكم عليه بالزندقة۔ اور حدیث الكف عمن قال لا اله الا الله کے ظاہری معنی گو آپ کے کلام کے موید ہیں لیکن وہ معنی کسی محدث نے مراد نہیں لیے، ورنہ جو غیر مسلم توحید خداوندی کے تو قائل، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکاری ہیں کافر نہ ہوئے۔ اسی طرح جو مدعیان اسلام انبیاء اور اولیاء اللہ کو عالم الغیب اور حاضر و ناظر یقین کرتے ہیں کافر نہ ہوئے۔ اور نیز خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کا منکرین زکوٰۃ کے خلاف اتفاق صحابہ جہاد کرانا اس تعمیم کو اٹھاتا ہے۔ غرض اس تعمیم کو دور کرنے والی آیات و احادیث بکثرت ہیں۔ آپ کو یاد دلانا گویا لقمان کو حکمت سکھانا ہے اور اسلام تو ایسی شے ہے کہ ذرا سی بات کا انکار کرنے سے باقی نہیں رہتا۔ جو شخص الہام اور مجددیت کے پردہ میں برملا انبیاء کرام سے بڑھ کر دعویٰ کر رہا ہے اور صدہا آیات قطعیات کو اس ضمن میں پس پشت ڈال رہا ہے وہ کیوں کافر نہ ہو۔ اور لا نكفر احدا من اهل القبلة کے یہ معنی ہیں کہ جب تک اہل قبلہ سے کوئی موجبات کفر ثابت نہ

صفحہ 376

ہوں اس وقت تک اس کی تکفیر جائز نہیں۔ علامہ علی قاری شرح فقہ اکبر میں فرماتے ہیں۔ المراد بعدم تکفیر احد من اهل القبلہ عند اهل السنہ و الجماعتہ انہ لا نکفر مالم یوجد شی من امارات الکفر و علاماتہ ولم یصدر شی من موجباتہ اہل سنت و جماعت کے نزدیک اہل قبلہ میں سے کسی کو کافر نہ کہنے سے مراد یہ ہے کہ ہم اس وقت تک کافر نہیں کہتے جب تک اس میں کفر کی علامتیں موجود نہ ہوں اور اس کی طرف سے کوئی ایسی بات نہ پائی جائے جو موجب کفر ہو۔

اسی بناء پر علماء اسلام نے فرقہ ہائے اہل اہواء کو جو ضروریات دین سے منکر ہیں‘ برملا کافر کہا ہے اور صاحب مواقف نے معتزلہ‘ روافض‘ خوارج‘ وغیرہ کے اقوال نقل کر کے اہل سنت و جماعت کی طرف سے ان کی تکفیر و تضلیل بلا خوف نقل کی ہے۔ اب آپ ہی فرمائیے کہ جو اہل قبلہ اعجاز قرآن کا قائل نہ ہو اور دو خدا ہونے کا اور تمام صحابہؓ کے کفر کا اور ابوطالب کی نبوت اور اپنے اوپر مجسم کتاب نازل ہونے کا اور ترک عبادت اور ارتکاب محرمات کو مضر نہ سمجھنے کا قائل ہو اس کو مسلمان کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ مرزا غلام احمد کے والسماء معک کما ہو معی خلقت لک لیلا و نھارا وغیرہ چند اقوال اس قبیل سے ہیں کہ تاویل صحت کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے۔ اور نیز براہین جلد سوم کے دوسرے ورق کا مطالعہ کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص نے آیات قطعیات سے قطعی انکار کیا ہے۔ اور اگر باطنی فرقہ کی طرح تاویلوں کا دروازہ کھولا جائے جیسا کہ شارح مواقف نے ان کے اقوال نقل کیے ہیں کہ وضو کا مطلب امام سے سوالات کرنا‘ نماز سے مراد رسول‘ احتلام سے افشاء راز‘ غسل سے تجدید عہد‘ زکوٰۃ سے تزکیہ نفس‘ کعبہ سے نبی اور باب سے علی مراد ہے تو اہل رِدّۃ کا کوئی کلمہ کفر کیا گناہ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ علماء متکلمین ان فرقہ ہائے ضالہ کی‘ جو ضروریات دین سے منکر ہیں‘ برابر تکفیر کرتے چلے آئے ہیں۔

محقق دوّانی شرح عقائد جلالی میں لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص فقہاء پر اعتراض کرے کہ بعض کلمات کفریہ جو فتاووں میں لکھے ہیں ان میں کوئی بھی ایسے وجوہ کفر نہیں پائے جاتے جو علماء متکلمین نے درج کیے ہیں۔ مثلاً لکھا ہے کہ جو شخص کہے "میں نے خدا کو دنیا میں ظاہری آنکھوں سے دیکھا ہے اور اس سے کلام کیا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے"۔ اس کے

صفحہ 377

جواب میں محقق دوانیؒ لکھتے ہیں کہ ”اس کی وجہ کفر کو نہ سمجھنا تمہارا اپنا قصور فہم ہے۔ دار دنیا میں رُو دَر رُو خدائے تعالیٰ سے کلام کرنے کا مدعی ہونا صراحۃً ” نبوت کا دعویٰ ہے۔ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا جو نص قرآن سے ثابت ہے باطل ہوتا ہے۔ اسی پر باقی کلمات کو قیاس کر لو“۔ البتہ جس مقام پر کسی کلمہ کے معانی میں تردد ہو یعنی مفتی کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس سے قائل کی کیا مراد ہے تو اس صورت میں کفر کا فتویٰ دینا ہرگز جائز نہیں لیکن جو کلمہ قائل کی مراد کا روشن آئینہ ہو وہ ہرگز ماول نہیں بن سکتا۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آیت وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں محکم ہے تو قادیانی اس آیت کا کیونکر مصداق ہو سکتا ہے۔ اگر ایسے نصوص قطعیہ کو بزور تاویل کلیہ ٹھہرایا جائے تو حضور سرور کون و مکان علیہ والسلام کی خاتمیت تو درکنار آنحضرت کی نبوت کا ثبوت دینا بھی اہل اسلام کو متعذر بلکہ محال ہو جائے گا۔ صاحب قاموس نے وحی کا ترجمہ صرف الہام سے نہیں کیا بلکہ الہام کو معانی وحی کے سلک میں منسلک کیا ہے۔ حیث قال الوحی الاشارة والكتابة والمكتوب والرسالة والالهام والكلام الخفی اور بیضاوی وغیرہ کا واوحینا الی ام موسیٰ کی تفسیر میں الهمنا بیان کرنا ترادف پر دال نہیں ہے بلکہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہاں لفظ وحی اپنے معنی متعارف میں مستعمل نہیں۔ بیضاوی نے وحی متعارف کو آیت وما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا کی تفسیر میں وحی متعارف کو الہام کے مقابلہ میں قرار دیا ہے۔ حیث قال قیل المراد بہ الالہام والالقاء او الوحی المنزل بہ الملک امام ربانی مجدد الف ثانیؒ جلد اول مکتوب چہل و یکم میں لکھتے ہیں: فرق در میان این دو علوم آن ست کہ در وحی قطع است و در الہام ظن زیرا کہ وحی بتوسط ملک است و ملائکہ کہ معصوم اند احتمال خطا در ایشان نیست و الہام اگرچہ محل عالی دارد و آن قلب است و قلب از عالم امر است اما قلب را با عقل و نفس نحوی از تعلق متحقق است و نفس ہرچند بہ تزکیہ مطمئنہ گشتہ است بیت ہرچند کہ مطمئنہ گردد ہرگز ز صفات خود نہ گردد۔ پس خطا را دراں موطن مجال پیدا شد۔

یا احمد یتم اسمک و لایتم اسمی کے دوسرے معنی اس واسطے لیے جاتے ہیں کہ یہ مقام الہام کی مدح کے متعلق ہے۔ اس سے الہام کرنے والے کی عظمت بیان کرنا مقصود

صفحہ 378

نہیں ۔ نیز مرزا نے دوسرے مقام میں خود یہی دوسرے معنی کیے ہیں۔ ملاحظہ ہو جلد چہارم‘ صفحہ ۵۱۷‘ سطر ۱۷۔ یرضی عنک ربک ویتم اسمک (خدا تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے اسم کو پورا کرے گا) اب آپ ازراہ انصاف فرمائیں کہ ہم فہم اور علم کے باوجود معنی مدلل و مصرح کو کس طرح پس پشت ڈال کر معنی اول اختیار کریں۔ اگر صاحب براہین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آیات قرآنی کا مصداق ٹھہراتا تو قابل اعتراض نہ تھا۔ لیکن یہ شخص تو ہر آیت کے ترجمہ میں بالذات اپنے آپ کو ان کا مصداق ٹھہراتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس کے دعوئی کا انبیاء کے دعوئی سے بڑھ کر ہونا میری سمجھ میں نہیں آتا لیکن مرزا کا یہ دعوی الارض والسماء معک کما هو معی پیغمبروں کے دعویٰ سے بڑھ کر نہیں تو اس مضمون کی کوئی آیت جو کسی پیغمبر کی شان میں نازل ہوئی ہو پیش کیجئے۔ جو شخص اہل قبلہ ہو کر ضروریات دین سے انکار کرے یا دوسرے کلمات کفریہ زبان پر لائے اس کی تضلیل و تکفیر سے اعراض کرنا اور اس کو مسلمان قرار دینا بڑی غلطی ہے۔ اسی بناء پر علماء شریعت قدیم الایام سے اسی طریقہ پر چلے آتے ہیں کہ جب کسی شخص سے کوئی کلمہ خلاف شریعت سرزد ہوا‘ اسی وقت تکفیر و تضلیل کر کے لوگوں کو متنبہ کر دیا کرتے ہیں۔ کیونکہ توقف و سکوت کی صورت میں عامۃ المسلمین کی گمراہی کا خطرہ رہتا ہے۔ دیکھئے حسین بن منصور حلاج کو علماء وقت نے باوجود غلبہ حال کے قتل کرا دیا۔

جس شخص کی ولایت میں شک نہ ہو اور وہ دنیا اور اہل دنیا سے نافر و رمیدہ ہو‘ اگر ایسے باخدا بزرگ سے کبھی کوئی کلمہ غلبہ حال میں خلاف شرع صادر ہو تو اہل تصوف اس کو معذور سمجھ کر اس کی تاویل کرتے رہے ہیں لیکن ان خلاف شرع کلمات کی پیروی اہل تصوف کے نزدیک بھی جائز نہیں۔ امام ربانی مجدد الف ثانی مکتوبات‘ جلد اول‘ مکتوب بست و سوم فرماتے ہیں: وما وقع من بعض المشائخ فی السکر من مدح الکفر لمعروف عن الظاهر وانهم معذورون و غیر السکاری غیر معذور فی تقلید هم لا عندهم ولا عند اهل الشرع۔ پس جب اہل تصوف غیر مغلوب الحال صوفی کے کلمات پر یہ تشدد فرما رہے ہیں‘ تو علماء شرع ایسے شخص کے مقالات پر جو اہل کفر اور اہل رفض کی تعریف بہ سبب نفع دنیاوی اس شد و مد سے کر رہا ہے کہ ان کو اپنا مخدوم اور سید قرار دیتا ہے اور جو مسلمان اس کی کتاب خریدنے سے اعراض کرتے ہیں اپنی کتاب میں اخبار نویسوں کی طرح ان کی

صفحہ 379

مذمت کرتا ہے کیوں تشدد نہ کریں۔ آپ کی تحقیق اس امر کی مقتضی ہے کہ امام نیچر کو بھی معاذ اللہ صالح بلکہ اصلح مسلمان قرار دیا جائے کیونکہ اس کے ہفوات محض عقلی قیاس آرائیوں پر قائم ہیں اور وہ مرزا کی طرح اللہ تعالیٰ پر افتراء نہیں کرتا کہ مجھ پر یہ کلام حق تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ (رقمہ محمد لدھیانوی، عبداللہ لدھیانوی، اسماعیل لدھیانوی)۔ (فتاوائے قادریہ، ص ۴-۵)

باب ۳

علماء لدھیانہ کا ورود دیوبند اور قادیانی

کے کفر و اسلام کا مذاکرہ

جب علماء لدھیانہ نے مولانا گنگوہیؒ کے مکتوب کا جواب بھیجا ہے تو اس کے تھوڑے دنوں بعد دیوبند میں دستار بندی کا سالانہ جلسہ تھا۔ مولوی محمد، مولوی عبداللہ اور مولوی اسماعیل صاحبان لدھیانہ سے ۱۲ جمادی الاول ۱۳۰۹ھ کو دیوبند پہنچے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی بھی دیوبند تشریف لائے تھے۔ ایک مجلس میں جہاں بڑے بڑے علماء موجود تھے علماء لدھیانہ نے مرزا غلام احمد کا کچھ حال بیان کیا۔ مولانا محمد یعقوب صاحب جو ان دنوں دیوبند کے شیخ الحدیث تھے فرمایا کہ "اگر مرزا غلام احمد پر بطور ظلیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم الہامات کا ورود ہوا تو اس میں تعجب کی کونسی بات ہے"۔ مولوی محمد لدھیانوی نے کہا کہ اگر بالفرض یہود و نصاریٰ یہ اعتراض کریں کہ جس طرح مرزا غلام احمد قادیانی پر بسبیل ظلیت آیات قرآنی نازل ہو رہی ہیں اسی طرح تمہارے ہادی و رہبر (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی خود کوئی مستقل نبی نہیں تھے بلکہ ان پر بوجہ اتباع ابراہیم علیہ السلام ظلی طور پر قرآن بطور الہام نازل ہوا ہوگا تو پھر آپ کیا جواب دیں گے؟ مولانا محمد یعقوب نے فرمایا کہ میں غلام احمد کو اپنی تحقیق میں ایک آزاد خیال لامذہب جانتا ہوں۔ اور چونکہ آپ قریب الوطن ہونے کی وجہ سے اس کے تمام حالات سے بخوبی واقف ہیں اس کی تکفیر سے منع نہیں

صفحہ 380

کرتا۔ اس کے علاوہ آپ نے اس شخص کی کتاب ”براہین احمدیہ“ پڑھی ہے اور میں نے اور مولانا رشید احمد صاحب نے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا۔

اس کے بعد ایک اور علمی مجلس میں علماء لدھیانہ نے اپنا وہ مضمون، جو مولانا رشید احمد کے مکتوب کے جواب میں لکھا تھا، مولانا محمد یعقوب صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت شیخ الحدیث نے فرمایا کہ جہاں تک میری تحقیق کو دخل تھا وہ میں نے آپ کو لکھ بھیجا تھا۔ مولوی عبداللہ لدھیانوی نے اس مضمون کو حضرت مولانا رشید احمد صاحب کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ ”آپ ہمارے دلائل کا جواب تو دے دیجئے“۔ مگر مولوی عبداللہ صاحب کا یہ مطالبہ بے جا تھا کیونکہ مولانا گنگوہی نے خدانخواستہ کسی نفسانی غرض کی بنا پر فتوائے تکفیر کی مخالفت نہیں کی تھی بلکہ اصل یہ ہے کہ قادیانی صاحب اس وقت تک اپنے پورے رنگ میں ظاہر نہیں ہوئے تھے، اس لیے حاملین شریعت ان کے من گھڑت الہاموں کی تاویل کر کے ان کو ہدف کفر سے بچانا چاہتے تھے۔ بہرحال مولانا گنگوہی نے فرمایا کہ مولانا محمد یعقوب ہم سب میں بڑے ہیں، جو کچھ یہ فرمائیں گے مجھے بسر و چشم قبول ہو گا۔ مولوی محمد صاحب نے مولانا محمد یعقوب کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ نے قادیانی کے متعلق جو رائے کل ظاہر فرمائی تھی کیا آپ اس کو تحریر میں بھی لا سکیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں میں لکھ دوں گا کہ قادیانی کے الہام، اولیاء اللہ کے الہامات سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے لیکن بالفعل کاروبار جلسہ کی وجہ سے میں عدیم الفرصت ہوں۔ دو تین روز کے بعد لکھ کر روانہ کر دوں گا۔

علماء لدھیانہ دیوبند سے مراجعت فرما ہوئے۔ دو تین دن کے بعد مولانا محمد یعقوب نے ایک فتویٰ اپنے ہاتھ سے لکھ کر بذریعہ ڈاک لدھیانہ بھیج دیا جس کا مضمون یہ تھا کہ ”یہ شخص میری دانست میں لامذہب معلوم ہوتا ہے۔ اس شخص نے اہل اللہ کی صحبت میں رہ کر فیض باطنی حاصل نہیں کیا۔ معلوم نہیں اس کو کس روح کی اویسیت ہے مگر اس کے الہامات اولیاء اللہ کے الہامات سے کچھ مناسبت اور علاقہ نہیں رکھتے“۔ اس کے بعد شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوری سے علماء لدھیانہ کی ملاقات ہوئی۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے قادیانی کے متعلق استخارہ کیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں زنار نظر آیا جس سے

صفحہ 381

اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے۔ اس کے بعد شاہ صاحب نے فرمایا کہ جو علماء اس کی تردید میں اب متردد ہیں کچھ عرصہ کے بعد وہ بھی اسے خارج از اسلام قرار دیں گے۔

(فتاوائے قادریہ)

چنانچہ مولانا شاہ عبدالرحیم کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور تمام دوسرے اکابر امت‘ جو قادیانی کی تکفیر سے پہلو تہی کرتے اور لوگوں کو اس سے منع کرتے تھے‘ آئندہ چل کر اس کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دینے لگے۔

باب ۴

علماء حرمین کا فتوائے تکفیر

مولوی محمد صاحب لدھیانوی فتاوائے قادریہ میں لکھتے ہیں کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے‘ جو اہل حدیث کے مشہور مقتدا ہیں‘ قادیانی کی تائید و حمایت کا بیڑا اٹھایا اور اپنے ماہوار رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ میں ہماری مخالفت اور قادیانی کی تائید کرتے رہے۔ یعنی مولوی محمد حسین صاحب نے مرزائی کلمات کفریہ کو معاذاللہ اشاعۃ السنہ قرار دیا۔ ؂ برعکس نہند نام زنگی کافور۔ لیکن مولوی محمد حسین صاحب جو مرزا غلام احمد کے کفریات شائع کرتے رہے تو اس سے ایک یہ بڑا فائدہ ہوا کہ اکثر اہل علم کو قادیانی کے کلمات کفریہ معلوم ہوگئے اور ہر طرف سے ہمارے فتوائے تکفیر کی تائید میں صدائیں بلند ہونے لگیں۔ یہاں تک کہ مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری نے قادیانی کے متعلق ایک استفتاء علماء حرمین کی خدمت میں روانہ کیا۔ ان دنوں مولانا رحمتہ اللہ مہاجر مکہ معظمہ میں قیام فرما تھے۔ مولانا رحمتہ اللہ نے براہین احمدیہ اور رسالہ اشاعۃ السنۃ کے فائل کا بنظر امعان مطالعہ فرما کر قادیانی کے کفر کا فتویٰ تیار کیا جس میں لکھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے دوسرے علماء نے بھی اسی مضمون کے مطابق اپنی اپنی رائے ظاہر کی۔ (فتاوائے قادریہ‘ صفحہ ۱۸)

مکہ معظمہ کے مفتی اعظم رئیس القضاة شیخ عبداللہ بن حسن کے فتویٰ کا ترجمہ یہ ہے:

صفحہ 382

"حق تعالے کی حمد و ثناء کے بعد ہم کہتے ہیں کہ مدعی نبوت کے کفر میں کوئی شک نہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ اس لیے کہ حق تعالٰی فرماتا ہے: وما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول اللہ و خاتم النبیین۔ جو شخص قادیانی کے دعوے کی تصدیق کرے یا اس کی متابعت کرے وہ بھی مدعی نبوت کی طرح کافر ہے۔ اور اہل اسلام سے ان کا رشتہ نکاح و بیاہ صحیح نہیں"۔

(بیانات علمائے ربانی‘ صفحہ ۱۸۳)

علمائے حرمین کے فتوائے تکفیر کی اہمیت

حضرات! حرمین یعنی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے فتوائے تکفیر کو کوئی غیر اہم چیز نہ سمجھنا چاہیے کیونکہ حجاز مقدس اسلام کا اولین و آخرین مرکز و گہوارہ ہے‘ اس لیے جس شخص کو علمائے حرمین بالاتفاق کافر قرار دیں وہ کبھی دائرۂ اسلام میں داخل نہیں سمجھا جا سکتا۔ خود مرزا غلام احمد صاحب نے لکھا کہ مکہ اسلام کا مرکز ہے۔ لاکھوں صلحاء‘ علماء اور اولیاء اس میں جمع ہوتے ہیں۔ (ست بچن‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۲۳) اور میں نے علماء (ہندوستان) میں بخل اور حسد پایا تو اپنے دل میں ٹھان لیا کہ ان لوگوں سے اعراض کروں اور مکہ معظمہ کی طرف بھاگ جاؤں اور صلحاء عرب کی طرف توجہ کروں کیونکہ اہل عرب آزادی کی مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں اور انہوں نے اہلبیت کے دودھ سے پرورش پائی ہے۔ (نور القرآن‘ مولفہ مرزا غلام صاحب‘ حصہ اول‘ صفحہ ۱۴) اسی طرح رسالہ لجنۃ النور میں لکھا کہ ”ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی شوکت اور رب جلیل کی عظمت کا آوازہ مکہ‘ مدینہ اور مضافات کی طرف اس طرح واپس آگیا ہے جس طرح سانپ سختی کے وقت اپنے سوراخ کی طرف سمٹ آتا ہے۔ دین کی عظمت اور حدود الٰہی کی عزت مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے سوا کسی جگہ باقی نہیں رہی اور تم ان دونوں شہروں میں عمارت دین کے آثار باقیہ اسی طرح دیکھو گے جس طرح زر قلیل خزانہ باقی رہ گیا ہو۔ ہم قوت اسلام کی خوشبو اسی پاک سرزمین میں پاتے ہیں اور ہمیں دوسری زمینیں تو نجس مکانات کی طرح دکھائی دے رہی ہیں"۔ (لجنۃ النور‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۷۱ - ۷۲)۔ اور جب موجودہ خلیفہ المسیح مرزا محمود احمد صاحب ۱۹۲۴ء میں یورپ جاتے ہوئے عدن کے سامنے سے گزر رہے

صفحہ 383

تھے تو انہوں نے جہاز میں کھڑے کھڑے کہا کہ مکہ معظمہ باطل راہ نہیں پا سکتا۔ (جریدہ الفضل قادیاں‘ ۱۳؍ اگست ۱۹۴۲ء)

مرزا صاحب کی طرف سے مصالحت کی سلسلہ جنبانی

مولوی محمد صاحب لکھتے ہیں کہ علمائے حرمین کا فتویٰ آنے کے چند روز بعد قادیانی نے بٹالوی کی سرائے میں قیام کر کے مولوی عبدالقادر کی وساطت سے یہ کہہ کر صلح کا پیغام بھیجا کہ پادری لوگ مجھ پر معترض ہیں کہ جب علماء اسلام تمہاری تکفیر کے فتوے شائع کر رہے ہیں تو ہم کو تمہارا اسلام کی طرف دعوت دینا سخت ناروا ہے۔ ع: کہ خود گمراہ است کرا رہبری کند۔ مولوی عبداللہ صاحب نے اس کے جواب میں کہلا بھیجا کہ ”اگر مصالحت منظور ہے تو جمعہ کے دن جامع مسجد میں تمام مسلمانوں کے سامنے اپنے کلمات کفریہ سے تائب ہو جاؤ۔ اور اگر ایسا منظور نہیں ہے تو ہم سے گفتگو کر کے ہم کو ساکت کرو۔ اور اگر گفتگو بھی منظور نہیں تو ہم سے مباہلہ کرو“۔ مرزا غلام احمد نے اس کا کچھ جواب نہ بھیجا اور لدھیانہ سے قادیان کا راستہ لیا۔ اب مولوی شاہ دین اور مولوی عبدالقادر نے‘ جو مولانا گنگوہی کے مرید تھے‘ لدھیانہ کے علمائے اہل حدیث کے استصواب رائے سے مولوی محمود شاہ ہزاروی کو لدھیانہ بلا بھیجا۔ یہ پنجابی زبان کے ایک نہایت منقح گو اور شستہ بیان واعظ تھے۔ انہوں نے آ کر مولوی محمد صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب کی مخالفت میں تقریریں شروع کر دیں۔ اس سے بدمزگی زیادہ بڑھ گئی۔ لیکن ان تقریروں کا پبلک پر کچھ اثر نہ ہوا کیونکہ اب ہر کس و ناکس کو مرزائی کفریات کا علم ہوچکا تھا۔ (فتاوائے قادریہ‘ صفحہ ۱۹)

باب ۵

دعوائے مسیحیت اور حضرت ابن مریمؑ کی پیشین گوئی

قادیانی صاحب نے دیکھا کہ تمام اسلامی دنیا کے علمائے حق کی تکفیر ان کے دام افتادوں کی عقیدت مندی کو متزلزل نہیں کر سکی تو ان کی مسرت کی کوئی انتہا نہ تھی۔ الہامی

صفحہ 384

صاحب مریدوں کے جھرمٹ کو ہر وقت گرد و پیش دیکھ کر بھانپ گئے تھے کہ اس خوش اعتقادی کی بنیادوں پر ہر بڑے سے بڑے قصر تعلی کی تعمیر ممکن ہے۔ اس لیے انہوں نے مجددیت سے ترقی کر کے دعوائے مسیحیت کو اپنی دکان آرائی اور زر طلبی کا وسیلہ بنایا اور برملا کہنا شروع کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے تیرہ سو سال پہلے جس عیسیٰ ابن مریم کے نزول اجلال فرمانے کی اطلاع دی تھی وہ میں ہوں‘ حالانکہ اس سے پیشتر ہمیشہ اس اعتقاد پر جازم تھے کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام آخری زمانہ میں اسلام کی تائید و ترویج کے لیے تشریف لائیں گے۔ چنانچہ ”براہین“ میں لکھا تھا کہ جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے‘ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔ (براہین احمدیہ‘ صفحہ ۴۹۸)

حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشین گوئی

قادیانی صاحب نے مجددیت سے ترقی کر کے مثیل مسیح ہونے کی فسانہ طرازی شروع کی۔ پھر حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کیا‘ اس کے بعد خود مسیح بن بیٹھے۔ اس دعوے کے بعد لوگوں کو معلوم ہوا کہ حیات مسیح علیہ السلام کا انکار اسی دعوے کی تمہید تھی۔ بہرحال اس دعوائے مسیحیت نے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی یہ پیشین گوئی عملاً پوری کر دکھائی کہ ”اس وقت اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں (مثلاً قادیان میں) ہے تو یقین نہ کرنا کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کریں“۔ (انجیل متی‘ باب ۲۴‘ درس ۲۳۔ ۲۴)۔ بیسیوں احادیث نبویہ میں سچے مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کا تذکرہ موجود ہے لیکن الہامی صاحب نے اپنی خانہ ساز مسیحیت کا روپ دھارنے کے بعد ان احادیث کی نہایت لچر تاویلیں کر کے اسلامی تعلیمات کے پر نوچنے شروع کیے۔ اور لطف یہ ہے کہ حضرت مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے سچے مسیح علیہ السلام کی جو نشانیاں بیان فرمائی ہیں‘ قادیانی صاحب کو خود تسلیم تھا کہ وہ نشانیاں ان میں نہیں پائی جاتیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”اگر ظاہر پر ہی ان بعض مختلف حدیثوں کو‘ جو ہنوز ہماری حالت موجودہ سے مطابقت نہیں

صفحہ 385

رکھتیں، محمول کیا جائے تب بھی کوئی حرج کی بات نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ خدائے تعالیٰ ان پیشین گوئیوں کو اس عاجز کے کسی ایسے کامل متبع کے ذریعہ سے کسی زمانے میں پورا کر دے جو منجانب اللہ مثیل مسیح کا مرتبہ رکھتا ہو"۔ (ازالہ، صفحہ ۱۷۳)۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے حالات کی تفصیل بیان فرمانے سے مخبر صادق علیہ الصلوۃ والسلام کی غرض ہی یہ تھی کہ کوئی خانہ ساز مسیح بساط مسیحیت پر قدم نہ رکھے۔

مرزائی بیان کہ میں بارہ سال تک حکم الہی کو ٹالتا رہا

نبی اور حامل وحی ہی اپنی نبوت اور وحی کے اول المومنین ہوتے تھے لیکن اس کے خلاف قادیاں کے مسیحا صاحب کو بارہ سال تک حکم الہی ہوتا رہا کہ تو ہی مسیح موعود ہے لیکن یہ برابر حکم الہی کو ٹالتے اور اس سے انحراف کرتے رہے۔ چنانچہ ۱۸۹۳ء میں لکھا کہ دس سال یعنی ۱۸۸۳ء سے مجھے اپنا مسیح موعود ہونا معلوم تھا لیکن میں نے اپنا عقیدہ تبدیل نہ کیا۔ خدا کی قسم میں بہت دن سے جانتا تھا کہ میں مسیح ابن مریم بنایا گیا ہوں اور مسیح کی بجائے نازل ہونے والا شخص ہوں لیکن میں نے اس کو تاویلاً مخفی رکھا بلکہ میں نے اپنا عقیدہ بھی نہیں بدلا۔ میں اس پر مضبوطی سے قائم رہا ہوں اور میں نے اس کے اظہار میں دس سال تک توقف کیا۔ (آئینہ کمالات، صفحہ ۵۵۱) اس کے بعد ۱۹۰۲ء میں لکھا کہ ”میں قریباً بارہ برس تک، جو ایک زمانہ دراز ہے، بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے، پس جب اس بارہ میں انتہا تک خدا کی وحی پہنچی اور مجھے حکم ہوا کہ فاصدع بما تومر یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے۔ تب میں نے یہ پیغام لوگوں کو سنا دیا۔ اگر یہ کوئی انسانی منصوبہ ہوتا تو میں ”براہین احمدیہ" کے وقت میں ہی یہ دعویٰ کرتا کہ میں مسیح موعود ہوں مگر خدا نے میری نظر کو پھیر دیا۔ میں براہین کی اس وحی کو نہ سمجھ سکا کہ وہ مجھے مسیح موعود بناتی ہے۔ یہ میری سچائی کی دلیل تھی ورنہ میرے مخالف مجھے بتائیں کہ میں نے باوجودیکہ ”براہین احمدیہ" میں مسیح موعود بنایا گیا تھا، بارہ برس تک یہ دعویٰ کیوں نہ کیا

صفحہ 386

اور کیوں براہین میں خدا کی وحی کے مخالف لکھ دیا؟" (اعجاز احمدی‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۷)

بارہ برس تک حکم وحی ٹالنے کا افسانہ کہاں سے اڑایا؟

اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ قادیانی صاحب نے بارہ برس تک حکم الٰہی کے ٹالتے رہنے کی داستان سید محمد جونپوری سے‘ جو دعوائے مہدویت میں قادیانی صاحب کے پیشرو اور ہم سفر تھے‘ اڑایا تھا۔ چنانچہ کتاب ہدیہ مہدویہ میں مہدویہ کی کتاب مطلع الولایت سے نقل کیا ہے کہ ”اول بارہ برس تک امر الٰہی ہوتا رہا اور میراں جی وسوسہ نفس و شیطان سمجھ کر ٹالتے رہے۔ اور بعد بارہ برس کے خطاب باعتاب ہوا کہ ہم روبرو سے فرماتے ہیں اور تو اس کو غیر اللہ سے سمجھتا ہے۔ بعد اس کے بھی سید موصوف اپنی عدم لیاقت وغیرہ کا عذر پیش کر کے آٹھ برس تک اور ٹالتے رہے۔ بعد بیس برس کے خطاب باعتاب ہوا کہ قضائے الٰہی جاری ہو چکی‘ اگر قبول کرے گا ماجور ہوگا ورنہ مہجور ہوگا“۔ (ہدیہ مہدویہ‘ صفحہ ۲۴) آگے چل کر لکھا ہے کہ حضرت سید محمد جونپوری مہدی موعود نے فرمایا کہ مجھ کو اٹھارہ برس سے بار بار حکم خدا کا بلاواسطہ ہوتا ہے کہ دعویٰ کر لیکن میں ٹالتا چلا جاتا ہوں۔ اب مجھ کو حکم ہوا ہے کہ ”اے سید محمد! دعویٰ مہدویت کہلاتا ہوئے تو کہلا نہیں تو ظالماں میں کا کروں گا“۔ اس واسطے میں بصحت عقل و حواس دعویٰ کرتا ہوں کہ انا مہدی مبین مراد اللہ۔ (ایضاً‘ صفحہ ۳۸)

باب ۶

ابن مریمؑ بننے کی مضحکہ خیز کوشش

جب الہامی صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ احادیث نبویہ میں جس مسیح کے آنے کا وعدہ ہے‘ وہ تو حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں‘ آپ کس طرح مسیح موعود بن سکتے ہیں؟ مرزا صاحب نے اس کا جواب ازالہ اوہام میں‘ جو

صفحہ 387

جو ستمبر ۱۸۹۸ء کو شائع ہوئی تھی، یہ دعویٰ کیا کہ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعض روحانی صفات طبع اور عادات اور اخلاق وغیرہ خدا تعالیٰ نے میری فطرت میں بھی رکھی ہیں۔ اور دوسرے کئی امور میں، جن کی تصریح اپنے رسالوں میں کر چکا ہوں، میری زندگی کو مسیح ابن مریم کی زندگی سے اشد مشابہت ہے، اس بنا پر میں مسیح موعود ہوں“۔ (ازالہ، طبع پنجم، صفحہ ۷۹) لیکن جب کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بعض روحانی صفات طبع اور عادات و اخلاق تو خدا تعالیٰ نے بہت سے اہل اللہ کی بھی فطرت میں رکھے ہوتے ہیں اور ان کی زندگی کو مسیح علیہ السلام سے اشد مناسبت ہوتی ہے تو پھر وہ نفوس قدسیہ بھی ”مسیح موعود“ ہونے چاہئیں۔ اس میں آپ کی کونسی خصوصیت ہے؟ کوئی وجہ نہیں کہ آپ تو کسی من گھڑت مناسبت کی بنا پر مسیح بن جائیں اور عارفین الٰہی باوجود حقیقی اشتراک صفات کے اس منصب جلیل کے اہل نہ سمجھے جائیں۔ بات معقول تھی، مرزا صاحب سے اس کا کوئی جواب نہ بن سکا اور سوچنے لگے کہ کوئی ایسی بات بنانی چاہیے کہ وجوہ مسیحیت میں دوسروں سے ممیز و ممتاز ہو سکیں۔ بحر فکر کی بہت غواصی کی لیکن کوئی بات سمجھ میں نہ آئی۔ اسی سوچ بچار اور ادھیڑ بن میں گیارہ سال کی طویل مدت گزر گئی۔

مریمؑ بننے اور حاملہ ہونے کی فسانہ تراشی

اس عرصہ میں اس عقدہ کے حل کرنے کے لیے کتب تصوف کی طرف بھی رجوع کیا۔ آخر گیارہ سال کی پیہم کوششوں کے بعد ایک ایسی تار عنکبوت نظر آ گئی جس پر کسی موہوم قصر مسیحیت کی تعمیر ممکن دکھائی دی۔ چنانچہ اپنے یازدہ سالہ فکر و تعمق کا نتیجہ اپنی کتاب ”کشتی نوح“ میں، جسے ۵؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو شائع کیا تھا، ان الفاظ میں پیش کیا: ”گو خدا نے براہین احمدیہ کے تیسرے حصہ میں میرا نام مریم رکھا، پھر جیسا کہ ”براہین احمدیہ“ سے ظاہر ہے، دو برس تک صفت مریمیت میں میں نے پرورش پائی اور پردہ میں نشو و نما پاتا رہا۔ پھر جب اس پر دو برس گزر گئے تو جیسا کہ ”براہین احمدیہ“ کے حصہ چہارم، صفحہ ۴۹۶ میں درج ہے، مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینہ کے بعد، جو دس مہینے سے زیادہ نہیں، بذریعہ اس الہام کے جو سب سے آخر ”براہین احمدیہ“ کے حصہ چہارم، صفحہ ۵۵۶ میں درج ہے، مجھے مریم سے

صفحہ 388

عیسیٰ بنایا گیا۔ پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا”۔ (کشتی نوح‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۴۶) اہل صلیب کی تثلیث تو مشہور ہی تھی‘ الہامی صاحب نے عورت بننے اور حاملہ ہونے کی فسانہ طرازی میں صلیب پرستوں کے بھی کان کاٹے۔ قادیانی صاحب پہلے مرد سے عورت بنے‘ دو سال تک حاملہ رہے‘ پھر بچہ جنا اور اس طرح جھٹ عیسیٰ ابن مریم بن گئے۔ مرزا صاحب شروع میں تو فرد واحد تھے لیکن اس کے بعد سہ گانہ حیثیت اختیار کر لی۔ خود ہی مرد (غلام احمد)‘ خود ہی عورت (مریم) اور خود ہی بچہ (عیسیٰ) بن گئے۔ ع

خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گل کوزہ

لیکن اس سے بھی بڑھ کر الہامی صاحب کے ایک مرید خاص قاضی یار محمد بی۔ او۔ ایل۔ پلیڈر نے جلال خداوندی سے بے خوف ہو کر اور حیا کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مقتدا کو (معاذ اللہ) خالق کردگار کی بیوی قرار دے دیا اور اپنے ٹریکٹ نمبر ۳۴‘ موسوم بہ اسلامی قربانی‘ مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھا: ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے ایک موقعہ پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔ سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے”۔ (نعوذ باللہ) اور لطف یہ کہ الہامی صاحب نے ”کشتی نوح“ میں تو اپنے زنانہ صفات اور حمل وغیرہ کا ذکر کیا ہے لیکن اس سے پیشتر ”کتاب البریہ“ میں‘ جو ۲۴ جنوری ۱۸۹۸ء کو شائع کی تھی‘ اپنے تئیں‘ مادہ انثیت سے بالکل پاک قرار دیا تھا۔ چنانچہ لکھا ”میں توام پیدا ہوا تھا‘ ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی‘ وہ چند دنوں کے بعد فوت ہو گئی تھی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدا تعالیٰ نے انثیت کا مادہ مجھ سے بالکل الگ کر دیا”۔ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۱۴۶‘ حاشیہ)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انثیت کا مادہ الگ ہونے کے کچھ عرصہ بعد پھر عود کر آیا ہوگا۔ لیکن الہامی صاحب نے اس پر کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ جب ۱۹۰۲ء میں وہ باقاعدہ عیسیٰ بن چکے تو انثیت کا پرانا مادہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گیا یا اخیر دم تک جسد ”اطہر“ میں موج زن رہا؟

باب ۷

صفحہ 389

مریمؑ بننے اور حاملہ ہونے کے تخیل کا قادیانی مآخذ

اب میں بتانا چاہتا ہوں کہ الہامی صاحب نے مریمیت کے صفات حاصل کرنے اور حاملہ ہو کر عیسیٰ بننے کا تخیل کہاں سے اڑایا؟ حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ نے مثنوی معنوی میں فرمایا تھا۔

جان کل با جان جز آسیب کرد عقل از و درئے ستد در جیب کرد
ہمچو مریم جان ازاں آسیب جیب حاملہ شد از مسیح دل فریب
آں مسیحے نے کہ بر خشک و تر است آں مسیحے کز مساحت برتر است
پس ز جان جاں چو حامل گشت جان از چنیں جانے شود حامل جہاں
پس جہاں زاید جہان دیگرے ایں حشر او را نماید محشرے
تا قیامت گر بگویم بشمرم من ز شرح ایں قیامت قاصرم

مثنوی شریف میں ان اشعار کو پڑھا تو مرزا صاحب کی رگ الحاد جنبش میں آگئی۔ رائی سے پربت بنا کر جھٹ اپنی خود ساختہ مسیحیت کا نظریہ قائم کر لیا۔ حالانکہ ہر فصیح و بلیغ کلام میں محاورات لسان اور عرف عام کے ساتھ ساتھ استعارات، مجازات، اور تمثیلات کی چاشنی بھی ضرور ہوتی ہے اور جس کلام میں یہ خوبی نہ ہو، وہ فصیح و بلیغ نہیں سمجھا جاتا۔ مثل مشہور ہے کہ ”چوہے کے ہاتھ ہلدی کی گرہ لگی، وہ بھی پنساری بن بیٹھا“ مرزا جی کو یہ اشعار کیا ہاتھ آئے ان پر اپنی ذہنی مسیحیت کی سر بفلک عمارت کھڑی کرنی شروع کر دی۔ مرزا جی کے اس انوکھے استدلال کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے کسی کو یہ کہتے سن کر کہ ”عنقائے حریت کا نشیمن بہت بلند ہے“ درخت پر چڑھ کر آشیانہ تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ غریب یہ سمجھا تھا کہ حریت و آزادی بھی کوئی پرند ہو گا جس نے گھونسلے میں انڈے بچے دیے ہوں گے۔ اسی طرح کسی نے یہ کہا کہ ”زید گدھا ہے“ تو وہ نادان زید کی چار ٹانگوں، دو بڑے بڑے کانوں اور ایک دم کی جستجو کرنے لگا تھا اور خیال کیا تھا کہ زید کسی قد آور گدھے کا نام ہو گا جو خوب دولتیاں جھاڑتا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ الہامی صاحب محض ایک الحاد پرست خشک مُلّا تھے۔ وہ معرفت کے رموز و اسرار اور تصوف کے حقائق و معارف سے ایسے ہی بے خبر تھے جس طرح بہت سے دوسرے ظاہر پرست اس

صفحہ 390

کوچہ سے نابلد ہیں۔ ہاں ”دیوانہ بکار خویش ہوشیار“ کے حسب مصداق ہر چیز سے اپنا الو سیدھا کرنے اور ہر چیز کو اپنا لینے میں انہیں یدطولیٰ حاصل تھا۔ اور یہی وہ چیز تھی جس نے میاں محمد علی، خواجہ کمال الدین اور اس قسم کے دوسرے سحر زدوں کو دام مرزائیت میں اسیر کر رکھا تھا۔

مولانا رومیؒ کے اشعار کا مطلب و مفہوم

اب مولانا رومی کے اشعار کا مطلب و مفہوم لکھا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں:

جان کل باجان جز آسیب کرد عقل از و درے سد در جیب کرد

”ذات حق انسان پر پرتو افگن ہوئی تو اس نے فیض تجلی کا ایک موتی لے کر دل کے گریبان میں ڈال لیا۔ یعنی خالق مختار نے انسان پر تجلی فرما کر اس کو منور و مستفید فرمایا اور انسان نے اس نور تجلی کو اپنے خزینہ قلب میں جگہ دی۔ اسی افادہ و استفادہ کو تجلی بانوار اللہ اور تخلق باخلاق اللہ کہتے ہیں اور یہی خالق کردگار کے ساتھ بندہ کی نسبت و مجانست ہے۔“

اس کے بعد مولانا رومی اس دعویٰ کو ایک مثال سے واضح فرماتے ہیں۔ ؎

ہمچو مریم جان ازاں آسیب جیب حاملہ شد از مسیح دل فریب

روح اس تاثر قلب کے بدولت حضرت مریم کی طرح مسیح دل فریب سے حاملہ ہو گئی یعنی جس طرح حضرت مریم علیہ السلام کے گریبان میں روح حق کے نفخ کیے جانے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام متولد ہوئے تھے اسی طرح جب حق تعالیٰ کی تجلی قلب پر لمعہ افگن ہوتی ہے تو اس سے دل منور ہو جاتا ہے۔ مسیح کو دل فریب اس بنا پر فرمایا کہ لوگ ان کے بے پدر ولادت اور تکلم فی المہد اور دوسرے اعجوبہ روزگار امور پر محو حیرت تھے۔ اب مولانا رومیؒ اس عیسیٰ کی تعیین فرماتے ہیں۔ ؎

آں مسیحے نے کہ برخشک و تر است آں مسیحے کز مساحت برتر است

اس سے میری مراد وہ مسیح علیہ السلام نہیں جو متولد ہو کر دنیا کے بحر و بر پر سکونت فرما چکے ہیں بلکہ یہ وہ مسیح ہے جو کم و کیف سے بالاتر ہے۔ یعنی جن مسیح علیہ السلام سے حضرت مریم علیہا السلام حاملہ ہوئی تھیں وہ تو ایک انسان تھے لیکن عارف الٰہی کا دل جو بار

صفحہ 391

امانت خداوندی کا حامل ہے وہ نہ تو مادی ہے اور نہ اس کا تعلق مقدار اور مساحت سے ہے بلکہ مجرد محض اور تجلی حق ہے۔ پھر فرماتے ہیں۔ ؎

پس ز جان جاں چو حامل گشت جاں از چنیں جانے شود حامل جہاں

جب روح اس جان جاں یعنی مطلوب حقیقی کی حامل ہوگئی تو وہ عظمت و برتری کے اس درجہ علیاء پر فائز ہوئی کہ جس سے سارا جہان معمور ہوگیا یعنی چونکہ انسان کامل تجلیات الہیہ کا مظہر ہے‘ تمام دنیا اس سے اقتباس انوار کرتی اور فیض یاب ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں۔ ؎

پس جہاں زاید جہانے دیگرے ایں حشر او را نماید محشرے

یہ جہان اپنی تعلیم و تربیت کے بدولت ایک نئی دنیا پیدا کر دیتا ہے۔ یہ جماعت اس کو اپنے فیوض اور تاثرات سے نمونہ قیامت بنا دیتی ہے یعنی اہل اللہ کی ایک جماعت دوسری جماعت سے مستفید ہوتی ہے۔ پہلی مقدس جماعت دوسری کو اپنے روحانی کمالات سے اس شدت و کثرت کے ساتھ منور فرماتی ہے کہ ان کے باطنی تصرفات سے اخلاقی و روحانی دنیا میں اصلاح و تادیب کا ایک حشر برپا ہو جاتا ہے۔ ؎

تا قیامت گر بگویم بشمرم من ز شرح ایں قیامت قاصرم

اگر میں قیامت تک بھی بیان کرتا اور شمار میں لاتا رہوں تو اس محشر تصرفات کی تفصیل سے ہرگز عہدہ برآ نہ ہو سکوں گا یعنی جس طرح اہل اللہ کے کمالات غیر محدودہ ہیں‘ اسی طرح ان کے فیوض و برکات بھی بے پایاں ہیں۔ یہ نفوس قدسیہ بندگان خدا کو کس طرح‘ کس قدر اور کب تک فیض پہنچاتے ہیں؟ اس کی شرح و تفصیل قیامت تک بھی ممکن نہیں۔

ظاہر ہے کہ مثنوی شریف کے یہ اشعار اس قسم کے معنی و مفہوم سے بالکل عاری ہیں کہ کسی مرد میں زنانہ صفات پیدا ہوتے ہیں اور وہ مریم بن کر حاملہ ہوتا ہے اور اس حمل سے بچہ پیدا ہو کر عیسیٰ بن جاتا ہے۔ سوال تو یہ تھا کہ احادیث نبویہ میں جس مسیح کے آنے کی بشارت دی گئی ہے وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں۔ الہامی صاحب نے محض سخن طرازی و زبان درازی کے زور سے عیسیٰ ابن مریم بن جانا چاہا۔ لیکن یاد رہے کہ صرف باتوں کے بل بوتے پر قلب ماہیت نہیں ہوسکتا۔ کبھی نہ دیکھا یا سنا گیا ہوگا کہ گدھا

صفحہ 392

انسان یا انسان پرند یا لیکھرام، غلام احمد بن گیا ہو۔ ایسی باتیں فاتر العقل مرزائیوں کو تو مطمئن کر سکتی ہیں لیکن دنیا کا کوئی ذی فہم اور صحیح الدماغ انسان ان خرافات کو ایک منٹ کے لیے بھی سننا گوارا نہ کرے گا۔

اہل اللہ پر حقیقت عیسویٰ کا فیضان

ہاں باخدا لوگوں پر حقیقت عیسویٰ کا فیضان ہوا کرتا ہے۔ مولوی محبوب عالم گجراتی صحیفہ محبوب میں لکھتے ہیں کہ ایک روز خواجہ توکل شاہ انبالوی حقیقت عیسویٰ کا فیضان اخذ کر رہے تھے۔ اس حالت میں ایک شخص نے آ کر کوئی بات دریافت کی تو اس سے فرمایا کہ درود پڑھا کرو۔ اس نے درود پڑھا تو اس پر جذبہ و استغراق کی ایک کیفیت طاری ہو گئی۔ اس کے بعد تین دن تک اس کی یہ حالت رہی کہ جس مریض پر بھی پھونک دیتا وہ معاً مرض سے شفا پاتا۔ اور اسے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کی زیارت ہوتی۔ چونکہ جناب مسیح کا یہ معجزہ تھا اور ان کے نور کی یہ تاثیر تھی اس لیے وہی تاثیر اس سے بھی صادر ہوتی رہی۔ تین دن کے بعد یہ حالت جاتی رہی۔ مولوی محبوب عالم لکھتے ہیں کہ میں نے دریافت کیا کہ اس تاثیر کی کیا وجہ تھی، تو فرمایا کہ جس وقت وہ شخص میرے پاس آیا تھا اس وقت میں حقیقت عیسویٰ کا فیضان لے رہا تھا۔ ایسی حالت میں اس پر بھی وہی فیضان وارد ہو گیا۔ فیضان جاتا رہا تو وہ کیفیت بھی مفقود ہو گئی۔ (صحیفہ محبوب، مطبوعہ شمسی پریس دہلی، صفحہ ۲۷۳)

توکل شاہ سے درخواست دعا

مولوی محبوب عالم صحیفہ محبوب میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواجہ توکل شاہ انبالوی سے عرض کیا کہ میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کو برا جانتا ہوں، آپ کے نزدیک وہ شخص کیسا ہے؟ ان دنوں مرزا صاحب کا دعویٰ مجددیت و مہدویت سے متجاوز نہ ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ”ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ گویا کوتوال کی حیثیت سے شہر لاہور کا گشت کر رہا ہوں۔ ایک مقام پر غلام احمد کو دیکھا کہ کانٹوں اور گندگی میں پڑا ہے۔ میں

صفحہ 393

نے اس کے ہاتھ کو جنبش دی اور ڈانٹ کر کہا، تیرے پاس مجددیت اور مہدویت کا کیا ثبوت ہے؟ وہ سخت اداس اور غم زدہ دکھائی دیتا تھا۔ میرے سوال کا کچھ جواب نہ دے سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کوئی عمل کیا تھا مگر پھر کسی بد پرہیزی کے باعث اس عمل سے گر گیا۔ مولوی محبوب عالم لکھتے ہیں کہ یہ تو میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اس کے اکثر خط خواجہ توکل شاہ کی خدمت میں آیا کرتے تھے، جن کا یہ مضمون ہوتا تھا کہ ”حضور میرے حق میں دعا فرمائیں۔“ خط کے سنتے ہی خواجہ صاحب کے چہرہ پر غصہ کے مارے شکن پڑ جاتے تھے مگر ضبط کر کے خاموش ہو جاتے تھے۔ (ایضاً صفحہ ۲۱۸)۔

باب ۸

عقیدۂ حیات مسیح کو شرک قرار دینے کی جسارت

اسلامی عقائد کا مرزائی رد و قبول مصالح وقت اور ہنگامی ضروریات کی بنیادوں پر قائم تھا اور رئیس قادیاں کے مختلف دعووں کی تدریجی رفتار بھی انہی دواعی و مقتضیات سے وابستہ تھی۔

براہین میں مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کا اقرار

”براہین احمدیہ“ کی تالیف و اشاعت کے وقت خود مسیح موعود بن جانے کا ہنوز کوئی خیال نہ تھا اس لیے مجدد قادیاں نے ”براہین“ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور آمد ثانی کا اقرار کیا۔ اور لکھا کہ آیت ھو الذی ارسل رسولہ بالھدے جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے، وہ مسیح کے ذریعے ظہور میں آئے گا۔ مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کے ہاتھ سے اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔ (براہین احمدیہ، صفحہ ۴۹۸، ملخص) اور اسی ”براہین“ میں آگے چل کر صفحہ ۵۰۵ کے حاشیہ پر اس عقیدہ کی مزید وضاحت ان الفاظ میں کی ”وہ زمانہ بھی آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ مجرموں کے لیے

صفحہ 394

شدت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے"۔ لیکن جب خود مسیح بننے کا قصد کیا تو پہلے حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کیا۔ چنانچہ کتاب ازالہ اوہام (طبع پنجم، صفحہ ۱۲) میں لکھا کہ "قرآن شریف قطعی طور پر اپنی آیات بینات میں مسیح کے فوت ہو جانے کا قائل اور ہمیشہ کے لیے اس کو رخصت کرتا ہے"۔ اور "ایام الصلح" (اردو، صفحہ ۱۴۶) میں لکھا کہ "قرآن شریف میں مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں"۔ ظاہر ہے کہ مرزا صاحب نے "براہین احمدیہ" میں تو مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کو ازروئے قرآن ضروری قرار دیا لیکن جب کچھ زمانہ کے بعد سرسید کی تعلیمات سے بہرہ مند ہوئے اور دل میں خود مسیح بننے کا سر چشمہ موجیں مارنے لگا تو قرآن ہی کے رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے سے انکار کیا۔ اس سے نہ صرف الہامی صاحب کی اختلاف بیانی ثابت ہوئی بلکہ ان کی قرآن دانی کی بھی اچھی طرح قلعی کھل گئی۔ اور اختلاف بیانی کے متعلق خود ان کا فتویٰ موجود ہے کہ جھوٹے کے کلام میں تناقض ضرور پیدا ہوتا ہے۔ (براہین، حصہ پنجم، صفحہ ۱۵۱) اور لکھتے ہیں کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔ (ست بچن، مولفہ قادیانی صاحب، صفحہ ۳۱)۔

مرزائی بیان کہ پہلے محض رسمی عقیدہ کی بنا پر

عقیدۂ حیات مسیح کو تسلیم کیا تھا

اس اعتراض کے جواب میں مرزائی کہتے ہیں کہ "مرزا صاحب نے براہین میں محض رسمی عقیدہ کی بنا پر حیات مسیح کا خیال ظاہر کیا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد وحی الٰہی کی بنا پر اس عقیدہ سے دست بردار ہو گئے اور قبل از علم انبیاء سے عقیدہ کی غلطی ممکن ہے جس طرح سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم قریباً ڈیڑھ سال تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے تھے"۔ لیکن یہ خیال مرزائیوں کی بد اندیشی ہے کیونکہ بیت المقدس انبیاء علیہ السلام کا قبلہ ہے اور قرآن پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے فبہداہم اقتدہ یعنی اے نبی آپ ہدایت میں انبیاء علیہ السلام کا اقتداء کیجئے۔ پس سید عالم

صفحہ 395

صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت المقدس کو قبلہ بنانا انبیاء کا اقتداء تھا جو عمل صالح اور موجب ایمان تھا۔ ہاں کعبہ معلیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قبلہ تھا اور آپ کی خواہش تھی کہ ہم کعبتہ اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔ سو حق تعالیٰ نے ازراہ شفقت آپ کی اس خواہش کو پورا کر دیا اور کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم نازل فرمایا۔ ارشاد خداوندی ہے۔

قد نری تقلب وجہک فی السماء فلنولینک قبلہ ترضاها فول وجہک شطر المسجد الحرام۔ (۱۴۴:۲)

ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتا دیکھ رہے ہیں اس لیے ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف متوجہ کیے دیتے ہیں جس کے آپ آرزو مند ہیں۔ لیجئے اپنا رخ (نماز میں) مسجد حرام (کعبہ) کی طرف کیا کیجئے۔

پس یہ کہنا کہ حضرت فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم غلطی سے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے‘ انتہا درجہ کی شقاوت اور بے دینی ہے۔

براہین بقول خود ملہم و مامور ہو کر لکھی تھی

اور یہ خیال کرنا بھی سخت حماقت ہے کہ براہین احمدیہ میں مرزا صاحب نے محض رسمی عقیدہ کی بناء پر حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ ظاہر کیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے بقول خود براہین ملہم و مامور ہو کر لکھی تھی اور اسے (معاذ اللہ) کلام الٰہی قرار دیتے تھے اور جس وقت انہوں نے یہ کتاب لکھی تھی اس وقت بھی وہ بزعم خود مرسل یزدانی تھے۔ چنانچہ ان کے بیانات ملاحظہ ہوں۔ سرمہ چشم آریہ (صفحہ ۲۰۲) میں لکھا کہ کتاب ”براہین احمدیہ جس کو مولف (مرزا غلام احمد) نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملہم و مامور ہو کر لکھا ہے“ اور دافع البلا (صفحہ ۹) میں لکھا کہ ”براہین احمدیہ“ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”میں آخری دنوں میں طاعون بھیجوں گا“ اور ”ازالہ اوہام“ کے صفحہ ۱۳۲ پر لکھا کہ ”خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی“ اور رسالہ ”ایک غلطی کا ازالہ“ میں لکھا کہ ”براہین احمدیہ“ میں بھی یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں۔ چنانچہ براہین کے صفحہ ۴۹۸ میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کہہ کر پکارا گیا۔ پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی

صفحہ 396

یہ وحی ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ اسی طرح ”براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا“ اور حقیقۃ الوحی میں لکھا کہ میری کتاب ”براہین احمدیہ صرف چند سال بعد میرے مامور اور مبعوث ہونے کے چھپ کر شائع ہوئی ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا، پھر سات سال بعد کتاب براہین احمدیہ، جس میں میرا دعویٰ مسطور ہے، تالیف ہو کر شائع کی گئی۔ (حقیقۃ الوحی، ۱۹۹- ۲۰۰)“۔

پس ظاہر ہے کہ جو شخص بزعم خود رسول ہو اور اس نے کوئی کتاب ملہم و مامور ہو کر لکھی ہو اور سات سال سے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف ہو رہا ہو وہ کبھی غلط رسمی عقیدہ کا پابند نہیں ہو سکتا۔ اور براہین احمدیہ تو وہ کتاب ہے جو حسب زعم قادیانی صاحب جناب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں بھی پیش ہو کر مقبول ہو چکی ہے۔ چنانچہ الہامی صاحب براہین کے صفحات ۲۴۸- ۲۴۹ کے حاشیہ پر لکھتے ہیں ”منجملہ ان کے ایک وہ خواب ہے جس میں اس عاجز کو جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی تھی۔ اس وقت اس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تم نے اس کتاب کا نام کیا رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا قطبی رکھا ہے۔ جس نام کی تعبیر اب اشتہاری کتاب (براہین احمدیہ) کی تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔ جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے“۔ الغرض ان مرزائی بیانات سے ظاہر ہے کہ براہین میں کسی ایسے غلط عقیدے کا اندراج ناممکن تھا جو محض عوام کی تقلید میں قادیانی صاحب کے دل و دماغ میں جاگزین ہو گیا تھا۔ بلکہ جو کچھ لکھا حسب بیان خود خدا کی طرف سے ملہم و مامور ہو کر پوری بصیرت کے ساتھ لکھا۔

کیا عقیدۂ حیات مسیح مشرکانہ عقیدہ ہے

قادیاں کے الہامی صاحب نے ازالہ اوہام (طبع پنجم، ص ۲۳۰) میں لکھا کہ ”حال کے

صفحہ 397

نیچری‘ جن کے دلوں میں کچھ بھی عظمت قال اللہ اور قال الرسول کی باقی نہیں رہی‘ یہ بے اصل خیال پیش کرتے ہیں کہ جو مسیح ابن مریم کے آنے کی خبریں صحاح میں موجود ہیں یہ تمام خبریں ہی غلط ہیں۔ شاید ان کا ایسی باتوں سے مطلب یہ ہے کہ تا اس عاجز کے اس دعوے کی تحقیر کر کے کسی طرح اس کو باطل ٹھہرایا جائے لیکن وہ اس قدر متواترات سے انکار کر کے اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ تواتر ایک ایسی چیز ہے کہ اگر غیر قوموں کی تاریخ کے رو سے بھی پایا جائے تو تب بھی ہمیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے جیسا کہ ہندوؤں کے بزرگوں‘ رام چندر اور کرشن وغیرہ کا وجود تواتر کے ذریعہ سے ہی ہم نے قبول کیا ہے۔ گو تحقیق و تفتیش میں ہندو لوگ بہت کچے ہیں مگر باوجود اس قدر تواتر کے‘ جو ان کی مسلسل تحریروں سے پایا جاتا ہے‘ ہرگز یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ راجہ رام چندر اور راجہ کرشن فرضی نام ہیں“۔ اس کے بعد الہامی صاحب ازالہ کے اگلے صفحہ پر لکھتے ہیں: ”یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار سمجھ لیں اور ایسی متواتر پیش گوئیوں کو‘ جو خیر القرون میں ہی تمام ممالک اسلامیہ میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھیں‘ بمد موضوعات داخل کر دیں۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ مسیح ابن مریم کے آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے باتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں‘ کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔ انجیل بھی اس کی مصدق ہے۔ اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام موضوع ہیں‘ در حقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدائے تعالیٰ نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بہرہ اور حصہ نہیں دیا اور بباعث اس کے کہ ان لوگوں کے دلوں میں قال اللہ و قال الرسول کی عظمت باقی نہیں‘ اس لیے جو بات ان کی اپنی سمجھ سے بالاتر ہو اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر دیتے ہیں“۔

(ازالہ‘ ص ۲۳۱)

قادیانی صاحب کی ان تحریروں سے ثابت ہوا کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام کے نزول کی پیشین گوئی ایسی متواتر پیشین گوئی ہے جو خیرالقرون میں تمام اسلامی ممالک میں شائع و مشتہر تھی اور مسلمات اسلامیہ میں داخل تھی۔ یہ پیش گوئی صحاح کی تمام دوسری پیشین گوئیوں سے فائق و برتر ہے اور اس کو تواتر کا اول درجہ حاصل ہے اور بائبل بھی اس کی

صفحہ 398

مصدق ہے۔ لیکن بوالعجبی دیکھو کہ جب الہامی صاحب نے خود مسیح بننے کا قصد کیا تو حضور مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کی صحت سے، جس کو بقول قادیانی تواتر کا درجہ حاصل ہے، انکار کر دیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کے انتقال فرما جانے کی رٹ لگانی شروع کر دی اور اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ جلال خداوندی سے بے خوف ہو کر کمال دیدہ دلیری سے اس مسلمہ اسلامی عقیدہ کو کفر و شرک قرار دیا۔ چنانچہ الاستفتاء (ضمیمہ حقیقۃ الوحی) کے صفحہ ۳۹ پر لکھا کہ ”یہ کتنی بڑی بے ادبی اور گستاخی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے، یہ ایک شرک عظیم ہے جو نیکیوں کو کھا جاتا ہے“۔ اور ”دافع البلا“ صفحہ ۱۵ پر لکھا کہ ”ہم نے سنا ہے کہ وہ مولانا احمد حسن امروہی بھی دوسرے مولویوں کی طرح اپنے مشرکانہ عقیدہ کی حمایت میں ہیں کہ تا کسی طرح حضرت مسیح ابن مریم کو موت سے بچا لیں“۔

کسی نبی نے کبھی شرک نہ کیا

اور لطف یہ کہ الہامی صاحب ۱۸۹۱ء سے پہلے تک جبکہ انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور جبکہ ان کی عمر باون (۵۲) سال کی تھی، خود بھی اسی عقیدۂ شرکیہ میں مبتلا تھے۔ حالانکہ کوئی نبی نہ قبل از دعوائے نبوت شرک میں ملوث ہوا اور نہ منصب نبوت پر فائز ہونے کے بعد۔ چنانچہ خود قادیانی صاحب لکھتے ہیں ”یہ کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ انبیاء کے آنے کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کے احکام پر چلاویں۔ اس لیے اگر وہ خود ہی احکام کی خلاف ورزی کریں تو وہ نبی نہ رہے“۔ (ریویو، جلد اول، صفحہ ۷۱) اور خلیفۃ المسیح مرزا محمود احمد صاحب نے ۱۶؍ اپریل ۱۹۳۳ء کے خطبہ جمعہ میں بیان کیا کہ ابراہیم کو بچپن سے ہی شرک کے خلاف جذبہ عطا کیا گیا تھا۔ پیشتر اس کے کہ آپ نبی ہوتے اور پیشتر اس کے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پاتے، آپ کا نفس ہی ان باتوں سے متنفر تھا اور دراصل ہر نبی خدا تعالیٰ کی اسی قسم کی برکت پایا کرتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے ہر قسم کی مشرکانہ باتوں سے محفوظ اور اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں تھے۔ (الفضل، ۱۶؍ اپریل ۳۳ء)۔ بہرحال چونکہ الہامی صاحب حسب بیان خود باون سال کی عمر تک مشرک رہے اور کوئی سچا نبی شرک میں مبتلا نہیں ہو سکتا، اس لیے

صفحہ 399

مرزا صاحب کاذب نبی تھے۔

اس کے جواب میں مرزائی لوگ اپنے مسیح اور خلیفۃ المسیح کے بیانات کو پس پشت ڈال کر کہا کرتے ہیں کہ انبیاء قبل از بعثت شرک کا ارتکاب کرتے ہیں چنانچہ حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ حق تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا شرک ہے مگر کسی دوسرے وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے باپ کی قسم کھائی جیسا کہ صحیح مسلم، صفحہ ۲۴ پر ہے۔ قد افلح و ابیہ ان صدق (اس کے باپ کی قسم کہ اگر اس نے سچ کہا ہے تو نجات پا گیا ہے) مگر مرزائیوں کو یاد رہے کہ اس حدیث میں لفظ ”رب“ محذوف ہے۔ یعنی حقیقت میں یوں ہے: قد افلح و رب ابیہ (اس کے باپ کے رب کی قسم کہ یہ نجات پا گیا)۔ اس قسم کے محذوف کلام عرب میں بکثرت پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ سورۂ یوسف میں ہے: واسئل القریۃ (گاؤں سے پوچھ لے) حالانکہ قریہ کوئی قابل استفسار ہستی نہیں۔ پس اس آیت میں ایک لفظ ”اہل“ محذوف ہے۔ چنانچہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ بستی والوں سے پوچھ لے۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعاً ”غیر اللہ“ کی قسم نہیں کھائی۔

اسلام پر قادیانی کا شرم ناک حملہ

غرض الہامی صاحب کا یہ کہنا کہ عقیدۂ حیات مسیح علیہ السلام شرک ہے، اسلام پر انتہائی درجہ کا شرم ناک حملہ ہے۔ اگر یہ بیان صحیح ہو تو اسلام میں ذرہ بھر بھی صداقت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ جب (معاذ اللہ) یہ ثابت ہو گیا کہ اسلام میں ایسے عقائد شرکیہ و کفریہ بھی موجود ہیں جو تواتر سے ثابت ہیں اور جو خیر القرون میں تمام ممالک اسلامیہ کے اندر اسلامی مسلمات میں داخل تھے، ہر طبقہ کے مسلمانوں نے ان کو قبول کیا اور کسی خورد و کلاں کو ان مشرکانہ عقائد کی اطلاع نہ ہوئی اور ساری امت تیرہ سو سال تک مشرک چلی آئی۔ بے شمار مجددین دین آئے لیکن کسی کو احساس نہ ہوسکا کہ عقیدۂ حیات مسیح شرک ہے تو ایسے دین کا (معاذ اللہ) کیا اعتبار ہے۔ کاش قادیاں کی حق فراموش جماعت ان نتائج و عواقب پر غور کرے۔

باب ۹

صفحہ 400

حکیم نور الدین سے مولانا بٹالوی کا پہلا مناظرہ

منشی عبدالحق اکاؤنٹنٹ لاہور، منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ لاہور اور حافظ محمد یوسف ضلع دار محکمہ نہر تینوں اہل حدیث تھے۔ جو کچھ دنوں سے مرزائی ہو گئے تھے۔ چونکہ یہ تینوں حضرات نہایت مستعد و سرگرم قومی کارکن تھے اور لاہور کی اسلامی تحریکوں میں سب سے پیش پیش رہتے تھے، اس لیے مولوی محمد حسین بٹالوی کو، جو ان دنوں لاہور میں ہی قیام فرما تھے، ان کے مرزائی ہو جانے کا بڑا قلق تھا۔ مولوی صاحب نے ان کو راہ راست پر لانے کی بہتیری کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ جس طرح مولوی صاحب کی ہر وقت یہ خواہش تھی کہ کسی طرح یہ لوگ مرزائیت سے منقطع ہوں اسی طرح ان کی بھی یہ آرزو تھی کہ کسی موقع پر مولوی صاحب کو حکیم نورالدین سے ذلیل کرائیں اور ان پر ثابت کریں کہ مرزا صاحب کے پیرو ہی حق پرست ہیں۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۲، صفحہ ۹۸)۔ اسی خیال کے پیش نظر ایک مرتبہ حافظ محمد یوسف ضلع دار، منشی عبدالحق اکاؤنٹنٹ کو ساتھ لے کر جموں پہنچے اور اپنے حکیم الامت سے درخواست کی کہ مولوی محمد حسین سے مناظرہ کریں۔ لیکن حکیم صاحب نے انہیں بلطائف الحیل ٹال دیا اور یہ لوگ نامراد واپس آئے۔

حکیم نور الدین کا ورود لاہور اور مولانا بٹالوی سے مسئلہ حیات مسیح پر

گفتگو

کچھ دنوں کے بعد حکیم نور الدین مہاراجہ جموں کے ساتھ لاہور آئے۔ اس وقت حافظ محمد یوسف لاہور سے باہر گئے ہوئے تھے۔ مولوی محمد حسین دوسرے لوگوں کے توسط سے طالب مباحثہ ہوئے۔ مگر حکیم صاحب کچھ جواب دیے بغیر اپنے مسیحا کے پاس لدھیانہ چلے گئے۔ ۱۲؍ اپریل ۱۸۹۱ء کو مولوی فضل الدین گجراتی نے لدھیانہ سے آکر مولوی محمد حسین کو بتایا کہ مرزا غلام احمد آپ سے مقابلہ کی زبردست تیاریاں کر رہے ہیں۔ دوسرے دن حافظ محمد یوسف بھی لاہور پہنچ گئے۔ اور حکیم نور الدین بھی لدھیانہ سے لاہور آ کر منشی امیر الدین مرزائی کے مکان پر فروکش ہوئے۔ رات کے دس بجے حافظ محمد یوسف نے مولوی محمد

صفحہ 401

حسین صاحب کو پیغام بھیجا کہ حکیم صاحب لدھیانہ سے واپس آگئے ہیں۔ آپ صبح کو منشی امیر الدین کے مکان پر ان سے گفتگو کر لیں۔ مولوی صاحب علی الصبح وہاں پہنچے۔ بعض مقتدر علماء پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ مولوی صاحب نے دیکھا کہ مجمع کثیر ہے۔ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر حضرات یہ تھے۔ مفتی محمد عبداللہ پروفیسر اورینٹل کالج لاہور، مولوی عبدالرحمٰن خلف مولوی محمد بن بارک اللہ متوطن لکھو کے ضلع فیروز پور، سید فقیر جمال الدین آنریری اسسٹنٹ کمشنر لاہور، شیخ خدا بخش جج عدالت خفیفہ لاہور، مولوی عبدالعزیز رکن انجمن حمایت اسلام لاہور۔ مولوی محمد حسین نے کہا، بہتر ہے کہ اصل گفتگو سے پہلے بنیادی اصول طے ہو جائیں تاکہ اثناء بحث میں دلائل کے رد و قبول میں اختلاف نہ ہو۔ حکیم نور الدین نے اس کو قبول کیا۔ مبادیات کے بعد اصل گفتگو کا آغاز یوں ہوا۔

مولوی محمد حسین: لفظ عیسیٰ بن مریم اور دجال کا مفہوم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ اور تابعینؒ کے زمانوں میں کیا سمجھا گیا؟

حکیم نور الدین: مجھے تمام لوگوں کے کل اقوال کی اطلاع نہیں۔

مولوی صاحب: نہ میں نے تمام حضرات کے اقوال پوچھے ہیں اور نہ کل اقوال۔ جن لوگوں کے اقوال پر آپ مطلع ہیں ان کا کیا خیال تھا۔

حکیم صاحب: قرآن میں ابن مریم سے عیسیٰ نبی اللہ اسرائیلی مراد ہے اور دجال کے متعلق مختلف خیال ہیں۔ حضرت عمرؓ ابن صیاد کو دجال سمجھتے اور اس پر قسم کھاتے تھے۔

مولوی صاحب: احادیث نبویہ میں جو ابن مریم کا لفظ وارد ہے اس کے معنی صحابہ و تابعین اور علمائے مابعد نے جہاں تک آپ کو علم ہے کیا سمجھے؟ دجال کے متعلق آپ نے ایک شق تو بیان کی ہے، دوسری ظاہر نہیں کی۔ سوال یہ ہے کہ صحابہ و تابعین نے ابن صیاد کے سوا کسی دوسرے کو بھی دجال سمجھا

صفحہ 402

ہے یا نہیں؟

حکیم صاحب: مجھے یاد نہیں کہ ابن صیاد کے سوا کسی دوسرے کو بھی دجال کہا گیا ہو۔

مولوی صاحب: عہد نبوی میں ابن مریم کا لفظ قرآن میں اور شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کلام مبارک میں اور صحابہؓ کی گفتگو میں جب کبھی بولا جاتا تھا کیا وہی اسرائیلی عیسیٰ بن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام مراد ہوتے تھے یا کوئی اور معنی بھی کسی کے خیال میں آتے تھے؟

حکیم صاحب: قرآن میں جہاں کہیں عیسیٰ بن مریم کا لفظ آیا ہے وہاں وہی اسرائیلی ابن مریم سمجھے جاتے تھے لیکن احادیث میں جو ابن مریم کا لفظ وارد ہوا ہے، میں نے صحابہؓ کی جانب سے اس کی تصریح نہیں دیکھی کہ وہ اس سے مثیل ابن مریم مراد لیتے تھے یا واقعی اسرائیلی نبی عیسیٰ بن مریم سمجھتے تھے۔

مولوی صاحب: آپ پہلے تسلیم کر چکے ہیں کہ جو معنی ظاہری الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں وہی قرآن و حدیث میں مراد ہیں۔

حکیم نور الدین کی شاندار پسپائی

جب گفتگو یہاں تک پہنچی تو معا حکیم صاحب نے بھانپ لیا کہ مولوی صاحب نے ان کے نکلنے کا رستہ بند کر دیا اور وہ انہیں چاروں شانے چت گرا کر ان کی چھاتی پر سوار ہونے والے ہیں تو جھٹ کوئی حیلہ بہانا تراش کر جلدی سے باہر چل دیے۔ تھوڑی دیر تک حکیم صاحب کا انتظار کیا مگر وہ نہ آئے۔ آخر انتظار شدید کے بعد مولوی محمد حسین اور مفتی عبداللہ کے سوا تمام لوگ چلے گئے۔ جب حکیم صاحب کو گئے کامل ایک گھنٹہ گزر گیا تو مولوی محمد حسین نے حافظ محمد یوسف سے فرمایا: بہت دیر ہو گئی، ہم بھی جاتے ہیں۔ اگر حکیم صاحب دوبارہ تشریف لائیں اور مباحثہ کرنے پر رضامند ہوں تو ہمیں اس کی اطلاع کر دینا۔ حکیم صاحب چار بجے تک لاہور میں تھے۔ بعض حضرات نے حکیم صاحب کی خدمت میں

صفحہ 403

حاضر ہو کر بہتیری ترغیب دی لیکن حکیم صاحب مزید گفتگو پر کسی طرح راضی نہ ہوئے اور مرزا صاحب کے پاس لدھیانہ چلے گئے۔ ۱۵؍ اپریل ۱۸۹۱ء کو مولوی صاحب نے مرزا صاحب کو تار دیا کہ آپ کے حواری حکیم نورالدین صاحب نے مباحثہ شروع کیا اور بھاگ گئے۔ یا تو ان کو واپس بھیجیے یا خود مناظرہ کے لیے آئیے۔ ورنہ سمجھا جائے گا کہ آپ نے شکست کھائی۔ (اشاعۃ السنۃ، جلد ۱۳، صفحہ ۴۶-۴۷)

حکیم نور الدین کے فرار کے متعلق اڈیٹر ”الحکم“ کا سفید جھوٹ

منشی یعقوب علی اڈیٹر ”الحکم“ مولف مکتوبات احمدیہ نے حکیم نور الدین کے فرار پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا:

”مرزا امان اللہ صاحب، منشی امیر الدین صاحب، منشی عبدالحق صاحب، بابو الٰہی بخش صاحب، حافظ محمد یوسف صاحب، منشی محمد یعقوب صاحب وغیرہم کا مجمع احباب تھا۔ یہ پہلے سب کے سب اہل حدیث تھے اور حضرت مسیح موعود کے ساتھ انہیں قبل از دعویٰ مسیحیت بہت ارادت تھی۔ آپ کی خدمات دین کے بدل معترف اور مالی نصرت اور اشاعت میں حصہ لیتے تھے۔ دعویٰ مسیحیت پر بھی ان کے حسن ظن میں فرق نہیں آیا۔ لاہور میں مخالفت کا زور تھا اور مولوی محمد حسین صاحب کو اپنی اس بااثر جماعت کے ہاتھ سے جاتے رہنے کا صدمہ تھا، اس لیے ان لوگوں نے چاہا تھا کہ مولوی محمد حسین سے حضرت حکیم الامتہ (حکیم نور الدین) کی گفتگو ہو جائے۔ اس جلسہ احباب میں شمولیت کے لیے حضرت حکیم الامتہ نے حضرت مسیح موعود کو، جو لدھیانہ میں مقیم تھے، لکھا تھا۔ مولوی صاحب لاہور میں گفتگو کر کے لدھیانہ چلے گئے تھے اور ان احباب کی اجازت سے گئے تھے مگر مولوی محمد حسین نے فرار کا تار دے دیا۔ غرض یہ بہت بڑے معرکہ کا مجمع تھا۔“ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۲، صفحہ ۹۸)

باب ۱۰

صفحہ 404

مولانا بٹالوی کے مقابلہ سے ملہم قادیانی کا فرار

مولوی محمد حسین کے تار کے جواب میں قادیانی صاحب نے ۱۶؍ اپریل ۱۸۹۱ء کو اپنے ایک خاص قاصد کے ہاتھ مولوی صاحب کے نام ایک مکتوب روانہ کیا جس میں بہت سے طول لاطائل کے بعد لکھا تھا کہ اگر آپ کی یہی خواہش ہے کہ ضرور بحث ہونی چاہیے تو یہ عاجز بسر و چشم حاضر ہے۔ مگر تقریری بحثوں میں صدہا طرح کا فتنہ ہوتا ہے، صرف تحریری بحث ہونی چاہیے اور وہ یوں ہو کہ مساوی طور پر چار ورق کاغذ پر آپ جو چاہیں لکھ کر پیش کریں اور لوگوں کو با آواز بلند سنا دیں۔ اور ایک نقل اس کی اپنے دستخط سے مجھے دے دیں۔ پھر بعد اس کے میں بھی چار ورق پر اُس کا جواب لکھوں اور لوگوں کو سنا دوں۔ ان دونوں پرچوں پر بحث ختم ہو جائے۔ اور فریقین میں سے کوئی شخص ایک کلمہ بھی تقریری طور پر اس بحث کے بارہ میں نہ کرے جو کچھ تحریر میں ہو اور پرچے صرف دو ہوں۔ انہی دونوں پرچوں پر بحث ختم ہو جائے۔ اگر آپ کو ایسا منظور ہو تو میں لاہور آ سکتا ہوں۔ اور ان شاء اللہ تعالیٰ امن قائم رکھنے کے لیے انتظام کرا دوں گا۔ اگر آپ نہ مانیں تو آپ کی طرف سے گریز متصور ہوگی۔ مکرر یہ کہ پرچے صرف دو ہوں گے۔ اول آپ کی طرف سے میرے ان دونوں بیانات کا رد ہوگا جو میں نے لکھا ہے کہ میں مثیل مسیح ہوں اور نیز یہ کہ حضرت مسیح ابن مریم درحقیقت وفات پا گئے ہیں۔ اور پھر اس رد کے لیے میری طرف سے تردید ہوگی۔ اور بغیر اس طریق کے جس کے انصاف کی بناء اور نیز امن رہنے کے لیے احسن انتظام ہے اور کوئی طریق اس عاجز کو منظور نہیں۔ اگر یہ طریق منظور نہ ہو تو پھر ہماری طرف سے یہ آخری تحریر تصور فرمائیں اور خود بھی خط لکھنے کی تکلیف روا نہ رکھیں اور بحالت انکار ہرگز کوئی تحریر یا کوئی خط میری طرف نہ لکھیں۔ اگر پوری اور کامل طور پر بلا کم و بیش میری ہی رائے منظور ہو تو صرف اس حالت میں جواب تحریر فرمائیں ورنہ نہیں۔ خاکسار غلام احمد بقلم خود۔

مولانا بٹالوی کو جواب الجواب کا موقع نہ دیے جانے کی حیلہ گری

اس کے بعد مرزا صاحب نے اپنے ایک اشتہار مورخہ ۳؍ مئی ۱۸۹۱ء میں (جو تبلیغ

صفحہ 405

رسالت' جلد ۲' صفحہ ۵۸- ۶۱ میں درج ہے۔۔۔ راقم) یہ شرطیں اور بڑھا دیں:

ہوں۔

قادیانی صاحب کی اس تحریر کا ماحصل یہ ہے: ”جب وہ مولوی صاحب کی تحریر کا جواب دے چکیں تو مناظرہ ختم کر دیا جائے اور مولوی صاحب کو جواب الجواب کا حق نہ دیا جائے“۔ ظاہر ہے کہ یہ کس قدر خود غرضانہ تجویز تھی جو قادیانی صاحب نے پیش کی۔ انگریزی عدالتوں میں بھی جا کر دیکھو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پہلے مدعی یا مرافعہ گزار کا وکیل تقریر کرتا ہے، پھر فریق ثانی اس کو جواب دیتا ہے۔ پھر فریق اول کو جواب الجواب کا موقع دیا جاتا ہے۔ جب الہامی صاحب مولوی صاحب کو اس بات کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے کہ ان کے دلائل کی تردید کریں تو پھر یہ مباحثہ ہی بے معنی تھا اور اس پر کوئی مفید نتیجہ مترتب نہیں ہو سکتا تھا۔

باب ۱۱

علماء لدھیانہ کو مناظرہ کا چیلنج

الہامی صاحب نے ۳؍ مئی ۱۸۸۹ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں علماء لدھیانہ کو مناظرہ کا چیلنج تھا۔ اس اشتہار میں لکھا چونکہ اکثر یہ عاجز سنتا ہے کہ لدھیانہ کے بعض مولوی صاحبان، جیسے مولوی عبداللہ صاحب، مولوی محمد صاحب، مولوی عبدالعزیز صاحب، مولوی مشتاق احمد صاحب، مولوی شاہ دین صاحب اس مسئلہ میں اس عاجز سے مخالف ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام فوت ہوگئے ہیں اور آنے والا مسیح جس کی خبر دی گئی ہے درحقیقت مسیح ابن مریم نہیں ہے بلکہ مثالی اور ظلی طور پر مسیح ابن مریم کے رنگ میں ہے اور اس عاجز نے یہ بھی سنا ہے کہ بعض مولوی صاحبان موصوفین اکثر اوقات منبر پر کھڑے ہو کر بلند آواز سے یہ کہتے ہیں کہ مدعی اس مسئلہ کا ہم سے بحث کرے۔ ہم بحث

صفحہ 406

کے لیے تیار ہیں۔ لیکن افسوس کہ تحریری بحث کو، جس میں ہر طرح سے امن ہے، قبول نہیں کرتے۔ ناچار ایک اور طریق سہل و آسان تجویز کر کے اشتہار ہذا شائع کیا جاتا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم وہ طریق لکھیں پہلے اس بات کا ظاہر کرنا ضروری ہے کہ سب سے اول بحث کرنے کا حق مولوی عبدالعزیز صاحب کو ہے کیونکہ وہ شہر کے مفتی اور اکثر لوگوں کے پیشوا اور مقتدا ہیں، جو بار بار جامع مسجد میں بر سر منبر اعلان بھی دے چکے ہیں کہ ہم بحث کو تیار ہیں، کیوں ہم سے بحث نہیں کرتے۔ اور درحقیقت ان سے بحث کرنا نہایت ضروری بھی ہے کیونکہ خاص شہر لدھیانہ کی نظر انہی پر ہے۔ سو یہ عاجز بمقابل ان کے بحث کے لیے بغرض اظہار حق تیار ہے۔ اب ان کے مریدوں اور معاونوں کو بھی مناسب بلکہ عین فرض ہے کہ مولوی صاحب موصوف کو بحث کے لیے آمادہ کریں اور اگر کسی کمزوری کی وجہ سے وہ گریز کریں تو اس گریز سے ان کی اندرونی حالت اور علمی کمالات کا اندازہ اہل بصیرت خود ہی کر لیں گے۔ ہماری طرف سے تو مولوی صاحب موصوف کو بحالت ان کے عاجز رہ جانے کے یہ بھی اجازت ہے کہ اگر آپ بحث کرنے کا حوصلہ نہ دیکھیں تو اپنے برادر حقیقی مولوی محمد صاحب سے بحث کرنے کے لیے منت کریں۔ اور اگر وہ بھی بوجہ اپنے کسی حالت ناچاری کے جس کو وہ خوب سمجھتے ہوں گے جواب دے دیں تو پھر اپنے دوسرے بھائی مولوی عبداللہ صاحب کی خدمت میں التجا لے جائیں۔ اور اگر وہ بھی نہ مانیں تو پھر بحالت لاچاری مولوی مشتاق احمد صاحب مدرس ہائی سکول کی خدمت میں دوڑیں اور اگر وہ بھی صاف جواب دیں اور وقت پر کام نہ آئیں تو یقین ہے کہ درجہ دوم کے مفتی صاحب یعنی مولوی شاہ دین صاحب ایسے اضطراب کی حالت میں ضرور کام آئیں گے اور اگر وہ بھی گریز کر جائیں تو پھر مولوی شاہ دین صاحب اپنے استاد مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی خدمت میں درخواست کریں اور اگر وہ بھی خاموش رہیں تو پھر گروہ اہل حدیث کے چیدہ و برگزیدہ حضرت مولوی محمد حسن صاحب رئیس اعظم لدھیانہ ہیں، ان کی طرف سب کو رجوع کرنا چاہیے۔ ان کو اختیار ہوگا کہ چاہیں تو بذات خود بحث کریں اور چاہیں تو اپنی طرف سے مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کو بحث کے لیے مقرر کر دیں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی، بحوالہ تبلیغ رسالت، جلد ۲، صفحہ ۵۸-۶۱)

صفحہ 407

باب ۱۲

علماء لدھیانہ کا مطالبہ کہ قادیانی ملہم

اپنے اسلام کا ثبوت پیش کرے

اس اعلان کے جواب میں، جو باب سابق میں درج ہوا، علماء لدھیانہ نے ایک اشتہار زیر عنوان الحق یعلو ولا یعلیٰ شائع کیا جس میں حمد و صلوٰۃ کے بعد لکھا:

"مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اس مضمون کے اشتہار شائع کر رہے ہیں کہ عیسیٰ موعود میں ہوں۔ مولوی محمد اور مولوی عبداللہ اور مولوی عبدالعزیز وغیرہ مجھ سے گفتگو کر لیں۔ اس کے جواب میں التماس ہے کہ ہم نے ۱۳۰۱ھ میں فتویٰ دیا تھا کہ مرزا صاحب دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے رسالہ نصرت الابرار اور فیوضات مکی میں بحوالہ فتویٰ حرمین شریفین لکھ چکے ہیں کہ یہ شخص اور اس کے ہم عقیدہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل نہیں اور ہمارا یہ قطعی اور حتمی فیصلہ ہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کے عقائد باطلہ کو حق جانتے ہیں وہ شرعاً "کافر" ہیں۔ پس قادیانی صاحب کو لازم ہے کہ مناظرہ کے لیے کسی رئیس شہر مثلاً شاہزادہ نادر صاحب یا خواجہ احسن شاہ یا کسی اور رئیس کا مکان تجویز کر کے ہمیں یہ تحریری اطلاع دیں کہ فلاں مقام پر آ کر ہم سے مناظرہ کر لیں۔ چونکہ ہمارے نزدیک قادیانی صاحب دائرہ اسلام سے خارج ہیں لہٰذا ان کو سب سے پہلے اپنا اسلام ثابت کرنا پڑے گا۔ اور اگر انہوں نے اپنا مسلمان ہونا ثابت کر دکھایا تو پھر ان کے عیسیٰ موعود ہونے پر گفتگو ہوگی۔ اگر مرزا صاحب بوجہ علمی بے بضاعتی کے تنہا مناظرہ نہ کر سکیں تو اپنے متبعین کو ساتھ لے کر میدان مناظرہ میں آئیں۔ اور اگر مریدوں کی نصرت و یاری کافی نہ ہو تو پھر ان اہل علم حضرات کو ساتھ لے کر میدان مباحثہ میں تشریف لائیں جو ان کو دائرہ اسلام میں داخل سمجھتے ہیں۔ سب سے پہلے جلسہ اولیٰ میں مبادیات بحث طے کی جائیں گی، اس کے بعد اصل موضوع پر گفتگو ہوگی۔ اگر مرزا صاحب کو اپنا

صفحہ 408

اسلام ثابت کرنے میں دشواری ہو تو ہم ان کی خدمت میں نہایت آسان طریقہ پیش کرتے ہیں، اس کو اختیار کر لیں۔ اس میں ان کا ایک حبہ بھی خرچ نہ ہوگا اور وہ یہ ہے کہ قادیانی صاحب ہمارے خرچ پر ہمارے ساتھ مکہ معظمہ یا قسطنطنیہ چلے چلیں اور وہاں دریافت کریں کہ جس شخص کے یہ عقیدے ہوں وہ تمہارے نزدیک دائرۂ اسلام میں داخل ہے یا خارج؟ اگر مرزا صاحب کو یہ پابندی شرائط مباحثہ کرنا منظور ہو تو عید یا جمعہ کے مجمع میں حاضر ہو کر گفتگو کر لیں۔ اور اگر ان میں سے کوئی بات بھی منظور نہ ہو تو لازم ہے کہ اپنے عقائد کفریہ سے تائب ہوں اور اپنی توبہ کا اعلان کر دیں۔ الغرض ہماری تحریرات قدیمہ و جدیدہ کا خلاصہ یہی ہے کہ یہ شخص مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ اہل اسلام کو ایسے شخص سے ارتباط رکھنا حرام ہے۔ جیسا کہ ہدایہ وغیرہ کتب فقہ میں یہ مسئلہ موجود ہے۔ اسی طرح وہ لوگ بھی دائرۂ اسلام سے خارج ہیں جو اس کے معتقد یا پیرو ہیں اور ان کے نکاح باقی نہیں رہے۔ کتب فقہ میں یہ مسائل باب مرتد میں صراحۃً مذکور ہیں۔ جب ہم نے ۱۳۰۱ھ میں قادیانی صاحب کے کافر و مرتد ہونے کا فتویٰ دیا تھا تو لوگ کہتے تھے کہ یہ مولوی ضدی ہیں لیکن خدائے قدوس نے ہمارے فتویٰ کی صداقت خود مولوی محمد حسین بٹالوی کی تحریروں سے ظاہر کر دی جو ان ایام میں قادیانی کے سب سے بڑے معاون تھے اور ہماری طرح علماء مکہ معظمہ نے بھی بالاتفاق قادیانی کو کافر و بے دین قرار دیا۔ اب وہ باشندگان لدھیانہ، جو مرزا صاحب سے حسن اعتقاد رکھتے ہیں یا وہ لوگ جو مرزا صاحب کے کفر و ارتداد میں متردد ہیں، قادیانی صاحب کو ہمراہ لے کر ہمارے پاس آئیں اور گفتگو کرائیں"۔

المشتہرین : مولوی محمد، مولوی عبداللہ، مولوی عبدالعزیز، ساکنین لدھیانہ، ۲۹؍ رمضان المبارک ۱۳۰۸ھ

مشورہ کے لیے حکیم نور الدین کی طلبی

جب علماء لدھیانہ کی طرف سے مندرجہ بالا اشتہار شائع ہوا تو مرزا صاحب کی سٹی

صفحہ 409

بھول گئے اور عالم اضطراب میں اپنے دست راست حکیم نور الدین صاحب کو جنہیں ساٹھ سال کی عمر میں قادیانی صاحب کے ذریعہ سے منشی احمد جان ساکن لدھیانہ کی دوازدہ سالہ دختر ہاتھ لگی تھی فوراً فریاد رسی کے لیے لاہور سے طلب فرمایا۔ حکیم صاحب نے مرزا صاحب کا اشتہار پڑھا اور اس کا کلہ توڑ جوابی اشتہار کا بھی مطالعہ کیا جو علماء لدھیانہ کی طرف سے شائع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد حکیم صاحب نے کہا کہ ان مولویوں کو مخاطب بنانے میں آپ سے فروگزاشت ہو گئی۔ ان مولویوں سے ہم کسی طرح عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ جب ثالث کی موجودگی میں آپ کے ایمان اور اسلام پر مباحثہ ہوگا اور مخالفوں کی طرف سے علماء حرمین کا فتوائے تکفیر بھی پیش ہوگا تو ثالث ہمارے فریق پر کفر و ارتداد کا حکم لگا کر فریق ثانی کو فتح یاب قرار دے گا اور اس طرح ہمارے سب کیے کرائے پر پانی پھر جائے گا۔ پھر کوئی شخص ہم سے مسئلہ حیات و ممات مسیح اور دعوائے مسیح موعود کے متعلق بھی گفتگو نہیں کرے گا کیونکہ بے ایمان کا مسیح ہونا دائرۂ امکان سے خارج ہے۔ البتہ ان مولویوں سے گفتگو کرنے میں مضائقہ نہیں جو ہم کو مسلمان جانتے ہیں کیونکہ ہم ان سے بلا تکلف حیات و ممات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ پر بحث کر سکتے ہیں اور بہترین صورت یہ ہے کہ آپ کسی طرح مولوی محمد حسین بٹالوی سے مباحثہ کریں کیونکہ وہ آپ کے اسلام کا اقرار کر چکے ہیں۔ (فتاوائے قادریہ، صفحہ ۲۰- ۲۴)

باب ۱۳

مولانا بٹالوی کی طرف سے قادیانی صاحب کو

راہ راست پر لانے کی جدوجہد

دعویٰ مسیحیت کے بعد جب مرزائی لن ترانیاں حد سے تجاوز کرنے لگیں تو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کچھ تو پرانی دوستی کا لحاظ کر کے اور کچھ یہ سوچ کر کہ کسی گم کردہ راہ کو راستے پر لگانا بہت بڑا کار ثواب ہے۔ ارادہ کیا کہ مرزا صاحب کو راہ راست پر لانے کی از سر نو کوشش کی جائے۔ ان ایام میں مولوی صاحب لاہور میں اقامت فرما اور مسجد

صفحہ 410

چینیاں کے خطیب تھے۔ ایک دن کسی کام سے امرتسر گئے تو کسی نے بیان کیا کہ مرزا غلام احمد نے اپنے دعاوی کے متعلق ایک نیا رسالہ لکھا ہے جس کا نام ”فتح اسلام“ ہے اور وہ رسالہ امرتسر کے مطبع ”ریاض ہند“ میں چھپ رہا ہے۔ مولوی صاحب نے اس کے پروف منگوا کر پڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کشتی شکستہ ایمان اب اسلام کے شارع عام سے اور بھی دور چلا گیا ہے اور عزم مصمم کر لیا کہ اس شخص پر اس کی غلط روی کو واضح کریں۔ چنانچہ لاہور واپس آ کر ۳۱؎ جنوری ۱۸۹۱ء کو مرزا صاحب کے نام ان کے دعاوی کے متعلق ایک چٹھی لکھی۔ الہامی صاحب نے اس کے جواب میں کچھ باتیں بنائیں۔ مولوی صاحب نے پھر جواب الجواب لکھ بھیجا۔ غرض اسی طرح دو ڈھائی مہینہ تک خط و کتابت ہوتی رہی۔ لیکن بھلا پتھر میں بھی کبھی جونک لگی ہے؟ قادیانی صاحب پر اس افہام و تفہیم کا کچھ اثر نہ ہوا۔ یہ دلچسپ خط و کتابت اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۱۲‘ کے صفحہ ۳۵۴ سے شروع ہو کر صفحہ ۳۸۸ تک چلی گئی ہے۔ آخری خطوط میں مثیل صاحب کے اخلاقی جوہر کھلنے لگے اور وہ گالیوں پر اتر آئے اور غضب آلود ہو کر مولوی صاحب کو چیلنج کیا کہ وہ ان سے مناظرہ کر لیں۔

قادیانی صاحب کا بیان ہے کہ انہی ایام میں مولوی محمد حسین نے بعض احباب کے سامنے عالم برافروختگی میں کہا کہ میں نے ہی اس شخص کو بلند کیا تھا اور اب میں ہی گراؤں گا۔ (تحفہ گولڑویہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۹) اگر قادیانی صاحب کا بیان صحیح ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب ہی کے پروپیگنڈا نے قادیانی کو یہ عروج بخشا تھا لیکن مولوی صاحب کی یہ توقع بے جا تھی کہ وہ اس کو سرنگوں بھی کر سکیں گے۔ کیونکہ جن لوگوں کے مرزائی ہو جانے سے مرزا صاحب کو دنیوی وجاہت اور سربلندی نصیب ہوئی وہ مولوی صاحب ہی کی زبان قلم سے مرزا صاحب کی مدح و توصیف سن کر مرزائیت کے حلقہ بگوش ہوئے تھے اور قاعدہ کی بات ہے کہ مرید پیر سے انتہا درجہ کی شیفتگی اور حسن اعتقاد رکھتا ہے۔ پس یہ ایک موہوم امر تھا کہ مرزائی ہو جانے کے بعد یہ لوگ قادیانی صاحب کے دام تزویر سے نکل جاتے۔

باب

۱۴

باب سے نکل جاتے۔

۱۴ ۱۴

Wait, let me correct the last lines, I did not output the right thing in the final draft. Let me restart the output.

چینیاں کے خطیب تھے۔ ایک دن کسی کام سے امرتسر گئے تو کسی نے بیان کیا کہ مرزا غلام احمد نے اپنے دعاوی کے متعلق ایک نیا رسالہ لکھا ہے جس کا نام ”فتح اسلام“ ہے اور وہ رسالہ امرتسر کے مطبع ”ریاض ہند“ میں چھپ رہا ہے۔ مولوی صاحب نے اس کے پروف منگوا کر پڑھے تو معلوم ہوا کہ یہ کشتی شکستہ ایمان اب اسلام کے شارع عام سے اور بھی دور چلا گیا ہے اور عزم مصمم کر لیا کہ اس شخص پر اس کی غلط روی کو واضح کریں۔ چنانچہ لاہور واپس آ کر ۳۱؎ جنوری ۱۸۹۱ء کو مرزا صاحب کے نام ان کے دعاوی کے متعلق ایک چٹھی لکھی۔ الہامی صاحب نے اس کے جواب میں کچھ باتیں بنائیں۔ مولوی صاحب نے پھر جواب الجواب لکھ بھیجا۔ غرض اسی طرح دو ڈھائی مہینہ تک خط و کتابت ہوتی رہی۔ لیکن بھلا پتھر میں بھی کبھی جونک لگی ہے؟ قادیانی صاحب پر اس افہام و تفہیم کا کچھ اثر نہ ہوا۔ یہ دلچسپ خط و کتابت اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۲‘ نمبر ۱۲‘ کے صفحہ ۳۵۴ سے شروع ہو کر صفحہ ۳۸۸ تک چلی گئی ہے۔ آخری خطوط میں مثیل صاحب کے اخلاقی جوہر کھلنے لگے اور وہ گالیوں پر اتر آئے اور غضب آلود ہو کر مولوی صاحب کو چیلنج کیا کہ وہ ان سے مناظرہ کر لیں۔

قادیانی صاحب کا بیان ہے کہ انہی ایام میں مولوی محمد حسین نے بعض احباب کے سامنے عالم برافروختگی میں کہا کہ میں نے ہی اس شخص کو بلند کیا تھا اور اب میں ہی گراؤں گا۔ (تحفہ گولڑویہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۹) اگر قادیانی صاحب کا بیان صحیح ہے تو اس میں شبہ نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب ہی کے پروپیگنڈا نے قادیانی کو یہ عروج بخشا تھا لیکن مولوی صاحب کی یہ توقع بے جا تھی کہ وہ اس کو سرنگوں بھی کر سکیں گے۔ کیونکہ جن لوگوں کے مرزائی ہو جانے سے مرزا صاحب کو دنیوی وجاہت اور سربلندی نصیب ہوئی وہ مولوی صاحب ہی کی زبان قلم سے مرزا صاحب کی مدح و توصیف سن کر مرزائیت کے حلقہ بگوش ہوئے تھے اور قاعدہ کی بات ہے کہ مرید پیر سے انتہا درجہ کی شیفتگی اور حسن اعتقاد رکھتا ہے۔ پس یہ ایک موہوم امر تھا کہ مرزائی ہو جانے کے بعد یہ لوگ قادیانی صاحب کے دام تزویر سے نکل جاتے۔

باب ۱۴

صفحہ 411

مولانا بٹالوی کا ورود لدھیانہ اور

قادیانی صاحب کو مناظرہ کا چیلنج

مرزا صاحب نے علماء لدھیانہ سے چھیڑ خانی کرتے ہوئے ۲۰ مئی ۱۸۸۹ء کو انہیں مناظرہ کا جو چیلنج دیا اس میں یہ بھی لکھا کہ مولوی محمد حسن لدھیانوی بذات خود بحث کریں یا اپنی طرف سے مولوی محمد حسین بٹالوی کو بحث کے لیے وکیل مقرر کر دیں۔ جب مولانا بٹالوی کو اس چیلنج کا علم ہوا تو انہوں نے مولوی محمد حسن کو لکھا کہ آپ مرزا غلام احمد کو تحریری اطلاع دیں کہ ”محمد حسین بٹالوی ۱۹ر مئی کی صبح کو پٹیالہ جاتے ہوئے لدھیانہ اترے گا، اگر اس سے گفتگو کرنے کی خواہش ہو تو میرے مکان پر آجائیے گا۔ اور اگر آپ خود نہ آسکیں تو میں اس کو آپ کے دولت کدہ پر لے آؤں گا۔ اگر مرزا غلام احمد منظور کریں تو بندہ گفتگو کے لیے حاضر ہے“۔

اس کے بعد مولوی محمد حسین صاحب ۱۹ر مئی کی صبح کو لدھیانہ پہنچ گئے اور جاتے ہی مولوی محمد حسن کو مرزا صاحب کے پاس بطور سفارت جانے کو کہا۔ اور انہی کی طرف سے اس مضمون کا رقعہ لکھوا کر ان کے ہاتھ بھجوایا کہ حسن اتفاق سے مولوی محمد حسین لدھیانہ آئے ہیں جو آج ہی گیارہ بجے دن کی گاڑی سے پٹیالہ چلے جائیں گے۔ اگر آپ ان سے مناظرہ کرنا چاہیں تو میرے مکان پر تشریف لے چلئے مگر مولوی صاحب گفتگو سے پہلے آپ سے چند بنیادی اصول طے کرائیں گے۔ آپ کو بھی اختیار ہے کہ جو اصول چاہیں ان سے تسلیم کرا لیں۔ موضوع بحث یہ ہوگا کہ کیا وہ مسیح جس کے قدوم کی احادیث نبویہ میں بشارت دی گئی ہے، آپ ہیں۔ مولوی محمد حسین نے تاکید کر دی تھی کہ مرزا صاحب اس کا جو جواب دیں وہ ان سے لکھوا لیجئے گا۔ کوئی زبانی پیغام قابل التفات نہ ہوگا۔

مرزا صاحب کی ضد کہ گفتگو مسئلہ حیات و ممات مسیح پر ہو

اس کے جواب میں مرزا غلام احمد نے یہ رقعہ لکھا کہ ”یہ عاجز بسرو چشم تحریری گفتگو

صفحہ 412

کے لیے موجود ہے۔ اصول پیش کرنے کو بھی میں مانتا ہوں۔ چند سوال آپ کی طرف سے‘ چند سوالات میری طرف سے ہوں اور امر مبحوث عنہ وفات یا حیات مسیح ہوگا۔ کیونکہ اس عاجز کا دعویٰ اسی بنا پر ہے۔ جب بنا ٹوٹ جائے گی تو یہ دعویٰ خود ٹوٹ جائے گا۔ اصل امر وہی ہے‘ اس وقت بارہ بجے تک مجھے باعث حج کے کاموں کے بالکل فرصت نہیں۔ بہتر ہے کہ آں مکرم عید کے بعد یعنی شنبہ کا دن بحث کے لیے مقرر کریں‘ تا فرصت اور فراغت سے ہر ایک شخص حاضر ہوسکے“۔ اس کے جواب میں مولانا بٹالوی صاحب نے الہامی صاحب کو لکھوا بھیجا کہ ”آپ کے اشتہار میں دونوں دعوے ہیں۔ حضرت مسیح ابن مریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی رحلت کا دعویٰ اور آپ کے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ۔ ان دونوں دعاوی میں ایسا تلازم نہیں ہے کہ ایک کے ثبوت سے دوسرا دعویٰ ثابت ہو جائے جیسا کہ آپ کے خط میں مرقوم ہے لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ پہلے آپ کے مسیح موعود ہونے پر بحث ہو۔ پھر حضرت ابن مریم کی حیات و ممات پر گفتگو ہو۔ آپ اشتہار میں یہ دونوں دعوے کر چکے ہیں تو آپ دوسرے دعوے کی بحث سے جی کیوں چراتے ہیں۔ آپ کو لازم ہے کہ اپنے اعلان کے بموجب دونوں دعاوی پر بحث کرنے کو مستعد رہیں اور ہماری اس تجویز کو کہ پہلے آپ کے مسیح ہونے پر بحث ہو منظور کرلیں۔ کیونکہ بحکم اصول مناظرہ ہم کو اختیار ہے کہ آپ کے جس دعوے پر چاہیں پہلے بحث کریں۔ ہاں اگر آپ اپنے دوسرے دعوے سے دست بردار ہو جائیں اور اس دست برداری کے متعلق عام اعلان کر دیں تو ہم آپ کے اسی پہلے دعویٰ پر بحث کرنے کو تیار ہیں“۔

اس کے جواب میں مرزا صاحب نے صرف اتنا لکھ بھیجا کہ ”آپ مسیح کا زندہ ہونا کلام الٰہی سے ثابت کر دیں گے تو میں اپنے دعوے سے دست بردار ہو جاؤں گا۔ اور اپنے الہام کو کہ مسیح فوت ہو گیا ہے شیطانی القاء سمجھوں گا“۔ مولانا محمد حسین صاحب نے اس کے جواب میں لکھوا بھیجا کہ ”آپ نے اپنی تمام تحریروں اور اشتہاروں میں یہ دونوں دعوے الگ الگ مستقل حیثیت سے کیے ہیں بلکہ اپنے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ دوسرے سے مقدم رکھا ہے۔ لیکن اب اس دعوے کو پہلے دعوے کی فرع اور اس کے تابع قرار دیتے ہیں‘ پس آپ صاف الفاظ میں کہہ دیں کہ ہم نے اس دعوے کو مستقل ٹھہرانے میں غلطی کی۔ اس اقرار و اعتراف کے بعد آپ کا فرض ہو گا کہ آپ وفات مسیح علیہ السلام کو

صفحہ 413

ثابت کریں۔ ہم آپ کے دعوے کو توڑیں گے“۔ مرزا صاحب نے اس خط کا جواب دینے سے صاف انکار کیا اور ۸ مئی سے لے کر ۲۷ مئی تک مرزا صاحب کی زبان پر مہر سکوت لگی رہی۔ اس بنا پر ہر شخص کو یقین ہوگیا کہ مرزا صاحب نے مناظرہ پر فرار کو ترجیح دی ہے۔

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۳‘ صفحہ ۸۴-۸۹)

پٹیالوی مریدوں کے مجبور کرنے سے اپنے دعوائے مسیحیت پر

بحث کرنے کے لیے آمادگی

جب الہامی صاحب کے پٹیالوی مریدوں کو اپنے مقتدا کی گریز و فرار کا علم ہوا تو انہوں نے لدھیانہ آکر مرزا صاحب کو مباحثہ پر مجبور کیا۔ انہوں نے طوعاً و کرہاً آمادگی ظاہر کی اور بتاریخ ۷ مئی ۱۸۹۱ء مولوی محمد حسن رئیس لدھیانہ کو لکھ بھیجا کہ مجھے اپنے دعوائے مسیحائی پر مناظرہ کرنا منظور ہے لیکن اس مرتبہ بھی یہ کہہ کر اپنی گریز کا ایک راستہ نکال لیا کہ درمیانی شرائط کا تصفیہ مناظرہ سے ایک روز پیشتر ہوگا۔ مولانا بٹالوی کو معاً اس کی اطلاع دی گئی۔ انہوں نے ۲۹ مئی کو مولوی محمد حسن لدھیانوی کے نام قبول مناظرہ کے متعلق خط لکھ دیا اور اس میں مرزا صاحب کی راہ گریز بھی مولوی محمد حسن کو یہ ہدایت کر کے مسدود کر دی کہ مرزا صاحب جو شرائط چاہتے ہوں وہ مناظرہ سے ایک دن پہلے آپ کے ساتھ طے کرلیں۔ ایسا نہ ہو کہ عین موقع پر کسی شرط کی نامنظوری کے حیلہ سے انہیں پھر فرار کا موقع مل جائے۔

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۳‘ صفحہ ۸۹-۹۱)

باب ۱۵

مناظرۂ لدھیانہ

مرزا صاحب برابر آٹھ مرتبہ ناقابل عمل شرطیں پیش کر کے مباحثہ کو ٹالتے رہے۔ مگر آخری مرتبہ مولانا بٹالوی صاحب نے مولوی محمد حسن سے کہہ دیا کہ آپ ان کی ہر شرط

صفحہ 414

منظور کر لیں۔ (مرزا صاحب جو پر حیل شرطیں پیش کر کے مباحثہ کو ٹالتے رہے، ان کی تفصیل اشاعۃ السنہ، جلد ۱۴، صفحہ ۵۲- ۵۶ میں ملاحظہ فرمائیے) آخر ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء کو مولانا محمد حسین بٹالوی لدھیانہ میں مرزا صاحب کے خسر میر ناصر نواب دہلوی کے مکان پر، جن کے پاس مرزا صاحب اقامت فرما تھے، جا پہنچے اور انہیں مقابلہ پر مجبور کر دیا۔ یہ مباحثہ تحریری تھا جو ۲۰ جولائی سے شروع ہو کر بارہ دن تک جاری رہا۔ پہلے تین دن مولوی صاحب مرزا صاحب کے خسر کے مکان پر جاتے رہے اور پھر تین دن تک مرزا صاحب کو مولوی صاحب کے قیام گاہ پر جانا پڑا۔ دوران مناظرہ میں مرزا صاحب نے یہ حیلہ نکال کر بڑا شور مچایا کہ مولوی محمد حسین بحث سے باہر نکل گئے لیکن انہیں اس کوشش میں کامیابی نہ ہوئی۔

قادیانی صاحب اس سوال کو بارہ دن تک ٹالتے رہے کہ

صحیحین کی تمام حدیثیں صحیح ہیں یا نہیں؟

مولانا بٹالوی نے صرف ایک یہ سوال پیش کر رکھا تھا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی تمام حدیثیں صحیح ہیں یا نہیں؟ مرزا صاحب ٹال مٹول کرتے تھے اور صاف لفظوں میں اس کا جواب نہیں دیتے تھے۔ مرزا صاحب بارہ دن تک برابر غیر متعلق باتوں میں جواب کو ٹالتے رہے کیونکہ انہوں نے پہلے سے تہیہ کر رکھا تھا کہ اصل سوال کا جواب نہیں دیں گے۔ آخر جب عام طور پر مشہور ہوا کہ قادیانی صاحب اتنے دن سے صرف ایک سوال کا جواب دینے میں لیت و لعل کر رہے ہیں تو ان کا ہر طرف مذاق اڑایا جانے لگا اور بدنامی اور رسوائی نے مرزائیوں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ جب امرتسر اور لاہور کے مرزائیوں کو معلوم ہوا کہ ان کا مسیح بارہ دن سے صرف ایک سوال کا جواب دینے سے جی چرا رہا ہے تو قادیانی صاحب کے ایک حواری حافظ محمد یوسف ضلع دار صاحب نے مرزا صاحب کو پیغام بھیجا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں، ان سوالات و جوابات میں تو آپ ذلیل ہو رہے ہیں اور فریق ثانی آپ کی آبرو مٹی میں ملا رہا ہے۔ ان سوالات و جوابات سے مولوی محمد حسین کا مقصد ہی یہی ہے کہ آپ کو ذلیل کریں۔ اس لیے مناسب ہے کہ اس بحث کو جلد بند کر

صفحہ 415

دیجئے ورنہ اور زیادہ ذلت ہو گی۔

قادیانی صاحب کا میدان مناظرہ سے فرار

حافظ محمد یوسف کے انتباہ کا یہ اثر ہوا کہ الہامی صاحب نے بارہویں دن کی تحریر کے ساتھ موقوفی بحث کی درخواست بھی پیش کر دی اور مولانا محمد حسین سے خطاب کرتے ہوئے لکھا کہ آپ بھی بہت کچھ ضبط تحریر میں لا چکے ہیں، میں نے بھی بہت کچھ لکھ لیا، اب میں اس بے سود بحث کو ختم کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد قادیانی صاحب وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اس فرار کے جو عذر ہائے لنگ اپنے اشتہار، مورخہ یکم اگست ۱۸۹۱ء میں اور اپنی کتاب ازالہ اوہام کے صفحہ ۸۵۸ (طبع پنجم، صفحہ ۴۴۹) میں پیش کیے ہیں، مولوی صاحب نے ان کا جواب باصواب اپنے رسالہ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۳، صفحہ ۲۱۳- ۲۱۴) میں دیا ہے۔ اس مناظرہ کی ایک شرط یہ طے ہوئی تھی کہ جب تک امور متنازع فیہ کا تصفیہ نہ ہو لے گا، مناظرہ برابر جاری رہے گا۔ اور فریقین اپنی اپنی تحریروں کی نقلیں فریق مقابل کو دیتے رہیں گے۔ لیکن مرزا صاحب نے اس شرط کی بھی خلاف ورزی کی اور نہ صرف مقابلہ سے فرار اختیار کیا بلکہ اپنی آخری تحریر کی نقل دینے سے بھی انکار کیا اور مباحثہ بلا تصفیہ منقطع کر دیا۔ نقل نہ دینے اور مناظرہ بند کر دینے سے بہت سے مرزائی بددل ہوئے۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۳، صفحہ ۲۱۲- ۲۱۴) لیکن جال میں پھنس کر نکل آنا بھی ہر ایک کا کام نہیں۔ مناظرہ لدھیانہ کی مفصل کارروائی اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ کے صفحات ۱۴۲- ۳۵۲ پر درج ہے۔

مرزا صاحب کی افتراء پردازی کہ مولوی محمد حسین خارج البلد کیے گئے

مباحثہ لدھیانہ کے بعد قادیانی صاحب نے بقول مولانا بٹالوی یہ سفید جھوٹ اخبار نور افشاں لدھیانہ مورخہ ۳ ستمبر ۱۸۹۱ء میں شائع کرایا کہ ”مولوی محمد حسین اپنے وحشیانہ طریق بحث کی شامت سے شہر بدر کیے گئے۔ اور ڈپٹی دلاور علی شاہ اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر لدھیانہ انہیں ڈپٹی کمشنر کے حکم سے ریل پر سوار کرا آئے“۔ حالانکہ یہ بیان بالکل بے اصل تھا

صفحہ 416

اور مولوی صاحب کے فرشتوں کو بھی اس اخراج کا کوئی علم نہیں تھا۔ جب مولوی صاحب کو اس مرزائی پروپیگنڈا کا علم ہوا تو انہوں نے ڈپٹی کمشنر لدھیانہ سے اس مبینہ حکم کے اخراج کے متعلق دریافت کیا لیکن ڈپٹی کمشنر نے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔ مولوی محمد حسین نے ڈپٹی کمشنر لدھیانہ کی چٹھی کی نقل رسالہ اشاعۃ السنہ (جلد ۱۳‘ صفحہ ۲۱۲) میں چھاپ دی۔ مولوی محمد حسین کے خلاف ڈپٹی کمشنر کے حکم کے اخراج کی دروغ بانی مرزا صاحب کے مجموعہ اشتہارات میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ ۱۶ اگست ۱۸۹۱ء کے اشتہار میں لکھا ”یہ سچ ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اپنی وحشیانہ طرز بحث کی شامت سے لدھیانہ سے شہر بدر کیے گئے تھے“۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۲‘ صفحہ ۷۸)

باب ۶

مولانا بٹالوی کو لاہور میں مناظرہ کرنے کا قادیانی چیلنج

مرزا صاحب کی یہ شجاعت و اولوالعزمی قابل داد ہے کہ جب وہ دشمن کے مقابلہ میں چاروں شانے چت گرتے تو بدن کی مٹی جھاڑنے اور ذرا سستا لینے سے پہلے ہی اپنے فاتح حریف کو دوبارہ برسر مقابلہ ہونے کے لیے للکارنے لگتے تھے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس ہزیمت کے بعد ان کا تمام کس بل نکل گیا ہے۔ چنانچہ مناظرۂ لدھیانہ میں ہزیمت کھانے کے بعد مرزا صاحب نے یکم اگست ۱۸۹۱ء کو پھر ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ مولوی محمد حسین حیات و ممات مسیح کے مسئلہ پر میرے ساتھ کیوں بحث نہیں کرتے؟ وہ یقیناً ڈرتے ہیں کہ اگر اصل مسئلہ میں بحث شروع ہوگی تو بڑی رسوائی کے ساتھ انہیں مغلوب ہونا پڑے گا۔ میں ایک دفعہ پھر حجت پوری کرنے کے لیے با آواز بلند مولوی صاحب کو دعوت کرتا ہوں کہ وہ اصل مسئلہ کے متعلق ضرور بصد ضرور میرے ساتھ بحث کریں۔ مگر یہ بحث لاہور جیسے صدر مقام میں منعقد کی جائے۔ جہاں اعلیٰ درجہ کے فہیم‘ ذکی‘ تعلیم یافتہ‘ اور متین اشخاص اور رؤسا شامل ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ اہل لاہور میں سے بعض نے یہ درخواست بھی کی ہے۔ امن وغیرہ کا انتظام بھی ہمارے سپرد ہوگا۔ (تبلیغ رسالت‘ صفحہ ۱۷۔

صفحہ 417

(۱۹) اس کے جواب میں مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ ”ہم آپ کے مناظرہ کے لیے ہر وقت حاضر و مستعد ہیں‘ لاہور میں کیجئے خواہ پشاور میں۔ اور اگر خاص مسکن و مولد شریف قادیاں میں ہو تو زیادہ موزوں ہے تاکہ مقولہ صادقہ دروغ گو را تا بخانہ باید رسانید پر بھی عمل ہو جائے“۔ اس جواب کے بعد مرزا صاحب میں کوئی جنبش اور حس و حرکت باقی نہ رہی۔ (اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۴‘ صفحہ ۳)

باب ۱۷

مسیحائی دکھانے کے مطالبات اور معجزات مسیح کا انکار

جب تک خود مسیح بننے کا کوئی خیال نہ تھا قادیانی صاحب حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات باہرہ تسلیم کرتے تھے۔ چنانچہ براہین میں لکھا۔

”مگر اب مخالف بد اندیش پر کیونکر ثابت کر کے دکھلائیں کہ انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے لاٹھی کا سانپ بنا کر دکھلا دیا اور کسی نے مردے کو زندہ کر کے دکھلا دیا۔ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں“۔ (براہین احمدیہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۴۳۲۔۴۳۳)

لیکن جب پہلے مثیل مسیح اور بعد کو مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو ہر طرف سے مطالبہ ہونے لگا کہ اگر ”تم سچے ہو تو تم بھی حضرت روح اللہ کی طرح کوئی مسیحائی دکھاؤ“۔ لیکن یہاں سخن سازی اور زبانی جمع خرچ کے سوا کیا رکھا تھا۔ ناچار مسیح علیہ السلام کے معجزات سے انکار کر دیا۔ پادریوں کو معلوم نہ تھا کہ یہ حضرت معجزات مسیح علیہ السلام کا انکار کر چکے ہیں۔ امرتسر میں آتھم سے تحریری مناظرہ ہوا تو اہل صلیب نے چند اندھے کوڑھی اور مبروص جمع کر کے قادیانی مسیح سے ان کے چنگا کر دینے کا مطالبہ کیا۔ قادیانی صاحب نے جواب میں لکھوایا کہ ”میں تو اس معجزہ کا اس طرح قائل ہی نہیں ہوں“۔ البتہ تمہارا مقولہ ہے کہ ”جس کسی میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو وہ ایسے مایوس العلاج مریضوں کو چنگا کر

صفحہ 418

سکتا ہے۔ تم ذرا انہی مریضوں پر آزمائش کرو‘ ہم دیکھیں گے کہ تمہارا دعویٰ کہاں تک صحیح ہے“۔ یہ سن کر عیسائی لاجواب اور دم بخود رہ گئے۔ (کاذبہ‘ جلد ۲‘ صفحہ ۲۹۹)۔ بہرحال اعجاز نمائی قادیانی صاحب کے بس کا روگ نہیں تھا‘ اس لیے ان کی عافیت اسی میں تھی کہ معجزات مسیح علیہ السلام کا انکار کر کے زنادقہ دہر کی فہرست میں اپنا نام درج کرا لیتے۔

باب ۱۸

مولانا گنگوہی پر دشنام دہی کی قادیانی غلاظت

حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی نے قادیانی صاحب کو لعنت کفر سے بچانے کی جو کوشش کی اس کا یہ مقصد نہ تھا کہ صاحب موصوف خدانخواستہ عمداً باطل کا ساتھ دے رہے تھے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ انہیں ابھی تک مرزائی کفریات کی اطلاع نہیں ملی تھی اور جیسا کہ علماء حق کا شیوہ ہے خلوص دل سے سمجھ رہے تھے کہ مرزا صاحب سے بھی اسی طرح کی لغزشیں ہوگئی ہوں گی جس طرح بعض سالکان طریقت سے غلبہ حال میں سرزد ہوتی ہیں۔ آخر جب مولانا گنگوہی پر قادیانی کفر و زندقہ کا حال پوری طرح منکشف ہو گیا تو انہوں نے بھی دوسرے علماء امت کی طرح انہیں مرتد اور خارج از اسلام قرار دے دیا۔ قادیانی بارگاہ سے اس جرم حق گوئی کا صلہ ان الفاظ میں ملا۔

اخرهم شيطان الاعمى والغول الاغوى يقال له رشيد احمد الجنجوهى وهو شقى كالامروهى ومن الملعونين۔ ”مکتوب عربی‘ انجام آتھم‘ صفحہ ۲۵۲“

ان میں سے آخری شخص وہ اندھا شیطان اور بہت گمراہ دیو ہے جس کو رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں اور وہ امروہی ”مولانا احمد حسن“ کی طرح شقی اور ملعونوں میں سے ہے۔

مومن پر لعنت کرنے کی وعید

یہاں یہ ظاہر کر دینا بھی مناسب ہے کہ کسی پر لعنت کرنا سخت مذموم فعل ہے۔

صفحہ 419

خصوصاً مسلمان پر لعنت کرنا یا اس کو ملعون کہنا کبیرہ گناہ اور انتہا درجہ کی شیطانی حرکت ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس کا قتل کرنا کفر ہے۔ ”بخاری و مسلم“ اور ظاہر ہے کہ کسی مومن کو ملعون کہنے سے بڑھ کر اور کیا فسق ہو سکتا ہے۔ اور ابودرداءؓ سے مروی ہے کہ سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لعنت کرنے والوں سے نہ تو قیامت کے دن شہادت لی جائے گی اور نہ وہ کسی کے شفیع ہو سکیں گے۔ (صحیح مسلم) ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ عین اس وقت حضرت ابوبکرؓ نے اپنے غلام پر لعنت کی۔ یہ دیکھ کر آنحضرتؐ نے جناب صدیقؓ سے فرمایا کہ آپ نے کبھی صدیقوں کو بھی لعنت کرتے پایا ہے؟ رب کعبہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ حضورؐ کی مراجعت کے بعد حضرت صدیقؓ نے اپنا غلام آزاد کر دیا اور بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر التماس کی‘ یارسول اللہ! میں آئندہ کبھی کسی پر لعنت نہیں کروں گا۔ (بیہقی فی الشعب) احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ لعنت بڑی ذی شعور اور حقیقت شناس ہے۔ وہ ہمیشہ اسی جانب کا رخ کرتی ہے جو اس کا حقیقی اہل ہو۔ چنانچہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی کسی ایسی چیز پر لعنت کرے کہ جو اس کی اہل نہیں تو یہ لعنت لعنت کرنے والے کی طرف لوٹ آتی ہے۔ (ترمذی) اور فرمایا کہ جب کوئی شخص کسی پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے لیکن اس کے لیے آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر یہ لعنت زمین کی طرف اترتی ہے۔ یہاں بھی ہر طرف دروازے بند پاتی ہے‘ پھر داہنی اور بائیں جانب کا رخ کرتی ہے اور جب کسی طرف راہ نہیں پاتی تو اس شخص کی طرف رجوع کرتی ہے جس پر لعنت کی گئی ہو۔ اگر وہ مستحق ہو تو اس پر نازل ہوتی ہے ورنہ لعنت کرنے والے پر جا پڑتی ہے۔ (ابو داؤد) غرض لعنت کرنا ایک سخت قابل نفرت فعل ہے‘ خصوصاً مسلمان پر لعنت کرنا کھلی بدمعاشی ہے۔ اس درجہ کی معصیت اس صورت میں ہے کہ جس پر لعنت کی گئی ہو وہ عامتہ المسلمین میں سے ہو۔ لیکن اگر وہ علماء حق میں سے ہو تو پھر اس بد کرداری کا تو کوئی ٹھکانا ہی نہیں۔ قادیانی نے حضرت مولانا رشید احمد جیسی پاک باز ہستی کو معاذ اللہ ملعون کہہ کر اپنی زبان درازی کا جو ہدف بنایا تو اس کی سزا خود خدائے قہار و شدید العقاب کی طرف سے ملے گی لیکن جیسا

صفحہ 420

کہ اہل حق کا شیوہ ہے‘ حضرت مولانا مرحوم نے قادیانی گالیوں کا جواب خاموشی کے سوا کچھ نہ دیا۔

علمائے حق کی عظمت شان

اور مولانا رشید احمد محدثؒ تو ان جلیل القدر علماء باعمل میں سے تھے جن کے متعلق حضرت سید موجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عالم کے لیے آسمانوں اور زمین کے باشندے یعنی فرشتے اور جن و انس یہاں تک کہ پانی کے اندر مچھلی بھی مغفرت مانگتی ہے اور عبادت گزار ”غیر عالم“ آدمی پر عالم کی ویسی ہی فضیلت ہے جیسی چودہویں رات کے چاند کی ستاروں پر۔ عالم انبیاء کے وارث ہیں۔ انبیاء نے علم کے سوا کوئی وراثت نہیں چھوڑی۔ (احمد‘ ترمذی‘ ابو داؤد‘ ابن ماجہ‘ دارمی) اور فرمایا کہ عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ آدمی پر ہو۔ عالم پر اللہ تعالیٰ رحمت بھیجتا ہے اور اس کے ملائکہ اور آسمان اور زمین کے رہنے والے یہاں تک کہ چیونٹی بھی اپنے سوراخ میں اور مچھلی پانی کے اندر ایسے شخص کے حق میں دعاگو ہے جو لوگوں کو نیکی کی تعلیم دیتا ہے۔ (ترمذی‘ ابوداؤد‘ دارمی) اس تصریح کے بعد ہر شخص بہ سہولت اندازہ کر سکتا ہے کہ قادیانی ملہم کی لعنت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ پر پڑی یا خود قادیانی دشنام گو پر؟

باب ۱۹

اہل انگلستان کے قبول اسلام کی پیشین گوئی

لاہوری اور قادیانی مرزائی ہمیشہ پروپیگنڈا کیا کرتے ہیں کہ مغرب ”یورپ و امریکہ“ کو اسلام سے روشناس کرانے کی طرف سب سے پہلے ان کے مسیح موعود نے توجہ کی۔ چنانچہ لاہوری مرزائیوں کے نفس ناطقہ میاں محمد علی ایم۔ اے لکھتے ہیں کہ ”یہ خیال کہ علوم اسلامی کو اور تعلیمات قرآنی کو تمام قوموں کے اندر اور بالخصوص مغرب میں پھیلانے کی ضرورت ہے‘ اس زمانہ میں سب سے پہلے اس شخص کے دل میں اٹھا جس کو اللہ تعالیٰ نے

صفحہ 421

اس چودہویں صدی کے سر پر مجدد بنا کر بھیجا"۔ (مغرب میں تبلیغ اسلام یا اسلام کا دور جدید، مولفہ میاں محمد علی مرزائی لاہوری، صفحہ ۱۰) لیکن میاں محمد علی صاحب کا یہ بیان سراپا لغو اور ابلہ فریبی ہے۔ مرزا غلام احمد تو قوانین الہیہ کا نظام درہم برہم کرنے والے اور اسلام کی روحانی اور سیاسی ہستی کو گرداب فنا میں غرق کرنے کے اجارہ دار تھے۔ ان کی ذات سے علوم اسلامی اور تعلیمات قرآنی کی اشاعت کا کیا امکان تھا۔ اسی مرزائی پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر اکثر ناواقف لوگ خصوصاً فرزندان تعلیم جدیدیہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ انگلستان میں اسلام کی تخم ریزی انہی مرزائیوں کی مرہون منت ہے۔ حالانکہ یہ خیال سخت مہمل ہے۔ پیشتر کا حال تو معلوم نہیں البتہ انگلستان کے اخبار "مانچسٹر اگزامینر" نے ۱۸۸۸ء میں انگلستان کے شہر لیورپول کے اندر نو مسلموں کے وجود کا ذکر کیا تھا، اس وقت مرزائیت بالکل ایک طفل نوزائیدہ کا حکم رکھتی تھی۔

نامہ نگار کی لیور پول کو روانگی

۱۸۸۸ء یا ۱۸۸۹ء میں جریدہ "مانچسٹر اگزامینر" کے جس مضمون خاص کا ترجمہ ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا تھا اس کا ملخص حسب ذیل ہے۔ اخبار مذکور نے لکھا تھا کہ "کچھ دنوں سے یہ افواہ مشہور تھی کہ انگلستان میں دین اسلام کی اشاعت ہو رہی ہے اور بعض لوگ اس ایشیائی مذہب کو قبول کرتے جاتے ہیں۔ پہلے کوئی شخص ان افواہوں پر یقین نہیں کرتا تھا۔ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ لیورپول میں اسلام رو بہ ترقی ہے"۔ ہم نے ان حالات کی تحقیق کے لیے اپنا خاص نامہ نگار لیورپول بھیجا۔ ہمارا نمائندہ سب سے پہلے اس مکان میں پہنچا جس سے مسجد کا کام لیا جاتا ہے۔ یہ ویسٹ ڈربی روڈ کے بالمقابل واقع ہے۔ مسجد کے باہر ایک بڑا نوٹس بورڈ (اعلانات کا تختہ) لٹکا ہے، جس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا ہے۔ اس کے نیچے اوقات نماز کی تشریح ہے۔ اندر کے ایک کمرے میں کتب خانہ ہے۔ ایک دارالمطالعہ ہے۔ ایک کمرہ وعظ کے لیے مخصوص ہے۔ مکان کا ایک حصہ محافظین و خدام کے لیے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ پشت کی طرف ایک بہت بڑا مکان ہے جس میں دو سو نمازیوں کی گنجائش ہے۔ دیوار سے باہر نکلا ہوا ایک تختہ آویزاں ہے، اس پر ایک عربی عبارت لکھی ہوئی ہے اور اس عبارت کے نیچے اس کا انگریزی ترجمہ بھی درج

صفحہ 422

ہے ۔ صحن میں بے شمار چھوٹی چھوٹی جانمازیں بچھی ہیں۔ اس کمرے سے ملا ہوا ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جس میں کھونٹیوں پر ترکی ٹوپیاں لٹکی ہیں۔ اس بڑے کمرے کے ایک کنارے پر ایک چھوٹا سا چبوترہ ہے‘ اس چبوترے پر ایک میز بچھی ہے۔ اس پر ایک پر تکلف گدیلہ ہے جس پر قرآن رکھا ہوا ہے۔ محافظ مسجد وہاں کے حالات بتانے میں بہت تامل کرتا ہے اور اجنبی شخصوں کو اوقات نماز کے سوا مسجد میں نہیں آنے دیتا‘ اس لیے ہمارے نامہ نگار نے صدر انجمن اسلامیہ کا پتہ دریافت کیا اور اس کی تلاش میں روانہ ہوا۔

مسٹر عبداللہ کوئلم نو مسلم

انجمن اسلامیہ لیور پول کے صدر مسٹر ڈبلیو‘ ایچ کوئلم ہیں جو اس شہر کے سولسٹر (متقنن) ہیں۔ مسٹر کوئلم اس وقت دفتر میں تھے۔ انہوں نے ہمارے نمائندے کو ہر طرح کی اطلاع بہم پہنچانے پر آمادگی ظاہر کی۔ مسٹر کوئلم کی خوب لمبی سنہری داڑھی ہے‘ وہ اپنے سر کے بالوں کو پیچھے کی طرف جھاڑتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ آپ نے دین اسلام کب سے قبول کیا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابتداءً ”وسلین فرقہ کے عیسائیوں میں تعلیم پائی تھی۔ میں دسمبر ۱۸۸۳ء میں سخت علیل ہوا۔ ڈاکٹر نے حصول صحت کے لیے مجھے اسپین جانے کا مشورہ دیا۔ میں جبرالٹر (جبل الطارق) پہنچا اور آبناء سے پار ہو کر ملک مغرب کے شہر طنجہ میں وارد ہوا۔ کچھ دنوں وہاں مقیم رہا۔ میں نے پہلے پہل اسی جگہ اسلام کی جھلک دیکھی۔ مجھے پیروان اسلام اپنی ہر ادا میں مخلص نظر آئے۔ مجھے اسلام کی طرف خفیف سی کشش ہوئی۔ میں شرائع اسلامی کی تحقیقات کرنے لگا۔ جس درجہ میری تحقیقات ترقی کرتی گئیں‘ اسی قدر میرا میلان طبع اسلام کی طرف بڑھتا گیا۔ جب میں حصول صحت کے بعد انگلستان پہنچا تو میں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ خریدا۔ میں نے اس ترجمہ کو اور بعض دوسری اسلامی کتابوں کو‘ جن پر میں کسی طرح دسترس پا سکا‘ بغور پڑھا اور دین اسلام کی حقانیت کے نقش میرے دل پر ثبت ہوگئے۔ پھر میں نے خیال کیا کہ فیصلہ میں عجلت کسی طرح قرین مصلحت نہیں ہے۔ ارادہ کیا کہ دوسرے مذاہب اور ان کی تعلیمات پر بھی عبور حاصل کرنا چاہیے۔

صفحہ 423

جس قدر مطالعہ بڑھا اسی قدر زیادہ اسلام کی حقانیت کا یقین ہوا

میں نے میکس ملر کی بہت سی کتابیں پڑھیں۔ اسی طرح برہمنوں، بدھوں، پارسیوں، پیروان کنفیوشس (چینی مذہب کا بانی) کی مذہبی کتابوں کے بھی ترجمے پڑھے اور قدیم مصریوں کی کتاب الموتی اور اس قسم کی بہت سی دوسری کتابیں میری نظر سے گزریں اور میں نے جس قدر زیادہ کتابیں پڑھیں اسی قدر مجھے یقین ہوتا گیا کہ مذہب حق صرف اسلام ہے۔ اس لیے میرے دل نے اس مذہب کے قبول کر لینے پر مجھ کو راغب کیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ میری وجہ معاش پر اس کا کیا اثر ہوگا۔ میری شادی ہوچکی تھی اور بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے نان و نفقہ کا مجھ پر بار تھا اور ان سب کی کفالت کا ذریعہ صرف میرا پیشہ ”وکالت“ تھا۔ کچھ دنوں تک تو میں تذبذب میں رہا۔ ایمان اور انجام فرض کا خیال مجھے ایک طرف کھینچتا تھا اور تعلقات اقرباء اور ذاتی منافع دوسری طرف مائل کرتے تھے۔ میں نے ایک دلی دوست سے اس کے متعلق مشورہ کیا۔ اس نے کہا کہ اگر تم تثلیث کو نہیں مان سکتے اور توحید ہی سے دل بستگی ہے تو یونی ٹیرین (موحد عیسائی) کیوں نہیں ہو جاتے؟ یہ بھی ایک معزز مذہب ہے۔ میں نے کہا مجھے اسلام ہی سب پر فائق نظر آتا ہے، اس لیے اب مجھے تذبذب کی حالت میں رہنا پسند نہیں۔ ”جب مجھے مسیحیت سے دست بردار ہی ہونا ہے تو بہتر ہے کہ اسے پوری طرح خیرباد کہہ دوں“۔ اب میں نے اپنے خاندان اور اہل و عیال سے کہہ دیا کہ اب میں عیسائی نہیں ہوں بلکہ مسلمان ہونے والا ہوں۔ وہ سب میرا مذاق اڑانے لگے اور لوگوں کو اشارہ کیا کہ اس شخص کو کسی پاگل خانہ میں بھجوا دینا چاہیے۔

۴۴ عیسائیوں کا قبول اسلام

اب میں علانیہ مسلمان ہوگیا اور اسلامی طریقہ پر رہنے اور فریضہ صلوٰۃ ادا کرنے لگا۔ لورپول میں ترک مسکرات کی جتنی انجمنیں تھیں وہ میرے قبول اسلام سے پہلے کسی نہ کسی وقت میری خدمت سے مستفید ہوچکی تھیں۔ میں نے خیال کیا کہ مجھے ”بیک کرشمہ دو کار“ حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے۔ یعنی یہ کہ ترک مسکرات اور اسلام پر ایک ہی ساتھ

صفحہ 424

تقریریں کروں۔ اس کے بعد میں نے جو لیکچر دیا اس میں رسول مقبول محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ حالات بیان کیے اور آنحضرت کے کارناموں کی تعریف کی اور پھر اس بات کو لوگوں کے ذہن نشین کیا کہ اسلام میں مے خواری اور قمار بازی ممنوع ہے۔ غرض چند ہی روز میں چار آدمی مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ جب ہم ایک سے پانچ ہو گئے تو جمعہ کے دن آپس میں وعظ کہنے کے لیے جلسے منعقد کرنے لگے۔ اسی طرح اتوار کے دن ایک عام جلسہ وعظ مدعو کرنا شروع کیا۔ اکثر تو ایسا ہوا کہ خود ہم لوگوں کے سوا دوسرا کوئی شخص شریک جلسہ نہ ہوتا اور اس پر مستزاد یہ کہ ہمسایہ کے بدمعاشوں نے ہماری کھڑکیاں توڑ ڈالیں اور جب ہم لوگ اپنے کمرے میں جاتے یا اس سے باہر آنے لگے تو ہم پر کیچڑ اور نجس چیزیں پھینکی گئیں۔ لیکن ہم لوگوں نے ثبات و استقلال کی حبل متین کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ گزشتہ سال کے اخیر میں جب ہماری تعداد بڑھ گئی تو ہم اس مکان میں، جہاں ہم آج کل مقیم ہیں، چلے آئے۔ اس وقت ہماری انجمن کے چالیس ممبر ہیں جن میں بارہ خواتین ہیں۔ یہ لوگ مسیحیت کو چھوڑ کر مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔ نامہ نگار کے بعض سوالات کے جواب میں مسٹر کولم نے فرمایا کہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے کوئی فیس نہیں ہے۔ امیر غریب، چھوٹا بڑا سب مل کر نماز پڑھتے ہیں۔ کسی کے لیے جگہ مخصوص نہیں ہے۔ کسی سے کوئی چندہ نہیں مانگا جاتا۔ ہر ممبر ازخود اپنی استطاعت کے بموجب خزانچی کو کچھ دے دیتا ہے اور اس طرح ہمارے سرمایہ میں کبھی کمی نہیں ہوتی۔ بہت سے اشخاص ایسے ہیں کہ انہوں نے اب تک اسلام قبول نہیں کیا مگر وہ ہم سے ہمدردی رکھتے ہیں اور امید ہے کہ وہ بہت جلد مشرف بہ اسلام ہوں گے۔ گزشتہ اتوار کو نو شخصوں نے ہمارے پاس آ کر ہم سے اسلام کے متعلق مزید معلومات حاصل کیے اور قبول اسلام کے مسئلہ پر غور کرنے کا وعدہ کیا۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر کولم نے کہا کہ واقعی میں نے محاسن اسلام پر ایک چھوٹی سی کتاب لکھی ہے جس کا نام ”فیث آف اسلام“ ہے۔ یہ دراصل میرے تین لیکچروں کا مجموعہ ہے جو میں نے اپنے ہم مذہبوں کے سامنے دیے تھے۔ میں نے اس کو رسالہ کی شکل میں اس لیے طبع کرا دیا کہ نومسلموں کو اپنے اعتقادات پر اچھی طرح عبور ہو جائے اور وہ غیر مسلموں کے سوالات کے جواب بہ سہولت دے سکیں۔ آٹھ مہینے میں طبع اول کی دو ہزار جلدیں فروخت ہو گئیں۔ چونکہ اس کی مانگ دن بدن بڑھ

صفحہ 425

رہی تھی، میں نے نظر ثانی کر کے مزید مضامین کا اضافہ کیا اور اسے دوسری مرتبہ شائع کیا جس میں سے نصف کے قریب بک چکی ہے۔ اس کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی اس کے ترجمے کرائے گئے ہیں جو ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہو رہے ہیں۔

سب سے بڑا مانع انگریزوں کی کشیدگی ہے

نامہ نگار نے سوال کیا کہ کیا آپ سارے انگلستان کو مسلمان بنالیں گے؟ اس کے جواب میں مسٹر عبداللہ نے فرمایا کہ ”امید تو بہت سی باتوں کی ہے لیکن اس میں شک نہیں کہ اگر خدائے برتر کی مرضی اس امر کی مقتضی ہوگی کہ یہاں کے باشندے نعمت اسلام سے سعادت اندوز ہوں تو اس قادر مختار کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے“۔ اس کے بعد نامہ نگار نے کہا تعجب ہے کہ اس سے پیشتر انگلستان میں کبھی کسی کو اشاعت اسلام کا خیال نہیں ہوا۔ اس کے جواب میں مسٹر عبداللہ نے فرمایا کہ ”اشاعت اسلام کی راہ میں ایک یہ سنگ گراں حائل ہے کہ انگریز خلقی طور پر غیر ملک والوں کی طرف سے کشیدہ رہتے ہیں“۔ (اشاعۃ السنہ، نمبر ۱۱، جلد ۱۲، بابت ۱۳۰۷ھ مطابق ۱۸۸۹ء، صفحہ ۳۲۲۔ ۳۳۱) ان حالات میں احباب محترم خود دیکھ سکتے ہیں کہ انگلستان کو اسلام سے روشناس کرانے والے لیورپول کے مسٹر کوئلم مرحوم تھے یا آج کل کے مرزائی ہیں؟

جب لیورپول میں شجر اسلام کے نشو و نما کی خبریں ہندوستان پہنچیں تو مسلمانوں نے بڑی خوشیاں منائیں۔ ہر شخص کو مسٹر کوئلم کی کتاب ”فیتھ آف اسلام“ کے مطالعہ کا شوق ہوا۔ اردو داں پبلک کے فائدہ کے لیے مولوی کریم بخش مرحوم مالک اسلامیہ پریس لاہور نے اس کا اردو ترجمہ ”دین اسلام“ کے نام سے شائع کیا۔ مسلمانان ہند کی طرف سے ایک وفد بدیں غرض لیورپول بھیجنا تجویز ہوا کہ وہاں کے نومسلموں کی ہمت افزائی کی جائے اور مسلمانان لیورپول سے رابطہ محبت و اخوت استوار کیا جائے۔ مفاد اسلام کو تقویت دینے کے لیے ہندوستان کے تمام بڑے بڑے شہروں میں فنڈ کھولے گئے۔ مسلمانان حیدر آباد دکن نے پہلے ہی جلسہ میں دس ہزار روپیہ فراہم کر لیا۔ حاجی عبداللہ نامی ایک عرب سوداگر نے پچاس ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا۔ قلمروئے دکن کے دریا دل بادشاہ نے بھی سلطنت آصفیہ کی قدیم روایات کے بموجب گراں قدر امداد کا وعدہ فرمایا۔ (ایضاً، صفحہ ۳۴۷)

صفحہ 426

قادیانی صاحب کی موقع شناسی

ممکن نہ تھا کہ قادیاں کے ”مسیح موعود“ صاحب‘ جو ہر وقت موقع کی تاک میں لگے رہتے تھے‘ ان حالات کے ماتحت کسی کشف‘ الہام اور پیشین گوئی کی پھلجڑیاں چھوڑنے سے باز رہتے۔ چنانچہ انہوں نے موقع شناسی سے کام لے کر اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں‘ جو ۳ ستمبر ۱۸۹۱ء کو شائع ہوئی تھی‘ ایک عدد پیشین گوئی لکھ ماری۔ اب میاں محمد علی صاحب آف لاہوری پارٹی اس پیشین گوئی کو مرزا صاحب کی صداقت کا ایک نشان قرار دے رہے ہیں۔ ہم اس پیشین گوئی کو اس وقت قابل التفات سمجھتے جبکہ اسے مسلمانان لیورپول کے مشرف بہ اسلام ہونے سے پہلے شائع کیا جاتا یا کم از کم ہندوستان ہی کے اندر مسلمانان ہند کے کان اس خبر سے آشنا نہ ہوتے۔ بہرحال مرزا صاحب نے سچے مسیح کے انفاس سے فیض پا کر اپنے خاص الہامی و کشفی رنگ میں لکھا۔ ”اس عاجز پر جو ایک رویا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی‘ جو قدیم سے ظلمت کفر و ضلالت میں ہیں‘ آفتاب صداقت سے منور کیے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔ بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے۔ سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راست باز انگریز صداقت کا شکار ہو جائیں گے“۔ (ازالہ اوہام‘ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۲۱۴)

اس کشف یا خواب میں مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ میری تحریریں انگریزوں میں پھیلیں گی اور بہت سے انگریز مسلمان ہو جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ پیشین گوئی بھی جھوٹی ثابت ہوئی کیونکہ کوئی انگریز قادیانی صاحب کی تحریریں پڑھ کر کبھی مسلمان یا مرزائی نہیں ہوا۔

صفحہ 427

باب ۲۰

والیٔ مالیرکوٹلہ کی والدہ سے پانچ سو روپیہ کی وصولی

جب مجدد دوران حضرت مرزا غلام احمد صاحب کی ہر دعا مردود اور ہر پیشین گوئی جھوٹی نکلنے لگی تو لوگ بدگمان ہوگئے۔ اور بجز ان بد نصیب افراد کے جو ہر حالت میں اپنی قسمت قادیاں سے وابستہ رکھنے کا عہد کر چکے تھے کوئی سمجھ دار انسان قادیانی صاحب کے تعلق باللہ کا قائل نہ رہا۔ ورنہ اس سے پہلے انہوں نے اشتہاری پروپیگنڈا کے زور سے لوگوں کو اپنا اس درجہ گرویدہ بنا لیا تھا کہ کچھ مدت تک یہ حالت رہی کہ وسطی پنجاب کے بڑے بڑے لوگوں میں سے جس کسی کو حصول مقصد میں زیادہ اہتمام ہوتا تھا وہ مرزا جی ہی کی دعا کو فوز مرام کا وسیلہ بناتا تھا۔ مالیرکوٹلہ میں مرزا جی کے بہت سے ایجنٹ تھے جو رات دن ان کے حق میں پروپیگنڈا کر رہے تھے۔ قضائے کردگار سے نواب صاحب والیٔ مالیرکوٹلہ علیل ہوئے اور علالت طول پکڑ گئی۔ قادیانی ایجنٹوں نے نواب صاحب کی والدہ سے کہا کہ اگر مرزا صاحب دعا کریں تو نواب صاحب فی الفور اچھے ہو سکتے ہیں۔ قادیانی صاحب کو لکھا گیا تو انہوں نے دعا کا وعدہ کرتے ہوئے پانچ سو روپیہ نذرانہ بھیجنے کا حکم دیا۔ چنانچہ نواب صاحب کی والدہ سے پانچ سو روپیہ کی رقم وصول کر لی اور دعائیں کرتے رہے لیکن کوئی دعا موقف اجابت تک نہ پہنچی۔ نواب صاحب رو بصحت نہ ہوئے اور دار آخرت کو چلے گئے۔

(اشاعۃ السنہ ' جلد ۱۸ ' صفحہ ۱۴۶)

یہاں ضمناً مجدد صاحب کی چند دوسری ”مقبول“ دعاؤں پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے۔ ایک مرتبہ مرزا صاحب نے ایک اشتہار زیر عنوان ”مرہم عیسیٰ“ شائع کیا جس میں بڑے طمطراق سے لکھا کہ ”بارش ہوگی اور اگر بارش نہ ہوئی تو ہمارے مریدوں پر رحمت نازل ہوگی“ اس اشتہار کے بعد مرزا صاحب نے نزول باران کے لیے خوب دعائیں کیں۔ مگر ان دعاؤں کا اثر یہ ہوا کہ خوب امساک باران ہوا اور بادلوں نے قسم کھالی کہ ایک قطرہ آب زمین پر نہیں گرنے دیں گے اور مریدوں پر رحمت یہ ہوئی کہ جب ڈپٹی کمشنر لاہور کو اس اشتہار کا علم ہوا تو وہ بیچارہ رات بھر اشتہار ”مرہم عیسیٰ“ کو شہر کے بازاروں اور گلی کوچوں

صفحہ 428

سے اتروانے میں حیران و پریشان رہا (عصائے موسیٰ، صفحہ ۳۷۹) اسی طرح مرزا صاحب نے پنجاب میں طاعون پھوٹ پڑنے کا اعلان کیا اور لکھا کہ چونکہ لوگوں نے مجھے مسیح موعود نہیں مانا اس لیے ان پر یہ قہر مسلط کیا گیا ہے۔ مرزا صاحب طاعون کے لیے خوب دعائیں کرتے رہے لیکن طاعون نے بھی عہد کر لیا کہ پیشین گوئی کے زمانہ میں بلکہ اس کے بہت عرصہ بعد تک پنجاب کا رخ نہیں کرے گا۔ غرض پیشین گوئی کی انتہائی معیاد سرما ۱۹۰۰ء میں ختم ہوگئی اور خلق خدا بفضلہ تعالیٰ ہر طرح سے امن و امان میں رہی۔ (عصائے موسیٰ، صفحہ ۳۷۹) اسی طرح منشی محمد رمضان کے نکاح کے متعلق پیشین گوئی کی اور خوب دعائیں کیں مگر پیش گوئی جھوٹی نکلی۔ (عصائے موسیٰ، صفحہ ۳۸)

مرزا صاحب کا الہام اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء میر عباس علی مرحوم لدھیانوی کے حق میں غلط نکلا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرحوم مرزا صاحب سے منحرف ہو کر مقابلہ کے لیے للکارتے اور ان کے خلاف اشتہار شائع کرتے رہے۔ (عصائے موسیٰ، صفحہ ۳۹) قادیانی صاحب کا رؤیا و الہام اول فرزند کی نسبت تھا لیکن لڑکی ہوئی۔ جب منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ مؤلف کتاب ”عصائے موسیٰ“ نے جو ان دنوں دام افتادگان قادیاں کی صف اول میں تھے امرتسر میں مرزا صاحب سے کہا کہ آپ نے تو لڑکے کا حلیہ بھی مجھ سے بیان کیا تھا تو جواب دیا کہ علم تعبیر میں ایسا ہی ہے کہ اگر لڑکا دیکھا جائے تو لڑکی مراد ہوتی ہے۔ (عصائے موسیٰ، صفحہ ۴۰) الہامی صاحب نے مولانا محمد حسین بٹالوی کے والد شیخ رحیم بخش مرحوم کے متعلق پیش گوئی کی کہ ”وہ ایک سال کے اندر اس سرائے فانی سے کوچ کر جائیں گے“ اور پھر ان کے مرنے کی خوب دعائیں کیں لیکن یہ معیاد بہت طویل ہوگئی اور مرحوم نے گورستان کی طرف قدم اٹھانا کسی طرح منظور نہ کیا۔ مرزائی کہہ سکتے ہیں کہ ”توبہ و انابت کی بنا پر ان کی عمر بڑھ گئی ہوگی“ منشی الٰہی بخش نے اس حیلہ گری کا یہ جواب دیا ہے کہ مرزا صاحب کی فرمودہ معیاد میں تو انہوں نے رخت سفر نہ باندھا۔ البتہ ”اٹکل بازی“ کی مد میں وہ ضرور سرائے فانی میں پڑے رہے۔ (عصائے موسیٰ، صفحہ ۴۱) الہامی صاحب نے سردار بہادر سید امیر علی پنشنر کے لیے تولد فرزند کی دعا کی اور اس کے عوض میں اپنے لاہوری دلالوں منشی عبدالحق پنشنر اکاؤنٹنٹ اور منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ مصنف عصائے موسیٰ کے توسط سے جو اس وقت تک مرزائیت کے جال میں پھنسے ہوئے تھے پانچ سو روپیہ

صفحہ 429

کی رقم پیشگی وصول کر لی لیکن سید امیر علی کی مراد پوری نہ ہوئی۔ فرزند نرینہ تولد نہ ہوا۔

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۸‘ صفحہ ۱۴۶)

باب ۲۱

مصر، شام اور فلسطین کے مفتیان عظام کا فتویٰ

علمائے مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے فتویٰ کے کچھ مدت بعد مصر، شام اور فلسطین کے مفتیان عظام کے فتوے بھی ہندوستان پہنچ گئے جن میں قادیانی کو بالاتفاق مرتد اور خارج از اسلام قرار دیا گیا تھا۔ مصر کے فتویٰ پر شیخ محمد نجیب مفتی اعظم اور علامہ طنطاوی جوہری کے دستخط تھے۔ اس فتویٰ کا ترجمہ حسب ذیل ہے۔ ”غلام احمد ہندی کی کتاب ”مواہب الرحمٰن“ کے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتا ہے مگر آپ کے خاتم الانبیاء ہونے سے یہ مراد نہیں لیتا کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا بلکہ اس کے زعم میں ختم نبوت سے ختم کمالات نبوت مراد ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بجز اس کے جو آپ کی امت میں ہو اور آپ کا کامل پیرو ہو اور اس نے آپ کی روحانیت سے پورا پورا فیض اور آپ کی روشنی سے کامل روشنی حاصل کی ہو۔ ایسے کامل پیرو کے لیے مغائرت کا مقام نہیں رہتا اور نہ یہ نبوت محمدی سے الگ کوئی دوسری نبوت ہے بلکہ یہ خود احمد ہی ہے جو دوسرے آئینہ میں ظاہر ہوا ہے۔ کوئی شخص خود اپنی صورت پر جس کو اللہ تعالیٰ آئینہ میں دکھاتا اور ظاہر کرتا ہے غیرت نہیں کرتا۔ پس جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو وہ ہو بہو وہی ہے“

اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ ”غلام احمد حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبوت کے جاری رہنے کا عقیدہ رکھتا ہے اس کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے اتباع سے نبی ہے اور اس کی نبوت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے مغائر نہیں بلکہ وہ ہو بہو محمد ہے“ حالانکہ یہ عقیدہ صریح کفر اور اللہ تعالیٰ کے فرمان وما کان محمد الخ کے خلاف ہے یہ بیان منجملہ ان دعاوی کے ہے

صفحہ 430

جو غلام احمد ہندی کے کذب پر دلالت کرتے ہیں۔ مصطفیٰ کامل پاشا مرحوم رئیس حزب الوطن اور مالک اخبار اللواء قاہرہ نے اس کی کتاب مواہب الرحمٰن کا رد لکھا تھا اور غلام احمد کو ضال و مضل بتایا تھا اور اس کے اقوال کو نجاست کی طرح دیوار پر ڈال دینے کے لائق لکھا تھا۔

شام کا فتویٰ جس کا نام ”خلاصۃ الرد فی انتقاد مسیح الہند“ ہے۔ علامہ مفتی محمد ہاشم السید الخطیب الحسینی القادری کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مسیح ہندی کاذب ہے وہ اور اس کے پیرو دائرہ اسلام میں داخل نہیں۔ اسکندرانی نے اور تمام جرائد نے اس کا رد کیا ہے اور تمام مسلمان اس یقین پر جازم ہیں کہ قادیانی ملحد اور کافر ہے۔ (بیانات علمائے ربانی، صفحہ ۱۱۶۔ ۱۱۷) بیت المقدس کے فتویٰ پر مفتی اعظم سید محمد امین حسینی کے دستخط ہیں۔ اس فتوی کا خلاصہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اس پر صریح ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں۔ اس عقیدہ پر ساری امت کا اجماع ہے اس کے خلاف اعتقاد رکھنا کفر اور اسلام سے خروج ہے۔ پس جو شخص نبوت کے جاری رہنے کا عقیدہ رکھے وہ مرتد ہے۔ اس ارتداد کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ (بیانات علمائے ربانی، صفحہ

۱۸۳)

باب ۲۲

اہل و عیال اور خویش و اقارب سے قطع تعلق

قرابت داروں سے میل جول رکھنے اور حسن سلوک سے پیش آنے کو صلہ رحمی کہتے ہیں۔ صلہ رحمی بھی شریعت اسلام کے موکد ترین احکام میں داخل ہے۔

احادیث نبویہ میں خویش نوازی کی تاکید

سرور انام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب خالق کردگار مخلوق کو پیدا کر چکا تو رحم نے درخواست کی الٰہی! یہ وہ مقام ہے جہاں پناہ چاہنے والا قطع رحمی سے پناہ چاہے۔ رب

صفحہ 431

العالمین نے فرمایا، کیا تو اس امر پر راضی نہیں ہے کہ میں اس کو ملاؤں جو تجھے ملائے اور اس سے قطع کروں جو تجھ سے قطع کرے؟ رحم نے التماس کی الہی! میں یہی چاہتا ہوں (بخاری و مسلم) اور فرمایا کہ قاطع رحم (یعنی رشتہ کو کاٹنے والا اور اقرباء سے بگاڑ رکھنے والا) جنت میں داخل نہ ہوگا (ایضاً) اور فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں اللہ ہوں اور میں رحمان ہوں میں نے رحم کو پیدا کیا اور اس کو اپنے نام رحمن سے مشتق کیا۔ پس جو کوئی رحم کو ملائے گا (اور اس کے حق کی رعایت کرے گا) میں اس کو اپنی (رحمت کی طرف) ملاؤں گا۔ اور جو کوئی رشتے کو کاٹے گا تو میں اس کو کاٹوں گا (یعنی اپنی رحمت خاص سے محروم کردوں گا) (ابو داؤد) اور فرمایا رحم عرش کے ساتھ معلق ہو کر کہہ رہا ہے کہ جو کوئی مجھے ملائے اللہ تعالیٰ اس کو ملائے گا اور جو مجھے کاٹے اللہ تعالیٰ اس کو قطع کرے گا (بخاری و مسلم) اور فرمایا کہ اپنے نسب نامے یاد رکھا کرو تاکہ اس کے ذریعہ سے صلہ رحمی کر سکو۔ کیونکہ صلہ رحمی میں تین فائدے ہیں باہمی محبت و ارتباط، کثرت مال اور عمر میں برکت (ترمذی)

اقرباء سے صحابہ کرام کا حسن سلوک

یہاں موقع کی رعایت سے بتایا جاتا ہے کہ صحابہؓ اور صحابیات رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اقرباء سے کس درجہ مربیانہ سلوک کرتے تھے۔ حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سعادت میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ جب امیر المومنین ابو بکر صدیقؓ نے مسند خلافت کو زینت بخشی تو انہوں نے حضرت خالدؓ بن ولید کی قیادت میں مسیلمہ کی سرکوبی کے لیے ایک لشکر جرار روانہ فرمایا۔ جناب فاروق اعظمؓ کے بھائی حضرت زیدؓ بن خطاب نے اسی لڑائی میں جرعہ شہادت نوش فرمایا تھا۔ حضرت عمرؓ کو اس قدر صدمہ ہوا کہ ان کا داغ مفارقت مدت العمر دل سے نہ مٹا۔ فرمایا کرتے تھے کہ جب پوروا ہوا چلتی ہے تو اس سے مجھے زیدؓ شہید کی خوشبو آتی ہے۔ (اسد الغابہ) ام المومنین حضرت حفصہؓ بنت حضرت عمرؓ نے اپنا گھر اپنے عم محترم حضرت زیدؓ بن خطاب کی صاحبزادی کو ہمیشہ کے لیے دے دیا تھا۔ (موطائے امام مالک) امیر المومنین عثمان بن عفانؓ نے اپنے عہد خلافت میں اپنے اقرباء کے ساتھ جو فیاضیاں کیں ان کی بناء یہی صلہ رحمی تھی۔ اس غیر

صفحہ 432

معمولی صلہ رحمی کا یہ انجام ہوا کہ آپ کے خلاف ایسی ہولناک بغاوت ہوئی کہ اسی میں آپ نے شربت شہادت پی لیا۔ اور جب آپ سے اپنے اعزاء و اقارب پر غیر معمولی نوازشات کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ گو حضرات ابوبکرؓ اور عمرؓ نے ایسا نہیں کیا لیکن میں حکم خدا کے موافق صلہ رحمی کرتا ہوں (طبقات ابن سعد) امیر معاویہؓ نے حضرت اسماء ذات النطاقینؓ بنت امیر المومنین ابوبکر صدیقؓ کو ایک لاکھ درہم دیے تھے۔ اسی طرح ایک جائداد حضرت عائشہؓ سے وراثتہً پائی تھی۔ حضرت اسماءؓ نے ایک لاکھ کی رقم اور وہ جائداد اپنے برادر زادہ قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق رحمتہ اللہ اور جناب بن ابو عتیق پر ہبہ کر دی (بخاری) امیرالمومنین عمر فاروقؓ نے اپنے عہد خلافت میں امہات المومنینؓ کا بارہ بارہ ہزار درہم سالانہ وظیفہ مقرر کر دیا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے ام المومنین زینبؓ بن جحش کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم بھیجا تو انہوں نے ساری رقم اپنے اقرباء میں تقسیم کر دی۔ (اسد الغابہ)

غیر مسلم اقرباء سے حسن سلوک کی اسلامی تعلیم

مسلمان تو مسلمان ہیں اسلام نے اپنے غیر مسلم اقرباء سے بھی اچھا برتاؤ برتنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حضرت اسماء ذات النطاقینؓ کی ماں شرف ایمان سے محروم رہی تھی اس لیے امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت اسماءؓ کی والدہ ان ایام میں بحالت کفر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ گئی جب کہ معاہدہ حدیبیہ کی بنا پر قریش سے ہنگامی مصالحت تھی۔ حضرت اسماءؓ حریم نبوت میں حاضر ہو کر عرض پیرا ہوئیں یا رسول اللہ! میری ماں مکہ معظمہ سے میرے پاس واپس آئی ہے لیکن وہ اسلام سے بیزار ہے۔ کیا ایسی حالت میں اس کی کچھ خدمت اور اس سے حسن سلوک کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا ہاں اس سے اچھا سلوک کرو اور اس کا حق ادا کرو (بخاری و مسلم) ام المومنین حضرت صفیہؓ خیبر کے یہودی سردار کی بیٹی تھیں۔ جنگ خیبر کے قیدیوں میں یہ بھی داخل تھیں۔ حضرت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کر کے ان کی خواہش کے بموجب ان سے عقد کر لیا تھا۔ عہد فاروقی میں ایک مرتبہ ام المومنین صفیہؓ کی لونڈی نے امیر المومنین عمرؓ سے جا کر یہ بات لگائی کہ ”ایک تو یہ اب تک یوم سبت

صفحہ 433

(سنیچر) کا احترام کرتی ہیں۔ سنیچر یہودیوں میں بڑا تعظیم کا دن تھا۔ لونڈی کا یہ مطلب تھا کہ مسلمان ہو کر بھی ان میں اپنے آبائی دین کا اثر ہے۔ دوسرے یہود پر حد سے زیادہ نوازشیں کرتی ہیں۔ ان کو عطیات سے نوازتی ہیں“ حضرت فاروقؓ نے ام المومنین سے دریافت کرایا کہ آپ کی لونڈی نے یہ شکوہ کیا ہے۔ ”ام المومنین صفیہؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جب سے حق تعالیٰ نے مجھے جمعہ کا مبارک دن عطا فرمایا میں نے سبت سے کبھی محبت نہیں کی رہے یہود سو ان سے میری قرابت ہے۔ میں صلہ رحمی کے خیال سے ان کو ضرور دیتی ہوں اور ان پر نوازشیں کرتی ہوں“ اس کے بعد ”ام المومنین نے لونڈی سے دریافت فرمایا کہ اس شکایت کا منشا کیا تھا؟ لونڈی نے کہا مجھے شیطان نے ورغلایا تھا۔ کوئی اور مالکہ ہوتی تو اس چغلی پر جیسا کچھ سلوک کرتی محتاج تشریح نہیں۔ لیکن برگزیدہ خلق سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف مصاحبت نے امہات المومنینؓ میں اخلاق حمیدہ کے وہ جوہر پیدا کردیئے تھے کہ جن کی نظیر کسی زمانہ کی مخدرات عالیہ میں نہ پائی جائے گی۔ ام المومنینؓ نے بجائے اس کے کہ لونڈی کو کچھ سزا دیتیں فرمایا جا میں نے تجھے آزاد کیا“ (استیعاب) ایک مرتبہ حضور خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاروق اعظمؓ کو ایک ریشمی جوڑا عطا فرمایا تو انہوں نے اس کو اپنے ایک مشرک بھائی کے پاس بھیج دیا جو مکہ معظمہ میں رہتا تھا۔ (ابو داؤد)

قادیانی صاحب کی ہمسایہ دشمنی

مرزا علی شیر بیگ مسیح قادیاں کے حقیقی ماموں کے بیٹے اور حقیقی نسبتی بھائی تھے۔ مزید براں سمدھی یعنی فضل احمد کے خسر بھی تھے۔ اتنے حقوق قرابت کے علاوہ ہمسایہ بھی تھے کہ دونوں کے گھروں کے درمیان صرف ایک دیوار حائل تھی۔ اسی طرح مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین عم زاد بھائی ہونے کے علاوہ ہمسایہ بھی تھے۔ الہامی صاحب کی ان سب سے دشمنی تھی۔ اگر بد نصیبی سے حقوق قرابت کو نظر انداز کر دیا تھا۔ تو مسیح زمان صاحب کم از کم حقوق ہمسائیگی ہی کو نگاہ رکھتے لیکن افسوس کہ حضرت مسیح موعود کو کسی تعلق کا پاس و لحاظ نہ تھا۔ شریعت حقہ نے ہمسایہ کے جو حقوق مقرر فرمائے ہیں اس کا اندازہ اس روایت سے ہو سکتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایک بکری ذبح کی۔ پڑوس

صفحہ 434

میں ایک یہودی رہتا تھا۔ گھر والوں سے پوچھا کہ یہودی ہمسایہ کے پاس گوشت بھیجا یا نہیں؟ اور خدا کے برگزیدہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جبریل امین نے مجھ کو ہمسایوں کے ساتھ حسن سلوک کی اس شدت سے تاکید کی کہ میں سمجھا کہ شاید ہمسایہ کو بھی شریک وراثت بنا دیا جائے گا۔ (ابو داؤد) علماء نے لکھا ہے کہ سب سے زیادہ حق مسلمان ہمسایہ رشتہ دار کا ہے کہ حق ہمسائیگی اور حق اسلام اور حق قرابت اس کے تین حقوق ہیں۔ دوسرے درجہ پر مسلمان ہمسایہ ہے کہ اس کو حق ہمسائیگی اور حق اسلام ہے اور جس کا ایک حق ہے وہ کافر ہمسایہ ہے۔ مسیح قادیاں صاحب نے جن حضرات سے بد سلوکی اور دشمنی کی انہیں حق قرابت، حق اسلام اور حق ہمسائیگی تینوں قسم کے حقوق حاصل تھے۔ احادیث نبویہ سے ثابت ہے کہ ہمسایہ سے بد سلوکی کرنے والا جہنم میں جائے گا چنانچہ مسند امام احمد میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا ”یا رسول اللہ! ایک عورت ہمیشہ دن کو روزہ رکھتی ہے اور رات بھر عبادت کرتی ہے لیکن باایں ہمہ اپنے ہمسایہ کی دل آزاری کرتی ہے“ فرمایا جہنم میں جائے گی۔ یاد رہے کہ ہمسایہ کا صرف یہی حق نہیں کہ اس کو ایذا نہ دی جائے کیونکہ یہ بات تو اینٹ پتھر میں بھی پائی جاتی ہے کہ ان سے کوئی ایذا نہیں، بلکہ سچا مسلمان وہ ہے جس کو ہمسایہ ایذا دے تو وہ نہ صرف ضبط و تحمل سے کام لے بلکہ مروت و احسان سے پیش آئے۔ ایک بزرگ نے کسی سے ذکر کیا کہ ہمارے گھر میں چوہے بہت ہوگئے ہیں اس نے کہا آپ بلی کیوں نہیں پال لیتے۔ انہوں نے فرمایا بلی پالنے میں یہ خطرہ ہے کہ مبادا بلی کی آواز سن کر چوہے ہمسایوں کے گھروں میں چلے جائیں۔

قطع رحمی کا عام اعلان

۲؍ مئی ۱۸۹۱ء کو مرزا غلام احمد نے ”اپنی پہلی بیوی اور اس کے دونوں بیٹوں مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کے عاق کرنے کا اعلان زیر عنوان اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین متین“ شائع کیا جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ مسیح صاحب اپنے خاص سنگدلانہ انداز میں لکھتے ہیں۔

ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز نے ایک دینی خصومت کے پیش آجانے کی وجہ سے

صفحہ 435

ایک نشان کے مطالبہ کے وقت اپنے ایک قریبی رشتہ دار مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم و الہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالٰی کی طرف سے یہ مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیلدار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ جنہوں نے اس کو بیٹا بنایا ہوا ہے وہی اس مخالفت پر آمادہ ہو گئی ہیں۔ اور یہ سارا کام اپنے ہاتھ میں لے کر اس تجویز میں ہیں کہ عید کے دن یا اس کے بعد اس لڑکی کا کسی سے نکاح کیا جاوے۔ اگر یہ اوروں کی طرف سے مخالفانہ کاروائی ہوتی تو ہمیں درمیان میں دخل دینے کی کیا ضرورت اور کیا غرض تھی۔ امر ربی تھا اور وہی اس کو اپنے فضل و کرم سے ظہور میں لاتا۔ مگر اس کام کے مدار المہام وہ لوگ ہوگئے ہیں جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی۔ اور ہرچند سلطان احمد کو سمجھایا اور بہت تاکیدی خط لکھے کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا۔ اور تمہارا کوئی حق نہیں رہے گا۔ مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیا۔ اور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی اگر ان کی طرف سے ایک تیز تلوار کا مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کے اور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ سلطان احمد ان دو بڑے گناہوں کا مرتکب ہوا۔ اول یہ کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی مخالفت کرنی چاہی اور یہ چاہا کہ دین اسلام پر تمام مخالفوں کا حملہ ہو۔ اس نادان نے یہ نہ سمجھا کہ خدا وند قدیر و غیور اس دین کا حامی ہے۔ دوم سلطان احمد نے مجھے جو میں اس کا باپ ہوں سخت ناچیز قرار دیا اور میری مخالفت پر کمر باندھی۔ سو چونکہ اس نے دونوں طور کے گناہوں کو اپنے اندر جمع کیا اور ایسا ہی اس کی دونوں والدہ نے کیا۔ سو چونکہ انہوں نے کوئی تعلق مجھ سے باقی نہ رکھا اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے میں معصیت نہ ہو لہٰذا میں آج کی تاریخ سے کہ دوسری مئی ۱۸۹۱ء ہے عوام اور خواص پر بذریعہ اشتہار ہذا ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے اور وہ تجویز جو اس لڑکی کے ناطہ اور نکاح کرنے کی اپنے ہاتھ سے یہ لوگ کر رہے ہیں اس کو موقوف نہ کر دیا اور جس شخص کو انہوں نے نکاح کے لیے تجویز

صفحہ 436

کیا ہے اس کو رد نہ کیا بلکہ اس شخص کے ساتھ نکاح ہو گیا تو اسی نکاح کے دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اور اسی روز سے اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے۔ اور اگر اس (مرزا سلطان احمد) کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو طلاق نہ دے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا۔ اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی اور قرابت اور ہمدردی دور ہو جائیں گے۔ اور کسی نیکی بدی، رنج و راحت شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہ رہے گی۔

(تبلیغ رسالت)

بیٹے کی نماز جنازہ پڑھنے سے پہلوتہی

افسوس ہے کہ الہامی صاحب کو اس افتراق انگیز اعلان کے وقت اتنا خیال نہ آیا کہ لوگ اس اشتہار کو پڑھ کر مطعون کریں گے کہ بڑھاپے میں ایک لڑکی کے عشق میں اس درجہ آپے سے باہر ہوئے کہ یگانوں سے بھی چھری کٹاری ہو رہی ہے۔ حقیقت میں اس اعلان کا منشا یہ تھا کہ کسی طرح وہ لوگ جن کے ہاتھ میں محمدی بیگم کی منگنی اور نکاح کا عقدہ ہے، مرعوب ہو کر احمد بیگ کو مجبور کریں کہ وہ اپنا لخت جگر الہامی صاحب کے حوالے کر دے۔ اس اشتہار میں مرزا سلطان احمد صاحب کو ان پر جھوٹے الزام لگا کر اس لیے نشانہ ملامت بنایا گیا کہ کسی طرح محمدی بیگم کی حقیقی خالہ جس نے مرزا سلطان احمد کو بیٹا بنا رکھا تھا خوف زدہ ہو جائے۔ اسی طرح اپنے چھوٹے بیٹے فضل احمد کی منکوحہ عزت بی بی کو طلاق دلانے کی اس لیے دھمکی دی کہ عزت بی بی کی ماں جو محمدی بیگم کی حقیقی پھوپھی تھی اپنی بیٹی کی خانہ بربادی کے تصور سے کانپ اٹھے اور اپنے بھائی کو مجبور کرے کہ محمدی بیگم کو اس بوڑھے کے پلے باندھ دے۔ اگر الہامی صاحب نے اس نکاح کو اپنے صدق و کذب کا معیار نہ ٹھہرایا ہوتا تو گمان غالب تھا کہ اپنی ان تھک کوششوں میں کامیاب ہو جاتے۔ لیکن چونکہ خدائے کردگار کی رحمت نوازی کو جو اپنی مخلوق پر مرکوز تھی قادیانی صاحب کے کذب پر مہر توثیق ثبت کرنا منظور تھا ہر جدوجہد ناکام و نامراد رہی۔ اور قساوت قلبی کا کمال دیکھو کہ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نے بیٹے تک کی نماز جنازہ پڑھنے سے اعراض کیا۔ چنانچہ فتاویٰ احمدیہ میں ہے کہ آپ (مرزا صاحب) کا ایک بیٹا (فضل احمد) فوت ہوگیا، جو

صفحہ 437

آپ کی زبانی طور پر تصدیق کرتا تھا جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے کہ آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے جاتے تھے کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا۔ لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے۔ (فتاوائے احمدیہ‘ ص ۳۸۱)

خود را فضیحت و دیگران را نصیحت

الہامی صاحب نے ۴ مئی ۱۸۹۱ء کو اپنے سمدھی مرزا علی شیر بیگ کے نام جو خط لکھا اس میں یہ الفاظ بھی تھے۔ میں نے خط لکھا کہ ”پرانا رشتہ مت توڑو‘ خدا تعالیٰ سے خوف کرو“۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ مرزا صاحب کے نزدیک رشتہ توڑنا بڑی گناہ کی بات تھی لیکن آگے چل کر خود اسی خط میں لکھتے ہیں کہ ”مجھے خدا کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لیے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا“ اسی طرح سمدھن صاحبہ کے نام جو چٹھی روانہ کی اس میں لکھا کہ ”میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا“۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ دوسروں کے لیے قطع رحمی حرام تھی لیکن مسیح صاحب کے لیے جائز تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسیح صاحب نے ڈنکے کی چوٹ اس شناعت کا ارتکاب کیا اور عزم جزم اور تکرار و اعادۂ جرم پر بار بار قسمیں کھائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”خود را فضیحت و دیگران را نصیحت“ بھی قادیاں کی خانہ زاد مسیحیت کا جزو لاینفک تھا۔ خصوصاً بیوی اور بیٹوں سے قطع تعلق کا جو اعلان اوپر درج ہوا وہ تو قادیانی مسیحیت کی نہایت ہی واضح تفسیر ہے۔

قطع رحمی کے جواز کا مرزائی عذر لنگ

مسیح صاحب نے اپنی خواہشات نفسانی کے عزم تکمیل میں قطع رحمی کا جو وسیع اور پیہم و مسلسل کاروبار شروع کر رکھا تھا اسے دنیا کے کسی مذہب و ملت کا کوئی ذی عقل انسان کبھی پسند نہ کرے گا۔ ظاہر ہے کہ جب اپنوں کے ساتھ ایسا معاندانہ سلوک تھا‘ تو غیروں کے ساتھ تو کیسی خصومتیں ہوں گی؟

تو بہ دوستاں چہ کردی کہ کنی بہ دشمناں ہم تا کہ واجب آمد ز تو احتراز کردن
صفحہ 438

اس قطع رحمی کے متعلق مرزائی لوگ اپنے مسیح موعود کی طرف سے یہ صفائی پیش کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کے ”اعزا و اقارب ان سے سخت عناد رکھتے تھے اور ہر وقت درپئے تخریب و ایذا رہتے تھے“۔ اس عذر لنگ کا جواب یہ ہے کہ الہامی صاحب کا ”شریفانہ“ طرز عمل تو خود ان کے اشتہار مجریہ ۴؍ مئی ۱۸۹۱ء سے جو اوپر درج ہوا اور ان خطوط سے جو انہوں نے ۴؍ مئی ۱۸۹۱ء کو مرزا علی شیر بیگ اور ان کی بیوی کے نام روانہ کیے صاف ظاہر ہے۔ اور اگر اقرباء کی طرف سے بھی کبھی کوئی رد عمل ظہور میں آیا یا بالفرض محال الہامی صاحب انتہا درجہ کے مظلوم تھے، جنہیں ہر وقت ستایا جاتا تھا تو بھی مسلمان کہلانے کی صورت میں انہیں حضرت رحمت عالم و عالمیاں صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات گرامی پر عمل پیرا ہونا چاہیے تھا۔

عن ابن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیس الواصل بالمکافی و لکن الواصل الذی اذا قطعت رحمہ وصلھا۔ رواہ البخاری۔

حسب روایت حضرت عبداللہ بن عمروؓ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صلہ رحمی کرنے والا وہ شخص نہیں، جو احسان کے بدلے احسان کرے (کیونکہ غیر مسلم بھی ایسا کرتے ہیں) بلکہ واصل رحم وہ شخص ہے جو خویشوں کے جور و ظلم کے مقابلہ میں ان سے بھلائی اور احسان کرے۔

ایک اور روایت میں حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص عرض پیرا ہوا ”یا رسول اللہ! میں اپنے اقرباء سے اچھا سلوک کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع کرتے ہیں۔ میں ان سے احسان کرتا ہوں وہ برائی سے پیش آتے ہیں۔ میں ان سے درگزر کرتا ہوں وہ میرے حق میں تشدد برتتے ہیں“۔ یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہی حال ہے تو گویا وہ گرم راکھ پھانک رہے ہیں اور جب تک تم اس صفت پر ثابت قدم رہو گے حق تعالیٰ کی عون و نصرت ان کے مقابلہ میں تمہاری مددگار رہے گی۔ (رواہ مسلم)

مسیح قادیاں کی انصاف پسندی

مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ میں حکم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ لیکن ان کے عدل و انصاف کا یہ عالم تھا کہ مطلوبہ کے حصول کی خاطر اپنے فرزند فضل احمد کو مجبور کیا کہ وہ اپنی

صفحہ 439

منکوحہ (عزت بی بی) کو بلاوجہ و بے قصور طلاق دے دے اور جب فضل احمد نے اخلاقی جرات سے کام لے کر اپنی بے گناہ بیوی کو طلاق دینے سے پہلو تہی کی تو اس سے قطع تعلق کر لیا۔ اسی طرح مرزا سلطان احمد نے بھی محمدی بیگم کو اپنی ماں کی سوکن بنانے میں کوئی عملی اقدام نہ کیا‘ تو انہیں عاق اور محروم الارث کر دیا حالانکہ یہ سخت درجہ کی معصیت تھی۔ اسی طرح مرزا سلطان احمد و فضل احمد کی والدہ کی کوششیں محمدی بیگم کو اپنے شوہر کے پہلو میں لا بٹھانے میں بار آور نہ ہوئیں یا اس عفیفہ نے سرے سے اس قسم کی جدوجہد ہی نہ کی تو ان کے بھی دشمن ہوگئے۔ اور جب یہ محترم خاتون اسلامی تعلیمات کے بموجب اپنے نیک سرشت بھائی اور دوسرے اقرباء سے قطع تعلق کرنے پر رضامند نہ ہوئیں‘ تو مسیح صاحب نے ان کو گھر سے نکال دیا یا بقول میاں بشیر احمد طلاق دے دی۔ یہ دردناک حالات رئیس قادیاں کی پہلی جلد میں بالتفصیل گزر چکے ہیں۔ اسی قسم کے بیسیوں واقعات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ قادیاں کے مسیح صاحب کس قسم کے حکم اور کس درجہ کے انصاف پسند تھے۔

باب ۲۳

ملہم قادیاں کا کشف کہ دنیا میں میرے سوا

غلام احمد قادیانی کسی کا نام نہیں

قادیاں کے رئیس صاحب کی عادت تھی کہ محض ظن و تخمین یا قرائن حالیہ کی بنا پر ہوائی قلعہ تعمیر کرتے اور اسے الہام و القا کا لباس پہنا کر پراپیگنڈا شروع کر دیتے تھے‘ لیکن چونکہ وہ دعویٰ محض خیال آفرینی کی بنیادوں پر قائم ہوتا تھا‘ بعد کو بغلیں جھانکنے اور ذلت اٹھانے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوتا تھا۔ انہوں نے کتاب ازالہ اوہام ۳ ستمبر ۱۸۹۱ء کو شائع کی تھی۔ اس کتاب میں لطیفہ کے زیر عنوان ایک نہایت مضحکہ خیز کشف لکھ کر یار لوگوں کے لیے ہنسنے بولنے کا سامان فراہم کر دیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ چند روز کا ذکر ہے کہ ”اس

صفحہ 440

عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الآیات بعد الماتین ہے ایک یہ بھی منشا ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے، تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے ”غلام احمد قادیانی“۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیاں میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں، بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں“۔ (ازالہ طبع پنجم، ص۷۷)

لیکن قاضی فضل احمد لدھیانوی نے کتاب کلمہ فضل رحمانی میں اس کشف یا الہام کی خوب مٹی پلید کی اور لکھا کہ ”مرزا صاحب کو کنوئیں کے مینڈک کی طرح اپنی قادیاں کے سوا دنیا میں کوئی اور موضع قادیاں نظر نہ آیا۔ حالانکہ ان کی قادیاں کے علاوہ خاص ضلع گورداسپور میں ہی قادیاں کے نام سے دو اور گاؤں موجود ہیں۔ جن میں سے ایک میں غلام احمد صاحب قریشی مرزا صاحب کے ایک ہم عمر اور ہم عصر موجود تھے۔ اسی طرح ضلع لدھیانہ میں بھی قادیان نام کا ایک گاؤں موجود ہے۔ وہاں کے ایک نمبردار کا نام غلام احمد تھا۔ پس جس وقت مرزا صاحب کو یہ الہام ہوا یا کشف ہوا اسی وقت کم از کم دو اور غلام احمد قادیانی دنیا میں کیا خود پنجاب میں موجود تھے“۔

پس ظاہر ہے کہ مرزا صاحب کا الہام یا کشف بالکل لغو اور مہمل تھا۔ اب ذرا مرزائیوں کی مضحکہ خیز سخن سازی ملاحظہ ہو۔ دوست محمد مرزائی نے کتاب آئینہ احمدیت (صفحہ ۸) میں جسے احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور نے ۱۹۳۴ء میں شائع کیا تھا لکھا ”پس آپ (مرزا صاحب) کا منشا اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ دنیا میں آپ (مرزا صاحب) کے سوا کوئی دوسرا شخص غلام احمد قادیانی کے مرکب نام سے موسوم نہیں۔ اس نام سے کوئی اور شخص بھی رہتا تھا تو اس سے آپ کے دعوے کی تغلیط نہیں ہوتی کیونکہ آپ نے نہ قادیاں نام کے کسی اور گاؤں کی نفی کی ہے اور نہ وہاں غلام احمد کے نام سے کسی شخص کی موجودگی کا انکار کیا ہے۔ انکار اگر ہے تو غلام احمد قادیانی کے مرکب نام رکھنے والے شخص کا ہے“۔

صفحہ 441

لیکن یہ بیان محض ابلہ فریبی اور طفل تسلی کی حیثیت رکھتا ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ جو غلام احمد قادیاں کا رہنے والا ہے وہ غلام احمد قادیانی نہیں؟ اور اگر بالفرض محال دوست محمد صاحب کا بیان قابل التفات سمجھا جائے‘ تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ نمبردار اور قریشی صاحب اپنے تئیں غلام احمد قادیانی کے مرکب نام سے موسوم و معروف نہ تھے؟

باب ۲۴

مباہلہ کی تحریک اور مسیح قادیاں

کی طرف سے ٹال مٹول

قادیانی صاحب اور ان کے حواریوں نے دوسرے ملاحدہ و زنادقہ زمان کی طرح قرآن‘ حدیث اور آثار سلف کو اپنی نفسانی خواہشات کے ماتحت موم کی ناک بنا رکھا تھا‘ اس لیے مولوی عبدالحق غزنوی امرتسری اور بعض دوسرے حضرات کی خواہش تھی کہ طریق بحث و مناظرہ سے قطع نظر قادیانی صاحب سے مباہلہ کریں اور ان پر اور ان کے گلے بندوں پر حجت قائم کر دیں۔ مگر مباہلہ کا نام سن کر قادیانی صاحب کی روح فنا ہوتی تھی۔ اس لیے جب کبھی کسی طرف سے مباہلہ کی صدا بلند ہوتی تو مرزا صاحب بلطائف الحیل ٹال جاتے تھے کیونکہ جانتے تھے کہ انہوں نے محض حطام دنیوی کی خاطر مسیحیت اور مہدویت کا ڈھونگ رچا رکھا ہے اور ان کے تقدس کی ساری کائنات لفاظی اور سخن تراشی ہے۔ اسی بنا پر ڈرتے تھے کہ کہیں مباہلہ کر کے خود اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان مہیا نہ کرلیں۔ آخر جب سردار محمد علی خاں مالیر کوٹلوی نے‘ جو ہر مہینہ اسی روپے بھیج کر قادیانی صاحب کی مٹھی گرم کیا کرتے تھے‘ دیکھا کہ قادیانی صاحب مباہلہ سے جی چراتے ہیں تو ان کے نام ایک چٹھی لکھ کر مباہلہ کی تحریک کی۔ خاکسار راقم الحروف سردار محمد علی خاں کی چٹھی پر تو دسترس نہیں پا سکا۔ البتہ ذیل میں قادیانی صاحب کے جواب کا خلاصہ مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ سے نقل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا۔

میرے پیارے دوست نواب محمد علی خاں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم و رحمتہ

صفحہ 442

اللہ و برکاتہ‘ آپ کا محبت نامہ عین انتظار میں مجھ کو ملا جس کو میں نے تعظیم سے دیکھا اور ہمدردی اور اخلاص کے جوش سے حرف بحرف پڑھا۔ یہ عاجز چاہتا ہے کہ ایک مجلس علماء کی جمع ہو اور ان میں وہ لوگ بھی جمع ہوں‘ جو مباہلہ کی درخواست کرتے ہیں۔ پہلے یہ عاجز انبیاء کے طریق پر شرط نصیحت بجا لائے اور صاف صاف بیان سے اپنا حق ہونا ظاہر کرے۔ جب اس وعظ سے فراغت ہو جائے تو درخواست کنندہ مباہلہ اٹھ کر یہ کہے کہ وعظ میں نے سن لیا مگر میں اب بھی یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص کاذب اور مفتری ہے اور اس یقین میں شک و شبہہ کو راہ نہیں بلکہ روئیت کی طرح قطعی ہے۔ ایسا ہی مجھے اس بات پر بھی یقین ہے کہ جو کچھ میں نے سمجھا ہے وہ ایسا شک و شبہہ سے منزہ ہے کہ جیسے روئیت‘ تب اس کے بعد مباہلہ شروع ہو۔ مباہلہ سے پہلے کسی قدر مناظرہ ضروری ہوتا ہے تا حجت پوری ہو جائے۔ کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی نبی نے ابھی تبلیغ نہیں کی اور مباہلہ پہلے ہی شروع ہو گیا۔ غرض اس عاجز کو مباہلہ سے ہرگز انکار نہیں۔ یہ عاجز ان شاء اللہ ایک ہفتہ تک کتاب ازالہ اوہام کے اوراق مطبوعہ آپ کے لیے طلب کرے گا مگر شرط یہ ہے کہ ابھی آپ کسی پر ان کو ظاہر نہ کریں۔ اس کا مضمون اب تک امانت رہے۔ (خاکسار غلام احمد) (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۴‘ صفحہ ۱۴۔ ۱۵)

حضرات! آپ نے دیکھا کہ الہامی صاحب نے کس ہوشیاری سے ناقابل قبول قیود پیش کر کے مباہلہ سے بچنا چاہا۔ جب قادیانی صاحب کو اپنا پروپیگنڈا کرتے کئی سال گزر چکے تھے اور ملک کا ہر اعلیٰ ادنیٰ باشندہ ان کی ملحدانہ تعلیمات سے واقف تھا تو پھر مباہلہ سے پہلے کسی نئے وعظ مناظرہ کا مطالبہ بالکل لغو بات تھی۔ بہرحال یہی مہمل و لایعنی شرائط تھے‘ جنہوں نے الہامی صاحب کو دو سال تک مباہلہ کی مصیبت سے بچائے رکھا۔

باب ۲۵

بشارت مسیح ہونے کے دعویٰ پر

مسلمانوں میں عام ہیجان

صفحہ 443

الہامی صاحب نے اپنے رسالہ ”فتح اسلام“ میں جو ۲۲؍ جنوری ۱۸۹۱ء کو شائع ہوا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس سے مسلمانوں میں بڑی شورش پھیلی اور عامۃ المسلمین میں ان کے خلاف جذبہ نفرت پیدا ہو گیا۔ اس سے خائف و متاثر ہو کر قادیانی صاحب نے اپنے دعوے کی وضاحت ضروری خیال کی چنانچہ اس غرض سے ”توضیح مرام“ کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا۔ اس سے اہل اسلام میں اور زیادہ ہیجان پیدا ہوا کیونکہ ”فتح اسلام“ میں تو الہامی صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا، ”توضیح مرام“ میں نبوت کے بھی مدعی بن بیٹھے۔ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے عقائد کفریہ کا بھی اظہار کیا۔ اس رسالہ کی اشاعت سے اور زیادہ ہلچل مچی تو ”ازالہ اوہام“ نام کی ایک کتاب شائع کی۔ اس کتاب نے نفرت و حقارت کی آگ پر تیل کا کام دیا کیونکہ اس میں دوسرے مارقانہ عقائد کے علاوہ رسالت کا دعویٰ بھی موجود تھا۔ اور پھر رسالت بھی وہ جس کا سورۂ صف کی آیت و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا کہ میں تمہیں ایک رسول کی بعثت کی بشارت دیتا ہوں جن کا نام نامی احمد ہوگا) میں ذکر ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے دوسرے کفریات کا بھی اظہار تھا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات سے جن کا قرآن عزیز میں متعدد مقامات پر تذکرہ ہے انکار کیا اور نہ صرف حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام سے فوقیت کا دعویٰ کیا بلکہ دوسرے انبیاء علیہ الصلوٰۃ و السلام سے بھی علم و فہم میں فائق ہونے کے مدعی ہوئے۔ اس پر مستزاد یہ کہ خود حضرت سید المرسلین فخر بنی آدم علیہ الصلوٰۃ و السلام اور آپ کے اصحاب اخیار اور اتباع اتقیاء پر بھی فوقیت کی رٹ لگانی شروع کی۔ اور پھر اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ ان تمام نفوس کی توہین و تذلیل کے بھی مرتکب ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عالم اسلام میں قادیانی کے خلاف در و دیوار سے تکفیر و تضلیل کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔

باب ۲۶

قادیانی کے کفر و ارتداد پر علماء ہند کا اتفاق

صفحہ 444

جو شخص انسانی لباس میں درندگی کر رہا ہو‘ علم و تقویٰ کی عبائے فریب پہن کر بے دینی اور بد عقیدگی پھیلا رہا ہو‘ علمائے امت کا فرض منصبی ہے کہ خدائے جلیل کی کمزور مخلوق کو گمراہی اور کج روی سے بچانے کے لیے اس کے نمائشی علم و فضل کی قلعی کھول دیں۔ جب قادیانی صاحب نے خلق خدا پر شب و روز دام تزویر ڈالنا شروع کیا‘ تو مولانا محمد حسین مرحوم بٹالوی نے قادیانی صاحب کی کتابوں کی الحاد پرور اور زندقہ آفرین عبارتیں نقل کر کے ایک استفتا مرتب کیا اور اطراف و اکناف ملک کا سفر کر کے جلیل القدر علمائے امت کے آراء و خیالات دریافت کئے۔ تمام حاملین شریعت نے بالاتفاق قادیانی صاحب کے کفر و ارتداد کا فتویٰ دیا اور انہیں ملت اسلامی سے خارج اور مرتد قرار دیا۔ بعض علماء کے اسمائے گرامی اور ان کے فتووں کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

مولانا لطف اللہ علی گڑھی

مولانا لطف اللہ علی گڑھی نے لکھا کہ جس شخص کے یہ عقیدے ہیں وہ بے شک دائرہ اسلام سے خارج‘ ملحد و زندیق ہے۔ نعوذ باللہ من شرورہ۔

مولانا شمس الحق عظیم آبادی

قادیانی نے مذہب الحاد و بے دینی اختیار کیا ہے اور نصوص کتاب و سنت کو ان کی جگہ سے پھیرنا چاہا ہے۔ جس پر کوئی مسلمان جرات نہیں کر سکتا۔

مولوی محمد صدیق دیوبندی

جس حالت میں کہ قادیانی وجود ملائکہ سے منکر ہے۔ مطلق ختم نبوت کا قائل نہیں۔ صرف تشریعی نبوت کو ختم بتاتا ہے۔ اس کے عقائد قرآن و حدیث کے خلاف ہیں۔

مولوی محمد عادل لکھنوی

جو عقائد قادیانی کے سوال میں منقول ہیں وہ بلاشبہ باطل ہیں۔ اس کے مقالات کاذبہ

صفحہ 445

برسام اور سرسام والوں کے سے ہیں۔ یہ شخص بے بصیرت ہونے کی وجہ سے حق اور باطل میں تمیز نہیں کر سکتا۔ اس کے ہفوات شریعت اسلامی کے خلاف ہیں۔ وہ یقینا ملت اسلام کے دائرہ سے خارج ہے۔

مولانا حسین عربی

مولانا حسین بن الحسن انصاری عربی یمانی مقیم بھوپال نے لکھا مرزا قادیانی دجال‘ کذاب کا طریق گمراہوں کا طریق ہے، جو اس کے گمراہ ہونے میں شک کرے وہ بھی ویسا ہی گمراہ ہے۔ میں نے اس کے مفتریات کی رد میں ایک رسالہ لکھا ہے۔ خدا اس کو اس کے مفتریات کی سزا دے۔

مولانا احمد حسن کانپوری

مولانا احمد حسن مدرس مدرسہ اسلامیہ کانپور نے لکھا کہ ”قادیانی کی تحریریں عقائد اہل سنت و جماعت کے خلاف ہیں۔ وہ اس شیطان سے بھی زیادہ حق سے دور ہے جو اس سے کھیل رہا ہے“۔

مولانا اشرف علی تھانوی

ایسے عقائد کا معتقد کتاب اللہ کی بنیادوں کو منہدم کرنے والا، سنت رسول اللہ کو خاک میں ملانے والا، اجماع مسلمین کا مقابلہ کرنے والا ہے۔

مولانا عبدالغفار لکھنوی

قادیانی ہفوات جمہور اسلام کے عقائد کے خلاف ہیں اس کے توہمات ایسے ہیں، جیسے غول بیابانی کے دانت۔ خدا اس کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دے اور مسلمانوں کو اس کے اور تمام شیاطین الانس کے مکائد سے بچائے۔

صفحہ 446

مولانا عبدالجبار عمر پوری مقیم آگرہ

قادیانی گروہ نے بدعت ضلالت نکالی ہے۔ نصوص میں تحریف کی ہے اور ان باتوں کا جو دین میں بداہتہً ثابت ہیں انکار کیا ہے۔ وہ اور اس قماش کے دوسرے لوگ دین کے چور اور دجالوں میں سے ہیں۔ خدا اس کو توبہ کی توفیق دے یا ذلت آفریں عذاب میں مبتلا کرے۔

مولانا احمد حسن دہلوی کلکٹر حیدر آباد دکن

ایسے اعتقادات رکھنے والا ملحد اور ظاہر شریعت کا منکر ہے اور اس کا حکم مخفی نہیں ہے۔

مولانا نذیر حسین دہلوی

مرزا غلام احمد قادیانی اسلام خصوصاً مذہب اہل سنت سے خارج ہے۔ اس کے بعض عقائد و مقالات یونانی فلاسفہ کے ہیں۔ بعض پیروان وید یعنی ہنود سے لیے گئے ہیں۔ بعض نصاریٰ سے ماخوذ ہیں۔ اس کا طریقہ ملحدین باطنیہ وغیرہ اہل ضلال کا سا ہے۔ اس کے دعواۓ نبوت اور اشاعت اکاذیب اور ملحدانہ طریق کی وجہ سے وہ یقیناً ان تیس دجالوں میں سے ہے، جن کی اطلاع حضرت مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی اور اس کے پیرو و ہم مشرب ذریت دجال ہیں۔ اگر اس عمل و اعتقاد کا شخص خدا کا ملہم و مخاطب ہو تو انبیاء و ملہمین سابقین کا الہام پایہ اعتبار سے ساقط ہوجاتا ہے۔ قادیانی کا کواکب و سیارات و افلاک کے لیے نفوس و ارواح تجویز کرنا یونان کے فلاسفہ اشراقیین اور ہنود کا مذہب ہے۔ چنانچہ قادیانی نے توضیح المرام کے صفحہ ۳۳ پر اپنا یہی عقیدہ لکھا ہے قادیانی کا بطور استعارہ ابن اللہ کہلانے کو تجویز کرنا پوری نصرانیت ہے۔ بائبل سے ثابت ہے کہ عیسائیوں نے بھی استعارہ کے طور پر خدا کے پیارے اور مطیع بندوں کو ابن اللہ کہا ہے اور قرآن میں ان کے اس قول کی حکایت کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں اسی کی طرف اشارہ ہے۔ مگر یہی استعارہ ان لوگوں کے مشرک ہوجانے اور مخلوق کو حقیقتہً خدا کا بیٹا

صفحہ 447

قرار دینے کا موجب ہوا‘ تو قرآن و اسلام آیا اور اس محاورہ کو دور کیا۔ اب قادیانی نے پھر اس محاورہ کو رائج کرنا چاہا ہے۔ اور قادیانی کا محدث ہونے کا دعویٰ کرنا اس ذریعہ سے ایک قسم کا نبی کہلانا اور نبوت جزئی کے دروازے کو مفتوح کہنا بھی قرآن کا انکار ہے۔ قادیانی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر چڑھایا جانا تجویز کرنا نص قرآنی وما قتلوه و ما صلبوه سے انکار ہے اور اس میں اس نے نیچریوں کی تقلید کی ہے جو عیسائیوں کے مقلد ہیں۔ قادیانی کا حضرت مسیح کے معجزات سے انکار کرنا قرآن کا انکار ہے۔ قادیانی کا حدیث نبوی کو مفسر قرآن نہ ماننا ضلالت ہے۔ اہل سنت و جماعت میں مسلم ہے کہ حدیث قرآن کی مفسر اور اس کے اجمال کی مبین ہے۔ قادیانی کا اپنی پیروی کو مدار نجات ٹھہرانا بھی انتہا درجہ کی گمراہی ہے کیونکہ ایسا دعویٰ انبیاء علیہم السلام کے سوا کسی کو نہیں پہنچتا۔ قادیانی کا یہ کہنا کہ حیات مسیح علیہ السلام کا اعتقاد رکھنا شرک ہے۔ اس کا ان تمام صحابہ و تابعین و تبع تابعین اور آئمہ مجتہدین اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک سے آج تک کے تمام مسلمانوں کو جو حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ سمجھتے ہیں اور قیامت سے پہلے ان کے نزول کے معتقد ہیں مشرک بنانا ہے۔ قادیانی کا یہ عقیدہ جیسا کفر ہے محتاج تشریح نہیں‘ غرض یہ شخص اسلام سے قطعا خارج ہے۔

مولانا عبدالحق مفسر حقانی دہلوی

یہ شخص منجملہ ان دجالوں کے ایک دجال ہے جن کی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔ مگر بڑا بھاری دجال بلکہ اس کا عم و خال ہے۔ اگر پنجاب میں آزادی اور الحاد کا دریا اسی طرح موجزن رہے گا اور اس کے بعد کوئی موٹا تازہ دولت مند خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے گا تو سینکڑوں سادہ لوح پنجابی اس کے بھی مرید ہو جائیں گے۔ خدا قادیانی کو ہدایت نصیب کرے۔

مولانا محمد حسین بنارسی

ہم نے مرزا غلام احمد کے رسالے فتح اسلام‘ توضیح المرام وغیرہ دیکھے اور ان میں وہ

صفحہ 448

مقالات و عقائد جو فتوے میں نقل کیے ہیں۔ ہمارے نزدیک ان عقائد کا معتقد اور ان مقالات کا قائل احاطہ اسلام سے خارج اور دجال کذاب ہے۔

مولانا محمد عبداللہ غازی پوری

میں نے اوراق سوال کو آخر تک پڑھا اور مرزا کے عقائد و مقالات کو اس کی اصل تصانیف میں بھی دیکھا۔ یہ شخص دجال کذاب اور اہل سنت و جماعت سے خارج ہے۔

مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی

مرزا فقر اور اہل صلاح کا لباس پہن کر خلق خدا کو گمراہ کر رہا ہے۔ جو لوگ اس کی ملمع سازیوں کا ابطال کر رہے ہیں وہ اس کا اجر حق تعالیٰ سے پائیں گے۔

مولانا محمد بشیر سہسوانی مقیم بھوپال

مرزا قادیانی ان عقائد و مقالات کی وجہ سے اسلام سے خارج اور دجالین کذابین کی جماعت میں داخل ہے۔ ایسے عقائد و اقوال کے ساتھ کوئی شخص شرعاً و عقلاً ملہم و مجدد نہیں ہو سکتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آخر زمانہ میں دجال کذاب پیدا ہوں گے‘ جو تم کو ایسی باتیں کہیں گے جو تم نے اور تمہارے بزرگوں نے نہ سنی ہوں گی۔ خبردار ان سے بچتے رہنا۔ مبادا وہ تم کو گمراہ کر دیں۔

مولانا محمد ادریس جھنجھانوی

جس شخص کے ایسے عقیدے ہوں‘ جو مرزا غلام احمد کے بیان کیے گئے ہیں‘ وہ شخص کافر بلکہ اکفر ہے۔

مولانا غلام محمد بگوی خطیب شاہی مسجد لاہور

جس شخص کے ایسے عقیدے ہوں وہ گمراہ ہے۔ اس قسم کے عقیدے پہلے کبھی سننے

صفحہ 449

میں نہ آئے تھے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے عقائد و اقوال سے بچیں اور شریعت حقہ کی پیروی کا التزام کریں۔

مولانا غلام احمد مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور

میں نے مرزا غلام احمد کو معجزات و کرامات اور کمالات انبیاء علیہم السلام کا منکر پایا۔ وہ قرآن و حدیث کی تحریف کرتا (یعنی اس کے معنے بگاڑتا) ہے۔ میرے نزدیک یہ شخص ملحد و مرتد ہے، جو اس کا مصدق و مؤید ہے وہ بھی گمراہ ہے۔ خدا مسلمانوں کو اس فتنے سے بچائے۔

مفتی محمد عبداللہ ٹونکی اورینٹل کالج لاہور

میں نے قادیانی کے وہ اقوال جو استفتا میں درج ہیں پڑھے اور ان کو اس کی اصل تصانیف میں بھی ملاحظہ کیا۔ یہ اقوال شریعت اسلام کے خلاف ہیں۔ میرے نزدیک یہ شخص احاطہ اسلام سے خارج اور قرآن و حدیث کے اتباع سے باہر ہے۔

مولانا رحیم بخش مصنف سلسلہ تعلیم اسلام لاہور

جس شخص کے یہ عقیدے ہیں وہ اسلام کے شارع عام سے دور ہے۔ جن لوگوں کو ایسے عقائد کی طرف میلان ہوگیا ہے انہیں چاہیے کہ نجات اخروی کے لیے اپنے شبہات علماء سے حل کریں۔ رسالہ فتح الاسلام، توضیح المرام و ازالہ اوہام مولفہ مرزا غلام احمد قادیانی میں، جو یہ اعتقاد و مسائل درج ہیں کہ مسیح موعود میں ہوں۔ ملائکہ بذات خود اپنے وجود سے زمین پر نہیں آتے اور انبیاء پر نہیں اترتے، صرف ان کی تاثیر نازل ہوتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جسم مبارک کے ساتھ معراج نہیں ہوئی۔ عیسیٰ علیہ السلام مردہ کو باذن اللہ زندہ نہیں کرتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کا عصا حقیقی سانپ نہیں بنا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ پر چار جانور زندہ نہیں ہوئے، جن کا قرآن پاک میں تذکرہ ہے بلکہ یہ مسمریزم کا عمل تھا۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے عقائد قرآن و حدیث اور سلف

صفحہ 450

صالح کے طریقہ کے خلاف ہیں۔

مولانا احمد علی مدرس مدرسہ اسلامیہ بٹالہ

عقائد مخترعہ قادیانی عقائد حقہ جمہور اہل اسلام کے خلاف ہیں۔ پس ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ان کی تردید کرے۔ سچے مہدی کی یہ علامت ہے کہ ان کے زمانے میں زر و مال کی اتنی بہتات ہو گی کہ کوئی شخص زکوۃ قبول کرنے والا نہ ملے گا۔ قادیانی کے بعض حواری اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ مرزا صاحب بھی بذریعہ اشتہارات انعام کا وعدہ کرتے ہیں اور کوئی قبول نہیں کرتا مگر اس تاویل کی بیہودگی بالکل ظاہر ہے۔ ایک علامت یہ بتائی گئی ہے کہ لوگوں کو مال و دولت سے نفرت اور عبادت کی بڑی رغبت ہو گی۔ لیکن آج کل تو یہ حالت ہے کہ ہر شخص دنیا سمیٹنے میں منہمک ہے یہاں تک کہ عموماً ایک پیسہ سجدہ سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ ایک بہت بڑی علامت یہ ہے کہ لوگوں میں باہمی بغض و عداوت اور کینہ و حسد بالکل نہ رہے گا۔ باب تاویل میں مرزا صاحب نیچریوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ دعا ہے کہ خدائے برتر انہیں، انہیں عقائد حقہ پر عود کرنے کی توفیق دے جن پر امت محمدیہ کا اجماع ہے۔

مولانا محمد اسحاق مفتی پٹیالہ

ہم نے قادیانی کے رسالے توضیح، فتح اور ازالہ نہایت غور سے دیکھے۔ قادیانی کے عقائد مخترعہ قرآن و حدیث کی تعلیم اور صحابہ کرام و سلف صالح کے عقائد کے خلاف ہیں۔ ایسا شخص بلاشبہ دائرہ اسلام سے خارج اور حدیث نبوی من شذ شذ فی النار کا پورا مصداق ہے۔

مولانا محمد حسن فیضی ساکن بھین ضلع جہلم

قادیانی کے عقائد معتزلہ اور فلاسفہ کے سے عقائد ہیں۔ اہل سنت و جماعت ایسے عقائد سے کوسوں دور ہیں۔

صفحہ 451

حافظ عبدالمنان وزیر آبادی

میں نے قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو ان کو کفر و الحاد اور افتراء علی اللہ و الرسول سے مملو پایا۔ اس کا مسلک اہل الحاد و فساد کا طریق ہے۔ اس کا مذہب کجی و عناد ہے۔ وہ ان دجاجلہ میں سے ہے‘ جن کی مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔

مولانا محمد عبدالقادر سمانوی

قادیانی لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ خدا اور اس کے برگزیدہ رسول پر افتراء کرتا ہے۔ اسلام کا پیرو بن کر کفار کے طور طریقے پسند کرتا اور اس ذریعہ سے دنیا کماتا ہے۔

مولانا رشید احمد گنگوہی

مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تاویلات فاسدہ اور ہفوات باطلہ کی وجہ سے دجال کذاب اور طریقہ اہل سنت و جماعت سے خارج ہے۔ اس کے پیرو بھی اسی کی مانند ہیں۔

مولانا محمود حسن دیوبندی

جن مسائل کو قادیانی کی طرف منسوب کیا گیا ہے ان کو بلا شک نصوص قرآن و حدیث رد کر رہی ہیں اور وہ باجماع المسلمین مردود ہیں۔ جاہل یا گمراہ کے سوا ایسے عقائد کا معتقد کوئی نہیں ہو سکتا۔

مولانا عزیز الرحمن دیوبندی

قادیانی اور اس کے پیرو جو اعتقاد رکھتے ہیں وہ بلاشک الحاد اور شریعت کا ابطال ہے۔ اس پر کتاب و سنت کی شہادت نہیں پائی جاتی۔

مولانا خلیل احمد سہارنپوری

صفحہ 452

عقائد مندرجہ سوال مخالف کتاب اللہ معارض سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مناقض اجماع امت ہیں اور تاویلات مذکورہ از قبیل تحریفات و تکذیبات ہیں۔ اگر تاویلوں کا دروازہ اسی طرح کھولا جائے تو تمام دین درہم و برہم ہوجائے۔ مرزا کی محدثیت و ملہمیت محض تزئین نفس اور تسویل شیطان ہے۔ ان عقائد کا مخترع ضال و مضل بلکہ دجاجلہ میں سے راس رئیس ہے۔ حق تعالیٰ اپنے دین کی ایسے لوگوں سے حفاظت فرمائے اور ان کو رجوع الی الحق کی توفیق بخشے۔

مولانا محمد احتشام الدین مراد آبادی

مرزا غلام احمد کے بہت سے اقوال، عقائد اسلام کے خلاف ہیں۔ یہ شخص معجزات مسیح علیہ السلام کا منکر معلوم ہوتا ہے۔ اس کے بہت سے اقوال بدعت اور بعض کفر تک پہنچتے ہیں۔

مولانا فقیر اللہ شاہ پوری

مرزا غلام احمد ضال و مضل ہے۔ کذاب اور دین میں فساد ڈالنے والا ہے اس کے کفر و ارتداد میں کوئی شبہ نہیں۔

مولانا محمد امان اللہ دہلوی

جس شخص کے یہ عقیدے ہوں جو سوال میں درج ہیں۔ وہ نہ صرف اہل سنت و جماعت سے خارج بلکہ قطعاً زندیق و مرتد ہے۔

مولانا محمد اسماعیل علی گڑھی

یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ قادیانی وجود ملائکہ اور نزول جبریل کا منکر ہے۔ اور اس امر کا قائل ہے کہ ملائکہ ستاروں کی ارواح اور نفوس فلکیہ ہیں۔ اور اس کا عقیدہ ہے کہ لیلتہ القدر سے مراد وہ تاریک زمانہ ہے جس میں آسمانی برکات منقطع ہو جاتے ہیں۔ اور وہ

صفحہ 453

قائل ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر جانا اور نازل ہونا محال ہے۔ اور وہ قائل ہے کہ ختم نبوت سے نئی شریعت والی نبوت کا ختم ہونا مراد ہے، نہ مطلق نبوت کا ختم ہونا۔ اور وہ قائل ہے کہ مطلق نبوت کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مسیح کے آنے کا وعدہ دیا تھا اس سے عیسیٰ ابن مریم مراد نہیں بلکہ اس کا مثیل قادیانی مراد ہے، جس کو خدا نے قادیاں میں نازل کیا ہے۔ اور قائل ہے کہ قرآن و حدیث کے ظاہری معنی مراد نہیں اور خدا تعالیٰ اپنی مراد کو ہمیشہ استعاروں میں بیان کرتا ہے۔ اسی قسم کے اور بھی خرافات باطلہ اس سے ثابت ہیں، لہٰذا میرے نزدیک اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ وہ کافر بے دین اور شریعت محمدیہ کا دشمن ہے اور اس کو باطل کرنا چاہتا ہے۔

مولانا محمد ایوب ساکن کول

قادیانی شریعت محمدیہ کے اصول کا منکر ہے اور جو کوئی ان کا منکر ہو اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔ الٰہی ہمیں باطل سے بچائے رکھنا۔

مولانا وصیت علی غازی پوری

ہم نے جہاں تک مرزائے قادیانی کے اقوال دیکھے اور سنے ان کے رو سے وہ احاطہ اسلام سے خارج ہے۔

مولانا عبدالجبار غزنوی

ان امور کا مدعی جو سوال میں مذکور ہیں۔ رسول رب العالمین کا مخالف اور اس راہ کا پیرو ہے جو مومنوں کی راہ نہیں۔ علامہ علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاتفاق کفر ہے۔ قادیانی کے پیرو نصاریٰ کے پٹھو ہیں۔

صفحہ 454

مولانا عبدالغفور غزنوی

رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کذاب دجالوں کے ظہور کی اطلاع دی تھی قادیانی بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ یہ شخص چھپا مرتد اور باطنی اور قرمطی اور ان لوگوں میں سے ہے، جن کے حق میں سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے، جن میں نفسانی خواہشیں ایسا اثر کر جائیں گی، جس طرح دیوانہ کتا اس شخص پر اثر انداز ہوتا ہے جسے وہ کاٹ کھاتا ہے۔ اور اس کی کوئی رگ یا جوڑ اس کے اثر سے محفوظ نہیں رہتا اور ان لوگوں میں سے ہے جن کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے کذاب پیدا ہوں گے ان کے شر سے بچنا۔

مولوی عبدالحق غزنوی

قادیانی مرتد ہے۔ ضال، مضل، ملحد و دجال، وسوسہ ڈالنے اور ڈال کر پیچھے ہٹ جانے والا ہے۔ جس کو میرے بیان کی صحت میں شک ہو وہ مجھ سے مباہلہ کرلے۔

سید ظہور حسین قادری سجادہ نشین بٹالہ

مجھے اپنے بعض بھائیوں پر سخت افسوس ہے جو مرزا غلام احمد کی کتابوں بالخصوص توضیح المرام، فتح الاسلام، ازالہ اوہام کا مطالعہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان میں علانیہ عقائد مخالف شریعت غراء و ملت بیضاء درج ہیں اور پھر اس کو مسلمان سمجھ کر اس کی دوستی و محبت کا دم بھرتے ہیں۔ حالانکہ ایسے عقائد رکھنے والا شخص بلاریب زمرۂ اسلام سے خارج اور زمرۂ کفار میں داخل ہے۔ ہادی مطلق ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو ایسے اشخاص کی صحبت اور ان کی کتابوں کے مطالعہ سے مامون و مصئون فرمائے۔ آمین۔

مولانا عبدالرحمن ساکن لکھوکی

جو عقائد کفریہ مرزا کے متعلق سوال میں مذکور ہیں ان میں سے ہر ایک کفر اس کے کافر ہونے کے لیے کافی ہے۔ اس کا بیان ہے کہ میرے الہام بھی کتاب اللہ کی طرح قطعی

صفحہ 455

ہیں لہٰذا وہ احادیث صحیحہ صریحہ کے مقابلہ میں مرتدانہ کلام کرتا ہے۔ ہر حدیث صحیح مرفوع ہے‘ جس کو علمائے حدیث نے بالتحقیق ثابت کیا ہے بالاجماع واجب القبول ہے اس کا مکذب کافر و مرتد ہے اس میں کشف یا الہام کا حیلہ قابل قبول نہیں ہے۔ اگر حدیث متواتر ہے تو اس کا منکر قطعی کافر ہے۔ ورنہ ظنی کافر ہے۔ پس میری تحقیق میں قادیانی ملحد اور اشد المرتدین ہے۔ اس نے ازالہ کے صفحہ ۲۹۷ میں تمام اہل اسلام کو جو صحابہ سے لے کر آج تک ہوئے ہیں عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں پر ایمان لانے کی وجہ سے (معاذاللہ) خارج از ایمان قرار دیا ہے۔ اس ملحد نے عیسیٰ علیہ السلام کو بتقلید نصاریٰ صلیب پر چڑھا کر نص قرآنی سے انکار کیا ہے۔ قال اللہ تعالیٰ و ما صلبوہ اور عیسیٰ علیہ السلام کو یوسف نجار کا بیٹا لکھا ہے۔ فرشتوں کے عروج و نزول کا انکار کیا ہے جو صریح کفر ہے اور یہ مستلزم ہے اس کفر کو کہ قرآن پاک کلام الٰہی نہیں بلکہ ان ھذا الا قول البشر کیونکہ اس قول کے بموجب نہ کوئی جبریل آیا اور نہ خدا کا کلام زمین پر پہنچایا۔ خروج یاجوج ماجوج کا انکار بھی کفر صریح ہے۔ خروج دجال سے مسیح کذاب کا انکار‘ نبی اللہ ہونے اور احمد مبشر بالقرآن ہونے کا دعویٰ بھی کفر صریح ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ ماننا اس ملحد کی نصرانیت ہے۔ اور اپنی ذات کو ابن اللہ کا لقب دینا اس کی یہودیت ہے۔ چنانچہ یہود بھی کہا کرتے تھے نحن ابناء اللہ و احباءہ اور جو لوگ ان کفریات صریحہ کو صحیح مانتے ہیں یا مرزا کی بزرگی کے قائل ہیں ان میں بھی رائی برابر ایمان نہیں اور اس کی ملحدانہ تاویلیں خدا اور رسول سے استہزاء و تمسخر ہے۔

سید اکبر شاہ حنفی قادری پشاوری

تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ قادیانی پر کفر و الحاد کا حکم لگائیں اور اس سے کنارہ کش رہیں۔ اس کے اور اس کے پیروؤں کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔

مولوی محمد ایوب حنفی پشاوری

قاضی عیاضؒ نے شفا میں لکھا ہے کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد

صفحہ 456

نبوت کا مدعی ہو اور ریاضات اور صفائی قلب کے ذریعہ سے حصول نبوت کو جائز رکھے وہ کافر بے دین ہے اور اس کے کفر پر اجماع ہے۔ امام صابونی نے کفایہ میں لکھا ہے کہ آیات و احادیث کے ظاہر معنی سے بلا ضرورت عدول کرنا الحاد ہے۔ یہ ملحد قادیانی حضرت مسیح کا مثیل نہیں بلکہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کا مثیل ہے۔

مولوی رحمت اللہ پشاوری

عقائد مذکورہ سوال کے معتقد کو شیطان نے بہکا رکھا ہے۔ لوگ اس کو ہدایت کی طرف بلاتے ہیں مگر وہ نہیں آتا۔ اس کے فساد اعتقاد کی علت یہ ہے کہ وہ القائے ربانی اور وسوسہ شیطانی میں امتیاز نہیں کر سکا۔ اور اپنے خطرات و وساوس کو قرآن، حدیث اور اجماع امت پر عرض کرنا چھوڑ بیٹھا ہے۔ اس پر واجب ہے کہ توبہ کرے۔

مولوی تاج الدین گجراتی

علماء نے قادیانی کی جو تکفیر کی ہے وہ صحیح ہے۔ اس کا کفر ثابت ہے اس کے عقائد کتاب و سنت کے خلاف ہیں۔ اس کا یہ کہنا کہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا مثیل ہوں۔ ایک باطل دعویٰ ہے۔ یہ شخص اسلام سے خارج ہے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”میری امت میں قریباً تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے، جو نبوت کا دعویٰ کریں گے حالانکہ میں نبیوں کا ختم کرنے والا ہوں“۔ یہ انہی تیس میں سے ایک ہے۔

مولوی ہدایت اللہ مقیم راولپنڈی

مجھے قادیانی کے بعض مریدوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور خود مرزا سے بھی الہام کے متعلق بالمشافہ ایک سوال کیا تھا۔ جس کے جواب میں وہ مبہوت و لاجواب رہ گیا تھا۔ علماء نے مرزا اور اس کے پیروؤں کے متعلق جو فتویٰ دیا ہے وہ بجا ہے۔ یہ گمراہ فرقہ اس سے بھی زیادہ کا مستحق ہے۔ حق تعالیٰ ان کو توبہ نصیب کرے اور اپنی مخلوق کو ان کے پنجہ اغواء سے بچائے۔

صفحہ 457

مولوی امام الدین کپور تھلوی

مرزا غلام احمد کی بعض تصانیف خاکسار کی نظر سے گزری ہیں۔ ایسے عقیدہ والا شخص اسلام سے خارج ہے۔ گزشتہ سال میں حرمین شریفین گیا تھا۔ علماء مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے سامنے قادیانی کے عقائد پیش کیے سب نے بالاتفاق جواب دیا کہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

مولوی اشرف علی ساکن سلطان پور ریاست کپور تھلہ

احقر الناس کو قادیانی کی نسبت اس کے ابتدائے امر میں بہت کچھ حسن ظن تھا۔ لیکن جب اس کی کتابوں فتح اسلام‘ توضیح المرام‘ اور ازالہ اوہام کے اکثر مضامین کتاب اللہ سنت رسول اللہ اور طریق سلف صالح کے خلاف نظر آئے تو معلوم ہوا کہ اس شخص کو فرقہ حقہ اہل سنت و جماعت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں نے قادیانی کے کشف حال کے لیے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی سے درخواست کی کہ باطنی طور پر ملاحظہ فرما کر ارشاد فرمائیں۔ انہوں نے اپنا مکاشفہ تحریر فرمایا کہ اس کا حال مختار ثقفی کا سا بتلایا گیا ہے‘ جو مرزا کی طرح ایک خانہ ساز نبی گزرا ہے۔ عاجز نے خود قادیانی کے متعلق دو دفعہ استخارہ کیا۔ پہلی مرتبہ اس کی مسجد کو ایسی صورت میں دیکھا کہ اس کا دروازہ شمال کی طرف اور پشت جنوب کی طرف ہے جس میں نماز پڑھنے سے جنوب کی طرف سجدہ ہوتا ہے۔ دوسری مرتبہ قادیانی صاحب بذات خود ایسی صورت میں دکھائی دیئے کہ مونچھیں قدر مسنون سے بہت بڑھی ہوئی ہیں۔ گویا کسی سکھ کی مونچھیں ہیں۔ میرے ایک دوست میاں گلاب خاں افغان ساکن کپور تھلہ حال وارد سلطان پور نے بھی اس کی نسبت استخارہ کیا تو جواب میں ایک ناپاک اور موذی جانور دکھائی دیا۔ علمائے ظاہر کے علاوہ اہل کشف و شہود بھی اس کے مفتریانہ خیالات سے سخت متنفر ہیں۔ اور فرماتے ہیں کہ بمصداق من لا شیخ لہ فشیخہ شیطان بغیر کسی شیخ کامل کے وادی طریقت میں قدم رکھنے سے شیطان کے پنجے میں گرفتار ہوگیا ہے اور اس کے وساوس کو الہامات ربانی سمجھ رہا ہے۔ العیاذ باللہ اس کی کتابوں سے اس کا

صفحہ 458

مدعی نبوت و رسالت ہونا صاف ظاہر ہے اس لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بموجب کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک قریباً تیس دجال کذاب ظاہر ہو کر دعوائے نبوت نہ کر لیں (بخاری و مسلم) یہ شخص بھی ان تیس میں سے ایک ہے اس نے توضیح المرام کے صفحہ ۱۸- ۱۹ پر محدث ہونے کے پیرایہ میں اپنا نبی ہونا صاف بتایا ہے۔ ایک جگہ یہ بھی لکھ دیا ہے ان النبی محدث و المحدث نبی مجھے اس شخص کی حالت پر بہت افسوس ہے حق تعالیٰ اس کو راہ راست پر لائے ورنہ اہل اسلام کو اس کے فتنہ سے بچائے۔

مولوی عبدالقادر ساکن بیگووال ریاست کپور تھلہ

قادیانی کا اعتقاد جو اس کی تصانیف سے ثابت ہے قرآن، حدیث، اجماع صحابہ و تابعین و آئمہ مجتہدین وغیرہ علمائے حق کے خلاف ہے۔ اس کی تصانیف میں معجزات مذکورہ قرآن کا صاف انکار پایا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اسے ہدایت کرے۔

مولوی عبدالرحمن دیوبندی

مرزا غلام احمد مسیح دجال کا مثیل و نظیر ہے۔ جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو اسے کبھی اتنی جرات نہیں ہوسکتی کہ حدیث رسول اللہ کو تفسیر قرآن ہونے کے درجے سے بھی گرا دے اور اپنے اقاویل باطلہ کو اتنا بلند کرے کہ ان کی بدولت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حدیثوں کا انکار کرے اور قرآن میں تحریف و تبدیل کرے۔ کیا اس نے قرآن میں یہ قول خداوندی نہیں پڑھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کہولت (ادھیڑ پن) میں کلام کریں گے؟ حضرت مسیح علیہ السلام نے زمین میں رہ کر کہولت میں کب کلام کیا ہے۔ جب تک حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی نہ مانی جائے قرآن پاک کا یہ ارشاد صادق نہیں آسکتا۔ تعجب ہے کہ یہ شخص آیات و احادیث میں استعارات باطلہ تجویز کرتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اپنے باطل الہامات میں ایسے استعارے کیوں جائز نہیں رکھتا تاکہ اس کو ان مفتریات سے نجات ہو اور خدا کی آیات بینات پر ایمان نصیب ہو۔

صفحہ 459

مولوی گل محمد خان دیوبندی

قادیانی کے عقائد‘ شریعت نبوی سے بالکل بیگانہ ہیں۔ اس نے اکثر عقائد اپنے تراش خراش سے ایجاد کیے ہیں‘ جو نہ کسی دین منزل کے موافق اور نہ کسی ضابطہ عقلی کے تحت میں داخل ہیں اور بعض عقائد یونانی دہریوں کے قوائد و اصول پر مبنی ہیں۔ منقول از رسالہ اشاعۃ السنۃ۔

باب ۲۷

فتاوائے تکفیر کے جواب میں فیصلہ آسمانی کی دعوت

مرزا جی نے اپنے مسلمان ہونے اور الزام کفر و ارتداد سے بچنے کے لیے جو علماء امت کے اتفاق رائے سے ان پر قائم ہوا۔ ۷؍ دسمبر ۱۸۹۱ء کو ”فیصلہ آسمانی“ کے نام سے ایک رسالہ شائع کیا۔ اس رسالہ کا خلاصہ مولوی محمد حسین نے اپنے ماہوار رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ میں درج کیا تھا۔ خاکسار نے یہ باب تمام تر اس سے اخذ کیا ہے۔

کفر و اسلام کا دلچسپ معیار

قادیانی صاحب کے فیصلہ آسمانی کا خلاصہ یہ ہے کہ مومن و کافر کا امتحان بحکم قرآن چار علامتوں سے ہوتا ہے۔

قبل از وقوع بتائے جاتے ہیں۔

اطلاع دی جاتی ہے۔

صفحہ 460

جاتے ہیں جو پہلے کسی مسلمان مفسر صحابی یا تابعی یا امام کو نہ سوجھے ہوں اور کسی تفسیر میں بیان نہ ہوئے ہوں۔

الہامی صاحب کے ان چہارگانہ علامات ایمانی اور ذرائع امتحانی میں ازراہ دور اندیشی ایک استثناء اور قید بھی لگا دی۔ اور صاف صاف لکھ دیا کہ یہ علامات اکثری ہیں‘ کلی نہیں چنانچہ بعض حالتوں میں یہ علامتیں مومن میں نہیں پائی جاتیں۔ بلکہ اس کے مقابلہ میں کافر کے اندر پائی جاتی ہیں۔ بعض بشارتیں مومن کو نہیں ملتیں کافر کو مل جاتی ہیں۔ مستقبل کے بعض وقائع مومن پر نہیں کھلتے کافر پر کھل جاتے ہیں۔ مومن کی بعض دعائیں اس بناء پر کہ تقدیر مبرم میں ان کی قبولیت نہیں لکھی گئی‘ شرف قبول سے محروم رہتی ہیں اور کافر کی دعائیں قبول ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات مومن پر قرآن کے عجائبات نہیں کھلتے۔ مولانا بٹالوی لکھتے ہیں کہ ”قادیانی صاحب نے یہ قید استثناء اس غرض سے لگائی کہ انہوں نے بے شمار اشخاص کے لیے دعائیں کیں اور ان کے عوض میں ہزارہا روپیہ لے کر ہضم کر گئے۔ چنانچہ رسالہ ”فتح اسلام“ کے صفحہ ۴۹ (طبع پنجم‘ صفحہ ۲۴) پر اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ دعاؤں کے خواستگاروں سے ہزارہا روپیہ آیا۔ حالانکہ اب تک وہ لوگ اپنے مقصد کو نہیں پہنچے اور قادیانی صاحب کی دعاؤں نے ان کو کچھ نفع نہ پہنچایا۔ قادیانی صاحب کو فیصلہ آسمانی لکھتے وقت یہ خطرہ دامن گیر ہوا کہ کہیں وہ لوگ اس ذریعہ امتحان کو سن کر قادیانی صاحب کو کافر نہ سمجھنے لگیں اور واپسی روپیہ کا مطالبہ نہ کریں اور چاروں طرف سے دیوانی نالشوں کی بھرمار نہ ہو۔ اس استثناء سے ان کا منہ بند کر دیا گیا اور ان کو جتا دیا کہ تقدیر مبرم میں حصول مقصد ان کی قسمت میں نہ لکھا تھا اس لیے ان کے حق میں دعاؤں کا اثر نہ ہوا۔ یہ ان کی قسمت کی خرابی ہے نہ کہ الہامی صاحب کی دعاؤں کا قصور۔

دعاؤں کے معاوضہ میں کتنی کتنی رقمیں وصول کیں؟

مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی لکھتے ہیں کہ الہامی صاحب نے ایک معزز رئیس اور ہمارے مہربان دوست جو سردار اور رسالدار پینشنر ہیں‘ ان کے گھر بیٹا متولد ہونے کی دعا کے لیے پانچ سو روپیہ یک مشت اور کئی متفرق رقمیں اپنے ایک دلال کے ذریعہ سے جو اہل

صفحہ 461

حدیث کہلاتے‘ آمین بالجہر اور رفع یدین کرتے ہیں‘ وصول کی ہیں لیکن لڑکا پیدا نہ ہوا۔ اسی طرح بعض متعلقین نواب محمد ابراہیم علی خاں والی ریاست مالیر کوٹلہ ہیں‘ جن سے نواب صاحب کے لیے دعا صحت کے وعدہ پر پانچ سو روپیہ وصول کیا مگر وہ اب تک صحت یاب نہیں ہوئے۔ اسی طرح ہمارے ایک دوست مولوی جلال الدین صاحب ساکن پیر کوٹ علاقہ حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ میں جو مرض نزول الماء سے محروم البصر ہو کر بڑی بڑی رقمیں لے کر قادیاں حاضر ہوئے اور اب تک اس مرض سے نجات نہیں پائی حالانکہ وہ اگر کسی ڈاکٹر کے پاس جا کر آپریشن کراتے تو غالباً اچھے ہو جاتے۔ اسی طرح اور لوگوں سے بھی بڑی بڑی رقمیں وصول کیں لیکن دعاؤں کا اثر خاک بھی ظاہر نہ ہوا۔ قادیانی صاحب نے اپنے اور اپنے مخالفوں کے ایمان کے امتحان کی یہ تجویز پیش کی کہ لاہور میں ایک بڑی انجمن قائم ہو۔ جس کے ممبر بشرط درخواست قادیانی صاحب کے مخالف بھی ہو سکتے ہیں ورنہ مرزا صاحب کے حاشیہ نشین اور موافقین ہی کافی ہیں۔ اس کمیٹی کی شاخیں دور دراز ممالک میں قائم ہوں۔ وہ کمیٹی یا کمیٹیاں دفتر اور رجسٹر بنائیں۔ اس دفتر میں مرزا صاحب اور ان کے مخالف علماء اپنی اپنی تحریریں متضمنہ بشارات و پیشین گوئیاں چار چار گواہوں کے شہادتوں کے ساتھ بھیجتے رہیں اور کمیٹی ان تحریروں کے مطالب کو اپنے رجسٹروں میں درج کر کے ان تحریروں کی رسیدیں تمام ممبروں یا کم از کم پانچ اشخاص کے دستخطوں کے ساتھ فریقین کو دیتی رہے۔ اور ان تحریروں کے نتیجہ کے ظہور پر اس کو اپنے رجسٹروں میں درج کرے اور اس پر تمام یا کم از کم پانچ ممبر دستخط کیا کریں۔ ایک سال کے بعد وہ کمیٹی فریقین کے سامنے ان کی بشارات اور پیشین گوئیوں کے نتائج کا موازنہ و مقابلہ کرے۔ پس جس فریق کی جانب کثرت ہو‘ یعنی اس کی بشارتیں اور پیشین گوئیاں فریق مقابل کی نسبت زیادہ سچ نکلیں اس کو مومن کامل تصور کیا جائے۔

ملک کے کوڑھیوں اور اندھوں کو لاہور میں جمع کرنے کی سکیم

اس کے بعد الہامی صاحب نے یہ اسکیم پیش کی کہ وہی کمیٹی مختلف مذاہب کے اہل حاجات اور مختلف مصائب میں مبتلا (مثلاً کوڑھی‘ اندھے‘ لنگڑے یا پھانسی یا حبس دوام بعبور دریائے شور کے سزا یافتہ یا اپنے عزیز مفقود الخبر کے غم زدہ یا لاولد ہونے کی مصیبت

صفحہ 462

میں مبتلا) لوگوں کو اشتہارات کے ذریعہ سے طلب کر کے اکٹھا کرے۔ اور ان سب کے نام بقید ولدیت و سکونت و پیشہ و مذہب و نوع مصیبت اپنے رجسٹروں میں درج کرے اور ایک مہینہ یا جس قدر مدت کے بعد کمیٹی مناسب خیال کرے درخواست کرنے والے اہل مصائب کی دو فردیں بنائے۔ اور ان کو قرعہ اندازی کے ذریعہ سے مرزا صاحب اور ان کے مخالف علماء میں تقسیم کر دے۔ جس فریق کے حصہ میں جس فرد کے اہل مصائب آئیں روز تقسیم سے ایک سال تک وہ فریق ان کے حق میں دعا کرتا رہے۔ پھر جس فریق کی دعا سے کثرت سے لوگ اچھے ہوں وہ فریق مومن کامل تصور کیا جائے۔ قادیانی صاحب نے لکھا کہ اس کمیٹی کے سامنے وہ اور مخالف مولوی قرآن شریف کے ایسے عجائبات معانی بیان کریں جو پہلے کسی تفسیر میں بیان نہ ہوئے ہوں، یعنی پہلے کسی مسلمان کو نہ سوجھے ہوں۔ پس جس فریق کے بیان کردہ معارف کمیٹی کے جلسہ میں صحیح اور خالی از تکلف ثابت ہوں وہ مومن کامل اور صاحب علم لدنی سمجھا جائے۔ قادیانی صاحب نے اس امتحان مقابلہ کی وجہ یہ بتائی کہ اگر وہ یکطرفہ نشان دکھائیں تو ان کے مخالف مولوی باور نہ کریں گے، اور عام لوگ چونکہ مولویوں کے تابع ہوتے ہیں لہٰذا وہ بھی ان نشانوں کو نہ مانیں گے۔ ہاں اگر مولوی لوگ وعدہ کریں کہ ہم مرزا صاحب کا یک طرفہ نشان دیکھ کر ان کو مسلمان مان لیں گے تو قادیانی صاحب یک طرفہ نشان دکھانے کو بھی حاضر ہیں۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۴‘ صفحہ ۹۔ ۱۳)

مولوی محمد حسین صاحب مرحوم لکھتے ہیں کہ جب قادیانی صاحب اپنے آسمانی فیصلہ کے اشتہار چھپوا چکے تو قادیاں میں ایک جلسہ منعقد کیا اور اپنے سر بر آوردہ مریدوں کو بلا کر یہ اشتہار سنایا اور اس کے ذریعے سے بہت سا روپیہ بھی وصول کیا اور جب مریدوں نے اس آسمانی فیصلہ کی تحسین کی تو مرزا صاحب کا کچھ غم غلط ہوا (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۴‘ صفحہ ۱۰) مولانا بٹالوی نے ”فیصلہ آسمانی“ کے ان مرزائی خرافات پر جو سیرحاصل و محققانہ تبصرہ کیا وہ رسالہ اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۴‘ میں (صفحات ۷۳۔ ۱۰۸) پر ملاحظہ فرمائیے۔

صفحہ 463

باب ۲۸

دجال اکبر کے ظہور سے انکار

احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ قرب قیامت سے پہلے ایک زبردست یہودی کانا سردار‘ جو نہایت درجہ کا عیار اور شعبدہ گر ہو گا‘ ظاہر ہو کر دھماچوکڑی مچائے گا اور آخرکار حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے ہاتھ سے مارا جائے گا۔ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دجال کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔ لفظ دجال دجل سے مشتق ہے اور دجل مکر و خدع اور کذب و تلبیس کے معنی میں مستعمل ہے۔ پس دجال بصیغہ مبالغہ سخت جھوٹے‘ فریبی اور تلبیس کنندہ کو کہتے ہیں اور دجال کا ان معانی میں پایا جانا ظاہر ہے کیونکہ وہ ربوبیت کا جھوٹا دعویٰ کر کے خلق خدا کو فریب دے گا۔ دجال کے کئی دوسرے وجوہ تسمیہ بھی قاموس میں لکھے ہیں اور مسیح کا لفظ حضرت روح اللہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اور کانے دجال میں اسم مشترک ہے یعنی دونوں کو مسیح کہتے ہیں۔ اول الذکر مسیح الہدیٰ ہیں اور موخر الذکر مسیح الضلالہ کہلاتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح اس لیے کہتے ہیں کہ جب آپ اندھے یا کوڑھی کو مسح کرتے تو وہ اچھا ہو جاتا۔ اس کے علاوہ اور وجہیں بھی بیان کی گئی ہیں اور دجال اس لیے مسیح کہلاتا ہے کہ اس کی ایک آنکھ ممسوح اور ہموار ہوگی‘ چنانچہ محاورہ میں ممسوح الوجہ اس شخص کو کہتے ہیں جس کے منہ کی ایک جانب ہموار ہو اور آنکھ اور بھنویں نہ ہوں اور نیز بدیں وجہ کہ وہ روئے زمین کا مسح کرے گا۔ یعنی قطع مسافت کر کے شرق و غرب میں پہنچے گا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ مسیح کی وجہ تسمیہ میں ہمارے پاس پچاس اقوال جمع ہوگئے ہیں۔ اسی طرح جھوٹے مدعیوں کو بھی دجال کہتے ہیں‘ کیونکہ ایک تو وہ دجال اکبر کے جانشین ہیں‘ دوسرے خود مسند دجل و تزویر پر بیٹھ کر مسلمانوں کے متاع ایمان پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ ان دجالوں کے متعلق بھی حضرت خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی موجود ہے۔

خروج دجال کی سو حدیثیں

صفحہ 464

ظہور دجال کے متعلق بے شمار حدیثیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں۔ قاضی شوکانی نے توضیح میں سو احادیث نبویہ نقل کی ہیں اور ان کے آخر میں لکھا ہے کہ خروج دجال کی حدیثیں متواتر ہیں اور گو تواتر کم تعداد سے بھی ثابت ہو جاتا ہے، تاہم میں نے سو حدیثیں نقل کر دی ہیں اور بہت سی دوسری حدیثوں اور بے شمار آثار صحابہ کو ترک کر دیا ہے۔ اسی طرح میاں محمد علی صاحب امیر جماعت مرزائیہ لاہور اپنی کتاب ”تحریک احمدیت“ میں لکھتے ہیں کہ احادیث دجال اس کثرت کے ساتھ ہیں اور اس قدر صحابہ سے مروی ہیں کہ ان کی مجموعی شہادت پر کسی قسم کا شبہ نہیں ہو سکتا۔ ان احادیث کو صحیح ترین کتب حدیث نے لیا ہے۔ بخاری اور مسلم میں بھی یہ احادیث موجود ہیں اور صرف مسند احمد میں ہی ایک سو کے قریب ایسی احادیث ہیں۔ (تحریک احمدیت، صفحہ ۱۱۹)

نصاریٰ یا پادری مدعی الوہیت نہیں

لیکن حق فراموشی کا کمال دیکھو کہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر تصریحات اور پیہم تعلیمات کے باوجود قادیاں کو حق و صدق کی راہ نظر نہ آئی اور میاں محمد علی اور ان کے گم کردہ راہ مقتدا انگریزوں یا نصاریٰ اور ان کے پادریوں کو دجال بتاتے رہے، حالانکہ دجال خدائی کا دعویٰ کرے گا، لیکن انگریز یا نصاریٰ یا ان کے پادری کبھی مدعی الوہیت نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ دجال کو عدو اللہ (دشمن خدا) کہا گیا ہے، پس اگر انگریز دجال ہیں تو وہ اعداء اللہ کی حمد و ثناء میں پچاس الماریاں کتابیں لکھیں اور ان کو اولوالامر بتایا، حالانکہ خدائے برتر نے فرمایا ہے۔ لا تتخذوا عدوی وعدو کم اولیاء (میرے اور اپنے دشمنوں سے دوستی نہ کرو) مرزائی کہتے ہیں کہ دجال عیسائی اور ان کے پادری ہیں، حالانکہ حضرت خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے فالدجال شر غائب ينتظر (دجال ایک برا غائب ہے کہ جس کا انتظار کیا جا رہا ہے--- رواہ الترمذی والنسائی) پس جس صورت میں کہ نصاریٰ اور ان کے پادری سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مسعود میں بھی موجود تھے، سرور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمانا کہ وہ ایک غائب فتنہ ہے جس کا انتظار ہے، قادیانیت کے قصر الحاد کو بالکل پیوند خاک کر دیتا ہے۔

صفحہ 465

باب ۲۹

قادیانی ملہم کا بیان کہ آنحضرتؐ پر

دجال کی حقیقت منکشف نہ ہوئی

حضور سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انبیاء و رسل کے سردار اور متمم دین و خاتم النبیین ہونے کی حیثیت سے علوم اولین و آخرین سے نوازا گیا تھا اور چونکہ آپ ہر وقت وحی الہی سے موید تھے، دینی تعلیمات میں آپ سے کسی خطا کا کوئی ادنیٰ احتمال بھی نہ تھا، اسی بنا پر رب ودود کی زبان وحی نے فرمایا ہے۔

فلا و ربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم ثم لا یجدوا فی انفسہم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما۔

(۴ - ۶۵)

(اے پیغمبر) ہم کو آپ کے پروردگار کی (یعنی ہم کو اپنی) قسم ہے کہ یہ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک اپنے اختلاف و نزاع میں آپ کو حکم نہ بنائیں اور پھر جو کچھ آپ فیصلہ کریں اس میں تنگ دل بھی نہ ہوں بلکہ دل و جان سے اس کو قبول کرلیں۔

غرض جو کوئی آپؐ کے فیصلوں کو اور آپؐ کے ارشادات گرامی کو تسلیم نہیں کرتا یا ان میں آپؐ کو خطاکار سمجھتا ہے، وہ اسلام کی نسبت کفر سے زیادہ قریب ہے، لیکن باوجود دعوئی اسلام اور اس اعتراف کے کہ ؎

باغ احمد سے ہم نے پھل کھایا میرا بستان کلام احمد ہے

(درثمین)

مرزا کی مارقانہ جسارت دیکھو کہ اس نے نبیوں کے سردار جناب احمد مختار صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو خاطی اور غلط کار اور حقیقت ناشناس ٹھہرایا اور یہ لکھتے ہوئے اس نے ذرا شرم محسوس نہ کی کہ:

صفحہ 466

”اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“

(ازالہ اوہام‘ طبع پنجم‘ صفحہ ۲۸۲)

اس کے یہ معنے ہوئے کہ جس بات کو حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نہ سمجھ سکے تھے‘ مرزا پر اس کی حقیقت کاملہ باوجود فاقد الایمان‘ ناقص العلم و العمل‘ مجسمہ امراض‘ تارک صلوٰۃ‘ تارک صوم‘ تارک زکوٰۃ‘ تارک حج‘ تارک و منکر جہاد‘ تارک ہجرت ہونے اور عیش کوشی‘ دنیا طلبی‘ صلیب پرستی کے مسیلمہ کذاب اور اس قماش کے دوسرے دجالوں کے نمونوں کی موجودگی کے باعث موبمو منکشف ہو گئی تھی۔ مرزا پر دجال کی حقیقت کاملہ کا جو موبمو انکشاف ہوا اس کی حقیقت مندرجہ ذیل مرزائی خرافات سے ظاہر ہوگی۔

سنين جن ميں دجال کی کیا انکشاف ہوا؟ حوالہ حقيقت کا انکشاف ہوا ۱۸۹۱ء دجال سے مراد حق پوش دنیا پرست لوگ ہیں۔ فتح اسلام‘ صفحہ ۸ ۱۸۹۱ء ممکن ہے کہ دجال سے با اقبال قومیں مراد ہوں۔ ازالہ‘ صفحہ ۶۳ ۱۸۹۱ء ابن صیاد (یہودی) ہی دجال ہے۔ ازالہ‘ صفحہ ۹۲ ۱۸۹۱ء دجال پادری لوگ (عیسائی) ہیں۔ ازالہ‘ صفحہ ۲۰۶ ۱۸۹۸ء دجال صناع لوگ اور کلوں کا کام کرنیوالے لوگ ہیں کتاب البریہ‘ صفحہ ۲۱۰ ۱۸۹۸ء دجال یورپ کے فلاسفر ہیں۔ کتاب البریہ‘ صفحہ ۲۱۰ ۱۹۰۲ء دجال نصاریٰ کے پادری نہیں ہو سکتے بلکہ دجال شیطان کا ........ اسم اعظم ہے۔ تحفہ گولڑویہ‘ صفحہ ۱۷۰ ۱۹۰۷ء دجال جھوٹ کے حامی کو کہتے ہیں۔ حقیقۃ الوحی‘ صفحہ ۳۱۲ ۱۹۰۷ء دجال شیطان کا نام ہے۔ حقیقۃ الوحی‘ صفحہ ۳۱۲ حکیم نورالدین دجال سونے (زر) کے معنی بھی دیتا ہے۔ تفسیر سورۂ جمعہ از کا بیان دجال تجارتی کمپنیوں کو بھی کہتے ہیں۔ نورالدین‘ صفحہ ۵۷ جریدۃ الفضل قادیاں نہرو رپورٹ دجال ہے۔ الفضل‘ ۳۰ اکتوبر ۱۹۲۸ء بیان میاں محمد علی‘ امیر دجال سے مراد غلبہ مسیحیت ہے۔ تحریک احمدیت‘ ۲۷-۲۶

صفحہ 467

جماعت مرزائیہ لاہور دجال عیسائی اقوام ہیں۔ تحریک احمدیت، صفحہ ۴۱ " دجال یاجوج ماجوج کا دوسرا نام ہے۔ "

یہ پندرہ مختلف بیانات ہیں جو مرزا صاحب اور ان کی امت پر تعلیمات اسلام سے روگردان ہونے کے بعد ٹیلی پیتھی کے فیضان القاء سے منکشف ہوئے۔

باب ۳۰

قادیاں کے متعلق امیر المومنین

عمر فاروقؓ کی پیشین گوئی

روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے عالم کائنات منصہ شہود میں آیا‘ بنی نوع انسان کو دجال کے فتنہ کے برابر نہ کبھی کسی ابتلاء سے سابقہ پڑا اور نہ آئندہ کبھی سابقہ پڑے گا۔ اس کی یہ وجہ ہے کہ دجال کو عارضی طور پر بعض ایسی ایسی قدرتیں دی جائیں گی جو خاصہ باری تعالیٰ ہیں۔ اسی بنا پر دجال الوہیت و خدائی کا مدعی ہوگا۔ مرزائی حرمان نصیبوں نے یہ حیلہ تراش کر ان غیبی اطلاعات کا انکار کر دیا ہے کہ کسی مخلوق میں ایسے خدائی اختیارات کا وجود کسی طرح ممکن نہیں‘ حالانکہ اگر خدائے قدیر کبھی کسی مصلحت کی بناء پر کسی میں محض جزئی حیثیت سے دو ایک ایسی طاقتیں عارضی طور پر ودیعت کر دے‘ جو رب العالمین کے سوا کسی کو حاصل نہیں‘ تو اس سے اس کا شریک خداوندی ہونا لازم نہیں آتا‘ چونکہ دجال کی پیشین گوئیوں میں اکثر باتیں سطحی عقل کی رسائی سے باہر ہیں اس لیے مرزا غلام احمد اور ان کے زندقہ پسند پیروؤں کو ان کی صحت سے انکار کرنے کا حیلہ ہاتھ آ گیا۔ انہی منکران نفاق پیشہ کے متعلق امیر المومنین عمرؓ نے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پیشتر ایک پیشین گوئی فرمائی تھی‘ جسے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے بدین الفاظ نقل کیا ہے۔ عن ابن عباس قال خطبنا عمرؓ فقال يايها الناس سيكون قوم من هذا الامة يكذبون بالدجال يكذبون بطلوع الشمس من مغربها و يكذبون بالرجم

(ازالۃ الخفاء‘ صفحہ ۱۸۱)

صفحہ 468

حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ امیر المومنین عمرؓ نے خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اے لوگو! اس امت مرحومہ میں ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو دجال کے ظہور اور آفتاب کے مغرب سے طلوع کرنے اور محصن زانی کے لیے رجم کی سزا کے مشروع ہونے سے انکار کرے گی۔

دیکھو حضرت فاروق اعظمؓ کی یہ پیشین گوئی قادیانی صاحب اور ان کی ضلالت پسند امت کے حق میں کس صفائی سے پوری اتر رہی ہے۔ مرزائی لوگ جس طرح ظہور دجال کے منکر ہیں اسی طرح انہیں قیامت کے قریب آفتاب کے مغرب سے طلوع کرنے اور محصن زانی کے لیے رجم کی سزا کے مشروع ہونے سے بھی انکار ہے۔ میرا خیال ہے کہ خود حضرت مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب فاروق اعظمؓ سے زنادقہ مرزائیہ کی اس سرشاری ضلالت کا تذکرہ فرمایا ہو گا۔

باب ۳۱

فرنگیوں کے دجال ہونے کا مسروقہ تخیل

خاکسار راقم الحروف کتاب ”ائمہ تلبیس“ میں سید محمد جونپوری مدعی مہدویت کے مفصل حالات قلم بند کر چکا ہے۔ ان کے پیروؤں کو مہدوی کہتے ہیں۔ تھوڑے حیدر آباد دکن اور بعض دوسری اسلامی ریاستوں اور ریاست جے پور میں مہدوی لوگ اب تک ہزاروں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ مہدویہ نے تیرہویں صدی کے اواخر میں ریاست حیدر آباد میں بڑی ہلچل مچائی تھی اور آج کل کے مرزائیوں کی طرح اہل سنت و جماعت کے خلاف فتنہ و فساد کا بازار گرم کیا تھا۔ جب ان کی شر انگیزیاں حد سے بڑھ گئیں تو مولانا محمد زمان خاں حیدر آبادی نے‘ جو مولانا عبدالحئی مرحوم لکھنویؒ کے شاگرد اور اعلیٰ حضرت شاہ دکن کے استاد تھے‘ ۱۲۸۵ھ میں مغلطات کی تردید میں ایک کتاب بنام ”ہدیہ مہدویہ“ لکھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مولانا مرحوم کو ۱۳۰۸ھ میں ایک مہدوی کے ہاتھ سے جام شہادت پینا پڑا۔ یہ وہ دن تھے جب کہ قادیاں کا معمار چودہویں صدی کے اعجوبہ روزگار مسیحیت و

صفحہ 469

مہدویت کی عمارت کھڑی کرنے کے لیے اینٹیں اور گارا جمع کرنے میں مصروف تھا۔ مرزا جی کو کتاب ”ہدیہ مہدویہ“ کیا ہاتھ لگی‘ ایک پارس کا ٹکڑا ہاتھ آگیا جس کی مدد سے انہوں نے اپنے ہر کھوٹ کو سونا ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اس کتاب میں مہدویہ کے تمام ملحدانہ اقوال درج ہیں۔ مرزا جی نے ان اقوال کو اپنا کر ان کے اوپر اپنی مسیحیت کی دیواریں استوار کرنی شروع کر دیں اور اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ مولانا محمد زمان خاں شہیدؒ کے بعض مقالات پر بھی مالکانہ قبضہ جما لیا‘ لیکن سرقہ کے الزام سے بچنے کے لیے ضروری تھا کہ ان کی عبارتیں بدل دیتے‘ چنانچہ ایسا ہی کیا‘ فرنگیوں کے دجال ہونے کا تخیل بھی قادیانی صاحب نے ”ہدیہ مہدویہ“ سے چرایا تھا‘ البتہ الزام سرقہ سے بچنے کے لیے مولانا شہیدؒ کے قول میں تھوڑی سی ترمیم کر دی۔ مولانا زمان خاں نے لکھا تھا۔

”دخانی گاڑی کو حضرت مسبب الاسباب نے دجال کے ظہور سے پیشتر اس کے کارندوں کے ہاتھ سے پھیلانا شروع کیا“۔ (ہدیہ مہدویہ‘ صفحہ ۹۰)

مولانا زمان خان نے اس عبارت میں فرنگیوں کو دجال کے کارندے لکھا تھا‘ مرزا جی نے خود فرنگیوں کو ہی دجال بنا دیا اور لطف یہ کہ مسیح صاحب نے اسی مزعومہ دجال کی حمد و ستائش میں پچاس الماریاں کتابیں بھی لکھ ڈالیں اور اس پر فخر کیا۔

باب ۳۲

مولانا محمد زمان خان حیدر آبادی کے

ایک اور نظریہ کا سرقہ

علامہ علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ عقاید میں صرف ادلّہ یقینیہ معتبر ہیں اور اگر احادیث آحاد ثابت ہو جائیں تو بھی ظنی ہیں‘ البتہ اگر کوئی حدیث متعدد طرق سے مروی ہو اور وہ طرق تواتر معنوی کی حیثیت اختیار کر لیں تو اس وقت یہ حدیث بھی قطعی ہو جائے گی۔ (شرح فقہ اکبر مجتبائی‘ ص ۲۳) لیکن دجال کے گدھے کی یہ حالت ہے کہ صحاح ستہ یا حدیث کی دوسری مستند کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ ہاں زیادہ تفحص اور تک و دو

صفحہ 470

کے بعد یہ دو روایتیں ملتی ہیں:

کہ دجال ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر نکلے گا۔ گدھے کے کانوں میں ستر باع کا فاصلہ ہوگا۔ (رواہ البیہقی فی کتاب البعث والنشور)۔

کر نکلے گا۔ (اخرجہ ابن ابی شیبہ)۔

لیکن ظاہر ہے کہ ان دو روایتوں پر‘ جن کا صحاح میں کہیں وجود نہیں اور ان کی صحت مشکوک ہے‘ باب عقائد میں کسی طرح اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں اگر یہ گدھا متعدد طرق سے مروی ہوتا اور تواتر معنوی کا درجہ حاصل کر لیتا تو شایان اعتماد تھا لیکن اس کو کسی طرح یہ درجہ حاصل نہیں‘ اس لیے ہم خر دجال کے عقیدہ کو عقائد ضروریہ کی فہرست میں داخل نہیں سمجھتے۔ اس تحقیق کے بعد وہ تمام ہوائی قلعے پیوند خاک ہو جاتے ہیں جو مسیح قادیاں نے دجالی گدھے کی بنیاد پر تعمیر کیے تھے۔ مسیح صاحب کی عادت تھی کہ جہاں کہیں اپنے دعوے کی تائید منظور ہوتی تھی وہاں باطنی فرقہ کی طرح نصوص میں تحریف کر کے ان کو حسب ضرورت موم کی ناک بنا لیا کرتے تھے اور اگر کوئی روایت خلاف مدعا ہوتی تو بخاری اور مسلم کی متفق علیہ حدیث سے بھی انکار کر دیتے یا اس پر تاویل و تحریف کا روغن قاز ملنے لگتے تھے اور چونکہ خر دجال کے متعلق بیہقی کی متذکرۂ صدر روایت سے کچھ مطلب براری ہو سکتی تھی۔ قادیانی صاحب نے اس کی صحت سے انکار نہ کیا بلکہ اس کو حدیث صحیح کا درجہ بخش دیا۔

قادیانی بیان کہ ریل گاڑی ہی دجال کا گدھا ہے

قادیانی صاحب لکھتے ہیں:

”مدت ہوئی کہ گروہ دجال ظاہر ہو گیا ہے اور بڑے زور سے اس کا ظہور ہو رہا ہے اور اس کا گدھا بھی‘ جو در حقیقت اسی کا بنایا ہوا ہے‘ جیسا کہ احادیث صحیحہ کا منشا ہے‘ مشرق و مغرب کی سیر کر رہا ہے اور وہ گدھا دجال کا بنایا ہوا‘ جو حدیث کے منشا کے موافق ہے‘ اس دلیل سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر ایسا

صفحہ 471

گدھا معمولی طور پر کسی گدھی کے شکم سے پیدا ہوتا تو اس قسم کے بہت سے گدھے اب بھی موجود ہوتے، کیونکہ بچے کی مشابہت، قد و قامت اور سیر و سیاحت اور قوت و طاقت میں اس کے والدین سے ضروری ہے، لہٰذا احادیث صحیحہ کا اشارہ اسی بات کی طرف ہے کہ وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے؟"

(ازالہ اوہام، مولفہ قادیانی صاحب، طبع پنجم، صفحہ ۲۷۹)

قادیانی صاحب اپنے اسی ازالہ میں دوسری جگہ لکھتے ہیں:

”ایک بڑی بھاری علامت دجال کی اس کا گدھا ہے، جس کے دونوں کانوں کے بیچ کا اندازہ ستر باع کیا گیا ہے اور ریل کی گاڑیوں کا اسی کے موافق سلسلہ طولانی ہوتا ہے اور اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ وہ دخان کے زور سے چلتی ہے، جیسے بادل ہوا کے زور سے تیز حرکت کرتا ہے۔ اس جگہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھلے کھلے طور پر ریل گاڑی کی طرف اشارہ فرمایا ہے، چونکہ یہ عیسائی قوم کا ایجاد ہے، جن کا امام و مقتدا یہی دجالی گروہ ہے، اس لیے ان گاڑیوں کو دجال کا گدھا قرار دیا گیا۔ اب اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہو گا کہ علامات خاصہ دجال کے انہی لوگوں میں پائے جاتے ہیں، انہی لوگوں نے مکروں اور فریبوں کا اپنے وجود پر خاتمہ کر دیا ہے اور دین اسلام کو وہ ضرر پہنچایا ہے جس کی نظیر دنیا کے ابتداء سے نہیں پائی جاتی اور انہی لوگوں کے متبعین کے پاس وہ گدھا بھی ہے جو دخان کے زور سے چلتا ہے جیسے بادل ہوا کے زور سے۔" (ازالہ، صفحہ ۴۹۸)

مولانا محمد زمان خان کا نظریہ

اب میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ ”حضرت مسیح موعود“ نے خر دجال کے ریل گاڑی ہونے کا نظریہ مولانا محمد زمان خاں مرحوم حیدر آبادی سے سرقہ کیا۔ مولانا مرحوم نے ہدیہ مہدویہ میں، جو ۱۲۸۵ھ میں تالیف ہوئی، لکھا تھا:

”روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ دجال اس مدت قلیل میں کہ کل چودہ مہینے چودہ

صفحہ 472

روئے زمین کے تمام بلاد دنیا کو سوائے حرمین شریفین کے روند ڈالے گا اور یہ غیر ممکن ہے کہ جب تک محال سواری کی باد رفتار نہ ہو اسی واسطے فرمایا کہ جیسا کہ ہوا ابر کو اڑاتی لے جاتی ہے ایسی اس کی سرعت رفتار ہوگی۔ اب اگر فرض کیا جائے کہ اس کی سواری کا گدھا اس قدر تیز رفتار ہو کیونکہ وہ گدھا بھی مانند دجال کے عجائب المخلوقات میں سے ہوگا کہ اس کے مابین دونوں کانوں کے فاصلہ ستر باع کا ہوگا جیسا کہ بیہقی نے روایت کیا ہے اور باع چار ہاتھ کو کہتے ہیں۔ مراد اس سے کثرت جسامت ہے لیکن تمام لشکر کو بھی ضرور ہے کہ کسی سواری پر اس شیطانی دوڑ کے برابر پہنچ سکیں ورنہ اگر دجال بذات خود دوڑ مار کر بیک بینی و دو گوش کسی مخالف ملک پر پہنچا تو کیا کر سکتا ہے بلکہ وہ گدھے سمیت کتے کی موت مارا جائے اور عقلاً بھی یہ بات غلط ہے۔ اس واسطے کہ روایات احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مع خدم و حشم و ساز و سامان پھرا کرے گا۔ اب ایسا مرکب دنیا میں کون سا ہے کہ اس سامان فرعونی اور لشکر شیطانی کو کہ فقط فوج رکاب خاص ستر ہزار یہود ہیں سوائے دوسری افواج و معتقدین کے اس کے ہمراہ پہنچائے مگر دخانی گاڑی کو حضرت مسبب الاسباب نے اس کے ظہور سے پیشتر اس کے کارندوں کے ہاتھ سے پھیلانا شروع کیا کہ بکمال سعی چاہتے ہیں کہ قبل برآمد دجال تمام دنیا میں پھیل جائے۔ اغلب کہ ایک سو برس میں تمام دنیا میں پھیل جائے اور کیا عجب ہے کہ چودہویں صدی کے اختتام پر جس وقت نصاریٰ کام تمام کر چکیں یہود کو جلو میں لے کر برآمد ہوں اور اس کو ابر پر باد سے صوری مشابہت بھی بدرجہ اتم ہے کہ پچاس ساٹھ گاڑیاں ایک جسم ہو کر بادلوں کے دل کی مانند دوڑتی ہیں اور یہ بھی معلوم رہے کہ موافق فرمانے حضرت صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کے اس گاڑی کی چال ہوا کی چال کے نہایت مطابق ہے اس واسطے کہ ہندوستان کی گاڑی کہ ابھی نہایت تیز نہیں چلائی جاتی ایک گھنٹہ میں تیس میل چلتی ہے اور ولایت میں ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے اور مصر اور اسکندریہ کی گاڑی کو بھی راقم سطور نے ملاحظہ کیا کہ نہایت تیز رو ہے پس ولایت کی رفتار

صفحہ 473

کے بموجب صبح سے دوپہر تک چھ گھنٹہ میں تین سو ساٹھ میل چلی کہ بہ حساب بارہ سو میل کہ اس کے سفر کی اوسط چال ہے، ایک مہینے کی راہ طے ہوئی اور دوپہر سے شام تک بھی ایک مہینے کی راہ طے ہوئی اور یہی ہوا کی بھی رفتار ہے، چنانچہ قرآن مجید میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی سواری کی چال کے متعلق مذکور ہے۔ ولسلیمان الریح غدوھا شہر و رواحھا شہر یعنی ہم نے سلیمان (علیہ السلام) کے واسطے ہوا کو مسخر کیا کہ اس ہوا کی صبح کی منزل ایک مہینہ کی راہ اور اس کی شام کی منزل ایک مہینہ کی راہ تھی۔ حضرت سلیمان کا تخت اس قدر بڑا تھا کہ اس پر تمام لشکر ہوتا تھا اور ہوا اس کو اڑاتی لے جاتی تھی"۔

(ہدیہ مہدویہ، مولفہ مولانا محمد زمان خاں شہید، صفحہ ۹۰-۹۱)

رئیس قادیاں نے مولانا زمان خاں مرحوم کے اس نظریہ کو اس صفائی سے اپنایا کہ آج کسی کو یہ معلوم نہیں کہ خر دجال کے ریل گاڑی ہونے کا نظریہ خود قادیانی صاحب کے دماغ کی پیداوار ہے یا کسی اور جگہ کا مسروقہ تخیل ہے۔

مسیح قادیاں دجال کے گدھے پر کیوں سوار ہوتا تھا؟

الہامی صاحب کی عادت تھی کہ انگریزوں کو دجال اور ان کی ریل گاڑی کو دجال کا گدھا بھی کہے جاتے تھے اور بقول خود انگریز کی ثناء منقبت میں پچاس الماریاں کتابیں بھی لکھ ڈالی تھیں۔ ایک مرتبہ ان پر اعتراض ہوا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام تو دنیا میں تشریف لا کر دجال کو قتل کریں گے، لیکن یہ خانہ ساز مسیح دجال کی خوشامد کرتا اور اس کے گدھے (ریل گاڑی) پر سوار ہوتا ہے۔ اس کے جواب میں الہامی صاحب نے لکھا:

"ایک اعتراض یہ ہے کہ اگر مسیح دجال کے گدھے سے مراد یہی ریل گاڑی ہے تو جس کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہے وہ بھی اس پر سوار ہوتا ہے۔ پھر یہ دجال کا گدھا کیونکر ہو گیا؟ جواب یہ ہے کہ بوجہ ملکیت اور قبضہ اور تصرف تام اور ایجاد دجالی گروہ کے یہ دجال کا گدھا کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب کہ مسیح موعود قاتل دجال ہے، یعنی روحانی طور پر تو بموجب حدیث من قتل قتیلا" کہ جو کچھ دجال کا ہے وہ مسیح کا ہے"۔

(ازالہ اوہام، طبع پنجم، ص ۳۳۱)

صفحہ 474

حدیث نبوی میں ہے من قتل قتیلاً فله سلبه (لڑائی میں مقتول کے کپڑے‘ سواری‘ اسلحہ اور دوسرے اسباب کا مستحق قاتل ہے)۔ اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے قادیانی صاحب فرماتے ہیں کہ چونکہ میں نے دجالی گروہ (انگریزوں) کو روحانی طور پر قتل کر دیا ہے‘ اس لیے میں ہی مقتول انگریزوں کے مال و منال کا مالک ہوں۔ ایسی حالت میں مجھے ان کی ریل گاڑی پر تصرف کرنے اور سوار ہونے کا ہر طرح سے حق پہنچتا ہے‘ لیکن جس طرح ایک مے خانہ کا مست نشہ کی حالت میں بہکی بہکی باتیں کرتا ہے‘ اسی طرح معلوم ہوتا ہے کہ الہامی صاحب بھی یہ مجنونانہ باتیں شاید نشہ صہبا کی ترنگ میں لکھ گئے تھے۔ اگر یہ خیال صحیح ہے تو کیا یہ نشہ اس مے ارغوانی (پورٹ وائن) کا تو نہیں تھا جسے حضرت "مسیح موعود" صاحب لاہور کی یورپی فرم پلومر کمپنی سے منگوایا کرتے تھے؟ جب ملہم صاحب یہ خرافات سپرد قلم کر رہے تھے تو خود حقیقت بین ان کی رسوائی حال پر ہنس رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ جن انگریزوں کی خوشامد میں انہوں نے پچاس الماریاں کتابیں لکھ ماریں اپنے تئیں ان کا قاتل قرار دینا عقل و خرد اور شرم و حیا کا منہ چڑانا ہے۔

ایک مسیح کذاب کی امت کا مقولہ

قادیانی ملہم کا مقولہ دون مہ لوگوں کے ہزلیات کی یاد تازہ کر دیتا ہے‘ جس وضع قماش کا "مسیح موعود" پنجاب کی سرزمین نے پیدا کیا‘ اسی نمونہ کا ایک "مسیح موعود" آج سے قریباً تین صدیاں پیشتر ترکی عمل داری میں ظہور فرما ہوا تھا۔ یہ شخص سمرنا کا رہنے والا اور سبا تائی سیوی کے نام سے مشہور تھا۔ اس نے ۱۶۶۶ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس شخص کے مفصل حالات کتاب "ائمہ تلبیس" میں درج ہوچکے ہیں۔ اس کے پیرو دون مہ کہلاتے ہیں۔ مرزائیوں کی طرح یہ لوگ بھی بڑی دور کی کوڑی لایا کرتے ہیں‘ جس طرح قادیانی "مسیح موعود" نے ارشاد فرمایا کہ انگریز کی ہر چیز میری ہے‘ اسی طرح ترکی قلمرو کے "مسیح موعود" کی امت بھی کہا کرتی ہے کہ ساری دنیا پیروان سبا تائی کے لیے ہے اور ترک صرف اس لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ پیروان سبا تائی کی حفاظت کریں۔ ان کا مقولہ ہے کہ جس طرح رب کردگار نے انڈے کی حفاظت کے لیے چھلکا پیدا کیا‘ اسی طرح اس ذات برتر نے ترکوں کو ہماری حفاظت کے لیے وجود بخشا‘ پس محکوم پیروان سبا تائی اصل انڈا اور

صفحہ 475

ترک حکمران اس کا چھلکا ہیں۔ قادیانی ملہم کے قاتل دجال ہونے کی مثال اس قیدی کی سی ہے جسے داروغہ جیل محبس کی کال کوٹھڑی میں بند کر کے روزانہ چوبیس سیر گیہوں پیسنے کا حکم دے۔ قیدی حکم کی تعمیل میں اناج پیستا جائے‘ لیکن ساتھ ہی کوٹھڑی کے آگے سے گزرنے والوں سے یہ بھی کہتا جائے کہ دیکھا میں کس طرح داروغہ کو محبوس کر کے اس سے اناج پسوا رہا ہوں۔ مسیح صاحب کی یہ مجنونانہ بڑ اس شاعر کی بھی یاد تازہ کرتی ہے جس نے اس شعر میں اپنے شیرازی محبوب کی دل جوئی کی خاطر سمرقند اور بخارا بخش دینے کا وعدہ کیا تھا :۔

اگر آن ترک شیرازی بدست آرد دل ما را بخال ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را

تمام علمائے امت قاتل دجال ہیں

اگر نصاریٰ کی تردید میں ایک آدھ کتاب لکھ دینے سے کوئی شخص دجال کا قاتل ہو سکتا ہے تو پھر ہزاروں لاکھوں علمائے امت بھی قاتل دجال ہونے کی وجہ سے ریل گاڑی اور دوسرے نصرانی مقبوضات کے مالک تھے۔ اور ہیں۔ ایسی حالت میں قادیانی صاحب کو علمائے اسلام سے زیادہ ریل گاڑی پر ملکیت اور تصرف کا کیا حق تھا؟ اور اگر بالفرض ریل گاڑی کے مالک قادیانی صاحب ہی تھے تو ہندوستان کے لاکھوں کروڑوں مسلمان‘ ہندو‘ سکھ‘ چمار‘ پارسی‘ عیسائی اس پر کیوں سوار ہوتے تھے اور کیوں ہوتے ہیں؟ اور پھر اس لغو بیانی کی شدت اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب دیکھا جاتا ہے کہ قادیانی صاحب کے لیے باوجود مالک ہونے کے صوبوں کے گورنروں کی طرح نہ کوئی مخصوص گاڑی (سپیشل ٹرین) چلائی جاتی تھی اور نہ کوئی ڈبہ ہی ان کے لیے مخصوص ہوتا تھا‘ بلکہ عام مسافروں کی طرح یہ بھی ٹکٹ ہی خرید کر ریل میں سفر کرتے تھے اور اگر قتل دجال کی وجہ سے انگریز کی ہر چیز قادیانی صاحب کی ہو گئی تھی تو اپنی مزروعہ زمین کا لگان انگریزی حکومت کے کارندوں کو کیوں ادا کرتے تھے اور پھر ریل گاڑی کی کیا خصوصیت تھی؟ کیوں یہ دعویٰ نہ کیا کہ ہندوستان‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ‘ جنوبی افریقہ اور انگریزوں کی دوسری نو آبادیوں پر ”قادیانی شہنشاہی“ کا پرچم لہرا رہا ہے اور یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ تمام انگریزی سپاہ اور پولیس بھی‘ جس کے خوف سے ”مسیح موعود صاحب“ ہر وقت لرزہ براندام رہتے تھے‘ میری تنخواہ دار ہے اور پھر یہ اچھا قتل ہے کہ مقتول اب تک زندہ ہے اور اس کی سطوت و

صفحہ 476

جھوٹ برسر ترقی ہے، لیکن قاتل صاحب ۳۷ سال سے نہنگ اجل کا شکار ہو چکے ہیں۔

فرضی دجال اور نقلی گدھا

اصل یہ ہے کہ جب مرزا صاحب جوش مراق میں مسیحیت کا دعویٰ کر بیٹھے تو انہیں اپنی مسیحیت کا ثبوت بہم پہنچانا مشکل ہو گیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ دجال کو قتل کریں گے۔ قادیانی صاحب بے چارے دجال کہاں سے لاتے اور اس کا گدھا کس طرح پیدا کرتے۔ انہوں نے ایک خیالی دجال بنایا اور اس کا ایک موہوم گدھا بھی مولوی زمان خاں مرحوم کے تصدق سے تجویز کر دیا اور لطف یہ ہے کہ ماؤف الدماغ مرزائی اس ہرزہ سرائی کو حقیقت نفس الامری یقین کیے بیٹھے ہیں۔

باب ۳۳

مولانا بٹالوی مسیح زمان کے تعاقب میں

ایک مرتبہ بٹالہ میں مشہور ہوا کہ قادیانی صاحب لاہور جا کر اپنا علم مسیحیت بلند کرنے اور مولوی محمد حسین بٹالوی کو مناظرہ کا چیلنج دینے والے ہیں۔ یہ سن کر مولوی صاحب، جو صیاد کی طرح اپنے قادیانی شکار کی صید افگنی کے بڑے حریص تھے، اپنے وطن بٹالہ سے لاہور آ پہنچے اور مباحثہ کے لیے منتظر و مستعد ہو بیٹھے، خدا خدا کر کے الہامی صاحب اوائل فروری ۱۸۹۳ء میں لاہور تشریف لائے اور منشی میراں بخش میونسپل کمشنر کی کوٹھی میں فروکش ہوئے، لیکن یہ بے چارے ابھی سستانے بھی نہ پائے تھے کہ مولوی محمد حسین کا پیغام مباحثہ پیام اجل کی طرح آ پہنچا۔ اس بم نے الہامی صاحب اور ان کے حاشیہ نشینوں کے چھکے چھڑا دیے اور مباحثہ سے انکار کر دیا، لیکن با ایں ہمہ انکار و اعراض دوسری مجلسوں میں مناظرہ کرنے کی شیخیاں بھی بگھارتے رہے۔ یہ سن کر مولوی محمد حسین صاحب نے تین دوسرے علمائے لاہور کی طرف سے بھی مباحثہ کا نوٹس بھجوا دیا۔ الہامی صاحب نے نوٹس لینے سے انکار کیا۔ مولوی صاحب نے وہی نوٹس چھپوا کر قادیانی صاحب کے دروازے پر

صفحہ 477

چسپاں کرا دیا۔ یہ دیکھ کر مسیح زمان نے قیام لاہور کو موجب خسران سمجھا اور کرایہ مکان، جو پیشگی دے چکے تھے، مالک مکان سے واپس لے کر نوٹس چسپاں کیے جانے کے دن، رات کے نو بجے سیالکوٹ کا راستہ لیا، وہاں جا کر بھی پرائیویٹ جلسوں میں دعوائے مباحثہ نہ چھوڑا، اس لیے ۲۷ جنوری کو لاہور سے ایک اور نوٹس ان کے نام بھیجا گیا، لیکن ۱۱؍ فروری تک اس کا کوئی جواب نہ آیا تو مولوی محمد حسین صاحب حسب درخواست اہل شہر بذات خود سیالکوٹ جا پہنچے۔ مولوی محمد حسین لکھتے ہیں کہ نوٹس پہنچنے کے ساتھ ہی مرزا جی کو یہ الہام ہونے لگے کہ اب سیالکوٹ سے کوچ کرنا مناسب ہے، چنانچہ مولوی صاحب کے پہنچنے پر وہ الہام قطعاً واجب العمل ہو گیا اور وہاں سے رات کی گاڑی سے کوچ کر دیا۔

مرزا صاحب کا مباحثہ سے انکار پر انکار

ان کی روانگی سے پیشتر بعض معززین شہر کا ایک وفد مرزا جی کے پاس پہنچا اور درخواست کی کہ مولوی محمد حسین صاحب سے ایک آدھ مناظرہ کرتے جائیے، مگر الہامی صاحب نے یہ عذر کر کے مناظرہ سے انکار کر دیا کہ مولوی محمد حسین مجھے کافر سمجھتے ہیں اور مجھے گالیاں دیتے ہیں، اس لیے میں ان سے بحث نہیں کرنا چاہتا۔ لوگوں نے سمجھایا کہ جن گالیوں کا آپ کو کھٹکا ہے، اگر وہ مجلس مناظرہ میں دی گئیں تو وہ سو روپیہ فی گالی جرمانہ دینے کو تیار ہیں، مگر پھر بھی انہوں نے مباحثہ منظور نہ کیا۔ ملک قطب الدین خاں ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ نے مقامی حکام کے استصواب رائے سے مباحثہ کی یہ تجویز نکالی کہ فریقین جدا جدا بیٹھیں اور اپنے اپنے سوال اور جواب بذریعہ تحریر پیش کریں۔ وکلاء اور بیرسٹروں کی ایک جماعت موجود ہو، وہ پیش کیے جانے سے پیشتر دیکھ لے کہ یہ سوال یا جواب جائز و موزوں ہے یا نہیں اور اگر وہ غیر موزوں یا بحث سے خارج ہو تو راقم کو واپس دے دے اور اس کو ملزم قرار دے۔ الہامی صاحب نے بھی مولوی صاحب کے سیالکوٹ پہنچنے سے پہلے اس تجویز کی تائید کی تھی، لیکن مولوی محمد حسین صاحب کے سیالکوٹ پہنچنے کے بعد الہامی صاحب پر ان کا کچھ ایسا رعب طاری ہوا کہ سابقہ رضامندی کو نامنظور کر دیا اور بوریا بدھنا اٹھا ریلوے سٹیشن کا راستہ لیا۔ قادیانی صاحب نے جلد کوچ کرنے کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی تھی کہ ہمارے دیر کرنے سے ہماری زمین خراب ہو رہی ہے، مگر سیالکوٹ

صفحہ 478

سے چل کر کپور تھلہ جا پہنچے‘ جہاں ان کی کوئی زمین نہیں تھی۔ البتہ بقول مولوی محمد حسین یہ ممکن تھا کہ خرق عادت کے طور پر مرزا صاحب کی زمین قادیاں سے چل کر کپور تھلہ پہنچ گئی ہو۔ مولانا بٹالوی نے جھٹ ایک اشتہار چھپوا کر مسلمانان کپور تھلہ کے پاس بھیج دیا جس میں قادیانی صاحب کو مناظرہ کا چیلنج دیا گیا تھا۔ علمائے کپور تھلہ و مضافات کے علاوہ مولوی نظام الدین اور مولوی عبدالقادر صاحبان نے مرزا صاحب کو جا پکڑا اور مناظرہ کی دعوت دی۔ اب قادیانی صاحب نے کپور تھلہ میں زیادہ قیام بھی مناسب نہ سمجھا اور عام راستہ چھوڑ کر دوسری راہ سے جالندھر کا قصد کیا۔ اب جالندھر کے بعض محبان اسلام نے الہامی صاحب کے مقابلہ کے لیے مولوی محمد حسین کو دعوت دی‘ لیکن مولوی صاحب نے جواب دیا کہ پہلے قادیانی صاحب سے دریافت کرو کہ وہ میرے ساتھ مناظرہ کریں گے‘ اگر منظور کریں تو میں معاً پہنچتا ہوں‘ مگر الہامی صاحب تو مولوی صاحب سے اس طرح ڈرتے تھے جیسے شیر سے شکار۔ آخر جالندھر سے ماسٹر فتح الدین خاں اور حاجی بدرالدین کا خط مولوی صاحب کے پاس پہنچ گیا کہ مرزا صاحب آپ کے ساتھ گفتگو کرنے سے صاف انکار کرتے ہیں۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۳‘ صفحہ ۱۱۰)

باب ۳۴

مولانا عبدالحکیم کلانوری سے مناظرہ

گو اس وقت تک رئیس قادیاں نے علی الاعلان نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا‘ بلکہ محدث (ملہم) ہونے کے مدعی تھے‘ تاہم وہ محدث کی تشریح کرتے ہوئے اس کے ایسے پرعظمت صفات بیان کر جاتے تھے‘ جو بجز نبی کے کسی دوسرے میں نہیں پائے جاسکتے۔ گویا مسیح صاحب ان دنوں محدث کی لفظی معنی کی آڑ میں خانہ ساز نبوت کا شکار کھیل رہے تھے اور کبھی الہامی صاحب اس لفظ کی یوں تعبیر کرتے تھے کہ محدث ایک حیثیت سے امتی اور دوسرے اعتبار سے نبی ہوتا ہے‘ چنانچہ ”ازالہ اوہام“ میں لکھا:

”نبوت ناقصہ اس میں پائی جائے گی جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کہلاتی ہے

صفحہ 479

اور نبوت تامہ کی شانوں میں سے ایک شان اپنے اندر رکھتی ہے۔ سو یہ بات کہ اس کو امتی بھی کہا اور نبی بھی‘ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دونوں شانیں امتیت اور نبوت کی اس میں پائی جائیں گی‘ جیسا کہ محدث میں دونوں شانوں کا پایا جانا ضروری ہے۔ غرض محدثیت دونوں رنگوں سے رنگین ہوتی ہے‘ اسی لیے خدائے تعالیٰ نے ”براہین احمدیہ“ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی“۔

(ازالہ اوہام‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۵۳۲)

حضرت مجدد الف ثانیؒ کی عبارت میں تحریف

رئیس قادیاں کو نبی بننے کے اشتیاق نے یہاں تک بے چین کر رکھا تھا کہ بسا اوقات دوسروں کی عبارت میں تصرف کر کے محدث کو نبی کا مترادف لکھ دیتے تھے۔ حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی قدس اللہ سرہ نے اپنے مکتوبات میں محدث کے متعلق لکھا ہے۔ و اذا کثر ھذا القسم من الکلام مع واحد منھم سمی محدثا کما کان امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جب اس قسم کا کلام انبیاء علیہم السلام کے کامل پیروؤں میں سے کسی کے ساتھ بکثرت واقع ہو تو اس کو محدث (بفتح و تشدید دال) کہتے ہیں‘ جیسا کہ حضرت عمرؓ اس امت کے محدث تھے“۔ (مکتوبات امام ربانی‘ جلد ۲‘ صفحہ ۵۱) اب ذرا الہامی صاحب کی مفید مطلب تحریف ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں: ”اصل میں اُن کی اور ہماری تو نزاع لفظی ہے۔ مکالمہ مخاطبہ کا تو یہ لوگ خود بھی اقرار کرتے ہیں۔ مجدد صاحب بھی اس کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن اولیاء اللہ کو کثرت سے خدا کا مکالمہ مخاطبہ ہوتا ہے وہ محدث اور نبی کہلاتے ہیں“۔

(اخبار الحکم قادیاں‘ ۱۴ مارچ ۱۹۰۸ء‘ ص ۱۴)

مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری کا چیلنج

حضرت ”مسیح زمان“ مرزا غلام احمد صاحب کبھی کبھی لاہور تشریف لا کر اہل لاہور کو اپنے جمال مبارک سے شرف اندوز ہونے کا موقع دیتے رہتے تھے۔ جب مسیح صاحب نے اپنے حق میں نبی اور رسول کے لفظ لکھنے شروع کیے تو مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری نے

صفحہ 480

عزم صمیم کر لیا کہ اب کی دفعہ جو مسیح صاحب لاہور براجمان ہوں تو ان کی اچھی طرح مزاج پرسی کی جائے، چنانچہ جب رئیس قادیاں نے اس کے بعد لاہور میں قدم رنجہ فرمایا تو مولوی صاحب ان کے قیام گاہ واقع چونا منڈی میں جا دھمکے اور علیٰ رؤس الاشہاد ان کی تحریروں پر گرفت کر کے قادیانی مسیحیت کی دھجیاں بکھیرنی شروع کیں۔ اب الہامی صاحب نے اپنی خفت و ہزیمت پر پردہ ڈالنے اور بدنامی کا داغ مٹانے کے لیے باقاعدہ مناظرہ کی خواہش کی۔ مولوی صاحب تو خود یہی چاہتے تھے۔ انہوں نے اس دعوت کو بخوشی لبیک کہا۔ اب الہامی صاحب نے یہ حجت نکالی کہ مناظرہ تحریری ہو۔ مولوی صاحب نے اس سے انکار کیا اور اس انکار کی وجہ ظاہر تھی کہ تحریری مقابلہ سے وہ حقیقی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، جس کے لیے اس قسم کی کشمکش برپا ہوتی ہے۔ کاغذی گھوڑے تو اس صورت میں بھی دوڑائے جا سکتے تھے، جبکہ مرزا صاحب قادیاں میں اور مولوی صاحب بمقام لاہور اپنے اپنے قیام گاہ میں فروکش تھے۔ تقریری مباحثہ میں یہ فائدہ ہے کہ فوراً نتیجہ نکل آتا ہے اور عوام بھی محق و باطل میں امتیاز کر لیتے ہیں اور پھر تحریروں کے لیے کسی مناظرہ و مقابلہ کی بھی ضرورت نہیں۔ شائقین خود ہی فریقین کی کتابوں کا مطالعہ کر کے کسی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ مولوی صاحب کے انکار پر الہامی صاحب نے کہا کہ میں کسی حالت میں تقریری مباحثہ نہ کروں گا اور اس کے لیے وہی عذر لنگ پیش کیا جو مرزائی عام طور پر پیش کیا کرتے ہیں، لیکن چونکہ مولوی صاحب کی دلی آرزو تھی کہ جس طرح بھی بن پڑے ”مسیح موعود“ صاحب کو اچھی طرح منہزم کر کے ان کی مسیحیت کی قلعی کھول دیں، ناچار تحریری مقابلہ ہی منظور کیا۔

الہامی صاحب تقریری مناظرہ سے کیوں جی چراتے تھے؟

مرزا صاحب مرد میدان نہیں تھے۔ ان کی مسیحیت کی ساری کائنات یہیں تک محدود تھی کہ اطمینان اور یکسوئی کی حالت میں سلف و خلف کی تصنیفات سے کچھ نقل کر کے کوئی مضمون تیار کر لیں یا اعتراضات کا جواب لکھ دیں، ورنہ قوت بیانی سے وہ بالکل عاری تھے، یہی وجہ تھی کہ تقریری مناظرہ سے ان کی روح فنا ہوتی تھی۔ علمائے اسلام نے سالہا سال لاکھ جتن کیے کہ کسی طرح الہامی صاحب مرد میدان بن کر مقابلہ پر آئیں اور اگر کوئی

صفحہ 481

جوہر رکھتے ہیں تو اس کا عملی ثبوت دیں، مقابلہ میں کچھ کہیں اور کچھ سنیں، لیکن اس کا انہیں کبھی حوصلہ نہ ہوا، بلکہ جب کبھی فریق مقابل نے تقریری مناظرہ پر اصرار کیا تو مناظرہ ہی سے انکار کر دیا۔ مولوی محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی نے لکھا تھا:

"مرزا صاحب کا حوصلہ تھوڑا ہے، گفتگو سے گھبرا جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں نے بھی میرے اس بیان کی تصدیق کی ہے، جن سے مرزا صاحب کو بالمشافہ گفتگو کرنے کا اتفاق رہا ہے کہ وہ گفتگو میں گھبرا جاتے ہیں"۔

(رسالہ اشاعۃ السنہ، جلد ۱۲، صفحہ ۳۸۴)

مولوی محمد حسین مرحوم کے بیان کی تائید اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ الہامی صاحب نے حسب بیان میاں بشیر احمد ایم۔ اے مدت العمر پانچ مناظرے کیے:

میں۔

(سیرۃ المہدی، جلد اول، صفحہ ۲۲۰)

اور یہ پانچوں مناظرے تحریری تھے۔ اگر الہامی صاحب کو قوت گویائی سے کچھ بھی حصہ ملا ہوتا تو آخر کبھی تو تقریری مقابلہ بھی اپنے جوش ہمت پر گوارا فرماتے، لیکن وہ تقریری مناظرہ سے اسی طرح بھاگتے جس طرح شکار شیر کو دیکھ کر بھاگ جاتا ہے۔ غرض باوجود بڑے بڑے بلند و بانگ دعووں کے مرزا صاحب کا تحریری مقابلہ پر مصر ہونا اور تقریری بحث سے اعراض کرنا بجز اس کے اور کوئی معنی نہ رکھتا تھا کہ تحریری مباحثہ مرزا صاحب کی عجز بیانی کا پردہ دار تھا۔

مناظرہ کا موضوع بحث

مولوی عبدالحکیم صاحب کے مناظرہ کا موضوع بحث یہ تھا کہ محدث کسی حیثیت سے

صفحہ 482

نبی ہوتا ہے یا نہیں؟ مرزا صاحب مدعی تھے کہ وہ ایک حیثیت سے نبی ہوتا ہے، لیکن مولوی صاحب کو اس سے انکار تھا۔ الغرض مناظرہ شروع ہوا، مولوی صاحب نے اس حدیث سے استدلال کیا۔

عن ابى هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لقد كان فيما قبلكم من الامم محدثون فان يك فى امتى احد فانه عمر

(بخاری و مسلم)

ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی امتوں میں محدث یعنی ملہم لوگ ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی ملہم ہے تو وہ عمرؓ ہیں۔

اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:۔

عن ابى هريرة قال قال النبى صلى الله عليه وسلم لقد كان فيمن قبلكم من بنى اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكونوا انبياء فان يك فى امتى منهم احد فعمر۔

(بخاری)

ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں بغیر درجہ نبوت کے ملہم ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہے تو وہ عمرؓ ہیں۔

یاد رہے کہ ان روایتوں کے بیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود اظہار شک نہیں بلکہ محض تاکید و تخصیص ہے، جیسے کہا کرتے ہیں کہ اگر کوئی میرا بہی خواہ ہے تو فلاں ہے۔ اس قول سے قائل کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ فلاں کے سوا میرا کوئی خیر خواہ نہیں، بلکہ یہ غرض ہوتی ہے کہ وہ سب سے بڑا ہوا خواہ ہے۔ تین چار پرچوں کے بعد جب مسیح صاحب کا کیسہ دلائل خالی ہو گیا اور یقین ہوا کہ اب مولوی صاحب چاروں شانے چت گرا کر چھاتی پر سوار ہو جائیں گے تو ناچار حضرت مسیح موعود صاحب نے ہتھیار ڈال دیے اور صلح کا پیام ڈالا۔ مولوی صاحب نے کہا کہ اچھا لکھ دو کہ آئندہ نبی کا لفظ اپنے حق میں کبھی استعمال نہ کرو گے۔ مرتا کیا نہ کرتا، مرزا صاحب نے آٹھ معزز گواہوں کے روبرو ایک اقرار نامہ لکھ دیا۔ یہ اقرار نامہ یا توبہ نامہ خود مرزائیوں نے شائع کیا ہے، چنانچہ میر قاسم علی مرزائی ایڈیٹر فاروق قادیاں کی کتاب تبلیغ رسالت سے، جو قادیانی صاحب کے

صفحہ 483

اشتہارات کا مجموعہ ہے‘ یہ اقرار نامہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ جو مباحثہ لاہور میں مولوی عبدالحکیم صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے درمیان چند روز سے بابت مسئلہ دعوائے نبوت مندرجہ کتب مرزا صاحب کے ہو رہا تھا‘ آج مولوی صاحب کی طرف سے تیسرا پرچہ جواب الجواب کے جواب میں لکھا جا رہا تھا۔ اثنائے تحریر میں مرزا صاحب کی عبارت مندرجہ ذیل کے بیان کرنے پر جلسہ عام میں فیصلہ ہو گیا جو عبارت درج ذیل ہے۔ (المرقوم‘ ۳ر فروری ۱۸۹۲ء‘ مطابق ۳ر رجب ۱۳۰۹ھ)

العبد العبد العبد برکت علی وکیل چیف کورٹ محی الدین المعروف صوفی خاکسار رحیم بخش العبد العبد العبد فضل الدین رحیم اللہ العبد العبد ابو یوسف محمد مبارک علی حبیب اللہ

الحمدللہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ خاتم النبین ۔ امابعد ۔ تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح اسلام و توضیح مرام و ازالہ اوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنے میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے‘ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کیے گئے ہیں ورنہ حاشا و کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے‘ بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالہ الاوہام کے صفحہ ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں‘ میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں‘ کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے۔ جس حالت میں ابتداء سے میری نیت میں‘ جس کو اللہ جل شانہٗ خوب جانتا ہے اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے‘ بلکہ صرف محدث مراد ہے‘ جس کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکلم مراد لیے ہیں یعنی

صفحہ 484

محدثوں کی نسبت فرمایا ہے۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم قد کان فیمن قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء فان یک فی امتی منھم احد فعمر۔ صحیح بخاری، جلد اول، صفحہ ۵۲۱، پارہ ۱۴، باب مناقب عمرؓ، تو پھر مجھے اپنے مسلمان بھائیوں کی دل جوئی کے لیے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے، سو دوسرا پیرایہ یہ ہے کہ بجائے نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرما لیں اور نیز عنقریب یہ عاجز ایک رسالہ مستقلہ نکالنے والا ہے، جس میں ان شبہات کی تفصیل اور بسط سے تشریح کی جائے گی، جو میری کتابوں کے پڑھنے والوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں اور میری بعض تحریرات کو خلاف عقیدہ اہل سنت و الجماعت خیال کرتے ہیں، سو میں ان شاء اللہ تعالیٰ عنقریب ان اوہام کے ازالہ کے لیے پوری تشریح کے ساتھ اس رسالہ میں لکھ دوں گا اور مطابق اہل سنت و الجماعت کے بیان کروں گا۔

راقم

خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی، مولف رسالہ توضیح مرام و ازالہ اوہام، ۳ فروری ۱۸۹۲ء (تبلیغ رسالت، جلد ۲، صفحہ ۹۴۔ ۹۶)

قادیانی ہزیمت کی بڑی وجہ

اس مباحثہ میں الہامی صاحب کو ایسی عبرت ناک اور ذلت آفرین شکست ہوئی کہ جس کی نظیر شاید دنیا کے کسی اور متنبی کی تاریخ میں نہ مل سکے گی۔ مرزا علی محمد باب نے بھی ایک مناظرہ میں علماء ایران کے مقابلہ میں گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ (دیکھو کتاب ائمہ تلبیس) مگر مرزا غلام احمد کی طرح کوئی توبہ نامہ لکھ کر نہیں دیا تھا، لیکن قادیانی صاحب نے اپنی شاندار پسپائی کے بعد اقرار نامہ لکھ کر اپنی ہزیمت پر اور بھی مہر توثیق ثبت کر دی۔ قارئین کرام کو شاید اس ہزیمت و سراسیمگی کی حقیقی وجہ معلوم نہ ہوگی۔ اس ہزیمت کا اصلی مبنیٰ قادیانی صاحب کا ایک الہام تھا جس میں حضرت مسیح موعود ہونے کے مدعی کو خدا نے یہ وعدہ کر رکھا تھا کہ جو شخص بھی تجھ سے مقابلہ کرے گا مغلوب ہوگا، چنانچہ مسیح صاحب

صفحہ 485

ہوئے فاتحانہ انداز اور تحکمانہ لہجہ میں فرماتے ہیں۔

”اگر آسمان کے نیچے میری طرح کوئی اور بھی تائید یافتہ ہے تو کیوں وہ میرے مقابل پر میدان میں نہیں آتا؟ خدا نے مجھے قرآن کی زبان میں اعجاز عطا فرمایا ہے۔ خدا نے مجھے آسمان سے نشان دیے ہیں۔ خدا نے مجھے زمین سے نشان دیے ہیں۔ خدا نے مجھے وعدہ دے رکھا ہے کہ مجھ سے ہر ایک مقابلہ کرنے والا مغلوب ہوگا۔“

(تحفہ گولڑویہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۸۹)

الہامی صاحب کا معاہدہ سے تخلف

بعض حضرات کا خیال ہے کہ الہامی صاحب نے مولوی عبدالحکیم صاحب کو جو اقرار نامہ لکھ کر دیا وہ محض ایک دکھاوے کی جعلی دستاویز تھی‘ ورنہ اقرار نامہ لکھتے وقت ان کا ہرگز یہ قصد نہ تھا کہ وہ کبھی اس وعدہ کا ایفا بھی کریں گے‘ لیکن میں ان حضرات سے متفق الرائے نہیں ہوں‘ اگر اقرار نامہ لکھتے وقت مسیح صاحب نے اس کے عدم ایفاء کا عزم صمیم کر رکھا ہوتا تو وہ تھوڑا ہی عرصہ بعد اس کی خلاف ورزی شروع کر دیتے‘ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ مرزا صاحب نے کم از کم آٹھ نو سال تک اس معاہدہ کو قابل تعریف اولوالعزمی کے ساتھ نباہا اور ان کے پائے استقلال میں ذرا بھی جنبش نہیں ہوئی‘ لیکن چونکہ انجام کار الہامی صاحب کا دوست مشفق ”یحییٰ یحییٰ“ یا اس کا کوئی اور بھائی بند ۱۹۰۱ء میں ازسرنو الہامی صاحب کو آ آ کر یہ چکمہ دینے لگا کہ تم نبی اور رسول ہو اس لیے ”مسیح زمان صاحب“ نے پابندی عہد کو بادل ناخواستہ بالائے طاق رکھ دیا‘ تاہم میں اس تجدید دعویٰ میں مسیح صاحب کو بالکل معذور خیال کرتا ہوں‘ کیونکہ جس شخص پر موسلادھار بارش کی طرح الہام برس رہے ہوں کہ تو نبی ہے تو وہ بے چارہ کہاں تک اپنا دامن بچا سکتا تھا؟ معلوم نہیں اس ”ذات شریف“ نے بے چارے غلام احمد کے پیچھے اپنی کتنی ذریات لگا رکھی تھی جو اپنے تئیں فرشتے ظاہر کر کے ان کو نت نئی پٹی پڑھایا کرتے تھے۔

باب ۳۵

صفحہ 486

باب ۳۵

میر ناصر نواب دہلوی آغوش مرزائیت میں

مرزا صاحب کے خسر ثانی میر ناصر نواب دہلوی خاندان میر درد دہلوی کے چشم و چراغ بتائے جاتے ہیں۔ پنجاب کے محکمہ انہار میں نقشہ نویس تھے۔ تمام مدت ملازمت پنجاب ہی میں گزار دی۔ ان کی صاحبزادی قادیانی صاحب کے حبالہ نکاح میں کیونکر آئیں‘ اس کی تفصیل جلد اول میں درج ہو چکی ہے۔ پنشن ملی تو اہل و عیال سمیت قادیاں میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ ان کے گھر میں شادی ہو جانے کے بعد الہامی صاحب کئی سال تک شاید میر صاحب ہی کے ٹکڑوں پر پڑے رہے‘ چنانچہ صاحبزادہ میاں بشیر احمد ایم۔ اے لکھتے ہیں کہ ”دوران ملازمت میں جہاں جہاں نانا جان مرحوم کا قیام ہوتا تھا‘ حضرت مسیح موعود بھی عموماً وہیں تشریف لے جاتے تھے۔ مثلاً انبالہ چھاؤنی‘ لدھیانہ‘ پٹیالہ‘ فیروز پور چھاؤنی میں تشریف لے گئے اور سب سے زیادہ لدھیانہ میں رہے۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد ۲‘ صفحہ ۹۵)

خسر کو داماد سے نفرت

جب الہامی صاحب نے شروع شروع میں تقدس کی دکان کھولی ہے تو مرزا صاحب کی دنیا پرستیاں دیکھ کر میر صاحب کو ان سے سخت نفرت ہو گئی اور شاید تین سال سے زیادہ عرصہ تک ان کی صورت سے بیزار رہے۔ مولانا محمد حسین بٹالوی لکھتے ہیں کہ جس زمانہ میں میں قادیانی صاحب سے حسن ظن رکھتا تھا‘ ان دنوں میر صاحب کو ان سے سخت نفرت تھی‘ یہاں تک کہ میر صاحب مجھے بھی مرزا جی کی طرف سے متنفر کرتے رہتے تھے۔ اسی سلسلہ میں ایک دفعہ انہوں نے ان کے خلاف ایک طویل نظم رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کرنے کے لیے دی‘ جس کا کچھ حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

مہدی وقت ہے کوئی مشہور کوئی بنتا ہے عیسائے دوران
نہ عیاں اس میں عیسوی برکت نہ ہدایت کا اس میں نام و نشان
صفحہ 487
نیک سب اٹھ گئے زمانہ سے ما بقی میں نہیں رہی ہے جان
حب دنیا نے گھیر رکھا ہے ہے بہت ہی ضعیف اب ایمان
حب مولیٰ جہاں سے ہے معدوم حرص دنیا میں پھنس گئے انسان
لذت نفس میں وہ ہیں سرگرم آج کل ہیں جو پیشوائے جہان
مرغ بریاں کا شوق ہے ان کو ہیں ملائک خصال جو انسان
قورمہ اور پلاؤ کھاتے ہیں لوگ کہتے ہیں جن کو قطب زمان
جو ولایت میں ہیں قدم رکھتے ان کی صدقہ پہ ہے فقط گزران
ٹھاٹھ ہیں ان کی سب امیرانہ در دولت پہ ہیں کئی دربان
رات دن ہیں عمارتیں بنتیں مال کرتے ہیں مفت میں ویران
ہائے آتے نہیں نظر وہ لوگ دیکھنے کو ترس گئی دل و جان
ہر صدی میں ہوئے ہیں اہل الحق رہبر خلق و صاحب عرفان
دین اسلام جن سے تازہ ہوا جن سے رونق پذیر تھا ایمان

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۴‘ صفحہ ۴۱۹ - ۴۲۰)

نقض بیعت

چونکہ ہمیشہ کی آمد و رفت اور ہر وقت کا بیٹھنا اٹھنا تھا اور صحبت کو کشش و جاذبیت میں بڑا دخل ہے‘ اس کے علاوہ میر صاحب کو رام کرنے کے لیے الہامی صاحب کے بڑے بڑے جفادری مرید پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑے رہتے تھے اور ہر وقت جھوٹ کو سچ کر کے دکھایا جاتا تھا‘ اس بنا پر تین چار سال کے بعد میر صاحب کو مرزا صاحب سے کسی قدر انس ہو گیا‘ یہاں تک کہ جب الہامی صاحب نے لدھیانہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور لوگوں سے اپنی مسیحیت کی بیعت لینے لگے تو میر صاحب نے بھی بیعت کر لی‘ لیکن چند ماہ بعد جب مرزا صاحب نے مولوی محمد حسین سے خود میر صاحب کے مکان پر مباحثہ کیا اور مولوی صاحب مسلسل بارہ دن تک مسیح صاحب کو رگیدتے رہے تو یہ زبوں حالی دیکھ کر میر صاحب کا جوش ٹھنڈا ہو گیا اور جامع مسجد پٹیالہ میں ایک بڑے مجمع کے اندر مرزائیت سے توبہ کر لی اور کہنے لگے کہ باوجود خاص تعلقات کے مجھے غلام احمد کی فریب کاری کا یہ علم نہ تھا جو

صفحہ 488

مباحثہ لدھیانہ میں کھلی۔ (اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۴‘ ۴۱۹۔ ۴۲۰)۔ کچھ دنوں کے بعد میر صاحب کو پھر ہموار کر لیا گیا‘ لیکن جب علماء ہندوستان اور علماء حرمین نے بالاتفاق قادیانی صاحب کے کفر و ارتداد کا فتویٰ دیا تو میر صاحب پھر تائب و متنفر ہو گئے اور ۲۴؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی کے نام یہ خط لکھا۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم از ناصر نواب بخدمت جناب مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ‘ عرض ہے کہ آپ کے رسالے پہنچے‘ میں نے ان کو نہایت کراہت سے دیکھا اور ایک قسم کی ہتک سمجھا‘ لیکن جب ان کو تمام و کمال پڑھا تو عجب کیفیت ہوئی۔ فتوے سے مجھے کلی موافقت ہو گئی اور تمام شکوک رفع ہو گئے‘ بلکہ معلوم ہوا کہ ایک قسم کا نشہ تھا جو اتر گیا یا ایک بے ہوشی تھی کہ رفع ہو گئی۔ اب مجھ سے مرزا صاحب کے مرید جھگڑتے ہیں‘ لیکن آپ یقین رکھیں کہ اگر وہ کل ملک پنجاب کے بھی جمع ہو جائیں تو مجھ پر فتح یاب نہیں ہو سکتے۔ (اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۴‘ صفحہ ۲۹۳)

راہ حق سے دائمی مفارقت اور مرزائیت پر خاتمہ

کچھ دنوں کے بعد ان کو بارگاہ قادیاں کی طرف سے اپنے ڈھب پر لانے کی مکرر کوششیں شروع ہوئیں اور طرح طرح سے ڈورے ڈالے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میر صاحب ازسرنو مرزائیت سے وابستہ ہو گئے اور باپ بیٹی میں صلح ہو گئی۔ اب میر صاحب کی جانب سے ایک اعلان شائع کیا گیا جس کا یہ مضمون تھا:

”جو کہ یہ عاجز عرصہ تین سال سے عزیزم مرزا غلام احمد صاحب پر بدگمان تھا‘ لہٰذا وقتاً فوقتاً نفس و شیطان نے خدا جانے کیا کیا ان کے حق میں مجھ سے کہلوایا جس پر آج مجھ کو افسوس ہے۔ باعث اس تحریر کا یہ ہے کہ ایک شخص نے مرزا صاحب کو خط لکھا کہ میں تم سے موافقت کیونکر کروں۔ تمہارے رشتہ دار (یعنی یہ عاجز) تم سے برگشتہ و بدگمان ہیں‘ اس کو سن کر مجھے سخت ندامت ہوئی اور ڈرا کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں اپنے گناہوں کے علاوہ دوسروں کے نہ ماننے کے وبال میں پکڑا جاؤں۔ اس سے بعد اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر کو چھپوا دے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو میں عنداللہ بری ہوں“۔

صفحہ 489

(تبلیغ رسالت‘ جلد ۲‘ صفحہ ۷۔۸)

سنا جاتا ہے کہ جب میر ناصر صاحب اسلام سے رشتہ توڑ کر مرزائیت کے حلقہ بگوش ہوئے تو معاً ان کے دل و دماغ پر بھی الہامی آندھیاں چلنے لگیں، چنانچہ اپنی بیوی یعنی مرزا محمود احمد کی نانی صاحبہ کے متعلق یہ الہام ہوا۔

تو ہے امت کی نانی میری ہر ایک بات ہے مانی

بالآخر میر صاحب بظاہر مرزائیت ہی کی حالت میں بمقام قادیاں ۱۹؍ ستمبر ۱۹۲۴ء کو طعمہ اجل ہو گئے۔ حق تعالیٰ مسلمانوں کو اس انجام سے بچائے اور ہر مومن کا خاتمہ ایمان پر کرے۔ آمین۔ ناصر نواب نے اپنے پیچھے دو ذکور اولادیں چھوڑیں۔ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب سول سرجن اور محمد اسحق۔ حق تعالیٰ راہ ہدایت دکھائے۔

باب ۳۶

مولوی محمد احسن امروہی کے ایمان و اسلام کی خریداری

امروہی صاحب کا سابقہ مسلک اور ملازمت

مولوی محمد احسن متوطن امروہہ ضلع مراد آباد ایک مشہور اہل حدیث عالم تھے۔ جن ایام میں مقلدوں اور غیر مقلدوں میں بعض فروعی مسائل کی بنا پر جھگڑے قضیے بپا تھے، ان دنوں بعض ارادت مندوں کی درخواست پر حضرت مولانا محمد قاسم مرحوم نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند نے ”ادلہ کاملہ“ کے نام سے ایک رسالہ لکھ کر اختلافی مسائل کے متعلق حنفی مسلک کو کتاب و سنت کی روشنی میں واضح فرمایا۔ مولوی محمد احسن امروہی نے اس کے جواب میں ایک رسالہ ”مصباح الادلہ لدفع الادلّہ الاذلّہ“ لکھا۔ مصباح الادلہ کی تردید میں مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے شاگرد رشید مولانا محمود حسن صاحب دیوبندی مرحوم (معروف بہ حضرت شیخ الہند) نے ”ایضاح الادلہ“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں حنفی مسلک کو بہ دلائل قاطعہ حق بجانب ثابت کیا۔ مولوی محمد احسن یا کسی دوسرے

صفحہ 490

اہلحدیث کی طرف سے "ایضاح الادلہ" کا تو کوئی جواب شائع نہ ہوا البتہ "مصباح الادلہ" کا پر زور نشر و ابلاغ ہوتا رہا۔ مولانا محمد حسین مرحوم بٹالوی نے اپنے ماہوار رسالہ اشاعۃ السنہ کی جون ۱۸۷۹ء کی اشاعت (جلد ۲، نمبر ۶) میں مولوی محمد احسن کے رسالہ مصباح الادلہ پر ایک طویل ثنا گسترانہ تبصرہ کیا جسے امروہی صاحب نے اپنی کتاب "القول المجد" کے صفحات ۲۳۔۲۴ پر نقل کیا ہے۔ اسی طرح مولوی سید آل حسن نے کتاب نخبۃ التواریخ میں امروہی صاحب کی تعریف میں لکھا۔ "مولوی سید محمد احسن ذی علم و مستعد و واعظ نیکو و باخلاق است در عمل بالحدیث بترک تقلید یدطولیٰ مے دارد و دریں باب رسائل تالیف فرمودہ"۔ (القول المجد، مولفہ محمد احسن امروہی، صفحہ ۲۳)۔ سید آل حسن غالباً نواب صدیق حسن خاں مرحوم کے والد تھے۔

مولوی محمد احسن شروع میں وائسرائے کے باڈی گارڈ رسالہ میں سواروں کو اردو پڑھانے پر مامور تھے۔ نواب صدیق حسن خاں مرحوم کے ایماء سے باڈی گارڈوں کی منشی گری چھوڑ کر بھوپال میں جا ملازم ہوئے، جہاں مستحقین زکوٰۃ کا حساب رکھنے کا کام ان کے تفویض ہوا، لیکن کچھ عرصہ کے بعد بھوپال کی خدمت سے برطرف کر دیے گئے۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۴، صفحہ ۳۵۴۔۳۵۵ حاشیہ)

عسر و ناداری سے ایمان میں تزلزل

بھوپال کی معزولی کے بعد امروہی صاحب کو عسر و ناداری نے آ گھیرا۔ اس ایمانی قلعہ کی دیواریں ایسی کھوکھلی تھیں کہ انقلاب دہر کے ایک ہی تیشہ سے گر پڑیں اور حواس کے اوراق خزاں دیدہ آناً فاناً باد اضطرار کی نذر ہو گئے۔ اخلاقی طاقت اور ایمانی قوت کا امتحان تو اسی وقت ہوتا ہے جب سر پر مصائب و نوازل کے طوفان اٹھ رہے ہوں، جن لوگوں کو خدائے بزرگ و برتر ضبط و تحمل کی دولت جاوید سے بہرہ مند فرماتا ہے، وہ ہجوم مشکلات میں ثابت قدم رہتے ہیں اور جو حرمان نصیب صبر و ثبات کی نعمت سے محروم ہیں، ان کا پایہ استقلال ڈگمگا جاتا ہے۔ ایسے لوگ جھٹ ارتداد کی وادیوں میں بھٹکنے لگتے ہیں۔ کوئی عیسائیت یا مرزائیت کی آغوش میں پناہ لیتا ہے اور کوئی آریہ بن کر اپنی بے زری اور ناداری کا مداوا ڈھونڈتا ہے۔ معلوم نہیں کہ امروہی صاحب نے تنگی معاش کے وقت خود قادیاں

صفحہ 491

سے خط و کتابت کی یا مرزا صاحب نے ان کو چاہ مصر میں دیکھ کر ان کی ناداری سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ بہرحال اب امروہی نے اپنی قسمت قادیاں سے وابستہ کر دی‘ جہاں وہ پہلے مرزائیت کی تردید کیا کرتے‘ اب رات دن قادیانی مسیحیت کے راگ الاپنے لگے۔

امروہی صاحب کے بسراوقات کی سبیل

واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ امروہی صاحب نے الہامی صاحب سے ہر قسم کے وعدے پہلے ہی لے لیے تھے۔ اس بنا پر الہامی صاحب نے ۲۶ مئی ۱۸۹۲ء کو اپنے مریدوں میں ایک اعلان زیر عنوان ”ضروری اشتہار“ شائع کیا‘ جس میں لکھا:

”اس عاجز کا ارادہ ہے کہ اشاعت دین اسلام کے لیے ایسا احسن انتظام کیا جائے کہ ممالک ہند میں ہر جگہ ہماری طرف سے واعظ و مناظر مقرر ہوں اور بندگان خدا کو دعوت حق کریں تا حجت اسلام روئے زمین پر پوری ہو‘ لیکن اس ضعف اور قلت جماعت کی حالت میں ابھی یہ ارادہ کامل طور پر انجام پذیر نہیں ہو سکتا۔ بالفعل یہ تجویز کیا ہے کہ اگر حضرت مولوی محمد احسن صاحب امروہی‘ جو ایک فاضل جلیل اور امین اور متقی اور محبت اسلام میں بہ دل و جان فدا شدہ ہیں‘ قبول کریں تو کسی قدر جہاں تک ممکن ہو تو یہ خدمت ان کے سپرد کی جائے۔ مولوی صاحب موصوف بچوں کی تعلیم اور درس قرآن و حدیث اور وعظ و نصیحت اور مباحثہ اور مناظرہ میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔ نہایت خوشی کی بات ہے اگر وہ اس کام میں لگ جائیں لیکن چونکہ انسان کو حالت عیال داری میں وجوہ معیشت سے چارہ نہیں اس لیے یہ فکر سب سے مقدم ہے کہ مولوی صاحب کے کافی گزارہ کے لیے کوئی احسن تجویز ہو جائے‘ یعنی یہ کہ ہر ایک ذی مقدرت صاحب ہماری جماعت میں سے دائمی طور پر جب تک خدا تعالیٰ چاہے ان کے گزارہ کے لیے حسب استطاعت اپنے کوئی چندہ مقرر کریں اور پھر جو کچھ مقرر ہو بلا توقف ان کی خدمت میں بھیج دیا کریں۔ اس اشتہار کے پڑھنے پر جو صاحب چندہ کے لیے تیار ہوں وہ اس عاجز کو اطلاع دیں“۔

(نشان آسمانی‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ج)

صفحہ 492

امروہی صاحب کی اعانت کے لیے دوسرا اعلان

چند روز کے بعد قادیانی صاحب نے فاضل امروہی کی امداد کے لیے ایک اور اشتہار شائع کیا جس کا عنوان شیخ سعدی شیرازیؒ کا یہ شعر تھا۔

دوست آں باشد کہ گیرد دست دوست در پریشاں حالی و درماندگی

اس اشتہار میں لکھا: اس وقت میں ضروری طور پر اپنے دوستوں کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ اخویم مکرم حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب، جو اس وقت بمقام بھوپال محلہ چوب دار پورہ میں نوکری سے علیحدہ ہو کر خانہ نشین ہیں، بوجہ تکالیف عسر ہمدردی کے لائق ہیں، اگرچہ مولوی صاحب موصوف بڑے صابر اور متوکل اور خدا تعالیٰ پر اپنے کاروبار چھوڑنے والے ہیں، لیکن ہمیں خود موقعہ ثواب کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہیے۔ حضرت مکرم مولوی حکیم نور الدین صاحب ایسے طبعی کاروبار اور نوائب الحق میں سب سے پہلے قدم رکھتے تھے، مگر اس وقت برادر موصوف اپنے تعلق ملازمت ریاست جموں سے علیحدہ ہو گئے ہیں، لہٰذا ہر ایک بھائی کی اپنے اپنے مقدرت کے موافق توجہ درکار ہے۔ پہلے اکثر صاحب اس رائے کی طرف مائل تھے کہ جس وقت حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب کے لیے ایک رقم معقول چندہ ماہواری کی جو چالیس روپیہ ماہواری سے کم نہ ہو قرار پا جائے تو اس وقت مولوی صاحب کو پنجاب میں بلا لیا جائے اور جس وقت وہ تشریف لے آئیں اسی تاریخ سے ماہواری چندہ ادا کرنا لازم سمجھا جائے، مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کو اس تفرقہ اور پریشانی میں ڈالنا ضروری نہیں۔ خدمت دین کا کام وہ بھوپال میں رہ کر بھی کر سکتے ہیں۔ مناسب ہے کہ ہر ایک صاحب، جو چندہ دینے کو تیار ہیں، یکم اگست ۱۸۹۲ء سے اپنے ذمہ چندہ واجب الادا قرار دیں اور دو ماہ کا چندہ یعنی بابت اگست اور ستمبر ۱۸۹۲ء بلا توقف مولوی صاحب کی خدمت میں بھیج دیں اور آئندہ ماہ بہ ماہ براہ راست اپنا چندہ مولوی صاحب ممدوح کی خدمت میں ارسال فرما دیا کریں، اب تک جن جن صاحبوں نے حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب کے لیے چندہ دینا تجویز کیا ہے ان کے نام نامی معہ تعداد چندہ ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔

منشی ہاشم علی پٹواری برنالہ ۸؍ شہزادہ عبدالمجید صاحب لدھیانہ ۸؍ منشی رستم علی

صفحہ 493

صاحب ڈپٹی انسپکٹر ریلوے عمار منشی فیاض علی صاحب کپور تھلہ ہمہ منشی عبدالرحمٰن صاحب کپور تھلہ ہمہ شیخ رحمت اللہ صاحب گجرات پنجاب ایک روپیہ‘ دولت خاں مقام کالکا ہمہ مفتی محمد صادق بھیروی مدرس جموں ہمہ حکیم فضل الدین صاحب بھیروی عمار بابو محمد صاحب انبالہ سر خلیفہ نور الدین صاحب تاجر کتب جموں عدر حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب عدر سید حمید شاہ صاحب عدر مولوی غلام قادر فصیح صاحب سیالکوٹ عمار میاں محمد علی صاحب لاہور ہمہ میاں مظفر الدین صاحب لاہور ہمہ میاں عبدالرحمٰن صاحب لاہور ۳ حافظ فضل احمد صاحب لاہور ہمہ منشی مولا بخش صاحب لاہور ہمہ بابو نبی بخش کلرک لاہور ۸ سید امیر علی صاحب سارجنٹ ضلع سیالکوٹ عدر سید خصلت علی صاحب ڈپٹی انسپکٹر کڑیاں والا گجرات عدر ۔

ان تمام حضرات کی خدمت میں مکرر عرض ہے کہ اگر کوئی مانع نہ ہو تو ضرور اس اشتہار کے پہنچنے کے ساتھ ہی دو ماہ کا چندہ حضرت مولوی محمد احسن صاحب کی خدمت میں بلا توقف ارسال فرما دیں۔ پتہ وہی بھوپال محلہ‘ چوبدار پورہ۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۲‘ صفحہ ۱۱۷۔

۱۱۸)

محمد علی خاں صاحب کی طرف سے بیس روپیہ ماہانہ کی امداد

چونکہ امروہی صاحب اپنا ایمان و اسلام قادیانی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھا چکے تھے اور قادیانی صاحب کو یہ ایک ایسا مفید آدمی مل گیا تھا‘ جس کی علمی دست گاہ نے چند ہی سال کے اندر مرزائیت کی بے روح لاش میں حس و حرکت کے آثار پیدا کر دیے تھے‘ اس لیے ضرور تھا کہ قادیانی صاحب اس نعمت غیر مترقبہ کی کماحقہ قدر کرتے‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا‘ الہامی صاحب نے امروہی صاحب کے دل دردمند پر ہمدردی کا مرہم رکھا۔ ان کی امداد کے لیے عام چندوں کے علاوہ اپنے مرفہ الحال مریدوں سے خاص چندہ بھی وصول کیا‘ چنانچہ مندرجہ ذیل چٹھی‘ جو قادیانی صاحب نے اپنے مرید خاص سردار محمد علی خاں مالیر کوٹلوی کے نام ۹ دسمبر ۱۸۹۳ء کو روانہ کی‘ اس حقیقت پر روشنی ڈالتی ہے۔ الہامی صاحب نے لکھا: ”مکرمی اخویم مولوی سید محمد احسن صاحب قریباً دو ہفتہ سے قادیاں تشریف لائے ہوئے ہیں اور آپ نے جب آپ کا اس عاجز کا تعلق اور حسن ظن تھا نہیں

صفحہ 494

روپیہ ماہوار ان کو اسی سلسلہ کی منادی اور وعظ کی غرض سے دینا مقرر کیا تھا، چنانچہ آپ نے کچھ عرصہ ان کو دیا، لیکن چند ماہ سے ان کو کچھ نہیں پہنچا۔ اب اگر اس وقت مجھ کو اس بات کے ذکر کرنے سے بھی آپ کے ساتھ دل رکتا ہے، مگر چونکہ مولوی صاحب موصوف اس جگہ تشریف رکھتے ہیں اس لیے آپ جو مناسب سمجھیں میرے جواب کے خط میں اس کی نسبت تحریر کر دیں۔ حقیقت میں مولوی صاحب نہایت صادق دوست اور عارف حقائق ہیں۔ وہ مدراس اور بنگلور کی طرف دورہ کر کے ہزارہا آدمیوں کے دلوں سے تکفیر اور تکذیب کے غبار دور کر آئے اور ہزارہا کو اس جماعت میں داخل کر آئے ہیں اور نہایت مستقیم اور قوی الایمان اور پہلے سے بھی نہایت ترقی پر ہیں"۔

(مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۴، صفحہ ۷۰ - ۷۱)

امروہی مرتد مولانا بٹالوی کے چنگل میں

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ حکیم نور الدین اور مولوی محمد احسن امروہی مرزائیت کے دو شہپر تھے، جن کی مدد سے مرزا صاحب فضائے زندقہ میں پرواز کیا کرتے تھے۔ مولوی محمد حسین صاحب مرحوم نے حکیم نور الدین کو جس طرح میدان مناظرہ سے بھگایا اس کی کیفیت آپ پہلے پڑھ آئے ہیں، اسی طرح مولوی صاحب نے جس طرح محمد احسن امروہی کے دانت کھٹے کیے اس کی کیفیت رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ (جلد ۱۴، صفحہ ۳۵۴ تا ۴۱۲) میں ملاحظہ فرمائیے۔ حقیقت میں مرزائی اکابر کے مقابلہ میں مولانا بٹالوی کی وہی حیثیت تھی جو بھیڑ بکری کے مقابلہ میں قصاب کی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ اثناء گفتگو میں مولوی محمد حسین صاحب نے لفظ کبر الکبر استعمال کیا۔ امروہی صاحب یہ خیال کر کے کہ کبر الکبر عربی کا کوئی صحیح محاورہ نہیں، خوشی سے پھولے جامے میں نہ سمائے اور معاً عالم مسرت میں سوچنے لگے کہ مولوی محمد حسین نے ہر وقت ناک میں دم کر رکھا ہے، لیکن اب گرفت میں آئے اور خوب پھنسے۔ یہ سوچ کر کہنے لگے، ”کیوں صاحب! یہ کبر الکبر کیا بلا ہے؟ یہ کس زبان کا محاورہ ہے؟ ذرا واضح طور پر بیان فرمائیے، تاکہ اس ہیچمدان کی بھی سمجھ میں آ جائے"۔ مولانا بٹالوی بے ساختہ بولے: ”یہ حضرت سید العرب و العجم صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ 495

کی حدیث کے الفاظ ہیں جو صحیح مسلم‘ جلد ۲‘ صفحہ ۵۵ پر موجود ہیں اور اگر ان کے معنی معلوم کرنا چاہو تو میرے رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ کے صفحہ ۴۷ کا حاشیہ دیکھو"۔ یہ دندان شکن جواب سن کر امروہی صاحب بغلیں جھانکنے لگے اور شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۳‘ صفحہ ۴۴)

باب ۳۷

دعوائے مہدویت کی بوالعجبیاں

مسیح زمان کو ”سب کچھ“ بننے کا خبط

جس طرح چھوٹے چھوٹے بچے جس نئی چیز کو بھی دیکھتے ہیں اسی کے والہ و شیدا ہو جاتے ہیں‘ اسی طرح قادیانی صاحب جب کبھی کسی باکمال آدمی کا نام اور اس کے کارنامے سنتے تو کہنے لگتے کہ وہ میں ہوں کیونکہ تولہ بھر کی زبان ہلا کر اتنا کہہ دینا کہ ”میں ہوں“ خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ قادیانی چڑیا گھر کے ہزارہا چرند و پرند چاروں طرف تائید و تصدیق کے لیے بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہوں کچھ بھی مشکل نہ تھا۔ الہامی صاحب نے کہیں سنا کہ ہندوؤں میں کرشن جی نام ایک بڑے اوتار گزرے ہیں‘ جو بانسری بجایا کرتے تھے تو فرمانے لگے کہ وہ میں ہوں۔ کسی نے بتایا کہ پرانے خیال کے برہمن سنبھل ضلع مراد آباد میں کلکی اوتار کے ظہور کے منتظر ہیں‘ تو جھٹ کہہ دیا کہ وہ تو میں ہوں۔ کتابوں میں پڑھا کہ مسلمان اور عیسائی حضرت مسیح ابن مریم علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد ثانی کے منتظر ہیں تو جھٹ پکار اٹھے کہ وہ میں ہوں۔ ”سب کچھ“ بننے کے اس خبط میں بھلا یہ کہاں ممکن تھا کہ قادیاں کے رئیس صاحب کتب حدیث میں صاحب الزمان حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کی پیشین گوئیاں پڑھتے اور ان کے دماغ میں مہدویت کی مسند پر بیٹھنے کی ہوس نہ سماتی۔ لیکن اور چیزیں بننے کے لیے تو زبان سے کہہ دینا یا قلم سے لکھ دینا ہی کافی تھا کہ وہ میں ہوں۔ اس کے بعد وہ مرزائیوں کی نظر میں معاً وہی ہو جاتے تھے لیکن چونکہ مہدویت کا دعویٰ دوسرے دعووں سے کسی قدر مختلف حیثیت رکھتا تھا اور اس میں

صفحہ 496

بہت سے خطرات تھے اس بنا پر ملہم قادیاں کو سالہا سال تک مہدی بننے کی جرات نہ ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ جن دنوں ہندوستان میں قادیانی صاحب براہین احمدیہ لکھ کر اپنی تجدید اور تقدس مابی کی ڈفلی بجا رہے تھے۔ ان ایام میں سر زمین سوڈان میں محمد احمد نامی ایک مدعی مہدویت نے انگریزوں کا قافیہ تنگ کر رکھا تھا۔ اس نے اپنے مریدوں کی ایک بڑی جمعیت بہم پہنچا کر انگریزی حکومت کا تختہ الٹ دینے کی ٹھان لی تھی۔ وہ حکومت سے بر سر پیکار ہونے کے بعد شہروں پر شہر فتح کرتا جا رہا تھا اور انگریزی سپاہ کے بنائے کچھ نہ بنتا تھا۔ محمد احمد مہدی فتح مندی کے پھریرے اڑاتا ہوا سرحد مصر تک پہنچا اور ۱۸۸۳ء میں سارے ملک سوڈان کو زیر علم کر لیا۔ ان فتوحات کے بدولت مہدی سوڈانی کی شہرت اطراف عالم میں جا جا کے ٹکرانے لگی۔ ان مصاف آرائیوں کی وجہ سے اہل برطانیہ نہ صرف مہدی سوڈانی کے نام سے نفرت کرتے تھے۔ بلکہ مہدی کا لفظ ہی بہی خواہان برطانیہ کے نظام اعصاب میں تہلکہ برپا کرنے کے لیے کافی تھا۔

مہدویت کو نظر انداز کر کے مسیحیت کا دعویٰ

جن دنوں سوڈان میں محمد احمد کا طوطی بول رہا تھا۔ ان ایام میں یہاں مرزا جی اپنی خانہ ساز تجدید کی قبا اوڑھے اپنے پیشرو مدعیان دروغ زن کے حالات کا نظر امعان سے مطالعہ فرما رہے تھے۔ ان کے دل میں رہ رہ کر ولولے اٹھتے تھے کہ وہ بھی میدان ترقی میں قدم رکھ کر مہدی موعود بن جائیں لیکن اتنی جرات نہیں تھی کہ محمد احمد کی طرح کسی کار عظیم و خطیر کو اپنے دوش ہمت پر لیں۔ بلکہ ہمارے الہامی صاحب تو تقدس مابی کے چند ابتدائی سالوں میں اپنے لیے لفظ مہدی کے استعمال کئے جانے سے بھی گھبراتے تھے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ مہدویت کا لفظ منہ سے نکالا اور جھٹ انگریز بہادر نے ٹینٹوا دبا کر نخل آرزو کی جڑیں کاٹیں۔ اس بناء پر ملہم صاحب نے ابتداءً مہدویت کی جگہ مسیحیت کا دعویٰ کیا۔ رہیں مسیح علیہ السلام کی علامات شخصہ جو قادیانی صاحب کی ذات میں ناپید تھیں اور جن کو مرزا جی کے پیش رو اپنے دعوائے مسیحیت کی راہ میں حائل سمجھتے آ رہے تھے۔ سو اس مشکل پر غالب آنے کے لیے قادیانی صاحب کی قوت سخن سازی اور استعداد تاویل کاری ہی کافی تھے۔ چنانچہ آپ حضرات پہلے پڑھ آئے ہیں کہ الہامی صاحب کس طرح ایک خیالی

صفحہ 497

و ذہنی حمل کے ذریعہ سے غلام احمد ابن غلام مرتضیٰ سے عیسیٰ ابن مریم بن گئے اور کس طرح ان کے پیروؤں نے حمل، وضع حمل اور اس قسم کے دوسرے خرافات کے سامنے "سمعاً و طاعۃً" کہہ کر سر جھکا دیا۔

مہدی کب اور کیونکر بنے؟

گو مسیح موعود صاحب نے صاف لفظوں میں مہدویت کا دعویٰ ۱۸۹۲ء میں اس وقت کیا ہے جبکہ انہیں شاہ نعمت اللہ کا قصیدہ کہیں سے ملا تھا۔ لیکن اصل یہ ہے کہ وہ بے چارے دعوائے مہدویت میں ہمیشہ مذبذب اور گو مگو کی حالت میں رہے۔ کبھی تو دبے لفظوں میں اس کے مدعی بن جاتے تھے اور کبھی حکومت کے خوف سے کانوں پر ہاتھ رکھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جن دنوں مرزا جی نے اپنی مسیحیت کا نغمہ چھیڑ رکھا تھا ان ایام میں کسی عالم ربانی کی طرف سے سوال ہوا کہ اگر مسیح موعود آپ ہیں تو حضرت مہدی علیہ السلام جو مسیح کے عہد سعادت میں ظاہر ہونے والے تھے کیا ہوئے؟ اس کے جواب میں مرزا جی حسب معتاد کہنے لگے کہ وہ بھی تو میں ہوں۔ غرض اس دن سے مسیح موعود کی طرح مہدی موعود بھی بننے لگے۔ کیونکہ خود ساختہ مہدویت کی ساری بساط یہی ہے کہ محض زبان سے دعویٰ کر دیا جائے۔ مگر نہ تو حضرت مہدی علیہ السلام کی علامتیں پائی جائیں، جو احادیث صحیحہ میں مروی ہیں اور نہ وہ شجاعانہ اور فاتحانہ کارنامے دکھائے جائیں جو حضرت مہدی مسعود کا طغرائے امتیاز ہیں۔

صفحہ 498

باب ۳۸

مسئلہ مہدی علیہ السلام اور اپنی مہدویت کے متعلق

رئیس قادیاں کی قلابازیاں

اب میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ رئیس قادیاں نے مسئلہ ظہور مہدی علیہ السلام اور اپنی خانہ زاد مہدویت کے متعلق کیا کیا رنگ بدلے اور اپنی سیماب وشی اور تلون مزاجی کے کیسے شاندار مظاہرے کیے۔ ذیل میں آپ کو معلوم ہو گا کہ الہامی صاحب نے کس سال میں کیا خیال اور کیا مسلک ظاہر کیا تھا؟

سال قادیانی صاحب کا بیان قادیانی تصنیف کا حوالہ ۱۸۹۱ء ”اہل سنت و جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام محمد مہدی ازالہ اوہام‘ فوت ہو گئے ہیں اور آخری زمانہ میں انہی کے نام پر طبع پنجم‘ ایک اور امام پیدا ہوگا لیکن محققین کے نزدیک مہدی صفحہ ۱۹۰ کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے“۔ ۱۸۹۲ء ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کئی مہدیوں کی خبر دیتے نشان آسمانی‘ ہیں۔ منجملہ ان کے وہ مہدی بھی ہے جس کا نام صفحہ ۹۔۱۰ حدیث میں سلطان مشرق رکھا گیا۔ جس کا ظہور ممالک مشرقیہ ہندوستان وغیرہ سے اور اصل وطن فارس سے ہونا ضروری ہے۔ یہ بات بالکل ثابت شدہ اور یقینی ہے کہ صحاح ستہ میں کئی مہدیوں کا ذکر ہے“۔ ۱۸۹۴ء مہدی موعود کا ایک نشان یہ ہے کہ اس کے وقت میں انوار الاسلام‘ ماہ رمضان میں خسوف کسوف ہوگا۔ صفحہ ۴۶ ۱۸۹۷ء حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ضمیمہ تحفہ گولڑویہ‘ ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو صفحہ ۴۰ تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔

صفحہ 499

سال قادیانی صاحب کا بیان قادیانی تصنیف کا حوالہ

۱۸۹۹ء میرا اور میری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ اس قسم کی حقیقتہ المہدیٰ تمام حدیثیں جو مہدی کے آنے کے بارے میں ہیں صفحہ الف ہرگز قابل وثوق اور قابل اعتبار نہیں ہیں۔

۱۸۹۹ء مہدی کے بارے میں جس قدر احادیث ہیں وہ سب کی حقیقتہ المہدیٰ سب ضعیف، مجروح، موضوع اور افترائی ہیں۔ ص ۲۰

۱۸۹۹ء میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے اشتہار معیار الاخیار سوال کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے؟ تو مندرجہ تبلیغ رسالت انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکر کیا، وہ تو بعض انبیاء سے جلد ۹، صفحہ ۳۰ بھی بہتر ہے۔

۱۹۰۳ء ”وہ آخری مہدی جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی تذکرۃ الشہادتین کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت صفحہ ۲ پانے والا اور اس آسمانی مائدہ کو نئے سرے انسانوں کے آگے پیش کرنے والا تقدیر الہی میں مقرر کیا گیا تھا جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی وہ میں ہی ہوں“۔

۱۹۰۵ء میرا یہ دعویٰ نہیں کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق براہین احمدیہ من ولد فاطمتہ ومن عترتی وغیرہ ہے۔ میرا دعویٰ تو حصہ پنجم، مسیح موعود ہونے کا ہے۔ مسیح موعود کے لیے کسی صفحہ ۱۸۵ محدث کا قول نہیں کہ وہ بنی فاطمہ وغیرہ میں سے ہوگا۔ ہاں ساتھ اس کے جیسا کہ تمام محدثین کہتے ہیں۔ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں تمام مجروح اور مخدوش ہیں اور ایک بھی ان میں سے صحیح نہیں اور جس قدر افتراء ان حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور حدیث میں ایسا نہیں ہوا۔

صفحہ 500

غرض قادیاں کے ملہم صاحب جتنی مدت تک مسند اغواء پر متمکن رہے، ظہور مہدی علیہ السلام اور دعوائے مہدویت کے متعلق ان کی کشتی خاطر برابر تذبذب میں ہچکولے کھاتی رہی۔ کبھی تو مہدویت کے دعوے دار بن بیٹھتے تھے اور کبھی سرے سے عقیدہ ظہور مہدی کی صحت سے منکر ہوجاتے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ جب انکار کرتے تھے تو اس کے یہ معنی ہوتے تھے کہ اس سے پیشتر جب کبھی انہوں نے مہدویت کا دعویٰ کیا تھا تو وہ محض مجروح اور موضوع روایات کو صحیح یقین کرتے ہوئے کیا تھا۔ اور ضرورۃً اس حقیقت کو پس پشت ڈال دیا تھا کہ جس قدر افتراء مہدی کی حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور حدیث میں نہیں ہوا۔

باب ۳۹

ایک مہدوی کا قول اپنا کر بعض انبیاء

سے افضل بننے کی کوشش

باب سابق میں قادیانی کا یہ بیان آپ کی نظر سے گزرا ہوگا کہ ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ وہ حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا وہ تو بعض انبیاء سے بھی بہتر ہے“۔ اب میں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ یہ ملحدانہ تخیل پیروان جونپوری مدعی مہدویت کی چوسی ہوئی ہڈی ہے، جسے الہامی صاحب نے اپنے خوان الحاد کی زینت بنا لیا تھا۔ چنانچہ مولانا محمد زمان خاں مرحوم نے اپنی کتاب ”ہدیہ مہدویہ“ کے آٹھویں باب میں رسالہ ”اعتقادات و عملیات“ مولفہ سید عیسیٰ لقب بہ عالم میاں مہدوی سے مہدویہ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ ”یہ صحیح ہے کہ ولی مرتبہ میں نبی کو نہیں پہنچ سکتا لیکن مہدی موعود حضرت سید محمد جونپوری علیہ الصلوٰۃ والسلام اس حکم میں داخل نہیں ہیں کیونکہ وہ تو بعض انبیاء سے بھی افضل ہیں۔ چنانچہ علمائے معتمدین نے اپنی کتب میں بلا تعارض روایت کی ہے کہ عقد الدرر کے ساتویں باب میں مذکور ہے کہ ابن سیرین نے فرمایا ہے کہ مہدی بہتر ہے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے اور برابر ہے نبی صلی

صفحہ 501

اللہ علیہ وسلم کے"۔ اور دوسری روایت ہے کہ فرمایا کہ مہدی بعض انبیاء علیہ السلام پر بھی فضیلت رکھتا ہے۔ (ہدیہ مہدویہ‘ مولفہ مولانا محمد زمان خاں شہید‘ صفحہ ۲۸۲) الغرض یہ ڈھکوسلہ مہدوی فرقہ نے اپنے مقتدا سید جونپوری کے افضل الانبیاء ہونے کے ثبوت میں پیش کیا تھا۔ ہمارے قادیانی صاحب نے جو دیوانہ بکار خویش ہوشیار کے صحیح مصداق تھے وہاں سے سرقہ کر کے اپنے اوپر چسپاں کرلیا۔ اور معاذاللہ بعض انبیاء سے افضل بن بیٹھے۔ کاش ہندوستان میں اس وقت کوئی اسلامی سلطنت حکمران ہوتی تو اس تعلی کا مزا چکھا دیتی۔

باب ۴۰

اپنی خود ساختہ مہدویت کے متعلق

قادیانی کے مضحکہ خیز معیار

ایک طرف تو الہامی صاحب معتزلہ اور دوسرے گمراہ فرقوں کی طرح ظہور مہدی علیہ السلام کے قطعا منکر تھے اور ان پچاس حدیثوں کو‘ جن میں حضرت مہدی علیہ السلام کی تشریف آوری کی پیشین گوئی ہے (معاذ اللہ) افتراء قرار دیتے تھے لیکن دوسری طرف خود مہدی ہونے کے مدعی تھے اور اپنی خانہ ساز مہدویت کے من گھڑت معیار پیش کیا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے فاتر العقل پیروؤں کی طرح ساری دنیا کو محروم الوجدان اور مسلوب الحواس خیال کر رکھا تھا اور اتنا نہیں سمجھتے تھے کہ ان کے عابی خدا اور الہام رسان ٹیچی ٹیچی نے خود ان کی خرد اور ہوش پر حق فراموشی کے موٹے پردے ڈال رکھے ہیں۔ اب ذرا وہ معیار ملاحظہ ہوں جو خانہ ساز مہدی صاحب نے اپنی مہدویت کے ثبوت میں پیش کئے ہیں۔

میں سچا مہدی ہوں کیونکہ میں نے عیسائیوں سے مناظرہ کیا

قادیانی ملہم نے اپنے سچے مہدی ہونے کی ایک دلیل یہ لکھی ”یہ فتنہ اور مکر جو

صفحہ 502

عیسائیوں کا ہوا یہ مہدی موعود کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا کیونکہ حدیث کے الفاظ صاف اشارہ کرتے ہیں کہ مہدی کے وقت مسلمانوں کا عیسائیوں کے ساتھ کچھ مناظرہ واقع ہوگا اور پہلے تھوڑا ہوگا اور پھر اس کو طول ہو کر ایک فتنہ عظیمہ ہو جائے گا۔ اس وقت آسمان سے یہ آواز آئے گی کہ حق آل عیسیٰ کے ساتھ ہے" یعنی عیسائی سچے ہیں۔ یہ حدیث صاف بتلا رہی ہے کہ اس فتنہ کے وقت جس قدر لوگ عیسائیوں کا ساتھ دیں گے وہ شیطان کے ذریات ہیں اور ان کی شیطان کی آواز ہے۔

(ضیاء الحق، مرتبہ قادیانی صاحب، صفحہ ۳۲)

اس کے متعلق التماس ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی کوئی حدیث مروی نہیں جس میں حضرت مہدی علیہ السلام کے عہد سعادت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے کسی مناظرہ کا ذکر ہو۔ یہ محض قادیاں کا دماغی اختراع اور مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء ہے۔ البتہ مسلمانوں کے خلاف اہل صلیب کے رزم خواہ ہونے کا تذکرہ بہت سی حدیثوں میں موجود ہے۔ شاہ رفیع الدین دہلوی رحمۃ اللہ نے اپنے رسالہ قیامت نامہ میں ایک لڑائی کا واقعہ یوں نقل کیا ہے۔ ”نصاریٰ ہر طرف سے فراہمی لشکر کی کوشش کریں گے اور نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج لے کر چڑھ آئیں گے۔ اس وقت ان کے اسی ۸۰ جھنڈے ہوں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ بارہ ہزار فوج ہوگی۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام بھی مکہ معظمہ سے کوچ کر کے مدینہ منورہ پہنچیں گے اور حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے مرقد منور کی زیارت کر کے شام کا قصد کریں گے۔ جب شہر دمشق پہنچیں گے تو دوسری طرف سے نصاریٰ کی فوج مقابلہ کے لیے آ نمودار ہوگی“۔

اسی طرح قادیانی صاحب نے جو ابو نعیم کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آسمان سے آواز آئے گی۔ سو یہ روایت سخت ضعیف اور ناقابل استدلال ہے۔ موعود صاحب کی عادت تھی کہ خلاف مدعا ہوتی تو بخاری اور مسلم کی صحیح حدیث کو بھی (معاذاللہ) ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے اور اگر مفید مطلب ہوتی تو دیلمی، ابن عساکر، ابو نعیم وغیرہم کی موضوع بناوٹی روایتوں کو ہی لے دوڑتے اور استدلال میں پیش کرنے لگتے۔

زمین فسق و فجور سے بھر گئی ہے اس لیے میں مہدی ہوں

صفحہ 503

قادیانی صاحب نے اپنی مہدویت کی ایک دلیل یہ لکھی۔ از انجملہ نصوص حدیثیہ میں ایک حدیث مسیح موعود کے زمانہ کی یہ لکھی ہے کہ اس کے ظہور سے پہلے زمین ظلم اور جور سے بھری ہوگی اور پھر وہ مہدی موعود عدل اور انصاف سے زمین کو پر کر دے گا۔ کما فی المشکوۃ رواہ ابو داؤد و الحاکم ایضاً اب ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں ہر ایک قسم کے ظلم یعنی معصیت اور افراط اور تفریط اور فسق و فجور سے زمین بھری ہوئی ہے، سو درحقیقت یہ وہی زمانہ ہے جو حدیث کے منشاء کے موافق ہے یعنی جس میں ہر ایک قسم کا گناہ اور ہر ایک قسم کی بدکاری اور ہر ایک قسم کی بد اعتقادی پھیل گئی ہے اور شرک جو ظلم عظیم ہے اس کا جھنڈا نہایت زور سے کھڑا کیا گیا ہے اور یہ حدیث نہایت وضاحت سے بیان کر رہی ہے کہ حالت موجودہ کا ظلم اور جور جس کا طرہ ہوگا اسی کی اصلاح کے لیے وہ مہدی موعود آئے گا۔

(کتاب البریہ، مولفہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۲۲۶)

الہامی صاحب نے یہ بجا فرمایا کہ زمین ظلم و جور، فسق و فجور، اور شرک و معصیت سے بھری ہوئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا قادیاں کے مہدی صاحب نے مبعوث ہو کر معمورۂ عالم کو ظلم و جور سے نجات دلائی اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیا؟ کیا دنیا سے شرک و معصیت کا قلع قمع ہو گیا؟ کیا خلق خدا مہدی قادیاں کی برکت قدوم سے فسق و فجور سے بے گانہ و نا آشنا ہو گئی؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے اور یقیناً نفی میں ہے تو تعجب ہے کہ رئیس قادیاں کے جھوٹے مہدی ہونے میں کیوں شک کیا جاتا ہے؟

قادیاں کے خود ساختہ مہدی نے سچے مہدی علیہ السلام کے متعلق ابو داؤد اور حاکم کی جو حدیث مشکوۃ المصابیح سے نقل کی اس میں مہدی علیہ السلام کی یہ دو علامتیں بھی سرور دو جہاں علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں:

لیکن چونکہ یہ دونوں علامتیں قادیاں کے قصر استبداد کو بالکل پیوند زمین کر دیتی تھیں۔ اس لیے ”مہدی موعود“ صاحب کی دیانت نے الفاظ حدیث میں سے ان ناگوار علامات کا حذف کر دینا ہی ضروری خیال کیا۔

صفحہ 504

میرے مہدی ہونے کا ایک ثبوت کدعہ قادیاں کی سکونت ہے

قادیانی صاحب نے اپنی سچائیوں کی ایک یہ دلیل پیش کی۔ احادیث میں بیان فرمایا گیا ہے کہ مہدی موعود ایسے قصبہ کا رہنے والا ہوگا، جس کا نام کدعہ یا کدیہ ہوگا۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ لفظ کدعہ دراصل قادیاں کے لفظ کا مخفف ہے۔ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۳۲۶) اور لکھا کہ شیخ علی حمزہ بن طوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں جو ۸۴۰ھ میں تالیف ہوئی تھی مہدی موعود کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مہدی اس گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے۔ یہ نام دراصل قادیاں کے نام کو معرب کیا ہوا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۴۰)

اس کے متعلق التماس ہے کہ اول تو روایت میں کدعہ نہیں کرعہ ہے جو یمن کا ایک گاؤں ہے۔ چنانچہ کامل ابن عدی میں ہے۔ يخرج المهدى من قرية باليمن يقال لها کرعہ (مہدی علیہ السلام کرعہ نام یمن کے ایک گاؤں سے ظہور فرما ہوں گے) (میزان الاعتدال‘ جلد ۲‘ صفحہ ۱۶۱) کرعہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سعادت میں موجود تھا اور اب بھی ہے اور عہد رسالت میں قادیاں کا بسیط ارض پر کہیں نام و نشان نہ تھا کیونکہ قادیانی صاحب نے خود لکھا ہے کہ ”ہمارے مورث اعلیٰ بابر بادشاہ کے زمانے میں پنجاب میں وارد ہوئے اور ایک گاؤں آباد کیا، جس کا نام اسلام پور قاضیاں ماجھی رکھا“۔ (ازالہ اوہام‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۵۴) یہ اس صورت میں ہے کہ کرعہ والی روایت صحیح ہو حالانکہ یہ روایت بالکل لغو بے بنیاد اور سخت ضعیف ہے کیونکہ اس کا ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک محدثین کے نزدیک ناقابل اعتماد ہے۔ چنانچہ میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ابو حاتم کے نزدیک عبدالوہاب بن ضحاک جھوٹا تھا اور نسائی نے اس شخص کو متروک الحدیث اور دار قطنی نے منکر الحدیث بتایا ہے۔ (میزان الاعتدال‘ جلد ۲‘ صفحہ ۶۰)

میں سچا مہدی ہوں کیونکہ میرے تین سو تیرہ مرید ہیں

عبدالوہاب بن ضحاک کی مذکورہ صدر ضعیف روایت میں یہ بھی لکھا ہے۔ يجمع اصحابه من اقصى البلاد على عدة اهل بدر بثلاثمائة و ثلاثة عشر رجلا و معه صحيفه

صفحہ 505

مختومته فيها عدد اصحابه باسمائهم و بلادهم و خلالهم (جو لوگ دور دور سے جمع ہو کر مہدی علیہ السلام کی رفاقت اختیار کریں گے ان کا شمار اہل بدر کی تعداد کے برابر ہوگا یعنی تین سو تیرہ ہوں گے۔ اور مہدی علیہ السلام کے پاس ایک سر بمہر صحیفہ ہوگا جس میں ان کے نام پتے درج ہوں گے)۔ لیکن میں ابھی لکھ آیا ہوں کہ یہ روایت ضعیف یا موضوع ہے کیونکہ اس کا ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک جھوٹا ہے۔ قادیانی صاحب نے اس روایت کو کسی کتاب میں دیکھا تو ان کی باچھیں کھل گئیں اور جھٹ اپنے پیروؤں میں سے تین سو تیرہ مشہور مریدوں کے نام اور پتے ضمیمہ انجام آتھم میں درج کر کے لکھ مارا کہ چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی‘ جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا اس لیے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ وہ پیشین گوئی آج پوری ہوگئی۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ۴۰)

لیکن ظاہر ہے کہ ایک بے اصل روایت کو مفید مطلب پا کر صحیح حدیث کہنا اور صحیفہ مختومہ کا ترجمہ چھپی ہوئی کتاب کرنا اور لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے کی کوشش کرنا الہامی صاحب کے سوا کسی دوسرے سے ممکن نہیں تھا۔ اس سے قطع نظر مرزائی دیانت کا کمال دیکھو کہ مسیح موعود صاحب نے اسی کتاب میں پہلے تو اپنے مریدوں کی تعداد چار پانچ ہزار اور آٹھ ہزار بتائی ۔ چنانچہ لکھا۔ ”اے مخاطب مولویو! اور سجادہ نشینو! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے بڑھ گئی ہے۔ اور اگرچہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی ہے اور فئہ قلیلہ ہے اور شاید اس وقت تک چار پانچ ہزار سے زیادہ نہ ہوگی“۔ (انجام آتھم‘ صفحہ ۶۴) اور دوسری جگہ لکھا اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جانفشاں ہیں (ضمیمہ انجام آتھم‘ صفحہ ۲۶) لیکن اسی کتاب ضمیمہ انجام آتھم میں سات ورق آگے بڑھ کر یعنی چالیسویں صفحہ پر اپنے پیروؤں کی تعداد محض اس بناء پر تین سو تیرہ کر دی کہ وہ متذکرہ صدر لغو روایت کی بنا پر کسی طرح مہدی موعود بن سکیں چنانچہ لکھا:۔ ”چونکہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو پہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ وہ مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہو جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں۔ لیکن میں پہلے اس سے بھی ”آئینہ

صفحہ 506

کمالات اسلام" میں تین سو تیرہ نام درج کر چکا ہوں اور اب دوبارہ اتمام حجت کے لیے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں (ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ ۴۰۔ ۴۱)

لیکن بوالعجبی دیکھو کہ اسی ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۶ پر اپنے مریدوں کی تعداد پھر آٹھ ہزار بتائی چنانچہ لکھا کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے آٹھ ہزار کے قریب ہیں۔ اور قادیانی مسیحیت کی نیرنگیاں ملاحظہ ہوں کہ ضمیمہ انجام آتھم کی اشاعت کے چند ہی ماہ بعد جب قادیانی صاحب پر انکم ٹیکس لگایا جانے لگا تو انہوں نے انکم ٹیکس سے بچنے کے لیے جہاں اپنی آمدنی بہت کم کر کے دکھائی، وہاں آٹھ نو ہزار مریدوں کے بجائے صرف تین سو اٹھارہ مریدوں کی فہرست پیش کی۔ چنانچہ تاج الدین تحصیل دار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس فرقہ میں حسب فہرست منسلکہ ہذا تین سو اٹھارہ آدمی ہیں (ضرورۃ الامام، صفحہ ۴۳)

یہ تھی قادیاں کے مسیح صاحب کی دیانت اور تقویٰ شعاری کہ اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے سچ اور جھوٹ کی تمیز اٹھا رکھی تھی۔ شاید اس کی یہ وجہ ہو کہ انہوں نے سارے زمانہ کو اپنے مریدوں پر قیاس کر کے کور چشم اور محروم الوجدان خیال کر رکھا ہوگا۔

میں نے دینی علوم کسی استاد سے نہیں پڑھے اس لیے میں مہدی ہوں

الہامی صاحب نے اپنی مہدویت کے ثبوت میں ایک یہ دلیل پیش کی۔ ”مہدی کے مفہوم میں یہ معنی ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں شاگرد یا مرید نہ ہو“۔ (رسالہ اربعین، مرتبہ قادیانی صاحب، نمبر ۲، صفحہ ۱۳، حاشیہ) اسی طرح دوسری جگہ لکھتے ہیں۔ ”سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کرے اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میرا یہی حال ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے“۔ (ایام الصلح، مرتبہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۱۴۷)۔

اس کے متعلق التماس یہ ہے کہ واقعی مرزا صاحب حدیث، تفسیر اور دوسرے دینی علوم سے بے بہرہ تھے اور اسی کا یہ اثر تھا کہ طبیعت قیود شریعت سے آزاد اور خود رائی کی طرف مائل تھی۔ ہر مسئلہ میں دعوائے اسلام کے باوجود یہ حالت تھی کہ اسلامی عقاید سے

صفحہ 507

روگرداں ہو کر جھٹ ملاحدہ اور زنادقہ کی صف میں جا کھڑے ہوتے تھے۔ مثل مشہور ہے "نیم ملا خطرہ ایمان" گو الہامی صاحب بھی حدیث و تفسیر نہ پڑھنے کی وجہ سے نیم ملا خطرہ ایمان تھے۔ لیکن دوسرے نیم ملاؤں میں اور الہامی صاحب میں یہ فرق تھا کہ دوسروں کی ذات سے صرف احتمال رہتا ہے کہ کہیں اپنی جہالت سے کسی مسلمان کو غلط عقیدہ بتا کر گمراہ نہ کریں۔ لیکن قادیانی صاحب ایسے خوفناک قسم کے نیم ملا خطرہ ایمان تھے کہ انہوں نے سچ مچ ہزاروں لاکھوں کلمہ گوؤں کو مسلوب الایمان بنا دیا۔ اور نہ صرف اپنے وقت کے مریدوں کو ورطہ ہلاکت میں ڈالا بلکہ جب تک مرزائیت کا وجود اس عالم فانی میں پایا جائے گا ان کے مریدوں کی آئندہ نسلیں بھی زندقہ و دہریت کے اسی قعر ہلاکت میں پڑی رہیں گی اور ان سب کی گمراہی کا وبال و نکال قادیانی صاحب کے نامہ اعمال میں بھی برابر ثبت ہوتا رہے گا۔

غرض قادیانی صاحب کا یہ فرمانا بالکل بجا ہے کہ انہوں نے حدیث و تفسیر کی تحصیل کے لیے کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا۔ البتہ ان کا یہ بیان بالکل خلاف واقعہ ہے کہ انہوں نے قرآن بھی کسی استاد سے نہیں پڑھا۔ چنانچہ خود ہی اپنے بیان کی تردید میں لکھتے ہیں۔

"بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا‘ تو ایک فارسی خوان معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا‘ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا"۔ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۱۴۸)

باب ۴۱

مہدی بننے کے لیے اپنے سنین

عمر کو کم دکھانے کی کوشش

مولانا بٹالوی نے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھا کہ قادیانی نے دو ہزاری اشتہار کے صفحہ

صفحہ 508

۴ اور سطر ۴ پر اور نیز رسالہ بے انوار مکررہ (انوار الاسلام) کے صفحہ ۳۶ سطر ۱۸ میں اپنی عمر ساٹھ برس کے قریب بیان کی ہے۔ اس سے قادیانی کے اس دعویٰ کا کذب و افتراء ہونا ظاہر ہوتا ہے جو اس نے رسالہ آسمانی کے صفحہ ۱۴ میں کیا اور کہا کہ ”یہ عاجز (قادیانی) اپنی عمر کے چالیسویں برس میں دعوت حق کے لیے بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسی برس تک یا اس کے قریب تیری عمر ہے“۔ سو اس الہام سے چالیس برس تک عمر ثابت ہوتی ہے، جن میں سے دس برس کامل بھی گزر گئے۔ (براہین، صفحہ ۲۳۸) قادیانی نے یہ دعویٰ اپنے مہدی موعود ہونے کے لیے کیا تھا۔ شاہ نعمت اللہ نے مہدی موعود کے متعلق ایک قصیدہ میں جو پیشین گوئی کی تھی اس کے اس شعر میں مہدی علیہ السلام کی عمر چالیس سال بتائی تھی۔

تا چہل سال اے برادر من
دور آں شہ سوار مے بینم

قادیانی نے اس قصیدہ کو کھینچ تان کر اپنے اوپر چسپاں کرنا چاہا اور دعویٰ کیا کہ میں نے چالیس سال کی عمر میں الہام و امامت کا دعویٰ کیا ہے۔ اور چالیس سال اس دعوے سے میری زندگی اور ہوگی۔ لہٰذا مہدی موعود اور اس شعر کا مصداق میں ہوں۔ یہ دعویٰ قادیانی نے مارچ ۱۸۸۲ء میں کیا تھا۔ چنانچہ براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۳۸ سطر ۱۷ میں خود اس نے یہ سال بتایا ہے اور اسی سال براہین کا یہ حصہ طبع ہوا تھا۔ سو اس ۱۸۸۲ء سے قادیانی کی چہل سالہ عمر میں ۱۸۹۴ء تک بارہ یا تیرہ سال ملانے سے ۱۸۹۴ء میں اس کی عمر باون یا ترپن سال کی بنتی ہے۔ اور اس امر کو قادیانی کا یہ اقرار و اظہار چار ہزاری اور رسالہ بے انوار (انوار الاسلام) صاف جھٹلاتا ہے اور یہ یقین دلاتا ہے کہ قادیانی نے جو دعویٰ مندرجہ رسالہ نشان آسمانی میں ۱۸۸۲ء میں اپنی عمر گھٹا کر چالیس برس کی بتائی تھی اس میں غلط بیانی کی۔ اس اظہار و اقرار کے رو سے اس وقت اس کی عمر ساٹھ برس کے قریب ہے، تو ۱۸۸۲ء میں دعویٰ الہام و امامت کے وقت اس کی عمر اڑتالیس سال کے قریب ہونی چاہیے۔ اس سے یا تو اس کا دعوائے مہدویت اور شاہ نعمت اللہ کے شعر کا مصداق ہونا غلط ٹھہرتا ہے یا اس کے اس الہام کا بطلان ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسی برس کی عمر تک زندہ رہے گا۔ اس دعویٰ مندرجہ ”نشان آسمانی“ کے وقت اس کو یہ الہام نہ ہوا اور اس کے ملہم کو بھی یہ علم نہ تھا۔

صفحہ 509

اور اس وجہ سے وہ اس کو یہ الہام نہ کر سکا کہ ۱۸۹۴ء کے اشتہارات میں تمہارے قلم سے ساٹھ برس کی عمر کا اقرار نکل کر شائع ہو جائے گا۔ اور نہ اس وقت جبکہ اس نے اپنے ان اشتہارات میں اس اقرار کو شائع کیا۔ اس کو یا اس کے ملہم کو ”نشان آسمانی“ کا وہ دعویٰ یاد رہا۔

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۱۳۹-۱۴۰)

باب ۴۲

حضور سید المرسلینؐ پر مہدی موعود کے

چودہویں صدی میں ظاہر ہونے کا افتراء

جس طرح فاسق آدمی حلال و حرام میں کوئی تمیز نہیں کرتا۔ جو حلال سے ملے یا حرام سے بلا امتیاز اپنے تنور شکم میں ڈالتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح رئیس قادیاں نے اپنے اثبات دعویٰ کے لیے صحیح و غلط صدق و کذب، حق و باطل، دیانت و افتراء غرض ہر چیز کی قید اٹھا رکھی تھی اور جو کچھ دل و دماغ میں سماتا بے سوچے بے سمجھے محض اس خیال سے نوک قلم سے ٹپکا دیتے تھے کہ ان کے عقیدت شعار مرید خود ہی تاویل سازی کے زور سے ان کے دعویٰ کا اثبات کرتے رہیں گے۔ یہ چیز کوئی عارضی اور ہنگامی حیثیت نہیں رکھتی تھی بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عادت گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔

اس سلسلہ میں دوسروں پر افتراء باندھنا تو درکنار وہ سید کونین فخر رسل حضرت احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر افتراء باندھنے سے بھی نہیں چوکتے تھے۔ انہوں نے ۲۶ مئی ۱۸۹۲ء کو رسالہ ”نشان آسمانی“ شائع کیا جس میں ہمارے سید و مقتدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے زیر عنوان لکھا۔ ”جاننا چاہیے کہ اگرچہ عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو چکی ہے کہ خدائے تعالیٰ اس امت کی اصلاح کے لیے ہر ایک صدی پر ایسا مجدد مبعوث کرتا رہے گا، جو اس کے دین کو نیا کرے گا۔ لیکن چودھویں صدی کے لیے یعنی اس بشارت کے بارہ میں جو ایک

صفحہ 510

عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا اس قدر اشارات نبویہ پائے جاتے ہیں، جو ان سے کوئی طالب منکر نہیں ہو سکتا"۔

(نشان آسمانی، مولفہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۱۷)

ظاہر ہے کہ یہ بیان سراسر دروغ بے فروغ ہے۔ میری طرف سے تمام امت مرزائیہ کو چیلنج ہے۔ اگر کسی مرزائی میں ہمت ہے تو اس مضمون کی کوئی حدیث پیش کرے کہ ایک عظیم الشان مہدی چودھویں صدی کے سر پر ظاہر ہوگا۔

باب ۴۳

صاحب الزمان حضرت مہدی علیہ السلام

کے خونیں ہونے کا طعنہ

ایک مرتبہ کسی نے رئیس قادیاں پر یہ الزام لگایا کہ ”یہ انگریزی حکومت کے بدخواہ ہیں اور مخالفانہ ارادہ رکھتے ہیں“۔ (تبلیغ رسالت، جلد ۳، صفحہ ۱۹۳) تو مرزا جی نے انگریزی حکومت کو مطمئن کرنے کے لیے خوشامد پرستی کا مذموم شیوہ اختیار کیا اور اس صدائے بے ہنگام کو بلند کرتے کرتے سپہر بریں تک پہنچا دیا۔ اسی سلسلہ تملق میں رئیس صاحب نے یہ بھی لکھا کہ ”ہم کسی ایسے مسیح اور مہدی کے قائل نہیں، جو تلوار کے ذریعہ سے دین کی ترقی چاہے۔ یہ اس زمانہ کے بعض کوتاہ اندیش مسلمانوں کی غلطیاں ہیں، جو کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کے منتظر ہیں۔ چاہیے کہ گورنمنٹ ہماری کتابوں کو دیکھے کہ کس قدر ہم اس اعتقاد کے دشمن ہیں اور کسی قدر عام مولوی اس وجہ سے میرے دشمن ہو گئے ہیں کہ میں نے ان کے خونی مہدی اور خونی مسیح سے انکار کر دیا“۔

(تبلیغ رسالت، جلد ۴، صفحہ ۱۹۹)

اس کے بعد الہامی صاحب کا معمول ہو گیا کہ عام طور پر جب کبھی حضرت مہدی علیہ السلام کا ذکر کرتے تو نہایت حقارت کے ساتھ انہیں خونی کہہ کر پکارتے اور اتنا نہ سمجھتے کہ رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے مبشر کی توہین و تحقیر خالص کفر اور صریح زندقہ ہے۔ اس سے قطع نظر جب کوئی خون ناحق اور فساد کا مرتکب ہو تو اسے خونی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن مہدی علیہ السلام (معاذاللہ) کوئی خون ناحق نہیں کریں گے اور نہ کسی فساد

صفحہ 511

انگیزی کے مرتکب ہوں گے۔ بلکہ احادیث صحیحہ کے بموجب اسلامی ممالک کا حفظ و دفاع فرمائیں گے۔ نصاریٰ نے عالم اسلام کے خلاف سخت جور و تغلب کا طوفان بپا کر رکھا ہوگا۔ دول مغرب کی صلیبی فوجیں پیش قدمی کرتے کرتے خیبر تک پہنچ چکی ہوں گی۔ جو مدینہ منورہ سے آٹھ منزل کی مسافت پر ہے اور عالم اسلام پر سخت نازک وقت ہوگا۔ ایسے دور آشوب میں خدائے کردگار حضرت مہدی علیہ السلام کو مبعوث فرمائے گا تاکہ نصرانی فتنہ انگیزی کا دفعیہ کر کے عالم اسلام کو بچائیں لیکن قادیانی صاحب کی بلا سے اسلامی ممالک پر صلیب کا عمل و دخل ہو اور کتاب اللہ کی حکومت دنیا سے اٹھ جائے۔ ان کو تو اپنے ”کسر صلیب“ سے کام تھا، جو حسب مصداق برعکس نہند نام زنگی کافور شرمناک قسم کی صلیب نوازی اور آستانہ حکومت کی جبہ سائی تھی۔

اگر اپنے گھر کی حفاظت کرنا جرم ہے۔ اگر حق و صدق کی تائید اور مدافعت ملی کے فرائض کی انجام دہی اکابر دین کو (معاذاللہ) خونی بنا دیتی ہے، تو پھر سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا جہاد فی سبیل اللہ بھی (معاذاللہ) ان نفوس قدسیہ کو ضرور خونی کا لقب دے گا۔ حالانکہ خدائے برتر کے برگزیدہ بندے ہمیشہ اعدائے دین سے مقاتلہ کر کے مرضیات خداوندی کا تمغہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ ارشاد باری ہے:

و کاین من نبی قاتل معہ ربیون کثیر فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ وما ضعفوا وما استکانوا واللہ یحب الصابرین۔ (۱۴۶:۳)

کثیر التعداد اہل اللہ اکثر نبیوں کی رفاقت میں مقاتلہ کرتے رہے ہیں۔ ان حضرات نے نہ تو ان مشکلات کی وجہ سے جو ان پر اللہ کی راہ میں نازل ہوئیں ہمت ہاری اور نہ کسی سے دبے اور حق تعالیٰ مستقل مزاجوں کو دوست رکھتا ہے۔

باب ۴۴

قیام سلطنت کے لیے حکیم نور الدین

بھیروی کی مخفی سرگرمیاں

صفحہ 512

مہاراجہ رنبیر سنگھ والی جموں و کشمیر اہل کمال کے قدردان اور علم دوست حکمران تھے۔ خصوصاً علم طب سے ان کو خاص شغف تھا۔ ان کی سرکار میں قریباً پچیس نامی گرامی حکیم‘ ڈاکٹر اور وید‘ جن میں حکیم نورالدین بھیروی‘ کلکتہ کے مشہور بنگالی ڈاکٹر گوپال چندر‘ حکیم فدا محمد دہلوی‘ حکیم سید احمد شاہ لاہوری اور حکیم ولی شاہ لاہوری خاص طور پر قابل ذکر ہیں ملازم تھے۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے بعد ان کے بڑے بیٹے مہاراجہ پرتاپ سنگھ بتاریخ ۵ ستمبر ۱۸۸۵ء گدی نشین ہوئے۔ لیکن چار سال کے بعد کرنل نسبٹ ریزیڈنٹ کی شکایات کی بنا پر حکومت ہند نے مہاراجہ کے اختیارات سلب کر کے وہاں کونسل مقرر کر دی۔ مہاراجہ کے بھائی راجہ امر سنگھ اور راجہ رام سنگھ کونسل کے ممبر اور دیوان لچھمن داس ایمن آبادی کونسل کے صدر قرار پائے۔ لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد دیوان لچھمن داس صدارت سے بر طرف کر دیئے گئے اور ان کی جگہ مہاراجہ ہری سنگھ (موجودہ حکمران) کے والد راجہ امر سنگھ ممبر کونسل پریذیڈنٹ مقرر ہوگئے اور ان کی جگہ راجہ سورج کول نام ایک عہدہ دار لاہور سے سینئر ممبر بنا کر بھیجے گئے۔ راجہ امر سنگھ نے حکیم نورالدین کی بڑی قدر افزائی کی اور حکیم صاحب سے یہاں تک مانوس ہوئے کہ انہیں ریاست کے سیاہ و سپید کا مالک بنا دیا۔ ان نوازشوں کے سلسلہ میں حکیم صاحب کا مشاہرہ بھی چھ سو روپیہ ماہانہ کر دیا اور رہنے کے لیے دیوان گوبند سہائے کا ضبط شدہ مکان‘ جو ایک نہایت عالی شان محل تھا مفت عطا کیا۔ حکیم صاحب کا یہاں تک اقتدار بڑھا کہ ممبران کونسل تک ملاقات کے لیے ان کے مکان پر آیا کرتے تھے۔ اور تو درکنار صیغہ فوجداری کے افسر اعلیٰ سردار بھاگ سنگھ جیسے عالی مرتبت لوگ بھی حکیم نورالدین کی ملاقات کو باعث فخر خیال کرنے لگے تھے۔ غرض ریاست کے طول و عرض میں حکیم صاحب کا طوطی بول رہا تھا اور ان کے اختیارات کا یہ عالم تھا کہ ان کے استصواب کے بغیر کسی کو کوئی سرکاری خدمت نہیں مل سکتی تھی۔

راجہ امر سنگھ کی ایک علیحدہ جاگیر علاقہ کشتواڑ میں تھی۔ یہ ایک وسیع کوہستان اور اچھا سرسبز علاقہ ہے۔ یہاں ڈیڑھ دو لاکھ روپیہ کی سالانہ آمدنی تھی۔ راجہ امر سنگھ نے اپنی اس جاگیر کا انتظام کلیتہً ”حکیم نورالدین کے عنان اختیار میں دے دیا۔ اس منقطع و دور دست کوہستان کا محل وقوع کچھ اس انداز پر ہے کہ وہاں ایک مستقل حکومت کے قیام میں بڑی سہولتیں تھیں۔ محمد ابن تومرت اور اس قماش کے دوسرے دعاۃ کی بنائے سلطنت کے

صفحہ 513

حالات‘ جو میں کتاب ”ائمہ تلبیس“ میں قلمبند کرچکا ہوں‘ حکیم صاحب کے پیش نظر تھے۔ اس بنا پر جب سے کشتواڑ کے اختیارات تفویض ہوئے تھے ہر وقت وہ اپنی سلطنت کے قیام کے منصوبے سوچتے رہتے تھے۔ اور کوئی وقت ایسا نہ تھا جب انہیں وہاں کی بادشاہت کے خواب نہ دکھائی دے رہے ہوں۔ ان ایام میں بسا اوقات اپنے احباب خاص سے کہا کرتے تھے کہ علاقہ کشتواڑ میں ایک اچھی سلطنت قائم ہو سکتی ہے۔ اس عزیمت کو قوت سے فعل میں لانے کے لیے انہوں نے مرزا غلام احمد کو‘ جو اکثر حکیم صاحب کی ملاقات کے لیے جموں جایا کرتے تھے‘ نہ صرف اپنا رازدار بنایا بلکہ انہی کو حصول مقصد کا آلہ اور شریک کار تجویز کیا۔ کیونکہ جب تک کسی مذہبی رنگ میں ارادت مندوں کا وسیع حلقہ قائم نہ کیا جاتا اور تقدس و اتقاء کے پردے میں جمعیت بہم نہ پہنچائی جاتی‘ کامیابی محال تھی۔ لوگ حیران تھے کہ حکیم نورالدین ایسے ذی اقتدار شخص نے مرزا غلام احمد جیسے گمنام آدمی کی کیونکر متابعت اختیار کی‘ جس میں نہ کوئی علمی یا عملی کمال تھا اور نہ کوئی دنیوی وجاہت تھی۔ اور جس کا اپنا اعتراف تھا کہ ”میں ایک گمنام اور اکیلا اور نہایت کم درجہ کی حیثیت کا انسان تھا اور اس قدر کم حیثیت تھا کہ قابل ذکر نہ تھا اور کسی ایسے ممتاز خاندان سے نہ تھا جس کی نسبت توقع ہو سکتی تھی کہ با آسانی لوگ اس پر جمع ہو جائیں گے“۔ (لجۃ الحق‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۵۴)۔ لیکن وہ لوگ اس حقیقت حال سے بے خبر تھے کہ گرو کسی ضرورت سے چیلا بنا ہے اور آقا نے مصلحتاً غلامی کا لباس تصنع زیب تن کیا ہے۔

سب سے پہلی تجویز یہ تھی کہ وہاں سب اپنے آدمی بھرتی کیے جائیں۔ چونکہ کشتواڑ کا نظم و نسق اور عزل و نصب سب حکیم صاحب کے دست اختیار میں تھا۔ انہوں نے وہاں کے پرانے ملازموں کو نکالنا اور اپنے آدمیوں کو بھرنا شروع کیا۔ وہاں کسی شخص کا تقرر اس وقت تک عمل میں نہیں آتا تھا جب تک حکیم صاحب کو اس کے مرزائی ہونے کی تصدیق نہیں ہو جاتی تھی۔ کشتواڑ سے قطع نظر خود ریاست ہائے متحدہ جموں و کشمیر میں بھی حکیم صاحب بالکل مطلق العنان تھے۔ خصوصاً محکمہ تعلیم‘ تو علی وجہ الکمال حکیم صاحب کے ہاتھ میں تھا۔ حکیم صاحب وہاں بھی اپنے آدمی بھرتی کر رہے تھے اور غیر مرزائیوں پر خواہ ہندو ہوں یا سکھ یا مسلمان اس محکمہ کے سارے دروازے بند ہو چکے تھے۔

صفحہ 514

یہ تو معلوم نہیں کہ حکیم صاحب نے مرزائی ملازموں اور اہل کاروں کی بھرتی کی تکمیل کے بعد اپنا آئندہ لائحہ عمل کیا تجویز کر رکھا تھا لیکن اتنا یقین ہے کہ وہ اور ان کے آلہ کار مرزا غلام‘ ہر وقت اپنی مجوزہ سلطنت کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ چنانچہ قادیانی صاحب نے انہی ایام میں کتاب ”ازالہ اوہام“ میں اپنی اس متوقعہ سلطنت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ بھی کر دیا تھا۔

”یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔ اور جب کہ یہ حال ہے تو پھر علماء کے لیے اشکال ہی کیا ہے؟ ممکن ہے کہ کسی وقت ان کی یہ مراد بھی پوری ہو جائے“۔ (ازالہ اوہام‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ طبع پنجم‘ صفحہ ۸۴)

قادیانی جمعیت کی طرف سے انگریزی حکومت کو خدشہ

حکیم نورالدین کی کوششوں سے مرزائیت کو جس درجہ کشمیر میں فروغ نصیب ہوا اس سے کئی گنا زیادہ یہاں پنجاب میں اس کو ترقی ہو رہی تھی۔ اور جوں جوں اس جماعت کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی حکام کا سوء ظن اور خطرہ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ حکومت کو خوف تھا کہ مبادا یہ جماعت کبھی زور پکڑ کر مشکلات کا موجب بن جائے۔ خود قادیانی صاحب کے بیان سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ چنانچہ ۷؍ اگست ۱۹۰۰ء کو اپنے آئندہ داماد سردار محمد علی خاں کو لکھا۔ ”جو کچھ آں محب نے صاحب کمشنر کی زبانی سنا تھا اس کی کچھ پروا نہیں ہے۔ ہمارا عقیدہ اور خیال انگریزی سلطنت کی نسبت بخیر اور نیک ہے۔ اس لیے آخر انگریزوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ سب کچھ تہمتیں ہیں کوئی تردد کی جگہ نہیں“۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد پنجم‘ نمبر چہارم‘ صفحہ ۱۱۰)۔ ایک اور خط میں لکھا۔ یہ ضروری ہے کہ کمشنر کے پاس آپ ہی جائیں اور دوسری کوئی تدبیر نہیں۔ (ایضاً‘ صفحہ ۱۲۴)۔ اور ایک چٹھی میں لکھا۔ ہاں ایک بات میرے نزدیک ضروری ہے۔ گو آپ کی طبیعت اس کو قبول کرے یا نہ کرے اور وہ یہ ہے کہ ہمیشہ ”دو چار ماہ کے بعد کمشنر صاحب وغیرہ حکام کو آپ کا ملنا ضروری ہے۔ کیونکہ معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ بعض شکی مزاج حکام کو جو اصلی حقیقت سے بے خبر ہیں ہمارے فرقہ پر سوء ظن ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے

صفحہ 515

کوئی بھی حکام کو نہیں ملتا اور مخالف ہمیشہ ملتے رہتے ہیں۔ پس جس حالت میں آپ جاگیردار ہیں اور حکام کو معلوم ہے کہ آپ اس فرقہ میں شامل ہیں، اس لیے ترک ملاقات سے اندیشہ ہے کہ حکام کے دل میں یہ بات مرکوز ہو جائے کہ یہ فرقہ اس گورنمنٹ سے بغض رکھتا ہے۔ گو یہ غلطی ہوگی اور کسی وقت رفع ہو سکتی ہے مگر تا تریاق از عراق آوردہ شود مار گزیدہ مردہ شود"۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد پنجم، نمبر چہارم صفحہ ۱۴۶)۔

حکام کی بدگمانی کے متعلق میاں محمود احمد کا بیان

خلیفہ المسیح مرزا محمود احمد نے بھی حکومت کے اشتباہ کو تسلیم کیا ہے۔ چنانچہ ۲۸ اگست ۱۹۲۴ء کو انہوں نے لندن میں لندنی جرائد کے قائم مقاموں کو ایٹ ہوم دیا۔ جس میں ایک مضمون پڑھ کر سنایا۔ اس مضمون میں خلیفہ صاحب نے اپنے والد کے متعلق لکھا کہ "گورنمنٹ بھی ان (مرزا غلام احمد) پر مہدی ہونے کے دعوے کی وجہ سے شک کرتی تھی"۔ (الفضل قادیاں، ۷؍ ستمبر ۱۹۲۴ء) اور اپنے ایک خطبہ جمعہ میں بمقام قادیاں کہا۔ "احمدیت کے ابتداء میں انگریز مخالف نہ تھے سوائے چند ابتدائی ایام کے جبکہ وہ مہدی کے لفظ سے گھبراتے تھے۔ مگر اب تو وہ بھی مخالف ہو رہے ہیں۔ بہت تھوڑے ہیں جو (مرزائی) جماعت کی خدمات کو سمجھتے ہیں۔ باقی تو باغیوں سے بھی زیادہ ہمیں غصہ سے دیکھتے ہیں۔ اور اگر انگریزوں کا فطری عدل مانع نہ ہو تو شاید وہ ہمیں پیس ہی کے رکھ دیں"۔ (الفضل قادیاں، ۵؍ مارچ ۱۹۳۴ء)

قادیانی منصوبوں کے متعلق پادری عمادالدین کا بیان

اور قادیاں کے خلاف بدگمانی کا یہ جذبہ کچھ انگریز حکام کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔ بلکہ ہر سچا خیر خواہ مسیحیت و مغربیت مرزائی جمعیت کو انگریزی حکومت کے حق میں خطرناک خیال کرتا تھا۔ ڈاکٹر ایچ ۔ ڈی ۔ گرس وولڈ پرنسپل فورمن کرسچن کالج لاہور نے لکھا۔ "پادری عمادالدین کا خیال ہے کہ مرزا صاحب فریب مجسم اور نہایت عیار اور چالاک آدمی ہیں۔ پادری موصوف فرماتے ہیں مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے ساتھ چند اور شخص

صفحہ 516

شریک ہیں اور مرزا صاحب اس کمیٹی کے میر مجلس ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ مسیحیت کے دعووں کے وسیلہ سے بہت سے مسلمانوں کو اپنا پیرو بنائیں اور پھر جب مناسب وقت اور موقع ہاتھ آئے تو علم بغاوت بلند کر دیں“۔ (کتاب ”مرزا غلام احمد قادیانی“ مولفہ ڈاکٹر گرس وولڈ، صفحہ ۳۹)۔

حکیم نور الدین کا جموں سے اخراج

آفتاب عالم تاب جس طرح طلوع کے بعد اپنی ارتقائی منزلیں بتدریج طے کرتے کرتے نصف النہار کو پہنچتا ہے، اسی طرح نصف النہار کے بعد بھی آہستہ آہستہ اپنے تمام منازل سیر پورے کر کے غروب ہوتا ہے لیکن حکیم نور الدین کا آفتاب اقتدار نصف النہار پر پہنچ کر یک بیک غروب ہو گیا۔ اور دنیا اس فوری زوال و انقلاب پر محو حیرت رہ گئی۔ کتاب ”ازالہ اوہام“ جس میں قادیانی صاحب نے لکھا تھا۔ ”ممکن ہے کہ میری حکومت و بادشاہت کے متعلق بھی کسی وقت علماء کی مراد پوری ہو جائے“ ۳/ ستمبر ۱۸۹۱ء کو شائع ہوئی تھی اور بادی النظر میں اس وقت مرزائی قصر سلطنت کی تکمیل کسی طولانی عرصہ کی منتظر نہ تھی لیکن ”ازالہ اوہام“ کی اشاعت کے گیارہ ہی مہینہ بعد اس میں ایک ایسا زبردست جھٹکا آیا کہ مجوزہ سلطنت کی بنیادیں جو ہنوز کمزور تھیں اس کا کسی طرح مقابلہ نہ کر سکیں اور قادیانی شاہی کی ساری عمارت پیوند خاک ہو کر نابود ہو گئی۔ اگست ۱۸۹۲ء میں لارڈ لینسڈون وائسرائے ہند جموں آئے۔ معزول مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے تمام صورت حالات عرض کی اور بتایا کہ ”کس طرح ان کے بھائی راجہ امر سنگھ نے حکیم نور الدین کو ریاست کے سیاہ و سپید کا مالک بنا رکھا ہے اور کس طرح حکیم اپنی سلطنت کے قیام کے لیے ریشہ دوانیاں کر رہا ہے اور بڑے درد دل کے ساتھ اس امر پر اظہار افسوس کیا کہ مسلوب الاختیارات ہونے کے بعد میرے لیے کوئی موقع نہیں رہا کہ میں انتظامی امور میں کوئی دخل دے سکوں“۔ وائسرائے نے مہاراجہ پرتاپ سنگھ کونسل کا پریذیڈنٹ اور راجہ امر سنگھ کو وائس پریذیڈنٹ بنا دیا۔ اس طرح مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے تمام سابقہ اختیارات بحال ہو گئے اور وہ عملاً پہلے کی طرح خود مختار مہاراجہ بنا دیئے گئے۔ اور حکیم نور الدین کے لیے حکم ہوا کہ ”بارہ گھنٹے کے اندر حدود ریاست سے نکل جائیں“۔ لاہور کے ایک ضعیف العمر طبیب

صفحہ 517

صاحب نے جو حکیم نورالدین کے زمانہ عروج میں ریاست کے شاہی طبیبوں کے زمرہ میں داخل تھے اور جو ان تمام واقعات کے راوی ہیں خاکسار راقم الحروف سے بیان کیا کہ ”میں نے اپنی آنکھوں سے وہ زمانہ دیکھا۔ جبکہ ریاست ہائے جموں و کشمیر میں حکیم نورالدین کے حکم کے بغیر درخت کا پتا تک نہیں ہل سکتا تھا اور پھر وہ وقت بھی دیکھا جب کہ پولیس حکیم صاحب سے تقاضا کر رہی تھی کہ جلد یہاں سے بوریا بدھنا اٹھائیے اور حدود ریاست سے نکل جائیے“۔ تلک الایام نداولہا بین الناس۔

حکیم صاحب کو مرزا جی کی طفل تسلیاں

یہ تھی حکیم نورالدین کی فطرت کہ اپنی غداری‘ کور نمکی اور احسان ناشناسی کی بدولت نہ صرف خود تباہ ذلیل ہوئے بلکہ اپنے آقاولی نعمت راجہ امر سنگھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ حکیم صاحب کو اخراج کا حکم ملا تو انہوں نے کلیجہ پر صبر کا پتھر باندھ کر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے رفیق کار یعنی مرزا جی کو اس واقعہ ہائلہ کی اطلاع دے کر دعا کی درخواست کی۔ الہامی صاحب اس سانحہ ہوش ربا پر بہت مضطرب ہوئے اور حکم اخراج کی منسوخی کے لیے رات بھر انتہائی سوز و گداز اور تضرع و ابتہال کے ساتھ دعائیں مانگتے رہے۔ آخر طلوع فجر سے پہلے پہلے انشراح صدر ہوگیا اور الہام ہوا کہ حکیم صاحب کے لیے کوئی خوف کی بات نہیں۔ ان کا موجودہ ابتلا محض دوستانہ شفقت و پیار ہے۔ اس بشارت کے بعد الہامی صاحب کا ساغر دل خوشی سے چھلک گیا اور طلوع آفتاب کے بعد کامل وثوق کے ساتھ حکیم صاحب کو مندرجہ ذیل بہجت نامہ لکھ بھیجا:۔

مخدومی و مکرمی! اخویم حضرت مولوی صاحب سلمہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

کل کی ڈاک میں آنمکرم کا محبت نامہ پہنچ کر بوجہ بشریت اس کے پڑھنے سے ایک حیرت دل پر طاری ہوئی۔ مگر ساتھ ہی دل پھر کھل گیا۔ یہ خداوند کریم کی طرف سے ایک ابتلا ہے۔ انشاء اللہ القدیر کوئی خوف کی جگہ نہیں۔ اللہ جل شانہ کی پیار کی قسموں میں سے یہ بھی ایک قسم پیار کی ہے کہ اپنے بندے پر کوئی ابتلا نازل کرے۔ مجھے تین چار روز ہوئے کہ ایک متوحش خواب آئی تھی جس کی یہ تعبیر تھی کہ ہمارے ایک دوست پر دشمن

صفحہ 518

نے حملہ کیا ہے اور کچھ ضرر پہنچاتا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کا بھی کام تمام ہو گیا۔

میں نے رات کو جس قدر آنمکرم کے لیے دعا کی اور جس حالت پرسوز میں دعا کی اس کو خداوند کریم خوب جانتا ہے۔ اور ابھی اس پر بفضلہ تعالیٰ بس نہیں کرتا اور چاہتا ہوں کہ خداوند کریم سے کوئی بات دل کو خوش کرنے والی سنوں۔ اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو چند روز تک اطلاع دوں گا۔ اور انشاء اللہ القدیر آپ کے لیے دعا کروں گا جو کبھی کبھی ایک یگانہ رفیق کے لیے کی جاتی ہے۔ دعا کی حالت میں یہ الفاظ منجانب اللہ جاری ہوئے طویٰ علیہ (زو) الطویٰ علیہ اور یہ خدا تعالیٰ کا کلام تھا اور اسی کی طرف سے تھا۔ آج رات خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ لڑکے کہتے ہیں کہ عید کل تو نہیں پر پرسوں ہوگی۔ معلوم نہیں کل اور پرسوں کی کیا تعبیر ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ ایسا پر اشتعال حکم کس اشتعال کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ کیا بد قسمت وہ ریاست ہے جس سے ایسے مبارک قدم نیک بخت اور سچے خیر خواہ نکالے جائیں اور معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔ حالات سے مجھے بہت جلد مفصل اطلاع بخشیں اور یہ عاجز انشاء اللہ القدیر ثمرات بینہ دعا سے اطلاع دے گا۔ بفضلہ و منہ تعالیٰ خاکسار غلام احمد عفی عنہ از قادیاں ۲۶؍ اگست ۱۸۹۲ء۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵،

نمبر ۲، صفحہ ۱۲۱ - ۱۲۳)

حکم منسوخی سے قطعی نا امیدی

حکیم صاحب کو بارہ گھنٹہ کے اندر حدود ریاست سے خارج ہونا تھا۔ اس لیے جموں رہ کر قادیانی صاحب کی جوابی چٹھی کا انتظار ممکن نہ تھا بادل ناخواستہ جموں سے اپنے وطن بھیرہ ضلع شاہ پور کا رخ کیا اور الہامی صاحب کی چٹھی کے لیے چشم براہ ہو بیٹھے۔ آخر عین انتظار میں قادیانی صاحب کا والا نامہ آپہنچا جسے پڑھ کر دیدہ دل روشن ہوا۔ قادیانی صاحب کی تحریریں چکنے گھڑے کا حکم رکھتی تھیں۔ الفاظ ایسے مدور اور گول مول ہوتے تھے کہ جن میں احتیاط کی باگ ہاتھ میں رکھنے کا اصول پیش نظر رہتا تھا۔ چونکہ چٹھی کے بعض الفاظ بہت کچھ امید افزا تھے۔ حکیم صاحب نے قادیانی صاحب کی استجابت دعا سے بڑی بڑی امیدیں وابستہ کرلیں۔ اور یقین ہوا کہ آج ہی کل میں حکم انفساخ پہنچتا ہے کیونکہ الہامی صاحب رات بھر حالت سوز میں دعائیں کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی مصروف دعا رہنے کا

صفحہ 519

وعدہ فرمایا ہے۔ بیچارے حکیم صاحب پورے وثوق کے ساتھ سارا دن حکم منسوخی کے لیے سراپا انتظار بنے رہتے۔ کسی طرف ذرا بھی کوئی آہٹ ہوتی تو چوکنے ہو جاتے اور سمجھنے لگتے، کہ چٹھی رسان اخراج کی منسوخی کا حکم لایا ہے کئی دن اسی کشمکش میں گزر گئے۔ لیکن خدا جانے جموں والوں کو سانپ سونگھ گیا یا کوئی اور افتاد پڑی کہ انہوں نے کروٹ تک نہ بدلی۔ آخر حکیم صاحب کسی قدر بد دل اور نا امید ہو کر قادیاں پہنچے اور مرزا صاحب سے کہا کہ ”اتنے دن گزر چکے ہنوز بحالی کا کوئی حکم نہیں پہنچا“۔ یہ تو معلوم نہیں کہ الہامی صاحب نے کیا جواب دیا لیکن یقین ہے کہ اپنی معتاد سخن طرازی اور تاویل بازی سے کام لے کر حکیم صاحب کی لب بندی فرمادی ہوگی۔ قادیاں میں اس جنس کی نہ پہلے کمی تھی اور نہ اب ہے۔ بلکہ اس فن میں چیلے گرو سے بھی گوئے سبقت لے گئے ہیں۔ چنانچہ مرزائی مبلغوں کی مضحکہ خیز حیلہ جوئیاں اور روباہ بازیاں اس دعویٰ کی روشن دلیل ہے۔ بہر حال قادیاں پہنچنے کے بعد حکیم صاحب کا نخل امید بالکل خشک ہوگیا اور اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ حکم اخراج کو نوشتہ تقدیر کہہ کر اپنے دل کو تسکین دے لیتے۔

حکیم نور الدین کا قادیاں میں مستقل قیام

کچھ دنوں کے بعد حکیم صاحب نے مستقل طور پر قادیاں میں سکونت اختیار کر لی۔ گو حکیم صاحب اکثر بے خبر مرزائیوں کی نظر میں خادم اور الہامی صاحب مخدوم و مطاع تھے۔ لیکن معاملہ فی الحقیقت اس کے بالکل برعکس تھا۔ حکیم صاحب قادیاں میں بھی ہمیشہ پوری آن بان سے رہے۔ وہ الہامی صاحب کو کبھی خاطر میں نہ لاتے اور ”مرزا صاحب“ کے تعظیمی القاب کی بجائے ہمیشہ ”مرزا“ کہا کرتے۔ اور حالت یہ تھی کہ اگر کوئی بات خلاف مزاج پیش آتی تو ان کو بھی ڈانٹ دیتے کیونکہ حقیقت میں مرزائیت کی عمارت کے وہی انجینئر تھے۔ ایک واقعہ جو ایک بٹالوی بزرگ نے مجھ سے بیان کیا درج کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوگا کہ قادیاں میں حکیم صاحب کی حقیقی حیثیت کیا تھی؟ میاں اللہ دتا نام ایک نیک نفس متقی مسلمان تھا۔ وہ غالباً کسی قرابت کے تعلق سے اکثر قادیاں جایا کرتا اور مرزائی صید افگنی کا نظارہ کیا کرتا۔ ایک مرتبہ اس نے مرزا صاحب اور ان کی مرزائیت پر کوئی ایسا دندان شکن اعتراض کیا کہ کسی مرزائی سے اس کا جواب نہ بن آیا۔ ماسٹر کریم بخش

صفحہ 520

معروف بہ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی جو حضرت مسیح صاحب کے جلیل القدر ”صحابہ“ میں داخل تھے اور نواب ناصر جو الہامی صاحب کے خسر تھے اور عبدالرحیم نام ایک اور مرزائی نے اس بیچارے پر ہلہ بول دیا اور زدو کوب کر کے لہولہان کر دیا۔ مسیح موعود صاحب کے پاس اس کی شکایت پہنچی۔ لیکن اس دربار میں اپنے منکر کی داد رسی کا کوئی ادنیٰ امکان بھی نہ تھا۔ حکیم نورالدین اس وقت کسی شہادت کے لیے سیالکوٹ گئے ہوئے تھے۔ جب لوٹ کر آئے تو اللہ دتا نے ہر طرف سے مایوس ہو کر ان سے فریاد کی۔ حکیم صاحب نے ازراہ انصاف پسندی اس مظلوم کی دلجوئی کی۔ مرزا صاحب پر اور ان کے جنگجو چیلوں پر بہت گرجے اور برسے اور نہایت درشت لہجہ میں کہا کہ مرزے نے کیا انصاف کیا؟ ایسے نالائقوں کو تو یہاں سے نکال دینا چاہیے تھا۔

اخراج کے متعلق حکیم نورالدین کا اپنا بیان

حکیم صاحب نے اپنے سوانح عمری ”حیات نورالدین“ میں حکم اخراج میں اپنا کوئی قصور ظاہر نہیں کیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”ایک شخص راجہ سورج کول نام وہاں کونسل کے سینئر ممبر تھے۔ ان کے گردے میں مدت سے درد تھا۔ مجھ کو انہوں نے بلایا۔ میری تشخیص میں ان کے گردہ میں پتھری ثابت ہوئی لیکن انہوں نے پتھری کے وجود سے انکار کیا اور بہت رنج ظاہر کیا۔ کچھ مدت کے بعد پیری نام ایک انگریز جو لاہور میڈیکل کالج کا پروفیسر تھا۔ وہاں گیا اور گردے کو چیرا تو گردے کی نالی کے پاس پتھری نظر آئی اس کو نکالا۔ راجہ سورج کول نے پھر مجھے بلایا مگر میں نے جانا پسند نہ کیا۔ اس پر وہ ناراض ہو گئے اور میرا وہاں رہنا اور مجھ کو دیکھنا پسند نہ کیا۔ وہاں کے دوسرے ممبر نے جن کا نام باگ رام تھا۔ مجھ سے کہا کہ اگر آپ استعفا دے دیں تو اس میں بڑے مصالح ہیں۔ میں نے کہا کہ بنے ہوئے روزگار کو چھوڑنا پسندیدہ نہیں ہے۔ آخر ایک روز میری علیحدگی کا پروانہ آ گیا اور جب پھر مجھے کسی تقریب پر جانا پڑا تو موجودہ مہاراج صاحب (مہاراجہ پرتاپ سنگھ) نے مجھ سے فرمایا کہ آپ پر بیجا ظلم ہوا ہے۔ آپ معاف کر دیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو خدائے تعالیٰ کا گناہ ہے۔ خدا کا گناہ خدا ہی معاف کر سکتا ہے۔ ان کے والد ماجد (مہاراجہ رنبیر سنگھ) عام لوگوں سے خواہ وہ کسی مذہب کے ہوں ڈرتے تھے۔ ان دنوں میں مہاراج (مہاراجہ پرتاپ

صفحہ 521

سنگھ) کو اپنے چھوٹے بھائی صاحب (راجہ امر سنگھ) سے کدورت تھی اور میرا ان کے ساتھ بڑا تعلق تھا اس لیے اور بھی ممبر صاحب کو موقع مل گیا۔ (حیات نور الدین، صفحہ ۱۴۸۔ ۱۴۹) لیکن یہ سارا بیان تصنع اور ملمع سازی سے ہمکنار ہے اور صحیح واقعہ وہی ہے جو میں نے پوری تحقیق و تدقیق کے ساتھ نہایت مستند ذرائع سے حاصل کر کے قلمبند کیا ہے۔

مفتی محمد صادق مرزائی کو بھی جو ان دنوں جموں ہائی سکول میں ٹیچر تھے اس بات کا اعتراف ہے کہ حکیم صاحب وہاں سے فوراً علیحدہ کیے گئے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ملازمت سے اچانک علیحدگی کے باوجود نہ آپ کے چہرہ پر کوئی ملال تھا نہ اس کا کوئی احساس تھا۔ (حیات

نور الدین، صفحہ ۱۵۳)

اس باب کے مطالعہ کے بعد قارئین کرام کے لیے اس حقیقت کا سمجھنا نہایت آسان ہو جائے گا کہ مسیح موعودی لٹریچر میں انگریز کی چاپلوسی اور علمائے امت کی توہین کا جو دریا اس شد و مد سے ٹھاٹھیں مار رہا ہے اس کا حقیقی سرچشمہ کیا تھا؟ یعنی اس خوشامد پرستی میں قادیانی ملہم کی اس عزیز خواہش کا راز مضمر تھا کہ کسی طرح انگریز کی حکومت مرزا اور مرزائیوں سے مطمئن رہے اور وہ اس کے دست تشدد سے پوری طرح مامون ہو جائیں۔ بلکہ راقم الحروف نے آج سے پندرہ بیس سال پیشتر ایک ضعیف العمر ملاقاتی سے سنا تھا کہ جموں سے حکیم صاحب کے اخراج کے بعد حکومت پنجاب قادیانی صاحب پر سازش اور بغاوت کا مقدمہ چلانا چاہتی تھی لیکن انہوں نے ایک مسلمان انسپکٹر پولیس کے توسط سے اسی قسم کا کچھ سمجھوتہ کر کے اور حکومت سے عملی وفاداری اور مستحکم موالات کا حلف اٹھا کر جان بچائی تھی۔ معلوم نہیں اس بیان میں کہاں تک صداقت ہے؟

باب ۲۵

لعنتوں کی قادیانی مشین گن

مسلمان پر لعنت کرنا کبیرہ گناہ ہے اور اگر احادیث نبویہ کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان پر لعنت بھیجنے والا خود ملعون و مطرود یعنی رحمت

صفحہ 522

خداوندی سے دور ہو جاتا ہے۔ ذیل میں چند احادیث نبویہ درج کی جاتی ہیں جن سے آپ کو معلوم ہو گا کہ حضرت سرور کون و مکان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس سختی سے اس شناعت کی ممانعت فرمائی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومن طعنے دینے والا اور لعنت کرنے والا، فحش گو، زبان دراز نہیں ہوتا (ترمذی) اور فرمایا کہ مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا (ترمذی) اور فرمایا کہ ایک دوسرے پر لعنت نہ کرو اور نہ یہ کہو کہ تجھ پر خدا کا غضب ہو یا تو دوزخ میں جائے۔ (ابو داؤد و ترمذی) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ باد تند نے ایک شخص کی چادر اڑا دی۔ اس نے ہوا پر لعنت کی۔ یہ سن کر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو کیونکہ یہ تو منجانب اللہ مامور ہے اور جو شخص کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو اس کی مستحق نہیں ہے تو لعنت قائل ہی کی طرف رجوع کرتی ہے۔ (ابو داؤد و ترمذی)

قادیاں کے آشفتہ مزاج مسیح کی ہزار لعنتیں

آپ نے دیکھا کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام نے لعنت کرنے کی کس شد و مد سے ممانعت فرمائی ہے۔ لیکن گالیاں اور لعنتیں قادیاں کے مسیح صاحب کی گھٹی میں پڑی تھیں۔ وہ اپنے نہ ماننے والوں کے خلاف لعنت و پھٹکار کی مشین گن چلانے میں جس درجہ مشاق تھے اس کی نظیر ان کے کسی دوسرے پیش رو ہم مشرب میں بمشکل مل سکے گی۔ انہوں نے لعنت کے کاروبار میں ایسی جِدّت پیدا کی کہ جب سے عالم انسانیت نے معمورۂ عالم کو آباد کیا۔ شاید کسی بشر کو کبھی ایسی جدت نہ سوجھی ہوگی۔ الہامی صاحب کی تالیفات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی متعدد تالیفات میں کتاب کا نصف نصف یا پون پون صفحہ دس دس یک سطری لعنتوں کی نذر کر دیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر آپ کو تعجب ہو گا کہ قادیاں کے آشفتہ مزاج و مغلوب الغضب مسیح نے جس کا یہ دعویٰ تھا کہ ”میں خدائے ذوالجلال کی طرف سے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کے طرز پر کمال مسکنت و فروتنی تذلل و تواضع کے ساتھ اصلاح خلق کے لیے مامور ہوا

صفحہ 523

ہوں"۔

اپنی کتاب "کلمتہ باطل" کے حصہ اول میں جس کا نام انہوں نے برعکس نہند نام زنگی کافور کے مصداق "نورالحق" رکھا تھا۔ اپنی دشنام دہی کی مشین سے لعنت کے پیہم ہزار گولے برسائے ہیں۔ چنانچہ کتاب مذکور کے صفحہ ۱۱۸ سے صفحہ ۱۲۲ تک پانچ صفحے صرف لعنت کے ایک لفظ سے سیاہ کر دیئے ہیں۔ ہر سطر میں آٹھ آٹھ لعنتیں درج ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

(۱) لعنت (۲) لعنت (۳) لعنت (۴) لعنت (۵) لعنت (۶) لعنت (۷) لعنت (۸) لعنت (۹) لعنت (۱۰) لعنت (۱۱) لعنت (۱۲) لعنت (۱۳) لعنت (۱۴) لعنت (۱۵) لعنت (۱۶) لعنت (۱۷) لعنت (۱۸) لعنت (۱۹) لعنت (۲۰) لعنت (۲۱) لعنت (۲۲) لعنت (۲۳) لعنت (۲۴) لعنت (۲۵) لعنت۔ غرض اسی طرح لعنت کے ہر ہر لفظ پر نمبر دے کر ہزار لعنتیں پوری کی ہیں۔

مولانا بٹالوی مرحوم پر لعنتوں کی بھرمار

لیکن قادیانی صاحب نے اپنی قدیم دوستی کا لحاظ کرتے ہوئے مولوی محمد حسین مرحوم سے بڑی رعایت کی کہ ان کے لیے اپنے عام معمول کے مطابق لعنت کے صرف دس یک سطری گولوں پر اکتفا کیا۔ چنانچہ ملاحظہ ہو۔ مسیح صاحب اکتوبر ۱۸۹۲ء کے ایک خط میں مولوی صاحب مرحوم کو لکھتے ہیں۔

میرے دل سے اس وقت حق کی تائید کے لیے ایک بات نکلتی ہے اور میں اس کو روک نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ میرے نفس سے نہیں بلکہ القاء ربانی ہے جو بڑے زور سے جوش مار رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کہ آپ نے مجھے کافر ٹھہرایا اور جھوٹ بولنا میری سرشت کا خاصہ قرار دیا تو اب آپ کو قسم ہے کہ حسب طریق مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آ جاؤ تاکہ دیکھا جائے کہ کون کاذب اور دجال اور کافر ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر اس تبلیغ کے بعد ہم دونوں میں سے کوئی شخص متخلف رہا اور شغال کی طرح دم دبا کر بھاگ گیا تو وہ مندرجہ ذیل انعام کا مستحق ہوگا۔

صفحہ 524

اب آپ کسی حیلہ و بہانہ سے گریز نہیں کر سکتے۔ اب تو دس لعنتیں آپ کی خدمت میں نذر کردی ہیں۔ اور میں علی وجہ البصیرت یقین رکھتا ہوں کہ آپ صرف استخوان فروش ہیں اور علم اور درایت اور تفقہ سے سخت بے بہرہ اور ایک غبی اور پلید آدمی ہیں۔ اگر آپ مجھ کو جھوٹا سمجھنے میں سچے ہیں تو میری اس بات کو سنتے ہی مقابلہ کے لیے کھڑے ہو جائیں گے۔ ورنہ ان تمام لعنتوں کو ہضم کر جائیں گے۔ اگر آپ اللہ اور رسول کے نشان کے موافق آزمائش کے لیے مستعد ہوں تو میں خود بٹالہ اور امرتسر اور لاہور میں آسکتا ہوں۔ تا سیاہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔

(مکتوبات احمدیہ جلد ۴‘ صفحہ ۳۱‘ ۳۲‘ ۴۲‘ ۴۳)

باب ۴۶

مولانا بٹالوی کی رسوائی کا چہل روزہ الہام

گو مسیح صاحب کو ہر میدان دعا میں ہزیمت اور ذلت و رسوائی سے ہمکنار ہونا پڑتا تھا لیکن اس لحاظ سے کہ دکانداری کی رونق و ترقی ہنگامہ خیزی پر موقوف تھی۔ وہ عواقب و نتائج سے بے پروا ہو کر علماء وقت سے چھیڑ خانی جاری رکھتے اور نت نئے چٹکلے چھوڑتے رہتے تھے۔ ۱۹ شعبان ۱۳۱۰ھ کو قادیاں کے الہامی صاحب کو مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی کی ذلت و رسوائی کے متعلق چالیس روز کا میعادی الہام ہوا۔ جس کی وساوس کے صفحہ ۶۰۴ پر بدیں الفاظ تشریح کی۔ ”چند ماہ کا عرصہ ہوا ہے جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون

صفحہ 525

میں نے میاں محمد حسین بٹالوی کا خط دیکھا جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذاب اور دجال اور بے ایمان اور باایں ہمہ سخت نادان اور جاہل اور علوم دینیہ سے بے خبر ہے“۔ تب میں جناب الٰہی میں رویا کہ میری مدد کر۔ تو اس دعا کے بعد الہام ہوا کہ ادعونی استجب لکم یعنی دعا کرو کہ میں قبول کروں گا۔ مگر میں بالطبع نافر تھا کہ کسی کے عذاب کے لیے دعا کروں۔ آج جو ۲۹ شعبان ۱۳۱۰ھ ہے۔ اس مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دعا کے لیے دل کھول دیا۔ سو میں نے اسی طرح سے رقت دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کے لیے دعا کی اور میرا دل کھل گیا اور میں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا کہ انی مہین من اراد اہانتک (میں اس شخص کو رسوا کروں گا جو تیری اہانت کا قصد کرے) وہ اسی موقع کے لیے ہوا تھا۔ میں نے اس مقابلہ کے لیے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا“۔

قادیانی صاحب اور ان کے پیروؤں کی مایوسی

مرزائیوں نے مرزا صاحب کے اس الہام اور دعا کا خوب پروپیگنڈا کیا جس کی وجہ سے اس کا ہر جگہ چرچا ہونے لگا اور دن شمار کئے جانے لگے۔ لوگ یہ معلوم کرنے کے سخت مشتاق تھے کہ پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے اور مولوی محمد حسین پر کیا بلا نازل ہوتی ہے؟ جوں جوں میعاد قریب الاختتام ہوتی جاتی تھی لوگ سراپا انتظار بنتے جاتے تھے۔ مگر اس وقت تک مولوی صاحب کا بال تک بیکا نہ ہوا تھا۔ تاہم مرزائی اس بات پر زور دے رہے تھے کہ مالک الملک چاہے تو ایک دن میں ساری دنیا انقلاب و انتشار سے دوچار ہو سکتی ہے۔ انہیں یقین تھا کہ مرزا صاحب کا وار خالی نہ جائے گا۔ ضرور مولوی محمد حسین کسی بلائے سماوی یا ارضی کا نشانہ بنیں گے۔ آخر خدا خدا کر کے چالیسواں دن گزرا اور مرزائی دنیا یہ معلوم کرنے کے لیے بے چین ہوئی کہ مرزا صاحب کی دعا مولوی محمد حسین کے حق میں کس طرح برق خاطف بن کر گری؟ لیکن انہیں یہ معلوم کر کے سخت مایوسی ہوئی کہ مولوی صاحب ہمہ وجوہ صحیح و سلامت ہیں۔ غرض نہ تو مرزا صاحب کی دعا نے کوئی اثر دکھایا اور نہ ان کا الہام ہی سچا ثابت ہوا۔ اس دعا کی مدت گزر جانے کے بعد مولانا محمد حسین نے

صفحہ 526

اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں لکھا۔ ”ناظرین! آج ۱۴ شوال ۱۳۱۰ھ مطابق ۲۰ اپریل ۱۸۹۳ء ہے۔ قادیانی کی مقررہ میعاد سے تین دن اوپر ہو چکے ہیں۔ مگر میں خدائے برتر کے فضل و انعام کا مورد ہوں۔ میری صحت اچھی ہے‘ قوی صحیح و سالم ہیں۔ اولاد میں قادیانی سے فائق ہوں۔ جائز اور حلال آمدنی قادیانی سے زیادہ رکھتا ہوں۔ میری خداداد عزت کو ترقی ہے۔ باقیات صالحات کے لیے توفیق رفیق ہے۔ اگر خدا ان کو قبول کرے تو میری نجات کے لیے کافی ہیں۔ دن بھر نصرت دین سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور رد کفریات قادیانی کے لیے ایسی توفیق دیا گیا ہوں کہ اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ الغرض ان چالیس دنوں میں ہر طرح کی فرحت‘ آسائش‘ صحت‘ عافیت اور توفیق شامل حال رہی ہے۔ فالحمد للہ علی ذالک غالباً اب قادیانی اپنے سحر زدوں سے کہے گا کہ اس عذاب سے روحانی عذاب مراد تھا جس کا ظہور قیامت کو ہوگا۔ یا یوں کہے گا کہ محمد حسین نے میرے فلاں سوال کا جواب چھپوا کر اب تک میرے پاس نہیں بھیجا۔ یا کسی سے سن کر کہہ دے گا کہ محمد حسین کی اولاد میں فلاں کو زکام یا بخار ہو گیا تھا۔ یا یوں کہنے لگے گا کہ محمد حسین کو رمضان کے روزوں میں بھوک پیاس نے بہت ستایا۔

(اشاعۃ السنۃ جلد ۱۵‘ صفحہ ۱۸۴- ۱۸۵)

باب ۷۴

اپنے مکفرین کو مباہلہ کا نمائشی چیلنج

قارئین کرام پڑھ آئے ہیں کہ ہندوستان بھر کے علماء حق نے مسیح قادیاں کے کفر اور ارتداد کا فتویٰ دے کر ثابت کردیا تھا کہ قادیانی صاحب کو ملت اسلام سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ فتوائے تکفیر کے کچھ عرصہ بعد جب مسیح موعود صاحب نے محسوس کیا کہ اس فتویٰ کی وجہ سے نہ صرف نئے شکاروں کا پھنسنا موقوف ہوا بلکہ پرانے دام افتادہ بھی بہت بڑی تعداد میں داغ مفارقت دے رہے ہیں اور آمدنی میں روز افزوں کمی ہے تو بہت کچھ غور و خوض کے بعد علماء امت کو نمائشی اور پر تصنع مباہلہ کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اپنی کتاب آئینہ کمالات کے صفحہ ۱۶۱ پر لکھا کہ ان تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت

صفحہ 527

ہیں جو اس عاجز کو جزئی اختلاف کی وجہ سے کافر ٹھہراتے ہیں۔ عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا سے مامور ہو گیا ہوں تاکہ میں آپ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں۔ اس طرح پر کہ اول آپ کو مجلس مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل ازروئے قرآن اور حدیث کے سناؤں۔ اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آئیں تو اسی مجلس میں مباہلہ کروں۔ سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین صاحب دہلوی ہیں۔ اور اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بٹالوی اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے وہ تمام مولوی جو مجھے کافر ٹھہراتے ہیں اور میں ان تمام مولویوں کو آج کی تاریخ سے جو ۱۰؍ دسمبر ۱۸۹۳ء ہے چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہے۔ سو یہ لوگ مجھ سے مباہلہ کر لیں۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۲‘ صفحہ ۱۴۱)

دعوت مباہلہ کا پرجوش خیر مقدم

مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی نے اس گیدڑ بھبکی کے جواب میں لکھا۔ ”مرزا صاحب مجھے آپ کا چیلنج منظور ہے۔ آپ جس وقت چاہیں اور قادیاں چھوڑ جہاں آپ کا مسکن ہونے کی وجہ سے فساد کا اندیشہ ہے لاہور‘ بٹالہ یا جس مقام پر چاہیں مجلس مباہلہ منعقد کر لیں۔ آپ اس مجلس میں شوق سے اپنے عقائد کے دلائل پیش کریں۔ پھر میں اسی مجلس میں آپ کی کتابوں کی نسبت دعویٰ کروں گا کہ یہ کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہیں۔ پھر جھوٹے پر ایک نہیں ہزار دفعہ لعنت کروں گا۔ وہ الفاظ جن پر آپ قسم کھائیں گے اور جھوٹے پر لعنت کریں گے یہ ہوں گے“۔ میں غلام احمد قادیانی خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ جو عقائد میں نے آج کل ظاہر کئے ہیں کہ قرآن اور حدیث کی قطعی شہادت سے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام انتقال فرما گئے ہیں اور مسیح موعود کی ذات سے خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد میری ہی ذات ہے۔ جبرائیل امین بذات خود انبیاء علیہم السلام کے پاس کبھی نہیں آئے بلکہ وہ آسمان سے اور سورج سے کبھی جدا نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح ملک الموت وغیرہ ملائکہ بھی بذات خود آسمان سے جدا نہیں ہوتے اور مطلق نبوت کا خاتمہ نہیں ہوا وغیرہ۔ عقائد جو رسالہ اشاعۃ السنہ میں آپ کی تصانیف سے نکال کر شائع ہوئے

صفحہ 528

ہیں خدا اور رسول کے نزدیک صحیح اسلامی عقائد ہیں۔ قرآن و حدیث میں ان عقائد کے متعلق جو الفاظ وارد ہیں ان کے یہی معنی خدا اور رسول کی مراد ہیں جو میں غلام احمد قادیانی نے مراد لئے ہیں اور ان الفاظ و نصوص کے یہی معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب، تابعین اور ائمہ دین نے جو قرون ثلثہ میں گزرے ہیں، سمجھے تھے۔ اگر میں قادیانی اس بیان میں جھوٹا ہوں تو مجھ غلام احمد قادیانی پر وہ لعنت نازل ہو جو آج تک کسی ملعون پر نازل نہیں ہوئی۔ (محمد حسین بٹالوی) جب ”مسیح موعود“ صاحب کو خلاف توقع اپنی گیدڑ بھبکی کا کلہ شکن جواب ملا تو مباہلہ کے سارے افسانے بھول گئے اور اپنی عافیت اسی میں دیکھی کہ اپنے چیلنج کو نسیاً منسیاً کردیں۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۵، صفحہ ۱۶۳- ۱۶۷)

باب ۴۸

مولوی جلال الدین پیر کوٹی کو شفایابی کے سبز باغ

مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی نے ۱۸۹۲ء میں رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھا کہ مولوی جلال الدین نام ایک صاحب جو موضع پیر کوٹ، تحصیل وزیر آباد، ضلع گوجرانوالہ، کے رہنے والے ہیں، مرض نزول الماء (موتیا بند) میں مبتلا ہیں۔ انہیں کسی مرزائی نے بتایا کہ مرزا صاحب کی دعا سے تمہارا موتیا اچھا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ خیال کرکے اس بیان پر یقین کر لیا کہ مرزا صاحب کوئی باخدا آدمی ہوں گے اور اہل اللہ کی دعائیں مقبول ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹری علاج چھوڑ دیا اور بارہا صعوبت سفر اٹھا کر قادیاں جاتے رہے مگر یہاں سخن سازی کے سوا رکھا ہی کیا تھا؟ قادیانی صاحب نے انہیں یہ کہہ کر مدت تک معلق کر رکھا کہ میں نے تین شخصوں کے حق میں جن میں ایک تم اور دو اور ہیں دعا کی ہے۔ دو کے حق میں تو قبول دعا کی اطلاع مل چکی ہے لیکن ایک کے حق میں نامنظور ہوئی ہے اور غالباً انہی دو میں ہو جن کے لیے دعا مستجاب ہوئی ہے۔ اس بنا پر نہ وہ بیچارہ مایوس ہو کر ڈاکٹروں کی طرف رجوع کرتے اور نہ حصول مقصد میں کامیاب ہوتے ہیں اور یہ صرف پیر کوٹی مولوی صاحب پر موقوف نہیں۔ قادیانی نے جن لوگوں سے روپیہ لے کر صحت اور اولاد کے

صفحہ 529

لیے دعا کا وعدہ کر رکھا ہے وہ ابھی تک وعدوں ہی کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ (اشاعۃ

السنۃ‘ جلد ۱۵‘ نمبر ۳‘ صفحہ ۱۲)

مولوی محمد حسین مرحوم نے رسالہ اشاعۃ السنہ میں یہ بھی لکھا کہ قادیانی قریباً دس سال سے اس قسم کے دعوے کر رہا ہے کہ میں خدا سے ہمکلام ہوتا ہوں۔ میں مستجاب الدعوات ہوں۔ خدا نے مجھے الہام کیا ہے کہ تمہیں لوگوں سے بچاؤں گا۔ میری طرح زمین و آسمان تیرے ساتھ بھی ہیں‘ تو میری مراد ہے‘ میں تیرے پیروؤں کو تیرے منکروں پر قیامت تک غالب رکھوں گا۔ منکروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا تو غالب ہے وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ وہ ”براہین احمدیہ“ صفحات ۲۳۸‘ ۲۳۹‘ ۲۴۰‘ ۴۷۷‘ ۴۹۸‘ ۵۰۵‘ ۵۱۰‘ ۵۵۶‘ ۵۶۳ وغیرہ میں لکھ چکا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ درخت ہمیشہ پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ مرزا کے دام افتادوں کو غور کرنا چاہیے کہ اگر وہ ان دعاوی میں سچا ہوتا تو دس سال کی طویل مدت میں اس کا کچھ اثر تو ظاہر ہوتا اور کوئی نہ کوئی منکر و مخالف تو اس کا تابع فرمان بنتا۔ قادیانی کی ان تعلیوں اور خودستائیوں کا اب تک کون سا اثر ظاہر ہوا ہے؟ اس کی کونسی دعا قبول ہوئی؟ کس مخالف نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیکے؟ کس مخالف پر اس کا رعب پڑا؟ کس پر اس نے فتح پائی؟ اس کے پیروؤں کو مسلمانوں پر کب غلبہ حاصل ہوا؟ زمین و آسمان نے دوسرے لوگوں سے زیادہ اس کی کیا خدمت انجام دی؟ خدا نے اس کو کب محبوب خلائق بنایا جس کا اس ذات برتر نے اپنے برگزیدہ بندوں سے وعدہ کر رکھا ہے؟ چنانچہ حدیث صحیح میں ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب حق تعالیٰ کسی بندے کو دوست رکھتا ہے تو حق تعالیٰ کی طرف سے تمام آسمانوں کے فرشتوں میں منادی کر دی جاتی ہے کہ فلاں بندہ میرا دوست ہے۔ تم بھی اس سے محبت رکھو۔ پھر یہی حکم زمین پر پہنچتا ہے کہ تو اہل زمین میں اس کی مقبولیت تسلیم کی جاتی ہے اور اگر خدائے قہار کسی بندے پر غضبناک ہوتا ہے تو اسی طرح آسمانوں میں اور پھر زمین میں اس کی منادی کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سکان سموات اور اہل ارض میں اس کے خلاف جذبہ نفرت پھیل جاتا ہے۔

(اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۵‘ نمبر ۲‘ صفحہ ۴۶)

باب ۴۹

صفحہ 530

مسیح قادیاں کے ترک مباہلہ پر محمد علی خاں کی پریشانی

سردار محمد علی خاں مالیر کوٹلوی مرزا صاحب کو سچا ملہم سمجھ کر ان کے تقدس کی بھول بھلیوں میں کچھ ایسی بری طرح پھنسے تھے کہ اس سے نکلنا محال ہو گیا تھا۔ جب وہ دیکھتے تھے کہ الہامی صاحب کو کوئی الہام سچا نہیں ہوتا اور جو پیشن گوئی کرتے ہیں وہی خلاف مدعا ظاہر ہوتی ہے۔ تو بے چارے سخت کبیدہ خاطر ہوتے اور عالم اضطراب میں مرزا جی کو برملا لکھ بھیجتے کہ مجھے آپ کے صدق میں شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ مگر مرزا صاحب فن سخن سازی کے امام تھے۔ وہ ان کے شبہات کے جواب میں ایسے ایسے سبز باغ دکھاتے کہ بے چارے محمد علی خاں کو خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اگر محمد علی خان کو ایمان و ہدایت سے حصہ ملا ہوتا تو وہ علانیہ مرزائیت سے قطع تعلق کر لیتے لیکن بے چارے ہمیشہ شک و ارتیاب کی کشتی میں ہچکولے کھاتے رہے۔ آخر زمانہ دراز کے بعد حضرت مسیح موعود صاحب نے اپنی نہ سالہ صاحبزادی مبارکہ بیگم ان کے حوالہ نکاح میں دے دی۔ امید ہے کہ اس رشتہ مصاہرت کے بعد ان کی طبیعت میں سکون و اطمینان پیدا ہو گیا ہو گا۔ کیونکہ اس پیوند کے بعد مرزا صاحب نہ صرف ان کے مذہبی پیشوا تھے بلکہ واجب الاحترام خسر بھی تھے۔ جب محمد علی خان نے دیکھ لیا کہ مرزا صاحب کی کوئی آسمانی اطلاع پوری نہیں ہوتی تو وہ اس کوشش میں منہمک ہوئے کہ کسی طرح مباہلہ کرا کر ہی مرزائیت کا بھرم رکھ لیں۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ قادیانی صاحب مباہلہ پر کسی طرح راضی نہیں ہوتے تھے۔ آخر ڈیڑھ دو سال کے بعد انہوں نے ازسرنو مباہلہ کی تحریک مناسب خیال کی اور اس سلسلہ میں انہوں نے نومبر ۱۸۹۲ء میں مرزا صاحب کو یہ خط لکھا:۔

طبیب روحانی مکرم معظم سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم۔ روپیہ ہمدست مرزا خدا بخش ارسال کیا گیا ہے۔ جب سے کہ دعویٰ مثیل المسیح کی اشاعت ہوئی ہے ہر ایک آدمی ایک عجیب خلجان میں ہو رہا ہے۔ گو بعض خواص کو کوئی شک نہ پیدا ہوا ہو۔ بندہ جب ہی سے شش و پنج میں ہے۔ کبھی آپ کا دعویٰ ٹھیک معلوم ہوتا ہے اور کبھی تذبذب کی حالت ہو جاتی ہے۔ اب قال قیل بہت ہو چکی۔ اپنی تو اس سے اطمینان نہیں ہوتی کیونکہ مخالف اور

صفحہ 531

موافق باتوں نے دل کی عجب کیفیت کر دی ہے بلکہ بعض اوقات اسلام کے سچے ہونے میں شبہ ہو جاتا ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک طرف خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم اس کو اپنا راستہ دکھاتے ہیں۔ اور دوسری طرف یہ حیرانی ہے کہ وہ وعدہ پورا نہیں ہوتا۔ اب مندرجہ ذیل امورات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ جس سے اب صداقت ظاہر ہو۔ اول اب کوئی عذر اس قسم کا نہیں رہا کہ اب مباہلہ کے لیے مخالفوں کو نہ بلایا جائے۔ مخالفت بہت ہو گئی ہے اور حجت قائم ہو چکی۔ اب آپ کو مخالفوں سے مباہلہ کرنا چاہیے اور توجہ کر کے خداوند تعالیٰ سے اس بات کی اجازت لینی چاہیے کہ مباہلہ کیا جائے اور اس مباہلہ کا اثر قریب زمانہ میں ہو جو ماہ دو ماہ سے زائد نہ ہو کہ لوگ میعاد بعید سے گھبرا جاتے ہیں۔

اور اگر یہ کہا جاوے کہ مباہلہ سے جو لوگ نہ ماننے والے ہیں نہیں مانیں گے۔ اس میں یہ عرض ہے کہ جو نہ ماننے والے ہیں وہ نہ مانیں لیکن وہ لوگ جو مذبذب ہیں وہ ضرور مان جائیں گے۔ اور ایک یہ بڑا بھاری فائدہ ہے کہ مبایعین کا ایمان قوی ہو جائے گا۔ بہر حال اب مباہلہ لازمی ہے۔ اول نشان آسمانی میں جو جناب نے استخارہ کی بابت تحریر فرمایا ہے کہ بغض اور محبت سے پاک ہو کیونکہ اس صورت میں شیطان دخل دیتا ہے اور پھر خیال کے بموجب القاء ہوتا ہے۔ اس لیے ان دونوں باتوں سے بری ہو کر عمل کرنا چاہیے۔ اب اس امر میں بڑی مشکل پیش آگئی۔ اول یا تو آدمی مخالف ہو گا یا موافق۔ پس بموجب اس تحریر کے موافقوں کو موافق اور مخالفوں کو مخالف القاء ہو گا۔ پس قوت متخیلہ پر سارا مدار رہا۔ دوم انسان کا خاصہ ہے کہ جس بات سے روکا جائے اس کی طرف جبلی طور سے مائل ہوگا۔ پس اگر آپ یہ بات ظاہر نہ کرتے تو شاید ایسا خیال بھی نہ ہوتا لیکن جب ظاہر کیا گیا تو ضرور کچھ نہ کچھ خیال پیدا ہو گا اور قوت متخیلہ رنگ دکھاوے گی۔ سوم جبکہ یہ استخارہ اصل میں مخالفوں کے لیے ہے اور مخالفوں کو اپنی مخالفت کے سبب سے مخالف القاء ہوا تو پھر حجت کس طرح قائم ہوئی۔ لہٰذا ہر طرح القاء شیطانی کی گنجائش ہے۔ اب تینوں صورتوں کے سبب سے بڑی مشکل پیش آئی۔ استخارہ کس طرح کیا جائے جبکہ ہر صورت میں القائے شیطانی کا ہونا ممکن ہے اور بغض و محبت سے پاک ہونا مشکل تو کام کس طرح چلے۔

صفحہ 532

پس اس کے لیے بھی برائے خدا توجہ فرما کر دعا فرمائیں کہ استخارہ القائے شیطانی سے پاک ہو‘ جو کوئی استخارہ کرے خواہ موافق ہو یا مخالف سب پر یکساں طور سے اصلی حقیقت کھل جائے اور اس میں شیطان کا دخل جاتا رہے۔ چونکہ یہ اہم امر ہے اس لیے شیطان سے بچنے کے لیے خدا سے مدد مانگنی لازمی ہے اور تعجب ہے کہ کار رحمانی پر شیطان غالب ہو۔ اگر خداوند تعالیٰ ہماری مدد نہ کرے گا اور ہم کو القائے شیطانی سے نہ بچائے گا تو ہم ہدایت کس طرح پائیں گے۔ اس لیے التجا ہے کہ آپ دعا فرمائیں کہ اس استخارہ میں شیطان کا دخل نہ رہے اور اس کا اشتہار دیا جائے۔ بندہ بھی استخارہ کے لیے تیار ہے جس وقت جناب کو ان تینوں امور کی بابت القاء ہو جائے گا کہ یہ استخارہ القائے شیطانی سے مبرا ہے اور اس کا اثر مخالف اور موافق پر یکساں ہوگا اس وقت بندہ استخارہ کرے گا اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک انتظار جواب باصواب رہے گا۔ جواب سے مراد جواب نیازنامہ ہٰذا نہیں بلکہ جو امر استخارہ کی بابت آپ کو بعد توجہ و دعا معلوم ہوگا۔

سوم کوئی امر خارق عادت ہونا چاہیے تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہو۔ ان تینوں امور کی بابت میں نہایت ادب سے ملتجی ہوں کہ اس کی بابت برائے خدا توجہ فرمائیں کیونکہ قیل و قال بہت ہو چکی اور اس سے شبہات بڑھتے جاتے ہیں۔ اب استدلال ہو چکا اب دوسری طرف متوجہ ہونا چاہیے۔

پائے استدلالیاں چوبیں بود پائے چوبیں سخت و بے تمکیں بود
گر بہ استدلال کار دیں بدے فخر رازی راز دار دیں بدے

اور میں نہایت عجز سے جناب کو ذات واحد کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ ان تینوں امور متذکرہ بالا کے لیے توجہ کر کے دعا فرمائیں اور دعا میں یہ بھی درخواست ہو کہ میعاد زمانہ قریب ہو نہ بعید۔ چونکہ طرفین میں رشتہ نازک ہے اور دینی کام ہے‘ اس تحریر کو گستاخانہ تصور نہ فرمائیں بلکہ مستفیدانہ‘ چونکہ میں آپ کی بیعت میں ہوں۔ اس لیے اطمینان قلب کے لیے تکلیف دی گئی۔ اس خط کو کم از کم تین مرتبہ غور سے پڑھیں۔ (آئینہ کمالات

مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۳۲۶۔ ۳۳۰)

قادیانی صاحب کا جواب

صفحہ 533

قادیانی صاحب نے اس کے جواب میں جو چٹھی لکھی اس کا ضروری خلاصہ یہ ہے۔

محبّی و عزیزی اخویم نواب محمد علی خان صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ‘ مباہلہ کی نسبت آپ کے خط سے چند روز پہلے مجھے خود بخود اللہ جل شانہ نے اجازت دے دی ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے ارادہ سے آپ کا توارد ہے۔ دوسرا نشان کے بارہ میں جو آپ نے لکھا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایمان کا ثواب اکثر اسی امر سے مشروط کر رکھا ہے کہ نشان دیکھنے سے پہلے ایمان ہو اور مجھے دلی خواہش ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ آپ کو یہ بات سمجھ آ جاوے کہ درحقیقت ایمان کے مفہوم کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ پوشیدہ چیزوں کو مان لیا جائے اور جب ایک چیز کی حقیقت ہر طرح سے کھل جائے تو پھر اس کا مان لینا ایمان میں داخل نہیں۔ مابہ النزاع مسئلہ حیات اور وفات مسیح ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ اس مسئلہ کی درحقیقت ایک فرع ہے تو کیا اس دعویٰ کے تسلیم کرنے کے لیے کسی بڑے معجزہ یا کرامت کی حاجت ہے؟ تیسرا سوال آپ کا استخارہ کے لیے جو مشکلات آپ نے تحریر فرمائی ہیں درحقیقت استخارہ میں ایسی مشکلات نہیں۔ میں یہ عہد نہیں کر سکتا کہ ہر ایک شخص کو ہر ایک حالت نیک یا بد میں ضرور خواب آ جائے گی۔ لیکن آپ کی نسبت میں کہتا ہوں کہ اگر آپ چالیس روز تک رو بقبلہ ہو کر بشرائط مندرجہ نشان آسمانی استخارہ کریں تو میں آپ کے لیے دعا کروں گا۔ کیا خوب ہو کہ یہ استخارہ میرے روبرو ہوتا۔ میری توجہ زیادہ ہو۔ لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے۔ میں نے اس بیان کو افسوس کے ساتھ پڑھا جو آپ فرماتے ہیں کہ مجرد قیل و قال سے فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ میں آپ کو ازراہ مہربانی و رحم اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اکثر فیصلے دنیا میں قیل و قال سے ہی ہوتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ میرے اس خط کا آپ کے دل پر کیا اثر پڑے گا۔ ملاقات نہایت ضروری ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جس طرح ہو سکے۔ ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۲ء کے جلسے میں ضرور تشریف لائیں۔ خاکسار غلام احمد از قادیاں ضلع گورداسپور

(آئینہ کمالات‘ صفحہ ۴۳۱)

مرزائی الہام

صفحہ 534

محمد علی خان کی تحریک مباہلہ کے بعد مرزا صاحب کو یہ الہام ہوا۔ ”خدا تعالیٰ نے ایک معطر نظر سے تجھ کو دیکھا۔ اور بعض لوگوں نے اپنے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کردے گا جو دنیا میں فساد پھیلائے تو خدا تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہے۔ سو ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم معہ اپنی عورتوں اور بیٹوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں پھر ان پر لعنت کریں جو کاذب ہیں“۔ (تشریح) یہ وہ اجازت ہے جو اس عاجز کو دی گئی۔ (البشریٰ جلد ۲‘ ص ۲۵)

باب ۵۰

مولوی عبدالحق غزنوی سے حافظ محمد یوسف

مرزائی کا مباہلہ

حافظ محمد یوسف ضلعدار امرتسری پہلے فرقہ ”اہل حدیث“ کے ایک ممتاز رکن تھے لیکن کچھ عرصہ سے مرتد ہوکر مرزائی جال میں پھنس گئے تھے۔ مرتد ہونے کے بعد سخت غالی مرزائی ثابت ہوئے۔ مرزائیت کی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے سوا ان کا کوئی محبوب مشغلہ نہ تھا۔ مسیح قادیاں کے ایک اشتہار سے ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی مولوی عبدالحق غزنوی امرتسری سے مباہلہ کیا تھا۔ الہامی صاحب نے اس مباہلہ کی کیفیت یوں بیان کی ہے۔ ”مجھے اس بات کے سننے سے بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے ایک معزز دوست حافظ محمد یوسف صاحب نے ایمانی جوانمردی اور شجاعت کے ساتھ ہم سے پہلے مباہلہ کا ثواب حاصل کیا۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حافظ صاحب اتفاقاً ایک مجلس میں بیان کر رہے تھے کہ مرزا صاحب یعنی اس عاجز سے کوئی آمادہ مناظرہ یا مباہلہ نہیں ہوتا اور اسی سلسلہ گفتگو میں حافظ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالحق نے جو مباہلہ کے لیے اشتہار دیا تھا اب اگر وہ

صفحہ 535

اپنے تئیں سچا جانتا ہے تو میرے مقابلہ پر آئے۔ میں اس سے مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔ تب عبدالحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا مستعد مباہلہ ہو گیا اور آ کر حافظ صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا کہ میں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں اور مباہلہ اس بارہ میں ہو گا کہ مجھے یقین ہے کہ مرزا غلام احمد اور مولوی حکیم نور الدین اور مولوی محمد احسن امروہی تینوں مرتدین اور کذابین اور دجالین ہیں۔ حافظ صاحب نے فی الفور بلا تامل منظور کر لیا۔ اور حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا۔ منشی محمد یعقوب، میاں نبی بخش صاحب، میاں عبدالهادی صاحب اور میاں عبدالرحمن صاحب عمر پوری گواہان مباہلہ قرار پائے۔ اور حسب دستور مباہلہ فریقین نے اپنے اوپر لعنتیں ڈالیں اور اپنے منہ سے کہا کہ الٰہی اگر ہم اپنے بیان میں سچائی پر نہیں تو ہم پر تیری لعنت نازل ہو یعنی کسی قسم کا عذاب ہم پر وارد ہو"۔ (تبلیغ رسالت، یعنی مجموعہ اشتہارات قادیانی صاحب جلد ۳، صفحہ ۴۱)

قادیانی صاحب نے یہ واقعہ لکھ کر اس امر پر روشنی نہیں ڈالی کہ مباہلہ کے بعد فریقین میں سے کسی پر کوئی بلا نازل ہوئی یا نہیں؟ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ دونوں سلامت رہے۔ لیکن یاد رہے کہ حافظ محمد یوسف کے محفوظ رہنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ بھی حق کے پیرو تھے بلکہ اس کا حقیقی مبنی تقدیر الٰہی کا یہ نوشتہ تھا کہ حافظ محمد یوسف مرتد ہونے اور سالہا سال تک مرزائی رہنے کے بعد انجام کار تائب ہوں گے اور ازسرنو حلقہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مرزائیت کے خوب بخیے ادھیڑیں گے۔ چنانچہ انشاء اللہ العزیز آگے چل کر آپ کو معلوم ہو گا کہ انہوں نے ترک مرزائیت کے بعد مرزائیت شکنی میں کیسی بیش بہا خدمات انجام دیں۔ مباہلہ کے باوجود حافظ محمد یوسف کے محفوظ رہنے کی مثال حضرت ابوسفیان بن حرب اور بعض دوسرے اعدائے دین کا واقعہ ہے کہ جن کے حق میں حضرت خیر البشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بددعا کرنے کا قصد فرمایا تھا لیکن چونکہ ان کے لیے اسلام و ایمان کی نعمت مقدر تھی آپ کو ایسا کرنے سے منع کر دیا گیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔

لیس لک من الامر شی او یتوب علیھم او یعذبھم فانھم ظلمون (۳-۱۲۸)

آپ کو اس بارہ میں اختیار نہیں یہاں تک کہ حق تعالیٰ ان کو تائب کر دے یا معذب کرے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

صفحہ 536

چنانچہ اس کے بعد حضرت ابوسفیانؓ حضرت عکرمہؓ اور بہت سے دوسرے حضرات جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام دشمنی کے لیے وقف کر رکھی تھیں مشرف باسلام ہوئے اور بیش بہا اسلامی خدمات انجام دے کر دنیا و آخرت میں سرخرو ہوئے۔

باب ۵۱

شیخ مہر علی کے خلاف آسمانی عدالت میں استغاثہ

قادیانی صاحب کا معمول تھا کہ جب ملک میں عموماً اور پنجاب کی اسلامی آبادی میں خصوصاً کوئی اہم واقعہ رونما ہوتا تو فوراً ڈھنڈورہ پیٹنے لگتے کہ میں نے اس کے متعلق یوں پیشین گوئی کر رکھی تھی۔ یا یہ خواب دیکھا تھا۔ حالانکہ کسی قضیہ کے نتائج رونما ہونے کے بعد ہر بازاری لفنگا بھی بسہولت اس قسم کی لاف زنی کر سکتا ہے۔ اگر ڈھائی تولہ کی زبان ہلا دینے یا نصف تولہ کے قلم کو جنبش دینے سے کوئی کرامت یا معجزہ ظاہر ہو سکتا ہے تو واقعی الہامی صاحب کو اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن مشکل یہ تھی کہ جب کبھی وہ کرامت کی ڈینگیں مارتے تھے ناکامی و نامرادی کا بھیانک دیو ان کے سامنے آکر ناچنے لگتا تھا۔ شیخ مہر علی مرحوم رئیس ہوشیار پور کے متعلق بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ شیخ مہر علی وہی صاحب ہیں جن کے طویلہ میں رئیس قادیاں نے چلہ کشی کی تھی اور اوائل میں الہامی صاحب کی مٹھی گرم کرنے میں وہ بے چارے نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ہوشیار پور میں کوئی آدمی قتل ہو گیا۔ شیخ صاحب بھی ملزمین میں شامل کر لیے گئے۔ آخر مقدمہ چلا اور عدالت ماتحت نے انہیں سیشن سپرد کر دیا۔ مرزا صاحب نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ آج سے چھ مہینہ پیشتر ہی مجھے خواب میں بتلایا گیا تھا کہ شیخ صاحب کے فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور میں نے خط بھیج کر ان کو توبہ و استغفار کی تحریک کی تھی۔ شیخ صاحب تو حوالات میں تھے ان کے فرزند شیخ جان محمد نے الہامی صاحب کو دعا کے لیے لکھ بھیجا۔ قادیانی صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ خدا اپنا فضل کرے گا۔ یہ الفاظ کوئی پیشین گوئی نہیں تھی بلکہ جیسا کہ اہل پنجاب کا تکیہ کلام ہے۔ محض ایک عام دعائیہ کلمہ تھا جو ہر کس و

صفحہ 537

ناکس ایسے موقع پر بولا کرتا ہے۔ آخر عدالت سیشن میں شیخ صاحب کی براءۃ ثابت ہو گئی اور وہ رہا کر دیئے گئے۔

ان کی رہائی کے بعد الہامی صاحب نے یہ کہنا شروع کیا کہ شیخ صاحب میری ہی دعا سے بری ہوئے ہیں۔ چنانچہ میں نے ہی خواب میں پانی ڈال کر ان کی آگ بجھائی تھی اور یہ بھی اطلاع دے دی تھی کہ وہ رہا ہو جائیں گے۔ اب مرزا صاحب نے شیخ مہر علی کو خط لکھا کہ آپ میری ہی دعا سے رہا ہوئے ہیں۔ چنانچہ میں نے آپ کی رہائی کے متعلق آپ کے فرزند کو پہلے ہی اطلاع دے دی تھی۔ اس لیے آپ اس کی تصدیق کر دیجئے۔ اس کے جواب میں شیخ صاحب نے اپنے بیٹے جان محمد کی زبانی لکھا کہ آپ نے رہائی کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی بلکہ محض اتنا لکھا تھا کہ خدا فضل کرے گا۔ الہامی صاحب کی کوشش تھی کہ اگر شیخ مہر علی سرٹیفکیٹ دے دیں تو اس واقعہ کو بھی اپنا ”معجزہ اور نشان“ قرار دے کر اس کا پروپیگنڈہ شروع کر دیں لیکن شیخ صاحب نے مرزا جی کے قول کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا۔

مرزا صاحب کا یہ شکوہ پہلے تو صرف ساحل لب سے ٹکراتا رہا لیکن اس کے بعد ان الفاظ میں نوک قلم سے ٹپک پڑا۔ دوستوں کے خطوط اور بیانات سے معلوم ہوا کہ شیخ صاحب یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ ہمیں رہائی کی کوئی اطلاع نہیں دی تھی اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس عاجز پر ایک اور طوفان باندھتے ہیں کہ میں نے شیخ صاحب کو جھوٹ بولنے کے لیے تحریک دے کر بطور بیان دروغ اس سے یہ لکھوانا چاہا کہ اس عاجز نے رہائی کی خبر دے دی تھی تاکہ میری کرامت ظاہر ہو۔ ناظرین اس بارہ میں میرے خطوط ان سے طلب کریں۔ میرے کسی خط کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ شیخ صاحب کوئی بات خلاف واقعہ لکھیں بلکہ ان کو اپنے سابق خط کے مضمون سے اطلاع دی گئی تھی اور امید تھی کہ یاد دلانے سے وہ مضمون انہیں یاد آ جائے گا۔ اس بنا پر ان سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ ہمارے خط کا یہ خلاصہ ہے اور اسی کی ہم آپ سے تصدیق چاہتے ہیں۔ مگر افسوس کہ شیخ صاحب نے میرے خط کو تحکم کی راہ سے دبا لیا اور مجھ پر یہ افتراء کیا کہ گویا میں نے ان سے جھوٹ کہلوانا چاہا۔ حالانکہ میں نے صرف اپنے خط کے مضمون کی تصدیق کرانی چاہی تھی۔ خیر اب ہم ایک آسمانی فیصلہ اپنے صدق و کذب کے بارے میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آج

صفحہ 538

رات میں نے جو ۲۵؍ فروری ۱۸۹۳ء کی رات تھی شیخ صاحب کی ان باتوں سے سخت درد مند ہو کر آسمانی فیصلہ کے لیے توجہ کی تو مجھے الہام ہوا ”ہم آسمان پر دیکھ رہے ہیں کہ تیرا دل مہرعلی کی خیر اندیشی سے بددعا کی طرف پھر گیا ہے۔ ہم بات کو اسی طرح آسمان پر پھیر دیں گے جس طرح تو زمین پر پھیرے گا۔ ہم تیرے ساتھ ہیں۔ تیرے درجات بڑھائیں گے“۔ لہٰذا یہ اشتہار شیخ صاحب کی خدمت میں رجسٹری کرا کر بھیجتا ہوں کہ اگر وہ ایک ہفتہ کے عرصہ میں اپنے خلاف واقعہ فتنہ اندازی سے معافی چاہنے کی غرض سے ایک خط بہ نیت چھپوانے کے نہ بھیج دیں تو پھر آسمان پر میرا اور ان کا مقدمہ دائر ہوگا اور میں اپنی دعاؤں کی جو ان کی عمر اور بحالی عزت و آرام کے لیے کی تھیں، واپس لے لوں گا۔ یہ مجھے اللہ جل شانہ کی طرف سے بشارت مل گئی ہے۔ پس اگر شیخ صاحب نے اپنے افتراؤں کی نسبت میری معرفت معافی کا مضمون شائع نہ کرایا تو پھر میرے صدق اور راستی کی یہ نشانی ہے کہ میری بددعا کا اثر ان پر ظاہر ہوگا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ کو وعدہ دیا ہے۔ ابھی میں اس کی کوئی تاریخ بیان نہیں کر سکتا کیونکہ ابھی تک خدا تعالیٰ نے کوئی تاریخ میرے پر نہیں کھولی اور اگر میری بددعا کا کچھ بھی اثر نہ ہوا تو بلاشبہ میں اسی طرح کاذب اور مفتری ہوں۔ جو شیخ صاحب نے مجھ کو سمجھ لیا۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو شیخ صاحب میری بددعا سے صاف بچ جائیں گے اور یہی میرے کاذب ہونے کی کافی نشانی ہوگی۔ اگر یہ بات صرف میری ذات تک محدود ہوتی تو میں صبر کرتا لیکن اس کا دین پر اثر ہے اور عوام میں ضلالت پھیلتی ہے۔ اس لیے میں نے محض حمایت دین کی غرض سے دعا کی اور خدا تعالیٰ نے میری دعا منظور فرمائی۔ پس میرے صادق یا کاذب ہونے کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے۔ (تبلیغ

رسالت، یعنی مجموعہ اشتہارات قادیانی صاحب، جلد ۳، صفحہ ۸۔۱۰)

غرض حضرت ”مسیح موعود“ صاحب بہت دن تک شب و روز شیخ مہرعلی مرحوم کے خلاف اپنی بددعاؤں کی خاک اڑاتے رہے لیکن خدا کے فضل سے وہ چشم عدو سے ہر طرح محفوظ رہے اور اس کے بعد بھی حافظ حقیقی نے انہیں مدت العمر ہر طرح کے گزند سے اپنی پناہ میں رکھا۔ قادیانی صاحب کی مسلسل بددعاؤں اور بد اندیشیوں کے باوجود جو قابل رشک عافیت اور آسودگی شیخ صاحب کے شریک حال رہی اس نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کا ایک اور سنہری موقع بہم پہنچا دیا کہ مرزا صاحب اپنے پیش کردہ معیار کے بموجب صادق نہیں

صفحہ 539

تھے؟ جب شیخ صاحب نصیب اعداء ہر طرح کے چشم زخم سے محفوظ رہے تو منشی الہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ لاہور نے جو مرزائیت سے تائب ہوکر الہامی صاحب کو بری طرح انگلی پر نچا رہے تھے کتاب ”عصائے موسیٰ“ میں لکھا۔ ”معلوم نہ ہوا کہ اس مقدمہ کا جو مرزا صاحب نے آسمانی عدالت میں دائر کیا تھا کیا فیصلہ ہوا اور تعجب ہے کہ انہوں نے شیخ صاحب کا کوئی معافی نامہ بھی شائع نہیں کیا۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے ان پر رحم کرکے راضی نامہ داخل کر دیا ہوگا اور اس راضی نامہ کا اعلان ضروری نہ سمجھا ہوگا۔ گو ایسا کرنا ضروری تھا کیونکہ مرزا صاحب مقدمہ دائر کرنے کا حال اپنے ایک اعلان میں مشتہر کر چکے تھے۔“ (عصائے موسیٰ صفحہ ۴۳)

حضرات! آپ نے قادیانی ”مسیح موعود“ کے اخلاق عالیہ کا نمونہ دیکھا کہ کس طرح محض اس جرم میں ایک قدیم الخدمت پیرو کا دشمن ہوگیا کہ اس نے حضرت ”مسیح موعود“ کو ان کی من گھڑت پیشینگوئی کا جھوٹا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کیا تھا۔ حالانکہ یہ سرٹیفکیٹ نہ نجات اخروی کا کفیل تھا اور نہ قبر ہی میں کام آسکتا تھا۔ بہرحال اس پیشین گوئی پر بھی مرزا صاحب کی بڑی کرکری ہوئی اور ان کی گیدڑ بھبکی پر وہ بازاری مثل صادق آئی۔ ”واہ پیر علیا پکائی تھی کھیر ہو گیا دلیا“۔

باب ۵۲

مولانا بٹالوی کو عربی تفسیر قرآن لکھنے کا چیلنج

مرزا صاحب کی پر نخوت اور تعلی آمیز گیدڑ بھبکیوں کے جو جوابات مولوی محمد حسین بٹالوی یا دوسرے علمائے اسلام کی طرف سے وقتاً فوقتاً شائع ہوتے تھے۔ سحر زدگان قادیاں ان کی طرف قطعاً توجہ نہیں کرتے تھے۔ اس بنا پر وہ حرمان نصیب مرزا صاحب کی تحریریں پڑھ کر ہمیشہ یک طرفہ رائے قائم کر لینے کے عادی ہو گئے تھے اور انہوں نے اپنی نادانی سے سمجھ رکھا تھا کہ ان کا پیر و مرشد میدان شہامت کا رستم و اسفندیار ہے حالانکہ مرزا صاحب کی طرف سے جب کبھی اور جونہی کوئی چیلنج شائع ہوتا تھا، علمائے اسلام یا تو خود

صفحہ 540

مرزا صاحب کے سر پر قادیاں پہنچ کر ان کے نظام اعصاب میں تہلکہ ڈال دیتے تھے یا دندان شکن جواب شائع کر کے ان کی لاف زنی کا مداوا فرما دیا کرتے تھے چونکہ مرزا صاحب کو معلوم تھا کہ دام افتادگان قادیاں علمائے اسلام کی جوابی تحریروں کا مطالعہ کرنے کے عادی نہیں۔ اس لیے حضرت "مسیح موعود" صاحب نہایت بیباکی اور دیدہ دلیری کے ساتھ کتمان حق کرتے اور شیخیاں بگھارتے رہتے تھے۔

قادیاں کے الہامی صاحب نے ۳۰؎ مارچ ۱۸۹۳ء کو ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ محمد حسین بٹالوی میرے مقابلہ میں عربی میں تفسیر قرآن لکھے۔ اس فیصلہ کے لیے احسن انتظام یوں ہو سکتا ہے کہ ایک مختصر جلسہ ہو کر منصفان تجویز کردہ چند سورتیں قرآن کی جن کی عبارت اسی آیتوں سے کم نہ ہو، تفسیر کے لیے منتخب کر کے پیش کریں اور پھر بطور قرعہ اندازی کے ایک سورۃ ان میں سے نکال کر اسی کی تفسیر معیار امتحان ٹھہرائی جائے اور اس تفسیر کے لیے یہ امر لازمی ٹھہرایا جائے کہ بلیغ، فصیح زبان عربی اور مقفا عبارت میں قلمبند ہو اور وہ دس جز سے کم نہ ہو اور جس قدر اس میں حقائق و معارف لکھے جائیں وہ نقل عبارت کی طرح نہ ہوں بلکہ معارف جدیدہ و لطائف غریبہ ہوں جو کسی دوسری کتاب میں پائے نہ جائیں اور باایں ہمہ اصل تعلیم قرآن سے مخالف نہ ہوں بلکہ ان کی قوت اور شوکت ظاہر کرنے والے ہوں اور کتاب کے اخیر میں سو شعر لطیف، بلیغ اور فصیح عربی میں نعت اور مدح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں بطور قصیدہ درج ہوں اور جس بحر میں وہ شعر ہوں وہ بحر بھی بطور قرعہ اندازی کے اسی جلسہ میں تجویز کیا جائے اور فریقین کو اس کام کے لیے چالیس دن کی مہلت دی جائے۔ میں نے اس مقابلہ کے لیے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔ صاحبو! میاں محمد حسین کو اس پر سخت اصرار ہے کہ یہ عاجز عربی علوم سے بالکل بے بہرہ اور کودن اور نادان اور جاہل ہے اور علم قرآن سے بالکل بے خبر ہے اور خدا تعالیٰ سے مدد پانے کے تو لائق ہی نہیں کیونکہ کذاب اور دجال ہے۔ یہ عاجز در حقیقت نہایت ضعیف اور ہیچ ہے گویا کچھ بھی نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ متکبر کا سر توڑے اور اس کو دکھاوے کہ آسمانی مدد اس کا نام ہے۔ چند ماہ ہوئے میں نے محمد حسین کا ایک مضمون دیکھا جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذاب اور دجال اور بے ایمان اور سخت نادان اور جاہل اور علوم دینیہ سے

صفحہ 541

بے خبر ہے۔ تب میں جناب الہی میں رویا کہ میری مدد کر تو اس دعا کے بعد الہام ہوا کہ ادعونی استجب لکم یعنی دعا کرو کہ میں قبول کروں گا۔ مگر میں بالطبع نافر تھا کہ کسی کے عذاب کے لیے دعا کروں۔ آج ۲۹ شعبان ۱۳۱۰ھ کو اس مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دعا کے لیے دل کھول دیا۔ سو میں نے رقت دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کے لیے دعا کی اور میں جانتا ہوں کہ قبول ہو گئی۔ صاحبو! اگر میں اس نشان میں جھوٹا نکلا یا میدان سے بھاگ گیا یا کچے بہانوں سے ٹال دیا تو بے شک میں دجال اور کذاب ہوں۔ لیکن اگر میاں بٹالوی مغلوب ہو گئے تو ان کی ذلت اور روسیاہی اور جہالت اور نادانی روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گی۔ اب اگر وہ اس فیصلہ کو منظور نہ کریں اور بھاگ جائیں اور خطا کا اقرار بھی نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ ان کے لیے خدا تعالیٰ کی عدالت میں مندرجہ ذیل انعام ہے۔

(۱) لعنت (۲) لعنت (۳) لعنت (۴) لعنت (۵) لعنت (۶) لعنت (۷) لعنت (۸) لعنت (۹) لعنت (۱۰) لعنت تلک عشرۃ کاملتہ

(المشتہر مرزا غلام احمد قادیانی ۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء۔ تبلیغ رسالت‘ جلد ۳‘ صفحہ ۱۲۔ ۱۳)

مولانا بٹالوی کا جواب

اس چیلنج کے جواب میں مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی نے اپنے ماہوار رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھا کہ قادیانی کی یہ درخواست کوئی نیا چیلنج نہیں ہے۔ پہلے بھی وہ اپنے ”آسمانی فیصلہ“ کے صفحہ ۱۲ میں یہ درخواست کر چکا ہے اور اس کا دندان شکن جواب اشاعۃ السنہ جلد ۱۴‘ نمبر اول کے صفحہ ۲۷ پر دیا جا چکا ہے۔ اب میں اس چیلنج کا جواب دیتا ہوں کہ قادیانی صاحب! میں آپ کے مقابلہ میں عربی تفسیر قرآن لکھنے کو حاضر ہوں‘ حاضر ہوں‘ حاضر ہوں‘ جب چاہیں اور قادیاں کے سوا جہاں چاہیں لاہور میں خواہ بٹالہ میں مجھے بلا لیں میں فوراً حاضر ہو جاؤں گا۔ اور اگر آپ نے قبول کیا یا اکثر ارکان مجلس نے پسند کیا تو اسی مجلس میں تفسیر نویسی کے مقابلہ سے پہلے آپ کی سابقہ عربی تحریریں مثلاً خطبہ وساوس کو

صفحہ 542

جس پر آپ کو اور آپ کے پیروؤں کو بڑا ناز ہے پیش کیا جائے گا۔ اسی طرح آپ کے وہ اسرار و معارف و حقائق قرآن جو آپ نے اپنی کتابوں ”فتح اسلام‘ توضیح مرام‘ ازالہ اوہام اور وساوس“ میں بیان کئے ہیں۔ بغرض تنقیح و تنقید اسی مجلس علماء میں پیش کئے جائیں گے۔ اگر عربی کی ان مکروہ و نفرت انگیز عبارتوں کو سن کر جو آپ نے ان کتابوں میں درج کی ہیں۔ حاضرین باذواق کی طبیعت متلا نہ جائے اور آپ کے بیان کردہ اسرار و حقائق کو خالص کفر و الحاد نہ ثابت کر دوں تو کہنا۔ ایسی حالت میں آپ کو دوبارہ مقابلہ کی مصیبت اٹھانے اور چالیس دن تک اس تکلیف کے لیے کسی جگہ مقید رہنے کی حاجت نہ رہے گی اور آپ کی حقیقت ہر کس و ناکس کو معلوم ہو جائے گی۔ اب آپ اس مجلس مقابلہ کا انتظام و اہتمام فرمائیے۔ توقف اور چون و چرا نہ کیجئے۔

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۵‘ صفحہ ۱۸۹۔۱۹۱)

جب الہامی صاحب کو اپنی گیدڑ بھبکی کا کلہ شکن جواب ملا اور ہر طرح سے آمادگی ظاہر کی گئی تو تفسیر نویسی کا سارا نشہ ہرن ہو گیا اور لاجواب ہو کر بغلیں جھانکنے لگے۔۔

تھے دو گھڑی سے شیخ جی شیخی بگھارتے
ساری وہ شیخی ان کی جھڑی دو گھڑی کے بعد

باب ۵۳

حکیم نورالدین سے مولانا بٹالوی

کا ریل گاڑی میں مناظرہ

حکیم نور الدین سے مولوی محمد حسین بٹالوی کے ایک مناظرہ کا تذکرہ پہلے قلمبند ہو چکا ہے۔ پہلی مارچ ۱۸۹۴ء کو مولوی صاحب لاہور سے بعزمِ پورب ریل گاڑی میں سوار ہوئے۔ اتفاق سے حکیم نور الدین صاحب بھیروی بھی قادیاں جاتے ہوئے لاہور سے اسی ڈبے میں سوار ہوئے، جس میں مولوی صاحب بیٹھے تھے۔ مولوی صاحب نے مزاج پرسی کے بعد کہا حکیم صاحب! نہایت افسوس کا مقام ہے کہ آپ سے متعدد وجوہ کی بنا پر اتحاد و یک جہتی تھی۔ تعلق اسلام‘ وحدت مذہب محدثانہ‘ (دونوں کا اہل حدیث ہونا) دوستی وغیرہ مگر

صفحہ 543

آپ کی مرزائیت نے اس رابطہ محبت و اتحاد کو منقطع کر دیا۔ حکیم صاحب نے بھی اس پر اظہار افسوس کیا۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے کہا حکیم صاحب! میں مدت سے اس امر کا خواہاں تھا کہ آپ سے بالمشافہ گفتگو ہو اور وہ مباحثہ جو ۲۰ اپریل ۱۸۹۱ء کو بمقام لاہور شروع ہو کر ناتمام رہ گیا تکمیل کو پہنچے مگر آپ کی ناجائز شرطوں نے اس کا موقع نہ دیا۔ اب یہ اجتماع غنیمت ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو اس گفتگو کی تکمیل کی جائے۔ حکیم صاحب نے کہا ہاں شروع کیجئے۔

مولوی صاحب نے مسئلہ حیات مسیح علیہ السلام کے ازسرنو دلائل پیش کئے۔ اس اثناء میں متعدد سوال و جواب ہوئے۔ آخر جب حکیم صاحب کا کیسہ دلائل خالی ہو گیا اور دندان شکن جواب پا کر مباحثہ سے عاجز ہوئے تو کہنے لگے کہ اس بے نتیجہ بحث ہی کو جانے دیجئے۔ اس التماس پر مولوی صاحب نے ان کو چھوڑ دیا۔ جو حضرات اس مباحثہ کی تفصیل دیکھنا چاہیں وہ رسالہ اشاعۃ السنہ (جلد ۱۴‘ صفحہ ۳۱۳۔ ۳۴۱) کی طرف رجوع فرمائیں۔ حکیم صاحب کی زبان بند کرنے کے بعد مولوی صاحب نے فرمایا کہ اگر آپ متنازعہ فیہ مسائل پر گفتگو نہیں کرنا چاہتے تو کم از کم اتنا تو بتا دیجئے کہ قادیانی غلط بیانی سے کیوں کام لیتا ہے؟ ایک بات اپنی کتاب میں لکھتا ہے اور پھر اس سے مکر جاتا ہے۔ ایک جگہ ایک بات لکھتا ہے اور دوسری جگہ اس کے خلاف لکھ دیتا ہے اور آخری تحریر کے وقت یہ اقرار نہیں کرتا کہ اب میں نے اپنے پہلے بیان سے رجوع کر لیا ہے۔ اس وقت مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ اس کے چند نظائر ملاحظہ ہوں۔ رسالہ ”فتح اسلام“ کے صفحہ ۵۴ میں لیلۃ القدر کے رات ہونے سے صاف انکار کیا ہے اور پھر ”ازالہ“ کے صفحہ ۴۳۰ میں اس انکار سے انکار کر دیا ہے۔ ”توضیح مرام“ کے صفحہ ۱۷ میں آنے والے مسیح کے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اور پھر ازالہ صفحہ ۵۳۳ میں اپنے آپ کو مسیح قرار دے کر نبی بھی کہا ہے۔ ”توضیح مرام“ میں اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے لیکن بعض اشتہارات و تقریرات میں دعویٰ نبوت سے انکار کیا ہے۔ ازالہ کے صفحہ ۶۷۳ میں آیت و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد کو اپنے حق میں بشارت ٹھہرایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت کا مصداق ہونا تسلیم نہیں کیا لیکن اس کے بعد ”وساوس“ کے صفحہ ۴۲ میں اس آیت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق میں بشارت قرار دیا ہے۔

صفحہ 544

یہ کہہ کر مولوی صاحب نے قادیانی صاحب کی متذکرہ صدر کتابیں نکالیں اور حکیم صاحب کو ان میں قادیانی صاحب کی تمام متعارض تحریریں دکھائیں۔ حکیم صاحب نے کہا کہ میں نے یہ چیزیں مرزا صاحب کی کتابوں میں نہیں دیکھی تھیں لیکن اب یہ باتیں ان سے ضرور پوچھوں گا اور وجہ تعارض دریافت کروں گا اور کہا دراصل میں مرزا صاحب کی تصانیف نہیں دیکھا کرتا۔ میں تو صرف ان کا چہرہ دیکھتا ہوں اور اس سے سبق آموز ہوتا ہوں۔ مولوی صاحب نے کہا حکیم صاحب! میں آپ کا بیان تسلیم نہیں کرتا۔ ان کی کتابوں کا نمونہ دیکھنا کیا معنی رکھتا ہے؟ قادیانی جو کچھ لکھتا ہے وہ آپ ہی کا بتایا ہوا ہے۔ مضمون آپ کا ہے‘ عبارت اس کی ہے اور آپ کا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ میں ان کے چہرے سے سبق حاصل کرتا ہوں۔ آپ قادیانی کے مرید نہیں پیر ہیں لیکن ان کو پیر اور اپنے تئیں مرید مشہور کر رکھا ہے۔ دراصل پیر و مرشد آپ ہیں‘ وہ آپ کے مرید و شاگرد ہیں۔ آپ شروع سے نیچری خیالات رکھتے تھے اور سرسید احمد خان کی تصانیف کے دلدادہ تھے۔ آپ نے یہ دیکھا کہ اس شخص کی وساطت سے نیچری مذہب کی خوب اشاعت کی جاسکے گی۔ اس لیے اس کو پیر بنا کر خود مرید بن گئے۔ قادیانی کو جس قدر الہام ہوتے ہیں وہ آپ ہی کے القاء ہیں۔ اب بھی اسے کچھ الہام ہی کرنے جا رہے ہیں۔ ان حالات کی موجودگی میں آپ کا یہ کہنا کہ میں ان کے چہرہ سے سبق لیتا ہوں محض تصنع اور کذب ہے۔ حکیم صاحب نے حیرت زدہ ہو کر کہا یہ بات غلط ہے۔ مولوی صاحب نے کہا آپ اس کا اعتراف نہ کریں گے لیکن حقیقت حال یہی ہے۔ (اشاعۃ السنۃ‘ جلد ۱۴‘ صفحہ ۴۳-۴۶)

باب ۵۴

مباہلہ کا قادیانی چیلنج اور مولوی عبدالحق کا

دندان شکن جواب

قادیانی صاحب نے ۲۵؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو اپنے ایک اشتہار میں علماء اور صلحائے وقت

صفحہ 545

کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور لکھا کہ چونکہ اس عاجز کی طرف سے مباہلہ کا اشتہار شائع ہو چکا ہے اور اندیشہ ہے کہ مخالف لوگ مباہلہ کے آثار کو اپنے مفید مطلب ہونے کی حالت میں حجت ٹھہرا لیں مگر مخالف کے لیے حجت نہ ٹھہرائیں۔ اس لیے اس اشتہار میں خاص طور پر میاں محمد حسین بٹالوی اور میاں محی الدین لکھووالی اور مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور ہر ایک نامی مولوی یا سجادہ نشین کو، جو اس عاجز کو کافر سمجھتا ہو مخاطب کر کے عام طور پر شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اپنے تئیں صادق قرار دیتے ہیں تو اس عاجز سے مباہلہ کریں اور یقین رکھیں کہ خداوند تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا لیکن یہ بات واجبات سے ہوگی کہ فریقین اپنی اپنی تحریریں بہ ثبت دستخط گواہان شائع کر دیں کہ اگر کسی فریق پر لعنت کا اثر ظاہر ہو گیا تو وہ شخص اپنے عقیدہ سے رجوع کرے گا اور اپنے فریق مخالف کو سچا مان لے گا اور اس مباہلہ کے لیے اشخاص مندرجہ ذیل بھی خاص مخاطب ہیں۔

محمد علی واعظ، ظہور الحسن سجادہ نشین بٹالہ، منشی سعد اللہ مدرس لدھیانہ، منشی محمد عمر سابق ملازم لدھیانہ، مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ، میاں نذیر حسین دہلوی، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی، میاں پیر حیدر شاہ وزیر آبادی اور میاں محمد اسحاق پٹیالوی۔ (مرزا غلام احمد قادیانی، تبلیغ رسالت، جلد ۳، صفحہ ۲۹)

اس دعوت کے جواب میں مولوی عبدالحق غزنوی مرحوم نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں مسیح قادیاں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا۔ ؎

طعنہ گیر در سخن بر بایزید ننگ دارد از درون او یزید

جو لوگ بمضمون سلام علیکم لا نبتغی الجاہلین جاہلوں اور یاوہ گوؤں کے جھگڑوں سے بچتے اور کنارہ کرتے ہیں اور آیہ خذوا العفو وامر بالعرف و اعرض عن الجاہلین پر عامل ہیں اور گوشہ نشینی اور خلوت گزینی کی طرف مائل ہیں ان سے مباحثہ اور مباہلہ کی درخواست کرتے ہو اور جو لوگ شاہ سوار میدان ہیں اور بار بار مباحثے اور مباہلے کے اشتہار چھپوا کر اور رجسٹری شدہ خطوط اور دستی چٹھیاں معتبر اشخاص کی وساطت سے پہنچا کر دل و جان سے میدان مباحثہ و مباہلہ میں تمہارے لقا کے شائق و مشتاق ہیں، ان سے کیوں گریز اور روپوشی کرتے ہو اور آیت کانہم حمر مستنفرة فرت من قسورة (گویا وہ وحشی گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے جا رہے ہیں) کا مصداق بنتے ہو۔

صفحہ 546
اے دل عشاق بہ دام تو صید ما بہ تو مشغول و تو با عمرو زید

اور اگر ان اشتہاروں سے آنکھوں پر پردہ اور گوش باطل نیوش بہرے ہو گئے ہوں تو ہم ناظرین کے ملاحظہ اور اتمام حجت کے لیے پھر ان کا ذکر کرتے ہیں۔

استدعائے مباحثہ تمہاری طرف بھیجے گئے جن میں سے پہلا خط ۲۴ ستمبر ۱۸۹۱ء کو جعفری پریس لاہور میں چھپا تھا اور دوسرا اور تیسرا خط علی الترتیب ۱۳ اکتوبر ۱۸۹۱ء اور ۲۴ جنوری ۱۸۹۲ء کو طبع ہوئے تھے۔

لاہور سے ایک اعلان زیر عنوان ”اشتہار ضروری“ شائع کیا۔

عام“ مطبع انصاری دہلی میں چھپوا کر شائع کیا۔

اشتہار زیر عنوان ”نوٹس“ شائع کیا۔

ایک نوٹس زیر عنوان ”اتمام حجت“ شائع کیا۔

انصاری میں ایک اشتہار چھاپ کر تم کو چیلنج دیا۔

تمہیں چیلنج دیا۔

مفتیان شہر لدھیانہ نے ۲۹ رمضان المبارک کو لدھیانہ سے ایک دعوت نامہ شائع کیا۔

ایک اعلان شائع کیا، وغیرہ۔

مالا یحصیہا الا اللہ اب اتنے اشتہارات متفرق علماء نے متفرق شہروں میں شائع

صفحہ 547

کئے، تم نے کس سے بحث کی اور کس جگہ میدان میں حاضر ہوئے؟ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۳‘ صفحہ ۴۹۔۵۰)

باب ۵۵

مولانا بٹالوی کے مرزائی ہو جانے کی پیشین گوئی

قادیانی صاحب نے ۱۸۹۳ء میں خواب دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب مرحوم بٹالوی (معاذ اللہ) ارتداد اختیار کر کے مرزائی ہوگئے ہیں اور قادیانی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔ یہ خواب قادیانی ملہم کے لیے جس درجہ بہجت افزاء تھا بیان سے باہر ہے۔ اس خواب کے بعد الہامی صاحب نے ۴ر مئی ۱۸۹۳ء کو ایک اعلان زیر عنوان ”شیخ محمد حسین بٹالوی کی نسبت ایک پیشین گوئی“ شائع کیا جس میں لکھا کہ شیخ محمد حسین ابو سعید اس عاجز کو کافر سمجھتا ہے اور نہ صرف کافر بلکہ اس کے کفر نامہ میں کئی بزرگوں نے اس عاجز کی نسبت اکفر کا لفظ بھی استعمال کر رکھا ہے۔ میاں بٹالوی بطور افتراء کے یہ بھی کہتا ہے کہ گویا یہ عاجز ملائک کا منکر اور معراج نبوی کا انکاری اور نبوت کا مدعی اور معجزات کو بھی نہیں مانتا۔ سبحان اللہ کافر ٹھہرانے کے لیے اس بے چارے نے کیا کچھ افتراء کیے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ اگر کسی کے منہ سے نکل جائے کہ میاں کیوں کلمہ گوؤں کو کافر بناتے ہو‘ کچھ خدا سے ڈرو تو دیوانہ کی طرح اس کے گرد ہو جاتا ہے اور بہت سی گالیاں اس عاجز کو نکال کر کہتا ہے کہ وہ ضرور کافر اور سب کافروں سے بدتر ہے لیکن میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ یہ شخص اپنی موت سے پہلے مجھ پر ایمان لائے گا اور میں نے دیکھا ہے کہ اس نے قول تکفیر ترک کر دیا ہے اور اس سے توبہ کر لی ہے۔ یہ میرا خواب ہے اور میں امیدوار ہوں کہ میرا رب اس خواب کو سچا کرے گا۔ (حجتہ الاسلام‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۲۱۔۲۲)

ایک مزیدار قادیانی توجیہہ

صفحہ 548

اس خواب کی بنا پر قادیانی کو کامل وثوق تھا کہ مولوی صاحب کسی نہ کسی دن قادیاں کے نظر فریب دام زندقہ میں پھنسیں گے۔ لیکن مولانا مرحوم کو مرزائیت کے استیصال میں جو غیر معمولی شغف تھا اور جس اولوالعزمی کے ساتھ وہ اس فتنہ کے معدوم کرنے میں کوشاں تھے، اس سے الہامی صاحب پر اس خواب کا صدق مشتبہ ہو جاتا تھا اور انہیں خیال ہوتا تھا کہ شاید یہ خواب اضغاث احلام کی قسم سے ہوگا۔ چونکہ قادیانی صاحب نے اپنا یہ خواب مشتہر کر کے مولانا ممدوح کے قبول مرزائیت کی پیشین گوئی کر رکھی تھی، اس لیے بعض ارادت مند کبھی کبھی مولانا بٹالوی کی مرزائیت شکن سرگرمیوں سے ملول ہو کر موعود صاحب سے سوال کر بیٹھتے تھے کہ حضرت والا! مولوی محمد حسین کے ”رجوع الی الحق“ کے متعلق حضور کی پیشین گوئی کا کب ظہور ہوگا؟ تو الہامی صاحب اس ”دفتر بے معنی“ کا تذکرہ بلطائف الحیل ٹال جاتے تھے۔ آخر رویاء کے قریباً چار سال بعد قادیانی نے مولوی صاحب کے قبول مرزائیت کی ایک مزیدار توجیہہ کی اور اپنے رسالہ استفتاء میں جو ۲۱؍ مئی ۱۸۹۷ء کو شائع کیا، لکھا ”مجھے معلوم نہیں کہ مولوی محمد حسین کا ایمان فرعون کی طرح ہوگا یا پرہیزگار لوگوں کی طرح“۔ (رسالہ استفتاء، مولفہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۲۲ حاشیہ) اس بیان سے قادیانی صاحب کی بڑی ہوشیاری اور موقع شناسی مترشح ہوتی ہے کیونکہ ان الفاظ میں الہامی صاحب نے اپنے اور اپنے پیروؤں کے لیے یہ کہنے کی گنجائش رکھ لی تھی کہ مولانا محمد حسین مرتے وقت ایمان لے آئیں گے یا لے آئے ہوں گے۔

مولانا بٹالوی پر ”رشد کا زمانہ“ آنے کا قادیانی الہام

مگر وہ ذات شریف، جس نے اپنے مطرود ہونے کے دن سے بنی آدم کو گزند پہنچانے کا عہد کر رکھا ہے اور اپنے ملہموں کو ذلت و رسوائی کے گڑھے میں دھکیلنا اس کا دل پسند مشغلہ ہے، قطعاً گوارا نہیں کر سکتی تھی کہ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب اور ان کے پیرو کسی پیشین گوئی میں منہ کی کھانے اور ذلت اٹھانے سے بچ سکیں۔ اس لیے اب اس نے قادیانی صاحب پر یہ القاء کرنا شروع کیا کہ ”محمد حسین کا ایمان سعید لوگوں کی طرح ہوگا“۔

صفحہ 549

چنانچہ اس القاء کے بموجب الہامی صاحب نے انجام کار اپنی منظوم کتاب ”اعجاز احمدی“ میں‘ جو مولانا محمد حسین کے مرزائی ہونے کا خواب دیکھنے کے نو سال بعد ۱۵؍ نومبر ۱۹۰۲ء کو شائع کی تھی‘ ان کے قبول مرزائیت پر کامل وثوق کا اظہار فرمایا۔ الہامی صاحب نے اس نظم کا جو اردو ترجمہ خود ہی تحت اللفظ شائع کیا وہ ہدیہ ناظرین ہے۔ الہامی صاحب خوب دھڑلے سے لکھتے ہیں:

”کیا میری کتاب ”اعجاز المسیح“ کی محمد حسین نے غلطیاں نکالیں؟ یہ کہاں ہو سکتا ہے اور محمد حسین کی کیا طاقت ہے۔ کیا وہ ہنسی کر رہا ہے؟ اگر وہ میرے پاس آئے گا تو اسی صبح ہدایت کا پیالہ پلاؤں گا۔ پس اس کو لکھنے کے لیے حاضر کر اگر وہ لکھنے کی طاقت رکھتا ہے؟ کیا تو اس کو زندہ سمجھتا ہے اور بخدا میں اس کو اس شخص کی مثل دیکھتا ہوں جو مر کر قبر میں داخل ہو گیا۔ اگر میرا خدا چاہتا تو وہ ہدایت قبول کرتا اور اگر میرا خدا چاہتا تو وہ مجھے پہچان لیتا۔ اور ہم اس کے ایمان سے ناامید نہیں ہوتے بلکہ امید بہت ہے۔ اسی طرح خدا کی وحی خبر دے رہی ہے اور خدا کا حکم مرد راہ کو بھولتا نہیں۔ اس کے لیے پوشیدہ راز ہیں کہ کوئی فکر کرنے والا ان کو دیکھ نہیں سکتا۔ تجھ پر خدا تعالیٰ تیرے دوست محمد حسین کا مقسوم ظاہر کرے گا۔ سعید ہے‘ پس روز مقدر اس کو فراموش نہیں کرے گا۔ اور خدا کے ہاتھوں سے زندہ کیا جائے گا اور خدا قادر ہے اور رشد کا زمانہ آئے گا اور گناہ بخش دیا جائے گا۔ پس پاکیزگی اور طہارت کا پانی اسے پلائیں اور نسیم صبا خوشبو لائے گی اور معطر کر دے گی۔ اور میرا کلام سچا ہے اور میرے خدا کا قول ہے اور جو شخص تم میں سے کچھ زمانہ زندہ رہے گا وہ دیکھ لے گا۔ کیا تو اس سے تعجب کرے گا؟ پس کچھ تعجب نہ کر۔ یہ خدا کا کلام ہے اور پاک وحی ہے۔ اور میں نے اپنے ہی دل سے اٹکل سے بات نہیں کی بلکہ کشفی طور پر مجھے دکھلایا گیا اور میں اس سے حیران ہوں۔ کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آ جائے گا؟ یہ کون گمان کر سکتا ہے؟ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے۔ تین آدمی اس کے ساتھ اور ہیں‘ ایک ان میں الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ ہے۔ پس سن اور سنا دے۔ تیری قسم کہ ہم نے بغیر گناہ کے ان کے نیزوں کا مزہ چکھا۔ پس ہمیں یہی اچھا معلوم ہوا کہ ان کے حق میں دعا کرتے ہیں۔ جب وہ ذکر کیے جاتے ہیں تو میرا دل غم ناک ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یاد آتا ہے کہ ایک دن ہم ملاقات سے خوش ہوتے تھے“۔

صفحہ 550

(اعجاز احمدی‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ ص ۵۰-۵۱)

کیا مولانا بٹالوی اور منشی الٰہی بخش نے مرزائیت قبول کی؟

الہامی صاحب نے اپنے اس الہامی بیان میں نہ صرف مولانا محمد حسین بٹالوی کے قبول مرزائیت کی پیشین گوئی کو دہرایا ہے بلکہ منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ مرحوم کو بھی اپنے دام تزویر کا شکار بنانے کی اطلاع دی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ الہامی صاحب کا یہ وار بھی خالی گیا۔ ان دونوں حضرات نے نہ صرف قبول مرزائیت سے اعراض کیا بلکہ مرزائیت کا چشمہ لینے کی بجائے الٹا اخیر وقت تک مرزائیت کے جسم پر چرکے لگاتے اور الہامی صاحب کے سینہ پر مونگ دلتے رہے۔ تردید مرزائیت مولانا بٹالوی کا تو دن رات کا مشغلہ تھا لیکن منشی الٰہی بخش بھی قادیاں شکنی میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ کتاب ”عصائے موسیٰ“ لکھ کر قادیانی صاحب کو خوب رگیدا اور اس خوبی سے مرزائیت کے بخیے ادھیڑے کہ اگر قادیانی صاحب کا طالع سعید ہوتا تو اس کتاب کو پڑھ کر ضرور تائب ہو جاتے۔ غرض الہامی صاحب کی سینکڑوں دوسری پیشین گوئیوں کی طرح یہ پیشین گوئی بھی جھوٹی نکلی۔ اور ظاہر ہے کہ اگر یہ الہام خدائے جلیل کی طرف سے ہوتا تو تخلف ناممکن تھا۔ کاش مرزائی گم کردہ گان راہ اپنی بند آنکھیں کھولیں اور ان حقائق سے عبرت پذیر ہوں۔

باب ۵۶

عم زاد بھائیوں کی دکان آرائیاں

مرزا غلام احمد صاحب کے حقیقی چچا مرزا غلام محی الدین کے تین بیٹے تھے۔ امام الدین‘ نظام الدین اور کمال الدین۔ ان تینوں کی حقیقی بہن مرزا غلام احمد صاحب کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر سے بیاہی ہوئی تھیں۔

صفحہ 551

مرزا امام الدین بحیثیت اوتار لال بیگ

جب مرزا امام الدین نے دیکھا کہ اس کے عم زاد بھائی مرزا غلام احمد اس کے دیکھتے دیکھتے تقدس کے معمولی دکان دار سے ترقی کر کے مجدد وقت اور کیا کچھ بن گئے ہیں تو اس کے منہ سے بھی مقتدائی کی رال ٹپک پڑی اور کمال عیاری کے ساتھ چوہڑوں (بھنگیوں) کا پیر بن بیٹھا۔ میاں بشیر احمد صاحب ایم اے سیرۃ المہدی میں لکھتے ہیں:

”ایک مرتبہ والدہ نے سنا کہ مرزا امام الدین اپنے مکان میں کسی کو مخاطب کر کے بلند آواز سے کہہ رہا تھا کہ بھئی لوگ دکانیں چلا کر نفع اٹھا رہے ہیں۔ ہم بھی کوئی دکان چلاتے ہیں۔ پھر اس نے چوہڑوں (مہتروں) کی پیری کا سلسلہ جاری کیا“۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ صفحہ ۲۵)

یہی امام الدین آج کل لال بیگ کا اوتار مشہور ہے اور قادیاں میں اس کی قبر پر آج تک مہتر لوگ نذرانے چڑھاتے ہیں اور اس کی ولایت و بزرگی کا اعتقاد رکھتے ہیں۔

مرزا کمال الدین ہیجڑوں کا پیر بن بیٹھا

جب مرزا امام الدین کے چھوٹے بھائی نے دیکھا کہ دونوں بڑے بھائیوں امام الدین اور غلام احمد کی دکانوں میں رجوعات و فتوحات کی گرم بازاری ہے اور دونوں دن بدن سرمایہ دار بنتے جاتے ہیں تو اس نے بھی کچھ بننے کا ارادہ کیا۔ یہ شخص بھنگ نوشی کا عادی اور بالکل جاہل و ناخواندہ تھا۔ اس نے ترک دنیا میں انقطاع و تبتل کا راز اس میں مضمر سمجھا کہ عضو تناسل کو قطع کر کے فقر اور ولایت کا دعویٰ کرے چنانچہ آلہ تناسل کاٹ کر ہیجڑوں کا پیر بن بیٹھا اور سید ہونے کا دعویٰ کیا۔ اسی واقعہ کی طرف اس شعر میں اشارہ ہے۔؎

کہ اک بھائی تھا مرشد بھنگیوں کا اور اک ہیجڑوں کا بے اندام مرزا

(اہلحدیث امرتسر ۸؍ فروری ۱۸۹۱ء)

طریقہ فقر و درویشی اختیار کرنے سے پہلے جس باغیچہ میں بیٹھ کر بھنگ پیا کرتا تھا‘ اب اسی میں یاد الٰہی کرنے لگا۔ عوام کا عموماً اور ہیجڑوں کا خصوصاً وہاں خوب رجوع ہوا۔ کچھ عرصہ بعد وہاں ہر سال میلہ لگنے لگا۔ یہ میلہ کمال الدین کے لیے ایسا پر فتوح تھا کہ اس سے

صفحہ 552

ہر سال ہزارہا روپیہ کی آمدنی ہو جاتی تھی۔ تیسرا بھائی نظام الدین چونکہ قادیاں کا نمبردار تھا اور کچھ مختصر سی زمین بھی اس کی ملک میں تھی‘ اسے کسی دکان وغیرہ جمانے کی ضرورت پیش نہ آئی بلکہ اس نے بغیر کسی دکان آرائی کے اپنی شریفانہ وضع کو نہایت حسن اسلوب سے نباہا۔

مرزا امام الدین اور کمال الدین سے ایک نامہ نگار کی ملاقات

جریدہ ”اہل حدیث“ امرتسر کے ایک نامہ نگار حافظ چنن دین متوطن منگوکی ضلع گوجرانوالہ کا بیان ہے کہ میں ایک مرتبہ ۱۸۹۹ء میں کسی کام سے گورداسپور گیا۔ وہاں سنا کہ مرزا غلام احمد کا بھائی مرزا امام الدین قادیاں ہی میں خاکروبوں کا بالمیک یا لال بیگ کا اوتار بنا ہوا ہے۔ اور مرزا غلام احمد کا ایک اور عم زاد بھائی مرزا کمال الدین موضع دھرالی ضلع گورداسپور میں ولی بن بیٹھا ہے۔ میں نے دونوں سے مل کر ان کے حالات معلوم کرنے کا قصد کیا۔ پہلے قادیاں گیا اور مرزا امام الدین سے مل کر سوال کیا کہ آپ کیا بنے بیٹھے ہیں؟ بھنگیوں کے پیر؟ بھلا یہ کون سی قابل فخر چیز ہے؟ کہنے لگا میں غلام احمد سے تو پھر بھی اچھا ہوں۔ وہ تو سیدھے راستے پر چلنے والوں کو گمراہ کرتا ہے لیکن میں صرف اندھوں کو اندھیرے میں لے جاتا ہوں۔ میں نے کہا خاکروبوں کے گرو کس طرح بن گئے؟ کہنے لگا میں نے احسان اور حسن سلوک کے ذریعہ سے خاکروبوں کے دلوں میں گھر کیا اور وہ میرے مطیع فرمان ہوگئے اور آہستہ آہستہ مجھ سے ایسے مانوس ہوئے کہ اپنا پیر ماننے لگے۔ ایک مرتبہ کوئی پادری ان کے پاس پہنچا اور کہنے لگا کہ تم لوگ کسی پیغمبر کے پیرو ہو کر زندگی بسر کرو۔ دیکھو تمام مذاہب کے لوگوں کا کوئی نہ کوئی پیغمبر‘ گرو‘ ہادی و رہنما ہے لیکن تمہارا ہادی کوئی نہیں۔ قیامت کے دن تمہاری شفاعت کون کرے گا؟ تمہارے لیے یہ بہتر ہے کہ یسوع مسیح کی حفاظت اور بادشاہت میں آ جاؤ۔ وہ خدا کے فرزند ہیں۔ انہوں نے ہم سب کی خاطر سولی قبول کی تھی جس کی وجہ سے ہمارے تمام گناہ بخشے جائیں گے۔ مہتروں سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو وہ اسے میرے پاس لے آئے۔ پادری نے میرے سامنے بھی وہی تقریر شروع کی جو مہتروں کے سامنے کر چکا تھا۔ میں نے کہا پادری صاحب! ان کا بھی گرو ہے۔ پادری نے کہا کون ہے؟ میں نے کہا بالمیک رحمۃ اللہ علیہ۔ پادری بولا بالمیک کون

صفحہ 553

تھا؟ میں نے کہا وہ خدا کا بھائی تھا۔ پادری بولا! بھلا خدا کا بھی کوئی بھائی ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا اگر بھائی نہیں ہو سکتا تو بیٹا کس طرح ہو سکتا ہے؟ پادری بالکل لاجواب ہو گیا اور وہاں سے چلتا بنا۔ اس دن سے تمام بھنگی میرے معتقد و پیرو ہو گئے ہیں۔ میں نے صحیفہ آسمانی کی حیثیت سے انہیں ایک کتاب بھی تالیف کر دی ہے جسے یہ پڑھتے ہیں۔ (جریدہ اہلحدیث‘ امرتسر‘ ۸ جون ۱۹۲۶ء) اس کے بعد امام الدین نے بھنگیوں کو یہ کہہ کر اپنے دام تزویر میں اچھی طرح پھانس لیا کہ میں تمہارے لال بیگ کا اوتار ہوں۔ (ایضاً‘ مورخہ ۲۸ فروری ۱۹۲۹ء)

نامہ نگار مذکور کا بیان ہے کہ قادیاں سے میں دھرمالی گیا۔ وہاں جا کر دیکھا کہ کمال الدین نے اپنا عضو تناسل کاٹ دیا ہے اور بہت بڑا ولی مشہور ہے۔ میں اس سے ملا اور اسے وہ احادیث نبویہ پڑھ کر سنائیں جن میں قطع عضو‘ عزل اور رہبانیت کی ممانعت ہے۔ اس نے میری باتوں کا کچھ جواب نہ دیا۔ میں تھوڑی دیر کے بعد وہاں سے واپس چلا آیا۔ غرض مرزا غلام احمد کے دونوں بھائی بھی ”ولایت و معرفت“ میں مرزا جی کے ہم دوش تھے۔ (جریدہ اہل حدیث‘ امرتسر‘ ۸ جون ۱۹۲۶ء)

الہامی صاحب کا ”خاندان نبوت“

مرزائی کہا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کے سے اعلیٰ خاندان کا آدمی نبوت یا مسیحیت کا جھوٹا دعویٰ کس طرح کر سکتا تھا؟ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس خاندان نبوت کا تھوڑا سا حال بیان کر دیا جائے۔ مرزا غلام مرتضیٰ اور ان کے خلف ارشد مرزا غلام احمد صاحب اور ان کے دو عالی گوہر بھتیجوں کے حالات کسی قدر ہدیہ ناظرین ہو چکے ہیں۔ اس خاندان کے کچھ مزید حالات ملاحظہ ہوں۔ صاحب زادہ میاں بشیر احمد لکھتے ہیں۔ ”مرزا امام الدین نے چائے کے ایک قافلہ پر ڈاکہ ڈالا اور پکڑا گیا‘ مگر مقدمہ میں رہا ہو گیا“۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ صفحہ ۳۵) اور خود الہامی صاحب فرماتے ہیں کہ مرزا امام الدین ہماری برادری کا آریہ سماج میں داخل ہو گیا ہے۔ (سرمہ چشم آریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۱۴۲) میرے بہنوئی کا خالہ زاد بھائی عیسائی ہو گیا۔ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۱۴)۔ یہ فریق مخالف جن میں سے مرزا احمد بیگ بھی ایک تھا اس عاجز کے قریبی رشتہ دار

صفحہ 554

مگر دین کے سخت مخالف تھے اور ان میں سے ایک تو عداوت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ اللہ جل شانہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علانیہ گالیاں دیتا تھا اور اپنا مذہب دہریہ رکھتا تھا اور یہ سب مجھ کو مکار خیال کرتے تھے۔ اور نشان مانگتے تھے کہ صوم و صلوٰۃ اور عقائد اسلام پر ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔ (آئینہ کمالات، صفحہ ۲۲۰) اسی طرح میاں بشیر احمد نے لکھا کہ مسیح موعود کے یہ تمام رشتہ دار پرلے درجہ کے بے دین اور لامذہب تھے۔ (سیرۃ المہدی، جلد اول، صفحہ ۲۳) اور کتاب ”مرزا قادیانی پر مقدمہ“ کے صفحہ ۴ پر یہ رباعی، جو اس خاندان کی حالت کا آئینہ ہے، درج ہے۔

یک قاطع نسل و یک مسیحائے زماں یک مہتر بلال بیکیان دوراں
افتد چو گذر بقادیانیت گا ہے ایں خانہ تمام آفتاب است بداں

(آئینہ مرزا، صفحہ ۱۹۵)

باب ۷۵

قادیانی مسیحیت کے متعلق شاہ سیف الرحمن

مجذوب کا کشف

میر احمد شاہ سیکرٹری میونسپل کمیٹی لدھیانہ کا ایک بیان رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع ہوا تھا۔ اس کو ذیل میں ہدیہ ناظرین کیا جاتا ہے۔ صاحب موصوف نے لکھا کہ مجھے جون ۱۸۹۱ء میں حصار جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک دوست سے دریافت کیا کہ یہاں کوئی باخدا بزرگ بھی ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔ شاہ سیف الرحمن نام ایک مجذوب رہتے ہیں جو جذبہ کی حالت میں بہت سی باتیں کہا کرتے ہیں۔ ان کے سامنے اظہار مدعا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ جو بات دریافت کرنی ہو اس کا تصور کر لینا چاہیے۔ وہ خود بخود اپنی گفتگو میں، جو مخلوط ہوتی ہے، اس کا جواب دے جاتے ہیں۔ اور صرف سائل ہی اس امر کو سمجھ سکتا ہے۔ میں اور وہ دونوں شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں نے بیٹھتے ہی اپنے دل میں خیال کیا کہ

صفحہ 555

قادیاں کے مرزا صاحب کے متعلق ملک میں ہنگامہ بپا ہے۔ بعض لوگ ان کو مہدی اور مسیح سمجھتے ہیں اور اکثر کو ان کے دعاوی کی صحت و صداقت سے انکار ہے۔ کیا وہ حق پر ہیں یا باطل پر؟ اس وقت شاہ صاحب کچھ اور باتیں کر رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں فرمانے لگے کہ ”ایک تو انگریزوں کا عیسیٰ بن گیا اور دوسرا بھنگیوں کا پیر بن گیا“۔ اس کے بعد بہت سخت کلامی کی اور حالت غضب میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک حجرے کی طرف چل دیے اور آیت لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار بار بار پڑھ کر سخت کلامی کرتے جاتے تھے۔ میں اپنے دوست کے ساتھ واپس آیا‘ راستہ میں اس نے پوچھا تم نے کس بات کا تصور کیا تھا کہ شاہ صاحب اتنے غضب ناک ہوگئے؟ میں نے اسے بتایا کہ مرزائے قادیانی کی نسبت خیال کیا تھا۔ کہنے لگا‘ ہاں شاہ صاحب نے مرزا سے ان الفاظ میں اظہار نفرت کیا ہے۔ میں نے حصار والوں سے اس قسم کے بے شمار واقعات سنے ہیں۔ اگر کسی شخص کو میرے بیان میں شک ہو تو وہ خود حصار جا کر مشرف بہ زیارت ہوں اور شاہ صاحب کا تجربہ کر لیں۔

(اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۸‘ صفحہ ۲۱ - ۲۳)

باب ۵۸

حکیم نور الدین سے مولانا اصغر علی روحی

کی ایک علمی جھڑپ

قادیانی صاحب سخن سازی اور پروپیگنڈا بازی کے فن میں تو طاق تھے لیکن علمی استعداد سے ایک بڑی حد تک بے نصیب تھے۔ البتہ مولوی حکیم نور الدین اور مولوی محمد احسن امروہی مرزائیوں میں ذی علم اور صاحب استعداد ہستیاں مانی جاتی تھیں اور یہی وہ دو شہپر تھے جن کے سہارے الہامی صاحب اتنا زمانہ فضائے تعلی میں پرواز کرتے رہے۔ اور پھر ان دونوں میں حکیم نور الدین صاحب کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ وہی مرزائیت کی عمارت کے بانی و موسس تھے اور مرزا جی تو محض آلہ کار اور کٹھ پتلی کا حکم

صفحہ 556

رکھتے تھے۔ جب حکیم صاحب پیچھے سے ڈوری کھینچتے تو یہ پتلی حرکت میں آ جاتی۔ ایک مرتبہ بانی سلسلہ حکیم نور الدین لاہور تشریف لائے اور کشمیری دروازہ میں مولوی محرم علی چشتی کے مکان میں ٹھہرے۔ مولوی محرم علی سے حکیم صاحب کی پرانی دوستی تھی۔ ایک نہایت معمر طبیب نے، جو مہاراجہ جموں و کشمیر کی ملازمت میں حکیم نور الدین صاحب کے رفیق کار تھے، مجھے بتایا کہ حکیم نور الدین اور مولوی محرم علی ایک ساتھ جموں سے خارج کیے گئے تھے۔

جب حکیم صاحب لاہور آ کر مولوی محرم علی کے مکان پر ٹھہرے تو مولانا اصغر علی صاحب روحی سابق پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور ان کے دیکھنے کے لیے گئے۔ اس وقت مولانا اصغر علی صاحب کا عنفوان شباب تھا۔ ان کے جانے سے پیشتر مولوی زین العابدین مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول دروازہ شیراں لاہور، جو مولوی غلام رسول مرحوم ساکن قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ کے اقرباء میں سے تھے، حکیم صاحب سے گفتگو کر رہے تھے۔ مولوی زین العابدین اچھے لسان اور مقرر نہیں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں مولوی زین العابدین نے کہا کہ اس سے تو ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی۔ حکیم نور الدین نے کہا کہ ترجیح بلا مرجح تو محض منطقیوں کا ایک ڈھکوسلہ ہے۔ ترجیح بلا مرجح جائز ہے۔ مولوی زین العابدین نے پوچھا، وہ کیسے؟ حکیم صاحب نے دو روپے جیب سے نکال کر ہاتھ پر رکھے اور مولوی صاحب سے کہا کہ ایک اٹھا لیجئے۔ انہوں نے ایک روپیہ اٹھایا۔ پوچھا اس دوسرے کو کیوں نہیں اٹھایا؟ مولوی زین العابدین سے کچھ جواب نہ بن پڑا۔ مولانا اصغر علی صاحب ایک طرف بیٹھے تھے۔ مولوی زین العابدین سے کہنے لگے، مولوی صاحب! کہہ دیجئے کہ ارادہ ازلی اس کے اٹھانے سے متعلق تھا، دوسرے سے متعلق نہیں تھا۔ یہی وجہ ترجیح ہے۔ حکیم نور الدین نے کہا، بس صاحب یہ ٹھیک نہیں۔ یا یہ بولیں یا آپ خود گفتگو کرلیں۔ مولوی زین العابدین، روحی صاحب سے کہنے لگے اچھا آپ آ کر گفتگو فرمائیے۔ اس مجلس میں فقیر جلال الدین مرحوم مجسٹریٹ بھی موجود تھے۔ وہ بولے، ہاں مولوی صاحب آپ آیئے اور گفتگو فرمائیے۔ غرض مولانا روحی کو زبردستی ان کے مقابل کر دیا۔

اس سے پیشتر حکیم صاحب بہت لافیں مار چکے تھے کہ ہم نے مصر سے منطق کی ایک نئی کتاب منگوائی ہے جس میں منطقیوں کی متعدد تھیوریاں غلط اور باطل ثابت کی گئی ہیں اور

صفحہ 557

اس سلسلہ گفتگو میں وہ امام غزالیؒ اور امام رازیؒ پر بھی ہاتھ صاف کر گئے تھے۔ روحی صاحب نے حکیم صاحب سے سوال کیا کہ آپ نے منطق کو باطل کہا ہے۔ کیا ساری منطق باطل ہے یا اس کا کوئی حصہ یا اس کے کوئی خاص قواعد؟ حکیم نور الدین نے کہا کہ یہ بتانا تو بہت مشکل ہے کہ منطق کا کتنا حصہ باطل اور کتنا صحیح ہے۔ مولانا اصغر علی نے فرمایا کہ اگر یہ نہیں بتلا سکتے تو ممکن ہے کہ آپ اثنائے گفتگو میں کسی سوال کے جواب میں کہہ دیں کہ یہ غلط اصول پر مبنی ہے۔ میں اس کو نہیں مانتا۔ اس لیے جب تک یہ مسئلہ صاف نہ ہو جائے کہ آپ کون کون سے اصول مانتے ہیں اور کون کون سے نہیں مانتے اس وقت تک گفتگو بیکار ہے۔ حکیم صاحب لاجواب سے ہو گئے اور سوچنے لگے۔ ان ایام میں مولانا روحی کی رگوں میں جوانی کا خون دوڑ رہا تھا۔ جب دیکھا حکیم صاحب کے منہ پر بالکل مہر سکوت لگ گئی تو جوش میں آ کر کہنے لگے، اسی برتے پر آپ نے امام غزالیؒ اور امام رازیؒ پر حملہ کر دیا تھا؟ یہی آپ کی استعداد ہے؟ آپ کو تو مڈل والے لڑکوں کے برابر بھی لیاقت نہیں۔

یہ سن کر مولوی محرم علی چشتی اور فقیر جلال الدین کہنے لگے، نہیں مولوی صاحب! جانے دیجئے ایسا نہیں ہے۔ چونکہ نماز عصر کا وقت قریب تھا، یہ لوگ کہنے لگے، اچھا کسی دوسرے موقع پر گفتگو ہوگی۔ مولانا روحی چلے آئے اور یہ خبر بجلی کی رو کی طرح شہر میں پھیل گئی کہ روحی صاحب نے حکیم نور الدین کو پچھاڑ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ حکیم نور الدین حویلی کابلی مل میں آ کر اقامت گزیں ہوئے۔ صوفی غلام محی الدین وکیل انجمن حمایت اسلام لاہور اور مولوی زین العابدین مذکور روحی صاحب کے مکان پر گئے اور کہا کہ حکیم نور الدین آئے ہوئے ہیں۔ آپ چل کر مرزا کے دعاوی کے متعلق ان سے گفتگو کیجئے۔ روحی صاحب نے کہا، اغلب ہے کہ حکیم صاحب گفتگو پر راضی نہیں ہوں گے۔ مولانا روحی نے ان کے کہنے پر حکیم نور الدین کو رقعہ لکھا کہ مرزا کے دعاوی باطلہ کے متعلق میں آپ سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ حکیم صاحب نے جواب میں لکھا کہ چونکہ آپ میرے پیر کی توہین کرتے ہیں، اس لیے میں آپ سے گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔

اس کے بعد شاید ۱۸۹۵ء میں حکیم صاحب لاہور آئے۔ روحی صاحب کے ایک شاگرد نے کہا کہ حکیم نور الدین آئے ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان سے گفتگو کرنا چاہیں تو میں جا کر

صفحہ 558

دریافت کروں؟ مولوی صاحب نے کہا، ہاں جا کر پوچھو۔ وہ گیا اور قاضی ظہور الدین اکمل مرزائی متوطن موضع گولیکی سے جا کر اس خواہش کا اظہار کیا۔ قاضی ظہور الدین کہنے لگے، واقعی مولوی اصغر علی مناظرہ کرنا چاہتے ہیں؟ شاگرد نے کہا، ہاں واقعی چاہتے ہیں۔ قاضی ظہور الدین نے حکیم صاحب سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا، ہم کسی مولوی سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے، اصغر علی ہو یا کوئی اور۔ اس وقت بابو عبدالحق اکاؤنٹنٹ نے، جو کئی سال تک مرزائی بلکہ مرزا کے خاص حواری رہ کر تائب ہوئے تھے، مرزا کے رد میں ایک رسالہ چھپوایا تھا اور وہ شہر بھر میں مفت تقسیم کرا رہے تھے۔

باب ۵۹

رسالہ ”کرامات الصادقین“ میں غلطیاں نکالنے

والے کو انعام کا جھوٹا وعدہ

قادیاں کے مسیحا صاحب کو عربی ادب و شعر گوئی کا پر نوچنے میں بڑا کمال تھا۔ بلکہ یہ کمال اعجازی درجہ تک پہنچا ہوا تھا۔ علمائے اسلام مرزا جی کی عربیت میں ہمیشہ غلطیاں نکالتے رہے مگر نصف صدی کا طویل زمانہ گزر جانے کے باوجود ہنوز یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔ دوسری تحریریں تو درکنار عربی کے جن فقروں کو وہ الہام الٰہی کی حیثیت سے پیش کیا کرتے تھے، ان میں بھی ایسی فحش غلطیاں پائی جاتی ہیں کہ عربی صرف و نحو کے مبتدی طلبہ کے لیے بھی ان کے اندر خندہ زنی کا سامان موجود ہے۔ مثال کے طور پر رسالہ ”کرامات الصادقین“ کی ایک غلطی پیش کی جاتی ہے۔ مرزا جی نے اس میں پنڈت لیکھرام کی موت کا جو الہام شائع کیا اس کے مختصر الفاظ یہ تھے۔ لبشرنی ربی بموتہ فی ست سنته (خدا تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہوگا) لیکن علم نحو کا سب سے پہلا رسالہ ”نحو میر“ پڑھنے والا طالب علم بھی جانتا ہے کہ ست سنتہ کی جگہ ست سنین چاہیے تھا۔ کیونکہ عربی نحو کے رو سے جب اسم عدد ذکر کیا جائے تو تین سے لے کر دس تک کے عدد کی تمیز جمع مجرور ہوا کرتی ہے۔

صفحہ 559

مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی شاید سب سے پہلے عالم تھے جنہوں نے مرزا جی کی عربی تحریروں پر تنقیدی نگاہ ڈالی۔ انہوں نے سب سے پہلے مرزا جی کی کتاب دافع وساوس یا ”آئینہ کمالات“ کا مطالعہ کیا اور اس میں چھیاسٹھ غلطیاں نکال کر شائع کیں۔ تقدس مآب مرزا جی اس اصلاح پر ممنون تو نہ ہوئے البتہ حسب عادت گالیاں دے کر کلیجہ ٹھنڈا کر لیا۔ جو صاحب اس فہرست اغلاط کے دیکھنے کے مشتاق ہوں وہ مولوی صاحب کے رسالہ اشاعۃ السنہ (جلد ۱۵‘ صفحہ ۳۱۶- ۳۲۸) کی طرف رجوع فرمائیں۔ مرزا جی نے رسالہ ”کرامات الصادقین“ ۲۴؍ اگست ۱۸۹۳ء کو شائع کیا تھا۔ اس میں بڑی تحدی کی تھی اور ناقدین کے لیے غلطیاں نکالنے پر فی غلطی پانچ روپے انعام دینے کا اعلان کیا تھا لیکن ۱۰۶ صفحات کے چھوٹے سے رسالہ میں غلطیوں کی اتنی بھرمار ہے کہ ان کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود صاحب کے علم و فہم پر حیرت ہوتی ہے۔ اس رسالہ میں بمشکل کوئی صفحہ ایسا مل سکے گا جس میں دس پندرہ غلطیاں نہ پائی جائیں۔

مولانا بٹالوی‘ جنہوں نے قادیانی کی کتاب ”دافع وساوس“ کی ۶۶ غلطیاں نکالی تھیں‘ وہ تو ایک بڑے فاضل تھے اور قادیانی کی تحریروں میں سینکڑوں ہزاروں غلطیاں نکال سکتے تھے لیکن بعض غیر علماء بھی اس فرض کی انجام دہی سے قاصر نہ رہے۔ چنانچہ جب الہامی صاحب نے ”کرامات الصادقین“ کی غلطیاں نکالنے پر فی غلطی پانچ روپے دینے کا اعلان کیا تو بابو احمد الدین کلرک محکمہ انکم ٹیکس سیالکوٹ جنہوں نے صرف ایف۔ اے یا بی۔ اے کی عربی تعلیم حاصل کی تھی اس خدمت پر کمر بستہ ہوئے اور رسالہ کے چند ابتدائی صفحات کا سرسری مطالعہ کر کے جھٹ گیارہ غلطیاں نوٹ کیں اور قادیانی صاحب کو چٹھی بھیج کر پچپن روپے انعام کا مطالبہ کیا لیکن مرزا جی نے اپنے وعدہ کا ایفا نہ کیا اور ایسی چپ سادھ لی کہ گویا اس قسم کا کوئی اعلان ہی نہیں کیا تھا۔ (اہل حدیث امرتسر‘ ۲۵؍ اگست ۱۹۱۶ء)۔ بابو احمد الدین نے وہ غلطیاں اخبار ”وزیر ہند“ سیالکوٹ مورخہ ۸؍ اگست ۱۸۹۳ء میں شائع کرا دیں۔ اس پر قادیانی صاحب اور ان کے پیروؤں کو بہت خفیف ہونا پڑا۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۵۳)

اسی طرح مولوی عبدالعزیز صاحب پروفیسر مشن کالج پشاور نے بڑے طمطراق سے ”کرامات الصادقین“ کی غلطیاں نکالیں مگر موعود صاحب نے ان کو بھی انعام سے محروم

صفحہ 560

رکھا۔ جو حضرات ان اغلاط اور ان کی تصحیح کے دیکھنے کے شائق ہوں، وہ جریدہ ”اہل حدیث“ امرتسر مورخہ ۲۱ جولائی اور ۲۸ جولائی ۱۹۲۶ء کا مطالعہ فرمائیں۔

باب ۶۰

محمدی بیگم کا پیچھا چھوڑانے کے لیے

ملا محمد بخش کی ایک مزیدار ترکیب

کسی کی منکوحہ پر نظر رکھنا اور اس سے شادی کرنے کے منصوبے سوچنا شرافت سے نہایت بعید ہے۔ جب تک محترمہ محمدی بیگم اطال اللہ عمرہا ناکتخدا تھیں۔ اس وقت تک ہر مسلمان کو حق پہنچتا تھا کہ ان کو رشتہ تزویج میں لانے کے لیے کوشاں ہوتا لیکن جب یہ پاک دامن خاتون کسی شریف آدمی کے پلے بندھ گئی تو یہ کسی کے لیے شرعاً، عرفاً، اخلاقاً روا نہ تھا کہ پرائی عورت پر نظر رکھتا اور اس سے عقد کرنے کے اعلان کرتا، لیکن قادیانی صاحب نے اس غریب کا پیچھا نہ چھوڑا اور شادی ہو جانے کے بعد بھی وہ کامل دس سال تک اپنے اس مضحکہ خیز آسمانی نکاح کی خاک اڑاتے رہے۔ آخر بعض غیور مسلمانوں کی رگ حمیت جنبش میں آئی اور وہ ایسی تدبیریں سوچنے لگے کہ جن سے اس بے چاری کو قادیانی ہرزہ سرائیوں اور فضیحت کوشیوں سے نجات دلائیں۔

ان ایام میں لاہور سے ایک ہفتہ وار اخبار ”جعفر زٹلی“ نکلا کرتا تھا، جس کے مالک و ایڈیٹر ملا محمد بخش قادری تھے۔ ملا صاحب نے ایک ایسی مزیدار تدبیر نکالی جس نے مسیح صاحب کے چھکے چھڑا دیئے اور ان کے دماغ سے جنون عشق کے سارے کیڑے نکال دیئے۔ ملا جی نے اپنے اخبار میں اعلان کیا کہ میں عنقریب نصرت بیگم صاحبہ سے جو قادیانی صاحب کی بیوی ہیں، شادی کروں گا اور اس اعلان کی تائید میں ایک لمبا چوڑا خواب بھی لکھ مارا، جس سے یہ مترشح ہوتا تھا کہ واقعی ملا صاحب سے اہلیہ غلام احمد قادیانی کی شادی ہوئی ہے۔ (اشاعۃ السنہ) جب یہ پیشین گوئی اخبار جعفر زٹلی میں شائع ہوئی تو قادیاں کے

صفحہ 561

برخود غلط مسیحا صاحب بلبلا اٹھے اور اپنی کتاب تحفہ گولڑویہ میں لکھا۔ جیسا کہ شریر مخالفین نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں پر بہتان لگایا۔ اسی طرح میری بیوی کی نسبت شیخ محمد حسین بٹالوی اور اس کے دلی دوست جعفر زٹلی نے محض شرارت سے گندی ہجوائیں بنا کر سراسر بے حیائی کی راہ سے شائع کیں اور میری دشمنی سے اس جگہ وہ لحاظ اور ادب بھی نہ رہا جو اہل بیت آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پاک دامن خواتین سے رکھنا چاہیے۔ مولوی کہلانا اور یہ بے حیائی کی حرکات‘ افسوس ہزار افسوس۔ (تحفہ گولڑویہ‘ طبع سوم‘ صفحہ ۱۰۶-۱۰۷)

لیکن ظاہر ہے کہ اگر کسی شادی شدہ شریف خاتون سے نکاح کی خواہش کرنا اور شادی کے بعد بھی دس سال تک برابر پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑے رہنا موجب توہین نہیں ہے‘ تو پھر قادیانی صاحب کی بیوی میں کون سا سرخاب کا پر لگا تھا کہ اس سے شادی کرنے میں اس کی توہین متصور تھی۔ اور اگر اہل بیت کی پاک دامن خاتون سے خود قادیانی صاحب کا شادی کرنا خلاف ادب و لحاظ نہیں تھا تو پھر جعفر زٹلی کے عقد نکاح سے بھی سو ادب اور اہانت کا کوئی پہلو نہیں نکل سکتا تھا۔ ممکن ہے کہ نصرت بیگم صاحبہ صحیح النسب سیدانی ہوں۔ لیکن اگر ایسا ہے‘ تو بھی وہ قادیانی ملہم سے شادی کر کے شرف سیادت سے محروم ہو چکی تھیں۔

پسر نوح با بداں بہ نشست خاندان نبوتش گم شد

پس ظاہر ہے کہ نصرت بیگم صاحبہ کی عزت و توقیر کسی ادنیٰ سے ادنیٰ مومنہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتی چہ جائیکہ وہ محترمہ محمدی بیگم کی برابری کر سکیں۔

داستان محبت کا اختتام

الغرض ملا جی کا تیر ٹھیک نشانہ پر لگا اور مرزا جی کی داستان عشق پورے سولہ سال کے بعد ختم ہو گئی۔ ملا جی کے سبق آموز اعلان کا فوری اثر یہ ظاہر ہوا کہ اس ”فرشتہ“ کی آمد و رفت بھی یک قلم موقوف ہو گئی جو ۱۸۸۶ء سے لے کر ۱۹۰۲ء تک یعنی سولہ سال سے مسلسل الہامی صاحب کے پاس یہ پیغام لا رہا تھا کہ محمدی بیگم سے تمہارا آسمانوں پر نکاح ہو چکا ہے اور عنقریب اسے اپنے بستر عیش پر دیکھو گے۔ میرا خیال ہے کہ ”فرشتہ“ نے اس کے بعد موعود صاحب کو ان کے جیتے جی پھر کبھی منہ نہ دکھایا ہو گا‘ ورنہ اس ذات شریف کو

صفحہ 562

گلے سے پکڑ لیتے اور ٹینٹوا دبا کر کہتے، کیوں بے گیدی کی دم! تو نے سولہ سال تک آسمانی وعدوں کے سبز باغ دکھا کر مجھے رسوائے خلائق کیا؟ بہرحال اس کے بعد الہامی صاحب نے کبھی بھول کر بھی یہ نہ کہا کہ محمدی بیگم میری ہے یا میں اس کا ہوں۔

یاس و قنوط کے بعد مرزائی سخن طرازیاں

افسوس محمدی بیگم کے عقد کی پیشین گوئی جس کی تکمیل آسمان پر اور تشہیر زمین پر ہو چکی تھی اور اسے مسیح موعود صاحب نے اپنے صدق و کذب کی کسوٹی قرار دیا تھا اور جس کی دھن میں خانہ بربادی ہوئی۔ بیٹے علیحدہ ہوئے، بہو کو طلاق دلائی گئی۔ رشتہ داروں سے بگاڑ ہوا، کنبے میں نفاق پڑا۔ سالہا سال تک فضیحت و رسوائی کی سیاہ چادر اوڑھنی پڑی، کسی طرح پوری نہ ہوسکی۔ آخر یاس و قنوط نے دل و دماغ پر پوری طرح تسلط جما لیا تو موعود صاحب ناچار کلیجہ پر صبر کا پتھر رکھ کر بیٹھ گئے اور بالکل چپ سادھ لی۔ لیکن مشکل یہ آن پڑی تھی کہ آسمانی نکاح پر اعتراض کرنے والے حضرات خاموش نہیں بیٹھنے دیتے تھے۔ اس لیے موعود صاحب کو لامحالہ کنج عزلت سے نکلنے اور اپنی طرف سے کچھ صفائی پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ الہامی صاحب کے مخیلہ دماغ نے بہت سی کدو کاوش کے بعد ان اعتراضوں کے دو جواب اختراع کئے۔

نکاح آسمانی کے اعتراض کا پہلا جواب

موعود صاحب نے ایک جواب تو ان لفظوں میں پیش کیا۔ ”کیا یونسؑ کی پیش گوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہو گا مگر عذاب نازل نہ ہوا“۔ (تتمہ حقیقتہ الوحی، صفحہ ۳۳) الہامی صاحب کے ان الفاظ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹل گیا، اسی طرح محمدی بیگم کی شادی کی پیشین گوئی بھی منسوخ ہو گئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی آیت یا حدیث صحیح میں یہ مذکور نہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام نے خدا سے وحی پا کر عذاب کی کوئی پیش گوئی کی تھی یا چالیس دن کی کوئی میعاد مقرر فرمائی تھی۔ یا اس

صفحہ 563

عذاب کو قوم کے سامنے اپنے حق و باطل کا معیار ٹھہرایا تھا۔ یا یہ کہا تھا کہ یہ خدا کا وعدہ ہے جس میں تخلف ممکن نہیں۔ ہاں آپ نے اپنی قوم کے سامنے ایک عام آسمانی قانون اور خدائی ضابطہ جو دنیا کے تمام نذیر اپنی اپنی شورہ پشت قوموں کے سامنے ظاہر کرتے رہے ہیں، پیش فرمایا تھا اور وہ یہ تھا کہ اگر شیوہ کفر و سرتابی سے باز نہ آؤ گے تو تم پر غضب الٰہی نازل ہوگا۔ یہ ارشاد کسی اطلاع و پیشین گوئی کو متضمن نہیں تھا۔ پس اگر کسی غیر محتاط مفسر نے اپنی تفسیر میں اس کی نسبت کوئی اسرائیلیات نقل کر لئے ہوں تو وہ کسی طرح حجت اور درخور التفات نہیں۔

دوسرا جواب

الہامی صاحب نے نکاح آسمانی کے اعتراضوں کا دوسرا جواب یہ دیا۔ ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے، یہ درست ہے مگر ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس نکاح کے ظہور کے لیے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی اور وہ یہ کہ ایتھا المراۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک (اے عورت توبہ توبہ کر کیونکہ بلا تیرے پیچھے ہے) پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی، مولفہ مرزائے قادیاں، صفحہ ۱۳۲)

لیکن موعود صاحب کا یہ فرمانا کہ محمدی بیگم کے نکاح کی پیش گوئی شرطی تھی، انتہا درجہ کی کذب بیانی اور دروغ بانی ہے۔ انہوں نے شادی کی ابتدائی پیش گوئیاں ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء، ۱۵ جولائی ۱۸۸۸ء اور ۲ مئی ۱۸۹۱ء کے اشتہارات میں شائع کی تھیں، جو کتاب تبلیغ رسالت یعنی مجموعہ اشتہارات قادیانی صاحب میں علی الترتیب جلد اول کے صفحہ ۶۱ اور صفحہ ۱۱۶ اور جلد دوم کے صفحہ ۹ پر درج ہیں۔ ان پیش گوئیوں میں اس قسم کی کوئی شرط مذکور نہیں اور اگر کوئی شرط تھی تو صرف نکاح کی شرط تھی۔ یعنی اگر قادیانی صاحب سے نکاح نہ ہوا تو محمدی بیگم کے خاندان پر تباہی آ جائے گی۔ لڑکی کا شوہر ڈھائی سال میں اور لڑکی کا باپ تین سال میں انتقال کر جائیں گے۔ (دیکھو تبلیغ رسالت، جلد اول، صفحہ ۱۱۶) مگر یہ شرط پوری نہ کی گئی یعنی محمدی بیگم الہامی صاحب کو تفویض نہ کی گئی۔ پس اس شرط کے فقدان پر مشروط کے وقوع پذیر ہونے یعنی محمدی بیگم کے خاندان کی تباہی ثابت کرنے کے بجائے

صفحہ 564

خود نکاح ہی کو منسوخ قرار دینا سخت مضحکہ خیز اور ابلہ فریب منطق ہے۔ علاوہ ازیں الہامی صاحب کے الہامی خدا نے تو ان سے بارہا وعدہ کیا تھا کہ نکاح کی راہ میں جس قدر رکاوٹیں ہیں وہ سب کو اٹھادے گا۔ پس اگر فرض کر لیا جائے کہ نکاح کے لیے واقعی یہ شرط بھی تھی۔ ”اے عورت توبہ کر توبہ کر کیونکہ بلا تیرے پیچھے ہے“۔ تو اس روک کا مرتفع کرنا بھی حسب وعدہ الہام ضروری تھا اور جب مانع دور نہ ہوا تو پیشین گوئی کا بطلان ثابت ہو گیا۔

باب ۶۱

بااقبال فرزند کے قدوم کی دوبارہ پیشین گوئی

اور رسوائیوں کا مکرر ہجوم

الہامی صاحب کئی سال کا بھولا ہوا سبق پھر رٹتے ہیں

”رئیس قادیان“ جلد اول کے چھتیسویں باب میں قادیانی صاحب کے اقبال مند الہامی فرزند (عمنوائیل یا بشیر) کا تذکرہ سپرد قلم ہو چکا ہے۔ مرزا جی نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء کو اس کے تولد کی پیشین گوئی فرمائی تھی۔ آخر جب اس پیشین گوئی میں بری طرح منہ کی کھائی اور مدت مدید تک بدنامی اور استہزاء خلائق کے حصار میں گھرے رہے تو عہد کر لیا کہ آئندہ عمنوائیل کا خیال دل و دماغ سے محو کر دیں گے۔ چنانچہ اس قرار داد کے بموجب بے چارے مدت تک بھول کر بھی عمنوائیل یا بشیر موعود کا تذکرہ زبان پر نہیں لاتے تھے۔ گو اس مدت میں رہ رہ کر خیال آتا تھا کہ اقبال مند مولود کی بشارت کیوں پوری نہ ہوئی تاہم حضرت ”مسیح موعود“ صاحب اس رنجدہ داستان کو کلیتہً بھول چکے تھے لیکن حضرت ٹیچی ٹیچی اور اس قماش کے دوسرے ارواح کو بھلا کہاں گوارا تھا کہ اپنے ایک ملہم کو جو ان کے ہاتھ کا کھلونا اور سالہا سال سے مذاق و دل لگی کا تختہ مشق بنا ہوا تھا‘ یوں نچلا بیٹھنے دیتے۔ اس بنا پر ملہم صاحب پر ٹیچی ٹیچی صاحب نے پھر نزول فرمایا اور پانچ چھ سال کا بھولا ہوا سبق پھر رٹانا شروع کر دیا۔

صفحہ 565

لیکن یقین ہے کہ اس مرتبہ الہامی صاحب نے عذر کیا ہو گا کہ ”بھائی ٹپچی ٹپچی! خدا کے لیے اب اس قصہ کو جانے دو۔ پہلے بھی فضیحت و رسوائی میں کچھ کمی نہیں رہی لیکن ٹپچی ٹپچی نے قسمیں کھا کر یقین دلایا ہوگا کہ مرزا صاحب! آپ گھبرائیے نہیں۔ اب کی مرتبہ ضرور آپ کے مشکوے معلیٰ میں ایک عدد اقبال مند فرزند متولد ہوگا۔ آپ بے تامل دھڑلے سے اس کا دوبارہ اعلان فرما دیجئے“۔ ہر چند کہ الہامی صاحب کو ٹپچی ٹپچی کے الہاموں اور اس کے وعدوں کا پوری طرح تجربہ ہو چکا تھا تاہم انہوں نے ”آزمودہ را آزمودن جہل است“ کے زرین مقولہ کا مصداق بن کر یہ یقین کر لیا ہو گا کہ اس مرتبہ یہ بالکل سچا الہام لے کر آیا ہے۔ بہرحال اس نے قادیانی صاحب کے سامنے سات سال کے بعد ازسرنو بااقبال و پرشکوہ فرزند کا نغمہ چھیڑ دیا لیکن فرق یہ تھا کہ ۱۸۸۶ء کے الہام کی عبارت اردو زبان میں تھی۔ ۱۸۹۳ء کا الہام کسی قدر اضافہ فضائل کے ساتھ عربی میں نازل ہوا تھا۔ خاکسار راقم الحروف الہامی صاحب کے اس جدید الہام کو اردو کا لباس پہنا کر قارئین کرام کے سامنے پیش کرتا ہے۔

قادیاں کے عاجی خدا کا شاعرانہ مبالغہ

قادیاں کے عاجی خدا نے اپنی معتاد مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہوئے عنموائیل کی مدح و ثنا میں زمین و آسمان کے جو قلابے ملائے، ذرا ان کی بہار ملاحظہ ہو۔ الہامی صاحب لکھتے ہیں:۔ ”حق تعالیٰ نے مجھے بشارت دی اور فرمایا کہ میں نے تیری تضرعات اور دعاؤں کو سنا۔ تو نے جو کچھ مجھ سے مانگا ہے وہ تجھے عطا کروں گا اور تو نعمت یافتوں میں سے ہے اور تجھے کیا معلوم کہ میں تجھے کیا کچھ عطا کرنے والا ہوں، رحمت، فضل، قربت، فتح اور ظفر کا نشان پس تجھ پر سلامتی ہو، تو ظفریاب ہے۔ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام ”عنموائیل اور بشیر“ ہوگا۔ خوش جمال، عاقل اور میرے مقربوں میں سے ہوگا۔ وہ آسمان سے آتا ہے، اس کے نزول کے ساتھ فضل خدا نازل ہوگا۔ وہ نور ہے اور مبارک ہے اور طیب اور پاک صاف ہے، اس سے برکتیں ظاہر ہوں گی۔ خلق خدا کو پاک اور طیب چیزیں کھلائے گا۔ دین کی عون و نصرت کرے گا۔ اسے ترقی و عروج نصیب ہوگا۔ بااقبال اور سربلند ہوگا۔ ہر رنجور و علیل کا علاج کرے گا۔ اس کے انفاس سے شفا ہوگی۔ وہ میرے

صفحہ 566

نشانوں میں سے ایک نشان اور میری تائیدات میں سے ایک علامت ہے تاکہ تیری تکذیب کرنے والوں کو معلوم ہو جائے کہ میرا فضل مبین تیرے ساتھ ہے۔ اس کے قدم سے حق ظہور فرما ہوگا۔ اس کے ظہور سے باطل معدوم ہوگا۔ وہ میری قدرت کی تجلی کرے گا۔ میری عظمت کو عالم آشکار کرے گا۔ دین کو برتری بخشے گا۔ براہین کو روشن کرے گا۔ طالبان حیات کو نورانی اور ایمانی موت کے ہاتھوں سے نجات دے گا۔ اہل قبور کو قبروں سے نکال کھڑا کرے گا۔ تاکہ ان لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو جائے جو خدا اور اس کے رسول اور اس کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے۔ تجھے ایک ذہین لڑکا تیری اپنی نسل سے دیا جائے گا۔ وہ ہمارے معزز بندوں میں سے ہوگا۔ وہ ایک معزز مہمان ہے جو ہماری طرف سے تیرے پاس آتا ہے۔ وہ ہر قسم کی آلودگی، میل کچیل، شرارت عیب اور عار سے پاک ہے۔ وہ طیب لوگوں میں سے ہے۔ وہ کلمتہ اللہ، بزرگ کلمات سے پیدا شدہ اور فہیم، ذہین اور حسین ہے۔ اس کا قلب علم سے، باطن حلم سے اور سینہ آشتی و محبت سے معمور ہوگا۔ اس کو مسیحی نفس عطا کیا جائے گا۔ وہ روح الامین سے برکت دیا جائے گا۔ دوشنبہ کا دن ہے۔ اے دوشنبہ کے دن تجھے مبارک ہو کہ تجھ میں مبارک روحیں آتی ہیں۔ فرزند صالح، کریم، ذکی، مبارک اول و آخر، حق و علاء کا مظہر، گویا خود خدا آسمان سے اتر آیا۔ اس کے ظہور سے رب العالمین کا جلال ظاہر ہوگا۔ تیرے پاس ایک نور آتا ہے جو عطر رحمان سے ممسوح ہے۔ اللہ کے سائے تلے کھڑا ہے، قیدیوں کو نجات دلائے گا۔ اسیروں کی رستگاری کا باعث ہوگا۔ شانِ الٰہی کو دوبالا کرے گا۔ اس کے نام کو اور برہان کو بلند کرے گا۔ اس کے ذکر اور عنبر بیزی کی زمین کے کناروں تک شہرت ہوگی۔ وہ امام ہمام ہے۔ اس سے قومیں برکت پائیں گی۔ اس کے ساتھ شفا ہوگی۔ اس کی بدولت بیماریوں کا نام و نشان نہ رہے گا۔ خلق خدا اس سے نفع اٹھائے گی۔ اس کا نشو و نمو بڑی تیزی سے ہوگا گویا کہ وہ ستون ہے۔ پھر وہ نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھا لیا جائے گا جو اس کا مقام ہے اور یہ فیصلہ شدہ امر ہے۔ اس کو قادر علّام نے مقدر کیا ہے۔ پس بابرکت ہے وہ خدا جو مقدر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ (آئینہ کمالات، مولفہ مرزا غلام احمد مطبوعہ، مطبع ریاض ہند قادیاں، طبع اول، صفحہ ۵۷۷-۵۷۸، یہ کتاب صفحہ ۳۵۹ سے شروع ہوتی ہے)

صفحہ 567

الہامی صاحب کی طرف سے ذلت و رسوائی کو دعوت

لیکن قادیاں کے مسیح موعود صاحب کو اس مرتبہ بھی اپنی پیشین گوئی میں سخت ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور کوئی ایسا فرزند پیش نہ کر سکے جو ان کے بیان کردہ صفات کا حامل ہوتا۔ عمانوائیل الہامی صاحب کے ہزارہا خیالی فانوسوں میں سے ایک فانوس تھا جو خیالی روشنی کی عمر طبعی ختم کر کے قریباً اکیس سال کے بعد مبارک احمد کے ساتھ کنج لحد میں مستور ہو گیا۔ قادیانی صاحب نے فی الحقیقت اس پیشین گوئی کے ذریعہ سے کوئے گمنامی سے نکل کر اپنا نام پہنائے عالم میں چمکانا چاہا تھا۔ ظاہر ہے کہ ان کا نام نیک نامی میں تو نہ چمک سکا البتہ بدنام ہو کر شہرۂ آفاق ہو گئے۔ ع

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟

الہامی صاحب کا توسن دماغ ہر وقت الہام و پیش گوئی کے بحر ناپیدا کنار کی شناوری کرتا رہتا تھا لیکن وہ بے چارے اتنا نہیں سمجھتے تھے کہ سچے الہام اور سچی پیشین گوئی کے لیے اسلامی عقائد پر ایمان، سنن ہدیٰ اور سلف صالح کا اقتداء، زہد و تقویٰ اور ذکر دوام لازمی شرائط ہیں۔ اور ان میں سے ایک صفت بھی ایسی نہ تھی جو الہامی صاحب میں پائی جاتی ہو۔ اگر وہ سلف صالح اور اہل اللہ کے صحیح پیرو ہوتے تو تائید الٰہی ان کی ہر وقت پشتیبان اور کارساز ہوتی، ایسی حالت میں کبھی ممکن نہ تھا کہ وہ اس طرح پیشین گوئی کر کے ذلیل و رسوا ہوتے۔ باخدا لوگوں کی تو یہ شان ہے کہ اگر کبھی کوئی قسم کھا لیتے ہیں تو خدائے ناصر و معین ضرور پوری کرتا اور اپنے نیک بندوں کو سرخرو کرتا ہے۔ حضرت سید الخلق صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے۔

رب اشعث اغبر مدفوع بالابواب لو اقسم علی اللہ لابرہ (صحیح مسلم) بہت سے پراگندہ بالوں والے، غبار آلودہ جنہیں لوگ اپنے دروازوں پر سے دھکیل دیں، اگر وہ اللہ کی کوئی قسم کھا لیں تو رب العالمین ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔

معلوم ہو کہ آج کل مرزائیوں نے تمام قیل و قال سے منہ موڑ کر مرزا محمود احمد کو عمانوائیل موعود تجویز کر لیا ہے لیکن میں جلد اول کے چھتیسویں باب میں بدلائل لکھ آیا ہوں کہ خلیفہ صاحب کسی طرح آسمانی موعود نہیں ہو سکتے۔

صفحہ 568

منشی ظہیر الدین اروپی کا اظہار خیال

لاہوری مرزائیوں کی شاخ ”احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور“ کے زیر اہتمام حکیم محمد حسین مرہم عیسیٰ کی ادارت میں ”الہدیٰ“ نام ایک ماہوار رسالہ محرم ۱۳۳۳ھ سے نکلنا شروع ہوا تھا۔ اس رسالہ کے پہلے نمبر میں منشی ظہیر الدین اروپی کا ایک مراسلہ مرزائی مصلح موعود کے موضوع پر شائع ہوا تھا۔ وہ مراسلہ اور مرہم صاحب کے ریمارک کا ضروری خلاصہ یہاں قارئین کرام کے تفنن طبع کے لیے درج کیا جاتا ہے۔ مرہم صاحب نے لکھا کہ ”احمدی جماعت میں آج کل چرچا مصلح موعود کا ہو رہا ہے اور کثرت سے ایسے احباب ہیں جو حضرت صاحبزادہ (میاں محمود احمد) صاحب کے حلقہ اطاعت میں محض اس لیے مقید ہیں کہ شاید حضرت صاحبزادہ صاحب ”مصلح موعود“ ہی نکل آئیں‘ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ منشی ظہیر الدین صاحب کا ایک خط جو دربارہ مصلح موعود ہے اور میرے نام ہے درج کر دیا جائے۔ ہماری جماعت میں مولوی عبداللہ صاحب چمار پوری اور قاضی یار محمد صاحب تورپوری اور ماسٹر محمد سعید صاحب امرتسری کئی سال سے یوسف موعود اور پسر موعود کے دعوے کر رہے ہیں۔ گو صاحبزادہ صاحب نے ابھی تک مصلح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لیکن پھر بھی حضرت صاحبزادہ صاحب کے متعلق محض اس لیے کہ وہ حضرت مسیح موعود کے ولد جسمانی بھی ہیں‘ جماعت کے لوگوں کا خیال ہے کہ شاید یہی مصلح موعود ہوں۔ جس قدر رسالہ جات حضرت صاحبزادہ صاحب کو مصلح موعود بنانے کی تائید میں شائع ہو چکے ہیں‘ وہ محض خوشامدانہ رنگ میں مریدان بی پیرامند کا حقیقی مصداق ہیں“۔ (رسالہ الہدیٰ‘ نمبر اول‘ صفحہ ۵۲)

منشی ظہیر الدین کے مراسلہ کا ضروری خلاصہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اس الہامی عبارت سے جو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں درج ہے۔ ایک ہی لڑکا سمجھا اور بشیر اول کو وہ پسر موعود قرار دیا لیکن بعد میں جب بشیر اول فوت ہو گیا تو ظاہر کیا گیا کہ خدا نے بتلا دیا تھا کہ اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں دو سعید لڑکوں کی پیشین گوئی ہے۔ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اس اشتہار کی تقسیم ایسے طور پر ہوتی رہی جس سے اور بھی ابتلا بڑھ گیا۔ ایک طرف تو ”مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے“۔ اس عبارت کو بشیر اول پر چسپاں کر لیا گیا

صفحہ 569

اور پھر اسی لفظ مبارک کی بنا پر مبارک احمد کو ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء والا چوتھا لڑکا قرار دیا اور دوسری طرف بشیر اول کے فوت ہونے پر جب دوسرے بشیر اور فضل عمر یعنی عمر پانے والے لڑکے کی بشارت ملی۔ تو پھر لفظ فضل کو اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں دیکھ کر فضل عمر (مرزا محمود احمد) کو اس دوسرے بشیر کا نام دے لیا اور لفظ ”اس“ سے عبارت کا آغاز کر لیا گیا۔ حالانکہ اسم اشارہ سے کبھی عبارت شروع نہیں ہو سکتی۔ پھر غور کرو کہ پیش گوئی میں تو لکھا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں اولو العزم ہوگا‘ یہ نہیں لکھا کہ وہ احمدیت کے کاموں میں اولو العزم ہوگا۔ دوسروں پر کفر کا فتویٰ لگانا۔ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کا پسر موعود بننے کے لیے اپنے ساتھ اخبار الفضل نکالنا‘ اپنے ساتھ انصار اللہ کی جماعت بنا لینا اور احمدی جماعت میں اپنا ایک علیحدہ گروہ بنا لینا‘ اپنی کمزوری پر بھی حاشیہ چڑھانا‘ اس طرح جو جو کام کئے تو آخر نہایت پختگی سے کئے۔ اصل بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کی تحریروں میں بہت تضاد اور تخالف ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ قدرت ثانی وہی پسر موعود ہوگا جس کے ذریعہ سے مسیح موعود کی غلطیوں کو خدا درست کر دے گا اور صلح پھیلا دے گا۔ اگرچہ مجھے الہام ہوا تھا اور خدا نے مجھے یوسف قرار دیا تھا لیکن اذا تمنی الشیطان کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔ شیطان بھی ورغلاتا ہے۔ (محمد ظہیر الدین) (رسالہ المہدی‘ صفحہ ۵۰- ۵۲)

باب ۶۲

مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ

باب ۵۴ میں لکھا جا چکا ہے کہ مولوی عبدالحق غزنوی امرتسری بڑی مدت سے قادیانی صاحب کو مباہلہ کا چیلنج دے رہے تھے۔ الہامی صاحب نے ۲۵ اپریل ۱۸۹۳ء کے جس اشتہار میں حافظ محمد یوسف ضلع دار اور مولوی عبدالحق غزنوی کے مباہلہ کا ذکر کیا۔ اس میں بہت کچھ غلط بیانیوں سے کام لیا تھا۔ اس اشتہار کے جواب میں مولوی عبدالحق مرحوم نے ۲۶ شوال ۱۳۱۰ھ مطابق ۲۴ مئی ۱۸۹۳ء کو ایک اعلان شائع کیا‘ جس میں قادیانی صاحب سے خطاب کرتے ہوئے لکھا کہ اب میں بذریعہ اشتہار ہذا بدستخط خود تم کو مطلع کرتا ہوں اور

صفحہ 570

ساری دنیا کو اس کا گواہ ٹھہراتا ہوں کہ اگر تمہارے ساتھ مباہلہ کرنے سے مجھ پر کچھ لعنت کا اثر ایسی صفائی کے ساتھ ظاہر ہو، جس میں کسی کو شک و شبہ نہ رہے تو میں تمہاری تکفیر سے تائب ہو جاؤں گا۔ اب اپنے اشتہار کے بموجب مباہلہ کے لیے امرتسر آ جاؤ۔ مباہلہ اس بات پر ہوگا کہ تم اور تمہارے سب پیرو دجال کذاب ملاحدہ اور زنادقہ باطنیہ ہیں۔ مباہلہ عید گاہ کے میدان میں ہوگا۔ تاریخ جو تم مقرر کرو، وہی مجھے منظور ہے۔ اگر تم اپنے اعلان کے بموجب میرے ساتھ مباہلہ کرنے کے لیے امرتسر نہ آئے تو پھر دوسرے علماء سے مباہلہ کی درخواست کرنا پرلے درجے کی بے شرمی اور بے حیائی متصور ہوگی۔۔۔

گرازیں بار باز ہم بپیچی سرے برتو شد نفرین رب اکبرے

(المشتہر عبدالحق غزنوی از امرتسر ۲۶ شوال ۱۳۱۰ھ) (تبلیغ رسالت، ج ۳، ص ۵۴)

قادیانی صاحب ۵؍ جون ۱۸۹۳ء کو آتھم کے مناظرہ سے (جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی) فارغ ہوئے تھے۔ الہامی صاحب نے اسی دن مولوی عبدالحق کے اعلان کا جواب شائع کیا۔ جس میں لکھا کہ عبدالحق غزنوی کا اشتہار مباہلہ میری نظر سے گزرا۔ اس لیے یہ اشتہار شائع کیا جاتا ہے کہ مجھ کو اس شخص اور ایسا ہی ہر ایک مکفر سے جو عالم یا مولوی کہلاتا ہے، مباہلہ منظور ہے۔ میں تیسری یا چوتھی ذیقعد ۱۳۱۰ھ تک امرتسر پہنچ جاؤں گا۔ تاریخ مباہلہ ۱۰ ذیقعد ۱۳۱۰ھ (مطابق ۲۷؍ مئی ۱۸۹۳ء) قرار پائی ہے، جس سے کسی صورت میں تخلف لازم نہیں ہوگا اور مقام مباہلہ عیدگاہ جو قریب مسجد خان بہادر محمد شاہ مرحوم ہے، قرار پایا ہے۔ ہم بار بار مباہلہ کرنا نہیں چاہتے۔ ابھی تمام مکفرین کا فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ اب جو شخص گریز کرے گا اور تاریخ مقررہ پر حاضر نہیں ہوگا آئندہ اس کا کوئی حق نہیں رہے گا کہ پھر کبھی مباہلہ کی درخواست کرے اور پھر ترک حیا میں داخل ہوگا۔ کہ غائبانہ کافر کہتا رہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ مباہلہ سے پہلے ہمارا حق ہوگا کہ ہم مکفرین کے سامنے جلسہ عام میں اپنے اسلام کے وجوہات پیش کریں۔ (المشتہر مرزا غلام احمد، ۳۰ شوال ۱۳۱۰ھ) (رسالہ سچائی کا اظہار مرتبہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۹)

مولوی عبدالحق صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ مجھے آپ سے مباہلہ کرنا بدل و جان منظور ہے لیکن میری خواہش ہے کہ مباہلہ ۵؍ جون ۱۸۹۳ء کے بعد ہو کیونکہ ۵؍ جون کو آپ آتھم سے مناظرہ کر رہے ہوں گے۔ ہمیں مباہلہ سے پہلے آپ کا لیکچر سننا

صفحہ 571

ہرگز منظور نہیں کیونکہ جب آپ اپنی طرف سے صفائی پیش کریں گے تو ہمیں بھی آپ کی تردید کرنی پڑے گی۔ ایسی حالت میں یہ مباہلہ نہ ہوا‘ مباحثہ ہو گیا اور مناظروں کے جھگڑے تو ختم ہونے والے نہیں۔ مقام مباہلہ میں صرف فریقین دعا کریں گے۔ دعا یہ ہو گی کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے پر لعنت کرے۔ اس کا جواب بدست حاملان رقعہ ہذا بھیج دیجئے۔ (عبدالحق غزنوی ۷ ذیقعد ۱۳۱۰ھ)

اس کے جواب میں قادیانی صاحب نے لکھا۔ میاں عبدالحق غزنوی کو واضح ہو کہ اب حسب درخواست آپ کے جس میں آپ نے مجھے قطعی طور پر کافر اور دجال لکھا ہے۔ مباہلہ کی تاریخ مقرر ہو چکی ہے اور امرتسر میں آنے کی میری دو ہی غرضیں تھیں۔ ایک عیسائیوں سے مباحثہ اور دوسرے آپ سے مباہلہ۔ میں بعد استخارہ مسنونہ انہی دو غرضوں کے لیے مع اپنے قبائل کے آیا ہوں اور جماعت کثیرہ دوستوں کی جو میرے ساتھ کافر ٹھہرائی گئی ہے ساتھ لایا ہوں اور اشتہارات شائع کر چکا ہوں اور متخلف پر لعنت بھیج چکا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے لعنت سے حصہ لے۔ میں تو حسب وعدہ میدان مباہلہ یعنی عید گاہ میں حاضر ہو جاؤں گا۔ خدا تعالیٰ کاذب اور کافر کو ہلاک کرے۔ ہاں یہ مجھے منظور ہے کہ مقام مباہلہ میں کوئی وعظ نہ کروں۔ دعا صرف یہ ہو گی کہ میں مسلمان اور اللہ رسول کا متبع ہوں۔ اگر میں اس قول میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ میرے پر لعنت کرے اور اگر یہ الفاظ میری دعا کے آپ کی نظر میں ناکافی ہوں تو جو آپ تقویٰ کی راہ سے لکھیں کہ دعا کے وقت یہ کہا جائے وہی لکھ دوں گا مگر اب تاریخ مباہلہ ہرگز ہرگز تبدیل نہیں ہوگی۔ لعنتہ اللہ علی من تخلف منا وما حضر فی ذالک التاریخ و الیوم والوقت (خاکسار غلام احمد از امرتسر ۷ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ)

اس کے جواب میں مولوی عبدالحق مرحوم غزنوی نے ایک اشتہار شائع کیا‘ جس میں لکھا کہ اب میں بری الذمہ ہو گیا ہوں اور مجھ پر کسی قسم کی ملامت نہیں کیونکہ میں نے تاریخ بدلنے کی محض اس لیے خواہش کی تھی کہ گو میں اور دوسرے مسلمان مرزا کو کیسا ہی گمراہ اور بے دین سمجھیں مگر جب وہ اسلام کی طرف سے عیسائیوں سے مقابلہ کر رہا ہے تو ہم سب کو بجائے بددعا کے دعا کرنی اور مدد دینی چاہیے۔ مگر مرزا نے وہ تاریخ یعنی ۱۰ ذیقعدہ نہیں بدلی۔ اب میں بھی ۱۰ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ کو دو بجے دن کے مباہلہ کے مقام پر حاضر ہونا اپنا

صفحہ 572

فرض سمجھتا ہوں۔ وہاں جاکر فریقین کی طرف سے لیکچر یا وعظ یا اظہار صفائی مطلق نہیں ہوگا۔ جیسا کہ مرزا نے اپنے خط میں وعدہ کر لیا ہے۔ مباہلہ کی یہ نوعیت ہوگی کہ پہلے میں تین مرتبہ بآواز بلند کہوں گا کہ الٰہی: میں مرزا کو ضال‘ مضل‘ ملحد‘ دجال‘ کذاب‘ مفتری اور محرف کتاب اللہ اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یقین کرتا ہوں۔ اگر میں اس دعویٰ میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔ بعدہ رو بقبلہ دیر تک ابتہال اور عاجزی سے دعا کریں گے کہ الٰہی جھوٹے کو رسوا اور شرمسار کر اور سب حاضرین مجلس آمین کہیں گے۔

(عبدالحق غزنوی از امرتسر ۸ ذیقعدہ ۱۳۱۰ھ)

غرض ۷ مئی ۱۸۹۳ء کو امرتسر کی عیدگاہ میں مباہلہ ہوا اور اس سے فراغت پا کر فریقین اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوئے۔ سال سوا سال کے بعد اس مباہلہ کا جو اثر ظاہر ہوا‘ اس کی تفصیل ان شاء اللہ المستعان آئندہ صفحات پر قارئین کرام کے مطالعہ سے گزرے گی۔

باب ۶۳

مسیح قادیاں کا اعلان کہ کوئی پادری

میرے مقابلہ پر نہیں آ سکتا

مسیح قادیاں نے کتاب ”تحفہ گولڑویہ“ میں لکھا کہ مجھے خدا نے اپنی طرف سے قوت دی ہے کہ میرے مقابل پر مباحثہ کے وقت کوئی پادری ٹھہر نہیں سکتا اور میرا رعب عیسائی علماء پر خدا نے ایسا ڈال دیا ہے کہ ان کو طاقت نہیں رہی کہ میرے مقابلہ پر آ سکیں۔ چونکہ خدا نے مجھے روح القدس سے تائید بخشی ہے اور اپنا فرشتہ میرے ساتھ کیا ہے۔ اس لیے کوئی پادری میرے مقابلہ پر آ ہی نہیں سکتا۔ یہ لوگ بلائے جاتے ہیں‘ پر نہیں آتے۔ اس کا یہی سبب ہے کہ ان کے دلوں میں خدا نے ڈال دیا ہے کہ اس شخص کے مقابل پر ہمیں بجز شکست کے اور کچھ نہیں۔ ”تحفہ گولڑویہ‘ صفحہ ۶۰“ اور ۲۷ دسمبر ۱۸۹۳ء کو ایک خط

صفحہ 573

میں اپنے آئندہ داماد سردار محمد علی خاں مالیر کوٹلوی کو لکھا:

”چوتھی علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ اس عاجز نے بارہ ہزار کے قریب خط اور اشتہار الہامی برکات کے مقابلہ کے لیے مذاہب غیر کی طرف روانہ کئے۔ بالخصوص پادریوں میں سے شاید ایک بھی نامی پادری یورپ اور امریکہ اور ہندوستان میں باقی نہ رہا ہوگا، جس کی طرف خط رجسٹری کر کے نہ بھیجا ہو، مگر سب پر حق کا رعب چھا گیا۔ اب جو ہماری قوم کے ملا مولوی لوگ اس دعوت میں نکتہ چینی کرتے ہیں در حقیقت یہ ان کی دروغ گوئی اور نجاست خواری ہے۔ مجھے یہ قطعی طور پر بشارت دی گئی کہ اگر کوئی مخالف دین میرے مقابلہ کے لیے میرے مقابلہ پر آئے گا، تو میں اس پر غالب ہوں گا۔ وہ ذلیل ہوگا، پھر یہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اور میری نسبت شک رکھتے ہیں، کیوں اس زمانہ کے کسی پادری سے میرا مقابلہ نہیں کراتے؟ کسی پادری یا پنڈت کو کہہ دیں کہ یہ شخص در حقیقت مفتری ہے، اس کے ساتھ مقابلہ کرنے میں کچھ نقصان نہیں ہم ذمہ دار ہیں۔ پھر خدائے تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا۔ میں اس بات پر راضی ہوں کہ جس قدر دنیا کی جائیداد یعنی اراضی وغیرہ بطور وراثت میرے قبضہ میں آئی ہے، بحالت دروغ گو نکلنے کے وہ سب اس پادری یا پنڈت کو دے دوں گا۔ میں بلاتا بلاتا تھک گیا کوئی پنڈت پادری سامنے نہیں آیا۔ اگر کوئی مقابلہ پر کچھ نشان دکھلانے کا دعویٰ نہ کرے تو ایسا پنڈت یا پادری صرف اخبار کے ذریعہ سے یہ شائع کر دے کہ میں صرف ایک طرفہ کوئی امر خارق عادت دیکھنے کو تیار ہوں اور اگر امر خارق عادت ظاہر ہو جائے اور میں اس کا مقابلہ نہ کر سکوں تو فی الفور اسلام قبول کروں گا۔ اور یہ تجویز بھی مجھے منظور ہے کہ کوئی مسلمانوں میں سے ہمت کرے اور جس شخص (مرزا غلام احمد) کو کافر بے دین کہتے ہیں اور دجال نام رکھتے ہیں، بمقابل کسی پادری کے اس کا امتحان کرلیں اور آپ صرف تماشا دیکھیں۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۴، صفحہ ۴۷-۴۸)

صفحہ 574

باب ۶۴

اعجاز نمائی کا قادیانی وعدہ اور آتھم کی طرف

سے قبول اسلام کا مشروط قول و قرار

۱۸۹۳ء کے اوائل میں ڈپٹی عبداللہ آتھم نامی ایک عیسائی پنشن یاب سے مناظرہ کرنے کے سلسلہ میں ڈاکٹر ایچ مارٹن کلارک ایم ڈی میڈیکل مشنری امرتسر سے قادیانی صاحب کی جو خط و کتابت ہوئی۔ اس کا تذکرہ ان شاء اللہ آئندہ باب میں ہوگا۔ اس ضمن میں قادیانی صاحب نے پادری مارٹن کلارک کو یہ بھی لکھا۔ ”یہ بات پہلے سے تجویز ہو جانا ضروری ہے کہ اس جنگ مقدس (مناظرہ) کا فریقین پر کیا اثر ہوگا۔ اور کیونکر کھلے کھلے طور پر سمجھا جائے گا کہ درحقیقت فلاں فریق کو شکست آگئی ہے کیونکہ سالہا سال کے تجربہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ معقولی اور منقولی بحثوں میں گو کیسی ہی صفائی سے ایک فریق غالب آ جائے مگر دوسرے فریق کے لوگ کبھی قائل نہیں ہوتے کہ وہ درحقیقت مغلوب ہو گئے ہیں۔ اس لیے میری یہ تجویز ہے کہ جب فریقین مناظرے کے اپنے اپنے چھ دن پورے کر لیں تو فریقین اپنے اپنے مذہب کی تائید کے لیے خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان چاہیں اور ان نشانوں کے ظہور کے لیے ایک سال کی میعاد قائم ہو۔ پھر جس فریق کی تائید میں کوئی آسمانی نشان ظاہر ہو جو انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو، جس کا مقابلہ فریق مخالف سے نہ ہو سکے تو لازم ہوگا کہ فریق مغلوب غالب فریق کا مذہب اختیار کر لے اور اگر انکار کرے تو اپنی نصف جائیداد فریق غالب کے حوالے کر دے“۔ یہ اقرار فریقین پہلے سے شائع کر دیں کہ ہم مباہلہ کریں گے یعنی اس طور سے دعا کریں گے کہ ”اے ہمارے خدا اگر ہم دجل پر ہیں تو فریق مخالف کے نشان سے ہماری ذلت ظاہر فرما اور اس دعا کے وقت دونوں فریق آمین کہیں گے اور ایک سال تک اس کی میعاد ہوگی۔ اگر ایک سال کے عرصہ میں دونوں طرف سے کوئی نشان ظاہر نہ ہو یا دونوں طرف سے ظاہر ہو تو اس صورت میں بھی یہ راقم (مرزا غلام احمد) اپنے تئیں مغلوب سمجھے گا اور ایسی سزا کے لائق ٹھہرے گا، جو بیان ہوئی۔ چونکہ میں خدا

صفحہ 575

تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں اور فتح پانے کی بشارت پا چکا ہوں۔ پس اگر کوئی عیسائی صاحب میرے مقابل آسمانی نشان دکھلائیں یا میں ایک سال تک نہ دکھلا سکوں تو میرا باطل پر ہونا کھل جائے گا۔ یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہو تو پھر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور نہ صرف وہی سزا بلکہ موت کی سزا کے لائق ہوں۔ سو آج میں ان تمام باتوں کو قبول کرکے اشتہار دیتا ہوں"۔

اس اعلان کے جواب میں ڈپٹی عبداللہ آتھم نے قادیانی صاحب کو لکھا۔ "ہم اس امر کے قائل نہیں ہیں کہ تعلیمات قدیم کے لیے معجزہ جدید کی کچھ بھی ضرورت ہے۔ اس لیے نہ تو معجزہ کی کچھ حاجت ہے اور نہ ہم اپنے اندر اس کی استطاعت دیکھتے ہیں۔ بہرکیف اگر جناب کسی معجزہ کے دکھلانے پر آمادہ ہیں تو ہم اس کے دیکھنے سے آنکھیں بند نہیں کریں گے اور جس قدر اصلاح اپنی غلطی کی آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں‘ اس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے۔ لیکن جناب کو یاد رہے کہ معجزہ ہم اسی کو جانیں گے جو مدعی معجزہ کی تحدی کے ساتھ ظہور میں آئے اور کسی امر ممکن کا مصدق ہو۔ مباہلات بھی از قسم معجزات ہی ہیں۔ مگر ہم بروئے تعلیم انجیل کسی کے لیے لعنت نہیں مانگ سکتے۔ جناب جو چاہیں مانگیں اور ایک سال تک انتظار کریں"۔

اس خط کے جواب میں قادیانی صاحب نے ایک اور اشتہار شائع کیا جس میں ڈپٹی آتھم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ "آپ کا فقرہ کہ جس قدر اصلاح اپنی غلطی کی ہم آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں‘ اس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے‘ تشریح طلب ہے۔ مگر یہ فقرہ مجھے امید دلاتا ہے کہ آپ نشان دیکھنے کے بعد مذہب اسلام قبول کر لیں گے۔ پس اگر آپ مستعد ہیں تو چند سطریں تین اخباروں یعنی نور افشاں‘ منشور محمدی اور کسی آریہ اخبار میں چھپوا دیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر مرزا غلام احمد نے کوئی نشان دکھایا تو ہم بلا توقف مسلمان ہو جائیں گے۔ اور ہم یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس نشان کو بغیر کسی قسم کی بے ہودہ نکتہ چینی کے قبول کر لیں گے اور کسی حالت میں وہ نشان نامعتبر اور قابل اعتراض نہیں سمجھا جائے گا۔ یہ تحریر آپ کی طرف سے بقید نام و مذہب و ولدیت و سکونت ہو۔ اور فریقین کے پچاس پچاس معزز اور معتبر گواہوں کی شہادت

صفحہ 576

اس پر ثبت ہو۔ تب تین اخباروں میں اس کو آپ شائع کرادیں“۔

اور اگر آپ یہ فرمائیں کہ ہم تو یہ سب باتیں کر گزریں گے اور کسی نشان کے دیکھنے کے بعد دین اسلام قبول کر لیں گے لیکن اگر تم ہی جھوٹے نکلے اور کوئی نشان نہ دکھلا سکے تو تمہیں کیا سزا ہوگی۔ ”تو میں اس کے جواب میں حسب منشا توریت اپنے لیے سزائے موت قبول کرتا ہوں۔ اور اگر یہ سزا خلاف قانون ہو تو اپنی کل جائیداد آپ کو دے دوں گا۔ جس طرح چاہیں آپ مجھ سے تسلی کرالیں۔ اگر آپ نشان نمائی کے مقابلہ سے عاجز ہیں تو پھر یک طرفہ اس عاجز کی طرف سے سہی مجھ کو بسرو چشم منظور ہے۔ آپ اقرار نامہ حسب نمونہ مرقومہ بالا شائع کر دیں“۔ (رسالہ حجت الاسلام، مولفہ مرزا غلام احمد صاحب، صفحہ ۶ ۔ ۲۰) اس اعلان کے جواب میں پادری آتھم نے قادیانی صاحب کو لکھا، جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیاں بجواب اعلان جناب عرض ہے کہ:۔

”اگر جناب یا کوئی صاحب کسی صورت سے بھی یہ تحدی معجزہ دکھا دیں گے یا بہ دلیل قاطع عقلی تعلیمات قرآنی کو ممکن اور موافق صفات اقدس ربانی کے ثابت کر سکیں گے تو میں اقرار کرتا ہوں کہ مسلمان ہو جاؤں گا۔ جناب یہ سند میری اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ باقی منظوری سے مجھے معاف رکھئے کہ اخباروں میں اشتہار دوں“۔

ظاہر ہے کہ اگر جناب ”مسیح موعود“ صاحب کی ذات گرامی میں ان کے معجزہ سخن سازی و تاویل کاری کے علاوہ کوئی روحانی جوہر بھی ودیعت تھا تو ضرورت تھی کہ اس خط کے جواب میں کوئی معجزہ اور نشان دکھا کر ایک بدترین دشمن کو دائرہ مرزائیت میں داخل کرتے اور کوئی عملی کام کر دکھاتے۔ لیکن قادیانی صاحب نے کوئی نشان نہ دکھایا اور ہمیشہ کے لیے چپ سادھ لی اور یہی چپ پسندی اور خاموشی ہی حضرت ”مسیح موعود“ کا ایک نیا معجزہ قرار پائی۔ مگر آتھم کے حال پر افسوس ہے کہ اس محروم القسمت نے اس معجزہ سکوت سے فائدہ اٹھا کر قبول مرزائیت کا شرف حاصل نہ کیا۔ حضرت ”مسیح موعود“ صاحب اپنے اسی قسم کے معجزات باہرہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ ”اس جگہ اکثر گزشتہ نبیوں کی نسبت بہت زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں ہیں بلکہ بعض گزشتہ انبیاء علیہ السلام کے معجزات اور پیش گوئیوں کو ان معجزات اور پیش گوئیوں سے کچھ نسبت ہی نہیں اور نیز ان کی پیش گوئیاں اس وقت محض بطور قصہ کہانیوں کے ہیں۔ مگر یہ معجزات اور پیشین گوئیاں ہزارہا

صفحہ 577

لوگوں کے لیے چشم دید ہیں اور میں وہ ہوں جس کے بعض معجزات اور پیش گوئیوں کے کروڑہا انسان گواہ ہیں"۔ (نزول المسیح، صفحہ ۸۱ - ۸۲)

مسیح موعود صاحب کا یہ ارشاد بالکل بجا ہے۔ واقعی ان کے معجزات اور پیش گوئیوں کے کروڑہا انسان گواہ تھے اور قیامت تک ہر زمانے میں گواہ رہیں گے۔ چنانچہ اسی معجزہ سکوت کو ملاحظہ فرمائیے، جس کے گواہوں کا کوئی حصر نہیں۔ محترمہ محمدی بیگم کی پیشین گوئی کا بھی سارا ہندوستان گواہ ہے۔ اسی طرح آتھم و ڈوئیل کی پیشین گوئی کے بھی کروڑوں جن و انس گواہ ہیں۔ وقس علیٰ ہٰذا۔

باب ۶۵

معجزہ نہ دکھا سکنے کی حالت میں عیسائی ہو جانے کا وعدہ

انبیاء علیہم السلام اپنی تبلیغ میں معصوم اور حق تعالیٰ کی طرف سے مخبر و مبشر ہوتے تھے اور اپنی الہامی بشارتوں، اطلاعوں اور پیشین گوئیوں میں ہمیشہ سچے نکلتے تھے اور پیشین گوئی کے پورا ہونے پر لوگوں کے دلوں میں ان کی عزت اور وقار بڑھ جاتا تھا۔ اس برگزیدہ جماعت میں سے جس کسی نے کبھی وحی الٰہی سے مؤید ہو کر کوئی پیشین گوئی کی، اس میں اسے خدانخواستہ ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑا۔ لیکن کسی مسلمان کا خواہ وہ کتنا ہی بڑا عارف و مبشر کیوں نہ ہو، یہ حق و منصب نہیں کہ وہ اپنی پیشین گوئی کے وقوع و ظہور کو اسلام کی صداقت کا معیار قرار دے اور فریق مقابل سے کہنے لگے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو میں اسلام سے منحرف ہو کر کفر اور دشمن کا مسلک باطل اختیار کر لوں گا یا اپنی جائیداد فریق مخالف کے کیش کفر و شرک کی اشاعت کے لیے دے دوں گا۔ اگر کوئی مسلمان کہلا کر ایسا کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ اسلام کا دشمن اور کفر کا وکیل ہے جو بادی النظر میں اسلام کی حمایت میں کھڑا ہے۔ لیکن فی الحقیقت اپنے ”نشان“ معجزہ کے عدم ظہور سے اسلام کو عاجز و مغلوب ثابت کرنا چاہتا ہے اور درپردہ اس کی یہ خواہش ہے کہ کفر اسلام کو زخمی کرے اور باطل (معاذ اللہ) حق پر غالب ہو۔

صفحہ 578

قادیاں کے الہامی صاحب نے بھی عبداللہ آتھم کے مقابلہ میں یہی ذلیل حرکت کی اور اپنے رسالہ ”حجتہ الاسلام“ (صفحہ ۷) میں لکھا کہ ”اگر میرا نشان سچا نہ نکلا تو میں دین اسلام چھوڑ دوں گا یا دین مسیحی کی اشاعت کے لیے اپنی جائیداد کا نصف حصہ دے دوں گا“۔ لیکن ظاہر ہے کہ قادیانی صاحب پادری آتھم کے مقابلہ میں کوئی نشان نہ دکھلا سکے۔ ایسی حالت میں پادریوں کو حق پہنچتا تھا کہ وہ قادیانی مسیح سے علانیہ نصرانیت قبول کرنے یا تبلیغ مسیحیت کے لیے نصف جائیداد دینے کا مطالبہ کرتے اور باقاعدہ نالش کرکے اس کی نصف جائیداد پر قابض و دخیل ہو جاتے۔ لیکن آتھم کے متعلق قادیانی صاحب کی پیشین گوئی جھوٹی نکلنے پر وہ لوگ اس قدر آپے سے باہر ہوئے کہ قادیانی صاحب کی اس شرط اور پیش کش کو بالکل بھول گئے اور مسیح قادیاں اور مرزائیوں کا مذاق اڑانے کے سوا ان کو کوئی اور چیز سوجھائی نہ دی۔ حالانکہ مرزائیت کے حق میں مضحکہ اڑانے سے کہیں زیادہ یہ چیز پیام ہلاکت تھی کہ ”مسیح موعود“ صاحب سے عیسائی ہو جانے یا نصف جائیداد حوالے کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جاتا۔

یہاں یہ بتلا دینا بھی ضرور ہے کہ علم فقہ اور عقائد کے رو سے جو شخص زمانہ مستقبل میں کفر کا ارادہ کرے وہ فی الفور کافر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے۔ وکذا لونوی ان یکفر فی الاستقبال کفر فی الحال (شرح فقہ اکبر‘ مطبوعہ دہلی‘ صفحہ ۱۴۷) (جو شخص مستقبل میں کافر ہونے کا ارادہ کرے وہ فی الفور دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے)

پس اگر مرزا پہلے ہی سے فاقد الایمان نہ ہوتا تو کم از کم اس وقت قطعا" مرتد اور خارج از اسلام ہو گیا تھا۔ جب اس نے رسالہ حجتہ الاسلام صفحہ ۷ کے الفاظ مذکور سپرد قلم کئے تھے۔

باب ۶۶

مولانا بٹالوی کی پیشین گوئی کہ پادریوں کے مقابلہ

میں مرزائے قادیاں کو قطعا" شکست ہوگی

صفحہ 579

پادریوں کی تبلیغی سرگرمیوں کے جواب میں قصبہ جنڈیالہ ضلع امرتسر کے بعض مسلمان وقتاً فوقتاً دین مسیحی کی کمزوریاں دکھا دکھا کر پادریوں کے دانت کھٹے کرتے رہتے تھے۔ پادریوں نے تنگ آ کر مسلمانان جنڈیالہ کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔ ان ایام میں قادیانی صاحب اپنی صلیب شکنی کا بڑے زوروں سے ڈھنڈورہ پیٹ رہے تھے۔ اس لیے عوام الناس پر ان کے علمی تبحر کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ چنانچہ مسلمانان جنڈیالہ نے پادریوں کے مقابلہ میں قادیانی صاحب کو ہی اسلامی مناظر کی حیثیت سے کھڑا کرنے کا فیصلہ کیا۔

مولانا بٹالوی کا انتباہ

مولانا محمد حسین مرحوم بٹالوی کو اس انتخاب کا علم ہوا تو انہوں نے منشی اسمعیل کے نام خط بھیج کر مسلمانان جنڈیالہ کی اس خود رائی اور کج روی پر ملامت کی اور بتایا کہ ملحد و زندیق ہونے کے علاوہ مرزا میں اتنی علمی قابلیت نہیں ہے کہ وہ نصاریٰ کے مقابلہ سے عہدہ بر آ ہو سکے۔ منشی اسمعیل اور دوسرے مسلمانان جنڈیالہ جو خوش اعتقادی کے سنہری جال میں پھنسے ہوئے تھے، کہنے لگے کہ علمی استعداد کیسی ہی گھٹیا کیوں نہ ہو لیکن مرزا صاحب کم از کم پادریوں کو کوئی آسمانی نشانی (معجزہ) دکھا کر ضرور سرنگوں کر لیں گے۔ مولانا محمد حسین مرحوم نے فرمایا کہ مرزا غلام احمد مسلمانوں کا سینکڑوں روپیہ اس مباحثہ کے بہانہ سے برباد کرے گا اور اسے آسمانی نشان دکھانے میں سخت ناکامی ہوگی۔ اس ہزیمت و نامرادی سے خود تو شرمندہ نہ ہوگا مگر مسلمانان جنڈیالہ کو جو اسے نمائندہ کی حیثیت سے نصاریٰ کے مقابلہ میں کھڑا کریں گے یقیناً ذلیل و شرمسار ہونا پڑے گا۔

(اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۲۳)

مسلمانان جنڈیالہ کا احمقانہ اصرار

لیکن جنڈیالہ کے مسلمانوں نے مولوی صاحب کی ایک نہ سنی اور برابر قادیانی صاحب ہی کے کھڑا کرنے پر مصر رہے۔ بعض غیور مسلمانوں نے مسلمانان جنڈیالہ کو متنبہ کیا کہ "قادیانی انتہا درجہ کا ملحد و بے دین شخص ہے، اس کو اسلام کا نمائندہ بننے کا حق نہیں

صفحہ 580

پہنچتا"۔ منشی اسمعیل جنڈیالوی نے جواب دیا کہ "وہ کتنا ہی ملحد و بے دین کیوں نہ ہو مگر یہ امر یقینی ہے کہ وہ پادریوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گا اور ہر شخص دیکھ لے گا کہ مرزا صاحب مسیح کی بھیڑوں کے گلے پر کس طرح چھری چلاتے ہیں"۔

اس کے بعد مولانا بٹالوی نے رسالہ ”اشاعۃ السنۃ“ میں مسلمانان جنڈیالہ کو خطاب کرتے ہوئے لکھا ”اے میرے سیدھے سادھے بھائیو! اسلام کے نادان دوستو! قادیانی نے آج تک کس کس مخالفِ اسلام سے مباحثہ کر کے اس پر فتح حاصل کی؟ مخالفینِ اسلام کے کس اصول پر بحث کر کے اس کی تردید کی؟ اس نے وعدہ کیا تھا کہ کتاب ”براہین احمدیہ“ میں حقیقتِ اسلام کے تین سو دلائل پیش کروں گا۔ مسلمانوں کا دس ہزار روپیہ کھا گیا مگر اس کتاب میں ایک دلیل کی بھی تکمیل نہ کی۔ کتاب ”سرمہ چشمِ آریہ“ میں ایک آریہ سے مباحثہ کر کے دو پرچوں میں مباحثہ کو محدود کر دیا اور اس کو اپنے باقی ماندہ دلائل پیش کرنے اور اپنی طرف سے ان کی تردید کرنے کا موقع نہ دیا اور نہ خود آریوں کے عقلی دلائل بیان کر کے ان کے جوابات دیئے۔ اسی رسالے میں تناسخ کی بحث کو چھیڑا تو اس کو بھی ادھورا چھوڑ دیا۔ تحقیقی دلائل عقلیہ سے اس کا بھی استیصال نہ کر سکا۔ اشتہارات اور متفرق تحریرات میں ہمیشہ آسمانی نشان نمائی کا دعویٰ کیا‘ مگر شرمناک شرائط اور قیود پر قیود لگا کر اور لمبی چوڑی میعادیں مقرر کرنے کے باوجود آج تک کوئی نشان نہ دکھا سکا اور ہمیشہ مخالفینِ اسلام کو اسلام پر ہنسایا۔ اے میرے غفلت شعار بھائیو! ان حقائق پر غور کر کے مجھے بتاؤ کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے یا سراسر نقصان؟ اسلام کی عزت کا باعث ہے یا اسلام کی ہتک حرمت کر رہا ہے؟ ہاں ان سرگرمیوں سے اگر کسی کو فائدہ پہنچا ہے تو اس کی ذات خاص کو پہنچا ہے کہ مسلمانوں کا دس ہزار روپیہ سے زائد مال کھا کر اس بڑھاپے میں خوب موٹا تازہ ہو گیا ہے اور چونکہ ناواقف عوام میں وہ مسیح موعود مہدی مسعود‘ ولی اور پیغمبر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کا کفر بھی اب اسلام ہی سمجھا جاتا ہے۔ (رسالہ اشاعۃ

السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۲۱۰- ۲۱۱)

اہل جنڈیالہ کی ”خوش فہمی“

جب رسالہ اشاعۃ السنہ میں یہ مضمون شائع ہوا تو منشی اسمعیل نے مولانا بٹالوی سے

صفحہ 581

دریافت کیا کہ اگر قادیانی اس مناظرہ کا اہل نہیں ہے تو پھر دوسرا کون ہے، جو نصاریٰ کا کامیاب مقابلہ کر سکے؟ مولانا بٹالوی نے کہا کہ ایک نہیں بلکہ لاہور، امرتسر اور پنجاب کے دوسرے مقامات میں بہت سے علماء اسلام موجود ہیں جو پہلے سے تقریراً و تحریراً پادریوں سے مناظرے کر رہے ہیں۔ اگر پادریوں کو منظور ہو تو ان میں سے جس کسی سے چاہیں خط و کتابت کریں۔ پادریوں کو معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر علمائے اسلام اس چیلنج کو منظور کرتے ہیں۔ پادری صاحبان دور کیوں جاتے ہیں۔ سب سے پہلے اسی خادم دین (مولوی محمد حسین) کو اپنا مخاطب بنائیں اور شرائط مناظرہ طے کریں۔ (رسالہ اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۲۱۲)

چونکہ مسلمانان جنڈیالہ اس غلط فہمی کا شکار ہو رہے تھے کہ اگر مرزا صاحب مباحثہ میں پادریوں کو مغلوب نہ کر سکیں گے تو انبیاء و اولیاء کی طرح کوئی معجزہ اور کرامت دکھا کر ہی پادریوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔ اس لیے انہوں نے مولوی محمد حسین کی نصیحت پر عمل نہ کیا اور مرزا صاحب ہی کو اپنا نمائندہ مقرر کرنے پر مصر رہے۔ مولوی محمد حسین نے لکھا کہ اہل جنڈیالہ اس حماقت کے جال میں پھنسے ہیں کہ قادیانی کوئی نشان دکھا کر ہی پادریوں کو مطیع و منکوب کر سکے گا۔ حالانکہ ان کا یہ خیال محض غلط فہمی پر مبنی ہے۔ قادیانی کے ہاتھ سے کسی آسمانی نشان کا ظاہر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا سوئی کے سوراخ میں سے اونٹ کا نکل جانا۔ عادتاً محال ہے کیونکہ آسمانی نشان اہل اسلام کے سوا کوئی نہیں دکھا سکتا اور یہ حقیقت باتفاق جمہور علمائے ہندوستان مسلم ہے کہ قادیانی مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ پس اس کا آسمانی نشان دکھانا بالکل ناممکن ہے۔ اگر اس کو آسمانی نشان دکھانے کی قدرت ہوتی تو وہ آج تک لاکھوں کروڑوں ہندوؤں اور عیسائیوں کو مسلمان کر لیتا اور نہیں تو کم از کم ڈاکٹر جگن ناتھ سول سرجن ملازم ریاست جموں و کشمیر جیسے مدعیان تسلیم و تصدیق کو ہی کوئی نشان دکھا کر دائرہ اسلام میں لے آتا لیکن اس سے آج تک ایسا نہ ہو سکا۔ یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ آسمانی نشان اس کے بس کا روگ نہیں۔ اس کے پاس جو جوہر ہے وہ صرف لفاظی اور افترا پردازی ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۲۰۸)

الغرض مولانا بٹالوی کی پیشین گوئی جیسا کہ قارئین کرام کو آئندہ صفحات پر معلوم ہوگا

صفحہ 582

حرف بحرف پوری ہوئی اور قادیانی صاحب پادری آتھم کے مقابلہ میں سخت خائب و خاسر رہے۔

باب ۶۷

قادیانی صاحب کا مطالبہ کہ میرے مقابلہ میں کوئی

بڑا نامور پادری کھڑا کیا جائے

جب قادیانی صاحب کو معلوم ہوا کہ مسلمانان جنڈیالہ انہی کو اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے پادریوں کے مقابلہ میں کھڑا کریں گے تو انہوں نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو ایک خط لکھا جس کے اخیر میں مرقوم تھا کہ اس عاجز کے مقابلہ پر جو صاحب کھڑے ہوں وہ کوئی بزرگ نامی اور معزز انگریز پادری صاحبوں میں سے ہونے چاہئیں کیونکہ جو بات اس مقابلہ اور مباحثہ سے مقصود ہے اور جس کا اثر عوام پر ڈالنا مدنظر ہے وہ اسی امر پر موقوف ہے کہ فریقین اپنی اپنی قوم کے خواص میں سے ہوں۔

ہاں بطور تنزل اور اتمام حجت مجھے یہ بھی منظور ہے کہ اس مقابلہ کے لیے پادری عماد الدین صاحب یا پادری ٹھاکر داس صاحب یا مسٹر عبداللہ آتھم صاحب عیسائیوں کی طرف سے منتخب ہوں۔ مگر واضح رہے کہ یوں تو ایک مدت دراز سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا جھگڑا چلا آتا ہے اور بہت سے مباحثات ہوئے اور فریقین کی طرف سے بکثرت کتابیں لکھی گئیں اور درحقیقت علمائے اسلام نے تمام تر صفائی سے ثابت کر دیا کہ جو کچھ قرآن کریم پر اعتراض کئے گئے ہیں، وہ دوسرے رنگ میں توریت پر ہیں اور جو کچھ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں نکتہ چینی ہوئی، وہ دوسرے پیرایہ میں تمام انبیاء کی شان میں نکتہ چینی ہوئی، جس سے حضرت مسیح بھی باہر نہیں۔ بلکہ ایسی نکتہ چینیوں کی بنا پر خدا تعالیٰ بھی مورد اعتراض ٹھہرتا ہے۔ سو یہ بحث زندہ مذہب یا مردہ مذہب کی تنقیح کے بارہ میں ہوگی اور دیکھا جاوے گا کہ جن روحانی علامات کا مذہب اور کتاب نے دعویٰ کیا ہے وہ اب بھی

صفحہ 583

اس میں پائی جاتی ہیں کہ نہیں اور مناسب ہو گا کہ مقام بحث لاہور یا امرتسر ہو۔ (حجتہ

الاسلام‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۴۱-۱۷)

باب ۶۸

پادری کلارک کا بیان کہ کوئی مرتد شخص اسلام

کا نمائندہ نہیں بن سکتا

مرزا صاحب کی چٹھی کے متعلق پادری ہنری مارٹن کلارک نے ۲؍ مئی ۱۸۹۳ء کو ایک اشتہار میں جو مسیحی جریدہ ”نور افشاں“ لدھیانہ میں بطور ضمیمہ شائع ہوا لکھا کہ ”چونکہ علمائے اسلام مرزا غلام احمد کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دیتے ہیں۔ اس لیے ہم ان کو نمائندہ اسلام کی حیثیت سے اپنے مقابلہ پر آنے کی اجازت نہیں دے سکتے“۔ اس اشتہار کے جواب میں قادیانی صاحب نے اپنے مسلمان ثابت کرنے کی کوشش میں لکھا کہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے اشتہار ۲؍ مئی ۱۸۹۳ء میں جو بطور ضمیمہ نور افشاں لدھیانہ میں شائع ہوا ہے‘ شیخ بٹالوی (مولوی محمد حسین) کی کتاب ”اشاعۃ السنہ“ سے یہ دھوکا کھایا ہے یا لوگوں کو دھوکا دینا چاہا ہے کہ گویا مستند علماء اسلام اس عاجز کو کافر قرار دیتے ہیں۔ اس لیے عام و خاص کی اطلاع کے لیے لکھا جاتا ہے کہ تمام مستند علماء اسلام میرے ساتھ ہیں اور اس وقت چالیس کے قریب ہیں اور فریق ثانی کے ساتھ اکثر ایسے لوگ ہیں جو صرف نام کے مولوی اور علمی اور عملی کمالات سے تہی دست ہیں۔ ماسوا اس کے ڈاکٹر صاحب یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام کے مستند علماء کا تخت گاہ حرمین شریفین ہے۔ زادھما مجدا و شرفا و برکتہ اور اسلام میں یہی بلادِ عرب خاص کرکے مکہ و مدینہ‘ دین کا گھر سمجھے جاتے ہیں‘ سو ان متبرک مقامات کے جگر گوشہ اور فاضل مستند بھی‘ اس عاجز کے ساتھ شامل ہوتے جاتے ہیں ۔ (سچائی کا اظہار‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۴)

صفحہ 584

پادری کلارک کا جواب

اس کے جواب میں ڈاکٹر مارٹن کلارک نے ۴ جون ۱۸۹۳ء کے نور افشاں لدھیانہ میں لکھا:

مشفق و مہربان مرزا صاحب

چونکہ اسلام کے بڑے مستند علماء آپ کو کسی اسلامی فرقے میں داخل نہیں کرتے بلکہ دائرہ اسلام ہی سے‘ جس میں تمام اسلامی فرقے شامل ہیں‘ خارج کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ اسلام کے مقتدا ہو کر اس مباحثہ میں نہیں آسکتے۔ جنڈیالہ کے مسلمانوں نے آپ کو پیش کیا لیکن جیسی ان کی عقل ہے اس کو آپ جانتے ہیں چنانچہ آپ خود بھی لکھ چکے ہیں۔ اس لحاظ سے تو میں اہل اسلام کی طرف سے آپ کو قبول نہیں کر سکتا۔ تاہم جس حال میں کہ آپ اپنے کو مسلمان قرار دیتے ہوئے مباحثہ پر آمادہ ہیں اور قرآن کے رو سے کلام کریں گے‘ آپ کو مباحثہ کی اجازت دی جاتی ہے۔ (ڈاکٹر ایچ‘ ایم کلارک‘ میڈیکل

مشنری امرتسر) (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۲۰۷)

مرزائی تعلیاں

قادیانی صاحب نے اس کے جواب میں لکھا کہ ”یہ وقت کیسا مبارک وقت ہے کہ میں آپ کے اس مقدس جنگ کے لیے تیار ہو کر اپنے چند عزیز دوست آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کے لیے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرماویں گے۔ جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام تھا مجھ کو ملا اور میں نے عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے تو میری روح اسی وقت بول اٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔ وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے‘ وہ اب پوشیدہ رہنا نہیں چاہتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اب وہ زور دار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا اور اپنی طرف کھینچ لائے گا۔ لیکن اس کے نکلنے کے لیے کوئی تقریب چاہیے تھی۔ سو آپ صاحبوں کا مسلمانوں کو مقابلہ کے لیے بلانا نہایت مبارک اور نیک تقریب

صفحہ 585

ہے۔ میں آپ صاحبوں کے مقابلہ کے لیے دس برس کا پیاسا ہوں اور کئی ہزار خط اردو‘ انگریزی اسی پیاس کے جوش سے آپ جیسے معزز پادری صاحبان کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں۔

(رسالہ حجۃ الاسلام مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۲۹)

باب ۶۹

پادری آتھم کے مقابلہ میں قادیانی

ملہم کی ہزیمت و رسوائی

قادیانی صاحب نے حکیم نور الدین‘ شیخ رحمت اللہ‘ حافظ محمد یوسف ضلع دار (جو اس وقت تک مرزائی تھے) منشی عبدالحق اکاؤنٹنٹ‘ (جو اس وقت تک مرزائیت کے جال میں پھنسے تھے) منشی غلام قادر فصیح سیالکوٹی (جو اس وقت تک دائرہ مرزائیت میں داخل تھے) اور دس دوسرے حواریوں کو شرائط مناظرہ طے کرنے کے لیے قادیاں سے امرتسر بھیجا۔ ۲۴ اپریل کو مندرجہ ذیل شرطیں طے پائیں۔

ہوں گے۔

اور ڈپٹی عبداللہ آتھم جواب دیں گے۔ پھر چھ دن ڈپٹی عبداللہ آتھم اسلام کے عقائد و تعلیمات پر نکتہ چینی کریں گے اور مرزا صاحب مجیب ہوں گے۔

اجلاس میں شامل کر سکیں گے۔ (تبلیغ رسالت‘ جلد ۳‘ صفحہ ۳۷‘ حجۃ الاسلام

مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۳۲)

صفحہ 586

یہ اجتماع ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کی کوٹھی واقع امرتسر میں منعقد ہوا۔ قادیانی صاحب کی طرف سے منشی غلام قادر فصیح نائب صدر بلدیہ سیالکوٹ اور عیسائیوں کی طرف سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک میر مجلس قرار پائے۔ قادیانی صاحب کے معاون حکیم نور الدین، مولوی محمد احسن امروہی اور شیخ اللہ دیا تھے اور پادری ٹھاکر داس اور پادری ٹامس ہاول مسٹر عبداللہ آتھم کے مددگار تھے۔ یہ مناظرہ ۲۲؍ مئی سے شروع ہو کر ۵؍ جون ۱۸۹۳ء تک یعنی پندرہ دن تک ہوتا رہا۔ چونکہ عیسائی مناظر کو تپ دق کا عارضہ تھا اور ۲۹؍ مئی کو اس کی طبیعت زیادہ علیل ہو گئی تھی اس لیے وہ ایک دن نہ آسکا اور اس کی جگہ پادری کلارک نے جوابات لکھوائے۔

غرض پندرہ دن تک جانبین میں نوک جھونک ہوتی رہی۔ مرزائیوں نے اس مناظرہ کی روداد ”جنگ مقدس“ کے نام سے شائع کی تھی۔ اس رسالہ کے مطالعہ سے بصد افسوس محسوس ہوتا ہے کہ عیسائی مینڈھے کی ٹکریں اپنے حریف کے مقابلہ میں زیادہ زبردست ہیں اور بدقسمتی سے جس شخص نے اسلام کی نمائندگی کا پرفریب جامہ پہن رکھا ہے وہ سخت نحیف و لاغر ہے جس میں مقابلہ کی سکت نہیں۔ گو قادیانی صاحب دین حق کے خود ساختہ نمائندہ اور دلائل حقہ کے اسلحہ سے مسلح تھے، تاہم انہوں نے اپنے بے بہرے دلائل اور کمزور جوابات سے دین حق کو نیچا دکھا دیا۔ اگر ان کی جگہ کوئی لائق مسلمان مناظر ہوتا تو آتھم کو قدر عافیت معلوم ہو جاتی۔

دوران مناظرہ میں ایک دن قادیانی صاحب نے کہا تھا کہ میں ہی وہ مسیح ہوں جس کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ دوسرے دن عیسائیوں نے ایک اندھے ایک بہرے اور ایک لنگڑے کو جلسہ گاہ میں لاکر ایک طرف بٹھا دیا اور آتھم نے قادیانی صاحب سے کہا کہ آپ کو مسیح ہونے کا دعویٰ ہے، لیجئے یہ اندھے، بہرے اور لنگڑے ہیں۔ مسیح کی طرح ان کو ہاتھ لگا کر اچھا کر دیجئے۔ قادیانی صاحب نے حیلے حوالے کر کے بہزار مشکل اپنی جان بچائی۔ (ازالۃ المرزا قادیانی مولفہ پادری ٹھاکر داس طبع ۱۹۰۳ء، صفحہ ۳۱)

صفحہ 587

باب ۷۰

مباحثۂ امرتسر پر علمائے اسلام کا تبصرہ

مسٹر عبداللہ آتھم پنشن خوار (مرتد عیسائی) اور مرزا غلام احمد صاحب میں جو مناظرہ ہوا اس پر علمائے اسلام نے حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا:

مولوی محمد حسین بٹالوی

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا کہ اس مناظرہ کا کوئی مفید نتیجہ برآمد نہ ہوا کیونکہ فریقین اپنی اپنی فتح کا ڈنکا بجا رہے ہیں۔ اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام خدا یا ابن اللہ نہیں بلکہ صرف رسول ہیں۔ اس دعویٰ کو اگر ایک کم سن طالب علم بھی دلائل عقلیہ و نقلیہ کے ساتھ بڑے تجربہ کار اور بوڑھے پادریوں کے مقابلہ میں پیش کرے تو ان کو لاجواب اور عاجز کر سکتا ہے مگر نادان قادیانی نے اس دعویٰ کا ثبوت پیش کرتے وقت قرآن پاک کے دلائل نقلیہ اور ادلہ عقلیہ سے کام نہ لیا بلکہ اپنے ملحدانہ خیالات کو پیش کر کے انہی میں الجھ کے رہ گیا۔ اور اس کے جواب میں اپنے خصم کو یہ موقع دیا کہ اپنی محرف کتابوں میں سے جو رطب و یابس چاہے پیش کرے۔ قادیانی نے اپنے جو ملحدانہ خیالات پیش کئے ان سے قادیانی کے بجائے الٹا اس کے خصم آتھم کو فائدہ پہنچ گیا۔ آتھم جب چاہتا تھا عقلی اعتراضات کرنے لگتا تھا۔ اس طرح نہ تو وہ بحث کو ختم ہونے دیتا تھا اور نہ اپنے عجز کا معترف ہوتا تھا۔ آتھم کی طرف سے کفارۂ مسیح، جہاد، جبر و اختیار کے متعلق جو سوالات پیش ہوئے وہ ایسے کمزور اور بے ہودہ پیرایہ میں تھے کہ کتب اسلامی کا ایک طالب علم بھی، جسے اسلامی کتابوں پر تھوڑا بہت بھی عبور حاصل ہے، عیسائیوں کو لاجواب کر سکتا ہے لیکن نادان قادیانی سے ان سوالات کے جواب میں بھی کچھ نہ بن پڑا حالانکہ وہ کتب اسلامی کی طرف رجوع کر کے بہ سہولت تمام نہایت مسکت جواب دے سکتا تھا اور نہیں تو اگر وہ رسالہ اشاعۃ السنہ ہی کی طرف، جو اوائل اجزاء سے اس کے پاس جا رہا ہے اور وہ اس سے ہمیشہ منتفع ہوتا ہے رجوع کرتا، تو اس کی جلد ۶ نمبر اول

صفحہ 588

میں کفارۂ مسیح کا جواب اور جلد ۱۲ کے پہلے اور مابعد کے نمبروں میں جبر و اختیار کا جواب اور جلد ۹‘ نمبر ۹ میں اعتراض جہاد کے جوابات اس اسلوب سے درج پاتا جس سے وہ آناً فاناً” عیسائیوں کا ناطقہ بند کر سکتا تھا۔ غرض قادیانی نے اس مناظرہ سے اسلام کے دامن عزت پر ایک بد نما دھبہ لگا دیا ہے۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۴۱۳- ۴۱۵)

مولوی تاج الدین احمد صاحب لاہوری

مولوی تاج الدین احمد صاحب نے‘ جو لاہور کے ایک مشہور علمی خاندان کی یادگار تھے اور لاہور میں پیشہ وکالت کرتے تھے‘ کہا کہ مرزا غلام احمد نے مسلمانوں کی اس عزت کو سخت ٹھیس لگائی جو حافظ ولی اللہ مرحوم کے وقت سے پادریوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو حاصل تھی۔ حافظ ولی اللہ مرحوم نے پادریوں کو ہمیشہ مغلوب اور لاجواب کر کے اسلام کی دھاک بٹھا رکھی تھی لیکن مرزا غلام احمد نے اس رعب کو یکسر دور کر دیا۔ (ایضاً)

مولوی سید احمد علی واعظ دہلوی

مولوی سید احمد علی صاحب واعظ دہلوی مقیم لاہور نے مرزا غلام احمد کے خلاف سخت نفرت کا اظہار کیا اور فرمایا:

”بائیبل کی ان آیات کے مقابلہ میں‘ جو آتھم نے الوہیت مسیح کے متعلق پیش کیں‘ مرزا سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ جس طرح مرزا نے دعویٰ الہام کو آسان سمجھ رکھا ہے اسی طرح اس نے اہل کتاب کا مقابلہ بھی بچوں کا کھیل خیال کیا تھا۔ جب مرزا ادنیٰ قسم کے مسلمان مناظروں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتا تو وہ غیر اسلامی ادیان پر (جن کے لٹریچر پر اسے عبور نہیں) کس طرح غالب آ سکتا ہے۔ نصاریٰ سے مناظرہ کرنا مرزا جیسے لوگوں کے حصہ میں نہیں آیا۔ یہ سلطان المناظرین مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی اور ان کے شاگردوں کا کام ہے۔ مرزا غریب مناظرہ کرنا کیا جانے“۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۴۱۵)

صفحہ 589

مولوی غلام نبی امرتسری

مولوی غلام نبی صاحب امرتسری نے، جو نصاریٰ کے مقابلہ میں مولانا رحمتہ اللہ صاحب مہاجر کے نعم البدل تھے اور مولوی ابو منصور دہلوی کی طرح امام فن مناظرہ کہلاتے تھے، مناظرہ آتھم و قادیانی کے متعلق فرمایا کہ میں مباحثہ کے پہلے جلسہ میں شریک ہوا تھا، مجھے مرزا غلام احمد کا بیان پسند نہ آیا اس لیے دوبارہ شریک اجلاس نہ ہوا۔ مرزا غلام احمد نے یہ غلطی کی کہ عیسائی مناظر کو بائبل سے الوہیت مسیح کی آیات پیش کرنے کا موقع دے دیا اور اس پر طرہ یہ کہ ان آیات کے مقابلہ میں یہ ثابت نہ کیا کہ یہ آیات حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں نہیں ہیں اور ان سے الوہیت مسیح کسی طرح ثابت نہیں ہوتی۔

(اشاعۃ السنۃ، جلد ۱۶، صفحہ ۲۲۱)

حکیم نور الدین

متذکرہ صدر تبصرے تو علمائے اسلام کی طرف سے تھے، اب خود مرزا غلام احمد کے پیر و مرشد اور مرزائیت گر اور الحاد و نیچریت کے نفس ناطقہ حکیم نور الدین بھیروی کا بیان سنو۔ انہوں نے بھی الہامی صاحب کے مباحثہ کو پسند نہ کیا۔ مولانا بٹالوی مرحوم لکھتے ہیں کہ حکیم نور الدین کے ایک دوست نے، جو میرا بھی دوست ہے، بیان کیا کہ مرزا کو عیسائیوں کی کتابوں پر پورا عبور نہیں ہے۔ اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو ایک دم عیسائی مناظر کا ناطقہ بند کر دیتا۔ مولانا محمد حسین نے یہ بھی لکھا کہ ”اگر حکیم نور الدین اس بیان کی صحت سے انکار کریں تو ہم اہل اسلام کے ایک عام مجمع میں اپنے اس دوست کو پیش کر دیں گے جو علیٰ رؤس الاشہاد حکیم صاحب کے اس ارشاد کا اعلان کریں گے“۔ (اشاعۃ السنۃ، جلد ۱۶، صفحہ ۱۶)

مرزائی شکوہ سنجی

بہر حال اس مناظرہ کے بعد علمی حلقوں میں مرزائیت کی خوب رسوائی ہوئی اور ہر

صفحہ 590

شخص نے دیکھ لیا کہ صلیب شکنی کے بلند بانگ دعووں کے باوجود حضرت مسیح موعود صاحب کتنی قابلیت کے مالک اور تعلق باللہ کے کس مقام پر ہیں؟ اس مناظرہ کے بعد قادیانی صاحب نے اپنے رسالہ انوار میں، جسے مولانا محمد حسین مرحوم بے انوار لکھا کرتے تھے، ان مسلمانوں کا سخت شکوہ کیا، جنہوں نے آتھم کے مقابلہ میں مرزائی ہزیمت کو تسلیم کیا۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ”ہمیں آہ کھینچ کر کہنا پڑا کہ مخالف مولویوں نے مجھ کو دروغ گو ثابت کرنے کے لیے اللہ اور رسول کی عزت کا ذرا خیال نہ کیا اور میرا مغلوب ہونا اس بحث میں تسلیم کر لیا اور اس صریح نتیجہ سے کچھ بھی نہ ڈرے جو مغلوب ہونے کی حالت میں فریق مخالف کے ہاتھ میں آتا ہے۔ اور جب میاں ثناء اللہ و سعد اللہ و عبدالحق وغیرہ نے عیسائیوں کا غالب ہونا مان لیا تو پھر کیوں یہ لوگ اپنے اشتہاروں میں عیسائیوں کے حال پر افسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کی تکذیب کے لیے یہ حجت قرار دی جب کہ بحث اسلام اور عیسائیت کے صدق و کذب کی تھی، نہ میرے کسی خاص عقیدہ کی تو نعوذ باللہ اگر میں مغلوب ہوں تو پھر دشمن کے لیے حق پیدا ہو گیا کہ اپنی عیسائیت کے صدق کا دعویٰ کرے“۔ (رسالہ انوار الاسلام، مولفہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۲۴)

لیکن قادیانی صاحب کا یہ شکوہ بے جا ہے کیونکہ جب کسی جماعت کا مناظر دشمن سے مغلوب ہو جاتا ہے تو اس جماعت کے افراد بھی عالم تاسف میں کہا کرتے ہیں کہ ہمارا مناظر ہار گیا اور اس نے اپنی نالائقی سے ہمارے مذہب حق کو بٹہ لگایا۔ اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ انہوں نے اپنے مناظر کی ہزیمت کو کبھی اپنے مذہب کے کذب اور اپنے مخالف مذہب کے صدق کا نتیجہ قرار دیا ہو۔ مرزائی ہزیمت کا ایک نہایت دل فگار پہلو یہ تھا کہ ایک شخص محمد یوسف خاں، جو ایک معزز آدمی اور پرہیزگار، دیندار اور مجاہد سمجھا جاتا تھا اور مباحثہ آتھم کا سیکرٹری اور ایلچی رہا تھا، دین حق سے منحرف ہو کر عیسائی ہو گیا۔ (کتاب البریہ، مولفہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۱۴۳) اسی طرح قادیانی ہزیمت و رسوائی سے متاثر ہو کر بعض دوسرے لوگ بھی حلقہ مسیحیت میں داخل ہوئے جس کی تفصیل ان شاء اللہ العزیز اسی جلد کے کسی آئندہ باب میں سپرد قلم ہو گی۔

باب ۷۱

صفحہ 591

ڈپٹی عبداللہ آتھم کی ہلاکت کی پیشین گوئی

سورۃ بقرہ کے پینتیسویں رکوع میں نمرود سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے مناظرہ کا تذکرہ ہے۔ سورۃ آل عمران کے چھٹے رکوع میں نجران کے نصاریٰ سے حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا مباحثہ مذکور ہے اور سورۂ شعراء کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں فرعون مصر اور حضرت موسیٰ کلیم علیہ السلام کے مناظرہ کی یاد و تذکار ہے۔ ان آیات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے برگزیدہ رسول‘ ایک آدھ بات ہی میں اپنے حریفوں کو مغلوب و مقہور کر لیتے تھے اور کسی لمبے چوڑے مناظرہ کی نوبت نہ آتی تھی کیونکہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام نصرت الہی سے مؤید تھے۔ اس لیے خصم کو مجال گفتار اور یاراۓ لب کشائی نہ ہوتا تھا۔ لیکن ہمارے خود ساختہ مسیح موعود صاحب باوجود اس لن ترانی کے کہ تمام بلندیاں میری ذات پر ختم ہو گئی ہیں‘ ایک ادنیٰ پادری سے جس کی تمام عمر سرکاری ملازمت میں بسر ہوئی تھی‘ پندرہ دن کی طویل مدت تک ٹکریں لڑتے رہے پھر بھی اس کو زور استدلال سے مغلوب نہ کر سکے اور شہرت و نمود کی جگہ ذلت و رسوائی سے ہمکنار ہونا پڑا۔ آخر اس رسوائی کا داغ مٹانے کے لیے حضرت مسیح موعود صاحب نے پندرہویں دن مناظرہ کے اختتام پر ایک عدد پیشین گوئی کی پھلجڑی چھوڑ کر بصد مشکل مناظرے سے اپنی جان چھڑائی۔ اس پیشین گوئی کے الفاظ یہ تھے:

”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں۔ تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان (عیسیٰ علیہ السلام) کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی۔

صفحہ 592

اس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے“۔

(جنگ مقدس‘ صفحہ ۱۸۸)

اس کے بعد قادیانی صاحب نے مباحثہ امرتسر کی غرض و غایت بتائی ہے‘ چنانچہ فرماتے ہیں:

”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں‘ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لیے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق‘ جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے‘ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے‘ روسیاہ کیا جاوے‘ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے‘ مجھ کو پھانسی دیا جاوے‘ ہر ایک بات کے لیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا‘ ضرور کرے گا‘ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی“۔ (جنگ مقدس‘ صفحہ ۱۸۸)

کوہ نور کا تبصرہ

ان ایام میں ”کوہ نور“ نام ایک معزز جریدہ لاہور سے نکلتا تھا۔ اس نے قادیانی صاحب کی اس خوفناک پیشین گوئی کے متعلق لکھا:

”مرزا صاحب نے اعلان کیا ہے کہ اگر یہ پیشین گوئی غلط نکلی تو میرے گلے میں رسہ ڈال کر تشہیر کیا جائے اور پھانسی کے تختے پر چڑھایا جائے لیکن مرزا صاحب کو یقین ہے کہ انگریزی عمل داری میں کوئی شخص ان کے گلے میں رسہ ڈالنے نہیں آئے گا‘ پھانسی کا تو کیا ذکر ہے لیکن مرزا صاحب کم از کم تخویف مجرمانہ کے تو ضرور مجرم ہوئے ہیں اور پادری آتھم ملک پر احسان کریں گے۔ اگر وہ اس خانہ ساز ملہم کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں گے۔ واقعی یہ نہایت

صفحہ 593

غیر مستحسن رویہ ہے کہ ایک شخص کو کامل آزادی دے دی جائے کہ وہ خوفناک پیشین گوئیوں سے لوگوں کو ڈراتا رہے۔ یہ انگریزی عمل داری کی برکت ہے کہ مہدی اور مسیح تو درکنار اگر کوئی نعوذ باللہ خدا بھی بن بیٹھے تو کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ روم اور ایران تو اسلامی سلطنتیں ہیں‘ روسی عمل داری میں بھی ایسے مدعیوں کو سائی بیریا کے صحرا میں بھیج دیا جاتا ہے"۔

(اشاعة السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۲۸)

ایک بٹالوی بزرگ کا بیان

ایک بٹالوی بزرگ نے‘ جو پیشین گوئی کے ایام میں جوان تھے‘ راقم الحروف سے بیان کیا کہ جب ”الہامی صاحب مباحثہ سے فراغت پا کر قادیاں پہنچے تو اپنے مریدوں کے نام حکم نافذ کیا کہ اس پیشین گوئی کو خوب مشتہر کریں۔ انہوں نے اس کا نہایت زبردست پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ مرزائیوں کی طرف سے جو اشتہارات تقسیم ہوئے ان کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہو کر لاکھوں تک پہنچ گئی۔ مرزائیوں نے ملک کے طول و عرض میں اتنا اودھم مچایا کہ ان کے پروپیگنڈا کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ مرزائی یہ کہہ کر بھی مسلمانوں کو مرتد کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اگر مرزا صاحب سچے نہ ہوتے تو وہ اس طمطراق اور اس وثوق کامل کے ساتھ پیشین گوئی نہیں کر سکتے تھے"۔ حافظ محمد یوسف ضلع دار نہر اس وقت تک مرزائی جال میں پھنسے ہوئے تھے۔ وہ قادیاں پہنچے اور مرزا صاحب سے بصد خلوص کہنے لگے کہ آتھم کے مرنے پر زیادہ زور دینا کسی طرح قرین مصلحت نہیں کیونکہ پیشین گوئی کا انجام علّام الغیوب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ مرزا صاحب نے فرمایا ”میں کیا کروں‘ حضرت علّام الغیوب کی طرف سے بار بار یہی حکم ہو رہا ہے کہ آتھم کی موت کا خوب اعلان کرو اور ارشاد ہوتا ہے کہ اول تو پہلے مرے گا ورنہ پندرہ مہینے کے آخری دِن کا آفتاب اس وقت تک غروب نہیں ہو گا جب تک آتھم مر نہ جائے"۔

باب ۷۲

صفحہ 594

پیشین گوئی کی جرات کا طبی راز

گو مناظرۂ امرتسر کے ابتدائی ایام میں جلسہ کی حاضری سو سے متجاوز نہ ہوتی تھی لیکن مباحثہ کے آخری دن سینکڑوں کا مجمع ہو گیا تھا۔ اس پیشین گوئی کی ظاہری شان و شوکت نے عوام پر ساحرانہ اثر کیا۔ الہامی صاحب نے جس تحدی اور طمطراق سے پیش گوئی کی اس سے عامۃ الناس کی کشتی ایمان ڈگمگا گئی اور اس دن امرتسر میں سینکڑوں آدمی اپنی حماقت سے یہ یقین کر کے مرتد ہو گئے کہ اگر مرزا صاحب مامور من اللہ اور موید بوحی نہ ہوتے تو اس زور شور سے پیشین گوئی کی جرات نہ کرتے لیکن ان حرمان نصیبوں کو چاہیے تھا کہ چندے صبر کرتے اور اگر قادیانی صاحب کے صدق و کذب کے متعلق علمائے حق سے استصواب کرنے کی توفیق ارزانی نہیں ہوئی تھی تو کم از کم اتنا دیکھ لیتے کہ ان کی پیشین گوئی سچی بھی نکلتی ہے یا نہیں؟ حالانکہ اگر سچی نکلتی تو بھی اس میں قادیانی صاحب کا کوئی روحانی کمال نہ تھا بلکہ اس کی وہی حیثیت تھی جیسے مثلاً کسی پیر فانی سے کہو کہ تم دس سال کے اندر اندر آغوش لحد میں جا سوؤ گے تو یقیناً تمہاری پیشین گوئی سچی نکلے گی۔ ایسی حالت میں پیشین گوئی پر اترانا تمہاری حماقت کا نشان ہوگا۔ کیونکہ یہ پیشین گوئی دراصل تمہاری نہیں بلکہ اس کے کبر سن کی ہے جو ہر وقت بہ زبان حال اس کے مرنے کا اعلان کر رہا ہے۔

آتھم صاحب، جن کے سوا سال میں ہلاک ہونے کی پیش گوئی کی گئی، وہ بھی ایک ضعیف العمر بیمار تھے اور ہرچند کہ اس رنجور و سال خوردہ شخص کی موت کے تمام قرائن موجود تھے لیکن خدائے غیور کو قادیانی ملہم کی رسوائی منظور تھی، وہ تمام قرائن حسب مراد نتیجہ خیز نہ ہوسکے۔ ہاں اگر لیکھرام کی طرح کوئی طویل مدت مقرر کی جاتی تو یہ وار بھی خالی نہ جاتا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ آتھم صاحب کو تپ دق کا عارضہ تھا اور مرض نے ان پر پوری طرح تسلط جما رکھا تھا۔ دوران مناظرہ میں وہ ایک دن شدت مرض کی وجہ سے کسی طرح مناظرہ کرنے کے قابل نہ رہے، اس لیے ان کی جگہ پادری مارٹن کلارک نے جوابات لکھوائے تھے مگر اس روز آخری وقت میں آتھم صاحب بھی مناظرہ کا رنگ دیکھنے کی غرض سے تھوڑی دیر کے لیے مجلس مناظرہ میں آگئے۔ اس مختصر سے قیام میں انہیں بار بار کھانسی اٹھتی رہی۔ حکیم نور الدین، جو ایک شہرۂ آفاق حاذق طبیب تھے، ان کے قریب ہی

صفحہ 595

بیٹھے تھے۔ انہوں نے آتھم کو دیکھا تو یقین ہوا کہ ان کا مرض اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ یہ پانچ چھ مہینہ سے زیادہ عرصہ جان بر نہ ہو سکیں گے۔ حکیم صاحب نے جائے قیام پر پہنچ کر الہامی صاحب کو بتایا کہ آتھم قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے اور علامات مرض سے پایا جاتا ہے کہ وہ پانچ چھ مہینہ کے اندر نہنگ موت کا شکار ہو جائے گا۔

یہ سن کر الہامی صاحب کی باچھیں کھل گئیں اور دیدۂ دل حصول مقصد کی امید میں روشن ہوا۔ اب انہوں نے حکیم نور الدین کے استصواب رائے سے پیشین گوئی کرنے کا عزم صمیم کر لیا۔ آخر فیصلہ ہوا کہ مناظرہ کے آخری دن بڑے طمطراق سے اس کے مرنے کی پیشین گوئی کر دی جائے۔ لیکن پانچ چھ مہینہ کے طبی تخمینہ کے بجائے مدت مرگ احتیاطاً سوا سال تک بڑھا دی گئی۔ مگر اس پیر فرتوت مریض کی سخت جانی دیکھو کہ اس نے مختصر سے طبی تخمینہ کے بجائے ڈھائی تین سال سے پہلے کسی طرح مرنا قبول نہ کیا۔ حالانکہ عیسائیوں کو بھی اس کی بہت کم امید تھی کہ یہ پیر فانی، جس پر ایک مہلک مرض حملہ آور ہے، سوا سال تک جان بر ہو سکے گا۔ بلکہ جس طرح حکیم نور الدین نے آتھم کی مدت حیات پانچ چھ مہینہ تجویز کی تھی، اسی طرح ایک ڈاکٹر کی بھی قطعی رائے تھی کہ یہ چھ مہینہ کے اندر مر جائے گا۔ خود قادیانی صاحب کے ایک بیان سے بھی اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے۔ چنانچہ لکھا کہ ”یہ جھوٹی تاویلیں کرنا کہ ڈاکٹر کی قطعی رائے ہے کہ چھ مہینہ کے اندر آتھم مر جائے گا“۔ ایسے لوگوں کا کام ہے جنہوں نے مذہبی ہار جیت کے خیال سے پہلے ہی جھوٹی تاویلیں شروع کر دیں۔

(رسالہ ضیاء الحق، صفحہ ۲۴)

باب ۷۲

پیشین گوئی پوری کرنے کے لئے

آتھم کے ہلاک کرنے کی تدبیریں

اوائل میں تو قادیانی صاحب نہایت سکون قلب اور اطمینان کے ساتھ اس بات کے

صفحہ 596

منتظر رہے کہ آتھم کا مہلک مرض اسے خود ہی آغوش لحد کے حوالے کر دے گا۔ لیکن جب آٹھ نو مہینے گزر چکے اور شبانہ روز کے مسلسل انتظار کے باوجود کہیں سے آتھم کے طعمہ اجل ہونے کی اطلاع نہ آئی تو حضرت مسیح موعود کے دل پر اضطراب و بے چینی کی بجلیاں گرنے لگیں اور انہیں یہ خطرہ محسوس ہوا کہ یوں ہاتھ پاؤں توڑ کر پڑے رہنے سے کہیں باقی ماندہ مدت بھی بے نیل مرام نہ گزر جائے۔ آخر سمند تدابیر پر سوار ہو کر میدان عمل میں ترکتاز کرنے کا عزم فرمایا۔ پہلے تو روحانی تدابیر سے عقدہ کشائی چاہی۔ چنانچہ عملیات کی بازاری کتابیں نکال نکال کر ان میں وہ وظائف و اعمال تلاش کئے جو عوام میں دشمن کی ہلاکت کے لیے معمول بہا ہیں اور ان پر عمل پیرا رہے۔ لیکن جب یہ وظائف آتھم کی جاں ستانی سے ہر طرح قاصر رہے تو پھر جسمانی اور مادی تدبیریں شروع کر دیں۔

چنانچہ مسیحی جریدہ ”نور افشاں“ لدھیانہ نے ۴؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کی اشاعت میں لکھا: ”امرتسر میں ڈپٹی عبداللہ آتھم کے ہلاک کرنے کے لیے تین دفعہ حملے کئے گئے۔ چونکہ ان کا امرتسر میں رہنا باعث اندیشہ تھا، اس لیے ڈپٹی آتھم صاحب ۳۰؍ اپریل ۱۸۹۴ء کو امرتسر سے جنڈیالہ تشریف لے گئے اور وہاں سے لدھیانہ کو چلے گئے۔ لدھیانہ میں ایک شخص برچھی سے ڈپٹی صاحب کا کام تمام کرنا چاہتا تھا۔ یہاں کچھ دن رہ کر آتھم صاحب فیروز پور میں، جہاں ان کی لڑکی اور داماد قیام پذیر تھے، رونق افروز ہوئے۔ اس جگہ ان پر چار حملے کئے گئے۔ دو دفعہ بندوق سے گولی چلی۔ ایک دفعہ ایک شخص گنڈاسہ لئے ہوئے دکھائی دیا۔ دو دفعہ تین تین آدمی رات کے وقت قریب کے کھیتوں میں چھپے ہوئے معلوم ہوئے جو پولیس کے تعاقب کرنے سے مفرور ہو گئے۔ ایک مرتبہ رات کے وقت تین آدمی کوٹھی کا دروازہ توڑتے پائے گئے۔“

(اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۱۱۵)

ڈاکٹر مارٹن کلارک میڈیکل مشنری امرتسر نے یکم اگست ۱۸۹۷ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کی عدالت میں بیان کیا کہ آتھم کی جان لینے کی چار کوششیں کی گئیں۔ اس کی موت کی مقررہ میعاد کے آخری دو ماہ میں خاص پولیس کا پہرہ دن رات فیروز پور میں رکھا گیا۔ ان کوششوں کے باعث، جو اس کی جان لینے میں کی گئیں، اسے امرتسر سے انبالہ اور انبالہ سے فیروز پور بھاگنا پڑا۔ یہ کوششیں عام طور پر مرزا صاحب سے منسوب کی گئی ہیں۔

صفحہ 597

(کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۱۴۵)

۹ اگست ۱۸۹۷ء کو ڈاکٹر مارٹن کلارک مذکور نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کے اجلاس میں باقرار صالح بیان کیا کہ امرتسر کے مناظرہ میں‘ میں عیسائیوں کی طرف سے مناظرہ کمیٹی کا صدر تھا۔ عبداللہ آتھم کی جگہ مجھے دو مرتبہ مناظرہ میں بیٹھنا پڑا۔ اس مناظرہ میں مرزا غلام احمد کو سخت زک اٹھانی پڑی۔ قادیانی صاحب نے دوران مناظرہ میں ظاہر کیا تھا کہ میں معجزات دکھا سکتا ہوں‘ اس لیے ہم نے اندھے اور لنگڑے جمع کئے مگر مرزا غلام احمد کسی کو بھی اچھا نہ کر سکے۔ مرزا صاحب نے پیشین گوئی کی کہ عیسائی مخالف پندرہ ماہ کے اندر مرجائے گا۔ عبداللہ آتھم ضعیف آدمی تھا۔ بہت سے آدمی اس کی تیمارداری پر تھے۔ عبداللہ آتھم پر بہت حملے کئے گئے جس سے اس کو اپنی جائے سکونت تبدیل کرنی پڑی۔ وہ امرتسر سے لدھیانہ اور لدھیانہ سے فیروز پور گیا۔ پیش گوئی کے آخری دو ماہ میں عبداللہ آتھم کی خاص نگرانی بذریعہ پولیس کرائی گئی۔ جو حملے کئے گئے ان میں ایک حملہ یہ تھا کہ ایک کوبرا سانپ ایک برتن میں بند کر کے آتھم کے مکان میں ڈال دیا گیا۔ گو میں نے خود نہیں دیکھا مگر یہ امر سچ ہے۔ وہ سانپ مارا گیا تھا اور عام لوگ کہتے تھے‘ مسٹر آتھم نے بھی مجھے اس کی اطلاع دی کہ ایسا ہوا۔ فیروز پور میں دو دفعہ عبداللہ آتھم کی طرف بندوق چلائی گئی اور ایک مرتبہ اس کے سونے کے کمرے کا دروازہ توڑا گیا۔ (ایضاً‘ صفحہ ۱۴۱)

یہاں یہ معلوم کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ آتھم اور دوسرے عیسائی قادیانی صاحب اور ان کی امت کے خلاف برابر یہ احتجاج کرتے رہے کہ پیشین گوئی پوری کرنے کے لیے آتھم پر قاتلانہ حملے کرائے جا رہے ہیں اور سانپ چھوڑا کر اور زہر کھلا کر ان کی جاں ستانی کی پیہم کوششیں ہو رہی ہیں۔ لیکن مرزا صاحب کو کبھی اس کی جرات نہ ہوئی کہ ان الزامات کی تردید کریں۔ اس کے بعد نور افشاں لدھیانہ نے ۴؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کی اشاعت میں ان الزامات کا اعادہ کیا تو بھی مرزا صاحب کو تردید اور لب کشائی کی ہمت نہ ہوئی۔ اگر یہ الزامات غلط تھے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ان کی تردید نہ کی جاتی۔ آخر جب آتھم نے اس سرائے فانی کو الوداع کہا اور الزامات کی صحت کو بہ دلائل قاطعہ ثابت کرنے والا کوئی نہ رہا تو قادیانی صاحب نے بساط جرات پر قدم رکھ کر مہر سکوت توڑی اور یہ کہنا شروع کیا کہ قتل کرانے کی کوششوں کے الزامات جھوٹے تھے۔ مولانا بٹالوی نے مرزا صاحب کو مخاطب

صفحہ 598

کرتے ہوئے اپنے رسالہ ”اشاعۃ السنہ“ میں لکھا کہ اگر آتھم کے بیانات غیر صحیح اور افتراء تھے تو تم نے اسی وقت ان کی تردید کیوں نہ کی؟ اور اس پر نالش کر کے اسے توہین کی سزا کیوں نہ دلائی؟

اس کے جواب میں مرزا صاحب نے کتاب ”انجام آتھم“ میں جو ۲۲ جنوری ۱۸۹۷ء کو یعنی آتھم کی موت کے چھ مہینہ بعد شائع کی۔ اپنے خاص انداز دشنام طرازی میں لکھا، ”نادان بطالوی محمد حسین اپنے پرچہ ”اشاعۃ السنہ“ میں ہم پر یہ اعتراض کرتا ہے کہ جس حالت میں آتھم نے تم پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ میرے قتل کرنے کے لیے کئی حملے میرے پر کئے گئے تو چاہیے تھا کہ تم اس پر نالش فوجداری کرتے اور اگر الزام فی الواقع جھوٹا تھا تو اس کو سزا دلاتے“۔ مگر افسوس کہ بطالوی نے اس اعتراض میں بھی شیطان ملعون کی طرح دانستہ لوگوں کو دھوکا دینا چاہا۔ اعتراض کے وقت اس کو خوب معلوم تھا کہ پیش گوئی کے الفاظ میں بار بار یہ ذکر ہے کہ آتھم انکار کی حالت میں بے سزا نہیں چھوڑا جائے گا اور خدا اس کو اصرار کے بعد جلد پکڑے گا اور ہلاک کرے گا۔ پس جس حالت میں آسمانی عدالت سے ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ عنقریب آتھم اپنے جرم بیباکی اور انکار پر ماخوذ ہو کر جلد سزائے موت سے سزا یاب ہو گا تو پھر ہمیں کون سی ضرورت پیش آئی تھی کہ انگریزوں کی عدالتوں کے دروازہ پر اپنے تئیں سرگردان کرتے“۔ (انجام آتھم مولفہ مرزا غلام احمد صاحب صفحہ ۲- حاشیہ)

بہر حال قادیانی صاحب نے پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے سے پہلے اپنی پوزیشن صاف کرنے کی ہرگز جرأت نہ کی۔ البتہ اس کے بعد جب کبھی اس قسم کے اعتراض ہوئے تو ان کی صحت سے انکار کیا لیکن ظاہر ہے کہ یہ انکار مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلہ خود باید زد کا مصداق تھا۔ اگر یہ الزامات جھوٹے تھے تو ان کی انہی ایام میں تردید کی جانی چاہیے تھی جب یہ عاید کیے جا رہے تھے۔

لالہ جمنا داس سابق ہیڈ ماسٹر رفاہ عام سکول بٹالہ کے بیان سے مترشح ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے آتھم کو زہر دلانے کی بھی کوشش کی۔ چنانچہ صاحب موصوف رسالہ ”قادیانی پیشین گوئیوں کی لغویت“ میں لکھتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اپنی طرف سے ایسے رسائل پیدا کرنے کی کوشش کی کہ جن کی وجہ سے مسٹر آتھم کو اپنے مسلمان باورچی علیحدہ کرنے

صفحہ 599

پڑے۔“۔ (قادیانی پیشین گوئیوں کی لغویت مطبوعہ جالندھر صفحہ ۱۰۵) ان مادی تدبیروں کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب اپنی روحانی تدابیر سے بھی غافل نہیں تھے۔ چنانچہ لالہ جینداس لکھتے ہیں کہ بچوں کو مٹھائی کھلاتے اور اس کے بعد اس خیال سے کہ بچے گناہوں سے معصوم اور مستجاب الدعاء ہوتے ہیں، ان سے آتھم کی موت کی دعائیں کراتے۔“۔

(قادیانی پیشین گوئیوں کی لغویت، مطبوعہ جالندھر، صفحہ ۵-۶)

روحانی تدابیر کے سلسلہ میں حضرت ”مسیح موعود“ صاحب نے اپنے پیروؤں کو لکھ بھیجا تھا کہ وہ نہایت تضرع و ابتہال کے ساتھ آتھم کی موت کے لیے دعا کرتے اور کراتے رہیں۔ ۲۲ اگست ۱۸۹۴ء کو اپنے ایک مرید خاص منشی رستم علی کورٹ انسپکٹر کو لکھا کہ (آتھم کی) پیشین گوئی میں اب تو صرف چند روز رہ گئے ہیں۔ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو امتحان سے بچائے۔ شخص معلوم (آتھم) فیروز پور میں ہے اور تندرست اور فربہ ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے ضعیف بندوں کو ابتلاء سے بچائے۔ آمین ثم آمین۔ باقی خیریت ہے۔ مولوی صاحب کو بھی لکھیں کہ اس دعا میں شریک رہیں۔ (خاکسار غلام احمد از قادیاں)۔ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۵، نمبر ۳، صفحہ ۱۲۸)

اس خط سے حضرت ”مسیح موعود“ کی پریشانی اور گھبراہٹ بالکل عیاں ہے۔

باب ۷۴

آتھم کی ہلاکت کے لیے ”مسیح موعود“ صاحب کا

ایک دلچسپ کراماتی ٹوٹکہ

قادیاں پر پیشین گوئی کے آخری دو دن سخت ہولناک تھے، ہر جگہ امید و بیم کی کشمکش تھی۔ اس وقت قادیاں کی حالت بالکل اس بد نصیب شہر کی سی تھی جس پر دشمن کی یلغار ہو، غنیم کی فوجیں پیش قدمی کرتی ہوئی بالکل قریب آ پہنچی ہوں اور اہل شہر بدحواسی میں بھاگنے یا محصور ہونے کی تیاریاں کر رہے ہوں۔ حضرت مسیح موعود صاحب کی حالت خاص

صفحہ 600

طور پر قابل رحم تھی۔ وہ بے چارے سخت ضیق کے عالم میں مبتلا تھے۔ عالم سراسیمگی میں جو جو تدبیریں سمجھ میں آتی تھیں ان سے کام لے رہے تھے۔ آتھم کے بیانات کے بموجب قاتلانہ حملوں کی طرف سے مایوس ہی ہوچکے تھے اور سانپ چھوڑانے کی کسی نئی کوشش کا بھی وقت نہیں رہا تھا۔ اب لے دے کے تعویذات اور عملیات کے اسلحہ ہی ہاتھ میں تھے‘ جن سے کسی مشکل کشائی کی امید ہو سکتی تھی۔

حضرت ”مسیح موعود“ کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ایم۔ اے نے کتاب ”سیرۃ المہدی“ میں اپنے باپ کا ایک دلچسپ کراماتی ٹوٹکہ درج کیا ہے‘ جو اس موقعہ پر عمل میں لایا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب آتھم کی میعاد میں صرف ایک دن باقی رہ گیا‘ تو حضرت مسیح موعود نے میاں عبداللہ سنوری پٹواری سے اور میاں حامد علی سے فرمایا کہ اتنے چنے لے لو اور ان پر فلاں سورہ کا وظیفہ اتنی تعداد میں پڑھو‘ سورت تو یاد نہ رہی مگر اتنا یاد ہے کہ الم تر کیف کی طرح کوئی چھوٹی سورت تھی۔ عبداللہ سنوری کا بیان ہے کہ ہم نے یہ وظیفہ ساری رات صرف کر کے ختم کیا۔ وظیفہ ختم کرنے پر ہم حسب ارشاد وہ دانے حضرت صاحب (مرزا غلام احمد) کے پاس لے گئے۔ اس کے بعد حضرت صاحب ہم دونوں کو قادیاں سے باہر غالباً شمال کی طرف لے گئے اور فرمایا کہ یہ دانے کسی غیر آباد کنوئیں میں ڈالے جائیں گے اور فرمایا جب میں دانے کنویں میں پھینک دوں‘ تو ہم سب کو سرعت کے ساتھ منہ پھیر کر لوٹ آنا چاہیے اور مڑ کر نہیں دیکھنا چاہیے‘ چنانچہ حضرت صاحب نے (اپنے دست مبارک سے) ان دانوں کو ایک غیر آباد کنویں میں پھینک دیا اور پھر جلدی سے منہ پھیر کر سرعت کے ساتھ واپس آگئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی واپس آگئے اور کسی نے منہ پھیر کر پیچھے کی طرف نہیں دیکھا۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ صفحہ ۱۶۰)

قادیانی صاحب نے مرگ آتھم کی پیشین گوئی ۵؍ جون ۱۸۹۳ء کے دن کی تھی۔ اس بنا پر پندرہ مہینے کی مدت موعود ۴؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو ختم ہوچکی تھی‘ مگر الہامی صاحب اور ان کی امت نے غلطی سے ۵؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو میعاد کی آخری تاریخ سمجھ رکھا تھا۔ ویران کنویں پر جا کر آتھم کی ہلاکت کا عمل ۴؍ ستمبر ہی کے دن کیا گیا تھا۔ الہامی صاحب وہاں سے واپس آکر نہایت اطمینان کے ساتھ آتھم کی ہلاکت کا مژدہ سننے کے لیے سراپا انتظار بن بیٹھے۔

صفحہ 601

انہوں نے امرتسر، بٹالہ، گورداسپور، فیروزپور غرض تمام متعلقہ مقامات پر اپنے آدمی چھوڑ رکھے تھے کہ جونہی آتھم کے مرنے کی خبر کسی کے گوش زد ہو وہ باد و برق کی سی تیزی کے ساتھ یہ مژدہ جاں بخش قادیاں پہنچائے اور موعود صاحب کے دل گرفتہ پر تسکین و تثبیت کا مرہم رکھے، مگر معلوم نہیں کہ حضرت مسیح موعود نے عدو افگنی کا یہ عمل کس کتاب میں دیکھا تھا کہ دشمن کی تباہی کا کفیل نہ ہو سکا اور کف حسرت ملنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا، لیکن ع

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

جشن مسرت منانے کی زبردست تیاریاں

۶ ستمبر کو ہلاکت آتھم کی خوشی میں قادیاں کے اندر ایک شاندار جشن مسرت منایا جانے والا تھا۔ دور دور کے مرزائی نئی نئی پوشاکیں سلوا کر قادیاں پہنچے ہوئے تھے اور ہر کس و ناکس نے ۶ ستمبر کی عید کے لیے مکمل تیاریاں کر رکھی تھیں، چونکہ مجمع کثیر تھا، مرزا صاحب نے اپنے سحر زدوں کی مہمانداری اور جشن مسرت منانے کے لیے آٹے کے چھکڑے اور بہت سے بکرے مہیا کر رکھے تھے۔

(اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۱۳۰)

باب ۷۵

پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے پر مرزائی حلقوں میں ماتم

۵ ستمبر کی شام سے پہلے سینکڑوں مرزائی قادیاں پہنچ چکے تھے اور انہیں یقین تھا کہ ۵ ستمبر کا آفتاب اس وقت تک غروب نہیں ہو گا، جب تک آتھم کے ہلاک ہونے کی خبر نہیں آجائے گی، لیکن جب سرشام قادیاں میں اس مضمون کا تار پہنچا کہ آتھم نہیں مرا، تو قادیاں کی متوقع عید، محرم سے بدل گئی۔ ہر مرزائی محزون اور سوگوار دکھائی دیتا تھا۔ مرزائیوں نے دست جزع سے اپنے لباس عید کو چاک کر کے یہ کہنا شروع کیا۔ ؎

صفحہ 602
دردا کہ بیخ گلبن شادی بریدہ گشت واحسرتا کہ شاخ طرب بارور نہ ماند

مگر با ایں ہمہ افسردگی و بے بسی حضرت مسیح موعود صاحب اب تک مایوس نہیں ہوئے تھے اور انہیں بدستور آتھم کی موت کی آس لگی ہوئی تھی۔ اس وقت انہوں نے بہ تصنع تمام‘ چہرہ شاد و مسرور بنا رکھا تھا‘ کیونکہ وہ اپنی غیر ممکن الحصول توقعات کو بھی اسی طرح رونق دے کر دکھایا کرتے تھے کہ ان کے سحر زدوں کے لیے یقینیت کے درجہ تک پہنچ جاتی تھیں۔ ۵؍ ستمبر کی شام کو الہامی صاحب نے نماز مغرب کے بعد تمام حاضرین سے فرمایا کہ مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے‘ البتہ ایک خاص اجتماع کی ضرورت ہے‘ اس لیے ہر اعلیٰ ادنیٰ صغیر و کبیر نماز عشاء کے بعد اسی مسجد مبارک میں جمع ہو جائے۔ نماز عشاء کے بعد مرزائیوں کا جم غفیر مسجد میں جمع ہوگیا۔ قادیانی صاحب نے حاضرین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر احمدی کے لیے آج کی رات سونا حرام ہے‘ ہر شخص درگاہ احکم الحاکمین میں اسلام کی عظمت اور حبیب رب العالمین (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حرمت کا واسطہ دے کر آتھم کی موت کے لیے رات بھر مصروف بکا و دعا رہے اور انتہائی عجز و زاری کرتے ہوئے ارحم الراحمین کے جذبات رحم و کرم کو حرکت میں لائے۔ اگر کامل تضرع و ابتہال کے ساتھ شب خیز رہے‘ تو میں آپ حضرات کو یقین دلاتا ہوں کہ ۶؍ ستمبر کی صبح کا آفتاب اس وقت تک طلوع نہیں کرے گا‘ جب تک آپ لوگ آتھم کی موت کا مژدہ نہ سن لیں گے۔

راقم الحروف نے بزرگوں سے سنا ہے کہ پانچ اور چھ ستمبر کی درمیانی رات کو قادیاں کے اندر ہر مرزائی نے خواب و استراحت اپنے اوپر حرام کر لی۔ الہامی صاحب اور ان کے حق فراموش پیرو رات بھر گڑگڑا کر دعائیں مانگتے رہے کہ الٰہی! آتھم کو آج ہی رات مار ڈال۔ الٰہی اس شخص نے تیرے حبیب پاک سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے اس کا آج ہی خاتمہ کردے۔ بار خدایا! آتھم تیرے دین کا دشمن ہے۔ اس کو نابود کر کے اسلام کی عزت رکھ لے۔ الٰہی! عیسائی تیرے مسیح موعود کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ آتھم کو آج رات ہلاک کر کے ان کو روسیاہ کر اور اپنے مسیح کی لاج رکھ لے! غرض اسی طرح رات بھر روتے اور دعا و مناجات میں مشغول رہے۔

نماز صبح کے بعد مسیح صاحب نے امرتسر اور فیروزپور تار بھجوائے اور دریافت فرمایا کہ

صفحہ 603

آتھم ہنوز مرا ہے یا نہیں؟ دوپہر تک دونوں جگہ سے جواب آگیا کہ آتھم زندہ سلامت موجود ہے۔ یہ روح فرسا خبر الہامی صاحب کے گوش زد ہوئی تو بے چارے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ بہت دیر تک مدہوشی کا یہ عالم تھا کہ ع

کاٹو تو نہیں لہو بدن میں

مگر انجام کار دل کو سمجھایا کہ اگر مرید اس طرح غم زدہ اور بدحال دیکھیں گے، تو وہ بھی گھبرا جائیں گے، چنانچہ دل کو مضبوط کر کے اس مضمون کے شعر پڑھنے لگے

میں ہوں وہ رضا جو کہ طبیعت مری حسرت ناکامی جاوید سے بھی شاد رہے گی

نے مسیحیت سے تائب ہو کر رجوع الی الحق کیا۔

ہوئے۔

اس پیش گوئی کے متعلق مسٹر رحیم بخش صاحب ایم اے مرزائی ولد ماسٹر قادر بخش مرزائی کا ایک مضمون ۷ر ستمبر ۱۹۳۳ء کے اخبار الحکم قادیاں میں شائع ہوا تھا۔ مسٹر رحیم بخش لکھتے ہیں ”۵ر ستمبر ۱۸۹۴ء کو جس دن عبداللہ آتھم والی پیش گوئی کے پورا ہونے کا انتظار تھا، آپ (میرے والد ماسٹر قادر بخش صاحب) قادیاں میں تھے، فرمایا کرتے تھے کہ حضرت (مرزا) صاحب اس دن یہ فرماتے تھے کہ آج سورج غروب نہیں ہوگا کہ آتھم مر جائے گا، مگر جب سورج غروب ہو گیا، تو لوگوں کے دل ڈوبنے لگے۔ آپ (ماسٹر قادر بخش صاحب) فرماتے تھے کہ اس وقت مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں تھی ہاں فکر اور حیرانی ضرور تھی، لیکن جس وقت حضور (مرزا صاحب) نے تقریر فرمائی اور ابتلاؤں کی حقیقت بتائی تو طبیعت بشاش اور انشراح صدر پیدا ہو گیا اور ایمان تازہ ہو گیا“۔

صفحہ 604

باب ۷۶

عیسائیوں کا جلوس اور مسیحی تہذیب

کا افسوس ناک مظاہرہ

۶ ستمبر ۱۸۹۴ء کو عیسائی لوگ آتھم کو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ فیروز پور سے امرتسر لائے اور ایک نہایت شاندار جلوس نکالا‘ چنانچہ مسیح قادیاں کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب ایم اے ”سیرۃ المہدی“ میں لکھتے ہیں کہ پندرہ ماہ میعاد کی آخری رات گزرنے کے بعد جب صبح ہوئی تو آتھم کے دوستوں نے ان کے گلے میں ہار پہنا کر اور ان کو گاڑی میں بٹھا کر سارے شہر (امرتسر) میں خوشی کا جلوس پھرایا اور اس دن لوگوں میں شور تھا کہ مرزے کی پیشین گوئی جھوٹی نکلی (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ صفحہ ۱۶۶)

خود حضرت مرزا صاحب عالم غیظ میں رقم فرما ہیں۔ ”پادری لوگ آتھم کو امرتسر کے بازاروں میں لیے پھرے کہ دیکھو آتھم صاحب زندہ موجود ہے اور پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔ بہت سے پلید طبع مولوی جو نام کے مسلمان تھے اور چند نالائق اور دنیا پرست اخبار والے ان کے ساتھ ہو گئے اور لعن طعن اور تکذیب اور ”طبرا بازی“ میں ان کے بھائی بن بیٹھے اور بڑے جوش سے اسلام (مرزائیت) کی خفت کرائی‘ پھر کیا تھا عیسائیوں کو اور بھی موقع مل گیا‘ پس انہوں نے پشاور سے لے کر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر طعنے کسے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخباروں والے‘ ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے“۔

(سراج منیر‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۴۴)

الغرض اس وقت اطراف و اکناف ملک میں الہامی صاحب کی پیشین گوئی کے غلط نکلنے کا چرچہ تھا۔ حضرت مسیح موعود صاحب ہر جگہ ہنسی و مذاق کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے اور فریب خوردہ مرزائی ہر طرف منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ اس موقعہ پر عیسائیوں نے قادیانی

صفحہ 605

صاحب کے خلاف نہایت فحش اور دشنام آمیز اشتہارات شائع کر کے اپنی شرافت و تہذیب کا خوب مظاہرہ کیا۔ نصاریٰ کی ایک نظم جو ”رسول قادیانی“ کے زیر عنوان مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کی کتاب ”الہامات مرزا“ میں مندرج ہے۔ مسیحی تہذیب کا نہایت شرمناک مرقع ہے۔ اس کے چند شرر بار اور آتشیں اشعار ملاحظہ ہوں۔

ارے سن او رسول قادیانی
لعین و بے حیا شیطان ثانی
نہ باز آیا تو کچھ بکنے سے اب بھی
بڑھاپے میں ہے یہ جوش جوانی
نچا دے ریچھ کو جیسے قلندر
یہ کہہ کہہ کر تیری مر جائے نانی
نچا دیں تجھ کو بھی اک ناچ ایسا
یہی ہے اب مصمم دل میں ٹھانی
پنجہ آتھم سے مشکل ہے رہائی آپ کی
توڑ ہی ڈالیں گے وہ نازک کلائی آپ کی
آتھم اب زندہ ہیں آکر دیکھ لو آنکھوں سے خود
بات یہ کب چھپ سکے ہے اب چھپائی آپ کی
کچھ کرو شرم و حیا تاویل کا اب کام کیا
بات اب بنتی نہیں کوئی بنائی آپ کی
جھوٹ ہیں باطل ہیں دعوے قادیانی کے سبھی
بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
حق ہے صادق اور صادق حق کا سب الہام ہے
ہوگئی شیطان سے ثابت آشنائی آپ کی
ہو گیا ثابت ہے سب اقوال سے اب آپ کے
کر رہا شیطان ہے بیشک رہنمائی آپ کی
اپنے پنجے سے نہیں شیطان تجھے دیتا نجات
صفحہ 606
اس کو کب منظور ہے اک دم جدائی آپ کی
ہم نہ کہتے تھے؟ کہ شیطان کا کہا مانو نہ یار
کس بلا میں اس نے دیکھو جاں پھنسائی آپ کی
ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار اور دھتکار ہے
دیکھو کیسی ناک میں اب جان آئی آپ کی
ہے کہاں اب وہ خدا جس کا تمہیں الہام تھا
کس لیے کرتا نہیں مشکل کشائی آپ کی
ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم میں ہوتے ہیں مگر
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
کر کے منہ کالا گدھے پر کیوں نہیں ہوتے سوار
فیصلے کی شرط ہے مانی منائی آپ کی
داڑھی سر اور مونچھ کا بچنا بڑا دشوار ہے
کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپ کی
آپ کے دعوؤں کو باطل کر دیا حق نے تمام
اب بھی تائب ہو اسی میں ہے بھلائی آپ کی

المشتہر

اب دام مکر اور کسی جا بچھائیے بس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے

ظاہر ہے کہ یہ نظم دشنام گوئی اور عفونت نگاری کی پوٹ اور سراپا توہین آمیز ہے اور مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے بھی شاید یہ ثابت کرنے کے لیے درج کر دی ہے کہ مرزا جی کی یہ سب ذلت و رسوائی مولوی عبدالحق مرحوم غزنوی سے مباہلہ کرنے کا نتیجہ تھی۔ خاکسار راقم الحروف اس گندگی کو کتاب کے صفحات پر بکھیرنا قطعاً گوارا نہ کرتا، لیکن چونکہ قادیانی صاحب مسلمانوں کے مقابلہ میں نصاریٰ کو زیادہ مہذب و متمدن بتایا کرتے تھے اس سے مرزائیوں کو نصرانی تہذیب کی ایک جھلک دکھانا ضرور تھا۔

قادیانی صاحب نے اہل صلیب کی ثناء و منقبت میں لکھا تھا۔ ”میں یقین کرتا ہوں کہ

صفحہ 607

جس سختی سے مسلمانوں نے میرے ساتھ برتاؤ کیا، عیسائی نہیں کریں گے، کیونکہ ان میں وہ تہذیب ہے جو عدل گستر گورنمنٹ برطانیہ نے اپنے قوانین کے ذریعہ سے مہذب لوگوں کو سکھلائی ہے اور ان میں وہ ادب ہے، جو ایک باوقار سوسائٹی نے نمایاں آثار کے ساتھ دلوں میں قائم کیا ہے۔ پادری صاحبان خلق اور بردباری اور رفق اور نرمی میں ہمارے ان مولوی صاحبوں سے ایسی سبقت لے گئے ہیں کہ ہمیں موازنہ کرتے وقت شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ میں قریباً ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب کوئی مسلمان مخالف ملنے کے لیے آتا ہے، تو اس کے چہرہ پر ایک درندگی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔ گویا خون ٹپکتا ہے، لیکن جب کوئی عیسائی ملتا ہے، تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا غضبی قوت بالکل اس سے مسلوب ہے۔ نرمی سے کلام کرتا ہے اور بردباری سے بولتا ہے"۔ (تبلیغ رسالت، یعنی مجموعہ اشتہارات مرزا، جلد ۲، صفحہ ۱۳۔ ۴۲)

قادیانی صاحب نے ان خیالات کا اظہار ۲۰؍ مئی ۱۸۹۱ء کے ایک اشتہار میں کیا تھا، لیکن اس کے بعد جب ۱۸۹۳ء میں انہیں نصاریٰ کے ساتھ الجھنے اور ان کے عملی اخلاق کا تجربہ کرنے کا اتفاق ہوا اور پادریوں نے ہلاکت آتھم کی مرزائی پیشین گوئی کے غلط نکلنے پر قادیانی صاحب کی بری گت بنائی تو ناچار مرزا جی کو اپنی رائے تبدیل کرنی پڑی، چنانچہ اس کے بعد کتاب ”انجام آتھم“ میں جو ۲۲؍ جنوری ۱۸۹۷ء کو شائع ہوئی، قادیانی صاحب نے نصاریٰ کے متعلق یہ گل افشانی فرمائی۔ ”ہم یقین کرتے ہیں کہ اس عیسائی قوم میں سخت بدذات اور شریر پیدا ہوتے ہیں اور بھیڑیوں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور اصل میں شریر بھیڑیئے ہوتے ہیں"۔ (انجام آتھم، مؤلفہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۹)

مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے مولوی سعد اللہ مرحوم لدھیانوی کی بھی دو نظمیں ”الہامات مرزا“ میں شائع کی ہیں، جو ایک نو مسلم بزرگ اور لدھیانہ کے کسی سکول میں ٹیچر تھے۔ ۶؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو قادیانی صاحب کا نام ہر جگہ رسوا ہو رہا تھا۔ مولوی سعد اللہ نے خدا ان کو غریق رحمت کرے اس عبرت ناک واقعہ کو نظم کا لباس پہنایا، چنانچہ چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

غضب تھی تجھ پہ ستمگر چھٹی ستمبر کی
نہ دیکھی تو نے نکل کر چھٹی ستمبر کی
صفحہ 608
ہے قادیانی ہی جھوٹا مرا نہیں آتھم
یہ گونج اٹھی امرتسر چھٹی ستمبر کی
ترے حریف کو فیروز پور سے لے آئی
یہ ریل ہے جو ترا خر چھٹی ستمبر کی
ذلیل و خوار ندامت سے چھپ رہے تھے کہ تھی
ترے مریدوں پہ محشر چھٹی ستمبر کی
یہ لدھیانہ میں مرزائیوں کی حالت تھی
کہ جینا ہو گیا تھا دوبھر چھٹی ستمبر کی
سوا برس کے تھے امیدوار سب مایوس
مرید اعرج و اعور چھٹی ستمبر کی

اس سلسلہ میں مولوی سعد اللہ مرحوم کی دوسری نظم کے چند اشعار بھی کتاب "الہامات مرزا" سے نقل کر کے ہدیہ ناظرین ہیں۔ فرماتے ہیں۔ ؎

ارے او خود غرض خود کام مرزا ارے برخود غلط ناکام مرزا
ظلی چھوڑ کر احمد بنا تو رسول حق باستحکام مرزا
ہوا بحث نصاریٰ میں بآخر مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے ہے آتھم زندہ بے ہنگام مرزا
تری تکذیب کی شمس و قمر نے ڈبویا قادیاں کا نام مرزا
بشیر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا ترا اعزاز اور اکرام مرزا
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
ولیکن تو نہ آیا باز پھر بھی یہ اس شوخی کا ہے انجام مرزا
نہ بکتا کچھ اگر منہ پھاڑ کر تو ندامت کا نہ پیتا جام مرزا
مسلمانوں سے تجھ کو واسطہ کیا؟ بڑا کہلا نبی تام مرزا
کہ اک بھنگی ہے مرشد بھنگیوں کا اور اک بھینگوں کا بے اندام مرزا
تو ہے اک انبیائے دجل میں سے سلف کو دے رہا دشنام مرزا
صفحہ 609
زمین و آسماں قائم ہیں اب تک ترے وہ ٹل گئے احکام مرزا
براہیں سے ٹھگے تو نے مسلماں کبھی ایسے بھی تھے ایام مرزا
بحمد اللہ کہ چھپ کر فتح و توضیح کھلے تیرے چھپے اصنام مرزا
در توبہ ہے وا ہو جا مسلماں یہی سعدی کا ہے پیغام مرزا

باب ۷۷

الہ دین مرزائی کا اعلان کہ مرزا جی

ایک دُکان دار آدمی ہیں

آتھم کی پیشین گوئی نے بہت سے مرزائیوں کا پائے اعتقاد متزلزل کر دیا۔ وہ لوگ جن کے دل میں قبول ایمان کی کچھ صلاحیت موجود تھی وہ اس واقعہ سے متاثر ہو کر مرزائیت سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ میاں الہ دین جلد بند لدھیانہ کا ایک نہایت غالی مرزائی تھا۔ اسے آتھم کی پیشین گوئی کے سچا نکلنے کا ایسا ہی وثوق تھا جیسا دن کے وقت ہر شخص کو وجود آفتاب کا یقین ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ پیشین گوئی غلط نکلی، تو اسے یقین ہوگیا کہ قادیانی صاحب ایک دکاندار آدمی ہیں۔ لدھیانہ کے رسالہ نور علی نور کی ۱۷ر ستمبر ۱۸۹۴ء کی اشاعت میں اس کا ایک مضمون شائع ہوا، جس میں لکھا تھا کہ اب چونکہ اس پیش گوئی کی میعاد گزر کر بارہ تیرہ روز ہو لیے اور عبداللہ آتھم عیسائی اب تک زندہ اور بالکل تندرست موجود ہے۔ اور مرزا جی نے اپنے رسالہ ”فتح الاسلام“ میں جو تاویل کی ہے وہ کسی طرح قابل اطمینان نہیں ہے۔ پس ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ المرء یوخذ باقرارہ (آدمی اپنے اقرار کے سبب آپ گرفتار ہوتا اور پکڑا جاتا ہے) ہم مرزا صاحب کے عقائد جدیدہ یعنی ان کے مسیح موعود ہونے کو تسلیم نہیں کرتے۔ آئندہ ہمارے وہی عقائد ہیں، جو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور سلف صالحین اور فرقہ حقہ اہل سنت و جماعت سے برابر اب تک منقول اور متواتر ہیں۔ (العبد کمترین الہ دین جلد

صفحہ 610

سہارنپوری) (کلمہ فضل رحمانی، صفحہ ۱۵)

جن مرزائیوں کے دل قبول مرزائیت کے بعد حق فراموشی کی ظلمتوں سے پوری طرح سیاہ ہوچکے تھے۔ ان کو میں دو جماعتوں میں تقسیم کرتا ہوں۔ بعض کو تو اس کا مطلقاً احساس ہی نہ تھا کہ ان کے مسیح موعود کی پیشین گوئی، جو اس دھڑلے سے کی گئی تھی، جھوٹی نکلی ہے یا یہ کہ قادیاں کی فضا پر ذلت و نفرت کے طوفان اٹھ رہے ہیں۔ اور بعض ایسے تھے، جنہوں نے اپنی ذلت و رسوائی کا تو شدت سے احساس کیا اور سخت ملول و مکدر ہوئے لیکن چونکہ توفیق ازل کی کشتی پر سوار ہو کر قبول حق کا قصد نہ کیا، مرزائیت سے توبہ کرنے کی سعادت نصیب نہ ہوئی بلکہ یہ بد نصیب قادیانی صاحب کی پہلی بیعت توڑ کر ازسر نو انہی کی بیعت میں داخل ہو گئے۔

ان حرمان نصیبوں کی مثال ایسی ہے جیسے مثلاً کوئی شخص دلدل میں پھنس کر ہلاکت کے قریب پہنچا ہو اور کچھ مدت کے بعد کسی طرح دلدل سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن ازراہ نادانی مکرر اسی دلدل میں جا پھنسے اور ہمیشہ کے لیے قعر ہلاک میں جا پڑے۔ البتہ جماعت ہالکین میں سردار محمد علی خان مالیر کوٹلوی ایک ایسا شخص تھا، جو گو تائب نہ ہوا مگر اسے قادیانی صاحب کی طرف سے سوء ظن ضرور پیدا ہو گیا اور اس نے الہامی صاحب کو صاف لکھ دیا کہ ”میرا اعتماد متزلزل ہو گیا ہے“۔ سردار محمد علی خاں کی چٹھی ان شاء اللہ العزیز ۸۲ ویں باب میں درج ہو گی۔ ۱۶ ستمبر کے بعد سے الہامی صاحب پر سوالات اور اعتراضات کی اتنی بوچھاڑ ہو گئی کہ بے چارے جواب دیتے دیتے پریشان ہو گئے۔ لیکن قادیانی صاحب بجائے خفیف ہونے کے نہایت جرأت اور استقلال کے ساتھ ہر اعتراض اور سوال کا یہی جواب دیتے رہے کہ آتھم بباطن مسلمان ہو گیا ہے، اس لیے ہلاکت سے بچ گیا ہے۔

باب ۷۸

پیش گوئی کے جھوٹا نکلنے پر اسلامی جرائد کا تبصرہ

صفحہ 611

(پیسہ اخبار)

جب قادیانی صاحب کی طرف سے اس قسم کا مضحکہ خیز پروپیگنڈا شروع ہوا کہ آتھم نے حق کی طرف رجوع کر لیا ہے۔ اس لیے مواخذہ خداوندی سے بچ گیا ہے، تو پیسہ اخبار لاہور نے لکھا کہ اگر اتفاق سے مرزا صاحب کی پیش گوئی صحیح ہو جاتی، تو بہت سے زود اعتقاد عوام کے بہکنے کا اندیشہ تھا۔ مرزا صاحب بجائے اس کے کہ پیش گوئی کے غلط نکلنے پر اظہار ندامت کرتے۔ الٹا اپنی ہی فتح کا ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں۔ وہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ آتھم نے کسی وقت اسلام کی صداقت تسلیم کی ہوگی، اس لیے خدا نے انہیں نہیں مارا۔ کیا مرزا صاحب کا الہامی خدا اتنا بھی غیب نہیں جانتا کہ وہ انہیں پہلے ہی نتیجہ سے مطلع کر دیتا۔ اس کے علاوہ مرزا صاحب پر دوسرا الہام ایسے وقت میں ہوا کہ ساری دنیا میں ان کے الہامات کی قلعی کھل چکی تھی۔ اگر ۵ ستمبر سے ہفتہ عشرہ پہلے ہی وہ ایسا مشتہر کر دیتے، تو بھی کسی حد تک ان کی عزت رہ جاتی۔ عذر گناہ بدتر از گناہ کی روشن مثال مرزا صاحب کے آخری اشتہار سے بہتر کہیں نہ مل سکے گی۔

(اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۱۲۷)

جریدہ ”نور علی نور“

اخبار ”نور علی نور“ لاہور نے لکھا۔ کہ ”۵ ستمبر ۱۸۹۴ء تک تو یہ دعویٰ تھا کہ جب تک آتھم نہ مرے گا ۵ ستمبر کا آفتاب غروب نہ ہوگا لیکن جب آتھم کے مرے بغیر ۵ ستمبر کا آفتاب غروب ہو گیا اور ہر طرف سے لعنت ملامت ہونے لگی، تو مرزا صاحب کو یہ الہام ہوا کہ آتھم نے اپنے دل میں کسی قدر حق کی طرف رجوع کر لیا ہے۔ لیکن اگر مرزا صاحب ۵ ستمبر سے پہلے یہ اعلان کر دیتے کہ چونکہ اس نے کسی قدر اسلام کی طرف رجوع کر لیا ہے اس لیے اب نہیں مرے گا، تو ایک بات بھی تھی۔ اب اختتام میعاد کے بعد اس قسم کا عذر لنگ مرزا صاحب کے الہامی خدا کی خدائی پر اچھی طرح روشنی ڈال رہا تھا۔ جب مرزا صاحب کے الہامی خدا نے دیکھا کہ اس کی اطلاع غلط نکلی، تو ناچار ایک اور ڈھونگ کھڑا کر دیا۔ مینہ سے بھاگ کر پرنالے کے نیچے پناہ لینا مرزائی خدا ہی کا کام ہے، نہ کہ علام الغیوب عزاسمہ کا“۔

(اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۱۲۷)

صفحہ 612

باب ۷۹

آتھم کی طرف سے اس مرزائی عذر لنگ کی تردید

کہ آتھم نے رجوع کیا ہے

جب پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور الہامی صاحب کو ہر جگہ طعن و تشنیع کا نشانہ بننا پڑا‘ تو انہوں نے ایک طویل بیان میں اپنی طرف سے کچھ صفائی پیش کی۔ اس صفائی کا ضروری خلاصہ یہ ہے کہ پیش گوئی میں فریق مخالف کے لفظ سے جس کے لیے ہاویہ یا ذلت کا وعدہ تھا ایک گروہ مراد ہے جو اس بحث سے تعلق رکھتا تھا ہاں مقدم سب سے ڈپٹی عبداللہ آتھم تھا‘ جو پندرہ دن تک جھگڑتا رہا تھا۔ میں نے الہام کے معنی یہ سمجھے تھے کہ ہاویہ سے مراد سزائے موت ہے لیکن الہامی لفظ صرف ہاویہ ہے اور ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ حق کی طرف رجوع کرنے والا نہ ہو۔ اور یہ بات بالکل سچ اور یقینی اور الہام کے مطابق ہے کہ اگر مسٹر عبداللہ کا دل جیسا کہ پہلے تھا ویسا ہی توہین اور تحقیر اسلام پر قائم رہتا اور اسلامی عظمت کو قبول کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کوئی حصہ نہ لیتا‘ تو اسی میعاد کے اندر اس کی زندگی کا خاتمہ ہو جاتا۔ لیکن خدا تعالیٰ کے الہام نے مجھے جتلا دیا کہ آتھم نے اسلام کی عظمت اور اس کے رعب کو تسلیم کر کے حق کی طرف رجوع کرنے کا کسی قدر حصہ لے لیا‘ جس حصہ نے اس کے وعدہ موت اور کامل طور کے ہاویہ میں تاخیر ڈال دی۔ اور ہاویہ میں تو گرا لیکن اس بڑے ہاویہ سے تھوڑے دنوں کے لیے بچ گیا‘ جس کا نام موت ہے۔ آتھم نے اپنی مضطربانہ حرکات سے ثابت کر دیا کہ اس نے اس پیش گوئی کو تعظیم کی نظر سے دیکھا اور وہ اسلامی پیش گوئی سے خوفناک حالت میں پڑا اور اس پر رعب غالب ہوا۔ اس نے اپنے افعال سے دکھا دیا کہ اسلامی پیش گوئی کا کیسا ہولناک اثر اس کے دل پر ہوا‘ یہاں تک کہ وہ شہر بہ شہر اور ہر ایک جگہ ہراساں اور ترساں پھرتا رہا۔ وہ کتوں سے ڈرا‘ سانپوں کا اس کو اندیشہ ہوا اور اندر کے مکانوں سے بھی اس کو خوف آیا اور خدا نے اس

صفحہ 613

کے دل کا آرام چھین لیا۔ اور یہ حالت ایک رجوع کرنے کی قسم ہے کیونکہ جو شخص عظمت اسلامی کو رد نہیں کرتا بلکہ اس کا خوف اس پر غالب ہوتا ہے‘ وہ ایک طور سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ہمیں صاف طور پر الہاماً معلوم ہو گیا ہے کہ اس وقت تک عذاب موت ٹلنے کا یہی باعث ہے کہ آتھم نے حق کی عظمت کو اپنی خوفناک حالت کی وجہ سے قبول کر کے ان لوگوں سے کسی درجہ پر مشابہت پیدا کر لی ہے‘ جو حق کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ہم پھر مکرر لکھتے ہیں کہ ضرور آتھم نے کسی قدر ہاویہ کی سزا بھگت لی ہے۔

اس کے بعد قادیانی صاحب نے لکھا۔ ”اے حق کے طالبو یقیناً سمجھو کہ ہاویہ میں گرنے کی پیش گوئی پوری ہو گئی۔ میں عیسائیوں کی پردہ دری کے لیے مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔ ایک تاریخ مقرر ہو کر ہم فریقین ایک میدان میں حاضر ہوں اور آتھم صاحب کھڑے ہو کر تین مرتبہ ان الفاظ کا اقرار کریں کہ اس پیش گوئی کے عرصہ میں اسلامی رعب ایک طرفۃ العین کے لیے بھی میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ناحق پر سمجھتا رہا اور سمجھتا ہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا۔ اور حضرت عیسیٰ کی ابنیت اور الوہیت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتا ہوں۔ اگر میں نے خلاف واقعہ کہا ہے اور حقیقت کو چھپایا ہے تو اے خدائے قادر مجھ پر ایک برس میں عذاب موت نازل کر۔ اس دعا پر ہم آمین کہیں گے۔ اور اگر دعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا‘ تو ہم ہزار روپیہ آتھم صاحب کو بطور تاوان کے دیں گے“۔ (انوار الاسلام‘ مؤلفہ مرزا

غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۲۔ ۱۲)

آتھم کا مراسلہ بنام ایڈیٹر ”وفادار“

جب قادیانی صاحب کا یہ بیان شائع ہوا تو اس کے جواب میں اخبار ”وفادار“ لاہور نے ۱۵ ستمبر ۱۸۹۴ء کی اشاعت میں ڈپٹی عبداللہ آتھم کا ایک مراسلہ بدیں الفاظ شائع کیا۔

”جناب ایڈیٹر صاحب اخبار ”وفادار“ تسلیم۔ اب مرزا غلام احمد صاحب کہتے ہیں کہ میں نے دل میں اسلام قبول کر لیا ہے اس لیے پیشین گوئی کے بموجب نہیں مرا۔ پھر ان کو اختیار ہے جو چاہیں سو کہیں۔ خدا نے ان کو جھوٹا کیا۔ اب جو چاہیں تاویل کریں۔ کون کسی کو

صفحہ 614

روک سکتا ہے۔ میں ظاہر میں اور دل سے جس طرح پہلے عیسائی تھا اب بھی ہوں۔ جب میں امرتسر میں عیسائی بھائیوں کے جلسہ میں شامل ہونے کو آیا تھا، تو وہاں بعض اشخاص نے بیان کیا تھا کہ آتھم مرگیا ہے نہیں آئے گا۔ اور جب مجھے ریلوے پلیٹ فارم پر دیکھا تو کہنے لگے کہ ”یہ آتھم کی شکل کا ربڑ کا آدمی بنا ہوا ہے۔ انگریز بڑے حکومتی ہیں۔ ربڑ کے آدمی میں کل لگا دی ہے“۔ ایسی باتوں کا جواب صرف خاموشی ہے۔ میں راضی، خوش اور تندرست ہوں اور ویسے ایک دن مرنا تو ضرور ہے۔ اب میری عمر ۶۸ سال سے زیادہ ہوچکی ہے اور جو کوئی چاہے پیشین گوئی کر سکتا ہے“۔ (آتھم) (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۲‘ صفحہ ۱۱۲۔ ۱۱۳) ڈپٹی عبداللہ آتھم نے یہ بھی اعلان کیا کہ میں مرزا غلام احمد کی پیشین گوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا بلکہ ان کی ناجائز تدابیر و وسائل سے ڈرتا پھرا اور قسم کھانا میرے مذہب میں منع ہے۔ (اشاعۃ السنہ‘ صفحہ ۱۱۳۔ ۱۱۴)

آتھم کا خط بنام ایڈیٹر جعفر زٹلی

ملا محمد بخش مالک اخبار ”جعفر زٹلی“ لاہور نے ڈپٹی عبداللہ آتھم کا ایک مراسلہ بدیں الفاظ اپنے اخبار میں شائع کیا۔ ”محسن بندہ جناب مولانا محمد بخش صاحب مالک اخبار جعفر ز ٹلی لاہور تسلیم۔ آپ کے خط کے جواب میں التماس ہے کہ مسیحیت پر بدستور ایمان رکھنے کے متعلق میں اپنا مفصل بیان اخبار نورافشاں میں شائع کرا چکا ہوں۔ جس طرح میں سچے دل سے پہلے عیسائی تھا اب بھی ہوں اور اپنے ایمان پر قائم ہوں اور ہرگز اسلام کی طرف ذرا بھی مائل نہیں ہوا نہ ظاہراً نہ باطناً“۔ تو اب فرمائیے کہ اس سے زیادہ میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ باقی رہا مرزا صاحب کا شرط لگانا کہ آتھم قسم کھا کر یہ بات کہہ دے کہ میں اسلام کی طرف مائل نہیں ہوا۔ سو صاحب من! میرے مذہب میں تو قسم کھانا منع ہے۔ متی کی انجیل میں صاف لکھا ہے کہ تم ہرگز قسم نہ کھاؤ۔ اور مرزا صاحب جو ہزار دو ہزار کی شرط لگاتے ہیں تو یہ ایک طرح کی قمار بازی ہے۔ میرے خیال اور میرے مذہب میں اس طرح کا لالچ بھی منع ہے۔ مرزا صاحب کی مرضی جو آئے سو کہتے جائیں میں تو دعا مانگتا ہوں کہ یا خدا تعالیٰ تو مرزا صاحب قادیانی پر رحم کر اور اس کو ہدایت کر کہ راہ راست پر آئے۔ اور اس کو دماغی اور جسمانی صحت عطا فرما۔ آمین۔ اس سے زیادہ لکھنا فضول ہے اور میں ایک

صفحہ 615

ضعیف العمر بیمار آدمی قریباً ستر سال کی عمر کا ہوں۔ آخر کہاں تک جیوں گا کون جانتا ہے کہ کب خدا تعالیٰ بلا لے۔ زیادہ نیاز (آپ کا مشکور بندہ عبداللہ آتھم، پنشنر ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر، از مقام فیروز پور، ۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۳ء اشاعۃ السنۃ، صفحہ ۱۱۵)

باب ۸۰

قادیانی ملہم سے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک

کا دلچسپ مطالبہ

جب ڈپٹی آتھم نے اخبارات میں مرزائی بیانات کی تردید و تکذیب شروع کر دی‘ تو قادیانی صاحب نے اعلان کیا کہ اگر آتھم ہماری پیشین گوئی سے نہیں ڈرا تھا تو وہ قسم کھا لے۔ ہم اس کو ایک ہزار‘ دو ہزار بلکہ چار ہزار روپیہ تک انعام دینے کو تیار ہیں۔ اس پیشکش میں یہ حکمت مضمر تھی کہ عیسائیوں کے مذہب میں قسم کھانا ممنوع ہے۔ چنانچہ خود قادیانی صاحب کتاب ”کشتی نوح“ (صفحہ ۲۷) میں لکھتے ہیں کہ ”اے مسلمانو! قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ ہرگز قسم نہ کھاؤ“۔

مطالبہ قسم سے الہامی صاحب کا یہ مقصد تھا کہ اگر آتھم نے قسم کھا لی تو ہم کہہ دیں گے کہ دیکھ لو اگر آتھم عیسائیت سے دست بردار نہ ہو گیا ہوتا‘ تو قسم نہ کھاتا اور اگر قسم کھانے سے انکار کیا جیسا کہ یقین ہے‘ تو بھی ہمیں یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ دیکھو وہ جھوٹا ہے۔ اگر سچا ہوتا تو قسم کھا لیتا۔ اور پھر یہ نہیں کہ الہامی صاحب آتھم کے قسم کھاتے ہی اس کو روپیہ دے دینے پر آمادہ تھے بلکہ اس کے ساتھ یہ میخ بھی لگا رکھی تھی کہ اگر قسم کھانے کے بعد ایک سال تک اس پر کوئی عذاب نازل نہ ہوا تو اس کو ہزار روپیہ دیا جائے گا۔ آتھم اس چالاکی کو بھانپ گیا اور اس نے صاف کہہ دیا کہ ستر برس کے قریب تو میری عمر ہے۔ اب آئندہ سال بڑھانا کیا معنی‘ کیا جناب کے خونی فرشتوں کو پہلے میرے مارنے کا موقع نہیں ملا۔ اس لیے ایک سال کی مدت اور طلب ہوتی ہے۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ

صفحہ 616

چونکہ الہامی صاحب کو اس بات کا قطعی علم تھا کہ آتھم قسم نہیں کھائے گا۔ اس لیے اب بڑے دھڑلے سے یہ پیشین گوئی کر دی کہ آتھم ہرگز قسم نہیں کھائے گا۔ اسی کے ساتھ فریب خوردگان قادیانیت نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ اگر مرزا صاحب کی پیشین گوئی الہامی اور منجانب اللہ نہیں، تو آتھم قسم کھا کر اس پیشین گوئی میں مرزا صاحب کو کیوں جھوٹا نہیں کر دیتا؟ اس پروپیگنڈا کا گلہ توڑ جواب ڈاکٹر ایچ مارٹن کلارک نے اپنے ایک اعلان میں دیا، جو نیشنل پریس امرتسر میں طبع ہوا تھا۔ ڈاکٹر مذکور نے اس میں لکھا۔

”مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور علمائے اسلام کہتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں اور کفر کا فتویٰ لگا کر اسے اسلام سے خارج کرتے ہیں۔ اب اگر مرزا صاحب مجمع عام میں لحم خنزیر کا ایک ٹکڑا کھا کر کہیں کہ میں مسلمان ہوں تو ہم یقین کر لیں گے کہ علمائے اسلام کا فتویٰ غلط ہے اور مرزا صاحب واقعی مسلمان ہیں۔ اور اگر مرزا صاحب یہ نہیں کر سکتے تو وہ مسٹر آتھم کو بھی قسم کھانے سے معذور سمجھیں کیونکہ جیسے قرآن کے حکم سے وہ لحم خنزیر نہیں کھا سکتے، اسی طرح آتھم صاحب بائبل کے حکم کے بموجب قسم نہیں کھا سکتے۔ جب تک کسی حاکم کی طرف سے قسم کھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ اس وقت تک عیسائیوں کو قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ پس مرزا جی کو لازم ہے کہ ہماری اس دعوت کو قبول کر کے اس شرط کے بموجب اپنا مسلمان ہونا ثابت کریں ورنہ بار بار آتھم صاحب کو مخاطب کر کے قسم کے اشتہار شائع کرنا بند کر دیں۔ مرزا صاحب اپنے الہام کی بنا پر کہتے ہیں کہ آتھم صاحب ہرگز قسم نہیں کھائیں گے۔ گو ہمیں الہام نہیں ہوتا اور جبریل ہمارے پاس نہیں آتے تاہم ہم پیشین گوئی کرتے ہیں کہ مرزا صاحب ہرگز خنزیر کا گوشت نہیں کھائیں گے“۔ (ایچ ایم کلارک، ایم ڈی میڈیکل مشنری، امرتسر)

لیکن قادیانی صاحب نے اپنا پروپیگنڈا نہ چھوڑا اور اس کے جواب میں لکھا کہ مسیحی پیشواؤں نے عدالتوں میں قسمیں کھائی ہیں۔ آتھم نے اس کے جواب میں لکھا کہ اگر مجھے بھی عدالت میں طلب کر لو تو میں بھی عدالت کے جبر سے قسم کھا لوں گا۔ (اشاعۃ السنہ، جلد

۱۶، ص ۱۱۹)

صفحہ 617

باب ۸۱

مرگ آتھم کی پیشین گوئی کے متعلق قادیانی

ملہم کی تضاد بیانیاں

مرگ آتھم کی پیشین گوئی کے متعلق قادیانی صاحب نے مختلف اوقات میں جو متضاد بیانات شائع کیے اور جو جو مضحکہ خیز سخن تراشیاں اور طبع سازیاں کر کے اپنے مامور من اللہ ہونے کے عملی ثبوت پیش کرتے رہے ان کی مختصر سی روداد حسب ذیل ہے۔

کس تاریخ کو لکھا کیا اور کہاں لکھا؟

۲۲ دسمبر ۱۸۹۳ء خدائے تعالیٰ اپنے سچے مذہب کی تائید میں ہمیشہ آسمانی نشان دکھلاتا ہے۔ آتھم پیشگوئی کے بموجب ضرور ہلاک ہوگا۔ (شہادۃ القرآن‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ ص ۸۴)

۶ ستمبر ۱۸۹۴ء پیشگوئی میں فریق مخالف کے لفظ سے جس کے لیے ہاویہ یا ذلت کا وعدہ تھا۔ اس سے ایک گروہ مراد تھا۔ (انوار الاسلام‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۲) چنانچہ عیسائی گروہ میں سے کوئی بھی اثر ہاویہ سے خالی نہ رہا۔ پادری رائٹ جوانی میں مر گیا۔ اس کی موت نے تمام عیسائیوں کو ماتمی کپڑے پہنا دیئے۔ (انوار الاسلام‘ صفحہ ۸)

۶ ستمبر ۱۸۹۴ء ہاویہ میں گرایا جاتا جو الہام کے اصل الفاظ ہیں وہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے۔ مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ جو اس کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا یہی اصل ہاویہ تھا۔ (انوار الاسلام‘ ص ۵)

مئی ۱۸۹۵ء جو شخص ہراساں اور ترساں اور پریشان اور بے

صفحہ 618

بیتاب اور دیوانہ سا ہو کر شہر بہ شہر بھاگتا پھرنے والا شخص بلاشبہ یقینی یا ظنی طور پر اس مذہب (اسلام) کا مصدق ہو گیا ہے جس کی تائید میں پیشگوئی کی گئی تھی اور یہی معنی رجوع الی الحق کے ہیں اور یہی وہ حالت ہے جس کو بالضرور رجوع کے مراتب میں سے کسی مرتبہ پر محمول کرنا چاہیے۔ (ضیاء الحق‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ ص ۲۔ ۳)

مئی ۱۸۹۵ء ہم نے آتھم کے کھلے کھلے اسلام لانے کی شرط نہ کی تھی۔ صرف رجوع الی الحق کے الفاظ تھے۔ سو اس نے اپنے تئیں خوفزدہ دکھلا کر پیش گوئی کی صداقت ظاہر کر دی۔ (ضیاء الحق‘ ص ۸)

پیشگوئی میں یہ صراحت شرط موجود تھی کہ اگر وہ عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق (قبول اسلام) ثابت نہیں ہوگا‘ تو صرف اس حالت میں پیش گوئی کے اندر فوت ہوں گے۔ (انجام آتھم‘ صفحہ ۱۳)

۲۴ جنوری ۱۸۹۸ء آتھم کی بابت شرطی پیش گوئی تھی کہ اگر رجوع الی الحق نہ کرے گا‘ تو مر جائے گا۔ پیش گوئی صرف اس کے واسطے تھی‘ کل متعلقین مباحثہ کی بابت نہیں تھی۔ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد صاحب‘ صفحہ ۱۷۳)

۲۰ اگست ۱۹۰۲ء خدا نے آتھم کو ہمارے آخری اشتہار سے سات ماہ کے اندر یعنی پندرہ مہینہ کے اندر ہی مار دیا۔ اور ۲۷ جولائی ۱۸۹۶ء کو بمقام فیروزپور اس کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس صورت میں جو پندرہ مہینے پیش گوئی کے مقرر تھے آخر آتھم اس دائرہ کے اندر ہی مرا اور پندرہ مہینہ کی معیاد بہرصورت قائم رہی۔ (نزول المسیح‘ صفحہ ۱۶۸)

صفحہ 619

پیش گوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص عقیدہ کے رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم مجھ سے پہلے مر گیا۔

(کشتی نوح، صفحہ ۶)

میں نے آتھم کے مباحثہ میں کہا تھا کہ ہم دونوں میں جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔

(تریاق القلوب،

ضمیمہ اول، صفحہ ۷)

پیشین گوئی کا ماحصل یہ تھا کہ ہم دونوں فریق میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے سے پہلے مرے گا۔ سو مدت ہوئی کہ آتھم مر گیا۔

(تذکرۃ الشہادتین، صفحہ ۱۰)

آتھم نے اسی مجلس بحث میں (۵؍ جون ۱۸۹۳ء) کو اپنی بے ادبی سے رجوع کر لیا تھا۔ پھر وہ پندرہ مہینہ تک مخالفت سے بالکل چپ رہا۔

(تذکرۃ الشہادتین، صفحہ ۴۰)

پیشین گوئی میں صاف لفظ ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرے گا۔

(تجلیات الٰہیہ، صفحہ ۱۷)

جب میں نے پیشین گوئی سنائی کہ تم نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے، اس کی سزا یہ پیش گوئی ہے کہ پندرہ مہینے کے اندر تمہاری زندگی کا خاتمہ ہوگا۔ تب اس کا رنگ زرد ہو گیا اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں نے ہرگز آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخی نہیں کی۔ غرض پیش گوئی سن کر اس نے آثار رجوع ظاہر کئے۔

(حقیقۃ الوحی، صفحہ ۱۸۵)

اجتماع ضدین

ان تحریروں میں مسیح قادیاں نے اپنی بدحواسی کا خوب مظاہرہ کیا ہے۔ پیشین گوئی یہ تھی کہ اگر رجوع کرے گا تو سزائے ہاویہ سے بچ جائے گا۔ ظاہر ہے کہ رجوع اور سزا

صفحہ 620

دونوں امر جمع نہیں ہو سکتے۔ مگر قادیانی صاحب نے آتھم کے بھاگے پھرنے کا نام رجوع بھی رکھا ہے اور اسی کو ہاویہ میں گرنا بھی قرار دیا ہے۔ یہ اجتماع ضدین قادیانی مسیح کے دماغی تعطل کا پتہ دیتا ہے۔ اس سے قطع نظر سوال یہ ہے کہ اگر آتھم پیشین گوئی کے سنتے ہی ڈر گیا اور اس سے آثار رجوع ظاہر ہوئے‘ تو پھر الہامی صاحب نے پیشین گوئی کے چند ہی روز بعد شہادۃ القرآن میں یہ کیوں لکھا کہ آتھم ضرور ہلاک ہوگا۔ اور پھر رجوع کے باوجود ویران کنویں پر جا کر چنے پھینکنے کے اعجوبہ نما عمل کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر واقعی رجوع کر لیا تھا‘ تو الہامی صاحب نے مدت پیش گوئی کے اندر اندر یہ کیوں اعلان نہ کر دیا کہ چونکہ آتھم رجوع کر چکا ہے اس لیے پیشین گوئی کو کالعدم سمجھا جائے اور اس کی موت کا انتظار نہ کیا جائے۔

اور یاد رہے کہ ”دونوں میں سے جھوٹے کے پہلے مرنے“ کا ڈھکوسلہ حضرت مسیح موعود صاحب کے دماغ نے پیشین گوئی کے سوا نو سال بعد اختراع کیا تھا ورنہ پیشین گوئی کا مضمون اس مفہوم سے قطعاً غیر متعلق ہے کہ دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ بہرحال مرزا صاحب کی پیشین گوئی من کل الوجوہ جھوٹی نکلی اور انہیں ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔

احساس ذمہ داری کا کمال

اور پھر حیاداری اور احساس ذمہ داری کا کمال دیکھو کہ حضرت ”مسیح موعود صاحب“ مرگ آتھم کی پیشین گوئی کو بھی اپنے ”معجزات“ میں شمار کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ”نزول المسیح“ (صفحہ ۱۶۳۔ ۱۶۴) میں لکھا ”منجملہ اللہ تعالیٰ کے عظیم نشانوں کے آتھم والا نشان ہے“۔ اور ضمیمہ انجام آتھم (صفحہ ۲۱) میں لکھا: ”آنکھ کھول کر دیکھو کہ آتھم والی پیشین گوئی اپنی تمام چمکوں کے ساتھ پوری ہو گئی“۔ اور حقیقۃ الوحی (صفحہ ۲۱۲) میں لکھا ”تیسواں نشان ڈپٹی عبداللہ آتھم کی نسبت پیش گوئی ہے‘ جو بہت صفائی سے پوری ہو گئی ہے“۔

حکیم نور الدین کا اعتراف

صفحہ 621

مرزائیت کے روح و رواں حکیم نورالدین کو بھی اس پیشین گوئی کے غلط نکلنے کا اعتراف تھا۔ چنانچہ بابو غلام محی الدین کلرک دفتر لوکو سپرنٹنڈنٹ نارتھ ویسٹرن ریلوے لاہور نے ۱۵؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو حکیم نورالدین کے نام چٹھی بھیج کر ان سے دریافت کیا تھا کہ آتھم والی پیشین گوئی صحیح نکلی یا نہیں؟ اس کے جواب میں حکیم صاحب نے بابو صاحب مذکور کے نام بہاولپور سے ایک پوسٹ کارڈ بھیجا، جس کی نقل مولانا بٹالوی نے اپنے ماہوار رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کر دی۔ اس پوسٹ کارڈ میں حکیم صاحب نے لکھا تھا۔ السلام علیکم! پیش گوئی میرے خیال میں پوری نہیں ہوئی، اس میں کیا ستر ہے۔ ان شاء اللہ چند روز میں ظاہر کر سکوں گا، چند روز توقف فرمائیں، میں کسی کام میں جلدی کو پسند نہیں کرتا۔ (نورالدین از بہاولپور، دولت خانہ) مولانا بٹالوی مرحوم نے اخیر میں لکھا کہ یہ پوسٹ کارڈ بعینہ ہمارے پاس موجود ہے۔ (اشاعۃ السنہ، جلد ۱۶، صفحہ ۳۸۱) حکیم صاحب کو پیش گوئی کے غلط نکلنے کا راز معلوم نہ ہوسکا۔ لیکن میں خود مرزا صاحب کی زبان سے اس کا بھید ظاہر کر دیتا ہوں۔ سنئے حضرت مرزا صاحب آئینہ کمالات (صفحہ ۳۴۶) میں لکھتے ہیں کہ ”مدعی کاذب کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی، یہی قرآن کی تعلیم ہے اور یہی تورات کی“۔

باب ۸۲

ہلاک آتھم کی پیش گوئی کے جھوٹا نکلنے پر

محمد علی خان کا اضطراب

دام افتادگان قادیاں میں محمد علی خان رئیس مالیر کوٹلہ، جو الہامی صاحب کو اسی روپے ماہانہ کی مالی امداد دیا کرتے تھے، ایک ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ جب ہلاکت آتھم کی پیشین گوئی ان کے خلاف توقع جھوٹی نکلی تو وہ سخت ملول اور وحشت زدہ ہوئے اور عالم اضطراب میں قادیانی صاحب کو یہ رنج آمیز خط لکھا:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ مولانا مکرم سلمکم اللہ تعالیٰ، السلام علیکم، آج ۷؍ ستمبر ہے اور

صفحہ 622

پیش گوئی کی میعاد مقررہ ۵؍ ستمبر ۱۸۹۳ء تھی۔ پیش گوئی کے الفاظ کچھ ہی ہوں، لیکن آپ نے اپنے الہام کی جو تشریح کی ہے وہ یہ ہے:

”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بہ سزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسا ڈالا جائے، مجھ کو پھانسی دیا جائے، ہر ایک بات کے لیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی“۔

اب کیا یہ پیش گوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ عبداللہ آتھم اب تک صحیح و سالم موجود ہے اور اس کو بہ سزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ اگر یہ سمجھو کہ پیش گوئی الہام کے الفاظ کے بموجب پوری ہو گئی جیسا کہ مرزا خدا بخش صاحب نے لکھا ہے اور ظاہری معنی جو سمجھے گئے وہ ٹھیک نہ تھے۔ اول تو کوئی بات ایسی نظر نہیں آتی کہ جس کا اثر عبداللہ آتھم صاحب پر پڑا ہو، دوسرے پیشین گوئی کے الفاظ یہ ہیں:

”اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز خدا کو انسان بنا رہا ہے وہ انہی دنوں کے مباحثے کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ لے کر یعنی ۱۵ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیش گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے (بینا) کیے جائیں گے، بعض لنگڑے چلنے لگیں گے، بعض بہرے سننے لگیں گے“۔

پس اس پیش گوئی میں ہاویہ کے معنی اگر آپ کی تشریح کے بموجب نہ لیے جائیں اور صرف ذلت اور رسوائی لی جائے تو بے شک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی کے ہاویہ میں گر گئی اور عیسائی مذہب سچا (عیسائی مذہب اسی حالت میں سچا سمجھا جائے اگر یہ پیش گوئی

صفحہ 623

سچی سمجھی جائے) جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمانوں (مرزائیوں) کو کہاں؟ پس اگر اس پیش گوئی کو سچا سمجھا جائے تو عیسائیت ٹھیک ہے، کیونکہ جھوٹے فریق کو رسوائی اور سچے کو عزت ہو گی۔ اب رسوائی مسلمانوں کو ہوئی (مسلمانوں کو نہیں، بلکہ مرزائیوں کو۔ مولف ”رئیس قادیاں“) میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔

دوسرے اگر کوئی تاویل ہو سکتی ہے تو یہ بڑی مشکل کی بات ہے کہ ہر پیش گوئی کے سمجھنے میں غلطی ہو۔ لڑکے کی پیش گوئی میں تفاؤل کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا، وہ مر گیا، تو اس وقت بھی غلطی ہوئی۔ اب اس معرکہ کی پیش گوئی کے اصلی مفہوم کے نہ سمجھنے نے تو غضب ڈھایا۔ اگر یہ کہا جائے کہ احد میں فتح کی بشارت دی گئی تھی، آخر شکست ہوئی تو اس میں ایسے زور سے اور قسموں سے فتح کی پیش گوئی نہ تھی اور اس میں لوگوں سے غلطی ہو گئی تھی اور آخر پھر جب مجتمع ہو گئے تو فتح پائی۔ کیا کوئی ایسی نظیر ہے کہ اہل حق کو بالمقابل کفار کے ایسے صریح وعدے ہو کر اور معیار حق و باطل ٹھہرا کر ایسی شکست ہوئی ہو (ہرگز نہیں۔ مولف) مجھ کو تو اب اسلام پر شبہے پڑنے شروع ہو گئے (کسی جھوٹے مدعی تقدس کی جھوٹی پیشین گوئی پر اسلام کی صداقت میں شبہ کرنا جہالت و نادانی ہے۔ مولف)

لیکن الحمد للہ کہ اب تک جہاں تک غور کرتا ہوں اسلام بالمقابل دوسرے ادیان کے اچھا معلوم ہوتا ہے، لیکن آپ کے دعاوی کے متعلق تو بہت ہی شبہ ہو گیا۔ پس میں نہایت بھرے دل سے التجا کرتا ہوں کہ آپ اگر فی الواقع سچے ہیں تو خدا کرے کہ میں آپ سے علیحدہ نہ ہوں اور اس زخم کے لیے کوئی مرہم عنایت فرماویں، ورنہ آپ نے مجھے ہلاک کر دیا۔ ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں، نہایت دلی رنج سے یہ تحریر کر رہا ہوں۔ راقم محمد علی خان از مالیر کوٹلہ۔ (آئینہ حق نما، مولفہ یعقوب علی تراب، ۱۰۰- ۱۰۱)

محمد علی خان نے اپنی چٹھی میں جو یہ لکھا ہے کہ: ”غزوۂ احد میں فتح کی بشارت دی گئی تھی آخر شکست ہوئی تو اس میں ایسے زور سے اور قسموں سے فتح کی پیش گوئی نہ تھی“۔ تو یہ بیان سراپا لغو اور بے ہودہ ہے۔ حضرت سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد میں فتح کی بشارت نہیں دی تھی، بلکہ آپ نے صحابہ سے محض یہ فرمایا تھا کہ اگر ثابت قدم رہو گے تو فتح پاؤ گے، لیکن چونکہ انصار کے بعض جوانوں نے استقلال کی جبل متین کو ہاتھ

صفحہ 624

ہے چھوڑ دیا اور فرمان نبویؐ کے خلاف اعداء کی ہزیمت و پسپائی کے وقت اپنا مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت جمع کرنے کے لیے اٹھ دوڑے، اس لیے حضرت خالد بن ولیدؓ کو، جو اس وقت تک دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے اور قریش کی طرف سے رزم خواہ تھے، مسلمانوں پر عقب سے حملہ کرنے کا موقع مل گیا اور اس طرح جیش موحدین کی فتح عارضی طور پر شکست سے بدل گئی۔ اگر حضرت مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کی بشارت دی ہوتی تو یہ کبھی ممکن نہ تھا کہ اس کا خلاف ہوتا۔

محمد علی خاں کی حقیقت افروز چٹھی کے جواب میں الہامی صاحب نے ان پر طفل تسلیوں کے خوب جال ڈالے اور جو طویل چٹھی بھیج کر ان کو پھسلانے کی کوشش کی اس کا خلاصہ یہ ہے:

محبّی اخویم نواب صاحب سردار محمد علی خاں صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ۔

آپ کا عنایت نامہ مجھ کو آج کی ڈاک میں ملا۔ آتھم کے زندہ رہنے کے بارے میں میرے دوستوں کے بہت خط آئے، لیکن یہ پہلا خط ہے جو تذبذب اور تردد اور شک اور سوء ظن سے بھرا ہوا تھا۔ ایسے ابتلاء کے موقع پر جس ثابت قدمی سے اکثر دوستوں نے خط بھیجے ہیں، تعجب میں ہوں کہ کس قدر سوز یقین کا خدائے تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈال دیا اور بعض نے ایسے موقعہ پر نئے سرے سے بیعت کی، بہرحال آپ کا خط پڑھنے سے اگرچہ آپ کے ان الفاظ سے بہت ہی رنج ہوا، جن کے استعمال کی نسبت ہرگز امید نہ تھی، لیکن سوچا کہ کسی وقت اگر اللہ نے چاہا تو آپ کے لیے دعا کی ہے۔ نہایت مشکل یہ ہے کہ آپ کو اتفاق ملاقات کا کم ہوتا ہے، جس طرح آپ سمجھتے ہیں ایسا نہیں، بلکہ درحقیقت یہ فتح عظیم ہے۔ مجھے خدائے تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ عبداللہ آتھم نے حق کی عظمت قبول کر لی اور سچائی کی طرف رجوع کرنے کی وجہ سے سزائے موت سے بچ گیا، اگر وہ اس کا قائل ہو جائے تو ہمارا مدعا حاصل ورنہ میں نے اشتہار دیا ہے کہ ایک ہزار روپیہ نقد بلا توقف اس کو دیا جائے کہ وہ قسم کھا جائے کہ میں نے حق کی طرف رجوع نہیں کیا۔ اگر اس قسم کے بعد وہ ایک برس کے بعد ہلاک نہ ہو تو ہم ہر طرح سے کاذب ہیں اور اگر وہ قسم نہ کھائے تو وہ کاذب ہے۔ خدائے تعالیٰ نے کئی دفعہ میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اس جماعت پر ایک

صفحہ 625

ابتلاء آنے والا ہے تا اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کون سچا ہے اور کون کچا ہے۔ (خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ)۔ (مکتوبات احمدیہ' جلد ۵' نمبر ۴' صفحہ ۶۵-۶۸)

محمد علی خاں کی محرومی قسمت دیکھو کہ وہ اس واقعہ کے بعد بھی مرزائیت سے تائب نہ ہوئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہ الہامی صاحب کا جواب پڑھ کر مطمئن ہو گئے یا خاموشی اختیار کر لی۔ حسب بیان مولانا بٹالوی قادیانی صاحب کی زندگی میں قریباً آٹھ ہزار مرزائی تائب ہو کر مختلف اوقات میں از سر نو حلقہ اسلام میں داخل ہوئے، لیکن جو لوگ قسی القلب تھے وہ اس قسم کے واقعات سے بھی متاثر نہ ہوئے، کیونکہ پتھر کو جونک نہیں لگ سکتی۔ فی قلوبهم مرض فزادهم الله مرضا۔

الہامی صاحب کے منجھلے صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم اے نے ”سیرۃ المہدی“ میں مرگ آتھم کی پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے کو قادیاں کے حق میں زلزلہ سے تعبیر کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں: ”چوتھا زلزلہ آتھم کی پیش گوئی کی پندرہ ماہ میعاد گزرنے پر آیا۔ یہ دھکا بھی اس وقت کے لحاظ سے نہایت کڑا دھکا تھا، لیکن جماعت حضرت (مرزا) صاحب کی تربیت کے نیچے ایک حد تک مستحکم ہو چکی تھی، اس لیے برداشت کر گئی، لیکن مخالفوں میں سخت مخالفت و استہزاء کی لہر اٹھی“۔ (سیرۃ المہدی' جلد اول' صفحہ ۸۹)

باب ۸۳

نام نہاد صلیب شکن کا نسبتی بھائی اور

دوسرے مرزائی آغوش صلیب میں

آتھم کے مقابلہ میں قادیانی صاحب کو جو ذلت آفرین شکست ہوئی تھی، اس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ الہامی صاحب نے ہزیمت پر پردہ ڈالنے اور اپنے سحر زدوں کے آنسو پونچھنے کے لیے پیش گوئی کی پھلجڑی چھوڑ دی تھی۔ آخر جب پیشین گوئی بھی جھوٹی نکلی اور آتھم نے مدت موعود کے اندر مرنے سے انکار کر دیا تو کئی ایک دام افتادگان قادیاں

صفحہ 626

مرزائیت کو جھوٹا سمجھ کر عیسائی ہوگئے‘ حالانکہ قادیانی صاحب شب و روز پروپیگنڈا کرتے رہتے تھے کہ میں صلیب شکن ہوں‘ میں نے آکر مسیحیت کو پارہ پارہ اور صلیب کو پامال کر دیا ہے۔

ظاہر ہے کہ ہر دعویٰ کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ الہامی صاحب صلیب شکنی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود اس دل فگار حقیقت کے سوا کبھی اپنے دعوے کی کوئی دلیل پیش نہ کرسکے کہ منشی اسمعیل ساکن جنڈیالہ ضلع امرتسر جو مناظرۂ قادیانی و آتھم کا بانی تھا اور قادیانی صاحب کے متعدد پیروؤں نے مرزائیت سے علاقہ توڑ کر صلیب پرستی اختیار کرلی اور جب مولوی سعد اللہ مرحوم لدھیانوی نے خانہ ساز صلیب شکن کو اس کا طعنہ دیا تو موعود صاحب نے سخت برہم ہو کر رسالہ انوار الاسلام میں‘ جو ستمبر ۱۸۹۴ء میں شائع ہوا تھا‘ لکھا: ”یہ کہنا کہ بعض مسلمان اس (مرگ آتھم کے) الہام کے بعد عیسائی ہوگئے‘ اس سے بھی عیسائیوں کی صداقت (فتح) پر ایک دلیل سمجھنا صرف ایک خباثت ہے۔ اس سے زیادہ نہیں“۔ اس کے بعد مرزا صاحب نے عیسائی ہو جانے والے مرزائیوں کی نسبت لکھا کہ ”یہ دو چار فاسق نام کے مسلمان تھے‘ جن کو ہم نے بد معاش پا کر اپنی جماعت سے پہلے ہی خارج کر دیا تھا‘ پھر یہ لوگ مردار دنیا کے لیے عیسائی ہوگئے“۔ (رسالہ انوار الاسلام‘ مرتبہ قادیانی صاحب‘ ص ۲۷) مگر یہ بیان سراسر دروغ بافی ہے‘ قادیاں کے الہامی لٹریچر میں ان کے خارج از جماعت کیے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

بہر حال صلیب شکن صاحب کے اپنے اعتراف سے ثابت ہوا کہ بہت سے مرزائیوں نے مسیحیت کا بپتسمہ لے کر صلیب پرستی اختیار کرلی۔ اس بیان کے قریباً تین سال بعد پادری ہنری مارٹن کلارک نے مسٹر ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے اجلاس میں بیان کیا کہ بہت سے اشخاص عیسائی ہوگئے‘ جن میں سے ایک شخص محمد یوسف خاں‘ جو ایک اچھا معزز آدمی ہے اور پرہیزگار‘ دیندار اور مجاہد آدمی سمجھا جاتا تھا۔ مباحثہ آتھم کا سیکرٹری اور ایلچی رہا تھا‘ عیسائی ہوگیا۔ دوسرا آدمی میر محمد سعید تھا‘ جو مرزا غلام احمد کے بہنوئی کا خالہ زاد بھائی تھا‘ وہ بھی عیسائی ہوا اور خاص ہمارے ساتھ اس کا تعلق تھا۔ (کتاب البریہ‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۱۴۳)

موعود صاحب ”کتاب البریہ“ میں ہنری مارٹن کلارک کا یہ بیان قلمبند کرنے کے بعد

صفحہ 627

حاشیہ پر رقم فرما ہیں کہ یہ غلط ہے کہ میر محمد سعید میرے بہنوئی کا خالہ زاد بھائی تھا‘ بلکہ وہ بیوی (نصرت بیگم) کا خالہ زاد بھائی ہے۔ (ایضاً) بہرحال مرگ آتھم کی پیشین گوئی کا انجام ظاہر ہونے کے بعد بہت سے مرزائیوں نے حضرت مسیح موعود کی خانہ زاد مسیحیت سے بیزار ہو کر پولوس کی مشرکانہ مسیحیت اختیار کر لی۔ موعود صاحب اپنے رسالہ انوار الاسلام (صفحہ ۵۲) میں لکھتے ہیں:

”کشف میں میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں‘ تب میں نے اس کو خلوت میں لے جا کر کہا کہ لوگ پھرتے جاتے ہیں‘ مگر کیا تم بھی پھر گئے؟ تو اس نے کہا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں“۔

مولوی محمد حسین مرحوم بٹالوی نے اس مرزائی بیان پر حسب ذیل الفاظ میں تبصرہ کیا:

”اس فرشتہ سے‘ جو اس کشف میں قادیانی پر ظاہر ہوا‘ حکیم نور الدین بھیروی مراد ہیں۔ یہی حکیم صاحب قادیانی کو تسلی دیتے ہیں کہ لوگ منحرف ہوتے جاتے ہیں‘ لیکن میں اخیر وقت تک تمہارا ساتھ دوں گا“۔

اس تاویل و تعبیر کی وجہ یہ ہے کہ حکیم صاحب درحقیقت قادیانی کے پیرو نہیں‘ بلکہ پیش رو اور مرشد ہیں۔ وہی ہیں جو قادیانی کو اپنے کیش نیچریت پر چلا رہے ہیں۔ حکیم صاحب نے ایک کمال کی وجہ سے قادیانی کو اپنا مقتدا بنا رکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ قادیانی کو نصوص قرآن و حدیث کی تحریف و تبدیل کا ڈھنگ خوب یاد ہے۔ قرآن ماننے والوں کو قرآن کے معنی بگاڑ کر دکھا دیتا ہے۔ حدیث کے طالب کو حدیث کے معنے میں تحریف کر کے کچھ کا کچھ بتا دیتا ہے۔ عقلی باتوں اور نیچری اصول کے ماننے والوں کو بھی اچھی طرح خوش کر دیتا ہے۔ حکیم صاحب اپنے نیچری مذہب کا جو مسئلہ بھی مسلمانوں میں رائج کرنا چاہتے ہیں‘ قادیانی پر اس کا الہام و القاء کر دیتے ہیں۔ قادیانی جس رنگ و پیرایہ میں مناسب سمجھتا ہے‘ اس کی اشاعت کرتا ہے‘ لہٰذا حکیم صاحب قادیانی سے نہ پھریں گے‘ گو سارا زمانہ اس سے پھر جائے۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۱۴۴)

باب ۸۳

صفحہ 628

مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کرنے کا انجام

مولوی عبدالحق غزنوی مرحوم سے قادیانی صاحب کا جو مباہلہ ہوا اس کا تذکرہ اوراق سابقہ میں گزر چکا ہے۔ یہ مباہلہ ۲۷ مئی ۱۸۹۳ء کو امرتسر کی عید گاہ میں ہوا تھا۔ اس سے فراغت پا کر فریقین اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوئے۔ اس واقعہ کے سوا سال بعد‘ جب مرگ آتھم کی پیش گوئی کی میعاد ختم ہوئی اور آتھم کے زندہ سلامت رہنے پر قادیانی صاحب پر ہر طرف سے آوازے کسے جانے لگے‘ تو مولوی عبدالحق صاحب نے ایک اشتہار شائع کیا‘ جس کا عنوان تھا ”اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی بر غلام احمد قادیانی“۔ اس اشتہار میں مولوی عبدالحق نے قادیانی صاحب کی ناکامی اور رسوائی کو اپنے مباہلہ کا نتیجہ قرار دیا اور قادیانی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ”آپ جو فرماتے تھے کہ مباہلہ کے بعد جو باطل پر ہوگا وہ ذلیل و روسیاہ ہوگا‘ اب بتائیے کہ ہم دونوں میں سے باطل پر کون ہے اور ذلیل و روسیاہ کون ہوا ہے؟ آپ نے مولوی عبدالجبار صاحب امرتسری کو لکھا تھا کہ میں اپنے الہام پر ایسا ہی ایمان رکھتا ہوں جیسے کتاب اللہ پر۔ مرگ آتھم کی پیشین گوئی کے جھوٹا نکلنے پر بھی تمہیں اپنے الہام پر وہی ایمان ہے یا کچھ فرق آگیا؟ پنڈتوں‘ جوتشیوں اور برہمنوں کی بھی کوئی نہ کوئی پیشین گوئی صحیح نکل آتی ہے‘ لیکن آپ کو اپنی پیشین گوئیوں میں ہمیشہ ذلت و نامرادی کی بھیانک صورت دیکھنی نصیب ہوتی ہے۔ پیشین گوئی کی میعاد گزر چکی‘ آتھم اب پہلے سے زیادہ قوی‘ تندرست اور صحیح المزاج ہے‘ تمہاری یہ ذلت و رسوائی مباہلہ کا اثر نہیں تو اور کیا ہے“۔

اس کے بعد مولوی صاحب نے لکھا: اب میں مسلمانوں کو عموماً اور مرزائیوں کو خصوصاً قسم دیتا ہوں کہ میرے اور مرزا کے حال کو دیکھ کر خود ہی اندازہ کر لو کہ مباہلہ کو پندرہ مہینے گزر گئے‘ اب میرے اوپر مباہلہ کی تاثیر پڑی یا مرزا پر؟ میں ہمیشہ بیمار رہتا تھا‘ اب کے سال اللہ کے فضل سے میرے بدن پر پھوڑا پھنسی تک نہیں نکلا اور وہ باطنی نعمتیں اللہ عزوجل نے اس عاجز کو عطا کی ہیں‘ جو نہ بیان کر سکتا ہوں اور نہ مناسب جانتا ہوں کہ ان کا اظہار کروں اور مرزا کا حال تو ظاہر ہے اور اس کے مریدوں کا یہ حال ہے کہ اسماعیل ساکن جنڈیالہ بانی مبانی مباحثہ امرتسر‘ جس نے مرزا کو مباحثہ کے واسطے منتخب کیا تھا

صفحہ 629

اور یوسف خاں سرحدی جو مدت سے مرزا کا مرید تھا اور محمد سعید خالہ زاد بھائی مرزا کی بی بی کا، یہ سب عیسائی ہوگئے۔ پیر کا یہ حال اور مریدوں کا یہ کہ دین و دنیا کی رسوائی و ذلت ان پر آپڑی۔

یہ اشتہار مطبع صدیقی لاہور میں چھپا تھا اور اس پر ۳؍ ربیع الثانی ۱۳۱۲ھ کی تاریخ تھی۔ اس اشتہار کے انتقام میں قادیاں کے الہامی صاحب نے مولوی صاحب کو خوب گالیاں دیں۔ مشتے نمونہ از خروارے قادیانی صاحب کی ایک عربی تحریر کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔ یہ ترجمہ بھی خود قادیانی صاحب کا ہے، فرماتے ہیں:

”اے کذاب! تو پہلے مباہلہ کے بعد یہ سب کچھ دیکھ چکا ہے اور تو غرق کیا گیا ہے اور جلا دیا گیا ہے۔ اے احمقوں کے فضلے! ہمیں بتلا کہ کب تو پانی میں سے نکلا، بلکہ تو تو ندامت کے پانی میں بدبختوں کی طرح ڈوب گیا اور کہاں تجھے آگ سے نجات حاصل ہوئی، بلکہ تو تو اس حسرت کی آگ سے جل گیا، جو شریروں پر بھڑکتی ہے“۔ (حجۃ اللہ، مولفہ قادیانی، صفحہ ۷۲)

مولوی عبدالحق مرحوم نے پیشین گوئی کی ناکامی کو مباہلہ کا اثر قرار دیتے ہوئے قادیانی صاحب کی مندرجہ ذیل تحریر سے بھی استدلال کیا تھا۔ الہامی صاحب نے عیسائیوں کے جواب میں لکھا تھا کہ میری سچائی کے لیے ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہو تو پھر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور نہ صرف وہی سزا، بلکہ موت کی سزا کے لائق ہوں۔ (حجۃ اللہ، مولفہ مرزا غلام احمد، طبع سوم، صفحہ ۹)۔ مرزا صاحب نے اس استدلال کے جواب میں لکھا کہ یہ غلط ہے کہ میرا نشان ظاہر نہیں ہوا، بلکہ میرے کئی ایک نشان ظاہر ہوئے۔ مباہلہ کے بعد میری ترقی ہوئی، مرید بڑھ گئے، آمدنی میں اضافہ ہوگیا۔ (حقیقۃ الوحی، صفحہ ۲۴۰)

اور جب مریدوں نے الہامی صاحب سے دریافت کیا کہ حضرت! اہل اللہ کے مخالف تو ان کی بد دعا سے ہلاک ہو جاتے ہیں، لیکن اس کی کیا وجہ ہے کہ مباہلہ کے باوجود عبدالحق غزنوی کا بال تک بیکا نہیں ہوا؟ تو اس کے جواب میں مرزا صاحب نے کتاب انجام آتھم میں، جو ۲۲؍ جنوری ۱۸۹۷ء کو شائع کی، یہ عذر لنگ پیش کیا کہ مباہلہ دراصل میری درخواست سے نہیں تھا اور نہ میرا اس میں یہ مدعا تھا کہ عبدالحق پر بد دعا کروں اور نہ میں نے بعد

صفحہ 630

مباہلہ کبھی اس بات کی طرف توجہ کی۔ اس بات کو اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے کبھی عبدالحق پر بد دعا نہیں کی اور اپنے دل کے جوش کو ہرگز اس طرف توجہ نہیں دیا۔ (ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ ۲۱)

لیکن اس تحریر کے ساڑھے پانچ سال بعد قادیانی صاحب نے کتاب نزول المسیح میں‘ جو ۲۰؍ اگست ۱۹۰۲ء کو شائع کی‘ یہ لکھ کر اپنے بیان کی تردید کر دی کہ صدہا مخالف مولویوں کو مباہلہ کے لیے بلایا گیا تھا‘ جن میں سے عبدالحق غزنوی میدان میں نکلا۔

بہر حال اس مباہلہ کے بعد دوسرے بے شمار مصائب کے علاوہ قادیانی صاحب کا ایک نو سالہ لڑکا مبارک احمد مر گیا۔ اس کے بعد الہامی صاحب خود بھی مولوی عبدالحق کی زندگی میں طعمہ اجل ہو کر ان کے برسر حق ہونے کی عملی تصدیق کر گئے‘ کیونکہ الہامی صاحب نے خود لکھا تھا کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو‘ وہ سچے کی زندگی میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ (اخبار الحکم قادیاں‘ ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء‘ صفحہ ۹)

یاد رہے کہ قادیانی صاحب ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو بمقام لاہور مرض ہیضہ میں گرفتار ہو کر مولوی عبدالحق مرحوم کی زندگی میں گیارہ گھنٹہ کے اندر چل بسے تھے اور مولوی صاحب اپنے حریف کے نذر اجل ہونے کے بعد نو سال تک نہایت خوشگوار اور پر عافیت زندگی بسر کر کے ۲۱؍ مئی ۱۹۱۷ء کو رہگرائے عالم آخرت ہوئے۔ والحمد للہ علی ذالک۔

باب ۸۵

رمضان المبارک میں خسوف و کسوف کا اجتماع اور

رئیس قادیاں کی موقع شناسی

قادیانی صاحب کی عادت تھی کہ کیسی ہی صحیح متفق علیہ حدیث نبوی کیوں نہ ہو‘ اگر ان کی خانہ ساز مسیحیت یا نفسانی خواہشات کے خلاف نظر آتی تو سخت مارقانہ طریق پر اس کو پس پشت ڈال دیتے یا نہایت بے باکی کے ساتھ اس پر اپنی ملحدانہ تاویل کاری کی ملمع

صفحہ 631

سازی شروع کر دیتے، لیکن اگر کسی روایت کو ذرا بھی مفید مطلب پاتے تو خواہ کیسی ہی ضعیف، بلکہ موضوع اور من گھڑت کیوں نہ ہو، اس سے استدلال کر کے اسے اپنا آلہ کار براری بناتے اور غوغا آرائی کا طوفان برپا کر دیتے، چنانچہ رمضان میں خسوف و کسوف کے اجتماع کی لغو و موضوع روایت اس کی روشن مثال ہے۔

چونکہ الہامی صاحب کی ذات میں حضرت مہدی علیہ السلام کی علامات مختصہ میں سے ایک علامت بھی نہیں پائی جاتی تھی اور نیز اس وجہ سے کہ سچے مہدی علیہ السلام کی ایک علامت حدیثوں میں یہ لکھی ہے کہ وہ دول یورپ کی متحدہ افواج کو منہدم و پامال کر دیں گے۔ الہامی صاحب کو انگریز کے خوف سے ابتداء ”مہدویت کا دعویٰ کرنے کی جرأت نہ ہوئی، بلکہ سرے سے ان صحیح حدیثوں کی صحت ہی کے منکر رہے، جو حضرت مہدی علیہ السلام کے متعلق ترمذی، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ وغیرہ کتب حدیث میں مروی ہیں، چنانچہ کتاب ازالہ اوہام (طبع پنجم، صفحہ ۱۹۰) میں، جو ۳؍ ستمبر ۱۸۹۱ء کو شائع ہوئی، لکھا کہ محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔ ۱۸۹۳ء سے پہلے ان کی حالت برابر مذبذب رہی، کبھی تو مہدی بن بیٹھتے اور کبھی بخوف حکومت نہ صرف اپنی مہدویت سے انکار کر دیتے، بلکہ ان حدیثوں کی صحت ہی کے منکر ہو جاتے جو حضرت مہدی علیہ السلام کی شان میں وارد ہیں۔

آخر جب مارچ ۱۸۹۴ء میں سورج گہن اور چاند گہن کا رمضان المبارک میں اجتماع ہوا تو ان کی رگ خود غرضی پھر جنبش میں آگئی اور انہوں نے یہ رٹ لگانی شروع کی کہ میں ہی مہدی ہوں اور رمضان میں سورج اور چاند کا گہن میری ہی مہدویت کا نشان ہے، چونکہ انگریزی حکومت کی طرف سے ہر وقت گوشمالی کا بھی کھٹکا لگا ہوا تھا، اس لیے انگریز کی طمانیت خاطر کے لیے ساتھ ہی قادیانی بہادر نے یہ ڈھنڈورہ پیٹنا شروع کر دیا کہ میں مہدی تو ہوں، مگر خونی مہدی نہیں ہوں۔

رسالہ ”انوار الاسلام“ میں، جو ۶؍ ستمبر ۱۸۹۴ء کو چھپ کر شائع ہوا، لکھا کہ ایک فیصلہ کرنے والا اشتہار انعامی ہزار روپیہ میاں رشید احمد گنگوہی وغیرہ کی ایمانداری پرکھنے کے لیے، جنہوں نے اس عاجز کی نسبت یہ اشتہار شائع کیا ہے کہ ”یہ شخص کافر اور دجال اور شیطان ہے اور اس پر لعنت اور سب و شتم کرتے رہنا ثواب کی بات ہے“۔ اب ان پر

صفحہ 632

واجب ہے کہ اپنے ہم جنس محمد حسن صاحب لدھیانوی کو قسم دلوا کر ہزار روپیہ ہم سے لے لیں، ورنہ یاد رکھیں کہ وہ سب ابدی لعنت میں مبتلا ہو کر تمام شیاطین کے ساتھ جہنم میں پڑیں گے اور لکھا ہے کہ مہدی موعود کا دوسرا نشان یہ ہے کہ ”اس کے وقت میں رمضان میں خسوف و کسوف ہوگا اور پہلے اس سے جیسا کہ منطوق حدیث صاف بتلا رہا ہے، کبھی کسی رسول یا نبی یا محدث کے وقت میں خسوف کسوف کا اجتماع رمضان میں نہیں ہوا اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے، کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے، خسوف اور کسوف اور مہدی کا رمضان کے مہینے میں موجود ہونا خارق عادت پیش گوئی واقعی طور پر سچی نکلی۔ اب اس میں شک کرنا صریح بے ایمانی ہے“۔ (انوار الاسلام، مولفہ مرزا غلام احمد، صفحہ ۴۶۔۴۷)

اور بوالعجبی دیکھو کہ الہامی صاحب نے اس تحریک کے قریباً پانچ سال بعد رسالہ (حقیقۃ المہدی، صفحہ الف) میں از سرنو یہ لکھ کر اپنی مہدویت کا طلسم توڑ دیا کہ اس قسم کی تمام حدیثیں، جو مہدی کے آنے کے بارے میں ہیں، ہرگز قابل وثوق اور قابل اعتبار نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب حضرت مہدی علیہ السلام کے ظہور کے متعلق تمام حدیثیں ہی ناقابل اعتبار ہیں تو پھر الہامی صاحب کا دعوائے مہدویت بھی ایک مضحکہ خیز حرکت تھی، لیکن طرفہ تماشہ دیکھو کہ الہامی صاحب تھوڑے دن کے بعد اس واقعہ کو بالکل بھول گئے کہ ”میں حقیقۃ المہدی“ میں احادیث مہدی علیہ السلام کو ناقابل اعتبار لکھ چکا ہوں، اس بنا پر کچھ مدت کے بعد ان پر مہدویت کا بھوت پھر آ سوار ہوا اور تذکرۃ الشہادتین (صفحہ ۲) میں، جو ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو شائع کی گئی، یہ لکھ مارا کہ ”وہ آخری مہدی، جو تنزل اسلام کے وقت اور گمراہی کے پھیلنے کے زمانہ میں براہ راست خدا سے ہدایت پانے والا تقدیر الٰہی میں مقرر کیا گیا تھا، جس کی بشارت آج سے تیرہ سو برس پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی، وہ میں ہی ہوں“۔ کاش مرزائی لوگ اپنے دیدۂ عقل سے تعصب اور ہٹ دھرمی کی پٹی اتار کر ان حقائق پر غور کریں۔

گہنوں کے اجتماع کی روایت کسی کذاب کا دماغی اختراع ہے

دار قطنی کی روایت، جس سے قادیانی صاحب نے استدلال کر کے اپنی مہدویت کا تاج

صفحہ 633

ناچنا شروع کر دیا‘ یہ ہے: عن عمر و بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان لمهدینا ایتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض تنکسف القمر لاول لیلۃ من رمضان و تنکسف الشمس فی النصف منہ ولم تکونا منذ خلق السموات والارض (عمرو بن شمر نے جابر سے روایت کی ہے کہ محمد بن علی یعنی امام محمد باقرؒ نے فرمایا کہ ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں‘ جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے‘ کبھی ان کا ظہور نہیں ہوا۔ وہ دو نشانیاں یہ ہیں کہ رمضان کی پہلی رات میں چاند گہن ہوگا اور سورج گہن رمضان کے نصف میں (چودہ یا پندرہ تاریخ کو) ہوگا۔

اس کے متعلق التماس ہے کہ اول تو یہ نہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور نہ کسی صحابی کا قول ہے‘ بلکہ یہ قول حضرت امام محمد باقرؒ کی طرف نسبت کیا گیا ہے‘ جو شہید دشت کربلا حضرت امام حسینؓ کے پوتے تھے‘ دوسرے یہ کہ اس روایت کے دو راوی‘ عمرو بن شمر اور جابر جعفی جھوٹے ہیں۔ عمرو بن شمر کو دار قطنی اور نسائی نے متروک الحدیث کہا ہے‘ جوزجانی نے کہا کہ وہ جھوٹا ہے‘ ابن حبان نے اس کی نسبت کہا کہ غالی رافضی تھا جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دیتا اور موضوع روایتیں بیان کیا کرتا تھا۔ یحییٰ بن معین نے کہا کہ وہ لیس بشی یعنی لغو ہے۔ امام بخاری نے فرمایا کہ منکر الحدیث ہے۔ (میزان الاعتدال‘ جلد ۲‘ صفحہ ۲۶۲)

اس روایت کی سند میں دوسرا راوی جابر جعفی ہے۔ یہ شخص بھی بڑا دجال تھا۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ نے فرمایا ہے کہ میں نے جابر جعفی سے بڑھ کر کسی کو جھوٹا نہیں دیکھا۔ یحییٰ بن یعلیٰ نے کہا کہ جابر جعفی جھوٹا تھا‘ رجعت و تناسخ کا قائل تھا۔ امام احمدؒ نے فرمایا ہے کہ عبدالرحمن بن مہدی نے جابر جعفی کو چھوڑ دیا‘ نسائی نے کہا کہ متروک الحدیث ہے اور ثقہ نہیں۔ حاکم نے کہا کہ وہ حدیث کو بھول جاتا تھا۔ لیث بن ابو سلیم نے کہا کہ جابر جعفی کے پاس بھی نہ پھٹکو‘ کیونکہ وہ کذاب ہے۔ جریر نے کہا کہ اس سے روایت کرنا جائز نہیں‘ کیونکہ وہ رجعت اور تناسخ کا قائل تھا۔ ابو داؤد نے کہا کہ میرے نزدیک جابر جعفی حدیث میں قوی نہیں۔ زائدہ نے کہا کہ جابر جعفی رافضی تھا جو اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا تھا۔ ابن سعد نے کہا کہ وہ اپنی رائے اور روایت میں مدلس و ضعیف تھا۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ وہ جھوٹا ہے۔ عجلی نے کہا کہ غالی شیعہ اور

صفحہ 634

مدلس تھا۔ ابن عینیہ نے کہا وہ جھوٹا تھا۔ ابن حبان نے کہا کہ وہ سبائی یعنی عبداللہ بن سبا یہودی کا پیرو تھا۔ (تہذیب التہذیب، جلد ۲، صفحہ ۴۶۔۵۰)

غرض دار قطنی کی یہ روایت انتہا درجہ کی ذلیل اور بے ہودہ ہے اور اس سے استدلال کرنا اسی شخص کا کام ہے جو علم حدیث سے بے بہرہ ہو یا قادیان کے مسیح موعود کا سا مطلب پرست ہو۔ چونکہ قادیانی صاحب اس روایت کو کھینچ تان کر مفید مطلب بنا سکتے تھے، اس لیے یہ روایت ان کے نزدیک نہایت صحیح تھی، چنانچہ ضمیمہ 'انجام آتھم' (صفحہ ۴۹) میں لکھا کہ ”پھر ایک اور اعتراض سادہ لوح عبدالحق کا یہ ہے کہ محدثین نے دار قطنی کی اس حدیث کے بعض راویوں پر جرح کی ہے، اس لیے یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ لیکن اس احمق کو سمجھنا چاہیے کہ حدیث نے اپنی سچائی کو آپ ظاہر کر دیا ہے، کیونکہ اس کی پیش گوئی پوری ہوگئی، پس اس صورت میں جرح سے حدیث کا کچھ نقصان نہیں ہوا، بلکہ جنہوں نے جرح کیا ہے ان کی حماقت ظاہر ہوئی۔ فرض کیا کہ اس حدیث میں کوئی راوی کذاب ہے، مفتری ہے، شیعہ ہے، مگر جب کہ یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی تو حدیث کی صحت پر شہادت پیدا ہو گئی“۔

اس کے بعد الہامی صاحب نے ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۰ پر مولوی عبدالحق صاحب غزنوی مرحوم کو خطاب کرتے ہوئے لکھا: ”اے بد ذات، خبیث، دشمن اللہ اور رسول کے تو نے یہ یہودانہ تحریف اسی لیے کی کہ تا یہ عظیم الشان معجزہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا پر مخفی رہے۔ جابر اور عمرو بن شمر کا جھوٹ تو ہرگز ثابت نہیں ہوا، مگر تیرا جھوٹ اے نابکار پکڑا گیا۔ جابر اور عمرو کا سچا ہونا کسوف خسوف سے ثابت ہو گیا اور رویت نے روایت کے ضعف کو دور کر دیا۔ اب جو شخص ان بزرگوں (جابر اور عمرو بن شمر) کو جھوٹا کہے وہ بد ذات خود جھوٹا اور بے ایمان ہے“۔

قادیانی صاحب نے کتاب حقیقتہ الوحی (صفحہ ۱۹۷) میں لکھا، جبکہ یہ پیش گوئی اپنے معنوں کے رو سے کامل طور پر پوری ہو چکی تو اس حدیث سے بڑھ کر اور کون سی حدیث صحیح ہوگی جس کے سر پر محدثین کی تنقید کا بھی احسان نہیں، بلکہ اس نے اپنی صحت کو آپ ظاہر کر کے دکھلا دیا کہ وہ صحت کے اعلیٰ درجہ پر ہے۔ الہامی صاحب نے کتاب تحفہ گولڑویہ (صفحہ ۴۵) میں اعلان کیا تھا کہ جو کوئی اس حدیث کو موضوع ثابت کرے گا اس کو

صفحہ 635

سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔ اس کے جواب میں علمائے اسلام نے عمرو بن شمر اور جابر جعفی کی از سر نو قلعی کھول کر قادیانی صاحب کی پیش کردہ روایت کی حقیقت ظاہر کر دی، مگر مرزا جی نے جیسا کہ ان کا معمول تھا کہ انعام مشتہر کرتے تھے، لیکن اس کا ایفا نہیں کرتے تھے، کسی کو پھوٹی کوڑی بھی انعام نہ دی۔

قادیانی صاحب کے وقت کا اجتماع کسوفین پیشین گوئی کے خلاف تھا

اور اگر بفرض محال روایت صحیح ہوتی تو بھی قادیانی صاحب کے لیے کچھ مفید نہ تھا، کیونکہ اول تو یہ پیشین گوئی سچے مہدی علیہ السلام کے متعلق ہے، جنہیں مرزا صاحب (معاذ اللہ) خونیں مہدی کہا کرتے تھے اور جو فاطمی یعنی اہل بیت نبوت میں سے ہوں گے، اسی بنا پر امام محمد باقر نے، جو اہل بیت نبوت کے چشم و چراغ تھے، فرمایا کہ ہمارے مہدی کی دو نشانیاں ہیں۔ اور مرزا صاحب فاطمی نہیں تھے۔ چنانچہ انہوں نے خود لکھا کہ میں وہ مہدی نہیں ہوں جو مصداق من ولد فاطمہ و من عترتی وغیرہ ہے۔ (براہین احمدیہ، حصہ پنجم، صفحہ ۱۸۵)۔ دوسرے خود الہامی صاحب کے زمانہ میں ایک اور مدعی مہدویت محمد احمد مہدی سوڈانی بھی موجود تھا، جس کے مفصل حالات میں کتاب ”ائمہ تلبیس“ میں قلمبند کر چکا ہوں۔

تیسرے قادیانی صاحب کے زمانہ میں خسوف اور کسوف کا اجتماع پیشین گوئی کے مطابق نہیں ہوا تھا، کیونکہ پیشین گوئی میں یہ ہے کہ چاند گہن رمضان کی پہلی رات اور سورج گہن رمضان کی درمیانی تاریخ میں ہوگا اور الہامی صاحب کے وقت میں چاند کو رمضان کی تیرہویں رات اور سورج کو اٹھائیسویں تاریخ کو گہن لگا تھا، چنانچہ خود انہوں نے ضمیمہ انجام آتھم (صفحہ ۵۰) میں لکھا کہ چاند گرہن تیرہ رمضان کو ہوا اور سورج گرہن اٹھائیس رمضان کو، لیکن انہوں نے اپنی قوت سخن طرازی سے کام لے کر رمضان کی پہلی رات کو تیرہویں رات اور نصف رمضان کو اٹھائیسویں تاریخ ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دی، چنانچہ حقیقۃ الوحی (صفحہ ۱۹۴) میں روایت کا ترجمہ یہ لکھا کہ مہدی موعود کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اس کی اول رات میں ہوگا، یعنی تیرہویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن رمضان کے بیچ کے دن میں ہوگا، یعنی رمضان کی اٹھائیسویں تاریخ کو

صفحہ 636

اور اسی کتاب کے صفحات ۱۹۵-۱۹۶ پر لکھا کہ عرب کے محاورہ میں پہلی رات کا چاند قمر کبھی نہیں کہلاتا، بلکہ تین دن تک اس کا نام ہلال ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک سات دن تک ہلال کہلاتا ہے۔

لیکن الہامی صاحب کا یہ خیال صحیح نہیں، کیونکہ عربی میں چاند کو قمر کہتے ہیں اور وہ مختلف حالتوں میں ہلال یا بدر وغیرہ کہلاتا ہے، اس لیے ہلال اور بدر وغیرہ سب کو قمر کہہ سکتے ہیں، کیونکہ عربی میں چاند کا یہی اصلی نام ہے، چنانچہ رب جلیل نے فرمایا: ھو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا (وہ ذات پاک جس نے سورج کو چمک دار اور چاند کو نور بنایا) اور فرمایا: والقمر قدرنہ منازل حتی عاد کالعرجون القدیم (ہم نے چاند کے لیے منزلیں مقرر کی ہیں ان کے بموجب ترقی کرتا ہے پھر رو بہ زوال ہوتا ہے، یہاں تک کہ کھجور کی پرانی ٹہنی کی مانند رہ جاتا ہے) اور قاموس اور اس کی شرح تاج العروس میں ہے: الھلال غرة القمر وھی اول لیلتہ (ہلال قمر کی پہلی رات کا نام ہے) اور تاج العروس اور لسان العرب میں ہے: یسمی القمر للیلتین من اول شھر ھلالا (مہینہ کی پہلی دو راتوں میں قمر کو ہلال کہتے ہیں) غرض چاند کی پہلی رات کو جس طرح ہلال کہتے ہیں، اسی طرح قمر بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ قمر سب تاریخوں کے لیے مشترک نام ہے۔ ہر رات کا چاند قمر کہلاتا ہے، خواہ وہ پہلی رات کا ہو یا چودھویں کا یا کسی اور تاریخ کا۔

پس قادیانی صاحب کا ضمیمہ انجام آتھم (ص ۴۷) میں نہایت دیدہ دلیری سے یہ لکھنا کہ احمقوں نے یہ معنے کس لفظ سے سمجھ لیے، اے نادانو، آنکھوں کے اندھو، مولویت کو بدنام کرنے والو ذرا سوچو کہ حدیث میں قمر کا لفظ آیا ہے، اگر یہ مقصود ہوتا کہ پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا تو حدیث میں قمر کا لفظ نہ آتا بلکہ ہلال کا لفظ آتا“ اس بات کی بین دلیل ہے کہ قادیانی صاحب کو نہ تو قرآن پر عبور تھا نہ لغت ہی سے مس تھا، لیکن انہیں باایں ہمہ جہل و نادانی علماء امت کے خلاف دریدہ دہنی کرتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی۔ الہامی صاحب نے ضمیمہ انجام آتھم میں متذکرۂ صدر الفاظ درج کرنے کے بعد از سرنو یوں گل افشانی کی: ”سو اب سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ اس علمیت کے ساتھ مولوی کہلاتے ہیں۔ اب تک یہ بھی خبر نہیں کہ پہلی رات کے چاند کو عربی زبان میں کیا کہتے ہیں؟“ اور ضمیمہ انجام آتھم (صفحہ ۴۷) میں یہ بھی لکھا کہ اگر مہینہ کی پہلی رات مراد ہوتی تو روایت یوں

صفحہ 637

ہونی چاہیے تھی: ینکسف الھلال لاول لیلۃ لیکن بے چارے مرزے کی بلا جانے کہ عربی محاورہ تنکسف القمر ہی بولا جاتا ہے ینکسف الھلال خلاف محاورہ اور غلط ہے۔

کیا عہد مہدی کا اجتماع کسوفین خارق عادت ہو گا

یاد رہے کہ جب سے آفتاب اور ماہتاب پیدا ہوئے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ چاند کو رمضان کی پہلی اور سورج کو رمضان کی چودہویں یا پندرہویں تاریخ گہن لگا ہو، بلکہ چاند کو ہمیشہ قمری مہینہ کی تیرہویں، چودہویں یا پندرہویں رات اور سورج کو قمری مہینہ کی دو تاریخوں اٹھائیسویں یا انتیسویں تاریخ میں گہن لگتا ہے، لیکن روایت مسطورہ کے بموجب حضرت مہدی علیہ السلام کے زمن سعادت میں اسی طرح قاعدہ نجوم کے خلاف چاند کو رمضان کی درمیانی تاریخ میں گہن لگے گا، جس طرح جناب ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن ۱۰ تاریخ کو لگا تھا، بعض علماء نے لکھا ہے کہ آفتاب کو جو خلاف معمول ۱۰ تاریخ کو گہن لگا تو اس سے خدائے قادر و توانا کو اہل نجوم کے اس قاعدہ کا ابطال منظور تھا، جن کے نزدیک کسوف ۲۸ یا ۲۹ کے سوا کسی اور تاریخ میں ہرگز نہیں ہو سکتا۔

قادیانی صاحب حقیقۃ الوحی (صفحہ ۱۹۵) میں لکھتے ہیں کہ ”ہمارے مخالف سراسر تعصب سے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کے زمانہ میں روایت کے مطابق اجتماع کسوفین نہیں ہوا، یعنی ان کے زعم کے موافق چاند گرہن شب ہلال کو ہونا چاہیے تھا جو قمری مہینہ کی پہلی رات ہے اور سورج گرہن قمری مہینے کی پندرہویں دن کو ہونا چاہیے تھا، جو مہینے کا بیچواں دن ہے، مگر اس خیال میں سراسر ان لوگوں کی ناسمجھی ہے، کیونکہ دنیا جب سے پیدا ہوئی چاند گرہن کے لیے تین راتیں خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں مقرر ہیں، یعنی تیرہویں، چودہویں، پندرہویں اور چاند گرہن کی پہلی رات، جو خدا کے قانون قدرت کے مطابق ہے، وہ قمری مہینے کی تیرہویں رات ہے اور سورج کے گرہن کے لیے تین دن خدا کے قانون قدرت میں مقرر ہیں، یعنی قمری مہینے کا ستائیسواں، اٹھائیسواں اور انتیسواں دن۔ سو انہی تاریخوں کے بیچ میں چاند گرہن رمضان کی تیرہویں رات میں ہوا اور سورج گرہن اسی رمضان کے اٹھائیسویں دن ہوا“۔

لیکن مرزا صاحب کا یہ ڈھکوسلہ بھی ناقابل التفات ہے، کیونکہ روایت کے الفاظ اس

صفحہ 638

کو رد کرتے ہیں۔ اول تو تین دنوں میں سے درمیان کے دن کو نصف نہیں کہتے بلکہ وسط کہتے ہیں اور روایت میں ہے کہ سورج گرہن اس کے نصف میں ہوگا۔ دوسرے سورج گرہن کے وقت کی تشریح فی النصف منہ میں موجود ہے، کیونکہ اگر نصف سے وسط مراد لے کر کہیں کہ سورج گرہن اپنے معمولی ایام کے وسط میں ہوگا تو لفظ منہ کا مرجع کوئی نہ رہے گا اور منہ کی ضمیر کا مرجع بجز رمضان کے اور کسی طرف نہیں ہو سکتا۔ پس اس کے معنے لازمی طور پر یہی ہوں گے کہ وسط رمضان میں سورج گرہن ہوگا۔

خسوف و کسوف کے خارق عادت کہنے پر علمائے حق کو گالیاں

چونکہ رمضان کی پہلی رات خسوف اور نصف رمضان کو کسوف ہوگا اور یہ دونوں واقعات عادت مستمرہ کے خلاف ہوں گے اس لیے ان کو آیتین یعنی دو نشانیاں بتایا گیا اور ظاہر ہے کہ یہ نشان منجمین کے حساب کے سراسر خلاف اور ایسے بدیع ہیں کہ جن کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، اسی بناء پر روایت میں مذکور ہے لم تکونا منذ خلق السموات والارض یعنی جب سے زمین آسمان بنائے گئے یہ بدیع نشان یعنی پہلی تاریخ کو خسوف اور پندرہویں کو کسوف کبھی ظاہر نہیں ہوئے، البتہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں گرہن کا قاعدۂ مستمرہ ٹوٹ جائے گا، لیکن قادیاں کے مسیح موعود صاحب اس بدیہی چیز کے منکر ہیں اور اپنی عقل کے ناخن لینے کی بجائے مقتضائے طبیعت کی بناء پر الٹا علمائے امت کو گالیاں دیتے ہیں، چنانچہ ان کی مزید گوہر افشانی ملاحظہ ہو۔ ارشاد ہوتا ہے: ”انصاف کرنا چاہیے کہ کس قوت اور چمک سے کسوف اور خسوف کی پیش گوئی پوری ہوئی اور ہمارے دعوے پر آسمان نے گواہی دی، مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعل لعن اللہ الف الف مرۃ (خدا کی لعنت کے دس لاکھ جوتے علماء پر پڑیں) اپنے ناپاک اشتہار میں نہایت اصرار سے کہتا ہے کہ یہ پیش گوئی بھی پوری نہیں ہوئی۔ اے پلید دجال پیش گوئی تو پوری ہوگئی، لیکن تعصب کے غبار نے تجھ کو اندھا کر دیا۔ (ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ ۴۶) اگلے صفحہ پر یوں گوہر افشانی فرماتے ہیں: اور یہ خیال کہ اس حدیث میں جو یہ فقرہ ہے کہ لم تکونا منذ خلق السموات والارض اس سے سمجھا جاتا ہے کہ یہ خسوف و کسوف بطور خارق ہوگا نہ ایسا خسوف

صفحہ 639

کسوف جو منجمین کے نزدیک معلوم و معروف ہے۔ یہ وہم بھی اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ یہ لوگ (علمائے ملت) علم عربی اور عالمانہ تدبر سے بالکل بے نصیب اور بے بہرہ ہیں۔ یہودیوں کے لیے خدا نے اس گدھے کی مثال لکھی ہے، جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں، مگر یہ (معاذ اللہ) خالی گدھے ہیں۔ یہ اس شرف سے بھی محروم ہیں جو ان پر کوئی کتاب ہو“۔ اور آگے چل کر لکھتے ہیں کہ خدا نے قدیم سے چاند گرہن کے لیے ۱۳- ۱۴- ۱۵ اور سورج گرہن کے لیے ۲۷- ۲۸- ۲۹ تاریخیں مقرر کر رکھی ہیں۔ سو پیش گوئی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ نظام اس روز ٹوٹ جائے گا۔ جو شخص ایسا سمجھتا ہے وہ گدھا ہے، نہ انسان۔ (ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ ۴۷)‘ لیکن جس صورت میں کہ ۱۳- ۱۴- ۱۵ کو خسوف اور ۲۷- ۲۸- ۲۹ کو کسوف ہر زمانہ میں ہوتے رہتے ہیں، اگر مہدی علیہ السلام کے زمن سعادت میں بھی انہی تاریخوں میں ہوں تو وہ کسی طرح نشان نہیں بن سکتے، کیونکہ وہ سچے مہدی اور جھوٹے مہدی میں فارق اور مابہ الامتیاز نہ بن سکیں گے اور قادیانی صاحب نے خود تسلیم کیا ہے کہ میرے زمانہ میں ماہتاب کو تیرہویں رات اور آفتاب کو اٹھائیسویں تاریخ کو گہن لگا تھا، جو ہمیشہ کا معمول اور مروج ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ قادیانی صاحب سچے مہدی نہ تھے، اگر سچے مہدی ہوتے تو ان کے لیے کوئی ایسا مخصوص نشان ظاہر ہوتا جو انہیں جھوٹے مہدیوں سے ممتاز کر دیتا۔ اب مرزائی صاحبان انصاف سے بتائیں کہ اس لقب (گدھے) کا حقیقی مستحق کون ہے، جو ان کے مقتدا نے علمائے اسلام کے لیے تجویز کیا ہے؟

قادیانی صاحب کا بیان کہ مجھ سے پہلے یہ نشان کبھی ظاہر نہیں ہوا

قادیانی صاحب لکھتے ہیں کہ ان تیرہ سو برس میں بہتیرے لوگوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا، مگر کسی کے لیے یہ آسمانی نشانی ظاہر نہ ہوئی۔ (تحفہ گولڑویہ، صفحہ ۵۳) اور فرماتے ہیں ”چونکہ اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود ہونے کا مدعی کوئی زمین پر بجز میرے نہیں تھا اور نہ کسی نے میری طرح اس گرہن کو اپنی مہدویت کا نشان قرار دے کر صدہا اشتہار اور رسالے اردو اور فارسی اور عربی میں دنیا میں شائع کیے، اس لیے یہ نشان میرے لیے متعین ہوا“۔ (حقیقة الوحی، صفحہ ۱۹۵) اور لکھتے ہیں کہ کسی مدعی رسالت یا نبوت کے

صفحہ 640

وقت میں کبھی یہ دونوں گرہن جمع نہیں ہوئے۔ اس تیرہ سو برس میں کئی لوگوں نے محض افتراء کے طور پر مہدی موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا‘ مگر ان کے وقت میں چاند گرہن اور سورج گرہن دونوں جمع نہیں ہوئے۔ (ایضاً‘ صفحہ ۱۶۶)۔ مگر یہ بیانات محض ابلہ فریبی ہیں‘ جب وہ خود لکھتے ہیں کہ چاند گرہن ہر زمانہ میں ۱۳۔ ۱۴۔ ۱۵ کو اور سورج گرہن ۲۷۔ ۲۸۔ ۲۹ کو ہوتا رہتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ صفحہ ۴۷) اور الہامی صاحب کے وقت میں بھی اسی عادت مستمرہ کے مطابق ۱۳ اور ۲۸ رمضان کو کسوفین کا اجتماع ہوا۔ (تحفہ گولڑویہ‘ صفحہ ۵۰) تو پھر یہ ایک معمولی اور استمراری چیز ہو گئی‘ مہدویت کا نشان صدق نہ رہا۔ ایسی حالت میں قادیانی کا یہ لکھنا سخت مہمل ہے کہ تیرہ سو برس میں میرے سوا یہ نشان کسی کے لیے ظاہر نہ ہوا۔

اسی طرح مرزا صاحب کا یہ دعویٰ بھی سخت لغو ہے کہ ”اس گرہن کے وقت میں مہدی موعود ہونے کا کوئی مدعی زمین پر بجز میرے نہیں تھا“ کیونکہ قادیانی صاحب ہی کے زمانہ میں محمد احمد مہدی سوڈان میں کوس مہدویت بجا رہا تھا۔ یہ صحیح ہے کہ محمد احمد سوڈانی نے مارچ ۱۸۹۴ء مطابق رمضان ۱۳۱۱ھ کے اجتماع کسوفین کو قادیانی صاحب کی طرح اپنی مہدویت کا نشان قرار نہیں دیا اور نہ اس نے ان کی طرح صدہا اشتہار اور رسالے اردو اور فارسی اور عربی میں شائع کیے‘ لیکن اس کی دو وجہیں تھیں‘ ایک یہ کہ ۱۸۹۴ء کے کسوفین میں کوئی ندرت اور خصوصیت نہیں تھی۔ دوسرے یہ کہ محمد احمد ایک عملی آدمی تھا۔ قادیانی کی طرح اس کی مہدویت کی ساری کائنات پروپیگنڈہ بازی نہیں تھی کہ وہ بھی کاغذی گھوڑے دوڑاتا اور جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا۔

مرزا صاحب کا یہ بیان بھی ناقابل التفات ہے کہ یہ دونوں نشان میرے سوا کسی مدعی نبوت یا رسالت کے واسطے جمع نہیں ہوئے‘ کیونکہ کتاب حدائق النجوم (صفحہ ۷۰۴۔ ۷۰۷) اور اسٹرونومی‘ مولفہ مسٹر نارمن لوکیر (صفحہ ۱۰۲) اور مسٹر کیتھ کی کتاب ”یوز آف دی گلوبس“ (صفحہ ۲۷۳۔ ۲۷۶‘ جدول کسوف و خسوف) کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ تیرہ صدیوں میں (۱۸ھ سے ۱۳۳۲ھ تک) ساٹھ مرتبہ رمضان المبارک میں اجتماع کسوفین ہوا اور قارئین کرام خاکسار راقم الحروف کی کتاب ”ائمہ تلبیس“ کے مطالعہ سے معلوم کر سکتے ہیں کہ ان تیرہ صدیوں میں بیسیوں مدعیان نبوت و مہدویت ہر قرن میں مسند

صفحہ 641

تزویر پر بیٹھ کر خلق خدا کو گمراہ کرتے رہے۔

ایران میں مرزا علی محمد باب نے ۱۲۶۰ھ میں مہدویت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے ساتویں سال یعنی رمضان ۱۲۶۷ھ مطابق جولائی ۱۸۵۱ء میں ۱۳ اور ۲۸ رمضان کو خسوف و کسوف کا اجتماع ہوا اور اس کے مارے جانے کے بعد اس کے دونوں جانشین صبح ازل اور بہاء اللہ بھی مہدویت اور مقام من یظھر اللہ کے مدعی تھے‘ پس مرزا صاحب کا یہ زعم کہ ۱۸۹۴ء کا اجتماع کسوفین میری مہدویت کا نشان تھا‘ انتہا درجہ کی جسارت اور دیدہ دلیری ہے۔

باب ۸۶

قادیاں کی الہامی ڈکشنری میں ”حرام زادہ“ کے

الہامی لغت کی بھرمار

ایک حدیث صحیح میں مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے پکے منافق کی جو علامتیں بیان فرمائی ہیں‘ ان میں ایک یہ ہے کہ ”جب کسی سے اس کا جھگڑا ہو جائے تو گالیاں دینے لگتا ہے“۔ واقعی باطل پرستوں کی یہی مذموم عادت ہے کہ ادنیٰ سی مخالفت پر دشنام گوئی کے ہتھیار تیز کر لیتے ہیں لیکن صالحین امت مخالف کا دل دکھانا تو درکنار الٹا گالیوں کے جواب میں معافی مانگتے اور عذر خواہ ہوتے ہیں۔

شیخ فرید الدین عطارؒ تذکرۃ الاولیاء میں لکھتے ہیں کہ ایک رات سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامیؒ قبرستان سے آ رہے تھے۔ ایک جوان کو جو بسطام کا ایک بزرگ زادہ تھا دیکھا کہ سارنگی بجا رہا ہے۔ شیخ کے منہ سے نکلا لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم یہ سن کر جوان نے سارنگی ان کے سر پر دے ماری۔ شیخ صاحب کا سر مبارک بھی پھوٹا اور سارنگی بھی ٹوٹ گئی۔ حضرت سلطان العارفین لہولہان اپنے عبادت خانہ میں واپس آئے۔ جب صبح ہوئی تو حلوہ تیار کرایا اور بربط کی قیمت اور حلوے کا ایک طباق اس جوان کے پاس بھیجا اور معذرت کہلا بھیجی کہ ”بھائی! کل رات تمہاری سارنگی میرے سر پر ٹوٹ گئی تھی یہ

صفحہ 642

اس کی قیمت ہے۔ تم دوسری خرید لو اور یہ حلوہ کھاؤ تاکہ اس کے ٹوٹنے سے جو صدمہ تمہارے دل کو پہنچا ہے رفع ہو جائے" جب جوان نے یہ پیغام سنا تو دوڑا آیا اور حضرت بایزیدؒ کے قدموں پر گر کر توبہ کی اور بہت رویا اور اس کے کئی ایک نوجوان دوست بھی اس کو دیکھ کر تائب ہوئے اور حضرت بایزیدؒ کے اخلاق عالیہ نے ان سب کو جیفہ دنیا سے ہٹا کر طالب مولیٰ بنا دیا۔

اگر سلطان العارفینؒ کی جگہ قادیاں کا خود ساختہ مسیح ہوتا تو نہ صرف چھونتے ہی صلیبی عدالت میں نالش داغ دیتا بلکہ ساری عمر اس کا پیچھا نہ چھوڑتا اور اپنی کتابوں اور اشتہاروں میں اسے وہ صلواتیں سناتا کہ بربط مارنے والے کو چھٹی کا دودھ یاد آجاتا۔ سچے پیغمبروں اور خانہ ساز نبیوں کی تبلیغ میں یہ فرق ہے کہ خدا کے سچے نبی طوفان مخالفت کے وقت پہاڑ کی چٹان سے زیادہ مضبوط اور ثابت قدم رہتے تھے اور ان سے کوئی ایسی انسانی کمزوری صادر نہیں ہوتی تھی جو ان کے شایان شان نہ ہو۔ لیکن جھوٹے نبی اور خود ساختہ مسیح مخالفت کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتے۔ جب ان پر کچھ رد و قدح کی جاتی ہے تو آپے سے باہر ہو کر گالیاں دینے لگتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے قادیانی مسیح کی اخلاقی حالت دیکھ لو کہ وہ علمائے حق کے خلاف کس شد و مد سے دریدہ دہنی کرتا رہتا ہے؟ اور صرف علماء پر موقوف نہیں بلکہ اس نے ہر اس شخص کو مغلظات سنائیں جو اسے اپنی نفسانی خواہشات کی راہ تکمیل میں مزاحم نظر آیا۔

غرض قادیانی صاحب کی گالیاں بھی ان کے سوانح حیات کا ایک مستقل باب ہے۔ چنانچہ منشی الٰہی بخش اکاؤنٹنٹ مرحوم نے تو ان کی گالیاں ردیف وار جمع کیں حالانکہ خود مرزا جی کو اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ ”جو شخص بدزبانی کرتا ہے وہ ناپاک ہے ۔ اس کو کبھی خدا کی طرف راہ نہیں ملتی اور نہ کبھی حکمت اور حق کی بات اس کے منہ پر جاری ہوتی ہے“۔ (نسیم دعوت‘ مولفہ مرزا غلام احمد صفحہ ۳) قادیانی مسیح کی کتابوں میں دشنام اور بدگوئی کی جتنی بھرمار ہے دنیا کے کسی مصنف کی کتابیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ چونکہ تفصیل کی گنجائش نہیں اس لیے یہاں صرف ایک گالی ”حرام زادہ“ کے چند نمونوں پر اکتفا کیا جاتا ہے کیونکہ یہ گالی قادیانی صاحب کی خاص الہام زادہ دختر یا معنوی فرزند ہے۔ مرزا جی نے کتاب آئینہ کمالات ۲۶؍ فروری ۱۸۹۳ء کو شائع کی۔ اس کے صفحہ ۵۴۷ پر

صفحہ 643

لکھا۔ تلک کتب ینظر الیہا کل مسلم بعین المحبتہ والمودتہ و ینتفع من معارفھا و یقبلنی و یصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا (ان کتابوں کو سب مسلمان محبت کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان کے حقائق و معارف سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور زنا کار عورتوں کی اولاد کے سوا سب لوگ مجھے قبول کرتے ہیں اور میری دعوت کی تصدیق کرتے ہیں)۔ اس بیان سے ثابت ہوا کہ قادیانی صاحب کے نزدیک دنیا کے تمام مسلمان، ہندو، بدھ، عیسائی، یہودی، پارسی، سکھ وغیرہم (معاذاللہ) حرام زادے ہیں اور روئے زمین پر کوئی حلال زادہ قوم ہے تو وہ صرف مرزائی ہیں۔

جب کوئی شخص مرزا کی اس ”گل افشانی“ پر اعتراض کرتا ہے تو مرزائی لوگ اس کا دو طرح سے جواب دیا کرتے ہیں۔ اول یہ کہ ذریتہ البغایا کے معنی ”ہدایت سے دور“ ہیں مگر یہ جواب قطعاً لغو اور ناقابل التفات ہے کیونکہ خود قادیانی صاحب نے اپنی کتابوں میں بغایا کا ترجمہ بدکار اور زانیہ کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں ھل یسرون برویتہ تلک البغایا اور خود ہی اس کا ترجمہ کیا ہے بلکہ بدیدن زن ہائے زانیہ خوش مے شوند (لجتہ النور، صفحہ ۳۱) اور رسالہ حجتہ اللہ میں جو ۲۶ مئی ۱۸۹۷ء کو شائع کیا۔ یہ بھی لکھا رقصت کرقص بغیہ فی مجلس اور خود ہی اس کا یہ ترجمہ لکھا تو نے بدکار عورت کی طرح رقص کیا (حجتہ اللہ، صفحہ ۸۷)

مرزائیوں کا دوسرا جواب یہ ہے کہ

بارے میں فرمایا گیا ہے لیکن یہ جواب پہلے جواب سے بھی زیادہ احمقانہ اور مضحکہ خیز ہے۔ کیونکہ کوئی مرزائی اس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ دنیا میں جس قدر آریہ اور عیسائی آباد ہیں وہ حرام زادے ہیں۔ لفظ حرام زادہ کے الہامی لغت کے مزید نمونے ملاحظہ ہوں۔

ہوتا ہے وہ جرات کر کے اپنے بھائی پر بے تحقیق کامل الزام نہیں لگاتا“ پس ظاہر ہے کہ جو شخص کامل تحقیق کرنے سے پہلے کسی پر الزام لگا دے وہ الہامی صاحب کے نزدیک حرام زادہ ہوگا۔

صفحہ 644

لکھا کہ گورنمنٹ کے خلاف جہاد کرنا حرام ہے پھر اس تقریر کے صفحہ ۳ ج میں لکھا کہ محسن گورنمنٹ برطانیہ سے جہاد کو جائز کہنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے۔

اب بھی کوئی مخالف مولوی یا کوئی عیسائی یا ہندو یا آریہ ہماری اس فتح نمایاں کا قائل نہ ہو تو اس کے لیے طریق یہ ہے کہ مسٹر عبداللہ آتھم کو قسم مقدم الذکر کے کھانے پر آمادہ کرے۔ اور اگر ایسا نہ کرے تو سمجھا جائے گا کہ وہ شریف نہیں۔ اس کی فطرت میں خلل ہے اور کسی حلال زادہ کا کام نہیں جو بغیر رعایت اس فیصلہ کے ہم کو جھوٹا شکست خوردہ قرار دے۔

مرحوم کو جنہوں نے مرزا کی شرط مذکور کا خلاف کیا تھا خطاب کرتے ہوئے لکھا ہاں اے ہندو زادے اب ثابت ہو گیا ہے کہ ضرور تو حلال زادہ ہے۔ ہماری اس شرط پر کہ کوئی آتھم کو قسم دینے سے پہلے ہماری تکذیب نہ کرے خوب ہی تو نے عمل کیا۔

آتھم کا حق کی طرف رجوع کرنا ثابت نہیں تو اگر اس بات میں سچا اور حلال زادہ ہے تو آتھم کو حلف پر آمادہ کرے۔

اور اس معیار کی طرف متوجہ نہ ہو اور ناحق سچائی پر پردہ ڈالنا چاہے تو وہ بیشک حلال زادہ نہیں ہوگا۔

خلاف بکواس کرے گا اور ہماری فتح کا قائل نہ ہوگا صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔ اور حلال زادہ نہیں۔

اختیار نہ کرے۔

مذکورہ کو قبول نہ کرے فرماتے ہیں یک خطا، دو خطا، سوم مادر بخطا یعنی جو تیسری مرتبہ بھی

صفحہ 645

خطا کرتا ہے اس کی ماں زنا کار ہوتی ہے۔

ہیں تو اس مضمون کو پڑھ کر اس فیصلہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

کون بلا توقف اس فیصلہ (قسم) کے لیے سعی کرتا ہے اور کون ولد الحرام بننے پر راضی ہوتا ہے۔

ارشاد فرماتے ہیں:۔ اگر وہ حلال زادہ ہے تو اب امتحان کے لیے یہ پابندی شرائط متذکرہ بالا ہمارے ساتھ آئیں۔

بھی جھوٹ بولتے ہوئے شرماتے ہیں مگر اس آریہ میں اس قدر شرم بھی باقی نہ رہی۔

ان حوالوں سے ثابت ہو گا کہ قادیانی صاحب کی الہامی ڈکشنری میں یہ پاکیزہ الہامی لغت بکثرت استعمال ہوا ہے۔ اور یہ روز مرہ کا تکیہ کلام ہے۔

باب ۸۷

مرزائی دشنام دہی پر مولانا بٹالوی کا دلچسپ تبصرہ

مولوی محمد حسین بٹالوی نے ۱۸۹۴ء میں لکھا کہ بد زبانی اور دشنام دہی تو قادیانی کی طینت کا ایک جز ہے۔ براہین احمدیہ میں اس نے طینت کا اظہار کیا تو ہم نے براہین احمدیہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس کو اس بد گوئی سے روکا۔ مگر چونکہ کوئی شخص اپنی طینت کو نہیں بدل سکتا۔ ہمارے منع کرنے کا یہ الٹا اثر ہوا کہ رسالہ شحنہ حق کے صفحہ ۱۹ میں اس نے اپنے مخالفوں کو ایسی گالیاں دیں جیسے بازاری لوگ آپس میں دیا کرتے ہیں۔ خصوصاً جب سے آپ مسیح موعود بنے ہیں تب سے تو آپ کا جوہر دشنام دہی اور زیادہ چمک گیا ہے۔ حرامی‘ حرام زادہ‘ بے ایمان تو آپ کا تکیہ کلام ہو گیا ہے۔

صفحہ 646

ہم نے ایک ایسے شخص سے جسے قادیانی بارگاہ میں بہت کچھ تقرب حاصل ہے سنا ہے قادیانی اپنے پیروؤں کو ان گالیوں کا یہ فائدہ بتایا کرتا ہے کہ ”یہ ایک واردۂ تلخ یا مسہل کا ایک نسخہ ہے جس سے ان لوگوں کے دل کے بخار باہر نکل آتے ہیں جن کو گالیاں دی جاتی ہیں“۔ ہم قادیانی کے پیروؤں اور حامیوں مثلاً خان صاحب محمد علی خان صاحب خلف نواب غلام محمد خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اور حافظ محمد یوسف صاحب ضلع دار نہر اور منشی عبدالحق صاحب پنشنر اکاؤنٹنٹ لاہور اور منشی الہی بخش صاحب اکاؤنٹنٹ لاہور اور سید فتح علی شاہ صاحب سے کمال اخلاص و محبت سے سوال کرتے ہیں کہ وہ لوگ قادیانی کو گالیوں سے کیوں نہیں روکتے؟ اگر گالیاں دینے سے دل کے بخار باہر نکل آتے ہیں تو یہ حضرات اپنے خداداد فہم اور ایمان سے کام لے کر یہ خیال فرمائیں کہ اس نسخہ کو قادیانی نے اپنے لیے رجسٹری نہیں کرا لیا ہے کہ دوسروں کے لیے اس کا استعمال ممنوع سمجھا جا سکے۔

دور نہ جائیے اپنے مخاطب خاص شیخ سعد اللہ صاحب لدھیانوی ہی کو دیکھ لیجئے۔ قادیانی نے ان کے حق میں یہ نسخہ استعمال کیا اور ان کو ان الفاظ سے یاد کیا تو انہوں نے اپنی نظم منسلکہ مضمون ”حملہ آسمانی دربارہ شکست قادیانی“ میں‘ جو مسلمانان مالیر کوٹلہ کی طرف سے شائع ہوا ہے قادیانی کو بھی حلال زادہ بتایا ہے اور ایک تاریخی ثبوت اس امر کا دے دیا ہے۔ اب فرمائیے کہ اس نسخہ کا فائدہ قادیانی کی ذات تک کہاں محدود و مخصوص رہا؟ آپ حضرات قادیانی کو سمجھائیں اگر وہ آپ حضرات کی نصیحت پر کان نہ دھرے اور گالی گلوچ سے باز نہ آئے تو آپ لوگ اس سے اپنا تعلق قطع کرلیں۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۶‘ صفحہ ۱۳۱- ۱۳۲)

باب ۸۸

لاہور میں ورود اور بریڈلا ہال میں تقریر

خالق کردگار نے دنیا میں جس قدر انبیاء اپنی مخلوق کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمائے

صفحہ 647

ان میں شستہ بیانی اور منقح گوئی کا جوہر بدرجہ اتم ودیعت تھا۔ علماء نے جناب موسیٰ کلیم علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے کہ ان کی زبان میں کسی قدر لکنت تھی۔ لیکن یہ لکنت محض عارضی سی رکاوٹ تھی، جو خطابت اور حسن تقریر پر کسی طرح اثر انداز نہ تھی۔ مرزائی بھی اپنے خانہ ساز مسیح کو جناب موسیٰ کلیم علیہ السلام کا ہم رنگ و مثیل ثابت کرنے کی کوشش میں کہا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب کی زبان میں بھی لکنت تھی۔ اگر یہ بیان حقیقت سے معریٰ نہیں تو بھی چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ کہاں قادیاں کا ٹوڈی الہام باز اور کہاں کلیم خدا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون جیسے مدعی الوہیت کو جس کی بارگاہ کبر و غرور پر بڑے بڑے گردن فراز جبابرہ سر بسجود ہوتے تھے خاک مذلت پر ڈال دیا۔ اور اس کی ساری خدائی گور نامرادی میں دفن کر دی۔

لیکن چودھویں صدی کے مسیح موعود کی شجاعت و بسالت کا یہ عالم تھا کہ قادیاں میں پولیس کی چوکی موجود ہونے کے باوجود صلیبی حکومت کی طرف سے پولیس کا ایک پیادہ خاص اپنی حفاظت جان کے لیے متعین کرا رکھا تھا۔ یوں تو ہمارے موعود صاحب نہ صرف انگلستان بلکہ ساری دنیا کو زیر نگین کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آنجناب نے عالم رویا میں وہ سات تاجدار بھی دیکھ لیے تھے جو قادیانی صاحب پر ایمان لا کر ان کا کلمہ پڑھنے والے تھے لیکن ان تعلیوں اور لن ترانیوں کے باوجود وہ بیچارے قادیاں کی ان مسجدوں کو بھی آزاد نہ کرا سکے جنہیں سکھوں نے اپنے عہد عروج میں دھرم شالے اور گردوارے بنا لیا تھا۔ کسی غول انسانی کا مقتدا بننے کے لیے اور صفات علیا نہیں تو کم از کم قوت تقریر اور جوہر گویائی کا سرمایہ دار ہونا چاہیے لیکن قادیانی صاحب بیچارے اس قابلیت سے بھی بے نصیب تھے۔

الہامی صاحب کا معمول تھا کہ اپنی عجز بیانی پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے گھر ہی سے تقریر کا مسودہ تیار کر لایا کرتے تھے اور مجمعوں میں وہی مسودہ یا تو خود پڑھ کر سنا دیتے یا ان کی طرف سے کوئی مرید طوطے کی طرح رٹ دیتا تھا۔ اور اگر موعود صاحب کبھی سوء اتفاق سے کچھ بولنے پر مجبور ہو جاتے تو وہ خطابت کا اس طرح منہ چڑاتے کہ وہ بے چاری لاحول پڑھنے لگتی تھی۔ حضرت مرزا صاحب بوقت تقریر ایسے اکھڑے اکھڑے فقرے رک رک کر بولتے تھے کہ سننے والا نفرت کے جذبات لے کر جلسہ گاہ سے چل دیتا تھا۔ بولتے کچھ تھے

صفحہ 648

اور منہ سے نکلتا کچھ اور تھا۔ ان کے مقابلہ میں حکیم نورالدین اعلیٰ درجہ کے شستہ بیان مقرر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں الہامی صاحب جاتے حکیم صاحب ہی مسیح موعود کی کمزوریوں کو سنبھالنے اور ناقابلیت کی پردہ داری کرنے کے لیے عموماً استاد کی طرح ساتھ جاتے تھے۔

خاکسار راقم الحروف نے لاہور کے ایک معمر بزرگ سے سنا تھا کہ ایک مرتبہ قادیانی صاحب لاہور تشریف لائے۔ مرزائیوں نے بریڈلا ہال لاہور میں جلسہ کا انتظام کیا اور شہر میں بڑے بڑے پوسٹر چسپاں کیے۔ ہزاروں کا مجمع تھا۔ آخر الہامی صاحب تالیوں کی گونج میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے لیکن حاضرین جلسہ آغاز تقریر ہی میں یہ دیکھ کر محو حیرت رہ گئے کہ مسیح صاحب سخت گھبرائے ہوئے ہیں اور کوئی فقرہ بھی ان کی زبان مبارک سے صحیح نہیں نکلتا۔ اس وقت ان کی بدحواسی سخت قابل رحم تھی۔ تقریر کا موضوع ”محاسن اسلام“ تھا کیونکہ الہامی صاحب اور ان کے حواریوں کا معمول تھا کہ اسلام کی خوبیوں کے سوا کسی دوسرے موضوع پر بہت کم تقریر کرتے تھے۔ اس تخصیص کی وجہ گرویدگی اسلام اور ملت بیضاء سے شغف نہ تھا‘ بلکہ اس کی تہ میں ایک تو یہ جذبہ کارفرما تھا کہ اس دل آویز موضوع کی بدولت عامتہ المسلمین کے دل بسہولت مٹھی میں لیے جاسکتے ہیں۔ اور حقیقت حال سے بے خبر سادہ لوح عوام انگبین وعظ کے ساتھ قادیاں کا ہلاکت آفرین زہر ہلاہل بھی بلا احساس گلے سے اتار سکتے ہیں۔ محاسن اسلام کی تخصیص کی دوسری علت یہ تھی کہ اس موضوع کا مواد امام غزالی‘ امام رازی‘ شاہ ولی اللہ اور دوسرے علمائے امت رحمہم اللہ کی تصنیفات سے بسہولت سرقہ کیا جاسکتا تھا۔

جیسے جیسے الہامی صاحب کی زبان الہام ترجمان ان کے دلی خیالات کی ترجمانی کرنے کی کوشش کرتی تھی لوگوں کی وحشت اور بیزاری بھی ترقی کرتی جاتی تھی۔ لاہور کی پبلک جو ہندوستان بھر کے چوٹی کے مقرروں اور سخن وروں کی تقریریں سننے کی عادی ہے‘ اس اونچی دکان کے پھیکے پکوان کو بھلا کیونکر حلق سے اتار سکتی تھی۔ لوگوں نے بصد بیزاری و برافروختگی جلسہ گاہ سے اٹھ اٹھ کر جانا شروع کیا۔ آخر جب حکیم نورالدین نے یہ رنگ دیکھا اور محسوس کیا کہ ”مرزا جی اسی طرح بد مزگی کا سامان مہیا فرماتے رہے تو ایک غیر مرزائی متنفس بھی جلسہ گاہ میں دکھائی نہ دے گا تو مرزا جی کو بٹھا کر خود تقریر کے لیے اٹھ

صفحہ 649

کھڑے ہوئے اور معاً با آواز بلند پکار دیا گیا کہ اب مولوی نورالدین صاحب تقریر فرمائیں گے“ یہ دیکھ کر جانے والے لوگوں نے ہال میں واپس آنا شروع کر دیا اور حکیم صاحب کی خوش بیانی کے صدقہ سے جلسہ نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

اصل یہ ہے کہ حکیم صاحب بڑی قابلیت کے انسان تھے۔ وہ حسن اخلاق، جود و سخا اور مروت و ایثار کے بھی کسی قدر سرمایہ دار تھے۔ لیکن افسوس بیدینی، الحاد پسندی، زندقہ پرستی اور نیچریت نوازی نے ان کی تمام اخلاقی خوبیوں پر پانی پھیر دیا تھا۔ مگر یاد رہے کہ ان کی ذات میں جو بعض اخلاقی محاسن پائے جاتے تھے تو وہ ان کا ذاتی جوہر تھا۔ ان کو قادیانی صاحب کا فیض صحبت بتانا انتہاء درجہ کی بے بصری ہے۔ کیونکہ حکیم صاحب کے مقابلہ میں تو بیچارہ مرزا جی کی وہی حیثیت تھی جو استاد کے سامنے طفل ابجد خواں کی یا پیر کے سامنے مرید کی ہوتی ہے۔ حکیم صاحب قصر مرزائیت کے انجینئر تھے۔ انہوں نے محل تعمیر کیا اور نہایت دریا دلی اور سیر چشمی سے قادیانی صاحب کو اس کا صدر نشین بنا دیا۔ اور خود طفیلی کی حیثیت اختیار کر کے اپنے مطلب کی آمدنی پر گزر بسر کرتے رہے۔

باب ۸۹

ملکہ وکٹوریہ اور اس کی اولاد کے

قبول اسلام کی پیشین گوئی

قادیاں کے الہامی صاحب نے فروری ۱۸۹۴ء میں رسالہ ”نورالحق“ شائع کیا۔ اس کی جلد اول (صفحہ ۴۳۔ ۴۴) میں انگلستان کی ملکہ وکٹوریہ اور اس کی اولاد کے قبول اسلام کی پیشین گوئی ان الفاظ میں کی۔ ”حکومت برطانیہ سر سے قدم تک دنیا میں غرق ہے اور کسی دین کی طرف سے اس کو میل نہیں اور اگر کسی وقت میل ہوگی، تو اسلام کی طرف اور صرف دین اسلام کو قبول کرے گی اور ملت خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وسلم) میں داخل ہوگی اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کو بنظر محبت دیکھتی ہے اور اس میں اس کے رشد کے

صفحہ 650

آثار پاتا ہوں اور گمان کرتا ہوں کہ جلد اسلام کی طرف میل کرے گی اور خدا اس کو گمراہوں اور غافلوں میں نہیں چھوڑے گا۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری ملکہ ”وکٹوریہ“ ہدایت پانے کے لیے امید کی جگہ ہے اور اس کے دل کو حب اسلام اور شوق اس روشنی کا دیا گیا ہے اور عنقریب خدا تعالیٰ اس نورانی چہرہ والی ملکہ کے دل اور اس کے شہزادوں کے دلوں میں نور توحید ڈال دے گا اور خدا تعالیٰ پر یہ مشکل نہیں بلکہ اس کی قدرت ایسے ہی کام کرتی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“۔

جن ایام میں حضرت مرزا صاحب مسند تقدس فروشی پر جلوہ افروز تھے۔ ان دنوں ملکہ وکٹوریہ آنجہانی انگلستان کے سریر سلطنت پر متمکن تھی۔ مرزا صاحب کے متذکرہ صدر اعلان کے بعد تمام ہندوستان ریوٹر کی زبان برق سے یہ مژدہ جان فزا سننے کا مشتاق تھا کہ ملکہ آنجہانی اور اس کی اولاد کب خلعت ایمان سے مشرف ہوتی اور اپنے قبول اسلام کا اعلان کرتی ہے۔ مگر ملکہ کی زندگی میں کسی کو یہ نوید جاں پرور سننے کی مسرت نصیب نہ ہوسکی۔ اس کے بعد شاہ ایڈورڈ ہفتم نے تخت انگلستان کو زینت بخشی۔ لوگ امیدوار بیٹھے تھے کہ اگر ماں سعادت اسلام سے مستعد نہ ہوسکی‘ تو شاہ ایڈورڈ ہفتم ہی کی طرف سے تلافی مافات کر دی جائے۔ مدت تک اہل ملک سراپا انتظار بنے رہے مگر آنجہانی کو بھی قبول دین کا شرف حاصل نہ ہوسکا۔ اس کے بعد شاہ جارج خامس نے عنان شاہی ہاتھ میں لی۔ اس وقت بھی ہر شخص کی قدرتی خواہش تھی کہ انگلستان کا شاہی خاندان نور توحید سے منور ہو کر موعود صاحب کی پیشین گوئی پوری کر دے لیکن یہ لوگ اس وقت بھی سعادت اسلام سے حلاوت اندوز نہ ہوسکے۔ اس کے بعد شاہ ایڈورڈ ہشتم کو برطانیہ کا تاج و تخت تفویض ہوا لیکن اس وقت بھی بادشاہ اور شاہی خاندان کے دوسرے ارکان نے حلقہ بگوش اسلام ہو کر قادیاں کے مسیحا صاحب کی پیشین گوئی کو پورا کرنے میں مدد نہ کی۔ آج کل شاہ جارج ششم تخت نشین ہیں ان کے متعلق بھی مشرف بہ اسلام ہونے کی کوئی اطلاع نہیں آئی۔ اس سلسلہ میں ایک مسلمان اور ایک مرزائی کی حسب ذیل گفتگو مرزائی حیاداری کا پتہ دیتی ہے۔

مسلمان۔ کہئے صاحب! آپ کے مسیح موعود نے تو اعلان کیا تھا کہ ملکہ وکٹوریہ اور اس کی اولاد نور ایمان سے مشرف ہوگی۔ یہ پیشین گوئی بھی جھوٹی نکلی؟

صفحہ 651

مرزائی۔ پیشین گوئی یقیناً پوری ہوئی۔ گو ملکہ نے اپنے اسلام کا اعلان نہ کیا لیکن دل محبت اسلام سے لبریز تھا۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ شاہان اسلام اور عالم اسلام سے اس کے مراسم دوستانہ تھے۔

مسلمان۔ کیا ان کا فرزند شاہ ایڈورڈ دائرہ اسلام میں داخل ہوا؟ اور اگر ہوا تو اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا؟

مرزائی۔ شاہ ایڈورڈ بھی دل سے مسلمان تھا لیکن اعلان و اظہار کی کوئی ضرورت نہ تھی۔

مسلمان۔ اور شاہ ایڈورڈ کے فرزند شاہ جارج پنجم نے کیوں اسلام قبول نہ کیا؟

مرزائی۔ یقینا قبول کیا لیکن اظہار کی ضرورت نہ تھی۔

مسلمان۔ اچھا شاہ جارج پنجم کے بیٹے شاہ ایڈورڈ ہشتم مسلمان ہوئے؟

مرزائی۔ ہاں ہوئے لیکن اظہار و اعلان ضروری نہ تھا۔

مسلمان۔ کیا موجودہ فرمانروا شاہ جارج ششم کو سعادت ایمانی سے حصہ ملا؟

مرزائی۔ ہاں یہ بھی دل سے مسلمان ہیں لیکن اعلان کو مصلحۃً ضروری خیال نہیں کرتے، اور کچھ ان شاہان برطانیہ پر موقوف نہیں بلکہ قیامت تک جو بادشاہ بھی برطانیہ کے تخت سلطنت کو زینت بخشیں گے وہ بظاہر عیسائی مگر بباطن مسلمان ہوں گے۔ کیونکہ ماشاء اللہ ہمارے مسیح موعود صاحب کی پیشین گوئی کسی طرح جھوٹی نہیں ہو سکتی۔ زمین آسمان ٹل جائیں مگر مرزا صاحب کی پیشین گوئی کی صداقت نہ پہلے کبھی ٹلی ہے اور نہ کبھی قیامت تک ٹل سکے گی۔

باب ۹۰

صلیبی حکومت کو اپنی جان نثاری کا

یقین دلانے کی جدوجہد

صفحہ 652

یہ صحیح ہے کہ ہندوستان کے موجودہ انگریزی دور میں محبان ملک و ملت کی راہ عمل مشکلات سے لبریز ہے۔ تاہم قدم ہمت استوار ہو تو ہمارے رشتہ خودداری اور سلسلہ اخوت اسلامی کو حکومت کے بے معنی شبہات اور جابرانہ احکام ہرگز قطع نہیں کر سکتے۔ اور حکام کی ناراضی و سختی حمیت ملی اور غیرت اسلامی کے اس قصر رفیع کی کسی طرح حریف نہیں ہوسکتی‘ جسے چودہ صدیوں میں ہزارہا آندھیوں اور طوفانوں کا تجربہ ہوچکا ہے۔ ع

ہمت عشق فداکار کا فتویٰ ہے یہی

اسی طرح جو پست فطرت انسان شجاعت و اولوالعزمی کے جوہر سے محروم ہے۔ اگر وہ بھی چپ چاپ اپنے زاویہ عزلت میں پڑا رہے‘ تو اسے کسی چیرہ دستی اور جور و فتنہ کا خدشہ نہیں ہو سکتا۔ ع

ہیچ آفت نہ رسد گوشہ تنہائی را

لیکن قادیاں کے مسیح صاحب نے انگریز کی خوشامد کا جو پر عفونت شیوہ اختیار کیا وہ ان کی بزدلی اور دوں ہمتی کا ہر وقت نوحہ خوان ہے۔ اگر الہامی صاحب نے محض عافیت پسندانہ زندگی پر قناعت کر لی تھی تو انہیں کسی تملق کی ضرورت نہ تھی۔ ”آں را کہ حساب پاک است آں را از محاسبہ دادن چہ باک“ قادیاں کے خانہ ساز مسیح موعود صاحب نے باوجود ادعائے صلیب شکنی اہل صلیب کی خوشامد میں اپنے ایمان و اسلام کی جو تشریح کی‘ اس کی ایک بانگی ملاحظہ ہو۔ حضرت ”صلیب شکن“ صاحب اپنے مخصوص ”صلیب شکنانہ“ انداز میں گل افشانی فرماتے ہیں۔

”اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ جو جناب ملکہ (وکٹوریہ) قیصرہ ہند اور جناب گورنر جنرل ہند اور لیفٹیننٹ گورنر پنجاب اور دیگر معزز حکام کے ملاحظہ کے لیے شائع کیا گیا۔ انگریزی اخبار سول ملٹری گزٹ لاہور کے پرچہ ستمبر یا اکتوبر ۱۸۹۳ء میں میری نسبت ایک غلط اور خلاف واقعہ رائے شائع کی گئی ہے‘ جس کی غلطی گورنمنٹ پر کھولنا ضرور ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ صاحب راقم نے اپنی غلط فہمی یا کسی اہل غرض کے دھوکا دینے سے ایسا اپنے دل میں میری نسبت سمجھ لیا ہے کہ گویا میں گورنمنٹ انگریزی کا بدخواہ اور مخالفانہ ارادے اپنے دل میں رکھتا ہوں۔ لیکن یہ خیال ان کا سراسر باطل اور دور از انصاف ہے۔ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے عین ان ایام میں کہ ہندوستان میں آتش فساد اور مفسدہ

صفحہ 653

پھیل رہی تھی اور رعایا کے لیے یہ موقع پیش آیا تھا کہ وہ اس بات میں آزمائی جائیں کہ کہاں تک وہ گورنمنٹ برطانیہ کے خیرخواہ ہیں۔ اپنے افعال سے بار بار حکام پر ظاہر کر دیا کہ ہم تمام مال و جان سے اپنی طاقت اور حیثیت کے موافق گورنمنٹ برطانیہ کے خیرخواہ ہیں۔ انہوں نے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر اور پچاس سوار بھی بہم پہنچا کر ۱۸۵۷ء کی شورش کے وقت گورنمنٹ کی نذر کیے۔ میں نے عربی اور فارسی میں بعض رسائل تالیف کر کے بلاد شام اور روم اور مصر اور بخارا وغیرہ کی طرف روانہ کیے اور ان میں اس گورنمنٹ کے تمام اوصاف حمیدہ درج کیے اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ اس محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد قطعاً حرام ہے اور ہزارہا روپیہ خرچ کر کے وہ کتابیں مفت تقسیم کیں اور بعض شریف عربوں کو وہ کتابیں دے کر بلاد شام اور روم کی طرف روانہ کیا اور بعض عربوں کو مکہ اور مدینہ کی طرف بھیجا اور بعض بلاد فارس کی طرف بھیجے گئے۔ اور اسی طرح مصر میں بھی کتابیں بھیجیں اور یہ ہزارہا روپیہ کا خرچ تھا جو محض نیک نیتی سے کیا گیا"۔

اس کے بعد الہامی صاحب لکھتے ہیں کہ اگر کوئی نادان سوال کرے کہ اس قدر خیرخواہی غیر ممکن ہے کہ ہزارہا روپیہ اپنی گرہ سے خرچ کر کے اس گورنمنٹ کی خوبیوں کو تمام ملکوں میں پھیلایا جائے۔ لیکن ایک عقل مند جانتا ہے کہ احسان ایک ایسی چیز ہے کہ جب ایک شریف اور ایماندار آدمی اس سے تمتع اٹھاتا ہے تو بالطبع اس میں عشق اور محبت کے رنگ میں ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ تا اس احسان کا معاوضہ دے۔ ہاں کمینہ آدمی اس طرف التفات نہیں کرتا۔ میں سولہ برس سے برابر اپنی تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے اور میں نے کئی کتابیں عربی فارسی تالیف کر کے غیر ملکوں میں بھیجی ہیں جن میں برابر یہی تاکید اور یہی مضمون ہے۔ پس اگر کوئی کوتاہ اندیش یہ خیال کرے کہ سولہ برس کی کارروائی میری کسی تصنع پر مبنی ہے تو اس بات کا اس کے پاس کیا جواب ہے کہ جو کتابیں عربی و فارسی روم اور شام اور مصر اور مکہ اور مدینہ وغیرہ ممالک میں بھیجی گئی ان میں نہایت تاکید سے گورنمنٹ انگریزی کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ وہ کارروائی کیونکر نفاق پر محمول ہو سکتی ہے۔ کیا ان ملکوں کے باشندوں سے بجز کافر کہنے کے کسی اور انعام کی توقع تھی؟ کیا سول ملٹری گزٹ کے پاس کسی ایسے خیرخواہ گورنمنٹ کی کوئی اور بھی نظیر ہے؟ اگر ہے تو پیش کرے؟ میں

صفحہ 654

دعوے سے کہتا ہوں کہ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی خیر خواہی کے لئے کی ہے اس کی نظیر نہیں ملے گی۔ چاہیے کہ گورنمنٹ ہماری کتابوں کو دیکھے کہ کس قدر عام مولوی اس وجہ سے میرے دشمن ہوگئے ہیں کہ میں نے ان کے خونی مہدی اور خونی مسیح سے انکار کر دیا۔ (تبلیغ رسالت، جلد ۳، صفحہ ۱۹۶۔ ۲۰۰) اور کتاب ”شہادۃ القرآن“ کے ضمیمہ میں لکھا۔ ”نادان سوال کرتے ہیں کہ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں؟ سو یاد رہے کہ یہ سوال ان کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جن احسانات کا شکر کرنا عین فرض اور واجب ہے اس سے جہاد کیسا؟ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک حرامی اور بدکار آدمی کا کام ہے“۔

ان تحریروں سے قارئین کرام اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ”فخر پنجاب“ مرزا غلام احمد کے عقیدۂ وفاداری نے جس سربفلک قلعہ کے کنگروں پر اپنا نشیمن بنایا وہاں تک کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ خالق کردگار نے ملائکہ کی اطاعت و انقیاد کی تعریف میں فرمایا تھا۔ لا يسبقونه بالقول و هم بامره يعملون (اس سے آگے بڑھ کر بات نہیں کر سکتے اور اسی کے حکم کے موافق عمل کرتے ہیں) مگر دنیا میں قادیاں کے صلیب شکن صاحب کو یہ شرف حاصل تھا کہ معبودان دنیوی کی اطاعت اور وفاداری کے اوصاف میں ملائکہ سے بھی گوئے سبقت لے گئے لیکن یاد رہے کہ اسلام ان مزخرفات سے بالکل بری ہے۔

باب ۹۱

قادیانی مسیح کی صحبت میں مرزائیوں

کا اخلاقی اور ذہنی زوال

قادیانی صاحب نے اپنے مذہب کی بنیاد نام نہاد روحانیت اور مذہب کے ولولہ پر رکھی تھی۔ اس لیے اسلامی جماعتوں کے پرجوش افراد ان کو اہل اللہ سمجھ کر بتعداد کثیر ان کے پیرو ہوئے۔ پس ان لوگوں کا مذہبی میلان اور قومی جوش ان کا ذاتی وصف تھا لیکن حسرت

صفحہ 655

سے کہنا پڑتا ہے کہ الہامی صاحب نے ان لوگوں کی اسلامی غیرت اور مذہبی حرارت میں کچھ بھی اضافہ نہ کیا بلکہ ان کے اثر صحبت سے اس جلا پر یوماً فیوماً زنگ آتا گیا۔ یہاں تک کہ اس فرقہ سے اسلامی ہمدردی کا جذبہ بالکل فنا ہو گیا۔ چنانچہ قادیاں میں سقوط بغداد پر چراغاں کیا گیا اور صلیب کی کامیابی اور اسلامی زوال و ہزیمت پر خوشیاں منائی گئیں۔ اہل اللہ کی برکت انفاس سے فیض پا کر لوگ محبت الٰہی میں ترقی کرتے ہیں۔ عشق الٰہی کی آگ سینہ میں روشن ہوتی ہے۔ اور دنیا و مالوفات دنیا کی محبت سے نجات ملتی ہے۔ لیکن قادیانی صاحب کی حاشیہ نشینی معکوس اثر رکھتی تھی۔ ان کا جلیس حب دنیا میں ترقی کرتا تھا اور محبت اسلام کی روشنی چند ہی روز میں معدوم ہو جاتی تھی۔ بعض احادیث نبویہ میں اہل اللہ کی ایک علامت یہ لکھی ہے کہ ”ان کے دیکھنے سے خدا یاد آئے“ لیکن قادیانی صاحب کی حالت اس کے بالکل برعکس تھی۔ مولوی احمد صاحب مرحوم متوطن ضلع جہلم سابق امام مسجد صوفی لاہور نے خاکسار راقم الحروف سے بیان کیا تھا کہ ”جب مرزا غلام احمد نے شروع شروع میں لدھیانہ میں لوگوں کو اپنی بیعت کی دعوت دی تو ان کا دعویٰ ہنوز مجددیت سے متجاوز نہ تھا۔ ان کی طرف سے بیعت کے جو مطبوعہ شرائط تقسیم ہوئے وہ مجھے پسند آئے۔ اس لیے میں نے ان کے پاس بغرض بیعت پہنچا لیکن ان کا چہرہ دیکھتے ہی میرا اشتیاق نفرت و انکراہ سے بدل گیا۔ اس لیے الٹے پاؤں وہاں سے واپس چلا آیا۔

قادیانی کی صحبت میں اہل اللہ کی سی تاثیر کا فقدان

مسیح قادیاں کے منجھلے صاحبزادہ میاں بشیر احمد ایم اے قادیانی نے اپنی کتاب ”سیرۃ المہدی“ میں قطب الدین نام کسی مرزائی کا بیان شائع کیا ہے، جو قادیاں سے نکل کر اہل اللہ کی تلاش میں اطراف و اکناف ملک کے چکر لگاتا تھا لیکن خوبی قسمت اسے بار بار قادیاں ہی کو کھینچ لاتی تھی۔ چنانچہ میاں بشیر احمد لکھتے ہیں ”مولوی قطب الدین صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سلسلہ بیعت سے پیشتر جب صرف مجددیت کا دعویٰ تھا، میں نے حضرت (مرزا) صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میں حضور کو صدق دل سے سچا سمجھتا ہوں اور مجھے قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جس رنگ کا اثر اہل اللہ کی صحبت میں سنا جاتا ہے وہ میں حضور کی صحبت میں بیٹھ کر اپنے اندر نہیں پاتا“ حضرت نے فرمایا کہ ”آپ

صفحہ 656

ملک کا ایک چکر لگائیے اور سب دیکھ بھال کر غور کیجئے کہ جس قسم کے اہل اللہ آپ تلاش کرتے ہیں اور جو اثر آپ چاہتے ہیں وہ دنیا میں کہیں موجود بھی ہے یا نہیں یا یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ پھر میں نے اسی غرض سے تمام ہندوستان کا ایک دورہ کیا اور سب مشہور مقامات مثلاً کراچی‘ اجمیر‘ بمبئی‘ حیدر آباد دکن‘ کلکتہ وغیرہ میں گیا اور مختلف لوگوں سے ملا اور پھر سب جگہ سے ہو کر واپس پنجاب آیا۔ اس سفر میں مجھے بعض نیک آدمی بھی ملے لیکن وہ بات نظر نہ آئی جس کی مجھے تلاش تھی“۔

قطب الدین مذکور کا بیان ہے کہ جب میں قادیاں کے قصد سے بٹالہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضرت مرزا صاحب یہیں بٹالہ میں ہیں۔ اس وقت آپ مولوی محمد حسین بٹالوی کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ جب میں مولوی محمد حسین کے مکان پر پہنچا تو اس وقت آپ سیر سے واپس آ رہے تھے۔ میں نے ملاقات کی اور سفر کے حالات بیان کر کے بٹالہ ہی سے وطن چلا گیا۔ کچھ عرصہ کے بعد سلسلہ بیعت بھی شروع ہو گیا اور مسیحیت کا دعویٰ بھی ہو گیا لیکن میں بیعت سے رکا رہا۔ اس کے بعد ایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول نے مجھ سے تحریک فرمائی کہ بیعت میں داخل ہو جانا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے ہرگز کوئی اعتراض نہیں ہے اور میں دل سے سچا سمجھتا ہوں‘ لیکن اتنا بڑا دعویٰ بھی ہو اور پھر میں اثر سے محروم رہوں اور اپنے اندر وہ بات نہ پاؤں جو اہل اللہ کی صحبت میں سنی جاتی ہے تو پھر مجھے کیا فائدہ ہوا؟ یہ سن کر حضرت (مرزا) صاحب نے فرمایا کہ آپ کچھ عرصہ میرے پاس قیام کیجئے۔ اگر تسلی اور تشفی ہو تو آپ کو اختیار ہے۔ چنانچہ یہاں کچھ عرصہ ٹھہرا اور پھر بیعت سے مشرف ہو کر چلا گیا۔ جب میں نے بیعت کی درخواست کی تو حضرت (مرزا) صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ کیا آپ کا اطمینان ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ”حضور آپ کی صداقت کے متعلق تو مجھے کبھی شک نہیں ہوا۔ ہاں ایک اور خلش تھی سو وہ بھی بڑی حد تک خدا نے دور فرما دی ہے“۔ اس کے بعد مسیح زادہ میاں بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں کہ ”مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے مجھ سے یہ بیان کیا کہ بعض لوگوں نے ان کے سامنے بھی بعض اوقات حضرت صاحب کے متعلق اسی قسم کے خیال کا اظہار کیا تھا کہ آپ کی صداقت کے دلائل تو لاجواب ہیں اور آپ کی بزرگی بھی اظہر من الشمس ہے لیکن جو اثر اہل اللہ کی صحبت میں سنا جاتا ہے

صفحہ 657

وہ محسوس نہیں ہوتا"۔

(سیرۃ المہدی' جلد ۲' ص ۳۹-۴۱)

قادیانی کو اہل اللہ کی تاثیر صحبت سے انکار

یہ سب فیضان صحبت جس کا تذکرہ کتب تصوف اور سوانح مشائخ میں پایا جاتا ہے۔ ایمان کامل' تقویٰ و طہارت' اکل حلال' صدق مقال' دوام ذکر الٰہی اور تبتل و انقطاع الی اللہ کے ساتھ مشروط ہے اور یہ وہ جنس ہے جو قادیاں کے بازار تقدس میں بالکل نایاب تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح صاحب کے جلساء ان کی صحبت سے کوئی اچھا اثر لے کر نہیں جاتے تھے بلکہ دن بدن تعلقات باللہ سے دور اور بیگانہ ہوتے جاتے تھے اور اخلاقی حالت یوماً فیوماً روبہ زوال تھی۔ مولانا رومیؒ کے الفاظ میں اس کی وجہ یہ تھی۔

صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند

حضرت مسیح زمان صاحب جب اپنے باطنی بعد و حرمان کے باعث اپنے آپ کو عوام کی طرح بالکل کورا پاتے تھے' تو اس کنویں کے مینڈک کی طرح جسے بیرونی دنیا کے وجود سے انکار ہوتا ہے۔ اہل اللہ کے کمالات اور ان کی تاثیر صحبت ہی سے انکار کر دیتے تھے۔ چنانچہ سطور محررہ صدر میں آپ نے مرزا جی کا یہ مقولہ پڑھا کہ جس قسم کے اہل اللہ آپ تلاش کرتے ہیں اور جو اثر آپ چاہتے ہیں وہ دنیا میں کہیں موجود نہیں یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ الہامی صاحب نے دوسرے وقت میں اسی اثر صحبت کو تسلیم بھی کیا۔ چنانچہ شہادۃ القرآن میں لکھتے ہیں:-

"اور یہ کہنا کہ ہمارے لیے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے و کونوا مع الصادقین (صادقوں کے ساتھ رہو) اور صادق وہ ہیں جنہوں نے صدق کو علیٰ وجہ البصیرت شناخت کیا اور پھر اس پر دل و جان سے قائم ہو گئے۔ آیت موصوفہ بالا بطور اشارۃ ظاہر کر رہی ہے کہ دنیا صادقوں کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی۔ کیونکہ دوام حکم کونو مع الصادقین دوام وجود صادقین کو مستلزم ہے۔ علاوہ اس کے مشاہدہ صاف بتلا رہا ہے کہ جو لوگ صادقوں کی صحبت سے لاپروا ہو کر عمر گزارتے ہیں۔ ان کے علوم و فنون جسمانی جذبات سے

صفحہ 658

ان کو ہرگز صاف نہیں کر سکتے"۔ (شہادۃ القرآن‘ مولفہ مرزا غلام احمد‘ صفحہ ۵۱)

اسی طرح قادیانی صاحب ایک چٹھی میں لکھتے ہیں کہ ”نبیوں کے پاس دو ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ فتح یاب ہوئے۔ ایک ظاہری طور پر قولی توجہ جو ہر ایک مخالف کو ملزم و ساکت کرتا تھا۔ دوسری باطنی توجہ جو نورانی اثر دلوں پر ڈالتی تھی"۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۲‘ صفحہ ۵۸) اور رسالہ ”درثمین“ میں جو قادیانی صاحب کی اردو نظموں کا مجموعہ ہے انہی صاحب کی ایک نظم زیر عنوان ”چولہ صاحب اور بابا نانک کا اسلام“ درج ہے‘ جس میں قادیانی صاحب نے بتایا ہے کہ بابا نانک صاحب نے کس طرح ایک چشتی بزرگ سے فیض باطن اخذ کیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔

سنو مجھ سے اے لوگو نانک کا حال سنو قصہ قدرت ذوالجلال
ابھی عمر سے تھوڑے گزرے تھے سال کہ دل میں پڑا اس کے دیں کا خیال
اسی جستجو میں وہ رہتا مدام کہ کس راہ سے سچ کو پائے تمام
اسے وید کی راہ نہ آئی پسند کہ دیکھا بہت اس کی باتوں میں گند
پھر آخر کو نکلا وہ دیوانہ وار نہ دیکھے بیاباں نہ دیکھے پہاڑ
طلب میں چلا بے خود بے حواس خدا کی عنایات کی کر کے آس
سفر میں وہ رو رو کے کرتا دعا کہ کر میرے کرتار مشکل کشا
میں قرباں ہوں دل سے تری راہ کا نشاں دے مجھے مرد آگاہ کا
کرم کر کے وہ راہ اپنی دکھا کہ جس میں ہو اے میرے تیری رضا
بتایا گیا اس کو الہام میں کہ پائے گا تو مجھ کو اسلام میں
مگر مرد عارف فلاں مرد ہے کہ اسلام کی راہ میں فرد ہے
ملا تب خدا سے اسے ایک پیر کہ چشتی طریقہ میں تھا دستگیر
وہ بیعت سے اس کی ہوا فیض یاب سنا شیخ سے ذکر راہ صواب
پھر آیا وطن کی طرف اس کے بعد ملے پیر کے فیض سے بخت سعد
کوئی دن تو پردہ میں مستور تھا زباں چپ تھی اور سینہ میں نور تھا
نہاں دل میں تھا درد سوز و نیاز شریروں سے چھپ چھپ کے پڑھتا نماز
صفحہ 659

اخلاقی تنزل کے باعث سالانہ میلہ کا التواء

جب کوئی شخص کسی بزرگ کی صحبت میں بیٹھتا ہے یا اس سے بیعت کرتا ہے تو اس کی یہی غرض ہوتی ہے کہ اس کی صحبت کی تاثیر سے برائیاں چھوٹ جائیں اور طبیعت نیکیوں کی طرف راغب ہو۔ امت مرزائیہ نے اپنے مسیح موعود کے اثر صحبت سے جو ”اخلاق فاضلہ“ حاصل کیے ان کا دھندلا سا عکس ملاحظہ ہو۔ الہامی صاحب نے اپنا وہ سالانہ میلہ جو ۲۷؍ دسمبر ۱۸۹۳ء کو ہونے والا تھا موقوف کر دیا جس کے وجوہ و اسباب کتاب شہادۃ القرآن میں جو ۲۲؍ دسمبر ۱۸۹۳ء کو شائع کی” یہ بیان کئے۔ ”اول یہ کہ اس جلسہ کا مدعا یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے اپنے اندر ایک ایسی تبدیلی حاصل کر لیں کہ انکسار اور تواضع اور راست بازی ان میں پیدا ہو۔ لیکن اس سے پہلے جلسہ کے بعد ایسا اثر نہیں دیکھا گیا بلکہ خاص جلسہ کے دنوں میں ہی بعض کی شکایت سنی گئی کہ وہ اپنے بعض بھائیوں کی بدخوئی سے شاکی ہیں اور بعض اپنے آرام کے لیے دوسرے لوگوں سے کج خلقی ظاہر کرتے ہیں“۔

کج دل مرزائی بھیڑیئے

اس کے بعد قادیانی صاحب رقم فرما ہیں۔ ”اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ جلسہ کے بعد کوئی بہت عمدہ اور نیک اثر اس جماعت کے بعض لوگوں میں ظاہر نہیں ہوا۔ اس اجتماع میں بعض دفعہ بباعث تنگی مکانات اور قلت وسائل مہمان داری ایسے نالائق رنجش، اور خود غرضی کی سخت گفتگو بعض مہمانوں میں باہم ہوتی دیکھی ہے کہ جیسے ریل میں بیٹھنے والے تنگی مکان کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ اگر کوئی بے چارہ عین ریل چلنے کے قریب اپنی گٹھڑی سمیت دوڑتا دوڑتا ان کے پاس پہنچ جائے تو اس کو دھکے دیتے اور دروازہ بند کر لیتے ہیں کہ یہاں جگہ نہیں حالانکہ گنجائش نکل سکتی ہے۔ سو ایسا ہی یہ اجتماع بھی بعض اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔ جب تک خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں کچھ مادہ نرمی اور ہمدردی اور خدمت اور جفاکشی کا پیدا نہ کرے، تب تک یہ جلسہ قرین مصلحت نہیں معلوم ہوتا۔ اور اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ

صفحہ 660

تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیزگاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اس عاجز سے بیعت کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آئیں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بداماں ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے۔ اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں“۔ (اشتہار التوائے جلسہ‘ منسلکہ کتاب شہادۃ القرآن‘ صفحہ ۱۔ ۲ و تبلیغ رسالت‘ جلد ۳‘ صفحہ ۶۶)

دو مرزائی اکابر میں جھگڑا

میاں بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ (مرزا صاحب کے خسر) میر ناصر نواب صاحب سے مولوی محمد علی (امیر جماعت احمدیہ لاہور) کی کشمکش ہو گئی تو میر صاحب (خسر) نے مرزا صاحب (داماد) کے پاس جا کر شکایت کی۔ جب مولوی محمد علی صاحب کو اس شکایت کا علم ہوا تو کہنے لگے کہ اگر ایسی شکایتیں شروع ہو گئیں تو ہم سے کوئی کام نہ ہو سکے گا۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم قادیاں سے چلے جائیں۔ یہ دیکھ کر حضرت مرزا صاحب نے مولوی محمد علی صاحب سے فرمایا کہ ”میر صاحب آئے تھے مگر مجھے معلوم نہیں کہ کیا کہہ گئے ہیں میں اپنے خیال میں محو تھا۔ گو میری جماعت نے قوت استدلالی (بحث و مناظرہ) میں کافی ترقی کر لی ہے اور مخالف بھی کمزوری ظاہر کرتا ہے مگر اصلی غرض جس کے لیے میں بھیجا گیا ہوں ابھی اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ یعنی جماعت میں مکارم اخلاق‘ تقویٰ و صلاح‘ اسوہ حسنہ پر عمل درآمد اسکو اپنا شعار بنا لینا موجود نہیں ہوا“۔ (سیرۃ المہدی‘ جلد اول‘ صفحہ ۲۳۵)

طاعون زدہ مرزائیوں سے شرمناک سلوک

صفحہ 661

اسی طرح اور سنئے' جس زمانہ میں طاعون زوروں پر تھا مرزا جی نے اپنی کتاب مواہب الرحمٰن میں یہ الہام شائع کیا۔ فان النار غلامنا بل غلام الغلمان (آگ تو ہماری لونڈی بلکہ لونڈیوں کی لونڈی ہے)۔ چونکہ مسیح صاحب پر اپنی قوت ایمانی کا حال بخوبی روشن تھا، طاعون زدہ افراد سے سخت پرہیز اور احتیاط رکھنے کے احکام صادر فرمائے۔ یہاں تک کہ جب دربار مسیحیت کے مقرب خاص میاں محمد افضل ایڈیٹر البدر بھی اسی نار طاعون کے شعلوں کی نذر ہو گئے تو مسیح صاحب اور ان کے پیروؤں نے ان کی لاش سے کوئی ہمدردانہ سلوک نہ کیا بلکہ جس مسجد میں ان کی چارپائی الگ کی گئی تھی حسب ارشاد جناب مسیح صاحب اس مسجد کے کنویں سے رسی اور ڈول کئی دن تک اس خوف سے اتار دیا گیا کہ مبادا سقے اس کنویں کا پانی مرزا صاحب اور ان کے جلیل القدر پیروؤں کے گھروں میں لے جا کر وہاں طاعونی جراثیم پیدا کر دیں اور نہ کوئی اس غریب کے جنازہ پر گیا۔ یہاں تک کہ قاضی امیر حسین بھیروی مرزائی کا جوان لڑکا بھی طاعون کا شکار ہوا اور مرزائیوں نے اس سے بھی وہی سلوک کیا جو محمد افضل سے روا رکھا تھا تو قاضی نے مرزا صاحب کے پاس جا کر واویلا کی اور سختی سے شکایت کی کہ ”آپ کے مرید تو کافروں اور مشرکوں سے بھی بدتر ہیں۔ کسی میں ہمدردی کا مادہ نہیں“۔ اس پر مرزا صاحب کو اپنی غلط کاری کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنے پیروؤں کو جمع کر کے باہمی ہمدردی کے موضوع پر ایک لیکچر دیا اور اس میں شکوہ سنج کی دل جمعی کے لیے صاف لفظوں میں کہا کہ ایک شخص جو مسلمان ہو اور پھر سلسلہ میں داخل ہو اس کو یوں چھوڑ دیا جائے جیسے کتے کو چھوڑ دیا جاتا ہے یہ بڑی غلطی ہے۔ (اخبار بدر قادیاں، مورخہ ۴ مئی ۱۹۰۵ء) لیکن اس کے بعد اخبار الحکم مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۷ء میں بدیں الفاظ ایک نیا فرمان جاری کیا کہ سب لوگ طاعون زدہ کے ارد گرد نہ جمع ہوا کریں۔ حسب ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہو کر مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔

مسیح صاحب کے بعض صحابیوں پر اغواء کے مقدمات

دربار قادیاں کے رازداں مولانا محمد حسین بٹالوی نے لکھا کہ الہامی صاحب کے حاشیہ

صفحہ 662

بردار اسلامی انجمنوں کے وکیل اور ان کی طرف سے واعظ بن کر عورتوں کے اغواء کے مقدمات میں ماخوذ ہوئے۔ گو انجام کار مستغیث سے جھوٹا وعدہ کر کے کہ ہم تمہاری عورت کو علیحدہ کر دیں گے سزا سے بچ گئے۔ مگر عورت کو علیحدہ نہ کیا اور انجمنوں کے چندوں سے زنا اور شراب خوری کے مرتکب ہوئے۔ اس وجہ سے انجمنوں نے ان کو اپنی وکالت سے علیحدہ کر دیا اور ان کی بدکرداریوں کو بذریعہ اشتہارات الم نشرح کیا۔ (اشاعۃ السنہ‘ جلد ۱۸ صفحہ ۷۔ ۸)

مسیحائی دور کے بعد قادیانی مرزائیوں کے اخلاق و عادات

لاہوری مرزائیوں کے اخبار ”پیغام صلح“ نے لکھا کہ قادیانی جماعت کا ہمارے (لاہوری مرزائیوں کے) ساتھ جو طرز عمل ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ آج کل پشاور کے قادیانی اس غیر شریفانہ روش میں تمام ملت محمودیہ سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے ہماری پشاوری جماعت کے جلسہ سالانہ پر جو اخلاق سوز اور سوقیانہ حرکتیں کیں احباب کو ان کا کسی قدر علم جلسہ کی روئیداد سے ظاہر ہو گیا ہوگا۔ اس پر ڈھٹائی ملاحظہ ہو کہ الفضل اور فاروق میں بالکل جھوٹی رپورٹ شائع کرائی۔ ان کی مراسلتوں کی طرز تحریر اس قدر گھناؤنی اور غیر شریفانہ ہے کہ کوئی شریف آدمی اس پر اظہار نفرت کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ اس قسم کی بیہودہ حرکات تمام قادیانی حلقوں میں پسند کی جاتی ہیں اور ان کی داد دی جاتی ہے اور یقین ہے کہ جناب خلیفہ (میاں محمود احمد) صاحب بھی ان پر اظہار خوشنودی فرماتے ہوں گے لیکن اسلامی اخلاق اور شرافت ان پر ہمیشہ ماتم ہی کرتے رہیں گے۔ (اخبار پیغام صلح لاہور‘ مورخہ ۱۱؍ جون ۱۹۳۴ء) مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت مرزائیہ نے کہا کہ میاں محمود احمد صاحب نے ہمارے احباب کا ذکر جلسہ سالانہ پر ان الفاظ میں کیا تھا کہ ”پیغامیوں (لاہوری مرزائیوں) سے ہوشیار رہو کہ بعض وقت شیطان بھی فرشتہ کے لباس میں آجایا کرتا ہے“۔ (الفضل قادیان‘ مورخہ ۱۲؍ اگست‘ ۱۹۳۴ء)

ان اقتباسات سے قارئین کرام اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جن حرمان نصیب کلمہ گویوں نے اسلام سے منقطع ہو کر قادیانی صاحب سے رشتہ جا جوڑا وہ ان کی صحبت میں کچھ

صفحہ 663

دینی سرمایہ حاصل کرنے کے بجائے الٹے خسر الدنیا و الاخرۃ میں پڑ گئے۔ اور اگر قادیانی صاحب کو کوچہ معرفت الہی کی ہوا بھی لگی ہوتی، تو ان کے صحبت داروں کے ایمان و اسلام پر چار چاند لگ جاتے۔ لیکن جہاں سرے سے ایمان و اسلام ہی ناپید ہو وہاں کسی نفع کی کیا امید ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر بشارت احمد مرزائی لکھتے ہیں کہ ایسے لوگ جن کی صحبت میں نفع کے بجائے نقصان پہنچے وہ خدا کے ولی نہیں ہوتے، شیطان کے ولی ہوتے ہیں۔ (پیغام صلح لاہور، مورخہ ۱۱؍ اپریل ۱۹۳۳ء) امت مرزائیہ کے بعض اخص افراد کو اپنے مسیح کے چشمہ اخلاق سے جو فیض ملا اس کا کچھ اور دھندلا سا عکس ملاحظہ ہو۔

حکیم نور الدین کا مرقع اخلاق

حکیم نور الدین آنجہانی کے متعلق ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ مرزائی کی یہ رائے تھی۔ ”خلیفہ کا تلون بہت بڑھ گیا ہے۔ ذرا بھی مخالف خلیفہ صاحب کی رائے سے ہو تو برافروختہ ہو جاتے ہیں“۔ (الفضل ۵؍ اگست ۱۹۲۴ء) ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ مرزائی لاہوری نے حکیم مولوی نور الدین صاحب کے متعلق یہ اظہار خیال فرمایا۔ ”مولوی نور الدین صاحب کی طبیعت میں ضد اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ دوسرے کی سن ہی نہیں سکتے۔ وصیت کو پس پشت ڈال کر خدا کے فرستادہ کے کلام سے بے پروائی کرتے ہوئے شخصی وجاہت اور حکومت ہی پیش نظر ہے۔ سلسلہ تباہ ہو تو ہو مگر اپنے منہ سے نکلی ہوئی بات نہ ٹلے پر نہ ٹلے۔ تکبر اور نخوت کی کوئی حد ہوتی ہے“۔ (الفضل قادیاں، مورخہ ۵؍ اگست ۱۹۲۴ء) قاضی اکمل مرزائی نے اپنے مضمون میں مولوی محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین) کے حلقہ درس میں اعتراضات کی اجازت کے متعلق جو آپ لکھتے ہیں سو مولوی صاحب! کیا آپ وہی محمد علی تو نہیں جن کی نسبت میرے سامنے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔ ”محمد علی کیا چیز ہے؟ اگر میں زور سے بولوں تو اس کا پیشاب نکل جائے“۔ (الفضل ۱۲؍ اگست ۱۹۲۴ء)۔

منشی الہی بخش اکاؤنٹنٹ مرحوم نے جو سالہا سال الہامی صاحب کے حواریوں میں داخل رہ کر تائب ہوئے اور مرزا صاحب کی تردید میں کتاب (عصائے موسیٰ) لکھی وہ مولوی حکیم نور الدین خلیفہ اول کی راست گفتاری اور صدق بیانی کے متعلق فرماتے ہیں کہ

صفحہ 664

حکیم نور الدین صاحب نے ایک اشتہار میں حلف اٹھایا کہ آتھم کے متعلق مرزا صاحب کی پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے۔ حالانکہ اس اشتہار سے پہلے ایک شخص کے استفسار پر تحریری شہادت دے چکے تھے کہ وہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی (عصائے موسیٰ، صفحہ ۳۷۰) منشی الہی بخش صاحب لکھتے ہیں۔ مولوی نور الدین صاحب کی سچائی اور پرہیزگاری کا جو نمونہ خط و کتابت مندرجہ رسالہ ”خلاف بیانی“ میں موجود ہے وہ نہایت عبرتناک و پردہ برانداز ہے۔ حکیم صاحب نے پہلے ایک خط بدرخواست ترک مخالفت اور برس چھ مہینہ تک نشان دیکھنے کے لیے خاموش رہنے کے متعلق بھیجا پھر مکر گئے کہ میں نے ایسا کوئی خط نہیں لکھا۔ بعد میں جب وہ خط ظاہر ہونے لگا اور خط لانے والے نے لوگوں کے سامنے وعدہ کیا کہ میں حکیم صاحب کا خط لا کر دکھا دوں گا تو ناچار اس خط کو مشتہر کرنا پڑا۔ (عصائے موسیٰ، صفحہ ۳۷۱)۔

خلیفتہ المسیح حکیم نورالدین صاحب کی ایک مذموم عادت یہ تھی کہ روپیہ بری طرح اڑاتے تھے اور باوجود یہ کہ ریاست جموں و کشمیر سے چھ سو روپیہ ماہانہ مشاہرہ ملتا تھا تاہم ان کے اسراف و تبذیر کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ مقروض رہتے تھے۔ حالانکہ خدائے قدوس نے بے جا خرچ کرنے والوں کے حق میں فرمایا۔ ولا تبذر تبذیرا ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین (۱۷؍۲۶) (مال کو بے موقع مت اڑاؤ کیونکہ بے ضرورت خرچ کرنے اور بے موقع اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں) باوجود یہ کہ حضرت مسیح زمان خود بھی انتہا درجہ کے مسرف تھے۔ (جیسا کہ اس کی تصریح ان شاء اللہ آئندہ اوراق میں کی جائے گی)۔ تاہم حکیم نور الدین کا اسراف اور خرچ بے جا اس درجہ بڑھا ہوا تھا کہ قادیانی صاحب کو بھی اس کے خلاف لب کشائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چنانچہ ایک خط میں حکیم صاحب کو لکھا۔ ”آپ اپنے مصارف کی نسبت ہوشیار ہو جائیں کہ انہی اموال سے قوام معیشت ہے اور اپنی ضرورت کے وقت بھی موجب ثواب عظیم ہو جاتے ہیں اور جیسا کہ آپ نے عہد کر لیا ہے کسی حالت میں ثلث سے زیادہ خرچ نہ کریں“۔ (مکتوبات احمدیہ‘ جلد ۵‘ نمبر ۲‘ صفحہ ۵۶)۔

خلیفتہ المسیح میاں محمود احمد کے ”خصائل عالیہ“

صفحہ 665

لاہوری مرزائیوں کے آرگن ”پیغام صلح“ نے ۵ ستمبر ۱۹۳۸ء کی اشاعت میں مرزا محمود احمد کے خلاف چند سوالات کی آڑ میں جو الزامات عائد کیے وہ یہاں درج کیے جاتے ہیں:-

خریدی ہے؟

دو سال پہلے اپنے آپ کو زکوٰۃ کا مستحق ٹھہراتے اور انجمن سے اپنے بچوں کے لیے وظیفہ کے طلبگار تھے امرتسر اور اجنالہ کے درمیان موٹر ایجنسی قائم کی ہے؟ ہاں یہ دیانت و امانت کے کہاں تک قریب ہے جبکہ ملازم چار پانچ ماہ سے تنخواہ کے لیے رو رہے ہوں۔

(الفضل، ۲۵ ستمبر ۱۹۳۸ء) ”پیغام صلح“ نے ۲۱ جولائی کے پرچہ میں لکھا کہ آج جب ویمبلے کی نمائش اپنی تمام شان و شوکت کے ساتھ نظر کے سامنے ہے اور پیرس و فرانس کی آرائش اور حسن، سوئٹزر لینڈ کے قدرتی مناظر، اٹلی کی تاریخی سیر گاہیں، وینس اور نیپلز کی مشہور بندر گاہیں نگاہوں میں بسی ہوئی ہیں اور اہرام مصری نظر آ رہے ہیں، میاں صاحب مع اسٹاف یورپ کو اڑے چلے جا رہے ہیں۔ کیا یہ بتایا جا سکتا ہے کہ جس قدر زرعی جائیداد حضرت مسیح موعود اپنی وفات پر چھوڑ گئے تھے کیا وہ اس قدر کافی تھی کہ میاں صاحب کے موجودہ شاہانہ خرچ کا کوئی حصہ اس سے چل سکتا ہے؟ اگر کہے کہ بعد میں میاں صاحب نے زمین خریدی ہے تو سوال یہ ہے کہ خریدنے کے لیے روپیہ کہاں سے آیا؟ کیا قوم کے روپوں کے سوا کوئی اور ذریعہ بھی آمد کا تھا؟ جس قوم کے ایسے لیڈر ہوں اس کا خدا حافظ۔ (الفضل، ۲۸ ستمبر ۱۹۳۸ء)۔

پھر ۲۰ جولائی ۱۹۳۴ء کے ”پیغام صلح“ میں لکھا کہ آج میاں صاحب دمشق اور یورپ جا رہے ہیں۔ درجن بھر تو سٹاف ہے، ضرورت یا عدم ضرورت کا تو کوئی سوال نہیں۔ خیال یہ ہے کہ نمود و نمائش مکمل ہو۔ میاں صاحب ولیم فاتح انگلستان ہونے کے مدعی ہیں۔ یورپ (خلافت کی شان و شوکت) کو دیکھ کر متحیر ہوگا۔ کیا فضل عمر (میاں محمود احمد) صاحب کی اس نمائش و کبریائی کا حضرت عمرؓ کی فروتنی و بے نفسی سے کوئی مقابلہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز

صفحہ 666

نہیں ۔ پھر ۲۳ جولائی کے پیغام میں لکھا ہمارے قادیاں کے پیر جی کا سیر و سیاحت کو جی چاہا تو مذہب کو آڑ بنا لیا اور بیچارے مریدوں کو طرح طرح کی طفل تسلیاں دیں۔ کہیں کہا کہ دیکھو جب شاہجہان بادشاہ کی بیوی کا مقبرہ بننے لگا تو محض یہ دیکھنے کے لیے کہ بادشاہ اس صرف زر کثیر کے لیے تیار بھی ہے یا نہیں انجینئر نے انہیں ایک لاکھ روپیہ کے ساتھ کشتی میں بٹھایا اور چلتے چلتے سارا روپیہ دریا میں بکھیر دیا" اور پھر چالیس ہزار روپیہ جو سیر و سیاحت پر خرچ ہو گا مریدوں کی نظر میں اس کی قدر و قیمت گھٹانے کے لیے یوں گوہر افشانی فرمائی کہ انگلستان کا ایک امیر بیس بیس ہزار میں ایک کتا اور تیس تیس ہزار میں گھوڑا خریدتا ہے۔ گویا چالیس ہزار روپیہ جو آپ لے چلے ہیں کوئی بات ہی نہیں اور یہ خیال نہیں آیا کہ یہ بیچارے ہندوستانیوں کی گاڑھے پسینے کی کمائی ہے جسے یوں ضائع کرنا ایک اخلاقی جرم ہے۔ ہاں کوئی نواب صاحب سیاحت کے لیے نکلیں، تو وہ اس قسم کی نمائش بے شک کریں۔ اگر کبھی کسی مسرف نواب نے کوئی اسراف کیا ہو تو اس کی مثال اس کی زندگی میں نہ ملے گی۔

(الفضل، ۲۸ ستمبر ۱۹۳۸ء)

میاں محمود احمد مہ جبینوں کے جھرمٹ میں

خلیفۃ المسیح میاں محمود احمد صاحب خوش جمال عورتوں کے بڑے قدرشناس اور نازبردار معلوم ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ حسینوں کے جھرمٹ میں رہیں۔ ایک مرتبہ خلیفہ صاحب کے ایک مخلص مرید چوہدری فضل الرحمن ٹھیکہ دار ساکن سرائے عالمگیر ضلع جہلم کی جو شامت آئی تو وہ خلیفہ صاحب سے یہ سوال کر بیٹھے کہ جب آپ عورتوں کے جلسہ میں صدر منتخب ہو چکے ہیں تو اپنے اردگرد خوبصورت عورتوں کا پہرہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس سوال پر میاں صاحب آگ بگولہ ہوگئے اور فرمایا کہ تم بڑے گستاخ اور بے ادب ہو اس کے بعد خلیفہ صاحب نے بورڈ پر فضل الرحمن کا نام درج کرکے یہ لفظ لکھ دیا ”مقاطعہ“ اور حکم دیا کہ کوئی شخص اس سے ہم کلام نہ ہو اور اسے قادیاں سے نکل جانے کو کہیں۔ چوہدری صاحب نے یہ رنگ دیکھ کر خود ہی بوریا بستر سنبھالا اور قادیاں سے چل دیئے۔ (پیغام صلح، ۶ اگست ۱۹۴۲ء) یہ صاحب قادیانیوں سے کٹ کر لاہوری مرزائیوں میں آملے۔ ہدایت قسمت میں نہ تھی ورنہ ان کے لیے یہ غور کرنا کچھ

صفحہ 667

مشکل نہ تھا کہ جب خلیفہ کے یہ لچھن ہیں تو اس شخص کے تعلق باللہ کا کیا حال ہو گا جس کا یہ روحانی خلیفہ ہے۔ افسوس یہ صاحب اس ضرب المثل کا مصداق بن کر رہ گئے کہ آسمان سے گرا اور کھجور میں اٹکا۔ قادیانی مرزائیت اور لاہوری مرزائیت ایک ہی مقراض کے دو پھل ہیں۔ گو لاہوری مرزائی ایک آدھ مسئلہ میں اپنے قادیانی حریفوں سے کچھ غنیمت ہیں۔ تاہم الحاد و مارقیت کے لحاظ سے دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔

خلیفۃ المسیح پر حرام کاری کے الزامات

ان شاء اللہ العزیز ”رئیس قادیان“ کی تیسری جلد میں ایک مستقل عنوان کے ماتحت ثابت کیا جائے گا کہ ایک نوجوان کنواری لڑکی عائشہ بیگم قادیانی مسیح کے پیر دبایا کرتی تھی اور وہ کئی سال تک اس خدمت پر مامور رہی۔ لیکن قارئین کرام میں سے شاید اکثر کو معلوم نہ ہو گا کہ جمالیات کے باب میں مسیح صاحب کا صلبی فرزند میاں محمود احمد جو آج کل قادیاں میں گدی نشین ہے باپ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ترکتازیاں کر رہا ہے۔ میاں محمود احمد کی اخلاقی تصویر شاید مولوی عبدالکریم صاحب سابق مدیر مباہلہ امرتسر سے بہتر اور کوئی نہ کھینچ سکے گا۔ اس لیے مناسب ہے کہ جو صاحب خلیفہ صاحب کے تقدس کا حال معلوم کرنا چاہیں‘ وہ مولوی صاحب ممدوح کی طرف رجوع کریں۔ چند سال پیشتر جریدہ ”زمیندار“ لاہور خلیفہ صاحب کی تعریف ”فلسفہ مشی فی النوم کے عامل“ کے مبہم الفاظ میں کیا کرتا تھا۔ جو صاحب اس مشی فی النوم کا دلچسپ واقعہ معلوم کرنا چاہیں وہ خاکسار مولف کتاب سے مل کر دریافت کر سکتے ہیں۔ یہاں مختصرا اتنا بتا دینا کافی ہے کہ اس واقعہ کا تعلق بھی ”جمالیات“ ہی سے ہے۔

خلیفہ صاحب کے چال چلن کی عام حالت یہ ہے کہ ان کے اپنے مخلص مرید کئی سال سے ان پر فواحش و حرام کاری کے الزام لگا رہے ہیں لیکن وہ آج تک اپنی برات نہیں کر سکے۔ اس سلسلہ میں میاں محمد علی صاحب امیر جماعت مرزائیہ لاہور کے ایک مراسلہ کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔

”اخبار فرقان“ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے کہ ”میں (میاں محمد علی) ان الزاموں کو جھوٹا سمجھتا ہوں جو شیخ عبدالرحمن مصری اور اس کے ساتھیوں نے میاں محمود احمد پر لگائے

صفحہ 668

ہیں حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ ان الزامات کے متعلق اگر کوئی شخص بولنے کا حق رکھتا تھا تو وہ خود میاں محمود احمد تھے اور ان کے لیے دو موقعے ایسے آئے تھے کہ وہ پبلک کو مطمئن کر سکتے تھے۔ پہلا موقع وہ تھا جب مولوی عبدالکریم مباہلہ والے نے میاں محمود احمد سے ان الزامات پر مباہلہ کرنا چاہا تھا مگر میاں صاحب نے انکار کر دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد مخلصین کی ایک جماعت قادیاں میں اٹھی جس نے اس قسم کے بلکہ اس سے بھی بدتر الزامات کے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اپنی ہی جماعت کے کمیشن کے سامنے اپنا ثبوت پیش کرنے کے لیے میاں صاحب سے درخواست کی۔ یہ ایک نہایت معقول تجویز تھی لیکن میاں صاحب نے اس مطالبہ کو بھی منظور نہ کیا“۔

اب میاں صاحب کے مریدوں نے ان الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے جنہیں خود میاں صاحب جھوٹا ثابت کرنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ لوگوں کے پاس دوڑے دوڑے پھرتے ہیں کہ تم ان الزاموں کو غلط سمجھتے ہو یا صحیح؟ یہ خیال قطعا غیر صحیح ہے کہ چونکہ میاں صاحب چار بیویوں کے شوہر ہیں اس لیے وہ زنا کا ارتکاب نہیں کر سکتے۔ حالانکہ نہ کسی کا مجرد ہونا اس کی زنا کاری کی دلیل ہے۔ نہ کسی کا چار چھوڑ چار سو بیویوں کا شوہر ہونا اس کی پاک بازی کی شہادت ہے۔ میاں صاحب کو چاہیے کہ یا تو الزام لگانے والوں سے مباہلہ کریں یا اپنی جماعت کا ایک کمیشن مقرر کر کے الزامات کی تحقیق کرائیں اگر یہ الزام کسی دشمن کی طرف سے ہوتے تو کہہ دیا جاتا کہ قطعا جھوٹ ہے۔ لیکن الزام لگانے والے میاں صاحب کے اپنے مخلص مرید ہیں۔ جنہوں نے خدمت دین (مرزائیت) کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں۔ اپنے مخلص مرید اپنے پیر پر جان بوجھ کر جھوٹ نہیں باندھ سکتے۔

پھر اس الزام کی وجہ سے ان لوگوں کو سخت ترین نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا مقاطعہ کر دیا گیا۔ ان پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا۔ بالآخر ان کا مکان جلا دیا گیا۔ میاں صاحب کے ایک مخلص مرید نے جو بہت ہی رازدار تھے اور ایک دفعہ کسی پہاڑ پر میاں صاحب کے ساتھ رہے تھے مجھے خط لکھا کہ ”میں تو ”قادیاں کے“ اندرونی حالات کو دیکھ کر دہریہ ہو گیا تھا۔ مگر کتاب ”بیان القرآن“ نے میری دستگیری کی اور میرا ایمان خدا اور اس کے رسول پر تازہ ہو گیا“۔ خاکسار محمد علی۔ ڈلہوزی۔ ۲۹؍ جولائی ۱۹۳۲ء۔ (پیغام صلح، مورخہ ۸؍ اگست ۱۹۳۲ء)

صفحہ 669

صفحات ۷۔۸ ) اس بیان میں میاں محمد علی صاحب نے ضمناً اپنی کتاب بیان القرآن کی بھی تعریف کر دی ہے۔ لیکن راقم الحروف یہ ظاہر کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ اس کتاب میں الحاد و زندقہ کے خار زار کے سوا اور کچھ نہیں آج تک جس قدر ملاحدہ و زنادقہ اسلام میں پیدا ہوئے میاں محمد علی نے ان کے عقائد و افکار کو اپنا کر اپنی طرف سے پیش کر دیا ہے اور کوشش فرمائی کہ لوگوں کا رہا سہا ایمان بھی الحاد و دہریت کی تاریکیوں میں گم ہو جائے۔

مفتی محمد صادق قادیانی کی دیانت

مفتی محمد صادق صاحب شاید وہی سفید ریش حضرت ہیں جو سبز رنگ کی پگڑی زیب سر کیا کرتے ہیں۔ یہ بھی حضرت مرزا صاحب کے جلیل القدر حواریوں میں سے ہیں۔ ایک مرتبہ جریدہ ”زمیندار“ میں علی حسن صاحب سہارنپوری کی طرف سے ایک مراسلہ شائع ہوا تھا، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ میرا سابقہ مفتی محمد صادق سے پڑا۔ انہوں نے احمدیہ ایشیاٹک کمپنی کے نام سے ایک کمپنی کھولی تھی۔ میں نے ہندوستانی اور مسلمان بھائی سمجھ کر نو سو ساٹھ روپے کا مال بھیج دیا تھا، جس میں سے مجھ کو ایک پائی بھی وصول نہیں ہوئی۔ اس مطلب کے لیے ان سے گفتگو کرنے کے لیے قادیاں گیا مگر یار لوگوں نے رسائی نہ ہونے دی۔ پھر قادیاں کے دارالقضا میں فیصلہ کرانا چاہا لیکن جواب ملا کہ تم غیر ہو ہم فیصلہ نہیں کر سکتے۔ (روزنامہ زمیندار، مورخہ ۲۸ شعبان ۱۳۵۳ھ) معلوم نہیں کہ اس مراسلہ کی اشاعت کے بعد بھی مفتی صاحب نے علی حسن صاحب کی حق رسی کی یا نہیں؟

مولوی محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور کے اخلاقی نمونے

جریدہ ”الفضل“ قادیاں نے لکھا کہ مولوی محمد علی صاحب صریح خلاف واقعہ باتیں پیش کر کے احمدیہ جماعت لاہور کو دھوکہ دیتے ہیں اور اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے طرح طرح کے ریزولیوشن پاس کراتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مولوی محمد علی اپنی خدمات کا کوئی صلہ نہیں لیتے حالانکہ انہوں نے ماسٹر فقیر اللہ سے مل کر ہزارہا روپے حق تصنیف کی آڑ میں

صفحہ 670

عجیب اور انوکھے طریق سے وصول کیے۔ آج تک مولوی صاحب مرزا صاحب کی ایک کتاب ٹیچنگز آف اسلام پر ناجائز طریق سے حق تصنیف لے رہے ہیں، یہ تو ان کی تصنیف نہیں۔ ترجمہ انہوں نے صدر انجمن قادیاں کی ملازمت میں تنخواہ پا کر کیا۔ پھر وہ کس طرح حق دار ہیں؟ اسی طرح انگریزی ترجمۃ القرآن پر بھی ان کو کوئی حق نہیں۔ اگر ملازمت میں ترجمہ کرنے سے ان کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے تو پھر وہ محمد دی پرافٹ یعنی انگریزی ترجمہ سیرت خیر البشر (صلی اللہ علیہ وسلم) پر کیوں حق تصنیف لے رہے ہیں؟ اس کا ترجمہ تو محمد یعقوب صاحب نے کیا تھا۔ کیا مولوی صاحب اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ماسٹر فقیر اللہ کے ذریعہ سے کئی مرتبہ فروخت کتب پر حق تصنیف وصول نہیں کیا؟ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ اس وقت کتب انجمن کے قرضہ جات ۳۲ ہزار روپے سے اوپر قابل وصول ہیں جس پر مولوی صاحب ۲۵ فیصدی یعنی آٹھ ہزار روپیہ وصول کر چکے ہیں۔ خواہ بیچاری انجمن کو یہ روپیہ وصول ہو یا نہ ہو۔ مولوی محمد علی صاحب ہمیشہ مفت اشاعت کتب کے لیے روپیہ مانگتے ہیں قوم کے روپے سے کتابیں تو چھپ گئیں وہ کیوں مفت تقسیم نہیں کی جاتیں لیکن چھپنے کے بعد دوبارہ قوم سے انہی کتابوں کی مفت تقسیم کے لیے روپیہ وصول کیا جاتا ہے۔

اس پر طرفہ یہ کہ مفت اشاعت ہو یا نہ ہو خواہ زر چندہ وصول ہو یا نہ ہو۔ مولوی صاحب موعودہ زر چندہ پر اپنا ۲۵ فیصدی حق تصنیف وصول کر لیتے ہیں۔ جب ہی تو ہر سال قوم کی خدمت چھ ماہ سے زیادہ پہاڑوں کی ٹھنڈی ہواؤں میں کرتے ہیں۔ لاکھوں روپوں سے قوم کے بچوں کے لیے لاہور میں مسلم ہائی سکول تیار ہوا لیکن مولوی صاحب کے دل میں قومی ایثار اس قدر جوش زن ہے کہ ان کا اپنا لڑکا ایک عیسائی انگریزی سکول میں پڑھتا ہے۔ مولوی صاحب کی امانت و دیانت کا ثبوت احمدیہ بستی میں مکان بنانے کی سکیم کا حشر ہے۔ ایک ماہوار چندہ اس لیے کھولا گیا کہ چندہ دینے والوں کو باری باری جمع شدہ رقم احمدیہ بستی میں مکان بنانے کے لیے دی جائے۔ شروع شروع میں رقم مولوی صاحب کو اس لیے دی گئی کہ ان کا مکان وہاں بننے سے دوسروں کی ترغیب ہوگی۔ لیکن مولوی صاحب یہ رقم کھا گئے اور مکان بنانے سے انکار کر دیا۔ ہزاروں روپوں کے بیمے اور رجسٹریاں مولوی صاحب کے نام آتی ہیں جو چندے کی ہوتی ہیں لیکن ان کے حساب کتاب کا کوئی پتہ نہیں۔

صفحہ 671

(الفضل، ۷؍ ستمبر ۱۹۲۸ء)

میاں محمد علی صاحب اس پیرانہ سالی میں بڑے عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہیں بیالیس مربع زمین جس کی قیمت خود انہی کے قول کے بموجب ایک لاکھ روپیہ ہوتی ہے حکومت کی طرف سے ملی تھی (روزنامہ زمیندار، مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۳۲ء) گرمی کا موسم کوہ ڈلہوزی پر گزارتے ہیں اور سنا ہے کہ اب وہاں اپنی کوٹھی بنوا لی ہے۔ الفضل رقم طراز ہے کہ جناب امارت مآب مولوی محمد علی صاحب ماہ مئی اور جون کے آتے ہی ہر سال کسی نہ کسی سرد پہاڑ پر تشریف لے جاتے ہیں اور اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکنے کی وجہ سے قومی مال کو برباد کرتے ہیں۔ حالانکہ اور لوگ بھی اسی لاہور میں گرمی کے دن گزارتے ہیں جس میں آپ کا جی نہیں لگتا۔ آپ کو انجمن کے خزانہ سے جو رقم ماہوار ملتی ہے وہ لاہور میں رہ کر صرف نہیں ہو سکتی اور دیگر سامان عیش و عشرت کے علاوہ متعدد مرتبہ نہانے کے لیے آب برف کا انتظام کرنے اور استراحت فرمانے کے لیے دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں چلنے والی بجلی کے پنکھے لگانے کے باوجود بچ رہتی ہے، تو اسے انجمن کے خزانہ میں واپس کر دیا کریں۔ یہ کیا ضرور ہے کہ وہ لازماً صرف ہی ہو جایا کرے۔ (الفضل، ۱۵؍ اگست ۱۹۲۴ء)

الفضل نے میاں محمد علی صاحب سے سوال کیا کہ کیا ریلوے میں تھرڈ کلاس (تیسرا درجہ) نہیں جو آپ سیکنڈ کلاس (درجہ دوئم) کے سوا سفر ہی نہیں کر سکتے؟ (الفضل، ۴؍ اگست ۱۹۲۴ء) لیکن یہ اعتراض بے جا ہے کیونکہ میاں محمود احمد صاحب فرسٹ کلاس (درجہ اول) میں سفر کرتے ہیں۔ انہوں نے یورپ جاتے ہوئے جہاز کے درجہ اول ہی میں سفر کیا۔ (الفضل، ۱۳؍ اگست ۱۹۲۴ء) اور ان کے شاہانہ مصارف مولوی محمد علی صاحب کے نوابی اخراجات سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ میاں محمود احمد مسیح قادیانی کے فرزند ارجمند اور مولوی محمد علی صاحب ایم اے ایل ایل بی وکیل مرزا صاحب کے مقرب صحابیوں میں سے ہیں۔ خاکسار راقم الحروف نے مولوی محمد علی کو ۱۹۲۴ء میں یہیں لاہور میں دیکھا تھا۔ سفید ریش فرشتہ صورت ہیں۔ لیکن اس عمر کے ساتھ ہی ان کے دل و دماغ میں ساری دنیا کا الحاد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس لیے ان کو دیکھ کر یہ شعر یاد آ جاتا ہے۔

ریشِ سفید شیخ میں ہے ظلمتِ فریب
صفحہ 672
اس مکر چاندنی پہ نہ کرنا گمان صبح

خواجہ کمال الدین لاہوری کے اخلاقی کمالات

خواجہ کمال الدین صاحب لاہوری بھی مرزا صاحب کے خاص ”صحابی“ تھے۔ ان کے اخلاق پر ”الفضل“ نے جو ریمارک کیے وہ ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔

الفضل نے مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا۔ ”حضور (مرزا محمود احمد صاحب) نے کبھی ناجائز تماشے نہیں دیکھے۔ بڑے بڑے خود ساختہ مجددین کی طرح پیرس کی گلیوں میں برہنہ میموں کے ناچ دیکھے نہ عورتوں سے مصافحے کیے۔ نہ حرام کھایا نہ کھلایا نہ گدھوں کے سوانگ بھرے“۔ (الفضل، ۱۱ اگست ۱۹۳۲ء) مولانا آپ کے دوست جناب خواجہ صاحب یورپ پہنچے تو فرمانے لگے وہ کیا مجدد ہے۔ مجدد تو میں بھی ہوں اور بہت کچھ اباحتی رنگ اختیار فرما لیا تھا۔ اور بعض باتوں میں حلال اور حرام کی تمیز تک اٹھا دی۔ اور بعض لوگ ان سے بھی برداشت اور وسعت قلب میں بڑھ گئے۔ کرسمس کے موقع پر انہوں نے سوانگ کے طور پر گدھے کا روپ دھارا اور دم لگائی اور نازنینان فرنگ سے کمر میں ڈنڈے کھائے۔ (الفضل، مورخہ ۱۹ اگست ۱۹۳۲ء)

الفضل نے اپنی ۱۱ اگست ۱۹۳۲ء کی اشاعت میں ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرزائی کا ایک مضمون زیر عنوان ”مولوی محمد علی کے ہمراہیوں کی حرام خوریاں“ مقالہ افتتاحیہ کی حیثیت سے درج کیا تھا جس میں مولوی محمد علی صاحب کو مخاطب کر کے لکھا تھا۔ ”مولانا! آپ سے تو آپ کے احباب نے ضرور ان حرام خوریوں کا ذکر کیا ہوگا جو ولایت میں دانستہ اور نادانستہ وقوع میں آتی رہتی ہیں۔ میرے ایک بہت معزز غیر احمدی دوست نے بیان کیا کہ میں ولایت میں ایک ہوٹل میں کھانا کھا رہا تھا جو وہیں ایک بھاری بھر کم لاہور کے رہنے والے لکچرار اور پریچر بھی تشریف لائے اور کھانے میں مصروف ہوگئے۔ کھانے کے دوران میں انہوں نے ہوٹل والے سے فرمایا کہ کل والی چیز لاؤ وہ بہت مزیدار تھی۔ اس پر اس نے ایک قسم کا گوشت لا کر ان کے سامنے رکھ دیا، جسے انہوں نے خوب مزے لے لے کر کھایا۔ جب وہ تناول فرما کر تشریف لے گئے تو میں نے بصد شوق ہوٹل والے سے پوچھا کہ وہ کیسا گوشت تھا، جو مسٹر کمال نے تم سے منگا کر کھایا تھا؟ ہوٹل والے نے بڑی

صفحہ 673

سادگی سے جواب دیا فائینسٹ بیکن (یعنی نہایت اعلیٰ قسم کا لحم خنزیر) (الفضل ۴؍ اگست ۱۹۳۲ء)

یہ وہ ”اخلاق عالیہ“ ہیں جو مسلمانوں نے مرتد ہونے کے بعد قادیاں کے خود ساختہ موعود کی صحبت میں سیکھے اور اگر کوئی اعتراض کرے کہ یہ الزام جو لاہوری مرزائیوں نے قادیانیوں پر اور قادیانی مرزائیوں نے لاہوریوں پر لگائے سب کذب بیانی اور بہتان طرازی ہے تو میں کہتا ہوں کہ اگر یہ الزام جھوٹے ہیں تو بھی میرا دعویٰ ثابت ہے کہ قادیانی مسیح کی صحبت نے مرزائی ہونے والوں کو ترقی کے بجائے الٹا اخلاقی اور ذہنی پستی میں مبتلا کر دیا۔ یہاں تک کہ مسیح صاحب کے خاص الخاص ”نام نہاد صحابی“ بھی کذب بیانی اور افتراء پردازی کے طومار باندھنے میں عام لفنگوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ واضح رہے کہ الفضل خلیفہ المسیح میاں محمود احمد قادیانی کے زیر نگرانی قادیاں سے شائع ہوتا ہے اور ”پیغام صلح“ مسیح قادیانی کے ”جلیل القدر نام نہاد صحابی“ مولوی محمد علی ایم اے لاہوری کا آرگن ہے۔

صفحہ 674

فہرست کتب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان

الخلیفۃ المہدی مولانا سید حسین احمد مدنیؒ 20 خاتم النبین مولانا سید انور شاہ صاحبؒ 100 تحفہ قادیانیت جلد سوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ 200 عقیدۃ ختم نبوت اکابرین کی نظر میں مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ 50 گفٹ فار قادیانیت ﴿انگلش﴾ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ 150 احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ 150 احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ 150 رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام مولانا عبداللطیف مسعود 120 تحریف بائبل بزبان بائبل مولانا عبداللطیف مسعود 100 قلمی جہاد کی سرگزشت مولانا اللہ وسایا صاحب 50 سوانح حضرت قاضی صاحبؒ مولانا محمد اسماعیل شجاعبادی 200 خطبات ختم نبوت جلد دوم مولانا محمد اسماعیل شجاعبادی 150 خطبات ختم نبوت جلد سوم مولانا محمد اسماعیل شجاعبادی 150 قادیانی شبہات کے جوابات مولانا اللہ وسایا صاحب 80 رئیس قادیان مولانا محمد رفیق دلاوریؒ 150 22 جھوٹے نبی نثار احمد ثنی صاحب 60 قادیانیت کا سیاسی تجزیہ صاحبزادہ طارق محمود 200 اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلے جناب ملک محمد فیاض 200 سوانح حضرت تاج محمود صاحبؒ جناب صاحبزادہ طارق محمود 150

ملنے کا پتہ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون : 514122

صفحہ 675

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی گزشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ و پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔

زر سالانہ صرف =/250 روپے

رابطہ کے لئے :

منیجر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی

دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3

صفحہ 676

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانو!

ملت اسلامیہ مطالبہ و احتجاج کرتی ہے کہ

اور سنو! اگر تم نے نیو ورلڈ آرڈر کے تحت منکرین ختم نبوت قادیانیوں کی سرپرستی جاری رکھی اور مسلمانوں کے ان تمام مطالبات سے غفلت برتی تو یاد رکھو! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے غیظ و غضب سے تمہیں اور تمہارے اقتدار کو کوئی بھی محفوظ نہ رکھ سکے گا اور تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

حضوری باغ روڈ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان