احتساب قادیانیت جلد 20 · مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 20 · Maulana Muhammad Muslim Ottoman Deobandi
PDF 1

رَدِّ قادیانیَّت

رسائل

حضرت مولانا محمد مُسلم عثمانی دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت مولانا قاضی فضل احمد گورداسپوری رحمۃ اللہ علیہ

احتساب قادیانیَّت

بستم

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

حضرت مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ

حضرت مولانا قاضی فضل احمد گورداسپوری رحمۃ اللہ علیہ

احتساب قادیانیت

بستم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان ۔ فون : 4514122

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحيم!

عرض مرتب

الحمدلله وحده والصلوة والسلام على من لا نبى بعده! اما بعد! محض اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی بیسویں (٢٠) جلد پیش خدمت ہے۔ آج سے برسہا برس قبل جب یہ سفر شروع کیا تھا تو تصور میں بھی نہ تھا کہ اتنا سفر اس تیزی سے طے ہو جائے گا۔ اس پر اللہ رب العزت کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ امید ہے لئن شکرتم لا زيدنكم کے تحت اللہ تعالیٰ مزید توفیق سے سرفراز فرمائیں گے۔

اس جلد میں حضرت مولانا محمد مسلم دیوبندی عثمانیؒ کی کتاب (١) مسلم پاکٹ بک اور جناب قاضی فضل احمد گورداسپوریؒ کی دو کتابیں (٢) کلمہ فضل رحمانی (٣) جمعیت خاطر شامل اشاعت ہیں۔

تعارف مسلم پاکٹ بک

”مسلم پاکٹ بک“ قادیانی کتاب (احمدیہ پاکٹ بک) کے جواب میں لکھی گئی ہے۔ مسلم پاکٹ بک ایک علمی دستاویز اور قادیانی وساوس کے جوابات میں انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس علمی اور تحقیقی کتاب پر جتنا مصنف مرحوم کو خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔ ایک بار شائع ہوئی، پھر نایاب ہوگئی۔ اس کا ایک نسخہ محترم الحاج عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب سے ملا۔ دفتر کی لائبریری میں درج ہوا۔ لیکن گم ہو گیا اس کا بہت صدمہ ہوا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے کرم کیا۔ اللہ تعالیٰ بہت ہی جزائے خیر دیں اپنی بھر پور موسلا دھار رحمتوں کی بارش سے نوازیں بابو تاج محمد صاحب مرحوم فقیر والی کو، ان کی محنت سے دوسرا نسخہ مل گیا۔ جسے جان سے عزیز سمجھ کر سنبھالے رکھا۔ آج سالہا سال بعد اس کی اشاعت کی حق تعالیٰ جل مجدہ نے توفیق سے نوازا اس پر سجدہ شکر بجالاتے ہیں۔

مناظر اسلام حضرت مولانا محمد امین اوکاڑویؒ مرحوم اس مرحلہ پر بہت یاد آرہے ہیں۔ انہوں نے بارہا اس کتاب کی اشاعت کی اہمیت جتلائی اور اشاعت کے لئے بار بار حکم

صفحہ ١

فرمایا۔ صحیح ہے کہ قدر زر، زرگر بداند، قدر جوہر، جوہری۔ لیکن کل امر مرہون باوقاتھا سے بھی تو مفر نہیں۔ واقعی یہ کتاب اس قابل ہے کہ قابل قدر جان کر اسے پڑھا جائے۔ لیکن اس کے لئے بھی تو قابلیت درکار ہے۔ ”میں تو اس قابل نہ تھا“ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا کہ کتاب چھپنے کے قابل ہو گئی۔

ایسے وقت میں چھپ رہی ہے کہ اس کے چھاپنے کی اہمیت جتلانے والے، مولانا اوکاڑویؒ اس دنیا میں نہیں رہے۔ وہ ہوتے تو ان سے دعاؤں کا انعام لیتا۔ لیکن وہ حیات اموات کے قائل تھے۔ حق تعالیٰ ان تک یہ خبر پہنچا دیں کہ آپ کے ایک نالائق خادم نے معرکہ سر کر لیا ہے تو انہیں خوشی ہو۔ ویسے وہ ایسے نیک بخت تھے کہ یقیناً پہلے ہی خوشیاں سمیٹ رہے ہوں گے۔

کتاب لیتھو پر ١٣٥١ھ میں پہلی بار شائع ہوئی۔ جیبی سائز، جلد کرتے وقت کافی حصہ سلائی میں آجانے کے باعث نا قابل استفادہ ہو گیا تھا۔ مس پرنٹ بہت تھا۔ جلد کھول کر ایک ایک ورق کیا۔ پھر انلارجمنٹ فوٹو کرائے الفاظ پھٹ گئے۔ مدہم الفاظ پھر پھٹے، مٹے، کٹے کتاب علمی اور فقیر محض کورا۔ کتاب کو ہاتھ کیا لگایا، ”سر منڈاتے ہی اولے پڑنے لگے“ کا مصداق ہو گیا۔ پھر خیر سے کمپوزر حضرات مجھ سے بھی زیادہ عربی لکھنے میں تن آسان واقع ہوئے ہیں۔ حوالہ جات میں ساتھیوں کی گل فشانی سے انکار نہیں۔ لیکن خدا لگتی کہ پوری ٹیم نے اس کتاب پر بھر پور محنت کی ہے۔ غلط یا صحیح کی تو شرط نہیں لگاتا۔ البتہ اس کا یقین کامل ہے کہ پہلے کی نسبت پڑھنے میں آسانی پیدا ہو گئی ہے۔

پہلی اشاعت ١٣٥١ھ میں اب دوسری اشاعت ١٤٢٨ھ میں گویا ستتر سال بعد اس کا دوبارہ منظر عام پر آنا یقیناً توفیق ایزدی ہے۔ ورنہ تو خیر سے یہ کتاب عمر میں بھی مجھ سے بڑی ہے۔ اپنے سے بڑوں کے ساتھ ”متھا“ لگانے والوں کے ساتھ جو ہوتا ہے وہ میرے ساتھ اس کتاب نے کیا ہے۔ میں نے بھی محدب شیشہ (گلاس نما) سے لڑائی لڑی، اللہ تعالیٰ نے کرم کا معاملہ کیا کہ سرخرو ہو گئے۔ اس رام کہانی بیان کرنے سے اپنے محنتی ہونے کا ثبوت مہیا کرنا مقصود

صفحہ ٥

،قدر جوہر، جوہری۔ لیکن کل امر مرہون باوقاتھا اس قابل ہے کہ قابل قدر جان کر اسے پڑھا جائے۔ لیکن ہے۔ ”میں تو اس قابل نہ تھا“ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا کہ

ہی ہے کہ اس کے چھاپنے کی اہمیت جتلانے والے، مولانا ۔ وہ ہوتے تو ان سے دعاؤں کا انعام لیتا۔ لیکن وہ حیات ان تک یہ خبر پہنچا دیں کہ آپ کے ایک نالائق خادم نے ویسے وہ ایسے نیک بخت تھے کہ یقیناً پہلے ہی خوشیاں سمیٹ

میں پہلی بار شائع ہوئی۔ جیبی سائز، جلد کرتے وقت کافی حصہ بل استفادہ ہو گیا تھا۔ مس پرنٹ بہت تھا۔ جلد کھول کر ایک رائے الفاظ پھٹ گئے۔ مدہم الفاظ پھر چھپے، مٹے، کٹے کتاب یا لگایا ”سرمنڈاتے ہی اولے پڑنے لگے“ کا مصداق ہو گیا۔ ں زیادہ عربی لکھنے میں تن آسان واقع ہوئے ہیں۔ حوالہ جات ہیں۔ لیکن خدا لگتی کہ پوری ٹیم نے اس کتاب پر بھر پور محنت کی البتہ اس کا یقین کامل ہے کہ پہلے کی نسبت پڑھنے میں آسانی

ں اب دوسری اشاعت ١٤٢٨ھ میں گویا ستاٹھ سال بعد اس ایزدی ہے۔ ورنہ تو خیر سے یہ کتاب عمر میں بھی مجھ سے بڑی تھا ”لگانے والوں کے ساتھ جو ہوتا ہے وہ میرے ساتھ اس محدب شیشہ ( کلاں نما) سے پڑھائی کی، اللہ تعالیٰ نے کرم کا کہانی بیان کرنے سے اپنے محنتی ہونے کا ثبوت مہیا کرنا مقصود

نہیں۔ رفقاء سے استدعا کرنی ہے کہ یہ کتاب بھر پور علمی ذخیرہ ہے۔ قادیانیوں کے اعتراضات کو ہباءً منثوراً کرنے کے لئے اس سے استفادہ از بس ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت مولانا محمد امین اوکاڑویؒ اس کی طباعت کے لئے بے قرار رہتے تھے۔

تعارف ! کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام قادیانی ١٣١٤ھ

حضرت مولانا قاضی فضل احمد صاحب گورداسپور کے باسی تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ہمعصر تھے۔ لدھیانہ کے محکمہ پولیس میں کورٹ انسپکٹر تھے۔ مرزا قادیانی کے بڑے بیٹے مرزا سلطان احمد کے ساتھ ملازم ہوئے۔ غلام احمد قادیانی بھی گورداسپور کے تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی کے ہمعصر، ہم ضلع اور مرزا کے بیٹے سے تعلقات کے حوالہ سے گویا ”گھر کے بھیدی“ تھے۔ آپ نے یہ کتاب ١٣١٤ھ مطابق ١٨٩٧ء میں لکھی اس کتاب کی اشاعت کے بعد مرزا قادیانی دس سال سے زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ لیکن کتاب کے مندرجات کی تردید کا حوصلہ نہ کرسکے۔

یہ کتاب اپنی بعض خصوصیات کے باعث رد قادیانیت کی دیگر ہزاروں کتب میں انفرادیت رکھتی ہے۔ مثلاً:

(١٣١٤ھ) بجواب اوہام قادیانی (١٣١٤ھ)

عدد نکال کر اسے اپنے دعوٰی میں پیش کیا۔ (ازالہ ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩) قاضی فضل احمد نے سات (٧) نام مرزا کے موافقین ومخالفین کے لکھ کر ان کے عدد (١٣٠٠) پورے کر کے لکھا کہ اگر یہ دعوٰی کی صداقت کی دلیل ہے تو ان ساتوں کو بھی مہدی ، مسیح ، مجدد و نبی مان لیا جائے۔ اس سے مرزا کی لکھی بند ہوگئی۔

میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں ۔“ مؤلف کتاب ہٰذا نے لدھیانہ میں قادیان نامی دوسرا گاؤں اور اس میں غلام احمد نامی شخص کا حوالہ دے کر مرزا قادیانی کو چپ کرا کر اس پر دوسرے غلام احمد قادیانی کو بٹھا دیا۔

صفحہ ٦

کا جواب لکھا اور ان تینوں کتابوں کے خلاصے درج کر کے ان کے جوابات کے لئے مرزا کی کتب اور مرزا کی تحریرات سے کام لیا۔ مرزا قادیانی کا منہ اور اس کی چپیڑ ، مرزا کی رسی اور مرزا کا گلہ ۔ مرزا کا جوتا مرزا کی پشت ، کی تصویر یہ کتاب ہے۔

شیر اور اس کی اہلیہ کو جو مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ تھی ، خطوط لکھے۔ ذلت آمیز ، خوشامدی اور چالاک و مکار، عیار، دھوکہ باز ، بازیگر کی طرح لالچ وخوف دلایا۔ مرزا کے یہ خطوط آپ نے مرزا علی شیر بیگ جو مرزا قادیانی کا سمدھی تھا اس سے حاصل کر کے اپنی اس کتاب میں پہلی بار ان کو مرزا قادیانی کی زندگی میں شائع کر کے مرزا قادیانی کا بیچ چوراہے بھانڈا پھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ کی شانِ بے نیازی کہ عدالتوں تک یہ کتاب اور اس میں درج خطوط مرزا قادیانی کے مقابل پیش ہوتے رہے اور مرزا قادیانی کو کھسیانی بلی کھمبہ نوچے کے بمصداق سوائے سرتسلیم خم کے اور کوئی چارہ نہ رہا۔ چنانچہ ١٦؍مئی ١٩٠١ء کو گورداسپور کی عدالت میں مرزا امام الدین کے مقدمہ ”بند کرنے راستہ شارع عام“ کے سلسلہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کا بیان ہوا۔ اس میں مرزا قادیانی نے تسلیم کیا کہ کلمہ فضل رحمانی (کتاب ہذا) میں جو خطوط شائع ہوئے وہ میرے ہیں۔ (الحکم قادیان ج ٥ ش ٢٩ ص ١٤) مورخہ ١٠؍اگست ١٩٠١ء ۔ کتاب بنام ملفوظات احمدیہ منظور الٰہی ص ٢٤١ ، ٢٤٥) میں تمام تفصیل موجود ہے۔

یہ کتاب ١٣١٤ھ ( ١٨٩٧ء) میں اوّل بار شائع ہوئی۔ چھیانوے برس بعد ١٤٠٨ھ میں مجلس تحفظ ختم نبوت صدر دفتر ملتان نے دوسری بار عکس لے کر اسے شائع کیا اور اب بار سوم ١٤٢٨ھ میں ٹھیک ایک سو چودہ برس بعد شائع کر رہے ہیں۔ یہ کمپیوٹر ایڈیشن ہے۔ حوالہ جات کی تخریج وتحقیق کے ساتھ اس کی اشاعت پر رب کریم کی عنایت وتوفیق پر ہزاروں ہزار شکر ادا کرتے ہیں۔ قارئین دیکھیں گے کہ پولیس انسپکٹر کورٹ نے مرزا قادیانی کو جرح میں کیسے طشت از بام کیا ہے؟ ۔ فالحمدللہ اوّلاً و آخراً!

صفحہ ٧

تعارف جمعیت خاطر

اس جلد میں تیسری کتاب جمعیت خاطر ہے اس کے مصنف بھی قاضی فضل احمدؒ گورداسپوری ہیں۔ ١٩١٥ء میں پہلی بار شائع ہوئی تو ناشر نے اس کے سرورق پر خود یہ تعارف لکھا۔

”اس میں وہ خط و کتابت ہے جو درمیان قاضی فضل احمد صاحبؒ انسپکٹر پولیس لدھیانہ حنفی، سنی، نقشبندی اور غلام رسول، مرزائی، قادیانی انسپکٹر پولیس فیروز پور کے ہوئی، درج ہے۔ جس کا جواب قادیانی موصوف باوجود سخت و سست وعدوں کے نہیں دے سکے۔ بانتظار مدت مدید شائع کی گئی۔ مرزا قادیانی مدعی رسالت ونبوت و خدائی کے دعاوی پر نہایت تہذیب کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ منصف مزاج کے لئے نہایت عمدہ سبق ہے ہر سہ نام اس خط و کتابت کے تاریخی، ہجری وعیسوی ہیں ۔“

اس ایک کتاب کے تین نام ہیں ۔

نوٹ : اس جلد (٢٠ ویں) کے آخر پر بیس جلدوں کی فہرست دے دی گئی تا کہ ان تمام جلدوں سے استفادہ اور پڑھنے میں آسانی ہو۔ جو کچھ ہوا کریم کے کرم ہوا۔ جو ہو گا کریم کے کرم سے ہو گا ۔

یا رب تو کریمی و رسول تو کریم
صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم

العارض! فقیر اللہ وسایا، ٦؍ جون ٢٠٠٧ء ٢٢؍ جمادی الاول ١٤٢٨ھ

صفحہ ٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

اجمالی فہرست...... احتساب قادیانیت جلد ٢٠

عرض مرتب ٣

١...... مسلم پاکٹ بک حضرت مولانا محمد مسلم دیوبندی ؒ ٩

٢...... کلمہ فضل رحمانی حضرت مولانا قاضی فضل احمدؒ ٣٥٧

٣...... جمعیت خاطر // // ٥١٣

٤...... فہارس احتساب قادیانیت جلد: ١ تا ٢٠ حضرت مولانا اللہ وسایا ٦١٩

ضروری اعلان!

اس جلد کے آخر میں ص ٦١٩ سے آگے احتساب قادیانیت کی بیس جلدوں کی چار مختلف نوعیت کی فہارس شامل ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے!

PDF 9

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

مسلم پاکٹ بک

در رد مرزائیت

حضرت مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی

صفحہ ١٠

بسم الله الرحمن الرحيم!

تقریظ : شیخ التفسیر والحدیث حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی

ہمارے بھائی مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی (فاضل دیوبند ) نے اپنی مسلم پاکٹ بک کا مسودہ کئی اہم مواضع سے مجھ کو سنایا۔ حق تعالیٰ جزائے خیر دے بڑا اچھا کام کیا ہے۔ مرزائیوں نے جو پاکٹ بک چھپوائی ہے اس کی جواب دہی کا فرض کفایہ مولوی صاحب موصوف کے قلم سے ادا ہوا۔ مسلم پاکٹ بک فی الحقیقت مرزائیوں کے رد میں ایک جیبی کتب خانہ کا حکم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس سے منتفع کرے۔ مجھے امید ہے کہ اہل علم اس کتاب کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے اور اہل خیر اور صاحب ثروت مسلمان پچاس ، سو نسخے خرید کر اس کی عام اشاعت میں حصہ لیں گے۔ پنجاب وغیرہ میں بڑے بڑے سجادہ نشین، مشائخ ہیں۔ ان کی ادنیٰ توجہ سے یہ کار دشوار آسان ہوسکتا ہے۔ والله لا يضيع اجر المحسنين !

الراقم شبیر احمد عثمانی دیو بندی ٢٤ رمضان المبارک ١٣٥١ھ

تقریظ: جناب مولوی حبیب اللہ صاحب امرتسریؒ حافظ کتب مرزائیہ

الحمدلله رب العالمين ٠ والصلوة والسلام على خاتم النبيين ٠ وعلى آله واصحابه اجمعين !

مسلم پاکٹ بک مصنفہ جناب مولانا محمد مسلم صاحب دیوبندیؒ کو میں نے شروع سے آخر تک دیکھا۔ فرقہ مرزائیہ کی تردید احسن طور پر کی گئی ہے۔ لفظ توفی.......رفع......بل......خلت ......خاتم...... وغیرہ پر عالمانہ بحث کی گئی ہے۔ مرزائیوں کے اعتراضوں کے جواب بھی بخوبی دیئے گئے ہیں۔

میں نے اس کتاب کے وہ حوالے جو مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے ماخوذ ہیں دیکھے اور اصل کتابوں سے مقابل کئے۔ اکثر صحیح پائے۔ جو غلط تھے ان کا صحت نامہ کتاب کے ساتھ لگا دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ کتاب مرزائیوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہو۔ آمین!

خادم دین رسول الله عاجز حبیب اللہ کلرک دفتر نہر امرتسر

صفحہ ١١

بسم الله الرحمن الرحیم ! الحمد لله وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ !

قصیدہ ثنائیۃ اعتقادیۃ!

یا صاحب الجود والإحسان والكرم ٭ لقد عممت بآيد سائر الامم !

اے احسان اور بخشش کرنے والے تیری نعمتیں تو ہر نیک و بد پر عام ہیں۔

فاصفح عن الذنب اعرض عنه بالكرم ٭ امدد على ذيول الفضل والنعم !

میرے گناہوں سے درگزر فرما اور مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔

ان الانام رهين الجود قاطبة ٭ وان كفرت اوصال شلو مصتم !

تمام مخلوق تیرے احسان میں دبی ہوئی ہے۔ اگر چہ ان کے اعضاء کے جوڑ تیری شکر گزاری سے قاصر ہیں۔

تفضل ولا تنظر الى مااكتسبته ٭ ان الكريم ليرخى الستر باللمم !

تو اپنے فضل سے کام لے میرے گناہوں کو نہ دیکھ۔ کریم کا کام چشم پوشی ہی کرنا ہے۔

كم من خطاء عند فضلك مختف ٭ فمآ اثر بالعفو منك لما ثم !

تیرے فضل اور عفو کے سامنے گناہوں کی کوئی حقیقت نہیں۔

لا جرمت الا اننی بك مرتج ٭ ولا يقنط الراجی لامر مفحم !میں

گنہگار بھی ہوں اور تیری رحمت کا امیدوار بھی۔ قرآن کہتا ہے کہ رحمت سے ناامید نہ ہونا چاہئے۔

تعللت من كأس الجريمة كأبة ٭ يكاد يضيق الصدر من سؤماثم !

میں گناہوں سے تنگ آ گیا ہوں۔ بدانجامی کے خوف سے دل گھٹا جاتا ہے۔

وان ضاقت الارض لاثمی برحبها ٭ ولاكن عفوك اكثر عند نادم !

اگر چہ زمین میرے گناہوں کی کثرت سے تنگ ہے۔ لیکن توبہ کرنے والے کے واسطے تیرا عفو اس سے کہیں زیادہ ہے۔

فلا منك لى الااليك ملاذ ٭ فتطردنی ان شئت ان شئت تنعمی!

تیرے سوا اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔ تجھے اختیار ہے کہ خطاؤں پر مجھے سزا دے یا عفو کر کے بخش دے،

صفحہ ١٢
يامن يداه على المخلوق قاطبه ٠ ولا يعزب الذر عن عينه فى الظلم !

اے اللہ ! تمام جہان تیری مٹھی میں ہے۔ اندھیری رات میں ننھی سی چیونٹی بھی تیری نظر میں پوشیدہ نہیں ۔

لانت اله ليس مثلك واحد ٠ ويجرى قضاءك بالاكوان فى الامم !

تو بے مثل اور اکیلا خدا ہے اور لفظ کن سے دنیا کی قسمت پلٹی کرتا ہے۔

فليس خلقك كالفخار قط ولا ٠ يدور ذاك على الاسباب من قدم !

تیرا پیدا کرنا کوزہ گر کی طرح آب و گل کا محتاج نہیں۔

بنيت على العلات امراً وحينما ٠ جعلت ابن مريم آية مثل آدم !

تو نے اسباب پر دنیا کا نظام قائم کیا ہے مگر بلا کسی ظاہری سبب کے عیسیٰ اور آدم کو پیدا کیا۔

جعلت عصا للخلق اعظم حية ٠ اثرت النقوع عن بحيرة قلزم !

ادھر موسیٰ کی لاٹھی کو اژدھا اور دریائے قلزم کو پلک جھپکنے میں خشک کر دیا۔

تحيى تميت ومن تشاء تعيده ٠ فى الدنيا او تاتى به يوم قادم !

تو مارتا اور زندہ کرتا ہے اور بعضوں کو مارنے کے بعد دوبارہ دنیا میں بھیجتا ہے اور کسی کو قیامت تک زندہ نہیں کرتا۔

والله يجعل حيث شاء رسالة ٠ فان يحرق الحساد تحرق من الغم !

اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے وہ رسول بنائے اور اگر کسی کو اس کا حسد ہے تو وہ مر رہے۔

خليلاً كليما روحه اصطفاهم ٠ وافضلهم خير النبيين لهاشم !

اس نے حضرت ابراہیم اور موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام کو رسالت کے واسطے اور ان سب سے افضل کو جو بنی ہاشم میں بہترین آدمی تھا اپنے لئے چن لیا۔

محمد سيد الكونين ارسله ٠ لكل خلق من الاعراب والعجم !

وہ محمدﷺ دو جہان کے سردار ہیں جن کو عرب اور عجم دونوں کی ہدایت کے واسطے بھیجا۔

نبوة انقطعت بعد فليس لنا ٠ وحى من الحكم كان او من الحكم !

آپﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور وحی کا آنا مطلقاً بند ہو چکا ہے۔

لعيسى سياتى آخراً نشر حكمه ٠ بسبق النبوة لا تبدى من العدم !
صفحہ ١٣

عیسیٰ ضرور آئیں گے۔ مگر اس دین کے خادم ہوکر۔ ان کو نئی نبوت نہیں دی جائے گی جو ختم نبوت کے خلاف ہو۔ ان کی نبوت سابقہ ہوگی۔

وان علا سطح افلاک مسیحکموا ، نبینا فوق عرش مس بالقدم !

اگر عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر پہنچے کوئی بڑی بات نہیں۔ نبی کریم معراج کی رات عرشِ اعظم پر پہنچے۔

نعم العتيق اماما للمقر به ، وباء کبوجھل لاب منقم ! معراج کے اقرار کرنے والے کو ابوبکر کی اقتداء مبارک ہو اور اس کے انکار کرنے والوں کو ابوجہل کی پیروی کرنا۔

واھاً لتا بعه قبل العقوبة اذ ، اتت بغتة ماردها ندم نادم ! مبارک ہیں وہ لوگ جنہوں نے اُس دن کے آنے سے پہلے حضور کی غلامی اختیار کر لی جس روز ندامت اور پشیمانی کچھ کام نہ آئے گی۔

فمن بدل الدين المبين برائه ، واظھر فی القران مالم یحکم ! جس نے دین مبین کو اپنی رائے سے بدلا اور قرآن کی تفسیر میں اپنی عقل کو دخل دیا۔

خلاف رسول الله اتبع الھوى ، وغير تعليم النبى المكرم ! رسول اللہ ﷺ کی منشاء کے خلاف اپنی خواہشات کی اتباع کی اور مقدس نبی کی تعلیم کو بدل دیا۔

وقلب آيات ملائكة ابی ، فذالك ملعون وقود جھنم ! آیتوں کے معنی بگاڑے اور ملائکہ کی شرعی حیثیت سے انکار کیا۔ ایسا آدمی ملعون اور دوزخ کا ایندھن ہے۔

ما غبرت الارض اظلت سماءھا ، عليه سلام الله عدة نائم !

جب تک زمین و آسمان باقی ہیں نبی علیہ السلام پر خدا کی رحمت نازل ہوتی رہے۔

على آله الاخيار والصحب كلھم ، ھم اسقوا زروع الله من قطرة الدم !

آپ ﷺ کی اولاد اور دوستوں پر رحمت نازل ہو جنہوں نے اسلام کی کھیتی کو اپنے خون سے سینچا ہے۔

على كل من کانوا على سمتھم وما ، خافوا عن الموت بالا سياف والقلم !

اور ان پر بھی جنہوں نے ان کا طریقہ اختیار کیا اور حق کہنے میں تلوار اور قلم سے نہیں رکے۔

تكفل الھى مسلماً خيرا ختمة ، لاخر لفظ يخرج الله من فم ! اے اللہ ! مسلم کا خاتمہ بالخیر کر اور دنیا سے رخصتی کے وقت اس کی زبان سے آخری لفظ اللہ نکلے۔

صفحہ ١٤

پہلا باب !

تحقیق مذاہب دربارہ حیات مسیح علیہ السلام

جسد عنصری کے ساتھ اس وقت زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ قیامت سے پہلے بعینہ آسمان سے اتریں گے۔ بلکہ نصاریٰ کی ایک جماعت کا یہ خیال ہے کہ وہ سولی دیئے جانے کے بعد چند گھنٹے مردہ رہے اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھالئے گئے۔

چڑھائے گئے۔ بلکہ سولی دینے سے پہلے ان کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔

سو رہے تھے یا ان پر موت طاری کر دی گئی تھی اور آسمان پر لے جا کر ان کو زندہ کر دیا گیا۔

بعد زمین میں دفن کر دی گئی اور اس کا رفع آسمانی نہیں ہوا۔

غرض یہودیوں کے سوا مسلمان اور نصاریٰ میں سے کوئی شخص بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودہ حیات اور آپ کے رفع جسمانی سے منکر نہیں ہے۔ شیخ اکبرؒ نے فتوحات مکیہ میں رفع جسمانی کے انکار کو معتزلہ اور بعض نصاریٰ اور یہود کی طرف منسوب کیا ہے۔ مرزائی جماعت کا عقیدہ اس بارے میں وہی ہے جو یہودیوں کا ہے۔ مگر وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سولی پر چڑھایا جانا مانتے ہیں اور ان کا اس پر مرنا تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی طبعی موت مرے ہیں۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل تحریروں سے ظاہر ہے:

......١ ”الصعود الآدمى ببدنه الى السماء قد ثبت فى امر المسيح عيسىٰ بن مريم فانه صعد الى السماء وسوف ينزل الى الارض وهذا مما يوافق النصارى عليه المسلمين فانهم يقولون ان المسيح صعد الى السماء ببدنه وروحه كما يقوله المسلمون ويقولون انه سوف ينزل الى الارض ايضاً كما يقوله المسلمون وكما اخبر به النبى ﷺ فى الاحاديث الصحيحة لكن كثيراً من النصارى يقولون انه صعد بعد ان صلب وانه قام من القبر

وكثير من اليهود يقولون انه صلب

من النصارى فيقولون انه لم يصلب

والمسلمون ومن وافقهم من النصارى

القيامة وان نزوله من اشراط الساعة

من النصارى يقولون ان نزوله من

الخلق“ (الجواب الصحيح ج ٤ ص ٣٢)

......٢ ”وقيل اماته الله

ذهبت النصارى“ (بیضاوی، آل عمران: ٥٥)

......٣ ”قال وهب توفی

احياء ثم رفعه الله اليه وقال محمد بن اسحاق

توفاه سبع ساعات من النهار ثم احياه الله (تفسیر

طبع بیروت، زیر آیت انی متوفیک، ومعالم التنزیل)

......٤ (قال الحافظ ابن حجر

ج ٣ كتاب الطلاق) ”واما رفع عيسى فانه لم

رفع ببدنه حيا وانما اختلفوا هل مات قبل

......٥ ”قال ابن العربي

الرفع الجسماني“

......٦ ”سیل صاحب نے قرآن

کلمۃ الله! کے تحت لکھا ہے کہ فرقہ بی سی لی ڈین جو عیسائیوں

کے مصلوب ہونے سے انکار کرتا تھا اور ان کا اعتقاد

ایسے ہی فرقہ سیر نتھین جو ان سے بھی پیشتر تھا اور کائینٹ

ہیں ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام خود مصلوب

سے ایک شخص جو آپ کا ہم شکل تھا صلیب دیا گیا۔

ایسا ہی نقل کیا ہے اور انجیل برنباس میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔

......٧ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو

عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت

ہیں۔“ (ضمیرہ....

صفحہ ١٥

وكثير من اليهود يقولون انه صلب ولم يقم من قبره واما المسلمون وكثير من النصارى فيقولون انه لم يصلب ولكن صعد الى السماء بلا صلب والمسلمون ومن وافقهم من النصارى يقولون انه ينزل الى الارض قبل يوم القيامة وان نزوله من اشراط الساعة كما دل على ذالك الكتاب والسنة وكثير من النصارى يقولون ان نزوله هو يوم القيامة وانه والله الذى يحاسب الخلق“

(الجواب الصحيح ج ٤ ص ١٦٩ ، ١٧٠ ، هكذا قال شيخ الاسلام الحرانى)

ذهبت النصارى“

(بیضاوی، آل عمران ص ١٤، زیر آیت يا عيسى انى متوفيك)

احيـاه ثـم رفـعـه الله اليه وقال محمد بن اسحاق ان النصارى يزعمون ان الله تـوفاه سـبـع سـاعات من النهار ثم احياء ورفعه اليه “

(تفسير ابن كثير ص ٣٩،ج٢،

طبع بيروت، زیر آیت انى متوفيك، ومعالم ص ١٦٢ زير آيت يا عيسى انى متوفيك واللفظ له)

ج٣ كتاب الطلاق) ”واما رفع عيسى فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على انه رفع ببدنه حيا وانما اختلفوا هل مات قبل ان يرفع او نام فرفع“

الرفع الجسمانى “

( فتوحات مکیه باب ٣٦٩ج٣)

الله! کے تحت لکھا ہے کہ فرقہ بی سی لی ڈین جو عیسائیت کے نہایت شروع میں تھا۔ مسیح علیہ السلام کے مصلوب ہونے سے انکار کرتا تھا اور ان کا اعتقاد تھا کہ سائمن آپ کی جگہ صلیب پر لٹکایا گیا۔ ایسے ہی فرقہ سیرنتھین جو ان سے بھی پیشتر تھا اور کار پاکریشن جو مسیح علیہ السلام کو صرف انسان مانتے ہیں ان کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام خود مصلوب نہیں ہوئے۔ بلکہ ان کے حواریوں میں سے ایک شخص جو آپ کا ہم شکل تھا صلیب دیا گیا۔ مصنف فوٹیس نے بھی رسولوں کے سفرنامہ سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور انجیل برنباس میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔“

عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٢٣٠ ، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٦)

صفحہ ١٦

دوسرا باب !

حیات مسیح علیہ السلام

مسلمانوں کا عقیدہ حیات مسیح اور رفع جسمانی اور نزول آسمانی کے متعلق آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ کثیرہ متواترہ اور اجماع امت پر مبنی ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے:

فصل حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت قرآن مجید سے

آیت نمبر ١ ..... ” وآتینا عیسی بن مریم البینات وايدناه بروح القدس“ (بقرہ:٢٥٣) ﴿ہم نے عیسیٰ بن مریم کو معجزات دیئے اور اس کی بذریعہ جبرائیل تائید اور مدد کی۔﴾

”قال الحسن، القدس هو الله تعالى وروحه جبرائيل عليه السلام والا ضافة للتشريف“

(تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢١٧ زیر آیت ایدناه بروح القدس)

قرآن میں ہے ”قل نزله روح القدس“ (النحل:١٠٢) حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ قدس نام اللہ کا ہے اور روح سے مراد جبرائیل ہے۔ روح کی نسبت قدس کی طرف جبرائیل کی بزرگی ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ نیز قرآن میں بھی جبرائیل کا نام دوسری آیت میں روح القدس آیا ہے۔ امام رازیؒ (تفسیر کبیر ج ٦ ص ٢١٧) آیت مذکورہ بالا کے معنے اس طرح کرتے ہیں:

”والمعنى اعناه بجبرئيل عليه السلام فى اول امره وفى وسطه وفى آخره اما فى الاول فلقول (فنفخنا فيه من روحنا) اما فى وسطه فلان جبرائيل عليه السلام علمه العلوم وحفظه من الاعداء واما فى الاخر الامر فحين ارادت اليهود قتله اعانه جبرائيل عليه السلام ورفعه الى السماء . “ ﴿یعنی شروع میں جبرائیل علیہ السلام ہی کی نفخ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی اور انہوں نے ان کو تعلیم دی اور دشمنوں سے بچا کر رکھا اور آخر میں یہودیوں نے جب ان کو قتل کرنا چاہا تو وہ ان کو آسمان پر اٹھا کر لے گئے۔﴾

(ج ١ ص ٤٠٥) میں لکھا ہے کہ: ”وهوالذي رباه فى جميع الاحوال وكان يسير معه حيث سار وكان معه حيث صعد الى السماء “ ﴿جبرائیل علیہ السلام ان کی ہر وقت نگہداشت کرتے اور کسی وقت ان سے جدا نہیں ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کو آسمان

صفحہ ١٧

پر اٹھا کر لے گئے۔ وكان يسير معه حيث سار ! (جلالین ص ٣)﴾ استدلال: جبکہ جبرائیل جیسا قوی فرشتہ ان کی حفاظت کے لئے مقرر تھا اور یہودیوں کے مقابلہ میں ان کو امداد واعانت کی بھی اشد ضرورت تھی تو ایسی حالت میں ان کی حفاظت نہ کرنا اور ان کو دشمنوں کے ہاتھوں میں صلیب کی تکلیف اٹھانے اور طرح طرح ذلت برداشت کرنے کے لئے چھوڑ دینا منصب حفاظت کے خلاف ہونے کی وجہ سے قطعاً ناممکن ہے۔ خصوصاً جبکہ امداد اور اعانت کرنے کا یہ پہلا ہی موقعہ تھا۔ کیونکہ فرشتہ ”لا يعصون الله ما امرهم ويفعلون مايؤمرون“ (التحریم:٦) کے ماتحت اپنی مقررہ خدمت سے کبھی غافل نہیں ہو سکتا۔ علاوہ ازیں سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اپنے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے بطور امتنان ”اذ ايدتك بروح القدس“ (مائده:١١٠) فرمایا ہے۔ یہ بات اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جبکہ مسیح علیہ السلام کو یہودیوں کے ہاتھ سے بچا لیا جائے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا (ازالۃ اوہام ص ٣٨٠، خزائن ج ٣ ص ٢٩٥ پر) یہ کہنا کہ: ”مسیح ان کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیانے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچہ کھانا اور ہنسی اور ٹھٹھے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب اس نے دیکھا ... تب یہودیوں نے جلدی سے مسیح کو دو چوروں کے ساتھ صلیب پر چڑھا دیا“ بالکل غلط اور قرآن مجید کی اس آیت کے سراسر خلاف ہے۔

س ... کیا جبرائیل علیہ السلام کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کے لئے مقرر ہونا اور ہمارے رسول ﷺ کے لئے نہ ہونا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا ؟۔

ج ... جزوی فضیلت سے فضیلت عامہ یا فضیلت کلی پر کوئی اثر نہیں پڑا کرتا۔ دیکھو رسول اللہ ﷺ شاعریت سے بالکل ناواقف تھے۔ مگر ایک شاعر کو اس صفت کی وجہ سے کبھی فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی۔

٢ ... اگر جبرائیل علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے محافظ تھے تو ”رب السماوات والارض“ رسول خدا ﷺ کا نگہبان تھا۔ ”والله يعصمك من الناس“ اللہ کی محافظت جبرائیل کی محافظت سے بدرجہا افضل ہے۔

آیت نمبر٢ ... ”وجيها في الدنيا والاخرة ومن المقربين“ (آل عمران : ٤٥) حضرت مریم کو ولادت عیسیٰ کی بشارت دیتے ہوئے کہا کہ وہ لڑکا دونوں جہان میں شرافت اور

صفحہ ١٨

عزت والا اور مقربین بارگاہ الہی میں سے ہوگا۔

”قال الرازی فی تفسیرہ معنی الوجیہہ ذو الجاہ والشرف والقدر قال بعض اہل اللغۃ الوجیہہ ہو الکریم “ (ص ٥٣ ج ٨) ﴿ یعنی وجیہ کے معنی باعزت اور شریف آدمی کے ہیں اور بعض اہل لغت نے ان کا ترجمہ بزرگ کیا ہے۔ ﴾

استدلال ١: عزت اور وجاہت دنیوی لحاظ سے اسی وقت صحیح ہوسکتی ہے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کی تکلیف اور یہودیوں کی تذلیل اور اہانت سے محفوظ رکھا گیا ہو۔ ورنہ بجائے وجاہت ذلت و رسوائی لازم ہوگی۔ چنانچہ سورہ مائدہ میں تصلیب وغیرہ کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ: ”لہم فی الدنیا خزی“ (المائده: ٤١) ﴿ یہ ان کے لئے دنیا میں خواری اور ذلت کا باعث ہے۔ ﴾

استدلال ٢: اس آیت میں دنیا اور آخرت کی وجاہت اور مقربین سے ہونا یہ تین چیزیں بیان کی گئیں۔ دنیا کی عزت باعتبار نبی ہونے اور یہودیوں کے الزامات سے مبرا اور پاک ہونے کے لحاظ سے اور اخروی عزت کثرت ثواب اور جنت میں بلند مرتبہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ (کما قالہ الرازی) مقربین میں ہونا جنتی ہونے کے علاوہ تیسری چیز ہے۔ کیونکہ جو قرب بمنزلہ علو درجہ اور نعیم جنت کے لحاظ سے ہوتا ہے وہ ہر ایک جنتی کے لئے ہے۔ اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی تخصیص نہیں۔ قرآن مجید میں ہے کہ ”اولٰئک المقربون فی جنت النعیم“ (واقعه: ١٠، ١١) علاوہ ازیں ومن المقربین‘ کی غرض لفظ والآخرة‘ کے مفاد سے الگ اور زائد ہونی چاہئے۔ ورنہ بے فائدہ تکرار لازم آئے گا۔ اس لئے ومن المقربین‘ سے فرشتوں کی صحبت اور معیت مراد لینی چاہئے۔ کیونکہ قرآن میں جنتیوں کے علاوہ مقربین کا صرف فرشتوں پر ہی اطلاق کیا گیا ہے۔ ”لن یستنکف المسیح ان یکون عبد اللہ ولاالملائکۃ المقربون“

(النساء: ١٧٢)

تائیدات

(ابوالسعود ج ٢ ص ٣٧ زیر آیت وجیہاً فی الدنیا)

الی السماء وتصاحبہ الملائکۃ“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٥٤، تحت آیت وجیہاً فی الدنیا)

صفحہ ١٩

(کشاف ج١ص٣٦٤، تحت آيت وجيهاً في الدنيا)

س...... یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ کی شان میں نہایت ناپاک الزام لگائے ہیں۔ پھر وہ بلحاظ دنیا وجیہہ کیونکر ہوئے؟۔ ج...... گالی گلوچ کرنے اور جھوٹے الزامات لگانے سے وجاہت میں فرق نہیں آتا۔ ہمیشہ بداطوار آدمی، نیک لوگوں کو برا کہتے آئے ہیں۔ یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں تکلیف اور ایذا دینے والے کلمات زبان سے نکالے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں: ”فبراه الله مما قالوا وكان عندالله وجيها“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ذات کو یہودیوں کے الزامات سے پاک اور بری کرتے ہوئے وجیہہ فرمایا ہے۔ البتہ اگر یہودی صلیب پر چڑھاتے یا مارنے پیٹنے کے ساتھ ان کی اہانت اور تذلیل کرتے تو وجاہت اور عزت دنیوی باقی نہ رہتی۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں صلیب کی تکالیف برداشت کرنے کا قائل ہونا علاوہ توہین کے اس آیت کے بھی خلاف ہے۔

آیت نمبر٣...... "ويكلم الناس في المهد وكهلا " (آل عمران:٤٦)

﴿پالنے میں اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے کلام کرے گا۔﴾ لغت ”الكهل في اللغة ما اجتمع قوته وكمل شبابه “ (تفسير كبير ج٨ص٥٤) ”الكهل من الرجال من زاد على ثلثين سنة الى اربعين قيل من ثلث وثلثين الى الخمسين “ (مجمع البحار ج٤ص٤٥٨) ”وفيه ايضاً الكهل من انتهى شبابه “ (ج٤ص٤٥٨) کہل لغت میں اس کو کہتے ہیں جس کی جوانی پوری اور قوت مجتمع ہو۔ وہ تیس سے چالیس یا تینتیس سے پچاس برس تک کی عمر ہوتی ہے۔

استدلال: بچہ کا پنگھوڑے میں باتیں کرنا خارق عادت معجزہ ہے۔ لیکن کہولت یا جوانی میں کلام کرنا کچھ خلاف عادت نہیں ہے۔ ہر ایک آدمی لڑکپن کے زمانے سے بڑھاپے تک باتیں کرتا رہتا ہے۔ اس لئے کہولت کے زمانہ میں کلام کرنے سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان سے نازل ہونے کے وقت آپ کی ادھیڑ عمر ہوگی۔ یعنی جو عمر صعود آسمانی کے وقت تھی وہی نزول کی حالت میں رہے گی۔ امتداد زمانہ کے باوجود آسمان پر رہنے سے عمر میں چنداں تغیر نہ ہوگا۔ صعود اور نزول آسمانی اور عمر کا تغیرات سے محفوظ رہنا بڑے انعامات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ مائدہ میں قیامت کے دن بطور امتنان کے زمانہ کہولت کی گفتگو کو بھی ذکر کیا ہے۔ اگر اس لفظ کو

صفحہ ٢٠

عطاء نبوت کی طرف اشارہ مان لیا جائے تو پھر اس انعام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہ رہے گی۔ سورۂ مائدہ میں انہی انعامات کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مخصوص تھے۔ لہٰذا اس لفظ کی زیادتی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی طرف زبردست اشارہ ہے۔

شہادتیں

السماء فى آخر الزمان ويكلم الناس ويقتل الدجال قال الحسن بن الفضل وفى هذالاية نص فى انه عليه الصلوة والسلام سينزل الى الارض"

(تفسیر کبیر ج٨ ص٥٥)

ويقتل الدجال"

(خازن ج ١ ص٢٥٠)

(ابوالسعود ج٢ ص٣٧)

(بیضاوی ج ١ ص٢٥١)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس برس زندہ رہے۔ اس سے کہولت، نزول اور صعود دونوں حالت میں ثابت نہیں ہوتی۔

بوڑھا ہونا چاہئے۔ لہٰذا اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوں گے۔ ضرور بوڑھے اور نکمے بھی ہوں گے۔ اس لئے کہولت سے بعد نزول مراد لینا صحیح نہیں۔

سال ہے۔ "نقل ان عمر عیسى عليه السلام الى ان رفع كان ثلاثا وثلثين سنة وستة اشهر"

(تفسیر کبیر ج٨ ص٥٥)

"فانه رفع وله ثلث ثلاثون سنة فى الصحيح وقد ورد ذالك فى حديث فى صفة اهل الجنة انهم على صورة آدم وميلاد عيسى ثلث وثلثين

صفحہ ٢١

ان لیا جائے تو پھر اس انعام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی ندہ میں انہی انعامات کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ازیادتی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی طرف زبردست

المراد بقوله وكهلاً ان يكون كهلاً بعد ان ينزل من ن ويكلم الناس ويقتل الدجال قال الحسن بن الفضل ه عليه الصلوة والسلام سينزل الى الارض “

(تفسير كبير ج ٨ ص ٥٥)

ی هذه نص على انه سينزل من السماء الى الارض

(خازن ج ١ ص ٢٥٠)

شاباً رفع والمراد كهلاً بعد نزوله “

(ابو السعود ج ٢ ص ٢٧)

ه استدلال على انه سينزل فانه رفع قبل ان يتكهل “

(بیضاوی ج ١ ص ٢٥١)

نے متدرک میں حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی ہے کہ سو بیس برس زندہ رہے۔ اس سے کہولت ، نزول اور صعود دونوں

ن نعمره ننکسه فی الخلق “ کی رو سے ہر بڑی عمر کا آدمی رت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوں گے۔ ضرور بوڑھے اور جھکے بھی ہوں نزول مراد لینا صحیح نہیں ۔ ت عیسیٰ علیہ السلام کی قبل از رفع دنیا میں ٹھہرنے کی مدت تینتیس عيسى عليه السلام الى ان رفع كان ثلاثا وثلثين سنة

(تفسير كبير ج ٨ ص ٥٥)

له ثلث ثلاثون سنة في الصحيح وقد ورد ذالك في جنة انهم على صورة آدم وميلاد عيسى ثلث وثلثين

سنة واماما حكاه ابن عساکر بعضهم انه رفع وله مائة وخمسون سنة فشاذ غريب بعيد “

(ابن كثير ج ٢ ص ٤١٤)

"اخرج الطبراني بسند جيد عن انس قال قال رسول الله ﷺ يدخل اهل الجنة على طول آدم ستين ذراعاً بذراع الملك وعلى حسن يوسف وعلى ميلاد عيسى ثلث وثلثين سنة “

"قال ابن عباس ارسل الله عيسى وهو ابن ثلثين سنة فمكث في رسالته ثلاثين شهراً ثم رفعه الله اليه “

(خازن ج ١ ص ٥٣٨)

"اخرج ابن سعد واحمد في الزهد والحاكم عن سعيد ابن المسيب قال رفع عيسى ابن ثلث وثلاثين سنة “

(در منثور ج ٢ ص ٣٦)

مستدرک کی روایت صحیح نہیں ۔ جیسا کہ ابن حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری شرح بخاری میں لکھا ہے:

دونوں زمانے کی مجموعی عمر ایک سو بیس برس کی ہوگی ۔ چونکہ آسمان محل تغیر نہیں ۔ اس لئے وہاں کے زمانہ قیام کا کوئی اعتبار نہیں کیا گیا ۔ اور فعل ماضی مضارع کے معنے میں بکثرت مستعمل ہے۔ چنانچہ ”اذ قـــــال الله يا عيسى بن مريم أأنت قلت ... “ میں ” قال بقرینہ هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم “ مضارع کے معنے میں ہے۔

کہولت کی حالت مراد ہو۔ یعنی جس طرح جنتی جنت میں طویل مدت تک رہنے کے باوجود ہمیشہ کہولت کی حالت میں رہیں گے۔ جیسا کہ طبرانی اور ابن کثیر کی روایت سے ظاہر ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی با وجود امتداد زمانی کے کہولت ہی میں رہیں گے اور کبھی بوڑھے نہیں ہوں گے۔

جواب دے دیں۔ ایک سو بیس برس والے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ بالکل بے کار ہو جایا کرے اور کسی مصرف کا نہ رہے۔ حضرت نوح اور حضرت آدم علیہم السلام ہزار ہزار برس عمر پانے کے باوجود اپنا کام اچھی طرح کرتے رہے۔

صفحہ ٢٣

اس زمانہ میں بھی شنگھائی (چین) کے اخبار نارتھ چائنا ہیرلڈ میں لکھا ہے کہ: ”چین کے شانگ چوان گاؤں میں دوسو پچپن سال کا آدمی رہتا ہے اور باوجود اس قدر عمر ہونے کے نہایت چست اور توانا ہے اور بغیر عینک کے بخوبی پڑھ سکتا ہے۔“

(العدل گوجرانوالہ ٢٢ جون ١٩٣٢ء)

میں ہوا سے حفاظت کرنے کی وجہ سے دیر تک چیز ٹھنڈی یا گرم رہتی ہے اور چوبیس گھنٹے تک خراب نہیں ہوتی۔ چونکہ آسمان پر ہوا نہیں ہے۔ اس لئے وہاں جو چیز بھی ہے وہ ہر قسم کے تغیرات سے محفوظ ہے۔

گے جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے تو کیا وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دو ہزار برس تک رہنے کی وجہ سے بوڑھے تسلیم کرلئے جائیں اور اپنی رائے کے مقابلہ میں قرآن اور حدیث کو چھوڑ دیا جائے؟۔

قرآن اور حدیث سے پیش کریں اور درصورت پیش نہ کرنے کے کیوں آپ کو اسلامی تعلیم کا مٹانے والا اور محرف نہ سمجھا جائے؟۔

آیت نمبر ٤...... ”ومکروا مکرالله والله خیرالماکرین“ (آل عمران:٥٤)

یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کی خفیہ تدبیریں کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلہ میں تدبیر کی۔ اللہ تعالیٰ تدبیر کرنے والوں میں بہتر ہے۔

(منتهی الارب، ج ٤ ص ١٥٩)

خفى وهو استدراجه بطول الصحة وبظاهر النعمة“

(مجمع البحار الانوار ج ٤ ص ٦١٨)

اختص فى العرف بالتدبير فى ايصال الشر الى الغير وذالك فى حق الله غير ممتنع“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧١)

الى مضرة لايمكن اسناده الى الله سبحانه ا

استدلال: یہ آیت یہودیوں کے ارادہ قتل اور حواریوں سے امداد طلب کرنے کے بعد ذکر کی گئی ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور پکڑ لینے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں سے بچانے کے لے رہے اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر ان کی کوششوں پر غالب رہی خواہ کسی طرح سے بچایا مگر اس آیت سے یہ بات ضرور علیہ السلام کو پکڑنے میں کامیاب ہرگز نہیں ہوئے۔ تد کے یہی معنے ہیں اور آیت: ”ولا يحيق المكر الس تقاضہ ہے۔

من اراد اغتياله حتى قتل“

مكر الله تعالى بهم هو انه رفع عيسى عليه الـ

كفرهم من اليهود بان وكلوا به من عيسى عليه الصلوة والسلام والقى شبه عـ

(بیضاوی ج ١ ص ١٤٠)

الماکرین“ (الانفال: ٣٠) میں رسول اللہ ﷺ کو صحـ

قال علیؓ (درمنثور ج ٣ ص ١٧٨) فی معـ

وفيت بنفسى خير من وطى الثرى ومن
رسول الله خاف ان يمكروا به فنجـ

اور آیت ”مکرو مکراً ومکرنا مکراً و

صفحہ ٢٣

الى مضرة لا يمكن اسناده الى الله سبحانه الا بطريق المشاكلته “

(ابوالسعود ج ٢ ص ٤٢)

استدلال : یہ آیت یہودیوں کے ارادہ قتل پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مطلع ہونے اور حواریوں سے امداد طلب کرنے کے بعد ذکر کی گئی ہے۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ یہودیوں کا مکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے اور پکڑ لینے کے لئے تھا اور ان کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کی تدبیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں سے بچانے کے لئے تھی۔ چنانچہ یہودی اپنے ارادہ میں ناکام رہے اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر ان کی کوششوں پر غالب رہی۔ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خواہ کسی طرح سے بچایا مگر اس آیت سے یہ بات ضرور ثابت ہو رہی ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے میں کامیاب ہرگز نہیں ہوئے۔ تدبیر الٰہی کے ان کے مقابلہ میں غالب رہنے کے یہی معنی ہیں اور آیت: ”ولا يحيق المكر السيئ الا باهله“ (فاطر: ٤٣) کا بھی یہی تقاضہ ہے۔

من ارادا غتياله حتى قتل “

(كشاف ج ١ ص ٣٦٦)

مكر الله تعالى بهم هو انه رفع عيسى عليه السلام الى السماء “

(كبير ج ٨ ص ٦٩)

كفرهم من اليهود بان وكلوا به من يقتله غيلة (ومكر الله) بان رفع عيسى عليه الصلوة والسلام والقى شبه على من قصد اغتياله حتى قتل“

(ابوالسعود ج ٢ ص ٤٢)

الماكرين“ (الانفال: ٣٠) میں رسول اللہ ﷺ کو صحیح سالم مکہ سے نکالنے کا ذکر ہے۔

قال علیؓ (درمنثور ج ٣ ص ١٧٨) فی معنی الاية:

وفيت بنفسى خير من وطى الثرى ومن طاف بالبيت العتيق وبالحجر
رسول الله خاف ان يمكروا به فنجاه ذوالطول الاله من المكر

اور آیت ”مكروا مكراً ومكرنا مكراً وهم لا يشعرون“ میں حضرت صالحؑ علیہ

صفحہ ٢٤

السلام کو ان کی قوم سے بچالینے کا بیان ہے۔ اسی طرح یہاں بھی یہودیوں کے مکر وفریب کے مقابلہ میں مکر اللہ! کے معنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچا لینے کے ہونے چاہئیں۔

س...... ”یہودیوں کی یہ کوشش تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بذریعہ صلیب کے ہلاک کردیں۔ اس لئے سولی دینا یہودیوں کا مکر تھا۔ سولی سے زندہ اتارنا اللہ تعالیٰ کی تدبیر ہوگی۔

ج...... اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سولی دیا جانا تسلیم کرلیا جائے تو یہودیوں کا اپنی تدبیر میں کامیاب ہونا ضرور ماننا پڑے گا۔ کیونکہ ان کو پکڑنا، مارنا، پیٹنا اور تذلیل کرنا یہودیوں کے لئے بڑی کامیابی ہے۔ پھر سولی پر چڑھانا اور یہودیوں کا اپنے خیال میں ان کو بالکل قتل کردینا حتیٰ کہ نصاریٰ پر بھی ان کا حقیقی طور پر مرنا پوشیدہ نہ رہ سکا۔ اعلیٰ درجہ کی کامیابی ہے۔ یہ بات وہی کہہ سکتا ہے جس کی خدا تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عقل بھی سلب کرلی ہے۔

آیت نمبر ٥...... ”اذ قال الله ياعيسى اني متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة“ (آل عمران:٥٥) ﴿جس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ میں تجھے لینے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کفاروں سے پاک رکھنے والا اور تیرے متبعین کو تیرے انکار کرنے والوں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں۔﴾

لغت: توفی! کے حقیقی معنے لینے اور قبض کرنے کے ہیں اور جب توفی! استیفاء کے معنے دیتا ہے تو اس وقت اس کے معنے پورا پورا لینے کے ہوجاتے ہیں اور کبھی ان دونوں معنوں کے علاوہ مارنے، سلانے، گنتی اور شمار کرنے کے معنوں میں آتا ہے۔ مگر یہ سب اس کے مجازی معنے ہیں حقیقی نہیں ہیں۔

استشہاد: امام رازیؒ لکھتے ہیں کہ: ”ان التوفى هو القبض يقال وفانى فلان دراهمى وأوفاني وتوفيتها منه كما يقال سلم فلان دراهمى الى وتسلمتها منه وقد يكون ايضاً توفى بمعنے استوفى“

(تفسیر کبیر ج٨ص٧٢)

جلالین کے حاشیہ میں ہے کہ: ”التوفى هو القبض يقال وفانى فلان دراهمی و اوفانی وتوفيتها منه غير ان القبض يكون بالموت والاصعاد“

لہٰذا جس جگہ بھی توفی! کے معنے قبض اور استیفاء (اخذ الشئی وافیا) کے علاوہ ہوں گے یا نیند اور گنتی وغیرہ کے آئیں گے وہ سب مجازی معنے ہوں گے۔ کیونکہ توفی کا اطلاق ان معنوں میں بلحاظ معنی استیفاء کے ہے۔ یعنی لفظ توفی اصالۃً ان معنوں کے لئے وضع نہیں کیا گیا۔

صفحہ ٢٥

بلکہ معنے استیفاء کی مناسبت سے ان معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ استیفاء کے معنی لغت میں ”اخذ الشیئ وافیا“ اور پورا پورا لینے کے ہیں۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل تصریحات سے ظاہر ہے:

(اساس البلاغة)

(لسان العرب ج١٥ص٣٥٩)

(لسان العرب ج١٥ص٣٥٩)

(المصباح المنير للفيومى)

غرض نیند اور موت وغیرہ میں توفی کا استعمال حقیقی نہیں ہے بلکہ باعتبار معنے استیفاء کے توفی کا اطلاق ان معنوں میں مجازی طور پر کیا گیا ہے:

فلان اذا مات توفاه الله عزوجل اذا قبض نفسه وفى الصحاح روحه “ (تاج العروس، شرح قاموس ج٢٠ص٣٠١) ﴿موت پر توفی کا اطلاق مجاز ہے۔﴾

(لسان العرب ج١٥ص٣٦٠) ﴿نائم پر توفی کا اطلاق اس لئے آتا ہے کہ نیند میں تمیز کرنے کے وقت کا استیفاء ہوتا ہے۔﴾

(اساس البلاغة) ﴿فلاں نے وفات پائی یا اللہ تعالیٰ نے اس کو وفات دی اور موت نے اس کو پالیا۔ یہ توفی کے مجازی معنی ہیں۔﴾

وشهوره واعوامه فی الدنیا “ (لسان العرب ج١٥ص٣٥٩) ﴿موت پر توفی کا اطلاق اس لئے ہے کہ اس میں مدت وفات سے اور اس کی زندگی کے تمام اوقات کا استیفاء ہوتا ہے۔﴾

کی گنتی پوری کی۔ جب ان کو پورا گن لے۔﴾

وأنشد ابوعبيده لمنظور الوبيرى:

صفحہ ٢٦
ان بنی الادرم لیسوا من اهله
ولا توفاهم قريش فى العدد

(لسان العرب ج ١٥ ص ٣٥٩)

”التوفی اخذ الشی وافیا والموت نوع منہ“ (بیضاوی ج ١ ص ٢٥٣، السراج المنير) ﴿ توفی کے معنے ایک شے کو پورا پورا لینے کے ہیں اور موت اس کی ایک قسم ہے۔ یعنی اس میں بھی استیفاء کے معنے پائے جاتے ہیں۔ ﴾

علاوہ ازیں قرآن مجید سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ توفی کے اصلی وضع معنے قبض کے لئے ہے۔ موت اور نیند وغیرہ میں استعمال مجازی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ”اللہ يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها فيمسك التى قضى عليها الموت ويرسل الاخرى الى اجل مسمیٰ “ (زمر: ٤٢) ﴿ اللہ پکڑ لیتا ہے نفس کو وقت موت کے اور جس کی موت نہیں آئی اس کو پکڑ لیتا ہے نیند میں۔ اس روح کو جس پر موت کا فیصلہ کر دیا روک لیتا ہے اور دوسری کو مقررہ وقت کے لئے چھوڑ دیتا ہے۔ ﴾

اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ توفی کی دو قسمیں ہیں:

دونوں میں پائے جاتے ہیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ توفی کے معنے محض لینے اور قبض کرنے کے ہوں اور دیگر خصوصیات کا لحاظ نہ کیا جائے۔ جس طرح مصدر کی جزئیات افراد حصیّہ ہونے کی وجہ سے خصوصیت فردیت سے خالی ہوتی ہیں اور ان میں معنے مصدری سے زیادہ دیگر قیود کا اعتبار نہیں ہوتا۔ اسی طرح یہاں بھی توفی کے معنی قبض کرنے کے لئے جائیں گے۔ نیند اور موت وغیرہ کی خصوصیتیں بے لحاظ سمجھی جائیں گی۔ نیز علم اصول اور عربیت کے واقف کار اچھی طرح جانتے ہیں کہ جس لفظ کی وضع معنے کلی اور عام کے لئے ہو۔ اسی موضوع لہ عام کے افراد مخصوصہ میں اس لفظ کا استعمال مجازی طور پر ہوگا۔ اس لئے قبض اور استیفاء کے علاوہ جس معنے میں بھی لفظ توفی کا استعمال ہوگا۔ وہ اس کے معنے مجازی ہوں گے حقیقی نہیں ہو سکتے اور لفظ کا استعمال معنے مجازی میں بغیر کسی قرینہ کے صحیح نہیں۔ اس لئے انی متوفیک ! میں معنے مجازی متعین کرنے کے لئے قرینہ کی احتیاج ہوگی۔ جب تک کوئی قرینہ معنے حقیقی کے مراد لینے سے مانع نہ ہوگا حقیقت کو چھوڑ کر مجازی طرف جانا جائز نہیں ہوسکتا۔

صفحہ ٢٧

چونکہ اہل لغت اپنی کتابوں میں لفظ کے معنے حقیقی مجازی دونوں بیان کرتے جاتے ہیں۔ اس لئے کسی لغت کی کتاب سے توفی کے معنے موت کے دیکھ کر یہ خیال کر لینا کہ توفی اس معنے کے لئے وضع کیا گیا ہے صحیح نہیں۔

اگر مان لیا جائے کہ موت اور نیند وغیرہ استیفاء اور قبض کی طرح توفی کے معنے موضوع لہ ہیں اور یہ لفظ ان معانی میں مشترک لفظی ہے تو پھر بھی کسی خاص معنے میں لفظ مشترک کا استعمال بغیر قرینہ کے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے انی متوفيك! میں لفظ متوفی کے معنے متعین کرنے کے لئے قرینہ کی اشد ضرورت ہے۔

انی متوفيك! کی تحقیق

چونکہ احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع امت، قرآن مجید کی بعض صریح آیتوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودہ زندگی ، رفع آسمانی اور نزول ثابت ہے۔ اس لئے توفی کے معانی مستعملہ میں سے وہی معنے مراد لئے جائیں گے جس سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ کا انکار اور اجماع امت کی مخالفت لازم نہ آئے۔ ورنہ بصورت مخالفت، تحریف قرآنی اور تفسیر بالرائے سمجھی جائے گی جو صراحتاً کفر ہے۔

”وقال الرازی وقد ثبت الدلیل انہ حی و وردالخبر عن النبی ﷺ انہ سینزل ویقتل الدجال انہ تعالیٰ یتوفاہ بعد ذالك“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢)

یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے اس آیت کے جو معنے بھی کئے ہیں وہ اس اجماعی عقیدہ کے مخالف نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ جن لوگوں نے متوفیک کے معنی ممیتک کے کئے ہیں وہ یا تقدیم، تاخیر کے قائل ہیں اور ان کا وقوع نزول کے بعد مانتے ہیں یا قبل از رفع موت مان کر دوبارہ زندہ ہونے اور پھر آسمانوں کی طرف اٹھائے جانے کے قائل ہیں۔

”وانما احتاج المفسرون الی تاویل الوفات بماذكر لان الصحیح ان اللہ تعالیٰ رفعہ الی السماء من غیر وفات لما رجحہ کثیر من المفسرین واختارہ ابن جریر الطبری ووجہ ذالك انہ قدصح فی الاخبار عن النبی ﷺ نزولہ وقتل الدجال (فتح البیان ج ٢ ص ٤٩ ) “ ﴿مفسرین نے توفی بمعنے موت کی (مذکورہ بالا ) تاویل اس لئے کی ہے کہ حسب روایات صحیحہ کے اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہے۔ جیسا کہ اکثر مفسرین نے اس روایت کو ترجیح دی ہے اور ابن جریر

صفحہ ٢٩

طبری نے اس کو اختیار کیا ہے اور ایسا ہی نزول آسمانی قتل دجال کے متعلق صحیح روایتیں موجود ہیں ۔ ٭

اس عبارت کا یہی مطلب جو پہلے ذکر کیا گیا احمدیہ پاکٹ بک والے نے جو اس کا مطلب یہ لکھا ہے کہ مفسرین نے جو وفات عیسیٰ کی نص کی تاویلیں کی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے حدیثوں میں آپ کے لئے نزول کا لفظ دیکھا اور ان کے قتل دجال کا بیان پڑھا۔ حالانکہ نزول سے آسمان سے اترنا اور قتل دجال کے ذکر سے بعینہ زندہ رہنا ثابت نہیں ہوتا ۔ احمدیہ پاکٹ بک کا موقف یہ بالکل غلط ہے۔

اگر وہ اس سبب سے اس عبارت کو ثابت کر دیں تو ایک ہزار روپیہ بطور انعام کے دیا جائے گا۔ ورنہ چلو بھر پانی میں ڈوب مریں۔

(ذكر الحافظ ابن حجر فى التلخيص الحبير من كتاب الطلاق ج٣ ص ٤٦٢ ) ”واما رفع عيسى فاتفق اصحاب الا خبار والتفسير على انه رفع ببدنه حيا وانما اختلفو اهل مات قبل ان يرفع او نام فرفع “ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان کی طرف اٹھائے جانے پر تمام امت کا اتفاق ہے۔ البتہ اس میں اختلاف ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نیند کی حالت میں اٹھایا ہے یا قبل از رفع مارنے کے بعد ان کو دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا ہے۔

حضرت ابن عباسؓ اور ابن حزمؒ اور امام مالکؒ نے متوفیک کی ایک توجیہہ ممیتک کے ساتھ کی ہے۔ لیکن ابن عباسؓ ساتھ ہی تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں اور امام مالکؒ اور ابن حزمؒ قبل از رفع موت وارد ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آسمان پر اٹھائے جانے کے قائل ہیں ۔ مگر مرزا قادیانی اور اس کے متبعین حسب عادت نقل میں خیانت کرتے ہوئے تفسیر ممیتک کی نسبت ان حضرات کی طرف کر دیتے ہیں اور ان کے عقیدہ حیات بعدالمات اور جواز تقدیم و تاخیر کو ذکر تک نہیں کرتے ۔ غرض علمائے امت میں سے ایک شخص بھی حیات مسیح علیہ السلام کا منکر نہیں ہے۔ اسی لئے مفسرین نے اس آیت کی جتنی توجیہیں بھی کی ہیں وہ سب اجماعی عقیدہ کی موافقت ہی میں ہیں۔ مخالفت میں ایک بھی نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو:

متوفیک کے معنی تفسیر سے

من قتلهم اوقابضك،٢...... من الارض من توفيت مالي،٣...... او متوفيك نائما

اذ روى انه رفع وهو نائم وقيل ،٤ السماء ورافعك الان، ٥ .....او ممسك من ا الملكوت وقيل اماته الله تعالى سبع سا النصارى قال القرطبى اولصحيح ان ا كما قال الحسن وابن زيد وهو اخت عباس “ (تفسیر ابو السعود ج علامہ ابوالسعود نے لفظ متوفی کی باعتب توجیہہ میں اجماعی عقیدہ کی رعایت رکھی ہے:

آخر تک زندہ رکھنے والا ہوں ۔٢...... تجھ کو زمین ۔ حالت میں لے جانے والا ہوں ۔٤...... تجھے اس و بعد مارنے والا ہوں ۔٥...... تیری کھانے پینے کی خ ساتھ رکھنے والا ہوں ۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ح رکھا اور پھر زندہ کر کے آسمانوں پر اٹھالیا۔ یہ نصاریٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ ب ان پر وارد نہیں کی۔ حسن بصریؒ اور ابن زیدؒ کا بھی اختیار کیا ہے اور ابن عباسؓ سے بھی صحیح روایت یہی ۔

”اني متمم عمرك فحينذ اتو رافعك ألى سمائى ومقربك بملائكتي وهذا تاويل حسن ( والثانى ) متوفيك اي ومحمد ابن اسحاق قالوا والمقصود ان لا انه بعد ذالك اكرمه بان رفعه الى الـ (احـدها) قال وهب توفى ثلاث سا اسحاق توفي سبع ساعات ثم احياه الـ انس انه تعالى توفاه حين رفعه الى السمـ

صفحہ ٢٩

اذ روی انه رفع وهو نائم وقيل ، ٤ ....... مميتك فی وقتك بعد النزول من السماء ورافعك الان، ٥ ..... او ممسك من الشهوات العائقة عن العروج الی عالم الملكوت وقيل اماته الله تعالیٰ سبع ساعات ثم رفعه الی السماء واليه ذهبت النصاریٰ قال القرطبی اولصحيح ان الله تعالیٰ رفعه من غير وفاة ولانوم كما قال الحسن وابن زيد وهو اختيار الطبری وهو الصحيح عن ابن عباس “

(تفسیر ابوالسعود ج ٢ ص ٤٣ واللفظ له بیضاوی ج ١ ص ١٤٠)

علامہ ابوالسعود نے لفظ متوفی کی باعتبار لغت کے پانچ توجیہیں کی ہیں۔ ہر ایک توجیہہ میں اجماعی عقیدہ کی رعایت رکھی ہے:

١..... میں تیری زندگی کے ایام کو پورا کرنے والا اور تجھ کو یہودیوں کے قتل سے بچا کر آخر تک زندہ رکھنے والا ہوں ۔ ٢.... تجھ کو زمین سے زندہ اٹھانے والا ہوں ۔ ٣....... تجھے نیند کی حالت میں لے جانے والا ہوں ۔ ٤..... تجھے اس وقت آسمان پر زندہ اٹھانے والا اور نزول کے بعد مارنے والا ہوں ۔ ٥..... تیری کھانے پینے کی خواہش مردہ کر کے تجھے آسمان پر فرشتوں کے ساتھ رکھنے والا ہوں ۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سات گھنٹہ تک مارے رکھا اور پھر زندہ کر کے آسمانوں پر اٹھا لیا۔ یہ نصاریٰ کا مذہب ہے۔ علامہ قرطبیؒ نے کہا صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ بیداری کی حالت میں اٹھایا ہے۔ نیند یا موت ان پر وارد نہیں کی ۔ حسن بصریؒ اور ابن زیدؒ کا بھی یہی مذہب ہے اور اسی کو ابن جریر طبریؒ نے اختیار کیا ہے اور ابن عباسؓ سے بھی صحیح روایت یہی ہے۔

تقریباً یہی مطلب مندرجہ ذیل عبارتوں کا ہے:

” انی متمم عمرك فحينئذ اتوفاك فلا اتركهم حتی يقتلوك بل انا رافعك الی سمائی ومقربك بملائكتی واصونك عن ان يتمكنوا من قتلك وهذا تاويل حسن ( والثانی ) متوفيك اے مميتك وهو مروی عن ابن عباس ومحمد ابن اسحاق قالوا والمقصود ان لا يصل اعداؤه من اليهود الی قتله ثم انه بعد ذالك اكرمه بان رفعه الی السماء ثم اختلفوا علی ثلاثة اوجه (احدها) قال وهب توفی ثلاث ساعات ثم رفع (ثانيها) قال محمد بن اسحاق توفی سبع ساعات ثم احياه الله ورفعه ( ثالث ها ) قال الربیع بن انس انه تعالیٰ توفاه حين رفعه الی السماء “

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧١)

صفحہ ٣٠

”ان التوفى هو القبض يقال وفانى فلان دراهمى و اوفانى وتوفيتها منه كما يقال سلم فلان دراهمى الى وتسلمتها منه وقد يكون ايضاً توفى بمعنى استوفى وعلى كلا الاحتمالين كان اخراجه من الارض واصعاده الى السماء توفيا له“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢)

”والمعنى انى رافعك الى ومطهرك من الذين كفروا ومتوفيك بعد انزالى اياك فى الدنيا ومثله من التقديم والتاخير كثير فى القرآن“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٣)

”اخرج اسحاق ابن عساكر من طريق جوهر عن الضحاك عن ابن عباس فى قوله انى متوفيك ورافعك الى يعنى رافعك ثم متوفيك فى آخر الزمان“

(در منثور ج ٢ ص ٣٦)

والثانى المراد بالتوفى النوم ومنه قوله تعالى :”الله يتوفى الانفس حين موتها والتى لم تمت فى منامها . فجعل النوم وفاة وكان عيسى قد نام فرفعه الله وهو نائم لئلا يلحقه خوف“

(تفسیر خازن ج ١ ص ٢٥٥)

”اى مستوفى اجلك ومعناه انى عاصمك من ان يقتلك الكفار ومؤخرك الى اجل كتبه لك ومميتك حتف انفك لا قتلا بايديهم ورافعك الى سمائى ومقر ملائكتى وقيل مميتك فى وقتك بعد النزول من السماء قال شيخ الاسلام ابن حجر فاختلف فى موت قبل رفعه فقيل على ظاهر الاية او مات قبل رفعه ثم يموت ثانياً بعد النزول وقيل المعنى متوفيك فى الارض فعلى هذا لا يموت الا فى آخر الزمان بعد نزوله وقال متوفى نفسك بالنوم اذا روى انه رفع نائما (کمالین)“

اہل لغت میں سے صاحب مجمع البحار نے بھی اسی قسم کی توجیہیں بیان کی ہیں۔

”متوفيك ورافعك على التقديم والتاخير وقد يكون الوفاة قبضاً ليس بموت او متوفيك مستوف كونك فى الارض“

(مجمع البحار ج ٥ ص ٩٩)

مفسرین نے استیفاء اور قبض اماتت (مارنا) انام (سلانا) ان چاروں معنے کے لحاظ سے لفظ متوفیٰ کی تفسیر کی ہے۔ لیکن کسی جگہ بھی اجماعی عقیدہ کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ پہلی توجیہہ اول عمر سے لے کر آخر وقت تک کو حاوی ہے۔ یعنی اس صورت میں قبل از صعود اور بعد رفع

صفحہ ٣١

جسمانی اور نزول آسمانی اور موت تک تمام عمر کے ایام مقررہ کے استیفاء اور ان کو دشمنوں سے بچانے کا وعدہ ہوگا اور دوسری توجیہہ میں دشمنوں سے بچاتے ہوئے آسمان پر اٹھانے کا وعدہ ہے جو ایام رفع سے نزول کے وقت تک پورا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ لفظ توفی لغۃ اس معنے کے ادا کرنے کے لئے کافی تھا۔ مگر چونکہ بعض استعمالات میں اس کے معنے مارنے کے بھی آجاتے ہیں۔ اس لئے اس کے بعد رفع کا ذکر کر دیا گیا۔ تا کہ توفی سے موت کے معنے نہ سمجھ لئے جائیں۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ:

"لما علم الله ان من الناس من يخطر بباله ان الذى رفعه الله هو روحه لا جسده ذكر هذا الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده (تفسیر کبیر ج٨ ص ٧٢) "اس بات پر دلالت کرنے کے لئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوا ہے، محض روح کے ساتھ نہیں ہوا۔ لفظ متوفیک کے بعد رافعک بیان کیا گیا ہے۔

چونکہ توفی کے معنے اماتت (مارنا) کرنے اسلامی تصریحات کے خلاف تھے۔ اس لئے متوفیک کے معنے ممیتک کرتے ہوئے دو توجیہیں کی گئیں ہیں:

نزول من السماء کے بعد تجھے اپنے وقت پر موت دوں گا۔ اس صورت میں تقدیم و تاخیر توفی لازم آئے گی۔ جس میں امام رازی کی تصریح کے موافق کوئی حرج نہیں ہے۔

مارنے والا اور پھر زندہ کر کے آسمان پر اٹھانے والا ہوں۔ موجودہ اناجیل اربعہ سے اس معنے کی تائید ہوتی ہے۔ کسی کے خیال میں یہ توجیہیں خواہ غلط ہوں یا صحیح۔ مگر مسلمانوں میں جن حضرات نے متوفیک کے معنی ممیتک کے کئے ہیں۔ وہ ان توجیہات کو صحیح ، احیاء موتی اور تقدیم و تاخیر کو جائز بلکہ واقع خیال کرتے ہیں ان حضرات کی طرف ممیتک کی نسبت کرتے ہوئے ان توجیہوں کو نظر انداز کر دینا تلبیس اور دھوکہ دہی کے علاوہ انتہا درجہ کی خیانت اور بے ایمانی ہے۔

فائدہ ہوگی۔

ذکر نہ کیا جاتا تو توفی سے محض قبض روح کا وہم ہوتا ہے جو مقصود کے خلاف تھا۔ اس کے علاوہ اگر

صفحہ ٣٢

توفی کے معنے پورا پورا لینے کے بھی لئے جائیں تو پھر بھی تصریح لما علم ضمنا! اور رفع ابہام غیر کے لئے رفع کا ذکر کرنا ضروری تھا۔

"قلنا قوله انى متوفيك يدل على حصول التوفى وهو جنس تحته انواع بعضها بالموت وبعضها بالاصعاد الى السماء فلما قال بعد ورافعك الى كان هذا تعييناً للنوع ولم يكن تكرار"

(تفسیر کبیر ج٨ص٧٢)

س....... توفی کے معنے علاوہ موت کے قبض یا استیفاء وغیرہ لینے صحیح نہیں ہیں۔ کیونکہ قرآن میں توفی کے معنے اکثر جگہ مارنے کے آئے ہیں۔ علاوہ ازیں جس جگہ توفی کا فاعل اللہ ہو اور مفعول ذی روح ہو وہاں موت کے سوا دوسرے معنے کہیں نہیں آئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اس کے خلاف ثابت کرنے پر پورا ایک ہزار روپیہ انعام رکھا ہے۔

ج....... قرآن میں توفی کا استعمال موت کے معنے میں کثیر نہیں۔ دوسرے معنوں میں بھی کثرت سے آیا ہے۔ طوالت کے خوف سے چند مثالیں بیان کی جاتی ہیں:

اے اخذته!

(مجمع البحار ج ٥ ص ٩٩)

منامها"

(زمر:٤٢)

اس آیت میں توفی کا استعمال دو مختلف معنوں میں کیا گیا ہے۔ جو عموم مشترک ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔ اس لئے بطور عموم مجاز یا قدر مشترک کے ایسے معنے لینے پڑیں گے جو دونوں میں پائے جائیں اور وہ قبض ہے۔

(احزاب:٤٣) کے تحت لکھتے ہیں کہ: "فان استعمال اللفظ الواحد فى معنيين

صفحہ ٣٣

متغائرين مما لا مساغ له بل على ان يراد بها معنى مجازى عام يكون كلا المعنيين فرداً حقيقيا له“ (ابی سعود ج٧ ص١٠٧) اس کے علاوہ لفظ مشترک کا کسی معنی میں کثیر الاستعمال ہونا اس کے قلیل الاستعمال معنے کو باطل نہیں کرتا ۔

قرآن میں کثرت سے صلوٰۃ کا لفظ نماز کے لئے آتا ہے۔ لیکن آیت: ”ان الله وملائكته يصلون على النبى“ (احزاب:٥٦) میں نماز کے معنے لینے کسی طرح صحیح نہیں ہیں اور نہ قرآن مجاز میں کثرت استعمال کوئی قرینہ ہے ۔ اگر ہے تو دکھائیں اور سو روپیہ انعام حاصل کریں ۔ پھر اس قاعدہ کا ثبوت کسی نحو یا لغت کی کتاب سے پیش کرنا چاہئے۔ پنجاب کے ایک گاؤں میں بیٹھ کر عربی لغت میں قیاس چلانا کیونکر جائز ہو گیا؟۔ خصوصاً جس کو اردو بھی لکھنا نہ آئے وہ کوئی عربی قاعدہ کیا خاک بنا سکتا ہے؟ ۔

ہوں ، قرآن ہی میں موجود ہے ۔ باہر جانے کی ضرورت نہیں:

(مجمع البحار ج ٥ ص ٩٩)

منامها“ (زمر: ٤٢) کیا مرزائی دیانت انعامی وعدہ کو پورا کرے گی ۔

تجویز کرنا مندرجہ ذیل آیات اور احادیث کے رو سے ممنوع اور ناجائز ہے:

صالحا فيما تركت كلا ٠ انها كلمة هو قائلها ٠ ومن ورآئهم برزخ الى يوم يبعثون“

(المومنون:١٠٠)

(بقره)

صفحہ ٣٤

(المؤمنون)

بآيات ربنا ونكون من المؤمنين ، انعام“

(احمدیہ پاکٹ بک)

حدیث میں ہے کہ: ”قال يا عبدى تمن على اعطك قال يارب تحيينى فاقتل فيك ثانيه قال الرب تبارك وتعالى انه سبق منى انهم لا يرجعون“

(رواه الترمذی ، مشکوۃ ص ٥٧٩)

”قلنا ادع الله يحييه لنا فقال استغفروا لصاحبكم (رواه مسلم، مشکوۃ ص ٢٦٠)“

(احمدیہ پاکٹ بک)

حضور علیہ السلام کا مردہ کو زندہ نہ کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دوسرے کسی نبی نے مردہ زندہ نہیں کیا۔ ورنہ آپ ضرور کرتے۔

اور احادیث صحیحہ سے صراحتاً ثابت ہے جس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ ہم آگے بیان کریں گے۔ مگر چونکہ موت سلسلہ حیات کے منقطع ہونے کا نام ہے اس لئے یہ انقطاع کبھی حیات کے مقرر کردہ مدت کے ختم ہونے پر ہوتا ہے اور کبھی اس سے پہلے۔ اول صورت میں مردہ کا دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ کر آنا غیر ممکن ہے۔

اس کی یہ وجہ نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ اس کے زندہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا یا قانون قدرت کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناممکن ہے۔ جیسا کہ مرزائی سمجھے ہوئے ہیں۔ بلکہ اس وجہ سے کہ اس کی حیات کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔ اب دنیا کے آب و دانہ میں اس کا کوئی حصہ نہیں رہا۔ غرض جن آیات اور حدیثوں میں دنیا کی طرف واپس ہونے کی نفی آئی ہے۔ ان سے یہی مراد ہے اور جن میں زندہ ہونے کے واقعات صراحتاً موجود ہیں۔ ان سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو سزا یا بطور اظہار معجزہ یا کسی اور مصلحت خداوندی کی وجہ سے موت دی گئی اور پھر کچھ عرصہ بعد زندگی کے بقیہ حصہ کو پورا کرنے کے واسطے دوبارہ زندہ کر دیا۔

چنانچہ قتادہ: ”ثم بعثناكم من بعد موتكم“ (بقرہ:٥٦) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”احیاهم یستوفوا بقية آجالهم وارزاقهم ولوماتوا بآجالهم لم يبعثوا الى يوم القيامة“

(معالم التنزيل ج ١ ص ٢٨)

صفحہ ٣٥

(تفسیر درمنثور ج ١ ص ٧٠) میں بھی ابن جریر طبریؒ اور ابن ابی حاتمؒ ، ربیع بن انس اور دیگر مفسرین سے یہی منقول ہے: ”ونقل عن الحسن البصری انه تعالیٰ قطع اجالهم بهذالا ماتته ثم اعادهم كما احيا الذي مرّ على قرية وهى خاوية على عروشها وأحيا الذين اماتهم بعد ما خرجوا من ديارهم وهم ألوف حذر الموت“

(تفسیر کبیر ج ٢ ص ٨٧)

لہٰذا اجل کی دو قسمیں ہوئیں۔ زندگی کی مدت ختم ہونے کا نام اجل حیات ہے جس کے بعد دنیا میں زندہ ہو کر آنا ممکن نہیں۔ دوسری اجل موت یعنی مرنے کا وقت جو زندگی کی مدت ختم ہونے سے پہلے واقع ہو۔ اس صورت میں واپسی جائز بلکہ ضروری ہے۔ الحمد للہ کہ آیات میں کوئی باہمی تعارض نہ رہا۔

س ..... آیت اذا جآ اجلهم لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون ! سے معلوم ہوتا ہے کہ موت وقت سے پہلے نہیں آتی۔ پھر درمیان میں انقطاع حیات کے کیا معنے۔

ج ..... آیت مذکورہ میں سلسلۂ حیات کے درمیان واقع ہونے والی موت کی نفی نہیں۔ اس کا مفہوم محض اتنا ہے کہ آئی ہوئی موت اپنے وقت سے مقدم یا مؤخر نہیں ہوسکتی۔ علاوہ ازیں امام رازیؒ نے اس مقام پر یہ توجیہ کی ہے کہ ایسے واقعات میں ان لوگوں کے لئے دو دفعہ مرنا اور دو ہی دفعہ جینا مقدر ہو چکا تھا جو اپنے اپنے وقت پر پورا ہوتا رہا۔ یعنی ایسا نہیں ہوا کہ لمبی عمر میں سے انقطاع کر کے درمیان میں موت وارد کر دی۔ بلکہ ہر ایک موت اور زندگی کے لئے الگ الگ وقت مقرر تھا۔ چنانچہ وہ پہلی توجیہ کی تضعیف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”وهذا ضعیف لانه تعالیٰ ما اماتهم بالصاعقة الا وقد كتب واخبر بذالك فصار ذالك الوقت اجلاً لموتهم الاول ثم الوقت الاخر اجلاً لحياتهم“

(تفسیر کبیر ج ٢ ص ٨٧)

غرض امت محمدیہ میں سے عدم رجوع موتیٰ کا کوئی شخص بھی قائل نہیں ہوا۔

جوابات تفصیلیہ

”حرام بمعنے ممتنع خبر مقدم ہے اور انہم لا یرجعون بتاویل مصدر مبتداء ہے۔ لہٰذا آیت کی تقدیر اس طرح ہوئی ”عدم رجوعهم حرام اى ممتنع“ (تفسیر کبیر ج ١٦ ص ٢٢ تحت آیت وحرام على قرية اهلكناها انهم لا يرجعون . انبیاء: ٩٥)

چونکہ آیت منکرین بعث کے رد میں نازل ہوئی ہے۔ اس لئے آخرت کی طرف نہ

صفحہ ٣٦

لوٹنے کے عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے اس کو ممتنع کہا گیا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ قیامت کے دن ضرور زندہ کر کے لوٹائے جائیں گے اور اگر حرام بمعنے واجب ہے تو پھر آیت کا یہ مطلب ہے کہ وہ از خود دنیا کی طرف کبھی نہیں آسکتے ۔ نہ یہ کہ خدا تعالیٰ بھی ان کو زندہ نہیں کر سکتا ۔ تیسری آیت یعنی : ” فلا يستطيعون توصية ولا الى اهلهم يرجعون “ (ياسين: ٥٠) سے یہ مطلب اچھی طرح واضح ہو رہا ہے اور یہی مراد دوسری کی بھی ہے۔ لہٰذا ان تینوں آیتوں سے عدم احیاء موتی پر استدلال کرنا کسی طرح جائز نہیں۔

چوتھی، چھٹی اور آٹھویں آیت کا حاصل یہ ہے کہ وہ دنیا کی طرف واپسی کی آرزو یا درخواست کریں گے جو پوری نہیں کی جائے گی ۔ دنیا کی طرف رجوع ہونے کا استحالہ یا عدم امکان آیات مذکورہ سے ثابت نہیں ہوتا۔ اگر مرزا قادیانی اس آیت سے استدلال کرتے وقت اس کو پورا پڑھ لیتے اور نقل میں خیانت نہ کرتے تو اس کے شبہ کا جواب آخری حصہ میں موجود تھا۔ چنانچہ یہ پوری آیت اس طرح ہے کہ : ” فقالوا يليتنا نرد ولا نكذب بآيات ربنا ونكون من المؤمنين . بل بدالهم ماكانوا يخفون من قبل . ولو ردوا لعادو لمانهوا عنه وانهم لكاذبون “

(انعام: ٢٧، ٢٨)

لو ردو لعادو ...... الخ ! سے صاف طور پر معلوم ہو گیا کہ واپسی دنیا کی طرف جائز ہے۔ مگر نتیجہ کے بے سود ہونے کی وجہ سے روک دی جائے گی اور وہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو نیکی اور بدی کی ایک خاص حالت کے واسطے پیدا کیا ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد اگر اس کو عمر نوح بھی دے دی جائے تو اس کی پیدا شدہ حالت میں کوئی تبدیلی ظاہر نہیں ہوتی ۔ جب زندگی ہی بے سود ہوئی تو اس کا عطا کرنا بھی بے کار ہے۔

ورنہ لازم آئے گا کہ قیامت کے روز بھی روحیں اپنے جسموں کی طرف واپس نہ ہوں ۔ بلکہ یہاں امساک کے وہی معنے ہیں جو ’ مايمسكهن الا الرحمن ‘ میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اڑتے ہوئے جانوروں کے پر کھلے رہنے کے باوجود ہوا میں روکنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح پر کھلے زمین اور آسمان کے درمیان لٹکتے رہتے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ اس میں ایک خاص وقت تک روکنا مراد ہے۔ اسی طرح یہاں بھی موت کے وقت روح قبض کرنے کا ذکر ہے۔ آئندہ واپسی یا عدم واپسی کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔

صفحہ ٣٧

کی نفی نہیں ہے جو مفید مطلب ہو سکے۔ (ب) حکم جنس کے لئے ہے اور جنس میں احاطہ افراد کا نہیں ہوتا۔ جیسا ”خلقکم من تراب“ میں مخاطب سب ہیں اور مٹی سے پیدا محض آدم کو کیا ہے۔

کی مگر وہ پوری نہ کی گئی۔ اس سے احیاء موتی کا محال ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ حدیث میں ہے کہ مومن نعماء جنت کو دیکھ کر اپنے اہل وعیال کو خبر دینے کے لئے واپسی کی درخواست کرتا ہوا کہتا ہے کہ:

”یقول یارب اقم الساعة یارب اقم الساعة لارجع الی اہلی ومالی“ (مشکوٰۃ کتاب الجنائز ص١٤٢ باب ما یقال عند من حضرہ الموت ) اس میں قیامت قائم ہونے کی آرزو کی گئی ہے جو پوری نہیں ہوئی۔ مگر تمنا پوری نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قیامت بھی واقع نہ ہوا کرے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کا دعا کی درخواست قبول نہ کرنے احیاء موتی کے عدم وقوع پر استدلال کرنا غلط ہے۔ مرزا قادیانی نے اسی دعوے کے ثبوت میں ایک یہ آیت بھی پیش کی ہے: ”لا يذوقون فیھا الموت الا الموتة الاولیٰ“

(الدخان:٥٦)

مرزا قادیانی نے موت اولیٰ کے معنے ایک دفعہ مرنا لکھے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ یہاں اولیٰ سے دنیا کا مرنا مراد ہے۔ خواہ ایک دفعہ ہو یا دو دفعہ۔ اس سے ایک دفعہ موت مراد لینا صحیح نہیں ہے۔ جلالین میں ہے کہ: ”ای التی فی الدنیا بعد حیاتھم فیھا قال بعضھم الا“ بمعنے بعد۔

س ....... ابوبکرؓ نے نبی کریم ﷺ کے جنازہ پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ لم تمت موتتین! آپ ﷺ دو دفعہ نہیں مریں گے۔

ج ....... اس میں عام طور پر دو دفعہ مرنے کی نفی کرنی مقصود نہیں ہے۔ بلکہ نفی خاص مراد ہے۔ یعنی نبی عربی ﷺ کو دو دفعہ موت نہ آئے گی۔ اس پر دو قرینہ ہیں:

میں تشریف لائیں گے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے آپ ﷺ کے متعلق اس خیال کی کہ لم تمت موتتین! سے تردید کی تھی۔ عام طور پر احیاء موتی کا انکار نہیں کیا۔

مرتکب نہ ہوتے اور نہ حضرت ابوبکرؓ کو خصوصیت کے ساتھ نفی کرنے کی ضرورت تھی۔ بلکہ عام حالت سے آپ ﷺ کے دو مرتبہ مرنے پر استدلال کرنا کافی تھا۔

اس مقام میں مرزا قادیانی نے چند آیتیں اور بھی ذکر کی ہیں جن سے سوائے کاغذ سیاہ

صفحہ ٣٨

کرنے اور حسب عادت جاہلوں پر رعب جمانے کے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ منجملہ ان کے تین آیتیں یہ ہیں:

جو چیزیں ان آیتوں سے سمجھ میں آرہی ہیں وہ یہ ہیں کہ جنتی جنت میں اور کافر دوزخ میں داخل ہونے کے بعد ہمیشہ اسی میں رہے گا۔ اس سے ہمیں بھی انکار نہیں ۔ کیونکہ جنت یا دوزخ میں داخل ہونا حساب کتاب کے بعد ہوگا ۔ اس وقت نہ دنیا رہے گی نہ دنیا کی طرف واپسی ۔

احیاء موتی کا ثبوت قرآن وحدیث سے

” اذ قلتم ياموسى لن نؤمن لك حتى نرى الله جهرة فاخذتكم
الصاعقة وانتم تنظرون ٠ ثم بعثناكم من بعد موتكم لعلكم تشكرون ٠

(بقره:٥٥، ٥٤) ” ﴿سرداروں نے کہا کہ اے موسیٰ جب تک ہم خدا کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے تجھ پر ایمان نہ لائیں گے (اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی پر جو انہوں نے اپنی لیاقت اور اہلیت سے زیادہ سوال کرنے میں کی تھی یہ سزا دی) پس تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے بجلی نے آ کر تم کو پکڑ لیا۔ پھر ہم نے تم کو مرجانے کے بعد زندہ کردیا۔ تاکہ تم ہمارا شکریہ ادا کرو۔﴾

ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ اچانک ایک آگ پیدا ہوئی جس نے ان کو جلا کر خاکستر کردیا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٨٦) میں ہے کہ: ”انها نار وقعت من السماء فاحرقتهم“

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے آگے رونا اور اس طرح فریاد کرنی شروع کی: قال رب ان شئت اهلكتهم من قبل واياى اتهلكنا بما فعل السفهاء منا !اے اللہ! اگر تجھے ہلاک ہی کرنا تھا تو یہاں آنے سے پہلے مجھے اور ان کو ہلاک کردیا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مناجات پر ان کو دوبارہ زندگی بخشی۔

س ...... تمام مقامات قرآن کریم میں جو احیاء موتی کے متعلق ہیں جن میں یہ مذکور ہے کہ فلاں قوم یا شخص مارنے کے بعد زندہ کیا گیا۔ ان سے اماتت کے معنی حقیقی مارنا اور موت دینا مراد نہیں۔ بلکہ سلانا اور بے ہوش کرنا مراد ہے۔ لہٰذا جب حقیقتاً مار کر زندہ کرنا خلاف قانون قدرت ہے تو زندہ کرنے سے جگانا وغیرہ کیوں مراد نہ لیا جائے۔

ج ...... حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس واقعہ کو دیکھ کر یہ فرمانا کہ: ”اتهلكنا بما

صفحہ ٣٩

فعل السفهاء منا (اعراف: ١٥٥)‘‘ اس امر کی دلیل ہے کہ واقعہ بے ہوشی اور نیند تک محدود نہیں رہا تھا۔ ورنہ کبھی اس کو ہلاکت سے تعبیر نہ کرتے ۔

دوسرے لعلكم تشكرون ! سے شکرگزاری کا مطالبہ کرنا بتا رہا ہے کہ ضرور کوئی مافوق العادت بات پیش آئی ہے اور مردہ کا زندہ کرنا مراد ہے نہ بے ہوشی اور نیند وغیرہ سے جگانا یا ہوشیار کرنا۔

ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ”احييناكم بعد حرقكم لكى تشكروا احیائی (تفسیر عباس ص ٧)‘‘ ﴿تمہیں جلنے کے بعد ہم نے زندہ کردیا ۔ تاکہ تم ہمارے زندہ کرنے پر شکر کرو۔﴾

ربیع بن انسؒ سے (درمنثور ج ١ ص ٧٠) میں منقول ہے کہ: ”فبعثوا بعد الموت يستوفوا آجالهم‘‘ ﴿ان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا۔ تا کہ وہ اپنی زندگی کا بقیہ حصہ پورا کریں۔﴾

آياته (البقره: ٧٣)‘‘ ﴿ہم نے کہا کہ ذبح کی ہوئی گائے کے بعض حصہ کو مقتول سے مس کرو۔ ایسے ہی زندہ کرتا ہے اللہ مردوں کو اور دکھاتا ہے تم کو اپنی نشانیاں۔﴾

تفسیر خازن میں ہے کہ جب مقتول کو ذبح کی ہوئی گائے کے کسی عضو سے مس کیا تو وہ زندہ ہو گیا اور اپنے قتل کرنے والوں کا نام بتا کر مر گیا۔

قرائن مراد : اس جگہ ”اذ قتلتم نفساً فادر أتم فيها (البقره: ٧٢)‘‘ کہنا اور اس کو زندہ کرنے کے بعد احیاء موتی پر استدلال کرنا پھر اس واقعہ کو اپنی قدرت کی نشانی بتانا یہ سب باتیں ایسی جمع ہو گئیں ہیں کہ جن سے مردہ کا زندہ ہونا تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہاں نیند سے جگانا غفلت اور بے ہوشی کا دور کرنا مراد ہوتا تو اس سے احیاء موتی پر استدلال کرنا درست نہ تھا اور نہ اس کو قدرت الٰہی کا نمونہ بتانا صحیح ہوتا۔ ابن عباسؓ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:

” (كذالك) كما احيا الله عاميل (يحيى الله الموتى) للبعث (ويريكم آياته) احیایہ (لعلكم تتقون ) لكى تصدقو بالبعث بعد الموت (تنویر المقیاس ص ٩)‘‘ ﴿یعنی جس طرح اللہ نے اس واقعہ میں عامیل نامی شخص کو مرنے کے زندہ کر دیا ۔ اسی طرح قیامت کے روز مردوں کو زندہ کرے گا۔﴾

صفحہ ٤٠

يحيى هذه الله بعد موتها ‘‘ اللہ تعالیٰ تو تباہی اور بربادی کے بعد کس طرح اس کو با رونق اور آباد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات دکھانے کے لئے کہ وہ کس طرح ناپید کو پیدا اور معدوم کو موجود کرتا ہے۔ عزیر علیہ السلام کو سو سال تک مردہ بنائے رکھا۔ اماته الله مائة عام! جب سو سال گزر جانے کے بعد عزیر کو دوبارہ زندہ کر دیا تو انہوں نے اپنی آنکھوں سے مردہ کے زندہ ہونے کو دیکھ لیا۔

اگر یہ واقعہ سوتے ہوئے کو جگانے تک محدود تھا تو عزیر علیہ السلام کے اس سوال کے جواب میں کہ مردہ کیونکر دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے۔ ایک سوتے ہوئے آدمی کو جگا دینا کس حد تک موزوں اور عقل میں آنے والی بات ہے؟۔ پھر اس صورت میں اس کو اپنی قدرت کی نشانی بتانا لنجعلك آية للناس! کہنا کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے؟۔ ادھر عزیر علیہ السلام کا گدھا کہ جس کی ہڈیاں اتنی مدت میں گل سڑ کر خاک ہو چکی تھیں۔ اس کے ذرات اکٹھا کر کے اس میں گوشت پوست لگا دینا اور عزیر علیہ السلام کے سامنے اس کو دوبارہ زندہ کر کے دکھا دینا جیسا کہ: ’’ انظر الى العظام كيف ننشزها ثم نكسوها لحما (البقرة:٢٥٩)‘‘ سے صاف ظاہر ہے احیاء موتی کی کھلی ہوئی شہادت ہے۔ نیز اگر یہ کوئی مافوق العادت بات نہ ہوتی اور سوتے ہوئے کو بیدار کر دینا ہی ہوتا تو اعلم ان الله على كل شئی قدیر! کے ذریعہ سے خدا کی قدرت کاملہ کا اقرار کرنا بے محل ہوتا۔ پھر جبکہ سو سال تک بے آب و دانہ سوتے رہنا باوجود خلاف قانون قدرت ہونے کے ممکن ہے تو مار کر زندہ کرنا کس لئے ناجائز اور محال ہے؟۔

الموت ٠ فقال لهم الله موتوا ثم احياهم (البقرة:٢٤٣)‘‘ ہزاروں کی تعداد میں بھاگنے والوں کو موت ہی کی سزا دی۔ تاکہ ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ آئی ہوئی موت کبھی سر سے نہیں ٹلتی۔ ایک زمانہ تک ان کو ایسی حالت میں رکھ کر دوبارہ زندہ کر دیا اور اگر یہاں موت کے معنی نیند اور بے ہوشی کے لیے جائیں تو موت کے ڈر سے بھاگنے والے کو غفلت اور سلا دینے کی سزا دینا کس قدر غیر دانشمندانہ فعل ہے۔

ولكن ليطمئن قلبی ٠ قال فخذ اربعة (البقرة:٢٦٠)‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے اللہ! تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تجھ کو اس پر ایمان نہیں ہے۔ عرض کی کہ ضرور ہے۔ لیکن میں قلب کا اطمینان چاہتا ہوں﴾

صفحہ ٤١

فرمایا! اچھا چار جانور لے کر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کرلو۔ پھر پکارو۔ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مردہ کو زندہ ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی درخواست کرنا اور خدا تعالیٰ کا اس کے جواب میں چار جانوروں کے لینے کی ہدایت کرنا بغیر احیاء موتی کی صورت دکھانے کے کوئی اور صورت ہو ہی نہیں سکتی۔ ورنہ جواب سوال کے مطابق نہیں رہے گا۔

مرزا قادیانی کو اس واقعہ کے ظاہر ہونے کی وجہ سے مجبوراً یہ کہنا پڑا کہ: ”ہاں! یہ بھی بالکل ممکن اور جائز ہے کہ خدا تعالیٰ کسی حیوان یا انسان یا پرند کو ایسی حالت میں کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے حقیقی موت سے بچاوے اور اس کی روح کا پاش شدہ جسم سے وہی تعلق رکھے جو نیند کی حالت میں ہوتا ہے۔ پھر اس کے جسم کو درست کردے۔ اس کو نیند کی حالت سے جگادے۔ کیونکہ وہ ہر ایک بات پر قادر ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٩٢٣، خزائن ج ٣ ص ٦٢١، ٦٢٢)

مرزا قادیانی کی ہٹ دھرمی بھی قابل داد ہے کہ جانوروں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے باوجود سویا ہوا مان رہے ہیں:

ملک الموت کو ضد ہے کہ میں جاں لے کے ٹلوں
سر بسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے

تعجب ہے کہ احیاء موتیٰ تو خلاف قانون قدرت ہونے کی وجہ سے غلط اور قابل تردید ہو اور کسی کا قتل اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا با وجود قانون قدرت کے مخالف ہونے کے صحیح اور درست مان لیا جائے:

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

اصل میں احیاء موتیٰ کے قائل ہونے سے مجبور ہیں۔ مسیحائی ہاتھ سے نکلتی ہے۔ ان کا انکار نہ کریں تو کیا کریں۔

.......٢....... ”وتحی الموتی باذنی (المائدہ:١١٠)“ ﴿حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو احیاء کا معجزہ دیا گیا۔﴾

اگر نیند سے بیدار کرنے کا معجزہ ان کو دیا گیا تھا تو ایسا ہی معجزہ ہر شخص کو حاصل ہے اور اگر قلوب کا زندہ کرنا یعنی ان کو ہدایت پر لگا دینا مراد ہے تو یہ اللہ کا فعل ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے بھی اس کی نفی یہ آیت کر دے گی۔ جیسا کہ :”انک لا تھدی من احببت ولكن الله یہدی

صفحہ ٤٢

من يشاء (القصص:٥٦) ”اس پر شاہد ہے۔ پھر ہدایت بمعنے راہ نمودن ہر ایک نبی کرتے آئے ہیں ۔ یہ عیسیٰ کا مخصوص معجزہ کیا ہوا۔ علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں دین نصرانیت کو فروغ ہی حاصل نہیں ہوا۔

احيى ثم اقتل ثم احيى ثم اقتل ثم احيى ثم اقتل (كما رواه البخاری ج ١ ص ١٠ باب الجهاد من الايمان وباب تمنى الشهادة ص ٣٩٢ )“ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میری خواہش ہے کہ میں بار بار زندہ ہوں اور ہر مرتبہ خدا کے راستہ میں قتل کیا جاؤں۔ اگر دنیا کی طرف واپس ہونا بے حقیقت ہوتا تو حضور نبی کریم ﷺ ایسی لغو اور لایعنی بات کی کبھی آرزو نہ کرتے۔

ثم عاش ثم قتل فى سبيل الله ثم عاش ثم قتل فى سبيل الله ثم عاش وعليه دين مادخل الجنة حتى يقضى دينه (شرح السنة ج٤ ص ٣٥١ حدیث نمبر ٢١٣٨ باب التشديد فى الدين، مسند احمد ج٥ ص ٢٩٠، مشكوة ص ٢٥٤، باب الافلاس والانظار) “اس میں بھی احیاء موتیٰ کا جواز ثابت ہو رہا ہے۔

آیت کی ترتیب جاتی رہے گی اور نظم قرآنی کو اس کی منزلہ ترتیب سے بدلنا علاوہ تحریف کے حدیث وابدؤ بمابدء الله ! کی رو سے بھی ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں تقدیم و تاخیر کی صورت میں واقعات کے لحاظ سے متوفیک کو آیت کے آخر میں لگانا پڑے گا جو کہ آیت کے آخر میں الی یوم القیامۃ ! کی قید ہے۔ اس لئے موت قیامت کے بعد ماننی پڑے گی اور وہ بدیہی البطلان ہے۔

میں ہدایۃ النحو، کافیہ، شرح جامی، رضی شرح کافیہ ص ٥٠٣، فوائد شافیہ المعروف بہ زینی زادہ، مفصل الفیہ ابن مالک، ابن عقیل شرح الفیہ تکملہ عبدالحکیم سیالکوٹی وغیرہ اور کتب اصول میں اصول الشاشی، حسامی، نورالانوار، کاشف الاسرار، اصول بزدوی، شرح جمع الجوامع، فن معانی میں مختصر المعانی، مطول، نھایۃ الایجاز للامام الرازی و غیرہا۔

جب واؤ مطلق جمع کے لئے ہے اور ترتیب وقوعی پر دلالت نہیں کرتا تو وفات کا رفع یا نزول سے پہلے واقع ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگرچہ توفی باعتبار ذکر کے مقدم ہے۔ لیکن تقدم ذکری

صفحہ ٤٣

تقدم وقوعی کو مستلزم نہیں ہے۔ اس لئے جائز ہے کہ توفی جو لفظوں میں مقدم ہے وہ بلحاظ واقع ہونے کے رفع اور تطہیر سے مؤخر ہو: ”قال الرازی فی تفسیر ان الواو فی قولہ متوفیک ورافعک الی لا تفید الترتیب فالآیۃ تدل علیٰ انہ تعالیٰ یفعل بھذہ الافعال فاما کیف یفعل ومتی یفعل فالامر فیہ موقوف علی الدلیل وقد ثبت الدلیل انہ حی وورد الخبر عن النبی ﷺ انہ سینزل ویقتل الدجال ثم انہ یتوفاہ بعد ذالک (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧١، ٧٢)“ اسی لئے ابن عباسؓ نے تقدیم و تاخیر کو جائز کہتے ہوئے آیت کے یہ معنے بیان کئے ہیں: ”عن عباس یا عیسٰی انی متوفیک ورافعک الی یعنی رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان (درمنثور ج ٢ ص ٣٦، ھکذا فی تنویر المقیاس تفسیر ابن عباس ص ٣٩)“

ایسا ہی ضحاک اور ایک جماعت سے منقول ہے: ”والاخر ما قالہ الضحاک وجماعۃ ان فی ھذہ الآیۃ تقدیماً وتاخیراً معناہ انی رافعک الی مطھرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالک من السماء (معالم التنزیل ج ١ ص ١٦٢، ١٦٣)“

”وقال الرازی الواؤ لا تقتضی الترتیب فلم یبق الا ان یقول فیھا تقدیم وتاخیر والمعنی انی رافعک الی ومطھرک من الذین کفروا ومتوفیک بعد انزالی ایاک فی الدنیا مثلہ من التقدیم والتاخیر کثیر فی القرآن“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢، ٧٣)

” متوفیک بعد انزالی ایاک الی الدنیا (تفسیر ابن جریر ج ٣ ص ٢٩١)“

(مجمع البحار ج ١ ص ٩٩) میں ہے کہ: ”متوفیک ورافعک علی التقدیم والتاخیر“ اس قسم کی تقدیم و تاخیر وقوعی علاوہ اس آیت کے قرآن مجید میں بکثرت موجود ہے۔ جیسا کہ امام رازی نے ذکر کیا ہے۔ نمونہ کے طور چند مثالیں بیان کی جاتی ہیں:

امثلہ تقدیم و تاخیر از قرآن

پہلی آیت میں دخول باب پہلے اور قول حطۃ بعد میں ذکر کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں بالعکس ہے۔ اگر واؤ ترتیب کے لئے ہوتا تو ان دونوں آیتوں میں تناقض واقع ہو جاتا۔

(ذکرہ رضی ص ٣-٤)

صفحہ ٤٤

میں موت کو حیات سے پہلے ذکر کیا ہے۔ باوجود یہ کہ واقع اور نفس الامر میں اس کے خلاف ہے۔

اس آیت میں قرآن کو پہلے اور دوسری آسمانی کتابوں کو بعد میں ذکر کیا ہے۔ لیکن واقع میں قرآن تمام صحف آسمانی سے مؤخر ہے۔

اس میں آنحضرت ﷺ پر وحی نازل ہونے کو انبیاء سابقین پر وحی نازل ہونے سے مقدم ذکر کیا ہے۔ مگر باعتبار ظہور اور تحقیق کے وہ سب سے مؤخر ہے۔

والاسباط وعيسى وايوب ويونس وهارون وسليمان وآتينا داود زبورا (النساء:١٦٣)“ اس آیت میں حضرت عیسیٰ کو ایوب، یونس، ہارون، سلیمان، داؤد علیہما السلام سے پہلے ذکر کیا ہے۔ باوجودیکہ ان کا ظہور ان سب سے مؤخر ہوا ہے۔

ذکر کیا ہے۔ مگر یاد رہے کہ اس تقدیم و تاخیر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نظم قرآنی میں جو لفظ پہلے آیا ہے اس کو مؤخر ہونا چاہئے اور کلام میں الفاظ کی ترتیب كما ينبغی اور مناسب نہیں ہے۔ بلکہ اس تقدیم و تاخیر سے یہ مراد ہے کہ جس طرح ذکر میں بعض الفاظ بعض سے مقدم اور مؤخر ہیں اور کلام میں ان کا اس ترتیب کے ساتھ آنا علم بلاغت کی رو سے موزوں یا ضروری ہے۔ اس طرح ان کا واقع اور نفس الامر میں بالترتیب ظاہر ہونا لازمی نہیں ہے۔ گویا ترتیب ذکری اور کلامی ترتیب وقوعی اور خارجی کو مستلزم نہیں۔ لہٰذا یہ امر مسلم ہے کہ لفظ متوفيك کا ذکر میں مقدم ہونا بعض وجوہ اعجاز اور چند فوائد کی وجہ سے ضروری ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جس طرح وہ ذکر میں مقدم ہے اسی طرح اس کا خارج اور نفس الامر میں واقع اور ظاہر ہونا بھی سب سے پہلے اور مقدم ہو اور نہ یہی جائز ہے کہ جن چیزوں میں ترتیب وقوعی نہ ہو ان میں ترتیب ذکری بھی باقی نہ رکھی جائے۔ اس لئے ترتیب وقوعی نہ ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی ترتیب ذکری کو بدل دینا قطعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اسی آیت میں اگرچہ توفی کا وقوع اور ظہور دلائل خارجہ کی وجہ سے بعد میں مانا گیا ہے۔ لیکن لفظ متوفيك کو مطهرك من الذين کفروا کے بعد رکھنے اور نظم قرآنی کو بدل دینے کا کوئی بھی شخص قائل نہیں ہے۔

صفحہ ٤٥

”نموت ونحيى وما نحن بمبعوثين (مومنون: ٣٧) “ اس آیت میں موت کو پہلے ذکر کیا ہے۔ باوجود یہ کہ واقع اور نفس الامر میں اس کے خلاف ہے۔

”يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك (البقرة: ٤) “ میں قرآن کو پہلے اور دوسری آسمانی کتابوں کو بعد میں ذکر کیا ہے۔ لیکن واقع میں قرآن سب سے مؤخر ہے۔

”كذالك يوحى اليك والى الذين من قبلك (شوری: ٣) “ اس آیت میں آپ پر وحی نازل ہونے کو انبیاء سابقین پر وحی نازل ہونے سے مقدم ذکر کیا گیا ہے۔ باوجود یہ کہ حقیقتاً وہ سب سے مؤخر ہے۔

”واوحينا الى ابراهيم واسماعيل واسحق ويعقوب والاسباط وعيسى وايوب ويونس وهارون وسليمان وآتينا داود زبورا (النساء: ١٦٣) “ اس آیت میں حضرت عیسیٰ کو ایوب، یونس، ہارون، سلیمان، داؤد علیہما السلام سے مقدم ذکر کیا ہے۔ باوجود یکہ ان کا ظہور ان سب سے مؤخر ہوا ہے۔

اسی طرح ذبح بقرہ کے قصہ میں شروع قصہ کو بعد میں اور آخر کو اول میں ذکر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس تقدیم و تاخیر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نظم قرآنی میں جو لفظ پہلے آیا اس کا وجود بھی پہلے ہو اور کلام میں الفاظ کی ترتیب کما ینبغی اور مناسب نہیں ہے۔ بلکہ اس تقدیم و تاخیر سے یہ مراد ہے کہ جس طرح ذکر میں بعض الفاظ بعض سے مقدم اور مؤخر ہیں اور ان کا کسی نہ کسی ترتیب کے ساتھ آنا علم بلاغت کی رو سے موزوں یا ضروری ہے۔ اس طرح ان کا ظہور اور نفس الامر میں بالترتیب ظاہر ہونا لازمی نہیں ہے۔ گویا ترتیب ذکری اور کلامی ترتیب ترتیب وقوعی کو مستلزم نہیں۔ لہذا یہ امر مسلم ہے کہ لفظ متوفیک کا ذکر میں مقدم ہونا بعض وجوہ اور دلائل بلاغت کی وجہ سے ضروری ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جس طرح وہ ذکر میں مقدم اور پہلے ہے اس کا خارج اور نفس الامر میں واقع اور ظاہر ہونا بھی سب سے پہلے اور مقدم ہو

چنانچہ قرآن مجید کی جن چیزوں میں ترتیب وقوعی نہ ہو ان میں ترتیب ذکری بھی باقی رکھی جائے گی، اور محض ترتیب وقوعی نہ ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کی ترتیب ذکری کو بدل دینا قطعاً جائز نہیں ہے۔ لہذا اسی آیت میں اگرچہ توفی کا وقوع اور ظہور دلائل خارجہ کی وجہ سے بعد میں مانا گیا ہے تو بھی لفظ متوفیک کو مطھرك من الذین کفروا! کے بعد رکھنے اور نظم قرآنی کو بدل دینے کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔

امام رازیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”من قال لابد في الآية من تقديم وتاخير من غير ان يحتاج فيها الى تقديم وتاخير

(تفسير كبير ج ٨ ص ٧٦) “

غرض ترتیب وقوعی کے نہ ماننے سے تحریف لازم نہیں آتی۔ البتہ اگر ترتیب ذکری کا لحاظ نہ رکھا جاتا اور نظم قرآنی میں تقدیم و تاخیر کر کے اس کو بدل دیا جاتا تو پھر تحریف کا الزام دینا صحیح تھا۔ لیکن قرآن کی ترتیب اور اس کے نظم میں تبدیلی پیدا کرنی کسی کے نزدیک بھی جائز نہیں ہے۔

پھر تحریف کیونکر لازم آسکتی ہے اور حدیث ابدوا بما بدء اللہ ! کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان الصفا والمروہ ! کی ترتیب ذکری سے تقدیم صفا کی مروہ پر بطور وجوب یا استحباب کے ثابت ہے۔ اس لئے یہاں بھی ترتیب سے ترتیب وقوعی ثابت ہونی چاہئے۔ بلکہ اس ترتیب کی مسنونیت یا استحباب اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ اگر یہ حدیث نہ ہوتی تو تقدیم صفا کی مروہ پر کبھی ثابت نہ ہوتی۔ چنانچہ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں ہے کہ: ”لانه يحتج بقوله ﷺ ابدؤا بما بدء الله به فكيف يستدل بخبر الواحد على اثبات الفرضية “اسی طرح اس آیت میں تقدیم و تاخیر دلائل خارجہ کی وجہ سے ثابت کی گئی ہے۔ نفسِ آیت کا یہ مفہوم نہیں ہے اور اگر نفس ترتیب نظم کی تقدیم وقوعی کو مستلزم ہوتی تو اقیمو الصلوۃ وآتو الزکوۃ ! میں زکوۃ کا نماز سے پہلے ادا کرنا جائز نہ ہوتا۔ باوجودیکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔

جائز نہیں رکھا گیا تو متوفیک کو الی یوم القیامۃ کے بعد رکھنے اور موت کو قیامت کے بعد واقع کرنے کا سوال صحیح نہ رہے گا۔ کیونکہ ترتیب وقوعی کے لئے اول اور آخر کی رعایت ضروری نہیں ہے۔ بلکہ جس جگہ دلیل اس کو واقع کرنے کا تقاضا کرے گی اسی موقع پر اس کا وقوع تسلیم کر لیا جائے گا۔ چونکہ دلائل شرعیہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت قیامت سے پہلے بعد از نزول واقع ہوگی۔ اس لئے جعل مذکور سے پہلے اس کے واقع ہونے کی جگہ ہوگی۔

زمانہ جعل کے شروع ہونے کے بعد مان سکتے ہیں۔ جعل کی مدت ختم ہونے کے بعد موت تجویز کرنی لازمی نہیں ہے اور یہ امر سب پر ظاہر ہے کہ متبعین کو مخالفین پر غلبہ دینے کا فعل مدت سے شروع ہوچکا ہے۔ اگرچہ اس معاملہ کا اختتام قیامت ہی پر ہوگا۔ لیکن اس کی ابتدا زمانہ دراز سے جاری ہے۔ چنانچہ روح المعانی میں اس آیت کے ماتحت لکھا ہے کہ:

”وانما يلزم ان يكون الموت بعد ذالك الجعل لا بعد اختتام مدته

صفحہ ٤٦

وتأويل قول القائل انا آتيك وزائرك بصيغة اسم الفاعل فانه قد جعل الاتيان فيه كانه قد دخل فى الوجود فعبر عنه باسم الفاعل لا بالفعل المستقبل وذالك اذا كان يصدره جعل مبادئ الفعل كالفعل فعبر عنه كانه قد دخل فى الوجود وقد نبه عليه علماء العربية كثيراً

(تفسير روح المعانى ص ٦٠٠)‘‘

سے تعلق رکھتے ہیں اور جعل کا تعلق متبعین کے ساتھ ہے۔ اس لئے توفی کا محل وقوع تطہیر کے بعد ہونا چاہئے۔ جعل کے بعد نہیں ہو سکتا۔ اختلال نظم کا جواب ہم پہلے ہی دے چکے ہیں کہ ہم ترتیب ذکر کو نہیں بدلتے۔ اس لئے تقدیم و تاخیر وقوعی کے تسلیم کرنے میں کسی قسم کا فساد اور خرابی لازم نہیں آتی۔ والحمدلله حمداً كثيراً!

س......: جب آپ کے نزدیک توفی کا وقوع تطہیر کے بعد ہے تو ذکر میں کیوں اس کو مقدم رکھا ہے۔

ج......: اگر توفی کے معنی، لینے، قبض کرنے، اور کفاروں کے ہاتھ سے نجات دینے کے لئے جائیں تو پھر آیت کی ترتیب اس طرح ہوگی کہ میں تجھے کفاروں کے درمیان سے صحیح سالم نکال کر آسمانوں پر لے جانے والا ہوں۔ رفع آسمانی کے وقت اور بعد از نزول کسی کافر کا ہاتھ تیرے جسم تک نہیں پہنچنے دوں گا اور تیرے متبعین کو مخالفین پر غالب رکھوں گا۔

چونکہ ان چاروں وعدوں میں دشمنوں سے نکالنا اور ان سے نجات دینا پہلا فعل تھا۔ اس لئے اس کو سب سے پہلے ذکر کیا ہے اور اگر توفی سے مدت حیات کا استیفاء بیان کرنا مقصود ہے تو انی متوفيك کے یہ معنی ہوں گے کہ تیری زندگی کی مقررہ مدت پوری کروں گا اور کافروں کے ہاتھوں سے قتل نہ ہونے دوں گا۔ اس میں حفاظت کا وعدہ کرتے ہوئے عمر کے تمام ایام کا احاطہ کر لیا گیا ہے۔ رفع، تطہیر، جعل یہ تینوں چیزیں زندگی کے جملہ ایام کو گھیرے ہوئے نہیں ہیں۔ بلکہ زندگی کے بعض حصہ میں واقع ہونے والی چیزیں ہیں۔ اس لئے توفی کا ان پر مقدم کرنا ضروری ہوا اور اگر توفی سے موت کے معنی مراد ہیں تو اس کے مقدم کرنے کی کئی وجہ ہیں ۔

توفی کو پہلے ذکر کیا ہے اور درمیان میں پیش آنے والے واقعات کو بعد میں جیسا کہ اس شعر میں ہے کہ:

قالوا خراس
ثم القفول فق

چونکہ منتہائے مسافت خراسان تھا۔ سفر کرنا اور وہاں پہنچنا بعد میں ذکر کیا۔

کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس لئے سب سے کہ یہودی تمہارے قتل پر کبھی قادر نہ ہوں گے او موت وارد کروں گا۔

موت ایک مدت کے بعد واقع ہونے والی تھی۔ ا کے بعد رکھ دیتے تو یہ وہم ہو جاتا کہ موت بھی رفع خلاف مقصود تھا۔ اس لئے توفی کو مقدم رکھا گیا۔

نصرانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بعینہ خدایا خدا کا وفاۃ کا ذکر کرنا بنسبت باقی امور کے زیادہ اہم تھا۔

غايته الفصاحة بدء اولا باخباره تعالى بانه لا تسلط عليه ولا توصل اليه ثم بشر بملائكة وعبادته فيها وطول عمره فى بتطهيره من الكفار فعم بذالك جميع زمـ الدنيا فهى بشارة عظيمة له انه مطهر من والرفع كل منها خاص بزمان بدئ بهمـ الازمان اخرعنهما ولما بشره بهذه البشار بشره برفعة اتباعه فوق كل كافر لتقر بـ لوصف من اعتلاء تابعيه على الكفار من الـ

صفحہ ٤٧
قالوا خراسان اقصیٰ یراد بنا
ثم القفول فقد جئنا خراسان

چونکہ منتہائے مسافت خراسان تھا۔ اس لئے اس کو پہلے بیان کر دیا اور خراسان کی طرف سفر کرنا اور وہاں پہنچنا بعد میں ذکر کیا۔

کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اس لئے سب سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ بتا دینا مناسب تھا کہ یہودی تمہارے قتل پر کبھی قادر نہ ہوں گے اور میں ہی تمہاری زندگی کے ایام پورے کر کے تم پر موت وارد کروں گا۔

موت ایک مدت کے بعد واقع ہونے والی تھی۔ لہذا اگر توفی کو مقدم بیان نہ کرتے اور مطہرک کے بعد رکھ دیتے تو یہ وہم ہو جاتا کہ موت بھی رفع اور تطہیر کی طرح آسمان پر متصلاً واقع ہو گی اور یہ خلاف مقصود تھا۔ اس لئے توفی کو مقدم رکھا گیا۔

نصرانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بعینہ خدا یا خدا کا بیٹا خیال کرتے تھے۔ چونکہ ان کے مقابلہ میں وفاۃ کا ذکر کرنا بنسبت باقی امور کے زیادہ اہم تھا۔ اس لئے اس کو پہلے بیان کیا گیا ہے۔

غایۃ الفصاحۃ بدء اولا باخبارہ تعالیٰ لعیسیٰ انہ متوفیہ فلیس للماکرین بہ تسلط علیہ ولا توصل الیہ ثم بشرہ ثانیاً برفعہ الی سمائہ وسکناہ مع ملائکتہ وعبادتہ فیھا وطول عمرہ فی عبادۃ ربہ ثم ثالثا بتطہیرہ من الکفار فعم بذالک جمیع زمانہ حین رفعہ وحین ینزلہ فی آخر الدنیا فھی بشارۃ عظیمۃ لہ انہ مطھر من الکفار اولاً وآخراً ولما کان التوفی والرفع کل منھا خاص بزمان بدئ بھما ولما کان التطھیر عاماً یشمل سائر الازمان اخرعنھما ولما بشرہ بھذہ البشائر الثلاث وھی اوصاف لہ فی نفسہ بشرہ برفعۃ اتباعہ فوق کل کافر لتقر بذالک عینہ ویسر قلبہ ولما کان ھذا الوصف من اعتلاء تابعیہ علی الکفار من اوصاف تابعیہ تأخر عن الاوصاف

صفحہ ٤٨

الثلاثة التى لنفسه اذا لبدأ بالاوصاف التى للنفس اهم"

(عقیدۃ الاسلام ص ٨٧ طبع دیوبند)

مطالبہ

جن میں تقدیم و تاخیر وقوعی موجود ہے کیا جواب ہے۔

متبعین کے غلبہ کی ابتداء شروع ہوئی۔

(دیکھو تفسیر ابوسعود ج ٢ ص ٤٣)

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تطہیر مرزا قادیانی کے خیال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو زنا کی تہمت سے بری اور پاک کرنا ہے جو خاتم الانبیاءﷺ کی زبان مبارک سے پانچ سو برس بعد کرائی گئی تھی۔ مگر اس صورت میں مطهرك من الذين كفروا ! اور جاعل الذين اتبعوا ! میں ترتیب باقی نہ رہے گی اور اگر تطہیر سے مراد سولی سے زندہ اتارنے کے ہیں تو تطہیر اور توفی میں ترتیب قائم نہیں رہتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام واقعہ صلیب سے تقریباً ستاسی برس بعد مرے ہیں۔ اس صورت میں تطہیر پہلے ہوئی اور توفی بعد میں۔ باوجود یہ کہ ذکر میں توفی مقدم ہے۔

س....... کیا احادیث صحیحہ اور اجماع امت کے علاوہ اس آیت میں کوئی اور قرینہ بھی پایا جاتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ توفی کے معنی فی الحال مارنے کے نہیں ہو سکتے۔

ج....... ہاں ! ایسے تین قرینے اس آیت میں موجود ہیں جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ رہنا ثابت ہوتا ہے:

"واذقال الله تعالى ظرف لخير الماكرين او مكرالله (كشاف ج ١ ص ٣٦٦)" "ظرف لمكر الله اولخير الماكرين اولاضمر مثل وقع ذالك"

(بیضاوی ج ١ ص ١٥٥ واللفظ له ومثله ابوالسعود ج ٢ ص ٤٢)

جب یہ جملہ پہلے جملہ کا ظرف زمان ہوا تو چونکہ جملہ سابقہ میں اللہ کی تدبیر یہودیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اہانت اور تذلیل سے بچانے اور یہودیوں کو ان کے ارادہ میں ناکام کرنے کے متعلق تھی۔ اس لئے توفی کے وہ معنی لینے پڑیں گے جس سے یہودیوں کی ناکامی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے اعداء کے مکر سے تخلیص کی بشارت ظاہر ہوتی ہو۔ یہ

صفحہ ٤٩

بات اسی صورت میں ہو سکتی ہے جبکہ ان کو دشمنوں کے ہاتھ سے بالکل بچا لیتے اور اس وقت موت وارد نہ کرنے کی خوشخبری سنائی گئی ہو۔ چنانچہ تفسیر رحمانی میں ہے کہ:

” اذ قال الله ياعيسى اعلاما بمكره بالا عداء وتخليصه عن مكرهم “ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے دشمنوں کے ساتھ تدبیر کرنے اور ان کو مخالفین کے مکر سے چھوڑانے کے متعلق خبر دینے کے واسطے یہ کلام کیا ہے۔

رفع کی بحث

علاوہ دوسرے معانی کے موت کے لئے بھی ہوتا ہے جو خلاف مقصود ہے ۔ اس لئے رافعك بڑھا دیا گیا۔ تاکہ یہ احتمال باقی نہ رہے اور توفی کے معنی زندہ آسمان پر اٹھا لینے کے متعین ہو جائیں۔

” ولما علم الله ان من الناس من يخطر بباله ان الذي رفعه اليه هو روحه لا جسده ذكر هذ الكلام ليدل على انه عليه الصلوة والسلام رفع بتمامه الى السماء بروحه وجسده ويدل على صحة هذا لتاويل قوله تعالى ومايضرونك من شئى “

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢)

اس تخصیص کی یہ وجہ ہے کہ لغت میں رفع کے معنی اٹھانے اور نیچے سے اوپر لے جانے کے ہیں۔ چنانچہ:

(منتهی الارب ج ٢ ص ١٣٥)

(تاج العروس ج ١١ ص ١٦٨)

ضد ہے اور وضع کے معنی صراح میں ”نہادن بہ جائے“ لکھے ہیں ۔ ایسے ہی خفض کے معنی پست اور نیچے اتارنے کے ہیں۔ ومنه خافضة رافعه ! یعنی: برمی دارد قومے را بسوئے جنت وفرو ، مید ارد قومے را در آتش!

(منتہی الارب ج ١ ص ٣٩٧)

اس لئے رفع کے معنی بالا ، برآوردن یا از جائے برداشتن ہوئے۔ لیکن اٹھانا کبھی جسم کا ہوتا ہے اور کبھی اعراض اور معانی کا۔ اس لئے رفع کا استعمال بھی دونوں طرح آیا ہے۔ جیسا کہ ذیل کی مثالوں سے ظاہر ہے:

(مشكوة ص ١٨٤)

صفحہ ٥٠

(مشکوٰۃ کتاب الجنائز ص ١٥٠)

الناس فينظرون وقيل اى رفع الماء منتهياً الى اقصى مد يده ليراه الناس"

(مجمع البحار ج ٢ ص ٣٥٧)

جلوساً"

(مجمع الزائد ج ٢ ص ٣٥٦)

(مشکوٰۃ ص ١٦٩)

یہ سب رفع جسمی کی مثالیں ہیں۔

وكلامهم اليه"

(مجمع البحار ج ٢ ص ٣٥٦)

(مسلم ج ١ ص ٩٩ باب ولقد رآه نزلة اخرى)

(فاطر : ١٠)

(كنز العمال ج ٣ ص ١١٣ حدیث نمبر ٥٧٣٦)

(كنز العمال ج ١٣ ص ٥١٢ حدیث نمبر ٣٧٣١)

ان تمام مثالوں میں نقل کلام، عرض عمل اور اس کی قبولیت اور رفع درجات وغیرہ اغراض ومعانی کے لئے لفظ رفع کا استعمال ہوا ہے۔ مگر جب رفع کا مفعول کوئی جسم ہو تو رفع جسمانی اور انتقال مکانی یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا لفظ رفع کے حقیقی اور وضعی معنی ہیں اور دوسرے معنوں میں اس کا استعمال مجازی طور پر ہوتا ہے۔

مصباح منیر میں ہے کہ: ”فالرفع فى اجسام حقيقة فى الحركة والانتقال وفى المعاني على مايقتضيه المقام“ ﴿رفع کے حقیقی معنی جسم میں حرکت اور انتقال کے ساتھ ہیں اور معانی میں اس کی حقیقی مراد بتقاضائے مقام ہے۔﴾

مسئلہ زیر بحث میں رافع کا مفعول مخاطب کی ضمیر ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع

صفحہ ٥١

ہورہی ہے۔ ظاہر ہے کہ عیسیٰ جسم مع الروح کا نام ہے۔ تنہا روح یا فقط جسم کو عیسیٰ نہیں کہتے۔ علاوہ ازیں جب متوفيك اور مطھرك میں ضمیر سے مجسم عیسیٰ مراد ہے تو رافعك میں بھی وہی مخاطب ہوں گے۔ محض عیسیٰ کی روح مراد نہیں ہو سکتی۔

چونکہ اجسام میں رفع کے حقیقی معنے نقل و حرکت اور ایک جگہ سے دوسری جگہ اٹھا لینے کے ہیں۔ رفع منزلہ اور رفع عمل وغیرہ دوسرے معانی مجاز ہیں اور حقیقت جب تک متعذر نہ ہو بلا قرینہ مجازی معنی مراد لینے جائز نہیں۔ اس لئے یہاں رفع سے رفع جسمانی ہی مراد ہوگا۔ رفع درجات وغیرہ نہیں ہو سکتے۔

البتہ اگر کوئی قرینہ مجاز کا موجود ہو اور حقیقی معنے مراد لینے متعذر ہو جائیں تو پھر اس کا استعمال معنے مجازی میں صحیح ہوگا، یا لفظ کا استعمال معنے حقیقی میں ہو مگر حقیقی اور مجازی معنوں میں لزوم ہونے کی وجہ سے ذہن معنے موضوع لہ ملزوم سے مجازی معنی لازم کی طرف منتقل ہو جائے اور اسی طرح حقیقی اور مجازی دونوں معنوں کا ارادہ کرلیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لہٰذا کسی صورت میں تنہا معنے مجازی مراد نہ ہوں گے۔ بلکہ معنے حقیقی بھی اس کے ساتھ ملحوظ رہیں گے اور اسی کا نام کنایۃ ہے۔ چنانچہ علامہ دسوقی کہتا ہے کہ:

” قيل انها لفظ مستعمل فى المعنى الحقيقى لينتقل منه الى المجازى وعلى هذا تكون داخله فى الحقيقة لان اراده المعنى الموضوع له باستعمال اللفظ فيه فى الحقيقة اعم من ان تكون وحدها كما فى الصريح اومع ارادة المعنى المجازى كما فى الكناية (عقيدة الاسلام ص٣٨) “

” وقال أيضاً فعلم من هذا ان المعنى الحقيقى يجوز ارادته للانتقال منه للمراد فى كل من الكناية والمجاز ويمتنع فيها اراده المعنى الحقيقى بحيث يكون هو المعنى المقصود واما ارادته مع لازمه على ان الغرض المقصود بالذات هو اللازم فهذا جائز فى الكناية دون المجاز وقال فى عروس الافراح فاذا قلت زيد كثير الرماد فالمراد كرمه ولا يمنع من ذالك ان تريد افادة كثرة الرماد حقيقة لتكون اردت بالا فادة اللازم والملزوم معاً “

(عقيدة الاسلام ص٣٨)

” ذكر اليعقوبى ظاهر عبارة السكاكى فى بعض المواضع على ان

صفحہ ٥٣

ارادة اللازم اصل واراده المعنى الحقيقى بتبعة ارادة اللازم “

(عقيدة الاسلام ص ٣٨)

”قال ابن الاثير فى المثل السائر والذى عندى فى ذالك ان الكناية اذا وردت تجاذبها جانبا حقيقة ومجاز وجاز حملها على الجانبين معاً الاترى ان اللمس فى قوله تعالى اولا مستم النساء يجوز حمله على الحقيقة والمجاز وكل منها يصح به المعنى ولا يختل“

(عقيدة الاسلام ص ٤٠)

”فى نهاية الايجاز (للرازى) ان الكناية عبارة عن ان تذكر لفظة وتفيد بمعناها معنى ثانيا وهو المقصود“

(عقيدة الاسلام ص ٤١)

”فى المطول الكناية لفظ اريد به لازم معناه مع جواز ارادته معه اى ارادة ذالك المعنى مع لازمه كلفظ طويل النجاد والمراد به لازم معناه اعنى طويل القامه مع جواز ان يراد حقيقة طول النجاد ايضاً فظهر انها تخالف المجاز من جهة اراده المعنى الحقيقى مع ارادة لازمه لارادة طول النجاد مع ارادة طول القامه بخلاف المجاز فانه لايصح فيه ان يراد المعنى الحقيقى “

غرض کنایہ میں لفظ کا استعمال اگر چہ اپنے اصلی معنی ہی میں ہوتا ہے۔ لیکن معنی حقیقی اور مجازی دونوں کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ مجاز کی طرح صرف معنی مجازی ہی مراد نہیں ہوتے۔ بلکہ حقیقی بھی ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر یہاں رفع سے بطور کنایہ رفع درجات کا ارادہ کیا گیا تو پھر بھی رفع جسمانی کا مراد لینا ضروری ہوگا اور رفع درجات کی وہی صورت لینی پڑے گی جو رفع جسمانی کے خلاف نہ ہو۔ مگر کنایہ میں معنے مجازی لفظ کا مدلول نہیں ہوتے۔ بلکہ کسی دلیل خارجی سے ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے معنی کنائی پر دلالت کرنے کے لئے مجاز کی طرح قرینہ کی احتیاج ہے۔

”قال الجرجانى فى دلائل الاعجاز المكنى عنه لايعلم من اللفظ بل من غيره الاترى ان كثير الرماد لم يعلم منه الكرم من اللفظ بل لانه كلام جاء عندهم فى المدح ولا معنى للمدح بكثرة الرماد! (عقيدة الاسلام ص ٣٨)“

”قال الزمخشرى ان الكناية ان تذكر الشئى بغير لفظة الموضوع له ...... قال ابن السبكى لاشك فى احتياج الكناية للقرينة الا ان تشهر الكلمة فى الكناية فتستغنى عن القرينة كالحقائق العرفية ولكنها ليست قرينة

تصرف الاستعمال الى غير الموضوع كما تـ الافادة“ چونکہ یہاں رفع جسمانی اور صعود آسمانی مراد رافعك سے بطور کنایہ رفع درجات کا ارادہ کر لیا جائے چھوڑ کر محض مجازی معنی مراد لینے میں مجاز کا کوئی قرینہ نہ ہو۔ ایسے قرینے پائے جاتے ہیں جن سے معنی مجازی کا ارادہ کـ ان قرائن کے چند قرینے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:

علیہ السلام کا مرنا اور ان کو یہودیوں کے ناپاک اثرات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھا لیا جائے گا۔ رفع روح یا ر ضمائر لازم آئے گا جو ناجائز ہے۔

الٰہی اور نبی ہونے کی وجہ سے حاصل ہے تو ایسی رفعت ان کـ ايدتك بروح القدس وغیرہ کی وجہ سے پہلے ہی حـ وعدہ کرنا بے محل تحصیل حاصل ہے۔ پھر اس میں حضرت ایسی رفعت اور بزرگی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے لـ عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب بنانا اور ان سے اس امر کا وعدہ کر کا رفع مراد ہے اور اگر شرف نبوت سے زیادہ رفع درجات صحیح نہیں۔ کیونکہ آیت : ”ورفع بعضهم درجات (البقرہ:٢٥٣)“ میں آتینا کا عطف رفع درجات پر کیا اس لئے جو کچھ عیسیٰ کو دیا گیا وہ رفع درجات کے علاوہ ہے

مراد ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کہتا ہے تو بلا فائدہ تکرار ا ہو جائے گی۔ کیونکہ ہر صالح اور نیک بخت کی موت ایسی بیان کرنا فضول اور لایعنی بات ہے۔

صفحہ ٥٣

تصرف الاستعمال الی غیر الموضوع کما تصرف المجاز بل تصرف قصد الافادۃ"

(عقیدۃ الاسلام ص ٣٩)

چونکہ یہاں رفع جسمانی اور صعود آسمانی رفع درجات کو مستلزم ہے۔ اس لئے اگر رافعک سے بطور کنایہ رفع درجات کا ارادہ کرلیا جائے تو چنداں مضائقہ نہیں۔ لیکن حقیقی معنی کو چھوڑ کر محض مجازی معنی مراد لینے میں مجاز کا کوئی قرینہ نہ ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں ہیں۔ بلکہ اس جگہ ایسے قرینے پائے جاتے ہیں جن سے معنی مجازی کا ارادہ کرنا بالکل ناجائز معلوم ہو رہا ہے۔ منجملہ ان قرائن کے چند قرینے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں:

علیہ السلام کا مرنا اور ان کو یہودیوں کے ناپاک الزامات سے بری کرنا مراد ہے تو رافعک میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اٹھانا لیا جائے گا۔ رفع روح یا رفع درجات مراد لینے سے بلاوجہ انتشار ضمائر لازم آئے گا جو ناجائز ہے۔

الٰہی اور نبی ہونے کی وجہ سے حاصل ہے تو ایسی رفعت ان کو سلام علیّ یوم ولدت ! اور ایدتک بروح القدس ! وغیرہ کی وجہ سے پہلے ہی حاصل ہے۔ وعدہ کی جگہ حاصل شدہ چیز کا وعدہ کرنا بے محل تحصیل حاصل ہے۔ پھر اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی خصوصیت نہیں۔ ایسی رفعت اور بزرگی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے لئے بھی حاصل ہے۔ خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مخاطب بنانا اور ان سے اس امر کا وعدہ کرنا بتا رہا ہے کہ اس رفع سے کسی خاص قسم کا رفع مراد ہے اور اگر شرفِ نبوت سے زیادہ رفع درجات عطا کرنے کا وعدہ کرنا مراد ہے تو وہ بھی صحیح نہیں۔ کیونکہ آیت : ”ورفع بعضہم درجات و آتینا عیسیٰ بن مریم البینات (البقرۃ:٢٥٣)“ میں آتینا کا عطف رفع درجات پر کیا گیا ہے اور عطف مغائرت کو چاہتا ہے۔ اس لئے جو کچھ عیسیٰ کو دیا گیا وہ رفع درجات کے علاوہ ہے۔

مراد ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کہتا ہے تو بلا فائدہ تکرار لازم آئے گا اور آیت فائدہ سے خالی ہو جائے گی۔ کیونکہ ہر صالح اور نیک بخت کی موت ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ اس کا بصورتِ وعدہ بیان کرنا فضول اور لایعنے بات ہے۔

صفحہ ٥٥

کے لئے پڑھی گئیں۔ ان کا عقیدہ تھا کہ سولی دیئے جانے کے بعد زندہ کر کے ان کو آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ اگر رفع آسمانی کا عقیدہ خلافِ واقعہ اور غلط تھا تو جہاں عقیدہ صلیب ، تثلیث پرستی اور ابنیت کی صاف لفظوں میں تردید کی گئی تھی وہاں اس عقیدہ کی اصلاح بھی کھلے لفظوں میں ہونی چاہئے تھی۔ مبہم الفاظ بیان کر کے ان کو اور مسلمانوں کو گمراہی میں کبھی نہ ڈالا جاتا۔

رہتا اور نہ یہودیوں کے مقابلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مخلصی ظاہر ہوتی ہے۔ باوجود یہ کہ آیت اسی غرض سے بیان کی گئی ہے۔

کی خبر دی گئی اور ان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ وجیہہ بتایا گیا ہے اور روح القدس سے ان کی تائید کی گئی تو پھر ملعونیت کے تردید کرنے کی کیا ضرورت رہی اور اگر قتل ہونا یا سولی دیا جانا ملعونیت ہے تو بہت سے سچے نبی یہودیوں کے ہاتھوں سے قتل کئے گئے ہیں۔ ان کے ملعون ہونے کی تردید بھی قرآن میں ہونی چاہئے تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے ساحر سولی دیئے جانے کی وجہ سے العیاذ باللہ ملعون ہونے چاہئیں؟۔

مطلق علم نہیں ہوا۔ لہٰذا اگر یہ وعدے یہودیوں کے خیال کی تردید کرنے کے لئے تھے تو ان کو اس کا علم نہ ہونے کی وجہ سے تردید سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مقبولیت کی اطلاع دینی مقصود تھی تو ان کو اپنے مقبول ہونے کا پہلے ہی علم تھا۔ اس لئے اسے ذکر کرنا بھی بے سود ہے۔

السلام زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے تو بدلالتِ اجماع، رفع سے رفعِ جسمانی ہی مراد ہوگا۔ کوئی اور معنے نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ عام مفسرین نے رفع سے، رفع جسمانی ہی مراد لیا ہے۔ چنانچہ تفسیر رحمانی میں علامہ صوفی علی مہائمیؒ نے لکھا ہے کہ: ”رافعك الى اى سمائى ومقر ملائكتى“

امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ : ”رافعك الى معناه انه يرفع الى مكان لايملك الحكم عليه فيه غير الله لان فى الارض قد يتولى الخلق انواع الاحكام

فاما السماوات فلا حاكم هناك فى الحقيقة

”رافعك ومطهرك من الذين كفر كثير ج ٢ ص ٤٠ ) “ جو کچھ ہم نے تفاسیر کے حوالہ۔۔ ہے۔

”عن ابن عباس ان الله رفعه بج الدنيا فيكون ملكاثم يموت كمايموت الناس

الى وهو كقوله تعالى اليه يصعد الكلم الطي بشره بقبول طاعته واعماله “ اور ج٢ ص تدل على ان رفعه فى قوله ورافعك لا بالمكان والجهته “ یعنی اس آیت سے جو درجات کی ترقی اور عزت کا رفع مراد ہے۔ رفع مکا والا مراد نہیں۔

معنے بیان کئے ہیں تو رفع جسمانی کی توجیہہ بھی تو ذکر دوسرے معنے کی تردید یا نفی لازم نہیں آتی۔ پھر یہ حو ہوسکتا ہے جبکہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ امام کی رائے کے نزدیک توفی کے معنے مرنے کے ہیں اور وہ دوبارہ درجہ کی بلندی بغیر موت کے حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس ۔ ضروری ہیں۔ مگر یہ دونوں باتیں خلافِ واقعہ اور غلط درجات اور قبولیت عمل بھی ان کو حاصل ہو۔ اس سے موت ثابت نہیں ہوتی۔

امام رازیؒ بھی رفع درجات وغیرہ کے بجا طرح بذریعہ موت درجہ کی رفعت اور بلندی نہیں مانتے چونکہ ایسے معنی مجازی مقصود اصلی یعنی تخلیہ

صفحہ ٥٥

فاما السماوات فلا حاكم هناك فى الحقيقة وفى الظاهر الا الله“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٣)

”رافعك ومطهرك من الذين كفروا اى برفعى اياك الى السماء (ابن كثير ج ٢ ص ٤٠ )“ جو کچھ ہم نے تفاسیر کے حوالہ سے لکھا ہے وہی حضرت ابن عباسؓ سے منقول ہے۔

”عن ابن عباس ان الله رفعه بجسده وانه حيى الان وسيرجع الى الدنيا فيكون ملكا ثم يموت كما يموت الناس (طبقات ابن سعد ج ١ ص ٤٥ )“

س ...... (تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٥٨) میں ہے کہ : ”ورافعك الى اى رافع عملك الى وهو كقوله تعالى اليه يصعد الكلم الطيب والمراد من هذه الآية انه تعالى بشره بقبول طاعته واعماله“ اور ج ٢ ص ٤٥٤ میں ہے کہ : ”واعلم ان هذه الآية تدل على ان رفعه فى قوله ورافعك الى هو الرفعة بالدرجة والمنقبة لا بالمكان والجهة “ یعنی اس آیت سے جو مسیح علیہ السلام کا رفع ثابت ہوتا ہے اس سے درجات کی ترقی اور عزت کا رفع مراد ہے۔ رفع مکانی (جیسا کہ غیر احمدی مانتے ہیں) اور جہت والا مراد نہیں۔

(احمدیہ پاکٹ بک)

ج ...... اگر امام رازیؒ نے اس لفظ کی توجیہہ میں قبولیت عمل اور رفع درجات کے معنے بیان کئے ہیں تو رفع جسمانی کی توجیہہ بھی تو ذکر کی ہے۔ ایک توجیہہ کے بیان کرنے سے دوسرے معنے کی تردید یا نفی لازم نہیں آتی۔ پھر یہ حوالہ مرزا قادیانی کے حق میں اس وقت مفید ہو سکتا ہے جبکہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ امام کی رائے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام مردہ ہیں اور ان کے نزدیک توفی کے معنے مرنے کے ہیں اور وہ دوبارہ زندہ ہونے کے قائل نہیں یا فوقیت مرتبہ اور درجہ کی بلندی بغیر موت کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس لئے رفع درجہ سے موت کے معنے اخذ کرنے ضروری ہیں۔ مگر یہ دونوں باتیں خلافِ واقع اور غلط ہیں۔ جائز ہے کہ وہ زندہ بھی ہوں اور رفع درجات اور قبولیت عمل بھی ان کو حاصل ہو۔ اس سے موجودہ وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت ثابت نہیں ہوتی۔

امام رازیؒ بھی رفع درجات وغیرہ کے بحالت حیات ہی قائل ہیں۔ مرزا قادیانی کی طرح بذریعہ موت درجہ کی رفعت اور بلندی نہیں مانتے۔

چونکہ ایسے معنی مجازی مقصود اصلی یعنی تخلیص اور دشمنوں سے نجات دلانے اور زندہ

صفحہ ٥٦

اٹھالینے کے منافی نہیں ہیں۔ اس لئے اگر یہ معنے بھی لے لئے جائیں تو چنداں حرج نہیں ہے۔ اور مگر اللہ کے ساتھ تعلق صحیح رہے گا اور امام صاحب کا یہ فرمانا کہ آیت رفعت اور فوقیت پر دلالت کرتی ہے جہت اور مکان پر نہیں کرتی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اس توجیہہ میں رفع منزلت اور فوقیت مرتبہ ہی مراد ہو گی۔ رفع مکانی مراد نہیں ہو گا۔ اس عبارت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ جو کچھ رفع جسمانی کے متعلق ہم پہلے لکھ آئے ہیں وہ غلط ہے۔ اس آیت میں سوائے رفع درجہ کے کسی اور قسم کا رفع مراد لینا درست نہیں ہے۔

س....... تفسیر جامع البیان ص ٥٢ میں ہے کہ رافعك الی ای الی محل کرامتی یعنی اپنی عزت کے مقام کی طرف رفع کرنے والا ہوں۔ گویا جنت میں داخل کروں گا۔ بفرمودہ: ”ياايتهاالنفس المطمئنة ٠ ارجعی الی ربک راضية مرضية“

(الفجر: ٢٧، ٢٨)

(تفسیر روح البیان ج ١ ص ٣٣١) میں ہے ’رافعك الی ای الی محل کرامتی ومقر ملائکتی وجعل ذالك رفعاً اليه للتعظيم مثله قوله انی ذاهب الی ربی وانما ذهب ابراهيم عليه السلام من العراق الى الشام“ یعنی اللہ تعالیٰ کا اپنی طرف منسوب کرنا صرف تعظیم کے لئے ہے۔ جیسا کہ اس قول میں ہے: انی ذاهب! حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق سے شام کی طرف گئے تھے۔

(احمدیہ پاکٹ بک)

ج....... ان دونوں عبارتوں کے نقل کرنے سے مرزائی جماعت کا یہ مطلب ہے کہ محل کرامت سے عزت اور شرافت کا درجہ مراد ہے۔ فلک یا آسمان مراد نہیں ہے۔ مگر ان کا یہ خیال سراسر غلط اور لغو ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رفع کی نسبت اپنی طرف کی ہے۔ جس سے خدا کے واسطے مکانیت سمجھی جاتی تھی۔

چونکہ خدا کے لئے کوئی جہت یا مکان مقرر نہیں ہے۔ جس کی طرف کسی شئی کا رفع جسمانی ممکن ہو۔ اس لئے مفسرین نے اس شبہ کا ازالہ کرنے کے لئے الی سے الی محل کرامتی اور مقر ملائکتی مراد لیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ فرشتوں کے رہنے کی جگہ آسمان ہے۔ اس لئے محل کرامت سے بھی وہ ہی مراد ہے۔

اب ایک شبہ اور تھا۔ وہ یہ کہ جب رفع الی اللہ سے رفع الی محل کرامت اللہ مراد ہے تو رافعک الی محل کرامتی یا مقر ملائکتی کیوں نہیں کہا۔ رافعک الی کہہ کر رفع کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کس لئے کی ہے۔ اس شبہ کا مفسرین نے یہ جواب دیا ہے کہ رفع کی نسبت اپنی طرف اللہ

صفحہ ٥٧

ہیں ۔ اس لئے اگر یہ معنے بھی لے لئے جائیں تو چنداں حرج نہیں ہے اور درجے کا اور امام صاحب کا یہ فرمانا کہ آیت رفعت اور فوقیت پر دلالت کرتی نہ کرتی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ اس توجیہہ میں رفع منزلت اور فوقیت مرتبہ مراد نہیں ہوگا۔ اس عبارت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں ہے کہ جو کچھ رفع جسمانی گئے ہیں وہ غلط ہے۔ اس آیت میں سوائے رفع درجہ کے کسی اور قسم کا رفع

تفسیر جامع البیان ص ٥٢ میں ہے کہ رافعك الى اى الى محل مت کے مقام کی طرف رفع کرنے والا ہوں ۔ گویا جنت میں داخل کروں گا۔ س المطمئنة ، ارجعى الى ربك راضية مرضية “

(الفجر : ٢٧ ، ٢٨)

بیان ج١ص ٣٣١) میں ہے ”رافعك الى اى الى محل كرامتی وجعل ذالك رفعاً اليه للتعظيم مثله قوله انی ذاهب الى ربی م عليه السلام من العراق الى الشام“ یعنی اللہ تعالیٰ کا اپنی طرف کے لئے ہے۔ جیسا کہ اس قول میں ہے 'ما ذھب ! حالانکہ حضرت ابراہیم ام کی طرف گئے تھے۔

(احمدیہ پاکٹ بک)

ان دونوں عبارتوں کے نقل کرنے سے مرزائی جماعت کا یہ مطلب ہے کہ اور شرافت کا درجہ مراد ہے۔ فلک یا آسمان مراد نہیں ہے۔ مگر ان کا یہ خیال وجہ اس کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رفع کی نسبت اپنی طرف کی واسطے مکانیت سمجھی جاتی تھی۔ کے لئے کوئی جہت یا مکان مقرر نہیں ہے۔ جس کی طرف کسی شئی کا رفع لئے مفسرین نے اس شبہ کا ازالہ کرنے کے لئے الی سے الی محل طہ مکانی مراد لیا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ فرشتوں کے رہنے کی جگہ آسمان ہے۔ تک بھی وہ ہی مراد ہے۔ ہوا اور تھا۔ وہ یہ کہ جب رفع الی اللہ سے رفع الی محل كرامة الله مراد کرامتی یا مقر ملائکتی کیوں نہیں کہا۔ رافعک الی کہہ کر رفع کی نسبت اللہ نے ہے۔ اس شبہ کا مفسرین نے یہ جواب دیا ہے کہ رفع کی نسبت اپنی طرف اللہ

تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عظمت اور بزرگی ظاہر کرنے کے لئے کی ہے۔ جس طرح مسجد کو خانہ خدا یا کعبہ کو بیت اللہ اور مکہ کے رہنے والوں کو جیران اللہ، شرافت اور تعظیم کی غرض سے کہتے ہیں یا جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک شام کی طرف سفر کرنے کو اني ذاهب الی ربی کہہ کر اپنا رجوع الی اللہ ہونا ظاہر کیا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی شرافت اور تعظیم شان کے لئے رفع کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کر دی ہے۔ اس عبارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جس طرح انی ذاهب الی ربی سے شام کی طرف جانا مراد ہے۔ اسی طرح رافعك الی سے جنت کی طرف لے جانا مراد ہے۔ معلوم نہیں کہ جنت کی طرف لے جانے کی خصوصیت کہاں سے لگا دی۔ کیا کسی کو لے جانا جنت کے علاوہ دوسری جگہ نہیں ہو سکتا جو يا ايتها النفس ! کا تائیداً پیش کرنا فائدہ مند ہو سکے۔ پھر انی ذهب الی ربی کی تشبیہ سے یہ معنے کیوں نہیں لئے جاتے کہ جس طرح ذاهب الی ربی سے ملک شام مراد ہے اسی طرح رافعك الی سے رفع الی السماء مراد ہے۔ بعینہ خدا کی طرف جانا اور اس کی طرف اٹھانا دونوں جگہ مراد نہیں۔ علاوہ ازیں جب مرزائیوں کے نزدیک فی الحال جنت کا وجود ہی نہیں ہے تو اس کی طرف رجوع کرنے کے کیا معنی ہیں؟۔ امام رازیؒ اس تفسیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

”وقد دللنافى المواضع الكثيره من هذا الكتاب بالدلائل القاطعة على انه يمتنع كونه تعالى فى المكان فوجب حمل اللفظ على التاويل ، وهو من وجوه الاول ان المراد الى محل كرامتى وجعل ذالك رفعا اليه للتفخيم والتعظيم ومثله قوله تعالى انى ذاهب الى ربى وانما ذهب ابراهيم عليه السلام من العراق الى الشام وقد يقول السلطان ارفعوا هذا الامر الى القاضى وقد يسمى الحجاج زوار الله ويسمى المجاورون جيران الله والمراد من كل ذالك التفخيم والتعظيم فكذا ههنا“

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٣)

س ...... مرزا قادیانی نے رافعك الی کا ترجمہ عزت کے ساتھ اٹھانے والا کر کے عزت کی موت مراد لی ہے اور ازالہ اوہام میں روح کا رفع کرنا لکھا ہے۔ کیا اس کا ثبوت کسی کتاب سے ملتا ہے۔

ج ...... ہرگز نہیں۔ عزت کے ساتھ اٹھا لینے سے موت مراد لینی یا رفع کے معنے روح کرنے لغت کی کسی کتاب سے ثابت نہیں اور نہ عربی زبان کے محاورہ میں اٹھانے کے معنے موت کے آئے ہیں اردو کا محاورہ عربی پر چسپاں کرنا سخت جہالت اور دیدہ دلیری ہے۔ قرآن

صفحہ ٥٨

شریف میں بھی اس کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے۔ یہ محض مرزا قادیانی کی من گھڑت اور ان کا تصرف فی اللغۃ ہے۔ اس کے علاوہ رفع جسمانی اور اعزاز میں منافاۃ نہیں ہے۔ دونوں زندگی کی حالت میں جمع ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ رفع ابویہ علی العرش میں ہے۔ یعنی حضرت یوسف علیہ السلام نے (عزت کے ساتھ ) اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔

توفی سے رفع الی السماء مراد لینے کا دوسرا قرینہ ” و مطهرك من الذين كفروا “ ہے۔ وہ اس لئے کہ تطہیر کے معنی لغت میں پاک کرنے کے ہیں۔ چونکہ کفار خبث باطنی کی وجہ سے بعینہ نجاست قرار دیئے گئے ہیں۔ جیسا کہ آیت ” انما المشرکون نجس (توبہ:٢٨)“ سے ظاہر ہے۔ اس لئے ان سے نجات دینے اور چھڑا لینے کو تطہیر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لہٰذا تطہیر کا لفظ تخلیص اور انجاء کے لئے بطور استعارہ استعمال کرنا اس وقت صحیح ہو سکتا ہے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم اطہر تک کفاروں کا ناپاک ہاتھ نہ پہنچنا تسلیم کریں اور ان کا صحیح سالم آسمانوں پر مرفوع ہونا مان لیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین تطہیر کو دشمنوں سے تخلیص اور انجاء کا وعدہ قرار دیتے ہوئے اس سے رفع جسمانی کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ:

” ومطهرك من الذين كفروا اى برفعى اياك الى السماء“

(ابن کثیر ج٢ ص ٤٠)

” عن ابن عباسؓ ان رهطا من اليهود سبوه وامه فدعا عليهم نسخهم قردة وخنازير فاجتمعت اليهود على قتله فاخبره الله بانه يرفع الى السماء ويطهره من صحبة اليهود اخرجه النسائى وغيره“

(السراج المنير)

”وانما ارفعك لانى مطهرك من جوار الذين كفروا لئلا يصل اليك من آثارهم“

(تفسیر رحمانی)

غرض تطہیر سے عام مفسرین کے نزدیک دشمنوں سے ان کو بچانا اور ان کے ناپاک ہاتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم مبارک تک نہ پہنچنے دینا ہی مراد ہے۔ اسی وجہ سے سورہ المائدہ میں احسانات کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ”اذ كففت بنى اسرائيل عنك “ کو ذکر فرمایا ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھانا اور ان کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھنا اور ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھوکنا اور پسلی میں تیر مارنا واقع ہوا ہوتا جیسا کہ مرزا علیہ ماعلیہ کہتا ہے تو اس ذلت اور رسوائی کے باوجود اس کو کبھی تطہیر اور کف سے کبھی تعبیر نہ کیا جاتا اور نہ موضع امتنان میں اس کا ذکر کرنا مناسب ہوتا۔

صفحہ ٥٩

ہادت موجود نہیں ہے۔ یہ محض مرزا قادیانی کی من گھڑت اور ان کا علاوہ رفع جسمانی اور اعزاز میں منافاۃ نہیں ہے۔ دونوں زندگی کی جیسا کہ رفع ابویه علی العرش میں ہے۔ یعنی حضرت یوسف نے) اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔

السماء مراد لینے کا دوسرا قرینہ ” ومطهرك من الذين كفروا “ عنی لغت میں پاک کرنے کے ہیں۔ چونکہ کفار خباثت باطنی کی وجہ سے ہیں۔ جیسا کہ آیت انما المشركون نجس (توبہ : ٢٨) سے نجات دینے اور چھڑا لینے کو تطہیر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لہذا تطہیر کا لفظ استعارہ استعمال کرنا اسی وقت صحیح ہوسکتا ہے جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ وں کا ناپاک ہاتھ نہ پہنچنا تسلیم کریں اور ان کا صحیح سالم آسمانوں پر یہ ہے کہ بعض مفسرین تطہیر کو دشمنوں سے تخلیص اور انجاء کا وعدہ قرار سمانی کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ: من الذين كفروا اى برفعى اياك الى السماء“

(ابن كثير ج ٢ ص ٤٠ )

عباس ان رهطاً من اليهود سبوه وامه فدعا عليهم فاجتمعت اليهود على قتله فاخبره الله بانه يرفع الى حبة اليهود اخرجه النسائى وغيره“

(السراج المنير)

مك لاني مطهرك من جوار الذين كفروا لئلا يصل اليك

(تفسیر رحمانی)

تمام مفسرین کے نزدیک دشمنوں سے ان کو بچانا اور ان کے ناپاک ہاتھ جسم مبارک تک نہ پہنچنے دینا ہی مراد ہے۔ اسی وجہ سے سورہ المائدہ میں تعالیٰ نے اذ كففت بنى اسرائيل عنك “ کو ذکر فرمایا ہے۔ اگر سولی پر چڑھانا اور ان کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھنا اور ہاتھ پاؤں میں یخیں مارنا واقع ہوا ہوتا جیسا کہ مرزا علیہ ماعلیہ کہتا ہے تو اس ذلت اور رسوائی اور کف سے کبھی تعبیر نہ کیا جاتا اور نہ موضع امتنان میں اس کا ذکر کرنا

پھر قرینہ حالیہ بھی اس امر کا مقتضی ہے کہ یہاں تطہیر سے مراد دشمنوں کے مکر سے بچالینا ہے۔ کیونکہ یہ وعدہ اس وقت کیا گیا جبکہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے اور ان کی اہانت اور تذلیل کی کوشش کر رہے تھے۔ اگر بخیال مرزا قادیانی اسی حالت میں یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پکڑنے اور ان کے تذلیل کرنے اور اپنے خیال میں ان کو قتل کرنے اور مارنے میں کامیاب ہو گئے تھے تو کف اور تطہیر کے وعدے کی کوئی اصلیت باقی نہیں رہتی اور یہودیوں کا مکر تدبیر الٰہی کے مقابلہ میں غالب ماننا پڑے گا۔ یہ بات کسی کافر کے منہ سے نکل سکتی ہے مسلمان ایسا کہنے کی کبھی جرأت نہیں کر سکتا۔

س ...... اگر تطہیر سے مراد اس جگہ ان الزامات سے بری کرنا لے لیا جائے جو آپ کی والدہ ماجدہ پر یہودیوں کی طرف سے لگائے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے قرآن میں اس سے بری ہونا ظاہر کیا گیا ہے تو کیا حرج ہے۔

ج ...... رسول اللہ ﷺ کی معرفت مستقل طور پر حضرت مریم کی برأت ذکر نہیں کی گئی۔ بلکہ جو برأت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی شیر خوارگی کی حالت میں کرائی گئی تھی انہیں کلمات کو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے قرآن میں ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن عزیز ناقل اور اس کی تصدیق کرنے والا ہے۔ بری کرنے والے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں۔

چونکہ یہ برأت مہد اور گہوارہ میں زمانہ نبوت سے بہت پہلے لڑکپن میں ہو چکی تھی۔ اس لئے مطهرك کا وعدہ جو نبوت کے بعد رفع آسمانی کے قریب ہوا ہے کبھی برأت کا وعدہ نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ پانچ سو برس تک تو ان کو مورد الزام بنائے رکھا اور زنا کی تہمت سے ان کو بری نہ کیا اور جب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو قرآن کریم میں ان کی برأت ذکر فرمادی جس کو یہودی خدا کی کتاب تسلیم نہیں کرتے ۔ مصرعہ:

بریں عقل و دانش بباید گریست

آیت نمبر ٦ ....... ” وما قتلوه وماصلبوه ولكن شبه لهم (النساء: ١٥٧)“

تحقیق لغوی و نحوی

التشبیہ ایک کو دوسری کے ساتھ تشبیہ دینا ” شبهته اياه وشبهه تشبیها مانند او كرد اند“ (منتهی الارب ج ٢ ص ٣٢٠) اور بمعنی اشتباہ یعنی ” پوشیده شدن کا رو مانند آن “ (منتهی الارب ج ٢ ص ٣٢٠) ”منه امور مشتبه کارھائے مشکل“

(منتهی الارب ج ٢ ص ٣٢٠)

صفحہ ٦٠

"الفتنة تشبه مقبلة وتبين مدبرة اى انها اذا اقبلت شبهت على القوم وارتهم انهم على الحق حتى يدخلوا فيها ويركبوا منها مالايجوز فاذا ادبرت وانقضت بان امرها فعلم من دخل فيها انه كان على الخطاء"

(مجمع البحار ج٣ ص١٧٦)

"(فى الحديث) بينهما مشتبهات روى من التفعيل والافتعال شبهت بغيرها ممالم تبين به حكمها على التعيين والتبست من وجهين لايعلم حكمها كثير من الناس انه حرام وحلال"

(مجمع البحار ج٣ ص١٧٧)

"شبه عليهم بضم شين وكسر موحدة اى اشتبه عليهم"

(مجمع البحار ج٣ ص١٧٨)

"شبه عليه الامر مجهولا مشکل شد بروے کار"

(منتهی الارب ج٢ ص٣٢٠)

لکن ! لکن مخفف حرف عطف ہے۔ مگر لکن مشدد کی طرح استدراک کا فائدہ بھی دیتا ہے۔ مفرد پر داخل ہو کر عطف مفرد علی المفرد کے لئے اور جملہ پر عطف جملہ علی الجملہ کے واسطے آتا ہے۔ دونوں صورتوں میں نفی بغیر کبھی مستعمل نہیں ہوتا۔ البتہ مفرد میں معطوف علیہ ہمیشہ منفی ہوتا ہے اور عطف جملہ میں معطوف اور معطوف علیہ میں سے ایک جملہ کا منفیہ ہونا ضروری ہے۔ چونکہ معطوف اور معطوف علیہ میں تعلق اور ارتباط کا ہونا لازمی ہے۔ اس لئے جس حکم کی ایک جملہ میں نفی کی جائے گی دوسرے میں اس کا ثبوت ضروری ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک حکم میں نفی اور اثبات کے درمیان واقع ہوا کرتا ہے:

"فان كانت لعطف المفرد على المفرد فهی نقيضة لافتكون لايجاب ماانتفی عن الاول فتكون لازمه لنفى الحكم عن الاول نحوما قام زيد لكن عمرو اى قام عمرو وان كانت لعطف الجملة على الجملة فهى نظيرة بل فى مجيئها بعد النفى والاثبات فبعد النفى لاثبات مابعدها وبعد الاثبات لنفى مابعدها نحو جاءنی زيد لكن عمرو ولم يجئ وماجاءنی زيد لكن عمرو قد جأنى فعلى كل تقدير غير مستعملة بدون النفى"

(شرح جامی)

علامہ عبدالحلیم فتكون لا یجاب کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "لاثبات ماانتفی عن المتبوع مع الاستدراک"

(تکملہ عبد الغفور ص ٥٤٧)

صفحہ ٦١

معلوم ہوا کہ عطف مفرد میں جس حکم کی متبوع اور معطوف علیہ سے نفی کی جائے گی اسی کا تابع اور معطوف کے لئے ثابت کرنا ضروری ہے اور عطف جملہ میں اگرچہ معطوف علیہ کا منفی ہونا لازمی نہیں ہے۔ لیکن جملتین میں ایک ہی حکم پر نفی اور اثبات کا واقع ہونا ضروری ہے۔ اور کبھی لکن پر واؤ داخل کر دیا جاتا ہے۔ شارح رضی کے خیال میں ایسا واؤ عطف کے لئے نہیں ہوتا۔ بلکہ اعتراضیہ کہلاتا ہے:

”(قال عبدالحكيم في التكمله) لعل وجهه ان الواؤ العاطفة للجمع وليس مقصود المتكلم لجاء زيد ولكن عمرو لم يجى افادة ان الحكمين المتغائرين متحققان في نفس الامر فان المفيد لذالك جاء زيد ولم يجى عمرو بل مجرد رفع التوهم الناشي من الكلام السابق وهو لاتمام الاول فيكون للاعتراض“

اور بعض نحویوں نے واؤ کو عطف مفرد میں زائد لازم اور غیر لازم کہا ہے اور بعض کے نزدیک واؤ عطف مفرد علی المفرد یا عطف جملہ علی الجملہ کے لئے اور لکن محض استدراک کا فائدہ دیتا ہے۔ لیکن عطف جملہ میں جملہ معطوفہ کا صدر محذوف ہے اور معطوف علیہ میں مذکور:

”اختلف في نحوما قام زيد لكن عمرو على اربعة اقوال احدها ليونس ان لكن غير عاطفة والواؤ عاطفة مفرداً على المفرد. والثانى لابن مالك ان لكن غير العاطفة والواؤ عاطفة جملة حذف بعضها على جملة صرح بجميعها قال فالتقدير في نحوماقام زيد ولكن عمرو ولكن قام عمرو والثالث لابن عصفور ان لكن عاطفة والواؤ زائده لازمه والرابع لابن كيان ان لكن عاطفة والواو زائده غير لازمه“

(حاشیه جمال)

یہ اختلاف واؤ کے ساتھ لکن کے عاطفہ اور غیر عاطفہ ہونے کے متعلق اس وقت ہے جبکہ لکن مفرد پر داخل ہو اور اگر وہ جملہ پر آجائے تو پھر لکن عاطفہ ہی ہوگا۔ ابتدائیہ وغیرہ نہیں ہوگا۔

ان لكن الداخل على الجملة عاطفه وهو مختار الزمخشرى فلايحسن الوقف على ماقبلها.

(تکملہ عبد الغفور)

استدلال

اب اگر شبہ ماضی مجہول کے معنے تشبیہ دیا گیا اور شبیہ اور ہمشکل بنایا گیا کریں تو لکن عطف مفرد کے لئے اور کلام سابق سے اس وہم کو دور کرنے کے واسطے ہوگا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ ٦٢

السلام مقتول یا مصلوب نہیں ہوئے تو یہود ونصاریٰ ان کے سولی پر مرنے اور بذریعہ صلیب قتل ہونے پر کیوں متفق ہیں۔

چونکہ عطف مفرد میں جس حکم کی متبوع یعنی معطوف علیہ میں نفی کی جائے گی اسی کا اثبات تابع اور معطوف میں ضروری ہے۔ اس لئے شبہ لہم کا عطف وماقتلوه وماصلبوه کی ضمیر مفعول پر ہوگا۔ تاکہ عطف مفرد علی المفرد بن سکے اور جو حکم متبوع یعنی ضمیر غائب سے منفی کیا گیا ہے۔ وہی شبہ کی ضمیر کے واسطے ثابت کیا جائے گا۔ مگر شبہ فعل ہے اور فعل کا عطف ضمیر پر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے لفظ من نکال کر شبہ اس کا صلہ بنا دیا جائے گا اور وہی ضمیر غائب پر معطوف بھی ہوگا۔ اس صورت میں عبارت کی تقدیر اس طرح ہوگی۔ وماقتلوه وماصلبوه ولكن قتلوه وصلبوه من شبه لهم !

چنانچہ تفسیر رحمانی میں اس کی یہی تقدیر نکالی ہے۔ ولکن قتلوه وصلبوا من القى عليه شبه یعنی حضرت عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ ان کو سولی دی گئی۔ بلکہ ان کی ایک شبیہ کو سولی دے کر مارا گیا۔

(مدارک ج١ ص٢٠٣ اور کشاف ج١ ص٥٨٧) میں ہے۔ ولکن شبه لهم من قتلوه ! اس صورت میں عطف بھی صحیح ہو گیا اور پیدا شدہ وہم بھی جاتا رہا۔

اگر چہ من کا مرجع یا شبہ کی ضمیر مقتول کی طرف راجع ہونے والے لفظوں میں موجود نہیں ہے۔ لیکن جب لکن سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور سولی دیئے جانے کی نفی کی گئی تو بقاعدہ لکن ضروری ہوا کہ سولی پر مرنا حضرت عیسیٰ کے علاوہ غیر کے لئے ضرور ثابت ہو۔ ورنہ لکن کا لانا صحیح نہیں رہے گا۔ اس لئے مقتول اگر چہ لفظاً موجود نہیں ہے۔ لیکن تقدیراً ضرور پایا جاتا ہے۔

”ان يسند الى ضمير المقتول لان قوله وماقتلوه يدل على انه وقع القتل على غيره فصار ذالك الغير مذكورا بهذا الطريق فحسن اسناد شبه اليه“

(تفسير كبير ج١١ ص٩٩)

دوسرے ”انا قتلنا“ میں یہودیوں نے قتل کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل نہیں کئے گئے تو ضرور وہاں کوئی ایسا آدمی ہوگا جس پر فعل قتل وارد ہوا ہے۔ اور وہی مقتول ہے۔

”او الى ضمير المقتول لدلالة انا قتلنا على ان ثم مقتولاً“

(ابوالسعود ج٢ ص٢٥١ والبيضاوي ج١ ص٢١٥)

صفحہ ٦٣

لہٰذا قتل ہونا یا سولی دیا جانا غیر کے واسطے ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ قتل ہوئے اور نہ سولی دیئے گئے۔ بلکہ عزت کے ساتھ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ وہو المقصود!

اگر شبہ کو تشبیہ بمعنے اشتباہ سے لیں اور اس کے معنے مشتبہ یا پوشیدہ کیا گیا کریں تو پھر شبہ کی اسناد جار مجرور یعنی لہم کی طرف ہوگی ۔ جس طرح خیل الیہ یا ذہب بہ میں الیہ اور بہ نائب فاعل ہیں اور ان کے معنے وقع علیہ الخیال یا وقع علیہ الذہاب ہیں ۔ ایسے ہی شبہ لہم کے معنے وقع لہم التشبیہ والاشتباہ کے ہوں گے اور لکن عطف جملہ علی الجملہ کے لئے ہوگا۔ چونکہ لہم کی ضمیر سولی دینے والے یہودی اور جن کو بعد میں خبر دی گئی اور وہ سولی دیئے جانے کے وقت قتل گاہ میں موجود نہ تھے۔ دونوں مراد لئے جاسکتے ہیں ۔ اس لئے پہلی صورت میں وہ معنے مراد ہوں گے جو علامہ ابن تیمیہ نے بیان کئے ہیں: ”و منهم من يقول بل اشتبه على الذين صلبوه وهذا قول اكثر الناس (الجواب الصحيح ج ١ ص ٣١٣)“ اور یہی مطلب ہے ابوالسعود اور بیضاوی کی اس عبارت کا۔ كانه قيل ولكن وقع لهم التشبيه بين عيسى عليه السلام والمقتول، لفظ لکن کی رعایت کرتے ہوئے اس کی وہ تقدیر ہوگی جو تفسیر جامع البیان میں ذکر کی گئی ہے : ”اى لكن وقع لهم التشبيه بين عيسى والمقتول فقتلوا شابا من انصاره حسبوه عيسى“

اور اگر لہم کی ضمیر سے وہ لوگ مراد ہیں جن کو قتل کی خبر دی گئی تو پھر شبہ لہم کے یہ معنے ہیں: ”ای شبه للناس الذين اخبرهم اولئك بصلبه (الجواب الصحيح ج ١ ص ٣١٣)“ یعنی سولی کسی اور شخص کو دی اور لوگوں میں حضرت عیسیٰ کا قتل کرنا غلط مشہور کر دیا جس سے سننے والوں کو حقیقت حال کی خبر نہ ہو سکی ۔ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ : ” فمن الناس من يقول انهم علموا ان المصلوب غيره وتعمدوا الكذب فى انهم صلبوه وشبه صلبه على من اخبر وهم“ (الجواب الصحيح ج ١ ص ٣١٣ و هذا قول ابن الحزم ذكره فى الملل والنحل)

لہٰذا برعایت لکن یہ معنے کئے جائیں گے: ”شبه على الناس بصلب عيسى وقد صلبوا غیره “ یا یہ مطلب ہے کہ قتل کوئی بھی نہیں کیا گیا۔ لیکن لوگوں میں قتل عیسیٰ کے متعلق غلط اور جھوٹی شہرت کی گئی ۔ اس لئے سامعین پر امر قتل پوشیدہ اور مشتبہ رہے گا ۔ حقیقت حال سے پوری واقفیت نہ ہو سکی ۔ یہ معنے ابو السعود اور بیضاوی نے فی الامر یعنی وقع لہم التشبیہ فی امر القتل سے ظاہر کئے ہیں ۔ یہ توجیہہ ان لوگوں کے خیال میں ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مصلوب یا

صفحہ ٦٤

مقتول کوئی شخص نہیں ہوا۔ یہودیوں نے محض اپنی خفت اور شرمندگی دور کرنے کے لئے لوگوں میں غلط اور جھوٹی بات مشہور کر دی تھی۔ اس وقت عبارت کی تقدیر اس طرح ہوگی: ”لیکن قتلوا وصلبوا عيسى الفرضى الذى ارجف بقتله كذبا فى زعم الناس وهو غير عيسى بن مريم الذى نفى عنه الصلب فصح العطف لتغاير المسند اليه“

ان تینوں صورتوں سے یہ بات متفقہ طور پر اچھی طرح ثابت ہو گئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے کر کسی اور طریقہ سے قتل نہیں کیا گیا۔ بلکہ قتل ہونے والا کوئی دوسرا شخص تھا جو فی الجملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھتا تھا یا کسی شخص کو قتل نہیں کیا گیا۔ لوگوں میں اس کے متعلق جھوٹی اور غلط بات مشہور کر دی گئی تھی۔

فائدہ: جب تشبیہ کے معنے اشتباہ کے ہوتے ہیں تو اکثر اس کا صلہ علیٰ آیا کرتا ہے۔ مگر یہاں شبہ علیہم کی جگہ شبہ لہم کہا گیا ہے۔ تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اشتباہ پہلے مقدر ہو چکا تھا اور دانستہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچانے کے لئے کیا گیا۔ دیگر امور کثیرہ کی طرح اتفاقیہ نہیں تھا۔

(ذکرہ فی عقیدۃ الاسلام ص ١٢١ طبع دیوبند)

یا اس بات پر دلالت کرنے کے لئے کہ قتل عیسیٰ کی جھوٹی خبر لوگوں کو دھوکہ دینے کے واسطے گھڑی گئی تھی۔ (هذا مستفاد من الملل والنحل)

س ...... شبہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسیٰ کی طرف ہونا چاہئے۔ کیونکہ وہ لفظوں میں مذکور ہے اور ان کے سولی دیئے جانے کا واقعہ یہود و نصاریٰ میں متواتر اور متفق علیہ بھی ہے۔ اس لئے آیت کے معنے بیان کرتے ہوئے یہ کہنا چاہئے کہ جب قتل اور صلب کی حضرت عیسیٰ سے نفی کی گئی تو یہ شبہ ہوا کہ اگر وہ مقتول نہیں ہوئے تو یہود و نصاریٰ میں یہ بات کیوں مشہور ہوئی۔ لکن سے اس وہم کو دور کرنے کے لئے کہا کہ حضرت عیسیٰ مشابہ بالمقتول یا مشابہ بالقتل یعنی ادھ مویا بنا دیئے گئے تھے۔ جس سے یہود و نصاریٰ کو دھوکا لگ گیا اور وہ ان کو مصلوب یا مقتول سمجھنے لگے۔ ورنہ وہ آخر وقت تک زندہ رہے اور ستاسی برس بعد اپنی طبعی موت مرے۔

ج ...... شبہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹانی کئی وجہ سے درست نہیں ہے:

کے درمیان واقع ہوتا ہے اور اس طرح کہ جس حکم کی متبوع یعنی معطوف علیہ میں نفی ہوتی ہے اسی کا معطوف میں اثبات ہوا کرتا ہے اور عطف جملہ میں اگرچہ ہر جملہ بجائے خود مستقل ہوتا ہے۔ لیکن

صفحہ ٦٥

جس طرح عطف مفرد میں حکم معطوف اور معطوف علیہ میں بصورت نفی اور اثبات ایک ہی ہوتا ہے اور محکوم علیہ یا جس کے ساتھ حکم کا تعلق ہو وہ متغائر اور بدلا ہوا۔ ایسے ہی عطف جملہ میں جملہ معطوفہ کے اندر وہی حکم یا فعل ہوتا ہے جو معطوف علیہ میں ہے۔ البتہ متعلق حکم کا ہر ایک جملہ میں الگ الگ ہوا کرتا ہے۔ اس لئے اگر شبہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹائی گئی اور ان کو مشبہ اور مقتول مشبہ بہ کہا گیا تو معطوف اور معطوف علیہ دونوں میں محکوم اور محکوم علیہ اور متعلق حکم ایک ہی ہو جائیں گے اور اس صورت میں لکن متناقضین کے درمیان واقع ہوگا جس میں سے ایک کو صادق اور دوسرے کو کاذب کہنے کی وجہ سے کلام میں کذب لازم آئے گا اور اگر معطوف میں حکم سابق کی تقدیر فرض نہ کی گئی تو لکن عاطفہ کا لانا صحیح نہ رہے گا۔ چونکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ کو مشبہ اور مقتول کو مشبہ بہ کہنا بھی درست نہیں ہے۔ پھر قتل کو مشبہ بہ کہنا تو اور بھی جہالت ہے۔ کیونکہ تشبیہ تشریک امر لامر فی صفۃ کا نام ہے۔ جب معنے وصفی مشبہ بہ ہو تو وجہ شبہ کیا چیز ہے۔ دوسرے ذات اور فعل کے درمیان کبھی تشبیہ نہیں ہو سکتی۔ امام رازیؒ آیت ”انما یعمر مساجد اللہ (التوبہ:١٨)“ کے تحت میں لکھتے ہیں کہ: ”فظاہر اللفظ یقتضی تشبیہ الفعل بالفاعل والصفۃ بالذات وانہ محال فلا بد من التاویل“

(تفسیر کبیر ج ١٦ ص ١٢)

”منشاء ماصلبوہ کے لفظ سے یہ ہرگز نہیں ہے کہ مسیح صلیب پر چڑھایا نہیں گیا۔ بلکہ منشاء یہ ہے کہ جو صلیب پر چڑھانے کا اصل مدعا تھا یعنی قتل کرنا اس سے خدا تعالیٰ نے مسیح کو محفوظ رکھا۔“ جب ماصلبوہ کے معنے مرزا قادیانی کے خیال میں یہ ہوئے کہ یہود نے مسیح علیہ السلام کو بذریعہ صلیب قتل نہیں کیا تو لکن کی رعایت کرتے ہوئے اگر معطوف میں صلب کا ثبوت اس معنے سے لیا جائے کہ ان کو سولی پر چڑھایا گیا، ایذا اور تکلیف دی گئی، ادھ مویا بنایا گیا۔ مگر بالکل مارا نہ گیا۔ جیسا کہ مرزائی کہتے ہیں تو اس صورت میں معطوف اور معطوف علیہ دونوں میں ایک حکم نہیں ہوگا۔ بلکہ معطوف علیہ میں صلب کے معنے دار پر مارنا اور معطوف میں محض سولی پر چڑھانا ہوں گے اور وہ دونوں بالکل الگ الگ ہیں اور اگر صلیب کے دونوں جگہ ایک ہی معنے کئے گئے اور متعلق کو نہ بدلا تو اجتماع نقیضین لازم آئے گا جو عقلاً محال ہے۔ اس لئے یہی کہنا پڑے گا کہ صلب کے معنے مارنے کے ہیں۔ مگر اس حکم کی نفی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کی گئی اور لکن کے بعد اسی کا اثبات دوسرے کے لئے ہوا اور اس میں کوئی تعارض نہیں اور یہی مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔

صفحہ ٦٧

سے مسند الیہ اور فعل کے متعلق میں پیدا ہوتا ہے۔ نفس فعل یا جملہ میں نہیں ہوتا۔ علامہ جامی لکھتے ہیں کہ: ”ومعنى الاستدراك رفع توهم يتولد من الكلام المتقدم فاذا قلت جاء نى زيد فكانه توهم ان عمرا ايضاً جأك كما بينهما من الالفة فرفعت ذالك الوهم بقولك لكن عمراً لم يجى (شرح جامی)“ لہٰذا پہلے جملہ کے نفس فعل میں شبہ پیدا کر کے سب کی نفی کرنا لکن کی وضع کے خلاف ہے۔

چونکہ حضرت عیسیٰ کا مقتول ثابت کرنا یہودیوں کا مقصود اصلی تھا۔ اس لئے ”انا قتلنا المسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ“ میں قتل کا دعویٰ کرتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام کو لقب اسم اور معنے وصفی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ تاکہ متعلقِ فعل کے سمجھنے میں کسی طرح خفا باقی نہ رہ جائے۔ اگر نفس فعل کا ثابت کرنا مدنظر ہوتا اور متعلق کی تعیین اور تخصیص کی طرف زیادہ توجہ نہ ہوتی تو بجائے متعلق کے تاکیدات ذکر کرنے کے فعل کی تاکید بیان کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس دعوے کی وماقتلوہ وماصلبوہ سے تردید کرتے ہوئے مطلق فعلِ قتل اور صلب کی نفی نہیں کی۔ بلکہ متعلق فعل کی جو ان کا اصل دعوے تھا تردید کی ہے۔ اگر نفس فعل کی نفی کرنی مقصود ہوتی تو قتل اور صلب کے متعلق کے ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ بلکہ عام کی نفی سے خاص کی نفی پر استدلال کرنا کافی تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کی توجیہہ اصل فعل کی نفی کرنے کی وجہ سے غلط اور خلاف مقصود ہے۔

پہنچائی گئی تھی۔ تذلیل اور اہانت کے علاوہ صلیب پر چڑھایا گیا تھا اور ادھ مویا بنا کر نیچے اتار لیا تھا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کہتا ہے تو لازم تھا کہ اللہ تعالیٰ بجائے دعویٰ قتل پر لعنت کرنے کے ان افعال شنیعہ اور حرکات قبیحہ پر یہودیوں کی مذمت کرتا اور محض انا قتلنا کے کہنے پر لعنت کا اظہار نہ کرتا۔ ایسی اہم بات کو چھوڑ کر صرف دعویٰ قتل کو لعنت کا سبب قرار دینا اس امر کی کھلی ہوئی شہادت ہے کہ قتل وصلب اور ان کے اسباب اور ذرائع میں سے کوئی بات بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ پیش نہیں آئی۔

بیان کرتے ہوئے: ”اذكففت بنی اسرائیل عنك“ کو بھی ذکر کیا ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ

یہودیوں کے ہاتھوں سے مشبہ بالمقتول یا ادھ مویا بنا کر بچ جانا کوئی ایسا احسان نہیں ہے جس کو احسانات کے ضمن میں ذکر کرنا ہرگز صحیح نہیں تھا۔

پہنچانے اور سولی پر چڑھا کر اپنے خیال میں ان کو قتل کر دینے میں کامیاب ہوگئے تھے تو پھر ”مكروا ومكرالله والله خير الماكرين (ال عمران : ٥٤)“ کے تحت اللہ تعالیٰ کو یہودیوں کے مقابلہ میں غالب فرمانا صحیح نہیں رہتا۔ اور نہ ان کے اس فعل کو اللہ تعالیٰ کی شان ”مكرالله يا خير الماكرين“ کے ساتھ درست ہو سکتا ہے۔ بلکہ ان کی اس کامیابی کو قرار دینا ملحد اور بے دین ہی کا کام ہے۔

نہیں کی ہے۔ یہ مرزا قادیانی کی خانہ ساز تفسیر ہے جو باجماع امت محمدیہ اور روایات صحیحہ سے مردود ہے۔

مار دیئے گئے اور ان کو زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ نصاریٰ کی ایک جماعت اگرچہ ان کے مقتول ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آسمان پر جانے کی قائل ہے۔ لیکن مسلمان اور نصاریٰ کی قدیم جماعتوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل اور سولی دینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ البتہ ان کی جگہ کسی اور شخص کو سولی اور پھانسی دے دی گئی۔ (دیکھو ترجمہ سیل صاحب)

غرض جو فرقہ حضرت عیسیٰ کے صلیب پر چڑھائے جانے کا قائل ہے۔ وہ ان کے صلیب پر مر جانے کا بھی قائل ہے اور جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر چڑھنا اور یہودیوں کے ہاتھوں ان کے پکڑے جانے سے ہی انکار کیا ہے۔ وہ قتل سے بھی منکر ہے۔ اس بات کا کوئی شخص بھی قائل نہیں کہ صلیب پر تو ضرور چڑھائے گئے لیکن مرے نہیں بلکہ محض زخمی ہوگئے تھے۔ علاج کرنے سے اچھے ہوگئے۔ یہ دجل مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے گھڑ لیا۔ قرآن اور لغت عربی میں تحریف تو کرتے ہی تھے۔ اب تاریخ اور عیسائیوں کے عقائد میں بھی دخل دینے لگے۔ تعجب ہے کہ جو لوگ سولی دیئے جانے کے وقت موجود تھے ان سے تو مصلوب کا مرنا پوشیدہ نہیں رہا۔ مگر مرزا قادیانی کو دو ہزار برس بعد ان میں جان نظر آنے لگی اور ان کا سانس چلتا ہوا نظر آنے لگا۔ پھر ان سے کوئی پوچھے کہ جب دو ہزار برس پہلے تمہاری ولادت

صفحہ ٦٧

یہودیوں کے ہاتھوں سے مشبہ بالمقتول یا ادھ مویا بنائے گئے تھے تو بنی اسرائیل سے بچا لینے کو احسانات کے ضمن میں ذکر کرنا ہرگز صحیح نہیں تھا۔

پیٹنے اور سولی پر چڑھا کر اپنے خیال میں ان کو قتل کر دینے میں کامیاب ہو گئے تھے تو آیت ”مکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین (آل عمران:٥٤)“ میں اللہ کا اپنی تدبیر کو یہودیوں کے مقابلہ میں غالب فرمانا صحیح نہیں رہتا۔ اور نہ ”اذ قال اللہ یا عیسیٰ“ کا تعلق ”مکر اللہ یا خیر الماکرین“ کے ساتھ درست ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی کسی آیت کو جھوٹا قرار دینا ملحد اور بددین ہی کا کام ہے۔

نہیں کی ہے۔ یہ مرزا قادیانی کی خانہ ساز تفسیر ہے جو تحریف قرآنی اور بالرائے ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

مار دیئے گئے اور ان کو زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ نصاریٰ کی ایک جماعت کا بھی یہی خیال ہے۔ لیکن وہ ان کے مقتول ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے اور آسمانوں پر چلے جانے کے قائل ہیں۔ مسلمان اور نصاریٰ کی قدیم جماعتوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنے اور سولی دینے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ البتہ ان کی جگہ ایک اور شخص کو جو انہی کا ہم شکل تھا سولی دی گئی۔ (دیکھو ترجمہ سیل صاحب)

غرض جو فرقہ حضرت عیسیٰ کے صلیب پر چڑھنے کا قائل ہے وہ ان کے قتل ہونے اور صلیب پر مر جانے کا بھی قائل ہے اور جس نے حضرت عیسیٰ کے متعلق صلیب کا انکار کیا ہے وہ یہودیوں کے ہاتھوں میں ان کے پکڑے جانے سے بھی منکر ہے۔ ان تینوں جماعتوں میں اس بات کا کوئی شخص بھی قائل نہیں کہ صلیب پر تو ضرور چڑھائے گئے ۔ لیکن اس پر مرے نہیں۔ البتہ زخمی ہوگئے تھے۔ علاج کرنے سے اچھے ہوگئے۔ یہ واقعہ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے ہی گھڑ لیا۔ قرآن اور لغت عربی میں قیاس تو چلاتے ہی تھے۔ اب تاریخی واقعات بھی ان کی جنبش قلم کے رہین منت ہونے لگے۔ تعجب ہے کہ جو لوگ سولی دیئے جانے کے وقت وہاں موجود تھے ان پر تو مصلوب کا مرنا پوشیدہ نہیں رہا۔ مگر مرزا قادیانی کو دو ہزار برس کے بعد پنجاب کے ایک گاؤں میں ان کا سانس چلتا ہوا نظر آنے لگا۔ پھر ان سے کوئی پوچھے کہ جب آپ کے نزدیک یہود و نصاریٰ کا

صفحہ ٦٨

تواتر قابل سند ہے تو صلیب پر مرنے کے تواتر کو کیوں تسلیم نہیں کیا جاتا۔

نے قوم کی ایذا اور تکلیف سے تنگ آ کر تبلیغ کا کام چھوڑ دیا اور ستاسی برس گمنامی میں چپ چاپ گزار کر عالم بالا کو رخصت ہو گئے ہوں۔ بڑی حیرت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول بنا کر بنی اسرائیل اور یہود کی طرف بھیجے گئے۔ مگر وہ ان سے منہ چھپا کر مشرکین کی اصلاح کے لئے کشمیر میں آ کودے۔ پھر خدا تعالیٰ بھی ان سے اس حرکت پر کسی قسم کا کوئی مواخذہ نہیں کرتا۔ جیسا کہ حضرت یونس علیہ السلام پر قوم سے کچھ دن کے لئے الگ ہو جانے کی وجہ سے کیا ہے اور نہ وہاں کے باشندے اس نو وارد مہمان کے نام اور پتہ اور اس کے مذہب سے واقف ہوں۔

ثبوت بھی نہیں۔ مفسرین نے جو کچھ اس بارہ میں لکھا ہے وہ نصاریٰ کی تعلیم سے لیا ہے۔

نشان دہی کے واسطے یہودیوں کو چڑھا کر لایا اور حضرت عیسیٰ کو پکڑنے کے لئے اندر مکان میں داخل ہوا تھا۔ ایسی حالت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچا لینا اور ان کی جگہ اس آدمی کو یہودیوں کی نظر میں مشتبہ بنا کر پھنسا دینا جو ان کے نقصان کے در پے تھا آیت: ”ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ (فاطر:٤٣)“ اور چاہ کن را چاہ در پیش جیسے ضابطہ کے موافق اور عین انصاف ہے۔ نیز توریت میں کئی جگہ لکھا ہے کہ اشرار نیکوں کی جان کا فدیہ ہوا کرتے ہیں۔ اس حکم کا یہ تقاضا تھا کہ ایسا مجرم حضرت عیسیٰ کے بدلے دار پر کھینچا جائے۔

(ذکر فی عقیدۃ الاسلام ص ١٢١ طبع دیوبند)

اس جماعت پر بھی رد کرنا مقصود تھا۔ جو ان کو عیاذاً باللہ خدا یا خدا کا بیٹا تجویز کرنے والی تھی۔ تا کہ ان کو یہ معلوم ہو جائے کہ جو شخص تکالیف اور مضرتوں سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا وہ خدا بھی کسی طرح نہیں ہو سکتا اور ایسا کرنے میں کسی قسم کی تلبیس یا دھوکا دہی بھی نہیں ہے۔ کیونکہ اصل واقعہ کے جاننے والے حواری موجود تھے۔ جنہوں نے رفع آسمانی کے بعد اصلیت کو لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور اس شبہ کا ازالہ کر دیا۔ چنانچہ انجیل برنباس میں جو ایک حواری کی ہے اور مصنف فومیس نے رسولوں کے سفر نامہ سے اس خیال کی تردید حواریوں سے نقل کی ہے۔ اسی وجہ سے شروع میں بعض نصاریٰ کے فرقوں کا یہی خیال رہا ہے جو آج مسلمانوں کا ہے۔

رہا یہ خیال کہ اس میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے اور حضرت ابن عباسؓ کا اثر

صفحہ ٦٩

نصاریٰ سے ماخوذ ہے بالکل غلط ہے۔ علامہ سیوطی نے درمنثور میں نسائی اور ابن کثیر وابن مردویہ نے ابن عباسؓ سے اور (ابن جریر ج ٦ ص ١٩) نے ابی مالک سے عبد بن حمید اور ابن منذر نے شہر بن حوشب سے ان من اہل الکتاب کے تحت میں اس اثر کو نقل کیا ہے ۔ (درمنثور ج ٢ ص ٢٤١) حافظ ابن کثیر اور جلال الدین سیوطیؒ نے ابن عباسؓ کے اثر کی تصحیح اور توثیق بھی کی ہے:

”ففي الدر المنثور اخرج عبدبن حمید والنسائی وابن ابی حاتم وابن مردویہ عن ابن عباسؓ قال لما اراد الله ان یرفع عیسیٰ الی السماء خرج الی اصحابہ ....... ورفع عیسیٰ من روزنۃ فی البیت الی السماء (درمنثور ج ٢ ص ٢٣٨ وللنسائی تفسیر مفرد رواہ حمزہ عنہ قال ابن کثیر بعد ما ذکر اسناد ابن ابی حاتم وھذا اسناد صحیح الی ابن عباسؓ ورواہ النسائی عن ابی کریب عن ابی معاویہ بنحوہ ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩٨)“

اگرچہ حافظ ابن کثیر اور علامہ سیوطی جیسے ثقات کی توثیق وتصحیح کے بعد اس اثر کے وقف ورفع میں بحث کرنی فضول ہے۔ کیونکہ صحابی کا وہ قول جس کی تردید کسی آیت یا حدیث سے نہ ہوتی ہو ماننا ضروری ہے۔ جیسا کہ ابن عابدین نے شامی نے لکھا ہے کہ: ”ان قول الصحابی حجۃ یجب تقلیدہ عندنا اذا لم ینفہ شئی اخر من السنۃ (درالمختار ج ١ ص ٥٧٤)“ مگر اصول حدیث کے قاعدہ سے یہ اثر حکم میں حدیث مرفوع کے ہے ۔ کیونکہ صحابی کا وہ قول جس میں قیاس اور اجتہاد کو دخل نہ ہو وہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں مقدمہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ ابن عباسؓ نے کئی مرتبہ قرآن مجید اول سے آخر تک حضور نبی کریم ﷺ کو سنایا اور مضامین کے متعلق استفسار کیا ہے۔ اس لئے ابن عباسؓ نے اس جگہ جو کچھ فرمایا ہے وہ یقیناً رسول اللہ ﷺ سے سن کر ہی فرمایا ہے۔ اس کو نصاریٰ کی تعلیم سے ماخوذ بتانا دروغ بانی اور سراسر نا انصافی ہے۔ نصاریٰ کا عام خیال اور مشہور عقیدہ تو ان کے مصلوب ہو جانے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر جانے کے متعلق ہے۔ اگر ابن عباسؓ کو اسرائیلیات ہی لینی ہوتی تو یہود اور نصاریٰ کی مشہور بات لیتے ۔ جیسا کہ مرزائیوں نے موجودہ اناجیل اربعہ اور اسرائیلی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے احادیث صحیحہ کو ترک کیا ہے اور صلیب کا عقیدہ اسلام میں جاری کرنا چاہا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ کے قتل وصلب کی نفی اس توجیہہ پر موقوف نہیں ہے۔ دیگر توجیہات سے بھی یہ غرض حاصل ہو رہی ہے۔ اگر القاء شبہ کا ثبوت یقینی نہ ہو تب بھی مرزا قادیانی کے بیان کردہ غلط معنے لینے جائز نہیں ہیں ۔

صفحہ ٧١

س ....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے کا واقعہ بہت مشہور ہے اور جو چیز تواتر سے ثابت ہو اس کا انکار کرنا جائز نہیں۔

ج ....... صلیب کے وقت یہودیوں کی بہت تھوڑی جماعت وہاں موجود تھی۔ نصاریٰ یا حواریوں میں سے ایک آدمی بھی اس وقت حاضر نہ تھا۔ اس لئے یہ خبر متواتر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جس خبر کی شہرت اور تواتر کی انتہاء قلیل افراد پر منتہی ہو وہ متواتر نہیں کہلاتی:

”ان الحاضرين فى ذالك الوقت كانوا قليلين ودخول الشبهه على الجمع القليل جائز والتواتر اذا انتهى فى آخر الامر الى الجمع القليل لم يكن مفيد اللعلم“

(تفسير كبير ج ٨ ص ٧٠ تحت آيت انى متوفيك)

”فان الاناجيل التى بأيدى اهل الكتاب فيها ذكر صلب المسيح وعندهم انها ماخوذة عن الاربعة مرقس ولوقا و يوحنا ومتى لم يكن فى الاربعة من شهد صلب المسيح ولا من الحواريين بل ولا فى اتباعه من شهد الصلب وانما الذين شهدوا الصلب طائفة من اليهود“

(الجواب الصحيح ج ١ ص ٣١٣)

٢ ....... اگر تواتر بھی ہے۔ وہ واقعہ صلیب میں ہے حضرت عیسیٰ کے مصلوب ہونے میں کوئی تواتر نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ عیسائیت کے شروع میں فرقہ بی سی لی دین وسیرنیتین اور کارپوکریشن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے کے منکر تھے۔ (بحوالہ سیل صاحب) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ نصرانیت صحیح طور پر رفع آسمانی سے تین سو برس تک رہی۔ بعد میں بگڑ گئی۔

٣ ....... یہودیوں کو حضرت عیسیٰ کے متعلق خود اشتباہ واقع ہو گیا تھا۔ جس شخص کو انہوں نے سولی دی تھی۔ اس کو یقینی طور پر عیسیٰ نہیں سمجھتے تھے۔ قرآن مجید میں ہے کہ ”ان الذین اختلفوا فيه لفى شك منه ، مالهم به من علم الا اتباع الظن (النساء: ١٥٧)“

تواتر میں جو ایقان ویقین ہونا چاہئے اس کے یہاں یہودی خود متردد ہیں: ”فاذا جمع هذه الشروط الاربعة اى عدد كثير احالت العادة تواطئهم وتوافقهم على الكذب رووا ذالك عن مثله من الابتداء الى الانتها وكان مستند انتهائهم الحس وانضاف الى ذالك ان تصحبه خبرهم افادة العلم لسامعه فهذا هوالمتواتر (شرح النخبه)“

س ....... آیت میں قتل اور صلب دونوں کی نفی کر ج ....... اگر چہ صلب بھی قتل کرنے کی ایک صور ہو جاتی ہے۔ لیکن عرف میں قتل اسی پر بولا جاتا ہے جو سولی کے جاتا تو دوسرے کی نفی رہ جاتی اور مقصد حاصل نہ ہوتا۔

٢ ....... ماقتلوہ یہود کے دعویٰ قتل کی تردید رد ہے۔

٣ ....... یہودی پہلے قتل کرتے اور پھر سولی پر لٹکاتے دونوں باتوں کی تردید کر دی۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہودی میں بالکل ناکام یاب رہے۔

آیت نمبر ...... ”وما قتلوه يقينا بل رفعه

تحقیق معنی بل

لفظ بل لغت میں اعراض اور اضراب کے لئے آتا ہے (صراح) مفرد اور جملہ دونوں پر داخل ہوتا ہے لئے اور کبھی اضراب کے ساتھ ترقی کے واسطے آتا ہے: ”واما العاطفة فانه اذا قيل ماراءيت زيداً الامير بل الـ

اور جملہ پر داخل ہو کر تنہا اضراب کے واسطے کبھی ابطال یا انتقال یا تاکید کے معنے دیتا ہے۔ یعنی جملہ اولیٰ کو رد کر طرف منتقل ہونے یا ماقبل کی مابعد سے تاکید اور موافقت بیا عبد الحکیم فرماتے ہیں:

”واما فى عطف الجملة على الجملة قالوا تخذ الرحمن ولداً سبحانه بل عبادا مكرمو وآخر نحو قد افلح من تزكى وذكر اسم ربه فصـ وهى فى ذالك كله حرف ابتداء لاعاطفة على ا يتعرض له الشارح ويجوز ان يوافق مابعد ها انكم لتاتون الرجال شهوة من دون النساء بل ا

صفحہ ٧١

ہو جاتی ہے۔ لیکن عرف میں قتل اسی پر بولا جاتا ہے جو سولی کے بغیر ہو۔ اس لئے اگر ایک کو ذکر کیا جاتا تو دوسرے کی نفی رہ جاتی اور مقصد حاصل نہ ہوتا۔

رد ہے۔

دونوں باتوں کی تردید کر دی۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پکڑنے میں بالکل ناکام یاب رہے۔

آیت نمبر ٧ ..... ”وماقتلوه يقينا بل رفعه الله اليه (نساء:١٥٧)“

تحقیق معنی بل

لفظ بل لغت میں اعراض اور اضراب کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ جس کے معنی نہ چنانست ہیں (صراح) مفرد اور جملہ دونوں پر داخل ہوتا ہے۔ مفرد میں کبھی صرف اضراب کے لئے اور کبھی اضراب کے ساتھ ترقی کے واسطے آتا ہے: ”واما للترقى فلاينافى الحروف العاطفة فانه اذا قيل ما رأيت زيداً الامير بل السطان فانها للترقى“

(حاشیہ عبدالرحمن علی شرح الجامی ص ٣٩١)

اور جملہ پر داخل ہو کر تنہا اضراب کے واسطے کبھی نہیں آتا۔ بلکہ اضراب کے ساتھ ابطال یا انتقال یا تاکید کے معنی دیتا ہے۔ یعنی جملہ اولیٰ کو رد کرنے یا ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف منتقل ہونے یا ماقبل کی مابعد سے تاکید اور موافقت بیان کرنے کے واسطے آتا ہے۔ علامہ عبدالحکیم فرماتے ہیں:

”واما فى عطف الجملة على الجملة فللاضراب اما بابطال نحو قالوا اتخذ الرحمن ولداً سبحانه بل عباد مكرمون وإما بانتقال من غرض الى آخر نحو قد افلح من تزكى وذكر اسم ربه فصلى بل تؤثرون الحيوة الدنيا وهي فى ذالك كله حرف ابتداء لاعاطفة على الصحيح كذافى المغنى فلذا لم يتعرض له الشارح ويجوز ان يوافق مابعدها لما قبلها اثباتاً ونفياً قال الله انكم لتاتون الرجال شهوة من دون النساء بل انتم قوم تجهلون وقوله تعالىٰ

صفحہ ٧٢

٧٢ ام یقولون افتراہ بل ھو الحق من ربك"

(تکملہ عبدالغفور ص ٥٤٧)

"وبل يكون في الجملة للابطال والانتقال"

(بحر العلوم على مسلم الثبوت)

"بل هو حقيقة في الاعراض وهو متنوع تارة يكون لجعل الاول مسكوتا او مقرر الابطال الاول نفسه او غرضه"

(بحرالعلوم على السلم)

"قالوا اتخذ الرحمن ولداً سبحانه بل عباد مکرمون" میں بل کے ما بعد عبودیت ذکر کرنے سے دعوٰی ولدیت کی جو عبودیت کے منافی اور بل کے ماقبل مذکور ہے تردید ہو گئی۔ گویا بل کا تعلق مقولہ کے ساتھ ہے نہ قول کے ساتھ۔ کیونکہ قول کا واقع ہونا یقینی ہے۔ اس لئے اس کو باطل نہیں کر سکتے۔ البتہ اگر بل کو انتقالیہ لیں تو پھر قول ہی سے تعلق ہوگا۔

"قال العلامة الصبان قوله نحو وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحانه الخ . قيل فى نحو ذالك للاضراب الابطال بناء على ان المضرب المقول بالميم اما اذا كان المضرب عنه القول فلاضراب انتقال اذ الاخبار بصدور ذالك منهم ثابت لا يتطرق اليه الابطال"

معلوم ہوا کہ بل ابطالیہ میں بعینہ جملہ سابقہ کا باطل کرنا ضروری نہیں ہے۔ بلکہ کبھی جس غرض سے وہ جملہ بیان کیا جاتا ہے اس غرض کی تردید کرنی مقصود ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ بحرالعلوم سے اوپر نقل کیا گیا ہے۔ یہاں بھی دعویٰ ولدیت کرنے کی وجہ سے اس جملہ کی حکایت کی گئی ہے اور پھر اس کی بذریعہ بل تردید فرمائی گئی ہے۔ اسی طرح: "افلم يكونوا يرونها بل كانوا لا يرجون نشورا (فرقان:٤٠)" میں عبرت کے دیکھنے کی تردید ہے۔ عدم رؤیت کی جو ما سبق جملہ کا مفاد ہے، تردید نہیں ہے۔ بعینہ "وما قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ" میں بھی بل سے دعویٰ قتل کا ابطال ہے جو ماقتلوہ کہنے کا سبب ہے۔ عدم قتل کی نفی نہیں ہے۔ اگر چہ بل انتقالیہ پہلے کی طرح جملہ اولیٰ کو باطل کرنے کے واسطے نہیں ہوتا۔ مگر اس کے ماقبل اور مابعد کی غرض ضرور بدلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس لئے بل دونوں صورتوں میں متغائرین کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ بل ابطالی میں تغائر معنوی اور انتقالی میں بلحاظ غرض تغائر اور اختلاف ہوا کرتا ہے۔ البتہ جس وقت بل کا مابعد ماقبل کے موافق ہو تو پھر جملتین میں اختلاف نہیں ہوتا۔

(تاج العروس شرح قاموس ج ١٣ص ٦٨) میں مبرد وغیرہ سے منقول ہے کہ جملہ میں بل استدراک مع الاضراب کے لئے آتا ہے اور ایسا ہی صبان سے مروی ہے: "قال الصبان وقد

صفحہ ٧٣

عد فی المغنی من الامور التی اشتهرت بين المعربين والصواب خلافها قولهم بل حرف اضراب قال وصوابه حرف استدراك واضراب فانها بعد النفی والنهی بمنزلة لكن سواء"

چونکہ بل ماقتلوہ میں نفی کے بعد آیا ہے۔ اس لئے مذکورہ بالا تحقیق کی رو سے بھی وہ لكن کی طرح متغائرین کے درمیان واقع ہونا چاہئے۔

استدلال

اگر بل آیت میں جملہ پر داخل ہونے کی وجہ سے ابطالیہ ہے تو بل ابطالیہ میں مابعد بل سے بعینہ ماقبل کی یا اس کی غرض کی تردید کی جاتی ہے اور بل اس طرح سے متغائرین کے درمیان واقع ہوا کرتا ہے مگر یہاں بل سے پہلے عدم قتل مذکور ہے جس کا باقی رکھنا ضروری ہے۔ اس لئے رفع سے عدم قتل کی تردید نہیں ہوگی۔ بلکہ قتل مسیح کے دعویٰ کا ابطال ہوگا جو ماقتلوہ کی غرض اور اس کے بیان کرنے کا سبب ہے: "بل رفعه الله اليه رد وانكار لقتله واثبات لرفعه"

(بیضاوی ج ١ ص ٢١٦ وابوالسعود ج ٢ ص ٢٥٢)

لیکن اثبات رفع سے قتل کی تردید اس وقت ہو سکتی ہے جبکہ رفع سے رفع جسمانی مراد لیں۔ کیونکہ رفع روحانی یا رفع درجات اور قتل میں کوئی منافاة نہیں ہے۔ چنانچہ شہید میں دونوں جمع ہیں۔ اس لئے آیت میں رفع سے رفع جسمانی ہی مراد لینا چاہئے۔ تاکہ بل ابطالیہ کا لانا صحیح ہو سکے اور رفع اور قتل کا باہمی مقابلہ درست ہو۔ اگر بل کا تعلق نفی اور عدم قتل کے ساتھ کیا جائے تو بل انتقال کے واسطے ہوگا۔ لیکن پھر بھی ایک غرض سے دوسری غرض کی طرف انتقال کرنا رفع جسمانی ہی کی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے۔ رفع روحانی وغیرہ لے کر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ماقتلوہ کی غرض قتل کی تردید اور رفعہ سے رفع آسمانی کا اثبات مقصود ہے اور یہ دونوں الگ الگ دو غرضیں ہیں۔ مگر رفع درجات کی صورت میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک ماقتلوہ سے قتل لعنت کی نفی اور علو مرتبت کا اثبات مقصود ہے اور یہی رفعہ اللہ الیہ کی غرض ہے۔ اس لئے رفع سے رفع روحانی وغیرہ مراد لے کر بل انتقالیہ لانا صحیح نہیں ہوتا۔

اور ماقتلوہ یقیناً میں بھی یہودیوں کے اعتقاد کے خلاف قتل مسیح کی تردید کی گئی ہے۔ اس لئے ماقتلوہ قصر قلب ہے۔ لیکن قصر قلب میں اعتقاد مخاطب کے خلاف حکم بیان کرنے کے باوجود مخاطب کے عقیدہ کی صراحتاً نفی کرنی ضروری ہے۔ مثلاً جو شخص خلاف واقع زید کے بیٹھنے کا یقین

صفحہ ٧٤

رکھتا ہے اور اس کے قائم ہونے کا قائل نہیں ہے تو اس کے خیال کی تردید کرنے کے لئے زید قائم لا قاعد کہا جائے گا۔ اگرچہ صرف زید قائم کہنے سے بھی اعتقاد مخاطب کی ضمناً نفی ہو جاتی ہے۔ مگر لا قاعد کہہ کر اس کی صراحتاً نفی کرنی تقویتِ حکم کے لئے لازمی ہے۔ اسی طرح ما قتلوہ سے یہودیوں کے عقیدہ کی تردید کر کے مزید تقویت کے واسطے رفع کو ذکر کرنا ضروری ہے اور رفع سے رفع جسمانی مراد لینا اور بوجہ منافاۃ قتل کی نفی کرنا لازمی ہے۔

کرنے سے جو یہ شبہ پیدا ہو گیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر قتل نہیں کئے گئے تو واقعہ صلیب کے بعد کیوں دفعتاً غائب اور لاپتہ ہو گئے ہیں۔ وہم کو بل سے دور کرتے ہوئے بتا دیا کہ وہ آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے۔ اس لئے اس واقعہ کے بعد ان کے متعلق دنیا کی خبریں منقطع ہو گئیں۔ رفع درجات یا رفع روحانی لینے سے یہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ستاسی سال تک زندہ رہنے کے باوجود وہم سابق کو دور کرنے کے واسطے یہ کہنا کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فوراً خبر اس لئے منقطع ہو گئی تھی کہ وہ ستاسی برس زندہ رہ کر اپنی طبعی موت مر گئے تھے کسی طرح درست نہیں ہو سکتا۔

بات کا زبردست قرینہ ہے کہ رفع سے رفع جسمانی مراد ہے۔ محض رفع درجہ یا رفع روحانی مراد نہیں۔

اس لئے جو شے قتل کا مفعول بنے گی۔ وہی چیز رفع کا بھی مفعول ہو گی۔ ورنہ ما بعد بل کا ما قبل سے کوئی تعلق نہ رہے گا اور ایسا ہونا بل کے ابطالیہ یا انتقالیہ وغیرہ ہونے سے مانع ہے۔ ظاہر ہے کہ قتل جسم مع الروح پر واقع ہوتا ہے۔ اس لئے رفع بھی مع الروح کے لئے ہو گا: ”رفع عیسیٰ الی السماء ثابت بھذہ الآیۃ“

(تفسیر کبیر ج١١ ص١٠٣)

لازمی ہے اور رفع سے عزت کی موت کا اثبات ہے جو پہلے مضمون کی منافی ہے۔ اس لئے بل ابطالیہ کا لانا صحیح ہے۔ علاوہ ازیں اگر جملتین کی غرض ملعونیت کی نفی کرنا ہو تو پھر بھی بل کا لانا تاکید اور اظہار موافقت کے لئے درست ہے۔

صفحہ ٧٥

موت مراد لینا کئی وجہ سے غلط ہے:

حدیث میں۔ جہاں بھی ہے مجرم کا جرم لعنت کا سبب ہے۔ توریت کی ٢٢ اور ٢٣ دونوں آیتوں کے ملانے سے صاف طور پر ظاہر ہورہا ہے کہ صلیب پر مرنے والا وہی شخص ملعون ہے جو کسی گناہ اور جرم کے پاداش میں صلیب پر مارا گیا ہو۔ ہر مصلوب لعنت کا مستحق نہیں ہے۔ توریت میں ہے کہ: ”اگر کسی نے کچھ ایسا گناہ کیا ہو جس سے اس کا قتل واجب ہو اور وہ مارا جائے اور تو اسے درخت میں لٹکا دے۔ تو اس کی لاش رات بھر لٹکی نہ رہے بلکہ اسی دن اسے گاڑ دے۔ کیونکہ وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے خدا کا ملعون ہے۔ اس لئے چاہئے کہ تیری زمین جس کا وارث تیرا خداوند خدا تجھ کو کرتا ہے ناپاک نہ کی جائے ۔“

(توریت آیت ٢٢، ٢٣، استثناء باب ٢١)

تیئیسویں آیت میں وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے کے فقرہ میں وہ کا اشارہ اسی مجرم کی طرف ہے جو اس سے پہلے بائیسویں آیت میں مذکور ہے۔ اگر ہر مصلوب کی ملعونیت ثابت کرنی مقصود ہوتی تو یہ فقرہ اس طرح ہوتا کہ جو شخص پھانسی دیا جاتا ہے وہ خدا کا ملعون ہے۔ اس کے علاوہ وہ جو موصول ہے اور پھانسی دیا جانا اس کا صلہ ہے۔ چونکہ موصول پر حکم لگانے سے پہلے صلہ کا جاننا ضروری ہے۔ اس لئے مصلوب ہونے کے متعلق وہی علم ہوگا جو بائیسویں آیت سے حاصل ہو رہا ہے۔ بائیسویں آیت میں مجرم کا اپنے گناہ کی سزا میں مصلوب ہونا مذکور ہے۔ اس لئے یہاں بھی وہ جو پھانسی دیا جاتا ہے اس سے مجرم ہی مراد ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے ساحروں کو فرعون نے سولی دے کر مارا۔ مگر وہ سب کے سب مقبول بارگاہ الٰہی تھے۔ ایک بھی ملعون نہ تھا۔ سورہ طہٰ میں ہے کہ: ”ولاصلبنکم فی جذوع النخل (طہ:٧١)“ ”فرعون نے اپنا ارادہ پورا کیا اور ان سب کو دار پر کھینچ دیا۔“

”قال ابن عباس کانوا فی اول النہار سحرۃ وفی آخرہا شہداء

(تفسیر کبیر ج ٢٢ ص ٨٨ تحت آیت انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر، طہ: ٨١)“

اسی طرح صحیحین میں حضرت خبیبؓ کا جو ایک جلیل القدر صحابی ہیں سولی پر مارا جانا مذکور ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فی الواقع غیر مجرم تھے۔ اس لئے ان کا سولی دیا جانا لعنت کا سبب نہیں ہو سکتا۔

صفحہ ٧٧

ہے ۔ ورنہ شہداء اور وہ انبیاء علیہم السلام جو یہودیوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے عیاذ باللہ ! اس سزا کے مستحق ہوں ۔

صلبنا کہتے اور ماقتلوہ کی جگہ ما صلبوہ ذکر کیا جاتا۔ جس سے یہودیوں کے خیال کی پوری پوری تردید ہو جاتی یا ما ھوا بملعون بل رفعہ کہہ کر صاف لفظوں میں یہودیوں کا رد کیا جاتا ۔ لہذا یہودیوں کا قتل مسیح پر زور دینے اور اللہ تعالیٰ کا ان کی تردید میں قتل مسیح ہی کی تردید کرنے سے ظاہر ہے کہ یہودیوں نے نہ کبھی لعنتی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نہ اس کے رد میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے۔

رفعت باقی رہ جائے گی جو ما قتلوہ کی نفی میں داخل نہ ہوگی۔ اس وقت یہ معنے ہوں گے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لعنتی موت تو نہیں مارا مگر عزت کی موت ضرور مارا ہے۔ اس صورت میں انّا قتلنا کی تردید نہ ہوگی ۔ بلکہ تاکید ہوگی ۔

لعنت کی ضد قرار دینا اس وقت صحیح ہو سکتا ہے۔ جبکہ ہر طبعی موت رفع درجہ کو مستلزم ہو۔ بہت سے کافر اپنی طبعی موت مرے ہیں۔ مگر درجہ کسی کا بھی بلند نہیں ہوتا۔ لہٰذا رفع کے معنے اعزازی موت کرنا غلط ہے۔

وجاہت ہونا مسلم ہے تو ضمنی تردید کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

مشابہ بالمقتول ثابت کر کے لعنت کی نفی کرنی بالکل غیر مفید چیز ہے۔ اس تردید کا فائدہ تو اس وقت ہوتا جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چھری کی طرح صلیب اپنا کام نہ کرتی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام صحیح سالم اوپر سے اترتے ۔ بلکہ ان کا مشابہ بالمقتول ہونا یہودیوں کی تصدیق کرے گا اور قرآن کا دعویٰ ان کے مقابلہ میں بے دلیل ہوگا ۔ اگر یہودیوں کے مقابلہ میں طبعی موت کا ذکر کرنا مدنظر ہوتا تو بجائے رفعہ اللہ کے اماتہ اللہ کہنا زیادہ مناسب ہوتا۔

عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹانی بالکل ناجائز ہو جائے گی ۔ باوجود یکہ اس ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ

السلام کی طرف لوٹانا بالاتفاق جائز ہے۔ زائد از زما میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔

بھی درجات بلند ہو سکتے ہیں۔ اس لئے جائز ہے کہ درجات اور عدم قتل دونوں باتیں ان پر صادق آئیں سمجھتے ہوں گے ۔ رفع کا ترجمہ عزت کی موت کرنا بالکل

وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے کی سعی کی جـ کہ یہ تو ستاسی برس کے بعد ظہور پذیر ہوا۔ اس کو بل کے

حکمت کا اظہار کرنا بے موقعہ ہوگا۔ کیونکہ ان کے در حیرت کی جگہ نہیں ہے جس کو دور کرنے کے واسطے قدر

فـنـبّـه بـهـذا على ان رفع عيسى من الدنيا الـ البشر لـكـنّـه لا تعذر بالنسبة الى قدرتی والی

علیہ السلام قتل کئے جائیں گے۔

سعی کی جائے گی ۔ مگر وہ بچا لئے جائیں گے اور قتل وا کرنا تحریف ہے۔ پھر قتل کا ثبوت تو مرزا قادیانی کے

حيث التشرّف “

(مفردات راغـ

ہے۔ محض رفعت مرتبہ مراد نہیں لی۔ یہی وجہ ہے کہ رفـ ذکر کیا ہے اور تردیدیہ کے ساتھ بیان نہیں کیا۔ گویا عـ بمنزلہ معراج کے تھا جس میں رفع درجہ بھی پایا جاتا ہے

صفحہ ٧٦

السلام کی طرف لوٹانا بالاتفاق جائز ہے۔ زائد از زائد اولیٰ یا غیر اولیٰ کہہ سکتے ہیں۔ مگر نفس جواز میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔

بھی درجات بلند ہو سکتے ہیں۔ اس لئے جائز ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہوں اور رفع درجات اور عدم قتل دونوں باتیں ان پر صادق آئیں۔ لہٰذا رفع درجات اور طبعی موت میں تلازم سمجھنا بداہتہً باطل ہے۔ رفع کا ترجمہ عزت کی موت کرنا بالکل غلط ہے۔

وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کرنے کی سعی کی جا رہی تھی۔ اس وقت رفع ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تو ستاسی برس کے بعد ظہور پذیر ہوا۔ اس کو بل کے برابر اور ساتھ ذکر کرنا ہرگز جائز نہیں۔

حکمت کا اظہار کرنا بے موقعہ ہوگا۔ کیونکہ ان کے درجات بلند کرنا معمولی بات ہے۔ تعجب اور حیرت کی جگہ نہیں ہے جس کو دور کرنے کے واسطے قدرت کا اظہار کرنا ضروری ہوتا۔

فنبہ بھذا علی ان رفع عیسٰی من الدنیا الی السموات وان كان كالمتعذر علی البشر لکنہ لا یتعذر بالنسبة الی قدرتی والی حكمتی (تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٠٣)“

علیہ السلام قتل کئے جائیں گے۔

سعی کی جائے گی۔ مگر وہ بچالئے جائیں گے اور قتل واقع نہ ہوگا۔ اس کا ترجمہ قتل کئے جائیں گے کرنا تحریف ہے۔ پھر قتل کا ثبوت تو مرزا قادیانی کے لئے بھی غیر مفید ہے۔

حیث التشرف“

(مفردات راغب برحاشیہ نھایۃ ابن اثیر ج ٢ ص ٨٠)

ہے۔ محض رفعت مرتبہ مراد نہیں لی۔ یہی وجہ ہے کہ رفع آسمانی اور رفع تشریفی کو واؤ جمع کے ساتھ ذکر کیا ہے اور تردید یا کے ساتھ بیان نہیں کیا۔ گویا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے رفع آسمانی بمنزلہ معراج کے تھا جس میں رفع درجہ بھی پایا جاتا ہے۔

علیہم السلام جو یہودیوں کے ہاتھوں قتل کئے گئے عیاذاً باللہ! اس سزا

اگر یہودیوں کی نظر میں لعنتی ثابت کرنا ہوتا تو بجائے انا قتلنا کے انا صلبناہ کی جگہ ماصلبوہ ذکر کیا جاتا۔ جس سے یہودیوں کے خیال کی تردید وماھوا بملعون بل رفعہ کہہ کر صاف لفظوں میں یہودیوں کا رد کیا جاتا۔ نہ کہ قتل مسیح پر زور دینے اور اللہ تعالیٰ کا ان کی تردید میں قتل مسیح ہی کی تردید کرنا۔ نیز یہودیوں نے نہ کبھی لعنتی ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور نہ اس کے رد میں کوئی آیت ہے۔

اگر وماقتلوہ کو قتل لعنت کی نفی کے لئے خاص کر لیں تو قتل کی ایک قسم قتل طبعی بھی وماقتلوہ کی نفی میں داخل نہ ہوگی۔ اس وقت یہ معنے ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لعنتی موت تو نہیں دی مگر عزت کی موت ضرور دی ہے۔ اس سے تو یہودیوں کی تردید نہ ہوگی۔ بلکہ تاکید ہوگی۔

نیز بل رفعہ سے موت طبعی مراد لے کر رفع اعزازی کا ارادہ کرنا اور اس کو طبعی موت کے ماتحت صحیح ہو سکتا ہے۔ جبکہ ہر طبعی موت رفع درجہ کو مستلزم ہو۔ بہت سے لوگ طبعی مرتے ہیں۔ مگر درجہ کسی کا بھی بلند نہیں ہوتا۔ لہٰذا رفع کے معنے اعزازی موت لینا غلط ہے۔

نیز جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رسول ہونا اور دنیا اور آخرت میں ذی وجاہت ہونا ثابت ہے تو پھر تردید کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

دوسرے جبکہ یہود و نصاریٰ کے خیال میں ان کی صلیبی موت یقینی ہے تو ان کو طبعی موت دے کر لعنت کی نفی کرنی بالکل غیر مفید چیز ہے۔ اس تردید کا فائدہ تو اس وقت تھا کہ حضرت خلیل علیہ السلام کی چھری کی طرح صلیب اپنا کام نہ کرتی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بچ جاتے۔ بلکہ ان کا مشابہ بالمقتول ہونا یہودیوں کی تصدیق کرے گا اور ان کا رد ان پر بے دلیل ہوگا۔ اگر یہودیوں کے مقابلہ میں طبعی موت کا ذکر کرنا مقصود ہوتا تو وماقتلوہ کے بجائے وفاتہ یا اماتہ اللہ کہنا زیادہ مناسب ہوتا۔

اگر رفع سے رفع روح یا رفعت مرتبہ مراد ہو تو قبل موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹنے کے معنی بالکل ناجائز ہو جائیں گے۔ باوجود یکہ اس ضمیر کا حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ ٧٨

اور بل کا ذکر کرنا صحیح نہیں رہتا۔

س....... رفع الی السماء رفع درجات کو مستلزم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کافر کے حق میں فرماتا ہے ”فلیمدد بسبب الی السماء“ نیز انسان کے لئے آسمان پر جانے کو جائز سمجھنا کافروں کا عقیدہ ہے۔ بقولہ تعالیٰ ”او ترقى فى السماء (بنی اسرائیل:٩٣)“

ج....... رفع الی السماء ہر جگہ رفع منزلت کو نہیں چاہتا اور نہ ہم نے کبھی یہ دعویٰ کیا ہے۔ البتہ بعض صورتوں میں رفع درجہ رفع مکانی اور صعود آسمانی سے جدا نہیں ہے۔ لہٰذا جن آیتوں میں رفع الی السماء رفع درجہ کو مستلزم نہیں وہ کفار اور مجرموں کا ذکر ہے۔ نیکوں میں رفع مکانی رفع درجہ کو مستلزم ہے۔ چنانچہ بڑے درجہ کے جنتیوں کے مقامات عام جنتیوں کے مقابلہ میں اونچے اور بلند ہوں گے۔ قرآن شریف میں ہے کہ:

”اولئک یجزون الغرفة بما صبروا (فرقان:٧٥)“ اعلیٰ مواضع الجنة“ (بیضاوی) اسی طرح رفع آسمانی کو کافروں کا عقیدہ بتانا بالکل غلط ہے۔ دراصل کفار نے نبوت کی سچائی پر اپنے خیال میں رسول اللہ ﷺ سے بعض نشانات کا مطالبہ کیا تھا۔ جن میں سے ایک نشان یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ خود آسمان سے ایک کتاب لے کر آئیں۔ خدا تعالیٰ نے اس قسم کے بے جا مطالبات کی مذمت کی ہے۔ رفع آسمانی کے جواز یا عدم جواز کی تردید نہیں کی۔ اگر کافروں کا ذکر کرنا ہی عدم جواز کی دلیل ہے تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”وقالوا مالھذا الرسول یأکل الطعام ویمشى فى الاسواق ، لولا انزل الیه ملک فیکون معه نذیرا ، او یلقی الیه کنز او تکون له جنة یاکل منھا (فرقان:٧،٨)“ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے لئے کھانا ، پینا ، فرشتوں کا آپ ﷺ کے پاس آنا اور مال دولت اور باغات کا ہونا ناجائز قرار دیا جائے۔ کیونکہ کفاروں نے نبوت کا معیار اپنے خیال میں یہی تجویز کیا تھا۔ جس کی تردید خدا تعالیٰ نے ’کیف ضربوا لک الامثال فضلوا (فرقان:٩)‘ ہی سے کی۔ مگر اس سے چیزوں کے ملنے کا عدم جواز ثابت نہیں ہوتا۔

اسی طرح ”ھل کنت الا بشراً رسولا . (بنی اسرائیل:٩٣)“ میں انبیاء علیہم السلام کے اختیار کی نفی ہے۔ یعنی وہ کسی نشانی کے لانے میں خود مختار نہیں ہیں۔ نہ یہ کہ قدرت الہی کے ماتحت رفع آسمانی ناممکن ہے۔ علاوہ ازیں رفع آسمانی کا جواز کافروں تک کے لئے ثابت ہے ”ولو فتحنا علیهم باباً من السماء فظلوا فیه یعرجون ، لقالوا انما سکرت

صفحہ ٧٩

ابصارنا بل نحن قوم مسحورون (حجر:١٤،١٥)

س ....... جب بندہ کے لئے رفع کا لفظ استعمال ہو تو اس جگہ رفع درجات مراد ہوتا ہے ۔ خصوصاً جب اللہ کی طرف منسوب ہو۔

ج ....... یہ قاعدہ غلط اور من گھڑت ہے ۔ اس جگہ قرآن اور حدیث سے چند مثالیں دی جاتی ہیں۔ جن میں رفع کا مفعول انسان ہے اور پھر رفع مکانی مراد ہے ۔

کہ: "المراد الرفع الى موضع لا يجرى فيه حكم غير الله تعالى"

(تفسير كبير ج ١١ ص ١٠٢)

س ....... شخص سے کبھی محض روح اور کبھی جسم مراد ہوتا ہے ۔ مثلاً زید نیک ہے یا زید سیاہ ہے یعنی جسم ۔ اسی طرح ماقتلوہ میں جسم اور رفعہ میں روح مراد ہے ۔

ج ....... اگر دونوں جملوں میں ضمیر سے ایک ہی چیز نہ لی گئی تو بل کا لانا صحیح نہ ہوگا ۔ کیونکہ ماقتلوہ میں جسم مع الروح مراد ہے ۔ یہی رفعہ میں بھی ہوگا ۔

اور جسم بالتبع مراد ہوتا ہے ۔ چونکہ آیت میں افعال حسیہ ہی مذکور ہیں ۔ اس لئے دونوں جگہ جسم متعلقاً بالروح ہی مراد ہے ۔

ہے ۔ فقط زید نہیں بولا جاتا۔ اس لئے رفعہ کی ضمیر سے روح عیسیٰ لینا جائز نہیں ۔

س ....... " ولا تقولوا لمن يقتل فى سبيل الله اموات (البقره:١٥٤) " میں احیاء کا مبتدا ہم محذوف ہے ۔ اس کا مرجع من ہے مگر من سے جسم اور ہم سے غیر جسم مراد ہے ۔

ج ....... آیت میں بل کا لفظ مفرد کے لئے جس کا معطوف علیہ اموات ہے ۔ لہٰذا جو اموات کا مبتدا ہے وہی احیاء کا بھی ہے اور وہ ’ہم‘ ہے ، جس سے دونوں مراد ہیں ۔

ضروری نہیں ۔ نحو ماجانی زید بل عمرو یعنی جاءنی عمرو اب اگر آیت میں ھم کی مراد مختلف ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ پھر بل رفعہ کو اس پر قیاس کرنا جائز نہیں ۔ کیونکہ وہاں بل جملہ پر داخل ہے ۔

صفحہ ٨٠

س....... رفع الی السماء سے ابنیت کی تائید ہوتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حیی قیوم ماننا پڑتا ہے۔ نیز اتنی لمبی عمر ہونے سے رسول اللہﷺ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

ج....... یہ جاہلانہ خیال ہے۔ اگر آسمان پر رہنے سے ابنیت ثابت ہوتی ہے تو فرشتے عیاذ باللہ بالاولٰی بنات اللہ ہوں گے۔ حضرت آدم علیہ السلام بلکہ شیطان بھی آسمانوں پر رہتا تھا وہ بھی ابن اللہ ہوا۔ (معاذ اللہ)

دوسرے شیطان اور فرشتوں سے زیادہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر نہیں ہے۔ اس قاعدہ کے موافق وہ بھی حیی قیوم ہونے چاہئیں اور زمین، آسمان، چاند، سورج تو بدرجہ اولٰی حیی قیوم ہوں گے؟ ۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ! پھر عمر کے لمبے اور دراز ہونے سے افضلیت کیونکر ثابت ہوگئی؟ ۔ عمر بزرگی بعقل است نہ بسال۔ شیطان کی عمر مرزا قادیانی سے بہت زیادہ ہے تو کیا مرزائی جماعت اس کو مرزا قادیانی سے افضل کہنے کے واسطے تیار ہے؟۔ ایک عیسائی انگریز نے شاہ عبدالعزیزؒ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ کی فضیلت پر یہ شعر پڑھا:

کہ بگفت کہ عیسیٰ ز مصطفیٰ اعلٰی است
کہ او بزیر زمیں و آں باوج سماست

شاہ صاحبؒ نے فی البدیہہ یہ شعر جواب میں ارشاد فرمایا: شعر

بگفتمش کہ نہ ایں حجت قوی باشد
حباب برسر آب و گہر تہ دریاست

س....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر بغیر کھانے پینے کے ہزار ہا سال سے کس طرح زندہ ہیں ۔ اگر کھانا کھاتے ہیں تو قضائے حاجت کہاں کرتے ہیں ۔ پھر اس قدر عمر ہو جانے کے بعد ان کا دنیا میں آنا ہی بے کار ہے۔ جیسا کہ آیت ومن نعمرہ ننکسہ فی الخلق سے ظاہر ہے۔

ج....... جس طرح پے در پے بلا کھائے روزہ رکھنے پر نبی عربیﷺ کمزور نہیں ہوتے تھے اور جب صحابہ کرامؓ نے آپﷺ کو دیکھ کر بغیر کھائے پئے متواتر روزے رکھنے کا ارادہ کیا تو آپﷺ نے ان کو اس سے روکتے ہوئے ”ایکم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی ویسقینی (مشکوٰۃ کتاب الصوم ص ١٧٥، بخاری ج ٢ ص ١٠١٢ باب کم تعزیر والادب)“

صفحہ ٨١

فع الى السماء سے ابنیت کی تائید ہوتی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ ماننا پڑتا ہے۔ نیز اتنی لمبی عمر ہونے سے رسول اللہ ﷺ پر فضیلت ثابت

جاہلانہ خیال ہے۔ اگر آسمان پر رہنے سے ابنیت ثابت ہوتی ہے تو بنات اللہ ہوں گے۔ حضرت آدم علیہ السلام بلکہ شیطان بھی آسمانوں پر (معاذ اللہ) ان اور فرشتوں سے زیادہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر نہیں ہے۔ اس یسیٰ قیوم ہونے چاہئیں اور زمین، آسمان، چاند، سورج تو بدرجہ اولیٰ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ! پھر عمر کے لمبے اور دراز ہونے سے افضلیت کیونکر عقل است نہ بسال۔ شیطان کی عمر مرزا قادیانی سے بہت زیادہ ہے تو و مرزا قادیانی سے افضل کہنے کے واسطے تیار ہے؟۔ ایک عیسائی انگریز ت میں حضرت عیسیٰ کی فضیلت پر یہ شعر پڑھا:

کسے بگفت کہ عیسیٰ بمصطفیٰ اعلیٰ است
کہ او بزیر زمیں وآں باوج سماست

نے فی البدیہہ یہ شعر جواب میں ارشاد فرمایا: شعر

بگفتمش کہ نہ ایں حجت قوی باشد
حباب بر سر آب وگہر تہ دریاست

حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر بغیر کھانے پینے کے ہزار ہا سال سے کر کھانا کھاتے ہیں تو قضائے حاجت کہاں کرتے ہیں۔ پھر اس قدر عمر یا میں آنا ہی بے کار ہے۔ جیسا کہ آیت ومن نعمرہ ننکسہ فی

جس طرح پے در پے بلا کھائے روزہ رکھنے پر نبی عربی ﷺ کمزور نہیں کرامؓ نے آپ ﷺ کو دیکھ کر بغیر کھائے پئے متواتر روزے رکھنے کا ارادہ لو اس سے روکتے ہوئے’ایكم مثلی انی ابیت یطعمنی ربی باب الصوم ص ١٧٥، بخاری ج ٢ ص ١٠١٢ باب كم تعزير والادب) ‘‘

ارشاد فرما کر اپنے لئے روحانی اور عشق الٰہی کی غذا ملنے کی طرف اشارہ فرمایا۔ اسی طرح جائز ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو بھی روحانی غذا ملتی ہو۔

طرح سبحان اللہ وبحمدہ فرشتوں کی غذا ہے۔ اسی طرح ذکر الٰہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی غذا ہے۔ امام رازیؒ فرماتے ہیں کہ: ” فعیسی لمارفع الى السماء صارحاله كحال الملائكة فى زوال الشهوة والغضب والاخلاق الذميمة “

(تفسیر کبیر ج ٨ ص ٧٢، تحت آیت انی متوفیک)

بھی نعماء جنت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں تو کیا تعجب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے واسطے بھی جنت کی نعمتیں مہیا کر دی جاتی ہوں۔ پھر چونکہ جنت کے اطعمہ سے فضلہ تیار نہیں ہوتا سب کا سب جزو بدن بن جاتا ہے۔ اس لئے قضائے حاجت کی ضرورت ہی نہیں۔ اگر کسی ملحد کے نزدیک جنت کا اس وقت کوئی وجود نہیں اور آدم علیہ السلام کا قیام کبھی جنت میں نہیں ہوا تو ایسا آدمی مسلمان ہی نہیں ۔ اس سے ان مسائل میں گفتگو کرنا ہی فضول ہے۔ اسی طرح اگر اس کے خیال میں جنت کے کھانوں سے دنیا کی طرح فضلہ بنتا ہے تو جو جگہ آدم علیہ السلام یا جنتیوں کے لئے ہے وہی عیسیٰ علیہ السلام کے لئے بھی ہوگی۔

ہے اور اس جگہ بڑھاپا وغیرہ نہیں ہوتا۔ چنانچہ حدیث میں حوران بہشتی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے نحن خالدات لانبید ! اس لئے عیسیٰ علیہ السلام اسی عمر میں اتریں گے جس میں مرفوع ہوئے تھے۔ اور جب آسمان پر کسی قسم کا تغیر واقع ہی نہیں ہوتا تو ظاہر ہے عیسیٰ علیہ السلام جس غذا کے ساتھ مرفوع ہوئے تھے وہی باقی رہے گی اور تحلیل نہ ہونے کی وجہ سے بدل ما یتحلل کی ضرورت محسوس نہ ہوگی۔ درحقیقت اس قسم کے شبہات انہی لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں جو قدرت الٰہی کے منکر اور اسلامی تعلیم کے مخالف ہیں۔ نعوذ بالله من الحاد الملحدين وخرافاتهم!

بالاتفاق اس کو محال سمجھتا ہے اور آنحضرت ﷺ کا معراج بھی جسمانی نہیں تھا۔ چنانچہ (حاشیہ ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦) میں ہے کہ: ”سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف (مرزا قادیانی) خود صاحب تجربہ ہے۔“

صفحہ ٨٢

ج...... جس طرح خدا تعالیٰ کی ذات کا احاطہ نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اس کی صفتوں کو کسی قاعدہ اور ضابطہ کا پابند کرنا ناممکن ہے۔ کثرت سے پیش آنے والے واقعات کو قدرت کا قانون بتانا اور اسی میں اس کو منحصر جاننا بے وقوفی ہے۔ استقراء ناقص اور چند جزئیات کے دیکھ لینے سے قاعدہ کلیہ یا قانون نہیں بنا کرتا۔ انسان کی یہ طاقت ہی نہیں کہ علم الہی کا پورا پورا احاطہ کرسکے: ”وما اوتیتم من العلم الا قلیلا (بنی اسرائیل:٨٥)“ پھر اس کا یہ فیصلہ کس طرح مسموع ہوسکتا ہے کہ عالم اسباب میں جو طریقہ کسی چیز کے متعلق پایا جاتا ہے وہ اسی طرح رہے گا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ آج سے بیس تیس برس پہلے بغیر زبان کسی حرف کا تلفظ کرنا خلاف عادت معلوم ہوتا تھا۔ لیکن اب گراموفون کے ریکارڈ نے اس کو ممکن بلکہ واقع کرکے دکھا دیا۔ جب انسان کو خدا کی عطاء کی ہوئی قدرت اس درجہ حاصل ہے تو قادر مطلق کی قدرت میں کسی کو شک کرنے کی گنجائش کیونکر ہوسکتی ہے۔ وہ کسی اسباب عادت کا پابند نہیں ہے۔ بلکہ جس طرح وہ اشیاء کو بذریعہ اشیاء کے مہیا کرتا ہے۔ اسی طرح وہ بعض چیزیں ظاہری اور باطنی سبب کے بغیر بھی بنایا کرتا ہے۔ البتہ عالم اسباب میں بذریعہ سبب کے پیدا کرنا کثیرالوقوع ہے اور بغیر کسی سبب کے بنانا بہت کم۔ مگر جو چیز دلیل الوقوع ہو وہ قانون قدرت سے باہر نہیں ہے۔

مرزا قادیانی کا رفع آسمانی اور معراج جسمانی اور دیگر معجزات انبیاء علیہم السلام سے یہ کہہ کر انکار کرنا کہ ایسا ہونا خدا کی مقرر کردہ عادت کے خلاف ہے اور بموجب فیصلہ آیت:”ولن تجد لسنة الله تحويلا (فاطر:٤٣)“ کے یعنی قانون قدرت میں کبھی تغیر یا تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ صحیح نہیں ہوسکتا اور اس کی عدم صحت پر مندرجہ ذیل دلائل موجود ہیں:

(یسین:٨٢)“ کے موجود ہوتے ہوئے خدا کے افعال کو اسباب ظاہرہ یا خفیہ قلیل الوقوع میں منحصر کرنا شرعاً ممنوع ہونے کے علاوہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ اس کا کوئی کام سبب پر موقوف نہیں ہے۔ جس طرح وہ بذریعہ اسباب ظاہرہ یا خفیہ کے کسی شے کو بنایا کرتا ہے اور اسی طرح کسی چیز کو بغیر مطلق سبب کے بھی پیدا کرسکتا ہے۔

مطالبہ: ورنہ بتائیں کہ آدم اور حوا علیہما السلام کا بغیر ماں باپ کے پیدا کرنا اور عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے ظاہر کرنا کس سبب کے ماتحت تھا؟۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ پیدا کرنا قانون قدرت کے خلاف نہیں ہے تو ان کا رفع آسمانی کیوں قانون قدرت کے خلاف ہے؟۔ اگر مرزا قادیانی کے خیال میں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش عیاذ باللہ! بغیر باپ کے نہیں ہوئی تو آیت

قرآنیہ کا انکار کرنے کی وجہ سے کیوں اس کو خارج

ہونے کی وجہ سے خدا کس طرح رہا اور اس میں فرق ہے۔

بدل سکتا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ خود بھی تبدیلی لكلماته“ یعنی دوسرا کوئی نہیں بدل سکتا۔ مگر سکتا۔ دوسری جگہ ارشاد ہے کہ: (١)......”ولوشـ (٢)......”ولوشاء لهداكم اجمعين (النہـ بظلمهم ماترك عليها من دابة ولكن یـ ان آیتوں میں موجودہ نظام کے بدلنے کی طاقت

عذاب کے متعلق یہ فرمایا گیا کہ جو قومیں مرسلین آتا رہا ہے۔ اب بھی اگر اہل مکہ نے ہمارے رسـ نازل کردیا جائے گا۔

قوت کے اعتبار سے بعید نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ وہ اپنی طاقت سے آسمان مطالبہ: حضرت جبرائیل علیہ السلام علیہ السلام کو آسمان پر کیوں نہیں لے جاسکتے اور ہے تو پھر خدائی طاقت کے سامنے یہ بات کیا مشـ لے جاسکتا ہے۔ جب تخت بلقیس آصف کی قوت عـ موجود ہوسکتا ہے اور آج ہوائی جہاز ہزاروں ٹن سے اوپر جاسکتا ہے تو رب العزت کا عیسیٰ علیہ کیوں ناجائز اور خلاف عقل ہے۔

صفحہ ٨٣

قرآنیہ کا انکار کرنے کی وجہ سے کیوں اس کو خارج از اسلام نہ کہا جائے؟۔

ہونے کی وجہ سے خدا کس طرح رہا اور اس میں اور کوزہ گر میں جو کہ آب و گل کا محتاج ہے کیا فرق ہے۔

بدل سکتا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ خود بھی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ قرآن مجید میں ہے: ”لا مبدل لكلماته“ یعنی دوسرا کوئی نہیں بدل سکتا۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ بھی نہیں بدل سکتا۔ دوسری جگہ ارشاد ہے کہ : (١)...... ”ولوشاء الله لجعلكم امة واحدة (مائده:٤٨)“ (٢)...... ”ولوشاء لهداكم اجمعين (النحل:٩)“ (٣)...... ”ولويواخذ الله الناس بظلمهم ما ترك عليها من دابة ولكن يؤخرهم الى اجل مسمى (النحل: ٦١)“ ان آیتوں میں موجودہ نظام کے بدلنے کی طاقت رکھنے کا اظہار فرمایا گیا ہے۔

عذاب کے متعلق یہ فرمایا گیا کہ جو قومیں مرسلین کی تکذیب کرتی رہی ہیں ان پر ہمیشہ عذاب الٰہی آتا رہا ہے۔ اب بھی اگر اہل مکہ نے ہمارے رسول کی تکذیب کی تو حسب دستور ان پر بھی عذاب نازل کر دیا جائے گا۔

قوت کے اعتبار سے بعید نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بذریعہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آسمان پر اٹھایا گیا ہے۔ وہ اپنی طاقت سے آسمان پر نہیں گئے۔ پھر استحالہ کس بات کا ہے؟۔

مغالطہ : حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ہبوط و صعود آسمانی ممکن بلکہ واقعہ ہے تو وہ عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر کیوں نہیں لے جاسکتے اور اگر کافروں کی طرح فرشتوں کے نزول سے انکار ہے تو پھر خدائی طاقت کے سامنے یہ بات کیا مشکل ہے۔ وہ بغیر جبرائیل علیہ السلام کے بھی ان کو لے جا سکتا ہے۔

جب تخت بلقیس آصف کی قوت علمیہ سے باوجود مسافت بعیدہ کے لمحہ واحدہ میں موجود ہو سکتا ہے اور آج ہوائی جہاز ہزاروں ٹن وزن لے کر انسانی عقل کے زور سے طبقہ زمہریر سے اوپر جا سکتا ہے تو رب العزت کا عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی قدرت کاملہ سے آسمان پر لے جانا کیوں ناجائز اور خلاف عقل ہے۔

صفحہ ٨٥

اسی طرح معراج جسمانی بھی قانون قدرت یا عقل کے خلاف نہیں ہے۔ جب بالاتفاق روایات صحیحہ سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ آسمان پر براق کے ذریعہ تشریف لے گئے جو ایک قسم کا فرشتہ ہی تھا تو استبعاد عقلی اور استحالہ کس بات کا ہے؟ یا تو فرشتوں کے نزول وعروج سے انکار کرنا چاہئے یا یہ ثابت کریں کہ مسلمانوں کے خیال میں رسول اللہ ﷺ بغیر امداد خداوندی اپنی بازوؤں سے اڑ کر یا جست لگا کر آسمان پر پہنچے تھے جو عقلاً محال ہے۔ مگر یہ دونوں باتیں ثابت نہیں ہوسکتیں۔ اس لئے معراج جسمانی بھی عقل یا نقل کے خلاف نہیں ہوسکتا اور نہ رفع آسمانی کا استحالہ ثابت ہوسکتا ہے۔ قال النووی فی شرح مسلم: ”لم یثبت من دلیل عقلی ولا شرعی استحالة رفع الجسم علی السماء“ اب تک کسی جسم کا آسمان پر اٹھایا جانا عقلاً یا نقلاً محال ثابت نہیں ہوا۔

تحقیق معراج

معراج کی کیفیت اور اس کے واقعہ ہونے کی حالت میں سلف صالحین کی رائے مختلف ہے۔ حسن بصریؒ کے خیال میں یہ واقعہ نیند کی حالت میں ہوا۔ باقی تمام امت کے نزدیک بیداری میں جاگتے ہوئے معراج ہوئی ہے۔ لیکن اس کے بعد اس بات میں اختلاف ہے کہ بحالت بیداری رسول اللہ ﷺ کی محض روح پر فتوح آسمانوں پر گئی اور جسم اطہر خواب گاہ میں بلا روح موجود رہا یا روح اور جسم دونوں کے ساتھ معراج ہوئی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ ، حضرت حذیفہؓ ، حضرت معاویہؓ کا خیال ہے کہ جسد شریف بلا روح خواب گاہ میں موجود رہا اور تنہا روح مقدس، مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں کی سیر کے لئے اوپر اٹھالی گئی تھی۔ مگر دوسرے تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ معراج کی رات بیداری کی حالت میں جسم اور روح دونوں سے آسمانوں کی سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے خیال میں یہ ہے کہ روح بحالت بیداری جسم کا تعلق چھوڑ کر آسمانوں پر چلی گئی تھی۔ چنانچہ مندرجہ ذیل روایتیں اس پر شاہد ہیں:

حذيفة ان قال ذالك روياء وانه مافقد جسد رسول الله ﷺ انما اسری بروحه وحکی هذا القول ايضاً عن عائشة وعن معاوية (کبیر ج٢٠ ص١٤٧)“

عرج بروحه وعن معاوية انه قال انما عرج بروحه (ابوالسعود ج٥ ص١٥٥)“

اصبح یحدث الناس بذالك فارتد ناس ممن بذالك الی ابی بکر فقالو اھل لک فی صاحبـ بیت المقدس وجاء قبل ان یصبح قال اوقـ ذالك لقد صدق قالوا فتصدقہ ان ذھب اللیلۃ یصبح قال نعم انی لاصدقہ بماھوا ابعد مـ غدوة اوروحة فلذالك سمی ابوبکر الصدیق“

(ازالة الخفاء بتخریج

اگر معراج ان حضرات کے خیال میں مکاشفہ کہ روح اٹھالی گئی اور جسم وہیں موجود رہا۔ بلکہ روح اور جـ مکاشفہ کے قائل ہوجاتے اور نہ حضرت عائشہ معراج بـ فرماتیں۔ کیونکہ خواب اور مکاشفہ ایسی چیزیں نہیں ہیں جـ حضرت عائشہؓ کے سامنے یہ بات ظاہر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ آنکھوں سے دیکھا تو اس کی تردید میں یہ آیت پیش کی: ”لـ الابصار (انعام:١٠٣) “ ”وہ نگاہوں کو پاسکتا، نگاہیں یہ تو نیند یا کشف کی حالت تھی۔ اس میں رویت بصریہ کا کیا معلوم ہوا کہ روحانی معراج نیند یا مکاشفہ کی حـ صعود آسمانی کو روحانی معراج کہتے ہیں۔ ایسا ہی علامہ ابـ ”واختلف ایضاً انه فی الیقظة اوفى المنام واکثر الا قاویل بخلافہ والحق انه کان فـ بعدھا“

روحانی کا مقابلہ جسمانی سے کیا ہے اور جسما روحانی بھی بیداری ہی میں ہوگا۔ بیضاوی نے اس کو بالکـ کہ: ”اختلف فی انه کان فی المنام اوفى اليـ على انه اسرى بجسده“

لہٰذا مرزا قادیانی کا معراج کو از قبیل مکاشفہ

صفحہ ٨٥

ی قانون قدرت یا عقل کے خلاف نہیں ہے۔ جب ہے کہ رسول اللہ ﷺ آسمان پر براق کے ذریعہ تشریف عقلی اور استحالہ کس بات کا ہے؟ یا تو فرشتوں کے نزول یں کہ مسلمانوں کے خیال میں رسول اللہ ﷺ بغیر امداد گا کہ آسمان پر پہنچے تھے جو عقلاً محال ہے۔ مگر یہ دونوں جسمانی بھی عقل یا نقل کے خلاف نہیں ہو سکتا اور نہ رفع وی فی شرح المسلم: ” لم يثبت من دليل عقلی على السماء “اب تک کسی جسم کا آسمان پر اٹھایا جانا

واقعہ ہونے کی حالت میں سلف صالحین کی رائے مختلف کی حالت میں ہوا۔ باقی تمام امت کے نزدیک بیداری ن اس کے بعد اس بات میں اختلاف ہے کہ بحالت ح آسمانوں پر گئی اور جسم اطہر خواب گاہ میں بلا روح معراج ہوئی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت حذیفہؓ، بلا روح خواب گاہ میں موجود رہا اور تنہا روح مقدس ، مکہ کی سیر کے لئے اوپر اٹھائی گئی تھی۔ مگر دوسرے تمام ﷺ معراج کی رات بیداری کی حالت میں جسم اور تشریف لے گئے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے خیال میں ا چھوڑ کر آسمانوں پر چلی گئی تھی۔ چنانچہ مندرجہ ذیل

حمد بن جریر الطبری فی تفسیره عن مافقد جسد رسول الله ﷺ انما اسرى عائشة وعن معاوية (كبير ج ٢٠ ص ١٤٧)“ انها قالت مافقد جسد رسول الله ﷺ لكن نما عرج بروحه (ابوالسعود ج ٥ ص ١٥٥)“

٣......... ”عن عائشة لما اسرى بالنبي ﷺ الى المسجد الاقصى اصبح يحدث الناس بذالك فارتد ناس ممن كانوا آمنوا وصدقوه واسعوا بذالك الى ابي بكر فقالوا هل لك فى صاحبك يزعم انه اسرى به الليلة الى بيت المقدس وجاء قبل ان يصبح قال او قال كذلك قالوا نعم قال لئن قال ذالك لقد صدق قالوا فتصدقه ان ذهب الليلة الى بيت المقدس وجاء قبل ان يصبح قال نعم انى لاصدقه بما هو ابعد من ذالك اصدقه بخبر السماء فى غدوة او روحة فلذالك سمي ابوبكر الصديق “

(ازالة الخفاء بتخريج الحاكم ج ١ ص ٢٠٥ طبع لاهور )

اگر معراج ان حضرات کے خیال میں مکاشفہ یا نیند کی صورت میں ہوتی تو وہ یہ نہ کہتے کہ روح اٹھائی گئی اور جسم وہیں موجود رہا۔ بلکہ روح اور جسم دونوں کو موجود مانتے ہوئے خواب یا مکاشفہ کے قائل ہو جاتے اور نہ حضرت عائشہؓ معراج کے متعلق اہل مکہ کا انکار اور تعجب نقل فرماتیں۔ کیونکہ خواب اور مکاشفہ ایسی چیزیں نہیں ہیں جن کا انکار کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں جب حضرت عائشہؓ کے سامنے یہ بات ظاہر کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ نے معراج کی شب اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اس کی تردید میں یہ آیت پیش کی ”هو يدرك الابصار ولاتدركه الابصار (انعام: ١٠٣)“ ”وہ نگاہوں کو پاسکتا، نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں۔“ اور یہ نہ فرمایا کہ یہ تو نیند یا کشف کی حالت تھی۔ اس میں رویت بصریہ کا کیا ذکر ہے۔

معلوم ہوا کہ روحانی معراج نیند یا مکاشفہ کی صورت میں نہیں تھی۔ بلکہ محض روح کے صعود آسمانی کو روحانی معراج کہتے ہیں ۔ ایسا ہی علامہ ابوالسعود اور قاضی بیضاوی نے لکھا ہے کہ: ”واختلف ايضاً انه فى اليقظة اوفى المنام فعن الحسن انه كان فى المنام واكثر الا قاويل بخلافه والحق انه كان فى المنام قبل البعثة وفى اليقظة بعدها“

(ابوالسعود ج ٥ ص ١٥٥)

روحانی کا مقابلہ جسمانی سے کیا ہے اور جسمانی بالاتفاق بیداری میں ہے تو اس کا قسیم روحانی بھی بیداری ہی میں ہوگا۔ بیضاوی نے اس کو بالکل ہی صاف کر دیا۔ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”اختلف فى انه كان فى المنام اوفى اليقظة بروحه او بجسده والاكثر على انه اسرى بجسده “

(بيضاوى ج ١ ص ٤٧٤)

لہٰذا مرزا قادیانی کا معراج کو ازقبیل مکاشفات بتا کر حضرت عائشہؓ اور حضرت معاویہؓ

صفحہ ٨٦

کے قول سے استدلال کرنا بالکل غلط ہے۔ امت میں سے ایک فرد بھی معراج کشفی کا قائل نہیں ہے۔ کشف میں روح اور جسم دونوں بحالت بیداری اپنی جگہ پر رہتے ہیں۔ صرف ظلمانی حجابات نفس سے دور ہوا کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس حدیث سے ظاہر ہے: ”لی مع اللہ وقت لا یسعنی فیہ ملک مقرب ولا نبی مرسل“۔

مکاشفہ کے یہی معنی امام رازیؒ کی ایک تحریر سے مستفاد ہوتے ہیں: ”وہو زوال الحجب الجسمانیۃ عن روح محمد ﷺ حتی یظہر فی روحہ من المکاشفات والمشاہدات“

(تفسیر کبیر ج ٢٠ ص ١٤٨)

اس عبارت میں جسمانی حجابات کے دور ہو جانے کو مکاشفات کا سبب قرار دیا ہے۔

لہٰذا معراج کشفی کے ثبوت میں نہ کوئی شرعی دلیل موجود ہے اور نہ سلف میں سے کسی کا قول اس کی تائید کرتا ہے۔

س........ معراج کی روایتوں میں کئی قسم کا اختلاف ہے: ١........ ایک روایت میں بین النوم والیقظۃ اور کہیں ھو نائم فاستیقظ ہے۔ شریک کی روایت میں معراج کا تمام قصہ بیان کرنے کے بعد ثم استیقظت آیا ہے۔ ٢........ جس مکان سے اسراء کی ابتدا ہوئی اس کے متعلق کسی روایت میں بیت ام ہانی اور کہیں بیت رسول اللہ ﷺ اور ایک میں حرم مکہ اور قرآن مجید میں مسجد حرام مذکور ہے۔ ٣........ کہیں ہے کہ معراج بعثت کے بعد ہوئی۔ کسی روایت میں بعثت سے پہلے۔ کہیں نیند میں اور کہیں بیداری کی حالت میں بیان کی گئی ہے۔ ٤........ معراج کی شب انبیاء علیہم السلام منازل آسمانوں پر تمام روایتوں میں ایک جیسے نہیں آئے۔ اس قسم کے تعارض اور اختلافات کی وجہ سے معراج کی روایتیں قابل اعتبار نہیں ہیں۔

ج........ جب تک روایات واخبار میں تطبیق یا ترجیح ممکن ہو محض تعارض یا اختلاف کی وجہ سے روایات ساقط نہیں ہوتیں۔ ایسی صورت میں پہلے تطبیق اور پھر ترجیح کے وجوہ تلاش کرنے چاہئیں۔ اگر یہ دونوں طریقے ممکن نہ ہوں تو پھر روایات پر عمل نہیں ہوتا۔ مگر موجودہ روایات میں تطبیق ممکن ہے۔ ملاحظہ ہو:

١........ اس عبارت کا یہ مطلب ہے کہ:

الف........ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی آمد کے وقت حضور ﷺ خواب میں تھے۔ مگر نیند کا غلبہ اچھی طرح نہیں ہوا تھا اور بعد میں بیدار ہو گئے ۔ یا جب ام ہانی کے گھر سے چلے۔ نیند کا اثر باقی تھا۔ حرم میں پہنچ کر ہوشیار ہو گئے۔

صفحہ ٨٧

ب .......... معراج کی حدیث بخاری میں متعدد طرق سے آئی ہے۔ سوائے شریک کی روایت کے ثم استيقظت کسی روایت میں نہیں آیا۔ ایک راوی کی روایت دوسرے ثقہ راویوں کے مخالفت کرنے سے پایہ اعتبار سے گر جاتی ہے۔ اسی لئے حافظ محدث عبدالحق نے اس روایت میں شریک کی دس غلطیاں بیان کی ہیں۔ منجملہ ان کے ایک غلطی یہ بھی ہے۔ (دیکھو حاشیہ مولانا احمد علی سہارنپوری علی البخاری) دوسرے قاضی عیاض نے شفاء میں اس کے یہ معنی لکھے ہیں کہ واپسی کے بعد آپ مکان پر تشریف لاکر سو گئے اور پھر بیدار ہوئے یا سفر معراج میں تجلیات ربانی کی وجہ سے جو استغراق حاصل ہو گیا تھا وہ دور ہو گیا اور آپ ہوش میں آگئے۔

٢ .......... الف .......... اصل میں اسراء کی ابتداء مسجد حرام سے ہوئی اور مسجد حرام کا تمام حرم پر اطلاق کیا جاتا ہے ”لان الحرم كله مسجد (ابوالسعود ج ٥ ص ١٥٤)“ اور زمین حرم میں ام ہانی کا گھر تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ام ہانی کا اور کبھی مجازاً اپنا گھر ارشاد فرمایا ہے۔

ب .......... مرقاۃ اور لمعاۃ میں ان تمام روایات کی تطبیق یہ بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بعد نماز عشاء ام ہانی کے گھر میں جو شعب ابی طالب میں تھا۔ استراحت فرما تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آگئے۔ ان کی آمد پر بیدار ہوئے اور وہاں سے حرم کی طرف تشریف لے گئے۔ حرم میں وراء حطیم سے ہوتے ہوئے مسجد کے دروازہ پر پہنچے اور براق پر سوار ہو کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے : ”انه ﷺ نام عند بيت ام هانى وبيتها عند شعب ابی طالب ففرج سقف بيتها واضاف البيت الى نفسه لكونه يسكنه فنزل فيه الملك فاخرجه من البيت الى المسجد وكان مضطجعاً وبه اثر النعاس ثم اخرجه من الحطيم الى باب المسجد فاركبه البراق (مرقاة ج ١١ ص ١٥٦ باب فى المعراج)“

٣/٤ .......... معراج کا واقعہ نیند اور بیداری دونوں صورتوں میں آیا ہے۔ مگر معراج جسمانی بعثت کے بعد بیداری میں صرف ایک ہی مرتبہ واقع ہوئی ہے اور باقی خواب میں ہوئی تھیں۔ بعثت سے پہلے جو معراج ہوئی وہ ایک خواب تھا جو رسول اللہ ﷺ نے معراج جسمانی سے پیشتر دیکھی تھی۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام بسا اوقات ایک چیز کو اس کے ظاہر ہونے سے پہلے خواب میں دیکھ لیا کرتے تھے۔ اس لئے یہ واقعہ بھی قبل الظہور آپ کو خواب میں دکھایا گیا۔ گویا خواب معراج جسمانی مقدمہ اور اس کی تمہید تھی۔ شیخ اکبر فرماتے ہیں کہ: ”وله ﷺ اربعة وثلثون مرة الذى اسرى به منها اسراء واحد بجسم والباقى بروحه رویاء رأها .......... بهذا زاد على الجماعة رسول

صفحہ ٨٨

اللہ ﷺ باسراء الجسم واختراق السموات والافلاک حسا وقطع مسافات حقيقة محسوسة‘‘

(فتوحات مکیه ج ٣ ص ٣٤٣ باب ٣٦٧)

’’في البخاري عن شريك بن عبدالله انه قال سمعت انس ابن مالك يقول ليلة اسرى برسول الله ﷺ من انه جاءه ثلثة نفر قبل ان يوحى اليه وهو نائم في المسجد الحرام فقال اولهم ايهم هو قال اوسطهم هو خيرهم فقال آخرهم خذو اخيرهم فكانت تلك الليلة فلم يرهم حتى اتوه وليلة اخرى فيما يرى قلبه وتنام عينه‘‘

(بخاری ج ٢ ص ١١٢٠ كتاب التوحيد)

معلوم ہوا کہ اول مرتبہ بعثت سے پہلے جو تمام واقعہ خواب میں دیکھا تھا اسی کو بیداری میں اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا۔

علامہ ابو سعود لکھتے ہیں کہ ’’ والحق انه كان في المنام قبل البعثة وفي اليقظة بعدها‘‘

(ابوالسعود ج ٥ ص ١٥٥)

لہذا مرزا قادیانی کا اس حدیث سے اس بات پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کہ معراج بعثت کے بعد نہیں ہوئی اور چونکہ قبل النبوت معراج کا ہونا بدیہی البطلان ہے۔ اس لئے معراج کا واقعہ غلط ہے۔

واقعہ پر مبنی ہیں یا ان روایات میں سے جو ارجح ہو اس کا اعتبار کرنا چاہئے اور باقی کو چھوڑ دیں۔ چونکہ مشکوٰۃ کے باب المعراج کی پہلی حدیث تمام روایتوں میں صحیح روایت ہے۔ اس لئے اس پر اعتماد کرنا لازمی ہے۔ شیخ عبدالحق دہلوی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ : ’’هذا الترتيب الذي وقع في هذ الحديث هوا اصح الروايات وارجحها ، لمعات‘‘

میں ابتداء پچاس نماز کی فرضیت اور آخر میں پانچ کا حکم مذکور ہے۔ اگر اس کو تعدد پر محمول کریں تو نسخ میں تکرار لازم آئے گا جو قطعاً ناجائز ہے۔

ہے اور باقی سب نوم کی حالت میں ہیں۔ خواب میں فرضیت کا تعدد اور تکرار مستبعد نہیں ہے۔

(ہکذا مذکور فی فتح الباری)

صفحہ ٨٩

ج ...... یادرہے کہ معراج کے جسمانی یا روحانی ہونے کا اختلاف ادلہ شرعیہ پر مبنی ہے، فلسفی خیال کی وجہ سے نہیں ہے۔ جو لوگ معراج روحی یا نومی کے قائل ہیں ان کا استدلال اس آیت سے ہے: ”وما جعلنا الرءيا التی اریناک الا فتنة للناس (بنی اسرائیل: ٦٠)“ کیونکہ رویاء کا لفظ نیند پر اطلاق کیا جاتا ہے اور اکثر مسلمانوں کے نزدیک معراج جسمانی ضرور واقع ہوئی ہے:”فی البیضاوی والاکثر علی انه اسری بجسده الی بیت المقدس ثم عرج به الی السموات حتی الی سدرة المنتهی (بیضاوی ج ١ ص ٤٧٤)“ اور وہ اس خیال کی تائید میں ذیل کے واقعات سے استدلال کرتے ہیں:

الاقصیٰ (بنی اسرائیل: ١)“ میں اسراء کا ذکر کرتے ہوئے آیت کو لفظ سبحان سے شروع کیا ہے جو تعجب کے معنی کا فائدہ دیتا ہے۔ خواب میں سیر کرنا محل تعجب نہیں ہے۔ (٢)...... لفظ اسراء بیداری میں رات کو سیر کرانے پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ روحی یا نومی سیر پر نہیں بولا جاتا۔

آیا ہے۔ تنہا روح یا جسم مراد نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جس رات معراج ہوئی اس کی صبح کو قریش نے اس واقعہ کو سن کر انکار کیا اور بیت المقدس کے متعلق آپ ﷺ سے سوالات کئے اور سفر کے دوسرے حالات بھی پوچھے اور بعض ضعیف الاعتقاد مسلمان مرتد ہوگئے۔ اگر معراج جسمانی نہ ہوتی تو ایک مرتبہ خواب کے بارے میں اس قدر فتنہ اور سوالات کبھی برپا نہ کرتے اور نہ آپ ﷺ کو جواب دینے کی ضرورت محسوس ہوتی اور نہ لوگ مرتد ہوتے۔ جیسا کہ ان حوالجات سے ظاہر ہے:

”روی عن ابن عباسؓ ...... فلما خرج (رسول الله) جلس الیه ابوجهل فاخبره ﷺ بحديث الاسراء فقال ابوجهل يا معشر كعب بن لوئى بن غالب هلم فحدثهم فمن مصفق ووضع يده على رأسه تعجباً وانكاراً وارتد ناس ممن كان امن به وسعی رجال الى ابى بكر فقال ان كان قال ذالك لقد صدق قالوا تصدقه على ذالك قال انى اصدقه على ابعد من ذالك فسمى الصديق وكان فيهم من يعرف بيت المقدس فاستنعتوه المسجد فجلى له بيت المقدس فطفق ينظر اليه وينعته لهم فقالوا اما النعت فقد أصابه فقالو

صفحہ ٩٠

اخبرنا عن عيرنا فاخبراهم بعددها وجمالها واحوالها و قال تقدم يوم كذا مع طلوع الشمس يقدمها جمل اورق فخرجوا يشتدون ذالك اليوم نحو الثنية فقال قائل منهم هذه والله الشمس قد اشرقت فقال آخر هذه والله العير قد اقبلت يقدمها جمل اورق كما قال محمد ﷺ“

(ابوالسعود ج ٥ ص١٥٥ واللفظ له، بيضاوى ج ١ ص٤٧٣)

”عن ابن هريرة قال رسول الله ﷺ لقد رايتنى فى الحجر وقريش تسألنى عن مسراى فسالتنى عن اشياء من بيت المقدس لم اثبتها فكربت كربة ما كربت مثله قط فرفعه الله لى انظر اليه ما يسألونى عن شئی الا نبأتهم“

(رواه المسلم ج ١ ص ٩٦ باب الاسراء)

”عن جابر انه سمع رسول الله يقول لما كذبتنى قريش قمت الى الحجر فجلى الله لى بيت المقدس فطفقت اخبرهم عن آياته وانا انظر اليه (مسلم ج ١ ص٩٦ ، بخارى ج ١ ص٥٤٨ واللفظ له باب حديث الاسراء) ”یعنی شب معراج کی صبح کو اہل مکہ نے بیت المقدس کے متعلق جو سوالات کئے۔ میں ان کو سن کر گھبرایا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا۔ جس سے میں قریش کے ہر ایک سوال کا صحیح صحیح جواب دیتا جاتا تھا۔

بروحه وتكون رویاء راها كما يرى النائم فى نومه ما انكره احد ولا نازعه احد وانما انكروا عليه كونه اعلمهم ان الاسراء كان بجسمه فى هذه المواطن كلها (باب ٣٦٧ ج ٣ ص٣٤٣) “اور ماجعلنا الروياء التي ..... الخ ! سے معراج روحانی یا نومی پر استدلال کرنا کئی وجہ سے صحیح نہیں:

جاتا ہے۔ جیسا کہ اس شعر میں آیا ہے:

فكبر للروياء وهش فواده
بشر نفساً كان قبل يلومها
صفحہ ٩٠

بخاری میں ابن عباسؓ سے بھی ایسا ہی منقول ہے کہ: ”قال ابن عباس هى رؤياء عين اريها رسول الله ﷺ“

(بخاری ج٢ ص٦٨٦، كتاب التفسير وبخاری ج١ ص٥٥٠ باب المعراج)

نے مکہ میں داخلہ کے لئے دیکھا تھا اور یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ملاعلی القاری نے منہاج العلوی میں لکھا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ اسراء کے وقت مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے اور نہ ان کو اصل واقعہ کی صحیح اطلاع ملی۔ زرقانی مالکی اور قاضی عیاض نے شفا میں لکھا ہے کہ عائشہ صدیقہؓ معراج کے زمانہ میں پیدا بھی نہیں ہوئی تھیں یا بالکل ناسمجھی کا زمانہ تھا۔ اس لئے جمہور کے مقابلہ میں ان کا قول غیر معتبر ہے۔ پھر نوم کے بارے میں ایک دو حدیثیں ملیں گی اور معراج جسمانی کے ثبوت میں احادیث صحیحہ مشہورہ بکثرت موجود ہیں: ”فهو الحديث المروى فى الصحاح وهو مشهور وهويدل على الذهاب من مكة الى بيت المقدس ثم منه الى السموات“

(كبير ج٢٠ ص١٥١ تحت آيت سبحان الذى اسرى)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی روح موجود ہونی چاہئے۔

معراج ہی کی رات آسمان میں وہ مختلف منازل پر دکھائے گئے ہیں۔ سب کو ایک جگہ نہیں دیکھا۔ پھر ان میں اکثر بنی اسرائیل تھے۔ اس ضابطہ کی رو سے چاہئے تھا کہ رسول خدا ﷺ بھی بنی اسرائیل ہوں۔ آدم اور ادریس اور ابراہیم علیہم السلام وہاں نہ ہونے چاہئیں تھے۔ کیونکہ ان میں سے ایک بھی بنی اسرائیل نہ تھا۔ علاوہ ازیں خود رسول اللہ ﷺ بجسدہ شریف موجود تھے تو عیسیٰ علیہ السلام کے مجسم ہونے میں کیا حرج ہے؟ ۔ رہا یہ سوال کہ بیت المقدس میں روحوں کو نماز کیونکر پڑھائی اور پھر باوجود لطافت کے آسمانوں پر ان کی رؤیت کس طرح ہوئی۔ اس کے متعلق شیخ عبدالحق نے لمعات میں یہ لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اپنے اصلی جسم کے ساتھ تھے۔ ورنہ باقی تمام انبیاء علیہم السلام کی روحیں مثالی جسم کے ساتھ موجود تھیں۔ ممکن ہے کہ بیت المقدس میں بھی تمام انبیاء علیہم السلام اصلی جسم میں تشریف لائے ہوں اور پھر وہاں سے آسمانوں پر اٹھا لئے گئے ہوں۔ ایسا علامہ قرطبی سے منقول ہے کہ: ”ثم قيل رؤيتم فى السماء محمولة على رؤية ارواحهم متمثلة الا عيسى لماثبت انه رفع فى جسده وقيل فى ادريس كذالك“

فاخبرهم بعدد جمالها واحوالها و قال تقدم يوم كذامع ها جمل اورق فخرجوا يشتدون ذالك اليوم نحو الثنية فقال قائل والله الشمس قد اشرقت فقال آخرهذه والله العير قد اقبلت كماقال محمد ﷺ“

(ابوالسعود ج٥ ص١٥٥ واللفظ له، بيضاوى ج١ ص٤٧٣)

عن ابى هريرة قال رسول الله ﷺ لقد رايتنى فى الحجر وقريش مسراى فسالتنى عن اشياء من بيت المقدس لم اثبتها فكربت كرباً مثل قط فرفعه الله لى انظر اليه مايسألونى عن شئی الا انباتهم به (رواه المسلم ج١ ص٩٦باب الاسراء)

عن جابر انه سمع رسول الله يقول كماكذبتنى قريش قمت الى الحجر فجلى الله لى بيت المقدس فطفقت اخبرهم عن آياته وانا انظر اليه (بخارى ج١ص٥٤٨ واللفظ له باب حديث الاسراء) یعنی شب معراج قریش نے بیت المقدس کے متعلق جو سوالات کئے۔ میں ان کو سن کر گھبرایا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اسے میرے سامنے کردیا۔ جس سے میں قریش کے ہر ایک سوال کا صحیح صحیح جواب دے سکا۔

بروحه ولم يكن بجسده مارآه كما يرى النائم فى نومه ماانكره احدولا نازعه فيه من قريش ولاغيرهم لكونه اعلمهم ان الاسراء كان بجسمه فى هذه المواطن“ (تفسیر روح المعانی ج١٥ ص٣٥) ”اور ماجعلنا الروياء التى...... الخ ! سے معراج روحانی یا خواب مراد لینا کسی طرح صحیح نہیں:

جاتا ہے۔ جیسا کہ عربی میں آیا ہے:

فكبر للروياء وهش فواده
وبشر نفساً كان قبل لومها
صفحہ ٩٢

واما الذين صلوا معه فى بيت المقدس تحمل على الارواح المتمثلة ويحتمل الاجساد يحتمل انه احضرت اجسادهم فى بيت المقدس لملاقاته ﷺ ثم رفعوا على السماء ، لمعات "

جو لوگ معراج روحانی کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی روح بھی دیگر انبیاء کی طرح جسم مثالی لطیف میں ظاہر ہوئی تھی۔ حجة اللہ البالغہ کی اس عبارت کا بھی یہی مطلب ہے: "انه كان فى برزخ جامع بين الناسوت والمثال"

س ...... "نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زہریر تک بھی پہنچ سکے۔"

(ازالہ ص ٤٧ ، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

ج ...... رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث کے مقابلہ میں فلسفی خیالات کو پیش کرنا اور اس کو ترجیح دینا زنادقہ کا کام ہے۔ جو شخص حضور علیہ السلام کو صادق ومصدوق اور نبی تسلیم کرتا ہے وہ اس قسم کے استبعادات عادیہ کو اپنی نظر میں وقعت نہیں دیتا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے قریش کے اس سوال کے جواب میں تصدیقاً علی ذالک یہ فرمایا تھا: "انی اصدقه على ابعد من ذالك" ایسا ہی آج ایک مسلمان کو ہونا چاہئے تھا۔ مگر افسوس مرزا قادیانی اور اس کے ہم خیال ایک طرف مسلمانی کا دعویٰ کرتے جاتے ہیں اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث کو فلسفی خیالات کی وجہ سے رد کرتے ہوئے نہیں شرماتے۔ پھر لطف یہ ہے کہ استبعادات عادیہ کا نام محالات عقلیہ رکھا ہوا ہے۔ رفع آسمانی کو زائد از زائد عادتاً بعید کہہ سکتے ہیں۔ مگر محال عقلی کبھی نہیں کہہ سکتے۔ نووی نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ رفع آسمانی کے استحالہ پر کوئی دلیل عقلی یا نقلی موجود نہیں ہے۔ مرزائی جماعت کرہ زہریر تک انسان کی رسائی عقلاً ناممکن سمجھتے ہیں اور ایسا ہی خرق والتیام کو ناجائز قرار دیتے ہیں۔ باوجود یکہ اس میں ایک چیز بھی رفع آسمانی کے لئے مانع نہیں ہے۔ ہمارے اس دعویٰ کے ثبوت میں مندرجہ ذیل دلائل موجود ہیں:

ہو جاتا ہے۔ ہوا عناصر اربعہ میں سے ایک بسیط عنصر ہے۔ یعنی محض ہیولیٰ اور صورت سے مرکب ہے۔ صاحب نفیسی نے لکھا ہے کہ بسائط میں کیفیت صورت کے تابع ہوتی ہے اور مرکب میں متبوع اسی وجہ سے بسائط میں کیفیت کے باطل ہونے سے اس کی صورت نوعیہ کا ابطال لازم نہیں

صفحہ ٩٣

آتا۔ مگر مرکب میں اگر کیفیت باطل ہو گی تو صورت نوعیہ مرکب کی کبھی نہیں رہ سکتی ۔

(ماخوذ از مفرح القلوب)

اس لئے اگر آگ کی حرارت اور ہوا کی عارضی سردی جاتی رہے اور ان کی صورت نوعیہ بحالہ باقی رہے تو ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بسائط میں کیفیت صورت نوعیہ سے جدا ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق میں صورتِ ناریہ کے قائم رہنے کے باوجود بھی اس کی حرارت جاتی رہی تھی ۔ اگر رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی زمہریر کی سردی اور کرہ نار کی حرارت باقی نہ رہی ہو تو کوئی استحالہ نہیں ہے۔

حرارت کا مطلقاً اثر نہیں ہوتا تو براق جیسی تیز رفتار کی موجودگی میں کہ جس کا منتہائے نظر پر قدم اٹھتا تھا زمہریر یا کرہ نار کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔

میں یہ الفاظ فرمایا کرتے کہ : ’اللهم اغسل خطاياي بالماء والثلج والبرد او كما قال (مشکوٰة ص ٧٧ باب مايقرء بعد التكبير)‘ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ متقی و پرہیز گار کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ ﷺ کی نیکیوں کی سردی کرہ نار پر غالب رہی جس شخص کا ہاتھ برف زدہ ہو اس کو دیر تک آگ میں رکھنے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

قمر تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کے امتناع کا قائل ہے۔ وہ قیامت کا بھی ضرور منکر ہے۔ لیکن بایں ہمہ جائز ہے کہ آسمان کے مسامات اس قدر وسیع ہوں کہ اس میں سے ایک انسان بآسانی گزر سکے۔ ایسے بڑے جسم کے لئے اگر اتنا وسیع مسام ہو تو ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جب صحیح حدیث میں آسمان کے لئے دروازہ کا ثبوت موجود ہے ۔ (مشکوٰة باب المعراج) تو فلسفی خیال کو تسلیم کرنا اور حدیث کو نہ ماننا کہاں تک جائز ہے۔ کیا مسلمانی اسی کا نام ہے؟۔

مطالبہ: (١)...... سلف صالحین میں سے ایک شخص کا قول ایسا پیش کرو جس نے فلسفی خیالات کی وجہ سے رفع آسمانی یا معراج جسمانی سے انکار کیا ہو۔ (٢)...... سلف میں سے کوئی شخص معراج کشفی کا قائل ہو۔ (٣)...... اگر ایک ہی رات میں مکہ سے بیت المقدس جا کر واپس

صفحہ ٩٥

آنا قانون قدرت کے موافق ہے تو آسمان پر جانا کیوں اس کے خلاف ہے اور اگر یہ واقعہ بھی کشف پر محمول ہے تو اہل مکہ کے جھگڑنے کی کیا وجہ تھی۔

آیت نمبر ٨ ..... ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ، ثم يوم القيامة يكون عليهم شهيدا“

(النساء:١٥٩)

ليؤمنن کی نحوی تحقیق

محض نون تاکید امر نہیں۔ تمنی استفہام وغیرہ کی تاکید کے لئے آتا ہے اور استقبال کا فائدہ دیتا ہے اور جس فعل میں طلب کے معنے نہیں پائے جاتے۔ جیسا کہ مضارع ہے اس میں نون تاکید بغیر لام تاکید کے نہیں آتا۔ لیکن لام تاکید کے ساتھ ہمیشہ استقبال کے لئے آتا ہے۔ ماضی یا حال پر کبھی دلالت نہیں کرتا۔

”اما المضارع فان كان حالالم يوكد بهم وان كان مستقبلاً اكد بهما وجوبافى نحوتا الله لاكيدن اصنامكم“

(مغنی ج ٢ ص ٢٢)

”واعلم ان الاصل فى نون التاكيد ان تلحق باخر فعل مستقبل فيه معنى الطلب كالا مروالنهى والاستفهام والتمنى والعرض نحواضر بن زيد او لاتضربن وهل تضربنه وليتك تضربن مثقله ومخففه واختص بمافيه معنى الطلب لان وضعه للتاكيد والتاكيد انما يليق بمايطلب حتى يوجد ويحصل فيغتنم هويوجد ان المطلوب ولا يليق بالخبر المحض لانه قد وجد وحصل فلايناسبه التاكيد واختص بالمستقبل لان الطلب انمايتعلق بمالم يحصل بعد ليحصل وهو المستقبل بخلاف الحال والماضى لحصولهما والمستقبل الذى هوخبر محض لاتلحق نون التاكيد باخره الا بعدان يدخل على اول الفعل مايدل على التاكيد كلام القسم وان لم يكن فيه معنى الطلب لان الغالب ان التكلم يقصد على مطلوبه (شيخ زاده على البيضاوى) تختص (نون التاكيد) لمستقبل طلب او خبر مفيد بتاكيد باللام نحوليضربن (متن متين)“

”نون التاكيد يؤكد مستقبلاً فيه معنى الطلب (الى ان قال) وامافى المستقبل الذى هو خبر محض فلا يدخل الابعد ان يدخل على اول الفعل مايدل على التاكيد ايضاً كلام القسم نحووالله لاضربن (رضى ص ٣٤١)“

غرض مضارع موکد بلام تاکید ونون تاکید ہمیشہ جگہ وہ کسی دوسرے فعل کی خبر واقع ہوا ہے وہاں اس کا مستقبل پر وہ مرتب ہے۔ مثلاً:”ومن عمل صالحاً من ذ حياة طيبة (النحل:٩٧)“ میں حیات طیبہ اور پاکیز موقوف اور متفرع ہے اور جملہ جزائیہ فلنحيينه بنسبت واقع ہے اور اگر وہ کسی شئی پر متفرع نہیں ہے تو وہاں زمانہ تکلم

”عن بعضهم ان صيغ الافعال مو مطلقة فاذا جعلت قيود المايدل على زمان كا زمانه“

(روح المعانى من الكهف ود

پس لیؤمنن مضارع موکد ہونے کی وجہ سے کے استقبال کی ابتداء آیت کے نازل ہونے کے بعد سے شر

استدلال ”وان من اهل الكتاب ............ ہے جو ازمنہ ثلاثہ میں سے محض استقبال کے لئے آتا ہے۔ ہوا۔ اس لئے اس کے زمانہ کی ابتداء آیت کے نازل ہونے معنے ہوں گے اہل کتاب کے ایمان لانے کا زمانہ نزول آیت علیہ السلام کی موت تک ممتد ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی موت ا

ک ...... مضارع کا صیغہ بحسب تصریح سید استمرار میں ازمنہ ثلاثہ داخل ہیں۔ مثلاً:”والذين جاهـ (عنكبوت:٦٩)“ ”ومن عمل صالحاً من ذكر حياة طيبه (النحل:٩٧)“ ”ولينصرن الله من ينـ الصالحات لندخلنهم فى الصالحين ، كتب الله ا

ج ........ سید السند کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مض نہ کسی اہل معانی نے ایسا لکھا ہے۔ بلکہ اس کی یہ مراد ہے کہ کرتا ہے تو مضارع میں استمرار تجددی کے معنے کے لئے جا۔

يقصد بالمضارع الاستمرار على سبيل التجد قد مضارع میں تقلیل کے واسطے آتا ہے اور سید صاحب ۔

صفحہ ٩٥

غرض مضارع موکد بلام تاکید ونون تاکید ہمیشہ استقبال کے لئے آتا ہے۔ مگر جس جگہ وہ کسی دوسرے فعل کی خبر واقع ہوا ہے وہاں اس کا مستقبل ہونا اس فعل کے بعد شروع ہوگا جس پر وہ مرتب ہے۔ مثلاً: ”ومن عمل صالحاً من ذكر او انثى وهو مؤمن فلنحيينه حياة طيبة (النحل: ٩٧) “ میں حیات طیبہ اور پاکیزہ زندگی کا عطا کرنا ایمان اور عمل صالح پر موقوف اور متفرع ہے اور جملہ جزائیہ فلنحیینہ بنسبت جملہ شرطیہ من عمل کے زمانہ آئندہ میں واقع ہے اور اگر وہ کسی شئی پر متفرع نہیں ہے تو وہاں زمانہ تکلم کے بعد استقبال کی ابتداء ہوگی۔

”عن بعضهم ان صيغ الافعال موضوعة لازمنة التكلم اذا كانت مطلقة فاذا جعلت قيود الما يدل على زمان كان مضيها وغيره بالنسبة الى زمانه“

(روح المعانى سورة الكهف ونحوه عن ابى السعود ، فتح البارى)

اس لئے لیؤمنن مضارع موکد ہونے کی وجہ سے زمانہ آئندہ پر دلالت کرے گا اور اس کے استقبال کی ابتداء آیت کے نازل ہونے کے بعد سے شروع ہوگی۔

استدلال ”وان من اهل الكتاب ............ الخ “ میں لیؤمنن مضارع موکد ہے جو ازمنہ ثلاثہ میں سے محض استقبال کے لئے آتا ہے۔ چونکہ وہ کسی فعل کی جزاء بن کر مذکور نہیں ہوا۔ اس لئے اس کے زمانہ کی ابتداء آیت کے نازل ہونے کے بعد سے شروع ہوگی جس کے یہ معنے ہوں گے اہل کتاب کے ایمان لانے کا زمانہ نزول آیت کے بعد سے شروع ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت تک ممتد ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کی موت ابھی تک وارد نہیں ہوئی۔

س....... مضارع کا صیغہ بحسب تصریح سید السند استمرار کے لئے ہوتا ہے اور استمرار میں ازمنہ ثلثہ داخل ہیں۔ مثلاً: ” والذين جاهدوا فينا لنهدينهم سبلنا (عنكبوت: ٦٩) “ ” ومن عمل صالحاً من ذكر او انثى وهو مؤمن فلنحيينه حياة طيبه (النحل: ٩٧) “ ” ولينصرن الله من ينصره ، والذين آمنوا وعملوا الصالحات لندخلنهم فى الصالحين ، كتب الله لا غلبن انا ورسلى “

ج ....... سید السند کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مضارع ہر جگہ استمرار کا فائدہ دیتا ہے اور نہ کسی اہل معانی نے ایسا لکھا ہے۔ بلکہ اس کی یہ مراد ہے کہ جب کوئی قرینہ یا مقام استمرار کا تقاضا کرتا ہے تو مضارع میں استمرار تجددی کے معنے لئے جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے کہ : ”وقد يقصد بالمضارع الاستمرار على سبيل التجدد والتقضى “ بحسب مقامات لفظ قد مضارع میں تقلیل کے واسطے آتا ہے اور سید صاحب نے بھی قد يقصد ہی فرمایا ہے جو قلت

صفحہ ٩٦

استعمال پر دلالت کرتا ہے۔ اگرچہ امثلہ مذکورہ میں مضارع مؤکد استمرار کے لئے ہے۔ لیکن زمانہ ماضی یا حال کے استمرار کے واسطے نہیں ہے۔ بلکہ استمرار استقبالی کے لئے ۔ کیونکہ ”لنهدينهم فلنحيينه لينصرن الله“ اور ”لندخلنهم“ یہ جزاء ہیں۔ اسم موصول متضمن معنی شرط کے جو الذين جاهدوا ...... ومن عمل ...... من ينصره ...... والذين آمنوا میں ہے۔

”اذا تضمن المبتدأ معنى الشرط فيصح دخول الفا في الخبر وذالك الاسم الموصول بفعل او ظرف (كافيه)“ او لاغلبن نتیجہ یا اثر ہے۔ فعل کتب بمعنی قدر کا فرع کبھی اصل سے اور جزاء شرط سے مقدم نہیں ہوسکتی۔ اس لئے ان تمام افعال کا زمانہ شرط کے بعد ہوگا اور اسی کی نسبت سے ان کا زمانہ مستقبل سمجھا جائے گا اور ایسا استمرار ہمارے لئے مضر نہیں اور اگر اس کو تینوں زمانہ کے لئے عام کریں اور ان کو فعل شرط پر موقوف نہ رکھیں تو جزاء کا شرط سے اور فرع کا اصل سے مقدم ہونا لازم آئے گا جو اذا وجد الشرط وجد المشروط کے بالکل مخالف ہے۔

جس طرح کلما دخلت الدار فانت طالق میں طلاق کے واقع ہونے کا استمرار اور دوام محض لفظ کلما کی وجہ سے ہے جو شرط پر داخل ہو کر اس کے دوام اور استمرار کا مقتضی ہے۔ اس طرح یہاں شرط کے ماتحت جزاء کا انعقاد ہورہا ہے۔ مگر لیؤمنن میں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ وہ کسی فعل پر مرتب یا کسی شرط کی جزاء نہیں ہے۔ اس لئے اس کو امثلہ مذکورہ پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔

س ...... ہم نے مانا کہ نون تاکید کا استقبال کے لئے آتا ہے۔ لیکن لام زمانہ حال پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے جائز ہے کہ لیؤمنن میں حال اور استقبال دونوں مراد ہو۔

ج ...... لام ابتدائیہ حالیہ نون تاکید کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوتا۔ نون تاکید کے ساتھ لام تاکید ہی آتا ہے جو زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ پہلے معنی سے نقل ہو چکا ہے کہ لام اور نون ہمیشہ استقبال کا فائدہ دیتے ہیں۔ دونوں جمع ہو کر زمانہ حال کے واسطے کبھی نہیں ۔

علامہ عبدالحکیم فرماتے ہیں کہ: ”ان كان مضارعاً استقباليا يلزم اللام مع كون التاكيد (الى ان قال) وان كان مضارعا حاليا يكون باللام من غيرالنون“

(تكلمه ص ٥٣٦)

س ...... علامہ عبدالحکیم نے تکملہ میں لکھا ہے کہ: ”نون التاكيد لايوكد الا مطلوبا والمطلوب لايكون ماضياً ولا حالا ولا خبرا مستقبلا لهذا ليؤمنن“

صفحہ ٩٧

اگرچہ امثلہ مذکورہ میں مضارع مؤکد استمرار کے لئے ہے۔ لیکن زمانہ واسطے نہیں ہے۔ بلکہ استمرار استقبالی کے لئے۔ کیونکہ ”لنهدينهم “ اور ”لندخلنهم“ یہ جزاء ہیں۔ اسم موصول متضمن معنے شرط کے ومن عمل ...... من ينصره ..... والذين آمنوا میں ہے۔ من المبتدأ معنى الشرط فيصح دخول الفاء في الخبر صول بفعل او ظرف (كافيه)“ اولا غلبن نتیجہ یا اثر ہے۔ فعل ں اصل سے اور جزاء شرط سے مقدم نہیں ہو سکتی ۔ اس لئے ان تمام فعلوں ۔ اور اسی کی نسبت سے ان کا زمانہ مستقبل سمجھا جائے گا اور ایسا استمرار گر اس کو تینوں زمانہ کے لئے عام کریں اور ان کو فعل شرط پر موقوف نہ ر فرع کا اصل سے مقدم ہونا لازم آئے گا جو اذا وجد الشرط کل مخالف ہے۔

علاوہ ازیں ان میں جو کچھ بھی استمرار ہے وہ فعل شرط ہی کی وجہ سے ہے ت الدار فانت طالق میں طلاق کے واقع ہونے کا استمرار اور دوام محض شرط پر داخل ہو کر اس کے دوام اور استمرار کا مقتضی ہے۔ اس طرح یہاں نقاد ہو رہا ہے۔ مگر لیؤمنن میں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ وہ کسی فعل پر مرتب یا ہے۔ اس لئے اس کو امثلہ مذکورہ پر قیاس کرنا قياس مع الفارق ہے۔

ہم نے مانا کہ نون تاکید کا استقبال کے لئے آتا ہے۔ لیکن لام زمانہ حال لئے جائز ہے کہ لیؤمنن میں حال اور استقبال دونوں مراد ہو۔ لام ابتدائیہ حالیہ نون تاکید کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہوتا۔ نون تاکید کے ، جو زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ پہلے معنی سے نقل ہو چکا ہے کہ ، کا فائدہ دیتے ہیں۔ دونوں جمع ہو کر زمانہ حال کے واسطے کبھی نہیں۔

م فرماتے ہیں کہ : ” ان كان مضارعا استقباليا يلزم اللام مع ، ان قال ) وان كان مضارعا حاليا يكون باللام من

(تكمله ص ٥٣٦)

علامہ عبدالحکیم نے تکملہ میں لکھا ہے کہ: ”نون التأكيد لا يؤكد الا لا يكون ماضياً ولا حالا ولا خبرا مستقبلا لهذا ليؤمنن “

جملہ قسمیہ اور موکد بنون تاکید ہونے کی وجہ سے انشائیہ ہوا خبر یہ نہ ہوا اور انشائیہ پیشین گوئی نہیں بن سکتا۔ اس لئے آیت کو آخری زمانہ میں ایمان لانے پر چسپاں کرنا صحیح نہیں ۔ نیز قاضی بیضاوی اور کشاف وغیرہ نے بھی اس کو جملہ قسمیہ لکھا ہے ۔

ج ...... نون تاکید کا تنہا ہمیشہ امر نہی وغیرہ انشاءات میں آتا ہے ۔ فعل مستقبل پر اکیلا کبھی داخل نہیں ہوتا۔ جب آتا ہے لام تاکید کے ساتھ آتا ہے۔ جیسا کہ شیخ زادہ حاشیہ بیضاوی اور رضی شرح کافیہ سے پہلے ثابت ہو چکا ہے۔ علامہ عبدالحکیم کی اس عبارت کا یہی مطلب ہے کہ تنہا نون تاکید محض طلب کے واسطے آتا ہے اور طلب انشاءات میں پائی جاتی ہے۔ اس لئے وہ امر نہی استفہام وغیرہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ مستقبل میں نہیں آتا ۔مگر جب نون تاکید کے ساتھ لام تاکید بھی مل جائے تو مضارع پر داخل ہوتا ہے اور وہ جملہ موکد خبر یہ ہی ہوتا ہے۔ انشائیہ نہیں ہوتا۔ البتہ محض خبریت نہیں ہوتی ۔ بلکہ طلب کے معنے بھی فی الجملہ اس میں موجود ہوا کرتے ہیں۔

(كماقال شيخ زاده وتكمله ص ٥٣٦ فيمامر )

چنانچہ خود علامہ نے حاشیہ بیضاوی میں لیؤمن کے ماتحت بیضاوی کے قول جملہ قسمیہ کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ” انها جملة خبرية موكده بالقسمية الانشائيه فيصح وقوعها صفة بلا تاويل بالخبريه (حاشيه بيضاوی ) معلوم ہوا کہ لیؤمن جملہ خبر یہ ہے انشائیہ نہیں ہے ۔ بیضاوی یا کشاف کے جملہ قسمیہ کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لیؤمن فعل قسم یا جملہ انشائیہ ہے۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ یہاں فعل قسم باللہ محذوف ہے اور لیؤمن اس کا جواب ہے۔ شہاب علی حاشیہ بیضاوی میں اس کی یہ تقدیر نکالی ہے : ” و التقدير و ما احد من اهل الكتاب الا والله ليؤمنن به “ لیکن باوجود جملہ قسمیہ بنانے کے لیؤمن کو اس میں بھی خبر یہ ہی لکھا ہے : ” احدهما انه صفة لمبتدأ محذوف والقسم مع جوابه خبرولا يرد عليه ان القسم انشاء لان المقصود بالخبر جوابه وهو خبر موكد با لقسم“

(شهاب ج٣ ص ١٩٩)

متن متین میں ہے : ” الرابعة جواب القسم وهو يجاب بالطلب ويسمى استعطافا ويختص بالباء وبالخبر هو القسم المتعارف “

علاوہ ازیں اگر لیؤمن کو اصل اور قسم کو اس کی قید بنا کر جملہ خبر یہ نہ بنائیں تو موصوف مقدر کی جملہ قسمیہ صفت نہیں بن سکے گا اور جملہ کی ترکیب صحیح نہیں ہوگی۔ کیونکہ صفت جملہ خبر یہ ہوتا

صفحہ ٩٨

ہے انشائیہ نہیں ہوتا۔ پھر لام اسی قسم کے جواب میں آتا ہے جو سوال اور طلب کے واسطے نہ ہو۔ ملا جامی لکھتے ہیں کہ: ”ویتلقی ای یجاب القسم الذی لغیر السوال بالام (الى ان قال) واما قسم السوال فلا يتلقى الا بما فيه معنى الطلب نحو بالله اخبرنی وبالله هل قام زید“

(شرح الجامی)

غرض جواب قسم کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ انشائیہ ہی ہوا کرے۔ اسی وجہ سے کبھی جملہ اسمیہ اور کبھی ماضی اور مستقبل وغیرہ قسم کا جواب ہوا کرتے ہیں۔ جس طرح قضیہ شرطیہ کے اطراف کا شرطیہ ہونا لازمی نہیں ہے کبھی جملہ بھی ہوا کرتا ہے۔ اسی طرح جملہ قسمیہ میں جواب قسم کا انشائیہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس لئے لیؤمن بالاتفاق جملہ خبریہ ہے۔ انشائیہ نہیں ہے۔

س....... لیؤمنن بہ قبل موتہ میں قبل موتہ کی ضمیر عام مفسرین نے کتابی کی طرف لوٹانی جائز رکھی ہے۔ قبل موتھم اور لیؤمنن ضم نون کی قرأت اس معنی کی مؤید ہے۔ جب تک اس احتمال کی نفی اور مسیح کے لئے مرجع کا تعین ثابت نہ کیا جائے گا اس وقت تک اس آیت سے حیات مسیح پر استدلال کرنا جائز نہیں۔

ج....... چونکہ لیؤمن زمانہ آئندہ کے ساتھ خاص ہے۔ اس لئے زمانہ استقبال کی رعایت کرتے ہوئے قبل موتہ کی ضمیر میں دو ہی احتمال نکل سکتے ہیں:

اگرچہ اس آیت سے حیات مسیح پر استدلال کرنا دوسری توجیہہ کی صورت میں ہے۔ لیکن اس دلیل کی صحت پہلی توجیہہ کی نفی پر موقوف نہیں ہے۔ جب ایک عبارت کی دو صحیح توجیہیں ہو سکتی ہیں تو ایک توجیہہ کی وجہ سے دوسری توجیہہ کی نفی کرنی یا اس کے مفاد کو تسلیم نہ کرنا جب تک اس کا غلط ہونا ثابت نہ کریں صحیح نہیں ہے۔ زائد از زائد یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت سے حیات مسیح پر استدلال کرنا مطلقاً اور ہر حالت میں جائز نہیں ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پہلی توجیہہ کی وجہ سے دوسرے صحیح معنی سے استدلال کرنا غلط یا غیر مفید ہے۔

البتہ اگر دوسری توجیہہ میں کوئی ایسا احتمال پیدا ہو جاتا ہے جس کی موجودگی میں وہ توجیہہ کرنی صحیح نہ رہتی تو پھر اس سے استدلال اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال کے قاعدہ سے درست نہ رہتا۔ لیکن جب ہر ایک توجیہہ اپنی جگہ پر درست اور یقینی ہے اور ایک دوسرے پر موقوف نہیں اور ان میں کوئی احتمال خلاف کا بھی نہیں نکلتا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک توجیہہ سے دوسری کی

صفحہ ٩٩

م اسی قسم کے جواب میں آتا ہے جو سوال اور طلب کے واسطے نہ ہو۔ ملا تفى ای یجاب القسم الذی لغیر السوال بالام (الى ان قال فلا یتلقى الایما فیه معنى الطلب نحو بالله اخبرنی

(شرح الجامی)

قسم کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ انشائیہ ہی ہوا کرے۔ اسی وجہ سے کبھی مستقبل وغیرہ قسم کا جواب ہوا کرتے ہیں۔ جس طرح قضیہ شرطیہ کے نہیں ہے کبھی جملہ بھی ہوا کرتا ہے۔ اسی طرح جملہ قسمیہ میں جواب قسم کا ہے۔ اس لئے لیؤمن بالاتفاق جملہ خبریہ ہے۔ انشائیہ نہیں ہے۔ لیؤمنن بہ قبل موتہ میں قبل موتہ کی ضمیر عام مفسرین نے کتابی ہے۔ قبل موتھم اور لیؤمنن ضم نون کی قرأت اس معنی کی مؤید ہے۔ ں اور مسیح کے لئے مرجع کا تعین ثابت نہ کیا جائے گا اس وقت تک اس ستدلال کرنا جائز نہیں۔ ونکہ لیؤمن زمانہ آئندہ کے ساتھ خاص ہے۔ اس لئے زمانہ استقبال کی بل موتہ کی ضمیر میں دو ہی احتمال نکل سکتے ہیں: ضمیر کا مرجع احد مقدر ہو جو لیؤمن کا موصوف ہے۔ یعنی کتابی۔ سی کی طرح قبل موتہ کی ضمیر بھی عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع ہے۔ ت مسیح پر استدلال کرنا دوسری توجیہہ کی صورت میں ہے۔ لیکن اس دلیل ی پر موقوف نہیں ہے۔ جب ایک عبارت کی دو صحیح توجیہیں ہوسکتی ہیں تو سری توجیہہ کی نفی کرنی یا اس کے مفاد کو تسلیم نہ کرنا جب تک اس کا غلط ہونا ہے۔ زائد از زائد یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت سے حیات مسیح پر استدلال ، میں جائز نہیں ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پہلی توجیہہ کی وجہ سے دلال کرنا غلط یا غیر مفید ہے۔ سری توجیہہ میں کوئی ایسا احتمال پیدا ہوجاتا ہے جس کی موجودگی میں وہ ۔ پھر اس سے استدلال اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال کے قاعدہ سے ب ہر ایک توجیہہ اپنی جگہ پر درست اور یقینی ہے اور ایک دوسرے پر موقوف ال خلاف کا بھی نہیں نکلتا تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایک توجیہہ سے دوسری کی

نفی کر دی جائے۔ خصوصاً جبکہ دوسری توجیہہ بنسبت پہلی توجیہہ کے کئی وجہ سے بہتر اور عمدہ ہے۔ اس کو چھوڑ کر پہلی توجیہہ پر اکتفا کرنا کسی طرح درست نہیں۔ صحیح روایت سے ثابت ہے کہ ابن عباسؓ اور حسن بصریؒ نے بھی قبل موتہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع کی ہے اور اسی کو علامہ ابن کثیر اور حافظ ابن جریر نے اختیار کیا ہے:

"وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد بن جبير منه باسناد صحيح ومن طريق ابى رجاء عن الحسن قال قبل موت عيسى والله انه الان لحيى ولكن اذا نزل آمنوا به اجمعون ونقل عن اكثر اهل العلم ورجحه ابن جرير وغيره"

(فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧، کتاب الانبياء باب نزول المسيح)

"وان من اهل الكتاب احد الا ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى وهم اهل الكتاب الذين يكونون فى زمانه فتكون الملة واحدة وهى ملة الا سلام وبهذا جزم ابن عباس فيما رواه ابن جرير من طريق سعيد بن جبير عنه باسناد صحيح"

(ارشاد والسارى شرح صحيح البخارى مثله وفتح البارى ج ٦ ص ٣٥٧)

"وهذا القول هو الحق كما سنبينه بعد بالدليل القاطع ان شاء الله وبه الثقة وعليه التكلان"

(تفسیر ابن کثیر ج ٦ ص ٤٠١)

"قال ابن جرير واولى هذه الاقوال بالصحة القول الاول وهوانه لايبقى احد من اهل الكتاب بعد نزول عيسى عليه السلام الا آمن به قبل موته اى قبل موت عيسى عليه السلام"

(نقله ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٢ وعقيدة الاسلام ص ١٣٧ طبع دیوبند)

پھر اس سے پہلے جتنی ضمیریں ہیں وہ سب عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ اس لئے اس ضمیر کا بھی عیسیٰ علیہ السلام ہی کی طرف راجع کرنا بنسبت کتابی کے زیادہ بہتر ہے۔ غرض قول راجح اور صحیح یہی ہے کہ موتہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹائی جائے۔ اس لئے حیات مسیح پر اس آیت سے استدلال کرنا درست ہے۔

سے حیات مسیح ہی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ یؤمنن بہ سے ایمان صحیح مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ

صفحہ ١٠٠

السلام پر مطلقاً یقین رکھنا مراد نہیں۔ ورنہ ہر ایک کتابی پہلے ہی سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کوئی نہ کوئی غلط عقیدہ رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں صحیح عقیدہ اور اصلی ایمان وہی ہے جو مسلمانوں کا ہے۔ یعنی وہ خدا کے بندے ہیں۔ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور زندہ آسمانوں پر اٹھا لئے گئے اور قیامت کے قریب زمین پر اتریں گے۔

ایسا ایمان ہر کتابی کو اس کے نزع کے وقت ملائکۃ العذاب کی سختی کرنے کی وجہ سے حاصل ہوگا۔ مگر چونکہ غرغرہ اور نزع کے وقت کا اقرار یا ایمان معتبر نہیں ہے۔ اس لئے وہ غیر مفید ہے۔ جیسا کہ حضرت ام سلمہؓ سے بسند صحیح روایت ہے کہ: ”ان النصرانی اذا خرجت روحہ ضربتہ الملائکہ من قبلہ ودبرہ وقالوا ای خبیث ان المسیح الذی زعمت انہ اللہ وابن اللہ او ثالث ثلاثہ عبداللہ وروحہ وکلمتہ فیؤمن حین لا ینفعہ ایمانہ وان الیہودی اذا خرجت نفسہ ضربتہ الملائکۃ من قبلہ ودبرہ وقالوا ای خبیث ان المسیح الذی زعمت انک قتلتہ عبداللہ وروحہ فیؤمن بہ حین لا ینفعہ الایمان فاذا کان عند نزول عیسیٰ آمنت بہ احیاء ہم کما آمنت بہ موتاہم“

(در منثور ج ٢ ص ٢٤١)

ملائکۃ اللہ کا اہل کتاب کو مرنے کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق غلط عقیدہ پر متنبہ کرنا عقیدہ کی اصلاح کرنے کی نیت سے نہیں ہے۔ بلکہ جھڑکنے اور غلطی پر مطلع کرکے ان کے دل میں تحسر اور افسوس پیدا کرنے کی غرض سے ہے اور اس قسم کی تنبیہ عام کافروں کو بھی ان کے مرنے کے وقت کی جاتی ہے۔ سورۂ نحل میں ہے کہ: ”الذین تتوفاہم الملائکۃ ظالمی انفسہم فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء ٠ بلیٰ ان اللہ علیم بما کنتم تعلمون (النحل: ٢٨)“ کافروں کو یہ تنبیہ ان کے موت ہی کے وقت کی جائے گی۔ چنانچہ جلالین میں فالقوا السلم کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”انقادوا واستسلموا عند الموت“ معلوم ہوا کہ جس طرح مشرکین کو شرک پر نزع کے وقت تنبیہ کی جاتی ہے۔ ایسے ہی اہل کتاب کو ان کے غلط عقیدہ پر متنبہ اور آگاہ کیا جاتا ہے۔ جس سے ان کو اپنے عقیدہ کی غلطی اور مسلمانوں کے خیال کی صحت کا یقین ہوجاتا ہے۔

لہٰذا اگر قبل موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع کی گئی تو لیؤمنن بہ سے ایمان صحیح مراد ہونے کی وجہ سے حیات مسیح کا مسلمانوں کی طرح ماننا ضروری ہوگا اور حیات مسیح پر آیت سے مطلقاً استدلال کرنا صحیح سمجھا جائے گا اور اگر اثر کی صحت اور ایمان صحیح مراد لینے سے انکار کیا گیا تو آیت کا

صفحہ ١٠١

بے فائدہ اور جھوٹا ہونا لازم آئے گا ۔ کیونکہ اگر ایمان سے وہی ایمان مراد ہے جو یہود و نصاریٰ کو حضرت عیسیٰ کے متعلق پہلے سے حاصل تھا تو آیت کا ذکر کرنا بے سود ہے اور اگر بالکل مسلمان ہونا مراد ہے تو علاوہ مضر ہونے کے مشاہدہ کے خلاف ہے۔ جس سے آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔ اس لئے نزول عیسیٰ سے پہلے اہل کتاب کا ایمان نزع کے وقت اس قسم کا ہوگا۔ جیسا کہ مذکور ہوا۔ ان کے نزول کے بعد مرنے سے پہلے تمام اہل کتاب آنکھوں سے دیکھ کر عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق اپنے عقیدہ کی اصلاح کریں گے اور باامر عیسیٰ علیہ السلام، اسلام میں داخل ہوں گے اور اس طرح کلیت اس حکم کی ہر زمانہ کے لئے ثابت ہو جائے گی۔

آیت پر ضروری ہوتا ہے جس طرح ”فاعتزلوا النسآء فی المحیض ٠ ولا تقربوہن حتی یطہرن (البقرہ: ٢٢٢) ”یطہرن“ میں تخفیف اور تشدید دونوں طرح آیا ہے۔ تخفیف کی صورت میں آیت کے یہ معنے کئے گئے ہیں کہ جب عورت کا حیض پورے دس دن میں ختم ہو تو بغیر غسل کرنے کے اس سے مقاربت کرنا جائز ہے اور قراۃ تشدید کی وجہ سے یہ مسئلہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر دس دن سے کم میں حیض منقطع ہو تو پہلے غسل کرنا یا کم از کم ایک نماز کا وقت گزارنا ضروری ہے۔ اسی طرح یہاں ابی کی قرآۃ جمع کی اور قراۃ متواترہ میں ضمیر واحد غائب کی ہے۔ حیات مسیح پر استدلال قرآۃ متواترہ سے کیا گیا ہے جو بمنزلہ ایک جدا گانہ آیت کے ہے اور جمع غائب کی قراۃ کی وجہ سے ضمیر کتابی کی طرف راجع کی گئی ہے۔ ہر آیت اپنے اپنے معنی پر محمول ہے۔ ایک کو دوسرے کے تابع کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر تابع ہی کرنا ہے تو قراءۃ غیر معروفہ قرآت متواترہ کے تابع کر کے یہ معنے بیان کرنے چاہئیں کہ ہر کتابی نزول عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے نزع کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مسلمانوں کی طرح ایمان لاتا ہے اور بعد نزول عیسیٰ اس زمانہ کے اہل کتاب ان کو آنکھوں سے دیکھ کر اپنے غلط عقیدہ سے توبہ کرتے ہوئے اسلام میں داخل ہوں گے ۔ اس صورت میں دونوں قرآتوں پر عمل ہو جائے گا اور اگر اس کا الٹا کیا گیا تو علاوہ قراۃ متواترہ کو غیر متواترہ کے تابع کرنے کے ، دونوں پر عمل نہیں ہو سکتا ۔

کلیہ کا صدق کسی مدت کے ساتھ مقید ہو۔ جیسا کہ یہاں موت تک اس حکم کے صادق ہونے کی مدت ذکر کی گئی ہے تو ایسی صورت میں جمیع مدت کے ہر جز یا ہر ایک وقت میں کلیہ کا پایا جانا ضروری نہیں ہوتا ۔ مثلاً کوئی شخص کہے کہ ایک سال تک تمام شہر کی دعوت کروں گا۔ دعوت کے وقت شہر کے

صفحہ ١٠٢

تمام افراد موجودہ کا مدعو ہونا لازمی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ دعوت کا ارادہ ظاہر کرنے کے وقت جتنے آدمی شہر میں آباد تھے وہ سب ایک سال تک وہاں حاضر رہیں۔ نہ کوئی مرے اور نہ سفر کے لئے باہر جائے اور نہ کوئی بچہ پیدا ہو۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے کسی نہ کسی وقت میں کلیت حکم کی ضرور پائی جائے گی اور اس وقت جتنے اہل کتاب ہوں گے وہ ضرور ایمان لائیں گے اور ایسا ہی حدیث میں آیا ہے: ”روی انه عليه السلام ينزل من السماء في آخرالزمان فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن به حتى تكون الملة واحدة وهى ملة الاسلام (رواه ابن جرير عن ابن عباس بسند صحيح ذكره ارشاد الساری ج٢ ص ٢٥٢، در المنثور ج٢ ص ٢٤١ يؤمن به البر والفاجر)“ الغرض جیسے : ”اذ اخذ الله ميثاق الذين اوتو الكتاب (آل عمران: ١٨٧) لما آتيتكم من كتاب وحكمة ثم جآءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه (آل عمران: ٨١)“ میں اہل کتاب سے مراد وہی اہل کتاب ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ کی بعثت تک جو اہل کتاب گزر گئے وہ مراد نہیں ہیں اور نہ ان کا اس عہد کو پورا کرنے کے لئے اس وقت تک زندہ رہنا ضروری سمجھا گیا۔ ایسے ہی یہاں بھی اہل کتاب سے وہی کتابی مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں موجود ہوں گے اور ہر ایک کتابی کا کلیت کے معنے صحیح کرنے کے لئے اس وقت تک زندہ رہنا ضروری نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض جاہلوں نے سمجھ رکھا ہے اور اس شبہ کی وجہ سے کلیت کی نفی کرتے ہوئے اس مفہوم کے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

(دیکھو احمدیہ پاکٹ بک)

اور جنس کا اطلاق قلیل اور کثیر دونوں پر ہو سکتا ہے۔ اس لئے اہل کتاب سے ان کے تمام افراد مراد نہیں ہیں۔ بلکہ وہ بعض افراد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوں گے۔ جنس پر حکم کرنے کی صورت میں تمام افراد کا احاطہ نہیں ہوا کرتا۔ قرآن مجید میں ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں ۔ مثلاً:

یہ مقولہ کافروں کا ہے۔ مگر آیت میں مطلقاً انسان کا بتایا ہے۔ اس لئے لامحالہ یہی کہنا پڑے گا کہ حکم آیت میں جنس کے لئے ہے۔ جس میں تمام افراد کا احاطہ ضروری نہیں ہوتا۔ چنانچہ امام رازیؒ اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”ان هذه المقالة لما كانت موجودة فيما هو من

صفحہ ١٠٣

ہونا لازمی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ دعوت کا ارادہ ظاہر کرنے کے بعد تھے وہ سب ایک سال تک وہاں حاضر رہیں۔ نہ کوئی مرے اور نہ سفر کوئی بچہ پیدا ہو۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مرنے سے پہلے کلیت حکم کی ضرور پائی جائے گی اور اس وقت جتنے اہل کتاب ہوں گے وہ فرمایا اسی حدیث میں آیا ہے : ”روى انه عليه السلام ينزل من السماء فلا يبقى احد من اهل الكتاب الا ليؤمنن به حتى تكون ملة الاسلام (رواه ابن جریر عن ابن عباس بسند صحیح ذکره ص ٢٥١، درالمنثور ج ٢ ص ٢٤١ يؤمن به البر و الفاجر ) “

”اذ اخذالله ميثاق الذين اوتو الكتاب (آل عمران: ١٨٧) کتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به (آل عمران: ٨١)“ میں اہل کتاب سے مراد وہی اہل کتاب ہیں جو رسول اللہ ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضور ﷺ کی بعثت تک جو اہل کتاب ہیں اور نہ ان کا اس عہد کو پورا کرنے کے لئے اس وقت تک زندہ رہنا یہاں بھی اہل کتاب سے وہی کتابی مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے اور ہر ایک کتابی کا کلیت کے معنے صحیح کرنے کے لئے اس وقت نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض جاہلوں نے سمجھ رکھا ہے اور اس شبہ کی وجہ سے اس مفہوم کے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ (دیکھو احمدیہ پاکٹ بک ) آیت میں ایمان لانے کا حکم اہل کتاب کی جنس کے لئے بیان کیا گیا ہے تفسیر دونوں پر ہو سکتا ہے۔ اس لئے اہل کتاب سے ان کے تمام افراد مراد افراد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ہوں گے۔ جنس پر حکم تمام افراد کا احاطہ نہیں ہوا کرتا۔ قرآن مجید میں ایسی مثالیں بکثرت موجود ’ويقول الانسان أأذا مامت لسوف اخرج حيا (مريم: ٦٦)“ آیت میں مطلقاً انسان کا بتایا ہے۔ اس لئے لامحالہ یہی کہنا پڑے گا کہ حکم ہے۔ جس میں تمام افراد کا احاطہ ضروری نہیں ہوتا۔ چنانچہ امام رازیؒ اسی کہ ”ذلك ان هذه المقالة لماكانت موجودة فيما هو من

جنسهم صح اسنادها الى جميعهم كمايقال بنوفلان قتلوا فلانا وانما القاتل رجل منهم“

(تفسير كبير ج ٢١ ص ٢٤١)

باوجود یکہ مٹی سے صرف حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے۔ مگر ایک جنس ہونے کی وجہ سے نسبت سب کی طرف کر دی گئی۔

اس میں اجمعین مذکور ہے جو استغراق کا فائدہ دیتا ہے۔ مگر تمام جن اور انسانوں کا دوزخ میں داخل ہونا ممتنع ہے۔ اس لئے لامحالہ اجمعین کے استغراقی معنے چھوڑ کر جنسی معنے لینے پڑیں گے اور اس طرح اجمعین کا لانا صحیح ہو جائے گا۔ دوسری آیت میں ہے کہ: ”ذرأنا لجهنم كثيراً من الجن والانس (الاعراف:١٧٩)“ یہی مراد پہلی آیت کی ہے۔ مگر اس کو بصورت جنس بیان کر دیا گیا ہے۔

علیہ السلام کے زمانہ تک ضروری ہو یا ہر زمانہ میں اس کا پایا جانا لازمی سمجھا جائے۔ بلکہ اہل کتاب ہونے کے وصف پر حکم ہے۔ اس صورت میں کلیت حکم کے لئے کل مدت میں سے ایک وقت میں پایا جانا بھی کافی ہے۔ مثلاً کوئی شخص کہے کہ ایک ماہ تک شہر کے تمام علماء جمع ہوں گے۔ اجتماع کے وقت جو شہر میں عالم ہیں ان کا جمع ہونا ضروری ہوگا۔ ابتداء سے انتہا تک سب کا رہنا لازمی نہیں ہے۔ اسی طرح جو اہل کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے وقت ہوں گے ان سب کے ایمان لانے سے حکم کی کلیت ثابت ہو جائے گی۔ جس طرح ”القينا بينهمــا الـعـداوة والبغضآ الى يوم القيامة (مائده: ٦٤)“ اور ”وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة (آل عمران: ٥٥)“ میں عداوت باہمی فوقیت اور غلبہ یہودیت اور نصرانیت اور تابع ہونے کی صورت کے لئے ہے۔ اسی لئے شروع زمانہ سے قیامت تک تمام افراد کا موجود رہنا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی ہے، اور دھوکا دہی کے کچھ نہیں ہے۔

تک عداوت ہونے کی اور جاعل الذين اتبعوك! میں متبعین کے منکرین پر غالب رہنے کی خبر دی گئی ہے تو آخر زمانہ میں سب کا مسلمان ہو کر متحد ہونا کیوں کر ہو سکتا ہے۔

صفحہ ١٠٤

کا دن مراد نہیں۔ حدیث میں ہے کہ: ”الجهاد ماض الى يوم القيامة“ باوجودیکہ جن لوگوں پر قیامت قائم ہوگی وہ سب کافر ہوں گے۔ جیسا کہ مسلم کی حدیث میں ہے کہ: ”قال رسول الله ﷺ لاتقوم الساعة الا على شرار الخلق (رواه مسلم ومشكوة ص ٤٨١)“ پھر جہاد کرنے والا کون ہوگا۔ اس لئے الی یوم القیامۃ سے لامحالہ الی قرب یوم القیامۃ مراد لینا پڑے گا۔ چونکہ نزول عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی بڑی دس نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس لئے اس وقت تک عداوت یا غلبہ رہنے کو الی یوم القيامة کہنا درست ہے۔

کے ساتھ متصف ہوں اور جب یہودی اور نصرانی ہی نہ رہیں گے تو پھر عداوت کیسی۔ اسی طرح غلبہ متبعین کے لئے ہے۔ روزِ قیامت سے کچھ پہلے متبعین بھی نہ رہیں گے۔ اسی لئے غلبہ کا سوال بھی باقی نہ رہے گا۔

س...... قبل موتہ کی ضمیر اگر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹائی جائے تب بھی کلیت حکم کی ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ بہت سے یہودی حضرت عیسیٰ سے جنگ کرتے ہوئے بحالت کفر مارے جائیں گے۔

ج...... آیت میں قبل موتہ ہے۔ عند نزولہ نہیں ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پیشتر تمام اہل کتاب ضرور ایمان لے آئیں گے۔

س...... ملل مختلفہ کا ایک ہی ملت ہو جانا آیت ”ولو شئنا لاتينا كل نفس هداها ولكن حق القول منى لاملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين (السجدة:١٣)“ اور ”ولو شاء ربك لجعل الناس امة واحدة ولايزالون مختلفين الا من رحم ربك (هود:١١٨، ١١٩)“ کے خلاف ہے۔

ج...... دونوں آیتوں کا یہ مفاد ہے کہ علم الہی میں جن اور انسانوں کے ایک گروہ کا دوزخی ہونا متعین ہے۔ اس لئے شروع دنیا سے لے کر آخر تک سب کے سب مسلمان نہیں ہوں گے۔ بلکہ جہنم میں داخل ہونے کے لئے کفاروں کی جماعتیں بھی ہوں گی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دنیا کبھی کافروں سے خالی نہ ہوگی۔ ابتدائے دنیا میں سب دینِ حق کے تابع اور مسلمان تھے۔ اختلاف بعد میں ہوا ہے۔ قرآن میں ہے کہ: ”وماكان الناس الا امة واحدة فاختلفوا (یونس:١٩)“ اس لئے جائز ہے کہ آخر میں بھی ابتداء کی طرح سارے مسلمان ہوں۔ لہٰذا اگر

صفحہ ١٠٥

ابتدائے دنیا میں ایک مذہب پر ہونا آیت کے خلاف نہیں ہے تو آخر میں کیوں ہے۔ بینوا فتوجروا

جس کے یہ معنی ہیں کہ غیر مرحومین میں اختلاف ہوگا مرحومین میں نہیں ہوگا۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں سب مرحومین ہی ہوں گے اور غیر مرحومین سے ایک بھی نہیں رہے گا۔ اس لئے اختلاف بھی نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ اختلاف غیر مرحومین کے ساتھ تھا۔ جب وہی نہ رہے تو اختلاف بھی نہ رہا۔ جیسا کہ: ”لایزال بنیانہم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبہم الا ان تقطع قلوبہم (التوبہ : ١١٠)“ میں ان کی زندگی تک شک کو بیان کیا ہے۔ جب وہ نہ رہیں گے تو شک بھی نہ رہے گا۔

س....... جب سب مسلمان ہی ہو جائیں گے تو: ”ثم یوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا“ کی رو سے اس کے خلاف گواہی دینے کا کیا مطلب ہے۔

ج....... آیت میں علیٰ ضرر کے واسطے نہیں ہے۔ بلکہ شہادۃ کا صلہ ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ: ”لتکونوا شہداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شہیدا (البقرہ:١٤٣)“ یہاں شہادت سے مخالفت کی گواہی مراد نہیں ہے۔ جس طرح ہر نبی اپنی امت کے نیک و بد اعمال کی گواہی دیں گے۔ ایسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی قبل النزول اور بعد النزول کے تمام حالات کی شہادت دیں گے۔ قرآن مجید میں ہے کہ: ”فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید وجئنا بک علی ہؤلاء شہیدا (النساء:٤١)“

س....... تمام اہل کتاب کا مسلمان ہو جانا فلا یؤمنون الا قلیلا کے خلاف ہے۔

ج....... ایمان دو قسم کا ہے۔ ایمان اعتقادی۔ ایمان ذاتی۔ جملہ ضروریات دین کا اقرار اور تمام ان چیزوں کو جن پر ایمان لانا ضروری ہے تسلیم کرنا ایمان اعتقادی ہے اور مومن بہ میں سے کسی چیز کی تصدیق کرنا ایمان ذاتی ہے۔ رسولوں پر ایمان لانے کا یہی مطلب ہے کہ ان کو خدا کا برگزیدہ بندہ اور پیغمبر تسلیم کرے اور ان کی ذات کے متعلق صحیح اعتقاد رکھے ۔ مگر نبی عربی ﷺ پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ رسالت کا قائل ہونے کے بعد آپ ﷺ کے بتائے ہوئے احکام کو مانے اور ان کے قطعی فیصلوں کو تسلیم کرے۔ لہٰذا آپ ﷺ کے اور اسلام کے متعلق ایمان اعتقادی اور دیگر انبیاء علیہم السلام کے حق میں ایمان ذاتی مراد ہوا کرتا ہے۔ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اتباع کا اقرار کرنا بھی دیگر انبیاء کی طرح ایمان

صفحہ ١٠٦

اعتقادی کا جز نہیں ہے۔ بلکہ ان کی ذات کے متعلق محض صحیح عقیدہ رکھنا کافی ہے۔ اس لئے لیؤمنن بہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کے متعلق ایمان لانے کی خبر دی گئی ہے۔ مگر ایسے ایمان سے ایمان اعتقادی حاصل نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے تمام اہل کتاب کے مسلمان ہونے پر اس آیت سے استدلال نہیں کیا جاتا۔ بلکہ ثبوت میں حدیث پیش کی جاتی ہے اور فلا یؤمنون الا قلیلا میں اہل کتاب سے ایمان اعتقادی اور رسول خدا ﷺ پر ایمان لانے کی نفی بیان کی گئی ہے۔ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ایمان رکھنے یا صحیح اعتقاد قائم کرنے کی نفی نہیں ہوتی۔ دونوں جملوں میں محمول مختلف ہے۔ اس لئے ان میں کوئی تعارض نہیں ہوسکتا۔

س...... اس آیت سے پہلے جتنی آیتیں ہیں ان میں اہل کتاب کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ پھر اس میں ان کے ایمان لانے کی مدح کیونکر ہوسکتی ہے۔

ج...... آیات کے درمیان باہمی ارتباط سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے یہ سوال پیدا ہوا ہے۔ اگر معمولی غور کیا جاتا یا تفاسیر کو اٹھا کر دیکھ لیتے تو یہ شبہ بھی پیدا نہ ہوتا۔ نفی قتل اور رفع آسمانی کے ثبوت کے بعد اس آیت کے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب سے یہ خبر دی گئی کہ وہ زندہ آسمان پر اٹھالئے گئے تو طبعاً یہ سوال پیدا ہوا کہ رفع آسمانی کے بعد کیا ہوگا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد ہوا کہ وہ آخری زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور اس زمانہ کے اہل کتاب جو آج تک ان کے معاملہ میں متردد ہیں صحیح خیال قائم کریں گے اور اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال ہوجائے گا۔

تفسیر رحمانی میں اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ جو لوگ آج ان کے قتل پر فخر کر رہے ہیں نزول کے بعد ان کو اپنی غلطی معلوم ہوکر ذلیل ہونا پڑے گا: ”ثم اشار الی من کان قائلاً بقتلہ سیتذلل بہ قبل موتہ“

(تفسیر رحمانی)

بیضاوی وغیرہ نے کتابی کی طرف ضمیر راجع کرنے کی صورت میں یہ ربط بیان کیا ہے: ”وهذا کالوعید لہم والتحریض علی معاجلۃ الایمان بہ قبل ان یضطروا الیہ ولم ینفعہم ایمانہم“

(بیضاوی ج ١ ص ٢١٦)

س...... کیا آیت کے مندرجہ ذیل معنے بھی ہو سکتے ہیں : ١...... تمام اہل کتاب واقعہ صلیب سے لے کر قیامت تک حضرت عیسیٰ کے قتل کے متعلق اپنے تردد اور شک میں یقین اور اذعان رکھتے ہیں اور وہ یقیناً نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ کو مقتول بالصلب کیا۔ ٢...... اہل کتاب کا ہر فرد حضرت عیسیٰ کے مصلوب یا مقتول ہونے پر اپنے مرنے سے پہلے ایمان لائے گا

صفحہ ١٠٧

اور لاتا ہے۔ ٣..... کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیا ہے ایمان نہ رکھتا ہو۔ قبل اس کے جو وہ اس حقیقت پر ایمان لائے کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا۔“

(ازالۃ ص ٣٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩١)

اور احادیث صحیحہ کے خلاف مختلف تحریفیں کی ہیں اور چھوٹے سے لے کر بڑا تک کوئی بھی اس تحریف میں ایک دوسرے کے ساتھ متفق نہیں ہے۔ لیکن جھوٹ کو کبھی فروغ نہیں ہوتا۔ جتنے معنے بھی گھڑے گئے وہ سب کے سب غلط اور کئی وجہ سے باطل ہیں:

وحدیث میں زمانہ مستقبل کے لئے آیا ہے۔ ماضی یا حال کے واسطے کبھی نہیں آیا۔ مگر مرزائی جماعت نے جتنے معنے بیان کئے ہیں ان سب میں ماضی اور حال کے زمانہ کو داخل کیا ہے۔ جو نحوی قواعد کی رو سے بالکل غلط ہے۔ اس لئے اس قسم کے معنے بیان کرنے بقرآن عزیز کی تحریف لازم آنے کی وجہ سے صحیح نہیں۔

مطالبہ: قرآن وحدیث یا محاورات عرب سے کوئی ایسی مثال پیش کر کے انعام حاصل کریں جس میں یقینی طور پر اس طرح کا مضارع موکد زمانہ ماضی یا حال پر دلالت کر رہا ہو اور اس میں شرط وغیرہ پر مرتب ہونے کی وجہ سے استمرار استقبالی نہ پایا جاتا ہو۔

ہے جیسے کوئی کہے۔ وہ شخص اپنے شک یا وہم اور تخیل ظن اور یقین پر اذعان اور یقین رکھتا ہے۔ ایسا مضمون محاورات مروجہ کے برخلاف ہونے کے باوجود غیر مفید اور لایعنی بھی ہے۔ علاوہ ازیں جب آیت: ”ان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالہم بہ من علم الاتباع الظن (نساء: ١٥٧)“

میں ان کا قتل مسیح کے متعلق ظنی اور شکی ہونا ظاہر کیا تھا تو اس کے ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور اگر بے فائدہ ذکر ہی کرنا تھا تو اسی کے ساتھ اس ظن پر یقین رکھنے والا بھی کہہ دیا ہوتا۔ قتل کی نفی یقینی بیان کرنے کے بعد اس کو علیحدہ ذکر کرنے سے کیا فائدہ تھا۔

بہ کے یہ معنے ہوئے کہ ایمان یہود بالشک والتردد مطلوب خداوندی ہے جو علاوہ غیر مفید ہونے کے بالکل مہمل ہے۔

صفحہ ١٠٨

نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یقینی طور پر قتل نہیں کیا۔ بلکہ ان کو مقتول کے عیسیٰ یا غیر عیسیٰ ہونے میں ابھی تک شک ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ الا اتباع الظن کی تاکید ہوگا اور عبارت کی تقدیر اس طرح ہو جائے گی: ”ماقتلوه متيقنين انه هو بل هم شاكون فيه“ اور اگر نفی یعنی عدم القتل کی قید ہے تو پھر یہ معنی ہیں کہ نہ قتل کرنا ان کے نزدیک یقینی ہے۔ مگر لوگوں کو دھوکہ دینے کی غرض سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قتل غلط مشہور کر دیا: ”قال الجبائى من المعتزلة نقله الرازی“ اور اگر اخبار بالحکم سے تعلق ہے اور بنفسہ حکم سے کوئی تعلق نہیں تو پھر یہ معنے ہیں کہ عدم قتل کی خبر اللہ کی طرف سے یقینی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے: ”ان اليقين في الاية وان كان من اخبار الله لكنه هو فعلهم وانه منصوب بنزع الخافض اى بأن فهو قيد لاخبار الحكم لا للحكم نفسه“

(ذكره ابن الحاجب في شرح المفصل)

اب اگر آیت کے یہ معنی ہیں کہ اہل کتاب کو اپنے شک پر یقین ہے اور بہ کی ضمیر سے اس جملہ میں شک اور اتباع ظن مراد ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب مالهم به من علم سے مطلق اذعان کی نفی کر کے ماقتلوہ سے اس کی تائید بیان کر دی گئی تھی تو لیؤمنن بہ سے کسی شے کے متعلق یقین اور اذعان ثابت کرنا جائز نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ضمیر مالهم به کو بھی شک کی طرف راجع کرنے سے کوئی شئی مانع نہیں ہے اور اگر قتل پر یقین رکھنا مراد ہے تو قرآن کی آیت ان الذين اختلفوا سے یہ خبر دینا کہ ان کو اس بارے میں تردد ہے غلط پڑے گی اور اگر عدم قتل ان کے نزدیک یقینی تھا جیسا کہ جبائی کہتا ہے تو اس صورت میں قتل پر ایمان رکھنے کی خبر دینے سے کذب اور تناقض لازم آئے گا۔ اور نیز جب انا قتلنا سے ان کے ادعائی یقین کو ظاہر کر کے خدا تعالیٰ نے ماقتلوه یقینا سے تردید کر دی تھی تو پھر ان کے علم بالقتل کے دعویٰ کو دہرانے کی کیا ضرورت تھی۔

من اهل الكتاب کی کلیت مطلقہ صادق نہیں آتی۔ کیونکہ اہل کتاب کا وہ گروہ جو عیسیٰ علیہ السلام سے پیشتر گزر گیا تھا وہ اس میں داخل نہیں ہے۔

روایات اس امر کی مؤید ہیں کہ ان کو قتل عیسیٰ کا شروع سے یقین چلا آ رہا ہے۔ اس لئے یہی ماننا

صفحہ ١٠٩

چاہئے۔ ورنہ یہ سب باتیں غلط ثابت ہو جائیں گی۔ گویا ان کی نظر میں قرآن عزیز کی خبر ان کے شک اور تردد کے متعلق اگر جھوٹی ہوتی ہے تو ہو جائے۔ مگر یہود و نصاریٰ کے خرافات اور ان کے مذہبی ڈھکوسلے جھوٹے نہیں ہونے چاہئیں۔ لا حول ولا قوة الا بالله ! شعر:

اگر مسلمانی ہمیں است کہ مرزا دارد
آہ گر از پس امروز بود فردائے

دراصل ان تمام آیتوں کا ماحصل یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ اگرچہ بظاہر قتل عیسیٰ کے متعلق اپنا اذعان اور یقین ظاہر کرتے ہیں۔ مگر دل سے اس معاملہ میں متردد ہیں اور اسی طرح متردد رہیں گے۔ یہاں تک کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے تو ان کو دیکھ کر اپنی غلطی کا احساس اور قرآن کی صدق بیانی کا اقرار کریں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے طبعی موت پر ایمان لانے سے پہلے معنے بیان کر کے آیت میں قبل الایمان بموتہ کا اضافہ کر دیا۔

مطالبہ: اب جب اہل کتاب کے ہر فرد کے لئے ماذکر پر ایمان لانے کی یہ شرط ہو گئی کہ وہ موت طبعی کا علم ہونے سے پہلے ہو تو کیا اب تک تمام اہل کتاب میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ نیز اگر عیسیٰ علیہ السلام کی موت طبعی کا علم گزشتہ افراد کو ہو چکا تھا تو سب کو اس سے پہلے ماذکر کا علم نہ ہونے کی وجہ سے کلیت کس طرح رہے گی اور اگر ابھی تک ان کو موت طبعی کا علم نہیں ہوا تو بہت سے کتابی اس علم کے حاصل کرنے کے بغیر مر گئے۔ ان میں کلیت کیونکر صادق آئے گی۔ بینوا

فتوجروا!

آیت نمبر ٩....... ”لن يستنكف المسيح ان يكون عبدالله ولا الملائكه المقربون“

(نساء: ١٧٢)

استدلال

اس پر تمام دنیا کا اتفاق ہے کہ تثلیث اور الوہیت عیسیٰ کا عقیدہ نصاریٰ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں پیدا نہیں ہوا۔ بلکہ ان کے غائب ہونے کے بعد ظاہر ہوا ہے۔ اس پر یقیناً اپنی الوہیت کا انکار اور عبدیت کا اقرار اور تردید نصاریٰ کا موقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دنیا کے قیام میں نہیں ملا۔ لہٰذا ایسا وقت ضرور آنا چاہئے جس میں وہ نصاریٰ کے عقائد باطلہ کی تردید کریں۔ ایسا زمانہ نزول کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں بھی کسر صلیب اور قتل خنزیر

صفحہ ١١٠

سے اسی بات کی طرف اشارہ ہے اور مضارع مؤکد بلن تاکید بھی جو محض زمانہ استقبال پر دلالت کرتا ہے۔ اسی غرض سے لایا گیا ہے۔ اگر آئندہ زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مقدر نہ ہوتا تو مضارع پر لن تاکیدیہ استقبالیہ کبھی داخل نہ ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ کا دوبارہ آنا اس آیت کی رو سے ضروری ہے۔

آیت نمبر ١٠ : ” اذ كففت بنی اسرائیل عنك اذ جئتهم بالبينات فقال الذين كفروا ان هذا الا سحر مبین“

(مائدہ: ١١٠)

فائدہ: منجملہ ان احسانات کے جو قیامت کے روز عیسیٰ علیہ السلام سے بطور امتنان ذکر کئے جائیں گے۔ ایک احسان یہ بھی ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو تجھ سے اس وقت روکے رکھا جبکہ تو ان کے پاس معجزات لے کر آیا تھا اور کافروں نے ان کو جادو کہتے ہوئے تجھ پر حملہ کرنا چاہا تھا۔ چونکہ اذ قال اللہ سے اس آیت کا شروع یوم یجمع الله الرسل بدل ہے اور اس میں یوم سے قیامت کا دن مراد ہے۔ اس لئے یہ جملہ احسانات قیامت کے روز بیان کئے جائیں گے ” اذ قال الله “ بدل من يوم يجمع (بیضاوی ج ١ ص ٢٥١ وتفسیر ابی سعود ج ٣ ص ٩٤)

استدلال

یہ قول قیامت کے دن محل امتنان اور احسانات کے ذیل میں ذکر کیا جائے گا۔ جیسا کہ اذ قال الله ياعيسى بن مریم اذکر نعمتی علیک ! سے ظاہر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بچالینے اور دشمنوں کو ان کے پاس تک نہ جانے دینے کا احسان اس صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے جبکہ عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کے مکر وفریب اور دست درازی سے بالکل بچالیا گیا ہو۔ ورنہ اگر سوائے قتل حقیقی کے مارنا پیٹنا ذلیل کرنا وغیرہ سب کچھ ہوا تھا تو احسانات کے ضمن میں کبھی اس کا ذکر نہ ہوتا اور نہ اس کو کف سے تعبیر کیا جاتا۔ کیونکہ کف لغت میں روکنا اور منع کرنا ہے۔ خصوصاً جبکہ اس کا صلہ عن آیا ہو جو بعد اور مجاوزۃ پر دلالت کرتا ہے۔ اس وقت ہانکنے اور چلانے ہی کے معنی آتے ہیں: ”الكف راندن یقال کففته عنه فكف (منتهی الارب ج ٤ ص ٣٩ ) “ ”قد كف صاحبه عن مجاوزته الى غيره اى منعه (مجمع البحار ج ٤ ص ٤٣٠ ) “ جب ایک سفر میں کافروں نے رسول خدا ﷺ اور مسلمانوں کو دھوکہ سے اذیت اور تکلیف پہنچانی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دشمنوں کے شر سے بالکل محفوظ رکھا اور یہ آیت بطور امتنان نازل فرمائی: ”يا ايها الذين آمنوا اذكر نعمة الله عليكم اذهم قوم ان يبسطوا اليكم ايدهم فكف ايدهم عنكم (مائدہ: ١١ ) “ اس آیت میں کف کا لفظ آیا

صفحہ ١١١

ہے اور ایسے موقعہ پر استعمال کیا ہے جہاں بالکل بچا لیا گیا اور دشمنوں کا ہاتھ ان کے قریب تک نہیں پہنچنے دیا۔ بعینہ یہاں بھی بچانے کی ایسی ہی صورت ہوئی اور ان کو یہودیوں کے ہاتھوں میں جانے سے پہلے آسمان پر اٹھا لیا۔ اسی لئے تنجیک نہیں کہا جو گرفتاری کے بعد خلاصی کا مقتضی ہے:

’’ولما اتى عيسى بهذه الايات البينات قصد اليهود بقتله فخلصه الله منهم ورفعه الى السماء‘‘

(فتح البيان ج٢)

’’اى واذكر نعمتى عليك فى كفى اياهم عنك حين جئتهم بالبراهين والحجج القاطعة على نبوتك ورسالتك من الله اليهم فكذبوك واتهموك بانك ساحر وسعوا فى قتلك وصلبك فنجيتك منهم ورفعتك الى وطهرتك من دنسهم وكفيتك شرهم‘‘

(ابن كثير ج٣ ص٢٠١)

’’روى انه عليه الصلوٰة والسلام لما اظهر هذه المعجزات العجيبة قصد اليهود قتله فخلصه الله منهم حيث رفعه الى السماء‘‘

(تفسير كبير ج١٢ ص١٢٧ واللفظ له ومثله فى الخازن ج١ ص٥٣٩)

س...... اگر رفع آسمانی ہوا ہوتا تو وہ بھی اس جگہ ضرور ذکر کیا جاتا۔

ج...... جب اس آیت میں رفع آسمانی کی طرف اشارہ ہے تو لفظ رفع کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ علاوہ ازیں رفعت مکانی رفع درجہ کو مستلزم نہیں ہے۔ دوسرے دشمنوں سے بچالینا اصلی احسان ہے اور جس جگہ حفاظت کی گئی وہ اس کا نتیجہ ہے۔ اصل احسان کے ذکر کرنے کے بعد فرع کے بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

آیت نمبر ١١.... ’’وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها واتبعون ، هذا صراط مستقيم (زخرف:٦١)‘‘ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے آنے کا علم ہیں۔ لہٰذا قیامت کے آنے میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے : علم سے مراد ما يعلم به يا ما يحصل به العلم ہے۔ قال ابوالسعود وتسمية علما لحصوله به‘‘

(ج٨ ص٥٢)

استدلال

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وجہ سے قیامت کے قریب ہونے کا علم اس صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جبکہ آخری زمانہ میں ان کا نزول مان لیا جائے اور جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے بموجب اس کے قیامت کی دس بڑی نشانیوں میں سے اس کو بھی ایک نشانی تسلیم کریں۔

صفحہ ١١٢

س ...... انه کی ضمیر قرآن کی طرف بھی راجع کی جاتی ہے۔ لہٰذا نزول عیسیٰ پر اس آیت سے استدلال کرنا کس طرح صحیح ہوسکتا ہے۔

ج ...... اس میں کوئی شک نہیں کہ انہ کے مرجع میں مختلف احتمالات نکل سکتے ہیں اور ہر ایک احتمال اپنی جگہ پر صحیح بھی ہے۔ لیکن اس سے مطلقاً اور ہر حالت میں نزول مسیح پر استدلال نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس خاص صورت میں جبکہ انہ کی ضمیر عیسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹائی جائے۔ نزول مسیح پر استدلال کیا گیا ہے۔ جب تک اس احتمال کا غلط ہونا ثابت نہ کیا جائے گا اس وقت تک اس توجیہہ سے نزول عیسیٰ پر استدلال کرنا منع نہیں ہوسکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آیت سے ہر ایک توجیہہ پر استدلال نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ آیت سے کسی توجیہہ پر بھی نزول مسیح کو ثابت کرنا صحیح نہیں ہے۔ پھر یہ توجیہہ تمام توجیہوں میں اعلیٰ اور افضل توجیہہ ہے۔

"قال ابن کثیر انه لعلم للساعة تقدم تفسیر ابن اسحاق ان المراد من ذالك مابعث به عیسیٰ علیه السلام من احیاء الموتی وابراء الاکمه والابرص وغیر ذالك من الاسقام وفی هذا نظر وابعد منه ماحکاه قتاده من الحسن البصری وسعید بن جبیر ان الضمیر فی انه عائد علی القرآن بل الصحیح انه عائد علی عیسیٰ علیه السلام فان السیاق فی ذکره ثم المراد بذالك نزوله قبل یوم القیامة قال الله تبارک وتعالیٰ وان من اهل الکتاب ای قبل موت عیسیٰ علیه السلام ثم یوم القیامة یکون علیهم شهیداً ویؤید هذا المعنی القرأة الاخریٰ وانه لعلم للساعة ای امارة ودلیل علی وقوع الساعة"

(ابن کثیر ج ٧ ص ٢١٧)

"ای خروج عیسیٰ ابن مریم قبل یوم القیامة هکذا روی عن ابی هریره عن ابن عباس وابی العالیه وابی مالک وعکرمه وحسن وقتاده وضحاک"

(ابن کثیر ج ٧ ص ٢١٧)

"اخرج الفریابی سعید بن منصور ومسدد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم والطبرانی من طرق عن ابن عباس فی قوله انه لعلم للساعة قال خروج عیسیٰ قبل یوم القیامة"

(درمنثور ج ٦ ص ٢٠)

اور ایسا ہی ابوہریرہ، مجاہد اور حسن سے عبد بن حمید اور ابن جریر نے نقل کیا ہے (روح

صفحہ ١١٣

المعانی ج ٥ ص ٨٧) میں ہے: ”(وانه) اے عیسیٰ عليه السلام لا للقرآن“ علاوہ ازیں جب آیت میں انہ ۔ انہ ۔ جعلناہ کی ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس ضمیر کو بھی انہی کی طرف لوٹانا اولیٰ نہ ہو اور آیت کا سیاق و سباق بھی اسی کا مقتضی ہے۔ لہٰذا افضل اور ارجح توجیہہ کو مرجوح اور غیر اولیٰ احتمال کی وجہ سے ترک کرنا صحیح نہیں۔ اس لئے نزول مسیح پر استدلال بالکل درست ہے۔

”القرأة الاخرى وانه علم للساعة اى امارة ودليل على وقوع الساعة (ابن كثير ج ٧ ص ٢١٧)“....... ”قرئ لعلم اى علامة (ابوالسعود ج ٨ ص ٥٣ بیضاوی ج ٢ ص ٢٩٤)“ اور دو قرأتیں بمنزلہ دو آیتوں کے ہیں۔ لہٰذا بموجب اس قراۃ کے نزول مسیح پر اس آیت سے استدلال کرنا مطلقاً جائز ہے۔ دیکھو ارجلکم میں زبر اور زیر کی دو قرأتیں آئی ہیں ۔ زبر سے خف کی صورت میں مسح اور زیر سے بغیر خف کے پاؤں کا دھونا ثابت کیا گیا ہے۔

”اليه يرد علم الساعة“....... ”عنده علم الساعة“ پھر عیسیٰ کو قیامت کے جاننے کا ذریعہ کہنا کیونکر درست ہو سکتا ہے۔

حاصل نہیں۔ البتہ اس کی آمد کی نشانیاں اور قریب ہونے کی علامتیں رسول خدا ﷺ کو معلوم تھیں۔ ایسی نشانیوں میں دس بڑی نشانیاں رسول خدا ﷺ نے امت کی آگاہی کیلئے بیان فرمائی ہیں۔ جن میں سے ایک بڑی نشانی عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ہے: ”قال انها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها

ونـزول عـيـسـي بـن مـريـم “ (مشكوة ص ٤٧٢ باب العلامات بين يدي الساعة وذكر الدجال)

اس قسم کی علامتیں قیامت کے خاص دن کو نہیں بتاتیں۔ البتہ وقت کے قریب ہونے پر یقیناً دلالت کرتی ہیں:

”نزوله من اشراط الساعة يعلم به دنوها“ (بیضاوی ج ٢ ص ٢٩٤)

”ثم المراد بذالك نزوله قبل يوم القيامة“ (ابن كثير ج ٧ ص ٢١٧)

اليه يرد علم الساعة وغیرہ میں قیامت کا معین دن مراد ہے۔ اس کا علم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے قیامت کے قریب ہونے کا علم ہوتا ہے۔

صفحہ ١١٤

ولا تعارض بينهما اسی واسطے يرد علم الساعة میں اتصال پر دلالت کرنے کے لئے حرف جر یعنی لام کو حذف کر دیا اور انہ لعلم للساعة میں بعد اور دوری پر دلالت کرنے کے لئے حذف نہ کیا۔

س ..... جو واقعہ ہزار سال بعد ہونے والا ہے۔ اس کی اتنی مدت پہلے خبر دینے کی کیا ضرورت تھی۔

ج ...... چونکہ ایمان بالغیب ہوتا ہے۔ اس لئے وقت سے پہلے ہی ذکر کرنا چاہئے۔ پھر یہ اعتراض تو انبیاء علیہم السلام اور قرآن عزیز پر بھی وارد ہوتا ہے۔ جنہوں نے قیامت کی آمد، جنت دوزخ اور حشرونشر کی بہت مدت پہلے خبر دی ہے۔ ہر ایک نبی اپنی امت کو دجال کے فتنہ سے ڈراتا رہا۔ اس پر بھی یہ اعتراض وارد ہوتا ہے۔ نیز رسول خدا ﷺ بھی اس ملحدانہ اعتراض سے نہیں بچ سکتے۔ کیونکہ انہوں نے قیامت کے بڑے بڑے نشانات بیان فرمائے ہیں جن میں سے ایک عیسیٰ علیہ السلام کی آمد بھی ہے۔

س ..... نزول عیسیٰ بجسدہ العنصری اس وقت قابل تسلیم ہے۔ جبکہ ان کا صعود جسمانی مان لیا جائے اور وہ زیر بحث ہے۔

ج ...... اول تو رفع جسمانی قوی اور مستحکم دلائل سے پہلے بھی ثابت ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ جب آیت مذکورہ میں کوئی قرینہ نزول بجسدہ العنصری کے مراد لینے سے مانع نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس سے انکار کیا جائے اور انشاء اللہ عنقریب بروزی نزول کی تردید کی جائے گی جس کے بعد بعینہ نزول سے انکار کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔

آیت نمبر ١٢...... "ولقد ارسلنا رسلاً من قبلك وجعلنا لهم ازواجاً وذریة" ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے اہل وعیال بھی تجویز کئے۔

استدلال

ہر شخص جانتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اولوالعزم رسولوں میں سے ہیں اور دنیا کے گزشتہ قیام میں ان کا نکاح نہیں ہوا اور اس آیت کے فیصلہ کے بموجب بیوی بچے ضرور ہونے چاہئیں۔ اس لئے آخری زمانہ میں ان کا بعینہ آ کر نکاح کرنا اور بچوں کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ تا کہ اس آیت کے مفہوم میں وہ بھی دوسرے رسولوں کی طرح داخل ہوسکیں۔ حدیث میں ہے : "قال رسول الله ﷺ ينزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولد له"

(مشکوة ص ٤٨٠ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

صفحہ ١١٥

باب ٢...... حیات مسیح کا ثبوت حدیث سے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس وقت آسمان پر زندہ موجود ہونا اور آخری زمانہ میں زمین پر اترنا احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے۔ حدیث کے متواتر ہونے پر علامہ ابن کثیر، حافظ ابن حجر، قاضی شوکانی و دیگر علماء کبار کی شہادتیں موجود ہیں:

عيسى عليه السلام قبل يوم القيامة اماماً عادلاً حكماً مقسطاً ٠ ابن كثير ج ٧ ص ٢١٧“ علامہ نے (سورۃ نساء ج ٢ ص ٤٠٢) کی تفسیر میں بھی تواتر کا دعویٰ کیا ہے۔

(كتاب الاذاعه)

عليه السلام عن ابى الحسن الآبرى“

الشوكاني في مؤلف مستقل يتضمن ذكر ماورد في المنتظر والدجال والمسيح وغيره فى غيره وصحح الطبرى هذا القول و ورد بذالك الا حاديث المتواتره“

(فتح البيان ج ٢ ص ٣٤٤)

(مجمع البحار ج ١ ص ٥٣٤)

علاوہ ازیں دیگر صحاح کی کتابوں کو چھوڑ کر محض جامع ترمذی میں نزول مسیح کی حدیث پندرہ طریقوں سے آئی ہے اور قاضی شوکانی نے اپنے رسالہ التوضيح في تواتر ماجاء في المنتظر والدجال والمسيح میں ٢٩ حدیثیں صحیح اور حسن بیان کی ہیں

علاوہ احادیث متواترہ کے آثار صحابہ اور تابعین بھی کثرت سے آئے ہیں کہ ان کا شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ اجماعاً کچھ ذکر اجماع کی بحث میں آئے گا۔ اگرچہ اس اجمالی بیان کے بعد اس مختصر رسالہ میں احادیث نزول کا تفصیل سے ذکر کرنا ضروری نہیں ہے مگر ایسی حدیثیں جن میں رفع الی السماء یا نزول من السماء کی قید ہے یا حیات اور عدم موت کا ذکر ہے یا مرزائیوں نے شبہات عقلیہ کی وجہ سے ان روایات کے تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ اس قسم کے حدیثیں معلومات واضافہ کرنے اور تحقیق حق کے لئے بیان کی جاتی ہیں۔

صفحہ ١١٦

وہ حدیثیں جن میں رفع الی السماء کی تصریح ہے

وابن ابی حاتم وابن مردویہ عن ابن عباس قال لما اراد اللہ ان يرفع عیسٰی علیہ السلام الی السماء خرج الی اصحابہ (الی ان قال) ورفع عیسٰی من روزنۃ فی البیت الی السماء“

یرفعہ الی السماء ویطہرہ من صحبۃ الیہود“ (رواہ سنن النسائی ج ٦ ص ٤٨٩ حدیث ١١٥٩١ وابن ابی حاتم وابن مردویہ ذکرہ فی السراج المنیر ) علامہ ابن کثیر نے اس حدیث میں ابن ابی حاتم کی سند سے صحیح کہا ہے۔

صحیح الی ابن عباس ورواہ النسائی عن ابی کریب بنحوہ وکذا رواہ غیر واحد من السلف“

(ابن کثیر ج ٢ ص ٣٩٨)

السلام ورفع الی السماء“

(ذکرہ ابو السعود ج ٢ ص ٤٢ تحت آیت مکروا ومکر اللہ )

س ...... یہ تمام روایتیں ابن عباسؓ نے یہود ونصاریٰ کی تعلیم سے لی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا قول نہیں ہے۔

ج ...... رفع کے متعلق ابن عباسؓ نے جو کچھ فرمایا ہے اس وقت یہود ونصاریٰ میں سے کوئی جماعت بھی اس کی قائل نہیں تھی۔ دونوں جماعتیں صلیب پر مارے جانے کی قائل ہیں۔ لہٰذا ابن عباسؓ کی یہ روایت اہل کتاب کے عقائد پر مبنی نہیں ہو سکتی۔ چونکہ ایسے حالات قیاساً دریافت نہیں ہو سکتے۔ اس لئے وہ اثر حدیث مرفوع کے حکم میں ہے۔

(دیکھو شرح نخبۃ الفکر)

غالب گمان بھی یہی ہے کہ ابن عباسؓ نے یہ قول رسول خدا ﷺ سے سنا ہے۔ کیونکہ ابن عباس نے کئی مرتبہ قرآن مجید از اول تا آخر رسول خدا ﷺ سے سمجھ کر پڑھا ہے۔

(دیکھو مقدمہ ابن کثیر)

صفحہ ١١٧

وہ حدیثیں جن میں نزول مسیح من السماء کی قید ہے

اللہ ﷺ فعند ذالك ینزل أخی عیسی بن مریم من السماء“

(کنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حدیث نمبر ٣٩٧٢٦)

ابن مریم من السماء فیکم وأمامکم منکم“

(البیہقی فی کتاب الاسماء والصفات باسناد صحیحہ ص ٤٢٤)

احمد، بخاری، مسلم نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ اگرچہ اس میں من السماء کا لفظ نہیں ہے۔ مگر مراد ان کی بھی یہی ہے۔ جیسا کہ علامہ بیہقی روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”رواہ البخاری فی الصحیح عن یحیی بن بکیر واخرجہ مسلم ومن وجہ أخر عن یونس وانما اراد نزولہ من السماء بعد المرفع الیہ“ یعنی اس روایت کو بخاری اور مسلم نے بھی نقل کیا ہے۔ لیکن اس میں من السماء کا ذکر لفظوں میں نہیں آیا۔ مگر مراد یہی ہے۔ مرزائی جماعت نے اپنی سوء فہمی سے رواہ البخاری کا یہ مطلب سمجھ لیا ہے کہ بیہقی نے یہ روایت صاحب مشکوٰۃ کی طرح صحیح بخاری سے نقل کی ہے۔ اپنی مستقل سند سے روایت نہیں کی۔ چنانچہ احمدیہ پاکٹ بک والا لکھتا ہے کہ:

”رواہ البخاری، بخاری میں راوی اور الفاظ سب موجود ہیں۔ مگر من السماء نہیں ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حدیث کا حصہ نہیں۔“

ج ...... گویا اس کے متعلق بیہقی نے یہ حدیث اپنی سند سے روایت نہیں کی۔ بلکہ بخاری اور مسلم سے نقل کی ہے اور نقل میں بھی حدیث سے کام لیا۔ اپنی طرف سے من السماء کا لفظ بڑھا کر رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کر دیا اور: ”من کذب علی متعمداً فلیتبوء مقعدہ من النار (مسلم ج ١ ص ٧)“ جیسی وعید کی پرواہ نہ کی۔ نعوذ باللہ من سوء الفہم وقلۃ التدبر!

دراصل علامہ بیہقی کی غرض اس عبارت کے ذکر کرنے سے یہ ہے کہ چونکہ زیادتی ثقہ کی معتبر اور قابل استناد ہوتی ہے۔ اس لئے جن روایتوں میں من السماء کی قید نہیں آئی وہاں بھی یہی مراد ہے۔ نیز انما اراد کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے۔ بخاری، مسلم، یحییٰ بن بکیر اور یونس کی طرف نہیں لوٹتی۔ اسی لئے واحد غائب کا صیغہ بیان کیا ہے۔ جمع یا تثنیہ کا نہیں کیا۔

س ...... در منثور میں سیوطی نے جو روایت بیہقی کی نقل کی ہے۔ اس میں من السماء

صفحہ ١١٨

کا لفظ نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ لفظ حدیث کا جز نہیں۔ چنانچہ (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٢) پر ہے:

”واخرج احمد والبخارى ومسلم والبيهقى فى الاسماء والصفات قال قال رسول الله ﷺ كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم“

ج ...... علامہ جلال الدین سیوطی حدیث کا وہ حصہ بیان کرنا چاہتے ہیں جو ان سب میں مشترک ہے۔ چونکہ من السماء کی زیادتی میں بیہقی منفرد اور اکیلے ہیں اور بخاری، مسلم اور احمد کی طرف اس لفظ کی نسبت نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لئے اس کو ذکر نہیں کیا اور باقی تمام حدیث مشترک تھی اس کو بیان کر دیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ من السماء کی قید غلط اور بے بنیاد ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو بجائے حذف کرنے کے صاف لفظوں میں اس قید کا غیر معتبر ہونا ظاہر کر دیا جاتا۔

وہ حدیثیں جن میں عدم موت یا عدم فنا اور حیات کا ذکر ہے

اتوا رسول الله ﷺ فخاصموه فى عيسىٰ عليه السلام وقالوا من ابوه وقالوا على الله الكذب والبهتان فقال لهم النبى ﷺ الستم تعلمون انه لا يكون ولد الا وهو يشبه اباه قالوا بلىٰ قال الستم تعلمون ان ربنا حى لا يموت وان عيسىٰ يأتى عليه الفناء قالوا بلىٰ ...... الخ“

(درمنثور ج ٢ ص ٣)

جب علماء نصاریٰ نجران سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مناظرہ کرنے کے لئے آئے تھے۔ رسول خدا ﷺ نے حضرت عیسیٰؑ کی الوہیت کی تردید کرتے ہوئے ان ربنا حی لا یموت وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء فرمایا تھا۔ اگر حضرت عیسیٰؑ کی موت واقع ہوچکی ہوتی تو یأتی مستقبل کا صیغہ کبھی استعمال نہ کرتے بلکہ مات فرماتے:

يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة (درمنثور ج ٢ ص ٣٦، رواه ابن كثير عن ابن ابى حاتم من آل عمران ابن كثير ج ٢ ص ٤٠ وذكره فى النساء من طريق آخر موقوفا عليه فهو مرفوع وموقوف عليه واخرج ابن جرير مرفوع عليه)“

الاسراء بعد قوله فيما عهد الىّ فذكر من خروج الدجال فاهبط فاقتله ولا

صفحہ ١١٨

اترككم يتامى انى اتى اليكم بعد قليل وأما انتم فترونى الى انا حى“ یہ حدیث مفصلاً اس طرح آتی ہے۔ ”(اخرج احمد ج ١ ص ٣٧٠ واللفظ له وابن ابي شيبه ابن ماجه ص ٢٩٩ ابن المنذر والحاكم ج ٣ ص ١٤٠،١٤١ وصححه وابن مردويه والبيهقي في البعث والنشور) عن رسول الله ﷺ قال لقيت ليلة اسرى بي ابراهيم وموسى وعيسى عليهم السلام فتذاكروا امر الساعة فردوا امرهم الى ابراهيم فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى موسى فقال لا علم لى بها فردوا امرهم الى عيسى فقال اما وجبتها فلا يعلم احد الا الله تعالى وفيما عهد الى ربى عزوجل ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا رآنى ذاب كما يذوب الرصاص قال فيهلكه الله اذا رانى حتى ان الحجر والشجر يقول يا مسلم ان تحتى كافراً فتعال فاقتله قال فيهلكه الله (قد ذكره الحافظ في الفتح ج ١٣ ص ٧٩ قبل ذكر الدجال وسكت على تصحيح الحاكم اياه)“

س ...... جب دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھتے ہی رانگ یا نمک کی طرح پگھل جائے گا تو معلوم ہوا کہ آنے والے مسیح کے پاس دھاری دار آلہ نہیں ہوگا ۔ بلکہ روحانیت اور قلم سے اپنے دشمنوں کو زیر کرے گا۔

ج ...... اس کا جواب (مسلم ص ٣٩٢ کتاب الفتن و اشراط الساعة) کی روایت میں موجود ہے: ”فينزل عيسى بن مريم فامهم فاذا رآه عدو الله ذاب كما يذوب الملح في الماء فلوتركه لانذاب حتى يهلك ولكن يقتله الله بيده فيريهم دمه في حربة“

(مشكوة في الملاحم ص ٤٦٦)

یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دیکھنے کا تو یہی اثر ہوگا کہ وہ نمک یا رانگ کی طرح پگھل جائے اور یہ لفظ حقیقت پر محمول ہے ۔ لیکن پگھلنے سے پہلے اس کو اپنے خنجر سے ہلاک کردیں گے۔ تاکہ لوگ خون آلود خنجر کو دیکھ کر اطمینان حاصل کر سکیں اور حدیث میں بھی قضیبان سے دو باریک تلواریں یا خنجر ہی مراد ہے ۔ قلم یا روحانی تلوار مراد نہیں ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں ہے: ”وعليه ممصرتان وبيده الحربة وبها يقتل الدجال (رواه ابو السعود ج ٨ ص ٥٣ زير آيت وانه لعلم للساعة وتفسير كبير ج ٢٧ ص ٢٢٢)“

م ہوا کہ یہ لفظ حدیث کا جز نہیں۔ چنانچہ (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٢) پر ہے: البخارى ومسلم والبيهقى فى الاسماء والصفات قال قال ف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم “ علامہ جلال الدین سیوطی حدیث کا وہ حصہ بیان کرنا چاہتے ہیں جو ان چونکہ من السماء کی زیادتی میں بیہقی متفرد اور اکیلے ہیں اور بخاری ، س لفظ کی نسبت نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لئے اس کو ذکر نہیں کیا اور باقی تمام بیان کر دیا۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ من السماء کی قید غلط اور ہوتا تو بجائے حذف کرنے کے صاف لفظوں میں اس قید کا غیر معتبر ہونا

عدم موت یا عدم فنا اور حیات کا ذکر ہے

”روی ابن جرير وابن ابي حاتم عن الربيع ان النصارى فخاصموه فى عيسى عليه السلام وقالوا من ابوه وقالوا لبهتان فقال لهم النبى ﷺ الستم تعلمون انه لايكون ولد قالوا بلى قال الستم تعلمون ان ربنا حى لايموت وان فناء قالوا بلى...... الخ“

(درمنثور ج ٢ ص ٣)

بارتی نجران سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت عیسیٰ کے بارے میں ئے تھے۔ رسول خدا ﷺ نے حضرت عیسیٰ کی الوہیت کی تردید کرتے يموت وان عيسى يأتى عليه الفناء فرمایا تھا۔ اگر حضرت عیسیٰ کی یا فی مستقبل کا صیغہ کبھی استعمال نہ کرتے بلکہ مات فرماتے: عن الحسن قال قال رسول الله ﷺ لليهود ان عيسى لم يمت قبل يوم القيامة (درمنثور ج ٢ ص ٣٦، رواه ابن كثير عن مران ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠ وذكره فى النساء من طريق آخر موقوفا ت عليه واخرج ابن جرير مرفوع عليه) “ اخرج الحاكم فى آخر حديث الملاقات مع عيسى ليلة فيما عهد الى فذكر من خروج الدجال فاهبط فاقتله ولا

صفحہ ١٢١

اوليثنيهما"

(رواہ مسلم ج ١ ص ٤٠٨ باب جواز التمتع فی الحج والقرآن)

قتل الدجال) عن ابی هریرة و صححه قال قال رسول الله ﷺ لیهبطن ابن مريم حكما عدلا و اماما مقسطا و یسلکن فجاً حاجاً او معتمراً او بینتهما اولیاتین قبری حتی یسلم علی ولاردن علیه"

س...... مواقیت احرام میں سے فج الروحاء کسی میقات کا نام نہیں ہے۔ لہٰذا یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر محمول نہیں۔ لہٰذا اہلال اور تلبیہ سے تبلیغ دعوت اسلام اور فج روحاء سے پنجاب مراد ہے۔

ج...... مواقیت سے احرام باندھنے کا یہ مطلب ہے کہ جو شخص مکہ میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اس کو بغیر احرام باندھے میقات سے گزرنا ناجائز نہیں ہے۔ اس حدیث کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص میقات سے پہلے کسی جگہ سے احرام باندھ کر چلے تو وہ ناجائز ہے۔ اس لئے روحاء سے احرام باندھ کر چلنا خلاف شرع نہیں ہے جس کا ترک کرنا لازم ہو۔

روحاء سے گزریں گے۔ فج روحاء مدینہ سے بدر کی طرف ایک گھاٹی کا نام ہے: "فج الروحاء مسلکه ﷺ الی بدر"

(مجمع البحار ج ٤ ص ١٠٦)

بدر مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک کنوئیں کا نام ہے اور مدینہ سے ٢٨ میل فاصلہ پر ہے: "وهی الی المدینة اقرب یقال هو منھا علی ثمانیة و عشرین فرسخاً"

(مصباح المنیر)

اس لئے ابتداء احرام کی اہل شام کے میقات سے ہوگی اور روحاء کے راستہ سے مکہ میں داخل ہوں گے۔ (ولا حرج فيه)

پھر فج بمعنی راستہ یا گھاٹی ہے: "وهو الطريق الواسع (مجمع البحار ج ٤ ص ١٠٥)"...... "ويطلق ايضاً على المكان المنخرق بين الجبلين (مجمع البحار ج ٤ ص ١٠٥)" اور فج الروحاء کے معنی روحاء کا راستہ یا گھاٹی ہوئے۔ مگر روحاء کے معنی درمیان دو آبہ یا کثرت انہار وغیرہ کے کس جگہ لکھے ہیں؟۔ جس سے پنجاب کے معنی سمجھ لئے گئے اور اگر اس کو راحت سے گھڑا گیا ہے تو علاوہ قیاس فی اللغۃ کے بدر والی جگہ کا نام تو فج الروحاء ہونا

ہی نہ چاہئے۔ کیونکہ وہاں نہ دریا اور نہ نہریں ہیں اور نہ کسی

امهاتهم شتى ودينهم واحد وانا اولى النـ بينی وبینہ نبی وانہ خلیفتی علی امتی رجل مربوع الى الحمرة والبياض و عليه ان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه المـ شيبه ج ٨ ص ٦٦٥ حديث نمبر ٧٢ باب ماذكـ ص ٤٠٦، ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجـ یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک، ابن حبان ج ٩ ص ابن مریم اذانزل يقاتل الناس على الاسلام)"

(صححه فى الدر المنثور ج ٢ ص ٢٤٥ وفى

ج ٦ ص ٣٠ وابى نعيم والمهدى اوسطها كنز العـ

الحاوى للفتاوى ج ٢ ص ٦٤ وحسنه فى الفتح

التفسير رواه النسائى)"

س......

(مستدرک کی ج ٣ ص ٤٩٤،

روایت میں ہے کہ خالد بن سنان رسول اللہ ﷺ اور اس لئے لم یکن بینی و بینہ کہنا درست نہیں۔

ج......

(در منثور ج ٢ ص ٢٤٧) میں "و

کے تحت میں ذہبی کا قول نقل کر کے اس حدیث کی تضعـ وجہ سے تلخیص المستدرک میں یہ روایت مذکور نہیں ہے

عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مـ ملكين اذا طأطأ راسه يقطر واذا رفعه لـ الكافر يجد من ريح نفسه الا مات ونفسـ

صفحہ ١٢١

ہی نہ چاہئے۔ کیونکہ وہاں نہ دریا اور نہ نہریں ہیں اور نہ کسی قسم کی سرسبزی۔

امهاتهم شتى ودينهم واحد وانا اولى الناس بعيسى بن مريم لا نه لم يكن بينى وبينه نبى وانه خليفتى على امتى وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه رجل مربوع الى الحمرة والبياض و عليه ثوبان ممصران كأن راسه يقطر و ان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزيه ، ويدعوا الناس الى الاسلام ويهلك الله فى زمانه الملل كلها الا الاسلام (رواه ابن ابی شیبه ج ٨ ص ٦٦٥ حدیث نمبر ٧٢ باب ماذكر فى فتنة الدجال، مسنداحمد ج ٢ ص ٤٠٦، ابو داؤد ج٢ ص ١٣٥ باب خروج الدجال و ابن جریر ج٣ ص ٢٩١، زیرآیت یعیسی انى متوفيك ورافعك، ابن حبان ج ٩ ص ٢٨٩ ، ٢٩٠ باب ذكر البيان ان عيسى ابن مريم اذانزل يقاتل الناس على الاسلام)“

(صححه في الدرالمنثور ج ٢ ص ٢٤٥ وفى رواية برحاشيه احمد منتخب کنز العمال ج ٦ ص ٣٠ وابى نعيم والمهدى اوسطها کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٦ حدیث نمبر ٣٨٦٧٢، الحاوى للفتاوی ج ٢ ص ٦٤ وحسنه فى الفتح ومن خصائل اصحاب النبى ﷺ قال في التفسير رواه النسائي)“

روایت میں ہے کہ خالد بن سنان رسول اللہ ﷺ اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان نبی ہوئے ہیں اس لئے لم یکن بینی وبینه کہنا درست نہیں۔

کے تحت میں ذہبی کا قول نقل کر کے اس حدیث کی تضعیف کی ہے: ”قال الذهبی منکر“ اسی وجہ سے تلخیص المستدرک میں یہ روایت مذکور نہیں ہے۔

عند المنارة البيضاء شرقى دمشق بين مهرو زتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين اذا طاطأ راسه يقطر و اذا رفعه لحدر منه مثل جمان كاللؤلؤ فلا يحل لكافر يجد من ريح نفسه الا مات ونفسه ينتهى حيث ينتهى طرفه فيطلبه

صفحہ ١٢٢

حتى يدركه بباب لد فيقتله (رواہ فی المشکوٰۃ ص ٤٧٣ باب العلامات بین یدی الساعة وذكر الدجال مسلم ج ٢ ص ٤٠١ باب ذكر الدجال)“

کافروں کو حجت اور دلیل سے ہلاک کرے گا۔ خنجر یا تلوار سے قتل نہیں کرے گا۔

انحصار محض اسی آلہ پر نہیں ہے۔ بذریعہ سانس کے وہ ہی ہلاک ہوں گے جن پر عیسیٰ علیہ السلام کی نظر پڑے گی اور نظر کے ساتھ ساتھ وہ ان کے سانس کو محسوس بھی کریں گے۔ جیسا کہ لفظ يجد من ريح نفسه الا مات اور اذا راء عدو الله لذاب كما يذوب الملح في الماء یا اذا راء ني لذاب كما يذوب الرصاص سے مستفاد ہورہا ہے۔ کیونکہ اس میں ریح نفس کے پانے اور ان کو دیکھنے کی شرط مذکور ہے۔ لہٰذا جن کافروں پر حضرت عیسیٰ کی نظر نہ پڑے گی اور نہ وہ ان کو دیکھیں گے یا درخت اور پتھر کے پیچھے چھپ جائیں گے یا باوجود ان تمام شرائط کے پائے جانے کے حضرت عیسیٰ ان کو خنجر سے ہلاک کرنا چاہیں گے ایسے تمام کافر تلوار یا نیزہ وغیرہ ہی سے قتل کئے جائیں گے۔ وہاں حجت اور دلیل کوئی کام نہ دے گی۔ پھر ایک آدمی کافروں کے اتنے بڑے لشکر کو تنہا سانس کے اثر سے ہلاک نہیں کر سکتا۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کا لشکر ہوگا جن کے سانس میں یہ تاثیر نہ ہوگی۔ ان کو دشمنوں کا مقابلہ کے لئے آلات حرب کی لازمی طور پر ضرورت پڑے گی۔ لہٰذا حدیث کے کسی لفظ سے حرب و ضرب کے آلات کی نفی کر کے اس سے حجت اور دلیل کو ثابت کرنا کسی طرح صحیح نہیں۔

عيسى بن مريم الى الارض فتزوج ويولد ويمكث خمسا واربعين سنة ثم يموت فيدفن معى فى قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين ابى بكر و عمر (رواه الجوزى فى كتاب الوفاء ص ٨٣٢ باب فى حشر عيسى بن مريم مبينا مشكوة ص ٤٨٠ باب نزول عيسى عليه السلام)“

قال يدفن عيسى بن مريم مع رسول الله ﷺ و صاحبيه فيكون قبره رابعاً (درمنثور ج ٢ ص ٢٤٦، مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٠٩، اخرج الترمذى عنه ج ٢ ص ٢٠٢

صفحہ ١٢٣

الد فيقتله (رواه فى المشكوة ص ٤٧٣ باب العلامات بين يدى مسلم ج ٢ ص ٤٠١ باب ذكر الدجال) “ عیسیٰ علیہ السلام کے سانس سے کافروں کا مرنا بتارہا ہے کہ آنے والا مسیح دل سے ہلاک کرے گا، خنجر یا تلوار سے قتل نہیں کرے گا۔ آلات حرب میں سے یہ بھی ایک آلہ ہو گا۔ کفار کے ہلاک کرنے کا س ہے۔ بذریعہ سانس کے وہ ہی ہلاک ہوں گے جس پر عیسیٰ علیہ السلام کی کے ساتھ ساتھ وہ ان کے سانس کو محسوس بھی کریں گے۔ جیسا کہ لفظ يجد من ور اذا راه عدو الله لذاب كما يذوب الملح في الماء يا اذا راه نی نص سے مستفاد ہورہا ہے۔ کیونکہ اس میں ریح نفس کے پانے اور ان ہے۔ لہٰذا جن کافروں پر حضرت عیسیٰ کی نظر نہ پڑے گی اور نہ وہ ان کو دیکھیں کے پیچھے چھپ جائیں گے یا باوجود ان تمام شرائط کے پائے جانے کے سے ہلاک کرنا چاہیں گے ایسے تمام کافر تلوار یا نیزہ وغیرہ ہی سے قتل کئے اور دلیل کوئی کام نہ دے گی۔ پھر ایک آدمی کافروں کے اتنے بڑے لشکر کو ہلاک نہیں کر سکتا۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کا لشکر ہو گا جن ہوگی۔ ان کو دشمنوں کا مقابلہ کے لئے آلاتِ حرب کی لازمی طور پر ضرورت کے کسی لفظ سے حرب و ضرب کے آلات کی نفی کر کے اس سے حجت اور ح صحیح نہیں۔

”عن عبدالله بن عمر وقال قال رسول الله ﷺ ينزل الى الارض فتزوج ويولد ويمكث خمسا واربعين سنة ثم م في قبرى فاقوم انا وعيسى بن مريم فى قبر واحد بين الجوزي في كتاب الوفاء ص ٨٣٢ باب فى حشر عيسى بن مريم ٤٠ باب نزول عیسیٰ علیه السلام)“

أخرج البخارى فى تاريخ والطبرانى عبدالله بن سلام ن مريم مع رسول الله ﷺ و صحابيه فيكون قبره رابعاً في مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٠٩، اخرج الترمذى عنه ج٢ ص٢٠٢

باب فضل النبي ﷺ مشكوة ص٥١٥ باب فضائل سيد المرسلين ﷺ قال مكتوب في التورات صفة محمد وعيسى ابن مريم يدفن معه)“

میں دفن کئے جائیں گے اس حدیث کی معارض ہے۔

بھی ناممکن ہے۔ کیونکہ قبر شریف میں آپ کے ساتھ مدفون ہونا غیر معقول امر ہے۔

بکرؓ سے مرفوعاً یہ روایت ہے کہ نبی کی روح اسی جگہ دفن کی جاتی ہے جہاں وہ مدفون ہونا پسند کرتے ہیں اور یہاں یہ بات ممکن نہیں ہے۔

نے تمریض کے صیغے قیل سے بیان کیا ہے۔ تعارض اس وقت مضر ہوتا ہے جب دونوں روایتیں ایک درجہ کی ہوں قوت اور ضعف کی صورت میں قوی کو ضعیف پر ترجیح ہوا کرتی ہے۔ تعارض کی وجہ سے ساقط نہیں ہوا کرتی۔

پہلو بہ پہلو مدفون ہوں گے۔ بلکہ اس کے قریب جگہ میں دفن ہونا مراد ہے: ”(فى قبرى) اے في مقبرتى وعبر عنها بالقبر لقرب قبره بقبره فكانهما في قبر واحد (مرقاة ج١٠ ص٢٣٣) قال ابو مودود قد بقى فى البيت موضع قبر (مرقاة ج١١ ص٦٧ ترمذی ج ٢ ص ٢٠٢ باب ماجاء فی فضل النبی) “علاوہ ازیں ایک روایت میں موضع قبر آیا ہے: ”عن عائشة قلت يا رسول الله انى ارى انى اعيش بعدك فتاذن لى ان ادفن الى جنبك فقال وانى لك بذلك الموضع مافيه الاموضع قبرى وقبر ابى بكر و عمر و عيسى ابن مريم (كنز العمال ج١٤ ص٦٢٠ حديث نمبر٣٩٧٢٨ مختصر ابن عساکر ج٢٠ ص١٥٤) “قرآن میں ہے: ”ولا تقم على قبره (توبه: ٨٤)“ اس میں علی قبرہ کے معنی بعینہ قبر پر کھڑا ہونا نہیں ہے۔ بلکہ اس کے نزدیک کھڑا ہونا مراد ہے۔ اسی طرح لیاتین قبری میں موضعاً قریبا من قبری کا ارادہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا فی قبری میں بھی فی مکان قریب من قبری مراد ہے۔

صفحہ ١٢٤

معلوم ہوچکی ہے۔

قالت لما قبض رسول الله ﷺ اختلفوا فى دفنه فقال ابو بکر سمعت من رسول الله ﷺ شيئا ما نسيته قال ما قبض الله نبياً الا فى الموضع الذی يحب ان يدفن فيه فدفنوه فى موضع فراشه “ یعنی خدا کا پیغمبر جس موضع میں دفن ہونا پسند کرتا ہے وہیں ان کی روح قبض کی جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قبر کے پاس دفن ہونے کی ہر مسلمان کو تمنا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تو بدرجہ اولیٰ اس کی خواہش ہوگی۔ اس لئے جب ان کے انتقال کا وقت قریب ہوگا۔ وہ قبر شریف پر حاضر ہوں گے اور حضور کو سلام کریں گے۔ جیسا کہ: ”لياتين قبری حتی يسلم علی ولاردن عليه (مستدرک حاکم ج ٣ ص ٤٩٠ باب هبوط عیسی عليه السلام) “ سے ظاہر ہے اور قاعدہ مقرر کے موافق وہیں انتقال ہوگا اور حضور ﷺ کے پہلو میں قریب ہی دفن کر دئیے جائیں گے اور بہت ممکن ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی درخواست پر مقام تیہہ سے نکال کر پتھر پھینکنے کے فاصلہ کے موافق بیت المقدس سے قریب کر دیا تھا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آرزو پر ان کو قبر مبارک کے نزدیک کر دیا جائے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پیش گوئی اپنی حقیقت پر محمول ہے اور اس میں کسی قسم کی تاویل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

الدجال فى الارض عند خروجه من وثاقه) عن ابی هريرة قال سمعت رسول الله ﷺ يقول ينزل عیسی بن مريم فيؤمهم فاذا رفع راسه من الرکعة قال سمع الله لمن حمده قتل الله الدجال واظهر المؤمنين“

من امتی يقاتلون علی الحق ظاهرين الی يوم القيامة قال فينزل عیسی بن مريم فيقول اميرهم تعال صل لنا فيقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمة الله هذه الامة“

(رواہ مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسی بن مريم حاکما بشريعة نبينا)

صفحہ ١٢٥

بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويفيض المال حتى لا يقبله احد حتى يكون السجدة الواحدة خير من الدنيا وما فيها ثم يقول ابو هريرة فاقروا ما شئتم وان من اهل الكتاب (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عيسى بن مريم، مسلم ج ١ ص ٨٧ نزول عيسى بن مريم حاكما بشريعة نبينا ﷺ) “

٢١....... ” عن ابي هريرة قال قال رسول الله ﷺ والله لينزلن ابن مريم حكما عادلا فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليضعن الجزية“

(رواه مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عيسى بن مريم حاكما بشريعة نبيناﷺ)

نزول کا معنی

س ....... نزول سے مراد آسمان سے اترنا یا نازل ہونا نہیں ہے۔ بلکہ یہاں اس لفظ کے وہی معنی ہیں جو مندرجہ ذیل مثالوں سے ظاہر ہیں:

١....... ”انزل لکم من الانعام (زمر: ٦)“ ٢....... ” انزلنا الحديد (الحديد: ٢٥) “ ٣....... ” انزلنا اليكم لباسا (اعراف: ٢٦) “

٤....... ” نزل النبي من الانبياء تحت شجرة (كنز العمال ج ٥ ص ٣٩٢ حدیث نمبر ١٣٣٨٣ ) “ اس قسم کی اور بہت سی مثالیں قرآن مجید وحدیث مبارکہ میں پائی جاتی ہیں۔ اس لئے حدیث میں نزول مسیح سے ظلی اور بروزی نزول مراد ہے۔ حقیقی طور پر اترنا مراد نہیں۔

ج ....... نزول کے کسی ایک معنی سے اس لئے انکار کر دینا کہ اس کا استعمال دوسرے معنوں میں قلت یا کثرت کے ساتھ آ رہا ہے جہالت اور نادانی ہے۔ مجاز یا مشترک کے قرائن ترجیح میں سے کوئی قرینہ قلت یا کثرت استعمال کا نہیں ہے۔ لفظ زکوٰۃ قرآن اور حدیث میں کثرت سے صدقہ فرضیہ کے لئے آیا ہے۔ مگر اس کا استعمال طہارۃ نماز، برکت، صلاحیت وغیرہ بھی بدستور صحیح ہے۔ قرآن میں ہے: ”خيرا منه زكوة اى اسلاماً وقيل صلاحاً (ورحماً) اى رحمة لوالديه (مجمع البحار ج ٢ ص ٤٣٤، مازكى منكم ماطهر...... ذلکم ازکی ای انمی واعظم بركة “ مجمع بحار الانوار ج ٢ ص ٤٣٤ ) اسی طرح نزول مختلف معنوں کے لئے استعمال کیا گیا۔ قرآن وحدیث اور محاورات عرب میں اوپر سے نیچے اترنے کے معنوں میں بھی کثرت سے آیا ہے:

صفحہ ١٢٦

”(١)..... انا انزلناه فى ليلة القدر (القدر: ١) (٢)..... ونزل به الروح الامين (الشعراء: ١٩٣) (٣)..... بالحق انزلناه و بالحق نزل (الاسراء: ١٠٥) (٤)..... لما نزلت بنو قريظة اى نزلت من الحصن على حكم سعد (مجمع البحار ج٤ ص ٧٠٨) (٥)..... بكتابك الذى انزلت (مقامات) (٦)..... تنزل الملائكة والروح (القدر: ٤)“

دراصل جب ایک لفظ مختلف معنوں کے واسطے استعمال کیا جاتا ہے تو اس لفظ سے ایک خاص معنی کا ارادہ کرنے کے لئے ہمیشہ کسی نہ کسی قرینہ کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ خواہ وہ قرینہ اس عبارت میں موجود ہو یا کوئی خارجی قرینہ وہاں پایا جاتا ہو۔ جب تک تعین اور تخصیص کا کوئی قرینہ موجود نہ ہو۔ مشترک کو کسی خاص معنی کے لئے متعین کر لینا یا حقیقت کو چھوڑ کر مجاز کی طرف جانا ہرگز جائز نہیں ہے۔ حدیث نزول سے نزول حقیقی مراد لینے کے متعدد قرینے موجود ہیں:

رہنا ثابت ہوتا ہے۔

کسی غیر میں نہیں پائی جاتیں۔ ان سے حقیقی نزول کے معنی مستفاد ہوتے ہیں۔

بیوی بچے ہونے اس آیت کی رو سے ضروری ہیں: ”ولقد ارسلنا رسلا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذرية“

(الرعد: ٣٨)

نبی عربی ﷺ کے ارشاد گرامی کے بموجب ضروری ہے۔

نزول کی طرف معمولی اشارہ بھی نہیں پایا جاتا۔

رائے سے تاویل کرنی لازم آتی ہے جو تحریف ہے اور اس طرح دین کی ہر ایک بات کا انکار کیا جاسکتا ہے۔

الدنیا کی قید صراحۃً موجود ہے۔

صفحہ ١٢٧

کے لیھبطن ابن مریم حكما عدلا مذکور ہے اور ہبوط اوپر سے نیچے اترنے پر بولا جاتا ہے۔ ’ ہبط ہبوطا فرود آمد از بالا (منتهى الارب ج ٤ ص ٣٤٦)‘ معلوم ہوا کہ نزول کے معنی اس جگہ فرود آمدن ہی کے ہیں۔

س ... ظلیت و بروزیت کا مطلقا ثبوت قرآن میں موجود ہے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بھی بروزیت کو تسلیم کرلیا جائے تو کیا حرج ہے۔ مثلاً! ..... ”نحن قدرنا بينكم الموت وما نحن بمسبوقين . على ان نبدل امثالكم وننشئكم فيما لاتعلمون (واقعه ٦١،٦٠)“ ٢ ..... ”ضرب الله مثلا الذين آمنوا امرءة فرعون . اذ قالت رب ابن لى عندك بيتاً فى الجنة ونجنى من فرعون و عمله ونجنى من القوم الظالمين . ومريم ابنت عمران التى احصنت فرجها (تحریم ١٢)“ اس آیت میں ہر مومن کو فرعون کی عورت اور مریم کی مثل کہا ہے۔ جب مریم کا کوئی مثل ہوسکتا ہے، ابن مریم کا کیوں نہیں ہوسکتا۔

وجہ سے مخاطب بنایا ہے جو ان کے آباؤ اجداد نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں کئے تھے۔ ان کا مخاطب بنانا اس صورت میں صحیح ہوسکتا ہے۔ جبکہ ان میں اور ان کے آباء میں مماثلہ اور بروزیت کا اقرار کیا جائے۔

اسرائیل کا مثل کہا ہے۔

ج ... صوفیاء کی اصطلاح میں بروز کے یہ معنی ہیں کہ کسی کی قویٰ یا کامل روح دوسرے آدمی کے بدن میں تصرف کرے اور اس کو اپنے افعال کا آلہ کار یا اپنی صفات کا مظہر بنا لے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ ناقص درجہ کی روح کامل کی روح سے استفاضہ کرے جس طرح بعض جنات کا اثر بدن انسانی میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح بروز میں ایک روح دوسرے میں متصرف ہوتی ہے۔ شیخ محمد اکرم صابری نے (اقتباس الانوار ص ٥١) میں لکھا ہے: ”بروز آں رانا مد که روحانیت کمل در بدن کاملی تصرف نماید وفاعل افعال او شود“ یہ

صفحہ ١٢٨

وہی شیخ محمد اکرم ہیں جن کی نسبت مرزا قادیانی نے (ایام الصلح ص ١٣٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٢، ٣٨٣) پر یہ لکھا ہے: ”شیخ محمد اکرم صابری کہ از اکابر صوفیہ متاخرین بودہ“

حضرت مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں:

”در بروز تعلق نفس بہ بدن دیگر از برائے حصول نیست بلکہ مقصود ازیں تعلق حصول کمالات است مران بدن را...... چنانچہ جنی بفرد انسانی تعلق پیدا کندو در شخص او بروز نماید و مشائخ مستقیم الاحوال بعبارت کمون و بروز لب نمے کشایند (مکتوبات امام ربانیؒ ج٢ ص ١٦٥ مکتوب نمبر ٥٨)“ پھر اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”نزد فقیر قول بنقل روح از قول بتناسخ ہم ساقط تر است زیراکہ...... بعد از حصول کمال نقل ببدن ثانی برائے چہ“ پھر دو چار سطر بعد لکھتے ہیں کہ:” افسوس ہزار افسوس ایں قسم بظاہر ان خود را بمسند شیخی گرفتہ اندو مقتدائے اہل اسلام گشتہ“ (مکتوب امام ربانی ج٢ ص ١٦٦ مکتوب نمبر ٥٨)

حافظ کے اس شعر میں بھی بروز کے اس معنی کی طرف اشارہ ہے۔ شعر:

فیض روح القدس ار باز مدد فرماید
دیگراں ہم بکنند آنچہ مسیحا میکرد

اگر مرزا قادیانی کے خیال میں بروز کے یہی معنی ہیں تو ایسا بروز ہمارے لئے مضر نہیں اور نہ اس سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے مماثلت یا مساوات کا دعویٰ ہو سکتا ہے۔ شیخ اکبر فتوحات میں حضرت عیسیٰ کی روح سے فیض حاصل کرنے کے قائل ہیں۔ مگر مماثلت کے دعویٰ دار نہیں ہیں بلکہ ان کو زندہ آسمان پر تسلیم کرنے اور بعینہ دوبارہ آنے کے معتقد ہیں۔ جیسا کہ ہم انشاء اللہ اجماع کی بحث میں بیان کریں گے ۔ قال الشیخ فی الفتوحات ”وہو (عیسی ) شیخنا الاول رجعنا علی یدیہ ولہ بنا عنایۃ عظیمۃ لا یغفل عنا ساعۃ“

جن صوفیاء پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی روحانی توجہ ہوتی ہے وہ عیسوی المشرب کہلاتے ہیں۔ مگر اس حالت کو بروز ہی نہیں کہتے۔ شیخ نے فتوحات میں اس قسم کے بعض صوفیاء کا تذکرہ کیا ہے اور شیخ نے ساتھ ہی (فتوحات ج ١ باب ٣٦ ص ٢٢٣‘٢٢٤) میں یہ بھی لکھ دیا کہ ذریت

صفحہ ١٢٩

بن برشملا وصی عیسیٰ نے جو ابھی تک کوہ حلوان میں زندہ موجود ہے۔ ثعلبہ بن معاویہ صحابی کو حضرت عیسیٰ کے آسمان سے اترنے کی خبر ہی دی تھی۔

پھر بروز سے استفاضہ روحی مراد لے کر عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق نزول یا رجوع بروزی معنی کرنے کی وجہ سے صحیح نہیں ہیں:

عیسی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ (تفسیر ابن کثیر ج٢ ص٤٠ زیر آیت یٰعیسیٰ انی متوفیک، تفسیر ابن جریر ج٣ ص ٢٨٩ زیر آیت ایضاً)‘‘ اگر اس میں رجوع سے رجوع ظلی اور بروزی بمعنی افاضہ روحانی مراد ہو تو لم یمت کی قید مرزا کو مضر اور غیر مفید ہونے کے علاوہ بالکل بے فائدہ اور مخل بالمقصود ہو جائے گی۔ کیونکہ استفاضہ روحی فیض پہنچانے والے کی زندگی یا موت میں سے کسی ایک پر موقوف نہیں ہے۔ جنات اور ملائکۃ اللہ کے روحانی تصرفات زندگی ہی میں ہوتے ہیں۔ بعض ارواح کے اثرات مرنے کے بعد بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ جب روحانی تصرف دونوں حالتوں میں ہوتا ہے تو لم یمت کی خصوصیت کی کوئی وجہ نہیں رہتی۔ پھر لم یمت کی تصریح کے بعد روحانی بروز کے ثابت کرنے سے مرزا کا مسیح علیہ السلام کی موت پر استدلال کرنا بھی درست نہیں رہتا۔

قادیانی نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ آنے والا مسیح مسلمانوں ہی میں سے ایک فرد ہوگا اسرائیلی مسیح نہ ہوگا۔ اسی طرح راجع الیکم میں یہود مخاطب ہونے کی وجہ سے یہ معنی ہونے چاہئیں کہ اے یہود آنے والا مسیح یہودی مذہب کا ایک آدمی ہوگا اور عیسیٰ کے مشابہ ہونے کی وجہ سے عیسیٰ مسیح کہلائے گا اور اصلی مسیح نہیں ہوگا۔ وھو کما تری!

قید کا کوئی فائدہ نہیں۔ بلکہ عبث ہے کیونکہ استفاضہ روحی ہر وقت ہو سکتا ہے۔

کے پیدا ہوں گے اور اسی لئے ان لوگوں کے دھوکے اور کذب سے بچنے کے واسطے آپ نے حضرت عیسیٰ کا حلیہ اور ان کی صفات مخصوصہ تک ظاہر فرما دیں تو کیا وجہ ہے کہ آپ نے بروز عیسوی کو کسی جگہ بیان نہیں فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے امت کو گمراہی سے بچانے کے لئے بذریعہ رسالت پناہ ﷺ اس سے آگاہ نہیں کیا۔ خصوصاً جبکہ اللہ تعالیٰ خود قرآن میں یہ فرماتا ہے: ’’وما کان اللہ

صفحہ ١٣٠

ليضل قوما بعد اذهد اهم حتي يبين لهم ما يتقون (التوبہ: ١١٥) ”تو مسئلہ بروز کا ذکر کرنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے اور اگر بروز سے انتقال روحی مراد ہے تو روح کے منتقل ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں۔

تعلق جسم کے ساتھ حیات اور زندگی کا ہو اس کو تناسخ کہتے ہیں۔

حلول کرے اور اس کے جسم سے وہی تعلق ہو جو اس کی روح کا ہے ایک جسم میں دو روحوں کا حلول کرنا محال ہے۔ اس لئے یہ دونوں احتمال غلط اور شریعت اسلامیہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔ اگر بروز سے وہ مراد ہے جو امام شعرانی نے اہل کشف کے بارے میں (میزان کبریٰ کے ص ١٣) پر لکھا ہے کہ صاحب کشف مقام یقین میں مجتہدین کے مساوی ہوتا ہے اور کبھی بعض مجتہدین سے بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ وہ اسی چشمہ سے چلو بھرتا ہے جس سے شریعت نکلتی ہے۔ پھر (ص ٤) پر فرماتے ہیں کہ بہت سے اولیاء اللہ کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ سے عالم ارواح میں یا بطور کشف ہم مجلس ہوئے۔ اس طرح شیخ نے فتوحات میں لکھا ہے کہ اہل ولایت بذریعہ کشف آنحضرت ﷺ سے احکام پوچھتے ہیں اور ان میں سے جب کسی کو کسی واقعہ میں حدیث کی حاجت پڑتی ہے تو وہ آنحضرت ﷺ کی زیارت سے مشرف ہو جاتا ہے۔ (میزان کبریٰ) تو یہ معنی بھی کئی وجہ سے صحیح نہیں۔

سے کوئی تعلق نہیں اور گفتگو اس میں ہے۔

مگر نبی کے برابر نہیں ہو سکتا۔

الشيخ في الفتوحات فهم على نور من ربهم نور على نور ولو كان من عند غير الله لوجد وافيه اختلافاً كثيراً (فتوحات) “ مگر مرزا قادیانی کو کبھی کشف میں قبر مسیح گلیل میں معلوم ہوئی اور ایک الہام میں سری نگر میں دکھائی دی اور کبھی بیت المقدس کے کلیسا عظیمہ میں نظر آئی۔ (دیکھو ازالہ ص ٤٧٣ خزائن ج ١١ ص ٢٩٩)

قادیانی باوجود یہ کہ شیخ اکبر اور جلال الدین سیوطی ص ١٥١، خزائن ج ٣ ص ١٧٧) پر سیوطی کے صاحب مسیح بعینہ کے عقیدہ کو نہیں مانتے۔

العادات باتوں کے ماننے سے انکار نہیں کیا اور حدیث کا انکار کرتے رہتے ہیں اور اگر مرزا مساوات کا ہونا مراد ہے تو مرزا قادیانی کا یہ خصوصیتیں جو احادیث میں مذکور ہیں ان میں مماثلت ہے تو ظلمت، نور دن و رات، کفر واسل کے نقشہ سے یہ بات اچھی طرح ثابت ہو رہی۔

سیرت مسیح علیہ السلام

میں دو چادریں پہنے ہوئے نماز صبح کے وقت

مسلم ج ٢ ص ٤٠٠، ٤٠١، باب ذکر الدجال وابن ماج

ابن خزیمہ والحاکم ج ٥ ص ٧٥٤، ٧٥٥ حدیث ١٥٤٠

کا محاصرہ کر رکھا ہوگا۔ (رواہ الطبرانی)

لشکر مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا۔ س نہ رہے گا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٦٦٠، با

ص ٢٩٧، ٢٩٨ وطبرانی کبیر ج ١٩ ص ٣٤٤ حدیث

صفحہ ١٣١

عظیمہ میں نظر آئی۔ (دیکھو ازالہ ص٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣، راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ١٧٢، اتمام حجہ ص ٢٠، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)

قادیانی باوجود یہ کہ شیخ اکبر اور جلال الدین سیوطی کو اہل مکاشفہ تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ (ازالہ ص ١٥١، خزائن ج ٣ ص ١٧٧) پر سیوطی کے صاحب کشف ہونے کا اقرار کیا ہے۔ لیکن ان کے نزول مسیح بعینہ کے عقیدہ کو نہیں مانتے۔

العادات باتوں کے ماننے سے انکار نہیں کیا اور مرزا قادیانی رات دن عقلیات کی وجہ سے قرآن و حدیث کا انکار کرتے رہتے ہیں اور اگر مرزا قادیانی سے حضرت عیسیٰ کی صفات میں مماثلت یا مساوات کا ہونا مراد ہے تو مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی وہ خصوصیتیں جو احادیث میں مذکور ہیں ان میں سے ایک بھی مرزا میں نہیں پائی جاتی۔ اگر اسی کا نام مماثلت ہے تو ظلمت و نور، دن و رات، کفر و اسلام سب ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ چنانچہ ذیل کے نقشہ سے یہ بات اچھی طرح ثابت ہو رہی ہے۔

سیرت مسیح علیہ السلام

میں دو چادریں پہنے ہوئے نماز صبح کے وقت منارہ شرقیہ پر ظاہر ہوں گے۔ (رواہ احمد ج ٤ ص ١٨١، ١٨٢ و مسلم ج ٢ ص ٤٠٠، ٤٠١، باب ذکر الدجال وابن ماجہ ص ٢٩٦، ٢٩٧، باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ علیہ السلام و ابن خزیمہ والحاکم ج ٤ ص ٤٧٤، ٤٧٥ و حدیث ٢٨٥٤٠، ٦٩٣ ، حدیث نمبر ٨٥٥٥ وابن کثیر ج ٢ ص ٤١٠)

کا محاصرہ کر رکھا ہوگا۔ (رواہ الطبرانی)

لشکر مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا۔ سوائے مذہب اسلام کے دنیا میں کوئی دوسرا مذہب باقی نہ رہے گا۔ (رواہ ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٦٦٠ ، باب ما ذکر فی فتنۃ الدجال واحمد ج ٢ ص ٤٠٦ تا ٤٣٧ وابن ماجہ ص ٢٩٧، ٢٩٨ وطبرانی کبیر ج ١٩ ص ٢٤٤ حدیث ١٠٧٥)

صفحہ ١٣٢

ہو کر آنحضرتﷺ کو سلام دیں گے اور آپﷺ ان کے سلام کا جواب ارشاد فرمائیں گے۔

(رواہ حاکم ج ٣ ص ٣٩٠ حدیث ٤٢١٨)

ہوگی۔

(مشکوۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول خداﷺ کے روضہ میں مدفون ہوں گے۔

(مسلم ج ٢ ص ٤٠١)

کو دکھائیں گے۔

(رواہ مسلم ج ٢ ص ٣٩٢ تا ٤٠١)

کی تردید نہیں کریں گے۔

ایک میں چالیس برس تک دنیا میں زندہ رہیں گے۔

(کتاب الوفاء لابن جوزی ص ٨٤٢ مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٦، مشکوۃ ص ٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

سیرت مرزا قادیانی

روزگار کے لئے سیالکوٹ کے دھکے کھاتے رہے۔ مختار کاری کے امتحان میں ناکامیاب رہنے کی وجہ سے واعظ، مناظر اسلام اور پھر مجدد اور مسیح سب کچھ بن بیٹھے اور قلم ان کی تلوار تھا۔ ذیابیطس اور دوران سر آپ کی دو چادریں تھیں۔

غیرے مسلمانوں کا قبضہ تھا اور کسی قسم کی کوئی جنگ نہ تھی۔

کے ٢٣ برس بعد (براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٧٥، خزائن ج ٢١ ص ٩٦) میں اپنی ناکامی کا نقشہ اس طرح پیش کیا ہے جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ ”بیشک ہم نے تین سو دلائل دینے کا اور پچاس جز تک کتاب لکھنے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر رائے یہی رہی کہ بجائے تین سو دلیلوں کے دو دلیلیں دی جائیں۔

صفحہ ١٣٣

کیونکہ ایک دلیل کی میری پیشگوئیاں بہت سی دلیلوں کے قائم مقام ہے۔ رہا پچاس جز کا وعدہ سو ہم اب تک پانچ جز لکھ چکے ہیں۔ پانچ اور پچاس میں صرف نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے یہ وعدہ بھی پورا ہو گیا۔ ”مذاہب باطلہ اس طرح موجود ہیں اور عیسائیوں کی جو بمنزلہ دجال ہیں روز بروز ترقی ہو رہی ہے۔ چنانچہ سراج الاخبار جہلم نے ٢ دسمبر ١٩١٣ء میں لکھا ہے کہ ١٩٠١ء میں پنجاب کے عیسائیوں کی مردم شماری ٣٧٢٦٩٥ تھی اور ١٩١١ء میں ٨١٦٣٠٩٢ ہوگئی۔ یعنی دس سال میں ٢٥٣٩٩ بڑھ گئے۔

مختلف تدبیریں کیں۔ مگر ناکامیابی کی حسرت دل میں لئے ہوئے چل بسے۔ دوسرا کوئی نکاح بھی نہیں کیا۔

تردید کر رہے ہیں اور اپنی عقل کو نقلیات پر ترجیح دے کر اسلام میں تبدیلیاں پیدا کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔

اور چالیس سال کا الہام ہونے کے باوجود پہلے ہی چل بسے اور ان روایات میں سے کوئی روایت بھی ان پر صادق نہ آئی۔ تلك عشرة كامله !

خصوصیات زمانہ مسیح علیہ السلام

ساتھ کھیلیں گے۔ مگر وہ ان کو کوئی ضرر نہ پہنچائیں گے۔

(رواہ احمد ج ٢ ص ٤٠٦ ، ابوداؤد ابن حبان)

(مسلم ج ١ ص ٨٧، باب نزول عیسیٰ بن مریم ، مشکوٰۃ ص ٤٨٠ ، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام)

ایک اتنا مالدار ہو جائے گا کہ کوئی زکوٰۃ کا قبول کرنے والا نہیں ملے گا۔

(مسلم ج ١ ص ٨٧، باب ایضاً ، بخاری ج ١ ص ٤٩٠ ، باب نزول عیسیٰ بن مریم)

صفحہ ١٣٤

کے مقابلہ کرنے کی کسی میں طاقت نہ ہوگی ۔ اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ ہدایت ہوگی کہ ان سے بچنے کے لئے کوہ طور پر مسلمانوں کو لے کر چلے جائیں۔

(مسلم ج٢ ص٤٠١، باب ذکر الدجال)

کھائے گی اور اس کے چھلکے کے سایہ میں بیٹھے گی۔

(مسلم ج٢ ص٤٠٢، باب ذکر الدجال)

خصوصیات زمانہ مرزا

خلاصی میں لگی ہوئی ہے۔ درندوں اور زہریلے جانوروں کی نقصان رسانی اسی طرح موجود ہے۔

آگ بھڑک رہی ہے اور مرزائی مشن کے ذریعے بغض و حسد اور اختلافات میں اور زیادتی ہو رہی ہے۔

سینکڑوں فقیر اس کے دروازہ پر جمع ہو جاتے ہیں اور مرزا قادیانی تبلیغی چندوں اور کتابوں کی فروختگی سے کافی روپیہ جمع کر لیتے ہیں اور اگر کوئی چندہ دینے سے انکار کرتا ہے تو اس کا نام مریدوں کی فہرست سے نکال دیا جاتا ہے۔

مقابلہ کرنا انسانی طاقت سے باہر اور مرزا قادیانی کوہ طور پر گئے ہوں۔

ہے۔

اس بین فرق اور ظاہری تفاوت کے باوجود، مرزا قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بروز اس معنی سے بھی نہیں ہو سکتے۔ لہٰذا بروزیت اور ظلیت کا دعویٰ لغو اور بے ہودہ ہے اور جن آیات سے بروزت اور ظلیت کے ثبوت پر استدلال کیا ہے۔ وہ ہرگز صحیح نہیں۔

اگر ہدایت میں لفظ مثل یا کاف تشبیہ کے آنے سے بروزیت ثابت ہو جایا کرتی ہے تو مندرجہ ذیل مثالوں میں بھی مماثلت اور مساوات ہونی چاہئے۔ باوجود کہ وہاں ظلیت کا دعویٰ بداہت عقل کے خلاف ہے۔

صفحہ ١٣٥

کفاروں کو مخاطب کر کے مثلکم کہا گیا ہے۔ کیا اس سے کفار مکہ اور رسول اللہ ﷺ میں عیاذاً باللہ مماثلت اور مشابہت ثابت ہوتی ہے؟۔

شاهد من بنى اسرائيل على مثله فامن واستكبرتم (احقاف: ١٠)“ اس میں مثلہ سے مراد توریت ہے۔ ”مثل القرآن وهو ما فى التوراة من المعانى (بيضاوى ج ٢ ص ٣٠٧)“ مگر توریت کو قرآن کی مثل سمجھتے ہوئے اس پر عمل کرنا اور قرآن جیسا سمجھنا جائز نہیں ہے۔

كمثله شى (شورى: ١١)“ ہے تو کیا دونوں آیتوں میں تعارض ہے؟۔ اور اس سے خدا کا کوئی مثل ثابت ہو گیا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ پہلی آیت میں مثل سے صفت مراد ہے: ”الصفة العليا وهو انه لا اله الا هو (جلالين)“ دوسری میں مماثل کی نفی ہے۔

وهو كل على مولاه اينما يوجهه لايأت بخير هل يستوى هو ومن يأمر بالعدل وهو على صراط مستقيم (نحل: ٧٦)“ جلالین ص ٢٢٣ میں ہے۔ دوسری مثال اللہ کی اور پہلی بتوں کی ہے تو کیا اللہ کو رجل عادل کی مثل کہنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ خدا کی مانند اور اس کا ہمتا بن گیا۔

انعام کی مثل کہنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ نوع انسانی سے نکل کر بالکل چوپائے بن گئے۔ اس طرح علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان میں انبیاء کی بعینہ صفتیں پائی جانے کی وجہ سے وہ نبی بن گئے ہیں۔ پھر اول تو بروزیت قابل اعتبار نہیں۔ دوسرے علماء امت میں سے کسی پر آج تک کبھی عیسیٰ کا لفظ اطلاق نہیں کیا گیا۔ جن آیتوں سے بروزیت پر استدلال کیا ہے۔ ان سے مماثلت فی الجملہ مراد ہے۔ مشابہت تامہ اور مساوات کلی مراد نہیں اور جب تک یہ بات ثابت نہ کی جائے۔ ایک کا دوسرے پر بعینہ اطلاق کرنا جائز نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ان آیتوں سے جو مراد ہے اس کو بروزیت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

”على ان نبدل امثالكم (واقعه: ٦١)“ میں امثال جمع مثل بالکسر کے ہے یا

صفحہ ١٣٦

مثل بفتحتین کی پہلی صورت میں بمعنى اشباہکم اور دوسری میں صفاتکم ہے۔ تبدیل اشباہ سے دنیا اور آخرت میں اشکال کے مختلف کرنے کی طرف اشارہ ہے یا دنیا ہی میں بعض کافروں کی صورتیں قردۃ اور خنازیر میں تبدیل کرنی مراد ہیں۔ جیسا کہ حسن بصریؒ فرماتے ہیں اور یا تبدل اشخاص مراد ہے اور ان کو مشارکہ نوعی کی وجہ سے اشباہ کہا گیا ہے۔ ان تینوں صورتوں میں نہ استفاضہ روحی ہے اور نہ مماثلت تامہ موجود ہے۔ پھر بروزیت کس طرح ثابت ہو سکتی ہے اور تبدیل صفات میں لڑکپن‘ جوانی بڑھاپا مراد ہے جس کو بروزیت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے: ”والمعنى على ان نبدل منكم اشباهكم فنخلق بدلكم او نبدل صفاتكم (بیضاوی ج ٢ ص ٣٥٦)“....... ”قال الحسنؒ ای نجعلكم قردة وخنازير وقيل المعنى وننشئكم فى البعث على غير صوركم فى الدنيا (تفسیر ابی السعود ج٨ ص ١٩٧)“...... ”ضرب الله مثلاً اللذين آمنوا امراة فرعون (تحریم: ١١)“ میں ہر مومن کو آسیہ اور مریم کی مثل نہیں کہا گیا۔ بلکہ ان مسلمانوں کی حالت کو جو کافروں کے درمیان رہتے ہیں امراۃ فرعون کی حالت سے تشبیہ دیکر یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جس طرح امراۃ فرعون کو فرعون سے تعلق ہونے کے باوجود علو درجہ اور ثواب اخروی میں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا۔ اس طرح ایسے مؤمنوں کے درجہ اور ثواب میں کافروں میں رہنے کی وجہ سے کوئی فرق نہیں آتا۔ اس کو بروزیت سے کوئی تعلق یا لگاؤ نہیں ہے۔

”شبه حالهم فى ان وصالة الكافرين لاتضرهم بحال آسية ومنزلتها عندالله مع انها كانت تحت اعدى اعداء الله (بیضاوی ج ٢ ص٣٨٦)“ مریم کا ذکر پاک دامن بیوگان اور بے شوہر عورتوں کی تسلی کے لئے کیا ہے۔ کیونکہ ان کو پاک دامنی ہی کی وجہ سے اس زمانہ کی عورتوں پر فضیلت بخشی گئی تھی: ”عطف و مریم بنت عمران على امراة فرعون تسلية للارامل“

(بیضاوی ج ٢ ص٣٨٦)

علامہ ابو السعود نے اس قسم کی مثال کے لئے اس سے پہلی آیت میں یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے: ”ضرب المثل فى امثال هذه المواقع عبارة عن ايراد حالة غريبه ليعرف بها حالة اخرى مشاكلة لها فى الغرابة“

(تفسیر ابی السعود ج٨ ص٢٦٩)

بنی اسرائیل کے اباؤ اجداد کے افعال ابناء کی طرف نسبت کرنا ایسا ہی ہے جیسا کہ: ”خلقكم من تراب (الروم: ٢٠)“ میں تمام بنی آدم کو مٹی سے بنانا ظاہر کیا گیا ہے باوجود یہ

صفحہ ١٣٧

کہ مٹی سے محض آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی۔ مگر باپ کا فعل مجازاً بیٹے کی طرف منسوب کرنا جائز ہے۔ اس لئے ان آیات میں ابناء کو مخاطب بنا لینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہاں فاعل کی طرف نسبت ہونے کی وجہ سے مجاز فی الاسناد ہے مجاز فی الظرف نہیں ہے۔ اگر مجاز فی الظرف ہوتا تو فی الجملہ مماثلت پر آیات سے استدلال کرنا صحیح تھا۔ اس لئے ان آیات کو مماثلت سے کوئی تعلق نہیں۔

س ....... مرزا قادیانی نے (ایام الصلح ص ١٣٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٣) پر شیخ محمد اکرم صابری کی کتاب اقتباس الانوار سے نقل کیا ہے کہ مہدی بروزی طور پر عیسیٰ بھی ہوں گے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں: ”بعضے برانند کہ روح عیسیٰ در مہدی بروز کند و نزول عبارت از همین بروزست مطابق حدیث لا مهدی الا عیسیٰ بن مریم “

ج....... شیخ نے اس قول کو رد کرنے کی غرض سے اپنی کتاب میں لکھا ہے مگر مرزا قادیانی نے اس قول کو تو نقل کر دیا مگر اس کی تردید ذکر نہ کی۔ اس عبارت کے بعد جس کو مرزا قادیانی نے حذف کر دیا یہ ہے: ”و این مقدمہ بغایت ضعیف است (اقتباس الانوار ص ٥٦)“ پھر صفحہ ٧٢ پر لکھتے ہیں: ”یک فرقہ برآن رفتہ اند کہ مہدی آخرالزمان عیسیٰ بن مریم است و این روایت بغایت ضعیف است زیرا کہ اکثر احادیث صحیح و متواتر از حضرت رسالت پناہ ﷺ ورود یافتہ کہ مہدی از بنی فاطمہ خواهد بود و عیسیٰ بن مریم باو اقتداء کردہ نماز خواهد گذارد و جمیع عارفان صاحب تمکین بریں متفق اند چنانچہ شیخ محی الدین بن عربی قدس سرہ درفتوحات مکی مفصلا نوشتہ است کہ مہدی آخر الزماں از آل رسول ﷺ من اولاد فاطمہ زہرا ظاہر شود“

معلوم ہوا کہ یہ حدیث غایت درجہ کی ضعیف ہے اور صحیح اور متواتر حدیثوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اسی وجہ سے ابن ماجہ (ص ٢٩٢) سے اس روایت کو نقل کرنے کے باوجود نزول مسیح بعینہ کی حدیث ذکر کی ہے۔

٢....... مہدی سے معنی وصفی ہدایت یافتہ مراد ہے۔ شخص مہدی مراد نہیں۔ جیسا کہ لامومن الاتقی میں مومن سے کامل الایمان مطلوب ہے۔ چنانچہ یہ معنی کنز العمال کی اس حدیث میں بالکل ظاہر ہیں: ”عن عبداللہ بن مغفل ینزل عیسیٰ بن مریم مصدقا بمحمد علی ملتہ اماماً مہدیا حکما عدلا (کنز العمال ج ١٤ ص ٣٢١ حدیث

صفحہ ١٣٨

نمبر ٣٨٨٠٨ المعجم الاوسط ج ٣ ص ٢٧٧ حديث نمبر ٤٥٨٠ ) من ابی هريرة مرفوعاً يوشك من عاش منكم ان يلقى عيسى بن مريم اماماً مهديا حكما عدلا ( احمد ، ج ٢ ص ٤١١ ) ”نیز حدیث میں خلفاء راشدین کو بھی مہدین کہا گیا ہے۔ (ابن ماجه ص ٥ باب اتباع سنة الخلفاء راشدين المهديين، ترمذی ج ٢ ص ٩٦ باب الاخذ بالسنة و اجتناب البدعة )

الامہدی نہیں ہے۔ یعنی اگر نفی ہوتی تو مہدی کی ہوتی ہے۔ حضرت عیسیٰ کا بعینہ نازل ہونا بہر حال میں ثابت ہے۔ زیادہ سے زیادہ حدیث کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ مہدی کی صفت بھی عیسیٰ ہی میں ہوگی۔ لیکن اس روایت کے یہ معنی نہیں کر سکتے کہ مہدی میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بروزی طور پر ظہور ہوگا۔

س...... حدیث میں مسیح علیہ السلام کے دو حلیے مذکور ہیں۔ معلوم ہوا کہ ایک حلیہ عیسیٰ علیہ السلام کا اور دوسرا ان کے بروز کا ہے۔ ج...... حدیثوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ تین قسم کا آیا ہے:

(بخاری ج ١ ص ٤٨٩ باب قول الله واذكر في الكتاب مريم )

لمته بين منكبيه رجل الشعر“

( بخاری ج ١ ص ٤٨٩ )

ابن ابی شیبه ج ٨ ص ٦٦٠ باب ماذكر فى فتنة الدجال و ابن حیان ج ٩ ص ٢٩٠ باب ذکر البیان بان الامام هذه الامة عنه نزول عیسیٰ بن مريم )“

اس قاعدہ سے چاہئے کہ بجائے دو مسیح کے تین مسیح ہوں۔ دوسرے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حلیہ کے متعلق دو قسم کے الفاظ ہیں:

( بخاری ج ١ ص ٤٨٩ )

(ص ٤٨٩)

بعض روایات میں ہے: ”اما موسى فجعد وروى انه رجل الشعر (مجمع بحار الانوار ج ١ ص ٣٦٠) اس لئے موسیٰ بھی وہی ہونے چاہئیں۔ رسول خدا ﷺ کے حلیہ

صفحہ ١٣٩

میں بھی الفاظ مختلف آئے ہیں۔ لہٰذا وہ بھی متعدد ہونے چاہئیں۔ درحقیقت ان روایات کو اختلاف پر محمول کرنا اور ان میں تضاد سمجھنا ہی غلط ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اصل حلیہ وہی ہے جو احمد کی روایت میں آیا ہے۔ چونکہ حمرت اور سفیدی آپ کے حلیہ شریف میں غالب تھی۔ اس لئے کہیں آنحضرت ﷺ نے احمر فرما دیا اور کبھی حمرت اور بیاض کی طرف مائل ارشاد فرماتے ہوئے گندمی رنگوں میں کھلا ہوا رنگ کہہ دیا۔ چیز ایک ہی ہے تعبیریں مختلف ہیں۔ نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام میانہ قد اور گٹھے ہوئے بدن کے تھے۔ اس لئے ایک جگہ ”مربوع مرد ميانه (منتهی الارب ج ٢ ص ٨٩)“ مذکور ہے اور ایک روایت میں جعد ٹھوس اور گٹھا ہوا بدن آیا ہے: ”الجعد فى صفات الرجال يكون مدحاً وذما فالمدح ان يكون شديد الاسر و الخلق (مجمع البحار ج ١ ص ٣٥٩) “ لہٰذا جعد سے بالوں کی جعودت مراد نہیں ہے۔ بلکہ جعد البدن مراد ہے اور اس کو رجل الشعر سے منافاۃ نہیں: ”اما موسى فجعد اراد جعودة الجسم وهو اجتماعه واكتنازه لا ضد سبوطة الشعرلانه روى انه رجل الشعر وكذافى وصف عيسى “

(مجمع البحار ج ١ ص ٣٦٠)

س ..... مسلم کی روایت اما مکم منکم سے معلوم ہوتا ہے کہ آنے والا مسیح آپ کی امت کا ایک آدمی ہوگا۔ اسرائیلی نہ ہوگا۔ کیونکہ ”كيف اذا نزل ابن مريم فيكم اما مكم منكم“ میں عطف تفسیری ہے۔

ج ..... اس جملہ میں واؤ حالیہ ہے اور عطف تفسیری نہیں ہے۔ کیف جو استفہام کا فائدہ دے رہا ہے۔ واؤ حالیہ ہی کی صورت میں صحیح ہو سکتا ہے۔ عطف تفسیری میں درست نہیں ہوسکتا اور اگر واؤ کو تفسیری کے لئے مان لیا جائے تو پھر امامت سے امامت کبریٰ اور حکومت مراد ہے۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہونے کے باوجود شریعت محمدیہ کے پیرو اور اس کے موافق فیصلہ کرنے والے ہوں گے: ”ذكر سیوطی فی رسالته الا علام بحكم عيسى عليه السلام، ان عيسى حين ينزل قرب القيامة يحكم بشريعة نبينا ﷺ“

(الحاوى للفتاوى ج ٢ ص ١٥٥)

یہ امر محل تعجب ہے۔ لیکن امامت صغریٰ مراد لے کر عطف تفسیری کی صورت میں کوئی تعجب نہیں ہے۔ علاوہ ازیں دوسری روایات میں وامكم منكم اور فامكم منكم ہے جس کے معنی امكم رجل منکم ہوئے اور وہ مہدی علیہ السلام ہیں۔ یا یہ معنی ہیں کہ امامت کرائیں گے تم

صفحہ ١٤٠

گو عیسیٰ علیہ السلام تمہارے میں سے ایک فرد بن کر۔ یعنی شریعت محمدیہ کے موافق نماز ادا کریں گے ۔ اس میں امام اور عیسیٰ کا ایک ہونا لازم نہیں آتا ۔

س ...... نزول کی تفسیر میں حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں : ”فاقرءوا ان شئتم وان من اہل الکتاب لیؤمنن بہ قبل موته“ حدیث کا جز نہیں ہے۔ یہ ابو ہریرہؓ کا اپنا قول ہے۔

ج ...... یہ جملہ یہاں آیت کی تفسیر میں اگرچہ موقوفاً آیا ہے ۔ لیکن (درمنثور ج٢ ص٢٤٢) میں ابن مردویہ کی روایت سے مرفوعاً مروی ہے۔ طحاوی نے سورۃ البقرہ کے باب میں ابن سیرین سے نقل کیا ہے۔ ان حدیث ابی ہریرہ کلہ مرفوع! نیز امام احمد نے (مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٠، ٢٩١) حنظلہ السلمی عن ابی ہریرۃ اس روایت کو نقل کرتے ہوئے کہا ہے: ”وتلا ابو ہریرۃ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موته ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا ، فزعم حنظلہ ان ابا ہریرۃ قال لیؤمنن بہ قبل موت عیسی فلا ادری ہذا اکلہ حدیث النبی ﷺ او شیء قاله ابو ہریرۃ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٤)“ یعنی حنظلہ کو موتہ کی ضمیر جو عیسیٰ کی طرف لوٹائی گئی ہے۔ اس کے مرفوع یا موقوف ہونے میں تردد ہے۔ آیت کے مرفوع ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ واللہ اعلم!

س ...... نزول کی حدیث میں بڑا اختلاف ہے۔ کسی روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھائیں گے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ امام مہدی کے اقتداء کریں گے ۔ کہیں ہے کہ نزول کے بعد ٧ سال رہیں گے اور کسی جگہ ہے کہ ان کے ٹھہرنے کی مدت ٤٠ اور ٤٥ سال ہوگی ۔ ان اختلافات کے بعد یہ روایتیں قابل احتجاج نہیں ہیں ۔

ج ...... اختلاف روایات کا اس جگہ مضر اور مانع استدلال ہوتا ہے۔ جہاں روایتوں میں تطبیق یا ترجیح نہ ہو سکے اور حدیث نزول میں تطبیق نہ صرف ممکن بلکہ واقع ہے۔ امامت کے متعلق اختلاف روایات کی یہ وجہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اس وقت صبح کی نماز کی اقامت ہو رہی ہوگی اور امام مہدی مصلے پر کھڑے ہوں گے ۔ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر ان کو امامت کے لئے آگے بڑھانا چاہیں گے۔ لیکن وہ اس وقت کی امامت سے انکار کرتے ہوئے ”تکرمۃ الله ہذہ الامۃ (مسلم ج ١ ص ٨٧ باب نزول عیسی بن مریم)“ کہہ کر امام مہدی کی اقتداء کر لیں گے ۔ اس کے بعد دوسرے اوقات میں

صفحہ ١٤١

امامت کبریٰ کے ساتھ ساتھ امامت صغریٰ کے خدمات بھی انجام دیں گے۔ اس لئے بعض حدیثوں میں نزول کی حالت کو ذکر کر دیا اور کسی روایت میں نزول کے بعد کے واقعات بیان کر دیئے گئے۔ اگرچہ بظاہر بادی النظر میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ مگر واقع اور نفس الامر میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

چنانچہ عمدۃ القاری شرح بخاری میں یہ روایت مکمل تفصیل کے ساتھ نعیم بن کعب سے اس طرح مروی ہے: ”يحاصر الدجال المؤمنين بيت المقدس فيصيبهم جوع شديد حتى يأكلوا اوتار قسيهم فبينما هم كذالك اذ سمعوا صوتا في الغلس فاذا عيسى عليه السلام قد نزل و تقام الصلوة فيرجع امام المسلمين فيقول عليه السلام تقدم فلك اقيمت الصلوة فيصلى بهم ذلك الرجل تلك الصلوة ثم يكون عيسى الامام بعده“

اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صبح کی نماز کو امام مہدی کے پیچھے ادا کرنا (مسند احمد ج ٣ ص ٣٦٨، مسلم ج ١ص ٨٧ باب نزول عیسیٰ میں جابر سے اور ابن ماجہ ص ٢٩٧، ٢٩٨ باب فتنہ الدجال و خروج عیسیٰ بن مریم، ابن خزیمہ اور مستدرک حاکم ج ٥ ص ٦٧٥ حدیث نمبر ٨٥٦٠ میں ابو امامہ سے اور تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠٨) میں عثمان بن ابی العاص سے ثابت ہے۔

اسی طرح جن روایتوں میں ٹھہرنے کی مدت سات سال آئی ہے۔ اس سے جنگ کا زمانہ اور بحالی امن کی مدت مراد ہے اور باقی مدت جنگ ختم ہونے کے بعد کی ہے۔ یا یہ کہا جائے کہ رفع آسمانی کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ٣٣ سال کی تھی اور ٧ سال نزول کے بعد قیام فرمائیں گے ۔ اس لئے کل مدت زمین پر ٹھہرنے کی چالیس برس ہوگی ۔ ٤٥ سال کی روایت اس درجہ قوی نہیں ہے جو پہلی دو روایتوں کا مقابلہ کر سکے۔ اس لئے ان کو اس روایت پر ترجیح دی جائے گی یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ٥ سال اسلام کے غلبہ کے ہوں گے اور پھر دنیا میں کفر و الحاد عام ہو جائے گا۔ اس زمانہ کو بھی مجازاً عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ کہہ دیا گیا۔ واللہ اعلم !

س ...... اگر وضع جزیہ سے مراد جزیہ کو موقوف کر دینا ہے تو اس شریعت کو منسوخ ماننا پڑے گا ۔ اس لئے یہ معنی کرنے چاہئیں کہ آنے والا مسیح بالکل جہاد نہ کرے گا۔ اس لئے کسی پر جزیہ بھی قائم نہ ہوگا۔ چنانچہ ایک روایت میں یضع الجزیة کے بجائے یضع الحرب آیا ہے۔

ج ...... یہ محض وہم ہے جو سوء فہمی سے پیدا ہو گیا ہے۔ اس وقت جزیہ کا اٹھ جانا اسی

صفحہ ١٤٢

شریعت کا حکم ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کو اس حکم کے وضع کرنے میں کوئی دخل نہیں۔ نبی عربی ﷺ ہی نے اس حکم کو اس وقت کے لئے رکھا تھا۔ البتہ اجراء اس کا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ہوا جس طرح آپ ﷺ نے خیبر فتح کرنے کے بعد وہاں کے رہنے والے یہودیوں سے کہا تھا اقرکم ما اقرکم اللہ میں تمہیں خیبر میں رکھتا ہوں جب تک خدا تعالیٰ تمہیں رکھنا چاہے۔ ساتھ ہی ”اخرجوا الیہود والنصاریٰ من جزیرۃ العرب (کنزالعمال ج ٤ ص ٣٨٢ حدیث نمبر ١١٠١٥ ومثلہ مشکوٰۃ ص ٣٥٥)“ کے ماتحت یہ بھی فرمادیا کہ خیبر کے رہنے والے یہودی ایک دن خیبر سے نکالے جائیں گے۔ چنانچہ جب اس وصیت اور پیشگوئی کو حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں پورا کرنا چاہا تو یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسمؐ نے ہمیں رکھا تھا اور اسے عمرؓ تو نکالتا ہے تو حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے تمہیں رہنے کی اجازت دی تھی۔ مگر تمہارے نکالے جانے کے متعلق بھی فرمایا تھا۔ یعنی جلا وطنی میرے حکم سے نہیں ہوئی۔ آنحضرت ﷺ ہی کا ارشاد تھا۔ البتہ اس کا اجراء عمرؓ کے ہاتھ ہوا۔

وضع الجزیہ یا وضع الحرب کے یہ معنی سمجھنا کہ وہ ابتداء سے جہاد نہ کریں گے غلط ہیں۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جنگ کریں گے جب تمام ادیان باطلہ یہودیت اور نصرانیت مٹا دی جائے گی اور سوائے اسلام کے کچھ نہ رہے گا تو اس وقت نہ کسی سے لڑنے کی ضرورت رہے گی اور نہ کوئی کافر ذمی رہے گا جس پر جزیہ قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ حدیث میں وضع جزیہ کے بعد یہ الفاظ موجود ہیں جس سے وضع جزیہ کی مراد اچھی طرح واضح ہورہی ہے: ”يضع الجزية ويدعو الناس الى الاسلام ويهلك الله في زمانه الملل كلها الا الاسلام (رواه احمد ج ٢ ص ٤٠٦)“

حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت اجماع امت سے

تمام صحابہؓ، تابعینؒ، آئمہؒ، مجتہدینؒ، صوفیاءؒ، محدثینؒ، مفسرینؒ، فقہاءؒ، علماء کا اس پر اجماع اور اتفاق ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آخر زمانہ میں بجسدہ الشریف زمین پر اتریں گے اور دجال کو قتل کرنے کے بعد اپنی طبعی موت مریں گے۔ امت میں سے ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس بارے میں اختلاف کیا ہو۔ البتہ رفع کی کیفیت میں اختلاف ہے کہ بیداری یا نیند کی حالت میں مرفوع ہوئے یا پہلے مردہ بنا کر اٹھایا اور پھر آسمان پر ان کو زندہ کردیا گیا۔ امام مالکؒ اور علامہ ابن حزمؒ اندلسیؒ رفع کے وقت موت کے قائل ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کو آسمانوں پر دوبارہ زندہ کر دیا گیا اور وہ اس وقت تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور دجال کو قتل کرنے کے لئے قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ مرزا

صفحہ ١٤٣

علیہ السلام کو اس حکم کے وضع کرنے میں کوئی دخل نہیں۔ نبی عربی ﷺ ہی کے لئے رکھا تھا۔ البتہ اجراء اس کا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر ہوا جس پر فتح کرنے کے بعد وہاں کے رہنے والے یہودیوں سے کہا تھا اضعکم میں تمہیں خیبر میں رکھتا ہوں جب تک خدا تعالیٰ تمہیں رکھنا چاہے۔ ساتھ ہی النصاریٰ من جزیرۃ العرب (کنزالعمال ج ٤ ص ٣٨٢ حدیث ے مشکوۃ ص ٣٠٠)“ کے ماتحت یہ بھی فرما دیا کہ خیبر کے رہنے والے ے نکالے جائیں گے۔ چنانچہ جب اس وصیت اور پیشگوئی کو حضرت عمرؓ نے کو پورا کرنا چاہا تو یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسمؐ نے ہمیں رکھا تھا اور اے عمرؓ تو نے جواب دیا کہ بیشک رسول اللہ ﷺ نے تمہیں رہنے کی اجازت دی تھی۔ نکالنے کے متعلق بھی فرمایا تھا۔ یعنی جلا وطنی میرے حکم سے نہیں ہوئی۔ منشاء تھا۔ البتہ اس کا اجراء عمرؓ کے ہاتھ ہوا۔

یا وضع الحرب کے یہ معنی سمجھنا کہ وہ ابتداء سے جہاد نہ کریں گے غلط ہیں۔ کریں گے جب تمام ادیان باطلہ یہودیت اور نصرانیت مٹا دی جائے گی اور نہ رہے گا تو اس وقت نہ کسی سے لڑنے کی ضرورت رہے گی اور نہ کوئی کافر جزیہ قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ حدیث میں وضع جزیہ کے بعد یہ الفاظ موجود ہیں مراد اچھی طرح واضح ہو رہی ہے: ”يضع الجزية ويدعو الناس الى ه فى زمانه الملل كلها الا الاسلام (رواه احمد ج ٢ ص ٤٠٦)“

مام کا ثبوت اجماع امت سے

تابعین، آئمہ، مجتہدین، صوفیا، محدثین، مفسرین، فقہاء علماء کا اس پر اجماع علیہ السلام اس وقت جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر موجود ہیں اور آخر ب زمین پر اتریں گے اور دجال کو قتل کرنے کے بعد اپنی طبعی موت مریں ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جس نے اس بارے میں اختلاف کیا ہو۔ البتہ رفع یہ ہے کہ بیداری یا نیند کی حالت میں مرفوع ہوئے یا پہلے مردہ بنا کر اٹھایا اور کر دیا گیا۔ امام مالکؒ اور علامہ ابن حزم اندلسیؒ رفع کے وقت موت کے قائل یہ کہتے ہیں کہ آپ کو آسمانوں پر دوبارہ زندہ کر دیا گیا اور وہ اس وقت تک ہیں اور دجال کو قتل کرنے کے لئے قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ مرزا

قادیانی نے علماء اسلام میں سے جس شخص کی طرف موت کے عقیدہ کی نسبت کی ہے اس میں یا تو نقلا خیانت کی اور اس شخص کے مذہب کو پورا نقل نہیں کیا یا سوء فہم اور قلت تدبر کی وجہ سے غلط سمجھ گئے اور باوجود حیات کا عقیدہ ہونے کے موت کے عقیدہ کی ان کی طرف نسبت کر دی۔

السنة للاحاديث الصحيحة فى ذالك وليس فى العقل ولا فى الشرع مايبطله فوجب اثباته (نووى شرح مسلم ج ٢ ص ٤٠٣ )“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آخری زمانہ میں نزول اور ان کا دجال کو قتل کرنا اہل سنت کے نزدیک احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ عقلاً یا نقلاً کوئی شے اس کے خلاف نہیں آئی۔

الاجماع“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں ظہور فرمائیں گے اور شریعت محمدی کے تابع ہوں گے اور اسی پر تمام امت کا اجماع ہے۔

الارض الى اخر الحديث الذى صح عن رسول الله ﷺ فى ذالك“

(النهر الماد من البحر)

عيسى فى السماء وانه ينزل فى آخر الزمان“

(بحر محيط ج ٢ ص ٧٥٦ كتاب التفسير)

(نمبر ٣، ٤، ٥) اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس وقت زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ آخری زمانہ میں اتریں گے اور ایسا ہی احادیث متواترہ سے ثابت ہے۔

كتاب الطلاق) اما رفع عيسى فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على انه رفع ببدنه حيا و انما اختلفوا هل مات قبل ان يرفع او نام فرفع قال فى (الفتح ج ٦ ص ٢٦٧، من باب ذكر ادريس) لان عيسى ايضاً قد رفع وهو حى على الصحيح“ تمام مفسرین اور محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ بجسدہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ مگر اس میں اختلاف ہے کہ زندہ مرفوع ہوئے یا رفع کے وقت مردہ تھے اور پھر زندہ

صفحہ ١٤٤

کر دیئے گئے یا نیند کی حالت میں رفع کیا گیا۔ صحیح بات یہی ہے کہ زندہ بیداری کی حالت میں اٹھائے گئے۔

الشريعة سوى الفلاسفة الملاحدة ممن لا يعتد بخلافه وليس ينزل بشريعة مستقلة عندالنزول ولا كانت النبوة قائمة به (عقيده السفارینی )“ بددین فلسفیوں کے علاوہ کسی نے حضرت عیسیٰ کے بعینہ نزول سے انکار نہیں کیا۔

ص ٣ باب ٧٣)“ صحابہ کرام اور تابعین اور دیگر علماء امت میں سے جن مشہور علماء اور صوفیاء نے حضرت عیسیٰ کے رفع آسمانی اور نزول جسمانی کا اقرار کیا ہے۔ ان کے اسماء گرامی یہ ہیں: ابو بکر، عمر، علی، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، سعد بن ابی وقاص، ابو ہریرہ، عبداللہ بن سلام، ربیع، انس، ابو موسیٰ، حاطب بن ابی بلتعہ، ابی بن کعب، جابر، ثوبان، عائشہ، تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہم، ائمہ اربعہ، ابن سیرین، حسن بصری، قتادہ، مجاہد، ابی العالیہ، عکرمہ، ضحاک، بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، بیہقی، طحاوی، احمد، ابو نعیم، ابن ابی حاتم، عبدالرزاق، ابن جریر، ابن ابی شیبہ، ابن حبان، ابن مردویہ، سیوطی، مسند بزار، ذھبی، ابن حجر عسقلانی، قسطلانی، عینی، محمد ابن اسحاق، صاحب مشکوٰۃ و کنز العمال، شوکانی، ابن قیم، علامہ ابن تیمیہ، ملا علی القاری، عبدالحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ، شیخ اکبر، شیخ عبدالوہاب شعرانی، امام ربانی مجدد الف ثانی، شیخ محمد اکرم صابری صاحب اقتباس الانوار وغیرہم رحمهم الله تعالى عليهم!

اور تفاسیر متداولہ میں سے تفسیر ابن کثیر، مدارک، تفسیر کبیر، ابو السعود، روح المعانی، معالم، خازن، کشاف، بحر محیط، فتح البیان، جمل، وجیز، جلالین، تفسیر ابن جریر، جامع البیان، بیضاوی، بغوی، درمنثور، ساطع الالہام، تفسیر مظہری وغیر ہا میں ان علماء اور فضلاء میں سے جن کی طرف مرزا قادیانی نے یا ان کے متعلقین نے موت کے عقیدہ کی جھوٹی نسبت کرتے ہوئے نقل میں خیانت یا ان کی عبارتوں کو غلط جامہ پہنایا ہے۔ اس جگہ ان کی وہ تحریرات پیش کی جائیں گی جن سے حضرت مسیح کے متعلق ان کا عقیدہ صاف طور پر ظاہر ہورہا ہے۔

جب رسول اللہ ﷺ کی وفات حسرت آیات کی وجہ سے صحابہ میں عام پریشانی رونما ہوئی تو حضرت عمرؓ بھی فرط غم سے تلوار کھینچے ہوئے یہ کہتے پھر رہے تھے: ” من قال ان محمدا قد مات قتلته بسيفى هذا ، انما رفع كما رفع عيسى بن مريم (الفرق بين الفرق ص ١٢)“

صفحہ ١٤٥

ازالۃ الخفاء میں یہ الفاظ ہیں: ”ان محمد رفع کما رفع عیسی بن مریم وسیعود الینا حیا (ازالۃ الخفاء شاہ ولی اللہ) ”یعنی جو شخص یہ کہے گا کہ محمد ﷺ کی وفات ہو گئی میں اس تلوار سے اس کا سر قلم کر دوں گا۔ وہ تو عیسی بن مریم کی طرح مرفوع ہوئے ہیں اور کچھ عرصے کے بعد زندہ تشریف لائیں گے:“ چوں آنحضرت ﷺ از عالم دنیا برفیق اعلی انتقال فرمود تشویشھا وبے شمارے خاطر مردم راہ یافت ظن بعضے انکہ این موت نیست حالتیست کہ عند الوحی پیش می آید و گمان بعضے آنکہ موت منافی مرتبہ نبوت ست (ازالۃ الخفاء مقصد دوم ص ٢٠٥) ”اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ صحابہ کے مجمع میں تشریف لائے اور اس غلط خیال کی تردید کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے فرمایا: ”ایھا الرجل اربع علی نفسک فان رسول اللہ ﷺ قدمات الم تسمع اللہ یقول انک میت وانھم میتون وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد افان مت فھم الخالدون“ پھر عام مجمع کی طرف مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا: ”ایھا الناس ان کان محمد الھکم الذی تعبدون فان الھکم قدمات وان الھکم الذی فی السماء فان الھکم لم یمت وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل فان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم (ازالۃ الخفاء مقصد دوم ص ٢٢٥ کنز العمال ج ٧ ص ٢٣٤، ٢٣٥ حدیث نمبر ١٨٧٠٨) ”یعنی اے عمرؓ ٹھہر اور ان کو ناحق تکلیف میں نہ پھنسا۔ رسول اللہ ﷺ کا یقیناً انتقال ہو گیا اور قرآن میں بھی آپ ﷺ کے مرنے کے متعلق پہلے سے یہ خبر دی گئی ہے۔ اے لوگو اگر محمد ﷺ تمہارے خدا تھے تو ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ یاد رکھو! تمہارا خدا وہ ہی ہے جو زمین آسمان کا مالک ہے اور جس کو کبھی موت آنے والی نہیں ہے۔ محمد ﷺ بھی مثل دوسرے رسولوں کے ایک رسول ہیں۔ کیا تم ان کی وفات پر دین الٰہی کو چھوڑ دو گے۔ اگر ایسا کرو گے تو تم خدا کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گے۔

حضرت عمرؓ کا یہ فرمانا ”من قال ان محمدا قد مات قتلتہ بسیفی ھذا “ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے خیال میں رسول اللہ پر موت وارد نہیں ہوئی تھی بلکہ حضرت عیسیٰ کی طرح رفع ہوا تھا۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا رفع ان کے نزدیک بصورت موت ہوتا تو آنحضرت ﷺ کی عدم وفات کو رفع عیسیٰ کے ساتھ کبھی تشبیہ نہ دیتے۔ موت وارد نہ ہونے کی صورت میں حیات کا قائل ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ موت اور حیات دو متضاد چیزیں ہیں جن کے درمیان کوئی تیسری شے نہیں ہے۔ ان کی حیات ہی کے ثابت کرنے میں تشبیہ دی ہے۔ تشبیہ میں وجہ شبہ مشترک ہوتا

صفحہ ١٤٦

ہے ۔ ہر چیز میں مشبہ کا مشبہ بہ کے ساتھ شریک ہونا ضروری نہیں ۔ زید کالاسد میں محض شجاعت اور بہادری میں اشتراک ہے ۔ شیر کی دم میں کوئی شرکت نہیں۔ اسی طرح حضرت عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کی حیات کو حیات مسیح سے تشبیہ دی ہے ۔ کیفیت رفع سے تشبیہ نہیں دی ۔ چنانچہ ازالۃ الخفاء کی اس عبارت سے یہ بات بالکل ظاہر ہورہی ہے : ”وظن بعضے آنکہ ایں موت نیست حالتست کہ عندالوحی پیش می آید“ پھر حضرت عمرؓ کا یہ فرمانا وسیعود الینا حیا اس کی مؤید ہے۔

چونکہ عام صحابہؓ کا یہ خیال تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا انتقال نہیں ہوا اور آپ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ ہیں اور یہ خیال کسی حد تک صحیح نہیں تھا ۔ اس لئے ابوبکر صدیقؓ نے اس عام غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے قرآن کی وہ آیتیں پڑھ کر سنائیں جن میں حضور ﷺ کی موت کو صراحتاً ذکر فرمایا گیا تھا۔ صرف اسی پر اقتصار کیا اور اس عقیدہ کی دوسرے جز یعنی حیات مسیح کی کوئی تردید اشارتاً یا کنایتاً نہیں فرمائی جس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ حیات مسیح کا عقیدہ صحابہؓ کے درمیان بالکل مجمع علیہ تھا اور آیت : ”ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افامات“ سے یہ سمجھنا کہ حضرت ابوبکرؓ نے عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر استدلال کرنے کے لئے پیش کی ہے کئی وجہ سے غلط ہے:

خطبہ بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ صرف اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ بیشک رسول اللہ ﷺ کا رفع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح رفع روحانی بالموت ہوا ہے۔

ہو سکتا ہے ۔ جبکہ لام جمع استغراقی مان لیا جائے اور یہ ضروری نہیں ہے ۔ کیونکہ اس آیت : ”اذ قالت الملائكة يا مريم ان الله يبشرك (آل عمران: ٤٥)“......”واذا قالت الملائكة يا مريم ان الله اصطفاك (آل عمران: ٤٢)“ میں لام جمع پر داخل ہے ۔ مگر استغراق مراد نہیں ہے ۔ بلکہ جبرائیل علیہ السلام مراد ہیں۔

غرض سے ہے اور اس سے آنحضرت کی وفات پر استدلال کرنا مقصود ہے یا اس پوری آیت سے ان لوگوں کی تردید کرنی مطلوب ہے جو رسالت اور موت میں منافات سمجھتے تھے۔ چونکہ سالبہ کلیہ کی نقیض موجبہ جزئیہ ہوتی ہے۔ اس لئے بعض رسولوں کی موت سے ان کے اس عقیدہ کی کوئی

صفحہ ١٤٧

رسول نہیں مرتا تردید ہوگئی۔ لہذا کلیۃً استغراق بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ غرض اس واقعہ سے صاف ظاہر ہو گیا کہ تمام صحابہؓ کا حیات مسیح پر اتفاق تھا حضرت عمرؓ کے اس عقیدہ کو پیش کرنے پر جماعت صحابہ میں سے کسی نے اس جز کا انکار نہیں کیا اور اسی کا نام اجماع ہے۔ ثم اجماعهم (الصحابه) بنص البعض و سكوت الباقين عن الرد (الاصول) دوسری دلیل صحابہؓ کے درمیان حیات مسیح پر اجماع ہونے کی یہ ہے کہ جنگ قادسیہ میں نضلہ بن معاویہ الانصاری تین سو سواروں کے ساتھ کوہ حلوان پر گئے ۔ وہاں زربن برشملا سے ملاقات ہوئی جو عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے ایک حواری تھے۔ انہوں نے بیان کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے رفع آسمانی کے وقت میری درازی عمر کی دعا کی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ میرے نازل ہونے تک اسی جگہ موجود رہنا اور حضرت عمرؓ کی خدمت میں سلام پہنچانے کی ہدایت کی۔ حضرت نضلہ نے اس واقعہ کی اطلاع سعد بن ابی وقاصؓ کی خدمت میں پہنچائی۔ انہوں نے حضرت عمرؓ کو بذریعہ قاصد کے اس کی خبر دی۔ حضرت عمرؓ نے جواباً سعدؓ کو لکھا کہ تم اپنی تمام جمعیت کو لے کر اس پہاڑ پر جاؤ اور انہیں میرا سلام پہنچا دو۔ حضرت سعدؓ چار ہزار کی جمعیت لے کر وہاں پہنچے۔ مگر آپ کا کوئی پتہ یا نشان نہ ملا۔

(فتوحات ج ١ ص ٢٢٣ صحح بالكشف ازالة الخفاء مقصد دوم ص ١٦٧ ، ١٦٨)

چار ہزار صحابہؓ کی یہ جماعت تھی اور حضرت عمرؓ کی خدمت میں رہنے والے ان کے علاوہ تھے جن کے سامنے نزول مسیح من السماء کا ذکر آیا۔ کسی نے اس کی تردید نہ کی۔ بلکہ ملنے کی کوشش کر کے اس کی مزید تائید کر دی۔ علاوہ ازیں ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے سعدؓ کو خط میں لکھا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں میں سے ایک حواری کسی پہاڑ میں زندہ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منتظر بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی کا (ازالۃ اوہام ص ٣٠٢، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦، ٢٥٥) میں یہ کہنا کوئی اثر نہیں رکھتا۔

”غرض یہ بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اترے گا نہایت لغو اور بے اصل بات ہے۔ صحابہ کا ہرگز اس پر اجماع نہیں بھلا اگر ہے تو کم سے کم تین سو یا چار سو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارے میں اپنی شہادت ظاہر کر گئے ہیں ۔“

کیونکہ اجماع سکوتی میں نام بنام ہر ایک کو بتانا شرط نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے مذکور ہوا۔ ایک کا ذکر کرنا اور باقی کا سکوت کرنا کافی ہے اور یہ بات یہاں موجود ہے۔ پھر اجماع میں ایک ہی

صفحہ ١٤٨

مجلس کا ہونا بھی کوئی شرط نہیں ہے۔ علماء عصر میں سے جن کو اس کے متعلق خبر پہنچے وہ بلا انکار اس کو تسلیم کر لیں تو اجماع نہ ہوگا۔

”اعلم ان الاجماع فی اللغۃ العزم والاتفاق یقال اجمع فلان علی کذا ای عزم علیہ واجمعوا علی کذا اتفقوا علیہ واما فی الاصطلاح فھو اتفاق علماء کل عصر من اھل السنۃ ذوی العدالۃ والاجتھاد علی حکم (فصول شرح الاصول) ذالک ان یتکلم البعض بحکم الحادث و یکست سائرھم بعد بلوغھم و بعد مضی مدۃ التامل“

مطالبہ : مرزائی صاحبان وفات مسیح کا اقرار کرنے والے صحابہؓ میں سے ٥٠ کا نام گنوادیں۔ چلو ٢٥ ہی کا سہی اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو ایک یا دو ہی کا ایسا نام بتائیں جس سے صراحتہً وفات مسیح کا عقیدہ ظاہر کیا ہو۔ یا اشارہ کے طور پر اس کا اقرار کیا ہو۔

ابن عباسؓ بھی رفع جسمانی کے قائل ہیں

”عن ابن عباسؓ وقد رفع اللہ مع الجسم وھو حی الی الان ویرجع الی الدنیا فیصیر ملکاً ثم یموت (رواہ فی التفسیر ابن کثیر والطبقات الکبری ج ١ ص ٤٠) قال القرطبی الصحیح ان اللہ تعالیٰ رفعہ من غیر وفاۃ ولا نوم کما قال الحسن و ابن زید وھو اختیار الطبری وھو الصحیح عن ابن عباسؓ (ابو السعود ج ٢ ص ٧٣ آیت یعیسیٰ انی متوفیک و نحوہ فی روح المعانی ج ٣ ص ١٥٨ زیر آیت یعیسیٰ انی متوفیک)“

لہٰذا متوفیک کی تفسیر ممیتک کرنے سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ ان کو اس وقت مردہ سمجھ رہے اور وفات مسیح کے قائل ہیں بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ممیتک میں اسم فاعل استقبال کے واسطے لیا ہے اور اس کو زمانہ آئندہ پر اتارتے ہوئے تقدیم و تاخیر کے قائل ہیں۔ مرزا قادیانی حضرت ابن عباسؓ کی آدھی بات تسلیم کرتے ہیں اور آدھی بات جو تقدیم و تاخیر کے متعلق ہے اسے نہیں مانتے۔ پھر وہ اس کے معنی آخری زمانہ میں مارنے کے کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی اس وقت مردہ ہونے کی نسبت ان کے عقیدہ کی طرف کرنے سے نہیں شرماتے اور وہ ایسی تلبیسی چال چل رہے ہیں جس میں خیانت فی النقل کے علاوہ توجیہہ القول بما یرضی بہ القائل کرکے عوام الناس کو دھوکا دے رہے ہیں۔

اسی طرح بخاری کا متوفیک کی تفسیر میں ابن عباسؓ کا یہ قول نقل کرنے سے وفات مسیح

صفحہ ١٤٩

کا عقیدہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ ان کا مذہب وہ ہے جو انہوں نے نزول مسیح پر ترجمہ قائم کر کے ابو ہریرہؓ کی حدیث نزول مسیح اور دوسری حدیث ’كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم (بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب نزول عيسى بن مريم ) ‘ بیان فرمائی ۔ حدیث اصحابی کا جواب انشاء اللہ آگے آئے گا اور حلیہ کا جواب پہلے گزر چکا ہے۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مرنے کے بعد ان کے پہلو میں مدفون ہونے کی اجازت چاہی ۔ حضور ﷺ نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ: ” فقال و انى بي بذلك الموضع ما فيه لا موضع قبرى و قبر ابي بكر و عمر و عيسى بن مريم ( منتخب كنز برحاشيه احمد ج ٦ ص ٥٧ ) “ یعنی اس میں میری ابو بکرؓ عمرؓ اور عیسیٰ علیہ السلام کے دفن ہونے کی جگہ ہے۔ پانچویں قبر کی جگہ نہیں ہے۔ (کنز العمال ج ١٤ ص ٦٢٠ حدیث نمبر ٣٩٧٢٨) ابن عمرؓ سے بھی نزول مسیح کے متعلق یہ روایت ’’ينزل عيسى بن مريم الى الارض فتزوج ويولدله (مشكوة ص ٤٨٠ باب نزول عيسى ابن مريم )‘‘ پہلے گزر چکی ہے۔ اس لئے ان دونوں صاحبوں کے متعلق یہ کہنا کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے۔ انتہاء درجہ غلط بیانی ہے۔

مرزائیوں کا اس دعویٰ کے ثبوت میں حضرت عائشہؓ اور ابن عمرؓ سے طبرانی اور مستدرک کی وہ روایت پیش کرنا جس میں ہے کہ ہر نبی کی عمر پہلے نبی سے آدھی ہوتی ہے اور عیسیٰ ایک سو بیس برس دنیا میں رہنے کے ہیں۔ اس لئے میں ساٹھ سال کے بعد دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں کسی وجہ سے صحیح نہیں۔

منقول ہو تو وہ روایت قابل اعتبار نہیں رہتی۔ چنانچہ بسند صحیح ابن عباسؓ سے (ترمذی ج ١ ص ٤٧ باب ماجاء في الجمع بين الصلوتين ) میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو نمازیں مدینہ میں بلا کسی عذر کے ایک وقت میں جمع کیں۔ ترمذی فرماتے ہیں کہ علماء امت میں سے اس حدیث پر کسی نے عمل نہیں کیا۔ لیکن شیخ عبدالوہاب شعرانی نے کبریت احمر میں ابن عباسؓ کا فتویٰ خلاف نقل کیا ہے جو اس روایت کے ترک کا باعث ہے: ” من جمع بين صلوتين في الحضر من غير عذر فقد اتى بابا من الكبائر “ (بهاشية اليواقيت ج ١ ص ٦٦ )

کے معنی باقی رہنا نہیں کئے گئے۔ دن گزارنا ہیں۔ مرنا نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں جائز ہے کہ اس میں

صفحہ ١٥١

قبل از رفع اور بعد نزول دونوں زمانہ میں ٹھہرنے کی کل مدت بیان کی گئی ہو۔ اس صورت میں وفات پر استدلال کرنا صحیح نہیں رہتا۔

٣...... یہ روایت درایۃً بالکل غلط ہے۔ ورنہ چاہئے تھا کہ رسول خداﷺ کا وصال پورے ساٹھ برس پر ہوتا اور ادھر نوح علیہ السلام کی عمر ایک ہزار برس سے زیادہ ہوئی اور حضرت آدم ٩٣٠ برس بعد فوت ہوئے۔ داؤد علیہ السلام ١٠٠ برس تک زندہ رہے اور بقول مرزا قادیانی ، عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ١٢٠ برس کی ہوئی۔ (دیکھو راز حقیقت ص ٩، حاشیہ خزائن ج ١٤ ص ٦١) اس عدم تناسب کی موجودگی میں حدیث کی صحت ظاہر ہے۔

س...... مدارج نبوت میں ہے کہ حاطب ابن بلتعہؓ صحابی نے مقوقس حاکم مصر کے سامنے حضرت عیسیٰ کے صلیب پر مارے جانے کا اقرار کیا ہے۔

ج...... اس عبارت کے نقل میں بھی خیانت کی گئی ہے۔ (اسد الغابہ ج ١ ص ٤١١، خصائص کبری ج ٢ ص ١٤٩ باب ما وقع عند کتابیہ الی المقوقس، استیعاب ج ١ ص ٣٧٧) میں اصل عبارت اس طرح ہے:

”ان حاطب ابن بلتعة قال لمقوقس حين اعرض عليه انك تشهد ان المسيح نبی فماله اذا ارادوا صلبه لم يدع عليهم ان يهلكهم الله حتى رفعه الله فى السماء الدنيا فلما سمع مقوقس هذا الكلام قال انك لحکیم جئت من حکیم“

علاوہ ازیں حسن بصریؒ سے ایک روایت مرفوعاً گزر چکی ہے اور ان کا اپنا قول یہ ہے:

”والله انه الان لحیی عند الله“

(رواہ فتح الباری ج ٦ ص ٣٥٧، تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١)

س...... لفظ عند اللہ رفع روحانی پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ شہداء کے بارے میں کہا گیا ہے: ”احیآء عند ربهم“ (آل عمران:١٦٩)

ج...... لفظ کے ایک استعمال سے اس کے دوسرے استعمال پر حکم لگا دینا مرزائیوں کی پرانی جہالت ہے۔ عند اللہ کا استعمال موت یا رفع روحانی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ قرآن میں ہے: ”ان مثل عیسی عند الله کمثل آدم خلقه من تراب (آل عمران:٥٩)“ اس میں عند اللہ کے معنی فی علم اللہ ہیں۔ اسی طرح حسن بصری کے قول میں بھی عند اللہ کے یہی معنی ہیں یا مراد آسمان ہے۔ کیونکہ وہاں اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ پھر جبکہ حسن بصریؒ سے حدیث مرفوع ”ان عیسى لم يمت وانه راجع اليكم الى يوم القيامة

(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠) “ مروی ہے تو ان کے نہیں ہو سکتا۔ پھر قسم اور لفظ آلان اس کے مؤید ہیں۔ ا ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع کی ہے: ”ان الله رفع عیـ مقاماً يؤمن به البر و الفاجر (تفسیر ابن كثیـ القبور ہے۔ نزول میں السماء مراد نہیں ہے۔

ج...... بعث کے اصلی معنی ارسال ہیـ ای ارسلته...... وهو اى عمرو ابن سعيد بـ ...... ثم يبعث الله ملكاً...... فيبعث الله عيـ عنا (مجمع البحار ج ١ ص ١٩٥، ١٩٦) “ اس ہے۔ پھر جب حسن بصریؒ نے یہ قول قبل موتہ کـ بعث سے بعد الموت کیونکر مراد ہو سکتا ہے۔

س...... حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بر سر منبر لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:

”ايها الناس قد قبض الليلة ر الليلة التي عرج فيها بروح عيسى بن مر (طبقات ابن سعد ج ٣ ص ٢٨) “ کیا لفظ عرج بر

ج...... عرج بروح عیسی میـ عیسیٰ مراد ہیں۔ کیونکہ جس طرح حضرت عیسیٰ کو رو کیا جاتا ہے۔ علامہ ابن قیم قصیدہ نونیہ میں فرماتے المرتضی حقا عليه جاء في القرآن “ نیز ا عبارت کو بدل کر عرج جسمی نہ کہتے اور بلکہ یہ فرما دیتے بن مريم“ اس کے علاوہ یہ واقعہ در منثور میں نقل

”قبض ليلة اسرى بعد ليلة قبض موسـ گیا ہے اور در منثور میں پوری عبارت نقل کر دی گئی

آئمہ اربعہ میں سے امام ابو حنیفہؒ فقہ اکبـ وياجوج وماجوج و طلوع الشمس من

صفحہ ١٥١

(تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠) ”مروی ہے تو ان کے قول کو کسی دوسرے معنی پر اتارنا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ پھر قسم اور لفظ آلان اس کے مؤید ہیں۔ اس کے علاوہ حسن بصریؒ نے قبل موتہ کی ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع کی ہے: ”ان الله رفع عيسى وهو باعثه قبل يوم القيامة مقاماً يؤمن به البر و الفاجر (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٤٠١)“ اس بعث سے مراد بعث القبور ہے۔ نزول من السماء مراد نہیں ہے۔

ج...... بعث کے اصلی معنی ارسال ہیں: ”مبعوثك الذي بعثته الى الخلق اى ارسلته ...... وهو اى عمرو ابن سعيد يبعث البعوث ...... اى يرسل الجيش ...... ثم يبعث الله ملكا ...... فيبعث الله عيسى اى ينزله من السماء حاكما بشر عنا (مجمع البحار ج ١ ص ١٩٥، ١٩٦)“ اس لئے یہاں بھی ارسال و نزول من السماء مراد ہے۔ پھر جب حسن بصریؒ نے یہ قول قبل موتہ کی ضمیر عیسیٰ کی طرف لوٹاتے ہوئے کہا تھا تو پھر بعث سے بعد الموت کیونکر مراد ہو سکتا ہے۔

س...... حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے انتقال پر آپ کے صاحبزادے امام حسنؓ نے بر سر منبر لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ”ايها الناس قد قبض اللية رجل لم يسبقه الاولون لقد قبض فى الليلة التي عرج فيها بروح عيسى بن مريم ليلة سبع و عشرين من رمضان (طبقات ابن سعد ج ٣ ص ٢٨)“ کیا لفظ عرج بروح عیسیٰ وفات پر دلالت نہیں کرتا۔

ج...... عرج بروح عيسى میں ترکیب اضافی نہیں ہے۔ یہاں روح سے خود عیسیٰ مراد ہیں۔ کیونکہ جس طرح حضرت عیسیٰ کو روح اللہ کہا جاتا ہے۔ لفظ روح بھی اس پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ علامہ ابن قیم قصیدہ نونیہ میں فرماتے ہیں: ”وكذالك رفع الروح عيسى المرتضى حقا عليه جاء فى القرآن“ نیز امام حسنؒ کے خیال میں اگر موت ہی مراد ہوتی تو عبارت کو بدل کر عرج کبھی نہ کہتے اور بلکہ یہ فرما دینا کافی تھا: ”قبض ليلة قبض فيها عيسى بن مريم“ اس کے علاوہ یہ واقعہ درمنثور میں نقل کیا گیا ہے۔ مگر اس میں عبارت اس طرح ہے: ”قبض ليلة اسرى بعد ليلة قبض موسیٰ“ معلوم ہوا کہ طبقات ابن سعد میں اختصار کیا گیا ہے اور درمنثور میں پوری عبارت نقل کر دی گئی ۔ فعلیہ الاعتماد!

آئمہ اربعہ میں سے امام ابو حنیفہ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں: ”خروج الدجال وياجوج وماجوج و طلوع الشمس من مغربها و نزول عيسى عليه السلام من

صفحہ ١٥٢

السماء وسائر علامات يوم القيامة على ماوردت به الاخبار الصحيحة حق كائن“

(فقه اکبر مترجم ص ١٦ طبع ١٩٢٤)

امام احمد، شافعی، مالک کا بھی یہی مذہب ہے۔ لیکن امام مالک لفظ متوفیک کی ایک تاویل کی بناء پر رفع کی کیفیت میں دیگر علماء سے اختلاف رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام پر رفع آسمانی کے وقت موت واقع کی گئی اور آسمان پر لے جا کر ان کو زندہ کر دیا گیا اور آخر زمانہ میں صبح کے وقت اتریں گے۔ ابی اور دوسرے شارحین حدیث نے مسلم کی شرح میں عتیبہ سے امام مالک کا مذہب اس طرح نقل کیا ہے: ”رفع العتيبة قال مالك بين الناس قيام يستمعون لاقام الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا عيسى قد نزل “ اس میں نزول کی خاص کیفیت بیان کی گئی ہے۔ اس لئے اس کو نزول بروزی یا ظنی پر محمول کرنا صحیح نہیں ہو سکتا۔ علامہ زرقانی مالکی نے مواہب قسطلانی کی شرح میں اپنے مذہب کو بالکل واضح کر دیا ہے۔

” فاذا نزل سيدنا عيسى عليه السلام فانما يحكم بشريعة نبينا ﷺ ...... بالهام لاحكامها او اطلاع على الروح المحمدى ...... او بماشاء الله من استنباط لها من الكتاب والسنة “ پھر چند سطر بعد لکھتے ہیں :” فهو عليه السلام وان كان خليفة فى الامة المحمديه فهو رسول و نبي كريم على حاله لاكماظن بعض الناس انه يأتى واحدا من هذه الامة بدون النبوة و الرسالة وجهل انهما لا يزولان بالموت كما تقدم فكيف بمن هو حى نعم وهو واحد من هذه الامة مع بقائه على نبوة و رسالة “

(شرح مواهب ج ٥ ص ٣٤٨،٣٤٧)

مرزا قادیانی امام مالک کی یہ تحقیق کہ وہ رفع کے وقت مردہ بنا دیئے گئے تھے تسلیم کرتے ہیں۔ مگر دوبارہ ان کے زندہ ہونے اور آخر زمانہ میں بعینہ اترنے کی تحقیق کو نہیں مانتے اور سو طرح کی حجتیں نکالتے ہیں۔ غضب ہے کہ جس مجمع البحار سے قال مالک مات نقل کرتے ہیں وہیں اس کی مراد بھی لکھی ہوئی ہے۔ اس کو نقل نہیں کرتے اور وہ یہ ہے: ” ولعله اراد رفعه الى السماء او حقيقة ويجئ اخر الزمان لتواتر خبر النزول (مجمع البحار ج ١ ص ٥٣٤ تحت حكم ) “ اس طرح علامہ ابن حزم الاندلسی مالکی کی طرف جھوٹی نسبت کر دی کہ وہ موت عیسیٰ کے قائل ہیں ۔ باوجود یہ کہ رفع و نزول مسیح میں ان کا وہی خیال ہے جو امام مالک کا ہے۔ مگر لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ان کی آدھی بات نقل کی جاتی ہے۔

علامہ ابن حزم اپنی کتاب (الملل والنحل ج ٢ ص ٢٦٩ باب الكلام فيمن

يكفر ولا يكفر ) میں حیات عیسیٰ کی تصریح عزوجل هو فلان لانسان بعينه خلقه او ان بعد محمد ﷺ نبیا تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا علاوہ امام احمد کے علماء حنبلیہ میں مسیح کا اقرار کیا ہے ۔ ”سيظهر غلبة ا المسيح . وان نزوله من اشراط السـ الصحیح کے دیگر حوالے پہلے گزر چکے ہیں

”محمد ﷺ مبعوث والانس في كل زمان ولوكان مـ نزل عيسى بن مريم فانما يـ محمد ﷺ كالخضر مع موسى ( الاسلام بالكلية فضلا ان يكو الشيطان و خلفاؤه و نوابه وقال حقا عليه جاء في القران (عن لم يمت و غذاه من جنس غذاء المـ

س ...... ابراہیم ابن قیم

المسيح انه رفع الى السماء وله ثـ کے ص ٣٦ پر لکھا ہے: ”الانبياء انمـ اور مدارج السالکین میں ہے: ”لوکان نزدیک عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں ۔

ج ...... ابن قیم کی طرف عقیدہ تو وہ ہی ہے جو پہلے لکھا جاچکا ہے کے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ وہ آسـ تھی۔ یہ نصاریٰ کا قول ہے مطلقاً مرفوع کے بعد انبیاء علیہم السلام کے ارواح طیبـ

صفحہ ١٥٣

یکفر ولا يكفر ) میں حیات عیسیٰ کی تصریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”واما من قال ان الله عزوجل هو فلان لانسان بعينه او ان الله تعالى يحل فى جسم من اجسام خلقه او ان بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبيا غير عيسى ابن مريم لا يختلف اثنان في تكفيره لصحة قيام الحجة بكل هذا على كل احد“

علاوہ امام احمدؒ کے علماء حنابلہ میں سے علامہ ابن تیمیہؒ اور علامہ ابن قیمؒ نے بھی حیات مسیح کا اقرار کیا ہے۔ ” سيظهر غلبة المسلمين على النصارى عند نزول المسيح ، وان نزوله من اشراط الساعة (الجواب الصحيح ج٤ ص١٧٠) “ الجواب الصحیح کے دیگر حوالے پہلے گزر چکے ہیں۔

”محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث الى جميع الثقلين فرسالته عامة للجن والانس في كل زمان ولوكان موسى و عيسى حيّين لكانا من اتباعه واذا نزل عيسىٰ بن مريم فانما يحكم بشريعة محمد صلی اللہ علیہ وسلم فمن ادعى انه مع محمد صلی اللہ علیہ وسلم كالخضر مع موسى ( الى ان قاله ) شهادة الحق فانه مفارق لدين الاسلام بالكلية فضلا ان يكون من خاصة اولياء الله وانما هو من اولياء الشيطان و خلفائه و نوابه و قال شعرا ، وكذاك رفع الروح عيسى المرتضى حقا عليه جاء فى القرآن (من قصيدته النونيه) وهذا المسيح ابن مريم حى لم يمت و غذاه من جنس غذاء الملائكه“

(اقسام القرآن لابن قیم)

س ..... امام ابن قیم نے زاد المعاد میں لکھا ہے: ”واما ما يذكر عن المسيح انه رفع الى السماء وله ثلث و ثلثين سنة فهو قول النصارى“ ”کتاب کے ص٣٦ پر لکھا ہے: ”الانبیاء انما استقرت ارواحهم هناك بعد مفارقة البدن“ اور مدارج السالکین میں ہے: ”لوكان موسى و عيسى حيين“ ہے۔ معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔

ج ..... ابن قیمؒ کی طرف وفات مسیح کے عقیدہ کی نسبت کرنا سوء فہم ہے۔ ان کا عقیدہ تو وہی ہے جو پہلے لکھا جاچکا ہے۔ مگر زاد المعاد کی عبارت کا یہ مطلب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان پر اس وقت اٹھائے گئے ۔ جبکہ ان کی عمر ٣٣ سال کی تھی۔ یہ نصاریٰ کا قول ہے مطلقاً مرفوع ہونا نصاریٰ کا قول نہیں ہے۔ دوسری عبارت میں مرنے کے بعد انبیاء علیہم السلام کے ارواح طیبہ کے رہنے کی جگہ بتائی ہے۔ اس میں عیسیٰ علیہ السلام کے

صفحہ ١٥٤

مرنے یا زندہ ہونے کا کوئی ذکر نہیں۔ جب حضرت عیسیٰ کی وفات ہوگی اس وقت ان کی روح بھی وہیں چلی جائے گی۔ یہ حکم ایسا ہی ہے جیسا کہ ابرار کے متعلق قرآن مجید میں آیا ہے: ”ان الا برار لفی نعیم“ اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ جب سارے ابرار اور فجار مر جائیں گے تب اس آیت کا مفہوم صادق آئے گا۔ مدارج السالکین کی پوری عبارت اوپر نقل کر دی گئی۔ اس کے بعد اس کے سمجھنے میں کسی کو دقت ہی نہیں رہتی۔ کیونکہ اس کے معنی صاف ظاہر ہیں کہ مراد ابن قیم کی حیین سے موجودین ہے۔ یعنی اگر وہ دونوں اس وقت زمین پر موجود ہوتے تو ان کو حضورﷺ ہی کی اتباع کرنی پڑتی۔ جس طرح کہ وہ آخر زمانہ میں آسمان سے اتر کر شریعت محمدیہ کی پابندی کریں گے۔ ابن کثیر اور شیخ عبدالوہاب شعرانی نے یواقیت میں اس روایت کو لکھا ہے۔ لیکن مطلب ہر دو صاحبان کا وہی ہے جو پہلے مذکور ہے۔

چنانچہ (یواقیت ج ٢ ص ٢٢) میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ”فانه كان موجود الجسم من لدن آدم الى زمان وجوده لكان جميع نبى آدم تحت شريعة“

پھر دوسری جگہ شیخ نے حیین کی تفسیر موجودین کی ہے۔ نیز اسی صفحہ پر وہ چار سطر بعد لکھتے ہیں: ”مما يشهد لكون جمع الانبياء نوابا له ﷺ كون عيسى اذا نزل الى الارض لا يحكم بشرع نفسه الذى كان عليه قبل رفعه و انما يحكم بشرع محمد ﷺ الذى بعث به الى امته“

اس کے علاوہ ص ٢١ پر یہ حدیث اس طرح نقل کی ہے۔ فی حدیث ”لوكان موسى حیاما وسعه الا اتباعی“ نیز ص ١٨ پر رفع اور نزول کی تصریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”ثم رفعه الى السماء بقدر مافيه من الروحانية فكان مكثه في الارض بقدر مافيه من الطين ومكثه في السماء بقدر مافيه من النور“ (یواقیت ص ١١٨)

”وقد جاء الخبر الصحيح فى عيسى وكان ممن اوحى اليه قبل رسول الله ﷺ انه اذا نزل اخر الزمان لايؤمنا اى بشریعتنا“

(یواقیت ج ٢ ص ٨٧)

”فقد ثبت نزوله عيسى عليه السلام بالكتاب والسنة وزعمت النصارى ان ناسوته صلب ولاهوته رفع والحق انه رفع بجسده الى السماء والايمان بذالك واجب قال تعالى بل رفع الله اليه قال العلامة ابو طاهر و

صفحہ ١٥٥

اعلم ان كيفية رفعه ونزوله وكيفية مكثه في السماء الى ان ينزل من غير طعام ولا شراب مما يتقاصر عن دركه العقل ولا سبيل لنا الا نؤمن بذلك تسليماً لسعة قدرة الله تعالى“

(يواقيت ج ٢ ص ١٤٦)

س ...... امام شعرانی طبقات ٢/٢٤ میں لکھتے ہیں رفع علی کما رفع عیسیٰ اور علی کا رفع بالاتفاق روحانی اور بالموت ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ کا بھی ایسا ہی ہونا چاہئے۔

ج ...... امام شعرانی نے سید علی الخواص کا قول نقل کیا ہے۔ اپنا مذہب بیان نہیں کیا۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت علی کا بھی رفع آسمانی عیسیٰ علیہ السلام کی طرح ہوا ہے اور آخر زمانہ میں اتریں گے۔ اس میں رفع سے موت کے معنی مراد نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اس طرح فرماتے رفع عیسیٰ کما رفع علی چونکہ رفع عیسیٰ سے رفع جسمانی ہی مشہور ہے۔ اس لئے رفع علی کو اس کے ساتھ تشبیہ دینے کے یہ معنی ہوں گے کہ علی کا رفع حضرت عیسیٰ کی طرح جسمانی ہوا ہے۔ حضرت علی کو الٹا اس عبارت میں مشبہ بہ بنانا الٹی عقل والوں ہی کا کام ہے۔

شیخ محی الدین العربی کا عقیدہ بھی حیات مسیح کے متعلق وہی ہے جو عام مسلمانوں کا ہے۔ چنانچہ فتوحات مکیہ کے باب ٩٣ میں لکھتے ہیں:

” اعلم انه ليس فى امة محمدﷺ من هو افضل من ابي بكر غير عيسى وذالك اذا نزل بين يدى الساعة لا يحكم الا بشرع محمد ﷺ فيكون له يوم القيامة حشران حشر في زمرة الرسل بلواء الرسالة ۔ وحشر في زمرة الاولياء بلواء الولاية“

(فتوحات)

”وابقى في الارض ايضاً الياس و عيسى وكلاهما من المرسلين“

(فتوحات ج ٢ ص ٥ باب ٧٣)

یواقیت میں فتوحات سے حدیث معراج نقل کی ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں:

”فاستفتح جبرئيل السماء الثانية كما فعل فى الاولى وقال وقيل له فلما دخل اذا بعيسى بجسده عينه فانه لم يمت الى الان بل رفعه الله الى هذه السماء“

(اليواقيت ج ٢ ص ٣٤)

س ...... شیخ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے: ” انتقل روحه عند المفارقة من العالم السفلى بالعالم العلوى“ معلوم ہوا کہ وہ حضرت عیسیٰ کی وفات کے قائل ہیں۔

صفحہ ١٥٦

ج....... شیخ کی کوئی تفسیر نہیں۔ لوگوں نے غلط عقائد لکھ کر شیخ کو بدنام کرنے کے لئے لکھ دیئے تھے: اسی لئے شیخ عبدالوہاب شعرانی کو اس کی تردید کرنی پڑی۔ پھر تصریحات بالا کے بعد کسی غیر معتبر تحریر کو پیش کرنا دیانت اور عقلمندی کے خلاف ہے۔

علامہ ابن جریر کا عقیدہ بھی حیات مسیح کے متعلق وہ ہی ہے جو عام مسلمانوں کا ہے۔ جیسا کہ تفسیروں سے ثابت ہو چکا ہے۔ لیکن اپنی تاریخ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کی وفات ہو چکی ہے اور وہ یہ ہے کہ راس الجماء میں جو مدینہ طیبہ کے پاس وادی عقیق کا ایک پہاڑ ہے ایک قبر نمودار ہوئی جس کے سرہانے ایک پتھر پر یہ تحریر کندہ تھی: هذا قبر رسول الله عیسى بن مریم ! لیکن صحیح یہ ہے کہ اس عبارت میں سہو ہے۔ ورنہ مسیح کے بارے میں ابن جریر کا عقیدہ اجماع کے موافق ہے۔ اس کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ اسی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ: ”انه رفعه الله مع جسم وهو حى الى الان“

(تاریخ ابن جریر ص ٤٩٥ ج ١)

اس عبارت میں لفظ اللہ زائد ہے اور اصل عبارت اس طرح ہے کہ هذا قبر رسول عيسى ابن مريم ! یعنی یہ قبر عیسی ابن مریم کے قاصد کی ہے یا ایک مضاف مقدر ہو۔ یعنی رسول رسول اللہ عیسی بن مریم یا رسول روح اللہ عیسی بن مریم۔ اس عبارت کو اس طرح صحیح کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ تاریخ کی دوسری کتابوں میں وضاحت کے ساتھ بالتصریح اس کتبہ کی تحریر وہ لکھی ہوئی ہے جو صحیح کے بعد بتائی گئی۔

چنانچہ کتاب الوفاء کے باب سوم میں ہے کہ: ”فاخرجت اليهما الحجر فقرأه فاذافيه انا عبدالله بن الاسود رسول، رسول الله عيسى بن مريم الى اهل قری عرينه“ اس کے بعد روایت ابن شہاب منقول ہے کہ: ”وجد قبر على جماء أم خالد ! ربعون ذرا عافي اربعين ذراعا مكتوب فى حجر انا عبدالله من اهل نينوى رسول رسول الله عيسى بن مريم عليهما السلام انى ارسلت الى اهل هذه القرية فادركني الموت فاوصيت ان ادفن في جماء ام خالد“

ان تصریحات کے موجود ہوتے ہوئے ہر ذی ہوش انسان کا فرض ہے کہ وہ کتابت کی غلطیوں کی اصلاح کر لے اور حافظ بن جریر طبری کی طرف جو اپنی تاریخ اور تفسیر میں عیسیٰ علیہ السلام کو جسم عنصری کے ساتھ زندہ مان رہا ہے وفات مسیح جیسے غلط عقیدہ کی نسبت نہ کرے۔ اگرچہ

صاحب کشاف علامہ زمخشری معتزلی الخیال ہے۔ کے ساتھ ہے۔ لیکن مرزائیوں نے نقل میں خیا ثابت کرنا چاہا ہے کہ صاحب کشاف وفات مسیح ک نے کشاف میں متوفيك کے معنی حتف انفک چھوڑ کر کشاف کی پوری عبارت نقل کر دیتے تو ان تفسیر میں صاحب کشاف لکھتے ہیں: ”انی متو عاصمك من ان يقتلك الكفار و مؤخرك لا قتلا بايديهم ورافعك الى سمائی و زیر آیت: ياعيسى اني متوفيك ورافعك یعنی جو مدت تیری زندگی کی ہمارے یہودی تجھ کو قتل نہ کر سکیں گے اور میں تجھے آسمان یہ نہیں لکھا کہ میں تجھے مار کر روحانی طور پر سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے۔ ان علماء کے علاوہ ولی اللہ و غیر ہم نے رفع اور نزول جسمانی کی اپنی

چنانچہ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: ”نزو بمخلوق من التراب ان يموت في محمد ﷺ وامته ان يجعله منهم فاس آخر الزمان مجدد الا مر الاسلام فيول

(فتح البا

مواہب لدنیہ کی شرح میں ہے: ”ف ومضت المدة المقدورة له يموت الارض فعليه لايموت الا فى آخر ا وهو حي على الصحيح“

شیخ الاسلام الحرانی فرماتے ہیں: ”و في امر المسيح عيسى بن مريم الارض“

صفحہ ١٥٧

صاحب کشاف علامہ زمخشری معتزلی الخیال ہے۔ مگر حیات مسیح کے عقیدہ میں وہ بھی اجماع امت کے ساتھ ہے۔ لیکن مرزائیوں نے نقل میں خیانت کرتے ہوئے اس کی تفسیر کے حوالہ سے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ صاحب کشاف وفات مسیح کا قائل ہے اور اس کے ثبوت میں یہ کہا گیا کہ اس نے کشاف میں متوفیک کے معنی حتف انفک کئے ہیں۔ اگر مرزائی جماعت دجل، خیانت کو چھوڑ کر کشاف کی پوری عبارت نقل کر دیتے تو ان کو یہ بات کہنے کی نوبت ہی نہ آتی۔ متوفیک کی تفسیر میں صاحب کشاف لکھتے ہیں: ”انی متوفیک اى مستوفی اجلك ومعناه اني عاصمك من ان يقتلك الكفار و مؤخرك الى اجل كتبته لك ومميتك حتف انفك لا قتلا بايديهم ورافعك الى سمائى و مقر ملائکتی (تفسیر کشاف ج ١ ص ٣٦٦)“

زیر آیت: يا عیسی انی متوفیک ورافعک!

یعنی جو مدت تیری زندگی کی ہمارے علم میں مقدر ہوچکی ہے وہ پوری کی جائے گی اور یہودی تجھ کو قتل نہ کر سکیں گے اور میں تجھے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں۔ اس میں کسی جگہ بھی یہ نہیں لکھا کہ میں تجھے مار کر روحانی طور پر مرفوع کروں گا۔ اللہ تعالیٰ اس کج فہمی اور بے عقلی سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے۔ ان علماء کے علاوہ علامہ ابن حجر عسقلانیؒ اور شیخ الاسلام حرانیؒ ، شاہ ولی اللہؒ و غیر ہم نے رفع اور نزول جسمانی کی اپنی کتابوں میں تصریح کی ہے:

چنانچہ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: ”نزوله لدنوا جله ليدفن في الارض اذ ليس بمخلوق من التراب ان يموت في غيرها وقيل انه دعا الله لما رأى صفة محمدﷺ وامته ان يجعله منهم فاستجاب الله دعاء ه وابقاه حتى ينزل في آخر الزمان مجدد الا مرالاسلام فيوافق خروج الدجال“

(فتح البارى ج٦ ص ٣٥٧ باب واذكر في الكتاب مريم)

مواہب لدنیہ کی شرح میں ہے: ”قال الحافظ وعليه اذا نزل الى الارض ومضت المدة المقدورة له يموت ثانيا و قيل معنى متوفيك ورافعك من الارض فـعليه لايموت الا فى اخر الزمان وقال فى موضع اخر رفع عيسى وهوحى على الصحيح“

(شرح مواہب لدنیه ج ٥ ص ٣٥)

شیخ الاسلام حرانیؒ فرماتے ہیں: ” وصعود الادمى ببدنه الى السماء قد ثبت فى امر المسيح عيسى بن مريم فانه صعد الى السماء وسوف ينزل الى الارض“

صفحہ ٥٩

شاہ ولی اللّٰہؒ لکھتے ہیں: ”نیز از ضلالت ایشاں یعنی نصاری یکی آنست کہ جرم میکنند کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقتول شدہ است وفی الواقعہ درقصہ عیسیٰ اشتبہائے واقعہ شدہ رفع آسمانی را قتل گمان کردند و کابرا عن کابر غلط را روایت نمودند خدا تعالیٰ در قرآن شریف ازالہ شبہ فرمودہ کہ ماقتلوہ وماصلبوہ (الفوز الکبیر) الحمد للّٰہ علی ذلک وما کنا اہلا لہذالو لا ان ہدانا اللّٰہ واللّٰہ روف بالعباد“

خلاصہ مافی الباب

(بقرہ: ٨٧)

”انہ جبرئیل علیہ السلام (کبیر ج٣ ص ١٧٧) وہو الذی رباہ فی جمیع الاحوال وکان یسیرہ معہ حیث سار و کان معہ حیث صعد الی السماء“

(کبیر ج٣ ص ١٧٨)

مطالبہ: ”فلما خلی بینہ وبین الیہود حین ارادوا قتلہ ولم یحافظہ فما معنی التائید والاعانۃ بعدہ“

”ہو اشارۃ الی رفعہ الی السماء“

(ابوالسعود ج٢ ص٣٧)

”ان ھذا الوصف کاالتنبیہ علی انہ علیہ السلام سیرفع الی السماء“

(تفسیر کبیر ج٨ ص٥٤)

مطالبہ: ”ھل تبقی الوجاھۃ بعد الاھانۃ کما جوزھا المرزائی“

(ازالہ ص٣٧٨ تا ٣٨٤)

(آل عمران: ٤٦)

”ذکرھا فی موضع الامتنان علی مافی المائدۃ ولایمکن بغیر حمل کہل عند النزول فی الحدیث عن ابن عباسؓ تکلم (فی المہد) اربعۃ صغار شاہد یوسف، ابن مشاطہ بنت فرعون وعیسی بن مریم و صاحب جریج“ (رواہ احمد ج١ ص٣١٠ کمالین ورازی ج٥ ص١٢٢) ”کہلا بعد نزول“

(بیضاوی ج١ ص١٣٩) وفی ھذا نص ویقتل الدجال“

”لانہ عبارۃ عن التدبیر للحک فی ایصال الشر الی الغیر وذلك فی حق ”مکر اللّٰہ ان رفع عیسی ا اغتیالہ حتی قتل“

”ویمکرون ویمکر اللّٰہ و النبی ﷺ من کفار مکۃ یوم الہجرۃ. م فیہ اخبار عن انجاہ صالح علیہ الس المولیٰ علیّ فی الہجرۃ“

”وفیت بنفسی خیر من وط الحجر، رسول اللّٰہ خاف ان یمکرو بہ.

مطالبہ: ”کیف ان یذکر تدبی لہم لا لہ ھل لہ من نظیر“

من الذین کفروا“

فلان اذا مات وتوفاہ اللّٰہ عزوجل اذا

”ومن المجاز توفی فلان وت المشترک من قرینۃ والقرینۃ ھھنا للحب

”قد ثبت الدلیل انہ حی

صفحہ ١٥٩

(بیضاوی ج١ ص١٣٩) وفی ھذا نص علی انہ سینزل من السماء الی الارض ویقتل الدجال“

(خازن ج٢ ص٢٥٠)

”لانہ عبارۃ عن التدبیر للحکم الکامل ثم اختص فی العرف بالتدبیر فی ایصال الشر الی الغیر وذلک فی حق اللّٰہ غیر ممتنع“

(کبیر ج٨ ص٧١)

”مکر اللّٰہ ان رفع عیسیٰ الی السماء والقی شبہہ علی من اراد اغتیالہ حتی قتل“

(کشاف ج١ ص٣٦٦)

”ویمکرون ویمکر اللّٰہ واللّٰہ خیر الماکرین فیہ اشارۃ بانجاہ النبیﷺ من کفار مکۃ یوم الھجرۃ۔ مکروا مکرا ومکرنا مکرا وھم لا یشعرون فیہ اخبار عن انجاہ صالح علیہ السلام فی مقابلہ الکفار اذ ھموا بفتکہ۔ قال المولی علیّ فی الہجرۃ“

”وقیت بنفسی خیر من وطی الثری، ومن طاف بالبیت العتیق وبا
الحجر، رسول الہ خاف ان یمکرو بہ۔ فنجاہ ذوالطول الا لہ من المکر“

مطالبہ: ”کیف ان یذکر تدبیر اللّٰہ فی مقابلہ الکفار ثم تکون الغلبۃ لہم لا لہ ھل لہ من نظیر“

من الذین کفروا“

(آل عمران:٥٥)

(اساس البلاغۃ)

(لسان العرب ج١٥ ص٣٥٩)

فلان اذا مات وتوفاہ اللّٰہ عزوجل اذا قبض ....... روحہ“

(تاج العروس شرح قاموس ج٢٠ ص٣٠١)

”ومن المجاز توفی فلان وتوفاہ اللّٰہ اذا ادرکہ الموت لا بد للمجاز و المشترک من قرینۃ والقرینۃ ھھنا للحیاۃ دون الموت وذالک کما قیل“

”قد ثبت الدلیل انہ حی وورد الخبر عن النبیﷺ انہ سینزل

صفحہ ١٦٠

ويقتل الدجال ثم انه تعالى يتوفاه بعد ذالك“

(كبير ج٨ ص٧٢)

الصحيح ان الله تعالى رفعه الى السماء من غير وفات كما رجحه كثير من المفسرين واختاره ابن جرير الطبرى ووجه ذلك انه قد صح فى الاخبار عن النبى نزوله وقتله الدجال“

(فتح البيان ج٢ ص٤٥)

الطلاق واما رفع عيسى فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على انه رفع ببدنه حيا وانما اختلفوا هل مات قبل ان يرفع او نام فرفع....... فى العتبية قال مالك بينما الناس قيام يستصفون لاقامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا عيسى نزل (نقله لا بى فى شرح مسلم ج١ ص٤٤٦ باب نزول عيسى ابن مريم طبع دارالكتب بيروت)“

قال ابن حزم من قال ”ان بعد محمد نبينا غير عيسى عليه السلام لا يختلف اثنان فى تكفيره“

(الملل النحل ج٢ ص٢٦٩)

مثال التوفى الذى فاعله الله ومفعوله ذو روح ثم معناه ليس يموت !

(مجمع بحار الانوار ج٥ ص٩٩)

(زمر:٤٢)

مطالبہ:اين كثرت الاستعمال من قرائن المجاز !

فى الاجسام حقيقة فى الحركة والانتقال وفى المعانى على فايقتضيه المقام (مصباح منير) لا يترك الحقيقة بدون القرينة ، وان اريد من الموت حقيقة فالقول باحياء الموتى او التاخير الوقوعى لازم كما فعل مالك و ابن عباس ، ومثله فى التقديم والتاخير كثير فى القران“

(كبير ج٨ ص٧٣)

(نساء:١٥٧)

”لكن فان كانت لعطف مفرد على المفرد فهى نقيضة لا فتكون

صفحہ ١٦١

انه تعالى يتوفاه بعد ذالك“

(کبیر ج٨ ص٧٢)

” وانما احتاج المفسرون الى تاويل الوفات بما ذكر لان تعالى رفعه الى السماء من غير وفات كما رجحه كثير من تاره ابن جرير الطبرى ووجه ذلك انه قد صح في الاخبار قتله الدجال“

(فتح البيان ج٢ ص٤٥)

”ذكر الحافظ ابن حجر في التلخيص الحبير من كتاب عيسى فاتفق اصحاب الاخبار والتفسير على انه رفع ببدنه هل مات قبل ان يرفع او نام فرفع ....... فى العقيدة قال مالك مام يصطفون لا قامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا عيسى شرح مسلم ج١ ص٤٦؛ باب نزول عيسى ابن مريم طبع دارالکتب

من قال ان بعد محمد نبينا غير عيسى عليه السلام لا نكفره“

(الملل النحل ج٢ ص٢٦٩)

فى الذى فاعله الله ومفعوله ذوروح ثم معناه ليس يموت! ”وهو الذى يتوفاكم بالليل“ (انعام: ٦٠) ”اى ينيمكم“

(مجمع بحار الانوار ج ٥ ص٩٩)

”الله يتوفى الانفس حين موتها والتي لم تمت فى منامها“

(زمر: ٤٢)

كثرت الاستعمال من قرائن المجاز ! ثم فى اى كتب اللغة والنحو قاعدتكم المخترعة فالرفع ى الحركة والانتقال وفى المعانى على ما يقتضيه المقام ترك الحقيقة بدون القرينة . وان اريد من الموت حقيقة ففى أو التاخير الوقوعى لازم كما فعل مالك و ابن عباس تأخير كثير في القرآن“

(کبیر ج٨ ص٧٣)

اقتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“

(نساء: ١٥٧)

كانت لعطف مفرد على المفرد فهى نقيضة لافتكون

لايجاب ما انتفى عن الاول فتكون لازمة لنفى الحكم عن الاول نحو ما قام زيد لكن عمرو اى قام عمرو وان كانت لعطف الجملة على الجملة فهى نظيرة بل في مجيئها بعد النفى والاثبات فبعد النفى لاثبات ما بعده وبعد الاثبات لنفى ما بعدها نحو جاءنى زيد لكن عمرو لم يجئ وما جاءنى زيد لكن عمرو قد جاءنى على كل تقدير غير مستعملة بدون النفى (شرح الجامی) قوله لايجاب اى لاثبات ما انتفى عن المتبوع

(تكمله عبدالغفور)“

”ان لكن الداخلة على الجملة عاطفة وهو مختار

(الزمخشرى)

فلا يحسن الوقف عليه بل يعطف فكان تقديره فى عطف المفرد مافي تفسير رحمانی ولكن قتلوه وما صلبوا من ابقى عليه شبه ولا بد من تقدير من ليصح كونه مفعولا لفعل قتلوا مثله فى المدارك والكشاف يجوز ان يسند اى ضمير المقتول لان قوله وما قتلوه يدل على انه وقع القتل على غيره فصار ذلك الغير المذكور !بهذا الطريق فحسن اسناد شبه اليه

(تفسيركبيرج١١ ص٩٩)“

”وان اخذ شبه من التشبيه بمعنى الاشتباه فهو لعطف الجملة ومنهم من يقول بل اشتبه على الذين صلبوه وهذا قول اكثر الناس“

(الجواب الصحيح ج١ ص٣١٣)

” ولكن وقع لهم التشبيه بين عيسى عليه السلام والمقتول“

(بیضاوی ج١ ص٢١٥ ابو السعود ج٢ ص٢٥١)

”والتقدير الواضح هكذا اى لكن وقع لهم التشبيه بين عيسى والمقتول فقتلوا شابا من النصارى حسبوه عيسى“

(جامع البيان)

” وان كان ضمير لهم لمن أخبره اليهود فالمعنى شبه للناس الذين اخبرهم اولئك بصلبه“

(الجواب الصحيح ج١ ص٣١٣)

” هذا قول ابن حزم ذكره في الملل“

(الجواب ج١ ص٣١٣)

”التقدير الواضح هكذا ولكن شبه على الناس بصلب عيسى وقد صلبوا غيره او معناه لم يقع القتل لاحد ولكن اشيع كذبا فكان تقديره ما قال البيضاوى او فى الامر اى وقع لهم التشبيه اى الاشتباه فى امر القتل والتقدير الواضح هكذا لكن قتلوا ، صلبوا عيسى الفرضى الذي ارجف بقتله

صفحہ ١٦٢

كذبا فى زعم الناس وهو غير عيسى بن مريم الذى نفى عنه الصلب فصح العطف لتغاير المسند اليه فعلى كل تقدير يثبت ان عيسى لم يعلق بالصليب وما رفع عليه“

مطالبہ: هل يثبت ان نبياً من الانبياء هرب من قومه مختفيا وبقى ٨٧ سنة ساكتا لم يقل من التبليغ حرفا!

تواتر اليهود والنصارى على موته ظاهراً (وقد صحح اثر ابن عباس ابن كثير والسيوطى)“

”ان قول الصحابى حجة يجب تقليده عندنا اذا لم ينفه شى اخر من السنة“

(شامى ج ١ ص ٥٧٤)

طريق لنحو بارجاع ضمير شبه الى عيسى كما“

”اما بل فى عطف الجملة على الجملة فللا ضراب اما بابطال نحو قالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحانه بل عباد مكرمون واما بانتقال من غرض الى اخر نحو قد افلح من تزكى وذكر اسم ربه فصلى بل تؤثرون الحيوة الدنيا هى فى ذلك كله حرف ابتداء لا عاطفة على الصحيح كذا فى المغنى فلذا لم يتعرض له الشارح ويجوز ان يوافق مابعده لما قبله اثباتا ونفيا قال الله انكم لتاتون الرجال شهوة من دون النساء بل انتم قوم تجهلون وقوله تعالى ام يقولون افتره بل هو الحق من ربك“

(تكملہ ص ٥٤٧)

”بل هو حقيقة فى الاعراض وهو متنوع تارة تكون لجعل الاول مسكوتا وقد تكون مقررا لابطال الاول نفسه او غرضه ٠ (بحر العلوم على مسلم الثبوت) فعلم ان بل الابطاليه قد يبطل غرض المقدم وسببه فهنا ابطل دعوى القتل الذى هو سبب ذكره ما قتلوه .......... الخ“

”بل رفعه الله اليه .......... رد وانكار لقتله“

(بيضاوى ج ١ ص ٢١٦ وابوالسعود ج ٢ ص ٢٥٢)

”وان اخذ بل انتقالية لايمكن الا فى الرفع الجسمان فيه الرد على اعتقاد المخاطب قعوده دون القيام فكذلك لم اولاً بقوله ما قتلوه ثم اكد وغيره ٠ وايضا كما ان ضميره رفعه ايضا، اليه والا لم يبق تعل

مطالبہ: یؤتى بمثال يكون اظهره بعد مدة ويلة كسـ ان مفعوله انسان !

القيامة يكون عليهم شهيدا“

”اما المضارع ان كـ وجوباً فى النحو تالله لاكيدن

”والمستقبل الذ الابعد ان يدخل على اول ا فيه معنى الطلب“

”مثله فى الرضى“

”فقوله ليؤمنن الا ان صيغة الافعال موضوع لما يدل على زمان كان ومضـ

صفحہ ١٦٣

”وان أخذ بل انتقالية فهو يقع لاانتقال من غرض الى غرض وذلك لا يمكن الا فى الرفع الجسمانى او يقال ان هذه الجملة لقصر القلب فيكون فيه الرد على اعتقاد المخاطب صريحا كما تقول زيد قائم لا قاعد لمن يعتقد قعوده دون القيام فكذلك لما بين دعوى اليهود انهم قتلوا عيسى فرد عليه اولاً بقوله ماقتلوه ثم اكده ببل رفعه وذالك فى الرفع الجسمانى دون وغيره . وايضا كما ان ضمير ماقتلوه راجع الى عيسى المجسم فليكن ضمير رفعه ايضاء اليه والا لم يبق تعلق ما بعد بل بما قبلها“

مطالبه يؤتى بمثال من المحاورات يذكر فيه الماضى بعد بل لكن يكون اظهره بعد مدة طويلة كسبع وثمانين سنة كما فيها مثال الرفع الجسمانى ان مفعوله انسان !

(مشكوة ص ١٥٠ باب البكاء على الميت)

(يوسف: ١٠٠)

القيامة يكون عليهم شهيدا“

(النساء: ١٥٩)

”اما المضارع ان كان حالا لم يؤكد بهما وان كان مستقبلا اكد بهما وجوباً فى النحو تالله لاكيدن اصنامكم“

(مغنى ج ٢ ص ٢٢)

”والمستقبل الذى هو خبر محض لا تلحق نون التأكيد باخره الا بعد ان يدخل على اول الفعل ما يدل على التاكيد كلام القسم وان لم يكن فيه معنى الطلب“

(شيخزاده على البيضاوى)

”مثله فى الرضى“

(ص ٣٤١ ومتن متين)

”فقوله ليؤمنن الاستقبال واستقبالية تبتدء من وقت نزول الاية ان صيغة الافعال موضوعة لازمنة التكلم اذا كانت مطلقة فاذا جعلت قيوداً لما يدل على زمان كان ومضيها وغيره بالنسبة الى زمانه“

(روح المعانى من الكهف)

صفحہ ١٦٤

مطالبہ: فثبوت المضارع المؤکد بھما لغیر الاستقبال فی مثال وانہ لم یکن مفیدا بشرط!

المقربون“

(النساء: ١٧٢)

”لن للاستقبال وعدم الاستنکاف منہ لایکون الا بعد النزول“

(مائدہ: ١١٠)

”فھذا مذکور فی موضع الامتنان فان ضربہ الیھود او صلبوہ لم یصح ذکرہ امتناناً، ھذا کقولہ تعالی یا ایھا الذین امنو اذکرو نعمۃ اللہ علیکم اذ ھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدھم فکف ایدھم عنکم“

(مائدہ: ١١)

(زخرف: ٦١)

”فی قراءۃ علم بفتحتین تسمیۃ علما لحصولہ بہ“

(ابوالسعود ج ٨ ص ٥٢)

”ای خروج ابن مریم ونزولہ من السماء قبل یوم القیامۃ ھکذا مروی عن ابن عباس وجابر و ابی مالک وحسن و قتادہ ومجاھد“

(ابن کثیر ج ٩ ص ١٧٥)

”ان الضمیر لعیسی لالقرآن“

(روح المعانی)

ذریۃ“

(الرعد: ٣٨)

فیتزوج ویولد لہ“

(مشکوۃ ص ٤٨٠ باب نزول عیسی علیہ السلام ای یتزوج و یولد لہ بعد نزولہ)

احادیث

(کتاب الاذاعہ للشوکانی)

بنزول عیسی علیہ السلام قبل یوم القیامۃ

(ابن کثیر ج ٩ ص ١٧٥)

”یجیی

صفحہ ١٦٥

آخر الزمان لتواتر خبر النزول (مجمع البحار ج ١ ص ٥٣٤) قد تواترت الاحاديث بنزول عيسى....... صحح الطبرى هذا القول . فتح البيان، عن ابن عباس رفع عيسى من روزنة فى البيت الى السماء (رواه ابن كثير) وقال ابن كثير اسناد ابن ابی حاتم اسناد صحيح الى ابن عباس رواه النسائى عن ابى كريب فهو في حكم المرفوع“

اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم منكم“

(البيهقى كتاب الاسماء والصفات بسند صحيح ص ٣٠١)

اخی عیسیٰ بن مريم من السماء (كنز العمال ج ١٤ ص ٦١٩ حديث ٧٢٦٣٩)“

يمت وانه راجع اليكم قبل يوم القيامة“

(درمنثور ج ٢ ص ٣٦ وابن كثير وابن جرير مختصراً)

وقال وقيل له فلما دخل اذا بعيسى عليه السلام بجسده عينه فانه لم يمت الان بل رفعه الله الى هذه السماء“

(يواقيت ج ٢ ص ٣٤ المبحث الرابع والثلاثون في صحة الاسراء)

حى لا يموت وأن عيسى ياتى عليه الفنا (ابن جرير، ابن ابی حاتم، اخرج الحاكم فى آخر حديث الاسراء فاهبط فاقتله ولا اترككم نيامى انى اتى اليكم بعد قليل و اما انتم فترونى انى انا حى (ذكره الحافظ في الفتح و سكت على تصحيح الحاكم اياه) قال رسول الله ﷺ ليهبطن بن مريم حكما ، الحاكم و صحه) “

اجماع

”اجمعت الامة على ان عيسى عليه السلام الان حى فى السماء سينزل الى الارض الى اخر الحديث الذى صح عن رسول الله ﷺ فى ذلك (النهر الماد عن البحر) قد اجتمعت الامة على نزوله ولم يخالفه احد من اهل

صفحہ ١٦٦

الشريعة سوى الفلاسفة الملاحدة ممن لا يعتد بخلافه وليس ينزل بشريعة مستقلة عند النزول وان كانت النبوة قائمة به (عقيدة السفاريني ) انه لا خلاف فى انه ينزل فى آخر الزمان (فتوحات ج ٢ ص ٣ باب الثالث والسبعون، وقد ذكرا الاجماع عليه النووى ج ٢ ص ٤٠٣ السيوطى فى الاعلام، بحر المحيط، الوجيز، الحافظ فى التلخيص )‘‘

’’قال ابن قيم، شعراً وكذاك رفع روح عيسى المرتضى حقا عليه جاء فى القرآن ، فى اقسام القرآن له وهذا المسيح ابن مريم حى لم يمت وغذاه من جنس غذا الملائكة ، عن الحسن والله انه لحيى الان عندالله روى ذالك موقوفا و مرفوعا عن ابن عباس ان الله رفعه بجسده وانه حيى الان وسيرجع الى الدنيا فيكون ملكا ثم يموت كما يموت الناس ‘‘

(طبقات ابن سعد ج ١ ص ٢٧)

حیات مسیح علیہ السلام پر مرزا قادیانی کا اقرار

الدین کلہ ...... یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

جھنم للکفرین حصیرا ...... یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے ...... وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست ونابود کر دے گا۔‘‘

( حاشیہ در حاشیہ براہین ص ٥٠٥ ، خزائن ج ١ ص ٦٠١ )

گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠ )

صفحہ ١٦٧

مطالبہ : اگر بقول مرزا قادیانی ، فاعل اللہ اور مفعول ذی روح کی صورت میں توفی کے معنی موت ہی کے ہوتے ہیں تو الہامی کتاب میں لغت کے خلاف ترجمہ کیوں کیا گیا ہے؟۔

وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو ہی ہیں ۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے ۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع مسیح بھی کہتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

مگر بعد میں اس عقیدہ کو چھوڑ کر وفات کے قائل ہو گئے تھے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر معہ جسم عنصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت معہ جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں ۔“

( ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٣٠، خزائن ج ٢١ص ٤٠٦ )

غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا ۔“

( اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ص ١١٣ )

ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں ۔“

(ایام الصلح ص ٤١، خزائن ج ١٤ص ٢٧١)

ہے۔ اس لئے حیات مسیح کے عقیدہ کو تہمت یا جھوٹ بتانا قرآن کریم اور حدیث نبوی کو جھوٹا کہنے کے برابر ہے۔

ظاہر ہے کہ: ”خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے ۔“ اور: ”الرحمن علم القرآن کے ماتحت براہین کے مضامین تفہیمات الٰہیہ میں سے ہیں۔“ تو اس سے انکار کرنا دو حال سے خالی نہیں ہے۔ یا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ اپنے الہام میں جھوٹا ہے؟ جس نے بغیر سوچے اور سمجھے ہوئے الہام کر دیا اور بارہ برس تک اس کی اصلاح نہ کی۔ بلکہ ١٣سو سال تک تمام مسلمانوں کو اسی غلط عقیدہ میں پھنسا رکھا اور اس کی تصحیح کے لئے کسی کو مبعوث نہ کیا اور یا دعوائے الہامیت کا کرنا جھوٹ اور نفس کا اختراع ہے اور یہی صحیح ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے غلطی کا ظہور ناممکن ہے اور مرزا

صفحہ ١٦٨

قادیانی کی یہ عبارت بھی اسی کی مؤید ہے: ”میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنی ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں۔“

(ایام الصلح ص ٤١، خزائن ج ١٤ ص ٢٧١)

دلیل ہے کہ مرزا قادیانی نے اس معنی کے تسلیم کرنے سے محض ہوائے نفسانی کی وجہ سے انکار کیا ہے۔ ورنہ توفی کے یہ معنی اس جگہ ضرور لگتے ہیں اور اگر کہا جائے کہ ابتداء میں لغت سے ناواقف ہونے کے سبب سے یہ معنی لکھے گئے تھے تو جہالت اور ناواقفیت کے باوجود قرآن دانی کے دعوے کہاں تک صحیح ہیں اور نیز اس غلطی کو ذہول اور غفلت پر بھی محمول نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بارہ برس تک ذہول ہی ہوتے رہنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

خیال میں وفات مسیح پر دلالت کرنے والی موجود ہیں تو پہلے ان پر کیوں نظر نہ پڑی اور وہی دو آیتیں کس لئے سامنے آئیں جن سے حیات مسیح پر براہین میں استدلال کیا ہے؟۔ کیا اس کی یہ وجہ تو نہیں تھی کہ اس وقت مسلمانوں کو مانوس کرنا مقصود تھا؟۔ اس لئے عقیدہ صحیح ظاہر کیا اور جب ان کا حسن ظن حاصل کر لیا تو پھر ان پر اپنی شخصیت قائم کرنی شروع کر دی۔ حافظ شیرازی نے کیا خوب کہا ہے:

حافظا رندی مکن مے خورد و خوش باش ولے
دام تزویر مکن چوں دگراں قرآن را

باب٢....... تحریفات مرزائیہ متعلقہ وفات

كنت انت الرقيب عليهم“

(مائدہ:١١٧)

اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ اقرار ہے کہ تثلیث پرستی کا عقیدہ توفی کے بعد ہوا ہے جس کا مجھے کوئی علم نہیں۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ثانی مان لیا جائے تو پھر عدم علم کا عذر صحیح نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ تثلیث پرستی کوئی راز نہیں ہے جس کا علم نہ ہو سکے۔ بلکہ ایک کھلی ہوئی بات ہے۔

سے آئے ہیں اور خصوصاً جہاں اللہ فاعل ہو کرتے ہیں۔

کے معلوم ہوتے ہیں: ”فاقول کما قا فیہم فلما توفیتنی کنت انت التفسير ) ”اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ ہے اور رسول اللہ ﷺ کی توفی بالا تفاق موت ہی کے ساتھ ہونی چاہئے۔

تحقیق آیت میں لفظ توفیت ہے۔

اور استقبال کا فائدہ نہ دے اور یہ سوال جائیں۔

ہوں۔ چونکہ ایسا ہونا غلط ہے اس لئے توف پہلی یہ وجہ ہے کہ اذ ظرف زمانیہ اگر چہ زم کبھی زمانہ آئندہ کے لئے بھی آ جایا کرتا ”احدهما ان تجی للما ہے: اذ تبرء الذین اتبعوا۔ ظاہر ہے

استقبال کا قرینہ ہے۔

ایک شاعر کہتا ہے: اذ مادل

دلالت کرتا ہے۔

العلیٰ“ جنات عدن زمانہ مستقبل ک

صفحہ ١٦٩

سے آئے ہیں اور خصوصاً جہاں اللہ فاعل ہو اور ذی روح مفعول ہو تو وہاں موت ہی کے معنی ہوا کرتے ہیں۔

کے معلوم ہوتے ہیں : ” فاقول كما قال العبد الصالح وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم ( بخاری ج٢ ص ٦٦٥ كتاب التفسير )“ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی توفی اور حضرت عیسیٰ کی توفی کو ایک جیسا بتایا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی توفی بالاتفاق موت کے ساتھ ہے۔ اس لئے حضرت عیسیٰ کی بھی موت ہی کے ساتھ ہونی چاہئے۔

تحقیق آیت میں لفظ توفیتنی سے وفات مسیح پر استدلال کرنا دو باتوں پر موقوف ہے۔

اور استقبال کا فائدہ نہ دے اور یہ سوال و جواب قیامت سے پہلے عالم برزخ میں تسلیم کئے جائیں۔

ہوں۔ چونکہ ایسا ہونا غلط ہے اس لئے توفیتنی سے وفات مسیح پر استدلال کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ پہلی یہ وجہ ہے کہ اذ ظرف زمانیہ اگر چہ زمانہ ماضی پر دلالت کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ لیکن کبھی زمانہ آئندہ کے لئے بھی آجایا کرتا ہے۔ جیسا کہ مغنی اللبیب اذا کی بحث میں لکھتا ہے:

”احدهما ان تجى للماضى كما تجئ اذ للمستقبل“ (مغنی) قرآن میں ہے: اذ تبرء الذين اتبعوا۔ ظاہر ہے کہ متبوعین کی بیزاری تابعین سے قیامت کے روز ہوگی ۔

استقبال کا قرینہ ہے۔

ایک شاعر کہتا ہے : اذ مادخلت على الرسول فقل له !

(مفصل، زمخشری)

دلالت کرتا ہے۔

العلى“ جنات عدن زمانہ مستقبل کا قرینہ ہے۔ لہٰذا اذ قال میں بھی اذ استقبال کے لئے ہے اور

صفحہ ١٧٠

ماضی مضارع مستقبل کے معنی میں ہے۔ کیونکہ ” اذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم أأنت قلت للناس “ عطف ہے۔ ” اذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم اذكر نعمتي عليك “ پر اور وہ ” یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم “ کا بدل ہے۔ اور رسولوں کو جمع کر کے امت کے قبول کرنے یا نہ کرنے کا سوال یقیناً قیامت کے روز ہے۔ اس لئے یہ واقعہ بھی قیامت ہی کے دن ہوگا۔

” هذا معطوف على قوله اذ قال الله یا عیسی ابن مریم اذكر نعمتي عليك وعلى هذا لقول فهذا الكلام انما يذكره يعيسى يوم القيامة “

(تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٧٢)

” اذ قال الله یا عیسیٰ ابن مریم اذكر نعمتي “

(بدل من یوم یجمع ، بیضاوی ص ٢١٠)

دوسرے اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کے بعد هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم مذکور ہے اور اس سے یقیناً قیامت کا دن مراد ہے۔ ” هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم والمراد به يوم القيامة (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٧٢ ) “ امام بخاری بھی یہی معنی لکھتے ہیں۔ اذ قال اللہ بمعنی یقول جمہور مفسرین اور شارحین حدیث نے بھی یہی معنی کئے ہیں۔ حافظ عماد الدین ابن کثیر نے ایک حدیث نقل کی ہے جس سے اس واقعہ کا قیامت کے دن ہونا صاف طور پر ظاہر ہو رہا ہے۔

” قال رسول الله ﷺ اذا كان يوم القيامة دعى الانبياء واممهم ثم يدعى يا عيسى ابن مريم فيذكره الله نعمته عليه فيقر بما فيقول يعيسى بن مريم اذكر نعمتي عليك وعلى والدتك الاية ثم يقول أأنت قلت للناس اتخذونى وامى الهين من دون الله فينكر ان يكون قال ذالك . ابن كثير “

اور خود مرزا نے بھی ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩ ، خزائن ج ٢١ ص ١٥٩) میں اس بات کا اقرار کیا ہے۔ اذ ماضی ہے کبھی مستقبل کے لئے آتا ہے اور مثال میں یہی آیت پیش کی ہے اور (حقیقت الوحی کے ص ٣١ ج ٢٢ ص ٣٣) پر لکھا ہے کہ یہ واقعہ قیامت کے دن ہو گا اور ایسا ہی (نصرۃ الحق کے ص ٤٠ خزائن ج ٢١ ص ٥١) پر تحریر کیا ہے کہ: ”خدا قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہے گا کہ تو نے ہی لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اپنا معبود ٹھہرا۔“ اور اس جگہ توفی سے موت کے معنی اس لئے مراد لئے کہ وہ دیگر مواضع میں موت ہی کے معنی لئے گئے ہیں غلط ہیں۔ قبض

صفحہ ١٧١

استیفاء کے معنی بھی قرآن وحدیث اور محاورات عرب میں بکثرت پائے جاتے ہیں اور نہ فاعل الله اور مفعول ذی روح کی خصوصیت کی وجہ سے کوئی ایسا قاعدہ لغت یا نحو کی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ یہ محض مرزا قادیانی کا خانہ ساز اور من گھڑت ضابطہ ہے جس کی لغت عرب میں کوئی اصلیت نہیں ہے۔ ہم لفظ توفی کی تحقیق انی متوفیک کی بحث میں کر چکے ہیں۔ یہاں اس قاعدہ کی تردید میں صرف دو مثالیں دوبارہ ذکر کر دینی کافی ہیں:

(الزمر: ٤٢)

اور جس حدیث سے توفی بمعنی موت کے اخذ کئے گئے ہیں وہ بھی صحیح نہیں ہیں۔ کیونکہ اقول کما قال العبد الصالح میں رسول اللہ ﷺ نے شرک سے اپنی بیزاری کو حضرت عیسیٰ کی شرک سے بیزاری کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ مشبہ اور مشبہ بہ میں ہر حیثیت سے مماثلت اور مساوات ہونا شرط نہیں ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے ” کما بدأنا اول خلق نعیده (انبیا:١٠٤) “ یعنی جس طرح ہم نے اول پیدائش کی ابتداء کی تھی۔ اسی طرح ہم اس کو دوبارہ لوٹائیں گے۔ ظاہر ہے کہ یہاں لفظ کما سے ابتداء اور اعادہ کے باہمی مماثلت بیان کرنے کے یہی معنی ہیں کہ وہ دونوں قدرت کے نیچے داخل ہیں۔ ورنہ پیدائش کی کیفیت میں ایک کی دوسرے کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں ہے۔ پہلی پیدائش زوجین کے نطفہ سے تھی۔ دوسری مرتبہ پیدا کرنا اس طرح نہیں ہے۔

دوسرے اسی آیت میں تعلم مافی نفسی ولا اعلم مافی نفسک مذکور ہے جس میں نفس دو مرتبہ آیا ہے۔ مگر خدا پر نفس کا اطلاق بمعنی ذات ہے اور عیسیٰ پر بلحاظ نفس انسانی بولا گیا ہے۔ اس لئے جائز ہے کہ اس حدیث میں لفظ توفی رسول اللہ ﷺ پر بمعنی موت اطلاق کیا جائے اور عیسیٰ علیہ السلام پر قبض اور استیفاء کے معنی سے مستعمل ہو۔ نیز ” الله یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا “ میں توفی کا استعمال الگ الگ معنی کے لئے ہے۔ پہلی صورت میں قبض روح یعنی موت مراد ہے۔ دوسرے میں نیند کا ارادہ کیا گیا ہے۔ دونوں جگہ ایک ہی طرح کی توفی مراد نہیں ہے۔ اسی طرح اگر حدیث میں بھی توفی کے دو معنی علیحدہ علیحدہ کئے جائیں تو کیا حرج ہے؟۔

پھر توفی کے معنی رسول اللہ ﷺ میں موت کے اور عیسیٰ علیہ السلام میں رفع جسمانی اور

صفحہ ١٧٢

استیفاء کے ان آیات قرآنیہ اور احادیث کی وجہ سے متعین کئے گئے ہیں۔ جن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ مرفوع ہونا اور آنحضرت ﷺ کی وفات ثابت ہے۔ لہٰذا اگر توفی کے معنی اس جگہ موت ہی کے مان لئے جائیں تو چونکہ یہ قصہ قیامت کے روز ہوگا اس لئے آیت کے یہ معنی ہوں گے۔ جب تک میں ان میں رہا ان کا نگراں حال رہا اور جب تو نے مجھے موت دیدی تو پھر تو ہی ان کا نگہبان تھا۔

اس موت سے نزول کے بعد کی موت مراد ہے اور لفظ مادمت فیھم قبل از رفع اور بعد نزول دونوں زمانوں کو شامل ہے اور توفیتنی سے قبل رفع موت مراد لینے کا کوئی قرینہ قرآن یا حدیث میں موجود نہیں ہے۔ بلکہ اس کے خلاف دلائل شرعیہ موجود ہیں۔ اس لئے اس آیت سے وفات مسیح پر استدلال کرنا صحیح نہیں۔ اسی لئے تمام مفسرین نے توفیتنی کے معنی قبضتنی یا رفعتنی کئے ہیں۔ چنانچہ ابو السعود، بیضاوی، سراج منیر، جامع البیان نے فلماتوفیتنی کی تفسیر بالرفع الی السماء کے ساتھ کی ہے اور ایسا ہی خازن، تفسیر کبیر، معالم، مدارک وغیرہ نے لکھا ہے اور اگر کسی تفسیر میں موت کے معنی لکھے ہیں۔ تو اس سے نازل ہونے کے بعد کی موت مراد ہے اور یا موت قبل از رفع کے معنی لے کر وہ ان کے دوبارہ زندہ ہونے کے بعد رفع آسمانی کا بھی قائل ہے۔

چنانچہ تفسیر فتح البیان میں توفیتنی کے تحت میں لکھا ہے: ”قیل ھذا یدل علی ان اللہ سبحانہ توفاہ قبل ان یرفعہ“ لیکن اسی تفسیر کی دوسری جلد میں یہ بھی لکھا ہوا ہے: ”ولما اتی عیسٰی بھذہ الایات البینات قصد الیہود بقتلہ فخلصہ اللہ منہم ورفعہ الی السماء (فتح البیان ج ٢)“ چونکہ موت قبل از رفع کا قول ضعیف اور مرجوح تھا۔ اس لئے اس کو قیل سے بیان کیا اور پھر قبل ان یرفعہ کی قید لگا کر اس بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ اس قول کے مطابق ان کو مار کر دنیا ہی میں نہیں چھوڑا بلکہ زندہ کر کے آسمان پر اٹھا لیا۔ جب تک صاحب فتح البیان کی طرف سے عدم رجوع موتی ثابت نہ کیا جائے گا۔ اس کی کسی تحریر سے وفات مسیح کو مطلقاً پیش کرنا صحیح نہیں ہو سکتا۔ بلکہ نقل مذہب میں خیانت سمجھی جائے گی۔

مطالبہ: علمائے اسلام میں سے کسی ایک عالم کا ایسا قول پیش کرو جس نے اذ قال کو ماضی کے معنوں میں رکھتے ہوئے توفیتنی سے موت کے معنی مراد لئے ہوں اور موت وارد کرنے کے بعد ان کے دوبارہ زندہ ہونے اور رفع آسمانی کا قائل نہ ہو۔

جب تک یہ تینوں باتیں ثابت نہ کی جائیں گی وفات مسیح پر اس آیت سے استدلال

صفحہ ١٧٣

کرنا یا کسی مفسر کے قول کو تائیداً ناتمام نقل کرنا فائدہ مند نہیں ہو سکتا اور اگر ”کنت علیھم شہیداً مادمت فیھم“ سے نفی علم بعد الرفع پر استدلال کیا گیا ہے اور اس سے بطور لزوم موت ثابت کی گئی ہے تو یہ بھی دو وجہ سے غلط ہے۔

تک ان میں رہا ان کی نگہبانی اور نگرانی کرتا رہا اور گمراہی سے بچاتے ہوئے ان کو سیدھے راستہ کی ہدایت کرتا رہا۔ چنانچہ نازل ہونے کے بعد اہل کتاب میں سے جو لوگ توریت اور انجیل کی صحیح تعلیم پر قائم نہ رہیں گے۔ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں گے اور تثلیث پرستی کو دور کرتے ہوئے دنیا میں اسلام کی اشاعت کریں گے۔

رفع آسمانی کے بعد سے نزول کے زمانہ تک اگر نفی ہوتی ہے تو اس قسم کی نگرانی اور مراقبہ کی ہوتی ہے۔ امت کے احوال سے واقف ہونے کی کوئی نفی نہیں ہوتی۔ نیز اپنی امت کے حالات سے واقف ہونے کے لئے نبی کا ان کے درمیان زندہ موجود ہونا ضروری نہیں ہے اور نہ شہادت دینے کے لئے اس کی کوئی شرط قرآن میں ہے:

”فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید وجئنا بک علی ھولاء شہیداً“

(النساء: ٤١)

امت محمدیہ پہلے نبیوں کی تبلیغ پر قیامت کے روز گواہی دے گی۔ (دیکھو مشکوٰۃ) مگر اس امت کا زمانہ پہلے نبیوں کے زمانہ سے بہت پیچھے ہے اور دراصل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی عدم نگرانی ہی کا عذر کرنا چاہئے اور عدم علم کا عذر کرنا بالکل بے سود اور غیر مفید ہے۔ کیونکہ نبی امت کی نگرانی کے لئے بھیجے جاتے ہیں۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا فرض منصبی ہے صرف امت کی گمراہی کا تماشہ دیکھنا ان کا کام نہیں ہے۔ اس لئے قول بالشرک کی نفی کرنے کے بعد حضرت عیسیٰ نے اپنی مفوضہ خدمات کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے کوتاہی کی نفی کرنی مناسب سمجھی اور کنت علیھم شہیداً سے اپنی برأت کو اچھی طرح واضح کرتے ہوئے یہ ظاہر کر دیا کہ تثلیث کا عقیدہ بنی اسرائیل میں نہ میری تعلیم سے پیدا ہوا اور نہ میرے فرض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی سے آیا۔ بلکہ ان کا نفسانی اختراع ہے۔ ورنہ میں نے قبل از رفع اور بعد نزول دونوں زمانوں میں ان کی پوری پوری نگرانی کی ہے۔

تو اس آیت سے گواہی یا نگرانی کی نفی رفع کے بعد والے زمانہ کی ہوتی ہے۔ قبل از رفع کی نہیں

صفحہ ١٧٤

ہوتی۔ لیکن سورہ نساء کی آیت ويوم القيامة يكون عليهم شهيداً میں قیامت کے دن گواہی دینے کا اثبات ہے اور یہ اثبات ان لوگوں کے متعلق ہے جو اہل کتاب میں سے ان پر قیامت کے قریب ایمان لائیں گے۔ اس لئے دونوں آیتوں کا یہ مفاد ہوگا کہ عیسیٰ علیہ السلام قبل از رفع اور بعد نزول دونوں زمانوں کی گواہی دیں گے اور درمیانی زمانہ جو رفع سے نزول تک کا ہے۔ اس کے متعلق کسی قسم کی شہادت یا گواہی نہ دیں گے۔

تحریف:٢......'' انی متوفیک ورافعك الی (آل عمران:٥٥) '' اللہ نے متوفیک کو جو موت پر دلالت کرتا ہے پہلے رکھا ہے اور باقی تین چیزوں کو بعد میں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم ترتیب قرآنی کو بدل کر اس کو سب سے آخر میں رکھیں اور پھر وہ بھی صحیح نہ ہو سکے۔

تحقیق ...... اس آیت کے متعلق حیات مسیح کی بحث میں پوری تحقیق کر دی گئی ہے۔ مرزائی جماعت کے ہر ایک شبہ کا مدلل جواب بھی عرض کر دیا گیا ہے۔ وہاں دیکھ لینا چاہئے۔

تحریف:٣......'' ما المسيح ابن مريم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وامه صديقة كانا ياكلان الطعام (مائدہ:٧٥) '' فرمایا کہ دونوں ماں بیٹے کھانا کھایا کرتے تھے۔ یعنی اب نہیں کھاتے۔ دوسری جگہ فرمایا کہ '' وما جعلناهم جسداً لا ياكلون الطعام وما كانوا خالدين (انبیاء:٨) '' یعنی ہم نے انبیاء کا ایسا جسم نہیں بنایا کہ کھانا نہ کھایا کرے اور وہ ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں۔ معلوم ہوا کہ کوئی جسم بغیر کھائے زندہ نہیں رہ سکتا اور پہلی آیت سے معلوم ہوا تھا کہ وہ کھانا نہیں کھاتے۔ اس لئے وہ زندہ بھی نہیں ہیں۔

تحقیق ...... اگر چہ کـانــا يــاكـلان ماضی استمراری ہے اور فعل ماضی زمانہ گزشتہ پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن جس طرح وہ زمانہ حال یا استقبال میں کسی چیز کو ثابت نہیں کرتا۔ اسی طرح ان دونوں زمانوں میں کسی شے کی نفی بھی نہیں کرتا۔

مفہوم مخالف یہ سمجھنا کہ خدا تعالیٰ زمانہ حال اور استقبال میں غالب اور حکمت والا نہیں ہے۔ بالکل غلط ہے۔

فعل مضارع پر كان ياكلان کی طرح داخل ہے۔ مگر اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ جو زمانہ گزشتہ میں لقاء رب کی امید رکھتے تھے وہ عمل صالح کریں۔ زمانہ موجودہ یا آئندہ میں نہ کریں۔ پھر اگر کـانـا يـا کـلان الطعام کے یہی معنی ہیں کہ وہ زمانہ گزشتہ میں کھاتے تھے۔ اب یا آئندہ زمانہ

صفحہ ١٧٥

میں نہ کھائیں گے تو چاہئے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد بھی کچھ نہ کھائیں اور ایسا ہونا بداہتہ باطل ہے۔

دراصل اس آیت کے ذکر کرنے سے الوہیت عیسیٰ کی تردید مقصود ہے۔ کیونکہ جس میں کسی قسم کی احتیاج پائی جاتی ہو وہ کبھی خدا نہیں ہوسکتا۔ اس کو زمانہ حال یا استقبال میں کھانے کی نفی یا اثبات سے کوئی تعلق نہیں ہے: ”واعلم ان المقصود من ذلك الاستدلال على فساد قول النصارى“

(كبير ج ٣)

” (والثاني) انهما كانا محتاجين لانهما كانا محتاجين الى الطعام اشد الحاجة والاله هو الذى يكون غنيا عن جميع الاشياء فكيف يعقل ان يكون الهاً“

(تفسیر کبیر ج ٣ ص ٤٣٦)

دوسری آیت کے متعلق تفصیلی جوابات پہلے گزر چکے ہیں۔ یہاں اتنا کہنا کافی ہے کہ رسول خداﷺ بغیر کھائے پئے پے در پے روزے رکھتے تھے۔ جب صحابہؓ نے آپﷺ کی نقل اتارنی چاہی تو یہ فرمایا ايكم يقدر مثلى ابيت عند ربي فهو يطعمنى ويسقينی اس لئے کلیت حکم ہی باطل ہے۔

دراصل یہ آیت کافروں کے اس خیال کی تردید کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے کہ رسول کھانے پینے والا نہیں ہوتا۔ جیسا کہ آیت مالہٰذا الرسول ياكل الطعام ويمشي في الاسواق سے ظاہر ہے ہر وقت کھاتے رہنے یا کچھ زمانے کے بعد کھانے سے اس آیت کو کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے جائز ہے کہ عشق الٰہی کی غذا ملنے کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی کچھ عرصہ کے لئے ظاہری غذا کے محتاج نہ رہے ہوں۔

کھانے سے فضلہ بھی تیار نہیں ہوتا۔

تحمید ہی ان کی غذا ہے۔ فرشتوں کی طرح وہ ظاہری غذا کے محتاج نہیں رہے۔

”وايضا فعيسى لما رفع الى السماء صار حاله كحال الملائكة في زوال الشهوة والغضب والاخلاق الذميمة“

(تفسیر کبیر ج ٢ ص ٦٥٨)

مات او قتل“

(آل عمران: ١٤٤)

صفحہ ١٧٦

اس آیت میں آنحضرت ﷺ سے پہلے رسولوں کی نسبت گزر جانے کی خبر دی ہے اور اس کے دو ہی طریقے بتائے ہیں۔ موت اور قتل۔ اگر تیسری صورت گزرنے کی ہوتی تو اس کا بھی آیت میں ذکر ہوتا۔

میں یہی معنی لکھے ہیں: ”قد خلت مضت و ماتت من قبله الرسل فيموت“ (تفسیر مظہری ج ١ ص ٤٨٥) ” قد خلت من قبله الرسل بالموت او القتل فيخلوا محمد ﷺ

(تفسیر جامع البیان ص ٦١)

العرب) خلا الرجل ای مات (اقرب الموارد) خلا فلان ای مات (تاج العروس) اذا سيد منا خلا قام سید ، قعول بما قال الكرام فعول (حماسه)“

میں لکھی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ نے اس آیت کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر اجماع کیا ہے۔

تحقیق...... لفظ خلا موت کے لئے خاص نہیں ہے۔ اصلی معنیٰ گزرنے یا چلے جانے کے ہیں ۔ کبھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بذریعہ موت کے ہوتا ہے اور کبھی فرض منصبی سے فراغت کے بعد علیحدگی یا کسی اور وجہ سے بلا موت چلے جانے پر لفظ خلا کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مثلاً : ”خلا المكان والشئى يخلوا خلواً وخلاء واخلي لم يكن فيه أحد ولا شئى فيه وهو خال“

(لسان العرب وهكذا في القاموس والصراح)

قرآن مجید میں ہے: (١)......”اذا خلوا الی شیطینهم (البقره: ١٤)“ (٢)......”اذا خلوا عضوا عليكم الانامل من الغیظ (آل عمران: ١١٩)“ ان میں ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانے کے معنی ہیں: (٣)......”بما اسلفتم فی الایام الخالیة (الحاقه: ٢٤)“ (٤).......”سنة الله التي قد خلت من قبل (الفتح: ٢٣)“ (٥)......”قد خلت من قبلكم سنن (آل عمران: ١٣٧)“ ان امثلہ میں وقت اور زمانے کے گزرنے پر لفظ خلا بولا گیا ہے۔

اذا سيد منا خلا قام سید ! میں خلا کے معنی مرنے کے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ جب کوئی سردار اپنی سرداری یا صدارت کا زمانہ پورا کر لیتا ہے اور فرائض منصبی سے اس کو

صفحہ ١٧٧

میں آنحضرت ﷺ سے پہلے رسولوں کی نسبت گزر جانے کی خبر دی ہے اور آئے ہیں۔ موت اور قتل۔ اگر تیسری صورت گزرنے کی ہوتی تو اس کا بھی

نیز قد خلت کے معنی ماتت کے ہیں۔ چنانچہ بعض مفسرین نے اس تفسیر ’’قد خلت مضت و ماتت من قبلہ الرسل فیموت ‘‘ (تفسیر ’’ قد خلت من قبلہ الرسل بالموت او القتل فیخلوا

(تفسیر جامع البیان ص ٦١)

اہل لغت کے نزدیک بھی یہی معنی ہیں : ’’خلا فلان اذا مات (لسان رجل اے مات (اقرب الموارد) خلا فلان اے مات (تاج ومنہ خلا قام سید ، فعول بما قال الکرام فعول (حماسہ) ‘‘ بخاری کی روایت سے جو اس نے باب کتاب النبی ﷺ الی کسریٰ وقیصر میں دی ہے کہ صحابہؓ نے اسی آیت کی وجہ سے عیسیٰ علیہ السلام کی وفات پر اجماع کیا ہے۔

لفظ خلا موت کے لئے خاص نہیں ہے۔ اصلی معنی گزرنے یا چلے جانے کے ہیں، دوسری جگہ جانا بذریعہ موت کے ہوتا ہے اور کبھی فرض منصبی سے فراغت وجہ سے بلا موت چلے جانے پر لفظ خلا کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ مثلاً: ’’خلا مکان خلواً وخلاء واخلی لم یکن فیہ احد ولا شئی فیہ وھو خال ‘‘

(لسان العرب وھکذا فی القاموس والصراح)

مثالیں ہیں: (١).....’’اذا خلوا الی شیطینھم (البقرہ: ١٤) ‘‘ عضوا علیکم الانامل من الغیظ (آل عمران: ١١٩) ‘‘ ان میں چلے جانے کے معنی ہیں: (٣) .....’’بما اسلفتم فی الایام الخالیۃ ٤).....’’سنۃ اللہ التی قد خلت من قبل (الفتح:٢٣) ‘‘ من قبلکم سنن (آل عمران: ١٣٧) ‘‘ ان امثلہ میں وقت اور زمانے کیا گیا ہے۔

ومنہ خلا قام سید ! میں خلا کے معنی مرنے کے نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مطلب کہ وہ اپنا فرض منصب یا سرداری یا صدارت کا زمانہ پورا کر لیتا ہے اور فرائض منصبی سے اس کو

فراغت ہوتی ہے تو فوراً ہماری قوم میں کوئی نہ کوئی اس منصب کا اہل اور اس کی جگہ پوری کرنے والا ہر وقت موجود رہتا ہے۔ کیونکہ سرداری سے علیحدگی کی وجہ صرف موت ہی نہیں ہوتی ۔ لائق یہ ہے کہ اس کی کثرت کے وقت مقررہ اوقات پر ڈیوٹیاں بدلتی رہا کرتی ہیں ۔ وہاں ٹھہرنا پڑتا ہے جہاں بہترین افراد کی کمی ہوا کرتی ہے۔

جب تک آیت میں خلت کے معنی ماتت متعین نہ ہوں گے اور الرسل کا الف لام استغراقی فرض نہ کیا جائے گا۔ اس وقت تک عموم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت پر استدلال کرنا کس طرح جائز نہیں ہو سکتا ۔

لیکن آیت میں یہ دونوں باتیں نہیں ہیں ۔ کیونکہ اگر آیت میں قد خلت سے خلت مراد ہوتا تو پھر خلو کی انواع میں سے افائن مات او قتل کہہ کر موت اور قتل کو بھی ذکر نہ کیا جاتا۔ ورنہ قتل کو جو موت طبعی سے ایک علیحدہ اور مبائن صورت ہے۔ موت میں داخل کرنے کی وجہ سے قسیم الشی قسم منہ یا تقسیم الشئی الی نفسہ والی غیرہ لازم آئے گی۔ جو قطعاً نا جائز ہے۔ اور نیز یہ کہنا کہ خلو کی صرف دو ہی قسمیں ہیں۔ موت یا قتل بالکل غلط ہے۔

یہ دونوں چیزیں بطور تمثیل مذکور ہوئی ہیں ۔ خلو کا ان میں انحصار نہیں ہے اور نہ آیت میں انحصار کا کوئی قرینہ موجود ہے۔

جب گزرنے اور چلے جانے کی موت اور قتل کے علاوہ غرق ، حرق ، تردی یعنی بلندی سے گر پڑنا، فرائض منصبی سے فارغ ہونا اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا وغیرہ صورتیں دنیا میں پائی جاتی ہیں تو ان کی موجودگی میں پہلی دو قسموں میں خلو کو منحصر کرنا کذب بیانی ہے جس سے خدا کا کلام پاک اور منزہ ہے: ’’وما تكون في شان وما تتلوا منہ من قرآن ولا تعملون من عمل الا کنا علیکم شھوداً (یونس: ٦١) ‘‘ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حالات صرف انہی دو صورتوں میں منحصر نہیں ہیں اور نہ یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ سوائے ان دو حالتوں کے کسی تیسری حالت سے واقف نہیں ہے۔ نیز ’’الذین ھاجروا فی سبیل اللہ ثم قتلوا او ما توا لیرزقنھم اللہ رزقاً حسناً (الحج: ٥٨) ‘‘ اس میں رزق حسن دینے کا وعدہ مہاجرین فی سبیل اللہ کے لئے مرنے اور قتل ہونے کی صورت میں ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر اللہ کے راستے میں زندہ رہیں تو پھر کوئی اجر نہیں ہے۔

اور نہ الف لام استغراقی ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ الف لام جمع پر داخل ہو کر اس کی جمعیت کو باطل کر دیتا ہے ۔ جیسا کہ مندرجہ مثالوں سے ظاہر ہے:

صفحہ ١٧٨

مریم کو بشارت دینے والا صرف جبرائیل علیہ السلام تھے۔

اس میں بالرسل معرف باللام ہے۔ لیکن یہاں لام استغراقی نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام بھی رسول تھے۔ مگر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نہیں آئے۔

دوسرے اگر لام استغراقی ہوگا۔ تو یہ معنی ہوں گے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور تمام رسول محمدﷺ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اس میں جمع بین المتناقضین ہے اور آخر کلام اول کے مناقض ہے۔ کیونکہ ما محمد الا رسول سے آپﷺ کی رسالت ثابت کی اور آپﷺ سے پہلے تمام رسولوں کا گزر جانا بتا کر آپﷺ کی رسالت کی نفی کر دی۔ خدا کے کلام میں ایسا تہافت اور تناقض نہیں ہوسکتا۔

علاوہ ازیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بھی اسی قسم کے لفظ آئے ہیں: "ما المسیح بن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل" اب اگر اس جگہ بھی الرسل سے تمام رسولوں کا گزرنا مراد ہے تو رسول خداﷺ کی رسالت باقی نہیں رہتی اور حضرت عیسیٰ بھی رسولوں کی فہرست سے نکل جاتے ہیں۔

پھر جب حضرت عیسیٰ سے متعلق قد خلت من قبلہ الرسل کہنے کے باوجود رسول اللہﷺ کی نفی نہیں ہوتی۔ تو ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل کہنے سے حضرت عیسیٰ کے وجود کی کیوں نفی ہوتی ہے۔

اس آیت میں قد خلت اور من قبلہا دونوں لفظ موجود ہیں۔ مگر اس امت کے ظاہر ہونے کے بعد پہلی امتوں میں سے کوئی امت بھی کلیۃً معدوم اور ہلاک نہیں ہوئی۔ جب اس آیت میں خلت کے معنی ماتت نہیں ہیں تو آیت زیر بحث میں کیوں موت ہی کے معنی ہیں؟ اور نیز جس طرح اس آیت میں قد خلت اس بات کے منافی نہیں ہے کہ پہلی امتیں اس امت کے زمانہ میں زندہ رہیں۔ اس طرح ان میں بھی کوئی منافات یا استحالہ نہیں ہے کہ رسول کے زمانہ

صفحہ ١٧٩

نبوت میں کوئی نبی اس کا تابع بن کر تشریف لائے۔ اور حدیث لو كان موسى حياً لما يسعه الا اتباعی کا بھی یہی منشاء ہے۔

س .................. اگر من قبله صفت الرسل کی مقدم ہو جیسا کہ الی صراط العزیز الحمید اللہ میں العزیز الحمید اللہ کی صفت مقدم واقع ہوئی ہے اور آیت کے یہ معنی ہوں کہ جتنے پہلے رسول تھے وہ سب گزر گئے تو کیا حرج ہے؟۔

ج .................. صفت کا اپنے موصوف پر مقدم کرنا اس جگہ جائز ہے جہاں موصوف اور صفت دونوں معرفہ ہوں اور مقدم کرنے کی صورت میں موصوف اپنی صفت کا بدل یا عطف بیان بن سکے۔ چنانچہ جمل نے اس آیت کے تحت میں لکھا ہے ’’وهذا علی القاعدة ان نعت المعرفة اذا تقدم علی المنعوت یعرب بحسب العوامل و یعرب المنعوت بدلا او عطف بیان والاصل الی صراط اللہ العزیز الحمید الذی ‘‘

( جمل حاشیه جلالین )

یہاں اگر من قبله الرسل کی اصلی تقدیر نکال کر الرسل من قبله کہیں ۔ تو من قبله کبھی الرسل کی صفت نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ من قبله ظرف لغو ہے۔ جو فعل کے ساتھ متعلق ہونے کی وجہ سے جملہ کے حکم میں ہے اور جملہ کبھی معرفہ کی صفت نہیں بنتا ۔

پھر مقدم ہونے کی صورت میں الرسل نہ اس کا مغائرت کی وجہ سے بدل ہو سکتا ہے اور نہ عطف بیان ۔ اس لئے اس کی ترکیب یہی ہو سکتی ہے کہ من قبله جار مجرور کو قد خلت فعل کے متعلق کیا جائے ۔ لہذا آیت کے وہ معنی جو مرزا قادیانی نے کئے ہیں ۔ غلط ہونے کے علاوہ قرآن مجید میں کھلی ہوئی تحریف ہے۔

اور اس آیت سے وفات مسیح پر اجماع صحابہ کا دعوے کرنا اور بھی جسارت ہے ۔ دراصل جب غزوہ احد میں آنحضرت ﷺ کے قتل ہونے کی خبر اڑ گئی تو بعض ضعیف الایمان مسلمانوں کو اسلام کی صداقت میں تردد اور شک اس وجہ سے لاحق ہو گیا کہ اگر محمد ﷺ اللہ کے رسول ہوتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید میں یہ آیت نازل کر کے بتا دیا کہ موت یا قتل نبوت کے منافی نہیں ہے۔

فرط غم کی وجہ سے یہی غلطی حضرت عمرؓ کو رسول اللہ ﷺ کی وفات پر لگی ہے اور وہ موت کو نبوت کے منافی سمجھتے ہوئے یہ کہتے پھرتے تھے کہ جو شخص محمد ﷺ کے مرنے کا قائل ہو گا میں اس کا سر تن سے جدا کر دوں گا ۔ وہ مرے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ کی طرح مرفوع ہوئے ہیں۔

صفحہ ١٨٠

حضرت ابوبکرؓ نے اپنے خطبہ میں اس آیت کو پڑھ کر یہ ظاہر کر دیا کہ موت اور نبوت میں کوئی منافات نہیں ہے اور وہ واقعی وفات پا گئے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ مرفوع نہیں ہوئے۔ اس میں حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عیسیٰ کے زندہ مرفوع ہونے کی تردید نہیں کی۔ صرف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وفات ظاہر کرتے ہوئے موت اور نبوت کی عدم منافات کو ثابت کیا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ نے انك ميت وانهم ميتون اور افان مات او قتل سے استدلال کیا ہے۔ قد خلت من قبله الرسل سے حجت نہیں پکڑی۔ ورنہ اسی پر بس کرتے اور افان مات او قتل یا انك ميت وانهم ميتون وغیرہ کہتے۔

اور صحابہؓ کے عقیدہ کے دوسرے جز، حیات مسیح کے غلط ہونے کی صورت میں اشارۃً یا کنایۃً ضرور تردید فرماتے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ حیات مسیح کی تردید میں ایک لفظ بھی ارشاد نہ فرمایا۔ جو کچھ کہا وہ حضور علیہ السلام کی وفات پر کہا۔ اس لئے اس کو حیات مسیح کے متعلق اجماع کہہ سکتے ہیں۔ وفات کے لئے نہیں کہہ سکتے۔ امام محمد بن عبدالکریم شہرستانی نے اپنی کتاب الملل والنحل میں لکھا ہے:

”وقال عمر بن الخطاب من قال ان محمداً قد مات قتلته بسيفی هذا وانما رفع کما رفع عيسى بن مريم وقال ابو بكر بن قحافة ومن کان يعبد محمداً فان محمداً قد مات .“

مزید تحقیق اجماع کی بحث میں گزر چکی اور اگر بالفرض تسلیم کر لیا جائے کہ خلت بمعنی ماتت ہے اور الرسل پر الف لام استغراقی آیا ہے پھر بھی وفات مسیح پر استدلال صحیح نہیں۔ کیونکہ جب قرآن کی دوسری آیتوں اور حدیث کے تواتر سے یہ بات ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں تو وہ اس سے مستثنیٰ سمجھے جائیں گے جس طرح:

کی پیدائش نطفہ سے بتائی ہے اور آدم علیہ السلام بھی منجملہ انسانوں کے ایک انسان ہیں۔ مگر دوسری آیات کی وجہ سے آدمؑ حوا اور عیسیٰ علیہم السلام کو اس ضابطہ سے مستثنیٰ کرنا ضروری اور لابدی امر ہے۔ تاکہ قرآن عزیز یا حدیث نبوی ﷺ کی تکذیب لازم نہ آئے۔

ناشکرے نہیں ہیں بلکہ مشرکین ہی ایسے ہیں۔ مگر چونکہ حکم جنس انسان پر لگایا گیا ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے۔

صفحہ ١٨١

تحریف: ٥ ..... ”والذين يدعون من دون الله لا يخلقون شيئا وهم يخلقون اموات غير احياء وما يشعرون ايان يبعثون (نحل: ٢٠‘ ٢١) “اس میں تمام معبودان باطل کو مردہ کہا ہے۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام بھی مردہ ہونے چاہئیں۔ کیونکہ ان کو بھی خدا کا بیٹا یا خدا بنایا گیا ہے اور اموات جمع میت مخفف کی ہے۔ جس کے معنی مردہ کے ہیں۔ مرنے والے کے نہیں ہیں۔

تحقیق ..... اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے داخل نہ ہونے کے دو قرینہ موجود ہیں:

قرآن میں ہے ”اذ تخلق من الطين كهيئة الطير “ اگرچہ حضرت عیسیٰ کی خلق خدا کے خلق کی طرح نہیں ۔ لیکن اس پر خلق کا لفظ ضرور اطلاق کیا گیا ہے اور آیت میں مطلق خلق کی نفی آئی ہے۔ کسی خاص قسم کے خلق کی نفی نہیں کی گئی۔

جائیں گے۔

ہر مسلمان کو قیامت کے دن اٹھنے کا پتہ ہے تو عیسیٰ علیہ السلام کو بدرجہ اولیٰ اس کا علم ہوگا۔ ان کی نسبت ما یشعرون کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ اگر ہر معبود باطل کا اس کی پرستش کے وقت مردہ ہونا ضروری ہوتا تو فرعون اسی وقت مر جاتا۔ اور اس کو ”انا ربکم الا علیٰ“ کہنے کی مہلت نہ ملتی۔ جب فرعون زندہ کی عبادت ہو سکتی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نصاریٰ کی پرستش کی وجہ سے مرنا کیوں ضروری ہوا؟۔ اور ملائکہ بھی معبود بنائے گئے ہیں۔ ان کو بھی مر جانا چاہئے؟۔ ”ويوم يحشرهم جميعاً ثم يقول للملائكة هؤلاء اياكم كانوا

يعبدون“ (سباء: ٤٠)

پھر اموات جمع میت کی ہے۔ اصل وزن اس کا فیعل ہے لیکن کبھی تخفیفاً ایک یا کو حذف کر کے میت بالتخفیف پڑھتے ہیں۔ بلحاظ معنی دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بہر صورت صفت مشبہ ہے۔ فی الحال مردہ ہونا اس کے مفہوم میں داخل نہیں ہے۔ جیسا کہ انك ميت وانهم ميتون سے ظاہر ہے۔ اس لئے اموات غیر احیاء کے یہ معنی ہیں کہ معبودان باطل ایک وقت مرنے والے ہیں۔

اصل میں یہ آیت بتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ان کی الوہیت کی نفی کرتے

صفحہ ١٨٢

ہوئے ان کو بے حس و حرکت کہا ہے۔ اس لئے غیر احیاء وہ کبھی زندہ ہی نہیں ہونے کی قید کا اضافہ کیا ہے۔

الذین اسم موصول غیر ذوی العقول کے لئے کبھی آجایا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے:

”والذین یدعون من دونہ لایستجیبون لہم بشئى الا کباسط

(رعد: ١٤)

کفیہ الی الماء لیبلغ فاہ وما ہو ببالغہ“

پکارنے والوں کی آواز کا جواب نہ دے سکنا بتوں ہی کا خاصہ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر یہ بات صادق نہیں آسکتی۔

تحریف: ٦...... ”فیہا تحیون وفیہا تموتون ومنہا تخرجون (اعراف: ٢٥)“ یہ قانون الٰہی ہر فرد بشر کے لئے عام ہے۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اس سے کیونکر مستثنیٰ ہو سکتے ہیں اور ایسا ہی ان آیتوں سے ثابت ہے:

تحقیق ...... پوری آیت اس طرح ہے:

”قال اہبطوا بعضکم لبعض عدو ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین . قال فیہا تحیون وفیہا تموتون ومنہا تخرجون (اعراف: ٢٤، ٢٥)“

اس میں آدم وحوا، کو آسمان سے نازل ہونے کے وقت مخاطب بنایا گیا ہے اور یہ آیت انہی کے قصہ کو ظاہر کر رہی ہے۔ جب آدم وحوا کی عمر کا کچھ حصہ با وجود اس آیت کے مخاطب ہونے کے آسمان پر گزر سکتا ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کچھ مدت آسمان پر رہنا کس لئے ناجائز ہے؟۔ (ورنہ جنت، دوزخ اور آدم کے ہبوط آسمانی سے انکار کر کے لوگوں پر اپنی مسلمانی ظاہر کر دو۔)

بھی ہیں جو چیل اور کوؤں کی خوراک بنتے ہیں۔ دریا میں ڈوب کر مچھلیوں کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ کچھ درندوں کا لقمہ بنتے ہیں۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہنا پڑے گا کہ یہ حکم جنس پر کیا گیا ہے اور جنس کے لئے تمام افراد کا احاطہ ضروری نہیں ہوتا۔ مثلاً: (١)..... ”انا خلقنکم من نطفة “ (٢)..... ”خلقکم من تراب“ اسی قسم کی آیتوں میں جنس ہی پر حکم ہو رہا ہے۔

صفحہ ١٨٣

نہیں ہو سکتا۔ ورنہ ہوائی جہازوں میں اڑنے والے کرہ ہوائی تک کبھی نہ جاسکتے۔ یا آیت کا مفہوم غلط ہو جاتا۔ بلکہ اس کی یہ مراد ہے کہ زمین انسانوں کے رہنے اور مرنے کی جگہ بنائی ہے۔ جس طرح ایک مسافر گھر سے نکل کر مہینوں مسافرت میں رہنے کے باوجود ایک دن اپنے اصلی وطن کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اسی طرح زمین کے رہنے والے اگرچہ کچھ مدت زمین سے باہر گزار دیں۔ مگر پھر ان کو ایک دن زمین ہی کی طرف لوٹنا پڑتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک روز ضرور آسمان سے نزول فرمائیں گے اور زمین پر ہی مریں گے اور یہیں دفن کئے جائیں گے اور یہی مطلب باقی دو آیتوں کا ہے۔

تحریف : ٧....... " واوصانى بالصلوة والزكوة مادمت حيا

(مریم : ٣١) "

حضرت عیسیٰ کو زکوٰۃ دینا ان کی تمام زندگی بھر فرض قرار دیا ہے۔ اگر وہ زندہ آسمان پر موجود ہیں تو زکوٰۃ دینے کے لئے روپیہ کہاں سے آیا اور وہاں کس کو دیتے ہیں اور پھر وہاں اگر نماز اسرائیلی پڑھتے ہیں تو منسوخ شریعت لازم آتا ہے اور اگر نماز محمدی ہے تو وہ ان کو کس نے سکھائی؟۔

تحقیق..... جس وقت حضرت عیسیٰ نے یہ جملہ بچپن کے زمانہ میں بحالت شیر خوارگی کہا تھا۔ اسی وقت ان پر نماز یا زکوٰۃ فرض نہیں ہو گئی تھی۔ بلکہ صلوٰۃ کی فرضیت بلوغ تک اور زکوٰۃ کا وجوب بقدر نصاب ملکیت کے ثابت ہونے تک موقوف رہا تھا جس کے یہ معنی ہیں ۔ کہ صلوٰۃ یا زکوٰۃ کے واجب ہونے کے لئے اہلیت کی شرط ہے۔ چونکہ آسمان کے رہنے والے کسی شریعت کے مکلف نہیں ہیں اور اسی وجہ سے وہاں کوئی نبی یا رسول مبعوث نہیں ہوا۔

اس واسطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب تک آسمان پر رہیں گے۔ کسی شریعت کا کوئی حکم ان کی طرف متوجہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان کی مادمت حیا سے یہ مراد ہرگز نہ تھی کہ زندگی کے ہر حصہ میں نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی میرے ذمہ واجب ہے۔ ورنہ بچپنے میں بھی ان کو نماز ادا کرنی چاہئے تھی اور بغیر کسی چیز کے مالک ہونے کے زکوٰۃ ادا کرنی ضروری ہوتی اور لا يكلف الله نفساً الا وسعها کے خلاف تکلیف مالا یطاق میں گرفتار ہو جاتے۔

فرضیت کا اقرار کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اور یہ چاروں ارکان جملہ مسلمانوں پر اس معنی سے فرض ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کو اپنی اپنی شرط کے وقت ادا کریں گے۔ دیکھو و اقیموا الصلوة واتو الزكوة میں مخاطب اس کے تمام مسلمان ہیں۔ مگر ادا کرنا انہی لوگوں پر ضروری ہو گا جو اس کے اہل ہوں گے۔

صفحہ ١٨٤

اسی طرح حضرت عیسیٰ نے اس آیت میں صلوٰۃ اور زکوٰۃ سے نفس وجوب کا اقرار کیا ہے اور وجوب ادا کی کوئی خبر نہیں دی اور نفس وجوب کا بغیر وجوب ادا کے پایا جانا ممکن ہے۔ جیسا کہ اصول کی کتابوں میں درج ہے۔ لہٰذا ہر فرض کے لئے فوراً ہی اس کا ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔

تحریف:٨..... ”والسلام على يوم ولدت ويوم اموت ويوم ابعث حياً (مريم : ١٥)“ ان تینوں حالتوں کو ذکر کرنا بتا رہا ہے کہ زندگی میں کوئی اہم امر رفع آسمانی وغیرہ کے متعلق پیش نہیں آیا۔ ورنہ اظہار تشکر کے وقت اس کا بیان کرنا ضروری تھا۔

تحقیق ..... کسی اہم واقعہ کے عدم ذکر سے اس واقعہ کی نفی لازم نہیں آیا کرتی ۔ ورنہ چاہئے کہ نبوت اور بغیر باپ کے پیدا ہونا، گہوارے میں باتیں کرنا جو یہاں مذکور نہیں ہوئیں۔ ان میں سے کوئی بھی تسلیم نہ کی جائیں۔ چونکہ ان اوقات میں انسان پر زبردست تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اس لئے انہی پر اکتفاء کیا گیا۔ کیونکہ ولادت سے موت تک یا موت سے بعث ونشور کے زمانہ تک کے واقعات درمیانی اور ضروری واقعات ہیں۔ جن کا ذکر کرنا بڑی طوالت کا محتاج ہے۔

تحریف: ٩..... ”اوترقى فى السماء ولن نؤمن لرقيك حتى تنزل علينا كتاباً نقرءه قل سبحان ربى هل كنت الا بشراً رسولاً (بنی اسرائیل: ٩٣)“ اس میں کفار نے آنحضرت ﷺ سے آسمان پر جا کر کتاب لانے کا مطالبہ کیا۔ تو اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ تو بشر ہے اور کوئی بشر آسمان پر نہیں جا سکتا۔

تحقیق ..... ”قل سبحان ربى هل كنت الا بشراً رسولاً “ کا تعلق محض صعود فی السماء کے ساتھ نہیں ہے۔ بلکہ اور بھی چند نشانیاں ہیں جو کفار نے رسول اللہ ﷺ سے ان کی سچائی پر طلب کی تھیں اور وہ یہ ہیں:

”وقالوا لن نؤمن لك حتى تفجر لنا من الارض ينبوعاً اوتكون لك جنة من نخيل وعنب فتفجر الانهار خلالها تفجيراً اوتسقط السماء كما زعمت علينا كسفاً اوتأتى بالله والملائكة قبيلاً اوتكون لك بيت من زخرف او ترقى فى السماء“

ان تمام نشانیوں کے طلب کرنے کے جواب میں هل كنت الا بشراً رسولا ۔ کی تعلیم دینے سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ رسول کسی نشانی کو اپنی سعی اور کوشش سے ظاہر نہیں کر سکتا۔ معجزہ اور آیت وہبی اور عطائی چیز ہے کسبی یا اکتسابی چیز نہیں ہے جو اپنی مرضی اور سعی سے لائی جا سکے۔ چنانچہ جلالین میں اس آیت کی تفسیر اس طرح لکھی ہے:

صفحہ ١٨٥

”كسائر الرسل ولم يكونوا يأتوا بآية الا باذن الله“ اگر یہ آیت بشریت اور مطلوبہ نشانیوں کے درمیان منافاة بیان کرنے کے لئے ہو۔ تو باغات اور عمدہ مکانات کا ہونا اور انہار کا جاری کرنا بھی بشریت کے مخالف ہونا چاہئے؟۔ کیونکہ یہ بھی ان کی مطلوبہ نشانیوں میں سے چند نشانیاں ہیں۔ پھر آسمان پر چڑھنا نہ صرف انبیاء علیہم السلام کے لئے ممکن ہے بلکہ کافروں تک کے واسطے غیر ممتنع ہے۔ قرآن مجید میں ہے: ”ولو فتحنا عليهم باباً من السماء فظلوا فيه يعرجون لقالوا انما سكرت ابصارنا بل نحن قوم مسحورون (الحجر:١٤، ١٥)“

تحریف:١٠..... ”وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد افان مت فهم الخالدون (الانبياء: ٣٤)“ یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ تو دنیا سے رحلت کر جائے اور کوئی تجھ سے پہلے کا زندہ ہو۔ معلوم ہوا کہ مسیح فوت ہو چکے ہیں۔

تحقیق..... آیت میں خلود اور ہمیشہ رہنے کی نفی کی گئی ہے۔ لیکن اس سے حیات مسیح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ حضرت عیسیٰ ایک دن ضرور وفات پائیں گے۔ دوام اور ہمیشگی ان کو کبھی نصیب نہ ہوگی۔ عمر کے دراز ہونے کی آیت میں کوئی نفی نہیں ہے۔ لہذا آیت سے وفات مسیح پر استدلال کرنا خدع اور دھوکا دہی یا جہالت ہے اور عمر کے دراز یا کوتاہ ہونے میں کوئی فضیلت نہیں ہے۔

بزرگی بعقل است نہ بسال

ورنہ شیطان جو روز قیامت تک امهلني الى يوم يبعثون کے ماتحت زندہ رہنے والا ہے۔ مرزا اور اس کے حواریین سے افضل ہونا چاہئے۔

تحریف:١١.....”ومنكم من يتوفى ومنكم من يرد الى ارذل العمر لكيلا يعلم من بعد علم شيئا (حج: ٥)“

کیا حضرت عیسیٰ اگر زندہ ہیں تو اتنے زمانہ کے بعد بڑھاپے کی وجہ سے بیکار نہ ہوگئے ہوں گے۔ پھر ان کا دنیا میں آنا کس کام کا ہے؟۔

تحقیق..... اس قسم کی آیتوں کو وفات مسیح سے مطلقاً کوئی لگاؤ نہیں۔ باقی آسمان پر ان کا بڑھاپا اور کمزوری ظاہر کرنے کے لئے پہلے آسمان کا محل تغیر ہونا کسی شرعی دلیل سے ثابت کریں۔ قرآن وحدیث میں تو اس کا ثبوت ملنا مشکل ہے۔ البتہ اگر مرزائیوں کا اس تحریف پر ایمان ہے تو وہ جدا گانہ بات ہے۔ شعر:

صفحہ ١٨٦
ایسی جنت کو کیا کریں لے کر
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

تحریف: ١٢ ..... ”وما ارسلنا من قبلك المرسلين الا انهم ليأكلون الطعام ويمشون فى الاسواق“

(فرقان:٢٠)

ظاہر ہے کہ آسمان پر کوئی بازار نہیں جس میں حضرت عیسیٰ چلتے پھرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ مر گئے ہیں

تحقیق ..... یہ استدلال بھی جہالت اور بے وقوفی پر مبنی ہے۔ آیت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ نبی ہر وقت کھانا کھاتے اور بازاروں میں پھرتے رہتے ہیں۔ بلکہ اس میں مجملہ عام انسانی حالات کے ایک حالت بیان کر کے کفاروں کے اس خیال کی تردید کی ہے:

”وقالوا ما لهذا الرسول يأكل الطعام ويمشى فى الاسواق (فرقان:٧)“

یعنی کھانا اور ضرورت کے لئے بازار میں جانا نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ واللہ اعلم !

تحریف: ١٣ ..... ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب : ٤٠)“ عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی صورت میں وہ نبی ہوں گے۔ تو ختم نبوت جاتی رہے گی اور اگر نبی نہ ہوں گے تو ایک نبی کا نبوت سے معزول ہونا جائز نہیں اور پھر اس کو شریعت محمدی کی تفاصیل کا علم بغیر وحی کے نہیں ہو سکتا۔ جب وحی آئی تو وہ نبی ہو گئے اور شریعت محمدیہ منسوخ قرار دی گئی ۔

تحقیق ..... ختم نبوت کے یہ معنی ہیں کہ اب کوئی نیا نبی نہیں بنایا جائے گا اور کسی کو نبوت جدیدہ عطا نہیں کی جائے گی۔ نہ یہ کہ کوئی پہلا نبی اپنی نبوت قدیمہ کے ساتھ بھی زندہ نہ رہے گا۔ کیونکہ رسول خدا ﷺ نے سلسلہ نبوت کو ایک زیر تعمیر مکان سے تشبیہ دیتے ہوئے اپنے آپ ﷺ کو مکان کی آخری اینٹ فرمایا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ اس آخری اینٹ کے بعد دوسری تمام اینٹیں گر پڑیں گی۔

عیسیٰ علیہ السلام پہلے نبیوں میں سے ہیں اور مکان نبوت کی وہ اینٹ ہیں جو رسول عربی ﷺ سے پہلے رکھی گئی اور ان کے بعد آنحضرت ﷺ کو رسالت عطا فرمائی گئی اور یہی معنی يأتى من بعدى اسمه احمد کے ہیں۔ یعنی میرے بعد خلعت نبوت زیب تن کرنے والے احمد مجتبیٰ ﷺ ہوں گے۔

نیز ”لوکان موسى حياً ماوسعه الا اتباعی

(مشکوة ص ٣٠ باب

صفحہ ١٨٧

الاعتصام بالكتاب والسنة) ’’فرما کر اشارہ کر دیا کہ حضور علیہ السلام کی آمد اور ظہور کے بعد پہلے نبیوں میں سے کسی نبی کا آنا ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے۔

پھر منافات اس وقت ہوتی جبکہ عیسیٰ علیہ السلام پر نزول کے بعد وحی نبوت نازل ہوتی یا وہ رسول اللہ ﷺ کی شریعت کو چھوڑ کر اپنی شریعت پر عمل کرتے۔ لیکن ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی نہ ہوگی ۔ نہ ان پر وحی نبوت آئے گی اور نہ شریعت اسرائیلی پر عمل کریں گے ۔ بلکہ وہ شرع محمدی کے پابند ہوں گے اور شریعت کی تفاصیل سے واقف ہونے کے لئے وحی نبوت کا آنا ضروری نہیں ہے۔ جس نے ’’علم آدم الاسماء کلها (البقرہ: ٣١)‘‘ آدم علیہ السلام کو بلا واسطہ تمام اسماء سکھا دیئے ۔

’’ وعلم الانسان مالم یعلم (العلق : ٥ ) ‘‘ جملہ انسانوں کو ان کی ضرورتوں کا علم بغیر فرشتوں کے کرا دیا اور جو تمام جنتیوں کو عربی زبان سے واقف کر دے گا ۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے ’’ قال رسول الله ﷺ احبوا العرب لثلاث لانی عربی والقرآن عربی وکلام اهل الجنة عربی ‘‘

(المشکوة ص ٥٥٣ باب مناقب قریش عن البیہقی )

وہی حضرت عیسیٰ کو اس شریعت کا علم بھی عطا کرے گا ۔ صاحب الیواقیت والجواہر لکھتے ہیں :

’’كذلك عيسى عليه الصلوة والسلام اذا نزل الى الارض لا يحكم فيها الا بشريعة نبينا محمد ﷺ يعرفه الحق تعالى بها على طريق التعريف وان كان نبيا ‘‘

(یواقیت ج ٢ ص ٣٨ ومثله فی ج ٢ ص ٨٩ )

لہذا عیسیٰ علیہ السلام نزول کے بعد نبی ہوں گے ۔ مگر خدا کا معاملہ ان کے ساتھ انزال وحی اور شریعت جدیدہ وغیرہ کے متعلق نبیوں جیسا نہ ہوگا ۔ جس طرح قیامت کے روز جملہ انبیاء علیہم السلام نبی ہوں گے مگر فرائض نبوت ان کے سپرد نہ ہوں گی یہی حال عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں نزول کے بعد ہوگا ۔ اس کی مزید تحقیق انشاء اللہ نبوت کی بحث میں آئے گی ۔ واللہ اعلم

مذکورہ بالا

تحریفات کے علاوہ اور بھی بہت سی بے جوڑ اور اٹکل باتیں آیات قرآنیہ کے رنگ میں مرزائیوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں ۔ لیکن ان کا جواب دینا نہایت سہل اور آسان کام تھا ۔ اس لئے ہم نے ان کی طرف توجہ کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔

صفحہ ١٨٨

فائدہ

اس جگہ بعض احادیث سے بھی وفات مسیح پر قادیانی استدلال کرتے ہیں اور اس طرح بعض علماء اور مفسرین کے اقوال وفات کی تائید میں پیش کرتے ہیں جن میں بیشتر تو ایسے ہیں جن کے نقل میں خیانت کی ہے اور اصل روایت کے پورے الفاظ ذکر نہیں کئے اور بعض کا مطلب اپنی سوجھ بوجھ سے کچھ کا کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔ اس لئے ہم ایسے بیانات کا نام مغالطہ اور ان کے جوابات کو تصحیح سے تعبیر کریں گے۔

مغالطہ:١: ”لوكان موسى وعيسى حيين لما وسعهما الا اتباعی (يواقيت والجواهر ج ٢ ص ٢٢) لوکان موسى وعيسى فى حياتهما لكان من اتباعه“

(مدارج السالكين ج ٢ ص ٣١٣ لابن قیم)

معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ نہیں ہیں۔

تصحیح : یواقیت والجواہر میں حیین کی شرح موجودین کی ہے۔ یعنی اگر وہ دونوں حضور علیہ السلام کے زمانہ میں موجود ہوتے تو ان کو انہی کی اتباع کرنی پڑتی اور نیز اسی کتاب کے متعدد موضع میں حضرت عیسیٰ کے نزول کا بڑی شد و مد سے ذکر کیا ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ بھی ہے: ”قدجاء الخبر الصحيح فى عيسى عليه السلام وكان ممن اوحى اليه قبل رسول اللہ ﷺ انه اذا نزل آخر الزمان لايؤمنا الا بنا اى بشريعتنا“

(يواقيت ج ٢ ص ٨٤)

اس لئے صاحب یواقیت کی طرف وفات مسیح کے عقیدے کی نسبت کرنا انتہائی جسارت اور دیدہ دلیری ہے اسی طرح مدارج السالکین کی عبارت پوری نقل کر دی جاتی تو وہ خود اس حدیث کی شرح بن جاتی ۔ چنانچہ اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد یہ عبارت مدارج السالکین میں لکھی ہوئی ہے: ”واذا نزل عیسی بن مریم فانما یحکم بشریعة محمد ﷺ“ باقی تحقیق پہلے گزر چکی ہے۔

مغالطہ:٢: ”ما من نفس منفوسة اليوم يأتى عليها مأة سنة وهى يومئذ حية (كنز العمال ج ١٤ ص ١٩٣ حدیث نمبر ٣٨٢٤٢)“ یعنی سوسال کے اندر تمام جاندار انسان اور غیر انسان سب مرجائیں گے ۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام بھی اگر زندہ تھے تو وہ مرچکے ہیں۔

صفحہ ١٨٩

تصحیح ....... اس حدیث میں علی الارض کی قید ہے۔ جیسا کہ مسلم نے جابر اور ابی سعید خدری سے نقل کیا ہے: ”عن جابر قال سمعت النبی ﷺ یقول قبل ان یموت بشہر تسئا لونی عن الساعۃ وانما علمہا عند اللہ واقسم باللہ ما علی الارض من نفس منفوسۃ تاتی علیہ مائۃ سنۃ وہی حیۃ یومئذ (رواہ مسلم ج ٢ ص ٣١٠ باب معنی قولہ ﷺ راس مائۃ سنۃ ) “ اور عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نہ تھے اس لئے یہ حدیث ان کو شامل ہی نہیں ہوتی۔

مغالطہ: ٣....... ”ادم فی السماء الدنیا تعرض علیہ اعمال ذریتہ و یوسف فی السماء الثانیۃ و ابنا الخالۃ یحییٰ و عیسیٰ فی السماء الثالثۃ و ادریس فی السماء الرابعۃ ............ الخ . ابن مردویہ عن ابی سعید ”جب معراج میں تمام انبیاء علیہم السلام روحانی طور پر تھے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایسے ہی ہونے چاہئیں۔ ان کی کیا خصوصیت ہے جو ان کو بجسد العنصری زندہ آسمان پر مانا جائے۔

تصحیح ....... تمام انبیاء علیہم السلام کا ایک ہی حالت میں مساوی ہونا کوئی ضروری نہیں ہے۔ ورنہ کہنا پڑے گا کہ رسول اللہ ﷺ بھی مرنے ہی کے بعد معراج کے لئے آسمان پر تشریف لے گئے تھے۔ اس کی مزید تحقیق پہلے گزر چکی ہے۔

مغالطہ: ٤....... ابن عباس اور امام مالک ، ابن حزم وغیرہ کی طرف نسبت کی جاتی ہے کہ وہ وفات مسیح کے قائل تھے۔

تصحیح ....... ان حضرات کا پورا قول نقل نہیں کیا جاتا۔ آدھی بات نقل کر کے لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے۔ ابن عباسؓ نے متوفیک کی تفسیر وفات بعد النزول سے کی ہے اور وہ تقدیم تاخیر وقوعی کے قائل ہیں۔ امام مالک اور علامہ ابن حزم اگرچہ وفات قبل از رفع کے قائل ہوئے ہیں۔ لیکن اسی وقت دوبارہ زندہ ہو کر آسمان پر مرفوع ہونے کے بھی قائل ہیں۔ ان حضرات کے وفات قبل الصعود کے قول کو نقل کر دیا جاتا ہے۔ مگر رجوع موتی اور زندہ ہو کر مرفوع ہونے کے اقرار کو نقل نہیں کیا جاتا۔

اس کے علاوہ دیگر بزرگوں کی طرف بھی اسی قسم کی خیانتیں کر کے وفات مسیح کے عقیدہ کو منسوب کیا ہے۔ لیکن ہم اجماع کی بحث میں مکمل اس کی تردید کر چکے ہیں۔ واللہ اعلم!

صفحہ ١٩٠

مغالطہ: ٥ ...... ’’انی ذاہب الی ربی او ارجعی الی ربک‘‘ میں شام کی طرف جانا یا عبادت اور جنت کی طرف لوٹنا مراد ہے۔ ایسے ہی معنی رافعک الی کے کرنے چاہئیں۔

تصحیح ...... تاریخ سے ثابت ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے شام کی طرف ہجرت فرمائی تھی۔ اس لئے الی ربی سے الی ملک ربی وہو الشام معنی کئے گئے اور آیت ’’یا ایتها النفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضیة‘‘ میں آیت کا سیاق سباق جنت یا دنیا کی واپسی اور عبادت وغیرہ کا قرینہ ہے۔ اگر ہر ایک کا اپنا اپنا قرینہ نہ ہوتا۔ تو ہر دو آیت کی مراد الگ الگ کبھی نہ ہوتی اور نہ یہ معنی لئے جاتے۔ مگر جیسا قرینہ ملتا گیا ویسے ہی معنی متعین ہوتے رہے۔ چونکہ بدلائل عقلیہ ونقلیہ ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے۔ اس لئے رافعک الی سے الی سماء ی مقر ملائکتی معنی کرنے ضروری تھے۔

مغالطہ: ٦...... حضرت عیسیٰ کی آسمان پر حفاظت کرنا اور ہمارے رسول ﷺ کی نہ کرنا یہ ان کے افضل ہونے کی دلیل ہے۔

علیہ السلام کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دلانے کے لئے لڑنے کی بھی تکلیف نہ دی اور دشمنوں کو غرق کر کے ان کو بچا لیا۔ مگر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک دن بھی ایسا نہ ہوا۔ کیا اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی افضلیت ثابت کی جاسکتی ہے؟۔

علیہ السلام آسمان پر رہتے ہیں۔ امین کا فرض ہے کہ اپنے قیام گاہ میں امانت کی حفاظت کرے۔ اس لئے وہ آسمان پر اٹھالئے گئے۔

پھر آسمان پر ہونا افضلیت کی نشانی نہیں ہے۔ ورنہ چاند سورج ستارے اور فرشتے سب سے افضل ہونے چاہئیں۔ بلندی پر اڑنے والی چیل بھی مرزائیوں سے افضل ہونی چاہئے۔ صدر ہر جا کہ نشیند صدر است...... مکان کے نیچے اور اوپر ہونے سے فضیلت پر استدلال کرنا حماقت اور بے وقوفی ہے۔

کی طرف سے تھی۔ اس لئے بلحاظ روحانیت آسمان پر اور باعتبار ارضی ہونے کے زمین پر رہنا ضروری تھا۔

(یواقیت ج١ ص١١٨)

صفحہ ١٩١

باب النبوۃ والرسالت

لغت میں نبی مخبر کو کہتے ہیں جو نباء سے مشتق ہے انبیاء علیہم السلام کو بھی اسی لئے نبی کہتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے خبر دینے والے ہیں یا نبوۃ واوی اور نبوۃ سے مشتق ہے جو شئی مرتفع اور راستہ پر بولا جاتا ہے۔ چونکہ انبیاء علیہم السلام رفیع الدرجات اور خدا تک پہنچنے کا راستہ ہیں۔ اس لئے ان کو نبی کہا جاتا ہے اور رسول پیغمبر کا نام ہے جو رسالت بمعنی پیغمبری سے ماخوذ ہے۔

(کتاب لغت، مجمع البحار وغیرہ)

شرعی اصطلاح میں جو شخص خدا کی طرف سے خلق کی ہدایت کے لئے مامور ہو اس کو نبی کہتے ہیں۔ خواہ وہ نئے دین کی تبلیغ کے لئے مامور من اللہ ہو یا نہ ہو اور رسول شریعت جدیدہ کی تبلیغ پر مامور من اللہ کا نام ہے ”النبی المنبئ وان لم یؤمر بالتبلیغ والرسول المامور بہ“

(مجمع البحار ج ٤ ص ٦٦٤ تحت لفظ نبا)

نبی اور رسول دونوں تشریعی نبی ہیں

(کمالین طہ)

والدعوۃ الیہ ام لا ، فان امر بذالک فہو نبی رسول والا فہو نبی غیر رسول “

(مسامرہ شرح مسایرہ ص ٩٤)

نبی وہ شخص ہے جس پر شرعی احکام اور مسائل کی وحی نازل ہو۔ اب اگر اس کو نئی شریعت کی تبلیغ اور اشاعت کا حکم ہے تو وہ رسول ہے اور اگر تبلیغ کا حکم نہیں ملا تو ایسا شخص نبی محض کہلاتا ہے۔ اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ شرعی احکام اور مسائل نبی اور رسول دونوں پر نازل ہوتے ہیں مگر نبی کی شریعت اس کی ذات کے ساتھ خاص ہوتی ہے اور ان مخصوص احکام کی تبلیغ کرنے کا ان کو حکم نہیں ہوتا۔ البتہ وہ پہلے رسول کی احکام شرعیہ کی تبلیغ پر ضرور مامور ہوتے ہیں اور رسول پر جو نئے احکام نازل ہوں وہ اس کے ساتھ خاص نہیں ہوتے۔ بلکہ امت بھی اس میں ان کی شریک ہوتی ہے اور وہ نازل شدہ احکام کی تبلیغ پر مامور ہو کر آتے ہیں۔ اس معنی سے نبی اور رسول الگ الگ دو چیزیں ہیں۔ لیکن نبی بمعنی مخبر اور مامور من اللہ ہونے کے رسول پر بھی اطلاق کیا جاتا ہے۔

صفحہ ١٩٢

اس صورت میں نبی عام اور رسول اس سے خاص ہے۔

نبی اور رسول کا فرق

شیخ عبدالوہاب شعرانی ”یواقیت والجواہر“ میں نبی اور رسول کا فرق اور نبوت تشریعی کی مراد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”الفرق بينهما هو ان النبي اذا القى اليه الروح شيئاً اقتصر به ذالك النبي على نفسه خاصة ويحرم عليه ان يبلغ غيره ثم ان قيل له بلغ ما انزل اليك اما لطائفة مخصوصة كسائر الانبياء او عامة لم يكن ذالك الا لمحمد ﷺ سمى بهذا الوجه رسولاً وان لم يخص في نفسه بحكم لا يكون لمن بعث اليهم فهو رسول لا نبى وأعنى بها نبوة التشريع التي لا يكون للاولياء“

(ج ٢ ص ٢٥ و نحوه في كبريت احمر ص ١٢١)

جو حکم بذریعہ جبرائیل علیہ السلام کے نبی پر ظاہر ہو۔ اگر وہ اس کی ذات کے لئے خاص کر دیا گیا اور اس کو غیر کی طرف اس حکم کی تبلیغ کرنے سے روک دیا تو ایسا آدمی نبی کہلائے گا اور اگر اس کو نازل شدہ احکام کی تبلیغ کا حکم ہوا ہے خواہ جماعت مخصوصہ کی طرف تبلیغ کرنے کا حکم ملا ہے یا عامہ تمام قوموں کی طرف اس کو مبعوث کیا ہے تو ان کو رسول کہتے ہیں۔ ہمارے سیدی مولائی حضرت محمد ﷺ تمام جہان کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے اور دوسرے تمام انبیائے کرام علیہم السلام خاص خاص قوموں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ ہم نے انہی دونوں قسموں کا نام نبوت تشریعیہ رکھا ہے۔ جس کا دروازہ حضور اکرم ﷺ کے بعد مطلقاً بند ہو چکا ہے اور یہ مراد اس عبارت کی ہے:

”والفرق بين البنى والرسول ان النبى انسان اوحى له بشرع خاص به فان قيل له بلغ ما انزل اليك اما لطائفة مخصوصة كسائر الانبياء واما عامة ولم يكن ذالك الا لمحمد ﷺ وحده وسمى بهذا الوجه رسولاً وان لم يخص في نفسه بحكم لا يكون لمن بعث اليهم فهو رسول لا نبى“

(كبريت احمر ص ١٢٠)

معلوم ہوا کہ نبی اور رسول دونوں کے لئے شریعت ہوتی ہے۔ لیکن نبی کی اپنی شریعت ان کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ ان احکام کی پابندی میں امت ان کی شریک نہیں ہوتی جس طرح یا ایھا المزمل میں نماز تہجد کی فرضیت آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ امت اس کی

صفحہ ١٩٣

فرضیت میں آپ ﷺ کی شریک نہیں ہے اور رسول کو شریعت عامہ دی جاتی ہے جس کی پابندی رسول اور اس کی امت دونوں پر لازم ہوتی ہے۔ اسی لئے شیخ محی الدین ابن العربیؒ نے نبی اور رسول دونوں کو نبی تشریعی کے نام سے موسوم کیا ہے:

”قد ختم اللہ تعالیٰ بشرع محمد ﷺ جمیع الشرائع فلا رسول بعدہ یشرع ولا نبی بعدہ یرسل الیہ بشرع یتعبد بہ فی نفسہ انما یتعبد الناس بشریعتہ الی یوم القیامة“

(یواقیت ج٢ ص٣٧)

اللہ تعالیٰ نے تمام شریعتوں کو آپ ﷺ کی شریعت پر ختم کر دیا۔ نہ آپ ﷺ کے بعد کوئی مخلوق کی ہدایت کے لئے شریعت عامہ لے کر آئے گا۔ نہ ایسی شریعت کسی کو دی جائے گی کہ جس پر وہ خود عمل کرے۔ بلکہ آپ ﷺ کی شریعت کی پابندی قیامت تک آنے والوں پر ضروری ہے۔

”الذی اختص بہ النبی من ہذا دون الولی الوحی بالتشریع ولا یشرع الا النبی ولا یشرع الا الرسول (فتوحات مکیہ )“ وہ چیز جو نبی کے ساتھ خاص ہے اور ولی میں نہیں پائی جاتی وہ وحی تشریعی ہے۔ نبی اور رسول کے علاوہ کوئی دوسرا شارع نہیں ہو سکتا۔

”واعلم ان حقیقة النبی الذی لیس برسول ہو شخص یوحی اللہ بامر یتضمن ذالک شریعة یتعبد بھا فی نفسہ فان بعث بھا الی غیرہ کان رسولا ایضاً“

(یواقیت ص٣٧ ج٢)

نبی وہ ہو سکتا ہے جس کی طرف ایسا حکم نازل کیا جائے جس پر عمل کرنا اس کے لئے لازم ہو اور اگر اس حکم کے ساتھ غیر کی طرف مبعوث ہو تو وہ رسول کہلاتا ہے۔

(فتوحات باب ١٤)

وحی نبوت کی تحقیق

معلوم ہوا کہ نبی اور رسول دونوں تشریعی نبی ہیں مگر نبی کی شریعت اس کی ذات کے لئے خاص ہے اور رسول کی شریعت امت اور رسول دونوں کے واسطے عام ہوتی ہے۔ جس طرح امر و نہی رسول پر نازل ہوتے ہیں ایسے ہی نبی پر اترتے ہیں۔ مگر رسول کو ان کی تبلیغ کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ نبی کو نہیں ہوتا۔ البتہ رسولی شریعت کی اشاعت اور تبلیغ کا حکم ہوتا ہے۔ ایسا ہی قرآن سے مستفاد ہے: ”انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبیین من بعدہ واو حینا الی ابراہیم واسماعیل واسحاق و یعقوب والاسباط و عیسی وایوب

صفحہ ١٩٤

ويونس وهارون وسليمان ٠ وآتينا داود زبورا"

(نساء: ١٦٣)

والے نبیوں کی طرف اور وحی نازل کی ابراہیم، اسماعیل، اسحٰق، یعقوب اور ان کی اولاد عیسیٰ اور ایوب، ہارون، سلیمان کی طرف اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی ٭

اس آیت میں اولو العزم رسول اور دیگر انبیاء علیہم السلام کا ذکر آیا ہے۔ مگر وحی بھیجنے کا طریقہ سب کا ایک ہی جیسا بیان کیا ہے جو لفظ کما سے ظاہر ہے۔ چونکہ رسول اللہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کی وحی میں امر و نہی تھا۔ اس لئے دیگر انبیاء علیہم السلام کی وحی میں بھی امر و نہی ماننی پڑے گی۔ اس امر میں تو نبی اور رسول دونوں برابر ہیں۔ شریعت عامہ اور خاصہ تبلیغ کا حکم یا عدم حکم کا فرق اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے:

" شرع لكم من الدين ما وصی به نوحا والذي اوحينا اليك وما وصينا به ابراهيم و موسی و عيسى ان اقيموا الدين ولا تتفرقوا فيه ٠ كبر على المشركين ما تدعوهم "

(الشوریٰ: ١٣)

کی طرف وحی بھیجی اور ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ کو وصیت کی اور وہ یہ ہے کہ دین کو درست رکھو۔ اس میں اختلاف نہ ڈالو۔ جس دین کی طرف آپ مشرکین کو بلاتے ہیں وہ ان پر نہایت گراں ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے رسالت کے لئے منتخب کر لیتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اللہ ان کو ہدایت دیتا ہے۔ ٭

اس آیت میں ان رسولوں کا ذکر ہے جس کو نئے دین کی تبلیغ کا حکم ملا تھا اور وہ صاحب کتاب تھے۔ غرض امر و نہی دونوں کی وحی میں ہوتی ہے اور اسی کا نام وحی تشریعی یا وحی نبوت ہے جو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے : "مابقى احد من خلق الله تعالى يا مره الله با مر يكون شرعا يتعبد به ابدا"

(یواقیت ص ٣٨ ج ٢)

اب کوئی شخص ایسا نہیں رہا جس کو اللہ کسی حکم کا امر کرے : "من قال ان الله تعالى امره بشئی فلیس ذالك يصح انما ذالك تلبس لان الامر من قسم الكلام ٠ وصفته وذالك باب مسدود دون الناس فانه مابقى فى الحضرة الالهية امر تكليفى الا وهو مشروع "

(فتوحات مکیه باب ٢١)

آج ایک شخص کا یہ کہنا کہ اللہ نے اسے کسی بات کا امر کیا ہے بالکل غلط اور محض دھوکہ

صفحہ ١٩٥

ہے۔ کیونکہ امر کلام کی صفت ہے اور اب اس کا دروازہ لوگوں پر بالکل بند ہوچکا ہے۔ کوئی ایسا حکم یا فیصلہ نہیں رہا جس کا شرع محمدی میں ذکر نہ ہو: ’’فلاینزل ملك بالهام على غير النبى بامرونهى ابداً وانما لا ولياءه وحى المبشرات وهو الروياء الصالحة يراها الرجل اوترى‘‘

(فتوحات مکیه ص ٣١٠)

وحی نبوت کے نازل ہونے کے تین طریقے ہیں جو نبیوں ہی کے ساتھ خاص ہیں۔ ولی اور محدث وغیرہ میں نہیں پائے جاتے:

میں ہے: ’’نزل به الروح الامين على قلبك (الشعراء: ١٩٣)‘‘ روح الامین نے تیرے دل پر وحی نازل کی جس میں فرشتہ بشکل انسانی نظر نہیں آتا باریک آواز سنائی دیتی ہے جو گھنٹہ کی جھانج یا مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح معلوم ہوتی ہے۔ ایسی وحی میں رسول اللہ ﷺ کے چہرہ انور پر تغیر کے آثار نمایاں ہو جاتے اور سانس پھول جاتا اور آواز بھرا جاتی تھی اور سخت سردی میں جبین مبارک عرق آلود ہو جاتی اور آپ ﷺ کی ناقہ بوقت سواری زمین پر بیٹھ جاتی اور ایک قدم نہ چل سکتی تھی۔

(دیکھو ان تفاصیل کے لئے بخاری ومسلم وغیرہ)

صاحب (یواقیت ج ١ ص ١٥٣) پر لکھتے ہیں:

الامين على قلبه يوخذ من حسه ويسجى بثوبه ويرغو كما يرغو البعير حتى ينفصل عنه‘‘

بن کر آتے اور کلام ربانی رسول اللہ ﷺ کو پہنچاتے تھے۔‘‘

(مدارج النبوۃ ج ٢ ص ٤٤)

’’انه ﷺ لما كان يرى جبرئيل عليه الصلوة والسلام فى صورة دحية الكلبي يراه حقيقة لا مثالاً ‘‘رسول اللہ ﷺ جبرائیل علیہ السلام کو انسانی شکل میں مثالاً نہیں بلکہ حقیقتاً دیکھتے تھے۔

’’لاتكون الرسالة قط الا بواسطة روح قدسي ينزل برسالة على قلبه احياناً يتمثل له رجلاً وكل وحى لايكون بهذه الصفة لايسمى رسالة بشريعة وانما يسمى وحيا او الهاماً او نفثا او القاءاً ونحو ذالك ‘‘

(کبریت احمر ص ١٢٠)

صفحہ ١٩٦

٣........ بلا واسطہ کسی فرشتہ کے رب العزت خود کلام کرے جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اور آنحضرت ﷺ سے شب معراج ہم کلام ہوا تھا۔ یہ تینوں طریقہ انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کسی ولی یا محدث وغیرہ میں نہیں پائے جاتے۔ البتہ ایک قسم وحی کی اور بھی ہے جس کو وحی نوم یا الہام کہتے ہیں۔ ان تمام قسموں کو اس آیت میں جمع کر دیا گیا ہے: ’’وما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولاً فيوحى باذنه ما يشاء انه على حكيم‘‘ (شوریٰ:٥١)

جلالین میں الا وحیاً کی تفسیر یہ ہے کہ فی المنام یا الہام اور ایسا ہی جامع البیان میں ہے۔ ارسالِ رسول یعنی فرشتہ کے ذریعے سے جو وحی نازل کی جاتی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں جو پہلے گزر چکی ہیں۔ اس لئے مطلق وحی کی چار قسمیں ہوئیں جن میں وحی نوم اور الہام تو انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ تینوں قسمیں نبیوں کے ساتھ مخصوص ہیں کما مرّ ۔

مرزا قادیانی نے بھی ( الحکم نمبر ٣٩ جلد ٣ مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء ) میں نبی اور رسول دونوں کو صاحبِ شریعت تسلیم کیا ہے۔ ’’وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت ہے جس سے انسان خود صاحبِ شریعت کہلاتا ہے ۔‘‘

(مسیح موعود اور ختمِ نبوت ص ٤٤ مصنفہ محمد علی لاہوری)

اولیاء اللہ کو سچی خوابیں یا الہامات ہو جایا کرتے ہیں

وحی نوم کی دو قسم جس میں امر ونہی ہوتی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذبح ولد کا حکم ہوا تھا۔ وہ بھی نبیوں ہی کے ساتھ خاص ہے۔ وحی نوم بمعنی وحی مبشرات یعنی سچی خواب جس میں کسی قسم کی بشارت اور خوشخبری سنائی گئی ہو وہ اولیاء اللہ کو بھی ہو جایا کرتی ہیں:

’’عن ابی هريرة قال قال رسول الله ﷺ لم يبق من النبوة الا المبشرات قالوا مالمبشرات قال الرؤياء الصالحة رواه اللبخارى و زاد مالك برواية عطاء ابن يسار يراها الرجل المسلم او ترى له (مشكوة ص ٣٩٤ كتاب الرؤيا)‘‘ ٭نبوت ختم ہو چکی۔ صرف اس میں مبشرات رہ گئے ہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہیں۔ فرمایا وہ بہترین خوابیں ہیں جن کو نیک مسلمان دیکھتا ہے اور یا اس کے متعلق کسی کو دکھائی جاتی ہیں۔ ٭

عبادہ بن صامتؓ نے رسول اللہ ﷺ سے آیت: ’’لهم البشرى في الحيوة الدنيا وفي الاخرة (يونس:٦٤)‘‘ ٭ان کے لئے دنیا اور آخرت کی خوشخبریاں ہیں۔ ٭

ے کی نسبت استفسار کیا تو فرمایا کہ: ’’تلك الرؤيا (مسند احمد ج ٥ ص ٣١٥)‘‘ ابن جریر نے ہے: ’’هی فی الدنيا الرؤيا الصال الجنة‘‘ دنیا کی بشارت اچھی خوابیں جس کو نیک جاتا ہے اور آخرت کی خوشخبری جنت ہے۔

ہر سچی خواب نبوت کا جز نہیں ہے

حدیث میں جو سچی خواب کو نبوت کا ج نہیں ہے۔ کیونکہ سچی خوابیں تو کافر اور بد دین ک جس میں مرد مومن کو دنیا یا آخرت کے متعلق خوش خواب کی دو قسمیں کر دیں۔ خوش کرنے والی اچھ رویاء سوء فرمایا ہے: ’’عن ابی قتادة قال ر والحلم من الشيطان فاذا راى احدک رأى يكره فليتعوذ بالله من شرها وم بها احداً فانهالن تضره‘‘

مکروہ خواب سے بچنے کی ترکیب

اس سے بچنے کی تدبیر نہ کی جاتی تو ضرر اور نقصا

آدمی رویاء صالحہ کی وجہ سے نبی نہیں ب

رویاء صالحہ کو نبوت کا چھیالیسواں اخلاق اور حلم، میانہ روی کو نبوت کا چوبیسواں نبوت جو جامع خیرات اور جملہ کمالات کا احا لیکن اس کے بعض اجزا یا چند نشانیاں باقی ر ہے۔ وہ دراصل نبوت نہیں بلکہ ولایت کا مقا کہ جو شخص سچی اور کثرت سے دیکھے وہ نبی ہو ’’سچے خواب فاسق، فاجر، تارک نماز، بد الشیاطین، فاسق، نجاست خوار، پلید، حرام خو (تحفہ گولڑویہ ص ٤٨ خزائن ج ١٧ ص ١٦٨، ١٦٧ حاشیہ

صفحہ ١٩٦

کی نسبت استفسار کیا تو فرمایا کہ: ”تلك الرؤيا الصالحة يراها الصالح او ترى له“ (مسند احمد ج ٥ ص ٣١٥) ”ابن جریر نے بروایت ابو ہریرہؓ اس حدیث کو اس طرح بیان کیا ہے: ”هی فی الدنيا الرؤيا الصالحة يراها العبد او ترى له وفي الاخرة الجنة“ دنیا کی بشارت اچھی خوابیں جس کو نیک آدمی دیکھتا ہے یا اس کے لئے دوسرے کو دکھایا جاتا ہے اور آخرت کی خوشخبری جنت ہے۔

ہر سچی خواب نبوت کا جز نہیں ہے

حدیث میں جو سچی خواب کو نبوت کا چھیالیسواں جز کہا ہے اس سے ہر سچی خواب مراد نہیں ہے۔ کیونکہ سچی خوابیں تو کافر اور بد دین کو بھی ہوتی ہیں۔ بلکہ وہ سچی خواب نبوت کا جز ہے جس میں مرد مومن کو دنیا یا آخرت کے متعلق خوشخبری دی گئی ہو۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے سچی خواب کی دو قسمیں کر دیں۔ خوش کرنے والی اچھی خوابوں کو مبشرات اور رنج دینے والی خوابوں کو رؤیاء سوء فرمایا ہے: ”عن ابی قتادة قال رسول الله ﷺ الرؤياء الصالحة من الله والحلم من الشيطان فاذا ارى احدكم ما يحب فلا يحدث به الا من يحب واذا رأى يكره فليتعوذ بالله من شرها ومن شر الشيطان وليتفل ثلاثا ولا يحدث بها احداً فانهالن تضره“

(متفق عليه مشكوة ص ٣٩٤ كتاب الرؤيا)

مکروہ خواب سے بچنے کی ترکیب اس لئے بتائی گئی کہ وہ باعتبار نتیجہ کے سچی تھی۔ اگر اس سے بچنے کی تدبیر نہ کی جاتی تو ضرر اور نقصان پہنچنے کا ڈر تھا۔

آدمی رؤیاء صالحہ کی وجہ سے نبی نہیں بن جاتا

رؤیاء صالحہ کو نبوت کا چھیالیسواں جز کہنا ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک روایت میں حسن اخلاق اور حلم، میانہ روی کو نبوت کا چوبیسواں جز کہا ہے۔ اس قسم کی روایتوں کا یہ مطلب ہے کہ نبوت جو جامع خیرات اور جملہ کمالات کا احاطہ کرنے والی چیز ہے وہ مجموعہ تو اب باقی نہیں رہا۔ لیکن اس کے بعض اجزا یا چند نشانیاں باقی رہ گئی ہیں جس کا نام صوفیاء نے نبوت غیر تشریعیہ رکھا ہے۔ وہ دراصل نبوت نہیں بلکہ ولایت کا مقام ہے۔ اس لئے اس حدیث کی یہ مراد ہر گز نہیں ہے کہ جو شخص سچی اور کثرت سے دیکھے وہ نبی ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے کہ: ”سچے خواب فاسق، فاجر، تارک نماز، بدکار، حرام کار، کافر، اللہ، رسول کے دشمن، اخوان الشیاطین، فاسق، نجاست خوار، پلید، حرام خور، کنجروں سے بدتر، بددین، ملحد بھی دیکھ سکتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٦٨، ١٦٧ متن وحاشیہ ملخص) کیونکہ جز کبھی بعینہ کل نہیں ہو سکتا۔

بلاواسطہ کسی فرشتہ کے رب العزت خود کلام کرے جس طرح حضرت موسیٰ آنحضرت ﷺ سے شب معراج ہم کلام ہوا تھا۔ یہ تینوں طریقہ انبیاء علیہم میں ہیں۔ ان تمام قسموں کو اس آیت میں جمع کر دیا گیا ہے: ”وما كان لبشر وحيا او من وراء حجاب او يرسل رسولاً فيوحي باذنه كيم“

(شوری: ٥١)

یا وحیاً کی تفسیر یہ ہے کہ فی المنام یا الہام اور ایسا ہی جامع البیان میں فرشتہ کے ذریعے سے جو وحی نازل کی جاتی ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں جو لئے مطلق وحی کی چار قسمیں ہوئیں جن میں وحی نوم اور الہام تو انبیاء علیہم میں ہیں۔ اس کے علاوہ تینوں قسمیں نبیوں کے ساتھ مخصوص ہیں کما مر ۔ نا نے بھی (الحکم نمبر ٢٩ جلد ٣ مورخہ ٧ اگست ١٨٩٩ء) میں نبی اور رسول دونوں کیا ہے۔ ”وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت اور رسالت رسالت ہے، جس سے انسان خود صاحب شریعت کہلاتا ہے۔“

(حجج موجوہ اور ختم نبوت ص ٤ مصنفہ محمد علی لاہوری)

جس میں یا الہامات ہو جایا کرتے ہیں

قسم جس میں امر و نہی ہوتی ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ذبح ولد ساتھ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ وحی نوم بمعنی وحی مبشرات یعنی سچی خواب جس خوشخبری سنائی گئی ہو وہ اولیاء اللہ کو بھی ہو جایا کرتی ہیں: هريرة قال قال رسول الله ﷺ لم يبق من النبوة الا مبشرات قال الرؤياء الصالحة رواه اللبخارى و زاد مالك سار يراها الرجل المسلم او ترى له (مشكوة ص ٣٩٤ كتاب ہو چکی۔ صرف اس میں مبشرات رہ گئے ہیں۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ ہیں۔ فرمایا وہ بہترین خوابیں ہیں جن کو نیک مسلمان دیکھتا ہے اور یا اس ہیں ۔ ۞

ٹ نے رسول اللہ ﷺ سے آیت: ”لهم البشرى فى الحيوة یونس: ٦٤) ”ان کے لئے دنیا اور آخرت کی خوشخبریاں ہیں۔“

صفحہ ١٩٨

"السمت والتؤدة الاقتصاد جز من اربع و عشرين من النبوة اى من شمائل الانبياء الا النبوة لا يتجزاء ولا ان من جمعها يكون نبياً"

(مجمع البحار ج ٤ ص ٦٦٤ بلفظ نباء)

٭ نیک راست ، بردباری اور میانہ روی نبوت کا چوبیسواں جز ہے۔ یعنی انبیاء علیہم السلام کی عادات اور خصائل حسنہ میں سے ایک خصلت ہے۔ ورنہ نبوت کی تجزی اور ٹکڑے نہیں ہوتے اور نہ وہ شخص جو ان خصائل کو جمع کرے وہ نبی ہوتا ہے۔ )

الہام کی تحقیق اور اس کی قسمیں

مبشرات کے علاوہ اولیاء اللہ کو کبھی سچے الہامات بھی ہوتے ہیں۔ الہام کے معنی لغت میں در دل افگندن چیزے کسی خیال کا دل میں ڈالنا ہے۔ صوفیاء کی اصطلاح میں الہام کے یہ معنی ہیں کہ انسان کے دل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے متعلق ایک صحیح خیال پیدا ہو ۔ مگر اس کے سچے اور صحیح ہونے کی یہ نشانی ہے کہ وہ کتاب وسنت کی ظاہری تعلیم کے موافق اور اس کے مطابق ہو اور اگر آئندہ واقعات کے متعلق اس میں خبر دی گئی ہو تو اکثر سچی اور درست نکلے۔ لہٰذا جو الہام واقعات کے لحاظ سے جھوٹا یا خلاف شرع ہو یا صاحب الہام اس میں امر و نہی کا دعویٰ کرے تو وہ الہام وسوسہ شیطانی اور کذب محض سمجھنا چاہئے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حوالوں سے ظاہر ہے:

او الترك وهو نوع من الوحى"

(مجمع البحار ج ٤ ص ٥٣٤ بلفظ لهم)

الہام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے دل میں ایک ایسا خیال ڈالے جو اس کو ایک کام کے کرنے یا نہ کرنے پر آمادہ کرے۔

ليقظة ومشافهة واما وحى الاولياء فيكون على لسان ملك الهام وهو على ضروب كما قاله الشيخ فى باب ص ٢٨٥ فمنه مايكون متلقى بالخيال كا لمبشرات فى عالم الخيال وهو الوحى فى المنام...... ومنه مايكون خيالاً فى حس على ذى حس ومنه مايكون معنى يجده الموحى اليه فى نفسه من غير تعلق حس ولا خيال ممن نزل عليه (يواقيت)" نبی کی وحی بذریعہ جبرائیل علیہ السلام بیداری کی حالت میں بالمواجہ یعنی جبرائیل علیہ السلام کو دیکھتے ہوئے ہوتی ہے۔ لیکن ولی کی وحی الہام اس طرح نہیں ہوتی بلکہ کبھی سوتے ہوئے

صفحہ ١٩٩

خواب میں کوئی چیز اس کو دکھائی دیتی ہے۔ گاہے بیداری میں کوئی شے نظر آتی ہے اور کبھی بغیر حس اور خیالی قوت کے خود بخود دل میں ایک بات پیدا ہوتی ہے۔ جس طرح کہ حضرت عمرؓ کے دل میں بعض باتیں خود بخود منبعث ہوئیں جو کچھ عرصہ کے بعد بذریعہ وحی نبوت رسول اللہ پر ظاہر کر دی گئیں۔ مثلاً شراب کی حرمت، عورتوں کے لئے پردہ کا حکم، بدر کے قیدیوں کو قتل کا مشورہ، یہ ایسی چیزیں ہیں جن کا خیال پہلے حضرت عمرؓ کے دل میں اٹھا اور پھر اسی کے موافق رسول خدا ﷺ پر وحی نازل ہوئی۔ اذان کے کلمات ملک الہام ہی کے ذریعے سے حضرت زیدؓ اور حضرت عمرؓ پر ظاہر کئے گئے تھے۔ مگر اس کو وحی نبوت نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ جو وحی انبیاء علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے وہ وہی ہے جو بیداری میں جبریل علیہ السلام کے ذریعے سے نازل ہو اور بوقت نزول جبرائیل علیہ السلام نظر آ رہے ہوں یا بلا واسطہ کسی فرشتہ کے خدا تعالیٰ ان سے ہم کلام ہو۔ یہ باتیں وحی الہام کی کسی قسم میں بھی موجود نہیں۔

" فان قلت فهل ينزل ملك الالهام على احد من الاولياء بامراو نهى (فالجواب) ان ذالك ممتنع كماقاله الشيخ فى الباب ص ٣١٠ فلا ينزل ملك الالهام على غير نبى بامرونهي ابداً وانما وللاولياء وحى المبشرات وهو الرؤياء الصالحة يراها الرجل اوترى له' وهى حق و وحى غالباً لانها غير معصومة "

(يواقيت ج٢ ص٨٠)

ملک الالہام کا کسی ولی پر امر و نہی کے ساتھ اترنا بالکل ممتنع ہے کبھی کسی ولی پر امر و نہی کا الہام نہیں ہوتا۔ اولیاء کے لئے سوائے مبشرات کے اور کچھ نہیں رہا اور وہ رؤیاء صالحہ ہے جو اکثر سچی نکل آتی ہے۔

٤ ..... "انه ليس فى الحضرة الالهيه امر تكليفى الا وهو مشروع فما بقى للا ولیاء اسماع امرها فاذا امرهم الانبیاء بشئی کان لهم المنا جاة واللذة الساریة فی جمیع وجودهم لا غیر و معلوم ان المناجاة لاامر فیها ولانهی انما هو حدیث وسمر وکل من قال من اهل الکشف انه مامور بامر الهی مخالف لامر شرعی محمدی تکلیفی فقد التبس علیه الامر"

(يواقيت ج٢ ص٨٥)

جس قدر بھی امر شرعی تھے وہ سب دین محمدی میں ختم ہو چکے ہیں۔ اولیاء اللہ کے لئے سوائے ان احکام کے سننے کے کچھ نہیں رہا اور اس میں ان کو لذت آتی ہے۔ کیونکہ وہ ان کو انبیاء

صفحہ ٢٠٠

علیہم السلام کی زبان مبارک سے سنتے ہیں۔ اس لئے سوائے مناجات کے امر ونہی وہاں نہیں ہوتا اور جو اہل کشف میں سے اپنے الہام میں امر ونہی کا دعویٰ کرے وہ فریب خوردہ ہے۔

وكل من ادعاها بعد محمد ﷺ فهو مدع شريعة اوحى بها اليه سواء وافق شرعنا وخالف فان كان مكلفاً ضربنا عنقه والا ضربنا عنه صفحاً“

(یواقیت والجواهر ج ٢ ص ٣٨)

لايشاهد فيعلمهم بصحة حديث قيل بتضعيفه اوعكسه من طريق الالهام من شهود الملك و سماع خطابه الا الانبياء واما الولى فان سمع صوتاً لايرى صاحبه وأن راى الملك لايسمع كلاما اذ لا تشريع فى وحى الاولياء“

(كبريت احمر ص ١٠ فتوحات باب ٢٢)

اولیاء اللہ کے لئے سوائے الہام کے کچھ باقی نہیں رہا۔ جو ایسے فرشتہ کے ذریعہ سے ان کے دل میں ڈالا جاتا ہے جو ان کو نظر نہیں آتا۔ مگر وہ ان کو حدیث کی صحت و فساد سے آگاہ کرتا ہے۔ فرشتہ کی رؤیت اور اس کے کلام کا سماع یہ دونوں چیزیں انبیاء علیہم السلام کے لئے مخصوص ہیں۔ ولی اگر آواز سنتا ہے تو فرشتہ اس کو نظر نہیں آتا اور اگر فرشتہ دکھائی دیتا ہے تو وہ ان سے کوئی کلام نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ وحی تشریعی کی خصوصیتیں ہیں۔

وحی نبوت اور کشف تام اور الہام کا باہمی فرق

غرض الہام وحی نبوت کے مقابلہ میں ایک معمولی چیز ہے۔ بلکہ الہام تو کشف تام کے برابر بھی نہیں ہو سکتا اور کشف کا درجہ وحی نبوت سے کم ہے۔ اسی لئے نص کے مقابلہ میں کشف کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر وحی الہام، وحی نبوت کا مقابلہ کیونکر کر سکتا ہے؟۔ چنانچہ شیخ اکبر وحی نبوت اور الہام کا فرق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”فان النفث فى الروع منحط عن رتبه وحى الكلام ووحى الاشارة والعبارة ففرق يا اخى بين وحى الكلام ووحى الالهام“

وحی الہام دل میں ایک نیک خیال پیدا کرنے کا نام ہے جو وحی نبوت سے درجہ میں کم ہے۔ کیونکہ وحی نبوت میں فرشتہ بالمواجہہ خدا کا پیغام سناتا ہے اور سچے الہام میں ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ الہام کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو اس حدیث میں مذکور ہے:

صفحہ ٢٠١

”عن ابن مسعودؓ قال قال رسول الله ﷺ ان للشيطان لمة بابن آدم وللملك لمة فاما لمة الشيطان فايعاد بالشر وتكذيب بالحق واما لمة للملك فايعاد بالخير و تصديق بالحق فمن وجد ذالك فليعلم انه من الله فليحمد الله ومن وجد الاخرى فليتعوذ بالله من الشيطان الرجيم ثم قراء الشيطان يعدكم الفقر و يأمركم بالفحشا رواه الترمذى (مشكوة ص١٩ باب الوسوسة)“

”عن ابن مسعودؓ قال قال رسول الله ما منكم من احد الا وقد وكل به قرينه من الجن و قرينه من الملائكة (رواه مسلم، مشكوة ص١٨ باب الوسوسة)“

یعنی انسان پر فرشتہ اور شیطان دونوں مقرر کئے گئے ۔ شیطان گناہ اور تکذیب حق کے لئے اکساتا ہے اور فرشتہ نیکی کی طرف بلاتا ہے اور سچائی کی تصدیق کراتا ہے۔ جس شخص کے دل میں نیکی کے خیالات پیدا ہوں تو وہ اللہ کی طرف سے ہیں اور گناہ اور خلاف شرع کاموں کی رغبت شیطانی وسوسہ ہے۔

معلوم ہوا کہ الہام کی دو قسمیں ہیں۔ الہام شیطانی اور الہام رحمانی۔ خدا کی طرف سے وہی الہام سمجھا جائے گا جو شریعت محمدی کے موافق ہو۔ اسی لئے سچے الہام میں شریعت کے موافق ہونے کی شرط لگائی گئی ہے۔ یہ مرتبہ اتباع شریعت سے دین دار مسلمانوں کو حاصل ہو سکتا ہے۔ بلکہ کشف تام کا رتبہ اس سے بڑھا ہوا ہے۔ اسی لئے سوائے حضرت عیسیٰ کے جو ان کو نزول کے بعد حاصل ہوگا صالحین میں سے کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔

الہام دونوں کو ہو سکتا ہے اور وحی نبوت کسی کو بھی نہیں ہو سکتی: ”قد جاء الخبر الصحيح فى عيسى وكان ممن اوحى اليه قبل رسول الله ﷺ انه اذا نزل آخر الزمان لا يؤمنا الا بنا اى بشريعتنا وسنتنا مع ان له الكشف التام اذا نزل زيادة على الالهام الذى يكون له كما لخواص هذه الامة “

(یواقیت ج٢ ص٨٤)

حدیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانہ میں نزول فرمائیں گے۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ سے پہلے ان پر وحی نبوت نازل ہوتی تھی۔ مگر نزول من السماء کے بعد سوائے کشف تام کے اور علاوہ الہام کے جو صالحین کو بھی ہوتا ہے وحی نبوت نازل نہیں ہوگی۔

نبی یا رسول کہلانے کیلئے تین باتیں ہونی ضروری ہیں

معلوم ہوا کہ انسان نبی یا رسول اسی وقت کہلایا جا سکتا ہے یا نبوت کے درجہ پر جب ہی

صفحہ ٢٠٢

پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ اس میں مندرجہ ذیل اوصاف موجود ہوں:

ہوں اور ان کو امت میں تبلیغ کرنے سے روک دیا گیا ہو۔ البتہ پہلے رسول کی شریعت کی تبلیغ اور اتباع کرنے کا حکم ہو۔ گویا وہ بعض احکام میں شریعت سابقہ کا پابند ہو اور بعض میں نہ ہو اور اگر اس کو ایسی شریعت عامہ عطا فرمائی گئی ہو جس کی تبلیغ کرنے کا حکم ہو۔ اس صورت میں رسول پیغامبر کی حیثیت سے خود بھی عمل کرے اور دوسرے کو بھی پابندی کی تلقین فرمائے۔

پہنچایا گیا ہو۔

ملہم ہونے کی شرطیں

اسی طرح ملہم ہونے کی بھی چند شرطیں ہیں:

قرآنیہ کا دروازہ کھل جائے۔ کیونکہ گناہ اور معصیت کی وجہ سے شیطان کا تسلط قوی اور فرشتہ کی امدادی طاقت کمزور ہو جاتی ہے جس سے الہامات ربانی کے بجائے شیطانی وساوس کا القاء ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”ھل انبئکم علی من تنزل الشیطین تنزل علی کل افاک اثیم“

(الشعراء: ٢٢١،٢٢٢)

شیخ عبدالوہاب شعرانی کبریت احمر میں فرماتے ہیں: ”الولی الکامل یجب علیہ معانقة العمل بالشريعة المطهرة حتى تفتح الله تعالى له في قلبه عين الفهم عنه فيلهم معاني القران ويكون من المحدثين“

(ص ٢٢)

سنت کے موافق ہو۔ قرآن میں ہے: ”ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الكافرون“

(مائدہ: ٤٤)

”ومن يشاقق الرسول من بعد“

(نساء: ١١٥)

یواقیت میں ہے: ”فان من شان اهل الطريق ان تكون جميع حركاتهم وسكناتهم محرزة على الكتاب والسنة ولا يعرف ذالك الا بالتبحر في علم الحديث والفقه والتفسير“

(یواقیت ج ٢ ص ٩٢)

صفحہ ٢٠٣

”اذا رأيتم شخصاً متربعاً فى الهواء فلا تلتفتوا اليه الا رأيتموه مقيدا بالكتاب والسنة“

(یواقیت ج٢ ص٩٣)

اور جو شریعت کے مطالب اور مضامین آج ہمارے ہاتھ میں ہیں ان کے خلاف کوئی بات نہ کہے۔

شیخ عبدالوہاب لکھتے ہیں: ”هل ثم طريق للشريعة غير مابايدينا من النقول ثم يقول من زعم ان ثم علما باطناً غير مابيدينا فهو باطل يقارب الزنديق (یواقیت ج٢ ص٩٢) ”جو علم شریعت کا آج ہمارے ہاتھ میں ہے کیا اس کے سوا کوئی اور معنی بھی ہیں۔ ہرگز نہیں جو شخص ایسا دعویٰ کرے وہ زندیق اور بے ایمان ہے۔

شیخ اکبر فتوحات میں لکھتے ہیں: ”اعلم ان ميزان الشرع الموضوعة في الارض هي مابايدى العلماء من الشريعة فمهما خرج ولى عن الميزان الشرع المذكورة مع وجود عقل التكليف انكرنا عليه ذالك فان غلب عليه الحال سلم له حاله مالم يعارض نصاً او اجماعاً واما مخالفة لما طريقه الفهم فلا قال فان ظهر بامر يوجب الحد في ظاهر الشرع ثابت عند الحاكم اقيمت عليه الحدود ولابد“

(کبریت احمر ص ١٣٨ و فتوحات باب ١٨٥)

”آج شریعت کی ترازو وہی ہے جو علماء ظاہر کے ہاتھ میں ہے۔ جو ولی اس میزان پر صحیح نہیں اترے گا۔ اگر وہ ذی ہوش ہے تو اس پر انکار کریں گے اور اگر مغلوب الحال ہے تو اس کو معافی دی جائے گی۔ بشرطیکہ اس نے کوئی کلمہ قرآن وحدیث اور اجماع امت کے خلاف نہ کہا ہو اور اگر اپنی رائے اور عقل سے ایسے معانی اور مطالب بیان کرتا ہے جو ظاہری شریعت کے خلاف ہیں تو پھر اس کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ اگر وہ مستحق سزا کا ہوگا تو اس پر حد شرعی جاری کر دی جائے گی۔“

الٰہی اور بشارات وغیرہ ہوتی ہیں اور بس۔ اسی پر تمام اہل کشف کا اجماع ہے: ”وقد ثبت عند اهل الكشف باجمعهم انه لا تحليل ولا تحريم لا حد بعد انقطاع الرسالة والنبوة“

(کبریت احمر ص١١٦)

ملہم کے لئے فرشتہ کی روایت اور اس کے کلام کا سماع یہ دونوں کبھی جمع نہیں ہوتیں۔

صفحہ ٢٠٤

یجنی بذالك ملك وانما امر فى الله تعالى به من غير واسطة قلنا له هذا اعظم من الاول فانك اذن ادعيت ان الله تعالى كلمك كما كلم موسى عليه الصلوة والسلام ولا قائل بذالك من علماء النقل ولا من علماء الذوق“

(یواقیت ص٢٨ ج٢)

تحقیق نبوت غیر تشریعیہ

چونکہ الہام اور کشف اور رویاء صالحہ بھی ایمان اور تقویٰ طہارت کی طرح انبیاء علیہم السلام کے مجموعہ اوصاف و کمالات میں سے چند وصف ہیں۔ اس لئے اس پر صوفیائے کرام نے نبوت غیر تشریعیہ کا لفظ اطلاق کر دیا۔ ورنہ وہ بعینہ نبوت نہیں ہے۔ اسی طرح حسن خلق، حلم، عفت، اعتدال، ایمان، ورع وتقویٰ پر بھی نبوت کاملہ کا اطلاق کرنا چاہئے۔ کیونکہ وہ بھی نبی کے اوصاف میں سے چند وصف ہیں۔ لہٰذا ہر مومن جس میں عفت، پاک دامنی، کمال ایمان وغیرہ خاصیتیں موجود ہوں وہ نبی ہونا چاہئے۔ باجودیکہ یہ ضابطہ بداہتہ باطل ہے۔ غرض نبوت غیر تشریعیہ ولایت کا ایک درجہ ہے جس کو فنا فی الرسول سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ جس طرح بحر توحید میں ڈوبے ہوئے کو فنا فی اللہ کہتے ہیں۔ مگر وہ باجود اس بات کے بعینہ خدا نہیں بن جاتا اسی طرح رسول اللہ کی کامل پیروی کرنے والا محبّ رسول کو فنا فی الرسول کہتے ہیں اور وہ اس وجہ سے بعینہ رسول یا نبی نہیں ہو جاتا۔ بلکہ ولایت کا ایک ایسا مرتبہ ہے کہ جس کی شان کسی قدر نبوت کی شان سے ملتی جلتی ہے۔

مگر مرزا قادیانی نبی تشریعی اور رسول میں کوئی فرق نہیں کرتے اور جو تفسیر رسول کی، کی جاتی ہے۔ یعنی اس کو ایک کتاب خلق کی ہدایت کے لئے اور شریعت عامہ امت کے عمل کرنے کے واسطے دی جائے۔ بعینہ وہی معنی نبی تشریعی کے لیتے ہیں باجویکہ نبی تشریعی کے معنی عام ہیں جو نبی اور رسول دونوں پر بولے جاتے ہیں اور رسول اس کی ایک قسم ہے اور قسم کبھی مقسم کی عین نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں نبی تشریعی اور غیر تشریعی صوفیائے کرام کی ایجاد کردہ اصطلاح ہے۔ قرآن وحدیث اور پہلی آسمانی کتابوں میں نبی غیر تشریعی کا مطلقاً ذکر نہیں ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں سے خواہ وہ نبی تھے یا رسول۔ مگر سب کے سب نبی تشریعی تھے اور ان پر وحی نبوت نازل ہوتی تھی۔ غیر تشریعی نبی کوئی بھی نہ تھا۔ محض صوفیائے کرام نے فنا فی الرسول کے مقام کا نام نبوت غیر تشریعیہ رکھ دیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت کر دی کہ نبوت کا لفظ اس پر اطلاق کرنا قطعاً ناجائز اور بالکل حرام ہے۔ چنانچہ یواقیت میں ہے:

صفحہ ٢٠٥

”قد كان الشيخ عبدالقادر الجيلى يقول اوتى الانبياء اسم النبوة واوتينا اللقب اى حجر علينا اسم النبى مع ان الحق تعالى يخبرنا فى سرائرنا، بمعانى كلامه و كلام رسوله ﷺ ويسمى صاحب هذا المقام من انبياء الاولياء غاية نبوتهم التعريف بالاحكام الشرعية حتى لا يخطئوا فيها لا غير “

(اليواقيت ج٢ ص٣٦)

اگرچہ اللہ تعالیٰ ہمارے دل میں قرآن اور حدیث کے معانی اور مطالب کا القاء کرتا ہے اور ہم کو شریعت کے حقائق واسرار پر نبیوں کی طرح مطلع کرتا ہے۔ لیکن ہم پر لفظ نبی اطلاق کرنا صحیح نہیں ہے۔ چونکہ اس مقام میں نبوت کی جھلک ہوتی ہے۔ اس لئے اس درجہ پر جو فائز ہوں ان کو انبیاء الاولیاء سے موسوم کر سکتے ہیں۔ ان کی نبوت صرف اس قدر ہے کہ ان کو شریعت کا صحیح علم بذریعہ الہام کے کرا دیا جائے۔ تاکہ شریعت کے سمجھنے میں غلطی نہ کھائیں۔ گویا ایسے لوگ حدیث من اراد الله به خيرا يفقه فی الدین کے صحیح مصداق ہو جاتے ہیں۔

”القسم الثانى، من النبوة البشرية وهو خاص بمن كان قبل بعثة نبينا محمد ﷺ وهم الذين يكونون كالتلامذه بين يدى الملك فينزل عليهم الروح الامين بشريعة من الله فى حق نفوسهم يتعبدهم بها فيحل لهم ماشاء و يحرم عليهم ماشاء ولا يلزمهم اتباع الرسل وهذا المقام لم يبق له اثر بعد محمد “

(يواقيت ج٢ ص٢٥)

”نبوت کی وہ قسم جس میں نبی کی ذات کے واسطے امر و نہی اور حلال و حرام کے احکام بذریعہ جبرئیل نازل ہوتے ہیں اور وہ اس حکم میں پہلے رسول کے تابع نہیں ہوتے۔ البتہ رسولی شریعت کی اشاعت کرنے میں مانند سرکاری اہلکاروں کے کام کرتے ہیں۔ ایسی نبوت رسول عربی کے ظاہر ہونے سے پیشتر تمام نبیوں میں پائی جاتی تھی۔ لیکن اب حضرت کی بعثت سے وہ بالکل بند ہو چکی ہے۔“

معلوم ہوا کہ جس نبی کو ہدایت کے لئے کتاب نہیں دی جاتی تھی اس میں دو حیثیتیں پائی جاتی تھیں:

کو تلقین فرماتے تھے۔

صفحہ ٢٠٦

تھے بلکہ بعض احکام براہ راست خدا کی طرف سے بذریعہ جبرئیل نازل ہوتے تھے۔ نہ بالکل رسولوں کی طرح مستقل تھے اور نہ مانند امتی کے ہر حکم میں تابع ہوتے تھے۔

چنانچہ حضرت لوط اور حضرت یوسف اور ہارون علیہم السلام مستقل نبی نہ تھے۔ بلکہ تابع ہی تھے۔ قرآن مجید میں ہے: ”فامن له لوط“

(العنکبوت: ٢٦)

”ای فی جمع مقالاته لا فی النبوة وما دعا اليه من التوحيد فقط (ابو السعود ص ٣٧٩) “ حضرت ابراہیم پر لوط ایمان لے آئے اور ان کی ہر ایک بات تسلیم کر لی۔

بھائی ہارون کو میرا مددگار اور تصدیق کرنے والا بنا کر میرے ساتھ بھیج دے۔

”افعصيت امرى (طه: ٩٣) “

اقرار کیا: ”اتبعت ملة ابائی ابرهيم واسحق ويعقوب (يوسف: ٣٨) “ میں اپنے آباؤ اجداد ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کے دین کا متبع ہوں۔

(المائده: ٤٤)

ہم نے توریت نازل کی جس میں ہدایت اور حق کی روشنی ہے۔ انبیاء علیہم السلام اسی کے احکام بیان کرتے تھے۔ علامہ ابن جریر حدیث تسوسهم الانبیاء کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”ای انهم کانوا اذا ظهر فیهم فساد بعث الله لهم نبیا، یقیم لهم امرهم ویزيل ما غیّروا من احکام التوراة “ نبی کا پہلے رسول کے تابع ہونا اور شریعت سابقہ کا تبلیغ کرنا ان آیات سے ظاہر ہے اور بعض احکام کا براہ راست خدا سے حاصل کرنا پہلے ثابت ہو چکا ہے۔ لہٰذا جو شخص آج رسول اللہ ﷺ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہوئے خدا سے براہ راست فیض حاصل کرنے کا دعویدار ہو گا وہ مدعی نبوت سمجھا جائے گا۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع ہے۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣ ص ٥٠٠، خزائن ج ١ ص ٥٩٤)

صفحہ ٢٠٧

(القصص: ٧) ” سے ظاہر ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نبیہ نہیں تھیں ۔ ذوالقرنین کو مخاطب بناتے ہوئے یہ فرمایا گیا : ”ياذالقرنين اما أن تعذب واما ان تتخذ فيهم حسنا (كهف: ٨٦)“ حضرت مریم پر یہ وحی اتری: ”یا مریم اقنتی لربك واسجدى (آل عمران: ٤٣)“

تین قسمیں نبیوں کے ساتھ خاص نہیں ہیں ۔ البتہ الہام اور القاء ربانی کے علاوہ مخاطبہ الہیہ کی وہ قسم جو بذریعہ فرشتہ کے بیداری میں ہو یا بلا واسطہ خدا تعالیٰ کسی سے کلام کرے۔ یہ دونوں قسمیں وحی نبوت کہلاتی ہیں جو نبیوں کے علاوہ کسی غیر میں نہیں پائی جاتیں۔ اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کو بذریعہ الہام یا خواب کے واقعہ کے اطلاع دی گئی یا کسی فرشتہ کی معرفت حقیقت حال سے آگاہ کیا گیا ۔ مگر یہ فرشتہ کی اپنی گفتگو تھی خدا کی پیغام رسانی نہیں تھی ۔ اسی طرح مریم کے ساتھ فرشتہ کا مکالمہ تھا خدا تعالیٰ کے حکم کی پیغام رسانی تھی ۔ الہام یا فرشتوں کی گفتگو وحی نبوت نہیں کہلاتی۔ دیکھو آیت : ”ولوتری اذالظالمون فى غمرات الموت والملائكة باسطوا ايديهم اخرجوا انفسكم (الانعام: ٩٣) “(میں اخرجوا انفسكم فرشتوں کا کلام ہے جو کفاروں سے سکرات موت کے وقت کہا جاتا ہے ۔ مگر اس مخاطبہ کی وجہ سے کسی کی نبوت ثابت نہیں ہوتی ۔ ومثلہ کثیر فی القرآن ۔

”بالهام أو بالروياء او باخبار ملك كماكان لمريم وليس هذا وحى الرسالة ولا تكون هي رسولاً “ یہ فرشتوں کا مکالمہ یا الہام تھا جس کو وحی نبوت نہیں کہتے ۔ اور ذوالقرنین اگر نبی نہ تھے تو یہ وحی اس زمانہ کے نبی کی معرفت آپ کو پہنچائی گئی تھی ۔ براہ راست ان پر نازل نہیں ہوئی اور ایسی مثالیں قرآن میں بکثرت موجود ہیں ۔

(البقرة: ٦٥)

(البقرة: ٦١)“

میں جن بنی اسرائیل کو مخاطب بنایا گیا ہے ۔ ان میں سے ایک بھی نبی، رسول نہ تھا۔ بلکہ وحی اس زمانہ کے نبی پر اتری تھی۔ مگر مخاطب امت کو بنایا گیا ۔

(الاعراف: ٣١)

صفحہ ٢٠٨

٤....... " الم أعهد يا بنى آدم ان لا تعبدوا الشيطن (یٰسین: ٦٠) " اس میں بنی آدم کو مخاطب بنایا جو یقیناً نبی نہ تھے۔ بس ایسا ہی یہاں سمجھنا چاہیے۔ یا اس مخاطب الہیہ سے الہام مراد ہے: ” ان کان نبیا فقدا وحی الله الیہ بہذا والآ فقدا وحی الی نبی فامره النبی بہ او کان الہام (مدارک)“

باب: مرزا قادیانی اور دعویٰ نبوت

یوں تو مرزا قادیانی کی کوئی تحریر بھی کسی معاملہ میں قطعی فیصلہ نہیں ہے۔ لیکن نبوت کا دعویٰ آپ نے ایسے مبہم اور پیچیدہ لفظوں میں کیا ہے کہ آپ کے متبعین بھی کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی جماعت کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی نے ابتداء میں محدثیت اور مسیحیت کا دعویٰ کیا اور نبوت کے مدعی کو کافر سمجھا۔ لیکن ١٩٠١ء میں ان کو معلوم ہوا کہ آپ حقیقی طور پر نبی ہیں۔ چنانچہ اس کے بعد آپ نے نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اسی پر آخر تک قائم رہے۔

لاہوری جماعت کہتی ہے کہ آپ سے جو خدا کا مکالمہ ہوا اس میں آپ کو نبی یا رسول کے لفظ سے ضرور یاد کیا گیا۔ لیکن وہ مجازی اور لغوی اعتبار سے تھا۔ حقیقی طور پر نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ مدعی نبوت کو کافر کہتے رہے اور کبھی نبوت مستقلہ کا دعویٰ نہیں کیا۔

ہر ایک فریق اپنے دعویٰ کے ثبوت میں مندرجہ ذیل خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ مرزا محمود احمد اپنی کتاب (القول الفصل کے ص ٢٤) پر لکھتے ہیں ” تریاق القلوب کی اشاعت تک (جو کہ اگست ١٨٩٩ء سے ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٢ء ختم ہوئی) آپ کا عقیدہ یہی تھا کہ آپ کو حضرت مسیح پر جزوی فضیلت ہے اور آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے تو یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے اور ناقص نبوت ہے۔ لیکن بعد میں جیسا کہ نقل کردہ عبارت کے فقرہ دو اور تین سے ثابت ہے۔ آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ ہر ایک شان میں مسیح سے افضل ہیں اور کسی جزوی نبوت کے پانے والے نہیں بلکہ نبی ہیں۔ ہاں ایسے نبی جس کو آنحضرت ﷺ کے فیض سے نبوت ملی۔ پس ١٩٠٢ء سے پہلے کی کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہو سکتا ۔“ چونکہ اسی کتاب میں ٥ نومبر ١٩٠١ء کے ٹریکٹ سے چار حوالے ص ٤، ٥، ٦، ٧ پر تحریر کئے جو ١٩٠٢ء کے دعویٰ نبوت کے خلاف تھے۔ اس لئے حقیقت النبوۃ میں ایک سال اور کم کر کے لکھتے ہیں ۔ ”اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠١ء میں آپ نے اپنے عقیدہ میں تبدیلی کی ہے اور ١٩٠٢ء درمیانی عرصہ ہے جو دونوں خیالات کے درمیان برزخ کے طور

صفحہ ٢٠٩

پر حد فاصل ہے۔ ....... پس یہ بات ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے کے وہ حوالے جن میں آپ نے نبی ہونے سے انکار کیا ہے اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنی غلط ہے۔“

(ص ١٢١)

اس خیال کی تائید میں مرزا قادیانی کی وہ تحریریں جو ١٩٠١ء کے بعد لکھی گئیں پیش کی جاتی ہیں۔ احمدیہ پاکٹ بک والا حوالجات نقل کرتا ہوا لکھتا ہے:

کوئی نیا نبی نہیں ہوں پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنہیں تم لوگ سچا مانتے ہو۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ٤٧١)

میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں۔“

(آخری مکتوب اخبار عام ٢٣ مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

موعود کہلائے گا۔“

(حقیقت الوحی ص ١٠١، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦، حاشیہ)

آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔“

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٠، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لئے یہ مرتبہ بخشا کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٤)

(البلاغ المبین ص ٢٠)

معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر اس معنی سے کہ میں نے اپنے رسول اور مقتدائے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے، رسول اور نبی ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، ٢١٠)

صفحہ ٢١٠

(٨) ..... "ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔"

(اخبار بدر ٥؍ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٨)

اس قسم کی اور بھی تحریرات تھیں جو بخوف طوالت حذف کردی گئیں۔ ان حوالہ جات سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے خیال میں رسولی شریعت کی اتباع کرنے سے نبوت مل سکتی ہے اور ایسی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا اور نہ یہ ختم نبوت کے خلاف ہے اور خود مرزا قادیانی بھی ایسے نبی تھے۔ گویا نبی تشریعی مرزا قادیانی کی رائے میں وہی ہے جو مخلوق کی ہدایت کے لئے نئی شریعت عامہ تبلیغیہ اور نئی کتاب لے کر آئے اور بغیر کسی پہلے رسول کے اتباع کے نبوت حاصل کرے۔ یعنی جو تعریف رسول کی ہے وہ مرزا قادیانی کے نزدیک نبی تشریعی کی ہے اور لاہوری جماعت کا امیر محمد علی اپنے رسالہ ’’مسیح موعود اور ختم نبوت‘‘ میں قادیانی خیالات کی تردید کرتے ہوئے مرزا قادیانی کی تحریرات کے مندرجہ ذیل حوالے پیش کرتا ہے:

١...... "میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائکہ اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔ بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شرو ع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی۔"

(اشتہار مورخہ ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠،٢٣١)

٢...... "تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام وتوضیح المرام وازالۃ الاوہام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت ناقصہ ہے۔ یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔ بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی معنوں کی رو سے بیان کئے گئے ہیں۔ ورنہ حاشا وکلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں۔ میرا اس پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔ میری نیت میں جس کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے متکلم

صفحہ ٢١١

مراد لئے ہیں۔ یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے: ”عن ابی ھریرۃ قال قال النبی ﷺ قد كان فيمن قبلكم من بنى اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكون انبياء فان يك فى امتى منهم احد فعمر“ !بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو کاٹا ہوا خیال فرمالیں ۔“

(اشتہار مورخہ ٣؍ فروری ١٨٩٢ء جو ڈاکٹر عبدالحکیم کے مقابلہ میں دیا گیا مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٤)

حقیقی نبوت اور رسالت ہے جس سے انسان خود صاحب شریعت بنتا ہے ۔ بلکہ رسول کے لفظ سے صرف اسی قدر مراد ہے کہ خدا تعالیٰ سے علم پا کر پیشین گوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے والا۔“ چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں اسلام میں فتنہ پڑتا ہے، اس کا نتیجہ سخت برا نکلتا ہے ۔ اس لئے اپنی جماعت کو معمولی بول چال اور دن رات کے محاورے میں یہ لفظ نہیں چاہئیں...... جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے تمام نبیوں اور رسولوں کو قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ پر ختم کر دیا ۔“

(الحکم نمبر ٣٠ ص ٣ مورخہ ١٧؍ اگست ١٨٩٩ء)

میں لیلۃ القدر سے انکاری ہوں اور آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقین کامل سے جانتا ہوں اور اس پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا اور قرآن کریم کا ایک شوشہ یا نقطہ منسوخ نہیں ہوگا۔ ہاں محدث آئیں گے جو اللہ جل شانہ سے ہم کلام ہوتے ہیں اور نبوت تامہ کے بعض صفات ظلی طور پر اپنے اندر رکھتے ہیں اور بلحاظ بعض وجوہ شان نبوت کے رنگ سے رنگین کئے جاتے ہیں اور ان میں سے میں ایک ہوں ۔“

(نشان آسمانی ص ٣٠ خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

مرزا قادیانی نے تمام تحریروں میں محدث کو متکلم اور غیر نبی کہا ہے اور ہر قسم کے نبی آنے سے انکار کیا ہے ۔ مگر یہ تمام تحریریں ١٩٠١ء سے پہلے کی ہیں ۔ اس کے بعد کی تحریرات ملاحظہ ہوں ۔

فيضه واظهره وعده ولله مكالمات ومخاطبات مع اوليائه في هذه الامة وانهم يعطون صيغة الانبياء وليسوا بنبين في الحقيقة فان القران اكمل

صفحہ ٢١١

فاشارا الى ان مادة النبوة و بذرها بک

’’میں نے یہ کہا ہے کہ محدث میں ت بالفعل پس محدث بالقوہ نبی ہے اور اگر نبوت کا نبوت سب کے سب تحدیث میں مخفی اور مضمر ہو لئے رک جاتا ہے کہ باب نبوت مسدود ہے او اشارہ کیا ہے اور اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو پس یہ اشارہ کیا کہ نبوت کا مادہ اور اس کا تخم محد

اس تحریر میں تحدیث کے معنی بدل دعویٰ کر دیا باجودیکہ پہلے یہ عقیدہ تھا کہ نہ محدث کسی قسم کا نبی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ لاہوری تحدیث میں تمام اجزاء نبوت‘ رہتا۔

نبوت وہبی ہے کسبی نہیں

قوۃ اور فعلیت کا فرق بالکل غا استعداد اور قابلیت کی ضرورت نہیں۔ مج کے لئے قابلیت کا کوئی خاص معیار مقرر نہیں کوئی قابلیت ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ مرد ہو عورت نبی عربی جو رسمی علوم اور معمولی نوشت و خوان تھے۔ کبھی نبی نہ بنائے جاتے اور باوجود یکہ حينا اليك روحاً من امرنا ماكنت اسی طرح ہم نے تجھ پر وحی نازل کی باجود چیز ہے۔ پھر نبوت کے اجزاء اور اس کے کے وحی ربانی نازل ہو اور احکام شرعیہ تبلیغ سے موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہم کلام ہو۔

وطر الشريعة ولا يعطون الافهم القرآن ولا يزيدون عليه ولا ينقصون ومن زاد وانقص فأولئك من الشيطان الفجرہ‘

(مواہب الرحمن ص ٦٦، ٦٧ ج ١٩ ص ٢٨٥ خزائن ١٩٠٣ء)

حقیقت الوحی میں جو مرزا غلام احمد قادیانی کی سب سے آخری کتاب ہے لکھتے ہیں کہ ’’والنبوة قد انقطعت بعد نبيناﷺ ولاكتاب بعد لفرقان الذى هوخير الصحف السابقة ولا شريعة بعد الشريعة المحمدية بیدانی سميت بنبياً لسـ خيرا البرية وذالك امرظلى من بركات المتابعة وما ارى فى نفسى خيرا ووجدت كلما وجدت من هذه النفس المقدسة وباعنى الله من نبوتى الاكثرة المكالمة والمخاطبة...... فليس حق احدان يدعى النبوة بعد رسولنا المصطفى على الطريقة المستقلة وما بقى بعده الاكثرة المكالمة وهو بشرط الاتباع لا بغير متابعة خير البرية والله ماحصل لى هذا لمقام الامن انوار اتباع الاشعة المصطفوية و سميت نبياً من الله على طريق المجاز لا على وجه الحقيقة‘‘

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦٤، ٦٥ خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٨، ٦٨٩)

معلوم ہوا کہ ١٩٠٢ء کے بعد مرزا قادیانی کے خیال میں سابق کی طرح ہر قسم کی نبوت بند نہیں تھی بلکہ محض اس نبوت کا دروازہ بند ہوا تھا جو مستقل طور پر حاصل ہو اور اس میں ہدایت کے لئے نئی شریعت اور کتاب دی جائے اور جو نبوت رسول اللہ ﷺ کی اتباع سے بلا شریعت عامہ تبلیغیہ کے حاصل ہو وہ نبوت قطعاً بند نہیں ہوئی اور مرزا قادیانی بھی ایسے ہی نبی تھے جو صاحب کتاب نبی کے مقابلہ میں مجازاً نبی کہلایا جاتا ہے۔ اصل میں وہ محدث ہے جس میں نبوت کے تمام اجزاء بالقوہ جمع ہوتے ہیں۔ اس لئے اس کو بالقوہ نبی کہہ سکتے ہیں۔ بالفعل نہیں کہہ سکتے اور وہ اس کی تائید میں مرزا قادیانی کی یہ عبارت پیش کرتے ہیں۔

(٦)...... ’’قلت ان اجزاء النبوة توجد فى التحديث كلها ولكن بالقوة لا بالفعل فالمحدث نبى بالقوة ولو لم يكن سدباب النبوة لكان نبياً بالفعل...... وكمالات النبوة جميعها مخفية مضمرة فى التحديث وما حبس ظهورها وخروجها الى الفعل الا سدباب النبوة والى ذالك اشار النبى ﷺ فى قوله لوكان بعدى نبى لكان عمر وما قال هذا الا بناء على ان عمر كان محدثاً

صفحہ ٢١٣

فاشاراً الى ان مادة النبوة و بذرها يكون موجودا فى التحديث

(حمامة البشری ص ٨١، ٨٢ خزائن ج ٧ ص ٣٠١، ٣٠٢)

’’میں نے یہ کہا ہے کہ محدث میں تمام اجزاء نبوت پائے جاتے ہیں۔ لیکن بالقوہ نہ بالفعل پس محدث بالقوہ نبی ہے اور اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو وہ بالفعل نبی ہوتا..... کمالات نبوت سب کے سب تحدیث میں مخفی اور مضمر ہوتے ہیں اور ان کا ظہور اور خروج فعل تک صرف اس لئے رک جاتا ہے کہ باب نبوت مسدود ہے اور اسی کی طرف نبی علیہ السلام نے اپنے قول میں اشارہ کیا ہے اور اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا اور یہ صرف اسی لئے کہا کہ عمر محدث تھے۔ پس یہ اشارہ کیا کہ نبوت کا مادہ اور اس کا تخم محدث میں موجود ہوتا ہے۔‘‘

(ترجمہ از مسیح موعود، محمد علی لاہوری)

اس تحریر میں تحدیث کے معنی بدل دیئے اور اس میں تمام اجزاء نبوت کے جمع ہونے کا دعویٰ کر دیا باجودیکہ پہلے یہ عقیدہ تھا کہ تحدیث میں نبوت کے بعض صفات پائے جاتے ہیں اور محدث کسی قسم کا نبی نہیں ہوتا۔ جیسا کہ لاہوری بابو کے حوالہ سے ظاہر ہے۔ تحدیث میں تمام اجزاء نبوت تسلیم کرنے کے بعد نبی اور محدث میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

نبوت وہبی ہے، کسبی نہیں

قوۃ اور فعلیت کا فرق بالکل غلط اور غیر مفید ہے۔ کیونکہ مقام نبوت کے لئے کسی استعداد اور قابلیت کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ محض موہبت الٰہی ہے جس کو وہ چاہتا ہے دیتا ہے۔ اس کے لئے قابلیت کا کوئی خاص معیار مقرر نہیں ہے۔ ”اللّٰہ اعلم حیث یجعل رسالتہ“ اگر کوئی قابلیت ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ مرد ہو عورت نہ ہو۔ ما ارسلنا من قبلك الا رجا لاً “ ورنہ نبی عربی جو رسمی علوم اور معمولی نوشت و خواند سے بھی ناواقف اور شرائع اور احکام سابقہ سے بیخبر تھے۔ کبھی نبی نہ بنائے جاتے اور باوجودیکہ کہ قرآن عزیز میں یہ ارشاد ہوتا ہے: ”وکذالك او حینا الیك روحاً من امرنا ماکنت تدری ماالکتاب ولا الایمان (شوریٰ: ٥٢) “ اسی طرح ہم نے تجھ پر وحی نازل کی باوجودیکہ تو نہ کتاب سے واقف اور نہ ایمان کو جانتا تھا کہ وہ کیا چیز ہے۔ پھر نبوت کے اجزاء اور اس کے صفات میں سے یہ بھی ہے کہ اس پر بذریعہ جبرائیل امین کے وحی ربانی نازل ہو اور احکام شرعیہ تبلیغیہ یا غیر تبلیغیہ اس پر ظاہر ہوں یا خدا تعالیٰ بلا واسطہ اس سے موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہم کلام ہو۔ اگر یہ اجزاء بھی محدث میں پائے جاتے ہیں تو پھر وہ نبی

صفحہ ٢١٤

ہی ہوا۔ اس کو محدث کہنا اور قوۃ اور فعل کا فرق نکالنا سراسر غلط ہے اور اگر صفات اس میں نہیں پائے جاتے تو پھر تمام اجزاء نبوت ایک محدث میں جمع کرنا صحیح نہیں۔ اس اجمال سے تو صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ لاہوری اور قادیانی جماعت کے درمیان مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کے بارے میں محض جنگ زرگری ہے جس کی حیثیت اختلاف لفظی سے زیادہ نہیں ہے۔

کیونکہ اس بات پر دونوں جماعتیں متفق ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نئی شریعت تبلیغ لے کر کوئی شخص نہیں آسکتا اور نہ مستقل طور پر بغیر رسول کی اتباع کے کوئی نبی بن سکتا ہے۔ البتہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور پیروی کرنے سے ایک شخص میں نبوت کے تمام اجزاء اور اس کی صفات جمع ہوسکتی ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی میں تھے۔ چنانچہ محمد علی اپنے رسالہ ”مسیح موعود اور ختم نبوت کے ص ٢٣“ پر لکھتا ہے کہ ”ہاں جس بات کے سب لوگ اس وقت تک قائل تھے وہی تھی جس کی تشریح میاں صاحب نے اپنے مضمون میں رد کردی ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ آپ کے کمالات اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات کے ان منازل تک پہنچ گئے کہ آپ کی اتباع کی برکت سے ایسے لوگ پیدا ہوچکے ہیں جو بڑے سے بڑے انبیاء کا مرتبہ رکھتے تھے۔ نیز اس پر اتفاق ہے کہ نبی شرعی وہ نبی ہے جس پر شریعت جدیدہ اور نئی کتاب نازل ہو اور وہ کسی رسول کی شریعت کا تابع نہ ہو۔ جیسا کہ گزشتہ حوالہ جات سے ثابت ہوچکا ہے۔ البتہ اگر اختلاف ہے تو یہ ہے کہ جو شخص ایک حیثیت سے نبی اور ایک جہت سے امتی ہو وہ حقیقتاً نبی کہلایا جاسکتا ہے یا نہیں۔“

لاہوری کہتے ہیں کہ وہ محدث ہے اور اس کو نبی یا رسول مجازاً کہتے ہیں اور اس کا منکر کافر نہیں ہوتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”ابتداء سے میرا یہی مذہب ہے کہ میرے دعوے کے انکار کی وجہ سے کوئی شخص کافر یا دجال نہیں ہوسکتا۔“

(تریاق القلوب ص ١٣٠ خزائن ج ١٥ ص ٤٣٢)

اور مرزا محمود اور اس کی پارٹی اس امر کی قائل ہے کہ ابتداء میں مرزا قادیانی اس مقام کو محدثیت کا درجہ سمجھتے رہے۔ لیکن ١٩٠١ء کے بعد ان کو معلوم ہو گیا کہ یہ مقام نبوت کا ہے اور اس سے ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ کیونکہ ختم نبوت کے اگر مخالف ہے تو وہ نبوت تشریعیہ ہے اور نبوت غیر تشریعیہ اس کے خلاف نہیں ہے۔ چنانچہ حقیقت النبوۃ میں لکھتے ہیں کہ ”خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود چونکہ ابتداءً نبی کی تعریف یہ خیال کرتے تھے کہ نبی وہ ہے جو نئی شریعت لائے یا بعض حکم منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبی ہو۔ اس لئے باوجود اس کے وہ سب شرائط جو نبی کے

لئے واقع میں ضروری ہیں آپ میں پائی جاتی رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعویٰ کرتے ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط اس لئے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جا نبیوں کے سوا اور کسی میں پائی نہیں جاتی اور

مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کس

ان تمام تحریرات کے بعد ایک دا مجبور ہے کہ مرزا قادیانی نے شہرت کے ابت محدث کے وہ معنی بیان کئے جو نبی غیر رسول معنی رسول کے تھے وہی نبی کے بیان کئے کا دعویٰ ہوتا رہا اور جب عوام پر ان کا یہ جا جمع ہو گئی تو نبوت کا دعویٰ کھلے الفاظ میں کر میں آپ محدثیت کا پردہ چاک کر کے نبوت کسی قدر صحیح ہے کہ مرزا قادیانی ایک زمانہ توجیہہ بیان کی جو نبی پر صادق آتی تھی۔ ا

محدث کی تعریف

کیونکہ محدث اصل میں اس کرنے کی وجہ سے قرآن عزیز کے معا آنکھوں کو ایسا روشن کر دے جس سے مطالب کو صحیح طور پر سمجھنے لگے۔ چنانچہ ش الکامل یجب علیہ معانقۃ العہ علی الفہم بمنہ فیلہم معانی القر

ابتداء زمانہ میں مرزا قادیا ازالہ میں لکھتے ہیں کہ ”اب یہ بھی یادر عجائبات مخفیہ فرقان اس پر ظاہر ہونے شریف کی آیت الہام کے طور پر القاء ہ

صفحہ ٢١٥

لئے واقع میں ضروری ہیں آپ میں پائی جاتی تھیں۔ آپ نبی کا نام اختیار کرنے سے انکار کرتے رہے اور گو ان ساری باتوں کا دعوٰی کرتے رہے جن کے پائے جانے سے کوئی شخص نبی ہو جاتا ہے۔ لیکن چونکہ آپ ان شرائط کو نبی کی شرائط نہیں خیال کرتے تھے بلکہ محدث کی شرائط سمجھتے تھے کہ اس لئے آپ کو محدث کہتے رہے اور نہیں جانتے تھے کہ میں دعوٰی کی کیفیت تو وہ بیان کرتا ہوں جو نبیوں کے سواء اور کسی میں پائی نہیں جاتی اور نبی ہونے سے انکار کرتا ہوں۔“

(ص ١٤٤)

مرزا قادیانی نے نبوت کا دعوٰی کس طرح کیا

ان تمام تحریرات کے بعد ایک دانشمند اور منصف مزاج انسان اس نتیجہ پر پہنچنے کے لئے مجبور ہے کہ مرزا قادیانی نے شہرت کے ابتدائی زمانہ میں مجددیت اور محدثیت کا دعوٰی کیا اور پھر محدث کے وہ معنی بیان کئے جو نبی غیر رسول کے ہیں اور نبی اور رسول میں کوئی فرق نہیں کیا بلکہ جو معنی رسول کے تھے وہی نبی کے بیان کئے۔ اسی طرح محدثیت کے پردہ میں ایک زمانہ تک نبوت کا دعوٰی ہوتا رہا اور جب عوام پر ان کا یہ جادو چل گیا اور عقیدت مندوں کی ایک جماعت ارد گرد جمع ہوگئی تو نبوت کا دعوٰی کھلے الفاظ میں کر دیا اور یہ مرزا قادیانی کی زندگی کا آخری زمانہ تھا جس میں آپ محدثیت کا پردہ چاک کر کے نبوت کی شکل میں نمودار ہوئے۔ قادیانی جماعت کا یہ خیال کسی قدر صحیح ہے کہ مرزا قادیانی ایک زمانہ تک نبوت کو محدثیت سمجھتے رہے یا یوں کہو کہ محدث کی یہ توجیہہ بیان کی جو نبی پر صادق آتی تھی۔

محدث کی تعریف

کیونکہ محدث اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ جس پر شریعت مطہرہ کی پابندی اور اتباع کرنے کی وجہ سے قرآن عزیز کے معارف کا دروازہ کھل جائے اور اللہ تعالٰی اس کے دل کی آنکھوں کو ایسا روشن کر دے جس سے وہ بغیر ظاہری تعلیم و تعلم کے قرآن کریم کے معانی اور مطالب کو صحیح طور پر سمجھنے لگے۔ چنانچہ شیخ عبدالوہاب شعرانی یواقیت میں لکھتے ہیں: ”فذالک الولی الکامل یجب علیہ معانقۃ العمل بشریعۃ المطہرۃ حتی یفتح اللہ تعالٰی قلبہ علی الفہم بمنہ فیلہم معانی القرآن ویکون من المحدثین بفتح الدال (ص ٢٦)“

ابتداء زمانہ میں مرزا قادیانی بھی محدث کے یہی معنی بیان کرتے تھے۔ جیسا کہ وہ ازالہ میں لکھتے ہیں کہ: ”اب یہ بھی یادرہے کہ عادت اللہ ہر ایک کامل ملہم کے ساتھ یہی رہی ہے کہ عجائبات خفیہ فرقان اس پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات ایک ملہم کے دل پر قرآن شریف کی آیت الہام کے طور پر القاء ہوتی ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣١٨، خزائن ج ٣ ص ٢٦١)

صفحہ ٢١١

اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے جس کے معنی آنحضرت ﷺ نے متکلم مراد لئے ہیں۔ یعنی محدثوں کی نسبت فرمایا ہے: ”عن ابي هريرة قال قال النبي ﷺ قد كان فيمن قبلكم من بنى اسرائيل رجال يكلمون من غير ان يكون انبياء فان يك فى امتى منهم احد فعمر“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣١٤، ٣١٣)

ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ تھے جن سے مکالمہ الٰہی ہوتا تھا۔ مگر وہ نبی نہیں ہوتے تھے۔ میری امت سے بھی اگر کوئی ایسا ہو تو عمرؓ ہوگا۔ من غیر انبیاء کی قید نے بالکل واضح کر دیا کہ ملہم نبی نہیں ہوتا۔ کیونکہ اولیاء کے ساتھ مکالمہ الٰہی کے یہی معنی ہیں کہ ان کے دل میں کوئی سچی بات ڈالی جاتی ہے یا وہ مکالمہ جس کی آواز کانوں سے سنی جاتی ہے یا فرشتہ کی وساطت سے ہوتا ہے نبیوں کے لئے مخصوص ہے۔ اس کی مزید تحقیق پہلے گزر چکی ہے۔ گویا ملہم اور نبی یہ دو متغائر مفہوم ہیں جو کبھی جمع ہی نہیں ہو سکتے۔ مرزا قادیانی کا بھی شروع زمانہ میں یہی عقیدہ تھا۔ ملاحظہ ہو:

”قرآن شریف کی وہ قرأت یاد کرو کہ جو ابن عباس نے کی ہے اور وہ یہ ہے ومـــــا ارسلناك من قبلك من رسول ولا نبى ولا محدث الا اذا تمنى القى الشيطان فى امنيته!

(ازالۃ ص ٤٢٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢١)

مرزا قادیانی نے اس قرأت کو نقل کر کے دو باتیں ظاہر کر دیں:

شریف میں ہے۔ وہ صرف ایک ملہم ہی تھا۔ نبی نہیں تھا۔“

(ازالۃ ص ٧١٣، خزائن ج ٣ ص ٤٨٧)

لیکن کچھ عرصہ کے بعد آپ نے محدث اور نبی کے مفہوم میں ترمیم کر دی۔ محدث تو اس شخص کا نام رکھا جو امتی ہو کر نبی بنا ہو۔ یعنی وہ نئی شریعت اور نیا دین لے کر نہ آیا ہو۔ بلکہ وہ پہلی شریعت کا تابع اور محض اتباع کی وجہ سے نبوت کے درجہ پر پہنچا ہو۔ نبی کے یہ معنی کئے کہ وہ صاحب شریعت تشریعیہ ہو وہ کسی پہلی شریعت کا تابع نہ ہو۔ گویا جو معنی رسول کے ہیں وہ نبی کے اور جو مراد نبی سے تھی وہ محدث کی کر دی۔ اب بجائے تین مقام کے صرف دو درجہ رہ گئے:

صفحہ ٢١٧

یہ معنی ہیں کہ وہ اجزاء نبوت میں سے ایک جز کا نام ہے متروک کر دیئے اور جس حدیث میں اس کو جزو من اجزاء النبوۃ فرمایا گیا ہے۔ اس کا ترجمہ نوع من انواع النبوۃ کر دیا۔

"فاعلم أرشدك الله ان النبى محدث والمحدث نبى باعتبار حصول نوع من انواع النبوة وقد قال رسول الله ﷺ لم يبق من النبوة الا المبشرات اى لم يبق من انواع النبوة الا نوع واحد وهى المبشرات من اقسام الرؤياء۔"

(توضیح المرام ص ١٩ خزائن ج ٣ ص ٦٠)

اس میں من النبوۃ کے معنی من انواع النبوۃ بیان کر کے مبشرات کو نبوت کی ایک نوع بنا دیا۔ باوجودیکہ مبشرات اور رویاء صالحہ نبوت کا چھیالیسواں جز ہے اور جزء عین کل یا اس کی قسم نہیں ہو سکتا۔

اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ محدثیت اور نبوت میں جامع کمالات کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھا ۔ صرف قوۃ اور فعلیت کے لفظی اعتبار پر اکتفاء کی گئی۔ باوجودیکہ باب نبوت کے بند ہو جانے کی وجہ سے کوئی شخص مقام نبوت میں قدم ہی نہیں رکھ سکتا۔ پھر محدثیت میں جمیع اجزاء نبوت کے پائے جانے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔

خود محمد علی اپنی کتاب "مسیح موعود" میں شیخ اکبر کا یہ مقولہ نقل کر رہے ہیں کہ امت محمدیہ میں کوئی شخص مقام نبوت میں داخل نہیں ہو سکتا اور نہ نبوت کے متعلق اپنا ذوق پیش کر سکتے ہیں۔ لیکن پھر وہ مرزا قادیانی کو جامع کمالات نبوی اور اجزاء نبوت پر حاوی ہونا تسلیم کر رہے ہیں۔

مصرعہ - بسوخت عقل ز حیرت کہ اینچہ بوالعجبی ست !

چنانچہ وہ لکھتے ہیں: اعلم انه لا ذوق لنا فی مقام النبوة لنتكلم عليه وانا نتكلم على ذالك بقدر ما اعطينا من مقام الارث فقط فانه لا يصح منا دخول مقام النبوۃ !

(الفتوحات نقلہ محمد علی فی رسالہ ص ٢٩)

مقام نبوت کے متعلق ہمیں کوئی ذوق نہیں ہے کہ ہم اس پر کلام کر سکیں جو تھوڑا سا حصہ بطور وراثت محمدی مل جاتا ہے۔ اس کے متعلق کچھ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ کوئی شخص نبی کے بعد نبوت کے مقام پر قدم نہیں رکھ سکتا۔

صفحہ ٢١٨

شیخ عبدالوہاب شعرانی لکھتے ہیں: ”فلا تلحق نهاية الولاية بداية النبوة ابداً ولو ان ولياً تقدم الى العين التي ياخذ منها الانبيا لاحترق“

(یواقیت ج٢ ص٧١)

ولایت کا انتہائی درجہ نبوت کے ابتدائی درجہ تک نہیں پہنچ سکتا اور اگر کوئی ولی اس چشمہ کی طرف قدم اٹھائے جہاں سے انبیاء علیہم السلام اخذ کرتے ہیں تو فوراً جل جائے۔

اسی طرح کسی ولی میں جمیع اجزاء نبوت کے بالقوۃ جمع نہیں ہوسکتے: ”اما قدم محمدﷺ فلا يطأه اثره احد كمالا يكون احد على قلبه وكمالا يكون احد وار ثا له على الكمال ابداً لانه لوورثه على الكمال لكان رسولا مثله او نبيا بشريعة تخصه ياخذها عمن اخذ منه محمدﷺ ولا قائل بذلك فنعوذ بالله من التلبيس“ یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعینہ متابعت کسی سے نہیں ہو سکتی اور نہ کسی کا دل آپ جیسا ہوسکتا ہے اور نہ کوئی وراثتہ تمام کمالات نبوی پر حاوی ہو سکتا ہے۔ ورنہ وہ ان جیسا رسول یا نبی تشریع صاحب شریعت خاصہ غیر تبلیغیہ ہوگا اور اس کا امت میں سے کوئی قائل نہیں۔ یہ وسوسہ شیطانی ہے جس سے ہم پناہ مانگتے ہیں۔“

معلوم ہوا کہ کمالات نبوی کا کوئی شخص جامع نہیں ہوسکتا اور اگر کسی کو ایسا دعویٰ ہوگا تو لازمی طور پر وہ نبوت کا مدعی ہی سمجھا جائے گا۔ اگر چہ زبان سے اپنے آپ کو نبی یا رسول نہ کہتا ہو۔ اس لئے مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو جمیع اجزاء نبوت کا جامع کہنا اور تمام کمالات نبوت کا بالقوہ اپنے اندر دعویٰ کرنا نبوت کے دعویٰ کرنے کے برابر ہے اور شعر:

منم مسیح زماں منم کلیم خدا
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ١٥٨، خزائن ج١٥ ص١٣٣)

کہنا اگر چہ وہ مثالی طور پر ہو کفر ہے۔

س...... حضرت مجدد الف ثانیؒ تحریر فرماتے ہیں: ”پس حصول کمالات نبوت متابعان را بطریق متبعیت و وراثت خاتم الرسل منافی خاتمیت او نیست“ یعنی کمالات نبوت کا حصول پیروؤں کے لئے پیروی اور وراثت کے طریق پر خاتم الرسل کی بعثت کے بعد اس کے خاتم ہونے کے منافی نہیں۔ معلوم ہوا کہ اولیاء وارث نبی ہونے کی وجہ سے جامع کمالات نبوت ہو سکتے ہیں اور یہی منشاء ان حدیثوں کی ہے:

صفحہ ٢١٩

دروازہ بند نہ ہوتا تو وہ بالفعل نبی کر دیا جاتا۔

ج....... مجدد صاحب نے وراثت محمدیؐ کا ذکر کیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ کسی شخص میں جمیع اجزاء نبوت کے جمع ہو سکتے ہیں یا روحانیت اور ظاہری علوم کے علاوہ نبوت کی خصوصیات میں بھی وراثت جاری ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے اس عبارت سے سمجھا ہے۔ مجدد صاحب کی وہی مراد ہے جو شیخ اکبر نے فتوحات کے باب میں لکھا ہے:

”ولا يخفی ان الارث کلہ یرجع الی نوعین معنوی ومحسوس فالمحسوس ھوالاخبار المتعلقۃ بافعالہ واقوالہ واحوالہﷺ واما المعنوی فھو تطہیر النفس من مذامّ الاخلاق تحلیتھا بمکارمھا وکثرۃ ذکر اللہ عزوجلّ علی کل حال بحضور و مراقبۃ“

(یواقیت ج٢ ص٨٩)

رسول اللہ ﷺ کی وراثت دو قسم کی ہے۔ ظاہری اور معنوی۔ ظاہری وراثت حضور ﷺ کا قول و فعل اور آپ ﷺ کے حالات ہیں (جس کے علمائے ظاہر وارث ہیں) تزکیہ نفس تقویٰ طہارت اخلاقی خوبیوں کے ساتھ متصف ہونا اور بد اخلاقیوں سے بچنا اور ہر حال میں اللہ کا ذکر کرنا وغیرہ وراثت معنوی ہے۔ جس طرح متخلق بااخلاق اللہ سے خدائی کی صفتیں کسی شخص میں پیدا نہیں ہوسکتیں اور وہ خدا نہیں کہلایا جا سکتا ۔ اس طرح اخلاق نبوی حاصل کرنے کی وجہ سے کمالات کا جامع یا نبی بالقوہ نہیں بن سکتا۔ یہی مراد حدیث ”علماء امتی “ کی ہے اور ”لو کان بعدی نبی لکان عمر “ کے یہ معنی کرنے کہ اصل نبوت بالقوۃ موجود تھی غلط ہے۔ اس حدیث میں صرف ان کی نبوت کے واسطے موزونیت کا اظہار کیا ہے۔ نہ یہ کہ اس میں جمیع کمالات نبوت بالقوہ موجود تھے۔ ورنہ تو ان سے زیادہ ابوبکرؓ اس بات کے مستحق تھے۔ پھر نبوت کے حصول کے واسطے لیاقت کا کوئی خاص معیار مقرر نہیں ہے۔ جیسا کہ مذکور ہو چکا۔ اس کے علاوہ کمالات نبوت میں نبی کے مساوی ہونے کے باوجود اگر کوئی فرق لاہوری جماعت کے خیال کے موافق فاعل مختار ہو سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ نبی بالفعل کو حقیقی نبی کہہ سکتے ہیں اور ان کو حقیقت میں نبی نہیں کہہ سکتے۔ گو نبی کے معنی سے محدث کہہ سکتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی صرف لغوی نبی نہیں بلکہ خدا کی طرف سے خطاب یافتہ نبی ہونے کے مدعی ہیں۔ بلکہ ”فلا یظھر علی غیبہ احداً (جن:٢٦) “ جو نبیوں کے واسطے مخصوص ہے پیش کر کے اپنی نبوت ثابت کرنا

صفحہ ٢٢٠

چاہتے ہیں۔ پھر لغوی اور حقیقی کا فرق نکالنا بھی بے سود ہے چنانچہ ملاحظہ ہو:

میرا گناہ ہوگا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ میں اسی پر قائم ہوں اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں ۔“

( مرزا کا آخری مکتوب اخبار عام ٢٣ مئی ١٩٠٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٩٧)

نبی اور صدیق پاچکے ہیں۔ پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگویاں ہیں جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے ...... مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا۔ اس مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور مصفی غیب حسب منطوق آیت (فلا یظهر علی غیبه احدا) نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے۔ وہ طریق براہ راست بند ہے ...... اس موہبت کے لئے محض بروز ظلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ٥٥، حاشیہ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا وہ قیامت تک باقی رہے گی ۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نبوت اور رسالت جو آیت کا مصداق ہے مستقل طور پر بلا واسطہ تو حاصل نہیں ہو سکتی۔ مگر مرزا کے خیال میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع سے یہ درجہ نصیب ہو سکتا ہے اور یہی معنی ظلیت کے ہیں۔

لہذا محمد علی کا دعویٰ ظلیت کو دعویٰ نبوت کی نفی میں پیش کرنا کہ سایہ اور اصل شے برابر نہیں ہوا کرتی جائز نہ رہا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے (الحکم مورخہ ٢٣ اپریل ١٩٠٠ء) میں ظلیت کے معنی کمالات نبوی کا حاصل کرنا لکھا ہے اور ایسی ظلیت کا وجود دوسرے حقیقی نبیوں میں تسلیم کیا ہے جس کا مطلب بالکل ظاہر ہے کہ جب دوسرے نبی باوجود ظلیت کے حقیقی نبی تھے تو مرزا قادیانی کیوں حقیقی نبوت سے محروم رکھے جائیں۔ ملاحظہ ہو اخبار الحکم جس میں وہ لکھتے ہیں: ”پہلے تمام انبیاء ظل تھے نبی کریم ﷺ کی خاص خاص صفات میں اور اب ہم ان تمام صفات میں نبی کریم کے ظل ہیں ۔“ (الحکم ج ٦ نمبر ١٥، ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء، ملفوظات ج ٣ ص ٢٧٠)

جب ایک صفت میں ظل ہونے کے باوجود تمام انبیاء نبی حقیقی تھے تو مرزا قادیانی جو جمیع اوصاف نبوی میں اپنے آپ کو ظل کہہ رہے ہیں کیوں نبی حقیقی نہ ہوں گے؟۔

صفحہ ٢٢١

رہا یہ شبہ کہ وہ اپنے منکر کو کافر نہیں کہتے ۔ اگر وہ نبی ہوتے تو ان کا منکر ضرور کافر سمجھا جاتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی غیر رسول کا خیال امت کے اولیاء اللہ کی طرح ہے۔ کسی خاص ولی کو ماننا اور اس کی بیعت کرنا ضروری نہیں ۔ البتہ بیعت میں داخل ہونے کے بعد ان سے بلا وجہ شرعی علیحدہ ہونا مذموم ہے اور نبی کی بیعت سے نکلنا موجب کفر ہے۔

چنانچہ فتوحات کے باب ٣١٣ میں ہے : ”اعلم ان اول رسول ارسل نوح علیہ السلام ومن كانوا قبلہ انما كانوا انبیاء کل واحد علی شریعۃ من ربہ فمن شاء دخل فی شرعہ معہ و من شاء لم یدخل فمن دخل ثم رجع کان کافراً و من لم یدخل فلیس بکافر“

(کبریت احمر ج ١ ص ١٥)

سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام تھے اور ان سے پہلے سب نبی تھے جن کو خدا کی طرف سے شریعت غیر تبلیغیہ دی گئی تھی۔ جو شخص ان کی شریعت میں داخل ہونا چاہتا تھا وہ داخل ہو جاتا اور جو نہ چاہتا وہ داخل نہ ہوتا۔ اسی لئے ان کی بیعت میں داخل نہ ہونے والا کافر نہ ہوتا۔ لیکن جو شخص بیعت کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتا وہ کافر ہو جاتا تھا۔

یہی بات مرزا قادیانی نے کہی ہے۔ اسی لئے ڈاکٹر عبدالحکیم کو بیعت توڑنے کے بعد مرتد کہا گیا ۔ اس کے علاوہ اپنے نہ ماننے والوں کو کافر نہ کہنا مرزا قادیانی کا پہلا خیال ہے۔ آخری عقیدہ بھی سن لیجئے :

”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔“

(مرزا کا خط بنام عبدالحکیم مندرجہ تذکرہ ص ٦٠٠ طبع سوم )

” یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں .. حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے۔ کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے ........ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے۔“

( حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

س ...... ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذنہ ! اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی امتی نہیں ہو سکتا ۔

ج ....... یہ آیت رسول کے بارے میں ہے۔ نبی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ نبی

صفحہ ٢٢٢

زمانہ نبوت میں امتی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ البتہ رسول زمانہ رسالت میں مطیع کسی دوسرے رسول کا نہیں ہوتا۔ لیکن زمانہ نبوت کے ختم ہو جانے کے بعد مطیع ہونے میں کوئی حرج نہیں۔

حدیث میں ہے: ’’لو کان موسٰی حیاً لما وسعہ الا اتباعی‘‘ اور عیسیٰ علیہ السلام بھی نزول کے بعد نبی ہوں گے۔ مگر نبوت کے عہدہ پر نہیں ہوں گے۔ بلکہ وہ اس معاملہ میں بالکل امتی جیسے ہوں گے۔ پھر اس آیت کا مفہوم صرف اس قدر ہے کہ جس قوم کی طرف اس کو رسول بنا کر بھیجا جاتا ہے وہ اپنی قوم کا پیشوا ہوتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ اپنے سے بڑے رسول کا فرمانبردار یا متبع نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں ہے: ’’واذ اخذ الله میثاق النبیین لما اتیتکم من کتاب وحکمۃ لتؤمنن بہ ولتنصرنہ (آل عمران:٨١)‘‘ اس میں تمام نبیوں کو آنحضرت ﷺ کی اتباع اور پیروی کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔

غرض مرزا قادیانی نے آخر میں نبوت کا کھلا ہوا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے لاہوری جماعت محمد علی کی، اس تحریر کے بموجب جس میں وہ مدعی نبوت کو کافر کہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو بھی خارج از اسلام سمجھیں یا قادیانیوں کے ساتھ مل جائیں اور محدثیت کے پردہ میں ان کی نبوت پیش کرنی چھوڑ دیں۔ چنانچہ مسٹر محمد علی اپنے رسالہ (مسیح موعود اور ختم نبوت ص ٣) میں تحریر کرتے ہیں کہ: ’’آپ دعویٰ نبوت کرنے والے کو کاذب و کافر بناتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد ہم مرزا قادیانی کے وہ چند حوالے پیش کرتے ہیں جس سے ہمارے فیصلہ کی تائید اور تقویت ہوتی ہے:

معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم بالغیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کہیں انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔‘‘

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، ٢١٠)

کا نتیجہ نہ تھا۔ بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔ اس وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک

صفحہ ٢٢٣

پہلو سے امتی بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا۔'' (حاشیہ حقیقت الوحی ص ٩٧، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠) اس بیان کی غلطی پہلے مذکور ہوچکی ہے۔

ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے۔ اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔''

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔'' (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

نبوت رکھا۔'' (چشمہ معرفت ص ٣٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤١)

نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اور اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔ مگر بغیر شریعت کے۔''

(تجلیات الٰہیہ ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٤١٢)

پیشگوئیاں ہوں مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کی رو سے نبی کہلاتا ہے۔''

(تحفۃ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٧)

کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے۔'' (ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)

مرزا قادیانی نے ان حوالجات میں ثابت کر دیا کہ جس شخص کو بکثرت مکالمہ اور مخاطبہ الٰہی سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر کھولے جائیں، اس کو شرعی اصطلاح میں نبی کہتے ہیں اور دنیا میں جس قدر انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں وہ سب اسی قسم کے نبی تھے اور ان پر لفظ محدث اطلاق کرنا جائز نہیں اور ساتھ یہ بھی اعلان کر دیا کہ ''یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ ومخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں۔ تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو

صفحہ ٢٢٤

بار ثبوت اس کی گردن پر۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

لاہوری جماعت نبوت حقیقیہ کے دعویٰ سے انکار کرتی ہے۔ مگر مندرجہ ذیل حوالہ سے صاف طور پر ظاہر ہورہا ہے کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں:

کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٣٨ خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

ان کے ساتھ نہیں تھی۔ بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تائید توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں۔“

(شہادت القرآن ص ٤٤ خزائن ج ٦ ص ٣٤٠)

کھلتے ہیں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦ خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

نبی کے معنی ظاہر کرنے کے بعد اسی قسم کی نبوت کا دعویٰ بایں الفاظ کرتے ہیں:

ہوئے ہیں۔ ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٨ خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

رسول اور نبی اللہ ہے یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے۔ کیونکہ جو شخص براہِ راست وحی پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے۔ جیسا کہ نبیوں سے کیا۔ اس پر رسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں ہے۔“

(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١ خزائن ج ١٧ ص ٦١)

کوئی نیا نبی نہیں ہوں۔ پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنہیں تم لوگ سچے مانتے ہو۔“

(بدر ١٩ اپریل ١٩٠٨ء ملفوظات ج ١٠ ص ٤١٧)

امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں ...... ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ اصل میں یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس

صفحہ ٢٢٥

’’ ۔۔۔۔۔۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

عت نبوت حقیقیہ کے دعویٰ سے انکار کرتی ہے۔ مگر مندرجہ ذیل حوالہ سے ہے کہ مرزا قادیانی حقیقی نبی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں :

’’یہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ ومخاطبہ الٰہیہ کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٣٨، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٦)

’’بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں آئے کہ کوئی نئی کتاب لکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ اس کو تقویت دیں

(شہادۃ القرآن ص ٢٦، خزائن ج ٦ ص ٣٢٠)

’’نبی کا شارع ہونا شرط نہیں ۔ یہ صرف موہبت ہے جس سے امور غیبیہ

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠)

ظاہر کرنے کے بعد اسی قسم کی نبوت کا دعویٰ اس امت میں کرتے ہیں

’’اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ایسا نبی ظاہر ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی ۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

’’جو میری نسبت کلام الٰہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے۔ کیونکہ جو شخص براہِ راست وحی پاتا سے مکالمہ کرتا ہے۔ جیسا کہ نبیوں سے کیا۔ اس پر رسول یا نبی کا لفظ بولنا

(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢١، خزائن ج ١٧ ص ٦١)

’’ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو تورات میں مذکور ہیں ۔ میں پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں جنہیں تم لوگ سچے مانتے ہو ۔‘‘

(بدر ١٩ اپریل ١٩٠٨ء ، ملفوظات ج ١٠ ص ٢١٧)

’’ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو ن کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہئے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہلِ حق کا لی ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔ اصل میں یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ معاملہ کرے جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس

میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کتنے ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے۔ جن سے موسوی دین کی شوکت وصداقت کا اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے اور کون سا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔ کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشانات اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اسی لئے ہم نبی ہیں امرِ حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئے ۔‘‘

(ڈائری مرزا قادیانی مندرجہ اخبار بدر ٥ مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)

سے ہوں۔ اس قدر نشان دکھلائے کہ اگر وہ ہزار نبی پر تقسیم کئے جائیں تو ان کی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے ۔‘‘

(چشمہ معرفت ص ٣١٧، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٢)

ان تمام حوالجات سے اچھی طرح ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے اسی قسم کی نبوت کا دعویٰ کیا تھا جو انبیاء بنی اسرائیل میں پائی جاتی تھی اور اس کو ختمِ نبوت کے خلاف نہیں سمجھتے تھے اور اس کا نام لوگوں کے اشتعال کو دبانے کے لئے نبوتِ غیر تشریعیہ رکھا ہوا تھا۔ البتہ رسالت جس کو نبوت تشریعی بھی کہتے تھے اور جس میں نئی کتاب اور شریعت جدیدہ لانے کی شرط لگا رکھی تھی اس کا کھلم کھلا دعویٰ نہیں کیا اور اس کو ختمِ نبوت کے خلاف سمجھتے تھے۔ گویا ان کے خیال میں خاتم النبیین کے معنی خاتم المرسلین یعنی تشریعی نبی کے ختم کرنے والے تھے ۔ اور بس !

مگر ان کا یہ خیال بھی اجماعِ امت کے خلاف اور موجب کفر ہے۔ کما سیظھر لک انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور جیسا کہ خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ’’حضرت محمد مصطفیٰ خاتم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ وحیِ رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ ﷺ پر ختم ہو گئی ۔‘‘

(اشتہار ٢ اکتوبر ١٨٩١ء از رسالہ حج مبرور ص ٣، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

صفحہ ٢٢٦

بلکہ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو مرزا قادیانی نے رسالت تشریعی کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے جو معنی نبی تشریعی کے ازالہ وغیرہ میں بیان کئے ہیں ان کو مرزا قادیانی کے دعاوی سے مقابلہ کرنے کے بعد یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ انہوں نے درپردہ نبی تشریعی ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ چنانچہ ذیل کے اقتباسات ہمارے اس خیال کے زبردست مؤید ہیں:

سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعے سے انہیں تمام اسلامی عقائد اور صوم وصلوٰۃ اور زکوٰۃ اور حج اور جمیع مسائل فقہیہ کے سکھلائے گئے تو پھر بہرحال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اللہ کہلائے گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جائے گی اور کبھی حضرت جبرائیل ان پر نازل نہیں ہوں گے بلکہ وہ بھی بلعمی مسلوب النبوۃ ہوکر امتیوں کی طرح بن جائیں گے تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگرچہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول ہونا فرض کر لیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرائیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں تو یہ امر بھی ختم نبوت کے منافی ہے۔“

(ازالہ ص ٥٧٧، خزائن ج٣ ص ٤١١)

قرآن کے منسوخ بھی ہو جائیں گے تو ظاہر ہے کہ اس نئی کتاب کے اترنے سے قرآن شریف توریت اور انجیل کی طرح منسوخ ہو جائے گا اور مسیح کا نیا قرآن جو قرآن کریم سے کس قدر مختلف بھی ہوگا۔“

(ازالہ ص ٥٨٤ خزائن ج٣ ص ٤١٥)

عبادات یا از نوع معاملات یا از قبیل قوانین قضایا از قبیل مقدمات اطلاع پانا ان کے لئے ضروری ہوگا ...... لہٰذا ان کے لئے بھی لا بدی اور ضروری ہے کہ جمیع اجزاء شریعت کے نئے سرے ان پر نازل ہوں۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨٢ ج٣ ص٤١٥)

وحی رسالت کے ساتھ زمین پر آمدورفت شروع ہو جائے اور ایک نئی کتاب اللہ گو مضمون میں قرآن شریف سے توارد ہی رکھتی ہو پیدا ہو جائے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٨٣، خزائن ج٣ ص٤١٤)

معلوم ہوا کہ عقائد واعمال عبادات اور معاملات قوانین زندگی اور فصل قضاء وغیرہ اجزاء شریعت میں سے کسی جز کا خواہ وہ شریعت محمدیہ کے موافق ہو یا مخالف بذریعہ الہام ظاہر

صفحہ ٢٢٧

ہونا نبوت تشریعیہ ہے جو ختم نبوت کے خلاف ہے۔ حتی کہ وضع حرب اور وضع جزیہ کا حکم بھی ایک شریعت جدیدہ ہے۔ جس سے شریعت محمدی کا منسوخ ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ انعقاد شریعت کے لئے جملہ احکام فقہیہ کا ظاہر ہونا ضروری نہیں۔ صرف ایک حکم بھی شریعت کہلایا جاسکتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی بعض احکام شرعیہ کو وقتی تقاضا کی وجہ سے منسوخ اور تبدیل کر رہے ہیں۔ چنانچہ جہاد کی فرضیت کو حکم شرعی سمجھتے ہوئے رفتار زمانہ کی وجہ سے حرام فرما رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

"ہر ایک مسلمان کو چاہئے کہ ان باتوں پر ہرگز اعتقاد نہ رکھے بلکہ جہاد اب قطعاً حرام ہے۔ اسی وقت تک جہاد تھا کہ جب اسلام پر مذہب کے لئے تلوار اٹھائی جاتی تھی۔ اب خود بخود ایک ایسی ہوا چلی ہے جو ہر ایک فریق اس کاروائی کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے جو مذہب کے لئے خون کیا جائے ....... مگر اب وہ لوگ بھی ان بے جا کاروائیوں سے کنارہ کش ہو گئے ہیں اور عام طور پر تمام لوگوں میں عقل اور تہذیب اور شائستگی آگئی ہے۔ اس لئے مناسب ہے کہ اب مسلمان بھی جہاد کی تلوار کو توڑ کر کلبہ رانی کے ہتھیار بنالیں۔ کیونکہ مسیح موعود آ گیا اور اب تمام جنگوں کا خاتمہ زمین پر ہو گیا۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ٨٢، خزائن ج ١٧ ص ٢٤٣)

مرزا قادیانی بعنوان "دینی جہاد کی ممانعت کا فتویٰ مسیح موعود کی طرف سے" یہ اشعار لکھتے ہیں کہ:

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال
دین کے لئے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آگیا مسیح جو دین کا امام ہے
دین کے تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نورِ خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے

آخری شعر ہے کہ:

کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر
کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٦، ٢٧، خزائن ج ١٧ ص ٧٧، ٧٨)

صفحہ ٢٢٨

عقائد میں ملائکہ کی حقیقت شرعیہ سے انکار کیا۔ فلسفی رنگ میں جبرائیل علیہ السلام کا نزول پانا۔ معجزات کی شرعی حیثیت سے انکار کرتے ہوئے اس کو جادو اور ازقبیل مسمریزم بتایا۔ حیات مسیح اور ختم نبوت سے انکار کیا۔ قرآن عزیز کی تفسیر میں رائے کو دخل دیا اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی کوئی پرواہ نہ کی وغیرہ وغیرہ تمام نئے احکام ہیں جس کا شریعت اسلامی میں کوئی پتہ نہیں ہے۔

اس کے علاوہ حسب بیان سابق قرآن مجید کی کسی آیت کا الہام ہونا بھی نبوت تشریعیہ ہے اور مرزا قادیانی کو قرآنی آیات کا الہام کئی بار ہوا ہے۔ جیسا کہ یہ الہام لکھا ہے:

(١)...... وما رميت اذ رميت ولكن الله رمى (٢)...... الرحمن علم القرآن (٣)...... لتنذر قوماً ما انذر ابآہم (٤)...... ولتستبين سبيل المجرمین! اس صغریٰ کبریٰ کے بعد نتیجہ ظاہر ہے۔

(نصرۃ الحق ص ٥١، خزائن ج ٢١ ص ٦٦)

س...... اگر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول مانا جائے تو قرآنی علم حاصل کرنے کے لئے وحی کا نازل ہونا تو ضروری ہے اور یہ ختم نبوت کے خلاف ہے

ج...... عیسیٰ علیہ السلام کو معارف قرآنیہ کا علم بذریعہ القاء ہوگا۔ وحی نبوت کی کوئی قسم نہیں پائی جائے گی (یواقیت ج ٢ ص ٣٨) پر ہے کہ:

"وكذالك عيسىٰ عليه السلام اذا نزل الى الارض لايحكم فينا الا بشريعة نبينا محمدﷺ يعرفه الحق تعالىٰ بها على طريق التعريف وان كان نبياً، ويلهم بشرع محمدﷺ ويفهمه على وجه كالا ولياء المحمديين فهو منا وهو سيدنا"

یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو شریعت محمدی کا علم بذریعہ الہام اور کشف تام سے ہوگا۔ جیسا کہ اس امت کے خواص کو ہوتا ہے پھر مرزا قادیانی بھی ملہم ہونے کے لئے بذریعہ الہام معارف قرآنیہ اور علم حدیث کے حاصل ہونے کے قائل ہیں۔

جیسا کہ لکھتے ہیں: ”والوحى الذى ينزل على خواص الاولياء والنور الذي يتجلى على قلوب قوم“

(توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

اگر عیسیٰ علیہ السلام کو بھی قرآن کا علم اس طرح ہو تو کیا مضائقہ ہے۔ براہین میں لکھتے ہیں کہ: ”ماسوا اس کے علم دیا گیا اور احادیث کے صحیح معنی میرے پر کھولے گئے ۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٣١، خزائن ج ٢١ ص ٢٩٨)

صفحہ ٢٢٩

ختم نبوت کا ثبوت قرآن مجید سے

لئے تذکرہ اور نصیحت ہے۔ ٭ رنگ ولون، ملک وقوم کی تخصیص کے بغیر ہر فرد بشر کے واسطے اس میں ہدایت ہے اور اس کے اصول کی پابندی نجات کا ذریعہ ہے۔ اس لئے کوئی ایسا فرد انسانی نہیں نکل سکتا جو کسی مسئلہ میں قرآنی فیصلہ کے علاوہ خدا تعالیٰ سے جدید حکم حاصل کر کے نبوت کے عہدہ پر ممتاز ہو سکے۔ ورنہ قرآن کا یہ دعویٰ : ”هدى للناس وبینت من الهدى والفرقان (البقره: ١٨٥)“ کہ وہ تمام انسانوں کے لئے ہدایت کی کتاب ہے اور ہدایت کی روشن اور قوی دلائل پر حاوی اور حقانیت کو ظاہر کرنے والی ہے، صحیح نہ ہوگا۔ مرزا قادیانی بھی صداقت اور نجات کو اسی میں منحصر کر رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

”وہ یقین اور کامل اور آسان ذریعہ کہ جس سے بغیر تکلیف اور مشقت اور مزاحمت شکوک اور شبہات اور خطا اور سہو کے اصول صحیحہ معدن دلائل عقلیہ کے معلوم ہو جائیں اور یقین کامل سے معلوم ہوں۔ وہ قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں اور نہ کوئی ایسا دوسرا ذریعہ ہے کہ جس سے یہ مقصد اعظم ہمارا پورا ہو سکے۔“

(براہین احمدیہ ص ٨٩ خزائن ج ١ ص ٧٧)

جو مرزا قادیانی نے لکھا ہے یہ ہے: ”یعنی میں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت کر کے بھیجا ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٦٨ خزائن ج ٢٣ ص ٧٦)

پس جیسا کہ خدا تعالیٰ تمام جہان کا خدا ہے۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ تمام دنیا کے لئے رسول ہیں اور تمام دنیا کے لئے رحمت ہیں۔

آپ ﷺ کی ذات بابرکات اسی وقت تمام دنیا کے لئے رحمت ہو سکتی ہے جبکہ کوئی شخص نبوت اور وحی جو خدا تعالیٰ کی رحمتوں میں سے بڑی رحمت ہیں خدا تعالیٰ سے نہ پائے۔ اگرچہ وہ آنحضرت ﷺ کی غلامی اور شریعت کی اتباع کرنے سے ہی نصیب ہو۔ کیونکہ اب جملہ رحمتوں کا انحصار رسول عربی ﷺ کی ذات اقدس میں ہو گیا ہے۔

اگرچہ نبی بعض احکام میں رسولی شریعت کا تابع ہوتا ہے۔ جیسا کہ (احمدیہ پاکٹ بک

صفحہ ٢٣٠

کے ص ٣٦٠) پر اس کا اقرار کیا ہے اور تائیداً یہ عبارت پیش کی ہے: ”قد لا یکون مستقلاً بل یأتی لتقویم شرعیۃ من نبی ماقبله ، زرقانی ج ٤ ص ٧٤‘‘ یعنی وہ نبی جو رسول نہیں ہوتا وہ رسولی شریعت کی تقویت کے لئے آتا ہے۔ لیکن نبوت اور وحی براہ راست خدا کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔ اس صفت میں کسی کا واسطہ نہیں ہوتا۔ مگر رسول اکرم ﷺ کی غلامی کی رحمت تمام رحمتوں سے بڑھ کر رحمت ہے۔

اس کی موجودگی میں کسی اور رحمت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے زیادہ فخر اس امت کے لئے کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے علمائے ربانی کا درجہ قیامت کے روز بنی اسرائیل کے نبیوں کے برابر ہوگا اور ایک اولوالعزم رسول حضور سرور کائنات ﷺ کی غلامی میں داخل ہو کر امتیوں کا درجہ بلند کرے گا۔

آنحضرت ﷺ کی رحمت عامہ ہونے پر حرف آتا ہے جو کسی طرح جائز نہیں۔

تو دنیا میں کسی کا آپ ﷺ کی غلامی سے بھاگنا خسران مبین ہے:

فخر دارم کہ مرا داغ غلامی زدہ

اس بیان سے یہ شبہ بھی جاتا رہا کہ امت محمدیہ کو اس رحمت سے محروم رکھنا اس کے مفضول اور کم مرتبہ ہونے کی دلیل ہے۔ نیز اس کا جواب مرزا قادیانی کے الفاظ میں سنئے: ”کمال عقل اور کمال نورانیت قلب صرف بعض افراد بشریہ میں ہوتا ہے۔ کل میں نہیں ہوتا۔ اب ان دونوں ثبوتوں کے ملانے سے یہ امر بپایۂ ثبوت پہنچ گیا کہ وحی اور رسالت فقط بعض افراد کاملہ کو ہی ملتی ہے۔ نہ ہر ایک فرد بشر کو۔“

(براہین احمدیہ ص١٨٢، خزائن ج١ ص١٩٨ حاشیہ)

”وارسلنک للناس رسولا (النساء:٧٩)“ ﴿لوگوں کو کہہ دو کہ میں تمام دنیا کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ نہ صرف ایک قوم کے لئے۔﴾

(چشمہ معرفت ص٢٨٨ خزائن ج٢٣ ص٢٩٨ و چشمہ معرفت ص٦٨ خزائن ج٢٣ ص٧٦)

حضور ﷺ کی یہ بعثت عامہ آپ کے زمانہ کے لئے مخصوص نہ تھی۔ بلکہ ہر زمانہ کی ہر قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے۔ حدیث میں ہے کہ: ”انی رسول من ادرکت حیا ومن یولد بعدی (کنز العمال ج١١ ص٤٠٤ حدیث نمبر٣١٨٨٠ وطبقات ابن سعد ج١ ص١٥٠)“

صفحہ ٢٣١

جو میری زندگی میں اور مرنے کے بعد پیدا ہوں گے میں ان سب کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ یہی معنی اس آیت کے ہیں: ”واوحى الى هذا القرآن لانذركم به ومن بلغ (انعام:١٩)‘‘ اب اگر کوئی آپ کے بعد نبی ہوگا تو آپ کی رسالت عامہ نہ رہے گی۔ کیونکہ نبی فی الجملہ رسول کی اتباع سے باہر ہوتا ہے۔

آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کر دیں۔ ٭

”هذا اكبر نعم الله تعالیٰ على هذه الامة حيث اكمل الله تعالیٰ دينهم فلا يحتاجون الى دين غيره ولا الى نبي غير نبيهم صلوة الله وسلامه عليه ولهذا جعله الله تعالیٰ خاتم الانبياء (ابن کثیر ص٢٢ج٣)‘‘ یہ خدا کی بڑی نعمت ہے کہ ان کا دین کامل کر دیا اور اب کسی نئے نبی اور جدید مذہب کی ضرورت نہیں رہی اور ہمارے رسول خاتم النبیین بنا دیئے گئے۔

جب کوئی چیز کامل اور تمام ہو جاتی ہے تو اس پر کسی جز کی زیادتی یا اضافہ ناممکن ہو جایا کرتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی نبی کا آنا جائز سمجھ لیا جائے تو ایک ناممکن چیز کو ممکن کرنا لازم آئے گا۔ کیونکہ انسان نبی اس صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ وہ بعض احکام میں رسولی شریعت کا تابع ہو اور بعض احکام اس کی ذات خاص کے لئے خدا کی طرف سے نازل ہوں۔ جس کے یہ معنی ہوں گے کہ رسولی شریعت ناقص تھی اور اس میں اس کے متعلق یہ حکم موجود نہ تھا۔ اس لئے ایک جدید حکم حاصل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور یہ تکمیل دین اور اتمام شریعت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ تھی کہ موسوی شریعت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کامل اور تمام نہ کی گئی۔ کیونکہ ان کے بعد بنی اسرائیل میں نبی آنے والے تھے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے دین موسوی کی تکمیل کی گئی اور وہ متمم شریعت موسوی کی حیثیت سے تشریف لائے۔ کیونکہ ان کے بعد بنی اسرائیل میں کوئی نبی آنے والا نہیں تھا اور وہ خاتم انبیاء بنی اسرائیل تھے۔

جیسا کہ خود مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”جو اسرائیلی خلیفوں میں سے آخری خلیفہ تھا

(ازالہ اوہام ص ٦٨١، ٦٨٢، خزائن ج ٣ص٤٦٧)

یعنی مسیح بن مریم۔‘‘

”بنی اسرائیل میں خلیفۃ اللہ ہونے کا منصب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شروع ہوا اور ایک مدت دراز تک نوبت بہ نوبت انبیاء بنی اسرائیل میں رہ کر چودہ سو برس پورے ہونے تک

(ازالہ اوہام ص ٦٦٩، خزائن ج ٣ ص٤٦١)

حضرت عیسیٰ بن مریم پر یہ سلسلہ ختم ہوا۔‘‘

صفحہ ٢٣٢

اس دلیل کی صداقت اور قوت کا مرزا قادیانی کو بھی اقرار ہے۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ:

ختم شد بر نفس پاکش ہر کمال
لاجرم شد ختم ہر پیغمبرے

(دیباچہ براہین احمدیہ ص ١٠ خزائن ج ١ ص ١٩)

”ہر پیغمبرے“ نبوت اور رسالت دونوں کے ختم ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

واطر الشريعة “ (مواہب الرحمن ص ٦٦ ، ٦٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٥) حقیقت میں نبی نہیں ہوتے۔ کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام حاجتوں کو مکمل کر دیا۔

تعلیم اتم واکمل ہے۔ وہ توریت کی طرح کسی انجیل کا محتاج نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥١، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٥)

الناس لا يعلمون (سباء: ٢٨)“ ٭ ”ہم نے آپﷺ کو تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ آپﷺ مومنوں کو خوشخبری اور کافروں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں۔ لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔“٭

اگر کوئی نبی منصب نبوت پر فائز ہو کر آیا تو آپﷺ کی بعثت عامہ نہیں رہے گی۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ: ”ارسلت الى الخلق كافة وختم بى النبيون (مسلم ج ١ ص ١٩٩ باب المساجد ومواضع الصلوة)“ میں تمام جہان کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں اور تمام نبیوں کا آنا مجھ پر ختم ہو چکا ہے۔

ثم جأكم رسول (آل عمران: ٨١)“ ٭ اور یاد کرو جب خدا نے تمام رسولوں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب وحکمت دوں گا اور پھر تمہارے پاس آخری زمانہ میں میرا رسول آئے گا تمہیں اس پر ضرور ایمان لانا ہوگا۔ ٭ اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو چکے تھے۔ یہ حکم ہر نبی کی امت کے لئے ہے کہ جب رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ۔ ورنہ مؤاخذہ ہوگا۔ جو لوگ آنحضرتﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٣١، خزائن ج ٢٢ ص ١٣٤)

بقول مرزا قادیانی کے وہ انبیاء گزر چکے ہیں اور ان کی امـ یا نئی امت آنے والی نہیں رہی اور کے لئے آتا ہے

باذنه وسراجاً منيرا (الاحـ کہ آپ بامر الٰہی لوگوں کو اللہ کے کہ اس سے دوسرے لوگ اپنے معلوم ہوا کہ اب برا آپ ہی کی اتباع کرنی ضروری ”واعلم انه خاتم الانـ يستفيضون من نوره “

اصول حقہ کا محرف اور مبدل ہو بھی چھا جانا عند العقل محال اور لازم آیا۔ کیونکہ جو امر مستلزم محال میں خاتم الرسل ہیں۔“ اگر مرزا قادیانی السلام کو داخل نہیں کیا تو لازم دونوں کے ختم کرنے والے نہیں

الانبیاءﷺ کا قرآن شریف

نذيرا (الفرقان: ١)“ ٭بـ کہ وہ تمام دنیا کو ڈراوے۔ ا

صفحہ ٢٣٣

بقول مرزا قادیانی کے معلوم ہوا کہ جن نبیوں سے آنحضرت ﷺ کی اتباع کا عہد لیا تھا وہ انبیاء گزر چکے ہیں اور ان کی امتیں بھی آپ ﷺ کی آمد سے پہلے بن چکی ہیں اور اب کوئی نیا نبی یعنی امت آنے والی نہیں رہی اور یہی تقاضا ثم جاءکم رسول ! میں لفظ ثم کا ہے جو تاخیر زمانی کے لئے آتا ہے

باذنہ وسراجاً منیرا (الاحزاب: ٤٥، ٤٦) " ﴿ہم نے آپ کو گواہ اور مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا کہ آپ بامر الٰہی لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلائیں اور آپ کو روشن اور چمکتا ہوا ایسا چراغ بنایا کہ اس سے دوسرے لوگ اپنے ایمان کے چراغ روشن کرتے ہیں۔﴾

معلوم ہوا کہ اب براہ راست نور کا استفادہ حق تعالیٰ سے ہو ہی نہیں سکتا۔ ہر حالت میں آپ ہی کی اتباع کرنی ضروری ہے۔ اس لئے کوئی نبی بھی نہیں آسکتا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: "واعلم انہ خاتم الانبیاء ولا یطلع بعد شمسہ الا نجم التابعین الذین یستفیضون من نورہ"

(حمامۃ البشریٰ ص ٤٩ ، خزائن ج ٧ ص ٢٤٤)

اصول حقہ کا محرف اور مبدل ہو جانا یا پھر ساتھ اس کے تمام خلقت پر تاریکی شرک اور مخلوق پرستی کا بھی چھا جانا عند العقل محال اور ممتنع ہوا تو نئی شریعت اور نئے الہام کے نازل ہونے میں امتناع عقلی لازم آیا۔ کیونکہ جو امر مستلزم محال ہو وہ بھی محال ہوتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ حقیقت میں خاتم الرسل ہیں ۔"

(مقدمہ براہین احمدیہ ص ١١، ١٢ ، خزائن ج ١ ص ١٠٣)

اگر مرزا قادیانی کی مراد خاتم الرسل سے اصطلاحی رسول ہے اور اس میں انبیاء علیہم السلام کو داخل نہیں کیا تو لازم آئے گا کہ مرزا قادیانی حضور ﷺ کو خاتم النبیین یعنی نبی اور رسول دونوں کے ختم کرنے والے نہیں سمجھتے اور آیت کے ظاہری معنی سے انکار کرتے ہیں۔

الانبیاء ﷺ کا قرآن شریف میں ذکر ہے۔ وہ حضرت موسیٰ سے ہزار درجہ بڑھ کر ہے۔"

(حاشیۃ الحاشیہ نمبر ٣ براہین احمدیہ ص ٥٠٩، خزائن ج ١ ص ٦٠٦)

نذیرا (الفرقان:١)" ﴿مبارک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر اس لئے قرآن نازل کیا کہ وہ تمام دنیا کو ڈراوے۔﴾

صفحہ ٢٣٤

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کو ڈراوے۔“

(چشمہ معرفت ص ٦٨ خزائن ج ٢٣ ص ٧٦)

اس لئے عالم کا کوئی آدمی بھی اس سے باہر نہیں ہو سکتا اور نبی کے واسطے فی الجملہ ایسا ہونا ضروری ہے۔

غیر سبیل المومنین نوله ماتولی ونصلیه جهنم وساءت مصیرا (النساء:١١٥)“ اس میں آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نکلنے والوں کو جہنمی کہا گیا ہے۔ چونکہ نبی کے لئے فی الجملہ رسولی شریعت کی پابندی سے باہر ہونا لازمی ہے۔ ورنہ وہ نبی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے نبی کا آنا ممتنع ہے۔

وخاتم النبیین وکان الله بکل شئی علیما (الاحزاب:٤٠)“ ”خاتم النبوة بکسر التاء ای فاعل الختم وهو الاتمام وبفتحها بمعنی الطابع“ (مجمع البحار الانوار ج ٢ ص ١٠) ”وخاتم کل شئی وخاتمته عاقبته وآخره“

(لسان العرب ج ٤ ص ٢٥ زیر آیت ختم)

یعنی لفظ خاتم تا کی زیر اور زبر دونوں طرح پر لکھا پڑھا گیا ہے۔ بکسر التا ختم مصدر کا لفظ اسم فاعل ہے۔ جس کے معنی ختم کرنا یا مہر لگانا ہیں۔ لیکن جب مہر لگانے کے لئے آتا ہے تو اس کا صلہ علیٰ آیا کرتا ہے۔ قولہ تعالیٰ ختم الله علی قلوبهم اور زیر کے ساتھ بمعنی مہر ہے اور اس وقت آیت کے یہ معنی ہیں۔ آپ ﷺ نبیوں کی مہر ہیں۔ کسی تحریر کے آخر میں مہر کا ہونا اس مکتوب یا مضمون کے ختم ہونے کی علامت ہے یا جو تحریر سر بمہر ہوتی ہے وہ ہر قسم کے تغیر اور تبدیلی سے محفوظ ہو جایا کرتی ہے:

”قیل ای طابعه وعلامته التی تدفع عنهم الاعراض والعاهات لانه خاتم الکتاب یصونه ویمنع الناظرین عمافی باطنه“

(مجمع البحار ج ٢ ص ١٤ ختم)

اسی طرح نبوت ایک سر بمہر چیز ہو گئی۔ جس کو نہ کوئی دیکھ سکتا ہے اور نہ کوئی اس مقام میں قدم رکھ سکتا ہے۔ جس کے لازمی معنی یہی ہوئے کہ نبوت آپ ﷺ پر بند ہو چکی ہے اور یہی

صفحہ ٢٣٥

معنی کرتا، کی صورت میں ہیں اور مہر لگانے والے معنی نہیں بن سکتے ۔ کیونکہ ان کا استعمال لفظ علیٰ کے بغیر نہیں آتا۔

لہٰذا مرزا قادیانی کا خاتم النبیین کے یہ معنی کرنا صحیح نہیں کہ: ’’اور بجز اس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے اُمّتی ہونا لازمی ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

یعنی وہ اپنی مہر سے دوسروں کو نبی بناتے ہیں۔ کیونکہ اس صورت میں متعدد تحریفیں کرنی پڑیں گی:

علیہم السلام براہِ راست نبی بنائے گئے تھے، آنحضرت ﷺ کی اتباع کرنے سے وہ نبی نہیں بنے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ : ’’جس قدر نبی گزرے ہیں ان سب کو خدا تعالیٰ نے براہِ راست چن لیا تھا۔‘‘

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ٣٠)

اس لئے لفظ خاتم النبیین بمعنی اپنی مہر سے نبوت عطا کرنے والے باعتبار انبیاء سابقین کے صادق نہیں آسکتا۔

میں کم از کم تین نبی ضرور ہونے چاہئیں تھے۔ مگر مرزا قادیانی لکھتے ہیں : ’’غرض اس حصہ کثیرہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

کرنی اور اپنی رائے کو ترجیح دینی لازم آتی ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے آپ کو مکانِ نبوت کی آخری اینٹ فرما کر خاتم النبیین ہونے کے معنی واضح کر دئیے۔ نیز (مسلم کتاب المساجد ج ١ ص ١٩٩) میں ہے: ’’ختم بی النبیون‘‘ ایک اور روایت میں ہے: ’’انا آخر الانبیاء وانتم آخر الامم (ابن ماجه ص ٢٩٧ باب فتنة الدجال)‘‘ وفي روايت: ’’انی آخر الانبياء (ايضاً) اول الرسل آدم و آخرهم محمد‘‘

(کنز العمال ج ١١ ص ٤٨٠ باب ذکر الانبیاء)

صفحہ ٢٣٦

"ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدى ولا نبى"

(ترمذی ج ٢ ص ٥٣ باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات)

پھر انا خاتم النبیین لانبی بعدی میں دونوں جملوں کو ذکر کر کے ثابت کر دیا کہ خاتم النبیین کے معنی مہر لگانے والا ہو ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہی نہیں۔ پھر نبوت بالواسطہ یا بلاواسطہ کا ذکر ہی فضول ہے۔

لہٰذا ان احادیث صحیحہ کی موجودگی میں آیت کے ایسے معنی کرنے جس سے سلسلہ نبوت کا ختم ہونا ظاہر نہ ہوتا ہو اسی شخص کا کام جو قرآن میں تفسیر بالرائے کو جائز سمجھتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم پر نہیں چلتا۔

النبیین اس قرأت نے پہلے معنیٰ کو اچھی طرح واضح کر دیا۔ اس لئے تمام مفسرین اس کے معنی آخر النبیین کرتے ہیں۔ خواہ خاتم کو تاء کی زبر کے ساتھ پڑھیں یا زیر کے ساتھ۔ مگر احادیث صحیحہ سے تجاوز نہیں کرتے اور اس کی مخالفت و تفسیر بالرائے ہونے کی وجہ سے کفر خیال کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو لکھتے ہیں:۔

بكسر التاء اى كان خاتمهم ويؤيده قرأة ابن مسعود ولكن نبيا ختم النبيين"

(تفسير ابوالسعود ج ٧ ص ١٠٦ زیر آیت ما كان محمد ابا احد)

فطبع عليها فلا تفتح لاحد بعده الى قيام الساعة"

(ابن جریر ج ٢٢ ص ١٦)

نبى بعده حيث ختموا به وتم به بنيان النبوة"

(شیخ زاده على البيضاوى)

(ابن كثير ج ٢ ص ٣٨١)

ختم النبوة بمجيئه"

(تاج العروس ج ١٦ ص ١٩١، تحت لفظ)

(مفردات راغب ص ١٤٢)

صفحہ ٢٣٧

خاتم النبيين الذی ختم النبيون به ومآله آخر النبيين“

(روح المعانی ج ٢٢ ص ٣٢)

اور یہی معنی مرزا قادیانی نے بھی کئے ہیں :

(حمامة البشری ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

الانبياء بغير استثناء وفسره نبينا في قوله لانبی بعدی ببيان واضح“

(حمامة البشری ص ٢٠، خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)

اس تحریر میں مرزا قادیانی نے آنحضرتﷺ کے قول ”لانبی بعدی“ کو خاتم النبیین کی تفسیر ہونا تسلیم کیا ہے۔ پھر ازالہ میں اس کا صاف ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ : ”یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے۔ مگر وہ رسول اللہ ہے اور ختم کرنے والا ہے نبیوں کا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١)

اس لئے آیت کے کوئی اور معنی کرنے صحیح نہیں ہیں ۔

بعدی کے ہیں ۔ یعنی کوئی نبی مغائر نہیں آسکتا۔ اس سے نبی تابع کی نفی نہیں ہوتی جو ایک وجہ سے امتی ہوگا اور ایک حیثیت سے نبی ۔

لئے نبی امتی اور غیر امتی کا فرق نکالنا سراسر غلط ہے اور جس نبی امتی کا نام مرزا قادیانی نے غیر تشریعی نبی رکھ دیا ہے اس کا قرآن وحدیث اور پہلی آسمانی کتابوں میں کوئی پتہ نہیں اور نہ مرزا قادیانی کے ایجاد کردہ معنی صوفیاء کے نزدیک مقبول ہیں ۔ کیونکہ جس کو وہ نبی غیر تشریعی کہتے ہیں اس کے ساتھ نبوت کا معاملہ قطعاً جائز نہیں سمجھتے اور نہ نبی کا لفظ اس پر اطلاق کرنا جائز قرار دیتے ہیں ۔ مرزا قادیانی کا غیر تشریعی کے یہ معنی کرنے کہ وہ رسول اللہﷺ کی اتباع سے مقام نبوت پر پہنچا ہو نئی ایجاد ہے۔ بلکہ اس طرح غیر تشریعی نبوت کے پردہ میں حقیقی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ کیونکہ جملہ انبیاء علیہم السلام بھی فی الجملہ امتی اور فی الجملہ نبی ہوتے رہے ہیں ۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ اس طرح لا نبی بعدی سے نبی مغائر کی نفی مراد لینا صحیح نہیں ۔ کیونکہ یہ حضورﷺ نے

صفحہ ٢٣٨

حضرت علیؓ سے اس وقت ارشاد فرمایا تھا جبکہ آپ غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جارہے تھے اور حضرت علیؓ کو اپنا قائم مقام بنا کر مدینہ کی حفاظت کے لئے چھوڑ رہے تھے۔ مگر چونکہ حضرت علیؓ کی دلی تمنا جہاد میں شرکت کی تھی۔ اس لئے ان کو تسلی دینے کے لئے آپ ﷺ نے یہ فرما دیا:

”یاعلی! اما ترضی انت منی بمنزلة هارون من موسى ولكن لانبی بعدی (مشکوۃ ص٥١٣ باب مناقب علیؓ)“ یعنی جس طرح حضرت موسیٰؑ کوہِ طور پر جانے کے وقت حضرت ہارونؑ کو اپنا قائم مقام بنا گئے تھے۔ اسی طرح میں بھی تجھے اپنا نائب بنا رہا ہوں۔ مگر ہارونؑ نبی تھے اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس لئے تو بھی نبی نہیں۔

ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ آنحضرت ﷺ کے تابع اور فرماں بردار تھے۔ مخالف یا مغائر نہ تھے۔ مگر حضور ﷺ نے ان سے بھی نبوت کی نفی کرنے کے لئے عام ضابطہ لا نبی بعدی ہی ارشاد فرمایا۔ جس میں تابع اور مستقل دونوں کی نفی ہو گئی۔

اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لفظ بعد سے بعدیت زمانی مراد نہیں۔ ورنہ حضرت علیؓ سے نبوت کی نفی ہرگز صحیح نہ ہوتی اور لکن لانا جو مغائرت کو چاہتا ہے درست نہ رہتا۔ کیونکہ بعد وفات نبی کے نفی کرنے سے زمانہ حیات میں نبی کی نفی لازم نہیں آتی اور مقصود اصلی یہی ہے کہ زمانہ حیات اور مابعد وفات دونوں صورتوں میں کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس لئے لامحالہ بعد کے معنی اور کے لینے پڑیں گے۔ جس کے صاف طور پر یہ معنی ہوں گے کہ میرے علاوہ کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔ یعنی جتنے نبی آنے تھے وہ آچکے۔ اب کوئی اور نیا نبی نہیں آئے گا۔ لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ختم نبوت کے خلاف نہیں ہوگی۔ کیونکہ لا نبی بعدی یا ختم نبوت کے یہی معنی ہیں کہ اب کوئی اور نیا نبی نہیں آئے گا اور عیسیٰ علیہ السلام پہلے نبی ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد نبی نہیں بنائے گئے۔ بلکہ اس وقت ان کے ساتھ نبیوں جیسا معاملہ بھی نہ ہوگا۔ جیسا کہ ریٹائرڈ لارڈ دوسرے قائم مقام وائسرائے کی موجودگی میں اعزازی طور پر لارڈ یا وائسرائے ہی کہلائے گا۔ مگر وائسرائے کے اختیارات میں سے کوئی اختیار بھی نہیں ہوگا۔

غرض پہلے نبی کا آنا ختم نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ ورنہ قیامت کے روز دیگر انبیاء علیہم السلام کی موجودگی میں آپ خاتم النبیین ہی نہ رہیں گے۔ دوسرے: ”لو کان موسى حيا لما وسعه الا اتباعی (مشکوۃ ص٣٠ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)“ سے بھی پہلے نبی کا آنا جائز اور ختم نبوت کے خلاف معلوم نہیں ہوتا۔

یہی مطلب حضرت عائشہؓ کے اس قول کا ہے: ”قالت قولوا خاتم النبيين

ولا تقولوا لانبی بعده (مجمع ج٦ص٢٥٩)“ یعنی لانبی بعدی نہیں۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام نبی ہونے کـ ان کا آنا ختم نبوت کے خلاف نہیں ہوگا۔ کـ مخالف ہے اور پہلے نبی کا آنا ختم نبوت ۔ پھر بھی نئے نبی کے آنے کی نفی ہوگی۔ پہلا ہو جائیں گی اور حدیث میں صرف بعدیت جیسا کہ مغیرہ بن شعبہؓ فرماتے الانبيا فانا كنا نحدث ان عيسـ قبله وبعده (مصنف ابن ابی شیبـ جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وہ محض بلکہ وہ نبی مابعد اور ماقبل دونوں ہوں گے ا بہر حال نئے نبی کا آنا ختم نبو کے معنی لا نبیا بعدہ کئے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

كونه خاتم النبيين انه لاينـ ينزل انما ينزل عاملا شريعة محـ

کیا مضائقہ ہے۔

سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم قادیانی نے کفر لکھا ہے۔

ہو سکتا۔

صفحہ ٢٣٩

ولاتقولوا لانبی بعدہ (مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٥٠٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٦ ص ٢٠٩) ”یعنی لا نبی بعدی سے مطلق نبی کی آمد کو ختم نبوت کے خلاف سمجھنا درست نہیں ۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام نبی ہونے کے باوجود آنحضرت ﷺ کے بعد تشریف لائیں گے مگر ان کا آنا ختم نبوت کے خلاف نہیں ہوگا۔ کیونکہ کسی نئے نبی کا آنا یا منصب پر فائز ہونا ختم نبوت کے مخالف ہے اور پہلے نبی کا آنا ختم نبوت کے خلاف نہیں اور اگر بعد کو اپنے ظاہری معنی پر رکھنا ہے تو پھر بھی نئے نبی کے آنے کی نفی ہوگی ۔ پہلے کی نہیں ۔ کیونکہ ان میں قبلیت اور بعدیت دو جہتیں جمع ہوجائیں گی اور حدیث میں صرف بعدیت کی نفی ہے۔

جیسا کہ مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں :” فقال المغیرۃ حسبك اذا قلت خاتم الانبیا فانا کنا نحدث ان عیسی علیہ السلام خارج فان هو خرج فقد كان قبلہ و بعدہ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٦ ص ٢٠٩، طبرانی کبیر ج ٢٠ ص ٤١٤) ”یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے تو وہ محض نبی مابعد نہ ہوں گے کہ جن کی حدیث میں نفی آئی ہے۔ بلکہ وہ نبی مابعد اور ماقبل دونوں ہوں گے اور ایسا ہونا ختم نبوت کے خلاف نہیں۔

بہر حال نئے نبی کا آنا ختم نبوت کے خلاف ہے۔ اسی لئے مفسرین نے خاتم النبیین کے معنی لاینبا بعدہ کئے ہیں ۔ ملاحظہ ہو:

(کشاف ج ٣ ص ٥٤٥)

کونہ خاتم النبیین انہ لاینباء احد بعدہ وعیسی ممن ینبئ قبلہ وحین ینزل انما ینزل عاملا شریعۃ محمد ﷺ مصلیا الی قبلتہ کانہ بعض امتہ“

(ابوسعود ج ٧ ص ١٠٦)

کیا مضائقہ ہے۔

سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم نبوت تشریعیہ بھی نہ رہیں۔ باوجودیکہ اس کے انکار کو مرزا قادیانی نے کفر لکھا ہے۔

ہوسکتا۔

صفحہ ٢٤٠

ج....... بعد کے معنی کسی لغت کی کتاب میں معیت کے نہیں آئے۔ البتہ اور یا دیگر کے معنی کثیرالاستعمال ہیں۔ نووی نے شرح مسلم میں اقتل من بعدنا من املا قاء کے معنی من سوانا کئے ہیں۔

والاخر مسيلمه (بخاری ج٢ ص٦٢٨ باب وفد بنی حنیفۃ)“ میں بعد سے مراد مدعی نبوت ہے۔ چنانچہ ایک روایت میں الكذابين الذين انا بينهما آیا ہے اور ان دونوں نے دعویٰ نبوت بھی آپ ﷺ ہی کے زمانہ میں کیا تھا۔

والسنۃ)“ نے یہ بات ثابت کردی کہ پرانے نبی کا آنا آپ ﷺ کے ساتھ جمع ہونا منع نہیں ہے۔ ناجائز اگر ہے تو جدید نبی کا آنا ناجائز ہے۔

س....... لانبی بعدی میں لانفی جنس کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ صفت کے واسطے ہے۔ جیسا کہ اذهلك كسرى فلا كسرى بعدہ میں ہے۔

ج....... لا کو نفی صفت کے لئے لینا مضر نہیں ہے۔ کیونکہ نبوت غیر تشریعیہ در حقیقت شرعی اصطلاح میں نبوت نہیں کہلاتی۔ بلکہ وہ ولایت کا ایک مقام ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

ختم نبوت از احادیث

فاحسنه واجمله الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به ويتعجبون له ويقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال انا اللبنة وانا خاتم النبيين (بخاری ج١ ص٥٠١ باب خاتم النبيين، مسلم ص٤٤٨، نسائی، ترمذی، مشکوۃ ص٥١١)“

سلسلۂ نبوت کو ایک مکان سے تشبیہ دی جس کے تمام ہونے میں ایک اینٹ کی کسر تھی۔ وہ آخری اینٹ رسول اللہ ﷺ تھے۔ لہٰذا مکان مکمل ہو گیا اور اس میں کوئی نئی اینٹ لگانے کی جگہ نہیں رہی۔ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے وقت نئے نبی نہ ہوں گے۔ بلکہ مکان نبوت کی پہلے والی اینٹ ہوں گے۔ جن کی آمد نبوت کے رنگ میں نہ ہوگی کہ جو تکمیل مکانیت کے منافی ہو اور من قبلی کی قید اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جس قدر نبی آنے والے تھے وہ رسول اللہ ﷺ سے پہلے

صفحہ ٢٤١

بعد کے معنی کسی لغت کی کتاب میں معیت کے نہیں آئے۔ البتہ اور یا دیگر نووی نے شرح مسلم میں اقتل من بعدنا من املاء قاء کے معنی من ”اولهما كذابين يخرجان بعدى احدهما عنسى خاری ج ٢ ص ٦٢٨ باب وفد بنى حنيفة) ”میں بعد سے مراد مدعی نبوت بين الكذابين الذين انا بينهما آیا ہے اور ان دونوں نے دعویٰ کے زمانہ میں کیا تھا۔ ”لوکان موسى حيا (مشكوة ص ٣٠ باب الاعتصام بالكتاب بات ثابت کر دی کہ پرانے نبی کا آنا آپﷺ کے ساتھ جمع ہونا منع نہیں ید نبی کا آنا ناجائز ہے۔ لانبی بعدی میں لا نفی جنس کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ صفت کے واسطے ہے۔ ن فلا کسرى بعده میں ہے۔ لا کو نفی صفت کے لئے لینا معتبر نہیں ہے۔ کیونکہ نبوت غیر تشریعیہ درحقیقت نہیں کہلاتی۔ بلکہ وہ ولایت کا ایک مقام ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔

ختم نبوت از احادیث

”قال مثلى ومثل الانبياء من قبلى كمثل رجل بنى بيتا ه الا موضع لبنة من زاوية فجعل الناس يطوفون به يقولون هلا وضعت هذه اللبنة قال انا اللبنة واناخاتم اص ٥٠١ باب خاتم النبيين، مسلم ص ٤٤٨ ، نسائی، ترمذی،

ایک مکان سے تشبیہ دی۔ جس کے تمام ہونے میں ایک اینٹ کی کسر تھی۔ ﷺ تھے۔ لہٰذا مکان مکمل ہوگیا اور اس میں کوئی نئی اینٹ لگانے کی جگہ م نزول کے وقت نئے نبی نہ ہوں گے۔ بلکہ مکان نبوت کی پہلے والی آمد نبوت کے رنگ میں نہ ہوگی کہ جو تکمیل مکانیت کے منافی ہو اور من ت کرتی ہے کہ جس قدر نبی آنے والے تھے وہ رسول اللہﷺ سے پہلے

آچکے ہیں۔ یہ کہنا کہ یہ مثال صرف پہلے نبیوں کی ہے۔ اس سے آنے والے کی نفی نہیں ہوتی درست نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو تکمیل مکان کے ساتھ کبھی تشبیہ نہ دی جاتی اور آنحضرتﷺ اپنے آپﷺ کو آخری اینٹ نہ فرماتے۔

خلفه نبي وانه لانبى بعدى (بخاری ج ١ ص ٤٩١ باب ماذكر عن بنى اسرائيل، مشكوة ص ٣٢٠ كتاب الامارة، مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٧ ، مسلم ج ٢ ص ١٢٦ باب وجوب الوفاء ببيعة الخليفة الاول فالاول)“ فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست اور ملکی انتظام انبیائے کرام علیہم السلام کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا تو دوسرا نبی اس کا قائم مقام ہوجاتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

نہ کریں گے۔

لاكن لاتسوس نبی امتی مگر حدیث میں تو مطلق نبی کی نفی ہے۔

”فانه ليس كائنا فيكم نبى بعدى، ابن جریر“ میرے بعد تم میں کوئی نبی نہیں ہونے والا۔ اس میں ا... امكم منکم کے اس معنی کی تردید ہوگئی جو مرزا قادیانی نے گھڑے ہیں۔

اول شان النبىﷺ، مشكوة ص ٥١٤ باب فضائل سيدالمرسلينﷺ)“

(مسلم ج ١ ص ١٩٩ كتاب المساجد، نسائى، ترمذی، مشكوة ص٢٢٩)

”ختم بي النبيون اى فلا نبى بعده ولاشرعاً ولا متابعاً“

(روح البيان ج ٧ ص ٢٩٥)

”لانبی بعده مشرعا او مشرعاله والاول هوالآتي بالاحكام الشرعية من غير متابعة نبى آخر كموسى وعيسى ومحمدﷺ والثانى هو المتبع لما شرعه له النبى المقدم كانبياء بنى اسرائيل“

(شرح فصوص الحكم و روح البيان ج ٧)

صفحہ ٢٤٢

طينة

(احمد ج ٤ ص ١٢٧، ١٢٨، مشكوة ص ٥١٣ باب فضائل سيد المرسلينﷺ)"

(مسلم شریف ج ٢ ص ٢٦١ باب في اسمائه ﷺ)

"وفي رواية انا خاتم النبيين ولا نبي بعدى وانا العاقب ليس بعدی نبی (ترمذی ج ٢ ص ١١١ باب ماجاء في اسماء النبیﷺ) " معلوم ہوا کہ پہلی حدیث میں بھی عاقب کی تفسیر رسول اللہ ﷺ کی ہے۔

"اما العاقب فهو الذى جاء عقب الانبياء فليس بعده نبى لان العاقب هوالآخر"

(انوار محمديه، مواهب لدنیه ص ١٤٠ طبع بيروت)

وأنا خاتم النبيين ولا نبى بعدى (مسلم، ترمذی ج ٢ ص ٤٥ باب ماجاء لاتقوم الساعة حتى يخرج كذابون، دارمی، ابن ماجه، ابوداؤد ج ٢ ص ١٣٢ كتاب الفتن، مشكوة ص ٤٦٥) "

(اکمال شرح مسلم ص٢٥٨)

والے جن میں سے ایک مرزا قادیانی بھی ہیں۔

(المعجم الكبير طبراني ج ٧ ص ١٨٩ حدیث نمبر ٦٧٩٧)

ولا نبى بعدى"

(درالمنثور ج ٥ ص ٢٠٤)

كلهم يزعم انه نبي فمن قاله فاقتلوه ومن قتل منهم احداً فله الجنة"

(كنز العمال ج ١٤ ص ١٩٩ حديث نمبر ٣٨٣٧٦)

الانبياء وانتم آخر الامم يا عبادالله فاثبتوا فانه يبدأ فيقول انا نبى فلا نبى

صفحہ ٢٤٣

بعدی “

( ابن ماجہ باب فتنۃ الدجال وخروج عیسیٰ بن مریم ص ٢٩٧ )

١٣....... ” انا محمد النبی الامی انا محمد النبی الامی انا محمد النبی الامی لا نبی بعدی “

( کنزالعمال ج ١ ص ١٩٠ حدیث نمبر ٩٦١ )

١٤....... ” انا محمد واحمد المقفی والحاشر ونبی التوبۃ نبی الرحمۃ “

( مسلم ج ٢ ص ٢٦١ باب فی اسمائہ ﷺ )

نووی لکھتے ہیں : ” المقفی فقال شمر ھو بمعنی العاقب “

( حاشیہ مسلم ج ٢ ص ٢٦١ )

شیخ عبدالرؤف المناوی شرح کبیر میں فرماتے ہیں : ” المقفی بشدۃ الفاء وکسرھا لانہ جاء عقب الانبیاء وفی قفاھم “

( نقلہ النبہانی فی جواھر البحار ج ١ )

١٥....... ” ربی اللہ وحدہ لا شریک لہ والاسلام دینی ومحمد نبی وھو خاتم النبیین فیقولان صدقت “

( درمنثور ج ٦ ص ١٦٥ )

١٦....... ” نزل آدم بالہند واستوحش فنزل جبریل فنادی بالا ذان اللہ اکبر اللہ اکبر مرتین اشہد ان لا الہ الا اللہ مرتین اشہد ان محمد رسول اللہ مرتین قال آدم من محمد قال آخر ولدک من الانبیاء ( کنزالعمال ج ١١ ص ٤٥٥ حدیث نمبر ٣٢١٣٩ وفی روایۃ ھو آخر الانبیاء من ذریتک ، طبرانی ) “

١٧....... ” الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی ( بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ باب غزوۃ تبوک مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب فضائل علی ، مشکوۃ ص ٥٦٣ باب مناقب علی ) “

” وفی روایۃ مسلم الا انہ لا نبوۃ بعدی “

( مسلم ج ٢ ص ٢٧٨ باب فضائل علی )

١٨....... ” فانی آخر الانبیاء ومسجدی آخر المساجد “

( مسلم ج ١ ص ٤٤٦ )

آخر المساجد سے نبیوں کی مسجد میں آخری مسجد مراد ہے۔ جیسا کہ اس روایت میں ہے: ” انا خاتم الانبیاء ومسجدی خاتم مساجد الانبیاء “

( کنزالعمال ج ١٢ ص ٢٧٠ حدیث نمبر ٣٤٩٩٩ )

١٩....... ” لا نبی بعدی ولا امۃ بعد امتی “

( ابن کثیر ج ٩ ص ٣٦٩ )

صفحہ ٢٤٤

٢٠ ...... ”اول الرسل آدم وآخرهم محمدﷺ“

(کنز العمال ج ١١ ص ٤٨٠ حدیث نمبر ٣٢٢٩٩)

٢١ ...... ”ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“ (ترمذی ج ٢ ص ٥٣ باب ذهب النبوة وبقیت المبشرات)

٢٢ ...... ”لوکان بعدی نبی لکان عمر (ترمذی ج ٢ ص ٢٠٩ باب مناقب ابی حفص عمر ابن خطاب، مشکوة ص ٥٥٨ باب مناقب عمر الفصل الثانی)“

س ...... قال الترمذی هذا حدیث غریب! ج ...... غریب ضعیف حدیث کو نہیں کہتے۔ بلکہ آحاد کی قسموں میں سے ایک قسم کا نام ہے جو سنداً صحیح ہوتی ہے۔

٢٣ ...... ”کنت اول النبیین فی الخلق وآخرهم فی البعث“ (کنز العمال ج ١١ ص ٤٠٩ حدیث نمبر ٣١٩١٧، ابن کثیر ج ٦ ص ٣٤٢ نحو البخاری فی تاریخہ واحمد وابونعیم فی دلائل النبوة ج ١ ص ٤٢)

٢٤ ...... ”ان تشهد ان لا اله الا الله وانی خاتم الانبیاء ورسله“

(مستدرک ج ٤ ص ٢٢٥ حدیث نمبر ٤٩٩٩)

٢٥ ...... ”والذی نفس محمد بیدہ لو اصبح فیکم موسٰی ثم اتبعتموہ لضللتم انکم حظی من الامم وانا حظکم من النبیین“

(مسند احمد، درمنثور ج ٢ ص ٤٨)

٢٦ ...... ”ولوکان موسٰی حیاً وادرک نبوتی لاتبعنی“

(دارمی مشکوة ص ٣٢)

”وفی روایة لوکان موسٰی حیا لما یسعہ الا اتباعی (مشکوة ص ٣٠)“ یعنی وہ عہد نبوت پر نہیں رہیں گے اور نہ ان پر وحی نازل ہوگی۔ البتہ ان کو شریعت محمدیہ کی پابندی کرنی پڑے گی۔ گو مرتبہ نبی کا ہوگا۔ مگر عہدۂ نبوت پر ختمِ نبوت کی وجہ سے فائز نہ رہیں گے۔

٢٧ ...... آپ نے حجۃ الوداع میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار کی جماعت کے سامنے فرمایا تھا: ”یا ایها الناس انه لا نبی بعدی ولا امة بعدکم“

(مسند احمد حاشیه منتخب کنز العمال ج ٢ ص ٣٩١)

٢٨ ...... ”ان ربکم واحد واباکم واحد ودینکم واحد ونبیکم

صفحہ ٢٤٥

واحد ولا نبي بعدي “

(كنز العمال ج ٣ ص ٩٣ حديث نمبر ٥٦٥٥)

عرض کریں گے: ”یا محمد انت رسول الله وخاتم الانبياء“

(بخاری مسلم ج ١ ص ١١١ باب اثبات الشفاعة)

نبوت کے جملہ اجزا میں سے صرف مبشرات یعنی رویا صالحہ رہ گئی ہیں اور جز کبھی کل کے مساوی نہیں ہوسکتا۔

قسم رہ گئی ہے۔

اس سے لازم آتا ہے کہ بقاعدہ استثناء مبشرات بھی نبوت تشریعیہ ہو اور اس کا دعویٰ نبوت تشریعی کا دعویٰ ہو جو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی کفر ہے۔

ذهبت النبوة وبقيت المبشرات (طبرانى واحمد وصححه ابن حبان وابن خزيمه)“

ابى بكر فقال ايها الناس انه لم يبق من مبشرات النبوة الا الرؤيا الصالحة يراها المسلم او ترى“

(مسلم ج ٢ ص ١٩١ باب النهي عن قرأة القرآن في ركوع والسجود)

وآخرهم في البعث“

(ابن کثیر ج ٦ ص ٣٤٢، عن ابی حاتم)

الفتح ياعم اقم مكانك انت به فان الله قد ختم بك الهجرة كما ختم بی النبيون“

(الطبرانى ج ٦ ص ١٥٤ حديث نمبر ٥٨٢٨ وابو نعيم)

سوال بھی کیا تھا۔ تمام جہان سے ہجرت کا ختم ہونا ذکر نہیں کیا۔ حدیث میں وارد ہے: ”الهجرة

صفحہ ٢٤٦

ماضية الى يوم القيامة " چونکہ مکہ دارالاسلام ہے اور قیامت تک رہے گا ۔ اس لئے وہاں سے ہجرت کرنا بند ہو چکا ہے اور ہجرت کی خاصیت اپنے حقیقی معنوں پر محمول ہے۔

السلام کو خبر دیتے ہوئے فرمایا : " آخر ولدك من الانبياء "

(ابن عساكر، كنز العمال ج ١١ ص ٤٥٥ حديث نمبر ٣٢١٣٤)

اس مختصر رسالہ میں چند روایتوں پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ ورنہ ختم نبوت پر احادیث متواترہ موجود ہیں ۔ چنانچہ ابن کثیر آیت خاتم النبیین کے تحت لکھتے ہیں " فهذه الآية نص في انه لا نبي بعده (الى ان قال) وبذلك وردت الاحاديث المتواترة عن رسول الله ﷺ من حديث جماعة من الصحابة "

(ابن كثير ج ٦ ص ٣٨١)

" قد اخبر الله تعالى في كتابه ورسوله ﷺ فى السنة المتواترة منه انه لا نبى بعده "

(ابن كثير ج ٦ ص ٩١)

ختم نبوت از اجماع امت

كما انه خاتم النبيين وان كان المراد بالنبيين فى الآية هم المرسلين ، عبارت الشيخ محى الدين فى الباب ٤٠٢ من الفتوحات قد ختم الله تعالى بشرع محمد ﷺ جميع الشرائع فلا رسول بعده يشرع ولا نبى بعده يرسل اليه بشرع يتعبد به فى نفسه انما يتعبد الناس بشريعته الى يوم القيامه "

(يواقيت ج ٢ ص ٣٧)

آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت پر اجماع ہو چکا ہے۔ اب نہ کوئی نبی آئے گا کہ جس پر احکام اس کی ذات کے لئے نازل ہوں اور نہ کوئی رسول شریعت تبلیغیہ دے کر مبعوث کیا جائے گا۔ بلکہ قیامت تک آپ ﷺ کی شریعت کی پابندی تمام بنی نوع انسان پر لازمی ہے۔ آیت خاتم النبیین میں نبی اور رسول دونوں مراد ہیں اور اگر کوئی مرسلین کے معنی لے پھر بھی اجماع اسی پر منعقد ہوا ہے کہ ان کے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں بنایا جائے گا۔

صفحہ ٢٤٧

به السنة واجمعت عليه الامة فيكفر مدعی خلافه ويقتل ان اصر"

(روح المعانی ج ٨ ص ٣٩)

کا آنا ختم نبوت کے خلاف ہے:۔ لکھتے ہیں کہ "وانکر ذلك بعض المعتزلة والجهمية ومن وافقهم وزعموا ان هذه الاحاديث مردودة بقوله تعالى وخاتم النبيين وبقوله عليه السلام لا نبي بعدى وباجماع المسلمين انه لا نبي بعد نبينا وهذا وان شريعة مؤبدة الى يوم القيامة لا تنسخ ، وهذا استدلال فاسد لانه ليس المراد بنزول عيسى عليه السلام انه ينزل نبيا بشرع ينسخ شرعنا ولا فى هذه الاحاديث ولا فى غيرها شئ من هذا بل صحت هذه الاحاديث ههنا وما سبق فى كتاب الايمان وغيرها انه ينزل حكما مقسطا يحكم بشرعنا ويحيى من امور شرعنا ما هجره الناس "

(شرح نووی مسلم ج ٢ ص ٤٠٣)

معتزلہ جہمیہ (مرزا قادیانی) نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا ختم نبوت کے خلاف ہونے کی وجہ سے انکار کیا ہے مگر یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ اگرچہ بے شک ختم نبوت پر اجماع ہو چکا ہے۔ لیکن عیسیٰ علیہ السلام پر شریعت خاصہ غیر تابعیہ یا عامہ تبلیغیہ نازل نہیں ہوگی۔ جس سے وہ نبوت کے عہدے پر سمجھے جائیں۔ بلکہ وہ ہر حکم میں شریعت محمدیہ ﷺ کے تابع ہوں گے اور اس حیثیت اور نیابت سے عیسیٰ ہونگے۔ اور چونکہ جوہر اور رتبہ میں وہ نبی ہی ہوں گے۔ صاحب یواقیت اسی شبہ کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "وان عيسى عليه السلام وان كان بعده ومن اولى العزم وخواص الرسل فقد زال حكمه من هذا المقام بحكم الزمان عليه الذى هو بغيره فيرسل ولياً ذا نبوة مطلقة ..... فختمت النبوة بمحمد والولاية بعيسى عليه السلام"

(اليواقيت ج ٢ ص ٨٩)

اجماعاً قطعيا وتواترت به الاحاديث نحو مائتی حديث فتاويله بحيث ينتفى به الختم الزمانى كفر بلاشبه "

(عقيده اسلام ص ٢١٦)

(مشكوة ص ٥٥٦، مناقب ابوبكر الفصل الثالث)

صفحہ ٢٤٨

(مشکوۃ ص٥٤٨، باب وفات النبی علیہ السلام)

الله تعالى انه خاتم النبيين وانه ارسل الى كافة الناس واجمعت الامة على حمل هذا الكلام على ظاهره وان مفهومه المراد به دون تاويل ولا تخصيص فلا شك في كفر هولاء الطوائف كلها قطعاً واجماعاً" (الشفاء ج٢ ص٢٤٦)

س ........ مولانا محمد قاسم صاحب دیوبندی اجراء نبوت کے قائل ہیں اور اسی طرح دیگر بزرگان دین اجراء نبوت غیر تشریعیہ کے قائل ہیں؟۔

ج ........ مولانا محمد قاسم صاحب کی جس عبارت کو ختم نبوت کے خلاف سمجھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ”اگر بالفرض بعد زمانہ نبی ﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا“

(تحذیر الناس ص٢٨)

اس تحریر سے باوجود لفظ ”بالفرض“ ہونے کے اجراء نبوت پر استدلال کرنا ایسا ہی غلط اور بے وقوفی ہے۔ جیسا کہ ”لوکان فیهما الهة الا الله لفسدتا“ سے شرک کے جواز پر استدلال کرنا غیر صحیح ہے۔

دوسرے یہ مضمون اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ ”لوکان موسی حیاً لما وسعه الا اتباعی“ (مشکوۃ ص٣٠ باب الاعتصام بالكتاب والسنة) ”اگر اس حدیث سے جواز نکلتا ہے تو اس سے بھی نکالنا حق ہے۔ ورنہ نہیں۔ پھر نبوت غیر تشریعی نبوت مصطلحہ نہیں ہے۔ یہ ولایت کا ایک درجہ ہے۔ جس کو فنافی الرسول سے تعبیر کرتے ہیں۔ مزید تحقیق پہلے گذر چکی۔

باب: تردید اجراء نبوت

تحریف:١ ..... ”يا بنی آدم اما ياتينكم رسل منكم يقصون عليكم آياتی (اعراف:٣٥) ”اے بنی آدم جب کبھی آویں تمہارے پاس میرے رسول تم میں سے بیان کرتے ہوئے تم پر میری آیتیں اور اب اس غرض (لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیت بتلانا) کے پورا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

(پاکٹ بک احمدیہ ص٤٣٤)

تحقیق ..... اسی رکوع میں اس آیت سے پہلے یا بنی آدم تین مرتبہ آیا ہے اور اوّل یا بنی آدم کا تعلق ”اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم فی الارض (اعراف:٢٤)“ سے

صفحہ ٢٤٩

ہے ۔ کیونکہ اھبطوا کا مخاطب آدم اور حوا کی اولاد ہے ۔ اسی لئے معلوم ہوا کہ اس آیت میں بھی ہبوط آدم کے وقت مخاطب بنایا گیا ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ میں اس امر کو بالکل واضح کر دیا گیا ۔ ”قلنا اهبطوا منها جميعاً فاما ياتينكم منى هدى (البقره:٣٨)“ علامہ سیوطیؒ مــ هدى کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کتاب ورسول (جلالین) لہٰذا ياتينكم اور يقصون حکایت حال ماضیہ کے طور پر مذکور ہوئے ہیں۔ یعنی زمانہ ماضی میں ہبوط کے وقت مضارع استعمال کیا گیا تھا۔ اسی مضارع کو زمانہ دراز کے بعد بھی بعینہٖ نقل کر دیا۔ اس لئے اس میں زمانہ استقبال یا آئندہ ہبوط کے بعد سے شروع ہوگا۔ جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ تک پورا ہو گیا۔

مضارع اگر چہ بعض اوقات استمرار کے لئے آتا ہے۔ مگر استمرار کے واسطے قیامت تک رہنا ضروری نہیں ہے۔ جو فعل دو چار دفعہ پایا جائے ۔ اس کو مضارع استمراری سے تعبیر کرنا جائز ہے۔ قرآن میں ایسی مثالیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں :

(المائده:٤٤) “ ظاہر ہے کہ توریت کے موافق حکم کرنے والے انبیائے کرام، آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے ہی گزر چکے اور آج گذشتہ نبیوں میں سے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی نزول کے بعد حق نہ ہو گا کہ وہ توریت یا انجیل کی اتباع کرائیں۔

قرآن مجھ پر اس لئے اتارا گیا ہے کہ میں تم کو اور جن کو میرا پیغام پہنچے خدا کے غصہ سے ڈراتا ہوں۔ چنانچہ خود آنحضرت ﷺ ایک زمانہ تک ڈراتے رہے۔ مگر آج آپ ﷺ کی انذار و تبشیر کا سلسلہ بلا واسطہ مسدود ہے۔

فاعلين (الانبیاء:٧٩) ”ہم نے پہاڑوں اور جانوروں کو داؤد علیہ السلام کا مسخر کر دیا کہ جو ایک ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ یہ تسبیح داؤد علیہ السلام کی زندگی تک رہی اور پھر بند ہو گئی۔

سے ظاہر ہے۔ اس لئے اگر اس آیت سے استدلال کیا گیا تو نبوت تشریعیہ کا اجراء لازم آئے گا جو مرزا قادیانی کی نظر میں بھی کفر ہے اور تقریب کا ناتمام رہنا یعنی دلیل کا دعویٰ کے مطابق نہ ہونا اس کے علاوہ ہے۔

تحریف:٢ ... ”وماكان الله ليطلعكم على الغيب ولكن الله يجتبى

صفحہ ٥١

من رسله من يشاء (آل عمران: ١٧٩) ”نہیں تھا اللہ تعالیٰ کہ مطلع کرتا تم کو غیب کی باتوں پر لیکن رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے۔ اس بات کے لئے منتخب کر لیتا ہے۔“ معلوم ہوا کہ غیب پر رسولوں ہی کو مطلع کرتا ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی نے بذریعہ متعد د پیشگوئیوں کے غیب کی خبریں دی ہیں۔ اس لئے پیغمبر خدا ہے۔ لیکن منشاء اس آیت کا بمطابق ”فلا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول (الجن : ٢٦) “ و لفظ یجتبی مضارع بھی اس امر کا مقتضی ہے۔

تحقیق..... آیت کا مطلب نہیں ہے کہ جس کو رسول بنانا چاہتا ہے۔ اس کو امور غیبیہ کی خبر دے کر رسالت عطا کرتا ہے۔ بلکہ دونوں آیتوں کی یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی خبریں رسولوں میں سے کسی ایک رسول کے ذریعہ سے دیتا ہے۔ اس صورت میں من رسله میں لفظ من تبعیضیہ ہوگا۔ یعنی رسولوں میں سے بعض رسولوں کو پیش گوئی کے لئے چن لیتا ہے اور اگر من بیانیہ لیں تو غیب سے وحی مراد لینی پڑے گی اور اس وقت آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ وحی پر سوائے رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ غرض مغیبات کی اطلاعیں دے کر رسول بنانا آیات کا مفہوم نہیں ہے۔ بلکہ رسول بنا کر مغیبات پر مطلع کرنا آیت کا مفاد ہے۔ چنانچہ قاضی بیضاوی اس آیت کے معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”ولـــكـــن الله يجتبى لرسالة من يشاء فيوحى اليه ويخبره ببعض المغيبات (بیضاوی ج ١ ص ١٦٧، آل عمران )“ یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، رسالت کے لئے چن لیتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ سے مغیبات کی اطلاعیں دیتا ہے اور اگر ہر وہ شخص جو غیب کی خبر دے اس کا رسول ہونا ضروری ہے تو مرزا قادیانی کے خیال میں فاسق فاجر اور فاحشہ عورتیں بھی غیب کی باتیں سنایا کرتی ہیں۔ جیسا کہ متعدد حوالوں سے ثابت ہو چکا ہے۔ اس لئے ان کو بھی مرزا قادیانی کی سرکار سے کوئی معزز خطاب ملنا چاہئے۔ پھر مرزا قادیانی حضرت خضر کا غیب دان ہونا مانتے ہیں۔ مگر نبی ہونا تسلیم نہیں کرتے۔

اس آیت میں ہے کہ ”وما ارسلنا من قبلك الا رجالا نوحى اليهم (یوسف: ١٠٩)“ نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر مرد کہ جن کی طرف وحی کی جاتی تھی۔ لفظ نوحی میں اگرچہ استمرار ہے۔ لیکن من قبلك استمرار الی یوم القیامہ مراد لینے سے مانع ہے۔ کمالا يخفى۔

جا رہا ہے۔ جو تقرب ناتمام ہونے کے علاوہ کفر بھی ہے۔

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں

پیش گوئیوں کا سوتا ہے۔ جس میں ایک سچ ہے تو دس جھو کی نشانی نہیں ہے۔ وہ اخبار بالغیب نبوت کی خصو نہیں ہوتا اور ہر ایک بات من وعن پوری ہوتی نجومی سے بھی خطا ہوتا ہے۔

تحریف:٣...... ”ان رحمة الله قـ خدا کی رحمت نیکوں سے قریب ہے اور نبوت بھی ایک

تحقیق ...... رحمت سے جملہ رحمتیں مراد ایک رحمت ہے۔ مگر اس رحمت سے اگر محسنین خصـ خصوصیت کے ساتھ نبوت ہی مراد لینے پر کوئی قر موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام عالم کے لئے ر اتباع سب سے بڑی رحمت ہے۔ اس سے الگ ہیں کہ ”فلا حاجة لنا الى نبى بعد محـ لہٰذا اگر کوئی نبی ہو گا تو وہ اس سعادت اتبع الاما يوحى الی“ کے ماتحت ہر حکم میں پھر یہی رحمت تو نبوت نبوت غیر تشریعیہ کو اس کا مصداق بنانا زبردستی اور

تحریف:٤....... ”اهدنا الصـ جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ ” و وهبنا لهـ من قبل“

تحقیق ...... لفظ ہدایت شرک اور گر کیا جاتا ہے۔ اس لئے ”اهدنا الصراط لینے پڑیں گے جو بطور قدر مشترک سب میں درجہ ہے جو انبیاء ہی کے لئے مخصوص ہے۔

صفحہ ٢٥١

جارہا ہے۔ جو تقریب ناتمام ہونے کے علاوہ کفر بھی ہے۔

پیش گوئیوں کا ہوتا ہے۔ جس میں ایک سچ ہے تو دس جھوٹ بھی موجود ہیں۔ ایسی غیب دانی نبوت کی نشانی نہیں ہے۔ وہ اخبار بالغیب نبوت کی خصوصیات میں ہے۔ جس میں ذرہ برابر جھوٹ نہیں ہوتا اور ہر ایک بات من وعن پوری ہوتی ہے اور مرزا قادیانی کا رتبہ اس میں رمال اور نجومی سے بھی گھٹا ہوا ہے۔

تحریف ٣۔ ''ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین (اعراف:٥٦)'' خدا کی رحمت نیکوں سے قریب ہے اور نبوت بھی ایک رحمت ہے۔ لہٰذا وہ بھی ملنی چاہئے۔

تحقیق ..... رحمت سے جملہ رحمتیں مراد نہیں ہیں۔ ورنہ مال، دولت جاہ وسلطنت بھی ایک رحمت ہے۔ مگر اس رحمت سے اکثر محسنین خصوصاً انبیاء علیہم السلام خالی ہیں۔ نیز رحمت سے خصوصیت کے ساتھ نبوت ہی مراد لینے پر کوئی قرینہ بھی موجود نہیں۔ بلکہ اس کے خلاف یہ قرینہ موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ اس لئے آپ کی غلامی اور اتباع سب سے بڑی رحمت ہے۔ اس سے الگ ہونا انتہائی بد نصیبی ہے۔ مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ '' فلا حاجة لنا الی نبی بعد محمد ''

(حمامة البشریٰ ص ٤٩ ،خزائن ج ٧ ص ٢٤٤)

لہٰذا اگر کوئی نبی ہوگا تو وہ اس سعادت سے ضرور محروم ہو جائے گا۔ کیونکہ نبی آیت '' ان اتبع الا ما یوحٰی الی '' کے ماتحت ہر حکم میں رسول شریعت کا تابع نہیں ہوتا۔ بلکہ ماسوا ..... پھر بڑی رحمت تو نبوت تشریعیہ ہے۔ اس کو آیت کے مفاد سے نکال کر نبوت غیر تشریعیہ کو اس کا مصداق بنانا زبردستی اور ترجیح بلامرجح ہے۔

تحریف ٤۔ '' اهدنا الصراط المستقیم '' نبوت بھی ایک ہدایت ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ '' ووهبنا له اسحق ويعقوب كلا هدينا ونوحاً هدينا من قبل ''

(انعام : ٨٤)

تحقیق ..... لفظ ہدایت شرک اور گناہ سے بچنے اور تعلق باللہ اور قرب الٰہی پر بھی اطلاق کیا جاتا ہے۔ اس لئے '' اهدنا الصراط المستقیم (فاتحہ : ٤) '' میں ہدایت سے وہی معنی لینے پڑیں گے جو بطور قدر مشترک سب میں پائے جائیں ۔ چونکہ نبوت قرب الٰہی کا ایک خاص درجہ ہے جو انبیاء ہی کے لئے مخصوص ہے۔ ہر خاص وعام میں نہیں پایا جاتا۔ اس لئے سیدھے

صفحہ ٢٥٢

راستہ پر قائم رکھنا ہی مراد ہوگا۔ جس کے لئے ہر شخص دعا کر سکتا ہے۔

بلکہ ان کے راستہ پر قائم رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے اور ان کا راستہ شریعت اور مذہب ہے کہ وہ اس کی پابندی اور اتباع کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔ قرآن میں ہے کہ :”وجعلنا منهم أئـمـة يـهـدون بـأمـرنـا (حم السجده:٢٤) “ ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے جولوگوں کو دین حق کی طرف بلاتے تھے۔ اگر نبوت طلب کرنے کی تعلیم دینی مقصود ہوتی تو اعـطـنـا مـا انـعـمـت علیھم ہوتا۔ ”صراط الذين انعمت علیھم“ نہ ہوتا۔

اليك“

(قصص:٨٦)

” وما كنت تدرى ماالکتب ولا الایمان (الشوری:٥٢) “ سے ظاہر ہے۔ دوسرے”وهبنا له اسحاق“ کے چند آیات بعد یہ آیت ذکر کی گئی ہے۔ ”ذلك ھدی الله یهدی به من یشاء من عباده (انعام:٨٨) “ نبوت اللہ کی ایک ہدایت ہے اور یہ ہدایت جس کو وہ چاہتا ہے۔ عطا فرماتا ہے۔ معلوم ہوا کہ نبوت وہبی چیز ہے کسی عمل یا دعاء سے نہیں ملتی اور آیت زیر بحث دعائیہ ہے۔ اس لئے نبوت اس کے مفہوم میں داخل نہیں ہوسکتی ۔

عليهم من النبيين والصديقين“

(النساء:٦٩)

آیت ”ان الله معنا (توبہ: ٤٠) “

(البقره:١٥٣)

عینیت لازم آئے گی۔ وهـو كـمـا تـری! اور اس حدیث میں تـارك الـصـلـوة بعینہ قارون، فرعون اور ہامان وغیرہ ہونا چاہئے: ”عن النبي ﷺ انـه ذكـر الصلوة يوما فقال من حافظ عليها كانت له نوراً وبرهانا ونجاة يوم القيامة ومن لم يحافظها لم تكن له نورا ولا برهانا ولا نجاة وكان يوم القيامة مع قارون وفرعون وهامان وابي ابن خلف (رواه احمد والدارمی والبيهقي، مشكوة ص ٥٩، كتاب الصلوة) “ ایسا ہی ایک اور روایت میں ہے کہ: ”الـتـاجــر الـصـدوق مع الـنـبـيـيـن والـصـديـقـين

والشهداء والصالحين (منتخب کنز عمال ص ٥٢٣ ج ١) ”چاہئے کہ تاجر بھی نبی مرافقت کی تصریح موجود ہے۔ پھر عینیت کی

فی سبیل اللہ نہ ہو شہید نہیں ہوسکتا۔ جس کا قید دوسری آیتوں کی وجہ سے لگائی جاتی ہے کی جاتی ؟ ۔

پر اطلاق نہیں کیا گیا ۔ لہٰذا یہاں بھی نبیی کے لئے تسلیم کرلیں تو نبوت تشریعیہ کا اجراء کے خلاف اور اس کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔

اگر مع کو عینیت کے لئے رکھیں تو نفس ط باوجود یہ کہ یہ غلط ہے۔

تک کوئی نبی نہ بنا ؟ ۔ باوجود یہ کہ مرزا قاد اور صالح ہونے کے قائل ہیں ۔ مگر نبی خاصہ امت محمدیہ ﷺ کو جب وہ متابعت ا اختیار کریں یہ تبعیت ایسے رسول کے اس جن کا نام احادیث میں اَمثل اور قر آن شر حضرت عُمرؓ فاروق کا محدث ہو بـنـبـی و لا یوحى الی ومثله فی الـ

اعلم حيث يجعل رسالته“

صفحہ ٢٥٣

والشهداء والصالحين (منتخب كنز العمال بر حاشیه مسند احمد ص ٢٠٦ ج ٢ ، ابن كثير ص ٥٢٣ ج ١ ) ”چاہئے کہ تاجر بھی نبی ہوا کرے۔ علاوہ ازیں حسن اولئك رفيقاً میں مرافقت کی تصریح موجود ہے۔ پھر عینیت کیوں کر مراد ہو سکتی ہے؟۔

فی سبیل اللہ نہ ہو شہید نہیں ہو سکتا۔ جس کا آیت میں کوئی ذکر نہیں ۔ جب شہادت کے لئے قتل کی قید دوسری آیتوں کی وجہ سے لگائی جاتی ہے تو دلائل ختم نبوت کی وجہ سے کیوں عینیت کی نفی نہیں کی جاتی؟۔

پر اطلاق نہیں کیا گیا۔ لہذا یہاں بھی نبیین سے تشریعی نبی ہی مراد ہے۔ اس لئے اگر مع کو عینیت کے لئے تسلیم کر لیں تو نبوت تشریعیہ کا اجراء لازم آئے گا۔ جو مرزا قادیانی کے نزدیک بھی ختم نبوت کے خلاف اور اس کا دعویٰ کرنا کفر ہے۔

اگر مع کو عینیت کے لئے رکھیں تو نفس طاعت سے چاروں نام ایک ہی آدمی کے ہوں گے۔ باوجود یہ کہ یہ غلط ہے۔

تک کوئی نبی نہ بنا؟۔ باوجود یہ کہ مرزا قادیانی حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمرؓ فاروق کے مطیع اور صالح ہونے کے قائل ہیں۔ مگر نبی بننے کو کبھی تسلیم نہیں کرتے۔ ملاحظہ ہو ۔ ”خدا تعالیٰ افراد خاصہ امت محمدیہ ﷺ کو جب وہ متابعت اپنے رسول میں فنا ہو جائیں اور ظاہر و باطناً اس کی پیروی اختیار کریں بہ تبعیت ایسے رسول کے اس کی برکتوں میں سے عنایت کرتا ہے ...... اور یہی لوگ ہیں جن کا نام احادیث میں امثل اور قرآن شریف میں صدیق آیا ہے ۔“

(براہین احمدیہ ج ٣ ص ٢٣٢، ٢٣٣، خزائن ج ١ ص ٢٥٦، ٢٥٧)

حضرت عمرؓ فاروق کا محدث ہونا پہلے گزر چکا ہے کہ : ”وقال علی الاوانی لست بنبی ولا یوحی الی ومثلہ فی الحاکم“

(ازالۃ الخفاء ج ١ ص ١٤٣)

اعلم حيث يجعل رسالته“

(انعام:١٢٤)

(البقره :١٠٥)

صفحہ ٢٥٤

ہے ۔ لہٰذا نبوت کو اکتسابی کہنا اس قسم کی آیات کا انکار کرنے کی وجہ سے کفر ہے۔

تحریف ٦ : "هو الذى بعث فى الاميين رسولاً منهم يتلوا عليهم آياته ويزكيهم ويعلمهم الكتاب والحكمة، وان كانوا من قبل لفى ضلال مبين ، وآخرين منهم لما يلحقوا بهم ، وهو العزيز الحكيم (جمعه: ٢، ٣)" اس آیت میں آخرین کی بعثت کا بھی ذکر ہے اور ان میں سے مرزا قادیانی بھی ہیں۔

تحقیق : آخرین کا عطف الامیین یا یعلمھم کی ضمیر پر ہے اور اس لفظ کے زیادہ کرنے سے آنحضرت ﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ بیضاوی میں ہے کہ: واخرین منهم عطف على الاميين او المنصوب فى يعلمهم وهم الذين جاؤا بعد الصحابة الى يوم الدين فان دعوته وتعليمه يعم الجميع (بیضاوی شریف ص ٣٧٦، زیر بحث سورہ جمعہ ) "رسولا پر عطف کرنا صحیح نہیں ہو سکتا۔ چونکہ جو قید معطوف علیہ میں مقدم ہوتی ہے۔ اس کی رعایت معطوف میں بھی ضروری ہے۔ چونکہ رسولاً موصوف مبعوث فى الامیین مقدم ہے۔ اس لئے فی الامیین کی رعایت و آخرین منهم میں بھی کرنی پڑے گی اور اس وقت یہ معنی ہو جائیں گے کہ بہت سے دوسرے رسول امیین میں اور بھی آئیں گے۔ چونکہ امیین سے مراد عرب ہیں ۔ جیسا کہ صاحب بیضاوی لکھتے ہیں کہ: "ای فی العرب لان اكثرهم لا يكتبون ولا يقرؤن (بیضاوی ص ٣٧٦، سورہ جمعہ)" اور لفظ منھم کا یہی تقاضا ہے اور مرزا قادیانی عربی نہیں ہیں۔

دوسرے بعث ماضی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اگر رسولا پر عطف کریں گے تو مضارع کے لئے لینا پڑے گا ۔ ایک ہی وقت میں ماضی اور مضارع دونوں کا ارادہ کرنا ممتنع ہے۔

ہوں گے کہ دوسرے آنے والے ابھی تک امیین سے نہیں ملے۔ مگر ان سے ملنے کی امید ہے یہ بات تابعین اور تبع تابعین پر صادق آتی ہے۔ مرزا قادیانی پر صادق نہیں آسکتی کہ جنہوں نے ١٣ سو برس بعد جنم لیا ہے۔

تحریف ٧ : "يا معشر الجن والانس الم يأتكم رسل منكم يقصون عليكم آياتي وينذرونكم لقاء يومكم هذا (انعام : ١٣٠)" معلوم ہوا کہ رسولوں کا آنا جائز ہے۔ اس لئے الم یاتکم سوالیہ لایا گیا ہے۔

صفحہ ٢٥٥

تحقیق : یہ سوال کافروں سے قیامت کے روز ہوگا۔ جیسا کہ بما نسیتم لقاء یومکم ھذا سے ظاہر ہے اور اسی قسم کی یہ آیتیں ہیں۔ ”وقال لهم خزنتها الم یاتکم رسل منکم یتلون علیکم آیات ربکم وینذرونکم لقاء یومکم ھذا “

(الزمر: ٧١)

”ربنا لولا ٢ ارسلت الینا رسولا فنتبع آیاتک“

(قصص: ٤٧)

فعل مضارع ان آیتوں میں حکایت حال ماضیہ کے لئے ہے اور بس لہٰذا اس آیت کا اجراء نبوت سے کوئی تعلق نہیں ۔

تحریف : ٨ : ”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا

(بنی اسرائیل : ١٥) ”

معلوم ہوا کہ جب دنیا میں سخت درجہ کی گمراہی اور غفلت پھیلی ہوئی ہو تو خدا کی طرف سے رسول آتا ہے۔ جس کے آنے پر لوگوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔

تحقیق : اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو غفلت اور بے خبری میں ہلاک نہیں کرتا بلکہ بذریعہ رسول کے ان کو آگاہ اور مطلع کر دیتا ہے۔ تاکہ اگر گمراہی کو چھوڑ کر ہدایت کا راستہ اختیار کریں تاکہ دنیوی عذاب سے نجات مل جائے اور اگر وہ رسول کی نافرمانی کریں ان کے کہنے پر نہ چلیں تو پھر ہلاک کئے جاتے ہیں اور اس کی مانند قرآنی آیت صریح موجود ہے۔ ”الم یکن ربک مہلک القرى بظلم واہلہا غافلون“ (انعام : ١٣١) ” اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ رسول کے آنے سے پہلے تو لوگ امن میں رہتے ہیں اور ان کی آمد کے ساتھ ساتھ عذاب کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گویا ان کا آنا رحمت نہ ہوا بربادی امت بن گیا۔

٢

ایسے وقت میں نبی کے آنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہدایت اور ارشاد کا کام بذریعہ علماء حق بھی ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی خود بھی قائل ہیں کہ ”جن کا نام احادیث میں امثل اور قرآن میں صدیق آیا ہے اور ان لوگوں کا زمانہ ظہور پیغمبروں کے زمانہ بعث سے بہت ہی مشابہ ہوتا ہے۔ یعنی جیسے پیغمبر اس وقت آتے رہے ہیں کہ جب دنیا میں سخت درجہ کی گمراہی اور غفلت پھیلتی رہی ہے۔ ایسا ہی یہ لوگ بھی اس وقت آتے ہیں کہ جب ہر طرف گمراہی کا سخت غلبہ ہوتا ہے اور حق سے ہنسی کی جاتی ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٣٥ خزائن ج ١ ص ٢٥٩ ، ٢٦٠ حاشیہ)

تحریف : ٩ : ”وعد الله الذين آمنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنكم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم“ (النور : ٥٥) ”پہلے لوگوں میں خلافت نبوت کے رنگ میں تھی۔ اس امت میں بھی ایسی ہی ہونی چاہئے ۔

PDF 256

تحقیق..... اس خلافت سے حکومت اور زمینی وراثت مراد ہے جو حضرات صحابہ کرامؓ کے عہد میں پوری ہو گئی اور قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ”وهو الذی جعلکم خلائف الارض (انعام: ١٦٥)“ صحابہ کرامؓ کی جماعت اس کی مخاطب ہے اور انہی کو پہلوں کا خلیفہ ہونا بلفظ ماضی فرمایا گیا ہے۔

مغالطہ: ١..... ”اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على ابراهيم وعلى آل ابراهيم“ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد پر خیر و برکت نبوت اور رسالت تھی۔ اسی قسم کی برکات اور رحمتیں آل محمد ﷺ پر ہونی چاہئیں ورنہ لفظ کما کا لحاظ صحیح نہ رہے گا۔

تصحیح..... اس خیر و برکت سے کثرت اولاد اور بقاء نسل مراد ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ ”قالوا أتعجبين من امر الله رحمة الله وبركاته عليكم اهل البيت (هود: ٧٣)“ اس میں حضرت سارہ کو اولاد کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے عطاء نبوت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لئے درود شریف میں بھی نبوت یا رسالت کی برکت مراد نہیں ہے۔ ورنہ بارک علی محمد کے یہ معنی ہوں گے کہ محمد ﷺ کو نبوت کی برکت عطا فرما اور یہ بداہتہً غلط ہے۔ پھر آل نبی ہونے کی وجہ سے مرزا پر یہ دعاء صادق نہیں آتی۔ نیز ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت مستقلہ اور متعددہ کثیرہ ہوتی آئی ہے۔ امت محمدیہ میں سے بقول مرزا قادیانی سوا ان کے کوئی بھی نبی نہ ہوا اور وہ بھی ظلی بروزی جس کا اولاد ابراہیم میں کہیں پتہ نہیں۔ لہذا مرزا قادیانی کی تحریف تسلیم کرتے ہوئے بھی کما کے معنی صحیح نہیں ہوتے۔

مغالطہ: ٢..... اگر مرزا قادیانی جھوٹے ہوتے تو ان کو اس قدر کامیابی کبھی نصیب نہ ہوتی۔

تصحیح..... قلت اور کثرت پر حق و باطل کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ قرآن حکیم میں کافروں کی نسبت ارشاد ہے کہ ”وجعلناهم أئمة يدعون الى النار ويوم القيامة لا ينصرون (القصص: ٤١)“ ہم نے ان کو دنیا میں لوگوں کا پیشوا بنایا۔ جو ان کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے۔ قیامت کے دن ایسوں کی مدد نہ کی جائے گی۔

مغالطہ: ٣..... ”لو عاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً (ابن ماجه ص ١٠٨ باب ماجاء في الصلوة على ابن رسول الله الخ)“ معلوم ہوا کہ نبوت ابھی تک جاری ہے۔

ورنہ بصورت زندگی ابراہیم بن رسول ا تصحیح..... اہل علم سے مخفی ن شرطیہ ہے۔ اس میں لو عاش مقدم یعنی جزء ہے۔ قضیہ شرطیہ کے صدق کے و امکان بھی ضروری نہیں۔ مثلاً کوئی شخ اللیل مع النهار موجوداً ”اگر سچا ہونے میں ذرا شک نہیں۔ اسی طر العابدين (زخرف: ٨١) ”اور ق میں قضیہ شرطیہ کے دونوں جز غیر ممک ہوسکتا۔ فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں غير تعرض لإمكان شئ كما العابدين وقوله تعالى لئن کے وقوع یا اس کے امکان پر استدلا ٢........ اس کے یہ آپ ﷺ پر ختم کر دی گئی تھی۔ اس میں اسی باب کی پہلی حدیث موجود اوفی ارأيت ابراهيم بن رس بعد محمد ﷺ نبی لعاش اب في الصلوة على ابن رسول الله لڑکپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتے سے منقول ہے: ”انه لو بقی نبيكم أخر الانبياء (حاوى ل میں عبداللہ بن ابی اوفیٰ اور انس ک دخل نہ ہو مرفوع حدیث کے حکم میں

صفحہ ٢٥٧

ورنہ بصورت زندگی ابراہیم بن رسول اللہ کا نبی ہونا ممکن تھا۔

تصحیح...... اہل علم سے مخفی نہیں کہ لو عاش ابراهيم لكان صديقاً نبياً قضیہ شرطیہ ہے۔ اس میں لو عاش مقدم یعنی قضیہ کا پہلا جز اور لكان صديقاً نبياً تالی۔ یعنی دوسرا جز ہے۔ قضیہ شرطیہ کے صدق کے واسطے تالی کا وقوع تو بجائے خود رہا۔ اس کے واقع ہونے کا امکان بھی ضروری نہیں۔ مثلاً کوئی شخص کہے کہ ”لوكان اجتماع الضدين جائز لكان الليل مع النهار موجوداً“ اگرچہ اس میں جزء ثانی پہلے جز کی طرح محال ہے۔ مگر قضیہ کے سچا ہونے میں ذرا شک نہیں۔ اسی طرح ”قوله تعالیٰ قل ان كان للرحمن ولد فانا اول العابدین (زخرف:٨١)“ اور ”قوله تعالیٰ لئن اشرکت لیحبطن عملك (زمر:٦٥)“ میں قضیہ شرطیہ کے دونوں جز غیر ممکن الوقوع ہیں۔ مگر قضیہ کے صادق ہونے میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔ فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”الشرط انماهو تعليق شي بشى من غير تعرض لامكان شي كما في قوله تعالى قل ان كان للرحمن ولد فانا اوّل العابدين وقوله تعالى لئن اشرکت لیحبطن عملك “ لہٰذا اس عبارت سے نبوت کے وقوع یا اس کے امکان پر استدلال کرنا عقلمندی سے بعید ہے۔

٢....... اس کے یہ معنی ہیں کہ اگر وہ زندہ رہتا تو نبی بنایا جاتا۔ مگر چونکہ نبوت آپ ﷺ پر ختم کر دی گئی تھی۔ اس لئے وہ بڑی عمر تک زندہ نہیں رکھا گیا۔ چنانچہ اس بیان کی تائید میں اسی باب کی پہلی حدیث موجود ہے۔ ”عن اسمعیل بن خالد قلت لعبد الله بن ابی اوفى ارايت ابراهيم بن رسول الله قال مات وهو صغير ولو قضى ان يكون بعد محمدﷺ نبي لعاش ابنه ولكن لا نبی بعده (ابن ماجه ص١٠٨، باب ماجاء في الصلوة علی ابن رسول الله ﷺ وذكر وفاته ) “ آنحضرت ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم لڑکپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ اگر آپ ﷺ پر نبوت ختم نہ ہوتی تو وہ زندہ رکھے جاتے اور آپ ﷺ کے بعد وہی نبی ہوتے ۔ یہی معنی اس روایت کے ہیں۔ جو مسند احمد میں انس بن مالکؓ سے منقول ہے: ”انه لو بقى ابراهيم بن النبى ﷺ كان نبيا ولكن لم يبق لان نبيكم اخر الانبياء (حاوی للفتاوى ج٢ ص ٩٩ ، للسيوطى ) “ اگر چہ ان دونوں روایتوں میں عبداللہ بن ابی اوفی اور انس کا ذاتی خیال ذکر کیا گیا ہے۔ مگر صحابی کا وہ قول جس میں قیاس کو دخل نہ ہو مرفوع حدیث کے حکم میں ہوا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں یہی معنی آیت ”ما كان محمد ابا

صفحہ ٢٥٨

احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین (احزاب : ٤٠) “ سے مستفاد ہیں۔ کیونکہ لکن وہم سابق کو دور کرنے کے لئے آتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے پسری اولاد کے زمانہ رجولیت تک زندہ نہ رہنے کے شبہ کو آپ کی ختم نبوت اور ابوۃ روحانیہ کا ذکر فرما کر دور کردیا۔ اگر یہ معنی نہ لیں گے تو لکن کا لانا صحیح نہ رہے گا۔

٣....... پھر یہ حدیث مرفوعاً صحیح نہیں ہے کہ ”قال ابن حجر ان ہذا الحدیث لم یصح رفعہ من حیث انہ روی ابن ماجہ بسند فیہ ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان العبسی قاضی واسط وہو متروک الحدیث قال الترمذی منکر الحدیث قال الدار قطنی ضعیف وقال النووی فی تہذیبہ واما ماروی عن بعض المتقدمین حدیث لو عاش ابراہیم لکان نبیاً فباطل“

مغالطہ: ٤....... تکملہ مجمع البحار میں خاتم النبیین کے یہ معنے لکھے ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور ایسا ہی ملا علی قاری نے موضوعات کبیر کے ص ٥٨، ٥٩ پر تحریر کیا ہے۔

تنقیح....... گذشتہ بیانات سے ظاہر ہو چکا ہے کہ نبی اور رسول دونوں تشریعی نبی کہلاتے ہیں۔ اس لئے خاتم النبیین سے نبی اور رسول دونوں کی خاتمیت ثابت ہوتی ہے۔ مگر چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریعی نبی تھے اور ان کی آمد ثانی جو احادیث صحیحہ متواترہ سے ثابت ہے۔ بظاہر خاتمیت کے خلاف تھی۔ اس لئے مفسرین و دیگر علماء کبار نے اس تعارض کو اٹھاتے ہوئے یہ ظاہر کر دیا کہ عیسیٰ علیہ السلام اگر چہ پہلے صاحب شریعت نبی تھے۔ مگر نزول کے بعد ان کے لئے کسی قسم کی نئی یا پرانی شریعت نہ ہوگی۔ اس لئے وہ تشریعی نبی بھی نہ ہوں گے اور آیت میں ایسے ہی نبی کے آنے کی نفی کی گئی ہے۔ چونکہ ایک نبی کے نبی ہونے کے لئے لازمی ہے کہ اس کی طرف شریعت خاصہ ان کی ذات خاص کے لئے یا عامہ جو امت اور رسول دونوں کے واسطے ہو بھیجی جائے اور عیسیٰ علیہ السلام کو بحکم تبعیت خاتم الانبیاء کسی قسم کی شریعت نئی یا پرانی نہیں دی جائے گی ۔ بلکہ وہ ہر حکم میں شریعت محمدیہ کے تابع اور مطیع ہوں گے ۔اسلئے ان پر نبی تشریعی کا لفظ صادق نہیں آئے گا۔ جو خاتمیت کے منافی ہے۔ بلکہ نبوت سابقہ غیر تشریعیہ ہوگی اور اس سے ختم نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور یہی مطلب عائشہؓ کی اس روایت کا ہے ۔ ”قولوا خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ (مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٥٠٢) “ یعنی کسی نبی کا خواہ نیا ہو یا پرانا شریعت لے کر آنا

صفحہ ٢٥٩

منع ہے اور اگر پہلا نبی بلا شریعت آئے تو وہ خاتمیت کے مخالف نہیں ہے۔ چنانچہ مجمع البحار پر مرقوم ہے۔ ”عن عائشة قولوا خاتم الانبياء ولا تقولوا لا نبى بعده وهذا ناظرا الى نزول عيسى وهذا ايضاً لا ينافى حينئذ لا نبى بعدى لانه اراد لانبى ينسخ شرعه (مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٥٠٢)“ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی آیت خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی کے مخالف نہیں ہے۔ کیونکہ صاحب شریعت نبی کے آنے کی نفی کی گئی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کسی شریعت کے ساتھ نہیں آئیں گے اور نہ ان پر امر ونہی کی وحی نازل ہوگی اور یہی مراد ملا علی قاریؒ کی بھی ہے۔ غرض عیسیٰ السلام آمد ثانی کے وقت ہر حکم میں شریعت محمدیہ کی اتباع کریں گے اور کوئی حکم ان کی ذات خاص کے لئے نازل نہ ہوگا اور نہ وحی نبوت ان پر اترے گی۔ اگر چہ ان کا مرتبہ نبیوں جیسا ہوگا۔ مگر وحی نبوت اور شریعت خاصہ نازل نہ ہونے کی وجہ سے وہ شرعی اصطلاح میں نبی نہیں کہلائیں گے۔ جس طرح قیامت کے دن تمام انبیاء اور رسل اسی نام کے ساتھ پکارے جائیں گے۔ لیکن منصب نبوت تبلیغ تشریع اور نزول وحی وغیرہ کچھ نہیں ہوگا نہ کوئی حکم شریعت محمدیہ کے موافق اور یا مخالف ان پر نازل ہوگا۔ کیونکہ ایسا ہونے سے نسخ شریعت لازم آئے گا۔ جو بحکم تبعیت جائز نہیں ہے۔

اسی لئے جلالین اور جامع البیان میں خاتم النبیین کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”منه بان لا نبى بعده واذا نزل السيد عيسى يحكم بشريعته (تفسیر جلالین ص٣٥٥ زیر آیت ولكن رسول الله وخاتم النبيين )“ وعيسى ينزل بدينه مويداً له اذا نزل السيد کی قید کا فائدہ بتاتے ہوئے صاحب جمل لکھتے ہیں کہ: ”واذا نزل السيد عيسى يحكم بشريعته جواب عما يقال كيف قال تعالى وخاتم النبيين وعيسى ينزل بعده وهو نبى (حاشیه ١٥ ، جلالین ص ٣٥٥ زیر آیت ماکان محمد ابا احد )“ اور بیضاوی میں درج ہے کہ: ”قال الزمخشرى فان قلت كيف كان اخر الانبياء وعيسى ينزل فى آخر الزمان قلت بمعنى كونه آخر الانبياء انه لا ينباء بعده احد وعيسى ممن نبئ قبله وحين ينزل ينزل عاملاً بشريعة محمد ﷺ اه كرخى“ (تفسیر کشاف الزمخشری ج ٣ ص ٥٤٤ ، ٥٤٥)

مع ان المراد انه آخر من نبى (بیضاوی ج ٢ ص ١٩٦)“ غرض ملا علی القاری اور

صفحہ ٢٦٠

صاحب فتوحات اور شیخ عبدالوہاب شعرانی وغیرہ جن علماء نے نبوت غیر تشریعیہ کے اجراء کا اقرار کیا ہے۔ انہوں نے صاف طور پر یہ ظاہر کردیا کہ ایسا شخص ہر حکم میں نبی عربی ﷺ کا تابع اور فرمانبردار ہوگا اور اس پر موافق یا مخالف کسی قسم کی وحی نازل نہ ہوگی۔ نبی غیر تشریعی یا تابع نبی کے یہی معنے ہیں۔ اس بات کا کسی جگہ اظہار نہیں کیا کہ کوئی شخص شریعت محمدیہ کی اتباع سے درجہ نبوت حاصل کر سکتا ہے۔ بلکہ ایسا کہنے والے کو کافر کہا ہے: ’’و من ادعى النبوة او جوزا لنفسه او جوز اكتسابها والبلوغ بصدق القلب الى مرتبتها كا الفلاسفة وغلاة المتصوفة وكذالك من ادعى منهم انهم يوحى اليه وان لم يدع النبوة فهؤلاء كلهم كفار مكذبون للنبي ﷺ‘‘

(شفاء ج ٢ ص ٢٤٧،٢٤٦)

(شرح فقه اکبر ص ٢٠٢)

الملا على قاری فی شرحه عبارة النسفی فی عقائده ولا يبلغ ولی درجة الانبياء اولى من عبارة الناظم لافادتها نفى المساوات (ايضاً)‘‘ لہٰذا لاہوری مرزائی جماعت کا مرزا قادیانی کو مجدد مانتے ہوئے بعض انبیاء سے افضل کہنا موجب کفر ہے۔ چونکہ نبی اس وقت نبی کہلایا جاسکتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی حکم میں شریعت سابقہ کی اطاعت سے بہرہ ور ہو اور براہ راست اس پر خدا کی وحی اترے۔ ایسا نبی قیامت تک کبھی نہیں آسکتا۔ اس لئے عیسیٰ علیہ السلام بھی جب تشریف لائیں گے تو یہ حیثیت ان میں کلیتہً مفقود ہوگی اور ان پر شریعت محمدیہ کے ہر حکم کی اتباع کرنی لازمی ہوگی۔

کی اتباع سے نبوت حاصل کرے۔ اگر مرزائی جماعت نبی غیر تشریعی کے یہ معنی کسی عالم سے ثابت کردے تو ہم علاوہ انعام کے اجراء نبوت کے قائل ہو جائیں گے۔

کتاب نئی شریعت اور نئے احکام خدا کی طرف سے لے کر آیا ہو تو پھر رسول کے کیا معنے ہیں؟ اور اگر رسول، تشریعی نبی ایک ہی ہے تو آنحضرت ﷺ خاتم المرسلین ہوئے۔ خاتم الانبیاء نہ ہوئے باوجود یہ کہ آیت میں خاتم النبیین ہے۔

صفحہ ٢٦١

باب : بطالت مرزا قادیانی

فصل اوّل معیار نبوت

مراق مرزا

بنمائے صاحب نظرے گوھر خود را
عیسٰیٰ نتواں گشت بتصدیق خرِے چند

" ام يقولون به جنة بل جآءهم بالحق واكثرهم للحق كارهون (المؤمنون: ٧٠) "کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ محمدﷺ کو جنون ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق لے کر آئے ہیں۔ جس کے اختیار کرنے کو اکثر لوگ برا جانتے ہیں۔ بل جملہ پر ابطالیہ یا انتقالیہ ہوا کرتا ہے اور دونوں صورتوں میں مابعد بل کا ماقبل کے مخالف ہوتا ہے۔ اس لئے آیت کا یہ مفاد ہوگا کہ جس پر حق ظاہر ہو وہ کبھی مجنون نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ نبوت اور جنون میں منافاۃ ہے۔ نبوت نعمت الٰہی ہے جو کمال عقل کو چاہتی ہے اور جنون نقمۃ اور سزا ہے۔ جو سخافت عقل کی مقتضی ہے اور یہ دونوں باتیں کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔ اسی لئے قرآن مجید میں پیغمبر خداﷺ کی نسبت ارشاد ہوا ہے کہ: " وما انت بنعمة ربك بمجنون (القلم: ٢) " ...... " وما بصاحبكم من جنة "

(سباء :٤٦)

تصدیق مرزائیان

"ایسا ہی خدا تعالیٰ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر کوئی خبیث مرض دامن گیر ہو جائے۔ جیسا کہ جذام اور جنون اور اندھا ہونا اور مرگی تو اس سے یہ لوگ نتیجہ نکالیں گے کہ اس پر غضب الٰہی ہو گیا۔"

(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣١، خزائن ج١٧ ص ٦٧)

"ملہم کے دماغی قویٰ کا نہایت مضبوط اور اعلیٰ ہونا بھی ضروری ہے۔"

(ریویو آف ریلیجنز ص٤، ماہ ستمبر ١٩٢٩ء)

"انبیاء کا حافظہ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے ۔"

(ریویو ص٨، ماہ نومبر ١٩٢٩ء)

"ملہم کا دماغ بہت اعلیٰ ہوتا ہے ۔"

(ریویو ص ٢٦، ماہ جنوری ١٩٣٠ء)

"جب تک نور قلب نور عقل کسی انسان میں کامل درجہ پر نہ پائے جائیں تب تک وہ نور

صفحہ ٢٦٢

عذر نہیں پاتا۔‘‘

(حاشیہ براہین احمدیہ ص١٨٢،خزائن ج١ ص١٩٨)

اگرچہ کافروں نے انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ان کو ساحر، کاہن اور مجنون کہا ہے۔ لیکن انبیاء کرام علیہم السلام نے کبھی اپنی زبان مبارک سے اس الزام کا اقرار نہیں کیا۔ وحی ربانی ہمیشہ اس کی تردید کرتی رہی۔ قرآن کریم میں ہے۔’’وما انت بنعمة ربك بكاهن ولا مجنون (القلم:٢)‘‘ مگر مرزا قادیانی اپنے مراقی ہونے کے خود مقر ہیں۔

(ریویو ص٣٥، ماہ اپریل ١٩٢٥ء)

اس طرح وقوع میں آئی۔ آپ نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوں گی۔ تو اس طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں۔ ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی۔ یعنی مراق اور کثرتِ بول۔‘‘

(ملفوظات ج٨ ص٤٤٥)

کو کرتا رہتا ہوں۔ حالانکہ زیادہ جاگنے سے مراق کی بیماری ترقی کرتی ہے۔‘‘

(مکتوب منظور الٰہی ص٣٤٨)

مرزا قادیانی کا دوسرا بیٹا سیرۃ المہدی میں لکھتا ہے کہ: ’’مرزا قادیانی کو ہسٹریا کا دورہ بھی پڑتا تھا۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج١ ص١٣)

مراق، مالیخولیا ہے اور مالیخولیا ایک قسم کا جنون ہے۔ جیسا کہ خلیفہ نورالدین قادیانی لکھتا ہے کہ: ’’چونکہ مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے اور مالیخولیا میں دماغ کو ایذا پہنچتی ہے۔‘‘

(بیاض نورالدین جز اول ص٢١١، مطبوعہ ١٧؍ستمبر ١٩٢٨ء)

ایسا مریض اگر لکھا پڑھا ہو تو وہ اکثر نبوت کا دعویٰ کیا کرتا ہے۔ ’’اگــــر مــــریـــض دانشمند بوده باشد دعوی پیغمبری ومعجزات وکرامات کند سخن از خدائے گوید وخلق را دعوت کند‘‘

(اکسیر اعظم ج١ ص١٨٨)

ایسا ہی (مخزن حکمت ج٢ ص٣٥٢) میں ہے اور (بیاض نورالدین حصہ اوّل کے ص٢١٢) پر لکھا ہے کہ: ’’مالیخولیا کا کوئی مریض خیال کرتا ہے کہ میں بادشاہ ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں پیغمبر ہوں۔ کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں۔‘‘

اس کے بعد ہم مرزائی ڈاکٹر شاہ نواز کی ایک شہادت پیش کرتے ہیں۔ جس سے

صفحہ ٢٦٣

صاف معلوم ہوگا کہ مالیخولیا کا مریض کبھی ملہم نہیں ہوسکتا: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعویٰ کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ یہ ایسی چوٹ ہے جو اس کی صداقت کی عمارت کو بیخ و بن سے اکھیڑ دیتی ہے۔“

(ریویو ج ٧ ص ٦، ماہ اگست ١٩٠٦ء)

اور یہ پہلے ثابت ہو چکا ہے کہ: ”مرزا قادیانی کو ہسٹریا کا دورہ بھی پڑتا تھا۔“

(سیرۃ المہدی ج ١ ص ١٣)۔

اختلافات مرزا

(النساء: ٨٢) ”اگر قرآن خدا کا کلام نہ ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف نظر آتا۔ یعنی جس کلام میں تناقض اور اختلاف پایا جائے گا وہ خدا کا کلام کبھی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ مرزا قادیانی اس شخص کو جس کے کلام میں تناقض پایا جائے۔ اس کو پاگل اور مخبوط الحواس تک بتا رہے ہیں۔ ”ہر ایک کو سوچنا چاہئے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ١٩١)

”ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)

بموجب مرزا قادیانی کے اس الہام کے ”ما ینطق عن الہوی“ یعنی مرزا قادیانی اپنی خواہش سے نہیں کہتا۔

(تذکرہ ص ٣٧٨، ٣٩٤)

اور الہام ”اعلمو ان فضل اللہ معی وان روح اللہ ینطق فی نفسی“

(انجام آتھم ص ٧٦، خزائن ج ١١ ص ١٧٦)

”یعنی جان لو کہ اللہ کا فضل میرے ساتھ ہے اور اللہ کی روح میرے ساتھ بول رہی ہے۔“

یہ کہنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی جو کچھ فرماتے ہیں وہ درحقیقت خدا تعالیٰ ہی کا کلام ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی کتابیں تناقض اور اختلاف سے بھری پڑی ہیں۔ اس لئے وہ کبھی الہامی کتابیں نہیں ہوسکتیں اور نہ ان کا کوئی کلام خدا کا کلام کہا جاسکتا ہے۔ بلکہ اس قسم کے تمام دعوے دروغ بافی یا غلط بیانی پر مبنی ہیں اور ایسے متناقض کلام کہنے والے کے حق میں مرزا قادیانی کا فتویٰ اس کے علاوہ ہے۔ یہاں چند ایسے اختلافات نمونۃً ذکر کئے جاتے ہیں۔ جن میں کسی طرح کی

صفحہ ٢٦٤

تاویل نہیں ہوسکتی اور ان میں بقول مرزا قادیانی کھلا کھلا تناقض پایا جاتا ہے۔

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص١٩٥، ١٩٦، خزائن ج١٧ ص٢٥٣)

(ازالہ ص١٨٥، خزائن ج٣ ص١٨٩)

(ازالہ ص٢٩٢، خزائن ج٣ ص٢٤٩)

(حقیقت الوحی ص٢٩، خزائن ج٢٢ ص٣٠)

(حاشیہ راز حقیقت ص٢، خزائن ج١٤ ص١٥٤)

(تبلیغ رسالت ج٨ ص٦٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١١٩)

جب کہ حضرت ممدوح کی عمر صرف ٣٣ برس کی تھی۔“

(حاشیہ راز حقیقت ص٣، خزائن ج١٤ ص١٥٥)

”اور احادیث میں آیا ہے کہ اس واقعہ (صلیب) کے بعد عیسیٰ ابن مریم نے ایک سو بیس برس کی عمر پائی اور پھر فوت ہو کر اپنے خدا کو جا ملا۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص٣٧، خزائن ج٢٠ ص٢٩)

٣٣ واقعہ صلیب تک اور ١٢٠ برس واقعہ صلیب کے بعد اس لئے کل ٣٣+١٢٠=١٥٣ برس کی عمر ہوئی۔

محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔“

(چشمہ معرفت ص٢٥٥، خزائن ج٢٣ ص٢٦٦)

بات وہی کہے گا جو خود قرآن سے بے خبر ہے۔“

(حاشیہ چشمہ معرفت ص٧٥، خزائن ج٢٣ ص٨٣)

”باوجود یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے بھی توریت وانجیل کے محرف ہونے کی شہادت دی ہے۔“

(دیکھو مشکوٰۃ ص٢٨، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ)

کذبات مرزا

جھوٹ وہی بولتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے۔

یاد رہے کہ جھوٹ اور نبوت دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ بموجب فیصلہ ”لعنۃ

صفحہ ٢٦٥

اللہ علی الکاذبین (آل عمران: ٦١) ”جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہوتی ہے اور نبوت نعماء الٰہی میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ اس لئے اگر کسی شخص کے کلام میں ایک فی صدی بھی جھوٹ نکل آیا تو وہ کبھی نبی نہیں ہو سکتا۔

مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ:

(حاشیہ ضمیمہ گولڑویہ ص ١٣، خزائن ج ١٧ ص ٥٦)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

بدذات آدمیوں کا کام ہے۔“ (آریہ دھرم ص ١١، خزائن ج ١٠ ص ١٣)

اعتبار نہیں رہتا۔“ (چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)

دنیا میں ہیں ۔ سچی خوابیں دیکھا کرتی ہیں۔“ (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ١٦٨)

مگر مرزا قادیانی نے ہر معاملہ میں جھوٹ بولنے کے علاوہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر بھی افتراء کرنے اور بہتان باندھنے سے دریغ نہیں کیا۔ ملاحظہ ہو۔

نازل ہو تو اس شہر کے لوگوں کو چاہئے کہ بلا توقف اس شہر کو چھوڑ دیں۔ ورنہ خدا تعالیٰ سے لڑائی لڑنے والے ٹھہریں گے۔“

(اشتہار تمام مریدوں کے لئے عام ہدایت ریویو آف ریلیجنز قادیان ج ٦ شمارہ ٩، ماہ ستمبر ١٩٠٧ء ص ٣٦٥)

اس مضمون کی حدیث کوئی نہیں آئی۔ یہ مرزا قادیانی کا رسول اللہ ﷺ پر افتراء اور بہتان ہے۔

فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٥٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

صفحہ ٢٦٦

اصل الفاظ حدیث کے اس طرح آئے ہیں۔ جن کو مرزا قادیانی نے قطع برید کے بعد اپنے مطلب کو موافق گھڑ لیا ہے۔

"عن جابر قال سمعت النبی ﷺ یقول قبل ان یموت بشہر تسالونی عن الساعۃ وانما علمہا عند اللہ واقسم باللہ ماعلی الارض من نفس منفوسۃ یأتی علیہا مائۃ سنۃ وھی حیۃ یومئذ (مشکوۃ باب قرب الساعۃ ص ٤٨٠)" جابرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وفات سے ایک ماہ پیشتر یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم مجھ سے قیامت کے آنے کا وقت پوچھتے ہو۔ جس کا علم خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ البتہ جو اس وقت زمین پر لوگ آباد ہیں۔ وہ آج کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ سو سال تک زندہ رہیں گے۔ اس میں سو سال تک قیامت کے آجانے کا ذکر کہیں نہیں کیا گیا۔ آنحضرت ﷺ کی طرف ایسی غلط بات کی نسبت کرکے مرزا قادیانی، حدیث :"من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار (مسلم ج ١ ص ٦ باب تغلیظ الکذب علی رسول اللہ ﷺ)" کی وعید کے مستحق بن گئے ہیں۔

٣...... "نسائی نے ابی ہریرہؓ سے دجال کی صفت میں آنحضرت ﷺ سے یہ حدیث لکھی ہے یخرج فی آخر الزمان دجال یختلون الدنیا بالدین یلبسون للناس جلود الضان من الدین السنتہم أحلی من العسل وقلوبہم قلوب الذیاب! یعنی آخری زمانہ میں ایک گروہ دجال نکلے گا۔"

(گڑویہ ص ٨٦ خزائن ج ٧ ص ٢٣٥)

مرزا قادیانی نے اس روایت کے نقل کرنے میں بھی دجل اور خیانت سے کام لیا ہے۔ حدیث میں رجال یختلون بالراء ہے۔ دجال بالدال نہیں ہے۔ اگر دجال دال کے ساتھ ہوتا تو یختلون بصیغہ جمع نہ آتا۔ بلکہ مفرد ہوتا۔ یا دجال کی جگہ دجالون بلفظ جمع ذکر کیا جاتا۔ مگر مرزا قادیانی نے اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ دجال ایک گروہ کا نام ہے اور شخص واحد نہیں ہے۔ دجال کے راء کو دال سے بدل کر دجال نقل کر دیا۔

٤...... "وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لئے آواز آئے گی کہ ہذا خلیفۃ اللہ المہدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے۔ جو ایسی کتاب میں درج ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔"

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

صفحہ ٢٦٧

یہ حدیث بخاری میں نہیں ہے۔

امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے۔ لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

مرزا قادیانی نے اس تحریر میں مجدد صاحب کے جس مکتوب کا حوالہ دیا ہے اس کی اصل عبارت یہ ہے کہ: "و اذ اكثر هذا القسم من الكلام مع واحد منهم سمي محدثاً"

(مکتوبات جلد ثانی ص ٩٩، ازالۃ اوہام ص ٩١٥، خزائن ج ٣ ص ٦٠١)

مرزا قادیانی نے اپنی نبوت باطلہ کو ثابت کرنے کے لئے دانستہ بجائے محدث کے نبی رکھ دیا اور لوگوں کو مکتوبات امام ربانی کا نام لے کر دھوکا دینا چاہا۔

(فتاویٰ احمدیہ ج ١ ص ٥١)

اور اربعین میں لکھتے ہیں کہ: "اے عزیز! تم نے وہ وقت پا لیا جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا۔ جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے خواہش کی تھی۔"

(اربعین ج ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٢)

مرزا قادیانی کے یہ تمام دعوے دروغ بیفروغ ہیں۔ جن کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یارسول اللہ ﷺ کے حق میں جو انبیاء سابقین نے پیشین گوئیاں کی تھی ان کو اپنے اوپر چسپاں کر کے سخت گستاخی کا مرتکب ہوا ہے۔

بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔"

(کشتی نوح ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٥)

یہ مرزا قادیانی کا قرآن مجید پر افتراء اور بہتان ہے۔ ورنہ قرآن میں کسی جگہ یہ لکھا ہوا نہیں ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔

درج کیا گیا ہے۔ مکہ اور مدینہ اور قادیان اور یہ کشف تھا۔"

(ازالہ ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠، البشریٰ ج ١ ص ١٩ حصہ ٢)

قادیان کا نام قرآن سے دکھاؤ اور انعام حاصل کرو اور اگر یہ کشف جھوٹا تھا تو

صفحہ ٢٦٨

ایسے صاحب کشف کو کیا کہنا چاہئے؟ اور اگر تاویل کرنی ہے تو اس طرح ہر ایک جھوٹ کو سچا کیا جا سکتا ہے۔

بیت اللہ کرے گا۔ کیونکہ بموجب حدیث صحیح کے وہی وقت مسیح موعود کے حج کا ہوگا۔''

(ایام الصلح ص ١٦٨، ١٦٩، خزائن ج ١٤ ص ٤١٦، ٤١٧)

دجال کا کفر سے تائب ہو کر حج بیت اللہ کرنا اور بمعیت اس کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج کے لئے مکہ میں داخل ہونا مرزائی صاحبان کسی حدیث سے ثابت کریں اور اپنے جھوٹے نبی کو ''من کذب علیٰ...... الخ'' کے ماتحت جہنم میں جانے سے بچا لیں۔

تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور محکم عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا۔''

(براہین احمدیہ حصہ دوم ص ٢٩، خزائن ج ١ ص ٦٢)

''لیکن جہاں تک ہم نے نظر کی ہم کو کوئی کتاب ایسی نہ ملی جو جامع ان تمام دلائل اور براہین کی ہوتی کہ جن کو ہم نے اس کتاب میں جمع کیا ہے اور جن کا شائع کرنا بغرض اثبات حقیقت دین اسلام کے اس زمانہ میں نہایت ضروری ہے تو ناچار واجب دیکھ کر ہم نے یہ تالیف کی۔''

(براہین احمدیہ حصہ دوم ص ٣١، خزائن ج ١ ص ٦٣)

''ہم نے کتاب براہین احمدیہ کو جو تین سو براہین قطعیہ عقلیہ پر مشتمل ہے۔ بغرض اثبات حقانیت قرآن شریف جس سے یہ لوگ بکمال نخوت منہ پھیر رہے ہیں۔ تالیف کیا ہے۔''

(براہین احمدیہ حصہ دوم ص ٣٢، خزائن ج ١ ص ٦٦، ٦٧)

''اور اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دکھلایا گیا ہے۔ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جائے گا۔''

(براہین احمدیہ حصہ دوم ص ٣٤، ٣٥، خزائن ج ١ ص ٦٩)

''یہ کتاب تین سو محکم اور قوی دلائل حقیقت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے۔''

(براہین احمدیہ ص ١٣٦، حصہ ٢، خزائن ج ١ ص ١٢٩)

''گزارش ضروری ! چونکہ کتاب اب تین سو جزو تک بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا ان خریداروں کی خدمت میں جنہوں نے اب تک کچھ قیمت نہیں بھیجی یا پوری قیمت نہیں بھیجی۔ التماس ہے کہ اگر کچھ نہیں تو صرف اتنی مہربانی کریں کہ بقیہ قیمت بلا توقف بھیج دیں۔ کیونکہ جس حالت میں اب اصلی

صفحہ ٢٦٩

قیمت کتاب کی سو روپیہ ہے اور اس کے عوض دس یا پندرہ روپے قیمت قرار پائی۔‘‘

(مقدمہ براہین احمدیہ خزائن ج ١ ص ١٣٦)

ان تمام عبارتوں میں لوگوں کو یقین دلایا گیا ہے کہ حقیقت اسلام پر تین سو محکم دلائل کا مجموعہ لکھا جا چکا ہے۔ اور کتاب تین سو جز تک پہنچ گئی ہے۔ جس کی اصلی قیمت ضخامت بڑھ جانے کی وجہ سے فی نسخہ سو روپیہ ہیں۔ مگر رعایتی قیمت متوسط الحال سے ٢٥ روپیہ اور غرباء سے دس روپیہ ہوں گے۔ چنانچہ اسی تحریر کے موافق لوگوں سے یہ قیمتیں وصول کی گئیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اس کتاب میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:

’’اس عاجز کو اس تجربہ کا اسی کتاب کے چھپنے کے اثناء میں خوب موقع ملا کہ حالانکہ خوب مشہور کیا گیا تھا کہ اب باعث بڑھ جانے ضخامت کے اصل قیمت کتاب کی سو روپیہ ہی مناسب ہے کہ ذی مقدرت لوگ اس کی رعایت رکھیں۔ کیونکہ غریبوں کو صرف دس روپیہ میں دی جاتی ہے۔ سو جبر نقصان کا واجبات سے مگر بجز سات آٹھ آدمی کے سب غریبوں میں داخل ہوگئے۔ خوب جبر کیا۔ ہم نے کسی منی آرڈر کی تفتیش کی کہ پانچ روپیہ بوجہ قیمت کتاب کس کے آئی ہے۔ یا یہ دس روپیہ کتاب کے مدّ میں کس نے بھیجی ہے تو اکثر یہی معلوم ہوا کہ فلاں نواب صاحب یا فلاں رئیس اعظم نے۔ ہاں نواب اقبال الدولہ صاحب حیدرآباد نے اور ایک اور رئیس نے ضلع بلند شہر سے جس نے اپنا نام ظاہر کرنے سے منع کیا ہے۔ ایک نسخہ قیمت میں سو روپیہ بھیجا ہے اور ایک عہدہ دار محمد افضل خان نام نے ایک سو دس روپیہ اور نواب صاحب مالیر کوٹلہ نے تین نسخہ کی قیمت تین سو روپیہ بھیجا ہے اور سردار عطر سنگھ صاحب رئیس اعظم لدھیانہ نے کہ جو ایک ہندو رئیس ہیں۔ اپنی عالی ہمتی اور فیاضی کی وجہ سے بطور اعانت پچیس روپیہ بھیجے ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ خزائن ج ١ ص ٣١٩)

اس طرح بہت سا روپیہ آپ نے بطور اعانت و امداد اور پوری قیمت کے وصول کرلیا۔ مگر ٢٣ برس تک خریداروں کو کوئی جواب نہ ملا اور اس عرصہ میں بہت سے خریدار راہی ملک بقاء ہوگئے۔ جن کی رقم مرزا قادیانی شیر مادر کی طرح پی گئے اور ڈکار بھی نہ لی۔

چنانچہ براہین احمدیہ کے حصہ ٥ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’بہت سے لوگ جو اس کتاب کے خریدار تھے۔ اس کتاب کی تکمیل سے پہلے ہی دنیا سے گزر گئے ۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٤ خزائن ج ٢١ ص ٣)

جب خریداروں نے سختی کے ساتھ کتاب کا مطالبہ کیا تو مرزا قادیانی نے ٢٣ برس بعد

صفحہ ٢٧٠

پنجم حصہ لکھا اور اس میں خریداروں کی سخت کلامی کا شکوہ ان لفظوں میں کیا۔ ’’اور اس مدت اور اس قدر زمانہ التواء میں مخالفوں کی طرف سے بھی وہ اعتراض مجھ پر ہوئے کہ جو بدظنی اور بدزبانی کی گند سے حد سے زیادہ آلودہ تھے اور بوجہ امتداد مدت در حقیقت وہ دلوں میں پیدا ہو سکتے تھے۔‘‘

(دیباچہ براہین حصہ ٥ ص ١، خزائن ج ٢١ ص ٢)

لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جس شئے کی خرید و فروخت ہوئی تھی۔ اگرچہ وہ اتنی مدت بعد ملی۔ مگر وہی چیز بعینہ ملی ہے یا کوئی اور شئے دے گئی۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ مرزا قادیانی نے تین سو جز تک کتاب کے مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا اور کتاب کی قیمت بھی اس ضخامت کو پیش نظر رکھ کر وصول کی گئی تھی۔ مگر پانچواں جز لکھتے ہوئے کس صفائی سے اپنا پیچھا خریداروں سے چھڑا لیا ہے۔ چنانچہ شروع دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ:

بحمداللہ کہ آخر این کتابم
مکمل شد بفضل آنجنابم

(دیباچہ براہین احمدیہ ص ١، خزائن ج ٢١ ص ٢)

یعنی جس کتاب کی خریداری ہوئی تھی۔ وہ پانچویں جز کے لکھنے سے مکمل گئی۔ ص ٥، ٧ پر اس کو وضاحت کے ساتھ اس طرح تحریر فرمایا ہے کہ: ’’میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیقت اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں۔ لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزارہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا۔‘‘

(دیباچہ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٥، ٧، خزائن ج ٢١ ص ٦)

’’پہلے پچاس حصہ لکھنے کا ارادہ تھا۔ مگر پچاس سے پانچ پر اکتفاء کیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطہ کا فرق ہے۔ اس لئے پانچ حصوں سے وہ وعدہ پورا ہو گیا۔‘‘

(دیباچہ براہین حصہ ٥ ص ٧، خزائن ج ٢١ ص ٩)

کجا تین سو دلائل والی کتاب کے مکمل ہونے کا اعلان اور اس پر وصولی قیمت اور کجا دو دلیلیں جن میں ایک دلیل مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں تھیں۔ پھر کہاں ٥٠ جز کا اشتہار اور کہاں پانچ جز کی تحریر بلند آہنگی سے کتاب کی تکمیل اور ایفائے عہد کا دعویٰ، اللہ اللہ، ایں چہ بوالعجمی:

جنون کا نام خرد رکھ دیا خرد کا جنون
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
صفحہ ٢٧١

اس صریح جھوٹ کے علاوہ اشتہاری لوگوں کی طرح براہین کے متعلق مندرجہ ذیل اوصاف حسنہ کا بڑی زور سے اعلان کیا گیا۔

’’اول اس بات میں یہ فائدہ ہے کہ یہ کتاب مہمات دینیہ کے تحریر کرنے میں ناقص البیان نہیں۔ بلکہ وہ تمام صداقتیں کہ جن پر اصول علم دین مشتمل ہیں اور وہ تمام اخلاق عالیہ کہ جن کی ہیئت اجتماعی کا نام اسلام ہے ۔ وہ سب اس میں مکتوب اور مرقوم ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ ٤ ص ١٣٦، خزائن ج ١ ص ١٢٩)

’’دوسرا یہ فائدہ کہ یہ کتاب تین سو محکم اور قوی دلائل حقیقت اسلام اور اصول اسلام پر مشتمل ہے کہ جس کے دیکھنے سے صداقت اس دین متین کی ہر ایک طالب حق پر ظاہر ہوگی۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ١٣٦، خزائن ج ١ ص ١٢٩)

’’تیسرا یہ فائدہ کہ جتنے ہمارے مخالف ہیں۔ یہودی، مجوسی، عیسائی، آریہ، براہمو، بت پرست، دہر یہ، طبعیہ، اباحتی، لامذہب ۔ سب کے شبہات اور وساوس کا اس میں جواب ہے اور جواب بھی ایسا جواب دروغ گو اس کے گھر تک پہنچایا گیا ہے۔‘‘

(مقدمہ براہین حصہ ٤ ص ١٣٦، خزائن ج ١ ص ١٢٩)

’’چوتھا یہ فائدہ جو اس میں بمقابلہ اصول اسلام کے مخالفین کے اصول پر بھی کمال تحقیق اور تدقیق سے عقلی طور پر بحث کی گئی ہے اور تمام وہ اصول اور عقائد ان کے جو صداقت سے خارج ہیں۔ بمقابلہ اصول حقہ قرآنی کے ان کی حقیقت باطلہ کو دکھلایا گیا ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ١٣٧، خزائن ج ١ ص ١٣٠)

’’پانچواں اس کتاب میں یہ فائدہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے حقائق و معارف کلام ربانی کے معلوم ہو جائیں گے۔‘‘

(براہین ص ١٣٧، خزائن ج ١ ص ١٣٠)

اب براہین احمدیہ موجود ہے اس میں جو چیز نظر آرہی ہے۔ وہ یہ ہے کہ پہلی جلد میں اشتہار اور دوسری تیسری جلد میں مقدمہ اور اس میں بے مغز باتیں اور تیسری کی پشت پر تین سو جز تک کتاب بڑھ جانے کا اشتہار ۔ جس کا اس وقت تک کوئی وجود نہ تھا اور نہ بعد میں ہوا۔ چوتھی جلد میں صرف مقدمہ اور آخر تمہیدات ہیں۔ پانچ سو بارہ صفحہ تک مقدمہ اور اس کی تمہیدات چلی گئیں ہیں۔ اس کے بعد باب اول شروع ہوا ہے۔ ابھی دلائل کا آغاز ہی ہوا تھا اور ایک دلیل بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اس کو ختم کر دیا اور تین سو دلائل کا وعدہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ یہ اس سلسلہ کا کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ تلك عشرة كاملة!

صفحہ ٢٧٢

س....... حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین جھوٹ بولے؟۔ ج ....... تسمیۃ کذبات فی حدیث الصحیحین ” لم یکذب ابراھیم الا ثلث کذبات نظر ابظاھرہ (کمالین حاشیہ جلالین ص ٣٧٦ زیر آیت فقال انی سقیم) “ ” یکون المراد بکونہ کذبا خبراً شبیہاً بالکذب (کبیر ص ١٤٨ ج ١٣ زیر آیت فقال انی سقیم ) “یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تین باتیں بظاہر جھوٹ ہیں۔ لیکن حقیقت میں وہ جھوٹ نہیں ہیں۔ کیونکہ انی سقیم بطور تعریض فرمایا ہے کہ: ” اما الکذب فغیر لازم لانہ ذکر قولہ انی سقیم علی سبیل التعریض بمعنے ان الانسان لا ینفک فی اکثر احوالہ من حصول حالۃ مکروھۃ اما فی بدنہ واما فی قلبہ وکل ذالک سقیم “

(کبیر ص ١٤٨ ج ١٣ زیر آیت فقال انی سقیم)

اس لئے انی سقیم کے یہ معنے ہوئے کہ میں تمہاری صحبت سے تنگ آیا ہوا ہوں۔ دوسری بات بل فعلہ کبیرھم ھذا ہے یہ قول بھی بطور تعریض اور ان کی غلطی پر متنبہ کرنے کے لئے کہا تھا۔ اس لئے اس کے بعد ”فاسئلو ھم ان کانوا ینطقون“ فرمایا تا کہ ان کو بتوں کی بے بسی اور ان کا عجز معلوم ہو جائے۔ ” وفیما قبلہ تعریض لھم بان الصنم المعلوم عجزہ عن الفعل لا یکون الھا “

(جلالین الاسراء)

تیسری بات یہ تھی کہ حضرت سارہ کو اپنی بہن فرمایا۔ باوجود یہ کہ وہ ان کی اہلیہ محترمہ تھیں۔ مگر اس میں بھی کوئی جھوٹ نہیں۔ کیونکہ سارہ آپ کی چچا زاد بہن تھی۔ اگر اس رشتہ کی وجہ سے ان کو بہن کہہ دیا گیا تو اس میں کسی قسم کا کذب نہیں ہے۔ ذو معنی لفظ استعمال کر کے ایک معنی کا ارادہ کرنا اور ایک کو چھوڑ دینا کذب نہیں۔ بلکہ تعریض ہے اور تعریض میں کوئی شرعی نقص لازم نہیں آتا۔

مرزا قادیانی کے مالی معاملات

العالمین (الشعراء : ١٨٠) “ کسی نبی نے بذریعہ تبلیغ دین و اشاعت مذہب اپنی ذات کے لئے لوگوں سے روپیہ جمع نہیں کیا ۔ ” وما من نبی دعا قومہ الے اللہ تعالیٰ الا قال لا اسئلکم علیہ اجراً فانتفی الاجر علی الدعا ولکن اختار ان یاخذہ من اللہ تعالیٰ (الیواقیت ج ٢ ص ٢٨) “ مگر مرزا قادیانی نے تبلیغی سلسلہ کو جاری کرتے ہوئے۔ شروع سے

صفحہ ٢٧٣

چندہ اور کتابوں کی قیمت ایک ایک کے دس دس کر کے وصول کئے۔

جیسا کہ مرزا قادیانی کی اس تحریر سے ظاہر ہے کہ: ”چونکہ یہ مخالفین پر فتح عظیم اور مومنین کے دل و جان کی مراد تھی۔ اس لئے کہ امراء اسلام کی عالی ہمتی پر بڑا بھروسہ تھا۔ جو وہ ایسی کتاب لاجواب کی بڑی قدر کریں گے اور جو مشکلات اس کی طبع میں پیش آ رہی ہیں ان کے دور کرنے میں بدل و جان متوجہ ہو جائیں گے۔“

(براہین حصہ ٢ ص ١٧، خزائن ج ١ ص ٦٢)

نیز بلاطلب کے اشتہاری اور بازاری لوگوں کی طرح کتابیں رؤساء کے نام روانہ کر دیں اور جب ان کی طرف سے تسلی بخش جواب نہ ملا تو کتابوں کی قیمت یا ان کی واپسی کی بڑی لجاجت سے درخواست کی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ”ہم نے پہلا حصہ جو چھپ چکا تھا اس میں قریب ایک سو پچاس جلد کے بڑے بڑے امیروں اور دولت مندوں اور رئیسوں کی خدمت میں بھیجی تھی اور یہ امید کی گئی تھی کہ جو امراء عالی قدر خریداری کتاب کی منظوری فرما کر قیمت کتاب جو ایک ادنیٰ رقم ہے۔ بطور پیشگی بھیج دیں گے...... اور یہ انکساری تمام حقیقت حال سے مطلع کیا۔ مگر باستثناء دو تین عالی ہمتوں کے سب کی طرف سے خاموشی رہی...... اگر خدانخواستہ کتابیں بھی واپس نہ ملیں تو سخت دقت پیش آئے گی اور بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا...... ہم بکمال غربت عرض کرتے ہیں کہ قیمت پیشگی کتابوں کا بھیجنا منظور نہیں تو کتابوں کو بذریعہ ڈاک واپس بھیج دیں۔ ہم اسی کو عطیہ عظمیٰ سمجھیں گے اور احسان عظیم خیال کریں گے۔“

(براہین حصہ ٢ ص ٢، خزائن ج ١ ص ٦٣)

”کبھی عیسائیوں کی کوششوں کا ذکر کر کے چندہ کے لئے اکسایا۔“

”اور کبھی اپنی غربت اور افلاس کو سامنے رکھا اور کہیں امداد باہمی اور اسلامی ہمدردی کا گیت گایا۔“

(دیکھو اشتہار عرض ضروری بحالت مجبوری، براہین احمدیہ ج ١ ص ٣٦، خزائن ج ١ ص ٥٩)

آخر کار اس جدوجہد کا نتیجہ ایک دن حسب دلخواہ بامراد نکل آیا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”یہ مالی امداد اب تک پچاس ہزار روپیہ سے زیادہ آ چکی ہے۔ بلکہ میں یقین کرتا ہوں کہ ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس کے ثبوت کے لئے ڈاکخانہ جات کے رجسٹر کافی ہیں۔“

(براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٥٥، خزائن ج ٢١ ص ٧٢)

”جو کچھ میری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا۔ میں ایک غریب تھا۔ مجھے بے انتہا دیا دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی۔ جو اس نے مجھ کو اپنی عنایات سے نہ دی۔“

(براہین حصہ ٥ ص ١١٠، خزائن ج ٢١ ص ١٩)

صفحہ ٢٧٤

"اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے ..... اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔"

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)

مرزا قادیانی نے ایک معمولی کتاب کو جو پانچ روپیہ سے زیادہ حیثیت کی نہ تھی۔ بڑی ضخامت میں پیش کر کے جس گندم نمائی اور جوفروشی کا ثبوت دیا ہے۔ اس کی نظیر ایک معمولی درجہ کے دیندار آدمی میں بھی نظر نہ آئے گی اور جو رقم اشاعت اسلام کے نام سے بطور چندہ وصول کی گئی۔ اس کو بتمامہ دین کے کاموں میں صرف نہ کیا۔ بلکہ بہت سا روپیہ اپنی ضرورتوں میں لگایا۔ جائدادیں خریدیں اور غریب سے رئیس اور دولت مند بن گئے۔ ورنہ وہی مرزا قادیانی اس وقت بھی تھے جب کہ سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپیہ کے کلرک تھے اور گزارہ مشکل سے ہوتا تھا۔

مطالبہ: کیا انبیاء سابقین میں سے ایسی کوئی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ جنہوں نے مذہب کی آڑ میں دنیا کمائی ہو یا مسلمانوں کے بیت المال کے روپیہ کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کیا ہو۔

مرزا قادیانی اور دیانت

(انفال : ٥٨)

نبوت اور رسالت خدا تعالیٰ کی رضامندی کی نشانی ہے اور خیانت خواہ کسی قسم کی ہو نفاق کی علامت ہے۔ اس لئے نبوت اور خیانت کسی جگہ جمع نہیں ہو سکتی۔ قرآن مجید میں ہے کہ : "وما كان للنبي ان يغل"

(آل عمران : ١٦١)

"والمعنى وماصح له ذالك، يعنى ان النبوة تنافي الغلول (مدارک: ١٧٩) "جامع البیان میں ہے کہ: "اى ينسب اى خيانة " مگر مرزا قادیانی میں خیانت جیسا قبیح فعل نہ صرف چندہ وغیرہ کے معاملہ میں پایا جاتا ہے۔ بلکہ نقل مذہب میں بھی خیانت سے کام لیا گیا ہے۔ چنانچہ تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں کہ: "یعنی وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں واپس لاتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر ٤٥ برس تک ان پر جبرائیل علیہ السلام وحی نبوت لے کر نازل ہوتا رہے گا۔"

(تحفہ گولڑویہ ص ٥١، خزائن ج ١٧ ص ١٧٤)

مرزا قادیانی نے مسلمانوں کے اس عقیدہ کو نقل کرنے میں خیانت کی ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ اس بارے میں صرف اس قدر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نزول کے بعد بھی نبی رہیں گے۔ لیکن وحی نبوت ان پر نازل نہ ہوگی اور وہ شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے۔ جس کا علم ان کو

صفحہ ٢٧٥

بالہام الٰہی ہوتا رہے گا۔ جیسا کہ شیخ عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ : ”ان عیسیٰ علیہ السلام وان كان بعده واولى العزم وخواص الرسل فقد زال حكمه في هذا المقام بحكم الزمان عليه الذی هو بغيره ینزل وليا ذانبوة مطلقة وملهم بشرع محمدﷺ ويفهمه على وجهه كالاولياء المحمديين“

(یواقیت ج ٢ ص ٨٩)

(مدارج ج ١ ص ٩٣)

شیخ عبدالحق مدارج میں لکھتے ہیں کہ: ”ولهذا عیسى عليه السلام در آخر زمان بر شریعت وی بیاید وحال آنکه وی نبی کریم ست وبا قیست بر نبوت خود نقصان نشده است از وی چیزی“

اور یہی مطلب شیخ اکبرؒ کا ہے۔ یعنی ان کا مرتبہ نبیوں جیسا ہوگا۔ مگر معاملہ نبیوں کی طرح نہیں ہوا۔ اسی لئے نہ ان پر وحی نبوت نازل ہوگی اور نہ ان کو عمل کرنے کے لئے کوئی خاص شریعت دی جائے گی اور ابن عباسؓ ، امام مالکؒ وغیرہ اور دیگر مفسرین اور محدثین کی طرف جو غلط عقیدے منسوب کئے ہیں۔ جن کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ منجملہ خیانات کے چند خیانتیں ہیں۔ براہین احمدیہ کے اشاعت کے زمانہ میں جس گندم نمائی اور جو فروشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس کی کسی قدر تفصیل پہلے معلوم ہوچکی۔ پھر ان خریداروں کا روپیہ جو پانچویں حصہ کے لکھنے سے پہلے ہی مر چکے تھے۔ وہ بامانت مرزا قادیانی کی تحویل میں تھا۔ لیکن مرزا قادیانی نے اس رقم کو ان کے وارثوں کی طرف واپس نہیں کیا اور امانت کو صاف ہضم کرگئے۔ نیز مسلمانوں کو مذہبی تبلیغ کا دھوکا دیا گیا اور اشاعت مذہب کا نام لے کر ان سے روپیہ وصول کیا گیا۔ مگر کام اس پردہ میں گورنمنٹ برطانیہ کا ہوتا رہا۔ چنانچہ ”قابل توجہ گورنمنٹ ہند“ کے عنوان سے ایک چٹھی انجام آتھم میں درج کی ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں کہ : ” واشعنا الكتب فى حماية اغراض الدولة الی بلاد الشام والروم وغيرها من الديار البعيدة وهذا امر لن تجد الدولة نظيرها فى غيرها من المخلصين“

(ص ٢٨٣، خزائن ج ١١ ص ٢٨٣)

”دولت برطانیہ کے اغراض ومقاصد کی حمایت میں ہم نے بہت سی کتابیں لکھ کر شام اور روم اور دیگر بلاد بعیدہ میں شائع کی ہیں۔ یہ ایک ایسا امر ہے۔ جس کی نظیر حکومت برطانیہ کو ہماری مخلص جماعت کے سوا غیر میں نظر نہیں آسکتی۔“

”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔

صفحہ ٢٧٦

میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب میں مصر، شام، کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ۔ ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔‘‘

(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥، ١٥٦)

مطالبہ : اشاعت مذہب کا روپیہ کس شرعی حکم سے اس گناہ عظیم میں لگایا گیا کیا اس نام سے چندہ کی کوئی مدد کی جاسکتی ہے۔

مرزا قادیانی اور اغیار کی غلامی

......٢ ”ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ہواہ وکان امرہ فرطا (کہف : ٢٨) ‘‘ کبھی کسی نبی نے کفاروں کی غلامی اختیار نہیں کی ۔ بلکہ جب تک عزت کی زندگی حاصل نہ ہوئی وہ ہمیشہ ان کی مخالفت کرتے اور ان سے لڑتے رہے ہیں ۔

لیکن مرزا قادیانی جس حکومت برطانیہ کو دجال کہتے ہیں ۔ اس کی غلامی پر فخر کرتے جاتے ہیں اور اس کو نعماء الٰہی میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں۔

......١ ”بنظر ان احسانات کے کہ جو سلطنت انگلشیہ سے اس کی حکومت اور آرام بخش حکمت کے ذریعہ سے عامہ خلائق پر وارد ہیں ۔ سلطنت ممدوحہ کو خداوند تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور نعماء الٰہی گن کر اس کا شکریہ بھی ادا کریں ۔ لیکن پنجاب کے مسلمان بڑے ناشکرگزار ہوں گے۔ اگر وہ اس سلطنت کو جو ان کے حق میں ایک عظیم الشان رحمت ہے۔ نعمت عظمیٰ یقین نہ کریں ۔‘‘

(براہین احمدیہ، خزائن ج ١ ص ١٤٠)

......٢ ”الم یفکر اننا ذریۃ آباء انقذوا اعمارہم فی خدمات ہذہ الدولۃ ! کیا گورنمنٹ اتنا غور نہیں کرتی کہ ہم انہی بزرگوں کی اولاد ہیں ۔ جنہوں نے اپنی عمریں حکومت برطانیہ کی خدمت میں صرف کردیں ۔‘‘

(انجام آتھم ص ٢٨٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

”خدا تعالیٰ نے مجھے اس اصول پر قائم کیا ہے کہ محسن گورنمنٹ کی جیسا کہ گورنمنٹ برطانیہ ہے۔ سچی اطاعت کی جائے اور سچی شکر گزاری کی جائے ۔ سو میں اور میری جماعت اس اصول کے پابند ہیں ۔ چنانچہ میں نے اسی مسئلہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے بہت سی کتابیں عربی، فارسی اور اردو میں تالیف کیں اور ان میں تفصیل سے لکھا کہ کیونکر مسلمانان برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیوں کر آزادی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجالاتے ہیں ۔ پھر اس مبارک اور

صفحہ ٢٧٧

امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے۔ یہ کتابیں ہزار ہا روپیہ کے خرچ سے طبع کرائی گئیں اور پھر اسلامی ممالک میں شائع کی گئیں اور میں جانتا ہوں کہ یقیناً ہزار ہا مسلمانوں پر ان کتابوں کا اثر پڑا ہے۔ بالخصوص وہ جماعت جو میرے ساتھ تعلق بیعت و مریدی رکھتی ہے۔ وہ ایک ایسی سچی مخلص اور خیر خواہ اس گورنمنٹ کی بن گئی ہے کہ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی نظیر دوسرے مسلمانوں میں نہیں پائی جاتی۔ وہ گورنمنٹ کے لئے ایک وفادار فوج ہے۔ جن کا ظاہر و باطن گورنمنٹ برطانیہ کی خیر خواہی سے بھرا ہوا ہے۔“

(تحفہ قیصریہ ص ١٢، ١١، خزائن ج ١٢ ص ٢٦٣، ٢٦٤)

کے ہمیشہ شکر گزار رہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٦)

مطالبہ: حدیث میں آنے والے مسیح کو قاتل دجال فرمایا گیا ہے۔ مگر مرزا قادیانی اس کی حمایت میں جس کو دجال اور یاجوج ماجوج کہتے ہیں۔ اپنی عمر کا بیشتر حصہ صرف کرتے نظر آ رہے ہیں۔ تو کیا ایسے حامی دجال مسیح کی حمایت میں کوئی حدیث یا آیت قرآنیہ پیش کی جاسکے گی۔

ہوئے اور یوسف علیہ السلام نے بحیثیت ملازم حکومت کا کام کیا۔

و عقد کے مالک اور بااختیار حکمران تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”وكذلك مكنا ليوسف فى الارض يتبوأ منها حيث يشاء (يوسف: ٥٦)“ ہم نے یوسف کو مصر میں ایسی قوت اور طاقت عطا فرمائی کہ وہ جہاں چاہتا رہتا اور ٹھہرتا تھا۔

”واقام العدل بمصر وأجله الرجال والنساء واسلم على يده الملك وكثير من الناس“

(تفسیر کبیر ص ١٦٢ ج ٩ زیر آیت وكذلك مكنا ليوسف)

”وعن مجاهد ان الملك اسلم على يده“

(بیضاوی ص ٤١٤)

مرزا قادیانی اور اعمال صالحہ

واوحينا اليهم فعل الخيرات واقام الصلوة وايتاء الزكوة (الانبياء ٧٣)“ ہم

صفحہ ٢٧٨

نے ہر ایک نبی کو صالح اور نیک عمل بنایا اور ان کو پیشوا کیا کہ جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے اور ان کی طرف نیکیوں کے کرنے، نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے کی وحی کی۔ یعنی نبی کے لئے متقی پرہیز گار ہونا شرط اول ہے۔ وہ ہمیشہ لوگوں کو نیک کام کے کرنے زکوٰۃ اور نماز کے ادا کرنے کی طرف بلاتے رہے ہیں۔

مگر مرزا قادیانی کی تالیفات میں بقول مرزا قادیانی پچاس الماریاں بھری جاسکتی ہیں۔ زکوٰۃ کی ادائیگی نماز روزہ کی تلقین اعمال حسنہ کی طرف ترغیب و تحریص مطلقاً نہیں پائی جاتی اور ذاتی تقویٰ اور پرہیز گاری کا یہ حال ہے کہ جب آپ مسلمانوں کا حسن ظن حاصل کر رہے تھے اور دعویٰ مہدویت مسیحیت وغیرہ کچھ نہیں کیا تھا اور براہین کے اشتہار بازی سے بہت سا روپیہ بھی جمع کر چکے تھے۔ اس وقت باجود امن طریق کے اور دس ہزار روپیہ کی مالیت رکھنے کے حج کے لئے نہ گئے۔ چنانچہ اس اشتہار ص جو جمیع ارباب مذہب کے مقابلہ میں دس ہزار روپیہ انعام دینے کے وعدہ کا اعلان کرنے کے لیئے شائع کیا تھا۔ لکھتے ہیں کہ ”میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے و حیلتے اپنی جائداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دیدوں گا۔“ (براہین احمدیہ ص ٢٥، ٢٦، خزائن ج ١ ص ٢٨)

کذب بیانی، وعدہ خلافی، تلبیس اور دھوکا دہی

خیانت چندہ کا ناجائز مصرف، حرص، طمع دنیوی، نصاریٰ کی جاسوسیت وغیرہ نقائص شرعی اس کے علاوہ ہے۔ اگرچہ ان کی مثالیں پہلے گزر چکی ہیں۔ مگر مزید بصیرت کے لئے ایک دو حوالے اور نقل کئے جاتے ہیں۔

”پہلے یہ کتاب (براہین) صرف تیس پینتیس جز تک تالیف ہوئی تھی اور پھر سو جزو تک بڑھادی گئی اور دس روپیہ عام مسلمانوں کے لئے اور پچیس روپیہ دوسری قوموں اور خواص کے لئے مقرر ہوئی۔ مگر اب یہ کتاب بوجہ جمیع ضروریات تحقیق و تدقیق اور اتمام حجت کے تین سو جزو تک پہنچ گئی۔“

(اشتہار مندرجہ تبلیغ رسالت جلد اول ص ٢٤، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٣٢، ٣٣)

اس مثال میں سوائے خدمت نصاریٰ کے مذکورہ بالا تمام برائیاں موجود ہیں۔ اس کے بعد نصاریٰ کی خدمت گزاری کے شوق میں شریعت کی قطع برید ملاحظہ ہو۔

”شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے۔ جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہوں اور جس کی

صفحہ ٢٧٩

مبارک سلطنت حقیقت میں نیک ہدایت پھیلانے کے لئے کامل مددگار ہو، قطعی حرام ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ب حصہ ٣، خزائن ج ١ ص ١٣٩)

مطالبہ: سوائے معاہدہ کے شریعت اسلامیہ کا اس بارے میں وہ واضح اور متفق علیہ مسئلہ ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں اور اگر یہ بات ثابت نہ کی جاسکے تو پھر اس کو اتفاقی اور کھلا ہوا مسئلہ بتانا دھوکا دہی نہیں ہے تو کیا ہے؟ اور اگر یہ ایسا متفقہ اور کھلا ہوا شرعی مسئلہ تھا تو جہاد سے روکنے کی تحریک کو اپنی کوشش کا نتیجہ کیوں کہا جاتا ہے۔ پھر اگر برطانیہ سے معاہدہ تھا تو وہ ہندوستان کے مسلمانوں کا تھا۔ اس کی پابندی عرب روم و شام کابل وغیرہ کے رہنے والے مسلمانوں پر نہیں تھی۔ مرزا قادیانی نے جو عمر کا بہت سا حصہ بلاد اسلامیہ میں امتناع جہاد کی بحث اور اغراض برطانیہ کی حمایت میں کتابیں بھیجنے پر صرف کردیا۔ وہ کس شرعی حکم کے ماتحت تھا۔ پھر لڑکے کو عاق کرنا چاہا۔ باوجودیکہ عاق کرنے والے پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔

(ابن ماجہ ص ١٩٤ باب لا وصیت للوارث)

مرزا قادیانی اور انبیاء سابقین

یدیہ (مائدہ:٤٦)“ ہر ایک نبی پہلے انبیاء علیہم السلام کی تعلیم کی تصدیق اور توثیق کرتا چلا آیا ہے۔ خصوصاً عقائد کے بارے میں تمام نبیوں کی ایک ہی تعلیم رہی ہے۔ قرآن کریم کی نسبت بھی یہی فرمایا گیا: ”مصدقاً لما بین یدیہ من التوراة والانجیل“

(صف:٦)

(شعراء:١٩٦)

”معناہ لفی الکتب المقدمہ“

(بیضاوی:١٣٣)

حدیث میں ہے کہ: ”نحن معاشر الانبیاء اخوۃ العلات اماتہم شتی ودینہم واحد“

(بخاری ج ١ ص ٤٩٠ باب واذکر فی الکتاب مریم)

یعنی اصول دین تمام انبیاء علیہم السلام کے درمیان مشترک ہیں۔ صرف عبادت کے طریقے بدلے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی جب دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے۔ تو وہ ہر ایک بات میں نبی عربی ﷺ کی تصدیق کریں گے اور ان کی تحقیق سے ایک انچ باہر نہ ہوں گے۔ چنانچہ (کنزالعمال ج ١٤ ص ٣٢١ حدیث نمبر ٣٨٨٠٨) میں ہے کہ: ”ینزل عیسیٰ بن مریم مصدقاً لما لمحمد علی ملتہ“

مگر مرزا قادیانی کو انبیاء علیہم السلام کے عقائد سے سخت اختلاف ہے۔ بلکہ وہ اس

صفحہ ٢٨٠

بارے میں نبی عربی ﷺ کی تحقیق کی بھی پرواہ نہیں کرتا اور اس کی تکذیب کرتا جاتا ہے۔ چنانچہ دجال کے ایک شخص واحد ہونے اور یک چشم اور اعور ہونے پر تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے شہادت دی ہے اور حضور ﷺ نے اس پر یہ تحقیق مزید اضافہ فرمادی کہ اس کی پیشانی پر ک، ف، ر لکھی ہوئی ہوگی۔ جیسا کہ بخاری اور مسلم کی اس روایت سے ظاہر ہے۔ ”عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ ما من نبی الا وقد انذر امته اعور الكذاب الا انه اعور وان ربكم ليس باعور مكتوب بين عينيه ك، ف، ر“

(بخاری ج ٢ ص ١٠٥٦ باب ذکر الدجال، مسلم ج ٢ ص ٤٠٠، باب ذکر الدجال)

مرزا قادیانی نے بھی ازالہ اوہام میں اس حدیث کی تصدیق اس طرح کی ہے۔ حضرت نوح سے لے کر ہمارے سید و مولیٰ خاتم الانبیاء ﷺ کے عہد تک اس مسیح دجال کی خبر موجود ہے۔ مرزا قادیانی نے اس کی تعیین شخصی سے جو انبیاء علیہم السلام کے درمیان متفق علیہ چیز تھی۔ انکار کر دیا۔ خواہ وہ کسی تاویل کے ماتحت ہو۔ لیکن تمام نبیوں کا اس کا ظاہر پر اتارنا اور اس میں کسی قسم کی تاویل نہ کرنا نہ صرف مرزا قادیانی کی تاویل کی تردید کرتا ہے۔ بلکہ کھلم کھلا مرزا قادیانی کی بطالت پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا دجال کی شخصیت سے انکار کرتے ہوئے یہ لکھنا سراسر لغو ہے کہ: ”میرا یہ مذہب ہے کہ اس زمانہ کے پادریوں کی مانند کوئی اب تک دجال پیدا نہیں ہوا اور نہ قیامت تک پیدا ہوگا۔“

(ازالہ ص ٤٨٨، خزائن ج ٣ ص ٣٦٢)

”اور بپایہ ثبوت پہنچ گیا کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی یہی پادریوں کا گروہ ہے جو ٹڈی کی طرح تمام دنیا میں پھیل گیا ہے۔“

(ازالہ ج ٢ ص ٤٩٥، ٤٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٦٦)

پھر یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ کو دجال کی حقیقت کا صحیح علم نہ تھا۔ آنحضرت ﷺ اور تمام انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے کے علاوہ اس امر کی کھلی ہوئی شہادت ہے کہ مرزا قادیانی کے خیال میں ان کی اپنی تحقیق انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی تحقیق سے جدا اور اس کے مخالف ہے اور مخالفت ہی مرزا قادیانی کے باطل ہونے کی زبردست دلیل ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے ستر باع کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی ہی ظاہر فرمائی گئی اور صرف امثلہ قریبہ اور صور متشابہ اور امور متشاکلہ کے طرز بیان میں جہاں تک غیب محض کی

صفحہ ٢٨١

تفہیم بذریعہ انسانی قویٰ کے ممکن ہے۔ اجمالی طور پر سمجھایا گیا ہو تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔"

(ازالہ کلاں ص ٦٩٢ ، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

دجال ہونے میں کبھی تردد کا اظہار نہ فرماتے ۔

تھا۔ تردد اس بارے میں تھا کہ دجال ہونے والا شخص ابن صیاد ہے یا کوئی اور شخص ہے؟ ۔ انبیاء علیہم السلام کا اتفاق تعیین شخصی میں ہے۔ تعیین ذاتی میں نہیں این ہذا من ذاک اسی طرح یاجوج ماجوج ، خروج دجال، دابتہ الارض وغیرہ مسائل میں رسول اللہﷺ کے بیان کی تصدیق نہ کرنا اور اس کے خلاف اپنی رائے پیش کرنا۔ آیت مذکورہ بالا کی رو سے بطالت کی نشانی ہے۔ مرزا قادیانی نے ملائکہ کی حقیقت اور ان کے نزول جسمانی نزول وحی سے مراد اور معجزہ کی حقیقت وغیرہ میں بھی نبی کریم ﷺ کی تحقیق کی مخالفت کی ہے اور بجائے تصدیق کے ان کی تکذیب کر کے اپنا جھوٹا ہونا ثابت کر دیا ہے۔ کیونکہ سچے کی مخالفت کرنے والا جھوٹا ہی ہوا کرتا ہے۔ سچا کبھی نہیں ہوتا۔ انشاء اللہ ان تمام چیزوں کی تحقیق ایمان مرزا کی بحث میں مفصل طور پر مذکور ہوگی۔ واللہ أعلم!

مرزا قادیانی اور بہادری

الا الله (احزاب : ٣٩) ” کبھی کوئی رسول یا نبی اظہار حق کے لئے کسی انسانی طاقت سے نہیں ڈرے۔ مرزا قادیانی تمام عمر حکومت کے خوف سے اس کی رضا جوئی کے متلاشی رہے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے مقدمہ میں قید و بند کے ڈر سے بعض الہامات کے ظاہر نہ کرنے کا عدالت کے روبرو عہد کیا۔ چنانچہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس اقرار نامہ کے چند دفعات الہامات مرزا کے ص ٨٤ پر نقل کئے ہیں۔ جن میں سے یہ بھی ہیں ۔

جس کے یہ معنی ہوں یا ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو ذلت پہنچے گی یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔

کو ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے۔ یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔

صفحہ ٢٨٢

ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الہی ہوگا۔

(الہامات مرزاص ٨٤)

گورنمنٹ کے خوف سے لکھتے ہیں کہ : ” ہر ایک ایسی پیش گوئی سے اجتناب ہوگا ۔ جو امن عامہ اور اغراض گورنمنٹ کے مخالف ہو۔“

(حاشیہ اربعین نمبر ١ ص ١، خزائن ج ١٧ ص ٣٣٣)

مال ودولت اور نبوت

(انعام :٧٠) ” اس آیت میں کافروں کی دو نشانیاں بیان کی گئیں ہیں۔

کرنے کا فکر ہے اس کے عیش و آرام پر فخر کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی دنیا داروں کی طرح دنیوی شہرت کو پسند کرتے اور مال و دولت کے جمع ہونے پر ، فخر کرتے ہوئے اس کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ :” جو میری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا۔ میں ایک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا۔“

( براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ١٠، خزائن ج ٢١ ص ١٩)

واقعی خدا تعالیٰ کسی کی محنت رائیگاں نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی کو دنیا کی دولت ہی جمع کرنی مقصود تھی سو ہو گئی ۔ ایک جگہ اپنی شہرت پر فخر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”اس زمانہ میں ذرا سوچو کہ میں کیا چیز تھا۔ جس زمانہ میں براہین احمدیہ کا دیا تھا اشتہار۔ پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا میرا کیسا ہوا۔ کس طرح سرعت سے شہرت ہوگئی ۔ در ہر دیار!

( براہین احمدیہ ص ١١٢ حصہ ٥، خزائن ج ٢١ ص ١٤٢)

یہ تو مرزا قادیانی کا حال ہے ۔ مگر رسول خداﷺ اس کے مقابلہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”اشد الناس بلاء الانبياء ثم الامثل فالامثل (كنز العمال ج٣ ص ٣٢٧ حديث ٦٧٨٣) “ انبیاء علیہم السلام پر دنیا کی مصیبتیں عام ہوتی ہیں اور امت میں سے جو شخص عمل میں ان کے قریب ہوتا ہے ۔ اسی قدر مصیبتوں کا اس پر ہجوم ہوتا ہے۔ سچ ہے کہ رسول اللہﷺ کی فقیرانہ زندگی ہی اس امر کا قطعی فیصلہ ہے اور قارون و فرعون کی وراثت پر فخر کرنا فرعون صفت لوگوں ہی کا کام ہے۔

صفحہ ٢٨٣

دوسرے وہ بیت المال سے ایک کوڑی بھی اپنے اوپر خرچ نہیں کرتے تھے۔ وہ علمائے کرام زرہ بنا کر بیچتے اور اس سے گزارہ کرتے تھے۔ جیسا کہ علمناه صنعة لبوس سے ظاہر ہے اور یہی حال سلیمان علیہ السلام کا تھا۔ ٹوکریاں اپنے ہاتھ سے بنتے اور ان کو بازار میں بیچ کر اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔ مرزا کی طرح جھوٹ سچ کا مال جمع نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کے مال کی پرکاہ کے برابر بھی قدر نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گھوڑوں کی مشغولیت کے سبب نماز عصر کے قضا ہو جانے کی وجہ سے ان کو ذبح کر دیا اور ملکہ سباء کے ہدایا کو حقارت سے رد کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ: ”قال اتمدوننی بمال ، فمآ آتنی الله خیر ممآ آتکم، بل انتم بهدیتکم تفرحون“

(نمل : ٣٦)

چنانچہ صاحب جمل اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”ای انکم اهل مفاخرة ومكاثرة بالدنيا تفرحون باهداء بعضكم الى بعض واما انا فلا افرح بالدنيا وليست الدنيا من حاجتى“

(جمل حاشیہ نمبر ١٢ جلالین ص ٣٢٠)

مگر مرزا قادیانی ہیں کہ تین سو دلائل والی کتاب لکھنے کا اعلان کر کے حسب وعدہ خریداروں کے پاس نہیں پہنچاتے اور جب خریدار تنگ آکر اپنی قیمت واپس کراتے ہیں تو بادل ناخواستہ واپس کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مگر تمنا اور آرزو یہی رہتی ہے کہ یہ آئی ہوئی رقم واپس نہ ہوتی تو بہت اچھا ہوتا۔ چنانچہ اس حسرت بھری تمنا کو ان لفظوں میں ظاہر فرمایا ہے کہ: ”پس جن لوگوں نے قیمتیں دی تھیں۔ اکثر نے گالیاں بھی دیں اور اپنی قیمت بھی واپس لی۔ اگر وہ اپنی جلد بازی سے ایسا نہ کرتے تو ان کے لئے اچھا ہوتا۔“

(دیباچہ براہین ج ٥ ص ٨، خزائن ج ٢١ ص ٩)

کوئی ان سے پوچھے کہ اگر وہ قیمت واپس نہ کرتے تو کیا کرتے۔ کیا ان کو وہ کتاب مل جاتی جس کا معاملہ طرفین میں ہوا تھا۔ جب اس کتاب کا وجود ہی نہ تھا تو مرزا قادیانی کس وجہ شرعی سے یہ روپیہ دبانا چاہتے تھے۔

س...... ”جو لوگ کسی مکر سے دنیا کمانا چاہتے ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا کرتا ہے کہ یکبارگی ساری دنیا کی عداوت کرنے کا جوش دلاویں اور اپنی جان کو ہر وقت فکر میں ڈالیں۔“

(مقدمہ براہین ج ٢ ص ١١٨، خزائن ج ١ ص ١١٠)

ج...... یہ فقرہ مرزا قادیانی نے اس وقت لکھا تھا۔ جب کہ آپ دنیا کو مقابلہ کی دعوت اور مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ نے مسلمانوں کی توجہ کو اپنی طرف منعطف کرنے کے لئے مجددیت، مہدویت وغیرہ دعاوی کا سلسلہ اس

صفحہ ٢٨٤

خیال کے ماتحت جاری کیا کہ: ”اگر کوئی نیا مصلح ایسی تعریفوں سے عزت یاب نہ ہو کہ جو تعریفیں ان کو پیروں کی نسبت ذہن نشین ہیں۔ تب تک وعظ اور پند اس مصلح جدید کا بہت ہی کم مؤثر ہوگا۔ کیونکہ وہ لوگ ضرور دل میں کہیں گے کہ یہ حقیر آدمی ہمارے پیروں کی شان بزرگ کو کب پہنچ سکتا ہے۔...... کیا حیثیت اور کیا بضاعت اور کیا رتبت اور کیا منزلت تا ان کو چھوڑ کر اس کی سنیں ۔“

( براہین ص ٤٢٦ حاشیہ در حاشیہ نمبر ١، خزائن ج ١ ص ٥٧١)

جب مسلمانوں کی ایک جماعت کو مائل کر لیا تو پھر مسیحیت ، مجددیت ، نبوت و خدائی کے دعوے شروع کر دیئے۔

شاعری اور نبوت

(الشعراء:٢٢٤)

انبیاء علیہم السلام میں سے بھی کوئی نبی شاعر نہیں ہوا۔ مگر مرزا قادیانی شعر گوئی کا بھی شوق رکھتے ہیں اور مرزائی پارٹی میں ان کی شاعری اونچے درجہ کی ہے۔ پہلا تمام نبیوں سے نرالا شاعر نبی کیونکر ہو سکتا ہے اور اگر ہے تو ایسے متنبّی شاعر کے پیرو یقیناً بحکم قرآن گم کردہ راہ ہدایت ہوں گے۔

قومی زبان اور نبوت

نہیں بھیجا ہم نے کسی رسول کو مگر اس کی قومی زبان میں تاکہ وہ لوگوں پر وحی کو ظاہر کرے۔ اس آیت میں رسول کے لئے دو قیدیں مذکور ہوئی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ پر اگرچہ وہ تمام جہان کی طرف مبعوث کئے گئے ۔ وحی قومی زبان عربی ہی میں نازل ہوتی رہی۔

حقیقت سے آگاہ کر سکے۔ خواہ وہ امت کو اس سے مطلع کرے یا نہ کرے۔ مگر اس کا واقف اور باخبر ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اس اصول کو مرزا قادیانی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ: ”یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصلی زبان تو کوئی اور ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے کیا فائدہ ہوا۔ جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔“

(چشمہ معرفت حصہ ٢ ص ٢٠٩، خزائن ج ٢٣ ص ٢١٨)

صفحہ ٢٨٥

چنانچہ مرزا قادیانی خود تحریر کرتے ہیں کہ: ”وہ زیادہ تر تعجب کی یہ بات ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی، سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول المسیح ص ٥٧، خزائن ج ١٨ ص ٤٣٥)

ایسے الہامات سے چند الہام بطور نمونہ درج کئے جاتے ہیں ملاحظہ ہو۔

”هوشعنا نعسآيه دونوں فقرے شائد عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

یعنی آج کے دن اس جگہ کوئی انگریزی خواں نہیں اور نہ اس کے پورے پورے معنے کھلے ہیں۔“

(حاشیہ براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور نمبر ٢ میں عمر عربی لفظ ہے۔ اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے لفظ ہیں۔“

(مکتوبات احمدیہ حصہ ١ ص ٦٨، البشریٰ ص ٥١، تذکرہ ص ١١٥)

(البشریٰ حصہ ٢ ص ٥٠، تذکرہ ص ٣٢١)

ہوئے۔“

(البشریٰ ج ١ ص ٤٣، براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٢، ٦٦٣)

اس قسم کے لغو اور لایعنی اور غیر زبان کے الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ملہم وہ نہیں ہے جو رسول اللہﷺ کے زمانہ تک انبیاء کرام پر وحی نازل کرتا رہا ہے۔

نبوت اور معجزہ

بالبينات (الروم: ٤٧)“ یعنی ہم نے آپ سے پہلے رسول اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے۔ جو ان کے پاس اپنی صداقت کے روشن دلائل لے کر آئے۔ ”فان مدعی النبوة لا بدله من حجة“

(بیضاوی ج ٢ ص ١٠٥)

”تمامی انبیاء ورسل وصلوٰت الله عليهم معجزات است و هیچ پیغمبری بے معجزه نیست“

(مدارج ج ١ ص ١٩٩)

اس لئے دنیا میں کبھی کوئی نبی بغیر معجزہ کے نہیں آیا اور ہمیشہ ان کا معجزہ کوئی خارق

صفحہ ٢٨٦

عادت ایسی شے ہوتی رہی۔ جس کے کرنے میں انسانی طاقت کو مطلقاً دخل نہیں ہوا۔ بلکہ خدا کی طرف سے بطور نشان صداقت لوگوں کے مقابلہ میں ان کے ہاتھوں سے ظاہر کرادیا گیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دنیا کے پیش آنے والے واقعات اور حوادث کو کسی نبی نے اپنی سچائی کے لئے پیش کیا ہو۔ یہ ایک جداگانہ بات ہے کہ قوموں کو ان کی نافرمانی کی سزا میں طاعون وغیرہ کی خبر دی گئی ہو جو انہی کے لئے اپنے وقت میں نکلی ہو۔ کیونکہ ایسی خبریں پیش گوئیاں کہلاتی ہیں۔ جن کا پورا ہونا ضروری تھا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ دنیا کے کسی حصہ میں زلزلہ آیا ہو۔ وباء پھیلی ہوئی ہو۔ قحط پڑا ہو اور کسی نبی نے اس کو اپنی قوم کے مقابلہ میں اپنی صداقت کا نشان بنایا ہو۔ مگر مرزا ایسے نبی کے معجزے بھی نرالے ہی ہیں۔ کہیں زلزلہ آئے۔ کسی جگہ طاعون وغیرہ وبائی امراض کا زور ہو۔ یا دنیا کے کسی خطہ میں باہمی جنگ ہو۔ پس وہ مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان بن گیا۔ زلزلہ کانگڑے پہاڑوں میں آئے جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے جن بے چاروں کو مرزا قادیانی کے دعاوی کی بھی خبر نہیں ہے اور مسلمان جو مرزا کی تکذیب کرنے والے تھے۔ ان کا بال بھی بیکا نہ ہو۔ کرے ڈاڑھی والا اور پکڑا جائے مونچھوں والا۔ مگر اس سے سچائی مرزا قادیانی کی ظاہر ہو جائے۔ کیونکہ آپ نے زلزلہ کے آنے کی خبر دی تھی۔ باوجود یہ کہ اس قسم کی پیش گوئیوں کے نشان صداقت ہونے سے خود ہی انکاری بھی ہے ملاحظہ ہو:

”یہ سب خبریں ایسی ہیں کہ جن کے ساتھ اقتدار اور قدرت الوہیت شامل ہے۔ یہ نہیں کہ نجومیوں کی طرح صرف ایسی چیزیں ہوں کہ زلزلہ آویں گے۔ قحط پڑیں گے۔ قوم قوم پر چڑھائی کرے گی۔ وباء پھیلے گی۔ مری پڑے گی۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٣٨، خزائن ج ١ ص ٢٦١)

کوہاٹ میں ١٩٢٤ء میں ایک زبردست زلزلہ آیا تھا۔ جس میں صدہا انسانوں کی ہلاکت اور مکانات کی تباہی واقع ہوئی۔ اگر مرزا قادیانی اس وقت زندہ ہوتے تو بڑے بڑے پوسٹروں اور اشتہاروں کے ذریعہ اپنی صداقت کے نشان ظاہر ہونے کا اعلان کرتے۔ دوسری پیشگوئیاں وہ تھیں ۔ جو حالات حاضرہ کے مطالعہ سے قیاس اور تخمینہ اور انسانی اٹکلوں کے طور پر ذہن نے ان کی طرف رسائی کی تھی۔ مثلاً اخبارات میں حجاز ریلوے کا چرچا اور تیاری کی خبریں دیکھ کر جھٹ سے یہ پیش گوئی کر دی کہ مسیح کے زمانہ میں جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ لیترکن القلاص! اونٹوں کی سواری جاتی رہے گی۔ میرے زمانہ میں بھی مکہ مدینہ کے درمیان ریلوے لائن تیار ہو گئی ہے اور اب اونٹوں پر آمد و رفت بند ہو جائے گی۔ چنانچہ تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں کہ:

”اونٹوں کے چھوڑے جانے اور نئی سواری کا استعمال اگرچہ بلاد اسلامیہ میں قریباً سو برس سے عمل

صفحہ ٢٨٧

میں آرہا ہے۔ لیکن یہ پیشگوئی اب خاص طور پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی ریل تیار ہونے سے پوری ہو جائے گی ...... اور تعجب نہیں کہ تین سال کے اندر اندر یہ ٹکڑا مکہ اور مدینہ کی راہ کا تیار ہو جائے۔ ...... اور یہ پیش گوئی ایک چمک لئے بجلی کی طرح دنیا کو اپنا نظارہ دکھائے گی اور تمام دنیا اس کو بچشم خود دیکھے گی اور سچ تو یہ ہے کہ مکہ اور مدینہ کی ریل تیار ہو جانا گویا تمام اسلامی دنیا میں ریل کا پھر جاتا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٥، خزائن ج ١٧ ص ١٩٥، ١٩٦)

شائد اگر مرزا قادیانی اپنی پیش گوئی کی ٹانگ نہ اڑاتے تو حجاز ریلوے مکمل ہو جاتی اور سفر حجاز کی تکلیفیں جاتی رہتیں۔ مگر ان کا درمیان میں دخل دینا تھا کہ ریل ایسی جاتی رہی کہ مدینہ اور دمشق کی لائن بھی اکھڑ گئی اور ریلوے سلسلہ بالکل بند ہو گیا۔ جنگ عظیم میں نتیجہ کے متعلق مختلف خیالات تھے۔ لیکن برطانیہ کے حق میں لوگوں کا قیاس صحیح نکلا۔ کیا وہ قیاس لگانے والے سب کے سب ملہم تھے؟۔

تیسری قسم پیش گوئیوں کی وہ تمام الہامات اور خوابیں ہیں۔ جن کی نسبت مرزا قادیانی کا یہ خیال ہے کہ سچی خوابیں اور سچا الہام کنجریوں بدکاروں اور کافروں تک کو ہو جایا کرتے ہیں۔ سچے اور جھوٹے لوگوں میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ قلت اور کثرت کا ہے۔ یعنی جھوٹوں کی خوابیں شاذ و نادر سچی ہوتی ہیں اور سچوں کی اکثر سچی اور بعض جھوٹی ہو جایا کرتی ہیں۔ چنانچہ تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں کہ: ”میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ سچی خوابیں اکثر لوگوں کو آ جاتی ہیں اور کشف بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر بعض اوقات بعض فاسق اور فاجر اور تارک صلوٰۃ بلکہ بدکار اور حرام کار بلکہ کافر اور اللہ اور اس کے رسول سے سخت بغض رکھنے والے اور سخت توہین کرنے والے اور سچ مچ اخوان الشیاطین شاذ و نادر طور پر سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٦٧، ١٦٨)

”اس راقم کو اس بات کا تجربہ ہے کہ اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اور خدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق بھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٦٨)

”متوجہ ہو کر سننا چاہئے کہ خواص کے علوم اور کشوف اور عوام کے خوابوں اور کشفی نظاروں میں فرق یہ ہے کہ خواص کا دل تو مظہر تجلیات الٰہیہ ہو جاتا ہے اور جیسا کہ آفتاب روشنی سے بھرا ہوا ہے۔ وہ علوم اور اسرار غیبیہ سے بھر جاتے ہیں۔“ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٦٨)

”تمام مدار کثرت علوم غیب اور استجابت دعا اور باہمی محبت ووفاء اور قبولیت اور

صفحہ ٢٨٨

محبوبیت پر ہے۔ ورنہ کثرت وقلت کا فرق درمیان سے اٹھا کر ایک کرم شب تاب کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ بھی سورج کی برابر ہے۔ کیونکہ روشنی اس میں بھی ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٨، خزائن ج ١٧ ص ١٦٨)

مرزا قادیانی نے قلت اور کثرت کا فرق اس لئے رکھا ہے تاکہ ان کی جھوٹی پیش گوئیوں پر پردہ پڑجائے۔ ورنہ نبی کی ہر ایک پیش گوئی سچی اور ہر خواب وحی الٰہی کا حکم رکھتا ہے۔

صداقت بیان کی گئی اور اس کا تعلق کسی خاص دشمن یا مخالف کے ساتھ ہے۔ اس قسم کی پیش گوئیاں انبیاء علیہم السلام میں پائی جاتی تھیں۔ جو اپنے اپنے وقت پر پوری ہوتی رہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے ایسے تمام الہامات اور پیش گوئیاں غلط اور جھوٹ نکلی ہیں۔

دعویٰ خدائی

كذلك نجزی الظلمين (الانبیاء: ٢٩)“ جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ میں خدا ہوں تو ہم ایسے آدمی کو جہنم کی سزا دیں گے اور ظالمین کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انی الہ اپنے آپ کو عین خدا کہنے والا ظالم اور جہنمی ہے۔ اسی لئے کسی نبی نے آج تک بعینہ خدا یا اس کی مثل ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام بھی قیامت کے روز ”أنت قلت للناس تخذونی وامیی الهین (المائدہ: ١١٦)“ کے جواب میں یہی فرمائیں گے ۔” قال سبحانك ما يكون لى ان اقول ماليس لى بحق (المائدہ: ١١٦)“ اے اللہ تو شرک کی آمیزش سے پاک ہے۔ میں ایسی بات کب کہہ سکتا ہوں۔ جو مجھے کہنی زیبا نہیں ہے۔ جبکہ مرزا قادیانی نے کہا کہ:

”میں نے ایک کشف میں دیکھا میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں ۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

” ظهورك ظهوری“ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔

(البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦، تذکرہ ص ٧٠٤)

” رأيتني في المنام عين الله وتيقنت اننی هو!“ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں ۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)

صفحہ ٢٨٩

ج ...... مرزا قادیانی نبوت کے دعویدار ہیں اور نبی کی خواب بھی وحی ہے۔ (دیکھو ترمذی) اور یہی وجہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام خواب ہی کی وجہ سے اپنے بیٹے اسماعیل کے ذبح کرنے پر تیار ہو گئے تھے۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے "يـــا ابـراهيــم قـد صـدقـت الـرویــاء (الـصـفت: ١٠٤،١٠٣)‘‘ ارشاد فرمایا کہ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کی خواب متعلقہ داخلہ مکہ کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ "لـقــد صـدق الله رسـولـه الـرویـاء بـالـحـق (فتح: ٢٧)‘‘ پھر مرزا قادیانی تو عین اللہ ہونے پر اپنا یقین ظاہر کر رہے ہیں۔ جس کے بعد شک ظاہر کرنے والا مرزا کا کافر سمجھا جائے گا۔ نیز یہ عینیت کا دعویٰ خواب ہی تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ کشف سے بھی ثابت ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی اپنے عین اللہ ہونے پر یقین لے آئے تھے۔ اس لئے ان کو خدائی صفات کے ساتھ متصف ہونے کے بھی الہامات ہوئے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ "واعـطـيـت صـفـة الافـنـاء والاحـيـاء"

(خطبہ الہامیہ ص ٥٥، ٥٦، خزائن ج ١٦ ص ٥٥، ٥٦)

مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی۔

٢ ...... "انـمـا امـرك اذا اردت شـيـئـا ان تـقـول لـه كـن فـيـكـون " (البشریٰ ج ٢ ص ٩٤، حقیقت الوحی ص ١٠٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٨، براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٩٥، خزائن ج ٢١ ص١٢٤) میں اس کا مصداق مرزا نے اپنے آپ کو بتایا ہے کہ: ’’اے مرزا حقیقت میں تیرا ہی حکم ہے۔ جب تو کسی شئے کا ارادہ کرتا ہے تو کُن ہو جا کہہ دیتا ہے۔ پس وہ ہو جاتی ہے۔‘‘ اس قسم کے کشف والہامات کا اولیاء اللہ پر قیاس کرتے ہوئے سکر اور بے ہوشی کی حالت میں محمول کرنا صحیح نہیں ۔ کبھی کسی نبی نے بے خودی اور سکر میں منصور کی طرح انا الحق کہا۔ صاحب یواقیت لکھتے ہیں کہ "لانـه لايـكـون صـاحـب الـتـقـدم والامـامـة الاصـاحـبـاً غـيـر سـكـران (يواقيت ج ٢ ص ٧٣)‘‘ مذہب کے پیشوا اور رہبر امت پر کبھی بے ہوشی اور سکر کی حالت طاری نہیں ہوتی۔

مرزا قادیانی ولایت سے بڑھ کر مہدویت امامت اور نبوت کے دعوے دار ہیں۔ اس لئے ان پر بے ہوشی کبھی وارد نہیں ہو سکتی۔

مطالبہ : کیا کسی نے ہوشیاری یا بے ہوشی میں ایسے کلمات زبان سے نکالے ہیں؟۔ اگر ہے تو پیش کر کے انعام حاصل کرو۔

مردیت اور نبوت

١٥ ...... "ومـا ارسـلـنـا مـن قـبـلـك الا رجـالاً نـوحـى الـيـهـم مـن اهـل الـقـرى (يوسف: ١٠٩)‘‘ ہم نے آپ سے پہلے تمام رسول مردوں میں سے بھیجے کہ جن پر وحی ہے۔

صفحہ ٢٩٠

کی جاتی تھی۔ یعنی گاؤں کا رہنے والا کبھی رسول یا نبی بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ جلالین میں اہل القریٰ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ”الامصار لانهم اعلم واحلم بخلاف اهل البوادى لجفائهم وجهلهم (تفسیر جلالین ص ١٦٩)“ اسی طرح قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد ہے: ”حتی نبعث فی امها رسولاً يتلوا عليهم آياتنا (القصص: ٥٩)“ علامہ ابو السعود اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ: ”ای فی اصلها وقصبتها التي هي اعظمها وتوا بعها لكون اهلها افطن وانبل (ابوالسعود ص ٢٠ ج ٧)“ مرزا قادیانی ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان کے رہنے والے ہیں۔ جو تحصیل نہ ہونے کی وجہ سے قصبہ کہلانے کے لائق بھی نہیں ہے۔ اس زمانہ میں بمشکل دو ہزار کی آبادی ہوگی۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کو بھی اس کے گاؤں ہونے کا اقرار ہے: ”اوّل لڑکی اور بعد میں اسی حمل سے میرا پیدا ہونا تمام گاؤں کے بزرگ سال لوگوں کو معلوم ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٦٠ خزائن ج ١٥ ص ٤٨٥)

”وجاء بكم من البدو“

(یوسف: ١٠٠)

اللہ تم کو جنگل سے لایا معلوم ہوا کہ یعقوب علیہ السلام بادیہ اور جنگل میں رہتے تھے۔

ج ..... حضرت یعقوب علیہ السلام کنعان کے رہنے والے تھے۔ اسی لئے ان کو پیر کنعان بھی کہتے ہیں۔ کنعان مصر جتنا بڑا شہر تو نہیں تھا۔ لیکن ایک اچھے قصبہ کی حیثیت میں ضرور تھا اور وہ اتنا بڑا ضرور تھا کہ وہاں کے باشندے بصورت قافلہ دوسرے شہروں میں تجارت کی غرض سے جاتے تھے۔ قرآن میں ہے کہ ”واسئل القرية التي كنا فيها والعير التي اقبلنا فيها (یوسف: ٨٢)“ قافلہ کے لوگ یعقوب علیہ السلام کے پڑوسی تھے۔ ”وكانوا قوما من كنعان من جيران يعقوب عليه السلام (ابوالسعود ج ٤ ص ٣٠١)“ آیت میں بدو کو اس لئے ذکر کیا ہے کہ یعقوب علیہ السلام مال مویشی کی وجہ سے کنعانی شہر کو چھوڑ کر جنگل یا گاؤں میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ ”قال ابن عباس كان يعقوب قد تحول الى بدو و سكنها ومنها قدم على يوسف وله بها مسجد تحت جبلها“

(تفسیر کبیر ج ٢ ص ٢١٥)

اس کے علاوہ خود مرزا قادیانی نے کنعان کا شہر ہونا تسلیم کیا ہے اور ”اسی طرح حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو جو کنعاں کی بشارتیں دی گئی تھیں۔ بلکہ صاف صاف حضرت موصوف کو وعدہ دیا گیا تھا کہ تو اپنی قوم کو کنعاں میں لے جائے گا اور کنعاں کی سرسبز زمین کا انہیں مالک کردوں گا۔“

(ازالہ ص ٤١٦، ٤١٧، خزائن ج ٣ ص ٣١٧)

صفحہ ٢٩١

تدریجی دعوٰی نبوت

تمام انبیاء علیہم السلام نے نبوت یا رسالت کا ایک ہی دعویٰ کیا ہے۔ مجددیت وغیرہ سے ترقی کر کے اوپر نہیں چڑھے۔ مگر مرزا قادیانی کے دعویٰ کی بڑی لمبی فہرست ہے اور مجددیت سے زینہ بزینہ اوپر چڑھے ہیں۔

علامات نفاق اور مرزا قادیانی

كن فيه كان منافقاً خالصاً ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها اذا اؤتمن خان واذا حدث كذب واذا عاهد غدر واذ خاصم فجر (متفق عليه، مشکوۃ باب ص ١٧) ”مرزا قادیانی میں یہ چاروں باتیں موجود ہیں۔ خیانت جھوٹ وعدہ خلافی کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ خصومت اور جھگڑے کے وقت گالی گلوچ پر اتر آنا اب ملاحظہ فرمالیں:

لوگوں کی نسبت اچھے تھے۔ یہ ہمارا کہنا محض نیک ظنی کے طور پر ہے....... (ورنہ) مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوئی۔ بلکہ یحییٰ ؑ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا نام یہ نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصہ اس نام کے رکھنے سے مانع تھے۔“

(دافع البلاء ص ٤، ٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠،٢١٩)

تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔“

(کشتی نوح ص ٦٦ حاشیہ خزائن ج ١٩ ص ٧١)

آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٩١، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ)

صفحہ ٢٩٢

ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی کی بد زبانی کے وہ حوالے نقل کئے ہیں۔ جن میں عیسیٰ علیہ السلام، مسیح اور قرآن میں ان کو حصور نہ کہنا صرحاً موجود ہے۔ تاکہ مرزائی جماعت یہ نہ کہہ سکے کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی نہیں کی۔ بلکہ اس یسوع کی توہین کی ہے۔ جس کو عیسائی خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کہنا بھی قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبواالله عدوا بغير علم (انعام:١٠٨) ”جن کو غیر مسلم اپنا بڑا کہتے اور ان کو پکارتے ہیں۔ تم ان کو برا نہ کہو ورنہ وہ ضد اور جہالت سے خدا کو برا کہیں گے اور ایسا ہی حدیث میں ہے۔

حرام زادہ ہونے کا ایک نیا طریقہ ملاحظہ ہو۔

کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر بدکار رنڈیوں (زنا کاروں ) کی اولاد۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، ٥٤٨، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧، ٥٤٨)

مولوی سعد اللہ لدھیانوی جو مرزا قادیانی کے مخالف تھے ان کو لکھتے ہیں کہ:

بغاء“ تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ اے زانیہ کے بیٹے اگر ذلت سے نہ مرا تو میں جھوٹا ہوں۔

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٦)

الاكلب“ ”میرے مخالف جنگل کے سور ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ کر ہیں۔ یا ان کی عورتوں کے پیچھے کتے لگے ہوئے ہیں۔“

(نجم الہدی ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٣٣٤)

اس سے بھی منکر ہیں۔ خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعن اللہ الف الف مرہ“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

صفحہ ٢٩٣

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

اس قسم کی سینکڑوں گالیاں ہیں۔ یہاں نمونتاً بیان کی گئیں ہیں۔ اس قسم کی بد زبانی اور دریدہ دہنی ، خلاف تہذیب الفاظ استعمال کرنے کے متعلق ہمارا کچھ کہنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اس کے لئے مرزا قادیانی کا فیصلہ ناظرین کی آگاہی کے لئے سامنے رکھا جاتا ہے کہ: ”لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں ۔ مومن لعان نہیں ہوتا۔“

(ازالۃ ص ٦٦٠ ، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)

”تجربی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ خدا کی عزت اس کے پیاروں کے لئے آخر کوئی کام دکھاتی ہے۔ بس اپنی زبان کی چھری سے کوئی اور بدتر چھری نہیں ۔“

(چشمہ معرفت ص ١٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٦، ٣٨٧)

اور بقول خلیفہ قادیان مرزا محمود قادیانی : ”بالکل صحیح بات ہے کہ جب انسان دلائل سے شکست کھا اور ہار جاتا ہے تو گالیاں دینی شروع کر دیتا ہے اور جس قدر کوئی زیادہ گالیاں دیتا ہے۔ اسی قدر اپنی شکست کو ثابت کرتا ہے۔“

(انوار خلافت ص ١٥)

نیز مرزا قادیانی معلم اخلاقیات کا خصائل حمیدہ کے ساتھ متصف ہونا ضروری کہتے ہیں۔ مگر خود عمل نہیں کرتے ۔

”اخلاقی معلم کا فرض ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھلاوے۔“

(چشمہ مسیحی ص ١٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦)

قال یہ ہے اور حال وہ مصرع :

بہ بیں تفاوت رہ از کجاست تابہ کجا
مشکلی دارم ز دانشمند مجلس باز پرس
توبہ فرمایاں چرا خود توبہ کمترے میکنند

وراثت اور نبوت

صدقۃ (مشکوۃ ، بخاری ج ٢ ص ٥٧٦ باب حدیث بنی النضیر) ”انبیاء علیہم السلام نہ کسی کے مال و متاع کے وارث ہوتے اور نہ کوئی آپ کے مال کا وارث ہوتا ہے۔ بلکہ ان کا ترکہ اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا جاتا ہے ۔ مگر مرزا قادیانی وارث بھی ہوتے ہیں اور اپنے مال میں وراثت کے حقوق بھی قائم کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

”میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے وحیلتے اپنی جائداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبضہ، و دخل

صفحہ ٢٩٤

دے دوں گا۔"

(براہین احمدیہ ص ٢٥، ٢٦ خزائن ج ١ ص ٢٨)

براہین کے اشتہار دینے کے وقت یہ جائداد وہی تھی۔ جو ان کو اپنے والد غلام مرتضیٰ رئیس قادیان کے ترکہ میں پہنچی تھی۔ کیونکہ اس وقت تک فتوحات کا دروازہ نہیں کھلا تھا۔ وہ خطوط جو محمدی بیگم کے نکاح کے سلسلہ میں مرزا قادیانی نے مسماۃ کے والدین کو تحریص اور تخویف کے لکھے ہیں۔ اس میں اجرائے وراثت کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے۔

"والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتہ ناطہ توڑ دوں گا۔ کوئی تعلق نہ رہے گا۔ (صلہ رحمی کے خلاف ہے) اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو سمجھاؤ اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نورالدین اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ ہم کو بھیج دے اور اگر فضل طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنی جائداد کا اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا اس کو نہ ملے اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کردوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک ذرہ نہیں پاسکتا ......... مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کردوں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن نکاح ہوگا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔"

(راقم مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء بحوالہ فضل رحمانی ص ١٢٨)

ذکر کرتے ہوئے۔ حضرت عمر کا قول یرید رسول اللہ ﷺ نفسہ نقل کیا گیا ہے۔ جس سے آپ ﷺ کی خصوصیت کا پتہ چلتا ہے اس لئے قسطلانی نے اس قول کی شرح کرتے ہوئے یہ لکھا ہے۔ "عن الحسن رفعہ مرسلا رحم اللہ اخی زکریا وما کان علیہ من یرث مالہ فیکون ذالک مما خصہ اللہ بہ ویؤید مقول عمر یرید نفسہ ای یرید اختصاصہ بذالک"

وراثت جاری نہیں ہوا کرتی۔ ایسا ہی تفسیر ابن جریر اور تفسیر نیشا پوری میں درج ہے۔

صفحہ ٢٩٥

ہے ۔ جیسا کہ علامہ ابن حجر تحریر فرماتے ہیں کہ: ”وأما اشتهر في كتب اهل الاصول وغيرهم بلفظ نحن معاشر الانبياء لانورث فقد أنكره جماعة من الأئمة وهو كذلك بالنسبة لخصوص لفظ نحن لكن اخرجه النسائي من طريق ابن عينيه عن ابي الزناد بلفظ انا معاشر الانبياء لا نورث“

(فتح الباری ج ١٢ ص ٦)

اور دارقطنی نے علل میں بروایت ام ہانیؓ عن فاطمہؓ ابو بکرؓ سے اس طرح روایت کی ہے کہ ”الانبياء لا يورثون“

(قسطلانی ج ٩ ص ٣٤١)

اور نسائی میں انا معشر الانبياء لا نورث آیا ہے۔ ”وفي حديث الزبير عند النسائي انا معشر الانبياء لا نورث (قسطلانی ج ٥ ص ١٥٤) “ ان دونوں صیغوں کے ساتھ اس حدیث کو تسلیم کرنے سے کسی نے انکار نہیں کیا۔ پھر اسی مضمون کی یہ صحیح حدیث بھی موجود ہے۔

”ان العلماء ورثة الانبياء ان الانبياء لم يورثوا دينارا ولا در هما انما ورثوا العلم فمن أخذه اخذ بحظ وافر

(ابن ماجه ص ٢٠ باب فضل العلماء)“

٢...... يريد رسول نفسه کا یہ مطلب ہے کہ اس حکایت کرنے سے محض انبیاء سابقین کے حالات کو بیان کرنا مقصود نہیں تھا۔ بلکہ اس واقعہ کو ذکر کر کے یہ ظاہر کرنا تھا کہ جملہ انبیاء علیہم السلام کی طرح میرے ترکہ میں بھی وراثت جاری نہ کی جائے۔ چنانچہ قسطلانی اس خصوصیت کی نفی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”يريد رسول الله نفسه وكذا غيره من الانبياء بدليل قوله في الرواية الاخرى انا معاشر الانبياء فليس خاصا به عليه السلام“

(مطبوعہ نول کشور، ج ٥ ص ١٥٧)

”كذانفيا بقوله في الحديث الآخر انا معاشر الانبياء لانورث فليس ذالك من الخصائص“

(نول کشور، ج ٩ ص ٣٢٢)

جس طرح بخاری کی حدیث ”لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أ نبياء هم مساجد يحذر ماصنعوا“

(بخاری ج ١ ص ٦٢، مشکوۃ ص ٦٩، باب المساجد)

اور دوسری روایت ”عن عائشة قالت قال رسول الله ﷺ لعن الله اليهود اتخذوا قبور انبياء ئهم مساجد قالت فلولا ذالك لابرز قبره انه خشى ان يتخذوا مسجداً (مسلم ج ١ ص ٢٠١ باب النهي عن بناء المسجد على القبور)“ میں ”يحذر ماصنعوا اور انه خشى ان يتخذ مسجد“ سے آنحضرت ﷺ کی خصوصیت

صفحہ ٢٩٦

ظاہر نہیں ہوتی ۔ اسی طرح یرید رسول اللہ سے حضور ﷺ کی خصوصیت سمجھنا درست نہیں ہے۔

خاصہ نہیں ہے۔ یعنی آپ ﷺ آیت میراث کے عموم میں داخل نہیں ہیں۔ یہ حکم امت ہی کے واسطے ہے۔ آپ ﷺ کے واسطے نہیں ہے نہ یہ کہ دیگر انبیاء کے مال میں وراثت جاری ہوتی تھی۔ مگر رسول اللہ ﷺ میں نہیں ہوتی : ”فلا معارض من القرآن لقول نبينا ﷺ لا نورث صدقة فيكون ذالك من خصائصه التي اكرم بها بل قول عمر يريد نفسه یؤید اختصاصه بذالك (فتح الباری ج ١٢ ص ٦) “ یہی مطلب علامہ قسطلانی کا بھی ہے۔

اور مرجوح قول ہے۔ جیسا کہ قسطلانی کے صیغہ تمریض (قیل) سے ظاہر ہو رہا ہے ملاحظہ ہو۔

”وقيل ان عمر يريد نفسه اشار به ای ان النون في قوله لا نورث المتكلم خاصة لا للجميع وحكى ابن عبدالبر للعلماء في ذالك قولين او ان الاكثر على ان الانبياء لا يورثون “

(قسطلانی ج ٩ ص ٣٤٣)

پھر بھی راجح اور قوی رائے یہی رہی کہ انبیاء علیہم السلام میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔

ہے۔ ” والحكمة ١ ان لا يورثوه لئلا يظن انهم جمعوا المال لوارثهم واما قوله تعالى وورث سليمان داؤد فحملوه على العلم والحكمة وكذا قول زكريا فهب لى من لدنك وليا يرثنى

(قسطلانی ج ٩ ص ٣٤٣، ومثله فی فتح الباری ج ١٢ ص ٩)

”واما قول زكريا يرثني ويرث من آل يعقوب وقوله وورث سليمان داؤد فالمراد ميراث العلم والنبوة والحكمة

(قسطلانى ج ٥ ص ١٥٧)

مفسر نیشاپوری کی وارثة فی النبوة کی نفی کرنے سے یہ غرض ہے کہ نبوة موهبة عظمی ہے۔ جو نبی کی اولاد ہونے کی وجہ سے نہیں ملا کرتی۔ خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے۔ اس خدمت کے لئے منتخب کر لیتا ہے۔ سلیمان علیہ السلام کو بھی اگر نبوت ملی ہے تو انتخابی حیثیت سے ملی ہے۔ تورثی لحاظ سے نہیں ملی اور جن مفسرین نے سلیمان علیہ السلام کو حضرت داؤد کا وارث فی النبوة کہا ہے۔ ان کی یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے کرم اور فضل سے داؤد علیہ السلام کے بعد ان کے بیٹے

١ انبیاء میں وراثت اس لئے جاری نہیں کی گئی تاکہ کوئی شخص یہ بدگمانی نہ کرے کہ انہوں نے اپنے وارثوں کے لئے مال جمع کیا ہے۔

صفحہ ٢٩٧

رسول اللہ سے حضورﷺ کی خصوصیت سمجھنا درست نہیں ہے۔ یہ بات بلحاظ امت کے آپﷺ کا خاصہ ہے اور باعتبار نبیوں کے آیت میراث کے عموم میں داخل نہیں ہیں۔ یہ حکم امت ہی کے لئے نہیں ہے نہ یہ کہ دیگر انبیاء کے مال میں وراثت جاری ہوتی تھی۔

’’فلا معارض من القرآن لقول نبيناﷺ لانورث خصائصه التي اكرم بها بل قول عمر يريد نفسه

(فتح الباری ج ١٢ ص ٦) ’’یہی مطلب علامہ قسطلانی کا بھی ہے۔

عمرؓ کے قول کو آنحضرتﷺ کے متعلق خصوصیت پر اتارنا ضعیف قسطلانی کے صیغہ تمریض (قیل) سے ظاہر ہو رہا ہے ملاحظہ ہو۔

’’يريد نفسه اشاربه الى ان النون فى قوله لانورث للجميع وحكى ابن عبدالبر للعلماء فى ذالك قولين اوان يورثون‘‘

(قسطلانی ج ٩ ص ٣٤٣)

رائے یہی رہی کہ انبیاء علیہم السلام میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ت سے علم نبوت کی وراثت مراد ہے۔ مالی وراثت مراد نہیں

ورثوه لئلا يظن انهم جمعوا المال لوارثهم واما قوله د حملوه على العلم والحكمة وكذا قول زكريا فهب سطلانی ج ٩ ص ٣٤٣، ومثله في فتح الباری ج ١٢ ص ٩) ‘‘

ريا يرثنى ويرث من ال يعقوب وقوله وورث ث العلم والنبوة والحكمة

(قسطلانی ج ٥ ص ١٥٧) ‘‘

نبوۃ کی نفی کرنے سے یہ غرض ہے کہ نبوۃ موهبة عظمی سے نہیں ملا کرتی۔ خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے۔ اس خدمت کے السلام کو بھی اگر نبوت ملی ہے تو انتخابی حیثیت سے ملی ہے۔ تورثتی نے سلیمان علیہ السلام کو حضرت داؤد کا وارث فی النبوۃ کہا ہے۔ نے اپنے کرم اور فضل سے داؤد علیہ السلام کے بعد ان کے بیٹے س لئے جاری نہیں کی گئی تا کہ کوئی شخص یہ بدگمانی نہ کرے کہ ل جمع کیا ہے۔

سلیمان کو نبی منتخب کر لیا۔ یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے ایک نبی کی اولاد ہونے کی وجہ سے نبوت حاصل کر لی۔ فلا معارضة بينهما دیکھو زکریا علیہ السلام نے لڑکے کے پیدا ہونے کی دعا کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ: ”فهب لي من لدنك ولياً. يرثني ويرث من آل يعقوب (مريم: ٦،٥) ”آل یعقوب کے وارث ہونے کے معنے اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے کہ ان کو بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی بنادے۔ اس لئے اس سے علم نبوت ہی کی وراثت مراد ہوگی۔

مجید میں ہے کہ: ”واورثكم ارضهم وديارهم واموالهم وارضا لم تطؤها“ (اے مسلمانو) تم کو یہودیوں کی املاک و جائداد اور ان کے گھروں کا ہم نے وارث بنا دیا اس میں وراثت سے عرفی اور اصطلاحی وراثت مراد نہیں ہے۔ بلکہ ان کی املاک کو مسلمانوں کی قبضہ میں دے دینے کا نام وراثت رکھا ہے۔

کے وارث بنانے کا ذکر ہے۔ جو اصطلاحی حیثیت سے قطعاً ناممکن ہے۔

فضل الفقه على العبادة ) ”میں علماء کو انبیاء علیہم السلام کا وارث بنانا معنے عرفی کے لحاظ نہیں ہے۔ اسی طرح سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے وارث کہنے کا یہی مطلب ہے کہ ان کو علم و حکمت داؤد علیہ السلام کے بعد عطا فرمائی گئی۔ جس سے نبوت کی دولت گھر کے گھر میں رہی اور باہر نہ گئی اور وہ صحیح معنوں میں اپنے والد بزرگوار کے جانشین ہوئے۔

ہوتی وہ ایک قومی امانت ہے۔ جس میں امیر کو قوم اور ملک مرضی کے بغیر کسی قسم کے تصرف کرنے کا حق نہیں ہوتا۔ ”عن ابی ذرّ قال قلت يا رسول الله الا يستعملنى قال وضرب بيده على منكبي ثم قال يا اباذرانك ضعيف وانها امانة“

(مشكوة كتاب الامارة ص ٣٢٠)

اے ابوذرؓ ! حکومت ایک امانت ہے اور تو اس امانت کو نہیں اٹھا سکتا۔ لہٰذا سلیمان علیہ السلام کے وارث ہونے کے یہ معنے ہیں کہ وہ اپنے والد ماجد کے بعد حکومت کے تخت پر متمکن اور جلوہ افروز ہوئے۔ یہ کہ وہ شرعی طور پر وارث ہوئے تھے۔

صفحہ ٢٩٨

نبی کی تدفین

قال ماقبض اللہ نبیا الافی الموضع الذی یحب ان یدفن فیہ فدفنوہ (ترمذی ج١ ص١٩٨، ابواب الجنائز)‘‘ مگر مرزا قادیانی کا مرض ایلاؤس یا ہیضہ میں بمقام لاہور انتقال ہوا اور قادیان میں تالاب کے قریب اس کو دفن کیا گیا۔

انبیاء کا بکریاں چرانا

الغنم فقال اصحابہ وانت فقال نعم کنت ارعی علی قراریط لاھل مکہ"

(بخاری ص ٣٠١ باب اجارہ، مشکوۃ باب الاجارہ ص٢٥٨)

ہر نبی نے اجرت پر چرواہا بن کر بکریاں چرائیں رسول اللہ ﷺ بھی چند پیسوں پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ مرزا قادیانی اس ضابطہ سے خارج ہیں۔ مرزا قادیانی نے چرواہے کی طرح مزدوری پر بکریاں کبھی نہیں چرائیں۔

خاندان نبوت

کان من ابائہ من ملک قلت رجل یطلب ملک ابیہ"

(بخاری ج ١ ص٤، باب کیف کان بدء الوحی الی رسول ﷺ)

ہرقل نے رسول اللہ ﷺ کے نامہ مبارک پہنچنے پر حضور ﷺ کے حالات کی تحقیق اور تفتیش کرتے ہوئے ابوسفیان سے چند باتیں دریافت کی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ کیا کوئی آپ کے بزرگوں میں بادشاہ بھی تھا۔ ابوسفیان نے کہا نہیں۔ ہرقل نے اس سوال کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بادشاہ ہوتا میں کہتا کہ یہ شخص اپنی کھوئی ہوئی ریاست کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مرزا قادیانی کے والد کی حیثیت سکھوں کے عہد سے پہلے بہت اچھی تھی۔ سکھوں کی لوٹ مار کی وجہ سے کمزور ہوگئی تھی۔ پھر بھی پنجاب فتح ہونے کے موقع پر سرکار انگلشیہ کی کافی امداد فرمائی۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’ہمارے والد صاحب مرحوم نے بھی باوصف کم استطاعت کے اپنے اخلاص اور جوش خیر خواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس مضبوط اور لائق سپاہی بہم پہنچا کر سرکار میں بطور امداد کے نذر کی۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ ٣ ص الف، خزائن ج١ ص ١٣٨، ١٣٩)

صفحہ ٢٩٩

اسی برباد شدہ ریاست کو حاصل کرنے کے لئے یہ جال پھیلا گیا ہے۔

اوصاف نبوت

ہے۔ جس کا پایا جانا ہر ایک نبی میں بروایات صحیحہ ثابت ہے۔ مثلاً

”از عائشه آمده است و گفت مرا آنحضرت ﷺ را که نومى آئی متوضأ ونمى ببراز تو چیزے از پلیدی فرمود که آیا ندانسته توای عائشه مین فرومی برو آنچه بیرون می آید از انبیاء پس دیده نمی شود ازاں رمزے“

(مدارج ج ١ ص ٢٩)

”مروی ست از ابن عباس که گفت محتلم نشد هیچ پیغمبر هر گز و احتلام از شیطانت رواه الطبرانے“

(مدارج ج ١ ص ٢١)

براخلاق حمیده صفات حسنه مجبول ومفطور اند“

(مدارج ج ١ ص ٢٩)

مرزا قادیانی کی اخلاقیات کا نمونہ پہلے مذکور ہو چکا ہے۔

کرد“

(مدارج ج ١ ص ١٣٦)

نمی افتاد واحتلام نکرد آنحضرت ﷺ هر گز همچنین انبیاء دیگر رواه الطبراني“

(مدارج ج ١ ص ٣٦)

نمیخورد اجساد انبیاء عليهم السلام را“

(مدارج ج ١ ص ١٥٨)

”نیز آمده است که خداتعالی حرام گردانیده است اجساد انبیاء را برارض“

(مدارج ج ١ ص ١٥٩)

وی بعضی میگویند صدقه دیگر در و چنانچه در حدیث آمده است ما تركناه صدقه...... و همچنین حکم تمامے ایں است که ایشانرا ارث نباشد و مراد درقول حق تعالی وورث سلیمان داؤد وقوله سبحانه رب هب لي من لدنك

صفحہ ٣٠٠

ويارثنى ارث علم نبوتست “

(مدارج ج ١ ص ١٥٨)

انبیاء عليهم السلام “

(مدارج ج ١ ص ١٥٨)

کیا ان نشانات میں سے کوئی نشانی مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے۔ ہرگز نہیں ہے تو بار ثبوت بذمہ مدعی ۔

عمر کی بابت

يعارضنى القرآن فى كل عام مرة وانه عارضنى بالقرآن العام مرتين وانه اخبر انه لم يكن نبى الا عاش نصف عمر الذي قبله وانه خبرنى ان عيسى ابن مريم عاش عشرين ومائة السنة والارانی الا ذاهبا على راس الستين (طبرانی ج ٢٢ ص ٤١٨ حدیث ١٠٣١ ) ” اس حدیث کو مرزائی حیات مسیح کے ثبوت میں پیش کیا کرتے ہیں ۔ اس لئے مرزا قادیانی کی عمر بصورت نبی ہونے کے ٣١ برس چھ ماہ ہونی چاہئے تھی۔ مگر چونکہ ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ان کی عمر ٦٥ برس ہوئی ہے۔ اس واسطے وہ اپنے دعوے نبوت میں جھوٹے تھے۔

خلاصہ معیار نبوت

بنمائے بصاحب نظرے گوهر خود را، عیسی نتواں گشت بتصدیق
خرے چند!

کارهون (مؤمنون : ٧٠ ) “ لہٰذا حق یعنی نبوت اور جنون میں تضاد ہے جو کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ اسی لئے آنحضرتﷺ سے اس کی نفی کی گئی ۔ ”ما انت بنعمة ربك بمجنون “ (القلم: ٢)

چاہئے۔

جنون غضب الٰہی ہے۔

(حاشیہ ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣١، خزائن ج ١٧ ص ٧٦)

(ریویو ستمبر ١٩٢٩ء)

(ریویو جنوری ١٩٣٠ء)

صفحہ ٣٠١

بحث پہلے گزر چکی ہے کہ مرزا قادیانی باقرار خود مراقی تھے۔ مرزا قادیانی نے کہا کہ:

”مجھے مراق کی بیماری ہے۔“

(ریویو ج٢٤ نمبر ٤ ص ١٨١ اپریل ١٩٢٥ء)

(بدر ج٢ نمبر ٤٣ ص٤ مورخہ ٧ جون ١٩٠٦ء، ملفوظات ج٨ ص ٤٤٥، تشحیذ الاذہان ج١ نمبر ٢ ص٥)

”مرزا غلام احمد قادیانی کو ہیسٹریا کا دورہ بھی پڑتا تھا۔“

(سیرۃ المہدی ج٢ ص ٥٥ روایت نمبر ٣٦٩)

”مالیخولیا جنون کا ایک شعبہ ہے اور مراق مالیخولیا کی ایک شاخ ہے۔“

(بیاض نورالدین ص ٢١١)

نتیجہ ظاہر ہے کہ: ”ایک مدعی الہام کے متعلق اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو ہسٹریا یا مالیخولیا یا مرگی کا مرض تھا تو اس کے دعوے کی تردید کے لئے پھر کسی اور ضرب کی ضرورت نہیں رہتی۔“

(ریویو ج٢٥ نمبر ٨ ص ٢٨٦، ٢٨٧ اگست ١٩٢٦ء)

”اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے۔ جو ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٨٤، خزائن ج٢٢ ص ١٩١)

”ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں۔ کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق“

(ست بچن ص ٣١، خزائن ج ١٠ ص ١٤٣)

(تحفہ گولڑویہ ص ٦٦، خزائن ج ١٧ ص ٢٥٣)

”میں مسیح موعود نہیں۔“

(ازالہ ص ١٩٢، خزائن ج ٣ ص ٢٢٩)

(ازالہ ص ٢٩٢، خزائن ج ٣ ص ٢٤٩)

”کیا مریم کا بیٹا امتی ہو سکتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١)

(راز حقیقت ص ٢، خزائن ج ١٤ ص ١٥٤ حاشیہ)

”آخر سری نگر میں جا کر ١٢٥ برس کی عمر میں وفات پائی۔“

(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٩)

صفحہ ٣٠٢

(چشمہ معرفت ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦٦)

”یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف، مبدل ہیں۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں۔ ایسی بات وہی کہے گا جو خود قرآن سے بے خبر ہے۔“

(چشمہ معرفت ص ٧٥، خزائن ج ٢٣ ص ٨٣)

”باوجود یکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی توریت وانجیل کے محرف ہونے کی خبر دی ہے۔“

(مشکوٰۃ ص ٢٥)

(النحل : ١٠٥)

”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“

(آل عمران : ٦١)

(مسیح ہندوستان میں ص ٦١، خزائن ج ١٥ ص ٢١)

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٠، خزائن ج ١٧ ص ٥٦ حاشیہ)

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٩)

چھوڑ دیں۔“

(ریویو قادیان ج ٦ ش ٩ ماہ ستمبر ١٩٠٧ء ص ٣٦٥)

(ازالہ ص ٢٥٣، خزائن ج ٣ ص ٢٢٧)

یختلون الدنیا بالدین! یعنی آخری زمانہ میں ایک گروہ دجال کا نکلے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، خزائن ج ١٧ ص ٢٣٥)

باوجود یہ کہ حدیث میں رجال (بالراء ہے) مگر دھوکا دہی کی غرض سے بالدال نقل کیا ہے۔

(شہادۃ القرآن ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)

صفحہ ٣٠٣

٥....... ”مجدد صاحب سرہندی لکھتے ہیں کہ امت کے بعض افراد مکالمہ ومخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے اور اس کو نبی کہتے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

باوجود یہ کہ (مکتوبات ج٢ ص ٩٩) میں یوں ہے کہ: ”اذا کثر ھذا القسم من الکلام من واحد منھم سمی محدثاً“

(ازالہ ص ٩١٥، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠)

براہین احمدیہ کے معاملہ میں جس گندم نمائی اور جوفروشی کا مظاہرہ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں ۔ چونکہ جھوٹ کی فہرست لمبی ہے۔ اس لئے دوسرے مقام پر دیکھیں:

٤....... ”وما اسئلکم علیہ من اجر! ان اجری الا علی اللہ رب العالمین و ما من نبی دعا قومہ الی اللہ تعالیٰ الا قال لا اسئلکم علیہ اجراً، یواقیت ج ٢ ص ٢٥“، مگر مرزا قادیانی نے تبلیغی چاٹ لگا کر بہت سا روپیہ جمع کیا۔ جیسا کہ لکھتے ہیں کہ: ”یہ مالی امداد اب تک پچاس ہزار روپیہ سے زیادہ آ چکی ہے۔ بلکہ میں یقین کرتا ہوں کہ ایک لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔“

(براہین ج ٥ ص ٥، خزائن ج ٢١ ص ٧٤)

”اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار آئیں گے...... اب تک ٣ لاکھ کے قریب روپیہ آچکا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢١١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٢١)

جو کچھ میری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا
میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا
دنیا کی نعمتوں سے کوئی بھی نہیں رہی
جو اس نے مجھ کو اپنی عنایت سے نہ دیا

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠، خزائن ج ٢١ ص ١٩)

مطالبہ: کسی نبی سے مذہب کی آڑ میں دنیا کمانا اور تبلیغی چندہ کو اپنی ضرورتوں میں خرچ کرنا ثابت کرو؟ ۔

٥....... ”ان اللہ لا یحب الخائنین (انفال:٥٨)“ ”وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دوبارہ دنیا میں لاتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ وہ بدستور اپنی نبوت کے ساتھ دنیا میں آئیں گے اور برابر ٤٥ سال تک جبرائیل علیہ السلام وحیِ نبوت لے کر آتا رہے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٥٢، خزائن ج ١٧ ص ١٧٤)

نقل حدیث میں خیانت کی۔ اصل مذہب یہ ہے کہ: ”ان عیسیٰ علیہ السلام

صفحہ ٣٠٤

وان كان بعده واولى العزم وخواص الرسل فقدزال حكمه من هذا المقام بحكم الزمان عليه الذى هو لغيره فيرسل ولياذا نبوة مطلقة ويلهم بشرع محمدﷺ ويفهمه على وجهه كالاولياء المحمديين“

(يواقيت ج ٢ ص ٨٩)

اور ایسا ہی مدارج النبوۃ میں ہے۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام اگرچہ نبی ہوں گے۔ مگر ان پر وحی نبوت نازل نہ ہوگی۔ اسی لئے ان کے ساتھ نبیوں جیسا معاملہ نہ ہوگا۔ بلکہ وہ اس امت کے اولیاء اللہ کی طرح ہوں گے۔

نسبت کرنا باوجود یہ کہ وہ آخری زمانہ میں مرنے یا مرکر دوبارہ زندہ آسمان پر مرفوع ہونے کے قائل ہیں۔

نبوت مل جائے اور اس کو ابن العربی اور ملا علی القاری وغیرہ ہم کی طرف منسوب کرنا باوجود یہ کہ ان کے نزدیک نبی غیرتشریعی وہ ہے کہ اس پر وحی نبوت نازل نہ ہو اور وہ ہر حکم میں شریعت محمدیہ کے فیصلہ کا پابند ہو کیونکہ ولایت کے ایک مقام کا نام نبوت غیرتشریعی رکھا ہے۔ مرزا نے اس کے معنے بدل کر حقیقی نبوت کے اجزاء کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کردیا۔ نیز مذہبی تبلیغ کا دھوکا دے کر بہت سا روپیہ جمع کیا اور اس کو اپنی ضروریات اور ”گورنمنٹ برطانیہ کی حمایت میں خرچ کیا“

(انجام آتھم ص ٢٨٣، خزائن ج ١١ ص ٢٨٣)

مطالبہ: تبلیغی روپیہ کو گورنمنٹ کی اغراض کی اشاعت میں کس شرعی حکم کی وجہ سے خرچ کیا ہے۔ کیا کوئی ایسی چندہ کی مد کی جاسکتی ہے؟۔

(کہف:٢٨)“ مرزا قادیانی جس حکومت برطانیہ کو دجال کا گروہ کہتے ہیں۔ اس کی غلامی پر فخر کرتے اور: ”سلطنت ممدوح کو خدا تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھیں اور منن اور نعماء الٰہی کے اس کا شکر بھی ادا کریں۔“

(براہین حصہ ب، خزائن ج ١ ص ١٤٠)

واوحينا اليهم فعل الخيرات واقام الصلوة وايتاء الزكوة (الانبياء:٧٣)“ مرزا قادیانی کی سوانح حیات میں کذب بیانی وعدہ خلافی تلبیس اور دھوکا دہی چندہ کا ناجائز تصرف، حرص و طمع دنیوی، نصاریٰ کی حمایت وغیرہ۔ عیوب کھلے طور پر نظر آرہے ہیں۔

صفحہ ٣٠٥

يديه “ (مائده:٤٦) ”الانبياء اخوة من علات وامهاتهم شتى ودينهم واحد (مسند احمد ج٢ ص٣١٩) “،یعنی اصول دین تمام نبیوں کے درمیان مشترک ہیں۔ مگر عبادت کے طریقے بدلے ہوئے ہیں۔

چنانچہ تمام انبیاء دجال کے شخص واحد ہونے کی شہادت دیتے آئے۔ مگر مرزا کو اس کی شخصیت سے انکار ہے اور دجال ایک گروہ کا نام رکھا ہے۔ نیز مرزا قادیانی نے ملائکہ اور معجزہ کی حقیقت شرعیہ سے انکار کیا ہے اور فرشتوں کا نزول جسمانی بھی نہیں مانا۔ ان کی تفسیر کرنے میں اپنی رائے کو دخل دیا اور نزول وحی وغیرہ کی حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کی تحقیق کی مخالفت کی ہے۔

الا الله (احزاب:٣٩)“، مگر مرزا قادیانی حکومت سے ڈر کر بعض الہامات کے ظاہر نہ کرنے کا عدالت میں عہد کر آتے ہیں۔

(انعام:٧٠)“ مرزا قادیانی دنیا داروں کی طرح دنیوی شہرت اور مال و دولت کے جمع ہونے پر فخر کرتے ہوئے اس کو اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو۔

جو کچھ میری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا
میں ایک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا

(براہین ص١٠ حصہ ٥، خزائن ج٢١ ص١٩)

اس زمانہ میں ذرا سوچو کیا چیز تھا
جس زمانہ میں براہین کا دیا تھا اشتہار

(براہین حصہ ٥ ص١٣، خزائن ج٢١ ص١٤٢)

پھر ذرا سوچو کہ اب چرچا میرا کیسا ہوا
کس طرح سرعت سے شہرت ہوگئی ہر سو یار

(براہین حصہ ٥ ص١٣، خزائن ج٢١ ص١٤٢)

ادھر آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ ”الانبياء اشد بلاء الامثل فالامثل“

(کنز العمال ج٣ ص٣٢٧ حدیث ٦٧٨٣)

(الشعراء:٢٢٤)

صفحہ ٣٠٦

”وما علمناه الشعر وما ينبغى له (یسین:٦٩)“ مگر مرزا قادیانی کی شعر سازی کا مرزائیوں میں بڑا چرچا ہے۔ مطالبہ: کوئی نبی شاعر پیش کرو۔

اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو۔ جس کو وہ سمجھ بھی نہ سکتا ہو۔“

(چشمہ معرفت ج٢ ص٢٠٩، خزائن ج٢٣ ص٢١٨)

مگر مرزا قادیانی خود اس کے قائل ہیں۔ ”بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ جس سے مجھے کچھ واقفیت نہیں۔ جیسے انگریزی سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔“

(نزول مسیح ص٥٧، خزائن ج١٨ ص٤٣٥)

بالبينات“

(الروم:٤٧)

”فان مدعى النبوة لا بد له من نبوة“

(بیضاوی ج٢ ص١٠٥)

”تمامى انبياء ورسل را صلوت الله عليهم معجزات است و هيچ پیغمبرے بے معجزه نیست“

(مدارج ج١ ص١٩٩)

معجزہ کی حقیقت

”وهى امر يظهر بخلاف العادة على يد مدعى النبوة عند تحدى المنكرين على وجه يعجز المنكرين عن الاتيان بمثله“ جو عادت کے خلاف مدعی نبوت کے ہاتھ پر منکرین کے مقابلہ میں ظاہر ہو اور منکرین اس کی مثال دینے سے عاجز ہوں۔

(شرح العقائد)

”نجومیوں کی سی خبریں زلزلے آئیں گے۔ مری پڑے گی، قحط ہوگا، جنگ ہوگی۔ معجزہ نہیں ۔“

(براہین ص٣٢٥، خزائن ج٢١ ص٢٧١ حاشیہ)

مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں نجومیوں جیسی ہیں۔ یا حالات حاضرہ کو دیکھ کر تجربہ کاروں کی طرح پیش گوئیاں کی تھیں۔ جن میں سے اکثر غلط اور بے بنیاد نکلیں اور جہاں کہیں بطور تحدی منکرین کے مقابلہ میں اپنی صداقت کی نشانی پیش کرنی چاہی وہیں منہ کی کھائی۔

كذالك نجزى الظالمين (الانبیاء:٢٩)“ کبھی کسی نبی نے ہوشیاری یا سکر کی حالت میں

صفحہ ٣٠٧

الوہیت کا دعویٰ نہیں کیا۔ مگر مرزا کہتا ہے کہ : ”کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا وہی ہوں۔“

(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

”رأيتني في المنام عين الله وتيقنت اننی هو“

(آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)

القری“

(یوسف : ١٠٩)

”الامصار لانهم اعلم واحلم بخلاف اهل البوادی لجفائهم وجهلم“

(جلالین: ١٩٩ ومثله فی ابی سعود ج ٤ ص ٣١٠)

قادیان گاؤں ہے: ”اوّل لڑکی اور بعد میں اس حمل سے میرا پیدا ہونا تمام گاؤں کے بزرگ سال لوگوں کو معلوم ہے۔“

(تریاق القلوب ص ١٦٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٥)

خالصا ومن كانت فيه خصله منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها اذا اؤتمن خان واذا حدث كذب واذا عاهد غدرا واذا خاصم فجر

(بخاری ج ١

مرزا قادیانی میں یہ سب خصلتیں موجود تھیں۔

ص ١٠ باب علامة المنافق)

(مسند احمد ج ٢ ص ٤٦٣)

(دارقطنی)

ولا درهما انما ورثوا العلم فمن اخذه اخذ بحظ وافر“

(ابن ماجه ص ٢٠ باب فضل العلماء والحث على طلب العلم)

نعم كنت ارعاها على قراريط لاهل مكه“

(بخاری ج ١ ص ٣٠١، باب رعى الغنم على قراريط)

مرزا قادیانی نے کبھی مزدوری پر بکریاں نہیں چرائیں۔

ان يدفن فيه“

(مشكوة، ترمذی ج ١ ص ١٩٨، ابواب الجنائز)

صفحہ ٣٠٨

مرزا قادیانی لاہور مرے اور قادیان میں دفن ہوئے۔

فلو كان من آبائه من ملك قلت رجل يطلب ملك ابيه"

(بخاری باب كيف كان بدؤ الوحی الی رسول ص٤ ج١)

مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد بڑے رئیس تھے۔ مگر سکھوں کے عہد میں کسی قدر کمزور ہو گئے تھے۔ دیکھو براہین احمدیہ وغیرہ۔ یہاں تک کہ ١٥ روپیہ کی مرزا قادیانی کو نوکری کرنی پڑی۔

(طبرانی ج٢٢ ص٤١٨ حدیث ٣٠٣٠)

اس حدیث کو مرزائی وفات مسیح کے ثبوت میں پیش کیا کرتے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کی عمر آنحضرت ﷺ سے آدھی ہونی چاہئے تھی۔ مگر آپ اور دو سال بعد یعنی ٦٥ برس کے ہو کر مرے ہیں۔

فصل نمبر٤

صداقت کی نشانی...... مرزا قادیانی کی زبانی

خیال زاغ کا بلبل سے ہمسری کا ہے۔ غلام زادہ کو دعویٰ پیمبری کا ہے۔

"هو الذى ارسل رسوله بالہدیٰ دین الحق لیظہر علی الدین کله! یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔"

(حاشیہ الحاشیہ براہین ص٤٩٩ خزائن ج١ ص٥٥٣)

"هو الذى ارسل رسوله ......... یعنی خدا وہ خدا ہے۔ جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے۔ یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطاء کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیش گوئی میں کچھ تخلف ہو۔ اس لئے اس آیت کی نسبت ان سب

صفحہ ٣٠٩

متقدمین کا اتفاق ہے کہ جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا ۔“

(چشمہ معرفت ص٨٣، خزائن ج٢٣ ص٩١)

مگر مرزا قادیانی کے زمانہ میں ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے مسیحیت کا دعویٰ محض افتراء ہے۔

”اور پیش گوئی آیت کریمہ واذا العشار عطلت پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث لیترکن القلاص ولا یسعی علیهما نے اپنی پوری چمک دکھلائی۔ یہاں تک کہ عرب وعجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہورہی ہے۔ یہی اس پیشگوئی کا ظہور ہے۔ جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی۔ جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

(اعجاز احمدی ص٢، خزائن ج١٩ص١٠٨)

امتی ٹھہرایا اور خانہ کعبہ کا طواف کرتے اس کو دیکھا۔“

(ازالۃ ص٢٠٩، خزائن ج٣ ص٣١٣)

ساتھ بیت اللہ کا طواف کرے گا۔“

”فی الحقیقت مارا وقتے حج راست و زیبا آید کہ دجال از کفر ودجل دست باز داشتہ ایماناً واخلاصاً وگر کعبہ بگردد چنانچہ از قرار حدیث مسلم عیاں می شود کہ جناب نبوت انتساب (صلوۃ اللہ علیہ وسلامہ) دیدند دجال ومسیح موعود فی آن واحد طواف کعبہ میکند“

(ایام الصلح (فارسی) ص١٤٧)

”مسیح موعود بعد ظہور نکاح کریں گے اور اس سے اولاد پیدا ہوگی ۔ اس پیش گوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولدلہ ۔ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں ۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں۔ بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے۔ جو بطور نشان ہوگا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٣، خزائن ج١١ص٣٣٧)

صفحہ ٣١٠

مرزا قادیانی کا نکاح بطور نشان محمدی بیگم سے ہونے والا تھا۔ مگر افسوس قسمت نے یاوری اور عمر نے وفا نہ کی اور دل کی حسرت دل ہی میں رہ گئی۔

اگر وہ جیتا رہتا یہی انتظار ہوتا

صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود اپنے دعوے کے بعد چالیس برس دنیا میں رہے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص٢٧، خزائن ج١٧ ص٣١١)

مگر مرزا قادیانی ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے۔ ”میری پیدائش سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے۔“

(کتاب البریہ ص١٥٩، خزائن ج١٣ ص١٧٧)

مرزا غلام احمد قادیانی کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی ہے۔ (نورالدین ص١٧٠)

”١٨٣٩ء مطابق ١٢٥٥ھ دنیا کی تواریخ میں بہت بڑا مبارک سال تھا۔ جس میں خدا تعالیٰ نے مرزا غلام مرتضی کے گھر قادیان میں موعود مہدی پیدا فرمایا۔ جس کے لئے اتنی تیاریاں زمین و آسمان پر ہو رہی تھیں۔“

(مسیح موعود کے مختصر حالات از عمر دین قادیانی ملحقہ براہین حصہ اول ص٦٠ طبع اول)

مرزا قادیانی نے دعویٰ مجددیت یا مسیحیت براہین احمدیہ حصہ ٤ ص ٥٧١ پر کیا۔ جس کے طباعت کی تاریخ یا غفور سے ١٢٩٧ھ نکلتی ہے۔ گویا عمر کے بیالیسویں سال اور صدی سے تین سال پہلے دعویٰ کیا گیا یا پوری صدی پر دعویٰ کیا۔ جیسا کہ ازالہ اوہام کی اس عبارت اور مجدد کی حدیث علی راس کل مائۃ سے ظاہر ہے۔

”یہی وہ مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔“

(ازالہ ص١٨٦، خزائن ج٣ ص١٨٩، ١٩٠)

مگر اس صورت میں بعثت کی مدت مقرر چالیس سال سے پانچ سال زیادہ ہو جائیں گے۔

یا دعوے ١٢٩٠ھ میں ہوا جیسا کہ تحفہ گولڑویہ میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”دانی ایل نبی بتلاتا ہے کہ اس نبی آخر الزمان کے ظہور سے (جو محمد مصطفیٰ ﷺ ہے) جب بارہ سو نوے برس گذریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہوگا۔“

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص٢٠٦، خزائن ج١٧ ص٢٩٢)

صفحہ ٣١١

اس صورت میں مرزا قادیانی کی عمر دعوے کے وقت ٣٥ برس کی ہوگی۔ جو زمانہ بعثت سے پانچ سال کم ہے۔ حدیث مجددیت کے بھی مخالف ہے۔

بالاتفاق ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ربیع الثانی ١٣٢٦ھ میں آپ کا انتقال ہوا۔ اس حساب سے دعوے کے بعد ٢٩ یا ٢٦ یا ٣٦ برس آپ زندہ رہے اور ٤٠ برس جو مسیح موعود کے رہنے کی مدت تھی۔ اس سے پہلے ہی چل بسے اور مسیح کی نشانی آپ پر صادق نہ آئی۔

(تحفہ الندوہ ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٩٨)

ابھی ازالہ اوہام کے حوالے سے گذرا ہے کہ آپ نے اپنا نام غلام احمد قادیانی بتایا ہے۔ جس میں بحساب جمل ١٣٠٠ عدد ہونے کی وجہ سے ١٣٠٠ھ پر مبعوث ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کیا قرآن میں غلام احمد قادیانی بن مریم لکھا ہوا ہے؟ ۔ اگر نہیں ہے تو مرزا قادیانی اپنے بیان کے موافق یقیناً جھوٹے ہیں۔

فصل نمبر ٤

نشان آسمانی بر کذب قادیانی

گلیم بخت کسی راچو بافتند سیاه
زآب زمزم و کوثر سفید نتواں کرد

کے خاتمہ پر اپنے مقابل حریف مسٹر آتھم پادری کی نسبت یہ پیش گوئی کی تھی۔

"میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ رو سیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گے۔"

(جنگ مقدس ص ٢١٠، ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢، ٢٩٣)

صفحہ ٣١٢

اس پیش گوئی کی مدت ٥ ستمبر ١٨٩٤ء پر ختم ہو جانے والی تھی۔ مگر مسٹر عبداللہ آتھم اس پیش گوئی سے ایک سال دس مہینہ بعد ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء بمقام فیروز پور فوت ہوا اور مرزا قادیانی اپنے بیان کے موافق جھوٹے نکلے۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے آتھم کی تاریخ وفات اپنے قلم سے یہ لکھی ہے۔ ”چونکہ مسٹر عبداللہ آتھم ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو گئے ہیں۔“

(انجام آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ ص ٣)

٥ ستمبر ١٨٩٤ء کا دن جو مرزا قادیانی پر ذلت اور رسوائی کا گذرا حق تعالیٰ وہ دشمن پر بھی نہ لائے۔ چاروں طرف سے پھبتیاں اڑائی گئیں۔ ہجو میں اشتہارات شائع ہوئے۔ جن میں سے ایک دو یہ ہیں۔

مسلمانان لدھیانہ کی طرف سے ایک اشتہار یہ شائع ہوا تھا۔

ارے او خود غرض خود کام مرزا
ارے منحوس نافرجام مرزا
غلامی چھوڑ کر احمد بنا تو
رسول حق باستحکام مرزا
مسیح مہدی موعود بن کر
بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا بحث نصاریٰ میں بآخر
مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ تو بڑھ چڑھ کے گذرے
ہے آتھم زندہ اے ظلام مرزا
تیری تکذیب کی شمس و قمر نے
ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا

(نقل از الہامات مرزا ص ٢٨)

عیسائیوں نے جو اشتہار دیا تھا اس میں یہ لکھا تھا۔

پنجہ آتھم سے مشکل ہے رہائی آپ کی
توڑ ہی ڈالیں گے وہ نازک کلائی آپ کی
صفحہ ٣١٣
آتھم اب زندہ ہے آ کر دیکھ لو آنکھوں سے اب
بات یہ کب چھپ سکے ہے اب چھپائی آپ کی
کچھ کرو شرم حیا تاویل کا اب کام کیا
بات اب بنتی نہیں کوئی بنائی آپ کی

(الہامات ص ٣٠)

مرزا قادیانی نے بھی اپنی تذلیل اور رسوائی کا اقرار کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”انہوں نے پشاور سے لے کر مراد آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر ٹھٹھے کئے۔“

(سراج منیر ص ٥٢، خزائن ج ١٢ص٥٤)

کسی پیش گوئی کے پورے ہونے کے یہی معنے ہیں کہ وہ اپنی ظاہری مراد کے ساتھ صاف طور پر واقع ہو اور اس میں کسی ہیر پھیر اور تاویل کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے سراج منیر میں خود اس کا اعتراف کیا ہے: ”اگر پیش گوئی فی الواقع ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔“

(سراج منیر ص ١٥، خزائن ج ١٢ص ١٧)

مگر مرزا قادیانی نے جو ذلت اور رسوائی کا داغ مٹانے کے لئے مختلف عذرات اور منگھڑت تاویلیں کی ہیں۔ ان کو دیکھ کر ان کی عیاری اور مکاری کا اور ثبوت مل جاتا ہے۔ کبھی فرماتے ہیں کہ: ”اور پیش گوئی کی کسی عبارت میں یہ نہیں لکھا گیا کہ فریق سے مراد عبداللہ آتھم ہے۔“

(نور الاسلام ص ٢، خزائن ج ٩ ص٢)

لیکن اس میں مرزا قادیانی نے کئی وجہ سے خدیعہ دھوکا دہی اور اخفاء حق سے کام لیا ہے۔ اس پیش گوئی کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرط یہ کہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔ اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی۔“

(جنگ مقدس ص ٢١٠،٢٠٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩١، ٢٩٢)

اس میں سارے فریق مخالف کو ہاویہ میں گرایا جانا ظاہر کیا ہے۔ فریق مخالف میں سے ایک دو آدمی کا مرنا بیان نہیں کیا۔ اس لئے پادری رائٹ کے مرنے کی وجہ سے یہ پیش گوئی پوری نہیں ہو سکتی۔ دوسرے مرزا قادیانی نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ یہ پیش گوئی صرف آتھم کے متعلق

صفحہ ٣١٤

ہے ۔ ڈاکٹر کلارک وغیرہ کو اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں بعدالت مجسٹریٹ گورداس پور کا اقرار کیا ہے۔

(دیکھو روئداد مقدمہ مرزا و ڈاکٹر کلارک ١٢، ١٣، ٢٠ / اگست ١٨٩٧ء)

”ومنها ما وعدني ربي اذا جادلنی رجل من المتنصرين الذی اسمه عبدالله آتھم فاذا بشرنی ربی بعد دعوتی بموته الی خمسة عشر اشهر من يوم خاتمة البحث“

( کرامات الصادقین ص ١٦٣، خزائن ج ٧ ص ١٦٣)

”آتھم کی موت کی نسبت پیش گوئی کی گئی تھی ۔ جس میں یہ شرط تھی کہ اگر آتھم صاحب پندرہ مہینہ کی میعاد میں حق کی طرف رجوع کر لیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔“

( تریاق القلوب ص ١١ ، خزائن ج ١٥ ص ١٤٨)

دوسری تاویل یہ گھڑی گئی کہ : ”آتھم کی موت اس لئے نہیں ہوئی کہ اس نے حق کی طرف رجوع کیا تھا۔“

( اشتہار ہزاری و دو ہزاری ،مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٥٧)

رجوع الی الحق کا یہ مطلب تھا کہ وہ عیسائیت کو چھوڑ کر مسلمان ہو جائے ۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اول تو پیش گوئی کے الفاظ سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے علاوہ ازیں خود مرزا قادیانی نے یہی مراد انجام آتھم میں بیان کی ہے کہ : ”پیش گوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر (آتھم ) عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت نہیں ہوگا تو صرف اس حالت میں پیش گوئی کے اندر فوت ہوں گے۔“

(انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ١٣)

عسل مصفیٰ میں جو مرزا قادیانی کے ایک مرید نے لکھ کر مرزا قادیانی کی خدمت میں پیش کی تھی یہ لکھا ہوا ہے کہ : ”مسٹر عبد اللہ آتھم عیسائی کی نسبت ..... یہ پیش گوئی کی کہ اگر وہ جھوٹے خدا کو نہ چھوڑے گا تو وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“

(عسل مصفیٰ ج ٢ ص ٥٨٥)

مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس لئے مرزا قادیانی کی یہ تاویل بھی غلط ہے۔ موت سے ڈرنے کو رجوع الی الحق کہنا انصاف کا خون کرنے کے علاوہ لازم آتا ہے۔ کہ پنڈت لیکھرام کے مرنے پر جب مرزا قادیانی کے پاس دھمکی کے خطوط پہنچے تو مرزا قادیانی نے گورنمنٹ سے حفاظتی دستہ کی درخواست کی اور گھر سے تنہا باہر نکلنا چھوڑ دیا تھا۔ تو کہہ دیجئے کہ مرزا قادیانی نے رجوع الی الحق کرتے ہوئے آریہ مذہب قبول کر لیا تھا۔

( دیکھو نور افشاں ص ٤ نمبر ٢٦، ١٦ اکتوبر، ١٨٩٧ء والہامات مرزا ص ١١، ١٢ مصنفہ مولوی ثناء اللہ )

صفحہ ٣١٥

کبھی کہا جاتا تھا کہ جس طرح یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب جاتا رہا تھا۔ اسی طرح آتھم کے ڈرنے کی وجہ سے موت کا عذاب ٹل گیا۔ اس کے جواب میں یہ کہہ دینا کافی ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے وہی وعدہ تھا جو عام طور پر کفار سے ہوا کرتا ہے۔ کہ اگر کفر پر قائم رہے تو عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ مگر وہ کفر سے تائب ہو گئے۔ اس لئے ہلاک بھی نہ ہوئے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ: ”فلولا كانت قرية آمنت فنفعها ايمانها الا قوم يونس لما امنو كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحيوة الدنيا ومتعنا هم الى حين (یونس:٩٨) دوسرے حضرت یونس علیہ السلام نے عذاب آنے کی خبر دی تھی۔ عذاب میں مبتلا ہونے کی پیش گوئی نہیں کی تھی۔ عذاب آیا مگر ایمان لانے اور توبہ کرنے کی وجہ سے نازل شدہ عذاب اٹھا لیا گیا۔ جیسا کہ: ”لما آمنوا كشفنا عنهم“ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ: ”فلما دنا الموعد أغامت السماء غيماً أسود ذا دخان شديد فهبط حتى غشى مدينتهم فهابوا فطلبوا يونس فلم يجدوه فأيقنوا صدقه فلبسوا المسوح وبرزوا الى الصعيد بانفسهم ونسائهم وصبيانهم ودوابهم وفرقوا بين كل والدة وولدها فحن بعضها الى بعض وعلت الأصوات والعجيج وأخلصوا التوبة وأظهروا الايمان وتضرعوا الى الله تعالى فرحمهم وكشف عنهم“

(بیضاوی ج ١ ص ٣٨١)

کی گئی کہ وہ نکاح سے اڑھائی سال تک مر جائے گا اور اگر وہ مقررہ میعاد میں نہ مرا تو مرزا قادیانی جھوٹے ہیں۔ بلکہ یہ بھی لکھ دیا کہ اگر میں (مرزا قادیانی) اس کے سامنے مر گیا تو میرے جھوٹ ہونے کی یہ دوسری نشانی ہوگی۔

قریب ہے اور ایسا ہی اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا یہ اللہ کا حکم ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٧٤، خزائن ج ٥ ص ٥٧٤)

کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا۔“

(اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

صفحہ ٣١٦

بدتر ٹھہروں گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

”اس پیش گوئی کا دوسرا حصہ جو اس کے داماد کی موت ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ٢٩٧)

اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ اسے ضرور پورا کرے گا۔“

(انجام آتھم ص ٣١، خزائن ج ١١ ص ٣١)

مگر یہ پیش گوئی بھی جو اس تحدی اور مقابلہ کے ساتھ پیش کی گئی تھی پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا۔ کیونکہ محمدی بیگم کا نکاح مرزا سلطان محمد سے ١٧؍اپریل ١٨٩٢ء کو ہوا تھا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”١٧؍اپریل ١٨٩٢ء کو اس لڑکی (محمدی بیگم) کا دوسری جگہ نکاح ہو گیا۔“

(آئینہ کمالات ص ٢٨٠، خزائن ج ٥ ص ٢٨٠)

اس لئے بموجب پیش گوئی اس کو ٥؍ستمبر ١٨٩٤ء میں اس جہان سے رخصت ہو جانا چاہئے تھا۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی پیش گوئی جو پٹی لاہور کا باشندہ ہے۔ جس کی میعاد آج کی تاریخ سے ٥؍ستمبر ١٨٩٣ء ہے۔ قریباً مہینہ باقی رہ گئی ہے۔“

(شہادۃ القرآن ص ٧٩، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)

مگر افسوس مرزا قادیانی کی توقعات کے خلاف ان کی حسرتوں کا خون کرنے کے لئے مرزا سلطان بیگ آج ٥؍نومبر ١٩٣٢ء تک زندہ (بلکہ پاکستان بننے کے بعد تک زندہ) رہے اور ان کی مخطوبہ پر قابض رہے اور مرزا قادیانی صدہا حسرت و ارمان سے اس جہان سے ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء میں چلتے بنے:

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

اس پیش گوئی کے پورے نہ ہونے پر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ وہ ڈر گیا تھا اور مرزائی کہتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی کی بزرگی کا قائل ہوگیا تھا۔ اس لئے وہ مقررہ میعاد میں نہ مرا۔ مگر یہ سب باتیں غلط ہیں۔ کیونکہ اس کا رجوع یا توبہ اسی صورت میں معتبر ہوسکتی ہے۔ جبکہ وہ مرزا قادیانی کی مخطوبہ سے دست بردار ہو جاتا اور اس کو طلاق دے کر مرزا قادیانی کے لئے راستہ صاف کر دیتا۔ کیونکہ اس کا قصور تو دراصل یہی تھا کہ اس نے محمدی بیگم سے نکاح کر لیا۔ جیسا کہ خود

صفحہ ٣١٧

مرزا قادیانی بھی لکھتے ہیں کہ: ”احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا پیغام بھیج کر سمجھایا گیا۔ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا۔ بلکہ وہ سب گستاخی اور استہزاء میں شریک ہوئے۔ سو یہی قصور تھا کہ پیش گوئی کو سنکر پھر ناطہ کرنے پر راضی ہوئے ۔“

(اشتہار انعامی چار ہزار ،مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)

علاوہ ازیں اخبار اہل حدیث میں سلطان محمد کی ایک چٹھی شائع ہوئی۔ جس میں اس نے ڈرنے اور مرزا کو بزرگ ماننے سے انکار کیا ہے۔

”جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی۔ میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں ۔“

(سلطان محمد بیگ ساکن پٹی ٣؍ مارچ ١٩٣٣ء نقل از اخبار اہل حدیث ١٤؍ مارچ ١٩٣٣ء)

پھر جبکہ اس کا مقررہ میعاد میں مرنا تقدیر مبرم تھا۔ تو وہ کسی ڈرنے یا توبہ کرنے سے کیونکر ٹل سکتا تھا۔

جن پر مرزا قادیانی کے صادق یا کاذب ہونے کا دارومدار ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لئے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے۔ جس کے تم خواہش مند ہو۔ بلکہ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کئے جائیں گے۔ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٧٢ ، ٥٧٣ ،خزائن ج ٥ ص ٥٧٢ ، ٥٧٣)

”پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“

(اشتہار ٢٠؍ جولائی ١٨٨٨ء ،مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٨)

”خدا تعالیٰ نے پیش گوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا

صفحہ ٣١٨

گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی ۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦ ،خزائن ج٣ص٣٠٥)

مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی کے سمجھنے میں کسی قسم کی غلطی نہیں لگی ۔ جیسا کہ خود تحریر فرماتے ہیں کہ : ’’جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی ...... تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی ۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی ۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی ۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے ۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا کہ ’’الحق من ربک فلا تکونن من الممترین ‘‘ یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے ۔ تو کیوں شک کرتا ہے ۔“

(ازالہ ص ٣٩٨،خزائن ج٣ص٣٠٦،٣٠٥)

اس لئے مرزا قادیانی کو اس نفس پیش گوئی کے پورا ہونے کا اس درجہ یقین کامل ہو گیا تھا کہ آپ نے اس کو صدق و کذب کا معیار قرار دیتے ہوئے وثوق کے ساتھ یہاں تک کہہ دیا۔ ’’ہیچ کس باحیلہ خود او را رد نتواں کردہ ، ایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم است عنقریب وقت آں خواہد آمد پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمدﷺ را برحق مبعوث فرمودہ او را بہترین مخلوقات گردانید کہ ایں حق است و عنقریب خواہی دید و من ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار میگردانم و من نگفتم الا بعد زآنکہ از رب خود خبر دادہ شدم “

(انجام آتھم ص٢٢٣،خزائن ج١١ص٢٢٣)

’’ میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدا اے قادر علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف ...... سے نہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر ۔“

(اشتہار انعامی چار ہزار ، مجموعہ اشتہارات ج٢ص١١٥،١١٦)

’’ نفس پیش گوئی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم ہے ۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی ۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے ۔ لا تبدیل لکلمات اللہ ۔ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی ۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا کا کلام باطل ہوتا ہے ۔“

(اشتہار ٦؍اکتوبر ١٨٩٤ء ،مندرجہ تبلیغ رسالت ج٣ص١١٥، مجموعہ اشتہارات ج٢ص٤٣)

صفحہ ٣١٩

”دعوت ربى بالتضرع والا بتهال ومددت اليه ايدى السوال فالهمنى ربى ...... انها سيجعل ثيبة ويموت بعلها وابوها الى ثلث سنة من يوم النكاح ثم نردها اليك بعدموتهما ولا يكون احدهما من العاصمين وقال انا رادو هااليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد“

(کرامات الصادقین، خزائن ج٧ ص١٦٢)

پھر مرزا قادیانی کے بڑھتے ہوئے شوق وصال کو دیکھ کر ان کے ملہم غیبی نے سلطان محمد کی منکوحہ ہونے کے باوجود خلاف شرع محمدی بیگم کا نکاح مرزا قادیانی سے کرا ہی دیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی ایک الہام میں لکھتے ہیں کہ ”كـذبـوا بـآيـاتـى كـانـوا بهـا يسـتهـزؤن فسيكفيكهم الله ويردها اليك امر من لدنا انا كنا فاعلين زوجنا كها الحق من ربك فلا تكونن من الممترين لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لمايريد انا رادوها اليك“

(انجام آتھم ص٦٠ ،٦١، خزائن ج١١ ص٦٠ ،٦١)

”وآں زن راکه زن احـمـد بيگ رادختـر اسـت بـاز بسـوئے تو واپس خواهم آورد يعنى چونکه اواز قبيله بباعث نكاح اجنبى بيروں شده باز بتقريب نـكـاح تـو بسـوئے قبيـلـه رد كـرده خواهـد شـدو در كـلمات خـدا ووعدهائے او هيچ كس تبديل نتواں كرد“

(انجام آتھم ص٢١٦، خزائن ج١١ ص٢١٦)

”سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیش گوئی میں تھا۔ اس عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں۔ بلکہ خدا کی طرف سے ہیں۔ ہنسی کی گئی ہے۔“

(الحکم ج٥ نمبر ٢٩ ص١٦، ١٠،١٥ اگست ١٩٠١ء)

”عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں۔ ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔“

(الحکم ج٥ نمبر ٢٩ ص١٥، ١٠ اگست ١٩٠١ء)

”اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔۔ سو ایسا ہی ہوگا۔“

(الحکم ج٩ نمبر ٢٣ ص٢، ٣٠ جون ١٩٠٥ء)

پیش گوئی میں اس بات کی تصریح ہونا کہ محمدی بیگم مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی اور یہ تقدیر مبرم ہے۔ جو ٹل نہیں سکتی اور مرزا قادیانی کا اس پیش گوئی کے سمجھنے میں کسی قسم

صفحہ ٣٢٠

کی غلطی نہ کھانا یہ تمام باتیں اس امر کی کھلی ہوئی شہادت ہے کہ محمدی بیگم کا مرزا قادیانی کے نکاح میں آنا ضروری تھا اور ان کو محمدی بیگم کی مفارقت کا داغ سینہ پر لے کر کبھی نہ مرنا چاہئے تھا۔ کیونکہ ایسا ہونے سے نہ صرف مرزا قادیانی کی موت بقول ان کی نامرادی اور ذلت کی موت سمجھی گئی ہے۔ بلکہ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے ساتھ ان کے ملہم کا جھوٹا ہونا بھی روز روشن کی طرح ظاہر ہونے لگا اور پھر شیطانی الہام کو وحی ربانی بتلانا یہ دوسرا گناہ ہے۔ جو مرزا قادیانی کے سر پر قائم رہا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ان کی نسبت یہ ارشاد ہے۔

”ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا او قال اوحى الى ولم يوحى اليه شىء ومن قال سانزل مثل ما انزل الله (انعام:٩٣)“ مرزا قادیانی کو جذبہ عشق سے آخری وقت تک ملاقات کی امید بندھی رہی۔ جذبہ عشق سلامت ہے تو انشاء اللہ کچے دھاگے میں چلے آئیں گے سرکار بندھے۔ لیکن قرائن موجودہ کچھ ایسے یاس انگیز اور نوامیدی کا پہلو لئے ہوئے تھے کہ انہوں نے مرزا قادیانی کو تذبذب میں ڈال دیا۔

بلائے فرقت لیلے وصحبت لیلے
غرض دوگونہ عذاب است جان مجنوں را

اور مجبور ہو کر ان کو یہ الہام ظاہر کرنا پڑا کہ: ”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے۔ مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا۔ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ’ایتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك‘ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا اور نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص١٣٢، ١٣٣، خزائن ج٢٢ ص٥٧٠)

کیا خوب مجھ کو محروم نہ کر وصل سے او شوخ مزاج
بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں

اس الہام میں علاوہ دورنگی اختیار کرنے کے کس طرح کا سقم اور بدحواسی کا صاف طور پر پتہ چل رہا ہے۔

عجیب منطق ہے۔

صفحہ ٣٢١

سے ٹل گئی۔

بزم نشاط کی رونق ہوتی۔ غرض معلوم ہوا کہ یہ سب مرزا غلام احمد قادیانی کے شیطانی الہامات تھے۔ جو بیت الفکر میں گھڑے جاتے تھے۔ جادو وہ ہے جو سر چڑھ کے بولے۔ لو سن لو محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور کیا فرماتے ہیں کہ: ”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا۔“

(اخبار پیغام صلح لاہور ١٦؍جنوری ١٩٢١ء)

ہوا ہے مدعی کا فیصلہ اچھا میرے حق میں
زلیخا نے کیا خود چاک دامن ماہ کنعاں کا

ہاتھ فتح ہوں گے۔ مگر وہ صحابہؓ کے زمانہ میں فتح ہوئے تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے ساتھ نکاح ہونے کے یہ معنے ہیں کہ ان کی اولاد میں سے کوئی شخص محمدی بیگم کی اولاد سے عقد کرے گا۔

زندگی میں فتح ہو جائے گی۔ بلکہ صحابہؓ کو مخاطب کر کے یہ فرمایا کہ تم ان کے خزانے لوٹو گے اور تمہارے ہاتھوں ان کے شہر مفتوح ہو کر اسلامی حکومت میں داخل ہوں گے۔ یہ محض نبی عربی ﷺ پر افتراء ہے اور جب کہ پیش گوئی میں مرزا کے ساتھ تصریح تھی اور مرزا قادیانی کو اس کے سمجھنے میں کسی قسم کی غلط فہمی بھی نہیں ہوئی تو پھر ایسی رکیک اور لچر تاویلیں کرنی سراسر مضحکہ خیز ہیں۔

پیشگوئی ڈاکٹر عبدالحکیم

کیا تھا کہ جولائی ١٩٠٧ء سے ١٤ ماہ تک مرزا مر جائے گا۔ مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں ایک اشتہار بعنوان تبصرہ ٥؍نومبر ١٩٠٧ء کو شائع کیا۔ جس میں ڈاکٹر صاحب کے متعلق یہ پیش گوئی تحریر فرمائی:

”اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا۔ میں تیری عمر کو بڑھاؤں گا۔ یعنی دشمن تو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینہ تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں ان سب کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو میں بڑھا دوں گا۔ تاکہ

صفحہ ٣٢٢

معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے ۔" آگے لکھتے ہیں کہ: "یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے ۔ جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ کیا ہے ۔ مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے رو برو اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہو گا ۔" اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم نے ایک اور اشتہار شائع کیا جس میں لکھا تھا کہ: "مرزا قادیانی مورخہ ١٤ اگست ١٩٠٨ء تک مرجائے گا ۔"

(دیکھو چشمہ معرفت ص ٣٢١ ، ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٧)

آخر کار ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئی کے ماتحت مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اگلے جہان کی طرف سدھار گئے اور ڈاکٹر صاحب کے مقابلہ میں اپنا یہ قول سچا کر کے دکھا گئے ۔ "رب فرق بين صادق وكاذب انت يرى كل مصلح وصادق "اے اللہ سچے اور جھوٹے کے درمیان فرق کر کے دکھا دے کہ تو مصلح اور سچے کو دیکھتا ہے ۔" ( نقل از اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ١٦؍اگست ١٩٠٦ء مطابق ٢٤؍جمادی الثانی ١٣٢٤ھ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٦٠ )

١٩٠٧ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨) کو ایک اشتہار بعنوان ’’مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ‘‘ شائع کیا جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ: ’’اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی ہلاک ہو جاؤں گا...... اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید کرتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے ۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے ۔ جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئیں تو میں خدا کی طرف سے نہیں ۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر یہ پیش گوئی نہیں ۔ بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے ۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا

صفحہ ٣٢٣

ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون اور ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے طور پر میری روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین ...... اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔ یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر“ آمین ثم آمین ربنا افتح بیننا وبینا قومنا ...... الخ “

مرزا قادیانی نے یہ پیش گوئی شروع میں بطریق دعا شائع کی تھی۔ لیکن پھر اس کی قبولیت کا الہام ہو گیا۔ اس لئے یہ پیش گوئی بھی الہامی ہی سمجھنی چاہئے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا۔ اجیب دعوة الداع صوفیاء کے یہاں بڑی کرامت استجابت دعا ہے باقی سب اس کی شاخیں ۔“

(البدر مورخہ ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء)

مرزا قادیانی اس پیش گوئی کے مطابق مولوی ثناء اللہ صاحب صادق کی زندگی میں آسمانی مرض ہیضہ یا ایلاؤس میں ہلاک ہو کر دنیا پر اپنا مفسد کذاب مفتری علی اللہ ہونا ثابت کر گئے۔

لکھا تھا کاذب مرے گا پیشتر
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا

پر خدا تعالیٰ سے بڑی گریہ وزاری کے ساتھ ایک آسمانی نشان طلب کیا جس کے ظہور کی مدت ٣ سال تک رکھی اور اس دعا کی قبولیت یا عدم قبولیت کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اے میرے مولا قادر خدا اب مجھے راہ بتلا ...... اگر میں تیری جناب میں

صفحہ ٣٢٤

مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے۔ جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں...... تو ٣ سال میں جو اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے۔ کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو ۔‘‘

(اشتہار ٥ نومبر ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٨)

گو یہ الفاظ دعائیہ ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے (اعجاز احمدی کے ص٨٨، خزائن ج١٩ ص٢٠٢) پر اس کو پیش گوئی لکھا ہے۔

پھر مرزا قادیانی کی دعا کوئی معمولی دعا نہ تھی۔ جو مقبول نہ ہوتی۔ اس کے لئے قبولیت لازم تھی۔ چنانچہ اسی اشتہار میں لکھا ہے کہ: ’’مجھے بار بار خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں سنوں گا۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٨)

پھر آپ اسی اشتہار میں لکھتے ہیں کہ: ’’اگر تو (اے خدا) تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلاوے اور اپنے بندوں کو ان لوگوں کی طرح رد کرے۔ جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہ سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھ لوں گا۔ جو میرے اوپر لگائے جاتے ہیں...... میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٧،١٧٨)

لاریب فیه هر که شك آرد کافر گردد!

جب ٢٢ نومبر ١٩٠٢ء تک کوئی نشان آسمانی ظاہر نہ ہوا تو مرزا قادیانی نے مسیحیت جاتی ہوئی دیکھ کر فوراً ایک رسالہ اعجاز احمدی شائع کر دیا۔ جس میں لکھا کہ اگر مولوی ثناء اللہ اتنی ضخامت کا رسالہ اردو عربی نظم میں بنا کر پانچ روز میں پیش کر دے تو میں اس کو دس ہزار روپیہ انعام میں دوں گا اور اگر وہ عاجز ہو گیا تو میری سہ سالہ میعاد والی پیش گوئی پوری ہو جائے گی۔

(ملخص اشتہار ملحقہ اعجاز احمدی ص٨٩، ٩٠، خزائن ج١٩ ص٢٠٢ تا ٢٠٥)

سبحان اللہ (سخن فہمی عالم بالا معلوم شود) سوال تھا ایسے آسمان نشان کا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو نشان تو مرزا قادیانی کی دعا کی وجہ سے کہ مفتری اور کذاب کو نہ ملنا چاہئے نہ ملا اور

صفحہ ٣٢٥

ناحق مرزا قادیانی کے انسانی ہاتھوں پر نشان دہی کا بار ڈال دیا۔ پھر نشان بھی دیا تو ایسا نور بھرا کہ جس میں عروضی ، صرفی ، نحوی ، اغلاط بھری پڑی ہیں۔ اگر کسی کو دیکھنے کا شوق ہو تو الہامات مرزا اور سیف چشتیائی وغیرہ دیکھ لے۔ پھر جب مولوی ثناء اللہ صاحب نے ٢٥ نومبر ١٩٠٢ء کو بذریعہ اشتہار قصیدہ اعجازیہ کے اغلاط بیان کرتے ہوئے ان سے اس امر کا مطالبہ کیا کہ مہینوں کی کوشش کے بعد ایک رسالہ تیار کر کے اس کا جواب پانچ روز میں مانگنا انصاف کے خلاف ہے۔ اس لئے زانو بزانو بیٹھ کر عربی اردو تحریر کا نظم ونثر میں مقابلہ کرلیا جائے تو سوائے سکوت کے کوئی جواب نہ ملا اور مولوی ثناء اللہ صاحب یہ شعر ہی گنگناتے رہے:

بنائی آڑ کیوں دیوار گھر کی
نکل دیکھیں تیری ہم شعر خوانی

ہم تو مرزا قادیانی کے پیش کردہ معیار کے موافق ان کے لئے وہی القابات تحریر کریں گے جو مرزا قادیانی نے اس پر پورے نہ اترنے والے کے لئے مفتری ، کذاب ، خائن ، مفسد، دجال شریر وغیرہ منتخب کئے تھے۔ مصرعہ آنچہ استاد ازل گفت ہماں میگویم اور مرزائی اگر ناخلف نہیں ہیں اور مرزا کو سچا سمجھتے ہیں تو ان کو بھی اس میں ہمارا ہم نوا ہونا چاہئے۔ ورنہ ہم تو یہی کہیں گے جو اس پر بھی نہ سمجھے تو اس بت کو خدا سمجھے۔

”افلا يتدبرون القرآن ام على قلوب اقفالها“

(نساء: ٨٢)

فصل نمبر ٤

تردید صداقت مرزا قادیانی

تحریف: ١.... ”لو تقول علينا بعض الا قاويل لا خذنا منه باليمين ثم لقطعنا منه الوتين . الحاقه : ٤٤ تا ٤٦“ اور اگر وہ (محمد ﷺ ) ہم پر بعض افتراء باندھتے تو ہم ان کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی شہ رگ کاٹ ڈالتے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”اگر اس مدت تک اس مدعی کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا ٢٣ برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں...... یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جب ہی ٹھہر سکتا ہے ۔ جبکہ یہ قاعدہ کلی مانا جائے کہ خدا مفتری کو...... کبھی مہلت نہیں دیتا...... آج تک علماء

صفحہ ٣٢٦

امت سے کسی نے یہ اعتقاد ظاہر نہیں کیا کہ کوئی مفتری علی اللہ تیس برس تک زندہ رہ سکتا ہے...... میرے دعوے کی مدت تیس برس ہو چکی ہے۔‘‘

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ موسومہ اشتہار بابت سورہ حج ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٢، ٤٣)

اسی کتاب کے ص ٢ پر لکھا ہے کہ: ”شرح عقائد نسفی میں بھی عقیدے کے رنگ میں اس دلیل کو لکھا ہے۔‘‘

(تحفہ گولڑویہ ص ٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٠)

اور توریت میں بھی یہی درج ہے کہ جھوٹا نبی قتل کیا جاتا ہے۔ تحقیق...... یہ آیت رسول اللہ ﷺ کی شان میں اس بات کو ظاہر کرنے کے لئے نازل ہوئی کہ اگر وہ اللہ سبحانہ کی طرف بعض باتوں کی جھوٹی نسبت کر دیتے تو ان کو فوراً ہلاک کر دیا جاتا اور ایک زمانہ دراز تک کبھی مہلت نہ دی جاتی اور سورہ بنی اسرائیل میں اسی فیصلہ کو وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے۔ کہ: ” و ان كادوا ليفتنونك عن الذى اوحينا اليك لتفترى علينا غيره واذاً لاتخذوك خليلا ٭ ولولا ان ثبتناك لقد كدت تركن اليهم شيئاً قليلاً ٭ اذاً لاذقنك ضعف الحيوة وضعف الممات ثم لا تجد علينا نصيراً (بنی اسرائیل : ٧٣، ٧٤، ٧٥) ‘‘ یعنی قریب تھا کہ کفار تجھے وحی الہی سے ہٹا کر افتراء پردازی پر مائل کر دیں۔ اس صورت میں وہ تجھے اپنا دوست بنا لیتے ۔ اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو آپ کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ہو جاتے ۔ مگر اس وقت ہم آپ کو دنیا اور آخرت میں دگنا عذاب دیتے۔ جس پر تجھے کوئی مددگار نہ ملتا۔

معلوم ہوا یہ ایک خاص واقعہ ہے۔ اس میں کوئی لفظ کلیت یا عموم پر دلالت کرنے والا موجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو عام ضابطہ یا قاعدہ کلیہ قرار دیا جائے ۔ شرح عقائد نسفی میں علامہ تفتازانی کا بھی یہی مطلب ہے ۔ کیونکہ وہ جامع کمالات فاضلہ اور اخلاق عظمیہ سے رسول اللہ کی نبوت پر استدلال کر رہے ہیں ۔ ہر مدعی نبوت کی نبوت کو اس سے ثابت نہیں کرتے ۔ جیسا کہ اس عبارت سے ظاہر ہے۔ ” قد يستدل ارباب البصائر على نبوة بوجهين احدهما بالتواتر من احواله قبل النبوة وحال الدعوة وبعد تما مها واخلاقه العظمة واحكامه الحكمية واقدامه حيث تحجم الابطال ووثوقه بعصمة الله تعالى فى جميع الاحوال وثباته على حاله لدى الاهوا بحيث لم تجد اعداؤه مع شدة عداوتهم وحرصهم على الطعن فيه مطعنا ولا الى القدح فيه سبيلا فان العقل يجزم بامتناع اجتماع هذا الامور فى غير الانبياء وان يجمع

صفحہ ٣٢٧

الله تعالى هذه الكمالات فى حق من يعلم انه يفترى عليه ثم يمهله ثلثا وعشرين سنة"

(شرح عقائد نسفی مجتبائی ص ١٣٦، ١٣٧، مبحث النبوات)

اس میں جملہ ضمیرین رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع کی گئیں ہیں اور انبیاء علیہم السلام میں سے وہی جامع کمالات اور اخلاق عظیمہ کے ساتھ متصف ہیں ۔ جیسا کہ "بعثت لاتمم حسن الاخلاق" (الحدیث مؤطا ص ٧٠ باب فی حسن الخلق ) وآیت "انك لعلى خلق عظیم" (القلم: ٤) سے ظاہر ہے۔ اس لئے شرح عقائد کی عبارت کو معیار نبوت میں کلیۃً پیش کرنا ہرگز صحیح نہیں اور اگر آیت کی دلالت بالفرض کلیت پر تسلیم کر لی جائے تو رسول اللہ ﷺ کے حالات کو سامنے رکھ کر کلیت اخذ کرنی پڑے گی۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی نے ٢٣ سالہ مہلت اور نبی کاذب کی قید آنحضرت ﷺ کے حالات ہی سے اربعین وغیرہ میں لگائی ہے۔ ورنہ آیت میں دعویٰ نبوت اور ٢٣ سال مدت کی کوئی قید مذکور نہیں ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”خدا تعالیٰ کی تمام پاک کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ جھوٹا نبی ہلاک کیا جاتا ہے۔ اب اس کے مقابل میں یہ پیش کرنا کہ اکبر بادشاہ نے نبوت کا دعویٰ کیا یا روشن دین جالندھری نے دعویٰ کیا۔ اور وہ ہلاک نہیں ہوئے۔ یہ ایک دوسری حماقت ہے۔ جو ظاہر کی جاتی ہے....... پہلے ان لوگوں کی خاص تحریر سے ان کا دعویٰ ثابت کرنا چاہئے....... کہ میں خدا کا رسول ہوں....... کیونکہ ہماری تمام بحث وحی نبوت میں ہے ۔“

(ضمیمہ اربعین نمبر ٣، ٤ ص ١١، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٧)

برس تک مہلت پا سکے۔ ضرور ہلاک ہوگا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)

دعویٰ کرنے والے کو مہلت نہیں دیتا۔“

(تحفہ قیصریہ ص ٦، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٨)

جس طرح نبوت اور تئیس سالہ مدت کی قید رسول اللہ ﷺ کے حالات سے لگائی گئی ہے۔ اسی طرح سچے اور صادق ہونے کی قید کا اضافہ کرنا بھی ضروری ہوگا اور اس وقت آیت کا مفاد یہ ہوگا کہ جو سچا نبی کسی غیر نازل شدہ حکم کی جھوٹی نسبت اللہ سبحانہ کی طرف کرے گا وہ ہلاک کیا جائے گا اور آیت میں بعض الاقاویل کی قید کا فائدہ بھی اسی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے۔ جب کہ نبی سے سچا نبی مراد لیا جائے ورنہ جھوٹے مدعی نبوت کی ہر وہ بات جس کو وحی الٰہی کہتا ہے۔ جھوٹی ہے اور یہی مطلب توریت کی آیت کا ہے۔ خود مرزا قادیانی نے بھی اس ضابطہ میں صادق نبی ہونے کی شرط کو ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ: ”میں بار بار کہتا ہوں کہ صادقوں کے لئے

صفحہ ٣٢٨

آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ نہایت صحیح پیمانہ ہے اور ہرگز ممکن نہیں کہ کوئی شخص جھوٹا ہو کر تئیس برس مہلت پاسکے ۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٤)

معاملات دینوی میں بھی اس بہروپیے سے جو حاکم کے بہروپ میں کوئی حکم نافذ کرے مواخذہ نہیں ہوتا۔ مگر ایک سرکاری عہدہ دار حکومت سے حکم واحکام حاصل کرنے کے بغیر اگر کوئی حکم نافذ کرے گا تو حکومت اس سے باز پرس کرے گی ۔ شرح عقائد میں ٢٣ سال مہلت اگر معیار بن سکتی ہے تو فی الجملہ اسی طرح بن سکتی ہے کہ اس کے ساتھ دیانت اور اتقاء راست گفتاری استقامۃ توکل علی اللہ وغیرہ کو مدعی نبوت میں ثابت کیا جائے ۔ جیسا کہ شرح عقائد میں کہا گیا ہے اور یہ شرط مرزا قادیانی میں کلیۃً مفقود ہے۔ شرح عقائد کی ایک بات کو ماننا اور جو اپنے خلاف ہو ۔ اس کا نام نہ لینا کہاں کا انصاف ہے اور جو مدعیان کاذب ہیں۔ ان کی سزا دنیا میں کوئی نہیں بیان کی گئی ۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ: ”ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً اوقال اوحیٰ الی ولم یوح الیہ شئی ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ ولوتریٰ اذا لظالمون فی غمرات الموت والملائکۃ باسطوا ایدیہم اخرجوا انفسکم الیوم تجزون عذاب الہون بما کنتم تقولون علی اللہ غیر الحق“

(انعام:٩٣)

اس میں مقررہ وقت پر موت آنے کے علاوہ نبوت کے جھوٹے دعویدار کی کوئی سزا دنیوی بیان نہیں کی ۔ بلکہ سورہ اعراف میں ہے کہ ایسے مفتری کی عمر مقررہ مدت تک پوری کر دی جائے گی ۔ ”فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً اوکذب بایتہ اولئک ینالہم نصیبہم من الکتاب (اعراف:٣٧) “ جلالین میں من الکتاب کی یہ تفسیر کی ہے کہ: ”مما کتب لہم فی اللوح المحفوظ من الرزق والاجل وغیر ذالک“

(جلالین ص ١٣٢)

لہٰذا یہ کہنا کہ نبوت کے جھوٹے مدعی کو ہلاک کرنا خدا کی سنت ہے ۔ بالکل غلط اور سرتاپا جھوٹ ہے اور اگر مان لیں کہ جھوٹے مدعی نبوت کو ٢٣ برس تک مہلت نہیں ملتی تو پھر بھی مرزا قادیانی کاذب کے کاذب ہی رہتے ہیں ۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ ١٩٠٢ء میں کیا تھا۔ جیسا کہ مرزا محمود جانشین مرزا نے القول الفصل کے ص ٢٤ پر لکھا ہے کہ : ”تریاق القلوب کی اشاعت تک جو اگست ١٨٩٩ء سے شروع ہوئی اور ٢٥ اکتوبر ١٩٠٢ء میں ختم ہوئی۔ آپ کا (مرزا قادیانی) کا یہی عقیدہ تھا کہ ...... آپ کو جو نبی کہا جاتا ہے یہ ایک قسم کی جزوی نبوت ہے۔ ١٩٠٢ء کے بعد میں آپ کو خدا کی طرف سے معلوم ہوا کہ آپ نبی ہیں اور ٢٦ مئی ١٩٠٨ء بروز منگل قریباً ساڑھے دس بجے مرزا قادیانی مرض ہیضہ سے لاہور میں ہلاک ہوئے ۔ اس دعویٰ

صفحہ ٣٢٩

نبوت کی کل مدت چھ برس ہوئی۔ مگر اربعین نمبر ٤ ص ٦ کی رو سے سچے نبی کی مدت تئیس برس ہونی چاہئے جو مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ اس لئے آپ جھوٹے کے جھوٹے ہی رہے۔ جب کہ یہ آیت مرزا قادیانی کے خیال میں نبوت کا معیار ہے تو لاہوری پارٹی کا اس آیت سے مرزا قادیانی کی صداقت پر استدلال کرنا ان کے دعوے نبوت کو تسلیم کرنا ہے۔ جس کو وہ اپنے خیال میں افتراء سمجھے ہوئے ہیں۔ چنانچہ محمد علی امیر جماعت لاہور لکھتا ہے کہ: ”جو شخص اس امت میں سے دعویٰ نبوت کرے۔ کذاب ہے۔“

(النبوۃ فی الاسلام ص ٨٩، باب سوم ختم نبوت)

بلکہ جس کا دعوے نبوت نہ ہو اس کی صداقت پر اس آیت کو پیش کرنے والا بقول مرزا قادیانی بے ایمان ہے۔ ”بے ایمانوں کی طرح قرآن شریف پر حملہ کرتا ہے اور آیت لو تقول کو ہنسی ٹھٹھا میں اڑانا۔“

(ضمیمہ اربعین ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٧)

اور یہ کہنا کہ مفتری کے لئے قتل ہونا ضروری ہے اور مرزا قادیانی قتل نہیں ہوئے۔ اس لئے وہی سچے تھے۔ کئی وجہ سے غلط ہے۔

”اگر وہ ہم پر افتراء کرتا تو اس کی سزا موت تھی۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٨)

”اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا تئیس برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں۔“

(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٦٠)

استدلال کیا ہے کہ جھوٹا نبی میت (یعنی مر جائے گا) اور اس بات کے ثبوت میں کہ میت کے معنے عبرانی زبان میں مرنے کے ہیں۔ مرزا قادیانی نے یہ عبارت لکھی ہے کہ: ”جب میں صبح کو اٹھی کہ بچے کو دودھ دوں تو وہ یہ میت دیکھو وہ مرا پڑا تھا۔“

(ضمیمہ اربعین ص ٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٤٥)

آگے لکھتے ہیں کہ: ”میت جس کا ترجمہ پادریوں نے قتل کیا ہے بالکل غلط ہے۔ عبرانی لفظ میت کے معنے ہیں۔ مر گیا یا مرا ہوا ہے۔“

معلوم ہوا کہ مدعی کاذب کا قتل ہونا ضروری نہیں بلکہ مرزا قادیانی کے خیال میں تئیس برس سے پہلے مر جانا بھی اس کے کذب کی دلیل ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی بموجب اپنے فیصلہ کے کاذب ٹھہرے۔“

صفحہ ٣٣٠

٤....... ”قتل ہونا کاذب ہونے کی نشانی نہیں ہے۔ قرآن شریف میں یہودیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ ” قتلہم الانبیاء بغیر الحق “ (النساء: ١٥٥) اگر جھوٹے مدعی کو قتل کیا جاتا تو ان کی کبھی مذمت نہ کی جاتی اور نہ ایسے قتل کو قتل ناحق کہنا صحیح ہوتا۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ: ”اے بنی اسرائیل کیا تمہاری یہ عادت ہو گئی کہ ہر ایک رسول جو تمہارے پاس آیا تو تم نے بعض کی ان میں سے تکذیب کی اور بعض کو قتل کر ڈالا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٤ ، خزائن ج ٥ ص ٣٤)

٥....... ایسی نشانی جس کا ظہور آغاز نبوت سے ٢٣ برس بعد ہو صدق و کذب کا معیار نہیں بن سکتی۔ ورنہ تیئس سال تک نبوت کا ثبوت ہی موقوف رہے گا اور ایک نبی اس سے پہلے کبھی نبی نہیں بن سکے گا اور نہ اس عرصہ میں مرنے والے کافر یا مسلمان کہلانے کے مستحق ہوں گے۔ اس سے مرزا قادیانی کی یہ شرط بالکل غلط ہے کہ: ”وہاں اس بات کا واقعی طور پر ثبوت ضروری ہے کہ اس شخص نے ....... تیئس برس کی مدت حاصل کر لی ۔“

(اربعین ص ٣ ، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٩)

اور اگر یہ سزا مطلق الہام کے جھوٹے مدعی کے لئے ہے اور دعوے نبوت اس میں کوئی شرط نہیں تو چاہئے تھا کہ دنیا میں جھوٹے مدعیان الہام کو ٢٣ سال کی مہلت کبھی نہ ملتی۔ باوجود یہ کہ دنیا کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پہلے مدعیان الہام کو مرزا قادیانی سے زیادہ کامیابی نصیب ہوئی اور ان کو مہلت کا زمانہ مرزا قادیانی کے زمانہ مہلت سے زیادہ ملا۔ چنانچہ:

١....... حسن بن صباح نے ٤٨٣ھ میں الہام کا دعویٰ کیا ٥١٨ھ میں دعوے کے ٢٥ سال بعد مرا اور ایک کثیر جماعت متبعین کی چھوڑی۔

٢....... مسیلمہ کذاب نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعویٰ کیا اور تھوڑے عرصہ میں بہت سے لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے۔

جب حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اس کو قتل کرنے کے لئے خالد بن ولیدؓ کی سرکردگی میں مسلمانوں کا لشکر بھیجا۔ تو مسیلمہ کذاب ان کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک لاکھ کی جمعیت لے کر میدان میں نکلا اور شکست کھا کر مارا گیا۔

٣....... عبد المومن افریقی نے ٢٧٧ھ میں مہدیت کا دعویٰ کیا اور ٢٣ برس بعد ٣٠٠ھ میں مرا۔

صفحہ ٣٣١

جمعیت اکٹھی کر لی تو سلطنت حاصل کر کے ٢٠ سال حکومت کی اور مر گیا۔

اللہ میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور ٩١٠ھ تک اپنے وطن میں واپس آکر مذہب کی تبلیغ کرنی شروع کی۔ جس سے راجپوتانہ گجرات کاٹھیاواڑ سندھ میں بہت سے لوگوں نے اس کی بیعت اختیار کر لی۔ اس قسم کی اور بہت سی مثالیں تاریخی کتابوں میں موجود ہیں اور مطلق مفتری علی اللہ کی کبھی یہ سزا نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ یہود و نصاریٰ جو آئے دن توریت وانجیل میں تحریفیں کر کے محرف حصہ کو اللہ کی آیتیں کہتے رہے ہیں۔ آج تک ہلاک نہیں ہوئے اور نہ قرآن عزیز میں ان کی کوئی دنیاوی سزا بیان فرمائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’ويقولون هو من عند الله وما هو من عند الله ويقولون على الله الكذب ويعلمون‘‘ (آل عمران:٧٨) عام کافروں کی نسبت ارشاد ہے: ’’يفترون على الله الكذب (مائده:١٠٣)‘‘ پھر بھی ان کو کوئی دنیاوی سزا نہیں ملتی بلکہ ایسے لوگوں کو مہلت دی جاتی ہے۔ سچ ہے کذابوں، دجالوں کی رسی دراز ہے مولانا فرماتے ہیں کہ:

تو مشو مغرور برحلم خدا
دیر گیرد سخت گیرد مر ترا

پھر مرزا قادیانی نے ٢٣ برس کی مدت ابتداء تجویز نہیں کی بلکہ جتنا زمانہ ان کے دعوے کو گذرتا گیا اتنی ہی مدت بڑھاتے رہے۔ پہلے یہ خیال تھا کہ مفتری علی اللہ کو فوراً اور دست بدست سزا دی جاتی ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ: ’’قرآن شریف کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسا مفتری اس دنیا میں دست بدست سزا پالیتا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٤٩)

’’وہ پاک ذات جس کے غضب کی آگ وہ صاعقہ ہے کہ ہمیشہ جھوٹے ملہموں کو بہت جلد کھاتی رہی ہے...... بے شک مفتری خدا کی لعنت کے نیچے ہے...... اور جلد مارا جاتا ہے۔‘‘

(انجام ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٥٠)

’’تورات اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افتراء کرنے والا جلد تباہ ہوتا ہے۔‘‘

(انجام ص ٦٣، خزائن ج ١١ ص ٦٣)

پھر نشان آسمانی مطبوعہ جون ١٨٩٢ء میں لکھتے ہیں کہ: ’’دیکھو خدا تعالیٰ قرآن کریم میں صاف فرماتا ہے کہ جو میرے پر افتراء کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اور میں جلد مفتری کو

صفحہ ٣٣٢

پکڑتا ہوں اور اس کو مہلت نہیں دیتا۔ (قرآن میں ایسا کہیں نہیں آیا) لیکن اس عاجز کے دعوے مجدد اور مثیل مسیح ہونے پر اب بفضلہ تعالیٰ گیارہواں برس جاتا ہے کیا یہ نشان نہیں ۔“

(نشان آسمانی ص ٤٧، خزائن ج ٤ ص ٣٩٧)

پھر اس کے آٹھ ماہ بعد آئینہ کمالات مطبوعہ فروری ١٨٩٣ء میں لکھا ہے کہ: ”یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کام انسان کا ہوتا تو ..... اپنی اس عمر تک ہرگز نہ پہنچتا جو بارہ برس کی مدت اور بلوغ کی عمر ہے۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٤، خزائن ج ٥ ص ٥٤)

پھر انوار الاسلام مطبوعہ ٥؍نومبر ١٨٩٤ء میں ایک سال نو ماہ بعد تحریر فرماتے ہیں کہ : ”یا کبھی خدا نے کسی جھوٹے کو ایسی لمبی مہلت دی ہے کہ وہ بارہ برس سے برابر الہام اور مکالمہ الہیہ کا دعویٰ کر کے دن رات خدا تعالیٰ پر افتراء کرتا ہو اور خدا تعالیٰ اس کو نہ پکڑے ۔ بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو بیان کریں ۔“ (اس کی نظر میں گذر چکیں ہیں)

(انوار الاسلام ص ٥٠، خزائن ج ٩ ص ٥١)

اس کے ٥ ماہ بعد ضیاء الحق مطبوعہ بارہ مئی ١٨٩٥ء کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ: ”خدا تعالیٰ نے آج سے سولہ برس پہلے الہام مندرجہ براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام عیسیٰ رکھا ..... اور خدا نے بھی اس قدر لمبی مہلت دے دی ۔ جس کی دنیا میں ..... نظیر نہیں ۔“

(ضیاء الحق ص ٦٠، خزائن ج ٩ ص ٣٠٨)

نوٹ! براہین احمدیہ ١٨٨٠ء ١٨٨٤ء کی تالیف ہے۔

(دیکھو نزول المسیح ص ١١٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧ حاشیہ)

اور ١٣٠٨ھ مطابق ١٨٩١ء میں مرزا قادیانی نے (فتح الاسلام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١١) اور (ازالۃ اوہام ص ٦٦١، خزائن ج ٣ ص ٤٦١) میں مسیحیت کا دعویٰ کیا۔

پھر قریباً ڈیڑھ سال بعد انجام آتھم مطبوعہ ١٨٩٧ء میں رقم طراز ہیں کہ : ”میرے دعویٰ الہام پر قریباً بیس برس گزر گئے ۔“

(انجام آتھم ص ٤٩، خزائن ج ١١ ص ٤٩)

”کیا یہی خدا تعالیٰ کی عادت ہے کہ ایسے کذاب اور بے باک اور مفتری کو جلد نہ پکڑے ۔ یہاں تک کہ بیس برس سے زیادہ عرصہ گذر جائے ۔“

(انجام آتھم ص ٥٠، خزائن ج ١١ ص ٥٠)

اور (سراج منیر ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٤ مطبوعہ ١٨٩٧ء) میں پچیس سال لکھے ہیں:

”کیا کسی کو یاد ہے کہ کاذب اور مفتری کو افتراؤں کے دن سے پچیس برس تک کی مہلت دی گئی ہو ، جیسا کہ اس بندہ کو ۔“ ایک ہی سال میں بیس اور اسی میں پچیس کے جھوٹ کو مرزائی صاحبان سچ کر کے دکھا دیں گے ؟ ۔

صفحہ ٣٣٣

پھر عجیب بات یہ ہے کہ ١٩٠٠ء میں الہام کی مدت ٢٣ سال بتارہے ہیں۔ ”کیا کسی ایسے مفتری کا نام بطور نظیر پیش کر سکتے ہو ۔ جس کو افتراء اور دعویٰ وحی اللہ کے بعد میری طرح ایک زمانہ دراز تک مہلت دی گئی ہو ...... یعنی قریباً ٢٣ برس گزر گئے ۔“

(اشتہار مطبوعہ ١٩٠٠ء معیار الاخيار مندرجہ تبلیغ رسالت حصہ ٩ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٦٨)

پھر اربعین مطبوعہ ١٩٠٠ء میں قریباً تیس برس لکھتے ہیں کہ : ”قریب تیس برس سے یہ دعویٰ مکالمات الہیہ شائع کیا گیا ہے ۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٧، خزائن ج ١٧ ص ٣٩٢)

اور ١٩٠٢ء میں تئیس ہی برس رہ جاتے ہیں۔ ”مفتری کو خدا جلد پکڑتا ہے اور نہایت ذلت سے ہلاک کرتا ہے ۔ مگر تم دیکھتے ہو کہ میرا دعویٰ منجانب اللہ ہونے کے تئیس برس سے بھی زیادہ ہے ۔“

(تذکرۃ الشہادتین ص ٦٣، خزائن ج ٢٠ ص ٦٤، و نیز ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤٠ مطبوعہ ١٩٠٢ء)

مہلت کی مدت میں اختلاف بیانی اختیار کرنے کی یہ وجہ ہے کہ اگر پہلے ہی تیس سال مہلت کی شرط لگا دیتے تو لوگوں کی طرف سے قتل ہو جانے کا خطرہ زیادہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ اس لئے اس کا نام تک نہ لیا اور جو وقت گورنمنٹ برطانیہ کی مہربانی سے ان کے زیر سایہ گذرتا رہا ۔ اس کو معیار صداقت بناتے رہے ۔ اب تو بقول اکبر الہ آبادی یہ حال ہے ۔

گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
گلے میں جو اتریں وہ تانیں اڑاؤ
کہاں ایسی آزادیاں تھیں میسر
انا الحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ

س ۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ: ”هذا ذكره على سبيل التمثيل بما يفعله الملوك بمن يتكذب عليهم فانهم لا يمهلونه بل يضربون رقبته فى الحال“

(تفسیر کبیر ج ٣٠ ص ١١٨)

پھر لکھتے ہیں کہ: ”هذا هو الواجب فى حكمة الله تعالى لئلا يشتبه الصادق بالكاذب“

(ص ١١٩)

تفسیر روح البیان میں ہے کہ : ” وفى الاية تنبيه على ان النبى ﷺ لوقال من عند لنفسه شيئا او زاد او نقص حرفا واحد على ما اوحى اليه لعاقبه الله وهو اكرم الناس عليه فماظنك بغيره“

(ج ٣ ص ٤٦٣)

صفحہ ٣٤٤

معلوم ہوا کہ مفسرین کے خیال میں اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ مفتری علی اللہ کو زیادہ مہلت نہیں ملتی۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا دعویٰ کے بعد تیئیس سال زندہ رہنا ان کی صداقت کی دلیل ہے؟۔

ج ..... امام رازیؒ کی پہلی عبارت کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح بادشاہ ان لوگوں کو جو جعلی فرامین کو اصل کی طرح بنا کر لوگوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں پکڑ لیتا ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ اس شخص کو جو کذب کو سچ کی طرح بنا کر خدا کی طرف منسوب کرتا ہے۔ پکڑ لیتا ہے اور اس کے جھوٹ اور فریب کو عام لوگوں پر ظاہر کرا دیتا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جس کا کذب واضح نہ ہو اس کو بھی پکڑ لیا جائے اور کسی مفتری علی اللہ کو جھوٹ نہیں بولنے دیتے۔ جس طرح حکومت اس شخص کو جو نوٹ کی شکل کی رسید تیار کرے سزا نہیں دیتی۔ لیکن جعلی نوٹ بنانے والوں کو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔ اسی طرح جس مفتری علی اللہ کا جھوٹ سچ کے مشابہ ہو اس کو پکڑ لیا جاتا ہے۔ چنانچہ امام رازی کی وہ دوسری تحریر جس کو مرزائی صاحبان پورا نقل نہیں کرتے ۔ ہمارے بیان کی زبردست مؤید ہے ملاحظہ ہو:۔ ”واعلم ان حاصل ھذا الوجوہ انہ لو نسب الینا قولا لم نقله لمنعناه عن ذلك اما بواسطة اقامة الحجة فاما كذا نقيض له من يعارضه فيه وحينئذ يظهر للناس كذبه فيه فيكون ذالك ابطالا لدعواه وهد ما لكلامه واما بان نسلب عنده القدرة على التكلم بذالك القول وهذا هو الواجب فى حكمة الله لئلا يشتبه الصادق بالكاذب“

(تفسیر کبیر ج ٣٠ ص ١١٩)

ان تمام وجوہ مذکورہ کا یہ حاصل ہے کہ اگر ہماری طرف کسی جھوٹے قول کی نفی کی جائے تو ہم اس کو اور دلائل سے جھوٹا ثابت کر دیتے ہیں اور ایسا آدمی اس کے مقابلہ میں کھڑا کر دیتے ہیں جو اس سے معارضہ کرتا ہے۔ جس سے اس کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر ہو جاتا ہے اور اس کے دعوے کے باطل ہونے میں اہلِ فہم کو شبہ نہیں رہتا اور یا کبھی اس کی زبان خدا کی طرف جھوٹی نسبت کرنے سے روک لیتا ہے اور ایسا کرنا خدا تعالیٰ پر ضروری ہے تاکہ جھوٹ سچ کے ساتھ مشتبہ نہ ہو جائے۔ معلوم ہوا کہ امام رازیؒ کے نزدیک مفتری علی اللہ کو پکڑنے کے یہ معنی ہیں کہ اس کا کذب لوگوں پر ظاہر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی آدمی اس کے مقابلہ میں کھڑا کر دیا جائے گا اور اس کے ہاتھ سے کوئی ایسی نشانی ظاہر نہیں کی جائے گی۔ جس کو اس نے اپنی سچائی کے لئے بطور پیش گوئی ذکر کیا ہوگا۔ یا اس سے اس معاملہ میں کذب بیانی کی قدرت ہی لے لی جائے گی۔ دنیا

صفحہ ٣٣٥

جانتی ہے کہ جس روز سے مرزا قادیانی نے مجددیت اور مسیحیت کے جال پھیلانے کی کوشش کی تھی اسی دن سے علمائے کرام نے اس کے کذب کو ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا اور بحمداللہ آج اس کے جھوٹ اور فریب کا پردہ ایسا چاک ہوا ہے کہ دنیائے اسلام کا بچہ بچہ اس کے جھوٹے اور مکار ہونے کا قائل ہے۔ مرزائیوں کے تسلیم کر لینے سے اس کا سچا ہونا لازم نہیں آتا۔ اگر ایک چور اور ڈاکو کو چند لٹیرے نیک طینت انسان بتائیں تو ان کی گواہی سے وہ نیک نہیں بن جاتا۔ بلکہ حکومت اور سمجھدار لوگوں کی نظر میں وہ بدکار ہی رہتا ہے۔ اسی طرح کافروں کے کہنے سے بتوں کی الوہیت ثابت نہیں ہوتی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پیش گوئیوں کو جن کو مرزا قادیانی نے بطور تحدی اپنے صدق وکذب کا معیار بنا کر پیش کیا تھا۔ مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ظاہر کر دیا۔ اگرچہ بڑی تضرع سے ان کے پورے ہونے کی التجائیں کیں۔ مگر ایک نہ سنی اور مرزا قادیانی کو سر بازار رسواء کر کے چھوڑا۔ سبحانہ ما اعظم شانہ! اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وحی نبوت کے دعویٰ کرنے سے ان کی زبان کو روک کر رکھا۔ مرزا قادیانی نے کبھی وحی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے۔ بلکہ مدتوں الہام ولایت ہی کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کو غلطی نظر سے وحی الٰہی کی مثل سمجھتے رہے۔ لیکن جب ١٩٠٢ء میں مسند نبوت پر اپنے ناپاک قدم رکھنے کی کوشش کی تو غیرت الٰہی نے عذابی مرض سے ہلاک کر دیا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون و ہیضہ وغیرہ۔“

(اشتہار متعلقہ مولوی ثناء اللہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)

اور روح البیان کی عبارت سے تو صاف ظاہر ہے کہ ایک سچا نبی اگر وحی ربانی میں کمی زیادتی کرے تو اس کو سزا دی جاتی ہے۔ ہر مفتری کی یہ سزا نہیں ہے۔ کیا مرزائی جماعت عبداللہ تیماپوری کو نبی ماننے کے لئے تیار ہے؟۔ جس کے دعویٰ نبوت کو آج ١٩٣٣ء میں ٢٧ سال گزر چکے ہیں۔

تحریف:٢..... ”يا ايها الذين هادوا ان زعمتم انكم اولياء لله من دون الناس فتمنوا الموت “ (الجمعه:٦) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے اعمال خراب ہوں وہ موت کی تمنا کبھی نہیں کرتا۔ مگر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:

گر تو می بینی مرا پر فسق وشر
گر تو دید استی که هستم بدگهر
صفحہ ٣٣٦
پاره پاره كن من بدكار را
شادكن ایں زمرۂ اغيار را

(حقیقت المہدی ص ٨، خزائن ج ١٤ ص٤٣٤)

تحقیق...... اس آیت میں یہودیوں کے متعلق یہ کہا گیا ہے کہ وہ کبھی موت کی تمنا یا آرزو نہ کریں گے۔ جیسا کہ: ” ولتجدنهم اشد الناس على حيوة “ سے ظاہر ہے کہ ہر کافر سے موت کی تمنا کرنے کی نفی بیان نہیں کی گئی۔

اور اگر موت کی تمنا کرنی سچائی کی نشانی ہے تو مکہ کے کافر پہلے سچے ہونے چاہئیں۔ جنہوں نے رسول خدا ﷺ کے مقابلہ میں یہ کہا تھا کہ: ”اذقالوا اللهم ان كان هذا هو الحق من عندك فامطر علينا حجارة من السماء“

٢...... ” وما كان جواب قومه الا ان قالوا ائتنا بعذاب الله ان كنت من الصادقين “

اور پھر مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ کے مقابلہ میں مفتری اور کذاب سے پہلے مرجانے کی دعا کی تھی جو پوری ہوگئی۔ مرزائی مانیں نہ مانیں مگر ہم تو مرزا قادیانی کو اس میں مستجاب الدعا سمجھتے ہیں۔

تحریف:٣...... ”فقد لبثت فيكم عمراً من قبله افلا تعقلون“

(یونس:١٦)

تحقیق...... مرزا قادیانی کے دعویٰ مجددیت سے پہلے کے صحیح حالات پردۂ اخفاء میں ہیں۔ لیکن دعویٰ مسیحیت و مجددیت وغیرہ کے بعد بجائے دیانت داری تقویٰ و طہارت کے کذب بیانی، وعدہ خلافی، خیانت، تحریف قرآنی، انکار معجزات، انکار از نزول ملائکہ، ترک حج، دنیا پرستی، سب وشتم وغیرہ عیوب ان میں نظر آتے ہیں۔

تحریف:٤...... ”فلا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول، الجن:٢٦،٢٧“

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں سچی نکلتی تھیں اور غیب کی خبر دینے والا سچا نبی ہو سکتا ہے۔

تحقیق...... مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں اٹکلوں اور اندازوں سے زیادہ نہیں ہوتی تھیں۔ ایسی باتیں بہت سے تجربہ کار کہہ دیا کرتے ہیں۔ جو اکثر پوری ہو جایا کرتی ہیں اور جو پیش

صفحہ ٣٣٧

گویا مرزا قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کی طرح تحدی کے طور پر بیان کیں تھیں وہ سب کی سب جھوٹی نکلیں ۔

پھر غیب کی بات بتانے والا رسول نہیں ہوتا۔ ورنہ نجومی اور فاسق و فاجر جو کبھی کبھی غیب کی باتیں بتایا کرتے ہیں۔ رسول کہنا چاہئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی رقمطراز ہیں: ”بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں۔ بلکہ بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کرتے ہیں کہ اکثر وہ سچے نکلتے ہیں ...... زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بہ سر و آشنا بہ بر کا مصداق ہوتی ہے۔ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے۔“

(توضیح مرام ص ٤٨ ، خزائن ج ٣ ص ٩٥)

(انعام:٢١)

(مجادلہ:٢١)

(الحجر:٩)

اور وہ اپنے سلسلہ کی خود حفاظت کرتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بدکار اور گنہگار کو کبھی کامیاب نہیں کرتا۔ مگر مرزا قادیانی کی جماعت روز بروز بڑھ رہی ہے اور اس کو اپنی سکیم میں بڑی کامیابی نصیب ہوئی اور دشمن پر ان کا غلبہ ہو رہا ہے۔

تحقیق: معنے آیت کے یہ ہیں کہ بدوں کو اگرچہ ابتداء میں کچھ کامیابی نظر آتی ہے۔ لیکن انجام کار وہ ذلیل اور رسوا ہوتے ہیں اور ان کا جھوٹ سب پر ظاہر ہو جاتا ہے اور آخرت میں ان کو عذاب دیا جاتا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں آنے والے ساحروں کے ساتھ حکومت کی امداد تھی۔ لیکن حق غالب ہو کر رہا اور ابتدا میں سوائے اظہار حق کے فرعونیوں کے مرنے یا ہلاک ہونے کے ساتھ غلبہ کا اظہار نہیں تھا۔ بلکہ ظاہر نظر میں موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے ساحروں کو پھانسی کی سزا دے کر فرعون نے اپنا غلبہ بحال رکھا۔ لیکن جب حق و باطل کے فیصلہ کا وقت آیا تو فرعون مع اپنے لشکر کے ہلاک ہو گیا اور موسیٰ علیہ السلام مع اپنے ساتھیوں کے صحیح سلامت زندہ رہے۔ مرزا قادیانی کے دعوے باطلہ کا انکشاف اچھی طرح ہو چکا ہے اور بار ہا حق کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کو شکست ہو چکی ہے۔ اگر عیش کی زندگی اور کثرت تعداد صداقت کی نشانی ہے تو دنیا کے تمام فرق باطلہ سچے ہونے چاہئیں۔ کیونکہ ان کی تعداد ہر زمانہ میں مسلمانوں سے کئی گنے زیادہ اور دولت

صفحہ ٣٣٨

بند ہوتی چلی آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کافروں کی بھی حفاظت کرتا ہے اور ان کی ترقی بھی ہوتی ہے تو وہ بھی خدائی سلسلہ ہونا چاہئے ۔ لاحول ولاقوة الا بالله!

تحریف : ٦ ــــــ "وان يك صادقاً يصبكم بعض الذي يعدكم" مرزا قادیانی جو کچھ دشمنوں کے لئے کہتے رہے وہ بات پوری ہوتی رہی ۔

تحقیق : اس آیت کی رو سے تو مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ کیونکہ جتنی وعیدیں مرزا قادیانی نے اپنے مخالفوں کے حق میں کی تھیں وہ انہیں پر وارد ہوتی رہیں ۔

تحریف : ٧ ــــــ "ومبشرا برسول يأتي من بعدي اسمه احمد (الصف : ٦) "اگر بعینہ عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے تشریف لائیں گے تو رسول اللہ ﷺ پہلے اور عیسیٰ بعد میں ہو جائیں گے ۔ باوجود یہ کہ آیت میں رسول اللہ ﷺ پہلے اور عیسیٰ علیہ السلام کے بعد مذکور ہے ۔

تحقیق : آیت میں بعد سے بعدیت زمانی یا مغائرت مراد نہیں ۔ کیونکہ غزوہ تبوک پر جاتے ہوئے جب حضرت علیؓ کو آپ ﷺ نے مدینہ کا امیر مقرر کیا اور غزوہ میں اپنے ساتھ نہ لینے سے حضرت علیؓ رنجیدہ دیکھا تو ان کو تسلی دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ: "انت منی بمنزلة هارون من موسى ولكن لا نبي بعدی " (بخاری ج ١ ص ٦٢٠ مناقب حضرت علیؓ) اگر بعد سے مراد بعدیت زمانی ہے تو حضرت علیؓ سے نبوت کی نفی نہیں ہوتی ۔ کیونکہ وہ حضور ﷺ ہی کے زمانہ میں اور آپ ہی کے سامنے موجود تھے ۔ باوجود یہ کہ آیت میں دونوں باتوں کی نفی کرنی مقصود ہے اور لفظ لکن کا بھی یہی تقاضہ ہے ۔ اگر چہ موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں ہارون علیہ السلام نبی تھے ۔ مگر اے علی تو نبی نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ میرے علاوہ کوئی دوسرا نبی نہیں آئے گا اور ایسے ہی مغائرت کے معنے بھی نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ حضرت علیؓ رسول خدا ﷺ کے تابع اور موافق تھے ۔ مستقل مخالف نہیں تھے اور بحیثیت تابع ہونے ہی کے ان سے نبوت کی نفی کی گئی ہے ۔ اس لئے بعد سے مراد نیا دوسرا نبی ہے ۔ یعنی سلسلہ نبوت میں کوئی اور نبی آنے والا باقی نہیں رہا ۔ اس لئے اے علی تو بھی نبی نہیں ہو سکتا ۔ اس میں پہلے نبی کے زندہ موجود ہونے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں آنے کی نفی نہیں ہوتی ۔ حدیث شریف میں ہے کہ : "لوكان موسى حياً لما يسعه الا اتباعی"

(مشكوة ص ٣٠ باب الاعتصام بالكتاب والسنة)

اگر آج موسیٰ علیہ السلام بھی ہوتے تو ان کو میری ہی اتباع کرنی پڑتی ۔ معلوم ہوا کہ پہلا نبی حضور ﷺ کے زمانہ یا بعد میں موجود ہو سکتا ہے اور اس سے ختم نبوت پر کوئی حرف نہیں آتا ۔

آیت مذکورہ احمد مجتبیٰ ﷺ رہ گئے ۔ ولا یہاں بعد کے رسول اللہ ﷺ اقد کے معنے میں سوا ہانکنے ہیں والا خر مسیلمہ ہیں عربی ﷺ کی زندگی ہی " الكذابين الذين ا قد خلت من قبلہ ہے ۔ لیکن باوجود اس بات کے ساتھ جمع اور اس کے سامنے یا اس کے پیچھے نہیں ........ ٢ ........ ١ عمل میں پہلی شریعت کا تـ پر نازل ہو ۔ البتہ تبلیغ اور غیر تک نہ پہنچائے اور ر امت اور نبی دونوں پر لا وقت ہر حکم میں شریعت عـ ہوگا اور نہ وحی نبوت ان پـ مگر وحی نبوت اور شریعـ کہلائیں گے ۔ جس طرح قـ لیکن منصب نبوت تبلیغ و تـ اسی لئے عیسـ تحریف : یعنی خدا تعالیٰ جب کسی قـ

صفحہ ٣٣٩

آیت مذکورہ بالا میں بعدي کے یہی معنے ہیں کہ سلسلہ نبوت میں آنے والا نبی صرف احمد مجتبیٰ ﷺ رہ گئے ۔ ولا غير !

یہاں بعد کے معنے غیر کے ایسے ہی ہیں جیسا کہ اس حدیث میں ہیں : ”قالت يا رسول الله ﷺ ايقتل من بعدنا من الطلقاء “ نووی نے مسلم کی شرح میں من بعدنا کے معنے میں سوانا کئے ہیں۔ اسی طرح اولھما کذابین یخرجان بعدی احدهما عنسی والاخر مسیلمہ میں بعدي سوائی کے معنوں میں ہے۔ ورنہ اسود عنسی اور مسیلمہ دونوں نے نبی عربی ﷺ کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ جیسا کہ بخاری کی دوسری روایت کے الفاظ ”الكذابين الذين انا بينهما “ سے ظاہر ہے۔ دوسری آیت ”کذلک ارسلنک فی امة قد خلت من قبلها امم“ (رعد:٣٠) میں یہود و نصاریٰ کو امم قبل اور اس امت کو مابعد کہا ہے۔ لیکن با وجود اس بات کے امم ماضیہ اسی طرح موجود اور زندہ ہیں۔ اگر امم ماقبل امت مابعد کے ساتھ جمع اور اس کے زمانہ میں زندہ موجود ہوسکتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ نبی ماقبل نبی مابعد کے سامنے یا اس کے پیچھے نہیں آسکتا ۔” ماهو جوا بكم فهو جو ابنا“

عمل میں پہلی شریعت کا تابع نہ ہو۔ بلکہ اس کی ذات خاص کے لئے بعض احکام میں وحی نبوت اس پر نازل ہو۔ البتہ تبلیغ اور پیغام رسانی میں شریعت سابقہ کی اتباع کرے اور اپنے مخصوص احکام کو غیر تک نہ پہنچائے اور رسول وہ ہے۔ جس کو ایسی شریعت عامہ عطاء فرمائی جائے۔ جس کی پابندی امت اور نبی دونوں پر لازمی ہو۔ اس مختصر تمہید کے بعد یاد رکھئے کہ عیسیٰ علیہ السلام آمد ثانی کے وقت ہر حکم میں شریعت محمدیہ کی اتباع کریں گے اور کوئی حکم ان کی ذات خاص کے لئے نازل نہ ہوگا اور نہ وحی نبوت ان پر اترے گی اور نہ وہ نبی تشریعی ہوں گے۔ اگرچہ ان کا مرتبہ نبیوں جیسا ہوگا۔ مگر وحی نبوت اور شریعت خاصہ نازل ہونے کی وجہ سے وہ شرعی اصطلاح میں نئے نبی نہیں کہلائیں گے۔

جس طرح قیامت کے دن تمام انبیاء اور رسل اسی نام کے ساتھ پکارے جائیں گے۔ لیکن منصب نبوت تبلیغ و تشریح اور نزول وحی وغیرہ کچھ نہیں ہوگا۔ اسی لئے عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ختم نبوت کے ہرگز مخالف نہیں ہے۔

تحریف: ٨ ...... ” ماكنا معذبين حتى نبعث رسولاً “ (بنی اسرائیل : ١٥) یعنی خدا تعالیٰ جب کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا ہے تو پہلے اپنا ایک رسول بھیجتا ہے۔ جس کی وہ

صفحہ ٣٤٠

تکذیب کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہو جاتا ہے۔ چونکہ اس زمانہ میں مصیبتیں عام ہورہی ہیں۔ اس لئے خدائی قانون کے موافق کوئی رسول بھی آنا چاہئے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔

تحقیق: آیت کے جو معنے بیان کئے گئے ہیں وہ بالکل غلط ہیں۔ اس آیت کا منشاء صرف اس قدر ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بداعمال قوم کو اس کی بداعمالی کی وجہ سے اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا۔ جب تک ایک رسول کے ذریعہ سے اس کو نیکی اور بدی کے راستہ اور ان کے نتائج سے آگاہ نہ کردے اور اگر وہ باوجود اس اطلاع اور آگاہی کے رسول کی تعلیم و ہدایت کی پرواہ نہ کرے اور اپنی سرکشی اور نافرمانی پر قائم رہے اور وہ علم الٰہی میں مستحق سزا کی ہو جائے تو پھر ان کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ یعنی غفلت اور بے خبری میں کسی کو ہلاک نہیں کرتا۔ کیونکہ بے خبری میں کسی کو مار ڈالنا عدل و رحم کے خلاف ہے۔ چنانچہ قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہے کہ ”ذلك ان لم يكن ربك مهلك القري بظلم واهلها غافلون“

(انعام: ١٣١)

تحریف: ٩....... ”ياحسرة على العباد ما ياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزؤن (الحجر: ١١)“ چونکہ رسولوں سے استہزاء اور مذاق کیا جاتا تھا اور مرزا سے بھی استہزا کیا گیا۔ اس لئے وہ سچا ہے۔

تحقیق: اس آیت کا منشاء صرف اس قدر ہے کہ رسولوں سے استہزاء اور تمسخر کیا گیا۔ اس کے یہ معنے ہرگز نہیں ہیں کہ جس کا تمسخر اور مذاق اڑایا جائے وہ رسول بن گیا۔ ورنہ تو کافروں کو رسول ہونا چاہئے۔ کیونکہ ان سے اللہ اور اس کے رسولوں نے بھی استہزاء اور تمسخر کیا ہے۔ جیسا کہ قرآن عزیز کی ان آیتوں سے ظاہر ہے کہ: ”الله يستهزئ بهم (البقره ١٥)“ اللہ کافروں سے استہزاء کرتا ہے۔ ”وكلما مر عليه ملأ من قومه سخروا منه قال ان تسخروا منا فأنا نسخر منكم كما تسخرون (هود ٣٨)“ جب ان کے پاس سے کافروں کی جماعت گزرتی تو انکا (نوح) مذاق اڑاتے۔ انہوں نے کہا اگر تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم تمہارا مذاق اڑاتے ہیں۔

پھر دعویٰ ہے نبوت ظلیہ کا اور ثبوت میں روایت پیش کی جارہی ہے۔ جس میں صاحب شریعت رسولوں کے متعلق خبر دی گئی ہے۔ لہٰذا دلیل اور دعوے میں تطابق نہ ہونے کی وجہ سے استدلال ہی غلط ہے۔ اس کے بعد احادیث کے متعلق مغالطہ دیئے گئے جن میں سے اکثر کا جواب گذشتہ باب میں گذر چکا ہے۔ چند یہاں بھی ذکر کئے جاتے ہیں اور بعض کی حیثیت

صفحہ ٣٤١

خرافات سے زیادہ نہیں تھی۔ اس لئے ان کے جواب دینے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔

مغالطہ:١ ”ولیترکن القلاص فلا یسعی علیھا واذا العشار عطلت ........ الخ“ مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹوں کی سواری ترک کر دی جائے گی اور اسی طرف آیت میں پیش گوئی کی گئی ہے۔ جو مرزا قادیانی کے زمانہ میں پوری ہو گئی۔

تصحیح: ....... حدیث میں اونٹوں کی سواری متروک ہونے سے مکہ اور مدینہ کے درمیان متروک ہونا مراد ہے۔ تمام دنیا میں مراد نہیں۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل جاری ہونے کو مسیح موعود کی نشانی قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل طیار ہو رہی ہے یہی اس پیش گوئی کا ظہور ہے۔ جو قرآن اور حدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی۔ مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

(اخبار احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ص ١٠٨)

مگر مکہ اور مدینہ کے درمیان اب تک اونٹ کی سواری متروک نہیں ہوئی۔ اس لئے مرزا قادیانی اپنے دعوے میں جھوٹے تھے۔ نیز اگر تمام دنیا سے اونٹ کی سواری متروک ہونی مراد ہو تو وہ بھی اب تک نہیں پائی گئی۔ عرب، بلوچستان، سندھ وغیرہ ریگستانی علاقوں میں اونٹ کی سواری عام ہے اور وہاں ریل جاری نہیں ہوئی۔ آیت میں قیامت کا ذکر ہے۔ مسیح موعود کی نشانی مذکور نہیں۔ جیسا کہ ”اذا السماء کشطت“

(التکویر: ١١)

”واذا الجحیم سعرت واذا الجنة ازلفت (التکویر: ١٢، ١٣)“ سے ظاہر ہے۔ کیونکہ ہر نفس کا اپنے صحیفہ عمل کو پڑھنا قیامت ہی کے دن ہوگا۔ اس لئے اذ ظرفیہ سے بھی قیامت ہی کا دن مراد ہے۔

مغالطہ:٢....... مسیح کے دو حلیے آئے ہیں۔ اس لئے مسیح بھی دو ہونے چاہئیں۔

تصحیح:....... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حلیے حدیث میں تین طرح مذکور ہیں اور موسیٰ کے دو طرح۔ لہٰذا مرزائی تحقیق کے موافق مسیح علیہ السلام تین اور موسیٰ علیہ السلام دو ہونے چاہئیں اور نیز رسول اللہ ﷺ کے حلیہ میں بھی الفاظ مختلف آئے ہیں۔ اس لئے وہ بھی متعدد ہوں گے؟۔

دراصل اختلاف الفاظ کی جو وجہ مرزا قادیانی نے سمجھ لی ہے وہ غلط ہے۔ بلکہ اس کی یہ وجہ ہے کہ حلیہ بیان کرنے والے نے صاحب حلیہ کے مختلف اوصاف میں سے کبھی کسی وصف کا اعتبار کر لیا اور کبھی کسی کا۔ جس طرح کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حلیہ کے بیان میں کہا گیا ہے اور اس کی مزید تحقیق حیات مسیح کے تحت میں گذر چکی ہے۔

صفحہ ٣٤٢

مغالطہ:٣ ..... ”لا مہدی الا عیسیٰ“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہدی علیہ السلام ہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ ان کے علاوہ کوئی اور عیسیٰ آنے والا نہیں ہے۔

تصحیح ..... اس حدیث میں زائد از زائد مہدی کی نفی نکلتی ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نہیں نکلتی۔ کیونکہ لا نفی جنس کا ہونے کی وجہ سے اس کے یہ معنے ہوں گے۔ سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کوئی مہدی نہیں۔ جس طرح لا الہ الا اللہ کے یہ معنے ہیں کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور یہ نہیں ہیں کہ نہیں ہے معبود مگر اللہ یعنی عیاذاً باللہ معبود باطل اللہ ہے۔ اسی طرح اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ نہیں مہدی مگر عیسیٰ یعنی مہدی ہی عیسیٰ ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور عیسیٰ نہیں ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی نفی اس وقت ہوتی۔ جب حدیث کے الفاظ یوں ہوتے: ”لا عیسیٰ الا مہدی“ پھر جب بقول مرزا مہدی کے متعلق تمام حدیثیں مجروح اور جھوٹی ہیں تو اس حدیث سے مسیح کو مہدی کہنا کیوں کر صحیح ہو گیا۔ چنانچہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”جیسا کہ تمام محدثین کہتے ہیں میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر بھی حدیثیں ہیں۔ تمام مجروح اور مخدوش ہیں اور ایک بھی ان میں صحیح نہیں۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ ٥، ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦)

”مہدی کی حدیثوں کا یہ حال ہے کہ کوئی بھی جرح سے خالی نہیں اور کسی کو صحیح حدیث نہیں کہہ سکتے۔“

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ٢٠٨، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٧)

مغالطہ:٤ ..... مہدی جب مبعوث ہوگا تو اس کی عمر چالیس سال ہوگی۔

(کنز العمال ج ١٤ ص ٢٦٧ حدیث نمبر ٣٨٦٨٠)

تصحیح ..... مرزا قادیانی کی عمر دعوے کے وقت ٣٥ سال یا ٤٢ یا ٤٥ سال تھی۔ پورے چالیسویں سال دعویٰ ہی نہیں ہوا۔ اس لئے وہ مہدی نہ تھے۔ اس کی تحقیق پہلے گزر چکی۔

مغالطہ:٥ ..... نزول عیسیٰ کے وقت سب لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔

(تفسیر روح المعانی ج ٢ ص ٦٠٠)

تصحیح ..... بے شک نزول کے وقت سب ایمان نہیں لائیں گے۔ لیکن بعد میں جتنے زندہ بچیں گے وہ سارے مسلمان ہو جائیں گے۔ خود مرزا قادیانی کو بھی اس بات کا اقرار ہے۔ ”جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ حصہ ٤، ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

صفحہ ٣٤٣

مغالطہ ٦:...... ”ان لمهدينا آيتين لم تكونا منذ خلق السموت والارض تنكسف القمر لاول ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى النصف منه (دار قطنی ج ٢ ص ٦٥ باب صفة صلاة الخسوف والكسوف)“ چاند گرہن ١٣، ١٤، ١٥ سورج گرہن ٢٧، ٢٨، ٢٩۔

(کتاب التعارض بین العقل والنقل ص ٢٤٦ حصہ ٢ پاکٹ بک ص ٣٨٩)

صحیح ...... یہ قول رسول اللہ ﷺ کا نہیں ہے اور نہ متصلاً یا مرسلاً آنحضرت ﷺ سے نقل کیا گیا ہے۔ بلکہ محمد بن علی کا کشف ہے اور کشف اس جگہ دو وجہ سے حجۃ نہیں ہو سکتا۔

کہ محمد بن علی سے مراد امام محمد باقرؒ ہیں تو پھر بھی یہ روایت از روئے سند کے غیر معتبر ہے۔ کیونکہ اس میں عمرو بن شمر راوی ہے اور میزان الاعتدال میں اس کے متعلق یہ لکھا ہوا ہے: ليس بشئ يشتم الصحابة ويروى الموضوعات عن الثقات ممکن ہے کہ یہ حدیث بھی اس نے گھڑ کر محمد باقر کی طرف منسوب کر دی ہو اور مرزا قادیانی کا (ایام الصلح اردو کے ص ٨٠، خزائن ج ١٤ ص ٣١٥) پر تسلیم کرتے ہوئے کہ کسوف خسوف ...... امام باقر سے مہدی کا نشان قرار دیا گیا ہے۔ پھر اس کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث اس لئے بتایا کہ سوائے نبی کے کوئی غیب کی خبر نہیں دیتا۔ جیسا کہ حاشیہ تحفہ گولڑویہ میں لکھتے ہیں کہ: ”دوسری گواہی اس حدیث کے صحیح اور مرفوع متصل ہونے پر آیت ”فلا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسوله“ میں ہے۔ کیونکہ یہ آیت علم غیب صرف رسولوں پر حصر کرتی ہے۔ جس سے بالضرورت متعین ہوتا ہے کہ ان لمہدینا کی حدیث بلاشبہ رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٢٩، خزائن ج ١٧ ص ١٣٥ حاشیہ)

صحیح نہیں کیونکہ حدیث کی حجت اور اتصال کا انوکھا طریقہ ہونے کے علاوہ لازم آتا ہے کہ باعتبار اس ضابطہ کے جو خبریں بھی غیب سے تعلق رکھیں گی۔ وہ یا احادیث ہوں گی یا اس کی خبر دینے والا خود رسول ہوگا۔ دونوں باتوں میں سے ایک بات ضرور ماننی پڑے گی۔ اس لئے ہندو، بیدین، کنجر، خاکروبہ وغیرہ کی ایسی خبریں بھی نعوذ باللہ حدیث ہوں گی۔ یا وہ خود رسول ہوں گے۔ لا حول ولا قوة!

کیونکہ مرزا قادیانی نے ان سب کو صاحب کشف و شہود بتایا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ”خواب تو چوڑھوں چماروں اور کنجروں کو بھی آ جاتے ہیں اور وہ سچے بھی ہو جاتے

صفحہ ٣٤٤

ہیں ۔ ایسی چیز پر فخر کرنا لعنت ہے۔ فرض کرو ایک شخص کو چند خوابیں آ گئے اور وہ سچی بھی ہو گئیں ۔ اس سے کیا بنتا ہے ۔“

(ملفوظات ج ١٠ ص ٩٣)

”ہر ایک فرقہ کے لوگ خوابیں دیکھتے ہیں اور بعض خوابیں سچی بھی نکلتی ہیں ۔ بلکہ بعض فاسقوں فاجروں اور مشرکوں کی بھی خوابیں سچی ہوتی ہیں اور الہام بھی ہوتے ہیں ۔“

(چشمہ معرفت ص ٣٠١، خزائن ج ٢٣ ص ٣١٦)

پھر حدیث میں بھی تصریح ہے کہ جب سے زمین و آسمان بنا ہے ۔ ایسا اجتماع مہدی علیہ السلام کے زمانہ تک کبھی ظہور میں نہیں آیا ہوگا۔ وہ یہ ہے کہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن اور اسی رمضان کی پندرھویں تاریخ کو سورج گرہن ہوگا۔

نظام شمسی وقمری میں آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پہلے دن چاند گرہن اور پندرھویں تاریخ سورج گرہن ہو۔ چنانچہ خود مرزا قادیانی بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیشہ سے چاند گرہن ١٣، ١٤، ١٥ کو اور سورج گرہن ٢٧، ٢٨، ٢٩ ماہ کو ہوتا رہا ہے۔ جیسا کہ کتاب التعارض سے نقل کیا ہے۔ یعنی چاند اور سورج کو ان کی مقررہ تین تاریخوں میں سے ایک نہ ایک دن ضرور گرہن لگتا ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں رمضان کی پہلی اور پندرھویں تاریخ کو خلاف عادت چاند سورج کا گرہن نہیں ہوا۔ بلکہ مقررہ اوقات میں سے کسی ایک وقت میں گرہن ہوا تھا۔ اس لئے ١٣ تاریخ کا خسوف اور ٢٨ کا کسوف کسی صورت میں نشانی نہیں بن سکتا: ورنہ لــم یکونا منذ خلق الله السموت والارض کی قید لغو اور بے سود ہو جائے گی اور دوسرے اس حدیث میں ’ینکسف القمر من اول لیلة من رمضان تنکسف الشمس فی النصف“ آیا ہے۔ یہ نہیں آیا کہ ’ینکسف القمر لاول لیلة من لیالی خسوفها وتنكسف الشمس فی نصف من ايام كسوفها“ پھر دنیا میں چاند وسورج گرہن کا اجتماع رمضان المبارک میں مرزا قادیانی کے جیتے جی تین مرتبہ ہوا ہے۔ ملاحظہ ہو۔ ہندوستان میں ایسا پہلا اجتماع رمضان کے اندر ١٢٦٧ھ میں ہوا۔ یعنی ١٣؍جولائی ١٨٥١ء مطابق ١٣؍رمضان ١٢٦٧ھ کو چاند گرہن اور ٢٨؍جولائی مطابق ٢٨؍رمضان کو سورج گرہن ہوا۔ اس گرہن کے وقت مرزا قادیانی کی عمر تقریباً ١١، ١٢ برس کی تھی۔ پھر دوسرا اجتماع انہی تاریخوں میں ١٣١١ھ مطابق ١٨٩٤ء کو امریکہ میں ہوا جس کا مرزا قادیانی نے حقیقت الوحی میں اقرار کیا ہے۔ تیسرا اجتماع ١٣؍رمضان ١٣١٢ھ مطابق ١١؍مارچ ١٨٩٥ء کو چاند گرہن اور ٢٦؍مارچ مطابق ٢٨؍رمضان کو

صفحہ ٣٤٥

سورج گرہن ہوا۔ جب اس تنتالیس سال کی مدت میں تین دفعہ اجتماع ہو گیا تو جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے نہ معلوم کتنی مرتبہ رمضان میں دونوں گرہنوں کا اجتماع ہوا ہوگا۔ پھر لطف یہ ہے کہ مہدی پہلے بن جاتے ہیں اور نشانی بعد میں ١٢ برس پیچھے ظاہر ہوتی ہے اور مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ قمر کا لفظ اوّل رات کے چاند پر اطلاق نہیں کیا جاتا بالکل غلط ہے اور قمر عام ہے۔ ہلال اور بدر دونوں چاندوں پر بولا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے کہ ”والقمر قدرناه منازل حتى عاد كالعرجون القديم“

(یسین : ٣٩)

لتعملوا عدد السنين والحساب“

(یونس : ٥)

”الهلال غرة القمر وهى اول ليلة ۔ تاج عروس“ یعنی ہلال قمر کی پہلی رات ہے۔ اس کے علاوہ مرزا محمود پسر مرزا نے بھی تسلیم کیا ہے کہ قمر کا لفظ ہلال پر بولا جاتا ہے۔ ملاحظہ ہو: ”قمر بدر نہیں ہوتا ۔ لیکن بدر ضرور قمر ہوتا ہے۔ اسی طرح قمر ہلال نہیں ہوتا۔ مگر ہلال ضرور قمر ہوتا ہے۔“

(درس قرآن تفسیر سورہ مدثر مندرجہ اخبار الفضل ١٧ جولائی ١٩٢٨ء)

مغالطہ: ...... ابن العربی لکھتے ہیں کہ مسیح خاتم الاولاد ہوگا اور اس کے ساتھ اس کی بہن پیدا ہوگی۔

(شرح فصوص الحکم ص ٨٣)

یہ بات مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے۔

صحیح: ...... اصل پیش گوئی ابن العربی کی اس طرح ہے کہ آخر زمانہ میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جو بنی نوع انسان میں خاتم الاولاد ہوگا اور اس کے بعد کوئی لڑکا یا لڑکی جہاں میں پیدا نہ ہوگی۔

به بین تفاوت ره از کجاست تا به کجا

مغالطہ: ...... ”ان الله يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد لها دينها (ابو داؤد ج ٢ ص ١٣٢ كتاب الملاحم)“ مرزا قادیانی کا علمی کارنامہ اور خدمت دین اس امر کی شہادت ہے کہ وہ اس کے مجدد تھے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اس پیش گوئی کے باوجود اب تک کوئی مجدد پیدا نہیں ہوا۔ یہ وعدہ الہی نہ صرف احادیث میں آیا ہے۔ بلکہ قرآن مجید میں بھی پایا جاتا ہے۔ ”وعدالله الذين آمنوا منكم وعملوا الصلحت ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذى ارتضى

صفحہ ٣٤٦

لھم (النور:٥٥) “یعنی جس طرح وہ پہلے امت موسوی میں خلفاء بھیجتا تھا۔ اسی طرح امت محمدیہ میں مومنوں کو جو نیک عمل کریں گے۔ خلفاء بنائے گا تاکہ وہ اس دین کو مضبوط کریں۔ جس کو اللہ نے پسند کیا ہے۔ لہٰذا چونکہ موسوی شریعت کی تمکین کے لئے ١٣ سو سال بعد حضرت عیسیٰ تشریف لائے تھے۔ اس لئے سلسلہ محمدی میں ایک مثل عیسیٰ اتنی ہی مدت کے بعد آنا چاہئے تاکہ مماثلت پوری ہو جائے۔

تصحیح..... تجدید دین کے یہ معنے ہیں کہ جس طرح کسی پتھر کی مٹی ہوئی تحریر پر قلم لگا کر اس کو روشن کر دیا جائے۔ اسی طرح دین کے مٹے ہوئے آثار کو از سر نو تازہ کر دے اور بدعت کو دور کر کے سنت مستقیم پر لوگوں کو قائم کرے۔ چنانچہ تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے کہ : ” یجددھا یبینھا ای یبین السنة من البدعة ویذل اھلھا “ سنت کو بدعات سے پاک کر دے اور اہل بدعۃ کی تردید کرے اور یہی معنے ملا علی قاری نے لکھے ہیں : ”من یجد دلھا دینھا اے یبین السنة من البدعة ویکثر العلم ویعز اھله ویقمع البدعة ویکسر اھلھا “ یعنی مجدد وہ ہے جو دین کو بدعات سے پاک کرے سنت کی ترویج اور اشاعت کرے۔ بدعات کو اکھاڑے دینداروں کی عزت کرے اور اہل بدعت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھے۔

(مرقاۃ شرح مشکوۃ ج ١ ص ٣٠٢)

پھر جائز ہے کہ جماعت کثیرہ اس کام پر لگی ہوئی ہو اور ان میں ہر فرد اپنے عہد کا مجدد ہو چنانچہ تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے کہ ”علی راس المائۃ سنة من الهجرة او غیرھا علی ما مر من رجلا او اکثر یجدد ..... الخ “

” قال ابن کثیر قد یدعی کل قوم فی امامھم انه المراد والظاھر حمله علی العلماء من کل طائفة ( تیسیر ) کل فرقة حملوه علی امامھم والاولى الحمل على العموم : ولا يخص بالفقهاء فان انتفاعهم باولى الامر والمحدثین والقراء والوعاظ والزھا دایضا کثیر “

(مجمع البحار ج ١ ص ٣٢٨)

یعنی عام علماء حق جو دین کی صحیح خدمت کرنے والے اور رد بدعت اور ترویج سنت جن کا مشغلہ ہے۔ وہ سب مجدد ہیں۔ خود مرزا قادیانی نے بھی یہی کہا ہے۔

گفت پیغمبرے ستودہ صفات
از خدائے علیم مخفیات
صفحہ ٣٤٧
برسر ہر صدی برون آید
آنکہ ایں تار را ہمے شاید
تاشود پاک ملت از بدعات
تابیابند خلق زو برکات
الغرض ذات اولیاء کرام
ہست مخصوص ملت اسلام

(براہین حصہ ٤ ص ٣١١ خزائن ج ١ ص ٣٦٢)

کیا مرزا قادیانی نے ١٣ سو برس سے جو دین چلا آتا تھا اس کی اشاعت کی اور کیا سنت کی ترویج کرتے ہوئے خلاف شرع کاموں اور بدعات کے دور کرنے میں جان لڑادی اور جس طرح دین کی تجدید ہر صدی کے مجدد کرتے چلے آئے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی نے اس طرح دین کی تجدید کی؟ اور جو اسلامی تعلیم مرزا قادیانی نے پیش کی ہے۔ کیا کسی پہلے مجدد نے ایسے گندے خیالات کو اسلام میں جگہ دی تھی؟ ۔ ہرگز نہیں ۔ بلکہ مرزا قادیانی نے:

تائید کی۔

طور پر نازل ہونے کے باوجود اسلامی عقیدہ ہونے کے انکار کیا اور فلسفی رنگ نزول مانا۔

کی تائید کی۔

اس کو جادو اور مسمریزم بتایا۔

پرواہ نہ کی اور فرقہ باطنیہ کی طرح قرآن کی آیتوں کو ظاہری معنوں سے پھیر کر استعارات کا رنگ دیا اور اس پردہ میں ناواقف اور دین سے بے خبر مسلمانوں کو اسلام کی سیدھی سادھی تعلیم سے ہٹا کر گمراہی کے گڑھے میں دھکیلا اور اسی طرح قرآن میں تفسیر بالرائے کا دروازہ کھولا ۔

صفحہ ٣٤٨

جھوٹی نسبت کی۔

اور اس گناہ کو سر پر لے کر چلتے بنے۔ اگر مجدد دنیا میں ایسے ہی کاموں کے واسطے آتا ہے۔ تو ایسے مجدد کو دور ہی سے سلام ہے۔

محمد علی نے ٢٥؍ دسمبر ١٩٣٠ء کو بعنوان برادران قادیان سے اپیل ایک مصالحتی ٹریکٹ شائع کیا تھا۔ جس میں وہ اپنی اسلامی خدمات کا ذکر اس طرح کرتا ہے:

”آج خدا کے فضل سے اس ترقی کے علاوہ جو ہندوستان میں ہماری جماعت کو ملی ہے۔ دس بیرونی ممالک میں ہمارے ہاتھوں سے سلسلہ احمدیہ کی بنیاد قائم ہوچکی ہے اور وہاں جماعتیں بن چکی ہیں۔ چار ہزار سے زیادہ صفحات حضرت غلام احمد کی کتابوں کے ہم دوبارہ چھپوا کر اس کا بڑا حصہ تقسیم کر چکے ہیں۔ صرف انگریزی میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی اور کئی زبانوں میں بھی تقسیم کیا۔ جب ہم آپ سے جدا ہوئے تھے تو اس وقت ہم کتنے آدمی تھے اور پھر کس قدر نصرت عطاء فرمائی کہ وہ علوم جو ہم کو حضرت موعود سے ورثہ میں ملے تھے۔ انہیں ہم نے دنیا کے دور دور کے کناروں تک پہنچایا ہے۔“

معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے عقائد و خیالات ہی اس جماعت کی نظر میں اصل اسلام ہے اور اسی کی ہندوستان سے باہر دیگر ممالک میں اور یہاں اشاعت کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں اگر (ازالۃ اوہام ص٥٧ اور آئینہ کمالات ص٢١٩،٢٢٠) سے قطع نظر کر لیا جائے۔ جن سے مرزا قادیانی کا دعویٰ مجددیت ١٢؍اپریل ١٨٨٥ء میں معلوم ہوتا ہے اور (حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص١٩١) کو بھی چھوڑ دیں کہ جس میں دعوے کی ابتداء ١٢٩٠ء میں بتائی ہے تو پھر مرزا قادیانی نے مجدد کا دعویٰ صاف لفظوں میں (براہین احمدیہ ص٣١٢، خزائن ج١ ص٣٦٣) پر مجدد کا ذکر کرتے ہوئے یوں کہا ہے:

وعدہ کج بطالباں ندہم
کاذبم گر ازو نشاں ندہم
صفحہ ٣٤٩
من خود از بہر ایں نشاں زادم
دیگر از ہر غمی دل آزادم
ایں سعادت چو بود قسمت ما
رفتہ رفتہ رسید نوبت ما

کتاب ١٢٩٧ھ یعنی صدی سے تیس سال پہلے طبع ہوئی ۔ جیسا کہ مادہ تاریخ یا بغور سے ظاہر ہے اور حصہ سوم کے شروع میں ٢٨٧ دعویداروں سے بوجہ تاخیر عذر خواہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حصہ سوم کے نکلنے میں تقریباً دو برس کی تاخیر ہو گئی ۔ مگر اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ۔ بلکہ مالک مطبع کی طرف بعض مجبوریاں ایسی پیش آ گئیں ۔ جن سے طباعت میں دیر ہو گئی ۔ اس لئے معلوم ہوا کہ صدی سے تقریباً ٥ سال پہلے کا ہے اور اگر ١٢٩٧ھ کو مان لیں تب بھی تین سال پیشتر ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں ۔ اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اللہ کا ایماندار اور نیک عمل مسلمانوں سے وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں حکومت عطاء فرمائیں اور ان کے دین کو جس کو اس نے پسند کیا ہے ۔ مضبوط کرے ۔ جس طرح کہ انبیاء علیہم السلام سابقین کے سچے پیروں کے ساتھ کرتا رہا ہے ۔ لہٰذا جو معنے مرزائی جماعت نے اس آیت کے کئے ہیں ۔ وہ سرتاپا غلط اور الفاظ قرآن کے مخالف ہیں ۔ پھر ولایت کے لئے شرط اوّل یہ ہے کہ وہ کوئی مسئلہ قرآن عزیز کی صریح نص کے خلاف نہ کہے اور یواقیت ج٢ ص ٩٢ میں ہے کہ : ”من زعم ان علما باطنا للشريعة غير مابايدينا فهو باطني يقارب الزنديق ..... فان من شأن أهل الطريق ان يكون جميع حركاتهم وسكناتهم محررة على الكتاب والسنة ولا يعرف ذلك الا بالتبحر في علم الحديث والفقه والتفسير “ مگر مرزا قادیانی کو ” لا تأخذه سنة ولا نوم (بقرہ :٢٥٥) “ کے خلاف ٣؍ فروری ١٩٠٣ء کو یہ الہام ہوا کہ : ” أصلی وأصوم اسهر وانام و اجعل لك انوار القدوم وأعطيك مابدوم ان الله مع الذين اتقوا “ یعنی میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا جاگتا ہوں اور سوتا ہوں ...... الخ !

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩ ، تذکرہ ص ٤٦٠ ، اخبار الحکم ج ٧ نمبر ٥ ص ١٦ ، ٧؍ فروری ١٩٠٣ء )

قیاس کن ز گلستان من بہار مرا

الحمد لله و سلام علی عبادہ الذین اصطفی ۔

تمت بالخیر

صفحہ ٣٥٠

بسم الله الرحمن الرحيم

تفصیلی فہرست مسلم پاکٹ بک

تقریظ حضرت علامہ عثمانیؒ ١٠ تقریظ حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ ١٠ قصیدہ ثنائیہ اعتقادیہ ١١ پہلا باب تحقیق مذاہب دربارہ حیات مسیح علیہ السلام ١٤ دوسرا باب حیات مسیح علیہ السلام ١٦ فصل حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت قرآن مجید سے ١٦ آیت:١....... ایدناہ بروح القدس ١٦ آیت:٢....... وجیهاً فی الدنیا والآخرة ١٧ آیت:٣....... ویکلم الناس فی المهد وکهلا ١٩ آیت:٤....... مکروا ومکر الله والله خیرالماکرین ٢٢ آیت:٥....... یعیسی انی متوفیک ورافعک ٢٣ انی متوفیک کی تحقیق ٢٧ متوفیک کے معنی تفسیر سے ٢٨ احیاء موتی کا ثبوت قرآن وحدیث سے ٣٨ امثلہ تقدیم و تاخیر از قرآن مجید ٤٣ رفع کی بحث ٤٩ آیت:٦....... وماقتلوه وماصلبوه ولکن شبه لهم ٥٩ آیت:٧....... وماقتلوه یقینا بل رفعه الله الیه ٧١

صفحہ ٣٥١

تحقیق معراج ٨٤

آیت ٨:.... وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به ٩٤

آیت ٩:.... لن يستنكف المسيح ان يكون ....... الخ ١٠٩

آیت ١٠:..... اذ كففت بنی اسرائیل عنك ١١٠

آیت ١١:..... وانه لعلم للساعة ١١١

آیت ١٢:..... ولقد ارسلنا رسلاً من قبلك وجعلنا....... الخ ١١٤

فصل ٤ حیات مسیح کا ثبوت حدیث سے ١١٥

نزول کا معنی ١٢٥

حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت اجماع امت سے ١٤٢

حیات مسیح علیہ السلام پر مرزا قادیانی کا اقرار ١٦٦

باب ٣ تحریفات مرزائیہ متعلقہ وفات ١٦٨

تحریف ١:..... فلما توفيتنى ، واقول كما قال حديث ١٦٨

تحریف ٢:..... انى متوفيك ورافعك ١٧٢

تحریف ٣:..... ما المسیح بن مریم الا رسول، کانا یاکلون الطعام ١٧٤

تحریف ٤:..... وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل ١٧٥

تحریف ٥:..... والذین لا يدعون من دون الله، اموات غیر احیاء ١٨١

تحریف ٦:..... فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون ١٨٢

تحریف ٧:..... اوصانی بالصلوة والزکوة مادمت حیا ١٨٣

تحریف ٨:..... سلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا ١٨٣

تحریف ٩:..... اوترقی فی السماء ١٨٤

تحریف ١٠:..... وماجعلنا لبشر من قبلك الخلد ١٨٥

صفحہ ٣٥٢

تحریف:١١...... ومنكم من يتوفى ومنكم من يرد الى ارذل العمر ١٨٥ تحریف:١٢...... لياكلون الطعام ويمشون فى الاسواق ١٨٦ تحریف:١٣...... ماكان محمد ابا احد من رجالكم ...... الخ ١٨٦ مغالطہ:١...... لوكان موسى وعيسى حييّين ١٨٨ مغالطہ:٢...... مامن نفس منفوسة...... مائة سنة ١٨٨ مغالطہ:٣...... آدم فى السماء الدنيا، يحيى وعيسى فى السماء الثانية ...... الخ ١٨٩ مغالطہ:٤...... ابن عباسؓ...... امام مالکؒ...... ابن حزمؒ ١٨٩ مغالطہ:٥...... انى ذاهب الى ربى...... الخ ١٩٠ مغالطہ:٦...... حضرت عیسیٰ آسمان پر اور ہمارے نبی علیہ السلام زمین پر ١٩٠

باب النبوة والرسالت

نبی و رسول کا فرق ١٩١ وحی نبوت کی تحقیق ١٩١ اولیاء کے سچے خواب ١٩٣ ہر سچی خواب نبوت کا جز نہیں ١٩٦ الہام کی تحقیق ١٩٧ وحی نبوت اور کشف میں فرق ١٩٨ ملہم کی شرطیں ٢٠٠ تحقیق نبوت غیر تشریعیہ ٢٠٠

باب مرزا قادیانی اور دعویٰ نبوت ٢٠٤

نبوت وہبی ہے کسبی نہیں ٢٠٨ محدث کی تعریف ٢١٣ ٢١٥

ختم نبوت کا ثبوت قرآن مجید سے

ختم نبوت از احادیث

ختم نبوت از اجماع امت

باب تردید اجرائے نبوت

تحریف:١...... اما ياتينكم تحریف:٢...... يطلعكم تحریف:٣...... ان رحمة تحریف:٤...... اهدنا الصراط تحریف:٥...... من يطع تحریف:٦...... هو الذى تحریف:٧...... الم ياتكم تحریف:٨...... وما كنا تحریف:٩...... وعد الله مغالطہ:١...... درود شریف مغالطہ:٢...... مرزا قادیانی مغالطہ:٣...... لو عاش ابراہیم مغالطہ:٤...... تکلمہ میں

باب بطالت مرزا قادیانی

فصل اوّل: معیار نبوت

١...... مراق مرزا ٢...... اختلافات مرزا

صفحہ ٣٥٣

ختم نبوت کا ثبوت قرآن مجید سے ٢٢٩ ختم نبوت از احادیث ٢٣٠ ختم نبوت از اجماع امت ٢٣٦ باب تردید اجرائے نبوت ٢٣٨ تحریف:١...... اما یاتینکم ٢٣٨ تحریف:٢...... یطلعکم علی الغیب ٢٣٩ تحریف:٣...... ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین ٢٥١ تحریف:٤...... اهدنا الصراط المستقيم ٢٥١ تحریف:٥...... من يطع الله والرسول ٢٥٢ تحریف:٦...... هو الذی بعث فی الامیین رسولا ٢٥٢ تحریف:٧...... الم یاتکم رسل منکم ٢٥٣ تحریف:٨...... وماکنا معذبین حتی نبعث رسولا ٢٥٥ تحریف:٩...... وعد اللہ الذین ...... لیستخلفنهم ٢٥٥ مغالطہ:١...... درود شریف ٢٥٦ مغالطہ:٢...... مرزا قادیانی کی کامیابی ٢٥٦ مغالطہ:٣...... لو عاش ابراهیم ٢٥٦ مغالطہ:٤...... تکملہ میں تشریعی نبوت ٢٥٨ باب بطالت مرزا قادیانی ٢٦١ فصل اول: معیار نبوت ٢٦١ ١...... مراق مرزا ٢٦١ ٢...... اختلافات مرزا ٢٦٣

صفحہ ٣٥٤

خلاصہ معیار نبوت معجزہ کی حقیقت فصل دوم: صداقت کی نشانی، مرزا قاد فصل سوم: نشان آسمانی بر کذب قادیا فصل چہارم: تردید صداقت مرزا

صفحہ ٣٥٥

خلاصہ معیار نبوت ٣٠٠ معجزہ کی حقیقت ٣٠٦ فصل دوم: صداقت کی نشانی، مرزا قادیانی کی زبانی ٣٠٨ فصل سوم: نشان آسمانی بر کذب قادیانی (پیشگوئیاں) ٣١١ فصل چہارم: تردید صداقت مرزا ٣٢٥ تحریف: ١....... لو تقول ...... الخ ٣٢٥ تحریف: ٢....... فتمنوا الموت ...... الخ ٣٣٥ تحریف: ٣....... فقد لبثت فيكم عمرا ...... الخ ٣٣٦ تحریف: ٤....... فلا يظهر على غيبه الا من ارتضى ...... الخ ٣٣٦ تحریف: ٥....... انه لا يفلح الظالمين ...... الخ ٣٣٧ تحریف: ٦....... وان يك صادقا يصبكم بعض ...... الخ ٣٣٨ تحریف: ٧....... ومبشرا برسول یاتئ من بعدی ...... الخ ٣٣٨ تحریف: ٨....... ماكنا معذبين حتى نبعث رسولا ...... الخ ٣٣٩ تحریف: ٩....... ياحسرة على العباد ...... الخ ٣٤٠ مغالطہ: ١....... ؟ ٣٤١ مغالطہ: ٢....... مسیح کے دو حلیے ٣٤١ مغالطہ: ٣....... لا مهدی الا عیسی ...... الخ ٣٤٢ مغالطہ: ٤....... مہدی کی عمر ٣٤٢ مغالطہ: ٥....... نزول عیسیٰ کے وقت سب لوگ ایمان لائیں گے ٣٤٢ مغالطہ: ٦....... ان لمهدينا آيتين ...... الخ ٣٤٣ مغالطہ: ٧....... مسیح خاتم الاولاد ہوگا۔ قول ابن عربی ٣٤٥ مغالطہ: ٨....... حدیث مجدد ٣٤٥

صفحہ ٣٥٦
صفحہ ٣٥٦

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

کلمہ فضل رحمانی

(١٣١٤ھ)

بجواب

اوہام غلام قادیانی

(١٣١٤ھ)

جناب فضل احمد صاحب گورداسپوریؒ

صفحہ ٣٥٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم! ”الحمدلله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلوة والسلام على رسوله محمد وآله واصحابه واهل بيته وذرياته واتباعه اجمعين“

اما بعد ! حقیر پر تقصیر اضعف من عباداللہ الصمد قاضی فضل احمد ١؎ بن حضرت قاضی اللہ دین صاحب متوطن ضلع گورداسپور حال کورٹ انسپکٹر لدھیانہ ۔ ناظرین متین کی خدمت میں گذارش کرتا ہے کہ آج کل ( ماہ شعبان ١٣١٤ھ ) ایک کتاب مسمی بانجام آتھم معہ سہ رسائل دیگر خدا کا فیصلہ ، دعوت قوم ، مکتوب عربی بنام علماء و مشائخ بلاد ہند و غیرہ و غیرہ تصنیف مرزا غلام احمد قادیانی مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان تاریخ طبع ندارد دیکھنے میں آئی ۔ جو اکثر علماء و مشائخ کی خدمت میں مرزا قادیانی کی طرف سے بذریعہ رجسٹری بھیجی گئی ہیں ۔ جس میں مرزا قادیانی نے تمام مخالفین کی بالعموم اور علماء و مشائخ کی بالخصوص خوب خبر لی ہے اور سب وشتم کے تیروں سے ان کے دلوں کو چھلنی کی طرح خوب چھیدا ہے اور اپنے غصہ کی آگ کو بزعم خود خوب بھڑکایا ہے ۔ گویا سب کے جسم کو معہ استخوان جلایا ہے ۔ قبل اس کے کہ میں ان کے موٹے موٹے مضامین کو بہت ہی اختصار کے ساتھ بعبارت سلیس عام فہم پیش ناظرین کروں اور مرزا قادیانی کے ہی الہامات و تحریرات کے مقابلہ میں ہدیہ شائقین با تمکین کروں نہایت ہی افسوس کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے جو روش تحریر اس کتاب میں اختیار کی ہے ۔ اہل اسلام کو تو کیا دیگر مذاہب کے لوگوں کو بھی نہایت ناپسند ہوئی اور تحقیر کی نظروں سے دیکھی گئی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے احکامات الہی واحادیث رسول اکرم ﷺ واقوال وافعال جمہور، کا نعوذ باللہ صرف اغماض ہی نہیں کیا بلکہ بصورت انکار ان کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ بطور نمونہ آیات واحادیث واقوال وافعال بزرگان پیش کرتا ہوں ۔

آیات قرآنی جن کی مرزا قادیانی نے تعمیل نہیں کی

تفرقوا (آل عمران:١٠٣) “ ﴿یعنی خدا کے دین کو سب اکٹھے ہو کر مضبوط پکڑو اور متفرق نہ ہو جاؤ ۔﴾

١؎ حنفی نقشبندی ، مجددی ، حسنی ، قصبہ شاہ پور پٹھان کوٹ ضلع گورداسپور۔

٢

صفحہ ٣٥٩

﴿ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ۔ جنہوں نے فرق اور اختلاف کیا۔﴾

ان ہر دو آیات کی تعمیل تو مرزا قادیانی نے یہ کی کہ تمام اہل اسلام سے ایسی تفریق اور تخالف پیدا کر لی کہ کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں رکھا۔ حتیٰ کہ حضرت رسول اللہ ﷺ سے لے کر آج تک کوئی بھی ان کے عقائد کے ساتھ متفق نہیں ہوا۔

اخويكم (حجرات:١٠)“ ﴿یعنی مسلمان سب بھائی بھائی ہیں۔ بھائیوں میں اصلاح کرو۔﴾

اس حکم کی تعمیل مرزا قادیانی نے ایسی کی کہ بجائے اصلاح کرنے کے، اور آتش فساد مشتعل کر دی اور اپنے خاص بھائیوں کو دشمن بنالیا۔

وتذهب ريحكم (انفال:٤٦)“ ﴿یعنی آپس میں مت جھگڑو۔ سست ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا بگڑ جائے گی۔﴾

اس کی تعمیل میں مرزا قادیانی نے رفع تنازع کے لئے ایسی کوشش کی کہ کوئی وقت ساعت جھگڑے یا فساد سے خالی ہی نہیں رکھی۔ کبھی کوئی کتاب، کبھی کوئی رسالہ، کبھی کوئی اشتہار نکالے ہی گئے۔ جس سے جھگڑوں میں روز افزوں ترقی ہوتی گئی۔ یہاں تک پہونچے کہ ایک اشتہار جمعہ کے روز کی تعطیل کا نکالا۔ اس میں اپنے مسلمان بھائیوں کے برخلاف گورنمنٹ کو اس امر کی توجہ دلائی کہ: ”مسلمان لوگ گورنمنٹ کے ساتھ باغیانہ خیال رکھتے ہیں۔ اس کی شناخت یہ ہے کہ جو لوگ نماز جمعہ نہیں پڑھیں گے وہ سرکاری باغی اور بدخواہ سمجھے جائیں گے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٢ص٢٢٣،٢٢٤)

مطلب اس سے یہ تھا کہ جو لوگ بباعث نہ پورا ہونے شرائط جمعہ کے شہروں یا دیہات میں نماز جمعہ نہیں پڑھتے وہ باغی سمجھے جائیں۔ مگر آفرین ہے گورنمنٹ کی دانش پر، کہ اس نے ایسی لغویات اور اشتہار پر کچھ توجہ نہ فرمائی ورنہ مرزا قادیانی نے اس آیت کی تعمیل میں ذرہ بھر بھی نیش زنی کرنے میں فروگزاشت نہ کی تھی کہ جھٹ مسلمان لوگ باغی قرار دیئے جاکر احکام ضابطہ جاری ہوتے۔

مچاؤ زمین میں۔﴾

٣

صفحہ ٣٦٠

مگر افسوس مرزا قادیانی کو اس فساد اور جھگڑوں میں ہی مزہ اور رونق ہے۔ طبیعت کا لگاؤ اور رجحان ہی اس طرف ہے۔

بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان (حجرات:١١)“ ﴿یعنی اپنے دین والوں کا عیب نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ بدنامی ہے کسی کو ایمان کے بعد فسق سے یاد کرنا۔﴾

مرزا قادیانی نے اس حکم کی تعمیل یہ کی ہے کہ اس کتاب انجام آتھم میں مولوی صاحبان وسجادہ نشین صاحبان میں سے کسی کو دجال بطال، کسی کو شیخ نجدی، کسی کو شیطان، کسی کو فرعون، کسی کو ہامان وغیرہ وغیرہ لقبوں سے یاد کیا ہے۔ مہذب اہل اسلام ودیگر ناظرین مرزا قادیانی سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ طریق جو اپنے کتاب میں اختیار کیا ہے۔ کوئی صفحہ یا سطر ایسی نہیں جس میں کوئی نہ کوئی گالی نہ ہو۔ یہ کس آیت یا حدیث یا الہام کے ارشاد سے کیا گیا ہے؟۔

﴿یعنی کافروں کے معبودوں کو بھی گالی نہ دو۔ تا کہ ایسا نہ ہو کہ تمہارے خدا کو گالیاں دیں۔﴾

اس حکم کی تعمیل مرزا قادیانی نے ایسی کی کہ مرزا قادیانی کی کتابیں بالخصوص رسالہ انجام آتھم اور اس کا ضمیمہ شاہد ہیں اور ان کی تصدیق کے لئے آریہ اور عیسائیوں کی کتابیں موجود ہیں کہ جن میں مرزا قادیانی کی بدولت خداوند کریم اور تمام پیغمبران علیہم السلام اور خصوصاً حضرت رسول اللہ ﷺ کی نسبت ایسے ایسے الفاظ لکھے گئے ہیں کہ جن سے ایک ادنیٰ مسلمان کا بھی جگر پارہ پارہ ہوتا ہے۔ کیا یہ حکم خداوند تعالیٰ کی تعمیل ہے۔ کیا ان کل تحریروں کا ثواب مرزا قادیانی کے اعمال نامہ میں روز بروز درج نہیں ہوتا؟۔ بلکہ روز بروز بڑھتا جاتا ہے۔

(بقرہ:٨٣)“ ﴿یعنی لوگوں سے نیک اور بھلائی کی بات کہو۔﴾

اس حکم میں کسی مسلمان کی بھی تخصیص نہیں۔ عوام تو کہاں بے چارے خاص بھائی اور عزیز مسلمان بھی نیکی اور اچھے کلمے سے یاد نہیں کئے گئے۔ جب مرزا قادیانی بقول خود تمام انبیاء اور مرسلین کی صفات سے موصوف ہیں تو ایک ہی جسم میں ملہم، مجدد، مثیل مسیح، مسیح موعود، مہدی موعود ہیں تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ ان کے سینہ بے کینہ زبان بے عنان سے ایسی فحش گالیاں مسلمان بھائیوں بالخصوص مولوی صاحبان وسجادہ نشین صاحبان کو کتابوں میں دی جاتی ہیں۔

٤

صفحہ ٣٦١

جیسے بدذات ، بے ایمان ، دجال، لعین، شیطان، فرعون، ہامان، ظالم، یہودی، بطال، خبیث گدھے، کتے، سور، وغیرہ وغیرہ ۔ اگر مسیح موعود کی تہذیب اور خواص ایسے ہی ہونے چاہئے تو مرزا قادیانی کو مبارک ہو۔

احادیث جن سے مرزا قادیانی نے روگردانی کی

اللسان فی الفتنہ ) نے ایک حدیث طویل میں حضرت معاذؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے توحید، نماز، زکوۃ، روزہ، حج، صدقہ، تہجد اور جہاد کا ذکر فرما کر ارشاد کیا کہ کہو تو بتاؤں تمہیں ان سب کی جڑ اور اصل کو۔ حضرت معاذؓ نے کہا ہاں اے نبی اللہ کے آپؐ نے اپنی زبان مبارک کو پکڑ کر فرمایا کہ اس کو روکے رہو۔ (مرزا قادیانی نے زبان کو خوب روکا؟۔)

ص ٤١٣، باب حفظ اللسان) ‘‘ ﴿جو چپ رہا نجات پا گیا۔﴾ مرزا قادیانی اتنے بڑے پیغمبر ایسی چھوٹی حدیث پر کیسے عمل کرتے؟۔ نعوذ باللہ!

کہنا مانند قتل کرنے اس کے ہے۔ (بخاری ج ٢ ص ٩٠١، باب من اکفر اخاہ بغیر تاویل ) قتل کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

اللسان ) نے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔ یعنی لعنت کرنا ایمان کے مخالف ہے۔ (مرزا قادیانی کی کل کتابیں لعنتوں سے پر ہیں۔)

بڑے گناہ کی بات ہے۔

(بخاری ج ٢ ص ٨٩٣، باب ما ینھی عن السباب واللعن )

مرزا کی تمام کتابیں ہی گالیوں سے بھری پڑی ہیں۔ حتیٰ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی معاف نہیں کیا۔

جناب رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ گالی بکنے والا اور بے حیائی کی بات کرنے والا بندہ مومن نہیں۔

٥

صفحہ ٣٦٢

لیکن مرزا کی گالیاں بھی نعوذ باللہ وہ کہ مسیح علیہ السلام کی دادیوں، نانیوں تک نوبت پہنچا دی۔

فرمایا رسول اکرم ﷺ نے کہ نہیں ہے مسلمان طعنہ کرنے والا اور نہ لعنت کرنے والا اور فحش بکنے والا اور نہ بیہودہ گو۔

(مشکوة ص٤١٣، باب حفظ اللسان)

اس کو ذلیل سمجھے۔ پرہیز گاری یہاں ہے۔

(بخاری ج١ ص٣٣٠، باب لايظلم المسلم المسلم ولا يسلمه)

بہت پڑھتی ہے۔ روزے بہت رکھتی ہے اور خیرات بہت کرتی ہے۔ لیکن وہ اپنے ہمسایوں کو اپنی زبان سے ایذاء دیتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہ دوزخ میں ہے۔

(مشکوة ص٤٢٧، باب الشفقة والرحمة على الخلق)

صدقہ نماز سے افضل ہے۔ راوی کہتا ہے کہ ہم نے کہا کہ ہاں! فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا صلح کرانا آپس میں اور فساد ڈالنا یہ خصلت دین کی جڑ اکھاڑنے والی ہے۔

(ابوداؤد ج٢ ص١٩٢، باب فی اصلاح ذات البین)

فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ غصہ مت کیا کر اس نے کئی دفعہ یہ سوال کیا۔ آپ ﷺ نے یہی جواب فرمایا کہ غصہ مت کیا کر۔

(بخاری ج٢ ص٩٠٣، باب الحذر من الغضب)

تیرے بندوں میں کون سا بہت عزیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کسی کو کسی طرف سے ایذاء پہنچے تو اس کو بخش دے۔

(مختصر ابن عساکر ج٢٥ص٣٧٥)

آثار صحابہؓ و تابعینؒ و تبع تابعینؒ واقوال وافعال، علماء کرام ومشائخ عظامؒ

اگر ضبط تحریر میں لائے جائیں تو ایک عرصہ دراز چاہئیے۔ ان کے لکھنے کی اس واسطے بھی ضرورت نہیں۔ جب آیت شریف وحدیث شریف سے ہی اعراض ہے تو باقی پر کیا اعتبار

٦

صفحہ ٣٦٣

ولحاظ ہے؟۔یہیں مرزا قادیانی کے ہی الہامات وتحریرات پیش کرنا ضروری ہے تاکہ ناظرین اس پر توجہ فرمائیں۔

مرزا قادیانی کے الہامات وتحریرات جن پر انہوں نے خود بذات، مطلق عمل

نہیں کیا اور حافظہ سے اتر گئے

میں نہایت افسوس سے کہتا ہوں۔ اگرچہ مرزا قادیانی نے قرآن شریف واحادیث شریفہ واثار صحابہ پر (جو تیرہ سو سال سے حضرت رسول خدا ﷺ پر نازل ہوا ہے) نعوذ باللہ پرانا ہونے یا کسی اور وجہ سے عمل نہیں کیا۔ جیسے کہ عرض ہوا ہے۔ مگر ان کو اپنے الہامات قطعی اور یقینی اور تحریرات الہامی پر تو (جو تازہ ہیں) ضروری عمل کرنا چاہیے تھا۔ مگر ان پر بھی کوئی توجہ نہیں کی گئی۔

وترحم عليهم‘ یعنی لوگوں کے ساتھ لطف اور مہربانی اور رحم کر۔“

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥)

رفقاً واحساناً“ یعنی اے داؤد (پیغمبر) لوگوں کے ساتھ رفاقت اور احسان کر۔

(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ٦٠)

فرمائیے مرزا قادیانی! تلطف، رحم، رفق، احسان۔ ان چاروں الہامی احکام کی آپ نے کیا تعمیل کی؟۔ اور داؤد علیہ السلام کی صفت لوہے کو موم کرنے والی نے آپ میں کیا اثر کیا۔ بلکہ الٹا موم دلوں کو لوہا اور پتھر کر دیا۔ تمام جانداروں کو اپنی زبور کی خوش الحانی سے بجائے جمع کرنے اور دوست بنا لینے کے دشمن بنالیا اور متنفر کرلیا۔ کارروائی ہی معکوس کر لی۔ گویا تلطف کی جگہ سب وشتم، رحیم کی جگہ درشتی قلم، رفق کی جگہ نفاق اتم، احسان کی جگہ رجم خصم کو پورا کیا۔

ہیں۔ بصد ادب اور غربت عرض کی جاتی ہے جو اس کتاب کی تصنیف سے ہمارا ہرگز یہ مطلب اور مدعا نہیں ہے۔ جو کسی کے دل کو رنجیدہ کیا جائے۔ یا کسی نوع کا بے اصل جھگڑا اٹھایا جائے۔“

(براہین احمدیہ ص ٨٣، خزائن ج ١ ص ٧١)

رعایت آداب سے تصنیف کی گئی ہے اور اس میں کوئی ایسا لفظ نہیں۔ جس میں کسی بزرگ یا پیشوا کسی فرقہ کے کسر شان لازم آوے اور خود ہم ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایتاً اختیار کرنا خباثت عظیم سمجھتے

٧

صفحہ ٣٦٤

ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجہ کا شریر النفس خیال کرتے ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ١٠١، خزائن ج ١ ص ٩٠)

مناظرات ومجادلات میں یا اپنی تالیفات میں کسی نوع کے سخت الفاظ کو اپنے مخاطب کے لئے پسند رکھیں۔ یا کوئی دل دکھانے والا لفظ اس کے حق میں یا اس کے کسی بزرگ کے حق میں بولیں۔ کیونکہ یہ طریق علاوہ خلاف تہذیب ہونے کے ان لوگوں کے لئے مضر بھی ہے۔ جو مخالف رائے کی حالت میں فریق ثانی کی کتاب کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ وجہ یہ کہ جب کسی کتاب کو دیکھتے ہی دل کو رنج پہنچ جائے۔ تو پھر برہمی طبیعت کی وجہ سے کس کا جی چاہتا ہے کہ ایسی دل آزار کتاب پر نظر بھی ڈالے۔“

(شحنہ حق ص الف ، خزائن ج ٢ ص ٣٢٤)

ہمارے ساتھ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں۔ مگر اپنے وطن میں۔“

(شحنہ حق ص ج ، خزائن ج ٢ ص ٣٢٦)

سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٨٩)

خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٨٩، ١٩٠)

بس چل سکتا ہے اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔“

(رسالہ تکمیل تبلیغ ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٩٠)

ناظرین! مرزا قادیانی کو تمام آیات واحادیث والہام خاص وتحریرات الہامی سب کی سب یکدم فراموش ہو گئیں اور اپنی اقراری دستاویزات اور الہامی عبارات سب کو یک لخت ملیا میٹ کر دیا، یا یاد ہوں۔ مگر پھر انہوں نے خدا کے حکم (اوفوا بالعقود) اپنے وعدوں اور اقراروں کو پورا کرو، کی تعمیل نہیں کی۔ پھر خیال فرمائیے کہ نہ تو احکام الٰہی کی تعمیل کی اور نہ احکام رسول خدا ﷺ پر کچھ توجہ کی اور نہ اپنے الہامات کی پرواہ کی۔ جب یہ حالت ہے تو مرزا قادیانی کے پاس کیا خاص وجہ ہے کہ باوجود ایسے صریح اور بدیہی احکام کی تعمیل پر بھی لوگوں سے اپنے کو مسیح

٨

صفحہ ٣٦٥

موعود اور تاویلات خانہ زاد کو منوانا چاہتے ہیں۔

ایں خیال است و محال است وجنوں

البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولوی صاحبان وسجادہ نشین صاحبان نے کیوں مرزا قادیانی پر تکفیر کا فتویٰ دیا؟ اور ممکن ہے کہ مرزا قادیانی خود اس کا جواب دیں کہ جب انہوں نے مجھ کو کافر کہا اور کفر کے فتوے میری نسبت دیئے میں بھی یہ گالیاں ترکی بہ ترکی دوں۔ جیسے کہ ایک نقل مشہور ہے کہ کسی لاہوری مسلمان نے ایک لاہوری بنیا ١ ؂ کو کسی بات کے تکرار پر بہت مارا۔ بنیا بے چارہ بہت کمزور تھا مقابلہ نہ کر سکا۔ لیکن جیسے وہ مارتا رہا بنیا بہت سی گالیاں دیتا رہا۔ جب وہ زبردست مسلمان چلا گیا تو ہمسایہ دکاندار نے پوچھا کہ کہو بھئی کیا ہوا۔ بنیا نے اپنی پنجابی بولی میں کہا ”مینوں مُسلے نے بہت ماریا پر میں بھی اس نوں گالیاں دے نال پیپو ہی کر چھڈیا۔“ یعنی اگرچہ اس مسلمان نے مجھ کو بہت مارا لیکن میں نے بھی اس کو گالیوں سے آدھ موا کر دیا۔ سو اس میں شک نہیں کہ مولویوں اور سجادہ نشین صاحبوں نے مرزا قادیانی کو کافر کہا، دجال لکھا۔ جس کا انتقام مرزا قادیانی نے اس کتاب (انجام آتھم) میں گالیوں سے لیا انتقام بھی ایسا کہ وہ بھی یاد ہی کریں گے اور قیامت تک یہ کتاب مملو بہ سب وشتم ان کی یاد فرمائی اور مرزا قادیانی کے ثواب اخروی اور راہ نمائی کی یادگار رہے گی۔ جزاک اللہ!

یہ مانا کہ مرزا قادیانی کو جب انہوں نے کافر کہا اور دجال لکھا تب مرزا قادیانی نے غصہ میں آ کر گالیوں سے بدلا لیا۔ مگر افسوس مرزا قادیانی نے یہاں بھی تو حکم خداوندی کی

درگزر کرنا۔﴾

المحسنین (آل عمران:١٣٤)“ ﴿یعنی غصہ کے ہضم کرنے والے باوجود قدرت کے اور معاف کرنے والے لوگوں سے، اللہ دوست رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو۔﴾

تعمیل پر کچھ توجہ نہیں کی۔ مؤخر الذکر آیت کے ماتحت میں اکثر مفسروں نے روایتیں لکھی ہیں۔ جن میں سے صرف دو روایتیں جو خاص مرزا قادیانی کی توجہ کے قابل ہیں لکھی جاتی ہیں۔

١ بنیا...... الخ! بالکسر اور نون و یا تحتانی والف بمعنی دوکاندار، ب، ن، ی، ا۔

٩

صفحہ ٣٦٦

روایت اول : کسی نے حضرت امام اعظمؒ کو طمانچہ مارا امام صاحب نے فرمایا کہ میں بھی تجھے طمانچہ مار سکتا ہوں۔ مگر نہیں ماروں گا اور اس بات پر قادر ہوں کہ خلیفہ وقت سے تیرے پر نالش کروں مگر نہ کروں گا۔ درگاہ الٰہی میں نالہ و فریاد کر سکتا ہوں۔ مگر نہ کروں گا کہ قیامت کے دن تجھ سے جھگڑوں اور بدلہ لوں مگر نہ کروں گا۔ اگر فردا قیامت کو مجھے چھٹکارا ملے اور حق تعالیٰ میری سفارش قبول کرے تو تیرے بغیر جنت میں قدم نہ رکھوں گا۔

(حدائق الحنفیہ بحوالہ امام اعظمؒ ابو حنیفہ کے حیرت انگیز حالات ص ١٢٩)

مردی گمان مبر کہ بزور است و پردلی
باخشم گر برائی دانم که کاملی

روایت دوم: تیسیر میں لکھا ہے کہ ایک دن جناب امام حسینؓ مہمانوں کے ساتھ کھانا تناول فرمانے بیٹھے تھے۔ آپ کا خادم جلتی ہوئی آش کا کاسہ مجلس میں لایا۔ دہشت سے اس کا پاؤں فرش کے کنارے لڑکھڑایا کاسہ جناب امام کے سر مبارک پر گر کر ٹوٹ گیا اور جلتی ہوئی آش سر اطہر پر گری۔ حضرت نے ادب سکھانے کی راہ سے خادم کی طرف دیکھا۔ خادم کی زبان پر جاری ہوا۔ والکاظمین الغیظ ! آپ نے فرمایا غصہ میں نے فروکیا۔ خادم بولا والعافین عن الناس ! حضرت نے فرمایا میں نے معاف کیا۔ خادم نے باقی آیت والله یحب المحسنین! پڑھی۔ حضرت امام نے فرمایا جا میں نے تجھے آزاد کر دیا۔ ابیات !

بدی را مکافات کردن بدی
براهل صورت بود بخردی
بمعنی کسانی که پی برده اند
بدی دیده و نیکوئی کرده اند

”من وعن از تفسیر حسینی “١

کامل آدمیوں کی اس سے شناخت ہوتی ہے۔ جس پر مرزا قادیانی نے بھی اپنی تصانیف میں ادعا کیا ہے۔

یہ ہر دو روایتیں بطور ضروری مرزا قادیانی کی توجہ خاص کے واسطے اس لحاظ سے لکھی گئی ہیں کہ اوّل اپنے (ازالہ اوہام ص ٥٣١، خزائن ج ٣ ص ٤٨٥) میں حضرت امام اعظمؒ کی بہت تعریف لکھی ہے اور ان کا اجتہاد اور استنباط قبول کر کے داد دی ہے اور پھر کتاب (انجام آتھم کے ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں ”ولوکان الایمان معلقاً بالثریا لناله رجل“ جو حدیث حضرت

١٠

صفحہ ٣٦٧

امام اعظمؒ کی پیشین گوئی میں ہے۔ اپنی طرف لگا کر فارسی النسل تسلیم کیا ہے اور حضرت امام حسینؓ بھی بذات خاص آپ ہی ہیں۔ جیسے کہ آپ نے (ازالہ اوہام کے ص ٢٦ سے ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٥ تا ١٤١) تک اس کی تشریح کی ہے۔ قادیان کو دمشق قرار دیا ہے اور وہاں کے لوگوں کو یزیدی بنا کر خود حضرت امام حسینؓ بن گئے۔ حاصل کلام جب حضرت امام اعظمؒ وحضرت امام حسینؓ بھی آپ ہی ہیں تو پھر اس آیت کی تعمیل کرنے کے وقت کیا ہوا اور کیا بن گئے؟۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ اب ناظرین کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ مرزا قادیانی نے غضب وغیظ میں آ کر کیسی کارروائی کی ہے کہ تمام کوشش مسیح موعود کے ہونے کو یک دم ملیا میٹ کر دیا۔ تمام احکامات الٰہی واحادیث رسول اکرمﷺ اور الہامات وحی خود اور دستاویزات قطعی کے برخلاف ایسی چال چلے۔ جس سے عوام کو بدظنی پیدا ہو گئی۔ مسیح ادعائی کو لازم تھا کہ اگر کوئی ایک رخسار پر طمانچہ مارتا تو دوسرا رخسار بھی اس کے آگے کر دیا جاتا کہ لیجئے دوسرا بھی حاضر ہے۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ مسیح موعود تو بنتے اور بننا چاہتے ہیں۔ مگر افسوس جسم میں خواص نہیں۔ حلیہ تاویلی تو بتا دیں۔ مگر لباس نہیں، ارھاص نہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ فی الواقعہ آپ بقول خود (انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً) خونی مسیح اور خونی مہدی نہیں ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک وشبہ نہیں کہ آپ نبی مسیح اور نبی مہدی ہیں۔ نعوذ باللہ منھا!

کیونکہ سب وشتم میں آپ کو کمال حاصل ہے۔ بے چارے علماء ومشائخ وقت آپ کے کس شمار وقطار میں ہیں۔ جبکہ آپ سے پیغمبران علیہم السلام بھی نہیں چھوٹے۔ مرزا قادیانی! گستاخی معاف بجائے اس کے آپ مسلمانوں کی بزرگ جماعت علماء ومشائخ کو گالیاں دے کر اپنا دشمن بنا لیتے۔ مناسب یہ تھا کہ اپنے اعجاز مسیحی اور ہدایت مہدویت سے ان کو گرویدہ کر کے اپنا حامی بنا لیتے اور کرامات وخوارق عادات کا اثر ان کے دلوں پر ڈال کر اور ”اپنی دعا سے جو بجلی کی طرح کودتی ہے ۔“

(انجام آتھم ص ٢٧٥، خزائن ج ١١ ص ٢٧٥)

اپنی طرف جذب کر دیتے۔ مگر افسوس اس طرف آپ نے بالکل رخ ہی نہیں کیا۔ کیا تو یہ کیا کہ گالیوں اور لعنتوں کے بوجھ سے ان کی کمر توڑ ڈالی اور کچھ بھی پاسِ مسلمانی نہ کیا۔ یہی باتیں ہیں کہ اس وقت آپ پر سب مسلمانوں کی طرف سے سخت درجہ کی بدگمانی ہے۔ دعاوی آپ کے سماوی ہیں اور عمل آپ کے ثریٰ میں۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون ٠ وما اريد الا الاصلاح“

اب میں نہایت اختصار کے ساتھ مرزا قادیانی کی کتاب انجام آتھم و ضمیمہ مذکورہ بالا کا

١١

صفحہ ٣٦٨

خلاصہ پیش ناظرین کرتا ہوں اور اس کے مقابلہ میں کچھ اپنی طرف سے بہت ہی کم لکھوں گا۔ ورنہ کلہم مرزا قادیانی کی ہی تصانیف سے ہدیہ ناظرین کروں گا۔ جس سے مرزا قادیانی کی حالت (جو گرگٹ کی طرح بدلتی رہی ہے اور بدلتی ہے اور بدلتی جائے گی ) بخوبی ظاہر ہو جائے گی۔

اوّل مختصر خلاصہ رسالہ انجام آتھم

”مسٹر عبداللہ آتھم ٢٧؍جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور مرگیا۔ پہلے تاریخ مقررہ پر جو نہیں مرا تھا اس کا باعث یہ تھا کہ عبداللہ آتھم نے رجوع الی الحق کر لیا تھا۔ اس واسطے تاریخ مقررہ پر فوت نہیں ہوا۔ جب ہم نے ٣٠؍دسمبر ١٨٩٥ء کو اشتہار دیا تھا کہ اگر اس نے رجوع الی الحق نہیں کیا تو قسم کھاوے۔ اس نے قسم نہیں کھائی۔ اس لئے وہ ٢٧؍جولائی ١٨٩٦ء کو مرگیا اور ہماری الہامی پیشین گوئی کے مطابق مرا۔“

(انجام آتھم ص ١ تا ٣۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

مزید لکھتے ہیں: ”اے بدذات فرقہ مولویان! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہود یا نہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس! کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“

(انجام آتھم ص ٢١۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

ناظرین! اوّل میں بابت پیشین گوئی مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کے لکھتا ہوں کہ جو مرزا قادیانی نے اس کی نسبت لکھا تھا اور جو ٥؍جون ١٨٩٣ء کی پیشین گوئی ہے۔ وہ اس طرح پر ہے۔ ”میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے۔ روسیاہ کیا جاوے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں گے پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔...... اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو۔ تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“

(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)

یہ الہامی پیش گوئی تھی۔ اس پیشگوئی کی میعاد ٥، ٦؍ستمبر ١٨٩٤ء کی رات پندرہ ماہ پورے ہوئے تھے۔ اس تاریخ کی کیفیت میں اخبار وفادار مطبوعہ ٨؍ستمبر ١٨٩٤ء کے پرچہ سے نقل کر کے ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ وہو ھذا!

١٢

صفحہ ٣٦٩

”مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی مسٹر عبداللہ آتھم کی موت کی نسبت لاہور میں ٥ ستمبر ١٨٩٤ء کی رات تک بڑا چرچا رہا کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی کے اختتام کا وقت آج رات کو ختم ہے۔ جابجا بڑے مجمعے اور طرفدار پارٹیوں کے لوگ مختلف قسم کے خیالات ظاہر کرتے رہے۔ ایسی ہی امید کی جاتی ہے کہ پنجاب کے تمام مقامات میں بھی یہی کیفیت ہو گی۔ ٦ ستمبر ١٨٩٤ء کی صبح کو مسٹر عبداللہ آتھم کی پارٹی بشاش اور مرزا قادیانی کی پارٹی مغموم اور پریشان حالت میں تھی۔“

پھر اخبار وفادار مورخہ ١٥ ستمبر ١٨٩٤ء میں حسب ذیل درج ہے۔

مرزا قادیانی کی پیش گوئی در بارہ مسٹر عبد اللہ آتھم

سچ کہنے میں بدترین خطرات، جھوٹ بکنے میں ضمیر پر بد نما دھبہ ۔ گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل کا سا معاملہ ہے۔ پس جھوٹ سے گریز اور توبہ ہزار توبہ۔

راستی موجب رضائے خداست

مرزا قادیانی کی مسٹر عبداللہ آتھم کی نسبت پہلی پیش گوئی غلط ۔ فقط جھوٹ اور سراسر جھوٹ ثابت ہونے پر بعض عام اور بازاری لوگ ناواقفیت سے اسلام پر بڑے نامعقول فقرات اور اعتراض جماتے ہیں اور خاص لوگ مگر غیر مذہب والے متانت سے اپنے دلی مذہبی تعصب کے خیالات کے ظاہر کرنے میں اپنا زور قلم دکھا رہے ہیں۔ جو بے شک زبردستی اور غلطی کر رہے ہیں۔ پہلے خیال کے لوگ مذہبی امور سے ناواقف ہیں۔ مگر دوسرے واقف ہو کر اسلام کی تحقیر پر وضعداری سے کمر بستہ ہیں۔ ہم ان دونوں خیالات والوں کی علت غائی مرزا قادیانی کی جھوٹی پیش گوئی سمجھتے ہیں نہ کچھ اور۔ جس کی وجہ سے ہم بلاتامل اصول مذہب اور مذہبی اشتعال کی وجہ سے ایسا کہنے میں دریغ نہیں کرتے کہ اسلام ایسے صادق مذہب اور اسلام کے بانی صادق پیغمبر ﷺ کے اصول مذہب کو بدنام اور ان کی تحقیر کرنے والا مرزا قادیانی ہے نہ کوئی اور ۔ جس کے بعد ہم ایسا کہنے میں بے اختیار ہیں کہ او مرزا! او قادیانی! او جھوٹے مسیح موعود !! او غلام !! او عبدالدرہم !! واہ رے نامی مرزا !! خداوند تعالیٰ تجھے تیری بدنیتی اور تیری جھوٹی پیشین گوئی کے صلہ میں اور تو خیر مگر کم سے کم تیری جھوٹی پیشین گوئی کے نتیجہ کے تمام فقرات کا تجھ پر ہی خاتمہ کر کے تمام دنیا میں تجھے عبرت مجسم بنا کر اسلام کی صداقت کی زیادہ تر صریح نظیر قائم کرے اور عام طور پر بتلادے کہ تیری ایسی بدنیتی و شہرت پسندی کے خیال سے ایسی جھوٹی پیشین گوئی کرنے والے دنیا میں ایسے ذلیل ہوا کرتے ہیں۔

ناظرین! مرزا قادیانی نے پہلے یہ پیشین گوئی کی تھی جو شرمناک طور پر ٥ ستمبر ١٨٩٤ء کو

١٣

صفحہ ٣٧٠

غلط ثابت ہوئی کہ آج سے پندرہ ماہ تک مسٹر عبداللہ آتھم بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور میری پیش گوئی کبھی نہ ٹلے گی۔ خواہ زمین و آسمان ٹل جائیں۔ ٥ ستمبر ١٨٩٤ء کو آفتاب نہیں غروب ہوگا۔ جب تک عبداللہ آتھم نہیں مرے گا۔ اگر میری پیش گوئی جھوٹ ہو تو مجھے ذلیل کیا جائے۔ میرے گلے میں رسا ڈال دیا جائے۔ میرا روسیاہ کیا جائے اور مجھے لعنتی سمجھا جائے وغیرہ وغیرہ۔

(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج٦ ص ٢٩٣)

اور اب ٦ ستمبر ١٨٩٤ء کو اسی مرزا نے جو پیش گوئی شائع کی ہے۔ اس کے پورے اندراج سے گریز کر کے صرف اس کا خلاصہ درج کیا جاتا ہے کہ ”مسٹر عبداللہ آتھم نے اپنے دل میں عظمت اسلام اور اسلام قبول کر لیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ ہاں! اب بھی اگر وہ عام مجمع میں اسلام کے خلاف کہہ دے تو وہ ایک سال تک مر جائے گا۔ اگر نہ مرے تو میں ایک ہزار روپیہ اسے ایک سال کے بعد دوں گا۔“

(انوار الاسلام ص ٥،٦، خزائن ج ٩ ص ٥،٦)

ناظرین ! آپ نے مرزا کی پہلی پیش گوئی کے فقرات بغور ملاحظہ فرمائے ہوں گے۔ اب دور اندیشی سے توجہ کے ساتھ خیال فرمائیں کہ جس صورت میں مرزا قادیانی کی پیش گوئی ایسی فاش غلط اور جھوٹی ثابت ہو چکی ہے تو کیوں نہ آپ دعا کریں گے کہ خداوند تعالیٰ تقدس و تعالیٰ ایسے شخص کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرے جس کا مرزا قادیانی مستوجب ہے۔ پس کیوں نہ آپ آمین کہیں اور کیوں نہ خدا کی طرف سے ایسے شخص پر اس کا قہر نازل ہو۔ جس نے کہ اس کے پیغمبر ﷺ کے برخلاف اپنے جھوٹے الہام کے نام سے عام شورش پھیلادی۔ اے خدا تو ایسے مذہبی رخنہ انداز شخص کو دنیا سے ناپید کر اور ضرور کر اور ہماری دعا ہے کہ تو حق پسند ہے۔ چونکہ مرزا نے محض بد نیتی اور جھوٹے الہام کے ذریعہ سے غریب عبداللہ آتھم اور اس کے متعلقین کو پندرہ ماہ تک مشوش اور پرخطر رکھا اس لئے تو اپنے انصاف سے کم سے کم پندرہ ماہ تک اسے نہایت سختی کے ساتھ دنیا سے اٹھالے۔ تا کہ تیری قدرت اور تیرے پیغمبر ﷺ کے سچے طریق کے سیدھے راستہ میں پھر ایسے یا ایسے ٹائپ کے کسی دوسرے مسیح موعود کو رخنہ اندازی کا موقعہ نہ ملے۔ ناظرین ! یہ جو کچھ لکھا گیا ہے۔ مرزا قادیانی کی پہلی پیش گوئی کے جھوٹ ثابت ہونے کی وجہ سے اب ذرا دوسری پیش گوئی کی تکذیب بھی ملاحظہ فرمائیے۔ اے ہے؟ یہ شخص مسلمان ہے اور اے توبہ مسلمانی اسی کا نام ہے؟۔ خدا ایسے مسلمانوں اور ایسی مسلمانی سے بچاوے۔ مرزا کی جدید پیش گوئی کے بعد مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کا ایک خط ہمارے پاس پہنچا ہے۔ جس کا خلاصہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔ وہو ہذا ”میں خدا کے فضل سے تندرست ہوں اور آپ کی توجہ ص ٨١، ٨٢ مرزا قادیانی کی بنائی

١٤

صفحہ ٣٧١

ہوئی کتاب نزول مسیح کی طرف دلاتا ہوں۔ جو میری نسبت اور دیگر صاحبان کی نسبت موت کی پیش گوئی ہے۔ اسے شروع کر کے آج تک جو کچھ گذرا ہے۔ ان کو معلوم ہے اب مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ آتھم نے دل میں اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لئے نہیں مرا۔ خیر ان کو اختیار ہے۔ جو چاہیں سوچیں۔ جب انہوں نے میرے مرنے کی بابت جو چاہا سو کہا اور اس کو خدا نے جھوٹا کیا۔ اب ان کو اختیار ہے جو چاہیں سو تاویل کریں۔ کون کسی کو روک سکتا ہے۔ میں دل سے اور ظاہراً پہلے بھی عیسائی تھا۔ اب بھی عیسائی ہوں اور خدا کا شکر کرتا ہوں۔ جب میں امرتسر میں جلسہ عیسائی بھائیوں میں شامل ہونے کو آیا تھا۔ تو وہاں بعض اشخاص نے پہلے تو ظاہر کر دیا تھا کہ آتھم مر گیا ہے نہیں آئے گا۔ جب مجھے ریلوے پلیٹ فارم پر دیکھا گیا تو کہنے لگے کہ یہ آتھم کی شکل کا ربڑ کا آدمی بنا ہوا ہے۔ انگریز حکمت والے ہیں۔ ربڑ کے آدمی میں کل لگادی ہے۔ ایسی ایسی باتوں کا جواب صرف خاموشی ہے۔ میں راضی و خوشی تندرست ہوں اور ویسے ایک دن مرنا تو ضرور ہی ہے۔ زندگی موت صرف رب العالمین کے ہاتھ میں ہے۔ اب میری عمر ٦٨ سال سے زیادہ ہے اور جو کوئی چاہے پیش گوئی کر سکتا ہے۔

کیوں مرزا قادیانی جی! یہی آتھم صاحب کے اسلام قبول کرنے کا ثبوت ہے اور اسی پر آپ ایک ہزار روپیہ نہیں انعام میں دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی جی! آپ کے سفید بال ہوگئے ہیں۔ اب تک ایسی جھوٹی پیشگوئیوں سے توبہ کرو یہ جھوٹا خضاب بجائے بال سیاہ کرنے کے چہرہ مبارک سیاہ کر رہا ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ آپ سچائی کی مہندی لگا کر دنیا کے تمام لوگوں میں اور علماء دین کے سامنے سرخرو ہو جاتے۔ مگر یہ کب جب آپ جھوٹے مسیح موعود بننے کا دعویٰ نہ کرتے۔ اب تو جو حال جھوٹ بولنے والوں کا چاہئیے وہی آپ کا مناسب بلکہ انسب ہے۔ مرزا قادیانی کی بابت ہم عام لوگوں کو عموماً اور عیسائی صاحبان کی خدمت میں خصوصاً عرض کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی پیش گوئی اگر درست نہیں ہوئی تو اس کا الزام مرزا کی ذات خاص پر آسکتا ہے۔ نہ خدا نخواستہ اسلام کے پاک اور سچے اصول پر، مرزا کی نسبت پہلے ہی انڈیا کے علماء وفضلاء شاید تکفیر کا فتویٰ صادر کر چکے ہیں۔ ایسے شخص کی دروغگوئی کا اثر ہرگز ہرگز اسلام کی سچائی پر کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ سچے مسلمان مرزا قادیانی کی پیش گوئی کو ہمیشہ نفرت اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘

بلفظہ من و عن ختم ہوئی عبارت اخبار وفادار کی۔

(لاہور ماہ ستمبر ١٨٩٤ء منقول از کتاب راست بیانی برشکست قادیانی ص ٥٦)

دوم: مرزا قادیانی کا مرید خاص لودھیانوی (اگرچہ اسی تحریر کے باعث سے اصحاب

١٥

صفحہ ٣٧٢

بدر میں نام نہیں لکھا گیا) میاں الہ دین جلد ساز اخبار نورعلیٰ نور میں بہت شدت کے ساتھ دروغگو ہونا لکھتا ہے۔ تھوڑا سا خلاصہ اس کا بھی پیش ناظرین کرتا ہوں۔

”اب چونکہ اس پیش گوئی کی میعاد گذر کر بارہ تیرہ روز ہوئے اور عبداللہ آتھم عیسائی اب تک زندہ اور بالکل تندرست ہے اور مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار فتح الاسلام میں جو تاویل کی ہے۔ وہ بالکل قابل اطمینان نہیں ہے۔ پس ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ المر یوخذ باقرارہ آدمی اپنی اقرار کے سبب آپ گرفتار ہوتا اور پکڑا جاتا ہے اور ہم مرزا قادیانی کے عقائد جدیدہ یعنی اپنے آپ کو مسیح موعود قرار دینا نہیں مانتے۔ ”ہمارے وہی عقائد ہیں جو پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین فرقہ اہل السنۃ والجماعۃ سے برابر اب تک منقول اور متواتر ہیں۔ والسلام ! العبد کمترین الہ دین جلد ساز لدھیانوی !

(بلفظہ اخبار نورعلیٰ نور مورخہ ١٧؍ستمبر ١٨٩٤ء)

اب میں عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے اشتہار پیش گوئی میں کوئی اگر، مگر کا لفظ نہیں تھا اور نہ اس میں شرط رجوع الی الحق ١؎ کی تھی۔ جیسے کہ اوپر نقل کیا گیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی تاویلات کا پھاٹک کھلا ہے۔ تاویل درست ہو نہ ہو۔ اپنی تحریر کے مطابق ہو نہ ہو۔ مگر غلط ثابت ہونے پر کوئی نہ کوئی تاویل ضرور ہی کر دیں گے اور یہ بھی یاد رہے کہ عبداللہ آتھم کی عمر ٦٨ سال سے زیادہ تھی۔ جس وقت مرزا قادیانی کی پیش گوئی سے بچ رہا تھا۔ اس سے بھی واضح ہے کہ مسٹر آتھم اپنے پاؤں قبر میں لٹکائے بیٹھا تھا۔ آج نہ مرتا کل مرتا۔ مگر افسوس کہ اس وقت نہ مرا کہ ٢؎ مرزا قادیانی کی پیش گوئی سچی ہو جاتی۔ نیز ناظرین کو یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی کی شرط اس بات پر تھی کہ میں مسیح موعود ہوں اور اس بات میں سچا ہوں۔ اسلام کی حقانیت پر شرط نہیں تھی۔ اگر صرف اسلام کے ہی مقابلہ میں ایسی شرط کی جاتی تو یہ ضرور تھا کہ مرزا قادیانی کامیاب ہو ہی

١؎ یہ الہ دین اب بہت خالص مریدوں میں سے ہیں اور اپنی بات سب سے اوپر رکھتے ہیں۔

٢؎ شرط رجوع الی الحق ! یعنی مرزا قادیانی نے اگرچہ (جنگ مقدس ماہ جون ١٨٩٣ء کے ص ٢١٠، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢) میں لفظ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ ہاویہ میں گرایا جائے گا لکھا ہے۔ لیکن اس کے مخالف شرط رجوع الی الحق کو توڑ کر (ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣) میں اس کے بعد اپنے اقرار واثق میں بڑے زور سے وہی لکھتے ہیں۔ جو میں نے اس سے پہلے صفحہ میں درج کیا ہے۔ اس میں کوئی شرط رجوع الی الحق کی نہیں ہے۔ بلکہ پیشین گوئی کی شرط کو مرزا قادیانی کے الہامی اقرار نے جو اس پیش گوئی کے بعد کیا ہے۔ بالکل توڑ کر معدوم کر دیا۔

١٦

صفحہ ٣٧٣

جاتے ۔ مگر انکا دعویٰ ایسا تھا کہ جو خود اہل اسلام کے ہی مخالف اور غلط اور دروغ تھا اس لئے ۔ مرزا قادیانی سخت مایوسی کی حالت میں ناکام رہے ۔ کیونکہ اہل اسلام کی طرف سے تو پہلے ہی بری نظروں سے دیکھے جاتے اور تکفیر کی تشہیر میں نزدیک و دور مشہور تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ مولویوں اور سجادہ نشینوں کی گالیوں سے خبر لی خدا رحم کرے۔

دوم مختصر خلاصہ رسالہ خدا کا فیصلہ

یہ (رسالہ ص ٣٢ سے ٤١، خزائن ج ١١ ص ایضاً) تک ہے۔ اس میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: الف ....... ”جیسا کہ ہم نے کتاب ست بچن میں سکھ صاحبوں کے مخفی چولہ کی تمام گرو کے چیلوں کو زیارت کرا دی ہے ۔ اسی طرح ہم یسوع کے شاگردوں کو بھی ان کے تین مجسمہ خداؤں کے درشن کرا دیتے ہیں اور ان کے سہ گوشہ تثلیثی خدا کو دکھلا دیتے ہیں ۔ چاہے کہ ان کے آگے جھکیں اور سیس نوائیں اور وہ یہ ہے ۔ جس کو ہم نے عیسائیوں کے شائع کردہ تصویروں سے لیا ہے ۔“

(انجام آتھم ص ٣٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

بیٹا یسوع تصویر کی شکل پر ، روح القدس تصویر کبوتر کی شکل پر ، باپ آدم تصویر کی شکل پر ۔ ناظرین! مرزا قادیانی نے اسی (ص ٣٥، خزائن ج ١١ ص ٣٥) پر تین تصویریں بنائی ہیں ۔ جس کے واسطے سخت ممانعت خداوند تعالیٰ و رسول کریم ﷺ کی ہے کہ ہرگز تصویر نہ بنائی جائے ۔ قیامت کو تصویر بنانے والے کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح حدیثوں میں وارد ہے ۔

(دیکھو مشکوٰۃ ص ٣٨٥، باب التصاویر)

پھر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی اپنے لئے متبع سنت نبوی بڑے زور سے لکھتے ہیں اور عمل ان کا بالکل خلاف کتاب و سنت ہے۔ شاید مرزا قادیانی اس کا جواب دیں کہ ہم نے تو عیسائیوں کی ہی کتابوں سے تصویریں دیکھ کر اپنی کتاب میں بھی بنا دی ہیں ۔ کوئی جدید تصویریں نہیں بنائیں ۔ ممکن ہے کہ ناظرین خیال کر بھی لیں ۔ مگر جب کہ ان کی کتابوں میں تصویریں بنی ہوئی ہیں اور وہ روز درشن کرتے ہیں۔ تو مرزا قادیانی کو کون سی ایسی ضرورت سخت پڑی تھی کہ آپ بھی تصویریں بنا کر حکم خدا اور رسول ﷺ کے منکر ہوئے ۔ جب کہ مرزا قادیانی حکم خدا و رسول ﷺ کی مخالفت میں قدم بڑھائے جاتے ہیں اور ان کو ایک ذرہ بھر بھی پروا نہیں ۔ پھر کون شخص یا کون عالم اور مفتی ہے۔ جو مرزا قادیانی کو مرد مسلمان بھی قبول کر سکے ۔ چہ جائیکہ مرد صالح ، الہامی ، مجدد، محدث، نبی، رسول، مسیح موعود، مہدی مسعود منظور کر لے گا ۔ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ علماء و مشائخ و مفتیان عرب و عجم فوراً سنتے ہی ضرور کفر کا فتویٰ عناداً (بوجہ حسد و کینہ اغراض نفسانی کے) لگا

١٧

صفحہ ٣٧٤

دیں گے۔ اس واسطے میں ان کے فتوے کا منتظر نہیں۔ البتہ مرزا قادیانی کی ہی دستاویزات کو پیش ناظرین کرنا ضروری ہوا۔ سنیئے ۔

اتباع ہمارے نبی ﷺ کے ہرگز انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا ۔ چہ جائیکہ راہ راست کے اعلیٰ مدارج بجز اقتداء اس امام الرسل کے حاصل ہو سکیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

قرار دے گا ۔“

(رسالہ تکمیل تبلیغ ص ٢، مصنفہ ١٨٨٩ء ، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٩٠)

(نورالقرآن ص ٤٢، خزائن ج ٩ ص ٤٠٧)

مرزا قادیانی نے تمام اپنی تالیفات میں اس بات کا ادعا کیا ہے کہ ہم کامل متبع رسول اکرم ﷺ کے ہیں ۔ اسی واسطے ہم یہ ہیں اور وہ ہیں۔ اب ان کی دو تین عبارتیں بھی نقل کر دی ہیں ۔ مگر میں پہلے بطور نمونہ کتنی آیات اور احادیث لکھ کر دکھلا چکا ہوں کہ مرزا قادیانی نے ان کی طرف رخ بھی نہیں کیا ۔ پس جو کوئی ایسا کرے اس کے لئے مفتیان شرع متین فتویٰ دیں اور مرزا قادیانی خود اپنی تحریرات کو سامنے رکھ کر قبول کر لیں ۔ مگر امید نہیں کہ مرزا قادیانی کوئی نہ کوئی تاویل نہ کریں۔ مگر افسوس صریح روگردانی کی بھی کوئی تاویل قابل قبول ہے ؟ ۔ نتیجہ ان تصاویر کے بنانے اور احکامات نصی اور احادیث صحیحہ کے انکار کا یہی نکلتا ہے کہ مرزا قادیانی کو آزادی مدنظر ہے ۔ جب عیسائیوں کے کفارہ کی طرح آپ کے ١؂ اگلے پچھلے گناہ معاف ہو گئے ہیں تو یہ تصویریں بنا لینے میں کون سا گناہ ان کے لئے مضر ہو سکتا ہے۔

کئے ۔ کیا یہ کام خدائی کے تھے کہ ساری رات آنکھوں میں سے رو رو کر نکالی۔ پھر بھی دعا منظور نہ ہوئی ۔ ایلی ایلی کہتے جان دی۔ باپ کو کچھ بھی رحم نہ آیا ۔ اکثر پیش گوئیاں پوری نہ ہوئیں۔ معجزات پر تالاب نے دھبہ لگایا۔ فقیہوں نے پکڑا اور خوب پکڑا کچھ بھی پیش نہ گئی ۔ ایلیا کی تاویل میں کچھ عمدہ جواب بن نہ پڑا اور نہ پیش گوئی کو اپنے ظاہر الفاظ پر پورا کرنے کے لئے ایلیا کو زندہ کر کے دکھلا سکا اور لماسبقتنی کہہ کر بصد حسرت اس عالم کو چھوڑا ایسے خدا سے تو ہندوؤں کا خدا رامچندر ہی اچھا رہا ۔ جس نے جیتے جی راون سے اپنا بدلہ لے لیا ۔“

(نور القرآن حاشیہ ص ٢٥، خزائن ج ٩ ص ٣٥٢)

١؂ براہین احمدیہ ص ٥٦١، خزائن ج ١ ص ٦٦٨ حاشیہ

١٨

صفحہ ٣٧٥

ج ....... ’’مریم کا بیٹا ١؎ کشلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔‘‘

(انجام آتھم ص٤١، خزائن ج١١ص ایضاً)

ناظرین! مرزا قادیانی کے کلمات اور الہامات توہین واستہزاء واستخفاف حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف غور فرمادیں کہ حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں یا نہیں۔ اگر ہیں تو یہ بھی سوچ لیں کہ یہ ان کی کیسی توہین وتحقیر ہے۔ نعوذ باللہ منہا کسی مسلمان کی طرف سے ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مسلمانوں کے عقائد میں ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کا بیٹا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سواء (جو اولوالعزم پیغمبر ہیں) کوئی نہیں ہے اور مسلمانوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ پیغمبران علیہم السلام میں سے کسی پیغمبر یا نبی علیہ السلام کی توہین کفر ہے۔ کیا یہی قرآن شریف کی تعلیم اور احادیث کی تہذیب اور اپنے الہاموں کی تعمیل ہے؟۔ کہ آیت شریف ’’ولا تسبوا الذین (انعام:١٠٨)‘‘ کو کیسا نسیاً منسیاً کر دیا۔ کسی طرف بھی کوئی خیال نہیں کیا۔ عداوت اور غصہ پادریوں کے ساتھ ہے اور توہین وگالیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو توبہ! توبہ!! توبہ!!! نقل کفر کفر نباشد!

مرزا قادیانی شاید یہ تاویل کریں کہ مریم ایک تیلن قادیان میں ان کے محلہ میں رہتی ہے۔ تیل وغیرہ کے جھگڑے میں اس کی بابت لکھا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ مخاطب اس کے عیسائی ہیں۔ تیلی نہیں۔ افسوس! ادھر تو مریم کا بیٹا کشلیا کا بیٹا ہے اور ادھر خود مرزا قادیانی ابن مریم ہیں؟۔ اس جگہ اتنا ہی لکھا گیا۔ باقی جو فحش اور گندی گالیاں مرزا قادیانی نے اپنے ضمیمہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کو منہ پھاڑ پھاڑ کر دی ہیں۔ ان کو اپنی جگہ ملاحظہ فرمادیں۔

سوم مختصر خلاصہ رسالہ دعوت قوم

یہ رسالہ ص٤٥ سے ٧٢، خزائن ج١١ص٤٥ تا ٧٢ تک ہے۔ اسی میں اشتہار مباہلہ بھی درج ہے۔

الف ....... ’’دجال اکبر پادری لوگ ہیں اور یہی قرآن اور حدیث سے ثابت ہے اور مسیح موعود کا کام ان کو قتل کرنا ہے۔‘‘

(انجام آتھم ص٤٧، خزائن ج١١ص ایضاً)

(ص٥١، خزائن ج١١ص ایضاً) سے الہامات جو اکثر آیات قرآنی ہیں۔ مرزا قادیانی پر بذریعہ وحی القاء ہوئے ہیں۔ جن کا ترجمہ اردو بہت اختصار وانتخاب کے ساتھ بطور نمونہ درج کیا ۔

١؎ کشلیا راجہ رام چندر جی کی ماں کا نام ہے۔ جس کو ہندو لوگ بعض پرمیشر اور بعض اوتار اور راجہ جانتے ہیں۔

١٩

صفحہ ٣٧٦

جاتا ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کو نبی پیغمبر مرسل کے خطابات اور مراتب عطاء ہوئے ہیں۔ گویا دوبارہ نزول قرآن شریف آپ پر شروع ہو گیا ہے۔

(ص ٥١)

سے محبت کرے۔

(ص ٦٠،٥٢)

(ص ٥٢)

(ص ٥٢)

(ص ٥٢)

(ص ٥٢)

(ص ٥٣)

(ص ٥٥)

(ص ٥٥)

(ص ٥٥)

(ص ٥٥)

(ص ٥٥)

(ص ٥٥)

(ص ٥٦)

(ص ٥٧)

(ص ٥٨)

(ص ٦٠،٥٨)

(ص ٥٩)

٢٠

صفحہ ٣٧٧

(ص ٥٩)

(ص ٥٩)

اکٹھے ہوں۔ پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔

(ص ٦٠)

(ص ٦٠)

(ص ٦٠)

(ص ٦١)

ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترا۔ (نعوذ باللہ اوتار ہندوان) اس کا نام عمانوایل ہے۔

(ص ٦٢، ملاحظہ کریں خزائن ج ١١ ص ٦١ تا ٦٢)

”یہ کسی قدر نمونہ ان الہامات کا ہے۔ جو وقتاً فوقتاً مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور بھی بہت سے الہامات ہیں۔ مگر خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے لکھا ہے۔ وہ کافی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ خدا کا مامور، خدا کا امین، خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ۔ اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

ناظرین! غور فرمائیے گا کہ ان الہامات و تحریرات مندرجہ بالا مرزا قادیانی بہادر میں کوئی پہلو ایسا نکال سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی پیغمبری کا دعویٰ کھلم کھلا نہیں کرتے؟۔ کیا پیغمبران علیہم السلام کے القابات سے ملقب نہیں ہوئے؟۔ کیا خدا کا فرستادہ رسول نہیں؟۔ کیا خدا کا مامور پیغمبر نہیں؟۔ کیا خدا کا امین نبی نہیں؟ کیا پیغمبر وقت پر ایمان لانا نہیں چاہئیے؟۔ پیغمبر علیہ السلام کا دشمن جہنمی نہیں؟۔ ان دعاوی میں کوئی شبہ ہے کہ جس سے آپ مرزا قادیانی کو پیغمبر یا نبی یا رسول نہیں کہہ سکتے؟۔ کیا جس قدر لوگ (گویا کلہم) مسلمان جو مرزا قادیانی پر ایمان نہیں لائے۔ نعوذ باللہ منہا کافر نہیں ہیں؟۔ پھر تعجب یہ ہے کہ جب کوئی مرزا قادیانی کو کہتا ہے کہ تم پیغمبری اور نبوت کا دعویٰ کرتے ہو تو فوراً کہتے ہیں کہ ”ہم بھی نبوت کے مدعی پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٧)

لیکن میں مرزا قادیانی کی ہی تحریرات و الہامات سے ان کی نبوت ادعائی کے اثبات کو پیش ناظرین کرتا ہوں لکھتے ہیں۔

٢١

صفحہ ٣٧٨

الف....... ”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عاجز خدا کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے....... کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسولوں اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور مغز شریعت اس پر کھولا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے....... اپنے تئیں بآواز بلند ظاہر کرے اور اس سے انکار کرنے والا ایک حد تک مستوجب سزا ٹھہرتا ہے اور نبوت کے معنی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں۔ اگر یہ عذر پیش ہو کہ باب نبوت مسدود ہے اور وحی جو انبیاء پر نازل ہوئی ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

ب....... (رسالہ شحنہ حق کے صفحہ ابتدائی خزائن ج ٢ ص ٤٢٦) پر جبکہ مرزا قادیانی کو قادیان والوں نے سخت تنگ اور بے عزت کیا تو اظہار نبوت اس طرح پر کر کے لکھتے ہیں کہ ”بخدا....... حضرت مسیح کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔“

ج....... ”جو شخص مجھے بے عزتی سے دیکھتا ہے۔ وہ اس خدا کو بے عزتی سے دیکھتا ہے۔ جس نے مجھے مامور کیا اور مجھے قبول کرتا ہے۔ وہ اس خدا کو قبول کرتا ہے۔ جس نے مجھے بھیجا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣٢٠)

د....... ”اس عاجز کا نام خدا نے امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

ہ....... مرزا قادیانی کی کتاب (آریہ دھرم کے اخیر نوٹس میں ص ٩، خزائن ج ١٠ ص ٨٨) اپنا نام اس لقب سے لکھتے ہیں۔ ”حضرت اقدس امام انام مہدی و مسیح موعود مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام۔“

ناظرین! اب انصاف فرمائیے گا کہ پیغمبری، رسالت، نبوت میں کچھ کسر باقی ہے؟۔ پھر ایسی ایسی وضعی لعنتیں کس پر ہوئیں۔ مگر مرزا قادیانی کو ان لعنتوں پھٹکاروں اور گالیوں کی پروا نہیں۔ بلکہ وہ اس کو عین تہذیب سمجھتے ہیں۔ جب کہ مرزا قادیانی کو ابتداء سے ہی ایسی عادت ہے تو اس کے جواز کے واسطے قرآن شریف پر ہی الزام لگا کر اس طرح پر لکھتے ہیں۔ نقل کفر کفر نباشد!

٢٢

صفحہ ٣٧٩

الف ....... ”قرآن شریف جس آواز بلند سے سخت زبانی کے طریق کو استعمال کر رہا ہے ۔ ایک غائت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا ۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے ۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے ۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٦، خزائن ج ٣ ص ١١٥)

ب ....... ”ایسا ہی ولید بن مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٧ حاشیہ ، خزائن ج ٣ ص ١١٦)

توبہ ، نعوذ باللہ منہا ! یہ عقیدہ مرزا قادیانی کو ہی نصیب ہو کہ قرآن شریف میں بد تہذیبی اور گندی گالیاں بھری پڑی ہیں ۔ کسی مسلمان سے خداوند کریم ایسی اہانت کلام الٰہی کی نہ کرائے ۔ جس سے مسلمانی سے خارج ہو جائے ۔ مفتیان شرع اس گستاخی اور اہانت قرآن شریف کلام پاک پر مرزا قادیانی کی نسبت خود فتویٰ دیں گے ۔ خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو بھی ہدایت بخشے ۔ اگر اس کی مشیت ہو ۔ پھر مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ : ”اب اے مخاطب مولویو اور سجادہ نشینو ! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اگرچہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی ہے اور فرقہ قلیلہ ہے اور شاید اس وقت تک چار ہزار پانچ ہزار سے زیادہ نہیں ہوں گی ۔“

(انجام آتھم ص ٦٤، خزائن ج ١١ ص ٦٤)

ناظرین! مرزا قادیانی کے حافظہ کو ملاحظہ فرمائیے گا کہ چار پانچ ہزار کی تعداد اسی کتاب میں درج کی ہے اور پھر اسی کتاب کے ضمیمہ میں ہفتہ عشرہ کے بعد آٹھ ہزار سے زیادہ لکھ دی ہے ۔ جیسے لکھتے ہیں کہ ” اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جان فشاں ہیں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠ حاشیہ)

پھر لکھا ہے کہ ”اب خدا کے فضل سے آٹھ ہزار کے قریب ہیں ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٣٢٠ حاشیہ)

لیکن (ص ٤١ سے ٤٤ تک ضمیمہ انجام آتھم خزائن ج ١١ ص ٣٢٥ تا ٣٢٨) میں کل فہرست اپنی جماعت کے تین سو تیرہ لکھی ہے ۔ ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کل اختلافات کی کوئی تاویل گھڑیں گے ۔ اس کی بابت ضمیمہ کے خلاصہ میں بھی لکھا جائے گا ۔ فانتظره!

ج ....... ”میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی مہدی کا منتظر۔“

(انجام آتھم ص ٦٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٢٣

صفحہ ٣٨٠

حضرات ناظرین! مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ بوقت ظہور مہدیؑ ونزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کفار ودجال سے جہاد ہوگا۔ جس میں اکثر افواج کام آئیں گی۔ اس بات کو مرزا قادیانی نے تمام اہل اسلام کے عقائد کی مخالفت میں توہیناً، استہزاءً واستخفافاً حضرت مہدیؑ وحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خونی کے لفظ اور لقب سے ملقب کیا ہے۔ اسی اعتقاد سے جہاد، غزاء، سریہ وغیرہ حضرت رسول خدا ﷺ وخلفاء راشدین وصحابہ مہدیین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو بھی کشت وخون سمجھ کر ان کو بھی نعوذ باللہ منہا خونی پیغمبر اور خونی خلفاء سمجھا جاتا ہے۔ مفتیان شرع ذرہ اس طرف بھی توجہ فرمائیے گا۔ توبہ! توبہ!! توبہ!!!

وجہ اس کی یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے میں اب تک کوئی جرأت یا حوصلہ نہیں دیکھتے اور نہ کچھ امید رکھتے ہیں کہ جنگی کارروائی کریں۔ اگرچہ جماعت کو کبھی کبھی فئہ قلیلہ بیان کر کے لوگوں سے ایک لاکھ فوج کی درخواست کرتے ہیں اور پانچ ہزار سپاہی منظور ہوتے ہیں۔ جیسے مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں۔ ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے۔ تب میں نے اس شخص کو جو زمین پر بیٹھا تھا۔ مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ مگر وہ چپ رہا۔ تب میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا۔ اسے میں نے مخاطب کر کے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ وہ بولا کہ ایک لاکھ فوج نہیں ملے گی۔ مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔ تب میں نے دل میں کہا کہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں۔ پر اگر خدا چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پا سکتے ہیں۔ اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی۔ کم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن اللہ“

(ازالہ اوہام ص ٩٧، ٩٨، خزائن ج ٣ ص ١٤٩)

ناظرین! ذرہ مرزا قادیانی سے دریافت تو فرمائیے گا کہ ایک لاکھ فوج کی ضرورت کس کے واسطے ہوئی؟۔ مگر افسوس درخواست ایک لاکھ فوج کی دو انسانی صورتوں سے کی جاتی ہے اور صرف پانچ ہزار ہی سپاہی منظور ہوتے ہیں۔ یہ درخواست ١٣٠٨ھ میں جس کو عرصہ سات سال کے قریب گذر گیا ہے کی تھی۔ اس وقت صرف ٧٥ ہی سپاہی لنگڑے، لولے، اندھے اور اس وقت ہی دعویٰ صلیب کے توڑنے کا بھی کیا تھا اور دجال پادریوں کے قتل کا۔ مگر استعارات سے اور اس وقت یہ درخواست بھی ایک لاکھ فوج کی کی گئی تھی۔ مگر افسوس منظور نہ ہوئی۔ ورنہ ضرور تھا کہ غزوہ کر کے پادریوں کو قتل کرتے اور صلیب کو توڑتے اور اپنے دعوے کی تصدیق میں مسلمانوں پر بھی زور ڈالتے۔ اسی خیال سے اس رسالہ انجام آتھم میں اپنی جماعت کی تعداد چار یا پانچ ہزار بھی لکھی

٢٤

صفحہ ٣٨١

ہے۔ اور اس کے ضمیمہ میں آٹھ ہزار تک لکھ کر اپنا رعب دکھلایا ہے کہ جس سے گورنمنٹ کو بھی خیال ہو جائے۔ مگر افسوس یہ تعداد محض خیالی اور دماغی ہی ہے۔ کیونکہ جب ضمیمہ میں فہرست لکھنے بیٹھے تو صرف تین سو تیرہ کے ہی نام درج کئے اور ان میں بھی بہت سے مردوں (فوت شدہ) کے نام لکھ کر تعداد پوری کی۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ اس قدر فوج مرزا قادیانی کی معہ مردوں کے ہے۔ جو درج فہرست کر دی ہے۔ یوں تو مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”ہم گورنمنٹ کے بڑے خیر خواہ ہیں۔ ہمارے ١؂ باپ نے گھوڑے دیئے، آدمی دیئے۔ مگر جب یہ پادری لوگ جو گورنمنٹ حال کے

١؂ ہمارے باپ نے گھوڑے دیئے...... الخ! (مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٠٥، ١٠٦) مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار اسلامی انجمنوں کی خدمت میں التماس ضروری کے صفحہ اول الف۔ (مشمولہ براہین احمدیہ حصہ سوم ص الف، خزائن ج١ ص١٣٨) میں یوں لکھا ہے کہ ”غدر ١٨٥٧ء میں ہمارے والد صاحب نے پچاس گھوڑے اور پچاس مضبوط لائق سپاہی بطور مدد کے سرکار میں نذر کئے۔ ملخصاً! یہ ایسا لکھنا مرزا قادیانی محض جھوٹ ہے جیسے کہ مرزا کے والد کے دوست مولوی عبدالحکیم بن امان اللہ ساکن دھرمکوٹ رندھاوا تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور اپنے رسالہ تحفہ مرزائیہ میں جو ١٣٠٤ھ میں تالیف کیا تھا۔ اس طرح پر لکھتے ہیں۔ ”مرزا غلام مرتضیٰ صاحب والد غلام احمد قادیانی ممدوح کے سکھوں کے عہد میں واسطے تلاش معاش راہی کشمیر ہو کر بسواری ایک چھوٹے سے ٹٹو بوز رنگ کے راقم آثم کے پاس بمکان دھرمکوٹ رندھاوا وارد فرودکش ہوئے۔ ماحضر پیش کیا گیا۔ یہاں سے منزل بمنزل خطہ کشمیر میں پہنچ گئے۔ چونکہ نوکری کی تلاش تھی مگر میسر نہ ہوئی۔ آخر الامر جمعدار محمد بخش کے ذریعے دھرمکوٹی کے پاس وہاں واسطے تعلیم اس کے فرزندان مسمیان پیر بخش و امیر بخش کے بمشاہرہ پانچ روپیہ اور نان نفقہ کے چند مدت گزاری۔ اتفاقاً سردار میہان سنگھ صوبہ کشمیر فوت ہو گیا۔ تو وہ جمعدار اور مرزا صاحب واپس تشریف لائے اور پھر شہزادہ شیر سنگھ کے زمانہ میں پھر کشمیر کو گئے اور واپس آگئے۔ شیر سنگھ بہادر مرزا صاحب (والد مرزا قادیانی) سے سخت ناراض ہو گئے تو مرزا صاحب اور قاضیان تھانہ دار طالب پورہ کو علیحدہ کر دیا۔ مرزا صاحب اپنے گھر موضع قادیان میں آکر پیشہ طبابت میں مشغول ہوئے۔ پھر ڈپٹی گوپال سہائے سے مرزا صاحب کی دوستی ہوگئی۔ سرکار انگریزی کے وقت میں ملکیت آراضی قاضیان مغل کی ان کے نام کر دی۔ وقت مفسدہ دہلی تو مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی والد مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے پاس سے ایک سوار بھی نوکر رکھ کر مدد سرکار نہیں دی اور اس وقت ان کے پاس فقط (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)

٢٥

صفحہ ٣٨٢

ہم مذہب پیرومرشد اور بزرگ عیسائی ہیں۔ ان کو دجال مقرر کیا گیا ہے اور ان کو قتل کے لئے آپ مسیح موعود بنتے ہیں۔ تو پھر گورنمنٹ کی خیر خواہی کیسی؟۔ کیا گورنمنٹ کے پیرومرشد کا دشمن گورنمنٹ کا دوست ہوگا ہرگز نہیں ۔ کیا گورنمنٹ کے بزرگ فرقہ کا دشمن اور قاتل گورنمنٹ کا دشمن اور قاتل نہیں؟۔ ضرور ہے ضرور ہے۔ مگر افسوس تو اتنا ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس ایک لاکھ فوج نہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی کے ہاتھ دیکھتے اور یہ بھی یاد رہے کہ جس وقت مرزا قادیانی کے پاس پانچ ہزار سپاہی بھی ہوگئے۔ اسی روز انہوں نے اپنے الہام کم من فئۃ الخ کے مطابق ضرور جنگ کرنا ہے اور فتح کی خوشی کے ارادہ پر اپنے الہام کے پورے اور سچا ہونے پر زور دینا ہے۔ خواہ کسی موت سے مریں۔ مگر مجھے یہ امید موہوم بھی معلوم ہوتی ہے۔ اب تو میرے خیال میں چیونٹی کو پر لگ گئے ہیں اور وقت قریب آ گیا ہے۔

د...... مرزا قادیانی نے اپنے مخالف مولویوں اور سجادہ نشینوں کے نام (ص ٦٩ سے ٧٢،خزائن ج ١١ ص ایضا تک اور ٢٨٢،خزائن ج ١١ ص ایضا) پر درج کئے ہیں۔ مولوی صاحبان مقلدین

(بقیہ حاشیہ گزشتہ صفحہ) ایک گھوڑی چھوٹی سی سرخ اپنے عملداری تھی اور مفسدہ سے پانچ یا چھ ماہ اولاً مرزاغلام قادر خلف الرشید تھانہ داری دنیا نگر سے معزول ہو کر بے نوکر پیچھے پیچھے عملہ ضلع کے پھرتے تھے اور راقم الحروف ان دنوں دنیا نگر میں مدرس تھا۔ اگر مرزا صاحب کو توفیق مدد دہی سرکار کی تھی تو ان کا خلف الرشید کیوں مارا مارا پھرتا تھا۔ فرضاً اگر سرکار کو اپنے رسالہ سے مدد دی تھی تو دفتر شاہی فوجی میں پتہ ہوگا۔ اس کے صلہ میں کوئی انعام یا جگیر ملی ہوگی۔ اس وقت سرکار عام نوکر رکھتی تھی۔ اگر قادیان کے دس پندرہ آدمی نوکر ہوئے ہوں تو کیا عجب ہے۔‘‘ کہاں مرزا قادیانی کے والد کا پانچ روپیہ ماہوار پر لڑکے پڑھانے پر نوکر ہونا۔ پھر اس سے بھی برطرف ہونا اور کجا پچاس سوار بھرتی کر کے سرکار کو مدد دینا؟ محض جھوٹ ہے۔ اگر تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر یہ سوال ہے کہ مرزا قادیانی کے خیالات اپنے والد کے مطابق ہیں؟۔ جواب بھی ہوگا کہ ہرگز نہیں ۔ جب باپ نے ایسی حالت میں گورنمنٹ کی مدد کی تو اب مرزا قادیانی باوجود صاحب جائیداد ہونے کے کون سی مدد کی؟ ۔ ہاں رعایا انگلشیہ میں فساد ڈلوانے اور ایک دوسرے کو جانی دشمن بنانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ یوں یہی رعایا کا دشمن بادشاہ کا دشمن ہوتا ہے۔ ٢ پادری لوگ...... الخ ! گورنمنٹ عالیہ بھی عیسائی مذہب رکھتے ہیں اور پادری صاحبان بھی عیسائی مذہب کے وارث ہیں اور گورنمنٹ کے پیرو مرشد ۔ پس دوست کا دوست ہوتا ہے اور دوست کا دشمن دشمن مسلمہ ہے۔

٢٦

صفحہ ٣٨٣

وغیر مقلدین تعداد میں پچاسی ہیں اور سجادہ نشین صاحبان انچاس۔ کل ایک سو چونتیس ہیں۔ جو ہندوستان اور پنجاب میں مشہور اور معروف ہیں۔ سب کو ایک ہی رستہ سے ہانکا ہے اور بہت سی لعنتیں دے دے کر مباہلہ کے لئے طلب کیا ہے اور لکھتے ہیں کہ : ”میں پھر ان سب کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرر کر کے جلد میدان مباہلہ میں آئیں ۔ اگر نہ آئے اور نہ تکفیر اور تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے ۔‘‘

(انجام آتھم ص ٦٩ ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

حاضر ہو اور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے ۔‘‘

(انجام آتھم ص ٦٧ ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

طریق سے میرے ساتھ مباہلہ نہ کرے اور نہ تکذیب سے باز آئے۔ وہ خدا کی لعنت فرشتوں کی لعنت اور تمام صلحا کی لعنت کے نیچے ہے۔ وما علی الرسول الا البلاغ !‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣ حاشیہ)

ناظرین! مرزا قادیانی نے مباہلہ کی درخواست پر کس قدر مخالفین کو لعنتیں دی ہیں؟۔ لیکن پہلے اس سے جو کچھ مرزا قادیانی اپنے غالی عقائد بیان کر چکے ہیں۔ ان کو برائے ملاحظہ و تازگی حافظہ مرزا قادیانی پیش کرتا ہوں۔ وھو ھذا!

سے نکلتا ہے کہ مسلمانوں کا باہم مباہلہ جائز ہے۔ مگر یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ ابن مسعود نے اپنے اس قول سے رجوع نہیں کیا۔ حق بات یہ ہے کہ ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا۔ نبی اور رسول تو نہیں تھا۔ اس نے جوش میں آکر غلطی کھائی تو کیا اس کی بات کو ان ھو الا وحی یوحٰی میں داخل کیا جائے ۔‘‘

(ازالۃ اوہام ص ٥٩٦ ، خزائن ج ٣ ص ٤٢١، ٤٢٢)

یہاں مرزا قادیانی نے کمال تعلی کی ہے اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں میں مباہلہ نہیں ہونا چاہئے اور ناجائز ہے اور ساتھ ہی حضرت ابن مسعود صحابی کی کیسی بے ادبی کی ہے؟ کہ ان کے نام پر کوئی کلمہ تعظیم نہیں لکھا اور نہ کوئی کلام میں ادب ملحوظ رکھا۔ بلکہ لکھتے ہیں کہ ”ابن مسعود ایک معمولی انسان تھا اور اس نے جوش میں آکر غلطی کھائی۔ جو ماننے کے قابل نہیں ۔‘‘ حضرت ابن مسعود صحابی کو اپنے مقابلہ میں معمولی انسان سمجھتے ہیں اور کیسے گستاخانہ الفاظ سے تحریر

٢٧

صفحہ ٣٨٤

کرتے ہیں اور خود غرور سے اس سے اول صفحہ پر لکھتے ہیں کہ ”اس عاجز کو آدم اور خلیفۃ اللہ کہا۔ انی جاعل فی الارض خلیفہ“

(ازالہ اوہام ص ٦٩٥، خزائن ج ٣ ص ٤٧٥)

اس کے بعد ١٨٩٣ء کو مرزا قادیانی کتاب آئینہ کمالات میں اس طرح اپنا الہام لکھتے ہیں کہ: ”اور مباہلہ کے بارے میں جو کلام الٰہی میرے پر نازل ہوا وہ یہ ہے کہ نظر اللہ الیک معطرا وقالوا اتجعل فیها من یفسد فیها قال انی اعلم ما لا تعلمون ٠ قالوا کتاب ممتلئ من الکفر والکذب قل تعالوا ندع ابنائنا وابناء کم ونساء نا ونساء کم وانفسنا وانفسکم ثم نبتهل فنجعل لعنت اللہ علی الکاذبین“ یعنی خدا تعالیٰ ایک معطر نظر سے تجھ کو دیکھا اور بعض لوگوں نے اپنے دلوں میں کہا اے خدا کیا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کردے گا کہ دنیا میں فساد پھیلائے تو خدا نے ان کو جواب دیا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہے۔ سو ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم مع اپنی عورتوں اور بیٹوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں۔ پھر ان پر لعنت کریں جو کاذب ہیں۔“

(کتاب آئینہ کمالات اسلام ص ٢٦٤،٢٦٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

”یہ وہ اجازت مباہلہ ہے جو اس عاجز کو دی گئی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٦٦ خزائن ج ٥ ص ایضاً)

اب مندرجہ بالا اجازت اور حکم کے پانچ سال بعد یہ مباہلہ کا اشتہار نہایت سختی کے ساتھ شائع کیا اور عبارات تحریف قرآن شریف اور حضرت آدم علیہ السلام اور فرشتوں کی بات چیت جو قرآن شریف میں ہے اور ادھر ادھر الفاظ قرآنی اکٹھے کرکے اور ازالہ اوہام میں اپنے تئیں آدم علیہ السلام اور خلیفۃ اللہ قرار دے کر اتنے عرصہ بعد یہ الہام ہوا اور آیت مباہلہ جو حضرت رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی تھی۔ مرزا پر بھی کئی بار نازل ہوئی۔ مگر افسوس پہلے مباہلہ کو ناجائز اور خلاف شرع لکھ کر حضرت ابن مسعودؓ کی سخت بے ادبی کی اور عرصہ پانچ سال کا ہوا کہ آیت مباہلہ اور حکم نازل ہوا۔ مگر اس کی تعمیل نہیں کی گئی۔ اب پھر وہی الہام ہوا اور آیت نازل ہوئی جس کو مرزا قادیانی نے اپنے (انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ٦٠) میں لکھا ہے۔ اور تاکیدی لعنتیں دی گئیں کہ ”اگر کوئی مولوی یا شیخ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوگا۔ اس پر لعنت ہے اور وہ لعنتوں کے نیچے مرے گا۔“ لیکن اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد بہت سے علماء نے

٢٨

صفحہ ٣٨٥

آپ کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا ۔ مگر آپ نے اس طرف رخ بھی نہ کیا ۔ حضرت مولانا مولوی محمد ابوعبدالرحمن غلام دستگیر ہاشمی صاحب دوم شعبان ١٣١٤ھ سے بعد لکھنے منظوری مباہلہ کے مع اپنے دو صاحبزادوں کے لاہور میں تشریف لے آئے ۔ پہلے ١٥؍ شعبان مقرر کی۔ مگر مرزا قادیانی لاہور میں حاضر نہ ہوئے ۔ پھر انہوں نے ٢٥؍ شعبان مقرر کر کے لکھ بھیجا۔ پھر بھی مرزا قادیانی لاہور میں بمیدان مباہلہ حاضر نہ ہوئے ۔ بعد اس انتظار کے مولانا صاحب چار پانچ روز تک امرتسر میں مرزا قادیانی کے منتظر رہے ۔ حتیٰ کہ تمام شعبان المبارک اپنے گھر قصور سے علیحدہ رہ کر لاہور اور امرتسر میں مباہلہ کے لئے حاضر رہے ۔ مگر افسوس مرزا قادیانی نے باوجود ایسی لعنتی تاکیدوں خود کے بھی اس طرف رخ نہ کیا ۔ جب یقین ہو گیا کہ مرزا قادیانی محض اشتہاری ہیں اور حاضری مباہلہ سے انکاری اور فراری ہیں ۔ تب مولانا نے اشتہار شائع کر دیا ۔ مرزا قادیانی لاہور میں مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوئے ۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے ادھر ادھر کی باتیں میعاد مباہلہ ایک سال نزول عذاب کے واسطے لگا کر اخیر پر ایک جھوٹ کا الزام اس طرح پر لگا دیا کہ مولوی صاحب یعنی مولوی غلام دستگیر صاحب کے نزدیک ضرورت کے وقت کذب کا استعمال جائز ہے۔ بھلا ہم حضرت موصوف سے دریافت کرتے ہیں کہ کب اور کس وقت میرے دوست مولوی حکیم فضل الدین صاحب آپ سے ڈر کر قادیان میں بھاگ آئے تھے ۔‘‘

(اشتہار مطبوعہ ٢٠؍ شعبان ١٣١٤ھ، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٢٩٩)

اشتہار حضرت مولانا مطبوعہ ١٦؍ شعبان مذکورہ جو اس وقت سامنے رکھا ہے دیکھا گیا۔ اس میں ہرگز یہ الفاظ ’’حکیم فضل دین مجھ سے ڈر کر قادیان میں بھاگ گئے تھے‘‘ درج نہیں ۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی نے خود عمداً کذب کا استعمال کیا اور ناحق بہتان لگایا ۔ مولانا صاحب کے اشتہار کے الفاظ اس کے متعلق صرف یہ ہیں ۔ حکیم مذکور (فضل دین) بغیر تصفیہ ترک میعاد کے قادیان کو چلا گیا۔ فرمائیے وہ الفاظ ڈر کر قادیان کو بھاگ آئے ۔ کہاں درج ہیں ؟ ۔ افسوس! مرزا قادیانی ذرہ ذرہ بات پر جھوٹ اور کذب کے استعمال سے اجتناب نہیں کرتے تو باقی اہم اعلیٰ معاملات پر تو خدا حافظ !!

ناظرین ! ذرہ انصاف فرمائیے گا کہ مرزا قادیانی نے ایسی سخت تاکیدیں اور مباہلہ نہ کرنے والوں کو خدا تعالیٰ اور فرشتوں اور تمام صلحاء کی لعنتیں لکھی ہیں ۔ جب علماء دین مباہلہ کے واسطے اپنا گھر بار چھوڑ کر ایک دارالسلطنت میں دوبارہ سہ بارہ اشتہار دے دے کر بلواتے

٢٩

صفحہ ٣٨٦

ہیں تو مباہلہ شرعی سے گریز کر کے اس طرف رخ بھی نہیں کرتے ۔ پھر فرمائیے یہ کل لعنتیں کس کی طرف عود کرتی ہیں؟ ۔

چہارم مختصر خلاصہ مکتوب عربی بنام علماء ہند و مشائخ ہذا البلاد وغیرہ

یہ مکتوب عربی مع ترجمہ فارسی مرزا قادیانی نے ص ٧٣ سے شروع کر کے نہایت طوالت کے ساتھ ایک ہی بات کا چند بار اعادہ کر کے (ص ٨٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً) تک پہنچایا ہے۔ علماء و مشائخ کی سخت درجہ کی توہین کر کے اور بری گندی گالیاں دی ہیں۔ جن کے دھرانے کی ضرورت نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے بہت زبردستی کی ہے اور دور تک نوبت پہنچائی ہے اور نو اشخاص علماء کی طرف اشارہ کر کے دس علماء ہند کے نام درج کئے ہیں اور سب علماء کے علاوہ ان کو اپنی پاک زبان سے بڑھ کر گالیوں کی خلعت عنایت کی ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں۔ جنہوں نے بلا دریافت اصلیت کے مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ اور ظاہری طرز اور ادعائی اتقاء کی تعریف کی تھی اور مرد صالح لکھ دیا تھا اور جب مرزا قادیانی کی اصلیت معلوم ہوگئی تو دجال اور کافر لکھا تھا۔ خلاصہ مکتوب عربی کا نہایت اختصار کے ساتھ ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ اس میں بھی مرزا قادیانی نے اپنے الہامات درج کئے ہیں۔ وھو ھذا!

ایک مادہ کے دو جوہر ہیں۔

(انجام آتھم ص ٧٥، خزائن ج ١١ ص ٧٥)

(انجام آتھم ص ٧٦، خزائن ج ١١ ص ٧٦)

پیشین گوئیوں کی صحت اسی پر ہے؟۔

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)

کے واسطے بھیجا ہے۔

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)

طرف رسول بنا کر بھیجا۔

(انجام آتھم ص ٧٩، خزائن ج ١١ ص ٧٩)

نہیں آئیں گے۔ خدا نے حکم موت کا اس پر جاری کیا اور پھر کر آنے سے روک دیا اور وہ مسیح میں ہی ہوں۔

(انجام آتھم ص ٨٠، خزائن ج ١١ ص ٨٠)

٣٠

صفحہ ٣٨٧

(انجام آتھم ص ١١١، خزائن ج ١١ ص ١١١)

(انجام آتھم ص ١١٤، خزائن ج ١١ ص ١١٤)

(انجام آتھم ص ١٤٢، خزائن ج ١١ ص ١٤٢)

(انجام آتھم ص ١٤٩، خزائن ج ١١ ص ١٤٩)

اگر نہ کریں اور ہرگز نہ کریں گے۔

(انجام آتھم ص ١٥٥، خزائن ج ١١ ص ١٥٥)

(انجام آتھم ص ١٧٤، خزائن ج ١١ ص ١٧٤)

(انجام آتھم ص ١٧٦، خزائن ج ١١ ص ١٧٦)

کر دیا ہے۔

(انجام آتھم ص ١٨١، خزائن ج ١١ ص ١٨١)

کے نام حسب ذیل ہیں۔

(ابتدائے ص ٢٣٦ لغایت ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

١۔ یہ استہزاء ہے جو کفر ہے۔

٣١

صفحہ ٣٨٨

اخیر پر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی نسبت الفاظ مندرجہ ذیل لکھے ہیں۔ "اخرهم شيطان الاعمى والغول الاغوى يقال له رشيد احمد الجنجوهى وهو شقى كالا مروهى ومن الملعونين"

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ٢٥٢)

(انجام آتھم ص ٢٦٤، خزائن ج ١١ ص ٢٦٤)

(انجام آتھم ص ٢٧٥، خزائن ج ١١ ص ٢٧٥)

خلاصہ ختم ہوا نظر ثانی شروع ہوئی

حضرات ناظرین! یہ سترہ نمبر تک مکتوب عربی کا خلاصہ مختصر طور پر پیش کر کے جوابات عرض کرتا ہوں۔ بغور ملاحظہ فرمائیے۔

مریم ایک مادہ کے دو جوہر ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے کوئی ترکیب نہیں بتلائی کہ کیونکر؟۔ حضرت مسیح علیہ السلام حضرت مریم علیہا السلام کے فرزند تھے۔ کیا آپ کی والدہ کا نام بھی مریم ہے؟۔ (اگرچہ مجھے نام معلوم ہے۔ لیکن تہذیب بتلانے یا لکھنے سے روکتی ہے۔) پھر آپ تو خود ہی مریم بھی ہیں۔ اس صورت میں آپ عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہو سکتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو انیس سو سال کا عرصہ ہوا پیدا ہوئے تھے اور آپ اب ١٢٥٩ھ میں یہ تفاوت کیسے اور کیوں؟۔ آپ کے والد کا نام مرزا غلام مرتضیٰ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بے باپ پیدا ہوئے۔ اگر چہ آپ نے بھی سرسید احمد خان صاحب بہادر کی کاسہ لیسی سے ضرور لکھا ہے۔ ”یوسف نجار کے بیٹے تھے۔“

(ازالہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

وہ نجار اور آپ مغل حارث۔ وہ بے زن اور آپ کی کئی زوجہ۔ وہ بے اولاد اور آپ کے کئی لڑکے۔ ان کو بقول آپ کے یہودیوں نے سولی پر چڑھایا۔ آپ کا ابھی تک یہ موقعہ نہیں آیا۔ جو آپ کے الہام کے مطابق پورا ہوگا۔ جیسا کہ آپ نے اپنی (براہین ص ٥٥٢، خزائن ج ١ ص ٦٦٣) میں ”ایلی ایلی لما سبقتانی کا ترجمہ اے میرے خدا اے میرے خدا تو نے مجھ کو کیوں چھوڑ دیا۔“ لکھا ہے کہ خدا آپ کو جلدی نصیب کرے اور آپ کا الہام پورا ہو کر مریدوں کے دل کو تقویت ہو۔ آمین۔

٣٢

صفحہ ٣٨٩

٢ ........ مرزا قادیانی علم غیب ازلی سے آگاہ کئے گئے ہیں۔ اس سے مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو نبی یا رسول ثابت کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضیٰ من رسول (جن: ٢٦، ٢٧)“ خدا اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا۔ مگر جس کو پسند کرے رسول سے اور دوسری جگہ خداوند کریم فرماتا ہے کہ: ”وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء (آل عمران: ١٧٩)“ یعنی خدا غیب پر مطلع نہیں کرتا۔ لیکن خدا چن لیتا ہے اپنے پیغمبروں سے جس کو چاہتا ہے۔ پس رسالت اور نبوت کے اثبات میں ہی مرزا قادیانی اپنا الہام گھڑتے ہیں کہ مجھ کو علم غیب ازلی سے آگاہ کردیا ہے۔

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ٢٧)

مگر افسوس علم غیب سے تو مطلع ہیں۔ لیکن پیشین گوئیوں کے غلط ہونے پر نہیں۔

٣، ٤، ٥ ........ میں مرزا قادیانی نے اپنی نبوت اور رسالت کو کامل طور پر ثابت کیا ہے۔ جس سے کسی شخص کو شبہ کرنے کی بھی گنجائش نہ رہے۔ جیسے کہ حضرت رسول خدا ﷺ کے واسطے حتمی نزول آیات کا تھا۔ بعینہ مرزا قادیانی کے واسطے حکم خداوندی ہوا ہے اور نبوت تامہ کا ثبوت مرزا قادیانی نے پہنچادیا۔ مگر اس ثبوت کے دلائل میں مرزا قادیانی کے پاس سوائے اپنے الہام کے اور کچھ نہیں۔

اور آیت شریف ہے کہ: ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین“ کا نزول بھی بڑی دلیری سے اپنے دعوے نبوت پر ثبت کیا ہے۔

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)

ناظرین! رسول خدا ﷺ کا وجود باجود بموجب حکم خدا تعالیٰ مسلمہ ومتفقہ تمام جہانوں کے لئے رحمت ہے۔ ابتداء ولادت سے حشر تک رحمۃ للعالمین ہیں۔ حضرت ﷺ کی برکت اور رحمت سے ایسی خیر وبرکت ورحمت ہوئی کہ قحط سخت وشدید دور ہوئے۔ خوب بارشیں ہوئیں۔ فصلیں میوہ جات بکثرت ہوئے۔ امراض دور ہوئے۔ مرزا قادیانی کے ظہور ونزول آیت کے وقت سے تصدیق الہام یہ ہوئی کہ بارش کا نام ونشان نہیں۔ قحط ایسا عالمگیر ہو گیا کہ سینکڑوں آدمی فاقوں مر گئے۔ لوگوں نے اپنے مویشی ذبح کر کے کھالئے۔ بال بچے چھوڑ دیئے۔ خویش واقارب سے دور ہو گئے۔ اپنے عزیزوں کی محبت اڑ گئی۔ وباء طاعون نے ملک کو برباد کردیا۔ گھروں کے گھر بے چراغ ہوگئے۔ زلزلوں نے شہروں کے شہر منہدم کر دیئے اور مکانات اپنے مکینوں سمیت زمین سے مل گئے۔ مزید براں ایک اور رحمت مرزا قادیانی کی یہ ہوئی کہ مسلمانوں کے حج بند کروا دیئے۔ فرائض اہل اسلام میں بھی دست اندازی کروائی۔ مرزا قادیانی کی رحمت اس سے بڑھ کر

٣٣

صفحہ ٣٩٠

اور کیا ہو سکتی ؟ اور استدراجاً رحمت کی جگہ نقمت ہی پڑتا گیا اور آپ کا استدراج ثابت ہوا۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب کا جس نے جھوٹا دعویٰ نبوت کا کیا تھا۔ جیسے لکھا ہے کہ مسیلمہ کے پاس کسی شخص نے اس کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ حضرت محمد ﷺ کے بے شمار معجزات ہیں۔ ادنیٰ ان میں سے یہ ہیں کہ اگر وہ اندھے کی آنکھوں پر اپنا دست مبارک رکھ کر دعا فرمائیں تو وہ بینا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی کڑوے کنویں میں اپنا لب مبارک ڈال دیں تو فوراً پانی اس کا میٹھا ہو جاتا ہے۔ مسیلمہ کذاب نے کہا کہ یہ تو کچھ بھی بڑی بات نہیں۔ لاؤ ایسا تو میں بھی کر سکتا ہوں۔ اس وقت ایک آدمی پیش کیا گیا۔ جس کی ایک آنکھ نہ تھی۔ مسیلمہ نے اس آنکھ پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ فوراً دوسری آنکھ بھی پھوٹ گئی۔ اسی طرح ایک کڑوے کنویں میں اپنا تھوک ڈالا تو اور بھی سخت کڑوا ہو گیا۔ اسی کا نام استدراج ہے۔ ایسے ہی مرزا قادیانی کے اور بھی استدراج ہیں۔ جیسے کہ:

بجائے اس کے لڑکی پیدا ہوئی۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٢٧، ١٢٥)

کناروں تک مشہور ہوگا۔ تب لڑکا تو ہوا لیکن ١٦ ماہ کا ہو کر گمنام اور بے برکت مر گیا اور اپنے باپ ملہم و کاذب بنا کر الٹا داغ جگر پر دھر گیا۔

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ نمبر ٢ ص ١٢٨)

بھی۔ مگر افسوس ہے کہ وہ بے چاری لڑکی اپنے خاوند کے گھر میں بخوشی وخرمی آباد اور صاحب اولاد ہے۔ مراد پوری نہ ہوئی۔

(ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)

(جنگ مقدس ص ١٨٨، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

شہرت دوں گا۔ تیری محبت دلوں میں ڈال دوں گا۔

(ازالہ اوہام ص ٢٤٤، خزائن ج ٣ ص ٢٤٤)

برعکس اس کے سخت بے غیرتی اور نفرت کے ساتھ دور تک شہرت ہوگئی اور لوگوں کے دلوں میں نہایت شدت کے ساتھ بدرجہ غایت دشمنی اور عداوت پڑ گئی۔ علی ہذا القیاس! مرزا قادیانی کے اور بھی استدراجات ہیں۔ جس سے آپ کا دعویٰ نبوت اور رسالت باطل اور کذب ثابت ہو رہا ہے۔

٣٤

فوت ہو چکے ہیں اور دنیا پر آ... مرزا قادیانی پہلے اس سے اپنی... مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے... ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن... آجائیں۔“

اب فرمائیے کہ مر... مرزا قادیانی کا جواب ہو سکتا... کے بعد مسیح موعودی کا عہدہ مل... عہدہ خالی ہو گیا۔ آپ کا عہد... صرف حارث کا شکار تھے۔ ... ہو گئے۔ پھر پیغمبر بھی آپ بن... گئے۔ پھر ایسی چھلانگ ماری... اس بات پر ضرور چونکیں گے... نے الہاموں کے ذریعہ سے... تو کہیں نہیں۔ لیجئے حضرات... نکال کر پیش کرتا ہوں۔ وہ...

نے براہین احمدیہ میں بھی اس... ........................ باتیں ہیں۔“ (اشتہار لیکھرام... ........................ ان دونوں تحری... مرزا قادیانی کی تصنیف... قرآن شریف مرزا قادیا... نعوذ باللہ خدا ہونے میں کو...

صفحہ ٣٩١

فوت ہو چکے ہیں اور دنیا پر آنے سے روک دیئے گئے ۔ مسیح موعود میں ہوں ۔ مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی پہلے اس سے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں اس طرح درفشانی فرما چکے ہیں کہ ”میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل مسیح ہونا میرے ہی پر ختم ہو گیا ہے ۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

اب فرمائیے کہ مرزا قادیانی کا کون سا الہام صحیح اور کون سا غلط ہے؟ ۔ یا حافظہ نہیں ۔ مرزا قادیانی کا جواب ہو سکتا ہے کہ ١٣٠٨ھ میں ہم کو مثیل مسیح کا عہدہ ملا تھا ۔ اب ١٣١٤ھ چھ سال کے بعد مسیح موعودی کا عہدہ مل گیا ۔ جبکہ حضرت مسیح علیہ السلام من کل الوجوہ فوت ہو گئے اور مستقل عہدہ خالی ہو گیا ۔ آپ کا عہدہ بھی روز بروز بڑھتا ہی گیا اور غایت درجہ کو پہنچ گیا ۔ پہلے تو آپ صرف حارث کاشتکار تھے ۔ پھر مجدد ہوئے پھر مثیل مسیح، پھر مسیح موعود و مہدی مسعود دونوں خود ہو گئے ۔ پھر پیغمبر بھی آپ بن گئے ۔ پھر حضرت علیؓ پھر حضرت امام حسینؓ پھر حضرت امام اعظم بن گئے ۔ پھر ایسی چھلانگ ماری اور ایسے کودے کہ نعوذ باللہ منہا خدا بھی بن گئے ۔ ناظرین اور مرزائی اس بات پر ضرور چونکیں گے کہ ہیں !!! خدا کہاں بن گئے؟ ۔ البتہ باقی عہدے تو ضرور مرزا قادیانی نے الہاموں کے ذریعہ سے حاصل کر کے اختیار کئے ہیں اور اپنی کتابوں میں لکھے ہیں ۔ مگر خدا بننا تو کہیں نہیں ۔ لیجئے حضرات!! میں مرزا قادیانی کا خدا بننا بھی ان کی تالیفات و تحریرات سے ہی نکال کر پیش کرتا ہوں ۔ وهو ھذا !

نے براہین احمدیہ میں بھی اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی ۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٦)

باتیں ہیں ۔“ ’اشتہار لیکھرام کی موت کے متعلق آریوں کے خیالات‘

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٩)

ان دونوں تحریرات مرزا قادیانی سے یہ ثابت ہے کہ براہین احمدیہ خدا کی کلام ہے ۔ جو مرزا قادیانی کی تصنیف ہے اور کلام اللہ قرآن شریف مرزا قادیانی کی منہ کی باتیں ہیں ۔ گویا قرآن شریف مرزا قادیانی کی کلام ہے ۔ جو کلام الٰہی ہے ۔ پس اب فرمائیے کہ مرزا قادیانی کے نعوذ باللہ خدا ہونے میں کوئی شبہ باقی ہے؟ ۔ جو کوئی شخص اپنی تصنیف کو خدا کی کلام کہے اور کلام الٰہی

٣٥

صفحہ ٣٩٢

قرآن شریف کو اپنی کلام بتلاوے ۔ پھر کسی ادنیٰ سمجھ دار کو بھی اس کے خدا ہونے میں کوئی تردد ہو سکتا ہے؟۔ ہرگز نہیں۔

مرزا قادیانی کچھ ایسے بے خوف ہیں کہ اندھا دھند جو چاہتے ہیں اور جو جی میں آتا ہے لکھے چلے جاتے ہیں۔ جو کچھ قلم سے نکل جائے بس وہی الہام ہے اور جو کچھ زبان سے نکال دیں وہی قرآنی کلام ہے۔ خدا بھی اس لئے بن گئے ہیں کہ عیسائیوں کے خدا کو مردہ ثابت کر لیا ہے۔

مرزا قادیانی پکی کارروائی کرتے ہیں۔ جب تک کسی عہدہ دار کو جان سے مار نہیں ڈالتے تب تک اس عہدہ پر قائم نہیں ہوتے اور نہ اس بات کو منظور کرتے ہیں کہ کسی پنشن خوار یا مستعفی یا رخصتی کا عہدہ اختیار کریں۔ یہ خیال رہتا ہے کہ کہیں واپس آجائے اور نیچے اترنا پڑے یا برخاست ہونا پڑے۔ جب تک اس کو قبر میں ہی داخل نہ کرلیں۔ تب تک دم نہیں لیتے ۔ یہ بھی کسی کا ہی کام ہے۔

ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند

مرزا قادیانی کے دلائل وفات مسیح علیہ السلام میں

مرزا قادیانی نے اس کتاب و دیگر تالیفات میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات میں حسب ذیل دلائل اور ثبوت بطور دھوکا تحریر کئے ہیں۔ پہلے ان کے دلائل لکھے جاتے ہیں پھر ان کے جوابات ہوں گے۔

اوّل ...... ”مجھ کو خدا نے خبر دی ہے کہ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی حضرت عیسیٰ مر چکے اب وہ واپس نہیں آئیں گے۔“

(انجام آتھم ص ٨٠، ٨١، ٨٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

دوم ...... ”مرہم عیسیٰ یا مرہم حوارین میں ہے۔ یہ مرہم نہایت مبارک مرہم ہے۔ جو زخموں اور جراحتوں اور نیز زخموں کے نشان معدوم کرنے کے لئے نہایت نافع ہے۔ طبیبوں کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ مرہم حواریوں نے حضرت عیسیٰ کے لئے تیار کی تھی۔ یعنی جب کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود علیہم اللعنت کے پنجہ میں گرفتار ہوئے ..... اور صلیب ١؎ پر چڑھانے کے

١؎ صلیب بمعنی سولی، کبھی ممکن نہیں کہ جو شخص سولی پر چڑھایا جائے اور زندہ رہ سکے۔ کیونکہ صلیب کی شکل یہ ہے۔ ✝ جب صلیب پر آدمی کو بٹھایا جاتا ہے تو صلیب کی نوک مقعد سے گذر کر تالو سے پار ہو جاتی ہے۔ جب یہ حالت ہے تو انسان کا بچنا ہرگز ممکن نہیں ۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا گیا اور پھر اتار لیا گیا اور خفیف زخم بدن پر لگے تھے بالکل لغو ہے۔

٣٦

صفحہ ٣٩٣

وقت ان کو خفیف زخم بدن پر لگ گئے تھے۔ اس مرہم کے استعمال کرنے سے بالکل دور ہو گئے اور نشان بھی مٹ گئے تھے۔‘‘

(ست بچن ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠١ ملخصاً)

سوم...... ”ہمارے متعصب مولوی اب تک یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے ہیں...... اور آسمان پر موجود ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ صلیب پر بھی چڑھائے نہیں گئے۔ بلکہ کوئی اور شخص صلیب پر چڑھایا گیا۔ لیکن ان بیہودہ خیالات کے رو میں...... ایک اور قوی ثبوت یہ ہے کہ صحیح بخاری کے ص ٤٣٩ میں یہ حدیث موجود ہے۔ ”لـعـن الله على اليهود و النصارى اتخذوا قبور انبيائهم مساجد یعنی یہود اور نصاریٰ پر خدا کی لعنت ہو۔ جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مساجد بنا لیا...... بلادِ شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزار ہا عیسائی سال بسال اس قبر پر جمع ہوتے ہیں۔ سو اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی قبر ہے۔“

(ست بچن ص ١٧٠، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)

چہارم...... ”اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ میں قریباً چودہ برس تک جموں اور کشمیر کی ریاست میں نوکر رہا ہوں...... کشمیر میں ایک مشہور و معروف قبر ہے۔ جس کو یوز آصف نبی کی قبر کہتے ہیں۔ اس نام پر ایک سرسری نظر کر کے ہر ایک شخص کا ذہن ضرور اس طرف منتقل ہوگا کہ یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے۔ کیونکہ یہ لفظ عبرانی زبان سے مشابہ ہیں...... دراصل یہ لفظ یسوع آصف ہے۔ یعنی یسوع غمگین...... مگر بعض کا بیان ہے کہ دراصل یہ لفظ یسوع صاحب ہے۔ پھر اجنبی زبان میں بکثرت مستعمل ہوکر یوز آصف بن گیا۔ لیکن میرے نزدیک یسوع آصف اسم با سمیٰ ہے...... حضرت مسیح اپنے ملک سے نکل گئے...... کشمیر میں جاکر وفات پائی اور اب تک کشمیر میں ان کی قبر موجود ہے...... ہاں! ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلادِ شام میں قبر ہے۔ مگر اب صحیح تحقیق اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے۔ جو کشمیر میں ہے...... حضرت مولوی نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ یسوع صاحب کی قبر جو یوز آصف کی قبر کر کے مشہور ہے۔ وہ جامع مسجد سے آتے ہوئے بائیں طرف واقع ہوتی ہے...... عین کوچہ میں ملے گی۔ اس کوچہ کا نام خان یار ہے۔“

(ست بچن ص ١٧١، حاشیہ خزائن ج ١٠ ص ٣٠٦، ٣٠٧ ملخصاً)

پنجم...... ”مجھے خدا نے خبر دی ہے کہ عیسیٰ مر چکے ہیں اور اس دنیا سے اٹھائے

٣٧

صفحہ ٣٩٤

گئے۔ پھر دنیا پر نہیں آئیں گے۔ خدا نے حکم موت کا اس پر جاری کیا اور پھر کر آنے سے روک دیا اور وہ مسیح میں ہی ہوں۔“

(انجام آتھم ص ٨٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

ازالہ دلائل مندرجہ بالا

اول....... میں مرزا قادیانی نے آیت شریف ”انی متوفیک“ میں یقیناً فوت ہو جانا حضرت مسیح علیہ السلام کا ثابت کیا ہے۔ اس آیت شریف کا ترجمہ اور معنی جو مرزا قادیانی یا ان کے بزرگ فاضل حکیم نورالدین صاحب نے کئے ہیں۔ انہیں کو پیش کرتا ہوں۔ جس سے ناظرین کو واضح ہوجائے گا کہ مرزا قادیانی کی دلیل کیسی باطل اور نا قابل یقین اور غیر معتبر ہے۔

تصدیق براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں کہ: ”اذ قال الله یا عیسیٰ ١؂ انی متوفیک ورافعك الیٰ“ یعنی جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں لینے والا ہوں تجھ کو اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف تصدیق۔

(براہین احمدیہ ص ٨ مؤلفہ حکیم نورالدین صاحب)

پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٦٢٠)

الیٰ اے عیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔ یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٨،٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

ناظرین! مرزا قادیانی کے بزرگ فاضل متوفی کے معنے لینے والا ہوں۔ پوری نعمت دوں گا، کرتے ہیں اور خود بدولت پوری نعمت دوں گا اور کامل اجر بخشوں گا۔ یا وفات دوں گا۔ لکھتے ہیں کہ فرمائیے کس کے اور کیا معنے صحیح سمجھے جائیں؟۔ اب مشکل یہ ہے کہ وہ تو مرزا قادیانی کے فاضل بزرگ ہیں اور مرزا قادیانی خود ملہم اور نبی اور مرسل ہیں۔ بہر حال مرزا قادیانی کے ہی معنی کئے ہوئے صحیح سمجھے جائیں گے۔ لیکن ایک اور مشکل پڑ گئی کہ جب براہین احمدیہ میں دو دفعہ ترجمہ لکھا وہ بھی الہام سے اور اب جو لکھا وہ بھی الہام سے۔ تو کون سا الہام سچا سمجھا جائے اور کون سا جھوٹا؟۔ یا تو یہ مشتبہ الہام پوری نعمت دوں گا یا کامل اجر بخشوں گا۔ یا وفات دوں گا۔ ان تینوں

١۔ مرزا قادیانی کے فاضل بزرگ اور خود مرزا قادیانی جو خدا کے درجہ پر نعوذ باللہ ممتاز ہیں۔ قرآن شریف کی رسم الخط سے بھی واقف نہیں۔ عیسیٰ کو یا عیسیٰ لکھتے ہیں۔ افسوس!

٣٨

صفحہ ٣٩٥

باتوں میں سے ایک کروں گا۔ یا تینوں یا اب کا الہام کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسی آیت کی سند سے فوت ہوچکے ہیں۔ کس بات کا اعتبار کیا جائے؟۔

...... ’’میرے بعد ایک دوسرا آنے والا ہے۔ وہ سب باتیں کھول دے گا اور علم دین کو بمرتبہ کمال پہنچائے گا۔ سو حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمانوں میں جا بیٹھے۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٤٩١ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

اس جگہ مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمانوں پر زندہ موجود ہیں۔

...... ’’ایسے ایسے دکھ اٹھا کر باقرار عیسائیوں کے مر گیا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٥٧٠ خزائن ج ١ ص ٦٤٢)

یہاں پر عیسائیوں کے اقرار کے مطابق مرنا حضرت مسیح علیہ السلام کا لکھا ہے۔ مسلمانوں کا اس میں اقرار یا اعتقاد نہیں۔

...... مرزا قادیانی کا سب سے عمدہ اور مشرح و صریح الہام یہ ہے کہ: ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ‘‘ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیشین گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

لیجئے حضرات! مرزا قادیانی کے الہامات اس الہام کے نیچے آ کر دب گئے اور نہایت بری طرح سے کالعدم ہو گئے اور ساری کارروائی مسیح موعود ہونے کی ملیا میٹ ہوگئی۔ ان کی ہی تحریر اور الہام سے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کی واضح طور پر صاف صاف ظاہر ہوگئی اور حضرت مسیح علیہ السلام کا دوبارہ اس دنیا پر تشریف لانا اظہر من الشمس بیان کر دیا۔ جب مرزا قادیانی خود اس امر کو تسلیم کرچکے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر ہیں اور دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور دین اسلام دنیا میں پھیلا دیں گے۔ تو اب کون سے مرزا قادیانی کے خدا کا دوسرا الہام اس کے خلاف میں ہوا ہے۔ جو قابل پذیرائی ہے؟۔ اب ان الہاموں کے تناقض میں امید نہیں کہ کوئی تاویل چل سکے۔ ہاتھ پاؤں تو ضرور ماریں گے۔ خواہ کنارے پر پہنچیں یا بیچ میں ہی رہیں۔ ایسے ہی الہامات ہیں جن پر مرزا قادیانی عدم تعمیل کی وجہ سے لوگوں ہی کو مستوجب سزا قرار دیتے ہیں۔

٣٩

صفحہ ٣٩٦

دوم ...... (ازالہ اوہام ص ٣٧٨ تا ٣٨٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩٤ تا ٢٩٧) میں مرزا قادیانی نے اپنے زعم میں یہ ثابت کیا ہے کہ ”حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر ضرور چڑھائے گئے اور پھر اتار لئے۔ اس حالت میں کہ ابھی زندہ تھے اور زخموں کے واسطے ان کو حواریوں نے مرہم تیار کی۔ جس سے وہ راضی ہو گئے اور کشمیر میں آ کر فوت ہوئے۔“ مگر اس کے خلاف میں مندرجہ ثبوت نمبر سوم ایسا متناقض ہے کہ وہ اس بات کو بالکل باطل قرار دے رہا ہے جس کا بیان مفصل آتا ہے۔ فانتظروہ!

ناظرین! ذرہ مرزا قادیانی سے یہ تو دریافت کیجئے گا کہ اس آپ کی مرہم میں یہ بات لکھی ہوئی ہے؟۔ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود نے سولی پر چڑھا دیا تھا اور پھر جلدی سے اتار لیا تھا اور زخم جو ان کو لگے تھے ان کے واسطے یہ مرہم تیار کی گئی تھی۔ مگر یہ الفاظ یا بات اس مرہم میں لکھی ہوئی نہیں ہے۔ (جو ہرگز نہیں ہے) تو پھر آپ یہ حکم کیسے لگا سکتے ہیں کہ ان کو صلیب پر چڑھایا تھا اور اسی لئے یہ مرہم تیار ہوئی تھی۔

اس مرہم میں لکھا ہے کہ یہ مرہم بارہ اقسام کے امراض کی دافع ہے۔ کیا حضرت مسیح علیہ السلام کو ان بارہ اقسام کی امراض میں سے کون سی مرض تھی یا بارہ کی بارہ ہی بیماریاں تھیں؟۔ اگر بفرض محال تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ مرہم حضرت مسیح علیہ السلام کے واسطے ہی تیار کی گئی تھی۔ تو بھی اس سے یہ بات کہاں ثابت ہے کہ فی الواقع وہ مرہم صلیب ہی کے زخموں کے واسطے بنائی گئی تھی۔ جب یہ نہیں تو کچھ نہیں۔ پڑتال کتب طب ہی فضول ہوئی۔ اب میں ان امراض کے نام بھی ذیل میں درج کئے دیتا ہوں تاکہ ناظرین کو بھی مرزا قادیانی کی صداقت کلام میں امتیاز ہو۔ وھو ھذا! اورام جاسیہ (جمع ، ورم گرم یا سخت ) ، خنازیر (کنٹھ مالا ) ، طواعین (جمع طاعون)، سرطانات (ورم سوداوی)، تنقیہ جراحات (زخموں کا تنقیہ) اور اوساخ (چرک)، جہت رویانیدن گوشت تازہ رفع شقاق واثار (شگاف پار)، حکہ (خارش جدید)، جرب (خارش کہنہ)، سعفہ (مرض سرگنج)، بواسیر (مشہور)، (قرابادین قادری ص ٣٨٧، مطبوعہ مطبع مجمع البحرین لودھیانہ) جہاں سے یہ مرہم شروع ہوتی ہے وہ الفاظ یہ ہیں ۔ ”مرہم حوارین کہ مسمی است بمرہم سلیخا و مرہم رسل نیز و آنرا مرہم عیسیٰ نامند ۔“ پس لفظ رسل سے جو رسول کی جمع ہے۔ ظاہر ہو رہا ہے کہ بہت سے پیغمبروں کا یہ نسخہ ہے اور اس نسخہ کا نام حواریین، سلیخا، رسل، عیسیٰ چار ہیں۔ پھر اس پر مرزا قادیانی کا فتویٰ کیوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیبی زخموں پر ہی قائم ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ ان بارہ بیماریوں میں سے کوئی بیماری حضرت مسیح علیہ السلام کو بھی ہوئی ہو اور اکثر سفر کرنے سے جیسے کہ ان کی عادت

٤٠

صفحہ ٣٩٧

مبارک تھی۔ ان کے پاؤں میں شقاق ہو گیا ہو۔ یا کسی قسم کی حکہ ( خارش جدید ) یا اسارخ ( چرکہ ) یا جرب (خارش کہنہ) کی بیماری ہو گئی ہو۔ جس کے لئے یہ مرہم تیار کی گئی ہو۔ ہاں ! اگر مرزا قادیانی مرہم میں سے یہ الفاظ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود نے صلیب پر چڑھادیا تھا اور پھر جلدی اتارلیا تھا۔ اس وقت ان کو زخم ہو گئے تھے۔ ان زخموں کے واسطے یہ مرہم تیار کی گئی تھی۔ لکھی ہوئی نکال کر دکھلاتے تو شاید کسی کو کچھ کسی قدر تامل کی گنجائش بھی ہوتی ۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی ایسے ویسے خیالی اور کمزور استعاروں سے ایسے بڑے اہم امر کو ثابت کرنا چاہتے ہیں جو محض خیال ہی خیال ہے اور پھر یہ کتنی بڑی زبردستی ہے کہ اپنی طرف سے معنی کر کے لکھتے ہیں۔ یعنی جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہود علیہم اللعنت کے پنجہ میں گرفتار ہو گئے۔.... اور صلیب پر چڑھانے کے وقت خفیف زخم بدن پر لگ گئے تھے۔ اس مرہم کے استعمال کرنے سے بالکل دور ہو گئے اور نشان بھی مٹ گئے تھے۔

( ست بچن ص ١٧١ ، خزائن ج ١٠ ص ٣٠١ )

ان کا اپنا خانگی الہام ہے لیکن کسی طب کی کتاب یا اس مرہم میں ایسا کوئی لفظ نہیں۔ جس سے آپ کا مدعا ثابت ہو سکے۔ نرے استعارات ہی استعارات ہیں اور بے سود۔

سوم...... اس میں مرزا قادیانی اپنے زعم میں ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور فوت ہو گئے اور بلاد شام میں دفن بھی کر دیئے گئے اور اس قبر کی پرستش قوم نصاریٰ اب تک سال بسال ایک تاریخ پر جمع ہو کر کرتے ہیں اور حضرت رسول خداﷺ سے حدیث بھی نقل کی ہے کہ لعن اللہ کی بجائے لعنت اللہ لکھا ہے کہ یہود اور نصاریٰ پر لعنت ہے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا۔ پس اس استعارہ سے ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے جانے سے فوت ہو گئے اور قبر میں دفن کر دیئے گئے ۔ اسی قبر کی بلاد شام میں پرستش ہوتی ہے۔

( تلخیص ست بچن حاشیہ در حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)

ناظرین !! غور فرمائیے گا کہ یہاں پر وہ مرہم حوارئین بالکل بے کار ہوگئی ۔ اگر حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے جانے سے فوت ہو گئے تو ان کی دلیل نمبر دوم کی مرہم کس لئے تیار ہوئی تھی اور اس کی کیا ضرورت پڑی ؟ ۔ آپ کے ہر دو دلائل میں اجتماع الضدین وارد ہو گیا ۔ جس کی کوئی تاویل گھڑنی پڑے گی ۔ اس دلیل کے اثبات میں ایک حدیث بھی نقل کی ہے۔ مگر فرمائیے تو سہی اس حدیث میں یہ بات کہاں لکھی ہے۔ جس سے یہ بات ثابت ہو کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو کر قبر میں دفن نہیں ہوئے۔ تو نصاریٰ کس قبر کی پرستش کرتے ہیں۔ کیا خوب ! مرزا قادیانی خود اپنے کل تصانیف میں لکھ چکے ہیں

٤١

صفحہ ٣٩٨

کہ عیسائی یعنی نصاریٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر نہیں بلکہ خدا تصور کر کے پرستش کرتے ہیں۔ لیکن حدیث شریف کی تصدیق کے لئے میں مانتا ہوں کہ یہود اور نصاریٰ اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں جانتے اور پرستش کرتے ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ جس قدر انبیاء گزرے ہیں شاذ و نادر کم ہی ہوں گے۔ جن کو یہود اور نصاریٰ بالاتفاق نبی نہ مانتے ہوں۔ بلکہ انجیل موجودہ میں جا بجا لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں توریت کو پورا کرنے کے واسطے آیا ہوں۔ انہیں دس احکامات کو جو توریت میں ہیں سب کو عیسائی مانتے ہیں اور کل انبیاء جن کا ذکر توریت میں موجود ہے۔ سب کو مانتے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام نصاریٰ مانتے ہیں۔ صرف اتنا فرق ہے کہ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر یا نبی نہیں مانتے۔ لیکن اس میں کوئی شک و شبہ نہیں رہا کہ جو انبیاء علیہم السلام یہود کے ہیں۔ وہی نصاریٰ کے ہیں۔ اسی سے حدیث شریف کی تصدیق ہو گئی۔

مرزا قادیانی اس بات پر بھی بہت زور دیتے ہیں کہ درحقیقت وہ قبر (ملک شام میں) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی قبر ہے۔ نصاریٰ کا اعتقاد ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے گئے اور فوت ہو گئے اور قبر میں دفن کر دیئے گئے اور تیسرے روز کے بعد زندہ ہو گئے اور قبر سے نکل کر آسمان پر چلے گئے۔ جس قبر میں حضرت مسیح علیہ السلام کو بقول و اعتقاد مرزا قادیانی ونصاریٰ کے دفن کر دیا گیا تھا۔ کیا مرزا قادیانی کو اس قبر کے قبر ہونے میں کچھ شبہ ہے۔ اگرچہ مرزا قادیانی و نصاریٰ کا اس اعتقاد میں فرق صرف اتنا ہی ہے۔ نصاریٰ کہتے ہیں کہ تیسرے روز کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر معہ جسد چلے گئے اور مرزا قادیانی کا اعتقاد ہے کہ وہ قبر ہی میں رہے۔ صرف روح آسمان پر گئی جسم نہیں۔ مگر یاد رہے کہ یہ اعتقاد کسی اہل اسلام کا نہیں ہے۔ پس اگر نصاریٰ اس اعتقاد پر اس قبر کی چند روز کی پرستش کرتے ہوں تو کیا عجب ہے۔ یہ دوسری وجہ صداقت حدیث رسول خدا ﷺ کی ہوئی۔ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت کرنے کے لئے خلاف اہل اسلام کے کیا کیا ہاتھ پاؤں مارے ہیں اور کیا کیا اعتقاد پلٹے ہیں۔ پھر بھی کچھ نہ بن سکا۔ بلکہ الٹی حافظہ کی خرابی اور دماغ کے تخیلات اور وہمات پائے گئے۔ جیسے آگے آئے گا۔

(ست بچن حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٦)

چہارم ...... اس میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اخویم حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ ہم چودہ سال ریاست جموں اور کشمیر میں ملازم رہے۔ یسوع کی قبر کشمیر محلہ خان یار میں معلوم ہوئی اور تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ یسوع کی قبر کشمیر ہی میں ہے۔

(ست بچن ص ٦ و خزائن ج ١٠ ص ٣٠٦ حاشیہ)

٤٢

صفحہ ٣٩٩

حضرات! اخویم کی نحوی ترکیب پر خیال نہ فرما کر اب ذرہ ادھر توجہ فرمائیے گا کہ حکیم صاحب کی شہادت مذہب کے مقابلہ میں وہ حدیث شریف صحیح الاسناد بھی نعوذ باللہ قابل اعتبار نہیں رہی۔ اے توبہ مرزا قادیانی کی چغتائی بہادری نے مرزا قادیانی کے دل میں ایسی بے خوفی پیدا کی کہ میاں نورالدین صاحب کی شہادت بے معنی کے مقابلہ میں اپنے استعارات واہیہ سے حدیث شریف حضرت رسول خدا ﷺ کو کیسے ساقط الاعتبار قرار دیا۔ العیاذ باللہ اور کیسے کیسے واہی ڈھکوسلوں سے لفظ اور نام یوز آصف کو یسوع آسف یا یسوع صاحب بنایا گیا ہے۔ کیا ایسی ایسی خیالی باتوں سے آپ یہ ثابت کر لیں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی فی الواقع کشمیر میں قبر ہے؟۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے ایسے دھوکے یا ڈھکوسلے اور بھی بنا سکتے ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر اور قرین قیاس بھی سنئے۔

سلیمان علیہ السلام کے وزیر کی عورت کی قبر ہو جس کا نام آصف یہ قرین قیاس بھی ہے۔ کیونکہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کشمیر میں تشریف لے گئے اور ان کے وزیر آصف برخیا نامی ساتھ تھے اور یہ بھی کتابوں میں ہے کہ تخت سلیمان علیہ السلام اس وقت تک موجود ہے۔ اغلب ہے کہ وزیر صاحب کی عورت فوت ہوگئی ہو اور زوج آصف سے بگڑ کر یوز آصف یا آسف بن گیا ہو۔

لاش کو وہاں دفن کر دیا ہو۔

کسی شے کی تلاش میں آیا اور یہاں آ کر مر گیا اور دفن کر دیا گیا ہو۔

کی حالت میں یہاں پر دم ہلاتی ہوئی مرگئی اور دفن کر دی گئی ہو۔

غرض میں کہتا ہوں کہ ایسے ایسے ڈھکوسلے جس کا جی چاہے اور جتنے چاہے بنا لے۔ لیکن کیا ان سے کوئی اصلی یا صحیح واقعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ہرگز نہیں!! مگر یہ کیا بے تکی بات ہے کہ یسوع تو عبرانی لفظ ہو اور آسف اس کے ساتھ عربی کا لفظ لگا دیا جائے۔ اگر مرزا قادیانی فرمائیں کہ جب وہ عبرانی ملک سے نکل کر غمگین حالت میں کشمیر میں چلے آئے تو یہاں کشمیریوں نے

٤٣

صفحہ ٤٠٠

حضرت مسیح علیہ السلام کو آسف (غمگین) کا خطاب دے دیا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ لفظ عربی کیوں لگایا مناسب تو یہ تھا کہ کشمیری زبان کا لفظ اس کے ساتھ لگایا جاتا۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا اور وضعی ڈھکوسلا بیان کرنا کہ حضرت مسیح علیہ السلام غمگین حالت میں تھے محض غلط ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کبھی غمگین نہیں ہوئے اور نہ ہوتے تھے۔ جیسے کہ اکثر کتب سے یہ بات ان کے خوش وخرم رہنے کی ثابت ہے۔

نقل ہے کہ ایک دن حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں گفتگو ہوئی ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے تھے کہ ہنسنا منہ بہتر ہے اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کہتے تھے کہ رونی آنکھ بہتر ہے۔ آخر دونوں صاحبوں نے فیصلہ اس کا حکم الٰہی پر رکھا۔ جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ہنستے منہ کو دوست رکھتا ہوں کہ میرے فضل و کرم کا امید وار ہے اور رونے والی آنکھ اپنے فعلوں پر نگاہ کرتی ہے۔ پس چاہئے کہ خلق خدا کے ساتھ ہنسی خوشی سے پیش آئے اور درگاہ الٰہی میں تضرع وزاری رہے۔ ایک دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حضرت یحییٰ علیہ السلام سے کہا کہ تم بہت رویا کرتے ہو۔ ”ءَ ایست من رحمۃ اللّٰہ “ یعنی آیا تم رحمت الٰہی سے ناامید ہو گئے؟ ۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ تم ہمیشہ خوش اور شگفتہ رہتے ہو۔ ”ءَ امنت من مکر اللّٰہ“ آیا تم خوف خدا سے ایمن ہوگئے ہو۔ سبحان اللہ کیا خوب سوال و جواب ہیں۔

(کتاب مقاصد الصالحین ص ١٨ مطبوعہ نظامی)

یہاں پر مرزا قادیانی نے ایک اور غضب کیا ہے کہ اخویم نور الدین صاحب کی شہادت کے مقابلہ میں حدیث شریف رسول اکرم ﷺ کو بھی ناقابل اعتبار کر کے پس پشت ڈال دیا اور انکار کر دیا ہے۔ جیسے لکھتے ہیں کہ ”ہاں ہم نے کسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی بلاد شام میں قبر ہے۔ مگر اب صحیح تحقیق ہمیں اس بات کے لکھنے کے لئے مجبور کرتی ہے کہ واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے...... حضرت مولوی نور الدین صاحب فرماتے ہیں کہ یسوع کی قبر جو یوز آسف کر کے مشہور ہے وہ جامع مسجد سے آتے ہوئے بائیں طرف واقعہ ہوتی ہے۔...... عین کوچہ میں ہے۔ اس کوچہ کا نام خان یار ہے۔“

(ست بچن ص ز، خزائن ج١٠ ص ٣٠٧)

مرزا قادیانی کا الہامی حافظہ بھی کیا خوب ہے۔ لکھتے ہیں کہ ہم نے کسی کتاب میں لکھا ہے کہ بلاد شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ حالانکہ اسی کتاب (ست بچن کے حاشیہ، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩) پر لکھا ہوا موجود ہے۔ اب میں ان معتبر خطوط کی نقل کر دینا ناظرین کے لئے با تکذیب دلائل مرزا قادیانی بہتر سمجھتا ہوں تا کہ ان کی دلیل کا ازالہ کافی طور پر ہو جائے۔

٤٤

صفحہ ٤٠١

نقل خطوط رؤساکشمیر متعلق تحقیقات قبر یوز آصف

جواب اوّل ...... السلام علیکم !! ”مکاتبہ مسرت طراز بخصوص دریافت کردن کیفیت اصلیت مقبرہ یوز آصف مطابق تواریخ کشمیر در کوچہ خان یار حسب تحریر تالیفات جناب مرزا قادیانی واطلاع آن زمان سعید رسید باعث خوشوقتی شد من مطابق چٹھی مرسولہ آن مشفق چہ از مردم عوام چہ از حالات مندرجہ کشمیر در پے آن رفتہ آنکہ واضح شد اطلاع آن میکنم مقبرہ روضہ بل یعنی کوچہ خان یار بلاشک بوقت آمدن از راہ مسجد جامع بطرف چپ واقع است مگر آن مقبرہ بملاحظہ تاریخ کشمیر نسخہ اصل خواجہ اعظم صاحب دیدہ مرو کہ ہم صاحب کشف و کرامات محقق بودند، مقبرہ سید نصیر الدین قدس سرہ نباشد بملاحظہ تاریخ کشمیر معلوم نمیشود کہ آن مقبرہ بمقبرہ یوز آصف مشہور است چنانچہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تحریر میفرمائند۔ بلے اینقدر معلوم میشود کہ در مقبرہ حضرت سنگ قبری واقع است آنرا قبر یوز آصف نوشتہ است بلکہ تحریر فرمودہ اند کہ در محلہ انزمرہ مقبرہ یوز آصف واقعست مگر آن نام بلفظ سین نیست بلکہ بلفظ صاد است و این محلہ بوقت آمدن از راہ مسجد جامع طرف راست است طرف چپ نیست درمیان آنزمرہ روضہ بل یعنی کوچہ خان یار مسافت واقعست بلکہ نالہ مار ہم مابین آنہا حائل است پس فرق بدوجہہ معلوم میشود ہم فرق لفظی و ہم فرق معنوی فرق لفظی آنکہ یوز آصف بہ صاد است در آنزمرہ مدفون نوشتہ اند بلفظ سین آن نیست و تغائر اسم بر تغائر مسمی دلالت میکند و فرق معنوی آنکہ یوز آصف کہ مرزا قادیانی میفرمائند کہ در کوچہ خان یار واقعست ایں در محلہ انزمرہ تغائر مکان بر تغائر مکین دلالت میکند کہ یک شخص در دو جا مدفون بودن ممکن نیست عبارت یہ کہ در تاریخ خواجہ اعظم صاحب دیدہ مرو مذکور است انیست حضرت سید نصیر الدین خانیاری از سادات عالیشان است در زمرہ مستوری بود (مستورین) بتقریبے ظہور نمود مقبرہ میر قدس سرہ در محلہ خان یار مہبط فیوض وانوار است و در جوار ایشان سنگ قبرے واقعشدہ در عوام مشہور است کہ آنجا پیغمبرے آسودہ است کہ در زمان سابقہ در کشمیر مبعوث شدہ بود ایں مکان بمقام آن پیغمبر معروف است در کتابی از تواریخ دیدہ ام کہ بعد قضیہ دور دراز حکایتی مینویسد کہ یکے از سلاطین زادہائے براہ زہد و تقویٰ آمدہ ریاضت و عبادت

ا۔ جو خط میں نے یہاں سے کشمیر بھیجا تھا اس کو بوجہ طوالت کے نقل نہیں کیا گیا۔ جواب معرفت خواجہ غلام محی الدین صاحب ملک التجار و میونسپل کمشنر رئیس اعظم لودھیانہ کشمیر سے آئے۔

٤٥

صفحہ ٤٠٤

بسیار کرد بر رسالت مردم تسیم مبعوث شدہ در کشمیر آمدہ بدعوت خلائق مشغول شد و بعد رحلت در محلہ آنزہ مرہ آسود دران کتاب نام آن پیغمبر را یوز آصف نوشت ۔ آنزمرہ و خان یار متصل واقعست ۔ از ملاحظہ این عبارت صاف عیان است یوز آصف در محلہ آنزمرہ مدفون است در کوچہ خان یار مدفون نیست و این یوز آصف از سلاطین زادہ ہا بودہ است و این عبارت تواریخ مخالف و مناقض ارادہ مرزا قادیانی ست ازیرا کہ یسوع خود را بکسے از سلاطین وغیرہ انتساب نکردہ زیادہ والسلام! راقم خواجہ سعد الدین عفی عنہ فرزند خواجہ ثناء اللہ مرحوم و مغفور از کوٹھی خواجہ ثناء اللہ غلام حسن از کشمیر ١٥؍ ذی الحج ١٣١٤ھ۔

جواب دوم:...... اطلاع باو چون ارقام کردہ بود که در شہر سرینگر در ضلع خانیار پیغمبرے آسودہ است معلوم سازند موجب آن خود بذات بابت تحقیق کردن آن در شہر رفتہ ہمیں تحقیق شدہ پیشتر از دو صد سال شاعرے معتبر و صاحب کشف بودہ است نام ان خواجہ اعظم دیدہ مردے داشتہ یک تاریخ از تصانیف خود نموده است که دریں شہر دریں وقت بسیار معتبر است در ان ہمیں عبارت تصنیف ساختہ است کہ در ضلع خان یار در محلہ روضہ بل میگویند کہ پیغمبرے آسودہ است یوز آصف نام داشتہ وقبر دوم در آنجا است از اولاد زین العابدینؒ سید نصیر الدین خان یاری است و قدم رسول در آنجا ہم موجود است اکنوں در انجا بسیار مرجع اہل تشیعہ دارد بہر حال سوائے تاریخ خواجہ اعظم صاحب موصوف دیگر سندی صحیح ندارد والعلم عند اللہ تعالیٰ سید حسن شاہ از کشمیر ٢٢؍ ذی الحج ١٣١٤ھ۔

حضرات! ان دو معتبر اور ذی عزت رئیسوں کے خطوں سے مرزا قادیانی کے داہنے بائیں کے حوالہ اور محلہ خان یار کا حوالہ غلط ثابت ہوا۔ بلکہ صاف ہو گیا کہ ایک قبر یہاں محلہ آنزمرہ میں ہے۔ جو یوز آصف پیغمبر کی ( جو اولاد سلاطین میں سے تھے ) ہے اور کشمیری کے واسطے مبعوث ہوئے تھے اور تیسرے ایک تاریخ معتبر کی شہادت پیش کرتے ہیں۔ جس کا مصنف بھی صاحب کشف و کرامات تھا۔ جس سے مرزا قادیانی کے کل استعارات غلط ہوتے ہیں۔ تاریخ کشمیر کے صفحہ وغیرہ کا حوالہ انہوں نے نہیں دیا ہے۔ جس کو میں پورا کر دیتا ہوں۔ کیونکہ وہی تاریخ کشمیر میرے سامنے رکھی ہے۔ دیکھو تاریخ اعظمی مطبوعہ مطبع محمدی لاہور ۔ ١٣٠٣ھ تصنیف خواجہ سید محمد اعظم شاہ صاحب مؤلفہ ١١٤٨ھ ص ٨٢ ، سطر ١٨ ( اصل خطوط شامل کیے گئے ۔ )

یہ تین شہادتیں ایسی مضبوط اور قوی اور ثقہ ہیں ۔ جن پر منصف مزاج آدمی کو فوراً اعتبار

٤٦

صفحہ ٤٠٣

کر لینا چاہئے۔ مرزا قادیانی جو اپنی تاویلات و استعارات سے یوز آصف کو یسوع صاحب یا یسوع آسف بتاتے ہیں۔ محض غلط بلکہ اغلط ثابت ہوا۔ امید نہیں کہ مرزا قادیانی ایسی کافی اور ثقہ شہادت کو قبول کریں۔ کیونکہ اس طرف اخویم نورالدین صاحب کی شہادت ہے۔ جس کے مقابلہ میں آپ نے اپنی ہی مسلمہ حدیث شریف صحیح کو غلط ثابت کر کے فوراً انکار کر دیا۔ حالانکہ شریعت میں دو گواہان کے بغیر مقدمہ فیصل نہیں ہو سکتا۔ لیکن مرزا قادیانی ہمیشہ ایک ہی گواہ سے کام لیا کرتے ہیں اور اپنے دعوے اہم کو ثابت کیا کرتے ہیں اور آیت وحدیث کی پرواہ نہیں کیا کرتے۔ جیسے میاں کریم بخش ؎١ ایک نا خواندہ کی شہادت پر اپنے آپ کو عیسیٰ ثابت کیا تھا۔

(ازالہ اوہام ص ٧٠٩، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢)

تمام آیات واحادیث واجماع امت کو اس کی شہادت کے مقابلہ میں بالکل ردی کر دیا۔ اسی طرح مولوی نورالدین صاحب اپنے بڑے حواری کی مذہب شہادت کے مقابلہ میں اپنی مسلمہ حدیث شریف اور ساری اپنی تحقیقات اور الہامات کو ردی کر دیا۔ حالانکہ مولوی صاحب نے صرف اس قدر کہا تھا کہ کشمیر میں ایک قبر مشہور اور معروف ہے۔ جس کو یوز آسف نبی کی قبر کہتے

؎١ ازالہ اوہام مرزا قادیانی جن میں میاں کریم بخش موحد نا خواندہ بقول حضرت شیرازی ع کہ بے علم نتوان خدا را شناخت یہ تیس، اکتیس برس گذشتہ زمانہ کا ذکر ایک عام شخص مخبوط الحواس گلاب شاہ کی زبانی روایت کرتا ہے کہ عیسیٰ جوان ہو گیا۔ وہ لدھیانہ میں آئے گا اور قرآن کی غلطیاں نکالے گا اور بہت سامان مرزا قادیانی کے مسودہ میں آچکا تھا۔ مگر اصل بات یاد نہ رہی۔ تب کریم بخش کیا کہتا ہے کہ مجھے ایک بات یاد نہیں رہی کہ اس مجذوب نے مجھے صاف صاف بتلا دیا تھا کہ اس عیسیٰ کا نام غلام احمد ہے۔ اب خیال کرنے کی بات ہے کہ ٣٠، ٣١ برس کی بات ایک مجذوب شخص کی ایک نا خواندہ نے یاد رکھی اور ایک بڑا طول طویل مضمون عربی فارسی الفاظ کا مرزا قادیانی کے پاس لکھوا دیا۔ اگر یہ مضمون خود مرزا قادیانی سے اس وقت پوچھا جائے تو وہ بھی ادا نہ کرسکیں اور مجذوب اتنے لمبے قصے لوگوں کو سنایا کرتے ہیں۔ وہ تو صرف ایک آدھ بات منہ سے نکال دیا کرتے ہیں۔ اتنے عرصہ کے درمیان کریم بخش مذکورہ نے کسی اور کے ساتھ ہی اس بات کا تذکرہ کیا تھا یا نہیں۔ اگر کیا تھا تو کس کے ساتھ اور اس کی شہادت کیوں پیش نہیں کی؟۔ معلوم ہوا کہ میاں کریم بخش اور مرزا قادیانی کا ایمان ہے کہ قرآن میں غلطیاں ہیں۔ جن کو مرزا قادیانی آج کل نکال رہے ہیں۔ اس کتاب کے ملاحظہ سے معلوم ہوں گی۔

٤٧

صفحہ ٤٠٤

ہیں ۔ اس سے یہ بھی ثابت نہیں کہ مولوی صاحب نے یوز آسف بحرف صاد کہا یا بہ سین کہا ۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے یسوع صاحب کا نام نہیں ۔ مرزا قادیانی نے یہ اپنا ڈھکوسلہ پیش کیا ہے۔ الہام بھی نہیں ۔ پھر اس ڈھکوسلے پر کس کو اعتبار ہو سکتا ہے اور اعتبار ہو بھی کیسے؟ ۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو ایک بات پر قرار نہیں۔ جیسے خود لکھتے ہیں کہ:

فرضی قبر مسیح اور اقوال مرزا

نہیں کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

رہی ہے۔ یہ گلیل میں اس کو پیش آئی۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٤، خزائن ج ٣ ص ٣٥٢)

لوگ کرتے ہیں۔“

(ست بچن حاشیہ در حاشیہ ص ١٦٢، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)

(ست بچن ص ١٦٤ حاشیہ)

اب فرمائیے ! مرزا قادیانی کی کس تحقیق یا کس الہام یا بات پر اعتبار کیا جائے ۔ آیا حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر گلیل میں ہے یا بلاد شام میں یا کشمیر میں ؟ ۔ ممکن ہے کہ مرزا قادیانی اس کا جواب استعارہ لگا کر یوں دیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر تو گلیل میں ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلاد شام میں اور حضرت یسوع صاحب علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ۔ سبحان اللہ مرزا قادیانی کی تحقیقات و کشف والہامات پر اعداء قربان ۔ یہی باتیں ہیں جس کو ہر تھوڑی سمجھ کا آدمی بھی سن کر ہذیان ، مانخولیا ، خبط ، مراق میں داخل کرے گا ۔ بس یہاں مرزا قادیانی کی کل کارروائی نابود اور مردود ہو گئی ۔

ازالہ امر پنجم ! اس امر میں مرزا قادیانی نے اپنے الہام قطعی اور یقینی سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ۔ دوبارہ آنے سے روک دیئے گئے اور آنے والا مسیح میں ہی ہوں ۔ یہ مجھے خدا نے خبر دی ہے۔

اس میں ناظرین کو دیکھنا ضروری ہے کہ آیا مرزا قادیانی کا الہام وحی الٰہی ورسول کی طرح قطعی اور یقینی ہے اور اس پر ویسے ہی ایمان لانا چاہئے ۔ جیسے پیغمبران علیہم السلام کے الہام

٤٨

صفحہ ٤٠٥

پر؟۔ نیز مرزا قادیانی کا خدائے ملہم وہی مسلمانوں کا خدا ہے یا کوئی اور؟۔ اس میں مجھے ان کے ہی الہامات سے کام لینا ہوگا۔ کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔

مرزا قادیانی اپنی (براہین احمدیہ کے ص٥٥٦، خزائن ج١ ص٦٦٤) میں انگریزی، عربی، عبرانی زبانوں کے الہامات درج کر کے لکھتے ہیں کہ ان کے معنے مجھے معلوم نہیں ہوئے۔ کوئی انگریزی خواں اس وقت موجود نہیں۔ اس الہام کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آیا وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا ملہم ایسا ہے کہ اپنے ملہم کو جو الہام کرتا ہے محض فضول اور بے سود کرتا ہے کہ اس کا مطلب یا معنی ملہم اور ملہم دونوں کو نہیں آتے۔ یہ خوب ہوئی کہ مرزا قادیانی کا خدا الہام کرتا ہے۔ مگر اس کے حکم اور کلام کے جو اپنے نبی پر بھیجتا ہے کچھ معنی نہیں ہوتے اور نہ کوئی مترجم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس کا ترجمہ بتلائے اور نہ انکا خدا ہی الہام کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کی سمجھ میں آئے تا کہ اس کے مطلب سے آگاہ ہو کر تعمیل احکام الٰہی کریں۔ یہ عجیب الہامات ہیں کہ مرزا قادیانی جن زبانوں کے سمجھنے سے بالکل نابلد ہیں۔ ان کو القاء کئے جاتے ہیں۔ پھر انکا عجب خدا ہے کہ جو شخص جن زبانوں کو سمجھ نہیں سکتا انہیں زبانوں میں الہام کرتا ہے۔ اس سے مرزا قادیانی کے خدا کی بے علمی اور جہالت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کے خدا کو اگر معلوم ہوتا کہ مرزا قادیانی انگریزی، عبرانی اور بعض الفاظ عربی نہیں جانتے اور نہ سمجھ سکتے ہیں تو کبھی ان زبانوں میں الہام نہ کرتا کہ آپ اس بات پر یقین کرلیں گے۔ عبرانی وانگریزی، عربی وغیرہ میں الہامات ہوں جو مرزا قادیانی نہ جانتے ہوں نہ ان کا مطلب کسی کو سمجھا سکتے ہوں۔ یہی الہامات قطعی اور یقینی ہوسکتے ہیں؟۔ انہیں سے ان کو مسیح موعود مان لیا جائے گا۔ اس طرح پر مرزا قادیانی ملہم تو ہیں مگر الہاموں کے معنوں اور مطلبوں سے ناواقف اور ان کے بیان کرنے سے عاری اور جاہل ہیں۔ مجھے یہاں پر ایک مشہور حکایت یاد آ گئی ہے جو اس کے مطابق ہے۔ ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔ وہو ہذا!

اکبر بادشاہ کے وقت میں جب ان کو پیغمبر بننے کی سوجھی اور ابوالفضل اور فیضی ان کے وزراء نے ان کو پیغمبر ثابت کرنا چاہا اور دین الٰہی کو قائم کرنے پر آمادہ ہوئے تو قرآن شریف کی ضرورت ہوئی اور پہلے ہی سے تجویز کر کے ایک نے ان میں سے بادشاہ سے کہا کہ مجھ کو الہام ہوا ہے کہ جیسے حضرت رسول خدا ﷺ امی تھے۔ ایسے ہی آپ ہیں اور آپ پر بھی قرآن شریف نازل

٤٩

صفحہ ٤٠٦

ہوا ہے اور ایک درخت میں ہے۔ بادشاہ سلامت پیغمبری کی دھن میں لٹو ہو گئے۔ تو بجمعیت کثیر نہایت تزک و احتشام سے درخت معلومہ میں سے قرآن وضعی نکالا گیا۔ جو زبان عربی میں تھا۔ نہایت احتیاط سے وہ قرآن دربار میں لایا گیا۔ ہر ایک شخص اس قرآن کو بوسہ دیتا، زیارت کرتا۔ مبارک دیتا ادب سے رکھتا جاتا تھا۔ اتنے میں ابوالحسن معروف بہ ملا دو پیازہ بھی آگئے۔ انہوں نے بھی اس قرآن کو دیکھا اور بلا دینے بوسہ اور کسی ادب کے ایسی طرز سے رکھ دیا۔ جس سے بادشاہ کو اچھا معلوم نہ ہوا۔ بادشاہ نے ایسی حرکت کی بابت ملا سے پوچھا کہ کہو کیسا ہے؟۔ ملا صاحب نے کہا کہ ہاں ! خیر اچھا ہے۔ اس پر بادشاہ کو اور بھی شبہ ہوا۔ آخر کو بادشاہ کے زیادہ اصرار پر عرض کی کہ قبلہ عالم جانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ملک کنعان میں تھے۔ ان کی زبان عبرانی تھی۔ اس لئے توریت عبرانی زبان میں نازل ہوئی اور حضرت داؤد علیہ السلام کے ملک کی زبان سریانی تھی۔ اس لئے زبور سریانی زبان میں نازل ہوئی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ملک کی زبان یونانی تھی۔ اس لئے خداوند کریم نے انجیل کو یونانی میں نازل فرمایا اور حضرت رسول اکرم ﷺ ملک عرب میں ہوئے۔ اس لئے خداوند کریم نے قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل فرمایا اور یہی سنت اللہ ہے کہ ہر ایک پیغمبر کو ان کی ہی زبان میں کتاب یا صحیفہ نازل ہوتا رہا ہے۔ جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “ یعنی ہم نے کسی پیغمبر کو مبعوث نہیں کیا۔ جو اپنی قوم کی زبان نہ جانتا ہو۔ پیغمبر کی زبان اور اس کی قوم کی بول چال ایک ہو۔ ایسا نہیں ہوتا کہ پیغمبر تو ہندوستان کا ہو اور قوم اس کی عرب کی ہو۔ میں نہایت تعجب سے سوچ رہا ہوں کہ یہ قرآن عربی زبان میں ہے۔ ہندوستانی میں نہیں۔ اس کو نہ تو آپ خود سمجھ سکتے ہیں اور نہ کسی کو سمجھا سکتے ہیں۔ ہاں اگر یہ قرآن ہندوستانی یا اردو میں ہوتا جو قبلہ عالم کی زبان ہے تو البتہ مان لینے کے قابل ہوتا۔ بادشاہ یہ سن کر چپ ہو گیا اور وہ قرآن وضعی گاؤ خورد ہو گیا۔

پس مرزا قادیانی کی بعینہ اکبر بادشاہ کی سی مثال ہے کہ انہوں نے بھی پیغمبری کا دعویٰ کیا اور قرآن ان کا غیر زبان میں اترا۔ جس کے سمجھنے اور سمجھانے میں بالکل لاچار تھے اور مرزا قادیانی نے بھی دعویٰ پیغمبری کیا۔ لیکن الہامات آپ پر ایسی عربی انگریزی زبانوں میں نازل ہوئے کہ جس کے سمجھنے اور سمجھانے اور تعمیل حکم بجالانے میں باقرار خود قاصر اور لاچار رہے۔ پس ایسے مصنوعی قرآن مصنوعی الہاموں کا اعتبار مرزا قادیانی کے ہی چند بیوقوف مریدوں میں ہوگا اور کسی کو کیوں ہونے لگا۔

٥٠

صفحہ ٤٠٧

ایسے ہی مرزا قادیانی کے خدا کا بھی پتہ نہیں کہ کون ہے۔ کیونکہ وہ خود اپنی کتاب براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں کہ ”مجھے الہام ہوا ہے کہ ہمارا رب لے عاجی ہے۔ اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)

لیجئے! مرزا قادیانی کو اپنے خدا کا بھی اب تک پتہ نہیں کہ وہ کون ہے۔ اے غضب اور افسوس!! جس شخص کو اپنے خدا کا بھی پتہ نہ ہو کہ کون ہے۔ اس کے الہاموں کا کیا پتہ ہو سکتا ہے کہ وہ کیا ہیں۔ پھر وہ قطعی اور یقینی بھی ہیں۔ ناظرین و مرزائی نہایت غور اور توجہ سے خیال فرمائیں کہ جس ملہم کو اپنے خدائے مبہم کو بھی پتہ نہ ہو کہ وہ کیا اور کون ہے۔ پھر اس کے کسی الہام یا بات پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟۔ ہرگز نہیں!

قادیانی خدا عاج

خیر اب میں ہی مرزا قادیانی کے خدا کا پتہ دیتا ہوں۔ جس کی بابت وہ کہتے ہیں کہ ہمارا خدا عاجی ہے۔ (اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہوئے) تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کیوں کہتے ہیں کہ عاجی کے معنی معلوم نہیں ہوئے۔ کیا ان کے پاس کوئی چھوٹی موٹی لغت کی کتاب نہیں ہے؟۔ اگر ملہم نے معنی یا مطلب نہیں بتلائے تھے تو کوئی کتاب ہی دیکھ لیتے۔ جس سے عاجی کے معنی معلوم ہو جاتے۔ یہاں اگر مرزا قادیانی بوجہ قصور حافظہ اور مرزائی یہ کہہ دیں کہ الہامی لفظوں کے معنی اور مطلب جو خدا ملہم بتائے یا سمجھائے وہی ہو سکتے ہیں۔ کتاب لغت پر اعتبار نہیں ہو سکتا

لے ہمارا رب عاجی ہے۔.....الخ! اصل الہام زبان عربی مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ : ”رب اغفر وارحم من السماء ربنا عاج“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٥، ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٢، ٦٦٣)

معنی اس کے یوں ہیں کہ اے میرے رب میرے گناہ بخش اور آسمان سے رحم کر رب ہمارا عاج ہے۔ مرزا قادیانی نے عاج کا ترجمہ عاجی کیا ہے۔ ناظرین پوچھ سکتے ہیں کہ عاج کے معنی عاجی کیونکر ہوئے۔ گویا صاف ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا عاج ہے اور عاج کے معنی ص ٥٢، ٥٣ پر درج ہیں۔ یعنی ہاتھی دانت اور گوبر۔ حرف یاء مرزا قادیانی نے خود اپنی طرف سے لگایا اور اس کے معنی ہاتھی دانت کا یا گوبر کا بنا کر اور ہی ، بنا کر اور بھی تشریح کر دی ہے۔ پس بموجب الہام عربی مرزا قادیانی کے انکا (رب عاج) خدا ہاتھی دانت یا گوبر ہے۔ مرزائیوں کو بھی مبارک ہو کہ ان کے پیغمبر کا خدا اور نیز انکا ہاتھی دانت اور گوبر ہے۔

٥١

صفحہ ٤٠٨

اور نہ ایسے لفظوں کے واسطے کوئی کتاب لغت دیکھے جانے کا حکم ہے۔ لیکن یہ کہنا ان کا محض لغو اور باطل ہو گا کیونکہ مرزا قادیانی اپنی کتاب براہین احمدیہ میں اس طرح پر پہلے لکھ چکے ہیں اور یہ ”الہام اکثر معظمات امور میں ہوتا ہے کبھی اس میں ایسے الفاظ بھی ہوتے ہیں۔ جن کے معنی لغت کی کتابیں دیکھ کر کرنے پڑتے ہیں۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٣٨، حاشیہ نمبر ١ خزائن ج ١ ص ٢٦٤)

مرزا قادیانی ہی اس کا جواب دیں گے کہ انہوں نے کیوں عاجی اپنے خدا کے معنے لغت کی کتاب سے نکال کر نہ کئے اور کیوں کہہ دیا کہ اس کے معنی اب تک معلوم نہیں ہوئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سچا الہام آپ کی قلم سے نکل گیا۔ جب بعد میں اس کے معنوں پر علم ہوا اور مخالف معلوم ہوئے تو لکھ دیا کہ اس کے معنی معلوم نہیں ہوئے۔ مگر خداوند کریم کی حکمت ہے کہ مرزا قادیانی کے ہی منہ اور قلم سے سچی بات نکل گئی۔ لیجئے میں دو معتبر کتب لغت سے لفظ عاجی مرزا قادیانی کے خدا کے معنی تحریر کر کے پیش کرتا ہوں۔ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کا خدا کیا اور کون ہے۔ لفظ عاجی میں اصل لفظ عاج ہے اور حرف ی اس کے ساتھ نسبتی ہے۔ پس لفظ عاج کے معنی یہ ہیں۔

رانند، راہ پرمتلی ،منتخب اللغات ص ٣٠٢۔

اللينة الاعطاف وعظم الفيل“

(قاموس ج ١ ص ٢٠٨)

”وعاج ممتلىء“

(قاموس ج ١ ص ٢٠٥)

(مجمع بحار الانوار ج ٣ ص ٢٩٨)

الذی یعرفه العامة عظم انیاب الفیل“

(مجمع بحارالانوار ج ٣ ص ٢٩٨)

پس لفظ عاجی کے معنی ہاتھی کے دانت کا یا والا اونٹنی نرم جگہ پر سوئی ہوئی کا یا والا، گوبر کا یا والا ، راہزن والا ، لتھڑہ ہوا یا لتھڑے ہوئے کا یا والا ، ہوئے۔ پس بقول مرزا قادیانی ثابت

لے اصل الہام کی عبارت پہلے گزر چکی ہے۔ یائے نسبتی مرزا قادیانی نے الہام میں اپنی طرف سے لگائی ہے۔

٨٢

صفحہ ٤٠٩

ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا خدا عاجی ہاتھی دانت کا یا گوبر کا ہے یا مرزا قادیانی جو ان معتبر کتابوں کے معنی کئے ہوئے ہیں۔ کسی ایک کو ١؎ مان لیں۔ خواہ کوئی بھی ہو۔ جب ان کے بجز خاص قطعی اور یقینی الہام سے انکا خدا ملہم عاجی ہاتھی کے دانت کا یا ہاتھی کے دانت کے دانت والا یا گوبر کا ہے۔ تو پھر علماء وفضلاء ومشائخ صلحاء اہل اسلام مباہلہ کے لئے کیوں کشمکش ہو رہے ہیں؟۔ جتنی کارروائی مرزا قادیانی کی اب تک ہوئی ہے۔ سب خاک میں مل گئی اور ملیا میٹ ہوگئی۔ میرے خیال ناقص میں ہے کہ (براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج ١ ص ٦٦٣) کا کسی کے زیر نظر یا مطالعہ میں نہیں آیا۔ ورنہ پہلے ہی سے یہ سب جھگڑے بکھیڑے ختم ہو جاتے۔ مگر اتفاق ہے کہ ایسا نہ ہوا۔ جب مرزا قادیانی کا خدا ملہم عاجی ہے۔ جس کے معنی اوپر ہو چکے ہیں۔ تب مرزا قادیانی کے الہامات مندرجہ ذیل کے معنی کیا ہوئے اور کیا سمجھے جائیں گے۔

الہامات مرزا قادیانی

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ٧٨)

(انجام آتھم ص ١٤٢، خزائن ج ١١ ص ١٤٢)

ان الہاموں میں سے صاف ہے کہ مرزا قادیانی کی جس نے بیعت کی اس کا ہاتھ ہاتھی کے دانت والے یا گوبر والے کے ہاتھ پر ہوا۔ گوبر والے نے دونوں جہان کی رحمت کے واسطے مرزا قادیانی کو بھیجا۔ جو اظہر من الشمس ہے۔ جن کا ذکر ہو چکا ہے۔ یہ بھی ضرور ہے کہ آپ کے خدا عاجی نے آپ کا نام عیسیٰ بھی رکھ دیا ہوگا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا بلکہ نہایت ہی قرین

١؎ کسی ایک کو یعنی بطریق اجوف تو صاف بیان ہو چکا ہے۔ اگر بطریق ناقص بھی مرزا قادیانی لفظ عاجی یا عاج کا کچھ بنانا چاہتے ہیں تو بھی ان کے خدا کی کوئی اچھی ترکیب یا توصیف نہیں نکلتی اور نہ کوئی خدا کے اسماء میں نہ صفات میں سے کچھ بن سکتا ہے۔

٥٣

صفحہ ٤١٠

قیاس اور یقینی امر ہے کہ خدا عاجی گوبر کا ہے تو اس کا عیسیٰ بھی نفاست میں اس سے بڑھ چڑھ کر ہونا چاہئیے ۔ سو میں اس عیسیٰ کو جس کی تعریف مرزا قادیانی نے خود کر کے اپنے پر منطبق کیا ہے۔ ناظرین کے ملاحظہ کے لئے ضبط تحریر میں لاتا ہوں اور نہایت ہی خوش ہوں کہ مرزا قادیانی اعلیٰ درجہ کے منصف مزاج ہیں۔ لکھتے ہیں کہ ”مجھے سخت تعجب ہے کہ ہمارے علماء عیسیٰ کے لفظ پر کیوں چڑتے ہیں۔ اسلام کی کتابوں میں تو ایسی چیزوں کا بھی عیسیٰ رکھا گیا ہے۔ جو سخت مکروہ ہیں۔ چنانچہ برہان قاطع میں حرف عین میں لکھا ہے کہ عیسیٰ دھقان کنایہ شراب انگوری سے ہے۔ عیسیٰ نومابہ اس خوشہ انگور کا نام ہے۔ جس سے شراب بنایا جاتا ہے اور شراب انگوری کو بھی عیسیٰ نوما بہ کہتے ہیں۔ اب غضب کی بات ہے کہ مولوی لوگ شراب کا نام تو عیسیٰ رکھیں اور تالیفات میں بے مہابا اس کا ذکر کریں اور ایک پلید چیز کی ایک پاک کے ساتھ اس میں مشارکت جائز قرار دیں اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ ..... عیسیٰ کے نام سے موسوم کرے۔ وہ ان کی نظر میں کافر ہو ۔“

(نشان آسمانی ص ٢٠، خزائن ج ٤ ص ٣٨٠)

اس سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ خدا عاجی ایک پلید اور خبیث چیز گوبر ہے۔ تو اس کا عیسیٰ شراب جو ام الخبائث ہے۔ درست اور بجا ہے۔ یعنی خدا ملہم گوبر اور عیسیٰ ملہم شراب کیا عمدہ مماثلت ہوئی؟ ۔ وزیرے چنیں شہر یارے چناں

ان تحریروں پر تو میں مرزا قادیانی سے بالکل اتفاق کر کے صاد کرتا ہوں اور ان کے انصاف اور راستبازی کی داد دیتا ہوں اور یہاں علماء سے مجھے کلام ہے۔ کیونکہ جب مرزا قادیانی اپنے خدا کا نام عاجی ، گوبر لکھتے ہیں اور اپنے آپ کو عیسیٰ نوما بہ یا عیسیٰ دھقان تحریر کرتے ہیں جو شراب انگوری ہے۔ تو پھر ان کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں اور عیسیٰ کہلانے میں کیوں ناحق چڑتے ہیں؟ ۔ یہ بے شک ان کی زبردستی ہے۔ اس کے پیچھے پڑنے اور چڑنے کی وجہ بتلانے میں مجھے اس لئے کسی قدر تامل ہے کہ مرزا قادیانی نے کوئی خاص اشتہار جلی قلم کا انعامی یا سزائی نہیں دیا کہ ہمارے خدا عاجی ( ہاتھی کے دانت کا یا گوبر کا ہے ) اور میں عیسیٰ دھقان یا عیسیٰ نوما بہ، شراب انگوری ہوں۔ جس سے علماء مخالفین کو خبر ہو جاتی اور مخالفت سے ان کا منہ بند ہو جاتا۔ البتہ مرزا قادیانی کا یہاں جواب یہ ہو سکتا ہے کہ جب ہم نے کتابوں رسالوں میں لکھ دیا اور کتابوں میں ہر جگہ موجود ہے۔ تو پھر ضرورت کسی اشتہار کی نہیں تھی۔ یہ صحیح ہے لیکن اگر اشتہار انعامی یا مباہلی بھی بطور تبلیغ شائع فرماتے اور مخالفین کو پہلے ہی سے یہ عقیدہ آپ کا معلوم ہو جاتا تو خواہ مخواہ

٥٤ بے سود علمی بحثیں کر کے تضیع اوقات نہ کرتے وفضلاء اہل اسلام و دیگر طلباء ہدایت غیر اسلام پیچھا چھوڑ دیں۔ جبکہ انہوں نے سچ سچ کہہ دیا اور میں عیسیٰ دھقان یا عیسیٰ نوما بہ (شراب انگور صاف ہو گیا ہے کہ ان کا خدا گوبر اور عیسیٰ شرا الہامی کتاب انجیل انجام آتھم حصہ ضمیمہ ہے۔ ........٩،٨........ میں مرزا قادیانی کا و السلام کلیم اللہ ہیں تو آپ بھی کلیم اللہ ہیں۔ شـ .......١٠........ اس میں مرزا قادیانی یہ کاسہ لیسی کسی ریفارمر صاحب بہادر کی ہے متواترہ واقوال جمہور علماء ، متکاثرہ کا صریح ا حضرت رسول اللہ ﷺ کی سخت توہین کی ہے باللہ منہا کثیف ( جو ضد ہے لطیف کی ) لکھ د کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات سے کیوں کر جائز ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“ حالانکہ اپنی کتاب الہامی براہ ، یعنی جب کہ وجود مبارک حضرت خاتم ا نور آسمانی جو وحی الہی سے وارد ہو گیا اور اس مجمع الانوار بن گیا ۔“ خیال فرمائیے! کہاں حضرت مرزا قادیانی کی تقریظ کہ اس جسم مبارک کو آمین ثم آمین ۔ اہل اسلام اور اہل سنت و علیہ السلام کے میلے کپڑے کو میلا کہے گا تـ نور الانوار کو و يرى من خلفه كما رائـ

صفحہ ٤١١

بے سود علمی بحثیں کر کے تضیع اوقات نہ کرتے۔ اب میں نہایت ادب سے بخدمت شریف علماء و فضلاء اہل اسلام و دیگر طلباء ہدایت غیر اسلام عرض کرتا ہوں کہ خدا کے لئے اب تو مرزا قادیانی کا پیچھا چھوڑ دیں۔ جبکہ انہوں نے سچ سچ کہہ دیا ہے کہ ہمارا خدا عاجی (ہاتھی دانت کا یا گوبر کا) ہے اور میں عیسیٰ دھقان یا عیسیٰ نومابہ (شراب انگوری ہوں) اور ہرگز نہ چڑیں اور نہ برا منائیں۔ اب صاف ہو گیا ہے کہ ان کا خدا گوبر اور عیسیٰ شراب انگوری اس کی رہائش قادیان (حرص والی) ان کی الہامی کتاب انجیل انجام آتھم مع ضمیمہ ہے۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو مبارک ہو۔

السلام کلیم اللہ ہیں تو آپ بھی کلیم اللہ ہیں۔ شاید کوہ طور کی بجائے آپ کا پہاڑ کینہ کا کوئی ٹیلا ہو۔

یہ کاسہ لیسی کسی ریفارمر صاحب بہادر کی ہے۔ جو تمام اہل اسلام کی مخالفت میں آیات اور احادیث متواترہ واقوال جمہور علماء متاخرہ کا صریح انکار کر دیا ہے اور یہاں پر ایک اور غضب کیا ہے کہ حضرت رسول اللہﷺ کی سخت توہین کی ہے۔ حضرت محمدﷺ کے جسم اطہر مظہر نور الانوار کو تو بہ نعوذ باللہ منہا کثیف (جو ضد ہے لطیف کی) لکھ دیا ہے جیسے لکھتے ہیں۔ ”اگر اس جگہ کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات سے ہے تو پھر ان حضرت محمدﷺ کا معراج جسم کے ساتھ کیوں کر جائز ہوگا تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا۔ بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔“

(ازالہ اوہام حاشیہ ص ٤٧ خزائن ج ٣ ص ١٣٦)

حالانکہ اپنی کتاب الہامی براہین احمدیہ میں آنحضرت محمدﷺ کی نسبت لکھتے ہیں۔ ”یعنی جب کہ وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاءﷺ میں کئی نور جمع تھے۔ سو ان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الٰہی سے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم النبیینﷺ کا مجمع الانوار بن گیا۔“

(براہین احمدیہ ص ١٨٠ حاشیہ نمبر ١١، خزائن ج ١ ص ١٩٥)

خیال فرمائیے! کہاں حضرت احمد مصطفیٰﷺ کا جسم مبارک مجمع الانوار تھا اور کہاں مرزا قادیانی کی تحریر کہ اس جسم مبارک کو کثیف لکھ دیا۔ خدا پناہ میں رکھے ایسے مردود اعتقاد سے۔ آمین ثم آمین۔ اہل اسلام اور اہل سنت والجماعت کے عقائد میں ہے کہ اگر کوئی شخص توہیناً کسی نبی علیہ السلام کے میلے کپڑے کو میلا کہے گا تو کافر ہو جائے گا۔ چہ جائیکہ حضرت محمدﷺ کے جسم اطہر نور الانوار کو ویری من خلفه کما یری من قبلہ جو آگے پیچھے سے برابر دیکھتے تھے اور عکس

٥٥

صفحہ ٤١٢

تک جسم مبارک پر نہیں بیٹھتے تھے اور اسی لئے سایہ بھی آنحضرت ﷺ کا نہیں تھا۔ جسم کثیف لکھ دیا۔ میں مرزا قادیانی کا ہی اعتقاد پیش کرتا ہوں کہ جس شخص حضرت محمدﷺ کے جسم مبارک کو کثیف کہے وہ کون ہے۔ وهو هذا!

نور شان یک عالمے را درگرفت
تو ہنوز اے کور در شور و شرے
لعل تاباں را اگر گوئی کثیف
زین چہ کاہد قدر روشن جوہرے
طعنہ بر پاکان نہ بر پاکان بود
خود کنی ثابت کہ ہستی فاجرے

(دیباچہ براہین احمدیہ ص ١٥، خزائن ج ١ ص ٣٣)

لیجئے! یہاں اپنی ہی مثبتہ اور مسلمہ دلیل سے مرزا قادیانی جو پیغمبری اور خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ حضرت رسول اکرمﷺ کے جسم مبارک مجمع الانوار کو کثیف کہہ کر خود فاجر ثابت ہو گئے۔ اب وہی مولانا رومیؒ بزرگ کا قول بھی مرزا قادیانی پر ثابت ہو گیا۔

چون خدا خواهد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنۂ پاکان برد

کیا خوب! مرزا قادیانی کے شعر کے مطابق ہی ہمارے بزرگ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کا قول بھی منطبق ہو گیا۔ پس مرزا قادیانی کی پردہ دری عنقریب ہے اور رفتہ رفتہ ہو رہی ہے۔ آخر موقعہ بھی جو علے الاعلان پردہ دری کا ہونے والا ہے اب بہت قریب معلوم ہوتا ہے۔ العیاذ باللہ!

اللہ تعالیٰ اپنے قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ: ’’واذکر فی الکتب ادریس انہ کان صدیقاً نبياً O ورفعنہ مكاناً عليا (مریم:٥٦، ٥٧)‘‘ یعنی یاد کرو (اے رسول خداﷺ) حضرت ادریس علیہ السلام کا حال تحقیق تھا وہ سچا نبی اٹھا لیا ہم نے اس کو مکان عالی پر۔ تمام تفاسیر اور کتب اہل اسلام میں یہی معنی اور یہی اعتقاد ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام یا الیاس

١؎ مرزا قادیانی نے حضرت محمدﷺ کی تعریف میں پہلے یہ لکھا تھا کہ جب خود پیغمبر بنے تو جسم اطہر کو کثیف لکھ دیا۔

٥٦

صفحہ ٤١٣

علیہ السلام آسمان پر زندہ اٹھائے گئے اور اسی جسم عنصری کے ساتھ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله إليه (النساء: ١٥٧)“ وہی لفظ رفع کا یہاں بھی ہے۔ یہاں پر صرف حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ کا ایک قول کتاب فصوص الحکم سے نقل کرتا ہوں۔ جن کی سند میں مرزا قادیانی بھی اپنے (ازالہ اوہام ص ١٥٢، ١٥٣، خزائن ج ٣ ص ١٧٧، ١٧٨) میں لکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ: ”الیاس حضرت ادریس علیہ السلام ہی ہیں۔ جو حضرت نوح علیہ السلام سے پیشتر نبی تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو مکان عالی پر اٹھا لیا۔ پس وہ قلب الافلاک یعنی فلک الشمس میں رہتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ شہر بعلبک کی طرف ان کو مبعوث فرمایا۔ کیا اب بھی آپ کو حضرت رسول اللہﷺ کا جسمی معراج شریف محالات سے معلوم ہوتا ہے؟۔ کیا خداوند کریم کو آپ قادر نہیں سمجھتے۔ کیا مرزا قادیانی کے فلسفہ توڑنے کی قدرت اللہ تبارک و تعالیٰ میں نہیں؟۔ ہاں البتہ ان کے خدا عاجی میں ضرور قدرت نہیں ہے۔ اس لئے اپنے فلسفی ڈھکوسلے آیات و احادیث اجماع امت کے مقابلہ میں بڑے زور سے بتریج پیش کیا کرتے ہیں۔ جو نہایت بودے اور ناقابل لحاظ ہیں۔

بڑے فاضل عربی اس وقت پنجاب و ہندوستان میں موجود ہیں۔ جن کی عربی دانی مسلمہ ہے۔

استہزاء ہے اور یہی استہزاء حضرت رسول اکرمﷺ کے معراج شریف جسمانی میں ہے کہ وہ آسمان پھاڑ کر تشریف لے گئے اور واپس تشریف لائے۔ مرزا ملعون نے بھی آریوں سے لڑتے جھگڑتے یہ عقیدہ حاصل کر لیا کہ خداوند کریم قادر مطلق نہیں۔ جو کسی کو آسمان پر زندہ بجسد عنصری لے جاسکے۔

میں نعوذ باللہ کسی معلم الملکوت کی روح باتیں کرتی ہے؟۔

صاحبان کے نام درج کئے اور بعض مولوی صاحبان اہل حدیث جو آپ کے جانی دوست تھے وہ ایسے ایسے خلاف شرع دعویٰ نبوت سے جانی دشمن بن گئے۔

٥٧

صفحہ ٤١٤

مرزا قادیانی کے برابر کلام فصیح نہیں لکھ سکتے ؟۔ جیسے کہ ان کا دعوٰی نمبر ١١ میں گزر چکا ہے۔ اگر حکیم صاحب مرزا قادیانی کے برابر کلام فصیح لکھ سکتے ؟۔ تو مرزا قادیانی کے فاضل بزرگ نہیں۔ ایک نہ ایک بات تو ضرور غلط ہوگی ۔ کیونکہ اجتماع الضدین محال ہے اور یہ اعتقاد بھی عجیب ہے کہ حکیم صاحب تو فاضل بزرگ اور دیگر تمام علماء فضلاء ہندوستان اور پنجاب کے ہیچ اور پوچ ہوں۔

کودتی ہے۔ تو مسٹر عبداللہ آتھم کے واسطے ٦ ستمبر ١٨٩٤ء کو رخصت لے کر نہ چلی جاتی اور نہ آپ کو وقت پر دھوکہ دیتی اور آپ کے معہ اہل بیت و حوارئین کی تضرع وزاری کے وقت پر آ موجود ہوتی۔ افسوس ایسی دعا بجلی کی طرح ہو اور قادیان سے امرتسر تک بھی پہنچ نہ سکی۔ اگر یہ دعا آپ کے پاس ہوتی تو ایک بھی مولوی زندہ نہ رہتا اور ایک بھی پادری دنیا پر نہ رہتا اور آپ کی عیسویت نمایاں طور پر ہوتی اور ایک بھی آریہ صفحہ ہستی پر نہ رہتا اور لیکھرام کو کئی سال تک فرشتے تلاش کرتے نہ پھرتے اور آپ کے قادیان کے رہنے والے سب کے سب غارت ہو جاتے ۔ حتی کہ آپ کو طلاق اور عاق کرنے کی بھی نوبت نہ پہنچتی ۔ یہی دعا ہے کہ جس کا آپ فخر کرتے ہیں۔ جو مینڈک کی طرح نہ کودی۔ جب کبھی آپ نے دعا کی تو یہ کہ فلاں پادری پندرہ ماہ کے اندر مرے گا۔ فلاں مولوی ایک سال تک مرے گا۔ فلاں آریہ چھ سال میں مرے گا۔ جو کوئی میرے ساتھ مباہلہ کرے ایک سال میں مر جائے گا۔ نہایت ہی افسوس ہے کہ کبھی آپ نے یہ دعا نہ کی کہ میرے قادیان کے رہنے والے سیدھے ہو جائیں! کبھی یہ دعا نہ کی کہ پادری اور آریہ مسلمان ہو جائیں۔ کبھی یہ دعا نہ کی کہ میرے مخالف مولویوں و دیگر اہل اسلام میرے دوست ہو جائیں۔ ایسی دعا اگر ریل کی طرح نہ سہی کسی لنگڑے گھوڑے ٹٹو کی طرح چلتی تو بھی منزل مقصود تک پہنچ جاتی۔ مگر مرزا قادیانی نے کچھ نہ کیا۔ کیا تو یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر زور دے کر خود ان کی جگہ ہونے کا دعویٰ علی الاعلان کر دیا۔ یہاں مجھے ایک روایت بطور لطیفہ یاد آگئی ہے۔

لطیفہ ! مرزا قادیانی نے سرسید احمد خان صاحب بہادر کے پیرو سے کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کا کیا بنا دیا۔ کون سی بڑی بات کر کے دکھلائی کون سی نئی ریفارمری کی۔ اس پیرو نے کہا کہ سرسید صاحب نے بہت ہی بڑا کام کیا ہے۔ وہ یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا فوت ہو جانا ثابت کر دیا ہے۔ جس سے آپ کو اپنے مسیح موعود ہونے کا موقعہ ہاتھ آگیا۔

٨٨

صفحہ ٤١٥

الحمدللہ کہ خلاصہ معہ مختصر جوابات رسالہ انجام آتھم ختم ہوا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے انجام آتھم کا ضمیمہ بھی چھپوایا۔ اس کو بھی دیکھا گیا۔ ضرور ہوا کہ اس کا بھی خلاصہ ہدیہ ناظرین کیا جائے۔ جس سے مرزا قادیانی کی بہادری اور بھی بڑھ چڑھ کر معلوم ہوگی۔

پنجم خلاصہ مختصر ضمیمہ انجام آتھم

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ ص ٢٨٧)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)

روح تھی۔

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

نہیں تھا۔ پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے وجود سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔ ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کا پلید عطر اس کے سر پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

بھاگنے والو تم جھوٹ مت بولو اور وہ نجاست نہ کھاؤ۔ جو عیسائیوں نے کھائی ہے۔ بے ایمان اور اندھے مولوی۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥)

تالیف ہوئی تھی۔ مہدی موعود کے بارہ میں مندرجہ ذیل عبارت لکھتے ہیں کہ: ’’در اربعین آمدہ است کہ خروج مہدی از قریہ کدعہ باشد ۔ قال النبی ﷺ یخرج المہدی من

٥٩

صفحہ ٤١٦

قرية يقال لها كدعه يصدقه الله تعالى ويجمع اصحابه من اقصى البلاد على عده اهل بدر بثلاث مائة وثلاثة عشر رجلا ومعه صحيفة مختومة اى مطبوعة فيها عدد اصحابه باسمائهم وبلادهم وخلالهم "یعنی مہدی اس گاؤں سے نکلے گا۔ جس کا نام کدعہ ہے۔ ( یہ نام دراصل قادیان کے نام کو معرب کیا ہوا ہے ) پھر فرمایا کہ خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور دور دور سے اس کے دوست جمع کرے گا۔ جن کا شمار اہل بدر کے شمار سے برابر ہوگا۔ یعنی تین سو تیرہ ہوں گے اور ان کے نام بقید مسکن وخصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔ اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو پہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ وہ مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے۔ اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہو۔ جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں۔ لیکن میں پہلے اس سے بھی آئینہ کمالات اسلام میں تین سو نام درج کر چکا ہوں۔ اب دوبارہ اتمام حجت کے لئے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں۔ تا ہر ایک منصف سمجھ لے کہ یہ پیش گوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی۔"

( ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٠، ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٤، ٣٢٥)

خلاصہ مختصر ضمیمہ ختم ہوا...... جواب مختصر شروع زیب قلم ہوا

حضرات ناظرین! مرزا قادیانی نے ضمیمہ الہامی میں پہلے تو مولوی صاحبان پر اس طرح کی گالیوں کی شلک کی ہے۔ یہودی، بدذات، مردار خور، گندی روح، بے ایمان، اندھے، کتے وغیرہ۔ بعد اس کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر سخت زبان درازی کی نعوذ باللہ منہا جس کے نقل کرنے سے نہایت خوف آتا ہے اور رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کے نقل کرنے پر بھی خداوند کریم مواخذہ کرے۔ لیکن مرزا قادیانی کے ایمان پر نہایت تعجب ہے کہ باوجود ایسی گندی گالیوں اور توہین کے (جو ایسے الوالعزم پیغمبر علیہ السلام کی شان میں کی گئی ہے ) پھر بھی ایمان میں روز بروز ترقی ہوتی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ خدائی کے درجہ تک پہنچ گئے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی ذات خاص تک نہیں بلکہ ان کی دادیوں نانیوں کو بھی نہ چھوڑا۔ افسوس!

سیدنا مسیح علیہ السلام اور مرزا قادیانی

لکھتے ہیں کہ ایک زنا کار کنجری نے آپ کے سر پر ناپاک اور حرام کی کمائی کا عطر ملا اور انہوں نے اس کو بغل میں لیا وغیرہ وغیرہ۔ (نورالقرآن ص ٧٤، خزائن ج ٩ ص ٤٤٩ ملخص ) کیوں صاحبو! آپ نے ایسے ایسے الزامات واتہامات سب وشتم کہیں اہل اسلام کے عقائد کی کتابوں میں دیکھے یا

٦٠

صفحہ ٤١٧

بنے ہیں؟۔ العیاذ باللہ اہل اسلام میں کوئی بھی ایسا نہیں جو ایسے عقائد والے کو کافر نہ کہے۔ بلکہ جس کے عقائد میں توہین انبیاء جائز اور سخت گندی گالیاں نکالنا درست ہو وہ کافر نہیں۔ بلکہ اکفر ہے۔ یہی علم کلام اور کتب عقائد میں درج ہے۔

مرزا قادیانی نے جو ایک کنجری کو بغل میں رکھنا اور سر پر حرام کا عطر ملوانا لکھا ہے اس کا قصہ انجیل میں یوں لکھا ہے۔ جس کو مرزا قادیانی نے کسی قدر محرف کیا ہے۔ وہو ھذا!

”اس شہر میں ایک عورت گنہگار تھی۔ جب جانا کہ وہ فریسی کے گھر کھانے بیٹھا ہے سنگ مرمر کے عطر دان میں عطر لائی اور وہ پیچھے پاؤں کے کھڑی تھی اور رورو کے آنسوؤں سے اس کے پاؤں دھونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے پونچھ کے اس کے پاؤں کو شوق سے چوما اور عطر ملا اور اس فریسی نے جس نے اس کی دعوت کی تھی یہ دیکھ کر دل میں کہا کہ اگر یہ نبی ہوتا تو جانتا کہ یہ عورت جو اس کو چومتی ہے کون ہے؟۔ اور کیسی ہے۔ کیونکہ گنہگار ہے۔ یسوع نے اسے جواب میں کہا کہ اے شمعون میں تجھے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا کہ اے استاد کہہ! ایک شخص کے دو قرضدار تھے۔ ایک پانچ سو دینار کا۔ دوسرا پچاس کا۔ پر جب ان کو ادا کرنے کا مقدور نہ تھا دونوں کو بخش دیا۔ سو کہہ ان میں کون سا اس کو زیادہ پیار کرے گا۔ شمعون نے جواب میں کہا میری دانست میں وہ جسے اس نے زیادہ بخشا۔ تب اس نے اسے کہا کہ تو نے ٹھیک فیصل کیا اور اس عورت کی طرف متوجہ ہو کے شمعون سے کہا کہ تو اس عورت کو دیکھتا ہے؟۔ میں تیرے گھر آیا تو نے مجھے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا۔ پر اس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے دھوئے اور اپنے سر کے بالوں سے پونچھے۔ تو نے مجھ کو نہ چوما پر اس نے جب سے میں آیا میرے پاؤں کو شوق سے چومنا نہ چھوڑا۔ تو نے میرے سر پر تیل نہ ملا پر اس نے میرے پاؤں پر عطر ملا۔ اس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے۔“

(بلفظہ لوقا باب ٧، آیات ٣٧، لغایت ٤٨)

دیکھئے! مرزا قادیانی نے کتنا بڑا اندھیر اور کذب کا استعمال کیا ہے۔ ایک ذرہ بھر بھی خدا کا خوف نہ آیا کہ ایسا بہتان صریح ایک اولوالعزم پیغمبر علیہ السلام کی شان میں لگا دیا ہے۔ ایک گنہگار عورت کو (جو بہ تقاضائے بشریت سوائے پیغمبران علیہم السلام کے سب گنہگار ہیں) کنجری زنا کار بنا دیا۔ حالانکہ اس گنہگار عورت نے محض اپنے گناہوں کی معافی کے واسطے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف رجوع کیا تھا اور نہایت ہی گریہ وزاری اور ادب سے حضرت کے پاؤں چومے اور ان پر عطر ملا اور پیچھے ہٹ کر پاؤں کے پاس کھڑی رہی۔ مرزا قادیانی کے بہتانات کیا ہیں کہ

٦١

صفحہ ٤١٨

یسوع نے اس کنجری کو بغل میں لیا اور حرام کی کمائی کا عطر اپنے سر پر ملوایا۔ لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ! کیا اگر کوئی گنہگار مرد یا عورت مرزا قادیانی کے پاس بیعت کے لئے جائے تو بیعت نہ کریں گے اور اگر وہ مرد یا عورت بیعت کے اول یا بعد کوئی نذرانہ خوشبو عطر وغیرہ پیش کرے تو مرزا قادیانی قبول کر کے اس کی مغفرت یا نجات کے لئے دعا نہ کریں گے اور اس عطر کو جمعہ یا عیدین کو بھی ریش مبارک پر لگا کر مہکتے ہوئے نہ جائیں گے؟۔ ضرور بالضرور ایسا ہی کریں گے۔ کیا مرزا قادیانی یقیناً کہہ سکتا ہے کہ ان کی خاص جماعت بلکہ فہرست اہل بدر بالکل معصوم اور بے گناہ ہے؟۔ اگر مرزا قادیانی کا یہ اعتقاد ہے کہ ان کی جماعت کے صحابہ گنہگار نہیں بلکہ معصوم ہیں۔ اس صورت میں سب کے سب انبیاء ہوئے۔ نعوذ باللہ من ذلک!

الغرض ! یہ جس قدر بہتانات مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام پر لگائے ہیں اور سخت توہین کر کے گندی گالیاں دی ہیں۔ یہ ان کی سراسر زبردستی اور خدا تعالیٰ سے بے خوفی اور لا پرواہی کا باعث ہے اور یہود اور نصاریٰ کی پیروی کی ہے۔ سو میں ان سب بہتانات اور الزامات کا جواب مرزا قادیانی کی ہی تحریرات سے پیش ناظرین کرتا ہوں اور انہیں کے عطیہ خطابات کو جو انہوں نے خود تجویز کر کے لکھے ہوئے ہیں۔ ان کے ہی قبول کرنے کے لئے پیش کرتا ہوں۔ سنئے!

اول...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ:

گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٥، خزائن ج ٥ ص ٢٢٥)

مرزا قادیانی نے کیا عمدہ رحم کو گھٹا کر دعائیں دی ہیں۔ گالیوں کا نزدیک تک بھٹکنے نہیں دیا۔ رحم کو بے رحمی میں ڈال دیا اور غیظ کو غضب الٰہی میں۔

برعکس نہند نام زنگی کافور

دوم...... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”یاد رہے کہ اکثر ایسے اسرار دقیقہ بصورت اقوال وافعال انبیاء سے ظہور میں آتے رہتے ہیں۔ جو نادانوں کی نظروں میں سخت بیہودہ اور شرمناک کام تھے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصریوں کے برتن اور پارچات مانگ کر لے جانا اور پھر اپنے صرف میں لانا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا کسی فاحشہ کے گھر میں چلے جانا اور اس کا عطر پیش کردہ جو حلال وجہ سے نہیں تھا۔ استعمال کرنا اور لگانے سے روک نہ دینا اور حضرت ابراہیم

٦٢

صفحہ ٤١٩

علیہ السلام کا تین مرتبہ ایسی طور پر کلام کرنا جو بظاہر دروغ ہیں ۔ داخل تھا۔ پھر اگر کوئی تکبر اور خود ستائی کے راہ سے اس بناء پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت یہ کہے کہ نعوذ باللہ وہ مال حرام کھانے والا تھا۔ یا حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت یہ زبان پر لائے کہ وہ طوائف کے گندہ مال کو اپنے کام میں لایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت تحریر شائع کرے کہ مجھے جس قدر ان پر بدگمانی ہے۔ اس کی وجہ ان کی دروغگوئی ہے۔ تو ایسے خبیث کی نسبت اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس کی فطرت ان پاک لوگوں کی فطرت سے مغائر پڑی ہوئی ہے اور شیطان کی فطرت کے موافق اس پلید کا مادہ اور خمیر ہے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٩٧، ٥٩٨، خزائن ج ٥ ص ٥٩٧، ٥٩٨)

لیجئے صاحب! آپ کو مبارک ہو وہی خطابات جن کو آپ اپنے الہامات سے پہلے لکھ چکے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ بموجب اپنے الہام قطعی اور یقینی کے وہی کچھ یعنی پاک لوگوں کی فطرت کے مغائر وغیرہ وغیرہ بقول اپنے سب کچھ ثابت ہو گئے اور عیسیٰ ہونے کی پوری تصدیق ہوگئی۔

سوم....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”مسیح علیہ السلام کا بیان کہ میں خدا ہوں۔ خدا کا بیٹا ہوں۔ میری خود کشی سے گندے لوگ نجات پا جائیں گے....... کوئی آدمی اس کو دانا یا راہ راست پر نہیں کہہ سکتا۔ مگر الحمدللہ قرآنی تعلیم نے ہم پر کھول دیا ہے کہ ابن مریم پر یہ سب جھوٹے الزام ہیں۔“

(ملخصاً نور القرآن ص ٣١، خزائن ج ٩ ص ٣٧١)

یہاں پر مرزا قادیانی نے خود حضرت مسیح علیہ السلام پر جھوٹے الزام لگا دیئے ہیں جو خلاف تعلیم قرآنی ہیں اور عمداً حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر جھوٹے بہتانات اور الزام لگائے گئے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ وہ خود اپنی ہی تحریر سے نادان ہیں اور راہ راست پر نہیں، آگے چلئے۔

چہارم....... مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”ان دو مقدس نبیوں پر یعنی آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح علیہ السلام پر بعض بدذات اور خبیث لوگوں نے سخت افتراء کئے ہیں۔ چنانچہ ان پلیدوں نے لعنت اللہ علیہم پہلے نبی کو تو....... قرار دیا۔ جیسا کہ اپنے اور دوسرے کو....... ! کہا جیسا کہ پلید طبع یہودیوں نے ۔“

(نور القرآن ص ٥، خزائن ج ٩ ص ٣٨٠)

١۔ مرزا قادیانی بھی خلاف تعلیم قرآن شریف (ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں لکھتے ہیں کہ ”حضرت مسیح علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے ہیں۔“ یہودیوں کا بھی اعتقاد یہی ہے کہ یوسف نجار سے حضرت مریم علیہا السلام کا نعوذ باللہ ناجائز تعلق ہوا اور حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔ وہی الزام مرزا قادیانی نے قائم کیا اور یوسف نجار کا بیٹا تحریر کیا۔

٦٣

صفحہ ٤٢٠

لیجئے! مرزا قادیانی خود بخود اپنی ہی الہامی تحریر سے جو انہوں نے مولوی صاحبان اور بزرگوں کو گالیاں دی ہیں۔ اس کے مصداق بن گئے۔ سبحان اللہ جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے۔ کیا عمدہ معجزہ عیسوی ثابت ہوا کہ جیسے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیں تھیں۔ اپنے ہی منہ سے ویسے بن گئے اور جو اہل اسلام کے علماء اور صلحاء کو لعنتیں اور گالیاں دیں تھیں۔ وہی بعینہ الٹ کر ان پر وارد ہو گئیں اور وارد بھی ایسی ہوئیں کہ اپنے ہی الہام قطعی اور یقینی کے رو سے اور وہ حدیث شریف نہایت ہی صادق اظہر من الشمس ہوئی۔ جس میں ذکر ہے کہ جو شخص کسی پر لعنت کرتا ہے۔ اگر وہ ناقابل لعنت ہے تو وہ لعنت لعنت کرنے والے پر واپس آتی ہے۔

سو یہ لعنتیں آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے ہی الٹ کر مرزا قادیانی پر عود کر دی گئیں۔ جس کی مبارک باد دی جاتی ہے۔ یہاں علماء و صلحاء عظام کی کرامت بھی نمایاں ہوئی۔

ہاں! ایک جگہ کتاب رسالہ جنگ مقدس ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی اس طرح بھی لکھتے ہیں کہ ”میں حضرت مسیح علیہ السلام کو ایک سچا نبی اور برگزیدہ خدا تعالیٰ کا پیارا بندہ سمجھتا ہوں ۔“

(نور القرآن نمبر ٢ ٹائٹل اندرونی صفحہ، خزائن ج ٩ ص ٣٧٤)

یہ بات ١٨٩٣ء کی ہے کہ جب مرزا قادیانی کے دل میں گالیاں بھری ہوئی تھیں اور پھر ١٨٩٥ء، ١٨٩٦ء میں زبان پر قلم پر کتابوں پر آ گئیں۔ پھر جو چاہا سو کہہ دیا۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ”شریر انسانوں کا طریق ہے کہ ہجو کرنے کے وقت ایک تعریف کا لفظ بھی لے آتے ہیں۔ گویا وہ منصف مزاج ہیں۔“

(ست بچن ص ١٣، خزائن ج ١٥ ص ١٢٥)

یہی طریق مرزا قادیانی نے بھی اختیار کیا۔ جس سے خود ہی شریر بھی ثابت ہو گئے۔

یہاں ایک بات قابل غور بھی ہے کہ جب تک مرزا قادیانی تمام جہان کے علماء و فضلاء کرام و مشائخ عظام اور اولوالعزم پیغمبران علیہم السلام کو گالیاں نہ دیں۔ خوب توہین نہ کریں اور ان کی اچھل اچھل کر گستاخی نہ کریں تو ان کی بزرگی کی پٹڑی کیسے جم سکتی ہے؟۔ جیسے مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ”مگر ایسے جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ اپنی بزرگی کی پٹڑی جمنا اسی میں دیکھتے ہیں کہ ایسے بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں ۔“

(ست بچن ص ٨، خزائن ج ١٠ ص ١٢٠)

مرزا قادیانی بھی اس جگہ خود ہی جاہل بھی ثابت ہو گئے۔ جب مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دے دے کر تھک گئے اور جو کچھ کہ سینہ سب و شتم کے گنجینہ میں بھرا ہوا تھا۔ خرچ کر چکے تب خیال ہوا کہ میں نے یہ کام نہایت ہی برا کیا ہے۔ جس سے میں اہل اسلام

٦٤

صفحہ ٤٤١

کے تمام فرقوں میں سے نکل گیا ہوں۔ مسلمان لوگ فوراً مجھ کو کافر اکفر کہہ اٹھیں گے۔ تب کیا بات بتاتے ہیں کہ ”مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن میں یسوع کی خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)

اس کے لکھنے سے مرزا قادیانی کی منشاء اور مراد یہ ہے کہ میں نے یسوع کو گالیاں دی ہیں۔ جس کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں۔ اگر قرآن میں ذکر ہوتا کہ یسوع پیغمبر ہے تو گالیاں نہ دیتا۔

ناظرین! ذرہ مرزا قادیانی کے اس حیلہ واہیہ پر غور فرمائیے گا۔ کیا جس پیغمبر علیہ السلام کا قرآن شریف میں ذکر نہ ہو اس کو مرزا قادیانی کے مذہب میں گالیاں دینا اور فحش الزام لگانا جائز ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کا ایمان ایک لاکھ کئی ہزار پیغمبر علیہم السلام پر نہیں؟۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جن پیغمبر علیہم السلام کا قرآن شریف میں ذکر نہیں ہے اس پر مرزا قادیانی کا اعتقادی ایمان بھی نہیں۔ اس صورت میں جو ایک لاکھ کئی ہزار پیغمبران علیہم السلام پر ایمان لانا کتب عقائد میں لکھا ہے۔ یہ سب کا تذکرہ یا نام قرآن میں آ گیا ہے۔ ایک لاکھ کا نہیں۔ مرزا قادیانی دس بیس ہزار کا ہی تذکرہ لکھ کر دکھائیں۔ دس بیس ہزار کو تو جانے دو ایک ہزار ہی کا تذکرہ قرآن شریف سے نکال دیں۔ اچھا ایک ہزار نا سہی صرف ایک سو ہی نکال کر پیش کریں۔ ایک سو ہی جانے دیں سب سے اخیر چھوٹ ہے چلو پچاس تک ہی کا نام اور تذکرہ قرآن شریف سے نکال کر دکھائیں۔ مگر افسوس مرزا قادیانی نہیں دکھلا سکیں گے۔ پھر یہ بہانہ کیسا لغو اور بیہودہ ہے کہ یسوع کا نام قرآن میں نہیں اس واسطے ہم نے گالیاں دے کر بہتانات لگائے ہیں۔ افسوس!

دوم ...... مرزا قادیانی کو معلوم نہیں ہے کہ یوشع علیہ السلام بھی نبی تھے۔ جو حضرت نون کے بیٹے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے۔ تمام کتب اہل اسلام میں لکھا ہے کہ بعد وفات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے یوشع بن نون خلیفہ ہوئے۔ ان کے بعد کالب بن یوفنا خلیفہ ہوئے اور بعد ان کی وفات کے حضرت حزقیل ہوئے۔ ان تینوں پیغمبروں کا نام قرآن شریف میں مذکور نہیں اور تواریخ کی کتابوں میں جو ان کا مذکور ہے۔ سو اس قدر ہے کہ یہ تینوں پیغمبر تھے۔

(کتاب روضۃ الاصفیاء ص ٧٧)

یہاں یسوع اور یوشع میں صرف شین معجمہ اور مہملہ کا فرق ہے۔ نہایت تعجب ہے۔ مرزا قادیانی یوز آسف سے یسوع آسف یا یسوع صاحب بنا لیویں اور قطعی اور یقینی سمجھ لیں

٦٥

صفحہ ٤٢٢

کہ حضرت یسوع صاحب کشمیر میں فوت ہوئے اور ان کی قبر وہاں موجود ہے اور یسوع اور یوشع فرق سمجھیں۔

سوم...... اسی یوشع علیہ السلام بن نون کو یشوع بن نون توریت میں بھی لکھا ہوا ہے کہ دیکھو یشوع کی کتاب باب اوّل آیت اوّل اور اسی یوشع یا یشوع بن نون علیہ السلام کا ذکر قرآن شریف میں بھی آیا ہے۔ جیسے ”قال اللہ تعالیٰ واذ قال موسیٰ لفتیہ لاابرح حتی ابلغ مجمع البحرین اَو امضِی حقباً (کہف:٦٠) “باتفاق علماء سیر و تواریخ مراد از لفظہ فتی دریں آیہ کریمہ یوشع بن نون است و او از جملہ عظماء انبیاء است!

(روضۃ الصفاء ج ١ ص ٩٦ سطر ٥)

چہارم...... قرآن شریف میں الیسع یا یسع علیہ السلام کا نام اور ذکر موجود ہے۔ خیال فرمائیے کہ حضرت یسع علیہ السلام یسوع علیہ السلام میں کیا فرق ہے۔ اگرچہ یسوع علیہ السلام اور یسع علیہ السلام جدا جدا ہیں۔ مگر یہ کہہ دینا کہ یسوع علیہ السلام کا نام قرآن شریف میں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کی الٹی منطق ہے۔ ہاں البتہ مرزا قادیانی یہ جواب دیں گے کہ یسوع سے میری مراد جیسا کہ میں نے رسالہ (انجام آتھم ص ١٣، خزائن ج ١١ ص ایضاً) میں لکھا ہے۔ ”اور یاد رہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے۔ جس نے خدا کا دعویٰ کیا اور پہلے نبیوں کا نام چور اور بٹمار رکھا۔“ اس کا جواب وہی ہے جو مرزا قادیانی نے خود لکھا ہوا ہے کہ یہ سب جھوٹے الزام ہیں۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کا بیان کہ میں خدا ہوں اور خدا کا بیٹا ہوں۔ میری خودکشی سے لوگ نجات پا جائیں گے۔ کوئی آدمی دانا اور راہ راست پر نہیں کہہ سکتا۔ مگر الحمدللہ کہ قرآنی تعلیم نے ہم پر کھول دیا ہے کہ ابن مریم پر یہ سب جھوٹے الزام ہیں۔“

(نور القرآن ص ٤٤، خزائن ج ٩ ص ٣٧١)

فرمائیے! مرزا قادیانی کی رائے صائب ہے یا الہام اور قرآنی تعلیم کا انکشاف۔ بہر حال الہام اور قرآنی تعلیم ہی مرزا قادیانی کے قبول کرنے پر مجبور کرے گی۔ مگر ممکن ہے کہ مرزا قادیانی اس پر بھی استعارات و کنایات سے ہی کام لیں۔ مگر افسوس تو یہ ہے کہ خود ہی جھوٹے الزامات کا حضرت مسیح علیہ السلام پر ہونا ثابت کرتے ہیں اور پھر خود ہی الزامات و بہتانات بڑی دلیری اور بہادری سے لگاتے ہیں۔ ایک بات پر تو مرزا قادیانی کا استقلال اور قیام ہی نہیں۔ ایسے مخمصات میں غرق ہیں کہ ایک مخمصہ سے نکلنا چاہتے ہیں تو دوسرے مغاک میں گرتے ہیں۔ اس سے نکلنا چاہتے ہیں تو تیسرے بابل میں پڑتے ہیں اور غرق ہو جاتے ہیں اور پھر اسی لفظ غرق ١٣٠٠ سے اپنی نبوت کی تاریخ بھی نکال لیتے ہیں۔

٦٦

صفحہ ٤٢٣

پنجم ...... اب میں یسوع کے نام اور لفظ کی تحقیق مختصر طور پر ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔

الف ...... یسوع علیہ السلام مقلوب ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا حرف واو کا بدل الف سے ہوا۔

ب ...... یہ نام اصل میں عبرانی زبان کا ہے۔ اصل اس کی یسع کے لفظ سے یشوع ہوا۔ دیکھو لغات عبرانی ص ١٦٣ سطر ١٠ یشوع کے معنی نجات اور یشوع نجات دینے والا اور یشوع کا یونانی زبان میں اے ای سوس بنایا گیا۔ اے ای سوس کا عربی زبان میں عیسیٰ علیہ السلام بن گیا۔ دیکھو گینس ڈکشنری ص ٣٧٤ اور دی بیسٹ ڈکشنری ص ٧٩٩ مطبوعہ ١٨٩١ء اور انگریزی میں جی سس Jeses یسوع اس کا ترجمہ اردو کیا گیا۔ جو ہر ایک چھوٹی موٹی ڈکشنری میں لکھا ہوا موجود ہے۔

پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ اصل نام عبرانی زبان میں یشوع ہے اور یونانی میں ای اے سوس ہوا۔ اور انگریزی میں جی سس Jeses ہوا۔ اس کا ترجمہ اردو میں یسوع ہوا اور یونانی ای اے سوس سے عربی میں عیسیٰ علیہ السلام ہوا۔ پس یسوع علیہ السلام وہی ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔ فہو المراد، افسوس!

ششم ...... تمام اناجیل موجود ہیں۔ یسوع مسیح یا صرف مسیح یا صرف یسوع یا عیسیٰ علیہ السلام لکھا ہوا ہے۔ اس کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ انجیل کو ہر جگہ پر دیکھ سکتے ہیں۔

ہفتم ...... یسوع اور مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کہتے ہیں۔

(مقدمہ تفسیر حقانی ص ٥٦١)

ہشتم ...... اب میں مرزا قادیانی کی کتاب ہی سے یسوع کا نام نکال کر دکھلاتا ہوں۔

مرزا قادیانی اپنے اشتہار انگریزی وارد مشمولہ کتاب (سرمہ چشم آریہ کے اخیر ورق، خزائن ج ٢ ص ٣٢١، ٣٢٢) پر لکھتے ہیں کہ اشتہار ہذا میں ہزار چھاپے گئے۔

I am aslo inspired that I am the Reformer of my time and that as retards spiritual wellonce my bear & m close sinilerity and stridaralogy to there of Jeses chirist.

ترجمہ ...... مجھ کو الہام ہوا کہ میں مجدد وقت ہوں اور روحانی طور پر میرے کمالات مسیح ابن مریم کے کمالات کے مشابہ ہیں اور ایک کو دوسرے سے بشدت مناسبت و مشابہت ہے۔

٦٧

صفحہ ٤٤٤

اس جگہ مرزا قادیانی کے مترجم نے بمشورہ مرزا قادیانی کے جی سس کرہسٹ Jeses Christ جس کا صحیح ترجمہ یسوع مسیح علیہ السلام یا عیسیٰ مسیح علیہ السلام ہے۔ جو تمام اناجیل میں موجود ہے۔ مسیح ابن مریم کا ترجمہ لکھا ہے۔ مگر معلوم نہیں ہوتا کہ مرزا قادیانی یا ان کے مترجم ابن مریم کس لفظ کا ترجمہ کیا ہے اور کہاں سے لیا ہے۔ کیونکہ اصل عبارت میں کوئی لفظ ایسا موجود نہیں ہے۔ جس کا ترجمہ ابن مریم ہو سکے۔

نجم ...... مرزا قادیانی نے کتاب (شحنہ حق کے اخیر ص ب، د، خزائن ج٢ ص٤٤٠، ٤٤٢) پر مسٹر الگزنڈر رسل وب صاحب کی چٹھی کے ترجمہ میں Jeses جی سس کے معنی عیسیٰ لکھتے ہیں اور Jeses Christ جی سس کرائسٹ کے معنی عیسیٰ مسیح کئے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ وہی جی سس اردو میں یسوع ہے اور جی سس کریسٹ یسوع مسیح یا عیسیٰ مسیح علیہ السلام ہیں۔ جس کو مرزا قادیانی نے بھی اپنے تراجم میں مسیح یا عیسیٰ مسیح لکھا ہے۔ یعنی جو نصاریٰ کا نبی یا خدا یسوع ہے ۔ وہی آپ کا مسیح یا عیسیٰ ہے۔ جس کے تذکرہ سے قرآن شریف مملو اور مشحون ہے۔ یہ وہی بات ہوئی کہ قرآن شریف میں ذوالقرنین کا نام اور ذکر تو ہے۔ مگر سکندر کا نام نہیں یا حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر تو قرآن شریف میں موجود ہے۔ مگر یوحنا کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یا حضرت مسیح یا عیسیٰ علیہ السلام کا نام اور تذکرہ قرآن شریف میں ہے۔ مگر یسوع علیہ السلام کا کوئی تذکرہ یا نام درج نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا نام بھی تو قرآن شریف میں نہیں۔ تو کیا اس سے ثابت ہوگا کہ مرزا قادیانی بھی نہیں۔ یہ کیا الٹی منطق ہے۔ مرزا قادیانی اور لوگوں کو تو فوراً ہر ایک چھوٹی موٹی بات پر مباہلہ کے واسطے اشتہار دیا کرتے اور قسمیں کھایا لکھا کرتے ہیں۔ ذرہ مہربانی کر کے اس بات کی تو سچے دل سے قسم کھائیں اور اپنے ہی اعتقاد اور جان کے ساتھ مباہلہ کریں کہ یسوع علیہ السلام اور ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام اور ۔ مسیح علیہ السلام اور ہیں اور خود ہی ایک سال کی میعاد بھی رکھ لیں اور پھر انتظار کریں اور اپنے آپ پر اس قسم کی آزمائش کر کے دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے؟۔

دہم ...... یقین نہیں کہ آپ اس بات کو قبول کر کے اپنی زبان سے اقرار کریں کہ یسوع ومسیح وعیسیٰ علیہ السلام ایک ہی ہیں۔ بلکہ اصرار کر کے ضرور تاویلات رکیکہ واستعارات بعیدہ پر عمل کریں گے کہ نہیں یسوع اور ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام اور ہیں۔ جو گالیاں، توہینات یا فحش الزامات لگائے ہیں۔ وہ یسوع کے حق میں لگائے ہیں۔ جس کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں اور

٦٨

صفحہ ٤٢٥

عیسیٰ یا مسیح علیہ السلام کے حق میں ہم نے کچھ نہیں کہا۔ اس صورت میں ضرور ہوا کہ یہ عذر بھی مرزا قادیانی کا ان کی ہی تحریرات سے رفع کر دیا جائے اور وہ گالیاں جو حضرت مسیح علیہ السلام کے شان میں بالخصوص دی گئی ہیں۔ ان کی ہی تالیفات سے نکال کر پیش ناظرین کی جائیں۔ تا کہ مرزا قادیانی کا اصرار اور زبردستی ظاہر اور بین ہو جائے۔ لیجئے!

(معیار المذاہب ص ١٠، خزائن ج ٩ ص ٤٦٨)

خدائی تو بھلا کون مانے۔ اس غریب کو نبوت سے بھی جواب دیتے ہیں۔“

(رسالہ نورالقرآن ص ٣١ حاشیہ، خزائن ج ٩ ص ٣٦٠)

(نور القرآن ص ٤٤، خزائن ج ٩ ص ٣٧١)

بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا۔

(نور القرآن حصہ دوم ص ١٩، خزائن ج ٩ ص ٣٩٤)

حلال وجہ سے نہیں تھا۔ استعمال کرنا۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٩، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

السلام کی نسبت آپ نے مندرجہ بالا مقامات میں الزامات لکھے ہیں۔ اس کا نام بھی یا تذکرہ قرآن شریف میں آیا ہے یا نہیں اور یہ مسیح علیہ السلام کون ہیں؟ ۔ جن کو آپ نے غریب کے لفظ توہین سے لکھا ہے یا مسیح علیہ السلام کون ہیں۔ جن کی دادیوں اور نانیوں کا ذکر کیا ہے۔ یا یہ مسیح علیہ السلام کون ہیں۔ جو ایک فاحشہ کے گھر میں چلے گئے تھے اور حرام کے عطر کا استعمال کیا تھا۔ وہاں تو پہلے آپ نے جھٹ کہہ دیا تھا کہ ہم نے یسوع کی نسبت گالیاں دیں ہیں۔ جس کا قرآن شریف میں نام اور تذکرہ نہیں ۔ اب کہیے کیا اس حضرت مسیح علیہ السلام کا بھی قرآن میں نام اور تذکرہ نہیں۔ نہایت ہی شرم کا مقام ہے کہ کہیں یسوع علیہ السلام کے نام پر سخت گالیاں نکال کر کہتے ہیں کہ ان کا نام قرآن میں نہیں اور دوسری جگہ وہی گالیاں حضرت مسیح علیہ السلام کے نام مبارک پر لکھی ہیں اور اس کا انکار ہو نہیں سکتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نام قرآن شریف میں نہیں ہے۔

٦٩

صفحہ ٤٢٦

پھر ایسے وہی سوفسطائی دعویٰ پیغمبری اور خدائی کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو چاہئے کہ خدا کا خوف کریں۔ ایسے دعوؤں میں اپنی بیخ و بنیاد کو نہ اکھاڑیں۔ ڈریں اللہ سے اور توبہ کریں یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نیک بندوں کے سینوں میں نیکی کے گنجینے ہوتے ہیں اور بدوں کے سینے بدی اور کینے سے پر ہوتے ہیں۔ ہر طرف سے وہی برآمد ہوتا ہے جو کچھ کہ اس میں ہوتا ہے کبھی آپ نے نہیں دیکھا ہو گا کہ سرکہ کی بوتل سے گلاب یا بیدمشک نکلا ہو۔ جیسے مرزا قادیانی خود اپنی الہامی براہین میں لکھتے ہیں کہ: ”ہمارے اندر سے وہی خیالات بھلے یا برے جوش مارتے ہیں کہ جو ہمارے اندازہ فطرت کے مطابق ہمارے اندر سمائے ہوئے ہیں ۔“

(براہین احمدیہ ص ٢١٤ حاشیہ نمبر ١١، خزائن ج ١ص ٢٣٧)

اس سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ جو کچھ مرزا قادیانی کے اندر جو اندازہ فطرت کے مطابق سمایا ہوا تھا۔ اسی نے جوش مارا اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آدمی کی زبان سینہ اور دل کی گواہ ہے۔ جو کچھ ان دونوں میں بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی شہادت ادا کر دیتے ہیں۔ اس سے مرزا قادیانی کی پیغمبری مسیح موعودی و مہدی مسعودی اور خدائی ظاہر ہو رہی ہے اور اسی کتاب انجام آتھم اور اس کے ضمیمہ سے مرزا قادیانی کے اندرونی اور فطرتی جوش پایۂ ثبوت کو پہنچ گئے ہیں۔ بلکہ برعکس اس کے مرزا قادیانی اپنے فطرتی جوش سے یہ بھی لکھتے ہیں کہ ”واقعی یہ رسائل خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور شعائر اللہ ہیں اور درحقیقت ایک ربانی فیصلہ ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٨ اشتہار اخیر)

کیا! جن رسائل میں لعنتیں اور فحش گالیاں تمام مسلمانوں کے علماء کرام مشائخ عظام والوالعزم پیغمبران علیہم السلام کو بھری پڑی ہوں۔ وہی خدا کے نشان اور شعائر اللہ ہیں اور یہی طرز اور روشن تحریر ربانی فیصلہ ہے؟۔ ہرگز نہیں۔

ہاں! بقول مرزا قادیانی یہ صحیح ہے کیونکہ یہ نشان اور شعائر اللہ اور زبانی فیصلہ اسی مرزا قادیانی کے خدا کا ہے۔ جس کا نام عاجی ہے اور یہ رسائل اسی عیسیٰ پر نازل ہوئے ہیں جس کا نام عیسیٰ دھقان یا عیسیٰ نوماہہ ہے۔ اس کی پھبتی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو مبارک ہو۔

بیان ظہور حضرت مہدیؑ

نمبر ایک سے چھ تک کا جواب ختم ہوا۔ ساتویں نمبر میں مرزا قادیانی نے ایک کتاب جواہر الاسرار کے حوالہ سے ایک حدیث نقل کی ہے۔ جس میں انہوں نے بزعم خود یہ ثابت کیا ہے۔ یعنی:

٧٠

صفحہ ٤٢٧

برابر ہوگا۔ یعنی تین سو تیرہ ہوں گے اور ان کے نام بقید مسکن و خصلت چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے۔ یہ پیش گوئی بھی میرے حق میں پوری ہوئی۔ (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥)

حضرات ناظرین! اوّل یہ حدیث شریف کسی حدیث کی کتاب سے نقل نہیں کی گئی۔ جس کی پڑتال ہو سکے۔ اربعین جس کا حوالہ جواہر الاسرار میں اور نیز اربعین فی احوال المہدیین۔ مطبوعہ ١٢٦٨ھ کلکتہ مصری گنج جس میں یہ حدیث بالضرور ہونی چاہیے دیکھی گئی۔ کوئی حدیث درج نہ پائی۔

دوم ...... راویان حدیث کے نام درج نہیں۔ جس سے صحت اور ضعف معلوم ہو سکے۔ لیکن خیر مرزا قادیانی کی ہی تحریر پر اعتبار کر کے عرض کرتا ہوں فرماتے ہیں۔ مہدی اس گاؤں سے نکلے گا جس کا نام کدعہ ہے۔ ( کدعہ معرب ہے۔ قادیان کا)

یعنی قادیان کسی عجمی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا عربی میں کدعہ بنایا گیا ہے۔ اس کی تصدیق کی دلیل مرزا قادیانی کے الہام یا وہم اور خیال میں ہوگی۔ کسی کتاب مستند سے تو مرزا قادیانی نے نقل نہیں کیا۔ قادیان کے لفظ کا عجمی یا کسی دیگر زبان کا ہونا بھی مرزا قادیانی ثابت نہیں کر سکے۔ بلکہ ایشان کے الہام قطعی اور یقینی سے لفظ قادیان خاص عربی زبان معلوم ہوتا ہے۔ عربی بھی ایسا کہ مرزا قادیانی کے خدا کی زبان خاص سے نکلا ہوا۔ جیسے مرزا قادیانی کے خدا کا الہام ہے۔ ’’ انا انزلناہ قریباً من القادیان‘‘ (ازالہ اوہام ص ٧٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٣٨)

جب مرزا قادیانی کا خدا قادیان اپنی عربی زبان سے نکال کر الہام کرتا ہے تو پھر اپنے الہام قطعی اور یقینی سے مخالفت کر کے کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ کدعہ قادیان کا معرب ہے۔ جبکہ قرآن کریم میں بھی قادیان کا نام درج ہے۔ جیسے کہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ’’ کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی مرحوم غلام قادر قرآن شریف بلند آواز سے پڑھ رہے ہیں اور اس میں یہ آیت انا انزلناہ قریباً من القادیان لکھی ہوئی پڑھی اور مجھ کو دکھلائی۔ تو میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شائد نصف کے موقعہ پر یہی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تو میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں لکھا گیا ہے۔ مکہ، مدینہ، قادیان۔‘‘ (ازالہ اوہام ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

١٧

صفحہ ٤٢٨

لیجئے! یہ خاص آیت قرآن شریف میں درج ہے اور اعزاز کے ساتھ بمثل مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں ثبت ہے۔ پھر فرمائیے قادیان کے معرب کدعہ بنانے کی کیا ضرورت پڑی اور کیوں؟۔ مگر افسوس مرزا قادیانی کے حافظہ پر جو پہلے خود اس طرح پر لکھتے ہیں۔ ”قادیان کا نام پہلے نوشتوں میں استعارہ کے طور پر دمشق رکھ کر پیش گوئی بیان کی گئی ہوگی۔ کیونکہ کسی کتاب حدیث یا قرآن شریف میں قادیان کا نام لکھا ہوا پایا نہیں جاتا۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٤، خزائن ج ٣ ص ١٣٩)

حضرات! خیال فرمائیے کہ مرزا قادیانی کے الہامی حافظہ پر پہلے کہتے ہیں کہ قادیان کا نام کسی کتاب حدیث یا قرآن شریف میں پایا نہیں جاتا۔ پھر کہتے ہیں کہ قرآن شریف میں قادیان کا نام درج ہے۔ پھر ایک حدیث میں بھی باوجود قادیان لفظ اور زبان عربی ہونے اور قرآن شریف میں بھی موجود ہونے کے کدعہ کے لفظ کو قادیان کا معرب بنادیا۔ مرزا قادیانی کی کس بات یا الہام پر اعتبار کیا جائے؟۔

ہاں! مجھے یہاں پر ایک ضروری امر کا اظہار بھی ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کا اعتقاد ہے کہ یہ عبارت ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ آیت قرآنی ہے اور قرآن شریف میں موجود ہے اور قرآن شریف میں قادیان کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔ مرزا قادیانی سے دریافت فرمائیے گا کہ وہ ٹھیک ٹھیک پتہ دیں کہ کس پارہ یا سورہ یا رکوع میں یہ عبارت درج ہے؟۔ جہاں آپ نے پتہ دیا ہے کہ نصف کے موقع پر دائیں صفحہ پر قرآن شریف کے ہے۔ تلاش کیا گیا ہے۔ مگر افسوس ملا نہیں۔ مرزا قادیانی اور تین سو تیرہ مرزائی قرآن شریف سے نکال کر دکھلائیں۔ لیکن ہرگز دکھلا نہ سکیں گے۔ اگر نہ دکھلائیں تو اس کی وجہ بتلائیں کہ کہاں گئی؟۔ اس سے نعوذ باللہ قرآن شریف کا کم وبیش اور ترمیم و تنسیخ ہونا ثابت ہوتا ہے اور تحریف جس پر تمام اہل اسلام کا اتفاق ہے کہ قرآن شریف کا ایک شوشہ بھی کم وبیش نہیں ہوسکتا۔ خلاف حکم خداوندی ”انا لہ لحافظون (الحجر:٩)“ کے مرزا قادیانی کی یہ کارروائی ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی خود پہلے لکھ چکے ہیں۔ ان کا الہامی حافظہ اس طرح پر ہے۔ ”ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے۔ ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا اور نہ کم ہوسکتا ہے اور اب ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہوسکتا۔ جو احکام قرآنی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کی تبدیل یا تغیر کرسکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ

٧٢

صفحہ ٤٢٩

ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٣٨ ، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

لیجئے حضرات! یہاں پر مرزا قادیانی اپنے ہی اعتقاد اور تحریر الہامی سے جماعت مؤمنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہو گئے۔ کسی مولوی صاحب کے فتوے کی بھی ضرورت نہ رہی۔ کیونکہ تمام اہل اسلام واہل سنت والجماعت کا یہ اعتقاد ہے کہ اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ قرآن شریف کے ایک شوشہ یا ایک نقطہ میں بھی کمی و بیشی ہو سکتی ہے یا ہوئی ہے۔ یا ہوئی تھی وہ ضرور کافر ہو گیا۔ اس سے کسی مسلمان کو انکار نہیں۔ لیکن برخلاف اس کے مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ قرآن شریف کی آیت ہے، اور قرآن شریف میں موجود ہے۔ ”نعوذ بالله من الحور بعد الكور“

اب میں پھر اسی لفظ کدعہ کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ افسوس کہ کتاب جواہر الاسرار باوجود تلاش کے دستیاب نہیں ہوئی۔ تلاش درپیش ہے۔ لیکن میں یہ دعویٰ سے کہتا ہوں کہ وہ لفظ کدعہ کا ک، د، ع، ہ سے اصل حدیث میں ہرگز نہیں۔ یہ محض دھوکہ مرزا قادیانی کا ہے۔ بفرض محال اگر ہو بھی تو بھی اس میں کوئی شک نہیں کہ کاتب کی غلطی ہے۔ بہرحال لفظ کدعہ حدیث کا لفظ نہیں ہے۔ ہاں البتہ تحقیق سے صحیح لفظ حدیث کا کرعہ ک ، ر، ع، ہ سے ثابت ہوا یعنی بجائے حرف دال مہملہ کے راء مہملہ ہے۔ بوجوہات ذیل:

اول...... مولوی حافظ محمد لکھوی اپنی کتاب پنجابی زبان احوال الآخرت نام میں (جو ١٢٧٧ھ میں تالیف ہوئی اور ١٢٩١ھ میں بار ششم محمدی پریس لاہور میں طبع ہوئی) لکھتے ہیں کہ:

حضرت علیؓ امام حسنؓ نوں اک دیہنہ دیکھ لایا
ایہہ بیٹا میرا سید ہے جیویں پیغمبر فرمایا
پشت اس دی تہیں مرد ہوسی اک نام محمد والا
خو اس دی جیویں خو نبی دی صورت فرق نرالا
عدلوں بھرسی خوب زمین نوں مہدی ایہو جانو
آمنہ نام ہو مائی دا بھی عبداللہ باپ پچھانو
کرعہ نام یمن وچہ دسے اسدا جمال پیارے
بولن لگا اڑ کر بولے پٹاں تے ہتھ مارے

(کتاب احوال الآخرت ص ٢٣، پنجابی مجموعہ مطبوعہ مطبع محمدی لاہور ١٨٩١ء)

٧٣

صفحہ ٤٣٠

ترجمہ نظم زبان پنجابی

یعنی حضرت علیؓ نے ایک دن حضرت امام حسنؓ کو دیکھ کر فرمایا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس میرے بیٹے کی پشت سے ایک مرد پیدا ہوگا۔ جس کا نام میرے نام پر ہوگا اور اس کے ماں باپ کا نام میرے ماں باپ کے مطابق آمنہ، عبداللہ ہوگا۔ عدل سے زمین کو بھر دے گا۔ جیسا کہ ظلم سے بھری ہوئی ہوگی۔ یمن میں ایک بستی جس کا نام کرعہ ہے پیدا ہوگا۔ ان کی زبان میں لکنت ہوگی۔ پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ یمن میں ایک قریہ ہے۔ جس کا نام کرعہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کے وقت میں موجود اور آباد تھا اور اب بھی موجود ہے۔ جس کی تصدیق اس طرح پر ہے۔

(مأخذ منتخب اللغات ص ٤٣٩، مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ١٨٧٧ء مطابق ١٢٩٤ھ)

عسفان سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔

(قاموس ج ٣ ص ٨١)

جگہ کا نام ہے۔

(مجمع بحارالانوار ج ٢ ص ٤٠٠)

موضع ہے مکہ معظمہ سے دو میل چاہ عسفان کے پاس۔

(مجمع بحارالانوار ج ٢ ص ٤٠٠ حاشیہ)

چھوٹا موضع ہے درمیان مکہ اور مدینہ کے۔

(مجمع بحارالانوار ج ٤ ص ٤٠٠)

ہے۔ درمیان مکہ اور مدینہ کے۔

(مجمع بحارالانوار ج ٣ ص ٥٩٩)

ساکن محمد مندرانوالہ ضلع امرتسر) میں لکھا ہے۔ جہاں حضرت مہدی کی پیش گوئی درج کی ہے۔

عمر انہاندی چالی برسان سیرت حضرت والی
کرعہ جمن بہون انہاندی کہیا محمد عالی ﷺ

٧٤

صفحہ ٤٣١

پس ان سب کتب معتبرات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کرعہ یا کراع ایک جگہ یا شہر یا گاؤں کا نام ہے۔ جو درمیان مکہ معظمہ ومدینہ منورہ کے ہے اور وہ گاؤں یا بستی حضرت رسول خداﷺ کے زمانہ میں موجود اور آباد تھی اور اب موجود ہے۔ مرزا قادیانی کے دو اعتراض اس میں نکلتے ہیں۔ ایک تو یہ بعض جگہ کرعہ لکھا ہے اور کسی جگہ کراع اگرچہ ہر دو ناموں میں چار چار ہی حروف ہیں۔ حروف ہا ہوز اور الف کا آپس میں فرق ہے۔ دوسرا یہ کہ کرعہ یا کراع ایک بستی بیان کی گئی ہے۔ جو درمیان مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ہے۔

پہلے اعتراض کے جواب میں گزارش ہے کہ بہت سے شہر یا قصبات اور بستیات اس قسم کی اس وقت موجود ہیں کہ جن کے نام اول اوّل میں کچھ تھے اور بعد میں بدل کر کچھ کا کچھ ہو گئے۔ بلکہ بعض جگہوں یا شہروں کی صورت ہی مغائر ہوگئی۔ مثال کے لئے چندے پیش کرتا ہوں۔

اور م کا کتنا بڑا فرق ہے۔ دیکھو منتخب اللغات ص ٦٩ ۔ اگر کراع کو کرعہ لکھ دیا یا ہوگیا تو کوئی عجیب بات ہے؟۔

عرب میں مدینہ منورہ کو المدینہ الف اور لام سے بولتے ہیں۔ لیکن عام بول چال میں المدینہ کوئی نہیں کہتا۔ صرف مدینہ بولتا ہے۔ دیکھو جذب القلوب الی دیار المحبوب مصنفہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ ۔

(دیکھو غیاث اللغات ص ٣٦١)

رہ گیا۔ جو اس وقت مشہور ہے۔

چال میں دِلی مشہور ہے۔

لودہانہ، کوئی لدہیانہ، کوئی لدہانہ وغیرہ لکھتا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے خود لودہیانہ کو کئی

٧٥

صفحہ ٤٣٢

طرح سے لکھا ہے۔ دیکھو مرزا قادیانی کا (ازالہ اوہام صفحات ٧٠٦، ٧٠٨، ٧٠٩، خزائن ج ٣ ص ٤٨١، ٤٨٢) و دیگر تالیفات۔

پور قاضی ماجھی تھا۔ اب قادیان ہے۔

(ازالہ اوہام ص ١٢٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٠)

اب اسی قادیان کو کئی لوگ کادیان کاف کلمن سے لکھتے ہیں۔ بلکہ یہاں لودھیانہ کی کتاب ڈائرکٹری (فہرست دیہات) میں قادیان ایک گاؤں کا نام درج ہے۔ جو خاص لودھیانہ سے تین کوس کے فاصلہ پر آباد ہے۔ جس کا ذکر مرزا قادیانی نے اپنی (ازالہ اوہام کے ص ٧٠٩، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢) میں کیا ہے۔ اس گاؤں میں بھی ایک شخص غلام احمد معروف غلام گوجر موجود ہے۔ پس انہیں چند دیہات سے کراع کا کرعہ ہو جانا نہایت ہی اغلب اور یقینی امر ہے۔ مرزا قادیانی کا اعتراض مرزا قادیانی کی ہی طرف عود کر گیا۔

دوسرے اعتراض کے جواب میں واضح رہے کہ:

ہیں۔ وہ اقلیم اوّل میں ہیں اور ملک یمن بھی اقلیم اوّل اور دوم میں ہے اور ملک یمن کا نام اس واسطے یمن ہے کہ وہ کعبۃ اللہ شریف یا مکہ معظمہ کے داہنے طرف ہے۔ جیسا کہ غیاث اللغات میں ہے۔ یمن بفتحتین ملکیست معروف در اقلیم اوّل و دوم چون آن ملک بجانب یمین کعبہ است لہٰذا یمن گفتند۔

(بلفظہ ص ٥١٧، غیاث اللغات)

جیسا کہ کتاب لغت شرح احادیث مسلمہ مرزا قادیانی میں لکھا ہے کہ: ”لان الایمان بدأ من مكة وهی من تهامة وهی من ارض الیمن ولذا یقال الکعبة الیمانیة“ یعنی تحقیق ایمان شروع ہوا کہ مکہ شریف سے وہ تھامہ میں سے ہے اور تھامہ یمن کی زمین سے ہے۔ اس واسطے کعبۃ الیمانیہ بولا جاتا ہے۔

(مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٢١٧)

جامع ترمذی ج ٢ ص ٢٣١، باب ماجاء فی فضل الیمن)“ یعنی ایمان یمن سے ہے اور حکمت بھی یمن سے ہے۔

(مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٢١٧)

پس ثابت ہو گیا کہ حضرت مہدیؑ یمن کے ملک یعنی کعبۃ اللہ مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے

٧٦

صفحہ ٤٣١

درمیان میں پیدا ہوں گے۔ اگرچہ کئی حدیثوں میں یہ بھی آیا ہے کہ حضرت مہدیؒ مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ کرعہ یا کراع بستی میں جو مکہ اور مدینہ شریف کے درمیان میں ہے۔ (جیسے کہ بیان ہو چکا ہے) پیدا ہوں اور پھر مدینہ شریف میں تشریف لے آئیں اور عین ظہور کے وقت کعبۃ اللہ شریف میں تشریف فرما ہوں۔ اعتراض ثانی بھی باطل ہوا۔

معیار شناخت کَدعہ و کَدعہ

میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نام اس بستی کا جس میں حضرت مہدیؒ پیدا ہوں گے۔ کدعہ بتلاتے ہیں اور اس پر اپنی طرف سے بے وجہ معرب قادیان لکھتے ہیں اور یہ نام ایک حدیث میں آیا ہے۔ پس اس کی تصدیق کے لئے ہم کو کسی حدیث کی کتاب میں تلاش کرنا ہوگا یا کسی حدیث کی لغت میں۔ کتب احادیث کی لغت یا شرح نہایت مشہور اور مستند کتاب مرزا قادیانی کی بھی مسلمہ مجمع بحار الانوار ہے۔ اس میں سے مرزا قادیانی یا ان کے حواری یہ نام نکال کر دکھلائیں۔ اگر سچے ہیں؟۔ یا کسی اور ہی کتاب سے نکال کر پیش کریں۔ لیکن یہ یقینی ہے کہ وہ ہرگز نکال کر پیش نہیں کر سکیں گے۔ جیسے کہ میں نے چند کتب معتبرات سے نکال کر پیش ناظرین کر دیا ہے کہ وہ بستی کَرعَہ (ک، ر، ع، ہ) یا کُراع (ک، ر، ا، ع) ہے۔ جس میں حضرت مہدیؒ پیدا ہوں گے۔ خواہ تمام عمر تلاش کریں اور تین سو تیرہ ہی مرزائی معہ مردوں (فوت شدہ) کے شامل ہو کر کوشش کریں اور مرزا قادیانی بھی اپنے بیت الفکر میں بیٹھ کر الہاموں کا زور لگائیں اور اپنے خدا عاجی سے بھی زاری والحاج مچائیں کر کے مدد لیں۔

الغرض! یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ حضرت مہدیؒ مرزا قادیانی کے کَدعہ معرب قادیان یا کادیان جو کعبۃ اللہ شریفہ سے جانب مشرق ہے۔ پیدا ہو کر ظہور فرمائیں۔ بلکہ معاملہ ہی برعکس کیونکہ اکثر احادیث صحیحہ میں ہے کہ دجال مشرق سے نکلے گا۔ احادیث نقل کرنے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ مرزا قادیانی خود اس امر کو مانتے ہیں۔ جیسے وہ لکھتے ہیں کہ:

ملک ہند زمین حجاز سے مشرق کی طرف ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص٧٢٩ خزائن ج٣ ص٤٩٢)

(ازالۃ اوہام ص٨٤١ خزائن ج٣ ص٥٥٦)

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مرزا قادیانی کا گاؤں قادیان ملک ہندوستان میں ہے

٧٧

صفحہ ٤٣٤

اور یمن ملک حجاز سے مشرق کو ہے۔ پس مرزا قادیانی کا دعویٰ محض غلط ہی نہیں بلکہ جھوٹا نکلا۔ جھوٹ بھی ایسا کہ گویا خود دجال ہی ثابت ہو گئے۔ اگر چہ وہ بڑے دجال نہیں۔ لیکن خلیفہ دجال ہونے میں تو اس کتاب رسالہ انجام آتھم کی تالیف کے وقت (١٨٩٦ء) کوئی شک نہیں رہا۔ (جیسا کہ میرے جیسے ہیچمدان کو بھی القاء ہوا ہے کہ: ”هذا خليفة الدجال“ جس کے حروف کے اعداد سے پوری تاریخ ١٨٩٦ء نکلتی ہے) کیونکہ کسی حدیث میں نہیں ہے کہ حضرت مہدی ملک مشرق یا ہندوستان سے ہوں گے۔ تمام احادیث میں ہے کہ وہ حضرت ملک یمن عرب میں پیدا ہوں گے۔ فبطل ادعائه!

ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥)

اس سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ گاؤں کدعہ ہے۔ جس کو مرزا قادیانی کدعہ لکھتے ہیں۔ حضرت رسول خدا ﷺ کے زمانہ میں موجود تھا اور اب بھی موجود ہے اور خود مرزا قادیانی کے ترجمہ حدیث شریف اور اصل الفاظ سے ثابت ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ قادیان حضرت رسول خدا ﷺ کے وقت میں ہرگز موجود نہیں تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ”بابر بادشاہ کے وقت میں یہاں پنجاب میں ہمارے مورث اعلیٰ نے بیابان میں ایک قصبہ آباد کیا۔ اس کا نام اسلام پورہ قاضیان ماجھی رکھا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٢٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٠)

تواریخ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بابر بادشاہ نے ١٥٢٦ء سے ١٥٣٠ء تک بادشاہی ہندوستان وغیرہ میں کی ہے۔ جس کو اس وقت ١٨٩٧ء کو تین سو تہتر ٣٧٣ سال ہوئے ہیں اور حضرت رسول اکرم ﷺ کی حدیث شریف کو تیرہ سو سال کا عرصہ گذر گیا اور اس وقت وہ کدعہ گاؤں موجود تھا اور مرزا قادیانی یا قادیان ہرگز موجود نہیں تھی۔ اس لئے حدیث شریف کا مصداق قادیان ہرگز نہیں ہو سکتا۔ یہ نرا دھوکہ ہے۔

موضع یا قصبہ قادیان کی تحقیق

مرزا قادیانی نے قادیان کی کوئی وجہ تسمیہ بیان نہیں کی کہ کیوں اس کا نام قادیان رکھا گیا۔ اس لئے میں اس کی وجہ تسمیہ ظاہر کر کے ثابت کرتا ہوں کہ دراصل اس کا نام قادیان بھی نہیں ہے۔ اسلام پور قاضیان تھا۔ جب روز بروز شریر لوگ پیدا ہوتے گئے ۔ حتیٰ کہ بقول مرزا قادیانی اس قصبہ کے باشندے یزیدی ہو گئے تو اسلام پور دور ہو گیا۔ محض قاضیان رہ گیا۔ عربی تلفظ میں ض

٧٨

صفحہ ٤٣٥

کود سے مشابہت ہے۔ اس لئے قاضیان کا قادیان بن گیا۔ کیونکہ اصل میں آباد کیا ہوا قاضی ماجھی صاحب کا ہے۔ جو مرزا قادیانی کے مورث اعلیٰ معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ :

سکونت کے لئے آباد کیا۔ جس کا نام اسلام پور قاضی ماجھی رکھا۔ یہی اسلام پور ہے۔ جو اب قادیان کے نام سے مشہور ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٢٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٠)

میں شاہان دہلی کی طرف سے اس تمام علاقہ کی حکومت ہمارے بزرگوں کو دی گئی تھی اور منصب قضاء یعنی رعایا کے مقدمات کا تصفیہ کرنا ان کے سپرد تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٢٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦١)

حضرات ناظرین! مرزا قادیانی کے مورث اعلیٰ قاضی ماجھی نے اس قادیان کا نام اپنے نام پر اسلام پور قاضی ماجھی رکھا تھا۔ اسی واسطے اسلام پور قاضیان کہلاتا تھا۔ پھر رفتہ رفتہ اسلام پور دور ہوگیا۔ قاضیان رہ گیا۔ قاضیان کا حرف ض بہ تلفظ عربی د سے مشتبہ الصوت ہے۔ اس لئے قادیان بن گیا۔ مرزا قادیانی اب لفظ کدعہ اور کراع میں بھی غور کریں اور قادیان کی وجہ تسمیہ اگر اس کے سوا کچھ اور ہے تو بیان کریں؟۔ لیکن ہرگز بیان نہیں کرسکیں گے۔ کیونکہ اس کی تصدیق اس طور پر بھی ہوتی ہے کہ قاضی ماجھی صاحب ضرور سکندر شاہ لودھی کے زمانہ میں جو (وہی زمانہ بابر بادشاہ کا بھی ہے) موجود تھے۔ جس کی تصدیق ایک کتبہ سے جو (میں نے خود ایک مسجد واقعہ قصبہ ماجھی واڑہ ضلع لودھیانہ میں دیکھا اور یہ مسجد بھی قاضیان کی کہلاتی ہے اور فتح ملک بنت قاضی ماجھی کی تعمیر ہے) ہوتی ہے۔ کتبہ یہ ہے کہ : ”قد بناء المسجد بندگی بی بی فتحملک بنت ملا ماجھی فی عہد بندگی اعلیٰ حضرت سلطان سکندر شاہ ابن بہلول شاہ خلداللہ ملکہ من شہر رجب المرجب ٩٣٣ھ“ یعنی تحقیق یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے۔ (یہاں دو تین لفظ ٹوٹے ہوئے ہیں) بی بی فتحملک بنت ملا ماجھی کی طرف سے اعلیٰ بندگی حضرت سلطان سکندر شاہ بن بہلول شاہ خلداللہ ملکہ کے زمانہ رجب المرجب ٩٣٣ھ مقدس میں۔“

اس سے صاف ثابت ہوگیا کہ یہ ملا ماجھی صاحب وہی قاضی ماجھی مورث اعلیٰ مرزا قادیانی کے ہیں۔ جن کا ذکر آپ نے (ازالہ اوہام ص ١٢٢، ١٢٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٦٠، ١٦١) میں کیا ہے اور وہی ٩٣٣ھ سلطان سکندر شاہ لودھی قریب بابر بادشاہ کے زمانہ کے ہے۔ جس کو

٧٩

صفحہ ٤٣٦

اس وقت ١٣١٤ھ میں تین سو اکانوے سال ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس کتبہ سے مرزا قادیانی کی کسی قدر تکذیب بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ ملا ماجھی صاحب سلطان سکندر شاہ لودھی کے وقت میں تھے اور بابر بادشاہ ابراہیم لودھی کے زمانہ میں کابل سے آیا تھا۔ اس نے اس ملک کو فتح کر کے ابراہیم شاہ کو شکست دی۔ یہ واقعہ ١٥٢٤ء کا جس کو تین سو بہتر برس ہوتے ہیں۔ اس میں اٹھارہ سال کا فرق ہے۔ سو خیر تاریخی جھگڑوں سے درگزر کر کے ثابت کرتا ہوں کہ یہ قصبہ قادیان چار سو سال کے اندر کا آباد شدہ ہے۔ اس لئے حدیث شریف مذکور سے ذرہ بھر بھی لگاؤ اس کا نہیں ہے۔ فھو المراد!

تصدیق کرے گا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥)

حضرات ! مرزا قادیانی سے دریافت فرمائیے کہ آپ کی تصدیق خداوند تعالیٰ نے کیا کی؟ ۔ اور کس طرح پر کی؟ ۔ اور اس تصدیق کی آپ کے پاس کیا تصدیق ہے۔ کیا آپ کے ظہور پر آپ سے مکہ معظمہ کے لوگوں نے رکن یمانی پر بیعت کر لی ہے؟ ۔ (مکہ معظمہ تو خواب یا الہام میں بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوا) کیا ابدال شامی آپ کی خدمت میں حاضر ہو گئے ہیں۔ (ابدال آپ سے کوسوں بھاگتے ہیں) کیا غیب سے یہ آواز ”ھذا خلیفۃ اللہ المھدی فاستمعوا واطیعوا“ پکاری گئی ہے۔ حاشا و کلا! کبھی آپ نے کعبۃ اللہ شریف کی طرف جانے کا رخ نہیں کیا۔ (خدا نصیب نہ کرے) کبھی رکن یمانی کی زیارت نصیب نہیں ہوئی۔ (خدا نہ کرے) ابدال شامی آپ سے کوسوں دور ہیں۔ غیب سے یہی آواز ”ھذا خلیفۃ الدجال (١٨٨٦ء) فلا تسمعوا ولا تطیعوا“ آ رہی ہے۔ تمام جہان کے علماء و فضلاء و مشائخ بے ریا و عوام مسلمان مخالف ہیں۔ بلکہ سخت دشمن کیا یہی آثار تصدیق خدا کے ہوا کرتے ہیں؟ ۔ کہ ہر طرف سے فتاوے پر فتاوے خارج از اسلام آ رہے ہیں۔ ہر جانب سے تکذیب ہی تکذیب ہو رہی ہے۔ ہاں اگر مرزا قادیانی کی تصدیق ان کے خدا عاجی نے کی ہو تو کی ہو۔ ورنہ مسلمانوں کے خدا تبارک و تعالیٰ مرزا قادیانی کی تکذیب حرمین شریفین زاد اللہ شرفاً و تعظیماً میں بھی مشتہر فرما دی ہے۔ اس واسطے تمام جہان میں یہ آپ کی تکذیب پھیل گئی ہے۔ جب مکہ معظمہ میں آپ کی تکذیب مشتہر ہو گئی تو بعدہ تمام اسلامی ملکوں میں نہایت ہی نفرت کے ساتھ آپ کی تکذیب مشتہر ہو گئی۔ کیونکہ مکہ معظمہ اسلام کا مرکز ہے۔ جو امر وہاں پسند ہو دوسری اسلامی جگہوں میں بھی قابل تسلیم ہوتا ہے۔ ورنہ

٨٠٤

صفحہ ٤٤٧

قابل انکار اور نفرت اس بات کو مرزا قادیانی بھی پہلے قبول کر چکے ہوئے ہیں۔ جیسے لکھتے ہیں کہ:

’’مکہ معظمہ اسلام کا مرکز ہے اور لاکھوں صلحاء اور علماء اور اولیاء اس میں جمع ہوتے ہیں اور ایک ادنیٰ امر بھی جو مکہ میں واقعہ ہو۔ فی الفور اسلامی دنیا میں مشہور ہو جاتا ہے۔‘‘

(ست بچن ص ٤٣، خزائن ج ١٠ ص ١٣٥)

پس مرزا قادیانی جب بڑے گھر سے نکالے جا چکے ہیں تو پھر کیوں نہ تمام اسلامی دنیا میں آپ کی تکذیب کی تشہیر ہو۔ اسی پر مرزا قادیانی کو نبی اور مرسل بننے کی آرزو اور دعویٰ ہے؟۔ جب آپ کو مکے سے بھی دھکے مل چکے ہیں تو پھر آپ سچے کیسے رہ گئے؟۔ قرآن شریف اور احادیث شریف میں مقبولیت اور تصدیق وصداقت کی جو علامت ہے۔ اس کو ناظرین کے لئے نقل کرتا ہوں۔ بغور ملاحظہ فرما کر اندازہ کیجئے گا۔ وهو هذا!

قرآن شریف میں (سورہ مریم:٩٦) میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’ان الذين امنوا وعملوا الصلحٰت سيجعل لهم الرحمٰن ودا‘‘ یعنی تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے۔ البتہ کرے گا ان کے لئے رحمٰن محبت، تفسیر (معالم التنزیل ج٣ ص١٦) وغیرہ میں اس آیت کے نیچے مجاہد مفسر اہل سنت والجماعت سے لائے ہیں ۔ ’’يحبهم الله تعالى ويحبهم الى عباده المؤمنين‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایمانداروں نیکو کاروں کو اپنا محبوب بنالیتا ہے اور ان کی محبت اپنے ایمانداروں کے دلوں میں سمادیتا ہے، اور اسی تفسیر معالم التنزیل وغیرہ میں موطا امام مالکؒ سے اسی آیت کے نیچے یہ صحیح حدیث نقل کی ہے۔ ’’قال رسول اللہ ﷺ اذا احب الله العبد قال لجبريل يا جبريل قد احببت فلاناً فاحبه فيحبه جبريل ثم ينادى فى اهل السماء ان الله عزوجل قد احب فلاناً فاحبوه فيحبه اهل السماء ثم يوضع له القبول فى الارض (مؤطا امام مالک ص ٧٢٣، باب ماجاء فى المتحابين فى الله)‘‘ یعنی سرور عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ تو جبریل علیہ السلام سے فرماتے ہیں کہ فلانے کو ہم نے اپنا محبوب بنایا ہے۔ تم بھی اس کو اپنا دوست بنالو۔ پس جبریل علیہ السلام اس کو اپنا محبوب بنا لیتے ہیں۔ پھر آسمانوں کے فرشتوں میں آواز کر دیتے ہیں کہ حق تعالیٰ کا فلانے سے پیار ہے۔ تم سب اسے پیار کرو۔ پس سارے فرشتے اس کو اپنا پیارا بنا لیتے ہیں۔ پھر زمین کے لوگ بھی اسے محبت کر کے قبول کر لیتے ہیں۔ اسی طرح خدا کے دشمنوں کا بھی حال اسی حدیث میں ہے کہ ان کی دشمنی اور بغض خلق اللہ میں پھیل جاتا ہے۔ یہ حدیث (صحیح بخاری

٨١

صفحہ ٤٣٨

ج ١ ص ٣٥٦، باب ذکر الملائکۃ اور صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٣١، باب اذا احب اللہ عبداً امر جبریل) میں بھی موجود ہے اور کرمانی شرح بخاری سے (مجمع بحار الانوار ج ٥ ص ٤٠٠) میں لائے ہیں کہ اس حدیث سے سمجھا گیا ہے کہ بندوں کے دلوں میں محبت حق تعالیٰ کی محبت کی علامت ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ : ”ماراہ المسلمون حسنا فھو عنداللہ حسن (مسند امام احمد بن حنبل ج ٦ ص ٨٤، حدیث نمبر ٣٦٠٠)“ یعنی جو مسلمانوں کے نزدیک اچھا اور نیک ہے ۔ وہ خدا کے نزدیک بھی اچھا اور نیک ہے۔ پس یہ کیا عمدہ فیصلہ حضرت جل وعلیٰ اور رسول اکرم ﷺ نے فرمادیا ہے کہ جس میں کسی کو کوئی چوں و چرا کی گنجائش نہیں۔ اب سب صاحبانِ آیت شریف وحدیث لطیف ودیگر تفاسیر کے ارشادات کے رو سے معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی مقبول ہیں یا مردود؟ محبوب خدا ہیں یا عدواللہ؟۔ کوئی علامت صداقت و قبولیت کی ہے؟۔ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔ علاوہ تمام کافہ اہل اسلام کے تمام جہاں (جس میں ہزاروں لاکھوں علماء ، فضلاء ، ومشائخ صلحاء ، اولیاء اللہ عرب وعجم کے داخل ہیں) دشمن ہے۔ دوست کون ہیں اور کتنے؟۔ وہی صرف تین سو تیرہ وہ بھی مردوں کی تعداد کے ساتھ الغرض اس آیت شریف وحدیث شریف سے ثابت ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی خداوند تعالیٰ کے دشمن، جبرائیل علیہ السلام کے دشمن، تمام فرشتوں کے دشمن، تمام خلق خدا کے جو زمین پر موجود ہے دشمن ہیں۔ پھر فرمائیے یہ مہدی ہیں ۔ یا ضال اور مضل؟۔ نہیں لیکن اخیر کے دونوں ۔ فھو المطلب!

دوست جمع کرے گا۔ جن کا شمار اہل بدر کے شمار کے برابر ہوگا۔ یعنی تین سو تیرہ ہوں گے اور ان کے نام بقعہ مسکن اور خصلت ایک چھپی ہوئی کتاب میں درج ہوں گے ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥)

حضرات ناظرین! مرزا قادیانی کے وہی تین سو تیرہ دوست ہیں۔ جن میں انہوں نے سترہ آدمی مدتوں کے فوت شدہ کو لکھ کر تعداد پوری کی ہے۔ کیا عمدہ فخر کی بات ہے کہ چورانوے کروڑ مسلمانوں بقول ١؎ مرزا قادیانی میں سے صرف تین سو تیرہ ہی ان کے دوست ہیں۔ آپ صاحبان کو معلوم ہوگا کہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ بھی ایک لاکھ سے زیادہ معتقد تھے اور پھر مہدی سوڈانی کے پاس بھی، جو مرزا قادیانی کے دعویٰ مہدویت میں برابر تھا تین لاکھ فوج جان نثار اکٹھی

١؎ دیکھو مرزا قادیانی کی کتاب (ست بچن کا حاشیہ ص ٦٧، خزائن ج ١٠ ص ١٩١)

٨٢

صفحہ ٤٣٩

جان دینے والی تھی۔ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا کہ ایک شخص باب نام کے پاس جو ایران میں ہوا کس قدر جان نثار معتقد موجود تھے۔ پھر ذرہ رام سنگھ کو ہی دیکھئے کہ ایک لاکھ تو اس کے ساتھ بھی مفت بلا تنخواہ ہی ہو گیا تھا۔ اب بھی ہزاروں تو اس کی عدم موجودگی میں موجود ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کو تین سو تیرہ نہیں بلکہ سترہ مردے نکال کر دو سو چھیانوے پر جو ان میں بھی بعض تنخواہیں لیتے ہیں۔ کیا فخر ہونا چاہئے؟۔ سوچنے والے سوچ سکتے ہیں۔ سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں۔ اگر چہ یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی کی بھی ویسی ہی تمنا تھی۔ مگر افسوس ایک لاکھ فوج جس کی درخواست آپ نے کی تھی منظور نہ ہوئی۔ مندرجہ بالا دعویداروں کی طرح آنا نہیں تو دھیلہ تو ضرور کر دکھلاتے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی محمد احمد سوڈانی سے مطابقت

چونکہ مہدی سوڈانی محمد احمد نامی کا تذکرہ درمیان میں آچکا ہے۔ جس کی مطابقت مرزا قادیانی کی تاریخ پیدائش و ظہور دعوٰی وغیرہ امورات میں ٹھیک ٹھیک ہوتی ہے۔ اس لئے میں ایک رسالہ سے جو (مولوی محمد فضل الدین صاحب مالک مطبع اخبار وفادار ١٨٨٤ء کا مرتبہ ہے) ناظرین کے لئے نقل کر کے پیش کرتا ہوں۔ وھو ھذا!

”ان کے (مہدی سوڈانی) عالم وجود میں آنے کا زمانہ سن ہجری ١٢٥٩ھ اور سن عیسوی ١٨٤٢ء اور ان کے ظہور مہدویت کی تاریخ اگست (مطابق رمضان) ١٨٨١ء سے محسوب ہوتی ہے۔ جسے ابھی تین سال بھی نہیں ہوئے۔ گو ان میں یہ پچھلی تاریخ ١٨٨١ء عرابی پاشا کی علانیہ بغاوت کی تاریخ سے تو مطابق نہیں ہوتی۔ جس کا آغاز ١٠ جولائی ١٨٨٢ء کو ہوا تھا۔ مگر اس میں شک نہیں کہ پاشائے موصوف کے عہد سپہ سالاری مصر کی ان تاریخوں سے برابر مل جاتی ہے۔“

(ص٤،٥)

”ان کے اعلان مہدویت کا خلاصہ یہ تھا کہ میں ہی وہ مہدی موعود ہوں جن کا تمہیں دس گذشتہ صدیوں سے انتظار تھا اور میں ہی وہ آخر الزمان ہوں۔ جو اس مشکل مسئلہ کو حل کروں گا کہ مسلمانوں کے پولیٹیکل نفاق کو دور کروں اور ان کو ایک ہی سچی راہ شریعت پر چلاؤں اور حشر ونشر کی سہولتوں کے لئے تیار کروں اور مخالفان اسلام کا مخالف اور محبان اسلام کا دوست اور حامی بنا رہوں۔“

(ص٥،سطر٩)

”اور خود بدولت اپنے اشتہارات وغیرہ میں اپنا نام محمد احمد لکھتے ہیں جو غالباً زیادہ اعتبار کے لائق ہے۔ بہر حال تمام انسانی قرائن کے بموجب یہ مہدی صادق تو نہیں۔ مگر ایک

١٨٢

صفحہ ٤٤٠

نہایت درجہ کے محتاط پرہیز گار فاضل اسلام پرست منتظم آدمی ہیں۔ جن کی علمی اور تمدنی لیاقتوں کا اس سے زیادہ اور کیا ثبوت ہوگا کہ آج حضرت کے پاس کم و بیش ٣ لاکھ جان نثار خدا واسطے لڑنے والے موجود ہیں۔‘‘

(ص ٩، سطر ٢)

’’ان کے تین ہمعصر اور بھی مہدی کہلاتے ہیں۔‘‘

(ملخصاً ص ٩، سطر ٩)

’’سنا جاتا ہے کہ ان کی بیویاں بھی ١٠ سے متجاوز ہیں۔‘‘

(ص ٩، سطر ١٣)

علم الاعداد

حضرات! مرزا قادیانی کی مطابقت مہدی سوڈانی سے اس طرح پر ہے۔ راقم آثم کے دل میں خداوند کریم کی طرف سے فتنہ پیدائش قادیانی کا یوں القا ہوا ہے کہ اللہ و تبارک تعالیٰ (توبہ:٤٩) میں فرماتا ہے کہ: ’’الا فی الفتنۃ سقطوا‘‘ یعنی آگاہ ہو جاؤ وہ فتنہ میں گرے گویا عوام کو آگاہی دی گئی ہے کہ جو لوگ اس فتنہ پیدائش قادیانی میں آئیں گے۔ وہ فتنہ اور ابتلا میں گریں گے اور اس آیت شریفہ سے بحساب ابجد کل حروف کے اعداد ١٢٥٩ھ سن پیدائش مرزا قادیانی کا نکلا اور یہی ١٢٥٩ھ مہدی سوڈانی کی پیدائش کا ہے۔ جیسے کہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں کہ ’’سو یہی سن ١٢٧٥ھ جو آیت و آخرین منہم لم یلحقوا بھم کے حروف کے اعداد سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس عاجز کے بلوغ اور پیدائش ثانی اور تولد روحانی کی تاریخ ہے۔‘‘ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٢٠، خزائن ج ٥ ص ایضاً) یعنی ١٢٧٥ھ کو مرزا قادیانی بالغ ہوکر اور جوان ہونے شروع ہوئے۔ یہی سال شباب ظلم کا بھی ہے۔ اس کے اعداد بھی ١٢٥٩ھ ہی ہیں۔ بارہ سوانسٹھ پیدائشی سال نکلتا ہے۔ گویا مرزا قادیانی کی مقبولہ تاریخ ١؂ پیدائش ١٢٥٩ھ جس کی خبر خداوند کریم نے آیت شریف الا فی الفتنۃ سقطوا کے حروف کے اعداد ١٢٥٩ھ میں دی ہے۔ ثابت ہے اور یہی تاریخ پیدائش مہدی کاذب سوڈانی کی ہے۔

مہدی سوڈانی کی تاریخ ظہور ١٨٨٢ء ہے۔ جس کو پندرہ سال کا عرصہ ہوا ہے۔ وہی تاریخ ١٨٨٢ء مرزا قادیانی کے ظہور دعوٰی مجددیت و مثیل مسیح وغیرہ کی ہے۔ جیسے مرزا قادیانی کے

١؂ مقبولہ تاریخ الخ کتاب نشان آسمانی مؤلفہ مرزا قادیانی مورخہ مئی ١٨٩٣ء میں درج ہے کہ ’’یہ عاجز تجدید دین کے لئے سن چالیس میں مبعوث ہوا۔ جس کو گیارہ برس کے قریب گزر گیا‘‘ (نشان آسمانی ص ٤، خزائن ج ٤ ص ٣٦٤) وہی ١٣٠٠ھ اور وہی ١٢٥٩ھ اور وہی ١٨٤٢ء سال پیدائش مرزا قادیانی کا پورا ہوا۔ گویا مرزا قادیانی کی عمر اس وقت ١٨٩٧ء میں پچپن سال کی ہوتی ہے۔

٨٤

(براہین احمدیہ کے حصہ سوم کے صفحہ اول عاجز مسیح موعود نہیں ہے تو پھر آپ

’’پہلے سے یہی تار قادیانی ١٣٠٠ اس نام کے عدد پور

اس حساب سے بھی مرزا قادیانی کی یہ بڑی قوی دلیل ہیں اس واسطے میں مجدد اور مسیح آئیں تو وہ بھی تیرہویں صدی سنیئے۔ ان کے نام کے بھی تیرہ

مرزا قادیانی کے ب

مرزا قادیانی کے ف

مرزا قادیانی کے

پانچوں سواروں

علیٰ ہٰذا القیاس ج

١؂ استفہام بمعنی ا ہیں۔ حیا دامن گیر ہے۔ خدا

صفحہ ٤٤١

(براہین احمدیہ کے حصہ سوم کے صفحہ اول پر ١٨٨٢ء، خزائن ج١ ص١٣٣) درج ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ ”اگر یہ عاجز مسیح موعود نہیں ہے تو پھر آپ لوگ مسیح موعود کو آسمان سے اتار کر دکھلائیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩)

”پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ نام یہ ہے۔ غلام احمد قادیانی ١٣٠٠ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں۔ (تیرہویں صدی پر ہوا ۔)

(ازالہ اوہام ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٩٠،١٨٩)

اس حساب سے بھی وہی پندرہ سال کا عرصہ اور وہی ١٨٨٢ء ہوتا ہے۔ لیکن یہاں پر مرزا قادیانی کی یہ بڑی قوی دلیل ہے کہ میرے نام غلام احمد قادیانی کے تیرہ سو عدد پورے ہوتے ہیں اس واسطے میں مجدد اور مسیح موعود ہوں تو کیا اگر کسی اور کے نام کے بھی تیرہ سو عدد پورے نکل آئیں تو وہ بھی تیرہویں صدی کا مجدد اور مسیح موعود اور مہدی موعود ہوگا؟ اگر یہی بات ہے تو لیجئے سنیئے ۔ ان کے نام کے بھی تیرہ سو عدد ہیں۔

مرزا قادیانی کے بھائی جو پیغمبر خاکروبان بھی موجود ہیں یعنی۔

مرزا قادیانی کے فاضل بزرگ حواری نور الدین صاحب موجود ہیں۔ یعنی

مرزا قادیانی کے دوست بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ یعنی

پانچوں سواروں میں یہ عاجز راقم الحروف بھی یعنی

علیٰ ہٰذا القیاس جس قدر چاہوں اور ناموں کے عدد پورے تیرہ سو کرتا چلا جاؤں ۔ لیکن

١؎ مستہام بمعنی سرگشتہ وحیران حکیم صاحب بھی ان کے مصداق بن کر سخت حیرانی میں ہیں۔ حیا دامن گیر ہے۔ خدا ہدایت بخشے آمین ۔

صفحہ ٤٤٢

لیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ فلاں شخص مجدد یا مسیح موعود اور مہدی مسعود ہے؟۔ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی کا اپنے نام کے حروف کے اعداد نکال کر دعویٰ کرنا محض بیہودہ اور ہیچ و پوچ بازیچہ طفلان ہے۔ جو کوئی بھی ذی عقل اس طرف خیال لیجانے کی کبھی اجازت نہیں دے گا۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ پیغمبری مسیح موعود کے اثبات میں حسب ذیل بھی لکھتے ہیں۔

الف......... ”یہ وہی زمانہ ہے۔ جس کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے....... یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ہوا۔ جو کمال طغیان اس کا اس سن ہجری میں ہوگا۔ جو آیت ”وانا على ذهاب به لقادرون“ بحساب جمل مخفی ہے۔ ١٢٧٤ھ“

(ازالہ اوہام ص ٦٥٧، خزائن ج ٣ ص ٤٥٥)

ب ........ ”جو اعداد آیت انا 1 على ذهاب به لقادرون سے سمجھا جاتا ہے۔ یعنی ١٨٥٧ء بزمانہ تو ساتھ ہی اس عاجز کا مسیح موعود ہونا بھی ثابت ہو جائے گا۔ اس آیت میں ١٨٥٧ء کی طرف اشارہ ہے۔ جس میں ہندوستان میں ایک مفسدہ عظیم پیدا ہو کر آثار باقیہ اسلامی سلطنت کے ملک ہند سے ناپید ہو گئے تھے۔ کیونکہ اس آیت کے اعداد بحساب جمل ١٢٧٤ھ ہیں اور یہ سال ١٨٥٧ء اس کے ساتھ مطابق ہوتا ہے ۔ ضعف اسلام کا زمانہ یہی ١٨٥٧ء ہے۔ جس کی بابت آیت میں حکم ہے کہ قرآن زمین پر سے اٹھا لیا جائے گا۔ سو ١٨٥٧ء میں مسلمانوں کی ایسی ہی حالت ہو گئی تھی۔ بجز بد چلنی اور فسق اور فجور کے اسلام کے رئیسوں کو اور کچھ یاد نہیں تھا اور سرکار انگریزی کے ساتھ بغاوت کی اور مولویوں نے فتویٰ جہاد کا دیا۔ انہیں معنوں سے کہا گیا ہے کہ آخری زمانہ میں قرآن آسمان 2 پر اٹھایا جائے گا۔ پھر انہیں حدیثوں میں لکھا ہے کہ دوبارہ قرآن

1 حرف واؤ کو مرزا قادیانی نے چھوڑ دیا۔

2 مرزا قادیانی نے قرآن شریف کا زمین پر سے آسمان پر اٹھایا جانا لکھا ہے۔ جیسا کہ حدیثوں میں قیامت کی علامات میں درج ہے۔ شاید مرزا قادیانی قرآن شریف کو صرف ہندوستان اور بالخصوص پنجاب کے واسطے نازل ہوا ہوا سمجھتے ہیں۔ کیونکہ جب غدر ہندوستان میں ہوا تو باقی تمام اسلامی ممالک سے بھی قرآن شریف اٹھایا گیا۔ لیکن یہ ہرگز نہیں ہوا۔ تو خوب آیت شریف اور حدیث کی آپ نے تصدیق کی کہ صرف پنجاب اور کسی قدر حصہ ہندوستان سے قرآن شریف اٹھا لیا گیا اور باقی تمام دنیا میں موجود رہا۔ پھر جس قرآن کو مرزا قادیانی دوبارہ دنیا پر آسمان سے لائے اسی میں یہ آیت ”انا انزلناه قريباً من القادیان“ بھی لکھی ہوئی ہوگی؟ ۔ سبحان اللہ آپ کی تاویلات اور استعارات کیا ہیں؟ ۔ جس پر عقل کے اندھے روتے گرتے چلے جاتے ہیں۔

٨٦

صفحہ ٤٤١

کو زمین پر لانے والا ایک مرد فارسی الاصل ہوگا۔ جیسا فرمایا ہے کہ: ”لوکان الایمان معلقا بالثریا“

(ازالۃ اوہام ص ٢٢٣ تا ٢٢٧، خزائن ج ٣ ص ٤٨٩، ٤٩٠ ملخصاً)

حضرات ناظرین! مرزا قادیانی کے اختلافات کہ (مسیح موعودی کا دعویٰ اپنے نام غلام احمد قادیانی ١٣٠٠ھ سے کیا۔ جس کو قریباً پندرہ سال ہوئے ادھر اب ١٢٧٤ھ یا ١٨٥٧ء بیان کرتے ہیں۔ جس کو چالیس سال کا عرصہ گزرتا ہے اور قرآن شریف کا زمین پر سے اٹھائے جانے اور مرزا قادیانی فارسی الاصل کا دوبارہ قرآن شریف کو زمین پر لانے) پر نظر نہ کر کے اصل مدعا مرزا قادیانی کا ظاہر کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ آیت شریف کے اعداد میں ١٢٧٤ھ جو ١٨٥٧ء کے مطابق ہے۔ میرے مسیح موعود ہونے کا ثبوت ہے۔ سو اب آپ کو یہ دیکھنا ہے کہ ہندوستان میں غدر ١٨٥٧ء کے کس کس ماہ انگریزی میں ہوا تھا اور وہ ماہ انگریزی کس کس ماہ قمری کے اور سن ہجری کے مطابق ہیں۔ تواریخ (واقعات ہند) کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ١٠؍مئی ١٨٥٧ء میں اوّل اوّل چھاؤنی میرٹھ میں غدر ہوا۔ یہ تاریخ ١٠؍مئی ١٨٥٧ء مطابق ١٥؍ رمضان ١٢٧٣ھ کے ہوتی ہے اور ماہ جون و جولائی ١٨٥٧ء کو دیگر اضلاع میں غدر اور جنگ ہوتے رہے اور سرکار انگریزی کا تسلط ہو گیا۔ گویا ماہ شوال اور ذیقعد اور غایت الامر ذی الحج ١٢٧٣ھ المقدس تک غدر کا خاتمہ ہو گیا۔ پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ١٨٥٧ء کے غدر کا زمانہ ١٢٧٤ھ کے مطابق نہیں ہوا۔ بلکہ ١٢٧٣ھ کے مطابق ہوا۔ جس کی بابت راقم الحروف کو القاء ربانی سے وہ حصہ حدیث شریف کا یاد دلایا گیا ہے۔ جو (صحیح بخاری کے کتاب الفتن اور باب الفتنہ من قبل المشرق ج ٢ ص ١٠٥١) میں ہے۔ (یعنی فتنہ مشرق کی طرف سے ہوگا) جس کو مرزا قادیانی بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ دجال مشرق یعنی ملک ہندوستان سے نکلے گا وہ حدیث شریف اس طرح پر ہے۔ فرمایا حضرت رسول اکرم ﷺ نے ”اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا“ یعنی اے خداوند کریم ہمارے شام اور یمن میں برکت دے۔ اس مکان پر مشرق اور نجد کے لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت وفي نجدنا یعنی ہمارے نجد مشرق کے واسطے بھی دعاء برکت فرمائیے۔ تب حضرت محمد ﷺ نے تین دفعہ شام اور یمن کے واسطے ہی دعاء برکت فرمائی اور تیسری دفعہ کے بعد حضرت نے ملک مشرق اور نجد کے حق میں فرمایا کہ: ”هناك الزلازل والفتن وبها يطلع الشيطان“ یعنی اس طرف یا اس جگہ (نجد یا مشرق) میں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور وہاں سے شیطان نکلے گا۔ سو اس میں کچھ شک نہیں کہ قادیان میں ہمیشہ فتنے نکلتے

٨٧

صفحہ ٤٤٤

رہتے ہیں اور زلزلے بھی۔ اسی حصہ حدیث شریف ”ھنالك زلازل والفتن وبھا یطلع الشيطان“ کے اعداد بحساب جمل ١٢٧٣ھ کے مطابق ہوتے ہیں۔ جو غدر ١٨٥٧ء کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جس کی صداقت یوں بھی بخوبی ہوتی ہے کہ جب سے ١٢٥٩ھ میں مرزا قادیانی پیدا ہوئے۔ جو ١٨٤٢ء کے برابر ہے۔ اس وقت لارڈ الن برا گورنر جنرل کا زمانہ تھا۔ جس نے کابل اور غزنی وغیرہ پر چڑھائی کر کے ان کو بڑی بہادری سے فتح کیا۔ جیسے تواریخ میں لکھا ہے کہ: ”غزنی کو فتح کر کے بالکل مسمار کر دیا وہاں سے کابل کی طرف روانہ ہو کر جرنیل پالک کے پاس آ پہنچے۔ اس کے بعد افغانوں کی دغا بازی کی سزا میں کابل کے بڑے بازار کو جلا کر بالکل خاک میں ملا دیا۔“

(واقعات ہند ص ٢١٢)

انہیں دنوں میں جنگ کے وقت زلزلہ بھی آیا۔ جیسے لکھا ہے کہ جب قلعہ کی فصیل کی ذرا مرمت کر چکے تو ایک ایسا بھونچال آیا کہ وہ گر پڑی۔

(واقعات ہند ص ٢١١)

یہ ہے مرزا قادیانی کی تولید کی تاریخ اور حدیث شریف کی صداقت۔

اب مرزا قادیانی کی تاریخ بلوغت کا حال سنئے۔ جو ١٢٧٣ھ مطابق ١٨٥٧ء زمانہ غدر گذرا ہے۔ اس وقت کے لوگ اب بھی یقین ہے بہت سے زندہ موجود ہیں۔ زمانہ غدر میں جو کچھ گذرا ہے تاریخ میں درج اور لوگوں کو یاد ہے کہ کیا کیا حالتیں مخلوقات کی ہوئیں جو نا گفتہ بہ ہیں۔ حتیٰ کہ سلطنت اسلامی ؎١ کی رہی سہی کا بھی ستیا ناس ہو گیا۔ بہادر شاہ کو جلا وطن کر کے دہلی سے رنگون میں پہنچایا اور اس کے دو بیٹے اور ایک پوتا دہلی کے فتح ہوتے ہی گولی سے مار ڈالے گئے اور سرکار انگلشیہ کو بھی ناحق نقصان آپ کے اثر سے پہنچا۔ دیکھو واقعات ہند کا ص ٢٣١۔

پھر جب ١٣٠٠ھ سے اپنے نام غلام احمد قادیانی کی تاریخ نکالی۔ جو ١٨٨٤ء کے مطابق ہوئی۔ جس پر بڑے زور سے دعویٰ مسیح موعودی کا کیا۔ تب اپنے بھائی مہدی سوڈانی کے ساتھ اثر ہمسری کا دکھلا کر خوب جنگ کروایا۔ سخت کشت وخون ہوئے۔ پھر اب ١٨٩٦ء و ١٨٩٧ء جب مہدی مسعود ہونے کا دعویٰ کیا تو تمام جہان کو قحط سخت وامساک باران وباء طاعون اور زلزلوں نے برباد کر دیا اور یہ اثر آپ کا اب تک جاری اور روز بروز ترقی پر ہے۔ خداوند کریم مرزا قادیانی کے ان تمام تاثیرات سے سب کو بچائے۔ آمین ثم آمین!!

یہ ہیں مرزا قادیانی کی پیدائش سے آج تک کے حالات جو حدیث شریف کی صداقت

؎١ اسلامی ...... الخ! اس نام پر بجائے خود مٹے ہوئے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں۔

٨٨

صفحہ ٤٤٥

سے پورے ہوئے ہیں اور جو شاہان سلطنت اور رعایا دونوں کو آپ کے وجود کے اثر سے تکالیف پہنچائیں۔ الغرض خلاصہ مرزا قادیانی اور مہدی سوڈانی کی مطابقت کا یہ ہے کہ:

پیدا ہوئے۔

بھی اسی سال میں دعویٰ نبوت اور مسیح موعود کا کیا۔

نام دونوں ناموں میں موجود ہے۔

مرزا قادیانی بھی اپنے برابر کسی کو عالم و فاضل اور اسلام پرست نہیں سمجھتے۔

مرزا قادیانی کو بھی کثرت ازدواج کا نہایت شوق ہے گو میسر نہیں۔

البتہ مہدی سوڈانی ایک بات میں مرزا قادیانی سے بڑھ کر ہیں اور مرزا قادیانی بھی ایک بات میں مہدی سوڈانی سے بڑھ کر ہیں۔ وہ یہ کہ مہدی سوڈانی کے پاس تین لاکھ فوج ذی شان وہاں موجود تھی۔ مگر مرزا قادیانی کے پاس صرف تین سو تیرہ ایسے مرید خاص الخاص موجود ہیں اور مرزا قادیانی بڑھ کر یوں ہیں کہ مہدی سوڈانی نے صرف مہدویت کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا قادیانی نے مسیح موعود اور مہدی موعود دونوں کا دعویٰ کیا۔ اب فرق صرف اتنا ہے کہ مہدی سوڈانی مرچکے اور مرزا قادیانی ابھی زندہ ہیں۔ خواہ دائم المرض ہی سہی۔

اب میں اصل مطلب پر آتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے ایک عجیب بات یہ لکھی ہے کہ ”مہدی مسعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی۔ جس میں اس کے دوستوں کے نام معہ مسکن اور خصائل کے درج ہوں گے۔“ سو عبارت حدیث میں لفظ صحیفہ مختومہ لکھا ہے۔ جس کے معنی مرزا قادیانی نے غلط فہمی میں (اسے مطبوعہ) اپنی طرف سے لکھ کر چھپی ہوئی کتاب لکھے ہیں۔ مختوم کے معنی ہرگز ہرگز چھپی ہوئی کتاب کے نہیں ہیں۔ جیسے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ: ”خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ (بقرہ:٧)“ یعنی مہر کردی اللہ

٨٦

صفحہ ٤٤٦

نے ان کے (کافروں کے ) دلوں پر اور ان کے کانوں پر۔ پھر دوسری جگہ سورہ مطففین میں فرمایا ہے کہ: ”یسقون من رحیق مختوم ختامه مسك (مطففين: ٢٥،٢٦)“ یعنی پلائے جائیں گے شراب خالص مہر کی ہوئی میں سے اور مہر کرنے کی چیز اس کی خوشبو (مشک) ہے۔ اسی طرح تمام احادیث اور کتاب ( مجمع بحار الانوار ج ٢ ص ١٥) شرح کتب حدیث و دیگر کتب لغت میں مختوم کے معنی بموجب معنی قرآنی مہر کی ہوئی کے لکھے ہیں۔ ان کی عبارات کو باعث عدیم الفرصتی نقل نہیں کیا گیا اور نہ ضرورت ہے۔ ہر کوئی خود دیکھ سکتا ہے۔ البتہ مرزا قادیانی پر مجھے یقین نہیں کہ وہ کسی کتاب کو دیکھیں۔ جب کہ وہ قرآن شریف کی ہی مخالفت میں اپنے گھر کے معنی کر رہے ہیں اور نہ وہ کسی کی بات کو قبول کریں گے۔ جبکہ وہ خدا تعالیٰ کی بات اور حکم کو نہیں مانتے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کی ہی تحریرات الہامی کو پیش کیا جائے تا کہ دوسرے حضرات ناظرین کو بھی معلوم ہو جائے۔ پھر مرزا قادیانی کو اختیار ہے۔ خواہ وہ اپنے الہامی تحریرات اور دستاویزات کو اختیار کریں یا انکار۔ مرزا قادیانی کی عبارات ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔

کی نسبت (جب وہ مرزا قادیانی کی بیعت توڑ کر ان کے سخت دشمن بن گئے ) لکھتے ہیں کہ ”انسان کا دل اللہ جل شانہ کے قبضہ میں ہے۔ میر صاحب تو میر صاحب ہیں۔ اگر وہ چاہتے تو دنیا کے ایک بڑے سنگ دل اور مختوم القلب آدمی کو ایک دم میں حق کی طرف پھیر سکتا ہے۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣٥ ، خزائن ج ٤ ص ٣٤٥)

القلب سے جبری عداوت ۔“

(آسمانی فیصلہ ص ٣٥، خزائن ج ٤ ص ٣٤٥)

کیا ان مندرجہ بالا تحریروں میں مرزا قادیانی نے مختوم القلب کے معنی چھاپہ شدہ دل اور ختم علی القلب کے معنی چھاپہ اوپر دل کے لئے ہیں۔ یا کئے ہیں؟۔ ذرہ مرزا قادیانی ہی اپنے لکھے ہوئے پر غور کریں اور وہ اور ان کے مرزائی جمع ہو کر قرآن شریف یا کسی حدیث شریف یا کسی شرعی یا غیر شرعی کتاب سے نکال کر تو دکھلائیں۔ کہ مختوم کے معنی چھاپہ شدہ کے ہیں۔ مگر ہرگز دکھلا نہیں سکیں گے۔ بلکہ مرزا قادیانی نے حدیث میں ( امے مطبوعہ ) کے لفظ کو بڑھا کر اپنی طرف سے چھاپہ شدہ کے معنی کئے ہیں۔ چلو مطبوعہ کے ہی معنی قرآن شریف یا حدیث شریف سے چھاپہ شدہ کے نکال کر پیش کریں۔ بلکہ تمام کتب دینیات طبع کے معنی بھی ختم کے پائے جائیں گے۔ پس دعویٰ

٩٠

صفحہ ٤٤٧

مرزا قادیان کا باطل ہوا۔

تمام لوگ جن کو عربی الفاظ کے معنی سمجھنے کا کچھ بھی ملکہ ہے۔ وہ سب حدیث مذکورہ کے معنی یہی کریں گے کہ حضرت مہدیؑ ایک بستی میں پیدا ہوں گے۔ جس کا نام کرعہ ہے۔ اس کی تصدیق خداوند کریم کرے گا۔ اس کے دوستوں کو جو بدر کی تعداد کے مطابق تین سو تیرہ میں جمع کرے گا اور حضرتؑ کے پاس ایک کتاب مہر بند کی ہوئی ہوگی۔ (جیسے ڈاک خانوں میں پمفلٹ یا پارسل وغیرہ بند ہو کر ان پر مہریں لگ کر ایک دوسرے کے پاس پہنچتی جاتی ہیں۔ تاکہ کوئی سوائے مکتوب الیہ کے کھول نہ سکے ) اس کتاب میں ان کے دوستوں کے نام معہ ان کے مسکن شہروں اور خصلتوں کے درج ہوں گے۔

حضرات ناظرین! اب غور فرمائیے گا کہ:

درمیان مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے اور چاہ عسفان کے پاس آباد موجود ہے۔

(دیکھو کتاب ہٰذا تفصیل گزر چکی)

تکذیب۔

ہیں۔ ان میں سترہ آدمی نمبر ہائے ٩١ ، ٩٣ ، ٩٦ ، ٩٩ ، ١٠٠ ، ١٠٧ ، ١١٣ ، ١٢٤ ، ١٣٤ ، ١٤٧ ، ١٤٨ ، ١٦٩ ، ٢٨٣ ، ٢٩٥ ، ٣١٠۔ مردہ ہیں۔ جو مدتوں کے فوت شدہ درج کئے گئے ہیں۔ کیا حدیث کے لفظوں میں یہ بھی درج ہے کہ ان تین سو تیرہ میں سترہ آدمی مرے ہوئے بھی ہوں گے۔ پھر بعض ناموں کے ساتھ معہ اہل بیت و ہر دو زوجہ وغیرہ بھی لکھا ہے۔ کیا حدیث میں یہ بھی ہے کہ ان کی عورتیں بھی ساتھ ہوں گی۔

جمع نہیں ہوئے۔ اگرچہ زندوں کا قادیان میں مرزا قادیانی کے پاس جمع ہو جانا ممکن ہے لیکن جو سترہ آدمی مردہ ہیں۔ وہ تو کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے تھے۔ نہ ہوئے۔ جب مرزا قادیانی کے پاس ان کے دوست جمع نہیں ہوئے تو حدیث کی صداقت کیسے ہو سکتی ہے؟۔ البتہ اگر مرزا قادیانی کے مسمریزی روح جمع ہو گئے ہوں تو عجب نہیں۔

٩١

صفحہ ٤٤٨

ہوئے۔ ١٢٥٩ھ میں، یا جب آپ نے ظہور فرمایا ١٣٠٠ھ میں، اور وہ کتاب کس کے رو برو کھولی گئی اور کہاں اور کب؟۔ یا یہ کہ اب ١٣١٤ھ میں ایک فہرست پوچھ پاچھ کر لکھ دی اور جب پورے تین سو تیرہ نہ ہوئے تب سترہ مردے بھی اس میں درج کر دیئے۔ چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی کے پاس پیدا ہوتے ہی کتاب ہوتی۔ بشرط یہ کہ کاذب نہ ہوتے۔

افسوس مرزا قادیانی نے اپنے دوستوں میں سے ایک کی بھی کوئی خو اور خصلت درج نہیں کی۔ پھر کتاب پر کتاب جو مرزا قادیانی اپنی حدیث کی صداقت میں پیش کرتے ہیں۔ اس کا حال سنئے کہ مرزا قادیانی نے پہلے اپنے دوستوں کے نام جگہ جگہ سے بذریعہ خط دریافت کئے۔ پھر ان کو جمع کیا۔ پھر ان کی ایک فہرست بنائی۔ پھر وہ فہرست خوشنویس سے لکھوائی پھر چھاپہ والے کو دی۔ چھاپہ والے نے اس کو پتھر پر جموایا۔ پھر پریس والوں نے اس کو چھاپ چھاپ کر الگ الگ رکھا۔ پھر ورقوں اور صفحوں کو ملایا اور مرزا قادیانی کے پاس پہنچایا۔ تب مرزا قادیانی کی طرف سے دوستوں اور دشمنوں کے پہنچ گئی۔

سبحان اللہ مرزا قادیانی نے کیا کمال کیا ہے کہ ادھر ادھر کے نام بیعت کا بہانہ کر کے لکھوا منگوائے اور سب کو ایک فہرست میں لکھ کر چھاپنے کے واسطے دے دئیے اور اصحاب بدر کے نام سے مشہور کر دیئے۔ جیسے خود لکھتے ہیں کہ ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض فوائد منافع بیعت کہ جو آپ لوگوں کے لئے مقدر ہیں۔ اس انتظام پر موقوف ہیں کہ آپ سب صاحبوں کے اسماء مبارکہ ایک کتاب میں بقید ولدیت و سکونت مستقل و عارضی کسی قدر کیفیت کے ساتھ اندراج پائیں...... اور چھپوا کر ایک ایک کاپی تمام بیعت کرنے والوں کے پاس بھیج دی جائے۔“

(ملخصاً ص ٢١، تکمیل تبلیغ مطبوعہ ١٢؍ جنوری ١٨٨٩ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٩٤)

یہی اسماء مبارکہ ہیں جو مرزا قادیانی نے پہلے ١٨٨٩ء میں جس کو عرصہ آٹھ سال کا گزرا ہے۔ لکھوا منگائے تھے اور اب ١٨٩٧ء میں ضمیمہ میں چھپوا کر مہدی موعود کا بھی دعویٰ کر دیا اور مرزا قادیانی نے یہاں یہ بھی لکھا ہے کہ پہلے اس سے آئینہ کمالات اسلام میں تین سو تیرہ نام درج کر چکا ہوں۔

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥)

مگر جب آئینہ کمالات مرزا قادیانی کا دیکھتا ہوں تو اس میں بھی ان کا دروغ بیفروغ ہی پایا جاتا ہے۔ کیونکہ وہ لکھتے ہیں کہ:

٩٢

صفحہ ٤٤٩

”کیفیت جلسہ ٢٧ دسمبر ١٨٩٢ء بمقام قادیان ضلع گورداسپور اس جلسہ کے موقع پر اگرچہ پانچ سو کے قریب لوگ جمع ہوگئے تھے۔ لیکن وہ احباب اور مخلص جو محض للہ شریک جلسہ ہونے کے لئے دور دور سے تشریف لائے تھے ان کی تعداد قریب تین سو پچیس کے پہنچ گئی تھی۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦١٣ ، خزائن ج ٥ ص ٦١٣ )

لیکن فہرست احباب جو ص ٤ سے ١٧ تک لکھی ہے اس میں تین سو ستائیس نام لکھے ہیں ۔

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦١٢ تا ٦٢٩ خزائن ج ٥ ص ایضاً )

”جب میاں بٹالوی نے اس عاجز کے کافر ٹھہرانے میں توجہ فرمائی تھی اس وقت صرف ١٥٥ احباب تھے اور اب اس جلسہ سالانہ میں بجائے ٧٥ کے تین سو ستائیس احباب شامل جلسہ ہوئے ۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٢٩، ٦٣٠ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً )

اس کے آگے جب مرزا قادیانی ”بیعت (چندہ) لینے بیٹھے تو کل ٩٢ ہی آدمی درج فہرست کئے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٦٣٢ تا ٦٣٥ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً )

حضرات! اب مرزا قادیانی کے دروغ پر غور فرمائیے گا کہ خود لکھتے ہیں کہ ہم نے تین سو نام آئینہ کمالات میں درج کیا ہے۔ جب اس کو دیکھا جاتا ہے تو ایک جگہ تین سو پچیس لکھتے ہیں ۔ پھر اسی جگہ تین سو ستائیس لکھتے ہیں ۔ پانچ سو بھی لکھے ہیں اور چندہ دہندگان کے نام کل بانوے ہی درج کئے ہیں۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے دوست وہی بانوے تھے۔ جنہوں نے چندہ دیا۔ باقی سب تماشائی تھے۔ پس تمام وجوہات بالا سے ثابت ہو گیا کہ حدیث مذکورہ سے مرزا قادیانی کا ذرہ بھر بھی لگاؤ نہیں بلکہ برعکس ان کی تکذیب کی تائید ہوئی اور مہدی کاذب برادر سوڈانی ثابت ہوئے ۔ مرزائی اپنی آنکھیں کھول کر دیکھیں اور ایسے مہدی مضل سے سرخروئی حاصل کریں ۔

ناظرین! جب حضرت مہدیؑ اس حدیث شریف کے مطابق ظہور پرنور فرمائیں گے تو ہر کہ ومہ کے دل میں اللہ تعالیٰ ڈال دے گا اور ہر مسلمان ان کو شناخت کر لے گا کہ حضرت مہدی امام آخرالزمانؑ بھی ہیں ۔ فَلْيَنْتَظِرُہ!

نہایت ہی تعجب! مجھے نہایت ہی تعجب اور حیرانی ہے اور سب سے زیادہ افسوس مرزا قادیانی کے الہامی حافظہ پر ہے کہ ناحق انہوں نے مہدی موعود بننے کی کوشش کی اور خانہ زاد استعارات بے مغز کو کام میں لائے ۔ کیونکہ جس مہدی موعود ہونے کا خود بڑے زور سے دعویٰ

٩٣

صفحہ ٤٥٠

کرتے ہیں۔ پہلے اس کے وجود کا سرے سے بڑے وثوق کے ساتھ انکار کر چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کی الہامی دستاویزات ملاحظہ کے لئے نذر کرتا ہوں۔

انہیں کے نام پر ایک اور امام پیدا ہوگا۔ لیکن محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٤٢٧، خزائن ج ٣ ص٣٢٤)

مہدی کی کیا ضرورت ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨ ملخص)

حاصل کلام مرزا قادیانی کا دعویٰ کہ میں مہدی موعود ہوں۔ علاوہ اس بحث اور دلائل کے جو پیچھے گزر چکے ہیں ان کی اپنی ہی تحریرات الہامی سے باطل ہو گیا باطل بھی ایسا کہ تاویل و استعارہ کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ نہایت ہی شرم اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ خود ہی لکھتے ہیں کہ "مہدی کا آنا بالکل صحیح نہیں ہے۔" پھر اسی مہدی کے ادعائی بنتے ہیں کہ حدیث کے مطابق میں ہوں اور یہ بھی مرزا قادیانی نے جمہور کی مخالفت میں بڑا دھوکہ دیا ہے کہ اہل سنت جماعت کا مذہب ہے کہ امام مہدی فوت ہو گئے ہیں۔ یہ مذہب اہل سنت و جماعت کا ہرگز نہیں۔ دیکھو کتب احادیث وعقائد و سیر یہ صحیح ہے کہ جب کسی کے دماغ میں فتور آ جاتا ہے تو اس کو اگلی پچھلی باتیں یاد نہیں رہا کرتیں۔ مرزا قادیانی اس میں مجبور اور معذور ہیں۔ العیاذ باللہ!

الحمد للہ علی احسانہ خلاصہ رسالہ انجام آتھم و ضمیمہ اور اس کے منتشر جوابات جو مرزا قادیانی کے ہی تحریرات والہامات سے دیئے گئے ہیں ختم ہوا۔ اب قبل اس کے کہ مرزا قادیانی کے عقائد اور اعمال کی فہرست لکھوں دو باتوں کا اظہار ضروری اور لابدی ہے۔ اوّل دعویٰ نبوت، دوم توہینات انبیاء علیہم السلام جو مرزا قادیانی نے اپنی تالیفات میں کی ہیں۔ جس میں اہل اسلام کا متفقہ و مسلمہ مسئلہ و فتویٰ ہے کہ یہ کفر ہے۔ اگرچہ اس مختصر رسالہ میں متعدد جگہوں میں ان ہر دو امور کا ذکر اجمالاً و تفصیلاً آ چکا ہے۔ لیکن ان ہر دو امور اہم کو الگ الگ لکھ دینا ناظرین کے لئے خالی از فائدہ نہ ہوگا۔ اس لئے اوّل دعویٰ نبوت، دوم توہینات انبیاء علیہم السلام، سوم عقائد، چہارم اعمال لکھے جائیں گے۔ بتوفیقہ انشاء اللہ تعالیٰ اور اکثر عقائد اسلام حاشیہ پر لکھے جائیں گے۔

اس کا خدا کے رسول ہونے کا ہو تو کافر ہوا۔ (عقائد عظیم ص ١٦٦ سطر ١٤ و دیگر کتب)

٩٤

اوّل مرزا قادیانی

کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو میری تـ

محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنـ کا ایک شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس اس کی وحی کو بھی دخل شیطان سے منزہ کیـ سے انکار کرنے والا مستوجب سزا ٹھہرتا

ہجرت کروں گا میرے روحانی بھائی مسیح

پھر مثیل موسیٰ کہا۔ پھر مثیل ابراہیم کہا۔

ضروری طور پر قرار پا چکا تھا۔ وہ تو اـ ہو گیا۔ جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیشین گو

رکھا اور مسیح بھی ۔“

نبی بھی ۔“

ہے۔ نعوذ باللہ!

صفحہ ٤٥١

اوّل مرزا قادیانی کی طرف سے دعویٰ نبوت

کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو میری تابعداری کرو۔‘‘

(براہین احمدیہ ص٢٣٩، خزائن ج١ ص٢٦٦)

محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے اور امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور رسول اور نبیوں کی وحی کی طرح اس کی وحی کو بھی دخلِ شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے اور بعینہ انبیاء کی طرح مامور ہو کر آتا ہے اور اس سے انکار کرنے والا مستوجبِ سزا ٹھہرتا ہے۔‘‘

(توضیح المرام ص١٨، خزائن ج٣ ص٦٠)

(ازالہ اوہام ص ٹائٹل پیج، خزائن ج٣ ص١٠١)

ہجرت کروں گا میرے روحانی بھائی مسیح کا قول ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں۔‘‘

(شحنہ حق ص ج، خزائن ج٢ ص٣٢٦ ملخص)

پھر مثیل موسیٰ کہا۔ پھر مثیل ابراہیم کہا۔ پھر بار بار احمد کے خطاب سے مجھے پکارا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٢٥٣، خزائن ج٣ ص٢٢٨)

ضروری طور پر قرار پا چکا تھا۔ وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آ گیا اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا۔ جو خدا تعالیٰ کی مقدس پیشین گوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٤١٣، ٤١٤، خزائن ج٣ ص٣١٥)

رکھا اور مسیح بھی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٢٥٦، خزائن ج٣ ص٢٣٤)

نبی بھی۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٥٣٣، خزائن ج٣ ص٣٨٦)

١؎ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی مؤلفہ براہین احمدیہ خدا کی کلام ہے۔ نعوذ باللہ!

٩٥

صفحہ ٤٥٢

امور کو قبول کر لیا ہے۔ جو آسمان اور زمین کے خدا نے بھیجا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٠)

نبی بھی۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)

ہے۔ اگر چہ وہ کامل طور پر امتی ہے۔ مگر ایک وجہ سے نبی بھی ہوتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٠)

محبت دلوں میں ڈال دوں گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٣٣، خزائن ج ٣ ص ٤٤٢)

یہ اشارہ ہے۔ ”ومبشراً برسول يأتي من بعدي اسمه احمد“ یعنی یہ آیت شریف مرزا قادیانی کے حق میں پیش گوئی ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

ليظهره علی الدین کله“ درحقیقت اسی مسیح ؑ ابن مریم کے زمانہ سے متعلق ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٧٥، خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)

لے اس بارہ میں ایک چار ورقہ رسالہ احسن الکلام فی بیان الصلوٰۃ والسلام مرزا قادیانی کے حواری محمد احسن امروہی نے لکھا ہے اور مرزا قادیانی پر درود بھیجنا بالاولیٰ ثابت کیا ہے۔ لکھا ہے کہ ”اس کی (مرزا قادیانی کی) محبت بوجہ اللہ مجبور کرتی ہے کہ اس کے نام کے ذکر کے بعد سلام بھیجا جائے۔“ مگر افسوس ہے، مولوی محمد احسن امروہی کی محبت بوجہ اللہ پر کہ مرزا قادیانی کے ساتھ تو یہ محبت ہو۔ لیکن پیغمبران اولوالعزم علیہم السلام کے ساتھ ایک ذرہ بھر بھی محبت نہ ہو اور ان کے نام پر درود و سلام نہ بھیجا جائے۔ جیسے اسی رسالہ میں وہ لکھتے ہیں کہ ”اس سے ثابت ہے کہ حضرت آدم خود حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ جیسے پیغمبران اولوالعزم مقام شفاعت میں کھڑے نہ ہو سکیں گے ...“ ص ٧، سطر ٤، ٥۔ دیکھئے ان پیغمبران علیہم السلام کے نام اقدس پر مطلق درود و سلام کی پروا تک نہیں کی۔ واہ آپ کا ایمان؟۔

صفحہ ٤٥٣

پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا اور اس عاجز کا یہ دعویٰ دس برس سے شائع ہو رہا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٦٩٥، خزائن ج٣ ص٤٧٥)

روشنی کو دے کر ایک شخص دنیا میں بھیجا وہ کون ہے۔ یہی ہے جو بول رہا ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٢٦٩، خزائن ج٣ ص٥١٥)

(رسالہ آریہ دھرم ص٩، خزائن ج١٠ ص٨٨)

ہو گیا ہوں اور ابتداء دعویٰ پر بیس برس سے بھی زیادہ گزر گیا۔‘‘

(انجام آتھم ص٥٠، خزائن ج١١ ص ایضاً)

سے محبت کرے۔‘‘

(انجام آتھم ص٥٢،٥٦، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٥٢، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٥٢، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٥٢، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٥٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٥٥، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٥٥، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٥٥، خزائن ج١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص٥٥، خزائن ج١١ ص ایضاً)

٩٧

صفحہ ٤٥٤

لودیانہ)

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٦٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٦١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

سے ہوئے ہیں اور ان کے سواء اور بھی بہت سے الہامات ہیں ۔ مگر میں خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے لکھا ہے وہ کافی ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ، خدا کا مامور ، خدا کا امین ، خدا کی طرف سے آیا ہے ۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ ۔ اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

واسطے بھیجا۔“

(انجام آتھم ص ٧٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

طرف رسول بنا کر بھیجا ۔“

(انجام آتھم ص ٧٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٧٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٧٦، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

٩٨

صفحہ ٤٥٥

ہے۔ جس نے مجھے مامور کیا اور جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اس خدا کو قبول کرتا ہے۔ جس نے مجھے بھیجا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٦، خزائن ج ١١ ص ٣٢٠)

سے ہوں۔ پس ضرور ہے کہ بموجب آیہ کریمہ کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی میری فتح ہو۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٨، خزائن ج ١١ ص ٣٤٢)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

یاداشت

دعویٰ نبوت کفر ہے۔ (دیکھو عقائد عظیم ص ١٦٦، ودیگر کتب عقائد)

دوم توہینات ١؎ انبیاء علیہم السلام

شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا وہ ہرگز نہ مرے گا۔“

(ازالہ اوہام ص ٢، خزائن ج ٣ ص ١٠٤)

نکلیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٧، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)

ہوئی۔ جس صورت پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں امید باندھی تھی۔ غایۃ مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیش گوئیاں زیادہ غلط نکلیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٨، خزائن ج ٣ ص ١٠٦)

(ازالہ اوہام ص ٤٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

١؎ توہینات...... الخ! مسئلہ جو کوئی پیغمبر خدا کی اہانت کرے وہ کافر ہے۔ عقائد عظیم ص ١٦٦، مسئلہ ہر پیغمبر کی جناب میں بے ادبی کرنا کفر ہے۔ بلفظہ ضمان الفردوس ص ٣٢، سطر ١، و دیگر کتب عقائد و مالا بدمنہ ص ١٥٨

٢؎ کثیف...... الخ! مسئلہ جو کوئی پیغمبر علیہ السلام کے بال کو بالڑا یا بالیا کہے وہ کافر ہے۔ بلفظہ عقائد عظیم ص ١٧١، سطر ١٤۔ مسئلہ جس کلمے میں کسی طرح کی بے ادبی یا اہانت جناب رسول اللہ ﷺ کی پائی جائے وہ یقینا کفر ہے۔ بلکہ ایسا شخص واجب القتل ۔ بلفظہ ص ٣١، سطر ٢٠ ضمان الفردوس۔

٩٩

صفحہ ٤٥٦

جن پر وہ وحی نازل ہو سمجھ میں نہیں آ سکتی۔“

(ازالۃ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)

عیسیٰ کجاست تا بہ نہد پای منبرم

(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے ...... تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور پر ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو۔ جو مٹی کا ایک کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو۔ جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے کہ جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣٠٢، ٣٠٣ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٥)

طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو۔ کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں۔ جو کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں...... بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت آتے ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٣٠٢ تا ٣٠٤ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٥)

(مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے ...... اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ

جب وہ باذن اللہ یہ عمل کرتے تھے تو مرزا قادیانی اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت کس دلیل سے کہتے ہیں ۔ مگر یہ سچ ہے کہ خداوند کریم کا حکم مرزا قادیانی کے لئے مکروہ اور قابل نفرت ہے؟ العیاذ باللہ!

١٠٠

صفحہ ٤٥٧

کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔"

(ازالۃ اوہام ص٣٠٨، ٣٠٩ حاشیہ، خزائن ج٣ ص٢٥٧، ٢٥٨)

اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کی کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام رہے۔"

(ازالۃ اوہام ص٣١٠ حاشیہ، خزائن ج٣ ص٢٥٨)

حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے۔ یہ الہامی نام ہے۔"

(ازالۃ اوہام ص٣١٢ حاشیہ، خزائن ج٣ ص٢٥٩)

گوئی کی اور وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی بلکہ وہ اسی میدان میں مرگیا۔"

(ازالۃ اوہام ص٦٢٩، خزائن ج٣ ص٤٣٩)

کہ میں مسیح موعود ہوں۔"

(ازالۃ اوہام ص٦٨٣، خزائن ج٣ ص٤٦٩)

(ازالۃ اوہام ص٦٨٨، خزائن ج٣ ص٤٧١)

حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کی گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کی عمیق تہ وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی بھی ظاہر فرمائی گئی ہو۔"

(ازالۃ اوہام ص٦٩١، خزائن ج٣ ص٤٧٣)

سے وہ مقتول زندہ ہو گیا تھا اور اپنے قاتل کا پتہ دے دیا تھا۔ یہ محض موسیٰ کی دھمکی تھی اور علم مسمریزم تھا۔"

(ازالۃ اوہام ص٧٤٨، خزائن ج٣ ص٥٠٣، ٥٠٤)

وہ بھی ان کا مسمریزم کا عمل تھا۔"

(ازالۃ اوہام ص٧٥٢، خزائن ج٣

١٠١

صفحہ ٤٥٨

آپ نے سوچا ہوگا۔“

(نور القرآن ص ١٩، خزائن ج ٩ ص ٣٩٤)

(نورالقرآن ص ٧٢، خزائن ج ٩ ص ٤٤٩)

آدم ماں اور باپ دونوں نہیں رکھتے تھے۔ اب قریب برسات آئی ہے۔ باہر جا کر دیکھئے کہ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں۔“

(جنگ مقدس ص ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٨٠)

(انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

ور، گالیاں دینے والا، جھوٹا علمی اور عملی قویٰ میں کچا، چور، شیطان کے پیچھے چلنے والا، شیطان کا ملہم، اس کے دماغ میں خلل تھا۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان جدی مناسبت سے تھا۔ زنا کاری کا عطر ایک کنجری سے سر پر ملوایا۔

(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧٤، ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ تا ٢٩١ ملخصاً)

العیاذ باللہ نقل کفر کفر نباشد!

یاداشت: توہین انبیاء علیہم السلام کفر ہے۔

سوم مرزا قادیانی کے عقائد (جمہور اہل اسلام کے خلاف)

١؎ مرزا قادیانی کی دلیری، بے باکی اور توہین نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر خیال فرمائیے۔ اللہ ان کے حق میں (سورہ مریم آیت نمبر ٢١) فرماتا ہے۔ ”آیۃ للناس ورحمۃ منا“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ پیدا کرنا لوگوں کے واسطے نشان ہے اور رحمت۔ مرزا قادیانی کی نگاہ ایسی ہے کہ قرآن کریم بھی کوئی چیز نہیں ہے۔ نعوذ باللہ!

٢؎ کشلیا راجہ رام چندر جی کی والدہ کا نام ہے۔ جس کو ہندو لوگ اوتار پرمیشر (خدا) کہتے ہیں۔ آریہ لوگ صرف راجہ کہتے ہیں اور مسلمان لوگ ان کو کافر جانتے ہیں۔

١٠٢

صفحہ ٤٥٩

قولہ: ہمارا خدا عاجی ہے۔ (اس کے معنی ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔)

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)

عاجی کے معنی ہاتھی دانت کا یا گوبر کا کے ہیں۔ دیکھو کتب لغت منتخب اللغات اور قاموس اور اس کی تحقیقات میں۔

(کتاب ہذا میں تفصیل پہلے گذر چکی)

ہو رہا ہے۔ قولہ ”ملائکہ وہ روحانیات ہیں کہ ان کو یونانیوں کے خیال کے موافق نفوس فلکیہ یا د ساتیر اور وید کے موافق ارواح کواکب ان کو نامزد کریں یا نہایت طریق سے ملائکۃ اللہ کا ان کو لقب دیں۔ درحقیقت یہ ملائکہ ارواح کواکب اور سیارات کے لئے جان کا حکم رکھتے ہیں اور عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے انہیں سیاروں کے کواکب اور ارواح کی تاثیرات سے ہو رہا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٣٣، ٣٧، ٣٨، ٣٩، ٤٠، ١٧، خزائن ج ٣ ص ٦٧ ، ٦٨ ، ٧٠، ٧١، ٧٥)

آتے ہیں۔

قولہ: ”جبرائیل امین جو انبیاء علیہم السلام کو دکھائی دیتا ہے۔ وہ بذات خود زمین پر نہیں اترتا اور اپنے اور اپنے ہیڈ کوارٹر (صدر مقام) سے نہایت روشن نیر سے جدا نہیں ہوتا۔ بلکہ صرف اس کی تاثیر نازل ہوتی ہے اور اس کے عکس سے تصویر ان کے (یعنی انبیاء علیہم السلام) دل میں منقوش ہو جاتی ہے۔“

(توضیح المرام ص ٦٨ ، ٧٠، ٨٥، خزائن ج ٣ ص ٨٦، ٨٧، ٩٥)

١؎ قولہ سے مراد خاص مرزا قادیانی کی کلام ہے اور قال سے کسی دیگر شخص کی۔

٢؎ ایمان تفصیلی میں فرشتوں پر ایمان لانا فرض ہے اور منکر انکا کافر ہے۔ جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ’’ومن يكفر بالله وملئكته وكتبه واليوم الاخر فقد ضل ضلالاً بعيدا (نساء:١٣٦)‘‘ یعنی جو انکار کرے اللہ تعالیٰ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور قیامت کے دن کا وہ گمراہ ہوا گمراہی دور کی اور حدیث صحیحین میں ہے۔ ’’ان تؤمن بالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الاخر (بخاری ج ١ ص ١٢، باب سوال جبرائيل النبي ﷺ عن الايمان، مسلم ج ١ ص ٢٧، کتاب الایمان واللفظ له)‘‘ مرزا قادیانی قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے انکاری ہیں۔ العیاذ باللہ منہ! دیکھو عقائد الاسلام۔

١٠٣

صفحہ ٤٦٠

قولہ: ”ایک بادشاہ کے وقت چار سو نبی نے اس کے فتح کے بارہ میں پیش گوئی کی اس میں وہ جھوٹے نکلے اور بادشاہ کو شکست آئی۔ بلکہ وہ اسی میدان میں مارا گیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٦٢٩ ، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

از قسم شعبدہ بازی اور لوگوں کو فریفتہ کرنے والے تھے۔

قولہ : الف ...... ” بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ ( پرندے بنا کر انہیں پھونک مار کر اڑانا ) حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دونوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

قولہ : حضرت رسول خدا ﷺ نے الہام اور وحی غلط سمجھیں۔

(ازالہ اوہام ص ٦٨٩، خزائن ج ٣ ص ٤٧٢)

یاجوج ماجوج اور دابۃ الارض کی حقیقت سے وحی الٰہی نے خبر نہیں دی۔

پاک ہیں اور وہ معصوم ہیں اور راست باز ہیں۔ اس کا انکار کفر ہے۔ جو انبیاء علیہم السلام کو جھوٹا کہے وہ کافر ہے۔

(عقائد الاسلام ص ٣٨، ٢٥٢، مؤلفہ مولانا ابو محمد عبدالحق دہلوی۔)

رسالہ تہذیب الاخلاق جمادی الاول تا رمضان ١٢٩٦ھ مطابق ١٨٧٩ء میں معجزات کو بہروپیوں کا سانگ لکھتے ہیں۔ انکار معجزہ انکار کلام اللہ ہے۔ جو کفر ہے۔ عقائد الاسلام وغیرہ کتب عقائد۔

ہے۔ یہ سخت اہانت حضرت محمد ﷺ کی ہے۔ جو کفر ہے۔ عقائد الاسلام مؤلفہ مولانا مولوی ابو محمد عبدالحق دہلوی۔

١٠٢

صفحہ ٤٦١

قولہ: ”اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونہ کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو اور نہ دجال کے گدھے کی اصل کیفیت کھلی ہو اور نہ یاجوج ماجوج کے عمیق تک وحی الٰہی نے اطلاع دی ہو اور نہ دابۃ الارض کی ماہیت کما ہی بھی ظاہر فرمائی گئی ہو ۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)

قولہ: ”حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے تھے ۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤، ٢٥٥)

قولہ : ١...... ”حضرت مسیح ابن مریم الیسع نبی کی طرح اس عمل الترب (مسمریزم) میں کمال رکھتے تھے ۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٨ حاشیہ ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٧)

٢...... ”یہ جو میں نے مسمریزی عمل کا نام عمل الترب رکھا ہے یہ الہامی نام ہے۔ جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے ۔“

(ازالہ اوہام ص ٣١٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٩)

فلسفہ پر دارو مدار)

قولہ : ١...... ”نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان

١ قولہ یوسف نجار...... الخ ! سید احمد خان صاحب کی کاسہ لیسی ۔ صریح ”نص ولم يمسسنی بشر (آل عمران: ٤٧)“ حضرت مریم علیہا السلام کا قول مندرجہ قرآن مجید کا انکار کفر ہے۔

٢ معراج..... الخ ! ” وخبر المعراج حق ومن رده فهو مبتدع ضال “ یعنی جو معراج جسمانی کا انکار کرے بدعتی گمراہ ہے۔

(فقہ اکبر ص ٨ طبع مصر)

معراج جسمانی...... الخ ! ” عقائد اسلام ومعراجه فی الیقظة الى السماء ثم الى ماشاء الله حق “ یعنی حضرت ﷺ کا معراج بیداری میں آسمان کی طرف پھر جہاں اللہ نے چاہا حق ہے۔ بلفظہ سبیل الجنان ترجمہ تکمیل الایمان ص ٣٩ سطر ١٧، و شرح عقائد ص ١٤٣، طبع کراچی ۔ کتب عقائد ” سبحان الذي اسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى (الاسراء: ١) “

١٠٥

صفحہ ٤٦٢

اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کرہ زمہریرہ تک بھی پہنچ سکے۔..... پس اس جسم کا کرہ ماہتاب و آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

کشف تھا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)

ہے۔ ایک غائت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلاً زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر لعنت بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفار کو سنا سنا کر ان پر لعنت بھیجتا ہے۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٩، ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١١٥)

سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں۔“

(ازالۃ اوہام ص ٢٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١١٦)

قولہ: ”خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں بھی اسی عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“

(ازالۃ اوہام ص ٥٣٣، خزائن ج ٣ ص ٣٨٩)

قولہ: ”اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔“

(حقیقۃ الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

قولہ: ”قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض مردے زندہ ہو گئے تھے۔ جیسے وہ مردہ

١؎ گندی گالیاں ...... الخ! مسئلہ: جس کلمے میں بے ادبی یا اہانت قرآن مجید یا کسی آیت کی ہو۔ بے شک کفر ہے۔ ص ٣٢ ضمان الفردوس وغایۃ الاوطار ترجمہ (درمختار ص ٥١٣ سطر ٢١)

٢؎ مرزا قادیانی ...... الخ! جو شخص قرآن شریف کو مخلوق کہے وہ کافر ہے۔ بلفظہ غایۃ الاوطار۔

(ترجمہ درمختار ص ٥١٣، سطر ٢١)

٣؎ معجزات ...... الخ! معجزات قرآنی کا منکر قرآن شریف کا منکر ہے۔ قرآن شریف کا منکر کافر ہے۔

١٠٦

صفحہ ٤٦٣

جس کا خون بنی اسرائیل نے چھپا لیا تھا۔ جس کا ذکر اس آیت ”و اذ قتلتم“ میں ہے کہ اس گائے کے گوشت کی بوٹیوں سے جس کے مارنے سے مقتول کے جسم پر لگنے سے زندہ ہو گیا تھا یا ہو جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ اس قصہ سے واقعی طور پر زندہ ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوتا۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ صرف دھمکی تھی کہ تا چور بے دل ہو کر اپنے تئیں ظاہر کر دے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ طریق عمل التنویم یعنی مسمریزم کا ایک شعبہ تھا۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٧٨ تا ٤٧٩، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤،٥٠٣)

.......١٥....... قرآن شریف میں یہ عبارت انا انزلناہ قریباً من القادیان موجود ہے۔ (کلام الہی میں کمی بیشی)

قولہ: ”جس روز وہ الہام مذکورہ بالا جس میں قادیان میں نازل ہونے کا ذکر ہوا تھا۔ اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا۔ انا انزلناہ قریباً من القادیان‘ تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ قادیان کا نام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے۔ تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ میں شاید بعینہ قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے۔ تب میں نے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن مجید میں درج ہے اور تین شہروں کا نام قرآن شریف میں اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ مکہ، مدینہ اور قادیان۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦، ٧٧ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

.......١٦....... قادیان بمثل حرم ٢؎ کعبۃ اللہ ہے۔

قولہ: ”ومن دخلہ کان امنا....... ہم نے تیرا سینہ نہیں کھولا۔ کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا....... بیت الفکر سے اس جگہ مراد وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے اور ومن دخلہ کان

١؎ ”انا انزلناہ....... الخ (القدر: ١)“ آیت شریف ”وانا لہ لحافظون (الحجر: ٩)“ کا انکار، گویا قرآن مجید کا انکار ہے۔

٢؎ حرم کعبۃ....... الخ! آیت قرآن شریف کو خلاف ظاہر نص کے منطبق کرنا یا کسی اور مطلب کے مطابق کرنا جس کا قرآن شریف میں بعبارت ظاہر ذکر نہیں تحریف قرآن شریف ہے۔ جو کفر ہے۔ نعوذ باللہ عقائد الاسلام وغیرہ کتب عقائد۔

١٠٧

صفحہ ٤٦٤

امنا اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٥٨، ٥٥٩ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٦ ، ٦٦٧)

لائیں گے۔ آنے والے مسیح مرزا قادیانی ہی ہیں۔

(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

اور آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔

(انجام آتھم ص ٨٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا ہے اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزئی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

غافلو اس امت مرحومہ میں وحی کی نالیاں قیامت تک جاری ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٢١، خزائن ج ٣ ص ٣٢١)

کر امن میں آجانے کا موجب ہوگا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٠٠ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٥٠)

صدیقؓ، فاروقؓ اور علی المرتضیٰؓ کو ملا تھا۔ جن کے ایمان کو آسمان کے فرشتے بھی تعجب کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٠٦ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ١٥٣)

؎١ فوت ہوچکے....... الخ! اجماع امت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ بجسم عنصری آسمان پر ہیں۔ قیامت کے قریب نزول فرمائیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ منکر اجماع امت کا کافر ہے۔ عقائد الاسلام ص ٦۔

؎٢ خاتم النبیین....... الخ! ختم نبوت حضرت محمد ﷺ کا منکر کافر ہے۔

١٠٨

صفحہ ٤٦٥

قولہ : ”میں ایک مسلمان ہوں ١؎ آمنت بالله وملئكته وكتبه ورسله والبعث بعد الموت “ (پورا ایمان مفصل نہیں)

(ازالہ اوہام ص دوم ٹائٹل ، خزائن ج ٣ ص ١٠٢)

قولہ ١....... ”محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امر نہیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ٤٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)

.......٢ ”امام مہدی کا آنا بالکل صحیح نہیں ٢؎ ۔“

(ازالہ اوہام ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨)

قولہ ”پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ مسیح دجال جس کے آنے کی انتظار تھی۔ یہی پادریوں

١؎ آمنت بالله....... الخ! عقائد اسلام میں صفت ایمان یہ ہے ”آمنت بالله وملئكته وكتبه ورسله واليوم الاخر والقدر وخيره وشره من الله تعالى والبعث بعد الموت“ ہر ایک کتاب عقائد وغیرہ میں درج ہے۔ مسئلہ جو قیامت اور جنت اور نار اور میزان یا کسی بات کا جو حضرت محمدﷺ نے یقین فرمائی ہے۔ انکار کرے کافر ہے۔

(ترجمہ درمختار ص ٥٣، عثمان فردوس ص ٣٢ وغیرہ)

٢؎ صحیح نہیں....... الخ! بایں ہمہ اب خود مرزا قادیانی مہدی بن گئے ۔

٣؎ دجال....... الخ! عقیدہ اہل اسلام یہ ہے۔ ”وخروج الدجال وياجوج ماجوج وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى عليه السلام من السماء وسائر علامات يوم القيامة على ما وردت به الاخبار الصحيحه حق كان“

(فقہ اکبر ص ٩،٨ وطبع مصر)

یعنی اور نکلنا دجال اور یاجوج ماجوج کا اور نکلنا سورج کا مغرب سے اور اترنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر سے اور باقی تمام نشانیوں قیامت کا جیسا صحیح حدیثوں میں وارد ہوا ہے۔ حق ہے اور ضرور ہونے والا ہے۔

١٠٩

صفحہ ٤٦٦

کا گروہ ہے۔ جو ٹڈی کی طرح دنیا میں پھیل گیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٤٩٥،٤٩٦، خزائن ج٣ ص٣٦٦)

قولہ: ”وہ گدھا دجال کا اپنا ہی بنایا ہوا ہوگا۔ پھر اگر وہ ریل نہیں ہے تو اور کیا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٤٨٥، خزائن ج٣ ص٣٧٠)

قولہ: ”یاجوج و ماجوج سے دو قومیں انگریز اور روس مراد ہیں اور کچھ نہیں۔“

(ازالہ اوہام ص٥٠٨،٥٠١، خزائن ج٣ ص٣٦٩،٣٧٣)

قولہ: ”دابۃ الارض وہ علماء اور واعظین ہیں۔ جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے...... آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہوگی۔“

(ازالہ اوہام ص٥١٠، خزائن ج٣ ص٣٧٣)

قولہ: ”دخان سے مراد قحط عظیم و شدید ہے۔“

(ازالہ اوہام ص٥١٣، خزائن ج٣ ص٣٧٥)

قولہ: ”مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی آفتاب سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصہ ملے گا۔“

(ازالہ اوہام ص٥١٥، خزائن ج٣ ص٣٧٦،٣٧٧)

قولہ: ”کسی قبر میں سانپ اور بچھو دکھاؤ۔“

(ازالہ اوہام ص٤١٥، خزائن ج٣ ص٣١٦)

قولہ: ١......

ہفتصد و ہفتاد قالب دیدہ ام
بار ہا چون سبزہ ہا روئیدہ ام

(ست بچن ص٤٨، خزائن ج١٠ ص٢٠٨)

تحقیقات قدیمہ و جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پا کر معدوم ہو جاتا ہے اور دوسرا بدن بدل ما یتحلل ہو جاتا ہے۔“

(جنگ مقدس ص١٠، خزائن ج٦ ص٩٢)

١١٠

صفحہ ٤٦٧

قول: ١...... ”وہ الہامات جن پر خدا نے مجھ کو اطلاع دی ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٢٣ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٢٤٨)

متبوع کی طرح علم یقینی قطعی حاصل ہو۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٣٢ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٢٥٧)

اور یقینی ہوتا ہے۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٣٢ حاشیہ، خزائن ج١ ص ٢٥٨)

دخل شیطان سے منزہ کیا جاتا ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج٣ ص ٦٠)

سے یقینی علم پا کر کہتا ہوں۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

قول: ١...... ”(الہام) ہم نے تجھ کو بخش چھوڑا ہے جو جی چاہے ٢؂ سو کر۔“

(براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج ١ ص ٢٢٨)

اصل عبارت عربی ! اعمل ماشئت فانی قد غفرت لك !

تاکہ تیرا خدا (عاجی) تیرے اگلے پچھلے گناہ بخش دے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ ص ٣٤١)

١؂ قطعی یقینی......الخ! یہ دعویٰ نبوت ہے جو کفر ہے۔ کیونکہ قطعی اور یقینی الہام سوائے پیغمبران علیہم السلام کے اور کسی کا نہیں ہے۔ نہایت تعجب ہے کہ حضرت ﷺ کی وحی غلط نکلی ہو اور مرزا قادیانی کا الہام وحی کی طرح قطعی اور یقینی ہو۔ یہاں مرزا قادیانی نے تمام انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص حضرت محمد ﷺ پر اپنی فضیلت کو ثابت کیا ہے۔

٢؂ جو جی چاہے......الخ! یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے عقائد و اعمال اہل اسلام کے مخالف ہیں اور ان کی پرواہ نہیں اور نہ کسی گناہ کا کوئی اثر پہنچتا ہے۔

١١١

صفحہ ٤٦٨

چہارم مرزا قادیانی کے اعمال

قولہ:...... ”ایسے مجیب کو بلا عذر مدعی لے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض دخل دے دوں گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٢٥، ٢٦ خزائن ج ١ ص ٢٨)

خانہ کی کتابوں کو دیکھ لے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٢ حاشیہ)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٣١٢)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، ٢٩، خزائن ج ١١ ص ٣١٢، ٣١٣)

اور بہت سی تنخواہیں مرزا قادیانی کی مقرر ہیں۔

قال: الف...... روپیہ کی طلب اور ھل من مزید کا نقشہ اور ترک جمعہ اور جماعت اور خوش معاملگی یا وعدہ خلافی اشاعت براہین احمدیہ اور سراج منیر میں اور بہت سی آپ کی دوسری عملی کارروائیاں آپ کو سیرت محمدی سے کوسوں دور پھینک رہی ہیں۔

(رسالہ تائید آسمانی ص ١٣ سطر ١٥، ١٦ کے مؤلفہ منشی محمد جعفر وکیل)

ب...... تے مرزا جمعہ جماعت کولوں تارک سنیا جاوے
حجرے دے وچ رہے ہمیشہ مسجد وچ نہ آوے

(رسالہ الفصل الخطاب ص ١٦، سطر ١٣، مؤلفہ مولوی خدا بخش امرتسر)

؂١ حج کے ادا نہ کرنے کی وجہ مرزا قادیانی کے عقیدہ نمبر ١٦ میں گذر چکی ہے۔ زکوٰۃ بھی مرزا قادیانی ادا نہیں کرتے۔ جیسے قرائن سے ثابت ہے کہ زکوٰۃ میں مرزا قادیانی کا عذر ہو سکتا ہے کہ ہم خفیہ طور پر ادا کرتے ہیں اس لئے زکوٰۃ کا نمبر شمار علیحدہ نہیں لکھا گیا۔ ترک کرنا حج کا گناہ کبیرہ ہے اور انکار کرنا کفر ہے۔ کتب عقائد۔

؂٢ باجماعت..... الخ! عمداً دانستہ نماز باجماعت کو ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ دیکھو کتب عقائد مسئلہ جماعت سنت مؤکدہ قریب واجب کے ہے۔ تارک اس کا منافق ہے۔

١١٤

صفحہ ٤٦٩

قال: ”اور جواب ڈیڑھ بجے لکھا۔ جس میں پہلے رقعہ کا اعادہ کیا گیا تھا۔ ادھر سے بھی حجت تمام کرنے کی غرض سے اسی وقت جوابی رقعہ لکھا گیا اور ساتھ ہی یہ لکھ دیا گیا کہ ہم اب جلسہ میں جاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت اقدس (مرزا قادیانی) معہ چند خادموں کے دو بجے ہی جامع مسجد میں جاپہنچے...... چنانچہ جب انہیں خبر ملی کہ مرزا قادیانی تیار مستعد مسجد میں تشریف رکھتے ہیں تو وہ بھی وقت مقررہ سے آدھ گھنٹہ بعد بصد جبر واکراہ آئے۔ ٹھیک ساڑھے تین بجے تھے۔ جب انہوں نے مسجد میں قدم رکھا اور نماز عصر کے ادا کرنے میں مصروف ہوئے۔ حضرت اقدس اور ان کے خدام ظہر اور عصر جمع کر کے باجماعت ہی پڑھ آئے تھے۔“

(ضمیمہ اخبار پنجاب گزٹ ص ٧ کالم دوم، مورخہ ١٣؍ نومبر ١٨٩١ء)

کیفیت مناظرہ مرزا قادیانی ومولوی نذیر حسین صاحب جو جامع مسجد دہلی میں ستمبر و اکتوبر ١٨٩١ء کے دنوں میں ہوا تھا۔ گویا ایک بجے دن کے جو ظہر کا وقت ہے۔ ظہر اور عصر دونوں کو جمع کر کے پڑھ لیا۔

قال: روزہ رکھن ویلے بیماری دا عذر بناوے
تے حج زکوٰۃ توں تارک چنگا بھلائی نہ دسیاوے

یعنی مرزا قادیانی روزہ رمضان المبارک کے رکھنے کے وقت بیمار بن جاتے ہیں اور روزہ نہیں رکھتے۔

(رسالہ الفصل الخطاب مؤلفہ مولوی خدا بخش واعظ ص ١٦، سطر ١٢)

کے واسطے انعام کی شرطیں لگاتے ہیں۔ مگر پروا نہیں کرتے۔

اقول: کوئی بھی کتاب یا اشتہار ایسا نہیں ہوگا کہ جس میں کوئی نہ کوئی شرط بندھی ہوئی موجود نہ ہو۔ ابتداء براہین احمدیہ ہے۔ آج تک انجام آتھم واخیر ضمیمہ انجام آتھم تک کہ اس کی خبر

١؎ قبل از وقت...... الخ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”ان الصلوٰۃ کانت علی المؤمنین کتاباً موقوتا (النساء:١٠٣) یعنی تحقیق نماز ہے مسلمانوں پر فرض وقت مقرر کیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی نے آیت شریف کی پروا نہ کی قبل از وقت نماز پڑھنا کبیرہ گناہ ہے۔

(عقائد عظیم ص ٤٠)

٢؎ روزہ (بلاعذر) نہ رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔

(عقائد الاسلام ص ١٢٦)

١١٣

صفحہ ٤٧٠

صفحہ دوسرے اشتہار میں ایک ہزار روپیہ کی شرط لگائی ہوئی موجود ہے۔ جو شرعاً جائز نہیں۔

قیمت وصول کرتے ہی۔ یعنی بیع فاسد ١ آپ کا عمل دوامی ہے۔ قولہ: ”نام ان معاون صاحبان کے جنہوں نے خریداری کتاب سے اعانت فرمائی۔ حضرت خلیفہ سید محمد حسن خان صاحب بہادر وزیر اعظم ریاست پٹیالہ بابت خریداری کتاب براہین احمدیہ۔“

(براہین احمدیہ حصہ اول ج١ خزائن ج١ ص١٠)

یہ اس وقت کا ذکر ہے کہ ابھی تک کتاب کا وجود بھی نہیں تھا۔ سترہ اٹھارہ سال ہو گئے ہیں۔ اب تک لوگوں کو کتاب نہیں ملی۔ اوّل اس کتاب براہین کی قیمت پانچ روپیہ مقرر کی۔ پھر پچیس روپیہ پھر دس روپیہ۔ دیکھو اعلان (براہین احمدیہ حصہ اوّل و دوم، خزائن ج١ ص٧، ٥٧ پھر سوم، خزائن ج١ ص١٣٦) کے آخر میں مرزا قادیانی نے ایک گذارش اس طرح لکھی ہے۔ ”اب اصلی قیمت اس کتاب کی سو روپیہ ہے اور اس کے عوض میں دس یا پچیس روپیہ قیمت قرار پائی ہے۔ پس اگر یہ ناچیز قیمت بھی مسلمان لوگ بطور پیشگی ادا نہ کریں تو گویا وہ کام کے انجام میں خود مانع ہیں۔“

وجود نہیں۔“

(دیکھو اعلان مندرجہ رسالہ شحنہ حق ص الف، خزائن ج٢ ص٤٢٤)

جس کی ضخامت سو جز سے کچھ زیادہ ہوگی۔“

(اعلان براہین احمدیہ حصہ اوّل صفحہ ابتدائی ، خزائن ج١ ص٢)

،،......

(براہین احمدیہ حصہ سوم، خزائن ج١ ص١٣٦)

(ترمذی ابواب البیوع درمختار باب البیوع وغیرہ)

حضرت ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی تین علامات ہیں۔ ایک تو یہ کہ جب بات کہتا ہے جھوٹ کہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جب کسی سے وعدہ کرتا ہے تو خلاف کرتا ہے۔ تیسری یہ کہ جب کوئی اس کے پاس امانت رکھتا ہے تو اس میں خیانت کرتا ہے۔ (تنبیہہ الغافلین ص١٨٠) دیگر کتب احادیث یہ تینوں علامتیں مرزا قادیانی میں موجود ہیں۔

صفحہ ٤٧١

ج....... ”یہ امر بھی واجب الاطلاع ہے کہ پہلے یہ کتاب (براہین احمدیہ ) صرف تیس پینتیس جزو تک تالیف ہوئی تھی۔ پھر سو جزو تک بڑھادی گئی..... مگر اب یہ کتاب تین سو جزو تک پہنچ گئی ہے۔“

(براہین احمدیہ ٹائٹل پیج حصہ سوم، خزائن ج ١ ص ١٣٤، ١٣٥)

د....... ”حصہ سوم کے چھپنے میں دو سال کا توقف ہو گیا ہے۔ لوگ حیران ہوں گے۔“

(براہین احمدیہ حصہ سوم ٹائٹل پیج ،خزائن ج ١ ص ١٣٥)

ھ....... ”اب کی دفعہ ان صاحبوں کے نام جنہوں نے قیمت پیشگی بھیجی اور کتاب کی خریداری سے اعانت فرمائی ہے۔ بوجہ عدم گنجائش نام لکھے نہیں گئے۔ حصہ چہارم میں جو مصلحت ہوگی کیا جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ص دوم حصہ سوم، خزائن ج ١ ص ١٣٥)

و....... ”ہم اور ہماری کتاب ابتداء میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی۔ اس وقت اس کی اور صورت تھی۔ پھر بعد اس کے قدرت الہیہ ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ علیہ السلام کی طرح ایک ایسے عالم کی خبر دی۔ جس سے پہلے خبر نہ تھی اور ایک دفعہ پردہ غیب سے انی انا ربک کی آواز آئی ... اس کتاب کی خریداری کی مدد میں غریب لوگ ہیں۔ اگر حضرت احدیت کا ارادہ ہے تو کسی ذی مقدرت کے دل کو بھی اس کام کے انجام دینے کے لئے کھول دے گا۔“

(براہین احمدیہ کا اخیر صفحہ، خزائن ج ١ ص ٦٧٣)

ز....... ”اب یہ سلسلہ تالیف کتاب بوجہ الہامات البتہ دوسرا رنگ پکڑ گیا ہے اور اب ہماری طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں کہ کتاب (براہین احمدیہ ) تین سو جزو تک ضرور پہنچے۔“

(اشتہار واجب الاظہار ملحقہ سرمہ چشم آریہ، خزائن ج ٢ ص ٤٨)

ط....... ”رسالہ سراج منیر جو چودہ سو روپیہ کی لاگت سے چھپے گا اور درخواستیں آنے پر چھپنا شروع ہو جائے گا، قیمت ایک روپیہ ہوگی۔“

(ملحقہ اعلان ٹائٹل صفحہ دوم مندرجہ شحنہ حق، خزائن ج ٢ ص ٣٢٤)

دس گیارہ سال ہو گئے ابھی تک سراج منیر شکم میں ہی ہے۔

ی....... ”اور قصد کر لیا گیا ہے کہ ان توضیحات کے بعد علماء کو مخاطب نہ کروں گا۔“

(انجام آتھم ص ٢٨٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

بعد اس کے خلاف اس کے لکھتے ہیں۔

ک... ”میں نے اشتہار دے دیا ہے کہ اس کے بعد جو میرے ساتھ مقابلہ نہ

١١٥

صفحہ ٤٧٢

کرے وہ خدا کی لعنت فرشتوں کی لعنت اور تمام صلحاء کی لعنت کے نیچے ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣)

کرنا چھوڑ دو۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٢٠، ٥٢١ ملخص ، خزائن ج ٣ ص ٤٠٢)

اس کے بعد مرزا قادیانی نے خود امرتسر میں پہنچ کر ١٨٩٣ء میں پندرہ روز تک عیسائیوں کے ساتھ ٢٠؍ مئی سے ٥ جون ١٨٩٣ء تک بحث کر کے جنگ مقدس کے نام پر شائع کیا اور عبد اللہ آتھم کی نسبت موت کی پیش گوئی کر کے سخت جھوٹے اور نادم ہوئے۔ شاید وہ نصیحت تھی جو دوسروں کے واسطے تھی۔ خود اس کے پابند نہ تھے۔ دیگراں

را نصیحت خود را فضیحت!

موجود ہیں جو صاحب تین روپیہ قیمت داخل کریں خرید سکتے ہیں“ (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠) ”میں خود ازالۃ الاوہام لینے گیا۔ (دہلی میں مرزا قادیانی کے پاس اکتوبر ١٨٩١ء کو) بعد اشتہار کے میں ، دس بیس آدمی روپیہ لے کر گئے۔ آپ نے فرمایا میرے پاس ابھی طبع ہو کر نہیں آئی۔“ (جواب اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی ٢؍ اکتوبر ١٨٩١ء منجانب عبد اللطیف خلف الصدق مولوی عبد المجید مالک مطبع انصاری دہلی مورخہ ٥؍اکتوبر ١٨٩١ء)

اور لعنتیں بھیجتے ہیں۔

قولہ: ”اخرهم شيطان الاعمى الغول الاغوى يقال له رشيد احمد الجنجوهى وهو شقى كالامروهى ومن الملعونين“ یعنی سب سے پچھلا تمام علماء و مشائخ کا ان کا اندھا شیطان اور بڑا گمراہ جس کو رشید احمد گنگوہی کہتے ہیں اور وہ بد بخت امروہی محمد حسن کی طرح ہے اور تمام ملعونوں میں سے ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

١؎ گالی دینا گناہ کبیرہ ہے۔ (عقائد الاسلام ص ١٢٧ ، و دیگر کتب عقائد)

٢؎ آیت شریف ”ولا تنابزوا بالالقاب (حجرات: ١١)“ یعنی برے لقبوں سے نہ پکارو، کا انکار۔

١١٦

صفحہ ٤٧٣

قولہ: ”دجال ، بطال ، شیخ نجدی ، شیطان ، دیو گمراہ ، فرعون ، ہامان وغیرہ۔“

(دیکھو کتاب انجام آتھم ضمیمہ)

(دیکھو کتاب انجام آتھم ضمیمہ ص ٢١ تا ٢٥ ، ٣٣، خزائن ج ١١ ص ٣٠٥ تا ٣٠٩ ، ٣١٧)

(دیکھو ضمیمہ انجام آتھم ، بقیہ حاشیہ انبیاء علیہم السلام کتاب ہذا)

قولہ: ”جو شریر بد باطن نالائق نام کے مسلمان جمعہ کی نماز نہ پڑھیں گے وہ گورنمنٹ برٹش انڈیا کے باغی ہیں۔ ان کو سزا ملنی چاہئے۔“

(ملخص اشتہار جمعہ کی تعطیل کا مورخہ یکم جنوری ١٨٩٦ء مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٣، ٢٢٤)

دیہاتی مسلمان جہاں نماز نہیں پڑھی جاتی سب باغی ہوئے۔ نعوذ باللہ!

قولہ: ”ہم یسوع کے شاگردوں کو ابھی ان کے تین مجسم خداؤں کے درشن کرا دیتے ہیں اور ان کے سہ گوشہ تثلیثی خدا کو دکھا دیتے ہیں کہ اس کے آگے جھکیں اور سیس نوائیں۔ وہ یہ ہے جس کو ہم نے عیسائیوں کی شائع کردہ تصویروں سے لیا ہے۔ تصویر یسوع کی شکل پر مجسم ، بیٹا ، تصویر کبوتر کی شکل پر مجسم روح القدس ، تصویر آدم کی شکل پر مجسم باپ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

١؂ حضرت نے تین دفعہ فرما کر نصیحت کی کہ ”لا تغضب (مسند احمد ج ٢ ص ٤٦٦)“ یعنی غصہ مت کر۔

٢؂ آیت شریف ”ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ (انعام: ١٠٨)“ کا انکار۔

٣؂ حدیث شریف میں روایت ہے ابن عباسؓ نے کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے جس نے کوئی تصویر بنائی اللہ عذاب کرے گا۔ اس کو قیامت کے دن یہاں تک کہ پھونکے وہ اس میں روح اور کبھی پھونکنے والا نہیں۔ اس طرح وہ کبھی عذاب سے بچنے والا نہیں۔ (جامع الترمذی ج ١ ص ٣٠٥، باب ما جاء فی المصورین اور سید احمد طحطاوی درمختار ) میں فرماتے ہیں کہ ظاہر کلام امام نووی کی صحیح مسلم کی شرح میں یہ ہے کہ اجماع امت سے تصویر جاندار کی بنانی حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ خواہ تصویر کو ذلیل کرنے کے واسطے (ص ٣٢٢، ٣٢٣ تقدیس الوکیل مؤلفہ مولانا مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری)

١١٧

صفحہ ٤٧٤

(تین تصویریں۔ کبوتر، آدم، یسوع کی بنائی ہیں۔) ١٤...... خدا کی حفاظت سے نا امید ہو کر اپنی جان کی حفاظت کے لئے پولیس کی مدد کی درخواست کرتے ہیں۔ جب لیکھرام آریہ واقعہ ٧/ مارچ ١٨٩٧ء کو لاہور میں قتل ہوا تو بعض آریہ لوگوں نے سخت طیش میں آ کر بطور گمنام مرزا قادیانی کے قتل کی دھمکیاں دیں۔ جنہوں نے خدا سے روگردان ہو کر گورنمنٹ میں درخواست کی کہ میری جان کی حفاظت کے واسطے پولیس کانسٹیبلان مقرر کئے جائیں۔ ورنہ میں ضرور قتل ہو جاؤں گا۔ گورنمنٹ عالیہ نے ایسی لغویت پر کچھ بھی پرواہ نہیں کی اور ایاک نستعین حکم خداوند تعالیٰ اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں پر عمل نہ کیا۔ قال: اے مرزا قادیانی تمہیں اگر کچھ خوف خدا ہوتا تو چند پولیس کے سپاہیوں کا بھروسہ نہ کرتا سوائے اس خدائے قادر مطلق کے۔ جس نے زمیں و آسمان پیدا کئے۔

١٥...... مرزا قادیانی کا کوئی پیر و مرشد نہیں ١؎۔ قولہ: میرا کوئی والد روحانی نہیں ہے۔ ”کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ (نقشبندی، قادری، چشتی، سہروردی) میں سے کسی سلسلہ میں داخل میں؟“

(ازالۃ اوہام ص ٦٥٩، ٦٦٠ خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)

١٦...... تعلی اور غرور، تکبر ٢؎ اور فجور بہت کرتے ہیں۔ قولہ: الف ...... ”جو کچھ اس عاجز کو رؤیا صالحہ اور مکاشفہ اور استجابت دعا اور الہامات صحیحہ صادقہ سے حصہ وافر نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے۔ وہ دوسروں کو تمام عالم کے مسلمانوں سے کسی کو ہرگز نہیں دیا گیا۔“

(ازالۃ اوہام ص ٧٠١، ٧٠٢ خزائن ج ٣ ص ٤٧٨)

ب ...... ”میں بڑے اطمینان اور یقین کامل سے کہتا ہوں کہ میری ساری قوم کیا

١؎ حکم خدا تعالیٰ ”ان الذين يبايعون الله يد الله فوق ايديهم (الفتح: ١٠)“ (یعنی خداوند کریم فرماتا ہے کہ جو لوگ بیعت کرتے تجھ سے اے محمد ﷺ وہ اللہ ت بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے) کی تعمیل نہ کی۔ ”فباعلم ان البيعة سنة“ یعنی بیعت تحقیق سنت۔ مگر مرزا قادیانی نے رسول اللہ ﷺ کی پرواہ نہیں کی۔

(دیکھو قول الجمیل مؤلفہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ)

٢؎ حدیث شریف میں ”بئس العبد عبد تخيل واختال (كنز العمال ج ١٦ ص ٩٧، حدیث نمبر ٤٤٠٥٤)“ برا وہ بندہ ہے جو اپنے تئیں اچھا جانتا ہے۔

١١٨

صفحہ ٤٧٥

پنجاب کے رہنے والے اور کیا ہندوستان کے باشندے اور کیا عرب کے مسلمان اور کیا روم اور فارس کے کلمہ گو اور کیا افریقہ اور دیگر بلاد کے اہل اسلام اور ان کے علماء اور ان کے فقراء اور ان کے مشائخ اور ان کے صلحا اور ان کے مرد اور ان کی عورتیں مجھے کاذب خیال کر کے پھر میرے مقابل دیکھنا چاہیں کہ قبولیت کے نشان مجھ میں ہیں یا نہیں۔‘‘

(ازالہ اوہام ص٧٠٢،خزائن ج٣ص٤٧٩،٤٧٨)

بلاغت کے چشمے تیرے لبوں پر جاری کئے گئے ۔‘‘

(براہین احمدیہ ص ٢٤١، خزائن ج ١ص٢٦٧، ضمیمہ انجام آتھم ص ٥١،خزائن ج١١ص٢٩٠)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ١٥٥، خزائن ج ١١ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ١٥٦،خزائن ج١١ص ایضاً)

آرام کے سامان تیار کرتے ہیں۔ (دیکھو کتب مرزا قادیانی کی)

قولہ:”ہم کو مکان فراخ کرنے کا دوبارہ الہام ہوا ہے۔ جماعت مخلصین دو ہزار روپیہ جلد بہم پہنچائیں اور پہلے سے ثابت قدم ہو جائیں۔“

(١٧ فروری ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج٢ ص ٤٢٧)

پر ہمیشہ سوار ہوتے ہیں۔

بیوی کو طلاق دلوانے کے لئے مجبور کرتے ہیں۔

قال: ایک عجیب قصہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک الہام مشتہر کیا کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی بڑی صاحبزادی میرے ساتھ مقدر ہے۔ لڑکی کے اولیاء کو نامنظور ہوا۔ تو اپنے چند لطائف الحیل طمع وغیرہ پر ان کو راضی کرنا چاہا۔ وہ راضی نہ ہوئے۔ چونکہ مرزا احمد بیگ صاحب مدعی مثیلیت کی وجہ سے رشتہ دار تھے۔ اس لئے مدعی مثیلیت نے اس کو اور اپنے دیگر رشتہ داروں کو وضعداری سے بلکہ صاف لفظوں میں دھمکا کر مجبور کیا وہ اُس لڑکی کا نکاح کسی دوسری جگہ نہ ہونے دیں اور جس طرح ممکن ہو روک کر میری طرف مائل کریں۔ جب ان سے

١١٩

صفحہ ٤٧٦

یہ کارروائی نہ ہوسکی تو اپنی پہلی نیک بخت بیوی اور اس کے لائق فرزندوں سے ناراضگی ظاہر کر کے ایک بیٹے کو عاق کرنے کی دھمکی میں یہ لکھا کہ اگر وہ شرطیہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے گا تو وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہ پاوے گا وغیرہ وغیرہ۔ ایسی دھمکی سے مرزا قادیانی کی غرض یہ تھی کہ فضل احمد کی منکوحہ ( جو مرزا احمد بیگ صاحب کی ہمشیرہ زادی تھی ) اس کو طلاق ملنے سے احمد بیگ اور اس کے دیگر قرابت داروں کو رنج پہنچے گا۔ جس سے وہ مرزا کی الہامی تائید کے مؤید ہو جائیں گے اور مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں کا عقد مرزا قادیانی کے ساتھ ہو جانے سے ان کے الہام کی تصدیق ہو جائے گی۔ جس کی تصدیق ذیل کے خطوط (جو مرزا قادیانی کی قلم کے لکھے ہوئے ہیں ) سے بوجہ احسن ہو جائیں گی ۔

نقل اصل خطوط جو مرزا قادیانی نے مرزا احمد بیگ

اور دیگر رشتہ داروں کو بھیجے تھے

اس جگہ پر مرزا قادیانی کے خاص دستخطی خطوں کو جو مجھے ایک دوست شیخ نظام الدین صاحب پنشنر راہوں کی معرفت مرزا علی شیر صاحب سمدھی مرزا قادیانی سے ملے ہیں درج کرتا ہوں ۔ جس سے مرزا قادیانی کی مسیح موعودی اور نبوت بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔ ان خطوں کے ملاحظہ سے ناظرین معلوم کر لیں گے کہ مرزا قادیانی کیا ہیں۔ کوئی ادنیٰ اور جاہل مسلمان بھی ایسا نہیں کرے گا اور نہ کرسکتا ہے۔ یاداشت: مرزا احمد بیگ کی زوجہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تایا چچازاد ہمشیرہ ہے۔ مرزا علی شیر کی لڑکی عزت بی بی فضل احمد پسر مرزا غلام احمد قادیانی کی زوجہ تھی۔

بسم الله الرحمن الرحیم!

نحمدہ ونصلی! مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ!

السلام عليك ورحمة الله وبرکاته ! قادیان میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند آں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا۔ لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا۔ صدمہ وفات فرزند آں حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہوگا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کے لئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطاء فرمائے اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے

١٢٠

صفحہ ٤٧٧

آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو۔ لیکن خداوند علیم جانتا ہے کہ اس عاجز کا دل بکلی صاف ہے اور خدائے قادر مطلق سے آپ کے لئے خیر و برکت چاہتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں۔ تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا اخیری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدا تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اسی عاجز سے ہوگا۔ اگر دوسری جگہ ہوگا تو تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہوگا۔ کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے۔ اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہوگا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرمائیں کہ یہ آپ کی لڑکی کے لئے نہایت درجہ مستوجب برکت ہوگا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھول دے گا۔ جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی۔ جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے۔ جس کے ہاتھ میں زمین اور آسمان کی کنجی ہے۔ تو پھر کیوں اس میں خرابی ہوگی اور آپ کو شاید معلوم ہوگا یا نہیں کہ یہ پیشین گوئی اس عاجز کی ہزار ہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہوگا کہ جو اس پیش گوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہاں کی اس کی طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جا کر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیش گوئی کے ظہور کے لئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیش گوئی کے پورا ہونے کے لئے معاون بنیں۔ تا کہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین اور دنیا دونوں ١٢١

صفحہ ٤٧٨

آپ کو خدا تعالیٰ عطا فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملا ئم لفظ ہو تو معاف فرما دیں۔ والسلام! خاکسار احقر عباداللہ ! غلام احمد ١٧ جولائی ١٨٩٠ء، بروز جمعہ

بسم الله الرحمن الرحیم! نحمده ونصلى! مشفقی مکرمی اخویم مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ!

السلام علیکم ورحمة الله وبركاته! اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں۔ آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں ۔ جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے ۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہورہی ہے۔ اب میں نے سنا ہے کہ عید کے دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں ۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں ۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں ۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ رسول کے دین کی کچھ بھی پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں سے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار کیا جائے۔ ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے ۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں ۔ اب مجھ کو بچالینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ مگر میں ان کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچائے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا ۔ کیا میں چوہڑا یا چمار تھا۔ جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں سے ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کے لئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کے لئے سب ایک ہو گئے ۔ یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے ۔ مگر پھر تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کے لئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو وہ میری وارث ہو ۔ وہی میرے خون کے پیاسے، وہی میری عزت کے پیاسے ہیں اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو ۔ خدا بے نیاز ہے۔ جس کو چاہے روسیاہ کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔ میں نے خط لکھے کہ ہمارا رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو کسی نے جواب نہ دیا ۔ بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کے لئے فضل احمد کے گھر میں ہے ۔ بے شک وہ طلاق دے

١٢٢

صفحہ ٤٧٩

دے۔ ہم راضی ہیں ورنہ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلا ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحب کے نام خط بھیجا۔ مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے کیا ہمارا رشتہ باقی رہ گیا ہے۔ جو چاہے کرے۔ ہم اس کے لئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا ابھی مرا بھی ہوتا۔ یہ باتیں آپ کی بیوی صاحب کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک ناچیز ہوں۔ ذلیل ہوں اور خوار ہوں۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں تو میرے بیٹے سے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں۔ پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے کہ مرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی کو اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا۔ بلکہ ایک طرف جب (محمدی) کا کسی شخص سے نکاح ہوگا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دے دے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ رادہ اس کا بند کرادو گے تو میں بدل و جان حاضر ہوں اور فضل احمد جو اب میرے قبضہ میں ہے۔ ہرطرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کے لئے کوشش کروں اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائیں اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کریں کہ وہ بھائی کو اس نکاح سے روک دیوے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کے لئے یہ تمام رشتہ ناتے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بننا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا اور جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا۔ ایسا ہی سب ناطے رشتے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم! راقم خاکسار! غلام احمد از لودھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء

نقل اصل خط مرزا قادیانی جو بنام والد عزت بی بی تحریر کیا تھا

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی!

والد عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک (محمدی) مرزا احمد بیگ کی لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے سارے رشتہ ناطے توڑ دوں گا ورکوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی

١٢٣

صفحہ ٤٨٠

مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکے ہو اس کو سمجھا دو ورنہ اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور دین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دے ورنہ اگر فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور میری وراثت کا اس کو حصہ نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرعی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آ جائے گا۔ جس کا یہ مضمون ہوگا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کے غیر کے ساتھ نکاح کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاق ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے اس طرف تو محمدی کا دوسرے سے نکاح ہوگا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق پڑ جائے گی۔ سو یہ شرعی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پا سکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھا دو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں عزت بی بی کے بہتری کے لئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی۔ مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے۔ یاد رہے کہ میں نے کوئی کچی بات نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔ جس دن سے نکاح ہوگا اس دن سے عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔ (راقم مرزا غلام احمد قادیانی

از مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٨٩١ )

از طرف عزت بی بی بطرف والدہ

اس وقت میری بربادی اور تباہی کی طرف خیال کرو۔ مرزا صاحب کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی میرے ماموں کو نہیں سمجھاؤ گی تو پھر طلاق ہو گی اور ہزار طرح کی رسوائی ہوگی۔ اگر منظور نہیں تو پھر خدا کے لئے مجھے لے جاؤ۔ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں۔

جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے کہا ہے کہ اگر نکاح رک نہیں سکتا۔ پھر بلا توقف عزت بی بی کے لئے کوئی قادیان سے آدمی بھیج دو تاکہ اس کو لے جائے۔

مرزا قادیانی پکے طالب دنیا اور بندہ الدینار والدرہم ہیں

قولہ: الف ’’مالی فتوحات آج تک پندرہ ہزار کے قریب ہونگی اب کا روپیہ آتا جس کو شک ہو ڈاکخانہ کی کتابیں دیکھ لے۔‘‘

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٣٢٨)

١٤٤

صفحہ ٤٨١

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ص٣١٢)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، ٢٩، خزائن ج ١١ص٣١٢، ٣١٣)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٩، خزائن ج ١١ص٣١٣)

عبدالمجید صاحب دس دس روپیہ اپنی تنخواہ سے دیتے ہیں ۔"

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ص٣١٣)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٩ حاشیہ، خزائن ج ١١ص٣١٣)

علیٰ ہذا القیاس ہر طرف سے روپیہ کی درخواست رات دن روپیہ کی آمدنی ادھیڑ بن میں گزرتا ہے۔ منی آرڈر پر منی آرڈر آ رہے ہیں۔ یاقوتیاں اور زمرد تیار ہو رہے ہیں ۔ العیاذ باللہ!

برائی اور حرام کی کمائی ٢ کے مال کے لئے درخواست کرتے ہیں

قال: انہیں دنوں میں مرزا قادیانی کو معلوم ہوا کہ الہ دیا نام طوائف ایک شخص اپنے

١ روپیہ کا جمع کرنا اور اس کا حساب رکھنا اور جائداد پیدا کرنا مرزا قادیانی کے اصل الاصول ہیں۔ جس کی بابت قرآن کریم میں سخت وعیدیں اور عذاب ہیں۔ جیسے اللہ وتبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ: "ويل لكل همزة لمزة ٥ الذى جمع مالا وعدده ٥ يحسب ان ماله اخلده ٥ كلا لينبذن فى الحطمة (الہمزہ: ١ تا ٤)" یعنی خرابی ہے طعنہ دینے اور عیب چننے کی۔ جس نے لے سمیٹا مال اور گن گن رکھا۔ خیال رکھتا ہے کہ اس کا مال اس کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ یہ ہرگز نہیں وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

٢ حدیث صحیح میں ہے کہ : "انما الاعمال بالنيات (بخاری ج ١ ص ٢، باب کیف كان بدء الوحی ) " یعنی عملوں کا حساب نیتوں پر ہے۔ مسئلہ: اگر کوئی مسلم شخص یہ نیت کرے کہ میں اگلے سال عیسائی یا یہودی ہو جاؤں گا وہ اسی وقت مرتد ہو گیا۔ اسی طرح سے اگر چہ مرزا قادیانی کو بدقسمتی سے حرام کی کمائی کا مال نہیں ملا۔ لیکن اس کی نیت و ارادہ اور جہد و اقدام کے عمل کامل جاری ہو گیا اور جاری رہے گا۔ العیاذ باللہ!

١٢٥

صفحہ ٤٨٢

برے کاموں اور پیشہ سے تائب ہو کر موحد مسلمان ہو گیا ہے اور اس کے پاس چند ہزار روپیہ حرام کی کمائی کا موجود ہے۔ جس کو وہ بوجہ اتقاء اور پرہیز گاری کے اپنے کام میں خرچ نہیں کرتا۔ مرزا قادیانی نے یہ خبر فرحت اثر سن کر فوراً کہلا بھیجا کہ وہ کل روپیہ ہمارے پاس بھیج دے۔ ہم اشتہارات وغیرہ میں خرچ کر دیں گے۔ جب الہ دیا مذکور نے دیگر علماء دیندار سے اس کے جواز کا فتویٰ پوچھا تو انہوں نے منع کر دیا کہ راہِ خدا میں ایسے روپیہ کا دینا ہرگز جائز نہیں۔ اس سبب سے مرزا قادیانی کا یہ شکار خالی گیا۔

(رسالہ تائید آسمانی بر نشان آسمانی تصنیف منشی محمد جعفر ، مطبوعہ اختر ہند پریس امرتسر ٢٣؍ جولائی ١٨٩٢ء)

خاتمۂ کتاب اور التماس بخدمت شریف علماء وفضلاء ومفتیان

شرع العلیاء ابقاہم اللہ تعالیٰ ، بطور استفتاء

الحمد للہ والمنۃ ! کتاب ہٰذا مختصراً باوضو بجواب رسائل اربعہ انجام آتھم وضمیمہ تصنیف مرزا غلام احمد قادیانی بباعث عدیم الفرصتی پانچ ماہ کے عرصہ میں ختم ہوئی۔ میں نے اس میں مرزا قادیانی کے خیالات ابتدائی وانتہائی کو حتی الوسع انہیں کی تالیفات سے نہایت تہذیب کے ساتھ نقل کیا ہے۔ بعد اس کے ان کے دعاوی نبوت اور توہینات انبیاء علیہم السلام اور عقائد اور اعمال کو بھی انہی کی تصانیف الہامی سے ہدیہ ناظرین کیا ہے اور علمی بحثیں اور آیات واحادیث کی تاویلات اور منطقی جھگڑوں اور صرف ونحو کے بکھیڑوں سے مطلق تعلق نہیں رکھا اور نہ اس طرف رجوع کیا۔ کیونکہ عوام کو ان سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ اس واسطے میں نے زیادہ تر عوام کے ہی سمجھانے کے لئے کوشش کی ہے اور یہی مدعا ہے۔ امید ہے کہ جہاں کہیں کوئی سہو یا غلطی با تقاضائے بشریت ہوئی ہو تو اس سے معاف فرما کر اصلاح فرمائی جائے اور بالخصوص حضرات علماء وفضلاء ومفتیان شرع دین متین کی خدمت بابرکت میں نہایت ہی ادب سے التماس ہے کہ مجھے مرزا غلام احمد قادیانی سے کوئی ذاتی عداوت یا دشمنی نہیں ہے۔ بلکہ وہ میرے ہم وطن ہیں اور مرزا سلطان احمد تحصیلدار ضلع ملتان ، مرزا قادیانی کے فرزند کلاں میرے نہایت دوست ہیں۔ درانحال یہ کہ ابھی مرزا قادیانی ان سے ناراض نہیں ہوئے تھے کہ میں اور وہ ایک ہی وقت میں ١٨٧٧ء پولیس ضلع گورداسپور میں نوکر ہوئے تھے اور چند روز کے بعد وہ صیغہ سول میں نوکر ہو گئے تھے۔ مگر افسوس ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے فوراً کایا پلٹ لی اور کایا بھی ایسی پلٹی کہ شناخت کرنا ہی نہایت مشکل ہو گیا اور اسلام کے دائرہ سے ایسا تجاوز کیا کہ گویا استعفاء قطعی داخل کر دیا۔

حضرات علماء !! مرزا قادیانی کے خیالات، وتوہمات، الہامات، وساوسات، دعاوی

١٢ دعاوی

١٢٦ ١٢٦ \nوساوسات، دعاوی

صفحہ ٤٨٣

نبوت اور توہینات انبیاء علیہم السلام وعقائد واعمال پر توجہ مبذول فرما کر عوام کو صاف صاف طور پر اس ابتلاء سے بچائیں اور اپنے فرائض کے پورا کرنے میں سعی بلیغ فرمائیں اور اس خاکسار ذرہ بے مقدار کو دعائے خیر سے مشکور فرمائیں۔ ”ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب“ آمین ثم آمین! نام اس کتاب کا خدا کی طرف سے تاریخی طور پر حسب ذیل رکھا گیا۔ کلمہ فضل رحمانی ١٣١٤ھ، بجواب اوہام غلام قادیانی ١٣١٤ھ، راقم عاجز فقیر فضل احمد عفی عنہ کورٹ انسپکٹر لدھیانہ ١٣١٤ھ اخیر ذی الحج۔

رؤیا صادقہ

آج واقع ٥؍ جمادی الثانی ١٣١٥ھ المقدس کی صبح ساڑھے چار بجے جب کہ میں مسودہ اصلی پر سے پورے طور پر کتاب ہٰذا لکھ چکا اور ختم کرچکا۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ مجلس میں جہاں قریباً سات آٹھ آدمی بیٹھے ہوئے ہیں اور مولانا مولوی مشتاق احمد صاحب چشتی صابری مدرس گورنمنٹ سکول لدھیانہ بھی میرے پاس داہنی طرف بیٹھے ہوئے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی بھی وہاں پاؤں پسارے پڑے ہیں۔ مرزا قادیانی کا سر ننگا ہے اور سر ان کا عین وسط سے لے کر پیشانی تک استرے سے مونڈا ہوا ہے (خلاف شرع) اور داڑھی آپ کی قینچی سے کتری ہوئی ہے۔ (خلاف شرع) اس مجلس میں سے کسی شخص نے کہا کہ آپ سب لوگ مرزا قادیانی کے مخالف کیوں ہیں۔ میں نے کہا کہ ہم کو بلکہ اہل اسلام کو مرزا قادیانی سے کوئی ذاتی یا دنیاوی غرض سے مخالفت نہیں۔ مرزا قادیانی نے ہی اپنے عقائد اور اعمال اہل اسلام کے مخالف کرلئے ہیں۔ یہی وجہ مخالفت ہے۔ مرزا قادیانی نے کہا ایویں کوئی کچھ کہہ دے۔ (پنجابی) یعنی یونہی ناحق کوئی کچھ کہہ دے۔ میں نے کہا مرزا قادیانی! کیا آپ کے کل الہاموں اور مؤلفہ کتابوں میں عقائد اور اعمال درج نہیں ہیں؟۔ کیا ان تحریری دستاویزات سے جو بڑی تعلی سے شائع کئے ہیں۔ انکار ہے؟۔ ناحق کہنے کی کسی کو کیا ضرورت ہے۔ تب مرزا قادیانی نے کھسیانی صورت بنائی اور نیچے آنکھیں کرلیں اور خاموش ہوگئے اور جواب نہ دیا۔ اتنے میں آنکھ کھل گئی۔ گھڑی (کلاک) کو دیکھا ساڑھے چار بجے تھے۔ مجھے اس خواب سے نہایت ہی اطمینان ہوئی۔ حضرات ناظرین بھی اس کی تعبیر سمجھ لیں اور یہ بھی عرض کردینا ناظرین کے لئے خالی از منفعت تعارف نہ ہوگا کہ خاکسار راقم الحروف ملازم پولیس ہے اور سخت درجہ کا گنہگار۔ لیکن الحمدللہ عقائد واعمال مطابق جمہور اہل اسلام کے عین مطابق رکھتا ہے۔ یہی امید فضل رحمانی سے ہے۔ مغفرت کرے گا۔ ہر وقت اس کے فضل کی امید اور عذاب کا ڈر دل میں ہے۔ یا الٰہی اس کو قائم رکھ۔ آمین! ثم آمین!!

١٤٧

صفحہ ٤٨٤

مرزا قادیانی کی مالی حالت اور اپنے جائز وارثوں کے حقوق کا غصب!

خدایا تیری پناہ! انتقال جائیداد اور مرزا قادیانی

”منکہ مرزا غلام احمد قادیانی خلف مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم قوم مغل ساکن و رئیس قادیان وتحصیل بٹالہ کا ہوں۔ موازی ١٤ کنال اراضی نمبری خسرہ ٢٢٤، ٧٠٣، ١٧، ١٧١ قطعہ کا کھاتہ نمبر ٧٠٧ معاملہ عمل جمع بندی ١٨٩٦ء ١٨٩٧ء واقعہ قصبہ قادیان مذکورہ موجود ہے۔ ١٤ کنال منظورہ میں سے موازی ١ کنال اراضی نمبری خسرہ نمبری ٢٢٤، ٧٠٣، ١٧ مذکورہ میں باغ لگا ہوا ہے اور درختان آم و کھٹہ و مٹھہ و شہتوت وغیرہ اس میں لگے ہوئے ۔ پھلے ہوئے ہیں اور موازی ١٣ کنال اراضی مذکور چاہی ہے اور بلا شرکت الغیر مالک وقابض ہوں ۔ سو اب مظہر نے برضاء رغبت خود و بدرستی ہوش وحواس خمسہ اپنی کل موازی ١٤ کنال اراضی مذکورہ کو معہ درختان ثمرہ وغیرہ موجودہ باغ واراضی زرعی ونصف حصہ آب وعمارت و چرخ چوب چاہ موجودہ اندرون باغ ونصف حصہ کھوہ ودیگر حقوق داخلی وخارجی متعلقہ اس کے محض مبلغ پانچ ہزار روپیہ سکہ رائج نصف جن کے ٢٥٠٠ روپے ہوتے ہیں۔ بدست مسماۃ نصرت جہاں بیگم زوجہ خود رہن وگروی کردی ہے اور روپیہ میں بہ تفصیل ذیل زیورات ونوٹ کرنسی نقد مرتہنہ سے لیا ہے۔ کڑی کلان طلا قیمتی ٧٥٠، کڑے خرد طلا قیمت ٢٥٠ ، ڈنڈیاں ١٤ عدد بالیاں دو عدد ہنسلی ١ عدد ڈبل طلائی دو عدد بالی گھنگرو والی طلائی دو عدد کل قیمتی ٢٠٠، کنگن طلائی قیمتی ٢١٠ روپے بند طلائی قیمتی ١٠٠ روپے کنٹھہ طلائی قیمتی ٢٢٥ روپے جھنبان جوڑ طلائی قیمتی ٣٠٠ روپے پہونچیاں طلائی بڑی قیمتی چار عدد قیمتی ١٥٠ روپے۔ جو شن اور مونگی چار عدد قیمتی ١٥٠ روپے چٹیاں کلاں ٣ عدد، طلائی قیمتی ٢٠٠ روپے چاند طلائی قیمتی ١٥٠ روپے بالیاں جڑاؤ سات ہیں۔ قیمتی ١٥٠ روپے نتھ طلائی قیمتی ٤٠ روپے چھلہ خرد طلائی قیمتی ٢٠ روپے حمائل قیمتی ٢٥ روپے پہونچیاں خرد طلائی ٢٢ دانہ ٢٥ روپے بڑی طلائی قیمتی ٤٠ روپے ٹیپ جڑاؤ طلائی قیمتی ٧٦ روپے کرنسی نوٹ نمبری ١٥٩٠٠٠ ای ١٢٩ لاہور کلکتہ قیمتی ایک ہزار اقرار یہ کہ عرصہ تیس سال تک فک الرہن مرہونہ نہیں کراؤں گا۔ بعد تیس سال مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زر رہن دوں۔ تب فک الرہن کرالوں، ورنہ بعد انقضائے میعاد بالا یعنی اکتیس سال کے بتیسویں سال میں مرہونہ بالا ان ہی روپوں پر بیع بالوفا ہوجائے گا اور مجھے دعویٰ ملکیت کا نہیں رہے گا۔ قبضہ اس کا آج سے کرادیا ہے۔ داخل خارج کرادوں گا اور منافع مرہونہ بالا کی قائمی ١٢٨

صفحہ ٤٨٥

راہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور معاملہ سرکاری فصل خریف ١٨٩٥ء سے مرتہنہ دے گی اور پیداوار لے گی۔ جو ثمرہ اس وقت باغ میں ہے اس کی بھی مرتہنہ مستحق ہے اور بصورت ظہور تنازعہ کے میں ذمہ دار ہوں اور سطر تین میں نصف مبلغ و رقم تین ہزار روپے کے آگے رقم دوسو ساٹھ کو قلمزد کر کے پانچ سو لکھا ہے۔ جو صحیح ہے اور جو درختان خشک ہوں وہ بھی مرتہنہ کا حق ہوگا اور درختان غیر ثمرہ یا خشک شدہ کو مرتہنہ واسطے ہر ضرورت و آلات کشاورزی کے استعمال کر سکتی ہے۔ بنابران رہن نامہ لکھ دیا ہے کہ سند ہو المرقوم ٢٥؍ جون ١٨٩٨ء بقلم قاضی فیض احمد نمبر ٩٤٩، العبد مرزا غلام احمد بقلم خود گواہ شد مقلان ولد حکیم کرم دین صاحب بقلم خود گواہ شد نبی بخش نمبر دار بقلم خود بٹالہ حال قادیان۔

اشٹام بک مکرر دو قطعہ

حسب درخواست جناب مرزا غلام احمد قادیانی خلف مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم آج واقعہ ٢٥؍ جون ١٨٩٨ء یوم شنبہ وقت ٧ بجے بمقام قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور آیا اور یہ دستاویز صاحب موصوف نے بغرض رجسٹری پیش کی۔ العبد مرزا غلام احمد قادیانی راہن مرزا غلام احمد بقلم خود ٢٥؍ جون ١٨٩٨ء دستخط احمد بخش رجسٹرار جناب مرزا غلام احمد قادیانی خلف مرزا غلام مرتضیٰ قادیانی ساکن رئیس قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور جس کو میں بذات خود جانتا ہوں تکمیل دستاویز کا اقبال کیا وصول پائے۔ مبلغ ٥٠٠٠ روپے منجملہ ایک ہزار روپیہ کا نوٹ اور زیورات مندرجہ ہذا میرے روبرو معرفت میرزا ناصر نواب والد مرتہنہ لیا۔ سطر ٩ میں مبلغ ٢٥٠ روپے کی قلمزد کر کے بجائے اس کے ٥٠٠ روپے لکھا ہے۔ از جانب مرتہنہ ناصر نواب حاضر ہے۔ العبد مرزا غلام احمد راہن، مرزا غلام احمد قادیانی بقلم خود ٢٥؍ جون ١٨٩٨ء دستخط احمد بخش سب رجسٹرار دستاویز ١٢٧٨ بک نمبر ایک بجلد ٣٦ ص ٢٧٧، ٢٦٨ پر آج تاریخ ٢٧؍ جون ١٨٩٨ء یوم دوشنبہ رجسٹری ہوئی۔ دستخط احمد بخش سب رجسٹرار اس رجسٹری پر ملا محمد بخش صاحب قادری نے اپنے ایک اشتہار میں مندرجہ ذیل ریمارک کیا ہے۔

رجسٹری مذکورہ بالا پر ہمارا منصفانہ ریمارک

’’اگر مرزا قادیانی کو مصرعہ ’ اسپ وزن شمشیر وفادار کہ دید‘ کی خبر ہوتی تو ہرگز اپنی بیوی کے نام رجسٹری نہ کراتے۔ مرزا قادیانی نے خواہ کتنا ہی لطائف الحیل طمع دنیوی سے نصرت جہاں بیگم کو راضی کرنے کی کوشش کی۔ جب مرزا قادیانی کو کچھ روپیہ وغیرہ کی ضرورت

١٢٩

صفحہ ٤٨٦

آئی تو اس عفیفہ نے ایک چھلہ تک نہیں دیا کہ مرزا قادیانی کے وقت بے وقت کام آتا بلکہ اس نے زیورات کے عوض جناب سے تمام باغات زمین وغیرہ رہن و گروی کرالی اور رجسٹری کرالی۔ کیا یہ سب باتیں اس کی فرمانبرداری اور اطاعت کی ہیں؟۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔ اس نے ایسے شخص کافر بلکہ اکفر کا ذرا بھی اعتبار نہیں کیا۔ پس جب گھر کا یہ حال ہو رہا ہے تو دوسروں پر کیا شکایت؟۔

باغات و اراضی وغیرہ اپنی بیوی نصرت جہاں بیگم کے پاس گروی و رہن رکھ کر رجسٹری کرادی ہے تو یہ زیورات آپ کی اہلیہ کے پاس آپ کے دیئے ہوئے تھے یا نہیں۔ اگر آپ کے ہی تھے تو کیا آپ کو بوقت ضرورت اس سے عاریتاً لینے کا حق نہ تھا؟۔ اگر تھا تو اس کے عوض اس قدر اراضی باغات کا یہ گروی نامہ رجسٹری کرا دینا دوسرے لڑکوں فضل احمد صاحب وسلطان احمد صاحب کے حقوق کو زائل کر دینے کا منشاء ظاہر نہیں کرتا؟۔ آپ کے بعد اس جہاں سے گم ہوتے ہی ڈھائی منٹ میں یہ رجسٹری منسوخ ہو جائے گی۔ مرزا قادیانی کیا خداوند تعالیٰ کا یہی حکم ہے کہ حقداروں کے حقوق چھین کر دوسروں کو دیئے جائیں؟

سمجھا جائے۔ جبکہ خود مسیح جس کی آپ مثیل بنتے ہیں فرماتے ہیں کہ چرند پرند کے لئے تو بسیرا کرنے کے لئے جگہ ہے۔ مگر ابن آدم (یعنی مسیح) کے لئے کوئی جگہ نہیں کہ وہ اپنا سر چھپا رکھے۔

عوض باغات زمین وغیرہ نہ عائد ہو تو ہم کہتے ہیں کہ اپنے اس جھگڑے کو اپنی عین حیات میں مطابق شرع محمدی کیوں فیصل نہیں کیا۔

اس کی آمدن و خرچ کا حساب آپ کی تحویل میں رہا ہے یا نہیں؟ اور آپ اس کام کے انجام دہی کے عوض کچھ ماہانہ لیا کریں گے یا نہیں؟۔ اگر لیں گے تو اسے تنخواہ کی مد میں گنیں گے یا نہیں؟۔ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟۔

ہے تو کیوں؟۔

١٣٠

صفحہ ٤٨٧

اگر حاصل کریں گے تو کیوں؟۔ غرض مرزا قادیانی کو رتی رتی پھل پھول پر شرعاً اجازت لینی پڑے گی۔ ورنہ حرام کھائیں گے۔ خادم قوم! ملا محمد بخش قادری منیجر اخبار جعفر زٹلی لاہور

مرزا قادیانی کے دستخطی خطوط اور ان کے مضامین کی تصدیق کے متعلق تازہ

خطوط اور مصنف کتاب کا مذہبی خیال

از بندہ مسکین محمد حسین عفی عنہ ! براہوں ٤؍ اگست ١٨٩٨ء

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی !حضور من (قاضی فضل احمد مصنف کتب ہذا)! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! بورود عنایت نامہ مشرف و ممتاز فرمایا کہ:

بابرکت میں نیاز نامہ لکھا۔ اس سے دوسرے روز قادیان سے میرے حضرت کا فرمان فیض بنیان معہ ایک نقل رہن نامہ رجسٹری شدہ کے شرف صدور لایا۔ جو بجنسہ ارسال حضور ہے۔

رہن کر دیا ہے اور اس کی عوض اس سے زیورات اور نوٹ کرنسی لئے ہیں۔ چار ہزار کا زیور اور ایک ہزار کے نوٹ ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ یہ کام اس مرزا نے فقط اس غرض سے کیا ہے تاکہ دوسرے لڑکے جو پہلی بیوی سے ہیں۔ محروم رہ جائیں۔ بھلا خیال تو فرمائیں کہ زیورات اور نوٹ بیوی کہاں سے لائی۔ آیا وہ اس کے والدین کی کمائی کے ہیں۔ دوسرے بعد لکھنے رہن نامہ کے مرزا موصوف نے وہ زیور کیا کیا بیوی ہی کو دے دیا ہوگا۔ یہ فقط ایک دھوکا تھا۔ حضور پر پہلے بھی روشن ہے کہ مرزا قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کے گھر میں ہمارے حضرت مرزا علی شیر صاحب کی حقیقی پھوپھی تھی اور علیٰ ہذا القیاس مرزا غلام احمد قادیانی کی بڑی بیوی بھی ہمارے حضرت کی حقیقی ہمشیرہ ہے۔ جو عرصہ دو ماہ سے فوت ہو گئی ہے اور اس کے بطن سے دو بیٹے ہیں۔ بڑے کا نام سلطان احمد جو آج کل ملتان کے ضلع میں تحصیل شجاع آباد میں تحصیل دار ہے اور چھوٹے کا نام فضل احمد جو ہمارے حضرت صاحب (شیر علی) کا داماد ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک بھائی ان سے بڑے تھے جن کا نام غلام قادر تھا۔ وہ بے اولاد تھے۔ انہوں نے سلطان احمد فرزند کلاں مرزا قادیانی کو اپنا متبنیٰ کر لیا۔ لہٰذا کل جائیداد میں نصف مرزا غلام احمد قادیانی اور نصف سلطان احمد حصہ دار ہے۔ اب فضل احمد چھوٹا بیٹا مرزا کی جائیداد کا حسب حصہ حقدار ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی دوسری بیوی سے جس کے نام باغ رہن کیا گیا ہے۔

١٣١

صفحہ ٤٨٨

شاید دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اب فضل احمد کو اسی جدی جائیداد سے محروم کرنے کے لئے مرزا قادیانی نے یہ حیلہ کیا ہے کہ باغ بیوی کے نام رہن کر دیا اور باقی جائیداد کا کوئی اور بندوبست کرے گا۔ خیر حضور کو یاد ہو گا کہ مرزا قادیانی کے دونوں خط خود مرزا علی شیر اور ان کی بیوی کے نام ہیں۔ ان میں حضور نے پڑھا ہو گا کہ اگر فضل احمد نے میرے کہنے سے اپنی منکوحہ دختر مرزا علی شیر کو طلاق نہ دی تو وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پا سکتا۔ مرزا قادیانی اسی امر میں ساعی رہے کہ میرے ہر دو بیٹے اور مرزا علی شیر صاحب اور ان کی زوجہ جو مرزا احمد بیگ کی ہمشیرہ ہے۔ اپنے بھائی سے لڑ بھڑ کر ناطہ پر راضی کریں تا کہ میرا الہام سچا ہو۔ مرزا قادیانی، علی شیر کی ہمشیرہ یعنی اپنی بڑی بیوی کو انہوں نے جبھی سے ناراض ہو کر الگ کر دیا ہوا تھا۔ کہ اس نے کچھ نمایاں کام نہ کیا وہ اپنے بیٹے سلطان احمد کے ساتھ تھی۔ چونکہ ان متعلقین نے مرزا قادیانی کی کچھ بھی مدد نہ کی لہٰذا سب کو الگ کر دیا اور ان سے کھانا پینا گفتگو بالکل ترک کر دیا۔ بلکہ یہ لوگ مرزا کی الہامی جورو کے نکاح میں شریک ہوئے اور اس کو مخبوط الحواس سمجھ کر جلدی اس امر میں کوشش کر کے اس کا نکاح موضع پٹی میں ایک لڑکے مسمی مرزا سلطان محمد سے کرا دیا اور مرزا قادیانی اپنے ایک خط میں فرما چکے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے دشمن ہوں گے۔ افسوس مرزا قادیانی کی عقل پر الہامی بات اور بندوں پر مخالفت کے سبب غصہ۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

خیر فضل احمد نے مرزا قادیانی اپنے والد کی عدول حکمی کی۔ کیونکہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دیا۔ اسی لئے فضل احمد اور متعلقین سے قطع تعلق کر بیٹھے ہیں۔

لہٰذا بعد مفصل حال کے عرض ہے کہ نقل رہن نامہ رجسٹری شدہ ارسال حضور ہے۔ اس کو بھی درج کتاب فرما دیں۔ حضرت صاحب (شیر علی) نے یہ وثیقہ کی نقل حکم نامہ کے ساتھ بندہ کو بھیجی ہے اور باایں الفاظ لکھا ہے۔ وثیقہ کا کاغذ بھیجا جاتا ہے۔ اس کی نقل کر کے اپنے پاس رکھ لو اور اصل کاغذ کورٹ انسپکٹر صاحب کی خدمت میں بغرض اندراج کتاب بھیج دو۔

باسمہ سبحانہ : مخدوم مکرم بندہ حضرت مولانا صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! آپ کا نوازش نامہ معہ دو کاپی کتاب کلمہ فضل رحمانی شرف صدور لایا اور مشکور فرمایا۔ جناب من مرزائی گروہ کے معلومات سے صاف پایا جاتا ہے کہ ان کو اپنے پیغمبر کے حالات اندرونی معلوم نہیں ہیں۔ اسی لئے دھوکہ میں ہیں۔ کتنی بڑی موٹی بات سے انکار کر دیا۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ ! بندہ خدا اگر فضل احمد ان کا کوئی بیٹا نہ ہو تو مجھے اس کے بیٹے بنانے کی خواہ مخواہ

١٣٢

صفحہ ٤٨٩

کچھ ضرورت ہے۔ جو کچھ کہ خطوط مرزا قادیانی میں درج ہے۔ اس میں ایک سرمو فرق نہیں۔ میں بھی باشندہ اسی ضلع کا ہوں۔ مجھے خود اس کا علم ہے کہ مرزا سلطان احمد فرزند کلاں مرزا قادیانی اور بندہ ایک ہی ماہ ستمبر ١٨٧٧ء میں محکمہ پولیس گورداسپور میں ملازم ہوئے تھے اور اکٹھے قواعد پریڈ کرتے رہے اور وہ میرے نہایت دوست ہیں۔ پھر محکمہ پولیس کو چھوڑ کر سول میں ملازم ہو گئے تھے۔ مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد دونوں حقیقی بھائی پہلی بیوی سے ہیں۔ جس کو مرزا قادیانی نے ناراض ہو کر الگ کر رکھا تھا۔ اب عرصہ دو ماہ سے ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مرزا فضل احمد مرزا قادیانی کا فرزند دلبند ہے۔ جس نے باوجود سخت دھمکانے مرزا قادیانی کے اور خوف دلانے محروم الارث کرنے کے اپنی بیوی کو جو مرزا شیر علی کی دختر ہے۔ طلاق نہ دی۔ جس کا نتیجہ مرزا قادیانی نے حسب وعدہ خود یہ دکھلایا کہ ان کو محروم الارث کرنے کے لئے اپنی جائیداد کو پانچ ہزار میں اپنی بیوی کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ جس کی نقل رجسٹری آپ کی خدمت میں جا چکی ہے۔ زیادہ طویل تحریر سے کچھ فائدہ نہیں۔ اب میں دو خط مرزا محمد حسین صاحب ساکن راہوں ضلع جالندھر تلمیذ و مرید حضرت مرزا شیر علی صاحب مدعی مرزا غلام احمد قادیانی آپ کی خدمت میں اس عریضہ کے ساتھ بھیجتا ہوں۔ جس سے ایسی تسلی ہو جائے گی کہ چوں و چرا کرنے کی بھی نوبت نہ ہوگی۔ مجھے نہایت افسوس اور ساتھ ہی اس کے نہایت تعجب ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی لوگوں کے دماغ میں ایسی ضد بھر گئی ہے کہ جب کسی کو مخالف دیکھتے ہیں تو اس کو بھی دھمکی ایک سال کی پیش گوئی اس کی موت کی بابت دیتے ہیں۔

اس بات کو میں اپنی کتاب میں بھی درج کر چکا ہوں کہ مرزا قادیانی نے کبھی یہ دعا نہ کی کہ میرے مخالف بقول ان کے راہ راست پر آجائیں۔ جب غصہ میں آئے یہی پیش گوئی کی کہ وہ پندرہ ماہ میں مرے گا۔ وہ ایک سال میں مرے گا۔ مزہ تب تھا کہ مرزا قادیانی کی دعا سے لیکھ رام مسلمان ہوتا۔ پادری ہنری کلارک صاحب بہادر ایمان لا کر اسلام قبول کرتے۔ ماسٹر مرلی دھر مسلمان ہوتے۔ عبداللہ آتھم ایمان قبول کرتے۔ مرزا امام الدین بیگ برادر کلاں مرزا قادیانی مرید بنتے۔ مرزا قادیانی کی اولاد بھی مرزا قادیانی کو قبول کر لیتی۔ قادیان کے لوگ بھی ایمان لے آتے۔ اتنی شوراشوری اور صرف ٣١٣ مرید وہ بھی ڈھلمل یقین۔ مرزا قادیانی کی الہامی جورو جس کا نکاح مرزا قادیانی کے خدا نے آسمان پر کیا تھا۔ مرزا قادیانی کے دیکھتے دیکھتے اور ان کے خدا کی موجودگی میں دوسرے شخص مرزا سلطان محمد

١٤٣٣

صفحہ ٤٩٠

ساکن پٹی علاقہ لاہور کے گھر میں آباد اور شاد، بلکہ صاحب اولاد نہ ہوتی۔ افسوس میں نے اپنی کتاب میں مرزا قادیانی کو کافر کذاب مخالف بزرگان اسلام مسلمانوں کا دشمن عبدالدینار اور دراہم وغیرہ وغیرہ خارج از اسلام لکھ دیا ہے۔ میری کتاب کا پچھلا حصہ جس میں توہینات انبیاء علیہم السلام، دعویٰ نبوت، عقائد اعمال مرزا قادیانی کے درج ہیں۔ صاف ثابت کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی بموجب اقوال خود کافر اور نائب دجال وغیرہ ہیں اور یہی میرا عقیدہ ہے اور ویسا ہی مرزا قادیانی کو جانتا ہوں۔ ان کا دعویٰ مسیح موعود اور مہدی مسعود اور مجدد وغیرہ کا بالکل لغو اور جھوٹ ہے۔ بس جو مرزائی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ فضل احمد مرزا قادیانی کا کوئی بیٹا نہیں۔ وہ معہ مرزا قادیانی اس بات کا انکار لکھوا دے یا مرزا قادیانی خود ان خطوط کا انکار کر کے اشتہار دیں کہ یہ خطوط جھوٹے اور جعلی ہیں اور پھر اپنی موت کے بارہ میں ایک سال یا جتنا مناسب سمجھیں اقرار شائع کر دیں۔ اگر وہ سچے ہیں۔ مگر وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکتے۔ آپ کی ان خطوط سے جو بھیجتا ہوں اور بھی تسلی ہوگی اور مرزا قادیانی اور مرزائی بخوبی نادم ہوں گے۔

مرزائی لوگوں کو شرم کرنی چاہئیے کہ میں نے اپنا عقیدہ لکھ دیا ہے اور جو کتاب میں مدلل لکھا ہے مرزا قادیانی یا ان کے حوارین ایک دفعہ نہیں بیس دفعہ پیش گوئی کرتے پھریں اور میعاد بھی مقرر کر لیں۔ بندہ ان گیدڑ بھبکیوں سے نہیں ڈرتا۔ مرزا قادیانی اپنی پیش گوئیوں سے عبداللہ آتھم کو تو مار چکے ہیں؟۔ اپنی الہامی جورو کے خاوند کو مار چکے؟ مرزا امام الدین کو مار چکے؟۔ پادریوں آریوں کو مار چکے؟۔ اگر مرزا قادیانی ایسا کر چکے ہیں تو سچے ہیں؟۔ ورنہ وہ ہی کذاب، جب یہ حالت ہے تو مسلمانوں کو موت کی پیش گوئی کی دھمکی دینا ہیچ ہے۔ پہلے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو ہی مارا ہوتا۔ یا مولوی عبدالحق امرتسری کو فنا کیا ہوتا۔ کیا شرم کی بات ہے خدا کا خوف کرنا چاہئے۔

مخلص من ! مرزائیوں کی ایسی ویسی باتوں پر امید ہے کہ آپ بالکل خیال نہ فرمائیں گے نہ فرمایا ہے۔ میں انشاء اللہ تعالیٰ کبھی کوئی بات بلا تحقیق درج نہیں کرتا نہ کروں گا اور نہ کبھی کی ہے۔ مجھے مرزا قادیانی سے کوئی عداوت نہیں ہے۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے تمام جہان کے بُزرگوں مولویوں اور انبیاؤں کو گالیاں دے کر عام مسلمانوں کا دل دکھایا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں ملازم سرکار ہوں۔ مجھے کسی سے لڑائی کرنا یا جھگڑنا کیا ضرور، بھائی مسلمانوں کی خیر خواہی اور اسلام کی حفاظت کی غرض سے کتاب لکھ دی ہے۔ خدا جس کو ہدایت دے تمام دنیا

١٣

صفحہ ٤٩١

ایک طرف مرزا قادیانی اکیلے ایک طرف للأکثر حکم الکل مقولہ ہے۔ نیاز مند فضل احمد عفی عنہ از لودھیانہ ١١؍ ستمبر ١٨٩٨ء

مولانا محمد حسین کا دوسرا خط

از بندہ مسکین محمد حسین عفی عنہ راہوں ٣١؍ مئی ١٨٩٨ء

بسم اللہ الرحمن الرحیم! نحمدہ ونصلی! جناب من ( قاضی فضل احمد ) السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ ! افتخار نامہ فیض شمامہ بدرک شرف ورود لایا۔ بندہ کے دل و جان کو سرفرازی سے سراپا روشن فرمایا۔ شافی مطلق جلا شانہ بحرمت رسول مقبول ﷺ کے آنحضور کو صحت کلی عطا فرمائے۔ آمین!

کے باشندے ہیں اور مرزا قادیانی کے ماموں زاد بھائی ہیں۔ مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم والد مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر میں ان کی حقیقی پھوپھی تھیں۔ غلام احمد کی پہلی بیوی میرے حضرت کی حقیقی ہمشیرہ ہیں۔ جن کے بطن سے دو فرزند بڑا سلطان احمد اور چھوٹا فضل احمد ہے۔ اوّل الذکر تحصیل شجاع آباد ضلع ملتان میں تحصیل دار ہیں اور فضل احمد کو مرزا قادیانی علی شیر کی بیٹی بیاہی ہوئی ہے۔ گو مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے فضل احمد کو ہر طرح چاپلوسی اور خاطر داری اور جائیداد سے بے تعلق کر دینے کی دھمکی بھی دی۔ مگر اس نے ہرگز طلاق دینا منظور نہیں کیا اور وہ اپنے باپ غلام احمد کا سخت مخالف ہے اور اپنی بیوی سے ہر طرح سے راضی و خوش ہے۔ بڑا بیٹا بھی مرزا سے مخالف ہے۔ ہاں مرزا نے اپنی بڑی بیوی ان دونوں کی والدہ کو اپنے سے علیحدہ کر دیا ہے اور مرزا قادیانی علی شیر اپنے بھائی کے ہاں قادیان ہی میں رہتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ہمارے حضرت کے مکان میں صرف ایک دیوار ہی ہے۔ بندہ خود قادیان جا کر دیکھ آیا ہے۔ ایک طرف وہ رہتے ہیں۔ ایک طرف وہ، اور حضرت صاحب مرزا علی شیر کی ہمشیرہ کا نان نفقہ اس کا بڑا بیٹا سلطان احمد تحصیل دار کے ذمہ ہے۔

کئی سال سے انتقال کر گئیں۔ جنکی بیٹی کے بارے میں مرزا قادیانی کا الہام ہے۔

مرزا قادیانی کے معتقد اور مرزا قادیانی کے خلیفہ حکیم نور الدین کے قدم بقدم چلنے والا ہے۔ وہ چند مہینے ہوئے راہوں میں آیا اور اس نے مرزا کے مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کی بہت بڑی وعظ

١٣٥

صفحہ ٤٩٢

کی اور آ کر شہر والوں کے اعتقاد میں فرق ڈالا۔ اس شخص کو مرزا کا بندہ نے سارا حال سنایا کہ مرزا کے دستخطی خطوط میرے حضرت کے پاس ہیں اور ہم تو اس مرزا کو بڑا مکار اور کذاب جانتے ہیں۔ بندہ نے حضرت کی خدمت میں نیاز نامہ بطلب خطوط لکھا۔ چونکہ حضرت عرصہ ڈیڑھ سال سے راہوں میں تشریف نہیں لائے تھے۔ بندہ کی عرض پر معہ ہر سہ خطوط تشریف شریف لائے۔ خاکی شاہ پہلے ہی چلتا ہوا، راہوں میں یہ ہر سہ خطوط سب روساء کو دکھلاتے گئے۔ جس سے مرزا قادیانی کا مکر اور فریب اظہر من الشمس ظاہر ہو گیا۔ جب حضور (قاضی فضل احمد مکتوب الیہ) کا فرمان طلبی ہر سہ خطوط کا صادر ہوا تھا اور معرفت چچا صاحب نظام الدین بندہ کو ملا تھا۔ اس وقت میرے حضرت رڑکی مغلاں میں جو راہوں سے چھ کوس ہے تشریف شریف لے گئے تھے۔ آپ کے فرمان کو پڑھ کر بندہ خود جا کر ہر سہ خطوط بڑے اصرار سے لایا تھا۔ وہ فرماتے تھے کہ کہیں گم نہ ہو جائیں آج کل وہی خاکی شاہ قادیان میں ہے۔ حضرت صاحب فرماتے ہیں کہ خط جلدی راہوں سے میرے پاس روانہ کر دو۔ اس لئے بندہ نے حضور کی خدمت بابرکت میں عریضہ طلبی خطوط کا لکھا تھا۔ شاید آنحضرت نے اسی خاکی شاہ کو دکھلانے ہوں گے۔ آپ بلا اشتباہ ان خطوط کو مشتہر فرمائیں۔ بندہ حضور کو پورا یقین دلاتا ہے کہ مرزا علی شیر ہرگز ہرگز اس پائے کے آدمی نہیں کہ حق کی مخالفت کریں۔ حضرت حاجی محمود صاحب جالندھری نقشبندی کے خلیفہ ہیں اور اس وقت ان کی نظیر کا درویش باخدا کم ہوگا۔ شاید حضور نے بھی جالندھر پولیس میں آنحضرت کی زیارت کی ہوگی۔ جس وقت بندہ رڑکی سے لینے گیا تھا تو انہوں نے اس وقت بھی مجھے تاکیداً فرمایا تھا کہ دیکھنا کہیں گم نہ ہو جائیں اور لدھیانہ سے واپس آنے کے بعد رجسٹری کرا کر ہمارے پاس بھیج دینا بندہ نے عرض کی کہ بہت خوب۔

معتبر کے ہاتھ لفافے میں بند کر کے روانہ فرمادیں اور کسی طرح کا شک و شبہ اپنے خیال مبارک میں نہ لائیں۔ بندہ نے مفصل سب حال عرض کر دیا ہے۔ اب بندہ کو بھی انشاء اللہ امید ہے کہ حضور کے کل شبہات دور ہو جائیں گے۔

از بندہ مسکین مرزا محمد حسین عفی عنہ

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمدہ ونصلی علی رسولہ النبی الکریم!

جامع فضائل و کمالات روحانی و ایمانی حضرت مولانا مولوی صاحب دام برکاتکم

وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته!

١٣٦

صفحہ ٤٩٣

اشتہارات مرسلہ آنحضور معہ اعزاز نامہ پہنچے۔ حضور نے اپنے اخلاق بزرگانہ وطبع کریمانہ سے اس قدر اس عاجز کو ممنون احسان فرمایا ہے جس کا بیان مالا کلام ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ جلّ شانہ عمّ نوالہ اس کے عوض میں اپنی رحمت کاملہ سے آنحضور پر رحمت فرمائے۔ آمین ! ثم آمین !!

بحرمت سید عالم وسرور بنی آدمﷺ ، حضور کے اشفاق نامہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزائیان بھائی مرزا فضل احمد کو مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا ہونے سے انکار کرتے ہیں اور دختر مرشدنا حضرت مرزا علی شیر منکوحہ اخویم مرزا فضل احمد کو مرزا قادیانی کی بہو ہونے سے بھی منکر ہیں۔ یہ ان حضرات کی لاعلمی پر دال ہے۔ یہ احقر بھی حضور ہی کا فقرہ لکھتا ہے کہ افسوس ہے کہ مرزائیوں کو اپنے پیغمبر کے گھر کا حال بھی معلوم نہیں ہے۔ بندہ نے جو کچھ پہلے عرضیوں میں حالات عرض کئے ہیں بوجہ ہم قوم ہونے کے اچھی طرح معلوم ہیں۔ اس میں ہرگز کچھ بھی غلطی نہیں ہے۔ جو صاحب اس کو غلط سمجھیں انہیں ان معاملات سے بے خبری ہے۔ کسی اور مرزا قادیانی کے رشتہ دار سے اگر یہ امر دریافت کیا جائے تو وہ بھی اسی طرح بیان کریں گے۔ مرزا قادیانی خود بھی فضل احمد کے بیٹا ہونے سے انکار نہیں کر سکتے۔ اگرچہ نکاح میں کوشش نہ کرنے کی وجہ سے اس سے ناراض ہیں۔ مرزا قادیانی سے ان کے معتقدین دریافت کر لیویں۔ مرزا سلطان احمد و فضل احمد کی والدہ یا دوسرے الفاظ میں ہمارے حضرت صاحب کی حقیقی ہمشیرہ کو مرزا قادیانی نے طلاق تو نہیں دی۔ مگر ان کو جب سے ان کی الہامی زوجہ کا نکاح سلطان محمد سکنہ پٹی سے ہوا۔ الگ کر چھوڑا تھا۔ کسی قسم کا تعلق خرچ وغیرہ کا نہیں رکھا تھا۔ مرزا سلطان احمد اپنے بیٹے کے مکان میں ان کی والدہ شریفہ آگئی تھیں۔ بالکل آمدورفت گفت کلام باہمی بند رہی۔ حتیٰ کہ عرصہ چند ماہ کا ہوا کہ اس مرحومہ نے اس جہان سے رحلت کی۔ بندہ قادیان جا کر اخیر جنوری ١٨٩٣ء میں یہ امر بچشم خود دیکھ آیا تھا اور وفات تک وہ اسی طرح گزر گئیں۔ کسی طرح سے مرزا قادیانی نے ان سے صفائی نہیں کی۔ بلکہ مجھے کامل امید ہے کہ ان کی تجہیز وتکفین میں بھی مرزا قادیانی شریک نہیں ہوئے ہوں گے۔ کیونکہ اسی نکاح سے سب رشتہ داروں سے مرزا قادیانی موصوف نے قطع تعلق کر دیا ہے ادھر مرزا قادیانی حضرت خواجہ محمد علی شیر سے اور ادھر مرزا نظام الدین کمال الدین سے (امام الدین پیر خا کر وہان کے بھائی ہیں) رشتہ ناطہ مرگ شادی پر آمد و رفت بند ہے۔ جو کچھ میں نے لکھا ہے۔ پوری واقفیت سے لکھا ہے اور یہ عین ٹھیک ہے۔ اس سے زیادہ اور کیا عرض کروں ایک بات بندہ پھر عرض کرے گا وہ کیا کہ مرزا قادیانی اپنی بڑی بیوی صاحبہ کے جنازہ پر تشریف لے گئے

١٣٧

صفحہ ٤٩٤

ہیں یا نہیں۔ اوپر کی سطروں میں بندہ نے اپنا قیاس ظاہر کیا ہے۔ دختر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے نکاح سے مرزا سلطان احمد صاحب تا مرگ اپنی والدہ مرحومہ کے خرچ کے متکفل رہے ہیں اور مرزا قادیانی نے انہیں کچھ مدد نہیں دی۔

نظم نصیحت نامہ و تاریخ من مؤلف، باسمہ سبحانہ

اے مخلصان باصفا دنیا پرانی زال ہے
چالوں سے اس کے تم بچو ہر جال اک بھونچال ہے
سب اہل دل کہتے ہیں یوں لے کر سلف سے تا خلف
جو اس کا طالب ہو گیا وہ سگ صفت بدحال ہے
ایمان کو ثابت رکھو اسلام پر قائم رہو
اجماع امت پر مٹو اس کا عدو پامال ہے
قرب قیامت ہے نئے دجال مہدی بن گئے
جھوٹوں نے گو سچا کہا پر جھوٹ کا دلال ہے
ان مہدیوں سے تم بچو ان کاذبوں کی مت سنو
اے مومنو مومن رہو پر کینہ ان کا قال ہے
یہ قادیانی مرزا ہے پر فریب و پر دغا
عیسیٰ نہیں مہدی نہیں ہاں کاذب و بطال ہے
اسلام کی تخریب سے گو کافر و مرتد ہوا
پس اس کا قلبی مدعا بس عورتیں یا مال ہے
تاریخ کا کچھ فکر تھا تب پیر ہاتف نے کہا
یہ قادیانی مفتری بقال ١؎ اور دجال ہے

کل مصرعہ ١٣١٤ھ

ذیل میں ملک کے ان علمائے وفضلائے کی تقریظوں کو درج کیا جاتا ہے جو خدا کے فضل سے حامی دین ہونے کے علاوہ اپنے علم وفضل کے لحاظ سے ملک کے لئے باعث فخر اور قوم

١؎ یعنی حارث یا سبزی فروش جو مرزا قادیانی کا پہلا لقب ہے۔

١٣٨

صفحہ ٤٩٥

کے لئے موجب ہدایت ہیں اور جو ملک وقوم میں ہر ایک طرح واجب التعظیم سمجھے جاتے ہیں۔ جنہوں نے اس کتاب کو بغور ملاحظہ فرما کر یہ ظاہر اور ثابت کیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی تمام تصانیف کی تردید کتاب کلمہ فضل رحمانی سے بڑھ کر اس وقت تک کوئی کتاب اسلام اور اہل اسلام کی حفاظت کے لئے نہیں شائع ہوئی اور وہ تقریظیں یہ ہیں کہ:

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

الحمدللہ الذی انزل الشریعة المطہرة الحنیفیة البیضاء والملة المقدسة الاسلامیہ السمحاء علی انبیائہ ورسولنا وسیدنا محمد افضل الرسل وخاتم الانبیاء صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ الاصفیاء واصحابہ الاتقیاء وبعد فقد حملنی علی ہذا التحریر وہدانی الی ذاک التسطیر وصول رسالة مطبوعة من طرف المرزا القادیانی بعضہا فی اللسان الہندی وبعضہا فی العربی تحدی فیہا بالعلماء الکبار ودعاہم للمباہلة والمقابلة واخذ الثار طالعتہا وامعنت النظر فیہا فوجدتہا مملؤة بالخرافات ومحشوة بالخزعبیلات اظہر فیہا دعاویہ الفاسدة واختراعاتہ الکاسدة من انہ ہو المسیح الموعود والمہدی المنتظر المذکور فی الاحادیث النبویہ واطال فیہا اللسان بالسب والشتم والطغیان فی حق الاخیار من علماء الرحمن الموجودین فی ہذا الزمان وفی سابق الدوران کاطالة العاجز عن ایراد الدلیل والبرہان کما ہی عادتہ فی جمیع مولفاتہ المستقبحة وتصانیفہ المتشنعة فتجاوز عن مقام التہذیب وزاد فی التذریب والتثریب اتی فیہا بکلمات تنفر عنہا الطبائع السلیمة وتتقذرہا القرائح المستقیمة بالغ فی غایة الفحش واللغویات والتشنیع والزلات حتی اتصلت فی الجہات واضرم نار الخصومات حیث قال مرة للاعلام الکبار والصالحین الاخیار ہم تسعة رہط من الاشرار ولقب بعضہم الشیطان الاعمی والغول الاغوی وشنع بعضہم باقبح التشنیعات واسود الہنات وما خاف من خالق الارض والسموت فقد قال جل وعلا الشیطان یعدکم الفقر ویأمرکم بالفحشاء ومن کلام رسول ﷺ المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ فاقوالہ زائغة

١٣٩

صفحہ ٤٩٦

خابطة وخيالاته لائحة ضائعة ارتكب حوبه فخيمة وكبيرة مهلكة كلام ذليل ومرام كليل لم يتادب مع العلماء والصلحاء في الخطاب ولم يسلك مسلك الصدق والصواب فلا يخفى على اهل النهى ان هذا الباب الذى اختاره المرزا خلاف اهل الحجى ٠ ثم ان كان القاديانى يناظر العلماء ولا يبارى السفهاء فكان عليه ان يخاصمهم بعد التزام التهذيب بايراد الاحاديث والايات مع حملها على معانيها الظاهرة المسلمة عند ائمة اللغات حتى لا يستنكره اهل الصناعات ولكنه حرّف النصوص عن مقصودها الاصلى للنقول برواية الثقات من الصحابة والصحابيات ٠ وفسر برأيه ولم يبال بحديث سيد الابرار حيث قال عليه وعلى اله الصلوات من الواحد الغفار ٠ ان من فسر القرآن برأيه فليتبوأ مقعده من النار فعليه ما يستحقه من الويل والتبار ٠ ثم انى كنت اردت الترديد لدعاوى هذا المتنبئ الشريد بالتفصيل المزيد معه الاسلوب الجريد لكن منعنى من هذا الخيال فاضل كريم البال وامرنى الذى اعتمد عليه فى جل الاقوال بطى الكشح عن هذا البطال وللّٰه در اللوذعى المستند والالمعى الشريف المحتد حبى قاضى فضل احمد حماه اللّٰه من شر حاسدٍ اذا حسد فانه كفانا الترديد لكتاب القاديانى الطريد وأجابه بجوابات مفحمة والزمه بالزامات مسكتة جزاه اللّٰه عنا خير الجزاء وجعل اخرته خيرا من الاولى (وانا العبد العاصى ابوالظهور حنفى انبیٹھوی مشتاق احمد)

تقریظ حضرت مولانا الحافظ مولوی مشتاق احمد چشتی صابری انبیٹھوی

مدرس اوّل عربی گورنمنٹ سکول لدھیانہ

بسم اللّٰه الرحمن الرحيم! حامدا ومصلیا!

اما بعد! راقم الحروف نے کتاب مستطاب کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی کو اوّل سے آخر تک دیکھا۔ عقائد قادیانی کی تردید میں لاثانی پایا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ اس سے پہلے جس قدر کتب اور رسائل مرزا قادیانی کی تردید میں لکھے گئے۔ اپنی طرز میں یہ کتاب ان سب میں بہتر اور مفید ہے۔ کیونکہ نہایت سلیس اور عام فہم ہے۔ اوّل سے آخر تک تہذیب کی رعایت رکھی

١٤٠

صفحہ ٤٩٧

ہے اور اچھا التزام کیا ہے کہ اکثر جگہ خود مرزا ہی کے اقوال اور اس کی تصنیفات کی عبارت نقل کر کے دندان شکن جوابات دئے ہیں۔ علی الخصوص تحقیق لفظ یسوع اور لفظ کدع ایسے بسط اور تفصیل سے لکھے ہیں جو حضرت مصنف ہی کا حصہ ہے اور کیوں نہ ہو۔ جناب مولانا قاضی فضل احمد اس کے مصنف فاضل محقق اور عالم مدقق ہیں۔ جزاهم الله خيرا لجزاء واحسن اليهم فى الدنيا والعقبى وانا العبد المذنب الخاطی مشتاق احمد حنفی چشتی عفی الله عن ذنبه الخفى والجلى!

تقریظ حضرت مولانا مفتی مولوی شاہ دین صاحب لدھیانوی

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمده ونصلی! اقول وبالله التوفيق ! بلاشبہ عقائد باطلہ واقوال کا ذبہ واوہام فاسدہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس کے مفتری و کذاب ہونے پر صاف دال ہیں۔ کیوں نہ ہو برخلاف نص قرآنی حضرت مسیح بن مریم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو یوسف نجار کا بیٹا اعتقاد کرنا اور ان کے معجزات کو بے سود از قسم شعبدہ بازی کہنا اور تاویلات بعیدہ کر کے اپنے لئے ایک قسم کی نبوت ثابت کرنے اور اپنے آپ کو وساوس شیطانی سے خدا کا مرسل گمان کرنا۔ جیسا کہ اسود، مسیلمہ وطلیحہ وغیرہ دجالوں نے کیا۔ جن کی خبر اوّل ہی ہمارے مخبر صادق ﷺ دے گئے ہیں کہ : ”سيكون في امتی كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبي بعدى الحديث“ ایسا ہی اپنے الہام مزعومہ کو قطعی و یقینی مثل وحی انبیاء سمجھنا و دیگر لغویات و خرافات سب کی سب جن کو ہمارے شفیق قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر لدھیانہ نے اپنی اس کتاب کلمہ فضل رحمانی میں حتیٰ الوسع عمدہ تردید کے ساتھ لکھا ہے۔ قادیانی کا مفتری و نائب الدجال ہونا اظہر الشمس ہے۔ كما لا يخفى على من له ادنى تامل فى اقوال المسيح الكذاب الذي يزعم انه محدث وله نوع نبوة ويحقر الانبيا وينكر معجزاتهم الباهرة ويبسط يديه الى عرض الصحابة رضوان الله عليهم ويسب العلماء والصلحاء. ويقول بابوته المسيح على خلاف النص الصريح ولا يفهم معنى لم يمسسنى بشر ولم اك بغيا الاية ويصرف النصوص بلادليل قطعى عن ظواهرها ويلبس الحق بالباطل بتاويلات ركيكة واستعارات بعيدة التى يابى عنها العقل السليم والفهم المستقيم كل اباء ويدعى ان عيسى بن مريم

١٤١

صفحہ ٤٩٨

عليه السلام لا ينزل وانه عيسى بذاته وغير ذلك من خرافاته وكفرياته والله اعلم وعلمه اتم ، هذا ما تيسرلى فى هذا المقام فتفكر فيه ولا تكن من الغافلين واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين والصلوٰۃ والسلام على خير البرية محمد وعلى آله واصحابه اجمعين! كتبه المسكين مفتى شاه دين عفى عنه مفتى لودهيانه

تقریظ حضرت مولانا مولوی محمد لدھیانوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم ! بعد الحمد والصلوٰۃ !

مسکین محمد بن مولانا مولوی عبدالقادر صاحب مرحوم لدھیانوی اہل اسلام کی خدمت میں عموماً و گروہ قادیانی کو خصوصاً بیان کرتا ہے کہ جس شخص کے اقوال وافعال آیات قطعیہ کے مخالف ہوں اور وہ شخص اپنے آپ کو مقتدیٰ اور ملہم بالہامات یقینیہ قرار دے تو ایسے موقعہ پر اہل اسلام کو لازم ہے کہ فوراً اس کی گمراہی کو عوام پر ظاہر کردیں۔ ورنہ وہ بھی گمراہوں میں شمار ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ صاحب طریقہ محمدیہ نے لکھا ہے کہ:

وما يدعيه بعض المتصوفة اذا انكر عليه بعض امور لهم المخالف للشريعة ان حرمته ذالك فى العلم الظاهر وانا اصحاب العلم الباطن واذا اشكل علينا استفتينا من صاحب الشريعة محمد عليه الصلوٰۃ والسلام فان حصل قناعته فيها والا رجعنا الى الله تعالى فناخذ منه ونحو ذلك من الترهات كله الحاد فالواجب على كل من سمع الانكار على قائله بلاشك ولا تردد ولا توقف والا فهو من جملتهم ويحكم عليه بالزندقته انتهى ملخصاً

یعنی جب کسی صوفی بناوٹی کو امور غیر شرع سے روکا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ تم کو علم ظاہری ہے اور ہم کو علم باطنی ہے۔ جب ہم کو کسی مسئلہ میں شک پڑے ہے تو ہم خود حضرت سے دریافت کر لیتے ہیں۔ اگر وہاں بھی اطمینان حاصل نہ ہو تو ہم خداوند کریم سے خود دریافت کر لیتے ہیں۔ ایسے بے دین کی تردید کرنی اہل علم پر واجب اور لازم ہے۔ ورنہ وہ بھی زندیقوں میں شمار ہو گا۔ اسی طرح جب اس زمانہ میں قادیانی نے اپنے آپ کو ملہم من اللہ قرار دے کر یہ دعویٰ کیا کہ عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا معاذ اللہ یوسف نجار والد تھا اور جو معجزات ان کے خدا جل جلالہ نے قرآن میں صریح طور پر بیان کئے ہیں۔ ان کو بچوں کا کھیل قرار دے کر حقارت کی نظر سے

١٤٢

صفحہ ٤٩٩

دیکھتا ہے اور عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام وغیرہ انبیاء پر سب و شتم کا شیوہ اختیار کر کے اپنے آپ کو بے دین قرار دیا اور قرآن شریف کو اس کذاب نے غبی ٹھہرایا وغیرہ وغیرہ ۔ جو رسالہ ہذا میں تفصیل وار مرقوم ہیں ۔ سب علماء اسلام نے اس کی تردید میں قلم اٹھا کر دائرہ اسلام سے اس کا خارج ہونا ظاہر کیا ۔ اگرچہ ابتداء میں مولانا مولوی عبداللہ صاحب مرحوم برادرم حقیقی و راقم الحروف ومولانا مولوی اسماعیل صاحب نے اس کی تکفیر کا فتویٰ ١٣٠١ھ میں شائع کیا اور باقی اہل علم اس موقع پر اکثر خاموش اور بعض ہمارے مخالف ہوئے ۔ لیکن بعد میں رفتہ رفتہ کلہم نے اس کی تضلیل وتکفیر پر اتفاق ظاہر کیا ۔ قاضی فضل احمد صاحب مصنف رسالہ ہذا نے اس کے کل اقوال کا بطلان اور اس کی تکفیر کا اثبات خود اس کی تصانیف سے ظاہر کر دیا تا کہ عوام کالانعام کو یہ شبہ نہ رہے کہ قادیانی کو اہل علم صرف ضد سے کفر کا فتویٰ دیتے ہیں اور جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قادیانی اہل قبلہ ہے اور اہل قبلہ کو کافر کہنا درست نہیں اور نیز جس شخص میں ایک کم سو وجہ کفر کی ہوں اور ایک وجہ اس میں اسلام کی ہو اس کو کافر قرار دینا درست نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے اہل قبلہ کو کافر کہنا اس وقت تک درست نہیں جب تک ان میں کوئی وجہ کفر قطعی کی پائی نہ جائے ۔ جیسا کہ جو رافضی نماز روزہ کا پابند ہو کر یہ کہے کہ پیغمبری اصل میں حضرت علیؓ کے واسطے اتری تھی ۔ ناحق جبریل نے حضرت کو دے دی تو ایسے اہل قبلہ کو ضرور بالضرور کافر قرار دینا لازم ہے ۔ بلکہ جو عالم ایسے رافضی کو کافر قرار نہ دے وہ خود کافر ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح سو وجہ کفر کا مسئلہ بھی غلط ہے۔ ورنہ جو شخص نماز روزہ کا پابند ہو کر بتوں سے مراد اپنی مانگتا ہو اور بتوں کو بھی سجدہ کرتا ہو تو اس شخص کو تم لوگ معاذ اللہ مسلمان سمجھو گے؟۔ حالانکہ ایسے شخص کے کفر میں کسی کو بھی کلام نہیں ۔ اصل میں سو وجہ کے مسئلہ کے یہ معنی ہیں کہ اگر کسی شخص نے ایک کلمہ کہا اور اس کلمہ کے سو معنی ہیں ۔ باعتبار ایک معنی کے وہ کلمہ کفر نہیں ہو سکتا باقی ایک کم سو معنی اس کے سب کفر کی طرف عائد ہیں تو ایسی صورت میں مفتی کو لازم ہے کہ بلا تحقیق اس پر فتویٰ کفر جاری نہ کرے ۔ جیسا کہ ایک شخص کو کسی دوسرے نے نماز کے واسطے بلایا اس نے نماز سے انکار کیا کہ میں نماز نہیں پڑھتا تو یہ انکار اس کا اگر نماز کو برا جان کر ہو یا نماز کی فرضیت کا منکر ہے یا نماز کا پڑھنا اس کے نزدیک حقیر لوگوں کا کام ہے وغیرہ وغیرہ ۔ جن کا مرجع کفر کی طرف ہے۔ تو بیشک وہ شخص شرعاً کافر ہے ۔ اگر غرض اس کی اس انکار سے صرف یہی ہے کہ میں نماز تیرے کہنے سے نہیں ادا کروں گا ۔ خود اپنی خوشی سے ادا کروں گا تو اس صورت میں اس کا انکار کفر نہیں ایسی صورت میں مفتی کو لازم ہے کہ بلا تحقیق نیت کے کفر کا فتویٰ دینے میں جلدی نہ

١٤٣

صفحہ ٥٠٠

کرے۔ ملا علی قاری نے شرح فقہ اکبر میں ان دونوں مسئلوں کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس راقم نے خوب بسط سے مرزا کا کفر ثابت کیا ہے۔ ”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين ، امین ثم امین “ الراقم خادم الطلباء محمد عفی عنه لدھیانوی ”اصاب من اجاب“ بقلم دین محمد ساکن موضع بلیہ وال۔

ابتداً جب مولوی عبداللہ صاحب مرحوم نے قادیانی کو کافر کہا تھا اور لوگوں کو اس کے کفر کا یقین ہی نہیں آتا تھا اور قادیانی کا لدھیانہ میں آنے کا چرچا تھا۔ مولوی صاحب مرحوم نے شب کو یہ خواب دیکھا کہ تین شخص ایک آگے اور دو اس کے پیچھے چلے آتے دور سے نظر پڑے اور تینوں نے دھوتیاں ہندوؤں کی طرح باندھی ہوئی ہیں۔ جب قریب آئے تو جو شخص امام کی طرح آگے تھا اس نے دھوتی کی بندش کو کھول کر تہ بند کی بندش مسلمانوں کی طرح کر لی اور غیب سے آواز آئی کہ قادیانی یہی ہے۔ چنانچہ فجر کو یہ خواب لوگوں کو سنایا گیا اور تعبیر اس کی یہ بیان کی گئی کہ یہ شخص بظاہر لباس اسلام پہن کر لوگوں کو مثل اپنے کذاب بنانا چاہتا ہے۔ اسی روز بوقت نصف النہار قادیانی معدود ہندؤں کے لدھیانہ میں آیا۔ جس سے صداقت خواب مولوی عبداللہ صاحب معہ تعبیر بخوبی پایہ ثبوت کو پہنچی اسی طرح اور بہت خواب بزرگان دین کو اس کی تضلیل و تکفیر کی تائید میں معلوم ہوئے۔ آخر دعوانا الحمدلله رب العالمين والصلوٰة والسلام علیٰ سید المرسلین وعلىٰ آله واصحابه اجمعین! خادم الطلباء محمد عفی عنہ لدھیانوی

تقریظ حضرت مولانا مولوی عبدالعزیز صاحب واعظ نقشبندی لدھیانوی

بسم الله الرحمن الرحیم!

بعد الحمد لمن هدانا وعلمنا والصلوٰة علىٰ نبيه مولانا واله وصحبه وكل من كان علىٰ الهداية مقتدياً او اماماً اجمعين!

معلوم ہوا کہ اس خاکسار عبدالعزیز بن مولانا مولوی عبدالقادر مرحوم نے کتاب ہٰذا مسمی بہ کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی کے بعض مقامات کو سماع کیا۔ جس سے دریافت ہوا کہ یہ کتاب خواص وعوام کو واسطے رفع کید مرزا قادیانی وحفظ عقائد ایمانی در باب عیسیٰ ومہدی یمانی کافی وشافی ہے۔ امید کہ جس کو ہدایت یزدانی دستگیر ہو چھوڑ مرزائی ہو راہ ہدایت پر آوے اور مصنف کے حق میں دعا خیر وشکریہ ادا کرے کہ مجھے قعر جہنم سے نکال کر ریاض جنت دلایا اور دعا کرے کہ اے اللہ جل وعلا اسی عمل کے عوض اس کو مقرب اپنا بنا۔ امین!

١٤٣

صفحہ ٥٠١

فقط والله اعلم وعلمه اتم...... الراقم عبدالعزيز عفی عنہ نقشبندی لدھیانوی!

تقریظ حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب لدھیانوی

بسم الله الرحمن الرحیم! حامداً ومصلیا! مسکین اسماعیل خدمت اہل اسلام میں عرض کرتا ہے کہ میں نے چند مقامات اس رسالہ کے سنے۔ حقیقت میں رسالہ واسطے تضلیل اور تکفیر کے اظہار کرنے میں کافی اور وافی ہے۔ اہل اسلام پر لازم ہے کہ اس مرتد سے دور رہیں۔ والله یهدی من یشاء الی صراط مستقیم! راقم خادم العلماء محمد اسماعیل خواہرزادہ مولوی عبدالقادر لدھیانوی!

تقریظ حضرت مولانا مولوی ابوالاحسان محمد عبدالحق صاحب سہارنپوری

بسم الله الرحمن الرحیم! اما بعد! اس احقر الخلائق نے یہ کتاب لاثانی مسمی بہ کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی مؤلفہ قاضی فضل احمد صاحب گورداسپوری لازال علیہ الفضل الربانی مختلف مقامات سے دیکھے شرع شریف کے مطابق اور عین صواب پائی۔ اس کے مصنف کی سعی جمیل فی سبیل اللہ کو دیکھ کر بے اختیار زبان وقلم سے دعائے شکر اللہ سعیہ نکلتی ہے۔

خاص وعام اہل اسلام کی خدمت میں عرض ہے کہ اس زمانہ میں کہ شرعی درہ اور طرہ سے خالی ہے اور بعض بے دینوں نے اس کو زمانہ آزادی خیال کیا ہے کہ شرع کے احکام اور تکالیف اسلام سے آزاد ہیں اور جو چاہتے ہیں کہتے اور لکھتے ہیں۔ اکثر لوگوں نے باغوائے نفس دین اسلام کے احکام میں رخنہ اندازی چاہی ہے۔ مگر بحکم آیت و انا له لحافظون خداوند تعالیٰ اپنے دین اور اپنی کتاب کا خود نگہبان ہے کہ جہاں کوئی ایسا بے دین سر اٹھاتا ہے اس کے سرکوب بھی فوراً موجود ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ اسی زمانہ آزادی نام میں یہ قادیانی صاحب مطلق العنان ہوئے اور اپنے شیطانی خیالات کو الہامات سمجھ کر اتنے بڑھے کہ بڑھتے ہی گھٹ گئے اور اوج سے حضیض پر جا پہنچے۔ اول ہم ان کے اچھے خیالات سنا کرتے تھے۔ مگر اب بالکل برعکس ہوگئے۔ حتیٰ کہ دعویٰ مسیحیت کر کے گویا مسخ ہی ہو گئے ۔ اللہ تعالیٰ سب کو گمراہی کے خیال اور عقائد فاسدہ کے اقوال سے بچائے۔ آمین!

یہ کتاب مستطاب فی الواقع اہل ایمان کے لئے حیات قلبی اور بصیرت باطنی کی موجب ہے۔ جس سے عام و خاص مردمان اہل اسلام ایسے مدعیان بے دین کے اقوال ضلالت اشتمال کو بخوبی تمیز کر سکتے ہیں۔

١٤٥

صفحہ ٥٠٢

كتاب لو تأمله ضرير، لأصبح وهو ذو بصر صحيح، فانه لا يخل وفيه معنى يذكرنا بمعجزة المسيح اور در حقیقت یہ قادیانی اپنی کیدانی باتوں سے شرع شریف میں رخنہ انداز ہے۔ اس کی صحبت موجب گمراہی اور اس کے اقوال سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کی آل اطہار کی برکت سے ہم سب مسلمانوں کو انکے شر سے بچائے۔ آمین اللهم آمین! معروضہ ابوالاحسان محمد عبدالحق سہارنپوری، ١٩ دسمبر ١٨٩٨ء!

تقریظ مولوی نظام الدین صاحب مدرس مدرسہ حقانی لدھیانہ ھو الهادی

بسم الله الرحمن الرحيم اللهم ربنا اهدنا الصراط المستقيم ، اللهم ربنا انصر من نصر دین محمد ﷺ واجعلنا منهم ، اللهم اخذل من خذل دين محمد ﷺ ولا تجعلنا منهم ، اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه ، وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه!

اما بعد! کمترین نے اکثر مقامات سے کلمہ فضل رحمانی کا مطالعہ کیا۔ گو کہ اس سے پہلے بھی اپنی اپنی طرز پر مناظرین علماء دین نے عقائد باطلہ مخترعہ مرزا قادیانی کا خوب ہی قلع قمع کیا ہے۔ لیکن یہ جدید تصنیف اپنی طرز تالیف میں نہایت ہی دل پذیر اور اپنی آپ ہی نظیر ہے۔ وجہ یہ کہ اس کتاب کا مصنف عموماً مرزا ہی کی تصانیف سے اپنے براہین و دلائل لایا ہے اور دروغگو کو اچھی طرح اس کے گھر تک پہنچایا ہے۔

یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی شخص مناظرہ اور بحث ومباحثہ کی کوئی کتاب بناتا ہے۔ اس کے ہر پہلو پر دور اندیشی سے نظر دوڑاتا ہے تاکہ کسیکو حرف گیری کا موقعہ نہ ملے۔ خصوصاً مرزا نے تو (بقول خود) اپنی کتابوں کو وحی اور الہام سے لکھا ہے اور مرزا قادیانی اپنی وحی اور الہام کو قطعی اور واجب العمل بھی سمجھتا ہے۔ پس نہایت ہی عمدہ بات ہوئی کہ اسی کا جواب اسی کی کتاب سے ہوا اور یہ بعینہ ایسی مثال ہے۔ جیسا کہ کوئی مغرور ومتکبر وگردنکش ہمہ وجوہ مسلح ہو کر اور ہتھیار باندھ کر میدان کارزار میں آئے اور نبرد آزماؤں کو اپنے مقابلہ میں بلائے۔ دوسری جانب سے ایک بندہ خدا تن تنہا بلا ہتھیار مردانہ وار اس سے برسر پیکار ہو کے اسی کے ہتھیاروں سے اس پر وار کرے اور اس کی شمشیر سے اسی کا سرقلم کرے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اوہام باطلہ اور عقائد فاسدہ کا خود ہی مخترع نہیں ہے۔ بلکہ اہل فلسفہ اور ملاحدہ اور معتزلہ اور نیچریہ کی کاسہ لیسی

١٤٦

صفحہ ٥٠٣

کی ہے اور انہیں کی قے چاٹی ہے۔ چنانچہ ماہرین کتب پر پوشیدہ نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ کتاب لا جواب ہے اور مصداق مثل مشہور اسی کی جوتی اسی کا سر ہے۔ والسلام!

المفتقر الی الله الصمد فقیر نور محمد عفی عنہ مالک مطبع حقانی لدھیانہ!

حامداً و مصلیاً! میں نے کتاب مسمی بکلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی مؤلفہ جناب قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر لدھیانہ کو اوّل سے آخر تک پڑھا نہایت مدلل ولا جواب پایا۔ اس کتاب میں مرزا قادیانی کے ہر ایک عقیدہ باطلہ کی تردید بڑی پر زور تقریروں سے کی گئی ہے۔ خداوند جل وعلا مؤلف صاحب کی سعی قبول فرمائے اور قادیانی اور اس کے حواریین کو توفیق ہدایت عنایت کرے اور عامہ اہل اسلام کو اس کے شر سے محفوظ رکھے۔ مسکین نظام الدین عفی عنہ مدرس حقانی لدھیانہ!

تقریظ حضرت مولانا الافضل ومولانا مولوی محمد عبداللہ صاحب فاضل ٹونکی

اوّل مدرس عربی یونیورسٹی لاہور

بسم الله الرحمن الرحیم! نحمده ونصلى على رسوله الامين واله وصحبه اجمعين .

اما بعد! اگرچہ مرزا غلام احمد قادیانی کے خیالات اور دعاوی اس قدر ضعیف و نحیف ہیں کہ ان کی صحت وصداقت کی طرف کسی ادنیٰ ذی ہوش کا تامل ہونا بھی مستبعد تھا۔ چہ جائیکہ علمائے اسلام کو ان کے نقض و کسر کے لئے تالیفات کی ضرورت پڑتی۔ لیکن افسوس ہمارے ہی بعض ابنائے علات ( جو تفقہ سے محروم ہونے کے ساتھ بھی بزعم خود فقہائے اعلام کی اغلاط اور فضیلت کو پبلک کے سامنے لا کر اپنی فضیلت کا ثبوت دینے میں کوشش کرتے رہے ہیں ) مرزا قادیانی موصوف کی براہین احمدیہ پر نہ صرف ایمان ہی لے آئے ۔ بلکہ ان کی زعم رسالت ونبوت وحی والہام اور خیال مماثلت مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک کافی عرصہ تک بزعم خویش پر زور تحریروں سے رونق دیتے رہے۔ ایسی حالت میں عوام الناس اور خصوصاً ان بے چارے نادان مسلمانوں کا جو پہلے ہی علماء اسلام سے بدظن اور ان کی مخالفت سے بے پرواہ تھے۔ لغزش میں آجانا اور مرزا قادیانی کے خیالات کو سادگی سے تسلیم کر لینا بالکل قرین قیاس تھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور مجبوراً علماء اسلام کو بھی بمقتضائے فرمان نبوی علیہ الصلوۃ والسلام من رائے منکم منکرا فلیغیرہ بیده فان لم یستطع فبلسانه فان لم يستطع فبقلبه وذالك اضعف الایمان اپنا فرض کفایہ ادا

صفحہ ٥٠٤

کرنے میں کوشش کرنی پڑی۔ جنہوں نے اپنی قیمتی تالیفات سے اہل اسلام کو فائدہ پہنچایا۔ کلمہ فضل رحمانی بھی جس کا معتد بہ حصہ میری نظر سے گزرا ہے۔ اس قسم کا ایک رسالہ ہے اور اپنے عام فہم اور سلیس البیان ہونے کے لحاظ سے ممکن ہے کہ پبلک کو زیادہ مستفید ہونے کا موقع دے۔ اس کے مؤلف مولوی قاضی فضل احمد صاحب نے الزامی جوابات کی استعمال کی خصوصیت کو بہت زیادہ مدنظر رکھا ہے۔ جو بے شک مؤثر اور دل پسند طریقہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ عام مسلمان جس کو پیچیدہ تقریروں اور تحقیقی جوابات سمجھنے میں بہت کچھ دشواری ہوتی ہے۔ اس رسالہ سے کافی فائدہ اٹھائیں گے۔ جزاہ الله عنا وعن سائر المسلمين خير الجزاء!

كتبه العبد المذنب المفتی محمد عبداللہ عفا عنہ ٢٩ شوال ١٣١٥ھ

ملک کے بہت سے نامور علمائے وفضلاء کی جانب سے بوجہ ان کے سفر میں ہونے کے تقاریظ نہیں پہنچ سکیں۔ جس وقت پہنچیں گی وہ بھی بطور ضمیمہ اخبار وفادار میں شائع کی جائیں گی۔ جو اس کتاب کے ناظرین کی خدمت میں ابلاغ ہوں گی۔ یہ تقاریظ حسب ذیل علمائے فضلائے ہندوستان کی ہوں گی۔

جناب باری میں مالک اخبار وفادار کی سچی التجاء

مرزا قادیانی کے الہامات وغیرہ کی نسبت اور اس التجاء پر بشارت ایزدی

”آج رات دو بجے بعد نماز تہجد میرے دل میں اتفاقیہ خیال گزرا کہ جناب قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر پولیس لدھیانہ نے اسلامی حفاظت کے خیال سے بلا کسی ذاتی مخالفت کے مرزا غلام احمد قادیانی ساکن قادیان ضلع گورداسپور کی تصانیف کی تردید میں جو کتاب موسوم بہ کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی لکھی ہے اور جس پر ملک کے نامور مولوی صاحبان نے اپنی اپنی اسلامی حمیت سے رائیں لکھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی لاریب، دجال، کذاب، مخالف اسلام اور اہل اسلام، مفتری وغیرہ وغیرہ ہیں۔ ایسا ہی اس کتاب سے پہلے بہت سے علماء

صفحہ ٥٠٥

دین ان کے خلاف تکفیر کا فتویٰ بھی دے چکے ہیں۔ کلمہ فضل رحمانی کے مؤلف صاحب نے بھی مرزا قادیانی کو کذاب، باطل، مکار، خارج از اسلام، عبدالدرہم والدنانیر، خود غرض وغیرہ لکھ کر مرزا قادیانی کی پیش گوئیوں کو باطل محض اور ان کے دعویٰ مسیحائی مہدویت کو مکاری وفریب پر بدلائل معقول ثابت کر کے مرزا قادیانی کی اپنی ہی تصانیف سے بحوالہ ان کی کتاب کے صفحہ سطر کے مرزا قادیانی کے تمام دعوے کی اصلیت ظاہر کر دی ہے۔ جسے ہر ایک مسلمان کو پورا یقین ہوتا ہے کہ واقعی مرزا قادیانی کے تمام دعاوی غلط ہیں اور وہ سچ مچ دنیا پرست اور اسلامی اصول سے بہت دور ہیں۔

ادھر مرزا قادیانی کی اپنی تصانیف سے جو صاحب مؤلف کتاب بحوالہ ان کے صفحہ سطر اس کتاب میں حرف عبارت یا فقرے نقل کئے ہیں۔ ان سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی پیغمبر اسلام اور دیگر پیغمبروں، اولیاؤں، انبیاؤں اور تمام دنیا کے گذشتہ وموجودہ بزرگوں کو بدرجہ غایت گالیاں دے کر اپنے کو مسیح موعود، مہدی مسعود، ملہم، خدا سے ہم کلام اور پھر روز مرہ باتیں کرنے والا اپنے ایسے یقین سے ظاہر کیا ہے کہ کسی کو سوائے لاحول پڑھنے کے کوئی محل کلام نہیں۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف اور اشتہار میں آج کل کے تمام دنیا کے صاحب فتویٰ علمائے فضلائے کو بدذات، بے ایمان، شیطان وغیرہ ایسے دل آزار فقرات لکھے ہیں کہ خدایا تیری پناہ! اور ایسے ہی اپنے الہام میں کسی کی جوان لڑکی کا بھی اپنے ساتھ آسمان پر نکاح ہونا اور زمین پر نہ ملنا بیان کر کے بصورت خلاف اس کے والد اور خاوند کی موت اور تمام آسمانی مصیبتوں کا ان پر نازل ہونا بذریعہ اپنے الہام کے بیان کیا ہے اور پھر کسی کے لئے ایک سال، کسی کے لئے ١٨ ماہ کسی کے لئے دو سال، کسی کے لئے چھ سال تک مرنے کی پیش گوئی کر کے اس پر ہزاروں روپیہ کی شرطیں باندھ کر آخر ان کے غلط محض ہونے پر مرزا قادیانی کا یہ کہہ دینا کہ چونکہ اس نے دل سے ہمارے الہام اور خیال کو مان لیا ہے۔ اس لئے نہیں ہوا۔ وغیرہ وغیرہ۔

مرزا قادیانی کے بعد ان کے مرید جو اپنے کو مرزائی کے خطاب سے مخاطب اور مشہور ہونا مرزا قادیانی کی مسیحائی اور مہدویت کی تقویت کا باعث سمجھتے ہیں۔ عموماً ہر موقعہ پر پہنچ کر مرزا صاحب کے مرسل یزدانی، نبی، محدث، ربانی، مسیح موعود، مہدی مسعود، حضرت مرزا قادیانی ہونے کی منادی کر کے ان کو سچا نبی اور مرسل برحق اور ان کے الہام کو خدا کی باتیں ہونے کا وعظ کر کے عام اہل اسلام کو ان کی طرف رجوع ہونے کی تحریک کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ کہ مرزا قادیانی کے دعاوی تصانیف ان کے مریدوں کے بحث مؤلف کتاب کلمہ فضل رحمانی کی

١٤٩

صفحہ ٥٠٦

بدلائل معقول تردید اور دیگر علمائے فضلاء کی تقاریظ اسلامی اصول کے مطابق اسلامی حفاظت کے خیالات پر غور کرتے کرتے میں نے مکرر باوضو ہو کر خاص اس معاملہ کی تحقیق کے لئے بصدق دل محض بے تعصب ہو کر بغرض اطمینان جناب باری عز سبحانہ وتعالیٰ کو حاضر و ناظر سمجھ کر یہ التجاء کی کہ: اے پروردگار عالم الغیب! میں کیا اور میری ہستی وحقیقت کیا۔ جو ایسے بھاری معاملہ میں تیرے سامنے حاضر ہو کر اپنا کوئی خیال ظاہر کر سکوں ۔ سوائے اس کے کہ میں بصدق دل یہ اقرار کروں کہ تو عالم الغیب اور کل شئے محیط ہے۔ کوئی بات اور کوئی فعل میرا ہو یا دوسرے کا اچھا ہو یا برا۔ جھوٹا ہو یا سچا تجھ سے نہ تو پوشیدہ ہے اور نہ پوشیدہ رہ سکتا ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی تو ہر ایک فرد بشر کی نیکی بدی اور نیت و اعمال سے پورا پورا واقف ہے۔ غرض یہ کہ انسان کا کوئی فعل کوئی حرکت کوئی ارادہ، کوئی معاملہ، خواہ وہ کسی غرض اور مدعا سے ہو تیرے علم سے باہر نہیں رہ سکتا۔

اے خداوند قادر مطلق ! میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ تو نے اپنے فیضان خاص سے مجھے انسان بنا کر اپنے محبوب پاک پیغمبر آخرالزمان کی امت میں پیدا کیا اور پھر اپنی رحمانی صفات سے مجھے بتایا کہ تیرا مذہب اسلام ، تیرا پیغمبر برحق ، تیرا ہادی قرآن مجید ہے۔ اور اس کے عالم اس کے عامل اس پر ایمان لانے والے میرے مقبول اور میرے پیارے ہیں۔

اے میرے غفور الرحیم ! تو نے اپنے فضل سے یہ بھی بتا دیا کہ میں جسے رسول کہوں، نبی کہوں ، پیغمبر کہوں ، غوث کہوں ، قطب کہوں ، اولیاء کہوں ، انبیاء کہوں ، ولی کہوں۔ وہ میرے فرستادہ ہونے کے علاوہ میرے مجوزہ قانون ( فرقان حمید ) کو تمہیں بغرض ہدایات سنانے والے اور تمہیں سیدھا راستہ بتانے والے ہیں ۔ ان کی نصائح پر عمل کر کے بصدق دل ان کی مطابعت اور فرمانبرداری اپنا ایمان اور ایمان کا اعلیٰ اصول سمجھو۔

اے زمین وآسمان کے مالک خداوند! تیرے رسول مقبول نے تیرے ارشاد کے مطابق اپنی امت کو یہی ہدایت کی کہ بزرگوں کی ہدایتوں کی پابندی خدا اور میری رضا مندی اور خوشنودی ہے۔ تیرے رسول پاک کی یہ بھی تاکید ہے کہ میری سنتوں اور میری عظمت و توقیر تمام امت پر فرض ہے۔ جو اس کے خلاف ہو بتحقیق وہ مجھے اور میری ہدایت کو نہ ماننے والا ہے۔

پس اگر کوئی شخص تیرے کلام پاک ( جو ہمیشہ قائم رہنے والی اور دنیاوی امور کے لئے بوجہ احسن قانون قدرت سمجھا کر ہدایت کرنے والا ہے جس میں غیر مبدل اور بے شک پکے ایمان مضبوط کرنے والا ہے ) کی بغرض شہرت مخالفت کر کے اس کے صاف اور سیدھے معنوں اور آیتوں کی الٹی تعبیریں کر کے تیرے پیغمبر ﷺ کو برحق ماننے میں اپنی اغراض دکھائے اور تیرے دیگر پیغمبروں،

١٥٠

تیرے انبیاءوں، تیرے غوث او والوں اسلامی فضلاء، علمائے وف بیٹا پکارے اور پھر ایسا شخص مسلما قرآن پڑھنے والا اور سننے والا آ ہوں، ان کا پیر زبان سے خدا ڈبووے۔ جسے دوسرے مذاہب وغیرہ۔ توبہ توبہ استغفر

ایسے شخص مرزا غلام ا بزرگان اسلام کو مختلف قسم کے ع قرآنی احکام اور حدیثوں کے ہے کہ میں خدا سے ہم کلام ہوت کرے اور میرے الہاموں ک ڈیڑھ سال حد درجہ چھ سال م اور فتنہ ڈالنے کے لئے اپنی الہ مخالفت کر کے تیرے پیغمبر ﷺ مجید میں بہت جگہ تعریف

اے دین د محبوب پاک حضرت محمد ﷺ کے ظاہر کر دے کہ ظاہر میں تو جانتا ہے۔ جس کے جان شخص کو ایسی حالت میں جو

اے میرے خ کا ظاہر باطن کسی طرح بھی کل شی قدیر اور کل شئی کذب، دل آزاری، دل اصول کے مطابق آخرال

صفحہ ٥٠٧

تیرے انبیاؤں، تیرے غوث اور تیرے قطبوں کی ہدایتوں کے مطابق ان کے قدم بقدم چلنے والوں اسلامی فضلائے علمائے وغیرہ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی جھٹلائے اور ان کو یوسف نجار کا بیٹا پکارے اور پھر ایسا شخص مسلمان بھی ہو، تہجد گزار بھی ہو، مولوی بھی ہو، عالم و فاضل بھی ہو، قرآن پڑھنے والا اور سننے والا بھی ہو، اس کے مرید شاگرد پیشہ بھی اس کی پیروی کرنے والے ہوں، ان کا پیر زبان سے خدا اور رسول کی تعریف بھی کرے۔ مگر تحریر میں آ کر سب کچھ لٹیا ڈبو دے۔ جسے دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اسلام پر مذاق اور طعن سے ہنسنے کا موقعہ ملے وغیرہ وغیرہ۔ توبہ توبہ استغفراللہ!

ایسے شخص مرزا غلام احمد قادیانی ہیں جنہوں نے اپنے ایسے خیالات سے اہل اسلام اور بزرگان اسلام کو مختلف قسم کے وہم اور خرخشہ میں ڈال رکھا ہے۔ (اور جنہوں نے سچ مچ تیرے قرآنی احکام اور حدیثوں کے ائمہ اور مفسرین) کی بدزبانی سے توہین کر کے عوام پر ہمیشہ یہ ظاہر کیا ہے کہ میں خدا سے ہم کلام ہوتا ہوں اور مجھے ایسے الہام ہوتے ہیں کہ جو شخص میری فرمانبرداری نہ کرے اور میرے الہاموں کو سچا نہ مانے اور مجھے خدا کا فرستادہ نبی نہ تسلیم کرے۔ وہ ایک سال ڈیڑھ سال حد درجہ چھ سال میں مرجائے گا اور پھر جو تیرے پیغمبر برحق کے دین میں ایسے وسوسے اور فتور ڈالنے کے لئے اپنی ایسی تصانیف کی اشاعت کر کے تیرے رسول کے اصحاب کبار کی بھی مخالفت کر کے تیرے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزوں کو (جس کا تذکرہ تو نے اپنے قرآن مجید میں بہت جگہ تعریف کے ساتھ فرمایا ہے) شعبدہ بازی کہے۔

اے دین و دنیا کے مالک عالم الغیب خدا! تو اپنے خدائی کے صدقہ میں بطفیل اپنے محبوب پاک حضرت محمد ﷺ کے میری اس التجاء کو قبول فرما کہ مجھ پر صاف طور پر بلا کسی شک و شبہ کے ظاہر کردے کہ ظاہر میں ایسا شخص جو تمام احکام شرعی کا اس درجہ مخالف اور مدعی ہو۔ باطن کا حال تو جانتا ہے۔ جس کے جاننے کا مجھے کوئی علم نہیں۔ کیا وہ دراصل سچا ہے؟۔ یا کاذب؟۔ میں ایسے شخص کو ایسی حالت میں جو مسلمان ہو اور مولوی بھی ہو کیا سمجھوں؟۔

اے میرے منتقم حقیقی خداوند زمین و زمان! تو علیم ہے سمیع ہے۔ بصیر ہے۔ تجھ سے کسی کا ظاہر باطن کسی طرح بھی مخفی نہیں رہ سکتا۔ ہر مذہب وملت کی آسمانی کتابیں تیرے عالم الغیبی اور کل شئی قدیر اور کل شئی محیط ، عالم الغیب ہر شخص کے ظاہر و باطن نیک نیتی بدنیتی۔ صداقت، کذب، دل آزاری، دلداری، خودستائی، خودداری، برائی، بھلائی، حتی کہ تیری بے نیازی کے اصول کے مطابق آخر الزمان سے پہلے پیغمبروں زکریا، ایوب، یعقوب، یوسف علیہم السلام تک

١٥١

صفحہ ٥٠٨

کے ساتھ تو نے جو اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے وہ تیری قدرت کاملہ کی ایک مصدقہ دلیل ہے۔ تیری غیوری اور تیری قہاری سے سب نے پناہ مانگ کر تیری غفور الرحیمی اور تیری رحمت کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھا تو اپنے فضل سے بندوں کو گمراہی سے بچانے اپنے رسول مقبول کے دین کی حفاظت اور اپنے قرآن مجید کی نگہبانی کے لئے مجھے ایسے گنہگار اور خطا کار شخص کو جسے صرف تیرے سچے قرآن کے احکام کی تعمیل اور تیرے پیغمبر برحق کے دین کی اشاعت بوجہ احسن بغیر کسی کذب کے حق و باطل کا آئینہ دکھانا مدنظر ہے۔ کوئی خاص بشارت اور ایسی بشارت دے جسے نہ تو میرے دل میں کسی وسوسے کا گمان گزرے اور نہ مرزا قادیانی اور ان کے حوارین کو اس شیطانی وہم وغیرہ سے تعبیر کرنے کا موقع ہو اور اس امر کا پورا فیصلہ اپنی بشارت خاص کے ذریعہ سے کر دے کہ مرزا غلام احمد قادیانی سچے مسیح موعود اور مہدی مسعود ہیں اور انہیں جو الہام ہوتے ہیں وہ دراصل سچے الہام ہیں۔ ان کی پیروی بھی غلطی پر نہیں۔ ان کی تصانیف ہر ایک طرح قابل یقین اور لائق اعتبار ہیں۔ یا یہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے خیالات مذہبی کے مخالفت کرنے والے سچے اور احکام خداوندی کے بجالانے والے مرزا قادیانی کی تصانیف سے نفرت کریں۔ مجھے اسی التجاء اور خیال میں کسی قدر نیند سی معلوم ہوئی۔ حتیٰ کہ میں سو گیا۔ خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سفید ریش بزرگ میرے پاس بیٹھے ہوئے فرما رہے ہیں کہ:

دوشم نوید داد عنایت کہ حافظا
باز آکہ من بعفو گناہت ضمان شدم

یہ شعر سن کر میں نے خواب میں ہی التجاء کی کہ حضرت کیا میں مرزا قادیانی کے مسیح موعود اور مہدی مسعود نہ سمجھنے کی وجہ سے گناہ گار سمجھا گیا تھا۔ جس کے لئے آپ میرے ضامن ہوئے ہیں۔ یا یہ کہ میں ان کے خیالات سے خود محفوظ رہنے اور عام اہل اسلام کو بچانے کا دل سے مؤید ہوں تو پھر انہوں نے مجھے ایک کتاب ہاتھ میں دے کر فرمایا کہ اے شخص اس پر عمل کر اور یاد رکھ کہ خدا کا کلام سچا ہے۔ اس کا رسول برحق ہے۔ دین اسلام کے بزرگوں کی نسبت غیبت کرنے والا لاریب فیہ سخت ترین عذاب کا مستحق اور گمراہ ہے۔ میں ان کے ہاتھ سے وہ کتاب لے کر کھولتا ہوں تو وہ قرآن مجید ہے۔ جس کے پہلے صفحہ پر لکھا ہوا ہے کہ کلمہ فضل رحمانی اور دوسرے صفحہ پر جواب اوہام غلام قادیانی۔

اتنے میں میری آنکھ کھل گئی تو صبح کی نماز کے لئے قریب کی مسجد میں مؤذن اللہ اکبر پکار رہا تھا۔ میں الحمد للہ پڑھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور وضو کرنے کے بعد صبح کی نماز ادا کر کے اپنے

١٥٢

صفحہ ٥٠٩

کتب خانہ سے دیوان حافظ منگوا کر اس اوپر کے شعر کی تلاش کرنے لگا تو میم کی ردیف میں خواجہ حافظ علیہ الرحمۃ کا یہ مقطع لکھا ہوا ملا ۔ جب میں ساری غزل پڑھنے لگا تو میری خواہش کے مطابق اس غزل کا دوسرا شعر بھی دیکھا گیا۔

شکر خدا کہ ھرچہ طلب کردم از خدا
برمنتھائے ھمت خود کامران شدم

گویا خواجہ علیہ الرحمۃ کا یہ دوسرا شعر بھی میری التجاء کی کامیابی کے شکرانہ اور تائید میں تھا۔ میں خداوند کریم کے اس فضل عظیم اور فیضان خاص کا شکر ادا کر کے اس کی ذات اور بے نیازی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی سے میری کسی وقت کی راہ ورسم نہ خط و کتابت نہ جسمانی ملاقات نہ روحانی تعلقات ۔ غرض کہ میری صورت شناسائی تک بھی نہیں نہ میں کبھی ان کی بیت الفکر اور بیت الذکر قادیان میں گیا اور نہ وہ میرے مکان پر لاہور تشریف لائے اور نہ ان کی تصانیف کو میں نے بوجہ خلاف قرآن پیش گوئیاں کرنے کے پڑھا، یا پڑھنا چاہا ہاں عبداللہ آتھم کی نسبت ان کی پیش گوئی کی غلط ثابت ہونے کے موقع پر میں نے بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح ان کی ایسی غلط بیانی پر (جو دراصل اسلام کے سراسر خلاف تھی ) اخبار وفادار میں افسوس اور رنج کا اظہار کیا تھا۔ ایسے ہی اکثر میں ان کی ایسی ایسی نامعقول پیش گوئیوں کو افسوس کے ساتھ سنتا رہا۔ مگر میں کبھی ان سے نہیں ملا۔ اتفاقیہ طور پر میرے مخدوم مہربان جناب قاضی فضل احمد صاحب کورٹ انسپکٹر لودھیانہ نے مرزا قادیانی کی ایسی ناجائز خلاف اسلام زیادتیوں کو مرزا قادیانی کی اپنی ہی تصانیف سے بدلائل معقول بذریعہ کتاب کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام احمد قادیانی کے مسلمانوں کو واقف کرنا چاہا کہ مرزا قادیانی کے عقائد محض خلاف اصول اسلام ہیں اور جو کچھ دعاوی الہام، مسیح، مہدی وغیرہ کے کرتے ہیں۔ محض حصول دنیا ( روپیہ ) کی غرض سے کرتے ہیں نہ خالصاً للہ دین کی غرض سے ۔ جناب قاضی صاحب نے تمام کتب میں اپنی طرف چند فقرات ہی لکھے ہیں ۔ باقی جو کچھ درج کیا ہے وہ مرزا قادیانی کی اپنی تصانیف کی اصل عبارت اور فقرے بحوالہ صفحہ سطر اور چند خطوط دستخطی مرزا قادیانی اور ان کی تائید اور ثبوت میں دیگر خطوط ان کے الہاموں کے بطلان میں درج کئے ہیں۔ جن سے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات کسی کی لڑکی سے نکاح ہونے کی غرض سے ہوتے ہیں یا قادیان میں اپنے مکانات کو وسعت دینے کے لئے وغیرہ وغیرہ پس میں نے جو کچھ لکھا ہے۔ اپنے ایمان اور علم ویقین سے محض بے تعصبی اور کسی قسم کی ذاتی مخالفت کے بغیر بالکل سچ لکھا ہے ۔ خدا میرے اس بیان اور نیت کا واقف ہے اور

١٥٣

صفحہ ٥١٠

میں اس کی قسم کھا کر سچ کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کی تصانیف (جن کا حوالہ اس کتاب میں ہے) پیغمبر اسلام، اہل اسلام اور دیگر بزرگان اسلام کی مخالفت سے روپیہ پیدا کرنے اور دنیاوی ناموری حاصل کرنے کی غرض سے ہیں۔ نہ خدا اور اس کے رسول کی اسلامی اشاعت اور حق و باطل میں فرق بتا کر اصلیت ظاہر کرنے کی غرض سے۔ اب ہر ایک مسلمان جو قرآن وحدیث کو ماننے والا ہے۔ اپنی اسلامی حفاظت اپنا کام سمجھیں۔ خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ انگریزی گورنمنٹ کے امن پسندی بے تعصبی ہمارے لئے آسمانی برکتوں کی طرح ہماری حامی اور مددگار ہے اور بس۔

اخیر میں میں یہ بھی ظاہر کئے دیتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی عادت کے مطابق میری ذات خاص کی نسبت اور مؤلف کتاب کی نسبت بقول ان کے ایک پرلے درجہ کے معتقد مرزائی کے، موت کی پیش گوئی کریں گے۔ میں اپنے حافظ حقیقی پر پورا بھروسہ کر کے عام اعلان کرتا ہوں کہ خداوند قادر مطلق اور منتقم حقیقی مرزا صاحب کی ہر ایک قسم کی پیش گوئی خواہ وہ میری موت کی نسبت ہو یا دیگر کسی قسم کی اس میں انہیں ناکام ثابت کرے گا اور میرے خلوص اور خوش نیتی کی وجہ سے اسلامی فتح اور نمایاں فتح ہو کر حضور قیصرہ ہند دام ملکھا کی عمر اور حکومت میں ترقی و برکت ہوگی۔

صاحب مؤلف کتاب نے بھی خیال مرزا قادیانی کی پیش گوئی پر اپنی نسبت بخوبی ظاہر کیا ہے۔ جو ناظرین نے پچھلے صفحوں میں ملاحظہ فرمایا ہے اور بس۔ مرزا قادیانی کی پیش گوئی میری نسبت اور مؤلف کی نسبت جو کچھ ہوگی وہ بھی اس کتاب کے ناظرین کی نذر ہوگی۔

سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم

خادم علمائے وفضلائے دین متین بندہ ناچیز کمترین محمد فضل الدین عفی عنہ مالک اخبار وفادار لاہور ١٤؍ جمادی الاول ١٣١٦ھ مقدس

مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنے بیٹوں کے عاق کرنے اور اپنی بیوی کو طلاق

دینے کی دھمکی کے متعلق مرزا قادیانی کا اپنا اشتہار مورخہ ٢ مئی ١٨٩١ء مطبوعہ

حقانی پریس لودھیانہ

جس کو جناب مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے یکم اگست ١٨٩١ء کو بمقام لودھیانہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اس اشتہار کے جواب میں شائع کیا تھا۔ جو کہ مرزا قادیانی نے تمام علمائے وفضلائے کو بحث کے لئے دیا تھا اور جس کے لئے مولوی صاحب موصوف نے

١٥٤

صفحہ ٥١١

الو العزم سے مرزا قادیانی کے پاس بمقام لدھیانہ پہنچ کر بحث کر کے مرزا قادیانی کو بتلایا تھا کہ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی خدا اور رسول اور تمام احکام شرع کے خلاف ہیں اور جن کی وجہ سے وہ مصدقہ کافر قرار پا چکے ہیں۔ جس پر مرزا قادیانی نے دوسرے روز غائبانہ جواب دینے اور سننے کے لئے مقرر کر کے بھی مولوی صاحب کے مقابلہ میں نہیں آئے۔ جس کے لئے مولوی صاحب نے بھی صاف طور پر عام جلسہ میں جس میں مرزا قادیانی کے قریباً تمام حواری بھی موجود تھے یہ اعلان کیا تھا کہ: اگر مرزا قادیانی اس حدیث کو جس کو باوجود موضوع قرار دینے کے صحیح بخاری میں موجود بتایا صحیح بخاری سے نکال دیں تو میں اس پر ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا اور سخت قسم کھائی۔ جس کو مرزا قادیانی کے حواریوں نے سنا اور خاموش رہ گئے اور جس اشتہار پر لدھیانہ کے تمام معزز و مقتدر مسلمانوں کے بطور شہادت دستخط بھی ہیں وغیرہ وغیرہ اور وہ اشتہار یہ ہے۔

قولہ: ”ناظرین کو یاد ہوگا کہ اس عاجز (مرزا قادیانی) نے ایک دینی خصومت کے پیش آ جانے سے....... اپنے ایک قریبی مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم والہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے یا خدا تعالیٰ بیوہ کر کے میری طرف لے آئے ...... اب باعث تحریر اشتہار ہذا یہ ہے کہ میرا بیٹا سلطان احمد نام جو نائب تحصیل دار لاہور میں ہے اور اس کی تائی صاحبہ اس مخالفت پر آمادہ ہو گئی ...... اور تجویز میں ہے کہ اس لڑکی کا نکاح کسی سے عید کے دن یا اس کے بعد کیا جائے۔....... ہرچند سلطان احمد کو سمجھایا کہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گا...... تاکیدی خط لکھے میرے خط کا جواب بھی نہ دیا اور کھلی بیزاری ظاہر کی...... لہٰذا میں آج کی تاریخ سے کہ وہ ٢؍مئی ١٨٩١ء ہے۔ عوام اور خاص کو بذریعہ اشتہار ظاہر کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس ارادہ سے باز نہ آئے....... اور اس لڑکی کا کسی اور سے نکاح ہو گیا تو اس دن سے سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوگا اور اسی روز اس کی والدہ پر میری طرف سے طلاق ہے اور اگر اس کا بھائی فضل احمد جس کے گھر میں مرزا احمد بیگ والد لڑکی کی بھانجی ہے اپنی اس بیوی کو اسی دن جو اس کو نکاح کی خبر ہو طلاق نہ دیوے تو پھر وہ بھی عاق اور محروم الارث ہوگا....... اس نکاح کے بعد تمام تعلقات خویشی اور قرابت اور ہمدردی دور ہو جائے گی اور کسی نیکی بدی رنج و راحت شادی اور ماتم میں ان سے شراکت نہیں رہے گی۔ ان سے کچھ تعلق رکھنا قطعاً حرام اور ایمانی غیور کے برخلاف اور ایک دیوثی کا کام ہے۔“ (ملخصاً المشتہر مرزا غلام احمد لدھیانہ ٢؍مئی ١٨٩١ء حقانی پریس لدھیانہ، مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢١٩ تا٢٢١) مندرجہ

١٥٥

صفحہ ٥١٢

عنوان اشتہار کی علت غائی مرزا قادیانی کی وہ پیش گوئی ہے جو مرزا احمد بیگ کی دختر سے مرزا قادیانی کا نکاح ہونے کے لئے مرزا قادیانی کو الہام ہوا تھا اور جو بقول مرزا قادیانی کہ یہ امر آسمان پر ہو چکا ہے۔ جو زمین پر کبھی نہیں ٹل سکتا۔ جس کے متعلق مرزا قادیانی کے اپنے دستخطی خطوط اس کتاب میں ہی پہلے صفحوں میں درج ہیں۔ ناظرین کو بخوبی واضح ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کا الہام کیسا الہام ہے۔ جو باوجود مرزا قادیانی سے آسمان پر نکاح باندھ دینے کے زمین میں اور شخص سے اس نکاح کو منتقل کر دیتا ہے اور پھر ایسا مضبوط کہ باوجود اس وقت تک یعنی آٹھ سال گزر جانے اور اس منکوحہ کے بکثرت صاحب اولاد ہونے کے بھی اور مرزا قادیانی کے خدا جو انہیں ہمیشہ ایسے شیطانی الہام کیا کرتا ہے۔ مرزا قادیانی سے بھی نہیں توڑا گیا اور پھر ایسا الہام صرف ایک دفعہ نہیں ہوا۔ بلکہ متعدد دفعہ مگر باوجود ہمیشہ آسمان پر سے ایسے الہام کا فیصلہ ہو کر ہمیشہ ہی زمین پر پہنچے۔ اسے تو یہ زمین کی ہوا لگتے ہی ٹوٹ جاتا رہا اور پھر ٹوٹنا بھی کیسا کہ جس کے کسی ذرہ کا بھی کوئی پتہ نہیں ملتا۔ تو یہ تو یہ آسمانی الہام نہ ہوا کوئی مٹی کا پیالہ یا کسی موچی والے کا کچا دھاگہ ہو گیا۔ استغفر اللہ! سچ تو یہ ہے کہ ایسے الہام اگر ٹوٹ نہ جائیں تو اور کیا ہوں۔ جب کہ وہ سچے خدا کے الہام ہی نہیں وہ الہام تو مرزا قادیانی کے خدا (عاجی) کا الہام ہے (جس کے معنی خود مرزا قادیانی کو بھی اس وقت تک معلوم نہیں ہوئے ) اگر آسمانی خدا (جو تمام جہان کا پروردگار ہے ) کا کوئی الہام ہوتا تو کیا مجال کہ وہ کسی وقت بھی ٹوٹ جاتا اور پھر قادیان کی زمین پر کیا دنیا کے کسی حصہ پر بھی نہ ٹل سکتا تھا اور نہ ٹوٹ سکتا۔ مگر ہاں مرزا قادیانی کے خدائے عاجی کے الہام کی یہ تعریف ہے کہ زمین کی ہوا لگتی ہے۔ ٹوٹ کر ٹل جایا کرتا ہے۔ خدائے عاجی اور پھر عاجی خدا کا آسمان اور زمین بھی ایسا ہی سمجھنا چاہئے کہ جس خدائے عاجی کے معنی مرزا قادیانی خود نہیں جانتے تو اس خدا عاجی کے مسکن اور آسمان و زمین کا بھی تو کوئی نشان نہیں ہوگا۔ پس ایسے خدا اور ایسے خدا کے ملہم اور پھر ایسے خدا کے زمین آسمان پر سوائے لاحول پڑھنے کے اور کیا کہا جائے۔ ایسا شخص خدا کا فرستادہ، مرسل یزدانی، نبی، غوث، رسول، مسیح موعود، مہدی مسعود ہونے کا مدعی ہو اور پھر آسمانی پیغمبروں آسمانی بزرگوں کو فحش گالیاں دے کر سب کچھ آپ ہی بن جانے کا دعوے دار ہو اور غضب کہ اس کے مرید بھی ایسے خیالات کے حامی اور مددگار ہو کر اصول اسلام کو بدنام کریں۔

اللهم اكفنا شرهم بما شئت تمت بالخير!

مرزا قادیانی خود اور ان کے حواری دیکھیں ہماری التجاء اور بشارت ایزدی پر کیا کیا تاویلیں اپنے اپنے موافق نکالتے ہیں۔

١٥٦

PDF 513

خاتم النبیین لا نبی بعدی

جمعیت خاطر

(١٣٣٣ھ)

دو انسپکٹروں کا دو دلا مکاتبہ

(١٣٣٣ھ)

خوان ارمغان

(١٩١٥ء)

جناب فضل احمد صاحب گورداسپوری

صفحہ ٥١٤

بسم الله الرحمن الرحیم!

خط نمبر ١

نحمده ونصلی علی رسوله الکریم!

از جناب خاکسار! فضل احمد انسپکٹر لدھیانہ! بخدمت مخلص مکرم حضرت میاں غلام رسول صاحب انسپکٹر پولیس زادشوقہ!

بعد از لوازم مسنون آنکہ! اگر چہ ملاقات جسمانی وقوع میں نہیں آئی ۔ لیکن بندہ میاں محمد بخش صاحب ہیڈ کانسٹیبل اول ضلع لائل پور ١؂ سے جو آپ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ آپ کی تعریف سننے کا فخر رکھتا ہے۔ نیز ”خان صاحب“ منشی محمد بہرام خان صاحب پنشنر انسپکٹر لدھیانہ سے آپ کی تعریف سننے میں آتی رہتی ہے۔ ایک مضمون بھی آپ کا سمی ٢؂ معیار صداقت انہیں سے مجھے ملا۔

میں سب سے پہلے آپ کو دنیاوی عروج ٣؂ ترقی درجہ انسپکٹری کی مبارک باد دیتا ہوں۔ بعد اس کے آپ کے مضمون کے مطالعہ نے مجھے مجبور کیا ہے کہ آپ سے دو تین باتیں دریافت کرنے کی تکلیف دہی کی جرأت کروں اور بوجہ تعریف اور اسلامی ہمدردی اور ہم عہدہ وصیغہ ہونے کے لحاظ سے امید کرتا ہوں کہ آپ مہربانی فرما کر ان کے جوابات جلد ارسال فرمانے میں دریغ نہیں فرمائیں گے۔ آپ کے جواب موصول ہونے کے بعد آپ کے اشتہار یا مضمون پر مزید غور کرنے کی سعی کروں گا۔

سوالات حسب ذیل ہیں:

رکھتے ہیں یا نہیں اور ان کے منکر یا مکذب کو مسلمان یا مومن جانتے ہیں یا نہیں؟۔

جانتے ہیں یا ان میں سے بعض کو؟۔

١؂ جبکہ میں لائل پور (فیصل آباد) میں ١٩٠٧ء میں تعینات تھا۔ ٢؂ یہ مضمون معیار صداقت مجھے خان صاحب نے بغرض مطالعہ اور جواب بھیجا تھا۔ ٣؂ انہیں دنوں میں آپ کی ترقی درجہ انسپکٹری پر ہوئی۔

٢

صفحہ ٥١٥

یا نہیں؟۔

تمیم (ت م ی م) لکھی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آپ کی ذات تہیم (ت ہ ی م) ہے۔ کیا یہ کاتب کی غلطی ہے یا کیا؟ ...... صحیح کیا ہے میں ہوں خاکسار اس تکلیف دہی سے معافی کا خواستگار جواب کا منتظر ۔ احقر العباد الی اللہ الصمد فضل احمد عفاء اللہ عنہ!

مقام لدھیانہ

(٧ ذی الحجہ ١٣٢٧ھ مطابق ٢١ دسمبر ١٩٠٩ء)

خط نمبر ١ ...... جواب بذریعہ پوسٹ کارڈ

بسم اللہ الرحمن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!

دیپالپور ٢٢ دسمبر ١٩٠٩ء

بزرگوارم جناب مخدومی و محترمی زاد الطافہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

نوازش نامہ ملا۔ مشکور فرمایا۔ مضمون محولہ جواب لکھا ہوا میرا ضرور ہے۔ مگر طبع ١؎ میں نے نہیں کرایا تھا۔ بجواب سوالات التماس ہے کہ:

اور منذر مانتا ہوں اور یقین کرتا ہوں منکر ان کا اگر مسلمان ہے تو مسلمان جانتا ہوں۔

جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں اور جو مجھے مل سکتی ہیں دیکھ چکا ہوں۔

کوئی پچاس برس سے پہلے کے جس قدر کاغذات خانگی و سرکاری وغیرہ پانچ چھ سو برس تک کے ہیں ان میں قوم تمیم ہی تمیم تحریر ہے۔ لفظ تہیم تمیم سے بگڑا ہوا ہے۔

میرے پاس اس وقت لفافہ اور کاغذ نہیں تھا اس واسطے کارڈ پر عرض عریضہ کی گستاخی معاف فرماویں۔ میں اسباب بند کر چکا ہوں ضلع فیروز پور واپس جا رہا ہوں مقام تعیناتی ہے انشاء اللہ تعالیٰ یکم کو پہنچوں گا۔ وہاں ارشاد ہو۔ والسلام مع الاکرام!

(بندہ غلام رسول)

١؎ کیا آپ کی مرضی کے برخلاف طبع ہوا اور بے علمی میں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا۔

صفحہ ٥١٦

خط نمبر٢.....بجواب بذریعہ خط ملفوفہ

بسم الله الرحمن الرحیم ، نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم !

دیپالپور ٢٣/دسمبر ١٩٠٩ء ١؎

جناب مخدومی، معظمی ومکرمی قاضی صاحب ...... السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

کل نوازش نامہ کے جواب میں مختصر سا کارڈ جلدی میں عرض کیا گیا تھا۔ آج ٢؎ خیال آیا کہ شاید آپ براہ کرم کچھ تحریر فرمائیں گے اس واسطے اپنی ٣؎ پوزیشن کو بجواب سوال اوّل زیادہ واضح کر دینا ضروری جان کر پھر تکلیف دیتا ہوں تاکہ جناب کو مزید سہولت ہو۔ سو عرض ہے کہ میں جناب مرزا قادیانی کو مسیح ٤؎ اور مہدی موعود یقین کرتا ہوں اور اسی رنگ میں جس میں اسے آنا چاہئے تھا۔ میرا ایمان ہے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے اور آقائی مولائی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ قرآن کریم خاتم الکتب اور اسلام خاتم الادیان ہے۔ کوئی نبی کوئی کتاب اور کوئی دین ٥؎ نیا نہیں آسکتا۔ یہ تینوں ٦؎ سلسلے قیامت تک قائم ہیں مرزا قادیانی اسی نبوت کے بروز ٧؎ اسی کتاب اور اسی دین کے خادم ہیں۔ نبوت محمدیہ ﷺ کی صداقت کا ظہور اور ثبوت ہیں اور مجدد ہیں۔ ان معنوں میں کثرت مکالمہ الہیہ کے رنگ میں نبی ہیں اور مامور ہیں۔ غرضیکہ ختم نبوت کے لحاظ سے جس رنگ میں مسیح اور مہدی کا آنا جناب کے نزدیک مقرر ہے۔ اسی رنگ میں انہیں مانتا ہوں۔

نہیں۔ جب ان کی نبوت و رسالت کا منکر کافر ہے۔ پھر نبی ہونے میں کیا شک رہا۔

سوالات جوابات ۔

٤٤

صفحہ ٥١٧

رہا ان کے منکر کے متعلق میرے ایمان کا سوال تو مختصر یوں ہے کہ اگر منکر نے اظہار کفر کی وجہ سے جو مومن کی نسبت کیا جائے خود کفر نہیں کیا تو میں اسے کافر نہیں کہہ سکتا۔ اگر وہ مسلمان کہلاتا ہے بلکہ اور زیادہ واضح یوں ہو سکتا ہے کہ جو مسیح اور مہدی آپ کے نزدیک آنے والا ہے جو حال جناب اس کے منکر اور مکذب کا خیال فرمائے ہوئے ہیں۔ پس میرا اسی پر قیاس فرما لیجئے۔

دوسرا سوال ...... الہام کے متعلق التماس ہے کہ الفاظ الہام کو منجانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔ اس کی مراد شرح تفہیم کو ملہم کا اجتہاد مانتا ہوں۔

تصنیفات تالیفات کے متعلق گزارش ہے کہ اکثر دیکھ چکا ہوں بعض نہیں بھی پڑھیں مخالفت کی بھی اکثر کتابیں بشمول آپ کی کتاب کے پڑھ چکا ہوں اور زیادہ بھی مخالفت کی کتابیں اور مضامین میرے ادھر جانے کا سبب اللہ کریم نے بنائے ہیں۔

قوم کے متعلق پہلے بھی عرض کر چکا ہوں بہت سی دستاویزات اور پرانے کاغذات میرے پاس موجود ہیں پیش بھی کر سکتا ہوں۔ زیادہ نیاز۔

التماس ہے کہ براہ کرم کچھ تحریر فرمائیں تو مرزا قادیانی سے میرے تعلق کو ملحوظ رکھے نہایت ہی مشکور ہوں گا اور فیصلہ شدہ مسائل یا جن پر پہلے بہت کچھ لے دے ہو چکی ہو میرے خیال میں ان پر گفتگو بے لطف ہوگی۔

جناب نے نوازش نامہ میں مجھے السلام علیکم سے بھی مخاطب فرمانا جائز نہیں رکھا۔ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلحاظ جناب کی نیت کے اس میں کوئی معصیت ہے تو میں اپنی طرف سے آپ کو معاف کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ جناب کو معاف فرمائے۔ والسلام مع الاکرام ہاں میں انشاء اللہ تعالیٰ کل کو یہاں سے روانہ ہو کر ٢٨ تک شہر مگھیانہ ضلع جھنگ ٢٩ سے یکم تک خواجہ صاحب کے مکان پر لاہور اور پھر موگا پہنچوں گا۔ جہاں چاہیں ارشاد فرمائیں۔

(آپ کا غلام رسول)

خط نمبر ٣...... منجانب قاضی فضل احمد انسپکٹر

بسم اللہ الرحمن الرحیم والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم وآلہ واصحابہ اجمعین مخلصی مکرمی جناب میاں غلام رسول صاحب زاد شوقہ سلام مسنون عرض واجب کے بعد گزارش ہے کہ پہلے آپ کا نوازش نامہ بصورت پوسٹ کارڈ اور بعد اس کے آپ کا عنایت نامہ

٥

صفحہ ٥١٨

بہت خط بجواب نیاز نامہ موصول ہوا اور مشکور فرمایا، جس کے مطالعہ سے کہ صلاحیت کی بو آتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر ضد واصرار و ہٹ دھرمی درمیان میں نہ ہو اور احقاق حق اور راستی کی جستجو بہ نیت نیک بخاطر خالص لمرضات اللہ ہو تو خداوند کریم اس میں اصلاح کی برکت ڈال دیتا اور صراطِ مستقیم پر پہنچا دیتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ایسا ہی کرے۔ آمین

اب معافی کے بعد چند سوالات تمہیدی کی تکلیف دے کر ملتجی ہوں کہ براہ مہربانی جواب سے جلد مسرور فرمائیں:

مانتے ہیں یا ان میں سے بعض کو ۔ اگر بعض کو الہامی مانتے ہیں تو ان کے نام تحریر فرمائیں۔

درجہ قرآن شریف کے برابر ہے یا کم و بیش۔ اگر کم و بیش ہے تو کیوں؟۔

احادیث رسول اکرمﷺ کے برابر ہے۔ یا کچھ کم و بیش اگر کم و بیش ہے تو اس کی وجہ کیا ہے؟۔

کے معنی اور مراد وہی ہیں جو قرآن شریف میں بیان ہوئے ہیں یا ان کے مخالف یا موافق جو مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں۔

تساقطا ہو جائے گا یا نہیں اور ان میں کس الہام کو صحیح سمجھا جائے گا۔ اوّل کو یا آخر کو اس کی وجہ۔

تک معلوم نہ ہوئے ہوں۔

نہیں۔ اگر نہیں ہوئے تو آئندہ ہونگے یا نہیں۔

ہیں ۔ مثلاً حکیم نور الدین، مولوی عبدالکریم، مولوی محمد احسن امروہی، مرزا خدا بخش، محمد اسماعیل وغیرہم صاحبان کے ہیں وہ بھی قابل سند ہیں یا نہیں۔ دراں حالیکہ وہ تصانیف مرزا قادیانی کے ملاحظہ میں آ چکی ہوں اور مرزا قادیانی نے ان کو پسند فرمالیا ہو۔

٦

صفحہ ٥١٩

کس کی تحریر قابل سند سمجھی جائے گی۔

مکذب مسلمان ہوتا ہے یا کافر۔

کیا؟۔

کی کوئی نظیر یا مثال انبیاء علیہم السلام سابقین میں ہے یا نہیں۔

نہیں۔ (یہ جواب صحیح ہوگا کہ جو کچھ آپ جانتے ہیں وہی میں جانتا ہوں)

بہت جلد مشکور فرمائیں۔ تخفیف تکلیف والسلام علی من اتبع الہدیٰ!

مقام لدھیانہ ٢١ ذی الحجہ ١٣٢٧ہجری نیاز مند خاکسار! مطابق ٦ جنوری ١٩١٠ء فضل احمد عفا اللہ عنہ

خط نمبر ٣ ...... جواب خط منجانب غلام رسول انسپکٹر موگا

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم! مکرم و معظم بندہ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ نوازش نامہ آج ہی کی ڈاک میں اسی وقت ملا۔ مشکور فرمایا۔ جزاک اللہ! میں اور مجھ ٢؎ میں صلاحیت کی بو یہ آپ کا حسن ظن ہے میرا ایمان ہے کہ آپ کی نیت نیک ٣؎ ہے۔ بہر حال میں آپ کے واسطے دعا کرتا ہوں آپ میرے واسطے دعا فرماویں۔ میرے نزدیک یہ سب سے بہتر ہمدردی ہے۔ رہے سوالات کے جواب، عرض ہے کہ نہ میں عالم، نہ مولوی، نہ ملاں ہوں۔ بحث ان کا حصہ ہے، نا خواندہ اور اجڈ پولیس کا سپاہی ہوں۔ ہڈیاں گوشت پوست خون سب پولیس ہے اور وہ آپ جیسے متقی ذات والے انسپکٹر کی پولیس

١؎ بقول مرزائیاں۔ ٢؎ ”میں اور مجھ میں صلاحیت کی بو“ یہ آپ کا فرمانا صحیح نکلا۔ ٣؎ ”میرا ایمان ہے کہ آپ کی نیت نیک ہے“ واقعی یہ ایمان آپ کا صحیح ہے۔

صفحہ ٥٢٠

نہیں بلکہ وہ پولیس جو کہ بدنام ہے یہ تو ہے میرا القاء محض تعمیل ارشاد میں جو کچھ ٹوٹا پھوٹا جواب الفاظ میں میرے ایمانیات کا مجھے آ سکتا ہے عرض ہے۔

مرزا قادیانی نے الہام کہا ہے اسے الہام مانتا ہوں۔ باقی کو ان کی اپنی تصنیف یا جو کچھ وہ فی نفسہ ہو۔

کے برابر مانتا ہوں۔ ہاں دوسری صورت میں قرآن مجید قائم بالذات کتاب ہے اور قائم العمل قانون شریعت اور مرزا قادیانی کے الہامات مبشرات اور منذرات ہیں اس کتاب پاک کی تصدیق کے۔

ہے جو احمد اور غلام احمد کے درمیان ہے۔ توجیہ خود عیاں ہے۔

ہے بولیوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن مجید کسی خاص وقت اور خاص حال کا پابند نہیں میرے ایمان ١؎ میں اسی واسطے شان نزول اس کے متن میں محفوظ نہیں رہا۔ میرے نزدیک یہ کلمہ طیبہ توتی اکلھا کل حین ہے میرا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید کو ایسا سمجھا جو سمجھنے کا حق ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا جو معنی قرآن مجید کے اس نے کئے ہیں ٢؎ وہ صحیح ہیں اور جن آیات قرآنی کا اس پر نزول اور ورود ہوا ہے ان کے معنی وہی صحیح ہیں جو مہبط بیان کرتا ہے۔

میں تعارض کا نظر آنا میرے نزدیک آنکھوں کا قصور ہوتا ہے۔ قرآن مجید جیسے اتم اکمل بے مثل اور زندہ کتاب میں تعارض دیکھنے والی آنکھیں کیا دنیا میں کم ہیں۔ فاعتبر ویا اولوالابصار !

گا۔ یہاں بھی وہی متشابہات اور محکمات کا اہتمام ہے۔

١؎ مرزا قادیانی کا تو اس پر ایمان نہیں آپ کا ہو تو غنیمت ہے۔

٢؎ اگر یہ صحیح ہے تو مرزا قادیانی نے توفی کے معنی پوری نعمت دوں گا کئے ہیں اور اب موت کے معنی کئے جاتے ہیں صحیح معنوں کو چھوڑا جاتا ہے۔

٨

صفحہ ٥٢١

ہیں جو آئندہ پوری ہوں گی ۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

صاحب مخدوم ۔ مرزا خدا بخش صاحب محمد اسماعیل صاحب کو بڑے پایہ کے انسان اور باخدا بزرگ سچے مسلمان اور پاک نمونہ جانتا ہوں اور ان کا کلام اسی حد تک سند ہے۔

آپ کی خاطر سے مان بھی لوں تو مسیح مقدم السند ہوگا۔

کے معنی ہی انکار کرنیوالے کے ہیں۔

نوٹ : میرے خیال میں اس مسئلہ پر میں پہلے عریضہ میں اپنے اعتقاد کی کافی روشنی ڈال چکا ہوں۔

رکھنے سے پنساری ہو سکتا ہے۔ ایک چاول گرسنہ کو سیر نہیں کر سکتا اور ایک قطرہ پانی کا پیاسے کی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ ہر بشارت اور ہر انذار کا کوئی حق نبی یا رسول ہونے کا نہیں ہے۔

کفر سہیڑے تو مجبوری ہے مسلمان کو مسلمان ، کافر کو کافر کہوں گا۔

ہیں۔ کرشن اوتار۔ کلکی اوتار ۔ بروز محمد ﷺ ہیں۔ اور یہ سارے نام ایک ہی شخص کے اور سارے صفات ایک ہی موصوف کے ہیں۔

ہی شخص ہے یسوع میرا واقف نہیں ۔ تلک عشرۃ کاملۃ، جواب واپسی ڈاک عرض ہے۔ والسلام علی من اتبع الھدی ۔ کمترین غلام رسول تسلیم احمدی ۔

٩

صفحہ ٥٢٢

خط نمبر ٣

بسم الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ۔ ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی ذلک لمن خشی ربہ ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار!

منشاء تحریر

"ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا بالله علیہ توکلت والیہ انیب" میں سچ کہتا ہوں کہ میرا ارادہ سواء اصلاح باہمی کے اور کچھ نہیں اس کے لئے خداوند کریم کو ہی توفیق اور استطاعت ہے میں اسی پر بھروسہ اور رجوع کرتا ہوں۔

مکرمی و معظمی جناب مولوی غلام رسول صاحب!

بعدہ واجب مسنون آنکہ نوازش نامہ بجواب نیاز نامہ صادر ہوا۔ شکریہ ہے جزاک اللہ حسب ارشاد آپ کے میں بھی اسی طرح آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ خداوند کریم بطفیل حضرت رسول کریمﷺ صراط مستقیم کی توفیق عنایت فرمائے ۔ آمین ! ثم آمین!

آپ کا فرمانا کہ نہ میں عالم نہ مولوی نہ ملاں ہوں بحث ان کا حصہ ہے۔ جناب اگر یہ تحریر آپ کی کسر نفسی پر محمول نہیں تو مجھے افسوس سے کہنا ہوگا کہ آپ کی تحریری صداقت میں شبہ ہے۔ کیونکہ آپ کی معیارِ صداقت کے پہلے ہی ص پر آپ کا نام مولوی غلام رسول صاحب لکھا ہوا موجود ہے۔ پھر آپ کا انکار غیر صحیح اور بے سود ہے۔ اگر آپ کہیں کہ دوسرے نے لکھ دیا ہے جو اس کی ناواقفیت ہے۔ مگر ایسا ہونا آپ کی رضامندی کے سوا ذرا مشکل ہے۔ خیر

اب میں جناب کے نوازش نامہ جات اور معیارِ صداقت کو سامنے رکھ کر عرض کرتا ہوں اور چاہتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ میں بہت ہی اختصار کے ساتھ عرض کروں گا اور حتی الوسع مرزا قادیانی کی تحریرات ہی پیش کروں گا۔ خلیفۃ المسیح یا دیگر آپ کے مسلمہ عالم کی

١ ؎ ’’معیار صداقت‘‘ رسالہ معیار صداقت نوشتہ و مطبوعہ اگست ١٩٠٩ء بدر پریس قادیان آپ کا معرفت خان صاحب منشی محمد بہرام خان صاحب پنشنر انسپکٹر رئیس لدھیانہ جو میرے مہربان استاذی اور سلسلہ نقشبندیہ کے بھائی ہیں ملا تھا جس کا ذکر میں نے اپنے خط میں جو مولوی غلام رسول صاحب انسپکٹر کو لکھا تھا موجود ہے۔ اس کے فرمانے اور ارشاد کے مطابق خط و کتابت عمل میں آئی۔ انہوں نے اپنی نیک دلی اور محض اصلاح باہمی کی غرض سے فرمایا تھا ، جو بفضل خدا نیک اثر پیدا کرے۔ آمین!

صفحہ ٨٤٣

تحریرات میں نہایت خوش ہوں گا کہ آپ اس پر توجہ فرمائیں گے اور حسب تحریر آپ کے حتی الامکان میں پرانی بحثوں کی طرف نہیں جاؤں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

اس وقت تک تو آپ کا خیال ہے کہ میں حق پر ہوں اور میں کہتا ہوں کہ میں حق پر ہوں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم میں سے ایک ہی حق پر ہوگا۔ میں تو اسی حق پر ہوں جس پر تمام مسلمان حضرت رسول اکرم ﷺ سے لے کر اب تک چلے آئے ہیں اور آپ بھی ہمارے میں سے نکل کر ایک جدید عقائد کی طرف راجع ہوئے ہیں۔ میرا حق پر ہونا مسلمہ کافہ اسلام ہے۔ آپ کا حق پر ہونا مشتبہ اور مظنون ہے۔ تاہم ہر شخص کل حزب بما لديهم فرحون کے مصداق ہے۔

لہٰذا میں عرض کرتا ہوں:

سوال اول مندرجہ عریضہ اول

کیا آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو پیغمبر یا رسول یا نبی مان کر ان پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں اور ان کے منکر یا مکذب کو مسلمان یا مومن جانتے ہیں یا نہیں؟۔

جواب بذریعہ پوسٹ کارڈ

منذر مانتا ہوں۔ مامور یقین کرتا ہوں۔ منکر ان کا اگر مسلمان ہے تو مسلمان جانتا ہوں۔

جواب بذریعہ خط ثانی

میں جناب مرزا قادیانی کو مسیح اور مہدی موعود یقین کرتا ہوں اور اسی رنگ میں جس میں اسے آنا چاہئے تھا۔ میرا ایمان ہے کہ نبوت ختم ہو چکی ہے۔ کوئی نبی لے کوئی دین نیا نہیں آ سکتا۔ مرزا قادیانی اس نبوت کے بروز ہیں اور مجدد ہیں۔ ان معنوں میں کثرت مکالمہ الہیہ کے رنگ میں مسیح ہیں اور مہدی ہیں۔ ہاں ان کے منکر کے متعلق میرے ایمان کا سوال سو وہ مختصر یوں ہے کہ اگر منکر نے اظہار کفر کی وجہ سے جو مومن کی نسبت کیا جائے خود کفر نہیں سہیڑا میں اس کو کافر نہیں کہہ سکتا بلکہ اور زیادہ واضح یوں ہوسکتا ہے کہ جو مسیح اور مہدی آپ کے نزدیک آنے والا ہے جو خیال جناب اس کے منکر اور مکذب کا فرمائے ہوئے ہیں۔ پس میرا ایمان اسی پر قیاس فرما لیجئے۔

لے کوئی نبی ......... الخ ۔ بیشک کوئی نبی نیا نہیں آ سکتا۔ جیسے کہ مرزا قادیانی مدعی ہیں۔ ہاں! آپ کے قول کے مطابق پرانا نبی تو آئے گا۔ یعنی مسیح علیہ السلام ۔

١١

صفحہ ٥٢٤

تیسرے خط کا دسواں جواب متعلقہ

اس کا جواب ذرا مشکل ہے۔ مسلمان کو کافر کہنے میں میں ڈرتا ہوں۔ مگر وہ آپ کفر سمیٹے تو مجبوری ہے۔ مسلمان کو مسلمان کافر کو کافر کہوں گا۔

ہیں۔ کرشن اوتار ہیں۔ کلکی اوتار ہیں۔ بروز محمدﷺ ہیں۔ یہ سارے نام ایک ہی شخص کے اور سارے صفات ایک ہی موصوف کے ہیں۔

ہی شخص ہے۔ یسوع میرا واقف نہیں۔

اقول بالله التوفیق! جناب من مجھے آپ معاف فرمائیں گے۔ اگر میں پہلے ہی سے کہہ دوں کہ آپ نے کتب تصانیف مرزا قادیانی کا بالاستیعاب مطالعہ نہیں فرمایا۔ اگر آپ کی تحریر صحیح مان لوں کہ آپ نے تصانیف مرزا قادیانی کو پڑھا ہے تو میں یہ ضرور کہوں گا کہ آپ نے خوب غور سے بالاستیعاب نہیں پڑھا۔ جیسے کہ ابھی آپ کو معلوم ہو جائے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

ایک ہی سوال میں کیسے پیچ و پیچ کئے ہیں۔ پہلے تو آپ نے کہہ دیا کہ مرزا قادیانی کو میں نبی بروزی اور مبشر اور منذر جانتا ہوں اور اس کے منکر مسلمان کو مسلمان جانتا ہوں۔ پھر دوسرے خط میں لکھ دیا کہ میں مرزا قادیانی کو مسیح موعود یقین کرتا ہوں۔ ان کے منکر کا حال جو آپ خیال فرماتے ہیں میری طرف سے بھی وہی خیال فرما لیجئے۔ یعنی جیسے مسلمان لوگ ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام قرب قیامت کو آسمان پر سے نزول فرمائیں گے۔ اس کا انکار کرنا کفر ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی وہی مسیح ہیں۔ ان کا انکار بھی کفر ہے۔ لیکن تیسرے خط کے جواب میں آپ نے لکھ دیا کہ میں مسلمان کو کافر کہنے سے ڈرتا ہوں۔ مسلمان کو مسلمان اور کافر کو کافر کہوں گا۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ آپ مرزا قادیانی کو پورا نبی خیال نہیں فرماتے اور نہ وہی مسیح موعود تصور فرماتے ہیں۔ ورنہ فوراً کہہ دیتے کہ مرزا قادیانی کا منکر کافر ہے۔ جیسے کہ میں مرزا قادیانی اور ان کے علماء مسلمہ کے اقوال دکھلاؤں گا کہ جن میں صاف درج ہے کہ مرزا قادیانی نبی اور رسول ہیں۔ ان کا منکر کافر ہے۔ یہ جو کچھ آپ نے مرزا قادیانی کو مسیح ابن مریم، مثیل مسیح ، مسیح موعود، مہدی مسعود، کرشن اوتار، کلکی اوتار وغیرہ تسلیم کیا ہے اور اس پر ایمان لائے ہیں یہ تو مرزا قادیانی کی تحریرات کتب یا الہام ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ ایسا ایمان رکھتے

١٤

صفحہ ٥٢٥

ہیں اور اسی وجہ سے آپ مرزا قادیانی کے ان دعاوی پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن میں متعجب ہوں کہ جن دعوؤں کو مرزا قادیانی خود مشتبہ اور ظنی تصور کر کے انکار کر چکے ہوں اور ان پر ایمان لانے کی تاکید نہ کی ہو تو پھر آپ نے ان کو نظر انداز کیوں کر دیا۔ دو باتیں ہیں یا تو آپ نے ان دستاویزوں کو ملاحظہ نہیں فرمایا یا یہ کہ دانستہ اغماض کیا ہے۔ میں ان مقامات کو آپ کے روبرو پیش کرتا ہوں۔ آپ ذرہ غور فرمائیں:

یوں فرماتے ہیں کہ : ”میں نے یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا کہ میں مسیح بن مریم ہوں۔ جو شخص میرے پر یہ الزام لگاوے وہ سراسر مفتری اور کذاب ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

فرمائیے مرزا قادیانی آپ کے حق میں کیا فرما رہے ہیں؟

ہیں کہ: ”میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل مسیح ہونا میرے ہی پر ختم ہو گیا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔ یہی احادیث نبویہ سے نکلتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٩، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

فرماتے ہیں:

موعود خیال کر بیٹھے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

قرآن مجید اور حدیث میں خبر دی گئی ہے۔ کیونکہ براہین میں صاف طور پر اس بات کا تذکرہ کر دیا گیا تھا کہ یہ عاجز روحانی طور پر وہی موعود مسیح ہے جس کی اللہ اور رسول نے پہلے سے خبر دے رکھی ہے۔ ہاں اس بات سے اس وقت انکار نہیں ہوا اور نہ اب انکار ہے کہ شاید پیشگوئیوں کے ظاہری معنوں کے لحاظ سے کوئی اور مسیح موعود بھی آئندہ پیدا ہو۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٦١، خزائن ج ٣ ص ٢٣١)

بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ بھی صادق آسکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا درویشی اور غربت کے لباس میں آیا۔“

(ازالہ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)

صفحہ ٥٢٦

ہی خاتمہ ہوا ہے اور آئندہ کوئی مسیح نہیں آوے گا۔ بلکہ میں مانتا ہوں اور بار بار کہتا ہوں کہ ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح آسکتا ہے اور ممکن ہے کہ ظاہری جلال و اقبال کے ساتھ بھی آوے اور ممکن ہے کہ اوّل وہ دمشق میں ہی نازل ہو۔"

(ازالہ اوہام ص ٢٩٥، ٢٩٦ خزائن ج ٣ ص ٢٥١)

فرماتے ہیں:

مہدی نہیں ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥١٩ خزائن ج ٣ ص ٣٧٩)

(ازالہ اوہام ص ٥٢٥ خزائن ج ٣ ص ٣٨٤)

مہدی کی کیا ضرورت ہے۔"

(ازالہ اوہام ص ٥١٨ خزائن ج ٣ ص ٣٧٨)

آپ براہ مہربانی غور فرماویں کہ مرزا قادیانی جن باتوں کا انکار فرماتے ہیں آپ ان پر اصرار سے اقرار کر رہے ہیں۔

ببیں تفاوت راہ از کجا است تا بکجا

سارے نام ایک ہی شخص کے اور سارے صفات ایک ہی موصوف کے ہیں۔ میں کہتا ہوں مرزا قادیانی نے کرشن اوتار کا الہام سیالکوٹ والے لیکچر (ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨) میں کیا۔ کلکی اوتار ہونے کا کوئی دعویٰ دیکھا نہیں گیا۔ بروز محمدﷺ ہونے کا ایک اشتہار میں ضرور دعویٰ کیا ہے۔ لیکن کسی آیت یا حدیث یا اجماع امت یا کسی قول صوفیائے کرام سے آپ نے اس دعویٰ کی تصدیق پیش نہیں کی۔ نرا الہام مرزا قادیانی کا ماننے کے قابل نہیں۔ آن حالیکہ مرزا قادیانی کے الہامات میں شیطانی نزول کو بھی دخل ہو۔ جیسے کہ الزامات مرزا قادیانی پر مختصراً عرض ہوگا۔

ویدوں اور کرشن اوتار کی بابت مرزا قادیانی سرمہ چشم آریہ اور شحنہ حق میں بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ میں اس کو طول دینا نہیں چاہتا۔ نیز مہا بھارت کو دیکھ سکتے ہیں جو ہندوؤں کی نہایت معتبر تاریخ ہے۔ اس میں کرشن اوتار کے حالات مفصل تحریر ہیں۔ مرزا قادیانی

١٤٠

صفحہ ٥٢٧

اپنے (شحنہ حق ص ٦٩ ، خزائن ج ٢ ص ٣٩٥) میں یوں لکھتے ہیں ۔ ”تمہارا پرمیشر ایک دقیق جسم ہے جو دوسری روحوں کی طرح زمین پر گرتا اور ترکاریوں کی طرح کھایا جاتا ہے۔ تب ہی تو کبھی وہ رامچندر بنا کبھی کرشن اور کبھی کچھ اور ایک مرتبہ تو خوک یعنی سور ۔“

جس کرشن کی بابت پہلے ان لفظوں میں طریق وید اور پرمیشر اور کرشن کے لکھا جا چکا ہے۔ اب اسی کے اوتار ہونے کا دعویٰ بذریعہ الہام کیا جاتا ہے۔ جن ویدوں کو پہلے بہت بڑی طرح کاک بھاشا اور افترا پردازی کا مجموعہ لکھا تھا۔ پیغام صلح میں انہیں ویدوں کو کلام الٰہی مان لیا۔ پیغام صلح جو مرزا قادیانی کی آخری تحریر بیان کی جاتی ہے۔ اس میں بھی نہایت شبہ ہے۔ وہ ان کی تحریر نہیں ہے۔ بلکہ خواجہ کمال الدین کی ہے اس کے وجوہ بھی عرض کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ! کلکی اوتار کی بابت جہاں تک مجھے علم ہے مرزا قادیانی نے کہیں کچھ نہیں لکھا۔ یہ بات خود آپ نے اختراع کر لی ہے۔ بروز محمد ﷺ کی بابت جو آپ نے لکھا ہے اسی واسطے میں نے اپنے عریضہ کے سوال نہم میں لکھا تھا کہ بروز کے کیا معنی ہیں۔ مگر اس کا آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس لئے میں لغت سے نیز قرآن شریف سے بروز کے معنی پیش کرتا ہوں۔ اس پر غور فرمائیں کہ مرزا قادیانی بروز محمد ﷺ کس طرح ہو سکتے ہیں۔ بروز زبان عرب میں ظاہر ہونا اور باہر نکلنا ہے اور فارسی زبان میں بروز کپڑے کے سنجاف کو کہتے ہیں۔ بہرحال آپ کا اور مرزا قادیانی کا لفظ بروز زبان عرب سے مراد ہے تو گویا اس کے یہ معنی ہوئے کہ حضرت محمد ﷺ مرزا قادیانی بن کر ظاہر ہو گئے ہیں اور ان کے روح اور جسم دونوں یا صرف روح مرزا قادیانی ہیں۔ یہ محض غلط ہے۔ قرآن شریف کی آیات سے اس غلطی کی تردید صریح ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مضاجعهم (آل عمران:١٥٤)“

ان تمام چھ آیات کے معنی میں کلمہ بروز کا استعمال خداوند کریم نے قبروں سے مردوں

١٥

صفحہ ٥٢٨

کے نکلنے یا گھروں کے اندر سے یا کسی اوٹ میں سے باہر اور ظاہر ہو کر نکل آنے میں کیا ہے۔ بس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بروز اس کو کہتے ہیں جو جسم چھپ گیا ہو یا گھر کے اندر یا کسی اوٹ میں ہو گیا ہو۔ وہی جسم آشکارا ہو کے سامنے آ جائے۔ پس بروز محمدی کے یہ معنی ہوئے کہ خود حضرت رسول اکرم ﷺ مدینہ منورہ اپنے مرقد مقدس اور آرام گاہ پاک سے اٹھ بیٹھیں ۔ جس پر ہمارا ایمان ہے کہ یہ واقعہ نفخ صور کے بعد ہوگا اور مدینہ شریف میں ۔

نہایت افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو جس اشتہار ( ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١) مطبوعہ ٥ نومبر ١٩٠١ء میں اپنے نبی اور رسول ہونے کا بڑے زور سے دعویٰ ہے۔ اسی میں بروز کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس میں اس طرح درفشانی فرماتے ہیں جس کی کسی آیت یا حدیث سے تصدیق نہیں۔ وہو ھٰذا! ”ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آ جائیں۔ بلفظہ !“ یہ مسئلہ تناسخ کی تائید ہے جس کی پہلے تردید کر چکے ہوئے ہیں۔ البتہ مرزا قادیانی نے بروز کے معنی نبی اور اوتار کے کئے ہیں۔ وہ یہ ہے ان کا پرمیشر انسانی جسم میں اوتار ہو کر آیا کرتا تھا۔ جیسے رامچندر، کرشن جی، بلرام، نرسنگھ اوتار وغیرہ۔ تو اس سے بھی تناسخ کے مسئلہ کی تصدیق ہوتی ہے۔ حلول خداوند کریم جسم انسانی میں جائز رکھا گیا ہے۔ جو اسلام کے بالکل مخالف ہے۔ یہ اس واسطے مرزا قادیانی نے کرشن اوتار ہونے کا الہام سے دعویٰ کیا ہے۔ اور کرشن جی نے اپنی گیتا میں اس حلول اور تناسخ کو اس طرح پر لکھا ہے۔

سری بھگوانو واچ ہے ارجن میرے اور تیرے بہت جنم بتیت بھئے ہیں اور ابناشی ہوں اج بھو بھوتاں پرانیاں کا آتما ہوں ار ایشور ہوں ار پربھو ہوں میں تو ایسا ہوں جیسا کہا ہے اور اپنے مایا کے پیچھے ہو کر جنم لیتا ہوں مایا کا اولہا کیا ہے جیسے کوئی راجہ راج کا بھیس کو اتار کر کوئی اور بھیس کو کرے ۔۔۔۔۔۔۔ الخ ۔

بلفظہ پوتھی سری بھگوت گیتا مطبوعہ وکٹوریہ پریس لاہور ١٨٨٨ء ص ٦٠ یہی گیتا ہے جس کی نسبت مرزا قادیانی کا الہام ہے۔ ”کرشن رُدر گوپال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے۔“

(دیکھو لیکچر سیالکوٹ نومبر ١٩٠٤ء ص ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٩)

اسی گیتا کی عبارت اوپر درج کی گئی ہے جو مسئلہ تناسخ میں کامل ہے۔ الہام کے مطابق اسی گیتا میں مرزا قادیانی کی مہما تعریف لکھی ہوئی ہے۔ اب آپ اس گیتا کو ہاتھ میں لے کر پڑھیں ۔ جس سے صاف واضح ہو جائے گا کہ کرشن جی خود خدا ہیں ۔ ہمیشہ جنم کے ذریعہ سے انسانی

١٦

صفحہ ٥٢٩

جسم میں حلول کرتے آئے ہیں۔ ویسے ہی کرشن جی پرمیشر مرزا قادیانی میں حلول کر کے آئے تھے۔ مگر افسوس کسی ہندو نے قبول نہ کیا۔ قبول تو کیا بلکہ سخت درجہ کا انکار کر کے نفرت کی نگاہ سے دیکھا۔ مرنے کے بعد پیغام صلح بھی ہندوؤں کے لئے خواجہ کمال الدین وکیل نے ہندو لوگوں کے روبرو پیش کیا۔ مگر انہوں نے اس کو بلا پڑھے ردی کے ٹوکرے میں ڈال دیا۔

اس کے بعد مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ’’اب واضح ہو گیا کہ راجہ کرشن جیسا کہ میرے پر ظاہر کیا گیا درحقیقت ایک ایسا کامل انسان تھا جس کی کہ نظیر ہندوؤں کے کسی رشی یا اوتار میں نہیں پائی جاتی اور وہ اپنے وقت کا اوتار یا نبی تھا۔ جس پر خدا کی طرف سے روح القدس اترتا تھا۔ وہ خدا کی طرف سے فتح مند اور بااقبال تھا جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے صاف کیا وہ اپنے وقت کا درحقیقت نبی تھا۔ جس کی تعلیم کو پیچھے سے بہت باتوں میں بگاڑ دیا تھا۔ خدا کا وعدہ ١؎ تھا کہ آخری زمانہ میں اس کا بروز یعنی اوتار پیدا کرے۔ سو یہ وعدہ میرے ظہور سے پورا ہوا۔

(لیکچر سیالکوٹ ٢ نومبر ١٩٠٤ء ص ٣٣، ٣٤، خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨، ٢٢٩)

اس کے خلاف دیکھو مرزا قادیانی کا (شحنہ حق ص ٢٩، خزائن ج ٢ ص ٣٩٥) نہایت افسوس کی بات ہے کبھی تو کرشن جی اور ویدوں اور پرمیشر کی توہین کرتے ہیں اور پھر وہی کرشن بھی بنتے ہیں؎

میں آپ کے خلیفۃ المسیح کی تحریر جو بروز کے بارہ میں ہے پیش کرتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مرزا جی اس صدی کے مجدد ہیں اور مجدد اپنے زمانہ کا مہدی اور اپنے زمانہ کے شدت مرض میں مبتلا مریضوں کا مسیح ہوا کرتا ہے۔ اور یہ امر بالکل تمثیلی ہے۔ جیسے مرزا جی اپنے الہامی رباعی میں ارقام فرما چکے ہیں۔

رباعی

کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے ۔ جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا، حاذق
طبیب پاتے ہیں تم سے یہی لقب ۔ خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا۔

(خط نورالدین ص ١٤، ملحقہ ازالہ، خزائن ج ٣ ص ٢٤٣)

اس تحریر سے پایا گیا کہ مرزا جی کو صرف تمثیلی طور پر مسیح کہتے ہیں۔ جیسے حکیم کو حاذق اور مسیح بول دیتے ہیں۔ اسی طرح خلیفۃ المسیح میاں نورالدین نے ایک شخص نیم مرزائی محمد عثمان کے

١؎ خدا کا وعدہ......الخ۔ کہاں ہے۔ قرآن شریف یا کسی حدیث قدسی کا حوالہ دیجئے۔

١٧

صفحہ ٥٣٠

سوالات کے جوابات میں حکیم فضل الدین کی طرف سے بروز کی اصلیت وحقیقت لکھوا کر بھیجی۔ وہ اس طرح پر ہے۔ و ھو ھذا! ”پانچواں آپ کم سے کم کسی طب کی کتاب مطبوعہ کو دیکھو۔ اس کے ٹائٹل پر لکھا ہوگا۔ من تصنیف بقراط زمان سقراط دوران افلاطون اوان۔ وغیرہ وغیرہ! کیا یہ بھی بہتوں کا بروز ہے یا نہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ لفظ بروز کی اصلیت معلوم نہیں ۔ ورنہ آپ کو اس قدر گراں نہ گزرتا۔ بروزی نام ایک شخص کا خطاب یا لقب ہوتا ہے جو اس کے بعض اوصاف کے سبب دیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک شخص پہلوان بھی ہے۔ سخی بھی ہے۔ تو اس کو شیر بھی کہیں گے اور حاتم بھی ۔ اگر آپ ناموں پر غور کریں تو دو دو تین تین بزرگوں کے نام ایک ایک نام میں پائیں گے۔ جیسے آپ کا نام آپ کے والدین نے بطور تفاؤل رکھا۔ اس میں دو نام جمع کئے ہیں ۔ یا جیسے مرزا قادیانی کا نام بحیثیت تردید مذہب نصاریٰ و کسر صلیب مسیح اور بحیثیت رفع فساد اندرونی مہدی اور بلحاظ ہدایت اہل ہنود کرشن اللہ تعالیٰ نے رکھ دیا ہے۔“

(الحکم مورخہ ٣١ جنوری ١٩٠٦ء ص ٩ کالم ٤)

یہ اصلیت بروز کی مرزا قادیانی اور ان کے خلیفہ نورالدین حکیم وفضل الدین وغیرہ نے بیان کی ہے۔ باوجود اختلافات مابین زمان ماضی وحال مستقبل آپ کے غور کے قابل ہے اور ایسے بروزی نبی روز مرہ ہوتے رہتے ہیں۔ اور سینکڑوں موجود ہیں جن کے اقرار اور انکار پر کوئی خوبی یا گرفت نہیں۔ کیونکہ بہت سے لوگ ایسے مثیل ہوئے ہیں۔ مثلاً مولانا مولوی رحمت اللہ صاحب علیہ الرحمۃ مہاجر مکی جنہوں نے سب سے پہلے تردید نصاریٰ پر قلم اٹھایا اور ہجرت کرنے پر مجبوری ہوئی ۔ علاوہ ان کے بہت سے علما نے اس وقت بھی اس کام کو کیا ہے۔ ان کو کسی نے بروزی نبی یا مبشر یا منذر نہیں مانا۔ رفع فسادات اندرونی کی بھی خوب کہی۔ مرزا قادیانی کی ہستی سے فسادات کا دروازہ ایسا کھلا کہ ایک روز بھی امن نہ ہوا اور بغاوت بڑھتی گئی ۔ مہدی کا لقب بھی ان کے لئے موزوں نہیں۔ اہل ہنود کو ہدایت کرنا مرزا جی کا بھی اظہر من الشمس ہے۔ صرف کرشن جی مہاراج کا الہام کر کے خاموش ہورہے ۔ حتیٰ کہ ایک ہندو کو بھی مسلمان بنانے میں کامیابی حاصل نہ ہوئی ۔ بلکہ ان کے سامنے عبدالغفور مسلمان کو ہندو آریہ بنا کر اپنی ہدایت رسانی اور مہدی لقب پر مہر لگا دی ۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ذرا تامل اور غور سے اگر توجہ فرمائیں گے تو آپ کو حقیقت کھل جائے گی ۔ معاف فرماویں عریضہ مجبوراً طویل ہوتا جاتا ہے۔

ایک ہی موصوف کے ہیں۔

١٨

صفحہ ٥٣١

مولوی صاحب! آپ کی یہ بھی زبردستی ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مہدی خلیفۃ اللہ، امام آخر الزمان، کرشن اوتار، کلکی اوتار، سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مرزا قادیانی غلام احمد۔ ایک ہی شخص کے نام کس طرح ہو سکتے ہیں۔ کوئی بھی ذی عقل اس بات کو نہیں مان سکتا اور سب کے صفات بھی ایک نہیں ہو سکتے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام بے باپ پیدا ہوئے۔ باقی سب کے والد تھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام بے نکاح بے اولاد تھے۔ باقی سب نکاح دار با اولاد تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اکرم ﷺ تذکرہ قرآن شریف میں ہے۔ باقی کا کوئی ذکر نہیں۔

راجہ کرشن نے اپنے ماموں کنس کو بے گناہ قتل کیا اور خدائی کا دعویٰ کیا۔ مرزا قادیانی پر بھی کسی آریہ کے قتل کا شبہ ہو کر خانہ تلاشی ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہدایت ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسری گال بھی اس کی طرف کر دی جائے۔ آنحضرت ﷺ باوجود سخت درشت کفار کی اذیت کے زبان سے بھی برا نہ فرمایا۔ مرزا قادیانی ہیں کہ فوراً غصہ میں آکر ہزار ہا لعنتیں اور گالیاں نکالتے ہیں اور عدالتوں میں حاضر کئے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت رسول اکرم ﷺ نے کسی کے حق میں بددعا اور لعنت نہیں کی۔ لیکن مرزا قادیانی نے تمام مخالفین کو سخت فحش گالیاں دیں اور لعنتوں کے طومار ایک سے لے کر ہزار تک لعنتیں گن گن کر ادا کیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت رسول کریم ﷺ نے دنیا کو ملعون سمجھ کر ترک کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ ایک وقت کے کھانے کے لئے سامان یا رسد جمع نہ کی۔ کوئی مکان عالیشان نہ بنوایا۔ عورتوں کے لئے زیور کا خیال نہ فرمایا۔ مرزا قادیانی ہیں کہ دنیا میں ایسے محو، کہ سوائے روپیہ جمع کرنے کے کوئی ذکر ہی نہیں۔ مکانات بنوائے گئے۔ ہزار ہا روپیہ کا زیور بیوی کے لئے تیار کروایا گیا۔ یہاں تک کہ مرنے سے دو چار دن پیشتر لاہور میں تین ہزار کا زیور تیار ہوا تھا۔ مگر یار لوگوں کے حوالے ۔ مریدوں کو چندہ نہ دینے کی سزا یہ کہ نام رجسٹر بیعت سے خارج کیا جائے گا۔

پھر افسوس ہے آپ کہتے ہیں کہ سب کے اوصاف ایک ہی ہیں یا سب کا موصوف ایک شخص مرزا جی ہیں۔ آپ ہی مہربانی کر کے فرمادیجئے ۔ ہاں ! پیغمبران علیہم السلام کے اوصاف اور اخلاق ایک ہو سکتے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کے اوصاف میں سے ایک بھی مطابق نہیں۔ اگر شمار کروں عریضہ طویل ہو جائے گا۔ خود ہی غور اور ملاحظہ فرما لیجئے کہ جن امور کا آپ اقرار کرتے ہیں مرزا قادیانی ان کا سخت انکار کرتے ہیں۔ بلکہ مفتری اور کم فہم کذاب وغیرہ الفاظ اقرار کرنے والے کے حق میں فرماتے ہیں۔ شاید آپ کوئی تاویل کریں۔ مگر منصف مزاج کے خیال میں تاویل کی گنجائش نہیں۔

١٩

صفحہ ٥٣٢

ے........ پھر آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام، مسیح علیہ السلام کو تو جانتا ہوں اور ایمان رکھتا ہوں کہ ایک ہی شخص ہے۔ یسوع میرا واقف نہیں۔

اس جگہ میں پھر یہ بات کہنے پر مجبور ہوا ہوں کہ آپ نے دانستہ انکار کیا ہے کہ یسوع میرا واقف نہیں۔ کیا آپ نے رسالہ انجام آتھم نہیں دیکھا جس میں مرزا قادیانی نے یسوع علیہ السلام کو پانی پی پی کر فحش گالیاں دیں۔ نقل کفر کفر نہ باشد۔ چور شیطان کے پیچھے چلنے والا۔ شیطان کا ملہم۔ تین دادیاں نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان جدی مناسبت سے تھا۔ وغیرہ وغیرہ!

(دیکھو ضمیمہ انجام آتھم ص ٣ سے ٧ تک)

فرمائیے! یہی وہ یسوع علیہ السلام ہیں جن کی بابت مرزا قادیانی درفشانی فرماتے ہیں یا کوئی اور یہ پھر آپ فرماتے ہیں کہ یسوع میرا واقف نہیں۔ افسوس! انہیں باتوں پر آپ فرماتے ہیں کہ مخالفین کی تحریریں اور مخالفت کی کتابیں اور مضامین میرے ادھر لے جانے کا سبب اللہ کریم نے بنائے ہیں۔ لازم یہ تھا کہ مخالفت کی کتب اور مضامین پر غور کیا جاتا۔ نہ کہ ضد میں آ کر الٹی کاروائی کی جاتی۔

فرمائیے! اب بھی آپ یسوع علیہ السلام سے واقف ہوئے ہیں یا نہیں۔ اچھا مزید واقفیت کے لئے مرزا قادیانی کی الہامی کتابوں کو پیش کرتا ہوں:

الف........ ”دہم: بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اس وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے۔ وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

(مرزا جی کی الہامی کتاب توضیح مرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)

ب........ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو یسوع اور جیزس یا یوز آسف کے نام سے بھی مشہور ہیں۔“

(مرزا قادیانی کی کتاب راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١)

فرمائیے مولوی صاحب! یہ کتنا بڑا اندھیر ہے اور دن کے وقت سورج کا انکار ہے۔ باوجود اس کے کہ مرزا قادیانی کی الہامی کتابوں میں درج ہے کہ یسوع علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام (ایک ہی ہیں) بلکہ جیزس بھی وہی ہیں۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ یسوع میرا واقف نہیں۔ اسی وجہ سے میں نے سوال کیا تھا کہ آپ نے مرزا قادیانی کی کل تصانیف کا مطالعہ کیا ہوا ہے یا نہیں۔ تو اس کے جواب میں آپ نے پوسٹ کارڈ میں فرمایا کہ: ”حضرت صاحب کی تقریباً جملہ تصانیف کا

٢٠

صفحہ ٥٣٣

مطالعہ کیا ہوا ہے اور خط میں یہ جواب دیا کہ تصانیف وتالیف کے متعلق گزارش ہے کہ اکثر دیکھ چکا ہوں۔ بعض نہیں بھی پڑھی۔ مخالفت کی بھی اکثر بشمول آپ کی کتاب کے پڑھ چکا ہوں۔‘‘

اب فرمائیے! ایسا فرمانا آپ کا صحیح ہے؟ ۔ ہرگز نہیں۔ اس سے بھی معلوم ہو گیا کہ آپ نے میری کتاب کو بھی نہیں پڑھا۔ جیسے اکثر مرزائی صاحبان مخالفین کی کتابوں کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے ہیں۔ میں اس واسطے کہتا ہوں کہ آپ نے میری کتاب کو پڑھ چکنا بھی خلاف واقع تحریر فرمایا ہے۔ کیونکہ اگر آپ نے میری کتاب کو بھی مطالعہ فرمایا ہوتا تو آپ ہرگز نہ کہتے کہ یسوع میرا واقف نہیں۔ کیونکہ میری کتاب تقریباً یسوع علیہ السلام کے نام و تذکرے سے پر ہے۔ چنانچہ ص٦٦ سے لے کر ٧٢ تک خاص یسوع علیہ السلام کے نام کی بحث مفصل ہے۔ پھر ص ١٠٥ پر ذکر ہے۔ پھر مجھے نہایت افسوس ہوگا کہ میں یہ کہوں آپ نے صریح کذب کا عمداً استعمال کیا کہ یسوع میرا واقف نہیں۔

یہاں قابل غور اور توجہ یہ بات ہے کہ یہ یسوع علیہ السلام وہی ہیں جن کو مرزا قادیانی نے فحش گالیاں دی ہیں اور یہ بہانہ کیا ہے کہ قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی باعث سے آپ نے بھی لکھ دیا کہ یسوع میرا واقف نہیں۔ جن کو مرزا قادیانی اپنی الہامی کتابوں میں حضرت مسیح اور عیسیٰ علیہ السلام لکھ چکے ہیں۔ پھر کشمیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کے ثبوت بنانے میں ایسی مجبوری ہوئی کہ یوز آسف اور جیسس کو یسوع عیسیٰ علیہ السلام لکھ دیا۔ مگر یہ خیال نہ آیا کہ ہم یسوع علیہ السلام کو کیسی گندی گالیاں دے چکے ہیں اور ان کا بھی قرآن میں کوئی ذکر نہیں۔ حالانکہ یوز آصف ایک جداگانہ شخص ہیں جن کی سوانح عمری مطبوعہ حیدرآباد وغیرہ موجود ہیں۔

فرمائیے! باوجود ایسے یقینی اور قطعی علم کے یسوع علیہ السلام کو فحش گالیاں یعنی ماں، بہن، دادیاں، نانیاں کی گالیاں دینا بقا ایمان واسلام پیغمبری ونبوت بروز محمدﷺ وغیرہ آپ کے ایمان کے نزدیک قرآن شریف واحادیث شریف سے ثابت ہے؟۔ دراصل ایمان ......الایمان بین الخوف والرجاء ہے۔ خداوند کریم ہر ایک مسلمان کو نصیب کرے۔ آمین۔ ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشٰی!

ہاں! میں نے عرض کیا تھا کہ مرزا قادیانی کے نبی یا رسول اللہ ہونے کی بابت پھر عرض کروں گا۔ جیسے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں حضرت مرزا قادیانی کو محض کثرت مکالمہ کے رنگ میں نبی بروزی، مبشر، منذر مانتا ہوں۔ مامور یقین کرتا ہوں۔ منکر ان کا اگر مسلمان ہے تو مسلمان جانتا ہوں۔ بروزی نبی کی بابت عرض کر چکا ہوں کہ قرآنی آیات کے حوالہ سے ایسا خیال کرنا ہی

٢١

صفحہ ٥٣٤

غلط ہے۔ یہ کسی جگہ اور کسی حدیث میں نہیں آیا کہ کثرت مکالمہ مزعومہ سے کوئی آدمی نبی بروزی بن جاتا ہے۔ اگر کوئی ایسا ہوا ہے تو آپ پیش کریں۔ ہاں! مبشر اور منذر نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ لیکن بروزی نہیں اور مبشر منذر کا منکر بلاشک کافر ہے۔ اس میں تو آپ نے اجتماع الضدین کردیا ہے کہ بروزی نبی بھی ہیں اور مبشر اور منذر بھی ہیں۔ لیکن ان کا منکر کافر نہیں۔ جب آپ مبشر اور منذر مرزا قادیانی کو مانتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی نبی اور رسول کیوں نہیں۔ صرف بروزی نبی کیوں ہیں۔ قرآن شریف میں جا بجا مبشر اور منذر رسول علیہ السلام ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ جیسے:

﴿پس بھیجا اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو مبشر اور منذر بنا کر۔﴾

السلام) کو مبشرین ومنذرین بنا کر بھیجا۔﴾

﴿ہر رسول مبشر اور منذر ہی ہوتا ہے۔﴾

﴿ہم نے آپ کو مبشر اور منذر کر کے ہی بھیجا ہے۔﴾

پس قرآن شریف سے بخوبی ثابت ہوا کہ مبشر اور منذر رسل علیہم السلام ہی ہوتے ہیں۔ سوا ان کے اور کوئی مبشر اور منذر نہیں ہو سکتا۔ اندریں صورت مبشر اور منذر کا منکر فی الواقع کافر ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ آپ مبشر اور منذر بھی مانتے اور منکر ان کا پھر بھی مسلمان ہی رہتا ہے۔ آگے چلئے آپ خود مرزا قادیانی کو اپنی معیار صداقت میں نبی اور رسول مان چکے ہیں۔ انبیاء سابق علیہم الصلوٰۃ والسلام کے دعاوی اور ثبوت دعاوی کے نشانات کو ایک طرف اور لوگوں کے انکار اور استہزا کے حالات دوسری طرف سنا کرتے تھے۔ تو ان لوگوں پر تعجب آتا تھا اور دل میں سو سو ابال اٹھتا تھا کہ یا الٰہی وہ کس قسم کے مزاجوں اور دماغوں کے انسان تھے۔ جو ایسے ایسے عظیم الشان راست بازوں کے دعاوی کا اور ایسی ایسی آیات بینات سے اعراض کرتے تھے اور جب قرآن کریم میں آیا:۔

"يا حسرة على العباد وما ياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزؤن (يسین:٣٠)"

٢٢

صفحہ ٥٣٥

او مجنون (الذاريات:٥٢)“

اس تحریر اور آیات بالا کے لکھنے سے آپ کی مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی رسول ہیں اور نبی ہیں۔ ان پر لوگ استہزاء کرتے ہیں۔ اسی طرح پہلے نبی اور رسولوں کے ساتھ کیا کرتے تھے اور ان کو ساحر اور مجنون کہتے تھے اور ان کے حکم سے اعراض کرتے تھے۔ اسی طرح سے مرزا قادیانی کو بھی کہا گیا۔ پھر دوسری جگہ آپ نے لکھا ہے کہ: ”اس زمانہ میں وبائیں، مصیبتیں، قحط، طاعون، بخار، زلزلہ، سیلاب، آتش زدگیاں، ریلوے حادثات وغیرہ مرزا قادیانی کے انکار کے سبب دنیا میں ہیں۔ کیونکہ وہ نبی اور رسول ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

”وما ارسلنا فى قريه من نبى الا اخذنا اهلها بالباساء ٠ ماكنا معذبين حتى نبعث رسولا وما كان ربك مهلك القرى حتى نبعث فى امها رسولاً“

(آپ کی معیار صداقت ص ٥)

ان تمام تحریری باتوں سے آپ کی مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی نبی اور رسول ہیں۔ جن کے نہ ماننے کی وجہ سے ایسے مصائب نازل ہوئے ہیں۔

تیسری جگہ آپ نے لکھا ہے: ”اور بہتیرے بدقسمت ہوتے ہیں جو مامور کے خلاف وما منع الناس ان یؤمنوا اذا جاء ھم الھدی ...... ابعث الله بشرا رسولاً ص٨ یہاں آپ کی مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی رسول ہیں اور بدقسمت لوگ ان پر ایمان نہیں لاتے۔ پس تمام آپ کی معیار صداقت میں مرزا قادیانی کو نبی اور رسول بڑے زور شور سے ثابت کیا ہے اور ان پر ایمان لانے کی تاکید اور وعید تحریر فرمائی ہے اور آیات کو جو کافروں کے حق میں نازل ہوئی ہیں درج فرمایا ہے۔ پھر آپ کہتے ہیں کہ میں ان کو بروزی نبی مانتا ہوں اور جو مسلمان ان کا منکر یا مکذب ہے اس کو مسلمان ہی جانتا ہوں اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی رسول اور نبی نہیں۔ بلکہ میں ان کو مسیح موعود جانتا ہوں۔ یہ کیا تماشہ کی بات ہے کہ میرے عریضہ کے جواب میں مرزا قادیانی کو نبی بروزی جس کا قرآن شریف اور احادیث شریف میں کوئی ذکر نہیں مانتے ہیں اور اپنے مضمون معیار صداقت میں بڑے زور سے رسول اور نبی تحریر فرماتے ہیں اور ان کے نہ ماننے والوں کے حق میں وہ آیات دلیل میں پیش کرتے ہیں جو کفار اور منکران انبیاء و رسول علیہم السلام کے حق میں وارد ہوئی ہیں۔ ان اجتماع الضدین کو کوئی ذی عقل تو تسلیم نہیں کرسکتا۔ آپ ہی براہ مہربانی اس کا حل فرمادیں گے۔

٤٣

صفحہ ٥٣٦

دعویٰ نبوت و رسالت

اب میں مرزا قادیانی کے ان چند دستاویزات کو پیش کرتا ہوں ۔ جن میں انہوں نے دعویٰ نبوت ورسالت کر کے اپنے منکروں کو کافر قرار دیا ہے ۔ وہ یہ ہیں:

واقع ہوا ہے۔“

(الہامی کتاب براہین احمدیہ ص ٥٤٦ حاشیہ نمبر ٢، خزائن ج ١ ص ٦٥٢)

نہیں ہوتا بغیر انبیاء کی طرح مامور ہوتا ہے اور انکار کرنے والا مستوجب سزا ہوتا ہے ۔“

(توضیح مرام ص ١٨ خزائن ج ٣ ص ٦٠)

خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ یہ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اس کا دشمن جہنمی ہے۔“

(انجام آتھم ص ٦٢ ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ص ٤٨، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

(انجام آتھم ٥٨ ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

مجھے قبول کرتا ہے وہ خدا کو قبول کرتا ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٣٦، خزائن ج ١١ ص ٣٢٠)

(اے مرسل من اللہ)

(اشتہار معیار الاخیار ص ٢، ٣ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)

اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے ۔“

(معیار الاخیار ص ٨ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)

حرام ہے کہ کسی مکذب یا مکفر یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو ۔“ (اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)

پہچانو اور میری اطاعت کرو۔ گناہوں کی موت مت مرو ۔“ (خطبہ الہامیہ ص ٧٠ ، خزائن ج ١٦ ص ایضاً)

٤٤

مجھ سے کفر کیا اور جنہوں نے

جو میری مخالفت کرتا ہے یا میرا انکار ک

(مرزا قادیانی کی تحریر بنام پیر مہر ع

عذابوں کے آنے کی خبر دے رہا ہے

(اشتہار انذار

مسیحا کو مسیحائی کا

نہیں لاتی اس کی جڑ کاٹی گئی ۔“

دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے ق ہے۔“

مریدین مرزا قادیانی کی تح

اسم او اسم مبارک ابن مر شر کے آرد شئے درشان

مانے گا وہ جاہلیت کی موت ( کا

صفحہ ٥٣٧

مجھ سے کفر کیا اور جنہوں نے حسد چھوڑ دیا اور مجھ پر ایمان لے آئے ان کے لئے برکتیں ہیں۔‘‘

(خطبہ الہامیہ ص٧٩، خزائن ج١٦ ص ایضاً)

جو میری مخالفت کرتا ہے یا میرا انکار کرتا ہے۔

(مرزا قادیانی کی تحریر بنام پیر مہر علی شاہ گولڑوی مورخہ ٢٠؍ جولائی ١٩٠٠ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٣٣١)

عذابوں کے آنے کی خبر دے رہا ہے۔ پس سوچو اور ایمان لاؤ تا کہ نجات پاؤ۔‘‘

(اشتہار النداء من وحی السماء ١٨؍ اپریل ١٩٠٥ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٣٠ حاشیہ)

مسیحا کو جو مانے اس کو وہ مومن سمجھتا تھا
مسیحائی کا منکر شخص نزدیک اس کے کافر تھا

(الحکم نمبر ١ ج١٠ مورخہ ١٠؍ جنوری ١٩٠٦ء اور بدر ج٢ نمبر ١٠، ٦؍ مارچ ١٩٠٦ء)

نہیں لاتی اس کی جڑ کاٹی گئی۔‘‘

(بدر نمبر ٣ ج ٢، ١٩؍ جنوری ١٩٠٦ء، تذکرہ ص٥٩٠)

دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔‘‘

(مرزا قادیانی کا خط ڈاکٹر عبدالحکیم تذکرہ ص٦٠٧)

مریدین مرزا قادیانی کی تحریرات تائید دعویٰ نبوت میں

اسم او اسم مبارک ابن مریم مے نہند آں غلام احمد است و میرزائے قادیاں
گر کسے آرد شکے در شانِ او کافر است جائے او باشد جہنم بیشک و ریب و گماں

(الحکم ١٠؍ جنوری ١٨٩٩ء ص٣ کالم٢)

مانے گا وہ جاہلیت کی موت (کافر ہو کر) مرے گا۔‘‘

(الحکم ٧؍ اگست ١٨٩٩ء خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین کا خط)

٢٥

صفحہ ٥٣٨

طرف سے خلقت کے لئے رحمت اور برکت ہے۔ ہاں جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو نہ مانے گا وہ جہنم میں اوندھا گرے گا۔“

(الحکم ١٢ اکتوبر ١٨٩٩ء ص ٦ ، ٧)

ہے منشور ...... نہ مانا جس نے اسے اپنا پیشوا اور امام ...... گیا وہ دونوں جہاں سے مرا بکفر کفور حضرت اقدس کا الہام نص صریح ہے اور نص صریح کا منکر کافر ہے۔

(الحکم ٢٤ نومبر ١٨٩٩ء ص ٥)

خارج از امت ہے۔“

(نقشہ الہامات سید امیر علی شاہ ملہم الحکم ٣ مارچ ١٩٠٠ء ص ٦)

اللہ فرمایا ہے اور حضرت مرزا قادیانی وہی نبی اللہ ہیں نبی کا مکذب کافر ہوتا ہے۔“

(الحکم ٣١ جنوری ١٩٠٢ء ص ١١)

مسیح موعود نہ ماننے والے کو کافر ماننا چاہئے ...... تمہید کے بعد میں اصل مطلب پر آتا ہوں کہ ہمارے مخالفین کافر ہیں یا نہیں۔ ...... خدا تعالیٰ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا شرائط اسلام میں داخل ہے ...... حضرت مرزا قادیانی بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ایک رسول ہیں۔ جو خدا کے رسولوں میں سے ایک کا انکار کرتا ہے۔ اس کا حشر کیا ہوگا۔“ (یعنی کافر دوزخی ہے)

(اخبار بدر ٩ مارچ ١٩٠٢ء ص ٧)

کرتے اپنے قلم کو روکتے ہوئے بھی اس قدر لکھا گیا۔ اس کو کافی سے بھی زیادہ سمجھ کر بس کرتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو رسول نبی برحق لکھتے ہیں اور الہامات بڑے زور سے درج کرتے ہیں اور اپنے منکر، مکذب، متردد وغیرہ تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں اور جہنم ان کا ٹھکانا فرماتے اور اسی طرح تمام مرزائی بڑے زور سے ہم مسلمانوں کو کافر اور دوزخی اپنی تحریرات میں قرار دیتے ہیں اور حکم خداوند کریم کا جو قرآن شریف میں حضرت رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔ اس کا انکار صریح کیا گیا ہے۔ اگرچہ آپ نے کچھ مہربانی کر کے (برخلاف مرزا قادیانی اور تمام حوارین) ہم کو کافر اور جہنمی نہیں فرمایا۔ لیکن مرزا قادیانی و دیگر مرزائیان نے اپنے الہامات و دستاویزات میں ہم سب مسلمانان عرب و عجم کو جو مرزا قادیانی کے ادعا کا انکار

٢٦

صفحہ ٥٣٩

کرتے ہیں یا تکذیب کرتے ہیں یا صرف متردد ہیں۔ بڑے زور سے کافر، مرتد، جہنمی خارج از امت اسلام سے خارج ، لعنتی ، جڑ کٹے اور جاہلیت کی موت مرنے والے وغیرہ لکھ دیا ہے۔

امید ہے آپ اس پر غور فرمائیں گے۔ یہ وہی باتیں ہیں جنہوں نے ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ کو پھر اسلام میں داخل کیا جو بہت بڑا حامی مرزا قادیانی کا تھا۔ یہاں پر نہایت تعجب اور پھر تعجب آپ کی توجہ کے قابل یہ بات ہے کہ پہلے تو مرزا قادیانی ابن مریم مسیح موعود مہدی مسعود وغیرہ القابات حاصل کرنے سے سخت زور سے انکار کر کے کہتے تھے کہ میں نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے یا روحانی مسیح ہونے کا دعویٰ ہے۔ مسیح موعود یا مہدی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ جو شخص ایسا کہے وہ مفتری اور کذاب کم فہم شخص ہے۔ یا یہ کہ خود ہی مسیح ابن مریم، مسیح موعود مہدی مسعود نبی رسول ، سب کچھ بن کر اپنے منکروں مکذبوں مترددوں کو کافر لعنتی، جہنمی وغیرہ فرما دیا۔ ان باتوں کی فلاسفی آپ ہی سمجھیں۔ خواہ خلل دماغ تصور فرمائیں یا ..... حافظ نباشد کہیں۔

ہاں خالصاً للہ اگر اپنے دل سے تعصب کو دور کر کے غور فرمائیں گے تو آپ کو یہ راز منکشف ہو جائے گا۔ خدا کے لئے یہ نہ تحریر فرمائیں کہ مخالف تحریروں نے ہی مجھے ادھر جانے کی تحریک کی تھی۔ میں اپنے سچے ایمان سے کہتا ہوں کہ میرا ارادہ محض اصلاح کا ہے۔ خداوند کریم علیم بذات الصدور ہے۔ ان ارید الاالاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ!

دوسرا سوال

کیا آپ مرزا قادیانی کے کل الہامات کو قطعی اور یقینی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانتے ہیں یا ان میں سے بعض کو ۔

جواب بذریعہ پوسٹ کارڈ۔ حضرت صاحب کے کل الہامات کو منجانب اللہ قطعی اور یقینی جانتا ہوں۔

جواب بذریعہ خط ۔ دوسرے سوال الہام کے متعلق التماس ہے کہ الفاظ الہام کو منجانب اللہ یقین رکھتا ہوں۔ اس کی مراد شرح تفہیم کو ملہم کا اجتہاد مانتا ہوں۔

اقول باللہ التوفیق۔ اس سوال کے جواب میں آپ نے ظاہر اور ثابت کیا ہے کہ جو الہامات مرزا قادیانی کو ہوئے تھے۔ وہ منجانب اللہ تعالیٰ قطعی اور یقینی تھے اور ان پر ایمان لانا ایسا ہی ہے جیسے قرآن شریف پر ۔ لیکن مسلمان لوگ اس کے خلاف ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک قرآن شریف لاریب کلام الہی ہے اور وہ قطعی اور یقینی ہے اور وہ عین الیقین کے درجہ پر ہے جس کی معیار

٢٧

صفحہ ٥٤٠

اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام پاک میں اس طرح فرمائی ہے: ”ولو کان من عند غیر اللہ لوجد وا فیہ اختلافا کثیرا (نساء:٨٢)“ دوم: جو نشانات یا معجزات اور پیشگوئیاں رسول اکرم ﷺ کے ذریعہ سے قرآن شریف میں مسلمانوں کو پہنچے ہیں۔ ان کا انکار کافر اور ظالم لوگ کرتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وما یجحد بایتنا الا الظلمون (العنکبوت:٤٩)“ اسی معیار پر مرزا قادیانی کے الہامات کو رکھ کر دیکھنا چاہئے۔ اگر ان میں اختلافات نہیں ہیں اور وہ سچے بھی ہوئے ہیں اور ان کی وجہ سے کچھ ہدایت اور رشد بھی پایا گیا ہے تو خدا کی طرف سے یا خدا کی طرف منسوب ہو سکتے ہیں یا ہو سکیں گے۔ اگر ایسا نہیں تو بس شیطانی نزول سمجھا جائے گا۔ کیونکہ قرآن شریف میں موجود ہے کہ شیطانی نزول بھی ان کے اپنے دوستوں پر ہوا کرتا ہے اور اکثر مفتری اور اثیم لوگوں پر نزول شیطانی ہوتا رہتا ہے۔ اس بارہ میں مرزا قادیانی کو اپنا اقرار جو امل آف گولیگی نے ١٤؍فروری ١٩٠٧ء کو شائع کیا ۔ وہ اس طرح پر ہے۔ و ہواہذا: ”ازاں بعد میں نے عرض کیا کہ ایک نوجوان احمدی یہ الہامات سناتا ہے۔ رؤیا میں خادمت نے مجھے سجدہ کیا ۔ بہشت کی سیر کرائی اور الہام ہوا۔ انا النذیر المبین فرمایا کہ یہ بڑے ابتلاء کا مقام ہے۔ میرا مذہب یہ ہے کہ جب تک درخشاں نشان اس کے ساتھ بار بار نہ لگائے جاویں تب تک الہام کا نام لینا بھی سخت گناہ اور حرام ہے۔ پھر یہ بھی دیکھنا ہے کہ قرآن مجید اور میرے الہامات کے خلاف تو نہیں۔ اگر ہے تو یقیناً خدا کا نہیں بلکہ شیطانی القاء ہے۔ اصل میں ایسے تمام لوگوں کی نسبت میرا تجربہ ہے کہ انجام کار ہلاک ہوتے ہیں۔“ اب میں مرزا قادیانی کے دو چار الہامات کو بطور نمونہ آپ کی غور کے لئے پیش کرتا ہوں: اوّل ...... سب سے پہلے ١٨٦٤ء میں مرزا قادیانی کو الہام ہوا۔ رؤیا صادقہ کتاب براہین احمدیہ کی بابت ہوا کہ یہ کتاب حضرت رسول اکرم ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک میوہ بن گئی اور قاش قاش کیا گیا تو اس میں سے بہت شہد نکلا۔ یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ کے ہاتھ مرفق تک بھر گئے۔ میں نے دریافت پر کہا کہ اس کتاب کا نام قطبی ہے۔ یعنی قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے۔ وغیرہ وغیرہ!

(دیکھو براہین احمدیہ ص ٢٤٨، حاشیہ در حاشیہ خزائن ج ١ ص ٢٧٧)

حاشیہ:...... اس وجہ اور الہام کے یقینی ہونے پر دس ہزار روپیہ انعام کا اشتہار دیا کہ جو شخص اس کتاب کا جواب دے یا غلط ثابت کرے تو اس کو یہ انعام دیا جائے گا۔

مرزا جی کہتے ہیں کہ کوئی بہشت نہیں پھر احمدی نے سیر کہاں کی کی؟۔ ٢٨

پھر اس کتاب الہامی براہِ سے اسلام کی حقانیت ثابت کی گئی ۔ ہے اور یوں لکھا ہے : ”یہ کتاب مرتب ہے ایک

اس کے اس الہام مندرج برخلاف براہین احمدیہ رکھ دیں۔ وہ کتا اس میں ایک اشتہار چار فصل ایک خاتم اب آپ براہین احمدیہ ال گا کہ اس میں صرف ایک اشتہار ایک فصلیں اور ایک خاتمہ ندارد ہیں اور ا عقلیہ دلائل ہیں اور نہ تین سو جز کی ک فرمائیے! کیا یہ کتاب الہام خدا کی طرف سے تھا؟ ۔ میں سے نہیں۔ آگے چلئے۔ دوئم ....... مرزا قادیان رسوله بالهدى ۔ الایہ لم پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین سے ظہور میں آئے گا اور جب حضر کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق

دوسرا الہام ....... ”عس نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر ا کر دیں گے اور کج اور ناراست ک سے نیست و نابود کر دے گا۔“ اس کے بعد باوجود ا

صفحہ ٥٤١

پھر اس کتاب الہامی براہین احمدیہ کی بابت لکھا کہ تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے اسلام کی حقانیت ثابت کی گئی ہے اور اسی وجہ سے انعامی اشتہار انگریزی و اردو میں دیا گیا ہے اور یوں لکھا ہے:

”یہ کتاب مرتب ہے ایک اشتہار اور ایک مقدمہ اور چار فصل اور ایک خاتمہ پر۔“

(کتاب براہین احمدیہ ص ١٦، خزائن ج ١ ص ٢٤)

اس کے اس الہام مندرجہ بالا میں جو کتاب دکھلائی گئی۔ اگرچہ اس کا نام قطبی تھا اور برخلاف براہین احمدیہ رکھ دیا۔ وہ کتاب تین سو جز کی ضخامت اور تین سو مضبوط اور قوی عقلیہ دلائل اس میں ایک اشتہار چار فصل ایک خاتمہ درج تھے۔

اب آپ براہین احمدیہ الہامی کو اپنے ہاتھ میں لے کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس میں صرف ایک اشتہار ایک مقدمہ، ایک فصل، ایک باب نامکمل موجود ہیں۔ لیکن تین فصلیں اور ایک خاتمہ ندارد ہیں اور ایک باب تھوڑا سا بلا الہام ہی لکھ دیا ہے۔ نہ تو تین سو مضبوط عقلیہ دلائل ہیں اور نہ تین سو جز کی کتاب ہے۔ بلکہ صرف ساڑھے پینتیس جز کی کتاب ہے۔

فرمائیے! کیا یہ کتاب مطابق الہام کے ہے ہرگز نہیں! پھر آپ ہی غور فرماویں یہ الہام خدا کی طرف سے تھا؟۔ میں کہتا ہوں اور ہر شخص غیر متعصب بھی کہے گا کہ خدا کی طرف سے نہیں۔ آگے چلئے۔

دوئم ...... مرزا قادیانی کی الہامی کتاب میں الہام ہے: "هو الذي ارسل رسوله بالهدى . الایہ ! یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح (علیہ السلام) کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣ حاشیہ در حاشیہ )

دوسرا الہام ..... "عسی ربکم ان یرحم علیکم . الایہ ! حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کردے گا۔“

(براہین احمدیہ حاشیہ نمبر ٣ ص ٥٠٥، خزائن ج ١ ص ٦٠١ )

اس کے بعد باوجود ایسی تحدی الہام قطعی اور یقینی کے انہیں الہاموں کے ساتھ حضرت

٢٩

صفحہ ٥٤٢

مسیح علیہ السلام کی وفات بیان کر کے خود مسیح بن بیٹھے۔ دیکھو تمام کتب مؤلفہ مرزا قادیانی و دیگر تمام مرزائی احمدیان کہ مسیح علیہ السلام مر چکے۔ اب وہ نہیں آئیں گے۔ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔

اب فرمائیے مرزا قادیانی کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل گیا ہے۔ دین اسلام کا غلبہ جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر مرزا قادیانی نے کر دیا ہے۔ کسی کج اور ناراست کا نام ونشان بھی دنیا پر نہیں رہا۔ تمام گمراہان کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ نہایت جلال اور جلالیت کو مرزا قادیانی کام میں لے آئے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ حاشا و کلا تناقضات الہام پر غور فرمائیے۔ کیا خدائی الہامات ایسے ہی ہونے چاہئیں۔ آگے چلئے:

سوئم ...... مرزا قادیانی کو ١٨٨٦ء میں الہام ہوا کہ ”تیرے گھر میں لڑکا پیدا ہوگا۔ لڑکا کیا ہوگا وہ مظہر الحق والعلی کان اللہ نزل من السماء وہ لڑکا مظہر حق ہوگا۔ گویا خود اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نزول کیا ہے ...... بادشاہان تیرے کپڑوں سے برکت پائیں گے ۔“ (حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩) وغیرہ وغیرہ۔ لیکن افسوس اس حمل سے لڑکی پیدا ہوئی۔ جب لوگوں نے اعتراض کئے تو فوراً کہہ دیا کہ میں نے کب کہا تھا کہ اسی حمل سے لڑکا پیدا ہوگا۔ اس کے بعد لڑکا پیدا ہوا اور اشتہارات دیئے گئے کہ وہ لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔ عقیقہ وغیرہ کی رسم بڑی تعلی اور تحدی سے ادا کی گئی۔ لیکن افسوس کہ وہ لڑکا صرف ٦ ماہ کی عمر پا کر ملک بقاء کو روانہ ہو گیا اور اب تک وہ لڑکا نہ پیدا ہوا۔ حتی کہ مرزا قادیانی بھی سدھار گئے۔

دوبارہ پھر الہام ہوا کہ ”میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوگا۔ لیکن افسوس خلاف الہام لڑکی پیدا ہوئی۔“

سہ بارہ الہام ہوا کہ میرے گھر میں شوخ وشنگ ١؎ لڑکا پیدا ہوگا۔ مگر افسوس پھر خلاف اس کے لڑکی ٢؎ ہی پیدا ہوئی۔

چہار بارہ الہام ہوا کہ میرے گھر میں عالم کباب لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے پیدا ہونے پر بتمام دنیا کباب ہو جائے گی۔ مگر افسوس اس کے خلاف پھر لڑکی پیدا ہوئی۔

اس کے بعد پنج بارہ الہام ہوا کہ پانچواں لڑکا پیدا ہوگا۔ مگر افسوس پھر بھی اس کے خلاف لڑکی ہی پیدا ہوئی۔

(مواہب الرحمٰن ص ١٣٩، خزائن ج ١٩ص ٣٦٠)

١؎ الحکم ١٧ مئی ١٩٠٤ء ص ٥ کالم ٣ ٢؎ ٢٤ جون ١٩٠٤ء کی رات کو اعلیٰ حضرت حجۃ اللہ ...... منکوحہ معلیٰ میں دختر نیک اختر پیدا ہوئیں۔ الحکم ٢٤ جون ١٩٠٤ء ص ٧ کالم اول

٣٠

صفحہ ٥٤٣

شش بار پھر الہام ہوا کہ مبارک احمد فوت شدہ کی جگہ ایک اور لڑکا پیدا ہوگا۔ دیکھو اشتہار مرزا قادیانی مورخہ ٥ نومبر ١٩٠٧ء ۔ مگر نہایت افسوس کہ مرزا قادیانی اس اشتہار کے ٦ ماہ بعد ہی سفر کر گئے اور آئندہ تمام ایسے الہاموں کا خاتمہ کر کے اپنے خدائی الہاموں پر مہر لگا گئے ۔ اللہ ، اللہ تحدی !

مولوی صاحب ! ذرا مہربانی فرما کر ان الہامات پر غور فرما کر کہیئے کہ خدائی الہامات ایسے ہی ہوا کرتے ہیں ۔ لیجئے ۔ آگے چلئے :

چہارم ...... ١٨٩٠ء میں مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ مرزا احمد بیگ کی دختر کلاں کے ساتھ ان کا نکاح آسمان پر پڑھا گیا ہے ۔ اس الہامی اشتہار کے دیکھنے سے مرزا احمد بیگ کو رنج ہوا اور اس نے انکار کر کے لڑکی کا نکاح مرزا سلطان محمد کے ساتھ بمقام پٹی ضلع لاہور کر دیا۔ ناراضگی میں طلاق اور عاق لے کی نوبت پہنچی ۔ پھر مرزا قادیانی کو الہام ہوا کہ اڑھائی سال میں مرزا احمد بیگ اور اس کا داماد سلطان محمد دونوں مرجائیں گے اور پھر بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی ۔ یہ خدا کی باتیں ہیں جو آسمان پر قرار پا چکی ہیں ۔ جو زمین پر سچی ہو کر رہیں گی ۔ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر یہ الہام نہیں ٹلے گا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے اس الہام کے پورا ہونے پر بہت تعلی سے یہ لکھا ۔ وهو ھذا!

”یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جز ( مرزا سلطان محمد کا مرنا ) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسانی افتراء نہیں ۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں ۔ یقیناً سمجھو کہ خدا کا سچا وعدہ ہے ۔ وہی خدا جس کی باتیں ٹلتی نہیں ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

فرمائیے ! یہ خدائی الہام ہیں؟ ۔ ہرگز نہیں ۔ مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم دختر کلاں مرزا احمد بیگ سے ہو گیا یا اب بھی کچھ امید ہے؟ ۔ مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق جو قطعی اور یقینی ہے بد سے بدتر کون ہوا؟ ۔ احمق کون اور خبیث مفتری کون ہوا؟ ۔ آپ خود ہی غور فرمائیں اور لیجئے آگے چلئے :

پنجم...... مرزا قادیانی کا الہام مندرجہ ازالہ اوہام کہ میری عمر اسی سال کی ہے ۔ اس

لے یعنی مرزا قادیانی نے اپنی بہو اور بیٹے کے ساتھ یہ برتاؤ کیا ۔ دیکھو حضرت کے اصل خطوط ..... کلمہ فضل رحمانی

٣١

صفحہ ٥٤٤

کے بعد الہام ایک صاحب ٢؎ ثقہ کے فرمانے سے پچانوے سال کی عمر ہوئی ۔ لیکن برخلاف ١؎ ہر دو الہاموں کے مرزا قادیانی صرف ستاٹھ سال کی عمر میں ہلاک ہو کر راہی ہو گئے ۔ فرمائیے ! یہ الہام خدائی ہیں ؟۔ آگے چلئے:

ششم...... مرزا قادیانی کا الہام کہ ”مجھ کو دکھلایا گیا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے پاس مدینہ منورہ میں ہماری قبر ہو گی۔“

(دیکھو ازالہ اوہام ص ٨١١، خزائن ج ٣ ص ٤٥٢)

پھر الہام ہوا کہ: ”ہم مدینے میں مریں گے یا ٣؎ مکہ میں ۔“

(تذکرہ ص ٥٩١، اخبار بدر ج ٢ نمبر ٣ جنوری ١٩٠٦ء)

اس کے بعد تیسری دفعہ الہام ہوا کہ: ”تین جگہ پر مجھ کو میری قبر کا نشان دیا گیا۔ لیکن کسی جگہ کا نام نہیں لکھا ۔“

(دیکھو مرزا قادیانی کی الوصیت ص ٥، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦)

فرمائیے ! الہامات خدائی ہیں اور ان الہامات کے مطابق مرزا قادیانی کی قبر کہاں ہوئی ؟۔ آپ کا اختیار ہے کہ ان الہامات کو خدا کی طرف سے سمجھیں ۔ آگے چلئے

ہفتم...... مرزا قادیانی کی ایک بڑی تعلی اور تحدی الہام کے ذریعہ سے یوں ہے:

”حضرت اقدس (مرزا قادیانی) نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر آپ کے مخالفین اس قدر دعا کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدہ میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور اکثر گریہ و زاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے۔ یا مالیخولیا ہو جاوے تو بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی۔ کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں ۔ جو شخص میرے پر بد دعاء کرے گا ۔ وہ بددعا اسی پر پڑے گی۔“

(اخبار بدر نمبر ١٠، ج ٢ ص ٥ کالم ٣، ٩ مارچ ١٩٠٦ء)

١؎ اخبار الحکم ١٧۔٢٤ دسمبر ١٩٠٣ء ص ١٥ کالم اول

٢؎ مرزا جی کو پچانوے سال کے علاوہ پانچ سال کی عمر اپنی مولوی سید امیر علی ساکن حیدر آباد دکن نے کاٹکر مرزا جی کو دیدی تھی اس حساب سے سو سال کی عمر ہونی چاہئے

(ازالہ اوہام ص ٩٤٥، خزائن ج ٣ ص ٦٢٢)

٣؎ رباعی ۔ آسمانی کہئے منکوحہ کا شوہر کون ہے ؟۔ مر گیا جو دل میں یہ اندوہ لے کر کون ہے۔ کون احمق اور خبیث و مفتری جھوٹا ہے؟ ۔ کون اپنے ہی اقرار سے اب بد سے بدتر کون ہے؟۔ کب ہوا اس کا سن اور کب ہوا پچانوے مر گیا ستاٹھ ہی میں جو بے خبر ۔ پھر کون ہے نہ تو مکے میں مرا اور نہ مدینے میں گڑا تھا جو مرا لاہور میں کذاب منکر کون ہے؟۔

٣٢

صفحہ ٥٤٥

مولوی صاحب! خدا کے لئے غور فرمائیے مرزا قادیانی کی دعائیں کہاں ہیں۔ اپنی عمر کے الہام کیا ہوئے۔ اس سے یہ بھی صاف ظاہر ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی خدا کی طرف سے نہیں آئے تھے۔ آگے آئے:

درخواست کی کہ مجھے ایک لاکھ فوج دی جائے۔ حکم ہوا کہ ایک لاکھ فوج نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیئے جائیں گے ۔“

(دیکھو ازالۃ اوہام کا حاشیہ ص ٩٧، ٩٨،خزائن ج ٣ ص ١٤٩)

اب اس الہام کے برخلاف مرزا قادیانی مرزائیوں نے لکھا ہے کہ ہماری جماعت چار لاکھ ہے۔ دیکھو پیغام صلح آخری تحریر مرزا قادیانی وخوجہ کمال الدین پلیڈر جب پانچ ہزار سپاہی الہام کے رو سے منظور ہوا ۔ تو اب چار لاکھ کیسے؟۔ پہلے درخواست ہی ایک لاکھ کی تھی۔ جواب الہام کے خلاف چار لاکھ کی جمعیت بیان کی جاتی ہے۔ آپ یا تو الہام کو سچا کہیں یا دوسری تحریرات کو۔ آگے چلئے:

اشتہار تبصرہ مورخہ ٥ نومبر ١٩٠٧ء اپنے انتقال سے چھ ماہ پیشتر بڑے زور سے اپنے مخالفین ڈاکٹر عبدالحکیم خان ومولوی ثناء اللہ وغیرہ کے برخلاف شائع کیا ہے اور جس میں اپنی جماعت کو نہایت تاکید کی ہے کہ اس اشتہار کو میری جماعت اپنی نظر گاہ میں چسپاں اور تمام اپنے بچوں اور عورتوں کو اس سے آگاہ کرے کہ وہ جانی دشمن جڑ سے کاٹے جائیں گے اور ان کا نام ونشان نہ رہے گا۔ وہ الہام اس طرح پر ہے:

جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ ان سب کو جھوٹا کروں گا۔ تیری عمر بڑھا دوں گا اور دشمن جو تیری موت چاہتا ہے۔ وہ خود تیری آنکھوں کے روبرو اصحاب الفیل کی

١؎ اس سے پہلے کے دو الہام حسب ذیل ہیں:

العادة !

(الحکم ٧؍ اپریل ١٩٠١ء ص ١٣ کالم ٢)

وہ امور دکھلائیں گے جو مخالفوں کی نسبت ہمارا وعدہ ہے اور تیری عمر زیادہ کریں گے۔

(اخبار بدر ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء ص ٣ کالم ١)

٣٣

صفحہ ٥٤٦

طرح نابود اور تباہ ہو گا۔

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩١)

ب....... اسی اشتہار میں الہام ہے کہ ”مبارک احمد میرا لڑکا جو فوت ہوگیا ہے اس کی جگہ ایک دوسرا لڑکا نعم البدل دیا جائے گا۔ تاکہ دشمن یہ نہ کہے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا اور یہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا۔ بلکہ وہ زندہ ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٨٧)

ج....... پھر اسی اشتہار میں تیسرا الہام یہ ہے کہ ”اس ملک میں ایک سخت طاعون آنے والی ہے اور دوسرے ممالک میں بھی جس کی نظیر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ وہ لوگوں کو دیوانوں کی طرح کر دے گی۔ اس سال میں یا آئندہ سال۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٩٢)

اب آپ غور فرمائیں کہ یہ الہامات مندرجہ اشتہار تبصرہ جو سخت تاکیدی ہیں یا تھے صحیح ہوئے یا غلط؟۔ مرزا قادیانی کے دشمن مرے یا خود مرزا قادیانی؟۔ مرزا قادیانی کی عمر خدا نے بڑھا دی یا گھٹا دی؟۔ اصحاب فیل کی طرح کون نابود ہو گیا؟۔ مبارک احمد کی جگہ کونسا لڑکا پیدا ہوا ( نوبت ہی نہ آئی ) آئندہ بھی کوئی امید نہ رہی۔ اس ملک یا دیگر ممالک میں کونسی طاعون ایسی پڑی جس کی نظیر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی؟۔ بلکہ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد بہت ہی کم ہو گئی اور وہ آتش اور کیڑا ہی نہیں رہا۔ وہ سال بھی گزر گیا۔ یعنی ١٩٠٧ء اور دو سال اور بھی گزر گئے۔ ١٩٠٨ء اور ١٩٠٩ء مگر طاعون ندارد۔ یہ ہیں خدا کے الہامات اور امداد غیبی؟۔ لیجئے آگے چلئے:

دہم....... بہت سے الہامات مرزا قادیانی کے زبان انگریزی، عبرانی وغیرہ میں ہیں جن کو مرزا قادیانی خود نہیں جانتے۔ یہ بات حکم خداوندی قرآن شریف و ما ارسلنا من الرسول الا بلسان قومہ کے برخلاف ہے۔ کرشن جی مہاراج کے اوتار مرزا قادیانی بذریعہ الہام بنے ہیں۔ لیکن زبان سنسکرت میں آج تک کوئی الہام نہیں ہوا۔ اس کا باعث بھی آپ فرمائیں گے؟۔ اچھا آگے چلئے:

یازدہم....... مرزا قادیانی کا الہام (براہین احمدیہ ص٥٥٣، خزائن ج١ ص٦٦٢) ربنا عاج یعنی ہمارا رب عاجی ہے۔ (اس کے معنے اب تک معلوم نہیں ہوئے ۔ ) فرمائیے! یہ بین الہام ہے اور تمام کلام الہیٰ کے مخالف۔ یعنی قرآن شریف میں: الحمدللہ رب العالمین . ربنا الله . الله ربنا و ربکم . ان الله ربی وربکم . ان الله هو ربی وربكم ! غرضیکہ تمام قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کو رب فرمایا اور اللہ ہی تبارک وتعالیٰ سب کا رب ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا الہام صریح ہے کہ ہمارا رب عاجی ہے۔ پھر اس پر تعجب یہ ہے کہ اس رب عاجی کے معنی بھی معلوم نہیں ہوئے۔ مرزا قادیانی کا انتقال بھی ہو گیا مگر

٣٤

صفحہ ٥٤٧

اپنے رب کا پتہ نہیں ١؎ لگا۔ اتنا بڑا اہم الہام وہ بھی خلاف قرآن شریف اور مشتبہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے نہیں تھے۔ بلکہ ان کے رب عاجی کی طرف سے جس کی بحث بسط کے ساتھ میری کتاب میں درج ہے۔ اندریں حالات ہم مسلمانوں کے اعتقاد میں مرزا قادیانی کا ایک الہام بھی صحیح نہیں ہوا۔ آگے آئیے:

دوازدہم...... مرزا قادیانی کا الہام کہ ”مولوی محمد حسین بٹالوی میرے پر ایمان لے آئیں گے ۔"

(اعجاز احمدی ص ٥١، خزائن ج ١٩ ص ١٦٣)

مگر مولوی صاحب ویسے کے ویسے ہیں۔ آگے چلئے:

سیزدہم...... مرزا قادیانی کا الہام مولوی محمد حسین کی نسبت الکلب یموت علی الکلب کہ کلب کے اعداد ٥٢ ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مولوی صاحب ٥٢ سال کی عمر پا کر فوت ہو جائیں گے۔ حالانکہ وہ اس وقت تک تقریباً ٩٠ سال کی عمر میں زندہ موجود ہیں۔ فرمائیے یہ الہام خدا کی طرف سے ہے۔ لیجئے آگے چلئے:

چہاردہم...... مرزا قادیانی کا الہام لك خطاب العزة ! تم کو عزت کا خطاب دیا جائے گا۔ یہ الہام اس وقت ہوا تھا جب کہ مرزا قادیانی نے تحفہ قیصریہ لکھ کر بحضور ملکہ وکٹوریہ شہنشاہ ہند بھیجا تھا اور خیال تھا کہ وہاں سے کوئی خطاب ملے گا۔ مگر افسوس کوئی خطاب نہ ملا۔ نہ مسیحائی نہ کرشنی۔ آگے چلئے:

پانزدہم...... مرزا قادیانی کا الہام شاتان تذبحان ۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلے کہا کہ یہ الہام مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد کی نسبت ہے۔ یہ ہر دو شریر بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ لیکن جب یہ الہام ان پر صادق نہ آیا تو عبدالرحمان اور عبداللطیف دو کابلیوں پر کہ یہ دو غریب بکریاں کابل میں ذبح ہوئیں۔ اس لئے کہ انہوں نے مرزائی اعتقاد کو تسلیم کر لیا تھا۔ (دیکھو مرزا قادیانی کی ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧، خزائن ج ١١ص ٣٤١، تذکرۃ الشہادتین ص ٧٠، خزائن ج ٢٠ ص ٧٢)

شانزدہم...... فرمائیے! یہ خدائی الہام ہے۔ اچھا آگے چلئے۔ ایک اور الہام مرزا قادیانی کا جو واقع کے بالکل خلاف ہے۔ مرزا قادیانی ازالہ اوہام میں بطور لطیفہ کے لکھتے ہیں ۔ لطیفہ: ”چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الآیات بعد المائتین ہے۔ ایک یہ بھی منشا ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا

١؎ ایک الہام ”ایلی آوس“ بھی بقول خود مشتبہ رہا اور نہ اس کے کچھ معنی کھلے۔

(براہین ص ٥١٣ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٦١٣)

٣٥

صفحہ ٥٤٨

اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھو یہی مسیح ہے جو تیرھویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے یہی تاریخ ہم نے مقرر کر رکھی اور وہ یہ نام ہے۔ غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیاں میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔“

(ازالہ ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٨٩، ١٩٠)

مولوی صاحب ذرا خیال فرمائیے کہ یہ الہام کیسی تحدی کا ہے؟ کہ تمام دنیا میں کوئی غلام احمد قادیانی نہیں اور یہ الہام میرے مسیح ہونے پر دلیل ہے۔ کیا مرزا قادیانی نے تمام دنیا کو دیکھ لیا تھا؟ نہیں۔ بلکہ الہام کو قطعی اور یقینی جان کر اور اعداد کے پورا ہونے پر یہ الہام شائع کر دیا۔ آپ نے میری کتاب کلمہ فضل رحمانی کو نہیں دیکھا۔ اس پر میں نے اس بحث کو لکھ کر بتلایا ہے کہ یہ کوئی دلیل نہیں کہ تیرہ سو کسی کے نام کے اعداد پورا ہونے سے مسیح موعود بن جائے۔ تاہم میں نے اس میں لکھا تھا کہ ایک قادیان گاؤں لدھیانہ سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔ وہاں بھی ایک شخص غلام احمد گوجر موجود ہے۔ وہ بھی غلام احمد قادیانی ہے۔ اس صورت میں یہ غلط ہے کہ تمام دنیا میں بجز مرزا قادیانی کے کوئی غلام احمد قادیانی نہیں ہے۔ لیکن علاوہ اس کے خاص ضلع گورداسپور میں ہی دو گاؤں قادیان اور بھی علاوہ گاؤں قادیاں زاد بوم مرزا قادیانی کے آباد ہیں۔ ایک تھانہ گورداسپور میں متصل قصبہ دورانگلہ اور دوسرا قادیاں تھانہ ڈیرہ نانک میں ۔ دریافت سے پایا گیا کہ ایک شخص غلام احمد ذات قریشی جو زیادہ مستحق امامت ہے۔ قادیاں متصل دورانگلہ تھانہ گورداسپور میں اس وقت بھی موجود ہے اور مرزا قادیانی کا ہم عمر۔ نہایت افسوس کی بات ہے مرزا قادیانی نے اپنے الہامی دعویٰ پر تحدی کے ساتھ لکھ دیا کہ تمام دنیا میں بجز مرزا قادیانی کے کوئی غلام احمد قادیانی نہیں ہے؟۔ کوئی شبہ نہیں کہ جو کسی گاؤں میں رہتا ہوگا۔ وہ ضرور غلام احمد قادیانی ہی ہوگا۔ فرمائیے یہ الہام خدا کی طرف سے ہے۔ جو واقعات سے بھی غلط ہے۔ ہرگز نہیں۔

خاکسار راقم ! مرزا قادیانی کے الہام بالا پر غور کرتا ہوا قرآن شریف پڑھ رہا تھا جب آیت ذیل: هل انبئكم على من تنزل الشياطين . تنزل على كل افاك اثيم . يلقون السمع و اكثرهم كاذبون ! پر پہنچا اور القا الہی سے غور کرنا شروع کی۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ آیات مرزا قادیانی کے متعلق ہیں۔ تب میں نے مرزا قادیانی کی براہین احمدیہ کو نکال کر دیکھا تو ان آیات کو اس کے (ص ٥٢٢ خزائن ج ٢١ ص ٤٣٦) میں لکھا ہوا پایا۔ ان ٣٦

صفحہ ٥٤٩

آیات کا ترجمہ میں اپنی طرف سے نہیں کرتا ہوں۔ بلکہ مرزا قادیانی کا ہی ترجمہ کیا ہوا آپ کے مزید اطمینان کے لئے لکھ دیتا ہوں۔ جو انہوں نے اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ کے ص ٢٢٢ میں کیا ہے۔ وہو ہذا!

’’کیا میں تم کو یہ خبر دوں کہ جنات (شیاطین) کن لوگوں پر اترا کرتے ہیں۔‘‘ جنات شیاطین انہیں پر اترا کرتے ہیں جو دروغگو اور معصیت کار اور اکثر ان کی پیشگوئیاں جھوٹی ہوتی ہیں۔

پھر ١؎ اسی وقت جبکہ میں غور کر رہا تھا۔ یہ القاء ہوا کہ آیت شریف مندرجہ بالا تنزل علی کل افاك اثیم کے اعداد نکال کہ یہ اعداد مطابق دعویٰ مرزا قادیانی کے ملیں گے۔ اس پر مجھے خوشی ہوئی اور قلم لے کر اعداد جمل آیت شریف کے نکالنے شروع کئے۔ اللہ اکبر! جناب من، حکم الٰہی سے اس آیت شریف کے اعداد پورے تیرہ سو برآمد ہوئے۔ اس وقت اپنی طبیعت کی خوشی کا اندازہ میں نہیں کر سکتا تھا۔ پس میری زبان سے الحمد للہ علی احسانہ الحمدللہ علی احسانہ بڑے زور سے نکل رہا تھا۔ تب میں نے فوراً اپنی یاداشت میں لکھ لیا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ اس آیت شریف میں مرزا قادیانی کے دعویٰ کے مطابق تیرہ سو کے اعداد پورے ہوں گے۔ اب میں ان آیات کا ترجمہ لفظی کر کے ظاہر کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے الہامات خدا کی طرف سے نہیں تھے۔

ترجمہ آیات بالا میں اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے رسول اکرم ﷺ اور ان کی امت مخاطب ہے۔ کیا میں تم کو یہ بات بتلا دوں کہ کن لوگوں پر شیاطین اترا کرتے ہیں؟۔ پھر خود ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شیاطین کا نزول بڑے جھوٹے مفتریوں اور گنہگاروں پر ہوتا ہے۔

١؎ خدا عالم الغیب کے علم میں تھا کہ ایک زمانہ میں ایک شخص غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور میں پیدا ہوگا اور دعویٰ نبوت ورسالت و کرشن و مسیح کا کرے گا۔ جبکہ حضرت خاتم النبیین والمرسلین ﷺ دنیا پر تشریف لا چکے ہوں گے۔ مرزا پر شیطانی نزول والہام ہوں گے۔ وہ اپنے نام مسمی غلام احمد قادیانی کے اعداد تیرہ سو پورے کر کے یہ دعویٰ کرے گا کہ وہی مسیح موعود ہے اور تمام دنیا میں کوئی غلام احمد قادیانی نہیں ہے۔ اس کو شیطانی الہام ہوں گے۔ تب ایک شخص ملازم پولیس اس کا ہم وطن بھی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کو یہ جتلائے گا کہ انیسویں پارے کی آیات ذیل یعنی ھل انبئكم . الآیہ ! کو پڑھ کر جن میں شیطانی نزول کا ذکر ہے اور آیت تنزل علی کل افاك اثیم میں غلام احمد قادیانی کے پورے تیرہ سو اعداد موجود ہیں اور پہلی آیتیں تمہارے نام فضل احمد خادم ملازم پولیس کے بارہ سو پینتالیس عدد نکالیں گے۔ سو الحمد اللہ ایسا ہی ہوا۔ منہ !

صفحہ ٥٥٠

شیاطین (آسمان پر سے کچھ کچھ لا کر) ان کے کانوں میں ڈالا کرتے ہیں جن میں سے ان کی پیشگوئیاں یا الہام اکثر جھوٹے ہوا کرتے ہیں۔

مولوی صاحب! مجھے معاف فرمائیے کہ یہ آیات مرزا قادیانی پر بعینہ منطبق ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ خاص ان کی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں بھی درج ہے۔ مگر یہ پتہ ان کو نہ ہوا کہ یہ آیات کس پر صادق آئیں گی۔ بہرحال ان کا الہام خدا کی قدرت انہیں پر عائد ہوا۔ اس لئے ان کے الہامات سے ایک بھی صحیح نہیں ہوا اور پھر الہام کو غلام احمد قادیانی جس کے پورے تیرہ سو عدد ہوتے ہیں۔ میرے مسیح موعود ہونے کی الہامی دلیل ہے۔ حتیٰ کہ اس وقت تک کوئی غلام احمد قادیانی تمام دنیا میں موجود نہیں ہے۔ پھر آیت شریف تنزل علی کل افاک اثیم (شیطانی الہام پر بڑے جھوٹے مفتری گنہگار پر ہوا کرتا ہے) کے یہی پورے تیرہ سو عدد ہونے سے واضح ہو گیا کہ مرزا قادیانی کے مسلمہ اور مقبولہ اعداد اسی آیت شریف سے برآمد ہوئے جنہوں نے واقعات اور آیات قرآنی و اعداد جمل سے مرزا قادیانی کے الہامات کا شیطانی نزول ہونے پر مہر لگا دی۔ براہ مہربانی غور فرماویں اور بہت سے الہامات اسی قسم کے ہیں۔ طوالت منظور نہیں۔ آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ جب انہیں کے ضلع میں علاوہ اپنے گاؤں کے دو گاؤں قادیان نام بھی آباد ہیں۔ مرزا قادیانی نے دریافت بھی نہ کر لیا۔ جس سے یہ الہام واقعات سے آفتاب کی طرح غلط ثابت ہو گیا۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے خلاف واقعہ باتیں بھی لکھ دیا کرتے ہیں۔ جیسے اپنی کتاب راز حقیقت میں جہاں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فرضی اور تاویلی قبر بیان کرتے ہیں اور اس کی تائید میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں:

”پھر موقعہ پر پہنچنے سے ایک دلیل معلوم ہوئی جیسا کہ نقشہ منسلکہ میں ظاہر ہے۔ اس نبی کی مزار جنوباً شمالاً واقع ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ شمال کی طرف سر ہے اور جنوب کی طرف پیر ہیں اور یہ طرز دفن مسلمانوں اور اہل کتاب سے خاص ہے۔“

(راز حقیقت ص ٧، خزائن ج ١٤ ص ١٦٩)

اس جگہ مرزا قادیانی نے عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ہونے کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ ان کا مزار جنوباً شمالاً ہے۔ جس طرح مسلمان لوگ اپنے مردوں کو دفن کرتے ہیں۔ اسی طرح اہل کتاب بھی اپنے مردوں کو دفن کرتے ہیں۔ یعنی سر شمال کو اور پیر جنوب کو حالانکہ یہ بات محض غلط اور واقعات کے خلاف ہے۔ کیونکہ اہل کتاب مسلمانوں کی طرح ہرگز دفن نہیں کرتے۔ وہ اپنے مردوں کا سر غرب کو اور پیر شرق کو کرتے ہیں۔ بندہ نے چشم خود دیکھا ہے اور اکثر اہل کتاب کو اپنے روبرو دفن کیا ہے۔ اہل کتاب کے قبرستان اکثر پنجاب میں اس وقت موجود ہیں۔ دیکھ سکتے ہیں بلکہ قادیان

٣٨

صفحہ ٥٥١

کے قریب بٹالہ میں اور گورداسپور میں قبرستان عیسائیاں موجود ہیں۔ مرزا قادیانی اگر وہاں آتے جاتے ہی دیکھ لیتے یا کسی عیسائی سے پوچھ ہی لیتے تو خلاف واقعہ تحریر نہ کرتے۔ افسوس!

دوم....... سب سے آخر تصنیف مرزا قادیانی کی دو یوم قبل از انتقال پیغام صلح جس کو خواجہ کمال الدین صاحب نے بعد میں جمع کر کے متفرق نوٹ ہائے کو کتاب کی شکل میں طبع کرایا۔ اس میں اس طرح پر لکھتے ہیں:

’’بابا نانک صاحب اپنی جنم ساکھیوں اور گرنتھ میں کھلے کھلے طور پر دعویٰ الہام کا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک جگہ وہ اپنی جنم ساکھی میں لکھتے ہیں۔‘‘

(پیغام صلح ص ١١، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٥)

لیجئے! یہ بالکل غلط۔ بابا نانک صاحب نے نہ تو کبھی گرنتھ صاحب کو لکھا اور نہ کسی جنم ساکھی کو لکھا۔ کیونکہ بابا نانک صاحب سمت ١٥٩٦ء بکرمی میں فوت ہوگئے۔ ان کے بعد پانچویں بادشاہی گورو ارجن داس صاحب جب سمت ١٦٣٨ بکرمی میں گدی پر بیٹھے۔ اس کے بہت عرصہ بعد سمت ١٦٥٠ بکرمی آؤ گرنتھ کو انہوں نے لکھا۔ گویا پچاس یا پچپن سال کے بعد گرنتھ صاحب لکھا گیا اور جنم ساکھیاں تو اور بہت عرصہ بعد لکھی گئیں۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ مرزا قادیانی نے بالکل خلاف واقعہ خلاف تاریخ لکھ دیا کہ بابا نانک صاحب نے گرنتھ اور جنم ساکھی میں لکھا میرا خیال ہے شاید خواجہ کمال الدین صاحب نے ایسا لکھا ہوگا۔ کیونکہ پیغام صلح مرزا قادیانی کے انتقال کے ایک ماہ بعد لکھا گیا۔ اس کی بھی کوئی تصدیق نہیں کہ پیغام صلح مرزا قادیانی کا لکھا ہوا ہے۔ مگر افسوس خواجہ صاحب نے بھی اس پر غور نہ کیا۔

زیرے چنیں شہر یارے چناں

مولوی صاحب! اگر میں ایسے ایسے اختلافات اور الہامات اور پیشین گوئیاں مرزا قادیانی کی جمع کروں تو ایک کتاب جداگانہ چاہئے۔ آپ ایسے ہی الہامات کو قطعی اور یقینی منجانب اللہ مثل قرآن شریف جانتے ہیں۔ اگر یہی صورت ہے تو اللہ حافظ! میں نے آپ کے غور کے لئے چند الہامات لکھ دیئے ہیں۔ امید ہے کہ آپ توجہ فرمائیں گے اور ایسے الہامات کو منجانب اللہ قطعی یقینی مثل قرآن شریف فرمانے کی جرات نہ فرمائیں گے۔ اب میں وہ چند الہامات بھی لکھ دیتا ہوں جو مرزا قادیانی کو قرآن شریف اور احادیث شریف کے مخالف ہوئے ہیں:

اوّل...... تمام قرآن شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہان کا رب ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ہمارا اور تمہارا رب ہے۔ قبر میں بھی یہی سوال ہوگا۔ من ربک خدا کے فضل سے مسلمان جواب دے گا کہ اللہ ربی! لیکن مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ ربنا عاج!

٣٩

صفحہ ٥٥٢

دوم....... (الف) قرآن شریف میں حضرت رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبیین فرمایا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کا الہام قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا! (ب) حدیث شریف لا نبی بعدی مرزا قادیانی فرماتے ہیں ”میں نبی ہوں رسول ہوں ۔“ میرا منکر کافر ہے۔

سوم....... قرآن شریف میں حضرت رسول اکرم ﷺ کو فسبح بحمد ربك واستغفر! مگر مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ خدا میری حمد کرتا ہے۔ ”یحمدك الله من عرشه يحمد الله ويمشى اليه اليك !“ خدا تیری عرش پر سے تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) تیرا ظہور خدا کا ظہور ہے۔

دوسرا الہام ....... اعمل ماشئت قد غفرت لك جو چاہے کر تجھے بخش دیا ہوا ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٥٦١، خزائن ج ١ ص ٦٦٨)

اور الہام: انت منى وانامنك ! مرزا قادیانی کا فرمانا ہے تو مجھ سے ہے میں تجھ سے ہوں۔

( دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

چہارم....... قرآن شریف میں ہے کہ اوفوا بالعقود ! اے لوگو! اپنے وعدے پورے کرو۔ مگر مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ اب ہم اپنے وعدہ کے مطابق براہین احمدیہ کو پورا کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ مباہلہ کے لئے وعدے کئے۔ میدان مباہلہ میں حاضر نہ ہوئے۔ منارہ کا چندہ وصول کر کے بھی ناکام، ضمیمین کا چندہ بھی ہضم۔ وعدہ پورا نہ کیا۔ سراج منیر کا وعدہ۔ اربعین کا وعدہ۔ وغیرہ! سینکڑوں وعدے گاؤ خوردہ ہو گئے۔

پنجم ....... قرآن شریف میں کفار کے ساتھ مباہلہ کا ذکر تھا۔ پہلے ازالہ اوہام میں اسی پر عملدرآمد تھا۔ لیکن بعد اس کے مسلمانوں کے ساتھ مباہلہ کرنے کا الہام بڑے زور وشور اور تحدی اور لعنتوں کے ساتھ ہوا۔

مولوی صاحب! قرآن شریف کے ایک امر کی بھی مخالفت کرنا کفر اور ارتداد ہے۔ چہ جائیکہ کثرت سے ہوں۔ جن کا جمع کرنا موجب طوالت ہے۔ آپ کے غور کے لئے یہی بس ہے۔

(تاہم پانچ تک عرض کیا گیا ) بشرطیکہ آپ کی طبیعت میں خداوند کریم نیک اور رشد کی صورت پیدا کرے۔ میرا کام صرف اس بات کو دکھلانا ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات خلاف قرآن کریم کے ہیں۔

٤٠

صفحہ ٥٥٣

تیسرے خط کے سوالات اور جوابات درج کئے جاتے ہیں

اوّل سوال پھر جواب پھر اپنی طرف سے جواب الجواب

سوال اوّل...... الف....... آپ کل تصانیف و تالیفات و اشتہارات مرزا قادیانی کو الہامی مانتے ہیں یا ان میں سے بعض۔ اگر بعض کو الہامی مانتے ہیں تو ان کے نام تحریر فرمائیں۔

ان کا درجہ قرآن شریف کے برابر یا اگر کم و بیش ہے تو کیوں؟۔

جواب...... الف....... تصانیف و تالیفات و اشتہارات وغیرہ میں جس عبارت کو مرزا قادیانی نے الہام کہا ہے اسے الہام مانتا ہوں۔ باقی کو ان کی اپنی تصنیف یا جو کچھ فی نفسہ ہو۔

برابر مانتا ہوں۔ ہاں دوسری صورت میں قرآن شریف قائم بالذات کتاب ہے اور قائم العمل شریعت اور مرزا قادیانی کے الہامات مبشرات اور منذرات ہیں۔ اس کتاب پاک کی تصدیق کے۔

اقول باللہ التوفیق...... (الف) سوال یہ تھا کہ جن جن تصانیف مرزا قادیانی کو آپ الہامی مانتے ہیں ان کے نام تحریر فرمائیں۔ مگر آپ نے اس سوال کا جواب ہی نہ دیا۔ جس سے یہ پایا جاتا ہے کہ آپ کو علم نہیں کہ کون کون سی کتاب مرزا قادیانی کی الہامی ہے اور کون کون غیر الہامی اور یہ بھی آپ فرماتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے جس عبارت کو الہام کہا ہے۔ اس کو الہامی مانتا ہوں اور باقی کو ان کی اپنی تصنیف۔ لیکن کیا آپ کو مرزا قادیانی کے الہامات:

کرتی ہے۔

(انجام آتھم ص ١٧٩، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

ص ٣٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦) معلوم نہیں ہیں۔ ان الہامات کے رو سے کل کلام مرزا قادیانی کی وحی کے ذریعہ سے ہے اور الہامی۔ کیونکہ مرزا قادیانی وحی کے بغیر کچھ نہیں کہتے۔ پھر آپ کا گول مول جواب دینا صحیح نہیں۔

الہامات ہوئے وہ بعینہ قرآن شریف کے برابر ہیں۔ گویا قرآنی وحی جس کے ذریعہ سے قرآن شریف کا نزول ہوا مرزا قادیانی کے الہام کے برابر ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی اپنی (براہین احمدیہ ص ٢١٥ حاشیہ نمبر ١١، خزائن ج ١ ص ٢٤٨) میں اس طرح پر لکھتے ہیں: ”اور گو وحی رسالت بوجہت عدم

٤١

صفحہ ٥٥٤

ضرورت منقطع ہے۔ لیکن یہ الہام کہ جو آنحضرتﷺ کے بااخلاص خادموں کو ہوتا ہے یہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوگا۔‘‘

فرمائیے مرزا قادیانی تو فرماتے ہیں کہ وحی رسالت منقطع ہے، صرف الہام باقی ہے۔ جب وحی رسالت جس کے ذریعہ سے قرآن شریف کا نزول ہوا تھا وہ منقطع ہوگئی اور صرف الہام رہ گیا تو پھر مرزا قادیانی کے الہام قرآن شریف کی وحی کی طرح کیونکر ہوا؟ آپ غور فرمائیں۔

دوسری صورت میں آپ قرآن شریف کو قائم بالذات اور قائم العمل شریعت مانتے ہیں اور مرزا قادیانی کے الہامات مبشرات ومنذرات ہیں۔ اس کتاب پاک کی تصدیق کے تو گویا مرزا قادیانی کے الہامات قائم بالذات نہیں ہیں۔ پھر بھی قرآن شریف کے برابر نہ ہوئے۔ یہ تو میں اوپر دکھلا چکا ہوں کہ مرزا قادیانی کے الہامات قرآن کریم کی نعوذ باللہ منہا تکذیب میں وارد ہیں نہ کہ تصدیق میں۔ جیسے کہ رسالت اور نبوت کا دعویٰ نمبر اوّل سے پنجم تک بطور نمونہ عرض کر چکا ہوں۔ امید ہے کہ آپ توجہ فرماویں گے۔

سوال دوم...... جن کتب تصانیف مرزا قادیانی کو آپ الہامی نہیں مانتے ان کا رتبہ احادیث رسول اکرمﷺ کے برابر ہے یا کچھ کم وبیش۔ اگر کم وبیش ہے تو اس کی وجہ کیا ہے۔

جواب...... احادیث اور تصانیف مرزا قادیانی کی باہمی نسبت میرے ایمان میں وہی ہے جو احمد اور غلام احمد کے درمیان ہے۔ توجیہہ خود عیاں ہے۔

اقول وباللہ التوفیق...... جب مرزا قادیانی کا الہام وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی ہے تو پھر آپ کے ایمان میں احمد اور غلام احمد کا تفاوت کیوں ہے۔ غلام اور آقا کی کلام میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ پھر رسالت اور نبوت بلکہ خدائی ١؎ کا دعویٰ کیسے ہے۔

سوال سوم...... جو آیات قرآن شریف کی مرزا قادیانی پر الہامات میں نازل ہوئی ہیں ان کے معنی اور مراد وہی ہیں جو قرآن شریف میں بیان ہوئے ہیں یا ان کے مخالف یا موافق جو مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں۔

جواب...... یہ ایک لمبی بات ہے۔ مختصر یہ کہ قرآن مجید انسان کی بولی میں نازل ہوا ہے۔ بولیوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ قرآن مجید کسی خاص وقت اور خاص حال کا پابند نہیں۔ میرے

١؎ مرزا قادیانی کا الہام ’’قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ ص٥٢٢، خزائن ج١ ص٦٢٣)

انت منی وانا منك! الہام ہے۔

(دافع البلاء ص٦، خزائن ج١٨ ص٢٢٧)

٤٢

صفحہ ٥٥٥

ایمان میں اسی واسطے شان نزول اس کے متن میں محفوظ نہیں رہا۔ میرے نزدیک یہ کلمہ طیبہ تؤتی اکلھا کل حین ہے۔ میرا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآن مجید ایسا سمجھا ہے جو سمجھنے کا حق ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا جو معنی قرآن شریف کے اس نے کئے ہیں۔ وہ صحیح ہیں۔ اور جن آیات قرآنی کا اس پر نزول اور ورود ہوا ہے ان کے معنی وہی صحیح ہیں جو مہبط بیان کرتا ہے۔

اقول وباللہ التوفیق ...... یہ صحیح ہے کہ خداوند تعالیٰ بولیوں کا خالق ہے۔ اس سے کسی کو انکار نہیں۔ یہ خوب کہا کہ قرآن مجید خاص وقت اور خاص حال کا پابند نہیں۔ اگر یہی صورت ہے تو پھر حضرت رسول اکرم ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کی بھی کوئی پابندی نہیں۔ آنحضرت ﷺ پر اب ایمان لانے کی بھی پابندی نہیں۔ یہ اس وقت اور حال پر تھی جب حضرت محمد ﷺ دنیا میں بقید حیات موجود تھے۔ حج اور عمرہ کی بھی کوئی خاص وقت اور حال کی پابندی نہیں۔ جب چاہا کر لیا یا نہ کر لیا اور سینکڑوں پابندیاں قرآن مجید کی دور ہوگئیں اور آپ کے ایمان کے مطابق شان نزول قرآنی بھی کوئی چیز نہیں۔ مہربانی کر کے اس کی دلیل میں کوئی سند پیش کریں جس نے آپ کو ایسا لکھنے کی جرات دی اور یہ کلمہ طیبہ جو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اس سے مراد ایمان داروں کے اعمال صالح ہیں کہ جس کا پھل یا میوہ قیامت تک کھانے میں آتا ہے۔ یہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لا کر پھر تؤتی اکلھا ۔ الآیۃ ! پر عمل کرے۔ نہ یہ کہ ہر وقت قرآن شریف میں تاویلات رکیکہ کر کے اپنے مطلب کو خلاف تمام جمہور اسلام اہل سنت و جماعت پیش کرے۔

آپ غور فرمائیں ایسی باتیں کوئی مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ میرا ایمان ہے جو مرزا قادیانی نے قرآن مجید کو سمجھا ہے وہی حق ہے۔ کیونکہ ان کو خدا تعالیٰ نے سمجھایا ہے جو معنی قرآن مجید کے مرزا قادیانی نے کئے ہیں وہی صحیح ہیں۔ لیکن اس کے لئے کوئی دلیل قرآن وحدیث سے بیان نہیں کی۔ میں کہتا ہوں کہ کوئی ترجمہ کل قرآن شریف کا مرزا قادیانی نے نہیں کیا اور نہ کوئی تفسیر لکھی ہے۔ آپ خود جانتے ہیں۔ ہاں ! بعض بعض آیات حیات وممات حضرت مسیح علیہ السلام کا مطلب اپنے ادعا کے مطابق ترجمہ یا تفسیر کی ہیں۔ وہ بھی آپس میں متضاد ہیں۔ یہ دعویٰ اس وقت صحیح ہوتا کہ مرزا قادیانی نے کوئی ترجمہ قرآن شریف کا مکمل کیا ہوتا۔ یا کوئی تفسیر قرآن کی لکھی ہوتی ۔ تب دوسرے تراجم اور تفاسیر اسلامی کے ساتھ مقابلہ کیا جاتا۔

اب میں مرزا قادیانی کی قرآن فہمی جس کو ان کے خدا نے سمجھایا ہے دو چار مقام بطور نمونہ کے نکال کر دکھلاتا ہوں۔ آپ خود ہی فیصلہ کر لیجئے۔

٤٢

صفحہ ٥٥٦

اول ...... مرزا قادیانی اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں آیت شریف یا عیسیٰ انی متوفیک و رافعک الی! کا ترجمہ اس طرح پر کرتے ہیں: ”میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔“

(بلفظہ براہین احمدیہ ص ٥١٩، خزائن ج ١ ص ٦٢٠)

اسی طرح مرزا قادیانی کے فاضل بزرگ اور اب خود خلیفۃ المسیح حکیم نور الدین اس آیت کے معنی اس طرح پر کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ میں لینے والا ہوں تجھ کو اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف ۔

(بلفظہ تصدیق براہین احمدیہ ص ٨)

لیجئے اس وقت جبکہ مرزا قادیانی کو اسلام سے تعلق تھا اور الہام کے ذریعہ سے قرآن شریف کی آیت کا ترجمہ فرمایا اور خلیفۃ المسیح نے بھی ایسا ہی ترجمہ کیا اور مرزا قادیانی کی الہامی کتاب کی تکذیب کی تصدیق اہل اسلام کے عقیدہ کے مطابق کی۔ پھر اس کے بعد دونوں صاحب پلٹ گئے اور تمام کتب اور تحریرات میں یہ ترجمہ کر دیا: ”اے عیسیٰ میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا ۔“

اب فرمائیے ! کون سے معنی اور ترجمہ صحیح سمجھا جائے۔ آیا الہامی کتاب میں کا ترجمہ یا جو اپنی رائے سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ یا اس الہام کے مطابق کہ مجھ کو خدا نے خبر دیدی ہے کہ حضرت عیسیٰ مر چکے ۔ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔ اس صورت میں الہام ہی دو متضاد ہو گئے ۔ براہین احمدیہ الہامی کتاب کی مخالفت بھی ساتھ ہی ہے اور قرآن فہمی بھی مرزا قادیانی کی ہویدا ہے۔

دوم ...... الہام: هو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ!

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

مرزا قادیانی نے اس آیت شریف کی تفسیر یوں کی ہے: ”یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا ۔“

(بلفظہ الہامی کتاب براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

پھر اس کے بعد ازالہ اوہام انجام آتھم وغیرہا و دیگر تصانیف الہامی اور غیر الہامی میں مرزا قادیانی نے اس آیت شریف بالا کو اپنے حق میں منطبق فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت

لے پہلے آپ حیات عیسیٰ علیہ السلام کے قائل تھے لکھتے ہیں حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص ہی ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے۔

(براہین ص ٣٦١ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٣، خزائن ج ١ ص ٤٣١)

~~

صفحہ ٥٥٧

ہوگئے اور اب دوبارہ تشریف نہیں لاویں گے۔ اس آیت شریف کا مورد میں ہوں۔ ایک ہی آیت دو الہاموں میں متضاد فرما دی اور قرآن فہمی بھی ظاہر کر دی۔ حالانکہ آیت شریفہ بالا بموجب عقیدہ اسلام حضرت رسول اکرمﷺ پر قرآن کریم میں نازل ہوئی اور تمام ادیان پر غالب ہوئے اور انہی پر پیشگوئی پوری ہوئی۔ اب اپنے ایمان کو حاضر کر کے غور فرمائیں:

المسجد الحرام الی المسجد الا قصا الذی بارکنا حولہ لنریہ من اٰیتنا، انہ ھو السمیع البصیر (بنی اسرائیل)“ ترجمہ:...... ”پاک ذات ہے اللہ جو لے گیا اپنے بندے محمدﷺ کو راتوں رات ادب والی مسجد (مکہ شریف) سے پرلی مسجد (مسجد اقصیٰ بیت المقدس) تک جس میں ہم نے برکتیں اور خوبیاں رکھی ہیں۔ تا کہ دکھلاویں اس کو اپنی قدرت کے نمونے۔ وہی ہے سننے والا اور دیکھنے والا۔“

اس آیت شریف پر اہل سنت و جماعت کا اتفاق ہے کہ حضرت رسول اکرمﷺ کو جسمانی معراج شریف ہوا۔ مکہ شریف سے بیت المقدس جو ملک شام میں ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرتﷺ کو لے گئے اور وہاں سے ساتوں آسمانوں اور عرش معلیٰ اور بہشت اور دوزخ جہاں جہاں خداوند کریم کا حکم ہوا سیر فرمائی۔ لیکن مرزا قادیانی کو اس کا انکار ہے۔ گویا اس آیت شریف کا بھی انکار قرآن فہمی کی وجہ سے ہوا۔

گالیاں بھری ہیں۔“ نعوذ باللہ! (دیکھو ازالہ اوہام کے صفحات ٢٥، ٢٦، ٢٧، ملخصاً، خزائن ج ٣ ص ١١٥، ١١٦)

درج ہے: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ (دیکھو براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) اور مفصل حال (ازالہ اوہام کے ص ٧٦، ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) تعجب اس پر یہ ہے کہ جب اس الہام کو مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں لکھا اس وقت کوئی کشفی حالت میں مرزا غلام قادر کو قرآن شریف پڑھتے دیکھا بیان نہ فرمایا اور نہ یہ ذکر کیا کہ قرآن شریف میں یہ آیت لکھی ہوئی موجود تھی۔ لیکن ازالہ اوہام کو لکھتے ہوئے یہ سارا قصہ درج فرمایا کہ قرآن شریف میں مکہ، مدینہ، قادیان، تینوں شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا موجود ہے۔

اب فرمائیے یہ قرآن فہمی اور قرآن دانی مرزا قادیانی کی ہے یا قرآن شریف پر زیادتی اور تحریف ہے۔ یہ اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے کہ قرآن شریف میں کمی اور بیشی کا اعتقاد رکھنا انا لہ

٤٥

صفحہ ٥٥٨

لحفظون! آیت قرآنی کے خلاف کفر ہے۔ اس بارہ میں مرزا قادیانی کا ہی پہلا اعتقاد آپ کے اطمینان کے لئے لکھ دیتا ہوں۔ وہو ہذا!

’’اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شوشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہوسکتا..... جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کی ایک حکم کی تبدیلی یا تغیر کر سکتا ہو۔ اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور ملحد اور کافر ہے۔‘‘

(ازالہ اوہام ص ١٣٧، ١٣٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٠)

اب آپ ہی اس پر غور فرمائیں کہ قرآن فہمی اور قرآن دانی یہی ہے۔ مجبوراً یہ کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی نے قرآن شریف کو ایسا سمجھا ہے جو سمجھنے کا حق نہیں تھا اور نہ یہ فہمید قرآنی خدا کی طرف سے ہو سکتی ہے۔

سوال چہارم....... (الف) اگر مرزا قادیانی کے الہامات میں تعارض واقع ہو تو اذا تعارضا تساقطا ہو جائے گا یا نہیں اور ان میں سے کس الہام کو صحیح سمجھا جاوے گا۔ اوّل کو یا آخر کو اور اس کی وجہ۔

(ب)....... یا مرزا قادیانی کے الہامات میں آپ تعارض کا وقوع تسلیم نہیں کرتے۔

(ج)....... کیا مرزا قادیانی کے ایسے الہامات بھی ہیں جن کے معنی یا مطلب اب تک معلوم نہ ہوئے ہوں۔

(د)....... جو الہامات مرزا قادیانی کو بطور پیشگوئی ہوئے وہ پورے ہو گئے ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں ہوئے تو آئندہ ہوں گے یا نہیں۔

جواب....... (الف) میرا ایمان ہے کہ سچے الہام میں تعارض نہیں ہوتا۔ الٰہی الہام میں تعارض کا نظر آنا میرے نزدیک آنکھوں کا قصور ہوتا ہے۔ قرآن مجید جیسے اتم اکمل بیمثیل اور زندہ کتاب میں تعارض دیکھنے والی آنکھیں کیا دنیا میں کم ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

(ب)....... اوپر عرض ہو چکا ہے۔

(ج)....... ہاں! میرا ایمان ہے کہ ایسے الہامات بھی ہیں جن کا مطلب اپنے وقت پر کھلے گا۔ یہاں بھی وہی متشابہات اور محکمات کا مقدمہ ہے۔

(د)....... پیشگوئیاں کے متعلق میرا ایمان ہے کہ اکثر پوری ہو چکی ہیں۔ بعض ایسی بھی ہیں جو آئندہ پوری ہوں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

٤٦

صفحہ ٥٥٩

اقول وبالله التوفيق ! (الف)...... بے شک سچے الہامات میں تعارض نہیں ہونا چاہئے۔ مگر سوال تو یہ تھا کہ مرزا قادیانی کے الہامات میں تعارض ہے یا نہیں۔ اس کا جواب آپ نے نہیں دیا۔ جو تعارضات مختصر میں اوپر دکھلا چکا ہوں فی الواقع سچے ہیں۔ یہاں کسی کی آنکھوں کا قصور نہیں۔ بلکہ ملہم یا ملہم کا قصور ہے۔

(الف)...... مثلاً مرزا قادیانی کا الہام تھا کہ میری عمر اسی سال کی ہے۔ پھر الہام ہوا کہ اسی سال یا اس سے کم وبیش۔ پھر الہام ہوا کہ اب میری عمر پچانوے سال کی ہوگئی ہے۔ پھر الہام ہوا کہ میری اجل قریب آگئی ہے۔ پھر الہام خدائی ہوا کہ تیری عمر بڑھا دوں گا اور تیرے دشمن تیری آنکھوں کے سامنے اصحاب فیل کی طرح نابود ہوجائیں گے۔

(ب)...... پہلے الہام ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لاویں گے۔ پھر الہام ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں۔ اب دنیا میں تشریف نہیں لاویں گے۔ علیٰ ہٰذا القیاس بہت سے تعارضات ہیں۔ آپ غور فرمائیں اس میں کسی کی نظر کا قصور ہے یا کہ واقعی ملہم یا ملہم کا۔ قرآن شریف میں تعارضات مرزائی احمدی صاحبان کو نظر آتے ہوں گے جو اس بات کے بھی قائل ہیں کہ قرآن میں نعوذ باللہ گندی گالیاں بھری ہیں۔

(ب)...... سوال یہ تھا کہ آپ مرزا قادیانی کے الہامات میں تعارض کا وقوع تسلیم نہیں کرتے۔ مگر اس کا جواب صرف یہ دیا کہ ’’اوپر عرض کر چکا ہوں‘‘ خیر صحیح اور صاف جواب مطابق سوال کے نہ دینا آپ کے اختیار میں ہے۔

(ج)...... ہاں! یہ آپ کا ایمان ہے کہ بعض الہامات کا مطلب اپنے وقت پر کھلے گا۔ آپ فرما سکتے ہیں کہ الہام اوّل ’’ربنا عاج‘‘ (ہمارا رب عاجی ہے۔ اس کے معنی اب تک معلوم نہیں ہوئے) اس کا مطلب کب کھلے گا اور کیا معنی کھلیں گے۔ ملہم صاحب تو فوت ہوگئے۔ ٢٥، ٣٠ سال تک مطلب اور معنی معلوم نہ ہوئے۔ اب تو کوئی صورت اس الہام کے مطلب اور معنی معلوم ہونے کی نہیں رہی۔ الہام بھی ایسا کہ خاص خداوند تعالیٰ کی نسبت وہ بھی مشتبہ رہا۔

(دیکھو براہین احمدیہ الہامی کتاب کا ص ٥٥٦، خزائن ج١ ص ٦٦٢)

دوسرا الہام ھو شعنا نعسا! یہ دو فقرے شاید عبرانی ہیں۔ ان کے معنی اب تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔ پھر انگریزی الہام ہوا اس کے معنی بھی معلوم نہیں۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ حاشیہ نمبر ٤، خزائن ج ١ ص ٦٦٤)

٤٧

صفحہ ٥٦٠

فرمایئے ! ان الہاموں کے معنی اور مطلب کب کھلیں گے ۔ جبکہ مرزا قادیانی ہی نہیں رہے۔ سنت اللہ یہ نہیں ہے کہ مبہم پر الہاموں کے معنی اور مطلب نہ کھلے ہوں۔ اس پر آپ نے متشابہات اور محکمات کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ اس کی بحث آپ تفاسیر معتبرات میں زیر آیت شریف هو الذی انزل علیک الکتب منه آیت محکمات منهن ام الکتب واخر متشابہات ! میں دیکھ سکتے ہیں ۔ یعنی جن آیات کے معنوں میں کسی طرح کا کوئی شبہ نہ ہو وہ محکمات میں سے ہے۔ مثلا الله ربی وربکم اللہ تعالیٰ ہی میرا اور تمہارا رب ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کا الہام ربنا عاج ہمارا رب عاجی ہے۔ اس کے معنی اب تک معلوم نہیں ہوئے۔ یہ الہام متشابہ نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح پہلے الہام ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت کو دوبارہ دنیا پر تشریف لا کر دین سلام کو تمام آفاق اور اقطار میں پھیلا دیں گے محکمات سے ہے۔ پھر یہ الہام کہ عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں۔ اب دوبارہ دنیا میں تشریف نہیں لاویں گے۔ یہ الہام بھی محکمات میں سے ہے۔ الہامات وحی متشابہات یہ ہیں۔ مثلا خداوند کریم کے ہاتھ پاؤں صورت شکل الرحمن علی العرش استوی یا حروف مقطعات ہیں۔ مرزا قادیانی کے الہامات محکمات سے ہی ہیں۔ خواہ خود ان کو ان کا پتہ ملے یا مطلب اور معنی معلوم ہوں یا نہ ہوں۔ پس آپ کا یہ ایمان کہ بعض الہاموں کا مطلب پھر کسی وقت کھلے گا۔ ہرگز صحیح نہیں ۔ براہ مہربانی غور فرمائیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار !

جو پوری نہیں ہوئیں وہ آئندہ پوری ہوں گی ۔ لیکن میرا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی کی ایک بھی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور آئندہ کوئی پیشگوئی پوری نہ ہوگی۔ خواہ تفصیل وار فیصلہ کر لیں یا بطور نمونہ مشتے از خروارے دیکھ لیں جو پیشگوئی مرزا قادیانی نے کی یا تو وہ برعکس ظاہر ہوئی یا محض غلط ثابت ہوئی۔ مثلاً :

پہلی پیشگوئی : سب سے پہلے فرزند ارجمند کے پیدا ہونے کی پیشگوئی ١٨٨٦ء میں کی۔ اس فرزند الہامی کی تعریف یہ کی کہ مظهر الحق والعلٰى کان الله نزل من السماء یعنی وہ لڑکا مظہر حق اور عالی رتبہ ہوگا۔ گویا خود خدا آسمان سے نازل ہوا ہے۔ اس کے کپڑوں سے بادشاہان برکت پاویں گے۔ وغیرہ وغیرہ! اس کے برعکس لڑکی پیدا ہوئی ۔ لیکن اب تک وہ لڑکا الہامی پیدا نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی بھی چل بسے اور اب آئندہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہو سکتی اور نہ ہوگی۔

٤٨

دوسری پیشگوئی ظاہر کیا ۔ حتی کہ آسمان پر اس دینے سے انکار کیا تو بہت ب ہوئے ہیں ) اور نوبت طلاق کہ محمدی بیگم کا باپ اور اس میں آوے گی۔ لیکن افسوس کر کے الہاموں کو غلط ثاب ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔ دوس اب اس کا خاوند سلطان محمو جب تک محمدی بیگم نہ مر جائے یا میں ن ایسی تاویل کا کیا علاج۔ مرزا قادیانی ت کس پر۔ مرزائی احمدی صاحبان ایسے ہوئیں۔ وہ آئندہ کو پوری ہوں گی۔ پوری ہوگی ۔

تیسری پیشگوئی : مرزا ق علیک زمن الشباب ...... الخ ۔ بنایا جائے گا۔ فرمایئے ! پیشگوئی کب ! قرآنِ شریف ۔

١؎ یہ تمام پیشگوئیاں الہ کا حکم اور وعدہ ہر گز نہیں ٹلتا۔ اگر جائے ۔ ایسا گمان بھی دل میں نہ لا وعده رسله ان الله عزیز ذو خلاف کرنے والا ہے اپنے وعدہ قرآن کریم میں وعدہ اللہ حق ہے

صفحہ ٥٦١

دوسری پیشگوئی: محمدی بیگم کے ساتھ بڑی تحدی کے ساتھ اپنا نکاح کا الہام سے ہونا ظاہر کیا۔ حتیٰ کہ آسمان پر اس کے ساتھ نکاح ہو چکا ہوا ہے۔ جب والدین محمدی بیگم نے نکاح کے دینے سے انکار کیا تو بہت سے خطوط تہذیب کے خلاف ان کو لکھے ( یہ خطوط میری کتاب میں چھپے ہوئے ہیں ) اور نوبت طلاق و عاق کی پہنچی۔ جب انہوں نے نکاح دوسری جگہ کر دیا تو پھر الہام ہوا کہ محمدی بیگم کا باپ اور اس کا خاوند اڑھائی سال کے اندر مر جائیں گے اور وہ بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آوے گی۔ لیکن افسوس ١٨٨٨ء کا الہام اب تک ظہور میں نہ آیا اور جب کسی نے اعتراض کر کے الہاموں کو غلط ثابت کیا تو مرزا قادیانی اور دیگر مرزائیوں نے کہہ دیا کہ الہام کی ایک ٹانگ ٹوٹ چکی ہے۔ دوسری بھی ٹوٹ جاوے گی۔ یعنی مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم تو مر چکا ہے۔ اب اس کا خاوند سلطان محمد بھی مر جاوے گا۔ مسلمانوں، یہودیوں کا یہ اعتراض قبل از وقت ہے۔ جب تک محمدی بیگم نہ مر جائے یا میں نہ مر جاؤں تب تک یہ اعتراض عائد نہیں ہو سکتا۔ فرمائیے! ایسی تاویل کا کیا علاج۔ مرزا قادیانی تو اپنے مقدر کی جگہ پہنچ گئے۔ اب اعتراض ہو تو کس طرح اور کس پر۔ مرزائی احمدی صاحبان ایسے ہیں کہ وہ یہی کہے جاتے ہیں کہ جو پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں۔ وہ آئندہ کو پوری ہوں گی۔ براہ مہربانی! ذرہ غور فرمائیے کہ یہ پیشگوئی آئندہ کس طرح پوری ہوگی۔

تیسری پیشگوئی: مرزا قادیانی کا الہام تردالیك انوار الشباب سیاتی عليك زمن الشباب ...... الخ ۔ تیرے پر جوانی کا زمانہ لایا جائے گا اور تیری بیوی کو بھی جوان بنایا جائے گا۔

(اخبار بدر، ج ٢ نمبر ٢١ ص ٢، ٢٤ مئی ١٩٠٦ء، تذکرہ ص ٦١٧)

فرمائیے! پیشگوئی کب پوری ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا۔ دیکھو قرآنِ شریف۔

١؎ یہ تمام پیشگوئیاں ایسی ہیں جو خدا کی طرف سے ہرگز نہیں ہو سکتیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور وعدہ ہرگز نہیں ٹلتا۔ اگر ایسا ہو تو پھر خدا اور اس کے الہاموں پر سے بالکل اعتبار اٹھ جائے۔ ایسا گمان بھی دل میں نہ لانا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزيز ذو انتقام (ابراہیم: ٤٧)“ ترجمہ:...... پس ہرگز مت گمان کر اللہ کو کہ خلاف کرنے والا ہے اپنے وعدہ کو اپنے پیغمبروں سے۔ تحقیق اللہ غالب ہے بدلہ لینے والا۔ تمام قرآن کریم میں وعدہ الٰہی حق سے پر ہے۔

٤٥

صفحہ ٥٦٢

چوتھی پیشگوئی : ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب و دیگر مخالفین تیری آنکھوں کے سامنے اصحاب فیل کی طرح نابود اور ہلاک ہو جائیں گے۔ فرمائیے ! یہ پیشگوئی کب پوری ہوگی۔ پانچویں پیشگوئی : الہام تیری عمر بڑھادوں گا ۔ چھٹی " مولوی محمد حسین توبہ کر کے میری طرف رجوع کرے گا ۔ ساتویں " غلام حلیم لڑکا بمنزلہ مبارک احمد فوت شدہ کے پیدا ہوگا۔ آٹھویں " یحییٰ لڑکے کی بشارت جو زندہ رہے گا۔ نویں " شوخ اور شنگ لڑکا پیدا ہوگا ۔ دسویں " عالم کباب لڑکا پیدا ہوگا اس وقت تمام عالم کباب ہو جائیگا۔ گیارھویں " خواتین سے تیرا نکاح ہوگا ۔ ان سے تیری نسل بہت ہوگی ۔ بارھویں " تیرے مخالف رسوا ہونگے ۔ تیری تمام دعائیں قبول ہونگی ۔ تیرھویں " اس سال ١٩٠٧ء یا اگلے سال ١٩٠٨ء طاعون بہت پڑے گا ۔ چودھویں پیشگوئی : ملاں محمد بخش، محمد حسین بتی، مولوی محمد حسین ذلیل ہو کر مریں گے ۔ تین سال میں ١٥؍جنوری ١٩٠٠ء تک ۔

پندرھویں پیشگوئی : پانچویں فرزند کے پیدا ہونے کی مندرجہ (مواہب الرحمن ص ١٣٩، خزائن ج ١٩ ص ٣١٠) اور سینکڑوں ایسی پیشگوئیاں ہیں جن کے پورے ہونے کی کوئی امید نہیں ۔ آپ غور فرما کر ایمان سے کہئے یہ پیشگوئیاں کب پوری ہوں گی ۔ لڑکوں کا پیدا ہونا تو قطعی جاتا رہا۔ خواتین سے نکاح بھی موقوف ہو گیا ۔ عمر بجائے بڑھنے کے گھٹ گئی ۔ جوانی کی خواہش جاتی رہی ۔ اپنی بیوی کی بھی جوانی ندارد ۔ ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب وغیرہ خدا کے فضل زندہ موجود ہیں اور مرزا قادیانی خود اپنی پیشگوئی کے مصداق میں نیچے آگئے ۔

سوال پنجم : تصانیف و تالیفات واشتہارات ولیکچر وغیرہ جومریدین مرزا قادیانی کے ہیں ۔ مثلاً حکیم نور الدین ، مولوی عبدالکریم ، مولوی محمد احسن امروہی ، مرزا خدا بخش ، محمد اسماعیل وغیرہ ان صاحبان کے ہیں وہ بھی قابل سند ہیں یا نہیں ۔ درآنحالیکہ وہ تصانیف مرزا قادیانی کے ملاحظہ میں آ چکی ہوں اور مرزا قادیانی نے پسند فرمالیا ہو۔

جواب : حکیم نور الدین صاحب قبلہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم فاضل امروہی صاحب مخدوم مرزا خدا بخش صاحب اور محمد اسماعیل صاحب کو بڑے پایہ کے انسان اور باخدا بزرگ سچے مسلمان اور پاک نمونہ جانتا ہوں اور ان کا کلام اسی حد تک قابل سند ہے ۔

٥٠

صفحہ ٥٦٣

اقول وباللہ التوفیق: حکیم نور الدین نے مرزا قادیانی کو محض تمثیلی طور پر مسیح کہا ہے۔ جیسے حکیموں کو سقراط اور بقراط وغیرہ لقبوں سے لکھ دیتے ہیں۔ مسیح موعود اور مسیح ابن مریم نہیں مانا۔ جو مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے۔ مرزا قادیانی نے حضرت مسیح ابن مریم کو کئی جگہ بے باپ ہونا مانا ہے اور کئی جگہ یوسف نجار کا بیٹا لکھا ہے۔ جیسے ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں: ”کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم نے اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“

(ازالہ اوہام ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ: ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں۔ یعنی یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“

(کشتی نوح حاشیہ ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨)

لیجئے! یہاں مرزا قادیانی کے فرمان کے مطابق یسوع بھی ہیں اور مسیح بھی ہیں جن کی بابت فرمایا ہے کہ: ”یسوع میرا واقف نہیں۔“ آپ کسی آیت اور حدیث شریف سے ثابت کریں گے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بے باپ پیدا نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ یوسف نجار ان کے باپ تھے۔ ہرگز نہیں۔

حکیم نور الدین بھی پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بے باپ پیدا ہونا مانتے رہے۔ اب ان کا ایمان بھی اس بات پر قائم نہیں رہا۔ وہ اپنے رسالہ نور دین میں لکھتے ہیں: ”نہ قرآن شریف میں نہ حدیث میں نہ صحابہ رضی اللہ عنہم نہ صوفیاء کرام کے اقوال میں یہ حکم ہے کہ مسیح کو بے باپ مان کر ایمان لاؤ۔“ پھر لکھتے ہیں کہ: ”میں خود مدت تک باینکہ اسلام میرا ایمان اور میری جان ہے اس بات کو مانتا رہا ہوں (یعنی مسیح بے باپ پیدا ہوئے تھے) گو اب میں اس بات کا قائل نہیں رہا۔“ (بلفظہ ملتقطاً ص ١٥٨، ١٥٩، رسالہ نور دین مصنفہ حکیم نور الدین حال خلیفہ المسیح)

لو! مولوی صاحب مرزا قادیانی اور حکیم صاحب کا اسلام کہ قرآن شریف میں یہ کہیں حکم نہیں کہ مسیح علیہ السلام کو بے باپ پیدا ہونا مانو۔ کیونکہ قرآن شریف میں حضرت مسیح کو ابن مریم لکھا ہے نہ ابن یوسف نجار۔ حضرت مریم کا جبرائیل فرشتہ کو جواب دینا کہ مجھ کو لڑکا کیسے ہو سکتا ہے۔ جبکہ کسی بشر نے کسی طرح مجھے چھوا تک نہیں اور پھر فرشتے کے دم کرنے سے حضرت مریم علیہ السلام حاملہ ہوگئیں اور اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک یا دو ساعت کے اندر پیدا ہوگئے۔ کیا ان آیات پر ایمان لانا مسلمانوں کا کام نہیں ہے۔ یا یہ کہ جس بات پر حکم ہی ہو کہ اس پر ایمان لاؤ

٥١

صفحہ ٥٦٤

تب اس پر ایمان لانا چاہئے۔ باقی پر نہیں۔ کیا سب سے پہلے الم ذلک الکتب لا ریب فیہ کے مطابق کل قرآن شریف من اولہ الیٰ آخرہ پر ایمان لانا حکیم صاحب کے لئے ضروری نہیں۔ ہر آیت شریف ان الذی فرض علیک القرآن اور آیت شریف یا ایھا الذین آمنوا آمنو باللّٰہ و رسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ یعنی اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب قرآن شریف پر جو اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب رسول اکرم ﷺ پر نازل کیا۔ کیا حکیم صاحب کو ان آیات پر ایمان لانے کا حکم نہیں۔ مگر زبردستی کسی کی طبیعت میں ہو تو وہ کیا سمجھتا ہے۔ کیا عجب منطق ہے۔

پھر حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ حدیث شریف میں بھی کہیں حکم نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو بے باپ پیدا ہونے پر ایمان لاؤ۔ یہ بھی عمداً اغماض حکیم صاحب کا ہے یا بے علمی کا موجب۔ دیکھو حضرت رسول اکرم ﷺ اس طرح پر فرماتے ہیں۔ حدیث شریف: ”عن عبادة بن الصامت قال قال رسول الله ﷺ من شهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمد عبده ورسوله وان عيسى عبدالله ورسوله وابن امته وكلمته القها الى مريم وروح منه والجنة والنار حق ادخله الله الجنة على ما كان من العمل متفق۔ الخ (مسلم ج ١ ص ٤٢ باب الدليل على ان من مات على التوحيد.... الخ، بخاری ج ١ ص ٤٨٨ باب يا اهل الكتاب لا تغلوا فی دينكم و مسند احمد ج ٥ ص ٣١٤، ٣١٣)“

ترجمہ:...... ”عبادہ بن صامتؓ سے ہے کہ فرمایا رسول اکرم ﷺ نے کہ جو کوئی گواہی دے اس بات کی کہ سوائے خدا کے کوئی معبود نہیں۔ اللہ واحد ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور اس بات کی بھی گواہی دے کہ حضرت محمد ﷺ خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس بات کی بھی گواہی دے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں اور اپنی لونڈی (مریم علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ کلمہ کن سے (بے باپ) پیدا ہوئے جو مریم کی طرف ڈالا گیا تھا خدا کی طرف سے روح ہے (زندہ کرتے تھے مردوں کو) اور اس بات پر بھی ایمان لاوے کہ بہشت اور دوزخ حق ہیں۔ داخل کرے گا اللہ تعالیٰ (اس شخص کو جو ایسا ایمان لا کر شہادت دے گا) بہشت میں۔ خواہ عمل اچھا کرتا ہو یا برا۔“

یہ حدیث شریف صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے۔ اب آپ غور فرمائیں کہ یہ حکیم صاحب کی کیسی زبردستی اور دین اسلام سے لا پرواہی ہے۔ فرماتے ہیں کہ کسی حدیث

٥٢

صفحہ ٥٦٥

میں مسیح علیہ السلام کو بے باپ ماننے اور ایمان لانے کے لئے حکم نہیں ہے۔ اس سے قرآن شریف اور حدیث شریف دونوں کا انکار کر دیا۔ لیکن پہلے ایمان ان کا اس پر تھا۔ لیکن اب ان کا ایمان مسیح علیہ السلام کے بے باپ پیدا ہونے پر نہیں رہا۔ اللہ غنی !!! دعوٰی فضیلت اور خلیفۃ المسیح احمدیان مرزائیاں۔ اللہ حافظ! یہ اعتقاد بعینہ اس آیت قولہم علی مریم بہتانا عظیما کے ہے۔ ہاں ! یہ بھی یادرہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا بے باپ پیدا ہونا قرآن شریف نص صریح اور حدیث صحیح اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اس کا انکار کرنے والا اسلام سے خارج ہے۔ اس بارہ میں مرزا قادیانی کی ہی اپنی تحریر آپ کے اطمینان کے لئے پیش کرتا ہوں۔ وہ فرماتے ہیں: ”جو شخص ذرا برابر بھی شریعت محمدیہ میں کمی بیشی کرے یا کسی اجماعی عقیدہ کا انکار کرے اس پر خدا اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو ۔“

(بلفظہ انجام آتھم ص ٤٤، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

سوال ششم: اگر تصانیف مرزا قادیانی وحکیم نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح (بقول مرزائیاں) میں تخالف ہو تو کس کی تحریر قابل سند سمجھی جائے گی۔

جواب: میرے ایمان میں مسیح اور خلیفۃ المسیح میں تخالف ناممکن بفرض محال آپ کی خاطر مان بھی لوں تو مسیح مقدم السند ہوگا۔

اقول وباللہ التوفیق: آپ کے جواب کی طرز یہ ظاہر کررہی ہے کہ مسیح اور خلیفۃ المسیح دونوں معمولی آدمی ہیں۔ جن کے نام پر کوئی کلمہ تعظیمی آپ کے ایمان اور اعتقاد کے مطابق نہیں ہونا چاہئے۔ میں اگر حضرت مسیح علیہ السلام ابن مریم علیہا السلام کا نام لوں تو ضرور ہے کہ علیہ السلام کہوں۔ انہیں باتوں سے میں اخذ کرتا ہوں کہ آپ مرزا قادیانی کو مسیح موعود تصور نہیں فرماتے۔ جیسے کہ مرزا قادیانی کا خود دعوٰی ہے اور تمام مرزائی احمدی مانتے ہیں۔ آپ نے کہیں بھی کوئی کلمہ تعظیمی سواء لفظ صاحب کے اور کچھ نہیں لکھا۔ مرزا قادیانی کے دعاوی نبوت ورسالت والوہیت میں لکھ چکا ہوں کہ وہ مرزا قادیانی کو تمثیلی اور فرضی طور پر حکیموں کے سقراط بقراط کے بعنوان کی طرح مسیح الزمان مانتے ہیں۔ ایسے کئی ایک نام اس وقت مسیح الزمان موجود ہیں۔ علاوہ ازیں حکیم صاحب لکھتے ہیں:

”ختم نبوت نے الہام اور مکالمہ اور مخاطبہ سے مخلوق کو محروم نہیں کیا۔ اسلامیوں میں ہمیشہ اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں جو اس فیض ربانی سے فیض یاب ہوئے۔

٥٣

صفحہ ٥٦٦

دیکھو حالات شیخ عبدالقادر جیلانی و شیخ محی الدین ابن عربی، شیخ معین الدین چشتی، بابا شیخ فرید شکر گنج، شہاب الدین سہروردی، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ دہلوی، عبداللہ غزنوی وغیرہ اولیاء اور ہمارے اس زمانہ میں حضرت مرزا قادیانی۔“

(بلفظہ تصدیق براہین احمدیہ ص ٤٤ تصنیف حکیم نورالدین صاحب خلیفہ المسیح)

دیکھئے آپ کے خلیفہ المسیح اپنی کتاب میں ان بزرگان مندرجہ بالا کے نام لکھ کر مرزا قادیانی کو ان کے مساوات میں شمار کر رہے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی خود و دیگر مرزائی صاحبان پیغمبری اور نبوت و رسالت میں واقعی ایمان لا کر علیہ الصلوٰۃ والسلام وغیرہ کلمات تعظیمی سے لکھ رہے ہیں۔ لیکن خود خلیفہ صاحب نے کوئی کلمہ تعظیمی حضرات اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اسماء مبارکہ پر نہیں لکھا۔ بلکہ صرف ایک معمولی طور پر ان کے نام لکھ کر وغیرہ وغیرہ لکھ دیا۔ اس سے حکیم صاحب کی دینی واقفیت بھی عیاں ہے۔ خیر اس تحریر سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ حکیم صاحب ان بزرگان علیہم الرحمۃ کو جن کے نام لکھے ہیں اولیاء کرام میں شمار کرتے ہیں اور ویسا ہی مرزا قادیانی کو بھی مانتے ہیں اور خداوند کریم کا مکالمہ اور مخاطبہ ان سے قبول کرتے ہیں۔ اس پر میں بہت خوش ہوں گا کہ آپ ان بزرگان مقبولہ و مسلمہ آپ کے خلیفہ المسیح کے ان کے اقوال و افعال سے مقابلہ کر کے مرزا قادیانی کے دعویٰ کی تصدیق فرمائیں گے۔ ورنہ میں تیار ہوں کہ ان بزرگان اولیاء عظام کے اقوال اور افعال سے مرزا قادیانی کے تمام دعوؤں کی تکذیب دکھلاؤں جو آپ پسند فرمائیں وہی کر لیا جائے۔

سوال ہشتم: مامور بھی نبی ہوتا ہے یا نہیں اور مامور کا کیا کام ہے۔ مامور کا منکر اور مکذب مسلمان ہوتا ہے یا کافر؟۔

جواب: ہاں! مامور نبی ہو تو نبی ہوتا ہے۔ نبی کا منکر اس کا کافر ہوگا۔ میری سمجھ میں کافر کے معنی ہی انکار کرنے والے کے ہیں۔

اقول وباللہ التوفیق: یہ جواب آپ کا خوب ہے کہ اگر مامور نبی ہو تو نبی ہوتا ہے۔ تو اس سے ثابت ہوا کہ مامور اگر نبی نہ ہو تو نبی نہیں ہوتا۔ یعنی مامور نبی بھی ہوتا ہے اور مامور نبی نہیں بھی ہوتا۔ سوال کا صاف جواب آپ نے نہیں دیا۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ نبی کا منکر اس کا کافر ہوگا۔ یعنی جو شخص کسی نبی کا منکر ہوگا وہ اس نبی کا کافر ہوگا۔ خدائی یا شرعی کافر نہیں جس کسی کا کوئی

١؎ محروم نہیں۔ الخ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وحی الٰہی یا وحی رسالت ہمیشہ کے لئے بند ہوچکی۔ (١٢ منہ)

٥٤

صفحہ ٥٦٧

منکر ہو اسی کا وہ کافر ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی شخص آپ کا منکر ہے تو آپ کا ہی کافر ہے شرعی کافر نہیں۔ یہ بھی آپ کی نئی منطق ہے۔

دوسرا حصہ ١؎ سوال کا یہ تھا کہ مامور کا کیا کام ہے۔ یعنی دنیا میں اس کے متعلق کیا کام ہوتا ہے جس کے لئے وہ مامور کیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس آپ نے اس کا جواب ہی نہیں دیا اور عمداً آپ نے اس سے اغماض کیا۔ نبی علیہ السلام کا منکر ضرور کافر شرعی ہے۔ یہ آپ کا خیال کہ ہر منکر کو کافر سمجھ لیا جائے صحیح نہیں۔ بلکہ شرعی کافر وہی ہے جو الوہیت اور ختم رسالت یا رسالت اور نبوت عامہ یا ضروریات ارکان اسلام کا منکر ہو کافر ہے۔

اس سوال کا مطلب یہی تھا کہ مرزا قادیانی کے مسیح موعود ہو کر آنے کی کیا ضرورت تھی اور ان کا کیا کام ہونا چاہیے تھا۔ اسلام کو ان سے کیا فائدہ مترتب تھا اور جو کام ان کے سپرد تھا اس کو انہوں نے پورا کیا یا نہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کے عقائد میں حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کی غرض کتب و احادیث اور سیر اور تفاسیر میں مفصل درج ہے جس کا ذکر مرزا قادیانی کی الہامی کتاب (براہین احمدیہ ص ٤٩٨، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) وغیرہ میں بھی درج ہے۔ پھر ایک جگہ پر مرزا قادیانی مسیح موعود کے تین کام اس طرح پر درج فرماتے ہیں۔ انہیں پر غور فرما لیجئے۔ وہو ہذا!

ہلاک ہو جائیں گے۔

روح اور راستی سے بھری ہوئی ہے خلق اللہ کے سامنے رکھے۔

١؎ دوسرا حصہ سوال کا مرزا قادیانی ایک جگہ یوں لکھتے ہیں۔ طالب حق کے لئے میں ایک یہ بات پیش کرتا ہوں کہ میرا کام جس کے لئے میں اس میدان میں کھڑا ہوں یہ ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور بجائے تثلیث کے توحید کو پھیلا دوں اور آنحضرت ﷺ کی جلالت و عظمت اور شان دنیا پر ظاہر کروں جس میں اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں۔ پس دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہیے تھا تو پھر سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور مر گیا تو پھر گواہ رہیں کہ جھوٹا ہوں۔ والسلام! غلام احمد (اخبار البدر مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٢ء رسالہ نمبر ٨، مکتوبات ج ٥ ، حصہ اول ص ١٦٢، انجمن تائید الاسلام لاہور)

٥٥

صفحہ ٥٦٨

تیسرا: کام مسیح کا یہ ہے کہ ایمانی نور کو دنیا کی تمام قوموں کے مستعد دلوں کو بخشے اور منافقوں کو مخلصوں سے الگ کر دیوے۔ یہ تینوں کام اس عاجز کے سپرد کئے ہیں۔

(بلفظہ ازالہ اوہام ص ٥٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٣)

نوٹ: یہ تینوں کام کسی آیت یا حدیث یا اسلامی کتب سے صریح ثابت نہیں ہیں۔

اب آپ غور فرمائیں کہ اوّل تو کونسی قومیں یا کافر مرزا قادیانی کی دلائل بیّنہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ یا کوئی احمدی مرزائی ہوا ہے۔ مرزا قادیانی اگر یہ کہتے کہ کافر لوگ میرے دم سے مسلمان ہوں گے۔ لیکن بجائے اس کے ہلاک ہوں گے لکھ دیا۔

دوسرا کام مرزا قادیانی کی تعلیم جو غلطیوں سے اسلام کو پاک کرے گی۔ برعکس اس کے یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کی تعلیم نے مسلمانوں کو سخت غلطیوں میں ڈال دیا۔

تیسرا کام مرزا قادیانی کا بہت اچھی طرح سے پورا ہوا۔ ایمانی نور دنیا کی تمام قوموں، یہود، نصرانی، زردشتی، مجوسی، آتش پرست، ہندو، آریہ، سنیاسی، برہمو، بودھ، سکھ، جینی وغیرہ کے دلوں میں خوب ڈال دیا۔ اگر یہی نور ہے جس کا ظہور ہے تو بس خیر صلا۔ ان دنیا کی قوموں میں سے ایک شخص کو بھی آپ پیش کریں جس کے دل میں مرزا قادیانی نے ایمانی نور بخشا ہو۔ ہاں! ان کے زمانہ میں کئی ایک مسلمانوں کے دلوں سے نورِ ایمانی نکل تو ضرور گیا ہے۔ یہ دعویٰ ١؎ اور یہ ہر سہ امور آپ ہی غور کر کے فرمائیں کہ مرزا قادیانی نے پورے کر دیئے ہیں۔ علاوہ اس کے کہ مرزا قادیانی مسیح علیہ السلام کے کام اپنی نہایت معتبر کتاب الہامی بمنزلہ قرآن شریف (نعوذ باللہ) میں اس طرح پر تحریر فرماتے ہیں:

لیظهره علی الدین کلّہ! یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے۔ وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“

(براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣)

١؎ پنجاب میں بے حد عیسائیت کی ترقی مردم شماری ١٩٠١ء ٢٧٦٩٥ مرُدم شماری ١٩١١ء ١٦٣٠٩٤ دس سال میں بیشی ١٣٥٣٩٩، دیکھو اخبار سراج الاخبار جہلم ٢؍ دسمبر ١٩١٣ء ص ٧ کالم اوّل سطر ٢٧۔

٥٦

صفحہ ٥٦٩

عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کر دیں گے اور کج اور ناراست کا نام ونشان نہ رہے گا اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلّی سے نیست و نابود کر دے گا۔“

(بلفظہ براہین احمدیہ ص ٥٠٥، خزائن ج١ ص ٦٠١)

اللہ اکبر! مولوی صاحب فرمائیے جو حضرت مسیح علیہ السلام دنیا میں آ کر سرانجام فرمائیں گے مرزا قادیانی کے ازالہ اوہام اور براہین احمدیہ کا مقابلہ آپ ہی اپنے دل میں فیصلہ کر لیں کہ ان میں سے کون غلط ہے اور کون صحیح اور کس بات یا تحریر پر آپ کو ایمان لانا چاہئے اور اس ایمان کے وجوہ کا بھی خود ہی فیصلہ کرلیں خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اگر کیا تو یہ کہ اسلام میں تفرقہ ڈال کر مسلمانوں سے جدا ایک گروہ قائم کرلیا۔ غیر اسلامیوں پر ایک ذرّہ بھر بھی مسیحاجی کا اثر نہ ہوا۔ فاعتبروا تدبر!

/ سوال ہشتم: مبشر اور منذر بھی نبی ہوتے ہیں یا کچھ فرق ہے۔ اگر فرق ہے تو کیا؟۔

جواب: ایک نسخہ یاد ہونے سے کوئی طبیب نہیں کہلا سکتا اور نہ ہلدی کی ایک گانٹھ رکھنے سے پنساری ہو سکتا ہے۔ ایک چاول گرسنہ کو سیر نہیں کر سکتا۔ ایک قطرہ پانی کا پیاسے کی پیاس نہیں بجھا سکتا۔ ہر بشارت اور ہر انذار کا کوئی حق نبی اور رسول ہونے کا نہیں ہے۔

اقول وباللہ التوفیق: مولوی صاحب یہ جواب آپ کا سوال کے مطابق نہیں۔ اس سوال کا جواب صاف یہ تھا کہ مبشر اور منذر نبی ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ ایک نسخہ جاننا، ہلدی کی ایک گانٹھ رکھنا، پانی کا ایک قطرہ، ایک چاول وغیرہ تو سوال کا کوئی جواب نہیں۔ ہاں! آپ کے جواب کا مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ اگر ایک دو بشارتیں یا انذار اگر کسی کو ہوں تو وہ نبی نہیں ہو سکتا اور جس کو کثرت سے ہوں وہ نبی اور رسول ہونے کا حق دار ہے۔ علت غائی یہ کہ مرزا قادیانی کثرت سے بشارتیں اور انذار ظاہر کرتے ہیں اور دعویٰ بھی بڑے زور سے رسالت اور نبوت کا کرتے ہیں۔ اس لئے وہ نبی اور رسول ہیں۔ لیکن میں مفصل اور نہایت صفائی کے ساتھ سوال و جواب نمبر اوّل میں عرض کر چکا ہوں اور قرآن شریف کی آیات سے ثابت کر چکا ہوں کہ مبشر اور منذر نبی اور رسول علیہ السلام ہی ہوتے ہیں اور کسی ایرے غیرے کا حق نہیں ہے کہ اپنے آپ کو مبشر اور منذر کے الفاظ سے منسوب کرے۔

/٥٧

صفحہ ٥٧٠

سوال نہم: بروز کے کیا معنی ہیں۔ بروزی نبی بھی بعینہ نبی ہوتا ہے یا نہیں۔ اس کا منکر اور مکذب بھی مسلمان ہوتا ہے یا نہیں۔ بروزی نبی کی کوئی نظیر یا مثال انبیاء علیہم السلام سابقین میں ہے یا نہیں۔

جواب: (الف)......عین عین ہے۔ اور بُروز بروز۔ بروز عین ہو تو بروز کیا۔ (ب)......نبی کے منکر کو مسلمان کہتے ہوئے میں ڈرتا ہوں۔ (ج)......ایلیا کا بروز ایک رنگ میں یحییٰ نبی ہوا ہے۔ علیہم الصلوٰۃ والسلام!

اقول وباللہ التوفیق: مولوی صاحب! یہ جواب بھی میرے سوال کے مطابق نہیں ہے۔ میں نے تو صرف لفظ بروز کے معنی دریافت کئے تھے۔ آپ نے اس کا جواب دیا کہ عین عین ہے۔ بروز بروز ہے۔ یہ تو کوئی معنی بروز کے نہیں ہیں۔ مفصل حالات اس کے میں عرض کر چکا ہوں۔ خواہ آپ دانستہ اغماض فرمائیں۔ (ج) جو آپ نے ایلیا کا بروز ایک رنگ میں یحییٰ علیہ السلام ہوئے ہیں لکھا ہے یہ بھی عجیب ہے۔ قرآن شریف اور احادیث شریف میں ایلیا نام کسی نبی علیہ السلام کا نہیں آیا ہے۔ البتہ حضرت الیاس علیہ السلام کا تذکرہ ہے۔ آپ براہِ مہربانی اس کا ثبوت اس بات کا کسی آیت یا حدیث یا کسی دینی کتاب سے ارشاد فرمائیے کہ ایلیا حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بروز تھے۔ سوائے کسی شرعی ثبوت کے ایسی باتیں قبول کرنا اسلامی اصول کے برخلاف ہے۔

لیجئے! خدا کے فضل سے سوالات مندرجہ عریضہ خود اور جوابات مندرجہ نوازش نامہ جناب کو ختم کر چکا۔ سوال و جواب نمبر دہم کے متعلق سوال و جواب اوّل میں مفصل لکھا جا چکا ہے۔ اب میں آپ کے اشتہار معیار صداقت کی نسبت مختصر عرض کرتا ہوں۔ صرف دو باتیں پیش کروں گا اور اصل معیار صداقت قرآن شریف سے آپ کی ہی پیش کردہ آیت سے جو آپ نے اپنی معیار صداقت کے ٹائٹل پیج کی پیشانی پر نصف قوس میں لکھی ہے۔ اسی سے صداقت اسلام بلکہ صداقت مقلدین بالخصوص حضرت سراج الامت والائمہ حضرت امام اعظمؒ اور ان کے مقلدین مومنین صالحین کی اظہر من الشمس ثابت ہوگی۔ کچھ جواب پہلے رسالت کے بارے میں آچکا ہے۔ اس میں سے چند فقرات کا اقتباس کر کے جواب لکھتا ہوں اور پھر وہ آیت شریف ان فی ھذا لبلغا لقوم عابدین! کی پیشگوئی عرض کروں گا۔ آپ یوں فرماتے ہیں:

”ہمارا ایمان اور آپ خوب جانتے ہیں کہ خدا ہمارا وہی ہے جو قرآن کریم نے پیش کیا

٥٨

صفحہ ٥٧١

ہے۔ خاتم النبیین ہمارا نبی ہے (ﷺ) اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کے سوا کوئی نئی نبوت اور نیا نبی ١ ؎ نہیں لے آسکتا ہے۔ کتاب ہماری قرآن ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کے بعد کوئی کتاب نہیں آسکتی۔ دین ہمارا اسلام ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس کے بعد کوئی دین نہیں آسکتا۔ شریعت ہماری وہی ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ اس میں ایک شوشہ کی بھی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ قبلہ ہمارا وہی ہے ایمان بالتوحید بالملائکہ بالکتاب بالرسالت بالقیامت بالقدر خیر و شر وہی ہے، کلمہ وہی ہے، حج وہی ہے، زکوٰۃ وہی ہے، نماز وہی ہے، روزہ وہی ہے اوامر وہی ہیں، نواہی وہی ہیں، وہی حلال ہیں، وہی حرام ہیں، اہل قرآن ہم بھی ہیں۔ مگر اسوۂ حسنہ اور حدیث کے منکر نہیں۔ اہل حدیث ہم ہیں ۔ مگر فقہ آئمہ اولیاء اکابر مذہب کے دشمن خشک نہیں۔ اہل باطن اور صوفی ہیں اور صوفیاء کرام اور اہل باطن کا احترام کرتے ہیں۔

(بلفظہ معیار صداقت ص ٦ ، ٧)

مولوی صاحب! معاف رکھئے گا۔ یہ باتیں صرف کہنے کی ہیں۔ عمل کرنے کی نہیں۔ بلکہ عمل ان کے برخلاف ہے: ”لم تقولون ما لا تفعلون (صف:٢) اور ان تقولو مالا تفعلون (صف:٣)“ حکم خداوندی کی پرواہ نہیں۔ لیجئے! میں مختصراً آپ کی ان عقائد مندرجہ کی بابت نمبروار عرض کرتا ہوں اور ان پر خدا کے لئے غور فرماتے جائیں:

آپ کے فرضی عقائد:

بیشی نہیں ہوسکتی۔

١ ؎ ہاں! حضرت عیسیٰ علیہ السلام پرانے نبی ضرور تشریف لائیں گے۔

٥٩

صفحہ ٥٧٢

اصلی عقائد کی حقیقت اور صحت

کے مغائر ہے۔ ربنا !عاج!

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، خزائن ج١ ص ٦٤٣)

بیشک مرزا قادیانی آپ کے خاتم النبیین ہیں۔ کیونکہ ان کے الہامات قطعی اور یقینی بمثل قرآن شریف ہیں ان کا منکر کافر جہنمی ہے۔

قادیانی تو نئے نبی ضرور آئیں گے۔

١؎ عاج کے معنی ہاتھی دانت اور گوبر کے ہیں۔ دیکھو کتب لغت عربی ۔ ربنا عاج...... الخ ! اب معلوم ہوا کہ عاج اس بت کا نام ہے جو مندر سومنات واقع جونا گڑھ ملک گجرات دکن میں ہے۔ جس کو سلطان محمود غزنوی نے ویران کیا تھا اور شیخ سعدیؒ نے اپنی بوستان کے باب ہشتم میں اس عاج کا ذکر لکھا ہے۔ پس صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کا رب یہی عاج بت ہے۔ جس کی طرف سے شیاطین الہام کرتے رہے۔ نعوذ باللہ منہا۔

٦٠

صفحہ ٥٧٣

”قرآن میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ دوسرا آپ کے قرآن میں آیت انا انزلناہ قریبا من القادیان درج ہے۔ مسلمانوں کے قرآن شریف میں ایسا نہیں ہے۔

کیونکہ مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو اپنے سے جدا کر دیا ہے۔ اور اپنی جماعت کو نصاریٰ اور مسلمانوں سے جدا ایک تیسرا گروہ قرار دیا ہے۔ اور اپنے مریدوں کو جماعت اسلام سے جدا کر لیا ہے۔

(دیکھو لیکچر بمقام لاہور ١٩٠٤ء ص ٥٣، ٥٤، خزائن ج ٢٠ ص ١٩٩ ، ٢٠٠)

کے ساتھ نماز عصر کو سر درد کی وجہ سے ملا کر پڑھ لینا۔ حکم خداوندی ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتاباً موقوتاً کے برخلاف۔ رمضان شریف کے روزے بھی اختلاج قلب اور سفر کا بہانہ کر کے نہ رکھنا۔ اپنی مؤلفہ کتب کو قبل از تصنیف فروخت کرنا اور قیمت وصول کر لینا۔ اراضی رہن کا منافع حلال جان کر کھانا۔ مال حرام کو اپنے لئے قبول کرنا۔ وعدہ ایفا نہ کرنا۔ نماز کے بعد دعا نہ مانگنا۔ ہر کسی کو گالیاں دینا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام شراب پینے کا لگانا۔ یعنی انبیاء علیہ السلام کو معصوم نہ جاننا۔ تصویریں بنوا کر فروخت کروانا۔ مریدوں کا تصویریں مرزا قادیانی کی بڑی تعظیم کے ساتھ اپنے پاس رکھنا اور اس کی زیارت کرنا۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کے حقوق کو ادا نہ کرنا۔ مسلمانوں کو کافر کہنا۔ بلا قصور اپنے بیٹوں کو عاق کرنا۔ اپنی بیوی کو طلاق دینا اور اس کے جنازہ پر بھی نہ جانا۔ اپنے بیٹے کو اپنی عورت کے طلاق دینے پر مجبور کرنا۔ وغیرہ وغیرہ ! مختصر سی شریعت مرزا قادیانی کی ہے۔ کیا اب بھی آپ کا ایمان ہے کہ شریعت میں ایک شوشہ کی بھی کمی بیشی ہوئی ہے یا نہیں؟۔

تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب . الایہ ! کو پڑھئے۔ بموجب الہام مرزا قادیانی ومن دخله كان آمنا قادیان کعبہ اور قبلہ مرزائیاں کا ہے۔ اس واسطے کسی مرزائی احمدی نے حج فرض کو ادا نہ کیا۔

ظهورك ظهوری . وغیرہ! مرزا قادیانی خدائی میں شریک ہیں۔ بلکہ ان کا خدا ان میں سے پیدا ہوا ہے۔ (نعوذ باللہ )

٦١

صفحہ ٥٧٤

الله الیکم جمیعاً (اے غلام احمد ) لوگوں سے کہہ دے کہ میں تم سب کے واسطے اللہ کی طرف سے رسول ہوں۔

والملئکته وکتبه ورسوله والبعث بعد الموت ! ( بلفظ مرزا قادیانی کا اشتہار ٢/اکتوبر ١٨٩١ء مقام دہلی، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣١) اگرچہ مرزا قادیانی کا اپنا ایمان اپنے الہامات کے خلاف ہے۔ تاہم اس میں قیامت اور تقدیر، خیر وشر پر کوئی ایمان نہیں۔

ہیں۔ مگر فائدہ؟۔

ان کے مریدین کا حج قادیاں میں۔ فرمائیے مرزا قادیانی نے حج فرض کو ادا کیا۔ یا کسی مرزائی احمدی نے کبھی حج کو ادا کیا۔ ہرگز نہیں۔ پھر حج وہی کیا ہوا ۔ مرزا قادیانی اور اکثر مرزائی مسلمہ متمول مالک نصاب با استطاعت ہیں۔ مگر حج کا کسی نے نام تک نہیں لیا۔ قبلہ اور کعبۃ اللہ شریف کی طرف رخ تک نہیں کیا۔

شاید آپ یہ کہیں کہ مرزا قادیانی کو حج کرنے کے واسطے امن نہیں تھا۔ خوف تھا۔ اس لئے انہوں نے حج نہیں کیا۔ میں کہتا ہوں یہ محض غلط اور دھوکا ہے۔ جب مرزا قادیانی کا الہام یقینی والله یعصمک من الناس موجود ہے۔ اور یہ بھی تعلی اور تحدی ہے کہ مجھ کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ پھر حج کرنے میں کونسا امر مانع ہوا؟ ۔ یا یہ کہ الہام پر ایمان نہیں یقین نہیں۔ یا مسیحائی کا کوئی اثر نہیں۔ چاہئے یہ تھا کہ کعبۃ اللہ شریف میں حج کے لئے جاتے اور وہاں اپنا دعویٰ پیش کر کے علماء حرمین شریفین زاد ہا اللہ شرفا وتعظیماً کو اپنی مسیحائی کی تاثیر سے مغلوب کر کے اپنے متواتر الہام قطعی کتب الله لا غلبن انا ورسلی سے غالب آ کر دعوے کو منوا لیتے۔ پھر کیا تھا۔ کل جہان مرزا قادیانی کو مان لیتا اور فتاویٰ کفر بھی صاف ہو جاتے۔ مگر افسوس! فرق صرف سچے اور جھوٹے کا ہی ہے۔

٦٢

صفحہ ٥٧٥

ادا کی ۔ جبکہ لاکھوں روپیہ اور زیور ان کے پاس تھے۔ یا کسی اور مرزائی نے زکوٰۃ مستحقین کو ادا کی؟ ہرگز نہیں۔

میں نمازوں کو جمع کرلیا کرتا ہوں اور مسجدوں میں جانا کراہت جانتا ہوں ۔“

(دیکھو الہامی کتاب فتح اسلام ص ٤٠، ٤١، خزائن ج ٣ ص ٢٥)

نہیں رکھتے تھے۔ اور نہ بعد سفر اور آرام کے اعادہ کرتے تھے۔ سفر ریلوے دہلی، لدھیانہ، امرتسر کا حال یاد ہوگا۔ مقیم مرزائیوں نے بھی روزے توڑ ڈالے تھے۔

بیٹے ہیں۔ قرآن شریف میں نعوذ باللہ گندی گالیاں بھری ہیں۔ قرآن شریف میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ہیں۔ قرآن میں قادیان کا نام بھی اعزاز کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ آپ کے قرآن میں حضرت رسول اکرم ﷺ کے معراج اور خاتم النبیین ہونے کا انکار ہے۔ یا کوئی ذکر تک نہیں۔ وغیرہ وغیرہ !

ہوئی ۔ خواہ وہ موضوع ہی کیوں نہ ہو اس کو مان لیا۔ جیسے حدیث موضوع لا مہدی الا عیسیٰ بن مریم اور جہاں کوئی حدیث ١؎ خواہ صحیح بخاری میں ہی کیوں نہ ہو۔ اپنے خلاف ہو۔ اس سے انکار کردیا۔ مثلاً حسب تحریر مرزا قادیانی حدیث شریف : ”لعنت اللہ علی الیہود والنصاریٰ اتخذوا قبور انبیائہم مساجد (صحیح بخاری ج ١ ص ٦٢ باب الجزر عن اتخاذ القبور المساجد)“ (یعنی یہود اور نصاریٰ پر لعنت جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجدیں بنالیا ہے) بلاد شام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کی پرستش ہوتی ہے اور مقررہ تاریخوں پر ہزارہا عیسائی سال بسال جمع ہوتے رہے ہیں۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ درحقیقت وہ قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہی قبر ہے۔“

(ملخصاً مرزا قادیانی کی ست بچن حاشیہ در حاشیہ ص ١٦٤، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٩)

١؎ حدیث شریف پیدائش مہدی علیہ السلام میں کَدِعہ ، کَدْعہ ، فَدْعہ معرب قادیان لکھ کر حدیث شریف کی تحریف کردی۔

٦٣

صفحہ ٥٧٦

لیجئے ! غور فرمائیے اہل حدیث اور اسوہ حسنہ کے مقرر ایسے ہی ہونے چاہئیں۔ صرف دو ہی حدیثیں بطور نمونہ حاضر ہیں۔ جہاں چاہا مان لیا۔ جہاں چاہا انکار کر دیا۔ ایسی بہت سی احادیث ہیں جن کا انکار کیا گیا ہے۔ یا تو یہ تھا کہ اس حدیث سے جس کو مرزا قادیانی بوجہ صحیح بخاری اصح الکتاب میں درج ہونے کے بڑے زور سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ان کی قبر کو بلاد شام میں ثابت کیا تھا۔ لیکن اب کوئی اور حدیث پیش نہیں کی۔ صرف حکیم نورالدین کے کہنے سے یوز آصف کی قبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کشمیر میں ثابت کر دی۔ اور خود ہی حدیث صحیح سے انکار کر دیا۔ حکیم نورالدین کی کلام کو ناسخ حدیث صحیح حضرتﷺ قرار دے دیا۔ افسوس! مرزا قادیانی کی اختلاف بیانی پر کچھ تو خیال فرمائیے۔

جبکہ حضرت رسول اکرمﷺ کے برابر ہیں۔ بلکہ ان سے افضل (نعوذ باللہ) تو آئمہ فقہ کس حساب میں ہیں؟۔ اگر آپ یہ فرمائیں کہ مرزا قادیانی پر یہ زیادتی ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو افضل کہیں نہیں کہا۔ میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی تو حضرتﷺ کے معراج جسمانی کا انکار کرتے ہیں۔ لیکن اپنی بڑائی میں کہتے ہیں کہ میں نے قضا وقدر کی مسلوں پر خداوند تعالیٰ کے دستخط کروا لئے۔ اس وقت خداوند تعالیٰ نے اپنے قلم کو چھڑکا۔ اس کی چھینٹیں میرے کپڑوں پر پڑیں۔ بلکہ عبداللہ سنوری میرے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی ٹوپی پر بھی چھینٹیں پڑیں۔ کپڑے موجود ہیں۔‘‘

(دیکھو سرمہ چشم آریہ حاشیہ ص ١٣٢، خزائن ج ٢ ص ١٨٠)

فرمائیے! سیاہی کی چھینٹیں مرزا قادیانی کے کپڑوں پر پڑیں اور اسی خدا مجسم، قلم مجسم سے جب ایسا ہوا تو مرزا قادیانی اس خدا کے پاس موجود تھے اور کوٹھے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت سیاہی کی چھینٹوں کو نئے پرانے فلسفہ نے خشک نہ کیا اور مرزا قادیانی خدا کے پاس ایسے ہی بیٹھے ہوئے تھے جیسے صاحب ڈپٹی کمشنر کا مسل خوان۔ لیکن حضرت رسول خداﷺ کو ایسا رتبہ اور عزت کہاں کہ خدا کے پاس بیٹھ کر قضا وقدر کی مسلوں پر دستخط کروائیں۔ لاحول ولا قوۃ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قضا و قدر لکھی جا چکی۔ اس کی وہ سیاہی خشک ہوگئی۔ اب نئی قضا و قدر مرزا قادیانی نے شروع کر دی۔ یہ فضیلت کی تحریر ہے۔

نہ ہوئیں اور وہ مجھ کو معلوم ہوگئیں۔‘‘ (دیکھو ازالۃ اوہام ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٢٧٣) یہ دعویٰ بھی کیا کہ

٢٤

صفحہ ٥٧٧

حضرت رسول کریم ﷺ کی فتح سیفی ہے۔ میری فتح روحانی ہے۔ اور روحانی فتح سیفی سے زیادہ دیر پا ہوتی ہے۔ اور آنحضرت میں جلال بھی تھا۔ میرے اندر جمال ہی جمال ہے۔ اپنا تفوق۔ سوم...... خدا عرش پر مرزا قادیانی کی تعریف کرتا ہے۔ (انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ایضاً) اور بہت ایسی باتیں ہیں جس سے اپنی فضیلت حضرت رسول اکرم ﷺ پر ثابت کرتے ہیں۔ ٢٢...... غلط ہے۔ مرزا قادیانی اگر اہل باطن ہوتے تو اپنے مرنے کے وقت اپنا دارالامان قادیاں دولت خانہ خود کو چھوڑ کر دشمنوں کے گھر لاہور میں نہ جاتے۔ اگر اہل باطن ہوتے تو زوجہ آسمانی کے بارے میں ایسے ایسے الہامات کر کے سر پر ندامت نہ لے جاتے۔ اور نہ اپنے حقیقی رشتہ داروں سے قطع رحم کرتے۔ اگر اہل باطن ہوتے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پہلے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا اور اب تک زندہ رہنا اور قرب قیامت کو دنیا پر دوبارہ آنا نہ لکھتے۔ پھر اس کے خلاف ان کو وفات یافتہ قرار دے کر پہلے ان کی قبر بلاد شام اور گلیل میں لکھ کر پھر کشمیر میں تحریر نہ فرماتے۔

صوفیائے کرام کا بھی کوئی احترام نہیں۔ جبکہ مرزا قادیانی کسی بزرگ سے بیعت نہیں تھے اور نہ کسی سلسلہ صوفیاء میں منسلک تھے۔ تو پھر احترام کیسا؟۔ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا نئے احمدی مرزائی اکمل آف گولیکی کا مضمون برخلاف صوفیاء خاندان نقشبندی ”نقشبندیوں پر حجت“ کے نام سے اخبار الحکم میں شائع کیا تھا۔

پس مولوی صاحب یہ سب باتیں ہاتھی کے دانتوں کی طرح ہیں اور کچھ نہیں۔ آپ اگر یکسوئی سے غور فرمائیں گے تو آپ پر ظاہر ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی نہ نبی تھے، نہ رسول، نہ بروزی نبی، نہ مسیح موعود، نہ مہدی مسعود، نہ کلکی اوتار، نہ کرشن اوتار، کچھ بھی نہ تھے۔ نہ ان کی خو نہ خصلت، نہ تمثیلی، نہ اصلی۔ البتہ روپیہ پیسہ کے خواہاں۔ اسی لئے تین ماہ برابر الحکم میں اشتہار جاری ہوتا رہا کہ اگر تین ماہ تک کوئی شخص میرا مرید قادیاں میں چندہ نہ بھیجے گا اس کا نام بیعت میں سے خارج کر دیا جائے گا۔ آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ مریدین کی بیعت صرف چندہ کی شرط پر تھی اور مرزا قادیانی کو ایسا اشتہار دینا چاہئے تھا؟۔ خدائی سلسلہ کے لئے ایسے اشتہار جاری کرنے چاہئیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔ یہ سب باتیں سنت اللہ کے خلاف ہیں۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی نے ١٩٠٦ء میں اپنے مرنے سے ایک سال ساڑھے سات ماہ اول اپنی جماعت کو بڑے افسوس کے ساتھ کافر اور منافق فرما دیا۔ آپ کی تسلی کے لئے ان کی اصل تحریر مندرجہ انجام آتھم اخبار الحکم نقل کرتا ہوں: ٦٥

صفحہ ٥٧٨

اپنی جماعت کی موجودہ حالت

”میں دیکھتا ہوں اب تک ہم کو بھی ایسی جماعت نہیں ملی۔ جب ہم کسی امر میں فیصلہ کردیں تو تھوڑے ہیں جو اس کو شرح صدر سے منظور کرلیں۔ آنحضرت ﷺ کے تو وہ ایسے فدائی تھے اور جان نثار تھے کہ جانیں دیدیں۔ اب اگر اتنا ہی کہا جائے کہ سو دوسو کوس پر جاؤ اور وہاں دو چار برس تک بیٹھے رہو۔ پھر کہنے سننے لگ جاویں۔ زبان سے تو کہنے کو کہہ دیتے ہیں کہ آپ جو کردیں ہم کو منظور ہے۔ لیکن جب کہا جائے تو پھر ناراضگی کا موجب ہوتے ہیں۔ یہ نفاق ہوتا ہے۔ میں منافقوں کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت فرماتا ہے: ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار ! یقیناً یادرکھو۔ منافق کافر سے بھی بدتر ہے۔ اس لئے کافر میں شجاعت اور قوت فیصلہ تو ہوتی ہے۔ وہ دلیری کے ساتھ اپنی مخالفت کا اظہار کر دیتا ہے۔ مگر منافق میں شجاعت اور قوت فیصلہ نہیں ہوتی۔ وہ چھپاتا ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اگر جماعت میں وہ اطاعت ہوتی جو ہونی چاہئے تھی تو اب تک یہ جماعت بہت کچھ ترقی کرلیتی۔“

(بلفظہ الحکم نمبر ١ ج ١٠ ص ٣، ٤ مورخہ ١٠؍ جنوری ١٩٠٦ء)

لیجئے! یہاں پر مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کی تعریف بھی اچھی طرح فرما دی۔ منافقوں، کافروں سے بدتر فرما دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ اطاعت نہیں کرتے۔ حکم نہیں مانتے۔ اس وجہ سے کچھ ترقی بھی نہ ہوئی۔ اس کی وجہ بھی وہی ہے جو مال چندہ وغیرہ ادا نہیں کرتے۔ اس کی نظیر اسی اخبار میں اسی جگہ یوں فرماتے ہیں۔ اور صحابہ کا یہ حال تھا کہ ان میں سے مثلاً ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وہ قدم اور صدق تھا کہ سارا مال ہی آنحضرت ﷺ کے پاس لے آئے۔ براہ مہربانی مرزا قادیانی کی تحریر اور منشاء پر غور فرمائیں۔ یہی کہ سب مرید اپنے گھروں سے سارا کا سارا مال مرزا قادیانی کے پاس حاضر کردیں اور مرزا قادیانی جہاں چاہیں خرچ کریں۔ پھر حضرت ﷺ ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کی شان اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کا علو مرتبہ کی نسبت کا مقابلہ مرزا قادیانی اپنے ساتھ کرتے ہیں۔ صرف لفاظی۔

اب میں وہ آیت ان فی ھذا البلغا القوم عابدین ! جو آپ نے اپنی معیارِ صداقت کی پیشانی پر عبرتاً لکھی ہے پیش کرتا ہوں۔ جس کی بابت عرض کیا گیا تھا کہ بعد میں عرض کروں گا جو آپ کے نہایت ہی قابل غور اور توجہ ہے۔ اس پیشگوئی الٰہی پر ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے سے آفتاب کی طرح ظاہر ہوجائے گا کہ اسلام کی صداقت حضرت رسول اکرم ﷺ کی

٦٦

صفحہ ٥٧٩

رفاقت وصداقت صحابہ کرام کی صداقت واطاعت حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ اور ان کے مذہب کی صداقت اور ان کے مقلدین اور پیروں کی صداقت اسی پیشین گوئی و دیگر آیات مشمولہ میں خداوند کریم نے فرمائی ہے اور قوم عابدین میں شمار کرنا خداوند تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا نمونہ ہے:

عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد

اب آپ کے لئے پوری آیات شریف کو لکھ کر پیش کرتا ہوں۔ پھر ان کے معنی اور تفسیر کروں گا۔ پھر انشاء اللہ تعالیٰ اگر کوئی اور بات نہ آ گئی تو عریضہ کو ختم کروں گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:

”ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر ان الارض يرثها عبادی الصلحون ٠ ان في هذا لبلغا لقوم عبدين ٠ وما ارسلنك الا رحمة للعالمین

”اور تحقیق ہم نے زبور (لوح محفوظ ) میں ذکر اور نصیحت کے بعد لکھ دیا

(انبیاء: ١٠٥ تا ١٠٧)

ہے کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ تحقیق اس میں قوم عبادت کرنے والی کو البتہ مطلب پر پہنچا دینا ہے۔ یہ اس لئے کہ (اے محمدﷺ ) ہم نے آپ کو تمام عالموں کی رحمت ہی کے واسطے رسول بنا کر بھیجا ہے۔“

تمام تفاسیر اسلامی میں الارض کے معنوں سے دو مطلب لئے ہیں۔ ایک تو ارض بہشت کی زمین سے مراد ہے۔ دوسرا الارض سے ارض بیت المقدس ہے جو اس وقت اہل کتاب کا کعبہ ہے۔ مراد ہے بہشت کی زمین کا وارث ہر ایک مسلمان تابعدار پیغمبران علیہم السلام ہو سکتا ہے۔ لیکن زمین بیت المقدس کا وارث یا مالک یا خلیفہ ہونا کلام الہی کی پیشین گوئی کے مطابق اولذکر مراد سے مرجح ہے۔ تفاسیر جامع البیان، فتح المنان، وغیرہما میں درج ہے کہ سعید بن جبیر و مجاہد و کلبی و مقاتل و ابن زیدؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت شریفہ میں زبور سے وہ کتابیں مراد ہیں ( تورات‘ زبور‘ انجیل‘ قرآن شریف ) جو دنیا میں انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے۔ جہاں سے یہ کتابیں رسل علیہم السلام کے پاس بذریعہ وحی الہی پہنچیں اور ارض سے ارض مقدسہ بیت المقدس اور ملک شام ١ ؎ مراد ہیں۔

١ ؎ ملک شام ...... الخ ۔ مرزا قادیانی نے بھی اپنی براہین احمدیہ میں ایسا لکھا ہے۔ وهوهذا ! ”خدا نے کہا تھا کہ میں ارض شام کو عیسائیوں کے قبضہ سے نکال کر مسلمانوں کو اس زمین کا وارث کر دوں گا۔ دیکھو اب تک مسلمان ہی اس کے وارث ہیں۔“

١

(براہین احمدیہ ص ٢٥، خزائن ج ١ ص ٦٢١)

٢٧

صفحہ ٥٨٠

پس خلاصہ یہ ہے کہ لوح محفوظ اور تمام کتب الٰہی میں خداوند تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ملک شام اور بیت المقدس کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ اگر آپ کو میرے ترجمہ اور معنی یا مراد میں کوئی شک ہو تو آپ کتب تفاسیر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن علاوہ اس کے میں مرزا قادیانی کا ہی ترجمہ جو انہوں نے اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں فرمایا ہے لکھ دیتا ہوں۔ تاکہ آپ کو شک نہ رہے اور مزید اطمینان ہو جائے۔ وہ ہٰذا

”ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحون ١؎ (زبور:٣٧)“ ”ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھا ہے کہ جو نیک لوگ ہیں وہی زمین کے وارث ہوں گے۔ یعنی ارض شام کے۔“

(زبور ٣٧ بلفظہ براہین احمدیہ ص ٤٩٨ خزائن ج ١ ص ٢٦١)

لیجئے! مرزا قادیانی نے یہاں کتاب زبور باب ٣٧ کا یہی حوالہ دے دیا ہے کہ اس کے مطابق ملک شام کے وارث اور مالک نیک بندے اس پیشین گوئی کے مطابق ہوں گے۔ میرا دعویٰ تورات زبور انجیل کتب الٰہی میں قرآن کریم کے مطابق یہ پیشگوئی موجود ہے۔ مگر میں سب عبارات مذکورات کو لکھوں تو ایک ضخیم کتاب ہو جائے۔ لیکن تا ہر ایک ایک عبارت ہر ایک کتاب کی لکھ دیتا ہوں کہ آپ اس پر غور فرمائیں:

تورات کتاب پیدائش باب ١٧

تب ابرام منہہ کے بل گرا اور خدا اس سے ہم کلام ہوا۔ بولا کہ دیکھ میں جو ہوں میرا عہد تیرے ساتھ ہے اور تو بہت قوموں کا باپ ہوگا اور تیرا نام پھر ابرام نہ کہلایا جائے گا بلکہ یہ تیرا نام ابراہام ہوگا۔ کیونکہ میں نے تجھ کو بہت قوموں کا باپ ٹھہرانا ہے۔ میں تجھے بہت برومند کرتا ہوں اور قومیں تجھ سے پیدا ہوں گی اور بادشاہ تجھ سے نکلیں گے اور میں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ان کی پشت کے لئے اپنا عہد جو ہمیشہ کا عہد ہو کرتا ہوں کہ میں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خدا ہوں گا اور میں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعان (بیت المقدس ملک شام) تمام ملک جس میں تو پردیسی ہے دیتا ہوں کہ ہمیشہ کے لئے مالک ہو۔ پھر خدا نے ابراہام

١۔ الصالحون رسم الخط قرآن شریف کے خلاف ہے کہ تمام کتب ...... الخ۔ قرآن شریف میں بھی اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے: فقد اتینا آل ابراھیم الکتاب والحکمة و آتینھم ملکا عظیما (النساء: ٥٤)!

٦٨

صفحہ ٥٨١

سے کہا کہ تو اور تیرے بعد تیری نسل پشت در پشت میرے عہد کو نگاہ رکھیں۔ میرا عہد جو میرے اور تمہارے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے جسے تم یاد رکھو۔ سو یہ ہے کہ تم سے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جاوے۔

(بلفظہ آیت: ١٠ سے آیت: ١٤)

٢...... یسعیاہ نبی کی کتاب و تورات باب ٥٢ آیت ایک "جاگ جاگ اے صہیون اپنی شوکت پہن لے اے یروشلم مقدس (بیت المقدس) شہر اپنا سجیلہ لباس پہن لے۔ کیونکہ آگے کو کوئی نامختون یا ناپاک تجھ میں کبھی داخل نہ ہوگا۔"

(بلفظہ زبور باب ٣٧، آیت ٩، ١٠، ١١، ٢٢، ٢٩)

٣...... "بدکار کاٹ ڈالے جائیں گے۔ لیکن وے جو خداوند کے منتظر ہیں زمین کو میراث میں لیں گے۔ ایک تھوڑی مدت ہے کہ شریر نہ ہوگا۔ تو غور کر کے اس کا مکان ڈھونڈے گا اور وہ نہ ہوگا۔ لیکن وے جو حلیم ہیں زمین کے وارث ہوں گے۔ جن پر اس کی برکت ہے۔ زمین کے وارث ہوں گے اور بہت سی راحت پا کر خوشدل ہوں گے۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے اور ابد تک اس پر بسیں گے۔"

٤...... مبارک وے جو حلیم ہیں۔ کیونکہ وے زمین کے وارث ہوں گے۔ بلفظہ!

نوٹ راقم...... بطور بہت سی عبارات کتب اہل کتاب کے موجود ہیں۔ طوالت کی وجہ سے درج نہیں کی گئیں۔ ان تمام احکامات و پیش گوئیاں مندرجہ کتب سابقہ و قرآن شریف سے ثابت ہے کہ بیت المقدس ملک شام کا مالک اور وارث خدا کے نیک اور صالح بندے ہوں گے اور ابد تک اس پر بسیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پیشین گوئی الٰہی کے مطابق بیت المقدس اور ملک شام کے مالک اور وارث کب سے کون لوگ ہیں۔ ان کا طریق کیا ہے۔ مذہب کیا ہے اور پہلے لوگوں کا کیا تھا اور اس پیشین گوئی کی صداقت کس طرح پر ہے۔

تواریخ میں لکھا ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ راشد عمرؓ کے زمانہ میں ملک شام بالخصوص بیت المقدس کا محاصرہ کیا گیا تھا۔ اس وقت ایک شخص ارطبون نامی ہرقل بادشاہ کی طرف سے بیت المقدس یا یروشلم کا عامل تھا۔ محاصرین میں حضرت عمرو بن عاصؓ، حضرت ابو عبیدہؓ، حضرت یزید ابن ابی سفیانؓ اور حضرت خالدؓ تھے۔ عرصہ تک جب بیت المقدس فتح نہ ہوا۔ تب ارطبون نے پیغام بھیجا کہ تم لوگ ناحق کوشش کر رہے ہو۔ جس شخص کے ہاتھ پر فتح ہونا بیت المقدس کا ہماری کتابوں میں لکھا ہے اس کا حلیہ تمام لوگوں میں سے کسی کا نہیں ملتا۔ اس وقت

٦٩

صفحہ ٥٨٢

حضرت امیر المومنین عمرؓ کو خبر دی گئی کہ وہ مدینہ منورہ سے اکیلے معہ غلام شتر سرخ پر سوار ہو کر بیت المقدس میں تشریف فرما ہوئے۔ تب ارطیون عامل نے بلا حیل و حجت حلیہ سے شناخت کر کے دروازے شہر کے کھول دیئے۔ بآواز بلند کہا کہ بیت المقدس میں داخل ہو جائیے اکالیدِ شہر حوالہ کر دیں۔ تب آیت شریف: ”يـقوم ادخلوا الا رض المقدسه التى كتب الله لكم (المائده: ٢١) “ یعنی اے قوم (صالحین) بیت المقدس میں داخل ہو جاؤ۔ جس کی وراثت خدا وند تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے) کی پوری تصدیق ہوئی اور اسی آیت شریفہ کی تصدیق کتاب تورات میں حضرت عمرؓ کی فتح کی بابت ہوتی ہے۔ چنانچہ یسعیاہ نبی کی کتاب باب ٢٦ آیت ایک دو میں اس طرح لکھا ہے تم دروازے کھولو۔ تاکہ راست باز قوم جس نے صداقت کو حفظ کر رکھا ہے اندر آوے۔ ١؎

الغرض یہ بیت المقدس ارض مقدسہ ملک شام حضرت عمرؓ کے وقت سے بموجب پیشین گوئی لوح محفوظ تورات زبور انجیل قرآن شریف کے فتح ہو کر اہل اسلام کے قبضہ اور وراثت اور ملکیت میں ہے اور تا قیامت اسی طرح رہے گا۔ ومن اصدق من الله قيلا ! خدا سے کون زیادہ سچا ہے۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ بیت المقدس و ملک شام مسلمانوں کی وراثت میں اس وقت ١٣٢٨ھ میں موجود ہے۔ پھر دیکھنا یہ ہے کہ اہل اسلام میں جو تہتر فرقے بیان کئے جاتے ہیں (خواہ سوائے پانچ چار کے معدوم ہیں) ان میں سے کس فرقہ کے قبضہ اور وراثت میں ہے؟۔ (مذاہب اربعہ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، مقلدین کا فرقہ ایک ہی ہے اور یہی اہل اسلام میں اہل سنت و جماعت ہے) یہ اہل سنت و جماعت کے قبضہ اور وراثت میں ہے یا کسی دیگر فرقہ، شیعہ، خارجی، معتزلہ، دہریہ، نیچری، غیر مقلد، وہابی، بابی، مرزائی، احمدی، چکڑالوی وغیرہم میں سے کس کے قبضہ میں ہے؟۔ جواب اس کا صحیح طور پر یہی ہے کہ اہل سنت و جماعت کے قبضہ میں ہے اور اہل سنت و جماعت کے مذاہب اربعہ میں سے یہی بالخصوص کسی مذہب والے کے قبضہ میں ہے۔ اس کا جواب بھی آنکھوں کے سامنے یہی ہوگا کہ مذہب حضرت سراج الائمہ امام اعظمؒ کے مقلدین کے قبضہ اور وراثت میں ہے۔

١؎ بیان کیا جاتا ہے کہ اس جگہ تورات میں حلیہ مفصل حضرت عمرؓ کا لکھا ہوا تھا اور بعد میں تحریف کی گئی۔

٧٠

صفحہ ٥٨٣

کیونکہ حضرت سلطان روم خلد اللہ ملکہ جس کی وراثت اور قبضہ میں بیت المقدس اور ملک شام اس وقت ہے ۔ وہ مقلدین حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ میں سے ہیں ۔

بس اس سے نہایت واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ خداوند تعالیٰ کی پیشین گوئی عبادی الصلحون میں حضرت نعمان بن ثابت امام ابو حنیفہؒ اور ان کے مقلدین ہیں اور یہی لوگ قیامت تک بموجب پیشین گوئی قرآن شریف و کتب سابقہ و لوح محفوظ کے ملک شام اور بیت المقدس کے مالک اور وارث ہوں گے۔ اور اسی پر ہمارا تہہ دل سے ایمان ہے اور اسی امر کے متعلق ایک لطیف نکتہ اسرار الہیہ میں سے ہے۔ جس کو مولانا حضرت امام یعقوب اسحاق رحمتہ اللہ علیہ متوفی ٢٣٨ھ نیشاپوری نے اپنی کتاب ”ناصر اللبیب فی اسماء الحبیب“ میں درج کیا ہے۔ وہ یہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے نام کے حروف چار ہیں اسی طرح حضرت رسول اکرم ﷺ کے نام مبارک محمد ﷺ ١؎ کے بھی چار ہی حروف ہیں۔ پھر لکھتے ہیں:

اولاً ...... جس طرح سے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کے بارہ حروف ہیں۔ اسی طرح تصدیق رسالت محمد رسول اللہ کے بھی بارہ ہی حروف ہیں۔

ثانیاً...... جس طرح سے محمد رسول اللہ ﷺ کے بارہ حروف ہیں۔ اسی طرح سے حضرت ابوبکر صدیق کے بھی بارہ ہی حروف ہیں۔

ثالثاً...... جس طرح سے حضرت ابوبکر صدیق کے بارہ حروف ہیں۔ اسی طرح سے حضرت عمر ابن الخطاب کے نام کے بھی وہی بارہ حروف ہیں۔

رابعاً...... پھر اسی طرح سے حضرت عثمان ابن عفان کے نام کے بھی بارہ ہی حروف ہیں ۔

خامساً...... پھر جس طرح سے حضرت عثمانؓ ابن عفان کے بارہ حروف ہیں۔ اسی طرح حضرت علیؓ بن ابی طالب کے بھی بارہ ہی حروف ہیں ۔ انتہی

اس کے بعد خاکسار راقم الحروف کہتا ہے :

سادساً...... پھر اسی طرح سے حضرت نعمان ابن ثابتؒ کے بھی بارہ ہی حروف ہیں۔

سابعاً...... جملہ آیت شریف ان الارض یرثھا کے بھی بارہ حروف ہیں۔

١؎ اس میں ایک اور بھی نکتہ اسرار الہیہ کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ اور کلمہ شریف لا الہ الا اللہ اور تصدیق رسالت محمد رسول اللہ پاک اور صاف بے نقطہ ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ! منہ

٧١

صفحہ ٥٨٤

ثامنا....... اسی طرح دیگر جملہ آیت عبادى الصلحون کے بھی بارہ ہی حروف ہیں۔

تاسعاً....... اسی طرح سے بیت المقدس جس کا نام المسجد الاقصیٰ ہے اور دوسرا نام الارض المقدسہ ہے جس کی وراثت کی پیش گوئی ان کے بھی بارہ ہی حروف ہیں۔

عاشراً....... اسی لحاظ سے جو اس وقت مالک و وارث اس بیت المقدس اور ملک شام کے ہیں۔ ان کا لقب امیر المومنین (حضرت سلطان روم ہے اور وہ اہل سنت والجماعت ہیں) ان کے بھی وہی بارہ حروف ہیں۔

ان تمام مناسبتوں کو آیت شریف قرآنی تلك عشرة كاملة پوری کرتی ہے اور مزید لطف یہ ہے کہ اس آیت شریفہ کے بھی وہی بارہ حروف ہیں۔ الحمدلله علی احسانه ! شاید آپ یہ خیال مبارک میں لاویں کہ ایسی مناسبتیں کسی غیر اسلامی یا غیر اہل سنت و جماعت کے نام پر بھی عائد ہو جائیں تو پھر اس کا جواب کیا ہوگا ؟ ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ مناسبت واقع کے برخلاف ہو اور پیشگوئی کے پہلو کو لئے ہوئے نہ ہو محض بارہ ہی حروف کی مناسبت ہو تو وہ اس پیش گوئی کی تمام مناسبات کی ناسخ نہیں ہو سکتی اور نہ اس کا کچھ اعتبار ہوگا۔ مثلاً اگر آپ یہ کہیں کہ حکیم نور الدین کے بھی بارہ ہی حروف ہیں اور وہ آجکل خلیفۃ المسیح بھی ہیں ۔ کیونکہ اس مناسبت اور پیشین گوئی میں داخل ہیں ۔ میں نہایت افسوس سے کہوں گا کہ یہ مناسبت واقع موجودہ کے برخلاف اور بالکل برخلاف ہے۔ کیونکہ ملک شام اور بیت المقدس حکیم نورالدین کے ہم مذہب کی وراثت میں نہ پہلے کبھی ہوا اور نہ اب ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ پھر یہ بارہ حروفی مناسبت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ غرضیکہ پیشین گوئی قرآن مجید اور کتب الہامی سابقہ اور لوح محفوظ سے یہ ثابت کرنا تھا کہ اس کے مطابق کون لوگ حق پر ہیں۔ کون ایماندار حلیم اور صالح ہیں۔ کون عبــــــــــــادی الصلحون میں داخل ہیں۔ سو اس پیشینگوئی سے اظہر من الشمس ثابت ہو گیا کہ مذہب اہل سنت و جماعت مقلدین بالعموم اور مقلدین امام اعظم بالخصوص اس پیشینگوئی میں داخل ہیں اور اس میں ذرہ بھر بھی شبہ کی گنجائش نہیں کہ امام الائمہ سراج الامۃ حضرت امام ابو حنیفہ امام اعظم کا مذہب مقبول

١؎ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے على هدى من ربھم یہی لوگ ہدایت یافتہ خدا کی طرف سے ہیں۔ اس کے بھی بارہ ہی حروف ہیں اور آیت صراط المستقیم کے بھی بارہ ہی حروف ہیں۔

٧٢

صفحہ ٥٨٥

الٰہی اور ارادہ الٰہی میں اور حضرت رسول اکرم ﷺ کی پسندیدگی میں داخل ہے اور حضرت امام اعظم کی وہ شان اعلیٰ اور ارفع تھی کہ دوسرے کسی مجتہد علیہ الرحمۃ کو عطا نہیں ہوئی۔ در قرآن فہمی اور بلکہ استنباط مسائل فقہیہ اور احادیث کے صحیح مفہوم کا ادراک کسی کو ان کے برابر حاصل نہ تھا اور عرفان الٰہی میں کامل اور اکمل تھے اور اسی لئے خداوند کریم کے ارادہ کے مطابق ان کے مذہب میں وسعت ایسی ہوگئی کہ روم، شام، عرب اور عجم مشرق ومغرب شمال وجنوب میں مذہب احناف کا پھیل گیا مختصراً۔

مولوی صاحب شاید میری اس تحریر کو نامعتبر یا حسن ظنی پر محمول فرمائیں۔ اس لئے مجھے ضروری ہوا کہ میں اس تحریر کی تصدیق مرزا قادیانی کی دستاویزات سے ہی نکال کر پیش کروں۔ تاکہ آپ کو اطمینان ہوجائے۔ لیجئے سنئے ! مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

نوٹ: راقم ! مرزا قادیانی سے صحابہ کی بجائے تابعین کا لفظ لکھا گیا۔ معلوم ہوتا ہے یہ کاتب کی غلطی ہے۔“

مسائل قرآن میں یدطولیٰ تھا۔ حضرت مجدد الف ثانی پر خدا تعالیٰ رحمت کرے۔ انہوں نے مکتوب ص ٢٧٠ میں فرمایا ہے کہ امام اعظم صاحب کی آنے والے مسیح کے ساتھ استخراج مسائل قرآن میں ایک روحانی مناسبت ہے۔“

(بلفظہ الحق مباحثہ لدھیانہ ص٩٩، خزائن ج ٤ ص ١٠١)

علم اور درائت اور فہم وفراست میں آئمہ ثلاثہ بقیہ امام مالک شافعی حنبل سے افضل واعلیٰ تھے خداداد قوت فیصلہ ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ وہ ثبوت وعدم ثبوت میں بخوبی فرق کرنا جانتے تھے اور ان کی قدرت مدرکہ کو قرآن شریف کے سمجھنے میں ایک خاص دستگاہ تھی اور ان کی فطرت کو کلام الٰہی سے ایک خاص مناسبت تھی اور عرفان کے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکے تھے۔ اسی وجہ سے اجتہاد اور استنباط میں ان کے لئے وہ درجہ علیا مسلم تھا جس تک پہنچنے سے دوسرے سب لوگ قاصر تھے۔“

(بلفظہ مرزا قادیانی کا ازالۃ اوہام ص ٥٣٠، خزائن ج ٣ ص ٣٨٥)

٧٣

صفحہ ٥٨٦

تو اس صورت میں فقہ حنفی پر عمل کریں۔ کیونکہ ١؎ اس فرقہ کی کثرت خدا کی ہے۔‘‘ لیجئے مولوی صاحب ! مرزا قادیانی کی تحریر سے بھی حقانیت مذہب مقلدین امام اعظمؒ بموجب پیشگوئی قرآن شریف اور کتب الہامی سابقہ سے ثابت ہو گئی۔ نیز تقلید شخصی جناب حضرت امام مقدس کی خداوند کریم توفیق ہدایت فرمائے۔ آمین!

اب میں مسلمانوں اور مرزائی احمدیوں کا فرق آپ کو دکھلاتا ہوں۔ مختصراً پھر عریضہ کو انشاء اللہ تعالیٰ ختم کروں گا۔

مسلمانوں اور مرزائی احمدیوں میں فرق و تمیز

بہت طول طویل بحثوں کا نہایت مختصر خلاصہ عام فہم صرف دو امور اس طرح پر ہیں: اول! مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت اور رسالت کا کیا جو قرآن کریم سے مخالف ہے اور اس دعویٰ کے منکر کو کافر ، بے ایمان ، لعنتی ، جہنمی ، خارج از اسلام وغیرہ وغیرہ لکھا ہے اور اس دعویٰ کو مرزائیوں نے قبول کر لیا اور ویسے ہی انہوں نے بھی مسلمانوں کو لکھا۔

دوم ! توہینات انبیاء علیہم السلام یہ دونوں امر اصولاً اور نصاً قطعاً خلاف اسلام ہیں اور ادلہ اربعہ (قرآن شریف احادیث شریف اجماع امت قیاس مجتہدین) سے ثابت ہے کہ ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر اور مرتد ہے۔ جس پر فتاویٰ عرب اور عجم بھی شاہد ہیں دعاویٰ نبوت تو مختصراً عرض ہو چکے ہیں۔ لیکن توہینات انبیاء علیہم السلام میں نے نمبر وار اپنی کتاب کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی میں مرزا قادیانی کی کتب سے نقل کی ہیں۔ اس کے علاوہ اور بہت سی ہیں۔ مگر میں صرف دو ایک ہی یہاں پر آپ کی توجہ اور غور کے لئے لکھتا ہوں۔ لکھنے سے پہلے خدا سے ڈرتے ہوئے نقل کفر کفر نہ باشد لکھ دیتا ہوں۔ تاکہ خداوند کریم اس نقل کرنے پر بھی اخذ نہ کرے اور معاف فرمائے۔ آمین!

١؎ سوالات کے جوابات منجانب مولوی نور الدین خلیفہ مرزا قادیانی ۔ سوال مرزا قادیانی کس فرقہ میں سے تھے۔ (٤) مرزا قادیانی کے نزدیک اسلام کے فرقہ ہائے مختلفہ میں سے وہ کونسا گروہ ہے جس میں خود بھی مرزا قادیانی داخل ہیں اور اس کے اصول کے موافق لوگوں کو ہدایت فرماتے ہیں۔ جواب (٤٣) حضرت مرزا صاحب اہل سنت والجماعت خاص کر حنفی المذہب تھے۔ اسی طائفہ ظاہرین علی الحق میں سے تھے۔ والحمد اللہ رب العالمین۔

(بلفظہ اخبار بدر قادیان نمبر ٢٠ جلد ١٢ مورخہ ١٤ نومبر ١٩١٢ء ص ٣ کالم ١، ٢)

٧٢

صفحہ ٥٨٧

دیکھئے مرزا قادیانی حسب ذیل فرماتے ہیں:

آدم ماں اور باپ وہ تو نہیں رکھتے تھے۔ اب قریب برسات آتی ہے۔ باہر جا کر دیکھئے کہ کتنے کیڑے مکوڑے بغیر ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں۔“

(جنگ مقدس ص ١٩٨، خزائن ج ٦ ص ٢٨٠)

٢٢؍ مئی سے ٥؍ جون ١٨٩٣ء تک ہوا تھا۔ اس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش برساتی کیڑے مکوڑوں کے برابر کی ہے۔ یہ ان کی کس قدر توہین ہے اور خلاف قرآن کریم فرماتے ہیں ۔ میری نگاہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کا بے باپ پیدا ہونا کچھ عجوبہ بات ہی نہیں ۔ اس میں مرزا قادیانی کو خدا کا خوف ہوا نہ کلام الہی پر ایمان رہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ”ولنجعله اية للناس ورحمة منا“ یعنی ہم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش بلا باپ کو لوگوں کے لئے معجزہ اور عجوبہ نشان بنایا ہے اور ہماری طرف سے رحمت ہے اور پھر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”وجعلناها و ابنها اية للعلمین“ یعنی ہم نے حضرت مریم اور عیسیٰ علیہم السلام کو تمام عالموں کے لئے معجزہ اور عجوبہ نشان بنایا ہے۔ اور پھر تیسری جگہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: ”وجعلنا ابن مریم و امه آیة“ اور بنایا ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں مریم کو ایک عجوبہ شان آپ خدا کے لئے غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بلا باپ کو ایک معجزہ اور عجیب نشان فرما رہا ہے اور تمام جہانوں کے لئے ہمیشہ کے لئے یہ ایک نہایت عجوبہ بات ہے۔

لیکن افسوس مرزا قادیانی کی بے باکی کو ملاحظہ فرمائیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مسیح کا بے باپ پیدا ہونا میری نگاہ میں کچھ عجوبہ بات نہیں ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے برسات میں کیڑے مکوڑے بے ماں باپ کے پیدا ہو جاتے ہیں۔ گویا مرزا قادیانی کی ایسی اعلیٰ نگاہ ہے کہ ان کی نگاہ میں قرآن کریم بھی نعوذ باللہ کوئی حجت نہیں۔ یہ سخت توہین قرآن کریم اور حضرت آدم و حوا علیہما السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ جو کفر اور ارتداد سے بھی بڑھ کر ہے۔

پ نے سوچا ہو گا ۔“

(بلفظہ رسالہ نورالقرآن نمبر٢، ص ١٩، خزائن ج ٩ ص ٣٩٤)

٧٥

صفحہ ٥٨٨

جھوٹا، علمی اور عملی قوٰی میں کچا، چور، شیطان ٢؎ کے پیچھے چلنے والا، شیطان کا ملہم، اس کے دماغ میں خلل تھا، تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے ان کا وجود ظہور پذیر ہوا تھا، آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت جدی مناسبت سے تھا۔‘‘

(بلفظہ ملخصاً ضمیمہ انجام آتھم ص٧، ٨، خزائن ج١١ ص٢٨٨ تا ٢٩١)

تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب ٣؎ پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔‘‘

(بلفظہ مرزا قادیانی کی کتاب نسیم دعوت کا حاشیہ ص٦٥ خزائن ج١٩، ص٧١) الٰہی توبہ!!!

میں کہتا ہوں کہ اے خداوند کریم! میں پناہ مانگتا ہوں شیطان رجیم سے بچا مجھ کو اور تمام مسلمانوں کو ایسی توہینات اور سب و شتم انبیاء علیہم السلام سے، مرزا قادیانی نے غضب پر غضب کر دیا ہے۔ دیکھئے اور غور فرمائیے! مرزا قادیانی کی ایمانداری نبوت اور رسالت پر کہ کس قسم کی فحش گالیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دی ہیں اور قرآن مجید کو نعوذ باللہ پسِ پشت ڈال کر بالکل

کے پاس بشکل انسانی آئے تو فرمایا قال انما ان رسول ربک لا ہب لک غلماً ذکیا! یعنی میں تیرے خدا کی طرف سے آیا ہوں۔ تا کہ تجھے ایک لڑکا پاک اور صاف تیز عقل والا ذہین بخشوں۔ مرزا قادیانی ان کو موٹی عقل والا فرماتے ہیں۔ قرآن فہمی؟۔

اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے ولم یجعلنی جباراً شقیا ، والسلام علٰی یوم ولدت و یوم اموت ویوم ابعث حیا! یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے سرکش نافرمان پیدا نہیں کیا اور مجھ پر سلامتی ہے جس دن پیدا ہوا تھا اور جس دن مروں گا اور جس دن پھر زندہ کیا جاؤں گا۔

علیہ السلام) کو تمام عیبوں سے مبرا سمجھتے ہیں جس نے خود اقرار کیا کہ میں نیک نہیں اور جس نے شراب خواری اور قمار بازی اور کھلے طور پر دوسروں کی عورتوں کو دیکھنا جائز رکھ کر بلکہ آپ ایک بدکار کنجری سے اپنے سر پر حرام کی کمائی کا تیل ڈلوا کر اور اس کو یہ موقع دے کر کہ وہ اس کے بدن سے بدن لگا دے۔ اپنی تمام امت کو اجازت دے دی کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی حرام نہیں۔‘‘

(بلفظہ انجام آتھم کا ص٣٨، خزائن ج١١ ص ایضاً) لاحول ولا قوة ، العیاذ بااللہ!

٧٦

صفحہ ٥٨٩

اعراض کر دیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو قرآن مجید میں فرمایا اس پر غور فرمائیے ۔ وہ یوں ہے :

الف ........ جب حضرت مریم علیہا السلام کو معجزہ کے طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بے باپ پیدا ہو گئے اور وہ ان کو اٹھا کر اپنے گھر کو تشریف لائیں تو لوگ یوں بولے: قالو يامريم لقد جئت شيئاً فريا ، يا اخت هارون ماكان ابوك امرا سوء وما كانت امك بغيا (مریم: ٢٨) ! یعنی وہ لوگ مریم علیہ السلام کو دیکھ کر کہنے لگے کہ اے مریم ( علیہ السلام ) تحقیق لائی تو ایک عجیب چیز ۔ اے ہارون کی بہن تیرا باپ برا آدمی نہ تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی ۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نانی ۔ اس آیت شریف سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نانی کی طہارت اس وقت منکروں کافروں یہودیوں نے بھی تصدیق کی تھی ۔ یہ بات صریح ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کوئی دادی نہ تھی ۔ جب کوئی والد ہی نہیں تھا تو کوئی دادی نہیں ہو سکتی ۔ قرآن کریم تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نانی کی تعریف فرما رہا ہے اور یہاں تک کہ کفار یہود بھی معترف ہیں۔ لیکن افسوس مرزا قادیانی ان لوگوں سے بھی دس ہاتھ اوپر چلے گئے اور قرآن مجید کی کچھ پروا نہ کی ۔ افسوس !

ب ........ پھر اللہ تعالیٰ حضرت مریم علیہا السلام کی نسبت فرماتا ہے: اذ قالت الملائكة يامريم ان الله اصطفاك وطهرك واصطفك على نساء العالمين (آل عمران: ٤٢) ! یعنی جس وقت کہا فرشتوں نے اے مریم ! تحقیق اللہ تعالیٰ نے تجھ کو برگزیدہ کیا اور پاک کیا ۔ تجھ کو اور برگزیدہ کیا تجھ کو تمام جہان کی عورتوں پر ۔ دیکھئے ! اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کی بھی کیسی بزرگی اور طہارت ظاہر فرمائی ہے۔ لیکن افسوس مرزا قادیانی کی نظر اور نگاہ میں کچھ نہیں ۔

ج ........ پھر خداوند کریم فرماتا ہے : عيسى بن مريم وجيها فى الدنيا و الآخرة ومن المقربين (آل عمران : ٤٥) ! یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم علیہا السلام دنیا اور آخرت دونوں میں نہایت عزت اور آبرو والا ہے اور ان میں سے ہیں جو خدا کے نزدیک عالی رتبہ اور عزت اور بزرگی اور تقرب الٰہی رکھتے ہیں ۔ اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اذ ايدتك بروح القدس (البقرة: ٢٥٣) ! روح القدس سے مدد دیا جاتا تھا۔ لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں ۔ وہ شریر تھا ، مکار تھا ، موٹی عقل والا تھا ، بد زبان تھا ، غصہ ور تھا ، گالیاں دینے والا تھا ، جھوٹا تھا ، چور تھا ، سولی پر چڑھایا گیا تھا، نعوذ بالله منها، من هذه التوهينات والخرافات ! کیا قرآن شریف کے مطابق وجيها فی الدنيا والاخرة کی یہی تعریف ہے جو مرزا قادیانی نے کی ہے ؟ ۔

٧٧

صفحہ ٥٩٠

...... و پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وانی سمیتها مریم وانی اعیذها بك و ذریتها من الشیطن الرجیم (آل عمران: ٣٦) ! (ترجمہ) اور کہا (حنہ والدہ مریم نے) تحقیق میں نے نام رکھا اس کا مریم اور تحقیق میں پناہ میں دیتی ہوں اس کو تیری جناب میں اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے اور پھر فرمایا: فتقبلها ربها بقبول حسن (آل عمران: ٣٧) ! پھر قبول کر لیا اس دعا کو حنہ کے رب نے ۔ اچھی قبولیت کے ساتھ ۔ یعنی اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے اچھی قبولیت کے ساتھ قبول کر لیا۔ مریم علیہا السلام اور اس کی اولاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تمام وساوس اور شرارت شیطان سے اپنی پناہ میں لے لیا۔ لیکن مرزا قادیانی ہیں کہ قرآن مجید سے انکار کر کے کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شیطان کے پیچھے چلنے والا تھا اور شیطان کا ملہم تھا۔ العیاذ باللہ ۔ آپ غور فرمائیں:

...... ہ اب میں ایک حدیث شریف بھی جو صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٥٢ باب آیات مخلصات اور صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٦٥ باب فضائل عیسیٰ علیہ السلام میں موجود ہے درج کرتا ہوں۔ تاکہ آپ معلوم کر لیں کہ قرآن شریف اور حدیث شریف کے مرزا قادیانی کیسے سچے عامل ہیں؟۔ حدیث شریف: عن ابو هریرة عن النبی ﷺ قال مامن مولود یولد الا والشیطان یمسه حین فیستهل صارخاً من الشیطان ایاه الا مریم وابنها ثم یقول ابو هریرة واقروا ان شئتم وانی اعیذھا بک وذریتھا من الشیطان الرجیم ! یعنی حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ تحقیق حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی لڑکا یا لڑکی ایسا پیدا نہیں ہوتا جس کو وقت پیدائش شیطان مس نہ کرتا ہو۔ لیکن حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے بری ہیں۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ پڑھو اس آیت شریف کو۔ اگر تم اس بات کی تصدیق چاہتے ہو: انی اعیذهابك ! پناہ میں دیتی ہوں مریم اور اس کی اولاد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وساوس شیطانی سے۔ پس قرآن وحدیث سے محققاً ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مس اور وسوسہ شیطانی سے بحکم الٰہی بری اور پاک ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نہایت دلیری سے فرماتے ہیں کہ وہ شیطان کے پیچھے چلنے والا تھا اور وہ شیطان کا ملہم تھا۔ لاحول ولاقوۃ !

پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ ان کی پرانی عادت تھی۔ لاحول ولا قوۃ! کیا عصمت انبیاء علیہم السلام یہی ہے؟ کہ پیغمبران بلکہ رسول اولوالعزم خدا کے حرام کو حلال کریں اور اس کا استعمال کریں۔ آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یہ

٧٨

الزام کس آیت اور حدیث سے حضرت عیسیٰ ع حرام اور شیطانی عمل ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا عمل الشیطن (المائدہ:٩٠) ! یعنی شرا میں سے ہے اور جب قرآن شریف سے ثاب وساوس سے خدا کی پناہ میں ہیں اور شیطان ن السلام پر لگانا اور کفر اور ارتداد کے درجہ کا امام بن تمام کتب عقائد مسلمہ اہل اسلام م جیسے حضرت امام الائمہ امام اعظمؒ اپنی کتاب فقہ كلهم منزهون عن الصغائر والكبائر و صغائر و کبائر گناہ اور کفر اور برائیوں سے معصوم ہاں! شاید آپ کا خیال ہو کہ حض تھے۔ شاید اس میں شراب کا پینا اور جوا کھیلنا ج میں ایسا نہیں لکھا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ الس شریعت کی کتاب نہیں ہے۔ بہر حال حضرت تو سے صاف پایا جاتا ہے کہ شراب کی اس میں مما میں لکھا ہے:

شراب کا کوئی سرکہ نہ پیو اور انگور کا سرکہ ہرگز نہ

(انگور) سے پیدا ہوتی ہے نہ کھائے اور مے :

لیجئے! توریت سے بھی ظاہر ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو اولوالعزم رسول ہی مرزا قادیانی کا ان پر عداوتاً بہتان اور افتراء

التماس

مولوی صاحب مکرم! اب میں ا کہ میں نے جو کچھ اس عریضہ میں لکھا ہے ن

صفحہ ٥٩١

الزام کس آیت اور حدیث سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگایا ہے۔ شراب پینا اور قمار بازی کرنا حرام اور شیطانی عمل ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: انما الخمر والميسر ...... رجس من عمل الشیطن (المائدہ: ٩٠) یعنی شراب پینا اور قمار بازی کرنا حرام اور شیطان کے کاموں میں سے ہے اور جب قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شیطانی عملوں اور وساوس سے خدا کی پناہ میں ہیں اور شیطان نے ان کو مس ہی نہیں کیا تو پھر یہ الزام حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر لگانا اور کفر اور ارتداد کے درجہ کا امام بننا ہے۔ العیاذ باللہ!

تمام کتب عقائد مسلمہ اہل اسلام میں یہ مسئلہ موجود ہے کہ انبیاء علیہم السلام معصوم ہیں۔ جیسے حضرت امام الائمہ امام اعظمؒ اپنی کتاب فقہ اکبر ص ٥ میں فرماتے ہیں: والانبیاء علیہم السلام کلہم منزھون عن الصغائر والکبائر والکفر والقبائح یعنی تمام انبیاء علیہم السلام تمام صغائر و کبائر گناہ اور کفر اور برائیوں سے معصوم ہیں۔

ہاں! شاید آپ کا خیال ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کتاب الہامی انجیل کے پابند تھے۔ شاید اس میں شراب کا پینا اور جوا کھیلنا جائز ہو۔ مگر یہ خیال صحیح نہیں۔ کیونکہ کسی الہامی کتاب میں ایسا نہیں لکھا۔ بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام توریت موسیٰ علیہ السلام کے پابند تھے۔ انجیل شریعت کی کتاب نہیں ہے۔ بہر حال حضرت توریت کے احکام کے پابند تھے۔ توریت کے مطالعہ سے صاف پایا جاتا ہے کہ شراب کی اس میں بالکل ممانعت ہے۔ جیسے توریت گنتی باب ٦ آیت: ٣ میں لکھا ہے:

شراب کا کوئی سرکہ نہ پیئے اور انگور کا سرکہ ہرگز نہ پیئے۔“ بلفظہ توریت مندرجہ بالا۔

(انگور) سے پیدا ہوتی ہے نہ کھائے اور مے یا کوئی نشہ نہ پیئے۔“

(قاضیوں باب ١٣، آیت ٣، ١٤)

لیجئے! توریت سے بھی ظاہر ہے کہ عوام الناس کو یہی حکم ہے کہ شراب کوئی نہ پیئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو اولوالعزم رسول ہیں جن کی شان اور قرب الہی بھی اعلیٰ اور ارفع ہیں۔ مرزا قادیانی کا ان پر عداوتاً بہتان اور افتراء ہے۔

التماس

مولوی صاحب مکرم! اب میں اپنے عریضہ کو ختم کر کے نہایت ادب سے عرض کرتا ہوں کہ میں نے جو کچھ اس عریضہ میں لکھا ہے خالصاً لمرضات اللہ لکھا ہے۔ جہاں تک ہو سکا ہے میں

٧٩

صفحہ ٥٩٢

نے ادب کو نہایت ملحوظ رکھا ہے۔ کوئی لفظ یا جملہ ایسا نہیں لکھا کہ جس میں کوئی رنج دہ امر ہو۔ لیکن تاہم اگر آپ کے خیال میں کہیں ایسا نہ ہوا ہو تو میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے معاف فرمائیں گے۔ نیز بوجہ عدیم الفرصتی تحریر عریضہ میں کسی قدر توقف ہوا ہے خواستگار معافی ہوں۔

بعض جگہ مرزا قادیانی کی کتاب کا حوالہ نہیں دیا گیا۔ وہ عمداً ایسا کیا گیا ہے۔ تاکہ آپ کے مطالعہ کتب مولفہ مرزا قادیانی کی کیفیت بھی معلوم ہو جائے۔ ہاں! کسی اندراج کے انکار پر حوالہ کتاب مع ص وسطر عرض کر دیا جائے گا۔

ایک یہ بھی عرض ہے کہ اس عریضہ کے پہنچنے پر آپ غور فرما کر اگر کچھ لکھنا چاہئیں تو اس کی اطلاع نیاز مند کو بھی ہونی چاہئے۔ تاکہ اس تحریر کا انتظار کیا جائے اور آپ کی تحریر کے بعد اگر آپ چاہیں تو مجھے اطلاع بخشیں۔ تاکہ اس کو طبع کروا دیا جائے اور عوام بھی کچھ استفادہ حاصل کریں۔ جہاں تک ہو سکے تعمیل فرمائیں۔

بالآخر میں دعا کرتا ہوں۔ اے خداوند کریم یا مقلب القلوب تو ہی ہدایت کرنے والا ہے۔ ہر ایک کی ہدایت تیرے ہاتھ میں ہے۔ تو ہی علیم بذات الصدور دلوں کے حالات جاننے والا ہے۔ تیرے ہی قبضہ قدرت میں ساری باتیں ہیں۔ تو ہی نبیوں کا مالک ہے۔ تو ہی سیدھے راستہ پر چلانے والا ہے۔ جس نیت سے میں نے یہ عریضہ اپنے دوست کی خدمت میں لکھا ہے وہ محض خیر خواہی سے ہے۔ بہ طفیل حضرت رسول اکرمﷺ اس میں نیک اثر پیدا کر: ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ہدیتنا وہب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوہاب. آمین یا رب العالمین۔ وآلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین!

یکم جمادی الاوّل ١٣٢٨ھ راقم آثم خاکسار اضعف من عباد اللہ الصمد فضل احمد عفا اللہ عنہ بقلم خود۔ از لدھیانہ

ضمیمہ عریضہ باسمہ سبحانہ

جب میں اپنے خط کو ختم کر چکا۔ اس کے بعد ایک رسالہ دین الحق یا ہمارا مذہب مؤلفہ قاسم علی صاحب اڈیٹر الحق دہلی مرزائی احمدی کا دیکھنے میں آیا (جو انہوں نے اپنے خلیفۃ المسیح امیر المرزائین واحمدین حکیم نورالدین صاحب کے نام پر ڈڈیکٹ کیا ہے۔ (گو ان کی منظوری کی کوئی علامت اس پر نہیں) افضل المطابع دہلی میں طبع ہوا ہے۔

اللہ ! اللہ ! ! دنیا کس دھوکہ اور فریب کی رہ گئی ہے۔ کس کس پیرایہ میں بندگان خدا کو

٨٠

صفحہ ٥٩٣

دھوکہ دیا جاتا ہے۔ دنیاوی کاروبار کا تو کیا حساب دینی معاملات میں ایسے ایسے کارنمایاں دکھلائے جاتے ہیں۔ جس سے شیطان بھی اپنی جماعت میں نہایت حیران اور پریشان ہے۔ اس رسالہ میں مؤلف نے ایسی کھیل کھیلی ہے کہ ناواقفوں کے لئے جنہوں نے مرزائی مشن کی سیر نہیں کی ۔ جنہوں نے ان کے ہاتھوں کے کرتب نہیں دیکھے۔ ان کو الو بنانے میں ایک ذرہ بھر بھی کسر نہیں رکھی۔ مثال کے طور پر میاں ابو یوسف محمد الدین صاحب خوشنویس (جو کسی زمانہ میں دہلی میں میرے دوست تھے ) کو دیکھ لیجئے کہ رسالہ کے لکھتے لکھتے ہی بلا دیکھے کسی دیگر کتاب یا تصدیق کے خوشنویسی کے ساتھ خوش اعتقادی میں آکر جھٹ مرزائی مشن پر ایمان لے آئے اور اسلام سے جدا ہو گئے۔ کیونکہ مؤلف صاحب کا کید اس رسالہ میں ایسا ہے۔ گویا زہر ہلاہل کی طرح اثر کرنے والا ہے۔ بالخصوص ناواقفوں کے لئے۔ اے خدا وند کریم تو ایسے ایسے دھوکہ بازوں کا منتقم حقیقی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ تو اپنا کام کر کے ہی رہے گا۔ ایسے درخت کے ایسے شاخوں سے ایسے ایسے پھل پیدا ہونا غیر ممکن نہیں ۔ مؤلف صاحب کی وہ مثال ہے کہ کسی شخص نے کسی مولوی سے کہا کہ تم لوگ ہم کو ہمیشہ نماز پڑھنے کی تاکید کرتے ہو۔ لیکن خدا تو قرآن شریف میں کہتا ہے: لا تقربوا الصلوۃ کہ نماز مت پڑھو۔ (نعوذ بااللہ ) مولوی صاحب نے کہا کہ میاں اس کے آگے: وانتم سکاریٰ! یہی تو پڑھو۔ اس نے کہا تمام قرآن شریف پر تمہارے باپ نے بھی عمل نہ کیا ہو گا ہم سے کیسے ہو سکتا ہے۔

یعنی....... مؤلف صاحب نے اس رسالہ میں وہ پرانی عبارات مرزا قادیانی کی کتابوں کی نقل کی ہیں یا کسی نئی کتاب سے کوئی ایسی عبارت نقل کر دی ہے جو کسی قدر اسلام کے عقائد کے مطابق تھی۔ لیکن وہ تمام عبارات اور عقائد مرزا قادیانی کے ترک کر دیئے ہیں جو ان کے بعد کے لکھے ہوئے ہیں۔ مؤلف صاحب نے مرزا قادیانی کے انتقال کے بعد عوام ناواقفین کے جتلانے کی کوشش کی ہے کہ مرزا قادیانی پر جو فتاویٰ عرب و عجم کے کفر اور ارتداد کے لگے ہوئے ہیں صحیح نہیں ہیں۔

مؤلف صاحب نے اوّل تو اس رسالہ میں مسلمانوں کو بدتہذیبی سے گالیاں دی ہیں اور پانچ قسم کے مسلمانوں کے گروہ مقرر کر کے ان کو یہودی صفت علماء سراسر نابکار یہودیانہ روش بے حیائی کی کوشش کرنے والے صوفیاء زمانے کے مغرور وہ کسی مرض کی دوا ہی نہیں وغیرہ نے مرزا قادیانی پر اعتراضات کئے ہیں۔ پھر مؤلف صاحب لکھتے ہیں میرے محترم بزرگ احمدی اصحاب اس حصہ کو پڑھ کر خوب یاد کرلیں اور جب کوئی بہتان و افتراء اپنے پیارے امام مسیح علیہ

٨١

صفحہ ٥٩٤

السلام کے مذہب وعقائد کے متعلق کسی نااہل سے سنیں تو فوراً یہ رسالہ پیش کر کے اس کا دم بند کر دیں۔ میں نے اس کام کے لئے تمام تصانیف شریف و تقاریر لطیفہ حضرت اقدس کو اوّل سے آخر تک پڑھا۔ تب جا کر میں اس ناچیز خدمت کو انجام دینے پر آمادہ ہوا۔

(بلفظہ دین حق ص ١٥٢)

پھر اخیر کے اوّل ص پر ”احمدی احباب سے اپیل“ کے عنوان سے لکھا۔ میں آپ صاحبان سے اپیل کرتا ہوں اسے بجالانے کی پوری کوشش فرمائیں۔ وہ یہ ہے کہ اس رسالہ کا ایک ایک نسخہ ہر ایک احمدی اپنے پاس رکھے (اچھی تجارت ہے) جو کہ وقت ضرورت ایک سخت سے سخت دشمن کے لئے کاری حربہ کا کام دے گا۔ بلفظہ

میں آپ کو چند باتیں بطور نمونہ مختصراً دکھلانا چاہتا ہوں جس سے مؤلف صاحب کا دھوکا اور عمداً ان عبارات کو جو مرزا قادیانی کی تصانیف میں موجود ہیں درج نہ کرنے سے ظاہر ہوگا اور کاری حربہ جو دشمنوں کے لئے تیار کیا ہے۔ مرزا قادیانی کے ہی الہاموں اور پیشگوئیوں کی طرح انہیں پر الٹ کر کام تمام کر دے گا۔ اگر میں چاہوں تو ایک ایک تحریر کے خلاف مرزا قادیانی کی ہی تصانیف سے پیش کر دوں۔ لیکن میں افسوس کرتا ہوں کہ پہلے ہی سے عریضہ طویل ہو گیا ہے اور پھر یہ رسالہ پیش ہو گیا۔ اگرچہ بہت سی تحریرات اس رسالہ کے خلاف میرے عریضہ میں آ چکی ہیں۔ لیکن اس رسالہ کی حقیقت بھی عرض کر دیتا ہوں اور دندان فیل کے اندرونی و بیرونی کی مثال ہی ظاہر ہو جائے گی۔ لیجئے دیکھئے:

نمبر شمار مضمون مندرجہ رسالہ دین حق یا ہمارا مذہب ص ٧

ہوتا ہے اور آئندہ بھی ہوگا اور گو وحی رسالت بوجہ عدم ضرورت منقطع ہے۔ لیکن یہ الہام کہ جو آنحضرت ﷺ کے باخلاص خادموں کو ہوتا ہے یہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوگا۔

دشنام دہی ہے۔ تمام مقدسوں کو فریبی کہنا سب پاک نبیوں کا نام مکار رکھنا دنیا بھر کے بزرگوں کو بجز اپنے تین چار وید کے اور دغا باز اور ٹھگ قرار دینا ان ہی لوگوں کا کام ہے۔ ان لوگوں کے منہ سے بجز بدظنیوں اور بدزبانیوں کے کبھی کچھ معارف الہی کے نکات بھی نکلے ہیں۔ کیا بجز گندی باتوں اور نابکار خیالات یا تحقیر اور توہین اور ٹھٹھے اور ہنسی اور پر شرارت اور بدبودار لفظوں کے کبھی کوئی دقیق بھید معرفت الہی کا بھی ان کی زبان سے سنا گیا ہے۔ ان برتنوں سے کبھی کوئی صفا دلی کا قطرہ بھی مترشح ہوا ہے یا انہوں نے باطنی پاکیزگی میں کچھ ترقی کی ہے۔ ہرگز نہیں۔ سو جو کچھ وید کا اثر ہے۔

٨٢

٥

سو ظاہر ہے۔ حاجت بیان نہیں۔

(دین الحق ص ١٣

پردہ زمین پر بستی ہے کہ جہاں رگ اور یجر اور شا کچھ وید کے ذریعہ سے ہندوستان میں پھیلا ہوا پرستی وغیرہ انواع و اقسام کی مخلوق پرستیاں ہیں

(بلفظہ الب

سکتے۔

معرفت اور حکمت کا بیان نہیں۔

بغیر خدا کی نشانیوں کے خدا تعالیٰ کا کلام کب

ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قل ان ک اللہ ! یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محب محبت کرے۔

الہی بن جاؤ تو محمدﷺ کی اتباع کرو۔

سلب ایمان ہے۔ غرض یہ امر نہایت درجہ شـ کی تحقیر کی جا...... جو شخص حسین یا کسی کی جو اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے

شد ہیں۔ آپ مرزا قادیانی کی خدمت میں صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما) ۔ اللہ اللہ ! اس بات کو سن کر حضرت اقـ

صفحہ ٥٩٥

سو ظاہر ہے۔ حاجت بیان نہیں۔ (دین الحق ص ١٤، ١٣) وید کی تعلیم مشرکانہ ہے۔

(دین الحق ص ٤)

(ب)...... کس ملک میں وید کے ذریعہ سے وحدانیت پھیلی ہوئی ہے یا وہ دنیا کس پردہ زمین پر بستی ہے کہ جہاں رگ اور یجر اور شام اور اتھرون نے توحید الٰہی کا نظارہ دکھا رکھا ہے جو کچھ وید کے ذریعہ سے ہندوستان میں پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ تو یہی آتش پرستی، شمس پرستی، بشن پرستی وغیرہ انواع و اقسام کی مخلوق پرستیاں ہیں جس کے لکھنے سے کراہت آتی ہے۔

(بلفظہ الہامی کتاب براہین احمدیہ ص ١٣٤، خزائن ج ١ ص ١١٥، ١١٦)

(ج)...... وید علم الٰہی اور راستی سے بے نصیب ہیں۔ اس سے وہ خدا کا کلام نہیں ہو سکتے۔

(بلفظہ شحنہ حق ص ٢٤، خزائن ج ٢ ص ٣٦٠)

(د)...... ہم ناظرین کو یقین دلاتے ہیں کہ ویدوں میں بجز مشرکانہ تعلیم کے کوئی معرفت اور حکمت کا بیان نہیں۔

(بلفظہ مرزا قادیانی کا شحنہ حق ص ٢٥، خزائن ج ٢ ص ٣٦١)

(ہ)...... اب اس روشنی کے زمانہ میں وید کو خدا کا کلام بنانا چاہتے ہیں۔ کوئی کتاب بغیر خدا کی نشانیوں کے خدا تعالیٰ کا کلام کب بن سکتی ہے۔

(بلفظہ شحنہ حق ص ٣٦، خزائن ج ٢ ص ٣٧٣)

٣....... (الف) اب یہ سب نعمتیں آنحضرت ﷺ کی پیروی سے بطور وراثت ملتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ! یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو۔ تا خدا بھی تم سے محبت کرے۔

(بلفظہ دین الحق ص ٨٢)

(ب)...... اوّل: انکنتم تحبون اللہ فاتبعونی ! ترجمہ: اگر تم چاہتے کہ محبوب الٰہی بن جاؤ تو محمد ﷺ کی اتباع کرو۔

(بلفظہ دین الحق ص ١٢٨)

٤....... حسین رضی اللہ عنہ طاہر مطہر تھا۔..... ایک ذرہ بھر کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے۔ غرض یہ امر نہایت درجہ شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے۔ جو شخص حسین یا کسی کی جو آئمہ مطہرین میں ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے۔

(بلفظہ دین الحق ص ٨٨، ٨٩)

٥....... ایک دفعہ ہمارے ایک دوست نے جو امام (مرزا قادیانی) کی محبت میں فنا شد ہیں۔ آپ مرزا قادیانی کی خدمت میں عرض کیا کیوں نہ ہم آپ کو مدارج شیخین (حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما) سے افضل سمجھا کریں اور رسول اکرم ﷺ کے قریب مانیں۔ الحمد للہ ! اس بات کو سن کر حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کا رنگ اڑ گیا۔ آپ کے سراپا انور پر عجیب

٨٣

صفحہ ٥٩٦

اضطراب اور بیتابی مستولی ہو گئی ...... آپ نے چھ گھنٹہ تقریر فرمائی ...... جناب شیخین کے فضائل مذکور فرمائے اور فرمایا کہ میرے لئے یہ کافی فخر ہے کہ میں ان لوگوں کا مداح اور خاکپا ہوں جو جزوی فضیلت خدا تعالیٰ نے انہیں بخشی ہے وہ قیامت تک کوئی اور شخص پا نہیں سکتا ۔

( بلفظہ دین الحق ص ٨٧)

گنہگاروں کے شفیع ہیں۔

لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں۔ مگر محمد مصطفیٰ ﷺ۔

( بلفظہ دین الحق ص ١١٥)

نمبر شمار ...... عبارات مرزا قادیانی جو خلاف رسالہ دین الحق ہیں

ہے اس پر مہر لگ چکی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نہ من کل الوجوہ باب نبوت مسدود ہوا اور نہ ہر ایک طور سے وحی پر مہر لگائی گئی ہے۔ بلکہ جزوی طور پر وحی اور نبوت کا اس امت مرحومہ کے لئے ہمیشہ دروازہ کھلا ہے ۔“

( توضیح مرام ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠ )

گیا ۔“

( بلفظہ مرزا قادیانی کا انجام آتھم ص ٥٠ ، خزائن ج ١١ ص ایضاً )

نہیں کیا گیا ۔“

( بلفظہ پیغام صلح ص ١٣، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٦)

کسی صفحہ ہستی پر ایسی تعلیم شائع کی ہو کہ جو نہ صرف خلاف عقل ہو۔ بلکہ پرمیشر کی پاک ذات پر بخل اور کپٹ کا داغ لگاتی ہو ۔“

( بلفظہ پیغام صلح ص ١٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٤٨)

بزرگ اور مقدس سمجھتے ہیں ۔“

( بلفظہ حاشیہ پیغام صلح ص ٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٣)

” ہمارا پختہ اعتقاد ہے کہ وید انسان کا افترا نہیں۔ انسان کے افترا میں یہ قوت نہیں ہوتی کہ کروڑ ہا لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لے۔ پس ہمارے لئے وید کی سچائی کی یہ بھی ایک دلیل کافی ہے کہ آریہ ورت کے کئی کروڑ آدمی ہزار ہا برسوں سے اس کو خدا کا کلام جانتے ہیں اور ممکن نہیں کہ یہ عزت کسی ایسے کلام کو دی جاوے جو کسی مفتری کا کلام ہو۔ پھر جبکہ ہم باوجود ان تمام مشکلات کے خدا سے ڈر کر وید کو خدا کا کلام جانتے ہیں ۔“

( بلفظہ پیغام صلح ص ٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٤٥٤)

٨٤

صفحہ ٥٩٧

’’اگر اس قسم کی صلح تام کے لئے ہندو صاحبان اور آریہ صاحبان تیار ہوں کہ وہ ہمارے نبیﷺ کو خدا کا سچا نبی مان لیں اور آئندہ توہین اور تکذیب چھوڑ دیں تو میں سب سے پہلے اس اقرارنامہ پر دستخط کرنے کو تیار ہوں کہ ہم احمدی سلسلہ کے لوگ ہمیشہ وید کے مصدق ہوں گے اور وید اور اس کے رشیوں کا تعظیم اور محبت سے نام لیں گے۔

(بلفظہ پیغام صلح ص٢٥،٢٦،خزائن ج٢٣ ص٤٥٥)

فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں مجھ کو الہام ہوا ہے: ’’قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ! ان کو کہہ دے کہ اگر خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو۔ تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ (بلفظہ دیکھو مرزا قادیانی کا اربعین نمبر ٢ ص ٣٤، ٣٥ ، خزائن ج ١٧ ص ٣٨١ تا ٣٨٢ اور انجام آتھم ص ٥٢ ، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

دیگر اکثر کتابوں میں مرزا قادیانی نے اس الہام سے اپنی رسالت اور نبوت کو تقویت دی ہے۔

میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے جو اس حسین سے بڑھ کر ہے۔‘‘

(بلفظہ مرزا قادیانی کا دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

آپ غور کریں کہ یہاں حضرت سید الشہداء امام حسینؓ کی کیسی تحقیر کی گئی ہے اور اپنے تئیں ان سے افضل ٹھہرایا اور اپنے ہی قول سے شقاوت اور بے ایمانی میں آگئے اور اپنے ایمان کو ضائع کر لیا۔

گیا ہے جس نور کا وارث مہدی آخر الزمان چاہئے تھا۔ میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابو بکر کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔‘‘ (مرزا قادیانی کا اشتہار معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

نوٹ: راقم! آپ براہ مہربانی بغور مقابلہ کرتے جائیں یا یہ تھا کہ شیخین رضی اللہ عنہما کی جزوی فضیلت کو کوئی شخص قیامت تک نہیں پا سکتا یا یہ کہ مرزا قادیانی کے نزدیک ابوبکرؓ کا تو کیا درجہ ہے۔ وہ تو بعض انبیاء سے افضل ہیں ۔

ببیں تفاوت راہ از کجا تا بکجا

٨٥

صفحہ ٥٩٨

کوئی شفیع نہیں۔ باستثناء آنحضرتﷺ کے اے عیسائی مشربو اب ربنا المسیح مت کہو۔ دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(بلفظہ دافع البلاء ص ١٣، ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣، ٢٤٠)

علاوہ اس کے میاں قاسم علی صاحب نے دیگر کتابوں کی عبارتیں نقل کی ہیں۔ لیکن افسوس ان کتابوں کی عبارتوں کو عمدًا لغرض دھوکہ دہی نقل نہیں کیا جس میں مرزا قادیانی کی عبارتوں میں اختلاف پڑتا تھا یا جس سے ان کی نسبت دروغ گوئی کا الزام آتا تھا۔ یا عبارتوں اور الہاموں پیشگوئیوں کے متضاد ہونے میں یا باسمجھ لوگوں کی نظروں میں بے اعتباری یا کساد بازاری ہوتی تھی اور یہ گمان کرنے کی گنجائش نہیں کہ اتنا سمجھ لیا جائے کہ میاں صاحب سے کچھ نظر انداز ہو گیا ہوگا۔ یا اس کتاب یا تحریر اور تقریر مرزا قادیانی کو آپ نے دیکھا نہ ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے بڑے زور سے یہ لکھا ہے کہ میں نے ابتدائی تحریر براہین احمدیہ سے اخیر تحریر پیغام صلح تک اچھی طرح غور سے پڑھ کر مرزا قادیانی کے عقائد کو لکھا ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو عقائد مرزا قادیانی کے دیگر کتب سے دکھلائے نہیں گئے۔ اس کی کوئی خاص وجہ ہے جو دھوکا دینا نہیں تو اور کیا ہے؟۔ مثلاً جہاں انہوں نے براہین احمدیہ میں سے ان کے کچھ عقائد ابتدائی لکھے تھے۔ اس جگہ انہوں نے مرزا قادیانی کا یہ عقیدہ کیوں نقل نہیں کیا جو ص ٤٩٨، ٤٩٩، ٥٠٤ وغیرہ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے اور دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیلا دیں گے۔ یہ الہام مرزا قادیانی کا الہامی کتاب میں ہے۔ کوئی چوں و چرا اس میں نہیں ہو سکتا۔ لیکن اب مرزا قادیانی کا عقیدہ اس کے برخلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ پھر جہاں جہاں مرزا قادیانی نے بڑے زور سے دعویٰ نبوت اور رسالت کر کے مسلمانوں کو جو ان کی نبوت کے منکر یا مکفر یا مکذب اور متردد ہیں جہنمی، لعنتی اور کافر لکھا ہے۔ اس کو کیوں نقل نہیں کیا۔ جہاں جہاں پیغمبران علیہم السلام اور بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سخت توہین کر کے فحش ماں، بہن، دادی، نانیوں کی گالیاں دی ہیں اور حضرت شیخین امیر المومنین صدیق اکبر و حضرت عمر فاروق و حضرت سید الشہدا رضی اللہ عنہم کی سخت تحقیر اور توہین کی ہے اسے کیوں نقل نہیں کیا۔

سب سے آخر عظیم الشان مرزا قادیانی کی پیشگوئی جو ٥ نومبر ١٩٠٧ء کو چھ ماہ قبل از

٨٦

صفحہ ٥٩٩

انتقال خود ایک بڑے لمبے چوڑے اشتہار بنام تبصرہ شائع کیا تھا اور اس کی پیشانی پر لکھا تھا کہ ہماری جماعت یادداشت کے لئے اس اشتہار کو اپنے گھر کی نظر گاہ میں چسپاں کریں۔ جس میں علاوہ اس کے اور بہت سی لفاظی تحدی کے تین پیشگوئیاں بڑی تعلی سے خدا پر افترا کر کے کی ہیں۔

اول ...... ”انا نبشرك بغلام حليم ، ينزل منزل المبارك ! یعنی ہم تم کو ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ جو بمنزلہ مبارک احمد ہوگا۔ جو فوت ہو گیا ہوا ہے۔ تا کہ دشمن خوش نہ ہو۔ بلکہ یہ سمجھے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا تھا۔ وہ زندہ ہے۔“

دوم ...... ”الہام دشمن جو کہتا ہے کہ تیری عمر صرف جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک رہ گئی ہے۔ میں ان سب کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر بڑھاؤں گا اور تیری آنکھوں کے سامنے اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہو جائے گا۔ خدا کا وعدہ ہے کہ ایک دن آتا ہے کہ جن متعصب اور جانی دشمنوں کا آج منہ دیکھتے ہو پھر نہیں دیکھو گے۔ وہ جڑ سے کاٹے جاویں گے۔ ان کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ انی مع اللہ فی کل حال میں ہر وقت خدا کے ساتھ ہوں۔“

سوم ...... ”الہامی پیشگوئی یہ ہے کہ اس ملک اور دوسرے ممالک میں ایک سخت طاعون آنے والی ہے جس کی نظیر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اس سال ١٩٠٧ء یا آئندہ سال ١٩٠٨ء میں ظاہر ہوگی ۔ اس دن ان تمام لوگوں کو جو تیری چار دیواری کے اندر رہنے والے ہیں۔ بچاؤں گا۔ اس دن تیرا گھر نوح کی کشتی ہوگا اور طاعون کچھ دور نہیں ہوگی۔ خدا نے ایک طرف طاعون اور کئی عذاب بھیجے۔ دوسری طرف اپنے راہ کی منادی کرنے والا ( مرزا قادیانی کو ) بھیجا۔“

( بلفظہ ملتقطا اشتہار تبصرہ ، ٥ نومبر ١٩٠٧ء مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٨٧ تا ٥٩١)

فرمائیے ! ان ہر سہ پیشگوئیوں میں سے کونسی پیشگوئی پوری ہوئی ؟ ۔ نہ تو مرزا قادیانی کی عمر بڑھی۔ بلکہ گھٹ گئی۔ چھ ماہ بعد معہ اپنے خدا کے راہی ملک بقاء ہوئے۔ دشمنان ڈاکٹر عبدالحکیم ، خان صاحب ، مولوی محمد حسین صاحب، مولوی ثناء اللہ صاحب، حضرت سید جماعت علی شاہ صاحب ، پیر مہر علی شاہ صاحب، ملا محمد بخش صاحب دیگر تمام علماء مندرجہ رسالہ انجام آتھم و غیر ہم مخالفین اسی طرح خدا کے فضل و کرم سے صحیح و سلامت خورسند و فرحان موجود ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کی جڑ کٹ گئی۔ اصحاب فیل کی طرح نابود اور تباہ ہو گئے ۔ مرزا قادیانی کے خدا کا وعدہ بھی گاؤ خورد ہو گیا۔ انی مع اللہ ! جھوٹ ہوا۔ مبارک احمد کی جگہ کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا۔ (چھ ماہ کے اندر کیسے پیدا ہو سکتا تھا ) آئندہ کے لئے امید ہی منقطع ہو گئی ۔ کوئی طاعون بھی ایسی آج تک اس ملک یا کسی دیگر ممالک میں نہیں ہوئی ۔ جس کی نظیر پہلے کبھی نہ دیکھی گئی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ

٨٧

صفحہ ٦٠٠

یہ طاعون مرزا قادیانی کے ساتھ آئی تھی۔ انہیں کے ساتھ ہی گئی تو اپنا الہام بیان کیا تھا کہ: ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین“ (تذکرہ ص ٨١) اے مرزا قادیانی ہم نے تم کو تمام جہانوں کی رحمت کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس الہام کے شان نزول میں ایسے رحمت والے ثابت ہوئے کہ باقبال خود طاعون ہی اپنے ساتھ لائے تھے اور ساتھ ہی لے گئے۔

جیسے کہ ہندوستان میں سب سے پہلے ١٨٩٦ء میں بمقام بمبئی طاعون پھوٹی جبکہ مرزا قادیانی نے کتاب اربعہ رسائل المعروف بہ انجام آتھم ١؎ تالیف کی اور اس میں تمام علماء اسلام کو نام بنام گالیاں دیں اور حضرت یسوع مسیح علیہ السلام کو نہایت گندی گالیاں دیں۔ پھر جب یہ کتاب شائع ہوئی اس وقت ١٨٩٧ء تھا ضلع جالندھر کے ملک پنجاب میں طاعون پھوٹ نکلی اور روز بروز بڑھتی گئی۔ جیسے جیسے مرزا قادیانی دعویٰ نبوت اور رسالت میں بڑھتے گئے۔ ایسے ہی طاعون بھی زوروں پر ہوتی گئی۔ حتیٰ کہ باوجود اپنے الہام قطعی اور یقینی ۔انہ اوی القریۃ (دافع البلا ص ٢٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٦) ( قادیان میں طاعون نہیں ہوگی) کے مرزا قادیانی کے گاؤں قادیان میں بھی جا کودی اور اس پر بھی بس نہ کی۔ مرزا قادیانی کے گھر کی چار دیواری کے اندر کشتی نوح میں جاسوار ہوئی۔ اڈیٹروں اور گھر کے نوکروں کو کشتی کے اندر ہی جا دبوچا۔ پھر سیالکوٹ میں ١٩٠٤ء میں علماء اسلام نے سخت مقابلہ کیا اور وہاں بہت ذلت ہوئی۔ پھر مقابلہ اور مباہلہ کے لئے لاہور میں دو دفعہ مولوی غلام دستگیر صاحب مرحوم اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے طلب کیا۔ باوجود اقراری تحریروں کے مباہلہ میں حاضر نہ ہوئے۔ جب عین مرنے کے دنوں میں مرزا قادیانی لاہور میں تشریف لے گئے تو وہاں بھی علمائے اسلام روزمرہ مرزا قادیانی کی فرودگاہ کے محاذ جمع ہو کر بحث کے لئے بلاتے رہے۔ گھر اندر سے باہر نہیں نکلے۔ تاوقتیکہ موت نے جبرانہ نکالا۔ اسی طرح جیسے جیسے مرزا قادیانی کو کمزوری ہوتی گئی طاعون کے کیڑے کا آتشی مادہ بھی کمزور اور دور ہوتا گیا۔ اس عرصہ میں الہام کرنا ہی تھا کہ ان کی تکذیب کے لئے طاعون نے بھی اپنا منہ بند کرلیا۔ پر جب سے مرزا قادیانی اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ طاعون نے بھی اپنا بوریا بستر باندھ لیا۔ اب اگر کہیں طاعونی موت یکا دوکا ہو بھی جاتی ہے تو وہ صرف مرزا قادیانی کے خلیفہ یا ان کے سرگرم ممبروں میں جو اثر مرزا قادیانی کی مسیحیت کا باقی ہے۔ وہی بقیہ طاعون میں بھی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مرزائی

١؎ انجام آتھم اس کتاب کا جواب راقم اثیم نے لکھا ہے جس کو علماء ہندوستان اور پنجاب نے نہایت پسند فرمایا تھا اس کا نام ”کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی“ رکھ دیا لاہور میں طبع ہو کر شائع ہوئی تھی۔ احتساب قادیانیت کی اس جلد میں شامل اشاعت ہے۔ مرتب!

صفحہ ٦٠١

احمدی صاحبان اگر اس عقیدہ سے توبہ کریں تو یقیناً یہ بقیہ بھی فوراً دور ہو جائے۔ اگر اعتبار نہیں آتا ہے تو یہ عمل کر کے دیکھ لیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ بقیہ طاعون بھی مرزا قادیانی کے ہی پاس پہنچ جائے گی۔ آزمائش کر کے دیکھ لیں۔ غرضیکہ ہندی مثل مرزا مر گیا۔ سارنگی ٹوٹ گئی۔ صاف ہے۔

لیکن میرا مطلب اس اشتہار کے لکھنے کا یہ ہے کہ میاں قاسم علی صاحب نے اس اشتہار کو اپنے رسالہ دین الحق میں کیوں نقل نہیں کیا۔ اس کے سواء جو پیشگوئیاں (گویا کلہم) جھوٹی ثابت ہوئیں۔ ان کو کیوں نقل نہ کیا۔ مرزا قادیانی کے عقائد ذیل کو اپنے رسالہ میں کیوں نقل نہیں کیا۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٦٣)

(حقیقۃ الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

(ازالۃ اوہام ص ٢٨، خزائن ج ٣ ص ١١٦)

(ازالۃ اوہام ص ٣٠٥، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥)

ہیں۔“

(ازالۃ ص ٣٠٧، ٣٠٨، خزائن ج ٣ ص ٢٥٦، ٢٥٧ مفہوم)

(توضیح مرام ص ٣٧، خزائن ج ٣ ص ٧٠)

(توضیح مرام ص ٢٩، خزائن ج ٣ ص ٦٦)

(ازالۃ اوہام ص ٦٢٩، خزائن ج ٣ ص ٤٣٩)

(ازالۃ اوہام ص ٣٠٢ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤)

(ازالۃ اوہام ص ٢٨٨، خزائن ج ٣ ص ١٧٤)

٨٩

صفحہ ٦٠٢

ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٧، خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

(ازالہ اوہام ص ١٣٥، خزائن ج ٣ ص ١٦٨)

(ازالہ اوہام ص ١٣٦، خزائن ج ٣ ص ١٦٩)

(ازالہ ص ٣٥٧، خزائن ج ٣ ص ٣٤٤)

(ازالہ اوہام ص ٤٨٩، خزائن ج ٣ ص ٣٦٢)

(ازالہ اوہام ص ١٤٦، خزائن ج ٣ ص ١٧٤)

(ازالہ ص ٥٠٢، خزائن ج ٣ ص ٣٦٩)

(ازالہ ص ٥١٠، خزائن ج ٣ ص ٣٧٣)

(ازالہ ص ٥١١، خزائن ج ٣ ص ٣٧٤)

(ازالہ ص ٥١٦، ٥١٧، خزائن ج ٣ ص ٣٧٧)

(ازالہ ص ٣٥٦، خزائن ج ٣ ص ٢٨٢)

(جلسہ مذاہب)

(جلسہ مذاہب)

١۔ عجیب بات ہے کہ دجال بھی انگریز اور پادری ہیں اور یاجوج بھی انگریز ہیں۔ یعنی دجال بھی انگریز اور ماجوج بھی انگریز حافظ ندارد۔ منہ

٩٠

صفحہ ٦٠٣

مولوی صاحب ! آپ میاں قاسم علی صاحب سے دریافت فرما سکتے ہیں کہ یہ عقائد مندرجہ بالا مرزا قادیانی کے عقائد ہیں یا نہیں ۔ اگر ہیں اور بالضرور ہیں تو کیوں ان کو اپنے رسالہ دین الحق میں درج نہیں کیا۔

اور مرزا قادیانی کا اپنے تمام مخالفین مولوی صاحبان کو گالیاں دینا ۔ جیسے وہ اپنی زبان اور قلم جلی سے تحریر فرماتے ہیں ۔ ”اے بدذات فرقہ مولویاں! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے۔ اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلایا۔“

(مرزا قادیانی کا انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

پھر نام بنام علماء اسلام کو گالیاں محمد حسین بٹالوی، شریر رسل بابا امرتسری، اصغر علی شیخ، دجال ضال بطال، نذیر حسین دہلوی ، عبد الحق غزنوی ، عبد اللہ ٹونکی، یار محمد علی سہار نپوری، سلطان علی جے پوری ، محمد حسن امروہی ان سب کا اکبر اندھا شیطان وہ گمراہ ہے ۔ جس کو رشید احمد اور گنگوہی کہتے ہیں۔ وہ بد بخت امروہی کی طرح ملعونوں میں سے ہے۔

(دیکھو انجام آتھم ص ٢٥١، ٢٥٢، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

فرمائیے! اس کو دین الحق مرزائیہ میں کیوں نقل نہیں کیا۔ قرآن شریف میں اور خود مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ قولوا للناس حسنا اور کثرت سے احادیث ہیں۔ جن میں حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ لعنت مشرکین پر بھی مت کہو اور گالیاں دینا اسلام میں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کو تو بالکل ١؎ چھوڑ ہی دیا ہے۔ اپنا الہام ہی الہام ہے۔ اس پر بھی موقع بموقع حسب منشاء خود عمل درآمد ہے اور سینکڑوں ایسی باتیں ہیں کہ جس سے مرزا قادیانی کے عقائد اور اعمال ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کو میاں قاسم علی صاحب نے نقل نہیں کیا۔ آپ مہربانی کر کے تدبر فرمائیں ۔ اس کے آگے میاں قاسم علی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ مخالفین مرزا قادیانی پر جو اعتراضات کرتے ہیں ۔ وہ یہ ہیں:

١؎ بالکل چھوڑ دیا ...... الخ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن (اسراء: ٥٣) ! خدا کے بندوں سے اچھی تہذیب سے بات کیا کرو۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ (النحل: ١٢٥) ! خدا کی طرف بلانا نہایت حکمت و نرمی اور اچھی بات سے ہوتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی جب غصہ میں آجاتے ہیں تو قرآن و حدیث کو بھی بھول جاتے ہیں ۔

٩١

صفحہ ٦٠٤

لہٰذا میں ان اعتراضات کو لفظ بلفظ داہنی طرف لکھتا ہوں اور اس کے سامنے بائیں طرف جوابات بھی ساتھ ہی لکھ دیتا ہوں۔ تا کہ ان اعتراضات کی کیفیت بھی معلوم ہو جائے: نمبر شمار اعتراضات جو مرزا قادیانی پر کئے جاتے ہیں مندرجہ رسالہ دین الحق:

نوٹ: میاں قاسم علی صاحب نے جو اعتراضات بیس نمبر تک درج کئے ہیں۔ وہ سب زمانہ حال کے صیغہ سے درج کئے ہیں۔ حالانکہ خود مرزا قادیانی کو رحمۃ اللہ علیہ کے کلمہ سے لکھتے ہیں جو وفات یافتہ اشخاص کے حق میں لکھا جاتا ہے۔ لیکن اعتراضات میں مرزا قادیانی کو بحالت حیات لکھتے ہیں اور یہ بدیہہ غلط ہے۔ ماضی وحال کی بھی شناخت نہیں۔

مسلمانوں کا اعتقاد ہے کہ آیت شریفہ خاتم النبیین کی صاف ہے اور اس میں الف لام ثابت کر رہا ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ نہ امتی، نہ غیر امتی، نہ ظلی، نہ بروزی، نہ کوئی اور بلکہ تمام نبوتوں فرضی مزعومی انسانی کا خاتمہ ہے اور اب دعویٰ کرنے والا اور دعوت نبوت کو تسلیم کرنے والے سب کے سب کافر مرتد ہیں۔ منہ

نہیں مانتے۔

کہتے ہیں۔

٩٢

اٹھائے جانے اور تا مصداق کی واپسی ان

سے بچنے کے تراشے

نہیں پہچانتے۔

زیب تن فرماتے ہ

لوگوں کو لوٹنے کیلیے

جوابات منجانب راقم آتھم بحوالہ عبا

مستقل و غیر مستقلہ کی تقسیم خان لیکن آپ کی تقسیم کے ہی مطابق مرزا قاد مدعی ہیں۔ جن کی بابت میں جواب عریضہ کہ میں نبی بھی ہوں اور رسول بھی ہوں ا میرا منکر کافر لعنتی جہنمی ہے۔ اس سے بڑ شبہ نہیں جب خود مرزا قادیانی نبوت اور رس کسر ہے۔ بلکہ اسی رسالہ میں لکھتے ہیں کہ ہمارا اعتقاد...... کہ آپ حضرت خاتم النبیین امتی ہو۔ (بلفظہ ص ٧٥) فرمائیے! جب کوئی امتی بھی ن مراد خود مرزا قادیانی ہے تو منکر ختم نبوت علی

صفحہ ٦٠٥

اٹھائے جانے اور تا ایندم بلا خورد نوش زندہ رہنے اور الان کما کان کے مصداق کی واپسی از آسمان کے منکر ہیں۔

سے بچنے کے تراشتے ہیں۔

نہیں پہچانتے۔

زیب تن فرماتے ہیں۔

لوگوں کو لوٹنے کیلئے یہ ڈھنگ بنایا ہے۔

جوابات منجانب راقم اثیم بحوالہ عبارات کتب قادیانی

مستقلہ و غیرمستقلہ کی تقسیم خانہ ساز ہے۔ کسی اصول کی کتاب میں یہ تقسیم نہیں ہے۔ لیکن آپ کی تقسیم کے ہی مطابق مرزا قادیانی نبوت اور رسالت مستقلہ و غیر مستقلہ دونوں کے مدعی ہیں۔ جن کی بابت میں جواب عریضہ میں عرض کرچکا ہوں۔ مرزا قادیانی کا صاف دعویٰ ہے کہ میں نبی بھی ہوں اور رسول بھی ہوں اور تمام جہان کے لئے اور بعض انبیاء سے افضل ہوں۔ میرا منکر کافر، لعنتی، جہنمی ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی نبوت ورسالت نہیں۔ بیشک اس میں کوئی بھی شبہ نہیں جب خود مرزا قادیانی نبوت اور رسالت کے دعویدار ہیں تو منکر ختم نبوت ہونے میں کونسی کسر ہے۔ بلکہ اسی رسالہ میں لکھتے ہیں کہ امتی نبی ہوسکتا ہے۔ (ص ٧٣) پھر یوں لکھتے ہیں: ” ہمارا اعتقاد...... کہ آپ حضرت خاتم النبیین ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں۔ لیکن وہ شخص جو آپ کا امتی ہو۔ (بلفظہ ص٧٥)

فرمائیے! جب کوئی امتی بھی پیغمبر یا نبی آنحضرت ﷺ کے بعد ہوسکتا ہے جس سے مراد خود مرزا قادیانی ہے تو منکر ختم نبوت علی الاعلان ہوئے۔

٩٣

صفحہ ٦٠٦

سے کہہ دیا ہو کہ مرزا قادیانی دعویٰ نبوت اور رسالت کرتے ہیں اور اپنا الہام انی رسول اللہ الیکم جمیعاً! ظاہر کر کے اپنے منکروں کو کافر کہتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے اپنا الگ کلمہ لا الہ الا اللہ غلام احمد رسول اللہ بنا لیا ہو تو عجب نہیں۔ میاں قاسم علی صاحب اس کے ذمہ دار ہیں جس نے کہا ہے اس کا نام بتلادیں۔ تاکہ معلوم ہو جائے کہ وہ کون آدمی ہے۔

تم میرے پانی سے ہو۔ (٢)...... انت بمنزلۃ الاولادی ! تو میری اولاد کی طرح ہے۔ (٣)...... انت منی و انا منك ! تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ مرزا قادیانی کے خدا کا الہام ہے یعنی مرزا قادیانی ان کے خدا میں سے ہیں اور ان کا خدا مرزا قادیانی میں سے ہے۔ کبھی وہ باپ اور وہ بیٹا اور کبھی وہ بیٹا اور وہ باپ۔ لاحول ولا قوۃ!

قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔

(دیکھو براہین احمدیہ ص ٥٢٢، خزائن ج١ ص ٦٢٣)

القادیان! قرآن شریف میں ہے اور قرآن میں مکہ مدینہ قادیان کا نام اعزاز کے ساتھ درج ہے۔ یہ انکا الہام ہے۔ ان کے خدا کی طرف سے کتابوں میں بڑے زور سے درج ہے۔ معراج جسمانی آنحضرت ﷺ کا قرآن شریف میں نہیں ہے۔

کی تفسیر ہوئی، فوراً انکار کر دیا کرتے ہیں۔ مثلاً جن احادیث اور تفاسیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اسی جسم عنصری کے ساتھ اٹھایا جانا اور اس وقت زندہ ہونا اور قرب قیامت میں آسمان سے نزول فرمانا، دجال کو قتل کرنا، معجزات قرآنی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کا زندہ کرنا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا چار جانوروں کو ذبح کر کے پہاڑوں پر بحکم الٰہی ڈالنا اور پھر بلانے سے زندہ ہوکر حاضر ہوجانا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مردوں کے زندہ ہوجانے سے اطمینان قلبی حاصل کرنا۔ سلیمان علیہ السلام کے معجزات اور موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا سانپ بن جانا۔ ایک مردہ کو بیل کے گوشت لگانے سے زندہ ہو جانا۔ وغیرہ وغیرہ درج سب احادیث اور قرآنی تفاسیر کا بڑے زور سے انکار کرتے ہیں۔

٩٤

معراج جسمانی آنحضرت ﷺ کا انکار تو اسی ر

جو گذر چکا ہے۔

دیکھو میرا خط گذشتہ۔

السلام کو آسمان پر زندہ مانتے تھے۔ لیکن اب ا سید احمد خان صاحب کی تحریر دیکھ لی اور ان کی تق جملہ اہل اسلام سے الگ اعتقاد بدل لیا۔

ہے۔ پہلے اقراری تھے۔ اب انکاری ہیں۔ اف اپنی کتاب الہامی براہین احمدیہ میں اقراری تھے

زکوٰۃ دی یا کبھی حج فریضہ اپنی خواب یا الہام می

ہدایت اور رشد کا ہو۔ یہ سچ ہے کہ قرآن وحدی خدا کو پہنچانا بہت دور ہے۔ دراں حالانکہ مرزا تک معلوم نہیں ہوئے) یہ خدا کی شناخت ہے گوبر، رابڑن وغیرہ کے ہیں۔

ادویات میں استعمال ہوتا تھا اور ہمیشہ جے پور

صفحہ ٦٠٧

معراج جسمانی آنحضرت ﷺ کا انکار تو اسی رسالہ دین الحق کے ص ١٠٢ میں موجود ہے۔

جو گزر چکا ہے۔

دیکھو میرا خط گذشتہ۔

السلام کو آسمان پر زندہ مانتے تھے۔ لیکن اب ازالہ اوہام کے لکھنے کے وقت اعتقاد بدل گیا۔ کہیں سید احمد خان صاحب کی تحریر دیکھ لی اور ان کی تقلید کر کے پہلے اعتقاد سے خود مسیح بننے کی غرض سے جملہ اہل اسلام سے الگ اعتقاد بدل لیا۔

ہے۔ پہلے اقراری تھے۔ اب انکاری ہیں۔ افسوس تو یہی ہے کہ کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ جب تم اپنی کتاب الہامی براہین احمدیہ میں اقراری تھے تو اب کیوں انکاری ہوئے ہو۔

زکوٰۃ دی یا کبھی حج فریضہ اپنی خواب یا الہام میں بھی ادا کیا۔ ہرگز نہیں۔ دیکھو خط گذشتہ۔

ہدایت اور رشد کا ہو۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن و حدیث جو مرزا قادیانی کے مخالف ہے اس کو نہیں مانتے۔ خدا کو پہچاننا بہت دور ہے۔ دراں حالانکہ مرزا قادیانی کا اپنا الہام ربنا عاج (اس کے معنی اب تک معلوم نہیں ہوئے) یہ خدا کی شناخت ہے۔ عاج کے معنی لغت کی کتابوں میں ہاتھی دانت، گوبر، راہزن وغیرہ کے ہیں۔

ادویات میں استعمال ہوتا تھا اور ہمیشہ جے پور جودھ پور سے مٹکے کے مٹکے کیوڑا آیا کرتا تھا۔ اسی پر

٩٥

صفحہ ٦٠٨

منشی الہی بخش ملہم لاہوری کو الہام ہوا تھا: هو مسرف کذاب! لباس بھی ان کا عمدہ ہوا کرتا تھا۔ دیکھنے والے شہادت دے سکتے ہیں۔ جب گورداسپور کی عدالت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔

ہیں) تیس ہزار روپیہ منارہ کے بنانے کے لئے جمع ہوا اور کہاں ہے پانچ ہزار روپیہ کمیشن نصیبین کے دیا گیا۔ وہ کہاں ہے؟ ۔ براہین احمدیہ کے لئے روپیہ جمع ہوا۔ وہ کہاں ہے؟ ۔ جس کی واپسی کے بھی تقاضے ہوئے۔ سراج منیر کا چندہ کہاں خرچ ہوا۔ سیٹھ عبدالرحمان نے کئی ہزار روپیہ دیا۔ وہ کیا ہوا۔ منشی رستم علی ہمیں روپیہ ماہوار دیتے رہے۔ وہ کہاں گئے۔ حیدر آباد کی جماعت نے دس دس ہزار روپیہ دیا۔ وہ کہاں ہیں۔ جو تمام مرزائی احمدیوں سے حسب استطاعت ماہوار چندہ لیا جاتا ہے۔ وہ کہاں ہے۔ بہشتی مقبرہ کے لئے چندہ اور جائیدادیں رجسٹری ہوئیں۔ وہ کہاں ہیں۔ جماعت سیالکوٹ کا جمع شدہ چندہ کہاں ہے۔ سینکڑوں ہزاروں چندے کہاں گئے۔ حتیٰ کہ تین ماہ تک اخبار الحکم میں اشتہار چھپتا رہا۔ اگر اس تین ماہ کے عرصہ تک کوئی مرید چندہ نہیں دے گا تو اس کا نام بیعت کے رجسٹر سے خارج کر دیا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے سوائے روپیہ کمانے کے اور کوئی کام اسلام کا نہیں کیا۔ اگر کوئی فتاشدہ مرزائی یہ کہے کہ مرزا قادیانی نے عیسائیوں اور آریوں اور مسلمانوں کے برخلاف بہت سی کتابیں لکھی تھیں۔ یہ بڑا کام اسلام کا تھا۔ میں کہتا ہوں ایسی بہت کتابیں علماء اسلام نے لکھی ہیں۔ جن کی خوشہ چینی مرزا قادیانی نے بھی کی۔ جیسے مولانا مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی علیہ الرحمہ کی کتابیں ان کے برابر کوئی کیا لکھے گا۔ پھر مرزا قادیانی کی کتابیں لکھنا بھی روپیہ ہی کمانے کی خاطر تھا۔ جو دو آنہ کی کتاب کی قیمت کا ایک روپیہ وصول کیا گیا۔ یہ تو فرمائے کوئی کتاب مرزا قادیانی نے للہ بھی لوگوں میں تقسیم کی۔ ہرگز نہیں۔ اب آپ غور فرمائیں۔ یہ صحیح ہے یا غلط۔

میں ہے (معاذ اللہ) ایک دجال ہیں۔ بلکہ دجال اکبر ہیں۔ وغیرہ وغیرہ! بیشک واقعی ان تیس دجالوں میں سے ہیں جن کی پیشگوئی حدیث شریف میں ہے۔ ایک حدیث شریف کا جملہ یزعم انه رسول اللہ اور دوسری حدیث شریف کا جملہ ”یزعم انه نبی“ صاف فرما رہے ہیں کہ مرز ا قادیانی ان تیس دجالوں میں سے ایک ہیں۔ کیونکہ ان سب دجالوں کا دعویٰ اور زعم یہ ہوگا کہ میں رسول اللہ ہوں۔ یا میں نبی اللہ ہوں۔ ہاں! مرزا قادیانی دیگر دجالوں سے کسی قدر بڑے ہیں۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ بھی ہوں اور نبی بھی ہوں۔ اور میرا منکر کافر، لعنتی، دوزخی، جہنمی

٩٦

ہے۔ لیکن ان تیس دجالوں میں یہ با میں نبی ہوں اور مرزا قادیانی دونوں احادیث شریف کو پورے طور پر حرف شریف کی پیشگوئی مرزا قادیانی کے حا احادیث کا آپ اقرار کرتے ہیں یا انکا

پہلی حدیث: ”عن ابی الساعة حتى يبعث كذابون دجا الله (مسلم ج ٢ ص ٢٩٧ کتاب الف روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قریب تیس شخصوں کے ہر ایک ان میں سے

دوسری حدیث شریف کا ترج فرمایا حضرت رسول خدا ﷺ نے کہ قیام میری امت کے مشرکوں سے اور یہاں تک امت میں تیس جھوٹے شخص کلھم یزعم انه خاتم النبیین لا نبی بعدی میں خاتم ال ج ٢ ص ١٢٧ باب الفتن ودلائلہا) پس ان ہرا قریب ہوں گے پیشگوئی میں صاف درج ہے او دجال اکبر نہیں۔ کیونکہ دجال ہما فساد پھیلائے گا۔ تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہ ان سے پہلے پہلے انتیس دجال کذاب نبوت ا وقت تک ٢٧، ٢٨ جھوٹے دجال پی دجال اکبر کا حلیہ کتابوں میں کی پیشانی پر لفظ کفر ( علیہ السلام اس کو موضع لد کے مفصل حالات کتب احا لکھنے کے بعد تحریر فرما

صفحہ ٦٠٩

ہے ۔ لیکن ان تیس دجالوں میں یہ بات ہو گی کہ کوئی کہے گا کہ میں رسول اللہ ہوں اور کوئی کہے گا کہ میں نبی ہوں اور مرزا قادیانی دونوں عہدوں کے دعویداری کا زعم کرتے ہیں۔ اب میں ان احادیث شریف کو پورے طور پر حرف بحرف لکھ دیتا ہوں۔ تا کہ آپ غور فرمائیں کہ احادیث شریف کی پیشگوئی مرزا قادیانی کے حالات کے عین موافق اور مطابق ہے یا نہیں۔ دیکھیں ان احادیث کا آپ اقرار کرتے ہیں یا انکار ۔

پہلی حدیث: ”عن ابی حریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعۃ حتی یبعث کذابون دجالون قریب من ثلاثین کلہم یزعم انہ رسول اللہ (مسلم ج ٢ ص ٢٩٧ کتاب الفتن واشراط الساعہ)“ ترجمہ : حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ اٹھیں کذابوں دجالوں قریب تیس شخصوں کے ہر ایک ان میں سے دعویٰ کرے گا کہ میں رسول اللہ ہوں۔

دوسری حدیث شریف کا ترجمہ یوں ہے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا حضرت رسول خدا ﷺ نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی ۔ یہاں تک کہ ملحق ہو جائیں گے کئی قبیلے میری امت کے مشرکوں سے اور یہاں تک کہ پوجیں اوثان کو اور قریب ہے کہ ہوں گے میری امت میں تیس کذاب کلہم یزعم انہ نبی ہر ایک دعویٰ کرتا ہو گا کہ وہ نبی ہے اور فرمایا انا خاتم النبیین لا نبی بعدی میں خاتم النبیین ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ (ابوداؤد ج ٢ ص ١٢٧ باب الفتن والملاحم) پس ان ہر دو احادیث سے کذابوں دجالوں کا آنا جو تیس کے قریب ہوں گے پیشگوئی میں صاف درج ہے اور مرزا قادیانی بعینہ ان میں سے ایک تھے۔

دجال اکبر نہیں۔ کیونکہ دجال ہمارے مسلمانوں کے عقائد میں جب وہ زمین پر کفر اور فساد پھیلائے گا۔ تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بن مریم علیہا السلام آسمان پر سے نازل ہوں گے۔ ان سے پہلے پہلے انتیس دجال کذاب نبوت اور رسالت کے دعوے دار پیدا ہو جائیں گے۔ اس وقت تک ٢٧، ٢٨ جھوٹے دجال پیدا ہو چکے ہیں۔ جن کی تفصیل کتب اسلام میں درج ہے۔ دجال اکبر کا حلیہ کتابوں میں درج ہے کہ ایک آنکھ سے کانا ہو گا ۔ گویا انگور کا دانہ پھولا ہوا ہے ۔ اس کی پیشانی پر لفظ کفر (ک ف ر) لکھا ہوا ہو گا۔ وہ مدینہ شریف میں داخل نہ ہو سکے گا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کو موضع لد کے دروازہ پر قتل کریں گے۔

مفصل حالات کتب احادیث اور سیر میں ہیں۔ پھر میاں قاسم علی صاحب اعتراضات لکھنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:

٩٧

صفحہ ٦١٠

”ان اعتراضات کا مجمل لیکن مکمل جواب تو صرف یہ ہے کہ: ”لعنت الله علی الکاذبین (آل عمران: ٦١)“ اس عبارت کے لکھنے سے میاں قاسم علی صاحب کی مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی پر یہ اعتراضات مسلمانوں نے جھوٹے لگائے ہیں۔ اس لئے ان جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ضرور جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ اعتراضات جھوٹے ہیں یا سچے۔ میں دکھلا چکا ہوں کہ یہ اعتراضات سب صحیح ہیں۔ بلکہ علاوہ ان بیس کے اور سینکڑوں اعتراضات درج ہیں۔ جو سچے ہیں۔

مولوی صاحب! براہ مہربانی ذرہ میاں قاسم علی صاحب سے دریافت فرمائیں کہ جو اعتراضات آپ نے خود لکھے ہیں۔ کیا یہ سب جھوٹے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا اعتراض جھوٹا ہے۔ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زندہ ہونے کا انکار جھوٹا ہے؟ نہیں۔ لیکن بات اس میں یہ ہے کہ لعنت کا تمغہ اور سرٹیفکیٹ جو اس قوم کو عطا ہوا ہے اور مرزا قادیانی کی سنت ہے ان پر اس کا ادا کرنا واجبات میں سے ہے۔ ورنہ مسلمان کی شان نہیں کہ وہ کسی مشرک کو بھی اپنی زبان سے لعنت کہے۔ یہ ہمارے سیدنا و مولانا فداہ امی وابی حضرت خاتم الانبیاء والرسل شافع روز جزا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہی سنت موکدہ ہے۔ آپ کو کون روک سکتا ہے جو جی چاہے کہیں خداوند کریم ہادی مطلق ہے۔

بالآخر میں بڑے وثوق سے عرض کرتا ہوں کہ یہ رسالہ آپ کا دین الحق یا ہمارا مذہب محض دھوکا ہے۔ لیکن ناواقفوں کے لئے مجھے امید ہے کہ میرے دوست مولوی غلام رسول صاحب انسپکٹر پولیس جن کو ایسے ایسے دھوکوں کی پڑتال اور جانچ کا اچھا ملکہ حاصل ہوگا اور ہونا چاہئے۔ اس رسالہ کی تہہ کو پہنچ جائیں گے اور جو میں نے مختصراً بطور ضمیمہ عریضہ عرض کیا ہے۔ اس کے ساتھ اس کا مقابلہ بلا تعصب فرمائیں گے اور پھر اس خاکسار کو اپنی رائے مبارک سے معزز فرمائیں گے۔ طالب حق کے لئے کافی سے زیادہ عرض کیا گیا ہے۔ والسلام علی من اتبع الهدی! زیادہ! زیادہ

١٠ جمادی الثانی ١٣٢٨ھ خاکسار نیاز مند، احقر العباد، الی اللہ الاحد الصمد فضل احمد عفاء اللہ عنہ انسپکٹر پولیس

از لدهیانہ

٩٨

صفحہ ٦١١

یادداشت

آج یہ خط ٢٠ جولائی ١٩١٠ء کو بذریعہ رجسٹری میاں غلام رسول صاحب انسپکٹر پولیس موگا ضلع فیروز پور کے پاس بھیجا گیا۔ فضل احمد عفاء اللہ عنہ

نمبر ٤...... نقل پوسٹ کارڈ منجانب مولوی غلام رسول

بسم اللہ الرحمن الرحیم ...... نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم !

موگا ٢٣ جولائی ١٩١٠ء

جناب مکرم بندہ خط بذریعہ رجسٹری جناب کا پہنچ گیا ہے۔ بہرحال مشکور ہوں۔ میں نے پڑھ بھی لیا ہے اور غور سے پڑھا ہے۔ مجھے آپ کے مزاج اور اس انہماک اور خاص غرض کا پہلے علم نہ تھا۔ ورنہ پہلے دونوں عریضے ذرہ تفصیل سے لکھتا۔ یہ خط بھی ”حدوث و سبب خیر“ کے ذیل میں میرے ازدیاد اطمینان کا موجب ہو رہا ہے اور اس وجہ سے بھی مشکور ہی ہوں۔ بہرحال جواب عرض کر دیگا۔ مگر چونکہ نہایت عدیم الفرصت ہوں کہ ہیڈ کوارٹر پر قیام کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اس واسطے مہلت درکار ہے۔

نمبر ٥...... نقل پوسٹ کارڈ منجانب مولوی غلام رسول انسپکٹر پولیس موگا

حامداً مصلیاً مسلماً موگا ١٦ فروری ١٩١١ء

میرے مکرم و معظم قاضی صاحب، السلام من اتبع الھدی! اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوا اور لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے آپ کے مکاتبہ کے جواب عرض کرنے میں مہلت اور توفیق بخشی۔ میرے مکرم کئی روز ہوئے جواب بعون اللہ تعالیٰ مکمل ہو چکا ہے۔ اور میں نے اپنے عزیز غلام مرتضیٰ خان کو صاف اور خوشخط نقل کرنے کے واسطے دیا ہے۔ وہ کرتے ہیں تو انشاء اللہ تعالیٰ ارسال خدمت عالی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے مفید بنائے اور اس میں اثر اور برکت ڈالے۔ آمین ثم آمین! نیاز مند غلام رسول

نمبر ٤...... نقل خط منجانب احقر فضل احمد انسپکٹر پولیس لدھیانہ

١٩ جون ١٩١١ء باسمه سبحانه!

جناب مکرم مولوی غلام رسول صاحب انسپکٹر پولیس فیروز پور! تسلیم ماوجب آنکہ۔ مزاج شریف۔ ماہ جولائی ١٩١٠ء میں جواب نواز نامہ آپ کی

٩٩

صفحہ ٦١٢

خدمت میں بھیجا گیا تھا جس کو قریباً ایک سال کا عرصہ ہوتا ہے۔ مگر تا ایں اب تک آپ نے جواب الجواب حسب وعدہ خود ارسال نہیں فرمایا۔ ایک پوسٹ کارڈ آپ کا وصول ہوا تھا جس میں آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ جواب لکھا جا چکا ہے۔ صاف کرنے کے بعد ارسال ہوگا۔ مگر اس پوسٹ کارڈ کو پہنچے عرصہ تقریباً چار ماہ ہو گئے ہیں۔ اب تک آپ نے جوابات ارسال نہیں فرمائے۔ نہایت انتظار کے بعد یہ عریضہ خدمت شریف میں بھیجتا ہوں۔ براہ مہربانی جوابات روانہ فرما کر مشکور فرمائیں۔ تا کہ ان پر غور کر کے اس کے جوابات تحریر کر کے کل خط و کتابت کو طبع کروا دیا جائے۔ جیسے پہلے بھی عرض کر چکا ہوں۔ بصورت دیگر نیاز مند کو اجازت بخشی جائے۔ تا کہ جو کچھ لکھا جا چکا ہے اسی کو مطبع میں طبع کرنے بھیجا جائے۔ میں نہایت ہی مشکور ہوں گا کہ آپ مجھے جواب سے بہت جلد مشکور فرمائیں گے۔ خداوند تعالیٰ صراطِ مستقیم عطا فرماوے۔

ہاں! آپ نے ٤ مئی ١٩١١ء کا اخبار بدر ملاحظہ فرمایا ہو گا کہ جس میں ہم سب مسلمانوں کو کافر قرار دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص مرزا قادیانی کو سچا جان کر اور ان کے دعویٰ پر ایمان بھی رکھتا ہو۔ لیکن اگر بیعت نہ کی ہو تو وہ بھی کافر ہے۔ یہ تحریر آپ کے عقائد کے بالکل خلاف ہے۔ براہ مہربانی اس پر نہایت توجہ سے غور فرمائیں۔ خداوند کریم اپنا رحم کرے۔ آمین! آپ کا دوست نیاز مند فضل احمد عفاء اللہ عنہ ٢١ جمادی الاول ١٣٢٩ھ مطابق ١٩ جون ١٩١١ء

نمبر ٦...... نقل پوسٹ کارڈ منجانب مولوی غلام رسول انسپکٹر پولیس موگا

حامداً مصلیاً و مسلماً ٢١ جون ١٩١١ء موگا

مکرمی ومخلصی۔ السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ! نوازش نامہ پہنچا۔ مشکور فرمایا۔ میں خود شرمندہ ہوں کہ اب تک آپ کے خط کا جواب آپ کی خدمت میں بھیجا نہیں جا سکا۔ وجہ یہ ہوئی کہ پہلے اکتوبر تک میں ایک گونہ کشمکش میں رہا کہ جواب لکھوں یا نہ۔ آخر پر چند وجوہ جن میں سے ایک وہ وعدہ بھی تھا جو آپ سے کر چکا تھا۔ بڑی مشکل سے وقت نکال کر نومبر اور دسمبر میں لکھا اور بفضلہ تعالیٰ مکمل ہوا۔ مگر پھر نقل کے واسطے چونکہ وہ طویل ہو گیا وقت نہ مل سکا تو اپنے برادر زادہ غلام مرتضیٰ خان کو جو اسی ضلع میں بندوبست میں ہیں۔ نقل کے واسطے دیا۔ مگر وہ بیمار ہو گئے اور عرصہ تک بیمار رہنے کے بعد پھر ان کی ڈیوٹی کچھ ایسے کاموں پر رہی وہ نقل کا وقت بھی نہ نکال سکے اور معلوم ہوتا ہے کہ اب تک نقل نہیں ہوا ہے۔ آج میں نے پھر تاکیدی خط لکھا ہے کہ ویسے ہی ١٠٠

صفحہ ٦١٣

میرے پاس واپس کردیں۔ تو آہستہ آہستہ جوں جوں وقت ملا میں خود ہی نقل کی کوشش کروں گا۔ طبع کرانے کے واسطے آپ کا اختیار ہے۔ مگر جب تک اسے دیکھ نہ لیں طبع کیا کرائیں گے۔ ٤ مئی کا بدر میں نے دیکھ لیا ہوا ہے میری سمجھ میں تو اس میں کوئی نئی بات نہیں۔ راقم بندہ غلام رسول صمیم

نمبر ٥.....نقل خط منجانب احقر فضل احمد انسپکٹر پولیس لدھیانہ

٨ جولائی ١٩١٢ء

باسمہ سبحانہ مکرم بندہ جناب مولوی غلام رسول صاحب انسپکٹر پولیس موگا ضلع فیروز پور

بعد مراسم ماوجب آنکہ ۔ عرصہ ہوا آپ کے وعدہ کا انتظار کرتے کرتے تھک گیا۔ مگر افسوس اب تک دو سال ہوئے جناب نے جواب عریضہ ارسال نہ فرمایا۔ معلوم نہیں کیا موجب ہوا۔ آپ کے پوسٹ کارڈ مورخہ ٢١ جون ١٩١١ء کے اخیر فقرہ کا جواب تیار رکھا ہے۔ اس انتظار میں کہ آپ کے جواب کا جواب بھی اس کے ساتھ عرض کیا جائے۔ مگر تعجب ہے کہ آپ نے وعدہ موثق کو فراموش فرما دیا۔ مخلصی منشی محمد حسین خان صاحب سب انسپکٹر جلال آبادی کی زبانی معلوم ہوا کہ آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جواب خط نہیں بھیجا جائے گا۔ یہ بات سن کر مجھے اور بھی زیادہ افسوس ہوا کہ یا تو وہ شورا شوری۔ یا یہ بے نمکی ۔ وہ کل وعدے بھی جو مجھ سے آپ نے فرمائے تھے دور ہو گئے اور خداوند کریم کے احکام: اوفوا بالعقود (مائدہ: ١ ) !اوفو بعهدی (البقره: ٤٠)! واوفو بعهد (نحل: ٩١)! کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ نعوذ باللہ منہا۔ اس پر مجھے خیال ہوا کہ یہ عریضہ آپ کی خدمت میں بھیج کر منشی محمد حسین خان صاحب کی کلام کی تصدیق کروں ۔ اس لئے متکلف خدمت سامی ہوں کہ براہ مہربانی جواب سے مشکور فرمائیں کہ خان صاحب نے جو فرمایا وہ صحیح ہے۔ اگر صحیح ہے تو نیاز مند کو بھی اس کے موجبات سے مطلع فرمائیں اور اگر صحیح نہیں تو جواب عریضہ ارسال فرما کر مسرور فرمائیں۔ تا کہ اس کا جواب الجواب فوراً خدمت شریف میں بھیجا جائے اور نیز جواب نوازش نامہ مورخہ ٢١ جون ١٩١١ء ارسال خدمت ہو۔ تا کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ کس قدر نئی بات آپ کے عقیدہ کے برخلاف اخبار الحکم ، البدر میں، رسالہ تشہیذ الاذہان سے لکھی گئی ہیں۔ اور علاوہ اس کے آپ کی قوم بنی تمیم کی کسی قدر تاریخ بھی لکھی گئی ہے۔ میں حلفیہ عرض کرتا ہوں میرا ارادہ محض اصلاح کا ہے۔ وما اريد الا اصلاح وما توفيقى الا باالله !اگر حسب قول منشی محمد حسین خان صاحب واقعی آپ جواب دینا نہیں چاہتے ہیں تو مہربانی کر کے

١٠١

صفحہ ٦١٤

اجازت بخشیں کہ جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ مطبع میں بھیج دیا جائے۔ تاکہ پبلک کو میری اور آپ کی گفتگو کا موازنہ ہوسکے۔ زیادہ۔ والسلام علی من اتبع الھدیٰ!

آپ کا خیر خواہ نیاز مند فضل احمد عفاء اللہ عنہ

٢٢ رجب ١٣٣٠ھ مطابق ٨ جولائی ١٩١٢ء

نمبر ٧...... نقل پوسٹ کارڈ منجانب مولوی غلام رسول صاحب

انسپکٹر پولیس موگا ضلع فیروز پور

حامداً مصلیاً مسلماً ١٥ جولائی ١٩١٢ء

مکرمی قاضی صاحب جیو۔ السلام علیکم۔ خط آپ کا مجھے جھنگ میں ملا۔ جہاں میں رخصت پر تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ کو اس قدر انتظار کی تکلیف ہوئی۔ معافی مانگتا ہوں۔ جواب تو اسی سرما میں لکھا جا چکا تھا۔ مگر میں چند در چند بواعث سے اس کی تکمیل اور ترسیل کے بارہ میں مذبذب رہا۔ وعدہ بھی کر چکا تھا تا ہم چند امور مانع رہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا۔ مکرمی محمد حسین خان صاحب کا ارشاد بجا ہے۔ واقعی میرا یہی خیال ہو گیا تھا۔ مگر آپ کے خط آنے پر پھر ایک گونہ تحریک ہو گئی ہے اور صاف کرنا شروع کیا گیا ہے۔ اللہ کو منظور ہوا اور اس کا فضل شامل حال ہوا تو تکمیل پر ارسال خدمت ہوگا۔ اس کے فضل اور استعانت پر بھروسہ ہے۔ ٢١ جون کا میرا کوئی کارڈ اور اس کے اخیر کا فقرہ بخدا مجھے تو یاد بھی نہیں کہ کیا تھا میں ایک عاجز عاصی بشر ہوں۔ اگر اور کچھ مہربانی فرمائی ہے تو وہ بھی بھیج دیں تاکہ اگر مجھے وہ باتیں تسلیم نہ ہوں تو ان پر ساتھ ہی عرض کروں۔ میری ذات یا میری قوم کی بابت کچھ معرض بحث میں لانا ذاتیات میں نہ شامل ہو اور اس میں اصلاح بھی کیا ہوگی۔ میں ایک عاجز جاہل گمنام آدمی ہوں۔ میں تو اس سے بھی ڈرتا ہوں کہ آپ میری کم لیاقتی اور بے علمی نشر کرنا چاہتے ہیں خیر بہتر ہے کہ جو کچھ اور لکھا ہے وہ بھی ارسال فرمائیں۔ بندہ غلام رسول

نمبر ٦...... نقل پوسٹ کارڈ منجانب قاضی فضل احمد انسپکٹر پولیس لدھیانہ

٢٨ جولائی ١٩١٢ء...... لدھیانہ

باسمہ سبحانہٗ

مکرم بندہ مولوی صاحب زاد شوقہٗ وعلیکم السلام۔ آپ کا نوازش نامہ بجواب نیاز نامہ

١٠٢

صفحہ ٦١٥

پہنچا۔ مشکور فرمایا۔ الحمد للہ ! اب مجھے امید ہوتی ہے کہ آپ ضرور جواب ارسال فرمائیں گے۔ مورخہ ٢١ جون ١٩١٢ء کے نوازش نامہ کے اخیر فقرہ کے جواب میں جو تحریر کیا گیا ہے۔ وہ اس صورت میں بھیجنے کے لئے تیار تھا کہ آپ جواب ارسال نہیں فرمائیں گے۔ اب چونکہ عزم بالجزم کر لیا ہے۔ اس لئے تحریر شدہ خیالات اس کے جواب الجواب کے ساتھ ارسال خدمت شریف کروں گا۔ آپ کا فرمانا کہ آپ میری ذات کی بابت تحریر کرنا کہیں ذاتیات میں شامل ہو جائے۔ سو واللہ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ ذاتیات پر حملہ کیا جائے جس سے کسی قسم کا رنج بڑھے۔ ایسے خیالات نہایت ذلت کی وجہ پر ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ عرض وہی ہوگا جس میں خیر ہو اور اصلاح ہو۔ اس کے سوا لکھنا ضلالت ہے۔ بخدا میرا ارادہ ابتداء ہی سے یہ ہے میری اور آپ کی سمجھ میں وہ بات آجائے جو خدا اور اس کے رسول ﷺ کی خوشنودی کا موجب ہو۔ آپ فرماتے ہیں کہ ٢١ جون ١٩١٢ء کے پوسٹ کارڈ کا اخیر فقرہ یاد نہیں ہے کہ کیا تھا۔ افسوس ہے کہ دین کے معاملہ میں ایسی فراموشی۔ سنئے۔ میں نے اپنے عریضہ ١٩ جون ١٩١٢ء میں عرض کیا تھا کہ آپ نے اخبار بدر ٤ مئی ١٩١١ء کا ملاحظہ فرمایا ہوگا جو آپ کے عقیدہ کے برخلاف ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے ٢١ جون ١٩١٢ء کو پوسٹ کارڈ ارسال فرمایا کہ ٤ مئی کا بدر میں نے دیکھ لیا ہے۔ میری سمجھ میں تو اس میں کوئی نئی بات نہیں۔

والسلام علی من اتبع الہدی! نیازمند فضل احمد

نقل ٨...... پوسٹ کارڈ منجانب مولوی غلام رسول صاحب

انسپکٹر پولیس سرگودھا

حامداً مصلیاً مسلماً یکم اگست ١٩١٢ء

مکرم و معظم جناب قاضی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ ۔ میں موگا سے تبدیل ہو کر یہاں آ گیا ہوں۔ آج صبح کو پہنچ کر چارج لیا ہے۔ جناب کا کارڈ ملا۔ مشکور فرمایا۔ میں نے مسودہ مذکور ایک عزیز کو نقل کر دیا ہے۔ میرے پاس اس قدر وقت نہ تھا۔ وہ منٹگمری لے گئے ہیں۔ جس وقت وہاں سے پہنچا ارسال خدمت کروں گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ والسلام مع الاکرام حضرت قبلہ خان صاحب سے ملاقات ہو تو سلام نیاز پہنچا دیں۔

احقر غلام رسول

١٠٣

صفحہ ٦١٦

پوسٹ کارڈ منجانب قاضی فضل احمد انسپکٹر پولیس لدھیانہ

باسمہ سبحانہ لدھیانہ ٢٩ دسمبر ١٩١٢ء

مکرم و معظم مولوی صاحب بعد مراسم ماوجب آنکہ۔ مورخہ یکم اگست ١٩١٢ء کا نوازش نامہ آپ کا پہنچ کر باعث تسلی ہوا تھا کہ جناب جواب عریضہ ضرور ارسال فرمائیں گے جس نے آج تک پانچ ماہ منتظر رکھا مگر اب میں مایوسانہ حالت میں آپ کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ میرے عریضہ کا جواب آپ دراصل بھیجنا نہیں چاہتے ہیں۔ بہت سے وعدے فرمائے۔ مگر افسوس پورے نہ ہوئے۔ اب یہ آخری عریضہ خدمت عالی میں بھیج کر ملتمس ہوں کہ اگر جناب ایک ہفتہ تک جواب عریضہ ارسال فرمادیں گے تو بہتر۔ ورنہ نیاز مند کو یہ حق ہوگا کہ میری طرف سے جس قدر لکھا جا چکا ہوا ہے اس کے طبع کرانے کا خود کو مجاز سمجھوں اور اگر ایک ہفتہ تک آپ کی طرف سے جواب عریضہ نہ پہنچ جائے گا تو میں پھر اس کا جواب الجواب عرض کروں گا۔ مگر میں مایوس ہو چکا ہوں کہ آپ جواب عریضہ ہرگز ارسال نہیں فرمائیں گے۔ کیونکہ عرصہ اڑھائی سال کا گزر چکا ہے۔ آپ نے توجہ نہیں فرمائی۔ پس اب امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے آخری جواب سے مشکور فرمائیں گے اور اجازت بخشیں گے کہ میں اس عریضہ کو طبع کے لئے مطبع میں بھیج دوں۔ میرا اور آپ کا معاملہ خدا کے سامنے ہے اور میں حلفا عرض کرتا ہوں کہ میرا ارادہ محض اصلاح کا ہے اور کچھ نہیں۔ المنتظر نیاز مند فضل احمد عفا اللہ عنہ!

نقل پوسٹ کارڈ بجواب پوسٹ کارڈ بالا منجانب مولوی غلام رسول صاحب

انسپکٹر پولیس ضلع شاہپور

بسم اللہ الرحمن الرحیم ، نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

سرگودھا۔ ٣ جنوری ١٩١٣ء

مکرم معظم جناب قاضی صاحب السلام علی من اتبع الھدیٰ ۔ کارڈ پہنچا۔ مشکور فرمایا۔ میں شاید پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ آپ طویل خط کے جواب کے متعلق پہلے پہل تو واقعی میرا خیال تھا کہ جواب میں عرض نہ کروں۔ کیونکہ آپ کی طرف سے نوبت ختم تک پہنچی ہوئی نظر آئی تھی۔ مگر پھر چند در چند وجوہ سے بخوف معصیت آمادہ ہوا اور اسی اکتوبر کے اخیر میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے بھروسہ پر جواب لکھنا شروع کر دیا اور اسی دسمبر میں باوجود عدیم الفرصتی کے اللہ تعالیٰ

١٠٤

صفحہ ٦١٧

کے فضل اور احسان سے مکمل ہو گیا تھا۔ یعنی ہر چند اختصار کی کوشش کی تاہم جواب بہت ضخیم صورت کی کتاب بن گیا۔ اب اسے صاف کرنے کی ضرورت تھی جس کے واسطے میرے پاس وقت نہ تھا اور میں طبعاً بھی اپنے لکھے ہوئے کو نقل کرنے سے تکلیف گریزی کرنے والا ہوں۔ اس لئے مسودہ مذکور پہلے ایک عزیز کو دیا گیا کہ نقل کر دیں جو عرصہ تک ان کے پاس رہا۔ مگر ان کو بھی وقت نہ ملا۔ صرف چند صفحے ہوئے تھے کہ ان سے واپس لینا پڑا۔ پھر شاید جولائی گزشتہ میں ایک اور عزیز نے امید ظاہر کی کہ وہ نقل کر سکیں گے۔ چنانچہ ان کو دیا گیا۔ اگست میں میں ادھر تبدیل ہو آیا اور شاید مجھ سے پہلے ہی کہیں تبدیل ہو گئے تھے۔ مجھے اب تک انتظار رہا کہ نقل مکمل کر کے ارسال کریں گے۔ مگر کسی وجہ سے ان سے بھی نہ ہوسکا اور آج پانچ چھ روز ہوئے ہیں کہ مسودہ جوں کا توں معافی کے خط کے ساتھ میرے پاس واپس آ گیا۔ اب اس کی نقل میرے واسطے آسان کام نہیں کہ میرے پاس وقت نہیں۔ ایک اور عزیز سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ نقل کر دے گا۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ آپ میرے نام کو مطبع میں نہ لے جائیں اور اب بھی یہی عرض ہے کہ میری پوزیشن اور کم علمی اس قابل نہیں ہے۔ میری اصلاح مطلوب ہے تو آپ اپنا فرض ادا کر چکے اور کچھ فرمانا ہو تو وہ بھی فرمالیں اور چاہیں تو جواب کا انتظار کریں۔ ورنہ اختیار ہے۔

غلام رسول !

یاداشت

مولوی صاحب کا یہ آخری خط ہے۔ اس کو بھی اس وقت سوا سال کا عرصہ گزر گیا۔ مگر جواب نہ پہنچا۔ حالانکہ آپ کے پوسٹ کارڈ نمبر ٥ مورخہ ١٦ فروری ١٩١١ء سے واضح ہوتا ہے کہ جواب خط تیار ہو گیا ہے اور عزیز غلام مرتضیٰ خاں کو نقل کے واسطے دیا گیا ہے۔ نقل ہونے پر بھیجا جائے گا۔ اس کو بھی سوا تین سال منقضی ہو گئے۔ مگر افسوس اب تک نہ نقل ہوسکا اور نہ میرے پاس پہنچا۔ ناظرین غور فرما سکتے ہیں کہ دراصل کوئی جواب لکھا بھی گیا یا نہیں۔ اگر لکھا گیا تھا تو نقل ہونا دو چار روز یا ہفتہ کا کام تھا۔ جس کو سوا تین سال گزر گئے۔ میرا خیال ہے کہ اوّل تو کوئی جواب لکھا نہیں گیا اور اگر بالفرض کچھ اناپ شناپ لکھا بھی ہو تو کمیٹی نے اس کو پاس نہیں کیا اور نہ اس قابل سمجھا کہ وہ جواب کی حیثیت میں بھیجا جائے۔ پس اس آخری پوسٹ کارڈ سے ان کا عجز ثابت ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ کئی عزیزوں کو نقل کے واسطے دیا گیا۔ مگر کوئی بھی کر نہ سکا۔ غرض یہ ہے کہ کوئی جواب نہیں۔ اسی واسطے انہوں نے لکھ دیا کہ خواہ جواب کا انتظار کریں۔ ورنہ اختیار ہے۔ مگر میں اپنے اس

١٠٥

صفحہ ٦١٨

خیال کا ثبوت رکھتا ہوں کہ مولوی صاحب کے جواب کو قادیانی کمیٹی نے پسند نہیں کیا۔ اس لئے عدم میں رہا میں اپنے دوست مخلص خان صاحب منشی محمد حسین خان صاحب سب انسپکٹر جلال آباد ضلع فیروز پور کا خط نقل کرتا ہوں۔ جو مولوی صاحب کے ضلع میں تعینات ہیں۔ وهو ھذا!

٢٢؍ نومبر ١٩١١ء الله معكم اينما كنتم جناب مخدومی زاد عنایتہ السلام علیکم!

پوسٹ کارڈ ملا۔ یاد آوری کا شکریہ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ میاں صاحب کا جواب قادیاں کی جنرل کمیٹی نے پسند نہیں کیا۔ اس واسطے آپ کے پاس نہیں پہنچا۔ ترمیم تنسیخ ہو رہی ہے۔ اگر مکمل ہو گیا تو بھیج دیں گے اور پھر گویا یہ تمام جماعت کا جواب ہوگا۔ فقط!

محمد حسین خاں لودھی سب انسپکٹر تھانہ جلال آباد

خان صاحب نے اس سے بہت پہلے فرمایا تھا کہ میں نے آپ کا خط دیکھا تھا اور اسی وقت میں نے میاں غلام رسول صاحب انسپکٹر کو کہہ دیا تھا کہ اس کا جواب ہرگز نہیں دے سکو گے۔ یہ میری پیش گوئی سمجھو۔ پس خان صاحب کی یہ پیش گوئی پوری ثابت ہوگئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اس قدر انتظار یعنی سوا تین سال کے بعد مطبع میں بھیجا جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو ذریعہ ہدایت منکرین بنائے۔ آمین ! ثم آمین !

خاکسار فضل احمد عفی اللہ عنہ ١١؍مئی ١٩١٤ء ......مقام لدھیانہ

نوٹ:

ماہ اگست ١٩١٤ء کو سفر حج وزیارت پیش آیا۔ الحمدلله والمنة ماہ جنوری ١٩١٥ء کو واپس آیا۔ اس کے بعد انتظار جواب ہوا۔ اس کے بعد غالباً ماہ مئی یا جون ١٩١٥ء کو یہ خط وکتابت کاتب کے حوالہ ہوئی اور مطبع میں انتظام طبع کیا گیا۔

اس کا دوسرا حصہ بھی تیار ہے۔ وہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ مطبع میں دیا جائے گا۔ خدا کرے مرزائیوں کو صراط مستقیم حاصل ہو۔

مقام لدھیانہ فقیر نیاز مند فضل احمد عفاہ اللہ عنہ ١٧؍اکتوبر ١٩١٥ء

دوسرا حصہ ہمیں دستیاب نہیں ہوا۔ فقیر مرتب ! ١٠؍جون ٢٠٠٧ء

PDF 619

خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ

طوبٰی لمن رآنی واٰمن بی وطوبٰی لمن اٰمن بی ولم یرنی

فہارس

احتساب قادیانیت

جلد ١ ............ جلد ٢٠

ترتیب

حضرت مولانا اللہ وسایا

صفحہ ٦٢٠

بسم الله الرحمن الرحيم! نحمده ونصلي على رسوله الكريم ، اما بعد!

اپنے استاذ مکرم مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اختر کے رسائل اولاً ١٩٨٩ء میں احتساب قادیانیت کے نام سے شائع کئے تھے۔ اس وقت خیال وتصور میں بھی یہ بات نہ تھی کہ احتساب قادیانیت کے نام پر اکابرین امت کے رشحات قلم کو سلسلۂ وار یکجا کیا جائے گا۔ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے رسائل اولاً جون ١٩٩٨ء میں جمع کئے تو ان کو احتساب قادیانیت حصہ دوم کا نام دیا۔ پھر سلسلہ چل نکلا۔ آج ان سطور کی تحریر (٧، جون ٢٠٠٧ء) تک بیس (٢٠) جلدوں پر نہ صرف کام مکمل ہوگیا۔ بلکہ شائع ہوگئیں۔ گویا دس سال میں بیس جلدیں۔ کتنی تیزی سے یہ کام ہوا؟۔ یہ محض اللہ رب العزت کا فضل واحسان ہے اور بس!

اب جبکہ بیسویں جلد اشاعت کے لئے پریس جانے کے مراحل میں ہے تو خیال ہوا کہ ان تمام جلدوں کی اجمالی فہارس اس جلد کے ساتھ شامل اشاعت ہو جائیں۔ تاکہ قارئین کے لئے بیس جلدوں سے استفادہ آسان ہوجائے۔ اس کے لئے چار قسم کی فہرستیں تیار کی ہیں۔

فہرست نمبر ١: اس فہرست میں جلد اوّل سے جلد بیس تک ان حضرات کے اسمائے گرامی درج کر دیئے ہیں جن کے کتب ورسائل ان بیس جلدوں میں شائع ہوئے۔ یہ کل حضرات سینتیس (٣٧) ہیں جن کا سن ولادت وسن وفات معلوم ہوسکے دونوں درج کر دیئے۔ سن ولادت کے لئے (و) اور سن وفات کے لئے (م) کی علامت لکھی ہے۔ جن کا صرف سن وفات معلوم ہوا (م) کے آگے صرف وہی لکھ دیا۔ جن کے دونوں سن معلوم نہ کر پائے انہیں خالی چھوڑ دیا جو ہماری بے بسی کی یاد دلاتے رہیں گے۔

فہرست نمبر ٢: یہ فہرست مصنفین کے اسمائے گرامی، ان کے رسائل کی تعداد، جس جلد میں ان کے جتنے رسائل شائع ہوئے وہ ظاہر کرتی ہے۔ کل دوسواڑسٹھ (٢٦٨) رسائل وکتب ہیں جو ان جلدوں میں شائع ہوئیں۔

فہرست نمبر ٣: اس فہرست میں ہر جلد کے صفحات کی تعداد لکھ دی ہے۔ بیس جلدوں کے کل صفحات دس ہزار آٹھ سو سترہ (١٠٨١٧) ہیں۔ دوسواڑسٹھ (٢٦٨) رسائل وکتب کی یہ فہرست، تعداد صفحات کو ظاہر کرتی ہے۔

فہرست نمبر ٤: ١...... رسائل وکتب کے اولاً نمبرات مسلسل دیئے ہیں۔ ١ تا ٢٦٨۔

٢

سے رسائل و کتب شائع ہو کر ان جلدوں میں

ہو کہ کس مصنف کا کونسا رسالہ، کونسی جلد کے کر پائے ہیں۔

موضوعاتی فہرست

میرے مخدوم حضرت مولانا سـ موضوعاتی تقسیم وترتیب جدید سے شائع ہو اگر وہ اپنے کسی معاون کو موضوعاتی فہرست بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑنے کی بجائے کرا دیں۔ ایسے ہو جائے آدمی تو عزم ۔ طرح اسی قبیلہ عشق و وفا کے ایک اور مخدو ناظم اقراء روضۃ الاطفال واستاذ الحدیث میں ان تمام جلدوں کے تعارف و تبصرہ پر قلمکار اور دل کی بات سمجھانے کے دھنی ہـ تیار ہو جائیں گے۔ ان فہرستوں سمیت ہو جائے تو بہت اچھا رہے گا۔

یہ تو شیخ چلی کے خیالی پلاؤ لیجئے! پڑھئے اور دعاؤں سے نوازیئے کـ فرمائیں۔ آج تک رسائل و کتب کی شکـ قادیانیت کی آئندہ جلدوں میں جمع ہو جـ

صفحہ ٦٢١

سے رسائل و کتب شائع ہو کر ان جلدوں میں محفوظ ہیں۔

ہو کہ کس مصنف کا کونسا رسالہ، کونسی جلد کے، کونسے صفحے، پر مل سکتا ہے۔ اس طرح یہ چار فہارس تیار کر پائے ہیں۔

موضوعاتی فہرست

میرے مخدوم حضرت مولانا سعید احمد جلال پوری مدظلہ کا فرمانا ہے کہ ان تمام جلدوں کو موضوعاتی تقسیم و ترتیب جدید سے شائع ہونا چاہئے۔ بہت مناسب اور ضروری۔ لیکن اس سے قبل اگر وہ اپنے کسی معاون کو موضوعاتی فہرست کے کام پر لگا دیں تو کرم ہوگا۔ فقیر کی کمر دکھتی ہے۔ اسی بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑنے کی بجائے اٹھانے کا نتیجہ ہے۔ موصوف موضوعاتی فہرست تیار کرا دیں۔ ایسے ہو جائے آدمی تو عزم کے پکے ہیں۔ دیکھیں ”نومن تیل اور رادھا کا کھیل“ اسی طرح اسی قبیلۂ عشق و وفا کے ایک اور مخدوم یعنی مخدوم ثالث حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب ناظم اقراء روضۃ الاطفال واستاذ الحدیث جامعہ بنوریہ کراچی نے از خود خواہش کا اظہار فرمایا کہ میں ان تمام جلدوں کے تعارف وتبصرہ پر خامہ فرسائی کرنے کا دلی داعیہ رکھتا ہوں۔ موصوف اچھے قلمکار اور دل کی بات سمجھانے کے دھنی ہیں۔ ان کا تعارف وتبصرہ پر قلم چل نکلا تو سینکڑوں صفحات تیار ہو جائیں گے۔ ان فہرستوں سمیت موضوعاتی فہرست اور تعارف وتبصرہ پر مستقل کتاب شائع ہو جائے تو بہت اچھا رہے گا۔

یہ تو شیخ چلی! کے خیالاتی پلاؤ تھے جو کام ان جلدوں پر ہو گیا ہے وہ حاضر خدمت ہے۔ لیجئے! پڑھئے اور دعاؤں سے نوازیئے کہ اللہ تعالیٰ اس کارِ خیر کو مزید جاری رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائیں۔ آج تک رسائل و کتب کی شکل میں رد قادیانیت پر جو کچھ شائع ہوا وہ سب احتساب قادیانیت کی آئندہ جلدوں میں جمع ہو جائے۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز!

والسلام! محتاجِ دعا......فقیر: اللہ وسایا ٧؍ جون ٢٠٠٧ء

م

صفحہ ٦٢٢

فہرست نمبر ١: اسماء گرامی مصنفینؒ بمع سن ولادت وسن وفات

اس فہرست میں احتساب قادیانیت کی جلد اول سے جلد بیس (٢٠) تک جن حضرات کے ردّ قادیانیت کے رسائل شامل کئے گئے ۔ ان کے اسماء کی فہرست دے دی گئی ہے۔ جن حضرات کا سن ولادت وسن وفات میسر آگیا وہ بھی شامل کر دیا ہے۔ کل سینتیس (٣٧) حضرات اکابر مرحومین محسنین کے رشحات قلم، بیس جلدوں میں ہم مسکین ان کے نام لیواؤں نے جمع کئے ہیں۔ حق تعالیٰ اپنے فضل واحسان سے شرف قبولیت سے نوازیں اور آئندہ کے لئے توفیق بخشیں کہ ہم تمام حضرات کے کتب ورسائل کو مکمل جمع کر پائیں۔ وما ذالك على الله بعزيز!

٤

صفحہ ٦٢٣

٥

صفحہ ٦٢٣

فہرست نمبر ٢: احتساب قادیانیت جلد ١ تا ٢٠ باعتبار صفحات

احتساب قادیانیت جلد ١ کل صفحات ٣١٠ احتساب قادیانیت // ٢ // ٥٢٣ احتساب قادیانیت // ٣ // ٥٣٩ احتساب قادیانیت // ٤ // ٦٧٩ احتساب قادیانیت // ٥ // ٥٢٨ احتساب قادیانیت // ٦ // ٤٩١ احتساب قادیانیت // ٧ // ٦٤٠ احتساب قادیانیت // ٨ // ٥٧٦ احتساب قادیانیت // ٩ // ٦١٦ احتساب قادیانیت // ١٠ // ٥٧٤ احتساب قادیانیت // ١١ // ٥٠٣ احتساب قادیانیت // ١٢ // ٥٢٣ احتساب قادیانیت // ١٣ // ٤٣٧ احتساب قادیانیت // ١٤ // ٣٨٩ احتساب قادیانیت // ١٥ // ٤٩٦ احتساب قادیانیت // ١٦ // ٥٧٦ احتساب قادیانیت // ١٧ // ٦٣٢ احتساب قادیانیت // ١٨ // ٥٣٢ احتساب قادیانیت // ١٩ // ٥٩٢ احتساب قادیانیت // ٢٠ // ٦٤٠

کل صفحات ١٠٨١٧

فہرست نمبر ٣: احتساب قا

عنوان

مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت مجموعہ رسائل رد قادیانیت

صفحہ ٦٢٥

فہرست نمبر ٣: احتساب قادیانیت ج ١ تا ٢٠ باعتبار مصنفین وتعداد رسائل

عنوان جلد مصنف تعداد رسائل مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١ حضرت مولانا لال حسین اخترؒ ١٤ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٢ حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ ١٠ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٣ حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ ٢٠ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٤ حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ٣ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٤ حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٤ حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٤ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ ١٠ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٥ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ٢٤ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٦ جناب قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ ٣ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٦ جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٧ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ ١٠ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٨ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ١٦ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٩ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ١٨ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٠ حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ ١٧ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٠ حضرت مولانا غلام دستگیر قصوریؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١١ جناب بابو پیر بخش لاہوریؒ ٩ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٢ جناب بابو پیر بخش لاہوریؒ ٣ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٣ حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ ٨ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٣ حضرت مولانا شمس الحق افغانیؒ ٢

٧

صفحہ ٦٢٦

مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٣ حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٤ جناب ابو عبیدہ نظام الدین بی اے ٤ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٥ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ ١ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٥ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ ١ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٥ حضرت مولانا مفتی محمودؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٥ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٦ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٦ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ٣٠ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٦ حضرت مولانا تاج محمودؒ ٤ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٦ حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ ٨ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٦ حضرت مولانا عبدالرحیم اشعرؒ ٥ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٧ حضرت مولانا عبدالغنی پٹیالویؒ ١ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٧ حضرت مولانا نور محمد خاںؒ ٥ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٨ حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ ٤ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٨ حضرت مولانا محمد یعقوب پٹیالویؒ ٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٨ جناب علامہ نصیرؒ بی اے ١ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٩ حضرت مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ ١٢ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٩ حضرت مولانا عبداللطیف رحمانیؒ ٣ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ١٩ حضرت مولانا ظہور احمد بگویؒ ١ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٢٠ حضرت مولانا محمد مسلم دیوبندی عثمانیؒ ١ مجموعہ رسائل رد قادیانیت جلد ٢٠ جناب قاضی فضل احمد گورداسپوریؒ ٢ ٹوٹل رسائل ٢٦٨

٨

فہرست نمبر ٤

فہر

صفحہ ٩

حفظ الرحمن سیوہارویؒ ٢ نظام الدین بی اے ٤ سید حسین احمد مدنیؒ ١ احمد علی لاہوریؒ ١ مولانا مفتی محمودؒ ٢ غلام غوث ہزارویؒ ٢ محمد علی جالندھریؒ ٢ محمد یوسف بنوریؒ ٣٠ مولانا تاج محمودؒ ٤ شریف جالندھریؒ ٨ عبدالرحیم اشعرؒ ٥ عبدالغنی پٹیالویؒ ١ نور محمد خانؒ ٥ محمد منظور نعمانیؒ ٤ یعقوب پٹیالویؒ ٢ بشیر بی اے ١ ابراہیم میر سیالکوٹیؒ ١٢ عبداللطیف رحمانیؒ ٣ ظہور احمد بگویؒ ١ دیوبندی عثمانیؒ ١ محمد گرداسپوریؒ ٢ کل ٢٦٨

فہرست نمبر ٤ : تعداد مصنفین جلد اور اس کے صفحات

احتساب قادیانیت جلد اوّل (١)

فہرست احتساب قادیانیت جلد دوم (٢)

صفحہ ٦٢٨

فہرست احتساب قادیانیت جلد تین (٣)

١٠

فہرست

صفحہ ٦٢٩

٣٨ ١٤..... مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی قرآن دانی۔ // // ٤٤٣ ٣٩ ١٥..... عیسیٰ علیہ السلام کا رفع اور آمد ثانی ابن تیمیہ کی زبانی مرزا کی کذب بیانی۔ // // ٤٦١ ٤٠ ١٦..... مرزا غلام احمد رئیس قادیان اور اس کے بارہ نشان۔ // // ٤٨١ ٤١ ١٧..... اختلافات مرزا۔ // // ٤٨٩ ٤٢ ١٨..... سلسلہ بہائیہ وفرقہ مرزائیہ۔ // // ٥٠٧ ٤٣ ١٩..... انجیل برنباس اور حیات مسیح علیہ السلام! ٥٢١ ٤٤ ٢٠..... مرزائیت میں یہودیت ونصرانیت // // ٥٢٩

فہرست احتساب قادیانیت جلد چار (٤)

٤٥ ١..... دعوت حفظ ایمان نمبر ١ مولانا انور شاہ کشمیریؒ ١١ ٤٦ ٢..... دعوت حفظ ایمان نمبر ٢۔ // // ١٧ ٤٧ ٣..... بیان مقدمہ بہاولپور۔ // // ٣٣ ٤٨ ١..... الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی مولانا اشرف علی تھانویؒ ٩٥ ٤٩ ٢..... قائد قادیان // // ١٣١ ٥٠ ١..... الشہاب لرجم الخاطف المرتاب مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ١٩١ ٥١ ٢..... صدائے ایمان // // ٢٤٣ ٥٢ ١..... نزول عیسیٰ علیہ السلام! مولانا بدر عالم میرٹھیؒ ٢٥٣ ٥٣ ٢..... ختم نبوت // // ٣٦٥ ٥٤ ٣..... سیدنا مہدی علیہ الرضوان۔ // // ٤٤٥ ٥٥ ٤..... دجال اکبر۔ // // ٤٩٧ ٥٦ ٥..... نور ایمان۔ // // ٥٣١ ٥٧ ٦..... الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح علیہ السلام! // // ٥٣٣

١١

صفحہ ٦٣٠

٥٨ ...... ٧......مصباح العلیّہ لمحوالنبوٰۃ الظلیہ // // ٥٤٨ ٥٩ ...... ٨......الجواب الحفی فی آیۃ التوفی // // ٥٧٦ ٦٠ ...... ٩......انجاز الوفی فی آیۃ التوفی // // ٥٩٢ ٦١ ...... ١٠......آواز حق ! // // ٦٣٩

فہرست احتساب قادیانیت جلد پانچ (٥)

٦٢ ...... ١.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ١۔ مولانا عبدالعزیز و مولانا عبدالوحیدؒ ٥ ٦٣ ...... ٢.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢۔ // // ١٣ ٦٤ ...... ٣.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ٣۔ مولانا عبدالوحیدؒ ١٩ ٦٥ ...... ٤.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ٤۔ مولانا عبدالعزیزؒ ٢٩ ٦٦ ...... ١.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ٥۔ پروفیسر سید انور حسینؒ ٣٧ ٦٧ ...... ١.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ٦؍ مرزا کا دعویٰ نبوت محمد علی مونگیریؒ ٦٣ ٦٨ ...... ٢.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧؍ دعویٰ نبوت مرزا۔ // // ٨٦ ٦٩ ...... ٣.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ٨؍ عبرت خیز۔ // // ١٢١ ٧٠ ...... ٤.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ٩۔ // // ١٤١ ٧١ ...... ١.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٠۔ محمد یعسوب مونگیریؒ ١٨٧ ٧٢ ...... ٢.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ١١؍ نمونہ القائے قادیانی محمد یعسوب مونگیریؒ ٢٠٩ ٧٣ ...... ٣.....صحیفہ رحمانیہ ١٢ محمد یعسوب مونگیریؒ ٢٠٩ ٧٤ ...... ١.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٣ خواجہ غلام الثقلینؒ ٢٥٣ ٧٥ ...... ١.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٤، اسلامی چیلنج۔ مولانا عبدالغفار خانؒ مولانا لکھنویؒ ٢٧١ ٧٦ ...... ٤.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٥ محمد یعسوب مونگیریؒ ٢٩١ ٧٧ ...... ١.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٦؍ مرزائی نبوت کا خاتمہ مولانا سید محمد انور حسینؒ ٣١١

١٢

٧٨ ..... ١.....صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٧ ٧٩ ..... ٢.....صحیفہ رحمانیہ نی ٨٠ ..... ٣.....صحیفہ رحمانیہ ٨١ ..... ٤.....صحیفہ رحمانیہ ٨٢ ..... ٥.....صحیفہ رحمانیہ ٨٣ ..... ٦.....صحیفہ رحمانیہ ٨٤ ..... ٧.....صحیفہ رحمانیہ ٨٥ ..... ٨.....صحیفہ رحمانیہ

فہرست

٨٦ ..... ١.....غایت المرا ٨٧ ..... ٢.....تائید الاسلا ٨٨ ..... ٣.....مرزا قادی ٨٩ ..... ١.....ختم نبوت ٩٠ ..... ٢.....شناخت مجد

فہرست

٩١ ..... ١.....فیصلہ آسمانی ٩٢ ..... ٢.....فیصلہ آسمانی ٩٣ ..... ٣.....فیصلہ آسمانی ٩٤ ..... ٤.....دوسری شہ ٩٥ ..... ٥.....تنزیہہ ربانی ٩٦ ..... ٦.....معیار صدا

صفحہ ٦٣١

٧٨ ....... ١...... صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٧ ثبوت فی الاسلام کے نو جواب اور مرزا کے جھوٹ مولانا اسحق مونگیریؒ ٣٣٧ ٧٩ ....... ٢...... صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٨ / چیلنج محمدیہ و صولت فاروقیہ // // ٣٧١ ٨٠ ....... ٣...... صحیفہ رحمانیہ نمبر ١٩/ بشری ہدایت کی صداقت اور مسیح قادیانی کی ذاتی حالت // // ٤٠١ ٨١ ....... ٤...... صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٠ // // ٤٠٩ ٨٢ ....... ٥...... صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢١ / خاتم النبیین // // ٤١٩ ٨٣ ....... ٦...... صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٢ // // ٤٥١ ٨٤ ....... ٧...... صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٣ // // ٤٨٧ ٨٥ ....... ٨...... صحیفہ رحمانیہ نمبر ٢٤ // // ٥٢٥

فہرست احتساب قادیانیت جلد چھ (٦)

٨٦ ....... ١...... غایت المرام۔ مولانا قاضی سلیمان منصور پوریؒ ٥ ٨٧ ....... ٢...... تائید الاسلام۔ // // ١٥٧ ٨٨ ....... ٣...... مرزا قادیانی اور نبوت // // ٣٠١ ٨٩ ....... ١...... ختم نبوت۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ ٣١٩ ٩٠ ....... ٢...... شناخت مجدد // // ٣٤٥

فہرست احتساب قادیانیت جلد سات (٧)

٩١ ....... ١...... فیصلہ آسمانی حصہ اول بمعہ تتمہ۔ مولانا محمد علی مونگیریؒ ٥ ٩٢ ....... ٢...... فیصلہ آسمانی حصہ دوم۔ // // ٩٥ ٩٣ ....... ٣...... فیصلہ آسمانی حصہ سوم۔ // // ١٦٣ ٩٤ ....... ٤...... دوسری شہادت آسمانی۔ // // ٢٩٧ ٩٥ ....... ٥...... تنزیہہ ربانی از تلویث قادیانی۔ // // ٣٩٩ ٩٦ ....... ٦...... معیار صداقت // // ٤٣٧

١٣

صفحہ ٦٣٢

٩٧...... ٧......حقیقت المسیح۔ // // ٤٥٥ ٩٨...... ٨......معیار المسیح۔ // // ٤٩٩ ٩٩...... ٩......ہدیہ عثمانیہ و صحیفہ انواریہ۔ // // ٥٢٥ ١٠٠...... ١٠......حقیقت رسائل اعجازیہ مرزائیہ۔ // // ٥٧٣

فہرست احتساب قادیانیت جلد آٹھ (٨)

١٠١...... ١......الہامات مرزا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ٩ ١٠٢...... ٢......ہفوات مرزا۔ // // ١٤٧ ١٠٣...... ٣......صحیفہ محبوبیہ۔ // // ١٥٧ ١٠٤...... ٤......فاتح قادیان۔ // // ١٩٩ ١٠٥...... ٥......آفتہ اللہ۔ // // ٢٦٧ ١٠٦...... ٦......فتح ربانی در مباحثہ قادیانی۔ // // ٢٧٥ ١٠٧...... ٧......عقائد مرزا۔ // // ٣٦٣ ١٠٨...... ٨......مرقع قادیانی۔ // // ٣٧٣ ١٠٩...... ٩......چیستان مرزا۔ // // ٤٢٩ ١١٠...... ١٠......زار قادیان۔ // // ٤٣٧ ١١١...... ١١......فسخ نکاح مرزائیاں۔ // // ٤٤٣ ١١٢...... ١٢......نکاح مرزا۔ // // ٤٦٩ ١١٣...... ١٣......تاریخ مرزا۔ // // ٤٩٣ ١١٤...... ١٤......شاہ انگلستان اور مرزائے قادیان۔ // // ٥٢٣ ١١٥...... ١٥......لیکھرام اور مرزا۔ // // ٥٥٥ ١١٦...... ١٦......ثنائی پاکٹ بک۔ // // ٥٦٧

١٤

صفحہ ٦٣٣

فہرست احتساب قادیانیت جلد نو (٩)

١١٧ ..... ١٧...... قادیانی مباحثہ دکن ۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؔ ٥ ١١٨ ..... ١٨...... شہادات مرزا ۔ // // ٢٩ ١١٩ ..... ١٩...... نکات مرزا ۔ // // ٥٥ ١٢٠ ..... ٢٠...... ہندوستان کے دو ریفارمر ۔ // // ٨٣ ١٢١ ..... ٢١...... محمد قادیانی ۔ // // ١٠٧ ١٢٢ ..... ٢٢...... قادیانی حلف کی حقیقت ۔ // // ١٢٧ ١٢٣ ..... ٢٣...... تعلیمات مرزا ۔ // // ١٥٧ ١٢٤ ..... ٢٤...... فیصلہ مرزا ۔ // // ٢٢٧ ١٢٥ ..... ٢٥...... تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار ۔ // // ٢٤٧ ١٢٦ ..... ٢٦...... علم کلام مرزا ۔ // // ٢٦٣ ١٢٧ ..... ٢٧...... عجائبات مرزا ۔ // // ٣٥٥ ١٢٨ ..... ٢٨...... نا قابل مصنف مرزا ۔ // // ٣٨٧ ١٢٩ ..... ٢٩...... بہاء اللہ اور مرزا ۔ // // ٤٥٣ ١٣٠ ..... ٣٠...... اباطیل مرزا ۔ // // ٥١٣ ١٣١ ..... ٣١...... مکالمہ احمدیہ ۔ // // ٥٢٧ ١٣٢ ..... ٣٢...... بطش قدیر بر قادیانی تفسیر ۔ // // ٥٧٥ ١٣٣ ..... ٣٣...... محمود مصلح موعود ۔ // // ٦٠٥ ١٣٤ ..... ٣٤...... تحفہ احمدیہ // // ٦١٤

فہرست احتساب قادیانیت جلد دس (١٠)

١٣٥ ..... ١...... صحیفۃ الحق (الملقب) بمباہلۃ الحق ! ۔ مرتضیٰ حسن چاند پوریؔ ٥

١٥

صفحہ ٦٣٤

(تتمہ الابطال لدفع المكائد عن حديث اتخذو قبور انبياءهم)۔ // ٣٥٧

فہرست احتساب قادیانیت جلد گیارہ (١١)

١٦

فہرست احتی

فہرست احتی

ممالک اسلامیہ سے قادیانی

صفحہ ٦٣٥

١٥٥....... ٢....... بشارت محمدی فی ابطال رسالت غلام احمدی // // ٩٣

١٥٦....... ٣....... کرشن قادیانی // // ١٨٧

١٥٧....... ٤....... مباحثہ حقانی فی ابطال رسالت قادیانی // // ٢١٧

١٥٨....... ٥....... تفریق درمیان اولیاء امت اور کذاب مدعیان نبوت ورسالت // // ٣٥٣

١٥٩....... ٦....... اظہار صداقت (کھلی چٹھی بنام محمد علی وخواجہ کمال الدین لاہوری) // // ٤٠٧

١٦٠....... ٧....... تحقیق صحیح فی قبر مسیح // // ٤١٥

١٦١....... ٨....... قادیانی کذاب کی آمد پر ایک محققانہ نظر // // ٤٦١

١٦٢....... ٩....... مجدد وقت کون ہو سکتا ہے؟ // // ٤٧١

فہرست احتساب قادیانیت جلد بارہ (١٢)

١٦٣....... ١٠....... الاستدلال الصحیح فی حیات المسیح ! بابو پیر بخش لاہوریؒ ٣

١٦٤....... ١١....... تردید نبوت قادیانی فی جواب النبوت فی خبر الامت! // ٢٧٧

١٦٥....... ١٢....... تردید معیار نبوت قادیانی // ٥٠١

فہرست احتساب قادیانیت جلد تیرہ (١٣)

١٦٦....... ١....... طریق السداد فی عقوبۃ الارتداد! مولانا مفتی محمد شفیعؒ ٧

١٦٧....... ٢....... دعاوی مرزا // // ٢١

١٦٨....... ٣....... مسیح موعود کی پہچان۔ // // ٣٣

١٦٩....... ٤....... وصول الافکار الی اصول الاکفار ! // // ٦٣

١٧٠....... ٥....... عالم الاسلام والقادیانیہ عداوہ القادیانیہ للممالک الاسلامیہ (عربی)

ممالک اسلامیہ سے قادیانیوں کی غداری (اردو) // ١٠١

١٧١....... ٦....... ایمان وکفر قرآن کی روشنی میں // ١٢٧

١٧٢....... ٧....... البیان الرفیع (بیان در مقدمہ بہاول پور) // ٧٣

صفحہ ٦٣٦

١٧٣...... ٨ ......فتاویٰ جات رد قادیانیت (ماخوذ از فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ج٢) // ١٨٩ ١٧٤...... ١ ......فلسفہ ختم نبوت ۔ مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ٢٠٧ ١٧٥...... ٢ ......حیات سیدنا عیسیٰ ؑ! // // ٢٢٧ ١٧٦...... ١ ......مسئلہ ختم نبوت ۔ مولانا شمس الحق افغانیؒ ٣٩١ ١٧٧...... ٢ ......مسئلہ حیات سیدنا عیسیٰ ؑ! // // ٤١٥

فہرست احتساب قادیانیت جلد چودہ (١٤)

١٧٨...... ١ ......توضیح الکلام فی حیات عیسیٰ ؑ! مولانا ابو عبیدہ ٥ ١٧٩...... ٢ ......کذبات مرزا ۔ // // ٢٧٥ ١٨٠...... ٣ ......برق آسمانی بر فرق قادیانی ۔ // // ٢٩٥ ١٨١...... ٤ ......منکوحہ آسمانی // // ٣٦٣

فہرست احتساب قادیانیت جلد پندرہ (١٥)

١٨٢...... ١ ......الخليفة المهدی فی الاحادیث الصحیحہ! سید حسین احمد مدنیؒ ٧ ١٨٣...... ١ ......مسلمانوں کے مرزائیت سے نفرت کے اسباب اور مرزا کے متضاد اقوال! احمد علی لاہوریؒ ٩١ ١٨٤...... ١ ......ملت اسلامیہ کا موقف! مولانا مفتی محمودؒ ١٠٩ ١٨٥...... ٢ ......المتنبئ القادیانی من ھو؟ // // ٢٨٧ ١٨٦...... ١ ......جواب محضر نامہ مولانا غلام غوث ہزارویؒ ٣٠٩ ١٨٧...... ٢ ......لاہوری مرزائیوں کے محضر نامہ کا جواب // // ٤٧٣

فہرست احتساب قادیانیت جلد سولہ (١٦)

١٨٨...... ١ ......تحقیقاتی عدالت ١٩٥٣ء میں تحریری بیان مولانا محمد علی جالندھریؒ ٧ ١٨٩...... ٢ ......مرزائیوں سے بائیکاٹ کے سات سوالات مرزائیوں کے مغالطہ آمیز جوابات مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا تاریخی جواب الجواب // ١٣١

١٨

١٩٠...... ١...تعارف افکار الملحدین ١٩١...... ٢...مقدمہ عقیدۃ الاسلام ١٩٢...... ٣...نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ ا ١٩٣...... ٤...فتنہ قادیانیت اور ام ١٩٤...... ٥...ضروری تنبیہ ١٩٥...... ٦...مرزا ناصر کا دورہ یورپ اور ١٩٦...... ٧...برطانوی عہد حکمر ١٩٧...... ٨...پاکستان اور مرزائی ١٩٨...... ٩...تعارف مجلس تحفظ ختم ن ١٩٩...... ١٠...عقیدہ ختم نبوت ٢٠٠...... ١١...کتاب خاتم النبیین قا ٢٠١...... ١٢...تعارف ہدیۃ المہد ٢٠٢...... ١٣...فیصلہ جیمس آباد کا تع ٢٠٣...... ١٤...مجلس تحفظ ختم نبوت کے تین ٢٠٤...... ١٥...حضرت مولانا قاضی ٢٠٥...... ١٦...حضرت مولانا محمد علی ج ٢٠٦...... ١٧...حضرت مولانا لال ح ٢٠٧...... ١٨...تحریک ختم نبوت اور اس کے ٢٠٨...... ١٩...مسئلہ ختم نبوت اور پاک ٢٠٩...... ٢٠...قادیانیوں کا سوشل ب

صفحہ ٦٣٧

١٩٠ ...... ١... تعارف اکفار الملحدین مولانا محمد یوسف بنوریؒ ١٨١ ١٩١ ...... ٢... مقدمہ عقیدۃ الاسلام // // ١٩٣ ١٩٢ ...... ٣... نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ اسلامی اصول کی روشنی میں // // ٢٣٣ ١٩٣ ...... ٤... فتنہ قادیانیت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں // // ٢٥٩ ١٩٤ ...... ٥... ضروری تنبیہ // // ٢٦٠ ١٩٥ ...... ٦... مرزا ناصر کا دورہ یورپ اور سعودی عرب ٹیلی ویژن پر اس کی نمائش // // ٢٦٢ ١٩٦ ...... ٧... برطانوی عہد حکومت اور مسلمان // // ٢٦٦ ١٩٧ ...... ٨... پاکستان اور مرزا کی امت // // ٢٧٩ ١٩٨ ...... ٩... تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان // // ٢٨٢ ١٩٩ ...... ١٠... عقیدہ ختم نبوت // // ٢٨٥ ٢٠٠ ...... ١١... کتاب خاتم النبیین فارسی کا مقدمہ // // ٢٨٧ ٢٠١ ...... ١٢... تعارف ہدیۃ المہدیین فی آیۃ خاتم النبیین // // ٢٩٢ ٢٠٢ ...... ١٣... فیصلہ جیمس آباد کا تعارف // // ٢٩٩ ٢٠٣ ...... ١٤... مجلس تحفظ ختم نبوت کے تین امراء کی وفیات پر تعزیتی شذرات // // ٣١٣ ٢٠٤ ...... ١٥... حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ // // ٣١٤ ٢٠٥ ...... ١٦... حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ // // ٣١٥ ٢٠٦ ...... ١٧... حضرت مولانا لال حسینؒ اختر // // ٣١٦ ٢٠٧ ...... ١٨... تحریک ختم نبوت اور اس کے بعد قادیانی فتنہ کی صورت حال // // ٣١٧ ٢٠٨ ...... ١٩... مسئلہ ختم نبوت اور پاکستان // // ٣١٨ ٢٠٩ ...... ٢٠... قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ // // ٣٢١ ١٩

صفحہ ٦٣٨

٢١٠ ...... ٢١... قادیانیت کے خلاف اہل پاکستان کا شدید ردعمل // // ٣٢٤ ٢١١ ...... ٢٢... حادثہ ربوہ // // ٣٢٥ ٢١٢ ...... ٢٣... تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء کا طریق کار // // ٣٢٥ ٢١٣ ...... ٢٤... کامیابی پر سپاس و تشکر // // ٣٣٠ ٢١٤ ...... ٢٥... دورہ انگلستان // // ٣٣٥ ٢١٥ ...... ٢٦... قادیانیوں کا غیر مسلم لکھوانے سے انکار // // ٣٤٠ ٢١٦ ...... ٢٧... قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں // // ٣٤٣ ٢١٧ ...... ٢٨... قادیانیت اور عالم اسلام // // ٣٤٦ ٢١٨ ...... ٢٩... انٹرویو // // ٣٥٤ ٢١٩ ...... ٣٠... شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کا سفر مشرقی افریقہ کی روئیداد ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ٣٦١ ٢٢٠ ...... ١... قادیانی مذہب و سیاست مولانا تاج محمودؒ ٣٨١ ٢٢١ ...... ٢... آزاد کشمیر اسمبلی کی قرارداد پر مرزائیوں کے گمراہ کن پروپیگنڈا کا مسکت جواب // // ٤٢٩ ٢٢٢ ...... ٣... متن پریس کانفرنس ٢٧ مئی ١٩٧٣ء // // ٤٣٣ ٢٢٣ ...... ٤... قادیانی سازشوں کا نوٹس لیجئے // // ٤٣٩ ٢٢٤ ...... ١... مرزائی اسرائیلی فوج میں (مسلمانان پاکستان اور حکومت توجہ کرے) مولانا محمد شریف جالندھریؒ ٤٥٧ ٢٢٥ ...... ٢... جداگانہ انتخابات اور قادیانی // // ٤٦٢ ٢٢٦ ...... ٣... تعارف مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان // // ٤٦٥ ٢٢٧ ...... ٤... مرزائی تعلیمات میں، محمد و احمد بمعنی غلام احمد قادیانی // // ٤٨٧ ٢٢٨ ...... ٥... قادیانیوں کے متعلق امت مسلمہ کے تقاضے // // ٥٠٣ ٢٢٩ ...... ٦... اکھنڈ بھارت اور مرزائی // // ٥٠٧ ٢٠

٢٣٠ ٧... اسلامی نظام کی مظہر، دارِ حکومت پاکستان ( ٢٣١ ٨... قادیانیوں کے اصل عقائد بجوا ٢٣٢ ١... جلسہ سیرت النبی اور قاد ٢٣٣ ٢... مرزا غلام احمد قادیانی کی ٢٣٤ ٣... مرزائیت علامہ اقبال ٢٣٥ ٤... بیرونی ممالک میں قادیا ٢٣٦ ٥... مرزائیوں کا بہت بڑا فر

فہرست احتسا

٢٣٧ ١..... هداية الممتري عن غواية الم ٢٣٨ ١..... اختلافات مرزا ٢٣٩ ٢..... کفریات مرزا ٢٤٠ ٣..... کذبات مرزا ٢٤١ ٤..... مغالطات مرزا ٢٤٢ ٥..... کرشن قادیانی آریہ تھے یا عی

فہرست احتسا

٢٤٣ ١..... قادیانیت پر غور کرنے کا ٢٤٤ ٢..... قادیانی کیوں مسلمان نہی ٢٤٥ ٣..... مسئلہ نزول مسیح وحیات ٢٤٦ ٤..... کفر واسلام کے حدود اور ٢٤٧ ١..... تحقیق لاثانی ٢٤٨ ٢..... عشرہ کاملہ ٢٤٩ ١..... بارقہ شفیعیہ

صفحہ ٦٣٩

فہرست احتساب قادیانیت جلد سترہ (١٧)

فہرست احتساب قادیانیت جلد اٹھارہ (١٨)

٢١

صفحہ ٦٤٠

فہرست احتساب قادیانیت جلد انیس (١٩)

٢٥٠ ..... ١ ........ فبہت الذی کفر حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی ١١ ٢٥١ ..... ٢ ........ الخبر الصحیح عن قبر المسیح علیہ السلام // // ٢١ ٢٥٢ ..... ٣ ........ قادیانی مذہب بمع ضمیمہ جات خلاصہ مسائل قادیانیہ // // ٣٩ ٢٥٣ ..... ٤ ........ صدائے حق // // ٥٥ ٢٥٤ ..... ٥ ........ فیصلہ ربانی بر مرگ قادیانی // // ٦٧ ٢٥٥ ..... ٦ ........ ختم نبوت اور مرزائے قادیان // // ٧٧ ٢٥٦ ..... ٧ ........ فص خاتم النبوة بعموم وجامعة الشريعة // // ٨٧ ٢٥٧ ..... ٨ ........ کشف الحقائق روئیداد مناظرات قادیانیہ // // ١٠٧ ٢٥٨ ..... ٩ ........ امام زمان، مہدی منتظر، مجدد دوراں // // ١٨٧ ٢٥٩ ..... ١٠ ........ کھلی چٹھی نمبر ٢ // // ٢٥١ ٢٦٠ ..... ١١ ........ تردید مغالطات مرزائیہ نمبر ٢ // // ٢٦٥ ٢٦١ ..... ١٢ ........ مسئلہ ختم نبوت // // ٢٧١ ٢٦٢ ..... ١ ........ اغلاط ماجدیہ حضرت مولانا مفتی عبد اللطیف رحمانی ٢٨٣ ٢٦٣ ..... ٢ ........ تذکرہ سیدنا یونس علیہ السلام // // ٣١٥ ٢٦٤ ..... ٣ ........ چشمہ ہدایت // // ٣٤٧ ٢٦٥ ..... ١ ........ برق آسمانی بر خرمن قادیانی حضرت مولانا ظہور احمد بگوئی ٣٩١

فہرست احتساب قادیانیت جلد بیس (٢٠)

٢٦٦ ..... ١ ........ مسلم پاکٹ بک مولانا محمد مسلم عثمانی دیوبندی ٩ ٢٦٧ ..... ١ ........ کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام قادیانی قاضی فضل احمد ٣٥٧ ٢٦٨ ..... ٢ ........ جمعیت خاطر // // ٥١٣

٣٢