احتساب قادیانیت جلد 25 · مولانا محمد عالم آسی امرتسری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 25 · Maulana Muhammad Alam Asi
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

حضرت مولانا محمد عالم آسی امرتسری رحمۃ اللہ علیہ

احتساب قادیانیت

جلد ٢٥

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

صفحہ ٢

بسم الله الرحمن الرحیم!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد پچیس (٢٥) نام مصنف : حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ صفحات : ٤٤٨ قیمت : ٢٥٠ روپے مطبع : ناصرین پریس لاہور طبع اوّل : دسمبر ٢٠٠٨ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحيم!

احتساب قادیانیت جلد پچیس (٢٥) حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ ٤٤٨ ٢٥٠ روپے ناصر آرٹ پریس لاہور دسمبر ٢٠٠٨ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122

بسم الله الرحمن الرحيم!

عرض مرتب

حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ (م ١٩٤٢ء) ”امرتسر“ کے رہنے والے تھے۔ مولانا غلام قادر بھیرویؒ سے آپ نے تعلیم حاصل کی۔ مولانا محمد عالم آسی امرتسری، امرتسر سے ”الفقیہ“ ایک رسالہ بھی شائع کرتے رہے۔ مولانا کی رد قادیانیت پر شہرہ عالم کتاب الکاویہ علی الغاویہ ہے۔ جو دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ جلد اوّل احتساب قادیانیت کی جلد ہذا (٢٥ ویں) میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ تلاش بسیار کے باوجود آپ کے تفصیلی حالات زندگی نہ مل سکے۔ آپ نے الکاویہ کی پہلی جلد مارچ ١٩٣١ء میں شائع کی۔

آپ انجمن خدام الحنفیہ امرتسر ہاتھی گیٹ کے معتمد تھے۔ آپ نے اپنی کتاب کے ٹائٹل پر خود یہ تعارف لکھا: ”جن لوگوں نے اسلام کو نامکمل سمجھ کر تجدید و ترمیم یا تنسیخ و تحریف شروع کر دی ہے اور اپنے آپ کو مصلح قوم، مجدد دین، مہدی یا مسیح ظاہر کر کے لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں کہ ہم اسلام کا روشن پہلو دکھلا کر دین محمدی کے اصل رخ سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔ ایسے محرفین کے لئے یہ رسالہ ”الکاویۃ علی الغاویۃ“ لکھا گیا ہے۔ جس میں عام

صفحہ ٤

شبہات کا عموماً اور مرزائی تعلیم کا خصوصاً ایک ایسا خاکہ پیش کیا گیا ہے کہ جس کے دیکھنے سے ناظرین خود معلوم کر سکیں گے کہ یہ مرزائی تعلیم یا نئی اصطلاحات میں کہاں تک تحریف و تنسیخ سے کام لیا گیا ہے۔‘‘

مولانا اعزاز علیؒ دیوبندی، مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی امرتسری، مولانا نور احمد امرتسریؒ ، مولانا عبد الغفور غزنویؒ ، مولانا عبد الرحمان امرتسریؒ ، مولانا محمد حسینؒ ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ اور دوسرے اکابر علماء کی اس پر تقاریظ ہیں۔ انشاء اللہ العزیز احتساب کی جلد (٢٦ویں) میں ’’الکاویۃ علی الغاویۃ‘‘ کے دوسرے حصہ کو شائع کریں گے۔ اشاعت اوّل ١٩٣١ء کے ستر سال بعد نومبر ٢٠٠٨ء میں اس کی اشاعت ثانی کے لئے اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق پر سجدہ شکر بجا لاتے ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین، ثم آمین!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ١٨/ ذیقعدہ ١٤٢٩ھ بمطابق ١٧/ نومبر ٢٠٠٨ء

PDF 5

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

الکاویة علی الغاویة

یعنی

چودھویں صدی ہجری

کے مدعیان نبوت کے مختصر تاریخی حالات

حصہ اوّل

حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ

صفحہ ٦

الكاوية على الغاوية

حصہ اول

بسم الله الرحمن الرحيم! ” الحمد لله وحده ، والصلوة على من لا نبي بعده ، وعلى اله واصحابه اجمعين الى يوم الدين وبعد فيقول العبد العاصى محمد عالم عفى عنه بن عبدالحميد الوتير الآسى عفا الله عنهما ليقل من يؤمن بالله ورسوله الحمد لله رب العالمين اى التراب على لله راس المولمين الرحمن الرحيم من الرهام اى ذلك التراب عليه كالرهام ، ثم ليتوجه الى مالك ناصية فيقول مالك يوم الدين اى ماللاه يارب يقصد دينك ، فليقل مخاطباً لذلك البدع اياك نعبد اى نتبرء منك اياك نستعين فلقينا منك تعبا ونصبا ، ثم ليتوجه الى الله تعالى بالنيابة عن البدع اهدنا الصراط المستقيم ، الذي فيه الموانع كالكوماء صراط الذين انعمت عليهم وانزلت عليهم النوم من الغفلة غير المغذوب عليهم اى هم ليسوا ممن غذب عليهم فى شئى ولا الضالين من الدآلان ثم ليعتقد ان الصلوة على النبى وعبادة له كما لا حمد لله والصلوة عليه فمن يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادي له فليستمع ما اقول وليصنع لما القى عليه وهو انه “

مرزائی تعلیم کے متعلق علمائے اسلام کی تصانیف سے جو مجھے حاصل ہوا ہے اس کو ترتیب دے کر آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جرأت کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اس کو بنظر استحقار نہ دیکھیں گے اور اگر اس سے کچھ فائدہ ہوا تو مؤلف کو دعائے خیر سے یاد فرمائیں گے اور اگر کہیں سقم یا نقص نظر آئے گا تو اس کی تصحیح سے بندہ کو مطلع کر کے ممنونیت کا تمغہ حاصل کریں گے۔

میں اس موقعہ پر اس رسالہ کا نام بھی آپ کو تشریحاً بتانا چاہتا ہوں کہ اس کو کاویہ تصور کیا گیا ہے۔ جو عموماً ٹین سازوں کے پاس ہوا کرتا ہے اور جس سے ٹانکے لگایا کرتے ہیں۔ علی الغاویہ سے یہ مطلب ہے کہ جن گمراہ کن لوگوں نے مسلمانوں میں تفریق بین المسلمین کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ ان کے سینہ پر یا ان کے دل میں جو اتحاد بین المسلمین کو دیکھ کر حسد اور کینہ کا گھاؤ پڑ گیا ہے۔ اس پر علاج بالکی کے طریق پر یہ رسالہ داغ دینے کا کام دیتا ہے اور بس۔ کیونکہ جب انسان

صفحہ ٧

الكاوية على الغاوية

حصہ اوّل

بسم الله الرحمن الرحيم!

الحمد لله وحده، والصلوة على من لا نبى بعده، وعلى آله الى يوم الدين وبعد فيقول العبد العاصی محمد عالم عفی سعيد الوتير الآسى عفا الله عنهما ليقل من يؤمن بالله لله رب العالمين اى التراب على لله راس المولمين الرحمن ى ذلك التراب عليه كالرهام. ثم ليتوجه الى مالك ناصية الدين له مالاه يارب يقصد دينك. فليقل مخاطباً لذلك اى تنصر منك اياك نستعين فلقينا منك تعبا ونصبا. ثم ى بالنيابة عن البدع اهدنا الصراط المستقيم. الذى فيه صراط الذين انعمت عليهم وانزلت عليهم النوم من الغفلة م اى هم ليسوا ممن غضب عليهم فى شئی ولا الضالين من ان الصلوة على النبى وعبادة له كما لا حمد لله والصلوة له فلا مضل له ومن يضلله فلا هادی له فليستمع ما اقول يه وهو انه “

س کے متعلق علمائے اسلام کی تصانیف سے جو مجھے حاصل ہوا ہے اس کو ورت میں پیش کرنے کی جرأت کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اس کو بنظر گر اس سے کچھ فائدہ ہوا تو مؤلف کو دعائے خیر سے یاد فرمائیں گے اور گا تو اس کی تصحیح سے بندہ کو مطلع کر کے ممنونیت کا تمغہ حاصل کریں گے۔ پر اس رسالہ کا نام بھی آپ کو تشریحاً بتانا چاہتا ہوں کہ اس کو کاویہ تصور سازوں کے پاس ہوا کرتا ہے اور جس سے ٹانکے لگایا کرتے ہیں۔ علی کہ جن گمراہ کن لوگوں نے مسلمانوں میں تفریق بین المسلمین کا بیڑا اٹھا ان کے دل میں جو اتحاد بین المسلمین کو دیکھ کر حسد اور کینہ کا گھاؤ پڑ گیا طریق پر یہ رسالہ داغ دینے کا کام دیتا ہے اور بس۔ کیونکہ جب انسان

علاج سے تنگ آجاتا ہے تو حسب دستور قدیم ”آخر الدواء الکیّ “ پر عمل پیرا ہو جاتا ہے۔ مگر آج کل چونکہ برف سے یہ طریق علاج کیا جاتا ہے تو آپ بھی اس کو کئی بار وہی تصور کریں۔ ”رب اشرح لي صدرى ويسرلی امری“

قادیانی نبی کی تاریخ مختصر یہ ہے کہ اس کی ولادت ١٢٦٠ھ مطابق ١٨٤٠ء میں ہوئی اور وفات بمقام لاہور احمدیہ بلڈنگس ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء (١٣٢٦ھ) کو بروز منگل بتقریب میلہ بھدرکالی آناً فاناً تقریباً ایک گھنٹہ میں ہی ہوئی۔ جس کی وجہ بقول بعض بند ہیضہ تھا اور بقول بعض درد گردہ کا دورہ تھا۔ اس وقت کے باالمقابل مخالفت اور تردید کرنے والوں کا خیال ہے کہ حضرت صوفی پیر جماعت علی شاہ صاحبؒ کی بددعا کا نتیجہ ہے کہ جھٹ پٹ اس فتنہ سے نجات ملی۔ بہرحال کچھ بھی ہو وفات فوری ہوئی۔ پھر لاش ریل پر لاد کر بٹالہ ضلع گورداسپور میں اتاری گئی۔ جو موٹروں وغیرہ کے ذریعے اٹھوا کر قادیان کے بہشتی مقبرہ کے ایک کونہ میں برسر جوہڑ دفن کی گئی اور اب تک وہیں موجود ہے۔ مگر پہلے کی نسبت اس میں کچھ تبدیلی واقع ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک دفعہ مسلمانوں نے یہ آمادگی ظاہر کی تھی کہ نبی کا جسم سلامت رہتا ہے۔ قبر کھود کر دیکھیں کہ آیا اس معیار پر نبوت مرزا صحیح اترتی ہے یا نہیں؟ تو خلیفہ محمود کو رات کے وقت الہام ہوا کہ دشمن قبر اکھیڑ رہے ہیں۔ اس لئے صبح ہی قبر کو سطح کر کے لکڑی اینٹ پتھر اور روڑی سے تقریباً چھ گز مربع میں پختہ کیا گیا۔ تا کہ کوئی مخالف سرنگ لگانے میں بھی کامیاب نہ ہو سکے۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ یا تو نبی کا صحیح مجسم رہنا ان کے نزدیک صحیح روایت نہیں ہے اور اگر صحیح ہے تو قادیانی نبی کی نبوت میں شاید پختہ یقین نہیں ہے اور یہی قرین قیاس بھی ہے۔ کیونکہ لاہوری پارٹی قادیانی کو مسیح تو مانتی ہے۔ مگر اس قدر نبوت کی قائل نہیں ہے۔ جس قدر قادیانی خلیفہ کے مرید اس کی نبوت کو بڑھا رہے ہیں۔ چنانچہ خلیفہ محمود اپنی کتاب انوار خلافت کے ص٥٠ پر لکھتے ہیں کہ: ”العود احمد رسول علیہ السلام “ کا دوبارہ ظاہر ہونا پہلے کی نسبت اعلیٰ اور افضل ہے اور اس عقیدہ کی بنیاد ”رجعة کبریٰ “ کے اصول پر ہے۔ جو مذہب شیعہ سے حاصل کیا گیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہﷺ ایک دفعہ تو حرمین شریفین میں ظاہر ہوئے ہیں اور اسلام کا بیج بوگئے ہیں۔ مگر دوسری دفعہ آپ کا مکمل ظہور قادیان ضلع گورداسپور میں ہوا ہے۔ جس سے اسلام کو تکمیل تک

صفحہ ٨

پہنچایا گیا ہے۔ لیکن یہ اصول تناسخ تسلیم کرنے کے بعد صحیح تصور ہو سکتا ہے۔ ورنہ جب اسلامی اصول کی رو سے سرے سے تناسخ ہی باطل ہے تو رجعت کیسے قابل تسلیم ہو سکتی ہے؟

بعض لوگ تو سرے سے یہی کہتے ہیں کہ جب قادیانی نبی کی لاش قادیان لائی گئی تھی تو اس سے ہی نبوت قادیانی مشکوک ہو چکی تھی۔ کیونکہ اسلام میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ: ”نبی جہاں مرتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے“

اس اصول کو حضرت یوسف علیہ السلام کی لاش سے توڑا جاتا ہے۔ مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام بھی پہلے مصر میں ہی دفن ہوئے تھے۔ آپ کا صندوق دریائے نیل کے وسط سے اس وقت نکال کر شام میں پہنچایا گیا تھا جب کہ چند صدی کے بعد بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات ملی تھی۔ اب یہ اصول قائم رہا کہ: ”نبی جہاں مرتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے“ اور اس اصول کے مطابق قادیانی نبوت کو بھی اس وقت صحیح ماننا قرین قیاس تھا۔ جب کہ کچھ عرصہ کے لئے لاہور میں قادیانی نبی کو بھی دفن کیا جاتا اور مناسب یہی تھا کہ اس دارالہجرۃ میں ہی مقبرہ بنا رہتا۔ کیونکہ ”العود احمد“ کے قاعدہ کے مطابق قادیانی نبوت ظل اور وجود ثانی نبوت محمدیہ کے بننے کی دعویدار تھی۔ مگر نہ معلوم کس کمزوری یا مجبوری سے اس معیار کے مطابق صحیح نبوت نہ کی گئی۔

سلسلۂ نسب کے کے متعلق براہین میں لکھا ہے کہ: ”قراچار قوم برلاس“ (مغلیہ خاندان) کا بہترین فرد سب سے پہلے چھٹی صدی ہجری میں مسلمان ہوا اور چغتائی خاندان کا وزیر رہا۔ اخیر میں جنگی وزارت پر بھی مامور ہو گیا تھا۔ اس نے اپنی قوم برلاس کو سمرقند سے ٣٠ میل کے فاصلہ پر موضع کش میں آباد کیا۔ جہاں اس کے پوتے برقال کے ہاں دو لڑکے پیدا ہوئے۔ طراغی اور حاجی برلاس جو شیخ شمس الدین فاخوری کے دونوں مرید بنے اور جب طراغی کے ہاں فرزند پیدا ہوا اور شیخ کی خدمت میں پیش کیا تو شیخ نے سورہ ملک پڑھتے ہوئے اس کا نام تیمور رکھا۔ برلاس اور اس کی بیوی حلیمہ گوبڈے نامور تھے۔ مگر تیمور نے ان سے حکومت چھین لی تھی اور کش سے نکال دیا تو برلاس خراسان میں چلا گیا اور جب تیمور نے خراسان فتح کیا تو وہ علاقہ اپنے چچا زاد بھائیوں کو جاگیر دیا اور برلاس کی اولاد میں سے حادی بیگ پیدا ہوا۔ جس نے ١٠٠٠ھ میں اپنا وطن خراسان چھوڑ کر کش کو اپنا قیام گاہ بنالیا۔ چند ایام کے بعد وہاں سے نکل کر دریائے بیاس کے کنارے جنگل میں پناہ لی اور اسلام آباد گاؤں کی بنیاد ڈالی اور یہیں اپنی قوم کا قاضی بن گیا۔ اب اسلام آباد کو قاضی ماجھی کہنے لگے۔ پھر بگڑ کر صرف قاضی رہ گیا۔ بعد ازاں قاضیاں بنا اور بگڑ کر قادیان کی شکل اختیار کی۔

صفحہ ٩

اصول تناسخ تسلیم کرنے کے بعد صحیح تصور ہو سکتا ہے۔ ورنہ جب اسلامی سے تناسخ ہی باطل ہے تو رجعت کیسے قابل تسلیم ہو سکتی ہے؟ سرے سے یہی کہتے ہیں کہ جب قادیانی نبی کی لاش قادیان لائی گئی تھی تو مشکوک ہو چکی تھی۔ کیونکہ اسلام میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ: ”نبی جہاں مرتا

حضرت یوسف علیہ السلام کی لاش سے توڑا جاتا ہے۔ مگر غور سے معلوم ہوتا علیہ السلام بھی پہلے مصر میں ہی دفن ہوئے تھے۔ آپ کا صندوق دریائے نیل نکال کر شام میں پہنچایا گیا تھا جب کہ چند صدی کے بعد بنی اسرائیل کو اب یہ اصول قائم رہا کہ: ”نبی جہاں مرتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے“ اور اس ثبوت کو بھی اس وقت صحیح مانا قرین قیاس تھا۔ جب کہ کچھ عرصہ کے لئے یہاں دفن کیا جاتا اور مناسب یہی تھا کہ اس دارالہجرۃ میں ہی مقبرہ بنا رہتا۔ کے قاعدہ کے مطابق قادیانی نبوت ظل اور وجود فانی نبوت محمدیہ کے بننے اس کمزوری یا مجبوری سے اس معیار کے مطابق صحیح نبوت نہ کی گئی۔

اس کے متعلق براہین میں لکھا ہے کہ: ”قراچاد قوم برلاس“ (مغلیہ سب سے پہلے چھٹی صدی ہجری میں مسلمان ہوا اور چغتائی خاندان کا وزیر پر بھی مامور ہو گیا تھا۔ اس نے اپنی قوم برلاس کو سمرقند سے ٣٠ میل کے آباد کیا۔ جہاں اس کے پوتے برقال کے ہاں دو لڑکے پیدا ہوئے۔ طراغی الدین فاخوری کے دونوں مرید بنے اور جب طراغی کے ہاں فرزند میں پیش کیا تو شیخ نے سورہ ملک پڑھتے ہوئے اس کا نام تیمور رکھا۔ تھے گو بڑے نامور تھے۔ مگر تیمور نے ان سے حکومت چھین لی تھی اور کش سان میں چلا گیا اور جب تیمور نے خراسان فتح کیا تو وہ علاقہ اپنے اور برلاس کی اولاد میں سے حاجی بیگ پیدا ہوا۔ جس نے ١٠٠٠ھ میں کو اپنا قیام گاہ بنالیا۔ چند ایام کے بعد وہاں سے نکل کر دریائے بیاس لی اور اسلام آباد گاؤں کی بنیاد ڈالی اور یہیں اپنی قوم کا قاضی بن گیا۔ کہنے لگے۔ پھر بگڑ کر صرف قاضی رہ گیا۔ بعد ازاں قاضیاں بنا اور بگڑ

سکھوں کے عہد میں قاضی عبید اللہ مغل قادیانی اپنے علاقہ میں حکمران تھے۔ گورنر لاہور نے قاضی صاحب کو قادیان سے نکال دیا۔ اس نے چند نفوس کے سوا سب قادیانی مار ڈالے۔ جن میں سے مرزا گل محمد سلطنت کی طرف سے دوبارہ قادیان کا حکمران بن گیا۔ اس وقت اس کا نام مکہ بھی تھا۔ کیونکہ مرزا گل محمد کے دسترخوان پر رات دن ساٹھ ستر مہمان رہتے تھے اور اسلامی تعلیم کا مرکز تھا۔ اس لئے کاسہ لیسوں نے اسے مکہ کہنا شروع کر دیا۔ مگر سکھوں نے گل محمد کے قبضہ میں صرف پچاسی دیہات کی ریاست چھوڑی۔ باقی خود سنبھال بیٹھے اور جب مرزا عطاء محمد ولد گل محمد گدی نشین ہوا تو اس وقت صرف قادیان پر ہی قبضہ رہ گیا تھا۔ اس وقت اس کے ارد گرد چار برج اور فصیل بھی موجود تھی۔ اس کا بھی سکھوں نے محاصرہ کر لیا اور رام گڑھی سکھوں نے سمجھوتہ کی غرض سے قلعہ کے اندر آ کر دروازہ کھول لیا اور اپنی فوجیں داخل کر کے قادیان کو فتح کر لیا۔ عطاء محمد جان بچا کر کسی ریاست میں پناہ گزین ہوا اور وہیں مرا۔ تو اس کے بیٹے غلام مرتضیٰ حکیم نے رنجیت سنگھ کے دربار میں رسوخ پیدا کر کے قادیان کو معہ پانچ گاؤں کے دوبارہ حاصل کیا۔ کچھ عرصہ بعد مرزا غلام احمد اس کے ہاں پیدا ہوا اور اسی سال رنجیت سنگھ مر گیا۔ (٢٧؍جون ١٨٣٩ء) غلام احمد کے ساتھ ایک لڑکی بھی پیدا ہوئی مگر وہ جلد مرگئی۔ ابتدائی تعلیم مولوی فضل الٰہی کے سپرد ہوئی۔ دس سال کے بعد انتہائی تعلیم کے لئے مولوی فضل احمد کے سپرد کیا گیا۔ سترہ سال گزرے تو مولوی گل علی شاہ نے فلسفہ منطق اور نحو کی تکمیل کرائی اور خود مرزا غلام مرتضیٰ نے طب بھی پڑھادی۔ اس کے بعد ریاست واپس دلانے کے مقدمات میں اپنے فرزند غلام احمد کو لگا دیا۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ بلکہ اس میں تمام ماہواری اور پنشن بھی خرچ ہو جاتی تھی۔ مگر پھر بھی ناکامی ہی رہتی تھی۔ اس لئے اس کو سیالکوٹ عدالت خفیفہ میں بھرتی کرا دیا۔ چنانچہ قادیانی نبی پندرہ روپے کا محرر مقرر ہوا۔ پھر بغرض ترقی روزگار مختاری کے امتحان میں شامل ہوا مگر فیل ہو گیا اور نوکری چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا اور مسجد میں ڈیرہ لگا لیا۔ مرزا غلام مرتضیٰ نے اخیر عمر میں ایک جامع مسجد بنوائی تھی۔ جس کے ختم ہوتے ہی پیچش سے آپ بھی دنیا سے رخصت ہو گئے اور اسی مسجد کے کونہ میں حسب وصیت دفن ہوئے۔ اس کے بعد قادیانی نبی جبکہ چالیس برس تک پہنچ چکا تھا۔ روزے رکھنے شروع کئے اور خوراک بالکل کم کر دی۔ یہاں تک کہ آٹھ پہر میں صرف چند تولے خوراک رہ گئی۔ اس کے بعد مذاہب کا مطالعہ شروع کیا تو اسلام کو ہی برحق پایا۔ پھر الہامات شروع ہو گئے۔ چنانچہ پہلا الہام ”والسماء والطارق“ تھا۔ جس میں مرزا غلام مرتضیٰ کی وفات کو نماز مغرب کا وقت بتایا گیا تھا۔ پھر ”واللہ یعصمک من الناس“ کا الہام ہوا۔ جو

صفحہ ١٠

قادیانی نبی نے انگوٹھی میں نگین پر کھدوالیا تھا۔ چودھویں صدی کے آغاز میں مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔ جس کے ضمن میں مسیح موعود بروز محمدی وغیرہ سب کچھ آ گیا تھا اور سب سے پہلے براہین احمدیہ کتاب لکھی۔ جس میں الہام درج کئے جو اخیر عمر تک سنگ بنیاد کا کام دیتے رہے اور اس میں یہ بھی ذمہ لیا کہ اسلام کی صداقت پر تین سو دلائل لکھے جائیں گے۔ مگر افسوس کہ ایک دلیل پوری نہ ہوسکی۔ اس کی کتاب کے متعلق مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھا تھا کہ یہ کتاب ایسی ہے کہ جس کی نظیر اسلامی دنیا میں نہیں ملتی اور جب یہ کتاب شائع ہو کر لاجواب ثابت ہوئی تو یکم دسمبر ١٨٨٨ء سے بیعت لینی شروع کر دی۔ پھر مخالفین سے اخیر دم تک جھگڑے ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ١٣٢٦ھ کو وفات پائی۔ جیسا کہ اس باب کے شروع میں گذر چکا ہے۔

(ماخوذ از تاریخ مرزا مصنفہ مولوی ثناء اللہ امرتسری و سیرت مسیح مصنفہ معراج الدین عمر احمدی)

٢...... مسیح قادیانی سے وفات میں غلطی ہوئی

یہ تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ لاہور میں مسیح قادیان کی وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء مطابق ١٣٢٦ھ کے دن فوری طور پر واقع ہوئی ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ نو سال پہلے یہ حادثہ پیش آ گیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ شاید ملک الموت کو مرزائی تجاوز کا علم نہ تھا۔ ورنہ وہ ضرور نو سال اور انتظار کرتا۔ بہرحال لاعلمی کی وجہ سے اس نے غلطی کی ہے۔ لہٰذا قابل معافی ہے۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ بائبل میں حضرت دانیال علیہ السلام کا ایک مقولہ یوں درج کرتی ہے کہ جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ مکروہ چیز جو لوگوں کو خراب کرتی ہے۔ قائم کی جائے گی ایک ہزار دو سو نوے دن ہوں گے۔ مبارک ہے وہ انتظار کرتا ہے اور ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک آتا ہے پر تو اپنی راہ پر چلا جا۔ جب تک کہ وقت اخیر آوے کہ تو چین کرے گا اور اپنی میراث پر اخیر کے دنوں میں اٹھ کھڑا ہوگا۔

(دانیال ١٢:١٣)

اس پیش گوئی کو بغیر سوچے سمجھے مسیح قادیان نے اپنے اوپر بدیں الفاظ چسپاں کیا کہ حضرت دانیال علیہ السلام نے مسیح قادیانی کا زمانہ بعثت ١٢٩٠ھ اور زمانہ وفات ١٣٣٥ھ قرار دیا ہے۔ (حقیقت الوحی ص ١٩٩، تحفہ گولڑویہ ص ١١٤، ١١٦) اس کی تائید میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ ٹھیک ١٢٩٠ھ میں یہ عاجز شرف مکالمہ ومخاطبہ پاچکا تھا۔ (حقیقت الوحی ص ١٩٠) مگر عزرائیل سے غلطی یہ ہوئی کہ بغیر حقیقت الوحی پر نظر ڈالنے کے نو سال پہلے ہی مسیح قادیانی کو دارالبقاء میں لے گیا۔ اب مرزائیوں میں اس غلطی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چنانچہ لاہوریوں نے تو یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ ملہم کا قول حجت نہیں ہوتا۔ اس لئے مسیح قادیانی نے جو کچھ پیشین گوئی مذکور سے سمجھا تھا غلط تھا۔ (اہلحدیث

صفحہ ١١

١٨ اپریل ١٩٣٠ء) البتہ قادیانیوں نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ:

دس سال بعثت کا زمانہ ہے۔ اس لئے ١٣٣٥ھ سے دس سال کم کرنے سے ١٣٢٥ھ نکل آتا ہے۔ جو تقریباً ١٣٢٦ھ سے ملتا جلتا ہے۔ جب کہ مسیح قادیانی نے وفات پائی ہے۔

بلکہ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ ١٣٣٥ھ تک وفات ہو جائے گی تو اس وقت ١٣٢٦ھ میں وفات کا ہونا مضر نہیں ہے۔ بلکہ اس کی صداقت کا نشان ہے۔

رکھتی ہے۔ اس لئے اگر حدود بیعت سے خارج غیر احمدیوں میں مشتبہ رہے تو کوئی بڑی بات نہ ہوگی۔ کیونکہ ان کے نزدیک سرے سے جب بائبل ہی محرف اور مشتبہ ہے تو اس قول کی صداقت کیسے پیش ہو سکتی ہے۔ بلکہ غیروں کے نزدیک یہ بناء الفاسد علی الفاسد ہوگی۔

رہے گی۔ کیونکہ انصاف ہمیشہ کمی بیشی پر مشتمل رہتا ہے۔

(الفضل ١٢ اپریل ١٩٣٠ء)

لیکن ہر ایک جانبدار کو بھی یہ ماننا پڑتا ہے کہ مرزائیوں کی یہ چار تاویلیں صرف طرف داری کی بنیاد پر ہیں۔ ورنہ (ایام الصلح اردو ص ٥٧، خزائن ج ١٤ ص ٢٨٣) میں خود مسیح قادیانی کا مقولہ درج ہے کہ: ”ہمارے نبی کریم ﷺ مکہ میں تیرہ برس تک کفار کے ہاتھوں دکھ اٹھاتے رہے‘ اب اس حساب سے سنہ بعثت اور سنہ ہجرت کا باہمی فرق تیرہ سال کا ہوا اور وفات قادیانی میں جب ١٣٢٦ھ سے تیرہ سال کم کر کے سنہ بعثت قائم کیا جائے تو ١٣١٣ھ نکلتا ہے۔ اب اس لحاظ سے مسیح قادیانی کی وفات ١٩٠٨ء سے پہلے تین چار سال ہونی چاہئے تھی۔ شاید ملک الموت کو اس حساب فہمی میں غلطی ہوئی ہوگی کہ تین چار سال تک جان لینے کو حاضر ہی نہیں ہو سکا اور یہ کہنا بھی مفید نہیں ہے کہ یہ پیشین گوئی بیعت کرنے کے بعد موجب یقین ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے تو اس کو مخالفین کے سامنے اپنی صداقت کا نشان بتلایا ہے۔ اب اگر اس کی تصدیق پر ہی اس کی صداقت منحصر رہی تو صرف ملفوظات میں درج ہونے کے قابل ہو جائے گی۔ مناظرہ میں اس کو پیش کرنا عبث ہوگا۔ علیٰ ہٰذا القیاس جب غیر احمدی بائبل کو ایک تاریخ الرسل اور کلام بشر جانتے ہیں اور وہ بھی کئی تبدیلیوں کے بعد ہمارے سامنے موجود ہوئی ہے تو اس سے کسی پیشین گوئی کا استنباط کرنا شرعی دلیل نہیں ہے۔ صرف عیسائیوں کے مقابلہ میں کچھ کہنے کا مصالحہ ہے۔ ورنہ اصل میں تمام استنباط غلط ہے۔ کیونکہ

صفحہ ١٢

اوّل تو کتاب دانیال کے آخری صفحہ پر وہ مقولہ درج ہے۔ جس میں دو ہزار دو سو نوے دن مذکور ہیں۔ سال مذکور نہیں ہیں۔ دنوں کو سال سمجھنا خلاف عقل ہے۔ اب اس حساب سے مسیح قادیانی کو پونے چار سال کے اندر ہی اندر ختم ہو جانا چاہئے تھا۔ اس لئے ہمارے خیال میں مرزائیوں کو یہ مقولہ سخت مضر پڑتا ہے۔ کیونکہ صرف چار سال کی مدت مسیح قادیانی کے لئے بہت کم ہوگی۔

دوم یہ کہ کتاب دانیال کو اوّل سے اخیر تک پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بخت نصر کے زمانہ میں حضرت دانیال خواب کی تعبیر کرتے تھے اور خود بھی خوابیں دیکھتے تھے۔ جن کا ظہور بہت جلد ہو جاتا تھا اور جب بخت نصر مر گیا اور اس کا بیٹا تخت نشین ہوا تو اس وقت آپ تعبیر خواب میں مشہور تھے۔ اس کے بعد جب دارا بادشاہ شہر بابل پر حکمران ہوا تو اس وقت آپ کو ایک خواب آیا جس کا خلاصہ یوں ہے کہ آپ نے دجلہ پر موجود ہو کر شمالی اور جنوبی بادشاہوں کی باہمی کشمکش ایک مہیب صورت میں دیکھی تھی۔ جس کی تعبیر میں آپ کو دوسرا خواب آیا کہ فرشتوں نے آ کر بتلایا تھا کہ اس خواب کے ظاہر ہونے میں صرف پونے چار سال رہ گئے ہیں۔ جو بارہ سو نوے دن کے مساوی ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب دارا اور سکندر کی لڑائی کا آغاز ہو رہا تھا۔ چنانچہ اسی عرصہ میں دارا مارا گیا اور سکندر نے حکومت بابل کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ اب خواہ مخواہ مسیح کے متعلق اس مقولہ کو پیش کرنا سراسر غلطی ہے۔ یا مرزا قادیانی کو ٹھوکر لگی ہے۔ کیونکہ اس مقولہ کے اوّل آخر زمانہ کا لفظ موجود ہے۔ شاید انہوں نے اسلام کا آخری زمانہ سمجھ لیا ہوگا جو کسی طرح بھی قرین قیاس نہیں ہے۔

سوم اس مقولہ میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ : ”ایک مکروہ چیز بھی قائم کی جائے گی۔“ اب اگر اس مقولہ کا تعلق مسیح موعود قادیانی سے مانا جائے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ مکروہ چیز مرزائی تعلیم ہے۔ ورنہ مرزائی ہی بتائیں کہ وہ مکروہ چیز کیا تھی کہ ان کے مسیح کے عہد میں قائم ہوئی۔ مجیب صاحبان اگر ذرا ”قائم کی جائے گی“ پر گہری نگاہ سے غور کریں گے۔ تو مطلع بالکل صاف نظر آ جائے گا۔

چہارم یہ بھی ایک چیستان بن جاتی ہے کہ مقولہ دانیال میں دنوں کو سال سمجھ کر ١٢٩٠ھ بعثت مسیح قادیانی سمجھا جائے اور اسی طرح ١٣٣٥ھ کو خواہ مخواہ دانیال کے ذمہ ڈالنا سراسر افتراء اور بہتان بن جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزائیوں نے ١٢٩٠ھ بعثت مرزا تو مقولہ دانیال سے استنباط کیا ہے اور ”السعود احمد“ کی بناء پر ٤٥ سال جناب رسالت مآب کی زندگی سے عمر بعثت و تبلیغ شامل کی ہے اور انہوں نے مرزا کو ١٣٣٥ھ تک پہنچانے کی تجویز کی تھی۔ مگر خدا تعالیٰ کو چونکہ منظور نہ تھا۔ ٩ سال پہلے ہی مار ڈالا تا کہ کسی طرح مماثلت محمدیہ پیدا نہ ہو سکے۔

پنجم یہ کہ حسب تصریح قادیانی مسیح کی تبلیغی عمر ١٢٩٠ھ سے ١٣٢٦ھ تک ختم ہو جاتی

صفحہ ١٣

کے آخری صفحہ پر وہ مقولہ درج ہے۔ جس میں بارہ سونوے دن مذکور ہیں۔ دنوں کو سال سمجھنا خلاف عقل ہے۔ اب اس حساب سے مسیح قادیانی کو چار سال کے اندر ختم ہو جانا چاہئے تھا۔ اس لئے ہمارے خیال میں مرزائیوں کو یہ کیونکہ صرف چار سال کی مدت مسیح قادیانی کے لئے بہت کم ہوگی۔

اب دانیال کو اوّل سے اخیر تک پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بخت نصر کے زمانہ میں تعبیر کرتے تھے اور خود بھی خوابیں دیکھتے تھے۔ جن کا ظہور بہت جلد ہو جاتا تھا اور اس کا بیٹا تخت نشین ہوا تو اس وقت آپ تعبیر خواب میں مشہور تھے۔ اس شہر بابل پر حکمران ہوا تو اس وقت آپ کو ایک خواب آیا جس کا خلاصہ یوں ہے کہ شمالی اور جنوبی بادشاہوں کی باہمی کشمکش ایک مہیب صورت میں سامنے آئے گی۔ پھر آپ کو فرشتوں نے آ کر بتلایا تھا کہ اس خواب کے ظاہر ہونے میں ساڑھے تین سال رہ گئے ہیں۔ جو بارہ سونوے دن کے مساوی ہوتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ سکندر کی لڑائی کا آغاز ہو رہا تھا۔ چنانچہ اسی عرصہ میں دارا مارا گیا اور سکندر نے ایران کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اب خواہ مخواہ مسیح کے متعلق اس مقولہ کو پیش کرنا سراسر غلطی ہے۔ کیونکہ اس مقولہ کے اوّل آخر زمانہ کا لفظ موجود ہے۔ جس میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں کہ ’ایک مکروہ چیز بھی قائم کی جائے گی۔‘ اب وہ قادیانی سے مانا جائے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ مکروہ چیز مرزائی بتائیں کہ وہ مکروہ چیز کیا تھی کہ ان کے مسیح کے عہد میں قائم ہوئی۔ عجیب بات ہے کہ اگر گہری نگاہ سے غور کریں تو مطلع بالکل صاف نظر آ جائے گا۔

یہ ایک چیستان بن جاتی ہے کہ مقولہ دانیال میں دنوں کو سال سمجھ کر ١٢٩٠ھ بنے اور اسی طرح ١٣٣٥ھ کو خواہ مخواہ دانیال کے ذمہ ڈالنا سراسر افتراء اور بہتان ہے کہ مرزائیوں نے ١٢٩٠ھ بعثت مرزا کو مقولہ دانیال سے نکالا اور ٤٥ سال جناب رسالت مآب کی زندگی سے مستعار لے کر مرزا کو ١٣٣٥ھ تک پہنچانے کی تجویز کی تھی۔ مگر خدا تعالیٰ کو یہی مار ڈالنا تھا کہ کسی طرح مماثلت محمدیہ پیدا نہ ہو سکے۔

بتصریح قادیانی مسیح کی تبلیغی عمر ١٢٩٠ھ سے ١٣٢٦ھ تک ختم ہو جاتی

ہے۔ جو صرف ٣٦ سال بنتے ہیں۔ اب مرزائیوں کا یہ دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ: ”مسیح قادیان اگر سچا نبی نہ ہوتا تو چالیس سال کے اندر مر جاتا۔“ اور اگر ١٣٣٥ھ وفات تصور کیا جائے تو پھر چالیس سال سے پانچ سال زائد ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ عمر تو قادیانی مسیح کو نصیب نہیں ہوئی۔ ورنہ عذر پیش ہو سکتا تھا کہ چار پانچ سال کا کیا عذر ہے۔ ایسی کمی بیشی ہوا ہی کرتی ہے۔ لیکن ابتداء عمر مسیح قادیانی پر تحدید سال کرنا اور وفات میں تخمینی سال پیش کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مرزائی قوم کی ضمیر بھی ان کو ضرور ملامت کرتی ہوگی کہ ایسی چالبازیوں سے کام نہیں چلتا۔

٣....... مسیح قادیانی کا مراق اور ذیابیطس

مراق وہ جھلی ہے جو پیٹ کے اندرونی اعضائے تغذیہ کو باہر کے صدمات سے بچانے کے لئے لپیٹتی ہے۔ حرارت جگر سے جب خون جل کر سوداویت قبول کر لیتا ہے تو اس کا جائے وقوع مراق یا معدہ کا آخری حصہ یا انتڑیوں کا ابتدائی حصہ یا خود طحال یا کوئی اور جگہ جو پردۂ مراق کے نیچے ہوتی ہے بن جاتا ہے۔ جس سے کھٹی ڈکاریں، قبض دائمی، پیٹ کا پھولنا، سوزش موضع مادہ اور تبخیر پیدا ہو جاتی ہے اور اس سے دماغ میں فتور آ جاتا ہے۔

ذیابیطس میں گردے خشک ہو جاتے ہیں اور زیادہ گرمی یا سردی سے ان کی خشکی اس قدر بڑھتی ہے کہ اس کو دفع کرنے کے واسطے گردے مجبور ہو جاتے ہیں کہ جگر سے زیادہ پانی طلب کریں۔ جس مقدار میں وہ پہلے طلب کیا کرتے تھے۔ مگر چونکہ خود جگر میں پانی کا کوئی خزانہ موجود نہیں ہوتا۔ اس لئے وہ معدہ سے درخواست کرتا ہے اور معدہ بصورت یاس انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ہر وقت پانی پیتا رہے۔ مگر بدقسمتی سے اس پانی سے گردے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے۔ کیونکہ جب پانی وہاں پہنچتا ہے تو وہ اس کو اپنی کمزوری کی وجہ سے سنبھال نہیں سکتے۔ اس لئے پانی فوراً مثانہ میں چلا جاتا ہے اور وہاں سے پیشاب بن کر باہر نکل جاتا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس میں کچھ بو یا رنگت کی تبدیلی واقع ہو۔ اسی طرح یہ رہٹ چلتا رہتا ہے اور دن رات کے چار پہر میں انسان کو چھ سیر پانی پینے کے لئے مجبور کرتا ہے اور چونکہ دماغ کی بہترین خوراک گردوں سے ہی جاتی ہے۔ اس لئے دماغ کی کمزوری ظاہر ہونے لگتی ہے اور جب اس کے ساتھ مراق کی تکلیف بھی شامل ہو جاتی ہے تو دماغ کا بالکل ہی ستیاناس ہو جاتا ہے اور جنون کے آثار پیدا ہو جاتے ہیں۔ غصہ تیز ہو جاتا ہے۔ خلوت پسندی کا تقویٰ ظاہر کیا جاتا ہے اور اسی قسم کے بیچ در بیچ حالات دامنگیر ہو جاتے ہیں کہ بیمار کے خیالات اس کے قابو سے باہر نکل جاتے ہیں۔ کبھی اس کو دھواں نظر آتا ہے۔ کبھی بجلی چمکتی

صفحہ ١٤

نظر آتی ہے۔ کبھی نور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ تخیلات کا اس قدر زور ہو جاتا ہے کہ جس سے اپنے دوست کو دشمن اور دشمن کو دوست تصور کرنے لگتا ہے۔ کبھی خود بادشاہ اور فرشتہ بنتا ہے۔ کبھی رسول اور کبھی خدا اور کبھی اخبار بالغیب میں بھی سچا نکلتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرضیکہ اعتدال مزاج کے خلاف ایسی حرکات کا مرتکب ہوتا ہے جس سے صحیح المزاج کو نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کو وہی لوگ بہترین انسان سمجھتے ہیں کہ جو یا تو خود طبی نقطہ خیال سے مختل الدماغ ہوتے ہیں اور یا وہ پورے طور پر دماغی امراض ۔ سے واقف نہیں ہوتے۔ ممکن ہے کہ اعجوبہ پسندی بھی یہاں مقناطیس کا کام دیتی ہو۔ ورنہ طبی تحقیقات میں ایسے خیالات اور حرکات کو سفاہت اور جنون سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس قسم کی حکایات ان کی کتابوں میں درج بھی ہیں۔

آج کل چونکہ پوری صحت انسانی دماغ میں گذشتہ ایام کی نسبت بہت کم پائی جاتی ہے اور لوگ تمدن جدید میں آ کر تیز گرم مصالحوں، چٹ پٹی غذاؤں اور تیز سریع النفوذ ادویہ کے معتاد ہو گئے ہیں۔ اس لئے حرارت کبدی کی شکایت سے ایسے امراض مزمنہ کے شکار ہورہے ہیں کہ ان کا علاج کرنا مشکل ہو گیا ہے اور اسی تمدن کا نتیجہ ہے کہ حرکت قلب کے بند ہونے سے غیر محدود ناگہانی اموات وقوع میں آتی ہیں خفقان، ضعف قلب، نزلہ، زکام، آتشک، جریان اور سل ودق تو ملکی بیماریاں تسلیم کی جاچکی ہیں اور دوران سر یا ذیابیطس یا بواسیر خونی اور بادی سے اگر ایک خاص جماعت مریض ثابت ہو تو کچھ تعجب نہیں ہے اور ممکن ہے کہ انہی امراض کی بنیاد پر لوگوں نے تفہیم الہی، اجتہاد جدید، وحی جدید اور جابجا مجددیت یا مسیحیت کے دعوٰی کا اشتہار دینا شروع کر دیا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے دماغ کا تنقیہ کرائیں تو دھرم پال کی طرح امید ہے کہ بہت جلد اپنی دعاوی کی تکذیب میں اپنی تحریرات کو نذر آتش کردیں۔ مگر وجاہت طلبی اور شہرت طلبی کی بلا ایسی دامنگیر ہورہی ہے کہ توندل کی طرح اپنی شہرتی توند کا علاج کرنے کی بجائے اسے بڑھانا فخر سمجھے ہوئے ہیں۔

مرزا قادیانی کی تعلیم پر نظر ڈالنے سے اس امر کی پوری تصدیق ہوتی ہے کہ بیماری کو اپنا مایہ ناز سمجھنا ان ہستیوں میں زیادہ شیوع پذیر ہو رہا ہے کہ جن میں تقدس، نخوت، خودداری یا خود آرائی نے گھر کر لیا ہوا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے بھی اپنی صداقت کو اپنی دو بیماریوں دوران سر و کثرت پیشاب میں منحصر کر دیا ہے۔ آپ (اربعین نمبر ٤ ص ٤، ٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ٤٧١) میں بڑے تقدس اور فخریہ لہجہ میں رقم طراز ہیں کہ مسیح موعود کے متعلق جو احادیث میں آیا ہے کہ ان پر دو چادریں ہوں گی۔ ان سے مراد حسب تاویل تعبیر خواب دو بیماریاں ہیں۔ جو بندہ میں موجود ہیں۔

صفحہ ١٥

دوران سر اور کثرت پیشاب۔ مؤخر الذکر اس شدت سے ہے کہ رات کو سو سو دفعہ پیشاب کرتا ہوں۔ اس کی وجہ سے خفقان اور ضعف قلب اس قدر ہے کہ ایک سیڑھی پر سے دوسری پر پاؤں رکھتا ہوں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں اب مرا کہ مرا۔ اب جس شخص کو ہر وقت خوف جان لاحق ہو اور موت سامنے نظر آ رہی ہو اس کو کب جرأت ہو سکتی ہے کہ خدائے لم یزل کی نسبت افتراء پردازی سے کام لے۔ ڈاکٹروں نے تسلیم کیا ہے کہ کثرت پیشاب کا مریض مسلول و مدقوق کی طرح موت کے نرغہ میں پھنسا ہوا ہوتا ہے اور گھل گھل کر اس کا تمام بدن لاغر ہو جاتا ہے۔ اس لئے مخالفین خود فیصلہ کریں کہ میں کیسے مفتری ہو سکتا ہوں۔ (انتہی بمفہومہ ) اس مضمون کا نام درد دل رکھا گیا ہے۔

اس تحریر میں مرزا قادیانی نے گو اپنی صداقت کا بین ثبوت دیا ہے اور ہم کو بھی ان سے کچھ ہمدردی پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ اگر چہ اس دلیل سے افتراء پردازی کا الزام ٹل جاتا ہے مگر ایک اور الزام جو اس سے بھی بڑا ہے پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ مختل الدماغ تھے۔ اس لئے نہ آپ کے اس استدلال پر صحت کی توقع ہو سکتی ہے اور نہ آپ کے ضمنی دعاوی کو صحیح تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ کونکہ آپ اختلال دماغ کے معترف ہیں۔ اس لئے آپ کے کسی دعویٰ کی صداقت پر کوئی دلیل پیش نہیں ہو سکتی۔

(ریویو ج ٢٥) کے پہلے ٢٧ نمبروں میں بار بار آپ لکھ گئے ہیں کہ مجھے مراق ہے۔ مگر یہ مرض موروثی نہیں ہے۔ بلکہ خارجی اثرات کا نتیجہ ہے۔ جیسے قبض دائمی، دماغی کام، کثرت غم قوم، بدہضمی، اسہال اور دماغی محنت وغیرہ۔ بہر حال ایسا مریض مصروع کی طرح اپنے خیالات پر قابو نہیں پاسکتا۔ حالانکہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ اپنے دماغ پر قابو پائے اور اسے اپنے جذبات پر قابو پانا ضروری ہے۔

ریویو اگست ١٩٢٦ء میں لکھتے ہیں کہ: ”مراق، جنون، مرگی، مالیخولیا نبوت کے منافی ہیں۔ کیونکہ ایسے مریض اپنے خیالات اور جذبات پر قابو نہیں پاسکتے ۔“ (مفہوم) ناظرین خود ہی دیکھ لیں کہ مرزا قادیانی نے اپنی تکذیب خود اپنے لفظوں سے اپنی ہی کتابوں میں کس صفائی سے کی ہے۔ فجزاہ اللہ خیرا!

ذیل کی تحریرات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس گھر کے تمام چیدہ افراد اس موذی مرض مراق کا شکار ہیں۔ کتاب (منظور الٰہی ص ٣٤٤) میں آپ کا مقولہ درج ہے کہ: ”میری بیوی کو بھی مراق ہے۔ میرے ہمراہ سیر کو وہ بھی جاتی ہے۔ کیونکہ طبی نکتہ خیال سے مریض مراق کو چہل قدمی مفید ہوتی ہے۔“

(ریویو ج ٢٥ ص ٨) میں مذکور ہے کہ ضعف اعصاب جس کی وجہ سے مراق کا مرض پیدا ہوتا ہے۔ موروثی ہوا کرتا ہے اس کے علاوہ مرض مراق خوردونوش کی بدہضمی سے بھی پیدا ہو جاتا ہے اور اس موذی مرض کا اثر جب کہ موروثی ہو تو مدتوں تک آئندہ نسلوں میں چلا جاتا ہے۔

صفحہ ١٦

(ریویو اگست ١٩٢٦ء ص ٥-٣٠) میں مذکور ہے کہ: ”مراق گو مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا اور مرزا قادیانی سے ہی شروع ہوا ہے۔ مگر اس کا اثر آپ کی اولاد میں بھی ضرور موجود ہے۔ چنانچہ خلیفہ محمود قادیانی کہا کرتے ہیں کہ مجھے بھی مراق کا مرض ہے اور کبھی کبھی اس کا دورہ پڑتا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ موذی مرض اس خاندان میں اب موروثی بن گیا ہے۔“

اب اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ مراق کا دورہ کبھی کبھی پڑتا ہے اور ہر وقت اس کا اثر نہیں رہتا۔ اس لئے جو اقوال خواہ باپ کے ہوں یا بیٹے کے۔ حالت صحت میں ظاہر ہوتے ہوں گے۔ ان کی صداقت میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہ ایک اور مشکل پیش آجاتی ہے کہ ہم کو کیسے معلوم ہو کہ فلاں قول حالت مراق میں کیا گیا ہے اور فلاں قول اس مرض کے اثرات ختم ہو جانے کے بعد کہا گیا ہے؟ اس لئے ہمیں ایک فہرست طبی طور پر تیار کرنی چاہئے۔ جس سے ثابت ہو جائے کہ جو افعال یا اقوال زیر اثر مرض مراق کہے گئے ہوں۔ ان کا ہرگز اعتبار نہ کرنا چاہئے۔ اب اس موذی مرض کے اثرات ملاحظہ ہوں:۔

ہے۔ معراج الدین احمدی لکھتا ہے کہ: ”جب مرزا قادیانی سیالکوٹ کی ملازمت سے مستعفی ہو کر گھر چلے آئے تو مطالعہ کتب اور مسجد کی عزلت میں آپ کو استغراق کمال تک پہنچ گیا تھا۔ باپ کہا کرتا تھا کہ مجھے تو یہ فکر ہے کہ غلام احمد روٹی کہاں سے کھائے گا؟ وہ تو دنیا کے کسی کام کا بھی نہیں ہے۔ کوئی پوچھتا کہ غلام احمد کہاں ہیں۔ تو باپ کہتا ہے کہ کہیں مسجد میں ہوگا۔ سقاوہ کی کسی ٹونٹی کے ساتھ لگا ہوا ہوگا۔ اگر وہاں نہ ملے تو کسی کونہ میں پڑا ہوگا اور اگر وہاں بھی نہ ملے تو کسی لپیٹی ہوئی صف میں تلاش کرو۔ ممکن ہے کہ وہ لیٹا ہوا ہو اور کوئی شخص اس کو صف میں لپیٹ گیا ہو۔ کیونکہ اسے تو ہلنے جلنے کی بھی تاب نہیں ہے۔“ دیکھئے مرزا قادیانی کا یہ عین عالم شباب ہے۔ اس میں حب خلوت کا یہ عالم ہے کہ اگر کوئی صف میں بھی لپیٹ جائے تو ذرہ بھر احساس نہیں۔ مرید اس خلوت کو استغراق فی ذات اللہ تصور کرتے ہیں۔ مگر جو حالات جس شکل میں ہمارے پیش کئے جاتے ہیں۔ ان میں خلوت ذکر و شغل کی بجائے صرف سستی اور کاہلی کو لئے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مرزا قادیانی عین شباب میں ہی مراق کے بیمار تھے۔

ص٤، خزائن ج١٨ ص٢٢٦) میں لکھتے ہیں کہ: ”قادیان طاعون سے اس لئے محفوظ رکھا گیا ہے کہ اس میں خدا کا فرستادہ اور رسول بذات خود موجود تھا۔ چاروں طرف دو دو میل تک طاعون کا زور ہے۔

صفحہ ١٦

ص ٣٠) میں مذکور ہے کہ: ”مراق گو مرزا قادیانی کو موروثی نہ تھا وا ہے۔ مگر اس کا اثر آپ کی اولاد میں بھی ضرور موجود ہے۔ چنانچہ کہ مجھے بھی مراق کا مرض ہے اور کبھی کبھی اس کا دورہ پڑتا ہے۔ جس مرض اس خاندان میں اب موروثی بن گیا ہے۔“ جائے کہ مراق کا دورہ کبھی کبھی پڑتا ہے اور ہر وقت اس کا اثر نہیں پ کے ہوں یا بیٹے کے۔ حالت صحت میں ظاہر ہوتے ہوں گے۔ شتباہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ ایک اور مشکل پیش آجاتی ہے کہ ہم کو کیسے راق میں کیا گیا ہے اور فلاں قول اس مرض کے اثرات ختم ہو جانے میں ایک فہرست طبعی طور پر تیار کرنی چاہئے۔ جس سے ثابت ہو اثر مرض مراق کہے گئے ہوں۔ ان کا ہرگز اعتبار نہ کرنا چاہئے۔ اب حظہ ہوں۔

خلوۃ: سوداوی مادہ کی خاصیت ہے کہ مریض تنہائی کو زیادہ ترجیح دیتا تا ہے کہ: ”جب مرزا قادیانی سیالکوٹ کی ملازمت سے مستعفی ہو کر اور مسجد کی عزلت میں آپ کو استغراق کمال تک پہنچ گیا تھا۔ باپ کہا غلام احمد روٹی کہاں سے کھائے گا؟ وہ تو دنیا کے کسی کام کا بھی نہیں کہاں ہیں۔ تو باپ کہتا ہے کہ کہیں مسجد میں ہوگا۔ سقاوہ کی کسی ٹونٹی س نہ ملے تو کسی کونہ میں پڑا ہوگا اور اگر وہاں بھی نہ ملے تو کسی چٹائی تا ہے کہ وہ لیٹا ہوا ہو اور کوئی شخص اس کو صف میں لپیٹ گیا ہو۔ کیونکہ نہیں ہے۔“ دیکھئے مرزا قادیانی کا یہ عین عالم شباب ہے۔ اس میں کر کوئی صف میں بھی لپیٹ جائے تو ذرہ بھر احساس نہیں۔ مرید اس للہ تصور کرتے ہیں۔ مگر جو حالات جس شکل میں ہمارے پیش کئے ذکر وشغل کی بجائے صرف سستی اور کاہلی کو لئے ہوئے ظاہر ہوتے ور ہیں کہ مرزا قادیانی عین شباب میں ہی مراق کے بیمار تھے۔

بالفکر، اس کے ثبوت میں صرف مسئلہ طاعون ہی کافی ہے۔ (دافع البلاء لکھتے ہیں کہ : ” قادیان طاعون سے اس لئے محفوظ رکھا گیا ہے کہ اس بذات خود موجود تھا۔ چاروں طرف دو دو میل تک طاعون کا زور ہے۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ جو طاعون سے بھاگ کر آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔ یہ بھی لکھا ہے کہ خدا ایسا نہیں ہے کہ میری موجودگی میں قادیان کے لوگوں کو عذاب دے۔“ (اخبار الحکم ١٠؍ اپریل ١٩٠٢ء) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے فرمایا کہ: ”اگر چہ طاعون تمام بلاد پر اپنا پرہیبت اثر ڈالے گی۔ مگر قادیان یقیناً یقیناً اس کی دستبرد سے محفوظ رہے گا اور بار بار فرمایا کہ جہاں ایک بھی راست باز ہوگا۔ اس جگہ کو خدائے تعالیٰ طاعون سے بچائے گا۔“

مرزا قادیانی جب یہ عمارت بنا چکے اور طاعون نے اس عمارت کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو قادیان سے یہ عذر پیش کیا گیا کہ حفاظت کا مطلب یہ تھا کہ طاعون قادیان کو جھاڑو کی طرح صاف نہ کر جائے گی اور اتنا نہیں سوچا کہ جھاڑو پھیرنے والا طاعون (طاعون جارف) تو کسی شہر میں ہی نہیں ہوا۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ طاعون کے بعد لوگ پھر آباد ہو جاتے ہیں۔ قادیان میں بھی طاعون آیا لوگ بھاگ گئے اور پھر آباد ہو گئے۔ اس لئے ایسے الہام اور ایسی تاویل کا کوئی خاص مطلب نہیں نکلتا۔ قادیان میں شدت طاعون کا مرزا قادیانی خود ہی اقرار کرتے ہیں۔ (حقیقت الوحی ص ٨٤، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧) میں ہے کہ : ”طاعون کے دنوں میں جب کہ قادیان میں طاعون زوروں پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔“

اور (حقیقت الوحی ص ٢٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٤٤) میں ذرا اس مطلب کو دبی زبان سے لکھا ہے کہ: ”ایک دفعہ کسی قدر شدت سے طاعون قادیان میں ہوئی۔“ اب مرزائی گو یہ کہہ سکتے ہیں کہ حفاظت قادیان کا زمانہ دوسرا ہے اور طاعون کا زمانہ اور ہے مگر اہل بصیرت کے لئے ایسی تاویل بالکل غلط ہوگی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی ہستی بقول مرزائیاں راست بازی کا نمونہ تھی اور آپ تمام عمر قادیان ہی میں رہے۔ اس لئے جو بھی زمانہ مراد لیا جائے گا اس میں یہ دقت پیش آئے گی کہ مرزا قادیانی کی موجودگی میں عام آبادیوں کی طرح وہاں بھی شدت سے طاعون کا حملہ ہوا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ سوچ کر الہام نہیں کیا کرتے تھے۔ بلکہ جلدی سے کچھ لکھ دیا اور جب جھوٹا نکلا تو حاشیہ آرائی شروع کردی۔ کیا یہ بھی صداقت ہے؟

دعویٰ تو یہ کیا ہے کہ تین سو دلائل صداقت اسلام پر پیش کئے جائیں گے۔ مگر آگے چل کر سب کچھ بھول گئے۔ ساری براہین میں ایک دلیل بھی مستقل پیرایہ میں پیش نہیں کر سکے اور دیباچہ (براہین احمدیہ حصہ اوّل ص ٧، خزائن ج ١ ص ٢٤) میں لکھا ہے کہ: ”اس میں اعلان، مقدمہ، چار فصلیں اور ایک خاتمہ ہوگا۔“ مگر کتاب شروع ہوئی تو اعلان میں مخالفین کے سامنے اس قدر بیجا شروط پیش کیں کہ

صفحہ ١٨

دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے صرف اپنے بچاؤ کی صورت نکالی تھی۔ ورنہ کوئی ذی عقل نہ ہی ایسی شرائط پیش کرتا ہے اور نہ ہی ان کو قبول کر سکتا ہے۔ اعلان کے بعد جب مقدمہ شروع ہوتا ہے تو اپنی کتاب کی تعریف میں فوائد لکھتے لکھتے دور تک چلے گئے ہیں اور کم از کم دس خوبیاں بیان کر کے کتاب کو لاجواب ثابت کیا ہے اور چوتھے فائدہ میں تین سو دلائل کا دعویٰ پیش کیا ہے۔ جن میں سے صرف ایک دلیل شروع کی ہے اور وہ بھی پوری نہیں کر سکے۔ خدا خدا کر کے جب مقدمہ ختم ہوتا ہے تو فصل اوّل شروع ہو جاتی ہے اور اس میں دس تک تمہیدیں چلی گئی ہیں اور پانچویں تمہید میں بیان کیا ہے کہ معجزہ اور شعبدہ یکساں نہیں ہوتے اور شعبدہ کی تشریح میں حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات کی بنیاد ایک حوضِ قدیم بتائی ہے کہ اس کے پانی سے لوگوں کا علاج کرتے تھے۔ گویا آپ کے متعلق اپنی طرف سے نظارہ اور شعبدہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ فصل اوّل جب ختم ہو جاتی ہے تو تین فصلوں کا خیال قائم نہیں رہا۔ فوراً ان کی جگہ باب اوّل شروع کر دیا ہے۔ جس کا وعدہ شروع میں نہیں کیا تھا۔ پھر ایسا نسیان ہوا کہ دوسرا باب بھی لکھنا بھول گئے اور کتاب ختم ہوگئی۔ ہاں یہ جدت ضرور دکھائی ہے کہ حواشی در حواشی لکھ کر ناظرین کے لئے ایک گورکھ دھندا بنا دیا ہے۔ جن میں سے گیارہواں حاشیہ تردید آریہ میں تفسیر سورہ فاتحہ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور آریوں کو مطاعن و مثالب کے پیرایہ میں دعوت مقابلہ دیتا ہے اور حاشیہ علی الحاشیہ نمبر ٤ میں برہمو سماج پر دل کھول کر طعن و تشنیع کئے ہیں اور اشتعال آمیز باتوں سے ان کی خوب خبر لی ہے اور ثابت کیا ہے کہ برہمو سماج کا یہ خیال غلط ہے کہ الہام نہیں ہو سکتا۔ اس کے ثبوت میں اپنے الہام لکھنے شروع کر دیئے ہیں۔ جو عربی فارسی انگریزی خالص اور انگریزی غیر خالص میں دکھائی دیتے ہیں۔ اس موقعہ پر مرزائی کہا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے تین سو دلائل ضمنی طور پر بیان کر دیئے ہیں۔ مگر ہمارا مطالبہ تو ایسی طرز بیان کا ہے کہ جس طرز میں پہلے استدلال کو بیان کرنا شروع کر دیا تھا۔ اگر ضمنی ہی بیان مطلوب تھا تو پہلے استدلال کو صریحی طور پر بیان کرنا کیوں شروع کیا تھا؟ لیکن جب ایفاء وعدہ میں نسیان ہو گیا ہے تو مرزائیوں کا فرار ہے کہ جب مرزا قادیانی نے اپنا مراق تسلیم کیا ہے تو مرزائی نسیان بھی ضرور تسلیم کر لیں۔ اس موقعہ پر ازالہ کا بیان بھی باعث استعجاب ہے کہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر تین گھنٹے گذرے تھے۔ پھر (ازالہ ص ٣٣٣) پر لکھا ہے کہ نہیں صرف دو گھنٹے اخیر پر (ازالہ ص ٣٨٠، ٣٨١، خزائن ج ٣ ص ٢٩٦) میں ارشاد ہوا ہے کہ چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مسیح کو صلیب سے اتار لیا گیا۔ بہر حال مراق کی تائید کے لئے یہ بیان اکسیر کا حکم رکھتا ہے۔

صفحہ ١٩

مطالعہ کرو تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ جن خواندہ اشخاص کو مالیخولیا شروع ہو گیا۔ ان میں سے چند ایسے بھی تھے کہ انہوں نے اپنے آپ کو فرشتہ، پیغمبر یا خود خدا ہی تصور کر لیا تھا اور ان میں تحقیر کا ایسا مادہ پیدا ہو گیا تھا کہ کسی کو اپنا ہمسر تصور نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی میں بھی بعینہ یہی اوصاف موجود ہیں۔

ج ١١ ص ٢٨٨، ٢٩١ ملخص) میں لکھتے ہیں کہ: ”نعوذ باللہ بیچارے مسیح کی پیشین گوئیاں یہی تھیں کہ قحط پڑے گا، طاعون آئے گا، زلزلے آئیں گے۔ جو شخص ایسے اقوال کو پیشین گوئی تصور کرتا ہے۔ اس پر خدا کی لعنت ہو تو پھر کیوں مسیح اسرائیل نے ایسے اقوال کو پیشین گوئیاں بنا لیا تھا۔ درحقیقت اس کے ہاتھ میں سوائے مکر و چالاکی کے کچھ نہ تھا۔ عیسائیوں نے اگرچہ مسیح کے معجزات بیان کئے ہیں۔ مگر دراصل کوئی معجزہ بھی اس سے پیدا نہیں ہوا اور جس کی تین دادیاں زنا کار ہوں۔ بھلا وہ شخص کیونکر اپنے آپ کو شریف النسب قرار دے سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ مسیح اس رشتہ کے سبب ہی رنڈیوں سے تیل کی مالش کرایا کرتا تھا ورنہ کون متقی گوارا کر سکتا ہے کہ رنڈیاں اپنی کمائی سے اس کے سر پر تیل لگائیں اور عطر ملیں یا پاؤں اپنے بالوں سے ملیں۔“ دافع البلاء میں ہے کہ: ”اس سے تو یحییٰ نبی ہی اچھا تھا۔ کیونکہ نہ تو اس نے شراب پی تھی اور نہ ہی غیر محرم عورتوں نے اس کو چھوا تھا۔“ مسیح کی تو تین پیشین گوئیاں بھی غلط نکلی تھیں۔

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

(ازالہ اوہام ص ١٢٠ تا ١٣٠، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) کا مطالعہ کرنے سے مرزا قادیانی یوں کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ مسیح تو اپنے باپ یوسف کے ساتھ مصر میں بائیس سال تک بڑھئی کا کام کرتا رہا ہے اور جو شعبدے اس نے ظاہر کئے ہیں اگر میں ان کو اپنی کسر شان نہ سمجھتا تو میں اس سے بازی لے جاتا۔ مسیح نے مصر سے جو کچھ سیکھا تھا اس سے ظاہری بیماریاں دور کر سکتا تھا۔ مگر اندرونی بیماریاں اس سے دور نہ ہو سکتی تھیں۔ الغرض سامری کی طرح اس کے تمام معجزات شعبدہ تھے۔

(چشمہ مسیحی ص ٤٨) پر لکھتے ہیں کہ مسیح کی چند دادیاں متعہ کی مرتکب ہوئی تھیں۔ بلکہ خالص زنا کی مرتکب ہوئی تھیں۔ (کشتی نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨) میں لکھتے ہیں کہ مریم پر لوگ معترض ہیں کہ اس نے تارک الدنیا ہونے کا طریق چھوڑ کر یوسف سے کیوں نکاح کیا؟ حالانکہ یوسف کی پہلی بیوی موجود تھی۔ میں کہتا ہوں کہ وہ مجبور تھی۔ کیونکہ اس کو حمل ظاہر ہو چکا تھا۔

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣، ١٥٥) میں لکھتے ہیں کہ: ”مجھے شروع شروع میں شرم آتی تھی کہ مسیح کے مقابلہ میں اپنی شان بڑھاؤں۔ مگر جب مجھے یقین ہو گیا کہ میں

PDF 20

نبی ہوں تو میں نے وہ عقیدہ چھوڑ دیا۔ آج اگر مسیح میرے زمانہ میں ہوتا واللہ جس قدر مجھ سے خوارق صادر ہوتے ہیں اس سے وہ نہ صادر ہوتے اور جب خدا اور رسول نے بلکہ تمام انبیاء نے مسیح آخرالزمان کی شان بڑھائی ہے تو میں مسیح پر فوقیت کا دم کیوں نہ بھروں۔‘‘

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣) پر مذکور ہے کہ: ”خدائے تعالیٰ نے اس امت میں مسیح آخرالزمان بھیجا ہے۔ جو مسیح ناصری سے افضل ہے اور اس کا نام غلام احمد رکھا ہے۔‘‘

(کشتی نوح ص ٦٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ٧١) میں مذکور ہے کہ: ”مسیح شراب پیتا تھا۔ پس یہی وجہ ہے کہ یورپین اقوام سب کی سب شراب پیتی ہیں۔‘‘ مرزا قادیانی کا مشہور شعر ہے کہ؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

قصیدہ الہامیہ میں یوں کہا ہے کہ عیسیٰ کجاست کہ بنہد پایہ منبرم۔

(ازالہ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

اس موقعہ پر یوں عذر کیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی نے یسوع کو برا کہا ہے۔ یعنی اس فرضی انسان کو جسے عیسائیوں نے خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو برا نہیں کہا۔ جس کی تعریف قرآن کرتا ہے۔ سو اس کا جواب نیچے کی حکایت سے دیا جاسکتا ہے کہ فرزدق اپنی ماں کو گالیاں دیتے تھے۔ کسی نے روکا تو جواب دینے لگے کہ ماں کا تعلق ہم دونوں سے ہے اور ہم میں سے جو بھی جب اسے گالیاں دیتا ہے۔ اسی وقت اپنا تعلق نظر انداز کر دیتا ہے اور اس حیثیت سے اس کو دیکھا ہے کہ دوسرے کی ماں ہے میری ماں نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کا طرز کلام اگر بطور نقل ہوتا تو قابل اعتراض نہ تھا۔ یا عیسائیوں کے مسلمات کو پیش کر کے کوئی سخت سست لفظ لکھ دیتے تو ایک حد تک قابل درگزر تھا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ نبی کی ہتک کسی طرح بھی جائز نہیں ہوتی اور بعض الفاظ ایسے ہیں کہ ان میں کوئی تاویل چل ہی نہیں سکتی۔ چنانچہ ”اس سے بہتر غلام احمد ہے‘‘ کے فقرہ میں صاف ہے کہ اپنے آپ کو بڑھا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی (نہ کہ مسیح کی) تحقیر کی ہے۔ ”عیسیٰ کجاست‘‘ کا فقرہ عام محاورہ میں بڑے زور کی تحقیر ہوتی ہے اور جو تاویلیں کی جاتی ہیں وہ سب کی سب اس الہام سے باطل ہو جاتی ہیں کہ پہلے مجھے معلوم نہ تھا۔ مگر اب میں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام پر اپنی فضیلت کیوں ظاہر نہ کروں؟

کہا جاتا ہے کہ اگر حضور علیہ السلام کا ادنیٰ غلام حضرت مسیح علیہ السلام پر فوقیت رکھتا ہے

تو حضور ﷺ کی ہی تعریف نکلتی ہے۔ مگر اس صورت میں موزوں ہوتی ہے کہ آپ ﷺ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میری تعریف ایسی ہیں کہ صراحتاً نبی علیہ السلام کی تعریف تو کجا ا

ب ......... مرزائی تعلیم کی ابتدا

مرزا قادیانی کا طرز کلام بہت دل آزار تھا۔ آپ نے اغیار کو گالیاں دینے میں صرف کر دل کھول کر گندے الفاظ استعمال کئے ہیں او

عذر کیا جاتا ہے کہ قرآن میں بھ کہ قرآن شریف کا طرز کلام عام الفاظ میں لے کر خصوصیت سے اغیار کی تحقیر کرتا ہے او استعمال سے پرہیز کرتے ہیں۔ مرزائی اس علیہ السلام کا وعظ منقول ہے کہ جس میں مرزا قادیانی کے کلام میں اور حضرت کے کلا ہے۔ کیونکہ آپ نے کبھی کسی شخص کو نام ل ہیں جو مرزا قادیانی نے استعمال کئے ہیں ص ١٨٨، ١٩٤) مطالعہ کرو اور دیکھو کہ کس

صاحب امرتسری کو نام لے کر گندے الفا میں صراحتاً تہذیب سے گرا ہوا کوئی لفظ بھ ہو کہ انہوں نے مرزا کو دجال وغیرہ لکھا ہے میں مرزا قادیانی نے بھی تو کسر نہیں چھوڑ مرزا قادیانی کہاں تک اس سے دور چلے لیں گے کہ گندہ ذہنی کس قدر قادیانی مسیح ۔ نے گنواروں کی طرح گالیاں دی ہیں ان بات پر بہت جلد طیش آ جاتی ہے۔ جس کو اور اغیار کی نظر ایسی مقدس ہستی کو ادنیٰ تہذی

صفحہ ٢١

تو حضورﷺ کی ہی تعریف نکلتی ہے۔ مگر اس امر کا خیال نہیں رکھا گیا کہ حضورﷺ کی تعریف اسی صورت میں موزوں ہوتی ہے کہ آپﷺ کے ارشاد کے خلاف نہ ہو۔ ورنہ مردود ہوگی۔

آپﷺ کا ارشاد ہے کہ میری تعریف ایسی نہ کرو کہ جس میں دوسرے نبی کی توہین ہو اور ہم دیکھتے ہیں کہ صراحۃً نبی علیہ السلام کی تعریف تو کجا اپنی ہی تعریف میں مرزا قادیانی مست ہیں۔

مرزا قادیانی کا طرز کلام بہت دل آزار تھا۔ عربی میں جو نظم یا نثر لکھی ہے اس میں بہت سا حصہ آپ نے اغیار کو گالیاں دینے میں صرف کر دیا ہے۔ اردو میں بھی جہاں کہیں موقعہ پایا ہے خوب دل کھول کر گندے الفاظ استعمال کئے ہیں اور نام لے لے کر گالیاں دی ہیں۔

عذر کیا جاتا ہے کہ قرآن میں بھی تو صم بکم عمی وغیرہ کہا گیا ہے۔ مگر مرزائی یہ نہیں سوچتے کہ قرآن شریف کا طرز کلام عام الفاظ میں اور واقعیت پر مبنی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا کلام نام لے کر خصوصیت سے اغیار کی تحقیر کرتا ہے اور ایسے سنگین الفاظ استعمال کئے ہیں کہ گنوار بھی ان کے استعمال سے پرہیز کرتے ہیں۔ مرزائی اس کا جواب یوں بھی دیتے ہیں کہ انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کا وعظ منقول ہے کہ جس میں آپ نے اغیار کو سانپ کے بچے وغیرہ کہا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کے کلام میں اور حضرت کے کلام میں پھر بھی عقل سلیم کے نزدیک ہزاروں کوس کا فرق ہے۔ کیونکہ آپ نے کبھی کسی شخص کو نام لے کر گالیاں نہیں دیں اور نہ ہی ایسے ثقیل لفظ استعمال کئے ہیں جو مرزا قادیانی نے استعمال کئے ہیں۔ مثال کے لئے (قصیدہ اعجازیہ ص ٧٥ تا ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨، ١٩٤) مطالعہ کرو اور دیکھو کہ کس طرح جناب پیر مہر علی شاہ صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو نام لے کر گندے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ حالانکہ ان دونوں نے اپنی تصانیف میں صراحۃً تہذیب سے گرا ہوا کوئی لفظ بھی مرزا قادیانی کے حق میں استعمال نہیں کیا۔ شاید یہ عذر ہو کہ انہوں نے مرزا کو دجال وغیرہ لکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مذہبی لفظ تھا۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے بھی تو کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن اس موقعہ پر بحث تو تہذیبی الفاظ میں ہے کہ مرزا قادیانی کہاں تک اس سے دور چلے گئے ہیں۔ ناظرین خود ہی آئندہ نظم ونثر میں معلوم کر لیں گے کہ گندہ دہنی کس قدر قادیانی مسیح نے کی ہے۔ ہاں طبی نکتہ خیال سے جو کچھ بھی مرزا قادیانی نے گنواروں کی طرح گالیاں دی ہیں ان کا حق تھا۔ کیونکہ آپ مراقی تھے اور مراقی کو تھوڑی تھوڑی بات پر بہت جلد طیش آجاتی ہے۔ جس کو تقدس کے گردیدہ مرید شان جلالی سے تعبیر کیا کرتے ہیں اور اغیار کی نظر ایسی مقدس ہستی کو ادنیٰ تہذیب کی بھی مالک نہیں سمجھتی۔

صفحہ ٢٢

کہ آپ کی زندگی میں احادیث کی صحت وسقم کا معیار آپ کی رائے ہوگی ۔ یہ مسیح جسے چاہے اپنے حالات کے موافق سمجھ کر صحیح تصور کرے اور جسے چاہے ردی کی ٹوکری میں پھینک دے۔ جس کا صاف مطلب یوں نکلتا ہے کہ آج تک امت محمدیہ کے ناقدان احادیث جس قدر بھی گذرے ہیں وہ سب کے سب تنقید حدیث کے اصول سے بے خبر تھے اور اگر بے خبر نہ تھے تو یوں ماننا پڑتا ہے کہ ان کے زمانہ میں معیار صحیح اور تھا اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں دوسرا معیار قائم ہوا ہے اور یہ صاف مراق ہے۔ کیونکہ سچائی اور صحت کے اصول کبھی بدل نہیں سکتے ۔

اپنے عقائد پھیلانے شروع کر دیئے تھے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی فوقیت ثابت کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ذمہ افتراء باندھ کر یہ عقیدہ منوایا کہ حضرت مسیح ابھی تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور آخر زمانہ میں بھی وہی آسمان سے اتر کر اسلام کو روشن کریں گے ۔ گویا اسلام حضرت مسیح علیہ السلام ہی کی نصرت واعانت کا محتاج ہے۔ پھر لکھتا ہے کہ حیات مسیح کا عقیدہ شرک اکبر ہے اور شرک کا بڑا ستون ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ شیطان کی تقلید میں یہ عقیدہ گھڑا گیا ہے۔ کیونکہ خدا بھی حی و قیوم ہے اور حضرت مسیح بھی ابھی تک حی و قیوم تسلیم کئے جاتے ہیں۔ گویا مرزا قادیانی نے صاف لکھ دیا ہے کہ میرے کے پہلے تمام امت محمدیہ نعوذ باللہ مشرک تھے اور جب تک کہ سرسید کی تعلیم سے متاثر نہ ہوئے وہ خود بھی حیات مسیح کا قول کرنے سے مشرک رہے ۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ مشرک مدعی نبوت نہیں ہو سکتا ۔ سوائے اس شخص کے کہ جس کو مراق سے دوران سر کا عارضہ نہ ہو ۔

ہے تو دماغی خشکی کے باعث ایک دفعہ جو خیال دماغ میں بیٹھ گیا نکل نہیں سکتا۔ بلکہ اس کی حاشیہ آرائی میں دور تک چلا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کو چونکہ شروع میں کتب بینی کا مرض لگا ہوا تھا۔ اس لئے اپنے تقدس کا خیال یہاں تک بڑھ گیا کہ جب مناظرہ میں کچھ جواب نہ بن پڑتا تو بداخلاقیوں اور ذاتی اتہامات کی بناء پر مد مقابل کے حق میں بد دعائیں کرنے لگ جاتے تھے۔ جس سے اپنے بچاؤ کی صورت پیدا کر لیتے اور اصل موضوع بحث سے مد مقابل کو ایسا غافل کرتے کہ اس کو اپنی جان کے لالے پڑ جاتے اور آخر یہ مبحث قرار پاتا کہ آیا یہ بد دعا سچی ہے یا نہیں ۔ بہر حال مرزا قادیانی کی جو بھی تحریر ہوگی ، یا جو بھی مناظرہ پڑھو گے۔ اس میں اپنے تقدس کی تمہید

صفحہ ٢٣

ساتھ ساتھ چلتی ہوئی نظر آئے گی۔ کیونکہ امراض سوداوی میں جب مواد سر میں جمع ہو جاتا ہے تو کبر اور نخوت کی بیماری بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ جس میں انسان یہی سمجھتا ہے کہ : ”ہمچو من دیگرے نیست“ اب ہم ذیل میں اپنے تمام بیانات کی سند خود مرزا قادیانی کے کلام سے ہی پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے درثمین کی آخری نظموں میں لکھا ہے کہ مرزائی پارٹی کے سوا دنیا میں کوئی انسان نہیں ہے۔ سب جانور ہیں۔ احادیث قابل اعتبار نہیں رہیں۔ مرزا قادیانی کو خود خدا نے سمجھا دیا ہے کہ مسیح وفات پاچکے ہیں۔ وحی جاری ہے نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ حیات مسیح کا قول شرک اور تقلید شیطان ہے اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ تناسخ کے طور پر آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جس قدر نبی گزرے ہیں ان میں مرزا کی روح بارہا مختلف روپ لے کر ظاہر ہوتی رہی ہے۔ گویا تناسخ کا مسئلہ اس کے نزدیک اپنے عقائد کا اصل اصول تھا۔

انتخاب نظم درثمین

چھوڑ کر فرقان کو آثار مخالف پر جھکے سر پہ مسلم اور بخاری کے دیا ناحق کا بار
جب کہ ہے امکان کذب و مجروح اخبار میں پھر حماقت ہے کہ رکھیں سب انہیں پر انحصار
جب کہ ہم نے نور حق دیکھا ہے اپنی آنکھ سے جب کہ خود وحی خدا نے دی خبر یہ بار بار
پھر یقین کو چھوڑ کر کیوں کر گمانوں پر چلیں خود کہو رویت ہے بہتر یا نقول پر غبار؟
تفرقہ اسلام میں لفظوں کی کثرت سے ہوا جس سے ظاہر ہے کہ راہ نقل ہے بے اعتبار
صد ہزاراں آفتیں نازل ہوئیں اسلام پر ہو گئے شیطان کے چیلے گردن دیں پر سوار
نقل کی تھی اک خطا کاری مسیحا کی حیات جس سے دیں نصرانیت کا ہو گیا خود مختار
موت عیسیٰ کی شہادت دی خدا نے صاف صاف پھر احادیث مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار؟
گر گماں صحت کا ہو پھر قابل تاویل ہیں کیا حدیثوں کے لئے فرقان پر کر سکتے ہو وار
گردنوں میں ان کے ہے سب عام لوگوں کا گناہ جس کے وعظوں سے جہل کے آگیا دل میں غبار
روضۂ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک! میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
دیکھتا ہوں اپنے دل کو عرش رب العالمین قرب اتنا بڑھ گیا جس سے ہے اترا مجھ میں یار
ابن مریم ہوں مگر اترا نہیں میں چرخ سے نیز مہدی ہوں مگر بے تیغ اور بے کار زار
بن کے رہنے والو تم ہرگز نہیں ہو آدمی کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار
یاد وہ دن جب کہ کہتے تھے یہ ارکان دین مہدیئے موعود حق اب جلد ہو گا آشکار
صفحہ ٢٤
پھر وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی سب سے اول ہو گئے منکر یہی دیں کے منار
ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار
نعمتیں دیں میرے مولیٰ نے وہ اپنے فضل سے جن سے ہیں معنے اتممت علیکم آشکار
مجھ کو کافر کہہ کے اپنے کفر پر کرتے ہیں مہر یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار
ساٹھ سے ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی سال ہے اب تیسواں دعوے پہ از روئے شمار
تھا برس چالیس کا میں اس مسافر خانہ میں جب کہ میں نے وحی ربانی سے پایا افتخار
غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار
میں کبھی آدم کبھی موسیٰ کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
اک شجر ہوں جس کو داؤدی شکل کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار
پر مسیحا بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار
ملت احمد کی ڈالی تھی جو مالک نے بنا آج پوری ہوگئی ہے اے عزیزان و یار
اسمعوا صوت السماء جاء المسیح جاء المسیح نیز بشنو از زمیں آمد امامِ کامگار
آسمان بارد نشان الوقت میگوید زمیں ایں دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار
آسمان میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار
تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشان جو ہیں سچائی کا مدار
قرآں خدانما ہے خدا کا کلام ہے بے اس کی معرفت کا چمن ناتمام ہے
دنیا میں جس قدر ہے مذاہب کا شور و شر سب قصہ گو ہیں نور نہیں اک ذرہ بھر
پر یہ کلام نور خدا کو دکھاتا ہے اس کی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے
اس کی قسم کہ جس نے یہ سورت اتاری ہے اس پاک دل پر جس کی وہ صورت پیاری ہے
یہ میرے رب سے میرے لئے اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعوے پہ مہر الہ ہے
پھر میرے بعد اوروں کی ہے انتظار کیا توبہ کرو کہ جینے کا ہے اعتبار کیا
چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا
ابنِ مریم مر گیا حق کی قسم! داخلِ جنت ہوا وہ محترم
مارتا ہے اس کو قرآن سربسر اس کی مرجانے کی دیتا ہے خبر
وہ نہیں باہر رہا اموات
کوئی مردوں سے کبھی آ
عہد شد از کرد گار
برخلاف نص یہ کیا جو
کیوں بنایا ابن مریم
مرگئے سب پر وہ مرنے
مولوی صاحب یہی توحی
کیا یہی توحید حق کا
آؤ لوگو! کہ یہاں نور خد
آج ان نوروں کا اک زور ہے ا
جب سے یہ نور ملا نور پیمبر
ربط ہے جانِ محمد سے میری جا
گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ا
زخم میں ان کے مسیحائی کا
چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیح
کس کے دل میں یہ ارادے تھے یہ

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١ دیا ہے کہ: ”اے ظالم مولویو! ا کے نزدیک معمولی تہذیب تھی۔ کی ایسے لفظ کا مستوجب نہ ہوتا؟۔ ا کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا اس کی تاویل کریں گے۔ مگر ہم مرزا قادیانی نے بالکل معمولی گا ہی تہذیب کو جواب دے دیا ہے ماننے والے حرامزادے ہیں۔“

صفحہ ٢٥
ویں آئی صدی سب سے اول ہو گئے منکر یہی دیں کے منار
خدا مقصود ہے اب قیامت تک ہے اس امت کا قصوں پر مدار
اپنے فضل سے جن سے ہیں معنے اتممت علیکم آشکار
کرتے ہیں مہر یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار
زیادہ اس گھڑی سال ہے اب تیسواں دعوے پہ از روئے شمار
مسافر خانہ میں جب کہ میں نے وحی ربانی سے پایا افتخار
ں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اس کے ہوئے ہم جاں نثار
یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار
روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پہ میرا سب مدار
مالک نے بنا آج پوری ہو گئی ہے اے عزیزان دیار
مسیح جاہ آج نیز بشنو از زمیں آمد امام کامگار
میگوید زمیں ایں دو شاہد از پئے من نعرہ زن چوں بیقرار
بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار
نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشان جو ہیں سچائی کا مدار
کا کلام ہے بے اس کی معرفت کا چمن ناتمام ہے
ب کا شور و شر سب قصہ گو ہیں نور نہیں اک ذرہ بھر
دکھاتا ہے اس کی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے
ت اتاری ہے اس پاک دل پر جس کی وہ سورت پیاری ہے
نا اک گواہ ہے یہ میرے صدق دعوے پہ مہر آلہ ہے
ہے انتظار کیا توبہ کرو کہ جینے کا ہے اعتبار کیا
مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے میرے جاناں تیرا
کی قسم ! داخل جنت ہوا وہ محترم
آنا سر بسر اس کی مرجانے کی دیتا ہے خبر
وہ نہیں باہر رہا اموات سے ہو گیا ثابت یہ تمہیں آیات سے
کوئی مردوں سے کبھی آیا نہیں یہ تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں
عہد شد از کرد گار بیچگوں! غور کن در انہم لا یرجعون
برخلاف نص یہ کیا جوش ہے سوچ کر دیکھو اگر کچھ ہوش ہے
کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا
مر گئے سب پر وہ مرنے سے بچا اب تلک آئی نہیں اس پر فنا
مولوی صاحب یہی توحید ہے؟ سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے؟
کیا یہی توحید حق کا راز تھا؟ جس پہ برسوں سے تمہیں اک ناز تھا
آؤ لوگو! کہ یہاں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے
آج ان نوروں کا اک زور ہے اس عاجز پر دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے
جب سے یہ نور ملا نورِ پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے
ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے
گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیض گھٹایا ہم نے
زعم میں ان کے مسیحائی کا دعویٰ میرا افتراء ہے جسے از خود ہے بنایا ہم نے
چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے سب سے پہلے یہ کرم ہے میری جاناں تیرا
کس کے دل میں یہ ارادے تھے یہ تھی کس کو خبر؟ کون کہتا تھا کہ یہ ہے بخت درخشاں تیرا

(ضمیمہ انجام آتھم ص٢١، خزائن ج١١ ص٣٠١) میں اپنی تہذیب کا ایسے فقروں میں پورا ثبوت دیا ہے کہ: ”اے ظالم مولویوں! اے بدذات فرقہ مولویوں۔“ نادان جاہل اور بے سمجھ کا لفظ تو آپ کے نزدیک معمولی تہذیب تھی۔ کیونکہ آپ کو خدائی کا دعویٰ تھا تو پھر کون بشر ہے کہ مقابلہ میں آکر ایسے لفظ کا مستوجب نہ ہوتا؟۔ (حقیقت الوحی ص٨٤، خزائن ج٢٢ ص٨٧) میں اپنی وحی کو عام کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ: ”قرآن شریف تو میرے منہ کی باتیں ہیں۔“ اگرچہ اس کی تاویل کریں گے۔ مگر ہم اس طرز ادا سے یہ ضرور نتیجہ نکالیں گے کہ قرآن شریف کو مرزا قادیانی نے بالکل معمولی کلام سمجھا ہوا تھا۔ (آئینہ کمالات اسلام ص٥٤٨) میں آپ نے بالکل ہی تہذیب کو جواب دے دیا ہے۔ جناب درافشانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”میرے نہ ماننے والے حرامزادے ہیں۔“ خوب! مدعی نبوت اور یہ حیا سوز فقرے!! مرزائی ان فقرات کی

صفحہ ٢٦

خواہ کچھ تاویل کریں۔ مگر ہمارے نزدیک تو صرف ایک ہی تاویل ہے وہ یہ کہ مراقی آدمی آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور تقدس کی آڑ میں جو کچھ بھی کہہ گزرے کفش بردار اور کاسہ لیس۔ سبحان اللہ کی گونج سے اس کو شانِ جلالی کا نام دیا کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے یہ کبھی خیال نہیں کیا کہ نبی کریم ﷺ ”لم يكن فاحشا “ تو فحش گوئی سے کوسوں دور تھے۔ اور ”كان المرزا فاحشاً “ آپ فحش گو تھے۔ اب اتباعِ رسول میں انعکاس کا دعویٰ اور ظِل اور بروز کا ادعاء کیسے ہو سکتا ہے؟

ہم اس موقعہ پر ناظرین کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا بنیادی اصول صرف وہی تھا جو انتخابِ درِثمین میں یا اس کے بعض چیدہ چیدہ فقرات میں مذکور ہو چکا ہے۔ اسی اصول کو کئی طرز پر اپنی تمام کتابوں میں شائع کیا ہے اور انہیں امور مذکورۃ الصدر کو دہراتے دہراتے ساٹھ ستر کتابیں لکھ ماری ہیں۔ سردست ہم آپ کے عقائد پر بحث نہیں کرتے۔ کیونکہ ہم صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ مرزائی مذہب کا بُعد مذہبِ اسلام سے کن وجوہات اور کس درجہ پر ہے۔ عام لوگ کہا کرتے ہیں کہ وہ بھی اہل سنت ہیں اور اہل قبلہ ہیں۔ ان کو کیوں خارج از اسلام سمجھا جاتا ہے؟ لیکن ان کی لاپرواہی ہے یا بے سمجھی ہے کہ جب اس مذہب کے عقائد، تمدن، فروعیات مذہبی ہم سے الگ ہیں اور توہینِ انبیاء یا تحقیرِ امت ان کے نزدیک ایک ضروری عقیدہ ہے تو کس طرح اہل سنت والجماعت میں داخل ہونے کے مستحق ہو سکتے ہیں؟۔ ناظرین ! ذرہ غور کر کے یہ بھی سمجھ لیں کہ لاہوری پارٹی کے عقائد بھی وہی ہیں جو اوپر مذکور ہو چکے ہیں۔ اب جو لوگ ان کو قادیانیوں سے ہلکا سمجھتے ہیں سخت غلطی پر ہیں۔ ہداہم اللہ تعالیٰ ! متذکرہ بالا اشعار کا مطلب سلیس نثر میں یوں ہے کہ:

سب احادیث کا اعتبار جاتا رہا ہے۔

صفحہ ٢٧

نزدیک تو صرف ایک ہی تاویل ہے وہ یہ کہ مراقی آدمی آپے میں جو کچھ بھی کہہ گزرے کفش بردار اور کاسہ لیس ۔ سبحان اللہ نام دیا کرتے ہیں۔ مگر انہوں نے یہ کبھی خیال نہیں کیا کہ نبی تو فحش گوئی سے کوسوں دور تھے۔ اور ”کان المرزا فحاشاً“ میں انعکاس کا دعویٰ اور ظل اور بروز کا ادعاء کیسے ہو سکتا ہے؟ ان کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا بنیادی اصول صرف کے بعض چیدہ چیدہ فقرات میں مذکور ہو چکا ہے۔ اسی اصول کی کنجی کیا ہے اور انہیں امور مذکورۃ الصدر کو دہراتے دہراتے ساٹھ ستر ہم آپ کے عقائد پر بحث نہیں کرتے۔ کیونکہ ہم صرف یہ دکھانا مذہب اسلام سے کن وجوہات اور کس درجہ پر ہے۔ عام لوگ کہا اور اہل قبلہ ہیں۔ ان کو کیوں خارج از اسلام سمجھا جاتا ہے؟ لیکن کہ جب اس مذہب کے عقائد، تمدن، فروعات مذہبی ہم سے الگ ان کے نزدیک ایک ضروری عقیدہ ہے تو کس طرح اہل سنت مستحق ہو سکتے ہیں؟۔ ناظرین ! ذرہ غور کر کے یہ بھی سمجھ لیں کہ ہیں جو اوپر مذکور ہو چکے ہیں۔ اب جو لوگ ان کو قادیانیوں سے ہلکا ہم اللہ تعالیٰ ! متذکرہ بالا اشعار کا مطلب سلیس نثر میں یوں ہے کہ: خلاف قرآن ہے۔

ی کے ذمہ افتراء ہے۔ ورنہ وہ بھی وفات مسیح کے قائل تھے۔

و مجذوبی ہے۔ اس لئے ان پر اعتبار کرنے والے احمق ہیں۔

یانی نے ) اپنی آنکھ سے خدا کا دیدار کیا ہے۔

نی بتایا ہے کہ مسیح مر گیا ہے۔

وہ میری دید کے مقابلہ میں کب برابر اتر سکتی ہے۔

زئکہ مختلف ہوتے ہیں۔ اس لئے لوگوں میں اختلاف پڑ گیا ہے اور خبط رجا تا رہا ہے۔

والے ( عالم، محدث، امام سب کے سب ) شیطان کے چیلے ہیں۔

مسئلہ بتایا ہے کہ مسیح زندہ ہے۔

گناہ ان کی گردن پر ہوگا۔

ہی نہیں ہو بلکہ جانور ہو۔

انسان کون کہہ سکتا ہے۔ (انسان دیکھنے ہوں تو قادیان میں آؤ۔ تم کو بڑے لمبے چوڑے انسان دکھائے جائیں گے) چونکہ شروع شروع میں عام مولوی صاحبان مرزا قادیانی کو ولی سمجھتے تھے۔ مگر جب مرزا قادیانی کے مراق پر ان کو اطلاع مل گئی تو سب کنارہ کش ہو گئے تھے۔ اس لئے اپنے دوستوں کو مخاطب ہو کر کہا ہے کہ تم خود ہی کہتے تھے کہ:

سے ثابت کیا کریں گے کہ نبی آیا کرتے تھے۔

جائے کہ دیکھو اسلام میں یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے ورنہ تم بھی نبی بن کر دکھلاؤ۔

زمانہ مراد ہے۔

بلکہ میں شیشہ ہوں اور میرے مخالفین کو اپنا ہی کافرانہ چہرہ نظر آتا ہے۔

صفحہ ٢٨

کی عمر میں مجھے وحی آ گئی تھی۔

اپنی تکذیب پر مرزا نے خود ہی مہر لگا دی) تم بے وقوف ہو۔

در حقیقت میں ہی ایک نبی ہوں۔

باپ ہوں۔ بلکہ میں خود ہی داؤد ہوں۔

صلیب پر نہیں چڑھایا تاکہ مسیح ناصری کی طرح ملعون نہ ٹھہروں۔ کیونکہ تورات کے رو سے جو صلیب پر لٹکتا ہے۔ وہ ملعون ہوتا ہے۔ ( توہین مسیح میں اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی)

ہی سنیں تھیں)

ہی زمانہ بیان ہوا ہے۔

صفحہ ٢٩

میرے مریدوں کو کبھی طاعون نہیں پڑے گا۔ اگر طاعون سے بچنا ہے تو میرے مرید بن جاؤ اور اگر مرید بن کر بھی مر جاؤ تو یہ سمجھوں گا کہ تمہارا دل انکاری تھا۔ اس لئے جب قادیان میں طاعون پڑا تھا تو قادیان کے رہنے والے ٣١٣ مر گئے تھے۔ جن میں سے ایڈیٹر اخبار بدر بھی تھا۔ قرآن شریف کی تعریف میں کہا ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان نبی بن سکتا ہے اور دوسری مذہبی کتابوں سے نبی نہیں بن سکتا اور نہ ہی خدا کو دیکھ سکتا ہے۔

اس میں الحمد کا لفظ موجود ہے۔ جس سے میرا نام احمد مشتق ہوا ہے۔ محمد کا نام جلالی بھی اس سے ہی مشتق تھا۔ مگر وہ گذر چکا ہے۔ اب جمالی رنگ دکھایا گیا ہے۔ رحمانیہ بھی جلالی صفت ہے۔ اس کے بعد رحیمیت جمالی صفت کا اب ظہور ہوا ہے۔ یوم الدین سے مراد ظہور مسیح کا زمانہ ہے۔ کیونکہ اس وقت حکومت برطانیہ نے انصاف کرنا شروع کر دیا ہے اور صراط مستقیم نبوت حاصل کرنے کا طریق ہے کہ جس پر چلنے سے ہزاروں آدمی نبی کے مقام پر پہنچ گئے تھے۔ مگر مسیح کا نام مجھے ہی عنایت ہوا ہے۔ مغضوب علیہم سے فرقہ مولویان مراد ہے اور ضالین سے مراد پادری ہیں۔ کیونکہ جب میں محمد بن کر آیا تھا تو ان دو لفظوں سے عرب کے یہود و نصاریٰ مراد تھے اور اب جب کہ میں احمد کا روپ بدل کر آیا ہوں اور ظل محمدی کہلاتا ہوں تو مولوی اور پادری بھی پرانے یہودیوں اور پادریوں کے ظل ہوں گے۔ کیونکہ قرآن شریف میں مذکور ہے۔ ”کما بدأنا اوّل خلق نعیدہ “ ہم جیسے شروع کرتے ہیں ویسے ہی لوٹاتے ہیں تو اسلام کا آغاز جلالی رنگ میں تھا۔ اب دوسرا دورہ جمالی رنگ میں ہوا ہے تو جس طرح نبوت نے دوسرا پہلو دکھایا ہے اسی طرح یہودیت اور عیسائیت بھی دوسرا پہلو دکھا رہی ہے۔ (صاحبان اس تحریف قرآنی پر مرزا قادیانی یہ فخر کرتے تھے کہ میرے جیسی تفسیر قرآنی کوئی نہیں لکھ سکتا۔ چونکہ سورہ فاتحہ کی تفسیر میں اعجاز المسیح لکھی۔ جس پر بہت لعن طعن ہوئی اور اسی کا خلاصہ تفسیر آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے )

صفحہ ٣٠

پھر قادیان کی تعریف میں لکھتا ہے کہ لوگو!

زیارت کراتے ہیں۔ آج کل خدا کے نور دل میں امنڈتے چلے آرہے ہیں۔

ہیں۔ اتباع رسول سے مجھے یہ نور حاصل ہوئے ہیں۔

رسالت کی مہر بھی نہیں ٹوٹی۔ (اس تقریر نے تو مراقبت کا پورا ثبوت دے دیا ہے۔ کیونکہ لگا تار دعوے چلے آتے ہیں اور دلیل ایک بھی نہیں دی) اخیر میں لکھتا ہے۔

کیا ہوا؟ ہمارے تقدس کے سامنے لوگوں کی کیا جرات ہے کہ ہماری گندہ زبانیوں کو گالیاں سمجھیں)

اب ہم اشعار کا سلسلہ ختم کر کے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی اردو شاعری میں بالکل ہی طفل مکتب تھے۔ ملاحظہ ہو درختوں پر گل و اڈی لگانا، پھول کی جگہ پھل استعمال کرنا اور خان کی جگہ خانہ اور یون کہنا کہ کیا جوڑ ہے ان اشعار کے علاوہ بندش الفاظ بالکل کمزور ہے۔ انشاء اللہ کسی آئندہ مقام پر اس بیان کو مفصل ذکر کیا جائے گا۔ جہاں مرزائیوں کے سلطان القلم کی لیاقت علمی پر بحث ہوگی۔

صفحہ ٣١

کے بیماروں نے انسانیت سے بڑھ کر دعاوی کئے تھے اور پیش گوئیاں بھی کی تھیں۔ جو عموماً سچی نکلتی تھیں۔ مرزا قادیانی کو بھی چونکہ دوران سر اور مالخولیا مراقی تھا۔ اس لئے یہ کہنا بالکل آسان ہے کہ آپ کا خدائی دعویٰ، دعویٰ نبوت، دعویٰ مماثلت مسیح اور ظل و بروز وغیرہ یہ سب کچھ ان دونوں بیماریوں کا ہی اثر تھا۔ اگر تقدس کا بھوتنا آپ کو اجازت دیتا اور آپ علاج کراتے تو یقیناً آپ کو اس مخمصہ سے نجات مل جاتی۔ مگر جب دیکھا کہ مالخولیا کے باوجود قادیانی اندھے مانتے چلے جاتے ہیں تو علاج چھوڑ ہی دیا۔ بلکہ اس میں ترقی کرنے کے لئے وہ اسباب اختیار کئے گئے کہ جن سے تقدس میں بھی بڑھتا گیا اور دنیاوی زندگی کا لطف بھی آ گیا اور ایسی گدی قائم کر گئے جو جدی پشتی سے بھی بڑھ کر مفید ثابت ہوئی۔

اللہ فی حلل الانبیاء“ تناسخ کا مسئلہ صحیح ہے اور آپ نے درثمین کے مذکور الصدر شعروں میں یہ بھی بتایا ہے کہ خود مرزا قادیانی کی روح مختلف روپ بدلتی ہوئی آخری روپ میں آئی ہے۔ جس سے ہم اس نتیجہ تک پہنچ گئے ہیں کہ خدا کا انسان میں روپ بدلنا یا ایک روح کا مختلف انسانوں میں تبدیل ہو کر پھر آنا یہ دو عقیدے مرزا قادیانی کے نزدیک تسلیم شدہ تھے۔ اس لئے اگر آپ یہ دعویٰ کریں کہ میں خدا ہوں یا یوں کہیں کہ خدا مرزا ہے۔ یہ سب کچھ ماننا پڑے گا۔ علیٰ ہذا القیاس اگر مرزا قادیانی یوں ارشاد فرمائیں کہ میں محمد ہوں یا یوں لکھیں کہ محمد مرزا ہے۔ تب بھی صحیح ماننا پڑے گا۔ جیسا کہ آپ کی حسب ذیل تحریرات اس نکتہ آفرینی پر کافی روشنی ڈال رہی ہیں۔ مرزا قادیانی ١٩٠١ء سے پہلے اپنا مسلک صاف کرنے کے لئے بڑی جدوجہد سے کام کرتے رہے کہ جس میں ان کو کبھی نبی منذر ہونے کا دعویٰ کرنا پڑا۔ کبھی ختم رسالت کا مسئلہ سنگ راہ واقع ہوا۔ کبھی ظہور مہدی و مسیح کی پیشین گوئیاں ہمت بڑھاتی تھیں اور کبھی مسیح کے متعلق حیات ممات کے شکوک واوہام کا دفعیہ کرنا پڑتا تھا۔ غرضیکہ ١٩٠١ء تک آپ نے یہ تمام دشوار گھاٹیاں طے کر کے آخری منزل مقصود پر پہنچ کر اعلان کر دیا تھا کہ ”میرا کوئی حق نہیں ہے کہ رسالت یا نبوت کا دعویٰ کروں اور اسلام سے خارج ہو جاؤں اور جب میں مسلمان ہوں تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں ایسا دعویٰ کروں۔“

(حمامتہ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)

جس جگہ میں نے اپنی نبوت اور رسالت سے انکار کیا ہے۔ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ میں ایسا رسول یا نبی نہیں ہوں کہ جناب رسالت مآب کی شریعت کو منسوخ کر کے نئی شریعت

صفحہ ٣٢

آپ کے برخلاف قائم کروں اور میں اس سے کبھی انکار نہیں کر سکتا کہ جناب رسالت مآب کی تابعداری میں مجھے نبوت اور رسالت ضرور مل گئی ہے۔ علاوہ بریں نبی کے دو معنی ہیں۔ ایک وہ جو مستقل طور پر وحی پاتا ہو تو میں اس معنی کے رو سے نبی نہیں ہوں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ مکالمہ پانے والا بھی نبی ہوتا ہے اور جو خدا کا پیارا غیب کی خبریں خدا کی طرف سے حاصل کرے وہ بھی نبی ہوتا ہے اور جب مجھے مکالمہ الٰہیہ اور اخبار بالغیب حاصل ہیں تو نبی ہونے کا دعویٰ میری طرف سے صحیح ہوگا۔ جس کا مجھے انکار نہیں ہے اور جو لوگ مجھے اس بنیاد پر کافر کہتے ہیں کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ غلطی پر ہیں۔ کیونکہ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ہمارے ہاں نبوت کا کیا معنی ہے؟ ورنہ کبھی ایسی حرکت نہ کرتے۔

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، ٢١٢)

کیونکہ یہ ثابت حقیقت ہے کہ اصلی رسالت بالوحی (بغیر اقتداء کے) حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر منقطع ہو کر ختم ہو گئی ہے اور آپ کے بعد جو شخص نبوت مستقلہ کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے اور کافر ہے۔

(دین الحق ص ٢٧)

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ دو قسم کا ہے۔ اوّل یہ کہ پہلی شریعت کو منسوخ کرنے کے لئے کیا جاوے۔ جیسا کہ بہائی مذہب میں بہاء اللہ کو مستقل نبی اور ناسخ شریعت اسلامیہ مانا گیا ہے۔ دوم یہ کہ اسلامی خدمات کو اپنے ذمہ لینے کے لئے نبوت کا دعویٰ کیا جائے اور خدا کی طرف سے الہام پا کر نبوت کا خطاب حاصل ہو تو اس قسم کا نبی پکا مسلمان ہوتا ہے اور ایسی نبوت کفر نہیں ہے۔

جب مرزا قادیانی نے اپنی خانہ زاد منطق سے دو قسم کے ادعائے نبوت تجویز کر لئے اور اس اعتراض سے رہائی حاصل کی کہ ”جناب رسالت مآب کے بعد مدعی نبوت کافر ہوتا ہے۔“ تو دوسری ایک اور مشکل پیش آگئی وہ یہ تھی کہ جناب رسالت مآب کی نبوت چونکہ آخری نبوت تھی۔ اس لئے دعویٰ نبوت جدید اگرچہ تابعداری کی حیثیت میں کیا جائے غلط ہوگا۔ ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ حضور ﷺ کی نبوت آخری نبوت نہ تھی۔ مرزا قادیانی نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ: ”جب تابع نبی حضور ﷺ کا ظل اور سایہ ہوتا ہے اور وہ مانتا ہے کہ حضور ﷺ کی نبوت ہر طرح سے کامل تھی اور اس کی نبوت ناقص ہے تو اس کا مطلب یوں ہوا کہ میری نبوت حضور ﷺ کی نبوت کا ایک جزو ہے اور اسی میں داخل ہے۔“

(ازالہ ص ٥٧٥)

کیونکہ مجھے خدا نے اپنے رسول کا بروز بنایا ہے۔ (گویا آپ کی روح نے ہی نبوت کا

صفحہ ٣٣

آپ کے برخلاف قائم کروں اور میں اس سے کبھی انکار نہیں کر سکتا کہ جناب رسالت مآب کی تابعداری میں مجھے نبوت اور رسالت ضرور مل گئی ہے۔ علاوہ بریں نبی کے دو معنی ہیں۔ ایک وہ جو مستقل طور پر وحی پاتا ہو تو میں اس معنی کے رو سے نبی نہیں ہوں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ مکالمہ پانے والا بھی نبی ہوتا ہے اور جو خدا کا پیارا غیب کی خبریں خدا کی طرف سے حاصل کرے وہ بھی نبی ہوتا ہے اور جب مجھے مکالمہ الٰہیہ اور اخبار بالغیب حاصل ہیں تو نبی ہونے کا دعویٰ میری طرف سے صحیح ہوگا۔ جس کا مجھے انکار نہیں ہے اور جو لوگ مجھے اس بنیاد پر کافر کہتے ہیں کہ میں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ غلطی پر ہیں۔ کیونکہ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ہمارے ہاں نبوت کا کیا معنی ہے؟ ورنہ کبھی ایسی حرکت نہ کرتے۔

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١١، ٢١٢)

کیونکہ یہ ثابت حقیقت ہے کہ اصلی رسالت بالوحی (بغیر اقتداء کے) حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی اور حضرت محمد رسول اللہﷺ پر منقطع ہو کر ختم ہو گئی ہے اور آپ کے بعد جو شخص نبوت مستقلہ کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ہے اور کافر ہے۔

(دین الحق ص ٢٧)

اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبوت کا دعویٰ دو قسم کا ہے۔ اوّل یہ کہ پہلی شریعت کو منسوخ کرنے کے لئے کیا جاوے۔ جیسا کہ بہائی مذہب میں بہاء اللہ کو مستقل نبی اور ناسخ شریعت اسلامیہ مانا گیا ہے۔ دوم یہ کہ اسلامی خدمات کو اپنے ذمہ لینے کے لئے نبوت کا دعویٰ کیا جائے اور خدا کی طرف سے الہام پا کر نبوت کا خطاب حاصل ہو تو اس قسم کا نبی پکا مسلمان ہوتا ہے اور ایسی نبوت کفر نہیں ہے۔

جب مرزا قادیانی نے اپنی خانہ زاد منطق سے دو قسم کے ادعائے نبوت تجویز کر لئے اور اس اعتراض سے رہائی حاصل کی کہ ”جناب رسالت مآب کے بعد مدعی نبوت کافر ہوتا ہے“ تو دوسری ایک اور مشکل پیش آ گئی وہ یہ تھی کہ جناب رسالت مآب کی نبوت چونکہ آخری نبوت تھی۔ اس لئے دعویٰ نبوت جدید اگرچہ تابعداری کی حیثیت میں کیا جائے غلط ہوگا۔ ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ حضورﷺ کی نبوت آخری نبوت نہ تھی۔ مرزا قادیانی نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ: ”جب تابع نبی حضورﷺ کا ظل اور سایہ ہوتا ہے اور وہ مانتا ہے کہ حضورﷺ کی نبوت ہر طرح سے کامل تھی اور اس کی نبوت ناقص ہے تو اس کا مطلب یوں ہوا کہ میری نبوت حضورﷺ کی نبوت کا ایک جزو ہے اور اسی میں داخل ہے۔“

(ازالہ ص ٧٥)

کیونکہ مجھے خدا نے اپنے رسول کا بروز بنایا ہے۔ (گویا آپ کی روح نے ہی نبوت کا

دعویٰ کیا ہے) اور جب صورت محمدی کا ظہور ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے نبی اور رسول کہہ کر پکارا۔ اس لئے میرا نام محمد اور احمد بھی رکھا گیا۔ اب نبوت محمدیہ مجھ کو ہی مل گئی۔ کسی غیر کو نہیں ملی۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

(کمالات اسلام ص ٣٦ ملخص) میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ: ”جب کبھی بھی اسلام کے اندرونی فتنے پیدا ہوئے تو رسول اللہﷺ کی روحانیت نے اہل کمال میں روپ بدلا تھا۔ جن کا نام خدا تعالیٰ کے نزدیک محمد اور احمد رکھا گیا اور ایسے با کمال ظل نبی کہلاتے ہیں اور ایسے نبی ایک نہیں ہزاروں گزرے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠) میں ذکر کیا ہے کہ: ”نبوت کاملہ کا دروازہ ہر وقت بند ہے اور نبوت جزویہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے۔ جس میں کثرت مکالمہ اور مبشرات ومنذرات کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔“

(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٦٤) میں کہتے ہیں کہ: ”ہر قسم کی نبوت ختم ہو چکی ہے۔ مگر ایک قسم کی نبوت ہر وقت کھلی ہے۔ جس کا مفہوم صرف کثرۃ مکالمہ اور مبشرات ومنذرات ہیں۔ لیکن وہ بھی اتباع رسول علیہ السلام سے وابستہ ہے۔“

(ضمیمہ حقیقت النبوۃ ص ٢٢) میں لکھا ہے کہ: ”میں اپنی نبوت سے مراد صرف کثرۃ مکالمہ لیتا ہوں اور ایسی نبوت اہل السنت والجماعت کے نزدیک بھی تسلیم شدہ امر ہے اور جو شخص اس نبوت کے سوا کسی اور قسم کی نبوت کا مدعی ہے۔ اس پر خدا کی لعنت ہو۔“

(چشمۂ معرفت ص ٣٢٤، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠) میں لکھا ہے کہ: ”حضور کی ذات سے تمام کمالات نبوۃ ختم ہو گئے۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہ ہوئی۔ یعنی وہ نبوت جو آپ کی تابعداری سے حاصل ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ آپ کی نبوت کا ہی ظل اور مظہر ہے۔“

ان عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”نبوت تابعہ چونکہ ختم رسالت کا ظل ہے۔ اس لئے اس کا وجود کوئی اور وجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ نبوت نبوت محمدیہ کا مظہر اور جمالی رنگ ہے۔“

بہر حال مرزا قادیانی نے تناسخ اور حلول کی بنیاد پر اپنی نبوت کی عمارت کھڑی کی ہے اور ان کا یہ لکھنا بالکل غلط ہے کہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک نبوت تابعہ جاری ہے۔ کیونکہ صوفیائے کرام نے جن کمالات نبوت کے جاری رہنے کا یقین کیا ہے۔ ان کا نام کرامت رکھا ہے۔ ان کے نزدیک منصب نبوت سے اس کو تعبیر کرنا کفر ہے۔ جیسا کہ آئندہ کسی موقعہ پر اس کی تصریح کی جائے گی۔ چونکہ مرزا قادیانی کا دماغ صحیح نہ تھا۔ اس لئے تصریحات صوفیہ کو انہوں نے

صفحہ ٣٤

خواہ مخواہ نبوت تابعہ سمجھا اور تمام صوفیاء اولیاء واصفیاء کو بھی نبی بنا کر چھوڑا۔ حالانکہ امت محمدیہ میں کسی مقبول بارگاہ یزدانی سے دعویٰ نبوت نہیں سنا گیا اور اگر نبوت تابعہ صرف کمال اتباع کا نام رکھا جائے اور تھوڑی دیر کے لئے مرزا قادیانی کی خانہ زاد اصطلاح کے مطابق ولی اور نبی کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کیا جائے تو مرزا قادیانی کا یہ کہنا غلط ہو جائے گا کہ : ”میرا منکر کافر ہے۔“ حالانکہ کسی ولی پر ایمان لانا اسلام میں ضروری قرار نہیں دیا گیا۔ مثلاً جناب شیخ المشائخ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تمام اولیاء کے سرتاج مانے گئے ہیں۔ مگر آپ نے یہ نہیں لکھا کہ میرا منکر کافر ہے تو پھر مرزا قادیانی کو کیا حق حاصل ہے کہ اپنے منکر کو کافر کہیں۔ اگر کھینچ تان کر یہ ثابت کیا جائے کہ مرزا قادیانی چونکہ ظل نبی ہیں تو ان کا انکار کرنا گویا خود نبی علیہ السلام کا انکار کرنا ہوگا۔ تو یہ استدلال ہر مسلمان تابع رسول کے حق میں بھی جاری ہو سکتا ہے کہ جس کی ظلیت اور اتباع کو مرزا قادیانی بھی مانتے ہیں اور اس میں جناب کی خصوصیت نہیں رہتی۔ اصل بات یہ ہے کہ مراقی الدماغ کو اپنے تقدس کی جب دھن لگ جاتی ہے تو بے ثبوت باتیں گھڑتا چلا جاتا ہے اور بناء الفاسد علی الفاسد کی بنیاد پر اپنے آپ کو خدا سے جاملاتا ہے اور جب ثبوت طلب کرو تو جیب خالی نظر آتی ہے۔ ہاں مریدوں کو خوش کرنے کا مصالحہ خوب تیار کیا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک پیر کے ملفوظات وحی الٰہی کا حکم رکھتے ہیں۔ لیکن جو شخص ابھی تک حلقہ ارادت سے باہر کھڑا ہے اس کے نزدیک سوائے شطحیات کے یہ ملفوظات اور کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہمارے خیال کی تصدیق خود مرزا قادیانی کے اقوال ہیں کہ جن میں علانیہ بیان کیا ہے کہ میرا منکر کافر نہیں ہے۔

چنانچہ (ملفوظات ج ١٠ ص ٤٢٧) میں جو اقوال مرزا قادیانی کے شائع ہوئے ہیں۔ ان میں لکھا ہے کہ : ”مرزا قادیانی نے اپنی وفات سے پہلے ایک دن فرمایا تھا کہ جو ہم کو کافر نہیں سمجھتا ہم اسے کافر نہیں سمجھتے۔ لیکن جو ہمیں کافر کہتا ہے۔ اگر ہم اس کو کافر نہ جانیں تو حدیث شریف کا خلاف ہوگا۔“ اس قول میں اپنے تقدس کو بالائے طاق رکھ کر وجہ تکفیر میں اپنی نبوت کو پیش نہیں کیا بلکہ یہ وجہ گزاری ہے کہ مسلمان کو کافر کہنا کفر ہوتا ہے اور یہ بالکل صحیح ہے۔

رہتے ہیں کہ جب مرزائیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام مرچکے ہیں تو مرزا کہاں سے مسیح بن گیا؟ اور اگر مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی بن کر آئے ہیں تو ان کے صفات ان میں کہاں موجود ہیں؟ اور چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے سے پہلے ظہور امام مہدی علیہ السلام ضروری تھا تو وہ کب ظاہر ہوئے اور اگر خواہ مخواہ مرزا قادیانی امام مہدی تھے تو ان میں امام

صفحہ ٣٥

صوفیاء اولیاء واصفیاء کو بھی نبی بنا کر چھوڑا۔ حالانکہ امت محمدیہ میں ئی نبوت نہیں سنا گیا اور اگر نبوت تابعہ صرف کمال اتباع کا نام رکھا رزا قادیانی کی خانہ زاد اصطلاح کے مطابق ولی اور نبی کو ایک پلیٹ یانی کا یہ کہنا غلط ہو جائے گا کہ: ”میرا منکر کافر ہے“۔ حالانکہ کسی دی قرار نہیں دیا گیا۔ مثلاً جناب شیخ المشائخ حضرت شیخ عبدالقادر مانے گئے ہیں۔ مگر آپ نے یہ نہیں لکھا کہ میرا منکر کافر ہے تو پھر ہے کہ اپنے منکر کو کافر کہیں۔ اگر کھینچ تان کر یہ ثابت کیا جائے کہ ن کا انکار کرنا گویا خود نبی علیہ السلام کا انکار کرنا ہوگا۔ تو یہ استدلال بھی جاری ہو سکتا ہے کہ جس کی ظلیت اور اتباع کو مرزا قادیانی بھی ا خصوصیت نہیں رہتی۔ اصل بات یہ ہے کہ مراقی الدماغ کو اپنے ہے تو بے ثبوت باتیں گھڑتا چلا جاتا ہے اور بناء الفاسد علی الفاسد کی ملاتا ہے اور جب ثبوت طلب کرو تو جیب خالی نظر آتی ہے۔ ہاں خوب تیار کیا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک پیر کے ملفوظات وحی الٰہی کا بھی تنگ حلقہ ارادت سے باہر کھڑا ہے اس کے نزدیک سوائے بھی نہیں ہیں۔ ہمارے خیال کی تصدیق خود مرزا قادیانی کے اقوال یا ہے کہ میرا منکر کافر نہیں ہے۔

، ص٧٧) میں جو اقوال مرزا قادیانی کے شائع ہوئے ہیں۔ ان نے اپنی وفات سے پہلے ایک دن فرمایا تھا کہ جو ہم کو کافر نہیں سمجھتا جو ہمیں کافر کہتا ہے۔ اگر ہم اس کو کافر نہ جانیں تو حدیث شریف کا پنے تقدس کو بالائے طاق رکھ کر وجہ تکفیر میں اپنی نبوت کو پیش نہیں کیا کو کافر کہنا کفر ہوتا ہے اور یہ بالکل صحیح ہے۔

ماثلة بالمسیح علیہ السلام“ عام لوگ اس اشتباہ میں پڑے کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام مر چکے ہیں تو مرزا کہاں سے مسیح ضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی بن کر آئے ہیں تو ان کے صفات ان میں ضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے سے پہلے ظہور امام مہدی علیہ اہر ہوئے اور اگر خود ہی مرزا قادیانی امام مہدی تھے تو ان میں امام

صاحب کا حلیہ اور اوصاف کہاں ملتے ہیں؟ اور یہ شبہ بھی پڑتا ہے کہ جب مرزا قادیانی امام مہدی اور حضرت مسیح دونوں بنتے ہیں تو دونوں کے اوصاف کا ان میں موجود ہونا ناممکن ہوگا۔ کیونکہ ایک شخص میں دو آدمیوں کا حلیہ اور صفات کا پایا جانا قرین قیاس نہیں ہے۔ بالخصوص جب کہ ایک جوان ہو اور دوسرا جوانی گزار چکا ہو تو ایسے دو شخصوں کا رنگ ڈھنگ اور وضع قطع بالکل ہی الگ ہوتی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا دعویٰ بالکل غلط ہے۔ مگر عوام الناس یہ نہیں جانتے کہ مرزا قادیانی نے ان مشکلات کو کس طرح حل کر لیا ہوا ہے اور کس طرح ان تمام اعتراضات سے بچ کر نکل گئے ہیں کہ غیر احمدی دیکھتے ہی رہ گئے ہیں۔

اور ان حالات کے بعد جب یہ سوالات پیش کئے جاتے ہیں تو مرزائی مناظر یوں کہہ کر ٹال دیتے ہیں کہ تم کو اسلام کی کچھ بھی خبر نہیں ہے۔ مرزا قادیانی بھی ایسے آدمیوں کو اپنی تصنیف میں نادان اور جاہل کہہ گئے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اس موقعہ پر اپنے مراق کے زور سے یوں تخیل جما رکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تو مر گئے ہیں اور جن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام یا عیسیٰ ابن مریم آسمان سے اتریں گے تو چونکہ کوئی مردہ اس دنیا میں واپس نہیں آیا اور نہ آتا ہے۔ اس لئے اس نزول عیسیٰ سے یہ مراد ہے کہ امت محمدیہ میں ایک ایسا شخص پیدا ہوگا کہ جس کو خدائے تعالیٰ اپنے الہام میں عیسیٰ کے نام سے پکارے گا اور وہ ابن مریم (ایک پاکدامن عورت کا بیٹا) بن کر ظاہر ہوگا تو گویا مسیح کا لفظ تین مقام پر استعمال ہوا ہے۔ ایک: مسیح دجال پر کہ جس سے مراد پادری یا عیسائی لوگ مراد ہیں۔ دوم! مسیح ناصری پر جو ابن مریم موضع ناصرہ کے باشندہ تھے اور بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور واقعہ صلیب کے بعد کشمیر میں ٨٧ برس روپوش ہو کر مر گئے اور محلہ خانیار میں دفن ہوئے۔ سوم! مسیح محمدی پر جس کے متعلق احادیث میں آیا ہے کہ قتل خنزیر اور کسر صلیب کرے گا۔ جس سے مراد یہ ہے کہ عیسائیوں کا مقابلہ کرے گا اور نصرانیت کو جڑ سے اکھیڑ دے گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ لکھ کر عیسائی مذہب کی بنیاد کھوکھلی کر دی ہے اور اپنے زمانہ میں مرزا قادیانی ہی ہدایت پر قائم ہیں۔ ان کے منکر جس قدر بھی ہیں سب گمراہ یا کافر ہیں۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ ”لا مهدی الا عيسیٰ“ مہدی اور عیسیٰ ایک ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی ہی امام مہدی بھی ہیں اور چونکہ مسیح محمدی کے متعلق یہ لکھا ہے کہ وہ حاکم فیصل ہو کر آئیں گے۔ اس لئے مرزا قادیانی کو پورا اختیار ہے کہ اپنے اجتہاد سے جس مسئلہ اسلامی کو چاہیں مسترد کر دیں اور جس مسئلہ کو چاہیں قبول کریں اور یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے تفسیر اپنی گھڑ لی ہے اور مطلب کی حدیثیں چن لی ہیں۔ اگرچہ وہ موضوع تھیں۔

صفحہ ٣٦

باقی احادیث کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ اگرچہ وہ صحیح اور بالکل سچی تھیں۔ کیونکہ اس وقت احادیث کے صحت وسقم کا معیار صرف مرزا قادیانی کی ذات مبارک ہے اور بس۔

ناظرین کرام! اس مرائی اور بے دلیل داستان سازی سے بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ مرزا قادیانی نے اسلام میں اپنا مذہب قائم کرنے میں کس قدر جرأت سے کام لیا ہے اور کس طرح اسلام کا پہلو بدل ڈالا ہے۔ اہل اسلام کو فخر تھا کہ قرآن وحدیث کے مفہوم کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ مگر یہاں آ کر یہ دعویٰ ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ مسیح محمدی کا مسئلہ ایجاد کرنا احادیث کی صحت وسقم کا معیار اپنی رائے کو قائم کرنا ۔ قرآن شریف کی آیات میں تصرف جدید سے نئے نئے مفہوم پیدا کرنا صاف بتلا رہا ہے کہ مرزا قادیانی نے گو لفظ تو اسلام کے تبدیل نہیں کئے۔ مگر معنی اور مفہوم تبدیل کرنے میں ساری کسر نکال دی ہے اور اس پر یہ شوخی و ڈھٹائی ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک قرآن شریف کا ایک حرف یا ایک حرف کا شوشہ بھی منسوخ نہیں ہوا اور باایں ہمہ اپنے الہامات کو قرآن شریف کی طرح قطعی اور وحی ربانی تصور کیا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے خیال میں قرآن شریف کی تکمیل ان الہامات کے ذریعہ سے ہوئی ہے۔ ورنہ اسلام نامکمل تھا۔ جیسا کہ درثمین کی نظم میں مذکور ہو چکا ہے۔

جن لوگوں نے بہائی مذہب کا مطالعہ کیا ہے وہ سمجھ چکے ہیں کہ جو کچھ بھی مرزا قادیانی نے چالیں چلیں ہیں۔ سب کی سب بہائی مذہب سے سیکھی ہیں۔ مگر ذرہ نوعیت میں فرق کر لیا ہے تا کہ لوگوں کو سرقہ مذہبی کا شبہ نہ پڑے۔ فرق صرف اتنا رکھ لیا ہے کہ بہائی مذہب کے بانی نے صاف کہہ دیا تھا کہ قرآن شریف بحکم آیت : "ولكل اجل كتاب “ اس زمانہ میں قابل تعمیل کتاب نہیں رہی۔ اس لئے ضرورت تھی کہ دوسری کتاب نازل ہو۔ چنانچہ کتاب اقدس لکھی گئی ۔ جس میں اسلام کو منسوخ کر دکھلایا اور اسی قسم کے اور رسائل لکھے کہ جن میں مناظرانہ پہلو اختیار کر کے اپنی نبوت اپنی وحی اور اپنے الہام کو ثابت کیا۔ مگر اہل اسلام نے اس کو کافر مطلق قرار دے کر ایران میں قتل کیا اور اس کی تعلیم کو زندقہ اور ارتداد ثابت کیا۔ جب اس کا ایران میں خاتمہ ہو گیا اور اس کی تعلیم سے مرزا قادیانی متاثر ہو چکے تو جناب نے نبوت کا دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔ مگر صفائی یہ کی کہ بظاہر اس ایرانی نبی کے خلاف اپنے مذہب کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے قرآن کے الفاظ کو تو نہ بدلا لیکن اس کے مفہوم پر جو تیرہ سو سال سے اہل اسلام مسلمہ طور پر تسلیم کیا جا چکا تھا۔ اپنے الہام کی آڑ میں چھاپہ مارا اور احادیث کا تو سرے سے ہی انکار کر دیا۔ سوائے ان احادیث کے جو ان کے مطلب کی ٹھہریں اور اسی طرز تنسیخ سے ثابت کر دیا کہ ایرانی مسیح (بابی مذہب بہائی )

نے قرآن کو قطعاً منسوخ کر دیا اور قابل عمل نہ ر اس کے اندر ہی اندر سے جڑیں اکھیڑ ڈالیں او کہلاتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ دورخی چال سے مفتری کا خطاب دے کر مسترد کیا اور مسیح ایرانی ک ان کے نزدیک یہ امر پایہ تحقیق تک پہنچ چکا تھا اندرونی دشمن زیادہ مضر واقع ہوتا ہے۔

ج ...... دعویٰ نبوت : مرزا قادیا

اور پرہیزگاری پر رکھی ۔ پھر خوابوں کے ذریعہ ا۔ ان کی طرف سے خیر خواہی کرتے رہے اور جو خو کہ وہ مرزا قادیانی کے حق میں مفید پڑتا۔ لیکن سوداوی آوازوں کو فرشتہ کی آواز سمجھنے لگے۔ نق دولت بھی جمع ہو گئے تو امام مہدی بننے کی سوجھ طرفداری چھوڑ دی اور الگ ہو گئے اور اس مسئ زور پکڑ لیا اور حکیم نورالدین اور حکیم حسن امروہ چاروں طرف سے تردید کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ الصدر حکیم جان توڑ کوشش سے اخیر دم تک لڑ۔ لکھ مارے۔ آخر جب مذہب مرزائیت کی بنیا مسیح محمدی کا رنگ بدلا اور اس نو پیدا خیال پرا۔ کے ذریعہ سے یہی کہتے رہے کہ خدا تعالیٰ نے امت محمدیہ میں سے کسی ایک پر بھی یہ مسئلہ منک ہو چکی تو یہ منوانا شروع کر دیا کہ مسیح کا لفظ نبوت خاتم الانبیاء کے ماتحت ہیں۔ ورنہ ایرانی مسیح ک بھی گزر گئی تو اپنی وفات سے پہلے جو تازہ ترین کہ ہم بفضل خدا نبی اور رسول ہیں۔ جس کا مط درجہ حاصل ہو گیا ہے اور تمام ابتدائی مدارج ۔ ١٩٠٨ء میں اعلان کیا تھا کہ: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ

صفحہ ٣٧

نے قرآن کو قطعاً منسوخ کر دیا اور قابل عمل نہ رہنے دیا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی استادی سے اس کے اندر ہی اندر سے جڑیں اکھیڑ ڈالیں اور بظاہر اسلام کے خیرخواہ، دردمند اور مبلغ اسلام کہلاتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ دورخی چال سے علماء اسلام نے مرزا قادیانی کو دجال، کذاب اور مفتری کا خطاب دے کر مسترد کیا اور مسیح ایرانی کی طرح مسیح قادیانی کو بھی جوتہ سے ٹھکرا دیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک یہ امر پایہ تحقیق تک پہنچ چکا تھا کہ (عدو خانگی اضر من عدو فاتح) کھلم کھلا دشمن سے اندرونی دشمن زیادہ مضر واقع ہوتا ہے۔

ج ...... دعویٰ نبوت: مرزا قادیانی نے اپنے دعاوی کی بنیاد پہلے پہل اپنے تقویٰ اور پرہیزگاری پر رکھی۔ پھر خوابوں کے ذریعہ اپنے مراقی خیالات شائع کئے اور علمائے اہل اسلام ان کی طرف سے خیرخواہی کرتے رہے اور جو خواب یا الہام بھی ہوتا اس کی تاویل ایسے طور پر کرتے کہ وہ مرزا قادیانی کے حق میں مفید پڑتا۔ لیکن مرزا قادیانی نے جب بلند پروازی شروع کی اور سوداوی آوازوں کو فرشتہ کی آواز سمجھنے لگے۔ تقدس کا زور ہو گیا۔ مریدوں کی کثرت ہو گئی۔ مال و دولت بھی جمع ہوگئے تو امام مہدی بننے کی سوجھی اور اس وقت علمائے اسلام نے مرزا قادیانی کی طرفداری چھوڑ دی اور الگ ہوگئے اور اس مسئلہ میں حیص بیص شروع کر دی۔ مگر جب الہام نے زور پکڑ لیا اور حکیم نورالدین اور حکیم احسن امروہی ساتھ شامل ہوگئے تو مثیل مسیح بننے کا دعویٰ کیا اور چاروں طرف سے تردید کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ تب مرزا قادیانی کی طرفداری میں دونوں مذکور الصدر حکیم جان توڑ کوشش سے اخیر دم تک لڑتے رہے اور مخالفین کی تردید میں بہت سے رسالے لکھ مارے۔ آخر جب مذہب مرزائیت کی بنیاد پڑ گئی اور منارۃ المسیح بنایا گیا تو مثیل مسیح کی بجائے مسیح محمدی کا رنگ بدلا اور اس نو پیدا خیال پر ایسے اڑ گئے کہ باوجود ہزار تردیدوں کے اپنے الہام کے ذریعہ سے یہی کہتے رہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کشف کے ذریعہ یہ مسئلہ بتایا ہے اور آج تک امت محمدیہ میں سے کسی ایک پر بھی یہ مسئلہ منکشف نہیں ہوا۔ اس کے بعد جب یہ وادی بھی طے ہوچکی تو یہ منوانا شروع کر دیا کہ مسیح کا لفظ نبوت پر شامل ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی نبی ہیں۔ مگر خاتم الانبیاء کے ماتحت ہیں۔ ورنہ ایرانی مسیح کی طرح اسلام مٹانے کو نہیں آئے اور جب یہ منزل بھی گذر گئی تو اپنی وفات سے پہلے جو تازہ ترین پرچہ اخبار عام لاہور کا چھپا تھا اس میں اعلان کر دیا کہ ہم بفضل خدا نبی اور رسول ہیں۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ تمام قیود سے پاک ہو کر نبوت مطلقہ کا درجہ حاصل ہو گیا ہے اور تمام ابتدائی مدارج طے ہو چکے ہیں اور اس سے پہلے اخبار بدر ٥؍مارچ ١٩٠٨ء میں اعلان کیا تھا کہ: ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم نبی اور رسول ہیں“

(ملفوظات ج١٠ ص١٢٧)

صفحہ ٣٨

...... دعویٰ الوہیت: (آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں مرزا قادیانی نے قرب نوافل کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے استدلال کے موقعہ پر یوں لکھ دیا ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہو گیا تو میرا غصہ اس کا غصہ ہو گیا۔ میرا حلم اس کا حلم ہو گیا۔ میری حلاوت اور تلخی اس کی حلاوت اور تلخی ہو گئی اور میری حرکت سکون اسی کی حرکت وسکون ہو گئی اور جب میں اس حالت میں مستغرق تھا تو میں یوں کہہ رہا تھا کہ اب ہمیں اپنا نظام جدید پیدا کرنا چاہئے اور نئی زمین بنانی چاہئے تو میں نے زمین و آسمان بالاجمال پیدا کئے۔ جس میں ترتیب وتفریق نہ تھی تو پھر میں نے ترتیب وتفریق شروع کر دی۔ جب کہ میں نے دیکھا کہ خدا خود ترتیب وتفریق پیدا کرنا چاہتا ہے۔ تب میں نے یقین کیا کہ میں اس کے پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہوں۔ تو میں نے پہلا آسمان پیدا کر لیا اور کہا کہ: ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ پھر میں نے کہا کہ: ”نريد ان نخلق الانسان من سلالة من طين“ ہم انسان کو کچی مٹی سے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔“

(توضیح المرام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ٧٤ ملخصاً) میں لکھتے ہیں کہ میرا مقام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام وہ ہے کہ اگر ہم دونوں خدا کے بیٹے ہونے کا دعویٰ کریں تو صحیح ہوگا اور عنقریب میں دعویٰ کروں گا کہ میں خود خدا ہوں اور مجھ سے الوہیت کا دعویٰ ظاہر ہوگا اور میری تصدیق کرنے والے اسے مان لیں گے۔

براہین احمدیہ کا مشہور الہام ہے کہ خدا نے مجھے کہا: ”انا منك وانت منى انت منى بمنزلة توحيدی وتفريدی“ میں تجھ سے ہوں اور تو مجھ سے۔ تو میری توحید و یکتائی کی جگہ ہے۔

(براہین احمدیہ ص ٤٨٩، خزائن ج ١ ص ٥٨١، حقیقت الوحی ص ٧٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

اس موقعہ پر مرزائی تاویل کرتے ہیں کہ زمین و آسمان پیدا کرنے کے متعلق خواب تھا الہام نہ تھا۔ مگر ”انا منك وانت منى“ تو ضروری الہامی صورت میں ہیں۔ اس لئے اگر پہلا دعویٰ الہام نہ بھی ہو تو دوسرے الہام ملانے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے یوں دعویٰ کیا تھا کہ:

نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ مرزا غلام احمد اور خدا تعالیٰ ایک بھی ہیں اور تین

صفحہ ٣٩

بھی اور یہی تثلیث ہے جو اناجیل میں مذکور ہے۔ اور تثلیث کا ماننے والا جب اسلام سے خارج از اسلام قرار دیا گیا ہے تو خود مدعی تثلیث کب اسلام میں داخل رہ سکتا ہے؟

اس موقعہ پر تناسخ کا مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ مرزا قادیانی تناسخ کے قائل تھے۔ مگر صرف اپنے لئے اور اپنے تقدس کے واسطے۔ کیونکہ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٤، خزائن ج ٥ ص ٢٥٤ ملخصاً) میں لکھتے ہیں کہ جب حضرت مسیح کو اس زہریلی ہوا کا پتہ لگ گیا جو عیسائیوں میں چل رہی تھی تو آپ کی روح نے آسمان سے اترنے کے لئے حرکت کی اور یاد رکھو کہ وہ روح میں ہی ہوں۔

اور اسی (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٥٤، خزائن ج ٥ ص ٢٥٤ ملخصاً) میں بھی لکھتے ہیں کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کی روح کو عیسائیوں کی دجالیت کا علم ہوا اور صفت دجالیت عیسائیوں میں کمال تک پہنچ گئی تو وہ روح حرکت میں آئی۔ خواجہ کمال الدین نے اپنی کتاب (کرشن اوتار ص ٣٠) میں اس مشتبہ دعویٰ کا سارا بھید کھول کر رکھ دیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ کرشن اپنے وقت میں بے شک ہو گذرا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کو قدرت ہے کہ اپنے ایک ہزار مظہر کرشن کی مانند پیدا کرے۔ چنانچہ وہی ہوا۔ مثلاً پہلا کرشن اوتار نبی عرب جناب محمد رسول اللہ ﷺ عرب میں ظاہر ہوئے اور ان دنوں میں آخری کرشن اوتار مرزا غلام احمد قادیانی ہیں۔ اب ان تصریحات کے ہوتے ہوئے کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرزائی تعلیم میں تناسخ اور روپ بدلنے کا مسئلہ ہندوؤں کی طرح تسلیم شدہ امر نہیں ہے۔ کچھ مرزائی اس سے نفرت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’انا منك وانت منی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ میں اور تو ہادی خلق ہونے میں متحد ہیں۔ گویا اس جگہ بعض صفات کے لحاظ سے محبت کے طور پر یہ لفظ کہا ہے۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا ’’فمن تبعنی فانہ منی‘‘ میرے تابعدار مجھ سے ہیں اور خود نبی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ: ’’سلمان منا اهل البيت‘‘ حضرت سلمان علیہ السلام ہم میں سے ہیں۔ لیکن یہ عذر قابل تسلیم نہیں ہے۔ کیونکہ انسان تو دوسرے انسان کے متعلق اتحاد صفاتی کا دم بھر سکتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ نے اپنی صفات اور اپنی ذات میں نہ کسی کو آج تک شریک کیا ہے اور نہ کرے گا۔ ورنہ توحید کا نام بھی نہیں رہتا اور اسلام اور شرک میں صرف لفظی فرق رہ جاتا ہے۔ ورنہ دونوں کا انجام ایک ہی نکلتا ہے اور یہ بالکل جھوٹ ہے۔

ان تمام حوالہ جات اور دعاوی سے ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو مراق اور دوران سر ضرور تھا۔ جس کی وجہ سے ان کی دماغی حالت بالکل خراب تھی اور جو جو علامات طبیبوں نے لکھے ہیں۔ سب کے سب آپ میں موجود تھے اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم مرزا قادیانی کو آپ کی

صفحہ ٤٠

آخری گھڑی تک بھی صحیح المزاج تسلیم کریں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا سارا لٹریچر ہی اس قسم کا ہے کہ کسی جگہ کچھ کہتے ہیں اور دوسری جگہ اس کے خلاف کہنے لگ جاتے ہیں اور مریدوں کو مصیبت آ پڑتی ہے کہ دونوں مخالف اقوال کو کیسے درست کر کے دکھلائیں۔ اس لئے کچھ تو تنگ آ کر کہہ دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اس موقعہ پر غلطی لگی تھی۔ کیونکہ اجتہادی مسائل میں غلطی کا ہونا بہت ممکن ہے۔ لیکن جس بحث کو ہم نے چھیڑا ہوا ہے وہ اجتہادی نہیں ہے۔ بلکہ الہامی اور کشفی ہے۔ اس میں غلطی کا اعتراف کرنا ان کے خدا اور الہام کرنے والے کو غلط کر دینے کے برابر ہوگا۔

کچھ مرزائی ایسے بھی ہیں کہ جن کو مخالفین کی بات کا کچھ تصور ذہن میں آجاتا ہے اور وہ کچھ ہٹ دھرمی سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے موقعہ پر ان کا یہ عذر ہوتا ہے کہ ایسے الہامات متشابہات ہیں۔ ہم کو ان کا علم نہیں ہے۔ گویا ایک شخص دعوٰی الوہیت یا تثلیث کر رہا ہے۔ ہم اس کو یوں ہی ٹال دیتے ہیں کہ یہ آیت متشابہ ہے۔ بھلا یہ کون سا اسلام ہے اور کون سی دینداری ہے۔ ورنہ جس قدر اسلام میں ایسے مدعی واجب القتل قرار پا کر جہنم رسید ہو چکے ہوں۔ کہنا پڑتا ہے کہ وہ بھی صحیح الاسلام تھے اور ان کا دعوٰی بھی کسی تاویل کے ماتحت صحیح تھا۔ حالانکہ خود مرزائی مانتے ہیں کہ مسیح ایرانی واجب القتل تھا۔ کیونکہ اس نے بھی نبوت اور الوہیت کا دعوٰی کیا تھا۔ مگر فرق اتنا ہے کہ اس نے نئی شریعت کا دعوٰی کیا تھا اور مرزا قادیانی نے تجدید اسلام کا دم بھرا تھا۔ جس کے ضمن میں وہ سب کچھ کر گزرے تھے جو مسیح ایرانی نے قتل ہونے تک کرنا تھا۔

ایک محقق لکھتا ہے کہ مراق مرزا کا ثبوت محتاج دلیل نہیں ہے۔ جو لوگ قبر مسیح کے متعلق مرزا قادیانی کی تحریر پڑھتے ہیں کہ مسیح کی قبر کوہ جلیل میں ہے۔ یا یروشلم میں یا مدینہ منورہ میں یا کشمیر میں یا جنہوں نے ازالۃ الاوہام کی ان عبارتوں کا مطالعہ کیا ہے کہ جن میں مرزا قادیانی یوں رقمطراز ہیں کہ جس مہدی اور مسیح کا انتظار تھا۔ وہ میں ہی ہوں اور جب کوئی خیال کرتا ہے تو لکھ دیا ہے کہ جو مسیح دمشق میں اترے گا۔ میں اس سے انکار نہیں کر سکتا اور ممکن ہے کہ خونی مہدی بھی پیدا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ میرے جیسے ہزاروں مسیح اور مثیل مہدی پیدا ہوں یا جنہوں نے وفات مسیح کے متعلق مرزا قادیانی کا استدلال توفیتنی سے پیش کیا ہوا پڑھا ہے کہ جس میں وہ کبھی اس کو ماضی بناتے ہیں اور کبھی مضارع۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ ایسے کلمات صحیح الدماغ کی زبان سے نہیں نکل سکتے۔ اس لئے جو کچھ بھی مرزا قادیانی نے کہا ہے یا کیا ہے۔ اپنے مراق مالیخولیا اور دوران سر کے ماتحت کیا ہے۔ ورنہ صحیح المزاج ایسے متضاد اور مشتبہ اقوال سے ضرور اجتناب کرے گا۔

اس موقعہ پر مرزائی الزامی طور پر جواب دیا کرتے ہیں کہ اگر مخالفین نے

مرزا قادیانی کو مجنون یا مختل الدماغ کیونکہ آپ کو بذریعہ الہام کہہ دیا گیا۔ تھے۔ یہ لوگ وہی گالیاں دیں گے اور تھے۔ اس عذر کی تردید میں ہم یہ نہیں نہیں دیا۔ کیونکہ مراق اور جنون ایک ہے اور جنون میں مراقیہ علامات نہایت مجنوں کہنے کے مساوی ہے۔ لیکن اس کسی نے اپنے مراق یا جنون کا خود ا بلکہ اس کو اپنی صداقت کا نشان بتلا حالت پر قیاس کرنا کیوں جہالت نہ آپ کو صاف نظر پڑے گا۔ ”قل انـ دیوانہ یا مجنون کہتے ہیں ان سے صر میرے دماغ کی تشخیص کرو کہ آیا میر مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کو ا کہ رسول علیہ السلام کے دماغ میں فـ حضور ﷺ کا ظہور ثانی بتلاتے ہیں کبھی کوئی چیلنج دیا ہے کہ کوئی ثابت کرے میـ کہا جاتا ہے کہ ہمارا دماغ ٹھیک نہیں ہے بھی اہل حق عقل کے نزدیک ناممکن ہے ہمیں افسوس ہے کہ مرزا قا یا ادعائے نبوت کیا ہے ان کو تو یوں کہہ کـ کام نہیں کر سکتا تھا۔ حالانکہ ان کا اپنا ا دیوانگی کا اقرار کرتے ہیں اور یہ مریدان ہے کہ شاید تصدیق کنندگان بھی ایسے ہو (بدر ٦؍ دسمبر ١٩٠٦ء ص ٤) میں تھا عیسوی نے خلیفہ وقت ہونے کا دعویٰ

صفحہ ٤١

مرزا قادیانی کو مجنون یا مختل الدماغ کہہ دیا ہے تو یہ سب کچھ آپ کی صداقت کا نشان ہوگا۔ کیونکہ آپ کو بذریعہ الہام کہہ دیا گیا ہے کہ: ”مایقال لک الا ماقد قیل للرسل“ تجھے یہ لوگ وہی گالیاں دیں گے اور وہی اتہام لگائیں گے جو پہلے انبیاء کے بارے میں کہتے تھے۔ اس عذر کی تردید میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کبھی ہم نے مرزا قادیانی کو مجنون کا خطاب نہیں دیا۔ کیونکہ مراق اور جنون ایک ہی ہوتے ہیں۔ صرف فرق اتنا ہے کہ مراق کمزور ہوتا ہے اور جنون میں مراقیہ علامات نہایت شدت سے ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو مراقی کہنا گویا مجنوں کہنے کے مساوی ہے۔ لیکن اس عذر کی تردید یوں ہوسکتی ہے کہ انبیاء سابقین میں سے کسی نے اپنے مراق یا جنون کا خود اقرار نہیں کیا اور مرزا قادیانی خود اقرار ہی نہیں کرتے۔ بلکہ اس کو اپنی صداقت کا نشان بتلاتے ہیں تو پھر مرزا قادیانی کی حالت کو دوسرے انبیاء کی حالت پر قیاس کرنا کیوں جہالت نہ ہوگا؟ قرآن شریف میں سورہ سبا کھول کر دیکھو اس میں آپ کو صاف نظر پڑے گا۔” قل انی اعظکم بواحدة......“ یا رسول جو لوگ آپ کو دیوانہ یا مجنون کہتے ہیں ان سے صرف ایک امر کا مطالبہ کرو کہ ایک ایک یا جماعت بن کر میرے دماغ کی تشخیص کرو کہ آیا میرے دماغ میں جنون تو نہیں ہے؟

مگر ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کو اس پڑتال کی جرات نہ ہوئی اور ان کا زبانی دعویٰ غلط ہوگیا کہ رسول علیہ السلام کے دماغ میں فتور آگیا ہے۔ آیا مرزا قادیانی نے بھی جو اپنے آپ کو حضورﷺ کا ظہور ثانی بتلاتے ہیں کبھی اپنے تصانیف میں اپنے مراق اور اختلال دماغ کی نفی میں کوئی چیلنج دیا ہے کہ کوئی ثابت کرے میں (مرزا قادیانی) پاگل نہیں ہوں؟ بلکہ یہاں تو فخریہ طور پر کہا جاتا ہے کہ ہمارا دماغ ٹھیک نہیں ہے اور ساتھ ہی ظہور ثانی کا دعویٰ بھی ہے اور یہ اجتماع ضدین بھی اہل عقل کے نزدیک ناممکن ہے۔

ہمیں افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کے عہد میں یا بعد میں جن لوگوں نے دعویٰ مہدویت یا ادعائے نبوت کیا ہے ان کو تو یوں کہہ کر ٹال دیتے رہے کہ وہ پاگل تھے اور ان کا دماغ صحیح طور پر کام نہیں کر سکتا تھا۔ حالانکہ ان کا اپنا اقرار موجود نہ تھا کہ وہ مراقی ہیں۔ مگر مرزا قادیانی خود اپنی دیوانگی کا اقرار کرتے ہیں اور یہ مرید ان کی تصدیق کرتے چلے جارہے ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ شاید تصدیق کنندگان بھی ایسے ہوں گے۔

(بدر٦؍ نومبر ١٩٠٦ء ص٤) میں منشی احمد حسین احمدی لکھتے ہیں کہ پیسہ اخبار میں عبدالعزیز تھانیسری نے خلیفہ وقت ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو میں نے وہ دعویٰ پاؤں سے ٹھکرا کر دور پھینک دیا

صفحہ ٤٢

اور مسکرا کر کہا کہ ایسے مختل الدماغ (مراقی) کی بے جوڑ باتوں پر کون توجہ دے سکتا ہے؟ افسوس کہ منشی صاحب کو مرزا قادیانی کے مراق پر اطلاع نہ تھی اور اگر تھی تو اپنا دماغ درست نہ تھا۔ ورنہ کبھی بھی مرزا قادیانی کی بیعت میں داخل نہ ہوتے اور کسی وقت بھی اخبار بدر میں دوسروں کی تضحیک شائع کرنے میں جرأت نہ کرتے۔ مگر ان کو کیا معلوم تھا کہ ان کی اشاعت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مرزائیوں نے بھی یہ تسلیم کر لیا ہے کہ مراقی کا قول معتبر نہیں ہے۔ لیکن یہ عمل پیرا نہیں ہوئے۔

٤......بروز، ظل، انعکاس اور تناسخ

مرزائی تعلیم کا کافی طور پر ایک پر مغز مطالعہ کرنے والا یہ بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ مرزائی مذہب کے بانی نے پہلے صرف صوفیائے کرام میں اپنی جگہ لی تھی۔ اس کے بعد آپ نے مہدی دوران، مصلح، منذر اور مامور من اللہ بننے کا دعویٰ کیا تھا اور جب لوگوں میں اس کی پوری شہرت ہو گئی تو مسیح محمدی اور مثیل عیسیٰ علیہ السلام بلکہ مثیل جملہ انبیاء علیہم السلام کا نعرہ لگا دیا اور آخر جب مریدوں میں مقبولیت کی استعداد کافی طور پر نظر آئی تو خالص نبوت کا دعویٰ شائع کر دیا۔ مگر جب مرزا قادیانی کا اپنا اقرار موجود تھا کہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ آخر الانبیاء ہیں تو اپنی نبوت کے لئے کئی بہانے سوچ لئے۔

کیا گیا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی (مثیل مسیح) کو بھی نبی تسلیم کرنا پڑے گا۔

مٹانے کے لئے نبوت جدید پیش کرے نہ کہ وہ نبی بھی حکم امتناعی میں داخل ہوگا۔ جو اسلام کی تائید میں اپنی نبوت پیش کرتا ہو۔

لئے جو نبوت محمدی ظہورِ اوّل میں وقوع پذیر ہوئی تھی۔ وہی نبوت ظہور ثانوی میں نمودار ہوئی ہے۔ یعنی نبوت محمدیہ کے لئے دو دفعہ ظاہر ہونا مقدر میں لکھا تھا۔ اس لئے نبوت قادیانی خود نبوت محمدی ہے۔ کوئی غیر نبوت نہیں ہے۔

دوسرے مذاہب میں مدعی الہام (نبی) کا موجود ہونا ناممکن ہو گیا ہے۔ مگر اسلام میں جزو نبوت کے ماتحت سلسلہ وحی والہام جاری رکھا گیا ہے جو مسیح کے نام سے اخیر زمانہ میں پایا جائے گا۔ اس لئے نبوت قادیانیہ کا استثناء موجود ہے۔

مرزا قادیانی کا آئینہ دل بالکل صا تھا۔ اس لئے یہ نبوت بھی ختم رسا اور صوفیائے کرام کے نزدیک ایک

سے مراد مبشرات ومنذرات ہیں اور رویائے صادقہ مثل فلق الفجر ہو

يصطلح ولكل امر ما نوى کے رو سے ثابت ہے اور حضرت عـ بہر حال اس قسم کے جـ راستہ سے نکال دیا اور لوگوں کو ایسے تو دوسرا سامنے آ جاتا ہے۔ آخر کـ کہ مرزا قادیانی کا ادعا بھی کچھ معـ اسلامی تعلیم کی تصریحات پر سرسر ان کا اعلان اظہر من الشمس ہے۔

ہے اور آج تک کسی آیت یا حـ مرزا قادیانی کی دماغی سوزی کا نـ جائیں گی سب کی سب بے بنیاد ثـ

اس کو ممنوع قرار نہیں دیا جائے گا۔ نبوتوں کا فیصلہ کر دیا ہوا ہے۔ مرز ہے کہ کوئی نبی خواہ نیا ہو یا پرانا نہیـ یا آپ کے حق میں ہو یا مخالف او چلی آئی ہے۔ اس اجماعی تعمیم کا مـ

صفحہ ٤٣

مرزا قادیانی کا آئینہ دل بالکل صاف ہو گیا تھا۔ جس میں نبوت محمدیہ کا پورا نقشہ اور کھلی فوٹو کھنچ گیا تھا۔ اس لئے یہ نبوت بھی ختم رسالت کے برخلاف نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اس کا بروز ظل اور عکس ہے اور صوفیائے کرام کے نزدیک ایسی نبوت کا اعتراف بھی موجود ہے۔

سے مراد مبشرات ومنذرات ہیں۔ جو کثرت مکالمہ کے حاصل کرنے والے کو حاصل ہوتے ہیں اور رویائے صادقہ مثل فلق الفجر رونمائے صدق وصفاء ہو کر نبوت بن جاتے ہیں۔

يصطلح ولکل امر ما نوی“ اور یہی مراد محدثیت سے ہے۔ جس کا اجراء اور امکان احادیث کے رو سے ثابت ہے اور حضرت عمرؓ بھی محدث سمجھا گیا ہے۔

بہر حال اس قسم کے حیلوں اور بہانوں سے مرزا قادیانی نے ختم رسالت کا روڑہ اپنے راستہ سے نکال دیا اور لوگوں کو ایسے گورکھ دھندے میں پھنسا دیا کہ اگر اس کا ایک کنڈہ کھولتے ہیں تو دوسرا سامنے آجاتا ہے۔ آخر کب تک کھولتے جائیں گے اور اخیر میں کم از کم یہ تو کہنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کا ادعاء بھی کچھ معنی رکھتا ہے۔ جس کی تردید کوئی آسان امر نہیں ہے۔ لیکن جو شخص اسلامی تعلیم کی تصریحات پر سرسری نظر بھی رکھتا ہے۔ اس کے سامنے یہ تمام عذر بدتر از گناہ ہیں اور ان کا بطلان اظہر من الشمس ہے۔ کیونکہ:

ہے اور آج تک کسی آیت یا حدیث میں اس کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ تفریق مرزا قادیانی کی دماغی سوزی کا نتیجہ ہے اور بس! اب اس اختراعی بنیاد پر جو دیواریں اوپر اٹھائی جائیں گی سب کی سب بے بنیاد متصور ہوں گی۔

اس کو ممنوع قرار نہیں دیا جائے گا۔ بالکل غلط ہے کیونکہ امتناع نبوت اور ختم رسالت نے تمام قسم کی نبوتوں کا فیصلہ کر دیا ہوا ہے۔ مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ ختم رسالت کے ماننے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی نبی خواہ نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا۔ اسی تعمیم کے بعد یہ تخصیص بھی ان پر واجب ہے کہ خواہ تابع یا آپ کے حق میں ہو یا مخالف اور ناسخ اسلام ہو وہ بھی نہیں آسکتا اور یہ تعمیم اسلام میں ابتداء سے چلی آئی ہے۔ اس اجماعی تعمیم کا خلاف صرف مرزا قادیانی نے کیا ہے اور وہ بھی صرف اپنی ذات

صفحہ ٤٤

کے لئے۔ ورنہ اگر دوسرے شخص کی نبوت اس معنی میں پیش کی جاتی تو ہمیں امید تھی کہ کبھی اس تعمیم سے انکار نہ کرتے۔

اس موقعہ پر ہمیں حدیث سازوں کا قصہ پیش نظر آ رہا ہے کہ ایک دفعہ کسی حدیث ساز سے پوچھا گیا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ: ”من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار“ جو شخص مجھ پر افتراء کرتا ہے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں خود ہی تلاش کر لے اور تم اس حدیث کے خلاف جھوٹی حدیثیں کیوں گھڑا کرتے ہو؟ تو حدیث ساز نے کہا کہ اس حدیث میں علی کا لفظ موجود ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے برخلاف اسلام کو نقصان پہنچانے کی خاطر حدیث گھڑنا حرام ہے ورنہ باریک اشارہ یہ ہے کہ اگر اسلام کی خاطر یا اس کی تائید میں کوئی افتراء باندھا جائے تو جاتے ہی بہشت کا دروازہ کھلا ہوا ملے گا۔ ملا علی قاریؒ شرح الشرح میں لکھتے ہیں کہ: ”افتراء“ ہر حالت میں گناہ کبیرہ ہے۔ خواہ مفید ہو یا نقصان دہ۔ اسی طرح دعویٰ نبوت ہر طرح ممنوع ہے۔ خواہ مفید ہو خواہ مضر اور یہ اصول بالکل ظاہر ہے کہ حیلہ و بہانہ سے کسی حرام کو حلال نہیں بنایا جا سکتا۔ کیا کوئی شخص زنا اور شراب کو اس لئے حلال بنا سکتا ہے کہ حضور نے فرمایا تھا کہ اخیر زمانہ میں زنا اور شراب خوری بہت ہوگی اور جب تک اس کی اشاعت یا اس کا ارتکاب نہ کیا جائے۔ اس پیشین گوئی کی صداقت ظاہر نہیں ہو سکتی۔ اس لئے باریک اشارہ یہ ہے کہ یہ دونوں اخیر زمانہ میں حلال ہو جائیں گے۔ پس اگر مرزا قادیانی کا عذر صحیح ہے تو اس بے ایمان کا عذر بھی صحیح ہوگا۔ ورنہ ہمارے نزدیک ایسے حیلے بہانے اہل اسلام کے لئے موزوں اور مناسب نہیں ہیں۔

اس کی بنیاد تناسخ (اور روپ بدلنے) پر ہے اور اہل توحید واہل شرک کے درمیان بھی مسئلہ امتیازی فرق رکھتا ہے۔ اگر ہم اس کو تسلیم کر لیں تو ہم کو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حسب تصریحات ہنود ان کے رامجے مہاراجے سارے خدا تعالیٰ کا مظہر اور روپ تھے اور یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایسے انسان کی پرستش خلاف توحید نہیں ہے۔ اگر یہی بات صحیح تھی تو مرزا قادیانی جب تھوڑی دیر کے لئے خدا بن گئے تھے۔ تو مریدوں کو کیوں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے سجدہ کرو اور میری ہی پرستش سے نجات حاصل کرو۔ مگر ایسا کرنے سے مرزا قادیانی خود محترز رہے۔ کیونکہ ان کے ضمیر نے خود ان کو بتا دیا تھا کہ ایسے شطحیات کا کچھ خیال نہیں کیا جا سکتا اور اس قسم کے زعملیات اعتقادی مسائل میں کار آمد نہیں ہوا کرتے۔ ان سے صرف اتنا ہی فائدہ ہوتا ہے کہ مریدوں نے سن کر اپنا مال و جان قربان کر دیا اور

صفحہ ٤٥

بس! اور یہ خیال کرنا کہ: ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم“ سے اشارہ سمجھ میں آتا ہے کہ آخر زمانہ کے لوگوں میں نبوت محمدیہ کا ظہور ثانوی ہوگا۔ جس سے آخری زمانہ کے مسلمان صحابہؓ کے درجہ تک پہنچ جائیں گے اور وہ یہی جماعت قادیانیہ ہے۔ بالکل غلط ہے کیونکہ اس قسم کے خیالات کا پیدا کرنا قرآن شریف میں تحریف کہلاتا ہے۔ کیونکہ ہمیں اس کا وہ معنی تسلیم کرنا ہوگا جو اسلام کے کسی اصول کے مزاحم نہ ہو اور اس کی بنیاد اسلامی دیوار کو بیخ و بن سے نہ گرا دیتی ہو یا اس سے اسلامی عمارت کو کسی کا خطرہ پیدا نہ ہو۔ بلکہ ایسے مضرات سے بچنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ قرآن کا مفہوم جو بھی پیش کیا جائے اس کی منقولی سند میں کسی معتبر ہستی کا قول پیش کیا جاسکے۔ تاکہ تحریف و تشنیع کے الزام سے مخلصی ہو۔ کیا اب مرزا کی کوئی منقولی سند اس موقعہ پر پیش کر سکتے ہیں؟ ورنہ اگر اس قسم کی کج بحثی شروع کی جائے تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ نبوت محمدیہ کے ظہور ثانی کی ضرورت ہی کیا ہے۔ کیونکہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں خود رسول اللہ ﷺ ہم میں موجود رہتے ہیں۔ ”واعلموا ان فیکم“ رسول اللہ سے یہ مسئلہ بالکل صاف نظر آتا ہے اور اگر انسان بالکل ہی آزاد ہو جائے تو یوں بھی کہہ سکتا ہے کہ رسول علیہ السلام تو ہر ایک مسلمان کے دل میں موجود رہتے ہیں۔ اس لئے دل کا حکم وہی ہوگا جو رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہوگا اور اس سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ انسان کو اپنی قلبی نبوت ہی کافی ہے۔ کسی دوسری نبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا مرزائی اس قسم کے واہیات موشگافی کو جائز رکھیں گے؟

لئے محمد کی نبوت محمدؐ کے پاس ہی رہی۔ کیونکہ پہلے تو آدمیوں کا مختلف شخصیات رکھتے ہوئے ایک ذات ہو جانا ہی قرین قیاس نہیں ہے۔ بالخصوص جب کہ ایک وفات پاچکا ہو اور دوسرا زندہ ہو تو ایسے دونوں میں اتحاد جسمانی بالکل ناممکن ہوگا۔ اگر بالفرض آنکھ بند کر کے ہم مان بھی لیں کہ مرزا قادیانی ترکی النسل، رسول اللہ ﷺ عربی النسل سے متحد بالذات ہو بھی گئے تھے تو کیا اس سے صرف نبوت کا ہی حق حاصل ہوا تھا۔ اس کے سوا حرمین شریفین اور عرب کی سلطنت پر بھی آپ کو کیا دوبارہ قبضہ کرنا ضروری نہ تھا؟ دوسری دفعہ قرآن شریف کا نزول کیوں نہ ہوا؟ قبائل عرب سے دس سال متواتر اور لگا تار لڑائی کیوں نہ کی؟ مساوات کو اپنی تعلیم میں کیوں نہ لیا۔ تحفہ قیصریہ کی بجائے سلاطین غیر اسلام کو تبلیغی پیغام کیوں نہ پہنچائے وغیرہ وغیرہ۔ اگر اس کا یہ جواب دیا جائے کہ مرزا قادیانی کی زندگی حضور کی زندگی کا تیسرا حصہ ہے جو مکی اور مدنی زندگی کے بعد ابھی تک ظہور پذیر نہیں ہوئی تھی اور گویا رسول خدا ﷺ دوسرے جنم میں قادیان تشریف لے آئے تھے

صفحہ ٤٦

(معاذ اللہ ) ہم کہیں گے کہ اس کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ مرزا قادیانی جب مر گئے تھے تو روضہ نبویہ جو ہڑ کے کنارے قادیان میں قرار پایا تھا اور مدینہ منورہ تب خالی ہو گیا تھا۔ (معاذ اللہ ) کیا کوئی ذی عقل ایسے فضول خیال کو تسلیم کر سکتا ہے؟۔

ہمیں افسوس ہے کہ مرزائی پارٹی جب معراج جسمانی، حیات مسیح ، صعود مسیح ، احیاء موتی اور دوسرے خرق عادت معجزات کو قرین قیاس نہیں سمجھتی تو اس بے بنیاد کلام کو کس طرح تسلیم کر بیٹھی ہے کہ مرزا قادیانی اور حضور ﷺ ایک ہی ہو گئے ہیں۔ اتنا بھی خیال نہیں کیا کہ وفات مسیح کے ثبوت میں تو بار بار یوں کہا جاتا ہے کہ قرآن شریف کے رو سے کوئی مردہ اس دنیا میں واپس نہیں آسکتا۔ تو پھر رسول خدا ﷺ کیسے واپس آکر مرزا قادیانی سے متحد بالذات بن گئے؟ اور اگر یوں کہا جائے کہ حضور کی روح یہاں قادیان میں آگئی تھی تو تناسخ کا عقیدہ ہوگا اور اگر یوں کہا جائے کہ آیا کچھ نہ تھا تو صرف فرط محبت سے مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو فقط ایک دفعہ خیال کر لیا تھا کہ میں اور حضور ایک ہو گئے ہیں تو ہم بھی کہیں گے کہ اس وقت مراق کے سبب ابخرات شدت سے ضرور سر کو چکرا رہے ہوں گے۔ ورنہ کوئی عقلمند ایسا قول شائع کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ تعجب کی بات ایک اور بھی یہاں پیدا ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی ( آئینہ کمالات اسلام ص٢٣٩، خزائن ج٥ ص٢٣٩) میں خود کہہ چکے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی روح حرکت کرتے کرتے مجھ میں آگھسی تھی۔ اب یہ تناسخ بھی نہ ہوا۔ کیونکہ اس میں صرف ایک روح چکر لگاتی ہے اور یہاں مرزا قادیانی کے جسم میں تین روحیں جمع ہو گئی ہیں۔ خود ایک مرزا قادیانی کی روح ، حضرت مسیح علیہ السلام کی روح اور حضرت رسول کریم ﷺ کی روح۔ اگر کتاب نزول المسیح اور درثمین کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم نہیں کس کس کی روح مرزا قادیانی کے بدن میں حلول کرتی تھی۔ اس لئے ہمیں خیال آتا ہے کہ مرزا قادیانی نے حلول جسمانی اور حلول روحانی دونوں کو تسلیم کیا تھا۔ جس کو سوائے ان چند دشمنان عقل کے کسی نے تسلیم نہیں کیا تھا کہ جن کو نصیریہ یا اسماعیلیہ فرقہ کہتے ہیں اور اہل اسلام نے ان کو پوری ہمت خرچ کرکے صفحہ روزگار سے مٹا دیا تھا۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس زہریلی ہوا کے جراثیم قادیان میں آنکلے تھے۔ جہاں چاروں طرف حلول ہی حلول نظر آتا ہے۔ وہاں جا کر دیکھئے آپ کو بیت المقدس، جنت البقیع، مکہ معظمہ، مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ، منارۃ المسیح، کوفہ، خارجی، شیعہ اور قوم یزید سب کچھ بروزی طور پر نظر آئے گا۔ ایسے سادہ لوحوں کو کس کس جگہ میں متنبہ کیا جائے۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ کوئی کس کس بات کا جواب دے اور کس کس کو سمجھائے۔ (مصرعہ) ہر بن موئے تنم شد رخنہ کجا کجا نہم؟

صفحہ ٤٧

ہم کہتے ہیں کہ کہاں ہے؟ مرزا قادیانی سے پیشتر جس قدر بھی اسلامی تعلیم موجود ہے اس میں کہیں نہیں آیا کہ قادیانی نبوت کا استثناء صحیح مانا گیا ہے اور اگر یہ خیال ہے کہ جزو نبوت باقی تھی تو اس سے تمام امت بہرہ ور ہوتی رہی ہے۔ مرزا قادیانی کو خصوصیت کہاں سے آ گئی تھی کہ انہوں نے اعلان کر دیا کہ مجھے نہ ماننے والے حرامزادے ہیں اور یہ کیوں کہہ دیا تھا کہ ؎

داد آں جام را مرا تمام

پہلے لوگ جو جام نبوت سے تھوڑا بہت حصہ لیتے رہے۔ مگر مجھے سارا جام مل گیا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اتحاد ذاتی کی وجہ سے ساری کی ساری نبوت جناب میں منتقل ہو گئی تھی۔ اس لئے نبوت کا اعلان کیا گیا۔ بہر حال پہلے پہل یہ کہنا صرف تمہیدی اشاعت تھی کہ مجھ میں جزو نبوت ہے۔ بعد میں یہ راز کھل گیا کہ ساری نبوت بھی آ گئی ہے۔ اگر ١٩٠١ء تک مرزا قادیانی کو یہ بھی خبر نہ ہوئی کہ آپ ادھوری نبوت کے مالک ہیں یا پوری نبوت کے؟ کیا کوئی مرزائی کوئی ایسا نبی پیش کر سکتا ہے کہ جس نے حسب تصریحات قرآن وحدیث تدریجی طور پر آہستہ آہستہ نبوت حاصل کی ہو اور ایسا بے خبر رہا ہو کہ جب تک کسی مرید نے نہیں پوچھا۔ جناب کو اپنی خبر ہی نہیں کہ میں کیا ہوں؟ پورا ہوں کہ ادھورا؟

تھے۔ جس میں تمام انبیاء کا فوٹو اتر آیا تھا۔ اس لئے وہ تمام انبیاء کا عکس ہو گئے تھے اور عکسی نام رکھ لیا تھا۔ کیونکہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ شیشہ میں کثیف اشیاء کا عکس پڑتا ہے۔ لطیف اشیاء کا فوٹو نہیں لیا جا سکتا۔ تو معلوم ہوا کہ دنیا میں ایک ایسی جماعت بھی خلاف تجربہ عقیدہ رکھتی ہے کہ مرزا قادیانی تو لطیف تھے اور باقی انبیاء بالخصوص حضور علیہ السلام کثیف جسم کے مالک تھے۔ ہاں اگر تعاکس یا انجلاء کا لفظ استعمال کیا جاتا تو پھر بھی کسی حد تک قرین قیاس ہوتا۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ باوجود اس کے جناب کو حضور کی غلامی کا بھی دعویٰ ہے اور مرزا محمود نے تو کہہ دیا ہے کہ مرزا قادیانی افضل المرسلین تھے؟ ایچ پیچ کی ضرورت نہیں رکھی اور دیکھئے کہ یہ استدلال ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی میں فوٹو آ گئے تھے اور روح کوئی نہیں آئی تھی اور استدلال سابقہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے جسم میں روحیں آئی تھیں۔ اس لئے دونوں استدلال متناقض ہوئے اور دعویٰ نبوت کا ثبوت پیش نہ ہوا۔ کیا کوئی مرزائی اس مخالف بیانی کو اٹھائے گا؟ اس بہانہ کی تصحیح کے لئے یوں بھی کہا جاتا ہے کہ صوفیائے کرام میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں کہ جنہوں نے مرزا قادیانی کی طرح بروز

صفحہ ٤٨

نبوت اور ظل رسالت کی آڑ لے کر اپنے آپ کو نبی اور ظل الہی ظاہر کیا تھا۔ چنانچہ حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ اپنے دیوان میں لکھتے ہیں کہ:

من نمی گویم انا الحق یار میگوید بگو
چوں نگویم چوں مرا دلدار میگوید بگو

حضرت بایزید بسطامیؒ فرماتے ہیں کہ جب کوہ طور میں آگ سے یہ آواز نکلی تھی کہ: ”انی انا اللہ“ تو نار محبت سے جو جسم بایزید میں ہے۔ ”انی انا اللہ“ کی آواز کیوں نہیں نکل سکتی۔ ایک صوفی (مولانا رومؒ) کا قول ہے۔

فارغم از کبر و کینہ و از ہوا
من خدائم من خدایم من خدا
اللہ اللہ گفتہ اللہ میشود
ایں سخن حق است واللہ میشود
میتواں موسےٰ کلیم اللہ شدن
از ریاضت میتواں اللہ شدن

(کتاب سیف ربانی ص١٠٠، مصنفہ محمد مکی) میں ہے کہ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بار مجھے ایسا محو کر دیا کہ میں یوں کہہ رہا تھا کہ: ”لو کان موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی“ تو مجھے معلوم ہوا کہ میں فانی الرسول ہوں۔ پھر ایک دفعہ محو ہوا تو میں کہہ رہا تھا کہ: ”انا سید ولد آدم ولا فخر“ جس سے معلوم ہو گیا کہ میں اس وقت محمدؒ بن گیا تھا۔ ورنہ ایسے لفظ بطور دعویٰ مجھ سے ظاہر نہ ہوتے۔ ایک دفعہ آپ نے اپنے مرید سے فرمایا تھا کہ: ”اتشہد انی محمد رسول اللہ“ تو مرید نے اس کی تصدیق کی تھی۔

(تذکرہ غوثیہ ص ٢٩١) میں ہے کہ حضرت ابو بکر شبلیؒ نے ایک مرید سے کہا تھا کہ یوں کہو: ”لا الہ الا اللہ شبلی رسول اللہ“ اس نے انکار کر دیا۔ آپ نے اس کی محبت توڑ ڈالی۔ فیض سبحانی میں مذکور ہے کہ جس کا قلب بالکل صاف ہو جاتا ہے وہ نبی کی مانند ہو جاتا ہے۔ اس سے کم درجہ کا صحابی بنتا ہے اور اس سے کمزور تابعی بنتا ہے۔ اسی طرح یہ شعر بھی ہیں کہ جن سے ہمارا مطلب بخوبی ثابت ہو سکتا ہے۔ شاہ نیاز احمد دہلویؒ:

احمد ہاشمی منم، عیسیٰ مریم منم
نہ منم منم، نہ من منم، نہ منم منم
صفحہ ٤٩

خواجہ معین الدینؒ:

دمبدم روح القدس اندر معینے میدمد
من نہ میدانم مگر من عیسیٰ ثانی شدم

حافظ شیرازیؒ:

فیض روح القدس، زباز مدد فرمائید
دیگراں ہم بکنند آنچہ مسیحا میکرد

مولانا رومیؒ:

چوں بداری دست خود در دست پیر
بہر حکمت کو علیم ست و خبیر
او نبی وقت خویش است اے مرید
تا ازو نور نبی آید پدید
فکر کن درکار نیکو خدمتی
تا نبوت یابی اندر امتی
ہمچو مریم جاں ازاں آسیب جیب
حاملہ شد از مسیح دلفریب

مجدد الف ثانیؒ:

پنجه در پنجه خدا دارم
من چه پروائے مصطفےٰ دارم

شاہ سلیمان تونسویؒ:

در خلوت گدایاں مرسل کجا بگنجد
بابرگ بینوائی ساماں شد است مارا
امروز شاہ شاہاں مہماں شد است مارا
جبریل یا ملائک درباں شد است مارا

میرا سلسلہ ارادت خدا تعالیٰ سے ملتا ہے۔ جس میں رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ نہیں۔ اس لئے میں رسول اللہ کا تابع بھی ہوں اور آپ کا پیر بھائی بھی۔

(مکتوبات مجدد ج٣ ص١٢٧)

اور قرب نبوت اور ولایت میں ایک امتی نبی کریم ﷺ کا شریک ہو سکتا ہے۔

(مکتوبات ج٣ ص١٢٣)

صفحہ ٥٠

چونکہ آپ کی نبوت قیامت تک ہے تو علمائے امت کو انبیاء کے قائم مقام کر دیا ہے۔ تحصیل نبوت کی خصوصیت اسی امت میں ہے اور اسی وجہ سے اس کو خیر الامم (بہترین امت) کا لقب ملا ہے اور چونکہ وجود انبیاء کے لئے وجود علماء کافی سمجھا گیا ہے۔ اس لئے ہر ایک صدی کے سر پر ایک مجدد کا بھیجنا مقرر ہوا ہے جو دین کو تازہ کرتا ہے۔ نبی اور تابعی نبی میں کسی وقت ایسا اشتباہ ہوتا ہے کہ امتیاز مشکل ہو جاتا ہے اور شیر و شکر کی طرح آپس میں مل جاتے ہیں اور فرق ہے تو صرف یہی کہ ایک تابع ہے اور دوسرا متبوع۔ کبھی ایک امتی حضورﷺ کا ظل ہو کر وہاں داخل ہو جاتا ہے جہاں کہ آپ داخل تھے۔ اس لئے براہ راست خدا سے تعلق پیدا کر لیتا ہے اور جناب کا پیر بھائی بن جاتا ہے۔ اگر ختم نبوت نہ ہوتا تو قیامت تک بھی لوگ نبوت قائم رکھتے۔ (مقدمہ صراط مستقیم مولوی اسماعیل شہیدؒ) منصب نبوت حقیقت ہے اور منصب امامت اسی کا ظل ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جس کو فاتح الامتہ اور خاتم النبوۃ کہا جاتا ہے اور امتی تابعداری سے شبیہ اور مثیل بنتے ہیں اور ان کو فاتحین و خاتمین کہتے ہیں۔ شیخ عبداللہ کوٹھوی پشاوری کو الہام ہوا ۔ ’’یا ایھا النبی اتق اللہ ۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (نظم الدر ص ١٠٠) الشیخ فی قومہ کالنبی فی امتہ (نظم الدر ص ١٠٦) ‘‘ انسان جب نورِ نبی تک پہنچ جاتا ہے تو اس کا عین ہو جاتا ہے۔ پھر فنا فی الرسول کے بعد فنا فی اللہ تک جا پہنچتا ہے۔ نبوت عامہ کی طرف اولیاء بھی پہنچ جاتے ہیں اور ان کو بھی انبیاء کہا جا سکتا ہے اور نبوت تشریعی اگر چہ ختم ہو چکی ہے مگر صلحاء کو وہ منصب عطاء ہو جاتا ہے۔ (بحرالعلوم شرح مثنوی ج٦) لا نبی بعدی کا مطلب یہ ہے کہ: ’’لا نبی متشرع بعدی ولا رسول کذالک (یواقیت ج٢ ص٢٣) ‘‘ بے شک خدا تعالیٰ نے تنزیل احکام کا دروازہ تو بند کر دیا ہے مگر علوم احکام کا نزول بند نہیں کیا۔ (یواقیت ج٢ ص٢٦) ’’السابقون السابقون ‘‘ وہی ہیں جو درجہ انبیاء میں پہنچ گئے ہیں۔ (تفسیر نیشاپوری) ولایت ظل نبوت ہوتی ہے۔ (شرح فتوح الغیب ص١٣) خلیفہ رہنمائے اسلام حکماً نبی ہوتا ہے۔ (منصب الامامتہ) مسلم صادق وہی ہے جو انبیاء علیہم السلام سے مشابہ فی الاحوال ہو اور اطلاع علی الغیب سے ممتاز ہو۔ (فتح الباری ج١٢ص٣١٩) جو شخص منصب رسالت حاصل کرنے میں کوشش کرے تو اس پر رسالتہ ثانویہ کا فیضان ہو جاتا ہے۔ شیخ جیلانیؒ کو الہام ہوا تھا کہ آپ پر ولایت کا خاتمہ ہے اور آپ کا کمال تمام کمالات سے بڑھ کر ہے اور آپ کا قدم اصحاب الکمال کے گردن پر ہے۔

(تذکرہ غوثیہ ص ١٤٧) میں لکھا ہے کہ حضرت بایزیدؒ فرماتے ہیں کہ میرا جھنڈا قیامت کے دن تمام انبیاء کے جھنڈوں سے اوپر ہوگا۔ وہ خود خدا ہے۔ اس لئے ’’لواء الہی لواء نبوی‘‘

صفحہ ٥١

سے برتر ہوگا۔ کسی نے پوچھا کہ عرش کیا ہے کہا کہ میں ہوں۔ لوح و قلم کیا ہیں کہا کہ وہ بھی میں ہوں......اخیر میں فرمایا کہ جو شخص فنا فی اللہ ہو جاتا ہے وہ سب کی حقیقت بن جاتا ہے۔

(خزینۃ الاصفیاء ص٦١٣) میں ہے کہ مجھے تمام مبلغین کی اطلاع دی گئی ہے اور ان کو آگ سے نجات مل گئی ہے اور مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امام مہدی میرے ہی سلسلہ نقشبندیہ میں ہوں گے۔ (مکتوبات مجددیہ ج ٢) میں ہے کہ مجدد مائۃ اور مجدد الف میں اتنا فرق ہے جتنا کہ سو اور ہزار میں ہوتا ہے۔ اس لئے مجدد الف تمام فیوضات کا مصدر ہے۔ اگرچہ ابدال، اقطاب اور نجباء بھی موجود ہوں۔ پھر (مکتوبات مجددیہ ج٣ ص١٠٦) میں فرماتے ہیں کہ خواب میں میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ نے ایک پرچہ مجھے عنایت فرما کر مہر لگادی کہ جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ:”تم مقام شفاعت میں پہنچ گئے ہو اور تم میرے بیٹے ہو اور میں تمہارا باپ ہوں ۔“

(تذکرہ غوثیہ ص٤٦) میں مذکور ہے کہ حضرت بایزید بسطامیؒ نے کہا کہ میں درجہ ولایت کی آخری سیڑھی پر پہنچ گیا ہوں اور نبوت کے ابتدائی درجات طے کرتا ہوں۔ پھر فرمایا کہ میں نے کوشش کی تو ایک نبی کی حد تک پہنچ گیا۔ حضرت سلیمان تونسویؒ کی تعریف میں (مناقب المحبوبین ص٢٤٩) میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک ہی معجزہ تھا کہ:”قم باذن اللّٰہ“ اور تم نے اپنے دم سے کئی ایک روحیں زندہ کر ڈالی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے تو خدا کو ایک مرتبہ ہی دیکھا تھا اور بیہوش ہو گئے تھے اور تم تو اسے ہر وقت دیکھتے ہو اور مسکراتے ہو تم تو ذات مطلق کے نور ہو۔ نور العالمین ہو۔ کرسی ،عرش لوح و قلم ، سب کچھ تمہارے نور کا مظہر ہے۔ تم ہی شمس ہو تم ہی قمر ہو۔ تم ہی نور علیٰ نور ہو تم ہی نور محمدی ہو اور تمہاری انگوٹھی خاتم الولایۃ ہے اور اس کو نبوت کا رتبہ حاصل ہے۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں کہ:

قصیدہ روحیہ

شهدت بان الله انی ولایتی وقد من بالتصریف فی کل حالتی
سقانی ربی من کوس شرابه واسکرنی حقباً فهمت سکرتی
وملکنی امر الجنان وما حوت وکل ملوک العالمین رعیتی
وشاؤس ملکی صار شرقاً ومغرباً وان شئت افنیت الانام بلحظی
وشاهدت مافوق السمٰوت کلها کذا العرش والکرسی فی کف قدرتی
وکل بلا والله ملکی حقیقة واقطابها من تحت حکم اطاعتی
صفحہ ٥٢
ولى نشأتى فى الحب من قبل آدم وسيرى سرى فى الكون من قبل نشأتى
وفى حاننا ادخل ترى الكاس دائراً على سائر الاقطاب صحت ولايتى
انا قادر فى الوقت قطب مبجل وما شرب العشاق الا بقيتى
وفقت على من يدعى الحب والهوى تطوف بى الاملاك في حين حضرتى
نعم نشأتى فى الحب من قبل آدم وقربنى المولى ففزت بدولتی
انا كنت فى العلياء نور محمد بمكنون علم الله قبل نبوتی
انا كنت مع ادريس لما ارتقى العلی واسكنة الفردوس احسن جنبتى
انا كنت مع نوح لفلك اذ اجرت بحاراً وطوفاناً على كف قدرتى
وكنت بابراهيم ملقى بناره فما برد النيران الا بدعوتى
وكنت مع الايوب فى زمن البلا وما برحت بلواه الا بدعوتى
وكنت باسماعيل في الذبح شاهداً وليس نزول الكبش الا بفديتى
انا كنت مع يعقوب فى حزن يوسف وما برئت عيناه الا بتفلتى
وكنت بموسى في مناجاة ربه وانا عصاه من عصائی استمدت
انا كنت مع عيسى لفى المهد ناطقاً واعطيت داؤداً حلاوة نعمتى
انا كنت بدء القدس في علم خالقى انا الاخر المبعوث في سرمديتى
ومن قبل قبل الان فى درج العلی مقيماً وفى الفردوس مسموع كلمتی
نظرت الى الدنيا جميعاً وجدتها كخردلة فى وسط كفى وراحتى
واعطانى الرحمن من علم غيبه ثمانين علماً غير علم حقيقتى
فلا منبر الاولى فيه خطبة ولا مسجد الأولى فيه ركعتى
مريدى تمسك بى وكن بى واثقاً فاحميك فى الدنيا ويوم قيمتى
واعلم موج البحر احصى عدادها واعلم رمل الارض كم هي رملتى
واوصيكمو الا تقعدو ابتکبر واوصيكموا مشی الطريق الحميدتي
وما قلت هذا القول نكراً ونما اتى الاذن حتى تعرفون حقيقتى
ولا قلت حتى قيل لى قل بلا تخف فانى ولى الله فى كل حالتى
ووالدتى زهراء بنت محمد الى حيدر دامت به كل بركتى
وجدى رسول الله طه محمد انا عبد قادر شيخ كل طريقتى
صفحہ ٥٣
مریدی تمسك بی وكن بی واثقاً وقدمی هذی فوق كل ولایتی
انا قامع الكفار بالسر دائماً تجاوز غيری ثم سلطان قدرتی
وكلی بامر الله ان قال قل اقل وكلی بامر الله ربی مشیتی
وامری امر الله ان قلت كن یكن ونودیت بالنور العظیم بهمّتی
ومن حدثته نفسه بتكبر تجده صغيراً فی العیون بذلة
فصلوا على خير البرية احمد خصوصاً جميع المرسلين برحمة
فی الخلق عین الحق ان كنت ذاعين وفى الحق عين الخلق ان كنت ذاعقل
وان كنت داعقل وعين فماترى سوے عين شئی واحد كان بالشكل

بایزید سبحانی ما اعظم شانی

نیست اندر جبہ ام غیر از خدا چند جوئی درزمین وآسما
بامریدے آں فقیر محتشم بایزید آمد کہ نک یزدان منم
گفت مستانہ عیاں آں ذوالفنون لا الہ الا اناہا فاعبدون
انبیاء واولیاء حیران شدہ در حضرتش یحییٰ ویعقوب ویوسف چرخ مطلق میزنند
عیسیٰ وموسیٰ چہ باشد چاکران حضرتش جبرئیل اندر قبولش سحر مطلق میزند
جان ابراہیم مجنون گشت اندر شوق او تیغ براسحاق واسماعیل مطلق میزند
احمدش گویند کہ واشوقا لنا اخواننا بروفاق عشق او صدیق مطلق میزند
نیست آں کس کو چنیں مردی کند اندر جہاں شمس تبریزی کہ ماہ بدر را شق میزند
ہر کہ نام شمس تبریزی شنید اندر جہاں روح او مقبول حضرت شد اناالحق میزند
ہرلحظہ بشکل ایں بت عیار برآمد دل برد و نہاں شد ہر دم بلباسِ دگراں یار برآمد گہ پیر و جواں شد
اے قومِ حج رفتہ کجائید کجائید معشوقہ ہمیں جاست بیائید بیائید
آنہا کہ طلب گارِ خدائید خدائید حاجت بطلب نیست شمائید شمائید
خود پیغمبر شد و پیغام آورد گشت خود کافر و نمود انکار
خود کند سازِ ہر گناہ کہ ہست خود کند باز توبہ استغفار

اس استدلال کا جواب یوں ہے کہ

١....... صوفیائے کرام کے نزدیک وحدت وجود کا مسئلہ کسی حد تک قابل تسلیم سمجھا

صفحہ ٥٤

گیا ہے۔ جس میں وہ نہ صرف اپنا اتحاد ذات محمدیہ سے ثابت کرتے ہیں۔ بلکہ ان کے نزدیک ہر ذرہ بھی اپنے خالق سے متحد فی الذات ہے اور پھر یہ بھی کہتے ہیں ۔

اگر فرق مراتب نہ کنی زندیقی

کیا مرزا قادیانی بھی اس عقیدہ پر قائم ہیں؟ ان کے دلائل سے تو ثابت ہوتا ہے کہ اپنی رسالت کے دھن میں صرف ذات رسول اور ذات الٰہی سے اتحاد پیدا کرتے ہیں اور جملہ کائنات سے اتحاد کے قائل نہیں ہیں۔ اس لئے صوفیائے کرام کے اقوال سے استدلال قائم کرنا بالکل غلط ہوگا۔

ہے تو پھر مرزا قادیانی کے دعویٰ سے ان کا کچھ لگاؤ نہیں ہے۔ کیونکہ کسی صوفی نے آج تک کسی سے اپنی نبوت کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو اپنی نبوت کے انکار پر کافر کہا ہے۔ مگر یہاں یوں کہا جاتا ہے کہ جو لوگ مرزا قادیانی کی نبوت میں متردد ہیں۔ وہ بھی کافر ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کا اپنے آپ کو صوفیائے کرام پر قیاس کرنا غلط ہوگا۔ جس سے ہر عقل مند کو محترز رہنا چاہئے ۔

ایمان کی بنیاد نہیں رکھی اور نہ ہی اس کو الہام یا وحی کی صورت میں پیش کیا ہے۔ جس طرح کہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ (براہین احمدیہ ص ٥٥٧ خزائن ج١ ص ٦٦٥) میں مجھے الہام ہوا کہ دنیا میں ایک نبی (یا نذیر) آیا۔ مگر دنیا نے اس کو نہ مانا اور خدا تعالیٰ اپنے زبردست حملوں سے اس کی صداقت ظاہر کرے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت الہام پر مبنی ہے۔ لیکن صوفیائے کرام کی طرف سے صرف شطح آمیز لفظ ہی لفظ ہیں۔ ورنہ ان کے تحت میں کسی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ اس لئے ان پر قیاس کرنا بالکل صحیح نہ ہوگا۔

کلام کو شریعت کے رو سے کچھ وقعت دی گئی ہے۔ بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے اور صوفیائے کرام کا کلام مطالعہ کیا جائے جو انہوں نے غیر وجدانی حالت میں شریعت کو ملحوظ رکھ کر کیا ہے تو بالکل ایسے اتحاد سے مختلف پاؤ گے۔ یہاں تک لکھا ہے کہ جب ان سے وجدانی حالت دور ہو جاتی تھی تو خود اس پر نادم ہو کر استغفار کرتے تھے اور بقول (بایزیدؒ) یوں بھی کہہ دیتے تھے کہ اگر تم ہم سے ایسا لفظ سنو تو ہمیں روک دو۔ مگر مرزا قادیانی کے نزدیک ایسا کلام وحی خداوندی سمجھا جاتا ہے تو پھر ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی بھی مجذوبانہ حالت میں ایسا ویسا کہا کرتے تھے اور بعد میں توبہ کر لیا کرتے تھے۔

نبوت کا قول کیا ہے۔ علمائے اسلام ۔ ہے اور ان کو حق بجانب سمجھ کر صوفیا۔ ایسے فتوے تکفیر کی تصدیق بھی کی ہے ہے وہ بیشک کافر ہے۔ (نفحات الانس

اشعار پیش کردہ کی بندش ظاہر کرتی ہے شان اس سے برتر تھی کہ ایسے بے محاور صحیح نہیں ہیں۔ وہ قابل استدلال نہیں نے ہی ایسے فقرات اپنے منہ سے نکا۔

تھے۔ ان کو اصطلاح صوفیہ میں شطحیات بروزی وغیرہ اقوال کو شطحیات تسلیم کر کسی شطحی قول کو عقائد میں داخل نہیں کیا

پیش کی ہے۔ ان سب کو ملا کر یہ نتیجہ نکا کسی وقت بھی وہ مجاز نہیں ہے کہ کسی جائے گا۔ لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادی اور تحقیقات سے بروز و انعکاس وغیرہ رسالت کے بعد دعویٰ نبوت کو خواہ وہ کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔

حسب تصریحات اسلام مجبور ہیں کہ انعکاسی، محدثی ، ظلی ) یا خواہ کسی قسم ک اسلام ہے۔

صفحہ ٥٥

نبوت کا قول کیا ہے۔ علمائے اسلام نے اس عقیدہ کی بنیاد پر ان کی بڑے زور سے تکفیر کی ہے اور ان کو حق بجانب سمجھ کر صوفیائے کرام نے صرف اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے۔ بلکہ ایسے فتوائے تکفیر کی تصدیق بھی کی ہے۔ چنانچہ حضرت بایزیدؒ فرماتے تھے کہ جو ایسے الفاظ کہتا ہے وہ بیشک کافر ہے۔

(نفحات الانس)

اشعار پیش کردہ کی بندش ظاہر کرتی ہے کہ خواہ مخواہ ان کے ذمہ تھوپ دیئے گئے ہیں۔ ورنہ ان کی شان اس سے برتر تھی کہ ایسے بے محاورہ یا غلط سلط الفاظ استعمال کرتے۔ سو ایسے کلمات جو خود ہی صحیح نہیں ہیں۔ وہ قابل استدلال نہیں ہو سکتے۔ جب تک کہ یہ ثابت نہ کیا جائے کہ واقعی انہوں نے ہی ایسے فقرات اپنے منہ سے نکالے تھے۔

تھے۔ ان کو اصطلاح صوفیہ میں شطحیات کہتے ہیں۔ اسی واسطے مرزا قادیانی بھی اگر اپنے اتحادی اور بروزی وغیرہ اقوال کو شطحیات تسلیم کر لیتے تو ہمیں ان پر بھی کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ کیونکہ آج تک کسی شطحی قول کو عقائد میں داخل نہیں کیا گیا۔

پیش کی ہے۔ ان سب کو ملا کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ صوفی اگرچہ فیضان نبوت سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ مگر کسی وقت بھی وہ مجاز نہیں ہے کہ کسی طرح کی نبوت کا دعویٰ کر سکے۔ ورنہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔ لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کے ثابت کرنے میں صوفیائے کرام کے کلمات اور تحقیقات سے بروز وانعکاس وغیرہ تو پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ نہیں پیش کیا جاتا کہ انہوں نے ختم رسالت کے بعد دعویٰ نبوت کو خواہ وہ کسی طرح ہی ہو ممنوع بھی قرار دیا ہے۔ اب خود ہی سوچ لیں کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے۔

حسب تصریحات اسلام مجبور ہیں کہ جو شخص بھی ختم رسالت کے بعد مدعی نبوت (جزوی، بروزی، انعکاسی، محدثی، تبعی) یا خواہ کسی قسم کا مدعی نبوت ہو وہ حسب تصریحات مرزا قادیانی بھی خارج از اسلام ہے۔

صفحہ ٥٦

خواہ خود مرزا قادیانی ہی ہوں یا کوئی صوفی ہو یا اولیائی کا دم بھرتا ہو۔ اس لئے اگر یہ ثابت کیا جائے کہ جن صوفیاء کا کلام پیش کیا گیا ہے کہ انہوں نے ہی مرزا قادیانی کی طرف دعویٰ نبوت کیا تھا اور اس کو الہامی رنگ چڑھایا تھا اور پھر اس کی اشاعت کراکر اپنے منکرین کو کافر، حرامزادے اور غیر انسان قرار دیا تھا تو علمائے اسلام مجبور ہوں گے کہ احترام ختم رسالت قائم رکھتے ہوئے ان کو بھی اسلام سے خارج قرار دیں۔ اس لئے ایسے استدلالات سے مرزا قادیانی کی نبوت کو ثابت کرنا بالکل لاحاصل ہوگا اور بس۔

فتوحات کی وجہ سے عیاشی نے قدم جمانا شروع کر دیا تھا۔ جس کا اثر شعراء اسلام پر کافی طور پر پڑا۔ بالخصوص فارسی شعراء تو چونکہ ایران اور شیراز کے ہی رہنے والے بھی تھے۔ گو انہوں نے اسلام کے ظاہری تعزیرات سے عیاشی کا ارتکاب تو ترک کر دیا تھا۔ مگر قلم اور زبان اسی مذاق سے آشنا ضرور تھے۔ اس لئے جو بھی شعر لکھتے خواہ وہ کسی اعلیٰ نکتہ خیال سے لکھا جاتا۔ مگر استعارات و تشبیہات وہی ہوتے جو قبل از اسلام تھے۔ اس کے علاوہ اسی عہد اسلامی میں مرتدین قرامطہ کا بڑا زور تھا۔ جابجا ان کے نام لیوا پیدا ہو چکے تھے۔ سلطنت نے ہر چند اس مذہب کو جڑ سے اکھاڑا۔ مگر ان کے اکھاڑے اندر ہی اندر صوفیائی رنگ میں جم چکے تھے اور ان چالاکیوں سے بے خبر صوفی ان کے دام تزویر میں پھنس گئے تھے اور قرامطہ کا مسلک کسی حد تک بروز، انعکاس، حلول اور اکتساب النبوۃ کے عنوانات میں ظہور پذیر ہو چکا تھا۔ جس کا اثر اب تک بے خبری کی وجہ سے صوفیائے کرام کے ملفوظات میں موجود ہے۔ ان کو شطحیات کہا جاتا ہے۔ کسی وقت مستانہ رنگ میں اپنی مدحت سرائی کرتے اور کسی وقت جب اسلامی جذبات کا احترام دامنگیر ہوتا تو خود ہی ان سے تائب ہو کر نادم ہو بیٹھتے۔ یہی وجہ تھی کہ ان شطحیات کا وجود اسلامی عقائد اور اسلامی احکام یا اسلامی مسائل میں کہیں نہیں ملتا۔ بلکہ فقہاء تصریح کرتے ہیں کہ اگر ایک طرف جناب غوث الاعظمؒ کا قول ہو اور دوسری طرف امام زفرؒ کا قول ہو تو اسلامی مسائل اور عقائد میں امام زفرؒ کا قول معتبر ہوگا اور جناب غوث پاکؒ کا قول قابل عمل قرار نہ دیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی بنیاد شطحیات پر ہوگی۔

صوفیائے کرام کے اقوال سے استدلال قائم کرنا مفید نہیں۔ کیونکہ:

زور سے ان کی تردید ہو

کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس ہیں۔ اس کے بعد جب استعمال کافور ہو گیا۔ ب بروز اور اکتساب نبوت الہامی یا منامی طور پر ر اور اس کو مرزا قادیانی اور اسلامی تصریحات

شاعرانه مذاق، بالخصوص مذاق عجمی جن صوفیاء کے شعر پیش کئے گئے ہ حافظ شیرازی جیسے نامور بھی بلخ وب ہوئے نظر آتے ہیں۔

اگر آن
بخال

اخیر پر یہاں ایک او ایک نئے ڈھانچہ میں ڈھالا گیا۔ استادوں کی استادی سے نہ بچ سکا نہ مان لیا کریں۔ بلکہ ان کا فرض پھر دیکھیں کہ اسی کلام کا ماقبل وما ہو جائے تو پھر ہمارے دس جوابو

ہے کہ مرزا قادیانی نے لفظ نبوت

صفحہ ٥٧

زور سے ان کی تردید ہوئی اور جو صوفیاء تائب نہ ہوئے ان کو سزائیں بھی دی گئیں۔

کیا جاسکتا۔ کیونکہ اس میں تعیش آ گیا تھا۔ اس وقت کی شطحیات اسلامی دلیل نہیں ہیں۔ اس کے بعد جب مسلمان اغیار کی رعایا بن گئے تو آہستہ آہستہ وہ تمام شطحیات کا استعمال کافور ہو گیا۔ چنانچہ آج جو بھی صوفیائے کرام ہیں۔ ان کے کلام میں حلول، بروز اور اکتساب نبوت یا انعکاس کا پتہ نہیں چلتا۔ اگر کسی نے آج بوجہ کمال اتباع کے الہامی یا منامی طور پر رسالت کا دعویٰ کیا ہے تو بڑے زور سے اس کی تردید کی گئی ہے اور اس کو مرزا قادیانی کے ساتھ ہی ملا دیا گیا ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث کے خلاف تھا اور اسلامی تصریحات اس کی تردید کرتی ہیں۔

شاعرانہ مذاق، بالخصوص مذاقِ عجمی بات کا بتنگڑ بنانے میں مشہور ہے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جن صوفیاء کے شعر پیش کئے گئے ہیں۔ فی الواقع بھی ان کا یہی عقیدہ تھا۔ کیونکہ شاعرانہ رنگ میں حافظ شیرازی جیسے نادار بھی بلخ و بخارا کو اپنی ملکیت سمجھ کر جود و سخاء میں دوست پر نچھاور کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اگر آن ترک شیرازی بدست آرد دل ما را
بخال ہندوش بخشم سمر قند و بخارا

اخیر پر یہاں ایک اور بھی شبہ پڑتا ہے کہ مرزائی پارٹی میں جب قرآن مجید کا مفہوم ایک نئے ڈھانچہ میں ڈھالا گیا ہے تو بہت ممکن ہے کہ صوفیائے کرام کا کلام بھی ان چابکدست استادوں کی استادی سے نہ بچ سکا ہو۔ اس لئے ناظرین کا فرض ہے کہ صرف ان کے کہنے سے سچ نہ مان لیا کریں۔ بلکہ ان کا فرض ہے کہ صوفیائے کرام کا ان کی خود اپنی تصنیف میں لکھا ہوا دیکھیں پھر دیکھیں کہ اسی کلام کا ماقبل و مابعد کس مضمون کو ادا کر رہا ہے۔ آخر جب ہر طرح سے اطمینان ہو جائے تو پھر ہمارے دس جوابوں کی طرف متوجہ ہوں ورنہ کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ہے کہ مرزا قادیانی نے لفظ نبوت سے صرف اس قدر مراد لیا ہے کہ ان کو اخبار بالغیب اور کثرت

صفحہ ٥٨

مکالمہ سے سرفراز کیا گیا ہے اور یہ صرف اصطلاحی لفظ ہے۔ جو دوسرے مفہومات سے الگ ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اگر صرف یہی حجت پیش کرتے تو پھر بھی ان کو ہرگز اجازت نہ تھی کہ کسی قسم کی خانہ ساز نبوت کا دعویٰ کرتے۔ کیونکہ اس میں اہل اسلام کو سخت دھوکہ دہی، افساد فی الدین، خلاف تصریحات اسلامیہ اور سخت فرقہ بندی کا اندیشہ تھا۔ چنانچہ وہی ہوا اور مرزائیوں نے الگ اڑھائی اینٹوں کی مسجد کھڑی کر کے اغیار کو اپنی خانہ ساز نبوت کے انکار پر اسلام سے خارج سمجھ لیا ہے۔ یہ تو اونٹ کی مثال ہے کہ سردی کے وقت رات کو ایک اونٹ نے ایک عربی سے کہا تھا کہ مجھے صرف گردن خیمہ کے اندر کر لینے دو تو عربی ذرہ پیچھے ہٹ گیا۔ پھر دو ٹانگیں بھی اندر کر لیں تو عربی کھڑا ہوگیا۔ آخر جب اونٹ سارا ہی اندر آگیا تو عربی (مالک خیمہ) سے کہا کہ باہر چلے جاؤ تمہاری یہاں جگہ نہیں ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے آہستہ آہستہ جب پاؤں جمائے اور ایک جماعت تیار کر لی تو اخیر میں اہل اسلام کو اسلام سے ہی جواب دے دیا اور تمام اسلام پر خود ہی قابض ہو بیٹھے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی پہلے سے چھپے رستم تھے اور بعض نبض شناس اہل علم براہین احمدیہ کے زمانہ سے قیاس کر رہے تھے کہ یہ شخص ضرور نبوت کا دعویٰ کرے گا۔

چنانچہ ان کا یہ دعویٰ صحیح نکلا اور ایسا صحیح نکلا کہ مرزا قادیانی کی کوئی پیشین گوئی بھی ایسی صحیح نہیں نکلی اور زراندوزی کی ایسی گدی قائم کر گئے ہیں کہ آج قادیان پیرس کا نمونہ بن رہا ہے اور اسلامی تمدن سے وہاں روز افزوں روگردانی ہو رہی ہے اور احکام اسلامیہ کو توڑ موڑ کر معاشرت مغربیہ پر قربان کیا جا رہا ہے۔ غالباً مرزا قادیانی کا اپنی نبوت سے بھی یہی مطلب تھا جو حاصل ہو گیا ہے۔ ایک پڑھا لکھا آدمی کسی گاؤں میں گمنام ہو کر زندگی بسر کر رہا تھا۔ آخر اپنی کروٹ بدلی اور دعویٰ کیا کہ: ”میں اللہ ہوں“ یہ کہنا تھا کہ چاروں طرف شہرت ہوگئی اور ایک بڑے بھاری مجمع میں جوابدہی کے لئے پیش ہوا۔ تو بحث کے لئے صرف چند اہل علم روشناس منتخب کئے۔ خلوت میں کہنے لگا کہ میرا دعویٰ مطلقاً خدائی کا نہیں ہے۔ الا پنجابی زبان میں کچے اور بے عقل کو کہتے ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں اللہ ہوں یہ ان کی غلطی ہے میرا کیا قصور ہے؟ اس پر تمام نے کہا کہ مولوی صاحب اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ تم نہیں سمجھے آخر جب لوگ چلے گئے تو مدعی الوہیت نے صاف کہہ دیا کہ میں اللہ ہوں۔ علمائے اسلام بھی میرے دعویٰ کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اس کے بعد اپنی جماعت تیار کر کے جنگ زرگری شروع کر دی اور بڑے پیر صاحب بن کر ایچ پیچ کی باتوں میں خوب مال کھایا اور اخیر لوگوں کا ستیا ناس کر کے دنیا سے رخصت ہوا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی پہلے پہل محدثیت کا دعویٰ کیا اور اصطلاحی نبوت کا دم بھرا۔ پھر حسب عقیدہ محمودیہ نبوت میں

صفحہ ٥٩

ترقی کرنا شروع کر دیا۔ اخیر عمر میں اپنے غیر مشروط نبی ہونے کا اعلان کر دیا اور لوگوں میں اختلافات کا دروازہ کھول کر چل دیئے۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ!

٥...... مرزا قادیانی کے مذہبی مقابلے

پہلا مقابلہ ١٨٧٨ء جنگ تناسخ

مرزا قادیانی نے سب سے پہلے آریوں سے مقابلہ کیا۔ ان کی تردید میں اخبار سفیر ہند کے ذریعہ مضامین شائع کرائے۔ جن میں زیر تنقیح یہ مسئلہ تھا کہ آیا تناسخ کا مسئلہ درست ہے یا غلط؟ ٢/ مارچ ١٨٧٨ء میں مرزا قادیانی نے اشتہار دیا کہ اگر آریہ یہ ثابت کر دیں کہ روحیں بے انت ہیں تو ہم ان کو پانچ سو روپیہ دیں گے۔ آریوں نے کہا کہ اگر چہ روحیں بے انت نہیں ہیں۔ مگر بوقت ضرورت ان کو گنتی سے نکال کر تناسخ جاری رکھا جاتا ہے اور اس پر مناظرہ کی درخواست کی۔ مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں ١٠/ جون ١٨٧٨ء کو اشتہار دیا کہ مناظرہ خاص مجلس میں ہو اور تین آدمی (دو برہمو، ایک عیسائی) منصف مقرر ہوں اور جلسہ میں صرف تین تقریریں ہوں۔ پہلے ہماری پھر آریوں کی اور اخیر میں پھر ہمارا جواب الجواب سن کر مجلس برخاست کی جائے۔ یہ شرائط چونکہ یکطرفہ تھے۔ آریوں نے غالباً منظور نہ کئے اور باتوں ہی باتوں میں یہ بحث طول کھینچ گئی جس کا نتیجہ سوائے منافرت کے کچھ نہ ہوا۔

ہمیں اس موقعہ پر یہ دکھانا منظور ہے کہ اس وقت مرزا قادیانی اشتہاروں میں اپنا نام صرف اتنا ہی لکھا کرتے تھے کہ: ”غلام احمد رئیس قادیان“ نہ اس وقت آپ مہدی تھے اور نہ مسیح۔ اس لئے عام اہل اسلام آپ کے ہم نوا تھے اور علمائے اسلام آپ کی امداد کو تیار رہتے تھے۔ جن میں سے خصوصیت کے ساتھ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا نام قابل ذکر ہے۔ پیر صاحب گولڑوی، صوفی عبدالحق غزنوی، مولوی غلام دستگیر قصوری، مولوی غلام علی امرتسری اور خاندان لدھیانوی وغیرہ بھی اس وقت آپ کو مجاہد اسلام تصور کرتے تھے۔

دوسرا مقابلہ ١٨٨٠ء جنگ الہامی

مرزا قادیانی کی پہلی تصنیف براہین احمدیہ ہے۔ جس کی ترتیب و تالیف کے متعلق مراق مرزا میں کافی روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے اور اپنی ناموری حاصل کر لینے کے بعد ایک اشتہار دیا کہ جس میں اس کی نشر و اشاعت کے لئے دو طریق پیش کئے۔

صفحہ ٦٠

دوم....... اشاعت سے پہلے ہر ایک دردمند اسلام پانچ پانچ روپے میں کتاب وصولیت کو قبول کرے تاکہ جس قدر تیار ہوتی جائے اس کے نام روانہ کی جایا کرے اور یوں بھی لکھا کہ اگر اغنیاء ایک دن کا خرچ جو ان کے باورچی خانہ میں ہوتا ہے بھیج دیں تو یہ کام بآسانی سرانجام پا سکتا ہے اور یوں بھی تحریر کر دیا کہ کوئی مخالف اسلام اگر اس کا جواب ان شرائط کے ماتحت دے گا جو جلد اوّل میں بیان کی گئی ہیں تو اس کو دس ہزار روپے انعام دیئے جائیں گے۔

بہر حال یہ کتاب چھپی اور لوگوں نے پانچ پانچ روپے پیشگی بھیج کر اپنے اخلاص کا اظہار کیا۔ مگر جب نشر واشاعت کا وقت آیا تو اس کی قیمت بیس پچیس روپے تک بھی وصول کی گئی اور کافی روپیہ جمع ہو گیا۔

(کلمہ فضل رحمانی)

اور اس وقت تک بھی مرزا قادیانی نے کوئی دعویٰ نہیں کیا اور صرف ”خاکسار غلام احمد قادیانی“ لکھ کر مضمون ختم کر دیا کرتے تھے۔ پہلے رئیس قادیانی لکھتے تھے۔ اب خاکسار بن گئے۔ آپ کی یہ پہلی تبدیلی ہے اور اس کتاب کے اندر برہمو سماج، آریہ سماج اور عیسائیوں کو خوب اشتعال اسلام کے مقابلہ میں آمادہ پیکار کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آریوں نے تکذیب براہین احمدیہ لکھی۔ جس میں اسلام پر وہ حملے کئے کہ اس سے پہلے جن کا نام ونشان تک بھی نہ تھا اور جن کا باعث صرف یہی کتاب ثابت ہوئی۔ یہ مقابلہ اخیر میں الہامی مقابلہ تھا۔ کیونکہ اس کتاب میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اگر مخالفین اسلام کے مذہب میں صداقت ہے تو آؤ میرے الہام کے مقابلہ میں الہام کرو۔

ان الہامات کو دیکھ کر عاقبت اندیش طبائع نے مرزا قادیانی سے تنفر کا اظہار کیا اور حسن ظن رکھنے والے پھر بھی آپ کی تائید میں قائم رہے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعت السنۃ میں اس کتاب کی بڑی تعریف وتوصیف کی۔ (دیکھو سیرت مسیح) بعد میں جب ہوش سنبھالا سب کی سب ان کو واپس لینی پڑی۔ بہر حال اس مقابلہ کا نتیجہ انشقاق وافتراق کے سوا کچھ نہ ہوا۔

تیسرا مقابلہ ١٨٨٧ء، ١٨٨٨ء جنگ بشیر

١٨٨٧ء میں مرزا قادیانی کے دو جوان فرزند بقید عمر ٢٠، ٢٢ سالہ موجود تھے۔ ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء کو مرزا قادیانی نے اشتہار دیا کہ خدائے تعالیٰ نے الہام میں مجھے کہا ہے: ”اے مظفر تجھ پر سلام“ اور ایک لڑکا دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ جو تمہارا مہمان ہو کر آتا ہے اور جس

صفحہ ٦١

کا نام (عمانوائیل) بشیر بھی ہوگا۔ وجیہہ، پاک، زکی، ذکی، صاحب فضل، صاحب شکوہ اور عظمت و دولت، صاحب نفس مسیحی و روح الحق، کلمتہ اللہ، شافی امراض، فہیم، حلیم، علیم علوم ظاہری و باطنی، فرزند دلبند ارجمند، مظہر الاول والآخر، مظہر الحق والعلا، کان اللہ نزل من السماء، نور علیٰ نور، مسوح عطر عنایت الٰہی مجتبیٰ اسیران قوم زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنی نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ (غرضیکہ تمہارے گھر حضرت مسیح علیہ السلام جنم لیں گے)

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٩٩ تا ١٠٣ ملخصاً)

چونکہ مرزا قادیانی نے یہ اشتہار ہوشیار پور میں شائع کیا تھا اور جناب کی اس وقت اہلیہ انبالہ چھاؤنی میں اپنے باپ (میر ناصر نواب صاحب) کے گھر گئی ہوئی تھی۔ اس لئے قادیان میں سے دو آدمیوں (سلطانی، صابر علی) نے شائع کر دیا کہ مرزا قادیانی کے گھر فرزند پیدا ہو چکا ہے۔ جس کا ابھی تک لوگوں سے اظہار نہیں کیا تھا۔ اس لئے یہ پیش گوئی غلط ہے۔ اس پر مرزا قادیانی نے ٢٢/ مارچ ١٨٨٦ء کو ایک جوابی اشتہار شائع کیا کہ ابھی تک میرا کوئی تیسرا فرزند پیدا نہیں ہوا۔ صرف وہی دو ہیں جو بیس سال سے موجود ہیں۔ لیکن نو سال تک اس الہام کے مطابق ایک لڑکا ضرور پیدا ہوگا۔ خواہ دیر سے ہو خواہ جلدی ہو اور یہ پیش گوئی دو سال سے پہلے خاص خاص آدمیوں کے سامنے ظاہر بھی کر دی گئی ہے اور یہ خیال کرنا بھی غلط ہے کہ ہم نے حمل دیکھ کر یہ کہا ہے۔ کیونکہ حمل دیکھنے سے قطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ واقعی لڑکا ہی ہو گا یا لڑکی۔

بالفرض اگر لڑکے کا یقین بھی ہو جاوے تو یہ کس طرح معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ لڑکا ایسا ہوگا۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ یہ آسمانی نشان ہے جو رسول خدا ﷺ کی صداقت کے لئے ظاہر ہوگا۔ کیونکہ دعاء کے ذریعہ ایک خاص روح منگوائی گئی ہے۔ جس میں صفات مذکورۃ الصدر موجود ہوں گے اور اس قسم کی روح کا جسمانی حالت میں ظاہر ہونا ان تمام روحوں سے زیادہ بڑھ کر نشان صداقت ہوگا۔ جو حضرت مسیح یا دیگر انبیاء کی دعاء سے (بقول بائبل) دوبارہ زندہ ہوئی تھیں اور کچھ دیر بعد پھر الگ ہوگئی تھیں۔ کیونکہ وہ روحیں معمولی تھیں۔ جن کا آنا نہ آنا برابر تھا۔ لیکن یہ روح ایک عظیم الشان ہے کہ جس کے آنے سے کمال اسلام ظاہر ہوگا۔ اس لئے یہ معجزہ احیاء موتیٰ سے بڑھ کر ثابت ہوگا۔

(اشتہار واجب الاظہار مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٦)

اس اشتہار پر لوگوں نے اعتراض کیا کہ نو برس تک لمبی پیشین گوئی صداقت کا نشان نہیں ہے تو مرزا قادیانی نے ٨/ اپریل ١٨٨٦ء کو اشتہار دیا کہ آج الہام کے ذریعہ سے یوں معلوم ہوا ہے کہ بہت جلد ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جو مدت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔ مگر یہ معلوم نہیں ہوا کہ

صفحہ ٦٢

آیا یہ وہی لڑکا ہے۔ جس کے صفات مذکور ہو چکے ہیں۔ یا یہ کوئی اور دوسرا لڑکا ہوگا۔

(اشتہار صداقت آثار مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٦)

بہرحال مرزا قادیانی نے لوگوں کو ایک الجھن میں ڈال دیا۔ جو کسی طرح سلجھ نہ سکتی تھی۔ بدقسمتی سے ان دنوں میں موجودہ حمل سے لڑکی پیدا ہوئی اور لوگوں نے اعتراض کیا کہ ولد موعود مدت حمل سے تجاوز کر گیا ہے۔ حالانکہ موجودہ حمل سے اس کا وعدہ دیا گیا تھا۔ مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں ٧ اگست ١٨٨٧ء کو اشتہار (خوشخبری) دیا کہ میں نے کب کہا تھا کہ موجودہ حمل سے وہ لڑکا ہوا۔ بلکہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ اگر اب نہ ہوا تو دوسرے حمل سے ضرور پیدا ہوگا۔ آخر وہ لڑکا (جو اس موعود کے علاوہ ہے) ٧ اگست ١٨٨٧ء کو پیدا ہو گیا ہے اور یہ جو کہا گیا تھا کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا۔ اس سے مراد صرف یہی تھا کہ بہت جلد پیدا ہوگا اور دوسرے حمل میں پیدا ہوگا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١)

اور ہم کو اپنے الہام کی تشریح کرنے کا پورا اختیار ہے۔ اب مرزا قادیانی نے یہ سمجھا کہ یہ وہی لڑکا ہے کہ جس کو عنموائیل کہا گیا ہے۔ حالانکہ یہ وہ نہ تھا۔ بلکہ اس کی پیش گوئی ابھی ملتوی کی گئی تھی اور یہ لڑکا درمیان میں دوسری پیشین گوئی کے ماتحت پیدا ہو گیا تھا اور اس میں صفات مذکورہ الصدر کا پایا جانا ضروری نہ تھا۔ مگر مرزا قادیانی کو اجتہادی غلطی لگ گئی تھی اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ ہی عنموائیل ہے۔ اس لئے اس کا نام محمد بشیر رکھ دیا اور خیال کیا کہ یہی لڑکا دنیا کو برکتیں دے گا۔ لیکن بدقسمتی سے یہی بشیر ٤ نومبر ١٨٨٨ء کو مر گیا۔ اب لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ کا بشیر کیا ہوا؟ اس پر مرزا قادیانی نے یکم دسمبر ١٨٨٨ء کو (حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر کے نام سے) جواب شائع کیا کہ پہلے الہام میں ایک لڑکا بتایا گیا تھا۔ لیکن بعد میں اپریل کے الہام میں ایک دوسرا لڑکا بھی مجھے عنایت ہوا۔ جس کو میں پہلا سمجھا تھا اور یہ میری اجتہادی غلطی تھی۔ بہرحال ابھی تک وہ موعود نہیں آیا۔ انتظار رکھو اور جب یہ تاویل شائع کی گئی تو لوگوں نے خیر خواہی کے طور پر کہا کہ ایسے الہام یا کشف کا ظاہر کرنا مناسب نہیں ہے کہ جس سے فضیحت ہوتی ہو۔ تو مرزا قادیانی نے اسی اشتہار میں یوں لکھا کہ ہم نے اپنا کام (اظہار کشف) خدا کے بھروسہ پر کرنا شروع کر دیا ہے۔ غیر کو ہم مردہ سمجھتے ہیں اور بعض مولوی صاحبان بھی ہم پر ہنسی اڑاتے ہیں۔ درحقیقت جب دنیا اور غفلت کا کیڑا ان کی ایمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے یہ لوگ اپنی بیماریوں کو صحت خیال کرتے ہیں اور کمالات الٰہی اور قرب ولایت کی عظمت بالکل ان کے دلوں سے اٹھ گئی ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو ان کا ایمان نبوت پر قائم رہنا معرض خطر میں پڑ جائے گا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٨٠)

صفحہ ٦٣

اب اس ساری بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی الہام کرتے تھے۔ مگر اس کے پورا کرنے میں ان کو بڑی تکلیف ہوتی تھی۔ چنانچہ لوگ کہتے تھے کہ وہ الہام پورا نہیں ہوا اور جناب کہتے تھے کہ ایک آنچ کسر باقی رہ گئی تھی۔ ورنہ پورا ہونے میں شک نہیں تھا۔ اس موقعہ پر ناظرین غور کریں کہ عمانوئیل کی پیشین گوئی کیوں شائع ہوئی اور اس سے کون مراد تھا۔ غالباً مرزا قادیانی کا یہ مقصد تھا کہ اپنے تقدس کی بنیاد یوں رکھ دیں کہ آپ ولی یا مہدی وقت بنیں تا کہ نو سال تک مسیح علیہ السلام گھر ہی پیدا ہو جائیں۔ کیونکہ جس قدر بھی عمانوئیل کے اوصاف لکھے ہیں۔ وہ سب کے سب قرآن شریف میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق مذکور ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی کو اس الہام میں کامیابی نہ ہوئی اور حسب منشاء اپنے گھر مسیح پیدا نہ ہوسکا۔ اس لئے غالباً یہ خیال کیا ہوگا کہ اگر بالفرض بشیر مسیح ہو کر پیدا ہوا بھی تو معلوم نہیں کب جوان ہوگا اور کب ہمیں اس سے فائدہ کی امید ہوگی۔ اس بناء پر آپ نے اس الہام کو ملتوی کر دیا اور یہ تجویز سوچی کہ خود ہی مہدی بن کر مسیح بن جائیں۔ تاکہ دونوں لطف خود ہی اٹھائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور قربت ولایت اور کشف کے مدعی بن کر لوگوں کو مردہ، غافل اور بے ایمان قرار دینا شروع کر دیا۔ ورنہ پہلے اپنے آپ کو صرف خاکسار ہی لکھتے تھے اور اہل اسلام کو اپنا بھائی جانتے تھے۔ لیکن اس اشتہار کے بعد اپنا لقب مبلغ رکھ دیا تھا اور لوگوں کو مردہ اور بے ایمان کہنا شروع کر دیا اور یہ مرزا قادیانی کے معراج کی پہلی سیڑھی تھی۔ جس پر آپ نے پاؤں رکھا تھا۔ پھر ترقی کرتے کرتے نبی بن گئے اور عمانوئیل کی پیشین گوئی کو ایسا نظر انداز کر دیا کہ اپنی تصانیف میں ذکر تک نہیں کیا اور جب خلیفہ محمود گدی نشین ہوئے تو اس وقت یہ پیشین گوئی معرض بحث میں آگئی۔ چنانچہ عمانوئیل بننے کے کئی ایک دعویدار بن کر مقابلہ میں آئے۔ لیکن مرزا محمود نے سب کو شکست دی اور اپنے نام کے ساتھ بشیر کا اضافہ کر لیا اور الفضل اخبار شائع کر کے اپنے علم و فضل کا اظہار بھی کرنے لگے۔ سفر یورپ میں اگر کچھ بھی کامیابی ہو جاتی تو برکت حاصل کرنے کا الہام بھی پورا ہو جاتا۔ مگر یہ کمی باقی رہ گئی۔ ورنہ دوسرے اجزاء کھینچ تان کر پورے کر لئے تھے۔ مگر ہمارے نزدیک اس الہام کی حقیقت نہ تو مرزا قادیانی نے ظاہر کی تھی اور نہ ہی مرزا محمود نے اس کو ظاہر کرنے دیا ہے۔

وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی پر جب عیسائیوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام تو مردے زندہ کیا کرتے تھے اور جناب نے تو کوئی مردہ زندہ نہیں کیا تو مرزا قادیانی نے جواب سے عاجز آکر ایک الہام پیش کر دیا تھا۔ جس میں یہ ظاہر کرنا مطلوب تھا کہ خاص بچہ کا پیدا ہونا مردہ زندہ کرنے سے بہتر ہے۔ کیونکہ مردہ کی روح بہت

صفحہ ٦٤

جلد واپس چلی جاتی ہے اور بچہ دیر تک زندہ رہے گا وغیرہ وغیرہ۔ جس سے یہ مطلب تھا کہ جس مسیح پر عیسائی نازاں ہیں وہ تو ہمارے گھر پیدا ہونے والا ہے اور ہم اس کے باپ ہیں۔ لیکن اب مرزا محمود بتائیں کہ آیا ان کو دعویٰ مسیحیت کرنا ضروری تھا یا نہیں؟ اگر ضروری نہ تھا تو یہ الہام آپ پر صادق نہیں آتا اور اگر ضروری ہے تو مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت بالکل غلط ہو جاتا ہے۔ بہر حال یہ ایک ایسا گورکھ دھندہ ہے کہ جس کا جواب مرزائی تعلیم میں موجود نہیں ہے۔ مگر ہم صرف ایک فقرہ سے جواب دے سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو شروع سے ہی مراق تھا اور یہ الہام بھی اسی کا نتیجہ ہے اور بس!

چوتھا مقابلہ ١٨٩١ء جنگ دہلی

١٨٨٨ء میں بمقام لدھیانہ اشتہار بیعت دیا اور لوگ دھڑا دھڑ مرید ہونے لگے اور خاصی جماعت تیار ہو گئی۔ اس کے بعد ١٦؍اکتوبر ١٨٩١ء کو مرزا قادیانی دہلی چلے گئے اور وہاں میاں مولوی نذیر حسین کو مخاطب کر کے اشتہار دیا (اشتہار بمقابل مولوی سید نذیر حسین دہلوی) کہ: ”چونکہ آپ نے مجھے ملحد کہا ہے اور خود احادیث نبویہ کے خلاف حیات مسیح کا قول کرتے ہو۔ سخت افسوس ہے تمہارے طعن سے امام ابو حنیفہ بھی نہیں بچ سکے تو ہم کس طرح بچ سکتے تھے۔ مولوی عبد الحق کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ گوشہ نشین ہیں اور کس میازار و کس مرنجاں ہیں۔ اس لئے ان کو مخاطب نہیں کیا جاتا۔ آپ حیات مسیح پر مناظرہ کریں تاکہ باہمی فیصلہ ہو جائے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٧)

اس اشتہار کے شائع ہونے پر میاں صاحب کے شاگرد جمع ہو گئے۔ اس وقت مرزا قادیانی کوٹھی نواب لوہارو بازار بلیماران میں مقیم تھے۔ حاجی محمد احمد صاحب نے بھوپال سے مولوی محمد بشیر صاحب کو بلوا کر مناظرہ مقرر کیا۔ مولوی صاحب نے حیات مسیح کا ثبوت اپنے ذمہ لیا۔ بحث کوٹھی لوہارو میں ہوئی اور فریقین کے دس دس آدمی منتخب کئے گئے۔ جن میں سے مولوی عبد المجید اور مولوی محمد حسین بٹالوی کی شمولیت سے انکار کیا گیا۔ مولوی صاحب نے پانچ دلائل حیات مسیح کے متعلق لکھ کر پیش کئے۔ جس کا جواب مرزا قادیانی نے کل دس بجے پر ٹال دیا۔ آخر دوسرے روز جواب دیا۔ مگر جلسہ میں اسے پڑھ کر نہ سنایا اور چھ دن تک تین تین پرچے تیار ہو گئے۔ چوتھا پرچہ شروع ہی تھا کہ مرزا قادیانی نے عذر کیا کہ میرے خسر بیمار ہیں۔ بحث ادھوری چھوڑ کر دہلی سے قادیان کو روانہ ہو گئے۔ جس میں مرزا قادیانی کو سخت شکست ہوئی اور مولوی صاحب نے اس بحث کے متعلق رسالہ ”الحق الصریح فی اثبات حیاۃ المسیح“ لکھ کر شائع کیا۔ جس کا

صفحہ ٦٥

جواب مرزائیوں سے نہ بن پڑا یہ وہ زمانہ ہے کہ مرزا قادیانی ازالہ اوہام اور توضیح مرام لکھ چکے تھے اور براہین احمدیہ کے تمام مطالب کو اپنے اوپر منطبق کر کے یہ اعلان کر دیا تھا کہ مسیح علیہ السلام کا نزول مرزا قادیانی کا ظہور ہی ہے اور بس!

پانچواں مقابلہ ١٨٩٣ء جنگ مقدس

جون ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی امرتسر میں ڈپٹی عبداللہ آتھم پادری سے الوہیت مسیح پر نبرد آزما ہوئے۔ ١٥ یوم تک زور آزمائی ہوتی رہی۔ جوڑ سخت تھا۔ کوئی فیصلہ نہ بن پڑا۔ آخر تنگ آکر مرزا قادیانی نے جلسہ کے موقعہ پر یہ اعلان کیا کہ اگر سوا سال کے اندر آتھم نہ مرے گا تو میں جھوٹا ورنہ وہ جھوٹا (یعنی ٥؍ دسمبر ١٨٩٤ء تک) اور یہی مرزا قادیانی کا آخری حربہ تھا۔ کیونکہ مذہبی دلائل سے آپ کی جیب ہمیشہ خالی رہتی تھی۔ آخر تنگ آمد بجنگ آمد کی پناہ لے کر سامعین کی توجہ پھیر دیتے تھے اور اسی میں اپنی کامیابی کا راز مضمر رکھا ہوا تھا۔ لیکن خدا کی قدرت آتھم کی موت بمقام فیروزپور ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء کو ہوئی اور ایک سال پونے گیارہ ماہ کا وقفہ پڑ گیا تو انجام آتھم میں مرزا قادیانی نے اس کی وجہ یوں بیان کی کہ الہام میں بعد کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر آتھم اپنے دل میں خائف نہ ہوا تو تاریخ مقررہ پر مرے گا۔ ورنہ کچھ توقف کیا جائے گا اور لوگوں نے جب اس جواب کو پسند نہ کیا تو آپ نے یوں کہا کہ ارے سالا مر تو گیا چار دن کی تقدیم و تاخیر کیا حقیقت رکھتی ہے؟

(حقیقۃ الوحی ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٢)

پھر کہا کہ ارے نالائق قوم جب وہ وعید کے مطابق مر گیا ہے تو میعاد کی بحث کرنا کیا مطلب رکھتی ہے۔

(سراج منیر ص ٧٠، خزائن ج ١٢ ص ٧٢)

الغرض مرزا قادیانی کا یہ الہام بھی ادھورا ہی تھا اور اس میں بھی وہی استادی رکھی تھی کہ ایک آنچ کی کسر باقی تھی ورنہ دل میں توبہ کرنا یا ڈرنا ایک حاشیہ ہے کہ جس سے ہر ایک الہام کو درست کیا جاسکتا ہے۔

چھٹا مقابلہ ١٨٩٣ء مباہلہ غزنویہ

جون ١٨٩٣ء میں ”اعلان عام کے نام سے“ مرزا قادیانی نے آتھم کے بعد مولوی عبدالحق غزنوی کو مباہلہ کے لئے مجبور کیا۔ مولوی صاحب نے تین سال سے مرزا قادیانی کو اشتہار پر اشتہار نکالنے سے چین لینے نہیں دیا تھا اور یہاں بھی مرزا قادیانی نے بددعا کی آڑ میں جان چھڑائی تھی اور ایسے مضطرب نظر آتے تھے کہ مولوی صاحب نے کہلا بھیجا تھا کہ چونکہ آج کل آتھم کے مقابلہ میں آپ مصروف ہیں اور ١٥؍ جون ١٨٩٣ء کو آپ کو لاہور بھی بغرض مناظرہ اہل

صفحہ ٦٦

اسلام جانتا ہے۔ اس لئے تاریخ مباہلہ بڑا ناموزوں دن ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی نے جواب دیا کہ لاہور میری طرف سے حکیم نور الدین یا احسن امروہی جائیں گے۔ تاریخ مباہلہ سے گریز کرنا انسان کا کام نہیں ہے۔ یہ جواب سنتے ہی مولوی صاحب بھی تیار ہو گئے۔ چنانچہ دونوں فریق ١٠ ذیقعدہ ١٣١٠ھ کو دو بجے بعد از ظہر عید گاہ (متصل رامباغ امرتسر) میں حاضر ہو کر رو بقبلہ ہو کر اونچی آواز سے گڑگڑاتے ہوئے ایک دوسرے کو بدیں الفاظ بددعائیں دیتے تھے کہ اگر مرزا قادیانی دجال، مفتری، کذاب اور محرف کلام اللہ ہے تو وہ غارت ہو۔ ورنہ مولوی عبدالحق غارت ہو جائے اور آپس میں لعنتیں بانٹتے تھے۔ (مجموعہ اشتہارات ج١ ص٢٢٦) میں لکھا ہے کہ اگر اس مباہلہ کے بعد ایک سال تک کوئی نشان ظاہر نہ ہوا تو میں خدا کی طرف سے نہ ہوں گا۔

(حجۃ الاسلام ص ٩، خزائن ج ٦ ص ٣٩)

مگر جب سوا سال تک آتھم نہ مرا تو لوگوں نے کہا کہ مرزا قادیانی کو مباہلہ میں شکست ہوئی اور آپ نے جواب دیا کہ اگر وہ نہیں مرا تو نہ سہی۔ میرے مرید تو پہلے سے بڑھ گئے ہیں۔ بس میرے لئے یہی نشان صداقت کافی ہے۔

(حقیقت الوحی ص ٢٤١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٢)

اور جب مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مر گئے تو مولوی صاحب نے میدان جیت لیا کہ آناً فاناً موت سے مرزا قادیانی کا خاتمہ ہو گیا۔ اخیر نو سال بعد ٦ مئی ١٩١٧ء کو مولوی صاحب بھی چلتے بنے۔ ”كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذي الجلال والاكرام“ ١٨٩٢ء کو جلسہ تحقیق مذاہب لاہور میں ہوا۔ جس میں مسلمانوں کی طرف سے مرزا قادیانی کا مضمون پڑھا گیا۔ جو اسلامی اصول کی فلاسفی تھا۔ اس میں آپ کو کامیابی ہوئی۔ کیونکہ اس میں اپنی نبوت کا اظہار نہیں کیا گیا تھا۔

ساتواں مقابلہ ١٨٨١ء، ١٩٠٥ء (نکاح محمدی) جنگ محمدی

یہ مقابلہ بڑا زبردست تھا۔ اس کا تذکرہ عموماً مجالس مناظرہ میں آیا کرتا ہے۔ کیونکہ اس میں فریق مخالف متعدد زبردست ہستیاں تھیں۔

صفحہ ٦٧

اصل واقعہ یوں تھا کہ مرزا قادیانی کو (معلوم ہوتا ہے) مخالفین اسلام اسلامی نکاح زینب کے مسئلہ میں بہت دق کرتے تھے اور مسلمانوں نے بھی ان کا قافیہ تنگ کرنا شروع کر دیا تھا کہ مسیح تو آپ بن گئے ۔ مگر آپ پر یہ کیسے عائد ہو سکتا ہے کہ (بمضمون حدیث نبوی) مسیح علیہ السلام ٤٥ سال تک حکومت کرے گا اور اس اثنائے حکومت میں ایک شادی کرے گا اور اس کی اولاد بھی ہو گی۔ مرزا قادیانی چونکہ تقدس کا شکار ہو چکے تھے۔ اس لئے ان سے کوئی جواب تو نہ بن پڑا آخر ایک پیشین گوئی کر دی کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح آسمان پر ہو چکا ہے اور زمین پر اس کا ظہور بھی ہوگا اور اگر (میرے فرضی سسرال) انکار کریں گے تو آسمانی سسر اور میری بیوی کا شوہر ظاہری دونوں مر جائیں گے۔ (١٢؍ اگست ١٨٩٤ء تک)

تو میری باطنی بیوی بیوہ ہو کر پھر میرے پاس آجائے گی۔ اس کے بعد اپنے رشتہ داروں کو سفارشی خط لکھے اور الہام پورا کرنے میں منتیں بھی کیں۔ مگر سب اکارت گئیں۔ آخر لوگ ضد پر اڑ گئے۔ نکاح نہ ہونے دیا۔ مرزا سلطان احمد اور محمدی بیگم مرزا قادیانی کی وفات کے بعد کئی سال تک صحیح و سلامت زندہ رہے اور بال بچوں میں پھولے پھلے۔ مگر مرزا قادیانی کی کچھ پیش نہ گئی اور یہ پیشین گوئی لفظ بہ لفظ غلط نکلی۔ جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی نہ تو نکاح زینب کا اعتراض اٹھا سکے اور نہ ہی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ صحیح تھا۔ لہٰذا ان کو دجال، مفتری، کذاب اور محرف کلام اللہ و کلام رسول جو کچھ بھی کہا جائے درست تھا۔ آخر جب مرزا قادیانی نے محسوس کیا کہ لوگ یہ پیشین گوئی (باوجود ہزار حکمت عملی کھیلنے کے) پورا ہونے نہیں دیتے اور خدائے قدوس کی غیرت کا بھی تقاضا یہی ہے کہ الہام کا راز طشت از بام ہو جائے تو لگے بغلیں جھانکنے کہ اب کیا کیا جائے۔ آپ کے روح القدس ٹپچی نے (غالباً) یہ مشورہ دیا ہو گا کہ یوں کہہ دو کہ یہ نکاح فسخ ہو گیا ہے یا ملتوی کر دیا گیا ہے۔ مگر یہ کمال بے شرمی تھی کہ مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی سلطان محمد نے چھین لی تھی اور فسخ نکاح کا انتظار بھی نہیں کیا تھا۔ اس لئے مجبوراً مرزا قادیانی نے نکاح ثانی دیکھ کر اپنا نکاح فسخ کروا لیا تھا۔ ٹپچی کی دوسری روایت ہے کہ نکاح ملتوی کر دیا گیا تھا۔ گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ کہا تھا کہ پہلے میرا نکاح ہو چکا تھا۔ مگر اب فسخ ہو گیا ہے۔ بلکہ اصل واقعہ یوں ہے کہ ابھی آسمان پر نکاح نہیں ہوا تھا۔ صرف مشورے ہو رہے تھے۔ مرزا قادیانی کو (افراط محبت سے) یہ غلطی لگ گئی تھی کہ نکاح ہو چکا ہے۔ بدقسمتی سے التواء نکاح کی مدت مرزا قادیانی کی وفات تک پہنچ گئی اور یہ نوبت ہی نہ پہنچی کہ سلطان محمد کی موت واقع ہوتی اور اس کی بیوی بیوہ ہو کر مرزا قادیانی کے نکاح میں آتی۔ اس لئے التواء کا لفظ صحیح معنی پر واقع نہ ہو سکا اور اس

اصل واقعہ یوں تھا کہ مرزا قادیانی کو (معلوم ہوتا ہے) مخالفین اسلام اسلامی نکاح زینب کے مسئلہ میں بہت دق کرتے تھے اور مسلمانوں نے بھی ان کا قافیہ تنگ کرنا شروع کر دیا تھا کہ مسیح تو آپ بن گئے ۔ مگر آپ پر یہ کیسے عائد ہو سکتا ہے کہ (بمضمون حدیث نبوی) مسیح علیہ السلام ٤٥ سال تک حکومت کرے گا اور اس اثنائے حکومت میں ایک شادی کرے گا اور اس کی اولاد بھی ہو گی۔ مرزا قادیانی چونکہ تقدس کا شکار ہو چکے تھے۔ اس لئے ان سے کوئی جواب تو نہ بن پڑا آخر ایک پیشین گوئی کر دی کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح آسمان پر ہو چکا ہے اور زمین پر اس کا ظہور بھی ہوگا اور اگر (میرے فرضی سسرال) انکار کریں گے تو آسمانی سسر اور میری بیوی کا شوہر ظاہری دونوں مر جائیں گے۔ (١٢؍ اگست ١٨٩٤ء تک)

تو میری باطنی بیوی بیوہ ہو کر پھر میرے پاس آجائے گی۔ اس کے بعد اپنے رشتہ داروں کو سفارشی خط لکھے اور الہام پورا کرنے میں منتیں بھی کیں۔ مگر سب اکارت گئیں۔ آخر لوگ ضد پر اڑ گئے۔ نکاح نہ ہونے دیا۔ مرزا سلطان احمد اور محمدی بیگم مرزا قادیانی کی وفات کے بعد کئی سال تک صحیح و سلامت زندہ رہے اور بال بچوں میں پھولے پھلے۔ مگر مرزا قادیانی کی کچھ پیش نہ گئی اور یہ پیشین گوئی لفظ بہ لفظ غلط نکلی۔ جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی نہ تو نکاح زینب کا اعتراض اٹھا سکے اور نہ ہی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ صحیح تھا۔ لہٰذا ان کو دجال، مفتری، کذاب اور محرف کلام اللہ و کلام رسول جو کچھ بھی کہا جائے درست تھا۔ آخر جب مرزا قادیانی نے محسوس کیا کہ لوگ یہ پیشین گوئی (باوجود ہزار حکمت عملی کھیلنے کے) پورا ہونے نہیں دیتے اور خدائے قدوس کی غیرت کا بھی تقاضا یہی ہے کہ الہام کا راز طشت از بام ہو جائے تو لگے بغلیں جھانکنے کہ اب کیا کیا جائے۔ آپ کے روح القدس ٹپچی نے (غالباً) یہ مشورہ دیا ہو گا کہ یوں کہہ دو کہ یہ نکاح فسخ ہو گیا ہے یا ملتوی کر دیا گیا ہے۔ مگر یہ کمال بے شرمی تھی کہ مرزا قادیانی کی منکوحہ آسمانی سلطان محمد نے چھین لی تھی اور فسخ نکاح کا انتظار بھی نہیں کیا تھا۔ اس لئے مجبوراً مرزا قادیانی نے نکاح ثانی دیکھ کر اپنا نکاح فسخ کروا لیا تھا۔ ٹپچی کی دوسری روایت ہے کہ نکاح ملتوی کر دیا گیا تھا۔ گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ کہا تھا کہ پہلے میرا نکاح ہو چکا تھا۔ مگر اب فسخ ہو گیا ہے۔ بلکہ اصل واقعہ یوں ہے کہ ابھی آسمان پر نکاح نہیں ہوا تھا۔ صرف مشورے ہو رہے تھے۔ مرزا قادیانی کو (افراط محبت سے) یہ غلطی لگ گئی تھی کہ نکاح ہو چکا ہے۔ بدقسمتی سے التواء نکاح کی مدت مرزا قادیانی کی وفات تک پہنچ گئی اور یہ نوبت ہی نہ پہنچی کہ سلطان محمد کی موت واقع ہوتی اور اس کی بیوی بیوہ ہو کر مرزا قادیانی کے نکاح میں آتی۔ اس لئے التواء کا لفظ صحیح معنی پر واقع نہ ہو سکا اور اس

صفحہ ٦٨

مقابلہ میں مرزا قادیانی کو سخت شکست ہوئی اور دعویٰ مسیحیت بھی خاک میں مل گیا۔ اب مرزائی تو یوں کہتے ہیں کہ یہ پیشین گوئی متشابہات میں سے ہے۔ حالانکہ یہ کہنا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنی مسیحیت کی صداقت کے لئے یہ سب کچھ کیا تھا۔ تا کہ مخالفین پر اتمام حجت ہو جائے اور یہ ظاہر ہے کہ متشابہات سے اتمام حجت نہیں ہوتی۔ کچھ مرزائی کہتے ہیں کہ بچی کی پہلی روایت درست ہے کہ نکاح فسخ ہو گیا تھا۔ مگر اس پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔

مگر چلی جائے سلطان محمد کے گھر۔ شاید نکاح آسمانی سے مراد صرف ناطہ ہوگا۔ لیکن اس کی تصریح کہیں نہیں ملتی۔

مفتری کیوں نہ کہا جائے گا۔ حکیم نورالدین صاحب کی پارٹی یوں کہتی ہے کہ الہام میں ہے کہ ایک لڑکی (احمد بیگ کی) تمہارے نکاح میں آئے گی۔ اب اگر وہ شخصی طور پر نہیں آئی تو ممکن ہے اس کی اولاد میں سے کوئی اور لڑکی کی (بحکم علم میراث) مرزا قادیانی کی اولاد میں سے کسی لڑکے کے ساتھ شادی ہو جائے۔ مگر یہ جواب بالکل ہی غلط ہے۔ کیونکہ اولاً یہاں وراثت کا کوئی تنازع ہی نہ تھا کہ علم میراث کی اصطلاح سے اس مشکل کو حل کیا جاتا اور اگر بنت کے لفظ سے اس کی اولاد مراد لی جاسکتی ہے تو مرزا قادیانی سے مراد (بحکم میراث) آپ کے آباؤ اجداد ہوں گے۔ نہ کہ اولاد در اولاد۔

کیونکہ تقسیم ترکہ کے وقت اگر باپ مر چکا ہوا ہو تو دادا وارث ہوا کرتا ہے۔ نہ کہ بیٹا یا پوتا۔ اب اس اصول کے مطابق یہ مفہوم پیدا ہوگا کہ مرزا قادیانی کا کوئی گدی نشین جدا مجد محمدی بیگم کی کسی پوتی سے نکاح کرے گا اور یہ بالکل بے جوڑ بات ہے۔ ثانیاً اگر مرزا قادیانی کے قائم مقام (بموجب رواج) اولاد در اولاد لی جائے تو جس مشکل کے لئے یہ تکلیف کی گئی ہے وہ عقدہ تو لاینحل ہی رہ گیا ہے۔ کیونکہ بموجب حدیث شریف کے تو یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح خود نکاح کریں گے اور خود ان کی اولاد بھی ہوگی اور یہاں کچھ بھی نہیں ہے اور ثالثاً اگر یہ مراد ہو کہ مسیح علیہ السلام کی اولاد میں سے کوئی بچہ نکاح کرے گا اور خود مسیح علیہ السلام نکاح نہیں کریں گے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح کی اولاد حضرت آدم علیہ السلام کی طرح بغیر ماں باپ کے ہوگی۔ کیونکہ جب خود باپ کی شادی ہی نہ ہوگی تو اس کی صلبی اولاد کیسے ہو سکتی ہے۔ اس لئے نورالدین صاحب کا جواب کسی طرح بھی صحیح نہیں ہوسکتا اور مجبوراً ماننا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے مطابق

مسیح نہ بن سکے اور یہ پیشین گوئی سراسر یوں ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے رشت

(اشتہار ١٠ جولائی ١٨٨٨ء

کے ان کو بتاؤ کہ جو برکات ٢٠ فرور خسر اور داماد دونوں مرجائیں گے اور يستهزءون فسيكفيكهم الـ فعال لما يريد . انا معك وانـ

خط اوّل بنام علی شیر دروانگی

تم بہت اچھے آدمی ہو۔ بیوی مشیر کار ہے۔ اگر وہ اپنے بھا جائے گی۔ کیا تم مجھے روسیاہ ذلیل کہتی ہے کہ مرزا قادیانی مرتا بھی (م۔نہیں تم ابا جان تو ضرور ہو) ا ٹوٹ جائیں گے۔ (خوب دھمکی تلافی ہے۔ آتش فراق میں جلنا کـ مرزا قادیانی نے اپنے خسر کو پر زو

خط بنام احمد بیگ ٢٧ جولـ

خدا کی قسم مجھے الہام یہ الہام دس لاکھ آدمیوں میں شائـ عاجز کی مدد نہ کرو گے؟) تم میر اڑی کہ مرزائی تاقیامت یاد کریـ

خط بنام والدہ عزت بی بی

تم کو واضح ہو کہ احمد میں نے یوں سوچا ہے کہ میرا ”جس وقت محمدی بیگم کا نکاح غلـ

صفحہ ٦٩

مسیح نہ بن سکے اور یہ پیشین گوئی سراسر غلط نکلی۔ جس کی تفصیل مختصر طور پر مرزا قادیانی کی اپنی زبانی یوں ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے رشتہ داروں کو یوں کہلا بھیجا تھا کہ:

(اشتہار ١٠ جولائی ١٨٨٨ء) خدائے تعالیٰ نے کہا ہے کہ نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر کے ان کو بتاؤ کہ جو برکات ٢٠ فروری ١٨٨٠ء کے اشتہار میں درج ہیں تم کو مل جائیں گی۔ ورنہ خسرا اور داماد دونوں مرجائیں گے اور لڑکی خراب ہوگی ۔" کذبوا بایتنا كذابا . كانوا بها يستهزءون فسيكفيكهم الله . يردها اليك . لا تبديل لكلمات الله ، ان ربك فعال لما يريد . انا معك وانك معي . عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا "

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٧)

خط اول بنام علی شیر و روانگی از لدھیانہ اقبال گنج ١٨٩١ء

تم بہت اچھے آدمی ہو۔ محمدی بیگم کا نکاح عید سے دوسرے دن ہونے والا ہے۔ تمہاری بیوی مشیر کار ہے۔ اگر وہ اپنے بھائی احمد بیگ کو سمجھائے تو بہت جلد کارروائی ہمارے حق میں ہو جائے گی۔ کیا تم مجھے روسیاہ ذلیل اور خوار کرنا چاہتے ہو؟ اور آگ میں ڈال دو گے۔ سنا ہے کہ وہ کہتی ہے کہ مرزا قادیانی مرتا بھی نہیں۔ مرتے مرتے پھر جی اٹھا۔ کیا میں چوہڑا چمار ہوں۔ (م۔ نہیں تم ابا جان تو ضرور ہو ) اس کو سمجھاؤ ورنہ عزت بی بی کو طلاق ہو جائے گی اور باقی رشتے بھی ٹوٹ جائیں گے۔ (خوب دھمکی تھی ) واقعی مرزا قادیانی کو اس موقعہ پر جو ناکامی ہوئی ہے ناقابل تلافی ہے۔ آتش فراق میں جلنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ جب رشتہ داروں نے لاپروائی کی تو مرزا قادیانی نے اپنے خسر کو پر زور لکھا کہ:

خط بنام احمد بیگ ٢٧ جولائی ١٨٩٢ء

خدا کی قسم مجھے الہام ہوا ہے کہ تیری لڑکی ( مسمات محمدی بیگم ) سے نکاح کروں گا اور یہ الہام دس لاکھ آدمیوں میں شائع بھی ہو چکا ہے۔ ( کیا تم اتنے ہی بے رحم ہو گئے کہ میرے جیسے عاجز کی مدد نہ کرو گے؟ ) تم میرے معاون بنو۔ ورنہ لوگ میری پھکڑی اڑائیں گے۔ (م۔ ایسی اڑی کہ مرزائی تا قیامت یاد کریں گے ) پھر خسر کو لکھا کہ :

خط بنام والدہ عزت بی بی

تم کو واضح ہو کہ احمد بیگ اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے نہیں کرنا چاہتا۔ اس لئے اس کا علاج میں نے یوں سوچا ہے کہ میرا بیٹا فضل احمد تیری لڑکی کا طلاقنامہ بدیں الفاظ لکھ کر تیار رکھے کہ: ” جس وقت محمدی بیگم کا نکاح غلام احمد کے سوا کسی دوسرے سے ہو اسی وقت سے عزت بی بی کو تین

صفحہ ٧٠

طلاق‘ اور میں نے حکیم نورالدین کو کہلا بھیجا ہے کہ اس حکم کی تعمیل کرائے۔ ورنہ فضل احمد عاق اور لاوارث متصور ہوگا۔ (م۔مرزا قادیانی کو یہ معلوم نہ تھا کہ عاق بھی وارث ہو جاتا ہے اور بایں علم و دانش مسیح بن گئے تھے)

خط از عزت بی بی بنام والدہ خود

والدہ صاحبہ تم اگر مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہیں کرنا چاہتے تو مجھے آ کر قادیان سے لے جاؤ۔ کیونکہ غیر سے نکاح کرنے کے وقت ہی مجھ پر تین طلاق پڑ جائیں گی۔ (افسوس ان گیدڑ بھبکیوں سے رشتہ دار نہ ڈرے اور غیر سے نکاح ہو گیا) اب دوسری چال چلی گئی اور الہام گھڑے گئے کہ:

کرامات الصالحین

”دعوت بالتضرع والابتهال فاخبرني اني ساجعل بنتاً من بناتهم اية سماها وقال انها ستجعل ثيبة ويموت بعلها وابوها الى ثلث سنة (م-سنين) من يوم النكاح ثم نردها اليك بعد موتهما“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)

سلطان محمد کی تقدیر مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں۔ (م۔ اس میں کیا شک ہے) تو میری موت آجائے گی اور یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی۔ (م۔ ایسا ہی ہوا)

لوگ کہتے ہیں کہ اگر الہام سچ ہے تو خود بخود واقع ہو جائے گا، تم اس قدر منت سماجت اور جدوجہد اس کے پورا کرنے میں کیوں کر رہے ہو۔ احمقو! (ہمارے الہام کوشش کا نتیجہ ہوتے ہیں) اس لئے کہ اس کے سرانجام دینے میں کوشش کرنا اور معاونت کرنا طریق مسنون ہوگا۔ (م۔ یہ سنت مرزا کی ہے ورنہ سنت نبوی میں ایسی جدوجہد اور منت و سماجت کا پتہ نہیں چلتا)

(حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨)

چونکہ رد کا معنی واپس دلانے کا ہے۔ اس لئے الہام میں یہ اشارہ ہے کہ محمدی کا نکاح دوسری جگہ ہوگا۔ پھر وہ بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔ (انگور کھٹے ہیں) (الحکم ٣ جون ١٩٠٥ء)

یہ جو آیا ہے کہ مسیح علیہ السلام نکاح کریں گے اور آپ کے اس نکاح سے اولاد بھی ہوگی۔ اس سے مراد کوئی ایسا نکاح ہے جو ایک خاص نشان رکھتا ہوگا۔ ورنہ ایسے قول سے کچھ فائدہ نہیں ہے۔ (م۔ خاص نشان بنانے کی کوشش تو بہت کی گئی مگر مسیح نے منہ کی کھائی)

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ ، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

صفحہ ٧٠

محمدی بیگم سے میرا نکاح آسمان پر پڑھا گیا تھا۔ مگر اس کا ظہور اس شر سے مشروط تھا کہ یہ لوگ توبہ نہ کرتے۔ ’’ایتھا المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك“ (تتمہ حقیقت الوحی ص ٣١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٤) لڑکی نے توبہ کی اور میرا نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ (م ۔ مگر زنا کاری کس کے ذمہ لکھی گئی اور بے غیرتی کس کے حصہ میں آئی۔ کیا بلاء سے مراد مرزا قادیانی ہیں۔ کیا جملہ ندائیہ بھی شرط بنتا ہے؟ اور توبی کب سے تائب کے معنی میں ہوا؟)

اس الہام کا دوسرا جزو (واپسی یا موت سلطان محمد ) پورا نہ ہوا تو میں برے سے برا ٹھہروں گا۔ (اس میں کیا شک ہے) اے احمقو! (مریدوں سے خطاب ہے اور آپ کے سردار ہیں) یہ انسان کا افتراء نہیں ہے۔ (دماغی مراق کا نتیجہ ہے) پختہ وعدہ ہے ٹل نہیں سکتا۔ جب یہ وعدہ پورا ہو جائے گا کیا یہ احمق جیتے رہیں گے۔ بلکہ ان کی ناک کٹ جائے گی۔ (مرزائی بتلائیں کہ ناک کس کی کٹی اور سیاہ داغ کس کے چہرہ پر آیا؟) (ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

”الامر اى موت السلطان محمد قائم على حاله لا يرده احد باحتیاله، والقدر مبرم ، سیاتی وقته فوالله انه الحق، وجعلت هذا الالهام معیار الصدق فى دعوای وادعای بالمسیح، وما قلت الا بعد ما نبئت من ربی “

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)

یہ پیشین گوئی عظیم الشان ہے اور اس کی چھ جزئیں ہیں۔ موت احمد بیگ موت سلطان محمد ، حیات دختر تا نکاح ثانی، حیات مرزا۔ نکاح ثانی، حیات احمد بیگ تا شادی اول دختر خود۔ (م ۔ ناظرین خود اندازہ لگائیں کہ کیسی تشریح و تفصیل سے سمجھایا گیا ہے۔ کیا اب بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے)

(شہادت القرآن ص ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٦ ملخصاً)

الغرض اس مقابلہ میں مرزا قادیانی کی تکذیب خوب ہوئی ہے اور مرزائیوں کا یوں کہنا کہ لڑکی کا باپ مر گیا تھا اور باقی لوگوں نے توبہ کر لی تھی۔ اس لئے نکاح فسخ ہو گیا تھا۔ بالکل بے سود ہے۔ کیونکہ جس مطلب کے لئے یہ الہام بتایا گیا تھا وہ تو کسی صورت میں پورا نہ ہوا۔ وہ الہام یہ تھا کہ: ”مسیح کی شادی بڑی دھوم سے ہوگی ۔“

الحکم ١٠ اگست ١٩٠١ء (بیان عدالت)

احمد بیگ کی دختر مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے۔ وہ مجھ سے بیاہی نہیں گئی۔ مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی ہے۔ جیسا کہ الہام میں تھا عدالت میں میری تضحیک کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کہے۔

دین کو کہلا بھیجا ہے کہ اس حکم کی تعمیل کرائے۔ ورنہ فضل احمد عاق اور زا قادیانی کو یہ معلوم نہ تھا کہ عاق بھی وارث ہو جاتا ہے اور بایں علم

الدہ خود

مرزا قادیانی کا نکاح محمدی بیگم سے نہیں کرنا چاہتے تو مجھے آ کر غیر سے نکاح کرنے کے وقت ہی مجھے پر تین طلاق پڑ جائیں گی۔ رشتہ دار نہ ڈرے اور غیر سے نکاح ہو گیا ) اب دوسری چال چلی گئی

رع والابتهال فاخبرنى انى ساجعل بنتاً من بناتهم ستجعل ثيبةً ويموت بعلها وابوها الى ثلث سنة اح ثم نردها اليك بعد موتهما “

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٢٣، خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)

مبرم ہے۔ اس کا انتظار کرو۔ اگر میں جھوٹا ہوں۔ (م ۔ اس میں کیا ئے گی اور یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوگی۔ (م ۔ ایسا ہی ہوا) را الہام سچ ہے تو خود بخود واقع ہو جائے گا۔ تم اس قدر منت سماجت میں کیوں کر رہے ہو۔ احمقو ! ( ہمارے الہام کوشش کا نتیجہ ہوتے ام دینے میں کوشش کرنا اور معاونت کرنا طریق مسنون ہوگا۔ (م ۔ ی میں ایسی جدو جہد اور منت سماجت کا پتہ نہیں چلتا )

(حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨)

ا دلانے کا ہے۔ اس لئے الہام میں یہ اشارہ ہے کہ محمدی کا نکاح میرے نکاح میں آئے گی۔ ( انگور کھٹے ہیں ) ( الحکم ٣ جون ١٩٠٥ء) علیہ السلام نکاح کریں گے اور آپ کے اس نکاح سے اولاد بھی ح ہے جو ایک خاص نشان رکھتا ہوگا۔ ورنہ ایسے قول سے کچھ فائدہ نے کی کوشش تو بہت کی گئی مگر مسیح نے منہ کی کھائی )

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)

صفحہ ٧٢

سر ندامت سے نیچے ہوں گے۔ لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیشین گوئی شرطی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔ اس لئے چھ ماہ کے اندر مرگیا۔ اس کا خوف خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر اس لئے خدا نے ان کو مہلت دی۔ مگر وہ لڑکی میرے نکاح میں ضرور آئے گی۔ (ہاں ضرور آئے گی)

اشتہار انعامی ٤٠٠٠

مرزا سلطان محمد بڑا سخت جان ہے۔ ہم نے بہت تخویف کی۔ خط بھیجے۔ اس نے مطلق پرواہ نہ کی۔ (م ۔ گو بظاہر اکڑا رہا۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ حسب روایت حضرت یحییٰ اندر سے ضرور توبہ کرتا ہوگا اور توبہ بھی اول درجہ کی ہوگی۔ تب ہی تو اس کو مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد ١٩٣٠ء تک جینا نصیب ہوا) اس مقام پر توبہ کا مفہوم صرف اتنا نکلتا ہے کہ یحییٰ کہہ دے کہ فلاں شخص مرزا قادیانی کی دھمکی سے متاثر ہو گیا ہے۔ ورنہ ترک فعل بد اور اعلان رجوع ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اسلامی توبہ ہے اور وہ قادیانی توبہ ہے۔ اگر یہ معنی نہ لیا جائے تو سلطان محمد کی توبہ صحیح نہیں رہ سکتی ہے۔ کیا اس نے بیوی چھوڑ دی تھی۔ یا کیا بیوی نے اس کے گھر رہنے سے انکار کر دیا تھا۔ اگر نہیں تو ترک فعل کا کیا ثبوت بنے گا اور اسلامی توبہ کیسے متصور ہوگی؟ کیونکہ گناہ صرف یہ تھا کہ مرزا قادیانی کو چھوڑ کر اس کی بیوی کا نکاح دوسری جگہ کرایا گیا تھا۔ شاید یہ اخلاقی گناہ ہوگا۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)

آٹھواں مقابلہ ١٨٩٩ء سہ سالہ جنگ

٥؍نومبر ١٨٩٩ء کو مرزا قادیانی نے اعلان کیا کہ جنوری ١٩٠٠ء سے لے کر دسمبر ١٩٠٢ء تک (تین سال کے اندر) میری صداقت کے لئے کوئی نہ کوئی ضروری آسمانی نشان ظاہر ہوگا۔ ورنہ میں ایسا ہی مردود، ملعون، کافر، بے دین اور خائن ہوں گا۔ جیسا کہ مجھے خیال کیا گیا ہے۔ اس اعلان کے لئے بڑی لمبی چوڑی دعاء شائع کی گئی جس کا ضروری اقتباس یہ ہے کہ: ”یا اللہ اگر کوئی تصدیقی نشان نہ دکھلائے گا تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور تمام ان الزاموں، تہمتوں اور بہتانوں کا مصداق سمجھوں گا جو مجھ پر لگائے گئے ہیں اور جو لوگ یوں کہہ دیتے ہیں کہ جھوٹے بھی تحدی کرتے ہیں اور ان کی تائید بھی ہوتی ہے وہ جھوٹے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سلسلہ نبوت کو مشتبہ کردیں۔ کیونکہ تیرا قہر تلوار کی طرح مفتری پر گرتا ہے اور تیرے غضب کی نظر بھی کذاب کو بھسم کر دیتی ہے۔“

(خلاصہ اشتہار آسمانی فیصلہ کی درخواست، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٤)

صفحہ ٧٣

مرزا قادیانی کا یہ اعلان بھی خالی گیا اور کوئی آسمانی نشان ظاہر نہ ہوا۔ جو زیر بحث آنے کی حیثیت رکھتا ہو۔ اس لئے مرزا قادیانی نے خود ہی اپنے اوپر افتراء پردازی کا الزام قائم کر دیا۔

نواں مقابلہ ١٩٠٠ء جنگ گولڑہ

٢٠؍جولائی ١٩٠٠ء کو جناب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی سے اعلان کیا گیا کہ پیر صاحب لاہور شاہی مسجد میں آ کر میرے مقابل سات گھنٹے زانو بزانو بیٹھ کر چالیس آیات قرآنی کی عربی میں تفسیر لکھیں۔ جو تقطیع کلاں میں ورق سے کم نہ ہو۔ پھر جس کی تفسیر عمدہ ہوگی۔ وہ مؤید من اللہ سمجھا جائے گا۔ لیکن اس مقابلہ کے لئے پیر صاحب کی شمولیت یا ان کی طرف سے چالیس علماء کا پیش کردہ مجمع ضروری ہے۔ اس سے کم ہوں گے تو مقابلہ نہ ہوگا۔ پیر صاحب نے اگست ١٩٠٠ء کو شاہی مسجد لاہور میں ایک مجمع کثیر کے ساتھ ڈیرہ لگا دیا۔ مگر قادیان سے مرزا قادیانی نے حرکت تک نہ کی۔ اگر آ جاتے تو بعد میں اپنے سامنے تصفیہ کر لیتے کہ کس کو علماء میں شامل کرنا ہے اور کسے خارج کرنا ہے۔ مگر تاریخ مقررہ پر پیر صاحب حاضر تھے اور لوگ دھڑا دھڑ جلسہ میں شریک ہو رہے تھے تو دیواروں پر اشتہار لگے ہوئے نظر آتے تھے۔ جن پر یہ لکھا تھا کہ: ”پیر صاحب مناظرہ سے بھاگ گئے ہیں۔“

اصل واقعہ یوں ہے کہ مرزا قادیانی کی تردید میں پیر صاحب نے سب سے پہلے قلم اٹھایا تھا۔ اس وقت مرزا قادیانی کی طرف سے حسن امروہی اور مولوی نور الدین جوابدہی کے لئے مامور ہوئے تھے۔ زیر بحث اس وقت مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت، وفات مسیح اور تحریف کلام اللہ وکلام رسول تھا۔ مسک عارف، تحفہ گولڑویہ وغیرہ مرزا قادیانی کی طرف سے شائع ہوئے تھے۔ پھر صاحب نے شمس الہدایہ لکھ کر مرزائیوں کا تمام بخیہ ادھیڑ دیا تھا۔ مگر انہوں نے اس کی تردید میں شمس بازغہ لکھی تھی۔ جس میں بحث یہ بھی چل گئی تھی کہ عربیت پر حاوی کون ہے؟ پیر صاحب! یا مرزا قادیانی؟ کیونکہ زیر بحث کلمہ توحید کی ترکیب نحوی کو لا کر پیر صاحب نے احسن امروہی کا ناطقہ بند کر دیا تھا۔ اب مرزا قادیانی نے عربیت کا زور دکھلانے کی خاطر پیر صاحب کو تفسیر لکھنے کی دعوت دی تھی۔ خیال یہ تھا کہ پیر صاحب عربی میں تفسیر لکھنے کی جرأت نہ کریں گے۔ مگر آپ حاضر ہو گئے اور آپ کے مرید بھی آپ کی طرف سے بحث کرنے کو تیار تھے۔ اگر مجلس میں آ جاتے تو غالباً پیر صاحب تک نوبت ہی نہ پہنچتی آپ کے مرید ہی اس کو اڑے ہاتھوں لے لیتے۔ اگر بالفرض اور کوئی نہ بڑھتا تو مولوی محمد حسین صاحب مرحوم فیضی رئیس بھیں ضرور آگے بڑھنے کو تیار بیٹھے ہوئے تھے اور یہ شخص اس سے پیشتر ایک دفعہ خاص قادیان جا کر مرزا قادیانی کے دانت کھٹے کر آیا ہوا

صفحہ ٧٤

تھا۔ جس کا مختصر واقعہ یوں ہے کہ راجہ جہانداد خان رئیس جہلم مرزا قادیانی کا مرید ہوگیا تھا اور چونکہ مولوی صاحب کا دوست تھا۔ مولوی صاحب نے اس تبدیلی مذہب کو پسند نہ کیا اس لئے راجہ صاحب سے مناظرہ ٹھہر گیا۔ جس میں راجہ صاحب ہار گئے اور مولوی صاحب سے درخواست کی کہ قادیان آکر اپنی تشفی کرلیں۔ اس لئے مولوی صاحب بمعہ راجہ صاحب اور چند احباب کے لاہور آئے اور ملا محمد بخش مرحوم وغیرہ دس گیارہ اصحاب کو صرف شہادت موقعہ کے لئے ہمراہ لے کر قادیان پہنچے۔ وہاں مرزا قادیانی نے مولوی صاحب سے تعارف قدیم کا سلسلہ گانٹھ کر خیر مقدم کا فریضہ ادا کیا اور بہترین طریق پر خاطر و مدارات کی۔ اثنائے سفر میں مولوی صاحب نے ایک قصیدہ عربیہ لکھ رکھا تھا۔ اس کا جواب مرزا قادیانی سے طلب کیا اور لفظ نبوت پر تبادلہ خیالات کے لئے کہا۔ مگر مرزا قادیانی نے صاف کہہ دیا کہ میں اپنی طرف سے کوئی دعویٰ نبوت نہیں کرتا ہوں۔ یہ صرف تعریفی الفاظ ہیں۔ جو شائع کئے جاتے ہیں۔ اس پر راجہ صاحب کو یقین ہوگیا کہ مرزا قادیانی نے بحث سے گریز اختیار کیا ہے۔ اس لئے بیعت توڑ کر یہ ساری جماعت لاہور واپس آگئی۔ مگر بدقسمتی سے قادیانی اخباروں میں یہ شائع ہوگیا کہ مولوی محمد حسین صاحب معہ اپنے رفقاء کے مرزا قادیانی سے بیعت کر گئے ہیں۔ چنانچہ اس غلط افواہ کی تردید پیسہ اخبار لاہور میں مولوی صاحب نے نہایت بسط سے کر دی اور سارے واقعہ کو کھول کر بیان کر دیا۔ غالباً ایسے شخص کی شمولیت مرزا قادیانی کو روک رہی تھی اور ٹال مٹول پر مجبور کر رہی تھی۔ ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ مرزا قادیانی حاضر نہ ہوتے۔

غرضیکہ مرزا قادیانی نے مقابلہ پر ہتھیار ڈال دیئے اور جب پیر صاحب واپس چلے گئے تو مرزا قادیانی نے اعجاز المسیح لکھی۔ جس میں نصف سے زیادہ صفحات تک گالیاں دیں اور باقی نصف میں سورہ فاتحہ کی تفسیر عربی میں لکھی۔ جس میں اپنی خود ساختہ تحریف قرآنی کا پورے طور پر ثبوت دیا۔ پیر صاحب کی طرف سے سیف چشتیائی لکھی گئی۔ جس میں بالاستیعاب مرزائی تعلیم کی پوری تردید کی گئی اور اعجاز المسیح کے اغلاط کی ایک طویل فہرست مولوی محمد حسین صاحب مرحوم سے تیار کروا کر شامل کردی۔ کتاب کی نوعیت یہ ظاہر کرتی تھی کہ پیر صاحب نے تصحیح کی ہے۔ جب یہ کتاب قادیان پہنچی تو مرزا قادیانی اپنی آخری تصنیف نزول المسیح لکھ رہے تھے۔ اس میں ذکر کیا ہے کہ ہم نے خیال کیا کہ پیر صاحب نے عربی میں کوئی کتاب لکھی ہوگی۔ مگر دیکھا تو اردو میں تھی۔ اس لئے ردی کی ٹوکری میں پھینک دی۔ اس کے بعد تصحیح اغلاط کے متعلق بحث چھڑ گئی۔ مولوی کرم الدین صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب نے تصحیح کی ہے۔ مرزائیوں نے پیر صاحب پر طعن شروع

صفحہ ٧٥

کر دیا اور مولوی صاحب کو اپنا مدمقابل سمجھ لیا۔ اس اثناء میں مولوی صاحب کچھ عرصہ بیمار رہ کر وفات پا گئے اور مولوی کرم الدین صاحب دبیر نے مولوی صاحب کے لڑکے نابالغ کی طرف سے حق توکیل حاصل کر کے مرزا قادیانی پر دعویٰ دائر کیا کہ انہوں نے مولوی صاحب مرحوم کو کذاب اور لئیم کہا ہے۔ تین سال تک یہ مقدمہ چلتا رہا۔ اخیر میں فریقین پر جرمانہ ہوا اور مرزا قادیانی نے اپیل کے ذریعہ جرمانہ واپس کرا لیا۔ مگر حضرت دبیر نے نہ تو اپیل کی اور نہ ہی جرمانہ معاف کرایا۔ کیونکہ جرمانہ کی مقدار بہت قلیل تھی۔ اس مقدمہ کے دوران میں مرزا قادیانی نے پیسہ اخبار لاہور، پیر صاحب اور دبیر صاحب کے خلاف بہت زہریلے الہام شائع کئے۔ مگر وہ سارے کے سارے ہی غلط نکلے اور آج یہ تینوں موجود ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کا وجود نہیں ملتا۔ اگر زندگی اور موت ہی معیار صداقت تھا تو مرزا قادیانی، پیر صاحب اور دبیر صاحب کی عین حیات میں کیوں مر گئے؟

(تفصیلات پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے ساتھ کا ایک تاریخی فیصلہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٢٥)

دسواں مقابلہ ٥؍ نومبر ١٩٠١ء، اعلان نبوت، جنگ تکفیر

در پردہ شروع سے ہی مرزا قادیانی کے متعلق متفطن طبائع محسوس کر رہی تھیں کہ یہ شخص کچھ دعویٰ کرے گا۔ مگر مرزا قادیانی نے پورے طور پر کچھ نہ بتایا کہ آپ کیا ہیں۔ کبھی مہدی بنتے، کبھی مسیح اور مثیل مسیح اور کبھی انکار بھی کر دیتے اور جب مثیل مسیح کا مسئلہ انہوں نے حل کر لیا تو اپنی نبوت کے متعلق کارروائی کرنی شروع کر دی۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت مسلمہ تھی۔ مگر تاہم یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ آیا آپ کی نبوت کس قسم کی ہے۔ مستقل ہے یا غیر مستقل۔ مثالی ہے یا اصلی۔ تشریعی ہے یا غیر تشریعی۔ بڑی جدوجہد اور تفحص و تجسس کے بعد آپ نے مستقل نبوت کا دعویٰ شائع کیا اور اس میں وہ تمام شکوک رفع کر دیئے جو آپ کی نیرنگی طبع کے متعلق تھے۔ مثلاً یہ کہ خاتم الرسل کے بعد کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا۔ یا یہ کہ آپ کی نبوت جزوی اور صرف مبشرات پر مبنی ہے یا یہ کہ آپ کی نبوت صرف درجہ ولایت یا محدثیت تک محدود ہے۔ یا یہ کہ وہ تشریعی اور جدید نہیں ہے۔ ان سب شکوک کے متعلق آپ نے فیصلہ کر دیا کہ: ”خدا کے فضل وکرم سے ہم نبی اور رسول ہیں“ اور ہماری نبوت تشریعی جدید ہے۔ مگر اسلام کی ناسخ نہیں ہے۔ بلکہ اسلام کا اصلی رخ دکھلانے کے لئے ہے۔ علمائے اسلام نے اسلامی تعلیم کو تاریکی میں ڈال دیا تھا۔ میرا کام یہ ہے کہ ان کے خلاف اسلام کی اصلی معارف اور حقائق پیش کروں۔ جو آج تک کسی پر منکشف نہیں ہوئے اور جن کی بنیاد صرف الہام اور وحی جدید پر ہے۔ نہ کہ پرانے دلائل اور فرسودہ خیالات پر۔ گویا آپ نے اپنی شریعت کا نام تو اسلام ہی رکھا۔ مگر قرآن وحدیث کے مطالب کو ایسے طور پر

صفحہ ٧٦

تبدیل کر دیا کہ مخالفین اسلام کو خوب موقعہ مل گیا کہ وہ کہیں کہ اسلام میں ترمیم واقع ہو گئی ہے اور ابدیت اسلام کا دعویٰ غلط ثابت کر دیا۔ کیونکہ جس قدر مرزا قادیانی نے ختم رسالت اور اپنے ادعائے نبوت میں مطابقت پیدا کی تھی وہ سب کی سب یا تو تناسخ اور رجعت پر مبنی تھی اور یا اس کی بنیاد حلول اور سِریان پر رکھی تھی۔ جو سراسر حکمائے یونان کا مذہب تھا۔ ورنہ اسلامی تصریحات تمام کی تمام اس کے خلاف تھیں۔ جیسا کہ مراق مرزا قادیانی میں تفصیلاً بیان ہو چکا ہے۔ اس دعویٰ کا اعلان کرنا تھا کہ اہل اسلام نے مقابلہ پر ان کی تکفیر کرنی شروع کر دی۔ جس کے جواب میں بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی کو ندامت ہوتی۔ الٹا یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ لوگ خود کافر ہیں۔ کیونکہ ایک نبی کو کافر کہتے ہیں۔ یہودی صفت ہیں کہ زمانہ حاضرہ کے مسیح کی تکفیر کرتے ہیں۔ ذریۃ البغایا ہیں کہ مسیح کی بیعت نہیں کرتے اور منکران صداقت ہیں۔ کیونکہ حسب روایات احادیث مہدی کی تکفیر منصوص ہے۔ اس اعلان کا نام آپ نے ”ایک غلطی کا ازالہ“ رکھا۔ جس کا ضروری اقتباس ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

”بعض مرید ہماری تعلیم سے ناواقف ہیں اور مخالفین کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہم نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ:

کہا گیا ہے اور اس وقت تو بالکل تصریح اور توضیح کے ساتھ یہ لفظ موجود ہیں۔

اللہ جری اللہ فی حلل الانبیاء ۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھر علی الدین کلہ“ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ (دنیا میں ایک نبی آیا) جس سے مراد میں ہوں اور مجھے محمد رسول اللہ اور جری اللہ کہا گیا ہے۔

اب یہ اعتراض کرنا کہ یہ عقیدہ خاتم النبیین کے خلاف ہے بالکل غلط ہوگا۔ کیونکہ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ میں ایک پیشین گوئی ہے کہ ہندو، یہودی، عیسائی یا رسمی مسلمان کے لئے پیش گوئیوں کے تمام دروازے بند کئے گئے ہیں اور نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئی ہیں۔ مگر سیرت صدیقی کی ایک کھڑکی کھلی ہوئی ہے۔ یعنی فنا فی الرسول کی۔ پس جو اس کھڑکی سے اندر آتا ہے اس پر نبوت محمدی کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ (یعنی وہ محمد بن کر نبی بن جاتا ہے) اب خاتم النبیین کے یہ معنی ہوئے کہ: ”لا سبیل الی فیوض اللہ (النبوۃ) من غیر توسط محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام“ میں بھی محمد اور احمد ہوں اور اس نبوت میں

صفحہ ٧٧

شریک ہوں۔ گویا نبوت محمدی ایک مفہوم کلی ہے۔ جس کے افراد کثیر التعداد ہیں اور یہ نبوت شخصی نہیں ہے۔ تاکہ جاری نہ رہ سکے اور یہ عقیدہ رکھنا کہ حضرت مسیح اتریں گے اور چالیس برس سے زائد حکمران رہیں گے۔ بالکل معصیت ہے۔ کیونکہ نبوت عیسوی منقطع ہو چکی ہے اور نبوت محمدی جاری ہے اور یہ لازم آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شان حضرت مسیح سے کم ہو۔ کیونکہ آپ کی نبوت چالیس برس رہی ہے اور مسیح کی نبوت چالیس سے زیادہ تصور کی گئی ہے۔ جس جگہ میں نے نبوت اور رسالت سے انکار کیا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میں مستقل (بغیر توسط محمد کے ) اور صاحب شریعت جدید (مخالف اسلام کے ) نہیں ہوں۔ ورنہ میں وہ نبی ہوں جس کو ظلی طور پر محمد احمد کہہ کر آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے ختم رسالت کا مفہوم صحیح رہا اور میں بھی نبی بن گیا اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی معہ نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں اور اس طرح آنحضرت ﷺ اگر ہزار دفعہ بھی دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں تو ختم رسالت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ اس بروزی رنگ میں میرا وجود درمیان میں نہیں ہے۔ کیونکہ میں خود محمد اور احمد بن چکا ہوں۔ اب نتیجہ یوں نکلتا ہے کہ خود آنحضرت ﷺ نے ہی اپنے دوسرے وجود میں اپنی نبوت سنبھال لی ہے اور محمد کی نبوت محمد کے پاس رہی ہے۔ غیر کے پاس نہیں گئی۔

اور یہ بروز ایک خدائی وعدہ تھا کہ: ”وآخرین منہم لما یلحقوا بہم “ اخیر زمانہ کے لوگوں میں پیغمبر علیہ السلام کو بھیجا جائے گا۔ جو عہد صحابہ کو نہیں پاسکے اور یہ قاعدہ ہے کہ سب انبیاء کو اپنے بروز پر غیریت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے پر ضرور غیریت ہوتی ہے۔ (حقیقت الوحی ص ٣٩٠، مطبوعہ ١٩٠١ء) میں ہے کہ لوگ افتراء کرتے ہیں کہ میں نے نبوت (خلاف اسلام) کا دعویٰ کیا ہے۔ کیونکہ جس نبوت کا دعویٰ کرنا خلاف قرآن ہے میں اس کا مدعی نہیں ہوں۔ بلکہ میں امتی بن کر نبی ہوا ہوں اور نبی سے مراد صرف یہ ہے کہ بکثرت شرف مکالمہ الہیہ ومخاطبہ پاتا ہوں۔

(حقیقت الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦ خلاصہ)

اس اعلان میں مرزا قادیانی نے خلاف اسلام نبوت کے متعلق متعدد غلطیاں کی ہیں۔

کیوں ہیں۔

وجود شخصی نہیں کہا جا سکتا۔ ورنہ ایک انڈے کو ایسے موقعہ پر ہم ہزار انڈے بنا سکتے ہیں۔

صفحہ ٧٨

ضروری تھا کہ مرزا قادیانی پیغمبر علیہ السلام کے عہد میں پیدا ہوتے اور آپ کی وفات سے مرزا قادیانی بھی مر جاتے۔

سب سے پہلے خود حضرت صدیق اکبر بروزی نبی تسلیم کئے جاتے۔

اور پیغمبر علیہ السلام کا بروز ثابت کرنا محض تحکم اور زبردستی ہے۔

ہے۔ کیونکہ بعینہ اسی اصول سے جبرائیل، مسیح علیہ السلام، مہدی علیہ السلام بلکہ خود ذات باری تعالیٰ بھی مفہوم کلی میں تحویل ہو سکتے ہیں تو پھر آپ ہی بتائیں کہ توحید کہاں رہی۔

کائنات کو ایک ہی ذات کا مظہر بتائے اور جعل المختلفین ذاتا واحدا کا قول کرے تو کیا ایسی توحید اور شرک متحد اور یکساں نہ ہوں گے؟ اسی طرح تمام نبوتیں نبوت محمدیہ کا مظہر قرار دے کر ہزاروں بروزی نبوتیں ہو سکتی ہیں۔ تو پھر نبوت مسیح کے بروز سے آپ کو کیوں گریز ہے۔

نبوت مسیح سے ہزاروں دفعہ زیادہ ہو جائے گا اور یہ کہنا غلط ہوگا کہ عند النزول آپ کی نبوت کا زمانہ نبوت محمدیہ کے زمانہ سے زیادہ ہونا تسلیم کرنا پڑتا ہے۔

نہیں کر سکتا۔

مرزا قادیانی کو (بذریعہ وحی قادیانی) تمام انبیاء، تمام اولیاء، سلاطین اور بانیان مذہب کے نام سے جب بلایا گیا ہے تو آپ ہی بتائیں کہ مرزا قادیانی کس کس کا بروز بنیں گے؟ ہمیں بروز کرشن اور بروز مسیح کے وقت یہ ماننا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کفر و اسلام کے لئے معجون مرکب تھے یا مداری کا پٹارہ تھے۔ جو جی چاہا ظاہر کر کے کام چلا لیا۔

صفحہ ٧٩

دوازدہم ...... مرزا قادیانی کی یہ تحقیق نہ کسی اسلامی تحقیق پر مبنی ہے اور نہ کسی فلسفیانہ اصول سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس میں صرف تقدس اور مراق سے مدد لی گئی ہے۔ اس لئے قابل التفات نہیں ہے۔

سیزدہم ...... اگر اسی طریق سے کوئی مرید مرزا قادیانی کا ظل بن جائے اور تمام جائیداد یا حقوق مالیت کا مدعی بن جائے تو کیا مرزائی تسلیم کر لیں گے؟

چہاردہم ...... اگر کسی خیالی ترکیبوں سے کسی کی شخصیت منتقل ہو سکتی ہے تو دنیا میں اسی بہانہ سے ہر ایک دوسرے پر دعویدار ہو سکے گا۔ پس اس لئے یہ تقریر بالکل فضول ہے۔

پانزدہم ...... لما یلحقوا کی آیت سے بروز ثابت کرنا اہل تحقیق کا مذہب نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی تعلیم اور قرآن شریف چونکہ قیامت تک قائم ہیں۔ اس لئے آپ کی رسالت صرف آپ کے زمانہ تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ تمام نوع انسانی کے لئے واجب التسلیم ہے۔ جو قیامت تک پیدا ہوں گے۔ الغرض اس اعلان میں مرزا قادیانی نے تمام اہل اسلام سے مقابلہ کیا۔ مگر ہتھیار بالکل کھوٹے استعمال کئے ہیں۔ اس لئے بجائے کامیاب ہونے کے موجب تضحیک اسلام بنے ہیں۔

جنگ گیارھواں مقابلہ ١٨٩٧ء پشاور

٢٠؍ فروری ١٨٩٣ء کو مرزا قادیانی نے اشتہار دیا کہ کتاب جنگ مقدس (مناظرہ آتھم) کے ساتھ ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء کا اشتہار شامل کیا گیا تھا۔ اس میں درج تھا کہ اندرمن مراد آبادی اور لیکھ رام پشاوری اگر منظور کریں تو ان کی نسبت پیشین گوئیاں شائع کی جائیں تو اندرمن نے اعراض کیا اور کچھ عرصہ بعد مر گیا۔ مگر لیکھ رام نے اجازت دی تو الہام ہوا۔ عجل جسد لہ خوار ، لہ نصب و عذاب ! آج ٢٠؍ فروری ١٨٩٣ء کو مجھے الہام ہوا کہ وہ اپنی بدزبانیوں کی وجہ سے چھ سال کے عرصہ کے اندر مر جائے گا۔ اگر اس پر ایسا عذاب نازل ہوا۔ جو معمولی تکلیفوں سے نرالا خارق عادت اور اپنے اندر ہیبت رکھنے والا ہوگا۔ تو میں مامور من اللہ نہیں ہوں اور ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔ بے شک مجھے رسی ڈال کر پھانسی دیا جائے۔ کیونکہ انسان کا پیش گوئی میں جھوٹا نکلنا تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔

(سراج منیر)

اس سے پیشتر عبداللہ آتھم اور سلطان محمد شوہر محمدی بیگم کی موت کی پیشین گوئی کا اعلان بھی ہو چکا تھا۔ لوگ منتظر تھے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ مگر نتیجہ سوائے ناکامیابی کے کچھ نہ ہوا۔ کیونکہ عبداللہ آتھم تو بجائے ٥؍ ستمبر ١٨٩٤ء کے ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء میں مرا۔ سلطان محمد آج

صفحہ ٨٠

١٩٣٠ء تک زندہ ہے اور لیکھ رام کے متعلق چونکہ تمام اہل اسلام کو اشتعال تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کو دخل دینا قرین قیاس نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے اشتعال کے موقعہ پر راجپال اور شردھانند کی موت کافی ثبوت ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اگر کسی سرفدائی نے پنڈت لیکھرام پشاوری کا کام بھی تمام کر دیا تو کیا تعجب ہوگا۔ کیونکہ اس میں مرزا قادیانی اپنی طرف سے کسی حکمت عملی کا ارتکاب نہیں مانتے اور نہ ہی لوگوں میں مشہور ہے کہ قاتل کوئی مرزائی تھا۔ صرف اتنا ہی سنا گیا ہے کہ پشاور سے نکل کر لاہور میں اس نے چھو والی کے کسی مندر میں پناہ لی تھی۔ کیونکہ پٹھانوں سے اس کو زیادہ خطرہ تھا۔ مگر قاتل نے پیچھا نہ چھوڑا اور کچھ دنوں کے لئے آریہ بننے کی خواہش کی پنڈت صاحب کا خدمت گزار رہا اور اسی مندر میں اس ہندو قاتل نے ٦؍مارچ ١٨٩٧ء کو چھری مار کر پیٹ چاک کر دیا اور خود بھاگ گیا۔ جس کا سراغ آج تک نہیں ملا کہ وہ کون تھا؟ قیاس غالب ہے کہ وہ برہمو سماجیہ ہوگا۔ کیونکہ مسلمانوں کی طرح برہمو سماج بھی آریوں کے ہاتھ سے ہمیشہ نالاں رہتے ہیں۔ ورنہ مسلمان کو ہندو بن کر مندر میں خدمت گزار رہنے کی کیا ضرورت تھی۔ بہرحال یہ موت بھی اتفاقیہ طور پر ہوئی اور ان مذہبی دشمنیوں کے زیر اثر ہوئی جو آریوں نے غیر آریوں سے برپا کر رکھی تھیں۔ ورنہ کوئی نشان مرزا تھا اور نہ کوئی خرق عادت کے طور پر یہ قتل ہوا تھا۔ کیونکہ اس قسم کے قتل کئی دفعہ ہوئے اور آئندہ ہونے کا احتمال ہے۔ اس کے علاوہ لیکھ رام لاہور ہسپتال میں زیر علاج رہا۔ ڈاکٹروں نے اطمینان دلایا کہ اب جانبر ہو جائیں گے۔ مگر زخم کاری تھا۔ لیکھ رام نے مایوسی کے عالم میں دم دے دیا۔

بارھواں مقابلہ ١٩٠٢ء جنگ غیب دانی

١٩٠٢ء میں موضع مدھل ضلع گورداسپور میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری مدعو کئے گئے۔ زیر بحث یہ مسئلہ تھا کہ آیا مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں کچھ اصلیت بھی رکھتی ہیں۔ یا کہ صرف تخمینی باتیں ہیں جو حدیث النفس اور بخارات مراقیہ سے بڑھ کر حیثیت نہیں رکھتیں۔ سرور شاہ مرزائی نے مقابلہ میں آکر بڑی جدوجہد سے ان کو الہامی ثابت کرنا چاہا۔ مگر مولوی صاحب نے ایک پیشین گوئی بھی سچی نہ نکلنے دی اور امر واقعی بھی یہی تھا کہ جن لوگوں کے متعلق مرزا قادیانی نے موت کی پیشین گوئی کی تھی۔ ان میں سے اگر کوئی مرا بھی تھا تو قانون قدرت کے ماتحت مرا تھا۔ ورنہ وہ ایسے سخت جان واقع ہوئے تھے کہ مرزا قادیانی کی موت کے بعد بھی اب تک زندہ ہیں۔

مرزا قادیانی کی عادت تھی کہ گول مول لفظ شائع کر دیتے تھے۔ جس کی تاویل زکام

تک بھی کی جاسکتی تھی اور اگر فریق مخا موقعہ پر کام آ جاتے تھے۔ اگر چہ مو ضرور ہو جاتا۔ واقعات پر نگاہ ڈالنے لئے وہ طریق اختیار نہیں کئے تھے۔ تھے۔ کیونکہ یہ طریق عام اشتہار باز بھی نہیں ملتی کہ کسی نے پیچھے پڑ کر پیرومرید دونوں اشاعت کے پیچھے کتابی صورت میں نقل کی۔ ایک دفعہ اس کو رٹتے رہے اور اس کی مختلف ماتحت تو واقعات موافقت کریں۔ میں داخل ہوگئی ہے یا اس کا کوئی ا چال چلی تھی۔ وہ یہ کہ جب مرزائیا عربی نظم میں تک بندی لگانی شرو مارے۔ جس میں مولوی ثناء اللہ ص دعاوی کی رٹ لگانی شروع کر دی حاضری اور مولوی اصغر علی صاحب بزرگوں کے متعلق کچھ ذرہ بھر بھی ان کو پیشین گوئی کے سانچے میں شاعرانه انداز سے گرا ہوا ہے کہ اُ موزوں نہ ہوگا۔ باایں ہمہ مرزا قا کے ساتھ ویسا ہی جواب لکھنے پر بزرگوں نے لکھا اور اخبارات میں اشعار کا جواب کیا دیا جائے۔ چنا جوابیہ لکھا اور ساتھ ہی قصیدہ اعجا اسماعیل مرزائی قادیانی نے دیا غلط لکھے تھے۔ اس لئے عروضی ق

صفحہ ٨١

تک بھی کی جاسکتی تھی اور اگر فریق مخالف پر کوئی تکلیف نہ آتی تو وہ لفظ محفوظ رکھے جاتے جو پھر کسی موقعہ پر کام آجاتے تھے۔ اگر چہ موقعہ ہاتھ سے نکل گیا ہوتا۔ مگر مرزا قادیانی کی صداقت کا اعلان ضرور ہو جاتا۔ واقعات پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی راست باز نے اپنی صداقت کے لئے وہ طریق اختیار نہیں کئے تھے۔ جو مرزا قادیانی نے (قلمی، درہمی اور زبانی) اختیار کر رکھے تھے۔ کیونکہ یہ طریق عام اشتہار بازوں کے ہوتے ہیں۔ ورنہ مقبولان بارگاہ الٰہی کی کوئی ایک نظیر بھی نہیں ملتی کہ کسی نے پیچھے پڑ کر اپنی بات منوائی ہو۔ مگر یہاں یہ عالم ہے کہ ایک بات کہی پیر و مرید دونوں اشاعت کے پیچھے لگ گئے۔ پھر اخبارات میں شائع کی اس کے بعد خود ہی وہ کتابی صورت میں نقل کی۔ ایک دفعہ نہیں ہزار دفعہ عربی فارسی اور اردو میں مختصر اور مطول طریق پر اسی کو رٹتے رہے اور اس کی مختلف نوعتیں قائم کر لیں۔ صرف اس خیال سے کہ کسی نوعیت کے ماتحت تو واقعات موافقت کریں گے۔ اگر بالکل ہی ناکامی رہی تو اخیر میں کہہ دیا کہ یہ متشابہات میں داخل ہو گئی ہے یا اس کا کوئی اور پہلو بدل دیا۔ چنانچہ اس موقعہ پر بھی مرزا قادیانی نے ایک چال چلی تھی۔ وہ یہ کہ جب مرزائیوں کو مد میں شکست فاش ہوئی تو مرزا قادیانی کو بڑا طیش آیا اور عربی نظم میں تک بندی لگانی شروع کر دی۔ فرط جوش غضب میں پانچ سو سے زیادہ شعر لکھ مارے۔ جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو دل کھول کر گالیاں دیں اور جب وہ بخار نکل گیا تو اپنے دعاوی کی رٹ لگانی شروع کر دی۔ اخیر میں جب اس سے فارغ ہوئے تو پیر صاحب اور سید علی حائری اور مولوی اصغر علی صاحب روحی وغیرہ کو کوسنا شروع کر دیا اور کچھ ایسے لفظ بھی کہے کہ اگر ان بزرگوں کے متعلق کچھ ذرہ بھر بھی حالات دگرگوں ہونے کی خبر مرزائیوں کو لگ جائے تو آج بھی ان کو پیشین گوئی کے سانچے میں ڈھال لیں۔ یہ قصیدہ نام کو تو الہامیہ اور اعجازیہ ہے۔ مگر اس قدر شاعرانہ انداز سے گرا ہوا ہے کہ اگر کسی غلط شعر کا حوالہ دینا ہو تو اس قصیدہ سے بڑھ کر کوئی مصالحہ موزوں نہ ہوگا۔ باایں ہمہ مرزا قادیانی نے اپنی ہمہ دانی کا یوں غرور دکھلایا تھا کہ لوگوں کو بڑی عجلت کے ساتھ ویسا ہی جواب لکھنے پر دعوت دی۔ جس کا جواب مولوی اصغر علی صاحب روحی اور دیگر بزرگوں نے لکھا اور اخبارات میں شائع کیا اور عموماً اہل علم نے اس کو اس لئے نظر انداز کر دیا کہ غلط اشعار کا جواب کیا دیا جائے۔ چنانچہ مولانا محمد علی صاحب مونگیری نے اس کی تردید میں ایک قصیدہ جوابیہ لکھا اور ساتھ ہی قصیدہ اعجازیہ کے اغلاط چھپوا کر شائع کر دیئے۔ جس کا جواب الجواب مولوی اسماعیل مرزائی قادیانی نے دیا۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے اشعار پر اعراب غلط لکھے تھے۔ اس لئے عروضی غلطیاں بکثرت موجود ہیں۔ اگر نئے اعراب لگائے جائیں تو ان کی

صفحہ ٨٢

صحیح ہو سکتی ہے۔ مثلاً مرزا قادیانی ایک مصرعہ کو یوں پڑھتے ہیں۔ ’بباخ الحسین وولده اذا حضروا“ اور یہ غلط ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے بحر طویل میں شعر کہنے شروع کئے تھے اور یہ مصرعہ کمال استغراق فی المراق کی وجہ سے بحر کامل میں زبان سے بیساختہ نکل گیا تھا۔ اس لئے مولوی اسماعیل صاحب اسے یوں اعراب دے کر پڑھتے ہیں۔ ”بباخ الحسین ولده اذا احصروا“

معزز ناظرین! خود ہی اندازہ لگائیں کہ مرزائی لٹریچر کس قدر لچر اور پوچ ہے۔ باعقل بھی اسے پسند نہیں کر سکتا۔

تیرھواں مقابلہ ١٩٠٣ء جنگ ثنائی

مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری تاریخ مرزا میں لکھتے ہیں کہ جب میں ١٨ سال کا تھا تو مخلصانہ حیثیت میں قادیان گیا اور جس خلوص سے میں وہاں حاضر ہوا۔ چشم دید واقعات اور مرزا قادیانی کی بے اعتنائی سے وہ سارے کا سارا ہی تبدیل ہو گیا۔ ان کے مکان پر دھوپ میں جگہ ملی۔ انتظار کے بعد مرزا قادیانی نے بغیر سلام کے مزاج پرسی کے بجائے مکان پرسی شروع کر دی۔ کہاں سے آئے ہو اور کیوں؟ میں مختصر جواب دے کر واپس امرتسر آ گیا اور جب تحصیل علم سے فراغت پا کر دوسری دفعہ در دولت پر حاضر ہوا تو اس وقت مرزا قادیانی مسیح بن چکے تھے اور موضع مد کا مشہور مقابلہ بھی پیشین گوئیوں کی پڑتال کے متعلق وقوع پذیر ہو چکا تھا۔ جس میں فریق مخالف سرور شاہ کو شکست ہوئی تھی اور اس کا تدارک مرزا قادیانی قصیدہ عربیہ میں کر چکے تھے اور (اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٧، ١١٨، مطبوعہ ١٨٩٣ء) میں اعلان کر چکے تھے کہ اگر مولوی ثناء اللہ قادیان میں آکر کوئی ایک بھی میری پیشین گوئی غلط ثابت کر دیں تو فی پیشین گوئی ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا اور اسی (اعجاز احمدی ص ٢٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣٢) میں یہ بھی لکھا تھا کہ میں نے نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیشین گوئی لکھ رکھی ہے۔ جن کو غلط ثابت کرنے میں مولوی صاحب ڈیڑھ ہزار روپے کا انعام پانے کے مستحق ہوں گے۔ اس کے بعد توہین کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے لکھا کہ میرے مرید ایک لاکھ ہیں۔ اگر میں ان سے سفارش کروں گا تو مولوی صاحب کو ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جائے گا اور جب کہ ان پر قہر الٰہی نازل ہے اور دو دو آنہ کے لئے در بدر خراب ہوتے ہیں اور مردے کے کفن اور پیسوں پر گزارہ کرتے ہیں تو ایک لاکھ روپیہ ان کے لئے بہشت ہوگا اور اگر اس تحقیق کے لئے شرائط کا ماتحت قادیان نہ آئیں تو لعنت ہے۔ اس لاف و گزاف پر جو انہوں نے موضع مد میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا۔ انہوں نے بغیر علم اور پوری

صفحہ ٨٣

تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی۔ وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے جو بے وجہ بھونکتا ہے اور وہ زندگی لعنتی ہے جو بے شرمی سے گذرتی ہے۔ اور (ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) پر لکھا کہ مولوی صاحب تمام پیشین گوئیوں کی تصدیق کے لئے قادیان نہیں آئیں گے اور پیشین گوئیوں کی تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی اور اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مر جائے تو ضرور پہلے مریں گے۔

مولوی صاحب ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان پہنچ گئے اور اطلاعی رقعہ لکھا کہ آپ چونکہ بنی نوع کی ہدایت کے لئے مامور ہیں۔ اس لئے میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ رکھیں اور اجازت دیں کہ عام مجلس میں آپ کی پیشین گوئیوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ مرزا قادیانی نے جواب لکھ بھیجا کہ اگر آپ صدق دل سے شبہات رفع کرانے چاہتے ہیں تو آپ کی خوش قسمتی ہوگی۔ اگرچہ میں انجام آتھم میں لکھ چکا ہوں کہ گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ مگر آپ کے شبہات رفع کرنے کو تیار ہوں۔ آپ اقرار کریں کہ منہاج نبوت سے باہر نہیں جاؤں گا اور صرف وہ اعتراض کروں گا جو دوسرے انبیاء پر وارد نہ ہوں۔ آپ کو صرف تحریری شبہ پیش کرنا ہوگا اور وہ بھی صرف ایک دو سطر میں جس کا جواب مجلس میں آپ کو سنایا جائے گا۔ ایک دن میں صرف ایک شبہ حل کیا جائے گا۔ کیونکہ ہمیں فرصت نہیں ہے اور آپ چوروں کی طرح بلا اطلاع آگئے ہیں۔ آپ کو منہ بند رکھنا ہوگا۔ صم بکم رہنا ہوگا۔ آپ شبہ پیش کریں تین گھنٹہ کے بعد آپ کو جواب ملے گا۔ جو ایک گھنٹہ تک بیان ہوتا رہے گا۔ اس پر بھی اگر شبہ پیدا ہو تو پھر لکھ کر دو سطر میں پیش کرنا ہوگا میں ١٤؍ جنوری تک یہاں ہوں۔ کیونکہ ١٥؍ جنوری کو مجھے جہلم جا کر تاریخ مقدمہ مولوی کرم الدین صاحب دیر بھگتنا ہے۔ اگر آپ کو یہ منظور نہیں تو ہمارا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔

الغرض یہ مختصر خاکہ اس کے جواب کا ہے۔ جو مرزا قادیانی نے بار بار دہرا کر دیا تھا۔ مولوی صاحب نے اس کا جواب یوں دیا کہ آپ نے تحقیق کے لئے بلایا ہے۔ (رفع اشتباہ کے لئے نہیں بلایا) لیکن میں فراخ دلی سے اس بے انصافی کو بھی قبول کر لیتا ہوں۔ مگر اتنی اجازت ضرور دیجئے گا کہ میں اپنا شبہ پڑھ کر سناؤں اور مجلس میں جانبین سے کم از کم پچیس آدمی ضرور ہوں اور آپ کے جواب پر بھی مجھے تنقید کرنے کا حق دیا جائے۔ آپ نے مجھے چور اور ملعون قرار دیا ہے۔ خدا اس کا بدلہ آپ کو دے۔ اس کے جواب میں مولوی محمد حسین امروہی نے مرزا قادیانی کی طرف سے جواب لکھا کہ آپ کو تحقیق حق مطلوب نہیں ہے۔ کیونکہ آپ مناظرہ کی صورت پیش کر

صفحہ ٨٤

رہے ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی متنفّر ہیں۔ یہ جواب لے کر مولوی صاحب معہ اپنے رفقاء کے امرتسر واپس چلے آئے اور مرزا قادیانی کی جان چھوٹی۔

مرزا قادیان کا تقدّس زور پر تھا۔ وہ مخالف کو بھی ایسا مرید سمجھتے تھے کہ جس سے کوئی جرم سرزد ہو چکا ہو اور اپنی ہی شرائط پر کلام کرنا چاہتے تھے۔ غیر کی طرف مطلق توجہ نہ ہوتی تھی اور ایسے بہانہ سے ٹالتے تھے کہ تقدّس بھی قائم رہ جاتا اور فیصلہ بھی نہ ہوتا اور ایسی باتیں کرتے تھے کہ جن کو عقل سلیم قبول نہیں کرتی۔ مثلاً اسی مناظرہ میں ادھر تو تحقیق کے لئے بلایا ہے اور ادھر مناظرہ سے گریز کیا ہے اور ایک طرف ڈیڑھ سو پیشین گوئی پر تنقید کرنے کو کہا ہے اور دوسری طرف صرف چار دن کی مہلت میں روزانہ چار گھنٹہ میں تمام شکوک رفع کرنے کا ذمّہ لیا ہے۔ یہ مراق نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ تہذیبی حالت دیکھئے کس طرح مولوی صاحب کو کفن فروش، وعظ فروش، کتا، چور اور ملعون لکھا گیا ہے۔

چودھواں مقابلہ ١٩٠٧ء (جنگ ثنائی)

١٥؍اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا قادیانی نے ایک طویل البیان اشتہار سپرد قلم کیا اور مولوی ثناء اللہ صاحب سے کہا کہ اپنے اخبار اہلحدیث امرتسر میں اسے شائع کریں اور اس کے نیچے جو چاہیں لکھ دیں۔ اس کا ضروری اقتباس یہ ہے کہ: ”آپ مجھے مفتری، کذاب، ٹھگ اور مفسد وغیرہ لکھتے رہتے ہیں۔ میں دعاء کرتا ہوں کہ یا اللہ اگر میں ایسا ہی ہوں۔ جیسا کہ مجھے اہل حدیث امرتسر میں کہا گیا ہے اور مفتری، مفسد اور کذاب ہوں۔ تو مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں ہی مجھے ہلاک کر اور میری موت سے مولوی صاحب اور ان کی جماعت کو خوش کر۔“

١؎ نوٹ یہ طویل اشتہار مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨ سے ٥٧٩ تک ہے۔

مولوی صاحب! اگر میں ایسا ہی ہوں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی عمر نہیں ہوتی۔ بلکہ آخر وہ اپنے دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہو کر ہلاک ہو جاتا ہے۔ اگر میں ایسا نہیں ہوں تو آپ کذّابین کی سزا (ہیضہ یا طاعون وغیرہ) سے نہیں بچیں گے۔ بجز اس کے کہ میرے سامنے توبہ کریں اور میرے متعلق بدزبانی چھوڑ دیں۔ یا اللہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچّا فیصلہ فرما، اور جو مفسد اور مفتری ہے اس کو دنیا سے صادق کی زندگی میں اٹھا لے یا کسی ایسی آفت میں مبتلا کر جو موت کے برابر ہو۔ آمین ثم آمین!

(اخبار بدر ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء) میں شائع ہوا کہ جو دعاء مانگی گئی تھی وہ قبول ہو گئی ہے۔

صفحہ ٨٥

کیونکہ اس دعاء کے متعلق الہام ہوا ہے۔ ”اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ“ صوفیاء کی بڑی کرامت استجابت دعاء ہے اور بس!

اس مقابلہ میں مرزا قادیانی اپنی بددعا کا شکار ہو گئے اور کذابین کی دعاء سے نہ بچ سکے۔ بلکہ فوری موت سے ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو رخصت ہو گئے۔ اگر ہم اس موقعہ پر مان لیں کہ واقعی مرزا قادیانی مستجاب الدعوات تھے تو ہمیں پورا حق حاصل ہے کہ مرزائیوں کا یہ عذر غلط ہے کہ بددعاء مولوی صاحب کی منظوری سے مشروط تھی۔ جیسا کہ اعجاز احمدی میں گزر چکا ہے۔ کیونکہ وہ واقعہ ١٩٠٣ء کا ہے اور یہ دعاء ١٩٠٧ء میں مانگی گئی ہے۔ اس لئے اس کا اس واقعہ سے وابستہ کرنا غلط ہوگا۔ اس کے علاوہ بددعاء کے موقعہ پر دشمن سے منظوری لینا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ دشمن بھی اس بددعاء میں پیش کردہ الفاظ میں شریک کار ہو جائے۔ جس کا ماحصل یہ نکلتا ہے کہ دشمن اپنے نقصان کے لئے بددعا کرنے والے کو بزرگ سمجھ کر وکیل بنائے۔ بھلا مولوی صاحب جب کہ مرزا قادیانی کو کاذب جانتے تھے۔ کب اپنی بددعاء کرنے میں بزرگ سمجھ کر وکیل بنا سکتے تھے۔ ورنہ در پردہ مرزا قادیانی کے تقدس کا اقرار لازم آتا تھا۔ جو کسی صورت میں قابل تسلیم نہ تھا۔ غور سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو بددعا میں قبولیت کا پورا وثوق نہیں ہوتا تھا۔ اس لئے عدم قبولیت کو رفع کرنے میں دو طریق اختیار کرتے تھے۔

اول ...... یہ کہ فریق مخالف بھی مرزا قادیانی سے ہمنوا ہو جائے تا کہ مباہلہ کی صورت پیدا ہو جائے اور چونکہ اپنے لئے بددعا کا قبول ہونا زیادہ قرین قیاس ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کی حوصلہ افزائی ہو جاتی تھی۔

دوم ...... فریق مخالف توبہ نہ کرے اور توبہ سے مراد ان کے نزدیک صرف خاموشی تھی۔ ترک فعل مراد نہ تھا کہ جس سے بنائے مخاصمت پیدا ہوگئی تھی اور اس حیلہ سے مرزا قادیانی کی ناکامیوں کو کامیاب بنانا آسان تھا اور عدم منظوری کے موقعہ پر جھٹ کہا جاتا تھا کہ یہ اندر سے توبہ کرتا ہے۔ مگر مولوی صاحب کے متعلق کوئی حیلہ پیش نہیں گیا۔ چنانچہ فیصلہ لدھیانہ جو خلیفہ نور الدین صاحب کے عہد میں ١٩١٢ء کو تین سو انعامی رقم پر مولوی صاحب کے حق میں ہوا تھا صاف ثبوت ہے۔ اس امر کا کہ مرزائی اس بحث پر کبھی جیت نہیں سکتے۔ مرزائیوں نے اس موقعہ پر ایک یہ عذر بھی پیش کیا تھا کہ صادقین موت کی تمنا کیا کرتے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی اگرچہ مفتری بن کر مر گئے تھے۔ تاہم سچے تھے۔ اس کا جواب یوں ہے کہ مرزا قادیانی اگرچہ اپنے دعوے میں سچے نہ تھے۔ مگر افتراء اور کذب میں ضرور صادق تھے۔ اس لئے ہم بھی مان لیتے ہیں کہ صادقین

صفحہ ٨٦

اگر چہ افتراء میں ہی سچے ہوں ۔ موت چاہتے ہیں۔ قرآن شریف میں بھی ’فتمنوا الموت ان کنتم صدقین“ کا خطاب اہل افتراء یہودیوں سے ہی ہے۔ غور کرو اور خوب سمجھ کر مرزا قادیانی اپنے افتراء میں سچے تھے۔

پندرھواں مقابلہ ١٩٠٨ء (جنگ پٹیالہ)

(چشمہ معرفت ص ٣٢١، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧) میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں میرے کئی ایک دشمن میرے مقابلہ میں کھڑے ہوئے تھے۔ مگر ہلاک ہو گئے۔ جن میں سے آخری دشمن ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ: ”٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک میں اس کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔“ یہ بیس برس تک میرا مرید رہا۔ آخر اس نے یہ عقیدہ ظاہر کیا کہ بغیر اتباع رسول ﷺ کے اور بغیر قبول اسلام کے بھی نجات ہو سکتی ہے۔ میں نے اس کو سمجھایا مگر وہ باز نہ آیا تو میں نے اپنی جماعت سے اس کو خارج کر کے مرتد قرار دے دیا۔ اب میں نے اس کے مقابلہ میں یہ پیشین گوئی کی ہے کہ وہ میری زندگی میں مر جائے گا اور میں محفوظ رہوں گا۔

اس موقعہ پر ایک معتبر مسلمان کا بیان ہے کہ یہی ڈاکٹر صاحب قادیانی نبوت سے منکر ہو کر لاہور آئے تھے اور محمڈن ہال موچی دروازہ میں تین روز تک ایک ایک گھنٹہ لیکچر دیا تھا کہ میں نے کیوں قادیانی مذہب چھوڑا۔ جو میں نے اپنے کانوں سے سنا تھا اور اس لمبے چوڑے لیکچر کا خلاصہ یہ تھا کہ میں عموماً مرزا قادیانی کی خدمت گزاری کو اپنی سعادت سمجھتا تھا اور میرے سپرد ایک خاص خدمت کی ہوئی تھی کہ ماہ بماہ کئی تولہ مشک خالص بہم پہنچایا کروں۔ جو ساٹھ ستر روپے تک دستیاب ہوتی تھی اور حکیم نورالدین صاحب کی معیت سے ایک یاقوتی تیار کرتا تھا۔ جو مرزا قادیانی کی قوت جسمانی قائم رکھنے کی خاطر ماہ بماہ تیار ہوتی تھی۔ بٹالہ شہر سے رات دن ڈاک جاتی تھی۔ جس پر سوڈہ کی بوتلیں اور برف وغیرہ لائی جاتی تھی۔ قادیان میں قصابوں کو حکم تھا کہ مغزدار ہڈیاں مرزا قادیانی کے گھر پہنچائیں تاکہ ان کی یخنی مرزا قادیانی نوش کیا کریں۔ اس قسم کے تکلفات خوردونوش میں بہت تھے۔ جن میں مریدوں کا روپیہ بیدریغ صرف ہوتا تھا۔ مجھے ایک دن یاقوتی تیار کرتے ہوئے خیال پیدا ہوا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی خوراک تو بالکل سادہ تھی اور پوشاک میں بھی کوئی تکلف نہ تھا۔ یا اللہ مرزا قادیانی ثانی الرسول ہو کر ماہواری سیکڑوں کی یاقوتی کیوں کھا جاتے ہیں؟ میں نے دو چار دن تک تو اس کو شیطانی وسوسہ خیال کیا۔ مگر ایک دن مرزا قادیانی سے پوچھنا ہی پڑا۔ آپ نے مجھے ڈانٹ کر لاحول کا وظیفہ بتایا۔ کچھ دن وہ بھی پڑھا مگر یہ خیال تبدیل نہ ہوا۔ معذرت کے طور پر مرزا قادیانی سے دوسری دفعہ عرض کیا گیا تو آپ نے کثرت

صفحہ ٨٧

اشتغال، کثرت ہموم وغموم اور ضعف دماغ کا بہانہ پیش کیا۔ جس پر میں نے یہ عذر کیا کہ آنحضرت علیہ السلام سے بڑھ کر نہ آپ کو کام کرنا پڑتا ہے اور نہ آپ کو جان کا خطرہ رہتا ہے تو اس آرام کی زندگی میں آپ کی ذاتی خوردونوش میں اس قدر تکلفات کیوں؟ انبیاء میں جسمانی اور روحانی طاقت خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ روکھا سوکھا کھا کر ہزاروں پر بھاری ہوتے ہیں۔ مگر آپ ہیں کہ سیکڑوں روپے کی یاقوتی اور مرغن ہفت الوان نعمت کھا کر بھی تبلیغ اسلام میں صرف گھر بیٹھے ہی کاغذی گھوڑے چلایا کرتے ہیں۔ پس یا تو آپ ثانی الرسول نہیں ہیں یا یہ واقعات غلط ہیں۔ مرزا قادیانی نے حکیم نور الدین صاحب سے کہلا کر بھیجا کہ اس مریض ایمان کے شکوک رفع کرنے میں کوشش کریں۔ چنانچہ میں ان کے سپرد کچھ دن رہا۔ مگر میری تشفی نہ ہوئی۔ آخر الامر مرزا قادیانی سے پھر جھڑپ ہوئی کہ جناب میرے شکوک کا تشفی بخش جواب دیجئے۔ اس وقت مرزا قادیانی جلال میں تھے اور میرے متعلق بہت سی شکایات بھی سن چکے تھے۔ مجھ خادم سے کہا کہ تم کافر ہو گئے ہو۔ تمہارا نام رجسٹر ایمان سے نکال دیا گیا ہے۔ مجھے اس وقت غیرت اسلامی نے جوش دلا کر یوں گویا کیا کہ : ”امنت بالله وملئکۃ، لا اله الا الله محمد رسول الله “ میں مسلمان ہوں فرمانے لگے۔ تم مرتد ہو گئے ہو تمہارے ان الفاظ کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ اس وقت مجھے ایک اور شبہ پیدا ہو گیا اور عرض کیا کہ یہ اسلام بھی ایک خوب مذہب ہے کہ جس کی ڈوری غیر کے ہاتھ ہے کل آپ کہیں گے کہ جاؤ تمہاری بیوی کو بھی طلاق دیتا ہوں۔ اگر یہی اسلام ہے تو بس میرا اسلام ہے۔ یہ کہہ کر میں نے وہ مذہب چھوڑ دیا اور دین فطرت کی طرف رجوع کیا جو خدا کے فضل وکرم سے اس وقت مجھے حاصل ہے۔

مرزا قادیانی کا مذکورہ بالا بیان اور یہ لیکچر دونوں آپس میں زمین و آسمان کا فرق رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو بھی غلط گو کہتے شرم آتی ہے اور لیکچر کا خلاصہ بھی اس قابل نہیں کہ اس کو درجہ توثیق سے گرا دیا جائے۔ اس لئے یہ ماننا پڑتا ہے کہ شاید ڈاکٹر صاحب نے پہلے وہ شبہ پیش کیا ہو جو مرزا قادیانی نے بیان کیا ہے اور دوسرا شبہ کہ جس میں مرزا قادیانی کی ذرہ خفت تھی۔ آپ نے بیان کرنا مناسب نہ سمجھا ہو اور ڈاکٹر صاحب نے اپنی بریت کا اظہار کرتے ہوئے بیان کر دیا ہو۔ بہر حال ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس جان کے کھیل میں کون مارا گیا۔ جواب ظاہر ہے کہ: ”مرزا قادیانی مورخہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو آسمانی نشان سے ہلاک ہوئے اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب ١٩ سال بعد ١٩٢٦ء تک زندہ رہا۔ جس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی بھی ایک دن اپنے ہی مرید کے شکار ہو گئے تھے۔“

صفحہ ٨٨
صیاد نہ ہر بار شکارے ببرد
باشد کہ یکے روز پلنگش بدرد

نبوت مرزا پر مرزائیوں کی خانہ جنگی

جب مرزا قادیانی ١٩٠٨ء میں مر گئے تو آپ کے بعد اس جگہ حکیم نور الدین صاحب بھیروی جانشین ہو کر خلیفہ اوّل قرار پائے۔ تقریباً چھ سال تک آپ نے بڑی سرگرمی سے کام کیا۔ مگر شریعت مرزائیہ میں کوئی نمایاں تبدیلی واقع نہ ہوئی۔ جب حکیم نور الدین چار سال کے بعد وفات پا چکے تو اختلاف رائے پیدا ہو گیا کہ آیا حکیم محمد حسین امروہی مستحق خلافت ہیں یا کوئی اور؟ بڑی بحث وتمحیص کے بعد آخر یہ فیصلہ ہوا کہ حکیم صاحب کی شخصیت لاثانی ہے۔ اس لئے آپ کے حق میں ووٹ زیادہ نکلے اور آپ جب بیعت لینے کھڑے ہوئے تو آپ نے مرزا قادیانی کے صاحبزادہ میاں محمود کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھے انتخاب کیا ہے اور میں اس صاحبزادہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ آپ کا یہ کہنا تھا کہ لوگوں میں نمک حلالی کی صدائیں بلند ہو گئیں۔ مگر خواجہ کمال اینڈ کمپنی چونکہ شروع سے ہی صاحبزادہ صاحب سے اختلاف رائے رکھا کرتے تھے اور ان کے دلوں میں آپ کا وقار علمی بہت کم تھا۔ اس لئے انا خیر منہ کا نعرہ لگاتے ہوئے اور آستان خلافت سے سرتابی کرتے ہوئے سیدھے لاہور آ پہنچے اور مسئلہ خلافت کے منکر ہو بیٹھے اور اپنی تنظیم قائم کرنے کے لئے مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے کو اپنا امیر جماعت منتخب کر کے الگ جماعت بنا ڈالی۔ اب مرزائی جماعت میں فرقہ بندی پیدا ہو گئی اور تمام فرقوں کو مٹا کر اخیر دو حصوں میں منقسم ہوئے۔ قادیانی اور لاہوری اور ان میں اختلافی مسائل بھی پیدا ہو گئے۔ جن میں ایک بڑا اہم مسئلہ نبوت مرزا کے عنوان سے دیر تک زیر بحث رہا۔ وجہ یہ ہوئی کہ مرزا قادیانی اور خلیفۃ الاوّل کے عہد میں اعلان نبوت مرزا کو چنداں فروغ حاصل نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ ان کو پھر بھی اسلام کا پاس خاطر کچھ نہ کچھ ملحوظ تھا۔ مگر مرزا محمود نے گدی سنبھالتے ہی نبوت مرزا کو زیر بحث لا کر لاہوری اور قادیانی مرزائیوں کو کفر اور ارتداد تک پہنچا دیا۔ چنانچہ لاہوری پارٹی اور خلیفہ معزول حکیم امروہی مرزا قادیانی کو عکسی نبی ماننے لگے اور مرزا محمود آپ کو اس درجہ سے اوپر ترقی دے کر مستقل نبی ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کشمکش میں محمد حسین امروہی اینڈ کمپنی لاہوری پارٹی میں شامل ہو کر خلیفہ محمود کی تردید میں تالیف وتحریر سے برسر پیکار بن گئے۔ غالباً ان کو افسوس ہوا ہوگا کہ جس امید پر آپ نے اپنے ہاتھوں سے مرزا محمود کو خلیفہ منتخب کیا تھا اس پر تمام پانی پھر گیا تھا۔ کیونکہ آپ کو خیال تھا کہ صاحبزادہ صاحب ہم سے پوچھ کر کام چلائیں گے۔ جس سے میری عزت بھی

صفحہ ٨٩

بنی رہے گی۔ مگر صاحبزادہ بڑے ہوشیار تھے۔ کسی کے ماتحت کب رہ سکتے تھے۔ آخر اختلاف رائے کا یہ نتیجہ نکلا کہ لاہوری پارٹی قادیانی جماعت کو آج تک کافر کہتے ہوئے دکھائی دیتی ہے کہ انہوں نے نبوت مستقلہ کو مرزا قادیانی کے ذمہ لگا دیا ہے اور قادیانی پارٹی لاہوری جماعت کو اس لئے مرتد کہتی ہوئی سنائی دیتی ہے کہ انہوں نے خلافت کا انکار کر کے بغاوت کی ہے اور مرزا قادیانی کی مستقل نبوت کو تسلیم نہیں کیا جس کی تفصیل یہ ہے کہ:

مرزا قادیانی نے چودھویں صدی کے تمام مذہبی مناصب و مراتب طے کرتے ہوئے اخیر میں نبوت پر آ کر قدم جمائے تھے۔ جس میں قادیانی اور لاہوری دونوں قسم کے مرزائی اختلاف رائے رکھتے ہوئے تکفیر و ارتداد تک پہنچ گئے۔ اب لاہوری پارٹی کا خیال ہے کہ مرزا قادیانی صرف لغوی نبی تھے کہ جن کی نبوت کے انکار سے کافر نہیں ٹھہرتا اور قادیانی پارٹی کا عقیدہ ہے کہ آپ کی نبوت دوسرے انبیاء کی طرح اصطلاحی اور مستقل نبوت تھی۔ شروع میں گو آپ امتی نبی، لغوی نبی، عکسی نبی، بروزی نبی اور ظلی نبی یا مجازی نبی تھے۔ لیکن اخیر میں آپ مستقل اور حقیقی تشریعی نبی بن چکے تھے اور ہم کو بھی مرزا محمود خلیفہ ثانی قادیان بانی فرقہ محمودیہ سے اتفاق رائے کرنا زیادہ موزوں ہے۔ کیونکہ جب بقول ہر دو فرقہ زیر حکم آیت: ”و آخرین منہم لما یلحقوا بھم“ پیغمبر علیہ السلام کو دو دفعہ دنیا میں پیدا ہونا تسلیم کیا گیا ہے تو جب آپ ظہورِ اوّل میں نبی تشریعی حقیقی اور مستقل تھے تو ظہورِ ثانی میں بھی بقول محمود وہی حیثیت رکھتے ہوئے نبی تسلیم کئے جائیں گے۔ جو ظہورِ اوّل میں تھی۔ بلکہ آیت: ”ما ننسخ من آیۃ...... نأت بخیر منہا“ کے ضمن میں آپ کا ظہور ثانی ظہور اوّل سے افضل اور اکمل ہونا سمجھا جاتا ہے اور چونکہ ”لیظہرہ علی الدین کلہ“ کا وعدہ بھی ظہور ثانی سے وابستہ ہے اور انسانی تجربہ بھی ثابت کرتا ہے کہ جب ایک چیز کو دوسری دفعہ بنایا جاتا ہے تو اس کی پہلی ساخت سے دوسری ساخت بہترین نمونہ پر ہوتی ہے۔ جس کی طرف ”العود احمد“ کا اشارہ پایا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مرزا قادیانی افضل المرسلین تسلیم نہ کئے جائیں۔ اس سے قطع نظر کر کے ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے آئینہ وجود میں تمام انبیاء سابقین کا عکس موجود ہے اور خود پیغمبر علیہ السلام کا ظل بھی وہاں موجود ہے تو اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی شان تمام انبیاء سے برتر ہے کہ جن میں تمام ظلال اور عکس موجود نہ تھے۔ بلکہ خود پیغمبر علیہ السلام کو بھی یہ درجہ حاصل نہ تھا۔ جو مرزا قادیانی کو حاصل تھا۔ کیونکہ آپ میں صرف اگر ہو سکتے ہیں تو انبیاء سابقین کے عکس موجود ہو سکتے ہیں اور اپنا عکس اور ظل موجود نہیں ہو سکتا۔

صفحہ ٩٠

پس اس دلیل کی بناء پر جو شخص مرزا قادیانی کو ایسا نبی نہیں مانتا یا تردد کرتا ہے یا ماننے میں خاموشی اختیار کرتے ہوئے خالی الذہن رہتا ہے تو وہ بحکم آیت: ”نؤمن ببعض ونکفر ببعض اولئک ہم الکافرون حقا“ کافر ہے اور ایسے لوگوں سے ترک موالات بحکم آیت: ”لا یتخذ المؤمنون الکافرین اولیاء“ اشد ترین اور محکم ترین فرض ہوگا۔ کیونکہ آیت: ”واذ اخذ اللہ میثاق النبیین...... لتؤمنن بہ“ ظاہر کرتی ہے کہ تمام انبیاء سابقین سے کہ جن میں خود پیغمبر اسلام بھی داخل ہیں۔ یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ جب مسیح موعود کا ظہور ہوگا تو تم کو اس کی تصدیق کرنی ہوگی۔ پس جب کہ مرزا قادیانی کی تصدیق خود پیغمبر اسلام پر فرض ہے تو دوسرا کون شخص ہو سکتا ہے کہ جس پر یہ تصدیق فرض نہ ہو۔

ان پانچ دلائل سے مرزا محمود نے اپنے باپ کی نبوت کے ثابت کرنے میں وہ تمام خامیاں پوری کر دی ہیں۔ جو مرزا قادیانی سے اپنے آخری اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ) میں بھی پوری نہ ہو سکی تھیں۔ پدر اگر نتواند پسر تمام کند! اور واقعی آپ پر یہ فرض بھی تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی (تیسرے مقابلہ میں) جب آپ کو مسیح موعود اور ظل الٰہی بلکہ ایک معنی میں خود خدائے منزل (کرشن روپ) بنا چکے ہیں تو بحکم ”وبالوالدین احساناً“ اگر آپ نے اپنے باپ کو افضل المرسلین واجب الاتباع علی خیر الرسل قرار دیا ہے تو کون سی بڑی بات ہو گئی ہے۔ بلکہ اگر ”ہل جزاء الاحسان الا الاحسان“ پر پورا عمل کرتے تو ان پر یہ بھی فرض تھا کہ اپنے باپ کو ”افضل الآلہہ“ بھی ثابت کرتے۔ پھر ہم بھی مان لیتے کہ اس خلف الرشید نے ”بروالدین“ کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا ہے۔ مگر تاہم ہمیں امید ہے کہ آپ کسی تازہ ترین تحریر یا تقریر میں اس کمی کو پورا کرنے میں دریغ نہ کریں گے۔

بہر حال مرزا محمود لاہوری پارٹی کے مقابلہ میں بہت بڑا غلو کر رہے ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو لاہوری پارٹی کے افراد مجلس صرف ظلی نبی، امتی نبی، تابع نبی، غیر تشریعی نبی اور لغوی نبی یا محدث اور مجدد و مسیح موعود تو مانتے ہیں۔ مگر مستقل نبی، حقیقی نبی اور مطاع الانبیاء یا افضل المرسلین نہیں مانتے۔ کیونکہ ان کے نزدیک حسب فرمودہ مسیح قادیان ”اہدنا الصراط المستقیم“ پڑھ کر پانچ وقتہ نماز میں ہمیں ہدایت ہے کہ ہم خدائے تعالیٰ سے منعم علیہم کے راستہ پر چلنے کی توفیق طلب کریں تاکہ رفتہ رفتہ کسی وقت ہم بھی صدیق، شہداء اور انبیاء بن سکیں اور ہم کو بھی ”العلماء ورثۃ الانبیاء“ کا تمغہ حاصل ہو جائے اور کسی موقعہ پر علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے ضمن میں کسی نہ کسی نبی کا مثیل بن کر تجدید اسلام کا کام اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔ جیسے

صفحہ ٩١

کہ مرزا قادیانی نے یہ تمام فضائل حاصل کر کے نبوت بروزی کا دعویٰ کیا ہے اور مجدد اسلام کے بعد مسیح موعود بن چکے ہیں۔ کیونکہ مسلم کی حدیث میں مسیح کو نبی کہا گیا ہے اور جزو نبوت (یعنی نبوت کا چھیالیسواں حصہ) بھی چونکہ کل نبوت میں داخل ہوتی ہے۔ اس لئے جزوی انبیاء کا ظہور خیر القرون سے آج تک جاری ہے۔ اگر یہ فیضان نبوت یا اجرائے نبوت کو تسلیم نہ کیا جائے تو یہ امت خیر الامم کا لقب پانے کی مستحق نہیں رہ سکتی۔ بلکہ مردود یا ملعون کا لقب پانے کی سزاوار ٹھہرے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود کی فضیلت قرآن شریف میں جعل فیکم انبیاء سے ظاہر کی گئی ہے۔ اب اگر اس امت میں یہ فضیلت تسلیم نہ کی جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ پیغمبر اسلام کے ظہور اوّل کے بعد جس طرح یہودیوں اور عیسائیوں کا مذہب صرف اس بناء پر مردہ ہو گیا ہے کہ ان میں ’’لکن رسول الله وخاتم النبیین‘‘ کی پیش گوئی کے رو سے انبیاء کا آنا بند ہو چکا ہے۔

اسی طرح اسلام بھی بعثت انبیاء سے خالی ہو کر مردہ مذہب بن جائے گا اور تازہ ترین الہام یا وحی جدید کا نمونہ مخالفین کے سامنے پیش نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ احادیث نبویہ بھی اس پر شاہد ہیں کہ اس امت میں محدث ہوں گے جو کثرت مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ سے مشرف ہو کر نبوت ظلی کا دعویٰ کرتے ہوئے امتی نبی کہلائیں گے۔ اب ثابت ہو گیا کہ یہ نبوت صرف درجہ کرامت تک پہنچ کر رہ جاتی ہے۔ جس میں فنا فی الرسول کا وہ مقام پیش آتا ہے کہ اس میں جو امور پیغمبر اسلام کی طرف بحیثیت نبوت منسوب ہوتے ہیں وہ بعینہ فنا فی الرسول کی طرف بھی منسوب ہو جاتے ہیں۔ اس لئے پیغمبر اسلام کی تصدیق ہی مرزا قادیانی کی تصدیق ہو گی۔ الگ تصدیق کی ضرورت نہ رہے گی اور مرزا قادیانی کی بیعت اسی طرح مدار نجات ہو گی۔ جس طرح نبی کریمﷺ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا نجات بخش ہو سکتا ہے اور تجدید بیعت کی ضرورت اسی وقت زیادہ سخت ہوتی ہے۔ جبکہ اسلام پر مخالف ہوائیں چل رہی ہوں۔ تا کہ باد مخالف سے متأثر ہو کر ایمان مردہ نہ ہو جائے۔ پس یہی وہ بیعت ہے جو قبول اسلام کے بعد تبلیغ کے لئے غزوات اسلامیہ میں لی گئی تھی اور تجدید خلافت اسلامیہ میں بھی اس کو فرض سمجھا گیا تھا اور اب صوفیائے کرام میں یہی جاری ہے تا کہ تبلیغ اسلام میں کسی تنظیم کے ماتحت ایک جماعت کھڑی ہوئی نظر آئے۔

خود مرزا قادیانی نے بھی آخری اعلان میں اس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ: ’’خاتم النبیین‘‘ کے تحت میں ایک پیشین گوئی مضمر ہے جو میرے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوئی وہ یہ ہے کہ نبوت کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔ مگر جب اپنے گھروں میں حضور نے خوخہ ابی بکر کھلا رکھا تھا تو اس میں یہ اشارہ تھا کہ سیرت صدیقی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے۔ جس

صفحہ ٩٢

میں فنا فی الرسول ہونے کے بعد داخل ہو کر برد نبوت پہنی جاسکتی ہے جو خود محمد رسول اللہﷺ نے پہنی ہوئی تھی۔ چنانچہ سب سے پہلے صدیق اکبر نے یہ چادر پہن کر ولایت کبریٰ کا درجہ حاصل کیا کہ میری بیعت اور میری تعلیم موجب نجات ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٧٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٠) میں ہے کہ: ”واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى“ (اربعین نمبر ٣ ص ٨٠، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٥) پر ہے کہ: ”واصنع الفلك باعيننا، سلام علی ابراهيم فاتبعوه“

مزید لکھا ہے کہ: ”اھل المشرق والمغرب يجب عليهم ان يدخلوا في بيعة خليفة الاسلام“ کیونکہ اس وقت صرف وہی فرقہ ناجیہ ہے جو خلیفۃ المسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے۔ ورنہ تجدید بیعت سے تغافل کرنا اگرچہ کفر تو نہیں ہے۔ مگر فرقہ ناجیہ میں شمولیت کو مشکوک کر دیتا ہے۔ (مگر غیر ناجی اور کافر کہنا ایک ہی بات ہے)

مرزا محمود کے اقوال اگرچہ اظہر من الشمس ہیں۔ جن کو نقل کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر تاہم اتمام حجت کے لئے ان کا اقتباس ضروری ہے۔ چنانچہ آپ نے لکھا ہے کہ:

”وآخرین منھم“ میں دو بعثتوں کا ذکر ہے اور چونکہ احادیث میں نزول مسیح مذکور ہے۔ اس لئے دوسری بعثت سے مراد مرزا قادیانی ہیں اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

(انوار خلافت ص ٥٠)

”ما ننسخ من آیۃ“ معلوم ہوتا ہے کہ دوسری دفعہ کام کرنے میں زیادہ خوبی والی شئے مراد ہوتی ہے۔ اسی واسطے العود احمد کا محاورہ جاری ہو گیا ہے۔ پس دوسری بعثت پہلی بعثت سے عمدہ اور بہترین ہوگی۔ پس مرزا قادیانی احمد (قابل تعریف) اور مسیح علیہ السلام سے بہتر ثابت ہو گئے۔ (اسی شکست وریخت کا نام ہی تناسخ ہے)

(انوار خلافت ص ٤٨)

مرزا قادیانی بلحاظ نبوت کے ایسے ہیں جیسے اور پیغمبر اور ان کا منکر کافر ہے۔

(الفضل ص ٨ نمبر ١٢٢، ١٩١٤ء)

جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتا اور کافر بھی نہیں کہتا وہ بھی کافر ہے۔

(تشحیذ الاذہان ج ٦ نمبر ٤ ص ١٤٠)

مرزا قادیانی نے اس کو بھی کافر ٹھہرا دیا ہے جو سچا تو جانتا ہے مگر بیعت میں توقف کرتا ہے۔

(تشحیذ الاذہان نمبر ٤ ص ١٤١، اپریل ١٩١١ء)

جس آیت میں رسولوں کا انکار کفر قرار دیا گیا ہے۔ مرزا قادیانی بھی چونکہ رسولوں میں شامل تھے۔ اس لئے آپ کا انکار بھی کفر ہے۔ (اس لئے مرزا قادیانی کے منکر ان کو کافر کہنے سے

صفحہ ٩٣

کافر نہیں ہیں)

(الفضل ج ٢، مورخہ ٩ / جنوری ١٩١٥ء)

صرف فرق یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بالواسطہ نبوت پائی ہے اور دوسرے انبیاء نے بغیر واسطہ کے۔ جو حال منکر نبی کا قرآن شریف میں مذکور ہے وہی حال مرزا قادیانی کے منکر کا ہے۔

(قول فصل ص ٣٣)

اگر آپ کو نبی نہ مانا جائے تو وہ نقص پیدا ہوتا ہے جو انسان کو کافر بنانے کے لئے کافی ہے۔

(حقیقت النبوۃ ص ٢٠٤)

پس مسیح موعود کے نبی اللہ اور احمد ہونے سے انکار کرنا حضور کی بعثت ثانی اور احمد اور نبی اللہ ہونے سے انکار ہے۔ جو منکر کو دائرہ اسلام سے خارج اور پکا کافر بنا دینے والا ہے۔

(مرزا قادیانی کا یہ کہنا غلط ہے کہ ہم کسی کو کافر نہیں کہتے ۔ بلکہ وہ مسلم کو کافر کہہ کر خود کافر بن رہے ہیں)

(الفضل نمبر ٣ ج ٣ ص ٧، مورخہ ٢٩ / جون ١٩١٥ء)

حدیث ”ستفترق امتی“ سے ظاہر ہے کہ فرقہ ناجیہ کے سوا سب ناری ہیں اور ”آخرین منھم“ سے ثابت ہے کہ وہ فرقہ ناجیہ سب سے آخری فرقہ ہے۔ کیونکہ ”آخرین“ اسم تفضیل ہے۔ جس کے معنی ہیں بہت ہی پیچھے آنے والا اور حدیث ”کیف تهلك امة ...... وابن مریم آخرھا“ سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرین کا گروہ مرزا قادیانی کی جماعت ہے اور آیہ آخرین سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود باعتبار کمالات نبوت و رسالت کے محمد رسول اللہ ہی ہیں اور تہتر (٧٣) فرقہ میں سے ایک کا ناجی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ مسیح موعود پر ایمان لانے سے ناجی بنے گا اور حضور کے صحابہ میں شمار ہوگا اور منہم سے معلوم ہو گیا کہ جس عہد صحابہ میں ان کے سوا دوسرے فرقے ناری تھے اور کافر تھے۔ اسی طرح آخرین کے زمانہ میں ان کے سوا سب فرقے ناری اور کافر ہیں۔ پس بعثت اوّل میں منکرین کو کافر قرار دینا اور بعثت ثانی میں منکروں کو کافر قرار نہ دینا حضور ﷺ کی ہتک اور آیت سے استہزاء ہے۔ (مرزا محمود قادیانی قدرت ثانیہ ہیں اور مرزا قادیانی کا بروز اوّل ہیں اور حضور علیہ السلام کا بروز ثانی ہیں۔ اب ان کا منکر بتاؤ کیسا ہوگا )

(الفضل ج ٣ نمبر ١٠ ص ٦، مورخہ ١٥ / جولائی ١٩١٥ء)

مرزا قادیانی عین محمد تھے۔ کیونکہ آپ کے کامل مظہر تھے۔ اس لئے آپ کے مقابلہ میں خادم ہیں اور جب آپ کو الگ تصور کیا جائے تو آپ کو عین محمد کہا جائے گا۔ پس میرا ایمان ہے کہ مرزا قادیانی حضور کے نقش قدم پر چلتے چلتے عین محمد بن گئے تھے۔ (مرزا محمود چونکہ مرزا قادیانی کا بروز ہیں۔ اس لئے وہ بھی عین محمد ٹھہرے)

(ذکر الہی ص ٦٠)

صفحہ ٩٤

خاتم النبیین کے یہی معنی ہیں کہ کوئی شخص نبی نہیں بن سکتا۔ جب تک کہ حضور کے نقش قدم پر چل کر غلامی اختیار نہ کرے اور جب دروازہ نبوت کھلا ہوا ہے تو مسیح موعود ضرور نبی ہیں۔

(حقیقت النبوۃ ص ٢٣٢)

ہمارا عقیدہ ہے کہ اس آیت میں سوائے مسیح موعود کے کوئی نبی نہیں گزرا کہ جس کا یہاں ذکر ہو۔

(حقیقت النبوۃ ص ١٣٨)

ابدال واقطاب واولیاء میں سے صرف مجھ کو ہی اسم نبی دیا گیا ہے اور میرے سوا کسی کو اس کا حق بھی نہیں ہے۔ (جیسا کہ: ”کان اللہ نزل من السماء“ کی آیت صرف خلیفہ محمود کو خدا کا لقب دے رہی ہے)

(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)

چونکہ آخرین صرف مسیح موعود کی جماعت ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ مسیح موعود ہی رسول تھے۔

(حقیقت النبوۃ)

اگر نبی کریم کا منکر کافر ہے تو مسیح موعود کا منکر بھی کافر ہے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہ تھے۔ اس لئے اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں ہے تو نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں اور یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ بعثت اوّل میں تو آپ کا منکر کافر ہو اور آپ کی دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ، اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔

(ریویو موسومہ کلمۃ الفصل ص ١٤٦)

کیا اس بات میں کوئی شک ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمدﷺ کو اتارا۔ جب تک ”آخرین منھم“ کی آیت موجود ہے اس وقت تک تو مجبور ہے کہ مسیح موعود کو محمد کی شان میں قبول کرے۔

(کلمۃ الفصل ص ١٠٥)

مسیح موعود کو تب نبوت ملی تھی جب کہ اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کرلیا تھا اور اس قابل ہوگیا تھا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کو اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کردیا۔ (بالکل خیالی بات ہے)

(کلمۃ الفصل ص ١١٣)

نبی کریم کے شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدثوں کے ایک نے نبوت کا درجہ بھی پایا ہے اور نہ صرف نبی بنا۔ بلکہ اپنے مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ (ہاں خدا ہی بنا ہے)

(حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧)

امت محمدیہ میں سے صرف ایک شخص نے نبوت کا درجہ پایا ہے اور باقیوں کو یہ رتبہ نصیب نہیں ہوا۔ (اس ایک کو بھی یہ درجہ نصیب نہیں ہوا)

(کلمۃ الفصل ص ١١٦)

صفحہ ٩٥

اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو مبعوث کرے گا۔ پس مسیح موعود خود رسول اللہ تھے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔ (قول باطل محض ہے)

(کلمۃ الفصل ص ١٥٨)

مسیح موعود کی ظلی نبوت کوئی گھٹیا نبوت نہیں ہے۔ بلکہ خدا کی قسم اس نبوت نے جہاں آقا کے درجہ کو بلند کیا وہاں غلام کو بھی اس مقام پر کھڑا دیا۔ جس تک انبیائے بنی اسرائیل کی پہنچ نہیں تھی۔ مبارک وہ جو اس نکتہ کو سمجھے اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے اپنے آپ کو بچائے۔ (غلط)

(کلمۃ الفصل ص ١١٤)

مسیح موعود تمام انبیاء کا مظہر ہے۔ جیسا کہ اس کی شان میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”جری الله فی حلل الانبیاء“ اس سے اس کے آنے سے گذشتہ تمام انبیاء پیدا کئے گئے۔ پس سلسلہ موسوی سے سلسلہ محمدی بڑھ گیا۔ کیونکہ ان انبیاء کے علاوہ جو تورات کی خدمت کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ خود موسیٰ علیہ السلام بھی تو اس سلسلہ میں دوبارہ دنیا میں بھیجے گئے اور یہ سب کچھ مسیح موعود کے وجود باجود میں پورا ہوا۔ (یہ عجیب قسم کا تناسخ ہے کہ ساری دنیا مرزا قادیانی میں ظاہر ہو گئی تھی)

(کلمۃ الفصل ص ١١٧)

جب اللہ تعالیٰ نے ”واذ اخذ الله میثاق النبیین“ میں سب نبیوں سے عہد لیا۔ جن میں نبی کریم ﷺ بھی شامل ہیں کہ جب تم کو کتاب (تورات وقرآن) اور حکمت (منہاج نبوت اور حدیث) دوں۔ پھر تمہارے پاس ایک رسول مصدق (مسیح موعود) آئے تو تم اے نبیو! ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد فرض سمجھنا۔ پس جب تمام انبیاء پر فرض ہے کہ مسیح موعود ایمان لائیں تو ہم کون ہیں جو نہ مانیں۔ (اس دعوے میں مسیح ایرانی بھی شریک ہے)

(الفضل ص ١١ ج ٣ نمبر ٣٨، مورخہ ١٩ ستمبر ١٩١٥ء)

”وبالاخره هم یوقنون“ میں اس وحی کا ذکر کیا ہے جو پیچھے آنے والی ہے۔ جس کا وعدہ آیت: ”وآخرین منھم“ میں دیا گیا ہے۔ یعنی وہ وحی جو رسول کریم ﷺ کی بعثت ثانی میں مسیح موعود پر نازل ہوگی۔ (اتنا بھی معلوم نہیں کہ آخرت کا لفظ مذکر کے لئے ہے یا مونث کے واسطے؟)

(تفسیر پارہ اول ص ١٢، فرقہ محمودیہ)

کیا یہ پرلے درجہ کی بے عزتی نہ ہوگی کہ ہم آیت: ”لا نفرق الآیہ“ میں داؤد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام وغیرہ کو تو شامل کریں اور مسیح موعود جیسے عظیم الشان نبی کو شامل نہ کریں۔ بلکہ یوں ہی چھوڑ دیا جائے۔

(کلمۃ الفصل ص ١١٧)

صفحہ ٩٦

مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا بلکہ امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں شامل کرنا گویا خود نبی کریم ﷺ کو اپنا امتی قرار دینا ہے۔ جو کفر عظیم اور کفر در کفر ہے۔

(الفضل ص ٧ ج ٣، مورخہ ٣/جون ١٩١٥ء)

مسیح موعود نے خطبہ الہامیہ میں بعثت ثانی کو بدر کر رکھا ہے اور بعثت اوّل کو ہلال۔ جس سے لازم آتا ہے کہ بعثت ثانی کا کافر بعثت اوّل کے کافروں سے بدتر ہے۔ آخرین منہم سے مسیح کی جماعت صحابہ میں داخل ہے جو نبی پر ایمان لانے سے صحابہ بنتی ہے۔ کسی امتی پر ایمان لانے سے صحابہ نہیں بنتی۔ (یہ تین حوالے مسلمانوں کو کافر بنانے میں مشین کا کام دیتے ہیں)

(الفضل ص ٤، مورخہ ١٥/جولائی ١٩١٥ء)

حضرت اقدس نے جو زمانہ امتی بن کر گزارہ ہے وہ غلام احمد اور مریم بن کر گزارا ہے۔ جب اس سے ترقی پا کر احمد اور ابن مریم بن گئے تو نہ غلام احمد رہے اور نہ مریم یہ ایک نکتہ ہے جو صرف خدا نے مجھے ہی سمجھایا تھا۔ پس امتی کے درجہ سے ترقی پا کر نبی بن جانے پر بھی آپ کو نبی نہ کہنا ایسا ہے کہ کسی پٹواری کو ڈپٹی کلکٹر بن جانے کے بعد پھر پٹواری کہتے جانا اور ڈپٹی کلکٹر نہ کہنا جو دراصل اس کی توہین اور گستاخی ہے۔ (عورت سے مرد یا ماں سے بیٹا کب سے بننا شروع ہوا ہے؟)

(ازہاق الباطل ص ١٣٣، القاسم علی)

اب حقیقی نبوت سے مراد شریعت جدید ہے۔ ورنہ لغوی معنی کے لحاظ سے ہر ایک نبوت حقیقی نبوت ہے۔ جعلی یا فرضی نہیں ہوتی اور مسیح موعود بھی حقیقی نبی تھا اور مستقل نبوت سے مراد وہ نبوت ہے کہ جو بلاواسطہ حاصل ہو ورنہ لغوی معنی کے لحاظ سے ہر ایک نبی مستقل ہی ہوتا ہے۔ عارضی نہیں ہوتا اور مسیح موعود بھی مستقل نبی تھا۔ (تب ہی تو اسلام نے اسے دجال کافر اور مفتری کہا ہے) (کلمۃ الفضل ص ١١٨)

اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کا نام نبی رکھا اور شریعت اسلام نے جو معنی نبی کے کئے ہیں اس معنی سے حضرت صاحب ہرگز مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ ہاں شریعت جدیدہ نہ لانے سے مجازی نبی ہیں۔ (ہاں تحریف قرآن اور تحریف احادیث کی وجہ سے آپ حقیقی اور شریعت جدیدہ کے مالک ضرور ہیں)

(حقیقۃ النبوۃ ص ١٧٤)

اب ان عبارتوں میں فرقہ محمودیہ نے آٹھ اقرار کئے ہیں۔

حلول یا تناسخ آسانی سے کہہ سکتے ہیں اور اکمل قادیانی بھی (بدر نمبر ٤٣ ج ٢) میں شاعرانه انداز پر مانتے ہیں۔

صفحہ ٩٧

اللہ تسلیم نہ کرنا بلکہ امتی قرار دینا یا امتی گروہ میں شامل کرنا گویا خود ہے۔ جو کفر عظیم اور کفر در کفر ہے۔

(الفضل ص ٧ ج ٣، مورخہ ٣/جون ١٩١٥ء)

یہ الہامیہ میں بعثت ثانی کو بدر کر رکھا ہے اور بعثت اول کو ہلال۔ ثانی کا کافر بعثت اوّل کے کافروں سے بدتر ہے۔ آخرین منہم سے سا ہے جو نبی پر ایمان لانے سے صحابہ بنتی ہے۔ کسی امتی پر ایمان ن حوالے مسلمانوں کو کافر بنانے میں مشین کا کام دیتے ہیں)

(الفضل ص ٤، مورخہ ١٥/جولائی ١٩١٥ء)

، جو زمانہ امتی بن کر گذارا ہے وہ غلام احمد اور مریم بن کر گزارا ہے۔ ر ابن مریم بن گئے تو نہ غلام احمد رہے اور نہ مریم یہ ایک نکتہ ہے جو تھا۔ پس امتی کے درجہ سے ترقی پا کر نبی بن جانے پر بھی آپ کو نبی نہ نبی کلکٹر بن جانے کے بعد پھر پٹواری کہتے جانا اور ڈپٹی کلکٹر نہ کہنا جو مقی ہے۔ (عورت سے مرد یا ماں سے بیٹا کب سے بننا شروع ہوا

(ازہاق الباطل ص ١٣٣، القاسم علی)

سے مراد شریعت جدید ہے۔ ورنہ لغوی معنی کے لحاظ سے ہر ایک نبوت حقیقی ہوتی اور مسیح موعود بھی حقیقی نبی تھا اور مستقل نبوت سے مراد وہ نبوت ہے کہ معنی کے لحاظ سے ہر ایک نبی مستقل ہی ہوتا ہے۔ عارضی نہیں ہوتا اور مسیح ی تو اسلام نے اسے دجال کافر اور مفتری کہا ہے)

(کلمۃ الفصل ص ١١٨)

سیح موعود کا نام نبی رکھا اور شریعت اسلام نے جو معنی نبی کے کئے ہیں اس گر مجازی نبی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقی نبی ہیں۔ ہاں شریعت جدیدہ نہ لانے تحریف قرآن اور تحریف احادیث کی وجہ سے آپ حقیقی اور شریعت )

(حقیقت النبوۃ ص ١٧٤)

ں میں فرقہ محمودیہ نے آٹھ اقرار کئے ہیں۔ ، بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام نے قادیان میں دوسرا جنم لیا تھا۔ جس کو ہم یخ آسانی سے کہہ سکتے ہیں اور اکمل قادیانی بھی (بدر نمبر ٢٤ ج ٢) میں پر مانتے ہیں۔

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

نہیں مانتے۔ پس مسلمانوں کو شرم کرنی چاہئے کہ جو فرقہ تم کو مسلمان نہیں سمجھتا اس کو اپنا نمائندہ سمجھنا کہاں تک بے غیرتی ہوگی۔

برابر ہے۔ مسلمانوں کو عموماً اور لاہوریوں کو خصوصاً ڈوب کر مر جانے کا مقام ہے کہ ایسے مذہبی دشمن کو اپنا رہنما سمجھ کر اس سے بہتری کی توقع رکھتے ہیں۔

ولایت کو نبوت ظلیہ نہیں کہتے۔ ورنہ لاہوریوں کی طرح تمام اولیاء کو ظلی نبی مان لیتے۔

ہیں کہ اطاعت کے انکار سے کافر نہ ہوں۔

کیونکہ وہ مرزا قادیانی کو امتی نبی تسلیم کرتی ہے۔

کہ مرزا قادیانی نے بار ہا کہا ہے کہ کثرت مکالمہ سے میں محدث کے درجہ پر ہوں۔ جس پر ارسال کا لفظ قرآن شریف میں بولا گیا ہے۔ اس واسطے وہ رسول ہوا اور لغت میں بھی بھیجے ہوئے کو رسول کہتے ہیں اور غیب دان ہونے سے نبی کہلاتا ہوں۔ اب مرزا محمود کہتے ہیں کہ جب آپ لغت کی بنیاد پر نبی اور رسول تھے تو اس میں کیا حرج ہے کہ مرزا قادیانی کو لغت کے لحاظ سے مستقل اور حقیقی بھی کہا جائے۔ اس کا جواب لاہوریوں کے ذمہ ہے۔

اہل اسلام کے نزدیک جب یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ بعثت انبیاء منقطع ہو چکی ہے اور آغاز دعاوی میں اس کو مرزا قادیانی بھی مانتے تھے تو اس تمام سر دردی کا جواب صرف اس لاہوری پارٹی

صفحہ ٩٨

کے ذمہ آ پڑتا ہے۔ جو مرزا قادیانی کو سچا مان کر ان آٹھ باتوں کا اقرار نہیں کرتی۔ ورنہ جب مسلمان مرزا قادیانی کو سرے سے سچا ہی نہیں مانتے تو ایسی باتوں کو بناء الفاسد علی الفاسد سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں ٹھکرا کر پھینک دیں گے۔ مگر تاہم مرزا قادیانی کی علمی لیاقت کا اندازہ لگانے کے لئے اور لاہوری پارٹی کو علمی تخمینہ لگانے کے لئے ہم بھی بطور قرض حسنہ اس مقام پر چند نوٹ لکھ دیتے ہیں۔ تاکہ ناظرین محظوظ ہو کر لطف اٹھائیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ بانی فرقہ محمودیہ نے اس مقام پر بری طرح غلطی کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ قرآن شریف پر سوائے سطحی اور تقلیدی بیانات کے ذرہ بھر بھی عبور نہیں۔ ورنہ ایسے غلط معنی کر کے موجب ہلاکت نہ بنتے۔

سکتا ہے۔ ورنہ بروز ثانی کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ عقیدہ مقتضی ہے کہ ہر ایک زمانہ میں ایک نہ ایک بروز موجود رہے۔ اس لئے حضور کا صرف ایک ہی بروز تسلیم کرنا خلاف اصول ہوگا۔

لآخر یا آخر من سے مختصر ہو کر استعمال ہوا ہے۔ جو تفضیل بعض یا تفضیل نفسی کے معنی دیتا ہے اور اس وقت آخرین سے مراد وہ تمام اہل اسلام ہوں گے جو عہد صحابہ کے بعد شروع ہوتے ہیں اور جن کا وجود قیامت تک رہنا تسلیم کیا گیا ہے اور یہی معنی ہی درست ہے۔ ورنہ مرزا محمود کے ترجمہ کے رو سے عہد صحابہ کے بعد اور مرزا قادیانی کے ادعائے مسیحیت کے اوّل، درمیان کا زمانہ بعثت اوّل میں داخل رہتا ہے اور نہ بعثت ثانیہ میں۔ اس لئے ترجمہ یوں ہوگا کہ حضور کی بعثت امیّین میں ہوئی تھی اور امیّین کے بعد دوسرے لوگوں میں بھی آپ ہی مبعوث تسلیم کئے گئے ہیں۔ جو ابھی تک (صحابہ کی عین حیات میں) ان سے نہیں مل سکے۔ بلکہ بعد میں پیدا ہوں گے اور یا بعد میں ان کی جماعت میں شامل ہوں گے۔ مرزا محمود کا فرض ہے کہ اپنی غلطی تسلیم کر کے یہ زعم باطل دل سے نکال دے کہ نبی کریم کی دو بعثتیں قرآن میں مذکور ہیں اور خواہ مخواہ اپنے ترجمہ کی بنیاد پر مخالفین اسلام کے مسئلہ حلول اور تناسخ کو تقویت نہ دیں اور یہ بھی یاد رہے کہ بروز کی آڑ لینے میں کچھ فائدہ نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کا ترجمہ صرف اس صورت میں صحیح بیٹھ سکتا ہے کہ جس طرح نبی کریم خارجی طور پر ظاہر ہوئے تھے۔ اسی طور پر دوسری بعثت میں خارجی طور پر ہی پیدا ہوتے ورنہ بروز کا کچھ معنی نہیں رہتا۔

نے تناسخ کے معنی میں لیا ہے۔ علاوہ بریں یہ بروز کو

قیاس نہیں ہے۔ کیونکہ ا کہہ مراد تھا۔ قادیان کا ع مؤرخین نے تسلیم کیا ہے

الہام مرزا کو قرآن ش نمازوں میں مرزا قادیان کیوں یہ نہ کہہ دیا کہ اس کیوں نہ کہہ دیا کہ بعثت فرقان ثانی ہے۔ ورنہ م کہ کس طاغوت کی پیروی النقول فعليك ب ولا بد لك ان تنشد اذا كان سيهديه

تصریحات مذکورۃ الصدر (لاہوری پارٹی) مرزا قادیانی کو مستقل پہلے داخل ہیں۔ اب ہم دکھانا چاہتے ہے اور مرزا قادیانی کو ظلی نبوت کے ا دلائل میں بیان کرتی ہے۔ (خوب گز میں ایمان محکم رکھتا ہوں ک گا۔ نیا ہو یا پرانا۔ قرآن کا ایک شوشہ بھ

صفحہ ٩٩

نے تناسخ کے معنی میں لیا ہے اور یہ ایسا مغالطہ ہے کہ اس سے کفر و اسلام مشتبہ ہو جاتا ہے۔ علاوہ بریں یہ بروز کوئی اعتقادی مسئلہ نہیں ہے۔ صرف تعلیم فلسفہ کا اثر ہے۔

قیاس نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام میں اور خود نزول آیت کے وقت ام القریٰ صرف مکہ مراد تھا۔ قادیان کا وجود ہی اس وقت نہ تھا جس کا وجود گیارھویں صدی میں مؤرخین نے تسلیم کیا ہے۔

الہام مرزا کو قرآن شریف کا اکتیسواں پارہ قرار نہیں دیتے اور کیوں اپنی نمازوں میں مرزا قادیانی نے قرآن شریف کی بجائے پڑھنا پسند نہیں کیا تھا اور کیوں یہ نہ کہہ دیا کہ اب قرآن میں اضافہ ہو گیا ہے اور مسیلمہ کذاب کی طرح کیوں نہ کہہ دیا کہ بعثت اوّل کا قرآن فرقان اوّل ہے اور بعثت ثانیہ کا قرآن فرقان ثانی ہے۔ ورنہ معلوم ہوتا ہے کہ فرقہ محمودیہ کی ضمیر خود انکو ملامت کر رہی ہے کہ کس طاغوت کی پیروی میں ہلاک ہو رہے ہیں۔ ”فان امتريت فى هذا النقول فعليك بالعقائد المحموديه للسيد المدثر الجيلانى . ولا بدلك ان تنشد فى الامة القاديانية المحمودية هذا الشعر“

اذا كان الغراب دليل قوم
سيهديهم طريق الهالكينا

٧...... لاہوری پارٹی کا فرقہ محمودیہ پر فتوائے کفر

تصریحات مذکورۃ الصدر سے معلوم ہو سکتا ہے کہ فرقہ محمودیہ کے خیال میں فرقہ کمالیہ (لاہوری پارٹی) مرزا قادیانی کو مستقل مطاع الرسل نہ ماننے سے اشد ترین کافرین میں سب سے پہلے داخل ہیں۔ اب ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ لاہوری پارٹی کس طرح فرقہ محمودیہ کو کافر قرار دیتی ہے اور مرزا قادیانی کو ظلی نبوت کے اوپر جانے سے روکتی ہے اور کیسے اقوال مرزا قادیانی کو اپنے دلائل میں بیان کرتی ہے۔ (خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو)

میں ایمان محکم رکھتا ہوں کہ حضور خاتم الانبیاء ہیں اور اس امت میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نیا ہو یا پرانا۔ قرآن کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں ہے۔ ہاں محدث آئیں گے۔ جن میں نبوت

صفحہ ١٠٠

تامہ کے بعض صفات ظلی اور مکالمہ کی صفت پائی جائے گی اور بلحاظ وجود کے شان نبوت سے رنگین کئے جائیں گے جن میں سے میں بھی ہوں۔ (مگر وہ مدعی نبوت نہ ہوں گے)

(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

خدا تعالیٰ نے انعام دینے کے بعد ”اهدنا الصراط المستقیم“ کا حکم دیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث قرار دیا ہے۔ تا کہ یہ وجود ظلی ہمیشہ قائم رہے اور خلیفۃ الرسول بھی ظلی طور پر درحقیقت اپنے مرسل کا ظل ہوتا ہے۔

(شہادۃ القرآن ص ٥٦، خزائن ج ٦ ص ٣٥٢)

مولوی محمد حسین بٹالوی نے کہا کہ آج اسلام میں ایسے لوگ موجود نہیں ہیں۔ گویا اس نے یہود و نصاریٰ کی طرح اسلام کو بھی مردہ تصور کیا ہے۔ اسلام کی ذلت اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ اس کو بھی مردہ مانا جائے۔ شیخ عبد القادر جیلانی پر دوسو علماء کا فتویٰ کفر موجود ہے۔ مگر دوسو برس کے بعد انکو کامل اور پاکباز انسان مانا گیا اور ایسی قبولیت ہوئی کہ دنیا مانتی ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ نبی آتے ہیں تو انکو مخول کیا جاتا ہے۔ (گویا یہ بھی نبی تھے! بعد مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد اسلام پھر مردہ ہو گیا ہے۔ کیا کوئی زندہ کرے گا؟)

(حجۃ اللہ ص ٣، ١٩٠٨ء)

خدا جب ہاتھ پکڑتا ہے تو کسی نبی تک پہنچا دیتا ہے اور حسب اقتضائے حالات زمانہ اس نبی کا کمال، جمال، علم، عقل، نام اور نور عطاء کرتا ہے۔ نبی کی روح اور اس کی روح دو متعاکس شیشے ہو جاتے ہیں۔ ایک کا عکس دوسرے میں پڑتا ہے۔ مگر نبی مثل اصل کے ہوتا ہے اور ولی مثل ظل کے۔ (مگر نبی کا مثل نہیں ہوتا)

(کرامات الصادقین ص ٨٥، خزائن ج ٧ ص ١٢٧)

ہمیں حکم ہے کہ عبادات و اخلاق میں رسول کریم ﷺ کی پیروی کریں۔ اگر ہم میں وہاں تک استعداد نہیں ہے تو یہ کیوں حکم ہوا کہ: ”انعمت علیهم“ جس میں بیان کیا ہے کہ یا اللہ جس قدر نبی، صدیق اور شہدا گذرے سب کے صفات ہم میں ظلی طور پر جمع کر۔ (کیا خدا کی پیروی سے خدا بن جاؤ گے)

(حقیقت الوحی ص ١٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٦)

اللہ تعالیٰ بعض اولیاء کو بعض انبیاء کے قدم پر بھیجتا ہے۔ پس وہ ولی ملاء اعلیٰ میں اسی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اولیاء میں بہت ایسے ہیں کہ ان کے نام آسمان میں نبیوں کے نام رکھے گئے ہیں۔ ان کے نور سے نور اور خلق سے خلق حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت ظہور مفاسد کے وقت بروز کرتی رہتی ہے اور حقیقت محمدیہ کا ظہور کس کامل متبع کے وجود میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ مہدی کے بارے میں جو آیا ہے کہ اسمہ اسمی ، خلقہ خلقی اسی کی طرف اشارہ

ہے۔ صدہا ایسے لوگ گذرے ہیں ک انہوں نے محمد اور احمد کا نام پایا تھا۔ (

صحابہؓ رسول خدا کی عکسی ت

وجود عمرؓ وجود نبی تھا۔ بوج

جو شخص تعلیم الٰہی کو اپنا ا ہزاروں مسیح گذرے اور ہزاروں مثی (فتح الاسل

ابوبکرؓ کتاب نبوت کا نس (صرف تعریف ہے)

اصطلاح اسلام میں نبی کرے اور نبی سابق کی امت نہ کہلا نبوت میں) یہ معنی نہ سمجھو۔

جری اللہ فی حلل الانبیا رسول ہوتا ہے۔ جیسا کہ مسیح علیہ السلا خبر پانے والا نبی ہوتا ہے۔ اس ج مرزائی اصطلاح ہے)

میں صرف اس لئے نبی کرنے والے کو کہتے ہیں۔ (پھر نور

محی الدین بن عربی کہتے کہ یہ نبوت بھی مسدود ہے۔ صرف

اصلی نعمت خدا سے مکا

صفحہ ١٠١

تامہ کے بعض صفات ظلی اور مکالمہ کی صفت پائی جائے گی اور بلحاظ وجود کے شان نبوت سے رنگین کئے جائیں گے جن میں سے میں بھی ہوں۔ (مگر وہ مدعی نبوت نہ ہوں گے)

(نشان آسمانی ص ٣٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)

خدا تعالیٰ نے انعام دینے کے بعد ”اھدنا الصراط المستقیم“ کا حکم دیا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث قرار دیا ہے۔ تا کہ یہ وجود ظلی ہمیشہ قائم رہے اور خلیفۃ الرسول بھی ظلی طور پر درحقیقت اپنے مرسل کا ظل ہوتا ہے۔

(شہادۃ القرآن ص ٥٦، خزائن ج ٦ ص ٣٥٢)

مولوی محمد حسین بٹالوی نے کہا کہ آج اسلام میں ایسے لوگ موجود نہیں ہیں۔ گویا اس نے یہود و نصاریٰ کی طرح اسلام کو بھی مردہ تصور کیا ہے۔ اسلام کی ذلت اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ اس کو بھی مردہ مانا جائے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی پر دوسو علماء کا فتویٰ کفر موجود ہے۔ مگر دوسو برس کے بعد انکو کامل اور پاکباز انسان مانا گیا اور ایسی قبولیت ہوئی کہ دنیا مانتی ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ نبی آتے ہیں تو انکو مخول کیا جاتا ہے۔ (گویا یہ بھی نبی تھے! بعد مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد اسلام پھر مردہ ہو گیا ہے۔ کیا کوئی زندہ کرے گا؟)

(چشمہ مسیحی ص ٨، ١٩٠٨ء)

خدا جب ہاتھ پکڑتا ہے تو کسی نبی تک پہنچا دیتا ہے اور حسب اقتضائے حالات زمانہ اس نبی کا کمال، جمال، علم، عقل، نام اور نور عطاء کرتا ہے۔ نبی کی روح اور اس کی روح دو متعاکس شیشے ہو جاتے ہیں۔ ایک کا عکس دوسرے میں پڑتا ہے۔ مگر نبی مثل اصل کے ہوتا ہے اور ولی مثل ظل کے۔ (مگر نبی کا مثل نہیں ہوتا)

(کرامات الصادقین ص ٨٥، خزائن ج ٧ ص ١٢٧)

ہمیں حکم ہے کہ عبادات واخلاق میں رسول کریم ﷺ کی پیروی کریں۔ اگر ہم میں وہاں تک استعداد نہیں ہے تو یہ کیوں حکم ہوا کہ: ”انعمت علیھم“ جس میں بیان کیا ہے کہ یا اللہ جس قدر نبی، صدیق اور شہدا گزرے سب کے صفات ہم میں ظلی طور پر جمع کر۔ (کیا خدا کی پیروی سے خدا بن جاؤ گے)

(حقیقۃ الوحی ص ١٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٦)

اللہ تعالیٰ بعض اولیاء کو بعض انبیاء کے قدم پر بھیجتا ہے۔ پس وہ ولی ملاء اعلیٰ میں اسی کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اولیاء میں بہت ایسے ہیں کہ ان کے نام آسمان میں نبیوں کے نام رکھے گئے ہیں۔ ان کے نور سے نور اور خلق سے خلق حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کی روحانیت ظہورِ مفاسد کے وقت بروز کرتی رہتی ہے اور حقیقت محمدیہ کا ظہور کس کامل متبع کے وجود میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ مہدی کے بارے میں جو آیا ہے کہ اسمہ اسمی ، خلقہ خلقی اسی کی طرف اشارہ

ہے۔ صدہا ایسے لوگ گزرے ہیں کہ جن میں حقیقت محمدیہ متحقق تھی اور خدا کے نزدیک ظلی طور پر انہوں نے محمد اور احمد کا نام پایا تھا۔ (ایسے نام شیطانی وساوس ہیں)

(آئینہ ص ٣٢، ٣٥، خزائن ج ٥ ص ٣٤٦، ٣٧٥)

صحابہؓ رسول خدا کی عکسی تصویر تھی۔ (صرف منہ کی باتیں ہیں)

(فتح الاسلام ص ٣٦، خزائن ج ٣ ص ٢١)

وجود عمرؓ وجود نبی تھا۔ بوجہ ظل کے (تو پھر لا نبی بعدی کیوں وارد ہوا؟)

(ایام الصلح ص ٣٩، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٥)

جو شخص تعلیم الٰہی کو اپنا امام بنائے گا وہ مسیح کی شان میں آجائے گا اور اس تعلیم سے ہزاروں مسیح گزرے اور ہزاروں مثیل آئیں گے۔ (اب کون ہے؟)

(فتح الاسلام ص ٢٧، خزائن ج ٣ ص ١٣٨، سراج دین کے سوالوں کا جواب ص ٢٢)

ابوبکرؓ کتاب نبوت کا نسخہ اجمالیہ تھا اور تمام آداب میں ظل نبی کریم علیہ السلام تھا۔ (صرف تعریف ہے)

(سرالخلافہ ص ٣٢، خزائن ج ٨ ص ٣٥٥)

اصطلاح اسلام میں نبی یا رسول وہ ہے جو شریعت جدید لا کر احکام سابقہ کو منسوخ کرے اور نبی سابق کی امت نہ کہلا کر مستقل طور پر خدا سے احکام حاصل کرتا ہے۔ یہاں (میری نبوت میں) یہ معنی نہ سمجھو۔

(اخبار الحکم نمبر ٢٩، مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء)

جری اللہ فی حلل الانبیاء کا مطلب استعارہ کے طور پر یہ ہے کہ خدا جس کو بھیجتا ہے وہ رسول ہوتا ہے۔ جیسا کہ مسیح علیہ السلام کو حدیث مسلم میں مجازی طور پر رسول کہا گیا ہے اور غیب کی خبر پانے والا نبی ہوتا ہے۔ اس جگہ یہی لغوی معنی مراد ہیں۔ اصطلاحی معنی الگ ہیں۔ (بلکہ یہ مرزائی اصطلاح ہے)

(اربعین نمبر ٢ ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٢)

میں صرف اس لئے نبی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی میں نبی کثرت سے پیشین گوئیاں کرنے والے کو کہتے ہیں۔ (پھر تو رمل اور نجوم سے بھی یہی نبوت حاصل ہو سکتی ہے)

(اخبار عام ٢٣ مئی ١٩١٨ء)

محی الدین بن عربی کہتے ہیں کہ نبوت غیر تشریعیہ جاری ہے۔ مگر میرا اپنا مذہب یہ ہے کہ یہ نبوت بھی مسدود ہے۔ صرف انعکاسِ نبوت جاری ہے۔ (ہاں اس لئے آپ الٹے نبی ہیں)

(بدر مورخہ ١٧ اپریل ١٩٠٣ء)

اصلی نعمت خدا سے مکالمہ ومخاطبہ ہے۔ جو انبیاء کو دی گئی ہے اور ہمیں حکم ہوا ہے کہ:

صفحہ ١٠٢

”اھدنا الصراط المستقیم“ پڑھ کر ہم سے بھی نعمت طلب کرو کہ میں تمہیں دوں گا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو اس امت پر نعمتوں کے تمام دروازے بند تھے۔ چونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ آنے والا مسیح امتی ہو گا تو کلام الٰہی میں اس کا نام نبی رکھنا صرف اس لئے ہے کہ کثرت مکالمہ سے مشرف ہوگا۔ ورنہ اس امت میں کوئی امتی نبی اس امت میں نہیں آسکتا تھا اور مردہ ہو کر خدا سے دور اور مہجور ہو جاتی اور ”اھدنا الصراط المستقیم“ کی تعلیم نہ ہوتی اور خاتم النبیین سے یہ مراد نہیں ہے کہ کثرت مخاطبہ بھی بند ہے۔ ورنہ شیطان کی طرح یہ امت بھی خدا کی رحمت سے دور اور لعنتی ہوتی۔ (چنانچہ اب مرزا جی لعنتی ہیں)

(ضمیمہ براہین نمبر ٥ ص ١٣١، ١٤٢، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٨، ٣٥٣)

میں ہر کتاب میں لکھتا آیا ہوں کہ میری نبوت صرف کثرت مکالمہ پر مبنی ہے۔ خدا مجھ سے بولتا ہے اور میری باتوں کا جواب بھی دیتا ہے۔ (تو پھر تم کلیم اللہ ہوئے)

(اخبار عام نمبر ٢٧۔ مورخہ ١٣ مئی ١٩٠٨ء)

ہم نے کوئی ان معنوں میں دعوائے رسالت نہیں کیا۔ جیسا کہ ملاں لوگوں کو بہکاتے ہیں اور جو ہمارا دعویٰ منذر اور ملہم ہونے کا ہے۔ متابعت شریعت میں ہے اور ہمیشہ سے ہے۔ آج کا نہیں۔ ٢٣ سال سے یہ الہام ہے۔ ” جری اللہ فی حلل الانبیاء“ ( یہ تناسخ ہے )

(بدر مورخہ ٢٣ مئی ١٩٠٨ء ص ٨)

بعض دفعہ ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں۔ سارا جھگڑا یہ ہے۔ جس کو نادان متعصب کھینچ کر لے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح کا نام جو نبی اللہ رکھا گیا ہے وہ انہی مجازی معنی کے رو سے ہے۔ جو صوفیائے کرام کا معمولی محاورہ اور امر مسلم ہے۔ ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا۔ (کوئی محاورہ نہیں)

(انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٢٨)

خدا نے ارادہ کیا تھا کہ نبی کریم کے کمالات متعدیہ کے اظہار اور نیز اثبات کے لئے کسی شخص کو آپ کی پیروی کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمہ کا بخشے جو اس وجود پر عکسی نبوت کا رنگ پیدا کرے۔ سو اس طور پر خدا نے میرا نام نبی رکھا اور نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی اور صرف ظلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا۔ (تو پھر نبی علیہ السلام کثیف ٹھہرے اور تم لطیف )

(چشمہ معرفت ص ٣٢٥، خزائن ج ٢٣ ص ٣٤٠)

خدارا مکالمہ است با اولیائے خود و ایشان را رنگ انبیاء داده می شود و در حقیقت انبیاء نیستند زیرا کہ قرآن شریف حاجت شریعت را بکمال رسانید ۔ (یہ خوب محاورہ ہے )

(مواہب الرحمٰن ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٢٨٥)

صفحہ ١٠٣

”سميت نبياً على وجه المجاز لا على وجه الحقيقة (نعم كاليا قوت اللحيوان)“

(ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٦٥، خزائن ج ٢٢ ص ٦٨٩)

آنے والا مسیح محدث ہونے کی وجہ سے مجازاً نبی بھی ہے۔ (حقیقی نبی ہے )

(ازالہ اوہام ص ٤٢٩، خزائن ج ٣ ص ٢٧٨)

اگر نبوت کے معنے صرف کثرت مکالمہ کئے جائیں تو کیا حرج ہے؟ خصوصاً جب کہ قرآن شریف میں امید دلائی ہے کہ ایک امتی شرف مکالمہ الہیہ سے مشرف ہو سکتا ہے اور خدا کو اولیاء سے مکالمات ہوتے ہیں اور اسی نعمت کی تحصیل کے لئے ”اھدنا الصراط المستقیم“ سکھایا گیا ہے تو پھر اس نعمت کے حاصل ہونے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے۔ کیا وہ نعمت جو انبیاء کو دی گئی تھی۔ درہم و دینار ہیں؟

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٣٩، خزائن ج ٢١ ص ٣٠٧)

یاد رہے کہ صفات باری کبھی معطل نہیں ہوتے۔ پس وہ بولنے کا سلسلہ ختم نہیں کرتا اور ایک گروہ ایسا بھی رہے گا جس سے کلام کرتا رہے گا۔ کوئی شخص دھوکا نہ کھائے۔ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ میری نبوت مستقل نبوت نہیں ہے۔ کوئی مستقل نبی امتی نہیں ہو سکتا۔ مگر میں امتی ہوں اور میرا نام نبی اعزازی ہے جو اتباع نبی سے حاصل ہوتا ہے۔ تاکہ حضرت عیسیٰ سے مکمل مشابہت پیدا ہو۔ (بالکل خانہ ساز اصول ہے )

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٨٤، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٥)

میں نے نبی کریم کی پیروی میں عجیب خاصیت دیکھی ہے کہ سچا پیرو درجہ ولایت تک پہنچ جاتا ہے۔ (کتنے پہنچے )

(تتمہ چشمہ معرفت ص ٦٠، خزائن ج ٢٣ ص ٤٢٨)

نبوت کا لفظ جو اختیار کیا گیا ہے۔ خدا کی طرف سے ہے۔ جس پر پیشین گوئی کا اظہار بکثرت ہو۔ اسے نبی کہا جاتا ہے۔ خدا کا وجود خدا کے نشانوں کے ساتھ پہچانا جاتا ہے۔ اس سے اولیاء اللہ بھیجے جاتے ہیں۔ مثنوی میں لکھا ہے کہ : ”آل نبی وقت باشد اے مرید“ ابن عربی بھی یوں ہی لکھتے ہیں۔ حضرت مجدد بھی یہ عقیدہ ظاہر کرتے ہیں۔ کیا سب کو کافر کہو گے۔ یاد رکھو یہ سلسلہ نبوت قیامت تک جاری رہے گا۔

(حقیقت الوحی ص ٣٧٢، مورخہ ١٥؍ مئی ١٩٠٨ء)

میں اس طور پر جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں اور نہ رسول۔ مجھے بروزی صورت نے نبی بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے مجھے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول رکھا ہے۔ (صاف جھوٹ ہے )

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢١٦)

تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ غیر نبی بروز کے طور پر قائم مقام نبی ہو جاتا ہے۔ علماء امتی کے معنی بھی یہی ہیں۔ ایک حدیث میں علماء کو انبیاء کا وارث بھی بنایا ہے اور ایک حدیث میں

صفحہ ١٠٤

آیا ہے کہ چالیس آدمی ابراہیم علیہ السلام کے قلب پر ہوں گے۔ تمام مفسرین کا قول ہے کہ: ”انعمت علیہم“ میں تشبیہ بالانبیاء مذکور ہے۔

(ایام الصلح ص ١٤٣، خزائن ج ١٤ ص ٤١١)

کتاب اقتباس الانوار میں ہے کہ روحانیت کمل بر ارباب ریاضت چناں تصرف میفر مائد کہ فاعل افعال شان میگردد وایں مرتبہ را بروز میگویند در فصوص الحکم مے نویسد کہ بغرض بیان کردن نظیر بروز میگوید کہ محمد بود کہ بصورت آدم در مبدء ظہور نمود در خاتم الولایت کہ مہدی ست نیز روحانیت محمد مصطفےٰ بروز وظہور خواہد نمود وایں را بروزات کمل مے گویند نہ تناسخ و بعضے برانند کہ روح عیسیٰ در مہدی بروز کند ونزول عبارت ہمیں نزول است مطابق ایں حدیث لا مہدی الا عیسیٰ۔ (آگے لکھا ہے کہ یہ قول مردود ہے تم نے یہ کیوں نہ لکھا)

(ایام الصلح ص ١٣٨، خزائن ج ١٤ ص ٣٨٣)

”اور محی الدین عربی ایک اپنی کتاب میں (جو ان کی آخری تصنیف ہے) لکھتے ہیں کہ عیسیٰ تو آئے گا۔ مگر بروزی طور پر یعنی کوئی اور شخص امت محمدیہ کا عیسیٰ کی صفت پر آئے گا۔ صوفیاء کا مذہب ہے کہ بعض کاملین اس طرح پر دنیا میں آتے ہیں کہ ان کی روحانیت کسی اور پر تجلی کرتی ہے اور اس وجہ سے دوسرا شخص پہلا شخص ہی ہو جاتا ہے۔“ (کتاب کا نام کیوں نہیں لیا)

(براہین ج ٥ ص ١٢٥، خزائن ج ٢١ ص ٢٩١)

”نزول مسیح مجسم عنصری کو آیت: ’وخاتم النبیین‘ بھی روکتی ہے اور حدیث بھی روکتی ہے کہ: ’لا نبی بعدی‘ کیونکر جائز ہے کہ نبی کریم خاتم الانبیاء ہوں اور کوئی دوسرا نبی آ جائے اور وحی نبوت شروع ہو جائے۔ کیا اب یہ ضرورت پیش نہیں آتی کہ حدیث نزول مسیح کے لفظوں کو ظاہر سے ضرور پھیرا جائے۔“ (تم نہیں سمجھتے)

(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج ١٤ ص ٣٧٩)

”حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ محدث بھی انبیاء ورسل کی طرح مرسلوں میں داخل ہوتے ہیں۔“ (غلط)

(ایام الصلح ص ٧٤، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٤)

”جب مسیح میں (حسب عقیدہ اسلام) شانِ نبوت مضمر ہوگی تو بلاشبہ ختم رسالت کے منافی ہوگا۔ کیونکہ درحقیقت وہ نبی ہے اور قرآن کے رو سے نبی کا آنا ممنوع ہے۔“ (کیا تم میں نبوت مضمر نہیں؟)

(ایام الصلح ص ١٨٥، خزائن ج ١٤ ص ٤١١)

”اگر کوئی نبی (نیا ہو یا پرانا) آوے تو ہمارے نبی کریم کیونکر خاتم الانبیاء رہیں۔ ہاں وحی ولایت اور مکالمات الہیہ کا دروازہ بند نہیں ہے۔“ (پھر تم نبی کیوں بنے)

(ایام الصلح ص ٨٣، خزائن ج ١٤ ص ٣٠٩)

”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ کے معنی ہیں کہ منصب ارشاد انبیاء کا حق ہے۔ مگر

غیر کو بطور استعارہ ملتا ہے۔ تا کام ان کے سپرد ہوتا ہے۔“ (

قرآن وحدیث

”جس حالت میں شریف میں نبوت اور رسالت موجود ہے۔ اس کو اگر نبوت و نبوت کا دعویٰ لازم آئے گا۔“

”جھوٹے الزام پڑھا کہ محدث بھی رسول ہو مرسل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، مرسل کہیں گے یا کچھ اور۔ یا معنوں پر محمول نہیں ہیں اور ا نے دیا ہے۔ جس کو سمجھنا ہے

” (مرزا قادیانی مشہور کرتے ہیں کہ میں مدع یہ سراسر افتراء ہے۔ بلکہ میں کے بعد مدعی نبوت ورسالہ شروع ہو کر نبی کریم پر ختم ہو تم گواہ رہو میں ان عقائد پر

”اب میں خان قائل ہوں اور جو شخص ختم نبو سے خارج سمجھتا ہوں۔“ (جو

”کیا بدبخت رکھ سکتا ہے۔ اگر قرآن پر

صفحہ ١٠٥

غیر کو بطور استعارہ ملتا ہے۔ تا کہ ناقصین کو کامل کریں۔ پس یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں ہیں۔ مگر انبیاء کا کام ان کے سپرد ہوتا ہے۔ (پھر تم نبی کیوں بنے؟)

(براہین ص ٥٠٤ حاشیہ ٣، خزائن ج ١ ص ٦٠١)

قرآن وحدیث

”جس حالت میں رویائے صالحہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں۔ تو محدثیت جو قرآن شریف میں نبوت اور رسالت کے ہم پہلو بیان کی گئی ہے اور جس کے لئے بخاری میں حدیث بھی موجود ہے۔ اس کو اگر نبوت مجازی قرار دیا جائے یا ایک شعبہ قویہ نبوت کا ٹھہرایا جائے تو کیا اس سے نبوت کا دعویٰ لازم آئے گا۔“ (ہاں ضرور)

(ازالہ اوہام ص ٣٤٢، خزائن ج ٣ ص ٣٢٠)

”جھوٹے الزام مجھ پر مت لگاؤ کہ حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ کیا تم نے نہیں پڑھا کہ محدث بھی رسول ہوتا ہے۔ کیا قرأت محدث کی یاد نہیں ہے۔ کیسی بیہودہ نکتہ چینی ہے کہ مرسل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ارے نادانو بھلا یہ بتاؤ کہ جو بھیجا گیا ہے۔ اس کو عربی میں رسول اور مرسل کہیں گے یا کچھ اور۔ بار بار کہتا ہوں کہ نبی، مرسل اور رسول جو میرے الہام میں ہیں۔ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں اور اسی طرح مسیح کا نبی ہونا بھی حقیقی طور پر نہیں ہے۔ یہ فہم ہے جو مجھے خدا نے دیا ہے۔ جس کو سمجھنا ہے۔ سمجھ لے۔“ (کہ صرف شیطانی وسوسہ ہے )

(سراج منیر ص ٣، خزائن ج ١٢ ص ٣)

”(مرزا قادیانی دہلی کے مناظرہ میں لکھتے ہیں) میں نے سنا ہے کہ شہر دہلی میں علماء یہ مشہور کرتے ہیں کہ میں مدعی نبوت ہوں! اور منکر عقائد اہل سنت ہوں۔ اظہار الحق لکھتا ہوں کہ یہ سراسر افتراء ہے۔ بلکہ میں اپنے عقائد میں اہل سنت الجماعت کا عقیدہ رکھتا ہوں اور ختم المرسلین کے بعد مدعی نبوت ورسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔ میرا یقین ہے کہ وحی رسالت آدم سے شروع ہو کر نبی کریم پر ختم ہوگئی۔ یہ وہ عقائد ہیں کہ جن کے ماننے سے کافر بھی مسلمان ہوسکتا ہے۔ تم گواہ رہو میں ان عقائد پر ایمان رکھتا ہوں۔“ (افسوس تم قائم نہ رہے اور وحی ولایت گھڑ لی)

(اشتہار ٢/اکتوبر ١٨٩١ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠)

”اب میں خانہ خدا (جامع مسجد دہلی میں) اقرار کرتا ہوں کہ جناب کے ختم رسالت کا قائل ہوں اور جو شخص ختم نبوت کا منکر ہو اسے بے دین اور منکر اسلام سمجھتا ہوں اور اس کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“ (جزاک اللہ خیراً)

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٥٥، اشتہار ٢٣/ اکتوبر ١٨٩١ء)

”کیا بدبخت مفتری جو خود نبوت اور رسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن شریف پر ایمان رکھ سکتا ہے۔ اگر قرآن پر اس کا ایمان ہے تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ بعد خاتم الانبیاء کے میں نبی

صفحہ ١٠٦

ہیں ۔ لیکن مرے الہام میں مجھے نبی کہا گیا ہے۔ وہ حقیقت پر محمول نہیں ہے۔ مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے۔ جو بعض اولیاء کی نسبت بھی استعمال ہوا ہے۔“ (غلط ہے)

(انجام آتھم ص ٢٧، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

”ان الذين آمنوا وكانوا يتقون لهم البشرى (القرآن) لم يبق من النبوة الا المبشرات (بخاری) رؤيا المؤمن جزء من ستة واربعين من النبوة ...... ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا نبى بعدى ولا رسول . فشق ذلك على الناس فقال لكن المبشرات . فقالوا يا رسول الله ما المبشرات قال رؤيا المؤمن (المسلم) وهى جزء من اجزاء النبوة“ (قلت يرد دعواه وہو لا یدری)

”اس بات کو بغور دل یاد رکھنا چاہئے کہ یہ نبوت کہ جس کا سلسلہ جاری رہے گا۔ نبوت تامہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف جزوی نبوت ہے۔ جو دوسرے لفظوں میں محدثیت کے اسم سے موسوم ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠)

اب تحریر سابقہ اپنی تائیدی تحریرات سے مرزا محمود کی طرف سے لاہوری پارٹی کو کافر ثابت کرتی ہے۔ جیسا کہ تحریرات معہ تائیدی تحریرات کے لاہوریوں کی طرف سے مرزا محمود کو خارج از اسلام اور کافر ثابت اور واضح کرتی ہیں اور ہمیں ان دونوں پارٹیوں کے متعلق قلم اٹھانے کی ضرورت نہیں رہی۔ (عوض معاوضہ گلہ ندارد) ان دونوں نے ایسا فیصلہ کیا ہے کہ جواب ترکی بترکی پورا ہو جاتا ہے۔ مگر تاہم ہمیں حق حاصل ہے کہ لاہوری مسلک پر کچھ تنقید کریں اور بتائیں کہ لاہوریوں نے مرزا قادیانی کے ماننے میں پورا حق ادا نہیں کیا اور مرزا قادیانی کے وہ دعاوی نظر انداز کر دیئے ہیں کہ جن میں آپ نے استقلال نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے بوجہ ذیل لاہوری مسلک غلط ہے۔

لاہوری گروپ

ایک ہو گئے ہیں اور اپنے اندر تمام کمالات محمدیہ نبوت کے جذب کر چکا ہوں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ مرزا قادیانی کو کامل نبوت کا مدعی تصور نہ کیا جائے۔ کیا انتقال کی وجہ سے نبوت محمدیہ کوئی امر دیگر (نبوت غیر مستقل) بن گئی تھی یا مرزا قادیانی میں کوئی ایسی استعداد موجود نہ تھی کہ نبوت کاملہ کو قبول نہ کر سکتے تھے۔ بہرحال اتحاد حلول مان کر یہ ممکن نہیں کہ مرزا قادیانی کو حسب عقیدہ مرزا محمود نبی مستقل نہ مانا جائے۔

صفحہ ١٠٧

دوم ...... جب مرزا قادیانی نے تدریجی ترقی حاصل کرتے کرتے ظلی نبوت حاصل کر لی تھی تو حقیقی نبوت کے حاصل کرنے میں جو آپ نے ایک سبیل نکالی تھی کہ میری نبوت عین نبوت محمدیہ ہے۔ وہ کیوں تسلیم نہیں کی جاتی۔ کیا وہاں جا کر ترقی رک گئی تھی؟ اور جب مرزا قادیانی نے ترقی رکنے کے متعلق کہیں اشارہ تک نہیں کیا تو کیا وجہ ہے کہ آپ کو مدعی نبوت تشریعی نہ مانا جائے؟

سوم ...... مرزا قادیانی نے مولوی صاحبان کی شکایت کی ہے کہ وہ ان کو نبی بننے کا اتہام لگاتے ہیں مگر اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس اتہام کا دفعیہ یوں کیا ہے کہ میں نے خلاف شریعت نبویہ کے کسی مخالف نبوت کا اعلان نہیں کیا۔ بلکہ میری نبوت عین محمدیہ ہونے کی وجہ سے شریعت اسلام کے خلاف نہیں بلکہ تائید میں ہے۔ غور کرنے سے یہی بات ماننی پڑتی ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد تائیدی انبیاء اگرچہ مستقل نبی تھے۔ مگر ان کی جزوی تبدیلی شریعت موسوی کی تائید میں تھی۔ مخالف نہ تھی۔ علیٰ ہذا القیاس مرزا قادیانی کی تجدید شریعت بھی برائے نام اسلام ہی کی تائید میں ہے اور اسلام کا (بزعم خود) اصلی رخ دکھانے کے لئے ہے۔ ورنہ اسلام مٹانے کے لئے نہیں۔ اس لئے لاہوریوں کا فرض ہے کہ تائیدی نبی کے عنوان سے مرزا قادیانی کو مستقل نبی تسلیم کریں۔

چہارم ...... جب مرزا قادیانی کا اپنا قول موجود ہے کہ بعثت ثانی میں آپ کی روحانیت اشد و اقویٰ ہے اور بعثت اول بمنزلہ ہلال کے ہے اور بعثت ثانی بمنزلہ بدر کے ہے تو کم از کم مرزا قادیانی کو اس درجہ میں نبی مستقل کا خطاب ضرور دیا جانا چاہئے۔ ورنہ یہ دونوں تحریریں بالکل رہ جائیں گی۔ اور فی الواقع اصلی حق تو ہے کہ مرزا قادیانی کو بقول محمود افضل المرسلین کا خطاب دیا جائے اور کسی قسم کی بے ایمانی نہ برتی جائے۔ بہر حال اس کا جواب لاہوری پارٹی مرزائیوں کے پاس کوئی نہیں ہے۔

پنجم ...... اولیاء امت کا قول بالبروز کرنا ایک شطحی قول ہے۔ شرعی یا ادعائی قول نہیں ہے اور نہ ہی مرزا قادیانی کی طرح انہوں نے اپنے آپ کو نبی کہلانے کی دعوت دی اور نہ ہی اپنی صداقت پر پیشین گوئیوں سے مسلح ہو کر لڑنے کے لئے ان کے نزدیک بروز صرف تشابہ فی الصفات ہے اور دعویٰ نبوت کفر ہے۔ جیسا کہ تحریرات پیش کردہ سے خود ظاہر ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی تحدی، مرزا قادیانی کا ادعائے نبوت اور منکرین سے لڑائی کرنا، یا ساری عمر صرف اثبات نبوت میں رٹ لگاتے رہنا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بروز کا معنیٰ گو شروع میں تشابہ فی الصفات

صفحہ ١٠٨

تھا۔ مگر اخیر میں عینیت روحانی بلکہ حلول روحانی اور تناسخ تک پہنچ چکا تھا۔ اس لئے محمودی فرقہ حق بجانب ہے اور لاہوری منکر رسالت مرزا ہیں۔

قابل تسلیم ہے۔ مگر نہ اس عنوان سے جو مرزا قادیانی نے یہ دونوں درجے تسلیم کرانے کی ٹھان لی تھی۔ بلکہ ایسی سادگی سے تسلیم کرائے ہیں کہ ادعائے نبوت کو ان کے مفہوم سے کچھ بھی اشتباہ نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر اسلام نے خاتم النبیین کی تصریح کے بعد کسی عنوان سے بھی ادعائے نبوت کو تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ مدعی کو خارج از اسلام ثابت کیا ہے۔ اب اگر لاہوری پارٹی کا خیال درست ہو تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی صرف ولایت کے ہی مدعی تھے۔ تو اس کو نبوت کے رنگ میں بار بار کیوں لاکر مسلمانوں کے خلاف اڑے رہے اور اگر کہا جائے کہ مرزا قادیانی کو چونکہ مسیح بننا تھا اس لئے نبوت کا عنوان بھی اختیار کرنا پڑا تو پھر یہ امر مشتبہ رہ جاتا ہے کہ آیا ولایت بعنوان مسیحیت یا ولایت بعنوان نبوت کا مصداق اور مدعی کوئی امتی ہو گزرا ہے یا نہیں؟ اگر ہو گزرا ہے جیسا کہ مرزا قادیانی نے کہا ہے کہ ہزاروں بروز ہو گزرے ہیں تو مخالفین کے سامنے اس امر کی تصدیق کے لئے نقلی ثبوت بہم پہنچائے جانے چاہئے تھے۔ نہ یہ کہ صرف دعویٰ کر کے چلتے بنتے اور اگر کوئی نہیں گزرا جیسے کہ مرزا محمود قادیانی کا قول ہے کہ امت محمدیہ میں ولی بعنوان نبی صرف مرزا قادیانی ایک ہی گزرا ہے۔ تو وہ تمام ثبوت، لغایت مفید مطلب نہیں رہتے۔ جو ملفوظات اولیائے امت سے اخذ کئے گئے ہیں۔ اس لئے مجبوراً کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کی اصلیت کو اگر کچھ سمجھا ہے تو مرزا محمود نے سمجھا ہے۔ ورنہ لاہوری پارٹی تو دیدہ دانستہ چشم پوشی کرتی ہے اور مرتد ہورہی ہے اور یا محض لاعلمی کی وجہ سے مخالفت پر اڑی ہوئی ہے اور اپنی کمزوری کو رفع نہیں کرتی۔

میں ”ومنهم من کلم اللہ“ وارد ہے۔ جس میں خاص موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے۔ پس اگر صرف مرزا قادیانی کی محدثیت پر ہی نظر کی جائے تو مرزا قادیانی کم از کم موسیٰ علیہ السلام کی شان کے پیغمبر ضرور ماننے پڑتے ہیں اور آپ کو انبیاء مرسلین اولوالعزم کی صف میں شمار کرنا پڑتا ہے اور تمام انبیاء علیہم السلام کے متعلق یوں ماننا پڑتا ہے کہ وہ سب کلیم اللہ تھے۔

توسط جبرائیل جو موسیٰ علیہ السلام سے ہوا اور اسی خصوصیت سے کلیم اللہ کہلائے۔ (دوم) فرشتہ (جبرائیل) بھیج کر جو انبیاء علیہم السلام سے عموماً تعلق رکھتا ہے اور اسی بناء پر قرآن شریف کو انہ

لقول رسول کریم کہا گیا ہے، عموماً اولیاء کرام میں پایا گیا ہے اور کثرت سے جس سے معلوم ہوتا ہے اپنے کلام کو مرزا قادیانی نے وحی الہی اب لاہوری فرقہ بتائے کہ جب مرز یا کشف نہیں بلکہ وحی الہی ٹھہرا تو وہ کہ گو ابتدائی حالت میں آپ مدعی ول لاہوری فرقہ غلطی پر ہے۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ایسے محدث سابقہ میں گومحدث تھے اور اس امت محدثین صراحۃً مذکور ہے۔ جو مرزا قا مرزا قادیانی کا وہی کلام قرین قیاس۔ اور وہ تمام خیالات غلط یا منسوخ ہیں فرقہ اس مقام پر بھی غلط رائے رکھتا۔

غلط ہے کہ: ”اولئک مع النبیین مصاحبت میں استعمال ہوا کرتا ہے، درجہ الوہیت کے حق دار ہوں گے۔ پر چلنے کی توفیق طلب کرنا یا اس پر قا وہ مانگنے سے حاصل نہیں ہوتی اور نہ موسیٰ علیہ السلام نبوت کے حق دار نہ الله يوتيه من يشاء“

ایمانیہ اور نور ایمان کمال تک پہنچا ہوا ہو کہ گویا اس کو کسی نے اپنے لفظوں میں

صفحہ ١٠٩

لقول رسول کریم کہا گیا ہے۔ (سوم) القاء قلبی سے جو الہام یا انکشاف سے تعلق رکھتا ہے جو عموماً اولیاء کرام میں پایا گیا ہے اور مرزا قادیانی نے اپنے مکالمہ کو مخاطبہ سے تعبیر کیا ہے اور وہ بھی کثرت سے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ موسیٰ علیہ السلام سے بڑھ کر کلیم اللہ تھے۔ اسی وجہ سے اپنے کلام کو مرزا قادیانی نے وحی الٰہی بتایا ہے اور قرآن شریف کی طرح اسے قطعی قرار دیا ہے۔ اب لاہوری فرقہ بتائے کہ جب مرزا قادیانی محدث بمعنی کلیم اللہ ہوئے اور ان کا کلام صرف الہام یا کشف نہیں بلکہ وحی الٰہی ٹھہرا تو وہ کہاں سے صرف ولایت پر قائم رہے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ گو ابتدائی حالت میں آپ مدعی ولایت ہوں۔ مگر درجہ نبوت تک ضرور پہنچ گئے تھے۔ اس لئے لاہوری فرقہ غلطی پر ہے۔

نہم ...... احادیث نبویہ کے رو سے اس امت میں محدثین کی قلت ثابت ہے۔ مگر مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ایسے محدث ہزاروں گزرے ہیں اور خود نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ عہد سابقہ میں گو محدث تھے اور اس امت میں اگر کوئی ہے تو حضرت عمرؓ ہیں۔ اس نوعیت کلام سے قلت محدثین صراحۃً مذکور ہے۔ جو مرزا قادیانی کے خیال کی تردید کرتی ہے۔ اس لئے کہنا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کا وہی کلام قرین قیاس ہے جس میں آپ نے صرف مسیح موعود ہی کو ضرور ثابت کیا ہے اور وہ تمام خیالات غلط یا منسوخ ہیں کہ جن میں بروزات کی بھرمار کی گئی ہے۔ اس لئے لاہوری فرقہ اس مقام پر بھی غلط رائے رکھتا ہے۔

دہم ...... ”انعمت علیہم“ سے مراد نعمت مخاطبہ الٰہیہ لینا غلط ہے اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ: ”اولئک مع النبیین“ سے مراد حصول درجہ نبوت ہے۔ کیونکہ مع معاشرت معہ مصاحبت میں استعمال ہوا کرتا ہے۔ ورنہ ”ان اللہ مع المحسنین“ میں تمام نیکوکار حصول درجہ الوہیت کے حق دار ہوں گے۔ اس لئے ”اہدنا الصراط المستقیم“ میں اسوہ نبویہ پر چلنے کی توفیق طلب کرنا یا اس پر قائم رہنا مراد ہوگا۔ نہ یہ کہ خدا سے نبوت کا سوال ہو۔ کیونکہ وہ مانگنے سے حاصل نہیں ہوتی اور نہ ہی ریاضت یا جفاکشی سے حاصل ہوتی ہے۔ ورنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت کے حق دار نہ ہوتے۔ اس لئے یہ ماننا پڑتا ہے کہ: ”ذلک الفضل من اللہ یوتیہ من یشاء“

یازدہم ...... حسب تحقیق محدثین محدث وہ کامل مؤمن ہوتا ہے کہ جس میں کامل فراست ایمانیہ اور نور ایمان کمال تک پہنچا ہوا ہوتا ہے اور ماحول کے واقعات اس پر ایسے منکشف ہوتے ہیں کہ گویا اس کو کسی نے اپنے لفظوں میں بطریق روایت حدیث سنائے ہیں۔ نہ یہ کہ خدائے تعالیٰ کا

صفحہ ١١٠

مکالمہ کثرت سے پاکر نبی اور مرسل ہو جاتا ہے اور اگر کسی نے یوں کہا ہے تو اہل تحقیق کے خلاف لکھا ہے۔ اس لئے نہ حضرت عمر اول المحدثین نبی تھے اور نہ بعد میں کوئی محدث نبی ہوا اور اس معنی سے لاہوری فرقہ مرزا قادیانی کو بروزی نبی ثابت نہیں کرسکتا۔

(نووی شرح مسلم)

٨...... مرزا قادیانی کے متعلق ایک شرعی نکتہ خیال

فرقہ محمودیہ اور فرقہ لاہوریہ کے متعلق معلوم ہوچکا ہے کہ یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کو کافر یا مرتد کہتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ فرقہ محمودیہ کے نزدیک لاہوری مرزائیوں کی طرح جملہ اہل اسلام بھی کافر ہیں اور لاہوری فرقہ کے خیال میں اگرچہ اہل اسلام اس قدر کافر نہیں ہیں۔ جس قدر کہ قادیانیوں کے نزدیک اشد ترین کافر ہیں۔ مگر تاہم فرقہ ناجیہ میں داخل نہیں ہیں اور بیعت مرزا قادیانی کو اپنے امیر جماعت کے ہاتھ پر فرض جانتے ہیں۔ ورنہ نجات مشکل جانتے ہیں اور مسلمانوں سے ترک موالات وہ بھی فرقہ محمودیہ کی طرح کرتے ہیں اور طریق عمل میں یا طریق عبادت میں دونوں فرقے مسلمانوں سے الگ رہتے ہیں۔ سوائے اس صورت کے کہ مجبوری کی صورت میں تقیہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے مذہب کو چھوڑ دیں۔ کیونکہ یہ ان کی خاص سنت مرزائیہ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی بوقت ضرورت اپنی نبوت سے منکر ہو بیٹھتے تھے۔

تحریرات مذکورۃ الصدر سے یہ بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ مرزائیوں کے دونوں فرقے (محمودیہ اور لاہوریہ) نبوت مرزا کے قائل ہیں۔ ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ لاہوری مرزا قادیانی کو امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی وغیرہ وغیرہ مانتے ہوئے اور مخالفین کے سامنے ان کو صرف مجدد، محدث اور اولیاء میں شمار کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے قادیانی مرزائی، مرزا قادیانی کو ترقی دیتے ہوئے نبی مستقل، افضل الرسلین، مطاع الانبیاء اور عین محمد بھی یقین کرتے ہیں۔ اس کے بعد تعلیم مرزا اور عقائد مرزا میں پھر دونوں جاکر متفق ہو جاتے ہیں اور یہ علی الاعلان کہتے ہیں کہ اسلام کا طرز عمل وہی صحیح ہے جو مرزا قادیانی نے بحیثیت مجدد ہونے کے پیش کیا ہے۔ ورنہ اسلام کا وہ پہلو تاریک ہے اور ناقابل عمل ہے جو مرزا قادیانی کے ہوش سنبھالنے سے پہلے خیرالقرون سے چلا آیا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا قول ہے کہ: ”میری تعلیم اور میری بیعت ہی موجب نجات ہے۔“ اس لئے ہمارے نزدیک دونوں ایک باپ کے ہی بیٹے ہیں اور اہل اسلام کا متفقہ اعلان ہے کہ مدعی نبوت خواہ کسی رنگ میں اپنے آپ کو تمہارے سامنے پیش کرے۔ خارج از اسلام ہوگا۔ چنانچہ مرزا قادیانی سے پہلے کئی ایک ایسے حیلہ ساز نبی ہو گزرے ہیں اور مدعی اسلام بن کر اپنے کیفر

صفحہ ١١١

کردار کو جا پہنچے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال علی محمد باب مسیح ایران ہے کہ جس نے اسلام ہی کا صحیح پہلو دکھلانے میں اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا اور قرآن شریف کی آیت سے اپنی نبوت کا ثبوت دیا تھا اور اسلامی روایات سے ہی ثابت کیا تھا کہ اب تجدید اسلام کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی امت میں نئے عقائد اور نئے احکام جاری کر دیئے اور جب ایران میں وہ اپنے دعوے کے زیر اثر قتل ہو گیا اور اس کی تعلیم نے کثرت سے شیوع پا کر لوگوں کو دعویٰ نبوت کی راہ دکھلا دی۔ تو مرزا قادیانی نے بھی ان حیلہ بازیوں سے فائدہ اٹھا کر ادعائے نبوت میں پاؤں جمانے شروع کر دیئے۔ پہلے مجدد بنے، پھر مہدی، پھر مثیل مسیح، اس کے بعد ترقی کرتے کرتے بقول فرقہ محمودیہ افضل المرسلین تک پہنچ گئے اور جب کسی سے نبوت کے متعلق جواب دینا پڑتا تو یوں کہہ دیتے کہ میں مدعی نبوت نہیں۔ جیسا کہ تم نے خیال کیا ہے۔ جس کا مطلب مخاطب یوں سمجھتا کہ واقعی مرزا قادیانی کو کسی قسم کی نبوت کا دعویٰ نہیں ہے۔ مگر دراصل مخاطب کو الو بنا کر ٹال دیتے تھے۔ کیونکہ وہ اپنے کلام میں ایسے لفظ بول جاتے تھے کہ جس کا مطلب یوں نکلتا تھا کہ میں اپنی طرف سے بطور افتراء خلاف اسلام میں مدعی نبوت نہیں بلکہ مجھے اسلام کی ترقی کا دعویٰ ہے اور خدا کی طرف سے مامور و منذر ہوں۔ میں خود نہیں بنا اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے۔

چنانچہ یہ مطلب انہوں نے اپنی کتابوں میں مختلف مقام پر کئی ایک طریق سے بیان کیا ہے۔ اس لئے حقیقت شناس نگاہیں شروع سے ہی تاڑ گئی تھیں کہ اس دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے۔ چنانچہ وہی ہوا جو کچھ انہوں نے قوۃ فراست سے محسوس کیا تھا اور ہر چند اپنے دعویٰ نبوت کو تصوف یا لغت کی آڑ لے کر پوشیدہ کرنا چاہا۔ مگر آخر معلوم ہو گیا کہ جناب صاف ہی مدعی نبوت ہیں۔ اس لئے تاویل کے خس و خاشاک کو دور کر کے ہم آپ کا اصلی مدعا اصلی صورت میں استدلالی طریق پر پیش کرتے ہیں۔ تا کہ ناظرین خود ہی ملاحظہ فرما کر فیصلہ کر لیں کہ مرزا قادیانی نے اخیر میں علی الاعلان اور شروع میں در پردہ نبوت کا دعویٰ کر کے لوگوں کو مشتبہ حالت میں رکھ کر یہ پتہ نہ لگنے دیا تھا کہ آپ ہیں کیا؟ مگر رگ و ریشہ سے واقف سمجھتے تھے کہ آپ وہی ہیں کہ جس کو آج خارج از اسلام یقین کیا جاتا ہے۔ یعنی بوجوہات ذیل مدعی نبوت ( تامہ مستقلہ ) تھے۔ یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر تھے۔

مرزا قادیانی نے اپنا الہام پیش کیا ہے کہ خدا نے مجھے کہا ہے: ” انك لمن المرسلين . انا ارسلنا اليكم رسولا . كيف نرد ما اوحى الى منذ (وهو اشارة الى ما فى

صفحہ ١١٢

البراهين الاحمدية من الالهام وهو ان نبيا جاء كما يدل عليه اشتهار ازالة) انى اقسم فى بيت الله الشريف ان ما اوحى الى هو كلام الله الذى نزله وحيه على موسى وعيسى وشهد لى الارض والسماء بانى انا خليفة الله ، وكان مما وجب فى قضاء الله تعالى ان يكذبونى كما وقع (فى حقيقت الوحى ص٦٦) انى وجدت حظا كثيراً فضلا من الله تعالى اعنى النعمة العظمى التى اعطيها الانبياء من قبل (اے کثرة المخاطبة من الله تعالى وفى حقيقت الوحى ص١٥٠) فامنت بما اوحى الى كما امنت بالكتب السماوية ، وامنت بما انزل على كما امنت بالقرآن واتيقن انه كلام الله كالقرآن ، وقوله تعالى هو الذى ارسل رسوله بالهدى الآية اشارة الى اى اننى الرسول المرسل لا ظهار الاسلام على جميع الاديان ، وما انزل الى من الالهام ففيه لفظ الرسول المرسل والنبى الاكمل فكيف الانكار واوحى الى محمد رسول الله (اے انك محمد رسول الله كما يدل عليه اشتهار ايك غلطى كا ازاله) هكذا كله فى ضمیمه کتابه حقیقت الوحى "ان الہامات کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا کلام الٰہی ہے اور اس پر وہ مسجد میں قسم کھانے کو بھی تیار ہیں کہ میں نبی ہوں اور میرا کلام کلام الٰہی ہے۔ جس پر ایمان لانا یقین کرنا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ قرآن شریف کو حق ماننا ضروری ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے میری تصدیق کی ہے تو میرا منکر ویسا ہی کافر ہوگا جیسا کہ انبیاء کا منکر کافر ہوتا ہے۔

دوم...... اربعین نمبر٤،ص٦،خزائن ج١٧ص٤٣٥) میں ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ مفتری صاحبِ شریعت ہلاک ہو جاتا ہے تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ کیونکہ مفتری کے ساتھ شریعت کی تخصیص نہیں کی گئی۔ شریعت کیا ہے؟ یہی چند اوامر ونواہی کا مجموعہ۔ پس جو نبی یہ اوامر ونواہی بیان کرے وہی صاحبِ شریعت ہوگا۔ پس منکروں کا یہ اعتراض کہ رسول صاحبِ شریعت ہوتا ہے۔ تم صاحبِ شریعت کیوں نہیں ہو؟ دفع ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو وحی میرے پر نازل ہوئی ہے۔ اس میں بھی اوامر ونواہی موجود ہیں۔ مثلاً ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم“ اس قسم کے بہتیرے الہام ہم نے براہین احمدیہ میں مدت ہوئی لکھ رکھے ہیں۔ اگر ہماری رسالت پر یہ اعتراض ہو کہ شریعتِ قدیمہ کی بجائے شریعتِ جدیدہ سے رسول مامور ہو کر آتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ سارے احکامِ قدیم منسوخ ہو جائیں۔ ورنہ قرآن

صفحہ ١١٣

کریم ناسخ نہ رہے گا۔ کیونکہ اس میں صحف سابقہ اور کتب قدیمہ کے احکام بھی موجود ہیں۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ شریعت جدیدہ میں شریعت قدیمہ کی صرف جزوی ترمیم و تنسیخ ہوتی ہے اور اس لحاظ سے مرزائی شریعت میں اس امر کے ثابت کرنے میں صرف وفات مسیح کا مسئلہ شائع کرنا ہی کافی ہوگا کہ یہ بھی شریعت جدیدہ ہے۔ اگر یہ مراد ہو کہ شریعت جدیدہ میں سارے احکام منصوص ہوں تو یہ غلط ہوگا۔ کیونکہ اس وقت اجتہاد اور قیاس شرعی کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٣٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٥) میں ہے کہ: ”ارسل رسولہ“ سے مراد میں ہوں۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١) میں لکھتے ہیں کہ احادیث میں آیا ہے کہ اس امت میں ابراہیم علیہ السلام ظاہر ہوگا۔ (اور میں وہی ہوں) پس جو شخص اس کا تابع ہوگا۔ نجات پائے گا اور جو منکر رہے گا وہ گمراہ ہوگا اور یہ بھی ہے کہ: ”ارسلنا احمد الی قومہ فقالوا کذاب اشر“ اور (اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٤) پر یوں بھی ہے کہ میں نے ظنیات یعنی روایت اسلامیہ کو چھوڑ کر اپنے یقینی دلائل کی طرف رجوع کیا ہے۔ جس سے مراد میرے اپنے الہام ہیں۔ میں ان پر ایسا پختہ ایمان رکھتا ہوں۔ جیسا کہ تورات اور انجیل پر۔

سوم ....... (انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٥٠٧) میں مذکور ہے کہ: ”اني مرسلک وجاعلک للناس اماما، اني مرسل من الله وما مور وامینہ فامنوا بما یقول المرزا الان منکرہ في النار، وفي الاستفتاء وما رمیت اذ رمیت وفي (ضمیمہ حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٨) وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین، اعملوا علی مکانتکم، لعلک باخع نفسک، دنی فتدلی، سبحان الذي اسری بعبدہ لیلا، ان کنتم تحبون الله، آثرک الله علی کل شئی، نزلت سرر من السماء لکن سریرک فوق السرر کلہا، انا فتحنا لک فتحا، لولاک لما خلقت الافلاک، انا اعطیناک الکوثر، ارادالله ان یبعثک مقاما محمودا“ اور ترجمہ حقیقت الوحی میں ہے کہ میں نے اس قدر معجزات دکھائے ہیں کہ دوسرے انبیاء نہیں دکھا سکے اور خدا تعالیٰ نے معجزات کا دریا چلا دیا ہے۔ جو قطعی طور پر پیغمبر علیہ السلام کے لئے بھی نہیں چلا۔ بخدا اگر یہ معجزات زمان نوح علیہ السلام میں ظاہر ہوتے تو غرق تک نوبت ہی نہ پہنچتی۔ ”والذي نفسي بیدہ ان الله هو ارسلني وسماني نبیا وسماني مسیحاً موعود واظهر لي من الآیات ماتنیف علی“

چہارم ........ (اعجاز احمدی ص ٢٩) میں ہے کہ: ”ومن جاء حكما فله ان يرد من

صفحہ ١١٤

الاحاديث ماشاء ويقبل منها ما شاء اذ الحكم على ماجاء فى البخارى هو الذى يقبل رايه رفعا للاختلاف ويعلم بان حكمه نافذ وان له اختيارا بان حكم بوضع الاحاديث وتصحيها٠ وليس مبنى مادعيته هذه الاحاديث بل مبناه القرآن وما اوحى الىّ من الالهامات واما الروايات فلا اقبلها الا ما وافقنى منها٠ واما المخالف منها فمردود عندی قطعا وانى انا مصداق هذا الاية هو الذى ارسل رسوله بالهدى٠ العجب انهم يعترضون علىّ فيصيرون كافرين ولو كانوا من اهل التقوى فى شئی لما اعترضوا على بما يرد على غيرى من الانبياء والاولياء٠ قد ظهرت لى من الايات نحو ثلثمائة الف٠

له خسف القمر المنير وان لى٠ خسف القمران المشرقان اتنکر؟“

پنجم ...... (حاشیہ تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ص ٣٤٢) میں ہے کہ انسان ملہم اور محدث کے انکار سے کافر نہیں ہوتا۔ مگر نبی صاحب شریعت کے انکار سے ضرور کافر ہو جاتا ہے۔

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ص ٤٢٧) میں ہے کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ تم اس شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ جو تجھ کو کافر کہتا ہے یا تیرے ماننے میں تردد کرتا ہے۔ کیونکہ قطعاً ایسے لوگوں کے پیچھے نماز حرام ہے۔ (فتاویٰ احمدیہ ص ٨٢) میں ہے کہ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو اور اگر کسی کو میری دعوت نہ پہنچی ہو تو اوّل میری دعوت پہنچاؤ کہ اگر وہ مان جائے تو اس کے پیچھے نماز پڑھ لو ورنہ نہ پڑھو۔ (سیرۃ الابدال ص ٤) میں ہے کہ ہم کو قرآن کریم سے معلوم ہوا ہے کہ: ”آخر الخلفاء علی قدم عیسىٰ عليه السلام فليس لاحد ان ينكره والا فله العذاب حيثما كان وقال فى (حاشیه خطبه سيرة الابدال ص ١٩٣) الفتح المبين ظهر فى عهد الرسالة وبقى الفتح الاخر فى عهد المسيح وهو اعظم منه واليه اشير بقوله سبحان الذى اسرى بعبده الاية ان الله خلق آدم “ (براہین) میں ہے کہ اگر میری آیات کی تصدیق کرنے والے دنیا میں ایک جگہ کھڑے کئے جائیں تو بھاری سے بھاری فوج بھی ان سے نہ بڑھ سکے۔

ششم...... (اربعین نمبر ٤ ص ٣٤) میں ہے کہ: ”ما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحىٰ “ (دافع البلاء ص ٦) میں ہے کہ : ”ماكان الله ليعذبهم وانت فهيم٠ بایعنی ربی “ (خدا نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے) ”انت منى بمنزلة اولادى “ (تو میرے بیٹوں کی بمنزلہ ہے) ”انت منى وانا منك “ (تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں)

صفحہ ١١٥

" واصنع الفلک باعیننا ووحینا ، ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ " (جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں) "یوحی الی انما الھکم الہ واحد ، الخیر کلہ فی القرآن "

ہفتم ...... بقول فرقہ محمودیہ اشتہار ایک غلطی کا ازالہ اعلان نبوت ہے اور واقعی اگر اس کے موضوع پر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصلی نبوت کا اعلان ہے۔ ورنہ بروزی اور مجازی نبوت کا اعلان تو کتابوں میں ہزار دفعہ ہو چکا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مرزا محمود کی وہ تفسیر بھی پڑھ لیجئے جو "اذاخذ اللہ میثاق النبیین" میں کی ہے۔

ہشتم ...... بقول مرزا محمود قادیانی اگرچہ مشتبہ طور پر نبی تھے۔ مگر بعد میں ظاہر ہوگئے تھے۔ چنانچہ (حقیقت النبوۃ ص ١٢١ ، محررہ ٥؍ مارچ ١٩١٥ء) میں لکھتے ہیں کہ چونکہ ١٩٠١ء سے آپ نے نبی کا لفظ اپنے اوپر بار بار اطلاق کیا ہے اور تریاق القلوب لکھنے کے بعد حقیقت الوحی سے نبوت کے متعلق عقیدہ میں تبدیلی کی ہے۔ یہ بات ثابت ہے کہ ١٩٠١ء سے پہلے وہ حوالے جن میں آپ نے اپنے نبی ہونے کا انکار کیا ہے۔ اب منسوخ ہیں اور ان سے حجت پکڑنا غلط ہے۔

القول الفصل ص ٢٤ ، محررہ ٣٠؍ جنوری ١٩١٥ء) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی ایسے نبی ہیں کہ جن کو آنحضرت کے فیض سے نبوت ملی ہے۔ پس ١٩٠٢ء سے پہلے کی کسی تحریر سے حجت پکڑنا بالکل جائز نہیں ہوسکتا۔ اب ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں ہے کہ مرزا محمود نے ٣٠؍ جنوری ١٩١٥ء کو منسوخی تحریرات مرزا قادیانی کا فیصلہ ١٩٠٢ء سے شروع کیا اور تین ماہ بعد مارچ ١٩١٥ء کو اسی فیصلہ کی ایک اور تاریخ پہلے یعنی ١٩٠١ء قرار دے دی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ١٩٠١ء ، ١٩٠٢ء کے درمیان بھی کسی پوشیدہ ڈائری کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہوگا کہ آپ کو کسی قسم کا شک نہیں ہے۔ کیونکہ اعلان نبوت کا اعلان ١٩٠١ء سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس لئے اسی تاریخ سے پہلے تنسیخ بھی شروع ہونی ضرور تھی۔ ہاں یہ تعجب ضرور ہے کہ حقیقت النبوۃ کو جب تک ١٩١٥ء میں شائع نہیں کیا۔ اس اعلان کو بھی مخفی رکھا ہے۔ یعنی گویا اعلان نبوت چھ سال تک مخفی رہا۔ ممکن ہے کہ زمانہ کی رفتار اس سے مانع رہی ہو۔ بہرحال حقیقت النبوۃ میں مرزا محمود نے تبدیلی عقیدہ کی وجہ یہ بھی لکھی ہے کہ نبوت کا مسئلہ آپ پر ١٩٠٠ء یا ١٩٠١ء کو منکشف ہوا تھا۔ یا یوں کہو کہ قرآن شریف سے آپ نے نبی کی تعریف نئے عنوان سے سمجھی تھی۔ یا یوں کہو کہ جو درجہ آپ کو دیا گیا تھا اسے آپ نبوت نہ سمجھتے تھے تو جب آپ کو ہوش آیا کہ خدا نے تو ان کو نبی بنا دیا ہوا ہے اور نبی کی تعریف بھی کچھ اور ہے تو آپ نے زور سے اعلان نبوت کر دیا۔

صفحہ ١١٦

نہم ...... رسالہ طاعونی علاج جو طاعون و ہیضہ کے دنوں میں قادیان سے شائع ہوا تھا۔ اس میں مرزا قادیانی کی صداقت انبیاء کی طرح شائع کی گئی تھی۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ: ”اخرجنا لهم دابة الارض او جراثيم الطاعون ، لا يدخل للدنية طاعون ودجال يقتل المسيح الدجال“ سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کے وقت دجال اور طاعون اکٹھے آئیں گے اور ”كانوا باياتنا لا يوقنون“ سے ثابت ہوتا ہے کہ منکرین نبوت مرزا میں طاعون پھیلے گا۔ ”قال فى البراهين من دخله كان آمنا يعنى ان القاديان امن من الطاعون وفى اشتهار البيعة اصنع الفلك باعينك انهم مغرقون اى مهلكون بالطاعون وفى نور الحق ان العذاب قد تقرر وفى حمامة البشرئ ٠ ٠ فان هلاك الناس اولى من ضلالهم وفى اشتهار انى رايت فى المنام ان ملائكة العذاب فى الفنجاب يغرسون اشجارا سوداء اشجار الطاعون ، قال فى بھاگوت گیتا شعرا“

جو بنیاد دیں ست گرد وبے
نمائیم خود را بشکل کسے

”فمظهر الربوبية اليوم هو المسيح القاديان ثم نشر فى فبانكار كم ظهرت خبايا النفاق ، يا اوروبا و يا امريكا لستم ايضاً فى ...... وادعى دويى فى امريكا انه الياس النبى فهلك بدعاء المسيح فى سنة واحدة ونشر فى بلقان غلبت الروم فكان كما قال“ اس نوعیت کے استدلال سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی خود بھی مدعی نبوت تھے اور بقول محمود یہ مرزائی بھی آپ کو نبی مانتے ہیں۔

دہم ...... مرزا قادیانی نے توہین مسیح علیہ السلام میں اپنا سارا زور خرچ کر دیا ہے۔ جیسا کہ دعاوی مرزا میں گزر چکا ہے۔ اس لئے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ضرور مدعی نبوت حقیقی تھے۔ ورنہ مجازی نبی یا کوئی امتی کسی نبی سے افضل ہونے کا دم نہیں بھرتا اور یہ عذر بالکل نا قابل سماعت ہے کہ مرزا قادیانی نے یسوع کو گالیاں دی ہیں۔ مسیح بن مریم کو گالیاں نہیں دیں۔ کیونکہ جو حوالہ براہین احمدیہ کا نقل ہو چکا ہے۔ اس میں مسیح عیسیٰ بن مریم اور یسوع تینوں عنوان موجود ہیں اور بطریق کنایہ ایسی توہین کی ہے کہ سوائے شاطر کے کوئی بھی اس کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ بالفرض یہ عذر صحیح ہے تاہم ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو، اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ صاف عیسیٰ

صفحہ ١١٧

ابن مریم کی تحقیر ظاہر کر رہا ہے۔ کیونکہ امتی کسی نبی پر فضیلت نہیں پاسکتا۔ علاوہ اس کے اس شعر کی طرز ادا بھی ایسی ہے کہ خواہ مخواہ مخاطب کو انتقام پر آمادہ کر دیتی ہے۔

اب نیچے اہل اسلام کی تحقیق لکھی جاتی ہے۔ جو آج سے پہلے مرزا قادیانی جیسے مدعیان نبوت کے خلاف انہوں نے لکھی تھی اور جس کے ماتحت کئی ایک مدعیان نبوت سزائے قتل کو پہنچ چکے تھے۔

اول ...... شفائے قاضی عیاض اور اس کی شروح میں لکھا ہے کہ جو شخص مدعی نبوت ہے۔ وہ مرتد ہے۔ اسی طرح وہ شخص بھی مرتد ہوگا کہ جس نے دعوائے نبوت کی دعوت دی ہو۔ کیونکہ یہ کفر بکتاب اللہ و کفر بحدیث رسول ہے۔ اگر صرف وحی کا دعویٰ کرے اور نبوت کا دعویٰ نہ کرے یا صفائی قلب کے ذریعہ تحصیل نبوت کا مدعی ہو۔ یا وہاں تک پہنچنے کا مدعی ہو۔ وہ بھی کافر ہے۔ کیونکہ لا نبی بعدی اور خاتم النبیین دونوں صریح حکم ہیں۔ جن کی تاویل کرنا خلاف دیانت اور خلاف اجماع مسلمین ہے۔ پس جو شخص ایسے نصوص قطعیہ کی تاویل کرتا ہے یا ایسا قول کرتا ہے کہ جس میں امت محمدیہ کی جہالت ثابت ہوتی ہو یا وہ ایسے کام کرتا ہے۔ جو عموماً کفار سے ہی صادر ہوتے ہیں تو وہ بھی کافر ہوگا۔ اگر چہ مدعی اسلام بھی ہوئے۔ ملاعلی قاری فرماتے ہیں کہ امت محمدیہ کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ جو شخص کسی نبی کی توہین کرتا ہے یا گالیاں دیتا ہے یا اس کی کسر شان کرتا ہے۔ وہ واجب القتل ہے اور مزید یہ کہ جو شخص انبیاء کو برا کہے اسے قتل کرنا فرض ہے اور یہی حکم ہے۔ اس شخص کا جس نے کسی نبی کی تکذیب کی یا بے عزتی کی۔ شفا ص ٤٤١ میں ہے کہ اگر کوئی شخص کہے کہ نبی کریمﷺ کا رنگ کالا تھا۔ اسے قتل کرنا واجب ہے۔ کیونکہ اس نے توہین کی ہے۔

دوم ...... (کتاب الفصل ص ٢٥٥) میں ہے کہ یہ امر پایہ یقین کو پہنچ چکا ہے کہ جو شخص ذرہ بھر ان احکام سے انکار کرتا ہے۔ جو نبی کریمﷺ نے بیان کئے ہیں وہ کافر ہوگا اور وہ بھی کافر ہے کہ جس نے نبی کریمﷺ کے بعد دوسرا نبی ممکن سمجھا یا کسی نبی کی توہین کرتے ہوئے مخول کیا۔

اور (کتاب الفصل ج ٤ ص ١٨٠) میں ہے کہ: ”کیف یستجیز مسلم ان یثبت نبیا اخر بعد النبیﷺ الا ما استثناہ النبی علیہ السلام فی نزول ابن مریم علیہ السلام فی آخر الزمان“

اور (کتاب الفصل ج ٤ ص ٢٤٩) میں مذکور ہے کہ: ”من قال ان اللہ ہو فلان او ان اللہ یحل فی جسم او ان نبیا ینزل غیر ابن مریم علیہما السلام فلا خلاف فی تکفیرہ“ (ذرہ مرزائی غور سے پڑھیں)

صفحہ ١١٨

سوم...... ”في شرح الفقه الاكبر من انكرالاخبار المتواترة المعنوية كفر . قال في حاشية الاشباح اذا كانت في المسئلة وجوه توجب الكفر ووجه واحد...... فعلى المفتى ان يميل الى ذالك الوجه الواحد الا اذا اصرح بارادة توجب الكفر ، في رد المحتار من تكلم بالكفر هازلا كفر ولا اعتقد باعتقاده وفي الاشباه ويكفر اذا شك في صدق النبي اوسبه او نقصه او حقره او نسبه الى الفواحش كالعزم على الزناء في يوسف عليه السلام او قال لم يعصموا حال النبوة وقبلها، واذا لم يعرف ان محمداً آخر الانبياء فليس بمسلم لا نه من الضروريات والجهل بهاليس بعذر . قال في ملتقط اليواقيت نحن نكفر من كفره المجتهدون من الائمة لا بقول غيرهم“ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص متواتر اور مسلمہ مسائل کا اعتقاد نہیں رکھتا ۔ بلکہ انکار کرتا ہے ۔ وہ کافر ہے اور وہ بھی کافر ہے جو کسی نبی کی توہین کرتا ہے۔ یا کہتا ہے کہ وہ معصوم نہ تھے ۔ جیسا کہ اہل قرآن کا عقیدہ ہے۔

چهارم...... ”قال ابن حبان من ذهب الى ان النبوة مكتسبة يلزمه ان تسلب ايضاً كما يقوله اليهود فى لبعام انه كان نبيا فى بنى مواب فسلبت نبوته (ابن حزم) ومن زعم انها مكتسبة فهو زنديق ومن عقائد الزنادقة انهم يطلبون ان يصيروا انبياء ومن جملة ما كفروا به تجويز النبوة بعد النبى ﷺ وباكتسابها، والسلطان صلاح الدين الايوبي قتل عمارة اليمنى الشاعر لا نه قال باكتسابها في قوله (شعر) وكان مبدأ هذا الدين من رجل ، سعى فاصبح يدعى سيد الانام (صبح الاعشى ج١٣ ص٣٠٥) اتى عمرؓ برجل سب النبى ﷺ فقتله فقال وقال من سب الله اونبيا فاقتلوه وقال ابن عباس يستتاب فان رجع والا فقتل . كتب ابوبكرؓ الصديق الى المهاجر فى امراة سبت النبى ﷺ لولا ما سبقتنى لا مرتك بقتلها لان حد الانبياء لا يشبه الحدود فمن تعاطى من مسلم فهو مرتد او من معاهد فهو محارب معاند قد يحتال الساب فينقل السب عن غيره فهو كفر خفى اذا التعريض به كالتصريح قيل الاجماع على تحريم رواية ما هجى به النبى عليه السلام وقراءته وكتابته ايما مسلم سب النبى أو حقره فقد كفر وبانت

صفحہ ١١٩

امرته (كتاب الخراج) الكافر بسب النبى لا تقبل توبة ومن شك فى كفره فقد كفرا (در مختار، بزازیه)“

پنجم ...... ”حديث من صلى صلوتنا...... المراد به لا يجوز تكفير اهل القبلة بذنب وليس المراد به مجرد التوجه الى قبلتنا فان ...... من الروافض لقائلين بان على هو الله او ان الوحى قد غلط ليسوا مومنين والذين اتفقوا على ماهو من ضروريات الدين واختلفو فيما سواها كصفات البارى فاختلفوا فى تكفيرهم ولا نزاع فى تكفير اهل القبلة المواظب على الطاعات طول عمره باعتقاد قدم العالم ونفى الحشر بالاجساد وموجبات الكفر ان غلا اهل الاهواء وجب اكفاره لانه ليس من الامة لا خلاف فى تكفير المخالف فى ضروريات الاسلام فمن انكرها واستهزأ بها فهو كافر ليس من اهل القبلة ومعنى عدم تكفير اهل القبلة ان لا يكفر بارتكاب المعاصى ولا بانكار الامور الخفية اهل القبلة المراد منه من هو موافق ضروريات الاسلام من غير ان يصدر منه شئ من موجبات الكفر نحو حلول الله فى بعض الاجسام . المتلبس بشئ من موجبات الكفر ينبغى ان يكون كافرا بلا خلاف تلعب الزنادقة والملاحدة بايات بالبواطن التى ليست من الشرع فى شئ فبلغ مبلغهم فى تعفية اثار الشريعة ورد العلوم الضرورية المنقولة عن السلف ويسير الخلاف لا يوجب التعادى بين المسلمين وهو ما وقع فى غير الضروريات ومراد الامام ابى حنيفة فى قوله لا نكفر اهل القبلة عدم التكفير بالذنب كالزنا والشراب عن انس قال رسول اللهﷺ ثلث من اصل ايمان الكف عمن قال لا اله الا الله ولا نكفره بذنب ولا تخرجه عن الاسلام بعمل وعن انس ايضا من شهد ان لا اله الا الله واستقبل قبلتنا وصلى صلوتنا واكل ذبيحتنا فهو المسلم له ما له وعليه ما عليه وفى البخارى الا ان ترى كفرا بواحا (صراحا) وفى البخارى يتكلمون بالسنتنا وهم دعاة الى ابواب جهنم من اجابهم اليها قذفوه فيها وما ورد في حديث ثلثون دجالا المراد به المدعون بالنبوة وما في بعض الروايات زيادة على الثلثين فالمراد انهم كذابون لا يدعون النبوة كالفرق الداعية الى خلاف ما جاء به محمدﷺ ومن جحد شيئا من الفرائض بشبهة

صفحہ ١٢٠

فيطالب بالرجوع وان نصب القتال قوتل وان رجع والافقتل (فتح البارى ج ١٢ ص٢٤٨) ”ان تحریرات سے اہل قرآن کا کفر بھی ثابت ہو گیا ہے۔ کیونکہ وہ بھی اصول اسلام سے منکر ہیں اور اہل قبلہ میں داخل نہیں ہیں۔

ششم...... ” قال الغزالى فى كتابه التفرقة بين الايمان والزندقه يجب الاحتراز عن التكفير فان الخطاء فى تكفير الف كافر اهون منه فى سفك دم مسلم . قال ابن بطال ذهب جمهور العلماء الى ان الخوارج من المسلمين لقوله عليه السلام يتمارى فى الفوقة ولان من ثبت له عقد الايمان بيقين لم يخرج منه الابيقين قال الغزالى فى الوسيط الخوارج من الجماعة منهم اهل ردة ومنهم من خرج يدعو الى معتقداته اعتصاما بالقرآن والسنة فمنهم الامام حسين واتباعه ومنهم من خرج طلبا للحكومة وهم البغاة قال ابن دقيق العيد المسائل الاجماعية قد يصحبها التواتر عن الشارع فلا خلاف فى تكفير من خالفها اذ هو مخالف للجماعة ، وعن محمد بن الحسن انه قال من صلى خلف من يقول خلق القرآن اعاد صلوة تبرأ من القدرية عبدالله بن عمر ، وجابر وابوهريرة وابن عباس وانس بن مالك وعبدالله بن ابى اوفى وعقبه بن عامر واقرانهم واوصوا خلفهم بان لا يسلموا عليهم ولا يصلوا على جنائزهم ولا يعودوا مرضاهم . قال الثورى من قال ان القرآن مخلوق لهو كافر لا يصلى خلفه . قال ابو عبدالله البخارى ما باليت صليت خلف الجهمى والرافضى ام صليت خلف اليهود والنصارى . لا يسلم عليهم ولا يعادون ولا يناكحون ولا يشاهدون ولا توكل ذبائحهم . قال محمد بن الحسن والله لا اصلى خلف من يقول بخلق القرآن قال ابو يوسف ناظرت ابا حنيفة ستة اشهر فاتفق رأينا ان من قال بخلق القرآن فهو كافر . قال ابو حنيفه حنيفه لجهم اخرج عنى يا كافر سئل ابويوسف اكان ابو حنيفة يقول بخلق القرآن؟ فقال معاذ الله ولا انا اقوله اكان يرى رأى جهم؟ (كتاب الاسماء للبيهقى) اكثر اقوال السلف بتكفيرهم كليث وابن لهيعة وابن عيينة وابن المبارك ووكيع وحفص بن غياث وابو اسحاق هشيم وعلى بن عاصم وهو قول اكثر المحدثين والفقهاء والمتكلمين

صفحہ ١٢١

فيهم وفى الخوارج والقدرية واهل الاهواء المضلة واصحاب البدع المضلة وهو قول احمد والسنة ما اشتهر عن السلف وصح بطريق النص ولو لا لكان البدع كلها من السنن اذ لها شبهة بالعمومات والمحتملات والاستخراجات لا حاجة الى تفسير اركان الاسلام وانما يفسره المحرف سمع على رجلا يقول ان الحكم الا لله قال كلمة حق اريد بها غيره . وكل من انكر رؤية الله او يؤول بما لا يسمع فى الاسلام وكذا القائل بانه عليه السلام خاتم النبيين لكن معناه المنع التسمية فقط واما بمعنى البعثة والعصمة فهو موجود فى الائمة فهو زنديق فقد اتفق جمهور الحنفية والشافعية على قتل من يجرى هذا المجرى فى المبسوط لا تجوز الصلوة خلف اهل الاهواء عند الامام قالت الروافض لا يخلو الزمان من نبى ومن ادعى النبوة فى زماننا كفر ومن ركن اليه فهو ايضا كافر قتل عبدالملك بن مروان متنبئاً وصلبه وفعل مثله غير واحد من الخلفاء والملوك باشباههم واجمع العلماء على صواب رايهم فخلافه كفر . وكذا من انكر النقل المتواتر فى عدد ركعات الصلوة وقال انه خبر واحد ان المبتدعة وان اثبتوا الرسل لكن لا بحيث يثبتهم الاسلام فاثباتهم عدم التواتر اما اسناداً واما طبقة كتواتر القرآن والعمل باركان الاسلام والتوارث كالسواك وغيره خبر الواحد يعمل به فى الحكم بالتكفير وان كان جحده ليس بكفر " اس عبارت کا مطلب ہے کہ مرزائیوں سے میل ملاپ غمی شادی اور عبادات و معاملات میں نہ رکھا جائے ۔ اہل قرآن امۃ مسلمہ اور دیگر فرقہ ہائے اہل قرآن کے متعلق بھی یہی حکم ہے اور جو لوگ امام اعظمؒ کے بارے میں بدظنی رکھتے ہیں کہ آپ قرآن شریف کو قدیم نہ جانتے تھے وہ بھی اس عبارت کو غور سے پڑھیں۔

ليست النبوة مكتسبة حتى يتوصل اليها بالرياضة كما ظنه الحمقى وقد افتى المالكية بكفر من قال ان النبوة مكتسبة ولا تلحق الولاية بداية النبوة ابدا . فلو ان وليا تقدم الى عين ياخذ منها الانبياء لاحترق وان الله سد باب النبوة والرسالة عن كل مخلوق بعد محمدﷺ الى يوم القيمة . وان مقام النبى ممنوع دخوله . وغاية معرفتنا به من طريق الارث النظر اليه كما

صفحہ ١٢٢

ينظر من هو في اسفل الجنة الى من هو في اعلى عليين اوكما ينظر اهل الارض الى كوكب في السماء . وقد فتح لابى يزيد من مقام النبوة قدر خرم الابرة فكاد يحترق . قال ابن العربی من قال ان الله امره فليس ذلك تصحيح انما هو تلبيس لان الامر من قبيل الكلام وهو مسدود . ثم قال ان ابواب الامر والنهى قد سدت فكل من يدعيها بعد محمد ﷺ فهو مدعى الشريعة اوحى بها اليه سواء وافق شرعنا او خالف . فان كان المدعى مكلفا ضربنا عنقه والا فضربنا عنه صفحا “ شیخ اکبر کے نزدیک بھی مرزا قادیانی واجب القتل اور کافر ثابت ہورہے ہیں۔

محدثون فان يكن احد في امتى فانه عمر بن الخطاب المحدث ملهم او مصيب في رأيه (وقال في الفتح الاصابة غير النبوة) اومن يلقى في روعه شئى قبل الاعلام وهو المعتمد عند البخارى اومن يجرى الصواب على لسانه وروى متكلمون فالمتكلم من يكلم في نفسه اومن يكلمه الملائكة وليس المحدث من يكلمه الله اويخاطبه كما زعمه المرزا هذا قال المجدد في درر المعرفة مكتوب مشائخنا لا يثبتون الكلية والجزئية بين العالم وخالقه ومن الصوفية من قال العالم ظل الله ومن قال انما الموجود هو الله والاعيان ما شمت رائحة الموجود فيرد عليهم الاشكال فيمحلون في الجواب فانهم وانكانوا كاملين لكن كلامهم يهدى الناس الى الالحاد والزندقة وفي مكتوب ومشائخنا لا يغترون بترهات الصوفية ولا يفتنون بمواجيد هم ولا يختارون فضاء وفى مكتوب وعمل الصوفية كابی بكر الشبلي وابي الحسن النوری ليس بحجة حلالا وحراما انما الحجة قول الامام وصاحبيه وفى مكتوب اعلم كلامهم ليس بحجة مالم يوافق الشرع وان الصوفية المستقيمة الاحوال لم يتجاوزوا“

کفر کا فتویٰ لگاتے تھے اور دین الحق ص ٢٧ مصنفہ خلیفہ نور الدین قادیانی محررہ ٢٧؍ جنوری ١٩١٠ء میں یوں لکھا ہے۔ ”یاد رہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کے بعد مدعی رسالت اور مدعی نبوت ہوگا۔

پس وہ کافر اور جھوٹا ہے او نبی کریم ﷺ پر آ کر منقطہ نے اعلان نبوت کیا ہے۔ اصل بات کیا تھی؟ یا شاید جب مرزا قادیانی کی نسبہ بخوبی مطالعہ کیا تو ان کو بھی

بھی جاری کیا تھا۔ حضور کا کرے اسے مار ڈالو۔ ص آپ نے نہ اس وجہ سے ا نے ادائیگی زکوٰۃ اپنے اوپ آپ سے بحث نہ کرتے زندیقوں کو آگ میں جلو کی تھی تو حضرت ابن عبا حضور ﷺ کا ارشاد ہے: ” ابوموسیٰ اشعری نے یمن یہودی بن گیا تھا اور آپ خامس میں ہے کہ بنی اس ایک تو مذہب توحید چھوڑ کہ آپ کو خدا کا پتہ نہیں کی سزا دی گئی۔ جو اصل۔

اب خلاصہ یہ جہاں اسلامی تعزیرات چ نبوت حقیقی ، ادعائے نبوت نبوت، تحقیر انبیاء معہ توہین ارتداد عن مذہب الاسلام

صفحہ ١٢٣

پس وہ کافر اور جھوٹا ہے اور میرا ایمان ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر نبی کریم ﷺ پر آ کر منقطع اور ختم ہو گئی ہے۔‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ بقول محمود ١٩٠٢ء سے مرزا قادیانی نے اعلان نبوت کیا ہے۔ مگر ایسا گورکھ دھندہ بنا گئے ہیں کہ نورالدین قادیانی کو بھی معلوم نہ ہوا کہ اصل بات کیا تھی؟ یا شاید عدم توجہ سے کسی نے خلافت اوّل کے اندر بھی احساس نہ کیا ہو۔ لیکن جب مرزا قادیانی کی نسبت علمائے اسلام کی رائے مرزا محمود قادیانی نے دیکھی اور اعلانِ نبوت کا بخوبی مطالعہ کیا تو ان کو بھی علمائے اسلام سے متفق ہونا پڑا۔

دہم ...... قتل مرتد کا مسئلہ قرآن شریف میں سنت قدیمہ ہے۔ جس کو اسلام نے بھی جاری کیا تھا۔ حضور کا ارشاد ہے کہ: ”من بدل دیناً فاقتلوہ“ جو مذہب اسلام تبدیل کرے اسے مار ڈالو۔ صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں جن مسلمانوں نے زکوٰۃ کی فرضیت سے انکار کیا آپ نے نہ اس وجہ سے ان کو مار ڈالا کہ انہوں نے بغاوت کی تھی۔ بلکہ صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ادائیگی زکوٰۃ اپنے اوپر لازم نہیں سمجھی تھی۔ اگر صرف بغاوت موجب قتال ہوتی تو حضرت عمرؓ آپ سے بحث نہ کرتے۔ فتح الباری ج ١٢ میں مذکور ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان زندیقوں کو آگ میں جلوا دیا تھا کہ جنہوں نے آیات قرآنیہ اور عبادات اسلامیہ میں تبدیلی پیدا کی تھی تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا تھا کہ میں ہوتا تو ان کو جلانے کی بجائے مروا ڈالتا۔ کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے: ”من بدل دیناً فاقتلوہ“ امام بخاریؒ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری نے یمن میں ایک مرتد کو قتل کر ڈالا تھا۔ جو پہلے یہودی تھا پھر مسلمان ہوا اور پھر یہودی بن گیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ: ”ھذا قضاء اللہ ورسولہ“ تفسیر روح المعانی جلد خامس میں ہے کہ بنی اسرائیل گوسالہ پرستی کے پاداش میں قتل کئے گئے تھے۔ کیونکہ انہوں نے ایک تو مذہب توحید چھوڑ دیا تھا اور دوسری توہین موسیٰ علیہ السلام کے مرتکب ہوئے تھے۔ کہتے تھے کہ آپ کو خدا کا پتہ نہیں چلا تب ہی تو پہاڑ پر چلے گئے ہیں۔ سامری چونکہ منافق تھا۔ اس کو لامساس کی سزا دی گئی۔ جو اصل سے بھی بدتر تھی۔

اب خلاصہ یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کسی ایسی اسلامی سلطنت میں مدعی نبوت ہوتے جہاں اسلامی تعزیرات جاری ہوتی تھیں تو آپ پر دس طریق کے فرد جرم لگ جاتے۔ ادعائے نبوت حقیقی، ادعائے نبوت غیر تشریعی، اکتساب نبوت، تکفیر اہل اسلام، انکار ختم رسالت، اجرائے نبوت، تحقیر انبیاء معہ توہین عیسیٰ بن مریم علیہ السلام۔ استہزاء بمسائل الاسلام تجویز عقائد جدیدہ ارتداد عن مذہب الاسلام تضلیل امت محمدیہ تحریف قرآن وحدیث۔

صفحہ ١٢٤

FC

٩..... تصریحات اسلام اور ختم نبوت

اجرائے نبوت کے متعلق مرزا قادیانی سے پہلے مسیح ایران (علی محمد باب) نے یوں کہا تھا کہ نبی اصطلاح قدیم میں خواب دیکھنے والے کو کہتے ہیں اور خاتم النبیین کا معنی یہ ہے کہ حضور کی بعثت سے خواب دیکھنے والوں کا زمانہ ختم ہوگیا ہے اور مشاہدہ کرنے والوں کا زمانہ شروع ہوگیا ہے۔ جو اپنی کشفی حالت میں دیکھ کر احکام الٰہی بیان کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے حضورﷺ نے فرمایا کہ: ’’علماء امتی افضل من انبیاء بنی اسرائیل‘‘ یعنی ائمہ اہل بیت انبیاء بنی اسرائیل سے افضل ہیں اور قرآن شریف میں ہے کہ: ’’یلقی الروح من امرہ علیٰ من یشاء من عبادہ‘‘ کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے القاء وحی کے لئے انتخاب کرلیتا ہے اور یوں بھی آتا ہے کہ: ’’اما یاتینکم رسل منکم‘‘ جب تمہارے پاس رسول آئیں تو تم کو ان کی اطاعت کرنا ہوگی۔ پس بعثت رسل اور القاء وحی قرآن شریف کی رو سے ہمیشہ کے لئے جاری ہے اور انقطاع وحی رسالت کا دعویٰ کرنا خلافِ قرآن وحدیث ہے۔ مگر بدقسمتی سے مسلمانوں میں ختم رسالت کا مسئلہ جاری ہوگیا ہے اور کہتے ہیں کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہود اور عیسائی بھی کہتے تھے کہ زمین وآسمان کا ٹل جانا ممکن ہے۔ مگر ہماری شریعت کا زوال ممکن نہیں ہے۔ مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کہنا شروع کر دیا کہ ہمارے نبی آخر الزمان نبی ہیں۔ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور وہ بات سچ نکلی جو حضورﷺ نے فرمائی تھی کہ: ’’لتسلکن سنن من قبلکم‘‘ تم لوگ بھی یہود ونصاریٰ کی سنت پر چلو گے۔ اسی واسطے حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرمایا کرتے تھے کہ: ’’انہم ائمۃ الکتاب ولیس الکتاب معہم‘‘ یہ لوگ قرآن کی پیشوائی کرتے ہیں اور قرآن کو اپنا پیشوا نہیں سمجھتے۔ اگر قرآن شریف پر عمل کرتے تو پارہ اول میں صاف لکھا تھا کہ: ’’فاما یاتینکم منی ھدیٰ‘‘ میری طرف سے تم کو ہدایت آیا کرے گی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول آیا کریں گے۔ پھر سورۃ آل عمران رکوع ٩ اور سورہ احزاب رکوع اوّل میں ارشاد ہے کہ خدا تعالیٰ نے انبیاء سے عہد لیا تھا کہ ایک نبی علی محمد باب آئے گا اور تم کو واجب ہے کہ اس کی اطاعت کرو اور مدد کے لئے کھڑے ہوجاؤ۔

اب یہ معلوم ہو گیا کہ ارسال رسل سنۃ اللہ ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوسکتی۔ ’’فلن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا (ماخوذ از کتاب مبین وکتاب التوضیح وابی البرکات البانی)‘‘ فرقہ محمودیہ بھی آیت میثاق سے اپنے نبی قادیانی کو سید المرسلین ثابت کرتا ہے۔ اصل میں قرآن شریف پر پورا عبور نہ ہونے کی وجہ سے یہ سب کچھ گھڑا گیا ہے۔ ورنہ اگر تاریخ قرآن

صفحہ ١٢٥

پر نظر ڈالی جائے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ دونوں آیتیں ”اما یاتینکم رسل منکم“ اور ”اما یاتینکم منی هدیٰ“ مکی سورتوں میں مذکور ہیں کہ جن میں بحکم ”انه لفی الصحف الاولیٰ“ کتب سماویہ سابقہ کے مضامین دھرائے گئے ہیں اور احکام قدیمہ کو دھرا کر توجہ دلائی گئی ہے کہ اسلام کا داعیہ توحید صرف آج سے نہیں بلکہ حضرت آدم سے دعوت توحید چلی آئی ہے اور انبیاء سابقین بھی یہی دعوت دیتے رہے ہیں۔ نہ یہ کہ ان آیات میں امت محمدیہ کو کہا گیا تھا کہ تم میں ہدایت آئے گی یا رسول آئیں گے۔ ان میں تو رسول ہدایت کے لئے آچکا تھا تو پھر ان کو کہنے کی کیا ضرورت تھی اور مکہ میں ابھی اک مٹھی بھر مسلمان تھے۔ امت کہاں تھی؟ اور اسلام کا آغاز تھا اور یہ موقعہ ہی نہ تھا کہ ان سے کہا جاتا کہ تم بگڑو گے تو اس وقت رسول بھیجے جائیں گے کہ آمدی ولے پیر شدی کا حساب تھا۔ اس واسطے یوں خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ ان آیات میں امت محمدیہ سے خطاب ہورہا ہے۔ ہاں دراصل پیدائش آدم سے تا ظہور نبی آخر الزمان تمام امم سابقہ مخاطب ہیں اور ان آیات میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ بعثت رسل سنت الہی ہے اور اس کے مطابق حضور کی بعثت بھی ہوئی ہے۔ اس بعثت کی تائید کے لئے آیت میثاق بھی سورہ عمران اور سورہ احزاب میں ذکر ہوئی ہے کہ چونکہ انبیاء سے یہ وعدہ لیا گیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کے مصدق اور ناصر بنیں۔ اس لئے انبیاء سابقین نے نبی آخر الزمان کی تصدیق اور آپ کی نصرت وامداد کے لئے اپنی اپنی شریعت میں امت کو احکام نافذ فرما دیئے اور اسی اصول کے مطابق خود حضورﷺ نے بھی انبیاء سابقین کی تصدیق کی اور ان کے احترام قائم رکھنے میں بڑے زور سے کام لیا اور قیامت کو بھی ان کی تصدیق کے لئے کھڑے ہو کر عدم تبلیغ کا دھبہ ان سے دور کریں گے اور امت محمدیہ بھی آپ کی تائید میں انبیاء کی نصرت وتائید میں کھڑی ہوجائے گی۔ تاکہ یہ عہد خداوندی پورا ہو کہ ”لیکون الرسول علیکم شهیدا“ اور ”لتکونوا شهداء علی الناس“ اس لئے آیات سابقہ کا خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ نبوت محمدیہ کے اثبات کے لئے اہل کتاب کو توجہ دلائی گئی تھی کہ وہ اپنے پرانے مخطوطات مطالعہ کرکے آپ کی تصدیق کریں۔ ورنہ اگر امت محمدیہ کو خطاب سمجھا جائے تو نبوت محمدیہ مقام استدلال میں بالکل خالی رہ جاتی ہے۔ کیا کوئی مسلمان گوارا کر سکتا ہے کہ آپ کی نبوت بلا دلیل رہے؟

خاتم النبیین کے ماتحت نبی کا معنی خواب دیکھنے والا کرنا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ خواب تو چھیالیسواں جزو نبوت ہے۔ جو آپ کے بعد امت محمدیہ کو عنایت ہوا ہے تو پھر اس کا انقطاع کیسے ہوگا؟ اس معنی کی تائید میں یہ کہنا کہ پہلے انبیاء خواب دیکھتے تھے اور ان کی کتابوں کا نام رؤیا رکھا گیا

صفحہ ١٢٦

تھا۔ کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ان کو نبوت اس لئے نہیں ملی تھی کہ ان کو خواب آتے تھے۔ بلکہ نبوت کا مفہوم وحی الٰہی تھی جو خوابوں کے علاوہ ان کو دی گئی تھی۔ اس لئے خاتم النبیین کا صحیح مفہوم یہ ہوگا کہ حضورﷺ کے بعد وحی رسالت نہیں آئے گی۔ جیسا کہ خود حضورﷺ نے بھی فرما دیا تھا کہ: ”لا نبی بعدی“ میرے بعد وحی نبوت منقطع ہو چکی ہے اور کوئی جدید مبعوث ہو کر نہیں آئے گا۔

پہلا مغالطہ

مرزائی اور بہائی دونوں جریان نبوت کے لئے قرآن شریف سے دو قسم کے استدلال پیش کرتے ہیں۔ اوّل یہ کہ: ”اما یاتینکم رسل“ تمہارے پاس رسول آئیں گے یا یہ کہ: ”اما یاتینکم منی ھدی“ کہ تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت یعنی کتاب اللہ آئے گی۔

اور اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خطاب عام مخلوقات بنی نوع انسان کے لئے ہے۔

صرف امت محمدیہ سے خطاب نہیں ہے۔ دوم یہ کہ: ”اذ اخذ اللہ میثاق النبیین (احزاب، آل عمران)“ خدا نے انبیاء سے عہد لیا تھا کہ ایک رسول آئے گا اور تم کو اس کی تصدیق کرنا ہو گی۔ جس سے مراد مرزائیوں کے نزدیک مسیح قادیانی ہے اور بہائیوں کے نزدیک مسیح ایران بہاء اللہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ آل عمران میں ما قبل و ما بعد مطالعہ کرنے سے ثابت ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ آئیں گے تو تم کو تصدیق کرنا ہوگا۔ کیونکہ اس آیت میں یا تو مراد صرف انبیاء بنی اسرائیل ہیں کہ جنہوں نے اپنی اپنی امت سے حضرت نبی کریم ﷺ کی تصدیق کی نصیحت کی تھی اور وعدہ اطاعت لیا تھا اور خود بنی اسرائیل کا وعدہ بذریعہ انبیاء مراد ہے۔ کیونکہ یہ آیت حضور کے حق میں ہے کسی دوسرے کے حق میں نہیں ہے اور سورہ احزاب میں اخذ میثاق سے مراد عہد تبلیغ ہے۔ جو ہر ایک نبی سے لیا گیا ہے۔ تا کہ قیامت میں اس کی تصدیق کی جائے اور دونوں آیتوں کو ایک آیت سمجھ کر نئے نبی کی تصدیق کے لئے وعدہ نکالنا تشریحات آیت سے بالکل خلاف ہے اور اسلام نے اس کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ اس لئے یہ خود رائی اہل اسلام کو منظور نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگر یہاں کسی نئے نبی کی تصدیق مراد لی جائے تو یہ کیا ضروری ہوگا کہ اس سے مرزا قادیانی ہی مراد لئے جائیں۔ مسیح ایران ان سے پہلے تھا اسے مراد کیوں نہیں لیا جاتا؟

دوسرا مغالطہ

سورہ مؤمن میں مذکور ہے کہ: ”لن یبعث اللہ من بعدہ رسولا“ خدا کبھی کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ یہ مقولہ کفار کا ہے۔ اس لئے بعثت انبیاء جاری رہے گی۔

صفحہ ١٢٧

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مقولہ قرآن شریف میں ”مؤمن آل فرعون“ کی طرف سے درج ہوا ہے کہ جس نے اپنی قوم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصدیق دعوت دی تھی اور ڈانٹ کر بتایا تھا کہ اے قوم تم میں پہلے یوسف علیہ السلام نبی ہو کر آئے اور تم نے ان کی تعلیم سے تنگ آ کر کہا تھا کہ یوسف علیہ السلام مرنے کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا تو وہ بات غلط نکلی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہو کر آ گئے۔ اب اس واقعہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضورﷺ کے بعد بھی بعثت انبیاء کا انکار مؤمن آل فرعون نے مردود قرار دیا تھا۔ کیونکہ زیر بحث اس وقت صرف بعثت موسیٰ علیہ السلام تھی نہ کہ بعثت انبیاء بعد خاتم النبیین۔ اب ایک واقعہ کو دوسرے واقعہ پر چسپاں کرنا محض بے انصافی ہے۔ جس کی تصدیق اسلامی روایات میں نہیں ملتی۔

تیسرا مغالطہ

مرزائی ”اھدنا الصراط المستقیم“ سے بعثت انبیاء یوں ثابت کرتے ہیں کہ مکالمہ الہیہ نعمت عظیم ہے جو انبیاء کو دی گئی اور امت محمدیہ کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ منعم علیہم کا راستہ طلب کیا کرے۔ جس کی تشریح آیت: ”اولئک الذین انعم اللہ علیھم من النبیین“ کرتی ہے۔ پس جو شخص انبیاء کے راستہ پر چلے گا تو ان کی تابعداری میں نبوت حاصل کر لے گا۔ چنانچہ بقول مرزا صاحب قادیانی اسی اصول سے نبی بنایا گیا تھا۔ کیونکہ ظہور مسیح ابن مریم کی پیشین گوئی مرزا قادیانی سے ہی وابستہ تھی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ: ”صراط مستقیم“ سے مراد وہ طرز عمل ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ ”انک لتھدی الی صراط اللہ (شوری)“ کہ آپ لوگوں کو صراط مستقیم کی راہ بتلاتے ہیں۔ جس کو صراط اللہ کہا گیا ہے اور یہ وہی راستہ ہے کہ سورہ یوسف علیہ السلام میں آپ کو ارشاد ہوا ہے کہ آپ اعلان کر دیں کہ: ”علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی“ میں اور میرے تابعدار صراط مستقیم اور بصیرت افزا طریق پر قائم ہیں۔ اس کی تصریح آپ نے فرقہ ناجیہ کی تعریف میں یوں مروی ہے کہ: ”ما انا علیہ واصحابی“ یہ صراط مستقیم وہ اسلامی طریق عمل ہے کہ جس پر میں قائم ہوں اور میرے اصحاب اب خلاصہ یوں ہوا کہ ہمیں حکم ہے کہ ہم بدیں الفاظ دعاء کریں کہ ہم کو اسوہ حسنہ پر قائم رہنے کی توفیق عنایت فرمائی جائے اور یہی صراط مستقیم ”فبھداھم اقتدہ“ میں حضور کے لئے مخصوص تھا اور امت کے لئے فاتبعونی میں خاص ہو گیا ہے اور ”منعم علیھم“ سے مراد تمام صحابہ بھی ہیں۔ کیونکہ ”انعمت علیہ (احزاب)“ میں صحابہ ہی کو مراد لیا گیا ہے اور تخصیص انبیاء کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اگر مان لیا جائے کہ انبیاء کے

صفحہ ١٢٨

راستہ پر چلنے سے انسان نبی بن سکتا ہے تو یہ بھی لازم آتا ہے کہ انسان خدا بھی بن جائے۔ کیونکہ اسی صراط مستقیم کو صراط اللہ بھی کہا گیا ہے اور مع کا لفظ ہمیشہ مصاحبت مع غیریت ظاہر کرتا ہے۔ جیسا کہ: ”ان اللہ مع المحسنین“ میں ہے کہ اس کی امداد و نصرت نیکو کاروں کے ہمراہ رہتی ہے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا محسنین کا روپ بدلتا رہتا ہے۔ ممکن ہے کہ آریہ کی طرح مرزائی بھی اس کو تسلیم کریں اور تاریخ قرآن پر نظر ڈالنے سے بالکل مطلع صاف ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں ایک اصول کی طرف اشارہ ہے جو المرء مع من احب میں مذکور ہے۔ چنانچہ ایک صحابی نے حضورﷺ سے عرض کیا تھا کہ دنیا میں تو آپ کا دیدار حاصل ہے۔ آخرت میں چونکہ درجات مختلف ہوں گے۔ آپ سے دیدار کیسے حاصل ہوگا۔ تو اس کا جواب اس آیت میں یوں دیا گیا تھا کہ اطاعت رسول دیدار حاصل کرنے کا بہترین طریق ہے۔ جس کی تشریح حضورﷺ نے احادیث میں فرمادی ہے کہ اہل جنت ایک دوسرے سے جب چاہیں گے ملاقات کریں گے۔ ان کو کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ اب اس معیت سے مراد معیت فی الجنۃ ہے۔ نہ کہ معیت فی النبوۃ۔ اگر معیت فی النبوۃ مراد لی جائے تو یوں ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی سے پہلے کوئی بھی صراط مستقیم پر نہ تھا۔ کیونکہ کسی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزائی قرآن شریف میں تحریف معنوی کے مرتکب ہیں اور ان کو تصریحات اسلام سے کوئی سروکار نہیں رہا۔

چوتھا مغالطہ

”یجتبی من رسلہ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ نبی ہوں گے اور ان کو اطلاع علی الغیب میں انتخاب کیا جائے گا۔

اس کا جواب یہ ہے بعثت انبیاء کے سلسلے میں آپ آخری نبی ہو کر مبعوث ہوئے تھے اور اپنی صداقت پیش کرنے کے لئے سنت اللہ پیش کیا کرتے تھے۔ جس کی ایک نظیر یہ بھی ہے کہ اطلاع علی الغیب خاصۂ انبیاء ہے۔ اس لئے ہم کو بھی اطلاع علی الغیب ہو جاتی ہے۔ اب اس مقام پر ایک اصول کو پیش گوئی تصور کرنا غلط ہوگا۔ ورنہ لازم آئے گا کہ امت محمدیہ کو آئندہ انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہو نہ کہ حضرت رسول اکرمﷺ پر۔ کیونکہ اسی آیت کے آخر پر مذکور ہے: ”فامنوا بالله ورسوله“ اور یہ مذکور نہیں ہے کہ ”امنوا بالله وهذا الرسول“

پانچواں مغالطہ

”وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا وان من قرية الا خلا فیها نذیر ٠ وان من قرية الا نحن مهلكوها او معذبوها قبل یوم القیمة“ ان آیات میں

صفحہ ١٢٩

خدا تعالیٰ نے ایک اصول پیش کیا ہے کہ ہم رسول بھیج کر اتمام حجت کر لیتے ہیں تو اہل قریہ کی نافرمانی پر ہم عذاب دیتے ہیں اور یہی قاعدہ قیامت تک چلے گا اور اسی کے ماتحت ہم تمام بستیوں کو ہلاک کر دیں گے یا سخت عذاب میں مبتلا کریں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سلسلہ بعثت جاری ہے۔

جواب یہ ہے کہ بیشک اس مقام پر ایک اصول مذکور ہے۔ مگر یہ مذکور نہیں ہوا کہ ایک نبی کی بعثت کا زمانہ خاص حد تک ہے۔ اس لئے ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی کریمﷺ کی بعثت کا زمانہ قیامت تک ہے اور اسی کے ماتحت یہ تمام واردات واقع ہونے والی ہیں۔ ورنہ اگر بعثت نبی کا زمانہ صرف حیات تک رہنا تسلیم کیا جائے تو اس غلط اصول کے مطابق ہر ایک زمانہ میں اور ہر ایک بستی میں ایک نہ ایک کا مبعوث ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔ کیونکہ قریہ کا لفظ ہر چھوٹی بڑی بستی کو شامل ہے۔ ارے قادیان کا نبی تو تیرہ سو سال بعد تم کو مل گیا۔ ارد گرد کی تمام بستیوں کے نبی کس نے دریافت کئے اور نہیں تو ام القریٰ بٹالہ، لاہور، امرتسر، دہلی اور پشاور کا نبی تو بتایا جائے تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ ہر ایک بستی میں یا ہر ایک ام القریٰ میں ضرور نبی آتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے قرآن کے اصلی مطالب کو خیر باد کہہ دیا ہوا ہے۔ ورنہ اصل مطلب یہ ہے کہ جن بستیوں کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے ان میں بے شک انبیاء ضرور مبعوث ہوتے آئے ہیں اور ان کی نافرمانی سے ان پر عذاب بھی آ چکا تھا۔ اب حضورﷺ کی بعثت کے وقت بھی یہی قاعدہ بتایا گیا ہے کہ حسب دستور سابقہ اب بھی ام القریٰ مکہ میں رسول مبعوث ہوا ہے اور اس کے نہ ماننے سے بھی عذاب ہوگا اور یہ جو کہا گیا ہے کہ ہم ایک بستی کو ہلاک یا معذب کریں گے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب بھی بربادی آتی ہے تو وہاں ایک رسول ضرور ہوتا ہے۔ کیونکہ بربادی کے اسباب ہزاروں ہوتے ہیں۔ جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے کہ زنا بھی موجب بربادی ہے اور جھوٹی قسم بھی موجب بربادی ہے اور اگر بربادی کو زیر اثر بعثت انبیاء ہی لینا ضروری سمجھا جائے تو پھر بھی بعثت رسل کا سلسلہ ثابت نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کی بعثت تاقیامت ہے اور یہ تمام واقعات اسی بعثت محمدیہ کے ماتحت ہیں۔ جو صرف ایک دفعہ ہی عرب میں ہو چکی ہے اور اگر بعثت ثانی کا قول کیا جائے تو ہر ایک بستی میں بعثت ثانیہ کو تسلیم کرنا پڑے گا اور نبی سرور کی طرح ہر گھر میں ایک ایک محمد ہوگا اور کروڑوں کی تعداد میں بعثت ثانیہ ظہور پذیر ہوگی۔ (معاذ اللہ)

چھٹا مغالطہ

”هو الذی ارسل رسولہ بالہدی...... لیظہر علی الدین کلہ“ اس

صفحہ ١٣٠

آیت میں ایک پیشین گوئی ہے کہ خدا تعالیٰ ایک نبی مبعوث کرے گا۔ جس کو خدا تعالیٰ تمام ادیان پر مظفر و منصور کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ وہ نبی مرزا قادیانی ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وقتِ نزول سے پہلے ایسے رسول کا ظہور ہو چکا ہے کہ جس کو تمام ادیان پر غلبہ ہوگا۔ وہ نبی خود رسول کریم ﷺ ہی ہیں کہ جنہوں نے یہود و نصاریٰ، بت پرست، ستارہ پرست اور مادہ پرست اقوام پر ظاہری اور باطنی دونوں طرح غلبہ حاصل کیا تھا۔ جیسا کہ تاریخ اسلام اس پر شاہد ہے۔ اگر اس آیت کا یہ معنی لیا جائے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے رسول کو بھیجنا تقدیر میں مقرر کر لیا ہے جس کو آئندہ کسی وقت میں قیامت سے پہلے بھیجے گا اور اس سے تمام ادیان کو مغلوب کرے گا تو اس لحاظ سے رسول سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہوں گے۔ جو اسلامی سلطنت قائم کر کے یہود و نصاریٰ کو داخلِ اسلام کریں گے اور سوائے اسلام کے کوئی دوسرا دین قبول نہ کریں گے اور یہود و نصاریٰ کا ایسا استیصال ہوگا کہ ان کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ اگرچہ ایسے اہل کتاب میں خود اسلام قبول کرنے کے بعد بھی پرانی عداوتیں قائم رہیں گی اور منافقانہ صورت میں مسلمان بنیں گے۔ لیکن مغلوب ہو کر اسلام کے نیچے دب کر رہیں گے۔ اسلام کو دبانے والی طاقت دنیا میں اس وقت کوئی نہ ہوگی۔ یہ معنی بھی اہلِ اسلام کو مقبول ہے۔ تیسرا معنی اس کا یوں کیا جاتا ہے کہ اس آیت سے مراد مرزا قادیانی ہے کہ جس نے گھر بیٹھے ہی اپنے خیال میں تمام ادیان پر غلبہ پالیا ہے اور انگریزی حکومت کی کاسہ لیسی میں تن من دھن سب کچھ وقف کر دیا ہے اور خود عیسائیت میں جذب ہو کر اپنا اسلامی احساس بھی کھو بیٹھا ہے اور بھنگن کی طرح اپنی قوتِ شامہ ضائع کرنے کے بعد کہنے لگ گئے ہیں کہ میرے آنے سے تمام بدبو جاتی رہی ہے۔ یہ معنی اگرچہ داخلۂ بیعت کے بعد تو ماننا پڑتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی جب بعثتِ ثانیہ محمدیہ کا ظہور ہیں تو قرآن شریف بھی نزول ثانی کا ظہور ہوگا۔ گو پہلے نزول میں اس آیت سے نبی کریم مراد ہوں۔ مگر نزولِ ثانی میں (براہینِ احمدیہ کے اندر) اس رسول سے مراد مرزا قادیانی ہیں۔ لیکن جو شخص ابھی تک بیعت نہیں کرتا اس سے یہ توقع رکھنا کہ صرف ہمارے کہنے سے رسول سے مراد مرزا قادیانی تسلیم کر لے، بالکل قرین قیاس نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک یہ صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ اس پر کوئی قابلِ تسلیم دلیل پیش نہیں کی گئی اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت مسیح کا ایک نشان بھی مرزا قادیانی میں تسلیم نہ کیا جائے۔ کیونکہ آپ محکوم ہیں۔ حاکم نہیں۔ آپ عجمی المولد ہیں۔ دمشقی المظہر نہیں اور آپ کا نزول بعد ظہور مہدی ہے۔ مگر مرزا قادیانی سے پہلے کوئی مہدی نہیں ہوا۔ جو مرزائیوں کے نزدیک تسلیم کیا گیا ہو۔

صفحہ ١٣١

بہرحال ایسی بیشمار علامتیں ہیں جن میں سے ایک کا وجود بھی بغیر تاویل کے مرزا قادیانی میں نہیں پایا جاتا۔ آخر تاویل کب تک چلے گی۔ اگر تاویل ہی کا سلسلہ چلانا منظور ہے تو ہم کسی بندر کو تاویل سے انسان ثابت کرتے ہیں کیا آپ منظور کرلیں گے؟ (براہین احمدیہ ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٤) میں ایک دعویٰ کیا تھا کہ: ”ہمارے زمانہ میں تمام اطراف عالم میں اسلام پھیل جائے گا۔“ مگر وہ بھی پورا نہ ہوا اور آپ مرگئے۔

ساتواں مغالطہ

”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ اس آیت میں خود حضرت مسیح علیہ السلام نے پیشین گوئی کی ہے کہ میرے بعد ایک رسول احمد نامی آئے گا۔ رسول اکرم ﷺ کا نام تو محمد تھا۔ احمد نہ تھا۔ اس لئے یہ پیشین گوئی مرزا قادیانی سے تعلق رکھتی ہے۔ بے شک نزول اوّل میں اس کا تعلق حضور سے تھا۔ مگر نزول ثانی میں اس کا تعلق مرزا قادیانی سے ہے۔ پس اس سے نزول مسیح اور جریان نبوت دونوں کا ثبوت مل جاتا ہے۔

جواب یہ ہے کہ مادری نام بھی تو مرزا قادیانی کا غلام احمد ہے۔ صرف احمد نہیں ہے۔ اگر یہ عذر ہو کہ خدا تعالیٰ نے اپنے الہام میں احمد کہہ کر پکارا ہے تو ہم بھی کہیں گے کہ حضور ﷺ کا نام بھی آسمان میں احمد تھا۔ صحف متقدمہ تاریخ قدیم اور اقوال سابقین میں بھی آپ ﷺ کا نام احمد ہی معلوم ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کی والدہ نے بھی تفہیم الٰہی کے مطابق آپ ﷺ کا نام احمد ہی رکھا تھا۔ آپ ﷺ کے جد امجد عبدالمطلب نے البتہ آپ ﷺ کا نام محمد رکھا تھا۔ جو مکہ میں زیادہ مشہور ہوگیا تھا اور مخالفوں نے آپ ﷺ کو محمد کی بجائے مذمم کہنا شروع کردیا تھا۔ اس وجہ سے مسلمانوں نے محمد ہی کہنا شروع کردیا اور احمد کثیرالاستعمال نہ رہا۔ ورنہ دونوں نام علمیت کے لحاظ سے برابر حیثیت رکھتے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی وصفی نام نہ تھا۔ جیسا کہ مرزائیوں کا خیال باطل ہے۔ اس واسطے یہ دلیل بھی داخلہ بیعت کے بعد مفید ہوسکتی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے جب بعثت ثانیہ اور نزول ثانیہ ہی ہمارے نزدیک مسلم نہیں تو ہم کیوں بے بنیاد بات پر ایمان تبدیل کریں اور خارج از بیعت ایک ہی دلیل لکھی ہے اور وہ بھی صرف ایک دعویٰ کہ احمد وصفی نام ہے اور محمد ذاتی نام ہے۔ اس لئے یہ آیت نبی کریم ﷺ پر چسپاں نہیں ہوسکتی تو اس کے جواب میں ہم نے بھی دو باتیں پیش کردی ہیں۔ اوّل یہ کہ مرزا قادیانی کا نام بھی اسم علم تو غلام احمد ہے۔ ہاں وصفی طور پر (بقول مرزایاں) احمد وصفی لقب ہوگا۔ علم ذاتی نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اس آیت سے نہ جریان نبوت ثابت ہوئی اور نہ صداقت مرزا کا نشان ملا۔

صفحہ ١٣٢

آٹھواں مغالطہ

”محمد رسول اللہ، اللہم صل علیٰ محمد، ان محمد عبدہ ورسولہ، من محمد رسول اللہ “ اس قسم کی عبارتیں قرآن شریف، درود شریف، اذان اور تبلیغی خطوط میں موجود ہیں کہ جن سب میں محمد کا لفظ مذکور ہوا ہے اور کسی جگہ بھی احمد کا لفظ نہیں آیا۔ اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جس احمد کی بشارت دی تھی وہ محمد نہیں ہے احمد ہے۔

اس کا جواب یوں ہے کہ خود مرزا قادیانی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ احمد سے مراد محمد ﷺ ہی ہیں کوئی اور نہیں۔ چنانچہ (آئینہ کمالات ص ٤٢، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ اس دنیا میں تمام بنی نوع انسان کا آنا جانا یکساں ہے۔ مسیح بھی اسی طرح دنیا سے مر کر رخصت ہوا۔ ابھی تک اگر زندہ ہے تو ”من بعدی اسمہ احمد “ کی پیشین گوئی نبی کریم ﷺ پر صادق کیونکر ہوئی۔ کیا نزول مسیح علیہ السلام کے بعد کوئی اور احمد آئے گا۔ (اربعین نمبر ٤ ص ١٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٣ مجریہ ١٩٠٠ء) میں ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ کے دو نام ہیں۔ اوّل محمد جو تورات میں مذکور ہے۔ ”محمد رسول اللہ والذین معہ “ کا اشارہ اسی کی طرف ہے دوم احمد جو انجیل میں مذکور ہے اور ”من بعدی اسمہ احمد “ سے مراد یہی نام ہے۔‘‘ نیز ملاحظہ ہو۔ اگر کسی اور کی سند مرزائیوں کے نزدیک معتبر ہوسکتی ہے تو مدارج النبوۃ میں لکھا ہے کہ حضرت حسان بن ثابتؓ نے ہاتف سے سنا تھا کہ: ”یا احمد یا احمد اللہ اعلیٰ وامجد اتاک ما وعدک بالخیر یا احمد “ ایک یہودی نے کہا تھا کہ: ”قد طلع نجم احمد اللیلۃ “ خدائے آدم سے کہا تھا کہ: ”آخر الانبیاء من ذریتک احمد “ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ جو احمد کا منکر ہے وہ داخل جہنم ہوگا۔ طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں سوق...... ملک شام میں گیا تو ایک راہب نے پوچھا کہ کیا احمد مکہ میں پیدا ہوگئے ہیں۔ میں نے کہا ہاں! کہا وہ آخرالانبیاء ہیں۔ مدینہ میں ہجرت کریں گے ایک یہودی مکہ میں اترا تھا تو میلاد کی رات کہنے لگا کہ آج قریش میں احمد ظاہر ہو گئے ہیں۔ یہود خیبر، یہود فدک، یہود بنی قریظہ اور یہود بنی نضیر کے پاس ایک تحریر موجود تھی جس میں حضور ﷺ کی صفت لکھی ہوئی تھی۔ چنانچہ لیلۃ المیلاد میں سب کہتے تھے کہ: ”طلع نجم احمد “ ابن بطا یہودی کا قول ہے کہ میرے پاس ایک تحریر ہے کہ: ”فیہ ذکر احمد “ مقوقس شاہ مصر کا قول ہے کہ ”لیس بینہ وبین عیسیٰ نبی وہو آخر الانبیاء امرنا عیسیٰ باتباعہ وہو النبی الذی اسمہ احمد “ ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں یہود کہتے تھے

صفحہ ١٣٣

کہ حرم شریف میں ظہور احمد قریب ہے تو میں نے زبیر بن باطا رئیس الیہود سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ سرخ ستارہ نمودار ہو گیا ہے۔ جو ظہور نبی کی علامت ہے۔ اس وقت انبیاء میں سے کوئی نہیں رہا کہ جس کا انتظار ہو۔ صرف نبی احمد آخر الانبیاء کا انتظار باقی ہے۔ آپ ہجرت کر کے یثرب آئیں گے۔ عبداللہ بن سلامؓ سے خود حضورﷺ نے دریافت کیا تھا کہ میرے متعلق تورات میں کیا لکھا ہے تو آپ نے کہا کہ اس میں ہے: ”من صفت كذا وكذا واسمه احمد “ عجائب القصص فارسی میں ہے کہ حضورﷺ کی والدہ ایک دفعہ مدینے آئی تھیں تو حضورﷺ سے کسی یہودی نے پوچھا تھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ تو میں نے کہا اسمی احمد تو اس نے میرے عیال کو بتایا کہ: ”ھذا ھو نبی ھذا الامة “ یہ سن کر والدہ بہت جلد مکہ واپس چلی آئی تھیں۔ ام ایمنؓ کہتی ہیں کہ دو پہر کو دو یہودی آ کر کہنے لگے کہ: ”اخرجى الينا احمد “ پھر دیکھ کر کہنے لگے کہ : ”ھذا ھو نبی ھذه الامة به يقع القتل والاسر“ کنز العمال میں لکھا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”انا دعوة ابراهيم وبشرى عيسى صفتى احمد، كان آخر من بشر بی عیسیٰ ابن مريم، ان الله اعطانى مالم يعط احد قبلى من الانبیاء، وانا احمد قال لى الله لن اخزيك فى امتك يا احمد وفى مسلم عن ابی موسىٰ الاشعریؓ انه سمى لنا محمد واحمد، وقال انا احمد وانا العاقب الذى ليس بعده نبى “ کہ آپ کی والدہ حضرت آمنہؓ نے دائیہ حلیمہ سے کہا کہ حضورﷺ پیدا ہوئے تھے تو آپ کا منہ آسمان کو تھا اور ہاتھوں سے زمین پر ٹیک لگائی تھی۔ اس وقت آواز غیب سے آئی کہ اس کا نام احمد رکھنا۔ ”فی فتوح الشام“ سفیان ہذلی کا بیان ہے کہ ہمارا قافلہ شام کو جا رہا تھا کہ رات کو ہمیں ایک آواز آئی۔ ”قد ظھر احمد فی مكة “ واپس آ کر دیکھا تو ٹھیک تھا۔ خالد بن ولیدؓ کہتے ہیں کہ مجھے بحیرہ راہب کا دوست مسیماح ملا کہنے لگا کہ: ”ھل وقع لنبیكم معراج قلت نعم قال هو الذی اخبر به عیسیٰ ابن مریم “ حاکم حلب یوقتا عیسائی مسلمان ہوا تو اہل طرابلس سے کہا کہ: ”قبلت بشارة عیسیٰ ابن مریم وهودین احمد“ اور اسی نے ابو عبیدہؓ سے کہا: ”هو الذی بشر به عیسیٰ علیه السلام “ جب حضورﷺ تجارت کے لئے شام گئے تھے تو ابوسہل راہب (مصاحب بحیرہ) نے کہا تھا کہ: ”ھو الذی بشر به عیسیٰ ابن مریم “ ہامان نے خالد بن ولید سے کہا کہ: ”بشر به المسیح “ ہرقل نے اراکین سلطنت سے کہا کہ: ”هذا هو النبی الذی بشرنا به عیسیٰ علیه السلام “ موضح القرآن میں ہے کہ: ”انه بمحمد فی الدنیا

صفحہ ١٣٤

واحمد في السماء “ اتقان میں ہے کہ: ”سموه احمد ومحمدا قبل ان يكون “ فتح البیان میں ہے کہ: ”احمد هو نبينا معناه اكثر حمد الله لانه محمد اكثر مما يحمد غيره وانما اختار عيسى هذا الاسم لان حمده لله اسبق من حمد الناس له “ امام قرطبی کا قول ہے کہ: ” انما ذكره باحمد لانه مكتوب في الانجيل ومسمى به في السماء وهو اسبق من تسميته بمحمد قال عليه السلام كيف صرف الله عنی شتم قريش انهم يشتمون مذمما وانا محمد “ حاشیہ بیضاوی میں ہے کہ حضور ﷺ کے نام چار ہزار ہیں۔ جن سے ستر نام اسمائے الٰہی سے اشتراک رکھتے ہیں اور آپ کے نام توقیفی ہیں۔ جن میں ہم نئے نام داخل نہیں کر سکتے ۔” قال بعض المحققين انما اشتهر اسم محمد فى قريش لانهم سموه مذمما فترك المسلمون لفظ احمد اجلالا ففى موضع الشتم تبديل الاسم ليس بعجاب اذ سمی عمرو بن هشام باباجهل وسموه ابا الحكم وسمی عبدالعزى بن عبدالمطلب ابا لهب (ابولهب) صرفاً عما ارادوه من صباحة وجه ، قال تبع فيه شعرا “

شهدت على احمد انه رسول من الله برى النسم
له امة سميت فى الزبور وامة احمد خير الامم
فلو مد عمری الی عصره لكنت وزيرا له وابن عم
او ما تحی من احمد يوم القيمة والخصوم
وادخل الجنة ذات نسق مجاورا لا حمد فى المرفق
واننى نجم بنى مخزوم وصاحب لا حمد الكريم
ماذا على من شم تربة احمد ان لا يشم مدى الزمان غواليا
بشير نذير هاشمى مكرم عطوف رؤف من يسمى باحمد
وسبطا احمد والذى منها وايكم له سهم كسهمى

خود مرزا نے کہا۔

برتر گمان وہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزماں ہے

اسی قسم کے اشعار مرزا قادیانی کے بہت ہیں جو براہین میں مذکور ہیں۔

نواں مغالطہ

”من بعدى اسمه احمد“ کی پیشین گوئی مرزا قادیانی پر اس لئے صادق آتی ہے

صفحہ ١٣٥

کہ انجیلوں میں جو فارقلیط کا لفظ موجود ہے اس کا صحیح معنی ہازم الشیطان ہے۔ جو حضور ﷺ پر منطبق ہے۔ (کیونکہ فارق بمعنی ڈرانے والا ہے اور لیط بمعنی شیطان ہے) اور بعضوں نے فارقلیط کا معنی معزی یا تسلی کیا ہے اور اس سے مراد بھی حضور ﷺ ہی ہیں۔ کیونکہ آپؐ نے ”من قال لا الٰہ الا اللہ دخل الجنۃ“ کا اعلان کر کے بتلا دیا تھا کہ اسلام ہی راہ نجات ہے۔ جس میں آکر انسان کو اطمینان خاطر حاصل ہو سکتا ہے۔ ”الا بذکر اللہ تطمئن القلوب“ اور جو لوگ فارقلیط کا ترجمہ احمد یا محمد کرتے ہیں تو وہ حسب تحقیق مصنف ینابیع الاسلام غلط ہے۔ کیونکہ (بقول مصنف مذکور) یونانی زبان کا اصل لفظ پیری کلی طاس تھا۔ جس کے معنی تسلی دینے والا ہے۔ مسلمانوں نے اسے پیری کلیوطاس سمجھنا اور اس کا ترجمہ احمد کر کے من بعدی اسمہ احمد کی پیشین گوئی کو صادق بنانے کی کوشش کی۔

جواب: اس مغالطہ کے دفعیہ میں یوں کہا جاتا ہے کہ اگر من بعدی اسمہ احمد کا مفہوم انجیل سے ثابت نہ ہو اور یہ نہ مانا جائے کہ فارقلیط کا جو لفظ انجیلوں میں وارد ہے اس سے مراد احمد ہی ہے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ قرآن شریف نے ایک ایسی پیشین گوئی حضرت مسیح کی طرف سے پیش کی ہے کہ جس کی تصدیق اناجیل سے نہیں ہوتی۔ حالانکہ مغالطہ نمبر ٨ کے جواب میں ہم نے کئی ایک غیر مسلم کے اقوال بھی پیش کئے ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اناجیل میں اس پیشین گوئی کا ذکر ضرور ہوا ہے۔ اب مرزائی مسلک کے مقابلہ میں ایسے تمام اقوال کو ناقابل تسلیم قرار دینا قرین قیاس نہ ہوگا۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ فارقلیط کا معنی احمد ہی ہے اور مسلی یا معزی نہیں ہے اور مصنف ینابیع الاسلام کا کہنا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ اناجیل میں اصل لفظ پیری کلیوطاس تھا۔ جس کو غلطی سے سہو کاتب نے پیرکلی طاس (بحذف واو) لکھ دیا تھا اور اس قسم کا محو واثبات اناجیل کے قلمی نسخوں میں کثیر الوقوع تھا۔ اب پیری کلی طاس کا ترجمہ کبھی تو مسلی یا معزی سے کیا جاتا ہے اور کبھی صاف ہی روح القدس ہی کو اس کا صحیح مفہوم تصور کیا گیا ہے۔ اس لئے خود اناجیل کے تراجم بھی غیر معتبر ہو گئے ہیں۔

کتاب اظہار الحق میں مولوی رحمت اللہ مرحوم مہاجر مکی لکھتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام یہود میں پیدا ہوئے اور بیت المقدس کے پاس قریہ ناصرہ اور بیت اللحم میں پرورش پا کر عبرانی زبان میں انجیل حاصل کی اور بقول نصاریٰ آخری لفظ بھی ایلی ایلی لما سبقتنی آپ نے عبرانی میں ہی بولے تھے اور واقعہ صلیب کے بعد حواریوں کو مختلف ممالک میں نکال دیا گیا تھا۔ کیونکہ یہودیوں نے اصلی انجیل تلف کر دی تھی اور قتل وغارت سے عیسائی مذہب کی بیخ کنی کرنا شروع کر دیا تھا۔ یہ

صفحہ ١٣٦

لوگ پہاڑوں اور غاروں میں پوشیدہ طور پر اپنا مذہب شائع کرتے رہے اور کچھ عرصہ بعد یہودیوں کی طاقت کمزور ہو گئی تو حواریوں نے آبادی کی طرف رخ کیا۔ چنانچہ یوحنا یہودی ایران میں آیا اور اس نے ٩٥ء میں سیرت مسیح یونانی زبان میں (بقول نصاریٰ) مرتب کر کے عیسائیت کی دعوت دی اور اس تاریخی کتاب کا نام انجیل یوحنا نام پڑ گیا۔ اصل انجیل جو خود حضرت مسیح نے عبرانی زبان میں لکھوائی تھی۔ اس میں آپ نے صاف لکھا تھا کہ میرے بعد احمد آئے گا۔ انجیل یوحنا میں اس کا ترجمہ پیری کلیوطاس کیا گیا۔ جو قلمی نسخوں میں نقل در نقل ہونے سے پیری کلی طاس بن گیا۔ بہر حال عیسائیت نے یونان میں پرورش پا کر ادھر ادھر پھیلانا شروع کر دیا اور نجران میں پہنچ گیا۔ چنانچہ تیسری صدی عیسوی میں وہاں کے حکمران ذونواس نے عیسائیت قبول کی اور مدینہ شریف کے پاس عیسائیوں کا مرکز بن گیا۔ جس سے دوسرے عرب بھی خال خال عیسائی ہو گئے۔ کیونکہ نجاشی عیسائی نے ان پر حکمرانی شروع کر دی تھی اور جب اسلامی حکومت نے اپنے قوت بازو سے سلطان محمد ثانی کے عہد میں قسطنطنیہ فتح کیا تو یونانی عیسائی ١٤٥٣ء میں یورپ کو بھاگ گئے اور وہاں اپنی انجیل یونانی سے تعارف کرایا اور ١٤٨٠ء میں ولیم ٹنڈیل پیدا ہوا اور جوان ہو کر لٹل ساڈبری میں اتالیق بن گیا۔ اس کے بعد وہ ١٥٢٣ء میں لندن آیا اور ارادہ کیا کہ انجیل کا ترجمہ انگریزی میں کرے۔ مگر کامیاب نہ ہوا۔ پھر وہاں سے نکل کر کولون آ گیا۔ وہاں کے مشہور تاجر ہمفری نے اس کا ترجمہ انگریزی میں شائع کیا۔ مگر لوگوں نے اسے باغی سمجھ کر نکال دیا۔ اس نے شہر وارمس جا کر دوسری دفعہ ترجمہ شائع کیا اور اس پر حواشی بھی بڑھائے اور جب یہ ترجمہ لندن پہنچا تو پادریوں نے اسے غلط قرار دیا اور سوائے دو نسخہ کے تمام نسخے جلوا دیئے۔ اس کے بعد اس نے تیسری دفعہ بلجیم میں ترجمہ شائع کرنے کا ارادہ کیا تو گرفتار ہو گیا اور ڈیڑھ سال قید کے بعد ١٥٣٦ء میں اس کو پھانسی دے کر لاش جلائی گئی۔ اس کے بعد تراجم کا رواج ہو گیا۔ چنانچہ آج کل ٧٥ زبانوں میں انجیل کے تراجم موجود ہیں۔ لیکن جو ترجمہ انگریزی میں موجود ہے اس میں ولیم مذکور کا ترجمہ ١/٥ تک ملتا ہے۔ کیونکہ اس کا ترجمہ بہت نفیس اور سلیس زبان میں تھا۔

اب معلوم ہو گیا کہ عرب نے یورپ سے پہلے انجیل یوحنا پر پورے گیارہ سو سال اطلاع حاصل کر لی تھی اور پیری کلوطاس کو احمد ہی سمجھا تھا۔ اسلئے ممکن ہے کہ اس گیارہ سو سال کے عرصہ میں جو نسخہ قلمی نقل در نقل ہونے کے بعد یورپ پہنچا ہو اس میں پیری کلوطاس ہو۔ جس کا ترجمہ انہوں نے تسلی دینے والا کر دیا ہو۔ یا کسی نسخہ میں پاری کلوطاس ہو اور کسی میں پاری کلی طاس۔ انگریزی تراجم شائع ہونے کے بعد جب انجیل یوحنا کا ترجمہ عربی میں شائع کیا گیا تو کسی

صفحہ ١٣٧

نے اس لفظ کو بارقلیط کی صورت میں معرب بنایا اور کسی مترجم نے فارقلیط کی شکل میں پیش کیا ہے۔ جس کی تشریح شروع شروع میں تو احمد سے ہی کی گئی۔ جیسا کہ مصنف ینابیع الاسلام بھی مانتا ہے۔ مگر بعد میں بارقلط اور فارقلیط کا مفہوم الگ الگ قرار دے کر اسلام کی ذہنیت کو غلط ثابت کیا گیا اور کہہ دیا کہ مسلمانوں نے اس مقام پر احمد کے سمجھنے میں غلطی کی ہے۔ حالانکہ مصنف مذکور کی رائے تاریخی طور پر خود غلط ہے۔ کیونکہ اصل یونانی لفظ عرب میں یورپ سے پہلے گیارہ سو سال پہنچ چکا تھا اور انہوں نے صحیح طور پر اس کا ترجمہ احمد کر لیا تھا اور چونکہ عبرانی زبان ان کی ہمسایہ زبان تھی اور ملک شام میں آمدورفت کثرت سے تھی۔ جس سے وہ بخوبی عبرانی زبان کے ماہر ہو چکے تھے۔ اس لئے ہم بوثوق کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے خود عبرانی زبان کے اصلی لفظ کو بھی یونانی زبان کے لفظ سے ضرور مطابق کیا ہوگا۔ اس تحقیق تک انگریزوں کے عیسائی بننے سے پہلے پہنچ چکے تھے کہ اس لفظ سے احمد نبی ہی مراد ہیں۔ آخر جب اسلام آیا تو اس وقت بھی یورپ عیسائیت سے ناواقف تھا۔ مگر عرب کے عیسائیوں نے مسلمانوں کے سامنے صاف اقرار کیا کہ من بعدی اسمہ احمد کی پیشین گوئی انجیل میں موجود ہے اور کسی نے یہ عذر نہیں پیش کیا کہ اس لفظ کا معنی روح القدس ہے یا معزی یا تسلی ہے۔ (کیونکہ ایسی ایجاد کرنے والے یورپین ابھی تک عیسائیت سے بے خبر بیٹھے ہوئے تھے)

اب تیرہ سو سال تک اسلام نے عربی عیسائیوں کی تحقیق کے مطابق سمجھا کہ پاری کلیوطاس ہی انجیل یوحنا میں مذکور ہوا ہے اور اسی کا ترجمہ احمد ہے۔ مگر جب عیسائیوں نے انگریزی تراجم کے بعد عربی میں تراجم شائع کئے تو مترجمین نے اس لفظ کو فارقلیط یا فارقلط معرب بنایا۔ پھر بھی مسلمان یہی سمجھتے رہے کہ اس لفظ کی تعریب میں بھی یہی معنی مذکور ہیں۔ لیکن مصنف ینابیع الاسلام سب کے بعد یہ دعویٰ پیش کرتا ہے کہ یہ لفظ فارقلیط غلط طور پر معرب بنایا گیا ہے اور اس کے معنی احمد کے نہیں ہیں۔ کیونکہ اس کی تعریب پاری کلی طاس سے واقع ہوئی ہے نہ پار کلیوطاس سے۔ مگر ہم ضرور کہیں گے کہ اس تعریب میں غلطی تمہارے عیسائی مترجمین نے ہی کی ہوگی۔ جس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے اور مسلمان جو اس پیشین گوئی میں احمد سمجھتے ہیں اس کی بنیاد یہ تعریب نہیں ہے۔ بلکہ وہ اصلی لفظ یونانی ہے کہ جس سے اسلام سے پہلے عربوں نے احمد سمجھ لیا تھا۔ اب خواہ اس کو موڑ توڑ کر پاری کلیوطاس بناؤ یا پاری کلی طاس۔ تمہارا اختیار ہے ورنہ ہزار سال کے بعد کی تحقیق اس سے پہلے تحقیقات پر کچھ اثر نہیں ڈال سکتی۔

اب ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ پاری کلیوطاس کا ترجمہ بجائے احمد کے انہوں نے روح

صفحہ ١٣٨

القدس یا تسلی غلط طور پر کیا ہے۔ کیونکہ انجیل میں یوں مذکور ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا کہ میں خدا سے تمہارے لئے پیری قلیطاس طلب کروں گا۔ تاکہ تمہارے پاس وہ ہمیشہ رہے۔ جب تک میں نہ جاؤں گا وہ نہیں آ سکتا۔ وہ تمہیں غلطیوں پر سرزنش کرے گا اور تم پر حاکم ہوگا۔ میں تمہیں نہیں بتاتا وہ تم کو حق بات سمجھائے گا اور وہ خود اپنی طرف سے نہیں بولے گا۔ بلکہ خدا کی طرف سے حکم پا کر بولے گا۔ عیسائی کہتے ہیں کہ واقعہ صلیب کے بعد پینتکوست کے دن روح القدس آیا اور اس نے حواریوں کو تسلی دی اور یہ پیشین گوئی سچی ہو گئی۔ لیکن غور کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ غلط ہے۔ کیونکہ روح القدس پہلے بھی آتا تھا۔ اس کے آنے کی پیشین گوئی کرنا اور کہنا کہ جب تک میں نہ جاؤں گا وہ نہیں آئے گا اور اس کو ہمیشہ ساتھ رہنے والا بتانا اور حاکم تصور کرنا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ پاری قلیطاس سے مراد روح القدس نہیں ہے بلکہ انسان مراد ہے۔ ورنہ حضرت مسیح کے بعد بیسیوں آدمی اپنے اپنے زمانہ میں اس پیشین گوئی کے بعد نبوت کے مدعی نہ بنتے۔ جن میں سے ایک مدعی مونٹانس بھی تھا۔ جیسا کہ تاریخ کلیسا مطبوعہ ٥٦ء کے ص ٩٨ میں مذکور ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ظہور احمد سے پہلے ہی یہ ثابت ہو چکا تھا کہ آنے والا انسان ہوگا فرشتہ نہیں ہے اور جب آپ کا ظہور ہو گیا تو ساری پیشین گوئی واقع ہو گئی۔ کیونکہ آپ صادق القول، حاکم الاسلام، ناہی عن المنکر، امر بالمعروف، دائم الاسلام اور قائل بالوحی تھے اور اس وقوع کی تصدیق یوں بھی ہے کہ:

انجیل برنباس میں صاف لکھا ہے کہ احمد آئے گا۔ کتاب الاعمال میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول منقول ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ میرے جیسا تمہارے بھائیوں سے ایک نبی مبعوث کرے گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالے گا۔ یوحنا میں ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ وہ نبی تم ہو؟ کہا نہیں۔ تفسیر کشاف میں لکھا ہے کہ حواریوں نے پوچھا کہ آپ کی امت کے بعد کوئی اور بھی امت ہے تو آپ نے فرمایا ہاں امت احمد ابھی باقی ہے اور وہ صلحاء پاکدامن ہوں گے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا مثیل عیسیٰ علیہ السلام کو بتایا تھا۔ مگر یہ غلط ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح حضورﷺ نے پہلے شرائع کو منسوخ کیا تھا۔ جہاد کا حکم دیا تھا۔ والدین سے پیدا ہوئے تھے نہ مسیح علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام نے ہی مصر سے نکل کر شہر یثرب کو ہجرت کی تھی۔ (جو اس وقت ایک کاہن کے نام پر موجود تھا) آپ نے بھی یثرب کو اپنا دارالہجرت بنایا اور آپ بنی اسماعیل سے پیدا ہوئے۔ کیونکہ ”من اخوانکم“ کا لفظ موجود ہے اور عیسیٰ علیہ السلام بنی اسحاق سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے مثیل موسیٰ علیہ السلام حضورﷺ ہیں عیسیٰ علیہ السلام نہیں تھے۔

دسواں مغالطہ

مجمع البحار میں حضر تقولوا لا نبی بعدہ “ اس جواب یہ ہے کہ آ السلام زندہ ہیں۔ کیونکہ آپ زندہ نہیں ہے اور یہ مراد نہیں کنز العمال میں خود عائشہؓ سے الا المبشرات “ حضورﷺ ہے کہ حضرت عائشہؓ جریان نـ عنصری کو پیش نظر رکھ کر کہا ہے

گیارھواں مغالطہ

حضرت مغیرہؓ جن الانبیاء لا نبی بعدہ تو آپ نے بعدہ کہنے کی کیا ضرورت ہے اس کا جواب یہ ہـ السلام بجسم عنصری اترنے والـ ہونے والا نہیں ہے۔ (تفسیر کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے۔ خاصہ سے محذوف ہے۔ اس نبوت نہیں ملے گی۔ مرقات مـ دوسرا معنی یہ ــ حضرت مغیرہؓ نے یوں سمجھ کر بعد کوئی نبی زندہ نہیں ہے۔ حـ مسیح کی روایت خود ان سے مـ چوتھا معنی یہ ہے مرزا قادیانی کا مذہب تھا۔ ا

صفحہ ١٣٩

دسواں مغالطہ

مجمع البحار میں حضرت عائشہؓ کا قول مذکور ہے کہ: ”قولوا خاتم النبيين ولا تقولوا لا نبي بعدہ“ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے بعد نبوت جاری ہے۔

جواب یہ ہے کہ اگر یہ قول صحیح ہے تو اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں۔ کیونکہ آپ نے بعدہ سے یہ مراد لیا ہے کہ یوں نہ کہو کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی زندہ نہیں ہے اور یہ مراد نہیں ہے کہ آپ کے بعد کوئی مبعوث نہیں ہے۔ کہنا بھی غلط ہے۔ کیونکہ کنزالعمال میں خود عائشہؓ سے ایک روایت منقول ہے کہ: ”لم يبق من النبوة بعده شئی الا المبشرات“ حضور ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت باقی نہیں ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہؓ جریان نبوت کی قائل نہ تھیں۔ انہوں نے جو کچھ کہا ہے صرف نزول مسیح بجسم عنصری کو پیش نظر رکھ کر کہا ہے اور بس۔

گیارھواں مغالطہ

حضرت مغیرہؓ جریان نبوت کے قائل تھے۔ کیونکہ ان کے پاس کسی نے کہا کہ خاتم الانبیاء لا نبی بعدہ تو آپ نے فرمایا کہ جب تم نے خاتم الانبیاء کہا ہے۔ بس یہی کافی ہے اور لا نبی بعدہ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ پھر حضرت مغیرہؓ نے فرمایا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بجسم عنصری اترنے والے ہیں تو پھر یہ فقرہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ کوئی نبی آپ کے بعد ظاہر ہونے والا نہیں ہے۔ (تفسیر درمنثور) بہرحال ہمیں لا نبی بعدہ کا معنی سوچ لینا چاہئے تاکہ آئندہ کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے۔ کیونکہ اس میں بعدہ خبر کے مقام پر آیا ہے اور خبر افعال عامہ یا افعال خاصہ سے محذوف ہے۔ اس لئے پہلا معنی یہ ہے کہ لا نبی مبعوث بعدہ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی۔ مرقات حاشیہ مشکوٰۃ میں یہی معنی لیا گیا ہے اور یہی صحیح ہے۔

دوسرا معنی یہ ہے کہ لا نبی خارج بعدہ حضور ﷺ کے بعد کسی نبی کا ظہور نہیں ہوگا۔ حضرت مغیرہؓ نے یوں سمجھ کر اسے غلط قرار دیا ہے۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ لا نبی حی بعدہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی زندہ نہیں ہے۔ حضرت عائشہؓ نے یہی سمجھ کر اس حدیث سے انکار کیا ہے۔ کیونکہ حیات مسیح کی روایت خود ان سے مروی ہے۔

چوتھا معنی یہ ہے کہ لا نبی یکون بعدہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں ہوگا۔ یہ مرزا قادیانی کا مذہب تھا۔ جو بعد میں تبدیل ہو گیا تھا۔ یہاں قابل تعجب یہ بات پیدا ہو گئی ہے کہ

صفحہ ١٤٠

مسلمان حضورﷺ پر جریان نبوت کو ختم کر دیتے ہیں اور مرزائی مسیح قادیانی کے بعد کسی کو نبی نہیں مانتے۔ اب مغالطوں کا جواب حضورﷺ کے بعد اسی طرح ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کے بعد ہو سکتا ہے زیادہ کرید کی ضرورت نہیں ہے۔

بارھواں مغالطہ

”لو عاش ابراهیم لکان نبیاً“ اگر حضرت ابراہیم بن محمد علیہ السلام زندہ رہتے تو نبی ہوتے اور یوں بھی آیا ہے کہ : ”لو کان ابراهیم حیا لکان نبیاً“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورﷺ کے بعد نبوت کا امکان تھا۔

جواب یہ ہے کہ مدارج النبوۃ میں صاف لکھا ہے کہ یہ حدیث امام نووی کے نزدیک موضوع ہے۔ تو پھر اس سے استدلال کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ حضرت انسؓ یا عباسؓ نے بطور مبالغہ کہہ دیا ہوگا۔ ورنہ حضورﷺ نے یوں نہیں فرمایا تھا۔ موضوعات کبیر ص ٦٨ میں ملا علی قاری کہتے ہیں کہ : ”لو صار عمر نبیا لکان من اتباعہ“ اور اسی طرح ”لو عاش ابراهیم لکان نبیاً“ کو اگر صحیح تسلیم کیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ بالفرض اگر کوئی نبی ہو بھی جاوے تو اسے شریعت محمدیہ کے ماتحت رہنا پڑے گا۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ: ”لو کان موسیٰ حیا لما وسعہ الا اتباعی“ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو وہ بھی میرے ہی تابع ہوتے۔ مگر وہ زندہ نہیں ہیں۔ اسی طرح دوسرے انبیاء کی بعثت بھی بند ہو چکی ہے۔ اس واسطے کوئی نبوت ظہور میں نہ آئی اور جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی زندگی آپ کے بعد ناممکن تھی اسی طرح خاتم النبیین نے تمام دوسری فرضی نبوتوں کو بھی ممنوع قرار دیا اور نزول مسیح میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ آپ بھی حضورﷺ کی امت ہوں گے اور اسی شریعت کے تابعدار ہوں گے اور اپنی شریعت پر حکم نہ کریں گے۔ کیونکہ ان کی نبوت حضورﷺ کے بعد شروع نہیں ہوئی۔ بلکہ پہلے شروع ہوئی اور ختم بھی ہو چکی تھی۔ اب گویا اعزازی خدمت پر یہ کام کریں گے جو صرف عہدہ مجددیت ہوگا۔

تیرھواں مغالطہ

”لا نبی بعدی“ کا معنی یہ ہے کہ آپ کے بعد مستقل کوئی نبی نہ ہوگا۔ جیسا کہ: ”ما انذر آباؤهم“ سے مراد قبیلہ متصلہ ہے۔ پس جس طرح آپ کے پہلے چھ صدی کے اوپر نبی آئے ہیں۔ اسی طرح آپ سے چھ صدی کے بعد نبی کا آنا ممکن ہوگا۔

جواب یہ ہے کہ پھر تو مثیل مسیح کو چھٹی صدی میں پیدا ہونا چاہئے تھا۔ یہ چودھویں میں

صفحہ ١٤١

کیوں پیدا ہوا۔ خوب تک بندی جوڑی ہے۔ کیا مرزا محمود طبابت سے پیٹ پالتے ہیں؟ مرزا قادیانی کا باپ تو طبابت پیشہ تھا تو پھر یہ کیوں طبیب نہ ہوئے۔ ایسے قیاسات صرف وہم کے درجہ پر ہیں ان کو حجت شرعیہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

چودھواں مغالطہ

اس زمانہ کا مجدد کون ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی ہیں۔ جنہوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور حدیث ”لا مهدی الا عیسیٰ“ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی عیسیٰ بھی ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت تسلیم شدہ ہے۔ اس لئے اجزائے نبوت ثابت ہوا۔

جواب یہ ہے کہ اس زمانہ کا مجدد مرزا قادیانی کو کون تسلیم کرتا ہے؟ ہر ایک فرقہ اپنے لئے الگ مجدد تجویز کرنے کا حق دار ہے۔ حضرات بریلوی مولوی احمد رضا خان صاحب کو تسلیم کرتے تھے۔ دیوبندی مولوی رحمت اللہ صاحب کو۔ اہل حدیث سید اسماعیل شہید کو اور ہمارے نزدیک مجدد کی شخصیت ممنوع ہے۔ حج الکرامہ میں لکھا ہے کہ ہر ایک جماعت علمائے اسلام مجدد وقت کہلاتی ہے جو احیائے سنت کا کام کرتے رہتے ہیں۔ ”ان اللہ یبعث لھذہ الامۃ علی راس کل مائة سنة من یجدد لھا دینھا“ میں بے شک یہ مذکور ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر ایک مجدد آتا ہے۔ جو احیائے اسلام کرتا ہے۔ مگر صدی کا سر معلوم نہیں کہ ہجری ہے یا عیسوی یا کوئی اور کیونکہ سنہ ہجری حضرت عمرؓ کے زمانہ میں تجویز ہوا تھا اور سنہ عیسوی کا رواج اس وقت مسلمانوں میں نہ تھا۔ اگر رواج تھا تو سنہ بعثت یا سنہ فیل کا رواج تھا۔ اس کے بعد پھر یہ معلوم نہیں کہ سر سے کیا مراد ہے۔ ابتدائے صدی یا اختتام صدی۔ کسی کے متعلق کوئی دلیل نہیں ملتی اور صرف زبانی کہہ دینا کافی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ من مجدد میں من لفظ عام ہے۔ اس میں شخصیت نہیں ہے۔ اس لئے ایک جماعت بھی مجدد ہوسکتی ہے اور ایک یا ایک سے زیادہ بھی، اس سے مرزا قادیانی جب شخصی طور پر مجدد نہیں بن سکتے تو پھر دوسرے دعاوی کیسے صحیح ہوں گے۔ ورنہ ایسے دعاوی کے حق دار تمام مجددین ہوں گے۔ تخصیص مرزا کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

پندرھواں مغالطہ

”مسجدی آخر المساجد“ میں حضورﷺ نے اپنی مسجد کو آخری مسجد کہا ہے۔ حالانکہ مسجد نبوی کے علاوہ بے شمار مسجدیں موجود ہیں۔ اسی طرح آخر الانبیاء کے بعد کئی ایک نبی ہو سکتے ہیں اور اخر کا لفظ انقطاع نبوت کی دلیل نہیں ہے۔

صفحہ ١٤٢

جواب یہ ہے کہ آخر المساجد سے مراد اخر المساجد النبویہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ کی مسجد نبویہ اپنی نوعیت میں آخری مسجد ہے۔ جیسا مسجدی کا لفظ بتا رہا ہے کہ آپ کی مسجد نبوی مراد ہے اور ترغیب وترہیب میں اخر المساجد النبویہ کی تصریح بھی موجود ہے۔ اب اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جب حضورﷺ کی مسجد کے بعد مسجد نبوی کوئی نہیں۔ اس لئے کوئی نبی بھی آپ کے بعد نہیں ہوگا۔ ورنہ اس کی مسجد بھی مسجد نبوی کہلائے گی۔ اس لئے یہ حدیث انقطاع نبوت کی زبردست دلیل ہے۔

سولہواں مغالطہ

”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضورﷺ تم میں سے کسی آدمی کے باپ نہیں ہیں۔ مگر رسول خدا اور خاتم النبیین یعنی روحانی باپ ہیں اور نبوت کے سلسلہ میں جس قدر انبیاء آنے والے ہیں وہ تمام آپ کے روحانی بیٹے ہیں اور آپ کی تابعداری میں انبیاء کہلانے کے مستحق ہیں۔ ورنہ جو نبی آپ کے تابعداری کے خلاف مدعی نبوت ہو وہ چونکہ آپ کا روحانی بیٹا نہیں۔ اس لئے نبی کہلانے کا مجاز نہیں ہے اور یہ نبوت جزوی نبوت ہوگی۔ جو نبوت ثانیہ کی ٤٦/١ جزو تسلیم کی گئی ہے۔ جس کی ابتداء رویا ئے صالحہ سے ہوتی ہے اور یہی وہ نعمت ہے کہ جس کا سوال ہمیں ”اهدنا الصراط المستقيم“ میں تعلیم کیا گیا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض یہ خیال درست ہو تو مرزا قادیانی کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ضروری تھا کہ اوّل التابعین حضرت صدیق اکبرؓ نبی ہونے کا دعویٰ کرتے۔ اس موقعہ پر لکن استدراکیہ نہیں ہے کہ جس سے پچھلے مفہوم کے خلاف بیان کیا جاتا ہے۔ ورنہ یہ مفہوم نکلتا ہے کہ: ”ولكن ابا احد من نسائكم“ حالانکہ یہ بھی غلط ہے۔ اس لئے اس کو ”لكن انتقاليه“ کہا جائے گا۔ جس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ پہلے مضمون کے علاوہ ایک مضمون جدید شروع ہونا بتایا جاتا ہے۔

سترہواں مغالطہ

جب یوں کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو ”لا نبی بعدی“ کیسے ثابت رہے گا۔ کیونکہ آپ کے بعد نبی تو آ گیا اور نبوت بھی جاری رہی۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت بھی ان کے پاس ہی رہے گی۔

اس کا جواب یہ ہے کہ: ”لا نبی بعدی“ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد بعثت

صفحہ ١٤٣

انبیاء کا سلسلہ بند ہے۔ نہ یہ کہ اگر انبیاء سابقین میں سے بھی کوئی آپ کے بعد ظاہر ہو تو وہ بھی مر جائے گا۔ حضرت خضر علیہ السلام، حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت قدیم ہے۔ اب تک ان کے زندہ رہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان کی نبوت بھی جاتی رہی۔

اٹھارہواں مغالطہ

خاتم انگوٹھی کو کہتے ہیں۔ یا خاتم سردار کے معنی میں آتا ہے۔ یا خاتم بمعنی کامل ہے اور کبھی تعریفی موقعہ پر آخر کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ متنبی کو خاتم الشعراء کہا گیا ہے۔ مگر کسی طرح بھی لفظ خاتم سے یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ کے آنے سے نبوت بند ہو گئی ہے۔ کیا ایک نعمت کے بند ہونے سے حضورﷺ کی عظمت ظاہر ہو گی یا زیادہ ہونے سے آپ کی فوقیت دوسرے انبیاء پر ثابت ہو گی۔ اس لئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ نبوت جاری ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی جاری تھی۔ لیکن کوئی نبوت آپ کی منظوری اور آپ کی تصدیقی مہر کے سوا جاری نہ ہو گی۔ اس لئے جو نبی آپ کے ماتحت نہ ہو گا۔ وہی کافر، بے ایمان، مفتری، کاذب اور دجال ہو گا۔ جس پر آپ کی تصدیقی مہر ہو گی۔ وہ نبی تابعدار خادم شریعت ہو گا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہے کہ: ”لو کان موسیٰ حیا لما وسعه الا اتباعی“ اور مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی نبی کا لفظ آیا ہے۔ جس سے مراد امتی نبی ہے۔ ورنہ اسرائیلی نبی نہیں ہے۔

جواب یہ ہے کہ اس تمام تقریر کی بنیاد اس پر ہے کہ آیت: ”وخاتم النبیین“ میں لفظ خاتم بمعنی آخر نہیں ہے اور آخر ہے تو بطریق مبالغہ ہے۔ ورنہ اس کا معنی ”جاعل النبیین اور سید النبیین“ ہو گا۔ لیکن لغت میں ”خاتم القوم آخرهم“ آیا ہے اور حدیث شریف میں خواتیم سورہ البقرہ سے حقیقی طور پر آخری آیات مراد ہیں اور اس آیت کے نزول سے پہلے جس قدر یہود و نصاریٰ کی تحریرات ملتی ہیں۔ ان میں بھی آخر الانبیاء کا ہی انتظار کیا گیا ہے اور بعد میں بھی جس قدر اسلامی تصریحات ملتی ہیں۔ ان میں بھی آپ کو ”آخر النبیین“ ہی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لئے سیاق و سباق دونوں کی بنیاد پر خاتم النبیین کا معنی آخری نبی ہی ہو گا۔ نبی ساز یا تصدیق کنندہ نہ ہو گا۔ کیونکہ اس معنی کی تصدیق نہ لغت میں ہے اور نہ کوئی تصریح قدیم یا جدید اس کی تائید کرتی ہے۔ پس ہم حضورﷺ کو نبی کامل، سید المرسلین، افضل الانبیاء اور مصدق الانبیاء مانتے ہیں۔ تو اس لفظ کے ماتحت نہیں مانتے۔ بلکہ ایسے مضامین کے لئے دوسرے موقعہ پر ہزاروں تصریحات موجود ہیں جن سے ہمارا یہ مطلب پورا ہو جاتا ہے اور چونکہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل وارد ہے اور نزول مسیح کا مسئلہ عقائد اسلامیہ میں داخل ہے۔ اس لئے آپ کے آنے سے

صفحہ ١٤٤

نبوت کا بند ہو جانا یہ معنی نہیں رکھتا کہ اب دنیا میں کوئی شخص بھی احکام شرعیہ پر عمل درآمد کرنے کا مجاز نہ ہوگا۔ بلکہ یہ معنی ہے کہ آپ کی شریعت چونکہ پایۂ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ اس لئے نبی جدید بھیج کر اس کو ترمیم و تنسیخ کی ضرورت نہیں رہی۔ گویا آپ کا وجود آسمان نبوت پر عین سمت الراس پر قائم ہونے والا سورج تھا اور باقی انبیاء وقت طلوع آفتاب یا نصف النہار کے کسی درجہ پر تھا۔ اس لئے تکمیل نبوت کی وجہ سے اور عدم احتیاج نبوت جدیدہ کی وجہ سے آپ پر نبوت ختم ہوئی ہے۔ جو ایک اعلیٰ درجہ کا امتیازی مرتبہ ہے اور نہ اس طریق پر بند ہوئی ہے کہ ابھی نبوت تکمیل کو نہیں پہنچی تھی اور آپ سنگ راہ واقع ہوگئے ہیں۔ بہر حال ایسے ناپاک خیال حضور ﷺ کے متعلق گستاخی کا موجب ہیں۔

انیسواں مغالطہ

”ما ارسلنا من نبی الا اذا تمنی“ کے بعد ایک قرأت میں ولا محدث بھی وارد ہوا ہے اور ایک روایت میں آتا ہے کہ: ”ستکون فی امتی محدثون ای متکلمون“ پس آیت اور حدیث کے ملانے سے معلوم ہوا ہے کہ رسالت یا نبوت کا سلسلہ امت محمدیہ میں جاری رہے گا۔

جواب یہ ہے کہ قرآن شریف میں ہوا اور پانی کے متعلق بھی ارسلنا کا لفظ واقع ہے۔ اس لئے صرف ارسلنا کے لفظ سے نبوت کا ثبوت نہیں ہے اور اس آیت میں بھی انبیاء سابقین کی نبوت کا ثبوت ارسلنا سے نہیں ہے۔ بلکہ اس مطلب کے لئے دوسرے دلائل ہیں جو اپنی جگہ پر مذکور ہیں اور حدیث صحیح یوں ہے کہ: ”لوکان بعدی نبی لکان عمر“

بیسواں مغالطہ

”یا عم انت خاتم للمهاجرین کما انی خاتم النبیین“ اس حدیث میں حضور ﷺ نے حضرت عباسؓ کو خاتم المہاجرین فرمایا ہے۔ حالانکہ آپ کے بعد بھی ہجرت کا سلسلہ جاری ہے اور تشبیہ دینے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے بعد بھی اسی طرح سلسلۂ نبوت جاری رہے گا۔

جواب یہ ہے کہ اس مقام پر ہجرت مکہ مراد ہے۔ مطلق ہجرت مراد نہیں ہے اور حضرت عباسؓ تک اس ہجرت کا اعتبار رہا۔ جس کی وجہ سے صحابہ مہاجرین کہلائے۔ ورنہ بعد میں ہجرت کرنے والوں کو مہاجرین صحابہ کا لقب نہیں دیا گیا۔ اس لئے یہ روایت انقطاع نبوت کی دلیل بن گئی۔ کیونکہ اب یہ معنی ہوئے کہ اے چچا تم خاتم المہاجرین ہو۔ تمہارے بعد جو بھی مکہ چھوڑ کر

صفحہ ١٤٥

مدینہ میں آئے گا اس کو مہاجر کا لقب نہیں ملے گا۔ جس طرح کہ میں خاتم الانبیاء ہوں۔ میرے بعد بھی جو شخص مدعی نبوت ہوگا۔ (خواہ کسی طرح کا ہو) وہ نبی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ مفتری کذاب اور ملعون ہوگا۔

اکیسواں مغالطہ

”فیكم النبوة والمملكة“ حضورﷺ نے حضرت عباسؓ سے فرمایا تھا کہ تمہارے خاندان میں سلطنت اور نبوت رہے گی۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ بنی عباسؓ میں نبوت بھی جاری رہی ہے۔

جواب یہ ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ کسی معتبر روایت سے اس کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس لئے آیت قرآنیہ کے مقابلہ میں اس کو تسلیم کرنا یا اس کو آیت کی تخصیص سمجھنا بے وقوفی ہوگی۔ علاوہ اس کے اگر اس حدیث کو واقعات کی رو سے دیکھا جائے تو فیکم النبوۃ کا ظہور کسی خلیفہ وقت بنی العباس کے عہد میں نہیں ہوا۔ شاید تجویز تو تھی۔ مگر وقوع پذیر نہیں ہوئی۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضورﷺ نے یہ نہیں فرمایا ورنہ کیا مجال تھی کہ اس پیشین گوئی کا ظہور نہ ہوتا۔

بائیسواں مغالطہ

”ابوبكر خير الناس الا ان يكون نبى“ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ صدیقؓ اکبر بنی نوع انسان سے افضل ہیں۔ مگر یہ کہ کوئی نبی ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد نبوت جاری ہے۔ ورنہ مضارع (يكون) وارد نہ ہوتا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا مفاد یہ ہے کہ: ”الا ان يكون نبى مرادا با الناس“ اگر ناس کے لفظ سے انبیاء مراد ہوں تو پھر آپ کو خیر الناس کا لقب نہیں ملے گا۔ اس کی تائید واقعات کے علاوہ تمام وہ روایت بھی کرتی ہیں جو فضیلت صدیقؓ میں مروی ہیں۔ اس لئے اس سے یہ مراد لینا کہ ایک نبی ہوگا۔ کلام کو بے ربط کر دیتا ہے اور استدلال جریان نبوت کی تکذیب کرتا ہے۔

تیئیسواں مغالطہ

”انا مقفى“ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کی روایت میں ہے کہ آپ نے اپنا نام مقفے بتایا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء آپ کے بعد آئیں گے۔ وہ حضورﷺ کے مقتفی ہوں گے اور پیرو کہلائیں گے اور حضورﷺ ان کے مطاع اور مقفے ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کا سلسلہ جس طرح پہلے جاری تھا اسی طرح اب بھی جاری ہے۔

صفحہ ١٤٦

اس کا جواب یہ ہے کہ مقفیٰ اسم مفعول ہے جو شہادت آیہ : ”وقفینا من بعدہ بالرسل“ ماضی کی تحویل میں آ کر ”الذی قفی بہ“ کے معنی دیتا ہے کہ آپ سب کے آخر لائے گئے ہیں۔ ورنہ مستقبل کے معنی میں اگر اس کو تحویل کیا جائے تو یوں ہوگا کہ: ”الذی سوف یقفی بہ“ وہ نبی کہ جس کو بعد میں بھیجا جائے گا اور یہ معنی غلط ہے۔ کیونکہ آپ نبی ہو کر مبعوث ہو چکے تھے اور اگر یہ تحویل کی جائے کہ: ”الذی یقفی بالغیر بعدہ“ کسی غیر کو آپ کے تابعدار بنا کر بھیجا جائے گا۔ تو مستدل کا مطلب تو پورا ہو جائے گا۔ لیکن مقفے کا لفظ ایسی تحویل وتبدیل کو برداشت نہیں کرتا۔ اس لئے یہ استدلال بالکل عربی زبان سے نا آشنائی کی وجہ سے غلط ہے۔

چوبیسواں مغالطہ

خاتم بمعنی مہر اور خاتم بمعنی مہر اور ختم کرنے والا۔ علامہ زمخشری، ابو حیان اور ابو عبیدہ یہ تینوں بزرگ خاتم کو آخری قرار دیتے ہیں۔ مگر چونکہ اس پر کوئی عربی محاورہ پیش نہیں کرتے۔ اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے عقیدہ کے مطابق یہ معنی کئے ہیں۔ جیسا کہ کوئی عیسائی الکلمۃ کا معنی حضرت مسیح کرے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ واقعی لغت میں بھی کلمہ کا یہی معنی ہے۔ البتہ مفردات الراغب میں یوں مذکور ہے کہ: ”انہ ختم النبوۃ ای تمھا وکملھا“ جس کی تائید حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی ہوتی ہے کہ حسنینؓ کو ابو عبدالرحمٰن سلمی خاتم النبیین ﷺ پڑھا رہے تھے تو حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ ان کو خاتم النبیین پڑھاؤ۔ اب معلوم ہو گیا کہ تکمیل نبوت یہاں مراد ہے۔ انقطاع نبوت یہاں مراد نہیں ہے۔ کیونکہ حسب ذیل تصریحات اجرائے نبوت کی تائید کرتی ہیں۔

(فتح البیان ج ٣ ص ٢٨٢)

(بحر محیط)

(شاہ ولی اللہ المرحوم)

لا نہ اراد لا نبی ینسخ شرعہ“

(ابحار)

خاتم النبیین“

(مولانا محمد قاسم)

(مرزا جانجانانؒ)

صفحہ ١٤٧

لا يخاف قوله خاتم النبيين كقوله لوکان موسى حيا لما وسعه الا تباعى كعيسى وخضر والياس عليهم السلام“ (ملا علی القاری)

جواب اس کا یہ ہے کہ قرآن شریف کے تمام معانی جو آپس میں ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوں قابل تسلیم ہیں۔ اس لئے خاتم کا معنی اگر تکمیل نبوت یا زینت نبوت بھی کئے ہیں تو ہم ماننے کو تیار ہیں۔ مگر ساتھ ہی ہم آخرالانبیاء بھی تسلیم کرتے ہیں اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ خاتم سے آخرالانبیاء مراد نہ لیں۔ کیونکہ لا نبی بعدی میں اس کی تشریح موجود ہے۔ غیر مسلم کی تصریحات آپ کو آخرالانبیاء تسلیم کرتی ہیں اور آج تک اجماع امت میں یہی چلا آرہا ہے کہ جس نے آپ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا اس کا خاتمہ کیا گیا۔ اس واسطے جو شہادتیں اوپر لکھی گئی ہیں ان کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی اور بھی نبی آسکتا ہے۔ کیونکہ:

حضور ﷺ نے آخر کے معنی میں لیا ہے۔ ”رحیق مختوم ختامہ مسك“ وغیرہ میں متعدد جگہ قرآن شریف میں خدا نے اس کو بندش یا انقطاع کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ اس لئے علامہ زمخشری وغیرہ نے یہی معنی لیا ہے تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے اپنے اعتقاد سے یہ معنی گھڑ لئے ہیں۔

حضور ﷺ کو آخرالانبیاء نہیں مانتے تھے۔ کیونکہ خاتم الشیء آخرہ ایک عام محاورہ ہے۔

رنگ میں آخری نبوت ہی مراد لی ہے۔ کیونکہ مشہور ہے۔ ”توقع زوالا اذا قیل تم“

کرتی تھیں۔ ورنہ اگر لا نبی مبعوث بعدی سمجھتیں تو کبھی انکار نہ کرتیں۔ انکار کی وجہ بھی نزول مسیح کا قول تھا۔

صفحہ ١٤٨

تسلیم کیا ہے۔ ہاں اگر کسی دوسری زمین میں آپ کے زمانہ میں یا آپ کے بعد دوسرا نبی تصور کیا جائے تو خاتم الانبیاء کے خلاف نہ ہوگا۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ آپ اس زمین میں بھی مرزائیوں کی طرح جریان نبوت کے قائل ہیں۔ (دیکھو تحذیر الناس)

انقطاع نبوت کے قائل تھے اور اجرا کمال نبوت سے مراد ان حضرات کی صرف فیوض محمدی ہے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ نبوت بھی جاری ہے۔

لیکن ان کا یہ قول البتہ مشتبہ ہے کہ اگر کوئی نبی ہوگا تو حضرت مسیح کی طرح تابع شریعت نبوی ہوگا اور مخالف یا ناسخ شرع محمدی نہ ہوگا۔ اس قول سے مرزا قادیانی نے ناجائز فائدہ اٹھانا چاہا ہے کہ میں بھی تابع نبی ہوں۔ مخالف نبی نہیں ہوں۔ تاکہ شریعت کو منسوخ کروں۔ لیکن مرزا قادیانی پھر بھی حق بجانب نہیں ہیں۔ کیونکہ اسلام میں تابع نبی کا نمونہ نزول مسیح تسلیم کیا گیا ہے۔ جو مرزا قادیانی کی تابعداری کے بالکل خلاف ہے۔ اگر ان بزرگوں کو یہ معلوم ہو جاتا کہ تابعداری کا ایک یہ معنی بھی ہے کہ ظلی طور پر اور تناسخ کے طریق سے خود حضور انور ﷺ کو دوسری دفعہ پیدا کیا جا سکتا ہے تو کبھی اپنے بیان کو مشتبہ نہ چھوڑتے۔

پچیسواں مغالطہ

”لا نبی بعدی“ میں ایسی ہی نفی ہے کہ جیسے: ”لا صلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد ۔ اذا هلك کسری فلا کسری بعدہ وانما هلك قیصر فلا قیصر بعدہ“ پس جس طرح مسجد کے ہمسایہ کی نماز دوسری مسجد میں جائز ہے۔ اگرچہ خالی نقص سے نہیں اور کسریٰ وقیصر کی سلطنت بعد میں بھی قائم رہی۔ اگرچہ کمزور حالت میں تھی۔ اسی طرح نبوت بھی آپ کے بعد باقی رہ سکتی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر انقطاع نبوت کے بیرونی دلائل نہ ہوتے کہ جن کو یہود ونصاریٰ نے بھی تسلیم کیا ہے تو یہ حدیث قابل تاویل تھی۔ مگر اب اگر تاویل کر کے اجرائے نبوت کا قول کیا جائے تو سب سے پہلے فیصلہ جات اسلامیہ کے رو سے ملحد یا مرتد اور زندیق اور تابع ہوا بن کر واجب القتل بننا پڑتا ہے اور انسان کو کچھ شرم بھی تو چاہئے۔ آخر اجماع امت بھی تو کوئی چیز ہے۔ تمام اہل اسلام کے مقابلہ میں صرف اپنی رائے کو صحیح ماننا کتنا بڑا ظلم ہے۔ صلوٰۃ الجار میں کوئی تصریح موجود نہیں ہے کہ انسان اپنے گھر نماز نہیں پڑھ سکتا۔ بلکہ نوافل کا گھر پڑھنا ہی بہتر ہے۔ اس

صفحہ ١٤٩

لئے اس جگہ صلوٰۃ سے مراد فرائض ہیں۔ کیونکہ مسجد میں جماعت ہوتی ہے۔ گھر میں پڑھے گا تو اس کو ثواب جماعت نہیں ملے گا اور یہ کہنا غلط ہے کہ قیصر و کسریٰ حضورﷺ کے بعد بھی رہے۔ کیونکہ فارس کی سلطنت کسریٰ کے مرنے سے برباد ہوگئی تھی اور قیصر روم ملک شام سے نکل کر روم کے کسی گاؤں میں مسلمانوں سے پناہ گزین ہوگیا تھا اور عرب سے اس کی سلطنت بھی نیست و نابود ہوگئی تھی۔

چھبیسواں مغالطہ

تفسیر درمنثور میں ”ومن الارض مثلهن“ کے تشریح میں فی العدد لکھا ہے کہ زمینیں بھی سات ہیں اور بقول ابن عباسؓ ان میں بھی انبیاء کا سلسلہ آدم علیہ السلام سے حضرت محمدﷺ تک موجود ہے۔ پس خاتم النبیین سے اگر یہ مراد ہو کہ آپ کے سوا آپ کے زمانہ میں یا بعد کوئی نبی نہیں ہے تو یہ سلسلہ انبیاء باطل ہوجائے گا۔ اس لئے اجزائے نبوت صحیح ہوا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری زمین کا تعلق دوسری زمینوں سے نہیں ہے۔ اس لئے ہر ایک زمین کے احکام مختلف ہوسکتے ہیں اور حدیث ابن عباسؓ بعض کے نزدیک اسرائیلیات میں شمار ہوتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس میں یوں وارد ہوا ہے کہ: ”فيها محمد كمحمد كم“ جس کا مطلب یہ ہے کہ سات زمینوں میں بھی محمد ہیں اور وہ بھی اپنی زمین میں خاتم النبیین ہیں۔ تو زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ: ”خاتم النبیین“ مجموعی طور پر سات ہیں اور اس امر میں سب شریک ہیں کہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ دوسرے خاتم النبیین کے بعد سلسلہ نبوت جاری ہے تو ہماری زمین میں بھی شبہ کی گنجائش ہوگی۔ لیکن حسب تحقیق مفسرین یہ امر بھی پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ دوسرے خاتم النبیین بھی یا تو حضورﷺ سے پہلے ہوگزرے ہیں اور یا اگر ہمعصر تھے تو آپ کے تابع ہوکر رہے تھے۔ مگر حضورﷺ کی وفات کے بعد ان کا وجود نہیں ملتا۔ کیونکہ آپ کی نبوت حسب تحقیق اہل اسلام جن و انس اور کافۃ الناس کے لئے تھی کہ جس میں تمام سبع ارضین کے باشندے بھی شامل ہیں۔ اس لئے حضورﷺ آخری نبی ٹھہرے تو تمام زمینوں میں بھی بعثت انبیاء بند کر دی گئی ہے۔

”والتفصيل فى تحذير الناس وزجر الناس للعلامة النانوتوى والكنوى“

ستائیسواں مغالطہ

”خاتم النبیین“ کے بعد کلہم کا لفظ نہیں ہے۔ اس لئے یہاں بعض الانبیاء مراد ہیں۔

جواب یہ ہے کہ لا نبی بعدی نے کلہم کا مفہوم ادا کر دیا ہے۔ کیونکہ نبی سے بڑھ کر وحی کا مفسر نہیں ہوسکتا۔

صفحہ ١٥٠

١٠.......تصریحات ختم نبوت فی الحدیث

حضور نبی اکرمﷺ کے آخری نبی ہونے میں امت کا اتفاق ہے۔ جس کی تصدیق نزول آیت ”وخاتم النبیین “ سے پہلے اور پیچھے ہر طرح پایہ یقین تک پہنچ چکی ہے۔ مگر تاہم رفع شکوک کے لئے لکھا جاتا ہے کہ:

صاف لفظوں میں آخر الانبیاء کے عنوان سے آخری نبی یقین کیا گیا تھا اور کسی قسم کی تاویل وہاں نہیں کی گئی تھی۔

حضورﷺ ہی آخری نبی ہیں اور آپ ہی کو خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے۔

کوئی نبی نہیں آسکتا اور جو مدعی نبوت ظاہر ہوئے تھے خواہ کسی رنگ میں تھے ان کو واجب القتل سمجھا گیا۔

آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور خاتم النبیین کا وہی معنی صحیح ہے جو اہل اسلام نے سمجھا ہے۔ نہ وہ معنی جو مرزائیوں نے گھڑ لیا ہے۔

مسلم وبخاری: حدیث ”اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة“ میں ہی آخری اینٹ قصر نبوت ہوں۔ کیا اب وہ ٹوٹ گئی تھی کہ مرزا قادیانی نے وہ کمی پوری کی یا کہ مرزائی اینٹ اس سے بہتر تھی؟

مسلم وبخاری: حدیث ”كلما هلك نبي خلفه نبي وانه لا نبي بعدي“ (ابو ہریرہؓ) بنی اسرائیل میں انبیاء حکمران رہے۔ جب ایک مرتا تو دوسرا پیدا ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس جگہ بندش الفاظ نے فیصلہ کیا ہے کہ آپؐ کے خلفاء نبی قطعاً نہیں ہو سکتے۔

ترمذی وابوداؤد: ”خلافة النبوة ثلاثون عاماً“ میرے بعد خلافت راشدہ تیس سال ہوگی۔ پھر سلطنت میں تبدیلی ہوجائے گی۔ اس میں حضورﷺ نے نبوت کو جاری نہیں کیا۔

(سفینہؓ)

نسائی وابوداؤد: ”ليس يبقى من النبوة الا الرؤيا الصالحة“ اب صرف رویائے صالحہ ہی باقی ہیں۔ نبوت باقی نہیں رہی۔

(ابو ہریرہؓ)

کنز العمال: آخری نبی لکھا جاچکا ہوں

(عرباض بن ساریہؓ)

مشکوۃ: ”ان کوئی فخریہ یا تعریفی لفظ نہیں

درمنثور: ”ر اقرار کرتا ہے کہ حضورﷺ

(تمیم الداریؓ)

کنز العمال الانبیاء“ حضرت آدم اذان کہی اور محمد رسول ال آپ کی اولاد میں سے آ

نوٹ! لنکا ت سے ہوتی ہے۔

احمد: حدی نے دنیا سے دل برداشت میں موجود ہوں اطاعت باطل ہے۔ ورنہ ایسے مو

حدیث الشف مسیح علیہ السلام کے پاس آپ ہی ہماری سفارش

مشکوۃ: حد اٹھا کر فرمایا کہ میں اور ق نبی ہوتا تو حضورﷺ یور

ترمذی: ”ل

(عقبہ بن عامرؓ)

صفحہ ١٥١

کنز العمال: ”انا مکتوب عند الله خاتم النبیین“ میں خدا کے نزدیک آخری نبی لکھا جاچکا ہوں اور یہ فیصلہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے۔

(عرباض بن ساریہؓ)

مشکوٰۃ: ”انا خاتم النبیین ولا فخر“ میں آخری نبی ہوں اور یہ واقعیت ہے۔ کوئی فخریہ یا تعریفی لفظ نہیں ہے۔ (مرزائی خوب غور کریں۔ کیونکہ وہ اسے تعریفی لفظ ہی سمجھتے ہیں)

درمنثور: ”ومحمد نبیی وھو خاتم النبیین“ مردے سے سوال ہوتا ہے تو وہ اقرار کرتا ہے کہ حضورﷺ ہی میرے پاک نبی ہیں اور حضورﷺ ہی خاتم الانبیاء اور آخری نبی ہیں۔

(تمیم الداریؓ)

کنز العمال: حدیث نزول آدم ”فی الہند قال جبریل آخر ولدک من الانبیاء“ حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان میں اترے تو آپ کو وحشت ہوئی۔ پھر جبرائیل نے اذان کہی اور محمد رسول اللہ کہا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے کہا وہ کون ہے تو آپ نے فرمایا کہ یہ آپ کی اولاد میں سے آخری نبی ہے۔

(ابو ہریرہؓ)

نوٹ! لنکا میں قدم آدم کی زیارت گاہ مشہور مقام ہے۔ جس کی تصدیق اس حدیث سے ہوتی ہے۔

احمد: حدیث ”التودیع لا نبی بعدی اطیعوا مادمت فیکم“ حضورﷺ نے دنیا سے دل برداشتہ ہو کر فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے جب تک میں تم میں موجود ہوں اطاعت کرو۔ (ابن عمرؓ) اس حدیث سے بروز جانی کا مسئلہ بھی حل ہو گیا کہ وہ باطل ہے۔ ورنہ ایسے موقعہ پر آپ ضرور امید دلاتے۔

حدیث الشفاعۃ: ”انت رسول الله وخاتم النبیین“ قیامت کے دن حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس سے نا امید ہو کر آپ کے پاس عرض کریں گے کہ آپ آخری نبی ہیں۔ آپ ہی ہماری سفارش کریں۔

(ابو ہریرہؓ)

مشکوٰۃ: حدیث قرب القیامۃ ”انا والساعۃ کھاتین“ حضورﷺ نے دو انگلیاں اٹھا کر فرمایا کہ میں اور قیامت ان دونوں کی طرح مقدم و مؤخر ہیں۔ (انسؓ) درمیان میں اگر کوئی نبی ہوتا تو حضورﷺ یوں کہنے کا حق نہیں رکھتے تھے۔

ترمذی: ”لوکان بعدی نبی لکان عمر“ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے۔ (عقبہ بن عامرؓ) اس حدیث میں اگر مرزا قادیانی اہل نبوت ہوتے تو ضرور ان کا نام ہوتا۔

صفحہ ١٥٢

حدیث انقطاع نبوت۔ ”ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی“ چونکہ بعثت انبیاء کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ اس لئے میرے بعد نہ کسی قسم کا نبی آسکتا ہے اور نہ کسی قسم کا رسول۔ (انس بن مالکؓ) لا نفی جنس نے بروز کو روک دیا ہے۔

ابن ماجہ: ”ذہبت النبوۃ وبقیت المبشرات“ نبوت چلی گئی اور رؤیائے صالحہ رہ گئیں۔ (ام کرزؓ)

ابن ماجہ: ”انا آخر الانبیاء وانتم اخر الامم“ میں آخری نبی ہوں۔ اس لئے تم آخری امت ہو۔ (ابوامامہؓ)

ترمذی: حدیث استخلاف علیؓ۔ ”لا یکون بعدی نبی“ آپ کو حضور ﷺ نے ایک موقعہ پر اپنا خلیفہ بنایا تو آپ نے کہا کہ لوگ مجھے کیا کہیں گے؟ (کہ میں جنگ میں شریک ہونے کے قابل نہیں رہا) تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم کو یہ منظور نہیں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہارون کی جگہ ہو۔ مگر فرق اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (جابرؓ)

مسلم: حدیث الدجاجلۃ ”لیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی انا خاتم النبیین لا نبی بعدی“ (ثوبانؓ) اس حدیث میں بندش الفاظ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت صحیح نہیں۔ ”قال فی (الفتح ج ٦ ص ٤٥٥) لیس المراد من ادعی النبوۃ مطلقا فانہم لا یحصون کثرۃ لکون غالبہم عن جنون او سوداء بل المراد بہ من لہ شوکۃ“ مرزا قادیانی بھی مراقی تھے۔

حدیث تفضیل۔ ”ختم بی النبییون“ مجھے فضیلتیں دی گئی ہیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ میرے آنے سے نبی ختم کئے گئے۔ (ابوہریرہؓ) نبوت جاری رہے تو آپ کی فضیلت کیا رہی؟۔

بخاری: ”لم یبق من النبوۃ الا المبشرات“ (ابوہریرہؓ) اور مسلم میں حضرت ابن عباسؓ سے یہی لفظ حضور ﷺ کی مرض موت میں مروی ہیں۔ جس سے ثابت ہوا کہ خاتم النبیین کا معنی آخری نبی محکم ہے۔

مسلم: ”انا اخر الانبیاء ومسجدی اخر المساجد (عبداللہ بن ابراہیم) وعند النسائی خاتم الانبیاء وخاتم المساجد انا محمد واحمد والمقفی (ابو موسیٰ اشعریؓ) قال النووی المقفی ہو العاقب“ (آخری نبی)

بخاری: ”انا العاقب الذی لیس بعدہ نبی“ (جبیر بن مطعمؓ)

صفحہ ١٥٣

منتخب کنز العمال وطبرانی: ”قال فى خطبة يوم حجة الوداع ايها الناس انه لا نبى بعدى ولا امة بعدكم“

(ابوامامہؓ)

احمد: ”فى امتى كذابون دجالون سبعة وعشرون منهم اربع نسوة وانى خاتم النبيين لا نبى بعدى“

(حذیفہؓ)

طحاوی: ”انه كذاب من ثلثين كذابا يخرجون قبل الدجال“ لوگوں نے مسیلمہ کے متعلق گو مگو کی تو آپ نے فرمایا کہ یہ بھی تیس کذاب میں سے ایک ہے۔

(ابوبکرہؓ)

بیہقی و دیلمی ابن کثیر: ”لا نبى بعدى ولامة بعد امتى (ضحاك وابن وائل) انى جعلتهم اخر الامم“

(انسؓ)

ابو حیان فی کتابہ: ”اول الانبياء آدم واخره محمد“

(ابوذرؓ)

ابن کثیر، درمنثور: ”كنت اوّل النبيين فى الخلق واخرهم فى البعث (ابوهريرةؓ) كنت اوّل الناس فى الخلق واخرهم فى البعث“

(قتادةؓ)

کنز العمال: ”ذهبت النبوة لا نبوة بعدى الا المبشرات“

(انسؓ وحذیفہؓ)

طبرانی، درمنثور، ابن جریر، احمد: ”انه لا نبى بعدى“ (علیؓ، ابوامامہ، ابن عباسؓ، عمرؓ، حبشی بن جنادہ، اسماء بنت عمیس، مالک بن عمرو، عقیل بن ابی طالب، عبداللہ بن عمرو)

کنز العمال: ”انا مقفى والحاشر والماحى والخاتم والعاقب (ابن عباس وابو موسىٰ وابوطفيل) انما بعثت فاتحا وخاتما (ابوقتادةؓ) انى خاتم الف نبى او اكثر“

(جابر وابوسعیدؓ)

الحاکم کنز العمال: ”فيقول قوم نوح امتك اخر الامم (وهب بن منبہؓ، معاذؓ) نحن آخر الامم (ابن عباسؓ) نحن الآخرون السابقون

(ابوهريرةؓ)

نحن اخيرها وخيرها“

المعتصر للطحاوی: ”لا وحى الا القرآن (ابن عباس)“ اس لئے مرزا قادیانی کی وحی باطل ٹھہری۔

کنز ، طبرانی ، فتح: ”يا عم انك خاتم المهاجرين فى الهجرة كما انا خاتم النبيين فى النبوة (ابن شهاب) قال الضب انت خاتم النبيين (عمر بن الخطابؓ، عائشةؓ، ابوهريرةؓ) يقول عيسىٰ ابن مريم ان محمد خاتم النبيين قد حضر اليوم فى المحشر (ام هانى) يقولون فتح الله بك وختم

(سلمانؓ)“

صفحہ ١٥٤

شرح الشفاء، مدارج النبوة : "عرض على النبى صلى الله عليه وسلم حمار يسمى يزيد بن شهاب فقال ان كثيرا من اولادى صاروا مراكب الانبياء فلم يبق منهم الا انا ومن الانبياء الا انت فادخلنى فى مراكبك ، قال فى غياث اللغات وبحر الجواهر ان من الحمير ما هو طويل الاذان ، يعظمه النصارى لانه كان من مراكب المسيح ابن مريم “

"تسمية نبينا خاتم الانبياء لان الخاتم اخر القوم (كليات ابى البقاء) خاتم النبيين اى اخرهم (لسان العرب) وهكذا فى القاموس وشرحه تاج العروس وفى مفردات الراغب تممها بمجيئه فى ابن كثير والبيضاوى عن ابن مسعود لكن نبيناً ختم النبيين . وكذلك يدل عليه قوله تعالى اكملت لكم دينكم عند ابن كثير وانى رسول الله اليكم جميعا . وما ارسلناك الا كافة للناس الا رحمة للعالمين الذى ختم النبوة وطبع عليها فلا تفتح لاحد بعده (ابن جرير) فمن رحمة الله وتشريفه لمحمد انه ختم النبيين (ابن كثير) ثم قال اذا كان لا نبى بعده فلا رسول بالطريق الاولى لان الرسول اخص من النبى (ابن كثير) انه خاتم الانبياء والمرسلين (زرقانى شرح مواهب) معنى قوله آخر الانبياء لا ينبأ احد بعده وعيسىٰ ممن نبئ قبله فلا اشكال (زمخشرى) يلزم من كونه خاتم النبيين خاتم المرسلين (سيد محمود آلوسى فى روح المعانى) لا نبوة بعده اى لا معه (خازن) لا ينبا احد بعده (مدارك) وكذا صرح به الفخر الرازى فى تفسيره لانذركم به ومن بلغ لمن كان حيا فى زمنه ومن يولد بعده (ابن كثير) هذا الدين كمال الى يوم القيمة كما قال تعالى اليوم اكملت لكم دينكم . لانذركم ومن بلغ ، قال كعب من بلغ القرآن فقد ابلغه محمد (ابن كثير) ومن يكفر به من الاحزاب فالنار موعده اى الناس كلهم الى يوم القيمة فان اسلموا فقد اهتدوا “

"قال السيوطى فى الخصائص الكبرى عن زياد بن لبيد كان على بعض آطام المدينة اذ سمع يا اهل يثرب قد ذهبت نبوة بنى اسرائيل هذا نجم قد طلع بمولد احمد اخر الانبياء مهاجره الى يثرب وعن زيد بن عمر

صفحہ ١٥٥

وبن نفيل انى بلغت البلاد اطلب دين ابراهيم وكل من اساله من اليهود والنصارى والمجوس يقول هذا الدين ورائك وينعت النبىّ ويقول لم يبق نبى غيره . وعن عمر وبن حكم حدثنى بعض عموتى ان ورقة كانت عنده يتوارثونها فى الجاهلية . فلما قدم النبىﷺ المدينة اتوه بها واذا فيها بسم الله وقوله الحق . وقول الظلمين فى تباب هذا الذكر لامة تاتى اخر الزمان قال الشعبىؒ فى مجلة ابراهيم عليه السلام ياتى النبى الامى الذى يكون خاتم الانبياء . وعن محمد بن كعب القريظى وحى الله الى يعقوب انى ابعث النبى الذى تبنى امته هيكل القدس وهو خاتم الانبياء اسمه احمد وعن كعب الاحبار قال دانيال بخت نصر فى تعبير رؤياه اما الحجر فدين الله يقذف به هذه الامة فى اخر الزمان ليظهر عليها“

”قال ابو نعيم فى الدلائل النبوة قال موسى انى اجد فى الالواح امة هم الاخرون . رب اجعلهم امتى قال تلك امة محمدﷺ وعن كعب قال ان ابى كان من اعلم الناس بالتورة لما حضره الموت قال انى حبست عنك ورقتين فيها نبى يبعث قد اظل زمانه (الى اخر ما قال) ثم نظرت فيهما اذا فيهما محمد رسول الله خاتم النبيين لا نبى بعده“

”قال فى الكنز قال ابوبكر الصديق عند وفات النبىﷺ فقدنا الوحى والكلام من عند الله وعن انس قال ابوبكر انطلق بنا نزور ام ايمن كما كان يزورها النبى عليه السلام فاتياها فوجداها تبكى وتقول ان خبر السماء قد انقطع عنا وفى شمائل الترمذى عن علىّ كان بين كتفى النبى عليه السلام خاتم النبوة وهو خاتم النبيين وفى نهج البلاغة عن علىّ عند غسله بابى انت وامى لقد انقطع بموتك مالم ينقطع بموت غيرك من نبوة الانبياء واخبار السماء“

”قال الحافظ بن قيم فى كتابه الفرقان لم يكن النبى عليه السلام محتاجا الى غيره فى النبوة لا الى نبى سابق ولا الى نبى لاحق . وعن الراغب الاصفهانى مثله فى مفرداته وعن ابن حزم فى (النحل والملل ج١ ص١١٣،١١٧) وجب الاقرار بان وجود النبوة بعد النبىﷺ باطل لا يكون البتة“

صفحہ ١٥٦

١١...... مرزا قادیانی اور ان کے اپنے ذاتی دعاوی

پہلے بیان ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی نبوت منوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ بلکہ اسلامی تصریحات نے ان کو نہ صرف غلط ہی قرار دیا ہے۔ بلکہ ان پر دس فرد جرم بھی لگا دیئے ہیں کہ ان کی وجہ سے آپ ہی خارج از اسلام بن گئے ہیں اور کسی وجہ سے اہل اسلام سے سوالات کرنے کے مجاز نہیں رہے۔ اب ذیل میں مرزائیوں کے وہ دعاوی بیان کئے جاتے ہیں کہ جن کے رو سے مرزا قادیانی کو مہدی یا مسیح محمدی ثابت کیا جاتا ہے جو سرتا پا غلط ہیں۔

پہلی دلیل

معراج دین احمدی نے ”سیرت مسیح موعود“ میں لکھا ہے کہ قادیان اصل میں کدعہ کا بگڑا ہوا ہے اور اسی گاؤں میں ظہور مہدی ہونا قرار پایا ہے اور مرزا قادیانی اپنے (ازالہ ص ١٣٢، خزائن ج ٣ ص ١٦٠) پر لکھتے ہیں کہ: ”شاہان دہلی کی طرف سے ہمارے مورث اعلیٰ کو (دریائے بیاس کے پاس ماجھ کے علاقہ میں) قضاء کا عہدہ ملا ہوا تھا کہ جس کی وجہ سے وہ قاضی ماجھی کہلاتے تھے اور گاؤں کا نام (اصل میں تو اسلام پور تھا مگر) لوگ قاضیاں ماجھی بھی کہتے تھے اور جب وہ قضا چھوٹ گئی تو صرف قاضیاں رہ گیا۔ پنجابی تلفظ نے اس کو (ض کی جگہ د بدل کر) قادیان بنا دیا اور آخر میں قادیان کہنے لگے اور جب لوگوں نے مخالفت مذہبی کے زمانہ میں اس کو کید سمجھ کر غلام احمد قادیانی (کیدیانی) لکھنا شروع کیا تو بصرف زر کثیر سرکاری کاغذات میں مرزائیوں نے قادیان لکھوایا۔ مگر مخالفین چونکہ وہی پرانی رٹ لگاتے رہے اور ماخذ قید کی طرف کسی کی توجہ نہ ہوئی۔ اس لئے قاضیان بنوانے کی کوشش نہ کی گئی ۔“

بہر حال اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ قول لفظ کدعہ کا بگڑا ہوا ہے غلط ہے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی اپنے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥) میں لکھتے ہیں کہ: ”مہدی اس گاؤں سے نکلے گا کہ جس کا نام کدعہ ہے۔ (معرب قادیان) خدا اس مہدی کی تصدیق کرے گا اور خدا اس کے دوست جمع کرے گا جو ٣١٣ عدد اہل بدر کے مساوی ہوں گے اور ان کے نام بقید سکونت و ولدیت پورے طور پر ایک فہرست مطبوعہ میں درج ہوں گے۔ بحمد اللہ یہ پیشین گوئی میرے حق میں پوری ہوئی۔“

اس عبارت میں قادیان کو معرب تصور کرنا اور اصل لفظ کدعہ قرار دینا دو وجہ سے غلط ہے۔ اوّل یہ کہ بقول خود مرزا قادیانی قادیان کو قاضیان ثابت کر آئے ہیں جو خاص عربی لفظ ہے۔ دوم یہ کہ بقول خود قادیان کو بھی عربی بتاتے ہیں۔ چنانچہ اپنے (ازالہ ص ٧٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) میں

صفحہ ١٥٧

لکھتے ہیں کہ کشفی طور پر میں نے اپنے بھائی غلام قادر مرحوم کو قرآن شریف پڑھتے دیکھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ آیت بھی پڑھی کہ: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ (ہم نے مرزا قادیانی کو مسیح بنا کر قادیان کے قریب اتارا ہے۔ کیونکہ یہاں کے لوگ شریر النفس واقع ہوئے ہیں۔ اس لئے پہلے نوشتوں میں شاید اس کو دمشق سے تعبیر کیا گیا ہے اور دمشق چونکہ یزیدیوں کی جگہ ہے۔ ظہور امام مہدی وہاں نہیں ہوا۔ بلکہ قادیان کے قریب مشرقی کونہ میں جہاں مرزا قادیانی کا موروثی مکان ہے وہاں ہوا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان عربی لفظ ہے کہ جس کو استعارہ کے طور پر دمشق بھی کہتے تھے۔

باوجود اس قدر غلط لکھنے کے پھر مرزا قادیانی اس کے بعد لکھتے ہیں کہ: ”باغ داد بگڑ کر بغداد ہوا۔ لودھی آنہ بگڑ کر لودھیانہ، امرتسر انبرسر، کاشمیر کشمیر اور بکہ سے مکہ ہوا۔ بلکہ یثرب سارا بدل کر مدینۃ النبی، طابہ اور طیبہ وغیرہ بن گیا اور اندر پرست شاہ جہان کے زمانہ میں دہلی بنا۔ پھر آج کل دلی کہتے ہیں۔“

جس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا غالب گمان یہی تھا کہ قادیان کدعہ ہی تھا۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ واقعی کدعہ مقام ظہور امام ہے یا کوئی اور دوسری بستی ہے۔ جس سے مراد قادیان لینا بالکل غلط ہے؟ اس لئے جب ہم بہائیوں کی تحریرات دیکھتے ہیں تو اور بھی یقین ہو جاتا ہے کہ قادیان کدعہ سے مراد نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اول تو مقام ظہور کدعہ یا کراع ہے۔ جس کی اصلیت نج (الکرملہ ص ٣٥٨) میں کدکھی ہے جو فارس میں ایک بستی کا نام ہے۔ ہاں کدہ قادیان سے ملتا جلتا نظر آتا ہے۔ مگر وہ بھی مرو کے مضافات میں ایک بستی کا نام ہے اور مرو خود خراسان میں داخل ہے جو فارس کا ایک حصہ ہے۔ اس لئے کد بھی فارس میں ہی ہوا۔ پنجاب میں نہ ہوا۔ کامل ابن اثیر جلد ششم تحت احوال ابن مقنع میں دیکھنے سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ کد یا کر فارس میں دو مقام ہیں۔ فارس سے باہر نہیں ہیں اور فارس دمشق سے مشرق میں واقع ہے۔ اس لئے جن روایات میں آیا ہے کہ مہدی کا ظہور شرقی دمشق سے ہو گا اس سے مراد بھی خراسان ہی ہے۔ (دیکھو حج ص ٤٠٨) اب مرزا قادیانی کا یوں تاویل کرنا کہ پنجاب شرقی دمشق ہے بالکل بے بنیاد تاویل ہوگی۔ کیونکہ اس تاویل کی اس وقت ضرورت تھی۔ جب کہ دمشق کے قریب ترین مواضع میں ہمیں کر یا کد نہ ملتے۔ مگر اب ان کی موجودگی میں قادیان کو مقام ظہور امام بنانا بالکل قرین قیاس نہ ہوگا۔

خود مرزا قادیانی بھی اپنی ایک تحریر میں اسی خیال کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مقام ظہور حسب تبادر ذہن و حسب تحقیق اہل اسلام قادیان نہیں ہے۔ بلکہ کوئی اور مقام ہے جو

صفحہ ١٥٨

دمشق کے قریب تر ہے۔ چنانچہ اپنے (ازالہ اوہام ص ٢٩٤، خزائن ج ٣ ص ٢٥١) میں آپ ہی لکھتے ہیں کہ بہت ممکن ہے کہ خاص دمشق کے قریب سے ہی کوئی مہدی (مثیل مسیح) نمودار ہو جائے اور (حقائق الحق ص ٧٤) میں لکھتے ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ جس مسیح کی اسلام نے خبر دی ہے وہ میں ہی ہوں۔ بلکہ بہت ممکن ہے کہ کوئی اور مسیح ہو کہ جس پر بغیر تاویل کے یہ اسلامی لفظ صادق آتے ہوں۔ اس تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی ضمیر بھی آپ کو تاویل بعید کے ارتکاب پر ہی اندر ملامت کرتی تھی۔ مگر تقدس مانع تھا۔ اس لئے در پردہ اپنے قول کی تردید بھی کر گئے ہیں۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ واقعی مرزا قادیانی نے اس غلطی کو محسوس کر لیا تھا۔ کیونکہ لدھیانہ کے مضافات میں ایک اور قصبہ بھی قادیان کے نام سے مشہور ہے اور وہیں مرزا قادیانی کا ہم عصر ایک گوجر قوم غلام احمد قادیانی نمبردار ہو گزرا ہے۔ جہاں مرزا قادیانی کی تمام داستان سازی باطل ہو کر رہ جاتی ہے۔ کیونکہ یا تو وہاں بھی مرزا قادیانی اپنے آباؤ اجداد کا قبضہ ثابت کر کے اپنے گاؤں کی وجہ تسمیہ جاری کریں اور یا یہ اقرار کریں کہ یہ لفظ دراصل کادی اور آں کلمہ نسبت سے مرکب ہے۔ جس کا مفہوم یوں نکلتا ہے کہ یہاں ارائیں قوم کے باشندے رہتے تھے۔ تا کہ دونوں گاؤں کی وجہ تسمیہ مشترکہ طور پر صحیح ہو سکے۔ ورنہ وہاں کا غلام احمد گجر بھی مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر حقدار تھا کہ وہ بھی مسیح اور مہدی بنے اور مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ غلط ہو جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی صرف میں ہی ہوں۔ کوئی دوسرا آدمی اس نام کا نہیں ہے۔ (ازالہ ص ١٨٦، خزائن ج ٣ ص ١٩٠) اگر اسلامی روایات سے مقابلہ کیا جائے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقام ظہور امام کو قادیان قرار دینا سراسر جہالت ہے۔ کیونکہ قادیان کی بنیاد ١٠٠٠ھ میں پڑی ہے اور کرعہ کا مقام خود حضورﷺ کے وقت موجود تھا۔ علیٰ ہذا القیاس قادیان پنجاب میں ہے اور کرعہ یا کراع مقام ظہور عرب بلکہ یمن میں ہے۔ جیسا کہ ان تحریرات سے ثابت ہوتا ہے کہ : ”كراع الغميم موضع على رحلتين من مكة عن بئر عسفان ثم قال هو موضع بين مكة والمدينة (مجمع البحار ج ٣ ص ٢٠٧) ثم قال مكة من تهامة وهى من ارض يمن ولذا يقال الكعبة اليمانية (بحار الانوار ج ٣ ص ٥٠٣)‘‘ اور یہی قرین قیاس بھی ہے کہ امام صاحب یمن میں پیدا ہوں گے۔ مدینہ میں حسب روایات پرورش پائیں گے اور مکہ میں ظاہر ہو کر بیعت لیں گے۔ بہر حال یہ استدلال بالکل کمزور ہے اور اس کی تائید میں اگر ٣٣ درجہ طول لے کر دمشق کے مشرق میں بنایا جائے تو اور مضحکہ خیز امر بن جاتا ہے۔ کیونکہ تعین حدود میں ہمیشہ ماحول قریب مراد ہوا کرتا ہے۔ دور دراز کی حدود اربعہ مراد نہیں ہوئے۔ مرزا قادیانی نے اپنے خیال میں کرعہ اور قادیان کو جوہرالاسرار قلمی کی تحریر

پر بنیاد رکھ کر مجدد بنا لیا تھا اور پورے نہ ہوئے تو مجبوراً مرد گوئی میں ذرہ خیال نہ کیا کہ دے کر مسیح اور مہدی بن گئے فتاویٰ شروع ہو گئے اور پیشین مہدی کو لوگ کافر بھی کہیں گے کہ مرزا قادیانی کہاں تک حق بدنام

دوسری دلیل

’لما يلحقوا ب ابھی عرب سے نہیں ملا اور وہ صحابہ میں داخل نہ ہوں گے او میں دوسری قوم اسلامی خدمت ”لوكان الدين عند الثر کریں گے۔ جو ثریا تک پہنچ کر بیت سمرقند سے نکل کر خراسان سمر قند توران میں واقع ہے اور کہ: ”علت سمرقند ان ی علاقہ فارس میں شامل نہیں رہا۔ میں سے ساسانی کہلاتا تھا۔ ج ہو گئے تھے تو اس سلسلہ نسب کو میں آئے تو انہوں نے اپنا نسب ثابت کیا کہ آپ اہل فارس یا ا بھی صادق آ گئی کہ : ”اذا رايت فيها خليفة الله المهدى دکھائی دیں تو ان کے نیچے آ جاؤ

صفحہ ١٥٩

پر بنیاد رکھ کر مجدد بنالیا تھا اور کسی کی نہ سنی۔ اسی طرح جب ٣١٣ مریدوں کی نوبت آئی تو وہ بھی پورے نہ ہوئے تو مجبوراً مردے مرید بھی اس فہرست میں شامل کر کے کام چلتا کیا اور اس پیشین گوئی میں ذرہ خیال نہ کیا کہ یہ بھی شرط تھی کہ وہ مرید مہدی کے پاس جمع ہوں گے۔ بہر حال لے دے کر مسیح اور مہدی بن گئے اور چاروں طرف سے اظہار ناراضگی ملامت کے ووٹ اور تکفیر فتاویٰ شروع ہو گئے اور پیشین گوئی کے خلاف ذرہ بھر مقبولیت نہ ہوئی تو دوسری چال چل دی کہ مہدی کو لوگ کافر بھی کہیں گے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ مقبولیت عام ملی یا نفرت؟ تو خود فیصلہ ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی کہاں تک حق بجانب تھے۔

بدنام بھی ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

دوسری دلیل

”لما يلحقوا بهم ثم لا يكونوا امثالكم“ میں بتایا گیا ہے کہ صحابہ کا ایک گروہ ابھی عرب سے نہیں ملا اور وہ گروہ ایک نبی کے ماتحت قرار پایا ہے جو خود محمد ہی ہوگا۔ ورنہ یہ لوگ صحابہ میں داخل نہ ہوں گے اور ترمذی میں مروی ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ عرب کے بدلہ میں دوسری قوم اسلامی خدمت کے لئے تیار ہوگی تو حضورﷺ نے حضرت سلمانؓ سے کہا کہ: ”لوکان الدین عند الثریا لنالہ رجال من ابناء فارس“ اہل فارس دین کی خدمت کریں گے۔ جو ثریا تک پہنچ کر ناممکن الحصول ہو گیا ہوگا اور مرزا قادیانی کا مورث اعلیٰ مرزا ہادی بیگ سمرقند سے نکل کر خراسان آیا تھا اور خراسان بقول (حجج ص ٣٥٨) فارس میں داخل تھا۔ کیونکہ سمرقند توران میں واقع ہے اور توران و ایران دونوں فارس میں شامل تھے۔ یاقوت حموی لکھتا ہے کہ: ”علت سمرقند ان يقال لها : زين خراسان جنة الكوثر “ اگرچہ اس وقت یہ علاقہ فارس میں شامل نہیں رہا۔ مگر وقت تکلم ضرور شامل تھا اور ہادی بیگ ولد برلاس یزد جرد کی اولاد میں سے ساسانی کہلاتا تھا۔ جن کی ایک خاص قوم مغل قرار پائی تھی۔ جس میں ترک بھی شامل ہو گئے تھے تو اس سلسلۂ نسب کو ساسانی، مغل اور ترک تینوں لقب حاصل ہو گئے تھے۔ مگر جب ہند میں آئے تو انہوں نے اپنا نسب نامہ فراموش کر دیا اور مرزا قادیانی نے بذریعہ کشف و الہام پھر یہ ثابت کیا کہ آپ اہل فارس یا اہل سمرقند مغل، ترک اور ساسان کی اولاد ہیں اور آپ پر وہ حدیث بھی صادق آ گئی کہ: ”اذا رايتم الرايات اسود خرجت من خراسان فاتوها فان فيها خليفة الله المهدی (رواه احمد عن ثوبان) “ جب خراسان میں تم کو سیاہ علم دکھائی دیں تو ان کے نیچے آ جاؤ۔ کیونکہ ان کے نیچے خلیفہ مہدی ہوگا۔ مرزا قادیانی کا مورث اعلیٰ

صفحہ ١٦٠

خراسان سے ہو گذراتھا۔ اگر چہ اس وقت علم موجود نہ تھے۔ مگر کم از کم آدمی نکلے تو تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی اگرچہ جسمانی طور پر وہاں موجود تو نہ تھے۔ مگر (باعتبار ما یکون کے) بحیثیت بذر اور تخم کے تو موجود تھے۔ بہرحال اس موقعہ پر ہوا بھر بھی سہارا ہم کو مفید رہے گا۔

اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ: ”یستبدل قوما غیرکم“ میں قوم کا لفظ وارد ہوا ہے۔ اسی طرح اسی حدیث میں صحیحین کے نزدیک ”رجال من ابناء فارس“ وارد ہے۔ ابونعیم نے اپنی کتاب حلیہ میں بھی بروایت ابوہریرہ ”قوم من ابناء فارس“ ہی لکھا ہے۔ خود مرزا قادیانی نے (براہین احمدیہ ص ٢٤٢ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٢٦٧) خذوا التوحید یا ابناء فارس ہی تسلیم کیا تھا۔ اس لئے شخصی طور پر مرزا قادیانی مراد نہیں ہو سکتے اور نہ ہی آپ کو قوم مراد ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آپ کے مورث اعلیٰ تمر لنگ اور چنگیز خان مسلمانوں کی تباہی کے باعث ہوئے ہیں اور ان کی بدولت بغداد کی سلطنت اسلامیہ کا خاتمہ ہوا ہے۔ علاوہ بریں اگر براہین احمدیہ کے الہام ہی آپ کو القاب دینے میں کافی ہیں تو آپ کو ہامان اسلام بھی کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ وہاں یہ الہام بھی (براہین ص٥١٠، خزائن ج ١ ص ٦٠٩ حاشیہ) میں موجود ہے۔ ”اوقدلی یا هامان“

آپ کا فارسی النسل ہونا بھی کسی تاریخی ثبوت پر مبنی نہیں ہے۔ صرف الہام ہی الہام ہے۔ جس کو بیرون حدود بیعت میں تسلیم کرنا گناہِ عظیم تصور کیا گیا ہے۔ کیونکہ مرزائی مؤرخ بھی اس الہام کی تکذیب کرتے ہیں۔ چنانچہ معراج الدین نے مسیح موعود کے حالات زندگی میں آپ کو برلاس کی اولاد ثابت کیا ہے۔ جو صرف مغل اور تیمور کے رشتہ دار قوم تھی اور (عسل مصفے ج٢ ص ٤٥٢) میں ہے کہ مرزا قادیانی کے اسلاف سمرقند سے ہندوستان میں آئے تھے اور وہ سمرقند ان ایام میں تاتار چینی میں شامل تھا اور خود مرزا قادیانی کے الہام نے بھی اس کی تائید کی ہے کہ میری ایک دادی چینی نسل کی بھی تھی اور ایک دادی سیدہ بھی تھی۔

اس لئے وہ الہام غلط ہوا کہ مرزا قادیانی فارسی النسل تھے۔ مگر تاہم مرزائی بدستور رٹ لگائے جاتے ہیں کہ آپ حضرت سلمان کی نسل سے مغل فارسی النسل تھے۔ اگرچہ یہ ثابت نہیں کرتے کہ حضرت سلمان فارسی کب سمرقند میں آباد ہو گئے تھے اور کیا سلمان فارسی یزدجر کی اولاد بھی تھے اور یہ کہ کیا سلمان فارسی نے عرب سے ہجرت اختیار کر لی تھی اور یہ بھی نہیں سمجھتے کہ اس کے دو دعویدار اور بھی موجود ہیں۔

اوّل....... حضرت امام اعظمؒ کے تابعدار کہ جنہوں نے بطریق روایت ثابت کیا ہے

صفحہ ١٦١

کہ ایک روایت میں ”رجل من ابناء فارس“ بھی وارد ہوا ہے۔ جس سے مراد سراج الامۃ حضرت امام اعظمؒ مراد ہیں اور یہ دعویٰ حنفی مذہب میں تسلیم کیا جا چکا تھا۔ مگر مرزا قادیانی نے اس دعویٰ پر بلاوجہ تورہ چنگیز خانیہ کے زیر ہدایت چھاپہ مارا۔

دوم ...... علی محمد باب مہدی ایران کے مرید مرزائیوں سے پہلے اس کے دعویدار بن چکے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کا دعویٰ تیسرے نمبر پر قابل سماعت نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ احناف کے بعد ایرانیوں کے وجوہات دعوے بہت پختہ اور سچے معلوم ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان کی بنیاد تاریخی شہادتوں پر ہے اور مرزا قادیانی کا بیان صرف الہام پر مبنی ہے۔ بابیوں کا بیان ہے کہ مقام ظہور امام خاص ایران ہے۔ کیونکہ حجج الکرامۃ ص ٣٧٦، ٣٨٣ میں مذکور ہے کہ امام صاحب اہل ایران سے لڑیں گے۔ (مگر مرزا قادیانی نہ ایران گئے اور نہ وہاں لڑے) آپ کے اصحاب گو عجمی ہوں گے لیکن ان کی گفتگو عربی زبان میں ہوگی۔ (اور مرزائی پنجابی میں بول چال کرتے ہیں اور عربی میں مرزا قادیانی اس وقت جوں طفل مکتب تھے تو مریدوں سے کیا توقع ہو سکتی ہے کہ عربی زبان میں روز مرہ کی گفتگو کریں۔ جس کا وجود مرزا قادیانی کے زمانہ میں بھی نہیں ملتا) اور ان کا محافظ ایک معصوم (نبی اور مسیح ایران) ہوگا۔ جو ان کی جنس سے نہ ہوگا اور عموماً اہل فارس ہی عجم سے مراد ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حاکم نے بروایت ابی ہریرہؓ لکھا ہے کہ اہل فارس کو ایک بہت بڑا حصہ اسلام کا دیا جائے گا۔ پس اس دلیل سے سید محمد علی باب مہدی ایران کی صداقت کا تسلیم کرنا مرزا قادیانی کی صداقت سے بہتر ہوگا۔ کیونکہ اس مسلک میں کسی تاویل بے جا کو نہیں لیا گیا اور حضرت باب شیراز میں ظاہر ہوئے اور آپ کے مرید سارے ہی ابناء فارس تھے۔ جنہوں نے خراسان میں سیاہ جھنڈے قائم کئے تھے اور اہل فارس نے ان کا مقابلہ کیا تھا اور یہ سب عجمی تھے۔ ان میں ایک بھی عربی النسل نہ تھا۔

اسلام کے نزدیک چونکہ مقام ظہور امام کا فیصلہ خاص یمن قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے یہ کمزور بیانات تسلیم نہیں کئے گئے اور یہ کہنا پڑا ہے کہ ابناء فارس کی پیشین گوئی کا تعلق ظہور مہدی سے نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد صرف اتنی ہے کہ اسلام کی خدمت عرب کے بعد عجمی کریں گے اور خاص کر اہل فارس اس میں بہت حصہ لیں گے کہ تواریخ اسلامیہ سے ثابت ہوتا ہے۔

تیسری دلیل

”کما ارسلنا الی فرعون رسولاً“ میں نبی کریم ﷺ کو مثیل موسیٰ قرار دیا گیا

صفحہ ١٦٢

ہے۔ پس جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے بعد عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش چودہ صدی کے بعد ہوئی تھی۔ اسی طرح ضروری ہے کہ مثیل موسیٰ علیہ السلام (حضور انور ﷺ) کے بعد مثیل مسیح (مرزا قادیانی) کی پیدائش بھی چودھویں صدی میں ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی اپنے (ازالہ ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٩٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”غلام احمد قادیانی کے اعداد تیرہ سو ہیں اور صرف میرا ہی دعویٰ کرنا یہ دلیل ہے۔ اس امر کی یہ کہ میں ہی اس صدی میں مسیح ہو کر آیا ورنہ تم آسمان سے مسیح کو اتار لاؤ۔“ اس کا جواب یہ ہے کہ:

اوّل...... تو یہی غلط بات ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضور انور ﷺ کے درمیان چودہ صدیاں یقیناً گذری تھیں اور اگر مان بھی لیں کہ کسی ایک روایت میں چودہ صدیاں ہی بنتی ہیں تو مرزا قادیانی بھی کسی ایک روایت میں جو بالکل بے اعتبار ہے مثیل مسیح بن جائیں گے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے بعد چودہ صدیاں سنہ ہجری کے حساب سے لی جاتی ہیں اور حضور ﷺ کے پہلے یہ سنہ موجود نہ تھا۔ اس لئے یہ کیسے یقیناً معلوم ہو سکتا ہے کہ ماقبل و مابعد کی چودہ صدیاں مقدار میں یکساں ہوں گی۔ علاوہ اس کے سنہ ہجری کا آغاز بھی محرم سے ہوا ہے۔ حالانکہ ہجرت ربیع الاوّل میں ہوئی تھی۔ اس لئے یہ حساب بھی تخمینی بنتا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان مختلف بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ چودہ صدیاں نہ تھیں۔ بلکہ سولہ صدیاں تھیں۔ یا کچھ کم و بیش۔ بہر حال پندرہ صدیاں یقینی نہیں ہیں۔ جیسا کہ ذیل کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔

فرق ١٤٨١ سال لکھتے ہیں۔

سال کا فرق ہے۔

میں تھے۔

صفحہ ١٦٣

بعثت ابراہیم کے درمیان ١٩٢١ سال کا فرق ہے اور یہود ونصاریٰ کا اس پر اتفاق ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی بعثت ابراہیم علیہ السلام کے بعد ٤٣٦ سال میں ہوئی ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میلاد مسیح میلاد موسیٰ کے بعد ١٥٧١ میں ہوا۔

کے درمیان ٢٠٠٠ سال کا فرق ہے اور میلاد مسیح اور بعثت نبوی کے درمیان ٦٠٩ سال کا فاصلہ ہے تو اس حساب سے موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام کا درمیانی فاصلہ ١٥٩١ ہوتا ہے۔ بہر حال مرزا قادیانی کے اپنے حساب کے رو سے بھی کسی طرح چودہ صدیوں کا فاصلہ نہیں بن سکتا۔ سوائے اس کے کہ منگھڑت باتوں سے کوئی نئی بات پیدا کی جائے۔

مرزا قادیانی کا یہ استدلال بھی غلط ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے عدد پورے تیرہ سو ہوتے ہیں۔ اس لئے وہ مہدی ہیں۔ کیونکہ ان کے سوا کئی ایک اوروں کے بھی اتنے ہی عدد ہیں۔ اب کیا وہ بھی حق رکھتے ہیں کہ چودھویں صدی کا مجدد مسیح یا مہدی کہلائیں۔ وہ یہ ہیں۔

جو پیر خاکروباں کے نام سے مشہور تھے)

دور انگلہ)

اب مرزا قادیانی ساکن قادیان متصل بٹالہ کی تخصیص نہ رہی اور (ازالہ ص١٨٥، خزائن ج٣ ص١٩٠) کی تحریر غلط نکلی کہ خدا نے کہا کہ غلام احمد قادیانی کے عدد تیرہ سو ہیں۔ اس

صفحہ ١٦٤

لئے تم ہی مسیح موعود اور مجدد اس صدی کے ہو اور یہ بھی غلط ہوا کہ تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کے سوا کوئی غلام احمد قادیانی نہیں ہے۔ (منتخب از کلمہ رحمانی) قاضی فضل احمد صاحب لدھیانوی لکھتے ہیں کہ میں نے ”ھل اونبئکم علیٰ من تنزل الشیاطین“ کے جواب میں غور کیا تو مرزا قادیانی کا خیال کرتے ہوئے فوراً یہ جواب ملا کہ : ”تنزل علی کل افاك اثیم“ جس کے اعداد پورے تیرہ سو تھے۔

چوتھی دلیل

روایات کے مطابق ١٣٠٠ھ دنیا کی عمر کا ساتواں ہزار سال ہے۔ جس میں امام مہدی کا ظہور قرار پایا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا دعویٰ جو عین ١٣٠٠ھ میں کیا صحیح ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ محققین یورپ کے نزدیک ١٨٧٢ء سے ساتواں ہزار سال شروع ہو جاتا ہے۔ (ملے نیل ڈان) اور مرزا قادیانی کا دعویٰ ١٨٨٢ء، ١٣٠٠ھ کو ہوتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنے دعوے میں دس سال لیٹ ہو گئے تھے اور اگر سنہ ولادت پیش کیا جائے تو اس میں بھی مرزا قادیانی ناکام نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ١٢٦٠ھ، ١٨٤٤ء مرزا قادیانی کی پیدائش کا سال ہے اور سید علی محمد باب کے ادعائے مہدویت کا سال ہے اور روایت ”انما الایات بعد المأتین“ سے مراد اگر بعد الالف لیا جائے تو یہ زمانہ بھی تیرھویں صدی کا ہی نکلتا ہے کہ جس میں مہدی ایران اور مسیح ایران ظاہر ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے شریک کار مہدی سوڈانی بھی ہیں کہ تیرھویں صدی ہجری میں جنہوں نے مرزا قادیانی سے بڑھ کر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس لئے ایک غیر جانبدار شخص کی نگاہ میں یہ مسئلہ بالکل مشتبہ رہ جاتا ہے اور کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ

من بکہ اقتدا کنم قبلہ یکے امام دو

جیسا کہ نقشہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے۔

نام امیدوار سنہ پیدائش سنہ دعویٰ مسیحیت و مہدویت سنہ وفات کل عمر مرزا قادیانی ١٢٥٩ ١٣٠٠ ١٣٢٦ ٦٦ سال ١٨٣٩ ١٨٨٢ ١٩٠٨ ١٢٦٢ ١٨٤٥ علی محمد باب ١٢٤٠ ١٢٦٠ ١٢٦٧ ٢٤ سال ظہور کوکب ١٨٤٤ بہاء ١٢٣٩ ١٢٦٨ ١٣٠٩ ٨٠ سال ١٨٩٢ مہدی سوڈان ١٢٥٩ ١٣٠٠ * * ١٨٤٢ ١٨٨٢

پانچویں دلیل

” انا علی بتایا گیا ہے کہ قرآن شر میں ہوگا۔ ان کے عدد اسلامی سلطنت ہندوست کا زمانہ کہا جا سکتا ہے۔ ”ماء“ کیوں نہیں جو کسی دلیل سے ثابت نہ اس کا یہ مطلب نہیں۔ مدعی ہو کر تبلیغ رسالت ہوں اور کب تبلیغ کریں اس کے ع مرزا قادیانی کی تاریخ سقطوا “ دعویٰ میس وفات ڈوبنا غلام احمد ڈ البیعد “ اور قاد ”ھناك الزلازل تک رہی ہے۔ اس ” قال (الاسلام) من (ذلک الدین) ا الدین) بعد ٦٠ ”لا تـ القرآن ثم صـ المسلم) فشر وهو زمان ظهـ

صفحہ ١٦٥

پانچویں دلیل

”انا على ذهاب به لقادرون“ اور ”واخرين منهم لما يلحقوا بهم“ میں بتایا گیا ہے کہ قرآن شریف ایک زمانہ میں دنیا سے اٹھ جائے گا تو حضور انورﷺ کا بروز آخر زمانہ میں ہوگا۔ ان کے عدد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ زمانہ ١٢٧٤ھ، ١٨٥٧ء کا ہے۔ جس میں غدر ہوا اور اسلامی سلطنت ہندوستان سے جاتی رہی۔ اس وقت مرزا قادیانی بالغ تھے۔ جس کو آپ کے بلوغ کا زمانہ کہا جا سکتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ پہلے تو یہ سمجھنا کہ بہ کا مرجع آیت میں قرآن شریف ہے۔ ”ماء“ کیوں نہیں جو پہلے مذکور ہے۔ دوسرے یہ کہ ظہور امام اور ذہاب قرآن کا زمانہ ایک قرار دینا کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے اور اگر یوں کہا جائے کہ ایسے وقت میں رسول آیا ہی کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس وقت وہ بالغ بھی ہوا کرتے ہیں۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ اس وقت وہ مدعی ہو کر تبلیغ رسالت کیا کرتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کو ابھی ٢٥ سال کا انتظار ہے کہ وہ کب مدعی ہوں اور کب تبلیغ کریں۔ ”تا تریاق از عراق آوردہ شود ۔ مارگزیدہ مردہ شود“

اس کے علاوہ اعداد جمل کوئی پختہ دلیل نہیں ہے۔ ورنہ جن مخالفوں نے مخالف پہلو پر مرزا قادیانی کی تاریخیں اخذ کی ہیں۔ وہ بھی درست ہوں گی۔ پیدائش ”الا فى الفتنة سقطوا“ دعوٰی مسیحیت و مہدویت ”افى الفتنة سقطوا ام“ لا بلوغ شباب ظلم، وفات ڈوبا غلام احمد ڈوبا۔ مرگ قادیانی ہیضہ سے، غضب کی نگاہ اور ”فى العذاب والضلال البعيد“ اور قادیانی کے متعلق یوں کہا جاسکتا ہے کہ احادیث میں اسی جگہ کی طرف اشارہ ہے۔ ”هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان“ اور غدر کی تکلیف چونکہ دس سال تک رہی ہے۔ اس لئے ٧٣ بھی وہی سنہ ہوگا۔

(کلمہ رحمانی ص ٥٧، ٥٩)

”قال فى عمدة التنقيح فى دعوة المهدى والمسيح يد بر الامر (الاسلام) من السماء الى الارض (ينزل من السماء) ثم بعد المائتين يرجع (ذلك الدين) اليه فى يوم كان مقداره الف سنة مما تعدون (اى يشرع رفع الدين) بعد ٢٦٠ اذ هو زمان اختفاء الامام الى ١٣٦٠“

”لا تحرك به لسانك الآية فالمراد فيه بالبيان الحديث اذبه فصل القرآن ثم صار تكميل الحديث الى ٢٦٠ (وهو زمان تصنيف صحيح المسلم) فشرع زمان الرجوع الى الالف فتم التدبير والرجوع الى ١٢٢٦ وهو زمان ظهور الباب من ال فارس (وهو الشيراز) حيث جبل بيستون

صفحہ ١٦٦

ويقال له مطلع العلوم ومطلع اهل فارس اذ لا يبقى من الاسلام الا رسمه ولا من القرآن الا اسمه وفى الحديث اقرءوا القرآن قبل ان يرفع فناله رجل من الثريا، وفى الحجج المراد بقوله عليه السلام الايات بعد المائتين اما آيات صغرى وهى شرور حدثت فى الاسلام واما آيات كبرى بعد الالف اى فى الماية الثالثه عشر“

”قال ابو البركات فى كتابه التوضيح هذه الايات نفخ فى الماية الاخيرة من اليوم الذى وعد به عليه السلام امته بقوله ان صلحت امتى فلها يوم وان فسدت فلها نصف يوم من ايام الرب وان يوما عند ربك كالف سنة مما تعدون هكذا فى الجواهر ثم قال المجلسى ان لكل امة مدة معلومة تنقضى بعدها لقوله تعالى لكل امة اجل فاذا جاء اجلهم لا يستاخرون ساعة ولا يستقدمون وبقى لهذه الامة الف سنة لقوله تعالى يدبر الامر الاية ولما مضى ٢٦٠ الى زمان الامام العسكرى حسن بن على وغاب عن الناس وظهرت الفتن بعده فظهر القائم بعده بعد يوم الرب اى الف سنة ١٢٦٠ واليه نظر قوله تعالى ويستعجلونك بالعذاب اذ قالوا ان كان هذا هو الحق من عند ربك فامطر علينا حجارة من السماء او ائتنا بعذاب اليم فقال لهم الله تعالى لكم ميعاد يوم لا تستاخرون منه ساعة ولا تستقدمون ٠ قال الابى هذا الاستدلالات وان كانت على غير شئ لكنها عند الخصم على شئ مظهر“

چھٹی دلیل

مرزا قادیانی کی تصدیق کے لئے ١٣١١ھ کو ایک ہی رمضان شریف میں کسوف وخسوف کا اجتماع ہوا۔ جو ظہور مہدی کی علامت احادیث میں لکھی تھی۔ جواب یہ ہے کہ حدیث کی عبارت یہ ہے کہ: ”ان لمهدينا ايتين لم تكونا منذ خلق الله السموات والارض ينكسف القمر الاوّل ليلة من رمضان وتنكسف الشمس فى نصف منه“

(رواه الدار قطنی عن محمد بن علی)

وضاع الحدیث“ لکھا ہے۔ اس لئے ان کی حدیث قابل استدلال نہیں ہے۔

گرہن ہوا تھا اور ی سکتا۔ کیونکہ اس می سورج گرہن۔

شریف میں بعید ہ مہدی تھا؟

ہو چکا ہے۔ جیسا ہوتا ہے۔ جس میں جائے کہ ہلال کو گر مگر مرزا قادیانی

لیلة سے مراد ایام بیض کی پہلی منہ سے مراد لیالی محاق کی درمیا ہے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ چا راتوں کے درمیانی رات میں دفعہ ہو چکے ہیں اور حدیث کا م اور بلا ضرورت اور علامت جہا کہ کوئی ستارہ ہلال رمضان س بھی ہو جائے۔ ہاں اگر چاند گ چاند گرہن ممکن نہ ہو گا۔ لیکن ی کا ستارہ جو ابھی تک دریافت ن کا گرہن نہ کہیں گے اور مرزا تاریخ مراد نہیں ہے۔ کیونکہ ہلا شمس و قمر تو کیا اس وقت ہلال ک قدرناه منازل“ موجود

صفحہ ١٦٧

سوم...... مرزا قادیانی کے زمانہ میں اجتماع کسوف وخسوف جو ہوا تھا وہ یوں تھا کہ ١٣ کو چاند گرہن ہوا تھا اور ٢٨ کو سورج گرہن ہوا۔ جو کسی طرح اس حدیث کا مصداق نہیں بن سکتا۔ کیونکہ اس میں لکھا ہے کہ رمضان کی پہلی تاریخ کو چاند گرہن ہوگا اور پندرہ کو سورج گرہن۔

چہارم...... ظہور مہدی ایران باب کے وقت ١٢٦٧ھ میں بھی خسوف وکسوف کا اجتماع رمضان شریف میں بعینہ ہوا تھا۔ جس طرح کہ مرزا قادیانی کے عہد میں ہوا تھا۔ آیا وہ بھی مہدی تھا؟

پنجم...... رمضان شریف میں عام طور پر اجتماعی کسوف وخسوف کئی بار مرزا قادیانی سے پہلے بھی ہو چکا ہے۔ جیسا کہ کتاب یوز آف دی گلوبس میں لکھا ہے کہ دورۂ قمر ٣٣٣ سال کا ہوتا ہے۔ جس میں دس دفعہ یہ اجتماع رمضان شریف میں ہو چکا ہے اور اگر یہ معنی لیا جائے کہ ہلال کو گرہن ہو تو علم نجوم کے لحاظ سے ناممکن ہو جاتا ہے۔

مگر مرزا قادیانی نے اس حدیث کو ممکن الوقوع بنانے میں یوں کوشش کی ہے کہ اوّل لیلۃ سے مراد ایام بیض کی پہلی رات ہے۔ کیونکہ ١٣، ١٤، ١٥ میں عموماً چاند گرہن لگتا ہے اور نصف منہ سے مراد لیالی محاق کی درمیانی رات ٢٨ تاریخ رمضان ہے۔ کیونکہ اس وقت چاند سیاہ ہو جاتا ہے۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ چاند گرہن اپنی راتوں میں سے پہلی رات کو ہوگا اور سورج گرہن انہی راتوں کے درمیانی رات میں ہوگا۔ مگر یہ ساری کوشش بے فائدہ ہے۔ کیونکہ ایسے اجتماعات کئی دفعہ ہو چکے ہیں اور حدیث کا دعویٰ ہے کہ آج تک ایسا اجتماع نہیں ہوا۔ اس لئے یہ تاویل بیجا غلط اور بلاضرورت اور علامت جہالت ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تو بہت ممکن ہے کہ کوئی ستارہ ہلال رمضان کے سامنے سے گزر کر چاند گرہن پیدا کرے اور پندرہ کو سورج گرہن بھی ہو جائے۔ ہاں اگر چاند گرہن میں زمین کو بھی چاند کے سامنے مانا جاوے تو پھر پہلی تاریخ کو چاند گرہن ممکن نہ ہوگا۔ لیکن یہ شرط ضروری معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ اگر کوئی دمدار ستارہ یا کوئی اور قسم کا ستارہ جو ابھی تک دریافت نہیں ہوا۔ چاند کے نیچے سے گزر کر اسے سیاہ کردے تو کیا اس کو چاند کا گرہن نہ کہیں گے اور مرزا قادیانی کا یوں کہنا کہ قمر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلی تاریخ مراد نہیں ہے۔ کیونکہ ہلال کو قمر نہیں کہتے۔ غلط ہے کیونکہ عام محاورات میں یوں کہتے ہیں کہ شہر قمر تو کیا اس وقت ہلال کی تاریخ مراد نہیں ہوتی۔ اسی طرح قرآن شریف میں ’’والقمر قدرناہ منازل‘‘ موجود ہے اور اس میں اس کی منزلوں کا ذکر ہے تو کیا ہلال کے لئے منزل کوئی

صفحہ ١٦٨

بھی نہیں ہے۔ اس لئے یہ ماننا پڑتا ہے کہ قمر عام ہے اور ہلال و بدر خاص نام ہیں اور مرزا قادیانی کا کہنا غلط ہے۔

ساتویں دلیل

ظہور امام کی دلیل دمدار ستاروں کا نکلنا بھی ہے۔ چنانچہ وہ بھی مرزا قادیانی کے عہد میں پایا گیا۔

جواب یہ ہے کہ دمدار ستارے ہمیشہ نکلتے رہتے ہیں۔ اس لئے یہ کوئی خاص نشان صداقت نہیں ہو سکتا۔ ورنہ مرزائیوں کو باب کی صداقت بھی تسلیم کرنا ہو گی۔ کیونکہ باب نے ١٢٦٠ھ ١٨٤٤ء میں دعویٰ نبوت کیا اور ١٢٦٢ھ، ١٨٤٥ء میں اکفلی ستارہ دمدار نمودار ہوا تھا کہ جس کی دو دمیں تھیں اور ١٣٠٠ھ، ١٨٨٢ء میں بھی ایک دمدار ستارہ نکلا تھا۔ مگر اس وقت مرزا قادیانی اور بہاء دونوں مدعی تھے اور مرزا قادیانی ابھی مدعی بنے کو تھے۔ اس لئے یہ بھی نشان صداقت مرزا نہیں ہو سکتا۔ ١٨٤٣ء اور ١٨٦١ء میں جو ستارے دمدار نمودار ہوئے تھے اس وقت نہ مرزا قادیانی مدعی نظر آتے ہیں اور نہ بہاء۔ اہل نجوم کا قول ہے کہ ٣٣ سال کے دورے میں دمدار ستارے نمودار ہو جاتے ہیں۔ مگر ہر وقت کسی مدعی کو اپنا نشان صداقت تصور کرنا نہیں سنا گیا۔ ورنہ آج تک کئی امام آخر الزمان پیدا ہو کر مر جاتے۔ ان کا یہ بھی قول ہے کہ کئی دفعہ ان کا گذر کرہ ہوا میں ہوتا ہے تو شعلہ انداز ہو جاتے ہیں اور کبھی نکتہ تقاطع ارض سے نہیں گذرتے تو شعلہ انداز بھی نہیں ہوتے۔ یہی وجہ تھی کہ ١٤؍نومبر ١٨٦٦ء کو تو وہ شعلہ افگن ہو کر نمودار ہوئے اور ١٨٩٩ء میں ان کا ظہور نہ ہوا اور ١٨٨٥ء میں جو ظہور ہوا وہ بالکل معمولی تھا۔ حیرت انگیز نہ تھا۔ اس لئے وہ قابل ذکر ہی نہیں ہو سکتا تو پھر اس کو نشان صداقت قرار دینا کیسے صحیح ہوگا۔

آٹھویں دلیل

قصیدہ اول......خواجہ نعمت اللہؒ

قدرت کردگار مے بینم حالت روزگار مے بینم
از نجوم ایں سخن نمیگویم بلکہ از کرد گار مے بینم
در خراسان و مصر وشام وعراق فتنہ کارزار مے بینم
ہمہ را حال میشود دیگر گریکے در ہزار مے بینم
قصہ بس عجیب مے شنوم غصہ در دیار مے بینم
صفحہ ١٦٩
غارت و قتل و لشکر بسیار از یمین و یسار مے بینم
بس فرو مایگان بے حاصل عالم وخواند کار مے بینم
مذہب دین ضعیف مے یابم مبتدع افتخار مے بینم
دوستان عزیز ہر قومے گشتہ غم خوار وخوار مے بینم
منصب وعزل و تنگی عمال ہر یکے را دوبار مے بینم
ترک و تاجیک را بہم دیگر خصم کینہ دار مے بینم
مکر و تزویر وحیلہ در ہرجا از صغار وکبار مے بینم
بقعہ خیر سخت گشتہ خراب جائے جمع شرار مے بینم
اند کے امن گر شوار مروز درحد کو ہسار مے بینم
گرچہ مے بینم ایں ہمہ غم نیست شادیے غمگسار مے بینم
بعد ازاں سال چند سال دگر عالمے چوں نگار مے بینم
بادشاہے تمام دانائی سرورے باوقار مے بینم
حکم امسال صورتے دگرست نہ چوں بیداد وار مے بینم
غ رسال چوں گذشت از سال بوالعجب کار و بار مے بینم
کہ در آئینہ ضمیر جہان گرد زنگ وغبار مے بینم
ظلمت ظلم ظالمان دیار بے حد وبے شمار مے بینم
جنگ وآشوب و فتنہ وبیدار درمیان وکنار مے بینم
بندۂ خواجہ وش مے بینم خواجہ رابندہ وار مے بینم
ہرکہ اوبود باریاب امسال خاطرش زیر بار مے بینم
سکہ نوزنند بر رخ زر درہمش کم عیار مے بینم
لیک از حاکمان ہفت اقلیم دیگرے را دو چار مے بینم
ماہ را روسیاہ مے نگرم مہر را دل فگار مے بینم
تاجر از دور دست وبے ہمراہ ماندہ در رہگذار مے بینم
حال ہندو خراب مے بینم جور ترک وتتار مے بینم
بعض اشجار بوستان جہاں بے بہار وثمر مے بینم

ہلال و بدر خاص نام ہیں اور مرزا قادیانی کا ا ہے۔ چنانچہ وہ بھی مرزا قادیانی کے عہد

رتے ہیں۔ اس لئے یہ کوئی خاص نشان ت بھی تسلیم کرنا ہوگی۔ کیونکہ باب نے اء میں کفلی ستارہ دمدار نمودار ہوا تھا کہ ایک دمدار ستارہ نکلا تھا۔ مگر اس وقت ی مدعی بننے کو تھے۔ اس لئے یہ بھی نشان رے دمدار نمودار ہوئے تھے اس وقت نہ ا ہے کہ ٣٣ سال کے دورے میں دمدار شان صداقت تصور کرنا نہیں سنا گیا۔ ورنہ بھی قول ہے کہ کئی دفعہ ان کا گذر کرہ ہوا ارض سے نہیں گذرتے تو شعلہ انداز بھی ن ہو کر نمودار ہوئے اور ١٨٩٩ء میں ان تھا۔ حیرت انگیز نہ تھا۔ اس لئے وہ قابل یچ ہوگا۔

نت اللہ
ت روزگار مے بینم
از کرد گار مے بینم
کارزار مے بینم
یکے در ہزار مے بینم
درویار مے بینم
صفحہ ١٧٠
ہمدلی و قناعت کنجی حالیا اختیار مے بینم
غم مخور زانکہ من دریں تشویش خرمی وصل یار مے بینم
چوں زمستان بے چمن بگذشت شمس خوش بہار مے بینم
دور او چوں شود تمام بکام پسرش یاد گارے بینم
بندگان جناب حضرت او ہمہ را تاجدار مے بینم
بادشاہے تمام ہفت اقلیم شاہ عالی تبار مے بینم
صورت و سیرتش چو پیغمبر علم و حلمش شعار مے بینم
ید بیضا کہ بود تابندہ باز با ذوالفقار مے بینم
گلشن شرع را ہمے بویم گل دین را بہار مے بینم
تا چہل سال اے برادر من دور آں شہ سوار مے بینم
عاصیاں از امام معصوم خجل و شرم سار مے بینم
غازی دوستدار دشمن کش ہمدم و یار غار مے بینم
زینت شرع و رونق اسلام محکم و استوار مے بینم
گنج کسریٰ و نقد اسکندر ہمہ بر روئے کار مے بینم
بعد ازاں خود امام خواہد بود پس جہاں را مدار مے بینم
ا ح م د مے خوانم نام آں نامدار مے بینم
دین و دنیا ازو شود معمور خلق ازو بختیار مے بینم
مہدیئے وقت و عیسٰی دوراں ہر دو را شہسوار مے بینم
ایں جہاں را چو مصر مے نگرم عدل او را حصار مے بینم
ہفت باشد وزیر سلطانم ہمہ را کامگار مے بینم
بر کف دست ساقیئے وحدت بادۂ خوشگوار مے بینم
تیغ آہن دلاں زنگ زدہ کند و بے اعتبار مے بینم
گرگ با میش و شیر با آہو در چرا باقرار مے بینم
ترک عیار دست مے نگرم خصم او در خمار مے بینم
نعمت اللہ نشستہ بر کنجے
از ہمہ بر کنار مے بینم
صفحہ ١٧١

سے ثابت ہوتا ہے کہ ظہور مہدی کے وقت ضعف اسلام دور ہو جائے گا اور وہ ١٣٠٠ھ کے بعد کا زمانہ ہے کہ جس میں مجدد وقت کا انتظار تھا۔ نمبر ٤٠ سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی چالیس سال تک اپنا کام کریں گے۔ نمبر ٣٧ سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی بروز محمدی ہوں گے۔ نمبر ٤٦ سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ اس کو احمد نام لے کر پکارے گا۔ نمبر ٤٧ سے ثابت ہے کہ مرزا قادیانی تبلیغ اسلام کریں گے۔ نمبر ٣٦ سے ثابت ہے کہ وہ خلیفۃ اللہ ہوگا اور نمبر ٤٨ سے ثابت ہے کہ عیسیٰ اور مہدی ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ نمبر ١٩ سے ثابت ہے کہ بارہ سو کے بعد تیرہ سو ہجری میں مہدی کا ظہور ہوگا۔

جواب یہ ہے کہ یہ استدلال اس وقت تسلیم ہوسکتا ہے کہ اس کے دعویدار صرف مرزا قادیانی ہی ہوں۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے مدعی دو اور بھی ہیں۔

اول ...... تابعداران حضرت سید احمد صاحب بریلویؒ جو حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب مرحوم دہلوی کے مرید تھے۔ آپ کے ہاتھ پر تیس ہزار غیر مسلم نے اسلام قبول کیا اور چالیس لاکھ اہل اسلام نے بیعت کی۔ آپ کے مرید مولوی عبداللہ صاحب غزنوی اور مولوی عبید اللہ صاحب نو مسلم تھے۔ آپ کے طفیل سے کفر و شرک دور ہوا اور قرآن وسنت نے جگہ لی۔ اس لئے یہ پیشین گوئی جناب سید احمد صاحب پر زیادہ چسپاں ہوگی اور کسی قسم کی تاویل بھی نہ کرنی پڑے گی۔ دیکھو (سوانح سید احمد شہید) اور یہی وہ بزرگ ہیں کہ جن کو مرزا قادیانی نے خود مسیح بن کر یحییٰ اور مہدی کا خطاب دیا تھا۔ مگر بعد میں انکاری ہو بیٹھے تھے۔ بہرحال یہ بزرگ مرزا قادیانی کے ہم عصر تھے۔ مگر آپ کے زمانہ میں مرزا قادیانی کو کوئی نہیں پوچھتا تھا۔

دوم ...... بابی مذہب کے شیدائی یہ کہتے ہیں کہ ١٣٠٠ھ میں حضرت باب کا زمانہ ہے اور نمبر ١٩ میں اصل شعر یوں بتاتے ہیں۔

غ ر س چوں گذشت از سال

یعنی جب گذریں گے تو حضرت باب کا ظہور ہوگا۔

عام اہل اسلام کا خیال ہے کہ یہ قصیدہ اور ایسے کئی ایک قصائد ٥٧ میں غدر کے وقت مسلمانوں کی طفل تسلی دینے کے لئے اختراع کئے گئے ہیں۔ ورنہ اصل میں کسی کشف صحیح پر ان کی بنیاد نہیں ہے۔ پچھلے ترک موالات کے دنوں میں دو قسم کے اور قصیدے بھی شائع ہوئے تھے۔ ایک کا قافیہ شود تھا اور دوسرے کا بیانہ وغیرہ اور اس میں مختلف التواریخ اور متباین المضامین تھے۔ اس لئے ایسے قصائد قابل اعتبار ہی نہیں ہیں تا کہ ان کی صداقت پر کسی کا دعویٰ شناخت کیا جاسکے۔

صفحہ ١٧٢

اس کے علاوہ یہی قصہ یہ دوسری جگہ اگر دیکھو گے تو جزوی طور پر ضرور مختلف ہوگا۔ چنانچہ ایک جگہ پر (بقول بعض) یوں لکھا ہے۔

م ح م دے بینم

ہوگا۔ مرزائیوں نے خواہ مخواہ احمد بنالیا ہے۔ اسی طرح ممکن ہے کہ شاہ ولی اللہ مرحوم کی پیشین گوئی بھی مشترکہ طور پر اختلافی ہو اس لئے وثوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے مراد فلاں مدعی ہے اور فلاں نہیں اور دراصل فقراء کی پیشین گوئیاں ظنی یا وہمی ہوتی ہیں۔ ان کا اعتبار مسائل شرعیہ میں نہیں ہوتا۔

قصیدہ دوم ..... خواجہ نعمت اللہ ہانسویؒ

راست گویم بادشاہے در جہاں پیدا شود نام آں تیمور شاہ صاحبقراں پیدا شود
بعد ازاں میراں شہے کشورستاں گردد پدید والی صاحبقراں اندر زماں پیدا شود
چوں کند عزم سفر آں شاہ سوئے دار البقا بعد ازاں جواں شاہ در انس و جان پیدا شود
بعد ازاں گردد عمر شیخے مالک رکاب گردد آں شاہ مدیش ہمداں پیدا شود
شاہ بابر بعد ازاں در ملک کابل بادشاہ پس بدہلی والیِ ہندوستاں پیدا شود
از سکندر چوں رسد نوبت بابراہیم شاہ ایں یقیں داں فتنہ در دور آں پیدا شود
باز نوبت چوں رسد شاہ ہمایوں را ز حق ہمدرآں افغان یکے از آسماں پیدا شود
حادثہ رو آورد سوئے ہمایوں بادشاہ آنکہ نامش شیر شاہ باشد ہماں پیدا شود
چوں رود در ملک ایراں پیش اولاد رسول تا کہ قدر و منزلش از قدرداں پیدا شود
شاہ طہماں مہربانہا کند در حق او تا وقار عزتش چوں خسرواں پیدا شود
تا زمانی آنکہ او لشکر بیارد سوئے ہند شیر شاہ فانی شود پورش برآں پیدا شود
پس ہمایوں آمدہ گیرد تمامی ملک ہند بعد ازاں اکبر شہِ کشور ستاں پیدا شود
بعد ازاں شاہ جہانگیر است گیتی را پناہ ونگہی اندر جہان شاہ غازیاں پیدا شود
چوں کند عزم سفر آں شاہ سوئے دار البقا ثانی صاحبقراں اندر جہاں پیدا شود
ثانی صاحبقراں تا چہل شاہی میکند تازہ جور و کیں در ایں مکاں پیدا شود
فتنہ ہا در ملک آرد نیز بس گردد خراب از عجائب ہا بود گر آب وناں پیدا شود
صفحہ ١٧٣

١٧١ گئے تو جزوی طور پر ضرور مختلف ہوگا۔ چنانچہ ایک جگہ

کہ امام مہدی کا نام حسب روایات محمد ہوگا احمد نہ اسی طرح ممکن ہے کہ شاہ ولی اللہ مرحوم کی پیشین شوق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس سے مراد فلاں پیشین گوئیاں ظنی یا وہمی ہوتی ہیں۔ ان کا اعتبار

اجہ نعمت اللہ ہانسویؒ

نام آں تیمور شاہ صاحبقراں پیدا شود
والی صاحبقراں اندر زماں پیدا شود
بعد ازاں جواں شاہ درآتش و جاں پیدا شود
گردد آں شاہ عدلش ہمداں پیدا شود
پس بدہلی دایۂ ہندوستاں پیدا شود
ایں یقین دان فتنہ در دور آں پیدا شود
ہمداں افغان یکے از آسماں پیدا شود
آنکہ نامش شیر شاہ باشد ہماں پیدا شود
تا کہ قدر و منزلش از قدرداں پیدا شود
تا وقار عزتش چوں خسرواں پیدا شود
شیر شاہ فانی شود یورش بر آں پیدا شود
بعد زاں اکبر شہی کشور ستاں پیدا شود
وہمی اندر جہان شاہ طاغیاں پیدا شود
ثانی صاحبقراں آندر جہاں پیدا شود
نالہ جورش چو در دین آں کلاں پیدا شود
از عجائب ہا بود گر آب وناں پیدا شود
در تحیر خلق آید چوں چنیں گردد خراب مشتری آتش فشاں از آسماں پیدا شود
راستی کمتر بود کذب ودغل گرمو فزوں دوست گردد دشمنی اندر میاں پیدا شود
ہمچناں در عشرہ ثانی بادشاہی میکند تاز فرزندان او کوچک بداں پیدا شود
او بر آید پر کند آوازۂ خود در جہاں والی در خلق عالم سرفشاں پیدا شود
اندر آں اثنا قضا از آسمان آید پدید آنکہ نام او معظم بیگماں پیدا شود
خلق را فی الجملہ در دوران او گردد سکون بر جراحت ہائے مردم مرہم آں پیدا شود
نادر آید اوز ایران می ستاند ملک ہند قتل دہلی پس بزور جہد آں پیدا شود
بعد زاں احمد شہی کوہست گیتی را پناہ او بملک ہند آید حکم آں پیدا شود
چوں کند عزم سفر آں شاہ سوئے دارالبقاء رخنہ اندر خاندانش زماں میاں پیدا شود
قوم سکھاں چیرہ دستی چوں کند بر مسلمین تا چہل ایں دور بدعت اندراں پیدا شود
بعد زان گیرد نصاریٰ ملک ہندوستان تمام حکم شان صد سال در ہندوستان پیدا شود
چوں شود در دورایشان جور و بدعت را رواج شاہ غربی بہر قتلش خوش عناں پیدا شود
قاتل کفار خواہد شد شہے شیر علیؒ حامی دین محمد پاسبان پیدا شود
در میان این آں گردد چو بس جنگ عظیم قتل عالم بے شبہ در جنگ آں پیدا شود
فتح یا بداز خدا آں شاہ بزور خود تمام قوم عیسیٰ را شکستی بے گماں پیدا شود
غلبۂ اسلام ماند تا چہل در ملک ہند بعد زاں دجال خراز اصفہاں پیدا شود
او برائے دفع آں دجال مے گویم شنو عیسیٰ آید مہدی آخر زماں پیدا شود
پانصد و ہفتاد ہجری آں زمانے گفتہ شد یک ہزار سی صد وہشتاد آں پیدا شود
سالہا چوں سیزدہ می گذرد فرمان او شوروغوغا اختلافش زاں میاں پیدا شود
نعمت اللہ آچو آگاہی شد از اسرار حق گفته او بیگماں بر مرد ماں پیدا شود

نوٹ: اس قصیدہ میں امام آخر الزمان کا نام نہیں بتایا گیا اور نہ ہی پہلے قصیدہ سے مطابقت رکھتا ہے۔

قصیدہ سوم.......خواجہ نعمت اللہ ہانسویؒ

چوں آخری زمانہ آید بدیں زمانہ شہباز سدرہ بینی بر دست رایگانہ
بینی تو عیسوی را بر تخت بادشاہی گیرند مومناں را با حیلہ و بہانہ
صفحہ ١٧٤
احکام دین و اسلام چوں شمع گشتہ خاموش عالم جہول گردد جاہل شود علامہ
در شہر کوہ کشلاک نوشند خمر بیباک ہم بھنگ چرس تریاق نوشند باغیانہ
فاسق کند بزرگی برقوم از سترگی پس خانہ بزرگی سازند بے نشانہ
در کوہ گلہ باناں در شہر ہا خراماں باشند چو بادشا ہاں سازند خوش مکانہ
آں عالمان عالم گردند ہم چو ظالم پس شستہ روئے خود را برسر نہند عمامہ
زینت دہند خود را با شملہ و جبہ گوسالہ ہائے سامر باشند درون جامہ
ہم بنگ ہائے رشوہ ہر قاضیے چو خُشوہ با غمزہ و کرشمہ گیرند بر علامہ
ہر مؤمن نزاری در چنگ قاضی آری چوں سگ پئے شکاری قاضی کند بہانہ
ہم مفتیان فتویٰ فتویٰ دہند بے جا از حکم شرع سازند بیروں بسے بہانہ
در مکتب و مدارس علم نجوم خوانند ہم اعتقاد بے جا بنہند بے کرانہ
فسق و فجور در کو رائج شود بہر سوء مادر بدختر خود سازد بسے بہانہ
در ہند سندھ و مدراس اولاد گورگانی شاہی کنند انا شاہی چو ظالمانہ
تا مدت سہ صد سال در ملک ہند و بنگال کشمیر و شہر گوپال گیرند تا کرانہ
صد سال حکم ایشاں در ملک بلخ و توراں آخر شود بیکساں در کہف غائبانہ
آں راجگان پنگی مخمور و مست بھنگی در ملک شاہ فرنگی آئندہ غالبانہ
صد سال حکم ایشاں در ملک ہندے واں آرید اے عزیزاں ایں نکتۂ بیانہ ء
طاعون و قحط یکجا در ہند گشت پیدا پس مومناں بمیرند ہر جا ازیں بہانہ
مردے ز نسل تیمرکان رہزن شود چو سلطاں گوید دروغ دستاں در ملک ہندیانہ
دوکس بنام احمد گمراہ کنند بے حد سازند از دل خود تفسیر فی القرآنہ
اسلام و اہل اسلام گردد غریب میداں در ملک بلخ و توراں در ہند و سندھیانہ
در شرق و غرب یکسر حاکم شوند کافر چوں میشود برابر ایں حرف ایں بیانہ
از بادشاہ اسلام عبدالحمید ثانی چوں کیقباد و کسریٰ ۔ باشا عادلانہ
بر او نصاریٰ ہر سو اغوا غلو نمایند پس ملک او گیرند با حیلہ و بہانہ
بر کوہ قاف میداں باشد ز روس فرماں خوارزم و خیوہ یکساں گیرند تا کرانہ
جاپان و چین و ایران خرطوم ہم کہستاں ہم ملک مصر و سوڈان گیرند تا کرانہ
قتل عظیم سازند در دشت ۔
شاہ بخارا توراں تابع شـ
نیپال و ملک تبت چترال و
روسہ چو شاہ شطرنج بریک
سرحد جدا نمائند از جنگ
کافر چو مومناں را ترغیب
در عین بے قراری ہنگام
ناگاہ مومناں را شورے
گردد ز نو مسلماں غالب ز قـ
آخر حبیب اللہ صاحب قرآ
رود اٹک دو سہ بار از خون
پنجاب و شہر لاہور ہم ڈیرہ ا
چوں مردماں اطراف ایں مژ
قوم فرانس ویراں برہم ۔
ایں غزوہ تا بہ شش سال باشـ
حامد شود علمدار در ملک
اعراب نیز آند از کوہ و دشـ
آخر بموسم حج مہدی خرا
خاموش نعمت اللہ اسرار حق

نوٹ! اگر پہلے قصید نمبر ١٢١ اس کی تردید کر رہا ہے۔ اس قصیدہ کا شعر نمبر ٢٠ اس قصیدہ کے آخری ٥٤٩ میں کہی گئی ہے۔

صفحہ ١٧٥
قتل عظیم سازند در دشت مرد میداں برقوم ترکماناں آئند غالبانہ
شاہِ بخارا توراں تابع شود بدیشاں تا آنچہ شعر خوانم گیرند تاکرانہ
نیپال وملک تبت چترال تکہ پربت پس ملک ہائے گلگت گیرند باغیانہ
روثہ چو شاہ شطرنج بریک بساط بینم از بہر ملک و ہم گنج آئند مدعیانہ
سرحد جدا نمائند از جنگ باز آئند صلح فریب سازند صلح منافقانہ
کافر چو مومناں را ترکیب دیں نمایند از حج مانع آئند وز خواند قرآنه
درعین بے قراری ہنگام اضطراری رحمے کند چو باری برحال مومنانه
ناگاہ مومناں را شورے پدید گردد باکافراں نمائند جنگے چو رستمانہ
گردد ز نو مسلماں غالب زفیض رحماں یعنی کہ قوم افغاں باشند شادمانہ
آخر حبیب اللہ صاحب قرآں من اللہ گیرد ز نصراللہ شمشیر از میانه
رود اٹک و سہ ہار از خون ناب کفار ترمیشود یکیبار جریاں جارحانه
پنجاب و شہر لاہور ہم ڈیرہ جات بنوں کشمیر ملک مفتوح گیرند غائبانہ
چوں مردمان اطراف ایں مژدہ کہ شنوند یک بار جمع آئند بر باب عالیانہ
قوم فرانس وایراں برہم نموده اول بالنگلش و اطالی آئند جارحانہ
ایں غزوہ تا بہ شش سال باشد ہمہ بدیں خوں ریختہ بفرماں سلطان غازیانہ
حامد شود علمدار در ملک ہائے کفار فی النار گشتہ کفار از لطف آں یگانه
اعراب نیز آئند از کوہ و دشت و ہاموں سیلاب آتشینے از ہر طرف روانہ
آخر بموسم حج مہدی خروج سازند آں شہرہ خروجش برا مشہور در جہانہ
خاموش نعمت اللہ اسرار حق مکن فاش در سال کنت کنزاً باشد چنیں بیانه

نوٹ! اگر پہلے قصیدہ شعر نمبر ٤٦ مرزا قادیانی کے حق میں ہوں تو قصیدہ نمبر ٣ کا شعر نمبر ١٢١ اس کی تردید کر رہا ہے۔ اس قصیدہ کا شعر نمبر ٢٠ مرزا قادیانی کے استدلال کا جواب بن سکتا ہے۔ اس قصیدہ کے آخری مصرعہ کو باشد کی بجائے گشتہ پڑھیں تو مطلب یہ نکلتا ہے کہ یہ نظم ٥٤٩ھ میں کہی گئی ہے۔

صفحہ ١٧٦

نوویں دلیل

اولاد اس سے محروم رہے گی۔

(براہین احمدیہ ص ٢٤٨)

تمام حالات بتا کر کہا کہ اس کا نام غلام احمد ہے۔

(ازالہ ص ٧٠٧)

(براہین ص ٢٤٨)

اخیر ہے۔

جواب یہ ہے کہ صوفیائے کرام میں حسن ظن غالب ہوتا ہے اور اپنے مکاشفات کی بنیاد پر کئی دفعہ ٹھوکریں بھی کھا جاتے ہیں۔ ترک موالات کے دنوں میں خواجہ حسن نظامی نے بڑے مکاشفے شائع کئے تھے۔ مگر پورا ایک بھی نہ ہوا۔ اس لئے بہت ممکن ہے کہ مولوی عبداللہ صاحب اور حضرت تونسوی صاحب نے غلطی کھائی ہو اور بعد میں جب مرزا قادیانی کو اسلام کے خلاف دیکھا ہو تو انکار کر دیا ہو۔ مہدی کی تکفیر کا مسئلہ بھی کشف پر مبنی ہے۔ اس لئے یہ بھی قابل التفات نہیں، باقی رہا خواب کا معاملہ تو یہ سب سے کمزور اور خیالی دلیل ہے۔ مرزا قادیانی حضور انور ﷺ کو دیکھتے ہیں کہ آپ نے فرمایا براہین شائع کرو۔ ازالۃ الاوہام میں صوفی احمد لکھنوی کا خواب لکھا ہے کہ بقول حضور انور ﷺ مرزا بڑا خراب آدمی ہے۔ اب ناظرین خود ہی سوچیں کہ دونوں خواب کیسے صحیح ہو سکتے ہیں؟ ایسے لوگوں کو خدا ہدایت دے۔ کیونکہ عجیب رنگ میں حضور انور ﷺ کو بدنام کر رہے ہیں کہ آپ بھی کسی جگہ کچھ کہتے تھے اور کسی جگہ کچھ۔

یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ خواب میں شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا۔ اس لئے خواب میں حضور ﷺ کا آنا اصلی ہوگا۔

جواب یہ ہے کہ خواب دیکھنے والے کو شیطان پھر بھی دھوکا دے سکتا ہے۔ کیونکہ کسی نے آج تک پہلے حضور ﷺ کو دیکھا ہوا نہیں ہے کہ جس سے وہ تمیز کر سکے کہ یہ صورت حضور ﷺ کی ہے۔ جس پر شیطان نہیں آسکتا۔ اب جس صورت میں آئے یوں کہا جا سکتا ہے کہ شاید یہی

صفحہ ١٧٧

حضورﷺ کی صورت ہو۔ اس لئے خوابوں کا اعتبار مطلقاً نہیں ہے اور کسی مسئلہ شرعیہ کے ثابت کرنے میں کارآمد نہیں ہو سکتیں۔ ہاں پیغمبر کے خواب صحابہ کے خواب اور سچا درد رکھنے والوں کے خواب سچے نکلتے ہیں۔ مگر آج کل وہ لوگ نہیں رہے۔ اس لئے آج کل کے خواب حدیث النفس بخارات غذائیہ، بخارات دماغیہ اور تسویلات شیطانیہ سے اگر مشتبہ نہ ہوں تو پھر قابل توجہ ہو سکتے ہیں ورنہ مشکل ہے۔

١٢...... مہدی اور مسیح علیہم السلام دو ہیں یا ایک

مرزائیوں کے خیال میں مرزا قادیانی مسیح اور مہدی دونوں تھے اور بہائی مذہب میں چونکہ الگ الگ ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کا آپس میں ایک دفعہ جو مقابلہ ہوا ہے اس موقعہ پر وہی نقل کر دینا کافی ہے۔

(مرزائی) امام مہدی کے متعلق جو روایات آئی ہیں سب موضوع ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم و بخاری میں ان کو روایت نہیں کیا گیا اور نہ ہی موطا امام مالک میں ان کا نشان ملتا ہے اور حسب تحقیق مرزا قادیانی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ محدثین کے بعد گھڑ لیا گیا ہے۔ کیونکہ ابن خلدون نے ان تمام روایت کو مخدوش قرار دیا ہے اور ان میں ایسا شدید اختلاف موجود ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خود ہی تردید کر رہی ہیں۔ اس لئے جنہوں نے ان کو تسلیم کیا ہے ان کو باہمی مطابقت پیدا کرنے میں یوں کہنا پڑا ہے کہ:

ہو گذرے ہیں اور ممکن ہے کہ ان میں سے کوئی ابھی باقی بھی ہو۔

میں مہدی ہوگا۔ جو دنیا کو اپنے عدل سے پر کر دے گا۔ (تاریخ الخلفاء)

صفحہ ١٧٨

(کنز)

(حج)

چاہے مہدی بنادے۔

کہلائے گا۔ کیونکہ:

اولاً! ابن ماجہ اور حاکم نے بروایت انسؓ ذکر کیا ہے کہ: ”لا یزال الامر الا شدة ولا الدنیا الا ادباراً ولا الناس الا شحا ولا تقوم الساعة الا علی شرار الناس ولا المہدی الا عیسیٰ ابن مریم وثانیاً کما ارسلنا الی فرعون رسولا“ میں اشارہ ہے کہ حضرت نبی کریم ﷺ مثیل تھے اور آیت ”لیستخلفنھم“ میں اشارہ ہے کہ: ”اخر الخلفاء“ سلسلۂ موسویہ میں حضرت مسیح علیہ السلام تھے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ سلسلۂ محمدیہ مماثلۂ سلسلۂ موسویہ میں بھی آخری خلیفہ محمدیہ وہ ایسا مہدی ہوگا جو مسیح بھی کہلائے گا اور اسی بناء پر اس خلیفہ کو ابن مریم کہا گیا ہے۔ ثالثاً نشانات مسیح علیہ السلام تقریباً ایک ہی ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی اور مسیح صرف ایک شخص کے ہی صفاتی نام ہیں۔

جیسے نزول امطار، کثرت زروع، ترک جہاد، وجود عدل، کسر صلیب، ہلاک ملل، ظہور من المشرق، دخول فی بیت المقدس وبیت اللہ الشریف، رابعاً بروایت احمد یہ وارد ہوا ہے کہ: ”یوشك من عاش منکم ان یلقی عیسیٰ ابن مریم اماما مھدیا وحکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر وتضع الحرب اوزارھا“ اس سے یہ ثابت ہو کہ مسیح ہی امام، حَکَم اور مہدی کہلائے گا۔

ان تمام کا جواب یہ ہے:

قدر اختلافی مسائل ہیں ان، بناء پر روایات موضوعہ پر ماننی پڑے گی۔

قابلِ نفرت ہوتا تو اصحاب الجرح والتعدیل یا ائمہ کبار اور امامانِ اسلام اس سے نفرت کا اظہار کرتے۔

صفحہ ١٧٩

احادیث صحیحہ الگ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ امام مہدی شخص معین ہے تو پھر کون سے امور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اختلاف رفع کرنے کی خاطر ایک نیا مسئلہ پیدا کریں کہ: ”مسیح اور مہدی ہزاروں آئیں گے“ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اس مسئلہ میں تحقیق نصیب ہی نہیں ہوئی۔

کی بابت قرآن شریف میں وارد ہو چکا ہے کہ:”لا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین“ اگر یہ تسلیم کیا جائے تو یہ ماننا پڑے گا کہ صحاح ستہ موضوعات پر مشتمل ہوں۔ (معاذاللہ)

بھی غلط ہے کہ جو حدیث صحیحین میں درج ہیں وہ تمام واجب القبول ہیں۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی بہت سی ایسی روایات ہیں کہ جن کو امام ابوحنیفہؒ نے تسلیم نہیں کیا۔

انتم اذا انزل ابن مریم وامامکم منکم وعند مسلم فیقال لعیسیٰ صل بنا فیعتذر بعضکم اولی ببعض فیقتدی المسیح بالمهدی (فتح الباری) اذا ینزل عیسٰی علی افیق (وهو جبل عند بیت المقدس) وبیده حربة فیاتی بیت المقدس ویقتل الدجال والناس فی صلوٰۃ الصبح والامام یؤم بہم (فتح الباری ص ١٣٠)“

جاتی ہیں۔ دیکھئے قرآن شریف میں تورات کے لئے وفیہ تفصیل کل شئی مذکور ہے اور ”یا اخت ہرون“ کا لفظ تورات میں مذکور نہیں ہے۔ بلکہ کسی صحیفہ قدیم میں اس کا ذکر نہیں آیا۔

ہو۔ کیونکہ وہ محض مؤرخ ہے۔ اس کا کوئی حق نہیں ہے کہ اصحاب الحدیث کے مقابلہ میں اپنی تحقیق پیش کرے۔

صفحہ ١٨٠

وغیرہ سب نے اس بات کو تسلیم کیا ہے۔

بھی ایک جماعت ہو کر کچھ ہو گزرے ہیں اور کچھ گزریں گے۔ (معاذ اللہ )

میں بھی اختلاف ہے۔ ”حيث اختلف اولاً فى مقام نزوله بشرقی دمشق عند المنارة البيضاء (ترمذی، نواس بن سمعان) او روحاء (روح المعانی ج٢ ص٢١٢) او جبل افيق (قريب بيت المقدس وحكاه کنزالعمال، حجج) وثانياً فى مكثه ايمكث اربعين سنة (كنزالعمال) او سنة (حجج) او سبع سنين او تسع عشرة سنة (كما هو عند مسلم)“

مہدی تھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ علامات مختصہ کا امتحان کیا جائے۔ مثلاً : ”كـونـه من بنى فاطمة، اسمه محمد، حيوته بعد الدعوة، ملكه سبع سنين، انتظار المسيح، ابطال الجزية، وضع الحرب، نزول جبريل، اقتداء بعيسى، نزول عيسى، اعلان ظهور، بمنى مزدلفة اخذ البيعة فى الحطیم“ ان گیارہ نشانات میں جو پورا اترے وہ مہدی ہوگا۔

کا اہل بیت سے ہونا متواتر ہے اور آل عباس کی روایات تمام ضعیف یا مردود ہیں۔ امام شوکانی توضیح میں لکھتے ہیں کہ یا خیال کی طرف امام صاحب عباسی ہوں گے۔ یہ روایات قابل استدلال نہیں ہیں۔ ایک محقق کا قول ہے کہ مہدی عباسی کی حدیث ہی اور ہے۔ کیونکہ یہ اس کے لفظ ہیں۔ ”منا السفاح منا المنصور ومنا المهدى“

اولاد علیؓ (حجج طبرانی)“ مرزا قادیانی خود بھی مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: ”ان بـعـض جـداتی مـن بـنـی فـاطمة“ اور عسل مصفےٰ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جب آپ بنی فاطمہ میں داخل ہوئے تو آپ سید بھی بن گئے۔

صفحہ ١٨١

اهل البيت من الحسن اباً من الحسين اماً“

”وهو متفرد به ومجهول عند البخارى قال فى الحجج حديثه مضطرب وضعيف لا يعارض الصحاح“

کہیں گے کہ ان میں اتحاد زمانی مراد ہے۔ ”كقوله واما امرنا الا واحد“

جائے ورنہ تشبیہ تام نہ رہے گی۔ مگر عسل مصفے میں یوں لکھا ہے کہ سید احمد بریلوی ١٢٠١ میں یحییٰ کی طرح مبشر مرزا پیدا ہوئے تھے۔ مگر مرزا قادیانی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ سید احمد کے پیرو چونکہ گمراہ ہیں اس لئے داستان سازی میں مشغول رہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مسیح آسمان سے اترے گا۔ بھلا جھوٹا ایسا نہ کہے تو کیا کہے۔

توصیف مہدی کہا گیا ہے۔ ورنہ اس کو بطور اسم علم کے مہدی نہیں کہا گیا۔ جیسا کہ وارد ہوا ہے کہ: ”عليكم بسنة الخلفاء الراشدين المهديين (ابوداؤد) ولجرير اللهم اجعله مهديا (كنز) ولا بي ذر من سره ان ينظر الى عيسى ابن مريم فلينظر الى ابى ذر الغفاري (ابن عساكر عن انس) ولن تهلك امة انا اولها وعيسى اخرها والمهدى اوسطها (حاكم، ابونعيم، ابن عساكر) فبطل ماقال فى العسل المصفى اذا ذكر المهدى منفردا فالمراد به رجل صالح فعليه ان يقول ايضا ان المسيح اذا ذكر منفردا فالمراد به رجل سياح ليرتفع الامر من البين ۔ هذا“

١٣...... حیات مسیح برنباس کی زبانی

قرآن شریف میں صراحتاً مذکور ہے کہ واقعہ صلیب کے متعلق دو قسم کے خیال پیدا ہو گئے تھے۔

صفحہ ١٨٢

تین روز بعد مسیح زندہ ہو کر آسمان پر چڑھ گیا۔ یہ خیال بائبل کی چار انجیلوں میں موجود ہے۔ جن کو عیسائی مانتے ہیں اور قرآن شریف انکار کرتا ہے۔

دوم ....... وہ خیالات ہیں جو موجودہ اناجیل اربعہ کے علاوہ اسلامی تصریحات اور انجیل برنابا میں موجود ہیں۔ جن میں یوں بتایا گیا ہے کہ مسیح زندہ اٹھا لیا گیا اور اس کی بجائے دوسرا آدمی ہمشکل سمجھ کر رات کو صلیب پر قتل کیا گیا۔ اس اختلاف کی وجہ سے ینابیع الاسلام میں اعتراض کیا گیا ہے کہ اسلام کا جب یہ دعویٰ ہے کہ قرآن شریف مصدق انجیل ہے تو اس میں واقعہ صلیب کو کیوں نہیں مانا گیا۔ اس کا جواب مسلمانوں کی طرف سے یوں دیا گیا تھا کہ جس انجیل کی قرآن تصدیق کرتا ہے وہ ایک کتاب تھی۔ جو خود مسیح علیہ السلام نے عبرانی زبان میں وحی پا کر حواریوں کو دی تھی اور واقعہ صلیب کے وقت وہ تلف کر دی گئی تھی۔ جس میں قرآن شریف کے مطابق رفع مسیح بغیر صلیب مذکور تھا اور واقعہ صلیب میں چونکہ بڑی گڑ بڑی پیدا ہو گئی تھی اور حواری اصل واقعہ کے وقت بھاگ گئے تھے اور جو پاس تھے ان کو بھی اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے تھے۔ اس لئے صحیح طور پر بیان نہیں کر سکے کہ اصل واقعہ کس طرح ہوا۔ بلکہ انہوں نے اپنے قیاس اور شنید سے جو صحیح تصور کیا لکھ دیا۔ چنانچہ برنباس حواری نے جو حالات لکھے ہیں وہ وہی خیالات ہیں کہ جن کی تصدیق قرآن کرتا ہے اور اس نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تمام واقعات میرے چشم دید تھے۔ اس لئے موجودہ عیسائی اگرچہ اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ لیکن اسلام ضرور تسلیم کرتا ہے اور اناجیل اربعہ کو اس واقعہ کے متعلق مشکوک قرار دیتا ہے۔

مرزائیوں نے انجیل برنابا کو عیسائیوں کی طرح نا قابل تسلیم سمجھ کر اناجیل اربعہ کو ہی صحیح سمجھا ہے اور باہمی اختلاف کو یوں مٹایا کہ قرآن شریف میں جن لوگوں نے واقعہ صلیب سے انکار کیا ہے وہ بے خبر تھے اور ما صلبوہ کا معنی ہے کہ یہودیوں نے اس کی ہڈیاں نہیں توڑی تھیں۔ اس لئے شبہ لہم مسیح نیم مردہ ہو کر مردہ کے مشابہ بن گیا تھا۔ اس لئے مردہ سمجھ کر حواریوں کو اس کی لاش دی گئی تھی۔ انہوں نے قبر نما غار میں تین دن تک مرہم حواریین سے علاج کیا تو اس کے زخم فوراً درست ہو گئے اور کشمیر کو چلا گیا۔ پھر وہیں ٨٧ برس تک روپوش رہ کر محلہ خانیار میں دفن ہوا اور یہ داستان سازی بڑی کوشش کے بعد تیار ہوئی اور اس کے ثابت کرنے میں کسی سیاح چینی کی انجیل پیش کی جاتی ہے جو کسی طرح بھی نہ انجیل برنابا کا مقابلہ کر سکتی ہے اور نہ اناجیل اربعہ کے ہم پلہ ہے۔ کیونکہ وہ غیر معروف ہونے کے علاوہ تمام انجیلی بیانات کے خلاف ہے اور معلوم ہوتا

صفحہ ١٨٣

ہے کہ مرزا قادیانی نے اس کی مشتبہ عبارتوں کو اپنے مطلب کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ ورنہ مرزائیوں کا فرض تھا کہ وہ پوری انجیل کا ترجمہ شائع کرتے۔ مگر اب ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آیا اس انجیل کا وہی مطلب ہے جو مرزا قادیانی نے سمجھا تھا۔ یا کچھ اوستادی سے کام لیا گیا ہے۔ برخلاف اس کے مسلمانوں نے انجیل برنابا کا ترجمہ اردو میں شائع کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ مرزائیوں کی داستان سازی بالکل غلط ہے۔ نہ اس کی تائید اسلام کرتا ہے اور نہ نصرانیت یا یہودیت بلکہ صرف مرزائیت کا خانہ ساز مسئلہ ہے۔ اگر چہ یہ انجیل تین سو صفحہ سے زائد تک چلی گئی ہے۔ مگر ہمیں چونکہ صرف حیات کا مسئلہ درکار ہے۔ اس لئے اس سے اس مسئلہ کے متعلق چند اقتباسات ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ تا کہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ اسلامی نکتہ خیال سے مسیح کے حالات زندگی کیسے ہیں۔

١٤...... اقتباسات انجیل برنابا (برنباس)

موضع ناصرہ میں رہنے والی پارسا مریم کے پاس جبریل نے آ کر کہا کہ خدا نے تجھے ایک نبی کی ماں ہونے کے لئے چنا ہے۔ کہا کہ انسان کے بغیر بیٹا کیسے جنوں گی۔ کہا کہ یہ بات خدا کے نزدیک محال نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے بغیر انسان کی موجودگی کے آدم علیہ السلام پیدا کیا تھا۔ کہا اچھا خدا کی مرضی۔ اب مریم کو اندیشہ ہوا کہ یہودی اسے بدنام کریں گے۔ اس لئے اپنے رشتہ دار یوسف نجار (عبادت گذار) سے نکاح کیا اور جب اس نے دیکھ کر مریم کو چھوڑنے کا ارادہ کیا تو خواب میں اس کو بتایا گیا کہ مت ڈرو صرف مشیت ایزدی سے یسوع نبی پیدا ہوگا۔

قیصر روم (اُگسٹس) نے حاکم یہودیہ (ہیرودوس اکبر) کو حکم دیا کہ اپنے علاقہ کی مردم شماری کرے۔ اس لئے یوسف کو اپنے گھر (بیت اللحم) جانا پڑا اور ایک سرائے میں وہاں پہنچ کر قیام کیا تو مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔ سات روز کے بعد ہیکل میں ختنہ کیا گیا۔ پورب کے تین مجوسی مسیح علیہ السلام کا ستارہ دیکھ کر اور یہودیہ پہنچ کر بیت المقدس میں آٹھہرے اور مسیح کا پتہ پوچھا تب بادشاہ نے نجومیوں سے پوچھ کر ان کو بتایا کہ وہ بیت اللحم میں پیدا ہوا ہے۔ تم وہاں جاؤ اور واپس ہو کر مجھے ملنا۔ مجوسی ستارے کے پیچھے ہو لئے اور بیت اللحم میں جا کر مسیح پر نیاز چڑھائی۔ بچہ نے خواب میں کہا کہ تم بادشاہ سے نہ ملو۔ تب وہ سیدھے اپنے گھر چلے گئے۔ یوسف مریم کو مصر لے آیا اور پیچھے بیت اللحم کے بچوں کو مار ڈالنے کا حکم جاری ہوا۔ (کیونکہ حاکم کو یسوع سے بڑا خطرہ تھا) اور یوسف حاکم کی وفات تک مصر ہی رہا۔ سات سال کے بعد یوسف یہودیہ سے واپس آیا تو

صفحہ ١٨٤

ارخیلاوس بن ہیرودس وہاں کا بادشاہ تھا۔ اس لئے اس سے ڈر کر جلیل میں چلا گیا۔ یسوع بارہ سال کا ہوا تو بیت المقدس سجدہ کرنے آیا اور لوگوں سے بحث کی۔ جس سے وہ دنگ رہ گئے تو والدین کے ہمراہ ناصرہ میں آ ٹھہرا۔

یسوع علیہ السلام تیس برس کا ہوا تو جبل زیتون پر زیتون لینے کو پھر ماں بیٹا دونوں گئے تو بعد از نماز یسوع علیہ السلام کو بذریعہ وحی بتایا گیا کہ وہ یہود کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ والدہ نے تصدیق کی کہ مجھے یہ پہلے ہی بتایا گیا تھا، تو تبلیغ کے لئے یسوع پہلی دفعہ بیت المقدس آئے اور راستہ میں ایک کوڑھی کو دعاء سے اچھا کیا تو اس نے چلا کر کہا کہ اے بنی اسرائیل اس نبی کی پیروی کرو۔

تب آپ دوسری دفعہ معہ یہود کے ہیکل میں نماز پڑھنے کے لئے بیت المقدس آئے اور شہر میں شور مچ گیا۔ کاہنوں نے منبر پر کھڑا کر کے لوگوں کو وعظ سننے کا حکم دیا اور آپ نے وعظ میں تمام فقیروں، استادوں اور علمائے بنی اسرائیل کو خصوصیت سے اڑے ہاتھوں لیا۔ تب وہ باطنی طور پر مخالف بن گئے۔ مگر بظاہر تسلیم کیا اور آپ اپنے مریدوں کے ہمراہ تبلیغ کے لئے وہاں سے چل دیئے۔

چند دن بعد مسیح علیہ السلام جبل زیتون پر دوسری دفعہ گئے اور وہاں ساری رات نماز میں دعاء کی کہ مجھے پوجاریوں سے بچا جو میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صبح خدا کی طرف سے کہا گیا کہ دس لاکھ فرشتے تیری حفاظت کریں گے۔ جب تک کہ تیرا کام انتہاء تک نہ پہنچے اور دنیا کا اختتام نہ ہو۔ تب تک تم نہ مرو گے۔ تو آپ نے سجدہ کیا اور ایک دنبہ قربانی کیا۔ پھر اردن کے گھاٹ سے عبور کر کے چلے گئے اور چالیس دن روزہ رکھا۔ پھر اورشلیم تیسری بار واپس آ کر تبلیغ کی اور لوگ مطیع ہو گئے۔ جن میں سے آپ نے بارہ حواری چن لئے اور اوس، پطرس، برنابا (برنباس جس نے یہ انجیل لکھی)، متی عشار، یوحنا، یعقوب، اتلاوس، یہودا، مبرتولواماؤس، فیلپس، یعقوب ثانی، یہودا خریوطی غدار۔

عید مظال کے موقعہ پر ایک امیر نے ماں بیٹے دونوں کو مدعو کیا اور آپ نے وہاں پانی کو شراب بنایا اور حواریوں کو وعظ کی کہ سیاح بنو اور تکلیف سے نہ گھبراؤ۔ اشعیا کے وقت دس ہزار نبی کا قتل ہوا تھا۔ ایک گال پر تھپڑ پڑے تو دوسری آگے کر دو۔ آگ پانی سے بجھتی ہے۔ آگ سے نہیں بجھتی۔ خدا ایک ہے۔ نہ اس کا بیٹا ہے۔ نہ باپ۔ پھر دس کوڑھی جو آپ کی دعاء سے اچھے ہو گئے۔ ان سے کہا کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ لوگوں سے جا کر کہو کہ ابراہیم علیہ السلام

سے جو وعدے خدا نے کئے تھے نزدیک راستہ میں جہاز ڈوبنے لگا۔ مگر آپ کی نے فرمایا کہ بے ایمانوں کو نشانی نہیں۔ پر لوگوں نے آپ کو سمندر میں ڈبونا چاہا

پھر آپ کفرناحوم میں آئے سے نکل جاؤ۔ تو آپ صور اور صیدا میں اور آپ صرف بنی اسرائیل کی طرف مب

دوسری دفعہ عید مظال کے میں لاجواب کیا۔ اتنے میں ایک بہت تندرست ہو گیا اور گھر جا کر باپ سے دعوت دی اور بیمار مذکور کا ذکر کر کے سے صحراء اردن میں آگئے اور چارسو بھی سمجھا دیا۔ مگر یہودا خریوطی نہ سمجھا

پھر آپ کو فرشتہ نے پوجاریوں کا سردار کہنے لگا کہ کہ تم ڈرتا۔ جو خدا سے نہیں ڈرتے اور ج الکہنہ نے گرفتار کرنے کا ارادہ کیا

نبوت کے دوسرے س بڑے اصرار کے بعد زندہ کیا اور ایسے پیر کو خدا جانتے ہیں۔ تم نے رائے پیدا ہو گیا تو ایک فرقہ نے لئے خدا کا بیٹا ہے اور تیسرا توحید آپ تبلیغ کر کے جنگل کو نکل گئے

ایک دفعہ قریۃ السام آپ بددعاء کریں کہ ان پر آگ روٹی نہیں دی۔ کیا تم نے ان کو

صفحہ ١٨٥

سے جو وعدے خدا نے کئے تھے نزدیک آ رہے ہیں۔ پھر آپ دوسری دفعہ ناصرہ کو روانہ ہوئے۔ راستہ میں جہاز ڈوبنے لگا۔ مگر آپ کی دعاء سے بچ گیا۔ ناصرہ میں علماء نے معجزہ طلب کیا تو آپ نے فرمایا کہ بے ایمانوں کو نشانی نہیں ملے گی۔ کیونکہ کوئی نبی اپنے وطن میں قبول نہیں کیا جاتا۔ اس پر لوگوں نے آپ کو سمندر میں ڈبونا چاہا۔ مگر آپ بچ گئے۔

پھر آپ کفر ناحوم میں آئے اور ایک کا شیطان دور کیا۔ لوگ ڈر گئے اور کہا کہ اس علاقہ سے نکل جاؤ۔ تو آپ صور اور صیدا میں آئے اور کنعانی عورت کا جن نکالا۔ اگرچہ وہ یہودی نہ تھی اور آپ صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث تھے۔

دوسری دفعہ عید مظال کے وقت آپ چوتھی دفعہ اورشلیم میں آئے اور پوجاریوں کو بحث میں لاجواب کیا۔ اتنے میں ایک بت پرست نے اپنے بیٹے کے لئے آپ سے دعاء کروائی تو وہ تندرست ہو گیا اور گھر جا کر باپ نے بت توڑ ڈالے۔ پھر آپ نے توحید کی طرف پوجاریوں کو دعوت دی اور بیمار مذکور کا ذکر کر کے ان کو نادم کیا تو وہ قتل کے درپے ہو گئے۔ اس لئے آپ وہاں سے صحراء اردن میں آگئے اور چار حواریوں کے شکوک رفع کئے اور انہوں نے باقی آٹھ حواریوں کو بھی سمجھا دیا۔ مگر یہودا خریوطی نہ سمجھا۔

پھر آپ کو فرشتہ نے پانچویں دفعہ اورشلیم بھیجا تو آپ نے ہفتہ کے دن تبلیغ کی تو پوجاریوں کا سردار کہنے لگا کہ کہ تم ہمارے خلاف تبلیغ نہ کرو۔ آپ نے کہا کہ میں ان سے نہیں ڈرتا۔ جو خدا سے نہیں ڈرتے اور جنہوں نے کئی نبی مار ڈالے اور ان کو کسی نے دفن بھی نہ کیا۔ رئیس الکہنہ نے گرفتار کرنے کا ارادہ کیا مگر لوگوں سے ڈر گیا۔

نبوت کے دوسرے سال آپ نائین کو پہلی دفعہ گئے۔ وہاں آپ نے ایک بیوہ کا لڑکا بڑے اصرار کے بعد زندہ کیا اور لوگ عیسائی ہوئے۔ مگر رومیوں نے عیسائیوں سے کہا کہ ہم تو ایسے پیر کو خدا جانتے ہیں۔ تم نے تو کچھ قدر ہی نہیں کی۔ اب شیطان کے بہکانے سے اختلاف رائے پیدا ہو گیا تو ایک فرقہ نے کہا کہ یہ خدا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ خدا محسوس نہیں ہوتا۔ اس لئے خدا کا بیٹا ہے اور تیسرا توحید کا قائل رہا اور آپ کفر ناحوم میں چلے گئے اور ایک مجمع کثیر میں آپ تبلیغ کر کے جنگل کو نکل گئے۔

ایک دفعہ قریۃ السامریہ پہنچے تو انہوں نے روٹی بھی نہ دی تو یعقوب اور یوحنا نے کہا کہ آپ بددعاء کریں کہ ان پر آگ برسے۔ آپ نے فرمایا کیا صرف اس لئے کہ انہوں نے ہم کو روٹی نہیں دی۔ کیا تم نے ان کو رزق دیا ہے؟۔

صفحہ ١٨٦

یونس علیہ السلام نے نینوی والوں کو بدعاء دی تھی تو آپ کے جانے کے بعد انہوں نے توبہ کر لی تھی وہ تو بچ گئے مگر آپ کو مچھلی نے نگل کر نینوی کے پاس پھینک دیا تھا۔ تب دونوں حواری تائب ہوئے۔

چھٹی بار آپ عید فصح منانے اورشلیم آئے۔ وہاں بیت الصدے چشمہ پر ایک لنجا ٣٨ سال سے بیٹھا تھا اور جب چشمہ میں جوش آتا تھا تو بیمار اس میں جا کر شفا حاصل کرتے تھے۔ مگر اس کو کسی نے اندر نہ جانے دیا تھا۔ آپ نے دعاء سے اس کو اچھا کیا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے تبلیغ کی اور بحث میں پوجاریوں کو لاجواب کیا اور وہاں سے روانہ ہوکر حدود قیصریہ میں آئے اور حواریوں سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ پطرس نے جواب دیا کہ آپ خدا کے بیٹے ہیں۔ تب آپ نے ناراض ہو کر اس سے توبہ کرائی۔ مگر عام لوگوں میں یہ خیال پیدا ہوکر جم چکا تھا تو آپ جلیل میں چلے آئے اور بیماروں کو اچھا کیا۔

رات کو حواریوں سے کہا کہ اب امتحان کا وقت آ گیا ہے۔ تب فرشتہ نے بتایا کہ یہودا آپ کا اندرونی دشمن ہے۔ وہ کاہنوں سے اندرونی سازش رکھتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک حواری ہلاک ہوگا۔ برنباس نے پوچھا وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔ میں دنیا سے جاتا ہوں۔ میرے بعد ایک رسول آئے گا۔ جو میری تصدیق کرے گا اور بت پرستی کو دور کرے گا۔ پھر آپ کوہ سینا پر چلے گئے اور چالیس دن وہیں رہے۔ پھر اورشلیم کو ساتویں دفعہ چلے راستہ میں کسی نے کہا یہ اللہ ہے اور اپنی قوم کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے کہا: ”نہیں میں بشر ہوں۔“

اس کے بعد آپ صحرائے تیرو میں گئے اور حواریوں کو نماز روزے کی تلقین کی اور ان کو کھانا لانے کے واسطے کسی بستی میں بھیجا۔ تو سب چلے گئے۔ مگر برنباس آپ کے پاس رہا تو آپ نے فرمایا کہ: ”اے برنباس میرا ایک شاگرد مجھے تیس روپے پر بیچ دے گا اور میرے نام پر قتل کیا جائے گا۔ خدا مجھ کو زمین سے اوپر اٹھالے گا اور اس شاگرد غدار کی شکل تبدیل کر دے گا اور ہر ایک یہی سمجھے گا کہ وہ مسیح ہے۔ مگر جب مقدس رسول آئے گا تو میرے نام سے یہ دھبا اڑا دے گا۔ خدا تعالیٰ یہ قدرت اس لئے دکھائے گا کہ میں نے مسیحا کا اقرار کیا ہے۔ جو مجھے یہ بدلہ دے گا کہ میں زندہ ہوں اور موت کے دھبے سے بری ہوں۔ برنباس نے کہا کہ آپ مجھے بتائیے وہ شاگرد کون ہے۔ میں اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالوں آپ نے نہ بتایا اور کہا میری ماں کو یہ بات بتا دو تاکہ اس کو تسلی رہے۔“

صفحہ ١٨٧

تب آپ نے آٹھویں دفعہ اورشلیم آ کر تبلیغ کی اور پجاریوں نے رومانی فوج کو اطلاع دی کہ آپ بت پرستی کو برا کہتے ہیں۔ اس لئے وہ واجب القتل ہیں۔ مگر آپ کو نہ پا سکے۔ کیونکہ آپ بحر جلیل میں کشتی پر سوار ہو چکے تھے۔ مگر لوگوں نے ہجوم کیا تو آپ نے لنگر ڈال کر ان کو ساحل کے قریب تبلیغ کی اور نائن کو دوسری بار چلے گئے۔ وہاں ایک یتیم کے گھر قیام کیا اور اسکی ماں نے بڑی خدمت کی۔ تب لوگوں نے مشورہ کیا کہ آپ کو اپنا بادشاہ بنالیں۔ مگر آپ وہاں سے بھاگ گئے اور پندرہ دن تک حواریوں کو بھی نہ ملے۔ تب یوحنا، یعقوب اور برنباس نے آپ کو پا کر عرض کی۔ اے معلم! تو ہم سے کیوں بھاگ گیا تھا۔ کہا کہ: ”اس لئے بھاگا ہوں کہ شیطانی فوج میرے قتل کے سامان کر رہے ہیں۔ دیکھ لو گے کہ پوجاری حاکم رومانی حاکم سے میرے قتل کا حکم حاصل کر لیں گے۔ کیونکہ ان کو میرے بادشاہ بننے کا خطرہ لگا ہوا ہے اور میرا ایک شاگرد مجھ کو ان کے حوالے کر دے گا۔ جیسا کہ یوسف علیہ السلام مصر میں بیچا گیا تھا۔ مگر خدا تعالیٰ اس کو پکڑوا دے گا اور حضرت داؤد علیہ السلام کا حکم پورا ہوگا۔ ( چاہ کن را چاہ در پیش ) مجھے ان کے ہاتھوں سے بچا کر دنیا سے اٹھا لے گا۔“

دوسرے دن آپ کے شاگرد دو دو ہو کر حاضر ہوئے اور باقیوں کا انتظار دمشق میں کیا تو ان کو موت کے متعلق وعظ کیا کہ: ”انسان کو عارضی گھر کا خیال نہ کرنا چاہئے۔ بلکہ اصلی وطن (آخرت) کا سامان کرنا چاہئے۔ پھر کہا کہ میں تم کو اس لئے نہیں کہتا کہ میں اب مرجاؤں گا۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں دنیا کے اختتام تک زندہ رکھا جاؤں گا۔“

یہودا آپ کا توشہ دان سنبھالے رہتا تھا کہ جس میں نذرانے ہوتے تھے۔ صرف اس خیال سے کہ آپ جب بادشاہ بن جائیں گے تو مجھے بھی اچھا عہدہ مل جائے گا۔ اب انکاری ہو کر کہنے لگا کہ اگر یہ نبی ہوتا تو ضرور جان لیتا کہ میں اس کا چور ہوں۔ حکیم ہوتا تو سلطنت لینے سے نہ بھاگتا۔ اب اس نے رئیس الکہنہ کو وہ تمام ماجرا سنا دیا جو نائین میں پیش آیا تھا تو پوجاریوں نے یہ سوچا کہ آپ ہماری بت پرستی سے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسیحا بنی اسماعیل سے ہو گا اور داؤد علیہ السلام سے نہیں آئے گا اور لوگوں میں آپ کی قبولیت بہت عام ہو چکی ہے اور لوگ آپ کو بادشاہ بنانا چاہتے ہیں۔ مناسب ہے کہ حاکم رومی سے مدد لے کر آپ کو رات کے وقت گرفتار کیا جائے ورنہ اس کی بادشاہی میں ہم تباہ ہو جائیں گے۔

اس وقت تمام شاگرد دمشق میں تھے۔ آپ ہفتہ کی صبح کو ناصرہ تیسری دفعہ چلے آئے

صفحہ ١٨٨

اور لوگوں سے ملاقات کر کے یہودیہ چلے گئے۔ راستہ میں شاگردوں نے ہر چند روکا مگر آپ نے فرمایا کہ میں ان سے نہیں ڈرتا تم موجودہ فریسیوں کے خمیر سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ خمیر کی ایک گولی من بھر آٹے کو خمیر بنا دیتی ہے۔

پھر نوویں دفعہ اور شلیم میں آئے اور فوج گرفتار کرنے کو آئی۔ مگر قابو نہ پاسکی تو نہر اردن عبور کر کے آپ صحرا میں چلے گئے۔ پوجاریوں نے آکر بحث کی تو تنگ ہو کر سنگباری شروع کر دی۔ مگر آپ بچ نکلے اور وہ آپس میں ہی ہزار آدمی تک مر مٹے تو آپ معہ اصحاب کے سمعان کے گھر آگئے۔ یعقوذیموس نے کہا کہ آپ اور شلیم سے نکل کر قدرون کے نالہ سے پار چلے جائیں تو آرام میں رہیں گے۔ آپ کی والدہ کو فرشتہ نے سب حال بتایا تو روتی ہوئی اور شلیم آگئیں اور اپنی بہن مریم سالومہ کے گھر قیام کیا۔

اب رئیس الکہنہ نے یروشلم میں جلسہ کیا۔ جس میں کچھ لوگ اس کی تقریر سن کر مرتد ہو گئے اور پوجاری ہیرودس اصغر کے پاس چلے گئے۔ اس سے فوج لے کر آپ کو تلاش کرنے لگے۔ مگر نہ پایا۔ اسی رات آپ نے فرمایا کہ وہ وقت آگیا ہے کہ میں دنیا سے چلا جاؤں گا اور جہاں جاؤں گا تکلیف محسوس نہ کروں گا۔ یعقوذیموس کے باغ میں آپ رہتے تھے کہ ایک دن آپ نے یہودا عذار سے فرمایا کہ جو تمہیں کرنا ہے جاؤ کرو تو وہ مخبری کرنے کو اور شلیم چلا گیا۔ دوسروں نے سمجھا کہ عید فصح کے لئے کچھ خریدنے گیا ہے تو یہودا نے رئیس سے جا کر کہا کہ اگر تیس روپے دے دو تو میں آج رات ہی حضرت مسیح علیہ السلام کو بمعہ گیارہ حواریوں کے تمہارے قبضہ میں کردوں گا۔ رئیس نے رقم ادا کر کے یہودا کے ہمراہ ایک دستہ فوج کا مشعلیں اور ہتھیار دے کر روانہ کر دیا۔

اس رات آپ نے یہودا کو روانہ کر کے یعقوذیموس کے باغ میں سو رکعت نماز پڑھی اور جب فوج آئی تو آپ نے حواریوں کو گھر جا کر جگایا۔ مگر وہ نہ جاگے۔ جب خطرہ زیادہ ہو گیا تو خدا نے جبرائیل، رفائیل اور اوریل کو بھیج کر گھر کی جنوبی کھڑکی سے آپ کو اٹھا لیا اور تیسرے آسمان پر اپنے پاس رکھ لیا۔

تب یہودا زور کے ساتھ اس کمرہ میں داخل ہوا۔ جہاں سے آپ اٹھائے گئے اور شاگرد سورہے تھے اور اس نے ان کو جگانا شروع کر دیا تو خدا تعالیٰ نے اس وقت اپنی قدرت دکھائی کہ وہ بولی اور شکل میں آپ کے مشابہ بن گیا اور حضرت مسیح کو تلاش کرنے لگا۔ یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ یہ وہی مسیح ہے تو ہم نے کہا کہ: ”اے معلم تو ہی تو ہمارا معلم ہے کیا تو ہم کو بھول

صفحہ ١٨٩

گیا ہے۔“ اس نے مسکرا کر کہا احمقو! یہودا اسخریوطی کو نہیں جانتے ہو۔ اتنے میں سپاہی اندر آ گئے اور اس کو مسیح سمجھ کر گرفتار کر لیا۔ ہر چند اس نے کہا کہ میں وہ مسیح نہیں ہوں۔ مگر انہوں نے اسے مخول سمجھ کر ایک نہ سنی۔ کہا کہ: ”میں ہی تو تم کو لایا ہوں تم مجھے ہی باندھ لو گے؟“ سپاہیوں نے جانا کہ وہ ان سے فریب کرتا ہے۔ تب انہوں نے اس کو مکے اور لاتیں مار کر ذلیل کیا اور اورشلیم کو گھسیٹتے ہوئے لے چلے اور یوحنا اور پطرس ساتھ گئے اور انہوں نے برنباس سے آکر کہا کہ تمام کاہن جمع تھے اور قتل کرنے پر اتفاق کیا تھا اور یہودا نے وہاں دیوانگی سے بہت باتیں کیں۔ مگر انہوں نے مخول سمجھا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہی وہ مسیح علیہ السلام ہے اور موت سے ڈر کر باتیں بناتا ہے اور جنون کا اظہار کر رہا ہے۔

صبح جلسہ ہوا اور رئیس الکہنہ نے گواہی لی کہ یہی مسیح ہے۔ میں یہ کیوں کہوں کہ رئیس نے ہی جانا کہ وہ مسیح ہے۔ بلکہ تمام شاگردوں نے بھی اعتقاد سے کہا کہ یہ وہی مسیح علیہ السلام ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام بھی اپنے اقارب و احباب کے ہمراہ وہیں آگئیں۔ آپ نے بھی یہودا کو اپنا بیٹا مسیح سمجھ کر رونا شروع کر دیا۔ برنباس کہتا ہے کہ خدا کی قسم مجھے اس وقت وہ بات بالکل بھول گئی تھی کہ آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں دنیا سے اٹھا لیا جاؤں گا اور دوسرا شخص میری جگہ عذاب دیا جائے گا اور میں دنیا کے خاتمہ تک نہ مروں گا۔ تب برنباس، یوحنا اور مریم علیہا السلام صلیب کے پاس گئے تو یہودا کو مشکیں باندھ کر رئیس کے سامنے لائے۔ تب اس نے تعلیم اور شاگردوں کے متعلق پوچھا۔ مگر یہودا نے جواب نہ دیا۔ گویا کہ وہ دیوانہ ہے۔ پھر خدا کی قسم دلا کر پوچھا کہ سچ کہو تب اس نے کہا کہ میں سچ کہتا ہوں کہ میں وہی یہودا اسخریوطی ہوں کہ جس نے وعدہ کیا تھا کہ میں مسیح کو تمہارے ہاتھ میں دے دوں گا۔ مگر میں نہیں جانتا کہ تم کیوں پاگل ہو گئے ہو اور چاہتے ہو کہ میں ہی مسیح ناصری بن جاؤں؟

تب اسے مشکیں باندھے ہوئے پیلاطس (حاکم اورشلیم) کے پاس لے گئے اور وہ در پردہ حضرت مسیح علیہ السلام کا خیر خواہ تھا اور چونکہ وہ یہی سمجھتا تھا کہ یہودا ہی مسیح ہے۔ اس لئے کمرہ میں لے جا کر پوچھنے لگا کہ سچ بتاؤ کہ رئیس الکہنہ نے معہ تمام قوم کے کیوں تجھ کو میرے سپرد کیا ہے کہا کہ میں سچ کہوں گا تو تم نہیں مانو گے۔ حاکم نے کہا کہ میں یہودی نہیں ہوں۔ سچ بتاؤ مجھے اختیار ہے کہ چھوڑ دوں یا قتل کروں کہا کہ میں یہودا اسخریوطی ہوں اور یسوع جادوگر نے مجھے اپنی شکل پر بدل دیا ہے۔ مگر رئیس اور قوم نے شور مچایا کہ یہی مسیح ناصری ہے۔ ہم اسے خوب پہچانتے ہیں۔ تب حاکم نے خود بری الذمہ ہونے کے لئے اس کو ہیرودس اصغر کے پاس بھیج دیا۔

صفحہ ١٩٠

کیونکہ مسیح کو جلیل کا باشندہ تھے۔ یہودا نے وہاں بھی جا کر انکار کیا۔ مگر اوروں کی طرح ہیرودس نے بھی اس پر ہنسی اڑائی اور اس کو سفید کپڑے پہنا دیئے۔ جو پاگلوں کا امتیازی لباس تھا اور پیلاطس کے پاس واپس روانہ کر دیا اور کہا کہ بنی اسرائیل کو انصاف عطاء کرنے میں کمی نہ کرے۔ تب اس نے اس کو ان کے حوالے کر دیا کہ مجرم ہے اور موت کا مستحق ہے تو وہ اسے جمجمہ پہاڑی پر لائے۔ جہاں صلیب دیا کرتے تھے۔ وہاں اسے ننگا کر کے صلیب پر لٹکا دیا تو یہودا سخت چلایا۔ برنباس کہتا ہے کہ یہودا کی آواز چہرہ اور تمام شکل حضرت مسیح علیہ السلام کے مشابہ ہونے میں یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ شاگردوں اور مومنین تمام نے یہی سمجھا کہ وہ مسیح ہے۔ تب بعض لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کو جھوٹا نبی سمجھ کر مرتد ہو گئے۔ کہتے تھے کہ اس کے معجزات جادو تھے اور یہ کہنا غلط نکلا کہ میں نہیں مروں گا۔ جب تک کہ دنیا کا خاتمہ قریب نہ ہو جائے اور وہ دنیا سے لے لیا جائے گا اور جو لوگ دین پر مضبوطی سے قائم رہے انہوں نے بہت غم کیا اور آپ کا کہنا بالکل بھول گئے۔ کیونکہ انہوں نے یہودا کو آپ سے بالکل ہی مشابہ دیکھا تھا اور اسی غلط فہمی میں نیکودیموس اور یوسف اباریماتھائی کی سفارش سے یہودا کی لاش پیلاطس سے حاصل کر کے یوسف کی نئی قبر میں (جو اس نے پہلے بنا رکھی تھی) ایک سو رطل خوشبو بھر کے یہودا کو دفن کیا۔

تب برنباس، یعقوب اور یوحنا مریم علیہا السلام کے ہمراہ ناصرہ گئے اور وہ فرشتے جو مریم علیہا السلام کے محافظ تھے آسمان پر گئے اور تمام ماجرا مسیح علیہ السلام سے کہا تو آپ نے والدہ کا غم سن کر خدا سے دعاء مانگی کہ: ”مجھے والدہ سے ملنے کی اجازت ہو“ تب فرشتے اپنی حفاظت میں آپ کو نور کے شعلوں میں مریم علیہا السلام کے گھر واپس لے آئے۔ جہاں آپ کی والدہ اور دونوں خالہ مرثا اور مریم مجدلیہ اور برنباس، یوحنا، یعقوب اور پطرس مقیم تھے آپ کو دیکھ کر یہ سب بیہوش ہو گئے۔ مگر آپ نے یہ کہہ کر تسلی دی کہ میں زندہ ہوں۔ تب والدہ نے پوچھا کہ بیٹا تو پھر خدا نے تیری تعلیم کو کیوں داغدار بنایا اور کیوں اقارب واحباب کے نزدیک تیری موت دکھلائی اور بدنام کیا۔ فرمایا! اماں! سچ جانو میں نہیں مرا اور مجھ کو اللہ نے دنیا کے خاتمہ تک محفوظ رکھا ہے۔ یہ کہہ کر چار فرشتوں کو شہادت کے لئے طلب کیا۔ تب فرشتوں نے تصدیق کی۔ تب برنباس نے پوچھا کہ چوروں کے درمیان قتل ہونے کا دھبہ تو آپ پر ہمیشہ لگا رہے گا۔ فرمایا کہ میرے بعد محمد رسول اللہ ﷺ آئیں گے اور یہ دھبا اڑائیں گے اور لوگوں پر واضح کر دیں گے کہ میں زندہ ہوں۔ پھر برنباس کو آپ نے اپنے خیالات قلمبند کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ میری والدہ کو جبل زیتون میں لے جاؤ۔ کیونکہ وہاں سے آسمان کو چڑھوں گا۔ تب میں مریم علیہا السلام کو وہاں لے گئے اور

صفحہ ١٩١

فرشتے تمام کے سامنے مسیح علیہ السلام کو آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ انجیل صاف بتا رہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ بجسم عنصری آسمان پر اٹھائے گئے۔ یہودا اپنے کیفر کردار میں مشابہ بالمسیح بن کر مصلوب ہوا اور حضرت مسیح علیہ السلام نے اخیر میں یہ بھی فرما دیا کہ محمد رسول اللہﷺ (احمد، محمد، مسیا) آپ سے قبل صلیب کا دھبہ اٹھا دیں گے۔ اب ان تصریحات کے ہوتے ہوئے ہم کس زبان سے کہہ سکتے ہیں کہ: ”يأتي من بعدی اسمه احمد“ کی پیشین گوئی سے مراد مرزا قادیانی ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو یہود کے موافق اپنے زعم باطل میں آپ کو قتل اور مصلوب کر چکے تھے اور دشمنان اسلام کو اپنی طرف سے کامیابی دے چکے تھے۔ صرف ہڈی توڑنے کے سوا باقی سارا کام ختم ہو چکا تھا۔

١٥..... اسلامی تصریحات اور حیات مسیح علیہ السلام

الف....... مؤرخ طبری لکھتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام اور یوسف (چچا زاد رشتہ دار ) دونوں ایک مسجد میں خادم تھے۔ جو جبل صیہون کے پاس تھی۔ آپ ایک دن چشمہ سے پانی لینے گئیں تو جبرائیل علیہ السلام نے نفخ کیا۔ جس سے آپ کو حمل رہ گیا۔ یوسف نے بدظن ہو کر پوچھا کہ کیا بیج کے سوا بھی کوئی پودا ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ سب پودے ابتداء میں بغیر بیج کے تھے۔ آدم علیہ السلام کا بھی ماں باپ نہ تھا تو یوسف خاموش ہو گئے اور جب وضع حمل کے آثار پیدا ہوئے تو یوسف آپ کو مصر لے گئے۔ ابھی دور ہی تھے کہ دردزہ شروع ہو گیا تو گدھے پر سے اتر کر ایک کھجور کے نیچے ڈیرہ لگا دیا اور وہاں حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔ سردی کا موسم تھا۔ فرشتوں نے آ کر آپ کو تسلی دی اس رات تمام بت سرنگوں ہو گئے۔ شیاطین آ لپکے مگر ناکام رہے اور یہ عہد کیا کہ اس کی زندگی میں اس کا کام تمام کر ڈالیں گے۔ مجوسی ستارہ دیکھ کر مر، لوبان اور سونا کی نیاز چڑھا گئے۔ کیونکہ مر سے شفا ہوتی ہے اور اس نبی سے شفا حاصل ہوگی۔ لوبان اس لئے کہ اس کا دھواں سیدھا آسمان کو جاتا ہے اور یہ نبی بھی سیدھا آسمان کو جائے گا اور سونا اس لئے کہ تمام مال و دولت کا سردار ہے اور یہ نبی بھی اپنے زمانہ میں بہترین شخص ہوگا۔ (ہیرودس کا قصہ مذکور ہے) پھر بارہ سال آپ مصر میں رہے۔ (اور یہی ربوہ کا مقام ہے ) آپ زمیندار کے گھر رہتے تھے۔ ایک رات اس کی چوری ہوگئی۔ تو آپ نے وہاں کے خیرات خوار جمع کر کے ایک اندھے اور ایک لنجے کو پکڑ کر کہا کہ تم نیچے بیٹھو اور اندھے کو کاندھے پر اٹھاؤ۔ اس طریق سے وہ زمیندار کے خزانہ تک پہنچ گئے تو آپ نے ان کو چور ثابت کیا اور واپس شام آ گئے۔ تیس سال کے تھے کہ آپ کو نبوت ملی اور تین برس بعد خدا نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔

صفحہ ١٩٢

تو ایک شیطان نے کہا کہ مسیح خود خدا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ خدا رحم میں نہیں آتا۔ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ تیسرے نے کہا کہ دوسرا مستقل خدا ہے۔ اب عیسائیوں میں شرک پیدا ہو گیا اور جب واقعہ صلیب قریب تھا تو آپ نے حواریوں سے کہا کہ میرے لئے تاخیر اجل میں دعاء کرو۔ مگر وہ سب سو گئے اور دعاء نہ کرنے پائے تو آپ نے فرمایا کہ میں جاتا ہوں اور ایک حواری تیس درہم سے مجھ کو بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ وہ تیس درہم رشوت لے کر آپ کو گرفتار کرانے آیا تو وہ خود ہی آپ کا شبیہ بن گیا اور انہوں نے اس کو صلیب دے دیا اور آپ نے بعد از صلیب ایک اور جگہ جمع ہونے کا حکم دیا۔ تب حواری گئے تو ایک کم تھا اور وہ نہ تھا کہ جس نے مخبری کی تھی۔ کسی نے کہا کہ وہ پھانسی لے کر مر گیا ہے۔ وھب کہتے ہیں کہ سات گھنٹے مسیح علیہ السلام مرے تھے۔ پھر زندہ کر کے اٹھا لئے گئے۔ عیسائیوں کا بھی یہی مذہب ہے۔ پھر آسمان سے اتر کر مریم مجدلیہ کے ہاں اتر کر حواریوں کو تبلیغ کے لئے روانہ کیا۔ چنانچہ پطرس اور پولس روما کو گئے۔ (پولس حواری نہ تھا) متی اور اندراؤس انسان خواروں کے ملک کو فیلبوس افریقہ کو یحنس افسوس (قریہ اصحاب الکہف) کو یعقوب اور شمعون کو ابن تلما عرب کو اور میمون بربر کو روانہ ہوئے اور جو حواری باقی رہ گئے ان کو یہودیوں نے دھوپ میں بٹھا کر عذاب دینا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ سلطان روم نے عیسائیت قبول کی تو یہودیوں کو مار ڈالا اور صلیب پرستی شروع ہو گئی۔

جایوس ثم ابنه قلوديوس ثم نيرون الذی قتل بطرس وبولس وصلبه مکسائم بوطلايوس ثم اسفسيالوس وبعد رفع عیسیٰ اربعین سنة وجه ابنه ططوس فهدم بیت المقدس وقتل الیهود ثم اخرون ثم هرقل . فالزمان بین تخریب بخت نصر الی الهجرة الف سنة وبین ملک الکندر والهجرة ٩٢١ سنة وبين ظهوره ومولد عیسیٰ ٣٠٣ سنة وبين مولده وارتفاعه ٣٢ سنة وبین ارتفاعه الی الهجرة ٥٨٦ سنة (فانظر واکیف اعد مرارا لفظة الارتفاع)“

ابن جریر نے بیان کیا ہے کہ جب یہود نے آپ کو ایذاء رسانی شروع کی تو آپ بمعہ والدہ کے سفر میں ہی رہنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے حاکم دمشق کے پاس شکایت کی بیت المقدس میں ایک شخص بغاوت پھیلا رہا ہے تو اس نے حاکم بیت المقدس کی طرف حکم بھیجا کہ ایسے

صفحہ ١٩٣

آدمی کو فوراً سولی چڑھا کر قتل کر دو۔ جب یہودی گرفتار کرنے کو آئے تو اس وقت آپ اپنے حواریوں میں بیٹھے تھے (کہ جن کی تعداد ١٢ سے ١٨ تک بتائی گئی ہے) تو انہوں نے بروز جمعہ بعد العصر آپ کو محاصرہ میں لے لیا۔ تب آپ نے کہا کہ میرا شبیہ کون بننا چاہتا ہے تا کہ میری جگہ مصلوب ہو کر میرے ساتھ جنت میں جائے۔ ایک نوعمر جوان آدمی اٹھا۔ آپ نے ہر چند ٹالا مگر اس کے سوا کسی نے جرأت نہ کی۔ تو جس کوٹھڑی میں تھے اس کا ایک روشندان کھول کر نیند کی حالت میں آپ کو فرشتے آسمان پر لے گئے۔ جب کوٹھڑی سے حواری باہر آگئے تو شبیہ کو لے جا کر صلیب پر لٹکا دیا۔ اب جو لوگ کمرہ میں تھے انہوں نے کہا کہ مسیح آسمان پر ہے اور جو لوگ باہر تھے ان کو یقین ہو گیا کہ مسیح کو انہوں نے قتل کر ڈالا ہے۔

ابن جریر نے خود آنحضرت ﷺ کا بیان بھی نقل کیا ہے کہ قیامت سے پہلے اہل روما دابق یا عمان میں اتریں گے۔ تو مدینہ شریف سے ایک لشکر مقابلہ کو نکلے گا اور رومی کہیں گے کہ ہمارے قیدی واپس کرو۔ تو مسلمان انکار کریں گے۔ پھر لڑائی شروع ہوگی تو ایک ثلث مسلمان بھاگ جائیں گے۔ ایک ثلث شہید ہوں گے۔ باقی ایک ثلث روم پر فتح پائے گا اور قسطنطنیہ فتح کرے گا۔ غنیمت تقسیم ہو رہی ہوگی تو کوئی آواز دے گا کہ مسیح دجال آ پڑا ہے تو وہ ملک شام میں پہنچیں گے تو دجال کو دیکھ لیں گے کہ وہ آرہا ہے۔ تب لڑائی کی صفیں تیار کریں گے تو نماز فجر کا وقت ہو جائے گا۔ تب حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ امام مہدی کہیں گے کہ آپ نماز پڑھائیں مگر آپ امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ پھر جب آپ کی نظر دجال پر پڑے گی تو وہ نمک کی طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا۔ مگر آپ اپنے نیزہ سے اس کو خود جا کر قتل کریں گے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ معراج کی رات جب حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو قیامت کا ذکر چھڑ گیا تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے خدا سے وعدہ ہے کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو میرے پاس دو نیزے ہوں گے تو وہ مجھے دیکھ کر پگھلنا شروع ہوگا اور جب یہود کا خاتمہ ہوگا اور لوگ واپس چلے جائیں گے تو یاجوج ماجوج نکل کر تباہی ڈالیں گے۔ تو میری دعاء سے خدا ان کو ہلاک کر دے گا اور ان کے جسم بارش کے ذریعہ سمندر میں چلے جائیں گے تو پھر اس کے بعد قیامت آئے گی۔

(ابن ماجہ)

آپ نے یوں بھی فرمایا ہے کہ اس وقت (امام مہدی علیہ السلام کے ماتحت) تین شہر ہوں گے۔ ایک بحرین میں دوسرا شام میں اور تیسرا حیرہ میں۔ لوگ اختلاف رائے میں ہوں گے کہ مسیح دجال ستر ہزار فوج لے کر نکلے گا کہ جن میں اکثر یہودی اور عورتیں ہوں گی اور ان کے سر پر

صفحہ ١٩٤

تاج ہوں گے۔ تب مسلمان جبل افیق پر جمع ہوں گے اور بھوک سے تنگ آئیں گے اور تب آواز آئے گی کہ امداد غیبی آگئی ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام آئیں گے۔

(ابن ماجہ)

ایک وعظ میں آپ نے فرمایا کہ خروج دجال کی خبر ہر ایک نبی دیتا رہا ہے۔ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ اگر میرے زمانہ میں ظاہر ہوا تو میں خود سنبھال لوں گا۔ میرے بعد ظاہر ہوا تو تم اپنا بند و بست کرو۔ شام و عراق کے درمیان خروج کرے گا۔ تو دائیں بائیں پھیلے گا۔ وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا اور کہے گا کہ: ”انا نبی لا نبی بعدی“ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ پھر کہے گا کہ میں رب ہوں۔ ایک آنکھ بیٹھی ہوگی۔ دوسری ابھری ہوئی۔ پیشانی پر کافر لکھا ہوگا۔ جسے ہر خواندہ و ناخواندہ شناخت کرسکے گا۔ اس کے ہاتھ میں جنت اور دوزخ ہوں گے۔ تم کو اگر دوزخ میں ڈالے تو سورہ کہف پڑھو تاکہ اس کی آگ سرد ہو جائے۔ ایک عربی کے والدین زندہ کرے گا۔ تو دو شیطان اس کے والدین بن کر کہیں گے کہ بیٹا یہی رب ہے۔ اسے مان لو۔ ایک کو دو حصوں میں چروا ڈالے گا۔ پھر زندہ کر کے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے۔ وہ کہے گا۔ وہی جو تجھے اور مجھے پیدا کرنے والا ہے۔ تم دجال ہو۔ آج مجھے خوب اطمینان ہو گیا ہے۔ وہ بارش اور قحط بھی اپنے ساتھ رکھے گا۔ جو قوم اسے مانے گی اس کو بھر پور کر دے گا اور جو نہ مانے گا اسے تباہ کر دے گا۔ مکہ اور مدینہ پر چونکہ فرشتوں کا پہرہ ہوگا۔ اس لئے وہاں نہ جاسکے گا۔ مگر مدینہ شریف کے پاس ضریب احمر کے مقام پر کھڑا ہو کر لوگوں کو دعوت دے گا۔ تو منافق زن و مرد نکل کر اس کے لشکر میں شامل ہو جائیں گے۔ اس دن کا نام یوم الخلاص پڑ جائے گا۔ اس وقت عرب قلیل تعداد میں امام صاحب کے ماتحت بیت المقدس میں جمع ہوں گے تو صبح کی نماز میں نزول مسیح ہوگا۔ دجال دیکھ کر بھاگے گا تو آپ فرمائیں گے کہ تیرا قتل میرے ہاتھ سے مقدر ہے تو خود جا کر قتل کریں گے اور یہود کو شکست ہوگی۔ شجر و حجر بھی ان کو پناہ نہ دیں گے۔ صرف ایک غرقد درخت کی آڑ میں پناہ لے سکیں گے۔ اس کی سلطنت چالیس دن ہوگی۔ یا جس مدت تک کہ خدا کی مرضی ہوگی۔ جن میں سے ایک دن ایک سال ہوگا اور آخری ایک لمحہ کا کہ ایک دروازہ سے نکل کر دوسرے تک پہنچو گے تو شام ہو جائے گی اور نماز اپنے اپنے وقت اندازہ لگا کر پڑھنا ہوگی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تین سال پہلے ایک ایک حصہ کم ہوتے ہوتے بارش بالکل بند ہو جائے گی اور عبادت گزار تسبیح وتہلیل سے پیٹ بھر لیا کریں گے۔

(کنز العمال)

اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا عہد مبارک ہوگا۔ آپ حاکم عادل ہوں گے۔ یہود پہلے ہی تباہ ہو چکے ہوں گے تو اور بھی تباہ ہو جائیں گے۔ جزیہ قبول نہ ہوگا۔ صرف اسلام قبول

صفحہ ١٩٥

ہوگا۔ مال دولت آپ کے عہد میں بکثرت ہوگی اور لوگ سیراب ہوں گے۔ یہاں تک کہ ایک انار ایک کنبہ کو کافی ہو جائے گا۔ آپ صلیب اور خنزیر کو نیست و نابود کر دیں گے۔ عیسائیت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ صرف خدا ہی کی پرستش ہوگی۔ قریش اپنی سلطنت پر قائم ہو جائیں گے۔ زمین جوان ہو کر حضرت آدم علیہ السلام کے وقت جیسی نباتات نکالے گی۔ گھوڑے چند روپوں میں ملیں گے۔ کیونکہ دنیا میں امن قائم ہوگا۔ لڑائی کا نام ونشان تک نہ رہے گا۔ بیل کی قیمت بڑھ جائے گی۔ کیونکہ کھیتی میں بہت ضرورت بڑھ جائے گی۔ نزول کے وقت آپ کے سر سے پانی کے قطرے گرتے ہوں گے۔ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ آپ پر دو زعفرانی چادریں ہوں گی۔ آپ کے دم سے یہودی خود ہی بھسم ہوں گے۔ باب لد میں دجال کو قتل کریں گے۔ دمشق کے مشرقی جانب سپید مینار کے پاس ٹھہریں گے۔ آپ فج روحاء کے مقام سے حج بھی کریں گے۔ آپ شادی کریں گے۔ آپ کے بچے ہوں گے۔ آپ کی وفات پر اہل اسلام جمع ہو کر نماز جنازہ پڑھیں گے اور روضہ نبویہ میں آپ کو دفن کیا جائے گا۔

(کنز العمال)

یاجوج ماجوج کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیام جبل طور پر ہوگا اور یہ قوم بحیرہ طبریہ کو بھی پی کر خشک کر دے گی۔ پھر ان کے آخری حصہ کا گزر ہوگا تو کہیں گے کہ کبھی یہاں پانی ہوتا تھا۔ مسلمان ایسے تنگ ہوں گے کہ ایک بیل کا سر یا خود ایک بیل سو درہم سے زیادہ عزیز ہوگا۔ حضرت کی بددعا سے ان کو پھوڑا نکل کر تباہ کر دے گا اور ان کی لاشوں سے بدبو پھیل جائے گی۔ پھر دعا کریں گے تو بڑے بڑے پرند ان کی لاشیں اٹھا لے جائیں گے اور بعد میں بارش ہو کر زمین صاف ہو جائے گی اور خوب کھیتی ہوگی۔ اس کے بعد ایک ہوا چلے گی تو مسلمان مر جائیں گے اور بے ایمان باقی رہیں گے۔ جن پر قیامت قائم ہوگی۔

(کنز العمال)

ان تصریحات کو پیش نظر رکھ کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام مہدی علیہ السلام کی سلطنت ملک شام میں اس وقت ہوگی کہ قسطنطنیہ بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ عرب کی سلطنت از سر نو قائم ہوگی۔ یہودی قوم کا کانا دجال خدائی دعویٰ کرتے ہوئے اسلام کو مٹانے کے لئے نکلے گا۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے سے یہودی سلطنت بالکل تباہ ہو جائے گی اور ملک شام میں آپ کم از کم چالیس سال حکومت کریں گے اور صاحب اولاد ہو کر مدینہ شریف میں روضہ نبویہ کے اندر دفن ہوں گے اور بعد اسلام مٹ جائے گا اور بدکرداروں کے لئے قیامت قائم ہوگی۔

(کنز العمال، ابن جریر)

صفحہ ١٩٦

یہ واقعات بالکل صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت امام مہدی علیہ السلام ملک شام میں ظاہر ہوں گے۔ ان کا تعلق ہندوستان وغیرہ میں نہیں ہے اور جو لوگ اس پیشین گوئی کو افسانہ خیال کر کے تکذیب کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ کیونکہ زمانہ کے انقلابات میں آئے دن کئی ایک نئی نئی صورتیں پیش آتی رہتی ہیں کہ جن کا کسی کو وہم و خیال تک بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے ممکن ہے۔ بلکہ یقین ہے کہ اندرون عرب میں ایسے واقعات پیش آئیں جن کا اثر قسطنطنیہ تک بھی پہنچ جائے۔ اگر چہ اس وقت اس پیشین گوئی کے آثار موجود نہیں ہیں۔ لیکن موجود ہوتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ خدا جب چاہتا ہے تو گریٹ وار پیدا کر کے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیتا ہے اور مسلمان ایسے مٹ جاتے ہیں کہ لنگوٹی سنبھالنے کو مستقل حکومت خیال کر لیتے ہیں۔

جس طرز پر اسلامی تصریحات نے ظہور مہدی اور نزول مسیح کو پیش کیا ہے وہ حاکمانہ رنگ ہے۔ محکومانہ یا رعیتانہ بو اس میں نہیں آتی اور یہ ایسے واقعات ہیں کہ ان کے ظہور پذیر ہونے میں کچھ اشکال بھی نہیں۔ گو آج تک مجموعی طور پر یہ تمام واقعات پیش نہیں آئے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ سرے سے ناممکن ہیں۔ دنیا کی مادی ترقی، انکشافات جدید اور علوم وفنون کی تبدیلیاں یا اقوام میں سیاسی اور تمدنی انقلابات یہ سب کے سب ایسے امور ہیں کہ جن کے سامنے اس پیشین گوئی کا اظہار اصلی رنگ میں دکھائی دینا کوئی ناممکن بات نہیں رہ جاتا اور جن لوگوں نے عجلت پسندی سے یا اس پیشین گوئی کے بعض الفاظ کی بنیاد پر یا کسی غلط فہمی اور مغالطہ اندازی سے یہ یقین کیا ہے یا یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ایسے واقعات ظہور پذیر ہو چکے ہیں یا یہ کہ ان کا جائے وقوعہ ہندوستان یا کوئی دوسرا ملک ہے۔ انہوں نے دیدہ دانستہ اس پیشین گوئی کے تمام اجزاء پر نہ کبھی خود غور کیا ہے اور نہ کسی کی توجہ اس کی طرف منعطف ہونے دی ہے۔ ورنہ بالکل صاف ہے کہ خروج مہدی اور نزول مسیح کے آثار ابھی تک نمایاں طور پر کہیں بھی نمودار نہیں ہوئے اور قیامت کے آثار جو ٢٠٠ھ سے ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں البتہ ان میں ترقی ہو رہی ہے۔ معلوم نہیں کب تک پایہ تکمیل کو پہنچ کر ایک دفعہ پھر اسلام ہی اسلام دنیا میں نظر آنے کا موقعہ پیدا ہوگا۔

حضور ﷺ نے قرب قیامت کے علامات سینکڑوں بیان کئے ہیں۔ جن میں سے جس قدر آج ہمارے سامنے موجود ہیں۔ ان کو قلمبند کیا جاتا ہے۔

بدزبان لوگ پیدا ہوں گے جو سلام بھی گالیوں میں دیں گے۔ کتاب اللہ پر عمل پیرا

صفحہ ١٩٧

ہونا باعث توہین ہوگا۔ جھوٹ زیادہ ہوگا اور سچائی بہت کم ہوگی۔ اپنی ظنی رائے پر فیصلہ ہوگا۔ بارش زیادہ ہوگی اور پھل کم ہوگا۔ زمانہ ساز آدمی بہتر خیال کیا جائے گا۔ قرآن کی بجائے خانہ زاد اصول پیش کئے جائیں گے۔ لیکچرر بہت تیار ہوں گے۔ شراب نوشی بکثرت ہوگی۔ اسلامی جہاد ترک ہو جائے گا۔ شریف النسل کس مپرسی کے عالم میں ہوں گے اور کم ذات عالی قدر ہو جائیں گے۔ دنیا میں عامل بالقرآن نہ رہیں گے۔ نوعمر ایک دوسرے پر گدھوں کی طرح چڑھیں گے۔ تجارت اس قدر ہوگی کہ عورتیں بھی اس کام میں امداد کریں گی اور جہاں کہیں مال جائے گا نفع نہ ہوگا۔ رذیل عالم ہوگا اور شریف جاہل۔ گدھوں اور کتوں کی طرح برلب سڑک عورتوں اور بچوں سے بدفعلی کی جائے گی۔ چھوٹے پر رحم نہ ہوگا اور بڑے کی عزت نہ ہوگی۔ حرامزادے کثرت سے ہوں گے۔ بلاضرورت قسم کھائیں گے۔ ناگہانی موتیں واقع ہوں گی۔ ایمانداری کم ہو جائے گی۔ بے ایمان اپنی اپنی قوم پر حکومت کریں گے۔ عورتیں اکڑ کر چلیں گی۔ جاہل عبادت گزار ہوں گے اور اہل علم بے عمل ہوں گے۔ شراب کو شربت بنائیں گے اور سود کو خرید و فروخت رشوت ستانی تحفہ بن جائے گا اور چندہ کے مال سے تجارت چلے گی۔ ایماندار کو جانور سے بھی ذلیل سمجھا جائے گا۔ نیک عمل برے تصور ہوں گے اور برے عمل نیک عمل خیال کئے جائیں گے۔ زہد و تقویٰ صرف روایات میں نظر آئے گا اور دکھاوٹ کے لئے پرہیز گاری ظاہر کی جائے گی۔ اولاد سے سکھ نہ ہوگا۔ والدین کہیں گے کہ اس کی بجائے پلا پالتے تو بہتر ہوتا یا پتھر ہوتا تو کسی کام آتا۔ گانے والیاں مہیا کی جائیں گی۔ نوعمر حکمران ہوں گے۔ ناپ اور تول میں کمی بیشی ہوگی۔ مسلمان کے پیٹ میں قرآن شریف کی ایک آیت بھی نہ ملے گی۔ ”لا الہ الا اللہ“ کی رسم ہوگی اور اس کی حقیقت سے کوئی بھی واقف نہ ہوگا۔ غیر قوم میں نکاح زیادہ پسند ہوگا اور اپنی رشتہ دار عورت پسند نہ آئے گی۔ وغیرہ وغیرہ۔

(کنزالعمال)

ناظرین اس سے اندازہ لگالیں کہ جس نبی کی یہ پیشین گوئیاں آج لفظ بہ لفظ وقوع پذیر ہو کر نظر آ رہی ہیں۔ اس کی وہی پیشین گوئیاں کب لفظ بلفظ سچی نہ نکلیں گی۔ جو حضرت امام مہدی اور حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بیان فرمائی ہیں؟ اسلام سے بے خبر تعلیم یافتہ ذرہ فطرت اسلام پر متوجہ ہو کر سوچیں کہ ان کا یہ کہنا کہاں تک صحیح ہوگا کہ یہ روایات جھوٹی ہیں یا اگر جھوٹی نہیں تو ان سے استعارات یا مجاز مراد ہے۔ نہایت شرم کی بات ہے کہ حضور ﷺ کی باقی تمام پیشین گوئیاں تو

صفحہ ١٩٨

لفظ بلفظ سچی نکلیں۔ لیکن مہدی ومسیح کے متعلق سب کی سب استعارات بن جائیں۔ یہ خوب منطق ایجاد ہوئی ہے جس سے بے ایمانی کی بدبو آ رہی ہے۔ خدا اس سے بچائے۔

١٦......دلائل حیوۃ المسیح علیہ السلام

پچھلی تحقیق سے گو یہ ضرورت نہیں رہی کہ مستقل طور پر حیات مسیح علیہ السلام کے بارے میں کوئی عنوان قائم کیا جائے۔ مگر تاہم ناظرین کے آرام کے لئے ذیل میں قرآن شریف، احادیث نبویہ اور اقوال صحابہ، یا اقوال ائمہ و مفسرین سے دلائل لکھے جاتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آئیں۔

”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم (نساء)“ ﴿یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل ہی کیا ہے اور نہ صلیب پر چڑھایا ہے۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ ان کو اشتباہ ضرور ہوا ہے۔﴾

انجیل برنباس میں ہے کہ یہودا کو انہوں نے مسیح سمجھ کر قتل کر ڈالا تھا۔ اس لئے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام کشمیر میں ٨٧ برس رہ کر دفن ہوئے ہیں۔ سراسر غلط ہوگا۔

”ان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ (نساء)“ ﴿(جو یہودونصاریٰ) آپ کے متعلق اختلاف کرتے ہیں وہ خود شک میں ہیں۔﴾

یقینی طور پر نہ کوئی عیسائی کہہ سکتا ہے کہ آپ خدا تھے اور نہ کوئی یہودی کہہ سکتا ہے کہ آپ ہی کو قتل یا صلیب پر چڑھایا گیا ہے۔ اب جو شخص یقینی طور پر یوں کہے کہ کشمیر میں جا کر حضرت مسیح علیہ السلام نے وفات پائی تھی وہ بات شکی ہوگی۔ یقینی نہیں ہوسکتی۔

”مالھم بہ من علم الااتباع الظن (نساء)“ ﴿جو یہودی وفات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں ان کو کسی طرح اپنے قول کا یقین نہیں ہے۔ صرف ایک خیال ہے جس کی تابعداری کر رہے ہیں۔﴾

اب مرزائی بھی مرزا قادیانی کے کہنے پر وفات مسیح کے قائل ہیں اور مرزا قادیانی بھی پہلے حیات مسیح کے قائل تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنا عقیدہ بدل ڈالا تھا اور غیر مصدقہ اناجیل اور غیر مشہور اقوال اور غیر موجہ استدلات سے یہ کہہ دیا تھا کہ مسیح علیہ السلام وفات پا چکے ہیں۔ اگر انجیل برنابا دیکھ لیتے تو امید تھی کہ پھر اپنی رائے کو تبدیل کرلیتے۔

صفحہ ١٩٩

”بل رفعه الله اليه (نساء)“ ﴿نہیں نہیں بلکہ خدا نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔﴾

اس آیت میں وفات مسیح کے قائل یہودیوں کے متعلق مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ ان کی بات بالکل صحیح نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا نے خود ان کی ایذا رسانی سے بچا کر اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ (دیکھو انجیل برنابا، تاریخ طبری، درمنثور اور ابن جریر)

”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء)“ ﴿جو بھی اہل کتاب ہوگا آپ کے عہد میں آپ کی تصدیق کرے گا۔﴾ واقعی آپ نبی ہیں خدا نہیں ہیں اور یہ تصدیق ”آپ کی موت سے پہلے ہوگی“ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی موت ابھی تک نہیں ہوئی اور بحکم حدیث نبویؐ آپ کے نزول کے بعد چالیس سال حکومت کرنے سے پیچھے آئے گی۔

(دیکھو کنز العمال)

”ان اراد ان يهلك مسيح ابن مريم وامه ومن فى الارض جميعا (مائده)“ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام خود خدا ہیں تو اس الوہیت کو توڑنے کے لئے حضور علیہ السلام سے کہا گیا ہے کہ آپ ان کو سمجھا دیجئے کہ اگر خدا تمام باشندگان زمین کو اور مسیح علیہ السلام کو مار ڈالے تو کون اس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے؟ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام کی والدہ کو خدا نے موت دی تھی تو اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام نے خدا کا کیا بگاڑ لیا تھا؟ مراد یہ ہے کہ اگر آپ خدا ہوتے تو ضرور مقابلہ میں اترتے۔ اس آیت میں یہ یقیناً ثابت ہوگیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تھی تو حضرت مسیح علیہ السلام اس وقت ضرور زندہ تھے۔ ورنہ یہ دھمکی درست نہیں رہتی۔

اس جگہ یہ بھی یاد رکھو کہ: ”وامہ“ اصل میں یوں ہے۔ ”وقد اهلك امه“ حضرت مسیح علیہ السلام سے پیشتر آپ کی والدہ کو خدا تعالیٰ وفات دے چکا ہے۔ جیسا کہ: ”واجمعوا امركم (وادعوا) شركاءكم والذين تبوء والدار (وتقبلوا) الايمان وامسحوا بروسكم (واغسلوا) بارجلكم“ معطوف میں فعل محذوف ہیں۔ جو ذرہ غور سے خود بخود معلوم ہو سکتے ہیں۔ جیسے ”علفته تبنا وسقيته ماء ياليت زوجاً قد غدا متقلد اسيفا ومتو شحاً رمحاً ۔ شراب البان و (اكال) تمر واقط“

”انى متوفيك ورافعك الى (آل عمران)“ حضرت مسیح یہود کی ایذا رسانی سے

صفحہ ٢٠٠

تنگ آگئے تھے۔ تو خدائے تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ ﴿میں آپ کو اپنی طرف قبض کر لوں گا۔﴾ (یا آپ کو پوری زندگی عطاء کروں گا) اور اپنی طرف اٹھالوں گا اور یہود کی نجاست سے اور ان کی بدنامیوں سے پاک کروں گا۔ انجیل برنباس میں دیکھو خدا تعالیٰ نے کس طرح آپ کو اپنی طرف اٹھالیا اور کس طرح حضور ﷺ کے ذریعہ آپ سے تمام بدنامیاں دور کر ڈالیں۔ جو یہود آپ کے متعلق مشہور کر رہے تھے۔

”انه لعلم للساعة (زخرف)“ ﴿حضرت مسیح علیہ السلام قیامت کا ایک علم ہیں۔﴾ اس میں آپ کے نزول کو آثار قیامت میں داخل کیا ہے اور احادیث میں تصریح موجود ہے کہ آپ کے نزول کے بعد بہت جلد دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔

”فاذا جاء وعد الآخرة جئنا بكم لفيفا (بنی اسرائیل)“ بروایت حضرت ابن عباسؓ اس کا معنیٰ یوں ہے کہ قیامت کا وقت جب نزدیک آئے گا تو ہم تم کو اکٹھا کر لیں گے۔ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام دنیا کو ایک ہی مذہب پر جمع کریں گے۔ ان کے عہد میں یا تلوار ہوگی یا اسلام، ٹیکس، جزیہ وغیرہ قبول نہ ہوگا۔

(تفسیر عباسی)

”للبث فی بطنه الی یوم یبعثون (الصفت)“ حضرت یونس علیہ السلام کا حال خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اگر وہ خدا کی یاد میں نہ لگے رہتے تو مچھلی کے پیٹ میں ہی قیامت کے دن تک ٹھہرتے۔ اس آیت نے بتا دیا ہے کہ ایک نبی اور ایک مچھلی جیسا جانور قیامت تک (حضرت مسیح علیہ السلام سے زیادہ عمر میں) زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہوگا کہ قرآن شریف میں قیامت تک کی زندگی کسی جاندار کے لئے مذکور نہیں ہے۔

”انك من المنظرین (حجر)“ ابلیس نے مہلت مانگی تھی تو اس کو وقت معلوم یعنی نفخہ اولے یا قیامت تک مہلت دے کر کہا گیا کہ تم ان میں شامل ہو کہ جن کو مہلت دی گئی ہے۔ یعنی طویل العمر اور بھی ہیں اور تم بھی طویل العمر ہو کر قیامت تک زندہ رہو گے۔ اس آیت میں ایک منحوس ہستی کو بھی قیامت تک زندہ رکھا گیا ہے تو مقدس ہستی کو زندہ رکھنا کیوں ناممکن ہوگا؟

”هو الذی ارسل رسوله بالھدی (صف)“ ﴿خدا وہ ہے کہ جس نے اپنا رسول ہدایت دے کر بھیجا تاکہ تمام مذاہب پر دین حق کو غالب کرے۔﴾

ایک روایت کے مطابق اس آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے عہد میں اسلام ہی اسلام ہوگا۔ دوسرے

صفحہ ٢٠١

مذہب کا نام تک نہ ہوگا۔ براہین احمدیہ میں ہے کہ یہ آیت چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق مانی گئی ہے۔ اس لئے بعد میں مرزا قادیانی نے کوشش کی تھی کہ اپنے اوپر وارد کریں۔ مگر آپ کے عہد میں غیر مذاہب کو بڑی ترقی ہوئی اور اسلام مغلوب ہوتا گیا اور مرزا قادیانی کاغذی گھوڑے ہی دوڑاتے ہوئے دنیا سے چل بسے۔

”فلما توفيتني (مائدہ) “قیامت کو آپ سے سوال ہوگا کہ کیا آپ نے شرک کی تعلیم دی تھی؟ تو آپ جواب دیں گے کہ میں نے تو لوگوں کو تیرا ہی حکم سنایا تھا اور جب تک میں ان میں موجود رہا۔ ان پر رقیب رہا۔ لیکن جب تو نے مجھے زندہ دنیا سے اٹھا لیا تھا تو تب سے تو ہی ان پر رقیب تھا۔ اس آیت میں بھی آپ کی حیات مذکور ہے۔ (ارشاد

الساری روح المعانی ،معالم وغیرہ)

”وجيها في الدنيا والآخرة ومن المقربين (آل عمران) “کہ حضرت مسیح علیہ السلام دنیا و آخرت میں ذی وجاہت ہیں۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ گو اولا زمین پر آپ کو ذی سلطنت نہیں بنایا گیا۔ مگر ثانیا آسمان پر اور ثالثا بعد نزول دنیا میں ہی آپ ذی وجاہت ہیں اور خدا کے مقرب فرشتوں میں داخل ہیں اور ملکوتی زندگی آپ کو عطاء کی گئی ہے۔ (فتح البیان) یہ آیت رفع جسمانی کی بہترین دلیل ہے۔

”يكلم الناس في المهد وكهلا (آل عمران) “حضرت مریم علیہ السلام کو فرشتہ نے پیغام الٰہی سنایا تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔ جو بچپن اور بڑھاپے میں لوگوں سے کلام کرے گا۔

تینتیس سال کی عمر میں وفات مسیح کو ماننے والوں کے نزدیک واقعہ صلیب پیش آیا اور اس سے پہلے بچپن اور جوانی میں آپ نے کلام کیا۔ جس کا ثبوت اناجیل سے ملتا ہے۔ مگر مرزائیوں کے نزدیک کشمیر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ٨٧ سال عمر گزری ہے جو خاص بڑھاپے کی عمر ہے۔ مگر اس وقت کا کلام یا تبلیغ موجود نہیں ہے۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ آپ کا کلام بڑھاپے کے وقت بعد میں ہوگا۔ جو آسمان سے نزول کے بعد وقوع پذیر ہوگا۔ اب مجبوراً ماننا پڑتا ہے کہ آپ ابھی زندہ ہیں۔ ورنہ بڑھاپے کا کلام موجود نہیں ہوسکتا اور یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ کشمیر کا نظریہ صرف خیالی بحث ہے۔

”ومكروا ومكر الله (آل عمران) “خدا تعالیٰ نے حکمت عملی کھیلی کہ کسی

صفحہ ٢٠٢

دوسرے کو شبیہ بعیسیٰ بنا کر سولی دلا دیا۔ کیونکہ اس نے غداری کی تھی اور حضرت مسیح زندہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ اگر مرزائیوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح مانا جائے تو خدا کی حکمت عملی کا ثبوت نہیں ملتا۔

”اذ كففت بنى اسرائيل عنك (مائدہ)“ خدا تعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام سے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ سے یہودیوں کو روک دیا تھا۔ لیکن جب یوں مانا جائے کہ انہوں نے آپ کی بے عزتی کی اور سولی پر چڑھادیا تو رکاوٹ کیسے ثابت ہوئی۔ حدیبیہ کے موقعہ پر خدا نے رکاوٹ کی تھی۔ تو خونریزی رک گئی تھی۔ مگر یہاں بقول مرزائیاں وہ نہیں رکی۔ اس واسطے ماننا پڑتا ہے کہ دراصل واقعہ یوں ہی تھا کہ یہودا کو آپ کی جگہ صلیب پر چڑھایا گیا اور اب صاف بچ کر آسمان پر چلے گئے۔

”وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موتهم (مائدہ)“ یہ بھی ایک شاذ قراءت ہے۔ کیونکہ اس میں ن فعل حال پر داخل ہوا ہے۔ مگر محمد بن علی (وہو بن الحنفیہ) کہتے ہیں کہ اس آیت کا ترجمہ یوں ہے کہ جو ابھی اہل کتاب ہیں۔ اپنی موت سے پہلے ان کو پورا انکشاف ہوجاتا ہے اور تصدیق کرتے ہیں کہ واقعی حضرت مسیح علیہ السلام نبی برحق تھے اور وہ زندہ ہیں اور پھر اخیر زمانہ میں نازل ہوکر اسلام کی خدمت کریں گے اور کسی یہودی یا مجوسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

”انه لعلم للساعة (زخرف)“ یہ بھی قرأت ہے جس کا ترجمہ یوں ہے کہ آپ کا نزول جسمانی تصدیق قیامت کے لئے آسمانی نشان ہوگا اور آپ کا وجود ہی صداقت اسلام کے لئے کافی ہے۔

(درمنثور)

تائیدی طور پر معراج، قصہ اصحاب کہف اور حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ بھی قابل استدلال ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اب احادیث نبویہ بیان کی جاتی ہیں کہ جن میں صاف طور پر بیان ہے کہ آپ زندہ ہیں اور نزول فرمائیں گے۔

”ینزل عيسى ابن مريم الى الارض فيتزوج ويولدله ويمكث خمسا واربعين سنة (ذكره ابن الجوزي في كتابه الاذاعة لماكان وما سيكون بين يدے الساعة) وفيه لفظه الى الارض دليل على ان النزول من السماء لان من الابتدائیہ لا بدلها من الى الا نتهائية . فرد ما قيل ان النزول ليس مما وما“

صفحہ ٢٠٣

حضرت مسیح علیہ السلام زمین پر (آسمان سے) اتریں گے اور شادی کریں گے اور آپ کی اولاد بھی ہوگی اور ٤٥ سال تک رہیں گے۔

اس معیار کے مطابق مرزا قادیانی بالکل ناکام رہے۔ کیونکہ مسیح بننے کے بعد آپ نے محمدی بیگم کا نکاح کرنا چاہا۔ تا کہ اس سے اولاد ہو۔ مگر ناکامی ہی رہی۔ اس کے بعد ارادہ کیا کہ بشیر کی پیشین گوئی سے یہ مشابہت پیدا کر لیں گے۔ مگر وہ بھی غلط نکلی۔ پھر یہ ظاہر کیا کہ بقول دانیال ١٣٣٥ھ میں مریں گے۔ ٩ سال پہلے ہی مر گئے۔ بہرحال اس حدیث کے مطابق مسیح بننے کی آپ نے بڑی کوشش کی مگر ہر طرح ناکامی رہی اور اخیر کہنا پڑا کہ یہ بھی ایک قصہ تھا۔

”كيف انتم اذا نزل ابن مريم من السماء فيكم وامامكم منكم (ابوہریرہ مرفوعا) ”جب (عیسیٰ علیہ السلام) ابن مریم آسمان سے تم میں اتریں گے۔ حالانکہ تمہارا امام تم میں سے موجود ہوگا تو تمہاری کیا کیفیت ہوگی۔ (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی) یعنی ادھر دجال ہوگا ادھر امام مہدی جماعت کو کھڑے ہوں گے۔ لڑائی تیار ہوگی اور اس طرف نزول مسیح ہوگا تو یہ ایک عجیب کیفیت ہوگی اور عجیب منظر ہوگا۔

مرزا قادیانی نے ”وامامكم منكم“ کو ابن مریم پر معطوف بنا کر یوں معنی کیا ہے کہ: ”جب ابن مریم اترے گا اور تمہارا امام جو تم میں سے ہوگا“ یوں کرنے سے یہ کوشش کی ہے کہ عیسیٰ ابن مریم تم محمدیوں سے پیدا ہوگا۔ کیونکہ نزول من السماء پیدا ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے۔ جیسے ”انزل من السماء ماء“ میں کہ پانی اسی دنیا میں پیدا ہو کر اترتا ہے۔ مگر معطوف معطوف علیہ دو الگ الگ ہوتے ہیں تو معنی صحیح یوں ہوگا کہ عیسیٰ ابن مریم بھی اتریں گے اور تمہارا امام بھی اتریں گے۔ اب اگر اترنے کا معنی پیدا ہونا ہے تو مرزا قادیانی سے پہلے امام مہدی کا پیدا ہونا بھی ضروری ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی امام بھی خود ہی بنتے ہیں اور اگر واقعی اترنا مراد ہے تو امام کو بھی اتارنا تسلیم کریں۔ اس لئے یہ جملہ حالیہ ہوگا۔ جس کا ترجمہ پہلے لکھا جا چکا ہے اور یوں کہنا بھی بیجا ہے کہ: ”امامكم“ عیسیٰ کا عطف تفسیری ہے۔ کیونکہ عربی میں عطف تفسیری عطف بیان کو کہتے ہیں اور وہاں حرف عطف نہیں ہوتا اور تفسیر کے لئے کبھی نہیں آتی۔

پس ثابت ہوا کہ محض خیالی تفسیر سے یہ مسئلہ حل کیا ہے۔ ورنہ کوئی نقلی ثبوت موجود نہیں ہے۔

”قال عليه السلام لليهود ان عيسى لم يمت وانه راجع اليكم قبل .....“

صفحہ ٢٠٤

يوم القيمة (الحسن البصری مرفوعاً ابن کثیر) ”یہودیوں کو آپ نے فرمایا کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں مرے۔ (جیسا کہ مرزائی اور یہودی کہتے ہیں) اور ضرور قیامت سے پہلے تمہاری طرف آنے والے ہیں۔“ مرزا قادیانی اگر وہی تھے تو یہود سے لڑتے۔ مسلمانوں کے پیچھے کیوں پڑ گئے تھے اور کیوں اصلی یہودیوں کو چھوڑ کر اپنے خانہ ساز یہود سے الجھتے رہے۔ شاید ان کو نقلی یہودی ہی چاہئے تھے؟ کیونکہ آپ بھی نقلی مسیح ہی تھے۔

” (عبدالله بن مسعود مرفوعاً) قال عليه السلام لقيت ليلة اسرى بى ابراهيم وموسى وعيسىٰ فتذاكروا امر للساعة فقال عيسىٰ وفيها عهد الى ربى ان الدجال خارج ومعى قضيبان فاذا رآنی ذاب كما يذوب الرصاص وفى رواية معى سيف (مستدرک) ”حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جس رات مجھے سیر کرائی گئی تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے میری ملاقات ہوئی تو قیامت کا ذکر چھڑ گیا۔ تو پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سپرد کیا تو آپ نے لاعلمی ظاہر کی۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی ایسا ہی کہا۔ اخیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمانے لگے کہ قیامت کا صحیح ظہور تو اللہ ہی کو علم ہے۔ مگر اتنا کہہ سکتا ہوں کہ جو وعدے مجھ سے خدا نے کئے ہیں ان میں ایک یہ وعدہ بھی ہے کہ دجال نکلے گا۔ جب کہ میرے پاس دو شاخیں ہوں گی۔ (یا دو نیزے) اور دجال دیکھ کر سیسہ کی طرح پگھلے گا۔

مرزا قادیانی کے دو نیزے شاید براہین احمدیہ اور ازالۃ الاوہام ہوں گے۔ مگر یہ دونوں ایسے خراب تھے کہ جب سے ان کا ظہور ہوا عیسائیوں کی ترقی ہوتی گئی۔ چنانچہ سراج الاخبار جہلم ٢؍دسمبر ١٩١٣ء میں لکھا ہے کہ ١٩٠١ء میں پنجاب کے عیسائیوں کی مردم شماری ٣٧٦٩٥ تھی اور ١٩١١ء میں ١٦٣٠٩٤ ہوئی تو ان دس سالوں میں ١٢٥٣٩٩ بڑھے اور یہی وہ دس سال ہیں کہ جن میں بقول مرزا محمود، مرزا قادیانی کو اپنے متعلق یقین ہو گیا تھا کہ آپ افضل المرسلین ہیں اور عیسائیت کی ٹانگ توڑنے آئے ہیں۔

(ندائے تبلیغ نمبر ١ قادیان مارچ ١٩٣٠ء)

” (ابوهریرة مرفوعا) انى اولى الناس بعيسى ابن مريم لانه لم يكن بينى وبينه نبى وانه نازل فاذا رأيتموه فاعرفوه انه رجل مربوع الى الحمرة والبياض عليه ثوبان ممصران كان راسه يقطر وان لم يصبه بلل فيدق الصليب ويقتل الخنزير ويضع الجزية ويدعو الناس الى الاسلام

صفحہ ٢٠٥

ويهلك الله الملل كلها الا الاسلام ويهلك الله الدجال ثم تقع الامانة على الارض حتى ترتع الاسود مع الابل والنمار مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان مع الحيات لا تضرهم فيمكث اربعين ثم يتوفى“

اس حدیث میں آٹھ نشان ہیں۔ جن میں سے پہلا اور آٹھواں آپ کی (عیسیٰ علیہ السلام) کی حیات ثابت کرتے ہیں۔ باقی چھ نشان ایسے ہیں کہ جن سے مرزا قادیانی کی تکذیب ہوتی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نہ سپید رنگ سرخ تھے۔ نہ دو زرد چادروں میں رہتے تھے۔ نہ ان سے صلیب ٹوٹی، نہ غیر مذاہب برباد ہوئے نہ ہی ان کا دجال (قوم عیسائی) برباد ہوئی اور نہ ہی امن قائم ہوا۔ بلکہ آئے دن ملک میں بیماریاں، فتنہ فساد اور ابتری پھیلی اور خود حکومت برطانیہ (دجال) کے وفادار رعیت تھے۔ یہ کب بادشاہ بنے اور کب جزیہ موقوف کیا؟ بلکہ اپنی رعیت اور مریدوں پر جزیہ لگا دیا ہے کہ اپنی جائیداد میں سے ماہواری چندہ دیا کریں۔ ورنہ ان کا نام رجسٹر بیعت سے کٹ جائے گا۔

”(ابو مالك) وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به عند نزول عيسى ابن مريم لا يبقى احد من اهل الكتب الا امن به (ابن جرير)“

”(ابن عباس) قبل موته اى قبل موت عيسى عليه السلام وانه علم للساعة اى نزول عيسى عليه السلام قبل يوم القيمة قال ابن جرير افقه الناس عبدالله بن عباس وان روى عنه ان ضمير موته راجع الى اهل الكتاب لكن ليس ذلك مذهبه ومراده بهذه الآية ، بل هو من المباحث اللغوية وبيان امر واقعى لان مذهبه ان الضمير راجع الى عيسى عليه السلام كما يدله عليه سياق الآية وماروى عنه انه علم للساعة غير هذا فليس مراده ههنا بما تقرر عنده حيوة عيسى عليه السلام (ابن جرير)“

خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ ابن عباسؓ سے ان دو آیتوں میں ضمیر کے مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا اور بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ مراد نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس کا مرجع ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لئے اس کی نفی ابن عباسؓ سے منقول نہیں ہوئی کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا مذہب بھی دوسرے صحابہ کی طرح یہی ہے کہ آپ ابھی تک زندہ ہیں۔ جیسا کہ روایت نمبر ٧ بتا رہی ہے۔ اب مرزائیوں کا کہنا غلط ہو گیا کہ ابن عباس وفات مسیح کے قائل تھے۔

صفحہ ٢٠٦

”(حذیفہ بن اسید) اشرف علینا رسول الله ﷺ ونحن نتذاکر للساعة قال لا تقوم للساعة حتی ترد عشر آیات طلوع الشمس من مغربها الدخان ٠ الدابة ٠ یاجوج ماجوج ٠ نزول عیسیٰ ابن مریم ٠ دجال ٠ ثلثة خسوف ٠ خسف بالمشرق خسف بالمغرب وخسف بالعرب ونار من قعر عدن (مسلم)“

”(عبدالله بن سلام) يدفن عیسیٰ ابن مریم رسول الله وصاحبیه فیکون قبره رابعاً (البخاری فی تاریخه) ثم قال مکتوب فی التوراة صفة محمد وعیسیٰ ابن مریم يدفن معه (ترمذی)“

”(عائشة) قلت یارسول الله ﷺ انی اری ان اعیش بعدک افتاذن لی ان ادفن الی جنبک فقال وانی لک بذلک الموضع مافیه الا موضع قبر ابی بکر وعمر وعیسیٰ ابن مریم (احمد، کنز، ابن عساکر)“

”(عبدالله بن عمر) ینزل عیسیٰ ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد له یمکث ٤٥ سنة ثم یموت ویدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (رواه ابن الجوزی فی الوفاء)“ اس حدیث میں چوتھی قبر مسیح کی ہے۔ اور قبر ہی سے مراد مقبرہ ہے۔ کیونکہ حدیث عائشہؓ میں موضع قبر کا لفظ موجود ہے اور ملا علی قاری بھی لکھتے ہیں کہ قبر سے مراد مقبرہ ہے۔ مرزا قادیانی کی روحانی قبر اگر مراد ہوتو شیخین کی قبر بھی روحانی ہوگی اور یہ سارا سلسلہ ہی نقلی بن جائے گا۔

”(ابو مودود) وقد بقی فی البیت موضع قبر (ترمذی)“ مطلب یہ ہے کہ روضہ نبویہ میں ایک قبر کی جگہ ابھی خالی پڑی ہوئی ہے۔ جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دفن کریں گے۔ مرزائی یہ اعتراض تو کرتے ہیں کہ کیا گنبد گرا کر دفن کیا جائے گا؟ مگر اپنا ذرہ خیال نہیں ہے کہ ان کے مسیح کو مدینہ شریف جانا بھی نصیب نہیں ہوا اور مرا، تو جوہڑ کے کنارے قادیان میں دفن ہوا۔ زیادہ سے زیادہ کہہ سکتے ہیں کہ بروز کے طور پر یہ بھی مقبرہ نبویہ ہی ہے۔ لیکن پھر اعتراض پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کی قبر روضہ نبویہ ہو، خلیفہ اوّل نورالدین اور خلیفہ محمود کی قبر شیخین کی نقل ہوئی تو چوتھی قبر حضرت مسیح علیہ السلام کی کہاں سے لائیں گے کہ مرزا قادیانی پھر ایک دفعہ اور مسیح بن کر آئیں گے۔ حالانکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ میرے بعد کوئی مسیح نہیں آئے گا۔ یہ منطق ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔

”(ابو هريرة ؓ اوبالعمرة اوبهما جميعا (م الصلوة ويعطى المال اويعتمر اويجمعهما اوتلا ا يوشك ان ينزل فيكم ابن ويكون السجدة واحدة لـ رواه مسلم) والذي نفس نفسي بيده لينزل فيكم ا ہے اور اسی میں پانچ بڑے نشان بـ

روحاء میں نہ پہنچا اور میدان ہے۔ اس می

ہوا تو روحاء کے طر

ٹیکس اور مال گذاری

اور اخبارات چھاپ انعامی اشتہارات و ٹال مٹول سے دہ آتھم کا جلوس نکال اور رسی گلے میں ڈال کتاب کلمہ فضل رحما جھوٹی نکلے تو میرے گلے میں

صفحہ ٢٠٧

”(ابوهريرة مرفوعا) ليهلن عيسى ابن مريم بفج الروحاء بالحج اوبالعمرة اوبهما جميعا (مسلم) يقتل الخنزير ولمحيحى الصليب ويجمع له الصلوة ويعطى المال حتى لا يقبل ويضع الخراج ينزل الروحاء فيحج اويعتمر اويجمعهما اوتلا ابوهريرة وان من اهل الكتب الآية استشهادا عليه يوشك ان ينزل فيكم ابن مريم حكما عدلا...... فيضع الجزية ويفيض المال ويكون السجدة واحدة لله رب العلمين (ثم اعاد وان من اهل الكتب ثلثا رواه مسلم) والذى نفسى بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم ، والذى نفسى بيده لينزل فيكم ابن مريم “ یہ حدیث مختلف طریق کے ساتھ ابو ہریرہؓ سے مروی ہے اور اسی میں پانچ بڑے نشان بتائے گئے ہیں۔

روحاء میں نہ پہنچا اور باتیں بنانے لگ پڑے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ پنجاب ایک کھلا میدان ہے۔ اس میں دعوت اسلام کو حج کہا گیا ہے۔

ہوا تو روحاء کے طریق سے حج کرنا کیسے نصیب ہو سکتا تھا۔

ٹیکس اور مال گذاری دیتے تھے۔ کسی سے جزیہ نہ لینا ان سے کیسے ممکن تھا۔

اور اخبارات چھاپ کر تبلیغ مرزائیت کرتے تھے۔ اس موقعہ پر بہانہ کرتے تھے کہ ہم انعامی اشتہارات دیتے ہیں۔ کوئی لیتا نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگ لیتے تھے ٹال مٹول سے دینے تک نوبت ہی نہ پہنچنے دیتے تھے۔ سچے ہوتے تو عیسائی جب آتھم کا جلوس نکال کر مرزا قادیانی کی پیشین گوئی جھوٹی ثابت کر کے قادیان گئے تھے اور رسی گلے میں ڈالنا چاہتے تھے تو گھر سے کیوں نہ نکلے تھے؟

کتاب کلمہ فضل رحمانی میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا۔ اگر میری پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو میرے گلے میں رسی ڈال کر تشہیر کرو۔ مگر موقعہ آیا تو ایک کوٹھڑی میں جا گھسے۔

صفحہ ٢٠٨

اس کے علاوہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کے خلفاء کا عہد مرزا قادیانی کا ہی عہد ہے۔ اس لئے اگر اس عہد میں پیشین گوئی پوری ہو جائے تو یہ ہی سمجھو کہ مرزا قادیانی کے عہد میں ہی پوری ہوئی۔

پس اسی اصول پر ہم بھی کہتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب شیر پنجاب نے خلیفہ نور الدین کے عہد میں لدھیانہ میں مرزائیوں سے ایک مناظرہ کے موقعہ پر تین سو روپیہ جیتا تھا۔ تو اب وہ بات بھی غلط ہو گئی کہ ہم دیتے ہیں۔ لیتا کوئی نہیں۔

”(ابن عباس مرفوعا) لن تهلك امة انا اولها وعيسىٰ ابن مريم اخرها والمهدى اوسطها (احمد وابونعيم)“ اس حدیث میں تین محافظ الگ الگ بیان کئے گئے ہیں۔ اوّل خود حضورﷺ دوم عیسیٰ علیہ السلام اور تیسرے امام مہدی علیہ السلام جو پہلے دو کے درمیان آئیں گے۔ اب اگر ایک کو دوسرے میں داخل کریں۔ جیسا کہ بروز میں کیا گیا ہے تو تین ہستیاں الگ الگ قائم نہیں رہ سکتیں۔

”انه خليفتى فى امتى (ابوداؤد)“ حضرت مسیح علیہ السلام میری امت میں میرے خلیفہ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت اسلام کے مطابق حکومت کریں گے اور اگرچہ آپ نبی ہیں۔ مگر اپنی نبوت کے احکام پر نہ چلیں گے۔ ورنہ ان کی شریعت منسوخ نہ رہے گی۔

”(عبدالله بن مغفل) ينزل عيسىٰ ابن مريم مصدقا بمحمد علىٰ ملته اماما مهديا حكما عدلا (کنز جلد سابع)“ اس حدیث میں آپ کو امام اور مہدی بھی کہا گیا ہے۔ جیسے خلفاء راشدین کو بھی مہدی کہا گیا ہے۔

”(ابوهریرة مرفوعا) يوشك من عاش منكم ان يلقى عيسىٰ ابن مريم اماما مهديا حكما عدلا (احمد)“ اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کریں گے۔ کیونکہ آپ اس وقت تک زندہ تھے۔

”(جابر بن عبدالله مرفوعا) فينزل عيسىٰ ابن مريم فيقول امير الناس صل بهم فيقول لا فان بعضكم امام بعض (کذا)“ اس حدیث میں صاف مذکور ہے کہ: ”امامكم منكم“ اور ”امیر الناس“ سے مراد امام مہدی علیہ السلام ہیں۔ اور یہ مراد نہیں ہے کہ بوقت نزول مسلمانوں کا امام کوئی اور نہ ہوگا۔

”(ابن عباس مرفوعا) فعند ذلك ينزل اخى عيسىٰ ابن مريم من

صفحہ ٢٠٩

السماء (کنز)“ اس حدیث میں آسمان سے نزول صاف طور پر مذکور ہے اور یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آپ سے جدی رشتہ داری کا تعلق ہے اور مرزا قادیانی کو حضور سے رشتہ داری کا تعلق ہرگز نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کا سلسلہ نسب عجمی ہے اور آپ کا مورث اعلیٰ چنگیز خان یا تیمور لنگ اور یزدجرد ہے۔

”انی لا اترککم یتامی وانی آیتکم عن قلیل ...... وانا حی (مستدرک بحوالہ انجیل مطبوعہ بیروت باب ١٤)“

”(ابوہریرہؓ مرفوعا) لیہبطن ابن مریم حکما عدلا ...... ولیقفن علی قبری ویسلمن علی ولا ردن علیہ (ابن عساکر) “اس حدیث میں ھبوط کا لفظ نزول عیسیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی تاویل نہیں چلتی۔ ورنہ یہ بھی ثابت کریں کہ ھبوط بمعنی ولادت ہے۔

”(عبداللہ بن سلام) یدفن عیسیٰ ابن مریم مع رسول اللہﷺ وصاحبیہ فیکون قبرہ رابعاً (بخاری فی تاریخہ)“ اور حدیث میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر چوتھی بتائی گئی تھی۔ مگر مرزا قادیانی مرے تو اکیلے ہی تھے۔ کم از کم بروزی تین اور قبریں تو پہلے موجود ہونی چاہئے تھیں۔ اب اگر بعد میں ہوئیں تو کون تسلیم کرے گا کہ حدیث کا مفہوم یہی ہے جو گھڑا جاتا ہے۔

”(عن الربیع مرسلا) الستم تعلمون ان ربنا حی وان عیسیٰ یاتی علیہ الفناء (ابن جریر، ابن ابی حاتم) “ نجران کے عیسائی حضورﷺ سے مدینہ پاک میں مناظرہ کو آئے تھے۔ تو حضورﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدائی دعویٰ کی تردید میں بیان فرمایا تھا کہ خدا تو زندہ ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر فنا آئے گی۔ تو پھر کیسے خدا ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ابھی زندہ ہیں اور پھر مریں گے۔

”(سعید بن المسیب) بقی فی البیت موضع قبر (درمنثور، مشکوۃ) عن عبداللہ بن عمر فیدفن معی فی قبری ای فی موضع قبری عبر عنہا بالقبر لقرب قبرہ بقبرہ فکانہما فی قبر واحد (مرقاۃ) فاقوم انا وعیسیٰ ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر وعمر (رواہ ابن الجوزی فی کتابہ الوفاء) وعن ابن عباس فعند ذلک ینزل اخی عیسیٰ ابن مریم من السماء (ابن اسحاق وابن عساکر) فہذہ الاحادیث تدل صراحۃ ان النزول

صفحہ ٢١٠

بمعنى الهبوط من السماء وان لون عيسى بياض الى الحمرة وان مقبرة النبي عليه السلام هو مدفن عيسى ابن مریم“

١٧...... تحریفات المرزائیہ

تحریف سے مراد یہ ہے کہ قرآن وحدیث کا مفہوم اس طرح بیان کیا جائے کہ اسلامی تصریحات میں ان کا پتہ نہ چل سکے۔ تحریف کنندہ جو خیال پیش کرتا ہے وہ خود ہی اس کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ پھر وہ جب نقلی دلیل نہیں لاسکتا تو سرے سے یوں کہہ دیتا ہے کہ مفسر اور محدث حقیقت اسلام سے ناواقف تھے۔ یہود و نصاریٰ نے اسلام میں داخل ہو کر ایسا قطع برید کر دیا تھا کہ آج تک اس کا امتیاز مشکل ہے اور اگر کسی کی وقعت ذرہ بھر دل میں رکھتے ہیں تو اس کا کلام لے کر اس طرح بدل ڈالتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ واقعی اس کا مذہب بھی یہی ہے۔ حالانکہ اس کا مذہب اس تبدیلی کی تکذیب کرتا ہے۔ بعض دفعہ دوسرے کا کلام اس طرح مختصر کر دیتے ہیں کہ اگر پورا کلام نقل کریں تو ان کے خلاف ہو جاتا ہے۔ مگر یہ ایسی استادی کھیلتے ہیں کہ اوّل سے اخیر تک اپنے موافق کر لیتے ہیں اور یہ لوگ اس کی بھی پرواہ نہیں کرتے کہ جس کا کلام پیش کیا جاتا ہے۔ آیا اس نے کبھی یوں بھی کہا ہے یا نہیں اور یہ بیماری آج تمام مدعیان تجدید، مصلحان اسلام اور ترمیم کنندگان مسائل شرعیہ میں موجود ہے۔ جب ایسے لوگوں کا کلام پڑھا جائے یا کوئی تقریر یا تحریر سنی جائے اس میں صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں کو وسائل تحقیق میسر نہیں ہوئے تھے۔ جہالت کا زمانہ تھا۔ تعلیم عام نہ تھی۔ فلسفہ اور طبیعات نے ترقی نہیں پکڑی تھی۔ اس لئے وہ خلاف عقل توہم پرستی، قصہ پرستی اور نقل پرستی میں پڑے رہے۔

خصوصاً مفسرین کا وجود تو اسلام کے لئے موجب بدنامی تھا۔ کیونکہ ان میں تمام اسرائیلیات بھری پڑی ہیں اور وہ ایسی روایات ہیں کہ اناجیل اربعہ اور بائبل بھی ان کی تصدیق نہیں کرتی اور نہ ان میں کوئی معقول بات نظر آتی ہے۔ اس واسطے جب ایسے لوگوں کے سامنے تفاسیر سے کوئی بات پیش کی جاتی ہے تو گو عام احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے یوں تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ تفاسیر قابل اعتبار نہیں ہیں۔ مگر انہی تفاسیر سے ایسی عبارتیں توڑ مروڑ کر پیش کر دیتے ہیں جو ان کے اپنے عین مطلب کے مطابق ہوتی ہیں اور عقیدہ اسلامیہ کے خلاف ہوتی ہیں اور کھلم کھلا علانیہ جھوٹ بولنے سے ذرہ شرم نہیں کرتے۔ یہی کہتے جاتے ہیں کہ اسی مفسر یا محدث کا مذہب

صفحہ ٢١١

ہمارے موافق ہے۔ حالانکہ اسی مفسر یا محدث کی ان تحریرات پر جب نظر ڈالی جائے۔ جو اس نے اپنا عندیہ اور مذہب بتانے کے لئے لکھی ہوتی ہیں تو ان کے بالکل خلاف نکلتی ہے اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سچ کہو کہ آیا واقعی اس کا مذہب وہی ہے جو تم نے بیان کیا ہے تو صاف کہہ دیتے ہیں کہ ایسی احادیث یا تفسیری اقوال تو ہمارے نزدیک معتبر ہی نہیں ہیں۔ ہم تو صرف الزامی طور پر پیش کر رہے تھے۔

اس لئے ناظرین کو خبردار رہنا چاہئے کہ عام تارکین اسلام کے متعلق عموماً اور مرزائیوں کے متعلق خصوصاً یہ خیال کرنا بالکل غلط ہوگا کہ عام تفاسیر اہل اسلام یا کتب حدیث پر ان کو ایمان ہے۔ ان کا ایمان تو صرف ان چند احادیث یا آیات پر ہے جو ان کے بانی مذہب نے تسلیم کئے ہیں اور ان کو وہ مفاہیم قرآن اور وہ مطالب حدیث سچے معلوم ہوتے ہیں جو ان کے دعاوی اور مسلک سے مطابقت رکھتے ہوں گے۔

اس لئے ان کے سامنے عام کتب مسلمہ اہل اسلام کا حوالہ پیش کرنا یا اجماع امت سے استدلال قائم کرنا بالکل لغو اور بے فائدہ ہوگا اور جب تک ان کج بحثوں سے کج بحثی نہ کی جائے ان سے جان چھڑانی مشکل ہو جاتی ہے۔ لیکن ہمارا روئے سخن اس وقت صرف ان لوگوں کی طرف ہے جو ابھی ایسی بیماریوں سے صحیح و سلامت رہ کر اسلام قدیم پر ڈٹ کر جمے ہوئے ہیں اور ان کی واقفیت کے لئے ذیل میں مسئلہ حیات مسیح میں چند مرزائیوں کی تحریفات پیش کرتے ہیں۔ جن سے خود معلوم ہو جائے گا کہ ان کے بڑے میاں تحریفات میں کہاں تک پہنچ چکے ہیں اور کس انداز سے اپنے آپ کو اہل قرآن، اہل حق، احمدی، بہائی، مصطفائی یا امانی کہہ کر دلدادگان اسلام ظاہر کر رہے ہیں اور اصل میں خالی لفافہ ہی ان کے پاس رہ گیا ہوا ہے۔ ورنہ اسلام سے روکشی کو چھپاتے ہوئے ادھر ادھر کی باتیں بتاتے ہیں۔ جس کا اظہار بہت جلد کر دیں گے۔

تحریفات نمبر ١ اول لفظ توفی

قائلین وفات مسیح کی طرف سے یہ آیات پیش کی جاتی ہیں۔ ”لا تبديل لخلق الله (روم) قد خلت من قبله الرسل (مائده و آل عمران) كانا ياكلان الطعام (مائده) يا عيسى اني متوفيك (مائده) كنت انت الرقيب عليهم (مائده) هو الحى

صفحہ ٢١٢

القیوم (آل عمران) ان اراد ان يهلك المسيح وامه ، ان هو الا عبد انعمنا عليه ، لا نفرق بين احد من رسله“

ان آیات سے وفات مسیح یوں ثابت کی جاتی ہے کہ آیت اول کی رو سے جب مخلوقات الہیہ میں تبدیلی نہیں ہے تو عام اصول موت کے خلاف ابھی تک مسیح علیہ السلام کیسے مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔ دوسری آیت یہ ثابت کرتی ہے کہ حضور ﷺ سے پہلے جس قدر رسول تھے۔ سب مرچکے تھے۔ تیسری آیت یہ پیش کرتی ہے کہ حضرت مسیح اور آپ کی والدہ دونوں خوراک کھایا کرتے تھے اور عام بنی نوع انسان کی طرح وہ بھی خوراک کے محتاج تھے اور جب ماں مرگئی ہے اور خوراک نہیں کھاتی تو بیٹا بغیر خوراک کے آج تک کیسے رہ گیا ہوا ہے۔ چوتھی آیت میں خدا تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کو یہ حکم دیا تھا کہ میں تم کو موت دوں گا۔ رفعت دوں گا۔ یہود کی بدنامی سے پاک کروں گا اور تیرے تابعداروں کو بے فرمانوں پر غالب کروں گا۔ یہ چار وعدے ہیں کہ جن میں سے پچھلے تین وعدے تو پورے ہو چکے ہیں تو پھر سب سے پہلا وعدہ کا پورا ہونا بھی ماننا پڑتا ہے کہ موت مسیح واقع ہوچکی ہے اور جس وقت قرآن شریف نازل ہوا تھا اس وقت تک چاروں وعدے پورے ہوچکے تھے۔ ورنہ یہ لازم آتا ہے کہ خدا نے اپنے کلام میں غیر موزوں لفظ بیان کئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت موت مسیح کو جو ابھی تک واقع نہیں ہوئی ۔ سب کے اخیر بیان کرنا ضروری تھا۔ پانچویں آیت میں ہے کہ قیامت کو حضرت مسیح سے پوچھا جائے گا کہ آیا تم کو علم ہے کہ عیسائیوں میں تثلیث کا مسئلہ کس نے شائع کیا تھا؟ تو آپ جواب میں کہیں گے کہ مجھے معلوم نہیں۔ جب تک میں بنی اسرائیل میں رہا۔ تب تک تو ان کے حالات سے خبردار رہا اور جب سے توفی ہوئی ہے تو تو ہی ان کا نگران ہے۔ ورنہ میرا کوئی تعلق نہیں رہا۔ اب اگر نزول مسیح مان کر یہ مانا جائے کہ آپ یہود و نصاریٰ کو بزور شمشیر اسلام میں داخل کریں گے اور ان کے حالات سے بخوبی واقف ہوکر بعد میں مریں گے تو خدا کے سامنے کیسے اپنی لاعلمی کا اظہار کر سکیں گے۔ کیا جھوٹ بولیں گے؟۔

علاوہ بریں اس آیت کا طرز بیان صاف بتا رہا ہے کہ تثلیث کا مسئلہ آپ کی توفی کے بعد ہوا تھا تو جب بوقت نزول آیت وجود تثلیث مانا جاتا ہے تو موت مسیح ماننے میں کیا عذر ہوسکتا ہے۔ کیونکہ توفی کا وجود پہلے ہے۔ اب نزول مسیح اگر تسلیم کیا جائے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ تثلیث کا

صفحہ ٢١٣

وجود پہلے ہو اور آپ کی وفات بعد میں ہو۔ جو سراسر خلاف ترتیب آیت ہذا ہے۔ چھٹی آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا ہی ناقابل تغیر ہے اور حیات مسیح ماننے سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح ناقابل تغیر ہیں۔ جو آج تک نہ بوڑھے ہوئے اور نہ بھوک پیاس سے مرے اور یہ عین شرک ہے۔ ساتویں میں یہ بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا کہ میں نماز پڑھتا رہوں گا اور زکوٰۃ بھی ادا کیا کروں گا۔ جب تک کہ میں زندہ ہوں۔ اب چونکہ آپ زکوٰۃ کسی کو نہیں دیتے۔ اس لئے آپ کی زندگی بھی ختم ہو چکی ہے۔ آٹھویں آیت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح آپ کی والدہ اور اس وقت کے تمام آدمی مر چکے ہوئے ہیں۔ کیونکہ ان حرف شرط اس جگہ بمعنی اذ ہے۔ جو فعل ماتحت کو ماضی بنا دیتا ہے۔ (دیکھو تاج العروس) نویں آیت میں آپ کو عبد کہا گیا ہے۔ جو اپنے معبود سے نیچے ہوتا ہے۔ اب اگر اس کو زندہ مانا جائے تو اس کو بھی حی، قیوم ماننا پڑے گا۔ دسویں آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ مؤمنین کا یہ وصف ہے کہ وہ کہیں کہ ہم کسی ایک نبی کو دوسرے پر فوقیت یا خصوصیت نہیں دیتے۔ اب اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو اب تک زندہ مانا جائے۔ جب تک دوسرے وفات پا چکے ہوں تو صاف ظاہر ہے کہ اس آیت کے برخلاف ان کے ماننے میں تفریق پیدا ہو جائے گی۔

اس تحریف کا جواب مختصر تو یہ ہے کہ یہ ترجمہ عقائد اسلامیہ اور تصریحات اسلام کے بالکل مخالف ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی کہے کہ کلام مجید میں ایاک نعبد و ایاک نستعین موجود ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا خدا کسی دوسرے خدا کی عبادت کرتا ہے اور اپنے کاروبار میں اس سے مدد طلب کرتا ہے۔

پس جس طرح یہ تشریح ناقابل توجہ ہے۔ اسی طرح تحریف مرزائی بھی قابل التفات نہیں۔ صرف فرق اتنا ہے کہ اس تشریح کا باعث جہالت اسلامی ہے اور تحریف مذکور کی وجہ تجدید اسلام اور ترمیم مذہب ہے۔ لیکن تاہم ہمیں جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے تا کہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ مرزائیوں نے کس طرح اسلام کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آیت اول میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی مخلوقات میں تبدیلی نہیں ہے اور جو اصول فطرت ہیں ان میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ مثلاً یہ ممکن نہیں ہے کہ بنی نوع انسان کبھی گھوڑا بن جائیں اور کبھی بھیڑ بکری یا کبھی یہ ممکن نہیں ہے کہ رات کی جگہ دن آجائے اور دن کی جگہ

صفحہ ٢١٤

رات گھس آئے۔ ورنہ خلق اور موت کا طریق یہاں مراد نہیں ہے۔ کیونکہ پیدائش بحکم آیت "الا لہ الخلق والامر" دو قسم سے ہے۔ امر تکوینی سے پیدائش کی مثال حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور ہزاروں نئی نئی پیدائش نمودار ہو رہی ہیں۔ جس کا اقرار مرزائی بھی کرتے ہیں۔

علیٰ ہذا القیاس موت کا طریق بھی مختلف ہے۔ کوئی کسی طرح مرتا ہے اور کوئی کسی طرح۔ مسیح علیہ السلام کی وفات اگرچہ سرسری آدمیوں کی طرح واقعہ نہیں ہوگی۔ مگر ایسے طریق پر ضرور واقع ہوگی کہ جیسے طویل العمر اور معمر ہستیوں میں واقع ہوتی ہے یا ہوگی۔ جن میں حضرت خضر اور حضرت الیاس یا ملائکہ مقربین بھی داخل ہیں اور آپ بھی بحکم آیت "ومن المقربین" حیات ملکی سے سرفراز ہو چکے ہیں اور اگر ذرہ محدود خیالی چھوڑ دیں تو یوں ماننا پڑتا ہے کہ شہدائے اسلام کی وفات اور انبیاء علیہم السلام کا اس دنیا سے انتقال عام بنی نوع انسان سے مختلف ہوا ہے۔ ورنہ انبیاء کی بیبیوں سے حرمت نکاح کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی اور حیوٰۃ النبی کا مسئلہ بالکل غلط ٹھہر جاتا ہے۔ اس لئے اس آیت سے موت کا وقوع ایک ہی طرح سمجھنا غلط ہوگا۔ اس کے علاوہ آیت پیش کردہ میں موت یا وفات کا لفظ موجود نہیں ہے۔ صرف خلت کا لفظ موجود ہے کہ جس کے اختلاف میں مرزائی بھی ہمارے ساتھ ہیں اور دوسری آیت کا ترجمہ یوں کرنا بالکل غلط ہے کہ حضور انورﷺ سے پہلے تمام انبیاء مر چکے ہیں۔ کیونکہ یہی آیت خود حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بھی مذکور ہے تو پھر کیا حضرت مسیح علیہ السلام سے پہلے بھی تمام انبیاء مر چکے تھے۔ حالانکہ خود حضرت مسیح اور حضور انورﷺ پر اس وقت تک موت کا ورود نہیں ہو چکا تھا۔

نیز اس آیت میں خلت کا ترجمہ مات کرنا بھی خلاف عقیدہ اسلامیہ ہے۔ کیونکہ خلا الیہ کا معنی ہے اس کی طرف گیا۔ خلا منہ کا لفظی معنی اس سے گزر گیا۔ خواہ مرا ہو یا ابھی زندہ ہو اور صرف خلا کا معنی مضیٰ اور جری کے ہیں۔ (دیکھو منتہی الارب) اور جس جگہ ماتت کا معنی کیا گیا ہے۔ تو تسامح اور وسعت دے کر کیا گیا ہے۔ جس طرح کہ موت کی جگہ انتقال، صعود اور مضیٰ لسبیلہ استعمال کر لیا کرتے ہیں۔ اسی طرح خلاء اس جگہ استعمال کرتے ہیں کہ جہاں صریح موت کا لفظ استعمال کرنے سے طبیعت رک جاتی ہے۔ کیونکہ یا تو وہ مرنے والا بزرگ ہستی کا مالک ہوتا ہے یا جن کے متعلق ایسے لفظ استعمال ہوتے ہیں۔ وہ سارے موت کا شکار نہیں ہوتے۔

صفحہ ٢١٥

اگر چہ اپنے اپنے عہدہ سے فارغ ہو کر بے تعلق ہو چکے ہوتے ہیں۔ تو اس عہدہ سے سبکدوش ہونے کے بعد اگر چہ سارے نہ مرے ہوں۔ مگر اس عہدہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یوں کہنا درست ہوتا ہے کہ؎

قد خلا من قبله قوم كثير
وسيخلوا بعده عير ومير

اس عہدیدار کے پہلے کئی عہدیدار گذر چکے ہیں۔ اب ایسے الفاظ سے تمام گذشتہ عہدیداروں کی موت سمجھ لینا غلط ہوگا۔ اسی طرح اس آیت کا ترجمہ بھی حیات و ممات کو پیش رکھ کر یوں ہوگا کہ حضور انورﷺ سے پہلے رسول اپنے اپنے منصب رسالت پر رہ چکے ہیں۔ جن میں سے کچھ تو وفات پا چکے ہیں اور کچھ ابھی تک زندہ ہیں۔ جیسے حضرت خضر، ادریس اور حضرت مسیح علیہم السلام۔ اس لئے خلت کا لفظ ماتت کے معنی میں نہیں ہے۔ اس کی تائید سنت الہیہ سے بھی ہوتی ہے۔

کیونکہ اس کے متعلق ایک دفعہ ”قد خلت سنة الاولین“ وارد ہے اور دوسری جگہ ”مضت سنة الاولین“ آیا ہے۔ جس سے مراد جریان مع التجدد مراد ہے۔ جس کا مطلب یوں نکلتا ہے کہ حضورﷺ سے پہلے رسولوں کا سلسلہ رسالت بدستور جاری رہا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر خلت کا معنی ماتت مان بھی لیں تو پھر بھی مرزائیوں کا ترجمہ دو وجہ سے غلط ہوگا۔ کیونکہ اوّلاً اس میں الرسل کا معنی تمام رسول کیا گیا ہے۔ حالانکہ جماعۃ من الرسل صحیح بن سکتا ہے۔ ورنہ لازم آتا ہے کہ خود حضورﷺ بھی اپنے آنے سے پہلے وفات پا چکے ہوتے۔ کیونکہ آپ کا موجود ہونا اس دعویٰ کے خلاف ہوگا کہ تمام رسول مرچکے ہیں۔

ثانیاً اس آیت سے محرف نے وہ تمام رسول مراد لئے ہیں جو حضورﷺ سے پہلے تھے اور یہ ارادہ کرنا اس لئے غلط ہے کہ من قبلہ کا فقرہ الرسل کی صفت واقع نہیں ہوا۔ کیونکہ موصوف سے پہلے عربی میں اس کی صفت نہیں آسکتی اور اگر اس کو عطف بیان بنایا جائے تو وہ بھی صحیح نہ ہوگا۔ کیونکہ من قبلہ کا وصف الرسل کا وصف لازمی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کسی زبان دان نے اس کو صفت یا عطف بیان نہیں بنایا۔ اس لئے بغیر سند لغت کے یہ معنی کرنا غلط ہوگا کہ: ”وہ تمام رسول جو آپ کے پہلے تھے مرچکے ہیں۔“

صفحہ ٢١٦

اب صحیح ترجمہ اس آیت کا یوں ہوگا کہ: ’’کئی ایک رسول حضورﷺ سے پہلے آتے رہے اور اپنی اپنی ڈیوٹی دے کر فارغ ہو چکے۔‘‘ ’’لان اللام فيه للجنس لا للاستغراق وان الظرف ليس صفة للرسل بل هو مفعول فيه لخلت ومن زائدة كقوله تعالى لله الامر من قبل‘‘ بہرحال اس آیت سے اس وقت وفات مسیح کا وہم ہو سکتا تھا کہ وہاں کلہم کا لفظ موجود ہوتا۔ یا کوئی ایسی تصریح اسلامی موجود ہوتی کہ وہاں آل کا معنی کلہم لیا جاتا۔ اب صرف عرف کے کہنے سے کیسے یقین ہو سکتا ہے کہ یہاں کلہم ہی مراد ہیں۔ تیسری آیت سے یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کہ انسانی ہستی ہر وقت غذا کی محتاج ہے۔ کیونکہ تسبیح وتحلیل اور تسکین قلبی بھی کبھی پاک ہستیوں میں غذائے جسمانی سے مستغنی قرار دیتی ہے۔ مثلاً اصحاب کہف پورے تین سو سال بغیر غذائے جسمانی کے زندہ رہے۔ خود حضور علیہ السلام صوم وصال میں غذا کے محتاج نہیں ہوتے تھے۔ ایک صوفی نے بیس سال تک تسبیح وتحلیل سے زندگی حاصل کی تھی۔ (دیکھو فتوحات مکیہ) حضرت خضر علیہ السلام ہماری خوراک کے بغیر زندہ ہیں۔ تمام ملائکہ غذائے جسمانی کے محتاج نہیں ہیں۔ اسی طرح جب حضرت مسیح علیہ السلام ملکی صفات ہو چکے ہیں تو ان کی خوراک بھی یاد الٰہی ہو گی۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ دجال سے پہلے تین سال مطلقاً بارش نہ ہو گی اور سخت قحط پڑ جائے گا۔ تو کسی نے سوال کیا تھا کہ ہم تو اب صبر نہیں کر سکتے۔ اس وقت مسلمان کیا کریں گے۔ تو حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ لوگ یاد الٰہی سے زندہ رہیں گے۔ (رواہ احمد) اس کے علاوہ خوراک کی ضرورت دنیاوی آب و ہوا میں ہے اور انسان جب اس سے اپنی وابستگی علیحدہ کر لے تو دوسری جگہ کی آب و ہوا چونکہ محلل اشیاء نہیں ہوتی۔ وہاں انسان غذا کا محتاج نہیں ہوتا۔ تصریحات قرآنیہ میں بہشت کی آب و ہوا کے متعلق حضرت آدم علیہ السلام سے یوں کہا گیا تھا کہ: ’’انك لا تظمؤا فيها ولا تعرىٰ‘‘ آپ کی وہاں نہ بھوک ہو گی نہ پیاس اور نہ کپڑے خراب ہوں گے اور نہ آپ ننگے ہوں گے۔ اب ان نظائر کے ہوتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ خیال کرنا کہ اب بھی وہ محتاج غذائے جسمانی ہیں۔ آپ کی توہین ہوگی۔ چوتھی آیت میں متوفی کا لفظ اسم فاعل ہے جو فقرہ کے درمیان فعل مستقبل بن گیا ہوا ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کو وفات دوں گا۔ جس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ وعدہ ہوا تھا اور یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ وعدہ پورا بھی ہو گیا تھا۔ بلکہ ایفاء وعدہ کی داستان مرزائیوں نے خود گھڑ لی ہے۔ ورنہ احادیث کے رو سے ابھی اس ایفائے وعدہ میں بڑی دیر ہے۔ جس کو امام مہدی کے بعد کے چالیس سال تک پورا کرنا ہوگا

صفحہ ٢١٧

اور یہ کہنا بے سود ہے کہ دوسرے تمام وعدے پورے ہو گئے تھے۔ تو یہ وعدہ جو سب سے پہلے تھا ۔ کیوں پورا نہ ہوا۔ کیونکہ اس آیت میں چار وعدے مذکور ہیں۔ ان کی ترتیب مذکور نہیں ہے۔ یہاں ترتیب پیدا کرنا، محرفین کی دماغ سوزی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ حرف (و) ہزاروں جگہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ جہاں ترتیب مراد نہیں ہے کہ یہ پہلے ہو اور وہ دوسرے نمبر پر ہو۔ سورہ فاتحہ ہی کھول کر دیکھ لیں۔ ’’اياك نعبد و اياك نستعين‘‘ مذکور ہے۔ مگر یہ مراد ہر گز نہیں ہے کہ عبادت کا نمبر اوّل ہے اور استعانت کا دوسرا اسی طرح سورہ مائدہ میں انبیاء کی فہرست دی ہے۔ جس میں تمام بے ترتیب مذکور ہیں۔ آیت وضو کے اندر بھی ترتیب فرض نہیں ہے۔ ورنہ جو شخص بارش میں پاک ہو جاتا ہے۔ یا نہر میں کود پڑتا ہے۔ اس کے غسل سے نماز ادا کرنا جائز نہ ہوتا۔ بہر حال محرفین کے نزدیک اس آیت کے بعد خود یہی آیت یوں ہے کہ: ’’فتوفاه الله ورفعه وطهره وجعل اتباعه فوق الذين كفروا‘‘ مگر اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ شاید اس قرآن میں موجود ہو کہ جس میں یہ آیت ہے کہ: ’’انا انزلناه قريباً من القاديان‘‘ ورنہ ہمیں امید نہیں ہے کہ اس کے سوا کسی اور قرآن میں موجود ہو۔

اسلام کے نزدیک اس آیت کو دو طریق سے حل کیا گیا ہے۔ اوّل توفی کو بمعنی موت لے کر جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے تو اس وقت چار وعدوں کا پورا ہونا یوں قرار پایا ہے کہ آپ حسب تصریح انجیل برنباس و دیگر تصریحات نبویہ زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں۔ تاکہ یہود کی دستبرد سے رہا ہو جائیں اور حضور انورﷺ کی بعثت سے آپ کے متعلق جو شکوک واوہام تھے۔ ان سے آپ کو پاک کیا گیا اور ہمیشہ کے لئے عیسائی اور اہل اسلام تابعداروں کو یہود پر فوقیت دی گئی اور اخیر میں چالیس سال تک حکومت کے بعد آپ وفات پا کر مدینہ طیبہ میں دفن ہوں گے۔

اب اگر ترتیب وار ہی ان کا ایفاء ضروری سمجھا جائے تو ایک اور مشکل آ پڑتی ہے کہ جس کو محرفین بھی نہیں اٹھا سکتے۔ وہ یہ ہے کہ یہود پر متبعین کا غلبہ نمبر ٢ اسلام سے پہلے ہو چکا تھا اور تطہیر نمبر ٣ ظہور اسلام کے وقت حضور انور کی زبانی قرآن مجید کے نزول سے ہوئی ہے۔ پس جب واقعات کی رو سے وعدہ نمبر ٣، ٤ میں ترتیب پیدا نہیں ہوئی تو بہت ممکن ہے کہ وعدہ نمبر ١، ٢ میں بھی ترتیب وقوعی پیدا نہ ہوئی ہو۔ اس لئے یہ کہنا صحیح ہو جاتا ہے کہ رفع کے بعد توفی کا وقوع قرار پایا ہے اور صرف تجویز عقلی ہی نہیں بلکہ اس تقدیم و تاخیر کی نقل ہمارے پاس بقول مرزا (افقہ اصحابہ ) حضرت ابن عباسؓ سے بھی موجود ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ جب اس موقعہ پر حضرت ابن عباسؓ کا قول پیش کیا جاتا ہے تو کبھی اظہار نفرت کیا جاتا ہے اور کبھی تغلیط کی جاتی یا

صفحہ ٢١٨

اسے اسرائیلی روایت سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور اتنا بھی خیال نہیں کیا جاتا کہ قرآن شریف اسلام سے پہلے یہود کے پاس موجود ہی کب تھا کہ حضرت ابن عباسؓ نے اس کی تشریح یہودیوں سے سیکھی ہو۔

دوسرا مسلک یہ ہے کہ توفی کا معنی اس جگہ قبضہ میں لینے کے ہیں۔ جس کو مرزا قادیانی نے بھی (براہین احمدیہ ص٥١٩، خزائن ج١ ص٦٢٠) میں حیات مسیح کا قول کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے اور (توضیح المرام ص٣) میں لکھتے ہیں کہ احادیث اخبار اور بائبل کے رو سے جن نبیوں کا اس جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا کہ جس کو ایلیاء اور ادریس بھی کہتے ہیں اور دوسرے مسیح ابن مریم کہ جس کو یسوع اور عیسیٰ بھی کہتے ہیں اور حکیم نور الدین صاحب نے بھی اسی معنی کی بنیاد پر ”ھو الذی ارسل رسولہ“ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے وابستہ کیا ہے اور تصریحات اسلامیہ تو ہزاروں ہی ہیں کہ جن میں یہاں توفی کا معنی قبض جسمانی کیا ہے تو اب ان دو وعدوں میں ترتیب خود بخود آجائے گی اور واقعات کے مطابق مطلب یوں ہوگا کہ جب آپ کو یہود نے تنگ اور بدنام کیا تو آپ کی تسلی کو خدا نے کہا کہ میں تجھے قبض کر کے اپنے آسمان پر اٹھا لوں گا۔

(دیکھو انجیل برنابا اور تاریخ طبری)

اس موقعہ پر بعض محرفین یوں غلط پیش کرتے ہیں کہ حیات مسیح کا مسئلہ منسوخ ہو چکا ہے۔ اس لئے براہین سے حوالہ نہیں دیا جاسکتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عقائد میں ترمیم و تنسیخ نہیں ہوتی۔ (ورنہ ایسا شخص نبی نہیں ہو سکتا) ہاں البتہ احکام میں ترمیم و تنسیخ ہوا کرتی ہے۔ مگر یہ مسئلہ عقائد کے متعلق ہے۔ اس لئے اس میں ترمیم ناممکن تھی۔ اس کے علاوہ اگر ہم براہین احمدیہ کو اس مسئلہ میں منسوخ مان لیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ وہاں جو الفاظ یا ان کے معانی بیان ہوئے ہیں وہ غلط بھی ہو گئے ہیں۔ کیونکہ یہ دو مفہوم آپس میں لازم وملزوم نہیں ہیں۔ ورنہ قرآن شریف میں جو آیات منسوخ سمجھی گئی ہیں وہ غلط بھی ہو جائیں گے۔ پس براہین اگر منسوخ ہو جائے تو ہزار دفعہ ہو جائے۔ ہمیں کچھ مضر نہیں ہے۔ کیونکہ بقول مرزائیاں وہ ساری کتاب وحی الٰہی ہے۔ اس لئے گو منسوخ ہو جائے۔ مگر غلط نہیں ہو سکتی۔ ورنہ یہ کہنا پڑے گا کہ مرزائیوں کا ’’خدا‘‘ غلط فقرے بولتا رہا ہے اور اگر اس اصول کا خیال کیا جائے کہ مرزائیوں کے نزدیک وحی الٰہی میں نسخ جائز نہیں ہے تو پھر یہ عذر پیش کرنا بالکل غلط ہو جائے گا کہ براہین منسوخ ہوگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صاف نہیں کہتے کہ وہ منسوخ ہے۔ کچھ گول مول کہہ دیا کرتے ہیں۔ جس کا صحیح مطلب کچھ بھی نہیں نکلتا۔

صفحہ ٢١٩

پانچویں آیت میں یہ اصول پیش کرنا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد وجود تثلیث ہوا ہے بالکل غلط ہے۔ جیسا کہ انجیل برنابا اور طبری وغیرہ بتا چکے ہیں اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ خدا کی طرف سے اشاعت تثلیث کا سوال ہوگا۔ کیونکہ ”انت قلت للناس“ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سوال تعلیم تثلیث سے ہوگا کہ آیا اس کی تعلیم دینے والا کون ہے؟ تم ہو یا کوئی اور؟ تو اس کا جواب آپ نفی میں دیں گے کہ میں نے یہ تعلیم نہیں دی۔ میں تو وحدانیت کی تعلیم دیتا رہا ہوں۔ اس کے بعد اپنی مخلصی ثابت کرنے کو اپنی بے تعلقی ظاہر کریں گے کہ جب تک میں ان میں موجود تھا تب تک میں جواب دہی کا ذمہ دار تھا۔ اب جب میرا تعلق ان سے رہا ہی نہیں ہے تو میں جواب دہ کیسے بن سکتا ہوں۔ اس لئے خدایا تجھے پورا اختیار ہے کہ چاہے ان کو عذاب کرے، یا بخش دے۔ مگر عذاب دے گا تو تجھ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کیونکہ وہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے گا تو پھر بھی تیرے ہی ہیں۔

چھٹی آیت کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو حی و قیوم نہیں سمجھا گیا۔ ورنہ ہمارے رسول ﷺ عیسائیوں کے مقابلے میں ”يأتی علیہ الفناء“ پیش نہ کرتے۔ پس اگر طول عمر سے کوئی حی قیوم بن جاتا ہے تو مرزائیوں کو ٦٦ سال کے بعد جو نبی ہو مار ڈالنا چاہئے۔ تاکہ کہیں شرک لازم نہ آجائے۔ ٦٦ سال اس واسطے مقرر کئے جائیں تا کہ مرزا قادیانی کا وجود اس آیت کے خلاف ثابت نہ ہو۔

ساتویں آیت میں صلوٰۃ وزکوٰۃ سے مراد طریق اسلام نہیں ہے۔ بلکہ ان کا اپنا طریق مراد ہے۔ اس لئے اپنے اوپر قیاس کرنا غلط ہوگا اور اگر لفظ کا خیال رکھا جائے تو صرف یہی معنی ہے کہ عبادت اور پاکدامنی کا عہد تھا۔ جو اب بھی آپ پورا کر رہے ہیں اور اگر آنکھ بند کر کے یہی مان لیا جائے کہ انجیل میں قرآنی تعلیم کے مطابق زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم تھا تو اس وقت یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایسی زکوٰۃ کے وجوب کے لئے نصاب کا ہونا بھی ضروری ہے تو آپ جب دنیا سے بے تعلق ہیں تو زکوٰۃ کیسے واجب ہوگی؟ کیا نادار بھی زکوٰۃ دیا کرتے ہیں؟ اس لئے محرفین پہلے آپ کی جائیداد ثابت کریں۔ پھر ہم ادائیگی زکوٰۃ کی سبیل سوچ لیں گے۔

آٹھویں آیت کا جواب یہ ہے کہ ان اگرچہ قد کا معنی دے سکتا ہے۔ مگر یہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوا کہ اس آیت کا بھی یہ معنی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی مر گئے اور ماں سمیت سارے مر گئے تھے۔ کیونکہ ان کا ایک وقت ہی سب کا معا مر جانا کسی تاریخ سے ثابت نہیں ہے۔ بالفرض اگر یہ افادہ صحیح بھی ہو تو یہ کہاں سے ثابت ہو گیا کہ جو معنی مسلمان کرتے ہیں وہ صحیح نہیں

صفحہ ٢٢٠

ہے ۔ اسلامی معنی یہ ہے کہ کون ہے کہ خدا کا کچھ بگاڑ سکے۔ جب کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام اور تمام مخلوق کو معاً مار ڈالنے کا ارادہ کرلے۔ حالانکہ اس سے پہلے مسیح کی والدہ کو موت دے چکا ہے۔ نویں آیت میں وفات مسیح کا کوئی ذکر نہیں اور یہ اصول گھڑنا کہ طول عمر سے عبد معبود کی حد تک پہنچ جاتا ہے بالکل غلط ہے۔ ورنہ حضرت جبرائیل علیہ السلام، حضرت خضر و الیاس علیہ السلام آج سے پہلے خدا بن چکے ہوتے اور اگر یہ تسلیم نہیں ہے تو بموجب آیت قرآنی ابلیس تو دیر سے خدا بنا ہوتا۔ (معاذ اللہ)

دسویں آیت کا یہ مطلب ہے کہ ہم تمام انبیاء کو منجانب اللہ اور سچا سمجھتے ہیں۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ سب انبیاء کی پیدائش، حیات، حالات زندگی اور وفات بھی یکساں تھی اور یکساں ہی مانتے ہیں۔ یہ معنی صرف محرفین کی ایجاد ہے۔ ورنہ کوئی مفسر اسلام یا کوئی محدث اسلام اس طرح کے معنی کی تصدیق کرتا ہوا نظر نہیں آتا اور نہ ہی آئے گا۔ اس لئے اس آیت سے بھی وفات مسیح کا تعلق پیدا کرنا ایسا ہی ہے کہ کسی نے کہا تھا کہ کیا کھلاؤ گے، کہا دال، کہا تو پھر ہم بھی پاؤں سے ننگے نہیں ہیں۔

تحریفات نمبر دوم اور رفع

”ماقتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ (نساء) وان من اہل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ (نساء) جعلنی نبیا وجعلنی مبارکا اینما کنت (مریم) والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم) اھدنا الصراط المستقیم کنتم خیر امۃ اخرجت للناس (آل عمران) اللہ یتوفاکم (نحل) ومنکم من یرد الی ارذل العمر (حج) ننکسہ فی الخلق (یس) ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین (بقرۃ)“

پہلی آیت بتا رہی ہے کہ یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو یقینا قتل نہیں کیا تا کہ صلیب پر مر کر ملعون ہوتے۔ بلکہ خدا نے آپ کو طبعی موت دے کر کشمیر میں بڑے مرتبہ تک پہنچایا تھا۔ دوسری آیت میں ہے کہ جو بھی یہودی ہے وہ اپنی موت سے پہلے آپ کی طبعی موت پر ایمان لاتا ہے۔ تیسری آیت ظاہر کرتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام با برکت انسان ہیں۔ اب اگر ان کو آسمان پر مانا جائے تو وہاں کون سی برکت دیتے ہوں گے۔ چوتھی آیت میں ہے کہ خدا تعالیٰ سے آپ نے سلامتی کی دعاء کی ہے۔ جب کہ آپ مریں گے۔ پانچویں آیت میں بتایا گیا ہے کہ صراطِ مستقیم کی دعاء کرو اور یہ نہیں کہا کہ تم آسمان پر جا کر زندہ رہنے کی یہی دعاء کرو۔ چھٹی آیت میں امت محمدیہ کو بہترین امت کہا گیا ہے۔ کیونکہ دجال کو قتل کرے گی اور مسیح کی امداد کرے گی اور

صفحہ ٢٢١

مسیح ناصری کو جب تک مرا ہوا تصور نہ کیا جاوے تو مسیح محمدی کی امداد کیسے کرے گی۔ ساتویں آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا تم کو وفات دیتا ہے تو کیا حضرت مسیح علیہ السلام اس حکم سے باہر رہ گئے؟ آٹھویں آیت میں یہ تصریح موجود ہے کہ جو لوگ بڑی عمر پاتے ہیں۔ ان کے حواس ٹھیک نہیں رہتے اور سب کچھ بھول جاتا ہے۔ تو کیا مسیح علیہ السلام دو ہزار سال بعد شیخ فانی ہو کر اتریں گے تو پھر ان سے بہتری کی امید کیا ہو سکتی ہے۔ نویں آیت میں ہے کہ بڑی عمر کا آدمی منکوس ہو جاتا ہے اور اس کی عقل ٹھکانے نہیں رہتی۔ تو کیا تم ایسی حالت میں حضرت مسیح کو لانا چاہتے ہو؟ دسویں آیت ظاہر کرتی ہے کہ بنی نوع انسان کے لئے زمین میں رہنے سہنے کا مقام مقرر کیا ہوا ہے تو پھر کیا کسی کو آسمان پر بھی رہنے کی اجازت ہو سکتی ہے؟ اس لئے ان تمام آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ وفات مسیح کا عقیدہ حق ہے اور حیات مسیح کا عقیدہ خلاف قرآن ہے۔

اس تحریف کا جواب یہ ہے کہ جو معنی آیات مذکورہ کے کئے گئے ہیں۔ اس کا نشان کسی اسلامی کتاب سے نہیں ملتا۔ یہ سب کچھ مرزائی تعلیم کا نتیجہ ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ آریہ بھی تناسخ کا ثبوت قرآن شریف سے کرتے ہیں کہ : ” ما ننسخ من آیة . وننشئکم فیما لا تعلمون . فاذا ہی ثعبان مبین ، ام امثالکم . کونوا قردة خاسئین “ وغیرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان ، پرند، چرند اور لکڑی وغیرہ سب حالت بدلتے رہتے ہیں اور یہی تناسخ کا اصول ہے۔ مگر ان آیات کا معنی جو اسلام نے لیا ہے۔ اس کے لحاظ سے تناسخ کا ثبوت نہیں ملتا۔ اسی طرح ان آیات سے بھی وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی جو یہاں پیش کی گئی ہیں۔ کیونکہ پہلی آیت میں مذکور ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو قتل اور صلیب سے بچا کر اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور وہ وعدہ پورا ہو گیا تھا کہ میں تجھ کو اپنے قبضہ میں لاکر اپنی طرف اٹھا لوں گا۔ (دیکھو انجیل برنابا اور احادیث مذکورہ) اور یہاں رفعہ سے یہ مراد لینا غلط ہے کہ آپ کو طبعی موت سے وفات دے کر رفعت دی تھی۔ کیونکہ ایسی رفعت عام بنی نوع انسان کو حاصل ہوتی ہے۔ آپ سے وعدہ کرنے کا کیا مطلب تھا کہ ہم تجھے رفعت دیں گے۔ کیا آپ کو شروع حیات سے رفعت مرتبہ حاصل نہ تھی؟ اور وعدہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو رفعت آپ کو دی جائے گی وہ رفعت جسمانی تھی۔ جو واقعہ صلیب کے وقت ظاہر ہوئی۔ ورنہ جو رفعت منزلت آپ کو پہلے ہی حاصل تھی اس کا وعدہ کرنا تحصیل حاصل یا ایک قسم کا مخول بن جاتا ہے۔ تم اگر کسی سے اسی چیز کے دینے کا وعدہ کرو۔ جو اس کے پاس پہلے ہی حاصل ہے تو کیا وعدہ لغو اور بے فائدہ نہ ہوگا؟ دوسری آیت میں لیؤمنن بہ سے یہ مراد لینا کہ یہود کو قتل مسیح کا ایمان حاصل ہوتا ہے۔ دو وجہ سے غلط ہے۔

صفحہ ٢٢٢

اول ...... ان کو تو پہلے ہی اپنے زعم میں یقین ہے کہ ہم نے حضرت مسیح کو صلیب پر قتل کر ڈالا تھا اور اناجیل اربعہ میں یہی بالتصریح موجود ہے کہ آپ صلیب پر مر چکے تھے تو اندریں حالات یوں کہنا کیسا بے معنی ہوگا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) آپ کے قتل پر ایمان لے آتے ہیں۔

دوم ...... لیؤمنن میں نون مشدد علامت استقبال ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ آئندہ ایمان لے آئیں گے اور اس کی تفصیل پہلے بیان ہو چکی ہے کہ نزول مسیح کے وقت اہل کتاب سب کے سب آپ کی تصدیق کرلیں گے اور یہی وہ معنی ہے کہ جس کو اسلام نے قبول کیا ہے اور جس کی تائید صحف قدیمہ اور احادیث نبویہ سے ہورہی ہے۔ اس لئے اس کے خلاف کوئی اور معنی تراش کرنا تحریف میں داخل ہوگا۔

تیسری آیت میں مطلقاً وفات مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ ایک ایک دو روئیاں کی مثال ہے۔ ہر ایک جگہ مرزائی وفات مسیح کا ہی راگ گاتے ہیں۔ بھلا یہ تو بتائیں کہ اس آیت کے رو سے اگر وفات مسیح تسلیم کی جائے تو کیا کشمیر میں دفن ہونے کے بعد آپ کی برکت ظاہر ہوئی تھی؟ آپ تو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح وہاں ٨٧ سال روپوش ہو کر مر گئے۔ نہ تبلیغ کی نہ گرجا بنایا اور نہ کوئی اپنا نشان چھوڑا تو پھر برکت کیسی؟ اس لئے اس آیت سے اسلام میں یہ مراد ہے کہ آپ کا وجود بابرکت ہے۔ واقعہ صلیب سے پہلے آپ کی ذات سے لوگوں کی ظاہری اور باطنی بیماریاں دور ہوئیں اور نزول کے بعد اسلام آپ کی برکات سے بہرہ ور ہوگا اور اس کی تمام مردہ طاقتیں ظاہر ہوں گی اور باقی رہا آسمان کا مقام سو وہ بھی برکت سے خالی نہیں۔ کیونکہ اب مقربین میں داخل ہیں اور اب بھی صوفیائے کرام کی روحیں آپ سے روحانی برکات حاصل کر رہی ہیں۔

(دیکھو فتوحات مکیہ)

چوتھی آیت میں مرزائیوں نے عیسائیوں کی چال چلی ہے۔ وہ بھی کہا کرتے ہیں کہ قرآن شریف نے بھی واقعہ صلیب میں آپ کی موت کو تسلیم کیا ہے۔ کیونکہ یوم اموت سے مراد صلیب پر مرنے کا دن ہے اور یوم ابعث حیاء سے مراد وہ دن ہے کہ جب آپ مرنے کے بعد تیسرے دن اپنی قبر سے نکل کر آسمان پر چلے گئے تھے۔ اب اگر مرزائیوں کا معنی مانا جائے تو عیسائیوں کا معنی بھی ماننا پڑتا ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ایک معنی تسلیم ہو اور دوسرا متروک ہو۔ اس لئے ہمیں اس مطلب کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ جو اسلام نے یہاں پر تسلیم کیا ہے کہ یوم ولادت میں آپ شیطانی عوارض سے محفوظ رہے۔ حالانکہ آپ غیر محفوظ جگہ میں پیدا ہوئے تھے۔

(دیکھو مشکوٰۃ اور انجیل برنباس)

صفحہ ٢٢٣

یوم وفات میں آپ کو مسلمان روضہ نبویہ میں دفن کریں گے اور حضورﷺ کے پاس آپ کو جگہ ملے گی۔ جہاں کسی قسم کا کھٹکا نہ رہے گا اور یوم بعث بعد الموت میں آپ حضورﷺ کے ہمراہ ایک مقبرہ سے اٹھیں گے اور جو حفاظت اس وقت حضورﷺ کی ہوگی۔ آپ بھی اس میں داخل رہیں گے۔ اب اس اسلامی معنی کو چھوڑ کر تحریف کرنا مسلمان کا کام نہیں ہے۔ پانچویں آیت سے وفات مسیح پر استدلال قائم کرنا ایک واہیات اصول پر مبنی ہے کہ جو واقعہ ایک کے لئے موجب رفعت ہو تو وہ سب کے لئے موجب رفعت ہوتا ہے۔ اگر یہ اصول صحیح ہے تو آپ ہی بتائیں کہ اگر معراج موجب رفعت ہے تو کیا تم نے جولاہے کی طرح یہ بھی خدا سے مانگا ہے؟ شہادت حسینؓ بھی موجب رفعت ہے کیا تمہارے بانی مذہب نے بھی خدا سے مانگی تھی؟ اور ہزاروں امور موجب رفعت ہیں۔ کیا تم سب مانگا کرتے ہو؟ اور جب یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی وسعت کے مطابق پاؤں پھیلایا کرتا ہے تو اپنی وسعت سے بڑھ کر ناواجب امور کا مطالبہ کرنا ایسا ہو گا کہ کوئی اہدنا الصراط المستقیم کہہ کر دعاء کرے کہ یا اللہ مجھے اپنے راستہ پر چلا کر خدا بنالے۔ شاید مرزائی یہی دعاء کرتے ہوں گے۔ مگر اسلام یہی سکھاتا ہے کہ جس راستہ پر مقدس ہستیاں تھیں۔ اسی راستہ پر خدا ہم کو قائم رہنے کی توفیق عطاء کرے۔ آمین! چھٹی آیت میں امت محمدیہ کو بہترین امت اس لئے نہیں کہا گیا کہ مرزا قادیانی کی تصدیق کرنے کو کھڑی ہو جائے گی۔ بلکہ قرآن شریف کے رو سے اس لئے اس کو یہ لقب عطاء ہوا ہے کہ یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے مامور ہوئی ہے۔ انبیاء سابقین کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار رہتی ہے اور خیر المرسلین کی تابعدار بن کر خیر الامم کا لقب حاصل کرتی ہے۔ پس ان وجوہات کو چھوڑ کر ایک نئی وجہ گھڑنا کہ جس کا ثبوت کسی جگہ سے بھی نہیں ملتا۔ ایسا ہے کہ کوئی کہے کہ واعبد ربك حتى یاتیك الیقین عبادت کا حکم یقین آنے تک ہے۔ اس لئے جن کو خدا کی ہستی کا یقین آ گیا ہے۔ ان پر عبادت فرض نہیں ہے۔ کیا محرفین اس تحریف کو اپنی تحریفات میں داخل کر کے اپنی جماعت کو عبادت سے آزاد کر ڈالیں گے؟ اور یضل بہ من یشاء کی مثال پیدا کریں گے؟ ساتویں آیت میں عام حکم ہے کہ خدا تم کو وفات دیتا ہے۔ جس کے رو سے ہر ایک انسان اپنے مقررہ وقت پر مر جاتا ہے اور مرنے کی مدت نہ کسی نے آج تک مقرر کی ہے اور نہ ہوگی۔ ورنہ جو شخص آج سے سو سال سے زیادہ عمر پا کر مرتا ہے۔ اس آیت کے خلاف ہوگا اور کہا جائے گا کہ عام مدت موت سے بڑھ کر کیوں زندہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس لئے اس تحریف کے پاؤں نہیں ہیں اور سوائے بے سمجھی کے کچھ ثابت نہیں کرتی۔ آٹھویں آیت میں ارذل العمر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ اپنے قوائے جسمانی کے ماتحت

صفحہ ٢٢٤

انسان کم و بیش ارذل العمر تک پہنچتا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک انسان ارذل العمر تک پہنچتا ہے۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ کوئی پہنچتا ہے اور کوئی نہیں پہنچتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی حسب روایات سابقہ ارذل العمر تک نہیں پہنچے۔ کیونکہ آپ نزول کے بعد ایک عربی عورت سے شادی کر کے صاحب اولاد ہوں گے۔ اب آپ کی نسبت یہ خیال کرنا کہ آپ چونکہ دو ہزار سال تک زندہ ہیں۔ ارذل العمر تک پہنچ گئے ہیں۔ دو وجہ سے سطحی بات ہے اوّل یہ کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس وقت کے ماحول کی عمریں بڑی لمبی ہوتی تھیں۔ جس پر آج کل کا اندازہ ٹھیک نہیں بیٹھ سکتا۔ مشہور ہے کہ رستم گیارہ سو سال تک زندہ رہ کر مر گیا۔ تو اس کی ماں رو کر کہتی تھی کہ: ”بچہ مرد نہ چیزے دید نہ چیزے خورد“ اگر یہ روایت صحیح ہے تو خیال باطل کرنے کو کافی ہے کہ انسان ساٹھ ستر سال تک ارذل العمر تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر اس وقت کے دوسری عمریں دیکھی جائیں تو صاف ثابت ہوتا ہے کہ ہزار دو ہزار سال تک انسان کا ارذل العمر تک پہنچنا ضروری نہیں ہے۔ چنانچہ اصحاب کہف ٣٠٩ برس تک زندہ رہ کر بھی جوان رہے۔ سام کی عمر ہزار سال تھی۔ متوشلخ ٩٦٩ سال تک زندہ رہا۔ حضرت نوح علیہ السلام ایک ہزار چار سو سال تک تبلیغ کرتے رہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ کی عمر ١٤٥٠ سال تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام نو سو تیس سال تک اپنی اولاد کی پرورش کرتے رہے۔ حضرت شیث علیہ السلام نو سو بارہ سال تک احکام خداوندی بجالاتے رہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کی عمر ٣٦٥ تھی۔ حضرت موسیٰ کی ١٢٠ اور حضرت ابراہیم کی ٢٠٠ سال کی عمر تھی۔ حضرت انوش کی عمر ٦٠٠ سال ہے اور حضرت ہود کی ٤٦٤ سال۔ کتاب المعمرین میں ان معمر لوگوں کا ذکر ہے۔ جن کی عمریں کئی سینکڑے سالوں تک پہنچیں۔ باوجود اس کبر سنی کے ارذل العمر تک کوئی نبی نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی اسلامی شہادت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی نبی ارذل العمر کا شکار ہوا تھا۔ کیونکہ یہ ایک ذلیل زندگی ہے اور خدا کے مقرب بندے اس سے محفوظ رہتے ہیں۔ دوم یہ کہ حدیث نبویہ کی رو سے آپ کی عمر زیادہ سے زیادہ ایک سو بیس یا ساٹھ سال تک ہے اور وہ زمانہ جو آپ آسمان پر گزار رہے ہیں۔ وہ دنیاوی زندگی محسوب نہیں کیا گیا۔ ورنہ حضور ﷺ اپنے احادیث میں آپ کی عمر اپنے عہد میں کم از کم چھ سو سال تک ظاہر فرماتے۔ اس لئے ارذل العمر سے بچانے کی خاطر نزول مسیح کا انکار کرنا ایک جہالت ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ یہ کمال بے باکی ہے کہ اپنے خیال کی بنیاد پر اسلامی روایات کو رد کیا جاتا ہے۔ بھلا کجا تم اور کجا فرمان نبوی۔ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ۔ ایسے محرفین کو ایسی کمال بے باکیوں سے دستبردار ہونا چاہئے۔ ورنہ وہ توہین الانبیاء کے مرتکب ہوں گے۔ نویں آیت کی تشریح سے صرف یہ

صفحہ ٢٢٥

ثابت ہوتا ہے کہ معمّر آدمی منکوس فی الخلق ہو جاتا ہے۔ اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ لوگ ساٹھ ستر سال کی عمر تک معمر کہلانے لگتا ہے تو گو آج کل صحیح ہوگا ۔ مگر گذشتہ زمانہ میں معمر کی حدود ہزار سال تک معلوم ہوتی ہے اور نکوس فی الخلق نہیں ہوا اور آئندہ زمانہ میں بھی ممکن ہے کہ آج کل کا اندازہ غلط ثابت ہو جائے اور اگر یہ مطلب لیا جائے کہ جو انسان اپنی پوری عمر پا کر درجہ شیخوخت تک پہنچ کر پیر فرتوت بن جاتا ہے تو اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں تو یہ معنی قابل تسلیم ہے۔ مگر قرآن شریف میں یہی نہیں کہا گیا کہ ہر ایک معمّر ”كل من نعمره“ کو ہم درجہ شیخوخت میں بے سمجھ کر دیتے ہیں۔ اگر محرفین نے یہی سمجھا ہے تو یہ ان کی خوش فہمی ہوگی ورنہ اسلام انبیاء کو ایسی حالت سے منزہ سمجھتا ہے۔ حضور علیہ السلام کی یہ دعاء تھی کہ: ”اللھم انی اعوذبک من الھرم“ یا اللہ شیخوخت سے مجھے بچائیو۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ ٦٣ سال کی عمر میں آپ کے قوائے جسمانی برقرار تھے اور سوائے سترہ بال کے کوئی بال بھی سپید نہیں ہوا تھا۔ بہر حال انبیاء کو اس آیت سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ بالخصوص حضرت مسیح علیہ السلام تو ١٢٠ سال کی عمر تک پہنچ کر بھی معمر شیخ فانی تسلیم نہیں کئے گئے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ آپ شادی کر کے صاحب اولاد بھی بنیں گے۔ اب ایک طرف محرفین کا قول ہے اور دوسری طرف حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ جس کی مرضی ہو وہ حضور ﷺ کے خلاف محرفین کا اسلام قبول کر کے اسلام قدیم سے خارج ہو جائے اور جو چاہے اسلام میں داخل رہے۔ دسویں آیت میں عام قاعدہ بیان ہوا ہے کہ بنی نوع انسان کا مقام زمین ہے اور ہم بھی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح اخیر زمانہ میں پھر زمین میں ہی دفن ہوں گے۔ اس لئے کچھ مدت کے لئے استقرار فی الارض کے خلاف عارضی قیام آسمان میں کر لینا مضر نہیں پڑتا۔ ورنہ کسی کو چارپائی پر بھی سونے کی اجازت نہ رہے گی اور جو لوگ غباروں میں اڑ کر ستر ہزار فٹ تک اوپر چلے جاتے ہیں یا ہوائی جہاز میں کچھ مدت کے لئے زمین سے الگ ہو کر عارضی قیام کر لیتے ہیں یا سمندر میں ساری عمر جہازوں کے ملاح رہتے ہیں۔ ایسے خوش فہم محرفین کے نزدیک استقرار فی الارض کے خلاف ہوں گے۔ جو صریح حماقت میں داخل ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ ایسے محرفین قرآن شریف کو توڑ مروڑ کر موجودہ خیالات کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ورنہ یہ نہیں کہ اپنے خیالات کی ترمیم قرآن شریف یا احادیث سے کریں۔ اب یہ کہنا مشکل ہو گیا ہے کہ یہ لوگ قرآن وحدیث پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں نے صرف اتنا ہی قرآن تسلیم کیا ہے کہ جس قدر خیالات مغربیہ سے موافقت رکھتا ہے۔ ورنہ دوسرے احکام سے یا تو صراحۃً انکار کر دیتے ہیں یا اگر کچھ شرم دامنگیر رہے تو نیک نیتی یا بدنیتی سے توڑ مروڑ کر قرآنی مفاہیم کی نوعیت بدلنے لگ جاتے ہیں۔

صفحہ ٢٢٦

تحریفات نمبر سوم اور خلود

”ثم جعل من بعد قوۃ ضعفا وشيبہ (روم) فيہا تحيون وفيہا تموتون ومنہا تخرجون (اعراف) ماجعلنہم جسدا لا یاکلون . وماکانوا خالدین (انبیاء) الیوم اکملت لکم دینکم (مائدۃ) لن تجد لسنة اللہ تبدیلا (فاطر) ماجعلنا لبشر من قبلك الخلدو وماکانوا خالدین (انبیاء) تلك امة قد خلت (بقرۃ) وکذلك جعلناکم امة وسطاً (بقرۃ) انشأکم من نفس واحدة (انعام) ثم انکم بعد ذلك لمیتون (المؤمنون)“

پہلی آیت سے ثابت کیا جاتا ہے کہ جوانی کے بعد بڑھاپا آ جاتا ہے اور طاقت کے بعد کمزوری آ جاتی ہے۔ تو حضرت مسیح علیہ السلام بوقت نزول کمزور ہوں گے تو اسلام کی خدمت کیا کرسکیں گے۔ دوسری آیت سے ثابت کیا ہے کہ موت وحیات کا سلسلہ بنی نوع انسان کے لئے زمین سے وابستہ ہے تو حضرت مسیح کا آسمان پر چلا جانا اور مدت دراز تک وہاں قیام رکھنا کیسے قرین قیاس ہوسکتا ہے۔ تیسری آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کا جسم ایسا نہ تھا کہ خوراک نہیں کھاتے تھے اور ان کو دنیا میں ہمیشہ کا رہنا میسر نہ تھا تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام کا اب تک بغیر خوراک زندہ رہنا کیسے متصور ہوسکتا ہے۔ چوتھی آیت سے ثابت کیا ہے کہ حضور انورﷺ پر تکمیل اسلام ہوئی جو بڑی نعمت عظیم الشان ہے۔ اب اگر طول عمر یا رفعت سماوی بھی نعمت ہوتی تو حضورﷺ کو ایسی نعمت عظمیٰ سے کیوں خالی رکھا گیا تھا؟ پانچویں آیت سے یہ ثابت کیا ہے کہ حیات مسیح قانون فطرت کے خلاف ہے اور خدا تعالیٰ اپنی سنت تبدیل نہیں کرتے۔ چھٹی آیت سے ثابت کیا ہے کہ چونکہ حضورﷺ سے پہلے کسی کو خلود فی الدنیا نصیب نہیں ہوا۔ اس لئے حیات مسیح کا قول غلط ہے۔ ساتویں آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کی تمام جماعت گزر چکی ہے تو پھر حضرت مسیح علیہ السلام ابھی تک کیوں باقی رہ گئے ہیں۔ آٹھویں آیت میں خدا تعالیٰ نے ہم کو امت وسط بنایا ہے اور نزول مسیح سے یہ لازم آتا ہے کہ ان کی امت (نصاریٰ) یہ خطاب پا کر خیرالامم بن جائے۔ کیونکہ اب تو وہی اخر الامم ہوگی۔ نویں آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ نفس واحدہ سے حضرت مسیح بھی پیدا ہوئے تھے تو تمام بنی نوع سے اشتراک ضروری تھا۔ تو پھر کیوں ابھی تک آپ کو زندہ تصور کیا جاتا ہے اور دسویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سب مرنے والے ہیں تو پھر حضرت مسیح کیوں نہیں مرے۔ ان سب کا جواب مختصر طور پر یوں ہے کہ وفات مسیح سے ایک آیت بھی وابستہ نہیں ہے۔ ان میں عام حالات بیان کئے گئے ہیں کہ جن کا ہر فرد انسان میں اور ہر وقت پایا جانا

صفحہ ٢٢٧

ضروری نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہندوستانیوں کو کالے آدمی کہا جاتا ہے۔ مگر باوجود اس کے کشمیری ایسے گورے ہوتے ہیں کہ مغربی انسان ان کے ہم پلہ گورے نہیں ہوتے۔ اس لئے ایسے اصول کو علوم متعارفہ کہتے ہیں۔ ان کو اصول کلیہ نہیں کہا جا سکتا۔ ورنہ ضروری ہے کہ پہلی آیت کے رو سے کوئی انسان بھی ایسا نہ پایا جائے کہ جس کو طاقت کے بعد کمزوری لاحق نہ ہوئی ہو۔ حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی بچے اور جوان بوڑھا ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں تو پھر یہ آیت ان پر کیسے شامل ہو سکتی ہے۔ علیٰ ہذا القیاس حضرت مسیح علیہ السلام بھی اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں۔ کیونکہ ان کو ابھی تک کمزوری لاحق نہیں ہوئی۔ دوسری آیت سے صرف اتنا معلوم ہوا ہے کہ موت وحیات کا سلسلہ ہم سے تعلق رکھتا ہے اور یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہر ایک سے ایسے سلسلہ کا تعلق یکساں اور ایک خاص مدت تک ہوتا ہے۔ اس واسطے حضرت مسیح سے بھی اس سلسلہ کا تعلق ہو جائے گا۔ اگر چہ کچھ دیر بعد ہو۔ کیونکہ آخر آپ دفن آسمان پر نہیں ہوں گے۔ زمین پر ہی آ کر وفات پائیں گے۔ تیسری آیت میں کفار کے ایک عام اشتباہ کا جواب دیا گیا ہے کہ رسول اور نبی کی شان نہیں ہے کہ بازاروں میں پھرے، کھائے پیئے اور بول و براز کرے۔ ورنہ ہم میں اور اس میں فرق ہی کیا ہوا۔ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ نبی بھی چونکہ انسان ہوتا ہے۔ اس لئے کھانا پینا اس کے لئے ضروری سمجھا گیا ہے۔ ہاں اگر نبی فرشتے ہوتے تو پھر ان کو خوراک سے کوئی تعلق نہ ہوتا۔ لیکن خوراک ضروری ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ہر وقت کھاتے رہتے ہیں۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ عند الضرورت کھاتے پیتے ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام بھی کھاتے پیتے رہے ہیں۔ اب چونکہ عارضی طور پر ایسی آب و ہوا میں ہیں کہ جہاں اس خوراک کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے پھر وہ جب زمین پر آئیں گے تو عند الضرورت کھانا کھائیں گے۔ اس لئے حیات مسیح کا قول اس آیت کے خلاف نہ ہوا۔ چوتھی آیت میں صرف تکمیل اسلام کا ذکر ہے۔ باقی انعامات کا ذکر نہیں ہے اور چونکہ ”تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض“ کا ارشاد بتا رہا ہے کہ بعض انبیاء میں خاص خاص انعام پاگئے ہیں تو حضور ﷺ میں طول عمر کا انعام نہ پایا جانا تکمیل اسلام کے خلاف ثابت نہیں ہوا اور یہ جہالت کا سوال ہے کہ حضور ﷺ میں انبیاء سابقین کی مخصوص نعمتیں کیوں نہیں پائی جاتیں۔ ورنہ حضور ﷺ بھی بغیر باپ کے پیدا ہوتے اور آپ کی والدہ محترمہ کا ذکر بھی ایک لمبی سورۃ میں درج ہوتا ہے۔ اس لئے حضور ﷺ میں طول عمر کا نہ پایا جانا یہ اس امر کا ثبوت نہیں ہے کہ حیات مسیح کا قول کرنا غلط ہے۔ پانچویں آیت کا تعلق اکرام المومنین اور تعذیب الکفار سے ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے پہلے چند آیات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ تمام امور الہیہ سے

صفحہ ٢٢٨

اس آیت کا تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ شب و روز انقلاب ہوتا رہتا ہے اور سلسلہ تولید و ممات میں قسم قسم کی نیرنگیاں ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ سردی، گرمی، بارش، قحط، مرض اور عافیت بھی ایک اصول پر نہیں ہے۔ اب اگر حیات مسیح کا مسئلہ ایسے انقلابات کے ماتحت تسلیم کیا جائے تو کون سا ظلم ہوگا۔ چھٹی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کسی انسان کو ہمیشہ کے لئے دنیا میں رہنا نصیب نہیں ہے اور ہم بھی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح بھی آخر فوت ہو کر دفن ہوں گے تو پھر اس آیت کے خلاف کیسے ہوگا۔ ساتویں آیت میں ذکر ہے کہ رسول اپنا منصب تبلیغ خالی کر کے چلے گئے ہیں۔ جن میں سے کچھ وفات پا چکے ہیں اور کچھ زندہ ہیں۔ ایسی بات کو ملحوظ رکھ کر مات کا لفظ اختیار نہیں کیا۔ تاکہ انبیاء کی دونوں قسموں پر یہ آیت شامل ہو جائے۔ آٹھویں آیت میں ہم کو امتہ وسط کا خطاب دیا گیا ہے۔ جس میں خود حضرت مسیح علیہ السلام بھی داخل ہیں۔ ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کوئی الگ امت تجویز کریں گے یا اپنی امت سابقہ کو بڑھائیں گے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ اسلام کی خدمت میں یہود و نصاریٰ کے مذہب کو مٹا کر دنیا میں چالیس سال تک اسلام ہی اسلام کر ڈالیں گے۔ اس لئے حیات مسیح کا مسئلہ آیت ہذا کے خلاف نہ رہا۔ نویں آیت میں پھر ایک اصول متعارفہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور معترض نے اس کو اصل کلیہ سمجھ رکھا ہے۔ اس لئے حیات مسیح کو اس آیت کے خلاف سمجھنے کی ذمہ داری خود اس پر عائد ہوتی ہے۔ ہم اس کے جوابدہ نہیں ہیں۔ دسویں آیت میں بھی وقوع موت کو اصول متعارفہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ بنی نوع انسان کے موجود ہوتے ہی موت کا وقوع ہو جاتا ہے۔ بلکہ موت کا بھی خاص موقعہ ہے کہ جس سے انسان پس و پیش نہیں ہو سکتا۔ علیٰ ہذا القیاس حضرت مسیح بھی اپنے وقت پر موت کا شکار ہوں گے۔ آپ بھی نہیں بچیں گے۔ اس لئے ہمارا عقیدہ اس آیت کے خلاف بھی نہ ہوا۔ ہاں محرف کے عقیدہ کے خلاف ضرور ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ کیونکہ اسے دعویٰ تو قرآن دانی کا بڑا ہے۔ مگر دیکھنے سے معلوم ہوا ہے کہ مغز قرآن سے ناواقف ہے اور اس کو اتنی تمیز نہیں کہ اصول متعارفہ اور اصول کلیہ میں تمیز کر سکے۔ شاید یہی قوم اس آیت میں بطور قاعدہ کلیہ مخاطب ہے۔ ’’انکم قوم تجھلون‘‘

تحریفات نمبر چہارم اور (رقمی)

’’الله الذی خلقکم ثم رزقکم ثم یمیتکم ثم یحییکم (روم) کل من علیہا فان . (رحمٰن) اینما تکونوا یدرککم الموت (نساء) والذین یدعون من دونہ لا یخلقون شیئاً وھم یخلقون ٭ اموات غیر احیاء (نحل) قال شرکاؤکم ماکنتم ایانا تعبدون ٭ وان کنا عن عبادتکم لغفلین (یونس) انکم وما

صفحہ ٢٢٩

تعبدون حصب جهنم انتم لها واردون ، الا الذين سبقت لهم الحسنى اولئك عنها مبعدون اوترقى فى السماء (بنی اسرائیل) انما مثل الحيوة الدنيا كما انزلنه من السماء فاختلط به نبات الارض (یونس) الم تر ان الله انزله من السماء ماء (زمر) انما الحيوة الدنيا لهو ولعب وزينة (حديد) “

ان آیات میں وفات مسیح کا ذکر ہے۔ کیونکہ پہلی آیت میں انسانی زندگی کے چار درجات بیان ہوئے ہیں۔ خلق، رزق، حیات اور موت۔ دوسری آیت میں ہر ایک چیز کو فانی کہا گیا ہے۔ اب اگر حضرت مسیح علیہ السلام کو اب تک زندہ بجسم عنصری مانا جائے تو ان دو آیتوں کے خلاف ہوگا۔ وہ اب تک باقی ہیں فانی نہیں ہوئے اور حیات کے بعد موت نہیں آئی۔ تیسری آیت میں ہے کہ موت تم کو ہر جگہ پاسکتی ہے۔ مگر بڑا تعجب ہے کہ اب تک حضرت مسیح علیہ السلام کو نہیں پاسکی۔ چوتھی آیت میں تمام معبودان باطل کو مردہ کہا گیا ہے اور جب عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں تو وہ کیوں مردہ نہ بنے۔ پانچویں آیت میں بتایا گیا ہے کہ معبودان باطلہ کو معلوم نہیں ہے کہ ان کی عبادت ہوتی بھی ہے یا نہیں۔ اگر پھر حضرت مسیح کو دوبارہ نازل ہو کر حکمران سمجھا جائے تو آپ کو اپنی پرستش کا ضرور علم ہو جائے گا۔ اب قیامت کو کیسے کہہ سکیں گے کہ ہمیں اپنی پرستش کا علم نہیں ہے۔ اس لئے حیات مسیح اور نزول مسیح کا عقیدہ خلاف قرآن ہے۔ چھٹی آیت میں بتایا گیا ہے کہ تمام معبودان باطلہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ مگر وہ معبود مستثنیٰ ہیں کہ جن کے متعلق خدائی فیصلہ بہتری میں ہو چکا ہے۔ جن میں حضرت مسیح بھی شامل ہیں۔ پھر بتایا گیا ہے کہ نزول آیت کے وقت ایسے مقدس انسان دوزخ سے الگ رکھے گئے ہیں۔ اب اگر حضرت مسیح مرے نہیں ہیں تو ان کا یہ فیصلہ کس طرح ہو گیا کہ دوزخ سے الگ ہیں۔ ساتویں آیت اس امر کا بیان ہے کہ حضور انور ﷺ سے کفار مکہ نے یہ درخواست کی تھی کہ آپ اگر نبی ہیں تو ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ کر دکھلائیں تو چونکہ آسمان پر انسان کا چڑھنا ناممکن تھا۔ اس لئے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان کے جواب میں یوں کہیں کہ میں فرشتہ نہیں ہوں کہ آسمان پر چڑھ کر دکھاؤں۔ میں تو انسان ورسول ہوں۔ اس لئے نہیں چڑھ سکتا۔ حضور ﷺ کے انکار سے ثابت ہوا کہ جب خاتم المرسلین آسمان پر نہیں جاسکتے تو حضرت مسیح علیہ السلام کیسے آج تک زندہ ہیں۔ آٹھویں آیت میں بتایا گیا ہے کہ دنیاوی زندگی نباتات کے مانند ہے۔ نباتات تازہ ہو کر بعد میں زرد ہو جاتی ہے۔ اسی طرح انسانی زندگی میں تغیر ہو جاتا ہے۔ مگر حیات مسیح اس آیت کے خلاف اب تک متغیر نہیں ہوئی۔ اس لئے یہ عقیدہ خلاف قرآن ہوا۔ نویں آیت میں بارش کی مثال دے

صفحہ ٢٣٠

کہ تغیر حیات کا تصور دلایا گیا ہے اور غیر متغیر حیات کو خلاف قرآن قرار دیا گیا ہے۔ دسویں آیت میں بتایا گیا ہے کہ دنیاوی زندگی میں زینت اور تفاخر وغیرہ داخل ہیں اور یہ نہیں بتایا گیا کہ دنیاوی زندگی میں آسمان پر بھی چلا جانا متصور ہے۔ اس لئے ان دس حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو زندہ ماننا خلاف قرآن ہے۔

اس تحریف کا جواب یہ ہے کہ ان آیات میں سے ایک آیت بھی حضرت مسیح علیہ السلام سے متعلق نہیں ہے۔ جو کچھ کہ محرفین نے ضمنی اشارات سے سمجھا ہے وہ چونکہ اسلامی عقیدہ کے خلاف ہے۔ اس لئے ان ضمنی اشاروں سے کوئی اسلامی مسئلہ نہیں بن سکتا۔ کیونکہ یہ ضمنی اشارے بھی کسی دلیل پر مبنی نہیں ہیں۔ مثلاً پہلی آیت سے یہ اصول سمجھنا کہ انسانی زندگی کے چار حصے ہیں۔ خلق، رزق، حیات اور موت اور اس سے نتیجہ یہ نکالنا کہ ان میں طول عمر یا صعود الی السماء مذکور نہیں ہوا۔ یہ سب کچھ خوش فہمی کا اثر ہے۔ کیونکہ یہ آیت اپنے موقعہ پر شانِ الٰہی ذکر کرتی ہوئی بندوں سے خراج عبادت لینا چاہتی ہے اور آپ ہیں کہ خلاف موضوع انسانی زندگی کا تقسیم اوقات نکالنے بیٹھ گئے ہیں۔ خود ہی سوچیں کہ اگر یہ نکتہ آفرینی صحیح ہے تو لوٹ کر اس آیت کو پھر غور سے دیکھ لیجئے کہ آپ کے مقصد کے خلاف ہو رہی ہے۔ کیونکہ اس میں ترتیب حالات یوں دی گئی ہے کہ خلق، رزق، ممات اور حیات اگر آپ کے بالمقابل کوئی عیسائی اجتہاد کرنے بیٹھ گیا تو بآسانی کہہ سکے گا کہ اس میں حضرت مسیح کے حالات درج ہیں۔ کیونکہ آپ مرکر زندہ ہوئے اور آسمان پر چڑھ گئے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ اس آیت میں تمام حالات درج نہیں اور نہ ہی یہ درج ہے کہ حیات کے بعد موت کب آئے گی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو اگر ہمیشہ کے لئے زندہ مانا جاتا تو پھر یہ آیت تردید کر سکتی تھی۔ مگر اب تو محرفین کی لیاقت ظاہر کر رہی ہے کہ وہ ایسے خوش فہم ہیں کہ اگر ان سے یوں پوچھا جائے کہ: ”انتم لا تعلمون “ سے کیا مراد ہے تو صاف کہہ دیں گے کہ انسان ظلوم وجہول کی جہالت مراد ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ: ”علم“ خدا کی صفت ہے۔ انسان اس میں شریک نہیں ہے۔ اس لئے اور نہ سہی کم از کم یہ ثابت ہو گا کہ مرزائی علم سے عاری ہیں۔ دوسری آیت میں ہر چیز کو فانی بتایا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح پر بھی فنا آنے والی ہے۔ ”یأتی علیہ الفناء “ تیسری آیت میں موت کا تعاقب مذکور ہے۔ اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام بھی نہیں بچیں گے۔ چوتھی آیت میں حضرت مسیح علیہ السلام کو محرفین نے معبودان باطلہ میں داخل کیا ہے۔ حالانکہ اس آیت کے رو سے ان میں آپ داخل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ یہ معبود غیر خالق ہیں اور حضرت مسیح بحکم آیت:”انی اخلق لکم من الطین الآیہ “ خالق تھے اور اگر ان میں

صفحہ ٢٣١

شامل کر لیا جائے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ ان معبودوں کی عین عبادت کے وقت ان کو موت آ گئی ہو۔ بلکہ فرعون، ہامان وغیرہ کی مدتوں عبادت ہوئی اور دیر بعد ان کو وفات دی گئی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی دیر بعد وفات پانے والے ہیں اور آئندہ جس کی بھی عبادت ہوگی وہ بھی آئندہ ہی مرے گا۔ اب مرا ہوا نہیں ہے۔ پانچویں آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ معبود اپنے عبادت گزاروں کی عبادت سے بے خبری ظاہر کریں گے۔ تو جس طرح اس آیت سے خود اپنی عبادت کرنے والا فرعون، ہامان وغیرہ خارج ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام بھی اس سے خارج ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت تمام معبودان باطلہ کو شامل نہیں ہوسکتی۔ بلکہ اس کی شمولیت صرف بتوں تک جا کر ٹھہر جاتی ہے۔ ورنہ انسان پرستی کے متعلق یہ آیت بحث نہیں کرتی۔ ورنہ آپ ہی بتائیں کہ فرعون خود اپنی عبادت کراتا رہا ہے تو قیامت کو وہ کیسے انکار کر سکے گا؟ چھٹی آیت میں معبودان باطلہ کو بحکم آیت: ”وقودها الناس والحجارة“ دوزخ کا ایندھن قرار دیا گیا ہے۔ جن میں سے ابھی کئی ایک پیدا بھی نہیں ہوئے۔ اس لئے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ فلاں فلاں معبود شخصی طور ایندھن نہیں ہے۔ بلکہ ایک اصول کے ماتحت قیامت کو یہ فیصلہ ہوگا۔ اس لئے یبعدون کا ترجمہ یوں کیا جائے گا کہ ایسے لوگ دور رکھے جائیں گے تاکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد آئندہ موجود ہونے والے معبود اور راست گو بھی اس رستگاری میں شامل ہو سکیں۔ اگر انصاف سے دیکھیں تو اس آیت میں کچھ اشتباہ ہی نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو جب علم ہوتا تھا تو آپ روک دیتے تھے۔ اسی طرح نزول کے بعد بھی جس کو ایسا دیکھیں گے مار ڈالیں گے۔ اب اگر کوئی آپ کی عبادت کرے گا تو نہ آپ کو اس کا علم ہوگا اور نہ رضا مندی، اس لئے آپ کا انکار قیامت کو صحیح ٹھہرے گا۔ ساتویں آیت میں ہے کہ کفار مکہ نے حضورﷺ سے ناممکن امر کی درخواست کی تھی۔ ہم کہتے ہیں کہ آسمان پر چڑھنے کا سوال ممکن تھا۔ ورنہ اس سوال کو یوں نہ بدلتے کہ: ”لن نؤمن لرقيك الآيه“ ہم آپ کے آسمان پر چلے جانے کو نہیں مانیں گے۔ جب تک کہ خدا کی طرف سے ہمارے نام پر ایک چٹھی بھی نہ لاؤ اور اس تبدیلی کی وجہ بھی خاص تھی۔ کیونکہ ان کے ماحول میں یہود و نصاریٰ آباد تھے اور سال بسال حج کے موسم پر تبادلہ خیالات کا موقعہ بھی ملتا رہتا تھا۔ اس لئے یہ بہت قرین قیاس ہے کہ ان کے نزدیک چونکہ آسمان پر انبیاء کا جانا یقینی تھا۔ کفار نے اسے ممکن سمجھ کر ایک کڑی شرط لگا کر ناممکن بنا دیا تھا۔ محرفین نے اس موقعہ پر غور نہیں کیا۔ ورنہ استدلال ان کو واپس لینا پڑتا۔ آٹھویں آیت کا جواب دیا گیا ہے کہ انسانی زندگی کو نباتات کے بقا و فنا سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مگر وقت کی تعین نہیں کی گئی۔ اس لئے بقاء

صفحہ ٢٣٢

وفات میں تقدیم و تاخیر واقع ہو رہی ہے اور آپ کی زندگی بھی معرض فناء میں ہے۔ نویں آیت میں بھی یہی مضمون ہے اور دسویں آیت میں دنیاوی زندگی کو ناپائیدار بتایا گیا ہے جو آج نہیں تو چند سال یا چند صدیوں کے بعد ضرور نیست و نابود ہو جائے گی۔ اس لئے یہ آیت بھی ”يأتي عليه الفناء“ کی مؤید ثابت ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس قدر آیات پیش کی گئی ہیں۔ محرفین نے خواہ مخواہ ان کو حیات مسیح کے خلاف بنالیا ہے ورنہ اس کی سب مؤید ہیں۔

تحریفات نمبر پنجم اور ختم نبوت

”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (احزاب) فاسئلوا اهل الذكر انكنتم لا تعلمون (انبیاء) يايتها النفس المطمئنة ارجعی الی ربك راضية مرضية (فجر) ان المتقين في جنات ونهر . في مقعد صدق عند مليك مقتدر (قمر) وماهم عنها بمخرجين (حج) ما اتاكم الرسول فخذوه (حشر) اطيعوا الله واطيعوا الرسول (نساء) الم نجعل الارض كفاتا احياء وامواتا (مرسلات) وانه لعلم الساعة (زخرف) يوم ندعو كل اناس بامامهم (بنی اسرائیل)“

آیت اوّل کا یہ مطلب ہے کہ حضور انور ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کی نبوت سب سے آخری نبوت ہے اور آپ ﷺ نے سب کے اخیر پر رتبہ رسالت حاصل کیا۔ حضور ﷺ کے بعد کسی کو نبی بنا کر نہیں بھیجا جائے گا۔ مگر محرفین نے یہ سمجھا کہ آپ کے بعد کوئی نبی زندہ نہیں اور یہ مفہوم غلط ہے۔ کیونکہ رسالت حاصل کرنا اور بات ہے اور رسالت حاصل کردہ کے ساتھ زندہ رہنا اور بات ہے۔ اس کی مثال یوں دیا کرتے ہیں کہ ایک آدمی کے بیٹے مختلف ہوں۔ سب سے آخری بیٹا اگر مر جائے اور درمیانی یا سب سے بڑا بیٹا ابھی تک زندہ ہو تو وہ آخری بیٹا نہیں بنے گا۔ علیٰ ہٰذا القیاس آخری نبی ہمارے حضور انور ﷺ ہی ہوں گے۔ اگرچہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک زندہ ہوں۔ مگر آپ علیہ السلام آخری نبی کا خطاب نہیں پاسکتے۔ دوسری آیت کا مطلب یوں ہے کہ کفار مکہ سے کہا گیا تھا کہ یہ تمہارا کہنا غلط ہے کہ اگر خدا کو ہماری طرف احکام بھیجنا مطلوب تھا تو کوئی فرشتہ بھیجتا۔ کیونکہ جس قدر پہلے رسول آئے ہیں وہ تمام بشر تھے۔ ایک بھی ان میں سے فرشتہ نہ تھا۔ جو نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں۔ تم کو شک ہے تو یہودیوں سے دریافت کرلو کہ وہ آدمی تھے یا کہ فرشتے۔ مرزائیوں نے خواہ مخواہ اپنے ذہن میں اس آیت کا مطلب بدل کر کہا کہ: ”اگر تم کو وفات مسیح میں شک ہے تو یہودیوں سے جا کر پوچھ لو۔“

صفحہ ٢٣٣

مگر یہ نہیں خیال کیا کہ اگر یہودیوں سے پوچھا جائے گا تو وہ زور سے کہہ دیں گے کہ آپ مقتول بالصلیب ہو چکے تھے۔ کیا مرزائی مان لیں گے؟ شاید ہمارے مقابلہ میں مان لیں۔ کیونکہ وہ بھی مماتی اور یہ بھی مماتی ہیں۔ اس آیت میں اتنا بھی خیال نہیں کیا کہ پوچھنے کو تب کہا گیا ہے کہ اگر ہمیں علم نہ ہو۔ ورنہ علم کی صورت میں ہمیں ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تیسری آیت میں یہ ذکر ہے کہ نزع کے وقت اہل ایمان سے کہا جاتا ہے کہ چلو اپنے رب کے پاس جنت میں داخل ہو جاؤ اور خوشی خوشی عباد اللہ المقربین اور فرشتوں میں شامل ہو جاؤ۔ مرزائیوں نے اس کو وفات مسیح سے یوں وابستہ کیا ہے کہ حضرت مسیح کو رفعت الی اللہ حاصل ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنے پاس بلا لیا ہے۔ اس لئے اب مردوں میں شامل ہو کر داخل جنت ہو گئے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک یہ اصول ہے کہ جو بھی خدا کے پاس جاتا ہے وہ مرا ہوا ہی جاتا ہے۔ زندہ نہیں جا سکتا۔ مگر اتنا خیال نہیں کیا۔ خود فرشتے زندہ ہیں۔ وہ کیسے خدا کے پاس موجود ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر خدا کے پاس حاضر ہوئے تھے۔ وہ کیسے زندہ تھے۔ حضور انورﷺ شب معراج میں دیدار الٰہی سے مشرف تھے اور قاب قوسین کا قرب حاصل تھا تو حضورﷺ کو کس طرح زندہ تصور کیا گیا تھا۔ مرزا قادیانی نے جب خود خدا بن کر زمین و آسمان پیدا کیا تھا۔ کیوں نہ مر گئے؟

چوتھی آیت میں مذکور ہے کہ متقین جنت میں خدا کے پاس ہوں گے۔ مرزائی کہتے ہیں کہ جب خدا نے حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنے پاس لیا ہے تو ضرور اس کے پاس اب موجود ہیں اور جنت میں داخل ہیں۔ اس لئے آپ کی وفات ثابت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر یہی معنی صحیح سمجھا جائے تو اس سے وفات مسیح کے علاوہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی متقی ہے اس وقت جنت میں داخل ہو چکا ہے اور دنیا میں کوئی متقی نہیں رہا۔ اب ہمیں تو یہیں رہنے دیجئے۔ اپنے مرزا قادیانی کی خیر منائیے۔ وہ اپنی زندگی میں متقین کی صف سے جب نکل گئے تو نبی کیسے بنے تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ احمدیوں کو قرآن شریف نہیں آتا۔ پانچویں آیت میں یہ مذکور ہے کہ جب اہل جنت، بہشت میں داخل ہوں گے تو ان کو کوئی نکال نہیں سکے گا اور یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ پابزنجیر ہو کر قید ہیں۔ نکل نہیں سکتے۔ کیونکہ سورہ صافات میں خود خدا نے کہا ہے کہ اہل جنت نکل کر دوزخیوں سے بات چیت کریں گے۔ حضور انورﷺ کا بیان ہے کہ آپ شب معراج میں جنت کی سیر کر آئے تھے۔ احادیث میں مذکور ہے کہ شہداء کی روحیں پرندوں کی طرح جہاں چاہیں اڑ کر چلی جاتی ہیں۔ مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام کی روح کو عیسائیوں کی شرارت کا پتہ لگا تو قادیان میں غلام احمد بن کر ظاہر ہوئی۔ اب مرزائی بتائیں کہ کیا قادیان بھی جنت میں داخل ہے۔

صفحہ ٢٣٤

یا یوں کہنا غلط ہے کہ اہل جنت اپنے ارادہ سے باہر جانے کے مجاز نہیں ہیں؟ اب اس آیت سے وفات مسیح ثابت کرنا غلط ہوگا۔ کیونکہ وہ اگر بالفرض مر کر ہی جنت میں گئے تو بقول مرزائیاں پنجاب میں نکل بھی آئے ہیں اور اگر یہ مانا جائے کہ آپ ابھی زندہ ہیں تو آپ کا ابھی تک جنت میں مستقل طور پر داخلہ نہیں ہوا۔ کیونکہ آپ بھی ملائکہ مقربین میں رہتے ہیں۔ چھٹی آیت میں مذکور ہے کہ حضور انور ﷺ جو کچھ تم کو کہیں اس پر عمل کرو۔ مثلاً آپ نے صاف فرمادیا ہے کہ بخدا عیسیٰ بن مریم اے یہودیو تمہیں آکر ٹھیک کرے گا اور ہم مسلمان بھی اس کو تسلیم کرتے ہوئے حیات مسیح کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ ورنہ محرفین نے جو کچھ سمجھا ہے کہ رسول (مرزا قادیانی) نے جب تم کو وفات مسیح کا مسئلہ بتا دیا ہے تو تم اس کو مان لو۔ بالکل غلط ہے کیونکہ اولاً یہ حکم مرزائی بننے کے بعد جاری ہو سکتا ہے۔ ورنہ جب ہم مرزا قادیانی کو رسول ہی نہیں مانتے تو ہماری طرف اس کلام کا روئے سخن کیسے ہوسکے گا۔ ثانیاً یہ ماننا پڑتا ہے کہ تیرہ سو سال تک یہ آیت بغیر تعمیل کے ہی پڑی رہی تھی۔ مرزا قادیانی آئے تو اس پر عمل ہونا شروع ہوا ہے۔ حالانکہ یہ دو وجہ سے غلط ہے۔ اوّل یہ کہ مرزا قادیانی سے پہلے وفات مسیح کا مسئلہ سرسید نے شائع کیا تھا اور اس سے پہلے فلاسفراور کچھ معتزلہ بھی وفات ہی کو مانتے چلے آئے ہیں۔ مرزا قادیانی کا معاملہ تو کے آمدی و کے پیر شدی کے مشابہ تھا۔ بات تو آپ نے بھی وہی کہی تھی۔ مگر ذرہ الہام کی دم لگالی تھی۔ حضرت ابن عربی فرماتے ہیں کہ: ”المعتزلة والیهود والنصارىٰ الذین ینکرون الرفع الجسمانی“

(فتوحات ص ٣٦٩)

معتزلہ یہود اور کچھ نصاریٰ بھی رفع جسمانی کا انکار کرتے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ مرزائی یہودی ہیں یا معتزلہ اور یا ایک قسم کے عیسائی کہ رات دن حیات مسیح کی تردید میں ڈٹے رہتے ہیں۔ دوم یہ کہ لفظ ما عربی زبان میں جو کچھ کا معنی دیتا ہے۔ مرزا قادیانی نے تو صرف وفات مسیح کا مسئلہ ہمیں بتایا ہے۔ جس کو ہم صرف ایک مسئلہ کہہ سکتے ہیں۔ ساتویں آیت میں حکم ہوا ہے کہ: ”اولی الامر“ کی اطاعت کرو۔ جس سے مراد سلطان وقت لیا جاتا ہے یا مذہبی پیشوا اور آئمہ ہدیٰ مراد ہیں۔ اور جس کو ہم جو کچھ نہیں کہہ سکتے اور مرزا قادیانی ان میں داخل نہیں ہیں۔ کیونکہ نہ آپ بادشاہ تھے اور نہ کسی مذہبی پیشوا یا امام وقت نے وفات مسیح کا مسئلہ شائع کیا تھا۔ اس لئے محرفین کا یوں کہنا غلط ہے کہ مرزا قادیانی اولی الامر تھے۔ جمع کا صیغہ ہے جس سے جماعت مراد ہے۔ ہمیں تو اولی الامر میں سے ایک بھی وفات مسیح کا قائل نہیں ملتا۔ آپ ایک جماعت پیش کرتے ہیں اور بلا ثبوت ہمیں کیسے باور ہوسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کا کہنا واجب التعمیل ہے۔

صفحہ ٢٣٥

لاہوری پارٹی حضرت مسیح علیہ السلام کو بغیر باپ کے نہیں مانتی اور مرزا قادیانی آپ کو بغیر باپ کے مانتے ہیں۔ البتہ یہ آیت اگر ان کو سنائی جائے تو شاید کچھ کارآمد ہوسکے۔ مگر وہ بھی ایسے گستاخ واقع ہوئے ہیں کہ مرزا قادیانی کو بعض دفعہ اجتہادی مسائل میں غلط گو بھی کہہ دیا کرتے ہیں اور ہم بھی تصدیق کرتے ہیں کہ آپ غلط گو ہی تھے۔ اس لئے اس آیت کو ہمارے سامنے پیش کر کے وفات مسیح منوانے کی توقع رکھنا مشکل نظر آتا ہے۔ آٹھویں آیت میں بتایا گیا ہے کہ زمین ہڈیوں کو جمع کرنے والی ہے۔ خواہ ان لوگوں کی ہڈیاں ہوں جو ابھی زندہ ہیں یا مردوں کی اور یا ان لوگوں کی ہڈیاں ہوں جو ابھی تک پیدا ہوکر مرے بھی نہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زمین زندہ اور مردوں کو جمع کرنے والی ہے اور ان کو بھی جو پیدا ہوں گے۔ اب اس سے وفات مسیح ثابت کرنا کمال بے وقوفی ہے۔ کیونکہ اس آیت میں جب آئندہ نسلیں بھی داخل ہیں۔ جو ابھی تک پیدا ہو کر نہیں مریں اور وہ بھی داخل ہیں۔ جو ابھی زندہ ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کا انکار کیوں کیا جاسکتا ہے۔ کیا صرف اس لئے کہ آپ عارضی طور پر زمین کی سطح پر نہیں رہتے تو آپ ہی بتائیں کہ کون اس کی سطح سے ہر وقت لپٹا رہتا ہے؟ اس لئے اس حکم سے حضرت مسیح علیہ السلام بھی باہر نہیں ہیں۔ کیونکہ آخر آپ بھی دفن ہوکر پیوند زمین بن جائیں گے۔ نویں آیت میں مذکور ہے کہ حضرت مسیح کا ظہور قیامت کا ایک زبردست نشان ہے۔ محرفین کہتے ہیں کہ اس کے بعد یوں بھی آیا ہے کہ: ”وعندہ علم الساعۃ“ حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے پاس ہیں اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ خدا کے پاس زندہ بھی رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس جگہ عندہ سے مراد مفسرین کے نزدیک مقام ملائکہ مراد ہے۔ (دیکھو تفسیر کشاف وغیرہ) ہمیں ان کی شوخی طبع سے خوف ہے کہ کہیں یہ نہ کہہ بیٹھیں کہ علم خدا کا وصف ہے۔ جو خدا سے الگ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام بحیثیت علم ہونے کے خدا کی صفت تھے اور غیر محسوس بھی تھے۔ اگر یوں کہہ دیں تو تثلیث کا ثبوت قرآن سے ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک قرآن شریف کے متعلق یوں ہدایت ہے کہ: ”قل فیہ ما شئت“ جو مرضی ہو کہتے جاؤ۔ دسویں آیت میں حکم ہے کہ قیامت کو ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے نام پکاری جائے گی۔ یا ان کو اپنے اپنے اعمال نامے دے کر اٹھایا جائے گا۔ (موضح) محرفین کہتے ہیں کہ ظہور مسیح کے بعد جو مسلمان مریں گے کیا حضرت مسیح کے نام سے پکارے جائیں گے؟ ہم کہتے ہیں کہ مرزائی اپنی فکر کریں کہ وہ کس نبی کی امت بن کر پکارے جائیں گے۔ قادیانیوں کو سخت مشکل پیش آئے گی۔ کیونکہ ان کے نزدیک افضل المرسلین مرزا قادیانی ہیں۔ اب ان کو چھوڑ کر حضور انورﷺ کی امت بننا کیسے گوارا کریں گے؟ اس لئے اب بھی ان کو لازم ہے کہ

صفحہ ٢٣٦

اعلان کردیں کہ ہمارا امام اور نبی غلام احمد قادیانی ہے، نہ کہ حضور علیہ السلام۔ تاکہ جو بات کل قیامت کو کھلنی ہے آج ہی کھل جائے۔ لو ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا امام اور پیغمبر حق احمد مجتبیٰ آخر الزمان نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ ہم اسی کے نام سے اٹھیں گے اور جو لوگ ظہور عیسیٰ ابن مریم کے وقت ہوں گے وہ بھی حضورﷺ کے نام پر ہی اٹھیں گے۔ کیونکہ بحکم حدیث: ”لوکان موسى حيا لما وسعه الا اتباعی“ جب حضرت مسیح علیہ السلام خود حضورﷺ کے تابعدار ہو کر امت محمدیہ میں اٹھیں گے تو آپ کے تابعدار اہل اسلام کس طرح امت محمدیہ میں داخل ہو کر حضور علیہ السلام کے نام پر نہ اٹھیں گے؟

تحریفات نمبر ششم اور ربوہ

”لكل درجات مما عملوا (انعام) امنوا بالله ورسله ولا يفرق بين احد منهم (بقرۃ) وما اوتی موسى وعيسى (بقرۃ) واخرين منهم لما يلحقوا بهم (جمعۃ) وكنت عليهم شهيدا مادمت فيهم (نساء) واوينهما الى ربوة (مؤمنون) اذا اراد شيئا ان يقول له كن فيكون (یسین) ورسولا الى بنی اسرائيل (آل عمران) واذ قتلتم نفسا فادا ارتم فيها (بقرۃ) امه صديقه“

گیارہ آیات کو وفات مسیح علیہ السلام پر یوں چسپاں کرتے ہیں کہ آیت اوّل میں ہر ایک کے اعمال مقرر ہیں۔ اب عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا کام کیا کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہی کام کرتے ہیں جو تمہارے نزدیک ٨٧ سال روپوش ہو کر کشمیر میں کرتے رہے تھے۔ کیا وہاں کوئی تبلیغی نشان آپ دکھا سکتے ہیں؟ ہمارے نزدیک فرشتوں میں داخل ہو کر تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اور اپنی نبوت کا کام ختم کرچکے ہوئے ہیں۔ دوسری آیت میں بتاتے ہیں کہ مسلمان وہ ہیں جو انبیاء علیہم السلام کی حیات و ممات کو یکساں تسلیم کریں۔ تو پھر کیوں حضرت مسیح کو اب تک زندہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ کیا کوئی اور نبی بھی زندہ ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم انبیاء علیہم السلام کو منجانب اللہ ہونے میں سب کو یکساں مانتے ہیں۔ ورنہ حالات زندگی میں ان کو یکساں نہیں مان سکتے۔ کیونکہ ہر ایک کی سوانح حیات الگ الگ تھے۔ اب صرف سانحہ موت ہی کو لیجئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو کھڑے ہوئے آئی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام کو ١٤٠٠ سال کے بعد آئی تھی اور حضرت یوسف علیہ السلام کو مصر میں آئی تھی۔ خضر و الیاس علیہم السلام ابھی تک زندہ ہیں۔ اب خود ہی بتائیے کہ سانحہ وفات سب کا کیسے یکساں ہوا اور یہاں پر یہ وہم کرنا کہ ہم وفات مسیح کے قائل نہیں ہیں تو ہم آپ کو ہمیشہ کے لئے زندہ سمجھتے ہیں، بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک

صفحہ ٢٣٧

قیامت سے پہلے آپ بھی وفات پائیں گے۔ تیسری آیت میں وفات مسیح پر کوئی دلیل مذکور نہیں ہے اور اگر یہ وہم ہے کہ اس میں خلت کا لفظ آیا ہے تو اس کی بحث پہلے ہو چکی ہے۔ چوتھی آیت میں وفات مسیح کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں یہ مذکور ہے کہ حضور انورﷺ ان آئندہ نسلوں کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ جو ابھی تک امیین میں شامل نہیں ہوئیں۔ اگر یہ وہم ہے کہ اگر نزول مسیح حق ہوتا تو آخرین کے متعلق خدا تعالیٰ یوں بیان کرتا کہ وہ حضرت مسیح کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔ تو اس کا جواب یوں ہے کہ اگر اس میں نزول مسیح کا ذکر نہیں ہے تو حدوث مسیح قادیانی کا بھی ذکر نہیں ہے تو جس طریق سے مرزائی یہاں پر اپنے مسیح کو داخل کر سکتے ہیں۔ ہم بھی اسی طریق سے اپنے مسیح علیہ السلام کو داخل کرلیں گے۔ کیونکہ یہ اپنی اپنی دماغ سوزی کا نتیجہ ہے۔ ورنہ یہ آیت مضمون پیش کردہ میں سے کسی ایک کی بھی متحمل نہیں ہے۔ پانچویں آیت میں وفات مسیح کو یوں ثابت کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح بنی اسرائیل میں جب تک موجود رہے ہیں تو آپ کو ان کی شرارتوں کا علم تھا اور اگر نازل ہوں گے تو پھر آپ کو ان کی تثلیث کا علم ضرور ہی ہوگا۔ لیکن جب قیامت کو تثلیث کے متعلق سوال ہوگا تو آپ لاعلمی ظاہر کر دیں گے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو علم نہیں ہے اور نازل بھی نہ ہوں گے۔ ورنہ کیا معاذ اللہ خلاف واقع بیان دیں گے؟ اس کا جواب دو طریق پر ہے۔ اوّل یہ کہ شہید کا معنی مشاہدہ کرنے والا یہاں مراد نہیں ہے۔ بلکہ رقیب یا مخبر کے معنی میں یہ لفظ استعمال ہے۔ جیسا کہ: ”لتکونوا شهداء علیهم“ میں امت محمدیہ کو امم سابقہ پر شہید علیہم کہا گیا ہے۔ جس کا معنی صرف یہی ہے کہ ہم ان کے خلاف مخبر ہوکر ان کی تکذیب کریں گے اور کہیں گے کہ یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی نہیں آئے۔ بلکہ ضرور آئے ہیں اور ہم اس امر کی تصدیق کرتے ہیں اور اس بات کو اپنے ذمہ لیتے ہیں۔ لیکن حضرت مسیح علیہ السلام تثلیث کے متعلق اپنے آپ کو بالکل الگ رکھ کر غیر جانبدار رہنا پسند کریں گے۔ کیونکہ جب آپ کو تثلیث کا علم ہوتا تھا تو آپ لوگوں کو منع کرتے تھے۔ رفع کے بعد حواریوں کے ذریعہ تثلیث کا عقیدہ محکم ہو گیا تھا۔ اس لئے اس کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوگی۔ اب آپ کا جواب درست ہوگا کہ تثلیث کا مسئلہ میری ذمہ داری سے باہر ہے۔ ہاں اگر میں نے کہا ہوتا یا میں معلوم کرکے ان کو نہ روکتا تو میری ذمہ داری مخدوش ہو سکتی تھی۔ دوسرا طریق جواب یہ ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کشمیر میں ٨٧ سال روپوش رہے ہیں اور کشمیری اقوام بھی ان کے نزدیک یہودی ہیں اور مسیح کی بھیڑیں ہیں۔ جن کو آپ سمجھانے آئے تھے تو آپ ایک سو بیس سال بنی اسرائیل میں ہی رہے۔ اب اگر شہید کا معنی ”عالم بالاحوال“

صفحہ ٢٣٨

کیا جائے تو پھر بھی یہ کہنا صحیح نہیں ہو سکتا کہ جب تک میں ان میں رہا تو ان سے باخبر رہا۔ کیونکہ ٨٧ سال ان کی بے خبری اور روپوشی کا زمانہ ہے۔ اب اگر حیات مسیح علیہ السلام مان کر یہ جواب صحیح نہیں بن سکتا تو وفات مسیح مان کر بھی صحیح نہیں بن سکتا۔ چھٹی آیت میں ربوہ کا معنی کشمیر لے کر وفات مسیح ثابت کی گئی ہے کہ ماں بیٹا دونوں کشمیر میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک حسب تحقیق تواریخ اسلام ربوہ سے مراد مصر کا وہ گاؤں ہے کہ جہاں آپ کی ولادت ہوئی تھی اور ہیرودس اکبر کے ظلم سے بھاگ کر پناہ گزین ہوئے تھے اور کشمیر کو جائے پناہ بنانا تواریخ اسلامی کے خلاف ہے۔ کیونکہ آپ کی والدہ مریم جلیل میں رہی ہے اور اگر ربوہ سے مراد کشمیر ہی ہے تو آوینا سے وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ ”ماوی و ملجا“ انسان کے لئے وہ جگہ ہوتی ہے کہ جہاں خطرات سے بچ کر پناہ لے۔ اب اگر کشمیر کو بالفرض آپ کی جائے پناہ سمجھا جائے تو صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ ماں بیٹا وہاں بچ کر نکل آئے تھے اور یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں مر بھی گئے تھے۔ مرنے کے وقوعہ کو یہاں پر شامل کر لینا خلاف قرآن یا قرآن پر زیادتی ہوگی۔ اس لئے اس آیت سے وفات مسیح کو ثابت کرنا غلط ہوگا۔ ساتویں آیت میں ایجاد امر کا ذکر ہے کہ خدا تعالیٰ جب چاہتے ہیں تو کن کہہ کر پیدا کر لیتے ہیں۔ ورنہ حیات ووفات مسیح کا کوئی ذکر نہیں ہے اور اگر یوں کہا جائے کہ مرزا قادیانی نے یہ مسئلہ ایجاد کیا ہے اور یہ خدا کے حکم سے ہوا ہے تو ہم یوں کہیں گے کہ حیات مسیح کا مسئلہ اس سے پہلے ایجاد ہو چکا ہوا ہے۔ اس لئے ”لا تبديل لخلق اللہ“ کے رو سے یہ تبدیل نہیں ہو سکتا اور مرزا قادیانی کو دھوکہ لگا ہوا ہے کہ خدا کے حکم سے وفات مسیح کا مسئلہ ایجاد ہوا ہے۔ کیونکہ خدا کے احکام میں اختلاف نہیں ہوا کرتا۔ اٹھویں آیت میں یہ بیان ہے کہ حضرت مسیح یہودیوں کی طرف رسول ہو کر آئے تھے۔ محرفین کا خیال ہے کہ نزول مسیح اگر صحیح ہو تو یوں کہنا پڑتا ہے کہ آپ امت محمدیہ کی طرف بھی رسول ہو کر آئیں گے؟ اور یہ خلاف قرآن ہے اور اگر یوں کہا جائے کہ آپ اس وقت رسول نہیں ہوں گے تو ہم پوچھتے ہیں کہ آپ کی رسالت کیوں جاتی رہے گی؟ مگر اہل اسلام اس کا جواب یوں دیتے ہیں کہ یہی آیت ثابت کر رہی ہے کہ آپ نے تبلیغ رسالت کا کام صرف یہودیوں سے متعلق رکھا تھا۔ آپ انہی کے رسول ہیں۔ پھر انہی کی طرف بحکم احادیث ظاہر ہو کر آئیں گے۔ مگر چونکہ اس وقت آپ کی شریعت منسوخ ہو چکی ہوگی۔ اس لئے شریعت محمدیہ کے ماتحت تبلیغ توحید کریں گے اور یہ تبلیغ بحیثیت امت محمدیہ میں داخل ہونے کے ہوگی۔ جیسا کہ پہلے بار بار مذکور ہو چکا ہے۔ نویں آیت میں محرفین نے یہ مفہوم گھڑا ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہودیوں سے کہا تھا کہ ارے یہودیو! تم نے حضرت مسیح کو

صفحہ ٢٣٩

مار ڈالنے کا ارادہ کیا تھا تو تمہارا آپس میں جھگڑا پڑ گیا تھا۔ کیونکہ تم اسے نہیں مار سکے تھے اور وہ نیم مردہ ہو کر تم کو مقتول نظر آیا تھا اور لوگوں نے اسے اتار کر اسے اچھا کر لیا تھا اور کشمیر کو بھاگ گیا تھا اور تم کو یقین ہو گیا تھا کہ تم اس کو نہیں مار سکے۔ مگر تم دیدہ دانستہ اس واقعہ کو چھپاتے تھے تاکہ تم اپنے آپ کو اپنے ارادوں میں کامیاب ظاہر کر سکو۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ اس راز کو طشت از بام کر دے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کی زبان سے اس کی ساری قلعی کھول دی گئی۔ ”والله مخرج ما كنتم تكتمون“ کا اشارہ اسی طرف ہے۔ چنانچہ آپ نے بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے حکم قہری کے ذریعہ سے یہود کو حکم دیا تھا کہ تم حضرت مسیح کو صلیب پر پورا قتل نہ کرو۔ بلکہ کچھ قتل کر کے چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ چلے گئے اور حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہو گئے۔ ”فقلنا اضربوه ببعضها“ کا اشارہ اسی طرف ہے۔ ”كذالك يحيى الله الموتى“ میں اشارہ ہے کہ اسی طرح کی حکمت عملیوں سے خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو موت سے بچایا کرتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تحریف قرآنی یہودیوں سے بھی بڑھ کر ہے اور ہمارے لئے کافی ثبوت ہے کہ مرزائی اپنے خیالات کے ماتحت قرآن کی تحریف میں منہمک رہتے ہیں اور عملاً اسلامی روایات کو ملیا میٹ کر دیا کرتے ہیں۔ گویا وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی عقائد، اسلامی روایات، اسلامی تصریحات اور اسلامی مسلمات کو مٹا کر ایک نیا مذہب گھڑا جائے کہ جس کا نام تو اسلام ہی ہو۔ مگر اس کی روح ازالہ اوہام اور براہین احمدیہ کے الہامات ہوں اور بقول شخصے ان کا قرآن براہین احمدیہ ہے اور ازالۃ الاوہام یا توضیح المرام اور دوسری کتب احادیث رسول ہیں۔ اربعین کے چاروں نمبر ان کی بائبل ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو ان کا تعلق اسلام سے قطعی نہیں ہے اور ہمارے نبی کو امام نہیں مانتے۔ جس طرح کہ اہل اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء کو نبی تو مانتے ہیں۔ مگر اپنا امام نہیں مانتے۔ اسی طرح ان کا امام مرزا قادیانی ہیں۔ ان کی شریعت ہی ان کا دستور العمل ہے۔ ورنہ ہمارے نبی کی شریعت شرائع قدیمہ منسوخہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اس واسطے مرزا قادیانی ہم کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ بلکہ رسمی مسلمان کا لقب دیتے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم میں اسلام کا نشان موجود ہے۔ ورنہ خود اسلام موجود نہیں ہے۔

چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد

دسویں آیت اور گیارہویں آیت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ حضرت مسیح علیہ السلام بازاروں میں پھرتے تھے اور آپ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے اور ضرور مر بھی گئے ہوں گے۔ ورنہ بتاؤ کہ جو ایسا ہوا ابھی تک نہیں مرا۔ جواب میں گذارش ہے کہ یہ دونوں آیتیں

صفحہ ٢٤٠

”ماقبل وما بعد“ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے بیان کی گئی ہیں کہ اہل مکہ یوں کہتے تھے کہ خدا کا رسول فرشتہ ہونا چاہئے نہ یہ کہ ہماری طرح عوارض انسانی میں مبتلا ہو تو اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ انبیاء سابقین تمام بشر تھے۔ ان میں سے کوئی بھی فرشتہ نہ تھا اور عوارض انسانی مبتلا تھے۔ موت وحیات کا سلسلہ بھی ان سے بھی وابستہ تھا۔ چنانچہ جس طرح وہ اپنے اپنے وقت میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح اپنے اپنے وقت مقررہ پر وفات پائیں گے۔ یہ مطلب چھوڑ کر مرزائیوں نے حیات وممات مسیح کا مضمون یہاں پر چھیڑ دیا ہے اور ذہن میں یہ خیال جما رکھا ہے کہ حیات مسیح کا یہ معنی ہے کہ آپ کی وفات واقع نہ ہوگی اور آپ قیامت تک بھی نہ مریں گے اور یہی غلط خیال پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ ورنہ اگر تبلیغ کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کرتے کہ اسلام میں نزول کے بعد وفات مسیح کو تسلیم کیا گیا ہے تو سارا جھگڑا ہی جاتا رہتا۔ مگر ایسے استاد کاروں سے کب امید ہو سکتی ہے کہ اسلامی رواداری میں ایک لفظ بھی کہیں۔

تحریف نمبر ہفتم اور بہائی

قرآن شریف کے معانی اختراع کرنے میں مرزائیوں نے بابی مذہب کی پیروی اختیار کی ہے۔ ابوالبرکات بابی اپنی کتاب التوضیح میں لکھتے ہیں کہ پیشین گوئی کا اصل مطلب امام آخر الزمان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ہے اور علمائے ظاہری سے ان کا اصل مقصد پوشیدہ رکھا گیا ہے اور قرآن شریف میں یہ مضمون صاف لکھا ہوا ہے کہ امام آخر الزمان کی شریعت سے شریعت محمدی منسوخ ہو جائے گی۔ چنانچہ ارشاد ہے کہ: ”اذا السماء انشقت“ کہ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ احکام وارکان اسلامیہ قدیمہ ایسے بے اثر ہو جائیں گے کہ ان سے نور ایمان حاصل نہ ہوگا اور نہ ہی ان سے دیانتداری اور خلوص نیت پیدا ہوں گے۔ ”النجوم انکدرت“ آئمہ اسلام کے وعظ اور بیانات غیرمؤثر ہو جائیں گے۔ کیونکہ امام آخر الزمان سے بیگانگی پیدا ہو جائے گی۔ ”فلا اقسم بالخنس الجوار الکنس“ سے مراد امام الزمان ہیں جو غائب ہو کر ظاہر ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ہدایت پاتے ہیں اور کچھ لوگ گمراہ ہو جاتے ہیں۔ ”یوم ینادی المناد من مکان قریب“ امام آخر الزمان جبل کرمل سے اعلان نبوت کریں گے جو بیت المقدس کے قریب ہے۔ علی ہذا القیاس مرزائی مفسر بھی قرآن شریف کے وہ معانی ”متبادر اور یقینی سمجھے“ ہیں جو ان کے امام الزمان مرزا قادیانی نے بیان کئے ہوں۔ یا آپ کی رائے سے اتفاق رکھتے ہوں۔ جیسا کہ: ”اذا زلزلت الارض زلزالہا“ دنیا میں ایک زلزلہ آئے گا۔ ”واخرجت الارض اثقالہا“ زمین سے معدنیات کوئلے وغیرہ نکال دے گی۔ ”یومئذ تحدث اخبارہا“ مطبع کے ذریعہ اخبارات جاری ہوا یومئذن الحق “ اور احقا الآیہ “ سے معلوم ہوتا ہے ”واذالکواکب انتثرت‘ محکمہ انہار جاری ہوگا۔ ”واذا جائے گی۔ ”اذا العشار عع ”واذا الوحوش حشرن اور مغربی مخلوقات مخلوط ہو جائیں مقدمہ چلا جائے گا۔ ”اذا الس کشطت “ آسمانی موجودات کارخانے چلیں گے۔ ”اذا ال نفس ما قدمت واخرت کشتیاں مراد ہیں۔ ”واللیل نئی روشنی ظاہر ہوگی تو رسول کری وحی پر یقین رکھنے والے اور م یہ چند تحریفی نمون جائے کہ ہر ایک اسلامی خیالا گوئیوں کے مطابق کرتے ہی کہتے ہیں کہ حالات اسلام پ تعیش ہے اور اسی میں قرآن حقیقت صرف دنیاوی رنج وا آ رہا ہے۔ اسی قدر مرزائی او دیتے ہیں۔ ان قرائن سے م موزوں اتحاد اور نامناسب ہ اپنے اسلام پر قائم رہنا چاہئے

(ازالہ ص ١٠٠، ١٣٥

صفحہ ٢٤١

کے ذریعہ اخبارات جاری ہوں گے اور فون کے ذریعہ جمادات باتیں کریں گے۔ ”والوزن یومئذن الحق“ اور امتحانات میں اعمال کا وزن ہوگا۔ جیسا کہ: ”ومن یعمل مثقال الآیه‌“ سے معلوم ہوتا ہے۔ ”اذا لسماء انفطرت“ آسمان کو غیر مجسم مانا جائے گا۔ ”واذالکواکب انتثرت“ ستارے پھٹ کر منتشر ہو جائیں گے۔ ”واذالبحار سجرت“ محکمہ انہار جاری ہوگا۔ ”واذا لقـبور لعبثرت“ پرانی قبروں کی کھدائی مصر وغیرہ میں شروع ہو جائے گی۔ ”اذا العشار عطلت“ ریل گاڑی کی وجہ سے اونٹ لادنے کی ضرورت نہ رہے گی۔ ”واذا الوحوش حشرت“ چڑیا گھر بن جائیں گے۔ ”واذا النفوس زوجت“ مشرقی اور مغربی مخلوقات مخلوط ہو جائیں گی۔ ”اذا الموؤدة سئلت“ دختر کشی بند ہو جائے گی اور اس پر مقدمہ چلا جائے گا۔ ”اذا الصحف نشرت“ اخبارات شائع ہوں گے۔ ”اذا السماء کشطت“ آسمانی موجودات کو خوب تحقیق کیا جائے گا۔ ”واذ الجحیم سعرت“ آگ سے کارخانے چلیں گے۔ ”اذا الجنة از لفت“ امام الزمان کی بیعت کا زمانہ مراد ہے۔ ”علمت نفس ما قدمت واخرت“ نتائج امتحانی مراد ہیں۔ ”الخنس الجوار الكنس“ آبدوز کشتیاں مراد ہیں۔ ”واللیل اذا عسعس“ جہالت چلی جائے گی۔ ”والصبح اذا تنفس“ نئی روشنی ظاہر ہوگی تو رسول کریم مرزا قادیانی کا ظہور ہوگا۔ ”وبالآخرة هم یوقنون“ آخری وحی پر یقین رکھنے والے اور مرزا قادیانی کو آخرالانبیاء ماننے والے ہی ایماندار ہیں۔

یہ چند تحریفی نمونے اس لئے پیش کئے گئے ہیں تاکہ بہائی اور مرزائی کا مذہب معلوم ہو جائے کہ ہر ایک اسلامی خیالات اور اسلامی تحقیقات چھوڑ کر اپنے اپنے بانی مذہب کو قرآنی پیشین گوئیوں کے مطابق کرتے ہیں۔ جو انہوں نے اسلام چھوڑ کر گھڑ لی ہیں اور بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ حالات اسلام میں بہشت کے متعلق پیش کئے گئے ہیں۔ ان سے مراد زمانہ حال کا تعیش ہے اور اسی میں قرآن کی صداقت کا راز مضمر سمجھتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک جنت و نار کی حقیقت صرف دنیاوی رنج و راحت ہے اور زمانہ حال جس قدر مذہب چھوڑ کر دہریت کی طرف آرہا ہے۔ اسی قدر مرزائی اور بہائی خوش ہوتے ہیں اور اپنے اپنے امام کی صداقت کا نشان قرار دیتے ہیں۔ ان قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے امام ترک مذہب، تعیش، ناجائز محبت، غیر موزوں اتحاد اور نامناسب مساوات ہی سکھلانے آئے تھے۔ اس لئے مسلمانان زمانہ حال کو اپنے اسلام پر قائم رہنا چاہئے اور ایسے تارکین اسلام سے پرہیز واجب ہے۔

(ازالہ ص١٠٠، ١٣٥، خزائن ج٣ص١٥٥، ١٥٦) سورة القدر کی تحریف کی ہے کہ خدائی کام

صفحہ ٢٤٢

لیلۃ القدر میں ہی ہوتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کو نبوت بھی اسی رات ملی تھی اور اسی عظیم الشان رات میں نبی نزول فرماتا ہے۔ ”تنزل الروح“ اس کے بعد سورۃ بینہ میں اس کی مثال بیان کی ہے کہ اہل کتاب سخت بلاؤں میں مبتلا تھے۔ نجات دینے کو فرشتوں کے ساتھ حضورﷺ نازل ہوئے۔ اس کے بعد سورہ زلزال نازل کی۔ جس میں مسیح قادیانی کے نزول کا بیان یوں ہے کہ دماغی زمین سخت جوش کھائے گی۔ ”اذا زلزلت“ اور جو خیالات ملکیہ یا بہیمیہ ان میں بھرے پڑے ہیں سب نکل آئیں گے اور دلی خیالات ظاہر ہوں گے۔ ”اخرجت“ اور جب اچھے برے خیالات انتہاء تک پہنچ جائیں گے تو خدا رسیدہ لوگ کہیں گے کہ یہ انسانی کام نہیں ہے۔ خدا کی قدرت ہی کا ظہور ہو رہا ہے۔ ”اوحی“ اب لوگ دو گروہ مرزائی اور غیر مرزائی ہو جائیں گے۔ غیر مرزائی دنیا پرست اپنے نتائج بداعمال سے پائیں گے اور مرزائی خدا پرست اپنے نیک اعمال کا بدلہ اپنی آنکھ سے دیکھ لیں گے۔ ”نباء عظیم“ کے مطابق یہی تفسیر ہے اور جو تشریح مفسرین اسلام نے لکھی ہے۔ بالکل غلط ہے۔ یہ مرزا قادیانی کا ایمان ہے۔ حالانکہ جو تفسیر اسلام نے کی ہے تو ابن جریر اور ابن کثیر نے اس کی سند حضور انورﷺ تک پہنچائی ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی تفسیر خود حضورﷺ کی فرمائی ہوئی تفسیر ہے اور یہ دیکھئے مرزا قادیانی ہیں کہ اپنے آقاء کی تفسیر کو مسترد اور غلط کرتے ہیں اور ساتھ ہی غلام آبق کا دعویٰ بھی ہے۔

تحریفات نمبر ہشتم اور دجال معہ یاجوج ماجوج

قرآن شریف میں جو تحریفات انہوں نے کی ہیں۔ اس باب میں اور اس سے پہلے بابوں میں پیش کئے گئے ہیں۔ ناظرین خود اندازہ لگائیں کہ اسلام کو اندر ہی اندر سے کس طرح یہ لوگ چوہوں کی طرح کتر گئے ہیں۔ مرزا قادیانی بھی ان سے نالاں نظر آتے ہیں۔ چنانچہ اپنے (ازالہ ص ٧٦، خزائن ج ٣ ص ١٤٠) میں لکھتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا کہ علماء نے میرے گھر کو بدل دیا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں۔ میری پرستش گاہ میں ان کی ٹہوٹھیاں پیالیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح احادیث نبوی کو کتر رہے ہیں۔ مرزائی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے نزدیک ایسے لوگ غیر احمدی ہیں۔ مگر اہل تحقیق واقعات پر نظر ڈال کر مرزا قادیانی کو معذور سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ان کو اپنے الہام سمجھنے میں اجتہادی غلطی لگی تھی اور چونکہ غیر احمدی علماء کا داخلہ مرزا قادیانی کے معبد اور گھر میں کبھی نہیں ہوا۔ اس لئے ان سے مراد حسن امروہی، حکیم نور الدین، روشن علی وغیرہ ہیں کہ جنہوں نے تمام تحریفات کا بیڑہ اپنے سر پر اٹھایا ہوا ہے۔ ان کی کتابیں مسک عارف، شمس بازغہ اور نور الدین یا تفسیری نوٹ اصول مذہب قرار دی گئی ہیں اور ان کا خلاصہ

صفحہ ٢٤٣

مرزا قادیانی نے ازالہ اوہام وغیرہ میں الہامی رنگ میں ظاہر کیا ہے اور ان کے متبعین نے ان الہاموں پر استدلالی رنگ چڑھا کر اسلام جدید کی بنیاد کو پختہ کر دیا ہے۔ مگر ساتھ ہی یہ کہتے رہتے ہیں کہ جو شخص اسلام کی تعلیم کو بدلے یا قرآن مجید کے ایک حرف کو بھی ناقابل عمل سمجھے وہ کافر ہے۔ سچ ہے کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور ہوتے ہیں۔ ان منافقوں نے اسلام سارا ہی بدل ڈالا ہے اور پھر اسلام کو نہیں چھوڑتے۔ دیکھئے کیا کہتے ہیں۔ دابتہ الارض طاعونی کیڑے ہیں جو مرزا قادیانی کی تائید کے لئے بھیجے گئے تھے۔ یاجوج ماجوج انگریز اور روس ہیں ۔ کیونکہ اجیج آگ کو کہتے ہیں اور یہ لوگ آگ سے کارخانے چلاتے ہیں۔ (اب مرزائی بھی چلاتے ) ہیں کہ وہ بھی یاجوج ماجوج ہو گئے ہیں اور تاریخ سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان اقوام کے آباؤ اجداد کے نام یاجوج ماجوج ہیں اور پہاڑی علاقوں سے نکل کر بڑی سرعت کے ساتھ دنیا میں پھیل گئے ہیں۔ مگر جہاں پھلنا لکھا ہے وہاں ہی مسیح کی دعاء سے ان کی موت بھی بہت جلد لکھی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ مدعی مسیحیت خاک ہو گیا اور یاجوج ماجوج نہیں مرے۔ شاید طفل تسلی دینے کے لئے یوں کہہ دیں گے کہ روحانی طور پر مر چکے ہیں۔ اصحاب کہف بھی انگریز ہیں جو (کوٹھی) کہف میں رہتے ہیں۔ جس میں دھوپ اندر نہیں آ سکتی ہے۔ کتا بھی دروازے پر بیٹھا رہتا ہے اور خواب خرگوش سوتے ہیں اور نیند میں بھی ان کی آنکھ بند نہیں ہوتی۔ یا یوں کہو کہ تم ان کو ہادی خلق سمجھتے ہو۔ حالانکہ یہ گمراہ قوم ہے۔ تین سو سال تک جو لوگ غار میں پڑے تھے ان کے متعلق تحقیق جدید نے فیصلہ کیا ہے کہ جب وہ بھاگ کر غار میں داخل ہوئے تھے تو سلطان عصر نے غار کے دھانہ پر دیوار چنوا دی تھی اور آغاز اسلام میں ان کی ہڈیاں یورپ پہنچ چکی تھیں۔ دجال سے مراد قوم انگریز ہے۔ کیونکہ لغت میں اس کے معنی الرجال الکثیرون لکھا ہے۔ (غلام احمد ) بھی لغت کے رو سے حضور انورﷺ کا تابعدار ہوتا ہے۔ اس لئے تمام مسلمان مسیح بن گئے ہیں۔ ریل گاڑی اس قسم کا گدھا ہے کہ جس میں ساٹھ تک گاڑیاں ہوتی ہیں اور دونوں کانوں کے درمیان چالیس گز کے فاصلہ سے مراد یہی چالیس گاڑیاں ہیں۔ (سپیشل ٹرین چھوٹی ہوتی ہے اور مال گاڑی کے ڈبے سو تک بھی ہوتے ہیں۔ اب یہ چھوٹے گدھے اور لمبے گدھے کس کے لئے ہیں۔ یہ سب کچھ مانا مگر کہیں یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح بھی اسی خر دجال پر سواری کرے گا؟ یا ساری دنیا اس پر سواری کرے گی۔ اگر لکھا ہے تو ساری دنیا عموماً اور مرزائی خصوصاً دجال ہوں گے ) طوال الاذان یاجوج ماجوج کی صفت ہے۔ اس سے مراد تار برقی اور فون ہے۔ جس کے ذریعہ سے دور دراز کی باتیں سنی جاسکتی ہیں۔ مگر سنتے کون ہیں۔ اگر یہ خیال کیا جاوے تو مرزائی بھی یاجوج ماجوج ہیں۔

صفحہ ٢٤٤

یہ دجال خوب ہے کہ یاجوج ماجوج بھی خود ہی بن جاتا ہے اور اصحاب کہف بھی خود بن جاتا ہے۔ اب اس دجال نے دور دراز سے دیکھنے کا آلہ بھی تیار کر لیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ دجال نہیں ہے۔ ورنہ اس کی تیز نگاہ کا بھی ذکر ضرور ہوتا ہے۔ ایک صحابی نے دجال اور جساسہ کا ذکر کیا ہے۔ اس کے لفظ میں رایت کذا و کذا جس سے مراد یہ ہے کہ اس کو ایک خواب آتا تھا۔ (اب جہاں رایت ہوگا وہاں خواب ہی مراد ہوگا) انگریزی ٹوپی کا بیرونی دائرہ ک ف ر سے بنتا ہے جو دجال کی پیشانی پر رکھی گئی ہے اور ہر ایک خواندہ ناخواندہ اس علامت سے دجال کی شناخت کر سکتا ہے۔ (مگر یہ ٹوپی زمانہ وثنیت یورپ سے نکلی ہوئی ہے) اور آج مرزائی بھی پہنتے ہیں۔ اس لئے وہ دجال اور کافر ہیں۔ عین طافیہ انگریزوں کی مادی آنکھ ہے اور عین مسوخہ ان کی وہ بھی روحانی آنکھ ہے۔ یہ نہیں بتایا کہ وہ یہودیوں کا بادشاہ بھی ہوگا۔ شاید اس کی خاص رعیت مرزائی ہوں گے کہ جن میں بالخصوص وفات مسیح کا عقیدہ گھڑا گیا ہے۔

الایام القصار ریل کے اور جہاز کے ذریعہ سال کا راستہ ماہ میں اور ماہ کا راستہ ہفتہ میں اور ہفتہ کا راستہ ایک دن کا راستہ ایک گھنٹہ میں طے ہو سکتا ہے۔

تحریفات نمبر نہم اور نزول عیسیٰ علیہ السلام

”ینزل عیسیٰ بن مریم“ مرزا قادیانی پیدا ہوں گے۔ کیونکہ نزول باراں سے مراد وجود بارش ہوتا ہے۔ عیسیٰ نجات دینے والے کو کہتے ہیں اور بیعت مرزا موجب نجات ہے۔ مریم کے معنی عابدہ ہے۔ آپ کی والدہ نہایت صالح عبادت گزار تھی اور چونکہ آپ کا روحانی باپ مرشد کوئی نہ تھا۔ اس لئے بھی آپ ابن مریم بن گئے تھے۔ (اس عقدہ کشائی سے ہم بھی عیسیٰ بن مریم بن سکتے ہیں) ”حکماً“ مرزا قادیانی کو اختیار ہے کہ جس مسئلہ کو چاہیں لیں اور جسے چاہیں نہ لیں۔ (مگر پھر بھی دعویٰ ہے کہ ہم شریعت جدیدہ ناسخہ نہیں لائے) ”عدلاً“ اعتدال کی راہ (تعلیم مرزائی) نکالے گا۔ ”یقتل الدجال“ انگریزوں کے دجل و فریب سے لوگوں کو مطلع کرے گا۔ (کانگریس اس کام میں بازی جیت گئی ہے) ”یکسر الصلیب“ صلیبی مذہب کو مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ لکھ کر شکست دی ہے۔ (مگر جنگ مقدس میں آپ لاجواب ہو کر بددعاؤں کے کھوٹے ہتھیاروں پر اترے تھے اور بددعاء بھی پوری نہ ہوئی۔ براہین پر ناز تھا وہ بھی بعد کی تحریرات سے منسوخ ہوگئی) ”یقتل الخنزیر“ خنزیر صفت والوں کو مرزا قادیانی نے روحانی طور پر مار ڈالا ہے۔ (یہ خوب بہانہ ہے۔ ورنہ ولایت میں مرزائی بھی ان میں شامل ہوتے جاتے ہیں) ”یذوب الدجال“ مرزائیوں کو دیکھ کر انگریزی قوم خود بخود بھسم ہو جاتی ہے۔ لیکن

صفحہ ٢٤٥

مرزا قادیانی ہمیشہ شکر گزار رہے کہ خدا نے ان کو انگریزی عملداری میں پیدا کیا ہے۔ ”دمہ فی حربتہ “ انجام آتھم وغیرہ میں پادریوں کا خون ٹپکتا ہوا نظر آتا ہے۔ ”ینزل “ شرقی دمشق قادیان میں پیدا ہوگا۔ کیونکہ دمشق کا معنی جماعت کثیر ہے اور قادیان ہی ایک بڑا قصبہ ہے اور مرزا قادیانی کا گھر قادیان کے مشرقی جانب ہے اور ویسے ہی دمشق شہر سے قادیان مشرق میں واقع ہے۔ ”المنارة البيضاء “ مرزا قادیانی نے پیدا ہو کر اپنی مسجد میں ایک لمبا مینار بنوا ڈالا ہے یا یہ معنی ہے کہ منارہ (نورانی جگہ) خود قادیان ہے۔ ”بین مہروذتین“ مرزا قادیانی دو بیماریوں (مراق اور ذیابیطس ) میں مبتلا تھا۔ (تعجب ہے کہ کشف کو بھی خواب سمجھ کر دو زرد چادروں کو بیماریاں بنا ڈالا ہے ) ”واضعا یدیہ علی اجنحة ملکین “ حکیم امروہی اور حکیم بھیروی مرزا قادیانی کے تکیہ گاہ تھے۔ ان کے سہارے آپ نے مذہبی چالیں چلی تھیں ۔”طاطا راس قطر “ مرزا قادیانی کی تصویر میں قطرے ٹپکتے نظر آتے ہیں۔ (سوال یہ ہے کہ بوقت نزول یعنی پیدائش سر سے قطرے ٹپکتے تھے یا نہیں۔ اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی ) ”یقتل الدجال بباب لد “ لدھیانہ میں مرزا قادیانی نے عیسائی مذہب کا خاتمہ کر دیا ہے۔ (مولوی ثناء اللہ صاحب سے خطرہ ہے کہ کہیں اپنے اوپر یہ لفظ وارد نہ کر لیں) ”یحرز عباداللہ الی الطور“ قادیان میں مرزائیوں کو حیات وممات میں مرزا قادیانی نے جمع کر لیا ہے۔ (جمع کرنے والے مرگئے اور قوم ابھی تک ساری جمع نہ ہوئی) ”تضع الحرب اوزارھا“ مرزا قادیانی نے مذہبی لڑائی (جہاد) کے منسوخ ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ (اور ساتھ یہ دعویٰ ہے کہ میری شریعت جدیدہ اور ناسخ نہیں ہے ) ” یحیی المال فلا یقبلہ احد“ انعامی اشتہار مرزا قادیانی نے شائع کئے اور کسی نے انعام حاصل نہ کیا۔ ” یضع الجزیة “ آپ نے جزیہ کا مسئلہ بھی منسوخ کر دیا ہے۔ ” یجعل الملل ملة واحدة “ آپ نے تمام مذاہب کے اصلی مسائل کو اسلام ہی ثابت کیا ہے اور نانک کرشن رام اور زردشت وغیرہ کو ”مرسل من اللہ“ ثابت کیا ہے۔ ”یترک الصدقة “ آپ نے زکوٰۃ موقوف کر دی ہے اور اس کی بجائے ماہواری چندہ مقرر کر دیا ہے۔ جو چالیسویں حصہ کی بجائے دسویں حصہ تک وصول کیا جاتا ہے۔ ”تنزع حمة کل ذات حمة “ ایسی دوائیں نکل آئی ہیں کہ بچھو، سانپ لوگ ہاتھ میں لے کر کھیلتے رہتے ہیں۔ ” تقع الامانة علی الارض “ دنیا میں ہر طرح سے امن ہوگا اور انگریزوں کی عملداری میں ان سے سفر کیا جاتا ہے۔ ” توقع الاسود مع الابل والنهار مع البقر والذئاب مع الغنم “ سرکس میں شیر بکری ایک جگہ دکھائے جاتے ہیں۔ انگریزوں کی

صفحہ ٢٤٦

حکومت میں شیر بکری سے پیتی ہیں اور ویسے بھی مالدار اور مفلس کی پرورش یکساں ہوتی ہے۔ (اب یہ امر مشتبہ ہو گیا ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک یہ دجال کے اوصاف ہیں یا مسیح کے؟) ”یتوفی ویصلی علیہ المسلمون“ مرزا قادیانی مر گئے اور صرف مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا اور ثابت ہوا کہ اسلام مرزائیوں میں ہی ہے۔ باقی غیر احمدی سب کافر ہیں (اور وہ مرزائی بھی کافر ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے اور یا ان کو شرکت نماز جنازہ حاصل نہ ہوئی تھی) ”یرتفع التباغض“ بہائی تو کہتے ہیں کہ یورپ میں تو کمال اتحاد ہو رہا ہے۔ زن و مرد کمال خوشی سے ایک جگہ رہنے لگ گئے ہیں اور رفتہ رفتہ ساری دنیا میں اتحاد ہی اتحاد ہو جائے گا۔ مگر مرزائی کہتے ہیں کہ مرزائی آپس میں اتحاد قائم رکھتے ہیں اور غیر سے افتراق پیدا کرتے ہیں۔ (تاہم لاہوری اور قادیانی اختلاف تکفیر تک پہنچ کر بھی نہیں مٹا)

تحریفات نمبر دہم اور معراج نبی ﷺ

معراج نبوی کے متعلق اختلاف پہلے ہی موجود ہے کہ آیا وہ بیداری میں ہوا تھا یا خواب میں؟ مگر آگے چل کر اس بات پر دونوں فریق متفق ہو جاتے ہیں کہ جو کچھ آپ نے دیکھا ہے وہ حقیقی طور پر دیکھا ہے۔ لیکن مرزائی کہتے ہیں کہ آپ نے کوئی اصلی چیز نہیں دیکھی۔ صرف خیالی تصورات کا نقشہ آپ کے پیش ہوا تھا۔ اس واسطے حدیث معراج میں تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بروے قواعد تعبیر خواب بیت المقدس براق جبرئیل اور میکائیل کو دیکھنے سے مراد علی الترتیب عزت بزرگی فتح اور تبلیغ اسلام ہے۔ اسی طرح پہلے آسمان سے مراد مکی عمر ہے۔ دوسرے سے علم و حکمت، تیسرے سے عزوجاہ، چوتھے سے سلطنت، پانچویں سے قتال بالکفار، چھٹے سے عزت اور آبرو اور ہفتم سے کامل فتح یابی۔ رؤیت الہی سے قوت دین فتح باب السماء سے قبولیت دعاء نزول رب سے نصرت و مغفرت عرش سے عزت و جاہ کرسی سے علم لدنی، لوح محفوظ سے قبولیت کلام، سدرۃ المنتہی سے ایفائے وعدہ، شرح صدر سے علوم الہیہ، انہار سے ترقی دولت واقبال، جنت سے بشارت الہیہ، طوبی سے حصول مراد، شراب سے ذکر الہی، شہد سے علم و دانش، دودھ سے فطرت، مروارید سے حکمت قلب کو چیرنے سے مراد فہم و ادراک ہے۔ اسی طرح امامت انبیاء کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے ماتحت نبی آئیں گے۔ جن میں سے ایک مسیح قادیانی بھی ہے اور یہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے اہل جنت کی باتیں سنی تھیں۔ اس سے مراد ہے کہ عظیم الشان بڑے بڑے لوگ آپ کے ماتحت ہوں گے۔ علی ہذا القیاس ملاقات آدم علیہ السلام کی تعبیر بزرگی اور عظمت ہے۔ ملاقات عیسی سے حکمت و لیاقت کی طرف اشارہ ہے۔ ملاقات یحیی سے مراد توفیق

PDF 247

ی@PAGE ٢٤٧

ایزدی ہے اور زیارت یوسف سے مراد یہ ہے کہ آپ کے قریبی رشتہ دار آپ سے مخالفت کریں گے اور کسی الزام میں پھنسائیں گے۔ مگر آپ اس تہمت سے بری الذمہ ہوں گے۔ ملاقات ادریس سے مراد رفعت درجات ہے۔ ملاقات موسیٰ سے مراد یہ ہے کہ آپ کو اہل وعیال کے مصائب برداشت کرنے پڑیں گے اور ملاقات ملائکہ سے مراد یہ ہے کہ آپ کو ایسی سلطنت نصیب ہوگی۔ جس کے کارکنان داخلی و خارجی نہایت دیانتداری سے کام کریں گے۔ اگر مرزائی صوم وصلوٰۃ کی تعبیر بھی پابندی اور ورزش سے کر دیتے تو آج تمام دلدادگان تمدن یورپ ان کے زیر احسان ہو جاتے۔

اتہامات مرزائیہ

مرزائیوں کے نزدیک شاید یہ بھی کار ثواب ہے کہ اپنے مذہب کی تائید میں کبھی کسی مصنف کی عبارت کا اختصار اس طرح کرتے ہیں کہ دیکھنے والے کو یقین ہو جاتا ہے کہ واقعی مرزائیوں کا کہنا سچ ہے۔ کبھی ایسی تاویل کرتے ہیں کہ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس مصنف یا امام مذہب مخالف اہل السنّت والجماعت ہو کر مؤید مرزائیت ہے۔ کبھی یوں ہی کہہ دیتے ہیں کہ یہ لو اجماع صحابہ یا اجماع امت ہو گیا ہے۔ دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں کہ (مصرعہ) آنچہ بینم بہ بیداریست یا رب یا بخواب؟ اس موضوع کے متعلق ان کی استادیوں کے چند نمونے دکھلائے جاتے ہیں کہ ناظرین کسی دوسرے موقعہ پر ان کے فریب سے بچ سکیں۔

اتہام اوّل اور خطبہ صدیقیہ

مرزائی وفات مسیح کے متعلق لکھتے ہیں کہ حضور انورﷺ کی جب وفات ہوئی تو حضرت عمرؓ نے وفات سے انکار کر دیا تو حضرت ابوبکرؓ نے خطبہ پڑھا جس میں بااتفاق رائے صحابہؓ نے یہ تسلیم کر لیا کہ مسیح کی وفات ہو چکی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہؓ نے وفات مسیح پر اجماع نہیں کیا تھا اور نہ ہی حضرت ابوبکرؓ نے وفات مسیح کو وفات حضورﷺ کے لئے سند کے طور پر پیش کیا تھا۔ مواہب لدنّیہ باب وفات النبیﷺ میں یہ واقعہ یوں مذکور ہے کہ حضرت عائشہؓ فرماتی تھی کہ جب حضور اکرمﷺ کی وفات ہوئی تو صدیق اکبر سُنح سے تشریف لائے۔ (مدینہ کے پاس سُنح ایک بستی تھی کہ جس میں صدیق اکبرؓ کا سکونتی مکان تھا) تو آپ نے حضورﷺ کو دیکھ کر کہا کہ: ”بابی انت وامّی لا یجمع اللہ علیک موتتین“ ”میرے والدین آپ پر فدا ہوں۔ آپ پر دو موتیں خدا جمع نہ کرے گا۔ اس فقرہ سے مطلب یہ تھا کہ آپ کو ایک دفعہ وفات آ چکی ہے اور جو لوگ یوں کہتے ہیں کہ حضورﷺ دوبارہ دنیا میں آ کر مخالفین سے لڑیں گے غلط ہے۔ کیونکہ

صفحہ ٢٤٨

خدا تعالیٰ آپ کو ان لوگوں کی طرف دو دفعہ وفات نہیں دینا چاہتا۔ جو طاعون سے ڈر کر باہر غیر ممالک میں چلے گئے تھے یا اس نبی کی طرح جو جو بیت المقدس پر گزرا تھا تو ان کو موت آ گئی تھی اور پھر زندہ ہو گئے تھے۔ اصل واقعہ یوں ہے کہ حضورﷺ کی وفات سے لوگ سخت بے چین ہو گئے تھے اور روتے روتے ان کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔ حضرت عثمانؓ کی زبان بند ہو گئی تھی اور ایسے نڈھال ہو گئے تھے کہ لوگ پکڑ کر اٹھاتے بٹھاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن انیسؓ میں مطلق حس وحرکت کی طاقت نہیں رہی تھی اور اسی غم میں مر گئے تھے اور حضرت بلالؓ دیوانہ ہو گئے تھے۔ حضرت عمرؓ دیکھ کر یہ سمجھے ہوئے تھے کہ آپ پر غشی طاری ہو گئی ہے اور منافقوں نے آپ کی وفات کی خبر اڑا دی ہے۔ اس لئے آپ جوش میں آ کر تلوار ہاتھ میں لے کر پھرتے تھے کہ جو شخص حضورﷺ کی وفات کا قول کرے گا میں اسے مار ڈالوں گا۔ خدا کی قسم جب تک منافقوں کے ہاتھ پاؤں نہیں کاٹیں گے۔ آپ وفات نہیں پائیں گے۔ حضرت سالمؓ سے لوگوں نے کہا کہ حضرت ابوبکرؓ سے کہو کہ آپ کو سمجھائیں۔ کیونکہ آپ کے حواس قائم تھے۔ تو آپؓ نے مسجد میں خطبہ دیا جس میں آپؓ نے آیت پڑھی: ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل . انك ميت وانهم ميتون وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد“ پھر فرمایا کہ جو شخص حضورﷺ کو خدا سمجھ رہا تھا ان کو ان آیات کا مفہوم پیش نظر نہ تھا۔ دوسرے روز جب صدیق اکبرؓ کی بیعت ہوئی تو حضرت عمرؓ نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ کل جو کچھ میں نے کہا تھا غلط تھا۔ میرا خیال تھا کہ رسول خداﷺ ہم سب کے بعد وفات پائیں گے۔ مگر مجھے اس کا ثبوت قول خداوندی اور قول رسولﷺ میں نہیں ملا۔ ابو نصرؒ فرماتے ہیں کہ عمرؓ کا مطلب یہ تھا کہ حضورﷺ پر وفات نہیں آئی۔ (صرف غشی طاری ہے) اور کبھی نہیں وفات پائیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام کو تکمیل تک نہیں پہنچائیں گے اور منافقوں کا خاتمہ نہیں کریں گے۔ ازالۃ الخفاء میں ہے کہ حضرت عمرؓ یوں فرماتے تھے کہ: ”ان محمدا رفع کما رفع عیسٰی بن مریم وسیعود الینا حيا“ حضورﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح مرفوع ہو گئے ہیں اور ہماری طرف دوسری بار زندہ ہو کر آئیں گے۔ بعض روایات میں یوں ہے کہ حضرت عمرؓ کو یہ بات قرین قیاس معلوم نہ ہوئی کہ حضورﷺ تکمیل اسلام سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ یا آپؓ کو یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ حضورﷺ کی شان خدا تعالیٰ نے اس قدر بلند کی ہے کہ موت کا آنا ممکن نہیں ہے۔ ان دو نقلوں سے یہ ثابت ہوا کہ حیات مسیح کا عقیدہ صحابہ میں تسلیم شدہ اور یقینی تھا اور یہ بھی مانتے تھے کہ آپ مرفوع الی السماء ہیں اور یہ بھی فیصلہ ہو گیا کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کی غلط فہمی دور

کرنے میں آیات مکہ حضورﷺ سب کے آ صدیق اکبرؓ نے صرف چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ حالانکہ حضرت عمرؓ کہ تشریف لائیں گے۔ اتمام روم اور حضـ وفات کـ وفات مسیح کے قائل عباس میں آپ سے الكتاب الا لیـ چونکہ آپ الفقہ العـ یوں دیا گیا ہے کہ کو ”مميتك“ توفيتنى“ سے بلکہ صحاح ستہ میں میں لکھا ہے کہ یہ پر چڑھ گئے تھے کے نام پیش کرد ص٣٧٢، خزائن ج ہے۔ کیونکہ جوا بلکہ صحیح معنی یوں اہل کتاب کو حضـ مولویوں نے یہ اس حضرت

صفحہ ٢٤٩

کرنے میں آیات مذکورہ کے ساتھ یہ شبہ اٹھایا ہے کہ ایک رفیع الشان نبی کو موت نہیں آ سکتی یا یہ کہ حضورﷺ سب کے آخر وفات پائیں گے اور یہ ظاہر ہے کہ اس غلط فہمی کو دور کرنے میں حضرت صدیق اکبرؓ نے صرف یہ پیش کیا ہے کہ انبیاء سابقین پر وفات واقع ہوئی تھی اور یہ پیش نہیں کیا کہ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے تھے۔ اس لئے حضورﷺ بھی وفات پاچکے ہیں۔ حالانکہ حضرت عمرؓ کہہ رہے تھے کہ حضورﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ ہوکر واپس تشریف لائیں گے۔

اتہام دوم اور حضرت ابن عباسؓ

وفات مسیح پر استدلال پیش کرتے ہوئے یوں بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ وفات مسیح کے قائل تھے۔ کیونکہ آپ نے ”متوفیک“ کا معنی ”ممیتک“ سے کیا ہے۔ تفسیر عباسی میں آپ سے وفات کا قول ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے ”وان من اهل الکتاب الا لیؤمنن به قبل موته“ میں اہل کتاب کو ”موتہ“ کا مرجع بتایا ہے اور چونکہ آپ افقہ الناس تھے۔ اس لئے آپ کا قول وفات مسیح میں پختہ سند ہوگا۔ اس کا ثبوت یوں دیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی (ازالہ ص ٦٠١، خزائن ج ٣ ص ٦٠٦) میں لکھتے ہیں کہ: ”رافعک“ کو ”ممیتک“ سے پہلے سمجھنا تحریف قرآنی اور ترتیب قرآنی کو بگاڑنا ہے اور ”فلما توفیتنی“ سے مراد رفع لینا الحاد اور تحریف ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں اوّل سے اخیر تک بلکہ صحاح ستہ میں توفی بمعنی موت کا التزام کیا گیا ہے۔ پھر (ازالہ ص ٣٠٣، خزائن ج ٣ ص ٢٥٤) میں لکھا ہے کہ یہ کہنا نہایت لغو اور بے اصل بات ہے کہ مسیح علیہ السلام جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے اور اسی جسم خاکی کے ساتھ اتریں گے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو کم از کم سو صحابہ کے نام پیش کرو کہ جنہوں نے اس معنی پر اجماع کیا ہو۔ ایک دو کا نام مفید نہ ہوگا۔ (ازالہ ص ٣٧٢، خزائن ج ٣ ص ٢٩١ تلخیص) پر لکھا ہے کہ مفسرین نے ”لیؤمنن بہ“ کی تفسیر میں غلطی کی ہے۔ کیونکہ جو اہل کتاب نزول سے پہلے مرچکے ہوں گے وہ کیسے آپ پر ایمان لائیں گے۔ بلکہ صحیح معنی یوں ہے کہ ہر ایک اہل کتاب ایمان رکھتا ہے کہ ہم قتل مسیح میں متردد ہیں اور ایمان اہل کتاب کو حضرت مسیح علیہ السلام کی موت طبعی ماننے سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور بیوقوف مولویوں نے یہ بات نہیں سمجھی جو ہمیں بطریق الہام منکشف ہوئی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی زبان درازی کی یہ خوبی ہے کہ ایک جگہ تو حضرت ابن عباسؓ کو افقہ الناس کا خطاب دے کر یاد کرتے ہیں اور جب آپ کا حوالہ پیش کیا جاتا

صفحہ ٢٥٠

ہے تو دوسری جگہ محرف اور ملحد کا خطاب دے کر لغو گو بھی کہہ جاتے ہیں۔ ہاں سچ ہے کہ جب مرزا قادیانی کی بد زبانی سے حضرت مسیح جیسی پاک ہستی نہ بچ سکی تو ان کے مقابلہ میں حضرت ابن عباسؓ کی کیا وقعت ہو سکتی ہے اور مفسرین یا مولوی غلط گو یا بیوقوف ضرور ہی ٹھہریں گے۔

وكم من عائب قولا صحيحاً وآفته من الفهم السقيم

دماغ اپنا صحیح نہیں ہے۔ بیوقوف لوگ ہو گئے۔ مرزا قادیانی اگر اسلامی کتب کا مطالعہ کرتے تو امید تھی۔ کبھی اس جہل مرکب میں نہ پھنس جاتے۔ دیکھئے مفسر ابن جریر اپنی تحقیق میں یوں لکھتے ہیں کہ: ”قبل موتہ“ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ موت عیسیٰ سے پہلے عہد عیسیٰ کے اہل کتاب سب کے سب آپ کی تصدیق کریں گے اور کوئی بھی بغیر تصدیق کے نہیں رہے گا اور یہ روایت کہ ہر ایک اہل کتاب اپنی موت سے پہلے قرآن یا حضورﷺ کی تصدیق کرتا ہے اور مرتے وقت فوراً صداقت اسلام منکشف ہو جاتی ہے۔ اگرچہ تلوار سے اس کا سر کٹ جائے۔ یہ گو حضرت ابن عباسؓ وغیرہ سے منقول ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ کا مذہب وفات مسیح تھا یا یہ کہ دوسری روایت آپ سے صحیح نہیں ہے۔ بلکہ تحقیق شدہ بات یوں ہے کہ ابو ہریرہؓ اور ابن عباسؓ وغیرہ کا مذہب یہی ہے کہ حضرت مسیح زندہ ہیں۔ (جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکا ہے) مگر ساتھ ہی حضرت ابن عباسؓ کا یہ بھی خیال ہے کہ موتہ کا مرجع اہل کتاب بھی بن سکتا ہے نہ یہ کہ اہل کتاب ہی اس کا مرجع ہیں۔ (حضرت مسیح مرجع نہیں ہیں) اس قسم کی روایات کو محاورات یومیہ کہتے ہیں اور ان سے مراد صرف توسیع خیالات ہوتی ہے۔ تعین مذہب مراد نہیں ہوتی۔ اگر آپ نے حضرت ابن عباسؓ کا مذہب دیکھنا ہو تو یہ دیکھئے۔

کے صاحب اولاد ہوں گے۔ آپ کی شادی قوم شعیب میں ہوگی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سسرال ہیں۔ ان کو بنی جذام کہتے ہیں (مرزا قادیانی مسیح ہونے کے بعد شادی نہیں کر سکے اور جن سے شادی کا ارادہ کیا وہ بھی بیگمہ خانی مغل تھے)

فانهم عبادك“ کی تشریح یوں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کو یوں عرض کریں گے کہ یا اللہ اگر تو اہل کتاب کو عذاب دینا چاہتا ہے تو ان کو کوئی عذر نہیں ہے۔ کیونکہ انہوں نے شرک کیا تھا اور اگر تو ان میں سے ان لوگوں کو بخش دے جو میرے عہد میں شرک چھوڑ کر میری درازی عمر اور نزول من السماء الی الارض پر ایمان لے آئے ہیں تو مستحق مغفرت ہیں۔ کیونکہ تو غفور رحیم ہے۔

صفحہ ٢٥١

السلام ہیں۔ کیونکہ ”ماقبل وما بعد “ میں آپ ہی کا ذکر ہے۔ حضرت ابن عباسؓ، ابوہریرہؓ، ابوالعالیہؒ، ابن مالکؒ، عکرمہؒ، حسنؒ، قتادہؒ اور ضحاک وغیرہم نے حضورﷺ سے روایت کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام قیامت سے پہلے نزول فرمائیں گے۔ ان تصریحات نے فیصلہ کردیا کہ ابن عباسؓ کی اصلی رائے یہی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور جو کچھ توفی کے متعلق موت وغیرہ کا معنی کیا ہے وہ آپ کا مذہب نہیں ہے۔ صرف احتمال عقلی کے طور پر آپ نے بیان کیا ہے کہ یہ بھی معنی ہو سکتا ہے اور دوسرے معنی کی نفی نہیں کی۔ باقی رہا تقدیم وتاخیر کا مسئلہ۔ سو وہ بھی اسلام میں تسلیم شدہ امر ہے۔ جس سے مرزا قادیانی خود غافل تھے۔ کیونکہ اگر قرآن شریف کو آپ غور سے مطالعہ کرتے تو آپ کو کئی جگہ پر تقدیم وتاخیر کا پتہ لگ جاتا۔ اسی طرح اگر آپ اتقان فی علوم القرآن ہی اٹھا کر دیکھ لیتے تو آپ کو معلوم ہو جاتا کہ کس کس جگہ قرآن شریف میں تقدیم وتاخیر لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ”قالوا ارنا اللہ جہرۃ فلا تعجبک اموالہم ولا اولادہم انما یرید اللہ لیعذبہم فی الحیوۃ الدنیا۔ انزل علیٰ عبدہ الکتاب ولم یجعل لہ عوجا قیما “ میں ابن عباسؓ نے ”جہرۃ “ کا تعلق ”قالوا“ کے ساتھ بتایا ہے۔ ”فی الحیوۃ الدنیا “ کا تعلق ”لا تعجبک “ سے اور ”قیما“ کا تعلق ”عوجاً الکتاب “ سے۔

اسی طرح قتادہؒ سے مروی ہے کہ: ”انی متوفیک ورافعک “ میں اصل یوں ہے۔ ”انی رافعک ومتوفیک “ اور ”لہم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب “ میں اصل ”یوم الحساب بما نسوا “ ہے اور اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں کمزوری ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ انسانی دماغ کو اصل مفہوم سمجھنے کے لئے یوں نقشہ جمانا پڑتا ہے۔ تاکہ اصل مطلب میں شبہ نہ پڑے۔ کیونکہ ”فصحاء“ کا کلام عوام الناس کی طرز تحریر سے بالا تر ہوتا ہے۔

پس اگر ابن عباسؓ سے تقدیم وتاخیر مروی ہے تو کون سی بڑی بات ہوگی۔ تفسیر در منثور میں یہی ملحوظ رکھ کر یوں تشریح کی گئی ہے کہ: ”اخرج اسحاق ابن بشیر وابن عساکر من طریق جویبر عن الضحاک عن ابن عباسؓ رافعک ثم متوفیک فی آخر الزمان “ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن عباسؓ کے نزدیک حیات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ صحیح ہے اور ”و“ حرف عطف میں چونکہ یہ جائز ہوتا ہے کہ مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم بیان کیا جائے۔ اس لئے قرآنی موجودہ ترتیب بھی درست رہی اور حیات مسیح کا مسئلہ بھی صحیح ہو گیا اور قول بالتقدیم والتاخیر سے یہ سمجھنا کہ قرآنی ترتیب الفاظ میں تحریف ہے۔ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ ”و“ حرف عطف کے موقعہ پر

صفحہ ٢٥٢

قرآن شریف میں متعدد جگہ میں ایسا ہوا ہے اور محاورات کے رو سے صحیح ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ علی بن ابی طلحہ کی روایت سے ابن عباس کا قول پیش کرنا مخدوش ہے۔ کیونکہ قسطلانی کا قول ہے کہ علی اور ابن عباس کی ملاقات ثابت نہیں ہے۔ تقریب میں ہے کہ یہ شہر حمص میں رہتا تھا۔ اس نے ابن عباس کو نہیں دیکھا۔ گو صادق ہے مگر کبھی غلطی کر جاتا ہے۔ خلاصہ میں ہے کہ امام احمد کا قول ہے کہ وہ منکرات روایت کرتا تھا۔ دحیم کا قول ہے کہ اس نے ابن عباس سے تفسیر نہیں سنی۔ اب اگر ان عبارات کا خیال کیا جائے تو ابن عباس سے توفی بمعنی موت کا ثبوت مشکل ہو جائے گا۔

اتہام سوم اور حضرت عائشہؓ وابن عمرؓ

حضرت عائشہؓ اور ابن عمرؓ سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے کہ جس سال حضورﷺ وفات پاتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام اس سے پہلے سال میں ایک دفعہ قرآن شریف کا تکرار کرتے تھے۔ اب کی دفعہ دو دفعہ تکرار کیا ہے۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں ساتھ سال کے عمر میں دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں۔ کیونکہ جو نبی آیا ہے اس نے پہلے نبی سے نصف عمر پائی ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک سو بیس سال زندہ رہے ہیں۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔ ورنہ اصول پیش کردہ کے کوئی معنی نہیں ہوسکتے اور حدیث طبرانی اور مستدرک نے روایت کی ہے اور کہا ہے کہ: ”رجالہ ثقات ولہ طرق“ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ اولاً اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اگر نبی تھے تو آپ کی عمر تیس سال ہونی چاہئے تھی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ٧٦ سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں اور اس معیار کے مطابق نبی ثابت نہیں ہوسکے۔ ثانیاً اس معیار کو جب اوپر سلسلہ انبیاء میں جاری کیا جائے تو کسی سلسلہ نبوت میں بھی یہ معیار عمر جاری نہیں ہوسکتا۔ ورنہ لازم آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر سب سے لمبی ہونی چاہئے تھی اور حضرت نوح علیہ السلام کی عمر چھوٹی ہوتی۔ تاکہ تناسب قائم رہتا۔ مگر حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ١٠٥٠ سال ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ٩٣٠ سال ہے۔ ثالثاً اس حدیث میں لفظ عاش مذکور ہوا ہے۔ جس کے معنی صرف زندگی بسر کرنے کے ہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ ابھی کچھ عمر حضرت مسیح علیہ السلام کی باقی ہو۔ کیونکہ یہ عمر واقعہ صلیب سے پہلے کی ہے۔ اس کے بعد مات مذکور نہیں ہوا۔ رابعاً ممکن ہے کہ اس روایت میں آپ کی تمام عمر قبل رفع اور بعد نزول کو جمع کیا گیا ہو۔ کیونکہ دوسری روایات میں آپ کی عمر عند الرفع اسی سال یا اس کے قریب معلوم ہوتی ہے اور نزول کے بعد کی عمر چالیس مذکور ہوئی ہے اور سب ملا کر ١٢٠ سال ہوتے ہیں۔ خامساً اس حدیث میں یوں وارد ہوا ہے کہ: ”ان عیسٰی عاش

صفحہ ٢٥٣

عشرین ومائة سنة “اور اصول نحویہ اور فصاحت کے مطابق چھوٹا اسم عدد بعد میں آنا چاہئے تھا۔ تاکہ عبارت یوں ہوتی کہ:”أن عیسیٰ عاش مائة وعشرين سنة “اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کمزور فقرہ حضورﷺ کی زبان فصیح سے نہیں نکلا۔ سادساً یہ حدیث دوسری روایات صحیحہ کے خلاف اور معارض ہے۔ کیونکہ اسی طبرانی کی روایت علامہ سیوطی نے بدور سافرہ میں یوں نقل کی ہے کہ جب اہل جنت بہشت میں داخل ہوں گے تو ان کا قد وقامت حضرت آدم علیہ السلام کے برابر ہوگا۔ حسن حضرت یوسف علیہ السلام کے برابر، عمر میلاد مسیح یعنی ٣٣ کے برابر ہوگی اور ان کی زبان عربی (لسان محمدؐ) ہوگی۔ (تنبیہ الغافلین، فتاویٰ حدیثیہ، ص ٥ مشارق الانوار ص ١٧٠، حاوی الفتاوی ج ٢ ص ١٣٥، ابن کثیر ج ٩ ص ١٣٥، الطبقات الکبریٰ ج ١ ص ٤٦) میں مذکور ہے کہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ عندالرفع آپ کی عمر ساڑھے بتیس سال تھی اور آپ صرف چند ماہ نبی رہے۔ ”وقد رفع الله مع الجسم وهو حى الى الله ويرجع الى الدنيا فيصير ملكا ثم يموت“ تاریخ (ابن جریر ج ٢ ص ١٧٠) میں آپ کی عمر عندالرفع ابن عباسؓ کے نزدیک ٣٢ سال لکھی ہے۔ پھر لکھا ہے کہ:”وقد رفع الله مع جسم وهو حى الان“ حافظ ابن کثیر اپنی (تفسیر ج ٣ ص ٢٤٥) میں فیصلہ کرتے ہیں۔ ”انه رفع وله ثلث وثلثون سنة فی الصحيح“ (ترجمان القرآن ج ١ ص ٣٨٥) میں بھی یہی مذکور ہے۔

سابعاً مرزائیوں کا کوئی حق نہیں ہے کہ آپ کی عمر ١٢٠ سال بتائیں۔ کیونکہ ان کے نبی اس سے کم و بیش عمر بتا کر ثابت کرگئے ہیں کہ یہ عمر قطعی اور یقینی نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے تحفہ ندوہ میں لکھا ہے کہ اوری شلیم میں بطرس کی ایک دستخطی دستاویز سریانی زبان میں دریافت ہوئی ہے کہ حضرت مسیح واقعہ صلیب کے بعد پچاس سال کی عمر پا کر وفات پا گئے ہیں اور واقعہ صلیب کے وقت آپ کی عمر ٣٣ سال تھی۔ یہ تحریر گو ہمارے نزدیک قابل اعتبار نہ ہو۔ مگر مرزائی اس کے منکر نہیں ہو سکتے کہ کل عمر مسیح ٨٣ سال تھی اور یہ بھی لکھا ہے کہ بطرس کی عمر اس وقت تقریباً ٤٠ سال تھی۔ مرزا قادیانی راز حقیقت میں لکھتے ہیں کہ آپ کی عمر ١٢٠ سال تھی اور یہی صحیح ہے۔ پھر آپ کی رائے تبدیل ہوگئی اور اپنی کتاب مسیح ہندوستان کے ص ٧٣ پر لکھ دیا کہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ آپ کی عمر ١٢٥ سال تھی۔ پھر اس کی تائید ریویو آف ریلیجنز ١٩٠٣ء کے ص ٣٣٥ پر بھی کی گئی ہے۔ اب معلوم ہوگیا کہ مرزا قادیانی کو عمر مسیح میں سخت تردد تھا۔ ثامناً مرزائیوں کے محقق بھی اس تردد میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ فاروق ص ١٦ میں لکھا ہے کہ ولادت ١٢٧٥ء صلیب ١٣١٥ء کل عمر ١٢٠ اور واقعہ صلیب آپ کو چالیسویں سال میں پیش آیا ہے۔ مؤرخ معراج الدین براہین احمدیہ کے اخیر

صفحہ ٢٥٤

میں لکھتا ہے کہ ٩٠ میں آپ کا انتقال ہو گیا تھا۔ مولوی جلال الدین سکھوانی تحفیظ الاذہان اگست ١٩٢٠ء میں لکھتے ہیں کہ مسیح کی عمر عند الوفات ١٣٠ سال تھی۔ تذکرۃ الشہادتین ص ١٢٧ اور ریویو ١٩٠٣ء ج ٢ ص ٤٢٩ میں لکھا ہے کہ: ”او ينهما الى ربوه ذات قرار ومعين“ سے مراد کشمیر ہے۔ کیونکہ وہاں جا کر آپ نے ١٢٠ سال کے بعد وفات پائی تھی۔ اب اگر ان کو الگ الگ عمریں سمجھی جائیں تو مسیح کی کل عمر ١٥٣ سال بن جاتی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی عمر مسیح عند الصلب ٣٣ سال تسلیم کر چکے ہیں۔ بہر حال نہ مرزا قادیانی کو یقین تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر ١٢٠ سال ہے اور نہ آپ کے حواری ایک خاص مقدار عمر پر قائم ہیں۔ پس اندریں صورت یہ فیصلہ نہیں دیا جاسکتا کہ مرزائی حدیث مذکور الصدر کے وفات مسیح ثابت کرنے میں حق بجانب ہیں تاسعاً جب حضرت عائشہؓ اور ابن عمر حیات مسیح کے قائل ہیں تو ان کی روایت کو وفات مسیح پر محمول کرنا کمال بددیانتی ہوگی۔

اتہام چہارم اور امام بخاری

امام بخاری کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے وفات مسیح کو ثابت کیا ہے۔ کیونکہ آپ نے حضرت ابن عباسؓ کا قول نقل کیا ہے کہ: ”متوفيك بمعنى مميتك“ یہ بھی روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ قیامت کو جب میرے کچھ تابعدار دوزخ کو روانہ کئے جائیں گے تو میں کہوں گا۔ ”اصیحابی اصیحابی“ یہ تو میرے تابعدار ہیں۔ ان کو کہاں لے جاتے ہو تو مجھے جواب ملے گا کہ آپ کو کیا معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کی مفارقت کے بعد کیا کیا کام کئے تھے تو اس وقت میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح کہوں گا۔ ”ان تعذبهم فانهم عبادك“ مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد قوم مرتد ہوگئی تھی۔ اسی طرح حضور ﷺ کی وفات کے بعد بھی کچھ لوگ مرتد ہو گئے تھے۔ جس کا اشارہ ”فاقول كما قال اخی“ میں ہے اور یوں بھی روایت کیا ہے کہ: ”کیف انتم اذا نزل فيكم ابن مریم وامامكم منكم“ تمہارا امام ابن مریم تم میں سے ہی پیدا ہوگا۔ بعض روایات میں ”امکم“ بھی وارد ہے کہ جب اتر کر تمہارا امام بنے گا اس کے علاوہ آپ نے حضرت مسیح علیہ السلام کا حلیہ حضور ﷺ کی زبانی معراج میں یوں بیان کیا ہے کہ: ”احمر جعد عظیم الصدر“ آپ کا، سرخ رنگ، گھنگرالے بال اور سینہ چوڑا تھا اور آپ کا خواب یوں بیان کیا ہے کہ آدم سبط اشعر، پکا رنگ، گندم گوں اور بال سیدھے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک مسیح ناصری کا حلیہ وہ ہے جو پہلے بیان کیا ہے اور مسیح محمدی کا وہ حلیہ ہے جو بعد میں بیان کیا ہے اور دو مسیحوں کا قول اس بات کا پختہ

ثبوت ہے کہ مسیح ناصری دیکھ کر ناظرین خود ہی ف اس کا جواب زندہ ہیں اور جس روای چکا ہے اور متعدد مقاما جن بزرگوں نے یہ تاوی ابن عباسؓ اور حضرت ع حج الکرامۃ، طبرانی اور ا ہو کر چالیس سال زندہ پھر وفات پا کر مقبرہ نبو سال زندہ رہیں گے۔ ا مسلم کی روایت ہے کہ کی روایت میں آیا ہے کے لئے یوں کہا گیا ۔ بعد سات سال زندہ ر ہیں کہ ٣٣ سال عندال احادیث نبویہ میں ثاب ١٢٠ سال تھی۔ جیسا کہ موت میں فرمایا کہ: ” عارضنی بالق الذی قبله واخبر الا ذاہبا علی رأہ مالکی لکھتے ہیں کہ ابن رہیں گے ) مخالف مع عمر ٣٣ سال تھی ) اس ہیں کہ امام بیہقی نے ذ

صفحہ ٢٥٥

ثبوت ہے کہ مسیح ناصری وفات پاچکے ہیں اور مسیح محمدی بعد میں پیدا ہوگا۔ جیسا کہ دونوں کے فوٹو دیکھ کر ناظرین خود ہی فیصلہ کر سکتے ہیں

اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ ابن عباسؓ کا مذہب یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں اور جس روایت کو امام بخاریؒ نے نقل کیا ہے وہ ضعیف ہے۔ جیسا کہ اتہام دوم میں گزر چکا ہے اور متعدد مقامات پر مختلف طریق سے آپ کے مذہب کی تخریج ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ جن بزرگوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی عمر عند الرفع ١٢٠ سال تھی۔ انہوں نے ابن عباسؓ اور حضرت عائشہؓ کا مذہب حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ہی نقل کیا ہے۔ چنانچہ مصنف حجج الکرامۃ، طبرانی اور ابن عساکر ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نازل ہو کر چالیس سال زندہ رہیں گے اور ابن ابی شیبہ، احمد، ابوداؤد، ابن جریر اور ابن حبان کہتے ہیں کہ پھر وفات پا کر مقبرہ نبویہ میں دفن ہوں گے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ دجال کو قتل کر کے چالیس سال زندہ رہیں گے۔ ممکن ہے کہ یہی صحیح ہو۔ کیونکہ کم مدت بتانے میں کبھی کسر خیال نہیں کیا جاتا۔ مسلم کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمرؓ کے نزدیک صرف سات سال زندہ رہیں گے۔ نعیم بن حماد کی روایت میں آیا ہے کہ ١٩ سال زندہ رہیں گے۔ ان اختلافات کو مطابقت کی صورت میں لانے کے لئے یوں کہا گیا ہے کہ : ”عند الرفع الی السماء“ آپ کی عمر ٣٣ سال تھی اور نزول کے بعد سات سال زندہ رہ کر چالیس سال پورا کریں گے۔ احمد بن محمد قسطلانی مواہب لدنیہ میں لکھتے ہیں کہ ٣٣ سال عند الرفع کا قول نصاریٰ کا مذہب ہے۔ جیسا کہ وہب بن منبہ نے کہا ہے۔ مگر جو احادیث نبویہ میں ثابت ہوا ہے۔ وہ یہی ہے کہ: ”عند الرفع الی السماء“ آپ کی عمر ١٢٠ سال تھی۔ جیسا کہ طبرانی اور حاکم نے حضرت عائشہؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے مرض موت میں فرمایا کہ: ”ان جبرئیل كان يعارضنى القرآن فى كل عام مرة وانه عارضنى بالقرآن العام مرتين واخبرنى انه لم يكن نبى الا عاش نصف الذى قبله واخبرنى ان عيسىٰ ابن مريم عاش عشرين ومائۃ سنۃ ولا ارانى الا ذاهبا على رأس ستين ورجاله ثقات وله طرق“ شرح مواہب میں علامہ زرقانی مالکیؒ لکھتے ہیں کہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمرؓ کا قول (کہ آپ چالیس سال بعد نزول زندہ رہیں گے) مخالف معلوم ہوتا تھا اور یہ خیال تھا کہ روایت مشہورہ کے ساتھ (کہ عند الرفع آپ کی عمر ٣٣ سال تھی) اس کو ملا کر چالیس سال کا قول کروں۔ اس کے بعد مرقاۃ الصعود میں فرماتے ہیں کہ امام بیہقی نے فیصلہ کیا ہے کہ آپ چالیس سال زندہ رہیں گے اور جس روایت کو امام مسلم

صفحہ ٢٥٦

نے ابن عمرؓ سے بیان کیا ہے کہ: ”ثم یمکث الناس بعدہ سبع سنین“ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ قتل دجال کے بعد لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماتحت سات سال رہیں گے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ آپ کی موت کے بعد سات سال لوگ آرام میں رہیں گے۔ اب میرے نزدیک یہ فیصلہ بچند وجوہ پختہ معلوم ہوتا ہے۔

اوّل یہ کہ حدیث مسلم (قول عمر) میں یہ تصریح نہیں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام خود قتل دجال کے بعد سات سال زندہ رہیں گے۔ جیسا کہ: ”یمکث الناس بعدہ“ میں گذر چکا ہے۔ مگر حدیث ابو داؤد میں یہ تصریح موجود ہے کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال زندہ رہیں گے۔

دوم یہ کہ روایت ابن عمر میں ثم کا لفظ موجود ہے۔ جس میں اشارہ ہے کہ: ”یمکث الناس“ کا وقوع کسی واقع کے بعد ہوگا اور یہاں وہ واقعہ حکومت عیسیٰ ہے۔ اب مطلب یوں ہوا کہ حکومت کے بعد لوگ سات سال آرام میں رہیں گے۔

سوم یہ کہ بعدہ کا مرجع حضرت عیسیٰ علیہ السلام مراد لینا زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔ بہ نسبت اس کے کہ قتل دجال کو اس کا مرجع بنایا جائے۔

چہارم یہ کہ اس مشکوک قول کی تائید میں کوئی اور حدیث مروی نہیں ہوئی۔ بلکہ جس قدر صحیح روایات آئی ہیں وہ چالیس سال یا پینتالیس سال حکومت عیسیٰ کو ثابت کرتی ہیں۔ اس لئے یہی صحیح ہے کہ قول ابن عمرؓ کو اس خیال پر محمول کیا جائے کہ آپ کا خیال تھا کہ حکومت عیسیٰ کے بعد لوگ سات سال آرام میں رہیں گے۔

طبرانی ابو ہریرہؓ سے مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ: ”یمکث فی الناس اربعین سنة“ احمد اسے یوں روایت کرتے ہیں کہ: ”یلبث عیسیٰ فی الارض اربعین سنة“ امام طبرانی نے بھی ابن مسعودؓ سے یہی لفظ نقل کئے ہیں۔ اس لئے قول واحد احادیث کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔

اس کے بعد قول ابن عمرؓ کی مخالفت میں لکھتے ہیں کہ اس کی بنیاد قول نصاریٰ پر ہے کہ: ”عند الرفع“ آپ کی عمر ٣٣ سال تھی۔ یہی قول نصاریٰ امام حاکم وہب بن منبہ سے روایت کر کے فرماتے ہیں کہ اس کا ایک راوی عبدالمنعم بن ادریس بھی ہے۔ مگر محدثین نے اس کی تکذیب کی ہے اور اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو حضور ﷺ کا فرمان نہیں ہے۔ بلکہ زعم نصاریٰ ہے اور جو صحیح احادیث نبویہ میں وارد ہوا ہے وہ یہی ہے کہ آپ کی عمر عند الرفع

صفحہ ٢٥٧

١٢٠ سال تھی۔ اب مرزائی نہیں کہہ سکتے کہ حضرت عائشہؓ اور ابن عمرؓ کا مذہب وفات مسیح کا تھا اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ١٢٠ سال کی روایت وفات مسیح کی دلیل ہے۔ کیونکہ محدثین نے اس کو حیات مسیح پر ثبوت پیش کیا ہے۔

اسی طرح امام بخاریؒ لکھتے ہیں کہ: ”اذ ظرف“ کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور ماضی اس جگہ بمعنی مضارع ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے قیامت کو سوال ہوگا کہ کیا تم نے تثلیث پھیلائی ہے تو آپ کہیں گے کہ نہیں، میں یہی کہتا رہا ہوں کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کو ایک جانو۔ اب اسی مقولہ کو رسول خدا ﷺ بھی نقل کریں گے کہ میں بھی وہی بات کہوں گا۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ میرے بعد معلوم نہیں کہ یہ لوگ کیا کچھ کرتے رہے۔ پس اس جگہ دو قول کی مماثلت صرف بعدیت میں ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں بطور رفع ہوئی اور حضور انور ﷺ میں بطور وفات ہوئی۔ کیونکہ ان کی حدیث میں یہ لفظ ہے کہ: ”مذ فارقتہم“ جب آپ ان سے الگ ہوئے یہ لفظ نہیں ہے۔ جملہ جب سے آپ کی وفات ہوئی اور امام بخاری نے چونکہ یہ بھی حدیث نقل کی ہے۔ ”كيف انتم اذا نزل فيكم ابن مريم وامامكم منكم “اور شراح بخاریؒ لکھتے ہیں کہ: ”والحال ان امامكم المهدى موجود فيكم من قبل نزوله “تو اس صورت میں یہ کہنا غلط ہوگا کہ امام بخاری وفات مسیح کے قائل تھے۔ اس کے علاوہ صرف روایت کرنا بخاری کے مذہب کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ عام طور پر مصنفین وہ روایت بھی نقل کر دیتے ہیں کہ جس میں ان کا مذہب مروی نہیں ہوتا۔ باقی رہا اختلاف حلیہ کا مسئلہ سو وہ بھی اس طرح پر ہے کہ جعد سے مراد شارحین بخاری نے قوی الجسم اور طاقتور مراد لیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام جسم کے موٹے اور پھولے ہوئے نہیں ہیں اور احمر کا لفظ بھی انہوں نے آدم کے مرادف سمجھا ہے۔ اب ایک طرف بخاری کے شارحین دو روایتوں سے صرف مسیح ناصری سمجھتے ہیں اور ایک طرف مرزائی دو مسیح ثابت کرتے ہیں۔ ناظرین خود ہی سوچ لیں کہ آیا شارحین کا قول معتبر ہے کہ جن کو مراد بخاری پر زیادہ اطلاع تھی یا مرزائیوں کا قول، جو نہ تو بخاری کے ہمعصر تھے اور نہ انہوں نے شارحین کا زمانہ پایا ہے؟ اور یہ ظاہر ہے کہ صاحب ”الدار ادرى بما فيها“ صاحب خانہ کو اپنے گھر کی زیادہ خبر ہوتی ہے۔ غیر کو کیا معلوم کہ دخل در معقولات کا مرتکب ہو۔ اس لئے محدثین کا قول اس مقام پر معتبر ہوگا اور مرزائی کا خانہ زاد قول تحریف سمجھا جائے گا۔ کیونکہ اس قول کی تائید کسی نقلی شہادت سے آج تک نہیں ملی اور نہ ملنے کی امید ہو سکتی ہے اور اگر صرف لفظی اختلاف پر دو مسیح کا قول کیا جاتا ہے تو مرزائیوں کو لازم ہے کہ دو موسیٰ کا قول بھی کریں۔ کیونکہ

صفحہ ٢٥٨

بروایت مسلم آپ کا حلیہ یوں ہے کہ رجل ضرب جعد آپ ہلکے پھلکے طاقتور جسم رکھتے تھے اور سیرۃ ابن ہشام جلد دوم میں بروایت ابن اسحاق یوں مذکور ہے کہ: ”رجل آدم طویل اقنی“ آپ گندم گون طویل القامت بلند بینی ہیں۔ اب اگر جعد اور طویل کا مقابلہ کیا جائے تو یوں سمجھا جاتا ہے کہ ایک موسیٰ تو پست قامت تھے اور دوسرے موسیٰ دراز قامت تھے اور اگر تاویل کر کے دونوں لفظوں کو یوں ایک مفہوم پر لایا جائے کہ جعد سے مراد صرف جسمانی طاقت ہے۔ اس لئے آپ طاقتور دراز قامت ثابت ہو کر ایک ہی موسیٰ ثابت ہوتے تھے تو اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ایک ہی ثابت کئے گئے ہیں کہ: ”جعد الجسم سبط الشعر بين الادمة والحمرة“ آپ طاقتور سیدھے بالوں والے کچھ سرخی مائل گندم گون تھے۔ اس کے علاوہ بیرونی شہادت بھی اس امر کی تائید کرتی ہے کہ اہل شام جہاں آپ پیدا ہوئے تھے یا اہل مصر جہاں آپ نے پرورش پائی تھی۔ ان کا حلیہ بھی عموماً یہی ہوتا ہے۔ ہاں آج کل کے فوٹو بے شک آپ کے چونکہ یورپ سے شائع ہوتے ہیں۔ آپ کو یورپین وضع قطع کے بنا کر سرخ رنگ ثابت کرتے ہیں۔ مگر یہ صرف صفائی ہے۔ ورنہ اصل فوٹو جو اہل شام کی وضع قطع ظاہر کرے۔ اس میں موجود نہیں ہے۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے وقت کوئی عیسائی موجود نہ تھا اور نہ اس سے پہلے کسی نے آپ کا فوٹو اتارا تھا۔ اس لئے ان فرضی فوٹوؤں سے سرخ رنگ ثابت کرنا بالکل غلط ہوگا۔ اس موقعہ پر مرزا قادیانی کا فوٹو لے لیجئے۔ اس میں سپید رنگ دکھلایا گیا ہے اور دعویٰ یہ ہے کہ مسیح محمدی گندم گون ہوگا۔ تو جس تاویل سے مرزا قادیانی کو گندم گون ثابت کیا جاسکتا ہے۔ وہی تاویل حضرت مسیح کے حلیہ میں بھی ہوسکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو عظیم الصدر بھی کہا گیا ہے۔ مگر ان فرضی فوٹوؤں میں نمایاں طور پر آپ کا سینہ معمول سے نہیں دکھایا گیا۔ اس لئے بھی یہ ناقابل اعتبار ہے۔ زیادہ تحقیق کرنا ہو تو باب حیاۃ المسیح دیکھو۔

اتہام پنجم اور امام مالک و ابن حزم

امام مالک اور ابن حزم کے متعلق بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ دونوں بھی وفات مسیح کے قائل تھے۔ دھوکہ دینے کے لئے یوں کہا جاتا ہے کہ: ”قال مالك مات (مجمع البحار ص ٨٦) قال ابن حزم مات (جمل حاشیه جلالين) ثم قال رأی النبی علیه السلام روحاً روحاً ومن كذب بهذا فقد انسلخ عن الاسلام بلاشك (الفصل ج ١ ص ٧٩)“ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ مرزائی پوری عبارت نقل نہیں کرتے اور نہ ہی وہ مقام پیش کرتے ہیں۔ جہاں انہوں نے اپنی تحقیق لکھی ہے یا اپنی تحقیق کی بناء پر کوئی مسئلہ بیان کیا ہے۔ صرف قطع

صفحہ ٢٥٩

و برید کر کے چوہوں کی طرح (بقول مسیح قادیانی) احادیث کو کتر کر پیش کرتے ہیں۔ اس سے صرف ان کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ الزامی طور پر ہمیں لاجواب کر دیں۔ ورنہ ان کو ان بزرگوں کی تحقیق پر ذرہ بھر بھی اعتبار نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے اسلام کو ڈبو دیا ہے اور جب ان بزرگوں کی تحقیق پیش کی جاتی ہے تو صاف منکر ہو کر کہتے ہیں کہ یہ حوالہ جات اگر غلط ہوں تو ہمیں کیا۔ چونکہ یہاں سے یوں ہی معلوم ہوتا تھا۔ اس لئے ان کو پیش کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ اگر صحیح ہوں یا غلط ہوں ہمارے نزدیک یکساں ہیں۔

مگر ہم ناظرین اہل اسلام کے رفع اشتباہ کے لئے ذرہ تفصیل سے کام لیتے ہیں کہ ابن حزم اپنی کتاب (فصل ص ٧٧) پر صاف لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح زندہ ہیں اور امام مالکؒ کے متعلق یوں کہا گیا ہے کہ مجمع البحار میں آپ کا قول نقل کر کے اخیر میں تاویل بھی کی ہے۔ پوری عبارت یوں ہے کہ: ”قال مالك مات لعله اراد رفعه على السماء او حقيقة ويجئ اخر الزمان لتواتر خبر النزول“ مگر مرزائی تعلیم نے اس تاویل کو نقل نہیں کیا اور جو عبارت عتبیہ میں نقل ہوئی ہے۔ نووی وغیرہ نے شرح مسلم میں اس کو موافق عقیدہ اسلام کے ہی نقل کیا ہے۔ علاوہ بریں اگر آپ کا مذہب وفات مسیح ہوتا تو علامہ زرقانی مالکیؒ آپ کے تابعدار ہو کر حیات مسیح کو زور دار الفاظ میں نہ لکھتے۔ ”وان انزل سیدنا عیسیٰ علیه السلام فانه يحكم بشريعة نبينا بالهام او باطلاع على الروح المحمدى او بما شاء الله من استنباط لها من الكتاب والسنة ونحو ذلك، واختلف في موته قبل رفعه بظاهر قوله تعالى انی متوفیک، قال الحافظ وعليه اذ انزل الى الارض للمدة المقدرة له يموت ثانياً، وقيل معنى متوفيك رافعك من الارض فعلى هذا لا يموت الا في آخر الزمان قال في موضع اخر رفع عيسىٰ وهو حي على الصحيح ولم يثبت رفع ادريس وهو حي بطرق مرفوعة (شرح مواهب لدنیه)“ اتہام چہارم میں مسیح کے متعلق جو کچھ علامہ مذکور نے بیان کیا ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ مرزائی تعلیم کی تردید کرتا ہے۔

اتہام پنجم اور امام شعرانی یا شیخ ابن عربیؒ

شیخ اکبر کے متعلق یوں کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی (تفسیر ج ١ ص ١٦٢) میں یوں لکھتے ہیں کہ: ”اتصل روحه عند المفارقة عن العالم السفلى بالعالم العلوى“ اور امام شعرانی (طبقات ج ٢ ص ٢٤) میں لکھتے ہیں کہ: ”رفع عیسىٰ کما رفع ادریس علیه السلام“ اور

صفحہ ٢٦٠

یواقیت میں لکھتے ہیں کہ: ”لوکان موسی وعیسیٰ حیین“ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک وفات مسیح صحیح ہے۔

جواب یوں دیا گیا ہے کہ تفسیر ابن عربی کے متعلق ابھی تک اشتباہ ہے کہ آیا آپ کی تصنیف ہے یا آپ کے ذمہ لگائی گئی ہے۔ کیونکہ شیخ اکبر کو بدنام کرنے کے لئے لوگوں نے عقائد ملحدہ لکھ کر ذمہ لگا دیئے تھے۔ جن کی تردید امام شعرانی نے یواقیت میں کی ہے۔ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ نے وہاں اپنا مذہب بیان کیا ہے۔ اسی طرح یواقیت میں علی الخواص کا قول مذکور ہوا ہے۔ امام نے اپنا مذہب بیان نہیں کیا۔ البتہ مرزائیوں کے مذہب میں چونکہ قطع و برید اور خیانت فی النقل کار ثواب ہے اور دجل و فریب یا افتراء و اتہام فرض اولین ہے۔ اس لئے امت دجال نے صفت دجالیت کا ثبوت دے کر عوام الناس کی آنکھوں میں مٹی ڈالنے کی بے فائدہ کوشش کی ہے۔ مگر اہل اسلام نے فوراً دودھ کا دودھ پانی کا پانی دکھا کر اصل واقعہ پیش کر دیا ہے کہ ہر دو امام حیات مسیح کے قائل ہیں قادیانیوں کو صلواتیں سناتے ہیں۔ کیونکہ (یواقیت ج ٢ ص ٣٩) میں درج ہے کہ سید علی الخواص کہا کرتے تھے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اسی طرح رفع جسمانی سے مرفوع الی السماء ہو گئے ہیں۔ جس طرح کہ عیسیٰ بن مریم مرفوع الی السماء ہوئے تھے اور اسی طرح زمین پر دوبارہ اتریں گے۔ جس طرح کہ حضرت مسیح آسمان سے نزول فرمائیں گے اور (یواقیت ج ٢ ص ٢٩٠) کہ بحث ٦٥ میں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل دجال کے بعد مریں گے۔ (فتوحات مکیہ باب ٣٦٩) میں مذکور ہے کہ: ”ماالدليل على نزول عيسى ابن مريم؟ هو قوله تعالىٰ وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته ٠ فالمعتزلة والفلاسفة واليهود والنصارى الذين ينكرون الرفع الجسمانى يؤمنون به ٠ والدليل الثانى قوله تعالىٰ وانه لعلم للساعة والظاهر ان الضمير لعيسى ابن مريم اذ المذكور هو لا غير وفى الحديث اذ المسلمون فى الصلوٰة اذا بعيسى ينزل عند المنارة البيضاء شرقى دمشق وعليه بردان ويداه على الملكين ٠ فالحق ان عيسى ابن مريم رفع الى السماء بالجسم العنصرى والايمان به واجب لقوله تعالىٰ بل رفعه الله اليه وعن ابى طاهر القزوينى ان كيفية الرفع والنزول ثم كيفية المكث فى السماء بلا اکل وشرب کلھا مفوض الی اللہ تعالیٰ“ اس کے بعد آپ نے اعتراضات کا دفعیہ کیا ہے کہ: ”ما جعلناھم جسد الایاکلون الطعام“ سے مراد دنیاوی زندگی ہے۔ کیونکہ اس

صفحہ ٢٦١

میں مواد تحلیل ہوتے رہتے ہیں۔ ورنہ آسمانی زندگی اس نقص سے پاک ہے۔ چنانچہ فرشتے وہاں تسبیح کو اپنی غذا بنا لیتے ہیں اور تہلیل سے اپنی پیاس بجھا لیتے ہیں۔ علاوہ بریں پاک ہستی دنیا میں بھی بغیر آب و دانہ کے زندہ رہ سکتی ہے۔ مثلاً حضور انور ﷺ متواتر روزے رکھتے تھے اور خوارک نہیں کھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرا خدا مجھے کھلاتا پلاتا ہے اور تم میں سے میرے جیسا کون ہے کہ صوم وصال رکھے اور خدا تعالیٰ اس کی غذا تسبیح و تہلیل بنائے دوم آپ نے فرمایا ہے کہ جب دجال کے وقت کمال قحط ہوگا تو مومنین کی خوراک تسبیح و تہلیل ہوگی۔ سوم ابو طاہرہ کا قول ہے کہ شہر ابہر (ممالک مشرقیہ) میں ایک شخص مسمی خلیفہ فراد دیکھا گیا تھا کہ جس نے بائیس سال تک کھانا نہیں کھایا تھا۔ صرف عبادت الٰہی میں مشغول رہتا تھا اور وہی اس کی خوارک تھی اور تعجب ہے کہ بدن میں کمزوری کی علامات ظاہر نہیں تھے۔ مرزا قادیانی بھی جب مسلمانوں کے ہم عقیدہ تھے بدر ١٩٠٥ء اپریل میں تسلیم کرتے ہیں کہ اصحاب کہف بھی بغیر خوارک کے تین سو سال تک زندہ رہے اور جب جاگ اٹھے تو ان کو خوارک کی ضرورت پڑی۔ اب ان نظائر سے یہ شبہ دور ہو سکتا ہے کہ انسان بغیر خوارک کے زندہ نہیں رہ سکتا۔ باقی رہی حدیث: ”لو کان موسیٰ وعیسٰی“ تو اس کا جواب آگے آتا ہے۔

اتہام ششم اور ابن قیم

مرزا قادیانی کی سر الخلافہ میں ہے کہ حافظ ابن قیم نے اپنی کتاب زاد المعاد (ذکر بعثت النبیﷺ ص١٩) میں لکھا کہ: ”واما ما یذکر عن المسیح انہ رفع الی السماء ولہ ٣٣ سنۃ فھو قول النصاریٰ“ اور ص ٣٦ میں ہے: ”الانبیاء انما استقرت ارواحھم ھناک مفارقۃ بعد البدن“ اور مدارج السالکین میں لکھا ہے کہ: ”لو کان موسیٰ وعیسٰی حیین لما وسعھما الا اتباعی“ ان عبارات سے ثابت ہوتا ہے کہ حافظ ابن قیم حیات مسیح کے قائل نہ تھے۔ جواب یہ ہے کہ زاد المعاد میں پہلی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ بعثت انبیاء چالیس سال کو ہوا کرتی ہے اور جو یہ روایت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تیس سال کے تھے کہ آپ کو نبوت ملی اور ٣٣ سال کو رفع ہوا۔ یہ روایت نصاریٰ نے کی ہے۔ ورنہ احادیث مرفوعہ میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ مرزائیوں نے الٹی سمجھ سے اس مطلب کو وفات مسیح پر خواہ مخواہ چسپاں کر کے عوام الناس کو حیران کر دیا ہے کہ لو جی! ابن قیم اور ابن تیمیہ دونوں بزرگ وفات مسیح کے قائل تھے۔ اسی طرح مفارقۃ الارواح کا مطلب بھی وفات مسیح سے تعلق نہیں رکھتا۔ کیونکہ یہ ایک عام اصول بیان ہوا ہے۔ جس میں خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ مدارج السالکین کی عبارت

صفحہ ٢٦٢

میں موسیٰ کے بعد عیسیٰ کا ذکر کرنا صرف اس لئے ہے کہ اگر آج زمین پر موسیٰ وعیسیٰ بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی حضورﷺ کی اطاعت کرتے۔ کیونکہ حضورﷺ کی رسالت عام ہے اور قیامت تک ہے۔ مرزا قادیانی نے اصل مطلب بگاڑ کر لوگوں کے پیش کیا اور اصل عبارت پورے طور پر نقل نہیں کی۔ تاکہ دھوکہ دہی میں فرق نہ آنے پائے۔ دیکھئے اصل عبارت یوں ہے کہ: ” ومحمد ﷺ مبعوث الى جميع الثقلين فرسالته عامة لجميع الجن والانس فى كل زمان ولو كان موسى وعيسى حيين لكانا من اتباعه، وان انزل عيسى ابن مريم فانما يحكم بشريعته محمدﷺ فمن ادعى انه مع محمد كالخضر مع موسى او جوز ذلك لاحد من الامة فليجدد اسلامه وليشهد انه مفارق لدين الاسلام بالكلية فضلا عن ان يكون من خاصة اولياء لله وانما هو من اولياء الشيطان “ (قلت ان هذه العبارة نص فى ان المرزائية كذابون ) دیکھئے اس عبارت میں نزول مسیح کا صاف اقرار موجود ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ یہ دونوں بزرگ وفات مسیح کے قائل تھے۔

اتہام ہشتم قبر کشمیر

مرزا قادیانی نے اپنی تصانیف میں ذکر کیا ہے کہ مسیح کی قبر گلیل میں ہے۔ (جو بیت المقدس سے ٣٠ میل کے فاصلہ پر ہے )

(ازالہ ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

یوں بھی لکھا ہے کہ مسیح کی قبر بیت المقدس میں ہے اور اس پر ایک بڑا گرجا بھی بنا ہوا ہے۔

(اتمام الحجۃ ص ١٩، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)

یہ بھی لکھا ہے کہ کشمیر میں ہے۔

(راز حقیقت ص ٢٠، خزائن ج ١٤ ص ١٧٢)

اور (عسل مصفے ص ٤٥٣) میں لکھا ہے کہ مسیح کی قبر کشمیر میں اب تک موجود ہے۔

مرزا بشیر احمد (حاشیہ ریویو آف ریلیجنز جولائی ١٩١٧ء) میں لکھتے ہیں کہ یہ دوسری قبر شیخ نصیر الدین کی ہے اور ازالہ نمبر چہارم میں فرماتے ہیں کہ اخویم مولوی نور الدین کہتے ہیں کہ ہم چودہ سال ریاست جموں کشمیر میں ملازم رہے۔ یسوع کی قبر کشمیر محلہ خانیار میں معلوم ہوئی تھی اور تحقیق سے معلوم ہو گیا کہ یسوع کی قبر کشمیر میں ہی ہے۔

ان حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزائی تعلیم میں یسوع کی قبر کے متعلق آج تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں ہوا کہ کہاں ہے؟ یا ہے بھی یا نہیں؟ باپ، بیٹا، حواری تینوں مختلف بیان دیتے ہیں۔ غیر جانبدار کو کیسے یقین آ سکتا ہے کہ واقعی جو قبر کشمیر میں ہے حضرت مسیح علیہ السلام کی ہے۔

صفحہ ٢٦٣

کیونکہ ان کے نزدیک یسوع اور ہے اور عیسیٰ اور۔ جیسا کہ توہین عیسیٰ میں مرزائی عذر کیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے یسوع کو گالیاں دی ہیں۔ مسیح یا عیسیٰ کو گالیاں نہیں دیں۔ مرزا قادیانی (ست بچن حاشیہ ص٩) میں لکھتے ہیں کہ: ”یسوع کی خبر قرآن شریف میں نہیں دی کہ یہ کون تھا؟“ اس لئے مرزا قادیانی نے دل کھول کر توہین مسیح میں سارا اندرونی بخار نکال لیا تھا۔

(ست بچن ص١٥٩، خزائن ج١٠ ص٢٨٣) میں لکھتے ہیں کہ عیسائیوں کا خدا یسوع مسیح ٣٢ سال کی عمر پا کر اس دارالفناء سے گذر گیا۔ رسالہ (نورالقرآن ص٣١، خزائن ج٩ ص٣٦٠) میں لکھتے ہیں کہ: ”عیسائی اس بدتہذیبی سے تکذیب کرتے ہیں کہ خدائی تو بھلا کون مانے۔ اس غریب کو نبوت سے بھی جواب دے دیتے ہیں۔“ اب اگر یہی خیال کیا جائے کہ یسوع کی خبر قرآن شریف میں نہیں ہے تو مرزائی کس لئے یسوع کی قبر کشمیر میں ثابت کرتے ہیں؟ اور کس طرح وفات مسیح ثابت ہوگی کہ: ”آوینا ھما الی ربوۃ ذات قرار ومعین“ میں قبر یسوع مسیح کی طرف اشارہ ہے۔ کیا اب اس کا ذکر قرآن میں آگیا ہے؟ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں اب تک ثابت نہیں ہوئی۔ اگر اثباتِ قبر میں یسوع اور مسیح کو ایک تسلیم کیا جائے تو ہم سوال کریں گے کہ توہین مسیح میں یسوع اور مسیح کو ایک کیوں نہیں تسلیم کیا گیا۔ دراصل مرزا قادیانی کو معلوم ہوتا ہے کہ کسی بات کا یقین نہ تھا کہ یسوع اور مسیح ایک ہیں یا دو! کسی نے جیسا کہا وہ کہتے گئے تعجب یہ ہے کہ کئی ایک مقام پر اقرار بھی کر گئے ہیں کہ یسوع اور مسیح ایک ہیں اور پھر جب ہوش سنبھالتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ: ”ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے کہ جس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور پہلے انبیاء کو چور اور بٹمار کہا۔“

(انجام آتھم ص١٣، خزائن ج١١ ص ایضاً)

دونوں کو ایک مانتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”مسیح کا بیان کہ میں خدا ہوں۔ خدا کا بیٹا ہوں۔ میری خودکشی سے نجات پائیں گے۔ کوئی آدمی اس کو دانا اور راست باز نہیں کہہ سکتا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ ابن مریم پر یہ سب جھوٹے الزامات ہیں۔“

(نورالقرآن ص٤٢، خزائن ج٩ ص٣٧١)

یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے جوشِ مراق میں حضرت مسیح کی توہین تو کر دی۔ مگر بعد میں خیال پیدا ہوا کہ لوگ کافر کہیں گے۔ اس لئے عذر اور بہانے بنائے کہ یسوع اور ہے اور مسیح اور۔ مگر جب یہ بات پرانی ہوگئی اور قبر مسیح کا ذکر شروع ہو گیا تو یسوع کی قبر ثابت کر کے حضرت مسیح کی قبر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اگر مرزا قادیانی کو مراق نہ ہوتا تو ہم ضرور کہہ دیتے کہ آپ نے یہ جان بوجھ کر دجل مخادعت اور فریب کیا ہے۔ مگر یہ بھی خیال آتا ہے کہ شاید توہین مسیح کے وقت آپ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یسوع کی لفظی تحقیق کیا ہے۔ شاید اس ناواقفی کی وجہ

صفحہ ٢٦٤

سے انہوں نے دو شخص تسلیم کئے ہوں گے۔ لیکن ہم ناظرین کے سامنے ذیل کی چند سطور پیش کرتے ہیں کہ یسوع اور عیسیٰ ایک ہیں دو نہیں ہیں۔

(لغات عبرانی ص ١٦٢) میں مذکور ہے کہ: ”یسوع اصل میں یشوع ہے۔ جس کا معنی نجات دینے والا ہے۔ یونانی زبان میں اس کو حسب تحقیق کنیش ڈکشنری ص ١٧٣ ای۔اے سوس بنایا گیا تھا۔ جس کو عربی میں عیسیٰ کی صورت میں تبدیل کیا گیا ہے اور انگریزی میں جے سس کہتے ہیں۔“ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب سرمہ چشم آریہ کے آخری ورق پر انگریزی اشتہار شائع کیا تھا۔ جس میں جی سس کرسٹ لکھ کر یہ ثابت کیا تھا کہ میں اسی کے مشابہ اور مثیل ہوں اور اردو میں اس کا ترجمہ مسیح ابن مریم لکھوایا تھا۔ شحنہ حق کے حاشیہ ص ٤٦ میں خود آپ نے جی سس کرائسٹ کا ترجمہ عیسیٰ ابن مریم لکھا ہے۔ تمام اناجیل اور کتب معتبرہ اس بات کی شاہد ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم کو ہی یسوع یا جی سس کریسٹ کہا گیا ہے۔ پس اندریں حالات یہ فیصلہ آسانی سے ہوسکتا ہے کہ گو پہلے نا واقفیت کی وجہ سے آپ نے دو شخص سمجھے ہوں گے۔ مگر بعد میں آپ نے ایک سمجھ کر بھی اپنے کہے سے رجوع نہیں کیا۔ بالفرض محولہ بالا عبارات میں مرزائی کچھ تاویل کر سکتے ہیں تو یہ ان کا طرز عمل کہ یسوع کی قبر کشمیر میں ہے۔ اس امر پر زبردست دلیل ہے کہ مرزا قادیانی نے یسوع اور مسیح کو ایک شخص ہی تصور کیا تھا اور باقی سب بہانے تھے جو پیش کئے گئے تھے اور افسوس ہے کہ ایسے بہانہ جو آدمی کو افضل المرسلین کا خطاب دیا جاتا ہے۔ کتنی بڑی جہالت ہے۔ نئی روشنی کی سیاہی میں پھنسنے والے اگر یہی واقعہ سوچ لیں تو آج ہی بیعت مرزائیہ سے دست بردار ہوجائیں۔ مگر جو آرام اس مذہب میں ہے۔ اسلام میں کب نصیب ہو۔ اس لئے ان سے توقع بہت کم ہے۔ اب ہم ذیل میں وہ مراسلات درج کرتے ہیں جو تحقیق قبر مسیح میں اہل کشمیر کی طرف روانہ کئے گئے اور جن کا جواب خلاف عقیدہ مرزائیہ دیا گیا۔

”میں نے تحقیق کی ہے کہ مقبرہ روضہ بل جامع مسجد سے واپس آتے ہوئے بائیں جانب پڑتا ہے۔ مگر تاریخ کشمیر کو سامنے رکھ کر یوں کہنا پڑتا ہے کہ وہ مقبرہ سید نصیر الدین صاحب کا ہے نہ کہ یوز آصف کا مقبرہ۔ جامع مسجد سے آتے ہوئے دائیں طرف ازمرہ اور روضہ بل میں کوچہ یار خان اور نالہ مار بھی واقع ہیں۔“

خواجہ سید محمد اعظم شاہ تاریخ کشمیر اعظمی میں لکھتے ہیں کہ: ”حضرت سید نصیر الدین خانیاری از سادات عالی شان ست ورزمرہ مستورین بود بمقبرے ظہور نمود، مقبرہ میر قدس سرہ در محلہ

صفحہ ٢٦٥

خانیار مہبط، فیوض الٰہی است، در جوار ایشان سنگ قبرے واقعہ شدہ در عوام مشہور ست کہ آنجا پیغمبرے آسودست کہ در زمان سابقہ در کشمیر مبعوث شدہ بود، ایں مکان بمقام آں پیغمبر معروف است در کتابے از تاریخ دیدہ ام کہ بعد از قضیہ دور دراز حکایتے مے نویسد کہ یکے از سلاطین زادہ ہا براہ زہد و تقویٰ آمدہ ریاضت و عبادت بسیار کرد بر رسالت دوم کشمیر مبعوث شدہ در کشمیر آمدہ بدعوت خلایق مشغول شد بعد از رحلت در محلہ ازمرہ آسودہ آں کتاب نام آں پیغمبر یوز آصف نوشت ازمرہ و خانیار متصل واقعہ ست از ملاحظہ ایں عبارت صاف عیاں ست کہ یوز آصف در محلہ ازمرہ مدفون ست در کوچہ خانیار مدفون نیست وایں یوز آصف از سلاطین زادہا بودہ ست وایں عبارت تواریخ مخالف ومتناقض ارادہ ، حضرت میرزا است زیرا کہ یسوع خودرا یکے از سلاطین وغیرہ انتخاب نکردہ اند فقط والسلام‘ راقم خواجہ سعد الدین فرزند خواجہ ثناء اللہ مرحوم از کوٹھی خواجہ ثناء اللہ، غلام حسن از کشمیر ١٥ ذی الحجہ ١٣١٤ھ‘

ست موسوم سازند موجب آں خود بذات بابت تحقیق کردن، آں در شہر رفتہ ہمیں تحقیق شدہ کہ پیشتر از دو صد سال شاعرے معتبر وصاحب کشف بودہ ست نام آں خواجہ اعظم دیدہ وری داشتہ یک تاریخ از تصانیف خود نمودہ کہ دریں شہر بسیار معتبر ست دراں ہمیں عبارت تصنیف ساختہ است کہ در ضلع خانیار در محلہ روضہ بل میگویند کہ پیغمبرے آسودہ ست یوز آصف نام داشتہ وقبرے دوم در انجا اولاد زین العابدین ، سید نصیر الدین خانیاری ست وقدم رسول ہم در انجا موجود است، اکنوں در انجا بسیار مرجع اہل تشیع دارد۔‘‘ بہر حال سوائے تاریخ خواجہ اعظم صاحب موصوف دیگر سندے صحیح ندارد‘‘ کتبہ سید حسن شاہ از کشمیر ٢٢؍ ذی الحجہ ١٣١٤ھ

اب مرزا قادیانی کی یہ تاویل کہ یسوع کا یوز بن گیا ہے اور چونکہ آپ افسوس کرتے ہوئے غمگین رہا کرتے تھے۔ اس لئے ان کو آصف کہا گیا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ یہ لفظ آصف ہے آسف نہیں ہے اور اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ یسوع غمگین رہتے تھے۔ کیونکہ مقاصد الصالحین ص ١٨ مطبوعہ نظامی میں لکھا ہے کہ حضرت یحییٰ سے آپ نے فرمایا کہ تم ہمیشہ غمگین کیوں رہتے ہو۔ ”اَئِیسْتَ من رحمتہ اللہ “ تو آپ نے یسوع سے کہا کہ تم ہمیشہ خوش کیوں رہتے ہو؟ ”اَمِنْتَ من مکر اللہ “ اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آکر فیصلہ کیا کہ خدا کی جناب میں انسان کو اپنے کئے پر نادم ہو کر غمگین رہنا بہتر ہے اور لوگوں کے سامنے خدا کے فضل کا امید وار رہ کر خوش رہنا چاہئے۔

صفحہ ٢٦٦

لکھتے ہیں کہ مخلصی عزیز جیو کشمیری جو ایک بڑا نامی متدین آدمی ہے۔ اس کا بیان ہے کہ کشمیر میں مرزا قادیانی کے بھیجے ہوئے کئی آدمی ایک متبرک مزار کے مجاوروں کو روپیہ کا طمع دے کر دستخط کروانا چاہتے تھے کہ ہم اباً عن جد سنتے ہیں کہ یہ مزار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔ مگر مجاوروں نے جھوٹ بولنا گوارا نہ کیا۔ بلکہ ان کو بے عزت کر کے نکالا۔ یہ شہادت دیکھ کر راز حقیقت کا تمام اصلی راز منکشف ہو جاتا ہے اور ایام صلح کی تمام مصالحت بھی معلوم ہو جاتی ہے۔

اتہام ہشتم اور اکمال الدین

مرزا قادیانی (روضۃ الصفا ج ١ ص ١٣٣) میں لکھتے ہیں کہ یہودی آپ کے عہد میں بارہ قبائل تھے۔ جن میں سے نو قبائل کو بخت نصر نے تبت، کشمیر، ہند اور افغانستان کو جلاوطن کر دیا تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کی وضع قطع اور شہروں یا بستیوں کے نام وہی ہیں جو ملک شام میں تھے۔ مثلاً کابل، گلگت، طور، صور، صیدا، بابل، تخت سلیمان، نینویٰ وغیرہ۔ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد کشمیر کو آئے اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی خبر لی اور ٨٧ سال بعد وفات پا گئے اور یہ بھی مشہور ہے کہ آپ نے اپنی معشوقہ مریم کو خدا کے سپرد کیا اور وہاں سے کوہ جلیل میں آئے جو بیت المقدس سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے اور دشمنوں سے خوف کھا کر اس پر چڑھ گئے۔ اس وقت پہاڑ پر ابر چھایا ہوا تھا تو لوگوں نے خیال کیا کہ آپ آسمان کو چڑھ گئے ہیں۔ حواریوں نے بھی یہی خیال کر لیا تھا۔ یا یوں اصل واقعہ پر پردہ ڈالتے ہوئے رفع سماوی کا قول ظاہر کیا۔ مگر آپ نے شہر نصیبین پہنچ کر سلطان اڑلیہ کو خط لکھا کہ میں اب آسمان کو جاؤں گا اور تمہاری طرف چند حواری بھیجتا ہوں۔ کتاب کروی گلشن میں ہے کہ جب کائفس کاہنوں کے سردار کو معلوم ہوا کہ آپ صلیب نہیں دیئے گئے تو اس نے قیصر روم کو شکایتی خط لکھا کہ پیلاطوس نے یوسف اور حواریوں سے سازش کی بناء پر مسیح کو صلیب سے بچا لیا ہے تو پیلاطوس کو عتاب نامہ پہنچا۔ جس سے اس نے غصہ کھا کر یوسف کو قید کر لیا اور ایک رسالہ حضرت مسیح کی تلاش میں روانہ کیا کہ وہ آپ کو پکڑ کر واپس لائیں۔ مگر چونکہ آپ کشمیر پہنچ چکے تھے۔ وہاں تک کوئی نہ پہنچا۔ کشمیریوں نے یسوع کے نام کو کچھ تبدیل کر کے یوں کہنا شروع کر دیا تھا۔ یوز آصف، یوز آسف، پھر ارض سولابت میں آئے اور وہاں تبلیغ وحدانیت کی۔ وہاں سے نکل کر بہت شہروں میں وعظ کیا اور کشمیر کو واپس آئے اور وہیں قیام کیا اور وہیں ٨٧ برس بعد واقعہ صلیب فوت ہو گئے۔ (اکمال الدین و اتمام النعمۃ للقمی)

اس تحریر میں مرزا قادیانی نے خواہ مخواہ یوز آصف کی سوانح عمری کو یسوع کی زندگی پر چسپاں کیا

صفحہ ٢٦٧

ہے۔ ورنہ اصل کتاب دیکھنے پر یہ تحریر ہر طرح سے مخالف ہے۔ کیونکہ اس میں یہ تحریر نہیں ہے کہ اس قبر کا مالک کبھی بھی بیت المقدس سے جان بچا کر زندگی بسر کرنے کو یہاں آیا تھا۔ کیونکہ اکمال الدین کی عبارت اصل تحریر کے مطابق یوں ہے کہ راجہ جنسیر ملک صولابت (سولابت) کا باشندہ تھا۔ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ جس کا نام اس نے یوز آصف رکھا۔ جب وہ بالغ ہوا تو حکیم منوہر لنکا سے اس کے پاس آیا۔ راجہ نے اس کی عزت و آبرو سے تواضع کی اور اپنے بیٹے یوز آصف کا اتالیق مقرر کیا۔ شہزادہ نے اس سے مذہبی تعلیم حاصل کی اور دنیا سے بے تعلق رکھنے کی تعلیم نے اس کا دل بادشاہت سے برداشتہ کر دیا اور حکیم منوہر اس کا تعلیمی نصاب مکمل کر کے وہاں سے چلا گیا تو ایک دفعہ شہزادہ کو فرشتہ نظر آیا۔ اس نے خدا کی رحمت کی اس کو بشارت دی اور کچھ راز بتایا۔ جس پر وہ عمل پیرا رہا۔ پھر فرشتہ نے اسے حکم دیا کہ سفر کے لئے تیاری کرے تا کہ میں تیرے ہمراہ یہاں سے نکل جاؤں۔ اس کے بعد شہزادہ ہجرت کرتے ہوئے اپنے ملک سے نکل گیا تو اس نے ایک صحراء میں پانی کے پاس ایک درخت دیکھا جہاں اس نے کچھ دن قیام کیا اور وہاں اس کو وہی فرشتہ نظر آیا۔ پھر اس نے بستیوں میں وعظ کہنا شروع کیا تو کچھ مدت کے بعد اپنے اصلی وطن سولابت کو واپس چلا گیا اور والدین نے بڑے تپاک سے اس کا استقبال کیا اور شہزادہ نے ان کو توحید کی دعوت دی۔ کچھ مدت کے بعد شہزادہ کشمیر میں آیا اور وہاں کے باشندے اس سے مستفید ہوئے اور اس نے ان کو بھی توحید کی دعوت دی۔ چنانچہ یہ یہیں رہنے لگا اور جب مرنے لگا تو اپنے چیلے یابد کو توحید ہی کی وصیت کی اور جہان فانی سے رخصت ہوا۔

اب اس عبارت کو حضرت مسیح علیہ السلام پر منطبق کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ سولابت کا معنی بیت المقدس کیا جائے اور حکیم منوہر سے مراد روح القدس لیا جائے۔ اسی طرح والدین سے مراد یوسف اور مریم ہوں اور ان کو کسی علاقہ کا بادشاہ بھی تصور کیا جائے اور جب تک یہ امور ثابت نہ ہوں حضرت مسیح علیہ السلام کی سوانح سے اس عبارت کا تعلق پیدا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح انجیل روسی بھی مرزا قادیانی کے مخالف پہلو کو ثابت کرتی ہے۔ کیونکہ اس میں اگرچہ مسیح کا ذکر ہے۔ لیکن اس میں اس بات سے صاف انکار ہے کہ مسیح نے واقعہ صلیب کے بعد کشمیر وغیرہ کا سفر کیا تھا۔ کیونکہ اس میں صاف لکھا ہے کہ ایک بچہ پیدا ہوا جس میں خدا بولتا تھا۔ اس نے توحید کی دعوت دی اور اس کا نام یسوع رکھا گیا۔ جب وہ تیرہ سال کا ہوا تو سوداگروں کے ہمراہ ملک سندھ کو نکل گیا اور بنارس و جگن ناتھ کے مضافات میں چھ سال تک اپنے کام میں مشغول رہا اور بتایا کہ وید خدا کا کلام نہیں ہیں اور یہ بھی کہا کہ بت پرستی چھوڑ دو کیوں کہ وہ نہیں سنتے۔ اس پر براہمنوں نے اس کو مار ڈالنے کی ٹھان لی۔ کیونکہ عام لوگ اس کے تابع ہو گئے تھے۔ یسوع کو اس ارادہ کی خبر

صفحہ ٢٦٨

لگ گئی تو رات ہی رات جگن ناتھ سے نکل کر نیپال کو چلا گیا۔ پھر کوہ ہمالیہ کو عبور کرتا ہوا راجپوتانہ آ پہنچا اور وہاں سے بنارس پہنچ کر تبلیغ شروع کی۔ تو وہاں کے بت پرستوں نے اس کو وعظ توحید سے روک دیا تو ملک شام میں آ گیا اور اس وقت اس کی عمر ٢٩ سال تھی۔ اب جا بجا وعظ کرنا شروع کیا اور ہزاروں لوگ تابع ہو گئے۔ چند حکام نے بادشاہ پلاطوس جا کر شکایت کی کہ عیسیٰ نامی ایک واعظ اس ملک میں وارد ہوا ہے۔ جو اپنی سلطنت کی دعوت دیتا ہے اور تیرے خلاف لوگوں میں جوش پھیلا رہا ہے۔ چنانچہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تابع بھی ہو گئے ہیں۔ پلاطوس نے اسے گرفتار کر کے موابذ (مذہبی سرداروں) کے پیش کیا۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب یروشلم آئے تو لوگوں نے بڑے اعزاز سے آپ کا استقبال کیا تو آپ نے فرمایا کہ بہت جلد تم لوگ ظالموں سے رہائی پا کر ایک قوم بن جاؤ گے اور تمہارا دشمن بہت جلد تباہ ہو جائے گا۔ جو خدا سے خوف نہیں کرتا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں بنی اسرائیل سے ہوں۔ میں نے سنا تھا کہ میرے بھائی اور بہنیں ظالموں کے ہاتھ گرفتار ہیں۔ اس کے بعد آپ نے جا بجا شہر بشہر وعظ کہنا شروع کیا اور عبرانیوں سے یہ بھی کہنا شروع کیا کہ بہت جلد تم نجات پاؤ گے۔ تب جاسوسوں نے پوچھا کہ کیا ہم قیصر روم کے ماتحت رہ کر اپنے بادشاہ پلاطوس کا حکم مانتے رہیں یا اپنی نجات کا انتظار کریں تو آپ نے جواب دیا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم قیصر روم سے نجات پاؤ گے۔ بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ تم بہت جلد گناہوں سے نجات پاؤ گے۔ اس کے بعد آپ نے مختلف مقامات پر توحید کا وعظ تین سال تک کیا اور آپ کی عمر ٣٣ سال تک پہنچ گئی۔ جاسوسوں نے اپنا کام شروع رکھا اور پلاطوس کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ لوگ کہیں حضرت مسیح علیہ السلام کو سچ مچ ہی بادشاہ نہ تسلیم کر لیں۔ اب آپ کے ذمہ بغاوت کا جرم لگا کر آپ کو اندھیری کوٹھری میں بند کیا گیا اور مجبور کیا کہ آپ بغاوت کا اقبال کریں۔ مگر آپ نے نہ کیا اور تکالیف برداشت کرتے رہے اور جب دربار میں آپ پیش کئے گئے تو پلاطوس نے پوچھا کہ کیا تم نے یوں نہیں کہا کہ مسیح کو خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ لوگوں میں بغاوت پھیلا کر خود بادشاہ بن جائے؟ جواب میں آپ نے فرمایا کہ جب تم صلیب پر قتل کر سکتے ہو تو اس کی کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں سے اس جرم کا اقبال کرایا جائے۔ اس روکھے جواب پر پلاطوس نے غصہ کھا کر آپ کو صلیب پر لٹکانے کا حکم دیا اور باقی مجرموں کو رہا کر دیا۔ تو سپاہیوں نے آپ کو بمعہ اور دو چوروں کے صلیب دیا تو سارا دن لاش صلیب پر رہی۔ سپاہیوں کا پہرا تھا۔ تابعدار لوگ دیکھ دیکھ کر روتے تھے اور ان کو اپنی جان کا خوف بھی لگ رہا تھا۔ شام کے قریب مسیح کی روح خدا کے پاس چلی گئی۔ اب پلاطوس کو ندامت

آئی کہ اس نے برا کیا: جس کو انہوں نے صلیب دیکھو انجیل سیاح روسی مسـ ثابت کیا ہے اور واقعات کـ بعد ہندوستان آئے تھے ا سوچ سکتے ہیں کہ جب بانی

اتہام نمبر ٩ اور ایلیا

ملاکی نبی کی کتـ کے پیشتر ایلیا نبی تمہارے جائے تب ایلیا المسیح کے آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں کر آسمان پر چلا گیا اور ایلیـ (١٢:١) اس پیشین گوئی کے مـ سے اتریں گے۔ مگر کوئی نـ کہ فقیہہ کیوں کہتے ہیں کہ ا گا اور بندوبست کرے گا پہچانا۔ بلکہ جو چاہا اس سے سمجھا کہ ایلیا سے مراد یوحنـ اور (متی ب ١١ چاہو تو قبول کرو۔ (مرقس علیہ السلام کا ظہور ہے جو حـ اصطلاح نبوت میں جس ہوتی ہے کہ ایسا شخص پیدا ہـ ہے اور جب ختم نبوت دوسـ مسیح وفات پاچکے ہیں اور جائے کہ ایک اسرائیلی نبی

صفحہ ٢٦٩

آئی کہ اس نے برا کیا ہے۔ اس لئے اس نے آپ کی لاش آپ کے رشتہ داروں کے سپرد کی۔ جس کو انہوں نے صلیب خانہ کے پاس ہی دفن کر دیا اور لوگ اس قبر کی زیارت کرنے لگے (اور دیکھو انجیل سیاح روسی مسٹر نکولس نوٹووچ) جس سے مرزا قادیانی نے مسیح کا سفر ہندوستان میں ثابت کیا ہے اور واقعات کو پس و پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد ہندوستان آئے تھے اور یہاں سے کشمیر جا کر وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ ناظرین خود سوچ سکتے ہیں کہ جب بانی مذہب کا یہ حال ہوگا تو تابعدار کیوں نہ بات کا بتنگڑ بنائیں گے؟

اتہام نمبر ١٩ اور ایلیا

ملاکی نبی کی کتاب میں یوں مذکور ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہولناک دن کے آنے کے پیشتر ایلیا نبی تمہارے پاس بھیجوں گا۔ (آیت ٥) اور جب خدا نے چاہا کہ ایلیا کو آسمان پر لے جائے تب ایلیا الیسع کے ساتھ جلجال سے چلا۔ (سلاطین ٢،١) اور جب دونوں جاتے تھے تو ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑوں نے درمیان میں آ کر دونوں کو الگ الگ کر دیا اور ایلیا بگولے میں ہو کر آسمان پر چلا گیا اور ایلیا کے جانے کے وقت ایلیا کی چادر گر پڑی جو الیسع نے اٹھالی۔ (سلاطین ٢، ١٢) اس پیشین گوئی کے مطابق یہودی منتظر تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیشتر الیاس آسمان سے اتریں گے۔ مگر کوئی نہ اترا۔ جیسا کہ متی میں مذکور ہے کہ شاگردوں نے حضرت مسیح سے پوچھا کہ فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ ایلیا کا آنا ضروری ہے۔ یسوع نے جواب دیا کہ الیاس ضرور پہلے آوے گا اور بندوبست کرے گا۔ پر میں تم سے کہتا ہوں کہ الیاس تو آچکا۔ لیکن انہوں نے اس کو نہیں پہچانا۔ بلکہ جو چاہا اس سے کیا اس طرح ابن مریم بھی اس سے دکھ اٹھائے گا۔ تب شاگردوں نے سمجھا کہ ایلیا سے مراد یوحنا یحییٰ علیہ السلام ہیں۔

اور (متی ب ١١، ١٤) میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا جو الیاس آنے والا تھا یہی ہے۔ چاہو تو قبول کرو۔ (مرقس ب ٩، ١٢) میں بھی یونہی مذکور ہے۔ اب یہاں نزول ایلیا سے مراد یحییٰ علیہ السلام کا ظہور ہے جو حضرت الیاس سے کمال مشابہت رکھتے تھے۔ جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اصطلاح نبوت میں جس نبی کے نزول کی بابت لکھا جاتا ہے کہ وہ ضرور آئے گا اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ایسا شخص پیدا ہوگا۔ جو پہلے کے مشابہ ہوگا۔ اسی طرح نزول مسیح سے بھی مراد ظہور مثیل ہے اور جب ختم نبوت دوسرے نبی کے آنے سے روکتی ہے تو اس لئے بھی ماننا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح وفات پاچکے ہیں اور خود نہیں آئیں گے۔ بلکہ آپ کا مثیل پیدا ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر یہ مانا جائے کہ ایک اسرائیلی نبی تکمیل اسلام کے لئے آئے گا تو اس امت کی اس میں سخت توہین بھی

صفحہ ٢٧٠

ہوتی ہے کیا اس میں کوئی ایسا قابل آدمی نہیں ہے جو اسلام کی خدمت کرے اور یہودیوں کے نبی کی محتاج ہے؟ تو پھر علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اور کنتم خیر امۃ کی فضیلت کیا رہی؟

اہل اسلام نے اس مقام پر یوں تحقیق کی ہے کہ حضورﷺ کی پیشین گوئی کتب سابقہ سماویہ میں موجود ہے اور آپ کے نام مختلف طور پر ذکر کئے گئے ہیں۔ جن میں سے ایک نام ایلیاء بھی ہے۔ اب ایلیا سے مراد الیاس لینا یا تو عیسائیوں کی تحقیق ہے یا مرزائیوں کا عقیدہ ہے۔ ورنہ اہل اسلام اس سے محترز ہیں۔ جیسا کہ ذیل کی عبارات سے بالکل واضح ہے۔

ہے کہ جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قید کیا گیا تو آپ نے شاگردوں کو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف روانہ کیا۔ تاکہ پوچھیں کہ ایل آپ ہیں یا کوئی اور ہے جس کا انتظار رکھیں تو حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام سے بڑھ کر کوئی پیدا نہیں ہوا۔ تورایت اور کتب انبیاء ایک دوسرے کے مؤید ہو کر موجود ہیں۔ اب تمہاری خواہش ہے تو مان لو۔ ایل بالکل تیار ہے کہ آجائے۔ اب جس کے کان ہیں سن لے۔ اب ایل عبرانی زبان میں خدا کو کہتے ہیں اور خدا کا آنا اصطلاح کتب سماویہ میں نبی کا آنا مراد ہوتا ہے۔ جیسا کہ تورایت میں مذکور ہے کہ خدا طور سینا سے آیا۔

کی پندرھویں پیشین گوئی یہ ہے کہ متی کی انجیل میں یوں مذکور ہے کہ شاگردوں نے حضرت مسیح سے پوچھا کہ اے معلم ! کتابوں میں آیا ہے کہ ایلیا آئے گا تو آپ نے فرمایا کہ ایلیا آئے گا اور تم کو ہر چیز سکھلائے گا اور میں تم کو کہتا ہوں کہ ایلیا آگیا۔ مگر لوگوں نے اسے نہ پہچانا اور جو جی میں آیا اس کے ساتھ کیا۔ اب عیسائیوں نے یہ سمجھا کہ ایلیا سے مراد حضرت نے اپنی ذات مراد لی ہے۔ کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ ایلیا آگیا اور انہوں نے پہلا فقرہ چھوڑ دیا ہے کہ ایلیا آئے گا۔ جس سے مراد ہمارے نبی آخر الزمان ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ عیسائیوں کی طرح مرزائیوں نے بھی ایلیا سے مراد حضرت مسیح لیا ہے اور دوسرا فقرہ چھوڑ دیا ہے اور اہل اسلام کے خلاف چلے ہیں۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام ہے۔“ خود حضرت یحییٰ علیہ السلام اس کی تردید کرتے ہیں۔ جیسا کہ یوحنا نقل کرتا ہے کہ: ”حضرت یحییٰ علیہا السلام سے پوچھا گیا کہ آپ ایلیا ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ میں ایلیا نہیں ہوں۔“ مرزائی اور عیسائی دونوں غور کریں کہ جس کی تائید میں آپ زور لگا رہے ہیں۔ وہ خود منکر ہے۔ مدعی سست گواہ چست کا معاملہ ہے۔

صفحہ ٢٧١

یوم الرب سے پیشتر کہ عظیم الشان اور خوفناک دن ہے۔ اس عبارت میں صاف مذکور ہے کہ ایلیا سے مراد حضور انورﷺ ہیں۔ یحییٰ علیہ السلام مراد نہیں ہیں۔

اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایلیا سے مراد یہود کے نزدیک ظہور احمدی مراد ہو۔ کیونکہ وہ اعداد سے بھی دلیل قائم کیا کرتے ہیں۔ ایک محقق کا قول ہے کہ: ”مــاء دمــاء ہ “ کے اعداد بھی احمد کے مساوی ہیں۔ جس کے معنی صحف متقدمہ میں عظیم عظیم ہیں اور ایلیا کا معنی بھی عظیم نزد خدا ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ حضورﷺ کی پیشین گوئی مختلف عنوان میں قدیم زمانہ سے چلی آئی ہے۔

انورﷺ کی پیشین گوئی کی تھی۔ حضرت الیاس کے ظہور ثانی کی پیشین گوئی نہ تھی۔ کیونکہ بائبل میں مذکور ہے کہ حضرت ہاجرہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو آپ نے اس کا نام اسماعیل رکھا۔ فرشتوں نے کہا کہ بنی اسحاق کے مقابلہ میں زندہ رہے گا۔ (پیدائش:١٦) ابراہیم علیہ السلام سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ میں تجھے اقوام کثیرہ کا باپ بناؤں گا اور سارہ سے اسحاق پیدا کروں گا۔ جسے برکت دوں گا اور اسماعیل کو بھی برکت دوں گا۔ اب دونوں بیبیاں سلوک سے نہ رہتی تھیں۔ اس لئے حضرت ابراہیم ہاجرہ کو مکہ چھوڑ گئے تو ہاجرہ رونے لگیں تو آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ اسماعیل کو بھی کئی اقوام کا باپ بنائے گا۔ اب ابراہیم ١٧٥ سال تک زندہ رہے اور اسماعیل و اسحاق دونوں نے آپ کو وفات کے بعد مزرع عفرون میں دفن کیا۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو خدا نے فرمایا کہ میں بنی اسماعیل کی طرف تیرے جیسا نبی بھیجوں گا۔ (استثناء:١٨) یہ بھی مذکور ہے کہ خدا سینا سے آیا۔ سعیر سے طلوع کیا اور فاران سے جلوہ گر ہوا۔ اس کے ہاتھ میں شریعت ہے۔ (استثناء:٣٣) چونکہ اسماعیل علیہ السلام کوہ فاران میں رہتے تھے۔ اس لئے اس میں اشارہ حضور انورﷺ کی طرف ہوا۔ یوں بھی لکھا ہے کہ لوگوں نے حضرت یحییٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ ہی وہ آخر الزمان نبی ہیں۔ تو آپ نے انکار کیا (یوحنا:١) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اے بنی اسحاق تمہارے بھائیوں میں خدا تعالیٰ میرے جیسا نبی مبعوث کرے گا۔ (اعمال:٣) اور مسیح کا قول ہے کہ جس پتھر کو معماروں نے پھینک دیا تھا وہی آخری پتھر بنا۔ (متی:٢١) یہ مفہوم حدیث لبنہ کے موافق ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تک میں خدا کے پاس نہ جاؤں گا تمہارا معین نہیں آئے گا۔ جو تمہیں راہ ہدایت بتائے گا۔ (یوحنا:١٦) اس میں بھی حضورﷺ کی ہی پیشین گوئی ہے۔ یعقوب علیہ السلام

صفحہ ٢٧٢

نے آپ کا نام شیلون بتایا۔ جس کے معنی عبرانی میں جگ داتا ہے۔ (ذیل الفارق:٧٣) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزدیک آپ کا لقب ارکون العالم ہے۔ یعنی سیدالعالمین۔ (یوحنا)

ہے اور ایلیا (بزرگ ہستی) اسم صفت ہے جو ہر ایک نبی پر اطلاق ہوسکتا ہے۔ اسی بناء پر حضرت الیاس علیہ السلام کو بھی ایلیا کہا گیا اور حضرت خاتم المرسلین ﷺ کو بھی ایلیا کہہ کر پکارا گیا۔ بروایت انجیل حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیب پر ”ایلی ایلی لما سبقتنی“ پکارا تھا تو لوگوں نے یوں سمجھا تھا کہ آپ یحییٰ علیہ السلام کو پکارتے تھے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ جس کے ظہور کی دھوم دھام تھی۔ وہ حضرت الیاس علیہ السلام کا ظہور نہ تھا۔ بلکہ حضرت نبی آخرالزمان ﷺ کا ظہور تھا۔ ورنہ خود حضرت یحییٰ علیہ السلام ظہور ایلیا کا مصداق خود بن جاتے۔ لیکن عیسائیوں اور مرزائیوں نے موجودہ تراجم کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ظہور ایلیا سے مراد ظہور یحییٰ تھا۔ مگر تصریحات اسلام اور محققین اسلام کے نزدیک یہ خیال شروع سے آج تک غلط چلا آیا ہے۔ اس لئے مرزائیوں کا یہ وہم دلانا کہ شروع میں ظہور ایلیا سے مراد نزول الیاس تھا۔ بالکل غلط ہے۔ جس کی تائید سوائے عیسائیوں کے اسلام میں کہیں نہیں ملتی۔ ہاں ہم عیسائیوں کا قول بھی ماننے کو تیار ہیں۔ مگر آئے دن تراجم کی ترمیم وتنسیخ نے ان کے اقوال کو غیر معتبر بنادیا ہے۔ بالخصوص ایسے مسائل ہیں تو وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مخالف مطلب پیدا کرتے ہیں جو اسلام کی تائید میں ہو۔ مگر افسوس ہے کہ مرزائی عیسائیوں کی پناہ لیتے ہیں اور اسلام کی تحقیقات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ شاید اس لئے کہ یہ بھی عیسائی ہیں۔

سے نکلے ہوئے ہیں۔

بینۃ توراتکم والاناجیل وهم فی جحوده شرکاء
ان یقولوا بینۃ فما زالت بها عن قلوبهم عشواء
من هو الفارقلیط والمنحمنا وبالحق تشهد الخصماء
اخبرتکم جبال فاران عنه مثل ما اخبرتکم سیناء
واتاکم من المهیمن قدیس وکم اخبرت به الانبیاء
وصفت ارضه بنبوۃ شعیا فاسمعوا ما یقوله شعیاء
او نور الاله تطفئه الافواه وهو الذی به یستضاء
صفحہ ٢٧٣

٩...... ہمیں افسوس ہے کہ آج تک جو پیشین گوئیاں اسلام نے حضورﷺ پر منطبق کی تھیں آج ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ تو مسیح ایران اپنے اوپر منطبق کرتا ہے اور رہی سہی مرزا قادیانی سنبھال لیتے ہیں اور حضورﷺ کے حق میں ایک پیشین گوئی بھی نہیں رہنے دیتے۔ اس لئے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ایسے غارتگروں سے پرہیز رکھیں۔

اتہام نمبر ١٠ محمد بن جریر طبری

ابن سلیم انصاری روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری عورت نے نذر مانی ہوئی تھی کہ راس الجماء پر جاوے گی۔ (جو مدینہ شریف کے پاس وادئ عقیق کا ایک پہاڑ ہے ) تو میں بھی اس کے ساتھ گیا۔ وہاں جا کر ایک قبر دیکھی جس کے سر اور پاؤں پر ایک کتبہ لکھا ہوا تھا۔ میں وہ دونوں اٹھا کر روانہ ہوا۔ راستہ میں ایک تو میں نے پھینک دیا۔ کیونکہ میں تھک گیا تھا اور دوسرا ایک عالم سریانی سے پڑھوایا۔ وہ نہ پڑھ سکا۔ پھر میں نے یمن کے عالم زبور کے پیش کیا جو خط مسند لکھا کرتا تھا۔ وہ بھی نہ پڑھ سکا تو میں نے وہ پھر اپنے صندوق کے نیچے رکھ دیا۔ چند سال بعد موضع ماہ کے باشندے فارسی النسل تجارت کے لئے آئے۔ انہوں نے وہ پڑھ کر سنایا کہ یہ قبر رسول اللہ عیسیٰ بن مریم کی ہے جو ان ممالک کی طرف بھیجے گئے تھے وہ لوگ جب آباد تھے تو حضرت مسیح ان کے پاس آئے اور یہیں دفن ہوئے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس عبارت میں عربی کے یہ الفاظ ہیں کہ: ”هذا قبر رسول اللہ عیسیٰ ابن مریم الی ھذا البلاد “ جن کا مفہوم یہ ہے کہ وہ ان ممالک کی طرف مبعوث ہوئے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا کوئی شاگرد ان ممالک کی طرف بھیجا گیا تھا نہ یہ کہ آپ خود یہاں آئے تھے۔ کیونکہ آپ بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے۔ نہ اس قوم کی طرف جو مدینہ کے پاس اس وقت آباد تھی اور جس کا نام نہیں بتایا گیا کہ وہ کون تھی؟ ہاں اس عبارت میں کچھ سقم موجود ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو اللہ کا لفظ یہاں سہو کاتب سے لکھا گیا ہے اور اصل عبارت یوں ہے کہ: ”هذا قبر رسول عیسیٰ ابن مریم “ یہ قبر ہے عیسیٰ بن مریم کے ایک شاگرد کی اور یا لفظ اللہ مضاف مضاف الیہ میں فاصلہ واقع ہو گیا ہے اور یا رسول کا لفظ شروع عبارت سے فروگزاشت ہو چکا ہے اور اصل عبارت یوں ہے کہ: ”هذا قبر رسولہ رسول اللہ عیسیٰ ابن مریم “ یہ قبر ہے رسول اللہ عیسیٰ ابن مریم کے شاگرد کی۔ اگر ”الی ھذا البلاد “ کا فقرہ عبارت میں نہ ہوتا تو اس تاویل کی ضرورت نہ پڑتی۔ کیونکہ یہ فقرہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح مراد نہیں ہیں۔ بلکہ ان کا کوئی شاگرد مراد ہے اور یہ صحیح ترین قیاس بھی ہے۔ کیونکہ یہ کتاب یورپ میں طبع ہوئی ہے اور ہر ایک صفحہ میں اس کی عبارات کی

صفحہ ٢٧٤

تصحیح ساتھ ساتھ کی گئی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصحح سے یہ فقرہ فروگذاشت ہو گیا ہے۔ کتاب میں اسی طرح کے سقم ابھی تک کئی ایک موجود ہیں۔ جو مطالعہ سے معلوم ہو سکتے ہیں اور ہماری اس تصحیح کی تائید دوسری کتابوں سے ثابت ہوتی ہے کہ جنہوں نے بعینہ یہی واقعہ بیان کیا ہے۔ دیکھئے کتاب الوفاء باب سوم میں یہی واقعہ لکھ کر شاگرد کا نام بھی بتایا ہے۔ جس کے لفظ یہ ہیں۔ ”فاخرجت الیہما الحجر فقرأہ فاذا فیہ انا عبدالله الاسود رسول رسول الله عیسیٰ ابن مریم الیٰ اھل قری عرینة (عن ابن زبالة)“ اس کے بعد ساتویں باب میں بروایت زبیر لکھتے ہیں کہ راس جماء ام خالد پر ایک آدمی کی قبر پائی گئی۔ جس پر یوں مرقوم تھا کہ: ”انا اسود بن سوادة رسولہ رسول الله عیسیٰ ابن مریم الیٰ هذه القرية“ اور بروایت ابن شہاب کہتے ہیں کہ: ”وجد قبر علی جماء ام خالد اربعون ذراعا فی اربعین ذراعا مکتوب فی حجر فیہ انا عبدالله من اھل نینوی رسولہ رسول الله عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام انی ارسلت الیٰ اھل هذه القرية فادرکنی الموت فاوصیت ان ادفن فی جماء ام خالد“ جماء ام خالد پر ایک ٤٠×٤٠ قبر پائی گئی اور وہاں ایک کتبہ ملا جس میں یہ مرقوم تھا کہ میں نینوی کا باشندہ ہوں۔ حضرت مسیح کا مبلغ بن کر یہاں آیا تو میری اجل آ گئی۔ میں نے وصیت کی کہ کوہ جماء میں مجھے دفن کیا جائے۔ اب ان تصریحات کے موجود ہوتے ہوئے کون مسلمان ایماندار یقین کر سکتا ہے کہ محمد بن جریر جو حضرت مسیح علیہ السلام کو اپنی تاریخ میں جسم عنصری سے آسمان پر زندہ مانتا ہے۔ ایسی روایت بھی درج کرے گا جو وفات مسیح کی مثبت ہو اور اگر بالفرض ایسی روایت ذکر بھی کرتا تو اس کا فرض تھا کہ حسب معمول اس کی تنقید بھی کرتا۔ جیسا کہ اپنی کتاب میں ذبح اسماعیل اور عہد بخت نصر میں اس کی تنقید کی ہے۔ اس لئے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ابن جریر نے بھی اپنی کتاب میں رسول رسول اللہ لکھا ہوگا۔ مگر چھپنے میں غلط چھپ گیا ہے اور مرزائیوں کو موقعہ مل گیا ہے کہ وفات مسیح کا اتہام ابن جریر پر لگائیں۔ آخر وہی بات نکلی کہ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ہوتا ہے۔

اتہام نمبر ١١ اور ابن کثیر وضاحت کشاف

وفاتی فرقہ یوں بھی کہا کرتا ہے: کہ کشاف میں متوفیک کا ترجمہ ممیتک حتف انفہ کیا ہے اور ”لو کان موسیٰ وعیسیٰ حیین لما وسعھما الا اتباعی“ یہ حدیث ابن کثیر یواقیت ترجمان القرآن وغیرہ کتابوں میں درج ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں کے نزدیک وفات مسیح کا مسئلہ صحیح ہے۔ مگر اس کی روایت مرفوع نہیں بتا سکتے کہ کس اصحابی کی روایت ہے اور

صفحہ ٢٧٥

جس کتاب سے بھی روایت کرتے ہیں صرف اتنا ہی لکھا ہوا ہوتا ہے کہ: ”فی بعض الروايات، روى جاء “ وغیرہ اس لئے اس غیر مستند حدیث کا احادیث مرفوعہ کے مقابلہ میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اتمام نمبر ٦ میں گزر چکا ہے کہ حافظ ابن قیم نے مدارج السالکین میں حضور انور ﷺ کی روایت عامہ بیان کرتے ہوئے یہ لفظ لکھ دیئے ہیں اور اپنی طرف سے حدیث ”لوکان موسیٰ “ میں عیسیٰ کو بھی درج کر دیا ہے۔ جس کو ناظرین نے حدیث نبوی سمجھ لیا ہے۔ حالانکہ بالکل غلط ہے۔ اوّلاً اس وجہ سے کہ حافظ ابن قیم نے اس فقرہ کو روایۃً نہیں لکھا۔ ثانیاً اس وجہ سے کہ اس فقرہ کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا مسئلہ لکھ دیا ہے۔ اگر وفات مسیح کا استدلال اس قول سے قائم ہو سکتا تو حافظ صاحب ساتھ ہی قول حیات مسیح نہ کرتے۔ ثالثاً اس وجہ سے کہ اس قول کے ماقبل و مابعد کا مطالعہ کرنے سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اگر عہد رسالت نبویہ میں دنیا میں یہ دونوں پیغمبر بلکہ ان کے سوا کوئی اور بھی رسول ہوتے تو ان کو بھی اطاعت رسول آخر الزمان واجب ہوتی۔ رابعاً اس وجہ سے کہ راوی جاء وغیرہ ایسے لفظ اقوال الرجال پر بھی مستعمل ہوتے ہیں۔ اس لئے اس جگہ بھی مراد قول ابن قیم ہے اور یہ مراد نہیں ہے کہ یہ قول رسول ہے۔ اب قول الرجال سے قول النبی کو مسترد کرنا بے ایمانی ہوگی۔ خامساً اس وجہ سے کہ یواقیت میں گو لفظ عیسیٰ درج ہے۔ مگر امام شعرانی نے اس موقعہ پر فتوحات کا حوالہ دیا ہے اور یہی مقام جب فتوحات سے دیکھا گیا ہے تو اس میں لفظ عیسیٰ درج نہیں ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ غلطی سے کسی مصحح نے طباعت کے وقت درج کر دیا ہے یا کسی دوسرے مہربان نے یہ زیادتی کی ہے۔ کیونکہ بقول مصنف عقیدہ اسلام اس کے قلمی نسخہ میں صرف موسیٰ کا لفظ ہے۔ عیسیٰ کا لفظ وہاں موجود نہیں ہے۔ بہر حال ایسے مشتبہ قول سے ابن کثیر، امام شعرانی، شیخ اکبر اور نواب صدیق الحسن خان وغیرہ کو متہم کرنا انصاف نہیں ہے۔ کیونکہ ان بزرگوں نے حیات مسیح کے اثبات میں دوسرے مقامات پر بڑے زور سے کام لیا ہے۔ خدا تعالیٰ ان چالبازوں سے بچائے جو اسلام میں رخنہ اندازی کے در پے ہو کر لوگوں کو سامنے جھوٹ کو سچ کر دکھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تعجب ہے کہ کشاف کی بھی پوری عبارت نہیں لکھی تا کہ دھوکہ دہی میں کسر باقی نہ رہے۔ دیکھئے اصل عبارت یوں ہے۔

”انی متوفیک ای مستوفی اجلک ومعناہ انی عاصمک من ان تقتلک الکفار ومؤخرک الی کتبہ لک وممیتک حتف انفک لا قتلا بایدیہم ورافعک الی سمائی ومقر ملائکتی“

صفحہ ٢٧٦

اتہام نمبر ١٢ اور حسن بن علیؓ

وفاتی فرقہ نے ایک دفعہ یہ بھی ظاہر کیا تھا کہ جب ٢٧ / رمضان کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی وفات ہوئی تو امام حسنؓ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا تھا کہ: ”قد قبض الليلة رجل لم يسبقه الاولون ، لقد قبض في اللية التي عرج فيها بروح عيسى ابن مريم عليهما السلام “ وہ رات ہے کہ جس میں حضرت عیسیٰ کی روح قبض ہوئی اور یہ خطبہ صحابہؓ کے سامنے دیا گیا تھا جو سب نے تسلیم کیا کہ حضرت مسیح وفات پاچکے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث مرفوعہ کے مقابلہ میں اقوال الرجال کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ اس لئے یہ روایت قابل عمل نہیں ہے۔ علاوہ بریں یہ روایت طبقات الکبریٰ لابن سعد سے لی گئی ہے۔ جو یورپ میں چھپی ہے ۔ اس لئے ممکن ہے کہ اصل عبارت یوں ہو کہ: ”عرج فيها بروح الله عيسى ابن مريم عليه السلام “ اور یہ تاویل قرین قیاس بھی ہے۔ کیونکہ آپ نے حضرت علیؓ کے لئے قبض کا لفظ استعمال کیا ہے اور حضرت عیسیٰ کے لئے لفظ عروج کا۔ اب اس تفنن عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ عروج بالروح سے مراد رفع جسمانی ہے۔ کیونکہ اسی کتاب کے جلد اوّل ص ٢٦ پر حضرت ابن عباسؓ کا قول درج ہے کہ: ”وانه رفع بجسده وانه حى الان وسيرجع الى الدنيا فيكون فيها ملكا ثم يموت كما يموت الناس (الىٰ آخره) “ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کتاب ہذا کا مذہب وفات مسیح نہیں ہے اور نہ صحابہؓ کا اجماع وفات مسیح پر ہوا اور نہ ہی عروج بروح عیسیٰ سے انہوں نے وفات مسیح کا مفہوم سمجھا۔ سب سے بڑی بات جو اس روایت کو صحیح معنی پر لے جاتی ہے یہ ہے کہ اسی روایت میں درمنثور نے یہ لفظ نقل کئے ہیں کہ: ”ليلة اسریٰ بعیسٰی “ جس رات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لے جایا گیا اور یہ بھی روایت کی ہے کہ لیلۃ قبض موسٰی حضرت علیؓ کی وفات اسی رات ہوئی کہ جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی۔ اب ان اختلافات نے تمام استدلالات کی تشریح کر دی کہ عروج عیسیٰ سے مراد رفع جسمانی ہے وفات نہیں ہے۔

اتہام نمبر ١٣ اور حاطبؓ

مدارج النبوۃ میں لکھا ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہؓ کو حضورﷺ نے مقوقس حاکم اسکندریہ کے ہاں بغرض تبلیغ روانہ فرمایا تھا تو اس نے آپ پر اعتراض کیا کہ تمہارے نبی کو ہجرت کرنے کی کیا ضرورت پڑی۔ کیوں نہ آپ نے کفار مکہ کے حق میں بددعا کی کہ وہ سب ہلاک ہو جاتے تو آپ نے جواب دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب یہودیوں نے صلیب پر چڑھا کر قتل کیا تھا تو

صفحہ ٢٧٧

انہوں نے ان کے خلاف بددعا کیوں نہ کی تھی۔ مقوقس لاجواب ہو گیا۔ اس روایت کے رو سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور یہی مذہب مصنف مدارج النبوۃ کا ہی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مرزائیوں نے صحیح عبارت نقل نہیں کی۔ اس لئے اپنے ارادہ میں ناکام رہے ہیں۔ (اسد الغابہ ج٢ ص٢٢٧، خصائص کبریٰ ص١٢، استیعاب ج١ ص١٤٣) میں اصل عبارت یوں ہے کہ: ”ان حاطب بن ابی بلتعة قال لمقوقس حين اعترض عليه انك تشهد ان المسيح نبى فماله اذا ارادوا صلبه لم يدع عليهم ان يهلكهم الله حتى رفعه الله تعالى فى السماء الدنيا فلما سمع مقوقس هذا الكلام قال انك لحكيم جئت من حکیم “ حاطب نے مقوقس کو جواب دیا تھا کہ آپ بھی تو حضرت مسیح علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں۔ مگر جب یہودیوں نے آپ کو صلیب دینے کا ارادہ کیا تھا تو آپ نے کیوں نہ ان کو بددعا دی۔ حتیٰ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اب اس روایت سے ثابت ہوا کہ مرزائیوں نے عبارت نقل کرنے میں خیانت کی ہے اور خواہ مخواہ حاطب جیسی ہستی کو بدنام کیا ہے۔

اتہام نمبر ١٤ اور محدثین

عام طور پر وفات مسیح کا ثبوت دیتے ہوئے محدثین کو بدنام کیا جاتا ہے کہ جنہوں نے یہ روایتیں نقل کی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک وفات مسیح کا مسئلہ صحیح تھا۔ چنانچہ صحیحین میں ہے کہ: ”لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيائهم مساجدا “ یہود و نصاریٰ کو خدا تعالیٰ لعنت کرے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا تھا۔ عیسائیوں کی قبر پرستی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر تسلیم کی جائے اور آپ کی وفات واقع ہو چکی ہو۔ جواب میں یوں کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر بھی معلوم نہیں تھی تو یہودی کس کی قبر کو مسجد بنا کر پرستش کرتے ہوں گے۔ صرف حضور ﷺ نے نشان دیا تھا کہ بیت المقدس کے پاس ہے۔ مگر آج تک یہود نے اس پر قبضہ نہیں بنایا۔ اس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر بھی ابھی تک دنیا میں صحیح طور پر موجود نہیں ہے۔ انیس سو سال بعد جو کشمیر میں قبر بتائی جاتی ہے وہ بھی یسوع یا یوز آسف کی قبر بتائی جاتی ہے۔ حضرت مسیح کی قبر نہیں بتائی جاتی۔ کیونکہ مرزائی یسوع اور مسیح الگ الگ دو ہستیاں تسلیم کرتے ہیں۔ بالفرض اگر یہ قبر حضرت مسیح کی ہی تصور کی جائے تو پھر بھی اس حدیث شریف سے اس کی تکذیب ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر یہ قبر واقعی طور پر ہوتی تو عیسائی اس کی پرستش ضرور کرتے۔ لیکن پرستش تو کجا عیسائی اسے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ اب اس حدیث سے پرستش قبر کے عنوان سے وفات مسیح کو کیسے تسلیم کیا

صفحہ ٢٧٨

جاسکتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس حدیث میں نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام ہے اور نہ عیسیٰ علیہ السلام کا۔ صرف قبر پرستی کا ذکر ہے۔ یہود و نصاریٰ نے باقی بنی اسرائیل کی پرستش گاہ بنالیا تھا۔ عیسائیوں کے نزدیک چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے اتار کر تین دن کے لئے دفن کئے گئے تھے۔ وہی جگہ قبر قرار پا چکی تھی۔ جس کی پرستش ہوتی ہے یا حضرت مسیح کی مورتی اور نقل قبر ان کے ہاں بنائی جاتی ہے۔ جس کو گر جاؤں میں پوجتے ہیں۔ بہر حال اس حدیث میں ایسے مجسمات یا فرضی قبریں یا دوسرے انبیاء کی قبریں مراد ہو سکتی ہیں۔ جن کی پرستش کرتے ہیں اور حالات خارجی اس امر کے متقاضی نہیں ہیں کہ اس حدیث میں جب تک قبر مسیح اور اس کی پرستش تسلیم نہ کی جائے۔ اس کا صحیح مفہوم پیدا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس طرح تسلیم کرنے سے یہ حدیث بالکل خیالی رہ جاتی ہے اور اہل اسلام کے ذمہ بڑا بہتان بن جاتا ہے کہ انہوں نے اس حدیث کے ہوتے ہوئے قبر مسیح اور اس کی قبر پرستی کو ظاہر نہیں کیا۔ حالانکہ ہمارے بزرگوں نے قبر پرستی کی تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام سے چلائی ہے۔ نواب صدیق الحسن خان (دین خالص ج ٢ ص ٣٥٦) میں فرماتے ہیں کہ:

"قد روينا ابتداء عبادة الاصنام كانت هي تعظيم الاموات باتخاذهم آلهة والتمسح بهم والصلوة عندها" (تواریخ کلیسا ص ١٨٠) میں درج ہے کہ قبر مسیح پر دو سو سال بعد عرس قائم کیا گیا۔ اب یہ واقعات بتا رہے ہیں کہ مسیح علیہ السلام کی قبر پرستی کشمیر میں نہیں ہوئی اور نہ اب ہو رہی ہے اور جس قبر کی پرستش ہوتی ہے وہ بیت المقدس میں ہے اور پرستش کرنے والے آپ کو آسمان پر زندہ مانتے ہیں اور یہ بھی مانتے ہیں کہ حضرت مسیح صرف تین دن اس میں رہے تھے۔ پھر زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے تھے۔ اس لئے مرزائیوں کا یہ مطلب بالکل ثابت نہیں ہو سکتا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اب زندہ نہیں ہیں اور آپ کی قبر کی پرستش کشمیر میں ہو رہی ہے۔

احادیث ذیل کو بھی مرزائیوں نے مطلب بگاڑ کر وفات مسیح کی دلیل بنائی ہیں کہ:

"١...... انه وجد في السموات ادم وادریس وموسى وعيسى (شیخان) ٢...... لو ان اخي عيسى ابن مريم كان يمشى ولوزاد يقينا لمشى فى الهواء (الحكيم عن زافر بن سليم) ٣...... ولو ان اخي عيسى ابن مريم كان احسن يقينا مما كان لمشى في الهواء ومشى على الماء (الديلمي عن معاذ) ٤...... اعمار امتى ما بين الستين الى سبعين (ترمذی) ٥...... ما منكم من نفس منفوسة تأتى عليها مائة سنة وهى حية يومئذ، ٦...... كان فيما خلا من اخوانی من الانبياء ثمانية الاف ثم كان عيسى ابن مريم ثم كنت انا بعده (الحاكم والترمذى)

صفحہ ٢٧٩

٧....... ابوبكر خير الاولين والآخرين الا النبيين والمرسلين، ٨....... اوّل الرسل ادم واخرهم محمد (حاكم) ٩....... بعثت الى الناس عامة (رواه احمد والنسائى) ١٠....... انا اكثر الانبياء تبعا يوم القيمة (مسلم) ١١....... ما بعث نبى الا شابا (ابن مردويه) ١٢....... ما بعث الله نبيا فى قوم ثم يقبض الا جعل بعده فترة وملا جهنم من تلك الفترة (طبرانى عن ابن عباس) ١٣....... قال الله لعيسى ابن مريم انى باعث بعدك امة ان اصابهم ما يحبون حمدوا وان اصابهم ما يكرهون صبروا (طبرانى) ١٤....... ان لكل امة اجلا وان لامتى مائة سنة فاذا مرت لامتى مائة سنة اتاها ما وعد الله بها (طبرانى) ١٥....... لم يبعث الله نبيا الا بلسان قومه، ١٦....... بى ختم النبيون، ١٧....... لو كان بعدى نبى لكان عمر، ١٨....... علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل، ١٩....... اقول كما قال العبد الصالح، ٢٠....... مسجدى اخر المساجد، ٢١....... انا اخر الانبياء، ٢٢....... انا تلك اللبنة، هذه الاحاديث تدل على ان المسيح ابن مريم ليس بحيى وانه ليس بنازل من السماء“

جواباً گذارش ہے کہ حدیث اوّل میں حضور ﷺ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر دیکھا تھا اور دوسرے انبیاء بھی اگرچہ زمین میں دفن تھے ان کو بھی آسمان پر دیکھا تھا۔ اب دفن شدہ جب آسمان پر چلے گئے تو زندہ کو چلے جانے میں کیا شک ہو سکتا ہے۔ حضور ﷺ خود زندہ تھے اور احیاء و اموات دونوں سے ملاقات کر رہے تھے۔ دوسری اور تیسری حدیث میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ہوا میں چلنا اور پانی پر دوڑنا اس صورت میں مذکور ہے کہ آپ کی قوت ایمانیہ انتہائی طاقت کو پہنچ گئی ہوتی اور قبل الرفع اس کا وقوع نہیں ہوا اور عند الرفع بھی آپ اپنی ذاتی قابلیت سے نہیں اٹھائے گئے۔ بلکہ آپ کا اٹھایا جانا اس وعدہ کے ماتحت تھا جو خدا نے ”اِنِّـــــی مـُتَـــــوَفِّـیـكَ وَرَافِعُكَ “ میں دیا تھا۔ چوتھی اور پانچویں حدیث میں امت محمدیہ کی عمر مذکور ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام بھی جب آپ کی امت میں نازل ہو کر داخل احکام شرع ہوں گے تو آپ چالیس کے قریب ہی عمر پا کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ حدیث نمبر ٦ میں حضور ﷺ نے بعثت بیان فرمائی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعد میری بعثت ہوئی۔ ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلا نبی دوسرے کے بعد زندہ بھی نہیں رہ سکتا یا دو نبی ایک وقت میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ حدیث نمبر ٧ میں حضرت ابو بکر صدیق کی فضیلت کا ذکر ہے اور اس میں انبیاء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ پس اگر استثناء

صفحہ ٢٨٠

سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعد میں نبی کوئی نہیں آئے گا تو یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ پہلے بھی نبی کوئی نہیں آیا۔ حدیث نمبر ٨ میں حضورﷺ کو آخری نبی بتایا گیا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت غلط ہوا اور حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول صحیح ہوا۔ کیونکہ آپ کی بعثت پہلے ہو چکی تھی۔ اس کی مثال یوں دیا کرتے ہیں کہ مثلاً زید کے چار بیٹے ہیں۔ سب سے بڑا زندہ رہا اور باقی مر گئے۔ تو کیا وہ پہلا آخری بیٹا بن جائے گا؟ نہیں آخری وہ ہی چوتھا بیٹا تھا جو زندہ رہ کر مر چکا ہے۔ کیونکہ یہ گنتی پیدائش کے رو سے شروع ہوئی ہے۔ موت کے لحاظ سے شروع نہیں ہوئی۔ نویں حدیث میں حضورﷺ کی بعثت عامہ کا ذکر ہے اور اسی کے ماتحت حضرت مسیح علیہ السلام بھی اسلامی حکومت قائم کریں گے۔ حدیث نمبر ١٠ میں کثرت تابعداروں کی مذکور ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے تابعدار بھی نزول کے بعد آپ ہی کے تابعدار شمار ہوں گے۔ حدیث نمبر ١١ میں عموماً بعثت کا ذکر ہے کہ شباب میں ہوتی ہے اور حضرت مسیح بھی تیس چالیس سال کی عمر میں مبعوث ہوئے تھے اور عندالنزول بھی آپ کا شباب قائم ہوگا۔ کیونکہ آپ نکاح کریں گے اور آپ کی اولاد بھی ہوگی۔ حدیث نمبر ١٢ میں فترۃ کا ذکر ہے اور حضورﷺ کے بعد بھی فترۃ کا زمانہ شروع ہوچکا ہے۔ جس میں اہل النار بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ اگرچہ تبلیغ بدستور جاری ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام بھی تبلیغ اسلامی میں کوشش فرمائیں گے۔ حدیث نمبر ١٣ میں امت محمدیہ کا ذکر ہے۔ جس میں آپ خود داخل ہوں گے اور امت محمدیہ ہی کی خدمت میں چالیس سالہ حکومت کریں گے۔ ورنہ احکام نصرانیت جاری کر کے امت محمدیہ کو نصاریٰ نہیں بنائیں گے۔ حدیث نمبر ١٤ میں آرام کی عمر بتائی گئی ہے کہ سو سال بعد اس میں پریشانی پیدا ہو جائے گی۔ ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت مسیح کے وقت بھی امن قائم نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس وقت میں بھی آپ کو مخالفین سے برسرپیکار ہونا پڑے گا۔ حدیث نمبر ١٥ میں مذکور ہے کہ نبی کو اپنی قوم کے زبان میں احکام نازل ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضورﷺ کو عربی میں قرآن شریف نازل ہوا اور حضرت مسیح علیہ السلام پر عبرانی میں انجیل اتری تھی اور جب آپ نازل ہوں گے تو تفہیم الہیہ سے عربی بھی سمجھ لیں گے۔ کیونکہ آپ کے عہد میں عربی اور عبرانی دو زبانیں قریب قریب علاقوں میں بولی جاتی تھیں۔ اس لئے دونوں تقریباً ایک ہی سمجھی جاتی ہیں۔ اب بھی یہودی عربی اور عبرانی دونوں بول سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرزائیوں کے نزدیک جب آپ کو کشمیر، مصر، ہندوستان اور دور دراز ممالک میں سفر کرنا پڑا تھا تو ظاہر ہے کہ آپ صرف عربی ہی نہیں سیکھ چکے تھے بلکہ تمام زبانیں سیکھ چکے تھے۔ جو ایشیاء میں بولی جاتی تھیں۔ مگر تاہم آپ پر انجیل اتری تو صرف عبرانی میں اتری تھی۔ حضور علیہ السلام کے وقت میں بھی قرب

دجوار میں قاری صرف عربی زبان پنجابی، فارسی، عر تھی۔ جس سے یہ بیان کیا ہے کہ آپ کی بعث مطلب نہیں ہے کہ زندگی کے ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام اتنا ہے کہ سو سال بعد بھی اس بعثت کے لحاظ سے پہلے ہیں خضر، الیاس اور حضرت ادریس عمر حضرت مسیح سے بھی بعد می قیامت کو ہوگا۔

اتہام نمبر ١٥ اور مفسرین

عام طور پر یوں جو کسی دوسرے مقام پر ہوتی اصلی عبارتیں حضرت مسیح علیہ ’’الستم تع جریر) ‘‘ مرزائیوں نے یو مضارع کو ماضی میں لینے کا رفعه جبريل الى السـ الى السماء (روح المعـ وتاخيرا والمعنى ان كثير، مجمع البحاره محيط، فتح البيان) ان (معالم، کشاف، مدارک المعاني، ابوسعود، بيـ

صفحہ ٢٨١

وجوار میں فارسی، عبرانی، حبشی اور مصری وغیرہ بولیاں بولی جاتی تھیں۔ مگر قرآن شریف اترا تو صرف عربی زبان میں اترا۔ لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو الہام ہوتے ہیں اور وحی آتی ہے تو پنجابی، فارسی، عربی، عبرانی اور انگریزی میں آتی ہے۔ حالانکہ آپ کی قوم کی زبان صرف پنجابی تھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس معیار کے مطابق نبی نہ تھے۔ حدیث نمبر ١٦ سے میں تک یہ بیان کیا ہے کہ آپ کی بعثت آخری ہے اور آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔ ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ زندگی کے لحاظ سے بھی آپ آخری نبی ہیں۔ کیونکہ اسلام نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام بھی آپ کے بعد سو سال تک یقیناً زندہ رہے تھے۔ اختلاف صرف اتنا ہے کہ سو سال بعد بھی اب تک آپ زندہ ہیں یا نہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام بھی بعثت کے لحاظ سے پہلے ہیں اور اختتام اور زندگی کے رو سے حضورﷺ کے بعد ہیں اور حضرت خضر، الیاس اور حضرت ادریس علیہم السلام بھی روایات کے رو سے جب زندہ ہیں اور ان کا اختتام عمر حضرت مسیح سے بھی بعد میں ہوگا۔ کیونکہ وہ ملکوتی زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس زندگی کا اختتام قیامت کو ہوگا۔

اتہام نمبر ١٥ اور مفسرین

عام طور پر یوں بھی کہتے ہیں کہ مفسرین بھی وفات مسیح کے قائل ہیں اور ان کی عبارتیں جو کسی دوسرے مقام پر ہوتی ہیں۔ نقل کر کے حیران کر دیتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان کی اصلی عبارتیں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق نقل کی جائیں۔

”الستم تعلمون ان ربنا حیٌّ وان عیسیٰ یأتی علیہ الفناء (ابن جریر)“ مرزائیوں نے یوں تحریف کی ہے۔ ”لقد اتی علیہ الفناء“ حالانکہ یہ کوئی موقعہ مضارع کو ماضی میں لینے کا نہیں ہے اور کوئی لغوی سند بھی پیش نہیں کی۔ ”عن ابن عباسؓ رفعہ جبریل الی السماء من الکوۃ (روح المعانی تحت آیۃ ومکروا) ورفعہ منہ الی السماء (روح المعانی تحت آیۃ انا قتلنا) عن ضحاک ان فی الایۃ تقدیما وتاخیرا والمعنی انی متوفیک بعد انزالک من السماء (معالم وعن قتادۃ ابن کثیر، مجمع البحار جلد ثالث مدارک، تفسیر کبیر، خازن، ابوالسعود، کشاف، بحر محیط، فتح البیان) انہ علم للساعۃ ای امارۃ دلیل علی وقوع الساعۃ (معالم، کشاف، مدارک، تفسیر کبیر، جمل، وجیز، جلالین، خازن، جامع البیان، روح المعانی، ابوسعود، بیضاوی، قنوی، درمنثور ومحیط......) وفیہا عہد الی ربی ان

صفحہ ٢٨٢

الدجال خارج ومعی قضیبان (ابن کثیر) ان عیسیٰ لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیمة (ابن کثیر) فلو سلم انا لمسیح اثنان ناصری وقادیانی فالناصری یقول انی نازل من السماء واما القادیانی فلم یقل شیئا، فافھم وتدبر، قول الحسن فی متوفیك وفاة المنام فرفعہ اللہ وھو نائم (ابن کثیر) فسقط ماقیل ان المیت لیس براجع لقول تعالیٰ انھم لا یرجعون لان الموت مرادف المنام ھھنا لا اترککم یتامی وانا اتیکم عن قلیل وانا حی (مستدرك احمد) لیھبطن عیسیٰ ابن مریم وليقفن علی قبری ویسلمن علی ولاردن علیہ (ابوھریرة ابن عساکر) یوشك من عاش منکم کانہ اشار الی خضر ان یلقی عیسیٰ ابن مریم (احمد) ینزل عیسیٰ ابن مریم مصدقا بمحمد علی ملتہ (کنز) الاانہ خلیفة فی امتی (ابوداؤد) لن تھلك امة انا اولھا وعیسیٰ اخرھا والمھدی اوسطھا‘‘ مرزائی اس روایت کو یوں بگاڑتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے پہلے مہدویت کا دعویٰ کیا تھا اور اخیر میں عیسیٰ بن گئے تھے، یہ خاص تحریف ہے۔ کیونکہ وہ تو مریم بھی بن گئے تھے۔ ایک دفعہ ان کو حیض بھی آیا تھا۔ پھر ایک دفعہ خدا بھی بنے تھے۔ یہ سب کچھ بنتے تھے۔ آدمی کہاں تک مانتا جائے گا۔ ینزل کا معنی پیدائش کرتے ہیں۔ مگر یہبطن میں یہ تحریف نہیں چل سکی۔ ’لیوشك ان ینزل فیکم ابن مریم علیہ السلام (رواہ البخاری) فینزل عیسیٰ ابن مریم فیقول الامیر تعال صل بنا فیقول لا (رواہ مسلم فی صحیحہ) “ مرزائی کہتے ہیں کہ عیسیٰ ابن مریم ہی امام ہوں گے، امام مہدی کا وجود نہیں ہے۔ مگر اس حدیث میں صاف مذکور ہے کہ یہ دو شخص ہیں اور آپ اس وقت امامت صلوٰۃ کا انکار فرماویں گے۔ کیونکہ امام صاحب نے شروع کی ہوگی۔ ورنہ امامت کبریٰ یعنی حکومت اسلامی اور خلافت محمدی سے انکار نہیں کریں گے۔ ’یدفن مع رسول اللہ ﷺ فیکون قبرہ رابعا (تاریخ بخاری) لیھلن بفج الروحاء (مسلم عن ابی ھریرة) یتزوج ویولد (مشکوة عن عبداللہ بن عمر فلو سلما ان القادیانی ھو الموعود فاین ابرنس علی راسہ؟)“

اتہام نمبر ١٦ اور اقوال الرجال

مرزائی فرقہ نام لے لے کر لوگوں کو بدنام کرتا رہتا ہے کہ اہل سنت میں سے چند ایک وفات مسیح کے بھی قائل ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ جیسا کہ ذیل کی تحریرات اس کی تائید کرتی رہتی ہیں۔ ”قبل موتہ ای قبل موت عیسیٰ (ترجمہ شاہ ولی اللہ) عن ابی ھریرة

والذی نفس بیده لینزلن

(ابن حجر عسقلانی) اول

عیسیٰ الا امن قبل موتا

الکتابی مما لاوجہ لہ لان

خلاف السیاق والحد

بعیسیٰ قبل موت عیسیٰ

فی قول النصاری واما ا

علی بن طلحہ لم یثبت

عباس لو ضربت عن

یسمع التفسیر کلہ عن

السادسة (میزان وتقریب

بن واضح ناحسین بن

یموت الیھودی حتی

بالسلاح قال الذھبی م

فیہ نظر (بخاری) اشھد

منہ کان یقلب الحدیث

الی سمائی واصونا

(کشاف) لما خطر فی بع

اذ تأید بقولہ لا یضر

روح عیسیٰ وبقی فی

جمیعا الی السماء (خ

کالمفسر لہ (روح المعان

ورافعك تعیین لہ لم یک

انی متوفیك عن شھو

رزالھا (مفاتح الغیب) مت

(رازی) عن الربیع بینما

صفحہ ٢٨٣

والذى نفس بيده لينزلن عيسى ابن مريم واقرؤان شئتم وان من اهل الكتب (ابن حجر عسقلانى) اولى بالصحة هو انه لا يبقى من اهل الكتب بعد نزول عيسى الا امن قبل موته (ابن كثير) اما الذى قال ليؤمنن بمحمد قبل موت الكتابى مما لاوجه له لانه اشد فسادا مما قيل ليؤمنن قبل موت الكتابى لا نه خلاف السياق والحديث فلا يقوم حجة بمحض الخيال فالمعنى ليؤمنن بعيسى قبل موت عيسى (ابن جرير) فاندفع ما قيل ان عيسى قد مات وصلب فى قول النصارى واما الرواية عن ابن عباس قبل موتهم فضعيف لان رواية على بن طلحه لم يثبت سماعه عن ابن عباس واما نجيح عن مجاهد عن ابن عباس لو ضربت عنقه لم تخرج نفسه حتى يؤمن بعيسى فهو مدلس لم يسمع التفسير كله عن مجاهد عن قاسم بن ابى بزة وربماء دنس وهو من السادسة (ميزان وتقريب) واما محمد بن حميد قال حدثنا ابن مميلة يحيى بن واضح ناحسين بن واقد عن يزيد النحوى عن عكرمة عن ابن عباس لا يموت اليهودى حتى يشهد ان عيسى عبدالله ورسوله ونو عجل عليه بالسلاح قال الذهبى محمد بن حنيف ضعيف كثير المناكير (ابن ابى شيبة) فيه نظر (بخارى) اشهد انه كذاب (كوسج) كنا نتهمه مارايت اجرا على الله منه كان يقلب الحديث (صالح، ميزان ج٣) متوفيك انى متمم عمرك ورافعك الى سمائى واصونك عن ان يتمكنوا من قتلك (رازى) مستو فى اجلك (كشاف) لما خطر فى بعضهم ان الله رفع روحه لا جسده ذكر انه رفعه بتمامه اذ تأيد بقوله لا يضرونك من شئی (رازى) لما زعم النصارى ان الله رفع روح عيسى وبقى فى الارض ناسوته رد الله عليهم برفعه بجسده وروحه جميعا الى السماء (خازن) اخذك وافيا بروحك وبدنك فيكون ورافعك كالمفسر له (روح المعانى) متوفيك يدل على جنس التوفى اصعادا او موتا ورافعك تعيين له لم يكن تكرارا اجعلك كالمتوفى فى انقطاع الخبر (رازى) انى متوفيك عن شهواتك وحظوظ نفسك فصار حاله كحال الملائكة فى زوالها (مفاتح الغيب) متوفى عملك فبشره الله تعالى بقول طاعته واعماله (رازى) عن الربيع مينمك بما على حد قوله يتوفكم بالليل (معالم درمنثور) وما

صفحہ ٢٨٣

قيل فى الدر المنثور عن وهب او ابن اسحاق ان الله توفاه سبع ساعات او ساعات ثلث من نهار ثم رفعه الله افتراء وبهتان ليس الا زعم النصارى (روح المعانى) عن ابن عباس مميتك قال ابن جرير لم يسمع على بن طلحة التفسير عن ابن عباس وله اشياء منكرات (ميزان) بين على وابن عباس مجاهد لم يسمعه منه (تهذيب التهذيب) ارسل على عن ابن عباس ولم يره (تقريب) قال البخارى ما ادخلت فى كتابى الا ما صح المراد منه الاحاديث المسندة دون التعاليق والاثار الموقوفة على الصحابة ومن بعدهم والاحاديث المترجم بها ونحو ذلك (فتح المغيث) قال القرطبى ان الله رفعه من غير وفات ولا نوم وهو اختيار الطبرى وابن عباس (روح المعانى) فرد ما قيل ان الكرمانى قال مميتك عند ابن عباس (عمدة القارى ج٨ ص٥٣) الصحيح رفع عيسى الى السماء من غير وفات كما رجحه اكثر المفسرين واختاره ابن جرير (ابو السعود) اتفق اصحاب الاخبار والتفاسير على رفعه ببدنه حيا انما اختلفوا فى انه مات قبل الرفع او نام (تلخيص الخبير) قد تواترت الاخبار بنزول عيسى حيا جسما اوضح ذلك الشوكانى فى مؤلف مستقل صحح هذا القول الطبرى (فتح البيان) اجمع الامة على ما تضمنه الحديث المتواتر من ان عيسى فى السماء وانه ينزل فى اخر الزمان (بحر محيط) الاجماع على انه حى فى السماء (وجيز) الدليل على نزول عيسى قوله تعالى وان من اهل الكتب (يواقيت) القول الصحيح بانه رفع وهو حيى (ارشاد السارى) ان الله رفعه وهو حيى فى السماء الرابعة (فتوحات مكيه) فلما توفيتنى ورفعتنى الى السماء واخذتنى وافيا وما قيل انه رفعه بعد الوفاة فليس بشئ (فتح البيان) قبضتنى بالرفع الى السماء كما يقال توفيت ماله اذا قبضته روى هذا عن الحسن وعليه الجمهور وعن الجبائى امتنى وادعى انه رفعه بعد موته وعليه النصارى (روح المعانى) فلما رفعتنى فالمراد به وفاة الرفع (خازن) توفيتنى بالرفع الى السماء كقوله انى متوفيك ورافعك فان التوفى اخذ الشئ وافيا (ابا سعود) المراد وفاة الرفع الى السماء (رازى) ذهب الجمهور فلما توفيتنى اذا كان يوم القيمة وقيل هذا القول عند

رفعه الى السماء انهم لا يستحيون مختصا بالماض وقفوا على ربهم قال رسول الله ﷺ نعمة ثم يقول ءانت ان الضمير فى قـ مجاهد وابى هريـ وقتاده وضحاك خرجه الحاكم وابـ كشاف، وغيرهم من (ابوسعود) فيه تنبيـ من المقربين رفع سائر البشر باو (رازى) قد اجتمعـ الفلاسفة الملا النزول وان كانت ا عيسى فانه لا يـ بوفاته (حاشيه حـ روحا ليلة المعراج الصلوة فتغشاهم غـ انه قال بموته (مجد فى القرآن (ابن قيـ ارواحهم بعد مفارقـ وله بينة فهو قول الـ (كتاب الاذاعة للشوكا

صفحہ ٢٨٥

رفعه الى السماء الاولى والاول اولى (فتح البيان) فما قال المرزا فى ازالته انهم لا يستحيون اذ يجعلون الماضى بمعنى المضارع مع اذا اذ يجعله مختصا بالماضى فمردود اذ ان قد يفيد الظرفية كقوله تعالى ولو ترى اذ وقفوا على ربهم وقال ابن كثير روى ابن عساكر عن موسى الاشعرى قال قال رسول الله ﷺ اذا كان يوم القيمة يدعى بعيسى عليه السلام فيذكره نعمة ثم يقول ء انت قلت للناس الآية حكى ابن اسحاق عن قتاده عن الحسن ان الضمير فى قول انه علم للساعة لعيسى فان السياق فى ذكره كذا عن مجاهد وابى هريرة وابن عباس وابى العالية وابى مالك وعكرمة والحسن وقتاده وضحاك وغيرهم (ابن كثير) وانه اى خروج عيسى قبل القيمة خرجه الحاكم وابن مردويه عن على وابى هريرة مرفوعا (فتح البيان، معالم، كشاف، وغيرهم من التفاسير) ومن المقربين بشارة الى انه رفعه الى السماء (ابوسعود) فيه تنبيه على علو مرتبة وانه رفعه على السماء (فتح البيان) كونه من المقربين رفع الى السماء وصحبة الملائكة (كشاف) كان اختصاصه عن سائر البشر بالولادة عن غير اب وبالعلم بالمغيبات وبالرفع الى السماء (رازى) قد اجتمعت الامة على نزوله ولم يخالفه احد من اهله الشريعة سوى الفلاسفة الملاحدة ممن لا يعتد بخلافه وليس ينزل بشريعة مستقلة عن النزول وان كانت النبوة قائمة به (سفارينى) من قال ان بعد محمد نبيا غير عيسى فانه لا يختلف اثنان فى تكفيره فاندفع ما قيل ان ابن حزم قائل بوفاته (حاشيه جلالين) ورد ما فهم من قوله ان النبى واى الانبياء روحا روحا ليلة المعراج (فصل ج١ ص٧٨) بينا الناس قياما يستمعون لاقامة الصلوة فتغشاهم غمامة فاذا عيسى قد نزل (الامام مالك فى العتبية) فرد ما قيل انه قال بموته (مجمع البحار) وكذاك رفع الروح عيسى المرتضى حقا عليه جا فى القرآن (ابن قيم) فرد ما قيل انه قائل بوفاته اذ قال انما استقرت ارواحهم بعد مفارقة البدن (زاد المعاد) وقال اما ما يذكر عن المسيح انه رفع وله بينة فهو قول النصارى (زاد المعاد) الاحاديث الواردة فى نزوله متواترة (كتاب الاذاعة للشوكاني) لو كان موسى وعيسى حيين (اى فى الارض) لكانا من

صفحہ ٢٨٦

اتباعه واذا نزل عيسى فانما يحكم بشريعة محمد (مدارج السالكين لا بن قيم) وجاعل الذين اتبعوك سيظهر غلبة المسلمين على النصارى عند نزول المسيح (الجواب الصحيح لا بن تيمية) عن كعب اذ سمعوا صوتا فى الغلس اذا بعيسى عليه السلام وتقام الصلوة فيرجع الامام ويقول له عيسى تقدم فلك اقيمت الصلوة ثم يكون امام المسلمين بعد (مرقاة) فلما توفيتنى التوفى هو الرفع (تفسير مظهرى) ان عيسى يأتى عليه الفناء (ابن هشام) نصارى مصر والشام لا يقولون بصلبه بل يقولون رفعه بجسده وان نزوله من اشراط الساعة (الجواب) نصارى سوريا اقربهم الى العلم بالصلب واهل مصر فشهادتهم احق بالقبول ، وانكر معهم تسع فرق منهم (الفاروق) ان بطريق القسطنطنية فوطس نقل عن كتاب سير الحواريين ان عيسى لم يصلب بل انما صلب مكانه اخر (چراغ على) انما الصلب من مخترعات بولس واتباعه الذين لم يروا المسيح (دى يونس) كان اصل العبارة فى سفر دانيال ان المسيح يقع السعى فى قتله ولا يقع فحرفوها ان المسيح يقتل (عقيدة الاسلام) عاش عيسى خمسا وعشرين سنة ومأية اى قبل الرفع (ماثبت بالسنة) ومن قال ان عيسى ينزل بروزا فهو مردود (اقتباس الانوار) “

نواب صدیق حسن خان صاحب کے ذمہ وفات مسیح کا قول لگایا گیا ہے۔ کیونکہ آپ نے حدیث ”عاش مأية وعشرين سنة“ نقل کی ہے۔ حالانکہ انہوں نے اس حدیث کو عند الرفع عمر عیسیٰ پر دلیل بیان کیا ہے اور اپنی کتاب حجج الکرامہ میں نزول مسیح کا مستقل ذکر کیا ہے اور ترجمان القرآن تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ ہے۔ اس میں ”مات الانبياء كلهم“ اگر مذکور ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اس میں نام نہیں ہے۔ علی الہجویری معروف داتا گنج بخش کے ذمہ بہتان لگایا گیا ہے کہ آپ نے کشف المحجوب میں وفات مسیح کا قول کیا ہے۔ حالانکہ اس میں صرف اتنا مذکور ہے کہ حضور شب معراج میں حضرت مسیح کو دوسرے انبیاء کی صف میں ملے تھے۔ اب اتنی بات سے یہ سمجھ لینا کہ دوسروں کی طرح وہ بھی وفات پاچکے تھے کمال خوش فہمی ہوگی۔ تفسیر محمدی منزل اوّل میں یہ لفظ مذکور ہیں۔ ”موت عیسیٰ نوں ہوئی“ مگر اس نے کسی کا قول نقل کیا ہے۔ اپنا مذہب بیان نہیں کیا۔ لطائف القران میں مذکور ہے۔ ”وجب نزوله ببدن“ الخ۔ اس سے مراد نہیں ہے کہ تناسخ کے طریق مرزا قادیانی میں حضرت مسیح جنم لیں گے۔ بلکہ یہ مراد ہے کہ ان کا

صفحہ ٢٨٧

نزول جسم ملکوتی میں ہوگا اور یہ قول خلاف عقیدہ اسلام ہے۔ امام قسطلانی نے عاش اربعین سنۃ روایت کیا ہے۔ زرقانی نے قول نصاریٰ ٣٣ سال عمر بیان کی ہے اصابہ مستدرک اور حاشیہ جلالین میں ١٢٠ سال کی عمر مذکور ہوئی ہے۔ حضرت عائشہؓ سے بھی یوں منقول ہے۔ مگر یہ تمام اختلافات عمر عند الرفع میں ہیں۔ آپ کی تمام عمر کسی نے نہیں بتائی۔ تفسیر التوضیح المجید میں اگر لفظ توفی کا معنی موت کیا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس مفسر نے وفات مسیح کا قول بھی کتاب اللہ سے کیا ہے۔ حضرت خواجہ محمد پارسا نے اگر حدیث ”لو کان موسیٰ وعیسیٰ“ ذکر کی ہے تو ان کو دھوکا لگا ہوا ہے۔ ورنہ یہ ابن قیم کا قول ہے۔ حدیث نہیں ہے۔ ”کمامر“ خاقانی نے کہا ہے کہ: ”کجا عیسیٰ مریم کہ مردہ زندہ میکردے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب دنیا میں نہیں ہے اور یہ مطلب نہیں ہے کہ آسمان پر بھی زندہ نہیں ہے۔ میبذی شارح دیوان کا قول ہے کہ: ”روح عیسیٰ ومہدی بروز کند ونزول عیسیٰ مراد از ہمیں بروز است“ یہ عبارت مرزائیوں کو سخت مشکلات میں ڈالتی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے دعاوی میں ”لا مہدی الا عیسیٰ“ کہہ کر مہدی کا انکار کیا ہے اور اس عبارت میں عیسیٰ کا انکار کیا ہے۔ ورنہ ہمارے نزدیک یہ قول مردود ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث کے خلاف ہے۔ احمد مقری مالکی کا قول ہے کہ: ”انما کان الامام مقلدا لا يخالف قوله عليه السلام لا نبی بعدی (نفح الطیب ج٢ ص١٥٦)“ اس کا مطلب یہ ہے کہ امام مہدی امت محمدیہ میں پیدا ہوں گے اور نبی ہونے کا دعویٰ کریں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے مہدی ہوکر مسیحیت کے پیرایہ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ فقیہ ابواللیث سمرقندی نے بستان ص ٣٣٥ میں آپ کی عمر ٣٣ روایت کی ہے۔ مگر یہ نہیں بتایا کہ آپ نے یہ ساری عمر گزاری بھی ہے۔ اس لئے اس قول سے وفات مسیح پر استدلال قائم کرنا صحیح نہیں ہے۔ سید مظہر حسن سہارنپوری التہذیب المبین میں لکھتے ہیں کہ حضورﷺ نے شب معراج میں انبیاء علیہم السلام کی روحیں دیکھیں تھیں۔ مگر یہ نہیں تصریح کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی روحانی حالت میں دیکھا تھا۔ حالانکہ وہ تو پہلے ہی روح کہلاتے تھے۔ اس لئے وفات کا الزام سید صاحب پر نہیں لگ سکتا۔ مولوی غلام حیدر اوگھلوی نے خطاب الجمعہ میں کہا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کہاں ہارون کہاں اور ہم بھی کہتے ہیں کہ عیسیٰ کہاں کیا اس سے وفات مسیح ثابت ہوگی؟

مولوی محمد جان لکھتے ہیں۔ سنو یارو جو ہیں اگلے سدھارے۔ نہ مڑ کے ول ساڈے مڑ کے آئے۔ یعنی جو مر گئے ہیں وہ نہیں مڑے۔ مگر حضرت مسیح نہیں مرے۔ مولوی غلام رسول کا قول ہے۔ گئے سب چھوڑ یہ فانی اگر دانا و نادان ہے۔ فقیر اللہ صحاف کا قول ہے کہ از اولیا واتقیا

صفحہ ٢٨٨

واز اصفیاء انبیاء ۔ رفتند ازیں دارالفناء انا الیہ راجعون ۔ خطبات حنفیہ میں ہے۔ آدم سے اب تک جس قدر پیدا ہوئے دخت و پدر ۔ جب کر چکے عمریں بسر ہو کر فنا جاتے رہے ۔ ان اقوال کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر یہی حال ہے کہ لوگ مر گئے ہیں۔ سرسید نے اگر چہ وفات مسیح کا قول کیا ہے تو وہ مرزائیوں کا دادا ہے۔ ورنہ اہل سنت والجماعت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قاضی غلام محی الدین امام بٹالہ نے مسیح کی عمر اگر ١٣٠ سال لکھی ہے تو عندالرفع مراد ہو گی۔ ورنہ اس کا قول حجت شرعی نہیں ہے۔ اسی طرح یوں کہنا بھی بے فائدہ ہے کہ مولوی انشاء اللہ ایڈیٹر وطن نے متوفیک کا معنی ممیتک کیا ہے یا سید رشید رضا نے رسالہ منار میں لکھا ہے کہ: ”التوفی معناه الموت حقيقة اذهو المتبادر“ یا ظفر علی خان ایڈیٹر زمیندار نے لکھا ہے کہ مسیح نے موت کا پیالہ پی لیا ہے۔ یا ایڈیٹر السیر غلام حسین کا قول ہے کہ تمام انبیاء مر گئے ہیں۔ یا شجاع اللہ ایڈیٹر رسالہ الملۃ میں لکھا ہے کہ وفات الانبیاء کلمہ حق یا ابوالکلام نے کہا ہے کہ وفات مسیح کا قول حق ہے۔ ( پیغام صلح ١٩٢٣ء) یا مولوی چراغ علی و خرم علی نے کہا ہے کہ وفات مسیح ہو چکی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے اقوال ہیں کہ جو اسلامی حیثیت سے حجت شرعی نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ صراحۃ اجماع امت ۔ قرآن وحدیث اور تحقیق اسلام کے خلاف ہیں۔ اسی طرح اگر مولوی عبد السمیع رام پوری نے انوار ساطعہ میں لکھا ہے کہ روح عیسیٰ اور روح ادریس نے آسمان پر دو ہزار سال کی مسافت طے کی ہے تو اس کا مطلب یوں ہے کہ وہ دونوں ابھی تک زندہ ہیں۔ ورنہ مردوں کی روحوں کی رفتار کا ذکر کبھی کسی نے نہیں کیا۔ مولوی خلیل احمد صاحب سہارنپوری نے ( براہین قاطعہ ص ٢٠٠) میں لکھا ہے کہ : ”ثبت اجتماع ارواح الانبيا في البيت المقدس وايضا قال انزلت ارواح الانبياء الى البيت المقدس ليلة المعراج “ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود روح تھے تو پھر یہ قول حیات مسیح کے خلاف نہ ہوا۔ مصنف التاویل المحکم شرح عقائد فصوص الحکم میں مذکور ہے کہ: ”فالمسيح ميت كما في التواتر“ مگر یہ مذکور نہیں ہے کہ: ”المسيح مات“ اسی طرح ”اسبغول کچھ نہ پھول“ کے مطابق باقی اقوال بھی رہنے دو، ان سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔

اخیر میں مرزا قادیانی کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ جس میں انہوں نے جب وہ مسلمان تھے اقرار کیا ہے کہ حیات مسیح کا قول صحیح ہے اور خلیفہ نور الدین بھیروی نے اس کی تائید کی ہے۔ ”اِذْ قال الله يا عيسىٰ انى متوفيك“ خدا نے فرمایا ہے کہ اے عیسیٰ میں لینے والا ہوں اور بلند کرنے والا ہوں اپنی طرف۔

(تصدیق براہین احمدیہ ص ٨، از طرف نورالدین بھیروی)

صفحہ ٢٨٩

”انی متوفیک“ میں تجھے پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا۔

(براہین ص ٥٢٠ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٢٠)

اور پھر (براہین ص ٥٥٧، خزائن ج ١ ص ٥٥٩) میں ہے۔ ”اے عیسیٰ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا یا وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھالوں گا۔“ پھر (براہین ص ٤٦١، خزائن ج ١ ص ٤٤١) میں لکھتے ہیں کہ: ”حضرت مسیح نے کہا تھا کہ میرے بعد ایک دوسرا آنے والا ہے۔ وہ سب باتیں کھول دے گا اور علم دین کو بمرتبہ کمال پہنچادے گا۔ سو حضرت مسیح انجیل کو ناقص کی ناقص ہی چھوڑ کر آسمان میں جابیٹھے۔“

(براہین ص ٣٩٩، خزائن ج ١ ص ٤٤١) میں ہے کہ مسیح ایسے ایسے دکھ اٹھا کر باقرار عیسائیوں کے مرگیا اور (براہین ص ٤٩٩، خزائن ج ١ ص ٥٩٣) میں لکھتے ہیں کہ: ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع اطراف و آفاق میں پھیل جائے گا۔ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) میں لکھا ہے کہ: ”اب ہم صفائی کے ساتھ بیان کرنے کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کی رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جن کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے اور دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“

اب مرزائی بتائیں کہ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے وفات مسیح کا قول کیوں کیا جاتا ہے۔ کیا صرف اس لئے کہ مرزا قادیانی نے عقیدہ بدل دیا تھا۔ اس لئے کہ یہ تحقیق اسلامی تصریحات کے خلاف تھی؟ نہیں بلکہ اس لئے کہ مرزا قادیانی اور خلیفہ نور الدین نے اسلام چھوڑ دیا تھا اور اپنے آپ کو فلاسفہ ملاحدہ میں شامل کر کے ایک نئے اسلام کی بنیاد ڈالی تھی جو کسی طرح بھی اہل اسلام کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔

١٩...... مباحثات مرزائیہ...... توفی

بالخصوص جب کہ اس کا فاعل خدا ہو۔ مفعول انسان اور باب تفعل جو اس اصول سے متوفیک کا معنی ممیتک ہوا۔

جواب: اپنی طرف سے ایسے قیود لگانا لغت کے رو سے ناجائز ہے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ جہاں کہیں کسی لفظ کی سند محاورات عرب سے پیش کی جاتی ہے۔ وہاں فاعل ، مفعول یا

صفحہ ٢٩٠

باب کی تخصیص نہیں کی جاتی۔ ابھی ہم دکھائیں گے کہ صلب کے معنی میں مرزائی محاورات پیش کرتے ہیں تو کسی قسم کی ایسی خصوصیت پیش نہیں کرتے۔ ورنہ ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ رفع کا لفظ توفی کے بعد یا تو خود توفی کا لفظ رفع سے پہلے ضرور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر مرزائی اپنے دعویٰ پر انعام کا اشتہار دیتے ہیں تو ہم بھی اعلان کرتے ہیں کہ اگر ہماری شرائط کے ماتحت توفی یا رفع کا معنی موت یا رفع مراتب کے معنی کہیں دکھایا جائے تو ہم بھی جو چاہیں انعام دینے کو تیار ہیں اور اگر ایسی خصوصیات سے آزاد ہو کر تحقیق کرنا مقصود ہے تو یہ معاملہ بالکل صاف ہو جاتا ہے۔ کیونکہ توفی کا اصل وفاء ہے۔ موت نہیں جس کا مفہوم ”قبض الشیئے وافیاً“ پورا پورا لینے کے ہیں۔ جیسے توفیت مالہ میں نے اس کا مال وصول کر لیا توفیت عدد القوم میں نے اس کی پوری پوری مردم شماری کر ڈالی۔

ان بنى الادرد ليسوا من احد
ولا توفاهم قريش في العدد

بنی ادرد کوئی ہستی نہیں رکھتے اور نہ ہی قریش نے ان کو اپنی مردم شماری میں لیا ہے یا اس کا مفہوم نیند وغیرہ بھی ہوتا ہے۔ جیسے ”قال ابونواس شعرا، فلما توفاه رسول الكرى دبت العينان في الجفن“ جب نیند کا قاصد آگیا اور آنکھوں نے پلکوں کے نیچے چلنا شروع کیا۔ ”قال الزجاج فى قوله تعالى حتى اذا جاء تہم رسلنا یتوفونہم“ کہ جب ہمارے فرشتے کفار کو عذاب دینے آتے ہیں۔ ”وقيل بمعنى يسألونهم“ اور یا ان سے سوال کرتے ہیں۔ اب ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ توفی کا معنی سوال، وصول، نیند، مردم شماری، وصولیت اور عذاب دینا بھی ہے۔ اب ہم مرزائی شرائط کے ماتحت بھی توفی کا معنی غیر موت دکھاتے ہیں۔

اوّل ...... ”الله يتوفى الانفس حين موتها“ کہ اللہ تعالیٰ نفسوں کو موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور یہ معنی صحیح نہیں ہو سکتا۔ ان کو موت کے وقت مار ڈالتا ہے۔ کیونکہ روح اور جسم میں مفارقت کا نام موت ہے۔ اب خود ایک دفعہ جدا ہونے کے وقت دوبارہ جدائی کیسے ہوگی؟

دوم ...... ”يتوفكم بالليل“ رات کو خدا تم کو نیند دیتا ہے۔ نہ یہ کہ مار ڈالتا ہے۔ ورنہ ہر روز صبح کو لوگوں کی جائیداد ورثہ میں تقسیم ہو جایا کرے اور بیوی دوسرے کے گھر چلی جائے۔

سوم ...... تاج العروس میں ہے: ”توفاه الله ادركه الموت“ یعنی اس کو موت آ گئی۔ یہ معنی نہیں کہ وہ مر گیا اور ان دو معنوں میں فرق ہے۔

صفحہ ٢٦١

چہارم...... صحاح میں ہے کہ قبض روحہ خدا نے اس کی جان کو قبض کر لیا۔ نہ یہ کہ اس کو مار ڈالا۔ کیونکہ یہ مفہوم بعد میں پیدا ہوتا ہے۔ جیسے ”کسرتہ فانکسر“ میں نے اسے توڑا اور توڑنے کے بعد وہ ٹوٹ گیا۔

پنجم ...... مرزا قادیانی نے ( براہین ص ٥١٩، خزائن ج ١ص ٦٢٠) پر اپنے الہام لکھے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ: ”انی متوفیک ورافعک“ پھر اس کا اردو میں خود ہی ترجمہ بھی کیا ہے کہ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ (اور مرزائیوں ) اہل اسلام پر غلبہ دوں گا۔“ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ یہ الہام پورا ہوا یا نہیں۔ تم تو صرف یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اس الہام میں متکلم خدا تعالیٰ ہے اور مخاطب مرزا قادیانی ہے اور خدا نے آپ پر توفی کا لفظ حسب شرائط مرزائیہ استعمال کیا ہے اور مخاطب مرزا قادیانی نے اپنے الہام کا خود ہی تکمیل نعمت سے ترجمہ بھی کر دیا ہے۔ اب اس سے بڑھ کر اور کیا شہادت ہو سکتی ہے کہ حسب شرائط مرزائیہ بھی توفی کا معنی ہر جگہ موت یا قبض تام یا قبض ناقص نہیں ہے۔ اب اگر یہ عذر کیا جائے کہ براہین کے وقت مرزا قادیانی حیات مسیح کے قائل تھے اور اس خیال کے دباؤ سے آپ نے یہ معنی کر لیا تھا تو ہم کہیں گے کہ اس الہام میں حضرت مسیح کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ صرف مرزا قادیانی سے باتیں ہو رہی ہیں اور آپ کو مسیح بنایا جا رہا ہے اور طرح طرح کی امنگیں پیدا کی جارہی ہیں کہ تمہیں رفعت ہوگی اور مرزائی غیروں پر فوقیت پائیں گے۔ انہی امید افزائیوں کے مطابق توفی کا ترجمہ بھی تکمیل نعمت کے سوا کرنا مرزا قادیانی نے پسند نہیں کیا تھا اور انہی امیدوں کی امنگ میں آپ کے قلم سے تکمیل نعمت کا وعدہ لکھا گیا۔ نہ اس دباؤ سے کہ اس وقت مرزا قادیانی حیات مسیح کے قائل تھے۔ سوچو اور خوب غور کرو کہ مرزا قادیانی کو وعدہ موت کے وعدہ دینے میں کچھ خوبی ہی پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ کیونکہ ادھر ادھر تو غلبہ اور کامیابی کا وعدہ دیا گیا تھا اور اگر بیچ میں موت کا وعدہ بھی کیا جاتا تو سارا لطف جاتا رہتا اور کلام بے جوڑ بن جاتا۔ اخیر میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر بالفرض عقیدہ تبدیل ہو چکا تھا تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ الہامی زبان بھی غلط ہوگئی ہے۔ کیا جو کتاب منسوخ ہو جاتی ہے وہ محاورات کے رو سے غلط بھی ہو جاتی ہے؟ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ تنسیخ اور چیز ہے اور تغلیط اور ہے۔ اب اگر نسخ اور غلط کو ہم معنی تصور کیا جائے تو اس الہامی عبارت میں ماننا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی کا ملہم اس وقت عربی الفاظ بیجا اور غلط طور پر استعمال کرتا تھا۔ اگر اس کو معلوم ہو جاتا کہ توفی سے موت کا مفہوم ہی مراد لیا جاتا ہے تو کبھی مرزا قادیانی کو توفی کا وعدہ نہ دیتا۔ بلکہ اس

صفحہ ٢٩٢

جگہ صاف یوں کہتا کہ: ”یا احمدی انی مکمل نعمتی علیک“ میں تجھ پر اپنی نعمت مکمل کرنے والا ہوں۔ اگرچہ توفی اپنے اصلی مفہوم (موضوع) میں موت کا ہم معنی نہیں ہے۔ کیونکہ موت نفس اور جسم کے باہمی تعلق کو توڑنے کا نام ہے۔ مگر عام محاورہ میں قرآن شریف موت کی جگہ استعمال کرتا ہے۔ تو آیت زیر بحث میں وہی معنی کیوں نہ لیا جائے گا؟ لفظ توفی کی نظیر لفظ یقین ہے۔ عام محاورات میں اس کا معنیٰ پختہ اعتبار کا ہے۔ جیسا عین الیقین اور حق الیقین مذکور ہے۔ مگر صرف ایک جگہ میں موت کا معنی بھی لیا گیا ہے کہ: ”واعبد ربك حتى یاتیك الیقین“ تا دم مرگ خدا کی عبادت کرو۔ اسی طرح توفی کا لفظ قرائن کے ماتحت گو موت کا معنی دیتا ہے۔ مگر صرف ایک جگہ متوفیک میں چونکہ رافعک کے ساتھ مستعمل ہوا ہے۔ اپنے اصلی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے نظائر اور بھی بہت ہیں۔ دیکھئے موت کے معنی میں یہ فقرے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ انتقال ہو گیا، وصال ہو گیا، صعود ہوا، خدا کی طرف گیا، رخصت ہو گیا، مضى لسبیله، قضى نحبه انتقل الى رحمة الله وغیرہ۔ اب یہ لفظ اپنے اپنے اصلی معنی کے رو سے موت کے معنی میں استعمال نہیں ہو سکتے۔ مگر لازمی معنی عام محاورات میں مردہ کے بارے میں اس کا معنی موت ہی لیا جاتا ہے۔ مگر جب کسی خاص موقعہ میں زندہ پر استعمال کئے جائیں تو وہاں موت کا معنی سمجھنا بیوقوفی ہوگا۔ مثلاً ہم اپنے مہمان کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ یہاں سے رخصت ہو گیا۔ دوست ملے تو کہیں گے کہ وصال یا وصل محبوب ہو گیا ہے۔ پٹواری تبدیل ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ وہ منتقل ہو گیا ہے۔ انتقال اراضی میں بھی یہی لفظ مستعمل ہے۔ بہرحال ایسے مشتبہ الفاظ کے استعمال میں پہلے فیصلہ ہونا ضروری ہے کہ آیا وہ انسان زندہ ہے یا مر چکا ہے۔ اس کے بعد توفی وغیرہ کا استعمال صحیح ہوگا۔ ورنہ اگر غور سے دیکھا جائے تو توفی وغیرہ کے لفظ سے نہ زندگی ثابت ہو سکتی ہے اور نہ موت۔ اس کی نظیر کشف عن ساق ہے۔ اس کا معنی پنڈلی سے کپڑا ہٹانا مراد ہوگا کہ جب کسی نے واقعی پاؤں ننگے کئے ہوں گے اور کمال ہوشیاری یا کمال تشدد کا مفہوم سمجھا جائے گا۔ جب کہ کسی نے محنت سے یا تشدد سے کام لینا شروع کیا ہو اور اس وقت پاؤں کا ننگا کرنا یا ڈھانپے رکھنا ملحوظ نہیں ہوتا اور جب تک کسی خاص موقعہ کی تعیین نہ ہو لے۔ کشف ساق کا استعمال جائز نہیں ہے۔ ورنہ یہ لفظ اپنے معنی میں مشتبہ رہے گا۔ ایسے الفاظ کے لفظی معنی یا موضوع لہ مطابقی کو حقیقت کہتے ہیں اور دوسرے معنی کو محاورہ یا مجازی یا کنایہ کہتے ہیں۔ حقیقت اور کنایہ کا ایک ہی طرح استعمال کرنا غلط ہوگا۔

صفحہ ٢٩٣

ہو سکتا ہے کہ خدا کی عبادت یہاں تک کرو کہ درجہ غیب سے اور مرتبہ شک سے نکل کر درجہ یقین اور مشاہدہ تک پہنچ جاؤ۔

جواب: ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہاں یقین کا معنی موت ہی استعمال ہوا ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ یقین بمعنی موت عموماً لیا گیا ہے۔ کیونکہ ایک معنی مراد لینا دوسرے کی نفی نہیں ہوا کرتا۔ بہر حال لفظ توفی سے وفات مسیح ثابت کرنا خلاف محاورہ ہے۔

یہود و نصاریٰ قیامت سے پہلے ختم ہو جائیں گے۔ کیونکہ احادیث کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے عہد حکومت میں اسلام ہی اسلام ہوگا۔ کوئی دوسرا مذہب دنیا میں نہ رہے گا۔ حالانکہ قرآن شریف میں صاف مذکور ہے۔ ”القينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيمة “ ہم نے قیامت تک یہود و نصاریٰ کے درمیان بغض و عداوت ڈال رکھی ہے اور جب انکا وجود ہی نہ رہے گا تو ان کا بغض اور عداوت قیامت تک کیسے متصور ہو سکتی ہے؟

جواب: یہود و نصاریٰ قومی نام ہیں۔ جس طرح بنی اوس اور بنی خزرج قومی نام تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی عہد مسیح میں وہ یہود و نصاریٰ ہی کہلائیں گے اور ان میں بنی امیہ اور بنی ہاشم کی طرح قیامت تک بغض و عناد قائم رہے گا۔ اگرچہ یہ نام مذہبی تصور کئے جائیں تو پھر یوں مطلب ہوگا کہ یہود و نصاریٰ میں عداوت و بغض کی شقاوت قیامت تک قائم رہے گی۔ اگرچہ اسلام قبول کرنے سے وہ مسلمان ہی کہلائیں گے۔

جواب: لاہوری اور قادیانی دونوں مسلمان تو بنتے ہیں مگر آپس میں یہود و نصاریٰ کی طرح اندر ہی اندر چھریاں چلتی رہتی ہیں۔ موجودہ اقوام اسلام میں بھی جس اتفاق و اتحاد کی توقع کی جا رہی ہے وہ کہیں نہیں ملتا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ گو کمال اسلام کے وقت یہ نقص رفع ہو جائے۔ مگر ناقص الایمان مسلمانوں میں ایسے نقائص کا موجود رہنا ناممکن نہیں ہے۔ برادران یوسف ایک مذہب کے پیرو تھے۔ مگر انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے جو کچھ کیا خود ظاہر ہے۔ ایک مرزائی کی تحقیق ہے کہ: ”الی یوم یبعثون“ وغیرہ الفاظ سے یہ مراد ہوا کرتا ہے کہ یہ معاملہ دیر تک رہے گا تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کا بغض بھی دیر تک رہنا مراد ہے۔

صفحہ ٢٩٤

بالخصوص قیامت تک رہنا مطلوب نہیں ہے یا بقول بعض المفسرین یہ مراد ہے کہ گو یہود و نصاریٰ برائے نام حکومت عیسوی میں مسلمان تو ہو جائیں گے مگر چند اہل کتاب پھر بھی اپنے مذہب پر قلت کی حالت میں قائم رہیں گے تو بحکم ”للاکثر حکم الکل“ یوں کہا گیا ہے کہ اس وقت اسلام ہی اسلام رہے گا اور باقی مذہب مٹ جائیں گے۔

ایمان لے آئیں گے۔ حالانکہ احادیث کی رو سے دجال ( یہودی ) کے ماتحت ستر ہزار یہودی مسلح لشکر جرار بن کر حضرت مسیح علیہ السلام سے برسر پیکار ہو جائیں گے۔

جواب: اسے رہنے دیجئے۔ پہلے آپ مرزا قادیانی کی ناکامی سن لیجئے۔ (سیرت مسیح ص٥٥) پر لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کا ارادہ تھا کہ ہر ایک ملک میں عربی زبان مروجہ ملکی زبان کی طرح ہو جائے اور یہ وہ ارادہ تھا کہ جس کے پورے ہونے کے بغیر اسلام اپنی جڑوں پر قائم نہیں رہ سکتا۔“ مگر مرزا قادیانی مر گئے اسلام کو قائم نہ کیا۔ (ازالۃ الاوہام ص٧٧٣، خزائن ج٣ ص٥١٨) میں لکھتے ہیں کہ: ”میں صاف صاف بیان کرنے سے نہیں رک سکتا کہ تفسیر شائع کرنا میرا کام ہے۔ دوسرے سے ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔“ اب مرزا قادیانی کی کوئی مطبوعہ تفسیر موجود نہیں۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے جابجا تحریفی اقوال اپنی تصانیف میں بقول مرزا قادیانی طاعون کے سیاہ پودوں کی طرح پھیلا دیئے ہوں۔ ورنہ مرزا محمود بھی اس ارادہ کو پورا نہیں کر سکے۔ لاہوریوں نے گالیوں اور تحریفات سے بھری ہوئی تفسیر شائع کی ہے۔ جس کے متعلق کچھ مرزائی کہتے ہیں کہ جب یہ بنی اسرائیل دمشق قادیان سے نکلے تھے تو ان کے سامری نے مرزا قادیانی کے زیورات تفسیری چرا لئے تھے۔ جن کو بعد میں تفسیری عجل کی صورت میں گویا کر دکھلایا تھا۔ اخبار بدر ١٩؍ جولائی ١٩٠٠ء میں مرزا قادیانی نے شائع کیا تھا کہ: ”میرا کام کہ جس کے لئے میں کھڑا ہوں یہی ہے کہ میں عیسیٰ پرستی کے ستون کو توڑ دوں اور تثلیث کی جگہ توحید پھیلاؤں۔ حضور کی جلالت دنیا پر ظاہر کروں۔ پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آئے تو میں جھوٹا ہوں۔ دنیا مجھ سے کیوں دشمنی کرتی ہے۔ وہ میرے انجام کو کیوں نہیں دیکھتی۔ اگر میں نے وہ کام کر دکھلایا جو مسیح یا مہدی نے کرنا تھا تو میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں۔“ اس پیشین گوئی کا ایک حرف بھی واقعات کی رو سے سچا نہیں نکلا۔ مگر الفضل نے ١؍ مئی ١٩٢٩ء میں اس کو سینما کی تصویری تماشا گاہ میں یوں جلوہ گر بنایا ہے کہ آپ کی باطل

صفحہ ٢٩٥

شکن صدائے گمراہی کے قلعوں کو مسمار کر دیا ہے۔ کفر اپنے ساز و سامان کے ساتھ زندہ درگور ہو گیا ہے۔ مگر حقیقت شناس نگاہیں کب ایسی لفاظی سے مرزائی نبوت کی تصدیق کرنے میں دھوکا کھا سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی براہین احمدیہ کو پورا نہیں کر سکے۔ بھلا دوسرے ارادے کب پورے ہو سکتے تھے۔ مگر مریدوں کی چالاکی قابل تحسین ہے کہ اس سرمایہ حقانیت کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام کے عہد حکومت پر اعتراض کرتے ہیں کہ ستر ہزار یہودی اور دجال تو یہودی ہی رہ کر مارے جائیں گے اور اتنا نہیں سوچتے کہ جہاں یہ لکھا ہوا ہے کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے۔ وہیں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ آپ یہود کو تہ تیغ بھی کریں گے۔ اب آیت و حدیث کو ملا کر ایماندار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ پہلے لڑائی مسلمانوں سے چھڑی ہوئی ہوگی۔ جس کا خاتمہ حضرت مسیح کریں گے اور اپنے عہد حکومت میں ”لا یقبل الا الاسلام“ اسلام ہی کو منظور فرمادیں گے۔ جزیہ یا تاوان وغیرہ اہل کتاب سے منظور نہ کریں گے۔ تب تمام اہل کتاب مسلمان ہو جائیں گے اور تمام ایمان اہل کتاب کا وقوع وفات مسیح سے پہلے ہونا ضروری ہے۔ آغاز حکومت کے وقت ضروری نہیں ہے۔ قبل موتہ کا مکرر مطالعہ کیجئے گا اور یہ بھی مطالعہ کیجئے کہ حضرت ابن عباسؓ کی روایت میں یوں بھی آیا ہے کہ جو اہل کتاب اب مرتے ہیں ان سے عند النزع جبراً ایمان قبول کرایا جاتا ہے۔

مراد نہیں ہے۔ جیسا کہ: ”رفعته الى السلطان“ میں نے اس کو بادشاہ کا مقرب بنا دیا۔ ”يرفعك الله ياعم (کنز ج٧) اذا تواضع العبد يرفعه الله الى السماء السابعة (کنز ج٢) ان الله يرفع بهذا القرآن اقواما ويضع اخرين (کنز ج٢) التواضع لا يزيد السعيد الا رفعة فتواضعوا يرفعكم الله (کنز ج٢)“ اور یوں بھی دعاء پڑھی جاتی ہے کہ: ”اللهم ارحمنى واهدنى وارزقنى ٠ وارفعنى“ لسان العرب میں ہے کہ: ”الرفع عند الوضع ومن اسماء الله تعالى الرافع الذى يرفع المؤمن بالاسعاد واولياء بالتقريب“ اور قرآن شریف میں ہے۔ ”يرفع الله الذين آمنو (مجادله) خافضة رافعة اذن الله ان ترفع (نور)“

جواب: رفع کا لفظ جسم کے متعلق بھی قرآن شریف میں مذکور ہے۔ جیسے ”رفع ابويه على العرش (یوسف) سرر مرفوعة (غاشيه) رفعنه مكانا عليا (مریم) رفع

صفحہ ٢٩٦

النبی علیہ السلام وامته الى السماء (بخاری، مشكوة ص١٧٦) من رفع حجرا من الطريق كتبت له حسنة (طبرانی) رفعت زينب الصبى الى رسول الله ”علامہ سیوطی شرح الصدور میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ آسمان پر بجسم عنصری اٹھائے گئے ہیں۔ ان کے متعلق ایک روایت یوں ہے کہ: ”امام یافعی كفاية المعتقدين“ میں شیخ عمر بن الفارض سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ایک ولی کے جنازہ پر حاضر ہوئے اور جب ہم جنازہ پڑھ کر نکلے تو فضائے آسمان سبز پرندوں سے بھر گیا اور ایک بڑے پرندے نے لاش کو منہ میں لے کر اوپر کو پرواز کیا۔ پھر ایک آدمی ہوا سے نازل ہو کر کہنے لگا کہ کچھ تعجب نہیں ہے۔ کیونکہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے حواصل میں ہوا کرتی ہیں۔ دوسری روایت ابن ابی الدنیا نے زید بن اسلم سے کی ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک کنارہ کش فقیر تھا۔ قحط کے وقت لوگ اس سے امداد اور اعانت طلب کرتے تھے۔ جب وہ مر گیا تو اس کی تجہیز وتکفین کی گئی تو آسمان سے ایک تخت اترا۔ جس پر ایک آدمی نے اس کو رکھ دیا اور تخت آسمان پر اڑ گیا اور دیکھتے ہی غائب ہو گیا۔ تیسری روایت یوں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق کے غلام عامر بن فہیرہ مقام بئر معونہ پر شہید ہوئے۔ اس موقعہ پر عمرو بن امیہ ضمری کہتا ہے کہ ان کی لاش آسمان کو چلی گئی۔ جس کو دیکھ کر ضحاک بن سفیان کلابی مسلمان ہو گیا اور حضورﷺ کی طرف یہ واقعہ لکھ کر روانہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ فرشتوں نے اس کا جسم ڈھانپ لیا تھا اور ملأ اعلیٰ (جنت) میں اٹھالے گئے تھے۔ (رواہ ابو نعیم والبيهقى فى دلائل النبوة وابن سعد والحاكم) چوتھی روایت یوں ہے کہ حضرت طلحہ کو جب احد کی لڑائی میں انگلی کے زخم سے تکلیف ہوئی تو آپ نے کہا ہائے (حس) حضورﷺ نے فرمایا کہ اگر تم بسم اللہ کہتے تو تم کو خدا تعالیٰ آسمان پر اٹھا لیتا۔ لوگ دیکھتے اور تم عین وسط آسمان پہنچ جاتے۔ (رواہ نسائى والبيهقى والطبراني عن جابر وغيره ) پانچویں روایت یوں ہے کہ امام مجدد وقت نے رفع جسمانی کے متعلق یوں لکھا ہے کہ اگر سوال کیا جائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کیسے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر مرفوع کئے گئے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خود امت محمدیہ میں چند ایک ایسے بھی ہیں جو آسمان پر بجسم عنصری اٹھائے گئے ہیں تو پھر خود حضورﷺ بجسم عنصری کے ساتھ کیسے نہ جاسکے تھے؟ پھر ان کے نام لکھے ہیں۔ عامر بن فہیرہ، حبیب بن عدی اور علاء بن الحضرمی وغیرہ۔ ان روایات کے علاوہ مطلق رفع جسمانی کا ثبوت رفع یدین کا مسئلہ بھی ہے کہ جس میں رفعت ومنزلت مراد نہیں ہے۔ بلکہ خود جسمانی ہاتھ کو جسمانی کان تک اٹھانا مراد ہے۔ اب یہ کہنا کہ رفع سے مراد رفع منزلت ہی ہوا کرتا ہے۔ غلط ہے بلکہ صحیح یوں ہے کہ اپنے

صفحہ ٢٩٧

اپنے موقعہ پر دونوں استعمال صحیح ہیں اور جس استعمال کے قرائن موجود ہوں گے وہی معنی مراد ہوگا۔ جیسے کہ توفی اور رفع کا ایک جگہ عطف کے ساتھ خاص طرز پر بیان ہونا ایک دوسرے کو استعمال میں لا رہا ہے کہ توفی سے مراد قبض جسمانی ہے اور رفع سے مراد رفع جسمانی۔ اس کے علاوہ حضرت مسیح علیہ السلام کو تو رفع منزلت، اور تقرب الہی پہلے ہی حاصل تھا تو پھر اس آیت میں وعدہ دینا کہ آپ کو رفع منزلت اور تقرب عنایت ہوگا۔ کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا آپ پہلے رفیع المنزلۃ عند اللہ نہ تھے۔ یا آپ کو تقرب الی اللہ حاصل نہ تھا؟ اور اگر یہ مراد ہو کہ لوگوں کے سامنے آپ کو تقرب اور رفع منزلت حاصل ہوگا اور وہ بدنامی جو یہودی دے رہے تھے اس سے نجات ہوگی تو واقعات اس کی تائید نہیں کرتے۔ کیونکہ نزول قرآن تک اور بعد میں بھی یہودی آپ کو مقرب الی اللہ اور رفیع الدرجہ نہیں سمجھتے اور واقعہ صلیب کے وقت بھی یہی لوگ حاضر تھے اور یقین کرتے تھے کہ انہوں نے صلیب پر مجرمانہ حیثیت سے حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کیا تھا اور کسی قسم کی رفعت ومنزلت ان کے دلوں میں حاصل نہ ہوئی تھی اور اگر اس سے مراد یوں ہو کہ خدائے تعالی کے نزدیک رفعت منزلت ہوگئی تھی تو اس کو وعدہ کے پیرایہ میں ظاہر کرنا بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اس امر خفی پر جب لوگوں کو اطلاع ہی نہیں تھی تو ایسے رفعت سے بظاہر کیا فائدہ ہوا۔ اب ہم حیات الانبیاء کی وہ تصریحات لکھتے ہیں جو مرزائیوں کو بھی تسلیم ہیں۔

حضور ﷺ کی شریعت پر عمل پیرا ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی بعد النزول شریعت محمدی کے تابع ہوں گے۔

ہے اور کنیت ابوالعباس، کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے عہد میں آپ پیدا ہوئے تھے۔ ”وهو حی موجود الیوم علی الاکثر“ وہ اکثر اہل اسلام کے نزدیک زندہ اور اب بھی موجود ہیں اور صوفیائے کرام اور صلحائے امت کا اس پر اتفاق ہے اور آپ سے ان کی ملاقات کی حکایت بھی مروی اور مشہور ہے۔

ساتھ آسمان پر جانا صرف دو نبیوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ ایک ادریس علیہ السلام اور دوسرے حضرت مسیح علیہ السلام۔“

صفحہ ٢٩٨

چہارم ....... (ازالۃ الاوہام ص ٥٢٨، خزائن ج ٣ ص ٦٢٨) میں حکیم نورالدین کا خط لکھا ہوا ہے۔ جس میں آپ یوں رقمطراز ہیں کہ: ”جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انا اعلم (میں بڑا عالم ہوں) کہا تب خدا نے حضرت خضر علیہ السلام کا پتہ دیا اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کو جاملے تو آپ کو ان کے سچے علوم تک رسائی نہ ہوئی۔ تب حضرت نے فرمایا کہ لن تستطیع معی صبراً“

پنجم....... بحوالہ مذکور یوں بھی لکھا ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادرؒ کے ساتھ حضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات ہوئی۔ حضرت شیخ عبدالقادرؒ قلائد الجواہر میں فرماتے ہیں کہ: ”جاء نی ابوالعباس الخضر علیہ السلام“

ششم ....... (فتوحات مکیہ ب ٥٧٥) میں لکھا ہے کہ شب معراج میں جب حضورﷺ آسمان پر گئے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور آپ کو جسمانی طور پر ملے۔ کیونکہ ابھی تک نہیں مرے۔ بلکہ آسمان پر خدا نے ان کو ٹھہرایا ہوا ہے۔ وہی ہمارا شیخ اول ہے اور آپ کی عنایت ہم پر ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔ ہم سے کبھی غفلت نہیں کرتے۔ انشاء اللہ تعالیٰ عند النزول میں آپ کو ملوں گا۔ (کیا مرزا قادیانی سے ملاقات کرنے کو آپ چاہتے تھے؟)

ہفتم....... (فتوحات مکیہ ب ٧٣) میں لکھا ہے کہ حضورﷺ کے بعد تین نبی خدا کے فضل سے اب تک زندہ ہیں۔ اوّل ادریس علیہ السلام ”بقی حیا بجسدہ واسکنہ اللہ فی السماء الرابعہ “ دوم حضرت الیاس علیہ السلام ۔ سوم حضرت عیسیٰ علیہ السلام ”وکلاہما من المرسلین“

صلب

٦....... ”ماصلبوہ“ کا معنی ہے کہ یہودیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے کے بعد آپ کی ریڑھ کی ہڈی نہیں توڑی تھی۔ کیونکہ قاموس میں ہے کہ: ”صلب العظام استخرج ودکھا“ اس نے ہڈیوں سے چربی نکالی۔ حدیث میں ہے کہ: ”لما اتی المدینہ اتاہ اصحاب الصلب“ جب حضور علیہ السلام مدینہ شریف تشریف لائے تو اصحاب صلب حاضر ہوئے۔ ”ای الذین یجمعون العظام ویستخرجون ودکہا ویأتدمون بہ“ یعنی وہ لوگ جو ہڈیاں جمع کر کے ان کا مغز نکال کر شوربا پکاتے تھے۔ اب ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح نیم مردہ ہو گئے تھے اور لاش کو حواریوں نے لے کر علاج کیا تو آپ اچھے ہو کر کشمیر چلے گئے تھے۔

صفحہ ٢٩٩

جواب: ”ماصلبوہ“ کا مفعول بہ اگر عظم یا عظام کا لفظ ہو تو بیشک چربی نکالنے کا معنی ہوگا۔ مگر یہاں تو مفعول بہ حضرت مسیح کو بنایا گیا ہے اور یہ معنی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے صلیب پر نہیں کھینچا تھا۔ سولی کھینچنے کو فارسی میں کہتے ہیں بردار کشیدن اور عربی میں کہتے ہیں صلب۔ جس کا ترجمہ عربی میں اہل لغت نے القتلۃ المعروفۃ کیا ہے۔ یعنی وہی طریق قتل جو مشہور ہے کہ ایک چوکھٹ لے کر چاروں طرف مجرم کے ہاتھ پاؤں رکھ کر میخیں لگا دیتے ہیں اور وہ سسک سسک کر مر جاتا ہے۔ مگر اسلام نے ہدایت کی ہے کہ فوراً مجرم خونی ڈاکو کا پیٹ چاک کر دیا جائے۔ بہر حال چار میخیں لگانا اور چوکھٹ کو کسی بلند جگہ پر لٹکانا صلب کہتے ہیں۔ فرعون نے بھی یہی دھمکی دی تھی کہ: ”لاصلبنکم فی جذوع النخل“ میں تم کو چار میخہ کر کے کھجوروں کے تنہ پر لٹکا دوں گا۔ خونی ڈاکوؤں کے متعلق بھی قرآن شریف میں بھی حکم ہے کہ: ”او یصلبوا“ ان کو صلیب پر لٹکایا جائے اور یہ معنی نہیں ہے کہ ان کی ہڈیوں سے مغز نکال کر شوربا پکایا جائے۔ یوسف علیہ السلام نے بھی فرمایا تھا کہ: ”واما الاخر فیصلب فیاکل الطیر من رأسہ“ دوسرے کو صلب دیا جائے گا اور اس کا سر پرندے کھائیں گے یہ نہیں کہا کہ صلیب پر اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑی جائے گی اور شوربا نکالا جائے گا۔ تاکہ نیم مردہ کی حالت میں نہ اتار لیا جائے۔ اس کے علاوہ ہزاروں شخص مصلوب ہوئے۔ مگر کسی تاریخ معتبر نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی سے چربی نکالی گئی تھی اور اگر طبی نکتہ خیال سے دیکھا جائے تو ریڑھ کی ہڈی میں سرے سے چربی ہی نہیں ہوتی تو پھر اس کا نکالنا کیسے ہوگا۔ معمولی طالب علم ، علم تشریح کے جاننے والے بھی آپ کو سمجھا سکتے ہیں کہ ریڑھ کی ہڈیوں میں چربی یا مغز بھرا ہوا نہیں ہوتا۔ کیونکہ سب ٹھوس ہوتی ہیں۔ ہاں ان کے ملنے سے اعصاب دماغی کے ادھر ادھر جانے کے لئے ایک راستہ ضرور بن جاتا ہے۔ اب اگر کوئی ریڑھ کو توڑ کر چربی نکالنے کی توقع رکھتا ہے اور یا دماغی پٹھے اس کی نظر میں مخ یا مغز نظر آتے ہیں تو وہ بلاشک ایک بے نظیر جاہل اور لاثانی بیوقوف ہوگا۔ اگر ماصلبوہ کا معنی یوں کیا جائے ۔ ”ماکسروا عظامہ “ تو ہم کہیں گے کہ اس کے ساتھ یہ فقرہ بھی شامل کر لینا ضروری ہے کہ: ”لیاتدموا بھا“ اس کی ہڈیوں کا شوربا نکالیں تا کہ حدیث پیش کردہ اور قاموس کا حوالہ پیش کردہ پورے طور پر صادق آ جائے۔ کیونکہ عربی زبان میں صرف کسر عظام کا محاورہ نہیں ملتا۔ اصل بات یہ ہے کہ اناجیل مروجہ واقعہ صلیب کو ثابت کرتی ہیں اور قرآن شریف میں واقعہ صلیب سے انکار ہے۔ جیسا کہ اناجیل غیر مروجہ اور تواریخ قدیمہ میں بھی مذکور ہے۔ مگر

صفحہ ٣٠٠

جن لوگوں نے موجودہ اناجیل اربعہ کو معتبر سمجھ رکھا ہے ان پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جب قرآن شریف مصدق انجیل ہے تو پھر یہ انکار کیونکر صحیح ہوگا۔ اس کے جواب میں عیسائیوں کے خوشامدیوں نے یوں ایک نظریہ قائم کیا ہوا ہے کہ قرآن شریف بھی واقعہ صلیب سے منکر نہیں ہے۔ بلکہ ان کے مطابق قرآنی فقرہ کا معنی بھی یہی ہے کہ مسیح کو صلیب پر تو کھینچا گیا تھا۔ مگر اس کی ہڈیاں نہیں توڑی گئی تھیں۔ لیکن اس معنی تراشی میں انہوں نے تمام اہل اسلام کا خلاف کیا ہے۔ لغت کی کچھ پرواہ نہیں کی اور مسلمات اسلامیہ کو بدل ڈالا۔ بجائے اس کے کہ اناجیل کو غیر معتبر ثابت کرتے خود قرآن میں تحریف کرنی شروع کر دی ہے اور عیسائیوں کو یہ کہنے کا موقعہ دیا ہے کہ اگر بائبل کے تراجم میں تحریف معنوی ہوئی ہے تو قرآن شریف بھی اس تحریف سے بچا ہوا نہیں ثابت ہوتا۔ غضب تو یہ ہے کہ اس معنی تراشی پر اس قدر ناز کیا جاتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں مفسرین اسلام، محدثین اسلام اور ائمہ اسلام کو اس موقعہ پر غلط گو کہا جاتا ہے اور صاف کہا جاتا ہے کہ وہ اصل مفہوم سے بے خبر تھے۔ صرف چودھویں صدی کے اجتہاد نے یہ عقدہ حل کیا ہے۔ مگر کس نے حل کیا؟ پنجاب کے چند باشندوں نے کہ جنہوں نے نہ عربی میں پوری دسترس حاصل کی تھی۔ نہ اہل زبان سے اس معنی کی تحقیق کی۔ نہ محاورات قدیمہ کا لحاظ رکھا اور نہ خود خلاف ورزی اسلام کا خوف ان کے دل میں آیا تھا۔ خیال آیا تھا تو صرف یہی کہ اناجیل کی تصدیق ضرور ہونی چاہئے۔ جس سے شہرت بھی ہو جائے گی اور عیسائی بھی خوش ہو جائیں گے۔ افسوس کہ اتنا خیال نہیں کیا کہ اناجیل مروجہ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں اور نہ ہی خود محققین یورپ ان کو کلام الٰہی سمجھتے ہیں تو پھر اندریں حالات کس کام پر جرات کر رہے ہیں اور آئندہ کس کس اختلاف کی تصدیق میں تحریف کا ارتکاب کریں گے۔ اور تعجب یہ ہے کہ موجودہ تحریف بھی کسی پختہ دلیل پر قائم نہیں۔ کیونکہ

الصلیب وما قتلوہ وما صلبوہ“ صلیب پر چڑھا تو دیا تھا۔ مگر نہ اسے قتل کیا تھا اور نہ اس کی ہڈیاں توڑی تھیں۔

توڑنا۔ تو اس کی سند کیوں نہ پیش کی؟ کہ جس میں انسان مفعول بہ ہو اور فعل بصورت ماضی معروف ہو۔ جیسا کہ توفی میں شرائط لگا کر اپنا بچاؤ کی صورت پیدا کی ہے۔

صفحہ ٣٠١

سوم ....... جس لفظ سے اناجیل کی تصدیق تصور کی گئی ہے وہ تو بہر صورت مخدوش ہی رہا ہے کہ جس پر کوئی قرینہ موجود نہیں ہے۔

چہارم....... یہ اگر کوئی ایسے محرفین سے سوال کرے کہ صلیب دینے کا ترجمہ عربی زبان میں کس فقرہ سے کیا جائے گا تو اس کا جواب کچھ سوا نہیں ہے کہ صلب سے ہوگا۔ کیونکہ خود محرفین اپنی تصانیف میں مصلوب کا لفظ اس شخص کے لئے استعمال کرتے ہیں کہ جو صلیب پر کھینچا گیا ہو اور اس کی ہڈیاں نہ توڑی گئی ہوں۔

پنجم ....... حسب تحقیق ماہرین لغت اصل لفظ چلیپا تھا۔ جس کو عربی میں صلیب بنایا گیا ہے اور اس سے صلب مصدر پیدا کر کے گردان صلب یصلب پیدا ہوئی ہے اور یوں بھی آیا ہے کہ ثوب مصلب و فیہ تصالیب دوسرا لفظ خالص عربی صلب بھی موجود ہے کہ جس سے صلب العظام وغیرہ محاورات پیدا ہوئے ہیں۔ محرفین نے اس تحقیق کو پس پشت ڈال کر نصاریٰ پرستی میں اپنا نام تو پیدا کر لیا ہے۔ مگر اہل اسلام میں افتراق اور اختلاف رائے سے بدنام ضرور ہو گئے ہیں اور ان کو کچھ پرواہ نہیں ہے۔ سچ ہے کہ : ”لعن اخر ھذہ الامة اولھا“

ششم ....... آج کل شنق کی جگہ بھی صلب استعمال ہوتا ہے۔ اگر آج کی تحقیق ہی معتبر ہے تو محرفین کا فرض ہوگا کہ ماصلبوہ کا معنی ما شنقوہ کریں کہ انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کا گلا بھی نہ گھونٹا تھا۔ خود مرزا قادیانی آتھم کے مقابلہ میں یوں رقمطراز ہیں کہ : ”اگر میں جھوٹا ثابت ہوا تو میرے گلے میں رسی ڈالی جائے اور سولی چڑھایا جائے ۔“ معتبر ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آتھم جب میعاد مقرر پر نہیں مرا تو عیسائی رسی لے کر مرزا قادیانی کے در دولت پر سولی دینے کو حاضر ہو گئے تھے۔ مگر آپ حرم سرائے سے باہر نہیں نکلے تھے۔

شبه لهم

٧ ....... حضرت مسیح علیہ السلام کو مشبہ بالمصلوب کر دیا تھا۔

جواب: اگر آپ کو صلیب پر کھینچ کر یہودی اور مرزائیوں کے خیال میں نیم مردہ کر دیا تھا تو آپ کو مصلوب کہا جائے گا۔ مشبہ بالمصلوب نہیں کہا جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی کا گلا گھونٹا جائے تو اسے بھی مشنوق یا مخنوق کہتے ہیں۔ مشبہ بالمخنوق نہیں کہتے ۔ کیونکہ فعل شنق، خنق اور صلب واقعہ ہو چکے ہیں۔ اب تشبیہ کے کیا معنی ہیں۔ تشبیہ اس موقعہ پر ہوتی ہے کہ یہ فعل صادر نہ ہوں اور ان کی بجائے کوئی اور فعل وارد ہوا ہو کہ جس کو ان فعلوں سے مشابہت پیدا ہو سکے۔ تا کہ تشبیہ اور

صفحہ ٣٠٢

طرفین تشبیہ (مشہبہ اور مشبہ بہ) الگ الگ پیدا ہوسکیں۔ کیونکہ ایک فعل یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ اس میں تشبیہ جاری ہوسکے۔ ضرب کو ہی دیکھ لیجئے۔ اگر کسی کو معمولی چوٹیں آئیں اور دوسرے کو بہت چوٹیں آئیں تو ان میں قدر مشترک ضرب مساوی طور پر متحقق ہوگی نہ یہ کہ پہلے کو دوسرے سے تشبیہ دے کر کہا جائے گا کہ قلیل الضرب، کثیر الضرب سے مشابہ ہے۔ بالخصوص ان افعال میں جو کلی متواطی کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں قلت وکثرت یا ضعف وشدت کا خیال کرنا خام خیالی ہوگی۔ صلب کا مفہوم بھی ایسا ہے کہ صلیب پر لٹکانے سے متحقق ہوجاتا ہے۔ اس میں کمی بیشی یا شدت وضعف کا امکان نہیں ہوتا۔ انگریزی قانون میں بھی پھانسی کا مفہوم رسی سے لٹکانا لیا گیا ہے اور اس میں جاں بحق ہونا لازم ذاتی تصور کیا گیا تھا۔ مگر اس خیال سے کہ کسی کو یہ موقعہ نہ ملے کہ جاں بحق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اس لئے قانون مذکور میں یہ لفظ بڑھادیئے گئے ہیں کہ مجرم کو رسی سے لٹکایا جائے۔ یہاں تک کہ وہ مرجائے۔ یہ ایزادتی جب تک نہیں ہوئی تھی۔ عام محاورات کی رو سے رسی سے لٹکانا اور مرجانا لازم وملزوم تصور کئے گئے تھے۔ اسی طرح صلب کا لفظ بھی ہمیشہ سے اپنے لازم موت کے ساتھ ہی استعمال ہوتا رہا ہے اور مصلوب کو مردہ ہی تصور کیا جاتا تھا اور حضرت مسیح کے سوا مرزائی بھی کوئی ایسی نظیر پیش نہیں کرسکتے کہ جس میں مصلوب نہ مرا ہو اور اناجیل اربعہ کو جن کی تصدیق مرزائیوں کو ملحوظ ہے وہ بھی مصلوب کو میت ہی مانتی ہیں۔ چنانچہ ان میں یوں لکھا ہے کہ مسیح صلیب پر مرگیا اور دفن ہونے کے بعد تین دن قبر میں پڑا رہا۔ پھر دوبارہ زندہ ہوکر آسمان پر چڑھ گیا۔ اس کی تصدیق خود قرآن شریف سے بھی حاصل کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ: ”والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیاً“ اب مرزائیوں کا نظریہ کہ مسیح صلیب پر سے زندہ اتارلئے گئے تھے۔ نہ اسلام اس کی تائید کرتا ہے اور نہ عیسائیت اس کو مان سکتی ہے۔ اس لئے مرزائیوں کی تحقیق قابل التفات نہیں ہے۔

جواب: اسلام نے اس موقعہ پر اس لفظ کے دومعنی کئے ہیں۔

اول...... ”اوقع الشبہة لہم“ یہودیوں کو شبہ میں ڈال دیا گیا تھا۔ جیسا کہ انجیل برنباس نے تصریح کی ہے کہ حضرت مسیح کے عوض یہودا مقتول ہوا تھا اور چونکہ اس کی شکل وشباہت پورے طور پر حضرت مسیح کی مانند ہی ہوگئی تھی۔ اس لئے وہ اسے مسیح ہی سمجھتے تھے اور انہوں نے اپنے خیال میں حضرت مسیح ہی کو صلیب پر لٹکایا تھا۔ تب ہی تو قرآن شریف میں ان کا مقولہ یوں

صفحہ ٣٠٣

درج ہوا ہے کہ: ”انا قتلنا المسيح ابن مريم“ ہم نے ضرور حضرت مسیح علیہ السلام کو قتل کر ڈالا تھا۔ بہرحال اس معنی کی تائید ایک اصول کے ماتحت بھی ہوتی ہے کہ جب فعل بغیر فاعل کے مذکور ہو تو اس وقت اس کا تعلق اپنے مصدر سے ہو جاتا ہے۔ جیسے عام طور پر کہتے ہیں: ”لـــــدار او تسلسل ای لوقع الدور اولوقع التسلسل“ اس مسئلہ کی زیادہ تشریح دیکھنا منظور ہو تو مطول میں نظر ڈالئے۔ آپ کو سب کچھ منکشف ہو جائے گا۔

فی الاشتباه“ جن لیڈروں نے آپ کو صلیب پر لٹکایا تھا انہوں نے اپنے عقیدت مندوں میں یہ امر مشتبہ کر دیا تھا کہ آیا مسیح مصلوب ہوئے ہیں یا یہودا مقتول ہوا ہے۔ کیونکہ تحقیق کرنے پر نہ مسیح علیہ السلام وہاں پائے جاتے تھے اور نہ یہودا موجود تھا۔ حالانکہ تھوڑی دیر پہلے دونوں وہاں موجود تھے۔ اسی اشتباہ کی وجہ سے بنی اسرائیل کے تین فرقے بن گئے تھے۔ اوّل یعقوبیہ کہ جنہوں نے یوں سمجھ رکھا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام خود خدا تھے۔ اس لئے آسمان پر چلے گئے ہیں۔ دوم نسطوریہ کہ جنہوں نے آپ کو ابن اللہ تصور کر لیا تھا کہ تکلیف کے وقت بیٹا اپنے باپ کے پاس چلا گیا ہے۔ سوم اہل حق کہ جنہوں نے آپ کو زندہ رسول مان کر یہ یقین کر لیا تھا کہ آپ بجسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں اور آپ کی جگہ کوئی دوسرا شخص مصلوب ہوا ہے۔ مگر اہل حق مغلوب رہے اور اہل باطل ان کو دباتے رہے۔ یہاں تک کہ حضور علیہ السلام کا ظہور ہوا اور ان کی تائید میں قرآن شریف نازل ہوا۔ تب اہل حق غالب ہوئے اور اہل باطل مغلوب ہو گئے۔ (رواہ ابـــــن ابی حاتم عن ابن عباسؓ ثم رواہ النسائی عن ابی کریب عن ابی معاویۃؓ)

ہے۔ اس لئے اس کا معنی یوں ہوا کہ آپ مشبه بالمقتول بنائے گئے تھے۔

جواب: بالمقتول کا لفظ اپنی طرف سے لگایا گیا ہے۔ ورنہ صرف شبہ کا معنی یہ ہو سکتا ہے کہ آپ مشتبہ حالت میں رکھے گئے تھے اور اختلافی حالت پیش آگئی تھی۔ چنانچہ قاتلین بھی گوبظاہر تو کہتے تھے کہ: ”انا قتلنا المسيح“ مگر اس قول کی بنیاد صرف ظن اور تخمین ہی تھی۔ ورنہ کوئی بیرونی ثبوت ان کے پاس موجود نہ تھا۔ اس واسطے خدا تعالیٰ نے فرمایا: ”ومـاقـتـلـوه يقيناً“ یعنی ”ماقتلوه عن يقين اى ليس لهم يقين وعلم بان الذي قتلوه هو المسيح بل لهم ظن فيه وتخمين“ ان کو یہ پورے طور پر یقین نہ تھا کہ مقتول مسیح ہی تھا۔ بلکہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے ظنی اور اپنے خیال کے مطابق کہا تھا۔

صفحہ ٣٠٤

یہ مفہوم ہے کہ مسیح پورے طور پر قتل نہیں ہوئے تھے۔

جواب: یہود کی عادت تھی کہ پہلے قتل کرتے پھر لاش کو صلیب پر لٹکا دیتے۔ اس لئے مفسرین نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر اٹھائے گئے تھے۔ اس لئے نہ صلیب پر لٹکانے سے پہلے ان کو قتل کیا گیا تھا اور نہ صلیب پر آپ دیئے تھے۔ اس لئے قتل بہر دو وجہ واقع نہیں ہوا اور جو کچھ وہ کہتے ہیں صرف تخمین اور خیال ہے۔ قتلاً یقیناً جن مفسرین نے بیان کیا ہے ان میں سے کوئی بھی وفات مسیح کا قائل نہیں ہے۔ اس لئے ان کے قول کا یہ معنی نہیں ہو سکتا کہ قتل تام نہیں ہوا تھا اور قتل ناقص واقع ہوا تھا۔ کیونکہ بعض مفسرین نے اس کو یوں سمجھا ہے کہ: ”قتلاً عن یقین “ اس قتل کا تعلق یقین سے نہیں ہے۔ بلکہ صرف خیال سے ہے۔ ”الحاصل انه منصوب ينزع الخافض لا مفعول مطلق حتى يوهم الخلاف “ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ ضمیر مقتول کی طرف جاتی ہے کہ جو مقتول ہوا تھا۔ اس کے متعلق ان کو خود اشتباہ تھا کہ آیا وہ مسیح ہے یا یہودا ہے یا کوئی اور ہے۔ کیونکہ بعض روایات میں ہے کہ مقتول کا نام بھی ”یسوع یا باربان“ تھا اور یا باراباس تھا اور ممکن ہے کہ یہ تین لفظ یہودا کے لقب ہوں۔ جیسا کہ مورخ طبری اور مورخ رینان لکھتا ہے۔ بہر حال قول بالتشبیہ باطل ہے۔

کہ حضرت مسیح کو نیم مقتول کرنے سے ذلت پیدا ہوئی تھی۔ اس لئے یہ سمجھایا گیا کہ نہیں خدا نے آپ کو رفعت قرب الٰہی بخشا ہے۔ کیونکہ تکلیف سے مراتب بڑھتے ہیں۔

جواب: آپ کی زندگی میں ہی آپ کو پہلا وعدہ دیا گیا تھا کہ میں آپ کو زندہ اٹھا لوں گا۔ ”متوفيك“ اور یہ مطلب نہ تھا کہ میں آپ کو مار ڈالوں گا۔ کیونکہ اس طرح کا وعدہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔ دوسرا وعدہ یہ تھا کہ میں آپ کو آسمان پر زندہ اٹھالوں گا۔ ”ورافعك الیٰ “ اور یہ معنی نہیں ہے کہ رفعت منزلت بوقت صلیب دوں گا۔ ورنہ یہ لازم آتا ہے کہ اس سے پہلے آپ رفیع المنزلت نہ تھے اور تکالیف سے انبیاء کو رفعت منزلت نہیں ہوتی۔ بلکہ ترقی درجات ہوتی ہے۔ جو رفع منزلت کے بعد حاصل ہوا کرتی ہے۔ اب یہ دونوں وعدے پورے ہو گئے اور خدا نے آپ کو زندہ اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہود کہتے تھے کہ ہم نے مسیح کو قتل کیا اور صلیب بھی دیا۔ اس کی تردید خدا نے کی کہ: ”ماقتلوه وماصلبوه “ پھر انہوں نے کہا کہ:

صفحہ ٣٠٥

”انا قتلنا المسيح“ ہم نے بیشک حضرت مسیح کو قتل کیا اور صلیب بھی دیا۔ اس کی تردید خدا نے کی کہ: ”ماقتلوہ وماصلبوہ“

١٢...... یہودی حضرت مسیح علیہ السلام کو ذلیل سمجھتے تھے۔ کیونکہ انہوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ مصلوب ملعون ہوتا ہے۔ اس لئے رفعہ اللہ کہا گیا۔

جواب: حضور ﷺ کے زمانہ میں یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صرف ذلیل ہی نہیں سمجھتے تھے بلکہ مقتول اور مصلوب بھی سمجھتے تھے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے دو قول کی تردید مسلمانوں کو سمجھائی کہ: ”ماقتلوہ وما صلبوہ“ ان کا تیسرا قول کہ مقتول ملعون ہوتا ہے۔ اس کی تردید یوں فرمائی کہ ان کا دعویٰ یقینی طور پر غلط ہے کہ: ”ماقتلوہ یقیناً ای اقول لکم عن یقین“ میں سچ کہتا ہوں کہ انہوں نے آپ کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ اصل بات یوں تھی کہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ ”بل رفعہ اللہ الیہ“ عربی زبان میں بَل کا لفظ دو طرح استعمال ہوتا ہے۔ اوّل عاطفہ ہو کر مفردات میں۔ دوّم استدراکیہ بن کر فقرات میں اور یہاں فقرات میں استعمال ہے۔ اس لئے وہ عاطفہ نہیں ہے۔ بلکہ صرف ابتدائیہ ہے اور اس کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ:

اوّل...... بقول شیخ رضی غلطی کے لئے لاتے ہیں۔ مثلاً اگر کوئی یہاں ”ماقتلوہ یقیناً“ سے غلط طور پر قتل ناقص کا وقوع سمجھے تو اس کا دفعیہ کیا گیا کہ کسی قسم کا قتل نہیں ہوا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور عدم قتل اور رفع الی اللہ کا زمانہ قریب قریب ہے۔ ثانیاً بقول مصنف متن متین و منتہی الارب یہاں حرف ابتداء ہے۔ حرف عطف نہیں ہے اور دو طرح استعمال ہوا ہے۔ اوّل اضراب یعنی ابطال کلام ماقبل کے لئے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہودیوں کا دعویٰ ان آیات میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بڑے زور سے دعویٰ کیا تھا کہ حضرت مسیح کے قتل پر ان کو کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا اور اس طرز استعمال سے یہ امر پایہ یقین کو پہنچ جاتا ہے کہ: ”بل ابطالیہ“ کا ماقبل اور مابعد جمع نہیں ہو سکتے۔ اس لئے قتل تام ہو یا ناقص ”رفع الی اللہ“ کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا اور یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ حضرت مسیح نیم مقتول ہو کر رفعت منزلت کے مستحق ہوئے تھے۔

دوّم...... انتقال کے لئے جس کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے کلام کو ناکافی سمجھ کر دوسرا کلام بل سے شروع کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس موقعہ پر دوسرا کلام نہایت عظیم الشان اور قابل

صفحہ ٣٠٦

توجہ ہے۔ پس اگر بل انتقالیہ مراد لیا جائے تو پھر بھی رفع جسمانی مہتم بالشان اور قابل توجہ ہو سکتا ہے۔ صرف رفع منزلت یا رفع درجات مراد لینا قرین قیاس نہیں ہے۔ کیونکہ اولاً وہ امر خفی ہے۔ سوائے خدائے تعالیٰ کے کسی کو اس کا علم نہیں ہے۔ ثانیاً یہود کی تردید اسی میں ہو سکتی ہے کہ رفع جسمانی مراد لی جائے۔ کیونکہ یہ رفع خصوصیت سے دوسرے انبیاء میں نہیں پائی گئی۔ ثالثاً نزول قرآن کے عہد تک کسی نے رفعت منزلت کا قول نہیں کیا نہ یہودی اس کے قائل ہوئے اور نہ عیسائیوں نے اس واقعہ میں رفعت منزلت کا عقیدہ قائم کیا۔ اس لئے ہر طرح سے انکار رفع جسمانی خیال قادیانی ہے یا وسوسہ شیطانی ہے۔ ورنہ قول انسانی نہیں ہے۔

شک رفع کیا گیا ہے کہ کوئی خیال کرے کہ حضرت مسیح بالکل خالی چھوٹ گئے تھے۔ لٰکن نے آکر بتایا کہ نہیں نیم مقتول ضرور ہوئے تھے۔

جواب: قتل اور صلب یہودی مذہب میں خصوصاً اور باقی مذاہب میں عموماً موجب تذلیل اور باعث لعنت ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں سزائیں سخت مجرموں کو دی جاتی ہیں۔ پس اگر نیم مقتول یا نیم مصلوب حضرت مسیح کو بزعم قادیانی خیال کیا جائے تو کم از کم یہ تو ماننا پڑتا ہے کہ پورے طور پر حضرت مسیح اس تذلیل و تلعین سے نہیں بچ سکے اور اتنا الزام بھی اس وقت ہے کہ ہم اس واقعہ میں اپنا پہلو قائم رکھیں۔ ورنہ اگر یہودیوں کا پہلو لیا جائے تو وہ بالکل کامیاب ہو چکے تھے۔ اس لئے یہاں لٰکن کا استعمال خلاف تصریحات اسلامیہ کچھ معنی نہیں رکھتا۔ بلکہ صحیح وہی ہے جو اہل اسلام نے اس موقعہ پر لکھا ہے کہ لٰکن حرف عطف اس وقت ہوتا ہے۔ جب کہ مفردات میں استعمال ہو اور جب فقرات میں استعمال ہو تو بقول منتہی الارب یہ حرف ابتداء ہے جو صرف استدراک کے لئے استعمال ہوتا ہے اور پھر استدراک کے دو معنی ہیں۔ اول یہ کہ لٰکن کے بعد میں وہ فقرہ لایا جائے جو اس سے پہلے فقرہ کا بالکل مخالف ہو۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ: ”ماقتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم“ یہودی آپ کو نہ قتل ہی کر سکے اور نہ ہی صلیب پر لٹکا سکے۔ لیکن اتنی بات ضرور ہوئی ہے کہ حضرت مسیح ان کے لئے مشتبہ حالت میں رکھے گئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اگرچہ اپنے خیال میں کامیاب ہو گئے تھے۔ مگر دراصل ایک مغالطہ میں پڑے رہے ہیں۔ دوم یہ کہ ماقبل عبارت سے کوئی شبہ پیدا ہو تو اس کا دفعیہ کیا جائے۔ چنانچہ اس موقعہ پر ماقتلوہ وما صلبوہ سے یہ وہم پیدا ہوتا تھا کہ جب حضرت مسیح نہ قتل ہوئے اور نہ صلیب ہوئے تو پھر

صفحہ ٣٠٧

یہودیوں کا یہ کہنا کیسے واقع ہوا کہ ہم نے حضرت کو قتل کر دیا تھا تو اس کا جواب ’ولکن شبہ لھم“ میں دیا گیا ہے کہ ہاں انہوں نے بھی ایک مشتبہ شخص کو مار ڈالا تھا۔ اس لئے وہ اپنے خیال میں سچے ہیں۔ مگر فی الحقیقت وہ سچے نہیں ہیں۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ اسی مضمون کو ترقی دے کر آگے بیان کیا ہے کہ سب کو یقین بھی نہیں ہے بلکہ ماحول کے حالات دریافت کرنے والے یہودی خود مشکوک حالت میں ہیں۔ مگر چونکہ اپنی کامیابی اسی میں دیکھتے ہیں تو نسلاً بعد نسل اسی ظن اور خیال کی پیروی کرتے آئے ہیں۔ ”مالهم به من علم الا اتباع الظن“ مگر ہمیں تعجب آتا ہے کہ قادیانی فرقہ بھی صرف ظن کا ہی تابع ہو کر مدت سے یہودی بنا ہوا ہے اور چالاکی سے اہل اسلام کو کہتے ہیں کہ یہ یہودی ہیں۔ ہاں یہودی خود ہیں اور بدنام ہم ہیں۔

چہ دلاورست دزدے کہ بکف چراغ دارد

خلو

١٤....... لغت میں خلا بمعنی مات آیا ہے۔ اس لئے قد خلت من قبله الرسل کا یہ معنی ہوا کہ: ”ماتت الرسل قبلہ“ اور استدلال کی شکل یوں ہوئی کہ: ”محمد رسول“ ”وکل رسول قد خلا“ اور نتیجہ یوں ہوا کہ محمد خلا اور اسی طریق استدلال سے حضرت صدیق اکبرؓ نے صحابہ کے سامنے حضور ﷺ کی وفات ثابت کی تھی اور جب تک حضرت مسیح کو میت نہ مانا جائے۔ اس دلیل کا دوسرا جزو (کبریٰ) پیدا نہیں ہو سکتا۔

جواب: طریق استدلال دو قسم ہوتا ہے۔ ایک اقترانی جو پیش کیا گیا ہے۔ دوم غیر اقترانی کہ جس میں تمثیل کے ذریعہ سے بھی نتیجہ حاصل کیا جاتا ہے۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے یہاں قیاس تمثیلی استعمال کیا ہے۔ جس کی شکل یوں ہے کہ: ”ان محمدا قد خلا کخلوا رسل“ حضور کا خلو دوسرے انبیاء کی طرح ہوا ہے اور خلو رسل کا مفہوم عام ہے کہ سب کا خلو ہو یا بعض کا اور اس طرح بھی عام ہے کہ خلو بمعنی موت ہو یا بمعنی فراغ عن الفرائض ہو۔ اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات ثابت نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان میں خلو بمعنی الفراغ ہوا ہے۔ بمعنی موت نہیں اور اس موقعہ پر جس شعر سے استدلال پیش کیا جاتا ہے کہ: ”اذا سيد منا خلا قام سید“ جب ہمارا کوئی پریذیڈنٹ اپنی ڈیوٹی گزار چکتا ہے تو دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ بھی درست نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں بھی خلو کا مفہوم فراغ عن الفرائض ہی لیا گیا ہے۔ کیونکہ شاعر کی قوم کے سردار قتل بھی ہوتے تھے اور قید بھی ہوتے تھے اور کچھ ویسے ہی تقاضائے عمر سے ریٹائر یا مستعفی ہو

صفحہ ٣٠٨

جاتے تھے تو ان چاروں صورتوں میں اس شعر کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ ورنہ اگر موت ہی مراد ہو تو باقی تین صورتوں میں معلوم نہیں ہو سکتا کہ دوسرا شخص قائم مقام ہوا یا نہ ہوا اور جن لوگوں نے خلا کا معنی موت یہاں اس لئے لیا ہے کہ من حرف جار بعد میں آیا ہے تو ان کی نہایت زبردستی ہے۔ کیونکہ یہاں منا سید کی صفت ہے۔ خلا کا صلہ نہیں ہے۔ چنانچہ اس کا اشارہ ہم نے ترجمہ میں کر دیا ہے کہ: ”ہمارا سردار“ ”ای السید الکائن منا“ کیونکہ اس وقت اس کا ترجمہ یوں ہوگا کہ جب کوئی سردار ہم سے بیزار ہو جاتا ہے تو دوسرا کھڑا ہو جاتا ہے۔ اب اگر شاعر کا مطلب بھی مان لیا جائے تو وفات مسیح کے لئے کبھی سند نہیں بن سکتا۔ کیونکہ عرب میں خلی اس آدمی کو کہتے ہیں جو فارغ ہو۔ خلا من الامر کا یہ معنی ہے کہ وہ اس کام سے بیزار ہو گیا ہے اور اس کا کوئی تعلق اس سے نہیں رہا۔ وفات کا معنی صرف ایک محاورہ میں لیا گیا ہے کہ: ”خلی مکانہ ای مات (منتہی الارب)“ مگر یہاں نہ آیت میں مکان کا لفظ موجود ہے اور نہ شعر میں۔ اس لئے وفات مسیح کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔

قیاس اقترانی کا طریق بھی اس جگہ ایمانداری سے استعمال نہیں ہوا۔ کیونکہ قبلہ کا لفظ کبریٰ میں نہیں لیا گیا۔ ورنہ حد اوسط مکرر نہیں رہتی اور نتیجہ بھی غلط نکلتا ہے۔ جیسے ”محمد رسول وکل رسول قد خلا من قبل، محمد قد خلا من قبل“ یہ بھی خیال رہے کہ یہی آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق بھی مذکور ہے تو کیا وہاں بھی یوں کہا جا سکتا ہے کہ: ”عیسیٰ رسول وکل رسول قد خلا“ ہر گز نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اگر من قبل حذف کریں تو آیت کا مفہوم ناقص رہ جاتا ہے اور ملائیں تو حد اوسط مکرر نہیں رہتی۔ علاوہ بریں کلیہ کبرے بھی محقق نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس وقت حضور ﷺ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ضرور اس حکم سے خارج رہ جاتے ہیں اور اگر من قبل، ظرف لغو مفعول فیہ نہ سمجھی جائے تو الرسل کی صفت نہیں بن سکتی۔ کیونکہ یہاں موصوف موخر ہے۔ عطف بیان کا اگر خیال ہو تو وہ بھی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ وہ ایک مخصوص اور مشہور لفظ ہوا کرتا ہے۔ جو کسی حد تک معطوف کا معنی خود ہی ادا کرتا ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ من قبلہ کا مفہوم اس نوعیت سے خارج ہے۔ کیونکہ من قبلہ سے الرسل کا مفہوم کسی طرح بھی ادا نہیں ہو سکتا۔ اگر یہ خیال ہو کہ یہ اسم حالیہ ہوگا تو تقدیم حال کی وجہ بیان کرنا مشکل ہوگا۔ کیونکہ تقدیم حال صرف اس وقت ہوتی ہے کہ ذوالحال اسم نکرہ ہو اور الا وغیرہ وہاں موجود نہ ہوں۔ جیسے ”جاء نی راکبا رجل وما جاء نی رجل الا راکبا“ ذوالحال اگر مجرور بالحرف ہو تو بعض کے نزدیک اس پر بھی تقدیم جائز ہے۔ جیسے ”فمطلبہا کہلا علیہ شدیدا“ بوڑھا عورت کو مشکل سے طلب کر سکتا ہے اور

صفحہ ٣٠٩

ان دونوں صورتوں کے سوا ذوالحال پر اسم حالیہ مقدم نہیں ہوسکتا۔ اس لئے یہ خیال بھی غلط ہوا کہ من قبل الرسل سے حال مقدم ہے۔ زیادہ تشریح دیکھنا ہو تو متن متین کا مطالعہ کرو۔

دجال

قوم ہے جو اپنی مردم شماری میں بہت زیادہ ہے۔

جواب: اسم علم میں معنی لغوی مراد نہیں ہوتے۔ بلکہ اس میں صرف مدلول علمی مراد ہوتا ہے۔ اگر چہ لغوی مدلول اس میں نہ بھی پایا جائے۔ جیسے سلطان بہت سے آدمی اپنا نام رکھتے ہیں۔ مگر پیٹ سے بھوکے ہوتے ہیں۔ غلام نابالغ بچے کو کہتے ہیں یا زرخرید نوکر کو۔ مگر ہزاروں غلام آبق ایسے ہیں کہ ساٹھ سال تک غلام ہی کہلاتے ہیں اور کسی نے ان کو کوڑی سے بھی نہیں خرید کیا ہوتا۔ اسی طرح دجال بھی مسیح یہود کا اسم علم ہے جو احادیث میں مذکور ہے۔ منتہی الارب میں ہے کہ دجال جھوٹے فریبی اور کلام کے تحریف کرنے والے کو کہتے ہیں اور مسیح کذاب کا بھی لقب ہے کہ آخر زمانہ میں ظاہر ہوگا اور خدائی کا دعویٰ کرے گا۔ پھر اسی کی وجہ تسمیہ بیان کی ہے کہ اس کو اس لئے دجال کہا گیا ہے کہ وہ جھوٹ بولے گا اور اپنی جھوٹی باتوں کو سچائی کی ایسی آب دے گا کہ وہ سچی معلوم ہوں گی۔ ”دجل بالذهب“ اور خزانے اس کے تابع ہوں گے۔ ”الدجال الذهب“ اور ایک گروہ عظیم اس کا پیرو ہوگا۔ ”الدجالة الرفقة العظيمة“ اور زمین کو ناپاک کر دے گا۔ ”الدجال السرحين“ اور بدسرشت اور بدخیال آدمی اس کے تابع ہوں گے۔ ”دجل الناس لقطاؤهم“ اب مخالفین اگر الٹ کر یہ ساری صفات مسیح قادیانی میں ثابت کر کے اسے دجال کہیں تو ہمارے خیال میں انگریزوں کو دجال کہنے کی نسبت ان کا یہ قول زیادہ قرین قیاس ہوگا۔

معلوم ہوتا ہے کہ اخیر زمانہ میں عیسائی دنیا میں پھیل جائیں گے اور وہی دجال بھی ہیں۔

جواب: کنزالعمال میں طباعت کی کئی غلطیاں رہ گئی ہیں اور یہاں بھی غلطی سے دجال کی بجائے رجال کا لفظ لکھا گیا ہے اور جب دوسرے نسخوں سے مقابلہ کیا گیا تو وہاں بھی یہ لفظ دجال ہی نکلا۔ اس لئے غلط لفظ کو پیش کر کے اپنا مطلب ثابت کرنا غلط کاروں کا کام ہوگا۔ ورنہ دیانتدار آدمی ایسی چالاکی سے محترز رہتے ہیں۔ بالفرض اگر کسی حدیث میں رجال کا لفظ بھی آیا

صفحہ ٣١٠

ہے تو اس سے مراد انگریزوں کی بجائے مرزائی ہو سکتے ہیں جو مختلف ممالک میں تبلیغ مرزائیت کے لئے اپنے وطن سے دور دراز نکل گئے ہیں اور مرزا قادیانی نے بھی ایک جگہ لکھا ہے کہ: ”میری جماعت اس قدر ہے کہ اگر ان کو ایک جگہ کھڑا کیا جائے تو بڑے سے بڑے لشکر بھی شمار میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔“ اور براہین کے الہامات میں ایک انگریزی الہام بھی مذکور ہے کہ: ”آئی ول گو یو۔ اے گریٹ پارٹی اوف اسلام‘ خدا نے کہا تھا کہ اے مرزا میں تم کو ایک بڑی جماعت دوں گا۔

مسیح ابھی تک کیوں زندہ ہیں؟

جواب: خلود اور طول عمر میں فرق ہے۔ زمین و آسمان، عرش و کرسی، اجرام فلکیہ اور ملائکہ یا ارواح ہزاروں ایسی مخلوقات ہیں۔ جو باوجود فانی ہونے کے ابھی تک قائم ہیں اور قائم رہیں گے۔ کتاب المعمرین لابی حاتم السجستانی میں جن لوگوں کی عمریں تین سو سال سے زیادہ گزری ہیں مختصر فہرست دی گئی ہے۔ جس کا اقتباس درج کیا جاتا ہے۔ لقمان بن عادیا، سطيح ولد في زمن السيل العرم وعاش الى ملك ذی نواس، ربیع بن ضبع، مستوغر بن ربيعة، دريد بن نهد اب حمة الدوسی اسمه کعب او عمر، زهير بن جناب، فضيل بن عبدالله (وهو جد زهير بن جناب)، يتم الله بن ثعلبة، ذو جدن الحميري، عبد المسيح بن عمر، حارث بن مضاص، قس بن ساعدة الايادي، ثعلبه بن كعب بن زيد، طي بن ادد، كعب بن رداه، حارثه بن عبيده، عباد بن سعيد، ذو الاصبع عدوانی۔

یہ لوگ اسی زمانہ میں تھے۔ جب کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا زمانہ تھا۔ اب اگر حضرت مسیح کو زندہ مان لیا جائے تو سطیح سے بھی زیادہ عمر کے نہ ہوں گے۔ کیونکہ اس کی عمر تین ہزار سال تھی۔ ”لان القرن على الاصح ماية سنة لقوله عليه السلام لغلام عش قرنا فعاش ماية سنة (منتهى الارب)“ فتوحات مکیہ اور ازالۃ الخفاء میں زریت بن برشلا کی حکایت یوں مذکور ہے کہ حضرت عمر بن الخطابؓ کے عہد میں حضرت سعدؓ کو قادسیہ کا حاکم مقرر کیا گیا تھا اور انہوں نے بحکم خلیفہ نضلہ بن معاویۃ الانصاری کو کوہ حلوان کی طرف عراق میں جہاد کرنے کو ٣٠٠ مجاہدین کی معیت میں روانہ کیا اور جب نضلہؓ وہ علاقہ فتح کر کے واپس آئے تو کوہ حلوان میں عصر کا وقت ہو گیا۔ نماز کے لئے اذان کہی تو پہاڑ سے ایک تصدیقی آواز آئی۔ پوچھا گیا تم

صفحہ ٣١١

کون ہو؟ کہا میں زربیت بن برعملا ہوں۔ حضرت مسیح نے اپنے نزول من السماء تک یہاں ٹھہرنے کو کہا ہے۔ یہ شخص سپید ریش بزرگ سا تھا۔ اس نے حضرت عمر کو سلام کہلا بھیجا اور وصیت کی کہ اسلامی خدمات تندہی سے انجام دیں۔ کیونکہ نزول مسیح قریب آ رہا ہے۔ نضلہ نے اور بھی بہت سے سوال و جواب کئے۔ پھر وہ غائب ہو گیا۔ نضلہ نے سعد کو یہ واقعہ لکھا اور سعد نے حضرت عمر کو لکھا تو حضرت عمر نے سعد کو جواب میں لکھا کہ تم خود وہاں جاؤ اور میرا سلام عرض کرو۔ چنانچہ حضرت سعد چار ہزار مجاہدین کی معیت میں کوہ حلوان میں چالیس دن تک ٹھہرے رہے مگر وہ بزرگ پھر ظاہر نہ ہوا۔ یہ روایت کنز العمال میں بھی مذکور ہے اور لکھا ہے کہ من حيث الرواية صحیح نہیں ہے۔ مگر فتوحات مکیہ میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ اہل کشف کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے۔ کیونکہ ان کو واقعات کی اصلیت شیشہ کی طرح معلوم ہو جاتی ہے۔ بہرحال اس روایت کی رو سے زربیت کی عمر حضرت عمر کے عہد تک کم از کم سات سو سال ضرور تھی اور نزول مسیح تک معلوم نہیں کتنی ہو جائے گی؟

حضرت مسیح باتفاق اہل اسلام کیسے بجسم عنصری آسمان پر اٹھائے گئے؟

جواب: یہ دونوں واقعات آپس میں لازم ملزوم نہیں ہیں۔ اس لئے یہ منطق غلط ٹھہرتی ہے کہ چونکہ معراج جسمانی میں اختلاف نہیں ہے۔ اس لئے وفات مسیح کا قول متفقہ طور پر صحیح ہے۔ مگر ہم اس مسئلہ کو دوسرے طرح بھی حل کر سکتے ہیں کہ مدارج النبوۃ میں لکھا ہے کہ حضورﷺ کو ٣ دفعہ معراج ہوا ہے۔ جس میں سے ایک جسمانی طور پر ہوا تھا۔ باقی روحانی طور پر ہوئے تھے اور جسمانی معراج کے وقت حضرت عائشہ بھی شیر خوار تھیں یا بالکل معصوم تھیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کم از کم ایک سال وقوع پذیر ہوا ہے اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال اور حضورﷺ کے حرم سرا میں حضرت عائشہ کو باریابی ہجرت کے بعد نصیب ہوئی ہے۔ اس لئے حضرت عائشہ کا یہ قول کہ شب معراج کو حضورﷺ کا جسم مبارک غائب نہ ہوا تھا۔ صحیح روایت نہیں ہے بلکہ یا تو اس کا یوں مطلب لیا جا سکتا ہے کہ جسم بغیر روح کے غائب نہ ہوا تھا بلکہ دونوں (جسم مع الروح) کو سیر ہوئی تھی اور یا یوں کہ انہوں نے اپنا عندیہ بیان کیا تھا کہ اس رات آپ کہیں باہر نہیں گئے تھے۔ بلکہ ام ہانی کے گھر سوئے تھے۔ ساری رات کی حاضری کا قول نہیں کیا۔ اس لئے ممکن ہے کہ جس وقت حضورﷺ معراج کو تشریف لے گئے ہوں۔ حضرت عائشہ جو نو عمر تھیں سو

صفحہ ٣١٢

رہی ہوں۔ اس کی تائید اس قول سے بھی ہوتی ہے جو کنز العمال میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مروی ہے کہ آپ اس رات حضور ﷺ کے پاس تشریف لائے تو حضور ﷺ کو نہ پایا۔ عرض کیا کہ میں نے آپ کو ہر جگہ تلاش کیا مگر آپ نہیں تھے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں آسمان پر گیا ہوا تھا۔ اس قول سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ بیشک اس رات تو تھے اپنے گھر ہی (بیت ام ہانی) مگر تھوڑی دیر کے لئے غائب ضرور ہو گئے تھے۔ جس کو بیٹی نے محسوس نہیں کیا تھا اور باپ نے دریافت کر لیا تھا۔ باقی رہا امیر معاویہؓ کا جھگڑا تو وہ روایت اس لئے قابل وثوق نہیں ہے کہ اس وقت امیر معاویہؓ ابھی مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے تو پھر ان کو کمالیت اسلام کے متعلق روایات سے کیسے تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر آپ نے ٨ ہجری میں اسلام قبول کرنے کے بعد یہ روایت کی ہے تو روایت در روایت کا شبہ پڑتا ہے۔ ورنہ عینی مشاہدہ کی بنیاد پر یہ روایت کبھی خیال نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں اس موقعہ پر آج کل کے محققین پر سخت افسوس ہے کہ اگر حیات مسیح کے متعلق ذرہ بھر شبہ ہو تو روایات پر جرح کر کے فوراً وفات مسیح ثابت کر لیتے ہیں۔ مگر معراج جسمانی کے متعلق ایسی آنکھیں بند کی ہیں کہ اپنے سارے عقیدہ کی بنیاد صرف قول عائشہؓ و قول معاویہؓ پر رکھ ڈالی ہے جو کسی طرح بھی قابل وثوق نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں اقوال خود قول حضور ﷺ کے خلاف ہیں۔ صدیق اکبرؓ ان کی تکذیب کرتے ہیں اور قرآن شریف میں ”اسریٰ بعبدہ لیلاً“ موجود ہے جو کبھی نیند کے موقعہ استعمال نہیں ہوا اور نہ فی المنام کا لفظ اس ساری آیت میں موجود ہے اور یہ بھی موجود ہے کہ: ”ولقد راہ نزلۃ اخرىٰ عند سدرۃ المنتہیٰ“ حضور ﷺ نے جناب باری تعالیٰ کو دوسری دفعہ سدرۃ المنتہیٰ میں دیکھا تھا اور یہ بھی لکھا ہے۔ ”مازاغ البصر وما طغیٰ“ حضور ﷺ کی نظر میں نہ فتور آیا تھا اور نہ اس نے کوئی غلطی کی تھی۔ ایسی تصریحات کے ہوتے ہوئے کوئی عقلمند نہیں کہہ سکتا کہ یہ خواب تھا یا کشفی حالت تھی۔ کیا خدا تعالیٰ کو کشفی حالت یا خواب بیان کرنے کے لئے یہ ضرورت محسوس ہوئی تھی کہ یوں فرمائے کہ: ”مازاغ البصر وما طغیٰ“ نہیں نہیں صرف ان لوگوں کا شبہ دور کرنا مطلوب تھا کہ جن کو یہ خیال گزر رہا تھا کہ شاید حضور کی نظر نے غلطی کھائی ہوگی یا انوار تجلیات سے آنکھ چندھا گئی ہوگی۔ اس لئے آپ کا بیان مشتبہ ہے اور سنئے اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے کہ: ”اوحی الی عبدہ ما اوحی“ جو کچھ خدا تعالیٰ نے وحی کرنا وحی کر دیا۔ اب خوابی فرقہ بتائے کہ کیا حضور ﷺ کی وحی سوکر ہوا کرتی تھی۔ قرآن شریف میں تو تین طرح کی وحیوں کا ذکر ہے۔ مگر وحی منامی کا ذکر نہیں ہے۔ اس

صفحہ ٣١٣

خیال کی تردید خود حضور ﷺ نے بھی فرمائی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنا ید قدرت میرے کاندھوں پر رکھا۔ جس کی سردی دیر تک محسوس کرتا رہا ہوں تو مجھے اس کی برکت سے ”عـــلـــم الاولين ولآخرین وما كان وما سيكون “ سب کچھ حاصل ہو گیا۔ خود مشرکین عرب نے بھی اس خیال کو صحیح نہیں سمجھا۔ ورنہ صبح کو آپ سے مشاہدات بیت المقدس کی تشریح نہ پوچھتے۔ کیا وہ ایسے ہی بیوقوف تھے کہ خوابوں کا آنا بھی قرین قیاس نہیں سمجھتے تھے اور اس رات جو قافلہ شام سے مکہ کو آ رہا تھا۔ وہ بھی اس واقعہ کو جسمانی قرار دیتا ہے کہ ہم آ رہے تھے کہ تو ہمارے اونٹ ڈر گئے تھے اور ہمارے مشکیزہ سے پانی خشک ہو گیا تھا کہ جس سے ہم نے معلوم کیا کہ کوئی سوار جا رہا ہے اور مشک سے اس نے نوش فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ دربان بیت المقدس کی شہادت بھی اس کی تردید کرتی ہے۔ کیونکہ اس رات وہ پھاٹک بند کرتا تھا۔ مگر وہ بند نہ ہوتا تھا تو وہ یوں ہی چھوڑ گیا تھا۔ صبح آتے ہی اس نے پاؤں کے نشان دیکھے تھے کہ ایک سواری آئی ہے اور پھر نکل گئی ہے۔ ان تمام واقعات کی تشریح مدارج النبوت میں دیکھو۔

يدركه الابصار“ ہے۔

جواب: شیعہ گو دیدار الٰہی کے منکر ہوں۔ مگر حیات مسیح کے منکر نہیں ہیں اور جس نے ان دونوں مسئلوں کو لازم وملزوم سمجھا ہے وہ بیوقوف ہے۔ علاوہ بریں رؤیت اور چیز ہے اور ادراک اور چیز ہے۔ ہم سورج کو دیکھتے ہیں۔ یہاں ہماری رؤیت ہے۔ مگر ادراک یعنی پورے طور پر گہری نظر سے دیکھنا نہیں ہے۔ اسی طرح ہم بھی رؤیت کے قائل ہیں۔ ادراک ذات الہیہ کے قائل نہیں ہیں۔ حضرت عائشہؓ سے بھی ادراک کی نفی معلوم ہوتی ہے۔ رؤیت بصری کی نفی معلوم نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ معراج کا واقعہ آپ سے پوشیدہ رہا ہے۔

جسمانی کیسے ٹھہرا؟

جواب: جب صاف ذکر ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے نزدیک اس وقت آپ تھے تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ حضور ﷺ بیت المقدس تک جسمانی طور پر اسریٰ بعبدہ لیلا کے ماتحت تشریف لے گئے تھے اور وہاں سے عرش معلیٰ تک ”ولقد رآه نزلة اخرى “ کے رو سے پہنچ چکے تھے اور یہ رسائی قرآن کی رو سے ہر طرح ثابت ہے۔ خواہ دیدار الٰہی کا قول کیا جائے یا دیدار

صفحہ ٣١٤

جبرائیل کا۔ دیدار جبرائیل کے متعلق بھی اصلی صورت کا دیدار مراد ہوگا۔ ورنہ معمولی صورت میں تو حضور ﷺ سے کئی دفعہ ملاقات کر چکے تھے۔

السلام قیامت کو دو اقرار کریں گے۔ اوّل یہ کہ مجھے اپنی قوم کی خبر توفی سے پہلے رہی ہے بعد میں نہیں رہی۔ دوم یہ کہ میری خبر گیری بنی اسرائیل میں موجود رہنے تک محدود تھی اور بعد میں مجھے اطلاع ان کے حالات کے متعلق نہ تھی تو دونوں صورتوں میں نزول مسیح علیہ السلام باطل ہو جاتا ہے۔ ورنہ یوں کہنا لازم تھا کہ میں دوبارہ نزول کے بعد بھی خبر گیر رہا ہوں۔ مگر آپ اس کی نفی کریں گے۔ کیا کذب بیانی کا ارتکاب کریں گے؟

جواب: کذب بیانی کا الزام تو مرزائی تعلیم کے مطابق بھی قائم رہتا ہے۔ کیونکہ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٦٨، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں مرزا قادیانی مانتے ہیں کہ نصاریٰ کی ابتری کا حال آسمان پر بھی آپ کو معلوم تھا۔ ورنہ کشمیر میں بھی جب تک بنی اسرائیل میں رہے ہیں اس ٨٧ سال کے عرصہ دراز میں بھی آپ کو اہل فلسطین اور اہل شام کی مطلقاً خبر نہ تھی تو باوجود موجود رہنے کے بھی آپ کو علم نہیں رہا۔ اب موجودگی اور علم کو لازم و ملزوم قرار دے کر یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ جب تک میں بنی اسرائیل میں رہا تب تک مجھے علم تھا۔ اس لئے یہ ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ تثلیث کا عقیدہ آپ کی موجودگی میں پیدا نہیں ہوا۔ واقعہ صلیب کے بعد متصل ہی پولوس یہودی نے نصرانیت میں تثلیث کا عقیدہ پھیلانا شروع کر دیا تھا اور اس سے پہلے بھی حسب تصریح مورخین وحسب تصریح برنباس تثلیث کی بنیاد پڑ چکی تھی اور فساد قوم محقق ہو چکا تھا۔

روایات کا اعتبار نہیں رہے گا۔

جواب: قرآن شریف میں لاعلمی کا ذکر نہیں ہے۔ بلکہ بے سمجھی کی وجہ سے یہ نظریہ خواہ مخواہ قرآن کے ذمہ تھوپ دیا گیا ہے۔ ورنہ محققین اہل تفسیر نے جو کچھ بیان کیا ہے اصل میں وہی درست ہے کہ سرکاری گواہ جب عدالت کو خود مدعی دیکھتا ہے تو اپنی رپورٹ کو عدالت کے سپرد کر کے یوں کہہ سکتا ہے کہ: "عدالت خود معاملہ زیر بحث کو خوب جانتی ہے۔ مجھے عدالت سے بڑھ کر کیا علم ہو سکتا ہے۔" اس طرز کے جواب کو "تفویض العلم الی الغیر" کہتے ہیں۔ جو ہمیشہ بڑوں کے سامنے چھوٹے آدمی استعمال کرتے ہیں اور اسی طرز جواب کو تمام انبیاء علیہم السلام بھی

صفحہ ٣١٥

برتیں گے۔ آیت زیر بحث سے چند سطور پہلے دیکھئے یوں مذکور ہے کہ: ”یوم یجمع الله الرسل“ اس دن خدا تعالیٰ تمام انبیاء کو کہ جن میں حضرت مسیح علیہ السلام بھی شامل ہوں گے جمع کر کے سوال کریں گے کہ بتاؤ تمہاری کامیابی کیسی رہی اور تمہاری اجابت یا قبولیت کس درجہ پر رہی؟ تو تمام انبیاء یک زبان ہو کر یوں کہیں گے۔ ”حضور ہمیں کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ حضور خوب جانتے ہیں۔ حضور کی تحقیق کے مقابلہ میں ہمیں اصلی واقعات کا کچھ بھی علم نہیں ہے۔ لا علم لنا!“ باوجودیکہ ان کو اپنی امتوں کا حال معلوم ہوگا۔ مگر اپنی اطلاع دہی کو کمال وضوح کی وجہ سے باری تعالیٰ کے ذمہ ڈال دیں گے۔ ورنہ اگر ”تفویض العلم الی الغیر“ کا مسئلہ باطل سمجھا جائے تو نعوذ باللہ تمام انبیاء کے حق میں کذب بیانی کا الزام پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ مرزائیوں کو اس مقام پر قرآن شریف کے اصلی مقاصد سمجھنے پر قدرت حاصل نہیں ہوئی۔ اس لئے خود بھی ٹھوکر کھائی ہے اور لوگوں کو بھی غلط راستہ بتا رہے ہیں۔ زیادہ تشریح دیکھنی ہو تو تفسیر کبیر اور تفسیر روح المعانی کا مطالعہ کریں۔

بھی تھے۔ اس لئے یہی شرقیہ دمشق ہے۔

جواب: قادیان کی وجہ تسمیہ میں پہلے یوں کہا گیا ہے کہ قاضیاں تھا بگڑ کر قادیاں بن گیا۔ مگر اس وقت مرزا قادیانی مدعی نہ تھے اور دعویٰ کے بعد اس کے دو نام بدل گئے ہیں جو یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ یہ سب کچھ غلط ہے۔ کیونکہ اسی علاقہ میں دو گاؤں اور بھی قادیاں موجود ہیں اور ان کی وجہ تسمیہ میں مہدویت اور مسیحیت کا کچھ اثر نہیں ہے۔ اس لئے ہم اس کی وجہ تسمیہ وہاں سے لے کر یوں کہتے ہیں کہ کادی ارائیں ہوتے ہیں۔ اس علاقہ میں یہی قوم آباد تھی۔ اس لئے یہ تین گاؤں ارائیوں کے نام پر مشہور ہیں اور قادیان دمشق سے مشرقی خط پر بھی واقع نہیں ہے۔ کیونکہ قادیان سے دو ہزار میل کے فاصلہ پر خط مشرق چلتا ہوا ترکستان کو نکل جاتا ہے۔ جیسا کہ نقشہ سے ظاہر ہے۔

٨٧ سال زندہ رہنا چاہئے تھا۔ احادیث میں ٤٠ یا ٤٥ سال کا وعدہ ہے۔ یہ تعارض کیسے اٹھ سکتا ہے۔ اس لئے یوں کہنا پڑتا ہے کہ بعد نزول از صلیب آپ کی عمر کشمیر میں ٨٧ سال گزری ہے۔

جواب: جن روایات میں آپ کی عمر ١٢٠ سال مذکور ہے علامہ زرقانی نے ثابت کیا

صفحہ ٣١٦

ہے کہ یہ عمر قبل از رفع کی ہے۔ عمر بعد النزول اس کے علاوہ اور کل عمر اس حساب سے ١٦٠ یا ١٦٥ بنتی ہے۔

کریں گے؟

جواب: آپ حکومت اسلامی قائم کریں گے اور گرجے گرا کر صلیب پرستی دور کریں گے۔ قیامت کو بت پرستوں کے بتوں کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ اسی طرح عیسائیوں کو مغلوب کر کے ان کا بت اکبر (صلیب) بھی خاک میں ملا دیا جائے گا۔

زمانہ کب لڑیں گے۔ اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس سے مراد مولوی ہیں۔ جو مرزا قادیانی سے لڑتے ہیں۔

جواب: مسیح دجال یہودیوں پر زبردستی حکومت کرے گا اور ان کو چاہے گا کہ مسلمانوں پر غالب کرے۔ مگر اس ارادہ میں کامیاب نہ ہوگا۔ کیونکہ قیامت تک اسلام کے مقابلہ پر ان کو ذلت لکھی ہوئی ہے اور اگر علمائے اسلام یہودی ہیں تو مرزائی مولوی صاحبان بھی یہودیوں سے کم نہیں ہیں۔ کیونکہ یہودیوں کی طرح کلام الٰہی کو تحریف کے ذریعہ سے نیا لباس پہنا رہے ہیں۔ اعداد و الفاظ سے استدلال قائم کرنا بھی یہودیوں کی طرح ان میں ہی موجود ہے اور وفات مسیح میں یہودیوں کی بھی ناک کاٹ ڈالی ہے۔ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہیں تو مرزائی بھی ان سے کم نہیں ہیں۔

الدین“ کے خلاف ہوگا۔

جواب: جب دجال مسلمانوں پر فوج کشی کرے گا تو اس وقت مسلمانوں پر جوابی حملہ - فرض ہوگا۔ جس میں وہ مارا جائے گا اور نصاریٰ بھی چونکہ ان کے طرفدار ہوں گے۔ اس لئے ان سے بھی جہاد کرنا پڑے گا اور حکومت اسلامیہ قائم کرنے کے واسطے نہ کسی سے جزیہ لیا جائے گا اور نہ غیر سے معاہدہ کیا جائے گا۔ کیونکہ فتنہ ارتداد زوروں پر ہوگا اور توحید و شرک کا فیصلہ جہاد کے سوا نہ ہو سکے گا۔ ”قاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ“ کا مقام ہوگا۔

وقوع پذیر ہوگا؟

صفحہ ٣١٧

جواب: قیام حکومت کے بعد مسلمانوں کو جہاد کی ضرورت نہ رہے گی۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ مسیح مطلقاً جہاد نہ کریں گے۔

٢٩...... ”یذوب الدجال کالملح“ کا وقوع یوں ہوا ہے کہ عیسائی مرزائیوں کے مقابلہ میں پانی پانی ہو جاتے ہیں۔

جواب: صرف منہ سے کہنا آسان بات ہے۔ ورنہ جب سے مرزائی مذہب شروع ہوا ہے۔ عیسائیت کو وہ قبولیت ہوگئی ہے کہ اسلام ان کے مقابلہ میں پانی پانی ہورہا ہے اور خود مرزائی مذہب کے پیرو عیسویت میں جذب ہورہے ہیں اور عیسائیت قبول کررہے ہیں۔ ذرہ آنکھ کھول کر تمدن اور معاشرت مرزائیہ پر نظر دوڑائیے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ کس طرح عیسائیت کی خاطر قرآن میں تحریف کررہے ہیں۔

٣٠...... یاجوج ماجوج دو شخص تھے کہ جن کی اولاد اہل یورپ ہیں۔ ان کے ڈھانچے لندن (گلڈ ہال) میں موجود ہیں اور چونکہ انہوں نے آگ سے بہت کام لیا ہے۔ اس لئے بھی ان کو یاجوج ماجوج کہا جاسکتا ہے۔ (کیونکہ اجج آگ کو کہتے ہیں) دجال بھی یہی قوم ہے۔ مرزا قادیانی کے عہد میں مذہبی طور پر فنا ہو چکی ہیں۔

جواب: یہ نظریہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ خروج یاجوج و ماجوج حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں لکھا ہوا ہے اور اقوام یورپ مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد سے بھی پہلے موجود ہیں۔ اسی طرح تمام انسان کم و بیش آگ سے کام لیتے ہیں اور آتش پرست تو عرصہ دراز تک آگ کی پرستش کرتے رہے ہیں تو پھر کیا یہ سب یاجوج ماجوج ہوں گے۔ اصل بات یہ ہے کہ احادیث کے رو سے ایک قوم مخصوص کا اسم علم یاجوج ماجوج قرار پایا ہے۔ اس لئے اگر وضعی معنی کے طور پر مرزائی بھی یاجوج ماجوج بن جائیں تو اصل مقصد میں کچھ نقص پیدا نہ ہوگا۔ جیسا کہ مسیح کا لفظ بھی اشتراکی طور پر تین آدمی ظاہر کرتا ہے۔ دجال، قادیانی اور ابن مریم علیہ السلام

٣١...... ”یجعلہ اللہ حكماً“ سے مراد یہ ہے کہ مرزا قادیانی حق و باطل میں قطعی فیصلہ کریں گے۔

جواب: حضرت مسیح علیہ السلام تو واقعی حاکم اور فیصل ہوں گے۔ مگر مرزا قادیانی کی زندگی تو تحریف و تنسیخ اسلام میں گذری ہے۔ اگر یہی حکومت مراد ہے تو مسیح ایرانی نمبر اوّل پر حکم عادل تصور ہوگا۔ کیونکہ اس نے سرے سے قرآن ہی کو منسوخ کردیا ہے۔

صفحہ ٣١٨

٣٢...... ”یمکث عیسیٰ اربعین“ وارد ہوا ہے۔ معلوم نہیں کہ چالیس سال حضرت مسیح علیہ السلام حکومت کریں گے یا کم وبیش؟ جواب: خواہ آپ حکومت ایک دن ہی کریں مگر صداقت مرزا کا تعلق اس سے کیسے ہوسکتا ہے؟۔ اگر یہ مراد ہے کہ حضورﷺ کو دجال، یاجوج ماجوج اور مسیح علیہ السلام کا علم نہیں دیا گیا تو مرزا قادیانی پر تین الزام قائم ہوتے ہیں۔ اوّل جہالت اسلامی، کیونکہ صحیح روایات میں چالیس سال آپ کی حکومت تحقیق کی گئی ہے۔ دوم توہین رسالت کہ مرزا کو تو ان تینوں کا علم ہے۔ مگر حضورﷺ پر یہ تینوں مشتبہ تھے۔ اس الزام کے رو سے مرزا قادیانی کافر واجب القتل تھے۔ سوم دوران سر کیونکہ اپنی عمر اسی سال بتاتے تھے اور چالیس سال کے بعد دعویٰ کیا تھا اور چالیس سال کی عمر کا قول خود احادیث کو دیکھ کر کیا تھا اور یہاں آ کر بھول گئے تھے اور خدا نے بھی چالیس سال تک مسیح نہ رہنے دیا۔

٣٣...... ”فلا یجد الکافر ریح نفسہ الا مات“ مذکور ہے کہ کافر حضرت مسیح علیہ السلام کے دم سے مرجائیں گے۔ مرزا قادیانی کی تبلیغ ایسی ہی ہے۔ جواب: اس حدیث میں حضرت مسیح علیہ السلام کا معجزہ بیان ہوا ہے۔ جیسا کہ: ”شاھت الوجوہ“ میں حضرت علیہ السلام کا معجزہ مذکور ہے کہ آپ نے کنکریاں پھینک کر تمام کو اندھا کردیا تھا اور مرزا قادیانی کی تبلیغ سے ہزاروں مسلمان گمراہ ہوچکے ہیں اور ان کے دل مرچکے ہیں۔ جن کو وہ کافر کہا کرتے ہیں۔ اگر صلاح الدین ایوبی یہ دعویٰ کرتا تو درست ہوسکتا تھا۔ کیونکہ ١٠٩٦ء میں بطرس ناسک چھ لاکھ عیسائی فوج لے کر مصر پر چڑھ آیا تھا اور اس نے جنگ صلیبی میں عیسائیوں کو شکست دی تھی۔

٣٤...... ”یقتل الخنزیر“ میں اشارہ ہے کہ عیسائیوں کو لاجواب کردے گا۔ جواب: نہیں قتل خنزیر کی رسم اور اس کا استعمال حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی میں بند ہوجائے گا۔ کیونکہ اہل کتاب کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اگر مرزا قادیانی کے عہد پر یہ مضمون منطبق کیا جائے تو یہ مطلب نکلتا ہے کہ قتل خنزیر کی بجائے خود قتل ہوگئے ہیں۔ تحریف کتاب اللہ اور ترک احادیث رسول اللہ میں عیسائیوں کے مقابلے پر دم چھوڑ بیٹھے ہیں۔ جہاد موقوف کردیا ہے اور عیسائیت کو ہی اپنا اسلام سمجھ لیا ہے اور تمدن یورپ میں جذب ہورہے ہیں۔

٣٥...... ”یضع الجزیۃ“ میں اشارہ ہے کہ مرزا قادیانی جہاد بند کردیں گے۔

صفحہ ٣١٩

جواب: حکم الٰہی کو بند کرنا رسول کا اختیار نہیں ہوتا۔ اب اگر مرزا قادیانی نے جہاد اسلامی کو بند کرنے کا فتویٰ دیا ہے تو اگر بذریعہ وحی دیا ہے تو آپ کا یہ دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ میں اسلام کا ناسخ ہو کر نبی نہیں بنا اور اگر اجتہادی طور پر فتویٰ دیا ہے تو سراپا غلط ہے۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے عہد میں چونکہ کمال تبلیغ کے بعد حکومت اسلامی تسلیم ہو چکے گی۔ اس لئے جہاد کی ضرورت نہ رہے گی۔ ورنہ آپ بھی اس حکم میں ترمیم نہ کریں گے۔ کیونکہ نسخ شریعت کا ارتکاب سوائے مخالف اسلام کے کوئی نہیں کرسکتا۔

مرزا قادیانی کی تعلیم غالب رہے گی۔ ورنہ ’’لا اکراه فی الدین‘‘ اور ’’لو شاء ربك لجعل الناس امة واحدة‘‘ وغیرہ کے خلاف ہے۔

جواب: بالکل غلط ہے۔ ورنہ بتائیں کتنے آریہ مغلوب ہوئے، کتنے عیسائی معترف ہوئے یا کتنے بابی مذہب کے پیرو مرزائیت میں داخل ہوئے۔ بلکہ واقعات بتا رہے ہیں کہ بابی مذہب نے ان کا ناک میں دم کر دیا ہوا ہے۔ عیسائیت زوروں پر ہے اور آریہ وغیرہ کی کوشش سے فتنہ ارتداد جاری ہے اور مرزائیت سے لوگ توبہ کر رہے ہیں۔ اس لئے اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ اس وقت اسلام ہی اسلام ہوگا۔ جیسا کہ: ’’لیظهره علی الدین کله‘‘ میں مرزا قادیانی خود بھی مان چکے ہیں۔

مذہب کی تبلیغ کریں گے۔

جواب: واقعات نے اس کی تکذیب کی ہے۔ کیونکہ اسی سال کی عمر تک آپ نہیں پہنچ سکے۔ ساٹھ ستر کے درمیان ہی وفات پائی تھی اور ٹیچی فرشتہ نے جو کچھ بتایا تھا کہ مرزا قادیانی کی عمر اسی سال ہوگی غلط وحی تھی اور مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی ایک بین دلیل ہے۔

جنہوں نے مرزا قادیانی پر جنازہ پڑھا ہے وہی مسلمان ہیں باقی سب کافر ہیں۔

جواب: اس اصول سے تو مرزائی بننے کی یہ ایک شرط بھی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے جنازہ پڑھا جائے اور اگر مرزا قادیانی پر جنازہ کی رسم جاری نہ رکھیں تو صرف وہی لوگ مسلمان رہ سکتے ہیں جو آپ کی لاش پر حاضر ہوئے تھے اور جو نہیں پہنچ سکے تھے وہ اس غیر حاضری کی وجہ سے بے ایمان

صفحہ ٣٢٠

ہو چکے تھے۔ بہر حال یہ نظریہ اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ حدیث کا ترجمہ غلط کیا گیا ہے۔ صحیح ترجمہ یوں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر مسلمان لوگ نماز جنازہ پڑھیں گے۔ یوں ترجمہ غلط ہوگا کہ جو لوگ جنازہ پڑھیں وہی مسلمان ہوں گے۔ کیونکہ اس وقت یوں عبارت ہونی چاہئے تھی۔ ”الذين يصلون عليه هم المسلمون فى عهده“ بہر حال یہ نظریہ مرزائیوں کے اس دعوٰی کو بھی باطل کرتا ہے کہ ہم کسی کو کافر نہیں کہتے۔ لوگ مسلمان (مرزا) کو کافر کہہ کر خود بخود کافر ہو رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور ہیں اور کھانے کے اور۔ بظاہر اسلام سے اتنی محبت کہ کسی کو کافر کہنے کے روادار نہیں ہیں۔ مگر جنازہ کا ایسا حکم ہوا ہے کہ اس میں غیر حاضری کی وجہ سے اپنی جماعت بھی کافر ہو رہی ہے۔ حالانکہ اسلام میں نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔ بعض کے ادا سے سب کا ادا ہو جاتا ہے۔ مگر یہاں فرض عین قرار دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ یا تو اسلامی ناواقفی ہے اور یا تحریف اور تنسیخ اسلام جو مرزا قادیانی کی تعلیم کو ناسخ شریعت اسلامیہ قرار دیتی ہے۔

مرزا قادیانی کی زبان اور قلم مراد ہیں۔

جواب: معراج بیداری میں واقعی جسمانی واقع ہوا تھا اور خواب نہ تھا کہ تعبیر کی ضرورت پڑے اور مرزا قادیانی نہ جسمانی طور پر وہاں موجود تھا اور نہ روحانی طور پر۔ کیونکہ ان کے نزدیک جسم کی گرمی سے روح پیدا ہوا کرتی ہے۔ اس لئے قرآن و حدیث یا سیف و قلم خود مسیح علیہ السلام کی مراد ہیں۔

سے کانے ہیں۔

جواب: مرزا قادیانی خود کانے ہیں۔ ہدایت کی آنکھ بند ہے جو سوجھتی ہے۔ الٹی ہی سوجھتی ہے اور تحریف و تنسیخ اسلام کی آنکھ اس قدر روشن بظاہر ہورہی ہے کہ یہود و نصاریٰ بھی ان کے سامنے پانی بھرتے ہیں۔ دعویٰ یہ کیا ہے کہ اسلام منسوخ نہیں۔ مگر اندر ہی اندر ایک مسئلہ بھی اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہنے دیا۔ اس مخادعت کا اجر خدا ہی آپ کو دے گا۔

”ملتقی البحرین“ ہے دوسری میں ہے کہ مشرق ہے اور تیسری میں ہے کہ شام یا عراق ہے۔ اس لئے اس سے پادری لوگ مراد ہیں۔

صفحہ ٣٢١

جواب: کیسی بے تکی بات ہے کہ چونکہ مقام معین ہے تو پادری مراد ہیں۔ خود مرزائی کیوں مراد نہیں ہیں۔ حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ دجلہ فرات کا مقام اتصال مدینہ شریف سے مشرقی سمت میں عراق و شام میں واقع ہے۔ مگر ایسی بات گھڑی ہے کہ احادیث کو ہی بے اعتبار کر دیا ہے۔ اب بتائیے کہ کیا پادری وہاں سے پیدا ہوئے ہیں کہ جہاں سے خروج دجال مذکور ہوا ہے یا مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد سے بھی پہلے یورپ میں موجود تھے؟

ومن لا يعرف“ کہ دجال کے سر پر انگریزی ٹوپی ہوگی۔

جواب: انگریزی ٹوپی تو خود مرزائیوں کے سر پر ہی ہوتی ہے۔ کیا یہ بھی دجال ہیں؟ ورنہ حدیث کا مقصود یہ ہے کہ علم وجدانی سے ہر ایک عالم و جاہل اس تحریر کو پڑھے گا۔ جیسا کہ اپنا اعمالنامہ پڑھے گا۔ ”اقراء كتابك“ قرآن شریف اس کی شہادت دے رہا ہے۔

وہاں نہیں جاسکتے۔

جواب: یوں کہو مرزائی وہاں نہیں جاسکتے اور نہ ہی مرزا قادیانی کو وہاں جانا نصیب ہوا ہے۔ ابھی حال کا واقعہ ہے کہ جاوا سے ایک مرزائی مبلغ مکہ شریف میں پہنچا تھا تو ابن سعود نے کان سے پکڑ کر نکال دیا تھا۔ دیکھو اخبار ام القریٰ مجریہ اکتوبر ١٩٣٠ء۔ بلکہ یوں کہنا بیجا نہ ہوگا کہ مرزائیوں کے نبی نے حج منسوخ کر دیا ہے۔ اس کی بجائے قادیان کی حاضری بڑے دنوں میں سالانہ جلسہ کے موقعہ پر ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی ان کا کعبہ ہے اور یہیں ان کا روضہ نبوی جس پر درود پڑھتے رہتے ہیں اور چند سال سے قبر پرستی بھی شروع ہوگئی ہے اور خوب نذر و نیاز کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے۔ یہی سلسلہ جاری رہا تو عیسائیوں کی طرح گھر گھر میں مرزا پرستی شروع ہوجائے گی۔

سفر دنوں میں طے کر دیئے ہیں۔

جواب: ہوائی جہازوں نے اور بھی تقرب زمانی پیدا کر دیا ہے اور یہ ایجاد مرزا قادیانی کے بعد ہوئی ہے اور ریل کی ایجاد ١٨٠٠ء سے پہلے کی ہے۔ جب کہ ابھی مرزا قادیانی کے آباؤ اجداد بھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے نہ ریل نشان صداقت ہے اور نہ ہوائی جہاز۔ اس کے علاوہ مسیح ایرانی اس حدیث کا مطلب اختصار عبادات لیتا ہے۔ اس لئے اس نے صرف تین نمازیں مقرر کی ہیں اور وہ بھی بے وضو پڑھی جاتی ہیں۔ اسلام کے نزدیک دونوں تاویلیں مردود

صفحہ ٣٢٢

ہیں ۔ کیونکہ اسلام میں دجال کے عہد میں دنوں کا لمبا ہونا تسلیم کیا گیا ہے۔ جس میں نمازیں تخمینہ لگا کر ادا کرنے کا حکم ہوگا اور قرب قیامت میں دنوں کی چھوٹائی مقرر ہے کہ جس کے بعد بہت جلد دنیا ختم ہو جائے گی۔

٤٥...... ”یترک الصدقة “ میں اشارہ ہے کہ مرزا قادیانی زکوٰۃ نہیں لیں گے۔ کیونکہ ان کے عہد میں مال بکثرت ہوگا اور مرزائی مالدار ہوں گے۔

جواب: کئی مرزائی بھوکے مرتے ہیں۔ ہاں یہ بات ضرور ماننی پڑتی ہے کہ اس جماعت میں اسلامی طور پر زکوٰۃ ادا کرنے کا مسئلہ ترمیم پا چکا ہے اور اس کی بجائے چندہ بیعت کی کمیٹیاں جابجا قائم کر دی گئی ہیں اور اس فعل نے ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے زکوٰۃ کو بھی منسوخ کر دیا تھا اور یہ جھوٹ کہا تھا کہ ناسخ شریعت نہیں ہوں۔ تاریخی طور پر اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں میں آج کل افلاس کمال تک پہنچ چکا ہے اور مرزا قادیانی کی پیدائش سے پہلے آسودہ حال تھے اور سلاطین اسلام کے وقت تو دنیا کے مالک تھے اور اس قدر مالدار تھے کہ عبدالرحمن بن عوفؓ کا ترکہ جب تقسیم ہوا تھا تو آپ کی چار بیویوں کو آٹھواں حصہ ملا تھا۔ جس میں سے ایک کا حصہ چالیس ہزار درہم تھا۔ مگر اب یہ حال ہے کہ ہر جگہ سے عیسائیوں نے مسلمانوں کو اپنے اندر جذب کرنا شروع کر دیا ہے اور کسی جگہ بھی حکومت خوداختیاری ان کے پاس موجود نہیں رہی۔ اگر ان حالات پر نظر ڈالی جائے تو مرزا قادیانی کا ظہور وبال اسلام تھا۔ جس سے رہی سہی برکات بھی کافور ہو گئی تھیں۔

٤٦...... مرزا قادیانی کے عہد میں قحط واقع ہوا تھا جو ظہور مسیح کی علامت ہے۔

جواب: ہاں ظہور مسیح دجال کی علامت ہم بھی مانتے ہیں کہ پہلے قحط ہوگا۔ جس کے متصل خروج دجال ہوگا اور اس کے بعد متصل ہی نزول مسیح کا زمانہ ہے جو تسلسل طور پر یہ تینوں یکے بعد دیگرے ظاہر ہوں گے۔ ناواقفی کی وجہ سے مرزا قادیانی نے یوں سمجھ رکھا ہے کہ نزول مسیح کے بعد قحط ہوگا۔ اتنا بھی نہیں سوچا کہ پادریوں کو آپ ہی دجال کہہ آئے ہیں۔ کیا ان کے آنے سے پہلے قحط تھا۔ بعد میں نہیں ہوا یا بعد میں ہوا پہلے نہیں ہوا۔ احادیث میں تو خروج دجال کی علامت امساک باراں لکھی ہے۔ اگر آپ منظور کرتے ہیں تو بسم اللہ۔

٤٧...... فتنہ دجال سے بچنے کے لئے حضورﷺ نے سورہ کہف پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی دجال ہیں۔ کیونکہ اس میں عیسائیوں کا ہی ذکر ہے۔ (دجال کا نام تک نہیں لیا گیا)

صفحہ ٣٢٣

جواب: عجیب کھیل دکھایا ہے کہ مرزا قادیانی کے نزدیک عیسائی حکومت، عیسائی افسر جو کوٹھیوں میں رہتے ہیں اور پادری تین قسم کے دجال تھے اور ان کے مقابلہ میں صرف ایک مسیح قادیانی کھڑا ہوا تھا۔ جس نے انگریزی حکومت اور انگریزی افسروں (دو قسم کے دجالوں) کے سامنے تو ہاتھ جوڑ دیئے تھے۔ مگر تیسرے قسم کے دجال (پادریوں) کو گھر بیٹھے ہی مغلوب کر لیا تھا اور یہ نظریہ بھی عجیب قسم کا ہے کہ جن آیات میں جس کا ذکر ہو اسی نوعیت کے ساتھ اس کی تاثیر وابستہ ہوتی ہے۔ اگر یہ صحیح ہے تو اسی سورہ کہف میں ذوالقرنین کا بھی ذکر آیا ہے اور مرزا قادیانی اپنے الہام کی رو سے ذوالقرنین بھی ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی ذوالقرنین، دجال ہوگا۔ جس سے کہ حضور نے خوف دلایا ہے اور جس کے دفعیہ میں سورہ کہف پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ کیا مرزائی اس ذوالقرنین سے مراد دجال لے سکتے ہیں؟

کے عہد میں پادریوں کو مرزا قادیانی شکست دیں گے۔

جواب: باب سے مراد حکومت لینا اور لد سے مراد قوم لد لینا عجیب قسم کی نکتہ آفرینی ہے۔ پہلے خود کہہ چکے ہیں کہ حکومت نصاریٰ (قوم لد) بھی دجال ہے تو مفہوم یوں پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے دجال اوّل کی حکومت کی پناہ میں دجال دوم کو شکست دی ہے۔ اس سے بہتر تو ہمارے خیال میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے شہر لدھیانہ کے دروازہ کے پاس دجال صفت مرزائیوں کو شکست دی تھی اور تین سو روپے جیت لئے تھے۔

کرنا ہے۔ ورنہ ”والشمس تجری لمستقر لھا“ کے خلاف ہوگا۔

جواب: فرداً فرداً قبولیت اسلام کا وجود ممالک مغربیہ میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ ظہور مسیح قادیانی سے کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ اس لئے اگر طلوع الشمس کی تحریف ہی کرنا ہے تو ایرانی مسیح کی تحریف زیادہ قرین قیاس ہے کہ ممالک مغربیہ کی مادی ترقی مراد ہے۔ اگر ہدایت مطلوب ہو تو بغیر تحریف کے ماننا پڑتا ہے کہ علامات قیامت سے ایک یہ بھی علامت ہے اور جس آیت سے یہ مفہوم مخالف سمجھا گیا ہے۔ اس میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ہمیشہ سورج یوں ہی چلتا رہے گا۔ بلکہ صرف یہ مذکور ہے کہ وہ چلتا ہے اور ان دو فقروں میں بالکل فرق ظاہر ہے۔

علمائے سوء ہیں۔ جو اپنی مہر کو سلیمانی مہر تصور کرتے ہیں اور ایسی مہر تکفیر سے دلوں کو زخم کرتے رہتے ہیں۔

صفحہ ٣٢٤

جواب: ”دابۃ الارض“ احادیث کی رو سے ایک نوعیت کا جانور ہوگا۔ جو حق و باطل کے لئے خدائی نشان ہوگا اور اہل سنت والجماعت کے نزدیک بغیر تاویل کے مسلم ہے۔ مگر جو لوگ اہل بدعت ہیں۔ ان کے نزدیک ابھی تک اس کا مصداق معین نہیں ہوا کہ کیا شئے ہے۔ بانی مذہب اہل قرآن عبداللہ چکڑالوی کا عقیدہ تھا کہ: ”دابت الارض“ سے مراد ظہور مسیح علیہ السلام ہے۔ ایک محرف کا قول ہے کہ: ”دابۃ الارض“ گراموفون ہے جو اجزائے ارضیہ سے پیدا ہوا ہے اور لوگوں سے باتیں کرتا ہے۔ ایک حضرت لکھتے ہیں کہ: ”دابۃ الارض“ عیسائی اقوام ہیں جو سریع السیر ہونے کی وجہ سے تمام دنیا پر چھا گئی ہیں۔ خود مرزائیوں کے تین قول ہیں۔ ایک یہ ہے کہ وہ ریل گاڑی ہے اور اسی کو خر دجال کا لقب بھی دیا ہے۔ دوم یہ کہ طاعونی کیڑے ہیں جو مرزا قادیانی کی تصدیق کے لئے پیدا ہوئے تھے۔ سوم یہ کہ مولوی صاحبان ہیں جو ان پر مہر تکفیر لگاتے ہیں۔ اب ان اختلافات کے ہوتے ہوئے ہم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ سوائے اس کے کہ ہم کہیں کہ ان لوگوں کے نزدیک خر دجال، دابۃ الارض، طلوع الشمس من المغرب اور دیگر اشراط الساعۃ پر ایمان نہیں ہے۔ مگر چونکہ اسلامی تعلیم میں ان کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ اس لئے صاف انکار بھی نہیں کر سکتے اور تاویلیں کر کے اپنے انکار کو پوشیدہ کر رہے ہیں۔ ورنہ اس کی تہ میں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ الزامی طور پر اسلامی علماء کو نیچا دکھائیں اور مخالفین سے بھی یہ سن لیں کہ: ”دابۃ الارض“ اگر ریل گاڑی ہے تو مسیح قادیانی سے پہلے دو سو سال کیوں ایجاد ہوئی ہے؟ اور علمائے اہل اسلام کو علماء سوء کا خطاب مرزا قادیانی سے پہلے تمام ایسے لوگوں نے دیا ہوا ہے کہ جنہوں نے دعویٰ نبوت کیا اور ان کے فتویٰ سے اپنے کیفر کردار کو پہنچ گئے اور اگر وجہ تکفیر ہی علماء سوء کو دابۃ الارض بتاتی ہے تو خود مرزا قادیانی دابۃ الارض ہیں کہ جنہوں نے اپنے منکرین پر فتویٰ کفر لگایا تھا۔ اس کے بعد مرزائی جماعت ہے جو اپنے سوا کسی کو مسلمان ہی نہیں سمجھتی اور جابجا تحریف و تنسیخ اسلام سے اہل اسلام کے سینوں پر مونگ دلتی پھرتی ہے۔ بہرحال اگر دابۃ الارض کی شخصیت سے انکار ہو تو ہم جسے چاہیں اسے دابۃ الارض بناسکیں گے۔ یہ کیا ضروری ہے کہ مرزا قادیانی کی تاویل تو درست ہو اور ہماری تاویل غلط ہو جائے۔

جواب: حضور ﷺ نے جو صحیح طور پر فرمایا ہے وہ یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام آپ کے مقبرہ میں دفن ہوں گے اور ارض مقدس کی روایت اگر ہے تو اس سے مراد قادیان نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں تحریف و تنسیخ اسلام کی نجاست ہر وقت موجود رہتی ہے۔

صفحہ ٣٢٥

حضرت صدیق اکبر نے حضورﷺ کی وفات پر ”ھذا اول قمارك“ فرمایا تھا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر اگر وہاں ہوتی تو آپ کو چار چاند نظر آتے۔ حضور، شیخین اور حضرت مسیح۔

جواب: حضرت عائشہ کا قول پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھی قبر کی جگہ اپنے لئے تجویز کرتی تھیں۔ مگر بتایا گیا کہ یہ جگہ حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے ہے اور تین چاند کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ تین چاند شیخین اور حضرت مسیح علیہ السلام ہوں یا حضرت ابو بکر نے تعبیر کے وقت حضرت مسیح علیہ السلام کو نظر انداز کر دیا ہو۔ کیونکہ ”اقمارك“ (تیرے چاند) کہنے میں یہ اشارہ تھا کہ جس سے حضرت عائشہ کو قریبی رشتہ تھا۔ ورنہ واقع میں حضورﷺ سورج تھے اور باقی تین چاند تھے۔

جواب: گنبد خضراء کی بنیاد بعد میں ٦٧٨ھ کو پڑی ہے۔ ممکن ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے عہد تک نہ رہے اور یا اس کی کوئی دوسری شکل ہو جائے۔ اس لئے اس واقعہ کو مان لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

وفات کے وقت کیوں اختلاف ہوتا۔

جواب: انہی قرائن سے تو یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ آپ حجرہ میں ہی دفن ہوں گے۔ ورنہ پہلے اس امر کی تحقیق کی طرف کسی کو خیال تک بھی نہ تھا۔

حکیم احسن امروہی اور حکیم نورالدین بھیروی کے سہارے پر عیسویت کا دعویٰ کریں گے۔ ورنہ نزول ملائکہ سے عذاب آنا یقینی ہے۔

جواب: اس میں کیا شک ہے ہم بھی مانتے ہیں کہ اگر یہ دونوں بزرگ نہ ہوتے تو مرزا قادیانی مغلوب ہو چکے تھے اور نزول ملائکہ کبھی رحمت کے لئے بھی ہوا کرتا ہے۔ خود مرزا قادیانی کا ٹچی فرشتہ بار بار روپے دینے کو آیا تھا۔ (حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٦) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے خواب میں ٹچی فرشتہ دیکھا تھا کہ جس نے مرزا قادیانی کے دامن میں بہت سا روپیہ ڈال دیا تھا۔ نام پوچھا تو اس نے کہا میرا نام ٹچی ٹچی ہے۔ یعنی عین وقت ضرورت پر آنے والا۔ پھر مرزا قادیانی کو بہت روپیہ آنے لگا۔

صفحہ ٣٢٦

٥٦...... یاجوج ماجوج یہی انگریز ہیں۔ کیونکہ تار برقی لمبے کانوں کا کام دے رہی ہے۔

جواب: اس لمبے کان سے تو مرزائی بھی یاجوج ماجوج بن سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

٥٧...... مرزا قادیانی اگر اس صدی کے مجدد نہیں تو اور کون ہیں؟

جواب: مجدد کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مگر یہاں بھی اتنا کہہ دینا ضروری ہے کہ مجدد کا کام احیاء سنن ہوتا ہے اور مرزا قادیانی ناسخ شریعت اور محرف کلام اللہ اور لاعب باحادیث رسول اللہ ، مکفر امت محمدیہ، مرتکب تضلیل امت احمدیہ اور مدعی نبوت جدیدہ واقع ہوئے ہیں۔ اس لئے آپ کو مجدد کہنا غلط ہوگا۔

٥٨...... ”لا نبی بعدی“ نزول مسیح کا معارض ہے۔

جواب: اگر اس کے معارض ہے تو ثبوت مرزا کے بعد مخالف ہے اور اسلام نے اس کا مطلب یوں بیان کیا ہے کہ: ”لا نبی مبعوث بعدی“ اس لئے اس حدیث سے مرزا قادیانی کی نبوت باطل ٹھہرتی ہے۔

٥٩...... کیا اسلام ایک اسرائیلی نبی کا محتاج ہے؟

جواب: نزول مسیح بطور خدمت اسلامیہ واقع ہوگا۔ ورنہ ”انا له لحافظون“ کی وجہ سے یہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ اس لئے نہ وہ مسیح ناصری کا محتاج ہے اور نہ مسیح قادیانی کا زیر احسان ہے۔ بلکہ وجود مسیح قادیان اس کے لئے باعث بدنامی ہے۔

٦٠...... مسیح نازل ہوں گے تو بالکل بوڑھے ہوں گے۔

جواب: بوڑھے تب ہوتے کہ کرہ ارض پر رہتے اور آسمان پر رہنے والے بوڑھے نہیں ہوتے۔ کیا جبرائیل علیہ السلام حضورﷺ کے وقت بوڑھے تھے؟

٦١...... قرآن شریف عربی میں ہے۔ وہ آتے ہی اس کی تعلیم کی تبلیغ کیسے کریں گے؟

جواب: مرزا قادیانی قصیدہ اعجازیہ بناتے وقت بقول خود خدا سے تعلیم پائی تھی کیا حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے ہی علم باطنی کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ انبیاء علیہم السلام ہمیشہ علم لدنی رکھتے ہیں۔ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ: ”انا امة امية“ ہم انبیاء ان پڑھ ہوتے ہیں۔ مگر علمہ البیان کے طور پر خدا کے زیر تعلیم ہو کر حالت طفولیت میں ہی کہہ دیتے ہیں۔ ”انی عبداللہ

صفحہ ٣٢٧

اتانی الکتاب الآیۃ “اس معیار نبوت سے مرزائی نبوت بالکل کافور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی ظاہری تعلیم حاصل کرنے میں بھی ایسے کند ذہن واقع ہوئے تھے کہ وکالت کے امتحان میں فیل ہو گئے تھے۔ کیا کوئی نبی فیل بھی ہوا ہے؟

ہے تو کرہ سی شکل ہے کہ جس پر ٹھہرنا مشکل ہوتا ہے۔

جواب: مرزا قادیانی خود کرہ سی زمین پر رہتے تھے اور جن لوگوں نے آسمان کو ایتھر کہا ہے وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ستاروں میں مخلوقات آباد ہے تو ذرہ آپ کو بھی کسی ستارہ میں مقیم سمجھ لیں کیا حرج ہے؟

جواب: ہاں جبریل اور زمین و آسمان بھی قیوم ہیں۔ ابلیس بھی حی قیوم ہے۔ کیا یہ شرک نہیں ہے۔ اگر شیطان مر گیا ہے تو اس کی قبر دریافت کرو۔

عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر مانے جائیں؟

جواب: حضور ﷺ کے عہد میں جبرائیل علیہ السلام آسمان سے آتا تھا۔ کیا اس معیار سے اس کی شان بھی بڑھ گئی ہے۔ اگر یہ معیار ہے تو حضور ﷺ کی والدہ کی تعریف بھی قرآن سے استنباط کرو کیونکہ حضرت مریم والدہ عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف موجود ہے اور یہ بھی ثابت کرو کہ حضور ﷺ بچپن سے ہی مدعی نبوت تھے۔ ورنہ یہ معیار غلط تسلیم کرو۔

جواب: کیا اسلام مصدق نصرانیت نہیں ہے؟ اور کیا مرزائیت نے واقعہ صلیب کو تسلیم کر لینے میں عیسائیت کا ستون قائم نہیں کیا؟ اور کیا تحریف و تنسیخ اسلام کے ارتکاب میں غیر مسلموں کو یہ کہنے کا موقعہ نہیں دیا کہ اسلام ترمیم ہو چکا ہے۔ اگر یہ واقعات صحیح ہیں (اور ضرور صحیح ہیں) تو تائید نصرانیت کا الزام اسلام پر عائد نہیں ہوتا۔ بلکہ مرزائیت پر وارد ہوتا ہے۔

جواب: جبرائیل علیہ السلام کیا کر رہے ہیں۔ نفخ صور سے پہلے اسرافیل کیا کر رہے ہیں؟ یہ ایسا جاہلانہ سوال ہے کہ خدا اپنی مخلوق پیدا کرنے کے بعد اب فارغ ہو کر کیا کر رہا ہے۔ بھلا حضرت مسیح علیہ السلام ٨٧ سال کشمیر میں بیکار اور روپوش ہو کر کیا کر رہے تھے۔ ان باتوں کا اگر کوئی جواب ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام کی بیکاری کا بھی جواب بن سکتا ہے کہ ذکر و شغل میں مشغول رہتے ہیں۔

صفحہ ٣٢٨

٦٧....... مرزا قادیانی ذوالقرنین تھے اور ان کی زندگی میں تین قسم کے سنہ پورے سیکڑے ہو گئے تھے۔ جیسا کہ ذیل کے نقشہ سے ظاہر ہے۔ جس میں ہم عمر مرزا قادیانی کے ساتھ سنہ عیسوی کے مطابق صدیوں کا اختتام بھی دکھاتے ہیں۔

(١) ٥٦٠٠/١٨٤٠ء یہود۔ (٤) ٩٠٠/١٨٤٣ء زردشتر۔ (٨) ٢٦٠٠/١٨٤٨ء رومی۔ (٩) ٩٠٠/١٨٤٨ء بکرمی۔ (١٣) ١٩٠٠/١٨٥٢ء عیسوی انطاکیہ۔ (١٤) ٢٦٠٠، ١٨٥٣ء بنونصر۔ (١٦) ١٩٠٠، ١٨٥٥ء عیسوی جولین۔ (٢٣) ١٩٠٠/١٨٧٣ء اکثیمی۔ (٣٦) ٢٠٠٠/١٨٧٥ء صوریہ۔ (٤٠) ١٨٠٠/١٨٧٩ء تباہی یروشلم۔ (٤٣) ١٣٠٠/١٨٨٢ء ہجری۔ (٤٥) ١٦٠٠/١٨٨٢ء ڈایوکلیشن۔ (٤٦) ٣٩٠٠/١٨٨٥ء ابراہیمی۔ (٤٨) ٢٦٠٠، ١٨٨٧ء جولین۔ (٤٩) ٣٢٠٠/١٨٨٨ء مقدونی۔ (٥١) ٢٠٠٠/١٨٩٠ء صدومیہ، ٣٠٠ء فصلی الٰہی۔ (٥٣) ٤٧٠٠/١٨٩٢ء قسطنطنیہ ملکی، ١٣٠٠ء فصلی۔ (٥٤) ١٣٠٠/١٨٩٣ء بنگلہ۔ (٥٥) ١٣٠٠، ١٨٩٤ء فصلی۔ (٥٦) ١٦٠٠/١٨٩٠ء سعودی۔ (٥٩) ٤٧٠٠، ١٨٩٨ء سکندری۔ (٦١) ١٩٠٠، ١٩٦٠، ٨٥٣٠٠ء آرامیہ۔

اس نقشہ میں خطوط وحدانیہ کے درمیان مرزا قادیانی کی عمر کا سال لکھا گیا ہے اور اس کے بائیں طرف سنہ عیسوی کے اوپر وہ سنہ لکھا گیا ہے جو اپنی صدی کو پہنچ چکا ہے۔

جواب: مرزا قادیانی کے ہم عمر جس قدر بھی انسان گذرے ہیں سب ذوالقرنین کہے جاسکتے ہیں اور یہ اقتران ہر سو سال کے بعد شروع سے ہی چلا آیا ہے اور آئندہ بھی چلا جائے گا اور ہر سو سال کے بعد ذوالقرنین کا وجود ماننا پڑتا ہے۔ ماضی اور مستقبل میں بیشمار آدمی ذوالقرنین ماننے پڑتے ہیں۔ مگر جن سالوں میں ایسا اقتران نہیں ہوا ان میں مرزا قادیانی کو ذوالقرنین نہیں بتایا گیا۔ مثلاً ١٩٠٠ء کے بعد آٹھ سال تک مرزا قادیانی ذوالقرنین نہیں رہے۔ نیز اس نقشہ سے یہ دعویٰ بھی باطل ہو جاتا ہے کہ آپ نے جب دعویٰ کیا تھا تو اس وقت اس کی عمر چالیس سال تھی۔ کیونکہ اس وقت آپ کی عمر ٤٣ سال دکھائی گئی ہے اور ان تمام صدیوں کا اختتام مرزا قادیانی کی عمر میں معتبر ہو تو آپ ذوالقرون ہیں ذوالقرنین نہیں ہیں۔

٢٠....... پاکٹ بک مرزائیہ

٦٨....... ”توفی“ بمعنی غیر موت بشرائط پیش کردہ مرزا قادیانی نے ہزار روپیہ پیش کیا ہے۔ آج تک کسی نے نہیں لیا۔

جواب: صرف زبانی باتیں ہیں۔ لوگ مانگتے ہیں ویسے ہی ٹال دیتے ہیں۔

صفحہ ٣٢٩

٦٩....... یہ کیا وجہ ہے کہ: ”فلما توفيتني “ جب حضورﷺ فرمائیں گے تو اس جگہ موت مراد ہوگی؟

جواب: کیونکہ اس وقت حضرت مسیح علیہ السلام مر چکے ہوں گے۔ ورنہ اگر غور سے دیکھا جائے تو توفيتني کا معنی مفارقت وہاں مراد ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف سے منقول ہے کہ جب تو نے مجھے بنی اسرائیل سے الگ کر دیا۔ ( اور بقول مرزا ٨٧ سال کے لئے کشمیر میں روپوش کر دیا تھا ) اسی طرح حضورﷺ سے بھی کہا جائے گا کہ : ” لا تعلم ما احدثوا بعدك منذ فارقتهم“ کہ آپ کی مفارقت کے بعد آپ کو کیا معلوم کہ یہ لوگ کیا کرتے رہے ہیں تو اس وقت آپ یہ آیت بطور اقتباس پڑھیں گے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھی توفی سے مراد مفارقت ہی لیں گے۔ جو دونوں حضرات میں مشترک مفہوم پیدا ہو چکا ہے۔

٧٠....... ”فلما توفيتني“ سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں موجودگی کے بعد متصل ہی توفی ہوئی ہے۔ کیونکہ اس میں ف موجود ہے اور آپ توفی کے بعد لاعلمی ظاہر کرتے ہیں۔ اگر نزول مسیح مانا جائے تو نہ تو لاعلمی کا اظہار درست ہو سکتا ہے اور نہ موجودگی کے بعد متصل توفی آ سکتی ہے۔ بلکہ کئی سو سال بعد توفی ہو جاتی ہے۔ نیز وجود مثیلت بھی توفی کے پہلے ہو جاتا ہے۔ حالانکہ آیت میں مذکور ہے کہ توفی کے بعد مثیلت تھی۔

جواب: اگر ٨٧ سال کشمیر میں آپ کو روپوش زندہ تصور کیا جائے تو وجود مثیلت آپ کی زندگی میں ہی ماننا پڑتا ہے اور چونکہ حضرت مسیح دو دفعہ دنیا میں تبلیغ کے لئے آ چکے ہوں گے تو قیامت کے دن تبلیغ اوّل کے متعلق جو سوالات ہوں گے ان کا تعلق تبلیغ ثانی سے ہرگز نہ ہوگا۔ قادیانیوں نے خواہ مخواہ دونوں کو ایک جگہ زیر بحث لانے کی کوشش کی ہے۔ جو سراسر خوش فہمی ہے۔

٧١....... ٢١ جگہ قرآن شریف میں متعدد جگہ احادیث۔ لغت اور محاورات میں توفی موت کے معنی میں ہے تو اس آیت میں یہ معنی کیوں نہیں لیا جاتا۔

جواب: اس مسئلہ میں ہم کو احادیث نبویہ نے مجبور کیا ہے کہ توفی کا معنی موت نہ لیا جائے ۔ قرآنی آیات کا اقتضاء بھی یہی ہے۔ لغات میں بھی ہزاروں حوالے موجود ہیں ۔ جن میں توفی بمعنی موت نہیں ہے۔ خود مرزا قادیانی کا الہام براہین میں موجود ہے کہ جس میں توفی کا معنی موت نہیں ہو سکتا۔

٧٢....... بخاری میں توفی بمعنی موت ہے۔ عموماً مفسرین بھی یہی معنی لیتے ہیں۔

جواب: غلط ہے۔

صفحہ ٣٣٠

٧٣....... ”وصلنالھم القول (قصص)“ میں بتایا گیا ہے کہ قرآن شریف بالترتیب نازل ہوا ہے۔ اس لئے تقدیم وتاخیر کا قول خلاف قرآن ہے۔

جواب: اولاً یہ حملہ حضرت ابن عباسؓ پر ہے۔ ثانیاً جہالت مسائل پر دال ہے اور ”وصلنا“ کا یہ مطلب ہے کہ صحف آسمانی یکے بعد دیگرے آتے رہے ہیں اور یہ مطلب نہیں ہے کہ آیات میں لفظوں کی تقدیم و تاخیر بھی مراد نہیں ہے۔ ورنہ آپ ہی بتائیں کہ تمہارے ہاں ”قد خلت من قبلہ الرسل“ میں ”من قبلہ“ کو صفت مقدم کیوں بنایا جاتا ہے؟

٧٤....... خلا کے بعد من آئے تو موت کا معنی آتا ہے اور ”قد خلت من قبلہ الرسل“ میں ”من قبلہ“ صفت مقدم ہے۔

جواب: خلا منہ کا معنی ہے کہ اس نے دھوکہ دیا، موت کا معنی نہیں ہے۔

٧٥....... ”الیٰ صراط العزیز الحمید اللہ الذی (ابراھیم) اتدعون ٠ احسن الخالقین اللہ ربکم ورب آباءکم الاولین (صفت) واخر عھد لنا موبق ٠ غدیر وجذع لھا مقبل (حماسہ باب الھجاء)“ یہ تین جگہ ہیں کہ جن میں صفت اپنے موصوف سے پہلے مذکور ہے۔

جواب: پہلے مذکور ہونے کا یہاں یہ مطلب ہے کہ ایک چیز کے حالات پہلے بیان کئے گئے ہیں اور بعد میں اس کا نام لیا گیا ہے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں ہے کہ اصول نحویہ کی رو سے بھی صفت اپنے موصوف سے پہلے آگئی ہے۔ مرزائیوں کو جن جگہ ٹھوکر لگی ہے۔ اس میں اللہ کے لفظ سے دوسری آیت شروع ہوتی ہے اور ھو مقدر مان کر نیا جملہ اسمیہ تسلیم کیا گیا ہے اور شعر میں بھی یہی انقطاع صفت مراد ہے۔ مرزا قادیانی توفی کی سند اپنی شرائط کے ماتحت مانگتے تھے۔ اس لئے ہمارا بھی حق ہے کہ ہم اپنی شرائط کے ماتحت مرزائیوں سے سند طلب کریں کہ من قبلہ کا لفظ دکھاؤ جو کسی جگہ صفت مقدم بنا ہوا ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ خلت اور الرسل کا لفظ بھی موجود ہو اور صفت موصوف فاعلی حالت میں ہوں۔ ان تین شرائط کے ماتحت کوئی مرزائی صفت کو مقدم نہیں رکھ سکتا۔

٧٦....... سورہ نحل میں ہے کہ معبودان باطلہ مخلوق ہیں اور مر چکے ہیں۔

جواب: آیت کا مفہوم غلط بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جن لوگوں کی پرستش ہوئی ہے یا ہوگی وہ سب فانی ہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی بھی پرستش ہوتی ہے تو وہ بھی فانی ہیں۔ ورنہ اس زمانہ میں جس انسان کی پرستش ہورہی ہے یا آئندہ نسلیں پرستش کریں گی اس آیت سے خارج رہ جاتی ہیں۔

صفحہ ٣٣١

ہے ۔ پھر مسیح علیہ السلام آسمان پر کیوں زندہ ہیں؟

جواب: کیا ہوا میں بلند پروازی ، سمندر میں جہاز رانی اور غباروں میں زندگی بسر کرنا مرزائیوں کی اس آیت کے خلاف نہیں؟ اور مسیح کی زندگی خلاف ہے۔ بہت خوب! یہ تو وہی بات ہوئی کہ کسی نے کہا تھا کہ قبر میں مردے زندہ ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ ”فیہا تحیون“ موجود ہے کہ تم زمین کے اندر زندہ ہو جاؤ گے یا زندہ ہوتے ہو اور زندگی گزارتے ہو۔

(مشکوۃ قرب ساعة)“

جواب: حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور حدیث کا تعلق زمین سے ہے۔ علاوہ بریں عمر ، خضر اور دیگر معمرین صحابہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ جیسا کہ کتب احادیث میں مذکور ہے۔

جواب: آج کل کا ارتقاء مریخ پر زندگی بسر کرنے کو تسلیم کرتا ہے۔ اس لئے یہ نظریہ غلط ہے۔

جواب: جسم برزخی موت کے بعد ہوتا ہے تو کیا حضور ﷺ وفات پا چکے تھے؟

جواب: معراج کے بعد پھر سو گئے تھے تو پھر جاگ اٹھے تھے اور تعجب کرتے تھے کہ باوجود اتنی سیر کے پھر مسجد میں ہی تھے۔

جواب: ہاں اقامۃ کشمیر کا بھی ذکر نہیں کیا۔

پڑھتے رہیں گے۔

جواب: کیا اور کوئی کام نہ کریں گے؟ اگر یہ نکتہ آفرینی درست ہے تو ذرہ اوصانی پر بھی ہاتھ صاف کر دیجئے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو مرتے وقت یہ وصیت کی تھی تو گویا خدا کے مرنے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام نے تبلیغ کی تھی۔ اب اگر وصیت کا معنی معروف نہیں ہے تو صلوٰۃ کا مفہوم بھی صرف یاد الٰہی ہوگا۔

صفحہ ٣٣٢

دونوں اکٹھے معلوم ہوتے ہیں تو پھر حضرت مریم علیہا السلام کو زندہ کیوں نہیں مانا جاتا؟

جواب: یہ آیت عیسائیوں کے مقابلہ میں ہے کہ خدا غذا کا محتاج نہیں اور یہ ماں بیٹا غذا کے محتاج تھے اور یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر وقت غذا ہی کھاتے رہتے تھے۔ یہ آپ لوگوں کی خوش فہمی ہے۔

کے بعد ہوا تھا۔

جواب: حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے تھے تو اس وقت شاہی حکم ہوا تھا کہ بچے مار ڈالے جائیں۔ اس لئے حضرت مریم علیہا السلام آپ کو لے کر مصر چلی آئیں تھیں۔ ایک اور مقام پر آپ کو پناہ ملی تھی۔ (دیکھو انجیل برنباس) اسلام میں واقعہ صلیب تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس لئے ”ایواء بعد الصليب“ کا وجود نہیں ہے۔

ہوئی ہوگی۔ وہ غفلت کا عذر پیش کریں گے۔

جواب: کیا اگر کوئی مرزائی دیدہ دانستہ اپنی پرستش کروائے تو وہ بھی غفلت کا عذر پیش کر سکے گا۔ سچ ہے کہ بقول شخصے مرزائیوں پر قرآن کا اصلی مقصد نہیں کھلا۔ ورنہ اس آیت میں ان خدا رسیدہ لوگوں کا ذکر ہے کہ جو انسان پرستی سے روکتے تھے۔ مگر لوگ ان کی پرستش سے غائبانہ طور پر باز نہیں رہتے تھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات پڑھنے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اس واسطے وہ اپنی لاعلمی ظاہر کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔

السلام اب فرشتوں کو نفع دے رہے ہیں؟

جواب: پہلے آپ نے کہا ہے کہ وہ ہر وقت نماز ہی پڑھتے تھے۔ اب کہتے ہیں کہ آپ ہر وقت نفع دیتے تھے۔ یہ عجیب منطق ہے۔ واقعہ صلیب کے پہلے جس طریق پر بر والدین، نفع، صلوٰة، زکوٰة وغیرہ جس طریق پر اور جن شرائط پر موقوف تھے۔ اب بھی ویسے ہی ہیں۔

جواب: انبیاء میں ”أرذل العمر“ کا تحقیق نہیں ہے۔ ورنہ کسی ایک کی زندگی باوجود معمر ہونے کے بغیر عقل و شعور کے پیش کرو۔

صفحہ ٣٣٣

معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر ہی استقرار بنی آدم ہوتا ہے، آسمان پر نہیں ہوتا۔

جواب: مرزائی اگر اسی آیت میں فی پر غور کرتے تو زندہ ہی زمین کے پیٹ میں رہتے اور کسی وقت بھی اپنا اتصال زمین سے نہ چھوڑتے۔ اب بھی موقعہ ہے کہ مرزائی زندہ ہی زمین میں گھس کر رہا کریں۔

بعد قرآن سے نکال دی جائیں گی تاکہ آئندہ کوئی دوسرا مدعی پیدا نہ ہوسکے۔

جواب: ”یأتی من بعدی اسمه“ کی پیشین گوئی بقول مرزائیہ مرزا قادیانی کے آنے سے پوری ہوچکی ہے تو کیا اب انہوں نے یہ آیت قرآن سے نکال دی ہے؟ اس کے علاوہ مرزائی تعلیم میں قرآن شریف کا اکثر حصہ مرزا قادیانی سے تعلق رکھتا ہے۔ جیسا کہ باب ”تحریفات مرزائیہ“ میں گزر چکا ہے۔ اب دیکھئے کہ ان کو قرآن سے نکال دیتے ہیں یا منسوخ سمجھتے ہیں۔

اس کی سند نہیں ہے۔ نخبۃ الفکر میں لکھا ہے کہ مشہور حدیث کے لئے سند کی ضرورت نہیں۔

جواب: یہ حدیث نبوی نہیں بلکہ ابن قیم کا قول ہے جو خود نزول مسیح کے قائل تھے۔

اولوالعزم پیغمبر نصف عمر پا کر فوت ہو چکے تھے۔ جیسے آدم علیہ السلام کی عمر ١٩٢٠ تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ٩٦٠، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ٤٨٠، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر ٢٤٠، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عمر ١٢٠ اور آنحضرت ﷺ کی عمر ٦٠ سال تھی۔

جواب: یہ قاعدہ مرزائیوں کو سخت مضر پڑتا ہے۔ پہلے اس وجہ سے کہ حضرت آدم دو ہزار سال تک زندہ رہے۔ مگر ارذل العمر تک نہ پہنچے۔ دوم یہ کہ یہ تناسب عمر تاریخ سے ثابت نہیں ہے۔ سوم یہ کہ مرزا قادیانی کو بروز اکمل اور افضل المرسلین ومطاع الانبیاء کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اس لئے ان کی عمر اس تناسب سے ٣٠ سال ہونی چاہئے تھی۔ اب یا یہ نظریہ غلط ہے اور یا مرزا قادیانی اولوالعزم نبی نہ تھے اور نہ ہی وہ حقدار تھے کہ ان کو احمد جری اللہ کا لقب دیا جائے۔ زیادہ تشریح کے لئے دیکھو اتہام چہارم

صفحہ ٣٣٤

٩٣...... شب معراج میں مذکور ہے کہ تمام انبیاء کی ملاقات روحانی ہوئی تھی۔ جواب: اسی حدیث کی شرح میں محدثین نے حضرت مسیح علیہ السلام کی جسمانی ملاقات بھی لکھی ہے۔ اگر وہ حدیث مقبول ہے تو یہ تشریح بھی نظر انداز نہ ہوگی۔

٩٤...... خطبہ صدیقیہ اور اختلاف حلیہ بھی وفات مسیح کی دلیل ہیں۔ جواب: ان میں کوئی اشارہ نہیں ہے۔

٩٥...... حضور ﷺ نے قصر رسالت میں اپنے آپ کو آخری اینٹ کہا ہے۔ جواب: بعثت کے رو سے حضرت مسیح علیہ السلام قصر رسالت میں درمیانی اینٹ ہیں۔

٩٦...... اگر نزول مسیح تسلیم ہو تو لازم آتا ہے کہ آپ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث نہ رہیں اور حلت غنیمت، روئے زمین کا سجدہ گاہ ہونا اور بعثت عامہ وغیرہ خصوصیات نبویہ غلط ٹھہرتی ہیں۔ جواب: آپ کا نزول تبلیغ رسالت کے لئے نہیں ہوگا۔ بلکہ تبلیغ اسلام کے لئے ہوگا۔ اس لئے یہ خصوصیات نبویہ پر دستبرد نہیں ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کا وجود بھی ناممکن ٹھہرتا ہے۔

٩٧...... تابعداران مسیح علیہ السلام زیادہ ہوں گے؟ جواب: نہیں۔ نزول کے بعد مسلمان حضور ﷺ ہی کے تابعدار کہلائیں گے۔ کیونکہ خود حضرت مسیح علیہ السلام بھی حضور ﷺ کے ہی تابعدار ہوں گے۔

٩٨...... حضرت عمر نے کہا تھا کہ: ”رفع محمد کما رفع عیسیٰ“ حضرت حسن نے کہا تھا کہ: ”عرج فیھا بروح عیسیٰ بن مریم“ جواب: اس کا جواب اتہامات میں گزر چکا ہے۔

٩٩...... (کنزالعمال ج٢ ص٣٤) میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو مکان تبدیل کرنے کا حکم ہوا تھا۔ تاکہ کشمیر میں محفوظ رہیں۔ جواب: انجیل برنباس میں صاف لکھا ہے کہ واقعہ صلیب کے پہلے آپ اپنے گھر سے نکل کر ایک حواری کے گھر چلے گئے تھے۔

١٠٠...... (کنزالعمال ج٤ ص٥١) میں مذکور ہے کہ خدا کو وہ غرباء بہت عزیز ہیں جو دین کی خاطر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جاملتے ہیں۔ جواب: مطلب غلط طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ورنہ صاف مطلب یوں ہے کہ نزول مسیح کے وقت مسلمان نہایت ابتر حالت میں ہوں گے اور آپ کی معیت میں دجال سے بھاگ کر مذہبی لڑائی سے اپنی حفاظت کریں گے۔

صفحہ ٣٣٥

حیات مسیح کا قول فتنہ ہے۔

جواب: پھر تو وفات مسیح کا قول بھی فتنہ ہوا۔ کیونکہ اس حدیث میں ممات کا لفظ موجود ہے۔

آخر الزمان بتعلقه ببدن آخر“

جواب: شیخ اکبر حیات مسیح علیہ السلام کے قائل ہیں اور یہ قول صوفیاء کے نزدیک غلط ہے۔ جیسا کہ اقتباس الانوار کی عبارت سے ظاہر ہے اور نیز بقول مجدد صاحب اس موقعہ پر صوفیاء کا قول معتبر نہیں ہے۔ دیکھو باب مرزا قادیانی کے متعلق اسلامی مکتبہ خیال۔

انکار ثابت ہوتا ہے۔

جواب: غلط ہے۔ دیکھو باب اتہامات۔

نے رفعت دی تھی۔

جواب: اگر رفع الجسم مع الروح کہہ دیتے تو کیا ہی خوب تھا کہ احمدی اور محمدی مل بیٹھتے۔

جواب: یہ شرط کسی اہل لغت سے منقول نہیں ہے۔ بلکہ رفعناہ مکانا علیا میں رفعت مکانی مراد ہے۔

خدا تعالیٰ نہ مکانی ہے نہ زمانی۔

جواب: ایسے موقعہ پر حذف مضاف ہوتا ہے۔ جیسے ”انی مهاجر الی ربی ای الى بيت الله، اليه يصعد اى محل كرامته“ اسی طرح ”رفعه اليه اى الى سمائه ما فسره اهل الاسلام“

جواب: سولی پر چڑھانا بھی لغت میں ہی لکھا ہے۔ صلبہ بردار کشید منتہی الارب۔

صفحہ ٣٣٦

مسیح علیہ السلام کو مصلوب و مقتول اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اور مصلوب دیر تک زندہ بھی رہتا ہے۔ پس اگر مصلوب حضرت مسیح علیہ السلام کا شبیہ ہوتا تو صاف انکار کر دیتا۔

جواب: تفسیر کبیر میں اس قسم کے بہت اعتراض کر کے ساتھ ساتھ جواب بھی دیئے ہیں۔ مرزائیوں کی یہ چالاکی ہے کہ اعتراض تو تفسیر کبیر سے نقل کر دیتے ہیں۔ مگر جواب لکھنے کی جرأت نہیں کرتے اور تعجب ہے کہ یہ حوالہ اگر ہمیں مضر ہے تو ان کو بھی مفید نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں تصریح کی گئی ہے کہ: ”صلب کا معنی سولی پر چڑھانا بھی ہے نہ کہ سولی پر مارنا ہی مراد ہوتا ہے۔“ انجیل برنباس میں شبیہ مسیح کا حال بالتفصیل لکھا ہوا ہے کہ وہ (یہودا) چلا کر کہتا تھا کہ میں مسیح نہیں ہوں۔ مگر یہودی اپنی کامیابی اسی میں دیکھتے تھے کہ اسے مار ہی ڈالیں۔

حرمتی کرانا اسے پسند تھا۔

جواب: یہ جاہلانہ سوال ہے۔ ”یفعل الله ما یشاء“ پر معترض ہونا حماقت ہے۔ معترض کو یہ خیال نہیں آیا کہ مرزا قادیانی کو شبیہ مسیح بنا کر بقول شخصے کسی طرح دجال، مفسد، کذاب، مفتری مشہور کرایا تھا۔ کیا محبت کا یہی تقاضا تھا؟

جواب: نہ ملے کیونکہ ”اوقع الشبهة لهم“ کا معنی میں ہے۔

جواب: پھر بھی قدر مشترک اتنا تو ثابت ہو گیا ہے کہ القاء شبہ ہو گیا ہے۔ زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔ مرزا قادیانی کے متعلق بھی اتنا تو ثابت ہے کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ باقی رہا یہ کہ آپ کیسے نبی تھے؟ یہ اصل مقصد کے لئے مضر نہیں ہے۔

مرنے سے پہلے اس پر یقین رکھتا ہے کہ ”انا قتلنا المسیح“ ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا تھا۔

جواب: اس آیت میں یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ جو اہل کتاب ہیں۔ عہد مسیح میں آپ کی موت سے پہلے آپ پر ایمان لے آئیں گے اور یہ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ اپنی موت سے پہلے وہ ایمان لے آتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور نازل ہو کر حکومت کریں گے۔ اب ان دو احتمالوں کے ہوتے ہوئے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وہ قتل مسیح پر ہی ایمان لاتے ہیں اور کسی چیز پر ایمان نہیں لاتے۔ ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ دیکھو باب دلائل حیات المسیح۔

صفحہ ٣٣٧

جواب: موت کے وقت ان کو پورا انکشاف ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح دوبارہ نزول فرمائیں گے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ زبان سے بھی کہیں جیسا کہ بقول مرزا یہ موت کے وقت یہ کبھی نہیں سنا گیا کہ وہ کہتے ہوں کہ ہم نے مسیح کو مار ڈالا تھا۔

لائیں گے۔ جواب: مگر ان کو انکشاف اور مشاہدہ ضرور ہو جائے گا۔

ہے کہ یہودی قیامت تک بغض رکھیں گے تو پھر مسلمان کیسے ہوں گے؟ جواب: کچھ مارے جائیں گے کچھ اسلام قبول کریں گے اور باہمی بغض اسلام کے خلاف نہیں ہے۔ لاہوری اور قادیانی مرزائی آپس میں بغض رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور ایک دوسرے کی ابتری میں کوشش کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ قادیانی نبی کی امت ہیں۔ انسانی پیدائش کے اول میں ہے۔ ”بعضکم لبعض عدو“ کا انعام ملا ہوا ہے۔ اس سے اسلام کی نفی نہیں ہو سکتی۔

لئے یہ جملہ بھی شرارت سے ہی تعلق رکھتا ہے۔ جواب: جملہ معترضہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ ان کی شرارتوں کا بدلہ ان کو دنیا میں بھی مل جائے گا اور ان کی کذب بیانی ظاہر ہو جائے گی اور یہ طرز بیان قرآن شریف میں کئی جگہ درج ہے۔ مثال کے لئے دیکھو: ”حافظوا على الصلوت والصلوة الوسطی“ اس کے ”ماقبل وما بعد“ میں معاملات کا ذکر ہے۔ مگر یہاں عبادات کا ذکر درمیان میں آ گیا ہے۔ دیکھو سورہ بقرہ: ٢٣٨

آپ یہودیوں کے خلاف شاہد ہوں گے۔ لہٰذا نزول مسیح باطل ہوا؟ جواب: یہی معنی اگر لیا جائے تو واقعہ صلیب سے پہلے کی شہادت بھی منفی ہو جاتی ہے۔

صفحہ ٣٣٨

جواب: حدیث کی رو سے جنہوں نے اختیاری طریق پر نہیں مانا وہ قتل ہوں گے یا نزول سے پہلے مر چکے ہوں گے۔ ان کے خلاف شہادت ہوگی۔

١١٩....... آیت میں مذکور ہے کہ تمام اہل کتاب ایمان لائیں گے اور مسیح کی تصدیق کریں گے یا کرتے ہیں۔ حالانکہ مقتول یا بے خبر یہودی اس کلیہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔

جواب: بقول مرزائیہ تمام یہودیوں کا ایمان بالفعل تسلیم کیا گیا ہے۔ مگر واقعہ صلیب سے پہلے یہودی ضرور اس کلیہ سے مستثنیٰ ہیں اور یہ آیت تمام یہودیوں کے شامل نہ رہی۔ اس لئے خاص افراد مراد ہوں گے۔ تمام دنیا کے یہودی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے پیدا ہو کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تھے مراد نہیں ہو سکتے۔

١٢٠....... ”انہ لعلم للساعة“ میں مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا قیامت کی علامت ہے۔

جواب: یہ معنی نہ نیچری مانتے ہیں اور نہ لاہوری۔ کیونکہ ان کے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام کا باپ تھا۔ ہمارے نزدیک تو سرے سے یہ معنی غلط ہے۔ کیونکہ احادیث نبویہ اس کی تائید نہیں کرتیں۔

١٢١....... یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف قیامت کو جاننے والا ہے۔ یعنی اس کے پڑھنے سے قیامت کا یقین ہو جاتا ہے۔

جواب: علم کا معنی بتانے والا نہیں آتا۔

١٢٢....... یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہودیوں کی بہ نسبت حضرت مسیح علیہ السلام کو قیامت کا زیادہ یقین تھا۔

جواب: یہ بلا ثبوت بات ہے اور یہاں ”اعلم للساعة“ مذکور نہیں ہوا۔ مناسب تھا کہ ”اعلم بالساعة“ ہوتا۔ کیونکہ اعلم کے بعد قرآن شریف میں ب زیادہ ہوتی ہے۔

١٢٣....... یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح یہودیوں کی تباہی کے وقت کو خوب جانتے تھے۔

جواب: یہاں تباہی کا ذکر سیاق و سباق میں نہیں ہے اور نہ ان کی تباہی کا علم اس قابل تھا کہ اس پر اتنا زور دیا جاتا اور علم للساعة کی تاویل کرنا قرآنی محاورہ نہیں ہے۔ بلکہ علم بالساعة چاہئے تھا جو یہاں نہیں بن سکتا۔

صفحہ ٣٣٩

علامة للساعة وهلاك المخالفين“ مثیل مسیح کے وقت مخالفین برباد ہو جائیں گے۔ اس جگہ مثیل مراد ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں ہے کہ: ”ولقد اتينا موسى الكتب فلا تكن فى مرية من لقائه“ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دی ہے۔ آپ کو بھی اس کی مثل کتاب دی جائے گی۔

جواب: الکتاب میں ال کا لفظ مذکور ہے کہ جس سے مراد مطلق آسمانی کتاب ہے۔ خواہ قرآن ہو یا تورات اور معنی یوں ہے کہ آپ کو آسمانی کتاب دی جائے گی۔ یہاں مثل کا لفظ محذوف نہیں ہے۔ انہ میں خصوصیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مذکور ہیں اور الکتاب میں عام اور کلی مفہوم مراد ہے۔ اس لئے جزئی مفہوم کو کلی مفہوم پر قیاس کرنا جہالت ہے۔ ”اورثناها بنى اسرائیل“ میں بھی مفہوم کلی ہے۔ ”خذا الدرهم ونصفه“ میں بھی مطلق درہم مراد ہے۔ کوئی خاص شخصیت مراد نہیں ہے۔

فائدہ ہوا؟

جواب: تاریخ قرآن پر عبور کرنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ یہودیوں سے باتیں سیکھ کر قرآن پر معترض ہوئے تھے۔ اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر درمیان میں آ گیا تھا۔

لی گئی ہیں۔

جواب: مگر حضرت مسیح علیہ السلام کو مرجع بنانے سے انکار نہیں کیا گیا۔ اس لئے ہمیں جائز ہوگا کہ اس آیت سے حیات مسیح علیہ السلام پر دلیل قائم کریں۔

کیسے ہوں گے؟

جواب: ”لیؤمنن“ کی جگہ ”لیؤمنن“ تائیدی طور پر مرزائی تسلیم کرتے ہیں اور یہاں دوسری قرأت علم کے لفظ سے منظور نہیں کرتے۔ یہ کمال بے انصافی ہے۔ اب علم للساعۃ سے مراد یہ ہے کہ آپ کا وجود نزول کے وقت قیام قیامت کی ایک پختہ دلیل ہوگی اور مجبوراً منکرین قیامت کو یقین کرنا پڑے گا۔

صفحہ ٣٤٠

موت تک نہیں پہنچا سکے۔

جواب: یہ خیالی معنی ہے۔ کوئی اسلامی تحریر اس کی تائید نہیں کرتی۔ بلکہ اسلام میں یہ مذکور ہے کہ گو یہودیوں نے ایذا رسانی کی۔ مگر واقعہ صلیب میں یہودی ایذا رسانی سے بالکل روک دیئے گئے تھے۔ ”ماقتلوہ وماصلبوہ“ کا مفہوم بھی یہی ہے۔ یوں سمجھو کہ یہودی کہتے تھے کہ مسیح ہمارے قبضے میں آگئے تھے۔ اس کا جواب دیا گیا کہ غلط ہے وہ قبضہ میں نہیں آئے تھے۔ یہودا قبضہ میں آیا تھا جس کو مسیح سمجھ کر مار ڈالا تھا۔

میں لفظ ”من السماء“ مذکور نہیں ہے اور یہی روایت بیہقی میں مذکور ہے۔ البتہ وہاں بحوالہ بخاری ومسلم من السماء کا لفظ لکھا ہے اور جب در منثور میں علامہ سیوطی نے یہی روایت نقل کی ہے تو پھر اس میں من السماء کا لفظ موجود نہیں ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ بیہقی نے بھی روایت نہیں کیا۔ بلکہ جب ١٣١٣ھ میں یہ کتاب چھپی ہے تو اس میں یہ لفظ بڑھا دیا گیا ہے۔

جواب: (کنز العمال ج ٧ ص ٢٦٨) میں یوں مروی ہے کہ: ”عن ابن عباس مرفوعاً ینزل عیسیٰ ابن مریم من السماء علیٰ جبل افیق اماماً ہادیاً وحكماً عادلاً علیہ برنس لہ مربوع الخلق اصلت سبط الشعر بیدہ حربة“ اور یہ روایت یقیناً اور ہے کہ جس میں من السماء کا لفظ صریحاً موجود ہے۔ امام بخاری کی تمام روایتیں صحیح بخاری میں منحصر نہیں ہیں۔ کیونکہ آپ کی اور کتابیں بھی ہیں کہ جن میں آپ نے صحیح احادیث بیان کی ہیں۔ بالفرض اگر بیہقی نے یہ لفظ تشریحی طور پر بڑھا دیا ہو تو پھر بھی قابل وثوق ہے۔ کیونکہ بقول مؤلف عسل مصفے مرزائیوں کے نزدیک امام بیہقی مجدد وقت تھے۔

اترے گا؟

جواب: جس شخص کے بارے میں توفی اور رفع الی السماء کا یقیناً آچکا ہے۔ اس کے بارے میں نزول کا لفظ من السماء ہی مراد ہے اور یہ نزول من السماء اسلام میں ایسا مشہور ہے جیسا کہ مرزائیوں کے نزدیک ”لوكان موسیٰ وعیسیٰ حیین“ کی حدیث مشہور ہے۔

میں بھی اختلاف ہے۔

صفحہ ٣٤١

جواب : کچھ ہو مگر قادیان کو موضع نزول نہیں بتایا گیا اور نہ ہی نزول سے مراد تولد لیا گیا ہے۔ بالفرض اگر ینزل عیسیٰ کا ترجمہ یتولد فیکم کیا جائے تو دو وجہ سے غلط ہوگا۔ اوّل یہ کہ تولد انسانی کے لئے نزول من السماء استعمال نہیں ہوا۔ دوم یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام صبح کے وقت دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کاندھوں پر رکھ کر اتریں گے اور امام مہدی کے پیچھے نماز ادا کریں گے اور ان کے ہاتھ میں نیزہ ہوگا۔ سر پر ٹوپی ہوگی۔ پیشانی کے بال جھڑ گئے ہوں گے۔ کیا مرزا قادیانی صبح کے وقت پیدا ہوتے ہی نماز صبح میں شریک ہوئے تھے۔ کیا آپ کے سر پر لمبی چوڑی کوئی ٹوپی بھی تھی؟ کیا آپ کے ہاتھ میں نیزہ بھی تھا؟ کیا آپ کی پیدائش مجمع کثیر میں لڑائی کے موقعہ پر ہوئی تھی؟

مسیح توام (جوڑا) پیدا ہوگا۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے بعد لڑکی پیدا ہو کر مرگئی تھی۔“ تو کیا نزول مسیح کے وقت کسی عورت کا نزول بھی لکھا ہے؟

جواب : کیوں شیخ اکبر کو یونہی بدنام کیا ہے۔ جب کہ بار بار فتوحات میں نزول مسیح بجسم عنصری لکھ چکے ہیں۔ بقول شخصے مرزا قادیانی کی ہمشیرہ دوسرے حمل سے پیدا ہوئی تھی۔ مطلب کے لئے دو حملوں سے پیدا ہونے والوں کو بھی توام (جوڑا) لکھ دیا ہے۔ غالباً شیخ اکبر نے امام مہدی کی تولد میں توام لکھا ہوگا۔ مگر مرزائیوں نے مسیح کا تولد بنالیا ہے۔ یہ خوب دجالیت ہے۔ بہرحال مرزائی یہ بتائیں کہ کیا مرزا قادیانی پیدا ہوتے ہی مہدی، مجدد، عیسیٰ اور افضل المرسلین بن گئے تھے؟ یا تادم مرگ یہ امر مشتبہ رہا ہے کہ آپ کیا سے کیا بننا چاہتے تھے۔ اگر ینزل کا ترجمہ ”یدعی المسیحیۃ والمھدویۃ“ کیا جائے تو کوئی عربی محاورہ پیش کرنا ہوگا۔

ہو تو لازم آتا ہے کہ امام مہدی بھی آسمان سے نازل ہوں گے۔

جواب : یہ جملہ حالیہ ہے۔ ”وامامکم“ اور ”فامکم“ جملہ نزول پر عطف ہے۔ جس کا مطلب محدثین کے نزدیک یہ ہے کہ نزول مسیح کے وقت امام المسلمین حضرت مہدی علیہ السلام پہلے موجود ہوں گے اور ان کے بعد حضرت مسیح امام المسلمین بن جائیں گے۔ ”امامکم“ مبتداء ہے۔ ”منکم“ خبر ہے۔ اگر ”وھو امامکم“ بنایا جائے تو ”منکم“ کی ضرورت نہیں رہتی۔ کیونکہ ”امامکم“ کی اضافت معنی ہی منکم کا کام دیتی ہے۔ اس لئے جو کچھ مرزائیوں نے سمجھا ہے غلط ہے۔

صفحہ ٣٤٢

سے مراد مثیل عیسیٰ مراد ہوگا۔

جواب: حقیقت و مجاز اپنے اپنے موقعہ پر صحیح ہیں۔ مگر جس جگہ تواتر اور اجماع اسلام سے حقیقت مراد ہو تو صرف خیالی گھوڑے دوڑا کر بغیر قرائن کے مجاز مراد لینا صحیح نہ ہوگا۔ ورنہ یوں کہنا صحیح ہوگا کہ غلام احمد قادیانی سے مراد کوئی ایسا شخص ہے جو خلاف اسلام مدعی نبوت بنا ہو ورنہ مرزا قادیانی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا یا نور دین کا وجود قادیان میں نہیں پایا گیا۔ بلکہ اس سے مراد خود (بقول مرزائیہ) مرزا قادیانی ہی تھے۔ اسی طرح احسن امروہی کا وجود بھی قادیان میں نہیں پایا گیا۔ اس سے مراد خوبصورت یا پسندیدہ اخلاق مرزا قادیانی ہی ہیں اور محمد کا معنی ہے تعریف کیا گیا۔ مرزا قادیانی کی بھی تعریف خدا نے کی تھی۔ اس لئے قادیان میں مرزا قادیانی کا ہی وجود تھا۔ حکیم بھیروی وامروہی موجود نہ تھے۔ کیا آپ کو یہ منظور ہے؟

بالیہود کہا ہے۔ اسی طرح اس امت کا مصلح بھی مشابہ بالمسیح ہوگا۔

جواب: اگر یہی بات ہے تو ”زید اسد“ میں زید کی دم بھی تلاش کرنی پڑے گی اور اس کو مفترس بھی کہنا پڑے گا۔ کیونکہ ایسی تشبیہ سوائے اشتراک فی النوعیۃ کے صحیح نہیں ہوسکتی۔ ورنہ عام تشبیہ ذاتیات کے علاوہ ہوا کرتی ہے اور مثیل مسیح بھی ذاتیات مسیح سے خالی ہوگا۔

ضعیف ہے۔ (تہذیب التہذیب ج ٩ ص ٧٩) اور یہ قول ابن مسعود کا ہے حضورﷺ کا قول نہیں ہے۔

جواب: اگر یہ روایت ضعیف ہے تو دوسری روایات کے چونکہ موافق ہے۔ اس لئے معتبر ہوگی اور یہ قول ابن مسعود کا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ابن مسعود نے حضرت مسیح علیہ السلام سے شب معراج میں یہ نہیں سنا اس لئے یہ ماننا پڑتا ہے کہ حضورﷺ سے سن کر یہ قول آپ نے کیا تھا اور یہ حدیث مرفوع ہے۔

میں مذکور نہیں ہے۔

جواب: مشکوٰۃ میں مذکور ہے اور ملا علی قاری نے اپنی شرح میں اس کی تشریح کی ہے کہ قبر سے مراد مقبرہ ہے۔

صفحہ ٣٤٣

تھے کہ میرے گھر داخل ہوئے ہیں۔ جن سے مراد حضور ﷺ اور شیخین ہیں۔

جواب: یہ حدیث تاریخ طبرانی اور بخاری میں بھی مذکور ہے۔ درمنثور میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اور حضرت عائشہؓ سے ایک اور روایت بھی ہے کہ آپ نے حضور ﷺ سے عرض کی تھی کہ میں آپ کے بعد ممکن ہے کہ زندہ رہوں کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ آپ کے پاس دفن کی جاؤں تو آپ نے فرمایا تھا کہ نہیں یہ جگہ تو حضرت صدیق اکبرؓ وعمرؓ اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کے لئے مخصوص ہے۔

(دیکھو دلائل النبوۃ، ابن عساکر، کنزالعمال ج ٧ ص ٢٦٨)

یہاں دفن کیا جاؤں۔

جواب: اس حدیث کے فیصلہ پر ہی تو حضرت عائشہؓ نے اجازت دی تھی۔

جواب: اس وقت سے پہلے حضرت عائشہؓ کا فیصلہ معلوم نہ تھا اور حدیث الاقمار کے بعد حضور ﷺ نے فیصلہ کیا تھا۔ وہی قطعی قرار دیا گیا اور اس حدیث الاقمار کو ترک کیا گیا۔

السلام وہاں دفن نہ ہوں گے۔

جواب: شیخین کی قبریں نزدیک ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر ذرہ دور ہے۔

جواب: یہ قول مرجوح ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے آپ کا مدفن روضہ نبویہ مقرر کیا ہے۔

سے اتریں گے۔ کیونکہ یوں وارد ہے۔ ”لینزلن طائفۃ من امتی ارضا یقال لہا بصرۃ“

جواب: الی الارض کا لفظ یہاں نہیں اور الی کا لفظ من کا مقتضی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ: ”ینزل من السماء الی الارض“

ہیں کہ اگر وہ زندہ رہتا تو بی۔اے پاس ہو جاتا۔ اسی طرح یہ حدیث بھی ہے کہ جو لفظ خاتم النبیین کے بعد وارد ہوئی ہے کہ: ”لو عاش ابراہیم لکان نبیا صدیقا (رواہ ابن ماجہ قال شہاب الخفاجی ج ٧ ص ١٧٥) لا کلام فی صحته“

صفحہ ٣٣٤

جواب: پہلے گزر چکا ہے کہ یہ حدیث نبوی نہیں ہے۔ اگر صحیح ہے تو کسی اصحابی قول ہے اور وہ بھی یوں کہ : ”لو كان بعدی نبي لعاش ابراهیم“ حضرت حسنین زندہ رہے مگر نبوت نہ ملی کیا یہ مستحق نہ تھے؟

١٤٥....... خاتم النبیین کا معنی ہے ”زينة الانبياء، مصدق الانبياء“ اور ”آخر الانبياء التشريعيين“ جواب: ”لا نبی بعدی“ کا فرمان ثابت کرتا ہے کہ آپ ”آخر الانبیاء بعثة وزماناً“ ہیں۔ اس لئے تشریعی انبیاء مراد لینا خلاف مسلمات اسلام ہے۔

١٤٦....... خاتم النبیین میں آل استغراقیہ نہیں ہے۔ جیسے ”يقتلون النبيين“ میں استغراقیہ نہیں ہوا۔ جواب: تو پھر ”قد خلت من قبله الرسل“ میں استغراقیہ کیوں مانا جاتا ہے؟ کیا رسول اور نبی دو چیزیں ہیں؟ صحیح یوں ہے کہ : ”قد خلت من قبله الرسل“ میں جنسی ہے؟ کیونکہ یہ آیت خود حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں بھی اتری ہے اور خاتم النبیین میں ”آل استغراقی“ ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے کسی نبی کے مبعوث ہونے کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ انقطاع نبوت پر مہر کر دی ہے کہ لا نبی بعدی مسیح علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے۔ مگر آپ کی بعثت پہلے ہو چکی تھی۔ کیا مرزا قادیانی بھی پہلے مبعوث ہو چکے تھے؟ ورنہ وہ مثیل مسیح نہ تھے۔

١٤٧....... آپ نے فرمایا ہے کہ : ”انا اخر الانبیاء و مسجدی آخر المساجد“ پس جس طرح باقی مساجد مظہر مسجد نبوی ہیں۔ اسی طرح باقی انبیاء بھی آپ کے مظہر ہیں۔ جواب: مظہر کا لفظ بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسی لفظ نے تو مرزائیوں کو گمراہ کر دیا ہے اور قادیان کو بیت المقدس، مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کا مظہر اور معلوم نہیں کس کس کا مظہر بنا رکھا ہے۔ مگر دیکھو تو وہاں سوائے مظہر پیرس کے کچھ نظر نہیں آتا اور کبھی مظہر اور بروز سے تناسخ کا معنی لیا جاتا ہے۔ اگر مساجد میں بھی مظہر کی گنجائش ہے تو قادیان کی مسجد حرام کو اپنا قبلہ کیوں نہیں بنایا جاتا اور جب وہاں حج ہو سکتا ہے تو قبلہ بنانے کو کیا مانع ہے۔ براہین میں ظہیر الدین مرزائی نے بڑے زور سے مشورہ دیا ہے کہ قادیان کو قبلہ بنایا جائے۔ مگر شاید اس لئے کامیابی نہیں ہوسکی کہ وہاں کی مسجد حرام میں بیت اللہ شریف کی عمارت کھڑی کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کا اصلی جواب مغالطات میں دیکھو۔

١٤٨ علی کو خاتم الاولیاء اور خدیجہ مکہ مراد ہے اور ولایت جدہ جواب: خاتم صافی کی ہے۔ جس سے اسلام میں تشریعی اور غیر تشہ

١٤٩ جواب: چونکہ سب کو مظہر قرار دے کر مسہ ٹھہرتی ہے۔

١٥٠ نبوت تھی اور آل محمد بھی حجہ جواب: یہ غ دعا کرتے ہیں۔ یہ خلا حاصل ہوتی ہے۔ مرزا قا اس لئے یہ دلیل صرف مر بڑھ کر نہیں ہے۔ یہ حض تسویلات نفسانیہ ہے۔

١٥١ اشاعت تھی۔ جواب: حجہ مراد ہے تو ہم بھی تسمیہ کر مرزائی مبلغ جاتے ہیں تو جاتے ہیں۔ کیا اس کا ”هو الذي ارس رس

صفحہ ٣٤٥

جواب: پہلے گزر چکا ہے کہ یہ حدیث نبوی نہیں ہے۔ اگر صحیح ہے تو کسی صحابی کا قول ہے اور وہ بھی یوں کہ: ”لوکان بعدی نبی لعاش ابراهیم“ حضرت حسنین زندہ رہے مگر نبوت نہ ملی کیا یہ مستحق نہ تھے؟

١٤٥...... خاتم النبیین کا معنی ہے ”زینۃ الانبیاء، مصدق الانبیاء“ اور ”آخر الانبیاء التشریعیین“

جواب: ”لا نبی بعدی“ کا فرمان ثابت کرتا ہے کہ آپ ”آخر الانبیاء بعثۃ وزماناً“ ہیں۔ اس لئے تشریعی انبیاء مراد لینا خلاف مسلمات اسلام ہے۔

١٤٦...... خاتم النبیین میں ال استغراقیہ نہیں ہے۔ جیسے ”يقتلون النبيين“ میں استغراقیہ نہیں ہوا۔

جواب: تو پھر ”قد خلت من قبلہ الرسل“ میں استغراقیہ کیوں مانا جاتا ہے؟ کیا رسول اور نبی دو چیزیں ہیں؟ صحیح یوں ہے کہ: ”قد خلت من قبلہ الرسل“ میں ال جنسی ہے؟ کیونکہ یہ آیت خود حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں بھی اتری ہے اور خاتم النبیین میں ”ال استغراقی“ ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ نے کسی نبی کے مبعوث ہونے کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ انقطاع نبوت پر مہر کر دی ہے کہ لا نبی بعدی مسیح علیہ السلام کے نزول کی خبر دی ہے۔ مگر آپ کی بعثت پہلے ہو چکی تھی۔ کیا مرزا قادیانی بھی پہلے مبعوث ہو چکے تھے؟ ورنہ وہ مثیل مسیح نہ تھے۔

١٤٧...... آپ نے فرمایا ہے کہ: ”انا آخر الانبیاء ومسجدی آخر المساجد“ پس جس طرح باقی مساجد مظہر مسجد نبوی ہیں۔ اسی طرح باقی انبیاء بھی آپ کے مظہر ہیں۔

جواب: مظہر کا لفظ بے جا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس لفظ نے تو مرزائیوں کو گمراہ کر دیا ہے اور قادیان کو بیت المقدس، مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کا مظہر اور معلوم نہیں کس کس کا مظہر بنا رکھا ہے۔ مگر دیکھو تو وہاں سوائے مظہر پیرس کے کچھ نظر نہیں آتا اور کبھی مظہر اور بروز سے تناسخ کا معنی لیا جاتا ہے۔ اگر مساجد میں بھی مظہر کی گنجائش ہے تو قادیان کی مسجد حرام کو اپنا قبلہ کیوں نہیں بنایا جاتا اور جب وہاں حج ہو سکتا ہے تو قبلہ بنانے کو کیا مانع ہے۔ براہین میں ظہیر الدین مرزائی نے بڑے زور سے مشورہ دیا ہے کہ قادیان کو قبلہ بنایا جائے۔ مگر شاید اس لئے کامیابی نہیں ہو سکی کہ وہاں کی مسجد حرام میں بیت اللہ شریف کی عمارت کھڑی کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کا اصلی جواب مغالطات میں دیکھو۔

١٤٨...... حضرت ؑ نے حضرت عباس کو خاتم المہاجرین کہا ہے اور حضرت علیؓ کو خاتم الاولیاء اور خود حضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔ واقعات نے ثابت کیا ہے کہ اس جگہ ہجرت مکہ مراد ہے اور ولایت بلا واسطہ اسی طرح نبوت تشریعیہ۔

جواب: خاتم المہاجرین کا جواب مغالطات میں دیکھو۔ خاتم الاولیاء کی روایت تفسیر صافی کی ہے۔ جس سے شیعہ کے نزدیک ولایت سے مراد خلافت ہے اور خاتم الانبیاء کا مفہوم اسلام میں تشریعی اور غیر تشریعی دونوں کو شامل کر دیا گیا ہے۔

١٤٩...... حضور ﷺ کو سورج کہا گیا ہے۔ اس لئے کئی چاند آپ کا مظہر ہوں گے۔

جواب: چاند کو سورج کا مظہر نہیں کہا جاتا۔ تمام کائنات روشنی حاصل کر رہی ہے۔ کیا سب کو مظہر قرار دے کر سورج کہا جائے گا؟ غور کرو تو اسی دلیل سے مرزا قادیانی کی نبوت باطل ٹھہرتی ہے۔

١٥٠...... ”كما صليت علی ابراھیم“ میں اشارہ ہے کہ آل ابراہیم میں نبوت تھی اور آل محمد میں بھی نبوت رہے گی۔

جواب: یہ دلیل بالکل غلط ہے۔ درود و سلام جاری رکھنے سے یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ آل محمد میں نبی مبعوث کیا کر۔ کیا نبوت کسی کے حق میں دعا کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کی نبوت چغتائیہ خاندان میں تھی۔ کیا چغتائی بھی آل رسول تھے؟ اس لئے یہ دلیل صرف مریدوں پر ہی اثر ڈال سکتی ہے۔ ورنہ غیر جانبدار کے نزدیک شطحیات سے بڑھ کر نہیں ہے۔ کیا غضب ہے کہ صریح حکم نبوی لا نبی بعدی کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور وہ بھی تسویلات نفسانیہ سے۔

١٥١...... حضور ﷺ کے وقت تکمیل دین تھی۔ مرزا قادیانی کے عہد میں تکمیل اشاعت تھی۔

جواب: تکمیل اشاعت اسلام کا دعویٰ غلط ہے۔ ہاں اگر تکفیر اہل اسلام کی اشاعت مراد ہے تو ہم بھی تسلیم کرتے ہیں تکمیل اشاعت کیا خاک ہوئی۔ مرزا قادیانی کے بعد حرمین میں مرزائی مبلغ جاتے ہیں تو کان سے پکڑ پکڑ کر نکالے جاتے ہیں۔ کابل میں جاتے ہیں تو قتل کئے جاتے ہیں۔ کیا اس کا نام غلبہ ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھو باب دلائل حیاۃ المسیح زیر آیت ”هو الذی ارسل رسوله“

صفحہ ٣٤٦

١٥٢...... ”مصدقا لما بين يدى من التوراية ومبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه “ میں تورات کی تصدیق کرتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام نے محمد کی تصدیق کی ہے اور مرزا قادیانی کی بشارت دی ہے۔

جواب: مرزا قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ حضور ﷺ کی بشارت انجیل میں موجود ہے۔ دیکھو بحث مغالطات۔ یہ امت عجیب ہے کہ اپنے نبی کی ہی تکذیب کرتی ہے۔ کیا تصدیق اور بشارت کا مفہوم ایک ہوتا ہے؟ اگر نہیں تو حضور ﷺ کی بشارت حضرت مسیح علیہ السلام نے نہیں دی۔

١٥٣...... مرزا قادیانی کے خاندان میں غلام قادر، غلام مرتضیٰ وغیرہ نام تھے۔ اس لئے اسم علم امتیازی طور پر احمد ہی تھا اور غلام کا لفظ مشترک تھا جو اسم علم میں داخل نہیں ہے۔

جواب: پھر تو یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس خاندان میں یہ نام ہوں۔ عبدالرحمن، عبداللہ اور عبدالرحیم۔ وہ سب خدائی دعویٰ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اصلی نام اللہ، رحمٰن اور رحیم ہیں اور عبد کا لفظ فالتو ہے۔

١٥٤...... ”ثم بعثنا من بعدهم موسى (اعراف)“ میں مذکور ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اور ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تھا اور درمیان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر نہیں ہے۔

جواب: ”من بعدى اسمه احمد “ میں بعدیت متصل ہے اور اس خیال کی تردید حضور ﷺ نے فرما دی ہوئی ہے۔ دیکھو بحث مغالطات۔ اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد حضور ﷺ کا ہی آنا مقرر تھا۔

١٥٥...... ”لما جاء هم “ میں ماضی بمعنی مضارع ہے۔

جواب: اس جگہ ماضی اپنی جگہ پر استعمال ہے۔ کیونکہ حضور ﷺ کے آنے پر ہی لوگوں نے آپ کو ساحر اور قرآن کو سحر مبین کہا ہے اور مرزا قادیانی کو لوگوں نے دجال، مفتری، کذاب یا مراقی کہا ہے اور شعر و شاعری کے رو سے غلط گو شعر در بندی اور غلط نویس کا خطاب دیا ہے۔

١٥٦...... ”آخرين منهم لما يلحقوا بهم “ کا عطف اگر امیّین پر ہوتا تو مرزائی مراد ہیں اور اگر رسولاً پر ہو تو مرزا قادیانی اور آپ کی اولاد مراد ہوگی۔

جواب: پہلا عطف درست ہے اور آخرین سے مراد صحابہ کے بعد کے مسلمان ہیں۔ ورنہ یہ مطلب ہوگا کہ بعثت اوّل امیّین میں ہوئی ہے اور بعثت ثانیہ مرزائیوں میں ہوئی ہے اور

صفحہ ٣٤٧

درمیانی تیرہ سو سال فترۃ کا زمانہ تھا۔ اس کی پوری بحث نبوت مرزا میں گذر چکی ہے اور دوسرا عطف درست نہیں ہے۔ ورنہ لازم آتا ہے کہ مرزا قادیانی کا سارا خاندان مدعی رسالت ہو اور یہ نہیں ہو سکتا کہ بعث آخرین میں مرزا قادیانی تو نبی بن جائیں اور باقی افراد نبی نہ بنیں۔ کیونکہ بعثت کا لفظ ایک فقرہ میں نبی اور غیر نبی کے لئے ایک جگہ استعمال ہونا قرین قیاس نہ ہوگا۔ اس لئے ممکن ہے کہ مرزا محمود کو بھی مرزائی نبی ہی مانتے ہوں اور جب تک یہ سلسلہ چلا جائے گا۔ نبی در نبی ہی پیدا ہوتے جائیں گے۔ شاید یہی وجہ ہو کہ مرزا محمود نے شریعت احمدیہ میں ترمیم و تنسیخ شروع کر دی ہے اور اپنے آپ کے خلاف چلنا شروع کر دیا ہے۔ اس نظریہ سے معلوم ہو گیا ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک جو بھی خلیفہ ہوگا وہ نبی ہی ہوگا۔ مگر اب ان کا فرض ہے کہ اسلام سے دستبردار ہو جائیں اور اعتراف کر لیں کہ اسلام کے مسلمات ان کے ہاں غلط ہیں۔

١٥٧...... "کنتم خیر امۃ" میں امت محمدیہ کو اگر بہترین کا لقب دیا گیا ہے تو ضروری ہے کہ ان کو انعام نبوت بھی دیا جائے۔ ورنہ یہ مخول بن جائے گا۔

جواب: مخول تو یہ ہے کہ تیرہ سو سال تک یہ انعام بند رہا ہے۔ اگر کھلا ہے تو صرف چغتائی خاندان کے لئے! کیا دوسرے لوگ امت محمدیہ نہ تھے۔ اس تجویز کے مطابق تو گھر گھر نبی پیدا ہونا چاہئے تھا۔ ورنہ وہ امت میں داخل نہ رہیں گے۔

١٥٨...... امت جماعت کا نام ہے۔ ہر ایک کیسے نبی ہو سکتا ہے۔

جواب: تم ہر ایک کا نبی ہونا تسلیم کرو اس کا علاج "کان ابراہیم امۃ" سے ہو جائے گا۔

١٥٩...... "ماکنا معذبین حتی نبعث رسولا" میں بتایا گیا ہے کہ بعثت رسل کے بعد عذاب آتا ہے تو مرزا قادیانی بھی عذاب لے کر آئے تھے۔

جواب: اگر "مانحن بمعذبین" ہوتا تو مرزائیوں کو گنجائش تھی کہ نبوت چغتائیہ کا سلسلہ چلاتے۔ مگر آیت میں گذشتہ انبیاء کا ذکر ہے۔ جس قدر امتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ ان کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پیغمبروں کی نافرمانی کی تھی۔ حضور ﷺ نے اپنی امت کے استیصال کی کبھی دعاء نہیں کی۔ کیونکہ آپ رحمۃ للعالمین تھے۔ احادیث کی رو سے ہلاکت عامہ امت محمدیہ کے لئے بند ہے۔ اس لئے جزوی تکالیف سے کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر آیت مذکورہ کو امت محمدیہ پر بھی منطبق کیا جائے تو عذاب سے مراد بقرینہ امم سابقہ عذاب عام ہوگا۔ جس سے قوم کا کوئی فرد بھی زندہ نہ رہے اور ایسا عذاب ابھی تک نہیں آیا کہ چغتائی بھی نبوت کے حقدار ثابت ہو سکیں۔

صفحہ ٣٤٨

١٦٠...... ”فمن کان علی بینۃ ویتلوہ شاھد منہ (ھود)“ میں مرزا قادیانی کو شاہد کہا گیا ہے۔

جواب: شیعہ کے نزدیک حضرت علیؓ شاہد ہیں۔ سنیوں کے نزدیک حضرت سلمان فارسی ہیں۔ ایرانیوں کے نزدیک ان کا اپنا مسیح مراد ہے۔ اب مرزا قادیانی کے مرید کیوں چنگیز خانیہ ڈاکہ مار رہے ہیں۔ دراصل آیت کا مطلب صرف اتنا ہے کہ حضور ﷺ کے پاس اپنی صداقت کے دلائل موجود تھے اور بیرونی شاہد بھی صحف متقدمہ سے شہادت گزار تھے۔ اس میں خواہ مخواہ ایک نبی کی آمد مراد لینا ایک اور ایک دو روٹیوں کی مثال ہے۔ مفسر ابن کثیر نے یوں ترجمہ کیا ہے کہ جو شخص فطرت پر قائم ہوا اور اس کو حضور ﷺ ”شاھد منہ“ خدا کی طرف سے صداقت قرآن کی شہادت بھی دیتے ہوں اور آپ سے پہلے اس کو تورات کا بھی خیال ہو تو وہ قرآن پر ضرور ایمان لے آئے گا۔ اب دیکھئے شاہد الٰہی کون ہے؟

١٦١...... حضور ﷺ کو مقفے کہا گیا ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی آپ کے بعد آئے۔

جواب: تقفیہ کے دو مفعول آتے ہیں۔ پہلا مقدم الزمان ہوتا ہے اور دوسرا مؤخر الزمان۔ اس لئے حضور ﷺ ہی آخر الزمان نبی اور مقفے ہیں اور یہ لفظ مقدم الزمان کے لئے نہیں آتا۔ (دیکھو منتہی الارب)

١٦٢...... (مشکوٰۃ باب الفتن) میں ہے کہ: ”تکون النبوۃ فیکم ثم یرفعھا اللہ ثم تکون ملکا وجبریۃ ثم تکون خلافۃ علی منھاج النبوۃ“

جواب: اس حدیث نے رفع نبوت کا فیصلہ کر دیا ہے۔ باقی خلافت کا ذکر ہے کہ جس میں نبوت کا ثبوت نہیں ملتا۔

١٦٣...... حضرت عائشہؓ اور مغیرہؓ کے قول سے اجزائے نبوت ثابت ہوتی ہے۔

جواب: ایسے اقوال کا جواب پہلے گزر چکا ہے اور صوفیاء کا مذہب بھی بیان ہو چکا ہے۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ قول رسول کے مقابلہ میں کسی کا قول معتبر نہیں ہے۔ خواہ صحابی ہو یا صوفی۔

١٦٤...... ”واشوقا الی اخوانی الذین یأتون من بعدی (الحدیث)“ (دیکھو انسان کامل مصنفہ عبدالکریم بن ابراہیم جیلانی ب ٦٣)

جواب: یہ حدیث موضوعات صوفیہ میں سے ہے اور بغیر اسناد کے مذکور ہوئی ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس مقام پر کلام صوفیاء کا اعتبار نہیں ہے۔ کیونکہ جو صوفی انتہاء تک پہنچ چکے

صفحہ ٣٤٩

ہیں وہ بقول مجدد صاحب ذرہ بھر شریعت کے خلاف نہیں ہیں اور جو مستقیم الحال نہیں ہیں۔ ان کے کلام کا اعتبار نہیں ہے۔ دیکھو باب تکفیر مرزا۔

ملعون، تارک اسلام، مغلوب مقطوع الوتین اور ٢٣ سال کے اندر ہلاک ہو جاتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی میں یہ باتیں نہیں پائی جاتیں۔

جواب: یہ باتیں مرزا قادیانی میں موجود تھیں۔ الہام میں ناکام، تحریف قرآن میں مغضوب علیہ، مقابلہ میں ذلیل اور مغلوب، بیماری سے معذب اپنے منہ سے ملعون، ترمیم اسلام سے تارک اسلام اور اعلان نبوت کر کے مقطوع الوتین ہوئے۔

اور مخالفین کی کمی الٰہی قانون کے مطابق مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان ہے۔

جواب: مرزائیوں کی تعلیم مطالعہ کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ درحقیقت ان کی تین شریعتیں ہیں۔ اوّل شریعت مسیح جس میں مرزا قادیانی نے ابتدائی تعلیم کچھ دی تھی اور بعد میں کچھ۔ دوم شریعت محمودی جس میں مرزا قادیانی کو افضل المرسلین منوایا جاتا ہے اور چغتائی خاندان کا بچہ بچہ نبی ہے۔ سوم شریعت پیغامی جس میں مرزا قادیانی کو صرف ایک امتی مجتہد کا لقب دیا جاتا ہے جو کئی مسائل میں غلطی کر گیا تھا اور اس کے انکار سے اسلام میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ امید ہے کہ آئندہ دوران خلافت قادیانی اور عہد امارت پیغامی میں اور دو جدید شریعتیں تجویز ہوں گی جو ان تینوں کے منسوخ کرنے پر آمادگی ظاہر کریں گی اور یہ سچ ہے کہ مسیحی تعلیم جو مرزا قادیانی نے تجویز کی تھی۔ منسوخ ہو چکی ہے اور جس قدر مفتریوں کے نشانات تسلیم کئے گئے ہیں۔ سب موجود ہیں اور صادق کا نشان ایک بھی نہیں ہے اور موجودہ پارٹیاں برائے نام مرزائی ہیں۔ ورنہ حقیقت میں کفر اور تفریق کے پیرو ہیں۔ اس کی شہادت ہمیں بابی اور بہائی مذہب کے پیروؤں سے ملتی ہے۔ چونکہ اسلامی نام مقبول ہوچکا ہے۔ اس لئے قرآن شریف کو منسوخ کر کے بھی وہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ بھی ترمیم اسلام اور ترمیم تعلیم مرزا کے مرتکب ہوکر بھی اسلامی نام نہیں چھوڑتے۔ ورنہ اصل اسلام سے کوسوں دور جاپڑے ہیں۔

نشانات پانے والے، پیشین گوئیوں میں پورا اترنے والے تھے اور یہی معیار صداقت بطور حدیث کے مقرر ہے۔

صفحہ ٣٥٠

جواب : مخالفین کے نزدیک کاذب الوعد تھے۔ آج تک توفی بمعنی غیر موت پر ہزار روپیہ انعام کا وعدہ دے کر مکرے ہوئے ہیں۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بڑے مداح تھے۔ آخر مکذب بن گئے۔ لوگوں نے دجال، مفتری اور مراقی کہا۔ پیشین گوئیوں کا حال مرزا قادیانی کے مذہبی مقابلے میں معلوم ہو چکا ہے۔ نشانات آسمانی کی کلی بھی کھل گئی ہے اور یہ امر اب تک مشتبہ ہے کہ پیشین گوئیوں کے صحیح کرنے میں صرف الہام غیبی کام کرتا تھا یا کوئی اندرونی ذرائع بھی تھے۔ بقول شخصے شملہ کے پہاڑ آپ کی تائید میں تھے۔ جس سے تنسیخ بنگالہ، ظہور زلازل، یا ظہور کواکب کا اعلان ہوتا تھا۔

مرزا قادیانی کو ہندوؤں کے لئے کرشن بنایا گیا ہے اور گیتا میں کرشن کا قول ہے کہ: ”یدا یدا ہی دہرمسیہ گلانر بہوتی بھارت ابھیتہانم دہرمسیہ تداتمانم سرجامھم“ جب بے دینی کا زور ہوتا ہے تو میں جنم لیتا ہوں۔ کلکی پوراں مترجمہ ہر دیال میں ہے کہ احمد نے محبت سے کہا کہ اے طوطے اس جگہ ہم اشنان کریں گے۔

جواب : اسلام نے یہ نہیں بتایا کہ مسیح موعود کرشن بھی ہوگا اور تناسخ کو بروز سمجھے گا یا اس کا نام احمد ہوگا۔ اس لئے یہ عہدہ مرزا قادیانی کو ہی مبارک رہے تو بہتر ہے۔ ورنہ اسلام ایسی آلودگیوں سے پاک ہے۔

میں پیدا ہوگا اور بشن کہلائے گا۔ تجدید اسلام کرے گا اور بغیر ہتھیاروں کے لڑے گا۔ راجے اس کے سامنے مرجائیں گے اور مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ : ”یخرج الصدور الی القبور“

(تعلیم نمبر ١٩١٩ء)

جواب : اس تحریر سے غلام احمد قادیانی، غلام مرتضیٰ اور قادیان مراد لینا کمال بددیانتی ہے۔ آریہ تو اسے نہیں مانتے مگر یہ بن بلائے مہمان بنتے ہیں۔ جناب اگر ادھر چلے جاتے تو اسلام کو تو چین آجاتا۔

بٹالہ کے قریب شیو بھگت کبیر جیسا ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ : ” المہدی المنتظر لہ سند، فی الحراث والاکارین“

صفحہ ٣٥١

جواب: مرزا قادیانی پہلے کرشن تھے اور جین بھگت بنے اور کبیر کی طرح اسلام سے بیزار ہوئے۔

کلمہ توحید اور اسمائے الٰہی لکھے ہوئے ہیں اور اس نے جنم ساکھی میں اسلام اور حضور ﷺ کی تعریف لکھی ہے۔

جواب: بھگت کبیر رسالہ (تناسخ ص ٦٨) میں لکھتے ہیں کہ محمد کی نجات نہیں ہوئی۔ دوسرے جنم میں ست گرو کا آپدیش کرے گا تو نجات پائے گا۔ جنم ساکھی گورمکھی میں نانک کا قول ہے کہ وہ ١٥٠٠ سال بعد کسی شہید کے گھر پیدا ہوگا تو پدیش ستگرو سے نجات پائے گا۔ اس نے کئی تناسخ عبور کر لئے ہیں۔ صرف ایک جنم باقی رہ گیا ہے تو مرشد کامل اس کو مکتی دے گا۔ دسم گرنتھ میں لکھا ہے کہ: ”مدا مداتی رماتا پینم“ محمد اچھا انسان نہ تھا۔ ثابت ہوا کہ نانک مسلمان نہ تھا۔ گو صلح کل بن کر اسلام کی تعریف کرتا تھا۔ مگر اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس طرح کے غیر مسلم ہزاروں ملتے ہیں۔

نانوتوی ومباحثہ شاہجہانپور ص ٣١) اس لئے مرزا قادیانی کرشن ہو کر بھی کافر نہ بنے۔

جواب: قرآن شریف میں صرف یہ ہے کہ: ”ان من امۃ الا خلا فیھا نذیر“ مگر کرشن وغیرہ کا نام نہیں لیا گیا اور جن خوشامدیوں نے نام لے کر کرشن کو نبی بنایا ہے۔ انہوں نے قرآن کے خلاف کہا ہے۔ ورنہ صرف احتمال اور گمان سے کرشن نبی بن سکتا۔ مجدد صاحب بھی صرف اتنا ہی لکھتے ہیں کہ یہاں انبیاء کے انوار نظر آتے ہیں مگر کسی کی تعیین نہیں کرتے اور یہ ظاہر ہے کہ نبی کی لاش اس کے مذہب کے مطابق نہیں جلائی جاتی۔ بلکہ دفن ہوتی ہے۔ اس لئے ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دونوں نبی نہ تھے۔

جواب: ١٨٨٥ء میں مشن یار قند و کاشغر کابل اور روس کے درمیان حد بندی کرنے گیا تھا تو ١٣٠٠٠ فٹ کی چڑھائی پر دشت پامیر اور بام دنیا میں پہنچا اور وہاں سے بدخشان میمنہ وغیرہ عبور کرتے ہوئے چار شنبہ پہنچ گئے تو ڈاکٹر حشمت علی انچارج میڈیکل یار قند معہ چند رفقاء کے موضع سمنگان گئے۔ جہاں سادات بخارا تقریباً تیس گھر آباد تھے۔ دیکھا تو شمال و مغرب کو ایک سلسلہ کوہ دو میل تک جاتا تھا۔ جس کا ارتفاع دشت پامیر سے ٨٠٠ فٹ ہوگا۔ ایک چوٹی پر اصحاب

صفحہ ٣٥٢

کہف کا غار تھا۔ موم بتی لے کر دس گز تک ہم سیدھے گئے۔ ٢٠ گز دائیں چلے پھر لکڑی کی سیڑھی آئی۔ جس پر بہ مشکل چڑھے۔ آگے چل کر ایک حجرہ ٥ گز مربع دیکھا۔ جہاں سات شخص شمالاً جنوباً سوئے ہوئے پائے گئے۔ جن پر لحاف پڑے تھے۔ جنوب کی طرف پاؤں میں کتا۔ ہرن اور باز بھی دکھائی دیئے۔ ہمارا ارادہ ہوا کہ لحاف اٹھا کر دیکھیں مگر ہمیں روک دیا گیا۔ کیونکہ کسی نے اس طرح دیکھا تھا تو اندھا ہو گیا تھا۔ یہ بیان ان دنوں صادق الاخبار بہاولپور میں چھپا تھا اور رسالہ کی صورت میں مفت بھی تقسیم ہوا تھا۔ بام دنیا کو ٹیبل لینڈ اوف پامیر کہتے ہیں۔ کیونکہ اس کا طول وعرض صرف ١٠٠٠فٹ ہے۔ دشت پامیر میں ایک دنبہ پایا جاتا ہے کہ جسے سینگ ٥٠ لغایت ٩٠ فٹ تک لمبے ہو کر سر کے ارد گرد پیچ و پیچ لپٹے ہوئے ہیں اور گائے کے برابر ہوتا ہے۔ اسے کوچکار اور اویس ایمن پولی بھی کہتے ہیں۔ پشاور، کابل، شبرغاں، مزارشریف، میمنہ، المار، قیصار، چارشنبہ، کہف اور بیگان را جو وہاں جانا چاہے اس راستہ سے جاسکتا ہے۔

٢١......مرزا قادیانی کا سلسلۂ باطنی

مرزا قادیانی ازالہ میں لکھتے ہیں کہ ہم بے مرشد ہیں۔ مگر ہم ثابت کرتے ہیں کہ مندرجہ ذیل ہستیاں ضرور آپ کے لئے فیض رساں تھیں۔

حضورﷺ سے درخواست کی تھی کہ نبوت میں شریک کر لیں تو آپ نے مسترد کیا تھا۔ اس نے زنا اور شراب حلال کر دی تھی۔ حضرت ابوبکرؓ کی خلافت میں ایک لاکھ کی جمعیت میں خالد بن ولیدؓ کی لڑائی میں وحشی کے ہاتھ سے مارا گیا۔ اس نے فرقان اوّل اور فرقان ثانی اپنے مریدوں میں شائع کئے تھے۔

محیق و شفیق اس کے وزیر تھے۔ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے ذوالخمار کہلاتا تھا۔ حضور کی مرض موت سے چھ ماہ پہلے دعویٰ کیا تھا۔ آپ نے وفات سے پہلے پانچ روز اس کے قتل کی خبر دی تھی۔ تو فیروز دیلمی کے ہاتھ سے مارا گیا۔

اس کے متعلق دجال ہونے کا شبہ تھا۔ اخبار بالغیب میں دسترس رکھتا تھا۔ مگر آخر میں مسلمان ہو گیا تھا۔

صفحہ ٣٥٣

نماز سے سجدہ موقوف کر دیا تھا۔ حضورﷺ نے ضرار بن ازورؓ کی قیادت میں مسلمان بھیجے۔ اس کی قوم بنی اسد کو شکست ہوئی۔ دوسری لڑائی میں غطفان بھی شامل ہوئے۔ مگر پھر شکست کھا کر مسلمان ہو گیا۔

مسیلمہ کے پاس یمامہ میں جاکر اس سے نکاح کر لیا تھا اور اپنی امت کے لئے دو نمازیں فجر اور عشاء مہر میں بخشوالی تھیں اور خود نبوت سے دستبردار ہوگئی تھی۔ خلافت معاویہؓ میں مسلمان ہوئی اور بصرہ میں مقیم رہ کر مری۔ اس پر سمرہ بن جندبؓ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

واقعہ کربلا کے بعد متصل ہی یزید شکار کو گیا تو پانی کی تلاش میں ایک عربی کے پاس چلا گیا۔ اس نے شناخت کر کے قتل کر ڈالا اور مختار ثقفی اہل بیت کی حمایت میں کھڑا ہو گیا۔ چنانچہ اس نے تمام یزیدیوں کو مار ڈالا۔ خولی قاتل حسینؓ کے ٹکڑے ٹکڑے کئے۔ ایک کوفی نے ابن زیاد کا سر کاٹ کر مختار کے پاس بھیج دیا۔ پھر مختار ٦٦ میں مدعی نبوت ہو کر قتل ہوا۔

مدعی نبوت ہوا۔ بنی کلب اس کے تابعدار تھے۔ امیر حمص نے اس کو قید کر لیا اور اس کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ امیر حلب سیف الدولہ کے حکم سے ٣٤٤ میں مارا گیا۔ کیونکہ اپنے شعر میں اپنے آپ کو حضرت صالح علیہ السلام سے تشبیہ دیتا تھا۔ بقول بعض کہیں جا رہا تھا تو کسی نے موقعہ پا کر راستہ میں ہی مار ڈالا۔

اس مدعی نبوت نے بصرہ میں مسلمانوں کو قتل کیا۔ خلیفہ معتمد باللہ کے ہاتھ سے ٢٢٦ میں قتل ہوا اور اس کا سر شہروں میں پھرایا گیا۔

اس نے عرب کے اکثر حصہ پر تسلط جما لیا تھا اور خلیفہ اسلام کے لشکر کو بار ہا شکست دی تھی۔ دمشق کو اپنا کعبہ تجویز کیا تھا۔ نمازیں صرف دو رکھی تھیں اور اس کے عہد میں مجوسیوں نے عید نوروز بغداد میں ٢٧٨ھ کو منائی تھی۔ آخر خلیفہ مکتفی باللہ نے اسے پکڑ کر ٢٨٨ھ میں قتل کیا۔

صفحہ ٣٥٤

ذکرویہ کا چچا زاد بھائی مدعی تھا اور امیر المومنین مہدی کہلاتا تھا۔ مگر مکتفی باللہ خلیفہ نے اسے بھی قتل کر دیا۔

٣١٢ھ میں مرض جدری سے مرا خدائی دعویٰ کرتا تھا کہ شہر مکہ پر حج کے دنوں میں چڑھائی کی اور ستر ہزار حاجی مار ڈالے۔ پھر حجر اسود کو اپنے دارالخلافہ حجر (بحرین) کو لے گیا اور دو سال تک حج بند ہو گیا اور حجر اسود بائیس سال تک قرامطہ کے پاس ہی رہا۔

اس کا مذہب تھا کہ حق و باطل میں امتیاز کرنا جنت ہے اور امتیاز نہ کرنا دوزخ ہے۔ نکاح کی ضرورت نہیں۔ نماز، روزہ چھوڑنا ہی عبادت ہے اور جس نے اپنے نفس پر حکومت کی وہی بادشاہ ہے۔ انبیاء علیہم السلام نے احکام الٰہی پہنچائے تو تھے مگر (معاذ اللہ) ایمانداری سے کام نہ لیا تھا۔ خلیفہ راضی باللہ نے ٣٢٢ھ میں اسے قتل کیا۔

باسنہ صغانیان کے پاس ایک گاؤں تھا۔ وہاں اس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور معجزات دکھائے۔ ایک حوض تھا اس میں ہاتھ ڈال کر درہم و دینار نکال کر دکھلاتا تھا۔ ابو علی محمد بن جعفر حاکم وقت نے مقابلہ کیا تو پہاڑ میں پناہ گزین ہو گیا اور وہاں کسی لشکری نے موقعہ پا کر اس کو مار ڈالا۔

خلیفہ منصور کے عہد میں (١٥٠ھ کو) مدعی نبوت ہوا، اور لڑائی میں خازم اور حازم دو سپہ سالاروں نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کی امت تین لاکھ تھی۔ ستر ہزار مارے گئے۔ باقی چودہ ہزار گرفتار ہوئے۔ صرف ایک سال میں اتنی سرعت سے ترقی کی تھی۔

نبوت کا دعویٰ کیا۔ قبیلہ بنی سواد اس کے تابعدار بن گئے تو چار یار بھی مقرر کئے۔ مگر چند ایام میں ہی خلیفہ وقت المستظہر باللہ نے ٤٩٩ھ میں اسے قتل کر ڈالا۔

کاوہ شہر میں اس نے خدائی دعویٰ کیا۔ پست قامت اور بدصورت تھا۔ اس لئے سنہری

برقعہ پہنے رہتا تھا۔ خلیفہ آگ جلا کر خود بمعہ اہل میرے ہمراہ آسکتا ہے۔

یہ ایک رہزن ہشام بن معاویہ کو اپنا جبر محاصرہ کر لیا۔ آخر معین

بیہقی نے کہ نوح علیہ السلام کا دعویٰ پچاس سال باقی گزار کی کشتی تو ٹوٹ گئی مگر م

خلیفہ مامو پوچھا کہ صداقت کا نشا تمہاری اپنی ماں نہیں۔

افریقہ میں دیا۔ ایک اور نے دعو نبی ہو سکتی ہے۔

کسی نے حضور ﷺ نے فرمایا تو

٢٩٦ھ میں

صفحہ ٣٥٥

برقعہ پہنے رہتا تھا۔ خلیفہ مہدی نے گرفتار کرنا چاہا تو قلعہ میں پناہ گزین ہو کر جوہر کی رسم ادا کی اور آگ جلا کر خود بمعہ اہل وعیال کود پڑا اور اپنی امت سے کہا کہ میں آسمان پر جاتا ہوں جو چاہے میرے ہمراہ آ سکتا ہے۔

یہ ایک رئیس زادہ تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ میں حضرت آدم علیہ السلام کا بروز ہوں۔ ہشام بن معاویہ کو اپنا جبرائیل مقرر کیا۔ خلیفہ منصور نے مقابلہ کیا تو اس کی امت نے قصر خلافت کا محاصرہ کر لیا۔ آخر معن بن زائدہ نے ان کو شکست دی اور عثمان کو بمعہ حواریوں کے قتل کر ڈالا۔

بیہقی نے کتاب المحاسن والمساوی میں لکھا ہے کہ خلیفہ رشید کے عہد میں ایک نے بروز نوح علیہ السلام کا دعویٰ کیا۔ کہا کہ میں بعثت اول میں ساڑھے نو سو سال گزار چکا ہوں۔ ابھی پچاس سال باقی گزارنے آیا ہوں خلیفہ نے اسے صلیب دیا تو کسی ظریف نے دیکھ کر کہا کہ نوح کی کشتی تو ٹوٹ گئی مگر مستول ابھی باقی ہے جس پر آپ سوار ہیں۔

خلیفہ مامون کے عہد میں ایک نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ حاجب خلیفہ (باڈی گارڈ) نے پوچھا کہ صداقت کا نشان بتاؤ تو یوں بکواس کی کہ اپنی ماں لاؤ ابھی بچہ جناؤں گا تو اس نے کہا کہ کیا تمہاری اپنی ماں نہیں ہے؟ تو پھر اسے قتل کیا گیا۔

افریقہ میں ایک عورت نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر لوگوں نے ہی اس کا کچومر نکال دیا۔ ایک اور نے دعویٰ کیا کہ : ”لا نبی بعدی “ میں آدمیوں کی نبوت منقطع ہے۔ عورت نبی ہو سکتی ہے۔

کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنا نام لا رکھا۔ ”لا نبی بعدی“ پڑھ کر کہا کہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد ایک نبی ہو گا جس کا نام لا ہے۔

٢٩٦ میں پیدا ہوا اور ٢٢ سال گزار کر مرا۔

(ابن اثیر ٩٠)

صفحہ ٣٥٦

اس نے اپنی جنت بنائی۔ امت کا نام فدائی رکھا کہا، کہ کشتی نوح علیہ السلام غرق نہیں ہوئی اور نہ ہوگی۔ ٥١٨ھ میں ٣٥ سال حکومت کے بعد مرا۔

٣٠٠ھ میں ٧٣ سال کی عمر پا کر مرا۔

مہدی بن کر مسلمانوں سے نبرد آزما ہوا۔ بیس سال حکومت کی اور ٢٥ سال تبلیغ کی۔

نے خدائی دعویٰ کیا۔ لوگوں سے سجدہ کرایا نئی شریعت گھڑی اور حلال وحرام کی نئی حد بندی کی اور ٢٥ سال تک تبلیغ کرتا رہا۔

(ابن اثیر ٩)

عالمگیر کے زمانہ میں لاہور آیا اور الہام کے زور سے طلوع وغروب اور دوپہر کو بھی نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ امت کا نام فرمودی رکھا۔ فرخ سیر کے عہد میں دہلی چلا گیا۔ محمد شاہ کے زمانہ میں وہیں مرا۔

(دیکھو سیر المتاخرین ج ٢ ص ٤٤٠)

خلیفہ معتمد باللہ کے زمانہ میں تھا۔ بہت مدت زندہ رہا اور ٢٥٩ میں قتل ہوا۔

کہیں سے سندھ میں آیا اور مرزا قادیانی کی طرح مہدی اور مسیح ہونے کا معاً دعویٰ کر دیا۔

(دیکھو مجمع البحار ج ٢ ص ٢٨٩)

ماں کا نام مریم رکھا۔ اس لئے مسیح ابن مریم آسانی سے بن گیا۔ حافظ ابن حجر کے ساتھ وفات مسیح میں بحثیں کرتا رہا۔

مجوسی تھا۔ مسلمان ہو کر مرتد ہو گیا۔ مزدکی طرح اس نے نیا مذہب ایجاد کیا تھا۔

صفحہ ٣٥٧

٣٢....... یحییٰ بہاری الملقب الہ اللہ

صوبہ بہار میں ایک وکیل اور شیعہ مذہب کا ایک بڑا رئیس زمیندار تھا۔ بیرسٹری پاس کرنے پر اس نے اسلام کو خیر باد کہہ دیا اور ایک کتاب اردو میں ڈیڑھ ہزار صفحہ کی مرتب کی۔ جس کا نام فرمان ناسخ قرآن رکھا۔ جس میں اس نے بیان کیا کہ یحییٰ اصل میں یا حی ہے گویا میں ہمیشہ زندہ رہنے والا خدا ہوں اور روپ بدل کر پہلے آدم بنا۔ پھر شیث۔ یہاں تک کہ عیسیٰ بن گیا اور لوگوں نے مجھے مار ڈالنے کا ارادہ کیا۔ مگر میں ناراض ہو کر اپنی مادر مہربان مریم کے پاس عرش پر چلا گیا۔ چھ سو سال کے بعد میں محمد بن کر آیا تو میں نے اظہار ناراضگی میں پانچ وقت کی اٹھک بیٹھک اور زمین پر ناک رگڑنا مقرر کر دیا۔ مگر دشمنوں نے میری سلطنت لینے کو مجھے کثرت ازدواج میں مبتلا کر دیا۔ آخر عائشہ کے حسن نے مجھے ایسا گرویدہ کر دیا کہ اس کا باپ سلطنت پر قابض ہو گیا اور عائشہ نے مجھے زہر دے کر مار ڈالا۔ میرا جسم زہر سے پھٹ گیا۔ میری لاش اندر ہی دبا دی اور لوگوں سے یہ راز مخفی رکھا۔ اب تیرہ سو سال تک مسلمان عذابی احکام میں مبتلا رہے اور ایسے ذلیل ہو گئے کہ کسی کام کے نہ رہے تو میری ماں مریم نے ترس کھا کر مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا ہے کہ یہ عذابی احکام منسوخ کروں۔ اس لئے اب میں کہتا ہوں کہ قرآن چھوڑ دو اور نئی روشنی کے احکام فرض سمجھو۔ اتوار کو گرجا میں میری حمد و ثناء پڑھا کرو۔ اس کے بعد اس نے اپنی تعریف میں مختلف نظمیں لکھی ہیں اور اپنے حالات درج کئے ہیں۔ ہندوؤں کو بھی مخاطب کیا ہے اور ان کے سارے جنم لکھ کر ان کا آخری اوتار بھی بنا ہے۔ اخیر میں اپنے حواریوں کی فہرست بھی دی ہے۔ جو اس نے یورپ اور ایشیاء میں سفر کر کے مرید بنائے تھے۔ مخالفین کا نام ”کفچلی پلغر ثکف“ رکھا ہے اور مرید ہونے پر اس لفظ کا معنی بتانے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ کتاب مرزائی کتب خانوں میں بھی ملتی ہے۔ خال خال دوسرے لوگوں کے پاس بھی موجود ہے۔ اکتوبر ٣٠ء کو لاہور آیا تو اخوت عامہ اور افلاس گناہ عظیم ہے پر دو لیکچر دیئے۔ پہلا لیکچر موچی دروازہ کے باہر تھا اور دوسرا آریہ کالج میں دیا۔ جس میں اس نے بتایا کہ موجودہ ترقی ہی اسلام ہے جو دنیا کے ہر کونہ میں پھیل کر رہے گا۔ اس پر اخبار انقلاب نے تردید شائع کی تو اس نے اخبار ”ملاپ“ میں ایک مضمون شائع کیا کہ میرا کلمہ ہے کہ : ”لا الہ الا اللہ یحییٰ عین اللہ“ اس کی تصحیح یوں ہے کہ یحییٰ اصل زندہ کو کہتے ہیں اور اس کے تین فرد ہیں۔ موت حیوۃ اور اللہ جب پہلا یحییٰ دوسرے کو کھا کر لمن الملک الیوم کا نعرہ لگائے گا تو یحییٰ نمبر ٣ جو عین اللہ ہے اس کو تباہ کر دے گا۔ ”انا السید البہاری یحییٰ خان عین اللہ علام الدھر لا اوبالی شانہ“ (مرزائیوں کے لئے اس نے تاویل کا دروازہ کھول دیا ہے۔)

صفحہ ٣٥٨

٣٣......سید محمد مہدی جونپوری

سکندر لودھی کے زمانے ٩٠١ھ میں مدعی ہوا اور ٩١٠ھ میں افغانستان گیا اور قندھار جاکر موضع فراہ میں مرگیا۔ اس کے بعد پانچ شخص اس کا مذہب پھیلانے لگے۔ شیخ خضر ناگوری، شیخ عبداللہ نیازی، ملا مبارک بدایونی، ملا عبدالقادر بدایونی اور اس کا بیٹا سید محمود بن محمد جونپوری ان کے بعد آخری مبلغ شیخ علائی تھا اور سلطان سلیم شاہ بن شیر شاہ نے فتویٰ تکفیر مرتب کروا کر اس کو قتل کرادیا۔ مہدی جونپوری نے بیت اللہ شریف میں حطیم کے پاس ایام حج میں اپنی مہدویت کا اعلان کیا۔ ٩٠٣ھ میں اپنے وطن مالوف میں واپس آکر تبلیغ میں مصروف ہوگیا۔ چنانچہ راجپوتانہ، گجرات اور سندھ میں مسلمانوں نے بکثرت اس کی بیعت کی۔ ہدیہ مہدویہ، استقصاء، کبر اور شواہد میں لکھا ہے کہ ٩٠٥ھ میں اس نے یہ اعلان کیا کہ ١٨ سال سے خدا نے مجھے مہدی اور نبی بنایا ہوا ہے۔ مگر میں مناسب نہ سمجھتا تھا کہ اعلان کروں اب خدا نے مجبور کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر تم نے اعلان نہ کیا تو تم کو ”خائن فی التبلیغ“ کا خطاب دیا جائے گا۔ اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں مہدی اور مسیح ہوں۔ میرا منکر کافر ہے۔ کیونکہ مہدی اور مسیح دو عنوان ہیں جن سے مراد ایک نبی کا ظہور ہے۔ میں افضل الانبیاء ہوں۔ مجھے علم الاولین والآخرین دیا گیا ہے۔ اب جو احادیث میری تعلیم کے خلاف ہوں چھوڑ دو، آزاد خیال لوگوں نے اپنی تصانیف میں مہدی جونپوری کو مصلح قوم ثابت کیا ہے اور مخالفین کو کتے لکھا ہے۔ مگر مذہبی نکتہ خیال سے وہی بات ہے جو ہم نے لکھ دی ہے۔

٣٤......مرزا علی محمد باب ایرانی

١٢٣٥ھ میں پیدا ہوا۔ ٥؍ جمادی الاول ١٢٦٠ھ میں مدعی مہدویت ہوا اور شعبان ١٢٦٦ھ میں مارا گیا۔ حدیث میں آیا ہے کہ: ”انا مدينة العلم وعلیّ بابھا“ اس لئے باب کہلاتا تھا۔ جس سے یہ مطلب تھا کہ میں ”باب الوصول الی اللہ“ ہوں۔ اس کے مریدوں میں ایک مرید ”صبح ازل“ کہلاتا تھا۔ اس کے حق میں پیشین گوئی کی کہ: ”لیظھرہ علی الدین کلہ“ کا مصداق ہوگا۔

٣٥......صبح ازل

اپنے پیر کے بعد صبح ازل نے مہدویت ثانیہ کا دعویٰ کیا اور بغداد کے مضافات میں اپنا مرید خانہ قائم کیا۔ اس کا بھائی مرزا حسین علی مزاحم ہوا۔ جس سے اس کو کامیابی پورے طور پر نہ ہوسکی۔ اس کا مذہب ازلی کہلاتا تھا۔

صفحہ ٣٥٩

٣٦...... مرزا حسین علی بہاء

اس نے مہدی بن کر صبح ازل سے سخت مقابلہ کیا اور دونوں بھائی تکفیری توپ وتفنگ سے خوب لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ صبح ازل کو شکست فاش ہوئی تو سر اٹھا نہ سکا۔ بہاء ٢ محرم ١٢٣٣ھ کو پیدا ہوا۔ ١٢٦٩ھ میں حج کیا ١٢٧٩ھ میں طہران چھوڑ کر بغداد پہنچا۔ ١٢٨٥ھ میں شہر عکاء میں اقامت کی تا کہ بقول شیعہ ظہور مہدی کا مقام بہم پہنچے۔ ١٢٨٨ھ میں ایڈریانوپل بھیجا گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ عکاء میں قیام ١٢٩٢ھ کو ہوا اور اس وقت صرف ٧٢ مرید تھے۔ ١٢٩٨ھ تک شاہی حکم سے وہیں نظر بند رہا۔ ٤٠ سال قید رہ کر ٧٥ سال کی عمر میں عکاء سے ایک میل کے فاصلے پر بہجی باغ میں نقل کیا گیا۔

بانی اور بہائی اپنی صداقت یوں پیش کرتے ہیں کہ اولاً تورات میں ظہور امام کا وقت یوم اللہ اور یوم الرب ظہور ایلیا اور ظہور اللہ مذکور ہے۔ انجیل میں اس کو یوم الرب، ظہور یحییٰ اور ظہور ثانی بتایا گیا ہے۔ قرآن شریف میں یوم القیمۃ ، یوم الساعۃ اور یوم الجزاء ویوم الدین کہا گیا ہے۔ احادیث میں ظہور مہدی اور قیام روح اللہ لکھا ہوا ہے اور کلام آئمہ میں ظہور اوّل (باب) اور ظہور ثانی (بہاء حسین نوری) آیا ہے۔ ثانیاً حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یوم اللہ یعنی ظہور امام کی ١٥٠٠ سال انجیل سے پہلے خبر دی تھی تو حضرت مسیح ارض مقدس میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دعوت دی کہ: ”توبوا الی اللہ قد اقترب ملکوت اللہ“ ٦٢٠ سال گزرے تو حضور خاتم المرسلین ﷺ کی بعثت ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ”اتی امراللہ فلا تستعجلوہ . اقترب للناس حسابہم . انا علی نسم الساعۃ “ اور اس کے وعدے کے مطابق ١٢٦٠ میں حضرت باب شیرازی پیدا ہوئے۔ آپ نے سات سال دعوت دی کہ: ”لبشری لبشری صبح الہدیٰ قد تنفس“ اور الواح مقدسہ سے دنیا کو آگاہ کیا اور چونکہ یہ وارد تھا کہ : ”لا بدلنا من آذربیجان “ تو حکومت وقت نے قید کے بعد آپ کو تبریز میں قتل کیا۔ آپ کے بعد قصبہ نور سے مرزا حسین علی نوری الملقب بہاء اللہ الاقدس لابھی مسیح موعود ظاہر ہوئے اور حکومت ایرانی و ترکی نے آپ کو شہر عکاء میں ٢٤ سال نظر بند کر دیا تو احادیث کا مفہوم صادق ہوا کہ ظہور امام عکاء ہے۔ آپ نے الواح مقدسہ سے تبلیغی احکام شاہان وقت کے نام بھیجے اور کتاب اقدس نازل ہوئی۔ جس میں موجودہ علم وعمل کی تلقین کی گئی اور اسلام سے سبکدوش کر دیا تھا اور یہ وعدہ پورا ہوا کہ: ”تری الارض غیر الارض . اشرقت الارض بنور ربھا . لکل امرئ منہم یومئذ شان یغنیہ “ اخیر عمر میں کتاب عہد اقدس لکھی اور ٢ ذیقعدہ ١٣٠٩ھ ، ١٨٩٢ء میں

صفحہ ٣٦٠

شہادت پائی۔ ثالثاً ”الم لا اله الا اللہ“ میں امام حسن ظاہر ہوئے۔ الحمص میں سفاح پیدا ہوا۔ المر کے شامل ہونے پر ١٢٧٢ء کو حضرت باب ظاہر ہوئے جو حروف مقطعات ملا کر ١٢ جمع کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ رابعاً ٢٦٦ میں حسن بن علی امام عسکری پوشیدہ ہو گئے۔ ”فلا اقسم بالکنس“ کا اشارہ آپ کی طرف ہی ہے تو آپ کے بعد اختلاف پیدا ہو گیا۔ حدیث میں ہے کہ لوگ امام کو بوڑھا سمجھیں گے۔ مگر آپ عند الظہور جوان ہوں گے۔ امام جعفر صادق کے نزدیک آپ کی عمر ٤٥ سال ہوگی۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ مشرقی ستارہ کی تابعداری کرو۔ وہ تمہیں منہاج رسول پر چلائے گا اور تم سے شریعت اسلام کا بوجھ اتار دے گا۔ سرگین چشم درمیانہ قد، تن اور رخسارہ پر خال سیاہ مشرق سے نمودار ہوگا اور شہر عکاء میں قیام کرے گا۔ ظلمت کو دور کرے گا۔ نئی روشنی پھیلائے گا اور علم وفضل سے لوگوں کو مالا مال کر دے گا اور اپنی کتاب سے اس قدر اصلاح قلوب کرے گا کہ قرآن سے نہیں ہو سکی۔ آپ کے حواری اہل عجم ہوں گے مگر عربی میں کلام کریں گے۔ آپ کا محافظ خاص وزیر ہوگا۔ جو اس قوم سے نہ ہوگا۔ سب قتل ہوں گے۔ آپ کا نزول مربع عکاء میں ہوگا۔ کتاب الغیبة میں ہے کہ امام کا ظہور گھنے درختوں میں ہوگا۔ جو بحیرہ طبریہ کے کنارہ پر ہوں گے۔ عکاء بھی بحیرہ طبریہ کے پاس ہی شہر اردن کے پاس واقع ہے جو ہیردوس نے نکالی تھی اور شہر طبریہ ارض مقدس میں ہے۔ یہ ملک کثرت نباتات سے بلاد سوریہ کہلاتا ہے۔ خامساً تورات میں مقام بیعت جبل کرمل بیت المقدس کے پاس مذکور ہوا ہے۔ جس کی طرف ”یوم ینادی المناد من مکان قریب“ میں اشارہ ہے تو روح اللہ عکاء میں تھے اور نداء مہدی حضرت باب میں تھی۔ علامہ مجلسی اپنی کتاب بحار میں لکھتے ہیں کہ اہل اسلام امام سے ان کفار سے بھی بڑھ کر بدسلوکی کریں گے جو انہوں نے حضورﷺ سے کی تھی۔ کافی میں ہے کہ: ”به کمال موسیٰ وبھاء عیسیٰ وصبر ایوب“ امام کے حواری مقتول ہوں گے۔ ذلیل ہوں گے اور ان کے خون سے زمین رنگین ہوگی۔ وہی خدا کے پیارے ہیں اور ”اولئک ھم المھتدون حقا“ حسن بن علیؓ فرماتے ہیں کہ اس وقت منہ پر تھوکا جائے گا۔ لعنتیں برسائی جائیں گی۔ امام جعفرؓ کا قول ہے کہ: ”کما بدأکم تعودون“ اہل حق ابتدائے اسلام میں مظلوم تھے۔ اخیر میں بھی مظلوم ہی ہوں گے۔ یہ بھی فرمایا ہے کہ: ”حجة اللہ“ ہمیشہ موجود ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو دنیا غرق ہو جائے۔ مگر لوگ اسے نہیں شناخت کرتے اور برادران یوسف کی طرح حجتہ اللہ ان کو شناخت کرتے ہیں۔ کافی اور کتاب البحار میں ہے کہ امام دعوت جدیدہ کتاب اقدس دے گا۔ جیسے کہ حضورﷺ نے دعوت جدیدہ (قرآن) پیش کی تھی۔ ذیل کی تحریرات بھی اس کی مؤید ہیں۔ ”یخالف فی

صفحہ ٣٦١

احکامه مذهب العلماء (يواقيت) بنا يختم الله الدين كما فتح بناء (ملا على قاری) يختم به الدين كما فتح بنا (مشارق الانوار) يقوم القائم بامر جديد على العرب شديد ، يبايع الناس بامر جديد وكتاب جديد وسلطان جديد من السماء (ابو بصير في البحار) اوّل من يتبعه محمد وعلى الثانى (مجلسی)‘‘ اب یہ کہنا کہ ختم رسالت اور انقطاع وحی اسلامی عقیدہ ہے غلط ہوگا۔ کیونکہ یہ تحریرات اس کی تردید کر رہی ہیں۔ سادساً کاہنوں سے عہد نمرود میں نجم خلیل کی خبر دی تھی۔ (ابن اثیر) اور عہد فرعون میں نجم موسیٰ کی (مثنوی مولانا روم) یہودیوں اور مجوسیوں نے نجم المسیح کی (انجیل) یہودیوں اور چند آدمیوں نے نجم احمد خاتم المرسلین علیہ السلام کی اور نجومیوں اور دو معتبر عالموں نے نجم القائم کی خبر دی ہے۔ جن کے نام نامی یہ ہیں۔ شیخ احمد احسائی اور سید کاظم رشتی انہوں نے ولادت امام سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ تیمور خوارزمی کا قول ہے کہ جو ستارے ١٢٤٠ھ سے ١٢٥٠ھ تک نمودار ہوئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انقلاب عظیم ہوگا۔ مرزا آقا خان نجم منوچہر کا قول ہے کہ ایک آدمی پیدا ہوگا۔ جو شریعت جدیدہ کی دعوت دے گا۔ سابعاً سریانی زبان قدیم ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی زبان بھی یہی تھی۔ مذہب صابی حضرت شیث علیہ السلام سے منقول ہے۔ یہی دین اقوم الادیان ہے۔ اس میں کمزوریاں پیدا ہو گئی تھیں تو ان کے رفع کرنے کو حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ پھر کمزوریاں پیدا ہوئیں تو حضرت ختم المرسلین تشریف لائے۔ اخیر زمانے میں جب اس دین میں تاثیر نہ رہی تو حضرت بہاء تشریف لائے اور کتاب اقدس کی تعلیم دی۔

حسین علی بہاء نے سلطان ناصر الدین کو اس مضمون کا خط بھیجا تھا کہ مجھے علم ما کان وما یکون دیا گیا ہے۔ جس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نبوت اور ساعت بھی بند ہو گئی ہے۔ ورنہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ خدا نے اس سخاوت میں کنجوسی اختیار کر لی ہے۔ میں خود ایک دفعہ سویا ہوا تھا کہ اچانک الطاف الہیہ نے مجھے بیدار کر کے مجبور کیا کہ میں خدا کا نام اطراف عالم میں پھیلاؤں۔ بخدا میری خواہش ہے کہ اس تبلیغ میں میرا سر نیزہ سے پرویا جائے۔ کیونکہ خدا کی راہ میں مصائب آیا ہی کرتے ہیں۔ وہ دن بہت قریب ہیں کہ لوگ اس دین میں جوق در جوق داخل ہوں گے اور میں جو کچھ کہہ رہا ہوں خدا کے علم سے کہتا ہوں اور مکتب البیان میں داخل تھا۔ جب کہ لوگ ابھی غافل تھے۔ اگر ہم پردہ اٹھائیں تو تم سب ہلاک ہو جاؤ۔ خبردار یہ یوم نباء عظیم ہے۔ نبی وقت کی حاضری سے کوتاہی نہ کرنا۔ (انتہی مفہوماً) یہ بھی مشہور ہے کہ جب باب مقتول ہوا تو بہاء نے محمد علی قاچار پر گولی چلا دی تھی اور گرفتار ہو گیا۔ قرۃ العین بھی گرفتار

صفحہ ٣٦٢

ہو چکی تھی۔ عبدالبہاء کا چونکہ رسوخ بہت تھا۔ اس لئے یہ شبہ کیا گیا کہ بہاء اس سازش میں شریک نہ تھا۔ اس لئے یہ رہا ہو گیا اور باقی قتل ہوئے۔

شریعت بہائیہ کے احکام مشتے از خروارے یہ ہیں۔ نو رکعتیں نماز فرض ہیں۔ (دو صبح، دو مغرب اور پانچ پچھلی رات کو) نماز جنازہ چھ رکعتیں ہیں۔ صلوٰۃ کسوف وخسوف منسوخ ہیں۔ سوائے جنازہ کے جماعت کی ضرورت نہیں۔ عید نوروز کا روزہ رکھا کرو۔ راگ ورنگ میں کوئی حرج نہیں۔ بردہ فروشی حرام ہے۔ خروج منی سے غسل واجب نہیں۔ کوئی چیز نجس نہیں ہے۔ مشرک بھی نجس نہیں ہے۔ میت کو ریشم کے پانچ کپڑوں میں لپیٹو یا کم از کم ایک میں۔ مہینہ میں کم از کم ایک دفعہ ضیافت احباب فرض ہے۔ اگرچہ پانی سے ہو۔ میت کو اتنی دور نہ لے جاوے کہ راستہ میں ایک گھنٹہ وقت گزر جائے۔ ١٩ ماہ کے یہ نام رکھو۔ بہاء، جلال، جمال، عظمۃ، نور، رحمۃ، کلمات، کمال، اسماء، عزۃ، مشیۃ، علم، قدرہ، قول، مسائل، شرف، سلطان، ملک، عطاء۔ وضو معاف ہے۔ سجدہ معاف ہے۔ بہاء اور جلال میں عید کیا کرو۔ البیان کے سوا کوئی مذہبی کتاب نہ پڑھو۔ نماز جمعہ حرام ہے۔ نکاح میں والدین سے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ روزے ١٩ ہیں۔ قبلہ عکہ ہے۔ کتاب البیان قرآن سے افضل ہے۔ بیت اللہ گرا کر شیراز میں مکان خریدو۔ مردے کو سونے کی انگوٹھی اور ہیکل پہناؤ۔ بوڑھے اور بیمار کو نماز معاف ہے۔ پردہ کی ضرورت نہیں ہے۔ تعدد ازواج حرام ہے۔ کتاب المبین میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ بھی فرماتے ہیں کہ اگر بہاء کا وجود نہ ہوتا تو کوئی صحیفہ آسمانی نہ اترتا۔ کیونکہ بہاء محبوب رب العالمین ہے اور سلطان الرسل۔ جو گالیاں دے۔ اس پر ٥٠ مثقال جرمانہ لگاؤ۔ ہر ایک شہر میں دار العدالت قائم کرو۔ جس میں چندہ ہو اور اس سے تعلیم مروجہ کی اشاعت کرو۔ تا کہ کوئی جاہل نہ رہے۔

٣٧...... قرۃ العین طاہرہ قزوینیہ

جب ١٢٦٠ھ میں باب نے دعویٰ کیا کہ مشیت اوّل حضرت آدم علیہ السلام سے منتقل ہو کر اس کی ذات تک پہنچ چکی ہے تو زرین تاج بھی اس کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئی۔ جو اپنے اشعار میں طاہرہ تخلص کرتی تھی اور اس مذہب کی نشر واشاعت میں منہمک ہوگئی اور برہنہ رو ہو کر اپنے داخل طریق ہم مشربوں سے رہنے سہنے لگی تو کسی نے باب کے پاس شکایت کی کہ اس کا چال چلن مشتبہ ہے تو باب نے جواب دیا کہ: ”ھی طاہرۃ عفیفۃ لا تظنوہا بسوء“ اب وہ طاہرہ مشہور ہوگئی۔ علامہ فقیہ محمد صالح قزوینی کی بیٹی تھی۔ علامہ محمد تقی مجتہد کی بھتیجی اور ملا محمد بن محمد تقی کی زوجہ جب اس نے بابی مذہب قبول کیا تو قزوین سے نکل کر کربلا میں تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔

صفحہ ٣٦٣

وہاں کی حکومت نے اسے بغداد بھیج دیا اور حکومت بغداد نے اسے ہمدان نکال دیا۔ مگر وہاں کوئی مزاحم نہ ہوا اور جب اس کی جماعت ایک کثیر التعداد تیار ہو چکی تو قزوین واپس آ کر اپنے رشتہ داروں کو دعوت دی۔ لیکن اس کے تمام رشتہ دار بابی مذہب کے دشمن تھے۔ اس لئے وہاں سے نکل کر طہران گئی۔ اس خیال سے کہ اگر بادشاہ ایران محمد شاہ قاچار بابی مذہب قبول کرے تو پانچوں انگلیاں گھی میں ہو جائیں گی۔ مگر باب نے اسے حکماً واپس قزوین منگا لیا۔ بڑی حیص بیص کے بعد نکاح فسخ کرا کے بدشت اور مازندران کو چلی گئی اور گاؤں گاؤں تبلیغ میں مصروف ہو کر بابی مذہب کو فروغ دیا۔ لیکن اہل اسلام نے حکومت کو متوجہ کیا کہ اس فتنہ کی انسداد میں انتظام کیا جائے تو اس وقت طاہرہ نے اپنی حفاظت خود اختیار کے لئے کافی جمعیت پیدا کر لی تھی۔ حکومت نے گرفتاری کے لئے فوج روانہ کی تو قصبہ نور کے پاس فریقین کی فوجوں میں سخت لڑائی ہوئی۔ مگر طاہرہ کو سلطان ناصر الدین قاچار کے پاس گرفتار کر کے لے گئے۔ طاہرہ نے پہنچتے ہی تبلیغی خطبہ دیا۔ جس سے بادشاہ متاثر ہو کر کہنے لگا کہ ایں را مکشید کہ طلعتے زیبا دارد۔ مگر محمد خاں محتسب کے زیر حراست رکھی گئی اور بابیوں کو اجازت دی کہ اس سے ملاقات کریں اور وہ بھی حرم سرا تک دعوت دیتی رہی۔ جب معاملہ طول پکڑ گیا تو محتسب نے طاہرہ سے کہا کہ اگر تم بابی مذہب چھوڑ دو تو رہائی یقینی ہے۔ ورنہ قتل کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ لیکن اس نے ایک نہ مانی۔ دوسرے روز دربار میں پیش ہوئی تو بجائے توبہ کے ایک طول طویل تبلیغی خطبہ دیا کہ جس سے حاضرین باغیرت مسلمانوں کا تائرہ غضب سخت شعلہ زن ہو گیا۔ کیونکہ اس میں باب کی تعریف تھی اور حضور ﷺ کی سخت توہین تھی۔ بقول شخصے حکم دیا گیا کہ خچر کی دم سے اس کے بال باندھ کر خچر کو دوڑایا جائے تاکہ اسی حالت میں طاہرہ مرجائے۔ بہرحال اس کی لاش ١٨٥٢ء میں ایک ویران کنوئیں میں پھینک دی گئی۔ جو بستان ایلخانی کے پاس ہی تھا اور اوپر سے پتھر برسا کر کنواں پر کر دیا گیا۔ کہتے ہیں کہ حسب ذیل قصیدہ دربار میں اس نے خطبہ تبلیغی میں فی البدیہہ کہا تھا۔

قصیدہ طاہرہ

.......١ ”جذبات شوقک الجمت بسلاسل الغم والبلا“
ہمہ عاشقان شکستہ دل کہ دہند جاں خود بر ملا (باب کو خطاب ہے)
.......٢ ”لمعات وجہک اشرقت بشعاع وجہک اعلے“
ز چہ رو الست بر بکم نزنی؟ بزن کہ بلیٰ بلیٰ (عرض ہے کہ باب الست بر بکم کیوں نہیں کہتا؟)
.......٣ اگر آں صنم زسر ستم پئے کشتن من بے گناہ
صفحہ ٣٦٤

”لقد استقام بسيفه فلقد رضیت بما رضی“ (حکومت سے خطاب ہے)

چہ کنم کہ کافرو جاحدی ز خلوص نیت اصطفاء (حکومت کو کافر کہا ہے)

اگر آں خوش ست وتو درخوری دگر ایں ست بدمرا نز (اپنی رہائی کی درخواست کی ہے)

ہمہ خیمہ زد بدر دلم سپہ غم و حشم بلا

”فصککته ودککته متدکدکا متزلزلا“ (محبت میں مر جاتی تو بہتر تھا)

رسد ایں صفیر مہیمنے کہ گروہ غمزہ والصلا (تقدیر نے بابیوں کا غم لکھا ہے)

کہ ظہور دلبر مامیاں شدہ فاش وظاہر وبرملا (شیعہ سے خطاب ہے کہ مہدی ظاہر ہو گیا ہے)

ز وجود مطلق مطلقاً برآں صنم بشوید لا (شیعہ سے کہتی ہے کہ اگر زندگی درکار ہے تو باب کو قبول کرو)

بزن اے صبا تو بمحضرش بگردہ زندہ دلاں صدا (باب کا بروز حق ہے)

مہ مفتخر شدہ مشتہر متمحیا متخللا (اہل اسلام کو خطاب ہے کہ جو آنا تھا آچکا)

شدہ مختفی شدہ درخفا متدثرا متزملا (اس میں حضور ﷺ کی سخت توہین کی ہے)

بنشیں چو طاہرہ دمبدم بشنو خروش نہنگ لا (لوگوں کو گمراہ بتلایا ہے اور اپنی سعادت مندی دکھائی ہے)

ہمیں چونکہ کلام مرزا سے مقابلہ کرنا ہے۔ اس لئے طاہرہ کا دوسرا قصیدہ بھی درج کیا جاتا ہے۔ جو اس نے باب کے بارے میں کہا ہے۔

صفحہ ٣٦٥

قصیدہ دوم طاہرہ

گر بتوافتدم نظر چہرہ بچہرہ روبرو شرح دہم غم ترا نکتہ بنکتہ موبمو
از پے دیدن رخت ہمچو صبا فتادہ ام خانہ بخانہ در بدر کوچہ بکوچہ کو بکو
دور دہاں تنگ تو عارض عنبریں خطت غنچہ بغنچہ گل بگل لالہ بلالہ بو ببو
میرود از فراق تو خون دل از دو دیدہ ام دجلہ بدجلہ یم بیم چشمہ بچشمہ جو بجو
مہر ترا دل حزیں بافتہ بر قماش جاں رشتہ برشتہ نخ بنخ تار بتار پو بپو
در دل خویش طاہرہ گشت و نیافت جز ترا صفحہ بصفحہ لا بلا پردہ بپردہ تو بتو

ممکن ہے کہ اس کے اشعار اور بھی ہوں۔ مگر ہمیں اتنے ہی دستیاب ہوئے ہیں جو فارسی زبان میں کلام مرزا سے اس قدر بڑھے ہوئے ہیں کہ کلام مرزا ان کے سامنے پانی بھرتا ہے۔ یہی دیکھئے:

داد آں جام را مرا بہ تمام

٣٨......

١٢٦ھ میں فرقہ قرامطہ ظاہر ہوا۔ جن کے عقائد یہ تھے کہ مسلمانوں کو قتل کرو۔ نمازوں سے مراد پانچ تن پاک ہیں۔ تیس روزے تیس انسانوں کے نام ہیں۔ جو صرف مریدوں کو بتائے جاتے ہیں۔ اہل بیت کا ذکر نماز وضو اور غسل جنابت سے مستغنی کر دیتا ہے۔ خالق ارض وسماء حضرت علیؓ ہیں اور وہی اس دنیا کے خدا ہیں۔ خدا تعالیٰ کا بروز اسم اور معنی شناخت کرنا ہر زمانہ میں فرض ہے۔ یعنی برائے نام نبی اور ہوتا ہے جو دعویٰ نبوت کرتا ہے۔ مگر درحقیقت اصل نبی اور ہوتا ہے کہ جس کی یہ مدعی تائید کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام اسم تھے اور حضرت شیث اصلی نبی تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اسم تھے اور حضرت یوسف معنی تھے۔ کیونکہ یوسف ہی اپنے بھائیوں کی مغفرت کے مالک تھے اور ”لا تثریب علیکم الیوم“ کہا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی اسم تھے اور حضرت یوشع معنی تھے۔ کیونکہ ان کے لئے ہی سورج واپس آیا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام اسم تھے اور معنی آصف۔ کیونکہ انہوں نے تخت بلقیس حاضر کیا تھا اور حضرت علیہ السلام اسم تھے اور حضرت علیؓ معنی تھے۔ یعنی حضرت علیؓ کی الوہیت کے لئے حجاب ہوئے تھے اور سلمان فارسی وصول الیٰ اللہ کا باب تھے۔ ٧٠٠ھ کا ایک شاعر لکھتا ہے کہ:

اشہد ان لا الہ الا حیدرة الانزع البطین
ولا حجاب علیہ الا محمد الصادق الامین
ولا طریق الیہ الا سلمان ذوالقوة المتین
صفحہ ٣٦٦

اصل انبیاء کی فہرست یوں بیان کی ہے۔ ھابیل شیث یوسف یوشع، آصف شمعون الصفا حیدر (ابن قیم)

ایک شاعر شان علیؓ میں یوں لکھتا ہے کہ:

علی ست فرد بیمثل علی ست مثل بے بدل علی ست مصدر دوم علی ست صادر اول
علی ست خالی از خلل علی ست عاری از علل
علی ست شاہد ازل علی ست نور لم یزل کہ فرد لایزال را
وجود او ست مظہرا
زمام ملک خویش را سپردہ حق بدست او چہ اولیاء چہ انبیاء تمام پائے بست او
یکے ہموار محو او یکے مدام مست او بہر صفت کہ خوانمش بود مقام پست او
نظر بامکاں نما ببیں مقام حیدرا
چو ایں جہاں فنا شود علی فناش میکند قیامت ار بپا شود علی بپاش میکند
کہ دست دست او بود ولی خداش میکند
وما رمیت اذ رمیت بر تو فاش میکند کہ اوست دست کردگار اوست عین داورا

(دیوان وفائی)

مشارق انوار الیقین میں ہے کہ: ”عن علی انا اخذت العہد علی الارواح فی الازل، انا المنادی الست بربکم انا منشئ الارواح انا صاحب الصور، انا مخرج من فی القبور، انا جاوزت بموسیٰ فی البحر، واغرقت فرعون وجنوده، انا ارسیت الجبال الشامخات وفجرت العیون الجاریات انا ذلك النور الذی اقتبس موسیٰ نار الھدیٰ، انا حی لا یموت “ حضرت غوث اعظمؒ بھی یوں ہی لکھتے ہیں۔

٣٩...... عبداللہ بن سبا یہودی

بصرہ میں مسلمان ہو کر ظاہر ہوا اور اصل میں مقصد یہ تھا کہ حضرت علیؓ سے یہودیوں کی تباہی کا بدلہ لے اور کوفہ اور مصر میں آ کر اہل بیت کے حالات سے لوگوں کو اشتعال دیا۔ چنانچہ عہد عثمانی میں ایک دفعہ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر حضرت مسیح نزول ثانی کریں گے تو حضرت علیہ السلام کا نزول ثانی بھی ضروری ہے۔ ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ آپ کی شان کم ہے۔ تابعداروں نے اس مسئلہ پر ایمان قبول کیا اور اس عقیدہ کا نام رجعت رکھا گیا۔ دوسری تقریر میں کہا ہے کہ حضرت

صفحہ ٣٦٧

موسیٰ کے وزیر حضرت ہارون تھے تو کیا حضرت محمد ﷺ کے وزیر حضرت علیؓ نہ ہوں گے؟ ورنہ کسر شان ہوگی تو تابعداروں نے حضرت عثمانؓ کا خاتمہ کر کے حضرت علیؓ کو خلیفہ تسلیم کیا۔ ایک دن پھر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عثمانؓ کو تو حضرت علیؓ نے قتل کرایا تھا۔ اس لئے ان سے قصاص لینا فرض ہوگا تو اب تابعداروں نے حضرت علیؓ کا خاتمہ کر دیا۔ پھر ایک دن تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت موسیٰ کے بعد لوگ گوسالہ پرستی سے مرتد ہو گئے تھے۔ اسی طرح تمام صحابہؓ بھی مرتد تھے اور صرف حضرت سلمانؓ، ابوذرؓ، مقدادؓ اور حضرت علیؓ ایمان پر قائم تھے۔ حضرت ہارون علیہ السلام قیامت سے پہلے یہود میں نازل ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ حضرت علیؓ بھی قیامت سے پہلے نازل ہوں تا کہ مخالفین سے بدلہ لیں۔ حضرت ہارون کے وارث بھی آپ کے بیٹے شبر وشبر تھے۔ اس لئے علوم ومعارف علی کے وارث بھی حضرت امام حسن و حسین ہیں اور ان کا نام بھی شبیر وشبر رکھا۔ (ناسخ التواریخ، مقاصد الاسلام) بہر حال شیعہ جعفریہ امامیہ کا یہ مذہب نہیں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بروز تھے اور متصرف فی القضاء والقدر تھے اور یہ عقائد نصیریہ اور سبائیہ فرقہ کے ہیں جو یہاں پنجاب میں بہت کم پائے جاتے ہیں۔

٤٠...... مرزا غلام احمد قادیانی

براہین احمدیہ کے پہلے چار جزو لکھنے تک تو مسلمان کے ہم عقائد رہے ۔ مگر جب سرسید کی تصانیف اور بابیوں کا مذہب مطالعہ کیا تو ازالۃ الاوہام اور توضیح المرام میں براہین کی عبارتوں کا کچھ اور ہی مطلب گھڑ لیا اور جب ١٣٠٠ھ کے بعد آپ نے مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو یہ کوشش کی کہ اپنے آپ کو مثیل مسیح ثابت کریں۔ اس کے بعد ١٩٠١ء کا زمانہ آیا تو بقول مرزا محمود یہ سارے مراتب طے کرتے ہوئے مستقل اعلان نبوت کیا اور منکرین کو صرف اس بناء پر کافر قرار دیا کہ وہ آپ کی بیعت میں داخل نہیں ہوتے یا کم از کم امام وقت کی شناخت میں قاصر ہیں اور جب ١٩٠٨ء میں آپ رخصت ہوئے تو یہ عقائد چھوڑ گئے کہ:

صفحہ ٣٦٨

دادی سادات کے گھر تھی۔

نے کر دی ہے۔

صفحہ ٣٦٩

بھی قادیان ہی ہونا چاہئے۔ دیکھو براہین حقہ )

مجددین وقت اسلام میں ترمیم و تنسیخ ہی کرنے آئے تھے)

تسلیم تھے)

ورنہ جب اصل مقصد پورا ہو گیا تھا تو پیشین گوئی کے پورے کرنے کی کیا ضرورت رہتی ہے۔

(دیکھو ازالۃ الاوہام ص ١٩١ وغیرہ)

٢٢...... مرزا قادیانی کے مزید حالات

مرزا قادیانی کی تصویر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہمیشہ پگڑی پہنے رکھتے تھے۔ مگر نزول مسیح کی احادیث میں مسیح کے سر پر ٹوپی مذکور ہے۔ آپ میں تقدس کا بڑا زور تھا۔ اس لئے مخالف کو کتا، سور، احمق، جنگلی جانور، بے ایمان، کافر، حرامزادہ، مکھی، مچھر وغیرہ سب کچھ کہہ جاتے تھے۔ حالانکہ یہ مشہور ہے کہ : ”البذی لیس بالنبی“ نبی فحش گوئی سے پاک ہوتا ہے۔ مقابلہ میں آکر ایسے شرائط پیش کرتے تھے کہ خواہ مخواہ دوسرے کو مجبوراً گریز کی راہ اختیار کرنی پڑے۔ حالانکہ انبیاء علیہم السلام دوسرے کی شرائط پر فیصلہ کرنے کو تیار ہوتے تھے۔ مناظرہ میں اصل مبحث سے گریز کر کے بد دعاؤں کا سلسلہ شروع کر دیتے۔ (جنگ آمد بجنگ آمد ) جس سے سارا رنگ ہی

صفحہ ٣٧٠

بدل جاتا تھا۔ آپ کی عادت تھی کہ اپنی تقریر میں ایک بات کو کم از کم تین دفعہ عموماً دہراتے تھے اور یہ غالباً مراق کا اثر تھا۔ کیونکہ جس قدر کسی کو مراق ہوتا ہے۔ اسی قدر اپنا سلسلۂ کلام لمبا کرتا ہے اور ایک بات کو بار بار دہراتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام میں یہ کمزوری نہیں پائی جاتی۔ بلکہ قلیل الکلام ہوتے ہیں۔ آپ نے اپنے عقائد میں بار ہا تبدیلی کی۔ لیکن انبیاء کے عقائد نہیں بدلتے۔ آپ کو دوران سر اور مراق کا اقرار ہے۔ لیکن انبیاء نہ ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں اور نہ ہی کسی کے کہنے سے اقرار ہی کیا ہے۔ پیشین گوئی کا آپ کو بڑا شوق تھا جو مقابلہ میں یا تو جھوٹی نکلتی تھیں اور یا ان کی تاویل در تاویل کرتے جاتے تھے۔ اگر ایک آدھ سچی بھی نکل آئی تو بانس پر چڑھا لیتے تھے۔ جناب کی آنکھیں نیم خواب رہتی تھیں۔ شاید استغراق ہوگا۔ مگر دماغی مواد کا بوجھ مراقی کی آنکھ پر ضرور ہوتا ہے۔ آپ کا کلام اصول وقواعد کے خلاف عموماً ہوتا تھا تو آپ کے مرید آپ کو شیکسپیر ثانی سمجھ لیتے تھے اور کبھی فرماتے کہ ہمیں شاعری مطلوب نہیں ہے۔ صرف تفہیم مطلوب ہے اور کبھی اپنے اشعار کو الہامی بتا کر دماغ سوزی بھی کرتے تھے۔ آپ کی تعلیم کا یہ اثر ہے کہ آپ کی امت آپ کے تحقیقی مسائل پر تنقید کرتی ہے۔ مثلاً یہ کہ آپ مسیح کو بغیر ماں باپ کے مانتے تھے اور لاہوری بغیر باپ کے نہیں مانتے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہم شرعی نبی ہیں۔

(دیکھو اربعین ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

اور لاہوری کہتے ہیں کہ آپ صرف مجتہد تھے جو کبھی غلطی بھی کر جاتے تھے اور آپ کا کلام وحی نہ تھا وغیرہ وغیرہ۔ آپ نے قادیان میں ایک اونچا مینار شروع کیا تھا جو ترقی مرزائیت کا معیار قرار دیا گیا تھا۔ اسے مرزا محمود نے مکمل کیا ہے۔ اب اسے منارۃ المسیح کہتے ہیں جو دور سے نظر آتا ہے۔ شاید کسی زمانہ میں حجاج قادیان کے لئے میقات مقرر ہو کر یہ حکم حاصل کرے کہ جب نظر آنے لگے تو وہ لبیک لبیک کا نعرہ کسا کریں۔ درمیانہ قد، کشادہ پیشانی کی وجہ سے مہدی موعود کا حلیہ لئے ہوئے تھے۔ سیدھے بال، گندمی رنگ سے مسیح محمدی بنتے تھے۔ گویا دو شخصوں کا حلیہ آپ میں موجود تھا۔ یہ نہیں سوچا کہ زید اس طرح تو ایک ایک عضو کی مشابہت سے ہزاروں کا مدعی بن سکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ گرم لقمہ آپ نے چبایا تھا تو بے ساختہ ران پر ہاتھ مار کر یوں کہا تھا کہ تتا تتا تو اس وقت وہ پیشین گوئی پوری ہوئی تھی کہ امام مہدی لکنت کی وجہ سے ران پر ہاتھ مار کر کلام کیا کریں گے۔ باقی رہی سہی سلطنت اور حکومت اسلامی تو امام مہدی کے سات سال اور حضرت مسیح کے چالیس سال پچیس سال کی مدت میں یکجا جمع کر کے یوں کہہ دیا کہ اس سے مراد ٤٧ سال کے اندر اندر کام کا ختم مراد تھا۔ کیونکہ ایسے الفاظ سے مراد عرصہ دراز ہوا کرتا ہے۔ سانپ

صفحہ ٣٧١

کے ساتھ کھیلنا شیر اور بکری کا مل کر پانی پینا، اپنے دجال (انگریزوں) کے سپرد کر دیا تھا۔ کیونکہ انہوں نے کارڈوں پر شیر بکری کھڑی دکھلائی ہے۔ اسی طرح حکومت کا ملکی انتظام بھی دجال کے ہی سپرد کر دیا تھا۔ آپ صرف قلمی حکومت اور قلمی لڑائیاں کرتے رہتے تھے۔ مگر افسوس یہ ہوا کہ مسیح مر گیا اور دجال ابھی تک زندہ ہے اور جب تک قادیان میں ریل نہیں گئی تھی۔ حوالہ من کل فج عمیق کا الہام کام کرتا رہا۔ عہد محمودی میں جب خر دجال (ریل) کا داخلہ ہوا۔ تو اس الہام کی مدت ختم ہو گئی اور یہ جو کہا گیا ہے کہ دجال مدینۃ الرسول میں داخل نہیں ہوگا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ خر دجال امت مسیح کی خدمت کے لئے وہاں داخل ہو سکتا ہے۔ آپ کی وفات لاہور میں ہوئی تھی تو لاہوری پارٹی کے نزدیک مدینۃ المسیح اور جائے ہجرت لاہور بنا تھا۔ مگر وہاں دجال اور خر دجال پہلے سے ہی داخل تھے۔ آپ کی زندگی میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے روایات کے خلاف نہیں ہوا۔ کبھی یوں بھی ارشاد ہوتا تھا کہ دراصل دجال پادری ہیں کہ جنہوں نے اب مسلمانوں سے مقابلہ چھوڑ دیا ہے اور نمک کی طرح مرزائی تعلیم نے ان کو پگھلا دیا ہے۔ اگر چہ وہ پھیل کر تمام کو عیسائی کر رہے ہیں۔ مگر حقیقت میں وہ مردہ ہو چکے ہیں اور مردہ کی بو سے اب عیسائیت پھیل رہی ہے۔ ورنہ ان کی زندگی ختم ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق یوں کہا جاتا ہے کہ ان کے حق میں بددعاء درحقیقت بطور مباہلہ تھی۔ چونکہ انہوں نے مباہلہ قبول نہیں کیا۔ اس لئے مرزا قادیانی کی وفات ناکامیابی سے واقعہ نہیں ہوئی۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں اندر سے تصدیق بھی کرتے ہوں اور محمدی بیگم کی پیشین گوئی میں دراصل تخویف مراد تھی۔ وہ لوگ ڈر گئے اس لئے بچ گئے۔ اگر چہ نکاح نہیں ہوا۔ مگر بددعاء تو خالی نہ گئی۔ مماثلۃ بالمسیح میں یوں کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام یکے بعد دیگرے آئے تھے۔ اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مثیل حضورﷺ پہلے تشریف لائے اور مرزا قادیانی کا ظہور آپ کے بعد ہوا۔ مگر یہ نہیں خیال کیا کہ حضورﷺ کو مثیل موسیٰ اسلام نے تسلیم نہیں کیا۔ ورنہ حضورﷺ درحقیقت نبی نہ ہوتے۔ ظہور مسیح کے وقت یہودیوں کی سلطنت پر غیر کا قبضہ تھا۔ مرزا قادیانی کے وقت بھی انگریزوں نے یہودیوں (اہل اسلام) کی سلطنت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگر چہ اب تک مسلمان حکمران ہیں۔ لیکن اصل میں انگریز حکمران ہیں۔ حضرت مسیح نے بھی جہاد کا حکم بند کر دیا تھا تو مرزا قادیانی نے بھی بند کر دیا تھا۔ مگر باوجود اس کے غیر شرعی نبی کہلاتے تھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت بھی علمائے سو تھے آپ کے عہد میں بھی علمائے سو تھے۔ جنہوں نے آپ پر تکفیر کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ لیکن یہ علماء سو تو مدت سے مدعیان نبوت کی

صفحہ ٣٧٢

سرکوبی کرتے آئے ہیں اور کئی مسیح قتل کروا چکے تھے۔ زمان مسیح قادیانی کی کوئی تخصیص نہ تھی۔ مرزا قادیانی کی پیدائش ایسے بادشاہ کے عہد میں ہوئی ہے جو مسلمان نہ تھا۔ جس طرح کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے بادشاہ کے عہد میں پیدا ہوئے تھے جو آپ کے مذہب پر نہ تھا۔ ہاں اتنی کسر رہ گئی کہ مسیح علیہ السلام کو والدہ جان بچانے کی خاطر مصر گئی تھی۔ مگر مرزا قادیانی کو نہیں نکالا گیا تھا۔ کیونکہ ان کے حق میں قادیان ہی مصر بن گیا تھا۔ تبلیغ نصرانیت اور قادیانیت بھی یورپ میں مشترکہ طور پر ہے۔ مگر یہ اشتراک مسیح ایرانی پہلے حاصل کر چکا تھا۔ کیونکہ اس کے مرید یورپ میں اٹھارہ لاکھ بتائے جاتے ہیں اور مصطفیٰ کمال پاشا بھی اسی مذہب کا پیرو خیال کیا جاتا ہے۔ طلوع ستارہ بھی مشترکہ علامت تھی۔ لیکن افسوس کہ مسیح ایرانی یہ اشتراک پہلے حاصل کر چکا تھا۔ پلاطوس نے حضرت مسیح کو بے قصور ثابت کیا۔ اگرچہ نوعیت مقدمہ الگ الگ تھی اور تجویز سزا وہاں صلیب تھی اور یہاں جرمانہ مگر ڈوبتے کو تنکہ کا سہارا ضرور ہوتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعد طاعون پھیلا مرزا قادیانی کے خود عین حیات میں طاعون پھیلا۔ اس لئے یہ مشابہت بہت تیز ہو کر ثابت ہوئی۔ اگر آپ اس کا شکار ہو جاتے تو اور بھی تیز مشابہت ہو جاتی۔ حضرت مسیح یہودی نہ تھے اور مرزا قادیانی بھی قریشی نہ تھے اور اس مشابہت سے قریشی یہودی بن گئے۔ ورنہ پہلے آپ سید بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہاں گر ضرورت بود روا باشد۔ بیضرورت چنیں خطا باشد۔ مرزا قادیانی کے عہد میں مسیح کی طرح علمی ترقی ہوئی۔ چنانچہ آپ نے وہاں ایک ہائی سکول کھولا تھا اور ظاہر کیا تھا کہ کسی وقت یہ جامعہ احمدیہ بن جائے گا اور اس سے پہلے سکول اور کالج جو کھل چکے تھے ان کو کالعدم شمار کیا گیا ہے اور اسلامی عہد حکومت میں جو علوم وفنون پیدا ہوئے اور جن پر آج تک مسلمان بغلیں بجاتے ہیں وہ بھی ہائی سکول قادیان کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔ الغرض کہ مرزا قادیانی کو مہدی اور مسیح بننے میں جو تکالیف برداشت کرنی پڑی ہیں وہ نہ مسیح ایران کو پیش آئی تھیں اور نہ مسیح جونپوری کو۔ اس لئے تھک ہار کر آخر میں مجبوراً مستقل نبوت کا دعویٰ کرنا پڑا اور اپنے روحانی آباؤ اجداد (جونپوری اور ایرانی) کی طرح اعجاز احمدی میں لکھ دیا کہ خدا تو مجھ سے بار ہا کہہ چکا ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرو۔ مگر میں ہی کہتا تھا کہ ابھی موسم نہیں آیا۔ اس لئے اب سارے مراتب طے ہو چکے ہیں اور اعلان نبوت ضروری سمجھا گیا ہے۔ مخالفین نے مرزا قادیانی کو بروز، تناسخ، نبوت، تشریح احکام، تنسیخ اسلام، تحریف دین، مہدویت اور مسیحیت میں ان ہی دعویداروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے جو وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے رہے اور اہل حق کی شمشیر بران کا لقمہ بنتے رہے۔

صفحہ ٣٧٣

٢٣....... مرزا قادیانی کی ادبی لیاقت

مرزائی آپ کو سلطان القلم کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ لکھنے بیٹھتے تھے تو ایک مضمون کو کم از کم اپنی تحریر میں تین دفعہ دہراتے تھے اور نظم ونثر میں تحدی کرتے تھے تو موٹی موٹی گالیاں دیتے تھے۔ قواعد، عروض اور محاورات کا کچھ خیال نہ تھا۔ کیونکہ مسیح ایرانی کی طرح الفاظ کو قیود قواعد سے آزادی دینے کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ اردو نظمیں آپ نے لکھیں جو درثمین میں موجود ہیں۔ ان میں ہر جگہ پنجابیت کی بو آتی ہے اور بعینہ ان میں وہی رنگ ہے جو پنجابی شاعر اپنی کتابوں میں غزلیات یا مناجات کہہ کر دکھایا کرتے ہیں۔ جس کا نمونہ ہم پہلے دکھا چکے ہیں۔ فارسی نظم بھی اپنی ہی تعلیات سے پر ہوتی تھی۔ ورنہ مذاق شاعرانہ اور آمد سے بالکل خالی تھی۔ اگر آپ کی نظم فارسی قرۃ العین کے سامنے رکھی جائے تو ادبیت کے لحاظ سے بالکل شاخ بے برگ نظر آتی ہے۔ عربی نثر میں تو آپ نے وہ گل کھلائے ہیں کہ قیامت تک بہار دکھلاتے رہیں گے۔ جن کا نمونہ ہدیہ ناظرین ہے۔

اول....... سیف چشتیائی ص٧٠ پر حضرت پیر صاحب قبلہ نے اعجاز المسیح (تفسیر فاتحہ) پر یوں تنقید کی ہے کہ: ”فی سبعین یوما من شهر الصیام . من شهر النصارى (٢٠؍ فروری ١٩٠١ء) کل امرهم على التقویٰ . وعندی شهادات من ربی ووجه كوجه الصالحين . واكفروه مع مريديه . يريدون ان يسفكوا قائله . جعل کلمی وقلمی منبع المعارف . تنكرون باعجازى“ پیر صاحب اسی طرح تنقید کرتے ہوئے دور تک چلے گئے ہیں۔ ایک فاضل شیعہ نے بھی اسی موضوع پر اعجاز المسیح پر تنقید کرتے ہوئے اوّل مقامات حریری وبدیعی کا ذکر کیا ہے۔ جن میں مرزا قادیانی نے کمالِ جرأت سے کام لیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا ہے کہ حریری اور بدیعی میرے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔ دوم اغلاط کی فہرست دی ہے جن کا اقتباس درج ذیل ہے۔

”لوی الیہم کزافرة (لوی متعدیة) کفل امورہم کما هی عادتہ (هی بلا مرجع) اتخذ الخفافیش وکرا لجنانہم وجنانہم وکرا اواوکارا اکفروہ (کفروہ) شہداء الکربلا (کربلا بغیرال) یریدون ان یسفکوا قائلہ ویعتالون (ان یسفکوا دم قائلہ ویغتالوہ) فما تطرق الی عزم العدے خلل (لا ینسب الخلل الی العزم) تنکرون باعجازی (املاء غلط) کاملائی (لیس معناہ الکتابة) رجفت الالسنة (الرجف للقلوب) الی لاہور وان ہو (وان

صفحہ ٣٧٤

هى ) رائحة من صدق الطوية (محاورة هندية) فتح الميدان (هندية) لهذا الوغى (هذه) ماء يسيح (يجرى) ارم جدران الاسلام (ارهم) هذه الاضمار (هذا) يسعى (لا يستعمل مجهولا) عنين فى رجال اللسن (قبيح) بازى البصيد (قبيح) زاد اليراع (اليراع لا يستعمل زادا) مسقطت صواعن (قبيح) البئر يحب ويوثر زلاله (البئر مونث) يفرى كل طريق (قبيح) ازاد اليرع (اليراع لا يستعمل زادا) مسقطت صواعن (قبيح) لا يظهر الا على (على للغلبة وليست مرادة) الى حجره اب (آب) كالسهام اوالحسام (قبيح) اسعفت الخصم (الحاجة) قبل هذا الميدان (هندية) الا منطجاع من جنوبهم (عن جنوبهم) هذا المدى الحقير القليل (مدى مونث ولا تكون حقيرة ) لا شيوخ ولا شباب (قبيح) الطافه اغلاق خزائنه (قبيح) صول الكلاب اهون من صول المفترى (قبيح) طهارة البال لا بعذوة الاقوال (العذره لا تقابل الطهارة) يند مل جريحم (قبيح للجريح) مفتوة شفتاه (اسنانه) لطفه قتبى (لا يحس القتب للمسيح القادياني) ساقطا على صلات (قبيح) وسخ مئين (قبيح) اراد من العجز اينابهم (هندية) من رمضان (شهر رمضان) ملئى فيها (ملئت) تابطت كصدف (التابط ليس الصدف) كيفية ايلاف (الف) امرامرامور (امضاء) من ركب عليه (عليها) سورة قوى الصول (قوية والصول قبيح) وانه حق (انها اى السورة) اترك اللغوب والاين (ليسا اختياريين) من عجائب هذه الصورة انها عرف الله (عرفت) الاخفاء والدمور (قبيح) للاضلال والافتنان (قبيح) الرجم بمعنى القتل (غلط) فى اللسان العربية (لا تطابق) كهف الظلام (جديد) فاق العظام (من اين الكسرة) الزام (اسم اضحى) عنت به البلايا (عنته) الكفار (بمعنى الزارعين جديد) انه مفيض لوجود الانسان باذن الله الكريم (لا ياذن الله لنفسه) وما من دابة الا على الله رزقها ولوكان فى السماء (الدابة ليست فى السماء وهى مونث) ذكر تخصيصا وخاصته ام بل (قبيح الاستعمال) يحمده من عرشه (من فوق عرشه) لا يتوب الى احد (لا يتوب على احد) كم من الانعام تذبح (كم من انعام) الحقيقة المحمدية

هو مظهر الـ غذا اهلى مـ الامتنان (سـ تجلّى بتجلـ نصر (عن نعـ شريك (قبيح اظل محمد (بشكر) ليـ الجلال) تا من ارابهم (قـ الى الرب (لـ (على) انتـ الناس ليقـ (جديد) انـ (المودع) (انتقض) وسائله (مـ للرفاهية) لـ صف المـ للاستجابـ وحجة (و على ولدها قطع العشـ قدم الانبيـ سالت عـ يمنع (تمنـ

صفحہ ٣٧٥

هو مظهر الرحمانية (هى) ينتفع الناس من لحوم الجمال (ينتفع بلحوم) غذاً اهلى من منبع الرحمة (جديد) امر هذه الصفات قول (يؤل) سبيل الامتنان (سبيل المن على عباده) بعضهم اغترفوا (اغترف) اسم احمد لا تتجلى بتجلى تام (لا يتجلى بتجل) طلوع يوم الدين (قبيح) مستغنية من نصر (عن نصر) خصصها بالبسملة (خص البسملة بهما) ورثاء (قبيح) ماتم شريك (قبيح) تصدو انفسهم (لازم) كانو مظهر اسم محمد (مظاهر) صارو اظل محمد (اظلال) منبئى على المعلوم (للمعلوم) ناطق لشكر النعماء (بشكر) ليذب جنود الشيطان (عن جنود) طرق الله ذالجلال (ذى الجلال) تلك الجنود يتحاربان (تتحارب) هدم عمارت البدعات (جديد) من ارابهم (قبيح) امر المعروف (امر بالمعروف) النهى عن الذمائم والتوجه الى الرب (اشد قبحا) قطع التعلق من الطريف (عن) القى البحران فى (على) انتن عن الميته (من) من العالمين زمان ارسل فيهم (فيه) تحشر الناس ليقبلوا (يحشر) النيران المحببة (جديد) تكسر الملة بالانياب (جديد) انهدام قوة (وهن) قاموا عليه كالا عداء (اليه) عليك بالمودوع (المودع) بلا قددهم (دهمهم) تسل الاقلام (قبيح) مدينة نقض اسوارها (انتقض) ونعى (فنعى) فلا يسعىٰ عليها (لها) وجب علينا ان نشهد انها وسائله (شهده حضرا شهد اعلم) عطلت العشار (فى القرآن للشدة وههنا للرفاهية) لم يبق فيهم روح المعرفة الا قليل الذى هن كالمعدوم (قليل لا يقوم مقام المعرفة) الذوق والشوق (جديد) استجيب (اجيب) ظهوره للاستجابة (للاجابة) لا توذى اخيك (اخاك) هذه الايات خزينة (خزائن) وحجة (وحجج) توسل الائمه (بالائمة) لا يوثرون الا (على الا) يقولون على ولدها (لولدها) منهيات الى الصالحات (لعدم التقابل) بعد من (عن) قطع العشيرة (جديد) انهم نور الله (انواره) سواء (ليس مصدرا) على قدم الانبياء (اثر الانبياء) ما قال القران (وما قاله القران) المجيبين (غلط) سالت عن ربك (غلط) فقدوا نور عينيهم (عيونهم) سورة بنى اسرائيل يمنع (تمنع) ايام البدر التام (ليالى البدر) يذبهم (يذب عنهم) دعاء صراط

صفحہ ٣٧٦

الذین انعمت علیھم (لیس دعاء) بھوات المطایا (صھوات الخیول) الفار المذور (المذودہ)‘‘

مضاف پر آل موجود ہے ) حمامۃ البشریٰ میں مرزا قادیانی اپنی مدت ادعاء نبوت یوں ظاہر کی ہے ۔عشرے (بہت خوب!)

اس لئے ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اس کی اصلیت کہاں تک درست ہے۔ یہ قصیدہ موضع مڈ کے متعلق لکھا گیا تھا۔ موضع مذکور میں مرزا قادیانی کے حواری مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مقابلہ میں شکست کھا چکے تھے تو مرزا قادیانی نے آتش غیظ وغضب میں داخل ہو کر ٧٣ شعر لکھ مارے تھے۔ جن میں اپنی دعاوی، مخالفین کو گالیاں اور بالخصوص مولوی صاحب کو ذئب، کلب وغیرہ کے منحوس الفاظ میں ذکر کیا تھا اور اظہار مطلب کے لئے نیچے ترجمہ لکھ کر تشریح بھی کر دی تھی۔ کیونکہ وہ کلام ایسا تھا کہ معنی فی بطن الشاعر کا مصداق تھا اور اعلان کیا تھا کہ بہت جلد مخالفین جوابی قصیدہ شائع کریں۔ مگر اس اطلاع کے پہنچنے تک مدت تحدی ختم ہو چکی تھی۔ تاہم مخالفین نے جوابی قصائد لکھے اور کلام مرزا پر تنقیدیں شائع کیں اور مرزا قادیانی ان کے کسی جوابی قصیدہ پر تنقید نہ کر سکے۔ بہر حال ہمیں جو ذکر کرنا ہے وہ یہ ہے کہ مولانا محمد علی صاحب مرحوم مونگیری نے دونوں کام کئے تھے۔ ایک کتاب میں تنقید کرتے ہوئے کلام مرزا کو خلاف محاورات عربیہ، تعقید معنوی اور لفظی سے بھرا ہوا۔ سرقات شعریہ سے عیب ناک اور وزن عروضی سے گرا ہوا ثابت کیا تھا۔ دوسرے حصہ میں معارضانہ قصیدہ عربی میں شائع کیا تھا کہ جس میں انہوں نے بھی ایک مناظرہ کا ذکر کیا تھا۔ جس میں مرزائیوں کو شکست فاش ہوئی تھی۔ مولانا کی حیات مستعار نے مہلت نہ دی اور آپ کا انتقال ہو گیا تو مولوی اسماعیل جلالپوری مہاجر قادیان نے تردید میں قلم اٹھایا اور مولانا کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے رطب یابس اور غیر معروف محاورات اعذار باردہ، تکلفات نادرہ، اور متروک الاستعمال زحاف، ومطرودہ اشعار، ضروریات شعریہ کی بناء پر مرزا قادیانی کا کلام یوں صحیح کیا کہ عجلت کی وجہ سے طبع اوّل میں سہو کاتب سے غلطیاں رہ گئی تھیں اور اعراب بھی غلط دیئے گئے تھے۔ چنانچہ آپ نے نئے اعراب کی طرف توجہ دلا کر اس قصیدہ کو نئے قالب میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جو تلفظ مرزا سے کوسوں دور ہے۔ گویا نبی کی لغت یا تلفظ اور ہے اور ایک امتی اور مصحح کی لغت اور تلفظ اور ہیں۔ جیسا کہ ہم اس کا نمونہ پیش

کرتے ہیں۔ تاکہ ناظر صاحب حق بجانب ہیں۔ چونکہ وزن شعر غلط تھا۔ ا ’’اوجس خیفۃ شر کاحمۃ (کأجمۃ) مد علی ابوالوفا اب (یستنسر) فلم یتحسر (لم یتح واحذر (واحذرو سبل فی (سبل) مثل بدر) مغبر (س (اواغبروا) وانحت بصعر نصبروا (ا (وانظروا) عفر ( التصحیح فی موض سقم نضرم فی میسراً (محل الب من شان جولہ (قلب مطھر) فسل اوتکدراً وان کن (فاسینظروا) محامدی (ارد م شھادة (یکتمنش ایھا المستکبر (م اذیتنا (اذیت نا) کان فی اذیالھ

صفحہ ٣٧٧

کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین طبع اوّل کا قصیدہ سامنے رکھ کر اندازہ لگائیں کہ کہاں تک جلالپوری صاحب حق بجانب ہیں۔ مثلاً مرزا قادیانی آٹھویں شعر میں پڑھتے ہیں کہ : ”من ارضہم“ اور چونکہ وزن شعر غلط تھا۔ اس لئے جلالپوری نے اسے ”مــــنــــر ضــــهــــم“ پڑھا ہے۔ اسی طرح ”اوجس خيفة شره (اوجس خيفه) اوحى اليها المعشر (اليها لمعشر) كان كاجمة (كاجمة) مدى قد شهروا (قد شهروا) قالوا ليوسف (ليوسف) تجن على ابوالوفا ابن الهوى (عليا بل وفاء بن الهوى) من بقة كيستنسر (يستنسر) فلما اعتدى احس (وآحس) وعوه ليبتهلن (يستهلن) لم يتحسر (لم يتحسر) الىٰ هذه الصور (الصور) ليظهر آيته (ليظهر آية) واحذر (واحذروا) كيف اغبرت السماء بايها (اغبرت السماء) لا تتخير سبل فی (سبل) فکر (فکروا) احضر (احضروا) من هو مثل بدر (منهم مثل بدر) مغبر (مغبر) اذا ابت محبته (محبته) انى ابلغ (انی ابلغ) اواغبر (اواغبروا) وانحتوا اقلامكم (قلامكم) نخرا مامك (امامك) لوجهك بوجهك يصعر نصبروا (لوجهك لوجهك يصغر نصبروا) ان جمالك (جمالك) انظر (وانظروا) عفر (عفروا) ومن يشرب الصهباء يصبح مسكر (مسكراً) وهذا التصحيح فی موضعه لكن التشرير لا يصلح ففى هذه المأية فی کل ثلثة منها سقم نضرم فی قلب اضطراماً (قلب اضطراما) كان محل البحث اوکان ميسراً (محل البحث ميسر) ليمل حسين اوظفر اواصغر (ظفر اواصغروا) من شان جولراً (جولروا) وامر (واز مروا) وبعد من الدنيا وقلب مطهر (قلب مطهر) فسل قلبه زاد الصفا اوتكدر (تكدر) واصل العبارة اذاد صفاء اوتكدراً وان كنت تحمده فاعلن واخبر (تحمده واخبروا) فستنظر (فاسينظروا) فاسمع ونكر (ذكروا) لا تستاخروا (تستاخروا) اليك ارد محامدى (ارد محامدی) من القول قول نبينا (قولن بينا) ومن يكتمن شهادة (يكتمنش هادة) تركت طريق كرام (طريقك رام) لتحقر (لتحقروا) ايها المستكبر (مس تكبروا) من هو مرسل (منهو) يستفسر (يس تفسروا) اذيتنا (اذيت نا) كيف تدا كثوا (كيف داكثوا) كيف ومواسها ما (كيفرموا) كان فی اذيالهم (فديالهم) ولم اتحير (ولم اتحيروا) الى الخنجر (اليل

صفحہ ٣٧٨

خنجر) سمون ابتر (ابتروا) واحذر (واحذروا) كناطف ناطفى (ناطف ناطفى) بليل مسرة (بليلم مرة) كيف نصبح (هذا اخر البيت ولم يقدر المصحح على تبديلها الى تسفر وغيره فاضطر الى تصحيح دوران راسه بالشواهد الغير المقبولة) مسيحا يحط من السماء (يحطم يسماء لله درمذكر (درم ذكر) نبادر (كان عليه ان يبدله الى نبدروا) شطائب جاهلين (شطائب) صحف قبله (صحف) ليعزر (ليعزروا) يجوش وليس فيه (يجوشوا ولم يصحح تجوش لان القدر مونث) فكل بما هو عنده (ماهو) يستبشر (ليس تبشروا) فى كفه حماء (حمأ) ولست كمثلك (كمثلك) ففى هذه المائة نحو اربعين سقما تقسم من الاسقام بيتان ونصف وعند متن تثور (فتن) حدائقنا (حدائقنا) جزاء اهانتهم (اهانتهم) انك مرسل (انك) قضوا مطاعن بينهم (مطاعن) وافيت مجمع لدهم (مجمع) قدجاء قوله الله بالرسل تواما (بالرسل) اخذا لكمى (اخذا لكميى) بذكر قصوره (بذكر قاصور) زمرهم (زمرهم) ان اكابر القوم (انا اكابر القوم) كان سنا برقى اظهر (برقى اظهروا) كان الاقارب كالعقارب (كان الاقارب) فاحذر (فاحذروا) صرت اصغر (اصغروا) ان تطلبنى احضر (تطلبنى احضروا) الصالحين يوفقون (الصالحى فى وفقون) وفى هذه الماية نحو ستة عشر سقما ويقتسمها من الاشعار ستة ستة مايبطر (مايبطر) فطر القدير (فطر القدير) افضل الرسل (افضل الرسل) شفيع الانبياء (الانبياء) موثراً (مؤثروا) سبل الهدى (سبل) اويد (اويد) اعصم (اعصم) اخبر (اخبروا) اطائبها (اطائبها) ورثت ولست (ورثتولست) وان رسولنا (وانرسولنا) شائنه (شأنى هى) وابتر (وابتروا) خلق السماء (خلق) القمر (القمر) لذونسب (نسب) فهو (فهو) سنن الله (سنن الله) لذلك (لذلك) بالمتقدمين (بل مت قدمين) موحوشة (موحوشة) عامة الورے (عامة الورے) اصعر (اصعروا) لم اتعذر (لم اتعذروا) من سنن دينكم (سنن دينكم العمران (العراب) عظيم معزد (عظيم معزروا) احضر (احضروا) المهيمن (المهي من) نبا (نباء) ففى هذه الماية نحو خمسة

صفحہ ٣٧٩

وثلاثين سقما لكل ثلثه من الاشعار واحد كالزمع (كالزمع) انت تدمرين (تدمر) قال الحرف قد حذف ين فضمت الراء كاللذ فى الذين ولم يات فى تدمرين من شاهد اذلا قياس فى اسماع الى دجانبوا (اليوجانبوا) وان تضربن على الصلاة (نع لقرلاة) سبل خفيه (سبل) من حقائق (يق) رأيت امرتسر (رأى تمرتسروا) والقلم (القلم) كيف الفراغة (الفراغة) اضل به النصارى (اضلبه النصارى) والجاهلين تشيعوا (الجاهلينت شيعوا) فاحضر (فاحضروا) باخ الحسين وولده اذ احصروا (باخ الحسينو لده اذا احصروا) شفيع النبى محمد (شفيع النبيم حمد) رسل الله (رسل الله) حدرنا سقائتكم (سفاننكم) فاجروا طريقتكم (طريقت كم) ففضل الرسل (الرسل) عند النوائب (النوائب) ورسل الله (رسل) فصار من القتل براز معصفراً (معصفر بناء على ان الفعل تام لكنه بمعنى الوجود والبراز لم يخرج من العدم الى الوجود ايضاً صار اليه بمعنى رجع) لبيوت مبنيه (مبنلة وهو من التبنيه وهو كما ترى) ببدر واحد (احد) وكان الصحابة (الصحابة) قاموا البذل نفوسهم (لبذلن فوسهم) من السيوف المغفر (مس يوف المغفروا ارد قواعليهم نسيوف لمغفروا) من الرسل اخر (من الرسل اخروا) وان تظهر (تظهروا) فرايتها (فاريت ها) سنابك طرفنا (بكطرفنا) عظمة ايتى (عظمت ايتى) ياابن تصلم (يبنا تصلف) فيها فضيحتكم (فضيحتكم) لتوقر (ليتوقروا) ومن هو ينصر (من هو ينصروا) لا يتأخر (لا يتاخرو) ففى هذه المأية نحو اربعين سقماً لكل من الشعرين ونصف سقم واحد بالتحائف (بالتحائيف) من عندكم (من عندكم) اين التصلف خالصه (خالصه) بجهدك (بجهدك) انت تنسج (تنسج) هو تستر (هو) ذلتنا (ذلتنا) فسيامر (فس يامروا) جدره (جدره) يتبصروا (يتبصروا) ليظهر (ليظهروا) لم نتغير (لم نتعيروا) كااللواقع (كاللوقح) انصر (انصروا) ان قصيدتى (انق صيدتى) فهذه الماية بلغت الف شعرا وفيها ستة عشر سقما لكل شعرين سقم واحد تقريباً“

تقريباً ڈیڑھ سو شعر اس قصیدہ میں اصول جلالیہ کے مطابق سقیم ہے۔ جس کی اصلاح

صفحہ ٣٨٠

ایسی بھونڈی صورت میں کی گئی ہے کہ کراہت فی السمع، تعقید لفظی، خلاف لغت نحویہ اور دخول فی اللغۃ الروئیہ سے مرزا قادیانی کی روح بھی ممکن ہے کہ ناراض ہوگئی ہوگی۔ کیونکہ اس اصلاح میں تشدید متحرک کو زیادہ دخل ہے۔ جو قصیدہ میں صرف ایک آدھ جگہ لانے سے ناظم کا عجز ظاہر کرتی ہے اور اگر اسے اپنا اصول ہی بنالیا جائے تو قصیدہ اس قابل نہیں رہ جاتا کہ قابل التفات بھی ہو۔ خمخانہ جاوید جلد اول میں اس اصول کی خوب دھجیاں اڑادی گئی ہیں۔ جب کہ ایک نیم شاعر نے لفظ ید کو مشدد باندھا تھا اور جناب مذکور صحت تشدید پر اڑ رہے تھے۔

نظم تشدید

چے خوش گفت شائق فائق غرا
چیکے شعر نادر کہ در چند وزن
شود خواندہ و شک بمعنی نباشد
نوشت ست وایں غلط اصلاً نباشد
شنید این سخن را چو گرد سخن
بگفتا کہ من شاعر خوش فکرم
چو من ہیچ مغفل گویا نباشد
ترا ہیچ شعور و ذکا نباشد
سند باد از استاد ست مارا
چوں تشدید در شعر ضرورت افتد
کہ چوں ذہن او ذہن رستانہ باشد
دراں لفظ ید را ابدال مشدو
زانشا کہ ہمسرش اصلاً نباشد
تو گلستاں راندانی درست
بکلام ہیچ خطا نباشد
تشدید صحیح چرا نباشد

قصیدہ اعجازیہ میں مرزا قادیانی نے ہیج جلالی سے پہلے ١٥٨ شعروں میں وزن عروضی سے ناواقفیت ظاہر کی ہے۔ ٣٢ جگہ اقواء ہے۔ ١٤ شعروں میں اصراف ہے۔ دو شعروں میں تاسیس ہے اور ایک شعر میں اجازہ سرقات کا الزام بھی تقریباً تیس شعروں میں نبھایا ہے۔ خلاف محاورہ

الفاظ کا استعمال متعدد جگہ ا مقابلہ کرے تو کیا کرے۔ شاعری کا کلام معلوم ہوتا میں نہ کوئی لطف ہے نہ مزید نہ متانت معانی، اس لئے ا اور آج کل مولدین کا مایہ اپنے اشعار میں شعر یمنی آجاتا ہے اور یہاں انقباض اشعار ہیں ، معلوم نہیں کہ ا

٤٤...... اہل قرآن او اس صدی کے یہ دعویٰ تھا کہ فرقہ بندی چھ اٹھائی جائیں اتنے ہی فر ایک مذہب وملت نے چھو طور پر ہمارے سامنے ہے عقائد، نئے اصول، جدید مسلمانوں کی مذہبی شیراز کرنا بہت دشوار معلوم ہو جمود وانحطاط کا الزام د وافتراق کے کچھ اثر نہیں صدائیں بلند ہو رہی ہیں دیکھا جائے تو تمام مذاہ بہانہ سے ربانی ہو اور تصرف طرایق سلوكهم گوئیوں میں اشارہ کیا تھ رنگ پکڑ کر ہندوستانیوں کی

صفحہ ٣٨١

الفاظ کا استعمال متعدد جگہ اختیار کر رکھا ہے۔ گندے مضامین اور تعلیات سے لبریز ہے۔ اب کوئی مقابلہ کرے تو کیا کرے۔ بہرحال اگر قدیم شاعری کے معیار پر اس قصیدہ کو رکھا جائے تو نو آموز شاعری کا کلام معلوم ہوتا ہے اور اگر جدید شاعری کے اصول سے تنقید کی جائے تو پھر بھی اس قصیدہ میں نہ کوئی لطف ہے نہ مزیدار استعارہ نہ معنی خیز عبارت۔ نہ تلمیحات شاعرانہ، نہ عذوبت الفاظ اور نہ رشاقت معانی، اس لئے اگر اس کو شعر تضمین سمجھا جائے جس میں اعراب کا چنداں خیال نہیں ہوتا اور آج کل مقلدین کا مایہ ناز بنا ہوا ہے تو پھر بھی شعر کی سخت ہتک ہو گی ۔ قرۃ العین کے عربی الفاظ اپنے اشعار میں بمنزلہ تضمین ہیں۔ مگر ایسے ولولہ انگیز اور پرلطف ہیں کہ ایک دفعہ پڑھنے سے لطف آجاتا ہے اور یہاں انقباض اور بے لطفی سے انسان اس نتیجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ جس میاں کے یہ اشعار ہیں، معلوم نہیں کہ اس کے دوسرے دعاوی کہاں تک درست ہوں گے؟

٢٤...... اہل قرآن اور چودھویں صدی

اس صدی کے آغاز میں فرقہ بندی کا بڑا زور ہوا اور جس قدر فرقے پیدا ہوئے سب کا یہ دعویٰ تھا کہ فرقہ بندی چھوڑ دو اٹھو خدا کا نام لو اور یہ قاعدہ ہے کہ جس قدر اتحاد کی مختلف آوازیں اٹھائی جائیں اتنے ہی فرقے پیدا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک قوم اور ہر ایک مذہب وملت نے چھوٹی چھوٹی جماعتیں بے شمار پیدا کر دی ہیں۔ ہندوستان کا میوہ پھوٹ صحیح طور پر ہمارے سامنے ہے۔ اگر ان کو اتحاد مطلوب ہوتا تو سب سے پہلے یہ ضروری تھا کہ نئے عقائد، نئے اصول، جدید امتیازات اور انوکھے اجتہادات پیدا نہ کرتے۔ مگر تحریفات جدیدہ نے مسلمانوں کی مذہبی شیرازہ بندی کو ایک ایک جزو میں منتشر کر دیا ہے اور ان کا اب ایک مرکز پر قائم کرنا بہت دشوار معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ مسلک قدیم یا مرکز قدیم کو لوگوں نے ٹھکرا دیا ہے اور اسے جمود وانحطاط کا الزام دے کر ترقی اور نئی روشنی کی راہ پکڑ لی ہے۔ جس کا نتیجہ سوائے انشقاق وافتراق کے کچھ اثر نہیں ہوا اور کھلم کھلا اسلامی تعلیم میں دست اندازی اور اس سے دستبرداری کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ گو بظاہر، اللہ اکبر کا نعرہ عنوان مذہب بنایا ہوا ہے۔ مگر جب غور سے دیکھا جائے تو تمام مذاہب جدیدہ کا مطمح نظر سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ اسلامی قیود سے کسی بہانہ سے رہائی ہو اور تصرف و تفریح میں جذب ہو کر ”الناس علی دین ملوکہم سالکون علی طرایق سلوکہم“ کا ثبوت دیں۔ غالباً جن بزرگوں نے اس صدی کے متعلق کچھ پیشین گوئیوں میں اشارہ کیا تھا اس کا مطلب یوں ہے کہ اس صدی میں انقلاب مذہبی پیدا ہو کر سیاسی رنگ پکڑ کر ہندوستانیوں کو توحش اور تمرد کی طرف لے جائے گا۔ ورنہ اسلامی ترقی آغاز صدی سے

صفحہ ٣٨٢

بند ہو چکی ہے اور اس وقت جو کچھ زعمائے قوم ہمیں امیدیں دلا رہے ہیں ان میں مذہب کا نام ونشان تک نہیں ہے۔ بلکہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ روسی تحریک یہاں بھی مذہبی تحریکات کا خاتمہ کردے گی۔ کیونکہ جس قدر آج تک اس صدی کے مذہب پیدا ہوئے ان سب کا اصلی مقصد اسلام سے رو کشی تھی اور یہی تلخ بیج آج تلخ بیل بوٹے پیدا کر رہا ہے اور تلخ پھل بہت جلد ہماری خوراک بن کر اسلامی حلاوت اور مذہبی عذوبت کو دور کرنے کو ہے۔ جیسا کہ ذیل کی تفصیل سے معلوم ہو سکتا ہے۔

پہلا مذہب جو یہاں پیدا ہوا وہ دتے شاہیہ تھا۔ جس میں مساوات، محبت، دلداری، نفس کشی کے اصول پیش کئے گئے تھے اور ان کو غلط طور پر یوں چلایا گیا کہ ہر ایک کی بیوی اور دیگر محرمات مشترکہ جائیداد ہیں۔ محبت باہمی کا تقاضا ہے کہ اپنے پیر بھائی کا احترام کیا جائے اور غیر سے اس کی حمایت میں دشمنی ہو۔ دلداری کا مقتضے ہے کہ اگر کوئی دوسرے سے بیوی بھی مستعار مانگے تو انکار نہ ہو اور نفس کشی کا یہ مطلب ہے کہ عبادات اسلامیہ سے دستبرداری کی جائے۔ کیونکہ اسلام پر عمل پیرا ہونے سے جمود تکبر، نخوت اور تحقیر کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے یہ لوگ گالیاں سننے پر خوش ہوتے ہیں۔ بھنگ نوشی نعم الغذاء ہے۔ بدن پر زن ومرد کے بال نہیں ہوتے۔ دونوں کا ایک ہی لباس ہوتا ہے۔ ڈنڈہ ہاتھ میں۔ سر ننگا اور ایک فراخ کوٹ قدم تک لٹکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ باہمی ملاقات کے وقت اللہ ہادی کا نعرہ کسا جاتا ہے۔ یہ فرقہ گجرات پنجاب میں موجود ہے اور اندر ہی اندر نا خواندہ تکیہ نشینوں میں اپنی مقناطیسی تاثیر سے روس اور جرمنی تک بھی پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے گاندھی اصول سے سن باتھ شروع کیا ہے۔ مگر اصول یہی ہیں جو ان میں تسلیم کئے گئے ہیں۔

دوم...... چیت رامی فرقہ

اس کے اصول بھی تقریباً یہی تھے۔ مگر ان میں یہ کمال تھا کہ جس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے اسی کو اپنا گرویدہ بنا لیتے۔ مگر یہ فرقہ بہت جلد ختم ہو گیا۔

سوم...... نیچری مذہب

سرسید نے تحریک جدید کو کامیاب بنانے کی خاطر فلسفہ جدید کے دلائل سے اسلام کے کئی ایک اصول کھوکھلے کر دیئے۔ مجدد کا لقب پایا، اناجیل و قرآن کا تطابق پیدا کیا۔ وفات مسیح اور انکار مہدی کا عقیدہ پھیلایا۔ معجزات کو بھونڈی صورت میں موڑ لیا۔ نبوت کو دیوانگی کی قسم قرار دیا اور امور غیبیہ میں وہ تاویلیں کیں جو آئندہ کے لئے اصول مسلمہ بن کر تمدن جدید میں جذب

صفحہ ٣٨٣

ہونے کے لئے شمع ہدایت کا کام دینے لگے اور مسلمانوں نے اس مذہب کو کئی ایک طریق سے ظاہر کیا۔ جیسا کہ ذیل کے مذاہب سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے۔

چہار...... ایران میں بہائی مذہب

ایران میں بہائی مذہب نے اسلام سے نکل کر ایک جدید دستور العمل تیار کیا۔ جس میں صاف طور پر تمدن یورپ کی دعوت تھی۔ مگر صفائی یہ کی کہ اسلام کا نام نہیں چھوڑا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ اور ایشیاء میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ بہائی مذہب قبول کئے ہوئے ہیں اور دوسرے مذاہب میں داخل ہو کر اندر ہی اندر مسلمانوں کو اسلام جدید کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ ابھی ١٩٢٥ء کا ذکر ہے کہ قادیان میں یہ لوگ محفوظ الحق علمی وغیرہ کی قیادت سے مرزائیوں میں یہ مذہب پھیلا۔ مدت تک سلسلہ تعلیم اور سلسلہ نشر واشاعت میں یہ لوگ داخل ہو کر اپنا کام کرتے رہے۔ آخر جب پردہ فاش ہوا تو خلیفہ محمود نے یکدم ان کو نکال دیا۔ مگر انہوں نے فوراً قادیانی مذہب کے خلاف کوکب ہند اخبار دہلی میں شائع کر دیا جو آج اپنے اصول کی اشاعت میں بڑی جدوجہد سے کام کر رہا ہے۔ اس کے معاوضہ میں مرزائیوں نے بھی یہ ٹھان لی ہے کہ مسلمانوں کے تعلیمی مراکز میں داخل ہو کر خواہ کتنی ہی مصیبت برداشت کرنی پڑے مگر اپنی جماعت بندی اور تفرقہ اندازی میں سر توڑ کوشش کریں گے اور یہ مسلمان ہیں کہ رواداری کے اصول کو بے جا طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنی باقی ماندہ جمعیت کو بھی غیر کے ہاتھ سے ضائع کر رہے ہیں۔

پنجم...... مرزائی مذہب

اس مذہب نے شروع میں مسلمانوں سے مل کر کام کیا۔ مگر اخیر میں کئی ایک پلٹے کھا کر مسلمانوں سے علیحدگی کا اعلان کر دیا اور اپنی مذہبی امامت قائم کر کے مسلمانوں سے ترک موالات کا قانون پاس کرایا اور ایسے الگ ہو گئے کہ ہندوؤں کی طرح بوقت ضرورت اشتراک فی العمل کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ مگر خصوصیات میں غیر کا داخلہ ممنوع قرار دیا ہوا ہے اور اس مذہب نے تفریق بین المسلمین کو یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ جس طرح ہندو مسلمانوں کو ملیچھ اور ناپاک ہستی کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بھی ان کو یہودی، خنزیر، لومڑ، سانپ، بچھو، احمق، کتے اور حرامزادے تصور کرتے ہیں۔ لیکن بھولے بھالے مسلمان پھر بھی ان کے طرز عمل کو اسلامی جذبات کا نمونہ سمجھے ہوئے ہیں اور ان کی اصلی تعلیم سے ناواقفیت کی وجہ سے قادیان کو مایہ ناز سمجھتے ہیں۔ مرزائی جماعت ایسی ہوشیار واقع ہوئی ہے کہ مرزا قادیانی کی ابتدائی تعلیم کہ جس سے ان کی موجودہ تعلیم

صفحہ ٣٨٤

مسترد ہو سکتی تھی۔ بالکل بند کر دی ہے اور اس کی نشرواشاعت کا سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔ درمیانی تعلیم جو ١٩٠٠ء سے شروع ہے۔ البتہ اس کا اظہار جزوی طور پر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں مرزا قادیانی متردد نظر آتے ہیں کہ میں نبی ہوں یا کچھ اور؟ آخری تعلیم جو ١٩٠١ء سے شروع ہوتی ہے۔ اس کی اشاعت پر بہت زور دیا جاتا ہے اور اسی کی بدولت اس مذہب میں بھی پھوٹ پڑی ہوئی ہے۔ لیکن موجودہ تعلیم جو خیالات محمودیہ پر مشتمل ہے۔ اس نے آخری رنگ بدلا ہوا ہے اور مرزائیت کا وہ مفہوم پیدا کیا ہے جو نہ خلیفہ اوّل حکیم نور الدین صاحب کو سوجھا تھا اور نہ خود مرزا قادیانی ہی اس پر زور دیتے تھے اور خوبی یہ ہے کہ تعلیم محمودیہ بھی دو قسم ہے۔ اوّل خاص تعلیم جو دائرہ بیعت تک ہی محدود رہتی ہے۔ دوسری تعلیم کہ جس میں رواداری کا پہلو ظاہر کیا ہوا ہے اور مسلمانوں کو شکار کرنے کے لئے دام تزویر کا کام دیتی ہے۔

ششم ...... اہل قرآن

اس مذہب کا بانی مولوی غلام نبی المعروف عبداللہ چکڑالوی تھا۔ موضع چکڑالہ ضلع کیمبلپور میں جب حدیث کی تکمیل دہلی سے کر آیا تو وعظ و نصیحت میں عوام الناس کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ دو دفعہ مخالفین نے اسے زہر بھی دیا۔ مگر حسن قسمت سے بچ گیا۔ لاہور مسجد چینیاں میں جب مولوی رحیم بخش وفات پا گئے تو اسے امام مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ تک تدریس حدیث اور وعظ سے اہل حدیث کو خوش کیا۔ مگر اخیر میں صرف صحیحین مسلم و بخاری کی تعلیم پر تدریس کو محدود کر دیا۔ دوسرے سال اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح البخاری سنا کر صحیح مسلم کا درس بھی بند کر دیا۔ چند ایام کے بعد قرآن شریف کے ساتھ صحیح بخاری کا توازن شروع کر دیا کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہے۔ قابل تسلیم نہیں ہے اور اپنے خیال کے مطابق بہت سا حصہ ناقابل عمل قرار دیا۔ اس کے بعد اعلان کر دیا کہ جب قرآن شریف میں ہر ایک چیز کی تفصیل موجود ہے تو حدیث کی مطلقاً ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب قرآن شریف سے احکام کا استنباط شروع کر دیا اور ایک تفسیر لکھی۔ جس میں قرآنی شواہد سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور لوگوں کو صرف اپنے خیالات کی دعوت دی۔ اب مقتدی دو فریق ہو گئے۔ فریق مخالف نے دوسرا امام منتخب کر لیا۔ اب روزانہ جنگ و جدل شروع ہو گیا اور ایک وقت میں دو دو جماعتیں ہونے لگیں۔ مگر اہل قرآن کا منبر اہل حدیث کے بعد تھا۔ جمعہ بھی اسی طرح ادا کرتے رہے۔ جب حدیث کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میرا اصلی مطلب تو عمل بالقرآن ہی تھا۔ مدت تک کتوں کو ہڈی ڈالتا رہا ہوں۔ اب خدا نے مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا موقعہ دیا ہے۔ اس پر اہل حدیث بہت برہم ہوئے اور زبردستی سے وہاں سے

صفحہ ٣٨٥

مسترد ہو سکتی تھی۔ بالکل بند کر دی ہے اور اس کی نشر و اشاعت کا سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔ درمیانی تعلیم جو ١٣٠٠ھ سے شروع ہے۔ البتہ اس کا اظہار جزوی طور پر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں مرزا قادیانی متردد نظر آتے ہیں کہ میں نبی ہوں یا کچھ اور؟ آخری تعلیم جو ١٩٠١ء سے شروع ہوتی ہے۔ اس کی اشاعت پر بہت زور دیا جاتا ہے اور اسی کی بدولت اس مذہب میں بھی پھوٹ پڑی ہوئی ہے۔ لیکن موجودہ تعلیم جو خیالات محمودیہ پر مشتمل ہے۔ اس نے آخری رنگ بدلا ہوا ہے اور مرزائیت کا وہ مفہوم پیدا کیا ہے جو نہ خلیفہ اول حکیم نور الدین صاحب کو سوجھا تھا اور نہ خود مرزا قادیانی ہی اس پر زور دیتے تھے اور خوبی یہ ہے کہ تعلیم محمودیہ بھی دو قسم ہے۔ اوّل خاص تعلیم جو دائرہ بیعت تک ہی محدود رہتی ہے۔ دوسری تعلیم کہ جس میں رواداری کا پہلو ظاہر کیا ہوا ہے اور مسلمانوں کو شکار کرنے کے لئے دام تزویر کا کام دیتی ہے۔

ششم ...... اہل قرآن

اس مذہب کا بانی مولوی غلام نبی المعروف عبداللہ چکڑالوی تھا۔ موضع چکڑالہ ضلع کیمبلپور میں جب حدیث کی تکمیل دہلی سے کر آیا تو وعظ و نصیحت میں عوام الناس کو کافر کہنا شروع کر دیا۔ دو دفعہ مخالفین نے اسے زہر بھی دیا۔ مگر حسن قسمت سے بچ گیا۔ لاہور مسجد چینیاں میں جب مولوی رحیم بخش وفات پاگئے تو اسے امام مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ تک تدریس حدیث اور وعظ سے اہل حدیث کو خوش کیا۔ مگر اخیر میں صرف صحیحین مسلم و بخاری کی تعلیم پر تدریس کو محدود کر دیا۔ دوسرے سال اصح الکتب بعد کتاب اللہ صحیح البخاری سنا کر صحیح مسلم کا درس بھی بند کر دیا۔ چند ایام کے بعد قرآن شریف کے ساتھ صحیح بخاری کا توازن شروع کر دیا کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہے۔ قابل تسلیم نہیں ہے اور اپنے خیال کے مطابق بہت سا حصہ ناقابل عمل قرار دیا۔ اس کے بعد اعلان کر دیا کہ جب قرآن شریف میں ہر ایک چیز کی تفصیل موجود ہے تو حدیث کی مطلقاً ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب قرآن شریف سے احکام کا استنباط شروع کر دیا اور ایک تفسیر لکھی۔ جس میں قرآنی شواہد سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور لوگوں کو صرف اپنے خیالات کی دعوت دی۔ اب مقتدی دو فریق ہو گئے۔ فریق مخالف نے دوسرا امام منتخب کر لیا۔ اب روزانہ جنگ و جدل شروع ہو گیا اور ایک وقت میں دو دو جماعتیں ہونے لگیں۔ مگر اہل قرآن کا نمبر اہل حدیث کے بعد تھا۔ جمعہ بھی اسی طرح ادا کرتے رہے۔ جب حدیث کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میرا اصلی مطلب تو عمل بالقرآن ہی تھا۔ مدت تک کتوں کو ہڈی ڈالتا رہا ہوں۔ اب خدا نے مجھے اپنے خیالات کے اظہار کا موقعہ دیا ہے۔ اس پر اہل حدیث بہت برہم ہوئے اور زبردستی سے وہاں سے

نکال دیا گیا۔ محمد بخش عرف میاں چنو پٹولی کے مکان میں پناہ لی۔ وہ مکان طویلہ کی شکل (بازار سریانوالہ) میں تھا۔ اس کو اپنی مسجد بنا لیا۔ کچھ عرصہ بعد میاں چنو بھی مخالف ہو گئے اور اعلان کیا کہ مولوی صاحب بھی تقلید قدیم سے پورے طور پر نکل کر استنباط احکام نہیں کر سکتے۔ اس لئے مولوی صاحب ایک نواب صاحب کے پاس ملتان چلے گئے۔ وہاں جا کر لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو مشتبہ حالت میں دیکھا گیا تو سنگباری سے نیم مردہ ہو کر واپس چکڑالے آ گئے اور کچھ عرصہ بیمار ہو کر وہیں وفات پائی۔ بہر حال اس مذہب نے مختلف عنوانات سے شیوع پکڑا۔ گوجرانوالہ میں اہل قرآن کی جمعیت تیار ہو گئی۔ جنہوں نے آپ سے بڑھ کر احکام میں تبدیلی پیدا کی۔ گجرات پنجاب میں بھی ایک جماعت کھڑی ہو گئی۔ جنہوں نے صرف تین نمازیں تجویز کیں۔ رفتہ رفتہ لاہور، امرتسر میں اس مذہب نے قدم جمالئے۔ چنانچہ اب تک بازار سریانوالہ میں امام مسجد ملا قرآنی کا خاندان ہی چلا آتا ہے اور امرتسر میں میاں احمد دین صاحب نے اپنی جماعت کا نام امتہ مسلمہ رکھا اور ایک بسیط تفسیر لکھی کہ جس میں موجودہ خیالات کو داخل کیا اور قرآن شریف کا وہ مفہوم تراش کر پیش کیا جو اسلامی تعلیم سے کوسوں دور تھا۔ مگر چونکہ آپ متوسط الحال ہیں۔ اس لئے آپ کو اپنی تفسیر بیان للناس کی اشاعت رسالہ بلاغ کے ذریعہ سے بہتر معلوم ہوئی اور اس رسالہ میں دوسرے ہم خیال بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگے تو ابتدائی اشاعتوں میں یہ ظاہر کیا گیا کہ اطاعت الرسول کوئی چیز نہیں ہے اور جو شخص خدا کے ساتھ حضور ﷺ کو حاکم یا شارع تصور کرتا ہے۔ وہ شرک فی التوحید کا مرتکب ہے اور ایک تمثیل میں اطاعت رسول کو زنا کے برابر بھی ظاہر کیا۔ جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے تحریری مباحثہ کیا۔ جس میں ہر دو فریق نے اپنی اپنی جیت سمجھی۔ بہر حال اس رسالہ کی اشاعت سے جو عقائد شائع کئے گئے ہیں۔ سب کا بنیادی اصول صرف یہی ہے کہ اطاعت رسول شرک فی التوحید ہے۔ نماز اس قدر فرض نہیں ہے۔ جیسا کہ اسے سمجھا گیا ہے۔ وضو، غسل جنابت، زکوٰۃ اور جماعت بھی چنداں ضروری نہیں ہیں۔ مردہ کو جلا دینا بھی جائز ہے۔ تعدد ازدواج ممنوع ہے۔ دہلی کے اہل قرآن صرف تین روزے بتلاتے ہیں۔ بلاغ میں ایک دفعہ یہ بھی شائع ہوا تھا کہ سورج کو قبلہ بنایا جائے۔ تردید احادیث میں ہر ایک اشاعت میں خاص اہتمام ہوتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو صرف معمولی انسان سمجھ لیا گیا ہے اور بڑے زور سے ان کو گنہگار غلط کار اور جوابدہ تصور کیا گیا ہے۔ جس سے آریہ مذہب کو بہت تقویت پہنچ گئی ہے اور یہ لوگ مقابلہ میں آ کر آریہ کی تائید میں بہت کوشش کرتے ہیں۔ ان کے بیرونی خیالات بہت دلربا ہیں۔ مگر جوں جوں اندرونی خیالات کا انکشاف ہوتا ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی

صفحہ ٣٨٦

ہے کہ یہ جماعت اسلامی احکام اور اسلامی تفصیلات سے جی چرا کر کھڑی ہوئی ہے اور چونکہ قرآن شریف میں طریق تعمیل احکام مذکور نہیں ہے۔ اس لئے اس کی آڑ میں تمام تفصیلات سے روکش ہو بیٹھے ہیں۔ آیات قرآنی کے مفاہیم میں قطع و برید کر کے موجودہ تمدن یورپ کی اصلاحات کو قرآن شریف سے استخراج کر لیا ہے۔ بابی مذہب کی طرح انہوں نے بھی گویا اسلام کا خاتمہ کر دیا ہے اور وہی احکام جاری کر دیئے ہیں جو بابیوں اور بہائیوں نے جاری کئے ہیں۔ صرف فرق اتنا ہے کہ انہوں نے صاف لفظوں میں قرآن کو منسوخ کر دیا ہے اور یہ لوگ تحریف کے ذریعہ سے اسلام کو خیر باد کہہ رہے ہیں۔

ہفتم..... مذہب مصطفائی

غازی مصطفیٰ کمال پاشا کے ہم خیال سلطان عبدالحمید کے عہد سے کوشش کر رہے تھے کہ اسلامی قیود سے کسی طرح رہائی حاصل کی جائے۔ اس وقت اس جماعت کا اصول حریت، عدالت اور مساوات تھا۔ رفتہ رفتہ خلافت اسلامیہ کے نام مٹانے میں انہوں نے بڑی جدوجہد کے ساتھ یہاں تک نوبت پہنچا دی کہ مصطفیٰ کمال پاشا کو جو ایک سکول ماسٹر تھا۔ اپنا بادشاہ مقرر کر دیا اور چونکہ عرصہ دراز سے اسلامی خون کی بجائے ترکوں میں آباؤ اجداد سے یورپین خون دورہ کر رہا تھا اور وہی لوگ ان کے میکے ددھیال اور ننھیال بن چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے اپنے اقتدار کے وقت اسلام کو چھوڑ دیا اور صاف کہہ دیا کہ ہم یورپ کے صرف اس لئے دشمن ہیں کہ ہم نے اسلامی قوانین کی پابندی کو رواج دیا ہوا ہے۔ فوراً روس اور اطالیہ سے سیاسی اور مذہبی اصول منگوا کر اپنا دستور العمل تیار کیا۔ اسلامی تعلیم اور قرآنی احکام کو یہ سمجھ کر چھوڑ دیا کہ مذہب اسلام چند روایات کا نام ہے جو خاص رفتار زمانہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس لئے آج قرآن کے اصول اس قابل نہیں رہے کہ ان پر عمل پیرا ہو کر ترقی حاصل کی جائے۔ بہر حال جمہوریت کی آڑ میں تجبر و استبداد کے ذریعہ بہائی مذہب کے اصول اور یورپ کا تمدن واجب العمل قرار دیا گیا۔ غریب مسلمانوں کو قتل بیدریغ سے تباہ کیا گیا۔ محمد رسول اللہ ﷺ کے نام لیواؤں کو اس بیدردی سے بے خانماں کر دیا کہ عیسائیوں نے بھی اندلس میں مسلمانوں سے ایسا برتاؤ نہیں کیا تھا۔ بزور شمشیر تعدد ازدواج کو بند کیا گیا۔ ہیٹ اور پینٹ (پتلون) لازمی قرار دے کر نماز روزہ سے روک دیا گیا۔ مذہبی تعلیم بند کر دی گئی۔ مسجدیں گرا دی گئیں۔ فریضہ حج کے ادا کرنے سے حکومت نے دستبرداری کی۔ مردے جلائے گئے۔ ایوان خلافت میں ناچ گھر تیار کئے گئے۔ تھیٹر اور سینما کو فروغ دیا گیا۔ اسلامی پردہ کو جمود اور دشمن صحت تصور کر کے علانیہ مستورات کو نچایا گیا۔ اب یہ

صفحہ ٣٨٧

حالت ہے کہ صبح کے وقت جہاں اللہ اکبر کی آواز سے اسلام کی شان نظر آتی تھی وہاں پیانو اور گراموفون یا گرجہ کی ٹن ٹن سنائی دیتی ہے اور جو لوگ ابھی تک نماز روزہ کے پابند ہیں۔ ان کو اس تحقیر سے دیکھا جاتا ہے کہ عیسائی بھی مسلمانوں کو اس نظر سے نہیں دیکھتے۔ یہ لوگ جب مر جائیں گے تو حکومت کی طرح رعایا بھی عیسائی نما دعویدار اسلام باقی رہ جائے گی۔ خدا کی شان ہے کہ فتنہ ارتداد ہندوستان سے اٹھا تھا۔ مگر اس کا نشو و نما ترکی میں جا ہوا۔ غازی امان اللہ نے بھی یہی بہائی مذہب افغانستان میں پھیلانا چاہا تھا۔ مگر کامیاب نہ ہو سکا اور لوگوں کے دل میں یہ حسرت چھوڑ کر رخصت ہو گیا کہ ہائے اگر آہستہ آہستہ اسلام سے روکشی کرتا تو ضرور کامیاب ہو جاتا۔ مگر عجلت سے اس کو اپنا تخت ہی چھوڑنا پڑا۔ حکومت ایران نے آہستہ آہستہ ترکِ اسلام کی تعلیم شروع کر دی ہے۔ وہ دن دور نہیں ہے کہ ترکی اور ایران پورے طور پر دونوں بہائی مذہب کے پیرو بن جائیں گے۔

ہشتم...... آزاد مذہب

اس دور انقلاب میں جدت پسند لوگوں نے اپنا شعار مذہبی لفظ آزاد بنا لیا ہے۔ جس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ کچھ تقلید سے آزاد ہیں۔ کچھ پابندی اسلام سے آزاد ہیں۔ کچھ افراد نسبت مذہبی سے آزاد ہیں۔ جو صرف مسلمان کہلانے کے مشتاق ہیں۔ ان کے نزدیک مذہب تفرقہ کا نام ہے۔ کچھ اسلام سے آزاد ہیں۔ ان کے نزدیک ہر ایک مذہب و ملت قابل تحسین ہے اور دستور العمل بننے کے لئے سوائے تمدن جدیدہ کے کوئی حقدار نہیں ہے۔ سب بانیان مذہب ان کے ہاں لفظوں میں قابل احترام ہیں۔ لیکن واجب الاطاعۃ اس وقت صرف اپنی رائے ہے۔ بہر حال آزادی کے شیدائی بہائی مذہب کے بہت مشابہ ہیں۔

٢٥...... تردید مذاہب جدیدہ

جواب: جس معنی میں اسے مفصل سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس میں احکام کی بجا آوری اور ان کے صحت و سقم کے حالات بھی درج ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے۔ ہاں اجمال کے مقابلہ میں اسے مفصل کہنا بیشک صحیح ہے۔ کیونکہ جس مسئلہ کو قرآن نے لیا ہے۔ اس میں اجمال نہیں رکھا۔ یہی صفت تورات میں بھی تھی۔ اسے بھی مفصل کہا گیا ہے۔ ورنہ تمام تشریحات کی متکفل نہ وہ ہے نہ یہ ہے۔

صفحہ ٣٨٨

جواب: تبیان سے مراد یہ ہے کہ اس میں امر مشتبہ یا کوئی حکم ایسا مجمل نہیں چھوڑا گیا کہ جس کے سمجھنے میں ہمیں دقت ہو۔ ورنہ خود قرآن میں دو قسم کے آیات مذکور ہیں۔ محکم اور متشابہات، مقطعات قرآنیہ ابھی تک لاینحل پڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت اور مجاز کے الفاظ بھی بکثرت موجود ہیں۔ اب ان اقسام کے ہوتے ہوئے ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب ساری کی ساری مشرح ہے۔ یہی وجہ تھی کہ حضورﷺ کو ”لتبینہ للناس“ کا عہدہ سپرد ہوا۔ ورنہ ہر ایک کو خود احکام اخذ کرنے کا حکم ہوتا۔

جواب: سب سے پہلے خود حضورﷺ کو حکم ہوا کہ: ”لتبینہ للناس“ پھر حضورﷺ کی شان بتائی ہے کہ: ”ویعلمہم الکتاب والحکمۃ“ پھر حکم ہوتا ہے کہ: ”فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون“ اب تعلیم نبوی، بیان نبوی، حکمت نبوی اور استنباط احکام و ارشادات اہل علم کا ذخیرہ ہمارے پاس موجود ہے۔ اسے نظر انداز کر کے ہم نئے سرے سے اگر فہم قرآن کی کوشش کریں گے تو خود قرآن کے خلاف ہوگا۔

آسان ہے۔

جواب: اس میں کیا شک ہے۔ مگر اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ تمام تشریحات بھی اس میں مذکور ہیں اور اس کا یہ معنی بھی ہے کہ قرآن شریف حکمت و معرفت کا خزانہ ہے۔ ”للذکر“ اسی واسطے کہا ہے۔ ورنہ للقراءۃ کا لفظ ہوتا۔

ضرورت ہوگی؟

جواب: اگر یہی مراد ہے تو اہل قرآن نے کیوں تفسیریں لکھی ہیں اور ان کی تفسیر بیان للناس اس قدر ضخیم ہے کہ ہزاروں صفحات تک چلی گئی ہے۔ اہل بصیرت کا قول ہے کہ واقعی قرآن شریف اپنے بیان میں ظاہر تھا۔ مگر انہوں نے اسے خواہ مخواہ ظاہر سے پھیر کر ایک چیستان بنادیا ہے۔ کوئی آیت نہیں چھوڑی کہ جس کو تحریف کر کے موجودہ اصول فلسفہ کی طرف متوجہ نہ کیا گیا ہو اور ایسے معانی مراد لئے گئے ہیں کہ جن کا تعلق بظاہر اسلام سے کچھ بھی نہیں ہے اور ایسے پیچیدہ ہیں کہ بڑے غور کے بعد معما کی طرح سمجھ میں آتے ہیں اور ان کے مراد لینے سے قرآن

صفحہ ٣٨٩

یہ ہے کہ اس میں امر مشتبہ یا کوئی حکم ایسا مجمل نہیں چھوڑا ورنہ خود قرآن میں دو قسم کے آیات مذکور ہیں۔ محکم اور مجمل پڑے ہوئے ہیں۔ حقیقت اور مجاز کے الفاظ بھی ہوتے ہوئے ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب ساری کی کہ "لتبینہ للناس" کا عہدہ سپرد ہوا۔ ورنہ ہر ایک کو

قرآن سے احکام اخذ کرنے میں کافی ہیں؟ حضورﷺ کو حکم ہوا کہ: "لتبینہ للناس" پھر لمہم الکتاب والحکمة" پھر حکم ہوتا ہے کہ: لا تعلمون" اب تعلیم نبوی، بیان نبوی، حکمت نبوی اور ہمارے پاس موجود ہے۔ اسے نظر انداز کر کے ہم نئے گے تو خود قرآن کے خلاف ہوگا۔ ا القرآن للذکر" سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف

ہے۔ مگر اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ تمام تشریحات بھی اس آن شریف حکمت ومعرفت کا خزانہ ہے۔ "للذکر"

شنی " یہ بھی قرآن شریف ہی ہے تو پھر اور بیان کی کیا

و اہل قرآن نے کیوں تفسیریں لکھی ہیں اور ان کی تفسیر فحات تک چلی گئی ہے۔ اہل بصیرت کا قول ہے کہ واقعی انہوں نے اسے خواہ مخواہ ظاہر سے پھیر کر ایک چیستان کو تحریف کر کے موجودہ اصول فلسفہ کی طرف متوجہ نہ کہ جن کا تعلق بظاہر اسلام سے کچھ بھی نہیں ہے اور ایسے رح سمجھ میں آتے ہیں اور ان کے مراد لینے سے قرآن

سب کا سب مشکل اور پہیلی بن گیا ہے۔ اہل سنت کا یہ مذہب ہے کہ قرآن شریف اپنے معانی میں ظاہر الدلالۃ ہے۔ مگر مذاہب جدیدہ نے اسے پھیر کر خفی الدلالۃ بنا دیا ہے۔

جواب: ہاں بتایا کرتا تھا اور آپؐ کے بعد آپؐ کا فہم قرآن جو امت محمدیہ نے ہمارے تک پہنچایا ہے وہ بیان کرتا چلا آیا ہے۔ کیونکہ کتاب آسمانی کا بیان "لتبینہ للناس" کے حکم سے نبی کے سپرد ہے۔ اب جو لوگ اس کا مفہوم بدلنے بیٹھے ہیں یا تو خود نبی ہونے کے مدعی ہیں۔ جیسا کہ مسیح ایرانی اور مسیح قادیانی ہو گزرے ہیں اور یا اہل قرآن ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فہم قرآن ان کو ہی خدا نے عطاء کیا ہے۔ بقول شخصے عبداللہ چکڑالوی اپنے خاص مریدوں میں یا نبی اللہ سے مخاطب ہوتا تھا اور مولوی احمد دین صاحب بھی تفہیم الہیہ کے دعویدار ہیں۔ بلاغ میں لکھتے ہیں کہ: "جب ہمیں خدا نے فہم قرآن بخشا ہے تو ہم کیوں نہ دوسروں کے اغلاط کی تصحیح کریں۔" اور یہ قرین قیاس بھی ہے کہ جو شخص آج تحریف کرنے بیٹھتا ہے وہ ضرور مامور من اللہ ہونے کا مدعی ہوتا ہے۔ خواہ اس کا اظہار کرے یا نہ کرے۔ کیونکہ اس نے منصب نبوت پر چھاپہ مارا ہے اور اپنی امت الگ تجویز کی ہے۔

جواب: کیا اہل قرآن کے فہم قرآن میں اختلاف نہیں ہے؟ کسی نے قبلہ سورج تجویز کیا ہے۔ کسی نے شطر کعبہ، کسی نے ایک نماز تجویز کی ہے۔ کسی نے دو یا تین اور کوئی پانچ نمازوں کا قائل ہے۔ کوئی باجماعت پڑھتا ہے اور کوئی راستہ میں چلتے چلتے پڑھنے کا قائل ہے۔ کسی کے ہاں نماز جنازہ جائز ہے اور کوئی اسے انسان پرستی سمجھتا ہے اور کوئی احادیث نبویہ کو تحریف کتاب اللہ سمجھتا ہے اور کوئی اپنے خیال میں بعض احادیث کو قرآن کی تشریح سمجھ کر مان بھی لیتا ہے۔ آپس میں ان مدعیان نبوت نے ایسا اودھم مچا رکھا ہے کہ غیر جانبدار کی نظر میں کتاب اللہ کی دھجیاں اڑانے والے ثابت ہو رہے ہیں اور غیر اقوام کی نظروں میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ قرآن کا کوئی صحیح مفہوم ابھی تک فیصلہ نہیں پاچکا۔ اس لئے وہ خدا کا کلام نہیں ہوسکتا۔ اس لئے اسلام کا فیصلہ ہے کہ ایسے محرفین کی جماعت کا قلع قمع جب تک نہ ہوگا۔ اسلام چین کی زندگی بسر نہیں کرسکے گا۔

صفحہ ٣٩٠

جواب: مگر ساتھ ہی ایسے محرفین کا بھی علاج ہوتا رہا ہے۔ اب اسلامی طاقت اور اسلامی خلافت مفقود ہوچکی ہے تو اسلامی اعمال سے دل چرانے والوں نے اپنی آزادی اور بدعملی کو چھپانے کی خاطر قرآن کو ہی اپنے طرز عمل کے مطابق گھڑنا شروع کیا ہے۔ تاکہ ان کی غیر شرعی حالت پر کوئی معترض نہ ہوسکے۔ اس کی بنیاد تمدن یورپ کی محبت ہے کہ جس نے مسلمانوں کو اس طرح متوجہ کیا ہے کہ قرآن کو توڑ موڑ کر اس کے مطابق کیا جائے اور یہ جرات نہیں دکھائی کہ اس تمدن میں ہی اصلاح کریں۔ ہمارے اسلاف کرام نئے خیالات کا خوب مقابلہ کرتے چلے آئے ہیں اور یہ لوگ جو نئی روشنی میں جذب ہو چکے ہیں۔ خود قرآن پر ہاتھ صاف کرنے بیٹھ گئے ہیں اور ثابت کر رہے ہیں کہ ان کو اسلام سے محبت ذرہ بھر نہیں ہے۔ ورنہ یہ جانبازی نہ دکھاتے۔

جواب: کسی حد تک اسلام نے بھی اس اصول کو تسلیم کیا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ تمدن یورپ میں جذب ہو کر یہ مطابقت برتی جائے۔ بلکہ اس کا یہ مطلب تھا کہ محبت اسلام میں اور عشق رسول میں اور اتباع سلف میں مستغرق ہو کر احادیث کا موازنہ کیا جائے کہ آیا وہ اسوہ حسنہ، اسوہ نبویہ اور سبیل المؤمنین کے مطابق ہیں یا نہیں؟ تاکہ صحیح اور موضوع احادیث میں فرق ظاہر ہو جائے اور یہ آپ کو معلوم رہنا چاہئے کہ جب تدوین احادیث کا امر مہم پیش آیا تھا تو غیر اقوام نے بھیس بدل کر موضوع احادیث بھی کہنی شروع کر دی تھیں۔ لیکن اس وقت نقادان حدیث نے موضوعات کو الگ کر دیا تھا اور غیر موضوع احادیث کے ضعف و قوت پر اصول مقرر بھی کر دیئے تھے۔ جس کے طفیل اصول حدیث کا علم ایجاد ہو کر ہمارے سامنے آج موجود ہے اور جس قدر احادیث کے متعلق بحث و تمحیص کی ضرورت تھی ائمہ اسلام نے اس کو اخیر تک پہنچا دیا تھا۔ اب کوئی حدیث ہمیں نہیں ملتی کہ ان کے زیر تنقید نہ آ چکی ہو۔ یا جس کی تنقید وہ نہ کر چکے ہوں۔ جو شخص آج تنقید کا کام اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے وہ خادم اسلام نہیں ہے۔ بلکہ وہ خادم تنصر اور تابع احکام یورپ ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسلامی قیود سے نکل کر دہریت آباد میں اس طرح پہنچ جاؤں کہ میرے بجائے اسلام مطعون ہو جائے تو بہتر ہے۔ ورنہ میری متانت اور اظہار خلوص میں کوئی فرق نہ آنے پائے۔ مگر تاڑنے والے بھی غضب کی نگاہ رکھتے ہیں۔ وہ جھٹ تاڑ جاتے ہیں کہ میاں صاحب کو کون سا سانپ ڈس گیا ہے؟

صفحہ ٣٩١

جواب: قرآن شریف میں صاف آیا ہے کہ: ”فاقبره“ خدا نے حکم دیا ہے کہ انسان کو قبر میں دفن کیا جائے۔ لغت عرب میں اقبار کا معنی یہی کیا ہے کہ مردہ کو قبر میں دفن کرنے کا حکم دیا جائے۔ جیسا کہ: ”قال ابن قتیبه ، واقبرت الرجل امرت بان يقبر قال الله تعالیٰ عزوجل ثم اماته فاقبره وقبرته دفنته (ادب الکاتب ص ٢٦٠) “ آج اگر ترکی نے یا اہل قرآن نے اسے غیر ضروری سمجھا ہے تو صاف قرآن سے انکار ہے۔ جس کا اعتراف صاف لفظوں میں حکومت ترکی نے بارہا کر دیا ہوا ہے اور اہل قرآن اندر سے معترف ہورہے ہیں۔

کیا معنی؟

جواب: یہ اعتراض تو ”لا تقربوا الصلوٰۃ “ کی طرح ہے۔ ورنہ صاف ہے کہ حضور ﷺ اپنی طرف سے احکام شرعیہ کے رائج کرنے والے نہ تھے۔ حضور ﷺ جس طرح وحی کے پہنچانے والے تھے۔ اسی طرح مسلمانوں کے ولی برحق بھی تھے۔ ”النبی اولی بالمؤمنین من انفسہم “ اور ایسے ولی برحق تھے کہ جس کا قبضہ مسلمانوں کی جان پر خود ان سے زیادہ تھا۔ اس لئے جس طرح چاہتے تھے اپنی ذاتی حیثیت سے بھی ہماری اصلاح میں قوانین وضع کرتے۔ اسی طرح آپ ہم پر سلطنت کرنے کے بھی حقدار تھے۔ ”اولی الامر منکم “ بحیثیت سلطان وقت اور حاکم وقت ہونے کے ہم آپ کی رعایا ہیں۔ آپ جیسے چاہیں اصلاح ملک اور اصلاح تمدن کے احکام جاری فرما سکتے تھے۔ اسی طرح آپ ہمارے امام، پیشوا اور رہبر بھی ہیں۔ ”ولکم فی رسول الله اسوۃ حسنۃ “ ہمارا فرض ہے کہ جس طریق سے اور جس طرز عمل سے حضور ﷺ نے وحی الٰہی کا خیر مقدم کیا ہے۔ اسی طرح ہم بھی آپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں اور جو ہدایات احادیث نبویہ نے یا جو طرز عبادت آپ سے منقول ہے۔ اسے ہم شمع ہدایت سمجھ کر مدارج عبودیت کے راستے طے کرتے چلے جائیں۔ اسی طرح آپ کا طرز عمل اور آپ کے ارشادات مبارکہ کی تابعداری ہماری عقیدت مندی اور ہمارے صحیح اسلام کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ ”ان کنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله“ پس اگر اب ہم حضور ﷺ سے نقل شدہ فہم قرآن یا طریق معاشرت میں قیل کرتے ہوئے سرسوں بھی ادھر ادھر ہوں تو یہ سمجھ لو کہ خدا کے ہاں ہمیں قبولیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ لعنت کا طوق ہمارے گلے میں پڑ جانے کا خطرہ ہے۔ اسی

صفحہ ٣٩٢

طرح حضور ﷺ کے تقدس اور ذاتی کمالات نبوت کا احترام بھی ہم پر فرض ہے۔ ”تُعَزِّرُوہُ وَتُوَقِّرُوہُ“ اور اگر ہم حضور ﷺ کے ذاتی ارشاد کے خلاف بھی کرتے ہیں تو حبط اعمال کا خوف دامنگیر ہو جاتا ہے۔ ”اَن تَحبَطَ اَعمَالُکُم“ اور یہ درجہ صرف تقدس محض کا ہے۔ جو درجہ حکومت اور سلطنت کے اوپر ہوتا ہے۔ کیونکہ حاکم وقت کے خلاف میں حبط اعمال کی تخویف نہیں دلائی گئی۔ اسی طرح ہمیں حکم ہے کہ حضور ﷺ کی بلائیں لیتے رہیں۔ ”صلوا علیہ وسلموا تسلیما“ جس سے کمال محبت اور استغراق فی اتباع الرسول کا موازنہ ہوسکتا ہے۔ انسان جس قدر حضور ﷺ کی محبت دل میں رکھتا ہے۔ اسی قدر حضور ﷺ پر درود و سلام بھیجنے پر اپنا وقت صرف کرتا ہے اور جس قدر آپ کی محبت سے دور ہوتا ہے اسی قدر اس کو درود و سلام سے نفرت ہوتی ہے۔ کیا اہل قرآن یا مرزا کے تابعداروں میں یہ صفت موجود ہے؟

جواب صاف ظاہر ہے کہ ان کو تو رات دن پیغمبران یورپ کی بلائیں لینے کا خبط سمایا ہوا ہے۔ وہ کیا جانیں کہ شان رسول کیا ہے؟ حضور ﷺ صرف وحی رسان ہی نہیں ہیں۔ بلکہ آپ کی شان کہیں بڑھ کر ہے۔ ”لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودة فی القربی“ پڑھو دیکھو کہ حضور ﷺ کی ذات بابرکات اور حضور ﷺ کے خویش واقارب کے ساتھ کس طرح مؤدت اور اتحاد کا حکم ہے۔ قریش آپ سے بغض رکھتے تھے۔ ان کو حکم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ اور آپ کے اہل بیت تمہارے قریبی رشتہ دار ہیں۔ ان سے مؤدت اور محبت پیدا کرو۔ کیا امت محمدیہ اس حکم سے سرتابی کرنے کی مجاز ہے؟ اگر حضور ﷺ کی محبت ہمارے دل میں نہیں ہے تو ہمارا ایمان قرآن پر مطلقاً نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی شان رسالت ہمارے لئے بہت کچھ ساتھ لئے ہوئے ہے۔ امامت مطلقہ، سلطنت مطلقہ، ولایت عامہ، رحمت عامہ، رأفت، تعلیم، کتاب تعلیم، حکمت، تقدس ذاتی، استحقاق، مؤدت، اتباع میں ترقی درجات، خلاف ورزی میں حبط اعمال، روحانیت، ابوت، وجوب عزت وتوقیر، استحقاق سلام وتحیات امت اور ہر کام میں ہمارے لئے سراج منیر صاحب اسوہ حسنہ، نمونہ اطاعت وحی اور باب الوصول الیٰ اللہ ہیں۔ اگر آیت معراج میں غور کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ حضور ﷺ کی وہ شان ہے کہ شب معراج میں حضور ﷺ کو آیات کبریٰ دکھلائی گئیں۔ قاب قوسین کا درجہ عطاء ہوا۔ مازاغ البصر کا رتبہ پایا۔ ما کذب الفؤاد ما رایٰ کا اعزاز حاصل کیا اور عبدہ کی شان حاصل کی۔ یہ چند خصوصیات ہیں جو اس وقت سپرد قلم کی گئی ہیں۔ ورنہ ہزاروں ایسے فضائل ہیں جو ہمارے اسلاف کرام نے مستقل کتابوں میں

صفحہ ٣٩٣

بیان کئے ہیں۔ (دیکھو شفائے قاضی عیاض، مدارج النبوۃ، جذب القلوب، خصائص کبریٰ وغیرہ) جن کے دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضورﷺ کی شان درجہ رسالت کے علاوہ بھی ایسی ہے کہ ہم آپ کے افعال اقوال کی پیروی میں ہی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ ورنہ ہمیں اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہ جاتا۔

اطاعت رسول مشروط باذن اللہ ہے۔

جواب: یہاں اذن بمعنی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ معنی علم کے ہے۔ جیسے ”ما اصاب من مصيبة الا باذن الله“ اور ”يغلبوا مأيتين باذن الله“ کیا مصیبت کے وقت خدا کا حکم نازل ہوتا ہے یا کہ کفار پر غلبہ پانے کے وقت وحی آیا کرتی ہے۔ یہ کلمہ تشریعی ہے۔ جیسا کہ: ”ما انت بنعمة ربک بمجنون“ خدا کے فضل سے اب مجنون نہیں ہیں۔

جواب: بیشک مسئول عنہ ہے۔ مگر جو اختیارات آپ کو دیئے گئے ہیں۔ ان میں حضورﷺ مسئول عنہ نہیں ہیں۔ نبی اور غیر نبی میں یہی فرق ہے۔

وغیرہ آیات میں حضورﷺ کو امت کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔

جواب: ”اول المومنین“ ہونا نبی کا فرض ہے اور جو شریعت نازل ہوتی ہے۔ چونکہ اس کا نمونہ بن کر دکھلانا ہوتا ہے۔ اس لئے نبی کا اس پر کار بند ہونا سخت ضروری ہے۔ مگر تاہم نبی کے تعلقات مختلف ہوتے ہیں۔ اوّل وہ تعلق جو نبی اور امت کے درمیان ہیں۔ ان میں نبی مطاع واجب الاطاعة ہوتا ہے۔ امت کو نبی کی اطاعت فرض ہوتی ہے اور مسئول ہوتی ہے۔ اس لئے نبی بھی حاکم ہوا اور خدا بھی، اس کے علاوہ جن کو خدا تعالیٰ نے مطاع بنایا ہے وہ سب ہی اپنے اپنے مدارج میں غیر مسئول ہیں۔ چنانچہ والدین اپنے درجہ میں غیر مسئول ہیں حکام اپنے درجہ میں غیر مسئول اور مطاع ہیں اور ہر ایک افسر اپنے ماتحت کی نسبت غیر مسئول ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت میں گورنر آتے ہیں۔ شاہی احکام جاری کرنے کے علاوہ ذاتی اختیارات سے اصلاحی احکام اور آرڈیننس جاری کرتے ہیں اور غیر مسئول واجب الاطاعة بھی ہوتے ہیں۔ کیا خدائی احکام پہنچانے والے یہ اختیار نہیں رکھتے۔

صفحہ ٣٩٤

جواب: یوں تو ”لا اکراہ فی الدین“ میں بھی اسلام میں تبلیغ کی گنجائش نہیں رہتی۔ اصل مطلب یہ ہے کہ کفار پر بزور شمشیر آپ مسلط نہ تھے کہ جبرًا ان کو اسلام میں لاتے اور زبردستی کا اسلام خالص نہیں ہوتا۔ اس لئے حکم ہوتا ہے کہ آپ اکراہ و جبر سے کام نہ لیں۔ مگر یہ مطلب نہیں کہ جو اسلام میں داخل ہو جائے اس پر حقوق النبوۃ کا عائد کرنا بھی ممنوع ہے یا وہ اب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے بھی آزاد ہے۔ بلکہ داخلہ اسلام کے بعد جس طرح مسلمان پر اطاعت الٰہی فرض ہے۔ اسی طرح اطاعت رسول بھی فرض ہوگی اور قبل داخلہ اسلام کی حالت میں یہ احکام مطلوب نہیں ہوتے۔ اب ایک حالت کا دوسری حالت پر قیاس کرنا جہالت ہوگا۔

معصوم کیسے ٹھہرے؟

جواب: اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ تعلیم نبوی میں شیطان صفت آدمی یا خود شیطان اپنے اغواء کے ساتھ فساد برپا کرتا ہے۔ مگر ”فينسخ الله“ خدا تعالیٰ حق و باطل کا امتیاز کر دیتا ہے۔ بہر حال اس واقعہ کا کچھ بھی اطاعت رسول سے تعلق نہیں ہے۔

جواب: ہاں اس کی ماتحتی میں سب کچھ جائز ہے۔ ”فابعثوا حكما من اهله“ میں معمولی تنازعِ زوجین میں ثالث مقرر کرنے کا حکم ہے جو اپنے فیصلہ میں مطاع واجب الاطاعۃ اور غیر مسئول ہے تو کیا نبی جو اپنی امت کے لئے معلم کتاب ہو کر آتا ہے۔ وہ ثالث سے بھی کم ہوگا؟ اصل بات یہ ہے کہ ایسے معترض احکام اسلام سے جی چراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام میں داخل رہیں اور کرنا بھی کچھ نہ پڑے۔

جواب: اجتہادات میں غلطی ہونا عصمت یا اطاعت نبی میں نقص پیدا نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ تعلق قسم اوّل کا مسئلہ ہے جو خدا اور رسول کے درمیان قائم ہے۔ تعلق قسم دوم کا مسئلہ نہیں ہے جو رسول اور امت کے درمیان میں ہے۔ بالفرض اگر مان بھی لیں تو وحی کے ذریعہ سے غلطی رفع ہو کر نقص اٹھ چکا تھا اور آپ کا حکم جو رفع غلطی سے پہلے صادر ہوا تھا اس کو جرم نہیں قرار دیا گیا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی کا حکم ہر وقت واجب الاطاعت ہے خواہ اس کی ترمیم بعد میں کیوں نہ ہو جائے۔

صفحہ ٣٩٥

جواب: دیکھنا یہ ہے کہ جس کو حرام ابدی کا حکم دیا گیا تھا آیا اس نے اس کو واجب التعمیل جانا تھا یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ اس نے اس کو واجب التعمیل سمجھا تھا اور یہ بات الگ ہے کہ وہ منسوخ ہو گیا۔ مگر جب تک تھا اس کی تعمیل فرضی رہی۔ اس اعتراض سے سائل کا یہ مطلب ہے کہ احادیث نبویہ اب بھی غلط ہو سکتی ہیں۔ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ ان احکام کی منسوخی یا ان کی تغلیط کیسے ممکن ہے؟ وحی نہیں آتی کہ احکام تبدیل کرے۔ کوئی رسول نہیں آیا کہ تفہیم الٰہیہ سے احکام بدل دے۔ اب صرف اپنی رائے سے احکام تبدیل کرنا چہ معنی دارد؟ ہاں اگر مدعیان مذاہب جدیدہ نبوت کے مدعی ہیں تو ایسی اصلاحات کے رو سے خود بخود اسلام کے مقابلہ میں دوسرا مذہب اختراع کرتے ہیں۔ مگر اس وقت مذہب کا نام اسلام رکھنا دھوکہ بازی ہوگا۔

حضورﷺ کی عصمت کیسی رہی؟

جواب: قرآن شریف میں مسحور کی نفی بمعنی مجنون کے ہے۔ کیونکہ اس کا اشتقاق سحر سے ہے اور جس کا پھیپھڑا بیمار ہوتا ہے تو ابخرات سے دماغ مختل ہو جاتا ہے۔ اسے مرض جنہ کہتے ہیں۔ جس کی نفی ام بہ جنۃ میں موجود ہے۔ لیکن جادو وغیرہ سے بیمار ہونا شان نبوت کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام میں جادو کی باقی اسباب مرض کی طرح تسلیم کیا گیا ہے۔ اس سے حضورﷺ کو جنون پیدا نہیں ہوا تھا۔ بالفرض اگر مان بھی لیں تو مدت قلیل کا عذر ساری زندگی پر کچھ اثر نہیں ڈال سکتا۔ خصوصاً جب کہ اس حالت خاص میں اجرائے احکام کا ثبوت نہیں ملتا تو تصریحات قرآنیہ کے خلاف نہ ہوگا۔

تو واجب الاطاعت کیسے رہے؟

جواب: نبی اپنے فرائض منصبی کے ادا کرنے میں اگر ذرہ بھی کوتاہی کرتا ہے تو خدا کے ہاں معتوب ہوتا ہے۔ سورۃ فتح میں یہی بتایا گیا ہے کہ فتح مبین کے بعد سب کوتاہیوں کا تدارک ہو جائے گا اور آپ کو کافی موقعہ مل جائے گا کہ پورے طور پر اگلی پچھلی کسر نکال لیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ فتح مکہ کے بعد ”یدخلون فی دین اللہ افواجاً“ کا ظہور ہوا اور یہ پیشین گوئی پورے طور پر صادق نکلی۔ اس آیت میں ذنب سے یہ سمجھنا کہ نبی اپنی امت کی طرح مجرم تھا اور فتح کے بعد یہ جرم معاف ہو جائیں گے۔ سخت توہین رسالت ہے اور کیسی بے جوڑ بات ہے۔ کیا

صفحہ ٣٩٦

کبھی یہ بھی سنا ہے کہ حضور ﷺ سے کوئی ناقابل گفتنی امر سرزد ہوا تھا؟ اگر نہیں تو حضور ﷺ کو عوام کی طرح مذنب قرار دینا سخت گناہ کبیرہ ہوگا۔

جواب: چالیس سال سے اوّل آپ دین حق کی تلاش میں رہے۔ بعد میں آپ کو نبوت عطاء ہوئی۔ اس لئے پہلی حالت کو جو نسبتاً حالت نبوت سے کمزور تھی۔ ضلالت کہا گیا ہے اور اس میں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ منصب رسالت کے بعد بھی یہ کمزوری رفع نہیں ہوئی تھی۔ لغت میں ضال گمنام کو بھی کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ حضور ﷺ کو شروع عمر میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ اعطائے نبوت کے بعد آپ کا شہرہ ہوا اور موجودہ تراجم سادگی سے کئے گئے ہیں۔ مترجمین کے وقت مذاہب جدیدہ نہ تھے۔ ورنہ وہ بھی سنبھل کر ترجمہ کرتے۔

جواب: مگر اس کا تدارک بھی ہوگیا۔ حضرت زیدؓ نے آپ کے فیصلہ کو واجب التعمیل سمجھا اور حضرت زینبؓ بھی ”اذا قضى الله ورسوله“ کا حکم سن کر ”ما كان لهم الخيرة“ کی تعمیل میں خاموش رہیں۔ گویا یہاں احکام میں تبدیلی ہوئی اور تبدیلی کو بے ایمان غلطی سمجھتے ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ فریقین نے کس طرح حکم رسول کو واجب الاطاعت سمجھا تھا۔ اب واقعہ میں تاریک پہلو لینا بے ایمانی ہوگی۔

جواب: دیکھنا یہ ہے کہ جس نے حکم رسول سے سرتابی کی تھی اس کو سرزنش ہوئی یا نہ ہوئی؟ اگر ہوئی ہے تو ہمارا مطلب ثابت ہے کہ حقوق مصطفیٰ کی تعمیل واجب ہے۔ باقی واقعہ پر نکتہ چینی کرنا ہمارا حق نہیں ہے۔ کیونکہ قسم اوّل سے تعلق رکھتا ہے اور اگر اس واقعہ کو ہم اپنے درمیان تصور کرلیں تو ذرہ بھر بھی عیب کی بات نہیں ہے۔ مگر یہ شان نبوت ہی ہے کہ ادنیٰ ادنیٰ بات پر بھی اصلاح جاری ہوتی ہے۔

جواب: قرآن شریف نے مکالمہ الہیہ کے اقسام بیان کئے ہیں۔ جن میں سے قسم

کہتے ہیں جو قرآن شریف ہے۔

غیر متلو کہتے ہیں۔ تعلیم کتاب یا افعال منقول ہیں۔ وہ سب

تو امت براہ راست خدا سے نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا تشرع چینی کرتا ہے۔ وہ کم از کم قر اب ہمیں قرآن قدیم کی ضر

پڑے گا کہ حضور ﷺ نے اپنی

جواب: بے سند

اگر مخالفین اپنے اور جن لوگوں نے ان کے کہتے۔ کسی حد تک گو در سـ ہوتے۔ جب والدین کے کئے گئے ہیں تو کوئی وجہ نہیں

لازم آتا ہے کہ قبل از بعثـ

جواب: یہ سے کوئی انسان بھی دوسـ فرض ہے اور نہ حاکم وقت حقوق حاصل ہوتے ہیں

کرسکتا تو خدا دوسرا حاکم

صفحہ ٣٩٧

کوئی ناقابل گفتنی امر سرزد ہوا تھا؟ اگر نہیں تو حضور ﷺ کو عوام میں گمراہ کہنا کیسا ہوگا۔

”ضالا“ میں حضور ﷺ کو ضال کہا گیا ہے۔

جس سے اوّل آپ دین حق کی تلاش میں رہے۔ بعد میں آپ کو ہدایت ملی۔ پس اس پہلی حالت کو جو نسبتاً حالت نبوت سے کمزور تھی۔ ضلالت کہا گیا نہ کہ منصب رسالت کے بعد بھی یہ کمزوری رفع نہیں ہوئی تھی۔

پس مطلب یہ ہوا کہ حضور ﷺ کو شروع عمر میں کوئی نہیں جانتا تھا بعد میں شہرہ ہوا اور موجودہ تراجم سادگی سے کئے گئے ہیں۔ مترجمین کو چاہئے تھا کہ وہ بھی سنبھل کر ترجمہ کرتے۔

کیا آپؐ سے غلطی ہوئی؟

اس کا تدارک بھی ہو گیا۔ حضرت زیدؓ نے آپ کے فیصلہ کو واجب الاطاعت نہیں سمجھا۔ حالانکہ ”قضى الله ورسوله“ کا حکم سن کر ”ما کان لھم الخ“ کا نزول ہوا۔ گویا یہاں احکام میں تبدیلی ہوئی اور تبدیلی کو بے ایمانوں نے غلطی قرار دیا۔ بتائیے کس طرح حکم رسول کو واجب الاطاعت سمجھا تھا۔ اب یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت زیدؓ سے غلطی ہوگی۔

کیا آپؐ سے کوتاہی ہوئی؟

اگر مان لیا جائے کہ جس نے حکم رسول سے سرتابی کی تھی اس کو سرزنش ہوئی یا نہ ہوئی۔ یہ تو ثابت ہے کہ حقوق مصطفیٰ کی تعمیل واجب ہے۔ باقی واقعہ پر نکتہ چینی قسم اوّل سے تعلق رکھتی ہے اور اگر اس واقعہ کو ہم اپنے درمیان رکھیں تو یہ شان نبوت ہی ہے کہ ادنیٰ ادنیٰ بات پر بھی گرفت ہو جاتی ہے۔

غلطی کہاں پیدا ہو گئی؟

کہتے ہیں۔

غیر متلو کہتے ہیں۔ تعلیم کتاب اللہ اور بیان حکمت اور اصلاح عالم کے متعلق جو حضور ﷺ کے اقوال یا افعال منقول ہیں۔ وہ سب اسی قسم کے ہیں۔

تو امت براہ راست خدا سے احکام حاصل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ اس لئے جو شخص امتی بن کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا تشریعی احکام نافذ کرتا ہے یا حضور ﷺ کے تشریعی احکام جاری کردہ پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ وہ کم از کم قرآن کے خلاف ضرور کرتا ہے۔ اس لئے چاہئے کہ اعلان کردے کہ اب ہمیں قرآن قدیم کی ضرورت نہیں۔ تاکہ لوگ اس کی اندرونی چال سے واقف ہو جائیں۔

پڑے گا کہ حضور ﷺ نے اپنی تن پروری کے لئے (معاذ اللہ) یہ تعلیم پھیلائی تھی۔

جواب: بے شک ۔

ہنر بہ چشم عداوت بزرگ تر عیب است

اگر مخالفین اپنے بانیان مذہب پر نظر دوڑائیں تو وہ بھی اس تنقید سے رہائی نہیں پاسکتے اور جن لوگوں نے ان کے جواب میں یوں کہنا شروع کیا ہے کہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔ کسی حد تک گو درست ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امت پر نبی کے حقوق بھی نہیں ہوتے۔ جب والدین کے حقوق اور حکام وقت کے حقوق یا ثالث فیصلہ کے حقوق ذاتی طور پر تسلیم کئے گئے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ امت پر نبی کے حقوق تسلیم نہ کئے جائیں؟

لازم آتا ہے کہ قبل از بعثت بھی واجب الاطاعت ہوتا۔

جواب: ”من حيث ھو “ ذاتی حیثیت سے بشر اور انسان ہے۔ گو اس حیثیت سے کوئی انسان بھی دوسرے کے لئے واجب الاطاعت نہیں۔ نہ والدین کی اطاعت اس درجہ میں فرض ہے اور نہ حاکم وقت اس درجہ میں واجب الاطاعت ہوسکتا ہے۔ مگر خدا کی طرف سے جب حقوق حاصل ہوتے ہیں تو اس وقت بھی پہلی حیثیت کے خیال سے سرتابی کرنا سرکشی ہوگی۔

کرسکتا تو خدا دوسرا حاکم کیسے تجویز کر سکتا ہے۔

صفحہ ٣٩٨

جواب: اس سوال میں اگر حاکم سے مراد دوسرا خدا لیا جائے تو تب خاوند کی تمثیل بھی درست بن جائے گی اور مطلب بھی صاف ہو جائے گا کہ خدا اپنی بادشاہت میں کوئی دوسرا خدا حاکم نہیں بنا سکتا۔ ورنہ یہ معنی ہوگا کہ خدا احکم الحاکمین بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہی حاکم ہے تو حاکمین کا وجود کہاں ہو سکتا ہے۔ اب معترض بتائے کہ :"الیس الله باحکم الحکمین" میں خدا نے دوسرے حاکموں پر اپنی حکومت تسلیم کرانے کے لئے کیوں زور دیا ہے؟

٢٩......... نبی اگر مطاع ہو تو اس کی بندگی کرنی پڑے گی۔

جواب: ہاں اگر نبی خدائی درجہ میں مطاع سمجھا جاتا ہے تو معترض کے نزدیک اس کی عبادت بھی فرض ہوگی۔ مگر ہمارے نزدیک تو نبی اپنے درجہ نبوت میں مطاع غیر مسئول فی حقوقہ ہے۔ ہم کیسے غیر خدا کی عبادت کر سکتے ہیں۔

٣٠......... جب اذن الٰہی سے نبی کی اطاعت فرض ہے تو ہم حق رکھتے ہیں کہ کلام رسول کو قرآن کے مطابق پائیں تو اطاعت کریں۔

جواب: کلام نبوت پر حق تنقید کسی امتی کو حاصل نہیں ہے اور اذن الٰہی کا مفہوم قرآن شریف میں توفیق الٰہی سے کئی جگہ مراد لیا ہے۔ (دیکھو مفردات راغب) اور جو تطابق کرنے کے لائق تھا۔ امت محمدیہ کر چکی ہے۔ اب نئے تطابق کی اسلام کو ضرورت نہیں رہی۔ ہاں اگر اسلامی قیود سے رہائی پانے کی خاطر تطبیق جدید کا سلسلہ شروع کرنا ہے تو بسم اللہ آپ کو ہی مبارک رہے۔

٣١......... کلام رسول اگر وحی الٰہی ہے تو نوح علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی سفارش سے کیوں روکا گیا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام کو قوم لوط علیہ السلام کی سفارش پر کیوں سرزنش ہوئی تھی۔ جنگ بدر میں حضور ﷺ کو کیوں فہمائش کی گئی؟ اور تابیر النخل کا قصہ کیوں غلط ہوا۔ کیا وحی بھی غلط ہوتی ہے؟

جواب: غلطی کا لفظ یہاں پر عائد کرنا سخت غلطی ہے۔ کیونکہ ایک وحی دوسری وحی کی ناسخ ہو سکتی ہے اور نبی پہلی وحی غیر متلو کی بنیاد پر کوئی حکم دیتا ہے تو وحی متلو آکر اسے تبدیل کر دیتی ہے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ پہلا حکم غلط تھا۔ یوں کہا جائے گا کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا۔ ہاں ناقص جو نسخ احکام کے قائل نہیں ہیں۔ وہ بیشک اس دھوکہ میں پھنسے ہوئے ہیں کہ انبیاء غلط کار ہوتے ہیں۔ ذرہ نوح علیہ السلام کا قصہ دیکھ لیں تو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کس طرح سے عذر کرتے ہیں کہ:

صفحہ ٣٩٩

"ان وعدك الحق" اس موقعہ پر یہ بھی واضح کر دینا ضروری ہے کہ نبی بحیثیت نبی ہونے کے جو کچھ فرماتا ہے وحی متلو یا غیر متلو ہوتی ہے اور جو کچھ بشریت کے درجہ میں آ کر فرماتا ہے وہ وحی نہیں ہے۔ مثلاً نبی کسی سے یہ کہے پانی کا لوٹا بھر لاؤ تو گو یہ فقرہ بحیثیت آقائے امت ہونے کے واجب التعمیل ہوگا۔ مگر اس کو وحی غیر متلو نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اس حکم کو منصب رسالت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی مکالمہ الٰہیہ اور تفہیم الٰہیہ سے تعلق رکھتا ہے۔ معترضین نے درجہ رسالت اور درجہ بشریت میں فرق نہیں کیا۔ اس لئے سب کے سب احکام نبویہ کو غیر وحی قرار دیا ہے۔ حالانکہ ہر ذی عقل کو اس پر یہ امتیاز کر لینا فرض تھا۔

گر فرق مراتب نکنی زندیقی

مرتکب ہوئے تھے کیا یہ بھی وحی تھی؟

جواب: یہ فعل بشریت کے درجہ میں سرزد ہوئے تھے۔ مگر پھر بھی ہم اسے گناہ یا جرم قرار نہیں دے سکتے۔ کیونکہ قتل کا فعل مسلم پر آمادگی ظاہر کرنا ہو اصولی طور پر گناہ نہیں ہے۔ قتل قبطی کا واقعہ بھی اسی اصول کے ماتحت تھا۔ ہاں حکومت فرعون کا قانون یہ تھا کہ قبطی کی بے ادبی بھی نہ کی جائے تو بیشک اس قانون کی خلاف ورزی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ضرور گناہ کا اقرار کیا ہے۔ مگر خود ہی سوچ لیں کہ کیا یہ گناہ سیاسی ہے یا مذہبی؟ آدم علیہ السلام کا گندم کھانا اپنے اختیار سے نہ تھا۔ بلکہ آپ کو مغالطہ دیا گیا تھا۔ قرآن شریف نے بھی آپ کو معذور سمجھ کر معصوم قرار دیا ہے۔ یہ بے ایمانی ہے کہ ہم خواہ مخواہ انبیاء کی تحقیر میں لگے رہیں اور واقعات کا روشن پہلو چھوڑ دیں ورنہ اس سے بڑھ کر عصمت انبیاء کی کیا دلیل ہو سکتی کہ جو افعال یا اقوال ہمارے خیال میں صحیح اور درست ہیں۔ درجہ نبوت میں وہ گناہ عظیم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور تقرب میں استغفار کے سبب بنتے ہیں۔ مگر یہ کہیں سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ایسے واقعات سے کسی نبی کے وہ حقوق بھی سلب کر لئے گئے ہوں جو جناب الٰہی سے آپ کو عطاء ہوئے تھے۔ امت کے لئے تو نبی ہر حالت میں واجب الاطاعت رہتا ہے۔ خواہ اس سے ایسے واقعات سرزد ہوں یا نہ ہوں۔

تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

جواب: یہ تینوں واقعات منصب رسالت سے وابستہ نہ تھے۔ ان کا تعلق صرف بشریت سے تھا۔ اس لئے ان کے متعلق وحی غیر متلو کا خیال کرنا ہی غلط ہوگا۔ باقی رہی یہ بات

صفحہ ٤٠٠

کہ آپ کی حالت مخدوش ہو گئی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ مجبوری کے وقت اپنا بچاؤ کرنے کی اضطراری حالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے انسان سب کچھ کر گزرتا ہے۔ ”من ابتلی ببلیتین فلیخترا هو نهما “ قاعدہ ہے کہ جب انسان دو مصیبتوں میں گرفتار ہوتا ہے تو ہلکی مصیبت اسے اختیار کرنی پڑتی ہے۔ اس لئے حالت اضطراری کو حالت اختیار پر قیاس کرنا سخت بے ایمانی ہوگی۔

٤٢...... قرآن شریف جب مصدق تورات اور مصدق انجیل ہے تو وہ کیوں قابل عمل نہیں ہیں۔

جواب: اول ...... حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع علیہ السلام تھے۔ آپ کے بعد منسی نبی کاذب نے بت پرستی شروع کرادی تھی اور انجیل ضائع ہو گئی یا بقول بعض ہیکل قدس میں دفن کر دی گئی تھی۔ ورنہ اس سے پیشتر ہیکل میں انجیل محفوظ رہتی تھی۔ ہر سات سال کے بعد یہودیوں کو حکم تھا کہ اسے آکر دہرائیں ٦٢٤ قبل میلاد میں یوسیا کے عہد میں ہیکل از سر نو تعمیر ہوئی تو کسی کنارہ میں تورات کا نسخہ دستیاب ہوا۔ (٢ سلاطین ص ٢٢) منسی اور یوسیا کا زمانہ ٧٦ سال تھا۔ بقول بعض یہ نسخہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دستخطی نسخہ نہ تھا۔ بلکہ اس کی نقل تھی۔ کیونکہ وہ پہلے ہی ضائع ہو چکی تھی اور یہ بھی تعیین نہیں کہ کس نے نقل کر کے دفن کیا تھا۔ کسی دشمن نے یا کسی دولت مند نے کسی بادشاہ نے یا کسی راہب یا کاہن نے؟ بہر حال نسخہ مدفونہ نہایت مشکوک تھا۔

دوم....... ٦٠٦ قبل میلاد عیسیٰ بخت نصر نے تمام یہودیوں کو یروشلم سے نکال کر بابل میں ستر سال قید کر دیئے تھے اور اپنی زبان بھول کر کلدانی زبان بولا کرتے تھے۔ (٢ تواریخ ص ٢٧) اس وقت بخت نصر نے ہیکل کو آگ لگادی اور تورات منقولہ بھی جل گئی۔ ٤٢٥ یا ٤٥٦ قبل میلاد میں حضرت عزیر علیہ السلام نے پھر تورات لکھی۔ (مفتاح الکتاب ص ٢٥) اس کی دوسری زندگی ڈیڑھ سو سال کے بعد شروع ہوئی اور یہودی اس کے تسلیم کرنے میں مختلف ہو گئے اور ٨ جماعتیں بن گئیں۔ چنانچہ سامری اور صدوقی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صرف پانچ کتابوں کو مانتے تھے جو بذریعہ الواح آپ نے مرتب کی تھیں۔ خاسدیم بعد کی الحاقی روایت کو بھی تسلیم کرتے تھے۔ فریسین اقوال علماء کو بھی مانتے ہیں۔ ایسنیہ فرقہ ایمان بیوم القیامہ رکھتے ہیں۔ مگر حشر اجساد کے قائل نہیں ہیں۔ فقہاء معلم تورات تسلیم کئے گئے ہیں۔ ہیرود یہ فرقہ ہیرودس بادشاہ کی تابعداری میں بت پرستی بھی کرتا تھا۔ جلوشیہ سیاسی جماعت تھی جو ہیرودس کو ٹیکس نہیں لینے دیتی تھی۔ لبرتینی مشغلہ جماعت تھی کہ جنہوں نے اپنے شیوخ کے حکم سے یروشلم میں دوسری جگہ ایک ہیکل تیار کی تھی۔

سوم گرا دیا اور بت پرستی پر بت پرستی کو لاکھوں ٤٥٩٦٠٠٠٠ روپے، اپلویوس نے ان پر چھـ ہوئے۔ پھر اس نے یـ ص ١٤٤) تعلیم الایمان تـ ہیکل تعمیر کرنے سے رو ملے اسے مار ڈالو۔

چہارم کر کے ہیکل میں رکھی راکھ کر دیا۔ جن میں تو گرفتار ہوئے۔ حتہ عظم کو فتح کیا تھا۔ یہ سب جل گئے۔ بتوں یہودی یروشلم میں اور اپنے بت جو پر آ (حسین) رکھ ۔ بستی

پنجم سامان یا کتب خـ

ششم حالت ہوتی رہـ می سم ، مسمیون،

صفحہ ٤٠١

کا جواب یہ ہے کہ مجبوری کے وقت اپنا بچاؤ کرنے کی ن سب کچھ کر گزرتا ہے۔ ’’من ابتلی ببلیتین ب انسان دو مصیبتوں میں گرفتار ہوتا ہے تو ہلکی مصیبت لت اضطراری کو حالت اختیار پر قیاس کرنا سخت بے

ب مصدق تو رات اور مصدق انجیل ہے تو وہ کیوں قابل

ت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یوشع علیہ السلام تھے۔ آپ وع کرا دی تھی اور انجیل ضائع ہو گئی یا بقول بعض ہیکل پشتر ہیکل میں انجیل محفوظ رہتی تھی۔ ہر سات سال کے ٦٢٤ قبل میلاد میں یوسیا کے عہد میں ہیکل از سر نو تعمیر ہوا۔ (٢ سلاطین ص ٢٢) منسی اور یوسیا کا زمانہ ٧٢ سال السلام کا دستخطی نسخہ نہ تھا۔ بلکہ اس کی نقل تھی۔ کیونکہ وہ کہ کس نے نقل کر کے دفن کیا تھا۔ کسی دشمن نے یا کسی یا کاہن نے؟ بہر حال نسخہ مدفونہ نہایت مشکوک تھا۔ بخت نصر نے تمام یہودی اورشلم سے نکال کر بابل بھول کر کلدانی زبان بولا کرتے تھے۔ (٢ تواریخ ص ٢٧) اور تورات منقولہ بھی جل گئی۔ ٤٣٥ یا ٤٥٦ قبل میلاد میں یا۔ (مفتاح الکتاب ص ٢٥) اس کی دوسری زندگی ڈیڑھ سو تسلیم کرنے میں مختلف ہو گئے اور ٨ جماعتیں بن گئیں۔ یہ السلام کی صرف پانچ کتابوں کو مانتے تھے جو بذریعہ مد کی الحاقی روایت کو بھی تسلیم کرتے تھے۔ فریسین اقوال عقیدہ رکھتے ہیں۔ مگر حشر اجساد کے قائل نہیں ہیں۔ فقہاء فرقہ ہیرودس بادشاہ کی تابعداری میں بت پرستی بھی کرتا چین نہیں لینے دیتی تھی۔ لیرتینی منظمہ جماعت تھی کہ دوسری جگہ ایک ہیکل تیار کی تھی۔

سوم...... ١٧٠ قبل میلاد میں ملک سوریا ’’اینتوکس ایپی فینس‘‘ نے ہیکل کو گرا دیا اور بت پرستی پر یہودیوں کو مجبور کیا۔ چنانچہ اسنیوس وہاں معلم بن کر آیا اور اس نے منکرین بت پرستی کو لاکھوں کی تعداد میں مارڈالا اور کچھ یہودی غلام بنائے اور ہیکل کا خزانہ ٢٥٩٦٠٠٠٠ روپے مالیت کا لوٹ لیا۔ یہودی پھر ایک روز عبادت کے لئے جمع ہوئے تو جرنیل اپلونیوس نے ان پر چھاپا مارا۔ بہت سے یہودی مارے گئے اور جو بچے پہاڑوں میں پناہ گزین ہوئے۔ پھر اس نے ہیکل کا ملبہ سے مذبح کی جگہ اپنے بت جوپتر کی ہیکل تیار کرائی۔ (مفتاح ص ١٣٤) تعلیم الایمان مطبوعہ ١٨٦٩ء میں لکھا ہے کہ بادشاہ نے اڑھائی سال تک یہودیوں کو نئی ہیکل تعمیر کرنے سے روک دیا تھا اور تورات کو جلا کر حکم دیا تھا کہ جس کے پاس تورات کا کچھ حصہ بھی ملے اسے مار ڈالو۔

چہارم...... ١٦٥ قبل میلاد میں یہودا مقاربیس نے روایات کے ذریعہ سے تورات جمع کر کے ہیکل میں رکھی مگر ٹیٹس رومی نے ٧٠ بعد میلاد میں اوری شلم کو گرا دیا اور تمام اشیاء کو جلا کر راکھ کر دیا۔ جن میں تورات بھی جل گئی۔ یہودی کچھ مارے گئے کچھ آگ میں جل گئے اور کچھ گرفتار ہوئے۔ (مفتاح ج ١ ص ٣٢) وجہ یہ تھی کہ یہودیوں نے بغاوت کی تھی تو سلیطوس کو بھیج کر اوری شلم کو فتح کیا تھا۔ یہودی ہیکل میں پناہ گزین ہوئے تو کسی سپاہی نے آگ لگا دی جس میں وہ سب جل گئے۔ بقول بعض تورات بچا کر روما کو لے گیا تھا۔ قیصر روم اڈرین نے حکم دیا کہ کوئی یہودی اوری شلم میں داخل ہونے نہ پائے۔ وہاں رومیوں کو بسا دیا اور ہیکل کی جگہ ہل چلوا دیئے اور اپنے بت جوپتر کی ہیکل تعمیر کرائی اور کوہ کلوری پر ایک مجسمہ حجریہ کھڑا کیا۔ جس کا نام وینیس (حسین) رکھا۔ بستی کا نام پہلے اوری شلم تھا اب ایلیا کے نام سے تبدیل کر دیا۔

(تفسیر اسکاٹ ص ١٨٥)

پنجم...... ٤٠٠ عیسوی میں روما پر اقوام شمالی نے دھاوا بول دیا اور جو کچھ مذہبی یا تعلیمی سامان یا کتب خانے تھے سب کو آگ لگا دی۔ جس میں تورات اور انجیل بھی جل گئی۔

(آفتاب صداقت ص ٣٧)

ششم...... شاہ ایران نے عیسائیوں پر حملہ کیا اور گرجے گرا دیئے۔ دس دفعہ یہی حالت ہوتی رہی۔ حملہ آوروں کے نام یہ ہیں۔ نیرو، دولیشان، تارجن، واورین، لوکی، بیر، سبت، می سہر، مکسیمیان، ڈیکی، بلوریاں، ارطیلان، لا ماشردیوکلیشیان۔

صفحہ ٤٠٢

ہفتم ....... دافع البہتان مطبوعہ الہ آباد ١٨٣٥ء میں ہے کہ جب یہودیوں نے ہیکل تعمیر کی تو سامریہ فرقہ نے کہا کہ ہمیں دوسری جگہ ہیکل بنانے کا حکم ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوال ہوا کہ ان دونوں میں کون سی ہیکل اپنی جگہ پر واقع ہے تو آپ نے سکوت اختیار کیا۔ بہر حال تورات پانچ دفعہ مری اور پانچ دفعہ زندہ ہوئی۔ اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اصلی تورات جو پانچ الواح میں تھی آج نہیں ملتی۔

٣٥ ...... انجیل مقدس تو صحیح طور پر ملتی ہے۔ اسے کیوں واجب العمل نہیں بتایا جاتا؟ جواب: انجیل کا حال بھی معلوم ہو چکا ہے کہ وہ دس دفعہ مر چکی تھی۔

٣٦ ...... کیا بائبل خدا کا کلام نہیں ہے؟ جواب: کتاب ہارن جلد چہارم میں ہے کہ صحیفہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم عبرانی میں تھا۔ متی نے وہاں سے بہت نقل کیا اور لوقا و مرقس نے کم نقل کیا ہے۔ نورٹن اپنی کتاب علم الاسناد ١٨٣٧ء میں لکھتا ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا تھا۔ ان کے لئے ایک مختصر سیرت مسیح لکھی گئی تھی۔ جس میں سے متی ، لوقا اور مرقس نے اپنی اپنی انجیل میں مضامین نقل کئے ہیں اور یہ انجیلیں مقبول ہوئیں۔ باقی اناجیل غیر معتبر ٹھہریں۔ کیونکہ ان کا ماخذ وہ صحیفہ نہ تھا۔ ان میں بھی جو نقص باقی رہ گئے تھے۔ مصنفین نے ان کو اپنی طرف سے دو تین دفعہ پورا کر دیا۔ تاریخ موشیم جلد اول ١٨٣٨ء میں ہے کہ ناصریہ اور ابیونیعہ کے پاس ایک اور انجیل ہے جو ان اناجیل کے خلاف ثابت کرتی ہے کہ مسیح انسان تھے۔ اس کو انجیل حوارین کہتے ہیں اور یہ انجیل پہلی صدی عیسوی میں مرتب ہوئی تھی۔

(رومن تواریخ کلیسیا ج ٣: ٣٦ ص ٩٧)

٣٧ ...... اناجیل اربعہ بطریق نقل تو صحیح ہیں۔ جواب: یہ امر بھی مشکوک ہے۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے بعد اٹھویں سال ٤١ء میں (یا چار سال بعد ٣٧ء میں) متی نے انجیل اول عبرانی زبان میں یہودیہ میں آکر عبرانی عیسائیوں کے لئے لکھی تھی اور اس کا یونانی ترجمہ ٦١ء میں ہوا۔ یہ معلوم نہیں کہ خود متی نے یہ ترجمہ کیا یا کسی اور نے؟ (رومن تفسیر ص ٧، مفتاح ص ٢٢) انسائیکلو پیڈیا برٹینکا ج ١٩ میں ہے کہ انجیل متی کے سوا اور دوسری اناجیل یونانی میں لکھی گئی تھیں۔ متی نے رسالہ عبرانیین بھی عبرانی میں لکھا تھا۔ بہر حال اب عبرانی انجیل بالکل نہیں ملتی۔ مرقس تابعی ہے۔ پطرس اور پولس کا شاگرد تھا۔ انہوں نے ہی اسے عیسائی

صفحہ ٤٠٣

مطبوعہ الہ آباد ١٨٣٥ء میں ہے کہ جب یہودیوں نے ہیکل دوسری جگہ ہیکل بنانے کا حکم ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہیکل اپنی جگہ پر واقع ہے تو آپ نے سکوت اختیار کیا۔ پنج دفعہ زندہ ہوئی۔ اس لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اصلی مانتی۔

تو صحیح طور پر ملتی ہے۔ اسے کیوں واجب العمل نہیں بتایا جاتا؟ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ وہ دس دفعہ مر چکی تھی۔

کا کلام نہیں ہے؟

تاریخ جلد چہارم میں ہے کہ صحیفہ عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم عبرانی میں کیا اور لوقا و مرقس نے کم نقل کیا ہے۔ نورٹن اپنی کتاب علم لوگوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کا زمانہ نہیں پایا تھا۔ ان کے ہے۔ جس میں سے متی ، لوقا اور مرقس نے اپنی اپنی انجیل میں مقبول ہوئیں۔ باقی اناجیل غیر معتبر ٹھہریں۔ کیونکہ ان کا ماخذ وہ ہو گئے تھے۔ مصنفین نے ان کو اپنی طرف سے دو تین دفعہ پورا ٦١ء میں ہے کہ ناصریہ اور ابیونیعہ کے پاس ایک اور انجیل ہے ہے کہ مسیح انسان تھے۔ اس کو انجیل حواریین کہتے ہیں اور یہ گئی تھی۔

(رومن تواریخ کلیسیا ج ٣، ٤، ص ٩٧)

کہ بطریق نقل تو صحیح ہیں۔

مشکوک ہے۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے بعد اٹھویں سال ٤١ء میں یہ انجیل اوّل عبرانی زبان میں یہودیہ میں آکر عبرانی عیسائیوں سال ٦١ء میں ہوا۔ یہ معلوم نہیں کہ خود متی نے یہ ترجمہ کیا یا کسی اور نے انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا ج ١٩ میں ہے کہ انجیل متی کے سوا اور دوسری متی نے رسالہ عبرانیین بھی عبرانی میں لکھا تھا۔ بہرحال اب عبرانی

بنایا تھا۔ اس نے ان کے مرنے کے بعد رومہ میں آکر لاطینی زبان میں انجیل دوم مرتب کی۔ جس کے متعلق یہ امر ابھی تک مشتبہ ہے کہ اس نے اپنے خیالات کو اپنے شیوخ کے سامنے پیش بھی کیا تھا یا نہیں؟

(طلوع آفتاب صداقت ص ٢٦٩)

(مفتاح ص ٢٤٨) میں لکھا ہے کہ لاطینی انجیل کے کچھ ورق کتب خانہ ونیس میں موجود ہیں اور اس کا ترجمہ یونانی ملتا ہے۔ اصل کتاب نہیں ملتی۔ اسکاٹ دیباچہ میں لکھا ہے کہ اس کا سن تالیف معین نہیں مگر غالباً ٥٦ء اور ٦٣ء کے درمیان لکھی گئی ہے۔ انجیل سوم لوقا تابعی کی ہے۔ پولس حواری جب ترو اس میں آیا تو لوقا طبیب جو انطاکیہ کا رہنے والا تھا۔ ساحل بحیرہ روم میں اسے آملا اور اس کے ساتھ پر عیسائی ہوا اور اس کے ساتھ ہی سفر کرتا رہا۔ تھیوفلس مصری کی فرمائش سے لوقا نے اپنی انجیل ٦٣ء میں مرتب کی۔ جب کہ وہ دیار اخایہ میں مقیم تھا اور ایک سال بعد کتاب اعمال الرسل لکھی۔ (مفتاح ص ١٤١ و تواریخ کلیسیا) نوید جاوید میں لکھا ہے کہ پطرس اور پولس دونوں اس کے استاد تھے۔ اس لئے اپنی کتاب میں جمع متکلم کی ضمیریں لکھتا ہے۔ مگر یہ حیرت ہے کہ حواری انجیل نہیں لکھ سکے۔ انجیل لکھی تو ان کے شاگرد نے لکھی۔ دوسرا تعجب یہ ہے کہ پطرس شیخ مرقس مخلص حواری نہ تھا اور پولس عہد مسیح علیہ السلام میں آپ کا دشمن رہا۔ مگر واقعہ صلیب کے بعد یہ دونوں مخلص ثابت ہوتے ہیں اور ان کے شاگردوں سے سن کر انجیلیں لکھتے ہیں۔ انجیل چہارم یوحنا یہودی کی تالیف ہے جو واقعہ صلیب کے ستر سال بعد ١٠٠ء میں لکھی گئی وہ اپنی کتاب مکاشفات ٩٥ء میں تالیف کر چکا تھا۔ بعض کا خیال ہے کہ کسی اور نے لکھی ہے۔ کیونکہ اس میں عبرانی الفاظ کی تشریح غیر زبان میں موجود ہے۔ ورنہ یہودی کو اس تشریح کی کیا ضرورت تھی؟ برطعیذ ز معترف ہے کہ دوسری صدی عیسوی میں کسی عیسائی نے یہ کتاب لکھی تھی۔ اسٹارلن کا خیال ہے کہ اسکندریہ میں کسی طالب علم نے لکھی تھی۔ ارینوس تلمیذ بولی کارب اور بولی تلمیذ یوحنا ہے۔ ارینوس سے پوچھا گیا کہ کیا یہ کتاب یوحنا کی ہے تو خاموش رہا۔

(نوید جاوید کیتھلک ہیرلڈ ١٨٤٤ء ہفتم ص ٧٥)

جواب: نوید جاوید میں لکھا ہے کہ تورات کا ذکر تاریخ قدیم میں ہیروڈس نے نہیں کیا۔ جو ٤٠٠ قبل میلاد میں ملا کی نبی کا ہمعصر تھا اور نہ ہی مکھیومرس ہمعصر یسعیا نبی نے کیا ہے۔ جو ٧٥٠ قبل میلاد مسیح ہو گزرا ہے۔ وحسعید معاصر الیاس علیہ السلام بھی اس کا ذکر نہیں کرتا۔ جو

صفحہ ٤٠٤

٩٠٠ قبل میلاد میں تھا۔ ہومرس اور وہسیڈ مذہبی مباحثات میں معبودان باطلہ کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر تورات کے متعلق کچھ نہیں لکھتے۔ اس لئے یہ بھی وید کی طرح بلا ثبوت روایت ثابت ہوتی ہے۔ مفتاح التواریخ میں لکھا ہے کہ رستم ستی ٣٣٣ ق م اسکندر کے زمانہ میں تھی۔ یہ قول نصاریٰ کا ہے کہ تورات ١٥٠٠ سال قبل مسیح لکھی گئی تھی۔ جو صرف ایک جلد میں تھی۔ ٢٨٤ ق م میں ٧٢ اشخاص کی معیت میں اس کو یونانی زبان میں ترجمہ کیا گیا اور پانچ کتابیں بنائی گئیں۔ (مفتاح ص ٣٣) ہدایۃ المسلمین مطبوعہ ١٨٦٨ء لاہور میں ہے کہ ٧٢ عالموں نے ٢٠٠ ق م میں اس کا ترجمہ کیا تھا تو اب یہ تاریخ بھی مشکوک ٹھہری۔ (ہارن ج١ ص ١٥٦) میں ہے کہ اسحاق یہودی نے ١٥٠٠ء میں اس پر علامات آیات مقرر کیں۔ (مفتاح ص ٤١) میں ہے کہ کارڈنل ھوگو نے ١٢٤٠ء میں اس کے باب مقرر کئے اور رابرٹ سٹیفیس ناظم مطبوعہ سلطانیہ فرانس نے انجیل پر ١٥٤٥ء میں علامات آیات لکھے اور باب مقرر کئے۔

جواب: جب اطاعت کے ساتھ آتا ہے تو اس کا معنی نبی ہوتا ہے۔ کیونکہ اطاعت کتاب کوئی محاورہ نہیں ہے۔ کتاب اللہ کے ساتھ ایمان کا لفظ آتا ہے۔ "یؤمنون بالکتاب" اور یوں نہیں آیا کہ "يطيعون الكتاب والقرآن" اس لئے یہ خیال غلط ہے کہ اطاعت نبی کا حکم نہیں ہے۔

جواب: بشرطیکہ نبی کے حقوق امت پر نازل نہ ہوں۔ ورنہ وہ سارے حقوق بھی پانے کا مستحق ہوتا ہے۔ بالخصوص ہمارے نبی علیہ السلام تو شارع بن کر بھی آئے ہیں۔ "يحل لهم الطيبات" اور "يضع عنهم اصرهم يخرجهم من الظلمات الى النور" میں اس کا ثبوت ملتا ہے۔

پھر تبلیغ کیسی؟ جواب: پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اصلی تورات اور انجیل ضائع ہو چکی تھیں اور جس قدر بھی ان کے پاس قلمی نسخے موجود تھے۔ ان میں لوگوں نے سنی سنائی باتیں جمع کی ہوئی تھیں اور

ان روایات کا اسناد انبیاء تک تھیں۔ اس لئے حدیث حوا موجودہ بائیبل تواریخ انبیاء ے آئے ہیں۔ مگر وہ بلفظہ وحی مکتو درج کر دی ہیں۔ قرآنی شری طرف سے حواشی لکھ دیئے تھے تتبع اهوائهم "تم ان کے امی کی پیروی کرو اور حضور ص اتبعنی "میں اور میرے اليكم جميعاً "میں ۔ خاتمہ نہ تھی۔ مگر بعد میں سب حضور ﷺ جب مدینہ میں ۔ اپنے اصول مذہب کے پابند اسلامی کے مطابق عمل پیرا سے بھی رواداری کا سلوک کو تسلیم کرتا ہے اور نبی شفیع

جواب: مج

وہ تواریخی روایات میں جن احادیث نبویہ اور کتب سیر ضرور ملتا ہے۔ چنانچہ حضر۔ السلام کو احیاء موتی اور مبرء علیہ السلام کو غرق ، حضرت علیہ السلام کو ابلہ کے قریب

صفحہ ٤٠٥

ان روایات کا اسناد انبیاء تک مرفوع نہ تھا۔ بلکہ تمام احادیث مرسلہ یا منقطعہ اور موضوعہ کی طرح تھیں۔ اس لئے حدیث متواتر کی طرح واجب التعمیل نہ رہی تھیں۔ عیسائی بھی مانتے ہیں کہ موجودہ بائبل تواریخ انبیاء ہے۔ ورنہ یہ کلام الہی نہیں ہے۔ گو کسی کسی جگہ بطریق روایت احکام بھی آئے ہیں۔ مگر وہ بلفظ وحی محفوظ نہیں ہیں۔ ان میں راویوں نے اپنی طرف سے کافی الحاقی عبارتیں درج کر دی ہیں۔ قرآن شریف بھی بار بار ذکر کرتا ہے کہ انہوں نے تحریف سے کام لیا تھا اور اپنی طرف سے حواشی لکھ دیئے تھے۔ جن کو قرآن شریف نے اھواء کا لقب دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ: ”لا تتبع اهواءهم “ تم ان کے خودساختہ مسائل کی پیروی مت کرو۔ ان کو بھی دعوت دی گئی تھی کہ نبی امی کی پیروی کرو اور حضورﷺ کو بھی حکم تھا کہ اعلان کر دیں کہ: ”علی بصیرة انا و من اتبعنی “ میں اور میرے تابعدار ہدایت پر ہیں اور یوں بھی حکم ہوا ہے کہ: ”انی رسول الله الیکم جمیعاً “ میں سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔ اس لئے گو شروع اسلام میں دعوت عامہ نہ تھی۔ مگر بعد میں سب کو دعوت دی گئی اور تورات و انجیل پر عمل درآمد کرنا منسوخ ہوا اور حضورﷺ جب مدینہ میں بادشاہ تسلیم کئے گئے تھے تو غیر مذاہب سے معاہدہ کیا گیا تھا کہ اپنے اپنے اصول مذہبی کے پابند رہیں۔ ورنہ اسلام مجبور نہیں کرتا کہ ایک یہودی یا عیسائی کو اصول اسلامی کے مطابق عمل پیرا ہونے کو کہا جائے۔ عادل بادشاہ کی یہ صفت ہوتی ہے کہ غیر مذاہب سے بھی رواداری کا سلوک رکھے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام بھی عیسائیت اور یہودیت کو تسلیم کرتا ہے اور اپنی تبلیغ نہیں کرتا؟

جواب: انجیل اور تورات میں بھی کوئی معجزہ نہ تھا اور جو معجزے پیش کئے جاتے ہیں وہ تواریخی روایات میں پیش کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح حضورﷺ کے معجزے بھی تواریخ محمدی، احادیث نبویہ اور کتب سیر میں موجود ہیں۔ انکار کی وجہ نہیں ہو سکتی اور تائیدی نشان ہر ایک نبی کو ضرور ملتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ید بیضا اور عصائے موسوی دیا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو احیاء موتیٰ اور ابراء مرضیٰ عطاء ہوا۔ حضرت صالح علیہ السلام کو ناقہ دی گئی تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام کو غرق، حضرت شعیب کو حرق، ابراہیم علیہ السلام کو نجات من النار بخشی گئی اور حضرت لوط علیہ السلام کو ہلاک قریٰ عطاء ہوا۔ اسی طرح سے حضورﷺ کو تائیدی نشان کلام الہی کی نظم بندی

صفحہ ٤٠٦

عطاء ہوئی۔ جس کے مقابلہ میں فصحاء عرب عاجز آ گئے اور آج تک اس کے مقابلہ میں ایک آیت بھی نہ لکھ سکے۔ گو مسیلمہ کذاب نے فرقان اوّل اور فرقان ثانی لکھا۔ جس میں یوں لکھا کہ: ”الذين يغسلون الثياب بايديهم اولئك وهم المفلسون، الفيل وما ادراك ما الفيل له ذنب قصير وخرطوم طويل۔ والنساء ذات الفروج“ ابوالعلاء معری نے بھی قلم اٹھایا اور کہا: ”اقسم بخالق الخيل، والريح الهابة بليل۔ بين الشرط ومطالع سهيل ان الكافر بطويل الويل۔ وان العمر لمكفوت الذيل۔ اتق مدارج السيل۔ وطالعه توبة من قبيل، تنج وما اخالك بناج“ مگر وہ بات جو قرآن میں ہے پیدا نہ کر سکے۔ آخر مٹ کر رہ گئے۔ زمانہ حال میں گو بہائی اور بابی مذہب نے الہامی کتب لکھ کر قرآن شریف کو منسوخ قرار دیا ہے۔ مگر مقابلہ پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ مرزا کی الہامات اور اعجازیہ قصائد بھی قرآن کے مقابلہ میں ہیچ ہیں۔ اس لئے یہ کہنا کہ دوسرے انبیاء کے لئے معجزے تھے اور حضور ﷺ کا معجزہ کوئی نہ تھا۔ غلط ہے بلکہ سخت بے انصافی ہے۔

جواب: ید بیضاء، احیاء اموات وغیرہ کی تائید کب تواریخ میں ملتی ہے؟ شق القمر کا واقعہ اس وقت ہوا جب کہ وہ افق کے قریب تھا۔ کفار مکہ نے اقتراحی معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ان میں کوئی منکر نہ رہا۔ بلکہ یوں کہنے لگے کہ: ”هذا سحر مستمر“ یہ زبردست جادو ہے۔ دوسرے ملکوں میں اس وقت وہ منظر موجود نہ تھا۔ کیونکہ اختلاف مطالع سے کسی جگہ چاند غروب ہو چکا تھا۔ کسی جگہ طلوع ہی نہیں ہوا تھا اور کسی جگہ ابھی رات ہی نہیں پڑی تھی۔ لوگ بے خبر تھے اور وہ معجزہ آنی فانی تھا۔ اس لئے تواریخ میں مذکور نہیں ہوا تو اسلام اس کا ذمہ دار نہیں ہے اور جو لوگ اس معجزہ کو تحریف کر کے قیامت سے وابستہ کرتے ہیں یا ان کو ادیان سابقہ کی منسوخی بتاتے ہیں وہ قرآن کے خلاف کرتے ہیں۔ کیونکہ اس میں صاف مذکور ہے کہ کفار نے اس واقعہ کو زبردست جادو تصور کیا تھا۔

جواب: قرآن شریف کے بعینہ وہی الفاظ وحی حضور ﷺ کے وقت سے موجود تھے۔ جن کو بعد میں جمع کر کے کتابی صورت میں شائع کیا گیا تھا اور تورات انجیل کے الفاظ وحی

صفحہ ٤٠٧

ضائع ہو چکے تھے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ قرآن شریف بعینہ وہی ہے۔ جو حضورﷺ پر نازل ہوا اور وہ نہیں کہہ سکتے کہ بائبل وہی ہے جو انبیاء پر نازل ہوئی تھی۔

٤٥...... جمع حدیث سے منع کیا گیا تھا۔ پھر احادیث کیوں جمع کی گئیں؟

جواب: جمع قرآن سے پہلے خطرہ تھا کہ وحی متلو اور وحی غیر متلو آپس میں خلط ملط ہو جائے۔ اس لئے جب قرآن سے فراغت حاصل کرنے سے یہ اندیشہ جاتا رہا تو جمع احادیث کی طرف توجہ کی گئی۔ کیونکہ وحی غیر متلو کا جمع کرنا بھی تو ضروری تھا۔ بائبل یوں جمع نہیں ہوئی۔ کیونکہ وحی متلو ضائع ہو جانے کے بعد ایک ایک کمیٹی نے تاریخی طور پر اپنے الفاظ میں اس کو جمع کیا تھا اور جن انبیاء کی طرف اس کے حصے منسوب ہیں وہ بھی انبیاء کی تصنیف نہیں ہیں۔ کیونکہ ہر جگہ صیغہ غائب کے لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔ نبی کی اپنی کتاب میں اپنی موت کا ذکر ہے اور ایسے مقامات اور واقعات کا ذکر ہے۔ جو نبی کی اپنی زندگی کے بعد موجود ہوئے تھے اور طرز تحریر ایسا ہے کہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص حالات ساتھ بیان کر رہا ہے اور قرآن شریف ایسے نقائص سے بالکل منزہ ہے۔

٤٦...... معصوم نبی حضرت مسیح علیہ السلام کے سوا کوئی دوسرا نہیں نظر آتا۔

جواب: اناجیل کی رو سے آپ کی زندگی بھی مخدوش ہے اور قرآن شریف میں بھی فہرست انبیاء آپ کو ”یبتغون الیٰ ربہم الوسیلۃ“ میں درج کیا گیا ہے کہ جس کا یہ مطلب ہے کہ یہ تمام تقرب الٰہی کا وسیلہ ڈھونڈتے تھے اور خوف الٰہی سے لرزان تھے تو اب جس خیال سے آپ کو معصوم کہا جاتا ہے وہ بات جاتی رہی۔ دوسری بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے حضرت مسیح علیہ السلام کی پاکدامنی بیان کرنے کا ذمہ لیا ہے۔ اس لئے وہ حالات نظر انداز کر دیئے ہیں کہ جن میں کمزوری کو دخل تھا تو کیا جس کی بابت قرآن شریف افراط و تفریط میں اعتدال بیان کرتا ہے۔ اس کا یہ معنی ہو سکتا ہے کہ تمام انبیاء پر اس کو افضل تسلیم کرتا ہے۔ بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ تفریط کے لحاظ سے آپ کو صف انبیاء میں کھڑا کر دیا ہے۔ جو ایک بڑا احسان ہے۔ جس کا معاوضہ عیسائی تعلیم قیامت تک نہیں دے سکتی۔

٤٧...... اسلام مانع ترقی ہے جو جمود پیدا کرتا ہے اور اس کی پابندی آج ہمیں ہر کام سے رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔

صفحہ ٤٠٨

جواب: یہ صرف اسلام سے روکشی کا سبب ہے۔ ورنہ اس کے عبادات ہر جگہ ادا ہو سکتے ہیں اور اگر انسان یہ ارادہ کرلے تو موجودہ خوراک و پوشاک میں اس کی خاطر اصلاح سے کام لے سکتا ہے یا اس کو ترک بھی کر سکتا ہے۔ بنگالیوں نے اپنے لباس کو تبدیل نہیں کیا۔ کیا وہ برسر ترقی نہیں ہیں؟ معاملات میں بھی اگر حکومت سے اصلاح طلب کی جائے تو کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہو سکتی۔ مگر مشکل یہ ہے کہ خود بخود لوگ تمدن یورپ میں جذب ہوئے چلے جاتے ہیں۔ اب اس کا علاج ہو تو کیسے ہو؟

٤٨...... تعدد ازدواج مکروہ فعل ہے۔ جواب: انسان کو اعتدال پر چلانے کے لئے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ ایک عورت اگر حاملہ ہو تو اڑھائی سال تک زچہ کے قابل نہیں رہتی اور اس اثناء میں مرد کو ضرور ہے کہ یا تو صبر کرے اور بیماریوں میں مبتلا ہو اور یا محرمات کا مرتکب ہو یا دوسری عورت سے تعلق پیدا کرے۔ وہ بھی اگر حاملہ ہو جائے تو تیسری سے صحت قائم رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح چار تک طاقتور آدمی اپنی صحت قائم رکھ سکتا ہے۔ قرآن شریف میں بھی جبر نہیں کیا گیا کہ ضرور چار ہی شادیاں ہوں۔ بلکہ چار تک حسب طاقت اجازت ہے تاکہ صحت قائم رہ سکے۔ ورنہ یا تو خود بیمار اور بدچلن ہو جائے گا اور یا اولاد اور بیوی دق اور سل میں مبتلا ہو کر بیکار ہو جائے گی۔

٤٩...... حضور ﷺ نے چار سے بڑھ کر کیوں نکاح کئے تھے؟ جواب: حضور ﷺ کے لئے قرآن شریف میں حد بندی نہیں کی گئی۔ شباب میں حضور ﷺ نے ایک ہی نکاح کیا تھا۔ بعد میں قبل از ممانعت شادیاں کی تھیں۔ مگر چونکہ آپ کی مطلقہ عورت کسی کے گھر جانے کے لائق نہ تھی۔ اس لئے آپ کو نو تک بیویاں رکھنی پڑیں اور نو کے بعد آپ کو بھی ممانعت ہو چکی تھی اور حضور ﷺ نے ان کو بھی ایک دفعہ اختیار دے دیا تھا کہ چلی جائیں۔ لیکن انہوں نے آپ ہی کو پسند کیا۔

٥٠...... نکاح صغیرہ معیوب ہے۔ جواب: حضور ﷺ نے خود صغیرہ سے نکاح کیا اور ام سلمہؓ کے بیٹے کا نکاح بنت حمزہؓ سے کیا۔ اس لئے اسلام میں یہ نکاح جائز رکھا گیا تاکہ اولاد خود سر ہو کر غلطی کا ارتکاب نہ کرے اور جائیداد اور موروثی ہاتھ سے نکل نہ جائے۔

صفحہ ٤٠٩

جواب: پوتے کو بیٹے کے ہوتے ہوئے حصہ نہیں ملتا۔ ہاں اگر اس کا باپ حصہ حاصل کر چکا ہے تو اس کا مستحق ہوگا۔ مسلمانوں کی یہ اپنی غلطی ہے کہ پشت در پشت تک مال متروکہ تقسیم نہیں کرتے۔ ورنہ اسلام ایسی غلطی کا ذمہ دار نہیں ہے۔

جواب: مگر غیر کی لڑکی لینے سے آ بھی تو جاتی ہے۔ اس تبادلہ سے کسی کو شکایت کا موقعہ نہیں رہ جاتا۔ اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں کا اپنا ہی شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ اسلام سے یوں ہی روٹھ رہے ہیں۔

جواب: شفاعت کا مفہوم یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی عین حیات میں اپنی اپنی گنہگار امت کے لئے رحم کی درخواست بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے ان کی ایذارسانی سے تنگ آ کر ان کی تباہی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کے بچاؤ کے لئے لفظوں کی آڑ لے کر رحم کی درخواست کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام قوم لوط پر رحم کھا کر عذاب سے بچاؤ کی کوئی صورت ڈھونڈتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام مشرکین نصاریٰ کی سفارش کرتے ہیں کہ: ”ان تغفر لهم فانك أنت العزيز الحکیم “ خود قرآن شریف میں مذکور ہے کہ : ”من يشفع عنده الا باذنه “ الٰہی اجازت کے بغیر کوئی مجاز نہ ہوگا کہ سفارش کرے یوں بھی آیا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ کے پاس معافی کی درخواست کے لئے آتے تو ضرور اپنے خدا کو غفور رحیم پاتے۔ بہر حال اس قسم کے متعدد واقعات ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام مجاز ہیں کہ رحم کی درخواست یا تباہی کی تحریک کریں۔ ورنہ شفاعت سے یہ مراد نہیں کہ کوئی شخص خدا پر اپنے تقدس یا قوت بازو کی وجہ سے مرعوب کر کے دباؤ ڈال سکتا ہے۔

جواب: سورۃ حج میں مذکور ہے کہ جو بھی رسول ہو گزرے ہیں۔ جب وہ خدا کا کلام پڑھنے لگتے تھے تو بعض دفعہ شریر الطبع مخالفین اپنی آواز سے چند فقرے کہہ کر سامعین کو یہ وہم

PDF 410

دلاتے تھے کہ یہ بھی خدا کا کلام ہے۔ مگر بعد میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا تھا۔ خود حضور ﷺ ایک دفعہ سورہ نجم سنا کر تبلیغ فرما رہے تھے تو کسی مخالف نے وقفہ کے موقعہ پر اسی وزن پر چند فقرے یوں کس دیئے تھے کہ: ”تلك الغرانيق العلى ان شفاعتهن لترتجى“ یہ بت بھی سفارش کریں گے جس سے سامعین نے تمسخر کے طور پر یوں اڑا دیا کہ لو جی آج تو حضور ﷺ بھی ہمارے بتوں کو سراہتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر تبلیغی مجلس کا رنگ بدل دیا تھا۔ مگر جن لوگوں نے وہ تمام سورت سنی تھی۔ انہوں نے خود بخود ہی اس آمیزش کلام کا فیصلہ کر لیا تھا کہ ماقبل مابعد سے یہ فقرے تطابق نہیں کھاتے۔ کیونکہ اس سورت میں پہلے خود حضور ﷺ کے اوصاف مذکور ہیں اور تھوڑی دور جا کر خدا کی وحدانیت مذکور ہوتی ہے اور پھر یہ مسئلہ حل کیا جاتا ہے کہ بت پرست فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بناتے تھے اور بتوں کو خدا کی بیٹیاں اور تردید کی گئی ہے کہ یہ لوگ اپنی طرف سے اپنے خداؤں اور فرشتوں کے نام خود عورتوں کے عنوانات سے تجویز کرتے ہیں۔ ورنہ اس کی اصلیت کچھ بھی نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تمام کا پروردگار ہے۔ خواہ تم ہو یا تمہارے معبود، فرشتے ہوں یا بت۔ اس مقام پر قاضی بیضاوی لکھتے ہیں کہ القاء شیطانی سے مراد اس جگہ انسانی غفلت ہے۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام چونکہ انسان ہوتے ہیں۔ اس لئے کسی وقت ذکر الٰہی اور تلاوت کلام اللہ میں نسیان بھی ہو جاتا ہے۔ مگر انبیاء علیہم السلام کی شان یہ ہے کہ ان کا خدا فوراً اس غفلت بشری کو رفع کر کے اپنے نبی کو اپنی طرف متوجہ کر دیتا ہے۔ خود حضور ﷺ نے ایک دفعہ نماز میں چار کی بجائے تین رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا تھا تو بعد میں فوراً آپ ﷺ نے حضور قلب کو قائم کر کے اس نماز کی تکمیل کر لی تھی اور یہ ضروری نہیں کہ دوسرے لوگ بھی فوری تدارک کر سکیں یا خود خدا ان کے لئے تدارک فوری کا ذمہ دار بنتا ہو اور یہ عام تجربہ ہے کہ جب ذکر الٰہی کرنے والے کو حالات ماحول یا فوری خوشی یا غمی آ دباتے ہیں تو اسے وہ لطف نہیں رہتا اور نہ ہی جمعیت قلب قائم رہ سکتی ہے اور یہی اشارہ اس آیت میں بھی ہے۔ ورنہ اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو بھی رسول آتے رہے ہیں۔ ان کو القائے شیطانی بھی ہوتا تھا کہ جس میں شیطان ان کی زبان سے جو کچھ چاہتا تھا کہلا لیتا تھا۔ جیسا کہ مشہور ہے کہ: ”تلك الغرانيق“ کا فقرہ خود حضور ﷺ کی زبان سے سنا گیا تھا۔ کیونکہ محققین اسلام نے اس طرز پر وجود واقعہ کو ہرگز ہرگز تسلیم نہیں کیا اور صاف لکھ دیا ہے کہ مخالفین نے حضور ﷺ کو بدنام کرنے کے لئے یہ تہمت باندھی ہوئی

صفحہ ٤١١

ہے ۔ گو اسلامی پہلا مؤرخ ابن اسحاق اس کی تائید یا تردید میں بھی کچھ لکھتا ہے ۔ مگر امام رازی اور بیضاوی اور دوسرے محققین اس طرز واقعہ کی سخت تردید کرتے ہیں ۔ اس لئے یہ ماننا پڑتا ہے کہ انبیاء کی تعلیم اور تبلیغ ہمیشہ سے بے لوث رہی ہے۔

جواب : مشہور مقولہ ہے کہ : ”دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز“ اور یہ تسلیم شدہ اصول ہے کہ : ”الضرورات تبیح المحظورات“ انسان کی آزادانہ حالت میں جو باتیں نامناسب معلوم ہوتی ہیں۔ خطرہ جان کے وقت وہی حکمت اور مصلحت بن جاتی ہیں ۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی مرحوم کو غدر کے وقت گرفتار کرنے والوں نے مسجد میں آپ سے ہی پوچھا تھا کہ مولوی صاحب کہاں ہیں تو آپ فوراً مسجد سے باہر ہوکر کہنے لگے ۔ وہ ابھی مسجد میں تھے ۔ یہ کہہ کر چل دیئے ۔ مگر وہ مسجد میں جاکر دیکھتے ہیں تو کچھ بھی نہیں پاتے اور آپ اتنے میں کہیں نکل گئے تھے ۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ظریفانہ طور پر اپنی بت پرست قوم سے نجومی مسلمات کے طور پر ان کے شامل نہ ہونے کی وجہ سے محض ٹالنے کی خاطر پہلے تو طالع پر نظر ڈالی تھی تو پھر کہہ دیا تھا کہ لو آج میری بیماری کا دن ہے ۔ میں نہیں جاسکتا ۔ اس لئے وہ لاجواب ہو کر چلے گئے تو آپ نے موقعہ پاکر نمرود کے بت خانہ میں جا کر تمام پوجاریوں سے بت خانہ خالی پاتے ہوئے بت توڑنے شروع کردیئے اور اخیر میں بڑے بت کے کندھے پر کلہاڑا رکھ دیا اور آپ چل دیئے ۔ میلے سے واپس آکر قوم کے لوگ اپنے بت تباہ دیکھ کر سوچنے لگے کہ یہ تباہی کس نے مچا دی ہے۔ آخر قرار پایا کہ یہ ابراہیم کا ہی کام ہے۔ پوچھنے پر آپ نے ظریفانہ انداز سے یوں اقرار کیا کہ یہ آپس میں لڑ پڑے تھے تو بڑے نے سب کو تباہ کردیا تھا۔ اب وہ دم بخود ہوکر آپ کے جانی دشمن بن گئے اور تجویز کیا کہ ایک بھاری آتشکدہ بنا کر اس میں آپ کو ڈال دیا جائے تاکہ ایک عبرتناک سزا آپ کو ملے ۔ مگر خدا نے آپ کو وہاں سے بچالیا تو آپ وہاں سے ہجرت پر آمادہ ہوگئے تو آپ کی بیوی بھی ساتھ ہولی ۔ راستہ میں ایک مقام پر آپ ٹھہرے تو وہاں کے بادشاہ نے زنا بالجبر کرنے کے لئے پوچھا کہ تمہارا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ تو ابراہیم علیہ السلام نے موجودہ رشتہ کو نظر انداز کر کے اضطراری حالت کو ملحوظ رکھ کر اپنی پہلی رشتہ داری کا اظہار کیا کہ ہم چچا زاد بہن بھائی ہیں اور یہ فقرہ زبان پر نہ لائے کہ اب ہم آپس میں میاں بیوی بھی ہیں تاکہ جان بچ

صفحہ ٤١٢

جائے۔ کیونکہ وہ بادشاہ نووارد کو قتل کر کے اس کی بیوی کو زبردستی زنا سے ملوث کر دیا کرتا تھا۔ بہر حال جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے ان تین مقامات پر آزادانہ طور پر ایسا طرز کلام کیوں اختیار کیا تھا کہ جس میں طبیعت کی شوخی پائی جائے اور خلاف واقعہ امر کا چکمہ دے کر مخاطب سے قطع کلامی کا راستہ ڈھونڈا جائے۔ وہ ہمیں بتائیں کہ اگر ایسے موقعہ پر خود (اعتراض کنندہ) مبتلا ہوتے تو کیا ایسے کلام سے اپنی جان نہ بچاتے؟ بلکہ ہمیں یقین ہے کہ ذو معنی لفظ تو کجا صاف جھوٹ بولنے پر بھی صبر نہ کرتے۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے جو کچھ کہا تھا ذو معنی کلام تھا۔ جو ایک پہلو سے سچ ہوتا ہے اور دوسرے پہلو سے اس کا کچھ اور مطلب ہوتا ہے۔ جس کو نہایت محتاط آدمی لفظ کذب سے تعبیر کر سکتا ہے۔ مگر کذب کی تعریف میں نہیں آسکتا۔ کیونکہ اس میں شرط ہے کہ کلام کا کوئی پہلو بھی صحیح نہ ہو۔ اس کے علاوہ یہ تمام واقعات آغاز شباب میں گذرے ہیں۔ جس میں تمام کمزوریاں عنفوان شباب پر نچھاور ہوا کرتی ہیں۔ تاہم پیغمبر کا شباب پھر بھی اعتدال سے تجاوز نہیں کرتا۔ بلکہ جس مطلب کو پیش نظر رکھتا ہے اس کے وسائل اختیار کرنے میں اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتا۔

٥٦ ....... نکاح زینبؓ میں کمزوری پائی جاتی ہے۔

جواب: آج شریف وضیع اور کفو وغیر کفو کی حیثیت کو تمدن یورپ پر نثار کر دیا گیا ہے اور تمام امتیازی مآثر ومفاخر کو خیر باد کہہ کر صرف دھرتی ماتا کی اولاد ہونے کو مساوی طور پر قومیت اور کفو تصور کیا گیا ہے اور صرف دو ہی قومیں رہ گئی ہیں۔ مغربی قومیت اور مشرقی قومیت، اور وہ بھی توالد و تناسل میں نظر انداز کر دی جاتی ہیں۔ اب اس حالت میں جب کہ ہم اپنی قومیت اور امتیازات خصوصی کو بالکل کھو بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمیں معذور سمجھا گیا ہے کہ ہم غیرت اور عصبیت یا کفو اور قومیت کے امتیازی مفاخر ومآثر کو بنظر تحقیر دیکھیں اس لئے نکاح زینبؓ میں موجودہ طرز معاشرت کو نظر انداز کر کے اگر خود مشرقی غیرت اور تعصب قومی کو جو آج سے دس سال قبل ہم میں خود موجود تھی۔ مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آجاتا ہے کہ اگر غیر قوم میں شادی ہو جائے۔ تو بیوی کی ناراضگی سے وہ معاہدہ نکاح فسخ کرانا ہی اخلاقی فرض ہو جاتا ہے۔ حضرت زینبؓ قریشی اور ہاشمی النسل حضورﷺ کی بہترین رشتہ داروں کی ایک پاکیزہ باغیرت پاکدامن عورت تھی۔ وہ کب گوارا کر سکتی تھی کہ زیدؓ سے جو صرف عربی النسل ہی تھا اور غلامی کی کمزوری اس کے مآثر و مفاخر کو کھا چکی

صفحہ ٤١٤

تھی۔ دیر تک نکاح قائم رکھتی۔ گو شروع میں اس نے اپنی طبیعت پر دباؤ ڈال کر بحکم اطاعت رسول ﷺ سر تسلیم خم کر دیا تھا۔ مگر فطرتی جذبات سے مجبور ہو کر اس امر کی متقاضی ہو رہی تھی کہ اپنی کفو کے اندر ہی دوسرے ہمعصر عورتوں کی طرح باعزت و توقیر زندگی بسر کرے اور اس قسم کا خدشہ خود حضور ﷺ کے دل میں بھی پیدا ہو گیا تھا۔ مگر ظاہری معاہدہ نکاح کی پاس خاطر کو ملحوظ رکھ کر حضور ﷺ بھی فسخ نکاح پر زور نہیں دیتے تھے۔ لیکن جب دیکھا گیا کہ زینبؓ اس تحقیر آمیز نکاح کو پسند نہیں کرتی تو اس کے حسب منشاء حضور ﷺ نے اس کو اپنے نکاح میں لے لیا تا کہ جو کمزوری وہ دیکھ چکی تھی۔ اس کا تدارک اور جبر نقصان مکمل طور پر ہو جائے اور اخلاقی طور پر یہ معاملہ سدھر جائے۔ اب اگر اخلاقی کمزوری کا سوال پیش کیا جاتا ہے اور یا حضور ﷺ کے متعلق شیفتگی کا الزام پیدا کیا جائے تو اس کی ذمہ دار وہ چند بے اصل روایات ہیں جو اسلام کے نزدیک قابل تسلیم نہیں ہیں اور ہماری اپنی اخلاقی کمزوری ذمہ دار ہے۔ جب کہ ہم مسئلہ کفو کو چھوڑ کر سید مراسی، راجپوت اور جولاہے کو ایک درجہ سمجھ کر رشتہ داری کر لیتے ہیں اور یا اہل ہنود کی پرانی رسوم کا اثر ذمہ دار ہے کہ جس کو ہم اپنا بیٹا کہہ بیٹھیں۔ وہ حقیقی طور پر بیٹا اور جائز وارث بن جاتا ہے۔ لیکن اسلامی اخلاق ایسی لفظی کارروائی کو بے اصل سمجھ کر سخت مخالفت کرتا ہے۔ کیونکہ اگر صرف لفظی استعمال سے وراثت کے حقوق پیدا ہو سکتے ہیں تو ”ج“ کو اختیار ہو گا کہ ”د“ کی بیوی یا ماں کو اپنی بیوی یا ماں تصور کر کے وراثت کا استحقاق پیدا کر لے۔ ورنہ یہ ماننا پڑتا ہے کہ جب دوسری رشتہ داریاں لفظوں سے پیدا نہیں ہو سکتیں تو باپ بیٹے کا تعلق لفظوں سے کیسے قرین قیاس ہو سکتا ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کا غلام زیدؓ درحقیقت آپ کا بیٹا نہ تھا۔ تاکہ یہ الزام پیدا ہوتا کہ حضور ﷺ نے اپنے بیٹے کی منکوحہ سے نکاح کر لیا تھا اور اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ زیدؓ آپ کا اخلاقی بیٹا بن چکا تھا اور حقیقی بیٹے کی حیثیت اس میں پیدا ہو چکی تھی تو پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک زینبؓ کی رضامندی پورے طور پر متحقق نہ تھی۔ اس لئے یہ نکاح ابھی صحیح طور پر منعقد ہی نہیں ہوا تھا۔ بلکہ زیر بحث ہو کر امکانی صورت اختیار کر چکا تھا۔ جس کو زینبؓ نے مکمل نہ ہونے دیا تھا اور اپنی اجازت حضور ﷺ سے وابستہ کر دی تھی۔ اس لئے ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح نہیں کیا۔ بلکہ متنازع فیہ نکاح کا فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے۔ جو کسی طرح آج بھی باپ بیٹے کے درمیان ایسے متنازع فیہ نکاح کرنے میں اخلاقی کمزوری ظاہر نہیں کرتا۔

صفحہ ٤١٤

جواب: نبی چونکہ پاکباز ہوتے ہیں۔ اس لئے کسی کے چقمہ میں آسکتے ہیں۔ آدم علیہ السلام شیطان کے چقمہ میں آگئے تو گندم کا دانہ کھا لیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سبطی کے کہنے پر قبطی پر حملہ آور ہوئے اور آخر کو وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اسی طرح بیویوں کی باہمی کاوش سے ماریہؓ قبطیہ کے متعلق آپ کو چقمہ دیا گیا۔ جس سے آپ کو بہت رنج ہوا۔ اب یہ کہنا کہ آپؐ نے عائشہؓ اور حفصہؓ کی دلجوئی کیوں کی اور کیوں ان کے کہنے سے ماریہ قبطیہؓ سے قطع تعلق پر آمادگی ظاہر فرمائی۔ صاف اس امر کی دلیل ہے کہ حضورﷺ کی نیک نیتی پر حملہ کیا گیا ہے۔ ورنہ اس کی ذمہ داری آپؐ پر عائد نہیں ہوتی۔

ہے تو کیا اس شان نبوت میں فرق نہیں آتا؟

جواب: حضورﷺ کا تعلق اپنے خدا سے عابد ومعبود کا بھی ہے اور اعزاز وتکریم کا بھی اور حضورﷺ کا تعلق ہم سے مالک ومملوک کا ہے۔ جس میں ہمیں پہلے تعلق کے متعلق لب کشائی کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے اس کو پیش نظر رکھ کر گستاخی کرنا اسلام کے سراسر خلاف ہوگا۔

٢٦...... مرزائی تعلیم پر چند سوالات

اللہ کرتے خاموش دیکھا تھا۔ جس سے مراد مرزا قادیانی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کب مسیح محمدی نے حضورﷺ سے یہی کہا تھا کہ میں آسمان سے اتروں گا۔ لیکن مسیح ناصری کا بیان ہے کہ میں نازل ہو کر اشاعت اسلام کروں گا۔ اب مرزا قادیانی کا یوں کہنا کہاں تک درست ہے کہ میرے ظہور کی خبر قرآن وحدیث میں بھی موجود ہے۔

یسوع سے بگڑا ہوا ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ یسوع کا ذکر قرآن میں موجود نہیں۔ (انجام آتھم) تو اب کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یسوع کی قبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔

صفحہ ٤١٥

قوائے شہوانیہ بلند ہوتی ہیں۔

بن گیا۔ کثرت استعمال سے زقوم مشدد بن گیا۔ ہمیں پوچھنا یہ ہے کہ اس تحقیق کی بنیاد عربی زبان ہے۔ یا کوئی الہامی لغت ہے۔

منظوری نہیں لی تھی اور دوسروں سے منظوری لینے کے خواہاں رہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

جاتی ہے کہ قیامت کے دن مرزا قادیانی کا نکاح اس سے ہوگا۔ لیکن حدیث شریف میں تو یوں وارد ہے کہ مسیح عند النزول من السماء نکاح کرے گا۔ نہ یہ کہ قیامت کو نکاح کرے گا۔ اب یہ جواب کیسے صحیح ہوگا۔

کے دن بیان کیا جاتا ہے۔ مگر اس روایت کی تصحیح نہیں کی گئی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

نے آپ کو نبی حق تسلیم کیا تھا۔ مگر نکاح کے معاملہ میں جن سے عذاب ٹل گیا تھا۔ انہوں نے نہ تو مرزا قادیانی کو نبی مانا اور نہ ہی بنا عذاب کو ترک کیا۔

کے قریب دارالوحی کے مقام پر دوسری دفعہ قرآن شریف اترا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ سارا اترا تھا یا اس کا کچھ حصہ؟ اس کا فیصلہ نہیں دیا گیا۔

صفحہ ٤١٦

قرآن شریف کے ضمیمہ ہوں گے تو اب سوال یہ ہے کہ کیا قرآن شریف کا کچھ حصہ ابھی تک نہیں اترا تھا؟ اگر یہ صحیح ہے تو قرآن شریف مکمل وحی نہ تھی۔ اگر الہام کو قرآنی درجہ نہیں دیا جاسکتا تو نزول ثانی نزول اول سے بہتر کیسے ہوا؟

کے مساوی تصور کی گئی ہیں۔

نبوت محمدیہ قیامت تک جاری رہے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس وقت حضورﷺ کو خاتم النبوت کا لقب ملنا مناسب تھا نہ یہ کہ خاتم النبیین کا لقب پاتے؟

تھی تو پھر حضورﷺ کے بعد سلسلہ تیموریہ سے کس طرح وابستہ ہوگئی۔

کر بند ہو گیا؟

بعد خود ان کے سلسلہ میں کوئی نبی صادق تسلیم کیا جاتا ہے۔ کیا کوئی اسلامی ثبوت پیش کر سکتے ہیں؟

جب کہ خود حضورﷺ کی تصریحات اس کے سراسر خلاف ہوں۔ کیا یہ تفسیر بالرائے نہ ہوگی؟

تردید اور مسئلہ تثلیث کا صحیح انکشاف“ اگر یہی معنی مراد لیا جائے تو یہ تو مرزا قادیانی سے پہلے ہی حافظ ابن قیم، ابن تیمیہ، مولوی رحمت اللہ اور دیگر مناظران اسلام کے وقت ظاہر ہوچکا تھا کہ جن کی تصانیف سے مرزائی تعلیم نے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ اب اس کی صداقت کیسی؟

مرزا قادیانی نے لعنت بھیجی ہے اور قصیدہ اعجازیہ (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩) کے شروع میں دس لعنتیں بھیجی ہیں۔ مگر ان کا کچھ نہ بگڑا۔ ”انی مھین من اھانک“ کا الہام کیا ہوا؟

صفحہ ٤١٧

بددعائیں دونوں قسم کی موجود ہیں تو پھر غیر مشروط بددعاؤں کو بھی زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا؟

کے بعد زندہ رہا۔ مگر ابو جہل تو جنگ بدر میں مارا گیا تھا۔ پھر اب یہ تشبیہ کیسی؟

الہامی اشعار میں عربی شاعریت کا وہ ستیاناس کیا ہے کہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی جیسے زبان دانی میں غلط گو تھے۔ ویسے ہی اسلامی عقائد میں بھی غلط گفتار تھے۔ دیکھئے اعجازی کلام کے اشعار کس طرح اپنی ردیف اور قافیہ کو چھوڑتے ہوئے علم عروض کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگارہے ہیں۔

بفضلك انا قد عصمنا من العداء
وان جمالك قاتلى فأت فانظر
دعوا حب دنياكم وحب تعصب
ومن يشرب الصهباء يصبح مسكرا
وان كان شان الامر ارفع عندكم
واين بهذا الوقت من شان جولرا
ومواكل صخر كان فى اذيالهم
بغيظ فلم اقلق ولم اتحير
سئمنا تكاليف التطاول من عدے
تمادت ليالى الجور يا ربى انصر
ولا تحسب الدنيا كناطف ناطفى
اقدرى بليل مسرة كيف تصبح
وان شفاء الناس كان بيانه
فهل بعده نحو الظنون نبادر
وقد مزق الاخبار كل ممزق
فكل بما هو عنده يستنسر
صفحہ ٤١٨
ففكر يهديك خمس عشرة ليلة
فناد حسيناً وظفراً واصغرا
رميت لا غتالن وماكنت رامياً ولـكــن
رمــــــــاه الله ربــــــي ليـــــظهـــــــرا
ويـــــوم فـــــعــــــلــــتــــم بــــغــــذركم
بـاخ الحسين وولده اذ احصروا
ووالله ان قصيدتى من مؤيدى
فنثنى على رب كريم ونشكر
وان كان هذا الشرك في الدين جائزا
فبا للغو رسل الله بالدين بعثروا
ويـــارب ان ارسلتـنى بعـــنـاية
فـــايــــد وكـمل كلمـا قلت وانصر
وهــذا الـعـهـــد قـــد تــقـــرر بيـنـنـــا
بــمـــد فـــلـــم نــنــكــت ولــم نتغيـــر
ايا محسنى بالحمد والجهل والوغا
رويدك لا بتطل ضيعك واحذب
وان حيــــوت الــغــــــافــليــن لــذلة
فسل قلبـه زاد الصـفــا اوتكدرا
تــــركـــت طـــريـــق كرام قوم وخلقهم
هـــجــــوت بــمــدعــــــا مــدالـتـحـقـــرا
ولــلـــديـــن اطـلال اراهـــــا كـلاهف
رد مـعـــى بــذكــر قـصوره بتحدر
اتـــــــانـــى كــتـــاب مـن كـذوب يـــزور
كـتــاب خـبـيــث كــالـعـقــا رب يـأبــر
صفحہ ٤١٩
فقلت لک الویلات یا ارض جولر
لعنت بمعلون فانت تدلر
فقال ثناء الله لی انت کاذب
فقلت لک الویلات انت ستحسر

آئینہ حق اور تنویر الابصار میں ان نقائص کے رفع کرنے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ مگر چشم بینا کے سامنے سب ہیچ ہے۔ کیونکہ جس قسم کے عیوب اور قافیہ یا روی کی تبدیلیاں جس کثرت سے اس قصیدہ کے مذکورہ بالا اقتباس میں موجود ہیں۔ آج تک کسی مستند شاعر کے کلام میں موجود نہیں ہیں اور نہ ہی کسی آئندہ شاعر کے کلام میں موجود ہونے کی امید ہوسکتی ہے۔ عذر کیا جاتا ہے کہ کلام اللہ کے اغلاط بھی تو مخالفین نے لکھے ہیں تو اگر اسی قصیدہ کے اغلاط کسی نے لکھ دیئے تو کون سی بڑی بات ہو گئی۔ مگر گذارش یہ ہے کہ جولوگ اس نظریہ کی تائید میں قلم اٹھاتے ہیں۔ جب وہ خود ہی شعر وشاعری سے بے خبر معلوم ہوتے ہیں تو ان کا یہ عذر اس بارے میں کیسے قابل تسلیم ہوسکتا ہے۔ چنانچہ:

واولوا العلم کلہم شہدوا
انـــــــہ لا الــــــــہ الا ہـــــــو
ثم قال الرسول قولوا معی
انـــــــہ لا الــــــــہ الا ہـــــــو
ایرمون ابرار لغیر ثبوتہم
اظفر الوشاة بتہمة ومکائد
وحال التقی البارین ببرکة
کمال یبارک فیہ لیس بکاسد
لذم المقدس والمطہر خیبة
اشاعوا عیوب نفوسہم فی الجرائد
صفحہ ٤٢٠
وان البغاة بفسقهم وفجورهم
يحبون سبيل الغی طرق المفاسد
ودعوى التقاة بغير تقوى سفاهة
ويبلى تقاة المرء عند الشدائد
وانا لانصار الخلافة بالهدى
لاعلاء كلمتها بحق كراشد
وان الخليفة صالح بشأنه
فلا تعزين اليه عزى المفاسد
وسيدنا المحمود ابن مسيحنا
بشير وفخر الرسل ليس بطارد
البشر رب الكائنات مسيحه
خلافا لوحى بشارة ومواعد

صاحب کے متعلق لکھتے ہیں۔

کاذب کو لمبی عمر ملتی ہے کہا
کذب میں پکا تھا اپنے اس لئے زندہ رہا
مستفعلن مستفعلن مستفعلن
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن

لکھتے ہیں کہ:

چراغ شام آخر را بغیر مانے بیند
طلوع صبح صادق را کبیر مانے بیند
تعجب است تعجب است مصیبت است مصیبت است
کہ چشم زرد بینا را ایں نابینا نے بیند
صفحہ ٤٢١
شب تاریک و درد دل و با ایں کنج تنہائی
ایں حال من امیر دستہ رفقا نمی بیند
بیا قاضی مرنجاں دل و تکیہ بر خداے کن
کہ دست تو گرفتہ چوں ایں معتکفہا نمی بیند
ایں اشکیکہ معلق شد نہ ریزد نہ شدہ واپس
بیارد سخت طوفان حیف ایں دریا نمی بیند
ابن مریم وہ مراد ہی تھا بنا
ہے نزول اس کا مرادی تا مدام
اس کے بیٹے کیوں ہیں لفظوں پر اڑے
کیوں نہیں یہ سوچتے وقت خرام
ہیں تو باتیں بہت پر کافی یہ ایک
تیرا کچھ جائے نہ میرا بنتا کام
میری غلطی کو مٹا دے معاف کر
تو ہے دینے والا میں انسان نام
نازک مزاج بھی ہوں طبیعت کا سخت بھی ہوں
دیکھے جو غور سے تو یہی صفت اولیاء ہے
جس دل میں ہو چنگاری الفت کی جلنا اس کا
کیا جینا اس کا لہر دنیا ہی جو جیا ہے
اب رحم پر اسی کے ہے سارا تانا بانا
نہ رات میں ہے ظلمت نہ روز میں ضیاء ہے

منقول ہیں کہ:

واہ سعدی دیکھ لی گندہ دہانی آپ کی
خوب ہوگی مہتروں میں قدردانی آپ کی
بیت سازی آپ کی بیت الخلاء سے کم نہیں
ہے پسند خاکروباں شعر خوانی آپ کی
صفحہ ٤٢٢

اب ناظرین خود انصاف کرلیں کہ ایسے شاعروں کے سامنے اغلاط قرآنیہ اور اغلاط قصیدہ اعجازیہ کو ایک درجہ پر سمجھنا کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے۔ ہاں جو شعر و سخن سے کچھ بھی واقفیت رکھتے ہیں وہ اس بات پر کبھی متفق نہیں ہو سکتے کہ مرزا قادیانی کے کلام پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں ویسے ہی تھے جو کلام الہی پر کئے گئے تھے۔ کیا مرزا قادیانی شریعت محمدیہ میں مجدد ہو کر آئے تھے۔ تو شریعت شاعری میں بھی آپ مجدد تھے؟ نہیں ہرگز نہیں! ورنہ اسلام میں کئی ایک قصائد مضریہ اور بڑی بڑی لمبی نظمیں موجود ہیں۔ کسی ایک میں سے ایسا اقتباس ہمارے سامنے پیش کریں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی عیوب آمیز ننگ شاعری چند اشعار کو پیش کیا گیا ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ مرزا قادیانی کے طرفدار ثابت کریں کہ وہ خود بھی شعر و سخن سے آشنا یا سخن فہم ہیں۔ ورنہ جو کچھ آئینہ حق نما ء میں یا تنویر الابصار میں جواباً لکھا گیا ہے وہ اس لئے بھی غلط ہے کہ یہ لوگ خود بھی شعر فہم نہیں ہیں۔ کسی کی طرفداری میں کیا لکھیں گے۔

کسی نے مرزا قادیانی سے پہلے کبھی قادیانی وحی پر ایمان کا اظہار نہیں کیا۔ کیا وہ سارے ہی فرقے کافر تھے یا یہ معنی مراد لینا غلط ہے؟

نصوص اسلام کرتے رہتے ہیں۔

ہوئے تھے۔ جو حضرت آدم علیہ السلام کی طرح پیدا ہوتے ہی شاعر اور جوان تھے۔ تبت کے پہاڑوں پر خدا کا کلام ان پر نازل ہوا اور یہ قاعدہ ہے کہ جب دنیا میں وید کی تعلیم سست پڑ جاتی ہے تو وہی چار رشی خدا کا کلام حاصل کر کے از سر نو وید کی تعلیم دینے آجاتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنے کسی جنم میں نیک کام کئے تھے۔ جن کا معاوضہ ان کو یہ خدمت ملی ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ جب انسان کا باطن صاف ہو جاتا ہے تو براہ راست بھی خدا سے وید بانی حاصل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس زمانہ میں دیانند سرسوتی (معلم وید) نے وید حاصل کئے تھے اور ان کو سنسکرت کے علاوہ دیسی زبانوں میں بیان کیا تھا تو گویا اس اصول کا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں وید کئی دفعہ اترے اور حسب ضرورت وہ کئی زبانوں میں پڑھے گئے اور حسب ضرورت زمانہ ان کے احکام میں تبدیلی

صفحہ ٤٢٣

بھی ہوتی رہی اور مرزائی تعلیم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی بھی دنیا میں ظلمت چھا جاتی ہے تو نبوت کا نور چمکتا ہے۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ حضور ﷺ سے پہلے دنیا میں کئی نبوتیں جاری تھیں۔ اب خاتم الانبیاء کے بعد صرف نبوت محمدی کا ہی راج ہے۔ یہی نبوت روپ بدلتی رہی ہے اور آئندہ بھی بدلتی رہے گی اور یہی قرآن شریف حضور ﷺ پر پہلے نازل ہوا تھا۔ اب دوسری دفعہ مرزا قادیانی پر بمعہ اضافات کے نازل ہوا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی حضور ﷺ کے بروز ثانی ہیں اس لئے ضرورت زمانہ کے مطابق قرآن شریف کا مفہوم کچھ اور ہے اور اس کی زبان میں بھی اردو، فارسی اور انگریزی کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اب ہمیں پوچھنا یہ ہے کہ بروز کا مسئلہ آریہ مذہب سے تو نہیں لیا اور کیا دیانند کے مقابلہ میں آنے کی خاطر مرزا قادیانی نے دعویٰ نہیں کیا تھا۔ تاکہ یہ دیکھایا جائے کہ اگر وید دیانند پر اردو میں اتر سکتے ہیں تو قرآن بھی اردو چھوڑ کئی زبانوں میں اتر سکتا ہے۔

ہیں ۔ توفی، رفع، تطہیر اور غلبہ تابعین۔ مرزائی تعلیم کے رو سے ٨٧ سال کی روپوشی جو کشمیر میں ہوئی ہے واقعہ صلیب کا جزو اعظم ہے۔ اس کا ذکر بھی ضروری تھا۔ یہاں کیوں نہیں ذکر ہوا۔ حالانکہ یہ جزو اس واقعہ کی جان تھی۔ اگر کہو کہ ”واوينھما“ میں مذکور ہے تو دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اوّل یہ کہ اس آیت میں بطور وعدہ کے سفر کشمیر مذکور نہیں ہے۔ دوم یہ کہ کشمیر میں توفی بالموت اور رفع روحانی ہونا جہاں مخالف نہ تھے محض بے فائدہ ہوگا۔

نمبر پہلا ہونا ضروری تھا اور اگر اس سے مراد تصدیق محمدی ہے تو غلبہ تابعین کے بعد ہونا چاہئے تھا۔ بہر حال اگر ہم پر ترتیب توڑنے کا الزام قائم ہے تو تم بھی بچ نہیں سکتے۔

پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں تجھے موت دوں گا ۔ یعنی قتل یا صلیب پر نہیں مرنے دوں گا۔ کیا شہادت فی سبیل اللہ جو آپ سے پہلے کئی ایک انبیاء کو نصیب ہو چکی تھی۔ حضرت مسیح کو محروم رکھنا تھا؟ اور کیا موت فی الفراش شہادت سے افضل تھی؟

صفحہ ٤٤٤

کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ تین سال کی تبلیغ میں تو یہ اثر تھا کہ آج عیسائی مذہب سب سے بڑا ہے جو شام سے نکل کر یورپ میں جا گھسا تھا۔ مگر کشمیر میں ٨٧ سال کی تبلیغ سے ایک عیسائی بھی نظر نہیں آتا۔ دوم یہ کہ اگر آپ روپوش رہے تھے اور دشمن کا خوف بھی نہ تھا تو آپ نے تبلیغ کیوں نہ کی۔ سوم یہ کہ قیامت کو خدا کے سامنے کیسے کہیں گے کہ جب تک میں یہود میں رہا ان کا نگران حال رہا۔ کیا روپوش بھی نگران حال رہا کرتا ہے۔ چہارم یہ کہ ماننا پڑتا ہے کہ آپ کی عین حیات میں اور روپوشی کے لمبے عرصہ میں تثلیث پیدا ہو چکی تھی۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے بعد اسی سال کے اول اول ہی اناجیل مرتب ہو چکی تھیں۔ جن میں آپ کو ابن اللہ کہا گیا تھا۔ حالانکہ تمہارے نزدیک تثلیث بعد الموت مانی گئی ہے۔ اس لئے ہجرت کشمیر کا نظریہ صرف خیالی مسئلہ ہے۔ جس پر نہ کوئی تاریخی ثبوت ہے اور نہ آسمانی شہادت موجود ہے۔

ہے اور ”انت منی وانا منک“ میں تاویل کی جاتی ہے کہ: ”انت من اتباعی“ تو پھر ”اولئک مع النبیین“ میں ”من اتباعہم“ کی تاویل کیوں کی جاتی ہے؟

نے کہاں سے اس کا جواز حاصل کیا تھا؟ کیا اپنے الہام اور وحی سے تو پھر ناسخ شریعت ٹھہرے۔ ورنہ قرآن وحدیث سے اس کا ثبوت دیا جانا ضروری ہے۔

(دیکھو تفہیمات ص ٥٤٩)

تھا تو یہ بہانہ کرنا مناسب نہ تھا کہ اب ہم کچھ سے کچھ بن گئے ہیں۔ اس لئے ایفاء وعدہ واجب نہیں رہا۔ کیونکہ اس وعدہ خلافی کا خواہ کوئی سبب ہو۔ بہر حال اس سے مخالفین اسلام تو کہہ سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کہہ کر مکر گئے۔ اگر یہ مبلغ علم تھا تو تین سو دلائل حقہ کی ڈینگ کیوں ماری تھی؟

خود معجزات تین سو سے زیادہ ہیں۔ اس لئے اب تین سو دلائل حقانیت اسلام کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ یہ تاویل مریدوں میں تو خوب چل گئی ہے۔ مگر اہل اسلام کو تو یہ وہم دلایا گیا تھا کہ خانہ زاد دلائل کے سوا خارجی دلائل ذکر کئے جائیں گے اور اگر اپنی تعلیوں کو ہی دلائل اسلام بنا لینا تھا تو پہلے ہی کہہ دیتے۔ تا کہ لوگ بے چین ہو کر کتاب کی پیشگی قیمت تو واپس نہ لیتے۔

صفحہ ٤٢٥

گالیاں دینے میں ابتداء نہیں کی اور جب میں نے سعد اللہ لدھیانوی کو گالیاں دیں تو واقعات کا ترجمہ کر دیا۔ گالی وہ ہوتی ہے جو جھوٹ ہو۔ اگر یہی بات ہے تو شروع میں جب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مرزا قادیانی کو مدعی نبوت ہونے کی بناء پر فتویٰ تکفیر ہی تیار کرایا تھا تو وہ بھی واقعات پر مبنی تھا۔ جھوٹ نہ تھا تو پھر بتاؤ گالیوں کی ابتداء کس کی طرف سے ہوئی؟ اور نہ ماننے والوں کو ذریتہ البغایا (حرامزادے) کس نے لکھا؟ گو اپنے اپنے خیال میں دعویٰ نبوت اور فتویٰ تکفیر جھوٹ نہ تھے۔ مگر بعد میں مرزا قادیانی نے لوگوں کو لومڑی، خنزیر، سانپ، کتے اور ملعون و حرامزادے وغیرہ کہنا شروع کر دیا تھا تو کیا ان گالیوں کا کوئی ثبوت شرعی ان کے پاس موجود تھا؟ اگر نہیں تھا تو پھر گالیاں کیوں نہ ہوئیں؟ اور فتویٰ کے بعد آغاز کس سے ہوا؟ بلکہ فتویٰ سے پہلے ہی مرزا قادیانی نے عملی طور پر روپیہ واپس نہ دینے سے جب لوگوں کو پاگل سمجھ لیا تھا تو یہ منحوس مضمون اسی دن سے شروع ہو گیا تھا۔

تین دادیاں بقول نصاریٰ زنا کار تھیں۔ (الحکم ٢١ فروری ١٩٠٦ء) میں ہے کہ بقول یہود، مسیح ایک عورت پر عاشق بھی ہو گیا تھا۔ مگر ہم اس روایت کو صحیح نہیں سمجھتے۔ اہل اسلام کے نزدیک توہین مسیح میں یہ باریک اشارہ ہے۔ جس میں مرزا قادیانی نے سب کچھ کہہ دیا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ہم ایک معزز کی بظاہر عزت کریں اور اس کے آباء اجداد کی برائیاں لکھ کر شائع کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس سے بہتر بھی سمجھیں اور اخیر میں کچھ مدت کے بعد کسی پوشیدہ تحریر میں یہ بھی کہہ دیں کہ یہ روایت صحیح نہ تھی۔ پھر دیکھیں ہتک عزت کا دعویٰ دائر ہوتا ہے کہ نہیں؟

ہم نے بھی ان کے فرضی مسیح کو گالیاں دیں۔ ورنہ میں جب مسیح کا مثیل ہوں اور اس کی روح سے ایک بجلی اٹھ کر میرے دل میں جاگزین ہو گئی ہے تو میں اس کو برا کیسے کہہ سکتا ہوں؟ ہاں جناب غصے میں آکر یوں ہی کہا ہے۔ عیسیٰ کجاست کہ بنہد پا بمنبرم؟ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے اور یوں بھی لکھا ہے کہ جب عیسائیوں نے مسیح کو بڑھایا تو غیرت خداوندی نے چاہا کہ مجھے اس سے بہتر ثابت کرے۔ (انجام آتھم) یہ تو وہی مثل ہوئی کہ پیر ما ہمہ صفت موصوف است لیکن قدرے کا فراست۔

صفحہ ٤٢٦

نوح ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٧) میں لکھا ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے احترام تھا مگر جب مرزا قادیانی مستقل نبی بنے تو وہ احترام جاتا رہا۔

یوں بیان کیا ہے کہ قرآن شریف میں بھی مخالفین کو سخت لفظ کہے گئے ہیں۔ ہم نے اگر کہہ دیئے تو کون سی بڑی بات ہوگئی ہے۔ (انوارالاسلام ص ٣٤، خزائن ج ٩ ص ٣٥) میں ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ ہم نے کسی نبی کی توہین کی ہے تو اس کا جواب ہے۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ مگر واقعات بتلا رہے ہیں کہ نصاریٰ کے مقابلہ میں حالات مسیح کو اس بری طرح پر بیان کیا ہے کہ آخر مرزا قادیانی کو مسیح سے خود بہتر بننا پڑا اور قرآن میں کسی نبی کی ہتک موجود نہیں ہے۔ ہاں کفار مکہ کو بیشک برا کہا گیا ہے۔ کیونکہ اسلام کے دشمن تھے۔ مگر یہاں یہ معاملہ ہے کہ حامیان اسلام کو مشرک، دجال، علمائے سوء، مقلدین، شیطان کہا جاتا ہے۔ جو صحیح روایات اسلام کی بنیاد پر مرزا قادیانی کے دعاوی کی تکذیب کرتے ہیں۔ اس لئے یہ قیاس غلط ہوگا۔

کا شوق تھا۔ اس لئے مرزائیوں کو یہ دکھانا پڑے گا کہ: ”انا انزلناہ قریباً من القادیان“ بھی قرآن میں موجود ہے؟ یا یہ تسلیم کرو کہ قرآن کا کچھ حصہ ابھی نزولِ اوّل سے باقی رہ گیا تھا جو نزولِ ثانی میں حاصل ہوا ہے۔

القرآن“ پھر لکھا ہے کہ قرآن کو سب پر مقدم رکھو۔ کیونکہ ”لا شفیع ولا نبی الا محمد ولا کتاب الا القرآن“ اور بھی لکھا ہے کہ تائیدی حدیث کو نہ چھوڑو۔ مگر اخیر پر (ازالہ ص ٧٠٨، خزائن ج ٣ ص ٤٨٢) میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ بقول گلاب شاہ مجذوب مرزا قادیانی قرآن کی وہ غلطیاں دور کردیں گے جو تفسیروں میں اس کی طرف منسوب ہیں۔ گویا مرزا قادیانی پہلی تفاسیر کو جو اہل زبان صحابہ اور خاص عربوں سے منقول ہیں۔ غلط قرار دے کر قرآن میں تحریف جدید کریں گے۔ کیا یہ فعل یہود نہیں؟ کیا اس میں تمام مسلمانوں کی توہین نہیں؟ اور کیا اس میں ضمنی تشریع کا ادعاء موجود نہیں ہے؟ یا کیا اس میں دیانند کے مقابلہ میں وید کی طرح نئی شریعت کا دعویٰ نہیں ہے؟

جسمانی کا عقیدہ رکھ کر اسلامی فتح ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ یہ عقیدہ قرآن سے ثابت نہیں اور جن

صفحہ ٤٢٧

روایات پر اس کی بنیاد ہے وہ بھی غلط ہیں۔ بہت خوب! مگر یہ کون ذی عقل تسلیم کرتا ہے کہ تیموری خاندان کا ایک فرد سید آل رسول بن کر باتوں باتوں میں ہی افضل الرسل بن جائے اور باوجود مذہبی زبان پورے طور پر نہ جاننے کے مفسر قرآن بھی اعجازی طور پر بن بیٹھے۔

مادہ ہے اور انسان سے خدا کی محبت ”نَر“ اور دونوں کے ملنے سے محبت کا بچہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر (توضیح المرام ص ٧٨،٨٠ ، خزائن ج ٣ ص ٩١،٩٢) میں لکھا ہے کہ جبرائیل اپنی جگہ پر قائم ہے اور انسان کے دل میں جو محبت کا بچہ پیدا ہوتا ہے اس میں جبرائیل کی تصویر اترتی ہے۔ اس لئے محبت کا بچہ روح القدس بھی کہلاتا ہے اور انسان کے لئے خدا سے کلام سننے اور عجائبات عالم کو دیکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور چونکہ جبرائیل خود خدا کے اعضاء کی بجائے ہے۔ اس لئے اس کا فوٹو (محبت کا بچہ) بھی وہی جبرائیل ہوتا ہے اور چونکہ محبت کا بچہ خود روح انسانی ہے۔ اس لئے ایسا انسان خدا کا بچہ بننے کا حقدار ہو سکتا ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ یہ تثلیث قرآن کی کس آیت سے حاصل کی گئی ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ: ”ان الله خلق آدم على صورته“ سے یہ مضمون تراش لیا گیا ہے تو ہم کہیں گے کہ اس کو غلط طور پر استعمال کرنے میں خیانت کی گئی ہے۔ کیونکہ اس کا صاف مفہوم یہ ہے کہ خدا نے انسان میں سمع، بصر، علم وغیرہ پیدا کر دیئے ہیں۔ جو اس میں بھی موجود ہیں۔ ورنہ اس میں محبت کا بچہ پیدا کرنے کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ بھی ایسی تک بندیوں پر ایمان لے آتے ہیں۔ ممکن ہے کہ (فتوحات مکیہ ص ٥٥) میں ایسی تک بندیوں کی طرف ہی اشارہ ہو کہ انسان کے قلب پر جب شیطان اپنا تسلط جما لیتا ہے اور دعویٰ آفرینی کے اصول اس کے ذہن نشین کرالیتا ہے تو خود اس میں ایسی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ جو نکتہ آفرینی اور موشگافی میں اس کی اس طرح دستگیری کرتی ہے کہ ملہم اوّل حضرت شیطان بھی دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں اور اس طاقت کا نام شیطان معنوی ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ محبت کا بچہ بھی کچھ ایسا ہی ہو۔ بہر حال ناظرین کا فرض ہے کہ تحقیق مرزائیہ کو اس کے مقابل رکھ کر ذرہ غور سے بتائیں کہ کیا یہی نتیجہ نکلتا ہے یا کچھ اور؟

وارحم من السماء ربنا عاج“ اس فقرہ کی ترکیب کر کے سمجھاؤ کہ اس کا مفہوم کیا ہے اور یوں کہہ کر نہ ٹالو کہ یہ متشابہات میں سے ہے۔ کیونکہ یہ جواب صرف احمدیوں کی تشفی کر سکتا ہے۔ ورنہ ہم تو عاج کی تشریح پر بھی پوچھیں گے کہ (تفہیمات ص ٢٥٦) میں اگر اس کا معنی یتیم مرزائیوں کا

صفحہ ٤٢٨

شیر دہندہ یا آسان وزن میں ان کی تشہیر کرنے والا صحیح بھی ہو تو یہ سارا فقرہ پھر بھی بے جوڑ مرکب اشراعی کی طرح رہ جاتا ہے۔ کیا ایسے فقرے قرآن کے مقابلے میں وحی کہلانے کے حقدار ہیں؟ ارے کچھ تو خدا کا خوف کرو۔

بڑا تیندوا ہے۔ جس کی بیشمار تاریں تمام عالم کو محیط ہیں۔ (تفہیمات ص ٢٥٠) میں ہے کہ چونکہ قرآن میں ہے کہ: ”مثل نور كمشکوۃ“ اس لئے یہ تشبیہی تمثیل جائز ہوگی۔ لیکن تاہم فرق ہے۔ کیونکہ قرآن میں نور کی تمثیل ہے اور یہاں ذات باری کی تمثیل ہے اور قرآن کلام الہی ہے۔ خدا مجاز ہے کہ اپنی تمثیل کسی طرح ذکر کرے اور یہ کلام بشر کسی طرح بھی وحی نہیں ہے اور اگر اس کو بھی وحی مان لیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ غلام اپنے آقا سے بڑھ کر وحی پاتا تھا۔ ذرہ سوچ کر جواب دیں۔

والے متقی پرہیزگاروں کے لئے مخصوص ہے۔ مبلغ غریبوں کا داخلہ مفت ہے اور غیر مبلغ تصدیقی فارم داخل کرنے کے بعد جو دفتر سے ملتا ہے جائیداد کا دسواں حصہ صیغہ تبلیغ میں دے کر داخل ہوسکتا ہے۔ ورنہ صرف عشر مال کافی نہ ہوگا۔ صیغہ تبلیغ کے لئے گو اسی طریق سے خوب مدد پہنچتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ”محاکاة بالنبی “ کے سواء کوئی اور بھی اس کے جواز کی صحیح دلیل ہے یا صرف ”ان الله اشترى من المؤمنین انفسهم بان لهم الجنة“ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے۔ کیا مرزا قادیانی خدا تھے؟ جو یہ تجارت کرنے بیٹھ گئے تھے؟ یا اپنے آقا سے بڑھ کر زیادہ تکمیل دین کے لئے یوں کہا تھا؟ تشریح سے بیان کریں اور یہ بھی بتائیں کہ وفات مسیح مسیح محمدی، پاک تثلیث حیات مسیح پر فتویٰ شرک، نزول مسیح سے مراد ظہور مرزا، قرآن کی جدید معنی طرازی، ختم نبوت سے انکار، اسلام قدیم پر مضحکہ اڑانا وغیرہ یہ سب کچھ مان کر انسان بدعتی بنتا ہے یا نہیں۔ اسی طرح انیتہ اللہ بعینہ اللہ ۔ بروز تناسخ کو ماننے والا مشرک ہے یا نہیں؟ کیا وہ شخص مسلمان رہ سکتا ہے جو یوں کہے کہ مسیح کو اب تک زندہ ماننے سے شرک لازم آتا ہے۔ جس سے تمام مسلمان مشرک بن گئے ہیں۔

ہو۔ (تحفہ قیصریہ ص ٧، خزائن ج ١٢ ص ٢٩٠) تبلیغی خط کو گو اس نے نہیں پھاڑا تھا۔ مگر اس نے عملدرآمد نہیں کیا تھا۔ اس لئے الہام ہوا کہ ؎

صفحہ ٤٢٩
مدت برطانیہ تا ہشت سال
بعد ازاں ایام ضعف واختلال

(تتمہ ص ٤٢٦) مگر سب کو معلوم ہے کہ نہ تو ملکہ مسلمان ہوئی اور نہ اس کے بعد سلطنت برطانیہ کو زوال آیا۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ملکہ کے بعد توسیع ممالک زیادہ ہوئی اور اقتدار بڑھا۔ اسی سے باقی الہامات کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ رہا کانگرس کمیٹی کا خرخشہ تو اس کا جواب یہ ہے کہ رعیت ورعایا میں شکر رنجی پیدا ہونا زوال سلطنت یا اختلال کا نشان نہیں ہوتا۔ ہاں سلطنت کو زوال یا اختلال اور ضعف کا خطرہ اس وقت ہوتا ہے کہ غنیم برسر پیکار ہو۔ اس لئے ایسی تاویل کرنا کمال خوش فہمی ہوگی۔ اس لئے ہم پوچھیں گے کہ الہام اور دعا کو کیا ہوا۔

نہیں مانتے تو یوں کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ:

آخر کنند دعوے حب پیغمبرم

(تتمہ ص ٤٢٧)

مگر غیر احمدیوں کا سوال پیش ہوتا ہے تو صاف کفر کا فتویٰ لگ جاتا ہے۔ حالانکہ آگے چل کر مرزا قادیانی کا اعلان ہے کہ: ”لا نبی الا محمد ولا کتاب الا قرآن“ کیا ایمان الرسول اور حب محمدﷺ ان کو تکفیر سے بچا نہیں سکتی؟ اور کیا حب مسیح حب نبی سے زیادہ مؤثر ہے؟

طوسی اپنی کتاب جواہر الاسرار میں لکھتے ہیں کہ مہدی کا ظہور کدعہ سے ہوگا اور اپنے صحابہ کے نام ٣١٣ بمعہ ولدیت وسکونت کے صحیفہ مختومہ میں لکھیں گے۔ ہم نے ان کے نام آئینہ کمالات میں درج کئے تھے اور اب انجام میں بھی داخل کرلئے ہیں۔“ ہمیں تعجب اس سے تو چنداں نہیں آتا کہ روایت میں تو یوں ہے کہ: ”یجمع اصحابہ من اقصی البلاد“ اور جناب نام لکھے بیٹھ گئے۔ جن میں اس وقت کچھ مر بھی چکے تھے اور چند برگشتہ بھی ہو گئے تھے۔ مگر ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ اوپر تو مرزا قادیانی سرے سے وجود مہدی کا ہی انکار کرتے ہیں اور لا مہدی الا عیسیٰ پر اڑ جاتے ہیں اور ہر ان روایات کو اپنے اوپر چسپاں کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں کہ جن میں مستقل طور پر الگ وجود سے امام مہدی کا ظہور مراد ہے؟ علاوہ بریں کتاب مختوم مرزا قادیانی کی کوئی تصنیف نہیں ہے اور جن کتابوں میں نام درج کئے ہیں وہ جناب کا آئینہ ہے یا انجام ہے۔

صفحہ ٤٣٠

٤٧...... (ضمیمہ انجام آتھم ص ١٩، خزائن ج ١١ ص ٣٠٣) میں ہے کہ ہمیں تین چیزیں ملی ہیں ۔ قبولیت دعاء ، عموماً اطلاع علی الغیب اور کشف معانی قرآن۔ اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر ایک دعاء کے منظور ہونے کا ٹھیکہ نہیں تھا تو جن کے بارے میں مشروط وغیر مشروط دعائیں منظور نہیں ہوئی تھیں تو کیوں پیچھے پڑ کر تاویلات کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ صاف کہہ دینا تھا کہ لو صاحب یہ بددعائیں منظور نہیں ہوئیں اور یہ بھی خیال رہے کہ پہلے زمانہ میں فرقہ باطنیہ ہو گزرا ہے۔ جس کی کچھ تشریح فرقہ قرامطہ میں مذکور ہو چکی ہے اور مرزا قادیانی بھی باطن قرآن پر ہی زیادہ زور دیتے تھے۔ پس اب کیا یہ دونوں ایک فرقے ثابت ہیں یا الگ الگ ؟ اطلاع علی الغیب بھی ایسے طور پر تھی کہ بغیر حواشی اور تشریح در تشریح معہ اضافات ملحقہ کے وجود میں نہ آتی تھی اور اگر واقعی اطلاع علی الغیب تھی تو جابجا ترمیم وتنسیخ کی کیا ضرورت تھی؟ اس سے تو نجوم ورمل کے قواعد ہی اچھے ہیں۔

٤٨...... (ضرورت الامام ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ٤٨٤) میں ہے کہ الہام شیطانی کی دلیل یہ ہے کہ ” تنزل علی کل افاک اثیم “ مگر انبیاء سے وہ فوراً دور کر دیا جاتا ہے ۔” لقولہ تعالیٰ وما ارسلنا من رسول “ اس مقام پر نزول شیطانی اور القاء شیطانی میں فرق نہیں کیا اور آپ کو دعویٰ ہے کہ معارف قرآنی پر ہم منکشف ہوگئے ہیں۔ لیکن جناب کو اتنا بھی خیال نہیں آیا۔ محققین اسلام نے کیا لکھا ہے اور جھٹ لکھ دیا کہ انبیاء کو شیطانی الہام ہوتا ہے۔ کیا معاذ اللہ وہ بھی افاک اثیم کا مصداق تھے؟

٤٩...... مرزا قادیانی کی پیشین گوئی جب پوری نہیں ہوتی تو ایک یہ بہانہ کیا جاتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی صحیح نہیں نکلی تھی۔ مگر اس محاکاۃ (قیاس بحالت نبی) میں دو نقص ہیں۔ اوّل کہ ایسے جواب صرف مریدوں کے لئے ہی مفید ہیں۔ ورنہ ہمارے نزدیک جب مرزا قادیانی نبی ہی نہیں ہیں تو محاکاۃ کیسی؟ دوم یہ کہ قوم یونس علیہ السلام پر آثار عذاب پیدا ہو رہے تھے تو عالم اصول کے مطابق کہ استغفار اور ایمان بالرسول سے عذاب ٹل جاتا ہے۔ انہوں نے آپ کی تصدیق بھی کی اور استغفار بھی کی تو بچ نکلے۔ لیکن مرزا قادیانی کے مقابلہ میں لوگ بددعائیں ہضم کر جاتے ہیں اور مطلقا تصدیق کے روادار بھی نہیں ہوتے۔ یہ کیا تماشا ہے۔

٥٠...... (حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١ حاشیہ) میں ہے کہ نزول مسیح کا مسئلہ عیسائیوں کی اختراع ہے اور مطلب یہ ہے کہ مسیح کو نزول اوّل میں تو عزت حاصل نہیں ہوئی تھی۔

صفحہ ٤٣١

اب دوبارہ تمام کسر نکال لے گا۔ ہاں ینابیع الاسلام میں عیسائیوں نے بھی لکھا ہے کہ معراج جسمانی کا مسئلہ آتش پرستوں سے لیا گیا ہے۔ خواجہ کمال الدین ینابیع المسیحیت میں لکھتے ہیں کہ مسیح کے بغیر باپ پیدا ہونے کا مسئلہ عیسائیوں نے پرانے بت پرستوں سے لیا تھا۔ جو مسلمانوں نے بھی اور مرزا قادیانی نے بھی قبول کر لیا تھا۔ اب بتائیے کہ مغربی اور مشرقی عیسائیوں کا قول کہاں تک صحیح ہوگا؟ اور عیسائیوں کی تائید کس نے کی ہے؟ اور اپنے پیر پر حملہ کس نے کیا ہے؟ اور یہ بھی بتائیں کہ کس کس کے کہنے سے ہم کیا کیا چھوڑتے جائیں گے؟

اترے گا۔ ہم مسجد کو جائیں گے تو وہ گرجے کو دوڑے گا۔ ہم رو بقبلہ ہوں گے۔ وہ بیت المقدس کو منہ کرے گا۔ خنزیر کھائے گا، شراب پیئے گا۔ اسلامی حلال وحرام کی اسے کچھ پرواہ نہ ہوگی۔ وہ امتی نہ ہوگا۔ اگر اسے نو مسلم بنایا جائے گا تو اسے مسیح موعود ماننے میں اور بھی ذلت ہوگی۔ کیا اس سے بڑھ کر اسلام کے لئے کوئی مصیبت باقی ہے اور جب یوں وارد ہے کہ یہی امت یہودی بن جائے گی تو ضرور ہے کہ اسی امت سے مسیح بھی پیدا ہو۔ ورنہ کیا ضرورت ہے کہ مسیح کو لا کر نبوت سے محروم کیا جائے ۔“ (ضمیمات ص ٤٣٥) میں ہے کہ : ”اس تقریر کا روئے سخن اندر سے عیسائیوں کی طرف ہے ۔“ مگر یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنی تاویلیں کی جائیں لیکن یہ بات ضرور ثابت ہو جاتی ہے کہ مرزا قادیانی نے جس طرح اپنے رسالہ انجام میں یسوع کی آڑ لے کر حضرت مسیح کی توہین کی تھی اسی طرح یہاں نزول مسیح کی آڑ میں نہ صرف مسیح کی توہین کی ہے۔ بلکہ خود حضور ﷺ کی بھی ایسی توہین کی ہے کہ کسی مخالف اسلام سے بھی ایسی توقع نہیں ہو سکتی۔ اب بتاؤ کہ کیا اسلام نزول کے بعد کے حالات اس طرح بیان کرتا ہے۔ جس طرح کہ مرزا قادیانی نے بیان کئے ہیں؟ یا یوں کہیں کہ مرزا قادیانی کو اسلامی واقفیت نہ تھی اور یا یوں کہیں کہ دیدہ دانستہ حضور ﷺ کی پیشین گوئیوں کی تکذیب کی ہے؟

علی گڑھی اور غلام دستگیر صاحب قصوری نے مرزا قادیانی کی ہلاکت کی دعائیں کی تھیں۔ مگر وہ ان پر الٹی پڑیں اور خود ہلاک ہو گئے۔“ مگر افسوس کہ صوفی جماعت علی شاہ مدظلہ کی بدعاء سے مرزا قادیانی خود رخصت ہو گئے اور ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیشین گوئی نے بھی پیچھا نہ چھوڑا۔ مرزائی بتائیں کہ کیا موت وحیات کی جنگ اپنے اندر کچھ صداقت رکھتی ہے؟

صفحہ ٤٣٢

ربع بھی گزر گیا۔ مگر مسیح نہ اترا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک چھ ہزار سال بھی پورے ہوگئے۔ حج بند ہوگیا۔ فتنہ ارتداد قائم ہوا۔ طاعون آ گیا ہے۔ مگر مسیح کا کوئی نشان نہیں ہے۔ میرے نشانات کو دیکھنے والے ٢٩ لاکھ ہیں۔ اگر ان کو ایک صف میں کھڑا کیا جائے تو کسی بڑی سلطنت کے لشکر کے برابر ہوں گے۔“ جناب یہ سب کچھ درست! مگر سوال یہ ہے کہ کیا اب دورِ جدید شروع ہو گیا ہے؟ تو دورِ اوّل کی جزا وسزا کا معاملہ کیا ہوا؟ وہ سب کچھ اکارت ہی گیا؟ کہ آدم ثانی قادیان میں آ رہا۔ یہ بھی بتاؤ کہ ٢٩ لاکھ میں سے تصدیق کرنے والے کتنے تھے اور تکذیب کرنے والے کتنے تھے؟ کیا اس طرح کی عبارت آرائی۔ مدعی صداقت کے لئے باعث شرم نہیں ہے؟

المہدی رواہ البخاری“ اور (ازالۃ اوہام ص ٥١٨، خزائن ج٣ ص٣٧٨) میں ”مہدی کی روایات قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیخین نے امام مہدی کا ذکر نہیں کیا۔ مستدرک اور ابن ماجہ کی روایات کے مطابق ممکن ہے کہ مسیح موعود کے بعد امام مہدی کا ظہور ہو جائے۔“ لیکن دیکھئے ادھر تو یہ کہا جاتا ہے کہ امام بخاری نے امام مہدی کا ذکر نہیں کیا اور ادھر اس کی شہادت پیش کی جاتی ہے کہ آسمانی شہادت کی روایت بخاری میں موجود ہے اور لطف یہ ہے کہ جب یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ بخاری سے یہ روایت دکھائیے تو تین طرح کا جواب ملتا ہے۔ اوّل تقدس کے ضمن میں کہ ممکن ہے کہ عالمِ کشف میں یا کسی اور جگہ آپ نے ایسی صحیح بخاری بھی دیکھی ہو جس میں یہ روایت موجود ہو۔ ورنہ دنیا میں کوئی صحیح بخاری ایسی نہیں ہے کہ جس میں یہ روایت موجود ہو۔ دوم تنقید کے پردہ میں کہ مرزا قادیانی سے سہو ہو گیا تھا۔ ورنہ روایت حج الکرامہ ص٣٦٦ اور مستدرک وغیرہ میں موجود ہے۔ سوم بطرز محاکمات کہ: ”یکثر بکم الاحادیث بعدی ذکره البخاری (تلویح ص٢٦١) قال الملا علی القاری خیر السودان ثلثة لقمان بلال ومهجع مولیٰ رسول اللہ ﷺ رواہ البخاری فی صحيحه کذا ذکره ابن الربيع ولکنه ليس بموجود فيه بل هو فی المسند (موضوعات کبیر ص٤٤)“ مگر ہمیں یہ پوچھنا ہے کہ مرزا قادیانی نے صحیح البخاری کو مستحضر رکھ کر اگر یوں کیا ہے تو کذب ہے۔ ورنہ یہ لازم آتا ہے کہ آپ کو اس پر عبور نہ تھا اور یہ لکھنا بے سود ہے کہ یہ سہو ہے۔ کیونکہ ایک مدعی رسالت سے ایسا سہو

صفحہ ٤٣٣

منسوب کرنا نسبت جہالت کے مساوی ہے۔ کیا کسی نبی نے ایسی روایت پیش کی ہے جو اصل کتاب کے صحیح نسخہ میں موجود نہ ہو؟ حالانکہ بالجملہ یقین سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسی نقلی اور علمی غلطی کسی نبی سے سرزد نہیں ہوئی تھی۔ تب ہی تو عذروں سے پناہ لی تھی۔

اشاعت کے بعد بیس روز تک ”منع مانع من السماء“ کے الہام نے تمام کے ذہن مقابلہ میں آنے سے روک دیئے تھے اور جن لوگوں نے بعد میں سر اٹھایا بھی تھا وہ مر گئے تھے۔ یہ سب کچھ مانا مگر یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ یہ قصیدہ قابل جواب بھی تھا۔ ہاں اگر مرزا قادیانی یہ بھی شائع کر دیتے کہ جوابی قصیدہ لکھنے والے ننگ شاعری کا خیال نہ کریں تو غالباً تمام نیم شاعر بھی مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے۔

واقع ہے۔ (اشتہار چندہ منارۃ المسیح) شاید قادیانی جغرافیہ بھی تجدید کا مدعی ہوگا۔

ہیں کہ حضورﷺ ”لم یکن فاحشاً“ فحش گوئی سے محترز تھے۔ گو مخالفین حد اعتدال سے گزر کر آپ کی مذمت بھی کرتے تھے۔ مگر حضورﷺ نے کبھی فحش اختیار نہیں کیا تھا۔ لیکن یہاں یہ حال ہے کہ مرزا قادیانی مزے لے لے کر فحش گالیاں دیتے ہیں اور گالیاں بھی ایسی کہ خدا پناہ۔ بطور نمونہ غور کیجئے۔ فرماتے ہیں کہ:

”میری کتابوں سے ہر ایک محبت رکھتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے۔ ہاں حرامزادے میری تصدیق نہیں کرتے۔“

(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)

”اے بدذات فرقہ مولویاں۔“

(انجام آتھم ص ٢١، خزائن ج ١١ ص ٢١)

”نکاح محمدی بیگم کے خوارق بہت جلد ظاہر ہوں گے۔ اس دن ان احمقوں کے لئے جینا کیسا؟ بندروں اور خنزیروں کی طرح ان کے منہ کالے ہوں گے اور ناک کٹ جائے گی۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٥٣)

”جب لوگوں نے کہا کہ آتھم کے متعلق الہام غلط نکلا تو جواب میں کہا کہ وہ (کہنے والے) حرامزادے ہیں۔“

(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١)

صفحہ ٤٣٤

”ہمارے دشمن جنگلوں کے سؤر ہیں اور ان کی عورتیں کتیوں سے بدتر ہیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

”رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی وسائر اتباعہ علیہم نعال لعنۃ اللہ الف الف مرۃ“

(انجام آتھم ص ٤٦، خزائن ج ١١ ص ٣٣٠)

”امیر اہلحدیث محمد نذیر حسین دہلوی ابولہب نالائق ہے اور اس کا کمبخت شاگرد محمد حسین بٹالوی مفتری ہے۔“

(مواہب الرحمٰن ص ١٢٧، خزائن ج ١٩ ص ٢٤٨)

”مولوی سعد اللہ لدھیانوی فاسق شیطان، خبیث، منحوس، نطفہ سفہاء رنڈی کا بیٹا، ولد الحرام ہے۔“

(انجام آتھم ص ٢٨١، خزائن ج ١١ ص ٢٨١)

پچھلے وقتوں میں حضرت مسیح کے متعلق سب وشتم اور توہین میں بھی مرزا قادیانی نے ید طولیٰ حاصل کیا ہے اور جب آپ کا طرز کلام ، طنز آمیز ذومعنی لفظ اور کنایات آگین ہی اس فہرست میں شامل کر لیا جائے تو کون ثابت کر سکتا ہے کہ ایسا شخص بروز محمدی تو کجا معمولی اعتدال کا بھی مالک ہوگا۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کیا ثبوت تھا کہ یہ لوگ حرامزادے ہیں۔

مورث اعلیٰ تھا اور علمائے سؤ یا اقوام مغربی جو بر سر اقبال ہیں اور یا پادری سب دجال لغوی طور پر ہیں۔ اگر یہی اصول درست ہے تو پھر کوئی شکایت نہیں کہ مرزائی یا مرزا قادیانی بھی اس کا مصداق بن جائیں۔

اس نے خوف کے مارے فحش گوئی چھوڑ دی تھی۔ (تہمات ص ٥٧٩) مرزا قادیانی نے (الوصیۃ ص ٢، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠١) میں لکھا تھا کہ میری موت قریب ہے۔ ڈاکٹر عبدالحکیم نے یہ دیکھ کر پہلے لکھا تھا۔ تین سال تک مرزا قادیانی مریں گے۔ پھر لکھا جولائی ١٩٠٧ء سے لے کر چودہ ماہ کے اندر مریں گے۔ پھر کہا کہ ٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک یہ بھی لکھا کہ تاریخ موت ٢١ ساون ١٩٦٥ سمبت ہے۔

(پیسہ اخبار ٥ مئی ١٩٠٨ء)

بہر حال آتھم اور مرزا قادیانی کی موت میں بالکل پوری مشابہت ہے اور جو عذر آتھم کے متعلق ہیں وہی عذر مرزا قادیانی کے متعلق بھی ہو سکتے ہیں۔

صفحہ ٤٣٥

مکالمہ الہیہ ہو یہ جانتا ہو کہ اس کا مکالمہ خدا سے نہیں ہوتا۔ خدا کے وجود کا اقراری ہو اور اپنے دعوئی کا اعلان بھی کرے۔ تب خدا کا عذاب اسے جھٹ دبا لیتا ہے۔ ورنہ جن کا دماغ خراب ہو اور دماغی کمزوری سے یہ سمجھ بیٹھے ہوں کہ خدا ان سے باتیں کرتا ہے یا وہ خدا کے ہی منکر ہوں اور یا وہ اپنے دعویٰ کا اعلان نہ کریں تو ان تمام صورتوں میں ان پر ہلاکت کا آنا ضروری نہیں ہے۔ مگر ہماری طرف سے ایک اور بھی شرط ایزاد ہو سکتی ہے کہ وہ تمام اقوال کو خدا پر افتراء نہ کرتا ہو۔ بلکہ بعض اقوال کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہو۔ کیونکہ بعض الاقاویل کا لفظ بھی آیت میں مذکور ہے۔ اب ان شرائط کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ایک غلطی کا ازالہ لکھ کر اعلان نبوت کیا۔ ورنہ پہلے اپنے بیان کو مشتبہ ہی رکھتے تھے۔ اس لئے اس آیت کی زد میں چند سال کے اندر ہی آ گئے اور اگر کہا جائے کہ آپ نے براہین کے زمانہ سے اعلان نبوت کیا تھا تو دماغی کمزوری کا سوال پیش ہو جاتا ہے اور پیغامی پارٹی افضل المرسلین مستقل نبی ماننے کو تیار نہیں ہے۔ بہر حال یہ آیت مرزا قادیانی کی تائید نہیں کرتی۔

اللہ کقولہ تعالیٰ فاذکرو اللہ کذکرکم اباء کم “ یعنی خدا کو باپ کہہ کر پکار سکتے ہو۔

(تفہیمات ص٦٤)

الوحی ص١٤٤) اوالاصل اسمع واری (الفضل ج٩ ص٩٦) “ ایسے لفظ اس لئے استعمال کئے گئے ہیں تاکہ عیسائیوں کو معلوم ہو جائے کہ ایک امتی حضرت مسیح علیہ السلام سے زیادہ مرتبہ رکھتا ہے۔

(حقیقت الوحی ص٨٦، خزائن ج٢٢ ص٨٩ حاشیہ)

حقیقت الوحی ص١٤٣، خزائن ج٢٢ ص٥٨١) والمراد الجنت (اربعین ج٤ ص٤٣) اوحیض الباطن (روح البیان ج٢ ص٢٣٦) او انہ مریم اذ ذاک (تفہیمات ص٦٥) “

صفحہ ٤٣٦

فاسق و فاجر اور بدمعاش ہیں۔

(انجام آتھم ص ٥٦، خزائن ج ١١ ص ٥٦)

موضوع روایت ہے۔ یا یوں مراد ہے کہ مریم کی طرح خدا نے نفخ روح عیسیٰ مجھ میں کیا اور استعارہ کے طور پر مجھے حمل ہو گیا۔

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

التبلیغ الیٰ اولاد المسلمین الذی لیس فیهم طراوة الایمان (براہین ج ٥ ص ٥٣، خزائن ج ٢١ ص ٦٨)“ جذع سے مراد نادان اور احمق مراد ہیں۔ یا بیوقوف مولوی مراد ہیں۔ جن میں ایمان نہیں ہے۔

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥١)

تحریم میں یہ اشارہ ہے کہ ایک شخص مریم بنے گا تو اس میں عیسیٰ کی روح نفخ ہوگی تو عیسیٰ مریم سے پیدا ہوگا۔ یعنی وہ خود ہی مریم ہونے کے بعد عیسیٰ بن جائے گا اور ابن مریم کہلائے گا۔ (خوب سوجھی)

(کشتی نوح ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ٤٨)

ج ٥ ص ٥٦٤) قیل هو رویة المنام کقوله رایت ربی فی صورة شاب امرد قطط (موضوعات کبیر ص ٤٦) لیس المراد ههنا الحلول بل ما اشیر الیه فی قرب النوافل (آئینه ص ٥٦٦) قال الاسی لیس المراد منه دعوی الربوبیة هل العابد یصیر المعبود بعبادته؟ وقیل المراد بعین الله رجوع الظل الى اصله (آئینه ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ٥٦٤)“ جب طور کی آگ سے انا اللہ کی آواز آسکتی ہے تو انسان سے کیوں نہیں آسکتی۔ (صراط مستقیم ص ١٣) خدا صفت تکوین اپنے انبیاء اولیاء کو دیتا ہے۔

(فتوح الغیب مقالہ ج ١٦ ص ١٠٠)

نے خدائی کا دعویٰ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین سے مراد مریدوں کے دل ہیں اور آسمان سے مراد ہمارے نشانات ہیں اور انسان سے مراد حقیقی انسان ہیں۔ یعنی غیر احمدی انسان نہیں ہیں۔

صفحہ ٤٣٧
بن کے رہنے والو تم ہرگز نہیں ہو آدمی
کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار

افسوس کہ لوگ اس تجلی الہی سے انکار کرتے ہیں۔

(کشتی نوح ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ٧)

کو انا منک وانت منی کہہ کر پکارتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص سچے دل سے میرا مرید ہو جائے گا میں اسے خدا دکھا دوں گا۔ (الحکم ج ٧ ص ٣٦) ”وقيل معناہ انت مامور منی وانا ظاہر بتبلیغك (الحكم ج ١٠ ص ٤٠) وقيل من اتباعی اذ من اتصالیة ای ہم متصلون بی“

(بخاری ج ٢ ص ٦٢٩ حاشیہ)

(حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩)

والمدينة“

(تذکرہ ص ١٩٠٦ء)

الدین“

(مکتوبات)

ہی مرجائے گا۔

(تریاق القلوب ص ٤٠، خزائن ج ١٥ ص ٢١٣)

الارض تصدیقك فی السماء“

(براہین احمدیہ ج ٥ ص ٦١، خزائن ج ٢١ ص ٧٨)

كشہرتی (اربعین نمبر ٣، ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٠) فیہ اشارة الی ان من لم یؤمن بالمرزا لم یؤمن بتوحید الله “ (مکتوبات ص١٩٠) جب خدا پوشیدہ ہوجاتا ہے تو اپنا بروز بھیجتا ہے۔

(مکتوبات ص ١٩٢)

(حقیقت الوحی ص ٢٤١)

”لا ترینی زلزلة الساعة (ریویو ١٩٠٦ء) اشارة الی حرب اوروبا لان الزلزلة قد تجئ بمعنی الشدائد والاہوال وللالہام وجوہ وبطون فیمكن ان یصدق بوجہ اخر“

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ١٠٦)

صفحہ ٤٣٨

ای الافلاك الروحانية“ (حقیقت الوحی ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) چونکہ آپ بروز محمدی تھے۔ اس لئے یہ حدیث آپ کے حق میں صادق ہوئی۔ (تتمہات ص ١٩٥) ”من رضيت عنه فانا راض عنه ومن غضب عليه غضبت عليه كقوله من عادى لى وليا فقد عاديته“

(تتمہات ص ١٩٧)

يبايعونك ، خاتم النبيين ، مارميت“

(تتمہات ص ٢٠٠)

سرخی سے اس پر منظوری دی اور قلم چھڑکی تو کرتے پر چھینٹیں پڑیں۔

(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)

”كقوله رايت الله فى ثوب اخضر “ (کتاب الاسماء والصفات ص ٣١٤) عبداللہ بن جلاء کہتے ہیں کہ میں نے مسجد نبوی میں خواب کے اندر حضور ﷺ سے روٹی مانگی تو آپ نے دی۔ جاگا تو کچھ حصہ ابھی میرے ہاتھ میں تھا۔ (منتخب الکلام فی تعبیر الکلام ابن سیرین)

ناظرین ! یہ چند الہامات ہیں کہ جن کا جواب مرزائیوں کی طرف سے تشبیہات بالمحاکات کے ساتھ دیا گیا ہے۔ جو صرف مریدوں کے لئے ہی مفید پڑ سکتا ہے۔ ورنہ غیر احمدیوں کے نزدیک جب مرزا قادیانی کی شخصیت ہی مخدوش تھی تو ایسے جوابات کیا حقیقت رکھیں گے؟ چھوٹا منہ بڑی بات اور جو تاویلات پیش کی گئی ہیں وہ شطحیات میں داخل ہیں یا مردود روایات ہیں۔ اس لئے جس مدعی نبوت کی بنیاد ایسی کمزور اور غلط عبارات پر ہوگی وہ راسخین فی العلم کے نزدیک کب قابل توجہ ہو سکتا ہے۔

مقدمہ میں یوں فیصلہ دیا تھا کہ فضل احمد لدھیانوی ناقص التعلیم ہے۔ جیسا کہ اس کی غلط عبارت سے ظاہر ہوتا ہے۔ جو اس نے مرزا قادیانی کے مقابلہ میں لکھی تھی اور اس پر اعراب صحیح نہیں لگا سکا۔ اس میں بیشمار اغلاط ہیں۔ تحریر بتاریخ ٢١؍جنوری ١٩٠٨ء کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ وہی مجسٹریٹ اگر عجز مرزا پر مطلع ہو جاتا تو بعینہ یہی فیصلہ مرزا قادیانی کے حق میں بھی دیتا جو مولوی فضل احمد کے حق میں دیا تھا؟ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ اسی لیاقت کا ایک آدمی تو اس لئے نالائق سمجھا جائے کہ اس

صفحہ ٤٣٩

نے موجودہ قواعد کے اعراب کے رو سے غلطیاں کی تھیں اور دوسرا اس سے بڑھ کر غلطیاں کرتا ہے تو اس کو محض تقدس کی وجہ سے عربی کے شیکسپیئر کا لقب دیا جاتا ہے۔

پورا ہونا) میں کہتے ہیں کہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور نے ٤؍ فروری ١٨٩٣ء میں مولوی محمد حسین بٹالوی سے یہ اقرار نامہ لیا تھا کہ وہ قادیان (کاف) نہ لکھے گا کہ مرزا دجال اور کذاب ہے۔ اس پر مرزائی تعلیم میں مولوی صاحب کی ذلت کا ثبوت دیا گیا ہے۔ مگر یہ خیال نہیں کیا کہ جس طرح مولوی صاحب سے دستخط لئے گئے تھے۔ اسی اقرار نامہ پر اسی طرح مرزا قادیانی سے بھی تو دستخط لئے گئے تھے کہ وہ بھی آئندہ ایسے الہام بند کر دیں گے کہ فلاں مر جائے گا یا فلاں شخص کافر ہے۔ مگر افسوس کہ مرید ابھی تک یہ نہیں سمجھے کہ اگر ایسے الہام خدا کی طرف سے ہوتے تو مجسٹریٹ کو پہلے آ دبوچتے۔ کیونکہ اس نے خدا کے خلاف جنگ کی تھی۔ باوجود اس کے پھر جواب دیا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی پہلے ہی بند کر چکے تھے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ پھر مجسٹریٹ کے سامنے عذر کیوں نہیں کیا کہ ہم چونکہ الہام پہلے ہی بند کر چکے ہیں۔ اس لئے ہم دستخط نہیں کر سکتے۔ بہر حال مولوی محمد حسین صاحب کی فرضی ذلتوں کے مقابلہ میں یہ ایک ہی ایسی ذلت ہے کہ سونیار کے مقابلہ پر ایک ہی لوہار کی کافی ہو جاتی ہے۔

”یہی تحقیق قریب قیاس ہے۔“ بھلا یہ کون سا محاورہ ہے۔ اگر دنیا میں آج مذہبی زبان سے پوری آشنائی رکھنے والے ہوتے تو جھٹ تاڑ جاتے کہ جس شخص کی ذاتی قابلیت یہ ہے وہ باریک مسائل میں کب حق بجانب ہو سکتا ہے۔ مگر نئی روشنی کے دلدادہ یا نیم ملا صم، بکم عمی ہو کر ایسے سطحی خیالات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ جن کی اصلیت کریدنے کے بعد کچھ نہیں رہتی۔

دوسری میں امام محمد بن ادریس شافعی اور احمد بن حنبل شیبانی، یحییٰ بن عون غطفانی، اشہب بن عبدالعزیز، ابو عمرو مالکی، خلیفہ مامون، قاضی حسن بن زیاد حنفی، جنید بن محمد صوفی، سہل بن ابی سہل شافعی، حارث بن اسد بغدادی، احمد بن خالد خلال۔

تیسری میں قاضی احمد بن شریح شافعی بغدادی، ابوالحسن اشعری متکلم شافعی، ابوجعفر طحاوی حنفی، احمد بن شعیب، ابو عبدالرحمٰن نسائی، خلیفہ مقتدر باللہ عباسی، شبلی صوفی، عبیداللہ بن حسن، ابوالحسن کرخی حنفی، امام بقی بن مخلد القرطبی، ابوالعباس احمد بن عمر بن شریح شافعی۔

صفحہ ٤٤٠

چوتھی صدی میں امام ابوبکر باقلانی، خلیفہ قادر باللہ عباسی، ابوحامد اسفرائنی، حافظ ابونعیم، ابوبکر خوارزمی حنفی، محمد بن عبداللہ حاکم نیشا پوری، امام بیہقی، ابوطالب ولی اللہ صوفی صاحب قوۃ القلوب، حافظ احمد بن خطیب بغدادی، ابواسحٰق شیرازی، ابرہیم بن علی فقیہ محدث۔

پانچویں صدی میں محمد بن محمد ابوحامد غزالی، راعونی حنفی، خلیفہ مستظہر باللہ عباسی، عبداللہ بن محمد انصاری ہروی، ابوطاہر سلفی، محمد بن احمد شمس الدین حنفی۔

چھٹی صدی میں محمد بن عمر فخرالدین رازی۔ علی بن محمد فخر الدین بن کثیر، رافعی شافعی، یحییٰ بن حبش بن سبرک شہاب الدین سہروردی امام الطریقہ، یحییٰ بن اشرف محی الدین نووی، حافظ عبدالرحمن جوزی، شیخ عبدالقادر جیلانی۔

ساتویں صدی میں احمد بن حلیم تقی الدین بن تیمیہ حنبلی تقی الدین بن دقیق العید، شاہ مخدوم فخرالدین سندھی، خواجہ معین الدین چشتی، محمد بن ابی بکر، ابن قیم جوزی حنبلی اسعد عبد ابن الیانی شافعی، حافظ زین الدین عراقی شافعی، قاضی صالح بن عمر بلقینی، علامہ ناصرالدین شاذلی۔

نویں صدی میں عبدالرحمن بن کمال الدین المعروف جلال الدین سیوطی، محمد بن عبدالرحمن سخاوی شافعی، سید محمد جونپوری، امیر تیمور گورگانی۔

دسویں صدی ملا علی قاری، ابوطاہر گجراتی، علی بن حسام ہندی مکی۔

گیارھویں صدی میں سلطان عالمگیر، آدم بنوری، صوفی شیخ احمد بن عبداللہ بن زین العابدین فاروقی سرہندی، مجدد الف ثانی۔

بارھویں صدی میں سید احمد بریلوی، شاہ عبدالغنی محدث دہلوی۔

تیرھویں صدی میں مولوی اسماعیل شہید، شاہ رفیع الدین، شاہ عبدالقادر (دیکھو عسل مصفےٰ و مجالس الابرار ) یہ فہرست مرزائیوں کے نزدیک مسلمہ ہے۔ جسے پیش کر کے وہ پوچھا کرتے ہیں کہ چودھویں صدی کا مجدد کون ہے؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہیں کہ مرزا قادیانی ہی اس صدی کے مجدد ہیں اور کون ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مجدد کے لئے دعویٰ تجدید بھی ضروری ہے؟ کسی مجدد نے کیا اپنے منکر کو کافر قرار دیا ہے؟ جس فہرست میں تیمور جیسے مجدد موجود ہوں اس میں اگر اس سے بہتر علمائے اسلام کا نام درج کیا جائے تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ جیسے کہ نواب صدیق الحسن خان، احمد رضا خان بریلوی، مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی، میاں نذیر حسین صاحب دہلوی وغیرہم کا نام اپنے اپنے مریدوں کے نزدیک داخل ہو سکتا ہے اور اس وقت بھی حکیم الامۃ و مسیح الملۃ بننے کے کئی ایک حقدار موجود ہیں۔ ان کے علاوہ یہ فہرست ظاہر کرتی ہے کہ ہر ایک صدی میں ایک

صفحہ ٤٤١

سے زائد مجدد ہو گزرے ہیں۔ جو اپنے اپنے دائرہ تاثیر میں تسلیم کئے گئے تھے۔ اس لئے اس صدی میں بھی اگر اپنے اپنے حلقہ تاثیر کے متعدد مجدد تسلیم کر لئے جائیں تو کوئی نقص پیدا نہیں ہو سکتا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آیا مرزا قادیانی کا اخیر دم تک اس دعویٰ پر قائم رہے؟ حالات بتا رہے ہیں کہ آپ چند سال ہی چودھویں کے شروع ہونے سے پہلے مجدد بنے تھے۔ فوراً اس عہدہ سے ترقی پا کر مہدی مسیح اور افضل المرسلین کا درجہ حاصل کیا تھا۔ اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ مرزائیوں کے نزدیک بھی موجودہ صدی مجدد سے خالی گزری ہے۔ ہاں اگر تجدید کا معنی ترمیم اسلام ہو تو ضرور ماننا پڑتا ہے کہ مرزا قادیانی ہی اس صدی کے مجدد اعظم تھے۔ بشرطیکہ بہائی مذہب کے پیرو معترض نہ ہوں کہ حضرت بہاء اللہ نے سب سے پہلے اسلام ترمیم کیا تھا۔

تھے کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتاریں۔ ”عرفان الہٰی تقدیر الہٰی“ قادیان کا جلسہ حج کی طرح ہے۔ (برکات خلافت) قادیان ام القرے (مکہ معظمہ) ہے۔ اب اس کی چھاتیوں میں دودھ ہے اور مکہ مدینہ کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو گیا ہے۔ (حقیقت الرؤیا ص٢٩) دنیا میں نماز، روزہ، قرآن اور محمدﷺ موجود تو تھے مگر ان میں روح موجود نہ تھی۔ (خطبہ الفضل ١١؍مارچ ١٩٣٠ء) مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء حضورﷺ سے زیادہ تھا۔ (ریویو ١٩٢٩ء) جو شخص میری گردن پر تلوار رکھ کر یہ اقرار کرے کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نہیں آئے گا تو میں کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔ (انوار خلافت) جو شخص بیعت مرزائیہ میں داخل نہیں وہ کافر ہے۔

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

بھی مدعی ہیں کہ ہم بھی نبوت کی کھڑکی سے گزر آئے ہیں اور مولوی غلام رسول نے جواب مباہلہ نمبر ٢ میں مرزا محمود قادیانی کو فخر المرسلین کا لقب دیا ہے اور پاکٹ بک قادیانیہ میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اب قادیان میں ہی نبوت جلوہ گر ہوا کرے گی۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس وقت مسلمان صرف ایک لاکھ ہیں یا اس سے بھی کم ہیں اور کسی سیاسی استحقاق میں اپنے آپ کو پیش نہیں کر سکتے۔

الصالحین کے مرکب سے یہ ثابت نہیں کیا گیا کہ سلف صالحین بھی شراب پیا کرتے تھے۔ ایارجات پر نظر ڈال کر یہ بھی ثابت نہیں کیا گیا کہ خدا بھی کسی وقت بیمار تھا اور اتنا بھی نہیں لکھا کہ دہلی میں بھی ایک مسیح ہو گزرا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایسے تمام الفاظ مبالغہ اور عزت افزائی کے طور پر تجویز کئے گئے ہیں۔ ورنہ ان کے تحت میں کوئی مذہبی نکتہ مضمر نہیں ہے۔

صفحہ ٤٤٢

ہو چکے تھے۔ مگر شروح بخاری میں یوں تصریح موجود ہے کہ ستر یا چالیس دجال وہ ہیں کہ جن کو ملکی اقتدار حاصل ہونا مراد ہے۔ ورنہ مدعیت اور تقدس کے شکار غیر محدود ہیں۔ مزید تشریح کے لئے دیکھو بحث حیات المسیح وختم نبوت۔

قانون قدرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے اور مخول اڑایا جاتا ہے۔ مگر جب خود قانون قدرت کو وسیع کرتے ہیں تو یوں لکھتے ہیں کہ باپ کی چھاتیوں سے دودھ جاری ہوا اور اس کے بچہ نے چوس کر (نشوونما پائی) ایک بکرا روزانہ ڈیڑھ سیر دودھ دیا کرتا تھا اور ایک بیمار کو اپنی ایڑی سے پاخانہ آتا تھا۔

(سرمہ چشم آریہ ص ٥١، خزائن ج٢ ص٩٩ نقص)

”ایک کا پھوڑا چیرا گیا تو اس سے دو بچے نکلے اور ایک آدمی کے پیٹ کا آپریشن کیا گیا تو ایک بچہ نکلا۔“ (الفضل ج١٠ص٢٩، ج٤ نمبر٣٠) ایک مرغی کے ٣٢ دانت تھے (بدر) اور ایک درخت پر روٹیاں لگتی ہیں۔ (فاروق) الزامی طور پر اگر یوں لکھا گیا ہے تو صداقت کے خلاف ہے۔ لیکن اس قول میں کوئی تاویل نہیں چلتی کہ مسیح ناصری نے اگر گہوارے میں ایک دفعہ کلام کیا تھا تو مسیح محمدی یعنی مرزا قادیانی کے بیٹے نے شکم مادر میں ہی دو دفعہ کلام کیا تھا۔ دیکھو (تریاق ص٤١، خزائن ج١٥ ص٢١٧) کیا اس میں خلیفہ محمود صاحب کو بھی حضرت مسیح سے برتر نہیں بتایا گیا۔ کیا اسلام میں اس سے بڑھ کر بھی کوئی اور مصیبت آنے والی ہے کہ ایک ادنیٰ ہستی اعلیٰ ہستی سے بڑھ کر قدم مارتی ہے۔

پڑے گا کہ خاندان مغلیہ میں سے صرف مرزا قادیانی غلام مرتضیٰ کے گھر ہی اولاد تھی۔ باقی سب بے اولاد تھے۔ یا کم از کم یوں کہنا پڑے گا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی اولاد چلی گئی۔ دوسرے بھائیوں کا سلسلہ اولاد بند ہو جائے گا۔ کیونکہ (تریاق القلوب ص١٥٧، خزائن ج١٥ ص٤٧٩) میں ہے کہ مرزا قادیانی خاتم الاولاد ہیں۔ یعنی والدین کے گھر آپ کے بعد کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا۔ یہ فقرہ ظاہر کرتا ہے کہ خاتم کا لفظ بمعنی آخر ہے۔

ثم الكتاب بفضلہ تعالیٰ وهو حسبی ونعم الوکیل

صفحہ ٤٤٣

بسم الله الرحمن الرحیم!

فہرست ”الکاویۃ علی الغاویۃ“ حصہ اوّل

مرزا قادیانی کی تاریخ ٧ مرزا قادیانی کی وفات میں غلطی ١٠ مرزا قادیانی کا مراق اور ذیابیطس ١٣ بروز، ظل، انعکاس اور تناسخ ٤٢ مقابلہ ہائے مذہب مرزا قادیانی کے مذہبی مقابلے ٥٩ پہلا مقابلہ: جنگ تناسخ ٥٩ دوسرا مقابلہ: الہامی جنگ ٥٩ تیسرا مقابلہ: جنگ بشیر ٦٠ چوتھا مقابلہ: دہلی ٦٤ پانچواں مقابلہ: جنگ مقدس ٦٥ چھٹا مقابلہ: غزنویہ ٦٥ ساتواں مقابلہ: نکاح محمدی بیگم ٦٧ آٹھواں مقابلہ: سہ سالہ جنگ ٧٢ نواں مقابلہ: تفسیر نویسی و جنگ آریہ ٧٣ دسواں مقابلہ: اعلان نبوت و جنگ تکفیر ٧٥ گیارھواں مقابلہ: لیکھرام جنگ پشاور ٨١

صفحہ ٤٤٤

بارھواں مقابلہ: غیب دانی کی جنگ ٨٠ تیرھواں مقابلہ: جنگ ثنائی ٨٢ چودھواں مقابلہ: جنگ دعوت ثنائیہ ٨٤ پندرھواں مقابلہ: ڈاکٹر عبدالحکیم جنگ پٹیالہ ٨٦ باہمی تفرقہ: نبوت مرزا پر مرزائیوں کی خانہ جنگی ٨٨ لاہوری پارٹی کا فرقہ محمودیہ پر فتویٰ تکفیر ٩٩ لاہوری گروپ ١٠٦ مرزا قادیانی کے متعلق ایک شرعی نکتہ خیال ١١٠ تصریحات اسلام اور ختم نبوت ١٢٤ مغالطہ نمبر:١....... اما یاتینکم رسل ١٢٦ مغالطہ نمبر:٢....... لن یبعث الله من بعده رسولا ١٢٦ مغالطہ نمبر:٣....... اھدناالصراط المستقیم ١٢٧ مغالطہ نمبر:٤....... الله يجتبی من رسله ١٢٨ مغالطہ نمبر:٥....... ماكنا معذبين حتى نبعث رسولا ١٢٨ مغالطہ نمبر:٦....... هوالذي ارسل رسوله بالهدى ١٢٩ مغالطہ نمبر:٧....... مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد ١٣١ مغالطہ نمبر:٨....... اللهم صلى على محمد ١٣٢ مغالطہ نمبر:٩....... من بعدی اسمه احمد ١٣٤

صفحہ ٤٤٥
صفحہ ٤٤٦

ختم نبوت فی الحدیث ١٥٠

دعاویٰ مرزا ١٥٦

دلیل صداقت نمبر:١...... قادیان اصل میں مکہ ہے ١٥٦

دلیل صداقت نمبر:٢...... لما یلحقوا بھم ثم لا یکونوا امثالکم ١٥٩

دلیل صداقت نمبر:٣...... کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولا ١٦١

دلیل صداقت نمبر:٤...... ١٣٠٠ھ دنیا کی عمر کا ساتواں ہزار سال ١٦٢

دلیل صداقت نمبر:٥...... انا علیٰ ذھاب بہ لقادرون ١٦٥

دلیل صداقت نمبر:٦...... خسوف و کسوف رمضان ١٦٦

دلیل صداقت نمبر:٧...... دمدار ستارہ ١٦٨

دلیل صداقت نمبر:٨...... قصیدہ نعمت اللہ ١٦٨

دلیل صداقت نمبر:٩...... قادیان سے ایک نور نکلے گا ١٧٦

مسیح و مہدی دو ہیں یا ایک؟ ١٧٧

حیات مسیح، برنباس کی زبانی ١٨١

اقتباس برنباس ١٨٣

حیات مسیح ١٩١

دلائل حیات مسیح ١٩٨

تحریفات مرزائیہ ٢١٠

تحریف نمبر:١...... توفی ٢١١

صفحہ ٤٤٧

اتہامات مرزائیہ

صفحہ ٤٤٨

اتہام نمبر:٨...... اکمال الدین ٢٦٦

اتہام نمبر:٩...... ایلیا ٢٦٩

اتہام نمبر:١٠...... ابن جریر وطبری ٢٧٣

اتہام نمبر:١١...... ابن کثیر وکشاف ٢٧٤

اتہام نمبر:١٢،١٣...... امام حسنؓ وحاطبؓ ٢٧٥

اتہام نمبر:١٤...... محدثین ٢٧٧

اتہام نمبر:١٥...... مفسرین ٢٨١

اتہام نمبر:١٦...... اقوال الرجال ٢٨٢

مباحثات مرزائیہ لفظ توفی ٢٨٩

مباحثات مرزائیہ، لفظ خلوا ٣٠٧

مباحثات مرزائیہ، لفظ دجال ٣٠٩

پاکٹ بک ٣٢٨

سلسلہ باطنی ٣٥٢

مزید حالات مرزا قادیانی ٣٦٧

مرزا قادیانی کی ادبی لیاقت ٣٧٣

اہل قرآن اور چودھویں صدی ٣٨١

مذاہب جدیدہ ٣٨١ تا ٤١٤

مرزائیت پر اکہتر سوالات ٤١٤ تا ٤٤٤

PDF 449

رَدِّ قادیانیت

رسائل

حضرت مولانا محمّد عالم آسی امرتسریؒ

احتساب قادیانیت

٢٥

عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوّت