جیت آخر عشق کی · محمد وقاص عطاری
Jeet Aakhir Ishq ki · Muhammad Waqas Atari
PDF 1
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضاؔ
یاد اُس کی اپنی عادت کیجئے

جیت آخر عشق کی

مؤلف حضرت محمد وقاص عطاری مولانا ابوذر مدنی

صفحہ ۲

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں

نام کتاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جیت آخر عشق کی تصنیف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابوذر محمد وقاص عطاری آف جھوک شخم پتوکی 0306420151 پروف ریڈنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔علامہ عمر حیات صاحب سن اشاعت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2011ء خصوصی تعاون۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد مشتاق (بھائی)، محمد عمر منیر ، عاصم اقبال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انتساب

فقیر اپنی اس تالیف کو اپنے شیخ طریقت امیر اہلسنت ، امیر دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اور اپنے اساتذہ کرام کہ جن کے صدقے یہ دل شمع علم سے روشن و منور ہوا اور بالخصوص ، حافظ شرافت علی بھٹی (شخم) و استاذ لیاقت صاحب (جھوک)

آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم ابوذر محمد وقاص عطاری (آف جھوک شخم پتوکی)

فہرست

مقدمہ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ابتدائے اسلام اور غلبہ اسلام ـــــــــــــــــــــــــــــ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ـــــــــــــــــــــــــــــ فکر اسلامی ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر کے بارے میں صحابہ ــــــ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ادب واحترام ـــــــ وفات کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتکریم ـــــ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے ـــ علامہ ابن قدامہ حنبلی کا نظریہ ـــــــــــــــــــــــــــــ احادیث میں گستاخ رسول کو قتل کرنے کا بیان ـــــــ قرآنی واقعات کو بیان کرنے کا مقصد ـــــــــــــــــ قوموں کی گستاخیاں اور ان کا انجام ــــــــــــــــــ فرعون اور اس کی قوم کی گستاخیاں ـــــــــــــــــــ قوم فرعون کا انجام ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ٹڈیوں کا عذاب ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ گھن کا عذاب ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مینڈک کا عذاب ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ خون کا عذاب ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

صفحہ ۳

فہرست

مقدمہ ۶ ابتدائے اسلام اور غلبہ اسلام ۹ عشق رسول ﷺ ۱۰ فکر اسلامی ۱۴ نبی کریم ﷺ کی تعظیم وتوقیر کے بارے میں صحابہ کرام کا عمل ۲۵ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا ادب واحترام ۲۷ وفات کے بعد بھی نبی ﷺ کی تعظیم وتکریم ۲۹ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لیے شرعی حکم ۳۲ علامہ ابن قدامہ حنبلی کا نظریہ ۳۳ احادیث میں گستاخ رسول کو قتل کرنے کا بیان ۳۴ قرآنی واقعات کو بیان کرنے کا مقصد ۳۸ قوموں کی گستاخیاں اور ان کا انجام ۴۰ فرعون اور اس کی قوم کی گستاخیاں ۴۱ قوم فرعون کا انجام ۴۳ ٹڈیوں کا عذاب ۴۴ گھن کا عذاب ۴۴ مینڈک کا عذاب ۴۵ خون کا عذاب ۴۵

صفحہ ۴

قدار بن سالف کی گستاخیاں ۴۷ قوم ثمود کا انجام ۴۹ قارون کی گستاخیاں و انجام ۵۰ قوم سبا کی گستاخیاں ۵۲ قوم سبا کا انجام ۵۳ محترم قارئین! ۵۳ ابلیس کا تکبر اور اس کا انجام ۵۵ درس عبرت ۵۶ پانچ گستاخان رسول کا انجام ۵۸ ولید بن مغیرہ کا انجام ۵۸ عاص بن وائل سہمی کا انجام ۵۸ اسود بن مطلب کا انجام ۵۹ اسود بن یغوث کا انجام ۵۹ حارث بن قیس کا انجام ۵۹ ایک گستاخ کا انجام ۵۹ اصحاب ایکہ کی گستاخیاں ۶۱ اصحاب ایکہ کا انجام ۶۲ عتبہ بن ربیعہ کا انجام ۶۳ امیہ بن خلف کا انجام ۶۴ عاص کا انجام ۶۴ ابولہب کی گستاخیاں ۶۶ ابولہب کا انجام ۶۶ ابوجہل کی گستاخیاں و انجام ۶۸

گستاخان رسل کے ساتھ کیسا سلوک گستاخ باپ ہو تو.........؟ گستاخ بیٹا ہو تو.......؟ گستاخوں کی دوستی ایمان کے لیے زہر گستاخوں و بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا بدمذہبوں سے قرآن و حدیث کی بات محترم قارئین ! گستاخ کے ساتھ میل جول کیسا؟ مرتد سے ہمدردی کیسی.....؟ مرتد و گستاخ کی آخرت میں سزا مرتد کی سزا فقہاء کی نظر میں علامات گستاخ رسول گستاخ رسول کا بائیکاٹ افسوس......... صد افسوس! گستاخوں کے دفن و جنازہ کا بائیکاٹ بدمذہبوں کے جلسوں کا بائیکاٹ محترم اسلامی بھائیو!

صفحہ ۵

گستاخانِ رُسل کے ساتھ کیسا سلوک ہو؟ ۷۰ گستاخ باپ ہو تو.........؟ ۷۲ گستاخ بیٹا ہو تو.....؟ ۷۴ گستاخوں کی دوستی ایمان کے لیے زہر قاتل ۷۷ گستاخوں و بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا کیسا؟ ۸۰ بدمذہبوں سے قرآن و حدیث کی بات سننا کیسا؟ ۸۱ محترم قارئین! ۸۲ گستاخ کے ساتھ میل جول کیسا؟ ۸۲ مرتد سے ہمدردی کیسی.....؟ ۸۳ مرتد و گستاخ کی آخرت میں سزا ۸۴ مرتد کی سزا فقہاء کی نظر میں ۸۶ علاماتِ گستاخ رسول ۸۸ گستاخ رسول کا بائیکاٹ ۹۰ افسوس......... صد افسوس! ۹۱ گستاخوں کے دفن و جنازہ کا بائیکاٹ ۹۲ بدمذہبوں کے جلسوں کا بائیکاٹ ۹۴ محترم اسلامی بھائیو! ۹۵

صفحہ ٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ

مقدمہ

پاک ہے وہ ذات جس نے زمین و آسمان، جن و انسان، چرند و حیوان، الغرض! سارے جہاں کو بڑے احسن انداز سے تخلیق فرمایا اور انسان کو اشرف المخلوقات کا تاج پہنا کر اس فرشِ خاکی میں اپنا نائب ہونے کا شرف عطاء فرمایا۔ اور ”وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِىْ آدَمَ“ کا تاج ہمارے سروں پر سجایا، رحیم و کریم ہے وہ ذات کہ جو دو جہاں کا خالق و مالک ہے جو کہ تمام مخلوق کا رازق ہے۔

پاکی ہے خالقِ کائنات عزوجل کو اور وہ تمام نقائص و عیوب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کا علم ازلی ابدی ہے جس کی وسعتوں کی ابتداء ہے نہ انتہاء اور کوئی چیز بھی اس کے علم سے پوشیدہ نہیں۔ وہ ہمارے ظاہر و باطن کو اچھی طرح جانتا ہے اور ہمارے ارادوں کو جاننے والا ہے تمام مخلوق اسی کی محتاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں۔ تمام مخلوق سے ان کے کاموں کے بارے میں پوچھا جائے گا جبکہ اس ذات عزوجل سے کوئی بھی پوچھ گچھ کرنے والا نہیں۔

انسانوں کو وجود بخشا اور پھر ان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور ان انبیاء علیہم السلام پر وحی نازل فرمائی، جس میں ہمارے لیے اوامر و نہی، جنت و دوزخ، وعظ و نصیحت کو بیان فرمایا اور اچھے اور بُرے کی پہچان کرا دی تاکہ ہم ان احکامات پر عمل پیرا ہو کر اس کی ابدی نعمتوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں،

صفحہ ۷

اور بروز محشر اس کی بارگاہ میں سرخرو ہوسکیں اور انسانوں کی بہتری کے لیے انسانوں کے فائدے کے لیے اس جہاں میں بے شمار نعمتیں عطاء فرمائی ہیں اور اس کی ہم پر اتنی نعمتیں ہیں کہ اگر ہم ان کو شمار میں لانا چاہیں تو ان کو ہرگز شمار نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ خالق و مالک عزوجل خود ارشاد فرماتا ہے کہ میری نعمتیں تم پر اتنی ہیں کہ اگر تم ان کو شمار کرنا چاہو تو نہیں کر سکو گے۔

اس جہاں میں کروڑوں نعمتیں ایسی ہیں کہ جن سے ہم دن رات مستفیض ہو رہے ہیں، فرش سے عرش تک، مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک، ذرے سے پہاڑوں کی قطاروں تک، قطرے سے سمندر کی ٹھاٹھیں مارتی موجوں تک الغرض! نظر انسان جہاں تک پہنچتی ہے اور انسان اپنے اردگرد جس طرف بھی اپنی نظر کو اٹھاتا ہے تو اس کو بے شمار نعمتیں نظر آتی ہیں۔ ہمارے رب عزوجل نے ہمیں اتنی نعمتوں سے نوازا ہے کہ اگر ہم ان کا احاطہ کرنا چاہیں تو ہرگز نہیں کر سکتے اور نہ ان نعمتوں پر شکر ادا ہی کر سکتے ہیں۔

ان تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت کہ جن کے صدقے ہمیں یہ تمام نعمتیں ملیں، کہ جن کے صدقے ہمیں عدم سے وجود بخشا گیا، اور جن کے صدقے یہ زمین و زمان، فلک و کہکشاں، جن و انسان کو بنایا گیا، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، صادق و امین، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفےٰ ﷺ ہیں، کہ یہ تمام نعمتیں انہیں کے صدقے ہیں۔ اگر آپ ﷺ نے اس دنیا میں جلوہ گر نہ ہونا ہوتا تو رب کائنات اس دنیا کو تخلیق نہ فرماتا، اُسی کی طرف عاشقوں کے امام مولانا شاہ احمد رضا خاں بریلوی اشارہ کر گئے کہ ؎

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے

اور حقیقت امر بھی یہی ہے کہ یہ بزم کائنات کو انہی کے لیے سجایا گیا اور چرند و پرند، جمادات و حیوانات، جن و انسان کو اس زمین میں بسایا گیا، اب ان انسانوں کو چاہیے

صفحہ 8

تو یہ تھا کہ ہمیشہ اس خالق کائنات عزوجل کی حمد و ثناء اور شکر ادا کرنے میں مصروف رہتے کہ جس نے اُن کو اتنی نعمتوں سے نوازا ہے۔ اور اس کا شکر ادا کرتے ہوئے دن رات اس کی عبادت کرتے اور اپنے عمل میں اضافہ کرتے۔ اگر دن رات اس خالق عزوجل کی حمد و ثناء نہیں کرتے، اور دیگر نفلی عبادات نہیں کر پاتے تو کم از کم ان کو سستی و غفلت کا شکار بھی نہیں ہونا چاہیئے اپنی ہٹ دھرمی کی بناء پر انہیں اللہ عزوجل و رسول ﷺ کی تعظیم و احترام میں کمی بھی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اگر اس دنیا میں ہم نفلی عبادت نہیں کرتے تو بروز قیامت اس کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی زندگی نفلی عبادات میں نہیں گزاری، اس کے برعکس اگر کوئی اللہ عزوجل و رسول ﷺ کے ادب و احترام میں کمی کرتا ہے، اور ان کی شان میں نازیبا الفاظ کہتا ہے تو ضرور بہ ضرور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور بروز محشر وہ سب سے زیادہ ذلیل تر ہوگا۔ اور اس دنیا میں بھی اس کا بہت بُرا انجام ہو گا جو کہ علماء کرام نے ارشاد فرمادیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی شان میں توہین کرنے والے کی سزا قتل ہے، اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی کہ اگر انبیاء علیہم السلام کی شان میں توہین کرنے والے کی توبہ قبول کرتے ہوئے اس کے ساتھ مسلمان جیسا سلوک کریں گے تو اس طرح توہین و بے ادبی کا دروازہ کھل جائے گا اور ہر منافق و گندے ذہن والا انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرے گا تو جب اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی تو وہ کہے گا کہ میں نے تو توبہ کر لی ہے۔ اس لیے علماء کرام نے اس کی سزا مقرر کر دی ہے کہ کوئی بھی ان پاک ہستیوں کی شان میں توہین کی جسارت نہ کرے۔ اور ہمیشہ ان کے معاملہ میں محتاط رہے۔

لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ آج اس معاشرے میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو بظاہر مسلمان نظر آتے ہیں اور مسلمانوں کے لبادے میں ملبوس ہیں، ان کی وضع قطع تو مسلمانوں جیسی ہے لیکن ان کے دل بے ایمانوں جیسے ہیں اور وہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کے مرتکب ہو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم لیکن اس کا انکار بھی کوئی نہیں کر ماحول سے دور رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ان کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ اس فتنہ و درمیان انتشار برپا کرنے کی کوشش کر نظر اُٹھائیں، اور ابتدائے اسلام کا راشدین و تبع تابعین کے دور کا مطالعہ اتنا مسلمانوں کے درمیان انتشار نہیں مسلمانوں کو فتح و ترقی نصیب ہوتی تھی اسلام کا پرچم دنیا کے کونے کونے پر حالات کا مطالعہ کرنا پڑے گا، ان کی طریقوں کو اپنانا ہوگا، اور یہ جاننا ہو گا اتنے کم عرصہ میں اسلام دنیاء عالم میں اتنا مال و زر نہیں تھا، اتنا جنگی ساز و مقدار میں غذا نہیں تھی تو پھر وہ کس طر بند کردی؟ اور کیسے ہمیں یہ سہولتیں می دل کی کیاریوں میں سجا لیا۔ اور اپنی کسی اذیت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا روک سکتا، یقیناً یہ ان نفوسِ قدسیہ کی مح

ابتدائے اسلام اور غلبہ اسلام

اگر ہم ان پاک ہستیوں کی سیر

صفحہ 9

میں گستاخی و بے ادبی کے مرتکب ہوتے ہیں اور ہمارے بھولے بھالے مسلمانوں کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہم پر شرک و بدعت کے فتوے لگاتے ہیں۔

لیکن اس کا انکار بھی کوئی نہیں کر سکتا کہ آج اس دور میں لوگ اپنے بچوں کو اسلامی ماحول سے دور رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ مولوی حضرات ہی فتنہ و فساد برپا کرتے ہیں۔ ان کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ اس فتنہ و فساد کی جڑ کون لوگ ہیں؟ اور کون مسلمانوں کے درمیان انتشار برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج سے چودہ سو سال پہلے کی طرف اگر نظر اُٹھائیں اور ابتدائے اسلام کا نقشہ اپنے ذہنوں میں لائیں اور اسکے بعد خلفاء راشدین و تبع تابعین کے دور کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت اتنا فتنہ و فساد اور اتنا مسلمانوں کے درمیان انتشار نہیں تھا، لوگ اسلام سے دور نہیں تھے بلکہ دن بدن مسلمانوں کو فتح و ترقی نصیب ہوتی تھی چونکہ ہم بھی اسلام کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں ہم اسلام کا پرچم دنیا کے کونے کونے پر بلند دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان نفوسِ قدسیہ کے حالات کا مطالعہ کرنا پڑے گا ان کی مشکبار سیرت سے اپنے دلوں کو مہکانا ہو گا اور ان کے طریقوں کو اپنانا ہو گا اور یہ جاننا ہو گا کہ ان کو اتنی بڑی بڑی فتوحات کیسے نصیب ہو گئی اتنے کم عرصہ میں اسلام دنیاءِ عالم میں کیسے پھیل گیا حالانکہ اس وقت مسلمانوں کے پاس اتنا مال و زر نہیں تھا اتنا جنگی ساز و سامان نہیں تھا کھانے پینے کے لیے اتنی وافر مقدار میں غذا نہیں تھی تو پھر وہ کس طرح کامیاب ہو گئے؟ کیسے انہوں نے کفار کی بولتی بند کر دی؟ اور کیسے ہمیں یہ سہولتیں مہیا کر دی کہ ہم نے گھر بیٹھے اسلام کے گلشن کو اپنے دل کی کیاریوں میں سجا لیا۔ اور اپنی سانسوں کو اس عطر سے مہکا لیا کہ ہمیں کلمہ پڑھنے پر کسی اذیت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہمیں کوئی اسلامی احکامات پر عمل کرنے سے نہیں روک سکتا یقیناً یہ ان نفوسِ قدسیہ کی محنت ہے جس کا صلہ ہمیں آج گھر بیٹھے مل رہا ہے۔

ابتدائے اسلام اور غلبہ اسلام

اگر ہم ان پاک ہستیوں کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو شروع اسلام میں اسلام

صفحہ ١٠

کے غلبہ کی چند وجوہات سامنے آتی ہیں کہ جن کی وجہ سے وہ ہر میدان میں کامیاب ہوتے تھے اور کسی میدان میں کفار ان کو مغلوب نہیں کر سکتے تھے۔ ان وجوہات میں سے چند ایک ذکر کرتے ہیں تاکہ ہمیں بھی اس طرح اپنی زندگیوں کو گزارنے کا طریقہ پتہ چلے اور ہم بھی اس دور میں فتح اسلام کے لیے بھر پور کوشش کریں۔

(۱) عشق رسول ﷺ

ابتدائے اسلام میں اسلام کے غلبہ کی وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ان نفوس قدسیہ کے دل میں عشق رسول ﷺ راسخ تھا اور ان کا جینا مرنا حضور ﷺ کی محبت کے لیے تھا، وہ صبح و شام عشق و محبت کا درس دیا کرتے تھے اور حضور علیہ السلام سے والہانہ محبت کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے لیے جینا مرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا، کیونکہ ان کے دلوں میں دنیا کی محبت نہیں تھی بلکہ آقائے دنیا کی محبت تھی۔ ان کے دل حضور علیہ السلام کے عشق سے منور تھے اور اس محبت کا جذبہ ہی تھا کہ وہ میدان میں ہزاروں کفاروں سے اکیلے اکیلے مقابلہ کر لیا کرتے۔ اگر کوئی ایک صحابی رسول ﷺ بھی میدان جنگ میں اتر جاتا تو کفار میں لرزہ طاری ہو جاتا تھا کہ کون ان سے مقابلہ کرے، اور محبت کی بناء پر ہی وہ ہر میدان سے کامیاب لوٹتے تھے ان کی محبت کا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کون نہیں جانتا، آپ نے بہت ساری جنگوں میں حصہ لیا اور آپ کے ہاتھ سے بہت سے ملک فتح ہوئے، اگر تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کتنے بہادر اور جنگ جو تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی یہ خواہش تھی کہ میں اللہ عزوجل کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں اور آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر بے شمار تلوار کے زخموں کے نشان تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی کامیابی کا راز بھی عشق رسول ﷺ تھا آپ حضور علیہ السلام سے تو والہانہ محبت کرتے تو تھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے محبت کرتے تھے، اور عشق و محبت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ محبوب کی ہر

چیز سے محبت کی جائے جیسا کہ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رکھا کرتے تھے اور جنگ میں اس ٹوپی آپ رضی اللہ عنہ کی ٹوپی گر گئی اس ٹوپی کو کہ دشمنوں کی کثیر تعداد ہلاک کر دی آپ نے ایک ٹوپی کی خاطر اپنی جان حملہ میں نے ٹوپی کے لیے نہیں کیا تھا میں تھے تاکہ میں ان کی برکت سے مشرکوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔

اس روایت کو حاکم نے مستدرک شریف میں ج ۲ ص ۲۳۴ ذکر کیا۔

اس روایت سے فتح کی ایک والی ہر چیز سے اگر ہم محبت رکھیں گے تو ہر کامیابی ہمارے قدم چومے گے۔ یہاں پر ایک بات عرض کرتا محبت کرنا شرک ہوتا اس طرح اپنی رکھنے والی چیزوں کی حفاظت کرنا شرک تابعین اس طرح ہرگز نہ کرتے۔

ایک اور روایت عشق و محبت کیا ہے۔ حضرت ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ سے حاضر ہوا آپ اس وقت چمڑے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کے پاس

صفحہ ۱۱

چیز سے محبت کی جائے‘ جیسا کہ

حضرت خالد بن ولید ؓ‘ حضور اکرم ﷺ کے چند بال مبارک اپنی ٹوپی میں رکھا کرتے تھے اور جنگ میں اس ٹوپی کو اپنے سر پر پہنا کرتے تھے‘ ایک مرتبہ جنگ میں آپ ؓ کی ٹوپی گر گئی‘ اس ٹوپی کو تلاش کرنے کے لیے آپ ؓ نے اتنا شدید حملہ کیا کہ دشمنوں کی کثیر تعداد ہلاک کر دی‘ تو صحابہ کرام نے ان سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ تھی کہ آپ نے ایک ٹوپی کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈال دی۔ تو آپ ؓ نے فرمایا کہ یہ حملہ میں نے ٹوپی کے لیے نہیں کیا تھا‘ بلکہ ان مبارک بالوں کے لیے کیا تھا جو کہ اس ٹوپی میں تھے‘ تاکہ میں ان کی برکت سے محروم نہ ہو جاؤں اور حضور علیہ السلام کے مقدس بال مشرکوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔

اس روایت کو حاکم نے مستدرک میں ج ۳ ص ۲۹۹‘ اور قاضی عیاض نے شفاء شریف میں ج ۲ ص ۴۴ ذکر کیا۔

اس روایت سے فتح کی ایک وجہ ظاہر ہوتی ہے کہ حضور علیہ السلام سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے اگر ہم محبت رکھیں گے اور اس کی حفاظت اپنی جان سے بھی زیادہ کریں گے تو ہر کامیابی ہمارے قدم چومے گی اور کسی بھی میدان میں ہم مغلوب نہیں ہوں گے۔ یہاں پر ایک بات عرض کرتا چلوں کہ اگر اس طرح حضور علیہ السلام سے والہانہ محبت کرنا شرک ہوتا‘ اس طرح اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر حضور علیہ السلام سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی حفاظت کرنا شرک ہوتا تو صحابہ کرام علیہم الرضوان اور ان کے بعد تبع تابعین اس طرح ہرگز نہ کرتے۔

ایک اور روایت عشق و محبت والی پڑھئے اور جھومئے‘ جس کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ حضرت ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ آپ اس وقت چمڑے کے سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے‘ میں نے حضرت بلال ؓ کو دیکھا‘ ان کے پاس حضور نبی کریم ﷺ کے وضو کا پانی تھا‘ جسے حاصل

صفحہ ۱۲

کرنے کے لیے صحابہ کرام جھپٹ رہے تھے جسے پانی کا کچھ حصہ مل جاتا وہ اپنے جسم پر مل لیتا اور جسے پانی نہ ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی حاصل کر لیتا۔

(صحیح بخاری ج ۱ ص ۳۱ کتاب الوضو)

یہ تھی صحابہ کرام کی حضور علیہ السلام سے اور آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز سے محبت کہ جوان نفوس قدسیہ کو کسی میدان میں مغلوب نہیں ہونے دیتی تھی اور کفار جب اس طرح صحابہ کرام کا عشق و محبت کو دیکھتے تھے تو خود بہ خود ہار مان جاتے تھے کہ یہ حضرات جب اپنے آقا علیہ السلام سے نسبت رکھنے والی چیزوں کا اتنا احترام کرتے ہیں تو خود اپنے آقا علیہ السلام کا کتنا ادب و احترام کرتے ہوں گے۔ جب دشمنان اسلام نے یہ منظر دیکھا تو بہت گھبرائے کہ اس طرح تو ان کا مقابلہ ناممکن ہے اور ہم انہیں کسی بھی طرح مغلوب نہیں کر سکتے، تو انہوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ کس طرح ان پر فتح حاصل کی جائے؟ تو کسی نے کہا کہ ان سے جنگ کی جائے اور انہیں بالکل ہی ختم کر دیا جائے۔ کسی نے کہا کہ (نعوذ باللہ) ان کے آقا (علیہ السلام) کے ساتھ کوئی کارروائی کی جائے کہ جب یہ ہی نہ رہیں گے تو یہ خود بخود ہار مان جائیں گے۔ لیکن جب انہوں نے اس کے نتائج پر غور و خوض کیا کہ ہم کتنے جانثاروں کو قتل کریں گے اور کتنوں سے جنگ و جدال کریں گے، اگر کسی حیلہ سے ہم نے ان کو شکست دے بھی دی تو ان کے بعد آنے والی نسلوں سے کس طرح مقابلہ کیا جائے گا؟ اور ان پر کس طرح غلبہ حاصل کیا جائے گا؟ اور پھر وہی صورت حال بن جائے گی کہ ہم کتنے عاشقوں کو، کتنے محبان رسل کو قتل کریں گے، آخر کار ان میں یہ فیصلہ طے ہوا کہ ہو سکے تو ان کے دلوں سے عشق رسول کی شمع کو ہی گل کر دیا جائے اور ان کے دلوں سے محبت رسول کو ہی نکال دیا جائے تاکہ نہ ان کے دلوں میں محبت رسول ہوگی، اور نہ ہی یہ ہم سے مقابلہ کر سکیں گے۔ ڈاکٹر اقبال ؒ نے کیا خوب کہا تھا کہ ۔

یہ فاقہ کش موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمدی ان کے جسم سے نکال دو

آخر کار انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایسے وضع قطع میں بالکل انہی کی طرح ہوں، اور مسلمان ان کا جبہ و دستار دیکھ کر ان کی پیرو کے دلوں سے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ختم انہوں نے تنخواہیں مقرر کیں، اور ان کو ہر طر میں ان کی امداد کیں۔

آخر کار سلسلہ چلتا چلتا یہاں تک پہنچا توہین و گستاخیاں کرنے لگے اور آپ صلی ا کے فتوے لگانے لگے، اور ایسے ایسے لٹریچر چھ جن کو پڑھ کر دل کانپ اٹھتا ہے اور کلیجہ منہ میں ایسے ایسے مکروہ الفاظ کہے کہ جو ان بیانات کو سن سن کر بعد میں آنے والی نسلیں ا سے کس طرح نکلیں۔ اور وہ مسلمانوں کی قی آج کا دور آپ کے سامنے ہے کہ اگر ایک الگ الگ فرقے سے تعلق رکھتا ہے، ان کی نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

یہ امر بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر تما جرأت نہیں کہ وہ اسلام کی طرف آنکھ سے بھی دیکھ سکیں۔ مگر کیا کریں کہ ......

اس گھر کو آگ لگ

اگر اسلام کے لبادے میں ملبوس کو جسارت کرتا ہے، دشمن تو پہلے ہی یہی چاہ

صفحہ ۱۳

آخر کار انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ انہی میں سے کچھ ایسے لوگوں کو تیار کیا جائے جو وضع قطع میں بالکل انہی کی طرح ہوں اور بظاہر مسلمانوں کے لباس میں ملبوس ہوں تا کہ مسلمان ان کا جبہ و دستار دیکھ کر ان کی پیروی میں لگ جائیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ ان کے دلوں سے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ختم کردیں۔ ان بظاہر مسلمان نظر آنے والوں کی انہوں نے تنخواہیں مقرر کیں اور ان کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کیں مدارس قائم کرنے میں ان کی امداد کیں۔

آخر کار سلسلہ چلتا چلتا یہاں تک پہنچ گیا کہ وہ علانیہ حضور علیہ السلام کی شان میں توہین و گستاخیاں کرنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام کرنے والوں پر کفر و شرک کے فتوے لگانے لگے اور ایسے ایسے لٹریچر اور ایسے ایسے بیانات وجود میں لانے لگے کہ جن کو پڑھ کر دل کانپ اٹھتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ ایک امتی ہو کر اپنے نبی کی شان میں ایسے ایسے مجروح الفاظ کہے کہ جو ایک ایمان والا نہیں کہہ سکتا اور ان لٹریچر اور بیانات کو سن سن کر بعد میں آنے والی نسلیں بھی فتنہ و فساد میں مبتلا ہو گئیں کہ اب اس دلدل سے کس طرح نکلیں۔ اور وہ مسلمانوں کی نئی نسلوں کو اسلام سے دور کرتے چلے گئے۔ اور آج کا دور آپ کے سامنے ہے کہ اگر ایک گھر میں چار بھائی ہیں تو ان میں سے ہر ایک الگ الگ فرقے سے تعلق رکھتا ہے ان کی آپس میں بھی نہیں بنتی اور ان کے عقائد و نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

یہ امر بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر تمام مسلمان آج بھی اکٹھے ہو جائیں تو دشمنوں کی جرات نہیں کہ وہ اسلام کی طرف، قرآن کی طرف اور صاحب قرآن کی طرف میلی نظر سے بھی دیکھ سکیں۔ مگر کیا کریں کہ ...... ع

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

اگر اسلام کے لبادے میں ملبوس کوئی شخص حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی جسارت کرتا ہے دشمن تو پہلے ہی یہی چاہتے ہیں کہ اس طرح یہ آپس میں لڑ جھگڑ کے ختم

صفحہ ۱۴

ہو جائیں۔

اس کی ایک وجہ اسلامی تعلیمات سے دوری بھی ہے اور یہ ساری بے ادبی و گستاخی کی خرابیاں ناقص تعلیم اور اسلام سے بے خبری کی وجہ سے جنم لیتی ہیں جب فتنہ و فساد اور بے ادبی و گستاخیوں کی وجہ سے ماحول خراب ہوتا ہے تو اہل حق وصداقت علماء کرام اسلام کے دفاع کا فریضہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور وہ اپنی تحریر و تقریر درس و تدریس کے ذریعے حق کو واضح کرتے ہیں اور باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ حق و باطل کو واضح کر دیا جائے اور انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کا دنیا و آخرت میں انجام کیا ہے؟ اس کو واضح کر دیا جائے اور گستاخان رسل کا انجام واضح کر دیا جائے اور ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے اس کو ذکر کر دیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں گستاخی و بے ادبی سے محفوظ رہیں اور ان کے سایہ سے بھی بچتی رہیں، انشاء اللہ عزوجل آنے والے صفحات پر آپ ان گستاخان رسل کا انجام بھی پڑھیں گے کہ جو گستاخی و بے ادبی کی وجہ سے دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوئے اور ذلت ان کا مقدر بن گئی۔

(۲) فکر اسلامی

ابتدائے اسلام میں غلبہ اسلام کی وجوہات میں سے ایک وجہ فکر اسلامی تھی۔ ان مسلمانوں کی، ان نوجوانوں کی فکر اسلامی تھی اور وہ ہر وقت اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ ان کی آپس میں محبتیں اور نفرتیں اسلام کے لیے تھیں، وہ آپس میں دوستیاں، رشتہ داریاں اللہ عزوجل کی رضا کے لیے کیا کرتے تھے اور ہر کام قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے طریقوں پر کیا کرتے تھے اور ان کی وضع قطع اسلامی تھی۔ وہ سر سے لے کر پاؤں تک اسلامی سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ حضور علیہ السلام کی سنتوں پر عمل پیرا تھے، ان کے دل محبت رسول ﷺ سے معطر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کا

صفحہ 15

رعب و دبدبہ کفار پر تھا اور وہ اپنی کم تعداد ہونے کے باوجود میدان جنگ میں فتح حاصل کرلیا کرتے تھے، ان نوجوانوں میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ تھا، اسی لیے بڑے سے بڑا پہاڑ بھی انہیں ذرہ دکھائی دیتا تھا، اور ان پر کسی چیز کا رعب و دبدبہ نہیں، اور انہوں نے بلاخوف وخطر اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچایا۔ اپنے گھر بار، کاروبار، مال و دولت سب کچھ اسلام پر قربان کر دیا، ان کی قربانیوں کا صلہ ہے کہ آج ہم گھر بیٹھے اسلام کی تعلیمات کو سیکھ رہے ہیں اور بلاخوف و خطر اللہ عزوجل کی عبادت کر سکتے ہیں۔

لیکن اس کے برعکس اگر آج ہم اپنے اوپر، اپنے گردونواح پر نظر دوڑائیں، اپنی فکروں کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ کتنا ہم اسلام کی سربلندی کے لیے کوشاں ہیں۔ اور ہماری فکریں اسلامی طرز کے موافق ہیں کہ نہیں؟

نوجوان اگر اپنے اوپر غور کریں اور اپنی وضع قطع کا جائزہ لیں تو خود پتہ چل جائے گا کہ وہ کن کے طور طریقوں پر چل رہے ہیں۔ آج نوجوانوں نے حضور علیہ السلام کی سنتوں کو چھوڑ کر فیشن کو اپنا لیا ہے۔ اور کفار کے طور طریقوں پر چل پڑے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارا رعب و دبدبہ کفار کے دلوں سے نکل گیا ہے اور وہ بے دھڑک اسلام، قرآن اور صاحب قرآن (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف ناپاک سازشیں کر رہے ہیں اور اسلام کو دنیائے عالم سے مٹا دینا چاہتے ہیں، اور اس معاملے میں سب کفار یکساں نظر آتے ہیں۔

تاریخ اسلام کا اگر مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کفار، ابتداء ہی سے اسلام کے خلاف ہیں اور جتنے انہوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھائے، مسلمانوں کا قتل عام کیا، ان کے سر تن سے جدا کر کے سروں کے مینار بنائے، کسی قوم سے نہیں کیا گیا۔ اور دورِ حاضر بھی آپ کے سامنے ہے کہ مسلمانوں پر کتنا ظلم و ستم کیا جا رہا ہے؟ مسلمانوں کی عزتوں کو پامال کیا جا رہا ہے، اس کا مشاہدہ آپ کشمیر وفلسطین اور دیگر اسلامی ممالک پر ہونے والے تشدد سے کر سکتے ہیں۔

میرا مقصد تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ آپ کو ان مسلمانوں کے حال کی طرف متوجہ

صفحہ ۱۶

کرنا ہے کہ ان پر کتنے کتنے ظلم کیے جارہے ہیں اور ہم بداعمالیوں کے سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہمیں اپنے ذہنوں کو اسلامی سانچے میں ڈھالتے ہوئے اُن مظلوم مسلمانوں کا احساس کرنا چاہیے کیونکہ وہ مظلوم بھی تو ہمارے ہی مسلمان بھائی ہیں اگر ان کو کوئی زخم لگے تو اس درد کو اپنے اوپر محسوس کریں۔

اس کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے احسن انداز میں بیان کر دیا کہ مسلمانوں کو آپس میں کیسا ہونا چاہیے؟ اور آپس کے دکھ درد کو کس طرح محسوس کرنا چاہیے؟ اور کس طرح دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنا چاہیے جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ اس حدیث مبارکہ کے راوی ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مثل المؤمنین فی توادہم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد اذا اشتکی منہ عضو تداعی لہ سائر الجسد بالسہر والحمی.

(بخاری شریف: ۶۰۱۱‘ مسلم شریف: ۲۵۸۶)

یعنی ”مؤمنین کی مثال آپس میں مؤدت کے لحاظ سے آپس میں رحم کے لحاظ سے اور مہربانی کے لحاظ سے جسد واحد کی طرح ہے کہ جب اس کے کسی بھی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا بدن اس کو محسوس کرتا ہے“۔

تو جس طرح کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا بدن بے تاب ہو جاتا ہے اس کا سکون پریشانی میں بدل جاتا ہے اور رات بھر اس کو نیند نہیں آتی، اگر زخم پاؤں پر لگتا ہے تو اس کا درد محسوس کرتے ہوئے آنکھ ساری رات نہیں سوتی۔ اور دیگر اعضاء بھی درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو بھی آپس میں اس طرح ہو جانا چاہیے کہ اگر دنیا کے کسی بھی کونے میں ہمارے مسلمان بھائی کو کانٹا لگے تو اس کا درد ہمارے دل میں محسوس ہو۔ اور فوراً اس کا انتقام لینے کے لیے بیدار ہو جائیں اگرچہ اس کا ملک و شہر اور ہے لیکن وہ ہمارا مسلمان بھائی ہے اور اس کے دُکھ درد میں شریک ہونا چاہیے اور اس کے لیے

صفحہ ۱۷

ہماری فکریں اسلام کے موافق ہونا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ جب تک ہماری فکریں مختلف ہوں گی‘ ہماری فکریں ان نفوس قدسیہ جیسی نہیں ہوں گی تو ہم ان کے دُکھ درد میں شریک نہیں ہو سکتے۔

آج بھی اگر ہم وہ دور دیکھنا چاہتے ہیں‘ اور اسلام کے پرچم کو دنیا کے کونے کونے پر بلند دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں میدانِ عمل میں اترنا ہو گا۔ حضور علیہ السلام کی سنتوں کو اپنانا ہو گا‘ اپنے دلوں کو محبت رسول ﷺ سے مہکانا ہو گا‘ اور گستاخان رُسل سے پیچھا چھڑانا ہو گا اور ان کو ان کے انجام بد تک پہنچانا ہو گا‘ جب اسطرح ہم اپنی فکروں کو اپنے ذہنوں کو کر لیں گے تو یقیناً فتح ہماری ہو گی اور غلبہ اسلام ہو گا‘ اور کوئی طاغوتی قوت ہمیں شکست نہیں دے سکے گی اور نہ ہی ہمارے آگے سر اُٹھا سکے گی۔

اب ہم قرآن وحدیث کی رُو سے ان واقعات کو ذکر کرتے ہیں کہ جن میں گستاخان رُسل کا انجام بیان کیا گیا اور یقیناً قرآن پاک لغویت سے پاک ہے‘ اس میں جو واقعات بھی پچھلی اُمتوں کے ذکر کیے گئے ہیں‘ وہ ہمارے لیے عبرت ہیں کہ ہم ان کو پڑھ کر اللہ عزوجل ورسل علیہم السلام کی مخالفت سے باز رہیں اور ان سے محبت والی زندگی گزاریں۔ تا کہ ان واقعات کو پڑھ کر ہماری آنے والی نسلیں بھی گستاخی وبے ادبی سے دور رہیں۔ چونکہ آج کا دور آپ کے سامنے ہے‘ آئے دن کوئی نہ کوئی خبیث ذہن کا مالک نبی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کر دیتا ہے اور دنیا و آخرت کی ذلت ورسوائی کو اپنے سر اُٹھا لیتا ہے اور ہمیشہ رہنے والے عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری ہر مسلمان پر فرض ہے اور آپ ﷺ کی عزت وتوقیر کرنا اور آپ کی بے ادبی وگستاخی سے بچنا ہر مسلمان کے لیے ضروری امر ہے‘ کیونکہ آپ ﷺ کے بارے میں ادنیٰ سے ادنیٰ گستاخی بندے کو دائرۂ اسلام سے خارج کر دیتی ہے‘ اور اس کے تمام اعمال اکارت جاتے ہیں‘ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ پر آپ ﷺ کی عزت وتوقیر کے بارے میں

صفحہ ١٨

ارشادات فرمادیے۔

چنانچہ سورۃ الفتح : ٨۔٩ میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ ط وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا O

(الفتح: ٨۔٩)

ترجمہ: ”بے شک ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا‘ تا کہ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کی تعظیم وتوقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی پاکی بولو“۔

ان دو آیتوں میں سے آخری آیت میں غور کریں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پہلے ایمان کا ذکر فرمایا کہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ‘ پھر تعظیم وتوقیر کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد اپنی عبادت وتسبیح بیان کرنے کا حکم فرمایا۔ تو معلوم ہوا کہ سب سے پہلے ایمان لانا ضروری ہے اور ایمان کے ساتھ ساتھ تعظیم وتوقیر بھی ضروری ہے‘ کیونکہ اگر ایمان ہوا‘ دل میں اللہ عزوجل اور اس کے رسل علیہم السلام کی عزت وتوقیر ہوئی تو ہی یہ سب نوافل اور دیگر عبادات کام آئیں گی‘ ورنہ بغیر عزت وتوقیر کے یہ سب چیزیں اکارت جائیں گی۔ اور بغیر تعظیم وتوقیر کے کی ہوئی عبادت سب باطل و بے کار ہو گی.......کیونکہ اگر صرف اور صرف ایمان اور عبادت بغیر تعظیم کے نجات کے لیے کافی ہوتی تو شیطان لعین کبھی اللہ عزوجل کی بارگاہ سے دھتکارا نہ جاتا اور نہ اس کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مردود قرار دیا جاتا‘ کیونکہ عبادت کے لحاظ سے وہ بہت آگے تھا‘ رب العزت عزوجل کی بارگاہ میں صبح وشام سجدے کیا کرتا تھا اور اللہ عزوجل پر ایمان بھی تھا‘ لیکن جب حضرت آدم علیہ السلام کی تعظیم کی باری آئی تو تعظیم نہ کرنے کی وجہ سے اس کی سب عبادت‘ اس کے سب سجدے مردود ہو گئے اور وہ اللہ عزوجل کی بارگاہ سے دھتکار دیا گیا۔ آج بھی اگر غور کیا جائے تو عبادت کرنے والے بہت ہیں‘ اللہ عزوجل کی بارگاہ

صفحہ 19

میں سجدے کرنے والے بہت ہیں، دن رات تسبیح پڑھنے والے بہت ہیں، لیکن جب انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کے بارے میں ان کے سامنے گفتگو کی جائے تو فوراً کفر و شرک کے فتوؤں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعظیم تو صرف اور صرف اللہ عزوجل کی کی جاتی ہے، اس کو ہم بھی مانتے ہیں کہ تعظیم سب سے پہلے اللہ عزوجل کی جو کہ حقیقی خالق و مالک ہے، اور اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ ہی اس کا کوئی شریک ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے نیک بندوں کا احترام اور ان کی عزت و توقیر بھی ضروری ہے جس کا اللہ عزوجل نے ہمیں حکم دیا ہے، لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اللہ عزوجل کے نیک بندوں کی عزت و توقیر کریں اور ان کی گستاخی و بے ادبی سے بچتے رہیں۔

اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

(الحجرات: ۱)

ترجمہ: ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔“

یہ بات واضح رہے کہ جب تک تعظیم ہے تو عبادت کام کی ہے، اگر ذرا سا بھی تعظیم کے دائرے سے نکل گئے تو کوئی عبادت عبادت نہیں اور کوئی نیکی قبول نہیں، اور یہ ادب و احترام انبیاء علیہم السلام کی ظاہری حیات کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ تا قیامت یہ اصول بنا دیا گیا ہے کہ بغیر تعظیم و توقیر کے عبادت کسی کام کی نہیں، اور یہ آیت کریمہ تب نازل ہوئی کہ جب بعض صحابہ کرام نے ماہِ رمضان کے روزوں میں تقدیم و تاخیر کی، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بعض صحابہ رمضان کے ماہ سے پہلے روزے رکھنا مقدم کرتے اور نبی کریم ﷺ سے پہلے روزے رکھنا شروع کر دیتے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھو“۔

(المعجم الاوسط : ۳۷۲۳، ج۳)

صفحہ ۲۰

وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَO (الحجرات:۲)

ترجمہ: ”اے ایمان والو! (عظیم) نبی کی آواز پر اپنی آوازیں اونچی نہ کرو‘ اور ان کے سامنے بلند آواز سے بات نہ کرو‘ جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز سے باتیں کرتے ہو‘ ایسا نہ ہو کہ تمہارے سب اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتا بھی نہ چلے“۔

ابن ابی ملیکہؒ‘ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ قریب تھا کہ دو سب سے افضل مسلمان ہلاک ہو جاتے‘ جب بنو تمیم کی جماعت نبی پاک ﷺ کے پاس آئی تو ان میں سے ایک (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! ان پر اقرع بن حابس کو امیر بنائیے‘ جو بنو مجاشع کا بھائی ہے اور دوسرے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کسی اور کو امیر بنانے کے لیے کہا‘ نافع نے کہا: مجھے اس کا نام یاد نہیں ہے‘ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم صرف میری مخالفت کا ارادہ کر رہے ہو‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میری مخالفت کا ارادہ کر رہے ہو‘ حتی کہ اس معاملہ میں دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اے ایمان والو! اس نبی کی آواز پر اپنی آوازیں اونچی نہ کرو“۔ (صحیح البخاری: ۴۸۴۵)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! اس (عظیم) نبی کی آواز پر اپنی آوازیں اونچی نہ کرو“ تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں بیٹھ گئے اور کہا: میں اہلِ دوزخ سے ہوں اور نبی ﷺ کے پاس آنے سے رک گئے۔ نبی ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ سے ان کے متعلق پوچھا: اے ابو عمرو! ثابت کو کیا ہوا؟ کیا وہ بیمار ہیں۔ حضرت سعد نے کہا: وہ میرے پڑوسی ہیں اور مجھے ان کی بیماری کا کوئی علم نہیں۔ پھر حضرت سعد‘ حضرت ثابت کے پاس گئے اور انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے متعلق پوچھ رہے تھے۔ حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے

صفحہ ۲۱

کہا کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے بولتا ہوں لہٰذا میں اہلِ دوزخ سے ہوں۔

حضرت سعد نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں! وہ اہلِ جنت سے ہے۔ (صحیح البخاری: ۴۸۴۶)

امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے اُس میں ہے کہ:

عروہ نے نبی ﷺ کے اصحاب کو بغور دیکھنا شروع کیا اس نے کہا: بخدا! رسول اللہ ﷺ جب بھی تھوکتے تھے تو کوئی نہ کوئی صحابی اپنا ہاتھ آگے کر دیتا، پھر اس لعاب مبارک کو اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں پر ملتا اور جب آپ کسی کام کا حکم دیتے تو سب اس کو کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرتے اور جب آپ وضو کرتے تو آپ کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو لینے کے لیے وہ ایک دوسرے پر اس طرح جھپٹ پڑتے کہ لگتا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے اور جب آپ بات کرتے تو آپ کے سامنے سب خاموش ہو جاتے آپ کی تعظیم کی وجہ سے وہ آپ کو گھور کر نہیں دیکھتے تھے۔

جب عروہ کفارِ قریش کی طرف واپس آ گیا تو اس نے کہا: اے میری قوم! بخدا! میں کئی بادشاہوں، قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے پاس وفد بن کر گیا ہوں اور بخدا! میں نے نہیں دیکھا کہ کسی بادشاہ کی ایسی تعظیم کی جاتی ہو جیسی تعظیم اصحابِ محمد ﷺ کی کرتے ہیں۔

بخدا! جب وہ تھوکیں تو کوئی نہ کوئی صحابہ اس کو اپنی ہتھیلی پر لے لیتا ہے پھر اس کو اپنے چہرے اور جسم پر ملتا ہے اور جب وہ کسی کام کا حکم دیں تو اس کو کرنے کے لیے سب ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں اور جب وہ وضو کرتے ہیں تو ان کے بچے ہوئے پانی کو لینے کے لیے وہ ایک دوسرے پر جھپٹ پڑتے ہیں اور جب وہ بات کرتے ہیں تو سب خاموش ہو جاتے ہیں وہ آپ کی تعظیم کی وجہ سے آپ کو گھور کر نہیں دیکھتے۔

(صحیح البخاری: ۲۷۳۲، ۲۷۳۱)

صفحہ ۲۲

رسول اللہ ﷺ کے ادب، اجلال اور احترام کا صحابہ کرام اس طرح لحاظ کرتے تھے کہ آپ کے سامنے بالکل ساکت اور جامد بیٹھے رہتے تھے اور مطلقاً ہلتے بھی نہیں تھے، گویا کہ وہ اس طرح بیٹھتے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے اور ان کے ہلنے سے وہ پرندے اُڑ جائیں گے۔

يَعْقِلُونَO

(الحجرات:۴)

ترجمہ: ”بے شک جو لوگ آپ کو حجروں سے باہر پکارتے ہیں، ان میں سے اکثر بے عقل ہیں“۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عرب کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: ہمیں اس شخص کے پاس لے چلو! اگر یہ نبی ہیں تو ہم اور لوگوں کی بہ نسبت سعادت حاصل کریں گے اور اگر یہ بادشاہ ہیں تو ہم ان کے زیر سایہ رہیں گے، میں ان کو نبی ﷺ کے پاس لے گیا اور بتایا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ پھر وہ نبی ﷺ کے حجروں کے پاس گئے اور زور زور سے پکارنے لگے: یا محمد! یا محمد! یا محمد! تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی۔

(المعجم الکبیر: ۵۱۲۳)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں: دوپہر کے وقت نبی ﷺ آرام فرما رہے تھے تو کچھ لوگ آ کر پکارنے لگے: یا محمد! یا محمد! ہمارے پاس آئیں، آپ بیدار ہو کر باہر آئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔

(الجامع لاحکام القرآن ج۶ ص۲۸۱)

وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌO

(الحجرات:۵)

ترجمہ: ”اور اگر وہ صبر کرتے حتیٰ کہ آپ (خود) ان کی طرف باہر آتے تو یہ ان کے لیے زیادہ اچھا تھا، اور اللہ بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے“۔

صفحہ ۲۳

ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے بیدار کرنا بھی آپ کے ادب و احترام کے خلاف ہے اور آپ کا نام لے کر آپ کو بلانا بھی آپ کے ادب واحترام کے خلاف ہے۔ سورۃ الحجرات کی یہ تمام آیات آپ کے ادب اور احترام اور آپ کے اجلال اور اکرام پر دلالت کرتی ہیں۔

وَلِلْكَفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ O

(البقره:١٠٤)

ترجمہ: ”اے ایمان والو! (اپنے رسول کو) راعنا نہ کہو انظرنا (ہم پر نظر کریں) کہو اور خوب سن لیا کرو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے“۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راعنا کہتے تھے یعنی ہماری رعایت فرمائیے اور ہماری طرف التفات اور توجہ فرمائیے جب کوئی بات سمجھ نہ آتی تو وہ اس موقع پر کہتے تھے: ”راعنا“ ہماری رعایت فرمائیں یہود کی لغت میں یہ لفظ بد دعا کے لیے تھا اور اس کا معنی تھا: سنو! تمہاری بات نہ سنی جائے انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کہنے لگے کہ پہلے ہم ان کو تنہائی میں بددعا دیتے تھے اور اب لوگوں اور برسر محفل ان کو بددعا دینے کا موقع ہاتھ آگیا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے راعنا کہتے تھے اور آپس میں ہنستے تھے۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو یہود کی لغت کا علم تھا انہوں نے جب ان سے یہ لفظ سنا تو انہوں نے کہا: تم پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں نے آئندہ تم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ لفظ کہتے ہوئے سنا تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ یہودی نے کہا: کیا تم لوگ یہ لفظ نہیں کہتے؟ اس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہا گیا: جب کوئی بات سمجھ نہ آئے تو تم راعنا نہ کہو بلکہ انظرنا کہو۔ ہم پر نظر رحمت اور مہربانی فرمائیں تاکہ یہود کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ صحیح لفظ کو غلط معنی میں استعمال کریں اور پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غور

صفحہ ۲۴

سے سن لیا کرو تا کہ یہ نوبت نہ آئے۔

(الجامع لاحکام القرآن ج ۲ ص ۵۷)

اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنا ایسا فعل قبیح ہے کہ اس سے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اور بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا، اگر نکاح والا تھا تو اس کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا؟ اس کو آئندہ صفحات پر بیان کریں گے۔

یاد رہے کہ ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ اللہ عزوجل و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخوں سے محبت و رغبت رکھنا ایمان کے منافی ہے، یعنی ان کی گستاخی پر مطلع ہونے کے باوجود اگر ان کے ساتھ میل جول رکھے گا اور انہیں اچھا جاننے لگا تو خود ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور دائرہ اسلام سے نکل جائے گا، اور واقعتاً مسلمانوں سے یہ توقع بھی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ گستاخوں کو اچھے جانیں گے بلکہ مؤمن تو ہے ہی وہ جو اللہ عزوجل اور اس کے رسل علیہم السلام کے دوستوں سے دوستی رکھے اور دشمنوں سے دشمنی رکھے۔

یہ تو قرآنی آیات تھیں، جن میں ہمیں عزت و توقیر کا حکم دیا گیا ہے، اب ان نفوس قدسیہ کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں جنہوں نے جو بھی بھلائی سیکھی، آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھی، ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و توقیر کے بارے میں کیسا طریقہ کار تھا اور وہ کس طرح آپ سے اور جس چیز کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت ہو جاتی، کا ادب و احترام کیا کرتے تھے۔

صفحہ ۲۵

نبی کریم ﷺ کی تعظیم وتوقیر کے بارے میں

صحابہ کرام کا عمل

زیادہ کوئی محبوب نہیں تھا اور نہ آپ سے بڑھ کر کوئی میری نگاہ میں بزرگ تھا اور آپ کے اجلال کی وجہ سے میں نگاہ بھر کر آپ کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اور اگر مجھ سے یہ سوال کیا جاتا کہ میں آپ کا حلیہ مبارکہ بیان کروں تو میں نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ میں نے آپ کو نگاہ بھر نہیں دیکھا تھا۔

(صحیح مسلم: ۱۹۲(۱۲۱) ۲۱۴‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ لاہور)

انصار کے پاس جایا کرتے تھے اور وہ بیٹھے ہوئے ہوتے تھے۔ ان میں حضرت ابوبکر اور عمر بھی ہوتے تھے پس حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے سوا کوئی آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا، وہ دونوں آپ کی طرف دیکھتے تھے اور آپ ان کی طرف دیکھتے تھے اور وہ آپ کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے اور آپ ان کی طرف دیکھ کر مسکراتے تھے۔

(سنن الترمذی: ۳۸۸۸‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت)

سر مونڈ رہا تھا اور صحابہ کرام نے آپ کو گھیرے میں لیا ہوا تھا اور جب بھی آپ کا

صفحہ ۲۶

کوئی بال مبارک گرتا تھا تو وہ کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ میں ہوتا۔

(صحیح مسلم:الرقم:۵۹۲۹(۲۳۲۵))

خدمت میں حاضر ہوا اور صحابہ کرام آپ کے گرد اس طرح بیٹھے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں۔ (سنن ابو داؤد: ۳۸۵۵)

کے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا تو قریش نے حضرت عثمان سے کہا: تم کعبہ کا طواف کر لو تو حضرت عثمان نے کہا: میں اس وقت تک کعبہ کا طواف نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کا طواف نہ کرلیں۔ (دلائل النبوۃ ج۳ ص۱۳۵-۱۳۳)

بات پوچھنا چاہتا تھا لیکن آپ کی ہیبت کی وجہ سے اس کو برسوں ٹالتا رہا۔

(الشفاء ج۲ ص۳۴)

ان روایات سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ ان نفوسِ قدسیہ کا ادب واحترام کا کیا عالم تھا اور وہ کس طرح حضور علیہ السلام سے محبت کیا کرتے تھے؟ اور آپ سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی کس طرح تعظیم کیا کرتے تھے؟ ان کی تعظیم وتوقیر کا انداز ہی نرالہ تھا۔

کوئی آپ ﷺ کے رعب وجلال کی وجہ سے عمر بھر آپ ﷺ کی طرف نگاہ بھر کر نہیں دیکھتا۔ کوئی آپ ﷺ سے نسبت رکھنے والے بال مبارک کو زمین پر نہیں گرنے دیتے اور زمین پر گرنے سے پہلے اپنے ہاتھ نیچے کر دیتے ہیں، حضرت عثمان غنی ؓ کا تو انداز سب سے نرالہ ہے کہ کعبے کا طواف کرنے سے انکار کر دیا کہ جب تک میرے محبوب ﷺ طواف نہیں کریں گے، میں بھی نہیں کروں گا۔

ان نفوسِ قدسیہ کو معلوم تھا کہ اصل ایمان آپ ﷺ کی فرمانبرداری اور تعظیم و توقیر ہے۔

صفحہ ۲۷

رسول اللہ ﷺ کی احادیث کا ادب و احترام

رہے تھے، ان کو بچھو نے سولہ مرتبہ ڈنک مارا، ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو کر زرد پڑ گیا لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث منقطع نہیں کی۔ جب مجلس ختم ہو گئی تو لوگوں نے آپ کے چہرے کے تغیر کا سبب پوچھا، امام مالک نے فرمایا: ہاں! مجھے سولہ مرتبہ بچھو نے ڈنک مارا اور میں صبر کرتا رہا اور میرا صبر صرف رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے احترام کی وجہ سے تھا۔

اور قتادہ کہتے تھے کہ مستحب یہ ہے کہ بغیر وضو کے نبی ﷺ کی احادیث نہ پڑھی جائیں اور اعمش جب بے وضو ہوتے اور حدیث بیان کرنے کا ارادہ کرتے تو تیمم کر لیا کرتے تھے۔

(الشفاء ج۲ ص۳۹-۳۵)

وہ اس وقت لیٹے ہوئے تھے، وہ اُٹھ کر بیٹھ گئے، پھر حدیث بیان کی اور کہا: میں نے اس کو ناپسند کیا کہ میں لیٹ کر رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کروں۔

کرتے تو وضو کرتے، تیار ہوتے، عمدہ لباس پہنتے، پھر حدیث بیان کرتے۔

اے اللہ کے بندے! ذرا غور کر کہ بزرگان دین رحمہم اللہ اجمعین کی حضور ﷺ سے محبت کیسی تھی کہ بغیر وضو کے حضور ﷺ کی حدیث کو بیان بھی نہیں کرتے تھے اور

صفحہ ۲۸

امام مالک کو سولہ مرتبہ بچھو نے ڈنک مارا لیکن حضور ﷺ کی حدیث کا احترام کرتے ہوئے صبر کرتے رہے اور ذرا برابر بھی کوئی تکلیف محسوس نہ کروائی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگان دین جیسی محبت نصیب کرے اور اپنے دلوں کو حضور ﷺ کی محبت سے منور کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)

صفحہ ۲۹

وفات کے بعد بھی نبی ﷺ کی تعظیم وتکریم

قاضی عیاض ابوالفضل عیاض بن موسیٰؒ لکھتے ہیں: وفات کے بعد نبی ﷺ کی توقیر اور تعظیم لازم ہے، جس طرح آپ کی حیات میں لازم تھی اور اس کا موقع وہ ہے جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جائے، آپ کی حدیث کا ذکر کیا جائے، اور آپ کی سنت کا ذکر کیا جائے اور آپ کا نام مبارک اور آپ کی سیرت طیبہ کا سماع کیا جائے اور آپ کی آل اور عترت کے ساتھ کوئی معاملہ کیا جائے، اور آپ کے اہل بیت اور آپ کے اصحاب کی تعظیم کی جائے۔

ابو ابراہیم تجیبی نے کہا: ہر مؤمن پر واجب ہے کہ جب وہ آپ کا ذکر کرے یا اس کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے تو وہ خضوع اور خشوع کی حالت میں ہو اور اس کی حرکات اور سکنات سے وقار ظاہر ہو اور اس پر اسی طرح ہیبت طاری ہو جیسے وہ آپ کے سامنے مؤدب کھڑا ہے۔

امیر المؤمنین ابو جعفر نے امام مالک سے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں مناظرہ کیا، امام مالک نے ان سے کہا: امیر المؤمنین! آپ مسجد میں اپنی آواز اونچی نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ ادب سکھایا ہے کہ

”تم نبی کی آواز پر اپنی آوازوں کو اونچا نہ کرو اور نہ آپ کے سامنے اس طرح بلند آواز سے بولو جس طرح تم آپس میں بلند آواز سے بولتے ہو (ایسا نہ ہو کہ) تمہارے تمام اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں پتا بھی نہ چلے“۔

(الحجرات:۲)

صفحہ ۳۰

اور اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی مذمت کی جو آپ کو حجروں کے باہر سے پکار کر بلاتی تھی اور ان کو بے عقل فرمایا اور آپ کا احترام اب بھی اسی طرح ہے جس طرح زندگی میں آپ کا احترام تھا۔

خلیفہ ابو جعفر نے امام مالک کی بات کو تسلیم کر لیا اور پوچھا: جب میں رسول اللہ ﷺ کے مواجہہ شریف میں کھڑا ہو کر دعا کروں تو آپ کی طرف منہ کروں یا قبلہ کی طرف منہ کروں؟ امام مالک نے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ سے اپنا رخ کیوں پھیرتے ہیں حالانکہ حضور ﷺ آپ کے باپ حضرت آدم علیہ السلام کے قیامت کے دن اللہ عزوجل کی بارگاہ میں وسیلہ ہیں بلکہ آپ رسول اللہ ﷺ کی طرف منہ کیجئے اور آپ سے شفاعت طلب کیجئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں شفاعت قبول فرمائے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

”اور اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تو وہ آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول (بھی) ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرتے تو وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا بہت مہربان پاتے“۔ (النساء:۶۴)

مصعب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ امام مالک کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا، اور وہ اس وقت جھک جاتے جب امام مالک سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا: محمد بن المنکدر سید القراء تھے، جب ہم ان سے کسی حدیث کے متعلق پوچھتے تو ان پر اس طرح گریہ طاری ہوتا کہ ان کے لیے رحم کی دعا کرتے اور میں نے حضرت جعفر بن محمد الصادق ؒ کو دیکھا وہ بہت ہنس مکھ اور پُر مزاح شخص تھے، لیکن جب ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو ان کا چہرہ زرد پڑ جاتا اور میں نے ان کو کبھی بغیر وضو کے رسول اللہ ﷺ کی احادیث بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا، پھر امام مالک نے بیان کیا کہ ...... عبدالرحمن بن قاسم، نبی ﷺ کا

ذکر کرتے تو ان کے رنگ کی طرح رسول اللہ ﷺ کی ہیبت سے کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ سے آنسو ختم ہو جاتے اور زردی سامنے رسول اللہ ﷺ کا ذکر یعنی رسول اللہ ﷺ کے تصور اور بے خبر ہو جاتے۔

صفحہ ۳۱

ذکر کرتے تو ان کے رنگ کی طرف دیکھا جاتا، لگتا تھا کہ ان کا خون نچوڑ لیا گیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ہیبت سے ان کی زبان خشک ہو گئی ہے اور عامر بن عبداللہ بن الزبیر کے سامنے جب رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو وہ اس قدر روتے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو ختم ہو جاتے اور زہری بہت خوش مزاج اور ملنسار شخص تھے لیکن جب ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جاتا تو لگتا تھا کہ وہ اپنے مخاطب کو بالکل نہیں پہچانتے یعنی رسول اللہ ﷺ کے تصور میں اس طرح مستغرق ہو جاتے کہ گرد و پیش سے بیگانہ اور بے خبر ہو جاتے۔

صفحہ ۳۲

رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے

کے لیے شرعی حکم

رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنا بالاجماع کفر ہے اور توہین کرنے والا بالاتفاق واجب القتل ہے اور اس کی توبہ قبول کرنے میں ائمہ مذاہب کے مختلف اقوال ہیں، خواہ توہین کا تعلق آپ کی ذات کے ساتھ ہو یا آپ کے نسب کے ساتھ ہو‘ آپ کے دین کے ساتھ ہو یا آپ کی کسی صفت کے ساتھ ہو۔ اور یہ اہانت خواہ صراحتاً ہو یا کنایتاً ہو یا تعریضاً ہو یا تلویحاً ہو۔ اسی طرح کوئی شخص آپ کو بددعا کرے‘ آپ پر لعنت کرے یا آپ کا برا چاہے‘ آپ کے عوارضِ بشریہ یا آپ کے متعلق اشیاء یا اشخاص کا آپ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بطریقِ طعن یا مذمت ذکر کرے۔

غرض! جس شخص سے کوئی ایسا کام صادر ہو جس سے آپ کی اہانت ظاہر ہو‘ وہ کفر ہے اور اس کا قائل واجب القتل ہے۔

قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں:

محمد بن سحنون نے کہا ہے کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی کریم رؤف و رحیم ﷺ کی اہانت کرنے والا اور آپ کی تنقیص (آپ کی شان میں کمی) کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الٰہی کی وعید جاری ہے اور اُمت کے نزدیک اس کا حکم قتل کرنا ہے اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے‘ وہ بھی کافر ہے۔

(الشفاء ج۲ ص۱۹۰ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ملتان)

صفحہ ۳۳

بعض فقہاء حنفیہ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کی توبہ قبول نہیں ہو گی۔

علامہ علائی لکھتے ہیں: جو شخص کسی نبی کو گالی دے وہ کافر ہو گیا اور اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ مطلقاً قبول نہیں ہے (خواہ وہ خود توبہ کرے یا اس کی توبہ پر گواہی ہو) اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور نبی کو گالی دینا بندے کا حق ہے اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہو جائے گا۔

(ردالمحتار ج ۳ ص ۴۰۰)

علامہ ابن قدامہ حنبلی کا نظریہ

جس شخص نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی وہ کافر ہو گیا خواہ مذاق سے خواہ سنجیدگی سے اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ سے استہزاء کیا یا اس کی ذات سے یا اس کے رسولوں سے یا اس کی کتابوں سے وہ کافر ہو گیا۔

(المغنی ج ۹ ص ۳۳)

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ: ”اگر آپ ان سے پوچھیں تو یہ کہیں گے: ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے آپ کہیے: کیا تم اللہ تعالیٰ اس کی آیات اور اسکے رسول کا استہزاء کر رہے تھے؟ اب عذر نہ پیش کرو کیونکہ تم ایمان لانے کے بعد یقیناً کافر ہو چکے ہو“۔

ان اقوال فقہاء کرام کی عبارات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں ادنیٰ سے ادنیٰ گستاخی کرنے والا مرتد ہے اور وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اگر نکاح والا تھا تو اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ اور اس کی سزا قتل ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی اور گستاخی کا معنیٰ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ یا سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی کے متعلق ایسا لفظ بولے یا ایسا لفظ لکھے جو کہ عرفاً توہین سمجھا جاتا ہے تو ایسے شخص کو قتل کر دیا جائے گا مسلم ہو یا غیر مسلم۔

صفحہ ۳۴

احادیث میں گستاخ رسول کو قتل کرنے کا بیان

کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دی ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! حضرت محمد بن مسلمہؓ کعب کے پاس گئے اور کہا: اس شخص نے یعنی نبی ﷺ نے ہمیں تھکا دیا ہے اور ہم سے صدقہ کا سوال کرتا رہتا ہے، نیز کہا: بخدا! تم اس کو ضرور ملال میں ڈال دو گے، اور کہا: ہم نے اس کی پیروی کی ہے اور اب ہم اس کو چھوڑنا ناپسند کرتے ہیں حتیٰ کہ ہم جان لیں کہ آخر کار ماجرا کیا ہوگا۔ وہ اسی طرح کعب بن اشرف سے باتیں کرتے رہے، حتیٰ کہ موقع پا کر اس کو قتل کر دیا۔

(صحیح البخاری: ۴۰۳۷)

نبی ﷺ کو بُرا کہتی تھی اور آپ کو سب و شتم کرتی تھی، وہ نابینا اس کو منع کرتے رہتے تھے اور وہ باز نہیں آتی تھی۔ ایک رات جب وہ نبی ﷺ کو سب و شتم کر رہی تھی، انہوں نے آکر مغول (گپتی یا بھاری پیکان والی لاٹھی ) لے کر اس کو اس کے پیٹ پر رکھ کر دبایا، حتیٰ کہ اس کو قتل کر دیا، اور اس کی ٹانگوں میں ایک بچہ آ کر اسکے خون میں لتھڑ گیا، صبح کو لوگوں نے نبی ﷺ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ نے سب لوگوں کو جمع کر کے فرمایا: جس شخص نے بھی یہ کام کیا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے وہ نابینا لوگوں کو پھلانگتا ہوا آیا اور نبی ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور کہا: یا رسول اللہ ! میں تھی اور بُرا کہتی تھی، میں اسکو منع موتیوں کی مانند میرے دو بچے آپ ﷺ کو سب و شتم کر رہی گپتی رکھ کر اس کو دبایا، حتیٰ کہ اس جاؤں کہ اس کا خون رائیگاں ہے

اس کو اسلام کی دعوت دی، اس انہوں نے حضرت عمرو بن العاص عرفہ سے کہا: ہم ان سے عہد کر پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے د سے صرف اس بات کا عہد کیا دیں گے اور اس بات کا عہد کیا ڈالیں گے اور اس بات کا عہد کیا بات کا عہد کیا تھا کہ وہ آپس م جب وہ ہمارے پاس آئیں گے احکام کے مطابق فیصلہ کریں گے۔

کے پاس جاتے تو وہ آپ کو سب اس کو تلوار سے قتل کر دیا، اس کے

صفحہ ۳۵

بیٹھ گیا اور کہا: یا رسول اللہ! میں اس باندی کا مالک ہوں، وہ آپ کو سب و شتم کرتی تھی اور بُرا کہتی تھی، میں اسکو منع کرتا تھا، لیکن وہ باز نہیں آتی تھی اور اس سے موتیوں کی مانند میرے دو بچے بھی ہیں اور وہ میری رفیقہ تھی، گزشتہ رات وہ پھر آپ ﷺ کو سب و شتم کر رہی تھی اور بُرا کہہ رہی تھی، میں نے اس کے پیٹ پر مغول رکھ کر اس کو دبایا، حتیٰ کہ اس کو قتل کر دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: سنو! گواہ ہو جاؤ کہ اس کا خون رائیگاں ہے (یعنی اسکا کوئی قصاص یا تاوان نہیں ہوگا)۔

(سنن ابوداؤد: ۴۳۶۱)

اس کو اسلام کی دعوت دی، اُس نصرانی نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی، انہوں نے حضرت عمرو بن العاص کے پاس یہ معاملہ پیش کیا، انہوں نے حضرت عرفہ سے کہا: ہم ان سے عہد کر چکے ہیں، حضرت عرفہ نے کہا: ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ اللہ و رسول کی ایذاء پر عہد کریں، ہم نے ان سے صرف اس بات کا عہد کیا تھا کہ ہم ان کو ان کے گرجوں میں عبادت کرنے دیں گے اور اس بات کا عہد کیا تھا کہ ہم ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالیں گے اور اس بات کا عہد کیا تھا کہ ہم ان کی حفاظت کے لیے لڑیں گے اور اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ آپس میں اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں گے، لیکن جب وہ ہمارے پاس آئیں گے تو ہم ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ کریں گے، حضرت عمرو بن العاص نے کہا: تم نے سچ کہا۔

(معجم الاوسط: ۷۸۲۴ ۔ ج ۹)

کے پاس جاتے تو وہ آپ کو سب و شتم کرتی اور آپ کو بُرا کہتی، انہوں نے ایک دن اس کو تلوار سے قتل کر دیا، اس کے بیٹے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ہم کو معلوم ہے

صفحہ ۳۶

کہ اس کو کس نے قتل کیا؟ کیا امان دینے کے باوجود اس کو قتل کیا گیا، اور ان لوگوں کے ماں باپ مشرک تھے، حضرت عمیر کو یہ خوف ہوا کہ یہ لوگ کسی اور بے قصور کو قتل کر دیں گے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر اس واقعہ کی خبر دی، آپ نے فرمایا: کیا تم نے اپنی بہن کو قتل کیا تھا؟ میں نے کہا: ہاں! آپ نے پوچھا: کیوں؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ آپ کے متعلق مجھے ایذاء دیتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیٹوں کے پاس کسی کو بھیجا تو انہوں نے کسی اور کا نام لیا جو اس کا قاتل نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔

(المعجم الکبیر: ۱۲۳۔ ج ۱۷ ص ۶۵۔۶۴)

ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتی کہ وہ مری، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔

(سنن الکبریٰ ج ۶ ص ۲۰۰)

راہب کو لایا گیا اور بتایا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کرتا ہے انہوں نے کہا: اگر میں سنتا تو اس کو قتل کر دیا، ہم نے ان کو اس لیے امان نہیں دی کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کریں۔

(المطالب العالیہ: ۱۹۸۶)

حضرات قارئین!

غور کریں کہ ان احادیث مبارکہ میں کہ جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کیں، قتل کر دیئے گئے اور ایک مسلم کہلانے والا اگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرے، آپ کی شان کو گھٹانے کی جرأت کرے تو اسکا انجام کیا ہوگا، اس کا دنیا میں تو یہی انجام ہے لیکن آخرت میں اس سے بھی برا ہوگا۔

اللہ عزوجل ہمیں گستاخوں کے شر سے محفوظ فرمائے۔ (آمین!)

اب ہم سابقہ ان قوموں کے بارے میں ذکر کریں گے کہ جنہوں نے انبیاء علیہم

صفحہ ۳۷

السلام کو جھٹلایا‘ ان کی گستاخیاں کیں اور ان کے ساتھ بُرے طریقوں سے پیش آتے تھے۔ ان میں سے اکثر قومیں ایسی تھیں کہ انہوں نے انبیاء علیہم السلام کی نبوت کو مانا ہی نہیں اور اپنے جیسا بشر سمجھنے اور ساحر و مجنون (نعوذ باللہ) کہنے کی وجہ سے دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا ہوئے‘ آخرت میں تو ان کے لیے بھڑکتی آگ تھی ہی‘ دنیا میں بھی سخت عذاب میں مبتلا ہوئے۔

یقیناً قرآن کریم میں ان کے واقعات ہمارے لیے درس عبرت ہیں کہ ہم ان کے انجام بد کو پڑھ کر انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی و بے ادبی سے محفوظ رہیں اور جو مرتبہ و مقام اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل کو عطاء فرمایا ہے‘ اسے تسلیم کرلیں۔

یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ محبوب کی ہر چیز بھی محبوب ہوتی ہے‘ کوئی اپنے محبوب کے بارے میں گستاخی و بے ادبی کو برداشت نہیں کر سکتا‘ اور اس گستاخ کو بُرا بھلا کہتا ہے‘ اس کو اس کے انجام بد تک پہنچا کر ہی دم لیتا ہے‘ خواہ اس کو اپنی جان کی قربانی بھی دینی پڑے تو وہ ہرگز گریز نہیں کرتا‘ اس کا اندازہ آپ غازیانِ اسلام کی ناموس رسالت کی خاطر دینے والی قربانیوں سے لگا سکتے ہیں۔

صفحہ ۳۸

قرآنی واقعات کو بیان کرنے کا مقصد

چونکہ قرآن کریم ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے اور تمام متقین کے لیے ہدایت ہے جیسا کہ ارشاد ربانی عزوجل ہے: ”هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ“ کہ قرآن کریم متقین کے لیے ہدایت ہے۔ یہاں پر متقین کے لیے ہدایت ہے‘ کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا‘ کیونکہ مؤمنین ومتّقین ہی اس سے نفع اُٹھاتے ہیں۔ قرآنی واقعات وقصص ان کے لیے سبب ہدایت بنتے ہیں اور وہ ان واقعات کو پڑھ کر بُرائی سے باز آ جاتے ہیں جن میں کفار و مشرکین کا ذکر ہوا ہے اور جن واقعات میں اللہ عزوجل کے نیک بندوں کا ذکر ہے‘ ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کا ذکر ہے‘ ان کو پڑھ کر نیکیوں کی طرف ان کی رغبت بڑھ جاتی ہے اور وہ ان نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہوجاتے ہیں۔

اس کے برعکس کفار و بد مذہب ان قرآنی واقعات کو پڑھ سن کر ہدایت کی طرف نہیں لوٹتے اور اپنی بداعمالیوں سے کنارہ کش ہونے کی بجائے مزید گناہوں کی دلدل میں گھرے چلے جاتے ہیں اور انہی گناہوں کے سبب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لعنتی قرار پاتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔

محترم قارئین!

مؤمن کی یہ شان ہے کہ وہ اللہ عزوجل کی طرف سے دیئے گئے احکامات پر عمل پیرا ہوتا ہے‘ بُرائی سے باز آ جاتا ہے اور سچے دل سے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنے سر کو جھکا لیتا ہے اور مؤمن ہی قرآنی واقعات کو پڑھ کر ان سے فائدہ اُٹھاتا ہے‘ جیسا کہ قرآن کریم کی اس آیت کریمہ میں بھی اس کی تصریح کی گئی ہے کہ قرآنی واقعات اس لیے

تلاوت یعنی بیان کیے جاتے ہیں ک گناہوں سے تائب ہو جائیں اور اللہ عزوجل اور اسکے پیارے انبیاء چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: طٰسٓمّٓ O تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰ وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُّ ترجمہ کنز الایمان: ”یہ آی فرعون کی سچی خبر ان لوگوں اسی طرح سورۃ النمل آیت طٰسٓ O تِلْكَ اٰيٰتُ الْقُ لِلْمُؤْمِنِيْنَ O ترجمہ کنزالایمان: ”یہ آ خوش خبری ایمان والوں ک ان آیت کریمہ سے پ کرتے ہیں‘ اور جس طرح اس حق و باطل میں فرق کرتے ہو ہیں۔

صفحہ ۳۹

تلاوت یعنی بیان کیے جاتے ہیں کہ مؤمن ومتقین اس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے گناہوں سے تائب ہو جائیں اور اللہ عزوجل کی ناراضگی والے اعمال ترک کردیں اور اللہ عزوجل اور اسکے پیارے انبیاء ورسل علیہم السلام کی گستاخیوں سے باز رہیں۔

چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: طٰسٓمّ ۚ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ o نَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰی وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَo

(القصص: ۱-۳)

ترجمہ کنزالایمان: ”یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی، ہم تم پر پڑھیں موسیٰ اور فرعون کی سچی خبر اُن لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں“۔

اسی طرح سورۃ النمل آیت: ۱-۲ میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: طٰسٓ ۚ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِيْنٍ o هُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ o ترجمہ کنزالایمان: ”یہ آیتیں ہیں، قرآن اور روشن کتاب کی، ہدایت اور خوش خبری ایمان والوں کو“۔

ان آیت کریمہ سے پتہ چلا کہ مؤمن ہی قرآن کریم سے ہدایت تامہ حاصل کرتے ہیں، اور جس طرح اس سے مستفیض ہونے کا حق ہے، افادہ حاصل کرتے ہیں، اور حق و باطل میں فرق کرتے ہوئے حق پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور باطل سے اجتناب کرتے ہیں۔

صفحہ ۴۰

قوموں کی گستاخیاں اور ان کا انجام

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہر دور میں وقتاً فوقتاً انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے اپنے انبیاء ورسل علیہم السلام کو مبعوث فرمایا اور انسانوں کی بہتری کے لیے ان پر اپنا کلام یعنی صحائف بھی نازل فرماتا رہا۔ اور وہ نفوسِ قدسیہ اللہ عزوجل کی وحدانیت کی تبلیغ کرتے رہے‘ شرک و بت پرستی سے منع کرتے رہے‘ اپنی رسالت کا اعلان کرتے رہے۔ الغرض! ہر اچھے کام کی دعوت دیتے رہے اور ہر بُرائی والے کاموں سے روکتے رہے۔ ان کی دعوت و تبلیغ سے بے شمار انسان راہِ راست پر آ گئے اور نیکی کی راہ پر گامزن ہو گئے۔ اللہ عزوجل کی فرمانبرداری میں لگ گئے انہوں نے اللہ عزوجل کی وحدانیت کا بھی اقرار کیا اور انبیاء ورسل علیہم السلام کی رسالت و نبوت کو بھی مانا‘ یقیناً وہی لوگ کامیاب ٹھہرے اور ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے اللہ عزوجل کے مبعوث کردہ انبیاء ورسل علیہم السلام کی تعظیم کی اور ان کی گستاخیوں سے بچتے رہے‘ ان کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہنے سے اجتناب کرتے رہے۔

اس کے برعکس جن کے دل ضلالت و گمراہی کی تاریکی میں ڈوب چکے تھے اور ہدایت سے دور گمراہی میں بھٹک رہے تھے‘ ان میں سے بعضوں نے تو اللہ عزوجل کے رب ہونے کا ہی انکار کر دیا اور بعض ایسے تھے‘ جنہوں نے اللہ عزوجل کی وحدانیت کا تو اقرار کیا لیکن اس کے انبیاء ورسل علیہم السلام کی رسالت کو نہ مانا اور ان کی شان میں نازیبا الفاظ بکتے‘ ان کو بُرا بھلا کہتے اور ان نفوسِ قدسیہ کی دعوت الی الایمان کو ٹھکرا دیتے‘ ان میں سے بعض ایسی قومیں جو گستاخیوں میں حد سے بھی تجاوز کر گئیں‘ ان کو اللہ عزوجل

نے قرآن کریم میں ارشاد فر قومیں آنے والے لوگوں کے کی شان میں گستاخانہ الفاظ فرعون اور اس کی قوم کی گ فرعون اور اس کے پی آمیز کلمات کہے اور آپ علیہ اس طرح بیان کیا: قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ ال ترجمہ کنزالایمان: ”ب گئے ہیں ضرور عقل نہیں اس آیت کریمہ کی ت فرماتے ہیں کہ خیال رہے کہ تھا‘ اور رسولکم کہنے سے اس نہ کہ میرے‘ میں تو رب ہوں فرعون نے ایک تو ح ہوں گے تو تمہارے میرے مجنوں کا لفظ استعمال کیا اور سے افضل واعلیٰ سمجھا‘ اور ا علیہ السلام کو جادوگر بھی کہا ہیں‘ اور ان کے پاس کوئی ن ان الفاظ کے ساتھ بیان ک اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ ا

صفحہ ۴۱

نے قرآن کریم میں ارشاد فرما دیا اور ساتھ ہی ان کے انجام بد کو بھی بیان فرما دیا تا کہ یہ قومیں آنے والے لوگوں کے لیے درس عبرت بن جائیں اور وہ انبیاء ورسل علیہم السلام کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہنے کی جسارت نہ کریں۔

فرعون اور اس کی قوم کی گستاخیاں

فرعون اور اس کے پیروکاروں نے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں توہین آمیز کلمات کہے اور آپ علیہ السلام کی شان میں جو گستاخیاں کیں، ان کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا:

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِىْ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ O (الشعراء:۲۷)

ترجمہ کنزالایمان: ”بولا (فرعون) تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور عقل نہیں رکھتے“۔

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مفسر قرآن حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خیال رہے کہ فرعون کا موسیٰ علیہ السلام کو رسول کہنا مذاق و دل لگی کے طور پر تھا اور رسولکم کہنے سے اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوں بھی تو تمہارے ہوں گے نہ کہ میرے، میں تو رب ہوں۔ (نعوذ باللہ )

فرعون نے ایک تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مذاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اگر رسول ہوں گے تو تمہارے میرے لیے یہ رسول نہیں اور دوسرے آپ علیہ السلام کی شان میں مجنوں کا لفظ استعمال کیا اور آپ علیہ السلام کو بے عقل کہا اور اپنے آپ کو آپ علیہ السلام سے افضل واعلیٰ سمجھا اور اس خبیث ذہن کے مالک نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ آپ علیہ السلام کو جادوگر بھی کہا کہ یہ جو بھی کام کرتے ہیں، اپنے جادوگر ہونے کی بناء پر کرتے ہیں، اور ان کے پاس کوئی معجزہ نہیں، بلکہ یہ تو بہت بڑا جادو گر ہے، قرآن کریم میں اس کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے:

اِنَّهٗ لَكَبِيْرُكُمُ الَّذِىْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ (الشعراء:۴۹)

صفحہ ۴۲

ترجمہ کنز الایمان : ” بے شک وہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا“۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام دعوت و تبلیغ کے لیے فرعون کے پاس تشریف لے گئے اور آپ علیہ السلام نے اللہ عزوجل کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی تبلیغ کی اور اسے اللہ عزوجل کے عطاء کردہ احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے کہا تو وہ اپنی سرکشی اور ہٹ دھرمی پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ اگر آپ اپنے دعویٰ میں سچے ہو تو کوئی دلیل پیش کرو اور وہ ایسا معجزہ ہو کہ جسے دیکھ کر ہمیں یقین ہو جائے کہ واقعی آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔ تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ اپنی بغل کے نیچے رکھا۔ جب نکالا تو وہ اس کے خلاف تھا، جیسا کہ پہلے تھا یعنی پہلے گندمی رنگ کا تھا اور جب نکالا تو وہ بہت ہی چمکدار ہو چکا تھا، جب فرعون نے یہ ماجرا دیکھا تو بجائے اس کے کہ وہ ایمان لاتا، مزید اپنی ہٹ دھرمی پہ اتر آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے اپنے گرد و نواح میں بیٹھے ہوئے سرداروں اور اپنے باشندوں کو کہنے لگا کہ یہ بہت بڑا جادوگر ہے اور اپنے ان جادوئی کرتبوں کے ذریعے تمہیں تمہاری زمین سے نکال دینا چاہتا ہے، لہٰذا تم اس کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہو؟ تو انہوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ شہروں سے تمام جادوگروں کو اکٹھا کر کے اس کا مقابلہ کیا جائے اور ایک وقت مقرر کیا جائے کہ جس دن تمام لوگ اکٹھے ہوں اور اس مقابلہ میں شکست کھانے والے کو دیکھ لیں۔

لہٰذا فرعونیوں کے میلے کے دن چاشت کے وقت یہ مقابلہ طے پایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جن جادوگروں کو بلایا گیا تھا، وہ اپنے جادو میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے اور فرعون کے خصوصی تربیت یافتہ تھے، فرعون نے ان کو مزدوری کے طور پر بہت سے مال و دولت کی آفر کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شکست دینے والے کو بہت سے انعام و اکرام سے نوازنے اور اپنے قریب ہونے کا اعلان کیا۔

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعونی جادوگروں کا آمنا سامنا ہوا تو آپ علیہ السلام نے پہلے ان کو مقابلہ شروع کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے اپنی رسیاں پھینکیں جو کہ سانپ

صفحہ ۴۳

بن کر میدان میں چلنے لگیں اور جادوگروں نے اپنے کرتب دکھائے‘ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا یعنی سانپ بن کر ان جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا‘ اس پر جادوگر سمجھ گئے کہ یہ اللہ عزوجل کے سچے رسول ہیں‘ کیونکہ یہ معجزہ ہو سکتا ہے جادو نہیں۔ وہ سجدے میں گر کر کہنے لگے: ”قَالُوا اٰمَنَّا بِرَبِّ مُوسٰى وَهَارُونَ“ کہ ہم موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کے رب پر ایمان لائیں‘ یہ دیکھ کر فرعون غصہ میں آیا اور کہنے لگا کہ تم سب جادوگر ہو اور یہ تمہارا بڑا سردار ہے۔ میں تمہیں ایسی سزا دوں گا کہ تم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی‘ چنانچہ اس لعنتی فرعون نے ان تمام کے اعضاء کو الگ الگ کروا کے شہید کروا دیا۔

(۱) قوم فرعون کا انجام

یہ قوم اتنی گمراہ و بے ادب تھی کہ خشک سالی‘ پھلوں کی کمی اور دیگر مصائب کی نسبت انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کے اصحاب کی طرف کرتے ہوئے کہتے کہ یہ ان کی نحوست کی وجہ سے ہے‘ لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ تمام تبدیلیاں تو رب کائنات کی طرف سے ہوتی ہیں‘ پھلوں میں کمی آجانا‘ بھوک و پیاس کی شدت‘ اور یہ سب کچھ اللہ عزوجل کی قدرت میں ہے‘ اور وہی ان کا خالق و مالک ہے‘ اور جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے رزق عطاء فرماتا ہے‘ انہوں نے جادو اور معجزہ میں فرق کیے بغیر کہا کہ یہ عصاء جو سانپ بن گیا ہے‘ یہ جادوئی کرتب ہی ہے۔ جب فرعون کی گستاخیاں انتہاء کو پہنچ گئیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کی: اے میرے رب عزوجل ! فرعون زمین میں بہت تکبر اور سرکشی کر رہا ہے‘ ان پر ایسا عذاب نازل فرما کہ جو ان کے لیے عذاب ہو اور میری قوم کے لیے نصیحت اور بعد والوں کے لیے نشانی و عبرت ہو۔ تو اللہ عزوجل نے ان پر طوفانی بارش کا عذاب بھیجا‘ جس کی وجہ سے ان کے گھر پانی سے بھر گئے۔ وہ اس پانی میں ڈوبنے لگے‘ کھیتی باڑی اور دیگر تمام کام تباہ برباد ہو گئے اور وہ کوئی کام بھی نہ کر سکتے تھے‘ ایک دو ہفتے یہی معاملہ رہا‘ تب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ

صفحہ ۴۴

السلام سے کہا کہ اس عذاب سے ہمیں نجات مل گئی تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دیں گے چنانچہ آپ نے دعا مانگی تو طوفانی بارش ٹل گئی اور زمین میں دوبارہ سرسبز و شادابی لوٹ آئی اور پھلوں اور باغات کی پیداوار میں اضافہ ہو گیا یہ دیکھ کر فرعون کہنے لگا کہ یہ تو ہمارے لیے بڑی نعمت کا سامان تھا کہ اتنی بارش ہوئی، اور اپنے عہد سے پھر گیا اور ایمان لائے بغیر دوبارہ اپنی سرکشی میں لوٹ گیا اور ظلم و عصیان کرنا شروع کر دیا۔ (عجائب القرآن ص ۹۷)

(۲) ٹڈیوں کا عذاب

جب طوفانی عذاب کو ایک ماہ گزر گیا تو فرعون کا تکبر اور ظلم پھر بڑھنے لگا تو اللہ عز وجل نے ان کو ٹڈیوں کے عذاب میں مبتلا کر دیا کہ چاروں طرف سے ٹڈیاں ہی ٹڈیاں آ گئیں۔ ان کے کھیت باغات نیز گھروں کی لکڑیوں تک سب کچھ کھا گئی۔ اس عذاب سے وہ بہت پریشان ہوئیں اور دوبارہ موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں کہا کہ اگر اب یہ عذاب ٹل جائے تو ضرور ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور بنو اسرائیل پر ظلم وستم نہیں کریں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے وہ عذاب بھی ٹل گیا اور یہ لوگ نہایت آرام وسکون سے رہنے لگے، لیکن ایمان نہیں لائے۔

(۳) گھن کا عذاب

یہ ایک چھوٹا سا کیڑا تھا، جس نے ان کے پھلوں باغات اور فصلوں کو ویران کر دیا اور ہر شے چٹ کر گیا، حتیٰ کہ ان کے کپڑوں میں داخل ہو کر انہیں کاٹنے لگا جس کی وجہ سے وہ چیخنے چلانے لگے یہاں تک کہ ان کے سروں، بالوں، ڈاڑھی، مونچھوں تک کو چاٹ چاٹ کر دیا اور یہ کیڑے ان کے برتنوں میں گھس جاتے، جس کی وجہ سے یہ لوگ کھا پی بھی نہیں سکتے، جب ایک ہفتہ تک اسی طرح عذاب کا سلسلہ رہا تو وہ دوبارہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں آ کر کہنے لگے کہ اگر اب یہ عذاب ختم ہو جائے تو ضرور ہم ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ عذاب بھی ٹل گیا، لیکن فرعونیوں نے پھر اپنا عہد توڑ دیا اور

(۴) مینڈک کا عذاب

اس عذاب کی نوعیت یہ تھی کہ گئے اور ان کی مجلس اور دیگر بیٹھنے بات کرنے کے لیے منہ کھولتا تو کھانے والی چیزوں میں بھی مینڈک حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ جائے اور انہوں قسمیں کھائیں کہ ایذا نہیں پہنچائیں گے چنانچہ حضرت کو راحت و سکون ملتے ہی انہوں کرنا شروع کر دیا۔

(۵) خون کا عذاب

اچانک ان لوگوں کے تمام ان کے منہ میں داخل ہوتے موسیٰ (علیہ السلام) کی نظر بندی اللہ عزوجل کی قدرت و تو پانی ہی رہتا، لیکن جب فرعون لوگ بے قرار ہو کر مومنین کے ساتھ منہ لگا کر پانی پیتے ہیں منہ میں جاتا تو خالص پانی اور کی شدت سے بے تاب ہو کر تھے، مگر وہ رطوبت بھی ان

صفحہ ۴۵

فرعونیوں نے پھر اپنا عہد توڑ دیا اور ایمان نہ لائے۔

(تفسیر صاوی ج ۲)

(۴) مینڈک کا عذاب

اس عذاب کی نوعیت یہ تھی کہ اچانک ان کے گھروں میں مینڈک ہی مینڈک ہو گئے اور ان کی مجلس اور دیگر بیٹھنے کی جگہوں پر مینڈکوں کے ڈیرے جما لیے۔ کوئی آدمی بات کرنے کے لیے منہ کھولتا تو اس کے منہ میں گھس جاتے، حتیٰ کہ ہانڈیوں اور دیگر کھانے والی چیزوں میں بھی مینڈک گھس گئے جس کی وجہ سے فرعونی رو پڑے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں دعا کروانے کے لیے آئے کہ یہ عذاب رفع ہو جائے اور انہوں قسمیں کھائیں کہ اب ہم ایمان لے آئیں گے اور مؤمنین میں کسی کو ایذاء نہیں پہنچائیں گے، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے عذاب ختم ہو گیا اور ان کو راحت و سکون ملتے ہی انہوں نے اپنا کیا ہوا عہد توڑ دیا اور دوبارہ ستم و ظلم کا بازار گرم کرنا شروع کر دیا۔

(۵) خون کا عذاب

اچانک ان لوگوں کے تمام کنوئیں، چشمے اور نہریں وغیرہ خون سے بھر گئیں، اور پانی ان کے منہ میں داخل ہوتے ہی خون بن جاتا تو اس عذاب پر فرعون کہنے لگا کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نظر بندی ہے اور کھلا جادو ہے کہ یہ پانی خون بن گیا ہے۔

اللہ عزوجل کی قدرت دیکھئے کہ انہی کنوؤں اور نہروں سے جب مؤمنین پانی پیتے تو پانی ہی رہتا، لیکن جب فرعونی پانی پینے لگتے تو وہ خون بن جاتا، یہاں تک کہ فرعونی لوگ بے قرار ہو کر مؤمنین کے پاس آئے اور کہا کہ ہم دونوں ایک ہی برتن سے ایک ساتھ منہ لگا کر پانی پیتے ہیں، مگر اللہ عزوجل کی قدرت کہ وہی پانی جب کسی مؤمن کے منہ میں جاتا تو خالص پانی اور جب کسی فرعونی کے منہ میں جاتا تو خالص خون ہوتا، پیاس کی شدت سے بے تاب ہو کر وہ درختوں کی جڑوں کو چباتے اور ٹہنیوں وغیرہ کو چوستے تھے، مگر وہ رطوبت بھی ان کے منہ میں جا کر خون بن جاتی، تنگ آ کر انہوں نے موسیٰ

صفحہ ۴۶

علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یہ عذاب بھی ساتویں دن ختم ہو گیا‘ غرض یہ کہ اس گستاخ و بے ادب قوم پر مسلسل پانچ عذاب آئے‘ لیکن پھر بھی وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے اور مسلسل ظلم و ستم کرتے رہے‘ آخر کار اللہ عزوجل کے قہر و غضب کا عذاب آیا‘ فرعون اور اس کی پیروی کرنے والے سب دریائے نیل میں غرق ہو کر ہلاک ہو گئے اور مؤمنین کو اللہ عزوجل نے نجات دی۔

(تفسیر صاوی ج ۲ ص ۳)

ان عذابوں کی نوعیت کو اللہ رب العزت نے قرآن میں یوں بیان فرمایا: ترجمہ کنز الایمان: ”تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی اور جب ان پر عذاب پڑتا‘ کہتے: اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو اُس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے‘ بے شک اگر تم ہم پر سے عذاب اُٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے‘ اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے‘ پھر جب ہم ان سے عذاب اُٹھا لیتے‘ ایک مدت کے لیے جس تک انہیں پہنچنا ہے‘ جبھی وہ پھر جاتے تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا‘ اس لیے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے۔“

(پارہ ۹‘ الاعراف: ۱۳۳ تا ۱۳۶)

صفحہ ۴۷

قدار بن سالف کی گستاخیاں

حضرت صالح علیہ السلام کو اللہ عزوجل نے قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجا اور آپ علیہ السلام نے ان کو اللہ عزوجل کی وحدانیت اور اپنے رسول ہونے کی تبلیغ کی‘ تو اس پر انہوں نے آپ علیہ السلام سے معجزے طلب کئے‘ مثلاً کہا کہ اگر آپ اللہ عزوجل کے سچے رسول ہیں تو اس پہاڑ کی چٹان سے ایک ایسی اونٹنی پیدا کریں جو کہ خوب موٹی تازی اور گابھن بھی ہو‘ اور ہر قسم کے عیوب ونقائص سے پاک ہو‘ تو آپ علیہ السلام چونکہ اللہ عزوجل کے سچے نبی تھے‘ اس لیے آپ نے اس چٹان کی طرف اشارہ کیا اور فوراً اللہ عزوجل کے حکم سے ایک خوب صورت اور موٹی تازی اونٹنی پیدا ہو گئی‘ اس نے ایک بچہ بھی جنا اور وہ چرتی پھرتی اور اپنی خوراک کھاتی‘ حضرت صالح علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جس کو قرآن کریم نے ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا ہے:

يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ط قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ط هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَلَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ۝ (پارہ۸، الاعراف:۷۳)

ترجمہ کنزالایمان: ”اے میری قوم! اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں‘ بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی‘ یہ اللہ کا ناقہ ہے‘ تمہارے لیے نشانی‘ تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا“۔

صفحہ ۴۸

اس قوم نے چند دن تو اس اونٹنی کو کچھ نہ کہا اور اسے آزاد پھرنے دیا، چونکہ وہ اونٹنی ان کے تالاب سے پانی وغیرہ پی جاتی تھی اور ان کے لیے پانی باقی نہیں رہتا تھا، چنانچہ انہوں نے اس اونٹنی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔

اور اس بُرے فعل کے لیے ایک خبیث و گستاخ آدمی جس کا نام قدار بن سالف تھا، مقرر کیا اور وہ اپنی قوم کے کہنے پر اس کو قتل کرنے پر آمادہ ہو گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اس لعین کو بہت روکا مگر وہ اپنے قبیح ارادہ سے باز نہ آیا اور پہلے اس نے اونٹنی کے چاروں پاؤں کاٹ ڈالے، پھر انتہائی سرکشی کے ساتھ اس کو ذبح کر دیا اور اس فعل پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ حضرت صالح علیہ السلام کے ساتھ بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا اور آپ علیہ السلام کی گستاخیوں پر اتر آیا جس کو قرآن کریم نے ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے:

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ○

(پارہ ۸ الاعراف: ۷۷)

ترجمہ کنزالایمان: ”پس ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے: اے صالح! ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو۔“

محترم قارئین!

اللہ عزوجل الرحمن الرحیم ہے، لیکن قہار و جبار بھی ہے۔ اس گستاخانہ الفاظ پر اللہ عزوجل نے اس پوری قوم کو ایسا عذاب چکھایا کہ آنے والوں کے لیے عبرت کا سامان بن گئے اور ان کے نام و نشان تک مٹا دیئے، ان کا انجام بد پڑھ کر اللہ عزوجل کے حضور ہاتھوں کو اٹھاتے ہوئے دعا کریں کہ ہماری نسلوں میں بھی کسی سے کسی نبی و رسول کی گستاخی سرزد نہ ہو اور ہمیشہ ہمیشہ ہمیں ان کی محبت پر زندہ رکھ، کیونکہ گستاخ رُسل دنیا میں نہیں تو آخرت میں ضرور درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے۔

صفحہ ۴۹

قوم ثمود کا انجام

قوم ثمود پر اللہ عزوجل کا عذاب اس طرح آیا کہ پہلے چنگھاڑ یعنی خوفناک آواز آئی، جس سے قوم ثمود سخت خوف میں مبتلا ہوئی، اس کے بعد سخت قسم کا زلزلہ آیا، جس نے ان کے گھروں کو اُلٹ دیا، درختوں وغیرہ کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا اور پوری کی پوری آبادی چکنا چور ہو کر ٹوٹ پھوٹ اور تہس نہس ہو گئی اور قوم ثمود کا ہر ہر فرد گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا، اور اس پورے واقعے کو اللہ عزوجل کے پاک کلام نے ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا کہ

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَO

(پارہ ۸، الاعراف: ۷۸)

ترجمہ کنزالایمان : ”تو انہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے“۔

صفحہ ۵۰

قارون کی گستاخیاں و انجام

قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا یصھر کا بیٹا تھا‘ تورات کا بہت بڑا عالم تھا اور بہت ہی ملنسار اور با اخلاق انسان تھا اور لوگ بھی اس کا بہت ادب و احترام کیا کرتے تھے۔

جیسے ہی مال و دولت اس کے ہاتھ لگا‘ یک دم اس کے حالات و کردار میں تبدیلی آ گئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بہت بڑا گستاخ اور دشمن بن بیٹھا‘ اس کی بے ادبیاں انتہاء کو پہنچ چکی تھیں اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس سے زکوٰۃ کے بارے میں کہا کہ اپنے اموال میں سے زکوٰۃ ادا کر‘ تو اس نے وعدہ کیا کہ میں اپنے مال کی زکوٰۃ نکالوں گا‘ مگر جب سارے مال کا حساب لگایا تو بہت بڑی رقم بنی‘ تو زکوٰۃ کا منکر ہو گیا اور لوگوں کو بھی بہکانے لگا کہ یہ تمہارا سارا مال لے لینا چاہتا ہے۔ اور لوگوں کو آپ علیہ السلام کے خلاف ورغلانے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ یہ گھٹیا چال چلی کہ ایک عورت کو بہت زیادہ مال و دولت دے کر آپ علیہ السلام پر بدکاری کا الزام لگا دیا۔ اس وقت جب حضرت موسیٰ علیہ السلام وعظ و نصیحت کر رہے تھے تو اس نے کہا کہ آپ نے فلاں عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس عورت کو بلانے کا حکم دیا‘ جب عورت سامنے آئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے عورت! اس اللہ عزوجل کی قسم جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا کو پھاڑ کر رستہ بنا دیا اور عافیت و سلامتی کے ساتھ ان کو دریا پار کروا دیا‘ سچ سچ واقعہ بیان کر۔ اس پر عورت کانپنے لگی اور اس نے سچ بتا دیا کہ اس نے مجھے مال و دولت کا لالچ دیا ہے اور آپ علیہ السلام کو رسوا کرنا چاہتا ہے۔ اس پر آپ علیہ السلام

صفحہ ۵۱

آبدیدہ ہو کر سجدہ شکر میں گر گئے اور بحالت سجدہ یہ دعا کی کہ قارون کو دردناک عذاب میں مبتلا کر دے۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو قارون سے الگ ہونے کا حکم دیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا کہ اے زمین! تو اس کو پکڑ لے اور قارون یک دم گھٹنوں کے بل زمین میں دھنس گیا‘ یہ دیکھ کر وہ رشتہ داری کا واسطہ دینے لگا اور بلبلانے لگا مگر آپ نے التفات نہ فرمایا حتی کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔

صفحہ ۵۲

قوم سبا کی گستاخیاں

”سبا“ عرب کا ایک قبیلہ تھا، اس علاقے کی آب و ہوا نہایت صاف ستھری اور اس قدر پاکیزہ تھی کہ وہاں نہ مچھر نہ مکھی، نہ کسی قسم کا سانپ، بچھو تھا، موسم ہمیشہ معتدل رہتا، یعنی نہ اتنی گرمی ہوتی نہ سردی، اور باغات کی بھی کثرت تھی اور نئے نئے پھل اُگتے۔ الغرض! یہ قوم نہایت خوش حال اور امن وسکون کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ وہ ان بے شمار نعمتوں پر اپنے ربِّ عزوجل کا شکر ادا کرتے اور اچھے اعمال کرتے لیکن اس کے برعکس اس خوشحالی اور امن و سلامتی نے انہیں سرکش بنا دیا۔ اللہ عزوجل نے ان کی ہدایت و رہبری کے لیے یکے بعد دیگرے تقریباً تیرہ نبیوں کو بھیجا جو اس قوم کو اللہ عزوجل کی نعمتیں یاد دلاتا اور انہیں عذابِ الٰہی سے ڈراتا، مگر اس سرکش قوم نے ان نبیوں کو ماننے کی بجائے جھٹلانے، گستاخیوں پر اتر آئے۔

اس قوم کا سردار جس کا نام ”حماد“ تھا اتنا مغرور و سرکش تھا کہ جب اس کا لڑکا مر گیا تو اس نے آسمان کی طرف تھوکا اور اپنے کفر کا اعلان کر دیا اور لوگوں کو بھی علانیہ کفر کی طرف بلاتا اور جو کفر سے انکار کرتا اسے قتل کر دیتا، اور اللہ عزوجل کے نبیوں سے نہایت بے ادبانہ اور گستاخانہ انداز سے کہتا تھا کہ آپ لوگ اللہ عزوجل سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نعمتیں ہم سے چھین لے، جب وہ سرکش اپنی سرکشی میں بڑھ گیا اور اللہ عزوجل اور رسولوں کو جھٹلانے لگا، تو اللہ عزوجل نے اس قوم کو عذاب میں مبتلا کیا اور سخت عذاب بھیجا کہ سب چیزیں فناء ہو گئیں۔

(عجائب القرآن ص۲۰۱)

صفحہ ۵۳

قوم سبا کا انجام

اس قوم کی سرکشی اور نبیوں کے ساتھ گستاخی پر اللہ عزوجل نے انہیں سیلاب کے عذاب میں مبتلا کر دیا، جب وہ اپنے گھروں میں آرام و سکون کے ساتھ غفلت کی نیند سو رہے تھے تو اس قدر تیز سیلاب آیا کہ ان کی بستی کو ویران اور کھنڈر زمین میں تبدیل کر دیا اور اس بستی کو غارت کر ڈالا، اور ہر طرف بربادی اور ویرانی ہوگئی، ان کا سکون و اطمینان بدامنی اور بے چینی میں بدل گیا، اور ساری قوم اللہ عزوجل کے عذاب میں گرفتار ہو کر رہ گئی، اور اللہ عزوجل نے اس سرکش قوم کو ذلت و رسوائی والے عذاب میں مبتلا کر دیا اور اس واقعہ کو قرآن کریم ان الفاظ کے ساتھ بیان فرما رہا ہے:

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْكَنِهِمْ اٰیَةٌ ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّ شِمَالٍ ؕ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوْا لَهُ ؕ بَلْدَةٌ طَیِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ ۱۵ فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَیْهِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ ۱۶ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا ؕ وَ هَلْ نُجٰزِیْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ ۱۷ (پارہ ۲۲، سبا: ۱۵۔۱۷)

ترجمہ کنزالایمان: ”بے شک سبا کے لیے ان کی آبادی میں نشانی تھی، دو باغ داہنے اور بائیں، اپنے رب کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو، پاکیزہ شہر اور بخشنے والا رب تو انہوں نے منہ پھیرا تو ہم نے ان پر زور کا ریلا (سیلاب) بھیجا اور ان کے باغوں کے عوض دو باغ انہیں بدل دیئے جن میں بکبکا (بدمزہ) میوہ اور جھاؤ اور کچھ تھوڑی سی بیریاں، ہم نے انہیں یہ بدلہ دیا ان کی ناشکری کی سزا اور ہم کسے سزا دیتے ہیں اسی کو جو ناشکرا ہے“۔

محترم قارئین!

سرسبز کھیت، اور رنگ برنگے پھولوں اور پھلوں والی بستی اچانک کھنڈرات اور

صفحہ ۵۴

ویرانے میں کیوں بدل گئی؟ ان کی خوشحالی بدحالی اور امن وسکون بدامنی اور بداطمینانی میں کیوں بدل گیا؟ میرے محترم بھائیو! اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل اور اس کے رسولوں کی شان میں گستاخیاں کیں اور انہیں جھٹلایا اور یقیناً یہ ان کی گستاخیوں کی سزا تھی جو کہ ہر گستاخ کو پہنچ کے رہتی ہے اور ہر گستاخ رسول دنیا یا آخرت میں اللہ عزوجل کے عذاب میں ضرور مبتلا ہوتا ہے اس بستی میں یقیناً نیک لوگ بھی موجود تھے لیکن جب عذاب الٰہی عزوجل آیا تو ساری کی ساری بستی اس عذاب سے دوچار ہوئی تو معلوم ہوا کہ بدکاروں اور گستاخوں کے اندر رہنا اور ان کی صحبت میں زندگی گزارنا نقصان سے خالی نہیں کہ وہ تو عذاب الٰہی عزوجل میں مبتلا ہوتے ہی ہیں ساتھ نیکوں کی بھی گرفت ہو جاتی ہے اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم گستاخوں کی صحبت ان کی مجالس وغیرہ کو ترک کریں اور دوسروں کو بھی گستاخوں سے دور رہنے کی دعوت دیں۔ اللہ عزوجل ہمیں اپنے پیاروں سے پیار اور دشمنوں سے نفرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی اپنے پیاروں کی محبت میں جینا مرنا نصیب فرمائے!

صفحہ ۵۵

ابلیس کا تکبر اور اس کا انجام

ابلیس کے بارے میں اصل یہ ہے کہ وہ جنوں میں سے اور آگ سے پیدا کیا گیا، لیکن عبادات و ریاضت کی وجہ سے فرشتوں میں شمار کیا جانے لگا اور دربار خداوندی عزوجل میں بہت مقرب اور بلند درجات سے سرفراز تھا۔ حضرت کعب احبار ؓ کا بیان ہے کہ ابلیس چالیس ہزار سال تک جنت کا خزانچی رہا، بیس ہزار سال تک ملائکہ کو وعظ سناتا رہا، اسی (۸۰) ہزار سال تک ملائکہ کا ساتھی رہا اور تیس ہزار سال تک مقربین کا سردار رہا۔

(تفسیر صاوی ج ۱ ص ۵۱)

غرض کہ وہ اتنا بڑا عابد اور زاہد تھا کہ فرشتوں کو وعظ کیا کرتا تھا، جنت کا خزانچی رہا اور فرشتوں میں شمار کیا جانے لگا، لیکن جب اس نے اللہ عزوجل کے نبی حضرت آدم علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے انہیں بنظر حقارت دیکھا اور اپنے آپ کو ان سے اعلیٰ و افضل سمجھتے ہوئے کہا کہ ”انا خیر منہ“ کہ میں اس سے بہتر ہوں، اور سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تو اللہ عزوجل نے اسے اپنی پاک بارگاہ سے دھتکار دیا اور بدبختوں میں لکھ دیا اور تا قیامت ذلت و رسوائی اس کے مقدر کر دی۔ اس کی پیروی کرنے والوں کو بھی عذاب نار کی وعید سنائی۔ اس واقعہ کو اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمایا:

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ ۖ قَالَ اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ ۚ خَلَقْتَنِيْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنٍ o قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا يَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِيْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِيْنَ o قَالَ اَنْظِرْنِيْ اِلٰى يَوْمِ

صفحہ ۵۶

يُبْعَثُوْنَ o قَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ o قَالَ فَبِمَا اَغْوَيْتَنِيْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيْمَ o ثُمَّ لَاٰتِيَنَّهُمْ مِّنْۢ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ اَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَآئِلِهِمْ ط وَلَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِيْنَ o قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا ط لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِيْنَ o

(پارہ۸،الاعراف:۱۴۔۱۸)

ترجمہ کنزالایمان : ”فرمایا: کس چیز نے تجھے روکا کہ تو نے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا‘ بولا : میں اس سے بہتر ہوں‘ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا‘ فرمایا : تو یہاں سے اتر جا! تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے‘ نکل تو ہے ذلت والوں میں! بولا : مجھے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں! فرمایا : تجھے مہلت ہے! بولا : تو قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا‘ میں ضرور تیرے سیدھے راستے پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا‘ پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا‘ ان کے آگے پیچھے اور داہنے بائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا‘ فرمایا : یہاں سے نکل جا! رُد کیا گیا راندہ ہوا‘ ضرور جو ان میں سے تیرے کہے پر چلا‘ میں تم سب سے جہنم بھردوں گا“۔

درسِ عبرت

محترم پیارے اسلامی بھائیو! اس واقعۂ قرآنی سے پتہ چلا کہ کبھی بھی بندے کو اپنی عبادات وریاضات کے بھروسے پر کسی کو اپنے سے حقیر نہیں جاننا چاہئے کہ ہوسکتا ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے یہاں ہم سے زیادہ محبوب ومقرب ہو‘ اور کبھی بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نیک بندوں کی شان میں گستاخی وبے ادبی نہیں کرنی چاہیے کہ عبادات اور دیگر اعمال صالحہ تب کام آئیں گے جب ہم اس دنیا فانی سے ایمان کی حالت میں رخصت ہوں گے۔اور اللہ

عزوجل کی رضا کو حاصل کر پڑھا کہ اتنا عابد وزاہد ہو ہمیشہ کے لیے جہنمی قرار پا اللہ عزوجل کے نیک بندوں کی سزا کیا ہے کہ دنیا وآخرت ادبوں کے سایہ سے بھی محفو

صفحہ ۵۷

عزوجل کی رضا کو حاصل کرلیں گے بصورت دیگر ابھی آپ نے ابلیس کے بارے میں پڑھا کہ اتنا عابد و زاہد ہونے کے باوجود اللہ عزوجل کی بارگاہ سے نکال دیا گیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنمی قرار پایا اور اس کی ساری عبادت اکارت گئی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ عزوجل کے نیک بندوں خصوصاً انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی سزا کیا ہے کہ دنیا و آخرت میں ذلت ہی ذلت ہے اللہ عزوجل ہمیں گستاخوں اور بے ادبوں کے سایہ سے بھی محفوظ فرمائے اور اپنے پیاروں کی محبت نصیب فرمائے!

صفحہ ۵۸

پانچ گستاخان رسول کا انجام

کفار قریش میں سے پانچ گستاخ رسول جن میں (۱) عاص بن وائل سہمی (۲) اسود بن مطلب (۳) اسود بن عبد یغوث (۴) حارث بن قیس اور (۵) ولید بن مغیرہ تھے۔ یہ لوگ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ تکلیف اور ایذاء دیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مذاق اور تمسخر کیا کرتے تھے ایک مرتبہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں تشریف لائے تو بدبخت و گستاخ لوگ بھی آپ کے پیچھے پیچھے آئے اور حسب عادت مذاق اور تمسخر کرنے لگے اور آپ کی شان میں گستاخیاں بکنے لگے۔ الغرض! جب ان کی گستاخیاں حد سے تجاوز کر گئیں تو اللہ عزوجل نے ان کو سخت عذاب میں مبتلا کر دیا اور تھوڑے عرصہ بعد ہی انہیں طرح طرح کی آفتوں اور مصیبتوں میں گرفتار کر دیا اور آخر کار وہ انہیں آفتوں میں گر کر ہلاک ہو گئے۔

ولید بن مغیرہ کا انجام

ایک دن یہ ایک تیر بیچنے والے کی دکان سے گزر رہا تھا کہ اچانک ایک تیر کا پیکان اس کی تہبند میں چبھا مگر تکبر کی وجہ سے اس نے اپنا سر نیچا نہ کیا اور کھڑے کھڑے اس پیکان کو نکالنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اس کی پنڈلی زخمی ہوگئی اور زخم کی حالت میں ہی وہ تکلیف اُٹھا اُٹھا کر مر گیا۔

عاص بن وائل سہمی کا انجام

اس خبیث کو دنیا میں اس سزا میں مبتلا کیا گیا کہ اس کے پاؤں میں ایک کانٹا چبھا جس کی وجہ سے وہ زہر آلود ہو گیا اور زہر پاؤں میں پھیل گیا حتیٰ کہ اس کا پاؤں پھول کر

صفحہ ۵۹

اس کی گردن کے برابر موٹا ہو گیا اور وہ اسی تکلیف میں واصل جہنم ہو گیا۔

اسود بن مطلب کا انجام

یہ گستاخ رسول بھی دنیاوی عذاب میں ایسا مبتلا ہوا کہ اسی عذاب و مصیبت میں ہی واصل جہنم ہوا کہ اس کی آنکھ میں ایسا درد اُٹھا کہ وہ اس کی وجہ سے اندھا ہو گیا اور وہ اسی درد کی حالت میں بے قرار ہو کر اپنا سر دیوار سے ٹکراتا تھا اور درد و الم کی حالت میں ہی مر گیا۔

اسود بن یغوث کا انجام

اس بد بخت کو یہ سزا ملی کہ اس کا پیٹ بہت زیادہ پھول گیا اور وہ اسی مرض میں زمین پر ایڑھیاں رگڑتا اور اسی مصیبت میں ہی مر گیا۔

حارث بن قیس کا انجام

اس کا انجام یہ ہوا کہ اس کے ناف سے پیپ اور خون بہنے لگا اور مسلسل بہتا ہی رہتا اور اس سزا کی گرفت میں چیختا چلاتا مر گیا۔

(تفسیر صاوی ج۳، بحوالہ غرائب القرآن)

ان گستاخوں کے بارے میں اللہ رب العزت عزوجل نے قرآن کریم کی آیت نازل فرمائی:

إِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ o الَّذِيْنَ يَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ج فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ o

(پارہ ۱۴ الحجر: ۹۵۔۹۶)

ترجمہ کنزالایمان: ”بے شک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں جو اللہ کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے“۔

ایک گستاخ کا انجام

ایک گستاخ آدمی جو کہ کفار عرب سے تعلق رکھتا تھا اور ان کے سرداروں میں سے تھا‘ ایک دن حضور علیہ السلام نے اپنے بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تبلیغ اسلام کے لیے بھیجا‘ چنانچہ صحابہ کرام نے اس کو اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کا پیغام سنا کر

صفحہ ٦٠

اسلام کی طرف دعوت دی تو اس نے گستاخانہ انداز میں کہا کہ اللہ کون؟ کیسا ہے اور کہاں ہے؟ کیا وہ سونے یا چاندی یا تانبے کا ہے؟ اس کا متکبرانہ جواب سن کر صحابہ کرام کے رونگٹے کھڑے ہوئے اور ان نفوسِ قدسیہ نے سارا ماجرا حضور ﷺ کو سنایا اور عرض کی: یا رسول اللہ! اس سے بڑھ کر ہم نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول کا گستاخ کبھی نہیں دیکھا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ دوبارہ اس کے پاس جاؤ۔

چنانچہ وہ دوبارہ دعوتِ اسلام کی تبلیغ کے لیے اس گستاخ ومتکبر کے پاس گئے تو اس لعنتی نے پہلے سے زیادہ گستاخانہ الفاظ استعمال کیئے صحابہ کرام اس کی گستاخیوں سے غم زدہ ہوکر حضور علیہ السلام کے پاس لوٹے تو نبی کریم ﷺ نے تیسری مرتبہ پھر دعوتِ اسلام کے لیے بھیجا اور وہ حضرات جا کر دعوتِ توحید اور اسلام دے رہے تھے کہ وہ ان سے بد زبانی اور جھگڑے پر اتر آیا صحابہ کرام صبر سے کام لیتے رہے۔

اسی دوران انہوں نے دیکھا کہ اچانک ایک کالی بدلی آگئی ہے اور اس میں گرج اور چمک ہے پھر نہایت تیزی کے ساتھ اس گستاخ پر بجلی گری جس کی وجہ سے اس کی کھوپڑی اڑ گئی اور وہ جل کر راکھ ہو گیا۔ یہ سارا منظر صحابہ کرام نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور واپس حضور کے پاس حاضر ہوئے تو نبی غیب داں سرور کون ومکاں ﷺ نے دیکھتے ہی کہا کہ تم لوگ جس کے پاس دعوتِ اسلام کے لیے گئے تھے وہ جل کر راکھ ہو گیا۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے انتہائی متعجب و حیران ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ کو کیسے معلوم ہوا؟ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی ابھی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے: (تفسیر صاوی ج ۳ الرعد بحوالہ غرائب القرآن)

وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَهُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِ O (پارہ ۱۳، الرعد: ۱۳)

ترجمہ کنزالایمان : ”اور کڑک بھیجتا ہے تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ سخت ہے۔“

صفحہ ۶۱

اصحاب ایکہ کی گستاخیاں

اصحاب ایکہ یہ ایک شہر کا نام ہے اور یہ شہر ہرے بھرے سرسبز و شاداب جنگلات اور باغات کے درمیان واقع تھا اللہ عزوجل نے ان کی ہدایت ورہبری کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا، آپ علیہ السلام نے ان کو اللہ عزوجل کی توحید کی طرف دعوت دی اللہ عزوجل سے ڈرنے کے متعلق وعظ ونصیحت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ عزوجل سے ڈرو اور میں جو احکام اس کی طرف سے لے کر آیا ہوں ان میں میری پیروی کرو۔ اور میں تم سے کوئی مال ودولت نہیں مانگتا، کیونکہ اس تبلیغ کا ثواب میرا رب عزوجل بہتر عطا فرمانے والا ہے اور اپنے کاروبار وتجارت میں جو ناپ تول کرتے ہو اسے پورا پورا تولا کرو اور زمین میں فتنہ وفساد برپا نہ کرو۔ تو وہ بد بخت لوگ بجائے اس کے کہ آپ علیہ السلام کی پیروی وفرمانبرداری کرتے آپ کی گستاخیوں پر اتر آئے، اور کہنے لگے کہ تم تو جادوگر ہو اور اپنے جادو کے ذریعے سارے کام انجام دیتے ہو تم ہمیں تبلیغ کرتے ہو حالانکہ تم بھی ہماری طرح کے انسان ہی ہو، جس طرح ہم کھاتے پیتے ہیں، بازاروں میں چلتے ہیں، شادی بیاہ کرتے ہیں، تم بھی یہی معاملات کرتے ہو، اگر تم اللہ عزوجل کے رسول ہوتے تو ان معاملات کی پرواہ نہ کرتے اور گستاخانہ انداز میں کہنے لگے کہ اگر تم اللہ عزوجل کے سچے رسول ہو تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا یا پھر کوئی اور عذاب نازل کرو۔ اس تمام واقعہ کو اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا:

ترجمہ کنزالایمان: ”کیا ڈرتے نہیں بے شک میں تمہارے لیے اللہ کا امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو اور میں اس پر تم سے

صفحہ ۶۲

اُجرت نہیں مانگتا، میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے۔ ناپ پورا کرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہو اور سیدھی ترازو سے تولو اور لوگوں کی چیزیں کم کر کے نہ دو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو اور اس سے ڈرو جس نے تم کو پیدا کیا اور اگلی مخلوق کو بولے: تم پر جادو ہوا ہے تم تو نہیں مگر ہم جیسے آدمی اور بے شک ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو اگر تم سچے ہو، فرمایا: میرا رب خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک ہیں، تو انہوں نے اسے جھٹلایا تو انہیں شامیانے والے دن کے عذاب نے آلیا، بے شک وہ بڑے دن کا عذاب تھا“۔

(پارہ ۱۹ الشعراء: ۱۷۷۔۱۸۹)

اصحاب ایکہ کا انجام

حدیث مبارکہ میں ان کے عذاب کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اللہ عزوجل نے ان پر جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا تھا، جس کی وجہ سے پوری آبادی میں گرمی کی شدت اور تپش اور لُو کی حرارت پھیل گئی اور اس میں رہنے والوں کا دم گھٹنے لگا تو وہ اپنے اپنے گھروں میں گھسنے لگے اور اپنے اوپر پانی چھڑکنے لگے، لیکن اس پانی اور سایہ نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا اور انہیں ذرا برابر سکون و چین نہیں آیا، گرمی کی تپش سے ان کے بدن جل رہے تھے تو اللہ عزوجل نے ایک بدلی بھیجی جو کہ ان پر چھا گئی اور اس بدلی میں ٹھنڈی اور فرحت بخش ہوا تھی، یہ دیکھ کر وہ اپنے اپنے گھروں سے نکلے اور اس بدلی کے سایہ میں آگئے، جب تمام لوگ بدلی کے نیچے آگئے تو شدید قسم کا زلزلہ آیا اور آسمان سے آگ برسنے لگی، جس سے تمام تڑپ تڑپ کر جل گئے، جس عذاب کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا وہی نازل ہوا اور سب کے سب جل کر راکھ بن گئے۔

(تفسیر صاوی ج ۳ ص ۱۴۷۴)

صفحہ ۶۳

عتبہ بن ربیعہ کا انجام

یہ گستاخ رسول کفار کے سپہ سالار میں سے تھا۔ اپنے سینے پر شتر مرغ کا پر لگائے ہوئے اپنے بیٹے اور بھائی کو ساتھ لے کر غصہ میں بھرا ہوا اپنی صف سے نکل کر مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دینے لگا۔ مسلمانوں کی صفوں میں سے حضرت عوف، حضرت معاذ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم مقابلے کے لیے نکلے۔ چونکہ یہ لوگ انصار میں سے تھے اور جب عتبہ بن ربیعہ نے ان سے نام ونسب پوچھا تو کہا کہ ہم کو تم سے کوئی غرض نہیں، پھر عتبہ نے گستاخانہ الفاظ سے کہا: اے محمد ﷺ! یہ لوگ جو تم نے مقابلے کے لیے بھیجے ہیں ہمارے جوڑ کے نہیں، لہٰذا قریش کے اشراف میں سے لڑنے کے لیے بھیجو، تو حضور علیہ السلام نے حضرت علی، حضرت حمزہ اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہم کو مقابلے کے لیے بھیجا، جب یہ تینوں بہادران اسلام میدان میں نکلے اور ان کے چہرے خود پہنے کی وجہ سے چھپے ہوئے تھے۔ اس لیے عتبہ نے ان کو نہیں پہچانا اور پوچھا: تم لوگ کون ہو؟ جب انہوں نے اپنا اپنا نام ونسب بتایا تو عتبہ کہنے لگا: اب ہمارے جوڑ کے ہیں۔ جنگ شروع ہوئی تو حضرت حمزہ و حضرت علی و حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہم نے ایسی قوت ایمانی و بہادری کا مظاہرہ کیا کہ کفار کے دل کانپ اٹھے، اور جنگ کا انجام یہ ہوا کہ حضرت حمزہ نے عتبہ سے مقابلہ کیا اور دونوں انتہائی بہادری کے ساتھ لڑتے رہے، مگر آخر کار حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسے تلوار کے ساتھ مار کر زمین پر ڈھیر کر دیا۔

ولید نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کیا، دونوں نے اپنی اپنی بہادری کا مظاہرہ کیا لیکن اسد اللہ الغالب کی تلوار نے ولید کو مار گرایا۔

صفحہ ۶۴

مگر دوسری طرف عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضرت عبیدہ کو زخمی کر دیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر زمین پر بیٹھ گئے یہ منظر دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شیبہ کو قتل کر دیا اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ کو کندھے پر بٹھا کر بارگاہِ رسالت میں لے آئے۔ ان کی پنڈلی سے گودا بہہ رہا تھا، تو عرض کیا: یارسول اللہ! کیا میں شہادت سے محروم رہا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں ہرگز نہیں! بلکہ تم شہادت سے سرفراز ہوئے۔

(ابوداؤد ج۲ ص۳۶۱ بحوالہ غرائب القرآن)

امیہ بن خلف کا انجام

یہ شخص بہت بڑا بے ادب و گستاخ تھا، جنگِ بدر کے دوران جب کفر و اسلام کے لشکروں کا ٹکراؤ ہوا تو یہ اپنے پرانے تعلقات کی بناء پر آپ رضی اللہ عنہ سے لپٹ گیا کہ میری جان بچائیے! تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو رحم آ گیا مگر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے امیہ کو دیکھ لیا چونکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسکے غلام رہے تھے اور اس دوران اس نے بہت ظلم و ستم ڈھائے تھے۔ اس لیے جوشِ انتقام میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے انصار کو پکارا، وہ یک دم اس کی طرف بڑھے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا کہ تم زمین پر لیٹ جاؤ اور حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اس کو بچانے کے لیے اس کے اوپر لیٹ کر اسے چھپانے لگے۔ لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور انصار نے اس کی ٹانگوں کے اندر ہاتھ ڈال کر اور بغل سے تلوار گھونپ گھونپ کر اس کو قتل کر دیا۔

عاص کا انجام

یہ بھی ان گستاخوں میں سے تھا جن پر طرح طرح کے عذاب آئے اور وہ سب کے سب تو ہلاک ہو گئے لیکن اس کی ہلاکت کا واقعہ یوں ہے کہ ایک مرتبہ یہ کسی سفر کو گیا، تھکن کی وجہ سے ایک درخت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ حضرت جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے اور اس کا سر پکڑ کر درخت سے ٹکرانا شروع کر دیا، وہ چیختا چلاتا کہ ارے کون میرے سر کو درخت کے ساتھ ٹکرا رہا ہے؟ اس کے ساتھی کہتے: ہمیں تو کوئی بھی نظر نہیں آ رہا ہے یہاں تک کہ وہ چونکہ یہ لعین اپنے آپ دوزخ (یعنی دوزخ پر نگران اس کے سر میں بہت بڑا خلا پانی اس میں بھرا جائے گا اور ذُقْ ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَ ”چکھ تو تو عزت و کرم

صفحہ ۶۵

نہیں آ رہا ہے یہاں تک کہ وہ جہنم واصل ہو گیا۔

چونکہ یہ لعین اپنے آپ کو کریم اور عزیز کہا کرتا تھا یعنی عزت اور کرم والا تو داروغہ دوزخ (یعنی دوزخ پر نگران فرشتے) کو حکم ہوگا کہ اس کے سر پر گرز مارو جس کی وجہ سے اس کے سر میں بہت بڑا خلا ہو جائے گا اور وہ خلا اس طرح وسیع ہوگا کہ جہنم کا کھولتا ہوا پانی اس میں بھرا جائے گا اور اس کو اس طرح کہا جائے گا: ذُقْ ۙ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ O

(پارہ ۲۵، الدخان: ۴۹)

”چکھ تو تو عزت و کرم والا ہے“۔

صفحہ ۶۶

ابولہب کی گستاخیاں

ابولہب یہ رسول اللہ ﷺ کا حقیقی چچا تھا اور حال یہ تھا کہ تمام لوگوں سے زیادہ حضور ﷺ سے عداوت رکھا کرتا تھا اور آپ کی بہت زیادہ گستاخیاں و بے ادبیاں کیا کرتا تھا۔

ربیعہ بن عباد دیلمی زمانہ جاہلیت کو چھوڑ کر اسلام لے آئے تو بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو اپنی آنکھوں سے ذوالمجاز کے بازار میں دیکھا کہ آپ علیہ السلام فرما رہے تھے: اے لوگو! ”لا الہ الا اللہ“ کہو تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ آپ کہتے جاتے اور لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو رہے تھے اور کوئی بھی آپ کو کچھ نہیں کہہ رہا تھا اور آپ خاموش نہیں ہو رہے تھے اور یہی کہے جا رہے تھے کہ ”لا الہ الا اللہ“ کہو تم کامیاب ہو جاؤ گے۔ اور اسی دوران ایک بھینگا آدمی جو کہ آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے یہ کہہ رہا تھا کہ اس شخص نے اپنا دین بدل لیا ہے اور جھوٹا ہے میں نے کہا: یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ محمد بن عبداللہ ہیں اور یہ نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں میں نے پوچھا: اور یہ کون شخص ہے جو ان کو جھوٹا کہہ رہا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ان کا چچا ابولہب ہے۔

(تفسیر تبیان القرآن ج ۱۲)

ابولہب کا انجام

چونکہ ابولہب نے حضور علیہ السلام کے بارے میں بددعائیہ کلمات کہے تھے: ”تبا لک“ آپ کا ہاتھ ٹوٹ جائے یا آپ ہلاک ہو جائیں تو اللہ رب العزت نے اس کے متعلق پوری کی پوری سورت لہب نازل فرمائی اور فرمایا:

صفحہ ٦٧

”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہو جائے“۔

ابورافع بیان کرتے ہیں کہ جنگِ بدر کے بعد سات دن تک یہ زندہ رہا‘ چونکہ اُم الفضل نے خیمہ کی چوب اس کے سر پر مار کر سر پھاڑ دیا تھا‘ اور وہ عدسہ کی بیماری میں مبتلا ہوا۔ اس بیماری میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے اور یہ ایک قسم کا پھوڑا ہوتا ہے‘ اسی بیماری میں وہ مر گیا‘ تو اس کے جسم سے بدبو آنے لگی‘ تین دن تک اسی طرح بدبو کی حالت میں اسکی لاش پڑی رہی‘ لوگ اس سے بھاگتے تھے حتیٰ کہ قریش کے ایک شخص نے اس کے بیٹوں کو کہا: تم کو حیاء نہیں آتی‘ تمہارے گھر تمہارے باپ کی لاش سے بدبو پھیل رہی ہے‘ اور تم ہو کہ اسکو دفن ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں اس کو ہاتھ لگانے سے ہمیں یہ بیماری نہ لگ جائے۔ اس شخص نے کہا: میں تمہاری مدد کرتا ہوں‘ اس کو دفن کرو۔ ابورافع کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! انہوں نے اسے غسل بھی نہیں دیا اور مکہ کی ایک بلند جگہ سے ایک دیوار کے ساتھ پھینک دیا اور اوپر پتھر وغیرہ ڈال دیئے۔

(البدایۃ والنہایۃ ج ۳ ص ۷۷)

صفحہ ۶۸

ابوجہل کی گستاخیاں وانجام

ابوجہل جو کہ بہت بڑا گستاخ رسول تھا اور آپ ﷺ کو بہت زیادہ اذیت و تکلیف دیا کرتا تھا اور اس نے حضور علیہ السلام کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے منع کیا تھا اور علانیہ کہا کرتا تھا کہ اگر میں نے محمد (ﷺ) کو نماز پڑھتے دیکھا تو اپنے پاؤں سے ان کی گردن کچل دوں گا اور ان کا چہرہ خاک میں ملا دوں گا۔

چنانچہ وہ اسی خبیث ارادہ سے آپ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر قریب آیا، مگر اچانک اُلٹے پاؤں بھاگنے لگا ہاتھوں کو آگے اس طرح بڑھاتا گویا کسی مصیبت کو اپنے سے دور کر رہا ہو چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔

دوستوں کے وجہ پوچھنے سے کہنے لگا کہ میرے اور محمد (ﷺ) کے درمیان ایک خندق حائل ہے جس میں آگ بھری ہوئی ہے اور کچھ دہشت ناک پرندے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے ہیں اس سے میں اس قدر خوف زدہ ہو گیا کہ آگے نہ بڑھ سکا اور ہانپتا کانپتا جان بچا کر بھاگا۔

نماز کے بعد حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اگر ابو جہل میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو جدا کر دیتے۔ اس کے بعد بھی وہ خبیث اپنی گستاخیوں سے باز نہ آیا اور مزید اپنی ہٹ دھرمی میں بڑھتا گیا۔ آخر کار جنگ بدر میں اس کا انجام یہ ہوا کہ:

حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں جنگ بدر میں صف میں کھڑا تھا اور میرے دائیں بائیں دو نو عمر لڑکے کھڑے تھے۔ ایک نے آہستہ سے مجھ سے

صفحہ ٦٩

پوچھا: چچا جان ! کیا آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں؟ میں نے پوچھا: کیوں بھتیجے ! تم کو ابو جہل سے کیا کام ہے؟ اس نے کہا کہ چچا جان ! میں نے قسم اُٹھائی ہے کہ جب ابو جہل کو دیکھوں گا قتل کر دوں گا، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا دشمن ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس نوجوان کا منہ تک رہا تھا کہ دوسرے نے بھی مجھ سے یہی کہا اتنے میں ابو جہل تلوار گھماتے ہوئے سامنے آ گیا۔ اور میں نے اشارہ سے انہیں بتایا کہ یہ ہے، بس پھر کیا تھا کہ وہ دونوں لڑکے اس لعین پر اس طرح جھپٹے جیسے باز اپنے شکار پر جھپٹتا ہے اور دونوں نے اسے اپنی تلواروں سے مار مار کر زمین پر ڈھیر کر دیا۔ اور ان دونوں بہادرانِ اسلام کا نام حضرت معوذ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہما تھا۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے اپنے باپ کے قاتل حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا اور اس خبیث نے پیچھے سے ان کے بائیں شانہ پر تلوار ماری جس سے ان کا بازو کٹ گیا اور تھوڑا سا چمڑا باقی رہ گیا تھا اور ہاتھ لٹکنے لگا۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دور تک اس کا پیچھا کیا لیکن وہ بچ نکلا۔

جنگ ختم ہو جانے کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر جب ابو جہل کی لاش کے پاس سے گزرے تو لاش کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ابو جہل اس زمانے کا فرعون ہے۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس گستاخ رسول کو ذلیل کرتے ہوئے اس کا سر کاٹ کر تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر ڈال دیا۔

(بخاری، غزوۂ بدر، دلائل النبوۃ ج ۲ ص ۱۷۳)

صفحہ ۷۰

گستاخانِ رُسل کے ساتھ کیسا سلوک ہو؟

ہم سبھی کو چاہیے کہ ہم ہمیشہ گستاخوں‘ بد مذہبوں سے دور رہیں اور ان کے سائے سے بھی بچتے رہیں۔ کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ صحبت اثر کرتی ہے۔ اگر ہم ان کی صحبت میں رہیں گے‘ ان سے اپنا میل جول برقرار رکھیں گے تو یہ ہمارے لیے بہت ہی نقصان دہ ہے کہ یہ خود تو گمراہ ہیں‘ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ گستاخوں سے دوستی اور ان کی صحبت ایمان کے لیے زہر قاتل ہے کہ حضور نبی کریم‘ رؤف و رحیم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ

ترجمہ : ” تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں، کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کریں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔“

(مقدمہ صحیح مسلم ص ۹ حدیث:۸)

حضور نبی کریم ﷺ کے اس فرمان سے ہمیں یہ درس حاصل کرنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے ہماری دوستی‘ ہماری رشتہ داری‘ ہمیں ایمان سے خارج نہ کر دے اور ہماری تمام نیکیاں برباد نہ کر دے۔ دنیا و آخرت میں رسوا نہ کر دے۔ حضور علیہ السلام کی محبت سے دور نہ کر دے۔ لہٰذا ان سے مسلمانوں کو ہمیشہ دور رہنا چاہیے۔

بد مذہبوں اور گستاخوں کی صحبت اور دوستی کتنی نقصان دہ ہے۔ اس واقعہ سے اندازہ لگائیے جسے میرے آقا اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان ؒ نے فتاویٰ رضویہ شریف ج ۲۳ ص ۶۹۲ پر اور میرے پیر و مرشد‘ میری آنکھوں کی ٹھنڈک‘ شیخ طریقت‘ امیر اہل سنت‘ بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے اپنی تصنیف غیبت کی تباہ کاریاں ص ۶۴ پر نقل فرمایا ہے‘ فرماتے ہیں:

صفحہ 71

غیر مذہب والیوں (یا والوں) کی صحبت آگ ہے، ذی عقل عاقل بالغ مردوں کے مذہب (بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں۔ عمران بن حطان رقاش کا قصہ مشہور ہے، یہ تابعین کے زمانہ میں ایک بڑا محدث تھا، خارجی مذہب کی عورت (سے شادی کر کے اس) کی محبت میں (رہ کر) معاذ اللہ خود خارجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ (اس سے شادی کر کے) اسے سُنّی کرنا چاہتا ہے۔ (یہاں وہ نادان لوگ عبرت حاصل کریں جو بزعمِ فاسد خود کو بہت ”پکا سُنّی“ تصور کرتے اور کہتے سُنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہلا نہیں سکتا، ہم بہت ہی مضبوط ہیں!) میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں: جب صحبت کی یہ حالت (کہ اتنا بڑا محدث گمراہ ہو گیا) استاد بنانا کس درجہ بدتر ہے کہ استاد کا اثر بہت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے، تو غیر مذہب عورت (یا مرد) کی سپردگی یا شاگردی میں اپنے بچوں کو وہی دے گا، جو آپ (خود ہی) دین سے واسطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچوں کے بددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔ انتہی کلامہ

محفوظ خدا عزوجل رکھنا سدا بے ادبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو

صد...... افسوس!

کہ آج شادی کرتے وقت صرف اور صرف بینک بیلنس، مال و دولت، کام کاج اچھا ہے، کتنے کماتا ہے؟ اسی کو دیکھا جاتا ہے اور شادی کر دی جاتی ہے، اس کے کردار، اخلاق، عقائد، اعمال کو نہیں دیکھا جاتا ہے۔ بحیثیت مسلمان شادی کرنے سے پہلے ”لڑکا“ یا لڑکی اس کے کردار، اخلاق، عقائد کو ضرور دیکھ لینا چاہیے کہ جس کے ساتھ آپ اپنے بیٹے یا بیٹی کی شادی کر رہے ہیں، اُس کا کردار کیسا ہے؟ اس کے عقائد کیسے ہیں؟ کہیں وہ شرابی، زانی، گمراہ و بدمذہب تو نہیں جس کے ساتھ ہم اپنے بیٹے یا بیٹی کی شادی کر رہے ہیں۔ کہیں وہ حضور علیہ السلام کا گستاخ تو نہیں؟ کہ زندگی بھر کے لیے جسے آپ اپنی بیٹی سونپ رہے ہیں وہ اللہ عزوجل و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نافرمان تو نہیں؟ اگر اس طرح

صفحہ ۷۲

مذکورہ چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شادی کریں گے تو انشاء اللہ عزوجل گھر امن و سلامتی کا گہوارہ بن جائے گا‘ اولاد نیک سیرت پیدا ہو گی‘ عاشق رسول ﷺ پیدا ہوں گے‘ یہ تمام فتنہ و فساد ختم ہو جائے گا اور کبھی گستاخ رسول پیدا ہی نہ ہوگا۔

مذکورہ واقعہ سے وہ مسلمان بھی درس حاصل کریں جو اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لیے ان چیزوں کا خیال نہیں رکھتے اور بد مذہبوں کے مدارس و سکول میں داخل کروا دیتے ہیں اور پوچھنے پر کہتے ہیں کہ علم حاصل کرنا ہی مقصود ہے‘ وہ کہیں سے بھی حاصل ہو جائے‘ وہ بھی تو قرآن و حدیث کی باتیں کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کی بارگاہ میں التجا ہے کہ بغیر ادب و احترام کے علم کسی فائدہ کا نہیں بلکہ آخرت میں وبال ہی وبال ہے‘ علم تو شیطان کے پاس بھی بہت تھا مگر ادب نہیں تھا۔

اس لیے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے لیے بھی کسی عاشق رسول ﷺ کی صحبت دلوائیے‘ کہ حاصل کی گئی تعلیم اسے دنیا و آخرت میں فائدہ دے اور وہ بچہ اپنے والدین کے لیے بھی نجات کا سبب بنے۔

ع
اللہ کرے دل میں اتر جائے میری بات

گستاخ باپ ہو تو ............؟

حضور نبی کریم ﷺ کی محبت بنیادِ ایمان ہے‘ اگر اس میں کوئی کمی ہوئی تو سمجھ لو کہ ایمان کامل نہیں‘ کیونکہ آپ ﷺ کی محبت اصل ایمان ہے اگر اس میں کوئی کمی واقع ہو جائے تو ہر شے نامکمل ہے‘ جیسا کہ کیا ہی خوب کہا ہے:

محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرطِ اوّل ہے
اس میں ہوئی کوئی خامی تو ہر شے نامکمل ہے

حضور ﷺ کی محبت سب محبتوں سے اعلیٰ و اتم ہے‘ اس لیے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حضور علیہ السلام کے دوستوں سے دوستی اور دشمنوں سے دشمنی رکھی جائے‘ لہٰذا اگر حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا باپ ہے تو یہ نہ سوچو کہ یہ میرا باپ ہے‘

صفحہ ۷۳

شادی کریں گے تو انشاء اللہ عزوجل گھر امن و سلامتی کا عورت پیدا ہوگی عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوں گے یہ گستاخ رسول پیدا ہی نہ ہوگا۔ ہی درس حاصل کریں جو اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کے اور بدمذہبوں کے مدارس وسکول میں داخل کروا دیتے حاصل کرنا ہی مقصود ہے وہ کہیں سے بھی حاصل ہو جائے کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کی بارگاہ میں التجا ہے کہ فائدہ کا نہیں بلکہ آخرت میں وبال ہی وبال ہے، علم تو سبب نہیں تھا۔ دلوانے کے لیے بھی کسی عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت دنیا و آخرت میں فائدہ دے اور وہ بچہ اپنے والدین

ع
دل میں اتر جائے میری بات

حقیقت بنیاد ایمان ہے اگر اس میں کوئی کمی ہوئی تو سمجھ لو کہ اسلام کی محبت اصل ایمان ہے اگر اس میں کوئی کمی واقع ہو کیا ہی خوب کہا ہے:

محبت دین حق کی شرط اوّل ہے
کوئی خامی تو ہر شے نامکمل ہے

محبوں سے اعلیٰ و اتم ہے اس لیے محبت کا تقاضا یہ ہے سے دوستی اور دشمنوں سے دشمنی رکھی جائے لہٰذا اگر حضور دشمنی کرنے والا باپ ہے تو یہ نہ سوچو کہ یہ میرا باپ ہے

اس نے میری پرورش کی ہے لہٰذا خیر ہے۔ نہیں! بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرنے والا اگر باپ ہے تو اس سے بھی دشمنی کی جائے اس سے بھی نفرت کی جائے کیونکہ اس وقت باپ کی محبت نہیں بلکہ حضور علیہ السلام کی محبت سامنے ہونی چاہیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہی اغلب ہونی چاہیے۔ جیسا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان ہمیں درس دے گئے اور انہوں نے یہ بتا دیا کہ حضور علیہ السلام کی محبت سب محبوں سے اوپر اعلیٰ و اتم ہے۔

جیسا کہ عاشقوں کے امام عاشق اکبر جناب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اپنی محبت کا ثبوت دیا کہ ایک مرتبہ جب کہ ابھی آپ رضی اللہ عنہ کے والد نے کلمہ نہیں پڑھا تھا دوران گفتگو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے گالی دے دی۔ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو یوں تھپڑ مارا کہ وہ منہ کے بل گر پڑے۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں اور عرض کرتے ہیں: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آج آپ کے بارے میں میرے والد کے منہ سے کچھ لفظ نکل گئے تھے تو مجھ سے برداشت نہ ہوسکا اور میں نے اپنے والد کے منہ پر تھپڑ مار دیا ہے اور وہ منہ کے بل گر پڑے ہیں تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صدیق! کیا تم نے واقعی ایسا ہی کیا ہے؟

تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ایسا ہی کیا ہے (چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین ہیں اور رحمت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے صدیق! آئندہ ایسا نہ کرنا۔ لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آج میرے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں تھی مجھے خدا عزوجل کی قسم! جس نے آپ کو سچا نبی بنایا ہے اگر میرے پاس تلوار ہوتی تو میں اپنے باپ کا سر اُتار دیتا۔

(فہم دین ج ۴، ص ۴۳۰)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے یہ اصول مقرر کر دیا کہ گستاخی کرنے والا اگرچہ تمہارا باپ ہی کیوں نہ ہو اس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا اور اس کو کبھی معاف

صفحہ ۷۴

نہ کرنا۔

گستاخ بیٹا ہو تو .....؟

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں گستاخی کرنے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت رکھنے والا اگرچہ بیٹا ہی کیوں نہ ہو ایک مؤمن کامل اس کو کبھی معاف نہیں کرتا اور فوراً انتقام لینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں دیکھتا کہ یہ میرا بیٹا ہے بلکہ وہ حضور علیہ السلام کی محبت کو دیکھتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بیٹے کی محبت پر فوقیت دیتا ہے اس کی مثال بھی ہمیں عاشق اکبر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت بھری زندگی سے ملتی ہے جیسا کہ

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس وقت بدر کے دن مسلمانوں اور کافروں کی صف آرائی ہوئی، مسلمانوں کی صف میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جبکہ سامنے کفار کی صف میں آپ کا بیٹا عبدالرحمٰن جو کہ ابھی ایمان نہیں لایا تھا اور کفار کی طرف سے لڑنے آیا تھا جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مخالف اپنے بیٹے کو کھڑا دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت مانگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی جنگ کا آغاز نہیں ہوا ابھی جنگ کا نقارہ نہیں بجا اس سے پہلے کہ جنگ شروع ہو جائے اور جنگ کے ہنگامے میں کفار کی پہچان نہ رہے مجھے اجازت دیجئے کہ میں اپنے بیٹے کے ساتھ مقابلے کو نکلوں جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کے لیے آیا ہے اور اس سے بدلہ لوں اور اس کو آپ کی مخالفت کا مزا چکھاؤں۔ تو حضور اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

متعنا بنفسك يا ابا بكر.

”اے ابوبکر! تم اپنی جان سے ہمیں فائدہ دو“۔

اما تعلم انك عندي بمنزلة السمع والبصر.

”تم میرے نزدیک بمنزلہ کان اور آنکھوں کے ہو“۔

صفحہ ۷۵

گویا کہ آپ ﷺ ارشاد فرما رہے ہیں کہ جنگ تو ہوتی رہے گی اور معاملات بھی ہوتے ہی رہیں گے، مگر تم ہمارے نزدیک کان اور آنکھ کی حیثیت رکھتے ہو، یعنی جس طرح کان اور آنکھوں کی بندے کو ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح اسلام کو تمہاری ابھی ضرورت ہے لہٰذا تم اپنی جان کے ذریعے ہمیں فائدہ پہنچاؤ اس سے آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی افضلیت کو بھی اُمت کے سامنے اجاگر کر دیا۔ بہرحال حضرت ابوبکر صدیق ؓ اپنے دعوائے محبت میں پورا اترتے اور اپنا تن، من، دھن سب کچھ حضور علیہ السلام پر قربان کر دیا اور آنے والی نسلوں، آنے والے نوجوانوں کو، آنے والے مسلمانوں کو یہ درس دے گئے کہ حضور ﷺ کے مخالف اگر بیٹا اور باپ بھی ہو تو اسے کبھی معاف نہ کرنا اور اس کے انجام بد تک پہنچا کر رہنا اور جب تک ایسی والہانہ محبت تمہارے دلوں میں اُجاگر نہیں ہوگی تمہارا ایمان کامل نہیں ہوگا۔

اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو آپ ﷺ کی محبت کا یہ انداز ایسا پسند آیا کہ قرآن کریم کی آیت نازل فرمادی:

لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَادُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ

(سورۃ المجادلہ: ۲۲)

”کہ آپ ایسی قوم نہیں پائیں گے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان تو رکھتے ہوں اور پھر اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے دوستی کریں۔“

اگر وہ گستاخی کرنے والے مؤمنوں میں سے کسی کا باپ یا بیٹا ہو تو یہ مؤمن اس باپ اور بیٹے سے بھی محبت نہیں کریں گے اور پوری روئے زمین کے مؤمنوں کے لیے ضابطۂ حیات بنا دیا کہ اس طرح تم نے اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھنی ہے اور ان کے گستاخوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرنا ہے۔

اس لیے ہر مسلمان کو تحفظ ناموسِ رسالت ﷺ کے معاملہ میں بہت زیادہ محتاط

صفحہ ۷۶

رہنا چاہیے اور گستاخان رُسل کا ہمیشہ تعاقب کرتے ہوئے انجام بد تک پہنچانا چاہیے کیونکہ منصب نبوت کا جو مقام اور حیثیت ہے وہ عرش سے بھی زیادہ نازک تر ہے جیسا کہ کسی نے خوب کہا:

ادب گاہیست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
صفحہ ۷۷

گستاخوں کی دوستی ایمان کے لیے زہر قاتل

محترم اسلامی بھائیو! صحبت ضرور رنگلاتی ہے اگر اچھی صحبت ہو گی تو اچھائی کی طرف دل مائل ہوگا اور نیکیاں کرنے کا ذہن بنے گا اگر بُری صحبت ہوگی تو اس میں دنیا و آخرت کی بربادی ہی بربادی ہے اور گستاخ و بد مذہبوں سے دوستی تو ایمان کے لیے زہرِ قاتل کی طرح ہے۔ اور ایمان برباد ہونے کا خدشہ ہے گستاخ و بد مذہب خود تو گمراہ ہوتے ہی ہیں دوسروں کو بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ کتنا ہی پکا عقیدہ کیوں نہ ہو ذہن میں وسوسے ضرور آتے ہیں۔ اچھوں اور بُروں کی دوستی کا موازنہ کرتے ہوئے نبی غیب داں سرورِ دو جہاں احمد مجتبیٰ جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے دو جہاں نبی غیب داں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اچھے اور بُرے کی صحبت مسکی (یعنی خوشبو) اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے مسکی اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا پھر اس سے تمہیں اچھی خوشبو ضرور آئے گی اور بھٹی جھونکنے والا یا تو تمہارے کپڑے جلائے گا یا پھر اس سے گندی بدبو ضرور آئے گی۔

(مشکوۃ المصابیح ص ۴۲۶)

اس حدیث مبارکہ کو غور سے پڑھئے! اور گستاخ و بد مذہبوں سے پیچھے چھڑائیے عاشقوں کی محبت اپنائیے اور جنت کے حق دار بن جائیے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اچھوں کی صحبت اختیار کرو گے اللہ عزوجل و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں کی صحبت اختیار کرو گے تو وہ تمہیں محبت کرنے کا درس دیں گے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کا درس دیں گے یا تم خود ان کو دیکھ دیکھ کر محبت

صفحہ ۷۸

کے تقاضوں کو سمجھ جاؤں گا اور محبت کرنے والے بن جاؤ گے یا پھر تمہیں ان محبت والوں کے پاس بیٹھنے کا صلہ ضرور ملے گا، اور تم اپنے دلوں کو محبت بھری خوشبوؤں سے مہکا کے اُٹھو گے اور ان تینوں صورتوں میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ جبکہ بُروں کی صحبت، گستاخ و بدمذہب کی دوستی دنیا و آخرت میں وبال ہی وبال ہے اور اس میں نقصان ہی نقصان ہے تم جتنا بھی اپنے عقیدے کو محفوظ کر کے بیٹھو گے، ذہن میں وسوسے ضرور آئیں گے یا وہ خبیث تمہارا عقیدہ خراب کر دے گا جو کہ کپڑے جلنے سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ یا پھر تمہیں اس سے گستاخی کی بدبو ضرور آتی رہے گی جو کہ تمہارے باغیچۂ ایمان کو مرجھا سکتی ہے اور ایسا متعدد بار ہو چکا ہے اور کئی روایات ایسی ملتی ہے کہ گستاخوں کی صحبت ان کی دوستی کی وجہ سے ایمان برباد ہو گیا، جیسا کہ اس آیت کریمہ کا سبب نزول پڑھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے: يَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيلًا

(پارہ ۱۹، الفرقان: ۲۷)

عقبہ بن محیط، حضور اکرم نور مجسم ﷺ کے پاس آ کے بیٹھا کرتا تھا، ایک دن وہ حضور نبی کریم ﷺ سے اصرار کرنے لگا کہ آپ ﷺ میرے ساتھ میرے گھر تشریف لے چلیں، چونکہ میں دوسرے لوگوں کی بھی دعوت کیا کرتا ہوں اور آج آپ ﷺ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں، جب اس نے اپنی اس دعوت پر اصرار کیا تو حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تب تمہاری دعوت کھاؤں گا جب تم اللہ عزوجل کی وحدانیت اور میری رسالت کو تسلیم کر لو گے تو عقبہ بن محیط نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل ایک ہے اور آپ ﷺ اس کے رسول ہیں۔

امیہ بن خلف اور عقبہ بن محیط چونکہ آپس میں گہرے دوست تھے، جب اس امیہ بن خلف گستاخ کو عقبہ بن محیط کے اسلام لانے کی خبر ملی تو عقبہ بن محیط کے پیچھے پڑ گیا کہ تم نے دینِ اسلام کیوں قبول کر لیا ہے؟ اور تم دینِ اسلام کو چھوڑ دو۔ عقبہ بن محیط

صفحہ ۷۹

اپنے ایمان کو مضبوط نہ رکھ سکا، کیونکہ ابھی ابتدائی مرحلہ تھا اور مکمل طور پر ایمان پر پختگی حاصل نہیں ہوئی تھی اور اس نے اسلام کو چھوڑنے کا اعلان کر دیا اور مرتد ہو گیا، دنیا و آخرت کی ذلت و رسوائی کا حقدار بن گیا، اور بروزِ قیامت وہ افسوس کرتا ہو گا کہ کاش! میں اس گستاخ کی صحبت اختیار نہ کرتا اور نہ اس کے ساتھ دوستی قائم کرتا، اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوستی کو ہی اپنائے رکھتا۔

محترم قارئین! محترم اسلامی بھائیو! اس لیے ہمارے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ گستاخ و بدمذہبوں کے سائے سے بچتے رہیں اور ان کے ساتھ میل جول، اور ہر طرح کے معاملات کو ختم کر دیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے آنے والی گستاخی و بے ادبی کی بدبو ہمارے باغیچۂ ایمان کو گل کر دے اور ہمارے عقیدے کو خراب کر دے۔ پیارے اسلامی بھائیو! گستاخانِ رُسل سے پیچھا چھڑائیے۔ عاشقانِ رُسل علیہم السلام کی صحبت اپنائیے اور دین و آخرت میں کامیابی کے حقدار بن جائیے۔ اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب بن جائیے۔

صفحہ ۸۰

گستاخوں و بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا کیسا؟

بدمذہبوں سے دوستی تو درکنار ان کے پاس بیٹھنے میں بھی ایمان کو خطرہ ہے اور نقصان ہی نقصان ہے، جیسا کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت، الشاہ امام احمد رضا خان ؒ سے کسی نے سوال کیا:

عرض: اکثر لوگ بدمذہبوں کے پاس جان بوجھ کر بیٹھتے ہیں، ان کے لیے کیا حکم ہے؟

تو اس کے جواب میں ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت (مکمل) ص ۲۷۷ پر ارشاد فرماتے ہیں:

جیسے میرے پیر و مرشد، امیر اہل سنت، امیر دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے غیبت کی تباہ کاریاں ص ۲۴۵ پر بھی نقل فرمایا ہے:

جواب: (بدمذہبوں کے پاس بیٹھنا) حرام ہے اور بدمذہب ہو جانے کا اندیشہ مکمل اور دوستانہ ہو تو دین کے لیے زہر قاتل۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:

ایاکم وایاھم لایضلونکم ولا یفتنونکم۔

(مقدمہ صحیح مسلم ص ۹ حدیث: ۸)

’’یعنی انہیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دور بھاگو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں، کہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔‘‘

مزید اعلیٰ حضرت ؒ فرماتے ہیں: اور اپنے نفس پر اعتماد کرنے والا بڑے کذاب (یعنی بہت بڑے جھوٹے) پر اعتماد کرتا

انها اكذب شيء اذا حلفت ’’نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے خالی وعدہ کرے۔‘‘

صحیح حدیث میں فرمایا: جب دجا دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر گا؟ وہاں جا کر ویسے ہی ہو جائیں گ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا۔ (المعجم الاو

محترم اسلامی بھائیو! اگر ایما ضروری سمجھتے ہو تو بدمذہبوں و گستاخو سے ہر معاملہ ختم کر دو کہ جو اپنے نبی نہیں کرتے، وہ تم سے کیسے وفا کریں

کچھ نادان یہ کہتے دکھائی دیتے بات کرتے ہیں، سننے میں حرج ہی کیا میں آنے میں دیر نہیں لگتی اور ہر ای حدیث میں غلط واردات کریں تو عرض ہے کہ اس واقعے کو پڑھے ک باوجود انہوں نے بدعقیدہ لوگوں کی بدمذہبوں سے قرآن وحدیث اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خا ہیں:

صفحہ ۸۱

(یعنی بہت بڑے جھوٹے) پر اعتماد کرتا ہے۔

انها اكذب شيء اذا حلفت فكيف اذا وعدت.

’’نفس اگر کوئی بات قسم کھا کر کہے تو سب سے بڑھ کر جھوٹا ہے نہ کہ جب خالی وعدہ کرے۔‘‘

صحیح حدیث میں فرمایا: جب دجال نکلے گا، کچھ (افراد) اسے تماشے کے طور پر دیکھنے جائیں گے کہ ہم تو اپنے دین پر مستقیم (یعنی قائم) ہیں، ہمیں اس سے کیا نقصان ہو گا؟ وہاں جا کر ویسے ہی ہو جائیں گے۔

(سنن ابو داؤد ج ۴ ص ۱۶۵ حدیث: ۴۳۱۹)

حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے، اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا۔

(المعجم الاوسط للطبرانی ج ۵ ص ۱۹ حدیث: ۶۴۵)

محترم اسلامی بھائیو! اگر ایمان کی قدر و قیمت جانتے ہوئے اس کی حفاظت ضروری سمجھتے ہو تو بد مذہبوں و گستاخوں سے بالکل قیام و طعام، میل جول ختم کر دو اور ان سے ہر معاملہ ختم کر دو کہ جو اپنے نبی علیہ السلام سے وفا نہیں کرتے، ان کا ادب و احترام نہیں کرتے، وہ تم سے کیسے وفا کریں گے؟ اور کیسے اپنے دعویٰ محبت میں پورا اتریں گے۔

کچھ نادان یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں: ارے بھائی! وہ بھی تو قرآن وحدیث کی ہی بات کرتے ہیں، سننے میں حرج ہی کیا ہے؟ ان کی بارگاہ میں التجا ہے کہ شیطانی بہکاوے میں آنے میں دیر نہیں لگتی اور ہر ایک کے پاس اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ جب وہ قرآن و حدیث میں غلط تاویلات کریں تو حق و باطل کے درمیان فرق کر سکیں اور ان کی بارگاہ میں عرض ہے کہ اس واقعے کو پڑھیں کہ اتنے بڑے امام ہونے کے باوجود اتنا علم ہونے کے باوجود انہوں نے بد عقیدہ لوگوں کی بات سننے سے انکار کر دیا۔

بد مذہبوں سے قرآن وحدیث کی بات سننا کیسا؟

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ فتاویٰ رضویہ ج ۱۵ ص ۱۰۶ پر نقل فرماتے ہیں:

صفحہ ٨٢

حضرت علامہ امام ابوبکر محمد بن سیرین ؒ کی خدمت میں دو بدعقیدہ آدمی حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے ابوبکر! ہم آپ کو ایک حدیث سناتے ہیں فرمایا: میں نہیں سنوں گا۔ دونوں نے کہا: اچھا چلئے! قرآن کریم کی ایک آیت ہی سن لیجئے۔ فرمایا: نہیں سنوں گا، تم دونوں میرے پاس سے چلے جاؤ ورنہ میں اُٹھ کر چلا جاتا ہوں، آخر وہ چلے گئے تو بعض لوگوں نے (حیرت سے) عرض کی: اے ابوبکر! آپ اگر ان سے حدیث پاک یا آیت قرآنی سن لیتے تو اس میں آخر کیا حرج تھا؟ فرمایا: مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ یہ لوگ قرآن وحدیث کے ساتھ اپنی کچھ تاویل لگائیں اور وہ میرے دل میں رہ جائے۔

محترم قارئین!

قرآن وحدیث برحق ہیں، اور ان کی ایک ایک بات حق سچ ہے، لیکن آپ ؒ نے اس لیے سننے سے انکار کر دیا کہ کہیں ان کی اپنی طرف سے کی گئی تاویل یا کسی قسم کی غلط واردات میرے دل میں نہ بیٹھ جائے اور ہلاک ہو جاؤں اور میرے دل میں غلط وسوسے نہ پیدا ہو جائیں۔ محترم اسلامی بھائیو! ذرا غور کریں کہ اتنے بڑے امام ہو کر قرآن وحدیث کو بطریقہ احسن جاننے کے باوجود ان کی غلط تاویل سے بچتے ہوئے سننے سے انکار کر دیا تو آج ہمارا حال کیسا ہے؟ قرآن وحدیث کے بارے میں نہ اتنا علم، نہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت، اس کے باوجود اگر ان کے پاس بیٹھ کر قرآن و حدیث کی اور اس کے علاوہ باتیں سنیں گے تو ان کی غلط بیان کی صورت میں حق و باطل کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جائے گا، اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے کی صورت میں ایمان بچانا مشکل ہو جائے گا۔ لہٰذا ان کی صحبت سے ہمیشہ بچتے رہیں۔ اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتے رہیں، اگرچہ بدمذہب اس سے جلتے رہیں۔

گستاخ کے ساتھ میل جول کیسا؟

ایک شخص جس نے حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا، اس کے بارے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت ؒ سے سوال کیا گیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ

صفحہ ۸۳

سوال: ایک مقرر نے جلسے میں کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ میرے دانت ایسے روشن ہیں کہ آج تک کسی کے ایسے نہ ہوئے اس تکبر کی بناء پر (معاذ اللہ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دندان اقدس جنگ اُحد میں شہید ہو گیا تھا۔ الجواب: اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معاذ اللہ عزوجل ”تکبر“ کا لفظ کہا یہ صریح کفر ہے۔ اس کا ایمان جاتا رہا اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل گئی اس نے جیسے مجمع میں یہ جملہ کہا، اسی قسم کے مجمع میں توبہ کرے اور اسلام لائے۔ اگر نئے سرے سے اسلام نہ لائے تو مسلمانوں کو اس سے سلام و کلام حرام اس کے پاس بیٹھنا حرام اس کی شادی غمی میں شریک ہونا حرام بیمار پڑے تو اسے پوچھنے جانا حرام مرجائے تو اس کے جنازے پر جانا حرام اسے غسل و کفن دینا حرام اس کے جنازے کی نماز حرام اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام اسے مرنے کے بعد کوئی ثواب پہنچانا حرام بلکہ اس کے کفر پر مطلع ہو کر جو اسے مسلمان سمجھتا رہے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کرے بلکہ اس کے کفر میں شک بھی کرے تو وہ خود بھی کافر ہو جائے گا اور جن لوگوں نے اس جملے کو سن کر پسند کیا تو وہ سب پسند کرنے والے بھی اس کی مثل کافر ہو گئے اور ان کی عورتیں بھی ان کے نکاح سے نکل گئیں۔

(فتاویٰ رضویہ ج ۱۴ ص ۶۴۶ ۔ ۶۴۷)

اس سے ان لوگوں کو درس حاصل کرنا چاہیے جو گستاخوں کے ساتھ میل جول قیام و طعام اٹھنا بیٹھنا مسلمانوں کا سا رکھتے ہیں اور ان کی گستاخیوں پر مطلع ہونے کے باوجود ان کا ساتھ نہیں چھوڑتے اور ان کے ساتھ مسلمانوں کا سا رویہ اختیار کرتے ہیں، لیکن یاد رکھئے ! مرتد سے ہمدردی کا اظہار ایمان کے لیے نقصان دہ ہے۔ اسی ضمن میں ایک سوال جواب پڑھئے !

مرتد سے ہمدردی کیسی......؟

میرے پیر و مرشد عاشق اعلیٰ حضرت امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد

صفحہ ۸۴

الیاس عطار قادری سے سوال ہوا:

سوال: کیا مرتد کے ساتھ انسانی ناطے سے بھی ہمدردی نہ کی جائے؟

جواب: تو جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: حقیقت میں دیکھا جائے تو مسلمان ہی ”انسان“ ہے جبکہ جو اپنے خالق و مالک عزوجل کی توہین اور اس کے رسول ﷺ کی گستاخی کرے وہ نام نہاد انسان بالیقین بدتر از حیوان ہے (یعنی حیوان سے بھی بُرا ہے کہ وہ بھی گستاخی و بے ادبی سے بچتے ہیں) مرتد کے ساتھ ہر طرح کے مقاطعہ (یعنی بائیکاٹ) کو بھی شاید ان معنوں پر ایک گونہ ہمدردی کہا جاسکے کہ یوں وہ کسی طرح بیزار ہو کر‘ تائب ہو کر دامن مصطفےٰ ﷺ میں پناہ لے لے۔ یاد رکھئے! مرتد سے ہمدردی کا اظہار ایمان کے لیے زہر ہلاہل (یعنی زہر قاتل) ہے۔

(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘ ص۲۰۲)

مرتد و گستاخ کی آخرت میں سزا

اسلام سے پھر جانے والے کو مرتد کہتے ہیں‘ اسلام سے پھر جانے سے مراد ہے کہ ضروریاتِ دین میں سے کسی امر کا انکار کر دینا‘ چاہے‘ کنایۃً ہو یا صراحتاً۔ اور جو شخص دینِ محمد ﷺ کو چھوڑ کر کفر اختیار کرے اسے مرتد کہتے ہیں‘ ایسے شخص کی دنیا میں سزا تو مقرر کر دی گئی اور وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہوگا‘ آیا کہ آخرت میں بھی ایسے شخص کی کوئی سزا ہے یا نہیں؟ لہٰذا ہم قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں جو کہ ہمارے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے کہ اس میں مرتد و گستاخ کو آخرت میں ملنے والی سزا کے متعلق کیا حکم ہے؟ اور اس کو کس قسم کی سزا ہوگی؟ کیونکہ جو جتنا بڑا گناہ کرتا ہے‘ اس کی سزا اسی حساب سے ہوگی اور انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والا بہت بڑا مجرم ہے اور وہ اپنے ارتداد کی وجہ سے بہت خسارہ اُٹھاتا ہے۔ لہٰذا قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ط وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِہٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ

اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا خٰلِدُوْنَ O (البقرہ:۲۱۷ ترجمہ: ”اور وہ ہمیش دین سے پھیر دیں ا مرے تو ان لوگوں ۔ میں اور وہ دوزخ وا۔ اس آیت کریمہ می چونکہ مؤمن اگرچہ کتنا ہی اس کو سزا ہوگی لیکن بالآخ محفوظ ہو جائے گا اور وہ ا کے برعکس جو کفر کی حالت کی آخرت میں سزا کیا ہ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُ دوزخ) میں ہمیشہ ہمیش نجات ممکن نہ ہوگی اور برباد و اکارت جائیں ۔ دیئے جائیں گے۔ اور وہ اعمال جن جائیں گے کہ جس طر وجہ سے اسے دور سے کہ جب اس کی طرف گمان کرتا ہے وہ ریت

صفحہ ۸۵

اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَأُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خٰلِدُوْنَ o

(البقره: ۲۱۷)

ترجمہ : ”اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے پھر کافر ہو کر مرے تو ان لوگوں کے تمام (نیک) عمل ضائع ہو گئے دنیا میں اور آخرت میں اور وہ دوزخ والے ہیں۔“

اس آیت کریمہ میں تصریح کر دی گئی کہ گستاخ و مرتد کا آخرت میں انجام کیا ہوگا؟ چونکہ مؤمن اگرچہ کتنا ہی گناہ گار ہوگا اور اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں جائے گا‘ اس کو سزا ہوگی لیکن بالآخر اس کو نجات ضرور مل جائے گی اور وہ آخر کار عذاب نار سے محفوظ ہو جائے گا اور وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر جنت میں داخل ہو جائے گا‘ اس کے برعکس جو کفر کی حالت میں مرا ہوگا‘ اور گستاخی کی حالت میں ہی دنیا سے چلا گیا تو اس کی آخرت میں سزا کیا ہوگی؟ کہ اس کے تمام اعمال اکارت جائیں گے۔ ”وَأُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خٰلِدُوْنَ“ کہ وہی نار والے ہیں اور اس نار (یعنی دوزخ) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان کو دائمی عذاب ہوگا‘ کسی بھی صورت میں ان کی نجات ممکن نہ ہوگی اور دنیا میں جو اعمالِ حسنہ انہوں نے کیے ہوں گے وہ تمام کے تمام برباد و اکارت جائیں گے‘ جن کو وہ پہاڑوں کی مثل سمجھتے ہوں گے‘ وہ ”هَبَاءً مَّنْثُوْرًا“ کر دیئے جائیں گے۔

اور وہ اعمال جن کو وہ سمندر سے بھی زیادہ سمجھتے ہیں‘ آخرت میں اس طرح ہو جائیں گے کہ جس طرح سخت پیاسا انسان صحرا میں کھڑا اپنی نظر اٹھاتا ہے تو سخت گرمی کی وجہ سے اسے دور سے ریت میں پانی نظر آتا ہے اور وہ اسے اپنی پیاس کے لیے کافی سمجھ کر جب اس کی طرف بڑھتا ہے تو وہاں پانی کا نام و نشان تک نہیں ہوتا‘ بلکہ وہ جسے پانی گمان کرتا ہے وہ ریت کے ذرات ہوتے ہیں۔

صفحہ ۸۶

اسی طرح ایک کافر و مرتد جو کہ اپنے اعمال پر فخر کرتا ہے اور اسے اپنی نجات کے لیے کافی سمجھتا ہے لیکن جب وہ آخرت میں ان اعمال کے قریب جائے گا، یعنی اپنے اعمال کو دیکھے گا تو جن اعمال کو وہ زیادہ سمجھ رہا ہو گا ان کی حیثیت ان ریت کے ذروں سے بھی کم ہو گی، جو کہ اس کو کام نہیں دیں گے اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں کفر و شرک اور انبیاء علیہم السلام کی گستاخی سے محفوظ فرما کر اپنا مطیع و فرمانبردار بنائے ۔ (آمین!)

مرتد کی سزا فقہاء کی نظر میں

چونکہ انبیاء علیہم السلام یا کسی بھی ضروریاتِ دین سے انکار کرنے والے دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اسلام سے پھر جانے والے کو ہی مرتد کہتے ہیں، لہٰذا اب فقہاء کی نظر میں مرتد و گستاخ کی سزا کیا ہے؟ اسے جانتے ہیں، چنانچہ ہدایہ ج ۲ ص ۵۲۵ کتاب السیر میں اس کی تصریح کر دی گئی کہ

واذا ارتد المسلم والعیاذ باللہ عرض علیہ الاسلام ، فان کانت لہ شبھہ کشفت عنہ لانہ عساہ التبست بہ شبہۃ فتزاح وفیہ دفع شرہ بأحسن الامرین الا ان العرض علی ما قالوا غیر واجب لان الدعوۃ بلغتہ ویحبس ثلاثۃ ایام فان اسلم والا قتل۔

”اگر مسلمان (نعوذ باللہ من ذالک) اسلام سے پھر جائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا، اگر اس کا کوئی شبہ ہے تو اس کو دور کیا جائے گا، اس لیے کہ ممکن ہے کہ اسے شبہ ہو گیا ہو تو اس کا ازالہ کر دیا جائے گا، اس صورت میں اس کی بُرائی کو دو میں سے بہتر طریقہ سے ختم کر دیا جائے گا، یعنی قتل یا اسلام البتہ اس پر اسلام پیش کرنا جیسا کہ علماء نے فرمایا لازم نہیں۔ اس وجہ سے کہ اسے دعوتِ اسلام پہلے پہنچ چکی ہے اور اسے تین دن قید میں رکھا جائے گا اگر مسلمان ہو جائے تو بہتر ورنہ قتل کر دیا جائے“۔

صفحہ ۸۷

لیکن یاد رہے کہ انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والے کو کسی بھی صورت میں مہلت وغیرہ نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اس کی توبہ قبول کی جائے گی مگر جب کہ اس نے لزوم کفر کا ارتکاب کیا ہو تو اس صورت میں اسے متنبہ کیا جائے گا کہ تیرے الفاظ گستاخی پر مبنی ہیں اگر تو وہ فوراً توبہ کرلے کہ میری مراد گستاخی نہیں تو فبہا ورنہ اس کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا جائے گا جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ اور اس کی سزا قتل ہوگی۔

صفحہ ۸۸

علامات گستاخ رسول

حضور نبی کریم ﷺ سے محبت کا دعویٰ تو ہر کوئی کرتا ہے اور اپنے آپ کو محبانِ رُسل میں شمار کرتا ہے، لیکن بعض دعوائے محبت کرنے والے ایسے بھی ہیں کہ وہ ہر وقت حضور ﷺ کے عیب تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں اور آپ ﷺ کے بارے میں برے الفاظ کہتے ہیں، وہ خود تو گمراہ ہیں، عوام الناس کو بھی گمراہی کی دلدل میں دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر کے آپ ﷺ کی شان میں واردات کرتے ہیں، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ آپ میں کوئی عیب ہے ہی نہیں، کیونکہ رب کائنات عزوجل نے آپ ﷺ کو بے عیب پیدا فرمایا ہے، اور حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں متعدد جگہ پر مذمت فرمائی ہے اور ان کی ہلاکت کو بیان فرمایا ہے۔ اسی طرح ولید بن مغیرہ جو کہ بدبخت و گستاخ تھا اس کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور اسی ضمن میں گستاخوں کی علامات کو واضح کر دیا۔ سورۃ القلم :۱۰۔۱۴ جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیات کریمہ اسی گستاخ کے حق میں نازل ہوئیں:

وَلَا تُطِعۡ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ o هَمَّازٍ مَّشَّآءِۢ بِنَمِيمٍ o مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٍ اَثِيمٍ o عُتُلٍّۢ بَعۡدَ ذٰلِكَ زَنِيمٍ o اَنۡ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِينَ o

ترجمہ کنزالایمان : ”اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا، ذلیل، بہت طعنے دینے والا، بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا، بھلائی سے بڑا روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، گنہگار، درشت خُو، اس سب پر طرہ یہ کہ اس

کی اصل میں خط اس آیت کریمہ مندرجہ ذیل علامات بیا

اس آیت کر حضور ﷺ کی شا گستاخ کو زنیم یع حضور ﷺ کی شا دور حاضر م حضور ﷺ کی اس کی ایک وجہ ی ارتکاب کرتا ہے، تھا تو نکاح بھی ق تعلقات قائم کرت

صفحہ ۸۹

علامات گستاخ رسول

ں سے محبت کا دعویٰ تو ہر کوئی کرتا ہے اور اپنے آپ کو محبان لیکن بعض دعوائے محبت کرنے والے ایسے بھی ہیں کہ وہ ہر وقت تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں اور آپ ﷺ کے بارے اں وہ خود تو گمراہ ہیں‘ عوام الناس کو بھی گمراہی کی دلدل میں دھکیلنے حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر کے‘ آپ ﷺ کی تے ہیں‘ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ آپ میں کوئی عیب ہے ہی نہیں‘ جل نے آپ ﷺ کو بے عیب پیدا فرمایا ہے‘ اور حضور نبی ں گستاخی کرنے والوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے یہ پر مذمت فرمائی ہے اور ان کی ہلاکت کو بیان فرمایا ہے۔ اسی بد بخت و گستاخ تھا‘ اس کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل گستاخوں کی علامات کو واضح کر دیا۔ سورۃ القلم: ۱۰۔۱۴‘ جمہور ات کریمہ اسی گستاخ کے حق میں نازل ہوئیں: لَّافٍ مَّهِيْنٍ o هَمَّازٍ مَّشَّآءٍ ۢ بِنَمِيْمٍ o مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍ o اَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِيْنَ o اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا‘ نے والا‘ بہت ادھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والا‘ بھلائی سے بڑھنے والا‘ گنہگار‘ درشت خو‘ اس سب پر طرہ یہ کہ اس

کی اصل میں خطا‘ اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے“۔

اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت عزوجل نے گستاخ رسول ولید بن مغیرہ کی مندرجہ ذیل علامات بیان فرمائی ہیں:

اس آیت کریمہ میں یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ قرآن کریم گستاخ رسول کو حضور ﷺ کی شان میں بے ادبی کرنے والے کو صحیح النسب بھی تسلیم نہیں کر رہا بلکہ اس گستاخ کو زنیم یعنی ولدالزنا قرار دے رہا ہے۔ اس لیے کہ حلالی شخص کبھی بھی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی بے ادبی کی جسارت نہیں کرسکتا۔

دورِ حاضر میں دن بدن گستاخوں کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ اور حضور ﷺ کی شان میں بے ادبی کرنے والوں کی تعداد کیوں بڑھی چلی جارہی ہے؟ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جو حضور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کا ارتکاب کرتا ہے‘ وہ دائرہ اسلام سے نکل کر ارتداد کی دلدل میں گر جاتا ہے‘ اگر نکاح والا تھا تو نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے اور نکاح کیے بغیر اگر کوئی اپنی سابقہ بیوی سے جسمانی تعلقات قائم کرتا ہے تو وہ زنا کا ارتکاب کرتا ہے‘ اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد

صفحہ ۹۰

ولدالزنا کہلاتی ہے۔ اور اس طرح کے تعلقات سے پیدا ہونے والی اولاد جو کہ حرامی ہوتی ہے وہی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی و بے ادبی کی جسارت کرتی ہے کیونکہ حلالی شخص ایسا فعل قبیح نہیں کر سکتا۔

گستاخ رسول کا نکاح برقرار نہیں رہتا جیسا کہ قاضی ابو یوسف ؒ کتاب الخراج طبع بیروت ص ۱۸۲ پر اس کی تصریح کرتے ہیں:

ايما رجل مسلم سب رسول الله ﷺ او كذبه او عابه او تنقصه فقد كفر بالله وبانت منه زوجته فان تاب والا قتل.

”یعنی جو مسلم رسول اللہ ﷺ کی گستاخی و بے ادبی کرے یا آپ ﷺ کو جھٹلائے یا عیب لگائے یا شان میں کمی کرے وہ اللہ عزوجل کا منکر ہے اس کی بیوی اس کے نکاح سے نکل گئی‘ توبہ کرے تو ٹھیک ورنہ قتل کیا جائے“۔

(فقہاء عظام اور مذاہب اربعہ کے ائمہ کرام اس بات پر متفق ہیں کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے اور اس کی توبہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی۔)

گستاخ رسول کا بائیکاٹ

اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے مکمل طور پر بائیکاٹ ضروری ہے اور ان دشمنوں یعنی کافروں، مشرکوں اور مرتدین سے دوستی اور میل جول حرام و گناہ ہے‘ بلکہ ان سے بالکلیہ قطع تعلقی فرض ہے‘ کیونکہ اللہ رب العزت عزوجل نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے:

(پارہ ۲۸، الممتحنہ:۱)

”اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ“۔

صفحہ ۹۱

افسوس...........صد افسوس!

کہ آج کل مسلمانوں میں یہ اسلامی جذبہ ختم ہورہا ہے‘ اسلام نے مسلمانوں کو کفر و شرک‘ گستاخی و بے ادبی سے نفرت کا جو مزاج دیا تھا‘ مسلمانوں نے اسے اپنے دنیاوی فوائد و اغراض کی خاطر پس پشت ڈال رکھا ہے اور قرآن نے زندگی گزارنے کا جو ضابطہ بیان کیا ہے‘ اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے اور چند ٹکوں کی خاطر دنیاوی عہدوں کو حاصل کرنے کی خاطر معاشرے کا حلیہ بگاڑ رہے ہیں۔ اور اسلام نے گندگی کفر و شرک سے بچنے کے لیے جو قلعہ تیار کیا تھا‘ مسلمان خود اسے تباہ و برباد کرنے پر تلے ہیں۔ اور ایمان کی حفاظت کے لیے جو قرآنی احکامات تھے‘ انہیں بھول چکے ہیں۔ کافروں‘ بدمذہبوں سے تعلقات کو بڑھا رہے ہیں‘ حالانکہ قرآن ہمیں حکم دیتا ہے کہ اللہ عزوجل اور رسول ﷺ کے دشمنوں‘ گستاخوں کو دوست مت بناؤ‘ ان سے مکمل طور پر بائیکاٹ کر لو۔ افسوس کہ اگر گستاخوں‘ بدمذہبوں سے میل جول ختم کرنے کی بات کی جائے تو دنیاوی رشتہ داریاں‘ دوستیاں‘ محبتیں یاد آ جاتی ہیں‘ اور یہ جواب ملتا ہے کہ برسوں سے ہمارے ان سے تعلقات ہیں‘ بھائی چارہ ہے‘ آپس میں لین دین کر رہے ہیں‘ ان سے تعلقات کو کیسے ختم کر دیں۔

لیکن اے مسلمان! یاد رکھ اس وقت تک تو محبت الٰہی اور محبت رسول ﷺ کی چاشنی نہیں پا سکتا جب تک ان سے تعلقات و دوستیاں ختم نہیں کر لیتا‘ اور سب سے زیادہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ سے محبت نہیں کر لیتا۔ اور جب تو گستاخوں‘ بدمذہبوں کی دوستیوں سے کنارہ کش ہو جائے گا تو تیرا دل خوشبوئے ایمان سے مہک

صفحہ ۹۲

اُٹھے گا۔

کہ جس طرح اندھیرا اور اُجالا، اچھا اور بُرا، خوشبو اور بدبو ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے، اسی طرح ایک دل میں دو محبتیں جمع نہیں ہو سکتیں۔

جس طرح پیالے میں دودھ ڈالنے کے لیے اسے اچھی طرح گندگی و غلاظت سے صاف ستھرا کیا جاتا ہے، اسی طرح اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو اپنے دل میں سمونے کے لیے اپنے دل کو غیر یعنی گستاخوں کی محبت سے کنارہ کش ہو کر صاف ستھرا کرنا ضروری ہے، جب تو اس طرح کرے گا تو اپنے دل میں ایسی خوشبو پائے گا جو کہ تیرے دل و دماغ کو معطر کر دے گی، ایسی روشنی کو پائے گا جو کہ تیری قبر کو روشن کر دے گی۔

گستاخوں کے دفن و جنازہ کا بائیکاٹ

اسلامی معاشرہ کا ایک اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ آیا کہ کافر و منافق اور مرتد کی نمازِ جنازہ اور اس کے کفن و دفن میں شریک ہونا جائز ہے یا نہیں؟ تو اس مسئلہ میں ہم اللہ رب العزت جل جلالہ عم نوالہ کے پاک کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت عزوجل نے مرتد و منافق کے جنازہ میں شرکت کے بارے میں کیا ارشاد فرماتا ہے؟

چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ ط اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَمَاتُوْا وَهُمْ فٰسِقُوْنَ O

(التوبۃ:۸۳)

ترجمہ کنز الایمان: ”اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا بے شک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں مر گئے“۔

آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرما دیا کہ آپ کبھی بھی اللہ عزوجل اور رسول ﷺ کے منکروں کے جنازے میں شریک نہ ہونا اور نہ ہی ان کی قبروں پر کھڑے ہونا، جو کہ اپنے فسق و فجور

صفحہ ۹۳

طرح اندھیرا اور اجالا اچھا اور برا خوشبو اور بدبو ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو ایک دل میں دو محبتیں جمع نہیں ہوسکتیں۔

پیالے میں دودھ ڈالنے کے لیے اسے اچھی طرح گندگی و غلاظت سے کیا جاتا ہے اسی طرح اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنے کے لیے اپنے دل کو غیر یعنی گستاخوں کی محبت سے کنارہ کش ہو کر صاف ہے جب تو اس طرح کرے گا تو اپنے دل میں ایسی خوشبو پائے گا جو کہ کو معطر کر دے گی ایسی روشنی کو پائے گا جو کہ تیری قبر کو روشن کر دے گی۔

کفن و جنازہ کا بائیکاٹ

معاشرہ کا ایک اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ آیا کہ کافر و منافق اور مرتد کی نمازِ کفن دفن میں شریک ہونا جائز ہے یا نہیں؟ تو اس مسئلہ میں ہم اللہ رب عظم نوالہ کے پاک کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت منافق کے جنازہ میں شرکت کے بارے میں کیا ارشاد فرماتا ہے؟

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِهٖؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ O (التوبہ: ۸۴)

ترجمہ:”اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز نہ پڑھنا اور نہ کھڑے ہونا بے شک اللہ اور رسول سے منکر ہوئے اور فسق ہی میں اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب فرمایا کہ آپ کبھی بھی اللہ عزوجل اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں نہ پڑھنا اور نہ ہی ان کی قبروں پر کھڑے ہونا جو کہ اپنے فسق و فجور

میں ہی مر گئے یہاں بظاہر تو خطاب ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن بالواسطہ اس میں ہمارے لیے یہی حکم ہے کہ جو اللہ عزوجل اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا ہے ان کی شان میں توہین آمیز کلمات کہتا ہے ان کی نمازِ جنازہ میں کبھی بھی شریک نہ ہونا اور نہ ہی ان کے کفن و دفن میں شرکت کرنا کیونکہ گستاخ رسول دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس کے تمام اعمال برباد ہو جاتے ہیں۔ اور اس گستاخ کو اچھا جان کر اس کے جنازے میں شرکت کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے۔

چونکہ آج کل مسلمانوں میں یہ مرض بہت پھیلا ہوا ہے کہ اپنی رشتہ داریوں، محبتوں کی بناء پر وہ جانے انجانے میں ان کے جنازہ و کفن و دفن میں شریک ہو جاتے ہیں اور محض چند لوگوں کی خوشنودی اور اپنی رشتہ داری کو نبھانے کے لیے اور اپنی نیک نامی کروانے کے لیے ان کے جنازوں میں شریک ہو کر اسلامی معاشرہ کو بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

محترم قارئین!

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نجات صرف اور صرف اللہ عزوجل اور اس کے پیاروں سے محبت میں ہے اور جو اللہ عزوجل اور اس کے پیاروں سے محبت اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہے وہی دونوں جہاں میں فلاح و کامرانی کو پالیتا ہے اور اس کے برعکس اگر کوئی اللہ عزوجل اور اس کے محبوب بندوں کے دشمنوں، گستاخوں سے محبت کرتا ہے وہ دنیا میں تو برباد ہوتا ہی ہے آخرت میں بھی اس کے لیے دردناک عذاب ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم اس کا مقدر ہے لیکن یادرہے کہ یہ حکم صرف اور صرف چند لوگوں کے لیے مخصوص جماعتوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اس روئے زمین پر جو بھی ایسی ناپاک حرکت کرے گا اللہ عزوجل اور اس کے انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے کی جسارت کرے گا وہ تمام اس حکم میں برابر کے شریک ہیں اور دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہے۔

صفحہ ۹۴

لہٰذا مسلمانوں کو ان ناجائز حرکتوں سے بالکل پرہیز کرنا فرض بلکہ دوسروں کو منع کرنا بھی لازم و ضروری ہے کیونکہ ہماری تمام محبتیں رشتہ داریاں اللہ عزوجل کی رضا کے لیے ہونی چاہیے اور جو اللہ عزوجل اور اس کے محبوب بندوں سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جو ان سے دشمنی و بغض رکھتا ہے ہم ان سے بیزار ہیں کیونکہ عشق و محبت ہو تو ایسی ہو جیسا کہ کیا ہی خوب کہا ہے:

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

بدمذہبوں کے جلسوں کا بائیکاٹ

جن مجلسوں میں اسلام کے خلاف قرآن کے خلاف یا صاحب قرآن کے خلاف بکواس ہو رہی ہو یا ان کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے جا رہے ہوں ایسی مجلسوں میں مسلمانوں کو جانا حرام اور شریک ہونا حرام اور بہت بڑا گناہ ہے کیونکہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (الانعام: ۶۸)

ترجمہ کنز الایمان: ’’اور اے سننے والے! جب تو انہیں دیکھے جو ہماری آیتوں میں پڑتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لے جب تک اور بات میں پڑیں اور کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ‘‘۔

اس سے معلوم ہوا کہ بدمذہبوں بیدینوں کی ایسی مجالس جہاں پر قرآن، اسلام اور شہنشاہ دوجہان ﷺ کی عزت و توقیر اور احترام کو مدنظر نہ رکھا جاتا ہو اور ان کے خلاف تقریریں کی جاتی ہوں میں جانا حرام ہے اور بہت بڑا گناہ ہے اور اس آیت کریمہ میں تو اللہ عزوجل نے یہ بھی ارشاد فرما دیا ہے کہ اگر بھولے سے یا انجانے میں ان کی مجلس میں

چلے جاؤ یا وہاں سے گزر جاؤ وہ اپنی ان خباثتوں سے باز

محترم اسلامی بھائیو! بدمذہبوں کی مجلس م اس کے ساتھ ساتھ دو بڑی

کر رہے ہیں تو اگر ت تو ڈر ہے کہ وہ مر گستاخان انبیاء علیہم ا بکواس کرنا شروع ک

ہلاکت ہی ہلاکت گے کیونکہ حدیث م خاموش رہو گویا ک

لہٰذا میٹھے اور پیار دینوں کی مجلسوں سے محفوظ ہو جائیں۔

صفحہ ۹۵

چلے جاؤ یا وہاں سے گزر ہو تو فوراً وہاں سے اُٹھ کھڑے ہو اور ان سے اپنا منہ پھیر لو حتیٰ کہ وہ اپنی ان خباثتوں سے باز آجائیں۔

محترم اسلامی بھائیو!

بدمذہبوں کی مجلس میں جانے سے ذہن بُرے وساوس سے دوچار تو ہوتا ہی ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ دو بڑی باتوں میں سے ایک تو ضرور لازم آئے گی:

کر رہے ہیں تو اگر تم کچھ اعتراض کرو گے تو فتنہ و فساد ہوگا اور اگر تم ان کو بُرا کہو گے تو ڈر ہے کہ وہ مزید گستاخیوں پر نہ اتر آئیں‘ کیونکہ وہ تو پہلے ہی گمراہ ہیں‘ گستاخانِ انبیاء ہیں‘ اور یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ وہ اسلام کے خلاف مزید بکواس کرنا شروع کر دیں۔

ہلاکت ہی ہلاکت ہے‘ اور بُرائی کو سن کر خاموشی اختیار کرنے پر گونگے شیطان بنو گے کیونکہ حدیث مبارکہ میں اس کے بارے ارشاد ہوتا ہے جو حق بات بولنے سے خاموش رہا گویا کہ وہ گونگا شیطان ہے۔

لہٰذا میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! بھلائی وعافیت اسی میں ہے کہ ان خبیثوں‘ بے دینوں کی مجلسوں سے مکمل طور پر بائیکاٹ ہی کر دیا جائے تا کہ ان دونوں آفتوں سے محفوظ ہو جائیں۔

PDF 96
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا یاد اس کی اپنی عادت کیجئے

جیت آخر عشق کی

مؤلف حضرت محمد وقاص عطاری مولانا ابوذر سلمہ الباری