توہین رسالت کا شرعی حکم · مولانا ساجد خان اتکوی
Toheen-e-Risalat ka Shari Hukam · Maulana Sajid Khan Atalvi
PDF 1

وَمَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ ط

توہین رسالت

کا شرعی حکم

قرآن مجید، احادیث مفسرین، محدثین اور فقہائے کرام

کے 200 سے زائد حوالہ جات کی روشنی میں

﴿مولانا ساجد خان اتکوی﴾

فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی

مکتبہ ابوبکر عبداللہ

یوسف مارکیٹ غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور۔ فون:03334765634

صفحہ 2

توہین رسالت کا شرعی حکم اللّٰهُمَّ صَلِّ كَمَا صَلَّيْتَ إِنَّكَ اللّٰهُمَّ بَارِكْ كَمَا بَارَكْتَ إِنَّكَ

AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں

نام کتاب : توہین رسالت کا شرعی حکم ترتیب : مولانا ساجد خان اٹکوی باہتمام : حافظ محمد حسن اشاعت : مئی 2012ء ناشر : یوسف مارکیٹ 38۔ اردو بازار لاہور۔فون: 03304765634 قیمت : 200:00 روپے

ضروری گذارش: ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے دینی کتب میں عمداً غلطی کا تصور نہیں کر سکتے۔ تاہم انسان ، انسان ہے، سہواً اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو ہمیں مطلع فرمائیں تا کہ آئندہ ایڈیشن میں تصحیح ہو سکے۔ ادارہ

سٹاکسٹ: عمر پبلی کیشنز یوسف مارکیٹ اردو بازار لاہور۔فون: 37356963

مکتبہ سید احمد شہید اردو بازار لاہور دارالاشاعت اردو بازار کراچی ادارہ المعارف دارالعلوم کراچی مکتبۃ القرآن بنوری ٹاؤن کراچی مکتبہ رشیدیہ سرکی روڈ کوئٹہ نورانی کتب خانہ میزان چوک کوئٹہ اشرف بک ایجنسی کمیٹی چوک راولپنڈی یونیورسٹی بک ایجنسی خیبر بازار کراچی کتب خانہ رشیدیہ راجہ بازار راولپنڈی اسلامی کتاب گھر خیابان سرسید راولپنڈی ملت پبلی کیشنز فیصل مسجد اسلام آباد مکتبہ احمد ڈیرہ اسماعیل خان بخاری کتاب گھر افغان سینٹر سکھر مکتبہ یوسفیہ بلدیہ شاپنگ سینٹر میر پور خاص

ان کے علاوہ ہر اچھی بک سٹال سے طلب فرمائیں۔

صفحہ 3

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

اللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

اللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰی اِبْرَاهِيْمَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ

صفحہ 4

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 4

فہرست مضامین

نمبر شمار باب عنوان صفحہ نمبر ۱ تقریظات ۵ ۲ اول گستاخ رسول قرآن کے آئینہ میں ۲۳ ۳ دوم گستاخ رسول احادیث کے آئینہ میں ۷۵ ۴ سوم گستاخ رسول اجماع امت کی روشنی میں ۱۲۱ ۵ چہارم گستاخ رسول فقہاء کرام کی نظر میں ۱۲۵ ۶ پنجم گستاخ رسول اور علماء دیوبند کا موقف ۱۳۹ ۷ ششم چند اہم سوالات اور جوابات ۱۵۷ ۸ فصل اول گستاخی کا مفہوم ۱۵۸ ۹ فصل دوم نیت کا مسئلہ ۱۶۴ ۱۰ فصل ثالث گستاخ رسول کی سزائے موت بطور حد ہے ۱۷۰ ۱۱ فصل رابع کیا گستاخ رسول سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا؟ ۱۷۶ ۱۲ فصل پنجم گستاخ رسول کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟ ۱۸۰ ۱۳ فصل ششم کیا امت کو حق حاصل ہے کہ گستاخ رسول کو معاف کرے؟ ۱۸۸ ۱۴ فصل ہفتم گستاخ رسول کو کافر نہ ماننے والا بھی کافر ہے ۱۹۱ ۱۵ فصل ہشتم گستاخ پر سزائے موت کون جاری کرے گا؟ ۱۹۳ ۱۶ فصل نہم گستاخوں کا بدترین انجام ۱۹۷ ۱۷ ضمیمہ ۲۰۸

صفحہ 5

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

تقریظ

استاذ العلماء،مفسر قرآن،شیخ التفسیر حضرت مولانا ابوطاہر محمد اسحاق خان المدنی دامت فیوضہم چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم متحدہ عرب امارات (دبئی)

الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على أشرف الأنبياء وسيد المرسلين محمد وعلى آله وصحبه أجمعين ومن اهتدى بهديه و دعا بدعوته واستن بسنته وسار على دربه إلى يوم الدين وبعد!

فاضل نوجوان مولانا ساجد خان صاحب اتکوی المحترم فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی نے اپنا تحریر کردہ رسالہ ”توہین رسالت کا شرعی حکم قرآن وسنت کی روشنی میں“ اپنے ایک شاگرد کے ذریعے راقم آثم کے لئے ارسال کیا کہ اس پر تقریظ لکھیں، راقم آثم اپنی مصروفیات اور اپنی سستی اور کاہلی کی بنا پر اس کی فوری تعمیل نہ کرسکا، تا آنکہ موصوف کی طرف سے کئی مرتبہ ٹیلی فون کے ذریعے تاکید اور اصرار کے نتیجے میں آج اپنی ان ٹوٹی پھوٹی سطور کی تحریر کے ذریعے حاضر ہورہا ہوں وبالله التوفيق وإياه أسأل القبول۔

توہین رسالت کا جرم ایک بڑا ہی سنگین اور انتہائی ہولناک جرم ہے، جو ایسے لوگوں کے لئے عذاب مبین (رسوا کن عذاب) کا باعث بنتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنٰتٍ وَلِلْكٰفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ

سورة المجادلة، الآية: ۵۔

یعنی بلاشبہ جو لوگ مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ، وہ خوار ہوئے جیسا کہ وہ لوگ خوار ہوئے جو ان سے پہلے تھے ، اور یقیناً ہم نے اتار دیں کھول کر بیان کرنے والی آیتیں، اور کافروں کیلئے بڑا رسوا کن عذاب ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا:

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا

سورة الأحزاب، الآية: ۵۷۔

یعنی جن لوگوں نے ایذا پہنچائی اللہ اور اس کے رسول کو ، ان پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے دنیا میں

4 AAAAAAA صفحہ نمبر ۵ ۲۳ ۷۵ ن میں ۱۲۱ ۱۲۵ ف ۱۴۹ ۱۵۷ ۱۵۸ ۱۶۴ ہے ۱۷۰ گا؟ ۱۷۶ ۱۸۰ اف کرے؟ ۱۸۸ ۱۹۱ ۱۹۳ ۱۹۷ ۲۰۸

صفحہ 6

توہین رسالت کا شرعی حکم

بھی اور آخرت میں بھی، اور اللہ نے ان کے لئے تیار کر رکھا ہے ایک بڑا ہی رسوا کن عذاب۔

سو اس طرح کی مختلف نصوص کریمہ سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ توہین رسالت کا جرم ایک بڑا ہی سنگین اور انتہائی ہولناک جرم ہے، اس سے استنباط کرتے ہوئے حضرت علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہانت رسول کا ارتکاب کرنے والا گستاخ رسول کافر ہے، کیونکہ قرآن حکیم میں عذاب مھین (رسوا کن عذاب) کا ذکر کافروں ہی کے حق میں فرمایا گیا ہے، چنانچہ حضرت امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول" میں اس بارہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:

"ولم يجئ إعداد العذاب المهين في القرآن إلا في حق الكفار" ......

یعنی قرآن کریم میں عذاب مہین (رسوا کن عذاب) کی تیاری کا ذکر کفار و منکرین ہی کے حق میں ہوا ہے۔ (والعیاذ باللہ) اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ حضرات انبیاء ورسل کی ہستیاں ہی وہ پاکیزہ ہستیاں ہیں جن کے ذریعے دنیائے انسانیت کو حق و ہدایت کی وہ راہ نصیب ہوتی ہے، جس پر چل کر وہ اپنے خالق و مالک کی ذات وصفات اور اس کے حقوق واختیارات کی معرفت سے سرفراز و سرشار ہو سکتی ہے، اور اسی پر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی موقوف ہے اور خاتم الانبیاء والرسل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت اور تشریف آوری کے سلسلہ نبوت و رسالت چونکہ منقطع ہو گیا ہے، اس لئے اب تبلیغ حق اور ادائے رسالت کی یہ ذمہ داری بحیثیت مجموعی آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی امت پر عائد ہوتی ہے، جس میں سرفہرست حضرات صحابہ کرام کی وہ قدسی صفت جماعت ہے جن کی تعلیم وتربیت بذات خود حضرت رسالت مآب ﷺ نے فرمائی اور جن کو قرآن حکیم میں صاف اور صریح طور پر رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کی عظیم الشان اور بے مثال سند تعریف وتوصیف سے نوازا گیا، جنھوں نے حضرت رسالت مآب ﷺ سے نور حق و ہدایت کی دولت بے مثال کو بلا واسطہ اور براہ راست اپنایا، اس لئے حضرت رسالت مآب ﷺ کے بعد امت کے سب سے بڑے محسن حضرات صحابہ کرام ہی ہیں۔ اور ایسے اور اس قدر کہ حضرت رسالت مآب ﷺ نے ان کی محبت کو اپنی محبت کی علامت اور ان کی ایذارسانی کو اپنی ایذارسانی کا باعث قرار دیا، چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن مغفل المزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس بارہ ارشاد فرمایا:

توہین رسالت کا شرعی حکم

الله الله في أصحابي فبحبي أحبهم ومن أبغض ومن آذاني فقد آذى الله

یعنی لوگو! خبردار میرے صحابہ کو (اپنے اعتراضات اور تنقید اس نے مجھ سے محبت کی، اور ج سے بغض رکھا، اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی، اس نے اللہ کو ایذ اللہ اس کو پکڑے (اور اس کو جہنم

سو حضرات انبیاء ورسل ا کا تقاضا اور دین حنیف کی بنیادی کا ارتکاب ایسا ہولناک خسارہ اور کو ڈھا دینے والا ہے۔ والعیاذ باللہ

اس لئے حضرات علماء ک کو پوری طرح واضح فرمایا اور اس کفر اور باعث قتل جرم ہے۔ والعیاذ

فاضل نوجوان جناب مو کا یہ رسالہ بھی اسی سلسلہ ذھبیہ کی ایک کی نصوص کریمہ، اجماع امت ، اور مسئلہ کو پوری طرح نکھار کر اور واض

فجزاه الله

اور پھر موصوف نے جس واضح ہوتا ہے کہ آپ نے یہ سب اور بھر پور محنت سے لکھا۔ اللہ تعالیٰ

صفحہ 7

توہین رسالت کا شرعی حکم

اللَّهَ اللَّهَ فی أصحابی لا تتخذوہم غرضاً من بعدی فمن أحبہم فبحبی أحبہم ومن أبغضہم فببغضی أبغضہم ومن آذاہم فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ ومن آذی اللہ یوشک أن یاخذہ

(ترمذی )

یعنی لوگو! خبردار میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، میرے بعد ان کو (اپنے اعتراضات اور تنقیدات) نشانہ نہیں بنانا، کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے میری وجہ سے ان سے بغض رکھا، اور جس نے ان کو ایذا پہنچائی اس نے مجھ کو ایذا پہنچائی اور جس نے مجھ کو ایذا پہنچائی، اس نے اللہ کو ایذا پہنچائی ، اور جس نے اللہ کو ایذا پہنچائی قریب ہے کہ اللہ اس کو پکڑے ( اور اس کو پنجۂ گرفت وعذاب میں جکڑے والعیاذ باللہ۔

سو حضرات انبیاء ورسل اور حضرات صحابہ کرام سے محبت اور ان سے تعلق ایمان کا تقاضا اور دین حنیف کی بنیادی تعلیمات میں سے ہیں، ایسے میں توہین رسالت کے جرم کا ارتکاب ایسا ہولناک خسارہ اور اس قدر سنگین جرم ہے جو انسان کے دین وایمان کی عمارت کو ڈھا دینے والا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم

اس لئے حضرات علماء کرام نے سلف وخلف کے جملہ ادوار میں بارہا قلم اٹھایا اور حق کو پوری طرح واضح فرمایا اور اس امر کی تصریح فرمائی کہ توہین رسالت کا جرم موجب کفر اور باعث قتل جرم ہے۔ والعیاذ باللہ۔

فاضل نوجوان جناب مولانا ساجد خان صاحب اٹکوی فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی کا یہ رسالہ بھی اسی سلسلہ ذھبیہ کی ایک اہم اور تازہ کڑی ہے، جس میں موصوف نے قرآن وسنت کی نصوص کریمہ، اجماع امت، اور سلف وخلف کے علماء حق کی گراں قدر کاوشوں کی روشنی میں اس مسئلہ کو پوری طرح نکھار کر اور واضح کر کے پیش کر دیا،

فجزاہ اللہ خیراً فی الدنیا والآخرۃ۔

اور پھر موصوف نے جو کچھ لکھا الفاظ وکلمات کی روشنی اور بین السطور کی عکاسی سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے یہ سب کچھ پورے صدق واخلاص دینی جذبہ، ایمانی غیرت اور بھر پور حماس سے لکھا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کو قبول فرما کر امت مسلمہ کے لئے

صفحہ 8

توہین رسالت کا شرعی حکم ۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸۸ 8

رہنمائی و روشنی کا ذریعہ اور موصوف کیلئے صدقہ جاریہ اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا وسیلہ بنائے۔ آمین۔

وإنه تعالى سميع قريب مجيب وعلى مايشاء قدير ، وهو الهادي إلى سواء السبيل فعليه نتوكل وبه نستعين في كل آن وحين ، وصلى الله تعالى على البشير النذير، النبي الأمي الكريم نبينا محمد وعلى آله و صحبه وسلم ماتلوح هذه الأسطر والكلمات۔

كتبه ببنانه العبد المفتقر إلى رحمة ربه الغني الصمد محمد إسحاق خان المدني ۲۹ / رجب / ۱۴۳۲ھ

توہین رسالت کا شرعی حکم ۸۸۸ استاذ العلماء، مرشد المجاہدین شیخ الحدیث نحمده و تحفظ ناموس رسالت مسلمان خواہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ گستاخی برداشت نہیں کر سکتا ، اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھیں جی ”امام السبکی رحمۃ اللہ کی ”السیف ا شامی رحمۃ اللہ کی ”تنبیہ الولاۃ و ہماری پیش نظر کتاب اللہ تعالیٰ ورعاہ کی تالیف ہے، مبارکہ کے علاوہ مفسرین ومحدثین کی ہے کہ گستاخ رسول خارج بطور حد کے ہے، جو توبہ سے سا کوشش کو اپنے دربار میں شرف کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔ (حضرت مولانا

صفحہ 9

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

تقریظ

اُستاذ العلماء، مرشد المجاہدین حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ شیخ الحدیث جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم أما بعد!

تحفظ ناموس رسالت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ اور اس کی اولین ذمہ داری ہے، مسلمان خواہ کتنا ہی گنہگار کیوں ہو، لیکن وہ اپنے آقائے دو عالم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا، اسی بات کی اہمیت کے پیش نظر علماء امت نے توہین رسالت کے موضوع پر مستقل کتابیں لکھیں ہیں، جن میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ”الصارم المسلول“ ، امام السبکی رحمہ اللہ کی ”السيف المسلول“ قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ کی ”الشفاء“ اور علامہ شامی رحمہ اللہ کی ”تنبيه الولاة و الحکام“ مشہور ہیں۔

ہماری پیش نظر کتاب ”توہین رسالت کا شرعی حکم“ مولانا ساجد خان اتکوئی حفظہ اللہ تعالیٰ ورعاہ کی تالیف ہے، جس میں انھوں نے قرآن مجید کی تیرہ آیات اور سولہ احادیث مبارکہ کے علاوہ مفسرین ومحدثین اور فقہاء امت کے دوصد سے زائد حوالوں سے یہ بات ثابت کی ہے کہ گستاخ رسول خارج از اسلام اور واجب القتل ہے، اور اس کی یہ سزائے موت بطور حد کے ہے، جو توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتی ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ فاضل مولف کی اس کوشش کو اپنے دربار میں شرف قبولیت عطا فرمائے اور اس کتاب کو مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کا ذریعہ بنائے ۔ آمین۔

(حضرت مولانا ڈاکٹر) شیر علی شاہ (صاحب دامت برکاتہم العالیہ) ۲۰۱۱/۰۶/۱۶

صفحہ 10

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 10

شاہین ختم نبوت، مناظر اسلام حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب زید مجدہم

مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

باسمہ تعالیٰ وتقدس!

گستاخ رسول کی سزا قتل ، یا گستاخ رسول واجب القتل کے الفاظ بہت کثرت سے استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے بادی النظر میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے، اور یہ انتہاء پسندی ہے، یہ وہ پروپیگنڈہ ہے جو ہماری گفتگو یا تحریر پر عام لوگ کرتے ہیں، جب کہ یہ بات واقعہ کے خلاف ہے، گستاخ رسول کی سزا قتل یہ ایک حکم شرعی کا بیان ہے، اس حکم شرعی کے مطابق فیصلے کا ایک طریق کار ہے، جیسے قتل کا بدلہ قتل، لیکن قاتل کو سزا دینے کا ایک عدالتی طریق کار ہے، چور کی سزا قطع ید لیکن چور کو سزا دینا یعنی چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا پر عمل درآمد کا ایک عدالتی طریق کار ہے، اسی طرح گستاخ رسول کا جرم سرزد ہونے پر ملزم کو قانون کے سپرد کیا جائے گا، پرچہ کا اندراج، کیس کی عدالتی سطح پر سماعت، اس کے بعد جرم ثابت ہو جائے تو جج اسلامی سزا دینے لگے تو سوائے سزائے موت کے اور کوئی سزا نہیں دے سکتا، جیسے ۳۰۲ کے ملزم کی سزا سزائے موت، لیکن فیصلہ جج کرے گا، سزا حکومت دے گی، یہی حکم گستاخ رسول کے مجرم سے متعلق ہے، اس وضاحت کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ہمارے فاضل دوست مولانا ساجد خان اٹکوی جو پاکستان کے معروف دینی جامعہ دارالعلوم کورنگی کراچی کے فارغ التحصیل ہیں، انھوں نے کتاب لکھی ہے، اس کا نام ”توہین رسالت کا شرعی حکم قرآن وسنت کی روشنی میں“، اس میں آپ نے بڑی عرق ریزی سے قرآن وسنت کے حوالہ سے زیر بحث مسئلہ پر عالمانہ ، فاضلانہ بحث کی ہے، فقیر نے سرسری جہاں جہاں سے دیکھا دل باغ باغ ہو گیا، اس میں جگہ جگہ شرعی حکم کا بیان ہے، نہ کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی ترغیب ، مولف کی محنت لائق ستائش و قابل فخر، امید ہے کہ اہل علم اس سے فائدہ حاصل کریں گے۔

والسلام فقیر اللہ وسایا خادم ختم نبوت ملتان

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAA

محقق العصر، صاحب قلم وقار

الحمد لحضرة الجلالة و محبت رسول ﷺ اور آ ہے، ہر دور میں مسلمانوں نے شاتمین اس دور کا المیہ یہ ہے کہ گلوبلائزیشن کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے، نفس اس ہستی ﷺ جو کہ اس امت ایسا ہی ہے جیسے کوئی پاگل سورج، چاند اس سے پانی کے شفاف ہونے، ہو پڑتا، حالانکہ اس ذات بابرکات ہ إنا كفيناك المستهزئين ترجمہ کے لئے کافی ہیں، (حجر ۹۵) واللہ یع شر سے بچا کر رکھنے والا ہے (مائدہ بے نام ونشان اور جڑ کٹا رہے گا۔ (ا اسی طرح کی بہت سی آیا والوں کے دنیا اور آخرت میں رسوا رسالت کا شرعی حکم قرآن وسنت کی فقہی اور روحانی عظیم کاوش ہے، مو تقسیم کر کے نہایت بہترین تحقیقی م مسلسل اسفار کی وجہ سے مکمل مطا وتحقیق کا بحر بیکراں پایا ، اللہ تعالیٰ م اور تعمیری خدمات کی توفیق رفیق ہ وصلى الله تعالى على

صفحہ 11

توہین رسالت کا شرعی حکم

محقق العصر، صاحب قلم وقرطاس حضرت مولانا عبدالقیوم حقانی صاحب مدظلہم

مدیر جامعہ ابوہریرہ نوشہرہ

الحمد لحضرة الجلالة والصلوة والسلام على خاتم الرسالة أما بعد!

محبت رسول ﷺ اور آپ ﷺ کے عزت و ناموس پر قربان ہونا ایمان کا حصہ ہے، ہر دور میں مسلمانوں نے شاتمین رسالت کا جو انجام کیا ہے تاریخ اس سے بھری پڑی ہے، اس دور کا المیہ یہ ہے کہ گلوبلائزیشن نے مسلمانوں کو ان کے اجتماعی مفاد کے لئے متحد ہو جانے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے، نفس پرستی اور منافقت کے اس دور میں شیطانی ہذیان زدہ لوگ اس ہستی ﷺ جو کہ اس امت کے لئے آخری شمع و مرجع ہیں کو ہدف بنا رہے ہیں، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پاگل سورج، پانی اور ہوا کو گالی دے، یا روشنی، موسم اور فضا کو برا بھلا کہے، تو اس سے پانی کے شفاف ہونے، سورج کے منور ہونے اور ہوا کے معطر ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا، حالانکہ اس ذات با برکات ہستی کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے، ارشاد ہے : إنا كفيناك المستهزئين ترجمہ: آپ کا مذاق اڑانے والوں کے خلاف ہم آپ کی حمایت کے لئے کافی ہیں، (حجر 95) والله يعصمك من الناس ترجمہ: اور اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے بچا کر رکھنے والا ہے (مائدہ 67) إن شانئك هو الأبتر ترجمہ: اور یقیناً تمھارا دشمن ہی بے نام و نشان اور جڑ کٹا رہے گا۔ (الکوثر)

اسی طرح کی بہت سی آیات جن میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دینے والوں کے دنیا اور آخرت میں رسوا کن عذاب کی خبریں دی گئی ہیں، زیر نظر کتاب ”توہین رسالت کا شرعی حکم قرآن وسنت کی روشنی میں“ مولانا ساجد خان اتکوی کی تازہ ترین علمی تحقیقی، فقہی اور روحانی عظیم کاوش ہے، مولانا اتکوی نے اپنی کتاب کو پانچ ابواب اور مختلف فصلوں میں تقسیم کر کے نہایت بہترین تحقیقی طور پر مرتب فرمائی ہے، احقر نے سفر عمرہ اور پھر اندرون ملک مسلسل اسفار کی وجہ سے مکمل مطالعہ تو نہ کر سکا البتہ بعض مقامات سے دیکھنے کا موقع ملا، تو علم و تحقیق کا بحر بیکراں پایا، اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس سعی کو قبول ومقبول فرمائے اور مزید علمی و تحقیقی اور تعمیری خدمات کی توفیق رفیق ہوں۔

وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد و آله واصحابه اجمعين ۔

(حضرت مولانا) عبد القیوم حقانی (مدظلہم)

صفحہ 12

توہین رسالت کا شرعی حکم

محقق بے بدل، عالم باعمل، حضرت مولانا حافظ نثار احمد الحسینی مدظلہم

حضرو اٹک

بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لوليه والصلوة والسلام على نبيه سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔ أما بعد!

حضور نبی کریم ﷺ کے حقوق کا تحفظ امت کی اہم ذمہ داریوں اور ایمان کے بنیادی تقاضوں میں ہے، اس دور میں اسلام دشمن ذرائع ابلاغ کا سب سے بڑا ہدف حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہیں، اسی طرح مغرب کے کاسہ لیس مسلم حکمرانوں نے بھی انھیں مسلم ممالک میں کھلی چھٹی دے رکھی ہے، ان حالات میں آپ ﷺ کے محاسن کا بیان اور آپ ﷺ پر مغرب اور مغرب پسند طبقہ کے مطاعن کا جواب ایک بڑی عبادت اور رب تعالیٰ کی رضا کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا ساجد خان اٹکوی دامت برکاتہم کو جزائے خیر سے نوازیں کہ انھوں نے ”توہین رسالت کا شرعی حکم“ لکھ کر حضور انور ﷺ کے حقوق و آداب کے تحفظ اور گستاخی و بے ادبی کے قبائح اور ان کے شرعی احکام کو دلائل و براہین سے واضح کر دیا ہے۔

یہودی پروپیگنڈہ کے زیر اثر اور کبھی ان کی خوشامد کے لئے بعض بدبخت مسلمان بھی بے ادبی اور گستاخی کی راہوں پر چل نکلتے ہیں، اور گستاخانِ رسول کے لئے راستہ بناتے رہتے ہیں، ان حالات میں ضروری تھا کہ اس مسئلہ کے شرعی پہلوؤں کو واضح کیا جائے، ماشاء اللہ مولانا ساجد خان اٹکوی دامت برکاتہم نے وقت کی اس اہم ضرورت کو پورا کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا ساجد خان اٹکوی مدظلہ کی اس محنت کو قبول و مقبول فرمائے ان کے لئے سعادت دارین کا وسیلہ بنائے اور انھیں مزید حسنات کی توفیق نصیب فرمائے۔

آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم۔ (حضرت مولانا) حافظ نثار احمد الحسینی (مدظلہم) ۳/شعبان/۱۴۳۲ھ

صفحہ 13

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

استاذ العلماء، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالسلام صاحب زید مجدہم جامعہ عربیہ اشاعت القرآن حضرو اٹک بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم اما بعد:

”توہین رسالت کا شرعی حکم قرآن وسنت کی روشنی میں“ اس کتاب کا مسودہ فاضل عزیز مولوی سیف الرحمٰن صاحب کے ہاتھوں ملا، اس مجلس میں اس کی فہرست مضامین جو چودہ عنوانوں پر مشتمل ہے جس میں تقریباً توہین رسالت کے بارے میں پیدا ہونے والے ہر سوال کا قرآن وسنت اور فقہاء کرام کی تحقیق کی روشنی میں مدلل، مفصل عام فہم جواب دیا گیا ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ، عوام ہوں یا علمائے کرام دونوں کے لئے اس موضوع پر یہ کتاب مفید اور بہترین ہے۔ عیاں را چہ بیاں اور خوشبو آں باشد کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔

اس کتاب کے مطالعہ کرنے پر جو خوبیاں راقم نے لکھی ہیں، ان شاء اللہ اس سے زیادہ اس کتاب کی خوبیاں ہر قاری پر واضح ہوں گی۔ اور اس موضوع پر تمام شکوک وشبہات جو دانستہ یا نا دانستہ پیش آتے ہیں اس کتاب کے مطالعہ سے ان کا ازالہ ہو جائے گا۔

اس کتاب کے مصنف فاضل مولانا ساجد خان اٹکوی دامت فیوضہم فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی کو اس تصنیف پر اللہ کریم اجر عظیم عطا فرمائے اور اس کتاب کو اپنے دربار میں شرف قبولیت عطا فرمائے۔

(شیخ الحدیث حضرت مولانا) عبدالسلام (صاحب زید مجدہم) یکم شعبان ۱۴۳۲ھ

صفحہ 14

توہین رسالت کا شرعی حکم

وکیل احناف، متکلم اسلام، حضرت مولانا محمد الیاس گھمن صاحب زید مجدہم

ناظم اعلیٰ اتحاد اہل السنۃ والجماعۃ پاکستان

الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، أما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم: ﴿إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ﴾

سورة الأحزاب، الآية: ۵۷۔

ترجمہ: بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے، اور ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (ترجمہ حضرت تھانویؒ)

انسان کی رشد و ہدایت کے لئے خالق کائنات نے اپنے منتخب نمائندوں کو دنیا میں بھیجا، جنھیں نبی اور رسول کہتے ہیں، حضرات انبیاء علیہم السلام نے جہاں اللہ تعالیٰ کی توحید کا پرچار کیا وہاں اپنی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت بھی دی، ہر نبی کی دعوت پر لبیک کہنے والے بھی تھے، اور مخالفت کرنے والے بھی، اللہ رب العزت نے انبیاء علیہم السلام کی مخالفت کرنے والوں، ایذا دینے والوں اور ان کی دعوت ایمان قبول نہ کرنے والوں کے بارے میں دنیا و آخرت میں سخت عذاب کی وعید سنائی ہے۔

حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی بشمول تمام انبیاء علیہم السلام ہمارے ایمان کی بنیاد ہے، اگر ان ذوات قدسیہ کی ذات، عزت و ناموس محفوظ ہے، تو مکمل دین محفوظ ہے، اور اگر ان کی ذات مجروح ہے تو پھر پورے دین کا محفوظ رہنا ناممکن ہے، اگر کوئی شخص رسول اقدس ﷺ یا دیگر انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی ذات گرامی سے متعلق نازیبا کلمات کہے، ان حضرات کی توہین و گستاخی کرے، تو ایسے شخص کو دنیا میں زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، شریعت اسلامیہ میں ایسے ملعون کی سزا صرف اور صرف قتل ہے، ہر نبی چونکہ اللہ تعالیٰ فرستادہ اور نمائندہ ہوتا ہے، اس لئے نمائندہ کی شان میں گستاخی کرنا دراصل اس ذات کی گستاخی ہے جس کا یہ نمائندہ ہے، تو خالق کائنات جل مجدہ کی گستاخی ایسا عظیم جرم ہے کہ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ

توہین رسالت کا شرعی حکم ایسے شخص کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے، ناموس رسالت کا مسئلہ چونکہ دین م مستقلاً بیان کیا ہے، اس کے جزئیات اٹھائے، علامہ تقی الدین احمد بن تیمیہ کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول عبدالکافی السبکی رحمہ اللہ (متوفی ۷۵۶ھ) سے کتاب تحریر فرمائی۔ خاتمۃ المحققین ۱۲۵۲ھ) نے ”تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام والسلام“ کے نام سے مستقل رسالہ تصنیف مذکورہ تصانیف میں قرآن، سنت، اجماع کیا گیا کہ شاتم رسول ﷺ کی سزا صر

موجودہ دور میں ”آسیہ“ نامی میں گستاخی کی، تو بعض حلقوں کی جانب گستاخ کی سزا قتل نہیں ہے، اللہ تعالیٰ سلمہ کو کہ انھوں نے اس مسئلہ پر قلم اٹھا اور فقہاء امت کی عبارات مسلمہ سے وا سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، مولف کا حل، بعض مجملات کی وضاحتیں اور کا تعلق کتاب پڑھنے کے ساتھ ہے، پر مولف سلمہ نے ان کی اصلاح فرما ہے کہ اللہ تعالیٰ مولف کو جزائے خیر ع امت مسلمہ کے لئے اس کتاب کو نافع (حضرت)

صفحہ 15

توہین رسالت کا شرعی حکم

ایسے شخص کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے ، اور اس کے وجود نامسعود سے زمین کو پاک کر دیا جائے ۔ ناموس رسالت کا مسئلہ چونکہ دین میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اس لئے علماء امت نے اسے مستقلاً بیان کیا ہے، اس کے جزئیات اور اطلاقات کو واضح کیا ہے، مختلف ادوار میں اس پر قلم اٹھائے ، علامہ تقی الدین احمد بن تیمیہ رحمہ اللہ (متوفی ۷۲۸ھ) نے اس موضوع پر نہایت وقیع کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ تصنیف فرمائی ۔ شیخ الاسلام علامہ تقی الدین علی بن عبدالکافی السبکی رحمہ اللہ (متوفی ۷۵۶ھ) نے ”السیف المسلول علی من سب الرسول“ کے نام سے کتاب تحریر فرمائی ۔ خاتمۃ المحققین علامہ سید محمد امین ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ (متوفی ۱۲۵۲ھ) نے ”تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام او احد اصحابہ الکرام علیہ وعلیہم الصلوۃ والسلام“ کے نام سے مستقل رسالہ تصنیف فرمایا۔ اور متقدمین و متاخرین کی آراء کو جمع فرمایا۔ مذکورہ تصانیف میں قرآن، سنت، اجماع اور امت مسلمہ کے فقہاء محققین علماء کی آراء سے واضح کیا گیا کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سزا صرف ”قتل“ ہے۔

موجودہ دور میں ”آسیہ“ نامی عیسائی عورت نے جب شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کی، تو بعض حلقوں کی جانب سے بڑی شدت سے یہ نظریہ پیش کیا جانے لگا کہ گستاخ کی سزا قتل نہیں ہے، اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے عزیزم مولانا ساجد خان اتنوی سلمہ کو کہ انھوں نے اس مسئلہ پر قلم اٹھایا، موصوف نے بڑی محنت سے قرآن، سنت، اجماع اور فقہاء امت کی عبارات مسلمہ سے واضح کیا کہ گستاخ کی سزا قتل ہی ہے، کسی بھی فرد کو اس سزا میں کمی بیشی کا اختیار نہیں ہے، مولف موصوف سلمہ نے اس مسئلہ سے متعلق بعض شبہات کا حل، بعض مجملات کی وضاحتیں اور بعض عبارات کو بہت عمدہ طریقے سے حل کیا ہے، جن کا تعلق کتاب پڑھنے کے ساتھ ہے، کتاب میں بعض چیزیں قابل اشکال تھیں، راقم کی نشاندہی پر مولف سلمہ نے ان کی اصلاح فرمادی ہے جو کہ موصوف کی دیانت داری کا ثبوت ہے، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولف کو جزائے خیر عطا فرمائے ان کی محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور امت مسلمہ کے لئے اس کتاب کو نافع بنائے ۔ آمین ۔

والسلام (حضرت مولانا) محمد الیاس گھمن (زید مجدہم) ۲۰۱۱/۰۶/۲۵

صفحہ 16

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 16

ترجمان اہل حق ، حضرت مولانا قاری عبدالوحید قاسمی صاحب مدظلہم

سیکرٹری جنرل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد

گستاخ رسول کی ایک ہی سزا............ سر تن سے جدا سر تن سے جدا

الحمدللہ بندۂ ناچیز نے عاشق مصطفیٰ حضرت مولانا ساجد خان صاحب اتکوی مدظلہ کی کتاب ”توہین رسالت کا شرعی حکم“ شروع سے آخر تک حرف بہ حرف پڑھی، سرور دل اور حرارت ایمانی میں اضافہ ہوا، اتکوی صاحب مدظلہ نے عشق رسول ﷺ میں ڈوب کر دلائل شریعت آپ ﷺ کے دور سے آج کے سمندر کو کیپسول میں بند کر کے ایک طرف تو ان گستاخان رسول کے طوفان بدتمیزی کا رخ موڑ کر سد سکندری حائل کر دی، دوسری طرف امت مسلمہ کو عشق رسول ﷺ کا ایک نادر تحفہ بھی عطا کر دیا، یہ اس لئے کہ حضرت اتکوی صاحب مدظلہ کے سامنے حضرت امام مالک کا وہ ارشاد تھا جو کہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے: ”کہ اگر کوئی شخص اپنے نبی ﷺ کی گستاخی سن کر خاموش رہے، تو وہ شخص اس نبی کی امت سے خارج ہو جاتا ہے۔“ آج امت مسلمہ جس پستی و زبوں حالی کا شکار ہے اس میں غیروں سے کیا گلہ کریں خود مسلمان خصوصاً اہل علم بھی غفلت کی نیند سوئے ہوئے ہیں الا ماشاء اللہ۔ مگر حضرت اتکوی صاحب نے امت مسلمہ کو جگانے کے لئے یہ کتاب لکھ کر اہم کردار ادا کیا، اللہ مزید زور قلم نصیب فرمائے۔ آمین۔

حضرت اتکوی صاحب نے اپنی کتاب کی ابتدا قرآنی آیات سے کی ہے:

قرآن سے سزا گستاخ رسول کی پوچھی ہر آیت قرآن نے کہا موت ہے بس موت
یہی ہے میرے دین کا مذہب کا ملکی آئین کا تقاضا گستاخ کو صفحہ ہستی سے مٹا دو
گستاخ رسول نے مانگی ہے معافی تو کیا ہوا یہ جرم ناقابل معافی ہے بتا دو
یہ بلا آئی ہے ہم سب کو جگانے کے لئے غیرت ایمانی ہماری آزمانے کے لئے
دوستو آؤ محمد ﷺ پر نچھاور کریں تار جتنے بھی بقایا ہیں گریبانوں میں

اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عروج نصیب فرمائے ، گمراہ لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائے اور ہر گھر اور دفتر میں پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ غیب سے اسباب مہیا فرمائے اور حضرت اتکوی صاحب کے لئے حوض کوثر اور شفاعت محمدی ﷺ کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

(حضرت مولانا) قاری عبدالوحید قاسمی (مدظلہم)

صفحہ 17

توہین رسالت کا شرعی حکم

تقریظ

مخدوم العلماء، شیخ الحدیث حضرت مولانا نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم

شیخ الحدیث جامعہ مدنیہ (قدیم) لاہور

ناموس رسالت کے تحفظ کا مسئلہ جس قدر حساس ہے اسی قدر نازک بھی ہے، اگر نبی و رسول کی عزت و ناموس محفوظ ہے، تو نبوت و رسالت اور دین و شریعت محفوظ ہے، اور اگر خدانخواستہ ناموس رسالت پر آنچ آتی ہے تو اس سے نہ نبوت و رسالت محفوظ رہتی ہے اور نہ ہی دین و شریعت باقی رہتی ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جگہ جگہ نبی علیہ السلام کی تعظیم و توقیر کا حکم دیا ہے، اور ان کی بے ادبی، اہانت اور ایذا کو جرم گردانتے ہوئے اس سے منع فرمایا ہے، اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ خاص نہیں رکھی، بلکہ تمام انبیاء و رسل کی عزت و ناموس کا معاملہ ایسا ہی رکھا ہے، چنانچہ ہر دور میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ نبی و رسول کی عزت و ناموس پر حملہ کرنے والا، توہین رسالت کا مرتکب، نبی کا گستاخ دین سے خارج اور قتل کی سزا کا مستوجب ہے، نہ اس کی توبہ قبول ہے، نہ اس کے لئے کسی قسم کی معافی ہے، جیسا کہ سابقہ دساتیر اس کے شاہد ہیں، آج کل کے کچھ مستشرق اور جدید مفکر دیگر بہت سے مسائل کی طرح اس متفق علیہ مسئلہ کو بھی شکوک و شبہات پیدا کر کے متنازعہ بنانے کی فکر میں ہیں، تاکہ گستاخانِ رسول کو کھیل کھیلنے کا موقع اور توہینِ رسالت کی جرأت و ہمت ہو سکے، اور اس طرح وہ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف اپنے دلی بغض و نفرت کا اظہار کر سکیں، ایسی صورت میں اہل اسلام کا فرض بنتا ہے کہ وہ ”تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت“ کے لئے اپنے اختلافات بھلا کر اکٹھے ہو جائیں، اور عالم کفر کو بتا دیں کہ وہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے لئے سب ایک ہیں، اور اس کیلئے اپنے تن من دھن کی بازی لگانے کے لئے تیار ہیں، علماء امت اور زعمائے ملت قدیم سے ان مسائل کی نشر و اشاعت اور ان عقائد کے تحفظ کی تحریراً و تقریراً کوشش و جد و جہد کرتے چلے آئے ہیں، شکر اللہ مساعیہم۔

پیش نظر کتاب ”توہین رسالت کا شرعی حکم“ بھی اسی سلسلہ کی ایک کاوش ہے، جسے ہمارے کرم فرما اور مہربان شخصیت مولانا ساجد خان اٹکوی فاضل دارالعلوم کراچی نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ ترتیب دیا ہے، ناچیز نے اس کتاب کو اول تا آخر پڑھا ہے یہ فاضل مصنف

صفحہ 18

توہین رسالت کا شرعی حکم

نے اپنے موقف کو آسان انداز میں بیان کر کے اسے کتاب وسنت اور فقہائے ملت کے اقوال سے مدلل ومبرہن کیا ہے، احقر کو یقین ہے کہ جو شخص بھی اس کتاب کو بنظر انصاف پڑھے گا، وہ ناموس رسالت کی اہمیت سے مطلع ہو کر توہین رسالت کی سزا قتل ہونے کے معاملہ میں کسی تذبذب کا شکار نہیں رہے گا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا موصوف کی اس سعی و کاوش کو قبول ومنظور فرما کر مزید سے مزید کی توفیق عطا فرمائے۔

(حضرت مولانا) نعیم الدین (صاحب دامت برکاتہم) ۸/رمضان/۱۴۴۲ھ

☆☆☆☆☆

توہین رسالت کا شرعی حکم

بقیۃ السلف ، ولی

نحمدہ

اللہ رب ذوالجلال حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے کو دو مضبوط ستونوں کتاب و عظمت کا دارو مدار اللہ پاک سرور کونین ﷺ کی ناموس و ہر مسلمان اپنی کروڑوں جانیں انہی سعادت مندوں القوی زید مجدہم ہیں، جنہوں چوکیداری کرتے ہوئے توہین حوالہ جات سے واشگاف کیا کاوش کو قبول فرمادیں اور دو

صفحہ 19

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAA 19

تقریظ

بقیۃ السلف، ولی کامل حضرت مولانا محمد حسن صاحب دامت برکاتہم

جامعہ محمدیہ چوبرجی لاہور

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اما بعد!

اللہ رب ذوالجلال کا بہت بڑا احسان و فضل ہے کہ انھوں نے اپنے دین مبین کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے، اور عالم اسباب میں اس کی حفاظت کا یوں انتظام فرمایا کہ اس کو دو مضبوط ستونوں کتاب اللہ، سنت رسول اللہ پر کھڑا کر دیا ہے، اور ان دو مضبوط ستونوں کی عظمت کا دارومدار اللہ پاک کے پیارے حبیب ، سید المرسلین ، خاتم النبیین ، فخر موجودات، سرور کونین ﷺ کی ناموس و عظمت کے تحفظ پر ہے، اور آپ کے ناموس کے تحفظ کے لئے ہر مسلمان اپنی کروڑوں جانیں قربان کرنا اور اپنا سب کچھ وارنا سعادت سمجھتا ہے۔

انہی سعادت مندوں میں سے ایک نیک سعادت مند ہمارے بھائی مولانا ساجد خان اٹکوی زید مجدہم ہیں، جنہوں نے بڑی محنت اور محبت سے بارگاہ اقدس ﷺ کی عظمت کی چوکیداری کرتے ہوئے توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے ازلی بدبختوں کی سزاؤں کو شرعی حوالہ جات سے واشگاف کیا ہے۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں التجاء ہے کہ وہ ان کی اس نیک کاوش کو قبول فرمادیں اور روز محشر میں شفاعت نبوی ﷺ کے حصول کا ذریعہ بنادے۔

(حضرت مولانا) محمد حسن (دامت برکاتہم) ۱۰/ رمضان المبارک / ۱۴۳۲ھ

صفحہ 20

توہین رسالت کا شرعی حکم

تقریظ

مناظر اسلام محی السنۃ، حضرت مولانا محمد اسماعیل محمدی صاحب دامت برکاتہم مدیر جامعہ محمدیہ شاہدرہ لاہور

باسمہ تعالیٰ :

اخلاق کی تعریف سے بے خبر لوگ عام طور پر یہ سوال کرتے ہیں کہ دین تلوار سے پھیلا ہے یا اخلاق سے؟ بنیادی طور پر یہ سوال اس لئے غلط ہے کہ انھوں نے نبوت کی تلوار کو اخلاق کے متضاد تصور کیا، نبوت دشمن کے لئے چادر بچھا دے تو نبوت کا اخلاق ہے، اور اگر کعب بن اشرف کو قتل کرا دے تو یہ بھی نبوت کا اخلاق ہے، تیرہ سال مکہ میں خاموشی رہے، یہ بھی اخلاق نبوی ہے، اور بدر و خندق میں کفار پر تلواریں برسائی جائیں یہ بھی نبوت کا اخلاق ہے، وحشی کو معاف کر دیں یہ بھی اخلاق نبوی ہے، ابن خطل کو حرم میں قتل کرا دیں یہ بھی اخلاق نبوی ہے۔ پیغمبر ﷺ کا ہر عمل اخلاق ہے، خلاق عالم کا اعلان ہے اِنَّكَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ جب جان لیوا کینسر کو بدن سے کاٹ کر نکالنے والے ڈاکٹر کو بداخلاق نہیں، بلکہ بااخلاق ماہر حاذق کہا جائے شکریہ ادا کیا جائے، تو ایمان لیوا گستاخ کو قتل کر کے معاشرے کو پاک کرنے والے کو بداخلاق کس طرح کہا جاسکتا ہے؟ جان بچانے والے ڈاکٹر کو فیس دی جائے اور شکریہ ادا کیا جائے، ایمان بچانے والے عاشق رسول ﷺ جس نے گستاخ کو اڑا کر ہمارے ایمان کی حفاظت کی ہے، کو دہشت گرد کہا جائے، اس سے بڑی حماقت کائنات میں اور کیا ہوگی؟

اسی سلسلے میں مولانا ساجد خان صاحب نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے کتاب لکھی ہے: ”توہین رسالت کا شرعی حکم“ پروردگار عالم اس کتاب کو نافع بنائے، موصوف کے لئے دارین میں فلاح کا ذریعہ بنائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم الی یوم الدین (حضرت مولانا) محمد اسماعیل محمدی (دامت برکاتہم)

صفحہ 21

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA بسم اللہ الرحمن الرحیم

عرض مؤلف

پچھلی کچھ صدیوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ یہود و نصاریٰ کی طرف سے اہل اسلام کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور ان کے مقدس تاریخی ورثے کا مذاق اڑانا ایک مستقل روایت بن چکی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کا ملمع لیبل لگا کر وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی گستاخ اور تنگ نظر پیغمبر اسلام ﷺ اور دوسرے مشاہیر امت کی شان میں زبان درازی اور تاریخی حقائق و واقعات میں تحریف کی جسارت کا مرتکب ہوتا رہتا ہے۔ موجودہ دور میں نام نہاد مذہبی آزادی اور رواداری کی علمبردار مغربی دنیا کے کئی ایک ممالک نے درجن بھر سے زائد اخبارات میں توہین آمیز خاکے شائع کر کے پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ اپنے بغض و عناد اور تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے۔ چنانچہ ۲ نومبر ۲۰۰۴ء کو ہالینڈ ، ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء کو ڈنمارک ، ۱۶ جون ۲۰۰۷ء کو برطانیہ اور ۲۸ مارچ ۲۰۰۸ء کو پھر ہالینڈ میں رونما ہونے والے دلخراش واقعات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ مغرب کی عیسائی دنیا کی ساری بحث و تحقیق اور تحریر و تقریر کا نچوڑ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس میں زبان درازی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ ایک ایسی مسلمہ تاریخی حقیقت ہے جو محتاج بیان نہیں۔

لیکن شاید مغربی دنیا آج تک اس بات کا ادراک نہ کر سکی کہ ایک مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن اپنے آقا ﷺ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ تحفظ ناموس رسالت ہر مؤمن کے دل کی آواز اور اس کی عقیدت و محبت کا اعزاز ہے۔ ہر مسلمان اپنے آقائے دو جہاں ﷺ کی عزت و توقیر اپنے ایمان کی بنیاد سمجھتا ہے۔ غلامی رسول مسلمان کا وہ اعزاز ہے جس پر وہ ہزاروں آزادیاں قربان کرنا اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو کہ ایک

صفحہ 22

توہین رسالت کا شرعی حکم

مومن کے دل کی خلوتوں سے ابھرتا ، آنکھوں سے عقیدت کے آنسوؤں کا خراج لیتا، دل کو ناموسِ رسالت پر مر مٹنے کے لئے آمادہ کرتا اور درگاہِ رسول پر فداکاری کے آداب سکھاتا ہے۔ یہی احساس اہل ایمان کی دولت ہے، یہی آنسو ان کی زندگی کا سرمایہ بے بہا ہے اور یہی کسک ان کے لئے توشہ دوجہاں ہے۔ یہی قرآنی تعلیمات کی تاثیر اور احکام ربانی کی تفسیر ہے۔

انفرادی سطح پر ہو یا اجتماعی سطح پر، ذاتی رائے ہو یا ملکی اور ریاستی قانون، عوام ہو یا حکمران ہر سطح اور ہر نہج پر مسلمانوں نے ہمیشہ تحفظ ناموسِ رسالت کا علم بلند کیا ہے چنانچہ آج بھی ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آئین میں 295/C کا شق موجود ہے جس کی رُو سے جرم ثابت ہونے پر توہین رسالت کے مرتکب کی سزا سزائے موت ہے۔ لیکن جہاں آئینی سطح پر ہمارے لئے یہ بات خوش آئند ہے وہاں علمی سطح پر آج ہماری عوام اس مسئلے کی نوعیت اور حقیقت سے آہستہ آہستہ غافل ہوتی جا رہی ہے۔ قرآن مجید توہین رسالت کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ کیا سنت نبوی میں گستاخ رسول کے لئے کوئی واضح حکم موجود ہے؟ کیا فقہاء امت نے اس مسئلے پر بحث کی ہے یا نہیں؟ اور اس جیسے اور کئی سوالات ایسے ہیں جو آج کل کثرت سے اٹھائے جارہے ہیں ، لیکن عام آدمی تو درکنار اکثر خواص بھی ان کے جوابات دینے سے معذور ہیں۔ اسی بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ چند اوراق لکھے گئے ہیں اور درحقیقت یہ اس باب میں کوئی حتمی کوشش یا آخری فتویٰ نہیں بلکہ اہل علم کی توجہ اس طرف مبذول کرانے کی ایک سعیِ ناتمام ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہماری اس حقیر سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائیں ، اور اسے ہماری مغفرت کا سبب اور ہمارے لئے سرکار دوجہاں ﷺ کی شفاعت کا ذریعہ بنائیں۔

امين يا رب العلمين بجاه النبي الكريم عليه الصلاة و التسليم ۔

ساجد خان اٹکوی فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی ۲ جمادی الثانیہ ۱۴۳۲ھ

صفحہ 23

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

باب اول

﴿گستاخ رسول قرآن کے آئینہ میں﴾

اس باب میں قرآن کریم کی چودہ آیات اور حضرات مفسرین کرام ؒ کے تقریباً پچاسی حوالہ جات کی روشنی میں یہ ثابت کیا جائے گا کہ سرکار دو عالم ﷺ یا دیگر انبیاء کرام ؑ کی شان اقدس میں کسی بھی قسم کی توہین اور گستاخی کرنے والے کی سزا صرف اور صرف موت ہے، خواہ یہ فعل قبیح کرنے والا کافر ہو یا مسلمان۔ پھر العیاذ باللہ اگر توہین رسالت کر نے والا مسلمان تھا تو اس جرم عظیم کے ارتکاب کی وجہ سے وہ کافر ہو جائے گا۔ اگر یہ فعل شنیع کرنے والا ذمی ہو تو اصح قول کے مطابق اس کا بھی عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا اور وہ مستحق قتل بن جائے گا۔ اور چونکہ یہ سزائے موت بطور حد کے ہے لہٰذا توبہ کرنے کی وجہ سے یہ سزا ساقط نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کسی حکومت یا کسی فرد واحد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ گستاخ رسول کو معاف کرے۔ اسی طرح کسی شخص کو یہ اختیار بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ شریعت مطہرہ کی متعین کردہ اس سزا میں کوئی ترمیم یا تبدیلی کرے۔ لہٰذا دنیوی احکام کے اعتبار سے توہین رسالت کے مجرم کے لئے قتل ہونا ہی متعین ہے، ہاں اگر اس نے خلوص نیت کے ساتھ سچے دل سے توبہ کی تو آخرت کی سزا سے بچ جائے گا۔

وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾

(سورة البقرة ، الآية: ١٠٤ -)

ترجمہ: اے ایمان والو! تم نہ کہو راعنا اور کہو انظرنا اور سنتے رہو، کافروں کو عذاب ہے دردناک۔

(تفسیر عثمانی)

تفسیر:

بعض یہودیوں نے ایک شرارت ایجاد کی، کہ جناب رسول ﷺ کے حضور میں آ کر

PDF 24

توہین رسالت کا شرعی حکم

لفظ ”راعنا“ سے آپ ﷺ کو خطاب کرتے، جس کے معنی ان کی عبرانی زبان میں ایک بددعا کے ہیں اور وہ اسی نیت سے کہتے تھے، مگر عربی زبان میں اس کے معنی ”ہماری مصلحت کی رعایت فرمائیے“ کے ہیں، اس لئے عربی داں اس شرارت کو نہ سمجھ سکتے تھے، اور اس اچھے معنی کے قصد سے بعضے مسلمان بھی حضور ﷺ کو اس کلمہ سے خطاب کرنے لگے، اس سے ان شریروں کو اور گنجائش ملی، آپس میں بیٹھ کر ہنستے تھے، کہ اب تک تو ہم ان کو خفیہ ہی برا کہتے تھے، اب علانیہ کہنے کی تدبیر ایسی ہاتھ آگئی کہ مسلمان بھی اس میں شریک ہو گئے، حق تعالیٰ نے اس گنجائش کے قطع کرنے کو مسلمانوں کو حکم دیا کہ اے ایمان والو: تم لفظ ”راعنا“ مت کہا کرو اور اس کی جگہ لفظ ”انظرنا“ کہہ دیا کرو کیونکہ اس لفظ کے معنی اور راعنا کے معنی عربی زبان میں ایک ہی ہیں، راعنا کہنے میں یہودیوں کی شرارت چلتی ہے، اس لئے اس کو ترک کر کے دوسرا لفظ استعمال کرو اور اس حکم کو اچھی طرح سن لیجیو اور یاد رکھیو اور ان کافروں کو تو سزائے دردناک ہو ہی گی جو پیغمبر ﷺ کی شان میں ایسی گستاخی اور وہ بھی چالاکی کے ساتھ کرتے ہیں۔

تفسیر معارف القرآن، ج: ۱، ص: ۲۸۰۔

فائدہ:

حضرات مفسرین کرامؒ کے اقوال کی روشنی میں اس آیت کریمہ سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

کرے، شرعاً وہ مباح الدم اور واجب القتل ہے۔ حضرات صحابہ کرامؓ اس آیت کریمہ سے یہی حکم سمجھے تھے، چنانچہ علامہ سید محمود آلوسیؒ نے ”تفسیر روح المعانی“ میں اسی آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت سعد بن عبادہؓ کا قول نقل کیا ہے کہ:

"وروى أن سعد بن عبادة رضى الله تعالى عنه سمعها منهم فقال : يا أعداء الله! عليكم لعنة الله والذى نفسى بيده لئن سمعتها من رجل منكم يقولها لرسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم لأضربن عنقه۔

تفسیر روح المعانی، ج: ۱، ص: ۳۴۸۔

ترجمہ: مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہؓ نے یہ لفظ ان یہودیوں سے

توہین رسالت کا شرعی حکم

سنا اور فرمایا کہ: اے اللہ کے قدرت میں میری جان ہے حضور ﷺ کو کہہ رہا ہے تو اسی طرح حضرت امام رازیؒ معاذؓ سے بھی نقل کیا ہے

"وروى أن سعد بن معـ يا أعداء الله!عليكم لعـ منكم يقولها لرسول الـ

ترجمہ: مروی ہے کہ حضرت راعنا کہتے ہوئے سنا کہ حضو فرمایا: اے یہودیو! تم پر ا

یہاں پر یہ بات معاذؓ کا نظریہ اور مسلک کبھی تھی کہ سرکار دو جہاں ﷺ علامہ شوکانیؒ نے "فتح الـ

"وأخرج أبو نعيم فـ عنهما)أنه قال الـ فاضربوا عنقه،فانتهـ

ترجمہ: امام ابو نعیمؒ فرماتے ہیں کہ مومنوں یہ لفظ کہتے ہوئے سنو تو ا

اسی طرح شیخ الحـ بحث کرتے ہوئے اپنی کتاب "اس آیت کے نزول کے

صفحہ 25

توہین رسالت کا شرعی حکم

سنا اور فرمایا کہ: اے اللہ کے دشمنو! تم پر اللہ کی لعنت ہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں نے تمھارے کسی شخص کو یہ لفظ کہتے سنا کہ وہ حضور ﷺ کو کہہ رہا ہے تو میں لازماً اس کی گردن اڑا دوں گا۔

اسی طرح حضرت امام رازیؒ نے ”تفسیر کبیر“ میں یہی قول حضرت سعد بن معاذؓ سے بھی نقل کیا ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

"وروى أن سعد بن معاذ رضى الله تعالىٰ عنه سمعها منهم فقال : يا أعداء الله عليكم لعنة الله، والذي نفسي بيده لئن سمعتها من رجل منكم يقولها لرسول الله لأضربن عنقه۔

تفسیر کبیر، ج:۳، ص:۲۲۷۔

ترجمہ : مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذؓ نے یہ لفظ ان یہودیوں سے سنا اور فرمایا: اے یہودیو! تم پر اللہ کی لعنت ہو، آئندہ اگر میں نے تم میں سے کسی کو لفظ راعنا کہتے ہوئے سنا کہ حضور ﷺ کو کہہ رہا ہے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔

یہاں پر یہ بات یاد رہے کہ یہ صرف حضرت سعد بن عبادہؓ اور حضرت سعد بن معاذؓ کا نظریہ اور مسلک نہیں بلکہ جمہور صحابہ کرامؓ نے اس آیت مبارکہ سے یہی بات سمجھی تھی کہ سرکار دوجہاں ﷺ کی تحقیر و تخفیف اور گستاخی کرنے والا شخص مستحق قتل ہے، چنانچہ علامہ شوکانیؒ نے ”فتح القدیر“ میں امام ابو نعیمؒ کے حوالے سے لکھا ہے کہ:

"وأخرج أبو نعيم في الدلائل عنه (أي عن ابن عباس رضى الله تعالىٰ عنهما) أنه قال المؤمنون بعد هذه الآية من سمعتموه يقولها فاضربوا عنقه، فانتهت اليهود بعد ذلك۔

فتح القدیر، ج:۱، ص:۱۴۶۔

ترجمہ : امام ابو نعیمؒ نے ”دلائل النبوۃ“ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ مومنوں نے اس آیت کے نزول کے بعد کہا: جسے تم حضور ﷺ کے لئے یہ لفظ کہتے ہوئے سنو، تو اس کی گردن اڑا دو، تو اس کے بعد یہودی رک گئے۔

اسی طرح شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد علی جانباز صاحب مذکورہ آیت کے ذیل میں بحث کرتے ہوئے اپنی کتاب ”توہین رسالت کی شرعی سزا“ میں فرماتے ہیں کہ: ”اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ اگر کوئی شخص ایسا لفظ استعمال کرے

صفحہ 26

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

جس میں توہین رسالت کا احتمال ہو تو اس کی گردن اڑادی جائے۔ ” توہین رسالت کی شرعی سزا، ص: ۵۲۔

۲.......اس آیت مبارکہ سے حضرات مفسرین کرام ؒ کے اقوال کی روشنی میں یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح صراحتاً نبی کی شان میں توہین اور گستاخی کرنا کفر ہے بالکل اسی طرح اشارۃً اور کنایۃً بھی اگر کوئی شخص نبی کریم ﷺ یا دیگر انبیاء کرام ؑ میں سے کسی نبی کی توہین کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ چنانچہ شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندہلوی ؒ ”تفسیر معارف القرآن“ میں مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

”نبی کی اشارۃً اور کنایۃً تحقیر بھی کفر ہے، اس لئے کہ یہود صراحتاً آپ کی تحقیر نہیں کرتے تھے، ﴿رَاعِنَا﴾ کہہ کر اشارۃً اور کنایۃً آپ ﷺ کی تحقیر کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو کافر فرمایا۔“

تفسیر معارف القرآن ، ج: ۱ ، ص: ۲۵۵۔

۳.......اس آیت کریمہ سے یہ حکم بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کا ادب و احترام صرف معنوی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ لفظی حیثیت سے بھی لازم اور ضروری ہے۔ لہٰذا ایسے تمام الفاظ سے احتراز اور بچنا ضروری ہے جو دربارِ رسالت کے شایانِ شان نہ ہوں۔ اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مولانا عبد الماجد دریا بادی ؒ ”تفسیر ماجدی“ میں مذکورہ آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ:

”آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ مرتبہ رسالت کا ادب صرف معنوی ہی حیثیت سے نہیں بلکہ لفظی حیثیت سے بھی ضروری ہے، فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ: ”جن الفاظ سے احتمالِ بھی اہانت کا نکلتا ہے ان سے احتیاط لازم ہے۔“ وهذا دليل على تجنب الألفاظ المحتملة التي فيها التعرض للتنقيص (ابن العربی ؒ ) بلکہ امام مالک ؒ کے ہاں تو ایسے الفاظ پر حد واجب ہوتی ہے۔“

تفسیر ماجدی ، ص: ۴۲۔

فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ﴾

سورة التوبة ، آیت ۱۲۔

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAA

ترجمہ: اور اگر وہ توڑ دیں اپنی قسمیں میں تو لڑو کفر کے سرداروں سے بیشک

تفسیر:

وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ ،“

یعنی اگر یہ لوگ اپنے معاہدے بعد تمہارے دین اسلام پر طعن و تشنیع کرو۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے فرمایا جاتا یعنی ان لوگوں سے قتال کرو بجائے ”فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ“ فرما وجہ سے کفر کے امام اور قائد ہو کر اس قتال کی علت اور وجہ کا بھی بیان ہو گیا الْكُفْرِ سے مراد قریش مکہ کے وہ تیاریوں میں لگے رہتے تھے، ان سے اہلِ مکہ کی اصل طاقت کا سرچشمہ کچھ انہی لوگوں سے تھی، جس کی وجہ سے جائے۔ (مظہری)

”وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُ

مسلمانوں کے دین پر طعن و تشنیع اسلام پر طعنہ زنی کرے وہ مسلما تشنیع ہے جو اسلام اور مسلمانوں تحقیق میں کوئی علمی تنقید کرنا اس اسی آیت میں فرمایا

صفحہ 27

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ترجمہ: اور اگر وہ توڑ دیں اپنی قسمیں عہد کرنے کے بعد اور عیب لگائیں تمہارے دین میں تو لڑو کفر کے سرداروں سے بیشک ان کی قسمیں کچھ نہیں تاکہ وہ باز آئیں۔ (تفسیر عثمانی)

تفسیر:

وَاِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ، یعنی اگر یہ لوگ اپنے معاہدے اور قسموں کو توڑ ڈالیں اور مسلمان بھی نہ ہوں بلکہ بدستور تمہارے دینِ اسلام پر طعن و تشنیع کرتے رہیں تو ان کفر کے پیشواؤں کے ساتھ جنگ کرو۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ تقاضائے مقام اس جگہ بظاہر یہ تھا کہ ”فَقَاتِلُوْهُمْ“ فرمایا جاتا یعنی ان لوگوں سے قتال کرو ، قرآنِ کریم نے اس جگہ مضمر ضمیر استعمال کرنے کے بجائے ”فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ“ فرمایا، ائمہ امام کی جمع ہے، معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ اپنی عہد شکنی کی وجہ سے کفر کے امام اور قائد ہوکر اس کے مستحق ہوگئے کہ ان سے جنگ کی جائے ، اس میں حکمِ قتال کی علت اور وجہ کا بھی بیان ہوگیا، اور بعض حضراتِ مفسرین نے فرمایا کہ یہاں اَئِمَّةَ الْكُفْرِ سے مراد قریش مکہ کے وہ سردار ہیں جو لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے اور جنگی تیاریوں میں لگے رہتے تھے، ان سے جنگ کرنے کو خصوصیت کے ساتھ اس لئے ذکر فرمایا کہ اہلِ مکہ کی اصل طاقت کا سرچشمہ یہی لوگ تھے، اس کے علاوہ مسلمانوں کی قریبی رشتہ داری بھی انہی لوگوں سے تھی ، جس کی وجہ سے اس کا خطرہ ہو سکتا تھا کہ ان کے معاملہ میں کوئی رعایت برتی جائے۔ (مظہری)

”وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ“ کے لفظ سے بعض حضرات نے اس پر استدلال کیا ہے کہ مسلمانوں کے دین پر طعن و تشنیع کرنا عہد شکنی کرنے میں داخل ہے، جو شخص اسلام اور شریعت اسلام پر طعنہ زنی کرے وہ مسلمانوں کا معاہد نہیں رہ سکتا ، مگر باتفاقِ فقہاء اس سے مراد وہ طعن و تشنیع ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی اہانت اور تحقیر کے طور پر اعلاناً کی جائے ، احکام اور مسائل کی تحقیق میں کوئی علمی تنقید کرنا اس سے مستثنیٰ ہے اور لغت میں اس کو طعن و تشنیع کہتے بھی نہیں۔

اسی آیت میں فرمایا ”اِنَّهُمْ لَا اَيْمَانَ لَهُمْ“ یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی قسم کوئی

صفحہ 28

توہین رسالت کا شرعی حکم

قابل اعتبار قسم نہیں، کیونکہ یہ لوگ قسم توڑنے اور عہد شکنی کرنے کے عادی ہیں، اور اس جمع کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنی قسم توڑ دی تو اب مسلمانوں پر بھی ان کی قسم اور عہد کی کوئی ذمہ داری نہیں رہی۔

آخر آیت میں ہے ”لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ“ تاکہ وہ باز آ جائیں، اس آخری جملہ میں بتلا دیا کہ مسلمانوں کی جنگ و جہاد کا مقصد عام دنیا کے لوگوں کی طرح دشمن کو ستانا اور جوشِ انتقام کو فرو کرنا یا عام بادشاہوں کی طرح ملک گیری نہ ہونا چاہیے، بلکہ ان کی جنگ کا مقصد دشمنوں کی خیر خواہی اور ہمدردی اور یہ جذبہ ہونا چاہیے کہ وہ لوگ اپنی غلط روش سے باز آ جائیں۔

تفسیر معارف القرآن ، ج : ٤ ، ص : ٣٢٤۔

فائدہ:

مذکورہ بالا آیت کریمہ سے حضرات مفسرین کرام رحمہم اللہ نے مندرجہ ذیل احکامات پر استدلال فرمایا ہے۔

آیت کی رو سے وہ مستحقِ قتل ہے۔ چنانچہ امام ابن کثیر رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ”تفسیر ابن کثیر“ میں فرماتے ہیں کہ:

”ومن هاهنا أخذ قتل من سب الرسول صلوات الله وسلامه عليه أو من طعن فى دين الإسلام أو ذكره بتنقص“۔

تفسیر ابن کثیر ، جلد : ۲ ، ص: ۳۵۔

ترجمہ : اس آیت سے علماء نے یہ بات اخذ کی ہے کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے یا دین میں عیب جوئی کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اہانت سے کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔

اسی طرح اس مذکورہ آیت مبارکہ سے گستاخِ رسول کے لئے سزائے موت پر استدلال کرتے ہوئے اور دینِ اسلام میں طعنہ زنی اور عیب جوئی کی وضاحت کرتے ہوئے ” تفسیر قرطبی“ میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

”استدل بعض العلماء بهذه الآية بوجوب قتل من طعن في الدين إذ

صفحہ 29

AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

هو كافر والطعن أن ينسب إليه ما لا يليق به أو يعترض بالاستخفاف على ما هو في الدين لما ثبت من الدليل القطعى على صحة أصوله واستقامة فروعه وقال ابن المنذر أجمع عامة أهل العلم على أن من سب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم عليه القتل۔“

(احکام القرآن للقرطبی، ج: ٨، ص: ٨٢)

ترجمہ: بعض علماء نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے کہ جو شخص بھی دین میں طعن کرے اس کا قتل واجب ہے، کیونکہ وہ کافر ہے، طعن یہ کہ دین کی طرف نامناسب شے کی نسبت کرے، یا دین کی کسی شے کی تضحیک واستخفاف کرے، اور وہ چیز دلیل قطعی سے ثابت ہو، اس کے اصول صحیح ہوں اور فروع درست ہوں۔ علامہ ابن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”عام اہل علم کا اجماع ہے کہ جو شخص نبی ﷺ کو سب و شتم کرے، اسے قتل کرنا لازم ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ”الصارم المسلول“ میں مذکورہ آیت کریمہ پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ عام لوگوں سے تو درگزر فرمایا کرتے تھے لیکن جو بدبخت دین اسلام میں طعنہ زنی کرتا یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذاء دیتا تو اس کے خون کو آپ ﷺ ہدر فرمایا کرتے تھے، چنانچہ امام موصوف فرماتے ہیں کہ:

”وأما من طعن فى الدين فإنه يتعين قتاله وهذه كانت سنة رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم فإنه كان يهدر دماء من آذى الله ورسوله وطعن فى الدين وإن أمسك عن غيره۔“

الصارم المسلول على شاتم الرسول، ص: ٢٠۔

ترجمہ: اور جو دین میں طعن کرتا ہے تو اس کے ساتھ قتال کرنا متعین ہے، اور یہی طریقہ نبی کریم ﷺ کا تھا، کیونکہ آپ ﷺ ان لوگوں کا خون ہدر فرمایا کرتے تھے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے، اور دین میں طعنہ زنی کرتے، اگرچہ ان کے علاوہ اوروں سے آپ ﷺ درگزر فرماتے۔

صفحہ 30

توہین رسالت کا شرعی حکم

حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کا ہے وہی حکم دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے گستاخ کا بھی ہے، یعنی جس طرح سرکار دو جہاں ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا شخص کافر ہے اسی طرح باقی انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں توہین کرنے والا شخص بھی خارج از اسلام ہے۔ اسی طرح مفسرین کرام رحمہم اللہ نے اس بات کی بھی تصریح فرمائی ہے کہ توہین رسالت کے ارتکاب میں قصد اور عدم قصد دونوں برابر ہیں، یعنی کوئی شخص قصد وارادہ کر کے تنقیص واستخفاف کی نیت سے یہ فعل قبیح کرے یا بغیر نیت اور قصد وارادے کے، بہر حال دونوں صورتوں میں وہ کافر ہو جائے گا۔ چنانچہ علامہ اسماعیل حقی رحمہ اللہ ”تفسیر روح البیان“ میں مذکورہ آیت شریفہ کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

"واعلم أنه قد اجتمعت الأمة على أن الاستخفاف بنبينا أو بأي نبي كان من الأنبياء كفر سواء فعله فاعل ذلك استحلالاً أم فعله معتقدا بحرمته ليس بين العلماء خلاف في ذلك والقصد للسب وعدم القصد سواء إذ لا يعذر أحد في الكفر بالجهالة، ولا بدعوى زلل اللسان، إذا كان عقله في فطرته سليما۔"

(تفسیر روح البیان،ج:۳،ص:۳۹۴)

ترجمہ: جان لیجئے! کہ امت کا اجماع ہے کہ جو شخص ہمارے نبی ﷺ یا اور انبیاء میں سے کسی بھی نبی کا استخفاف کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے، خواہ اسے حلال سمجھ کر کرے یا حرام سمجھ کر کرے، اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں خواہ وہ سب (گالی) کا قصد کرے یا نہ کرے کوئی فرق نہیں، کیونکہ جہالت کی وجہ سے کفر کرنا کوئی عذر نہیں ہے، اور نہ ہی زبان کا پھسل جانا کوئی عذر ہے، جبکہ اس کی عقل صحیح ہو۔

القرآن“ میں امام لیث رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ (العیاذ باللہ) اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اسے فوراً ہی قتل کیا جائے گا، نہ اسے مہلت دی جائے گی اور نہ ہی اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، چنانچہ امام موصوف فرماتے ہیں کہ:

توہین رسالت کا شرعی حکم

"وقال الليث في المسلم يس لا يناظر ولا يستتاب ويقتل مك

ترجمہ: امام لیث رحمہ اللہ اس مسلمان کہ اسے نہ مہلت دی جائے گی اور گا، اگر یہود و نصاریٰ ایسا کریں تو اسی طرح ایک اور مقام پر فرما

"ولا خلاف بين المسلمين وسلم بذلك فهو ينتحل الإس

ترجمہ: مسلمانوں کا اس بات میں کو شخص اگر حضور ﷺ کی شان اقدس

جو ذمی توہین رسالت کا مرتکب ہواسے کہ:

"أكثر العلماء على أن من س أهل الذمة أو عرض أو است كفر به فإنه يقتل فإنا لم نع

ترجمہ: علماء کی اکثریت کا یہی ق کرے یا آپ ﷺ کے مرتب جو کفر کی صورت کے بغیر ہو تو اس یا عہد نہیں دیا۔

اسی طرح علامہ آلوسی رحمہ

صفحہ 31

توہین رسالت کا شرعی حکم

"وقال الليث فى المسلم يسب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم أنه لا يناظر ولا يستتاب ويقتل مكانه وكذلك اليهود والنصارى"

احکام القرآن، ج:۳، ص:۱۲۷۔

ترجمہ: امام لیث رحمہ اللہ اس مسلمان کے لئے فرماتے ہیں جو نبی ﷺ کی توہین کرتا ہے کہ اسے نہ مہلت دی جائے گی اور نہ ہی توبہ کا کہا جائے گا، بلکہ اسی جگہ قتل کر دیا جائے گا، اگر یہود ونصاریٰ ایسا کریں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ:

"ولا خلاف بين المسلمين أن من قصد النبى صلى الله تعالى عليه وسلم بذلك فهو ينتحل الإسلام أنه مرتد يستحق القتل"

احکام القرآن، ج:۳، ص:۱۲۸۔

ترجمہ: مسلمانوں کا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے والا کوئی شخص اگر حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتا ہے تو وہ مرتد اور مستحق قتل ہے۔

جو ذمی توہین رسالت کا مرتکب ہو اسے بھی قتل کیا جائے گا، چنانچہ علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

"أكثر العلماء على أن من سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم من أهل الذمة أو عرض أو استخف بقدره أو وصفه بغير الوجه الذى كفر به فإنه يقتل فإنا لم نعطه الذمة أو العهد على هذا"

احکام القرآن للقرطبی، ج:۸، ص:۸۳۔

ترجمہ: علماء کی اکثریت کا یہی نظریہ ہے کہ جو ذمی ﷺ کو سب وشتم کرے، تعریض کرے یا آپ ﷺ کے مرتبے کا استخفاف کرے، یا آپ کا ایسا وصف بیان کرے جو کفر کی صورت کے بغیر ہو تو اسے قتل کر دیا جائے، کیونکہ ہم نے اسے اس کا ذمہ یا عہد نہیں دیا۔

اسی طرح علامہ آلوسی رحمہ اللہ ”تفسیر روح المعانی“ میں فرماتے ہیں کہ جب کوئی ذمی

صفحہ 32

توہین رسالت کا شرعی حکم

توہین رسول ﷺ کا ارتکاب کرے گا تو اسے قتل کیا جائے گا خواہ توہین کی وجہ سے اس کے عہد ذمہ کے ٹوٹ جانے کی اس پر شرط لگائی گئی ہو یا نہ ہو، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

"ومن ذلك الطعن بالقرآن وذكر النبی صلی الله تعالیٰ علیه وسلم وحاشاه بسوء، فیقتل الذمی به عند جمع مستدلین بالآیة سواء شرط انتقاض العهد به أم لا، وممن قال بقتله إذا أظهر الشتم والعیاذ بالله مالك وشافعی وهو قول اللیث وأفتی به ابن الهمام ۔"

روح المعانی، ج:۶، ص:۵۹۔

ترجمہ: اور اس میں قرآن پر طعن کرنا بھی شامل ہے اور (اللہ کی پناہ ) نبی کریم ﷺ کا برے لفظوں میں ذکر بھی شامل ہے، آیت کریمہ سے استدلال کرنے والے سب حضرات کہتے ہیں کہ ذمی قتل ہوگا خواہ اس سے عہد ٹوٹنے کی شرط رکھی گئی ہو یا نہیں؟ اور جن لوگوں نے سبّ وشتم کرنے والے ذمی کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ان میں امام مالک ؒ اور امام شافعی ؒ بھی ہیں، اور یہی قول امام لیث ؒ کا بھی ہے۔ اور اسی پر امام ابن ہمام ؒ نے بھی فتویٰ دیا ہے۔

اسی طرح امام ابن تیمیہ ؒ بھی اسی کے قائل ہیں کہ جب کوئی ذمی توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو اسے قتل کیا جائے، چنانچہ وہ ’’الصارم المسلول‘‘ میں مذکورہ آیت سے ذمی کے قتل پر بہت عمدہ اور نفیس طریقے سے استدلال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

" الطاعن فی الدین یعیبه ویذمه ویدعو إلی خلافه وهذا شأن الإمام فثبت أن کل طاعن فی الدین فهو إمام فی الکفر فإذا طعن الذمی فی الدین فهو إمام فی الکفر فیجب قتاله لقوله تعالیٰ: ﴿فقاتلوا أئمة الکفر﴾"

الصارم المسلول ،ص:۲۰۔

ترجمہ: دین میں طعن کرنے والا اس میں عیب نکالتا ہے، اس کی مذمت کرتا ہے، اور اس کے خلاف کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے، اور یہی امام کا کام ہوتا ہے، پس ثابت ہوا کہ ہر دین میں طعن کرنے والا کفر میں امام ہے، پس جب ذمی دین میں طعن کرے گا تو وہ بھی کفر میں امام ہوگا ، اور اس سے قتال کرنا واجب ہوگا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ

صفحہ 33

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 33

سے کہ ”کفر کے سرداروں (اماموں) سے لڑو“۔

۵...... اسی طرح مذکورہ آیت سے فقہاء کرام رحمہم اللہ نے یہ استدلال بھی فرمایا ہے کہ جو ذمی سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو اس توہین کی وجہ سے اس کا عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا، چنانچہ امام ابوبکر جصاص رازی ؒ ”احکام القرآن“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”وہو یشہد لقول من یقول من الفقہاء أن من أظہر شتم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من أہل الذمۃ فقد نقض عہدہ ووجب قتلہ“۔

احکام القرآن، ج:۳، ص:۱۲۶۔

ترجمہ: یہ بات ان فقہاء کرام رحمہم اللہ کے قول کا شاہد ہے جو یہ فرماتے ہیں کہ جو ذمی جناب نبی کریم ﷺ کو سب و شتم کرتا ہے تو تحقیق اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے، اور اس کا قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔

اسی طرح مزید گفتگو کرتے ہوئے امام جصاص رازی ؒ نے حضرت امام شافعی ؒ کا قول نقل فرمایا ہے کہ اگر کوئی ذمی حضور ﷺ کی توہین کرتا ہے تو وہ مباح الدم ہو جاتا ہے یعنی اس کا خون حلال ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”وقال الشافعی رحمۃ اللہ علیہ ویشترط علی المصالحین من الکفار أن من ذکر کتاب اللہ أو محمداً رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بما لا ینبغی أو زنی بمسلمۃ أو أصابہا باسم نکاح أو فتن مسلماً عن دینہ أو قطع علیہ طریقاً أو أعان أہل الحرب بدلالۃ علی المسلمین، أو آوی عیناً لہم فقد نقض عہدہ وأحل دمہ، وبرئت منہ ذمۃ اللہ وذمۃ رسولہ وظاہر الآیۃ یدل علی أن من أظہر سب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من أہل العہد فقد نقض عہدہ“۔

احکام القرآن، ج:۳، ص:۱۲۷۔

ترجمہ: امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ: معاہدین کے لئے یہ شرط ہے کہ ان میں سے اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب، یا جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے ایسے الفاظ استعمال

صفحہ 34

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

کرے گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی شان کے مناسب نہیں، یا کسی مسلمان عورت سے زنا کرے گا، یا نکاح کے نام سے مسلمان عورت سے بدکاری کرے گا، یا کسی مسلمان کو اس کے دین سے پھیرے گا یا اس کو راستہ میں لوٹے گا یا مسلمانوں کے خلاف رہنمائی کی صورت میں حربی کفار کی مدد کریگا یا ان کے جاسوسوں کو ٹھکانہ دے گا تو ان سب صورتوں میں اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور اسکا خون حلال ہو جائے گا، اور اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی ذمہ داری ختم ہو جائیگی۔

حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ کا قول ہی نہیں بلکہ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی یہی مذہب منقول ہے کہ وہ توہین رسالت کے ارتکاب کی وجہ سے ذمی کے عہد ذمہ کے ختم ہو جانے اور اس کے مستحق قتل ہو جانے کے قائل تھے، چنانچہ امام ابوبکر جصاص رازی رحمہ اللہ نے ”احکام القرآن“ میں مذکورہ آیت کریمہ پر بحث کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل فرمایا ہے کہ:

"وروى أبويوسف عن حصين بن عبدالرحمن عن رجل عن ابن عمر رضى الله تعالىٰ عنه أن رجلا قال له إنى سمعت راهبا سب النبى صلى الله تعالىٰ عليه وسلم فقال لو سمعته لقتلته ، إنا لم نعطهم العهد على هذا ـ" احکام القرآن، ج:۳، ص:۱۲۷۔

ترجمہ: ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بتایا کہ میں نے ایک راہب کو حضور ﷺ کی توہین کرتے ہوئے سنا ہے، تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں سنتا تو اسے قتل کر دیتا، ہم نے ان سے اس بات پر عہد نہیں کیا ہے۔

البتہ یہاں پر ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ کا مسلک یہ ہے کہ توہین رسالت کی وجہ سے ذمی کا عہد ذمہ نہیں ٹوٹے گا، وہ حضرات یہ فرماتے ہیں کہ جزیہ دینے کی وجہ سے ذمی اپنے کفر اصلی پر قائم ہے، اور جب پہلے سے موجود کفر کی وجہ سے اس کا عہد ذمہ برقرار رہتا ہے تو اس کفر جدید کی وجہ سے بھی وہ سابقہ عہد پر برقرار رہے گا، اس شبہ کے جواب میں ہم علامہ آلوسی رحمہ اللہ کا ایک قول ذکر کرتے ہیں جس میں انہوں نے

توہین رسالت کا شرعی حکم AA

نہایت احسن انداز میں اس شبہ " والقول بأن أهل ليس بأعظم منه المذكور في شي لا يعزروا أيضا كم لعمري نبيع يتيم والدنيا بحذافيره جناح بعوضة أو أه

ترجمہ : یہ کہنا کہ ”ذمی جو سے بڑھ کر نہیں، لہٰذا وہ اختیار کرنا انصاف کی ہو، کیونکہ جزیہ کے بعد قسم یہ تو آپ اس ”یک رہے ہیں، حالانکہ ساری ذات رفیع کے مقابلے

يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ أُوتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى

ترجمہ: لڑو ان لوگو حرام جانتے ہیں اس ک ہیں دین سچا ان لوگو ہاتھ سے ذلیل ہو کر

صفحہ 35

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

نہایت احسن انداز میں اس شبہ کا جواب دیا ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”والقول بأن أهل الذمة يقرون على كفرهم الأصلى بالجزية وذا ليس بأعظم منه فيقرون عليه بذلك أيضا وليس هو من الطعن المذكور في شيء ليس من الإنصاف في شيء ،ويلزم عليه أن لايعزروا أيضا كما لايعزرون بعد الجزية على الكفر الأصلى وفيه لعمري بيع يتيمة الوجود صلى الله عليه وسلم بثمن بخس والدنيا بحذافيرها بل والآخرة بأسرها في جنب جنابه الرفيع جناح بعوضة أو أدنى۔“

روح المعانی، ج:٦، ص:٥٩۔

ترجمہ: یہ کہنا کہ ”ذمی جزیہ کی وجہ سے اپنے اصلی کفر پر قائم ہے، اور یہ نیا کفر کوئی اس سے بڑھ کر نہیں، لہٰذا وہ اپنے حال پر رہیں گے، تو یہ طعن قابلِ ذکر نہیں ہے“ تو یہ قول اختیار کرنا انصاف کی بات نہیں، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ پھر ان پر کوئی تعزیر بھی نہ ہو، کیونکہ جزیہ کے بعد کفرِ اصلی کی وجہ سے ان پر کوئی تعزیر نہیں ہوتی، مجھے اپنی زندگی کی قسم یہ تو آپ اس ”یکتائے روزگار“ ﷺ کا کھوٹی اور بیکار قیمت کے بدلے سودا کر رہے ہیں، حالانکہ ساری کی ساری دنیا اور پوری کی پوری آخرت بھی حضور ﷺ کی ذاتِ رفیع کے مقابلے میں مچھر کے پر کے برابر یا اس سے بھی کم تر ہے۔

يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾

سورۃ التوبۃ، الآیۃ:۲۹۔

ترجمہ: لڑو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر، اور نہ آخرت کے دن پر، اور نہ حرام جانتے ہیں اس کو جس کو حرام کیا اللہ نے اور اس کے رسول نے، اور نہ قبول کرتے ہیں دین سچا ان لوگوں میں سے جو کہ اہل کتاب ہیں، یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے ذلیل ہو کر۔

(تفسیر عثمانی)

صفحہ 36

توہین رسالت کا شرعی حکم

تفسیر:

جب مشرکین کا قصہ پاک ہو گیا اور ملکی سطح ذرا ہموار ہوئی تو حکم ہوا کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی قوت و شوکت کو توڑو۔ مشرکین کے وجود سے تو بالکل عرب کو پاک کر دینا مقصود تھا لیکن یہود و نصاریٰ کے متعلق اس وقت صرف اسی قدر مطمح نظر تھا کہ وہ اسلام کے مقابلہ میں زور نہ پکڑیں اور اس کی اشاعت و ترقی کے راستہ میں حائل نہ ہوں۔ اس لئے اجازت دی گئی کہ اگر یہ لوگ ماتحت رعیت بن کر جزیہ دینا منظور کریں تو کچھ مضائقہ نہیں، قبول کر لو۔ پھر حکومتِ اسلامیہ ان کے جان و مال کی محافظ ہوگی ورنہ ان کا علاج بھی وہی ہے جو مشرکین کا تھا (یعنی مجاہدانہ قتال)۔ کیونکہ یہ بھی اللہ اور یوم آخرت پر جیسا چاہیے ایمان نہیں رکھتے، نہ خدا اور رسول کے احکام کی کچھ پروا کرتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ کی تو کجا، اپنے تسلیم کردہ نبی حضرت مسیح ؑ کی سچی پیروی نہیں کرتے محض اہواء و آراء کا اتباع کرتے ہیں، جو سچا دین پہلے آیا، یعنی حضرت مسیح ؑ وغیرہ کے زمانہ میں اور جو اب نبی آخر الزمان ﷺ لے کر آئے، کسی کے قائل نہیں۔ بلکہ جیسا کہ عنقریب آتا ہے اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ خدا کا روشن کیا ہوا چراغ اپنی پھونکوں سے گل کر دیں۔ ایسے بدباطن نالائقوں کو اگر یوں ہی چھوڑ دیا جائے تو ملک میں فتنہ و فساد اور کفر و تمرد کے شعلے برابر بھڑکتے رہیں گے۔ تفسیر عثمانی، ج:۱، ص:۲۰۴۔

فائدہ:

اس مذکورہ آیت کریمہ سے حضرات مفسرین عظام ؒ نے جن احکامات شرعیہ کا استنباط فرمایا ہے، ان میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں:

ذات بابرکات کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرے یا دین اسلام پر نکتہ چینی کرے، تو اس کی وجہ سے اس کا عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا، اور یہی قول چاروں مذاہب کے بیشتر فقہاء کرام اور محققین حضرات سے منقول ہے۔ چنانچہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی صاحب ؒ ”تفسیر مظہری“ میں اسی مسئلہ کے بارے میں مذہب اربعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 37

توہین رسالت کا شرعی حکم

”اللہ کی شان میں نازیبا الفاظ کہنے یا قرآن مجید کے بارے میں یا دین اسلام کے متعلق نامناسب کلمات ادا کرنے سے یا رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات کی بابت ناشائستہ کلام کرنے سے امام احمد ؒ کے نزدیک معاہدہ ذمیت ٹوٹ جاتا ہے خواہ معاہدہ کے وقت اس شرط کا تذکرہ آیا ہو یا نہ آیا ہو۔ حضرت امام مالک ؒ نے فرمایا: اگر اللہ ورسول ﷺ کی شان میں ایسے الفاظ کہے جو سابق کفریہ عقیدہ و کلام کے علاوہ ہیں تو معاہدہ ذمیت ٹوٹ جائیگا۔ امام شافعی ؒ کے اکثر شاگردوں کا خیال ہے کہ معاہدہ میں اگر اس کی شرط لگائی گئی ہو تو معاہدہ ٹوٹ جائے گا، کیونکہ یہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگی ورنہ نہیں ٹوٹے گا۔ صاحب ہدایہ نے لکھا ہے: مذکورہ امور میں معاہدہ ذمیت ٹوٹ جائے گا، کیونکہ ان حرکات سے مؤمن کا ایمان جاتا رہتا ہے، لہٰذا ذمی کے لئے معاہدہ امان بھی جاتا رہے گا، معاہدہ امان کافر کے لئے ایمان کا قائم مقام ہوتا ہے۔“

(تفسیر مظہری، اردو مترجم، ج: ۵، ص: ۲۵۳۔)

نکتہ:

حضرت قاضی صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ معاہدہ امان کافر کے لئے ایمان کا قائم مقام ہوتا ہے، لہٰذا اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جن صورتوں میں ذمی کا معاہدہ ٹوٹے گا، وہاں مسلمان کا ایمان بھی جاتا رہے گا۔ لہٰذا جن فقہاء کرام یا مفسرین عظام نے توہین رسالت کی وجہ سے ذمی کے عہد ذمہ ٹوٹ جانے کی صراحت کی ہے، وہاں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر کوئی مسلمان العیاذ باللہ توہین رسالت کا مرتکب ہو جائے تو اس کا ایمان بھی جاتا رہے گا، اور جن حضرات نے توہین رسالت کے ارتکاب کی وجہ سے مسلمان کے دائرہ اسلام سے خارج ہو جانے کی تصریح فرمائی ہے وہاں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر کوئی ذمی اس فعل شنیع کا مرتکب ہوگا تو اس کا معاہدہ ذمیت بھی ٹوٹے گا۔

اسی طرح حضرت قاضی صاحب ؒ مزید گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ توہین رسالت کی وجہ سے ذمی کے عہد ذمہ کے ٹوٹ جانے کا قول ایسا ہے جس کی تائید حضرات صحابہ کرام ؓ کے عمل سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب ؒ نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا ایک قول نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی توہین رسالت کی وجہ سے ذمی کا عہد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 38

توہین رسالت کا شرعی حکم ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 38

’’حفص بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے خود سنا کہ ایک راہب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نہیں سنا، اگر میں سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا۔ ہم نے اس بات پر ان سے معاہدہ نہیں کیا ہے۔‘‘

(تفسیر مظہری اردو مترجم ، ج:۵، ص:۲۵۴۔)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی صاحب رحمہ اللہ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:

’’فتاویٰ میں امام اعظم رحمہ اللہ کا مسلک یہ منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والا کوئی ہو، مؤمن ہو یا کافر بہرحال اس کو قتل کر دیا جائے ، اس کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے‘‘۔

(تفسیر مظہری،اردو مترجم،ج:۵،ص:۲۵۳۔)

مِنْ قَبْلِهِمْ وَقَدْ أَنْزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ ﴾

سورة المجادلة، الآية: ۵ ۔

ترجمہ: جو لوگ کہ مخالفت کرتے ہیں اللہ کی اور اس کے رسول کی وہ خوار ہوئے جیسے کہ خوار ہوئے ہیں وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے، اور ہم نے اتاری ہیں آیتیں بہت صاف، اور منکروں کے واسطے عذاب ہے ذلت کا۔

(تفسیر عثمانی)

اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ﴾

سورة المجادلة، الآية:۲۰-۲۱۔

ترجمہ: جو لوگ خلاف کرتے ہیں اللہ کا اور اس کے رسول کا ، وہ لوگ ہیں سب سے بے قدر لوگوں میں ، اللہ لکھ چکا کہ میں غالب ہوں گا اور میرے رسول ، بیشک اللہ زور آور ہے زبردست۔

(تفسیر عثمانی)

توہین رسالت کا شرعی حکم ــــــــــــــــــــــــ

تفسیر:

یعنی مؤمنین کا کام نہیں کہ اللہ کی حدود اللہ کی پروا نہیں کرتے اور خود اپنی رائے کہ ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے اب بھی ہو رہے ہیں۔ اللہ کی روشن اور صاف اور خدائی احکام کی عزت واحترام نہ کر ہے۔

فائدہ:

پر استدلال کرتے ہوئے امام تقی الدین سبکی علیٰ من سب الرسول ‘‘ میں تحریر فرماتے " إن الساب مؤذ والمؤذي ومن كان كذلك لا يكون المسلمين نصرته ، وقتله والمؤذي كافر بالآيات الآ

ترجمہ: بے شک گستاخی کرنے والا کرنے والا ہوتا ہے ، اور جو مخالف اور جو اس طرح کا ہو اس کی مدد کر مسلمانوں پر اس کی مدد واجب ہے طرح ہم کہتے ہیں کہ گستاخی کرنے کی روشنی میں۔

اسی طرح مندرجہ بالا آیتوں

صفحہ 39

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

تفسیر:

یعنی مومنین کا کام نہیں کہ اللہ کی باندھی ہوئی حدود سے تجاوز کریں ، باقی رہے کافر جو حدود اللہ کی پروا نہیں کرتے اور خود اپنی رائے و خواہش سے حدیں مقرر کرتے ہیں انہیں چھوڑیے کہ ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے۔ ایسے لوگ پہلے زمانہ میں بھی ذلیل وخوار ہوئے اور اب بھی ہورہے ہیں ۔ اللہ کی روشن اور صاف صاف آیتیں سن لینے کے بعد ان کا کفر پر جمے رہنا اور خدائی احکام کی عزت واحترام نہ کرنا اپنے کو ذلت کے عذاب میں پھنسانے کے مرادف ہے۔

(تفسیر عثمانی، ج:۲، ص:۱۱۵۳۔)

فائدہ:

پر استدلال کرتے ہوئے امام تقی الدین السبکی رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تصنیف ”السيف المسلول علیٰ من سب الرسول “ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”إن الساب مؤذ والمؤذى محاد والمحاد مكبوت أذل مغلوب ومن كان كذلك لا يكون منصورا فلو لم يجز قتله لوجب على المسلمين نصرته ، وقد ثبت بطلانه، وأيضا نقول : الساب مؤذ والمؤذى كافر بالآيات الأول۔“

السيف المسلول على من سب الرسول ، ص: ١٠٦۔

ترجمہ: بے شک گستاخی کرنے والا موذی ( تکلیف دینے والا ) ہے ، اور موذی مخالفت کرنے والا ہوتا ہے ، اور جو مخالفت کرنے والا ہو ، وہ خوار ذلیل اور مغلوب ہے ، اور جو اس طرح کا ہو اس کی مدد نہیں کی جاتی ، پس اگر اس کا قتل کرنا جائز نہ ہوتا تو پھر مسلمانوں پر اس کی مدد واجب ہوتی ، حالانکہ اس کا باطل ہونا ثابت ہو چکا ہے، اور اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ گستاخی کرنے والا موذی ہے اور ہر موذی کافر ہے ، گذشتہ آیات کی روشنی میں ۔

اسی طرح مندرجہ بالا آیتوں سے گستاخ رسول کے کافر اور واجب القتل ہونے پر

صفحہ 40

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAA 40

استدلال کرتے ہوئے حضرت امام ابن تیمیہ ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُوْلَئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ﴾ ولو كان مؤمنا معصوما لم يكن اذل ، لقوله تعالى ﴿وَلِلَّهِ العِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهِ

وَلِلْمُؤْمِنِينَ﴾ (الصارم المسلول على شاتم الرسول، ص:۲۹۔)

ترجمہ: جو لوگ خلاف کرتے ہیں اللہ کا اور اس کے رسول کا وہ لوگ ہیں سب سے بیقدر لوگوں میں پس اگر گستاخ رسول مومن اور معصوم الدم ہوتا تو وہ ذلیل وخوار نہ ہوتا، کیونکہ اللہ کریم فرماتے ہیں کہ زور تو اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا اور ایمان والوں کا۔

ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد علی جانباز صاحب نے اپنی کتاب ”توہین رسالت کی شرعی سزا“ میں امام ابن تیمیہ ؒ کی ایک مفصل عبارت نقل فرمائی ہے جس میں امام ابن تیمیہ ؒ علیہ نے مندرجہ ذیل تین اہم مسائل پر گفتگو فرمائی ہے:

اور امام موصوف ؒ نے مذکورہ تینوں مسائل پر احادیث مبارکہ سے استدلال کرنے کے ساتھ ساتھ حضرات فقہاء کرام کے اقوال بھی نقل فرمائے ہیں۔ ہم قارئین کرام کے فائدے کے لئے یہاں پر پوری عبارت نقل کرتے ہیں، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا (سورۃ المجادلہ آیت نمبر ۲۰ مراد ہے) کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے مترادف ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ رقمطراز ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ کی شان عالی میں زبان دراز اگرچہ مسلمان ہو یا کافر بغیر کسی اختلاف کے قتل کیا جائے گا، اور یہی ائمہ اربعہ و دیگر حضرات کا مذہب ہے، امام احمد ؒ فرماتے ہیں: ”میں نے ابو عبداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی شان عالی میں زبان درازی کی یا تنقیص کا مرتکب ہوا مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل کرنا ضروری اور واجب ہے۔“

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAA

عبداللہ اور ابو طالب کی درازی کرنیوالے کے بارے میں کہا گیا اس بارے میں احادیث ہیں ہیں، ان میں سے ایک نابینا کی حدیث میں نے اس عورت کو رسول اللہ ﷺ سے مروی حدیث میں ہے کہ ” آنحضرت ﷺ کے بارے میں ل

عبدالعزیز ؒ نے فرمایا کہ : ”ایسے کے بارے میں زبان درازی کر رسول اللہ ﷺ کی شان میں بکواس

حضرت عبداللہ فرماتے ہ پوچھا جو رسول اللہ ﷺ کی شان م فرمایا: ”اس کا قتل واجب ہے

ولید ؓ نے ایک ایسے آدمی کو قتل کر اور انھوں نے اس سے توبہ کا مطالبہ

حضرت علی ؓ سے مرو کرتی تھی، ایک آدمی نے اس کا گلہ کا خون رائیگاں فرمایا۔“ یہ حدیث شر

حضرت ابوبرزہ ؓ کی ہیں کہ ”علماء کی ایک جماعت نے ا کیا ہے، اس لئے کہ جب حضر دی ہے تو آپ کو غصہ آیا، تو انھوں چاہی، اگر آپ انھیں حکم دے دے نے فرمایا کہ : ”نبی کریم ﷺ کے

صفحہ 41

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

عبداللہ اور ابو طالب کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرنیوالے کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہا کہ: ”اسے قتل کیا جائیگا۔“ ان سے کہا گیا اس بارے میں احادیث ہیں؟ تو انھوں نے کہا: ”ہاں اس بارے میں احادیث وارد ہیں، ان میں سے ایک نابینا کی حدیث ہے، جس نے ایک عورت کو قتل کر دیا تھا، اس کا کہنا تھا کہ میں نے اس عورت کو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتے سنا ہے“ اور حصین سے مروی حدیث میں ہے کہ ” حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جس نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں زبان درازی کی تو اسے قتل کیا جائے گا۔“ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے فرمایا کہ: ”ایسے شخص کو قتل کیا جائیگا، اس لئے کہ جو شخص بھی رسول اللہ ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے وہ مرتد ہے، اسلام سے خارج ہے ، اور مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شان میں کبھی بے ادبی نہیں کرتا۔“

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں بے ادبی کرتا ہے آیا اس کو توبہ کے لئے کہا جائے گا؟ فرمایا: ”اس کا قتل واجب ہے اور توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ حضرت خالد بن ولید ؓ نے ایک ایسے آدمی کو قتل کر دیا تھا جس نے آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور انھوں نے اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا۔“

حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ : ”ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ کو گالی دیا کرتی تھی، ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئی، رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون رائیگاں فرمایا۔“ یہ حدیث شاتم کے قتل کے جواز پر نص ہے۔

حضرت ابو برزہ ؓ کی حدیث کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ ”علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث سے شاتم رسول ﷺ کے قتل کے جواز کا استدلال کیا ہے، اس لئے کہ جب حضرت ابو برزہ ؓ نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو گالی دی ہے تو آپ کو غصہ آیا، تو انھوں نے آپ سے اس آدمی کے قتل کے بارے میں اجازت چاہی، اگر آپ انھیں حکم دے دیتے تو وہ اسے ضرور قتل کر دیتے، لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ: ”نبی کریم ﷺ کے بعد یہ کسی کے لئے جائز نہیں۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ

صفحہ 42

توہین رسالت کا شرعی حکم

نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اگر کوئی زبان درازی کرتا ہے تو آپ ﷺ کی خاطر قتل کیا جاسکتا ہے، آپ ایسے شخص کے قتل کا حکم بھی فرما سکتے ہیں جس کے قتل کی وجہ لوگوں کو معلوم نہ ہو، لوگوں پر آپ کی اس بارے میں اطاعت فرض ہے، کیوں کہ آپ وہی حکم فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے، جس نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ یہ حدیث آپ ﷺ کی دو خصوصیات کو متضمن ہے، ایک یہ کہ قتل کے سلسلہ میں آپ کی اطاعت کی جائے گی اور دوسری یہ کہ ہر اس آدمی کو قتل کیا جائے گا جس نے آپ کی شان میں زبان درازی کی ہے۔

حدیث کا مفہوم آپ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے بعد بھی باقی ہے، جس نے آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی اس کا قتل جائز ہے، بلکہ آپ ﷺ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اور زیادہ ضروری ہے، کیونکہ آپ کی حرمت اکمل ہے، اور آپ کی عزت کی خاطر کسی قسم کا تساہل ناممکن ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس نے بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی اس کا قتل جائز ہے، اس حدیث کے عموم سے مسلمان اور کافر دونوں کے قتل کا استدلال کیا جائے گا۔ توہین رسالت کی شرعی سزا، ص: ۴۲۔۴۵۔

تَجْهَرُوْا لَهٗ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ﴾ سورة الحجرات، الآیۃ: ۲۔

ترجمہ: اے ایمان والو! بلند نہ کرو اپنی آوازیں نبی کی آواز سے اوپر اور اس سے نہ بولو پکار (چیخ، پکار، کڑک) جیسے پکارتے ہو ایک دوسرے پر کہیں اکارت نہ ہو جائیں تمھارے کام اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

(تفسیر عثمانی)

تفسیر:

لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ یہ دوسرا ادب مجلس نبوی کا بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا یا بلند آواز سے اس طرح گفتگو کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بے

توہین رسالت کا شرعی حکم

محابا کیا کرتے ہیں ایک قسم کی بے ادبی گستاخی کرام رضی اللہ عنہم کا یہ حال ہو گیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اب مرتے دم تک آپ سے اس طرح بولوں گا البيهقی) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس قدر آہستہ (کذا فی الصحاح) اور حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ وہ بہت ڈرے اور روئے اور اپنی آواز کو گھٹایا قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ نے فرمایا وفات کے بعد بھی ایسا ہی واجب ہے جیسا حیات قبر شریف کے سامنے بھی زیادہ بلند آواز سے جس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھی کرنا بے ادبی ہے، کیونکہ آپ کا کلام جس ہو اس وقت سب کے لئے خاموش ہو کر اس مجلس میں آپ کا کلام سنایا جاتا ہو وہاں شور

فائدہ:

مذکورہ بالا آیت کریمہ سے شرعیہ کا استنباط فرمایا ہے:

موجب قتل ہے، بلکہ اس فعل قبیح سے دنیا و آخرت کی ذلت و ناکامی اور سید محمود آلوسی رحمہ اللہ ”تفسیر روح المعانی ”والقاعدة المختارة الكفر المحبط للعمل بما ترجمہ: یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ

صفحہ 43

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

محابا کیا کرتے ہیں ایک قسم کی بے ادبی گستاخی ہے، چنانچہ اس آیت کے نزول سے صحابہ کرام ؓ کا یہ حال ہو گیا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ قسم ہے کہ اب مرتے دم تک آپ سے اس طرح بولوں گا جیسے کوئی کسی سے سرگوشی کرتا ہو۔ (در منثور عن البیھقی) اور حضرت عمر ؓ اس قدر آہستہ بولنے لگے کہ بعض اوقات دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا۔ (کذا فی الصحاح) اور حضرت ثابت بن قیس ؓ طبعی طور پر بہت بلند آواز تھے، یہ آیت سن کر وہ بہت ڈرے اور روئے اور اپنی آواز کو گھٹایا۔

(بیان القرآن از در منثور)

قاضی ابوبکر ابن العربی ؒ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور ادب آپ کی وفات کے بعد بھی ایسا ہی واجب ہے جیسا حیات میں تھا، اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ آپ کی قبر شریف کے سامنے بھی زیادہ بلند آواز سے سلام و کلام کرنا ادب کے خلاف ہے۔ اسی طرح جس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھی یا بیان کی جا رہی ہوں اس میں بھی شور و شغب کرنا بے ادبی ہے، کیونکہ آپ کا کلام جس وقت آپ ﷺ کی زبان مبارک سے ادا ہو رہا ہو اس وقت سب کے لئے خاموش ہو کر اس کا سننا واجب و ضروری تھا اسی طرح بعد وفات جس مجلس میں آپ کا کلام سنایا جاتا ہو وہاں شور و شغب کرنا بے ادبی ہے۔

تفسیر معارف القرآن، ج:۸، ص: ۱۰۰۔

فائدہ:

مذکورہ بالا آیت کریمہ سے حضرات مفسرین کرام رحمہم اللہ نے مندرجہ ذیل احکامات شرعیہ کا استنباط فرمایا ہے:

موجب قتل ہے، بلکہ اس فعل قبیح سے اس کے مرتکب کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، اور دنیا و آخرت کی ذلت و ناکامی اور خسارہ و بربادی اس کا مقدر بن جاتا ہے، چنانچہ علامہ سید محمود آلوسی ؒ ”تفسیر روح المعانی“ میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”والقاعدة المختارة أن إيذاءه عليه الصلوة والسلام يبلغ مبلغ الكفر المحبط للعمل باتفاق“۔

(روح المعانی، ج: ۱۹، ص: ۲۵۰)

ترجمہ: یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ آپ ﷺ کو ایذاء دینا کفر ہے، جس سے انسان کے تمام

صفحہ 44

توہین رسالت کا شرعی حکم

اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔

اسی طرح مزید وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

"أن إيذاء النبي صلى الله تعالى عليه وسلم كفر ، وهذا ثابت قد نص عليه أئمتنا وأفتوا بقتل من تعرض لذلك......"

روح المعانی، ج:۱۹،ص:۲۵۰۔

ترجمہ: بیشک نبی کریم ﷺ کو ایذاء دینا کفر ہے اور یہ بات شرعی دلائل سے ثابت ہے ہمارے ائمہ نے اس کی صراحت کی ہے اور انھوں نے ہر اس شخص کے قتل کا فتویٰ دیا ہے جو اس گستاخی کا ارتکاب کرتا ہو۔

اسی طرح مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندہلوی ؒ ”تفسیر معارف القرآن“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”حبط اعمال کی وعید کفر و شرک اور ارتداد کے بعد اس پر بیان فرمائی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ پیغمبرِ خدا کے مقابلہ میں بے تمیزی اور گستاخی ارتداد اور کفر کے درجہ کی معصیت ہے، کیونکہ یہ چیز ایذاءِ رسول ہے، اور رسولِ خدا کو ایذاء پہنچانا ایمان سے محرومی ہے۔ العیاذ باللہ“ ۱

تفسیر معارف القرآن، ج:۷،ص:۴۸۷۔

اسی طرح مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی ؒ ”تفسیر معارف القرآن“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”سیدی حکیم الامت قدس اللہ سرہٗ نے ”بیان القرآن“ میں اس کی ایسی توجیہ بیان فرمائی ہے جس سے یہ سب اشکالات و سوالات ختم ہوجاتے ہیں، وہ یہ ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ: ”مسلمانو! تم رسول اللہ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے اور بے محابا جہر کرنے سے بچو کیونکہ ایسا کرنے میں خطرہ ہے کہ تمھارے اعمال حبط اور ضائع ہوجائیں اور وہ خطرہ اس لئے ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیش قدمی یا ان کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کر کے غالب کرنا ایک ایسا امر ہے جس سے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی اور بے ادبی ہونے کا بھی احتمال ہے جو سبب ہے ایذائے رسول کا۔“

تفسیر معارف القرآن، ج:۸،ص:۱۰۲۔

صفحہ 45

توہین رسالت کا شرعی حکم

نکتہ:

حضرت مفتی صاحب کے کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا آپ ﷺ کے لئے ایذا رسانی کا سبب ہے، اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آپ ﷺ کو ایذا دینا کفر ہے۔ چنانچہ خود حضرت مفتی صاحب سورۂ احزاب کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:

’’جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح ایذا پہنچائے ، آپ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحۃً ہو یا کنایۃً وہ کافر ہو گیا‘‘۔

معارف القرآن ، ج:۷،ص:۲۲۹۔

فرمایا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی تنقیص کرنا یا آپ ﷺ کی شان گرامی میں استخفاف اور استہزاء کرنا کفر اور موجب خسران ہے ۔ چنانچہ مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ ابو بکر الجزائری ؒ ’’أیسر التفاسیر‘‘ میں فرماتے ہیں کہ:

’’أن تحبط أعمالكم وانتم لا تشعرون بحبوطها وبطلانها إذ يصحب ذلك استخفاف بالنبي صلى الله تعالى عليه وسلم لاسيما إذا صاحب ذلك إهانة وعدم مبالاة فهو الكفر والعياذ بالله‘‘۔

أيسر التفاسير لكلام العلى الكبير، ج:۵، ص:۱۲۰۔

ترجمہ : یہ کہ تمھارے اعمال ضائع ہو جائیں گے، اور تمھیں پتہ بھی نہیں ہوگا ان کے باطل اور ضائع ہونے کا، کیونکہ کبھی کبھی اس کے ساتھ نبی ﷺ کی شان اقدس میں استخفاف کرنا بھی شامل ہو جاتا ہے، بالخصوص اس وقت جب جہر کرنے والا توہین اور بے پرواہی کا بھی مظاہرہ کرے تو یہ کفر ہے۔

مزید وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

’’إذ رفع الصوت للرسول ونداءه بأعلى الصوت يا محمد! يا محمد! أو يا نبي الله! ويا رسول الله! وبأعلى الأصوات إذا صاحبه استخفاف أو إهانة وعدم مبالاة صار كفرا محبطا للعمل‘‘۔

أيسر التفاسير لكلام العلى الكبير، ج:۵، ص:۱۲۰۔

ترجمہ : حضور ﷺ کو بلند آواز سے پکارنا اور اونچی اونچی آواز سے یا محمد! یا ایسے

صفحہ 46

توہین رسالت کا شرعی حکم ہی دوسرے الفاظ میں یا نبی اللہ ! یا رسول اللہ ! جب اس کے ساتھ توہین اور بے پرواہی بھی شامل ہو جائے تو یہ کفر بن جاتا ہے اور اعمال کو ضائع کرنے والا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح امام ابن تیمیہ ؒ اس مذکورہ بالا آیت مبارکہ سے استنباط کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: ”فإذا كان الأذى والاستخفاف الذى يحصل فى سوء الأدب من غير قصد صاحبه يكون كفرا فالأذى والاستخفاف المقصود المتعمد كفر بطريق الأولىٰ۔“

الصارم المسلول ،ص:٤٨۔

ترجمہ: جب ایسی تکلیف اور استخفاف جو بغیر ارادہ وقصد کے ہونے کے باوجود سوء ادب اور کفر میں داخل ہے تو پھر جو استخفاف اور ایذاء عمداً اور بالقصد کی جائے تو وہ بطریق اولیٰ کفر ہوگا۔

مشہور مفسر حضرت قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی ؒ ”تفسیر مظہری“ میں مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”یہ ممانعت علت ہے رسول اللہ ﷺ کے ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ کی آواز سے اپنی آواز کو اونچا کرنا توہین نبی پر دلالت کرتا ہے اور توہین نبی کفر ہے اور کفر حبط اعمال کا موجب ہے، پس نبی کی آواز سے اپنی آواز اونچی کرنا اگر اہانت نبی کے ارادے سے ہو تو کفر ہے، اور اگر لاپرواہی اور نگہداشت ادب کے فقدان کے زیر اثر ہو تو برکاتِ صحبت سے محرومی کی موجب ہے، صحابیت کے فائدے سے محرومی ہو جائے تو ایسی صحابیت بیکار ہے۔“

تفسیر مظہری اردو مترجم ،ج:١١،ص:١٦۔

مذکورہ آیت کی تفسیر میں علامہ صالح بن محمد العثیمین فرماتے ہیں کہ: ”ففى هذا دليل على أن الذى يرفع صوته فوق صوت النبى صلى الله تعالى عليه وسلم او يجهر له بالقول كجهره لبعض الناس قد يحبط عمله من حيث لا يشعر لأن هذا قد يجعل فى قلب المرء استهانة بالرسول صلى الله تعالى عليه وسلم والاستهانة بالرسول

صفحہ 47

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

صلى الله تعالیٰ عليه وسلم ردة عن الإسلام توجب حبوط العمل“۔

تفسير القرآن للعثيمين،ج:۷،ص:۸۔

ترجمہ: یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اپنی آواز کو نبی ﷺ کی آواز سے بلند کرتا ہے یا آپ ﷺ کو اس طرح اونچی آواز سے پکارتا ہے جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو اونچی آوازوں سے پکارتے ہیں تو اس سے اُس کے اعمال اس طرح ضائع ہو جاتے ہیں کہ اس کو پتہ بھی نہیں چلتا، کیونکہ یہ عمل کبھی کبھی انسان کے دل میں آپ ﷺ کی توہین کو پیدا کرتا ہے، اور آپ ﷺ کی توہین کرنا اسلام سے مرتد ہونے اور اعمال کے ضائع ہونے کو واجب کرتا ہے۔

آپ ﷺ کی شان میں ایذاء کا قصد اور عدم قصد دونوں برابر ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی تنقیص و استخفاف اگرچہ بنیتِ ایذاء نہ بھی ہو تب بھی مطلقاً ممنوع اور معصیت ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس مذکورہ آیت کے سب سے اولین مخاطب حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں اور حضرات صحابہ سے اس بات کا وہم تک بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ بالقصد کوئی ایسا کام کریں جو آپ ﷺ کی ایذاء کا سبب ہو، لیکن اس کے باوجود بعض اعمال وافعال جیسے تقدم اور رفع صوت ایسے ہیں کہ اگرچہ بنیت ایذاء نہ بھی ہوں پھر بھی ان سے ایذاء کا احتمال ہے ، اس وجہ سے ان کو مطلقاً ممنوع اور معصیت قرار دیا ہے۔ چنانچہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

”اگرچہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ بالقصد کوئی ایسا کام کریں، جو آپ کی ایذا کا سبب بنے ، لیکن بعض اعمال افعال جیسے تقدم اور رفع صوت اگرچہ بقصد ایذاء نہ ہوں پھر بھی ان سے ایذاء کا احتمال ہے، اسی لئے ان کو مطلقاً ممنوع اور معصیت قرار دیا ہے۔

معارف القرآن ،ج:۸،ص:۱۰۲۔

اسی طرح علامہ قرطبی رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:

”وليس الغرض برفع الصوت ولا الجهر ما يقصد به الاستخفاف والاستهانة لأن ذلك كفر و المخاطبون مسلمون“

تفسیر القرطبی ،ج:١٦ ،ص:٣٠٨۔

صفحہ 48

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ترجمہ: اس آیت میں جس بلند آواز سے منع کیا گیا ہے وہ ایسی بلند آواز نہیں جس کا مقصد رسول اللہ ﷺ کا استخفاف واہانت ہو، کیونکہ ایسی بلند آواز تو کفر ہے اور یہ خطاب اہل ایمان سے ہے۔

اسی طرح علامہ ابو حیان اندلسی رحمہ اللہ "تفسیر البحر المحيط" میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: "ولم يكن الرفع والجهر إلا ما كان في طباعهم لا أنه مقصود بذلك الاستخفاف والاستعلاء لأنه كان يكون فعلهم ذلك كفرا، والمخاطبون مؤمنون۔"

البحر المحيط، ج: ۱۵، ص: ۱۱۳۔

ترجمہ: آواز کو بلند کرنے سے مراد آواز کی وہ تیزی ہے جو ان کی طبیعتوں میں پائی جاتی تھی، یہ مطلب نہیں کہ ان کا مقصد ہی بلندی سے آپ ﷺ کا استخفاف وتوہین تھا، کیونکہ یہ تو کفر ہے جبکہ آیت کے مخاطب مؤمنین ہیں۔

نکتہ:

یہاں پر بھی یہ بات سمجھنا چاہیے کہ توہین رسالت کے ارتکاب میں نیت اور عدم نیت برابر ہے، یعنی کوئی شخص قصد اہانت کر کے گستاخی کرے یا بلا ارادہ وتوہین کے اس سے کوئی ایسا فعل سرزد ہو جائے جو توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہو، دونوں صورتوں کا حکم ایک ہے کہ ایسا کرنے والا ہر حالت میں کافر اور واجب القتل ہو جائے گا۔ کوئی گستاخ یہ کہہ کر چھوٹ نہیں سکتا کہ میری نیت گستاخی کی نہیں تھی کیونکہ اس طرح تو ہر توہین کرنے والا کہے گا کہ میرا توہین کا قصد وارادہ نہیں تھا۔

اسی وجہ سے علماء نے بطور سد الذرائع علی الاطلاق توہین رسالت کو موجب کفر اور موجب قتل قرار دیا ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "وهذا نص في أن الإستهزاء بالله وبآياته وبرسوله كفر فالسب المقصود بطريق الأولى وقد دلت هذه الآية على أن كل من تنقص رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم جاداً أو هازلاً فقد كفر ۔"

الصارم المسلول، ص: ۳۲۔

توہین رسالت کا شرعی حکم AA

ترجمہ: یہ آیت اس بات رسول ﷺ کے ساتھ تمسخر و کے ذات گرامی کے بارے اس بات پر بھی دلالت کرتی قصداً کی ہو یا ہنسی مزاح میں

اسی طرح علامہ اسماعیل "واعلم أنه قد اجتمع كان من الأنبياء كفره بحرمته ليس بين ال سواء، إذ لا يعذر أحد كان عقله في فطرته م

ترجمہ: جان لیجئے کہ! امت علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کا کرے یا حرام سمجھ کر کرے کا قصد اور ارادہ کرے یا نہ وجہ سے کفر کا کوئی عذر نہیں عقل صحیح ہو۔

اس موضوع پر ہم آ

نکتہ:

یہاں پر یہ بات واحترام جس طرح آپ کی تشریف لے جانے کے بعد

علامہ ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے

صفحہ 49

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ترجمہ: یہ آیت اس بات میں نص ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے آیات اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ تمسخر اور استہزاء کرنا کفر ہے، تو پھر جو سب و شتم قصداً آپ ﷺ کے ذات گرامی کے بارے میں ہو، وہ تو بطریق اولیٰ کفر ہوگا۔ اور اسی طرح یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ کی تنقیص اگر کسی نے قصداً کی ہو یا ہنسی مزاح میں، بہر حال دونوں صورتوں میں وہ کفر ہے۔

اسی طرح علامہ اسماعیل حقی ؒ ”تفسیر روح البیان“ میں فرماتے ہیں کہ:

”واعلم أنه قد اجتمعت الأمة على أن الاستخفاف بنبينا أو بأي نبي كان من الأنبياء كفر سواء فعله فاعل ذلك استحلالاً أم فعله معتقداً بحرمته ليس بين العلماء خلاف في ذلك، والقصد وعدم القصد سواء، إذ لا يعذر أحد في الكفر بالجهالة ولا بدعوى زلل اللسان إذا كان عقله في فطرته سليماً۔“ تفسير روح البيان، ج: ۳، ص: ۳۹۴۔

ترجمہ: جان لیجئے کہ امت کا اجماع ہے کہ جو ہمارے نبی ﷺ یا دیگر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کا استخفاف کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے، خواہ اسے حلال سمجھ کر کرے یا حرام سمجھ کر کرے، اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے، خواہ وہ گستاخی کا قصد اور ارادہ کرے یا نہ کرے، کوئی فرق نہیں پڑتا دونوں برابر ہے، کیونکہ جہالت کی وجہ سے کفر کرنا کوئی عذر نہیں ہے، اور نہ ہی زبان کا پھسل جانا کوئی عذر ہے جبکہ اس کی عقل صحیح ہو۔

اس موضوع پر ہم آگے مستقل فصل قائم کر کے گفتگو کریں گے۔ ان شاء اللہ

نکتہ:

یہاں پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ کا ادب و احترام جس طرح آپ کی حیات مبارکہ میں ضروری تھا، اسی طرح آپ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی آپ کا ادب و احترام اسی طرح واجب اور ضروری ہے۔ چنانچہ علامہ ابن العربی ؒ فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 50

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

"حرمة النبي صلى الله تعالى عليه وسلم ميتا كحرمته حيا و كلامه المأثور بعد موته في الرفعة مثل كلامه المسموع من لفظه" أحكام القرآن لابن العربي، ج:٧، ص:١٦١۔ معارف القرآن، ج:۸، ص:١٠١۔

ترجمہ: حضور ﷺ کی ذات اقدس وصال کے بعد بھی اسی طرح تعظیم وتکریم کے لائق ہے جس طرح آپ ﷺ کی زندگی میں آپ کی تعظیم کی جاتی رہی ہے، آپ ﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کو آج بھی وہی حرمت اور عظمت حاصل ہے جو انھیں آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں حاصل تھی۔

لہٰذا اب بھی اگر کوئی بد نصیب العیاذ باللہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں توہین اور گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور اس کا قتل کرنا واجب اور ضروری ہوگا۔

وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا﴾ سورة الأحزاب، الآية: ٥٧۔

ترجمہ: جو لوگ ستاتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو ان کو پھٹکارا اللہ نے دنیا میں اور آخرت میں اور تیار رکھا ہے ان کے واسطے ذلت کا عذاب۔ (تفسیر عثمانی)

تفسیر:

اس آیت کے شروع میں جو یہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو ایذاء پہنچاتے ہیں اس میں ایذاء پہنچانے سے مراد وہ افعال واقوال ہیں جو عادۃً ایذاء کا سبب بنا کرتے ہیں، اگرچہ حق تعالیٰ کی ذات پاک ہر تاثر وانفعال سے بالا تر ہے کسی کی مجال ہی نہیں کہ اس تک کوئی تکلیف پہنچا سکے، لیکن ایسے افعال جن سے عادۃً ایذاء پہنچا کرتی ہے ان کو ایذاء اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اس میں ائمہ تفسیر کا اختلاف ہے کہ یہاں پر اللہ کو ایذاء دینے سے کیا مراد ہے؟ بعض ائمہ تفسیر نے ان افعال واقوال کو اس کا مصداق ٹھہرایا ہے جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی زبانی احادیث میں بتلایا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایذاء کا سبب ہے، مثلاً حوادث و مصائب کے وقت زمانہ کو بُرا کہنا کہ درحقیقت فاعلِ حقیقی حق تعالیٰ ہے، یہ لوگ زمانہ کو

صفحہ 51

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

فاعل سمجھ کر گالیاں دیتے تھے تو درحقیقت وہ فاعل حقیقی تک پہنچتی تھی۔ اور بعض روایات میں ہے کہ جان دار چیزوں کی تصویریں بنانا اللہ تعالیٰ کی ایذاء کا سبب ہے۔ تو آیت میں اللہ کو ایذاء دینے سے مراد یہ افعال یا اقوال ہوئے۔

اور دوسرے ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ یہاں درحقیقت رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے روکنا اور اس پر وعید کرنا مقصود ہے، مگر آیت میں ایذاء رسول کو ایذاء حق تعالیٰ کے عنوان سے تعبیر کر دیا گیا۔ کیونکہ آپ کو ایذاء پہنچانا درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو ایذاء پہنچانا ہے جیسا کہ حدیث میں آگے آتا ہے، اور قرآن کے سیاق وسباق سے بھی ترجیح اسی دوسرے قول کی معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ پہلے بھی ایذاء رسول کا بیان تھا اور آگے بھی اسی کا بیان آرہا ہے۔

اور رسول اللہ ﷺ کی ایذاء کا اللہ تعالیٰ کے لئے ایذاء ہونا حضرت عبدالرحمن بن مغفل مزنی ؓ کی روایت سے ثابت ہے کہ: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اللہ اللہ فی أصحابی لا تتخذوھم غرضاً من بعدی فمن أحبہم فبحبی أحبہم ومن أبغضہم فببغضی أبغضہم ومن آذاہم فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ ومن آذی اللہ یوشک أن یاخذہ (ترمذی)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو ان کو میرے بعد اپنے اعتراضات و تنقیدات کا نشانہ نہ بناؤ، کیونکہ ان سے جس نے محبت کی، میری محبت کی وجہ سے کی اور جس نے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی اور جس نے اللہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے گرفت کرے گا۔

اس حدیث سے جیسا یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایذاء سے اللہ تعالیٰ کی ایذاء ہوتی ہے اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کسی کو ایذاء پہنچانا یا ان کی شان میں گستاخی کرنا رسول اللہ ﷺ کی ایذاء ہے۔

تفسیر معارف القرآن، ج: ۷، ص: ۲۲۷۔

صفحہ 52

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAA

فائدہ:

اس آیت مبارکہ سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

جو شخص کسی بھی طریقے سے حضور نبی کریم ﷺ کو ایذاء اور تکلیف پہنچائے یا آپ ﷺ کی توہین وتنقیص اور استخفاف کرے خواہ صراحتاً ہو یا کنایۃً ، اشارۃً ہو یا تعریضاً ہر صورت میں وہ کافر اور ملعون ہو جائے گا ، چنانچہ امام تقی الدین السبکی ؒ مذکورہ آیت سے تمسک کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

"والأذى فى حقه وحق رسوله كفر، لأن العذاب المهين إنما يكون للكفار و كذلك القطع بالعذاب فى الدنيا و الأخرة إنما يكون للكفار و كذا العذاب الأليم۔"

السيف المسلول، ص: ١٠٥۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دینا کفر ہے کیونکہ رسوائی کا عذاب صرف کفار ہی کے لئے ہوتا ہے، اور مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان کے لئے رسوائی کا عذاب تیار ہے جس سے معلوم ہوا کہ وہ کافر ہیں، ورنہ ان کے لئے رسوائی کا عذاب نہ ہوتا۔ اسی طرح دنیا اور آخرت میں عذاب کا قطعی فیصلہ صرف کفار ہی کے لئے ہے اور اسی طرح درد ناک عذاب کا بھی۔)

اسی طرح امام ابن تیمیہ ؒ نے بھی مذکورہ آیت سے گستاخ رسول کے کافر ہونے کا استدلال کیا ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

، "ولم يجئ إعداد العذاب المهين فى القرآن إلا فى حق الكفار"......

الصارم المسلول: ٤٦۔

ترجمہ: قرآن کریم میں صرف کفار ہی کے لئے رسوائی کے عذاب کے تیار ہونے کی وعید آئی ہے۔

حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ ”تفسیر مظہری“ میں مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ”رسول اللہ ﷺ کی شخصیت، دین، نسب یا حضور کی کسی صفت پر طعن کرنا اور صراحتاً

صفحہ 53

توہین رسالت کا شرعی حکم

یا کنایۃً یا اشارۃً یا بطور تعریض آپ پر نکتہ چینی کرنا اور عیب نکالنا کفر ہے، ایسے شخص پر دونوں جہاں میں اللہ کی لعنت۔“

تفسیر مظہری اردو مترجم ، ج: ۹،ص: ۴۲۸۔

اسی طرح مذکورہ آیت کی تفسیر میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب عثمانی ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح کی ایذا پہنچائے ، آپ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحتاً ہو یا کنایۃً وہ کافر ہو گیا، اور اس آیت کی رو سے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت دنیا میں بھی ہوگی اور آخرت میں بھی۔“

تفسیر معارف القرآن، ج: ۷،ص: ۲۲۹۔

اسی طرح شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ”اب بتلایا کہ اللہ و رسول کو ایذا دینے والے دنیا و آخرت میں ملعون ومطرود اور سخت رسوا کن عذاب میں مبتلا ہوں گے۔“

تفسیر عثمانی،ج: ۳،ص: ۹۲۳۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی ؒ اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ: ”تحقیق جولوگ اللہ اور اس کے رسول کو قصدًا ایذا دیتے ہیں ایسے لوگوں پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے، یعنی ان کو اپنی رحمت سے اتنا دور کر دیا کہ ان میں اور کافروں میں کوئی فرق نہ رہا۔“

تفسیر معارف القرآن، ج: ۶،ص: ۳۶۸۔

نوٹ: حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی ؒ نے قصدًا کی قید لگائی ہے، لیکن ہم پہلے ”روح البیان“ اور ”الصارم المسلول“ کے حوالوں سے یہ ثابت کرچکے ہیں کہ:”توہین رسالت کے ارتکاب میں قصد اور عدم قصد دونوں برابر ہیں اور دونوں صورتوں میں العیاذ باللہ ایمان سے ہاتھ دھونا پڑے گا، اور آگے بھی ان شاء اللہ ہم اس پر مستقل فصل قائم کر کے تفصیلی گفتگو کریں گے۔

اسی طرح مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی صاحب ؒ مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”رسول کو اذیت پہنچانے کی صورت یہ ہے کہ آپ کی رسالت کا انکار کیا جائے ، آپ

صفحہ 54

توہین رسالت کا شرعی حکم

کے مشن کا انکار کیا جائے، آپ کی لائی ہوئی کتاب کی تکذیب کی جائے اور آپ کے لائے ہوئے دین اور آپ کی سنت کی مخالفت کی جائے ، اسی طرح آپ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کرنا ایذا رسانی بلکہ کفر کی بات ہے۔“

معالم العرفان فی دروس القرآن، ج:١٥، ص:٣٥٦۔

پھر مفسر مرحوم نے تفصیلی کلام کرتے ہوئے آخر میں خلاصہ فرمایا ہے کہ: ”بہر حال پہلے درجے میں اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں گستاخی کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا اور دنیا اور آخرت کی سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا ۔“

معالم العرفان فی دروس القرآن، ج:١٥، ص:٣٥٨۔

اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح ایذا پہنچائے آپ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحۃً ہو یا کنایۃً وہ کافر ہو گیا اور اس آیت کی رو سے اس پر اللہ کی لعنت دنیا میں بھی ہوگی اور آخرت میں بھی ۔“ (توہین رسالت کی شرعی سزا، ص:٩٦)

موت پر بھی استدلال کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کو ایذاء دینے والے شخص پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعید آئی ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور جس پر اللہ کی لعنت ہو اس کا انجام سزائے موت ہوتا ہے، چنانچہ قاضی عیاض مالکی ؒ ”الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ“ میں مذکورہ آیت سے یہی استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

”وأن اللعن إنما يستوجبه من هو كافر وحكم الكافر القتل۔“

الشفاء، ج:٢، ص:١٣٦۔

ترجمہ: لعنت کا مستحق وہی ہوتا ہے جو کافر ہو اور کافر کے لئے حکم یہ ہے کہ اسے قتل کر دیا جائے۔

اسی طرح مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ عبدالرحمن السعدی ؒ فرماتے ہیں کہ: ”إن الذين يؤذون الله ورسوله وهذا يشمل كل أذية قولية أو فعلية من سب أو شتم أو تنقص له أو لدينه أو ما يعود إليه بالأذى لعنهم الله

صفحہ 55

توہین رسالت کا شرعی حکم

فى الدنيا أى أبعدهم وطردهم ومن لعنهم فى الدنيا أنه يتحتم قتل من شتم الرسول أو آذاہ۔“

(تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان)

ترجمہ: بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں یہ آیت ہر اذیت کو شامل ہے خواہ وہ قولی ہو یا فعلی، گستاخی ہو یا گالی گلوچ یا آپ ﷺ کے دین یا ہر اس چیز کی تنقیص کرے جس کا تعلق آپ ﷺ کی ذات گرامی سے ہو، تو ایسے لوگوں پر دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے یعنی ان کو مردود کر کے اپنی رحمت سے دور فرمایا ہے، اور دنیا کی لعنت میں یہ بھی داخل ہے کہ ہر اس آدمی کو قتل کیا جاتا ہے جو آپ ﷺ کی گستاخی کرے یا آپ کو اذیت دے۔

عمدۃ المحققین حضرت علامہ ابن عابدین شامی ؒ مذکورہ آیت کریمہ اور اس کے ساتھ مزید دو آیتوں ﴿وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ﴾ اور ﴿مَّلْعُوْنِيْنَ اَيْنَمَا ثُقِفُوْا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِيْلًا﴾ کو ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ: ”فهذه الآيات تدل على كفره وقتله۔“

تنبيه الولاة والحكام على شاتم خير الأنام، ص: ۳۱۷۔

ترجمہ: یہ آیات گستاخ رسول کے کافر اور مستحق قتل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز صاحب تحریر فرماتے ہیں: ”یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دینے والا واجب القتل ہے۔“

(توہین رسالت کی شرعی سزا، ص: ۴۵۔)

گستاخ رسول کی یہ سزائے موت بطور حد کے ہے، اور حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتیں، لہٰذا اگر کوئی توہین رسالت کا مرتکب توبہ کرلے تو بھی اس توبہ کی وجہ سے وہ دنیوی سزا سے بچ نہیں سکتا بلکہ اسے قتل ہونا ہی متعین ہے، ہاں اگر اس نے سچے دل سے خلوص نیت کے ساتھ توبہ کی ہو تو آخرت کے عذاب سے بچ جائے گا ، چنانچہ علامہ اسماعیل حقی ؒ ”تفسیر روح البیان“ میں فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 56

توہین رسالت کا شرعی حکم

"واختلفوا فى حكم من سبه والعياذ بالله من المسلمين فقال أبو حنيفة رحمة الله عليه والشافعى رحمة الله عليه هو كفر كالردة يقتل مالم يتب، و قال مالك رحمة الله عليه وأحمد رحمة الله عليه يقتل ولا تقبل توبته ،لأن قتله من جهة الحد لا من جهة الكفر۔"

روح البیان، ج:۷، ص:۲۳۸۔

ترجمہ: مسلمانوں میں سے العیاذ باللہ اگر کسی نے سرور کونین ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تو یہ کفر ہے، امام ابو حنیفہ ؒ اور امام شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ: ”اگر توبہ نہ کرے تو قتل کیا جائے ۔“ امام مالک ؒ اور امام احمد ؒ فرماتے ہیں کہ: ”کہ اس کی توبہ قبول نہیں بلکہ اسے قتل ہی کیا جائے گا، کیونکہ اس کا قتل حد ہے کفر کی وجہ سے نہیں ۔“

پھر مفسر نے اس مسئلہ پر کافی تفصیلی گفتگو فرمائی ہے اور آخر میں بحث کے اختتام پر فرماتے ہیں کہ:

"اختار جماعة من أئمة مذهب أحمد أن سابه عليه السلام يقتل بكل حال، منهم الشيخ تقى الدين ابن تيمية رحمة الله عليه وقال: "هو الصحيح ، وحكم من سب سائر أنبياء الله وملائكته حكم من سب نبينا عليه السلام۔"

روح البیان، ج:۷، ص:۲۳۸۔

ترجمہ: ائمہ کی ایک جماعت نے امام احمد ؒ کے مذہب کو اختیار فرمایا ہے کہ حضور ﷺ کی توہین کرنے والے کو ہر حال میں قتل کیا جائے گا، ان حضرات میں سے امام ابن تیمیہ ؒ بھی ہیں، اور وہ فرماتے ہیں کہ یہی صحیح ہے۔ اور باقی انبیاء کرام علیہم السلام یا اللہ کے فرشتوں کے توہین کرنے والے کا وہی حکم ہے جو حکم حضور ﷺ کے گستاخ کا ہے۔

حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ ”تفسیر مظہری“ میں مذکورہ بالا آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”دنیوی سزا سے اس کو توبہ بھی نہیں بچا سکتی۔“

توہین رسالت کا شرعی حکم

ابن ہمام ؒ نے لکھا ہے مرتد ہو جائے گا، برا کہنا تو بدرجہ اولیٰ سزا ساقط نہیں ہو سکتی، اہل فقہ نے لکھا اور امام مالک ؒ کا ہے، ایک روای ہے، یہ سزا بہرحال دی جائے گی خواہ ہو اور شہادت سے ثبوت ہو جائے۔ تو ان کا معتبر ہوگا ۔ علماء نے یہاں تک کہا کہ کا ارتکاب کیا ہو تب بھی اس کو معاف

تکلیف اور ایذاء دینے میں یہ بھی جائے، چنانچہ علامہ اسماعیل حقی ؒ "ومن الأذية أن لا يذكره والتسليم" ترجمہ: یہ بھی اذیت ہے کہ بغیر لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ مفسر مرحوم فرمائے، کیا ہی عمدہ جملہ ارشاد رکھنے والوں کے لئے مفسر موصوف قابل ہے۔

وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مُؤْمِنِينَ﴾

صفحہ 57

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 57

ابن ہمام ؒ نے لکھا ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ سے دل میں نفرت کرے وہ مرتد ہو جائے گا، برا کہنا تو بدرجہ اولیٰ مرتد بنا دیتا ہے۔ اگر اس کے بعد توبہ بھی کرلے تو قتل کی سزا ساقط نہیں ہوسکتی، اہل فقہ نے لکھا ہے یہ قول علماء کوفہ (امام ابوحنیفہ ؒ، صاحبین ؒ و غیرہم) اور امام مالک ؒ کا ہے، ایک روایت میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا بھی یہی فتویٰ منقول ہے، یہ سزا بہرحال دی جائے گی خواہ وہ اپنے قصور کا اقرار کرلے اور تائب ہو کر آئے یا منکر جرم ہو اور شہادت سے ثبوت ہو جائے۔ دوسرے کفر کا اگر انکار کردے خواہ شہادت ثبوت موجود ہو تو انکار معتبر ہوگا۔

علامہ نے یہاں تک کہا کہ نشہ کی حالت میں بھی اگر رسول ﷺ کو برا کہنے کے جرم کا ارتکاب کیا ہو تب بھی اس کو معاف نہیں کیا جائے گا، ضرور قتل کیا جائے گا۔

تفسیر مظہری اردو مترجم، ج:۹، ص:۴۲۸۔

تکلیف اور ایذاء دینے میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ کا اسم گرامی بغیر صلوٰۃ وسلام کے لیا جائے، چنانچہ علامہ اسماعیل حقی ؒ ”تفسیر روح البیان“ میں فرماتے ہیں کہ:

”ومن الأذیة أن لا یذکر اسمه الشریف بالتعظیم والصلوۃ والتسلیم“

روح البیان، ج:۷، ص:۲۳۸۔

ترجمہ: یہ بھی اذیت ہے کہ آپ ﷺ کا اسم شریف تعظیم اور صلوٰۃ وسلام کے بغیر لیا جائے۔

اللہ تعالیٰ مفسر مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان پر کروڑ ہا کروڑ رحمتیں نازل فرمائے، کیا ہی عمدہ جملہ ارشاد فرمایا ہے، اور حقیقت تو یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سے محبت رکھنے والوں کے لئے مفسر موصوف کا یہ مذکورہ فرمان وہ انمول تحفہ ہے جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ﴾

سورۃ التوبۃ، الآیۃ: ۱۳۔

صفحہ 58

توہین رسالت کا شرعی حکم

ترجمہ: کیا نہیں لڑتے ایسے لوگوں سے جو توڑیں اپنی قسمیں اور فکر میں رہیں کہ رسول کو نکال دیں اور انھوں نے پہلے چھیڑ کی تم سے کیا ان سے ڈرتے ہو سو اللہ کا ڈر چاہئے تم کو زیادہ اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

(تفسیر عثمانی)

تفسیر:

قریش نے قسمیں اور معاہدے توڑ دیئے تھے کیونکہ خلاف عہد خزاعہ کے مقابلہ میں بنو بکر کی مدد کی، اور ہجرت سے پہلے پیغمبر ﷺ کو وطنِ مقدس (مکہ معظمہ) سے نکالنے کی تجاویز سوچیں، اور وہ ہی نکلنے کا سبب بنے۔ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثَانِيَ اثْنَيْنِ (توبہ/۴۰) مکہ میں بے قصور مسلمانوں پر بیٹھے بٹھائے مظالم کی ابتدا کی، جب ابوسفیان کا تجارتی قافلہ بچ نکلا تو از راہِ نخوت و رعونت بدر کے میدان میں مسلمانوں سے جنگ کی چھیڑ کرنے کے لئے گئے، اور صلح حدیبیہ کے بعد بھی اپنی جانب سے عہد شکنی کی ابتدا کی، کہ مسلمانوں کے حلیف خزاعہ کے مقابلہ پر بنو بکر کی پیٹھ ٹھونکتے رہے، اور اسلحہ وغیرہ سے ان کی امداد کرتے رہے، آخر کار مسلمان ان سے لڑے اور مکہ معظمہ کو مشرکین کے قبضہ سے پاک کیا۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْماً الآیۃ سے غرض یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو کوئی قوم اس طرح کے احوال رکھتی ہو اس سے جنگ کرنے میں مسلمانوں کو کسی وقت کچھ تامل نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ان کی طاقت و جمعیت اور ساز و سامان کا خوف ہو تو مؤمنین کو سب سے بڑھ کر خدا کا خوف ہونا چاہئے۔ خدا کا ڈر جب دل میں آجائے تو پھر سب ڈر نکل جاتے ہیں ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ خدا کی نافرمانی سے ڈرے اور اس کے قہر و غضب سے لرزاں و ترساں رہے کیونکہ نفع و ضرر سب اسی کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی مخلوق ادنیٰ سے ادنیٰ نفع و ضرر پہنچانے پر بدون اس کی مشیت کے قادر نہیں۔

تفسیر عثمانی، ج:۱، ص: ۳۹۸۔

فائدہ:

اسی آیت کریمہ سے امام ابن تیمیہ ؒ نے توہین رسالت کے مرتکب کیلئے سزائے موت پر استدلال فرمایا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ: فجعل همهم بإخراج الرسول من المحضضات على قتالهم

صفحہ 59

AAAAAAAAAAAAAAAA/AAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

وماذاك إلا لمافيه من الأذى وسبه أغلظ من الهم باخراجه بدليل أنه صلى الله تعالى عليه وسلم عفا عام الفتح عن الذين هموا باخراجه ولم يعف عمن سبه۔"

الصارم المسلول، ص:۲۳۔

ترجمہ: مشرکین نے جو آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ سے جلا وطن کرنے کا قصد کیا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قصد کو ان کے ساتھ قتال کے اسباب میں سے ایک سبب قرار دیا اور اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان کے اس فعل سے آپ ﷺ کو ایذا پہنچی تھی، اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا آپ ﷺ کو جلا وطن کرنے کے قصد سے زیادہ قبیح اور شنیع ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ان لوگوں کو تو معاف فرمایا جنہوں نے آپ ﷺ کو جلا وطن کرنے کا قصد کیا تھا، لیکن ان کو معاف نہیں فرمایا جنھوں نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔

نکتہ:

لہٰذا جب حضور ﷺ کو جلا وطن کرنے کا قصد کرنا ان کے ساتھ قتال کا موجب ہے تو آپ کی شان میں گستاخی کرنا تو بطریق اولیٰ قتال کا موجب ہوگا، کیونکہ جیسا کہ امام ابن تیمیہ ؒ نے ارشاد فرمایا کہ گستاخی کرنا زیادہ قبیح اور بڑا جرم ہے بمقابلہ نکالنے کا ارادہ کرنے کے، تو ایک ادنیٰ جرم کی وجہ سے قتال پر برانگیختہ کیا جارہا ہے تو بڑے جرم کی وجہ سے تو قتال کا حکم مزید مؤکد ہوگا۔

اسی طرح مذکورہ آیت مبارکہ سے تمسک کرتے ہوئے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز صاحب فرماتے ہیں کہ: ”اس آیت میں کفار کے رسول اکرم ﷺ کے جلا وطن کرنے کے ارادے کو ان کے ساتھ جنگ کا محرک اور موجب قرار دیا ہے اس لئے کہ اس سے رسول اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچتی ہے، مگر آپ کو گالی دینا جلا وطن کرنے کے ارادے سے بھی زیادہ شدید ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ کو جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا تھا، فتح مکہ کے روز ان کو رسول کریم ﷺ نے معاف کر دیا تھا مگر گالی دینے والوں کو معاف نہیں کیا تھا۔“

توہین رسالت کی شرعی سزا، ص:۳۶۔

صفحہ 60

توہین رسالت کا شرعی حکم

9...... ﴿وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ اُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ الَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ سورة التوبة، الآية: 61 ۔

ترجمہ: اور بعضے ان میں بدگوئی کرتے ہیں نبی کی اور کہتے ہیں کہ یہ شخص تو کان ہے، تو کہہ کان ہے تمہارے بھلے کے واسطے یقین رکھتا ہے اللہ پر اور یقین کرتا ہے مسلمان کی بات کا اور رحمت ہے ایمان والوں کے حق میں تم میں سے جو لوگ بدگوئی کرتے اللہ کے رسول کی ان کے لئے عذاب ہے دردناک۔

(تفسیر عثمانی)

تفسیر:

منافقین آپس میں بیٹھ کر اسلام و پیغمبر اسلام کے متعلق بدگوئی کرتے، جب کوئی کہتا کہ ہماری یہ باتیں پیغمبر تک پہنچ جائیں گی تو کہتے کیا پروا ہے، ان کے سامنے ہم جھوٹی تاویلیں کرکے اپنی برأت کا یقین دلا دیں گے، کیونکہ وہ تو کان ہی کان ہیں جو سنتے ہیں فوراً تسلیم کر لیتے ہیں ان کو باتوں میں لے آنا کچھ مشکل نہیں۔ بات یہ تھی کہ حضرت ﷺ اپنے حیاء و وقار اور کریم النفسی سے جھوٹے کا جھوٹ پہچانتے، تب بھی نہ پکڑتے، خلق عظیم کی بناء پر مسامحت اور تغافل برتتے وہ بے وقوف جانتے کہ آپ نے سمجھا ہی نہیں۔ حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ اگر وہ کان ہی ہیں تو تمہارے بھلے کے واسطے ہیں، نبی کی یہ خو تمہارے حق میں بہتر ہے، نہیں تو اوّل تم پکڑے جاؤ گے اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضور ﷺ کی اس چشم پوشی اور خلق عظیم پر کسی وقت مطلع ہو کر تمہیں ہدایت ہو جائے تمہاری جھوٹی باتوں پر نبی ﷺ کا سکوت اس لئے نہیں کہ انہیں واقعی تمہارا یقین آ جاتا ہے، یقین تو ان کو اللہ پر ہے اور ایمانداروں کی بات پر۔ ہاں تم میں سے جو دعواے ایمان رکھتے ہیں ان کے حق میں آپ کی خاموشی واغماض ایک طرح کی رحمت ہے کہ فی الحال منہ توڑ تکذیب کر کے ان کو رسوا نہیں کیا جاتا، باقی منافقین کی حرکات شنیعہ خدا سے پوشیدہ نہیں۔ رسول کی پیٹھ پیچھے جو بدگوئی کرتے ہیں یا ”ھُوَ اُذُنٌ“ کہہ کر آپ کو ایذاء پہنچاتے ہیں، اس پر سزائے سخت کے مستحق ہیں۔

توہین رسالت کا شرعی حکم

فائدہ:

مذکورہ آیت مبارکہ سے آپ ﷺ کو اذیت دینے والا کا کہ گستاخی کرنے والا بھی اذیت د تصنیف ”السيف المسلول علی ش ”إن الساب مؤذ والمؤ

ترجمہ: بے شک گستاخی کرنے و کرنے والا ہوتا ہے، اور جو ب لہذا معلوم ہوا کہ گستاخ مستحق ہے، مذکورہ بالا آیت کی تفس ہیں، جنہوں نے اس بات کی صراح ملعون اور درد ناک عذاب کا مستحق فرماتے ہیں کہ: ”تو اللہ نے فرمایا کہ ان میں س یہ کہ آپ انصاف نہیں کرت پہنچانا تو کفر کی بات ہے ، کافر اور منافق لوگ ہی کرتے ہی

اسی طرح مذکورہ بالا آی فرماتے ہیں کہ: ”فيكون المؤذي لـ كافرا عدو الله ورسوله

صفحہ 61

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 61

فائدہ:

مذکورہ آیت مبارکہ سے حضرات مفسرین کرام ؒ نے یہ استدلال فرمایا ہے کہ آپ ﷺ کو اذیت دینے والا کافر اور دردناک عذاب کا مستحق ہے۔ اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ گستاخی کرنے والا بھی اذیت دینے والا ہوتا ہے، چنانچہ امام تقی الدین السبکی ؒ اپنی مایہ ناز تصنیف ”السیف المسلول علیٰ من سب الرسول“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”إن الساب مؤذ والمؤذى محاد والمحاد مكبوت أذل مغلوب“۔

السیف المسلول علی من سب الرسول، ص: ١٠٦۔

ترجمہ: بے شک گستاخی کرنے والا موذی (تکلیف دینے والا) ہے، اور موذی مخالفت کرنے والا ہوتا ہے، اور جو مخالفت کرنے والا ہو، وہ خوار، ذلیل اور مغلوب ہے۔

لہٰذا معلوم ہوا کہ گستاخِ رسول موذی ہونے کی وجہ سے کافر اور دردناک عذاب کا مستحق ہے، مذکورہ بالا آیت کی تفسیر میں ہم چند حضرات مفسرین کرام ؒ کی عبارتیں نقل کرتے ہیں، جنہوں نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ جناب نبی کریم ﷺ کو اذیت دینے والا کافر، ملعون اور دردناک عذاب کا مستحق ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی صاحب ؒ فرماتے ہیں کہ:

”تو اللہ نے فرمایا کہ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اللہ کے نبی کو اذیت پہنچاتے ہیں یعنی یہ کہ آپ انصاف نہیں کرتے اور ہمیں ہمارا حق نہیں دیتے، اللہ کے نبی کو اذیت پہنچانا تو کفر کی بات ہے نبی کو ناراض کرنا اللہ کو ناراض کرنا ہے، اس قسم کی باتیں کافر اور منافق لوگ ہی کرسکتے ہیں“۔

معالم العرفان فی دروس القرآن، ج:٩،ص:۴۲۶۔

اسی طرح مذکورہ بالا آیت مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

”فيكون المؤذى لرسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وسلم كافرا عدو الله ورسوله محاربا لله ورسوله۔“

الصارم المسلول، ص: ۲۹۔

صفحہ 62

توہین رسالت کا شرعی حکم

ترجمہ: آپ ﷺ کو ایذا دینے والا کافر، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا دشمن اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ لڑنے والا ہوگا۔

اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے مشہور مفسر اور محقق عالم الشیخ محمد الامین الشنقیطی المالکی رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تفسیر ”أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

"والذين يؤذون رسول الله لهم عذاب أليم صرح في هذه الآية الكريمة بأن من يؤذى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم له العذاب الأليم وذكر في الأحزاب أنه ملعون في الدنيا والآخرة وأن له العذاب المهين۔“

أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن، ج:٢، ص: ١٤٥ -

ترجمہ: جو لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کیلئے درد ناک عذاب ہے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچائے گا اس کے لئے درد ناک عذاب ہے اور سورۃ احزاب میں فرمایا ہے کہ وہ دنیا اور آخرت میں ملعون ہے اور اس کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔

نکتہ:

أضواء البيان کی عبارت سے معلوم ہوا کہ: جو شخص رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچائے اس کے لئے درد ناک اور رسوا کن عذاب ہے اور وہ دنیا و آخرت میں ملعون ہے، جبکہ امام تقی الدین السبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”عذاب مهین“ یعنی رسوا کن عذاب صرف کفار ہی کے لئے ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ ”السيف المسلول علی من سب الرسول“ فرماتے ہیں کہ:

"والأذى فى حقه وحق رسوله كفر لأن العذاب المهين إنما يكون للكفار۔“

السيف المسلول: ص ١٠٥ -

ترجمہ: کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذیت دینا کفر ہے کیونکہ رسوائی کا عذاب صرف کفار کیلئے ہوتا ہے ۔

اور چونکہ مذکورہ بالا عبارت میں بھی ایذا پہنچانے والے کیلئے عذاب مهین کا ذکر ہے

صفحہ 63

توہین رسالت کا شرعی حکم

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مفسر موصوف کے ہاں بھی ایذا دینے والا کافر ہے، كما هو مذهب الجمهور۔

علامہ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ آیت مذکورہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

"والذين يؤذون رسول الله بالقول أو الفعل لهم عذاب أليم فى الدنيا والآخرة ومن العذاب الأليم أنه يتحتم قتل مؤذيه وشاتمه"

تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، ج:۱، ص:۳۴۱۔

ترجمہ: جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاتے ہیں قولاً ہو یا فعلاً ان کے لئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور درد ناک عذاب میں سے یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کو ایذا پہنچانے والے اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کیلئے قتل ہونا متعین ہے۔ ”اسے ہر حال میں قتل کیا جائے“۔

امام ابوبکر الجزائری رحمہ اللہ ”أيسر التفاسير“ میں مذکورہ آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

"توعد الله تعالى من يؤذى رسوله بالعذاب الأليم دليل على كفر من يؤذى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم"

أيسر التفاسير، ج:۲، ص:۸۷۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے والے کو درد ناک عذاب سے ڈرانا اس بات کی دلیل ہے کہ ایذا پہنچانے والا کافر ہے۔

مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ”جامع البیان فی تاویل القرآن“ میں تحریر فرماتے ہیں:

"قال أبو جعفر يقول تعالى ذكره لهؤلاء المنافقين الذين يعيبون رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ويقولون هو أذن وأمثالهم من مكذبيه والقائلين فيه الهجر والباطل عذاب من الله موجع لهم في نار جهنم“

جامع البيان في تاويل القرآن، ج:١٤، ص:٣٢٨۔

ترجمہ: امام ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کے لئے

صفحہ 64

توہین رسالت کا شرعی حکم

جو رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر عیب لگاتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں ”ھو اُذُنٌ“ اور ان جیسے اور تکذیب کرنے والوں اور توہین و گستاخی کرنے والوں کے لئے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو جہنم کی آگ میں ان کے لئے سخت دردناک ہوگا۔

وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَّعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ﴾

سورة التوبة، الآية: ٦٥، ٦٦-

ترجمہ: اور اگر تو ان سے پوچھے تو وہ کہیں گے ہم تو بات چیت کرتے تھے، اور دل لگی، تو کہہ کیا اللہ سے اور اس کی آیتوں سے اور اس کے رسول سے تم ٹھٹھے کرتے تھے بہانے مت بناؤ تم تو کافر ہو گئے، اپنے ایمان کے پیچھے اگر ہم معاف کر دیں گے تم میں سے بعضوں کو تو البتہ عذاب بھی دیں گے بعضوں کو اس سبب سے کہ وہ گنہگار تھے۔

تفسیر:

”تبوک“ میں جاتے وقت بعض منافقین نے از راہِ تمسخر کہا: ”اس شخص محمد ﷺ کو دیکھو کہ شام کے محلات اور روم کے شہروں کو فتح کر لینے کا خواب دیکھتا ہے۔ انہوں نے رومیوں کی جنگ کو عربوں کی باہمی جنگ پر قیاس کر رکھا ہے۔ میں یقین کرتا ہوں کہ کل ہم سب رومیوں کے سامنے رسیوں میں بندھے ہوئے کھڑے ہوں گے۔ یہ ہمارے قراء (صحابہ ؓ) پیٹو ، جھوٹے اور نامرد یہ کیا روم کی باقاعدہ فوجوں سے جنگ کریں گے“ وغــــيــــر ذالـــك مــــن الهفوات۔ اس قسم کے مقولے جو مسلمانوں کو روم سے مرعوب و ہیبت زدہ کرنے اور شکستہ خاطر بنانے کے لئے کہہ رہے تھے، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں نقل ہوئے۔ آپ نے بلا کر باز پرس کی تو کہنے لگے کہ حضرت: ہم کہیں سچ مچ ایسا اعتقاد تھوڑا ہی رکھتے ہیں محض خوش وقتی و دل لگی کے طور پر کچھ کہہ رہے تھے کہ باتوں میں بآسانی سفر کٹ جائے۔

تفسیر عثمانی، ج:۱،ص:۴۱۶۔

صفحہ 65

توہین رسالت کا شرعی حکم

فائدہ:

ان آیات مبارکہ سے مندرجہ ذیل احکام ثابت ہوتے ہیں:

کرنا کفر ہے، چنانچہ علامہ عماد الدین بن محمد الطبری الشافعی ؒ ”احکام القرآن“ میں مذکورہ آیات میں سے پہلے آیت کریمہ سے استدلال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

”ودل أن الاستهزاء بآيات الله تعالى كفر۔“

أحكام القرآن، ج:۳، ص: ٧٤۔

ترجمہ: یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ استہزا کرنا کفر ہے۔

اسی طرح امام المفسرین حضرت امام رازی ؒ ”تفسیر کبیر“ میں مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

”أنه تعالى بين أن ذلك الاستهزاء كان كفرا، والعقل يقتضي أن الإقدام على الكفر لأجل اللعب غير جائز، فثبت أن قولهم : ﴿إنما كنا نخوض ونلعب﴾ ما كان عذرا حقيقيا في الإقدام على ذلك الاستهزاء ، فلما لم يكن ذلك عذرا في نفسه ، نهاهم الله عن أن يعتذروا به ، لأن المنع عن الكلام الباطل واجب۔“

التفسير الكبير، ج:١٦، ص:٢٢٥٤۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہ استہزا کرنا کفر ہے، اور عقل دل لگی کے لئے اقدام علی الکفر کے ناجائز ہونے کا تقاضا کرتی ہے، پس یہ بات ثابت ہوئی کہ ان منافقین کا یہ کہنا کہ: ”ہم تو محض بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے“ یہ اس استہزا کے لئے عذر نہیں بن سکتا، اور جب یہ عذر نہیں بن سکتا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ عذر پیش کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ غلط بات سے منع کرنا واجب ہے۔

مشہور حنفی فقیہ و مفسر حضرت امام ابوبکر الجصاص رازی ؒ ”احکام القرآن“ میں

صفحہ 66

AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

تحریر فرماتے ہیں کہ:

”ودل أيضا على أن الاستهزاء بآيات الله أو بشىء من شرائع دينه كفر فاعله۔“ احکام القرآن، ج:۳،ص:۲۰۷۔

ترجمہ: یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات یا دینی احکام میں سے کسی حکم کے ساتھ استہزاء کرنا فاعل کے حق میں کفر ہے۔

اسی طرح مفسر علام حضرت علامہ محمد بن صالح العثیمین مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ”تفسیر القرآن“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”وفي هذه الآية دليل على أن كل من استهان بأمر الرسول عليه الصلوة والسلام فإن عمله حابط لأن الاستهانة بالرسول عليه الصلوة والسلام ردة۔“ تفسیر القرآن للعثیمین،ج:۷،ص:١٠۔

ترجمہ: یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ جو بھی شخص نبی کریم ﷺ کے معاملہ میں اہانت اور گستاخی کا مرتکب ہوگا تو اس کے اعمال ضائع ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں توہین کرنا دین سے مرتد ہونا ہے۔

استخفاف، آیات الٰہیہ کے ساتھ استہزاء اور سرکار دو جہاں ﷺ کی توہین ایسا قبیح ترین کفر ہے کہ جس طرح سے بھی ہو، خواہ ہنسی مذاق اور محض دل لگی کے لئے ہو یا قصداً اور ارادۃً ہو، ہر حالت میں خرمنِ ایمان کو خاکستر کرنے والا ہے۔ چنانچہ مذکورہ آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

”یعنی کیا دل لگی اور خوش وقتی کا موقع ومحل یہ ہے کہ اللہ ورسول اور ان کے احکام کے ساتھ ٹھٹھا کیا جائے؟ خدا ورسول کا استہزاء اور احکام الٰہیہ کا استخفاف تو وہ چیز ہے کہ اگر محض زبان سے دل لگی کے طور پر کیا جائے وہ بھی کفر عظیم ہے، چہ جائے کہ منافقین کی طرح از راہِ شرارت وبد باطنی ایسی حرکت سرزد ہو۔“ تفسیر عثمانی، ج:۱،ص:۴۱۶۔

اسی طرح امام ابوبکر الجزائری رحمہ اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ:

توہین رسالت کا شرعی حکم

”کفر من استهزأ وجه وإنما التوبة أ

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے سا ساتھ استہزا کرنا کفر ہو، اور اس کے لئے جائے گا۔

اسی طرح امام ا ہے کہ کلمہ کفر جس حالت میں کہ:

”فاطلع الله نبيه وجه قالوه من إظهار كلمة الكفر

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے کہنا کفر ہے خواہ وہ دلیل ہے کہ کلمہ کفر کے

اسی طرح امام

”وهذا نص في أ المقصود بطريق برسول الله صلى

ترجمہ: یہ آیات اس رسول ﷺ کا استہزاء ہوگی اور یہ آیت اس

صفحہ 67

توہین رسالت کا شرعی حکم

”كفر من استهزأ بالله أو آياته أو رسوله لا يقبل اعتذار من كفر بأى وجه وإنما التوبة أو السيف فيقتل كفراً۔“

أيسر التفاسير، ج:۲، ص:۸۸۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ، یا اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے ساتھ استہزا کرنا کفر ہے اور اس کفر میں کوئی معذور نہیں سمجھا جائے گا، خواہ کوئی بھی وجہ ہو، اور اس کے لئے صرف توبہ یا تلوار، اور اس استہزا کرنے والے کو کفر کی وجہ قتل کیا جائے گا۔

اسی طرح امام ابو بکر جصاص رازی ؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کلمہ کفر جس حالت میں بھی کہا جائے وہ بہر حال کافر بنانے والا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”فاطلع الله نبيه على ذلك فأخبر أن هذا القول كفر منهم على أى وجه قالوه من جد وهزل فدل على استواء حكم الجاد والهازل فى إظهار كلمة الكفر ۔“

احکام القرآن، ج:۴، ص:۳۴۹۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (ﷺ) کو اس بات پر مطلع فرما دیا کہ: ان منافقوں کا یہ کہنا کفر ہے خواہ وہ شعوری طور پر کہیں یا ہنسی مذاق میں کہیں، پس یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کلمہ کفر کے اظہار میں شعور والے اور ہنسی مذاق والے سب برابر ہیں۔

اسی طرح امام ابن تیمیہ ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ:

”وهذا نص فى أن الاستهزاء بالله وبآياته وبرسوله كفر فالسب المقصود بطريق الأولى وقد دلت هذه الآية على أن كل من تنقص برسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم جادا أو هازلا فقد كفر“۔

الصارم المسلول، ص:۳۳۔

ترجمہ: یہ آیات اس بات پر نص ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے حکموں اور اس کے رسول ﷺ کا استہزا کرنا کفر ہے، پس جو گستاخی قصداً کی جائے تو وہ تو بطریق اولیٰ کفر ہو گی اور یہ آیت اس بات پر بھی قطعی دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی بھی رسول ﷺ کی

صفحہ 68

توہین رسالت کا شرعی حکم

شانِ اقدس کی تنقیص کرے گا خواہ وہ شعوری طور سے کرے یا ہنسی مذاق میں کرے ہر حال میں وہ کافر ہو جائے گا۔

اسی طرح مذکورہ آیات کی تفسیر میں حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ؒ فرماتے ہیں کہ:

”قد کفرتم بعد ایمانکم﴾ تم نے اظہارِ ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے، مفسرین محدثین اور فقہاء فرماتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کے کسی حکم یا اس کے رسول کے ساتھ تمسخر کرے گا وہ کافر ہو جائے گا، خواہ اس نے ایسی بات سنجیدگی سے کی ہو یا محض دل لگی سے۔“

(معالم العرفان فی دروس القرآن، ج:۹، ص:۴۳۱)

إِسْلَامِهِمْ وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا وَمَا نَقَمُوا إِلَّا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ وَإِنْ يَتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴾

(سورة التوبة، الآية: ٧٤)

ترجمہ: قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ ہم نے نہیں کہا اور بیشک کہا ہے انھوں نے لفظ کفر کا، اور منکر ہو گئے مسلمان ہو کر، اور قصد کیا تھا اس چیز کا جو ان کو نہ ملی اور یہ سب کچھ اسی کا بدلہ تھا کہ دولت مند کر دیا ان کو اللہ نے اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے، سو اگر توبہ کرلیں، تو بھلا ان کے حق میں، اور اگر نہ مانیں گے تو عذاب دے گا ان کو اللہ عذاب دردناک دنیا اور آخرت میں اور نہیں ان کا روئے زمین پر کوئی حمایتی اور نہ مددگار۔

(تفسیر عثمانی)

تفسیر:

یعنی حضور ﷺ کی دعا سے خدا نے انہیں دولت مند کر دیا، قرضوں کے بار سے سبکدوش ہوئے، مسلمانوں کے ساتھ ملے جلے رہنے کی وجہ سے غنائم میں حصہ ملتا رہا، حضور ﷺ کی برکت سے پیداوار اچھی ہوئی، ان احسانات کا بدلہ یہ دیا کہ خدا اور رسول کے

صفحہ 69

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ساتھ دغا بازی کرنے لگے اور ہر طرح پیغمبر اور مسلمانوں کو ستانے پر کمر باندھ لی۔ اب بھی اگر توبہ کر کے شرارتوں اور احسان فراموشیوں سے باز آ جائیں تو ان کے حق میں بہتر ہے ورنہ خدا دنیا و آخرت میں وہ سزا دے گا جس سے بچانے والا روئے زمین پر کوئی نہ ملے گا۔

تفسیر عثمانی، ج:۱، ص:۴۱۹۔

فائدہ:

مذکورہ آیت کی تفسیر میں مفسرین عظام ؒ نے لکھا ہے کہ ”كَلِمَةَ الْكُفْرِ“ سے مراد حضور ﷺ کی توہین اور گستاخی ہے، چنانچہ امام قرطبی ؒ فرماتے ہیں:

”قال القشیری کلمۃ الکفر سب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم أو الطعن فی الإسلام - “

تفسیر قرطبی ۸/ ۲۰۶ -

ترجمہ: امام قشیری ؒ نے فرمایا ہے کہ کلمہ کفر سے مراد آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا ہے یا دین اسلام میں عیب نکالنا ہے۔

اسی بات کو بیان کرتے ہوئے علامہ محمد بن احمد الخطیب الشربینی ؒ تفسیر ”السراج المنیر“ میں فرماتے ہیں کہ:

”ولقد قالوا کلمۃ الکفر وھی سب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم - “

تفسیر السراج المنیر -

ترجمہ: اور تحقیق انھوں نے کلمہ کفر کہا اور وہ کلمہ کفر آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا ہے۔

نکتہ:

امام قرطبی ؒ اور خطیب شربینی ؒ دونوں بزرگ یہ فرماتے ہیں کہ: کلمہ کفر سے مراد آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنا ہے گویا دونوں بزرگ اس بات کے قائل ہیں کہ جو بھی شخص آپ ﷺ کی گستاخی کرے تو وہ کافر ہے، اور ایسے کافر کا حکم ہم پہلے ”الشفاء“ کے حوالے ذکر کر چکے ہیں کہ: ”وحکم الکافر القتل“

(الشفاء، ج:۲، ص:۱۳۶)

اسی طرح یہی بات علامہ خازن ؒ نے بھی تحریر فرمائی ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 70

توہین رسالت کا شرعی حکم

”أى أظهروا كلمة الكفر بعد إسلامهم وتلك الكلمة هى سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم ـ“ تفسير الخازن، ج:٣، ص: ٣١٠۔

ترجمہ: انھوں نے کلمہ کفر کو ظاہر کیا اسلام ظاہر کرنے کے بعد، اور کلمہ کفر سے مراد آپ ﷺ کی گستاخی ہے۔

حضرت علامہ بغویؒ نے بھی تفسیر ”معالم التنزیل“ میں یہی بات تحریر فرمائی ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

”أى أظهروا الكفر بعد إظهار الإيمان والإسلام وقيل هى سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم-" معالم التنزيل، ج:٤ ۔ ص:٧٥۔

ترجمہ: انھوں نے کفر کو ظاہر کیا، ایمان اور اسلام ظاہر کرنے کے بعد اور کہا گیا ہے کہ کلمہ کفر سے مراد آپ ﷺ کی گستاخی ہے۔

فائدہ:

اس آیت مذکورہ کو یہاں لانے سے ہمارا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ گستاخی رسول کو مفسرین نے کلمہ کفر میں شمار کیا ہے، باقی یہ بات کہ ”فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ“ سے گستاخ رسول کی توبہ کی قبولیت اور سزائے موت سے بری ہو جانے پر استدلال ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس کو ہم ان شاء اللہ باب پنجم میں مستقل فصلیں قائم کر کے ذکر کریں گے۔

اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ خَلِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾

سورة المجادلة، الآية: ٢٢۔

ترجمہ: تو نہ پائے گا کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور پچھلے دن پر کہ وہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ

صفحہ 71

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ہوں یا اپنے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے گھرانے کے ان کے دلوں میں اللہ نے لکھ دیا ہے ایمان اور ان کی مدد کی ہے اپنے غیب کے فیض سے اور داخل کرے گا ان کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی وہ لوگ ہیں گروہ اللہ کا سنتا ہے جو گروہ ہے اللہ کا وہی مراد کو پہنچے۔ (تفسیر عثمانی)

تفسیر:

حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں: ”یعنی جو دوستی نہیں رکھتے اللہ کے مخالف سے اگرچہ باپ بیٹے ہوں وہ ہی سچے ایمان والے ہیں ان کو یہ درجے ملتے ہیں۔“ صحابہؓ کی شان یہ ہی تھی کہ اللہ و رسول کے معاملہ میں کسی چیز اور کسی شخص کی پروا نہیں کی، اسی سلسلہ میں ابو عبیدہؓ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ جنگ ”احد“ میں ابو بکر صدیقؓ اپنے بیٹے عبدالرحمن کے مقابلہ میں نکلنے کو تیار ہو گئے ، مصعب بن عمیرؓ نے اپنے بھائی عبید ابن عمیر کو ، عمر ابن الخطابؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو ، علی ابن ابی طالبؓ ، حمزہؓ اور عبیدہ ابن الحارثؓ نے اپنے اقارب عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا اور رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہؓ نے جو مخلص مسلمان تھے ، عرض کیا کہ یا رسول اللہﷺ : اگر آپ حکم دیں تو اپنے باپ کا سر کاٹ کر خدمت میں حاضر کروں؟ آپ نے منع فرما دیا۔ فرضی اللہ تعالیٰ عنہم ورضوا عنه ورزقنا الله حبهم واتباعهم واماتنا عليه۔ آمین

تفسیر عثمانی، ج:۲، ص:۱۱۵۸۔

علامہ واحدیؒ نے ”أسباب النزول“ میں مذکورہ آیت کریمہ کے شانِ نزول میں ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ:

”قال ابن جريج حدثت أن أبا قحافة سب النبى صلى الله تعالى عليه و سلم فصكه أبو بكر رضى الله تعالى عنه صكة شديدة سقط منهاثم ذكر ذلك للنبى صلى الله تعالى عليه وسلم قال أو فعلته؟ قال: نعم! قال فلا تعدإليه فقال أبو بكر رضى الله تعالى عنه والله لو كان السيف قريبا منى لقتلته فأنزل الله تبارك وتعالى الآية۔“

أسباب النزول، ج:۱، ص:۲۷۷۔

صفحہ 72

AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

ترجمہ: امام ابن جریج ؒ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث بیان کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ ابوقحافہ (حضرت ابوقحافہ ؓ جو جناب سیدنا صدیق اکبر ؓ کے والد محترم تھے اور بعد میں مشرف باسلام ہوگئے تھے) نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی (ایمان لانے سے پہلے) تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے انھیں اتنے زور سے طمانچہ مارا کہ خود گر گئے، پھر اس کے بعد نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟ تو صدیق اکبر ؓ نے جواب دیا کہ ہاں! نبی کریم ﷺ نے فرمایا دوبارہ ایسا نہ کرنا تو جناب صدیق اکبر ؓ نے فرمایا: کہ اللہ کی قسم اگر اس وقت تلوار میرے پاس ہوتی تو میں خواہ مخواہ اسے قتل کر دیتا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ مذکورہ آیت نازل فرمائی۔

اس سے معلوم ہوا کہ جناب سیدنا صدیق اکبر ؓ بھی گستاخ رسول کو قتل کرنے کے قائل تھے۔

فائدہ:

مذکورہ بالا آیت کریمہ سے حضرت امام ابن تیمیہ ؒ گستاخ رسول کے کافر ہونے پر استدلال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

”فإذا كان من يواد المحاد ليس بمؤمن فكيف بالمحادنفسه؟“

الصارم المسلول، ص: ۳۰۔

ترجمہ: کہ جب وہ آدمی مومن نہیں ہوسکتا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والے سے دوستی رکھتا ہے، تو خود مخالفت کرنے والے کا کیا حال ہوگا؟

نکتہ:

امام ابن تیمیہ ؒ کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والا مومن نہیں ہوسکتا، اور امام تقی الدین السبکی ؒ فرماتے ہیں کہ: حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والا ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”أن الساب مؤذی والموذی المحاد۔“

الصارم المسلول، ص: ۱۰۶۔

توہین رسالت کا شرعی حکم AA

ترجمہ: کہ گستاخی کرنے وا لہٰذا جب امام ابن اور امام سبکی ؒ کے فرمان ک گا کہ توہین کرنے والا کافر ہے اسی طرح مذکورہ با فرمایا ہے کہ جس دل میں الل سکتا، چنانچہ وہ ”تفسیر کبیر“ م

”والمعنى أنه لايجم أحب أحدا امتنع أن

ترجمہ: آیت کا مطلب ی نہیں ہوسکتے کیونکہ ج محبت نہیں کرسکتا۔

نکتہ:

اور یہ بات ظاہر ہ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ محب سے اللہ تعالیٰ کا دشمن بن جات

13 ....... ﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُم فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ

ترجمہ: یہ اس واسطے ک ہوا اللہ کا اور اس کے رس

فائدہ:

اس آیت مبارک ابن تیمیہ ؒ ”الصارم ال

صفحہ 73

توہین رسالت کا شرعی حکم

ترجمہ: کہ گستاخی کرنے والا ایذا دینے والا ہے، اور موذی مخالفت کرنے والا ہے۔ لہٰذا جب امام ابن تیمیہ ؒ کے فرمان کے مطابق مخالفت کرنے والا کافر ہے، اور امام سبکی ؒ کے فرمان کے مطابق توہین کرنے والا مخالفت کرنے والا ہے، تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ توہین کرنے والا کافر ہے۔

اسی طرح مذکورہ بالا آیت کریمہ سے حضرت امام رازی ؒ نے بھی یہ استدلال فرمایا ہے کہ جس دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ہو وہاں ایمان جمع نہیں ہو سکتا، چنانچہ وہ ”تفسیر کبیر“ میں فرماتے ہیں کہ:

"والمعنى أنه لا يجتمع الإيمان مع وداد أعداء الله وذلك لأن من أحب أحدا امتنع أن يحب مع ذلك عدوه ـ"

ترجمہ: آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دشمنوں کی محبت اور ایمان دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے کیونکہ جب ایک آدمی کسی سے محبت کرتا ہے تو پھر اس کے دشمن کے ساتھ محبت نہیں کر سکتا۔

نکتہ:

اور یہ بات ظاہر ہے کہ توہین رسالت کرنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی کرنی ہے، اور جب اللہ کے دشمنوں کے ساتھ محبت کرنے والا مومن نہیں ہو سکتا تو خود جو بد بخت توہین رسالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا دشمن بن جاتا ہے اس کا کیا حشر ہوگا؟ صاف ظاہر ہے۔

13.......﴿ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ﴾

سورة الانفال ، الآية: ۱۳۔

ترجمہ: یہ اس واسطے کہ وہ مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور جو کوئی مخالف ہو اللہ کا اور اس کے رسول کا تو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔“ (تفسیر عثمانی)

فائدہ:

اس آیت مبارکہ اور اس سے پہلی والی آیت مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ ؒ ”الصارم المسلول“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

صفحہ 74

74 AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

"فجعل إلقاء الرعب فى قلوبهم والأمر بقتلهم لأجل مشاقّتهم لله ورسوله يستوجب ذلك والمؤذى للنبى صلى الله تعالى عليه وسلم مشاق لله ورسوله كما تقدم فيستحق ذلك۔"

(الصارم المسلول، ص:۳۰)

ترجمہ: ان مشرکین کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب بھی ڈالا اور ان کے قتل کرنے کا حکم بھی دیا پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا وہ اس کا مستحق ہوگا اور جیسے کہ پہلے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایذا دینے والا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والا ہے، لہٰذا وہ بھی قتل کا مستحق ہوگا۔

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAA

باب دوم

گستاخ رسول احادیث

باب اول میں قرآن کریم کی آیات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سر قبیح ترین جرم ہے جس کا مرتکب نہ صرف ناپاک وجود سے اس زمین کو پاک کرنا بھی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ توہین رسالت مسلمان ہو تو اس جرم عظیم کے ارتکاب کی کا عہد ذمہ ختم ہوجاتا ہے۔

اس باب میں ان شاء اللہ تقریباً سینتیس اقوال سے اس بات کو

"أن أعمى كانت له أم ولد وتقع فيه، فينهاها فلا تنت ذات ليلة، جعلت تقع وتشتمه، فأخذ المعول بين رجليها طفل فلطخ للنبي صلى الله تعالى علي فعل ما فعل لي عليه حق

صفحہ 75

توہین رسالت کا شرعی حکم

باب دوم

﴿ گستاخ رسول احادیث مبارکہ کے آئینہ میں ﴾

باب اول میں قرآن کریم کی آیات مبارکہ اور حضرات مفسرین کرام ؒ کے اقوال سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سرور دوجہاں ﷺ کی شان اقدس میں کسی بھی قسم کی گستاخی وہ قبیح ترین جرم ہے، جس کا مرتکب نہ صرف یہ کہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، بلکہ اس کے ناپاک وجود سے اس زمین کو پاک کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جمہور امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔ اور اگر وہ مسلمان ہو تو اس جرم عظیم کے ارتکاب کی وجہ سے وہ دائرہ اسلام سے خارج، اور اگر ذمی ہو تو اس کا عہد ذمہ ختم ہو جاتا ہے۔

اس باب میں ان شاء اللہ سترہ احادیث مبارکہ اور حضرات محدثین عظام ؒ کے تقریباً سینتیس اقوال سے اس بات کو ثابت کیا جائے گا۔

ذکر فرمائی ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

"أن أعمى كانت له أم ولد تشتم النبى صلى الله تعالى عليه وسلم وتقع فيه، فينهاها فلا تنتهى ويزجرها فلا تنزجر، قال فلما كانت ذات ليلة، جعلت تقع فى النبى صلى الله تعالى عليه وسلم، وتشتمه، فأخذ المغول، فوضعه فى بطنها واتكأ عليها فقتلها، فوقع بين رجليها طفل فلطخت ما هناك بالدم، فلما أصبح ذكر ذلك للنبی صلى الله تعالى عليه وسلم، فجمع الناس فقال أنشد الله رجلا فعل ما فعل لى عليه حق إلا قام، قال فقام الأعمى يتخطى الناس وهو

صفحہ 76

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAA 76

يتزلزل حتى قعد بين يدى النبى صلى الله تعالى عليه وسلم ، فقال : يا رسول الله ! أنا صاحبها ، كانت تشتمك وتقع فيك ، فأنهاها فلا تنتهى ، وأزجرها فلا تنزجر، ولى منها ابنان مثل اللؤلؤتين وكانت بى رفيقة، فلما كان البارحة جعلت تشتمك وتقع فيك ، فأخذت المغول فوضعته فى بطنها واتكأت عليها حتى قتلتها، فقال النبى صلى الله تعالى عليه وسلم : ألا اشهدوا ! إن دمها هدر ۔“

سنن أبى داؤد، كتاب الحدود، باب الحكم فيمن سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم ، ص : ١٥٤١ ، رقم الحديث : ٤٣٦١ ۔

ترجمہ : ایک اندھے شخص کی ایک باندی تھی جو نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتی تھی ، اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی ، وہ نابینا اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی ، اور وہ اسے ڈانٹتا مگر اس پر ڈانٹ کا کوئی اثر نہ ہوتا ۔ (حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ) کہ ایک دفعہ پھر اس نے رات کو آپ ﷺ کے خلاف زبان درازی شروع کی اور گستاخی کرنے لگی ، تو اس نابینا نے ایک بھالہ (خنجر) لیا اور اس باندی کے پیٹ میں پیوست کر دیا اور اسے خوب دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی اس عورت کے دونوں پاؤں کے درمیان لڑکا گرا، اور وہ خون سے لتھڑ گئی ۔ صبح جب اس بات کا تذکرہ حضور ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا : ”میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا جو کچھ کیا اور اس پر میرا حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے ۔“ (حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ) کہ وہ نابینا لوگوں کو پھلانگتے ہوئے آگے بڑھا اس حال میں کہ وہ لڑکھڑا رہا تھا، اور حضور ﷺ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ، اور عرض کرنے لگا کہ یا رسول اللہ ! میں اس کا قاتل ہوں ، وہ آپ کو گالیاں دیتی تھی اور گستاخیاں کرتی تھی ، میں اس کو روکتا مگر وہ باز نہ آتی ، اور میں اس کو ڈانٹتا مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا ، میرے اس سے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں ، اور وہ میری رفیقہ حیات تھی ، پچھلی رات وہ دوبارہ آپ کے خلاف بکواس کرنے لگی ، اور زبان درازی شروع کی میں نے بھالہ (خنجر) لیا اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا ، اور خوب دبایا یہاں تک کہ وہ مرگئی ۔ یہ بات سن کر آپ ﷺ نے ارشاد

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAA

فرمایا کہ : ”تم گواہ رہو کہ اس کا خو

فائدہ:

اس حدیث مبارکہ سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

کہ اسے قتل کیا جائے ، کیونکہ نابینا ص آپ ﷺ کی شان اقدس میں زبان در بتایا گیا کہ اس عورت کو صرف اس وج حضور ﷺ کی شان میں زبان درازی اگر اس کا قتل کرنا جائز نہ ہوتا تو آپ ص فرماتے۔ لیکن جب آپ ﷺ نے فر کہ توہین رسالت وہ فجیع جرم ہے کہ جو چنانچہ اسی بات کو بیان کرتے ہوئے ام

” فلولم يكن قتلها جائزا لم قتلها كان محرما ، وأن دم بقتل المعصوم والدية إل أن دمها كان هدرا ۔“وال علم أنه كان مباحا، دمها لاسيما والنبى صلى إخباره بأنها قتلت لأجل ش

ترجمہ : اگر اس عورت کو قتل کرنا جا کو قتل کرنا حرام تھا، اور اس کا خو

صفحہ 77

توہین رسالت کا شرعی حکم فرمایا کہ : ”تم گواہ رہو کہ اس کا خون ہدر (رائیگاں) ہے۔

فائدہ:

اس حدیث مبارکہ سے حضرات محدثین عظام ؒ کے اقوال کی روشنی میں مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

کہ اسے قتل کیا جائے ، کیونکہ نابینا صحابی نے اس عورت کو صرف اسی وجہ سے قتل کیا کہ وہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں زبان درازی کرتی تھی، اور پھر جب جناب نبی کریم ﷺ کو یہ بتایا گیا کہ اس عورت کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا ہے کہ وہ توہین رسالت کی مرتکب اور حضور ﷺ کی شان میں زبان درازی کرتی تھی تو آپ ﷺ نے اس کے خون کو ہدر فرما دیا۔ اگر اس کا قتل کرنا جائز نہ ہوتا تو آپ ﷺ ضرور اس نابینا صحابی پر قصاص یا دیت وغیرہ کا فیصلہ فرماتے۔ لیکن جب آپ ﷺ نے اس کے خون کو ہدر فرما دیا، تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ توہین رسالت وہ قبیح جرم ہے کہ جو شخص اس کا مرتکب ہو جائے تو وہ مباح الدم ہو جاتا ہے۔

چنانچہ اسی بات کو بیان کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

" فلولم يكن قتلها جائزا لبين النبى صلى الله تعالى عليه وسلم له أن قتلها كان محرما، وأن دمها كان معصوما، ولا وجب عليها الكفارة بقتل المعصوم والدية إن لم تكن مملوكة لها، فلما قال :" اشهدوا أن دمها كان هدرا - "والهدر الذى لا يضمن بقود ولا دية ولا كفارة علم أنه كان مباحا مع كونها ذمية، فعلم أن السب أباح دمها لا سيما و النبى صلى الله تعالى عليه وسلم إنما أهدر دمها عقب إخباره بأنها قتلت لأجل السب، فعلم أنه الموجب ذلك۔“

الصارم المسلول، ص: ٥٩۔

ترجمہ : اگر اس عورت کو قتل کرنا جائز نہ ہوتا تو رسول کریم ﷺ ضرور فرما دیتے کہ اس کو قتل کرنا حرام تھا، اور اس کا خون معصوم تھا، اور معصوم کو قتل کرنے کی وجہ سے اس

صفحہ 78

توہین رسالت کا شرعی حکم

نابینا پر کفارہ کو واجب قرار دیتے، اور اگر وہ ام ولد نہ ہوتی تو اس پر دیت کو واجب قرار دیتے، پس جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا خون ہدر ہے، اور ہدر وہ ہوتا ہے جس کا نہ قصاص ہو، نہ دیت ہو اور نہ کفارہ، تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ ذمی ہونے کے باوجود مباح الدم تھی، گویا آپ ﷺ کی شان میں گستاخی نے اس کے خون کو مباح کر دیا تھا، اور بالخصوص آپ ﷺ نے اس کے خون کو اس وقت ہدر قرار دیا جب آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ اس کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی وجہ سے قتل کر دیا گیا ہے، پس معلوم ہوا کہ اس قتل کا موجب یہی توہین رسالت تھا۔

عظیم کی وجہ سے اس کا عہد ذمہ ختم اور وہ قتل کا مستحق بن جائے گا، چنانچہ علامہ شمس الحق عظیم آبادی ؒ مذکورہ حدیث پاک کی تشریح میں علامہ سندھی ؒ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

"وفيه دليل على أن الذمى إذا لم يكف لسانه عن الله ورسوله فلا ذمة له، فيحل قتله۔"

عون المعبود، ج:۱۲، ص:۱۱۔

ترجمہ : حدیث ابن عباس ؓ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ذمی آدمی جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف زبان درازی سے باز نہ آئے تو اس کا معاہدہ ختم اور اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے۔

نکتہ:

علامہ عظیم آبادی ؒ کی بات سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کوئی ذمی بارگاہِ رسالت میں توہین کا ارتکاب کرے گا تو اس کا معاہدہ ختم اور قتل جائز ہو جاتا ہے، اور یہ بات مسلمات میں سے ہے کہ جو حکم ذمی کا ہے وہی حکم مسلمان کا بھی ہے، چنانچہ خود علامہ موصوف مزید بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

"وقد قيل أنه لا خلاف في أن سابه من المسلمين يجب قتله۔"

عون المعبود، ج:۱۲، ص:۱۱۔

ترجمہ : اور کہا گیا ہے کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ

صفحہ 79

توہین رسالت کا شرعی حکم

کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو اس کو قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔

اسی طرح علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں کہ:

”ولا أعلم أحدا من المسلمين اختلف في وجوب قتله إذا كان مسلما ۔“ الشفاء، ج: ۲، ص: ١٣٤، السيف المسلول، ص: ٩٧۔

ترجمہ: شاتم رسول کے (جب وہ مسلمان ہو) قتل کے واجب ہونے میں مسلمانوں میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

بلکہ اس پر قابو پاتے ہی اسے فوراً بغیر مطالبہ توبہ کے قتل کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نابینا صحابی نے اُس گستاخ عورت کو قتل کرتے وقت اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا تھا، اور یہ صحابی کا ایسا فعل ہے جو کہ تقریرِ نبی کے ساتھ مؤید ہے (کیونکہ بعد میں جب نبی کریم ﷺ کو پتہ چلا تو آپ ﷺ نے اس کا خون ہدر فرمایا اور اس صحابیؓ سے کوئی تعرض نہیں فرمایا) جو کہ بالاتفاق حجت ہے۔

موت بطورِ حد کے ہے، لہٰذا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اگر وہ خود توبہ کر بھی لے تب بھی اس کی سزائے موت ساقط نہیں ہو سکتی، کیونکہ حدود توبہ سے معاف نہیں ہوا کرتے۔ چنانچہ علامہ شوکانیؒ ” نیل الأوطار“ میں مذکورہ روایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

”وفي حديث ابن عباس رضي الله تعالى عنه وحديث الشعبي رحمة الله عليه دليل على أنه يقتل من شتم النبي صلى الله تعالى عليه وسلم، وقد نقل ابن المنذر رحمة الله عليه الاتفاق على أن من سب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم صريحا وجب قتله ونقل أبو بكر الفارسى رحمة الله عليه أحد أئمة الشافعية في ”كتاب الإجماع“ أن من سب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم بما هو قذف صريح كفر باتفاق العلماء، فلو تاب لم يسقط عنه القتل لأنه حد

صفحہ 80

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAA

قذفه القتل، وحد القذف لا يسقط بالتوبة۔“ نيل الأوطار، كتاب حد الشارب الخمر، باب من صرح بسب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم، ج: ۷، ص: ١١٤ ـ

ترجمہ: حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حدیث شعبی رحمۃ اللہ علیہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے اسے قتل کیا جائے۔ ابن المنذر رحمۃ اللہ علیہ نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص صراحتاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ ابو بکر فارسی رحمۃ اللہ علیہ نے جو ائمہ شافعیہ میں سے ہیں، ”کتاب الاجماع“ میں نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرے تو وہ تمام ائمہ کے نزدیک کافر ہے اور اگر وہ توبہ بھی کرلے، تب بھی اس سے قتل کی سزا ساقط نہیں ہو سکتی، کیونکہ قذف کی حد قتل ہے ، اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔

اس گستاخ پر قابو پالے اور اسے قتل کرے تو شرعاً وہ اس قتل کرنے کی وجہ سے مجرم نہیں ہے۔

صلى الله تعالى عليه وسلم وتقع فيه، فخنقها رجل، حتى ماتت، فابطل رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم دمها۔﴾

سنن أبى داود، كتاب الحدود، باب الحكم فيمن سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم، ص: ١٥٤١، رقم الحديث: ٤٣٦٢ ـ

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں زبان درازی کرتی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی، ایک شخص نے اس کا گلا دبا دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون باطل (رائیگاں) قرار دیا۔

فائدہ:

یہ روایت بھی صراحتاً اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کرنا ہی متعین ہے۔ بعض حضرات محدثین کرام رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں اسی نابینا صحابی رضی اللہ عنہ کے واقعے کی طرف اشارہ ہے کہ جنہوں نے توہین رسالت کی مرتکب اپنی ام ولد باندی کو قتل کیا تھا

توہین رسالت کا شرعی حکم جسے ہم اس سے پہلے ذکر ایک الگ واقعہ ہے، لیک دونوں صورتوں میں یہ و کرام رضی اللہ عنہم نے اس روای استدلال کرتے ہوئے ام ”وهذا الحديث ن عليه وسلم ودل إذا سبا بطريق الا ترجمہ: یہ حدیث پاک جواز پر نص ہے اور اس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان می اسی طرح محدث کرتے ہوئے ”بذل المجہو ”ولذا أفتى أكثر الله تعالى عليه وسل ترجمہ: اکثر احناف ن شان میں گستاخی کرتا ہ قتل ہی کیا جائے گا۔

نکتہ:

فقہاء کا اختلاف شان میں گستاخی کرے تو ذکر فرمایا ہے کہ عند الاح کرے تو فقہاء کا متفقہ فیص

صفحہ 81

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 81

جسے ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور بعض دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ: نہیں، بلکہ یہ ایک الگ واقعہ ہے، لیکن بہر حال اسے ایک ہی واقعہ شمار کیا جائے یا دو الگ الگ واقعات، دونوں صورتوں میں یہ روایت گستاخ رسول کے قتل کے جواز پر نص ہے، اور حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ نے اس روایت سے اسی بات پر استدلال کیا ہے۔ چنانچہ اسی حدیث پاک سے استدلال کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

”وهذا الحديث نص فى جواز قتلها لأجل شتم النبى صلى الله تعالى عليه وسلم ودليل على قتل الرجل الذمى وقتل المسلم والمسلمة إذا سبا بطريق الأولى۔“

الصارم المسلول، ص: ٥٣۔

ترجمہ: یہ حدیث پاک آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والی عورت کے قتل کے جواز پر نص ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کوئی ذمی مرد یا کوئی مسلمان مرد و عورت آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو اسے بطریق اولیٰ قتل کیا جائے گا۔

اسی طرح محدث کبیر حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ اس روایت کی تشریح کرتے ہوئے ”بذل المجہود“ میں فرماتے ہیں کہ:

”ولذا افتى أكثرهم (أى الحنفية) بقتل من اكثر سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم من اهل الذمة وإن أسلم بعد أخذه ۔“

بذل المجهود، ج: ٢، ص: ١٢٥۔

ترجمہ: اکثر احناف نے اس ذمی کے قتل کا فتوی دیا ہے جو کثرت سے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہو، اگرچہ وہ گرفتاری کے بعد مسلمان بھی ہو جائے، تب بھی اسے قتل ہی کیا جائے گا۔

نکتہ:

فقہاء کا اختلاف صرف ذمی کے بارے میں ہے کہ آیا جب کوئی ذمی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو اسے قتل کیا جائیگا یا نہیں؟ علامہ سہارنپوری رحمہ اللہ نے احناف کا مذہب ذکر فرمایا ہے کہ عند الاحناف ایسے ذمی کو قتل کیا جائیگا۔ باقی اگر کوئی مسلمان العیاذ باللہ یہ جرم کرے تو فقہاء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اسے قتل کرنا واجب ہے۔ اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں۔

صفحہ 82

توہین رسالت کا شرعی حکم

يقول: قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم من لكعب بن الأشرف؟ فإنه قد آذى الله ورسوله، فقام محمد بن مسلمة ، فقال: يا رسول الله أتحب أن أقتله؟ قال نعم! قال فاذن لى أن أقول شيئا، قال قل! فأتاه محمد بن مسلمة، فقال: إن هذا الرجل قد سألنا صدقة، وإنه قد عنانا، وإنى قد أتيتك أستسلفك ، قال: وأيضا والله! لتملنه، قد إنا قد اتبعناه، فلا نحب أن ندعه حتى ننظر إلى أى شيء يصير شأنه، وقد أردنا أن تسلفنا وسقاً أو وسقين، وحدثنا عمرو غير مرة ، فلم يذكر وسقاً أو وسقين، فقلت له فيه وسقاً أو وسقين؟ فقال: أرى فيه وسقاً أو وسقين، فقال: نعم! ارهنونى! قالوا أى شيء تريد؟ قال ارهنونى نساء كم، قالوا: كيف نرهنك نساء نا؟ وأنت أجمل العرب، قال فارهنونى أبناء كم، قالوا كيف نرهنك أبناء نا؟ فيسب أحدهم فيقال رهن بوسق أو وسقين، هذا عار علينا، ولكنا نرهنك اللأمة، قال سفيان يعنى السلاح ـ فواعده أن يأتيه فجاءه ليلا، ومعه أبو نائلة وهو أخو كعب من الرضاعة، فدعاهم إلى الحصن، فنزل إليهم، فقالت له امرأته أين تخرج هذه الساعة؟ فقال: إنما هو محمد بن مسلمة وأخى أبو نائلة، وقال غير عمرو قالت: أسمع صوتا يقطر منه الدم، قال إنما هو أخى محمد بن مسلمة ورضيعى أبو نائلة، إن الكريم لودعى إلى طعنة بليل لأجاب ، قال: ويدخل محمد بن مسلمة معه رجلين، قيل: لسفيان سماهم عمرو؟ قال سمى بعضهم، قال عمرو: جاء معه برجلين ، وقال غير عمرو: أبو عبس بن جبر، والحارث بن أوس، وعباد بن بشر، قال عمرو: جاء معه برجلين، فقال: إذا ما جاء فإنى قائل: بشعره، فأشمه،

صفحہ 83

توہین رسالت کا شرعی حکم

فإذا رأيتموني استمكنت من رأسه فدونكم فاضربوه، وقال: مرة ثم أشمكم، فنزل إليهم متوشحا، وهو ينفح منه ريح الطيب، فقال : ما رأيت كاليوم ريحا، أى أطيب ! وقال غير عمرو قال عندى أعطر نساء العرب، وأكمل العرب، قال عمرو فقال أتأذن لى أن أشم رأسك؟ قال نعم ! فشمه، ثم أشم أصحابه، ثم قال : أتأذن لى؟ قال نعم ! فلما استمكن منه ، قال : دونكم فقتلوه، ثم أتوا النبي صلى الله تعالى عليه وسلم فأخبروه۔ ﴾

صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب قتل کعب بن الأشرف، ص: ۴۳۰، رقم الحدیث: ۴۰۳۷۔

ترجمہ: عمرو کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”کون کعب بن اشرف کا ذمہ لیتا ہے؟ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی ہے۔“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ! انھوں نے عرض کیا کہ پھر مجھے کچھ تعریضی کلمات کہنے کی اجازت عطا فرمائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ”اجازت ہے۔“ پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب بن اشرف کے پاس گئے ، اور کہا کہ یہ شخص ( حضور صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم سے صدقہ طلب کر رہے ہیں اور انھوں نے ہمیں تھکا دیا ہے ، اور میں آپ کے پاس قرض لینے کے لئے آیا ہوں ، کعب کہنے لگا کہ : بخدا آپ لوگ اس نبی سے ضرور تھک جائیں گے ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ہم نے ان کی تابعداری کی ہے ہم نہیں چاہتے کہ ان کا ساتھ چھوڑ دیں ، یہاں تک کہ یہ دیکھ لیں کہ ان کا انجام کار کیا ہوتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ بطور ادھار دے دیں، (سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عمرو نے یہ حدیث مجھے کئی دفعہ سنائی ، مگر ایک وسق یا دو وسق کا ذکر نہیں کیا میں نے پوچھا کہ کیا اس میں ایک وسق یا دو وسق کا ذکر ہے؟ تو فرمایا کہ میرا خیال یہ ہے کہ ایک وسق یا دو وسق کا ذکر ہے ) کعب کہنے لگا کہ جی ہاں میں دیتا ہوں مگر تم مجھے رہن دو ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے کہا کہ کون سی چیز تو رہن چاہتا ہے ، وہ کہنے

صفحہ 84

توہین رسالت کا شرعی حکم لگا مجھے اپنی عورتیں بطور رہن کے دے دو، محمد بن مسلمہ ؓ اور ان کے ساتھی کہنے لگے ہم تجھے اپنی عورتیں کیسے رہن میں دے سکتے ہیں؟ تو تو عربوں میں سب سے زیادہ حسین ہے وہ کہنے لگا پھر مجھے اپنے بیٹے رہن میں دیدو انھوں نے جواب دیا ہم کیسے اپنے بیٹے تجھے رہن دیدیں، یہ تو ان کے لئے عار کی بات ہے کل ان کو گالی دی جائے گی کہ ایک وسق یا دو وسق کے بدلے رہن رکھے گئے تھے، ہاں ہم تیرے پاس اپنے ہتھیار رہن میں رکھ سکتے ہیں، سفیان ؒ کہتے ہیں کہ ”لامہ“ سے مراد ہتھیار ہے۔ محمد بن مسلمہ ؓ نے کعب سے وعدہ کیا کہ وہ رات کو آئے گا، وہ رات کو آئے، اور ان کے ساتھ ابو نائلہ بھی تھے، جو کعب کے رضاعی بھائی تھے، کعب نے انھیں قلعہ کی طرف بلایا اور وہ قلعے سے اتر کر ان کے پاس آگیا، اس کی بیوی نے اس سے کہا کہ اس وقت کدھر جارہے ہو اس نے کہا کہ محمد بن مسلمہ ؓ اور میرے بھائی ابو نائلہ ہیں، عمرو کے علاوہ باقی راوی یہ بھی کہتے ہیں کہ: اس کی بیوی نے یہ بھی کہا کہ: میں ایسی آواز سن رہی ہوں جس سے خون ٹپک رہا ہے، کعب نے بیوی کو جواب دیا وہ تو صرف محمد بن مسلمہ ؓ اور میرے رضاعی بھائی ابو نائلہ ہیں کریم تو وہ ہوتا ہے کہ اگر رات کو اسے نیزہ بازی کی طرف بلایا جائے تو وہ آگے بڑھتا ہے اور لازماً جواب دیتا ہے، راوی کہتا ہے کہ محمد بن مسلمہ ؓ دو مردوں کے ساتھ آئے تھے، سفیان ؒ سے کہا گیا کہ کیا عمرو نے ان کے نام لئے تھے؟ تو کہنے لگا کہ بعض کے لئے تھے، عمرو نے کہا تھا کہ وہ اپنے ساتھ دو مردوں کو لائے تھے، اور کہا جب وہ آگئے، عمرو کے علاوہ باقی راوی کہتے ہیں کہ وہ دو آدمی ابو عبس بن جبر، حارث بن اوس اور عباد بن بشر تھے، عمرو کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ ؓ کے ساتھ دو ساتھی تھے، محمد بن مسلمہ ؓ نے ساتھیوں سے کہا کہ : جب وہ آئے گا تو میں اس کے بالوں کی بات کروں گا، اور میں اسے سونگھوں گا، جب تم دیکھو کہ میں نے اس کے سر پر قابو پا لیا ہے تو تم اسے پکڑ کر قتل کر دو، ایک دفعہ یہ بھی کہا کہ: وہ خوشبو میں تمھیں سونگھاؤں گا، اب وہ قلعہ سے اتر کر ان کے پاس آ گیا، اس نے خوب خوشبو لگائی ہوئی تھی، خوشبو کی مہکیں بکھر رہی تھیں، محمد بن مسلمہ ؓ کہنے لگے، کہ میں نے آج تک ایسی اچھی خوشبو نہیں دیکھی، عمرو کے علاوہ باقی راوی کہتے ہیں کہ:

توہین رسالت کا شرعی حکم محمد بن مسلمہ ؓ کہنے لگے ترین شخص کھڑا ہے، عمرو نے سے کہنے لگے کہ: کیا تو مجھے ہاں ! اجازت ہے، انھوں نے ہاتھوں سے لگی ہوئی خوشبو اس نے کہا ہاں اجازت دے سے کہا کہ کام کر لو، تو انھوں نے حاضر ہوئے اور سارا واقعہ

فائدہ:

اس روایت سے بالکل کیونکہ کعب بن اشرف کا سب سے زبان درازی اور سب و شتم کرنا کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کو ٹھکانے لگا دے، مَنْ لَّهُ قَدْ آذَى ہے“۔ حضرات محدثین کرام ؒ رسالت کی وجہ سے گستاخ کا خون جرم عظیم کا ارتکاب کرے تو اس روایت کی تشریح میں شارح بخاری ”إن قتل ابن الأشرف دمه ولا أمان له بعد صلى الله تعالى عليه فصار ذلك أصلاً في جـ ترجمہ: کعب ابن اشرف کا

صفحہ 85

توہین رسالت کا شرعی حکم

محمد بن مسلمہ رضی اللہ کہنے لگے کہ : میرے سامنے سب عربوں کا سردار اور عرب کا کامل ترین شخص کھڑا ہے، عمرو نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ : محمد بن مسلمہ رضی اللہ کعب سے کہنے لگے کہ : کیا تو مجھے اپنا سر سونگھنے کی اجازت دے گا؟ اس نے کہا جی ہاں! اجازت ہے، انھوں نے اس کے سر کو سونگھا پھر اپنے ساتھیوں کو سونگھائی، (اپنے ہاتھوں سے لگی ہوئی خوشبو) پھر کعب سے کہا کہ آیا ایک دفعہ پھر آپ اجازت دیں گے، اس نے کہا ہاں اجازت ہے، جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ نے اس پر قابو پا لیا تو ساتھیوں سے کہا کہ کام کر لو، تو انھوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر سب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ آ کر بیان کیا۔

فائدہ:

اس روایت سے بالکل صاف ظاہر ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کو قتل کیا جائے گا کیونکہ کعب بن اشرف کا سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ وہ بدبخت آپ ﷺ کی شان اقدس میں زبان درازی اور سب و شتم کرتا تھا جس کی وجہ سے وہ مباح الدم ہو گیا تھا اور اسی وجہ سے قتل کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے خود ارشاد فرمایا کہ : ”کون ہے جو کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگا دے، فإنہ قد آذی اللہ ورسولہ کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے“۔ حضرات محدثین کرام رحمہ اللہ نے بھی مذکورہ روایت کی تشریح میں یہی لکھا ہے کہ توہین رسالت کی وجہ سے گستاخ کا خون مباح اور اس کا قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، اور اگر کوئی ذمی اس جرم عظیم کا ارتکاب کرے تو اس کا بھی عہد ذمہ ختم اور قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے، چنانچہ مذکورہ روایت کی تشریح میں شارح بخاری علامہ ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :

”إن قتل ابن الأشرف ہو من باب أن من آذی اللہ ورسولہ قد حل دمہ ولا أمان لہ یعتصم بہ، فقتلہ جائز علی کل حال، لأن الرسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم إنما قتلہ بوحی من اللہ وإذن فی قتلہ، فصار ذلک أصلاً فی جواز قتل من کان للہ ولرسولہ حربا ۔“

شرح الصحيح للبخاری، کتاب الجهاد، ج: ۵، ص: ۱۸۸۔

ترجمہ: کعب ابن اشرف کو اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے

صفحہ 86

توہین رسالت کا شرعی حکم

رسول ﷺ کو اذیت دی تھی، جس کی وجہ سے اس کا خون حلال ہو گیا تھا، اور اسے کوئی امان حاصل نہ رہا، جسکی وجہ سے وہ محفوظ رہتا تو اس کو قتل کرنا ہر حال میں جائز تھا، کیونکہ آپ ﷺ نے اسے اللہ تعالیٰ کے حکم اور وحی کے مطابق قتل کرایا، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اسے قتل کرنا جائز ہے۔

نکتہ:

علامہ ابن بطال ؒ نے بھی تصریح فرمائی ہے کہ ابن اشرف کے قتل کی وجہ یہ تھی کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی تھی، اور یہ بات پہلے واضح ہوچکی ہے کہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنا آپ کو اذیت دینا ہے، جس کی تصریح حضرات فقہاء ومحدثین نے بھی فرمائی ہے، چنانچہ امام تقی الدین السبکی ؒ فرماتے ہیں کہ: ”الساب مؤذ والمؤذی کافر“ کہ گستاخی کرنے والا موذی ہے، اور اذیت دینے والا کافر ہے۔ لہٰذا جو بھی آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا وہ قتل کا مستحق ہوگا۔

اسی طرح مذکورہ روایت کی تشریح کرتے ہوئے شیخ الاسلام حافظ ابن حجر ؒ ”فتح الباری“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”قوله :من لكعب بن الأشرف؟ جواز قتل من سب رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ولو كان ذا عهد خلافاً لأبي حنيفة كذا قال، وليس متفقا عليه عند الحنفية“

فتح الباری، باب الرهن مرکوب ومحلوب، ج: ۵، ص: ۱۴۳۔

ترجمہ: آپ ﷺ کا یہ فرمانا کہ کون کعب بن اشرف کا ذمہ لیتا ہے؟ گستاخ رسول کے قتل کا جواز ہے، اگرچہ وہ ذمی کیوں نہ ہو، برخلاف امام ابوحنیفہ (ؒ) کے (کہ امام صاحب ؒ کے ہاں ذمی کو قتل نہیں کیا جائیگا) لیکن یہ قول احناف کا متفق علیہ نہیں ہے۔

نکتہ:

حافظ ابن حجر ؒ جن کا علم وفضل اور تفقہ فی الحدیث روزِ روشن کی طرح عیاں ہے، وہ

صفحہ 87

توہین رسالت کا شرعی حکم

بھی مذکورہ روایت سے گستاخ رسول کے لئے قتل کی سزا کے جواز کو ثابت کر رہے ہیں، باقی حافظؒ کا یہ قول کہ امام صاحبؒ کے ہاں اگر توہین رسالت کرنے والا ذمی ہو تو اسے قتل نہیں کیا جائیگا تو خود حافظؒ نے بھی صراحت کی ہے کہ یہ قول احناف کا متفق علیہ نہیں ہے۔ چنانچہ فقہاء احناف کے بہت سے جلیل القدر حضرات جن میں علامہ ابن ہمامؒ ، امام ابوبکر جصاص رازیؒ ، علامہ عینیؒ ، علامہ سید محمود آلوسیؒ اور فقیہ ابولیث سمرقندیؒ جیسے اساطین علم شامل ہیں، ان کا قول یہ ہے کہ ذمی کو بھی قتل کیا جائے گا۔ اور اس توہین رسالت کی وجہ سے اس کا عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا۔ باقی اس مسئلہ کی مزید وضاحت آگے مستقل عنوان کے تحت تفصیل سے آئے گی۔ ان شاء اللہ

علامہ عینیؒ مذکورہ واقعہ سے بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

"قال السهيلي رحمة الله عليه في قوله من لكعب بن الأشرف فإنه قد آذى الله ورسوله، جواز قتل من سب النبى صلى الله تعالىٰ عليه وسلم وإن كان ذا عهد خلافا لأبى حنيفة فإنه لا يرى بقتل الذمى فى مثل هذا، قلت من أين يفهم من الحديث جواز قتل الذمى بالسب؟ أقول هذا بحثاً ولكن أنا معه فى جواز قتل الساب مطلقاً"

(عمدة القارى، كتاب الرهن فى الحضر، باب الرهن مركوب ومحلوب، ج:١٩، ص:٤٣٨)

ترجمہ: علامہ سہیلیؒ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اس قول "من لكعب بن الأشرف فإنه قد آذى الله ورسوله" (کون ہے جو کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگا دے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے) میں گستاخ رسول کے قتل کرنے کا جواز ہے، اگرچہ وہ ذمی کیوں نہ ہو، برخلاف امام ابوحنیفہؒ کے کہ وہ گستاخی کی وجہ سے ذمی کے قتل کے قائل نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ علامہ سہیلیؒ نے اس حدیث مبارکہ سے یہ بات کہاں سے سمجھی کہ گستاخی کی وجہ سے ذمی کو قتل کیا جائے گا، یہ ایک مستقل بحث ہے البتہ میں علامہ سہیلیؒ کے اس بات سے متفق ہوں کہ مطلقاً گستاخی کرنے والے کو قتل کیا جائے گا۔

صفحہ 88

توہین رسالت کا شرعی حکم

امام ابن تیمیہ ؒ اس مذکورہ بالا روایت کو ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ: ”فإنه جعل مطلق أذى الله تعالىٰ ورسوله موجبا لقتل رجل معاهد ومعلوم أن سب الله وسب رسوله أذى الله ولرسوله ۔“

الصارم المسلول،ص:٦٣۔

ترجمہ: جب کوئی معاہد آدمی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دے تو آپ ﷺ نے علی الاطلاق اس کے اس اذیت دینے کو اس کے قتل کا موجب قرار دیا ہے۔ اور یہ بات پہلے سے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو سب وشتم کرنا اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دینا ہے۔ لہٰذا سب وشتم کرنے والے کو بھی قتل کیا جائے گا۔

الله تعالىٰ عنه فتغيظ على رجل فاشتد عليه،فقلت: أتأذن لى يا خليفة رسول الله !أ ضرب عنقه؟ قال : فأذهبت كلمتى غضبه، فقام فدخل ، فأرسل إلى فقال :ماالذي قلت آنفا؟قلت: ائذن لى أضرب عنقه، قال : أكنت فاعلا لو أمرتك ؟ قلت : نعم!قال : لا! والله! ما كانت لبشر بعد محمد صلى الله تعالىٰ عليه وسلم ۔“ ﴾

سنن أبى داؤد، كتاب الحدود،باب الحكم فيمن سب النبى صلى الله تعالىٰ عليه

وسلم، ص:١٥٤١،رقم الحديث:٤٣٦٣۔

ترجمہ: حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ انھیں ایک شخص پر بہت سخت غصہ آیا میں نے عرض کیا یا خلیفۃ رسول اللہ ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس شخص کی گردن اڑا دوں ، حضرت ابو برزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری اس بات سے آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، پھر وہاں سے اٹھے اور اندر تشریف لے گئے اور مجھے بلایا، اور فرمایا کہ ابھی ابھی آپ نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے عرض کیا تھا کہ آپ مجھے اجازت دیجئے کہ اس شخص کی گردن اڑا دوں آپ نے فرمایا : کہ اگر میں تمھیں اجازت دے دیتا تو آپ ایسا کرتے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں!

صفحہ 89

توہین رسالت کا شرعی حکم

آپ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم ! یہ صرف محمد ﷺ کا حق ہے، آپ کے بعد کسی بشر کو یہ حق حاصل نہیں۔

فائدہ:

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا بھی یہی نظریہ تھا کہ گستاخ رسول کو قتل کیا جائے گا، کیونکہ جب حضرت ابو برزہ ؓ نے جناب صدیق اکبر ؓ سے اس آدمی کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی جس نے حضرت صدیق اکبر ؓ کی شان میں گستاخی کی تھی تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے یہ کہہ کر انھیں منع فرمایا کہ یہ صرف نبی کریم ﷺ کا حق ہے، یعنی صرف نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کو قتل کیا جائے گا، حضور ﷺ کے علاوہ کسی اور کے گستاخ کا یہ حکم نہیں۔ حضرات محدثین کرام ؒ نے بھی اس روایت سے اسی بات پر استدلال فرمایا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزا صرف اور صرف موت ہے ، چنانچہ مذکورہ روایت سے استدلال کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

"وقد استدل به على جواز قتل ساب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم جماعة من العلماء منهم أبوداؤد وإسماعيل بن إسحاق القاضي وأبو بكر عبدالعزيز والقاضي أبو يعلى وغيرهم من العلماء رحمهم الله تعالى ، وذلك لأن أبا برزة لما رأى الرجل قد شتم أبا بكر رضى الله تعالى عنه وأغلظ له حتى تغيظ أبو بكر رضى الله تعالى عنه استأذنه فى أن يقتله بذلك ، وأخبره أنه لو أمره لقتله، فقال أبوبكر رضى الله تعالى عنه ليس هذا لأحد بعد النبي صلى الله تعالى عليه وسلم۔“

الصارم المسلول، ص: ۷۷۔

ترجمہ: علماء کی ایک جماعت نے جن میں امام ابو داود ، قاضی اسماعیل بن اسحاق، ابوبکر عبد العزیز اور قاضی ابو یعلیٰ رحمہم اللہ جیسے حضرات شامل ہیں اس روایت سے گستاخ رسول کے قتل کے جواز پر استدلال فرمایا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حضرت

صفحہ 90

توہین رسالت کا شرعی حکم

ابو برزہ ؓ نے اس آدمی کو دیکھا جو صدیق اکبر ؓ کو گالی دے رہا تھا، جسکی وجہ سے صدیق اکبر ؓ غصہ ہوگئے، تو آپ نے حضرت صدیق اکبر ؓ سے اس کے قتل کی اجازت چاہی، اور بتایا کہ اگر آپ اجازت دیں گے تو میں اسے قتل کروں گا تو صدیق اکبر ؓ نے فرمایا کہ: حضور ﷺ کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ صرف حضور ﷺ کا حق ہے کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل کیا جاتا ہے۔

پھر آگے امام ابن تیمیہ ؒ نے بیان فرمایا ہے کہ یہ حکم کافر اور مسلمان دونوں کا ہے، یعنی گستاخی کرنے والا کافر ہو یا مسلمان بہر صورت دونوں کو ہی قتل کیا جائے گا چنانچہ تحریر فرماتے ہیں کہ:

”وهذا الحديث يفيد أن سبه في الجملة يبيح القتل ويستدل بعمومه على قتل الكافر والمسلم۔“ الصارم المسلول، ص: 77۔

ترجمہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا گستاخ کے قتل کو مباح کرتا ہے اور اس حدیث کے عموم سے مسلمان اور کافر دونوں کے قتل کا استدلال کیا جائے گا۔

اسی طرح مذکورہ روایت سے گستاخ رسول کے خارج از اسلام ہونے پر استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن حزم ظاہری ؒ اپنی مشہور تصنیف ”المحلی“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”فبين أبوبكر الصديق رضی اللہ تعالیٰ عنه أنه لا يقتل من شتمه، ولكن يقتل من شتم النبى صلى اللہ تعالیٰ عليه وسلم، وقد علمنا أن دم المسلمين حرام، إلا بما أباحه اللہ تعالیٰ به، ولم يبحه اللہ تعالیٰ قط إلا في الكفر بعد الإيمان أو زنى المحصن، أو قود بنفس مؤمنة، أو فى المحاربة وقطع الطريق أو فى المدافعة عن الظلمة أو فى الممانعة من حق ، أو فى حد فى الخمر ثلاث مرات ثم شربها الرابعة فقط۔ وقد علمنا أن من سب النبى صلى اللہ تعالیٰ عليه وسلم فبيقين ندرى أنه لم يزن ولا شرب خمرا ولا قصد ظلم

صفحہ 91

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

مسلم ولا قطع طريقا فلم يبق إلا انه عند أبي بكر رضى الله تعالى عنه كافر۔“

المحلى بالآثار لابن الحزم،مسائل التعزير وما لاحد فيه، باب حكم من سب

النبى صلى الله تعالى عليه وسلم أوالله تعالى،ج:۱۱،ص:۴۰۹۔

ترجمہ: حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اس بات کی وضاحت کر دی کہ اسے گالی دینے کی وجہ سے کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا لیکن حضور ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائیگا۔ اور یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کا خون بہانا حرام ہے سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مباح ٹھہرایا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مباح نہیں کیا ہے مگر ایمان لانے کے بعد کفر کرنے کی صورت میں، یا شادی شدہ آدمی کے زنا کرنے کی صورت میں، یا کسی مومن نفس کے قصاص کی صورت میں، یا لڑائی اور ڈاکہ کی صورت میں، یا ظلم سے دفاع کرنے کی صورت میں، یا حق کو روکنے کی صورت میں، یا تین مرتبہ شراب پینے کے بعد چوتھی مرتبہ شراب پینے کی صورت میں، (یعنی ان مذکورہ صورتوں میں خون بہانا اللہ تعالیٰ نے مباح کیا ہے۔) اور یہ بات بھی ہمیں یقین سے معلوم ہے کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا نہ زنا کرتا ہے ، نہ شراب پیتا ہے، نہ کسی مسلمان پر ظلم کا قصد کرتا ہے اور نہ ہی ڈاکہ ڈالتا ہے۔ (یعنی وہ یہ مذکورہ کام نہیں کرتا جن کی وجہ سے اس کا خون مباح ہو جائے) لہٰذا یہی بات رہ گئی کہ وہ صدیق اکبر ؓ کے ہاں کافر ہے۔ (یعنی گستاخی کرنے سے وہ کافر ہو گیا اور اس کفر بعد الایمان کی وجہ سے اس کا خون مباح ہو گیا۔

رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم :من سب نبيا قتل ، ومن سب أصحابه جلد۔﴾

السيف المسلول،ص:۱۱۸۔

ترجمہ: حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”جو شخص نبی کی گستاخی کرے اسے قتل کیا جائیگا، اور جو شخص نبی کے صحابہ کو برا بھلا کہے اسے کوڑے لگائے جائیں گے“۔

صفحہ 92

توہین رسالت کا شرعی حکم

فائدہ:

مذکورہ روایت اس بات میں بالکل صریح ہے کہ گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف موت ہے، اگرچہ اس روایت کو محدثین کرام نے ضعیف کہا ہے، لیکن ہمارا استدلال صرف اس پر موقوف نہیں، بلکہ ہم نے صرف اسے تائیداً ذکر کیا ہے، اور اس کے موید ہونے سے انکار نہیں ہوسکتا، چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ نے ”الصارم المسلول“ میں ایک جگہ علامہ واقدی ؒ کی روایت بطور تائید ذکر فرمائی ہے، جو کہ بالاتفاق ضعیف فی الحدیث ہے، اور پھر فرمایا ہے کہ: ”إنما ذكرناه للتقوية والتوكيد وهذا مما يحصل ممن هو دون الواقدى رحمة الله عليه“ (کہ ہم نے واقدی ؒ کی روایت کو صرف تقویت اور تاکید کے لئے ذکر کیا ہے، اور یہ کام (یعنی ضعیف روایت کو بطور تائید وتقویت ذکر کرنا) ان لوگوں کی روایات سے بھی لیا جاسکتا ہے جو واقدی ؒ سے بھی زیادہ ضعیف ہوں۔)

الصارم المسلول،ص:۸۰۔

جب علامہ واقدی کی روایت مؤید بن سکتی ہے تو ہماری ذکر کردہ روایت تو بطریق اولیٰ مؤید بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وهو المطلوب

بنت مروان کا قصہ ذکر فرمایا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:

هجت امرأة من خطمة النبي صلى الله تعالى عليه وسلم فقال من لى بها؟ فقال رجل من قومها أنا يا رسول الله! فنهض ،فقتلها،فأخبر النبى صلى الله تعالى عليه وسلم ،فقال لا ينتطح فيها عنزان۔ ﴾

الکامل لابن عدی،ج:٦،ص:٢١٥٦۔

ترجمہ: قبیلہ خطمہ کی ایک عورت نے آپ ﷺ کی شان میں بدگوئی کی، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ”کون ہے جو اس عورت سے میرا بدلہ لے؟ اس عورت کے قبیلہ والوں میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کا بدلہ لوں گا، پس وہ اٹھا اور اس عورت کو قتل کیا اور آپ ﷺ کو اس بات کی خبر دی، تو آپ ﷺ نے ارشاد

صفحہ 93

توہین رسالت کا شرعی حکم

فرمایا: لا ینتطح فیها عنزان، یعنی ”یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس میں نزاع واختلاف کی کوئی گنجائش نہیں“

دوسرے مقامات پر یہ روایت تفصیل سے آئی ہے، اور وہاں یہ صراحت ہے کہ یہ آدمی جس نے عورت کو قتل کیا تھا، حضرت عمیر بن عدی ؓ تھے، اور یہ بھی صراحت آئی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عمیر بن عدی ؓ کے اس فعل پر مسرت کا اظہار فرمایا تھا، چنانچہ علامہ واقدی ؒ نے اپنے مغازی میں یہ روایت ذکر کی ہے اور اس میں ہے کہ جب حضرت عمیر بن عدی ؓ نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ میں نے اس عورت کو قتل کیا ہے، تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا کہ: ”إِذَا أَحببتم أَن تنظروا إِلی رجل نصر الله ورسوله بالغیب فانظروا إِلی عمیر بن عدی۔“ (اگر تم ایسے آدمی کو دیکھنا پسند کرتے ہو جس نے غائبانہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کی طرف دیکھو۔)

فائدہ:

یہ روایت بھی ہمارے مدعا پر صراحت سے دلالت کرتی ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے خود اس گستاخ عورت کی طرف صحابہ کرام ؓ کی توجہ مبذول کروا کر ارشاد فرمایا کہ: ”من لی بھا؟“ کون ہے جو عورت سے میرا بدلہ لے؟ اور پھر جب حضرت عمیر بن عدی ؓ نے اس کو موت کے گھاٹ اتار دیا تو آپ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ خوشی کا اظہار فرمایا، بلکہ حضرت عمیر بن عدی ؓ کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگار کا لقب دیا، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ گستاخ رسول قتل کا مستحق ہے، بلکہ اسے موت کی نیند سلانے والا بھی بڑا ہی سعادت اور خوش نصیب ہے یہی وجہ ہے کہ حضرات فقہاء کرام ؒ نے بھی اس واقعے سے یہی حکم ثابت کیا ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کی سزا موت ہے، چنانچہ اسی مذکورہ روایت کو امام ابن تیمیہ ؒ نے بھی ”الصارم المسلول“ میں ذکر کیا ہے، اور انھوں نے اس روایت پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے، چنانچہ وہ ایک جگہ پر ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”وجه الدلالة أن هذه المرأة لم تقتل إِلا لمجرد أذى النبی صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم وهجوه، وهذا بین فی قول ابن عباس رضی

صفحہ 94

توہین رسالت کا شرعی حکم

الله تعالى عنه هجت امرأة من خطمة النبي صلى الله تعالى عليه وسلم، فقال: من لي بها؟ فعلم أن ما ندب إليها لأجل هجوها “

(الصارم المسلول،ص:۸۰۔)

ترجمہ: مذکورہ روایت سے گستاخ رسول کے لئے سزائے موت پر وجہ دلالت یہ ہے کہ اس عورت کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ :وہ آپ ﷺ کو اذیت دیتی تھی ، اور آپ ﷺ کے خلاف بدگوئی کرتی تھی ، اور یہ بات حضرت ابن عباس ؓ کے اس قول سے صاف ظاہر ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ: قبیلہ خطمہ کی ایک عورت نے آپ ﷺ کے خلاف بدگوئی کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کون ہے جو اس سے میرا بدلہ لے لے؟ تو اس سے یہ معلوم ہو گئی کہ آپ ﷺ نے اس کی بدگوئی کی وجہ سے اس کی طرف صحابہ کرام کو متوجہ کیا۔

اسی طرح مشہور فقیہ اور محدث امام ابو عبید قاسم بن سلام ؒ نے بھی ”کتاب الاموال“ میں مذکورہ روایت کو ذکر کرنے کے بعد اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کیا جائیگا ، کیونکہ اس یہودی عورت کو صرف اس بناء پر قتل کیا گیا کہ وہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتی تھی۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”وكذلك كانت قصة عصماء اليهودية إنما قتلت لشتمها النبي صلى الله تعالى عليه وسلم_“ کتاب الأموال ،ج:۲،ص:١٩٤۔

ترجمہ : اور اسی طرح عصماء یہودیہ کا قصہ بھی ہے، جس کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ وہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔

عنه، قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبى رافع اليهودى رجالا من الأنصار، فأمر عليهم عبد الله بن عتيك، وكان أبو رافع يؤذى رسول الله ويعين عليه، وكان في حصن له بأرض الحجاز، فلما دنوا منه وقد غربت الشمس وراح الناس بسرحهم، فقال عبد الله رضى الله تعالى عنه : لأصحابه، اجلسوا مكانكم، فإنى

صفحہ 95

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 95 منطلق ومتلطف للبواب، لعلى أن أدخل، فأقبل حتى دنا من الباب، ثم تقنع بثوبه كأنه يقضى حاجة، وقد دخل الناس، فهتف به البواب ياعبدالله! إن كنت تريد أن تدخل فادخل فإنى أريد أن أغلق الباب، فدخلت فكمنت، فلما دخل الناس أغلق الباب، ثم علق الأغاليق على وتد، قال فقمت إلى الأقاليد فأخذتها ، ففتحت الباب وكان أبو رافع يسمر عنده، وكان فى علالى له، فلما ذهب عنه أهل سمره صعدت إليه، فجعلت كلما فتحت بابا أغلقت على من داخل، قلت إن القوم نذروا بي لم يخلصوا إلى حتى أقتله ، فانتهيت إليه، فإذا هو فى بيت مظلم، وسط عياله، لا أدرى أين هو من البيت، فقلت يا أبا رافع ! فقال: من هذا؟ فأهويت نحو الصوت، فأضربه ضربة بالسيف ، وأنا دهش ، فما أغنيت شيئا، وصاح، فخرجت من البيت، فأمكث غير بعيد، ثم دخلت إليه ، فقلت ما هذا الصوت ؟ يا أبا رافع ! فقال : لأمك الويل ! إن رجلا في البيت ضربنى قبل بالسيف ، قال فأضربه ضربة أثخنته ولم أقتله، ثم وضعت ضبيب السيف فى بطنه حتى أخذ من ظهره، فعرفت أني قتلته، فجعلت أفتح الأبواب بابا بابا حتى انتهيت إلى درجة له، فوضعت رجلى وأنا أرى أني قد انتهيت إلى الأرض فوقعت فى ليلة مقمرة، فانكسرت ساقي ، فعصبتها بعمامة، ثم انطلقت حتى جلست على الباب، فقلت لا أخرج الليلة حتى أعلم أقتلته؟ فلما صاح الديك، قام الناعى على السور، فقال : أنعى أبا رافع، تاجر أهل الحجاز، فانطلقت إلى أصحابى، فقلت :النجاء، فقد قتل الله أبا رافع، فانتهيت إلى النبى صلى الله عليه وسلم فحدثته فقال : لى، ابسط رجلك، فبسطت رجلى، فمسحها، فكأنها لم

صفحہ 96

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 96

أشتكها قط۔)

صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب قتل أبی رافع، ص: ۳۳۰، رقم الحدیث: ٤٠٣٩۔

ترجمہ: ابواسحاق حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ: حضور ﷺ نے ابورافع یہودی کی طرف انصار کے کچھ لوگوں کو بھیجا اور حضرت عبداللہ بن عتیک (رضی اللہ عنہ) کو ان پر امیر مقرر فرمایا، ابورافع آپ ﷺ کو اذیت دیتا اور آپ ﷺ کے خلاف آپ ﷺ کے دشمنوں کی مدد کرتا تھا، اور وہ حجاز کی سرزمین پر اپنے ایک قلعہ میں رہا کرتا تھا، جب یہ صحابہ اس کے قریب ہو گئے تو سورج غروب ہو چکا تھا، اور لوگ شام کو واپس آ رہے تھے، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم یہاں بیٹھو اور میں چلتا ہوں اور قلعہ کے دربان کے لئے کوئی حیلہ کرتا ہوں شاید کہ میں قلعہ میں اندر داخل ہو سکوں تو آپ آگے بڑھے، یہاں تک کہ دروازے کے قریب پہنچ گئے، اور اپنے اوپر کپڑے (چادر) کو لپیٹا، (اور یوں بیٹھ گئے) گویا قضائے حاجت کر رہے ہیں، اور لوگ داخل ہو چکے تھے، دربان نے آپ کو آواز دی کہ: اے اللہ کے بندے! اگر تو اندر داخل ہونا چاہتا ہے تو داخل ہو جا میں دروازہ بند کرنے والا ہوں، پس میں داخل ہوا اور چھپ گیا پھر جب لوگ سارے داخل ہو گئے تو دربان نے دروازہ بند کیا اور چابیاں ایک کیل کے ساتھ لٹکادیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا چابیاں لیں اور دروازہ کھولا اور ابورافع کے پاس رات کو قصہ گوئی ہوتی تھی، اور وہ بالائی منزل میں تھا، پس جب اس کے پاس سے قصہ گوئی کرنے والے رخصت ہو گئے تو میں اس کی طرف چڑھا، میں جو بھی دروازہ کھولتا اس کو اندر کی طرف سے اپنے پیچھے بند کر دیتا تھا میں نے دل میں کہا اگر یہ لوگ مجھ پر مطلع بھی ہو گئے، تو مجھ تک ان کے پہنچنے سے پہلے ہی میں اس کو قتل کر سکوں، جب میں اس تک پہنچ گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے گھر والوں کے درمیان سویا ہوا تھا، اور یہ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ کمرے میں کہاں ہے؟ میں نے آواز دی کہ اے ابورافع! وہ کہنے لگا کہ کون ہے؟ پس میں اس کی آواز کی طرف گیا اور تلوار سے اس کو ایک ضرب لگائی، میں حیران تھا کہ کوئی کام نہ کر سکا، اس نے ایک چیخ

صفحہ 97

توہین رسالت کا شرعی حکم

ماری، تو میں کمرے سے نکل گیا، کچھ دیر ٹھہرنے کے بعد دوبارہ داخل ہو گیا اور خیر خواہانہ انداز میں کہا کہ اے ابو رافع یہ آواز کیسی تھی؟ وہ کہنے لگا کہ تیری ماں کے لئے ہلاکت ہو! ابھی کچھ دیر پہلے کمرے میں مجھے کسی نے تلوار سے مارا ہے، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس پر تلوار کا دوسرا وار کیا، یہاں تک کہ میں نے اس کو خون آلود کیا، لیکن قتل نہ کر سکا، پھر میں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ میں گھونپ دی یہاں تک کہ اس کی کمر کو کاٹتے ہوئے نکل گئی، پس میں نے جان لیا کہ میں اس کو قتل کر چکا ہوں، میں ایک ایک دروازہ کھولتا گیا یہاں تک کہ میں سیڑھی پر پہنچ گیا، میں نے سمجھا شاید میں زمین تک پہنچ چکا ہوں، میں چاندنی رات میں گر گیا، اور میرا پاؤں ٹوٹ گیا، میں نے ٹوٹے ہوئے پاؤں کو عمامہ سے باندھا، پھر میں چلا یہاں تک کہ قلعہ کے دروازے پر بیٹھ گیا، اور میں نے کہا کہ رات کو نہیں جاؤں گا جب تک کہ صبح خود اس کی موت کی آواز نہ سنوں، جب صبح ہو گئی اور مرغ نے اذان دی، تو موت کا پیغام سنانے والا دیوار پر کھڑا ہو گیا اور کہا کہ: میں ابو رافع کی موت کی خبر دے رہا ہوں جو کہ اہل حجاز کا تاجر تھا پھر میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا، اور ان سے کہا کہ: اللہ تعالیٰ نے ابو رافع کو ہلاک کر دیا پھر میں حضور ﷺ کے پاس آگیا، اور آپ کے سامنے سارا واقعہ عرض کیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اپنا پاؤں پھیلاؤ! میں نے پاؤں پھیلایا، تو آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اسے مسح فرمایا اور حضور ﷺ کے دست مبارک کی برکت کی وجہ سے ایسا ٹھیک ہو گیا گویا اس میں کوئی تکلیف ہوئی ہی نہیں تھی۔

فائدہ:

مذکورہ روایت کو ذکر کرنے کے بعد حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں کہ: ”بہر حال ابو رافع حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی سزا پا کر ہمیشہ کے لئے جہنم میں گیا۔“

توہین رسالت، ص: ۳۱۔

اسی طرح اس روایت کو حضرت امام ابن تیمیہ ؒ نے ”الصارم المسلول“ میں ذکر کرنے کے بعد اس پر کافی مفصل و مدلل گفتگو فرمائی ہے جس سے کئی سارے احکامات کا

صفحہ 98

توہین رسالت کا شرعی حکم

استنباط ہوتا ہے، ذیل میں اس سے چند اقتباسات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں:

سب سے پہلے امام موصوفؒ نے اس قصہ کے لئے عنوان ہی ایسا اختیار کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کیا جائے گا، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”وممن ذكر أنه قتل لأجل أذى النبى صلى الله عليه وسلم أبو رافع بن أبى الحقيق اليهودى۔“

الصارم المسلول، ص:۱۱۶۔

ترجمہ: اور ان لوگوں میں سے ایک ابو رافع بن ابی الحقیق یہودی بھی ہے، جس کو اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ وہ حضورﷺ کو اذیت دیتا تھا۔

اور ہم پہلے ہی امام سبکیؒ کے حوالے سے نقل کرچکے ہیں کہ: الساب مؤذ والمؤذی کافر کہ گستاخی کرنے والا اذیت دینے والا ہے اور اذیت دینے والا کافر ہے۔

السیف المسلول، ص:۱۰۶۔

اس کے بعد فرماتے ہیں کہ آپﷺ ہر اس کافر کو قتل کرنے کا ارادہ فرماتے تھے جو توہین رسالت کا مرتکب ہوتا تھا، چنانچہ فرماتے ہیں کہ:

”فهذه الأحاديث كلها تدل على أن من كان يسب النبى صلى الله عليه وسلم ويؤذيه من الكفار فإنه كان يقصد قتله، ويحض عليه لأجل ذلك، وكذلك أصحابه بأمره يفعلون ذلك۔“

الصارم المسلول، ص:۱۱۸۔

ترجمہ: یہ تمام احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کفار میں سے جو بھی آپﷺ کی گستاخی کرتا اور آپﷺ کو اذیت دیتا تھا، تو آپﷺ اس کے قتل کا ارادہ فرماتے اور اس توہین رسالت اور اذیت النبیﷺ کی وجہ سے اس کے قتل کی ترغیب دیتے، اور اسی طرح آپ کے صحابہ بھی آپ کے حکم سے یہ کام کرجاتے تھے۔

مزید گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ گستاخ رسول کے قتل کا سبب صرف توہین رسالت ہے، کیونکہ جب کوئی حربی کافر اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے قتل کرنا متعین ہے، اب دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ اسے اس وجہ سے قتل کیا جاتا ہے کہ اس نے نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے اور دوسری یہ کہ اسے اس وجہ سے قتل کیا جائے گا کہ وہ حربی کافر ہے، لیکن ان

صفحہ 99

AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

میں سے دوسری صورت تو باطل ہے لہٰذا پہلی ہی صورت متعین ہے کہ گستاخ رسول کو توہین رسالت ہی کی وجہ سے قتل کیا جائے گا، اور جب حربی کو قتل کرنا متعین ہے تو ذمی اور مسلمان کو تو بطریق اولیٰ قتل کیا جائے گا، چنانچہ فرماتے ہیں کہ:

"فإذا تقرر بما ذكرناه من سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وسيرة أصحابه وغير ذلك أن الساب للرسول يتعين قتله، فنقول إنما يكون تعيين قتله لكونه كافرا حربيا، أو للسب المضموم إلى ذلك والأول باطل، لأن الأحاديث نص فى أنه لم يقتل لمجرد كونه كافرا حربيا، بل عامتها قد نص فيه على أن موجب قتله إنما هو السب، فنقول إذا تعين قتل الحربى لأجل أنه سب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فكذلك المسلم والذمى أولى۔"

الصارم المسلول، ص: ۱۲۷۔

ترجمہ: جب ماقبل میں ہمارے ذکر کردہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت مطہرہ اور حضرات صحابہ کرام ؓ کی سیرت طیبہ سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے لئے قتل ہونا متعین ہے، تو اب ہم کہتے ہیں کہ اس گستاخ رسول کے لئے اس قتل کا متعین ہونا یا تو اس وجہ سے ہے کہ وہ حربی کافر ہے، یا اس وجہ سے کہ اس نے حربی کافر ہونے کے ساتھ ساتھ توہین رسالت کا بھی ارتکاب کیا ہے پہلی صورت یعنی گستاخ کو صرف اس وجہ سے قتل کیا جائے کہ وہ حربی کافر ہے، یہ باطل ہے کیونکہ احادیث مبارکہ میں صراحت آئی ہے کہ صرف حربی کافر ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا، بلکہ تمام احادیث اس بات پر صریح ہیں کہ اس کے قتل کا موجب صرف توہین رسالت ہے، اب ہم یہ کہتے ہیں کہ جب گستاخی کرنے کی وجہ سے ایک حربی کافر کے لئے قتل ہونا متعین ہے تو اگر اس فعل قبیح کا ارتکاب کوئی ذمی یا العیاذ باللہ کوئی مسلمان کرے تو اسے تو بطریق اولیٰ قتل کیا جائے گا۔

آخر میں امام موصوف ؒ بحث کے اختتام پر فرماتے ہیں کہ:

"وقد ثبت بالسنة أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يأمر بقتل

صفحہ 100

توہین رسالت کا شرعی حکم

الساب لأجل السب فقط“

الصارم المسلول،ص:۱۲۷۔

ترجمہ: اور تحقیق یہ بات سنت مطہرہ سے ثابت ہو چکی ہے کہ آپﷺ گستاخ رسول کے قتل کا حکم صرف اس کی گستاخی کرنے کی وجہ سے دیتے تھے۔

وحدثناه أبو مصعب إسماعيل بن مصعب بن إسماعيل بن زيد بن ثابت عن أشياخه قالا إن شيخا من بنى عمرو بن عوف يقال له : أبو عفك، و كان شيخا كبيرا قد بلغ عشرين ومأة سنة حين قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة و كان يحرض على عداوة النبي صلى الله عليه وسلم ولم يدخل فى الإسلام فلما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى بدر ظفره الله بما ظفره،فحسده وبغىٰ فقال : وذكر قصيدة تتضمن هجو النبى صلى الله عليه وسلم وذم من اتبعه أعظم ما فيها قوله: ۔

فيسلبهم أمرهم راكب
حراما حلالا لشتى معا

قال سالم بن عمير علىّ نذر أن أقتل أبا عفك أو أموت دونه فأمهل فطلب له غرة حتى كانت ليلة صائفة فنام أبو عفك بالفناء فى الصيف فى بنى عمرو بن عوف،فأقبل سالم بن عمير فوضع السيف على كبده حتى خش من الفراش،وصاح عدو الله فثاب إليه أناس ممن هم على قوله، فأدخلوه منزله،وقبروه وقالوا من قتله؟ والله لو نعلم من قتله لقتلناه﴾

المغازی ،للعلامة الواقدی رحمة اللہ علیہ ،ج:١،ص:١٧٤۔

ترجمہ: بنو عمرو بن عوف میں ابو عَفَک نامی ایک بوڑھا تھا ،اور وہ بہت عمر رسیدہ ہو چکا تھا ، جس وقت حضورﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ،اس وقت اس کی عمر ایک سو بیس برس

صفحہ 101

الصارم المسلول، ص: ١٢٧۔

ی ہے کہ آپ ﷺ گستاخ رسول کے قتل رہتے تھے۔

...لمين محمد بن عمارة بن غزية ...مصعب بن إسماعيل بن زيد بن ...ن بنى عمرو بن عوف يقال له : ...شرين ومأة سنة حين قدم النبي ...يعرض على عداوة النبى صلى ...لام فلما خرج رسول الله صلى ...ظفره، فحسده وبغى فقال : ...لى الله عليه وسلم وذم من اتبعه

...م راكب
...ى معا

...أبا عفك أو أموت دونه فأمهل ...ئفة فنام أبو عفك بالفناء في ...سالم بن عمير فوضع السيف ...صاح عدو الله فثاب إليه أناس ...وه، وقبروه وقالوا من قتله؟

...الواقدى رحمة الله عليه ، ج: ١ ، ص: ١٧٤۔

...ھا تھا، اور وہ بہت عمر رسیدہ ہو چکا تھا، ...اس وقت اس کی عمر ایک سو بیس برس

توہین رسالت کا شرعی حکم

تک پہنچ چکی تھی ، اس نے اسلام قبول نہیں کیا، اور لوگوں کو آپ ﷺ کی دشمنی پر ابھارتا تھا، جب آپ ﷺ بدر کو تشریف لے گئے ، اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کامیابی اور کامرانی سے سرفراز فرمایا تو اس ابوعفك کو اس سے بہت حسد ہوا، اور وہ سرکشی کرنے لگا، اور اس نے بدنام زمانہ قصیدہ کی صورت میں انتہائی بدگو ہفوات بکیں، اس کا یہ قصیدہ آپ ﷺ کی توہین اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کی مذمت پر مشتمل تھا، اس قصیدہ میں اس نے جو سب سے قبیح بات کہی ہے وہ یہ ہے:

فيسلبهم أمرهم راكب
حراما حلالا لشتى معا

”ان کا معاملہ ایک ایسے سوار کے ہاتھ میں ہے کہ جس کے ساتھ حرامی و حلالی سب جمع ہیں“

حضرت سالم بن عمیر ؓ فرمانے لگے کہ میں اللہ تعالیٰ کے لئے نذر مانتا ہوں کہ میں ابوعفك کو قتل کروں گا یا خود مرجاؤں گا، پھر وہ موقع کی تلاش میں رہنے لگے یہاں تک کہ ایک رات گرمی تھی، اور ابوعفك گرمی میں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں گھر کے صحن میں سویا ہوا تھا حضرت سالم بن عمیر ؓ آئے اور اس بدبخت کے جگر پر تلوار رکھ کر اس کو اتنے زور سے دبایا کہ تلوار بچھونے کو چیرتی ہوئی بستر سے پار ہوگئی۔ اور یہ اللہ کا دشمن ایک زور دار چیخ مارتے ہوئے جہنم رسید ہوا، اس کے حمایتی اس کی طرف دوڑتے ہوئے بڑھے، اور اسے گھر لے جاکر دفن کیا اور کہا اسے کس نے قتل کیا ہے؟ بخدا اگر ہمیں اس کے قاتل کا پتہ معلوم ہو جائے تو ہم اسے ضرور قتل کر ڈالیں گے۔

فائدہ:

اس روایت سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام ؓ کا یہی نظریہ تھا کہ گستاخ رسول کو قتل ہی کیا جائے گا، لیکن اس واقعہ سے جو ایک خاص بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سالم بن عمیر ؓ نے ابوعفك کے قتل کی نذر مانی تھی ، جس سے مندرجہ ذیل دو اہم نکات ثابت ہوتے ہیں:

نذر نہ مانتے، کیونکہ ناجائز کام کی نذر ماننا شرعاً درست نہیں ہوتا۔

صفحہ 102

توہین رسالت کا شرعی حکم

تصریحات کے مطابق نذر عبادت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ غیر اللہ کی نذر ماننا جائز نہیں، کیونکہ عبادت صرف اللہ ہی کی ہے نہ کہ غیر اللہ کی بھی، لہٰذا جب حضرت سالم ؓ نے ابو عفک ملعون کے قتل کی نذر مانی تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کرنا عبادت ہے۔ بالخصوص جب کہ اس فعل کو نبی پاک ﷺ کی تقریر بھی حاصل ہے۔ ”اور یہ بات فن مصطلح الحدیث میں اپنی جگہ ثابت شدہ ہے کہ تقریر نبی مستقل حجت ہے۔“

امام تیمیہ ؒ ”الصارم المسلول“ میں مذکورہ واقعہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”وهذا فيه دلالة واضحة على أن المعاهد إذا أظهر السب ينقض عهده ويقتل غيلة لكن هو من رواية أهل المغازي، وهو يصلح أن يكون مؤيدا مؤكدا بلا تردد۔“

الصارم المسلول، ص:۸۵۔

ترجمہ: اور مذکورہ روایت میں اس بات کی واضح دلیل ہے کہ معاہد جب توہین رسالت کرتا ہے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے، اور اسے موقع پاتے ہی قتل کیا جائے گا، اگرچہ یہ روایت اہل مغازی کی ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ موید و موکد بن سکتی ہے۔

نکتہ:

امام ابن تیمیہ ؒ نے مذکورہ عبارت میں ایک شبہہ کا ازالہ بھی فرمایا، یہ کہ مذکورہ روایت امام واقدی نے ذکر کی ہے جو محدثین کے ہاں ضعیف ہے، اور ضعیف روایت سے استدلال نہیں ہو سکتا، اس شبہہ کا ازالہ کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ: ہم نے یہ روایت صرف تائیداً ذکر کی ہے، اور ضعیف روایت بلا تردد موید بن سکتی ہے، اور یاد رہے کہ اصل مدعیٰ کو ہم بھی آیات مبارکہ اور صحیح روایات سے ثابت کر چکے ہیں، اور امام واقدی ؒ کی روایات ہم نے بھی بطور تائید ذکر کی ہیں۔ لہٰذا واقدی ؒ کو لے کر ہم پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔

تحریر فرمایا ہے چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ:

صفحہ 103

توہین رسالت کا شرعی حکم

حديث أنس بن زنيم الديلى وهو مشهور عند أهل السيرة، وذكره ابن إسحاق والواقدى وغيرهما قال الواقدى :حدثنى عبد الله بن عمرو بن زهير عن محجن بن وهب قال : كان آخر ما كان بين خزاعة وبين كنانة أن أنس بن زنيم الديلى هجا رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ، فسمعه غلام من خزاعة ، فوقع به فشجه فخرج إلى قومه، فأراهم شجته فثار الشر مع ما كان بينهم وما تطلب بنو بكر من خزاعة من دمائها - قال الواقدى رحمة الله عليه :حدثنى حزام بن هشام الكعبى عن أبيه قال : وخرج عمرو بن سالم الخزاعى فى أربعين راكبا من خزاعة يستنصرون رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ويخبرونه بالذى أصابهم وذكر قصة فيها إنشاد القصيدة التي أولها :

اللهم إني ناشد محمدا

قال : فلما فرغ الركب قالوا يا رسول الله! إن أنس بن زنيم الديلى قد هجاك، فأهدر رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم دمه، فبلغ ذلك أنس بن زنيم الديلى فقدم معتذرا إلى رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم مما بلغه عنه، فقال وذكر قصيدة فيها مدح لرسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم أولها:

أنت الذي تهدى معد بأمره

قال الواقدى رحمة الله عليه :أنشدنيها حزام، وبلغت رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم قصيدته هذه، واعتذاره وكلمه نوفل بن معاوية الديلى فقال يا رسول الله! أنت أولى الناس بالعفو، ومن منا لم يعادك ولم يؤذك؟ ونحن فى جاهلية لا ندرى ما نأخذ وما ندع حتى هدانا الله بك ، وأنقذنا بك من الهلك وقد كذب عليه الركب

PDF 104

توہین رسالت کا شرعی حکم

وأكثروا عندك فقال : دع الركب عنك! فإنا لم نجد بتهامة أحدا من ذي رحم قريب ولا بعيد كان أبر من خزاعة،فاسكت نوفل بن معاوية ، فلما سكت قال رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وسلم قد عفوت عنه ۔ قال نوفل فداك أبي وأمي۔﴿

-الصارم المسلول ،ص:٨٦۔

ترجمہ: اور ان میں سے ایک انس بن زنیم کی حدیث بھی ہے، جو کہ علمائے سیر کے ہاں مشہور ہے،محمد بن اسحاق ؒ اور واقدی ؒ وغیرہ نے ذکر کیا ہے، واقدی کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن عمرو بن زہیر نے محجن بن وہب کی روایت بیان کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ خزاعہ اور کنانہ کے درمیان جو آخری واقعہ پیش آیا وہ یہ ہے کہ انس بن زنیم دیلی نے نبی کریم ﷺ کے خلاف زبان درازی کی جس کو قبیلہ خزاعہ کے ایک لڑکے نے سنا،اس لڑکے نے انس بن زنیم پر حملہ کیا اور اس کا سر زخمی کر دیا،وہ اپنے قبیلہ والوں کے پاس گیا اور ان کو اپنا زخم دکھایا پس دونوں قبیلوں کے درمیان فساد کا آغاز ہوا جبکہ پہلے ہی سے ان کے درمیان لڑائی چل رہی تھی،اور بنو بکر،بنوخزاعہ سے اپنے خون کا مطالبہ کر رہے تھے،واقدی کہتے ہیں کہ مجھے حزام بن ہشام نے اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی بنوخزاعہ کے چالیس سواروں کو ساتھ لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس مدد طلب کرنے کے لئے نکلا، انھوں نے اس پیش آمدہ واقعہ کا تذکرہ کیا اور وہ قصیدہ کہا جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے:

اللهم إني ناشد محمدا

اور جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو انھوں نے کہا کہ: یا رسول اللہ ! انس بن زنیم نے آپ کی ہجو کی ہے،حضور ﷺ نے اس کے خون کو ہدر قرار دیا،جب انس بن زنیم کو معلوم ہوا تو وہ معذرت کرنے کے لئے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ ﷺ کی شان میں وہ مدحیہ قصیدہ کہا جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے:

أنت الذي تهدى معد بأمره

امام واقدی کہتے ہیں کہ حزام نے یہ قصیدہ مجھے سنایا رسول کریم ﷺ کے پاس وہ قصیدہ

توہین رسالت کا شرعی حکم

بھی پہنچا اور اس نے جو معذرت کے بارے میں آپ ﷺ یا رسول اللہ! آپ سب لوگوں ہے؟ جس نے آپ کی عداوت کچھ معلوم نہ تھا کہ کیا لیں اور کیا ہدایت سے نوازا اور آپ کی وجہ زنیم پر جھوٹ باندھا ہے اور آپ نے فرمایا: قافلہ والوں کا ذکر نہ دور و نزدیک کے رشتہ دار کو نہیں نے نوفل کو خاموش کرایا، جب ”میں نے اسے معاف کیا“ نوفل

فائدہ:

مذکورہ واقعہ سے شاتم رسو ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ: ”فوجه الدلالة أن النبي قريشا وهادنهم عام الحـ و كان أكثرهم مسلمـ تعالىٰ عليه وسلم مبـ قريش ، فصار هؤلاء يختلف فيه أهل العلم بـ ثم إن هذا الرجل المعـ على ماقيل عنه،فشجـ عليه و سلم أنه هجاه بـ

صفحہ 105

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

بھی پہنچا اور اس نے جو معذرت چاہی تھی وہ بھی پہنچی، اور نوفل بن معاویہ دیلی نے اس کے بارے میں آپ ﷺ سے گفتگو کی، چنانچہ نوفل حضور ﷺ سے کہنے لگا: یا رسول اللہ! آپ سب لوگوں سے زیادہ معاف کرنے کے اہل ہیں، ہم میں سے کون ہے؟ جس نے آپ کی عداوت نہ رکھی ہو، اور آپ کو ستایا نہ ہو، دورِ جاہلیت میں ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ کیا لیں اور کیا نہ لیں، حتیٰ کہ آپ کے ذریعے سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا اور آپ کی وجہ سے ہمیں ہلاکت سے چھڑایا، قافلہ والوں نے انس بن زنیم پر جھوٹ باندھا ہے اور آپ کے پاس مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: قافلہ والوں کا ذکر چھوڑئیے، ہم نے تہامہ کی سرزمین والوں میں سے کسی دور و نزدیک کے رشتہ دار کو نہیں دیکھا جو خزاعہ سے زیادہ اطاعت شعار ہو، آپ ﷺ نے نوفل کو خاموش کرایا، جب وہ خاموش ہو گیا تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ: ”میں نے اسے معاف کیا“ نوفل کہنے لگا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔

فائدہ:

مذکورہ واقعہ سے شاتم رسول کے لئے سزائے موت پر استدلال کرتے ہوئے امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

"فوجه الدلالة أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم كان قد صالح قريشا وهادنهم عام الحديبية عشر سنين ودخلت خزاعة في عقده وكان أكثرهم مسلمين وكانوا عيبة نصح لرسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم مسلمهم وكافرهم، ودخلت بنو بكر في عهد قريش، فصار هؤلاء كلهم معاهدين وهذا مما تواتر به النقل، ولم يختلف فيه أهل العلم۔ ثم إن هذا الرجل المعاهد هجا النبي صلى الله تعالى عليه وسلم على ما قيل عنه، فشجه بعض خزاعة ثم أخبروا النبي صلى الله تعالى عليه وسلم أنه هجاه يقصدون بذلك إغراءه ببنى بكر فنذر رسول

صفحہ 106

توہین رسالت کا شرعی حکم

الله صلى الله تعالى عليه وسلم دمه أى أهدره، ولم يهدر دم غیره، فلولا أنهم علموا أن هجاء النبي صلى الله تعالى عليه وسلم من المعاهد مما يوجب الانتقام منه لم يفعلوا ذلك ـ ثم إن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم أهدر دمه لذلك مع أن هجاءه كان حال العهد وهذا نص في أن المعاهد الهاجي يباح دمه۔

ثم إنه لما قدم أسلم في شعره ولهذا عدوه من أصحاب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم، وقوله: ”تعلم رسول الله“ ـ ”تعلم رسول الله“ ”نبي رسول الله“ دليل على أنه أسلم قبل ذلك أو هذا وحده إسلام منه، فإن الوثنى إذا قال: ”محمد رسول الله“ حكم بإسلامه، ومع هذا فقد أنكر أن يكون هجا النبي صلى الله تعالى عليه وسلم ، ورد شهادة أولئك بأنهم أعداء له لما بين القبيلتين من الدماء والحرب فلو لم يكن ما فعله مبيحا لدمه لما احتاج إلى شىء من ذلك۔

ثم إنه بعد إسلامه واعتذاره وتكذيب المخبرين ومدحه لرسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم إنما طلب العفو من النبي صلى الله تعالى عليه وسلم من إهدار دمه والعفو إنما يكون مع جواز العقوبة على الذنب فعلم أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم كان له أن يعاقبه بعد مجيئه مسلما معتذرا، وإنما عفى عنه حلما كرما۔“

الصارم المسلول، ص:۸۶-۸۷۔

ترجمہ: وجہ استدلال یہ ہے کہ حضور ﷺ نے حدیبیہ والے سال دس برس کے لئے قریش کے ساتھ مصالحت کی تھی ، قبیلہ خزاعہ آپ ﷺ کا حلیف بن گیا تھا ان کے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے تھے، اور یہ سب کے سب خواہ کافر ہو یا مسلمان ، حضور ﷺ کے ہمدرد اور خیر خواہ تھے۔ بنو بکر قریش مکہ کے حلیف بن گئے تھے، اور یہ سب لوگ آپ ﷺ کے معاہد بن گئے تھے۔ یہ بات نقل متواتر سے ثابت ہے اور اہل علم کے ہاں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں۔

توہین رسالت کا شرعی حکم

پھر انس بن زنیم کے بارے میں باوجود آپ ﷺ کی ہجو کی ہے، اور حضور ﷺ کو بتایا کہ اس نے کو بنوبکر کے خلاف بھڑکانا تھا، علاوہ باقی کسی کے خون کو ہدر قرار معاہد توہین رسالت کرتا ہے تو کرتے، پھر نبی کریم ﷺ نے کی حالت میں ہجو کی تھی ، لہذا یہ خون مباح ہو جاتا ہے اگر چہ اس نے اپنے اشعار میں اسلام ہے، اس کے اشعار کے یہ الفاظ پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ پہلے لئے کہ بت پرست جب محمد ہجو گوئی سے انکار ہی کیا، لہٰذا تھے، اس لئے کہ دونوں قبیلوں وہ اپنی اس حرکت سے مباح اس کی طرف منسوب ہجو گوئی کرنے کی ضرورت نہ تھی تردید اور حضور ﷺ کی مد حضور ﷺ سے معافی طلب کا جواز موجود ہو، اس بنا آپ ﷺ اسے سزا دے پر کرم نوازی فرمائی، اور

صفحہ 107

AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

پھر انس بن زنیم کے بارے میں آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ اس نے معاہد ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی ہجو کی ہے، خزاعہ کے ایک آدمی نے اس کے سر پر چوٹ ماری اور حضور ﷺ کو بتایا کہ اس نے آپ کی ہجو کی ہے، اس سے ان کا مقصد آپ ﷺ کو بنو بکر کے خلاف بھڑکانا تھا، حضور ﷺ نے اس کے خون کو ہدر قرار دیا اور اس کے علاوہ باقی کسی کے خون کو ہدر قرار نہیں دیا، اگر انھیں یہ بات معلوم نہ ہوتی کہ جب کوئی معاہد توہین رسالت کرتا ہے تو اس سے انتقام لینا واجب ہو جاتا ہے، تو وہ ایسا نہ کرتے ، پھر نبی کریم ﷺ نے اس کے خون کو ہدر قرار دیا، حالانکہ اس نے معاہد ہونے کی حالت میں ہجو کی تھی، لہٰذا یہ اس سلسلے میں نص ہے کہ گستاخی کی وجہ سے گستاخ کا خون مباح ہو جاتا ہے اگرچہ وہ معاہد ہی کیوں نہ ہو، اس کے بعد جب وہ حاضر ہوا تو اس نے اپنے اشعار میں اسلام لانے کا اظہار کیا اسی وجہ سے آپ کا شمار صحابہ میں کیا گیا ہے، اس کے اشعار کے یہ الفاظ "تعلم رسول اللہ" اور "نبی رسول اللہ" اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ پہلے اسلام لا چکا تھا، یا اس کا یہ کہنا اس کا اسلام لانا ہے، اس لئے کہ بت پرست جب محمد رسول اللہ کہے تو اسے مسلمان تصور کیا جائے گا ، اس نے ہجو گوئی سے انکار بھی کیا، اور ان لوگوں کی شہادت کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ وہ اس کے دشمن تھے، اس لئے کہ دونوں قبیلوں کے درمیان عرصہ دراز سے جنگ و جدال جاری تھا، اگر وہ اپنی اس حرکت سے مباح الدم نہ ہوتا تو اسے اس بات کی ضرورت نہ تھی (یعنی اگر وہ اس کی طرف منسوب ہجو گوئی کی وجہ سے مباح الدم نہ ہو چکا ہوتا تو اسے اپنی صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی) پھر اس نے اسلام لانے، معذرت خواہی، مخبرین کی تردید اور حضور ﷺ کی مدح گوئی کے بعد اپنے خون کے ہدر ہونے کے سلسلے میں حضور ﷺ سے معافی طلب کی حالانکہ معافی تب دی جاتی ہے جب جرم کی سزا دینے کا جواز موجود ہو ، اس سے معلوم ہوا کہ اسلام لانے اور معذرت خواہی کے بعد بھی آپ ﷺ اسے سزا دے سکتے تھے، مگر آپ ﷺ نے تحمل اور بردباری کے پیش نظر اس پر کرم نوازی فرمائی، اور اسے معاف کر دیا۔

صفحہ 108

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 108

نکتہ:

جب اس نے عذر خواہی کی اور معافی مانگی تو آپ ﷺ نے تحمل اور بردباری کے پیش نظر اس پر کرم نوازی فرمائی، اور اسے معاف فرمایا جیسا کہ امام ابن تیمیہ ؒ کی عبارت میں مشیر الفاظ ”حلماً کرماً“ موجود ہیں۔ لیکن آپ ﷺ کے وصال کے بعد گستاخ رسول کو معاف کرنے کا حق کسی کو حاصل نہیں، آپ کی حیات میں تو آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ اگر چاہیں تو معاف فرما سکتے تھے، لیکن آپ ﷺ کے بعد اب کسی کو یہ حق حاصل نہیں، بلکہ اب توہین رسالت کے مجرم کے لئے موت ہی متعین ہے، چاہے وہ عذر کرے یا نہ کرے چنانچہ خود امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

”أن النبى صلى الله تعالى عليه وسلم قد كان له أن يعفو عن من سبه وليس للأمة أن تعفو عن من سبه، كما قد كان يعفو عن من سبه من المسلمين مع أنه لاخلاف بين المسلمين فى وجوب قتل من سبه من المسلمين.“ الصارم المسلول، ص:۱۸۰۔

ترجمہ: آپ ﷺ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ جو کافر آپ کی گستاخی کرتا تو آپ اگر چاہتے تو اسے معاف کر سکتے تھے، لیکن امت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ گستاخ رسول کو معاف کرے، جیسے کہ آپ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اگر کوئی مسلمان آپ کی گستاخی کرتا تو آپ اسے معاف کر سکتے تھے، باوجود اس کے کہ مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کرے تو اسے قتل کرنا واجب ہے۔

آمن رسول الله صلى الله تعالیٰ عليه وسلم يعنى الناس إلا أربعة نفر وامرأتين وسماهم، وابن أبى سرح ، فذكر الحديث قال: وأما ابن أبى سرح فإنه اختبأ عند عثمان بن عفان، فلما دعى رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه و سلم الناس إلى البيعة جاء به حتى أوقفه على رسول الله صلى الله تعالیٰ عليه وسلم، فقال يا نبي الله ! بايع

صفحہ 109

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

عبدالله، فرفع رأسه فنظر إليه ثلاثا، كل ذلك يأبى فبايعه بعد ثلاث، ثم أقبل على أصحابه فقال :"أما كان فيكم رجل رشيد"يقوم إلى هذا حيث رآنى كففت يدى عن بيعته فيقتله، فقالوا ماندرى يارسول الله! مافى نفسك؟ ألا أومأت إلينا بعينك؟ قال إنه لاينبغى لنبى أن تكون له خائنة الأعين۔﴾

سنن أبى داؤد، كتاب الجهاد، باب قتل الأسير ولا يعرض عليه الإسلام، ص:١٤٢٢، رقم الحديث:٢٦٨٣۔

ترجمہ: حضرت سعد ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے تمام لوگوں کو امان دے دیا مگر چار آدمیوں اور دو عورتوں کو امان نہیں ملا اور ان کے نام بھی لئے ، اور ابن ابی سرح کا نام بھی لیا ، وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو ابن ابی سرح حضرت عثمان بن عفان ؓ کے پاس چھپ گئے ، حضرت عثمان ؓ اسے آپ ﷺ کے پاس لے آئے ، اور کہا کہ یا نبی اللہ ! عبداللہ کو بیعت فرمائیں ، آپ ﷺ نے سر مبارک اٹھایا تین مرتبہ اس کی طرف دیکھا اور ہر دفعہ بیعت کے اظہار سے اعراض فرمایا، تیسری دفعہ کے بعد آپ ﷺ نے اس کو بیعت کر دیا اور پھر صحابہ کرام ؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں سے کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا کہ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اپنے ہاتھ کو بیعت سے روک رہا ہوں تو وہ آدمی آگے بڑھتا اور اسے قتل کر دیتا ، صحابہ ؓ عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے ارادے کا پتہ نہیں چلا ، آپ ہماری طرف آنکھ سے اشارہ ہی فرما دیتے ، آپ ﷺ ارشاد فرمایا : کسی نبی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔

فائدہ:

عبداللہ بن ابی سرح کے واقعہ کو ذکر کر کے اس سے گستاخ رسول کے لئے سزائے موت پر استدلال کرتے ہوئے حضرت امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ: "فوجد الدلالة أن عبداللہ بن سعد بن أبى سرح افترى على النبى

صفحہ 110

توہین رسالت کا شرعی حکم

صلى الله تعالىٰ عليه وسلم أنه كان يتمم له الوحى ويكتب له ما يريد فيوافقه عليه، وأنه يصرفه حيث شاء، ويغير ما أمره به من الوحى، فيقره على ذلك، وزعم أنه سينزل مثل ما أنزل الله إذ كان قد أوحى إليه في زعمه كما أوحى إلى رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وسلم، وهذا الطعن على رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وسلم وعلى كتابه، والافتراء عليه بما يوجب الريب في نبوته قدر زائد على مجرد الكفر به والردة في الدين وهو من أنواع السب۔“

(الصارم المسلول،ص:۹۶)

ترجمہ: وجہ استدلال یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی سرح نے حضور ﷺ پر جھوٹ باندھا کہ وہ آپ ﷺ کے لئے وحی کا اتمام کرتا ہے، اور آپ ﷺ کے لئے جو چاہتا ہے وہ لکھ لیتا ہے۔ اور حضور ﷺ اس کی اس پر موافقت بھی فرماتے ہیں اور جیسے چاہتا ہے تصرف کرتا ہے، اور جس وحی کے لکھنے کا حضور ﷺ حکم فرماتے ہیں وہ اسے تبدیل کرتا ہے، اور پھر حضور ﷺ اس کے اس تغیر کو برقرار بھی رہنے دیتے ہیں اور وہ خیال کرنے لگا کہ وہ بھی عنقریب ایسا ہی کلام نازل کرے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نازل فرماتے ہیں، کیونکہ اس کا گمان یہ تھا کہ اسے بھی وحی کی جاتی ہے، جیسا کہ حضور ﷺ کی طرف وحی کی جاتی ہے، اور اس کا یہ سارا کلام اللہ کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب پر طعنہ زنی تھی، اور آپ ﷺ پر ایسا افترا کرنا جو آپ کی نبوت میں شک پیدا کرے یہ صرف کفر اور دین سے مرتد ہونے سے زیادہ جرم اور گستاخیوں کی قسموں میں سے ایک اعلیٰ درجہ کی گستاخی ہے۔

اسی طرح امام تقی الدین السبکی ؒ ”السیف المسلول“ میں مذکورہ واقعہ ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ:

”وهؤلاء الذين أهدر النبى صلى الله تعالىٰ عليه وسلم دمهم، منهم من كان مسلما فارتد كابن أبى سرح، وانضاف إلى ردته ما حصل منه في حق النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم فلذلك أهدر النبي صلى

صفحہ 111

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

الله تعالى عليه وسلم دمه حتى جاء به عثمان رضى الله تعالى عنه واستحى النبى صلى الله تعالى عليه وسلم فبايعه، وهو بلاشك دليل على قتل الساب قبل التوبة، أما بعد التوبة فسنكلم عليه۔“

السیف المسلول، ص: ۱۱۱۔

ترجمہ: اور یہ لوگ جن کا خون آپ ﷺ نے ہدر فرمایا، ان میں سے بعض وہ تھے جو اسلام لانے کے بعد دوبارہ مرتد ہو گئے جیسے ابن ابی سرح، اور اس کے مرتد ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا بڑا جرم یہ تھا کہ یہ آپ ﷺ کے خلاف بدگوئی کرتا تھا، اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس کا خون ہدر فرمایا، یہاں تک کہ حضرت عثمان ؓ اسے لے کر آئے، تو آپ ﷺ نے حیا کی وجہ سے اسے بیعت کرلیا، اور یہ واقعہ بغیر کسی شک و شبہہ کے گستاخ رسول کے قتل کرنے پر دلیل ہے اگر وہ توبہ نہ کرے، اور اگر وہ توبہ کرلے تو اس پر ہم عنقریب گفتگو کریں گے۔

نکتہ:

ابوداؤد کی مذکورہ روایت میں ابن ابی سرح کا قصہ مختصراً ذکر ہے، جبکہ دوسری روایات میں اس کی پوری تفصیل مذکورہ ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ عبداللہ بن ابی سرح مسلمان ہو گیا تھا، اور آپ ﷺ نے اسے کاتب وحی مقرر فرمایا تھا، پھر اس کے بعد یہ دوبارہ مرتد ہو گیا، اور مکہ مکرمہ چلا گیا، اور وہ وہاں جا کر حضور ﷺ کے خلاف بدگوئی کرنے لگا، چنانچہ یہ بدگوئی و بہتان تراشی کرتے ہوئے کہتا تھا کہ حضور (ﷺ) مجھے حکم دیتے کہ فلاں آیت کو اس طرح لکھو تو میں دوسرے الفاظ میں لکھنے کی اجازت چاہتا تو آپ اجازت دے دیتے، اور مشرکین سے کہتا تھا کہ اللہ کی قسم میں جس طرح چاہتا حضور (ﷺ) کو ادھر پھیر دیتا، وہ مجھے املاء کرواتے تھے، تو میں کہتا کہ یوں ہونا چاہئے، تو آپ کہتے کہ ٹھیک ہے، اور بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ یہ بھی کہتا تھا کہ:

"إنى لأكتب ماشئت هذا الذى كتبت يوحى إلى كما يوحى إلى محمد وإن محمدا إذا كان يتعلم منى فإنى سأنزل مثل ما أنزل الله"

الصارم المسلول، ص: ۹۵ ۔

صفحہ 112

توہین رسالت کا شرعی حکم

”کہ میں جو چاہتا ہوں وہ لکھتا ہوں اور اس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے، جس طرح کہ محمد کی طرف وحی کی جاتی ہے، اور جب محمد مجھ سے سیکھتا ہے تو عنقریب میں بھی ایسا کلام نازل کروں گا جس طرح کہ اللہ نے نازل کیا ہے۔“

اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ابن ابی سرح کی طرف سے حضور ﷺ پر افتراء پردازی اور کذب بیانی تھی، چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

” وكذالك قوله ”إني لأصرفه كيف شئت،إنه ليأمرني أن أكتب له الشيء فأقول له أو كذا أو كذا فيقول نعم“ فرية ظاهرة ،فإن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يكتبه إلا ما أنزله الله، ولا يأمره أن يكتب قرآناً إلا ما أوحاه الله إليه ، ولا ينصرف له كيف شاء ،بل ينصرف كما يشاء الله ـ“

(الصارم المسلول،ص:٩٤۔

ترجمہ: اسی طرح ابن ابی سرح کا یہ قول کہ ”میں جس طرح چاہتا تو آپ ﷺ کو ادھر پھیر دیتا، آپ ﷺ مجھے حکم دیتے کہ میں آپ کے لئے وحی لکھوں تو میں کہتا کہ کیا اس کو یوں یوں کر کے لکھوں تو آپ ﷺ فرماتے کہ ہاں“ تو ابن ابی سرح کا یہ قول آپ ﷺ پر صریح جھوٹ ہے کیونکہ آپ ﷺ صرف اسی چیز کو لکھواتے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہوتی، اور ابن ابی سرح کو بھی صرف اسی قرآن کے لکھنے کا حکم دیتے جس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو وحی کی جاتی تھی، اور ابن ابی سرح کو اس کی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مرضی کے مطابق پھیر دیتے تھے۔

باقی اس کی مزید تفصیل میں اس وجہ سے نہیں جاتے کہ فی الحال یہ ہمارے موضوع سے خارج ہے۔)

فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا، مگر چند اشخاص ایسے تھے کہ جن کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ:

”اقتلوهم وإن وجدتموهم متعلقين بأستار الكعبة“

کہ تم ان کو جہاں بھی پاؤ قتل کرو، اگرچہ یہ تمھیں غلاف کعبہ سے چمٹے ہوئے بھی ملیں (یعنی وہاں بھی ان کو نہ چھوڑو بلکہ قتل کرو) ان میں عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن

توہین رسالت کا شرعی حکم

صبابہ اور عبداللہ بن ابی سرح بھی شامل بھائی تھے، فتح مکہ کے دن جب حضور عثمان ؓ کے پاس چھپ گئے، اور عرض ہدر فرمایا ہے، آپ میری سفارش کر کر چکا ہوں تاکہ میری جان بخشی ہو خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا ہے اور مجھے اپنی گود میں پالا ہے۔ آپ تین مرتبہ بیعت فرمانے سے اعراض حضور ﷺ نے بیعت کر لیا، اور پھر صحابہ تھا کہ جب میں نے اس کو بیعت کر واقدی نے اپنے ”مغازی“ میں یہ الفاظ ”ما منعكم أن يقوم رجل منكم کہ کس چیز نے تمہیں روکا عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کی بات کر دیتے، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا عبداللہ بن ابی سرح سچائی سے اسلام مکہ سے پہلے ہی اسلام لاچکے تھے اور سچے دل سے حضور ﷺ کے شیدائی بات ثابت نہیں، حضرت عمر ؓ اس بھی رہے۔ حضرت عثمان ؓ کے خلاف غنیمت جب تقسیم ہوا تو ایک ایک شہادت کے بعد بالکل الگ رہے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ حضرت معاویہ کی وفات کا واقعہ بھی بڑا عجیب لکھا

صفحہ 113

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAA صبابہ اور عبداللہ بن ابی سرح بھی شامل تھے، عبداللہ بن ابی سرح حضرت عثمان ؓ کے رضاعی بھائی تھے، فتح مکہ کے دن جب حضور ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو یہ حضرت عثمان ؓ کے پاس چھپ گئے، اور حضرت عثمان ؓ سے کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے میرا خون ہدر فرمایا ہے، آپ میری سفارش کریں کہ حضور ﷺ مجھے بھی بیعت کر لیں میں توبہ کر چکا ہوں تا کہ میری جان بخشی ہو جائے، حضرت عثمان ؓ اسے لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کرنے لگے کہ: یا رسول اللہ! اس کی ماں نے مجھے دودھ پلایا ہے اور مجھے اپنی گود میں پالا ہے۔ آپ اسے بیعت فرمالیں، آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور تین مرتبہ بیعت فرمانے سے اعراض کیا بالآخر تیسری مرتبہ کے بعد حضرت عثمان کے اصرار پر حضور ﷺ نے بیعت کر لیا، اور پھر صحابہ سے ارشاد فرمایا کہ: ”تم میں سے کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا کہ جب میں نے اس کو بیعت کرنے سے اعراض کیا تو اسی وقت اس کو قتل کر دیتا، اور علامہ واقدی نے اپنے ”مغازی“ میں یہ الفاظ ذکر کئے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ما منعكم أن يقوم رجل منكم إلى هذا الكلب فيقتله“ کہ کس چیز نے تمہیں روکا؟ کہ تم میں سے کوئی اٹھتا اور اس کتے کو قتل کر دیتا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں آپ کی چاہت کا پتہ نہیں چلا، آپ ہماری طرف آنکھ سے اشارہ ہی کر دیتے، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: نبی کی آنکھ خائن نہیں ہو سکتی، اس کے بعد حضرت عبداللہ بن ابی سرح سچائی سے اسلام لے آئے۔ (اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ”الصارم المسلول“ ص: ۹۳۔) اور سچے دل سے حضور ﷺ کے شیدائی اور پکے مسلمان ہو گئے ؓ ۔ بعد میں ان سے کوئی ایسی بات ثابت نہیں، حضرت عمر ؓ اور عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں مصر وغیرہ کے والی اور حاکم بھی رہے۔ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں افریقہ کی فتح کا سہرا انھیں کے سر رہا، اور مال غنیمت جب تقسیم ہوا تو ایک ایک شخص کے حصہ میں تین ہزار دینار آئے، حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد بالکل الگ رہے، اور حضرت علی ؓ اور حضرت معاویہ ؓ میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ حضرت معاویہ ؓ کے آخری دور میں عسقلان میں وفات پائی۔ آپ کی وفات کا واقعہ بھی بڑا عجیب لکھا ہے، ایک روز صبح کو اٹھے اور یہ دعا فرمائی: ”اللهم اجعل

صفحہ 114

توہین رسالت کا شرعی حکم

آخر عملي الصبح“ کہ اے اللہ میرا آخری عمل صبح ہی کو کر دے، اس کے بعد وضو کیا اور نماز پڑھائی، دائیں طرف سلام پھیر کر بائیں طرف سلام پھیرنا چاہتے تھے کہ روح عالم بالا کو پرواز کرگئی، ؒ

الإصابة،الصارم المسلول،توهین رسالت کی شرعی سزا، بتغیر من المؤلف۔

تھے جن کو اس دن بھی معافی نہ ملی، اور ان کا سب سے بڑا جرم یہی تھا کہ وہ توہین رسالت کے مرتکب تھے، چنانچہ ان کے بارے میں دربار رسالت سے یہ حکم صادر ہوا تھا کہ یہ لوگ جہاں بھی ملیں ان کو قتل کیا جائے، ان میں سے ایک ابن خطل بھی تھا، امام بخاری ؒ فرماتے ہیں کہ:

"عن أنس بن مالك رضى الله تعالىٰ عنه أن رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وسلم دخل عام الفتح وعلى رأسه المغفر،فلما نزعه جاءه رجل،فقال: إن ابن خطل متعلق بأستار الكعبة،فقال:اقتلوه۔“

صحيح البخارى،كتاب جزاء الصيد،باب دخول الحرم

ومكة بغير إحرام، ص: ١٤٥، رقم الحديث: ١٨٤٦۔

ترجمہ: حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، اس حال میں کہ آپ ﷺ کے سر مبارک پر خود (آہنی ٹوپی) تھا، جب آپ ﷺ نے اسے اتارا تو ایک آدمی آیا اور عرض کرنے لگا کہ یا رسول اللہ! ابن خطل کعبہ کے غلاف سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اسے قتل کرو۔

فائدہ:

ابن خطل کا واقعہ اہل سیر و مغازی کے ہاں مشہور ہے، کہ یہ پہلے مسلمان تھا بعد میں مرتد ہو گیا اور مشرکین سے جا ملا یہاں ہم پورا قصہ لکھنے کی بجائے صرف اس کا وہ جرم لکھتے ہیں جس کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

"أن جرمه أن رسول الله صلى الله تعالىٰ عليه وسلم استعمله على الصدقة وأصحبه رجلا يخدمه فغضب على رفيقه لكونه لم يصنع

صفحہ 115

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

له طعاما أمره بصنعته فقتله، ثم خاف أن يقتل فارتد، واستاق إبل الصدقة، وأنه كان يقول الشعر يهجو به رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم، ويأمر جاريته أن تغنيا به فهذا له جرائم مبيحة للدم، قتل النفس، والردة، والهجاء" الصارم المسلول،ص:١٠٦۔

ترجمہ: اس کا جرم یہ تھا کہ اسے رسول اللہ ﷺ نے زکوۃ وصول کرنے کے لئے روانہ کیا اور اس کی خدمت کے لئے ایک آدمی اس کے ساتھ کیا، راستے میں یہ اپنے مصاحب پر غصہ ہوا کیونکہ اس نے اس کے لئے کھانا تیار نہیں کیا تھا، جسکا اس نے اسے حکم دیا تھا، لہٰذا اس نے اسے قتل کر دیا، پھر قصاصاً قتل ہو جانے کے خوف سے مرتد ہو گیا، اور زکوۃ کے اونٹ بھی لے کر مشرکین مکہ سے جا ملا، یہ آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہا کرتا تھا، اور اپنی باندیوں کو ان اشعار کے گانے کا حکم دیا کرتا تھا، پس اس کے تین ایسے جرم تھے جو اس کے خون کو مباح کرنے والے تھے، ایک خون ناحق، دوسرا مرتد ہونا، تیسرا آپ ﷺ کی ہجو کرنا۔

لیکن ان مذکورہ تینوں جرائم میں سے اسے صرف تیسرے جرم (آپ ﷺ کی ہجو کرنے) کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ چنانچہ خود امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

"فمن احتج بقصته يقول لم يقتل لقتل النفس لأن اكثر ما يجب على من قتل ثم ارتد أن يقتل قودا، والمقتول من خزاعة له أولياء، فكان حكمه لو قتل قودا أن يسلم إلى أولياء المقتول فإما أن يقتلوا أو يعفوا أو يأخذوا الدية ولم يقتل لمجرد الردة لأن المرتد يستتاب ، وإذا استنظر أنظر، وهذا ابن خطل قد فر إلى البيت عائذا به طالبا للأمان تاركا للقتال ملقيا للسلاح حتى ينظر في أمره، وقد أمر النبي صلى الله عليه وسلم بعد علمه بذلك كله أن يقتل وليس هذا سنة من يقتل من مجرد الردة، فثبت أن هذا التغليظ في قتله إنما كان لأجل السب والهجاء۔" الصارم المسلول،ص:١٠٦۔

ترجمہ: اور جو حضرات ابن خطل کے قصہ سے استدلال کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ

صفحہ 116

توہین رسالت کا شرعی حکم

اسے صرف قتل نفس کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا، کیونکہ جو آدمی قتل کر کے مرتد ہو جائے تو اس کی زیادہ سے زیادہ سزا یہ ہے کہ اسے قصاص میں قتل کیا جائے، اور یہاں ابن خطل کے واقعے میں مقتول کا تعلق بنو خزاعہ سے تھا، اور اس کے اولیاء موجود تھے، تو اگر ابن خطل کو قصاص میں قتل کیا جاتا تو اس کا حکم یہ تھا کہ اسے اولیاء مقتول کے حوالہ کیا جاتا پھر وہ یا اسے قتل کر دیتے یا معاف کر دیتے یا دیت لے لیتے۔ اسی طرح اسے صرف مرتد ہونے کی وجہ سے بھی قتل نہیں کیا گیا، کیونکہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اور اگر وہ مہلت مانگے تو اسے مہلت دی جاتی ہے، اور یہ ابن خطل ہے، جو بیت اللہ کی طرف بھاگا ہے، بیت اللہ کی پناہ مانگتا ہے، امن طلب کرتا ہے، لڑائی کو چھوڑے ہوئے ہے، اسلحہ کو اتار چکا ہے تا کہ اس کے معاملے میں غور کیا جائے پھر بھی حضور ﷺ نے یہ سب کچھ جاننے کے باوجود اس کے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا، حالانکہ جسے ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہوتا، پس ثابت ہوا کہ اس کے قتل میں اس درجہ سختی کا سبب صرف گستاخی رسول اور آپ ﷺ کی ہجو کرنی تھی۔

اسی طرح امام تقی الدین السبکی ؒ ”السیف المسلول“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”وقتله لو كان قصاصاً لسلم إلى أولياء المقتول، ولو كان ردة لأستتيب فلم يكن إلا للسب۔“

السیف المسلول، ص: ١١٤۔

ترجمہ: اگر ابن خطل کا قتل کیا جانا قصاص کی وجہ سے ہوتا تو وہ اولیاء مقتول کے حوالے کیا جاتا، اور اگر مرتد ہونے کی وجہ سے ہوتا تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جاتا، بہر طور پر اس کا قتل صرف گستاخی ہی کی وجہ سے تھا۔

مذکورہ واقعہ سے گستاخ رسول کے لئے بطور حد سزائے موت کے متعین ہونے پر امام ابن تیمیہ ؒ استدلال کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: ”وقد استدل بقصة ابن خطل طائفة من الفقهاء على أن من سب النبي صلى الله عليه وسلم من المسلمين يقتل وإن أسلم حداً۔“

الصارم المسلول، ص: ١٠٧۔

ترجمہ: ابن خطل کے واقعے سے فقہاء کرام کی ایک جماعت نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان (العیاذ باللہ) آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو اسے قتل کیا

توہین رسالت کا شرعی حکم

جائے گا (اور اس تو میں مسلمان بھی ہو جا

اسی طرح علامہ ابن بطال ”وكذلك فعل القتل، فأمر بقتل وقد أمر بقتل رسول اللہ صلی ورسوله، وكذل ورسوله، فانتقم م

ترجمہ: اور اسی طرح حاصل کرنے کی کوشش کا، کیونکہ یہ کثرت کا بھی حکم دیا، کیونکہ و ان سے بھی انتقام لے کفر کیا اس نے اللہ اور اشرف یہودی کے با اللہ اور اس کے رسول کو

12 ....... قال موم الله صلى الله عليه قاتلهم وأمر بقتل بهجاء رسول الله القينتين وكمنت

صفحہ 117

توہین رسالت کا شرعی حکم

جائے گا (اور اس توہین کی وجہ سے وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائیگا۔) اگر چہ وہ بعد میں مسلمان بھی ہو جائے، کیونکہ یہ قتل بطور حد کے ہے۔

اسی طرح علامہ ابن بطالؒ ابن خطل کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

"وكذلك فعل في ابن خطل يوم فتح مكة حين تعوذ بالكعبة من القتل، فأمر بقتله دون سائر الكفار،لأنه كان يكثر من سبه، وقد أمر بقتل قينتين كانتا تغنيان بسبه وانتقم لنفسه لأنه من سب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد كفر، ومن كفر فقد آذى الله ورسوله، وكذلك قال من لكعب بن الأشرف فإنه قد آذى الله ورسوله، فانتقم منه لذلك ۔"

شرح صحیح البخاری لابن بطال،کتاب الحدود،ج:۸،ص:٤٠٦ ۔

ترجمہ:اور اسی طرح فتح مکہ کے دن ابن خطل کو قتل کیا جس وقت اس نے کعبہ کی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا نہ کہ اور کفار کے قتل کا، کیونکہ یہ کثرت سے آپ ﷺ کی گستاخی کرتا تھا،اسی طرح دو باندیوں کے قتل کا بھی حکم دیا،کیونکہ وہ بھی آپ ﷺ کی گستاخی پر گایا کرتی تھیں،تو آپ ﷺ نے ان سے بھی انتقام لے لیا،کیونکہ جو آپ کی گستاخی کرے وہ کافر ہے اور جس نے کفر کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی۔اسی طرح آپ ﷺ نے کعب بن اشرف یہودی کے بارے میں فرمایا: کون ہے جو اسے ٹھکانے لگا دے کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے،اور اس وجہ سے اس سے انتقام لیا۔

12.......﴿قال موسى بن عقبة فى مغازيه عن الزهرى وأمرهم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يكفوا أيديهم فلا يقاتلوا أحدا إلا من قاتلهم وأمر بقتل أربعة نفر،قال وأمر بقتل قينتين لابن خطل تغنيان بهجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال وقتلت إحدى القينتين وكمنت الأخرى حتى استؤمن لها ۔﴾

الصارم المسلول،ص:۹۹ ۔

صفحہ 118

توہین رسالت کا شرعی حکم

ترجمہ: حضرت موسیٰ بن عقبہ ؒ نے مغازی میں امام زہری ؒ سے روایت کیا ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ نے صحابہ کو قتال کرنے سے منع فرمایا، صرف ان لوگوں سے قتال کی اجازت دی تھی، جو خود قتال کرنے میں پہل کریں اور حضور ﷺ نے چار مردوں اور ابن خطل کی دو گانے والی باندیوں کے قتل کا حکم دیا، جو آپ ﷺ کی ہجو گوئی میں گایا کرتی تھیں، امام زہری ؒ فرماتے ہیں کہ ان دو باندیوں میں سے ایک کو قتل کیا گیا، اور دوسری کہیں چھپ گئی یہاں تک کہ اس کے لئے امان طلب کیا گیا۔

فائدہ:

ابن خطل کی ان دو باندیوں کے قتل کا حکم صرف اس وجہ سے دیا گیا تھا کہ وہ توہین رسالت کی مرتکب تھیں، اور آپ ﷺ کی ہجو گوئی میں گایا کرتی تھیں، یہی وہ سبب تھا کہ جس نے ان کے خون کو مباح کیا ورنہ صرف کفر کی وجہ سے عورت کو کسی بھی صورت میں قتل نہیں کیا جاتا، چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ: فوجه الدلالة أن تعمد قتل المرأة لمجرد الكفر الأصلى لا يجوز بالإجماع۔ ”اس واقعہ سے گستاخ رسول کے قتل پر استدلال اس طرح ہے کہ صرف کفر اصلی کی وجہ سے بالاجماع عورت کو قصداً قتل نہیں کیا جاسکتا۔“

(الصارم المسلول ،ص:۱۰۱)

اور جب یہاں پر ان باندیوں کے قتل کا حکم دیا جارہا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ قتل کا سبب کفر نہیں بلکہ توہین رسالت ہے۔

اسی طرح امام موصوف اس واقعہ پر تفصیلی گفتگو اور اس سے استدلالات کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:

ھؤلاء النسوة كن معصومات بالأنوثة ثم إن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بقتلهن لمجرد كونهن كن يهجينه وهن فى دارحرب، فعلم أن من هجاه وسبه جاز قتله بكل حال۔ الصارم المسلول،ص:۱۰۳۔

ترجمہ: یہ مذکورہ عورتیں (جنکے قتل کا حکم دیا گیا) عورت ہونے کی وجہ سے معصوم الدم تھیں، پھر بھی حضور ﷺ نے صرف اس وجہ سے ان کے قتل کا حکم دیا کہ وہ آپ ﷺ

توہین رسالت کا شرعی حکم

کی توہین اور ہجو گوئی کر بھی آپ ﷺ کی گستاخی مرد ہو یا عورت، دار الحرب،

عباس رضي الله عنہ فقال من يكفيني النبي صلى الله عليه المصنف للامام وسلم كيف ترجمہ: حضرت ابن عباس میں گستاخی کا ارتکاب کر دشمن کی خبر لے گا؟ حص نے اسے جہنم واصل کر د

عروة بن محمد صلى الله عليه وسل عدوى؟ فخرج إل المصنف للامام ع كيف يصنع به وعقوبته ترجمہ: ایک بدنصیب فرمایا کون ہے جو ہما عورت کی طرف نکلے

إلى عدن فرفع وسلم فاستشار يقتله فقتله ورو

صفحہ 119

توہین رسالت کا شرعی حکم

کی توہین اور ہجو گوئی کرتی تھیں، حالانکہ وہ دارالحرب میں تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ جو بھی آپ ﷺ کی گستاخی اور ہجو گوئی کرے اسے ہر حال میں قتل کیا جائے گا (چاہے وہ مرد ہو یا عورت، دارالحرب میں ہو یا دارالاسلام میں مسلمان ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی)‘‘

عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم سبہ رجل فقال من یکفینی عدوی فقال الزبیر أنا، فبارزہ، فقتلہ الزبیر فأعطاہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم سلبہ﴾

المصنف للامام عبدالرزاق،کتاب الجہاد،باب من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیف یصنع بہ وعقوبة من کذب علی النبی ،رقم الحدیث: ٩٧٠٤ ـ

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: کون ہے جو ہمارے اس دشمن کی خبر لے گا؟ حضرت زبیر فرمانے لگے کہ میں حاضر ہوں، پھر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے جہنم واصل کر دیا، تو اس کا سلب آپ ﷺ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو عطا کیا۔

عروة بن محمد عن رجل أو قال ألفین أن امرأة کانت تسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ،فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم من یکفینی عدوی؟ فخرج إلیہا خالد بن الولید فقتلہا﴾

المصنف للامام عبدالرزاق،کتاب الجہاد،باب من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کیف یصنع بہ وعقوبة من کذب علی النبی ،رقم الحدیث: ٩٧٠٥ ـ

ترجمہ: ایک بد نصیب عورت آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا کون ہے جو ہمارے اس دشمن کو ٹھکانے لگا دے، تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس عورت کی طرف نکلے اور اسے قتل کر دیا۔

إلی عدن فرفع إلیہ رجل من النصاری سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فاستشار فیہ، فأشار علیہ عبدالرحمن بن یزید الصنعانی أن یقتلہ فقتلہ وروی لہ فی ذلک حدیثا قال و کان قد لقی عمر و سمع

صفحہ 120

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 120

منه علما كثيرا قال فكتب في ذلك أيوب إلى عبدالملك أو إلى الوليد بن عبدالملك ، فكتب يحسن ذلك ۔﴾

المصنف للامام عبدالرزاق، كتاب الجهاد، باب من سب النبي صلى الله عليه

وسلم كيف يصنع به وعقوبة من كذب على النبي ، رقم الحديث : ٩٧٠٥۔

ترجمہ: ایوب بن یحییٰ سے روایت ہے کہ وہ عدن کی طرف گئے تو ان کے پاس ایک ایسے نصرانی آدمی کا فیصلہ لایا گیا جو آپ ﷺ کی گستاخی کرتا تھا، تو انھوں نے اس سلسلہ میں لوگوں سے مشورہ طلب کیا تو حضرت عبدالرحمٰن بن یزید صنعانی ؒ نے انھیں مشورہ دیا کہ اسے قتل کردیں، چنانچہ اسے قتل کیا گیا اور حضرت عبدالرحمٰن نے اس کے بارے میں حدیث بھی روایت فرمائی، راوی کہتے ہیں کہ یہ عبدالرحمٰن بن یزید ؒ حضرت عمر ؓ کے شاگردوں میں سے تھے، اور انھوں نے حضرت عمر ؓ سے بہت سارا علم سیکھا، پھر ایوب بن یحییٰ نے یہ پورا واقعہ عبدالملک یا ولید بن عبدالملک (راوی کا شک ہے) کی طرف لکھ کر بھیجا، تو اس نے جواباً خط لکھ کر اس قضیہ کی تحسین کی۔

عبدالرحمن أن ابن عمر رضى الله تعالى عنه مر براهب فقيل إن هذا سب النبى صلى الله عليه وسلم ، فقال لو سمعته لضربت عنقه، إنا لم نعطهم العهد على أن يسبوا نبينا صلى الله عليه وسلم ۔﴾

مسندالحارث، كتاب الحدود والديات،باب فيمن سب النبي صلى الله عليه وسلم۔

ترجمہ: حضرت حصین بن عبدالرحمٰن ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ کا ایک راہب کے پاس سے گذر ہوا، تو آپ سے کہا گیا کہ اس راہب نے حضور ﷺ کے خلاف زبان درازی کی ہے، تو حضرت ابن عمر ؓ فرمانے لگے کہ اگر میں اسے سنتا تو اس کی گردن اڑا دیتا، کیونکہ ہم نے ان کو عہد اس لئے نہیں دیا کہ یہ ہمارے نبی ﷺ کی گستاخی کریں۔

توہین رسالت کا شرعی حکم AAA

باب سوم

گستاخ رسو

امت مسلمہ کے تمام صحابہ، تابعین اور بعد کے سارے کی بے ادبی و گستاخی، اہانت و کافر ہو جائے گا بلکہ اسے قتل کر جیسا کہ امام ابن تیمیہ ؒ نے صراحت فرمائی ہے ہم اس مسئلہ دوم میں احادیث مبارکہ اور صحابہ باب چہارم میں حضرات فقہاء کی سارے حوالہ جات کا تذکرہ میں مزید چند اقوال قارئین کی خ

"وأجمع عوام أهل ا عليه وسلم القتل و مذهب الشافعى رح ترجمہ: سب اہل علم کا ا گستاخی کرے اسے قتل کی مالک امام احمد اور امام کا بھی ہے۔

صفحہ 121

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

باب سوم

﴿ گستاخ رسول اجماع امت کی روشنی میں ﴾

امت مسلمہ کے تمام ادوار میں عہد نبوی ﷺ سے لے کر عہد صحابہ تک اور پھر تابعین، تبع تابعین اور بعد کے سارے ادوار میں امت مسلمہ کا اس پر اجماع رہا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی بے ادبی و گستاخی ، اہانت و تنقیص اور سب وشتم کا مرتکب نہ صرف اپنے اس عمل سے کافر ہو جائے گا بلکہ اسے قتل کرنا امت مسلمہ پر واجب ہے۔ اور یہی ائمہ اربعہ کا مذہب ہے، جیسا کہ امام ابن تیمیہ ؒ نے ”الصارم المسلول“ میں اور علامہ شامی ؒ نے ”ردالمحتار“ میں صراحت فرمائی ہے ہم اس مسئلہ کو باب اول میں قرآن کریم آیات اور مفسرین کے اقوال باب دوم میں احادیث مبارکہ اور محدثین کرام کے فرامین سے ثابت کر چکے ہیں اور ان شاء اللہ آگے باب چہارم میں حضرات فقہاء کرام کے اقوال سے بھی یہ بات ثابت کی جائے گی ، یہاں پر سارے حوالہ جات کا تذکرہ محض تکرار کا سبب ہے، تاہم اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر ذیل میں مزید چند اقوال قارئین کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں:

”وأجمع عوام أهل العلم على أن حد من سب النبى صلى الله تعالیٰ عليه وسلم القتل وممن قاله مالك والليث وأحمد وإسحاق وهو مذهب الشافعى رحمة الله عليه“

الصارم المسلول ،ص: ۱۲۔

ترجمہ: سب اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرے اسے قتل کیا جائے ، جن ائمہ کرام نے یہ فتویٰ دیا ہے ان میں سے امام مالک امام احمد اور امام اسحاق ؒ شامل ہیں، اور یہی مذہب امام شافعی ؒ کا بھی ہے۔

صفحہ 122

توہین رسالت کا شرعی حکم

”أجمع العلماء أن شاتم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم المنتقص له كافر والوعيد جار عليه بعذاب الله وحكمه عند الأمة القتل۔“

الشفاء، ج:۲، ص:۱۳۴۔

ترجمہ: علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا اور آپ ﷺ کی تنقیص کرنے والا کافر ہے۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وعید ہے اور باتفاق امت اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے۔

”لا أعلم أحدا من المسلمين اختلف في وجوب قتله إذا كان مسلما“

الشفاء، ج:۲، ص:۱۳۴۔

ترجمہ: میں مسلمانوں میں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں جانتا جس نے گستاخ رسول کے لئے سزائے موت کے واجب ہونے میں اختلاف کیا ہو جبکہ وہ مسلمان ہو۔

”وتحرير القول فيه أن الساب إن كان مسلما فإنه يكفر ويقتل بغير خلاف وهو مذهب أئمة الأربعة وغيرهم۔“

الصارم المسلول، ص:۵۱۲۔

ترجمہ: خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کا ارتکاب کرے تو وہ کافر ہو جائے گا اور اسے قتل کیا جائیگا اور یہی ائمہ اربعہ اور دیگر فقہاء کرام کا مذہب ہے۔

”الكتاب والسنة موجبان أن من قصد النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بأذى أو نقص معرضاً أو مصرحاً وإن قل فقتله واجب۔“

السيف المسلول، ص:۱۰۲۔

ترجمہ: قرآن وحدیث اس بات کو واجب کرتے ہیں کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی ایذاء کا ارادہ کرے یا آپ ﷺ کی تنقیص کرے خواہ صراحۃً کرے یا اشارۃً اگرچہ وہ قلیل

توہین رسالت کا شرعی حکم

ہی کیوں نہ ہو تو ایسے شخص کو

”اجتمعت الأمة على ترجمہ: پوری امت کا اس با کی تنقیص یا گستاخی کرنے

”ولا نعلم خلافا في استب ترجمہ: ہمیں نہیں معلوم کہ مباح الدم ہونے میں اختلاف

”من سب النبي صلى مسلم أو كافر قتل ولم ترجمہ: جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو اسے قتل کیا جائے گا خواہ وہ بھی نہیں کیا جائیگا۔

”من شتم النبی صلی فقد ارتد عن الإسلام وسلم۔“ ترجمہ: جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ گستاخی کرنے کی وجہ سے سزا موت ہوتی ہے) کیونکہ

صفحہ 123

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ہی کیوں نہ ہو تو ایسے شخص کو قتل کرنا واجب ہے۔

"اجتمعت الأمة على قتل منتقصه من المسلمين وسابه“

الشفاء، ج:۲، ص:۱۳۰۔

ترجمہ: پوری امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو مسلمان (العیاذ باللہ) حضور ﷺ کی تنقیص یا گستاخی کرے تو اسے قتل کیا جائیگا۔

"ولا نعلم خلافا فى استباحة دمه بين علماء الأمصار وسلف الأمة“

الشفاء، ج:۲، ص:۱۳۴

ترجمہ: ہمیں نہیں معلوم کہ علمائے متقدمین ومتاخرین میں سے کسی نے گستاخ رسول کے مباح الدم ہونے میں اختلاف کیا ہو۔

"من سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم أو غيره من النبيين من مسلم أو كافر قتل ولم يستتب“

السيف المسلول، ص:۱۰۱۔

ترجمہ: جو شخص حضور ﷺ یا دیگر انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے تو اسے قتل کیا جائے گا خواہ گستاخی کرنے والا کافر ہو یا مسلمان اور اس سے توبہ کا مطالبہ بھی نہیں کیا جائیگا۔

"من شتم النبى صلى الله تعالى عليه وسلم قتل وذلك أنه إذا شتم فقد ارتد عن الإسلام ولا يشتم مسلم النبى صلى الله تعالى عليه وسلم“

السيف المسلول، ص:۱۰۲۔

ترجمہ: جو شخص نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرے اسے قتل کیا جائیگا، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گستاخی کرنے کی وجہ سے گستاخ (اگر پہلے مسلمان تھا) مرتد ہو جائیگا (اور مرتد کی سزا موت ہوتی ہے) کیونکہ کوئی مسلمان حضور ﷺ کی گستاخی نہیں کرتا۔

صفحہ 124

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAA 124

"ولا خلاف بين المسلمين أن من قصد النبى صلى الله تعالى عليه وسلم بذلك وهو ممن ينتحل الإسلام أنه مرتد يستحق القتل۔"

أحكام القرآن، ج:۳، ص:۱۲۸۔

ترجمہ: مسلمانوں کے مابین اس مسئلہ میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ جس شخص نے نبی کریم ﷺ کی ایذا رسانی اور اہانت کا ارادہ کیا حالانکہ وہ خود کو مسلمان بھی کہلواتا ہے تو ایسا شخص مرتد اور مستحق قتل ہے۔

"والحاصل أنه لا شك ولا شبهة فى كفر شاتم النبى وفى استباحة قتله وهو المنقول عن الأئمة الأربعة۔"

رد المحتار، ج:۳، ص:۳۲۱۔

ترجمہ: خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کے کافر اور مباح الدم ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں اور یہی ائمہ اربعہ سے منقول ہے۔

توہین رسالت کا شرعی حکم AAA

باب چہارم

گستاخ

باب اول میں قرآن باب دوم میں سرکار دوجہاں ﷺ میں اجماع امت سے ہم یہ ثابت اور مستحق قتل ہے۔ اب اس باب یہ ثابت ہوگا کہ توہین رسالت ا اور اس کی سزا صرف اور صرف مر

كل من أبغض رسول مرتدا، فالساب بطر في إسقاط القتل، فل أبي بكر الصديق رض نفسه أو شهد عليه بل فيها توبة، فلا تعمل ا ولا يعفى عنه، ولا بلم باشره مختارا بلا إكر أحدا خالف في وجوب

فتح القد

ترجمہ: ہر وہ شخص جو دل سے

صفحہ 125

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 125

باب چہارم

﴿ گستاخ رسول فقہاء کرام کی نظر میں ﴾

باب اول میں قرآن کریم کی آیات مقدسہ اور حضرات مفسرین کرام کے اقوال، باب دوم میں سرکار دوجہاں ﷺ کے فرامین اور حضرات محدثین عظام کے اقوال اور باب سوم میں اجماع امت سے ہم یہ ثابت کر کے چلے آرہے ہیں کہ گستاخ رسول دائرہ دین سے خارج اور مستحق قتل ہے۔ اب اس باب میں حضرات فقہاء کرام کے اقوال کو پیش کیا جائے گا جس سے یہ ثابت ہوگا کہ توہین رسالت ایسا سنگین جرم ہے کہ جو کسی بھی صورت میں قابل معافی نہیں، اور اس کی سزا صرف اور صرف موت ہے۔

كل من أبغض رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم بقلبه كان مرتدا، فالساب بطريق أولى ، ثم يقتل حدا عندنا، فلا تعمل توبته فى إسقاط القتل، قالوا هذا مذهب أهل الكوفة ومالك، ونقل عن أبى بكر الصديق رضى الله تعالى عنه ، ولا فرق بين أن يجىء تائبا من نفسه أو شهد عليه بذلك بخلاف غيره من المكفرات، فإن الإنكار فيها توبة، فلا تعمل الشهادة معه، حتى قالوا يقتل وإن سب سكران ولا يعفى عنه، ولا بد فى تقييده بما إذا كان سكره بسبب محظور باشره مختارا بلا إكراه وإلا فهو كالمجنون، وقال الخطابى ولا أعلم أحدا خالف فى وجوب قتله۔

فتح القدير، كتاب السير، باب أحكام المرتدين، ج: ۱۳،ص: ۲۹۰۔

ترجمہ: ہر وہ شخص جو دل سے آپ ﷺ کے ساتھ بغض رکھے، وہ مرتد ہے، تو گستاخی

صفحہ 126

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 126

کرنے والا بطریق اولیٰ مرتد اور خارج از اسلام ہوگا، پھر ہمارے احناف کے ہاں اس گستاخ کو حداً قتل کیا جائے گا، لہذا توبہ کرنے کی وجہ سے اس کی سزائے موت ساقط نہیں ہو سکتی، فقہاء نے لکھا ہے کہ یہی اہل کوفہ اور حضرت امام مالکؒ کا مذہب ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بھی یہی مذہب منقول ہے۔ باقی وہ خود توبہ کرکے آئے یا اس کے خلاف گواہی دی جائے دونوں صورتیں برابر ہیں بخلاف دیگر مکفرات کے کہ ان میں جرم سے انکار توبہ کی صورت بن جاتی ہے، اور اس کے ہوتے ہوئے گواہی پر عمل نہیں کیا جاتا۔ بلکہ فقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کوئی نشہ کی حالت میں بھی گستاخی کا ارتکاب کرے گا تو اسے بھی قتل کیا جائے گا اور کوئی معافی نہیں ملے گی۔ البتہ نشہ کی حالت میں یہ قید لگانا ضروری ہے کہ اس کو جو نشہ چڑھا ہے وہ ایسی چیز سے آیا ہو جو شرعاً ممنوع ہو اور اس نے بغیر کسی کے مجبور کرنے کے خود اپنی مرضی سے اسے اپنایا ہو، کیونکہ اگر یہ قید نہ پائی جائے تو پھر وہ مجنون کے حکم میں ہوگا۔ علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی فقیہ ایسا معلوم نہیں کہ جس نے گستاخ رسول کے لئے قتل کے واجب ہونے میں اختلاف کیا ہو۔

فائدہ:

علامہ ابن ہمامؒ کا فقہی مقام اور محدثانہ حیثیت کسی سے مخفی نہیں اور ان کی ”فتح القدیر“ کو اللہ تعالیٰ کے ہاں جو قبولیت نصیب ہوئی ہے اس سے بھی اہل علم بخوبی واقف ہیں، چنانچہ آج ”فتح القدیر“ صرف ایک شرح ہی نہیں بلکہ فقہ حنفی کا ایک مستقل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ ”فتح القدیر“ کی اس مذکورہ عبارت سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

اسلام سے خارج ہے۔

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAA

اس توبہ کی وجہ سے اس کی سزائے موت کرتیں، البتہ عنداللہ اس کے عذاب سے خلوص نیت کے ساتھ توبہ کی ہو،

”أنه لا فرق بين ردة ورد الأولى: الردة بسبه صلي القدح كل من أبغض رس كان مرتدا فالساب بطر في إسقاط القتل قالوا هل البحر الرائق: ترجمہ: ہر قسم کا ارتداد برابر ہے کہ راغب ہوجائے تو اسے چھوڑ د عمومی حکم سے چند مسائل مستثنی آپﷺ کی شان میں گستاخ ہے کہ جو آدمی آپﷺ کو برا تو بطریق اولیٰ مرتد ہوگا۔ پھر یہا وہ توبہ کرے تو اس توبہ کی وجہ کہا ہے کہ یہی مذہب اہل کوفہ ا

فائدہ:

علامہ ابن نجیمؒ فرم دن تک کی مہلت دی جاتی ہے ا اس دوران دوبارہ مسلمان ہوجات کی سزائے موت ختم ہوجاتی ہے بعد اسے قتل کیا جائے گا، لیکن ا

صفحہ 127

توہین رسالت کا شرعی حکم

اس توبہ کی وجہ سے اس کی سزائے موت معاف نہیں ہوسکتی، کیونکہ حدود توبہ سے معاف نہیں ہوا کرتیں، البتہ عنداللہ اس کے عذاب سے بچنے کی امید کی جاسکتی ہے بشرطیکہ اس نے سچے دل سے خلوص نیت کے ساتھ توبہ کی ہو، لیکن اس دنیا میں اسے بہرحال قتل ہونا ہی متعین ہے۔

”أنه لا فرق بين ردة وردة من أنه إذا أسلم ويستثنى منه مسائل: الأولى: الردة بسبه صلى الله تعالى عليه وسلم قال في فتح القدير كل من أبغض رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق أولى ثم يقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته في إسقاط القتل قالوا هذا مذهب أهل الكوفة ومالك۔“

(البحر الرائق ، کتاب السير، باب أحكام المرتدين، ج: ۵، ص: ۱۲۶۔)

ترجمہ: ہر قسم کا ارتداد برابر ہے کہ اگر مرتد مہلت کے تین دنوں میں اسلام کی طرف راغب ہوجائے تو اسے چھوڑ دیا جائیگا، اور وہ سزائے موت سے بچ جائیگا، البتہ اس عمومی حکم سے چند مسائل مستثنیٰ ہیں، ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی بدبخت آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد ہوجائے۔ فتح القدیر میں لکھا ہے کہ جو آدمی آپ ﷺ کو دل سے مبغوض سمجھتا ہے تو وہ مرتد ہے، گستاخی کرنے والا تو بطریق اولیٰ مرتد ہوگا۔ پھر ہمارے احناف کے ہاں اسے حداً قتل کیا جائے گا، لہٰذا اگر وہ توبہ کرے تو اس توبہ کی وجہ سے اس کی سزائے موت ساقط نہیں ہوسکتی فقہاء نے کہا ہے کہ یہی مذہب اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا ہے۔

فائدہ:

علامہ ابن نجیمؒ فرماتے ہیں کہ: مرتد کے لئے عام قاعدہ تو یہی ہے کہ اسے تین دن تک کی مہلت دی جاتی ہے اس دوران اس کے شکوک شبہات کا ازالہ کیا جاتا ہے پھر اگر وہ اس دوران دوبارہ مسلمان ہوجائے تو اسے چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کے توبہ کرنے وجہ سے اس کی سزائے موت ختم ہوجاتی ہے، اور اگر وہ اس دوران اپنے ارتداد پر برقرار رہے تو تین دن بعد اسے قتل کیا جائے گا، لیکن اس عمومی قاعدہ اور قانون سے چند مسائل مستثنیٰ ہیں، یعنی چند

صفحہ 128

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

صورتیں ارتداد کی ایسی ہیں کہ ان میں مرتد اگر توبہ بھی کرلے تب بھی اس کی سزائے موت ساقط نہیں ہوسکتی ، اور اسے ہر حال میں قتل کیا جاتا ہے، ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی آدمی آقائے دو جہاں ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد ہو جائے ، تو اب یہ ارتداد کی وہ صورت ہے کہ جس میں اگر یہ توبہ کر بھی لے تب بھی اسے قتل کیا جائے گا ، اور اس دنیاوی معاملات میں توبہ کرنے کی وجہ سے اس کی سزائے موت ساقط نہیں ہوسکتی ، پھر علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ نے اپنے اس موقف پر فتح القدیر سے دلیل پیش کی ہے جسکو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گستاخِ رسول کے لئے سزائے موت بطورِ حد کے ہے، اور حدود توبہ سے معاف نہیں ہوتیں۔

"وقد صرح في الخلاصة والبزازية بأن الرافضى إذا سب الشيخين و طعن فيهما كفر وإن فضل عليا عليهما فمبتدع“

البحر الرائق، كتاب السير، باب أحكام المرتدين، ج:١٣، ص: ٤٩٨۔

ترجمہ:خلاصہ اور فتاویٰ بزازیہ میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ اگر کوئی رافضی حضرات شیخین (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) کو سب وشتم کرے اور ان دونوں حضرات پر طعنہ زنی کرے تو وہ کافر ہو جائیگا اور اگر صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان حضرات پر فضیلت دے تو بدعتی ہوگا۔

"ومن سب الشيخين أو طعن فيهما كفر ويجب قتله ثم إن رجع وتاب وجدد الإسلام هل تقبل توبته أم لا ؟ قال الصدر الشهيد: لا تقبل توبته وإسلامه وبه أخذ الفقيه أبو الليث السمرقندى رحمة الله عليه وأبو نصر الدبوسي رحمة الله عليه وهو المختار للفتوى“

الجوهرة النيرة، كتاب السير، باب أسلم وعليه جزية، ج: ٦ ، ص: ١٣٩۔

ترجمہ: جو آدمی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو گالی دے یا ان دونوں حضرات کے بارے میں طعنہ زنی کرے تو وہ کافر ہو جائے گا اور اس کا قتل

صفحہ 129

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 129

کرنا واجب ہوگا، پھر اگر وہ رجوع کرے اور توبہ کر کے نئے سرے سے اسلام قبول کرے تو آیا اس کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟ (یعنی آیا اس توبہ کرنے کی وجہ سے وہ دنیاوی سزا سے بچ جائے گا یا نہیں ) تو امام صدر الشہید ؒ فرماتے ہیں کہ : اس کی توبہ اور اس کا اسلام لانا قبول نہیں، بلکہ اسے قتل ہی کیا جائیگا اور اسی قول کو فقیہ ابولیث سمرقندی ؒ اور امام ابونصر دبوسی ؒ نے بھی اپنایا ہے اور یہی قول اس لائق ہے کہ اس پر فتویٰ دیا جائے۔

فائدہ:

البحر الرائق اور جوہرہ نیرہ کے ان مذکورہ بالا دونوں حوالوں میں یہ صراحت آئی ہے کہ اگر کوئی شخص اور بقول علامہ ابن نجیم ؒ کے کوئی رافضی حضرات شیخین ؓ کو سب وشتم کرے اور گالی دے یا ان دونوں مبارک ہستیوں کے بارے میں طعنہ زنی کرے تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اس کا قتل کرنا واجب ہے پھر اگر وہ توبہ کرے اور از سر نو اسلام قبول کرے تو بقول امام صدر الشہید ؒ کے اس کی اس توبہ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ صاحب جوہرہ کہتے ہیں کہ فقیہ ابولیث سمرقندی ؒ اور امام ابونصر دبوسی ؒ نے بھی صدر الشہید کے قول کو لیا ہے، کہ اس کی توبہ قابل قبول نہیں، اور اس کو قتل کرنا ہی متعین ہے۔ تو جب حضرات شیخین ؓ کے گستاخ کا یہ حکم ہے تو پھر کائنات کی وہ مقدس ترین کامل واکمل ہستی ، آقائے دو عالم ﷺ جن کے طفیل حضرات شیخین ؓ کو یہ مقام اور یہ رتبہ نصیب ہوا تو جو بد بخت ان آقائے دو جہاں ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو وہ بطریق اولیٰ کافر اور واجب القتل ہو جائیگا۔

یہ شان ہے خدمت گاروں کی سردار کا عالم کیا ہو گا

”إنما هو فى مرتد تقبل توبته فى الدنيا، أما من لا تقبل توبته فإنه يقتل كالزندقة بسب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم والشيخين كما قدمناه۔“

الاشباہ والنظائر، کتاب السير، ج: ص: ٢١٥۔

ترجمہ : مذکورہ کلام اس مرتد کے بارے میں تھا جس کی توبہ مقبول ہے، بہر حال وہ جسکی

صفحہ 130

توہین رسالت کا شرعی حکم

توبہ قبول نہیں تو اسے قتل کر دیا جائیگا، جیسے اس شخص کا ارتداد جو نبی کریم ﷺ یا حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کو سب و شتم کرتا ہو، جیسا کہ ہم اس سے پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں۔

”ويكفر إذا شك في صدق النبى صلى الله تعالى عليه وسلم أو سبه أو نقصه أو صغره_“

الاشباہ والنظائر، کتاب السیر، ص: ۲۱۵۔

ترجمہ: اور اس شخص کی تکفیر کی جائے جو آپ ﷺ کی سچائی میں شک کرے یا آپ کی گستاخی کرے یا آپ کی تنقیص کرے یا آپ کی تحقیر کرے۔

”لاتصح رد السكران إلا الردة بسبب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم فإنه يقتل ولا يعفى عنه كذا فى البزازية_“

الاشباہ والنظائر، کتاب السیر، باب الردۃ، ص: ۱۸۹۔

ترجمہ: نشہ سے مست آدمی کا ارتداد درست نہیں ہوتا (یعنی اسے مرتد نہیں کہا جاسکتا اور اس پر مرتد کے احکامات جاری نہیں ہو سکتے) ہاں جو سکران آپ ﷺ کی گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد ہو جائے تو اسے قتل کر دیا جائے گا (یعنی یہ اس سے مستثنیٰ ہے) اور اسے معاف نہیں کیا جائیگا۔ فتاویٰ بزازیہ میں اسی طرح لکھا ہے۔

”كل كافر تاب فتوبته مقبولة فى الدنيا والآخرة إلا جماعة ............. الكافر بسب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم وسب الشيخين رضى الله تعالى عنه أو أحدهما_“

الاشباہ والنظائر، کتاب السیر، باب الردۃ، ص: ۱۸۹۔

ترجمہ: ہر کافر جو توبہ کرتا ہے اس کی توبہ دنیا اور آخرت میں قبول ہوگی، لیکن ایک جماعت ایسی ہے کہ جن کی توبہ قبول نہیں، ان میں سے ایک وہ کافر بھی ہے جو آپ ﷺ یا حضرات شیخین رضی اللہ عنہما یا ان میں سے کسی ایک کو سب و شتم کرنے اور گالیاں دینے کی وجہ سے کافر ہوا۔

صفحہ 131

توہین رسالت کا شرعی حکم

فائدہ:

الأشباہ والنظائر کے مذکورہ بالا چار حوالوں سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

ہو جاتا ہے۔

سزائے موت بطور حد کے ہے اور حدود توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔

جاتا ہے۔

اس سے وہ آدمی مستثنیٰ ہے جو نشہ کی حالت میں سرکار دو جہاں ﷺ کی گستاخی کرے، کیونکہ ایسے آدمی پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے، اسے قتل کیا جائے گا، اور اسے معافی نہیں ملے گی۔

”وإذا عاب الرجل النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فی شیء کان کافرا ، وکذا قال بعض العلماء لو قال لشعر النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم شعیر فقد کفر ۔ وعن أبی حفص الکبیر من عاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بشعرة من شعراته الکریمة فقد کفر ، وذکر فی الأصل أن شتم النبی کفر ۔“

فتاویٰ قاضی خان ج: ۴، ص: ۸۸۲۔

ترجمہ: اگر کوئی شخص کسی بھی چیز میں آپ ﷺ کا عیب نکالے تو وہ کافر ہو جائیگا۔ اسی طرح بعض علماء نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ ﷺ کے موئے مبارک کو شعیر (تصغیر کے ساتھ برائے تخفیف یا تنقیص) کہہ دے تو وہ بھی کافر ہو جائیگا۔ امام ابو حفص کبیر ؒ نے فرمایا ہے کہ جو شخص آپ ﷺ کے مقدس بالوں میں سے کسی

صفحہ 132

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 132

ایک بال میں بھی عیب نکالے گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اور مبسوط میں ہے کہ آپ ﷺ کی گستاخی کفر ہے۔

فائدہ:

قاضی خان کا یہ مذکورہ حوالہ لوح دل پر نقش کرنے کے قابل ہے کہ جب سرکار دو عالم ﷺ کے موئے مبارک کی توہین کفر ہے، تو پھر جو بدبخت اس سے بڑھ کر آپ ﷺ کی تنقیص کرتا ہے، آپ ﷺ کی ذات گرامی میں عیب جوئی کا متلاشی رہتا ہے وہ تو بطریق اولیٰ کافر اور واجب القتل ہے۔

”وفى الأشباه لاتصح ردة السكران إلا الردة بسب النبى صلى الله تعالىٰ عليه وسلم فإنه يقبل ولايعفى عنه۔“

الدرالمختار، کتاب الجهاد، باب المرتد، ج:۳، ص:۳۱۲۔

ترجمہ: اشباہ میں ہے کہ نشے والے آدمی کا ارتداد درست نہیں ہوتا مگر جو ارتداد آپ ﷺ کی گستاخی کی وجہ سے ہو، تو وہ تسلیم ہوتا ہے، اور پھر اسے معاف نہیں کیا جاتا۔

”وجزم به فى الأشباه وأقره المصنف قائلا وهذا يقوى القول بعدم قبول توبة ساب الرسول صلى الله تعالىٰ عليه وسلم وهوالذى ينبغى التعويل عليه فى الافتاء والقضاء رعاية لجانب حضرة المصطفىٰ صلى الله تعالىٰ عليه وسلم ۔“

الدرالمختار، کتاب الجهاد، باب المرتد، ج:۳، ص:۳۲۱۔

ترجمہ: اشباہ میں اسی قول پر جزم کیا گیا ہے اور مصنف نے بھی اس کو یہ کہتے ہوئے برقرار رکھا ہے کہ یہ قول تقویت دیتا ہے اس قول کو کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول نہیں ہوگی، افتاء اور قضاء (فتویٰ دینے کے لئے اور عدالت میں فیصلہ کرنے کے لئے) اسی قول پر اعتماد کرنا مناسب ہے، کیونکہ اس میں

توہین رسالت کا شرعی حکم A سرور کونین ﷺ کی توہین کی س

فائدہ:

درمختار کے مذکورہ

بدبخت اس حالت میں حضور ﷺ

وقت اور مفتیان کرام فتویٰ دی نہیں ہے۔

”قوله (لأنه ينقض ا سب النبى صلى الله

تبیین الحقائق،

ترجمہ: ماتن کا یہ قول کہ گستاخ گستاخی کرنے والا مسلمان ن

”(وكل مسلم ارتد على مامر و(الكافي توبته مطلقا ولوسب عبد لايزول بالتوبة

الدرر فی فصل الجزیۃ

ترجمہ: ہر وہ مسلمان جو ارت جماعت ایسی ہے کہ ان کی تو

صفحہ 133

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

سرور کونین ﷺ کی جانب کی رعایت ہوتی ہے۔

فائدہ:

درمختار کے مذکورہ بالا دوحوالوں سے مندرجہ ذیل احکام ثابت ہوتے ہیں:

بدبخت اس حالت میں حضور ﷺ کی توہین کرتا ہے تو اس کی وجہ سے وہ کافر ہو جائے گا۔

وقت اور مفتیان کرام فتویٰ دیتے وقت اسی قول کو اختیار کریں کہ گستاخِ رسول کی توبہ قابلِ قبول نہیں ہے۔

”قوله (لأنه ينقض الإيمان ) يعنى على تقدير أنه لو كان مسلما كان سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم ينقض إيمانه ـ “

تبیین الحقائق ،کتاب السیر،باب العشر والخراج والجزیۃ،ج:۳،ص:۴۵۹۔

ترجمہ: ماتن کا یہ قول کہ گستاخی اس کے ایمان کو ختم کرتی ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ گستاخی کرنے والا مسلمان ہو، تو اس گستاخی کی وجہ سے اس کا ایمان ختم ہو جائیگا۔

”(وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر و(الكافر بسب نبى) من الأنبياء فإنه يقتل حدا، ولا تقبل توبته مطلقا ولو سب الله تعالى قبلت لأنه حق الله تعالى والأول حق عبد لا يزول بالتوبة ومن شك فى عذابه وكفره كفر وتمامه فى الدرر فى فصل الجزية۔)

الدر المختار، کتاب الجهاد،باب المرتد،ج:۳،ص:۳۱۷۔

ترجمہ: ہر وہ مسلمان جو ارتداد اختیار کرتا ہے تو اس کی توبہ مقبول ہوتی ہے مگر ایک جماعت ایسی ہے کہ ان کی توبہ قابلِ قبول نہیں ، اور یہ وہ لوگ ہیں جو بار بار ارتداد اختیار

صفحہ 134

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAA

کرتے ہیں، اور اسی طرح وہ آدمی جو انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد ہو جائے (یعنی اس کی توبہ بھی قابل قبول نہیں) پس اسے بطور حد قتل کیا جائیگا اور اس کی توبہ کسی بھی صورت میں مقبول نہیں ہے، اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں نازیبا الفاظ کہے اور پھر توبہ کرے تو اس صورت میں اس کی توبہ مقبول ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ خالص اللہ کا حق ہے، اور پہلی صورت میں وہ بندے کا حق ہے، جو کہ توبہ سے زائل نہیں ہو سکتا، اور جو شخص ایسے گستاخ کے کافر اور معذب ہونے میں شک کرے، تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔ اور اس کی پوری تفصیل درر کے فصل الجزیۃ میں مذکور ہے۔

”ومن نقص مقام الرسالة بقوله بأن سبه صلى الله تعالى عليه وسلم أو بفعله بأن بغضه بقلبه قتل حدا، كمامر التصريح به ـ “

الدرالمختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:۳، ص:۳۱۸۔

ترجمہ: اور جو شخص اپنے کسی قول سے مقام رسالت کی تنقیص کرے، اس طور سے کہ آپ ﷺ کی گستاخی کرے، یا اپنے کسی فعل سے جیسے دل سے آپ ﷺ سے بغض رکھے تو اسے حداً قتل کیا جائے ، جیسا کہ اس کی صراحت گزر چکی ہے۔

”والحاصل أنه لاشك ولاشبهة فى كفر شاتم النبى صلى الله تعالى عليه وسلم وفى استباحة قتله وهو المنقول عن الأئمة الأربعة “

رد المحتار، كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:۳، ص:۳۲۱۔

ترجمہ: حاصل کلام یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے گستاخ کے کفر میں اور اس کے قتل کے مباح ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے، اور یہی مذہب ائمہ اربعہ سے منقول ہے۔

”فإنه يقتل حدا، يعنى أن جزاءه القتل على وجه كونه حدا ولذاعطف عليه قوله ولا تقبل توبته لأن الحد لا يسقط بالتوبة فهو عطف تفسير وأفاد أنه حكم الدنيا أما عندالله تعالى فهى مقبولة

توہین رسالت کا شرعی حکم کمافی البحر ترجمہ: پس اس گستاخ اسی وجہ سے اس پر قبول نہیں ہے، کیونکہ گستاخ کا دنیوی کیونکہ یہ حد ہے اور کے ہاں اس کی توبہ

فائدہ:

علامہ شامی ”رد المحتار“ کو علامہ کے فتاویٰ شامی سے جو ہیں ان سے مندرجہ ذیل

جیسا کہ علامہ موصوف

یقتل حداً سے معلوم

بالتوبة “ کہہ کر اشارہ

اس کی طرف علامہ شامی کراشارہ کیا ہے۔

”وهو المنقول عن

صفحہ 135

توہین رسالت کا شرعی حکم

کما فی البحر۔“

ردالمحتار، کتاب الجہاد،باب المرتد،ج:۳،ص:۳۱۷۔

ترجمہ: پس اس گستاخ کو حداً قتل کیا جائیگا یعنی اس کی یہ سزائے موت بطور حد کے ہے اسی وجہ سے اس پر مصنف کے اس قول کا عطف کیا ہے کہ ولا تقبل توبتہ کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہے، کیونکہ حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتے پس یہ عطف تفسیری ہے، اور یہ گستاخ کا دنیوی حکم ہے (کہ دنیا میں توبہ قبول نہیں اور اسے قتل ہی کرنا متعین ہے کیونکہ یہ حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتا) اور بہر حال (آخرت میں) اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی توبہ قبول ہوگی (اگر سچے دل سے کی ہو) جیسا کہ بحر میں ہے۔

فائدہ:

علامہ شامی ؒ کا تفقہ اظہر من الشمس ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ”ردالمحتار“ کو علماء کے ہاں جو قبولیت نصیب ہوئی ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں، ہم نے ان کے فتاویٰ شامی سے جو دو حوالے اور علامہ حصکفی ؒ کے درمختار سے جو دو حوالے نقل کئے ہیں ان سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

جیسا کہ علامہ موصوف ؒ نے فرمایا کہ ”ولا تقبل توبتہ مطلقاً۔“

یقتل حداً“ سے معلوم ہوتا ہے۔

بالتوبۃ“ کہہ کر اشارہ فرمایا ہے۔

اس کی طرف علامہ شامی ؒ نے اپنی عبارت ”ومن شک فی عذابہ و کفرہ کفر“ کہہ کر اشارہ کیا ہے۔

”وہو المنقول عن الائمۃ الاربعۃ“ سے ثابت ہوتی ہے۔

صفحہ 136

توہین رسالت کا شرعی حکم

کے ہاں اس کی توبہ قبول ہوگی بشرطیکہ اس نے خلوص نیت سے توبہ کی ہو، دنیوی احکامات کا مطلب یہ ہے کہ توبہ کی وجہ سے اس سے سزائے موت ساقط نہیں ہوگی، کیونکہ یہ حد ہے اور حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتیں، ہاں! اخروی احکامات میں مقبول ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ آخرت کے عذاب سے بچ جائے گا۔ اس بات کی طرف علامہ موصوف ؒ نے اپنی عبارت ”وأفاد أنه حكم الدنيا أما عند الله تعالى فهى مقبولة كما في البحر“ میں اشارہ کیا ہے۔

”سمعت بعضا منهم يقول إذا لم يعرف الرجل أن محمدا صلى الله تعالى عليه وسلم آخر الأنبياء عليهم وعلى نبينا السلام فليس بمسلم كذا في اليتيمة ـ قال أبو حفص الكبير كل من أراد بقلبه بغض نبي كفر ۔“

الفتاوى الهندية، كتاب السير، مطلب فى موجبات الكفر، أنواع

منها ما يتعلق بالإيمان والإسلام، ج:۲،ص:۲۸۵۔

ترجمہ: میں نے ایک عالم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب کسی شخص کو یہ پتہ نہ ہو کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں تو وہ مسلمان نہیں ہے یتیمہ نامی کتاب میں اسی طرح مذکورہ ہے، ابو حفص کبیر ؒ فرماتے ہیں کہ: جس شخص کے دل میں کسی نبی سے بغض ہو تو وہ کافر ہے۔

”إلا إذا سب الرسول صلى الله عليه وسلم أو واحدا من الأنبياء عليهم الصلوة السلام فإنه يقتل حداً، ولا توبة له أصلا سواء كان بعد القدرة عليه أو الشهادة أو جاء تائباً من قبل نفسه كالزنديق فإنه حد وجب فلا يسقط بالتوبة ولا يتصور فيه خلاف لأحد، لأنه حق تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين ، وكحد القذف لا يزول بالتوبة ۔“

فتاویٰ خیریہ لعلامہ خیر الرملي رحمۃ اللہ علیہ، ج:۱،ص:۱۰۲۔

صفحہ 137

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 137

ترجمہ: ہاں جب حضور ﷺ یا دیگر انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کی گستاخی کرے تو اسے حدًا قتل کیا جائے گا، اور اس کی توبہ بالکل قابل قبول نہیں، خواہ اسے پکڑ لیا جائے اور شہادت بھی مل جائے، یا خود تائب ہوکر آجائے، یہ زندیق کی طرح ہے، اور یہ واجب شدہ حد ہے جو توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، کیونکہ یہ ایک ایسا حق ہے جس کے ساتھ بندہ کا حق متعلق ہوگیا ہے، لہٰذا یہ توبہ سے ساقط نہیں ہوگا، جس طرح کہ انسانوں کے دیگر حقوق توبہ سے ساقط نہیں ہوتے، اور جس طرح کہ حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔

"قلنا إذا شتمه عليه الصلوة والسلام سكران لا يعفى ويقتل حدا ، وهذا مذهب أبى بكر الصديق رضى الله تعالى عنه والإمام الأعظم والثورى وأهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك وأصحابه - قال الخطابي رحمة الله عليه لا أعلم أحدا من المسلمين اختلف في وجوب قتله إذا كان مسلما - وقال السحنون المالكي رحمة الله عليه ؛ أجمع العلماء على أن شاتمه كافر، وحكمه القتل ، ومن شك في عذابه وكفره كفر - قال الله تعالى ﴿ملعونين أينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا سنة الله ﴾ (الاحزاب الآية ٦١ - ) وروى عبد الله بن موسى بن جعفر عن علي بن موسى عن أبيه عن جده عن محمد بن علي بن الحسين وعن حسين بن علي عن أبيه أنه صلى الله عليه وسلم قال من سب نبيا فاقتلوه ، ومن سب أصحابي فاضربوه ، وأمر صلى الله تعالى عليه وسلم بقتل كعب بن الأشرف بلا إنذار، وكان يؤذيه صلى الله تعالى عليه وسلم وكذا أمر بقتل أبي رافع اليهودي ، وكذا أمر بقتل ابن خطل بهذا وكان متعلقا بأستار الكعبة ودلائل المسئلة تعرف في كتاب الصارم

صفحہ 138

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 138

المسلول على شاتم الرسول انتهى۔ وفى الأشباه :كل كافر تاب فتوبته مقبولة فى الدنيا والآخرة إلا جماعة الكافر بسب نبى وبسب الشيخين أو أحدهما وبالسحر والزندقة الى آخر مافيه، والمسئلة مقررة مشهورة فى الكتب غنية عن الإطناب والحاصل فيها وجوب قتل مثل هذا الشقى المتهور فى حق مثل هذا النبى الجليل ، وإن كان قد تاب وجدد الإسلام والله أعلم ۔

فتاوی خیریہ لعلامة خیر الرملی رحمۃ اللہ علیہ، ج: ۱، ص: ۱۰۲۔

ترجمہ: ہم کہتے ہیں جب کوئی مدہوش (شراب وغیرہ سے مست) آپ ﷺ کو گالی دے تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا، اور حداً قتل کیا جائیگا، یہ سیدنا صدیق اکبر ؓ، حضرت امام اعظم ؒ اور اہل کوفہ کا مذہب ہے۔ امام مالک ؒ اور ان کے رفقاء کا مشہور مذہب بھی یہی ہے۔ علامہ خطابی ؒ نے فرمایا کہ میں کسی ایک مسلمان کو بھی نہیں جانتا جس نے گستاخ رسول کے قتل کے وجوب میں اختلاف کیا ہو، اگر وہ مسلمان ہو۔ علامہ سحنون مالکی ؒ فرماتے ہیں کہ: امت کے سب علماء کا اجماع ہے کہ گستاخ رسول کافر ہے، اور اس کے لئے حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے، اور جو اس کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (ان پر پھٹکار برسائی گئی، جہاں بھی مل جائیں پکڑے جائیں اور خوب ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں) عبداللہ بن موسی بن جعفر نے علی بن موسی سے انھوں نے اپنے باپ سے بذریعہ اپنے دادا کے انھوں نے محمد بن علی بن حسین سے اور اسی طرح حسین بن علی ؓ (دوسری سند) سے روایت کیا ہے کہ: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی نبی کی گستاخی کرے اسے قتل کرو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اسے مارو اور آپ ﷺ نے کعب بن اشرف کو بغیر تنبیہ کے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا اور وہ آپ ﷺ کو اذیت دیتا تھا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح گستاخی کے جرم میں آپ ﷺ نے ابن خطل کے قتل کا حکم دیا حالانکہ وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہو ا تھا۔ مسئلہ کے دلائل ”الصارم المسلول“ سے معلوم کئے جاسکتے ہیں کتاب الاشباہ میں

صفحہ 139

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 139

ہے کہ ہر کافر جو توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ قبول ہوتی ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، مگر ایسے کافروں کی توبہ مقبول نہیں جو کسی نبی، شیخین، یا ان میں سے کسی ایک کو گالی دیکر کافر ہو جائے۔ اسی طرح جادوگر اور زندیق کی توبہ بھی قبول نہیں۔ کتاب میں آخر تک اور بھی مذکور ہے۔ یہ مسئلہ کتابوں میں مشہور ہے لمبی بحثوں کی ضرورت نہیں، خلاصہ کلام یہ کہ ایسے بد بخت اور جری کا قتل واجب ہے جو ایسے جلیل المرتبت نبی کے حق میں بکواس کرتا ہے اگر چہ وہ توبہ بھی کرے اور تجدید اسلام بھی کرے۔

فائدہ:

فتاویٰ خیریہ کے مندرجہ بالا دو حوالوں سے مندرجہ ذیل احکامات ثابت ہوتے ہیں:

سزا یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے۔

سے اس کی سزائے موت ختم نہیں ہو سکتی۔

نہیں ملے گی بلکہ اسے بھی حداً قتل کیا جائے گا۔

ہو) قتل کے وجوب میں اختلاف کیا ہو۔

کافر ہے، اور اس کے لئے حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے، اور جو اس کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

صحابہ کو گالی دے اسے مارو۔ اسی گستاخی کے جرم میں آپ ﷺ نے کعب بن اشرف، ابو رافع یہودی اور ابن خطل کے قتل کا حکم دیا۔

20....... مجمع الأنہر کا حوالہ:

"وأما إذا سبه عليه الصلوة والسلام أو واحدا من الأنبياء مسلم و

صفحہ 140

توہین رسالت کا شرعی حکم

لو سكران وأنه يقتل حداً، ولا توبة له أصلا تنجيه من القتل سواء بعد القدرة عليه والشهادة أو جاء تائباً من قبل نفسه كالزنديق لأنه حد وجب فلا يسقط بالتوبة ولا يتصور خلافه لأنه حد تعلق به حق العبد وفى البزازية من شك فى عذابه وكفره فقد كفر بخلاف ما إذا سب الله تعالى ثم تاب لأنه حق الله تعالى ـ “

مجمع الأنهر، كتاب السير، فصل فى بيان أحكام الجزية ، ج: ٤ ، ص: ٣٦٥ ۔

ترجمہ : اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ یا دیگر انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اگر چہ وہ حالت نشہ میں کیوں نہ ہو تو اسے حداً قتل کیا جائیگا ، اور کسی بھی صورت میں اس کی توبہ قبول نہیں ، کہ توبہ کی وجہ سے وہ قتل ہو جانے سے بچ سکے، برابر ہے کہ وہ گرفتاری اور شہادت کے بعد توبہ کرے یا خود بخود تائب ہو کر آ جائے (دونوں صورتوں میں اسے قتل سے نجات نہیں مل سکتی ) جیسا کہ زندیق کا یہی حکم ہوتا ہے، کیونکہ اس کی یہ سزائے موت بطورِ حد اس پر واجب ہو چکی ہے، لہٰذا یہ توبہ سے ساقط نہیں اور اس کے خلاف کا تو تصور ہی نہیں ہو سکتا ، کیونکہ یہ ایک ایسی حد ہے کہ جس کے ساتھ بندہ کا حق متعلق ہو چکا ہے، اور فتاویٰ بزازیہ میں ہے کہ جو شخص گستاخِ رسول کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے تو وہ خود کافر ہو جاتا ہے، بخلاف اس صورت کے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں نازیبا الفاظ کہے اور پھر توبہ کرے، کیونکہ یہ خالص اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔

21....... درر الحكام شرح غرر الاحکام کا حوالہ:

” وأما إذا سبه أو واحدا من الأنبياء صلوات الله عليهم أجمعين مسلم فإنه يقتل حداً ولا توبة له أصلا، سواء بعد القدرة عليه والشهادة أو جاء تائباً من قبل نفسه كالزنديق لأنه حد وجب فلا يسقط بالتوبة ولا يتصور خلاف لأحد لأنه حق تعلق به حق العبد فلا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين وكحَدّ القذف لا يزول بالتوبة بخلاف ما إذا سب الله تعالى ثم تاب لأنه حق

صفحہ 141

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 141

الله تعالى ولأن النبى صلى الله تعالى عليه وسلم بشر والبشر جنس تلحقه المعرة إلا من أكرمه الله تعالى والبارى تعالى منزه عن جميع المعايب وبخلاف الارتداد لأنه معنى ينفرد به المرتد، ولكونه حق الغير، قلنا إذا شتمه سكران لا يعفى ويقتل أيضا حدا، وهذا مذهب أبى بكر الصديق رضى الله تعالى عنه والإمام الأعظم والثورى وأهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك واصحابه - قال الخطابى لا أعلم أحدا من المسلمين اختلف فى وجوب قتله إذا كان مسلما - وقال السحنون المالكى رحمة الله عليه : أجمع العلماء على أن شاتمه كافر ، وحكمه القتل، ومن شك فى عذابه وكفره كفر كذا فى الفتاوى البزازية۔“

درر الحكام شرح غرر الأحكام، كتاب الجهاد، ما تسقط به الجزية، ج: ۳، ص: ٤٠٨ ۔

ترجمہ : بہر حال اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ یا باقی انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے تو اسے بطور حد شرعی قتل کیا جائیگا ، اور اس کی توبہ بالکل قبول نہیں ہوگی ، چاہے گرفتاری اور شہادت کے بعد توبہ کرے یا خود بخود تائب ہو کر آ جائے ، دونوں صورتوں کا حکم ایک جیسا ہے ، جیسا کہ زندیق کا حکم ہوتا ہے، کیونکہ یہ ایک واجب شدہ حد ہے، جو توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتی ، اور اس میں کسی کے اختلاف کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ ایک ایسا حق ہے کہ جسکے ساتھ بندہ کا حق متعلق ہو گیا ہے، لہذا وہ توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتا جس طرح کہ انسانوں کے باقی حقوق کا معاملہ ہوتا ہے کہ وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوا کرتے ، اور اسی طرح یہ حد قذف کی طرح ہے کہ جو توبہ سے ساقط نہیں ہوتی ، برخلاف اس صورت کے کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرے اور پھر توبہ کرلے، کیونکہ یہ خالص اللہ کا حق ہے۔ اور گستاخ رسول کی توبہ اس وجہ سے بھی قابل قبول نہیں کہ آپ ﷺ ایک بشر ہیں ، اور بشریت ایک ایسی جنس ہے جسکو عار لاحق ہو سکتا ہے، مگر وہ کہ جسے اللہ تعالیٰ عزت وشرف سے سرفراز فرمائے ( جیسا کہ حضور ﷺ کی ذات گرامی کو اللہ تعالیٰ نے دو جہاں کی عزت وشرف سے سرفراز فرمایا

صفحہ 142

توہین رسالت کا شرعی حکم

ہے) جبکہ اللہ تعالیٰ کی ذات تمام عیوب سے پاک ہے، اور بخلاف عام مرتد کے کہ اس کا ارتداد اس کے نفس تک محدود ہوتا ہے، اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نشہ کی حالت میں بھی آپ ﷺ کی گستاخی کرتا ہے تو اسے بھی معاف نہیں کیا جائیگا، بلکہ بطور حد شرعی کے قتل کیا جائیگا یہی حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور امام اعظمؒ امام ثوریؒ اور اہل کوفہ کا مذہب ہے اور مشہور قول کے مطابق حضرت امام مالکؒ اور ان کے تلامذہ کا بھی یہی مذہب ہے۔

علامہ خطابیؒ نے فرمایا کہ میں کسی ایک مسلمان کو بھی نہیں جانتا جس نے گستاخِ رسول کے قتل کے وجوب میں اختلاف کیا ہو، اگر وہ مسلمان ہو۔ علامہ سحنون مالکیؒ فرماتے ہیں کہ : امت کے سب علما کا اجماع ہے کہ گستاخِ رسول کافر ہے، اور اس کے لئے حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے، اور جو اس کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ فتاویٰ بزازیہ میں بھی اسی طرح تحریر ہے۔

فائدہ:

”مجمع الأنھر“ اور ”درر الحکام“ کے مندرجہ بالا حوالوں سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:

ہے۔

سکے، برابر ہے کہ وہ گرفتاری اور شہادت کے بعد توبہ کرے یا خود بخود تائب ہو کر آجائے دونوں صورتوں میں اسے قتل سے نجات نہیں مل سکتی جیسا کہ زندیق کا یہی حکم ہوتا ہے۔

کوفہ کا مذہب ہے اور مشہور قول کے مطابق حضرت امام مالکؒ اور ان کے تلامذہ کا بھی یہی مذہب ہے۔

توہین رسالت کا شرعی حکم

22...... بدائع الصنائع

”وكذلك لو أكره رجل آخر اسمه م بكفره لأنه إذا خط عليه الصلوة والس ويصدق فيما بينه بالسب رجلاً آخر القضاء وفيما بي لا يحكم بكفره سبحانه وتعالى أع كان ناقصا يحكم للضرورة بل للدفع لا يصدق في الح ثم قال كان قلبی م بدائع الصنائع :

ترجمہ: اور اسی طرح اگر کرے پھر اس آدمی کے نے اس کو گالی دی نہیں کی جائے گی اور اسی آدمی کا خیال آیا تو یہ اس رضامند ہے پھر جب ا دوسرا آدمی تھا ، تو دنیوی اللہ تعالیٰ کے ہاں اخرو اس بات کا احتمال رکھتا

صفحہ 143

توہین رسالت کا شرعی حکم

22 ...... بدائع الصنائع کا حوالہ:

" وكذلك لو أكره على سب النبى عليه الصلوة والسلام فخطر بباله رجل آخر اسمه محمد فسبه بذلك لا يصدق في الحكم ويحكم بكفره لأنه إذا خطر بباله رجل آخر فهذا طائع في سب النبى محمد عليه الصلوة والسلام ثم قال عنيت به غيره فلا يصدق في الحكم ويصدق فيما بينه وبين الله تعالى لأنه يحتمل كلامه ولو لم يقصد بالسب رجلا آخر فسب النبى عليه الصلوة والسلام فهو كافر في القضاء وفيما بينه وبين الله جل شانه، ولو لم يخطر بباله شيء لا يحكم بكفره ويحمل على جهة الإكراه على ما مر - والله سبحانه وتعالى اعلم ـ هذا إذا كان الإكراه على الكفر تاما، فأما إذا كان ناقصا يحكم بكفره لأنه ليس بمكره فى الحقيقة لأنه ما فعله للضرورة بل لدفع الغم عن نفسه ولو قال كان قلبى مطمئنا بالإيمان لا يصدق في الحكم لأنه خلاف الظاهر كالطائع إذا أجرى الكلمة ثم قال كان قلبى مطمئنا بالإيمان ويصدق فيما بينه وبين الله تعالى۔

بدائع الصنائع ، كتاب الإكراه ،فصل في بيان الحكم ما يقع عليه الإكراه،ج:16،ص:80۔

ترجمہ: اور اسی طرح اگر کسی شخص کو اس بات پر مجبور کیا گیا کہ وہ حضور ﷺ کی گستاخی کرے پھر اس آدمی کے دل میں ایک دوسرے آدمی کا خیال آیا جس کا نام محمد تھا اور اس نے اس کو گالی دی، اور پھر اس کا اقرار بھی کیا تو دنیوی احکامات میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور اس کے کفر کا حکم لگایا جائیگا، کیونکہ جب اس کے دل میں دوسرے آدمی کا خیال آیا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اپنے نبی محمد ﷺ کی گستاخی کرنے پر رضا مند ہے پھر جب بعد میں یہ کہتا ہے کہ محمد سے مراد میرے حضور ﷺ نہیں بلکہ وہ دوسرا آدمی تھا، تو دنیوی احکامات میں اس کی اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی، ہاں اللہ تعالیٰ کے ہاں اخروی احکامات میں اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے کیونکہ اس کا کلام اس بات کا احتمال رکھتا ہے کہ محمد سے مراد وہ دوسرا آدمی ہو، اور اگر گالی دیتے وقت اس

صفحہ 144

توہین رسالت کا شرعی حکم

نے دوسرے آدمی کا قصد نہیں کیا بلکہ حضور ﷺ ہی کو گالی دی تو دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کے اعتبار سے کافر ہو جائیگا، اور اگر اس کے دل میں کسی بھی چیز کا خیال نہ آیا تو پھر اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائیگا ، اور اس کو اکراہ پر محمول کیا جائیگا، یہ تمام صورتیں اس وقت ہیں کہ جب اسے مکمل طور سے کفر پر مجبور کیا جائے ، لیکن اگر مکمل طور سے نہیں بلکہ ناقصاً کفر پر مجبور کیا گیا تو پھر مذکورہ تمام صورتوں میں اس کے کفر کا حکم لگایا جائے گا، کیونکہ اس صورت میں حقیقتاً مکرہ نہیں ہے ، اور اس نے ضرورت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے غم دور کرنے کے لئے ایسا کیا ہے، اگر وہ یہ کہے کہ گالی دیتے وقت میرا دل ایمان پر مطمئن تھا تو اس کے اس قول کی دنیوی احکامات میں تصدیق نہیں کی جا سکتی ، کیونکہ یہ خلاف ظاہر ہے، اور یہ تو اس طرح ہے کہ کوئی آدمی خوشی سے گستاخی کرے اور پھر یہ کہے کہ میرا دل ایمان پر مطمئن تھا، ہاں اخروی احکامات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی تصدیق کی جائیگی۔

"فهو كافر يجب قتله باتفاق الأمة ولا تقبل توبته وإسلامه في إسقاط القتل سواء تاب بعد القدرة عليه والشهادة على قوله أو جاء تائبا من قبل نفسه لأنه حد وجب ولا تسقطه التوبة كسائر الحدود، وليس سبه صلى الله تعالى عليه وسلم كالارتداد المقبول فيه التوبة لأن الارتداد معنى ينفرد به المرتد لاحق فيه لغيره من الآدميين فقبلت توبته ومن سب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم تعلق به حق الآدمى ولا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين ، فمن سب النبي صلى الله تعالى عليه و سلم أو أحدا من الأنبياء صلوات الله عليهم وسلامه فإنه يكفر ويجب قتله ثم إن ثبت على كفره ولم يتب ولم يسلم يقتل كفرا بلا خلاف وإن تاب وأسلم فقد اختلف فيه والمشهور من المذهب القتل حدا وقيل يقتل كفرا في الصورتين۔"

تنقيح الفتاوى الحامدية، كتاب الشركة ،باب الردة والتعزير، ج:۲،ص:۱۷۷۔

صفحہ 145

توہین رسالت کا شرعی علم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ترجمہ: گستاخی کرنے والا کافر ہے باتفاق امت اس کا قتل کرنا واجب ہے، اور اس سے سزائے موت کے ساقط کرنے کے لئے اس کے توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کا کوئی اعتبار نہیں برابر ہے کہ گرفتاری اور اس کے خلاف گواہیاں ہو جانے کے بعد توبہ کرے یا خود بخود تائب ہو کر آ جائے، کیونکہ اس کی سزائے موت بطور حد کے ہے، جو توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتی، جس طرح کہ باقی حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتیں۔ اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی اس طرح کا ارتداد نہیں جس میں توبہ قبول ہوتی ہے، اور وجہ اس کی یہ ہے کہ (یعنی عام ارتداد اور توہین رسالت کی وجہ سے مرتد ہونے میں فرق یہ ہے کہ) ارتداد ایک ایسی چیز ہے کہ جس کا تعلق مرتد کے اپنے نفس کے ساتھ ہے، اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کا اس کے ساتھ کوئی حق متعلق نہیں ہوا کرتا، اس وجہ سے مرتد کی توبہ قبول ہوتی ہے، اور جو آدمی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو اس کے ساتھ انسانوں کا حق متعلق ہو جاتا ہے، لہٰذا توبہ سے اس کا یہ جرم ساقط نہیں ہو سکتا جس طرح کہ انسانوں کے عام حقوق صرف توبہ کرنے سے معاف نہیں ہوتے ، لہٰذا جس آدمی نے حضور ﷺ یا باقی انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کی تو وہ کافر ہو جائے گا ، اور اس کا قتل کرنا واجب ہو جائیگا پھر اگر وہ اپنے اس کفر پر برقرار رہا اور اس نے توبہ بھی نہیں کی اور اسلام بھی قبول نہیں کیا تو بغیر کسی اختلاف کے اس کو قتل کیا جائیگا، لیکن اگر یہ توبہ کر کے اسلام قبول کر لے تو اس صورت میں فقہاء کا اختلاف ہے، مشہور قول کے مطابق اسے پھر بھی حدًا قتل کیا جائیگا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں صورتوں میں اسے کفراً قتل کیا جائیگا۔

24 ....... الفقه الإسلامي وأدلته کا حوالہ :

” وأجمع العلماء كما قال القاضي عياض في الشفاء على وجوب قتل المسلم إذا سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم لقوله تعالى إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِينًا “

الفقه الإسلامي وأدلته ، الباب الثانى التعزير، التعزير بالقتل سياسة، ج: ٧ ، ص: ٥٥٩٤۔

صفحہ 146

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ترجمہ: قاضی عیاض ؒ نے ”الشفاء“ میں فقہاء کرام کا اس مسلمان کے قتل کرنے کے وجوب پر اتفاق نقل کیا ہے جو آپ ﷺ کی گستاخی کرتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”کہ بیشک جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت ہو اور اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے رسوائی کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

”وأما من سب الله تعالى أو النبي صلى الله تعالى عليه وسلم أو أحدا من الملائكة أو الأنبياء فإن كان مسلما قتل اتفاقا واختلف هل يستتاب أولا، والمشهور عند المالكية عدم الاستتابة۔“

الفقه الاسلامی وأدلته، شروط صحة الردة، الأول العقل، ج: ۷، ص: ٥٥٧٧۔

ترجمہ: جو شخص اللہ تعالیٰ کو یا نبی کریم ﷺ یا فرشتوں میں سے کسی فرشتے کو یا انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو گالی دیتا ہے، تو اگر وہ مسلمان ہو تو بالاتفاق ائمہ اسے قتل کیا جائیگا البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائیگا یا نہیں؟ مالکیہ کے مشہور قول کے مطابق اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

”قال إسحاق قد أجمع المسلمون أن من سب الله عز وجل أو سب رسوله صلى الله تعالى عليه وسلم أو دفع شيئا مما أنزل الله أو قتل نبيا من أنبياء الله تعالى أنه كافر بذلك وإن كان مقراً بكل ما أنزل الله۔“

الاستذكار لابن عبدالبر، كتاب صلوة الجماعة ، باب إعادة الصلوة مع الإمام۔

ترجمہ: امام اسحاق ؒ کا قول ہے کہ مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرے، یا اللہ کے رسول ﷺ کی گستاخی کرے یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ چیزوں میں سے کسی بھی شے کو رد کرے، یا اللہ تعالیٰ کے انبیاء کرام میں سے کسی نبی کو قتل کرے، تو بیشک وہ آدمی ان مذکورہ کاموں کی وجہ سے کافر ہو جائیگا، اگر چہ وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام چیزوں کا اقرار بھی کرتا ہو۔

صفحہ 147

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAA 147

فائدہ:

الاستذکار فقہ مالکی کی مستند ترین کتاب ہے علامہ ابن عبد البرؒ کا فقہی مقام اور علمی تفوق اہل علم سے مخفی نہیں، مذکورہ حوالہ میں علامہ نے امام اسحاقؒ کا بہت اہم قول نقل فرمایا ہے کہ توہین رسالت کی وجہ سے آدمی کافر ہو جاتا ہے، اگرچہ وہ دین کے تمام امور کا اقرار کرتا ہو، اور کسی بھی حکم کا منکر نہ ہو، لیکن توہین رسالت کا جرم اتنا سنگین ہے کہ اس کی وجہ سے وہ بہر حال کافر ہو جائیگا۔

27....... کتاب الأم کا حوالہ:

"وعلى أن أحدا منكم إن ذكر محمدا صلى الله تعالىٰ عليه وسلم أو كتاب الله عز وجل أو دينه بما لا ينبغى أن يذكره به فقد برئت منه ذمة الله ثم ذمة أمير المؤمنين وجميع المسلمين ونقض ما أعطى عليه الأمان وحل لأمير المؤمنين ماله ودمه كما تحل أموال أهل الحرب ودماء هم ۔"

كتاب الأم للإمام الشافعى رحمة الله عليه ، إذا أراد الإمام أن يكتب كتاب صلح على الجزية كتب بسم الله الرحمن الرحيم ، ج: ٤ ، ص: ١٩٤۔

ترجمہ: یعنی مسلمان حاکم جب ذمیوں کے لئے صلح کی تحریر لکھے تو اس میں یہ بھی لکھے کہ اگر تم میں سے کوئی حضرت محمد ﷺ یا اللہ تعالیٰ کی کتاب یا اللہ کے دین کا تذکرہ نامناسب الفاظ کے ساتھ کرے گا تو اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ اور پھر امیر المومنین اور سب مسلمانوں کا ذمہ ختم ہو جائیگا، اور جس بات پر اسے امان دیا گیا تھا وہ ٹوٹ جائیگا، اور امیر المومنین کے لئے اس کا مال اور خون حلال ہو جائیگا، جیسے کہ حربیوں کا مال اور خون حلال ہے۔

28....... المغنی کا حوالہ:

"ومن سب الله تعالىٰ كفر سواء كان مازحا أو جادا و كذلك من استهزأ بالله تعالىٰ أو بآياته أو برسله أو كتبه قال الله تعالىٰ ﴿ولئن سألتهم ليقولن انما كنا نخوض ونلعب قل ابالله و آياته و رسوله كنتم

صفحہ 148

توہین رسالت کا شرعی حکم

تستهزؤن لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم ﴾ وينبغى أن لا يكتفى من الهاذى بذلك بمجرد الإسلام حتى يؤدب أدبا يزجره عن ذلك فإنه إذا لم يكتف ممن سب رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتوبة فمن سب الله تعالى أولىٰ ۔“

(المغنى لابن قدامة، كتاب قتال أهل البغى، فصل سب الله تعالى،

مسئلة إذا اتفق المسلمون على إمام ، ج:۸، ص:۱۵۰۔

ترجمہ: جو شخص اللہ تعالیٰ کو گالی دے وہ کافر ہو جائے گا خواہ مزاح میں دے یا سمجھ بوجھ کردے، اسی طرح وہ آدمی بھی کافر ہو جائیگا جو اللہ تعالیٰ یا اللہ تعالیٰ کی آیات یا اللہ تعالیٰ کے رسولوں یا اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں کا مذاق اڑائے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ”اگر تو ان سے پوچھے تو وہ کہیں گے کہ ہم تو بات چیت کرتے تھے، اور دل لگی ، تو کہہ کیا اللہ سے اور اس کے حکموں سے اور اس کے رسولوں سے تم ٹھٹھے کرتے تھے، بہانے مت بناؤ تم تو کافر ہو گئے اظہار ایمان کے بعد“ اور مناسب یہ ہے کہ مذاق اور تمسخر کرنے والے سے صرف اسلام کا مطالبہ کرنے کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایسی سزا دی جائے جو اسے ایسا کرنے سے روک دے، کیونکہ جب حضور ﷺ کی گستاخی کرنے والے کو صرف توبہ کرنے کی وجہ سے نہیں چھوڑا جاتا ( بلکہ ہر حال میں قتل کیا جاتا ہے ) تو اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو تو بطریق اولیٰ نہیں چھوڑا جائیگا۔

صفحہ 149

توہین رسالت کا شرعی حکم

باب پنجم

﴿ گستاخ رسول اور علماء دیوبند کا مؤقف ﴾

علماء دیوبند (کثر اللہ سوادہم) سے اللہ تعالیٰ نے دین کی جو خدمت لی ہے وہ اظہر من الشمس ہے، دین کا کوئی بھی شعبہ ہو دیوبند کے فرزندوں نے ہر میدان میں ہراول دستے کا کام دیا ہے، یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے ذریعے کتاب وسنت کے علوم ومعارف کا جو فیضان اطراف عالم میں پھیلا ہے اس کی نظیر ملنی اگر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے، اور ہم اس بات کے کہنے میں کوئی غلو نہیں سمجھتے کہ اگر دارالعلوم دیوبند کا وجود نہ ہوتا تو برصغیر پاک و ہند میں مذہب اہل سنت والجماعت کا صرف نام رہ جاتا یہ دارالعلوم کا فیض ہے کہ یہاں سے اٹھنے والی مبارک مساعی سے شرک والحاد کی ظلمتیں چھٹ گئیں اور توحید وسنت کے انوار پھیل گئے، اپنے یوم تاسیس سے لے کر آج تک اس دارالعلوم اور اس کے مزاج اور مذاق سے وابستہ دینی اداروں نے ایسی نابغہ روزگار شخصیتوں کو پیدا کیا ہے جنہوں نے درس وتدریس ، تحریر وتقریر، تزکیہ وتربیت، دعوت وتبلیغ اور وعظ وارشاد کے ذریعے سے اسلام کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنے کی سرکوبی کو اپنا اہم اور مقدس فریضہ سمجھا ہے ، اور جب تک اپنے اس فریضہ سے سبکدوش نہ ہوئے اس وقت تک بے چین اور مضطرب رہے۔ منکرین حدیث ہو یا منکرین ختم نبوت، نظریہ دو قرآن پر ایمان رکھنے والے ہوں یا تجدد زدہ اور عقل پرست، فتنہ قادیانیت ہو یا فتنہ نیچریت، رضا خانیت ہو یا چکڑالویت، فتنہ خاکساریت ہو یا مودودیت ان میں سے کسی بھی ”فتنہ عمیاء“ کو لے لیجئے اکابر دیوبند اس کے قلع قمع کرنے اور اس کی شہ رگ پر نشتر زنی کرنے میں پیش پیش ملیں گے۔ یہ صرف دیوبند اور دیوبندی مکتب فکر سے وابستہ اداروں کا کارنامہ ہے کہ انہوں نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ ، امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت

صفحہ 150

توہین رسالت کا شرعی حکم

مولانا احمد علی لاہوری ؒ ، مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ ، شیخ التفسیر حضرت مولانا ادریس کاندہلوی ؒ ، رئیس المفسرین حضرت مولانا حسین علی الوانی ؒ اور شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ؒ جیسے مفسر ، امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ ، شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ ، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ ، محدث کبیر حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری ؒ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندہلوی ؒ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا ادریس کاندہلوی ؒ ، حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی ؒ اور حضرت مولانا محمد یوسف بنوری جیسے محدث ، مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ ، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی ؒ ، شیخ الادب والفقہ حضرت مولانا اعزاز علی ؒ ، اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ جیسے فقیہ ، امام انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھی ؒ ، امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ ، حضرت مولانا مفتی محمود ؒ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ جیسے راہنما اور حضرت مولانا الیاس کاندہلوی ؒ اور حضرت مولانا یوسف کاندہلوی ؒ جیسے داعی اور مبلغ اس امت کے لئے پیدا کئے ، علماء دیوبند کا کردار ایسا صاف ، شفاف ، بے داغ اور منور و مبارک ہے کہ بقول اقبال ۔

میری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

اس باب میں ہم اپنے ان اسلاف کے اقوال و فتاویٰ کو ذکر کریں گے ، جس سے معلوم ہوگا کہ علماء دیوبند کے ہاں گستاخ رسول کافر ، دائرۂ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہے۔

وباللہ التوفیق

امام العصر حضرت علامہ انور شاہ صاحب کاشمیری ؒ نے اپنی تصنیف انیق ”اکفار الملحدین“ میں ضروریات دین ، اہل قبلہ کی تکفیر ، موجبات کفر اور التزام ولزوم کفر وغیرہ دقیق ترین مسائل پر جو مفصل و مدلل گفتگو فرمائی ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور حق

صفحہ 151

توہین رسالت کا شرعی حکم

تو یہ ہے کہ واقعہ یہ حضرت شاہ صاحب ہی کا کام تھا، اور وہی ان مسائل پر ایسی گفتگو فرما سکتے تھے۔

حضرت شاہ صاحب ؒ آپ ﷺ کی گستاخی کرنے والے شخص پر گفتگو کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: ”رسول اللہ ﷺ پر سب و شتم یا آپ ﷺ کی توہین و تنقیص کرنے والا کافر ہے جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ قاضی ابو یوسف ؒ ”کتاب الخراج“ میں فرماتے ہیں: جو مسلمان آپ ﷺ پر (العیاذ باللہ) سب و شتم کرے یا آپ ﷺ کو جھوٹا کہے یا آپ ﷺ میں عیب نکالے یا کسی بھی طرح آپ ﷺ کی توہین و تنقیص کرے وہ کافر ہے۔ اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے باہر ہو جائیگی۔“

قاضی عیاض ؒ ”شفاء“ میں فرماتے ہیں کہ: ”رسول اللہ ﷺ پر سب و شتم کرنے والا کافر ہے اور جو کوئی اس کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے۔“

اکفار الملحدین، ص: ۱۳۶۔

اسی طرح حضرت شاہ صاحب ؒ ایک اور مقام پر گفتگو کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: ”امت کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر سب و شتم یا آپ ﷺ کی ذات میں عیب چینی موجب کفر و ارتداد و قتل ہے۔ ملا علی قاری ؒ ”شرح شفاء جلد دوم ص: ۳۹۳“ پر فرماتے ہیں کہ: ”تمام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی پر سب و شتم کرے (وہ مرتد ہے) اس کو قتل کر دیا جائیگا۔ فرماتے ہیں طبری نے بھی اسی طرح یعنی ہر اس شخص کے مرتد ہو جانے کو امام ابو حنیفہ ؒ اور حضرات صاحبین سے نقل کیا ہے کہ جو شخص حضور ﷺ پر عیب گیری کرے یا آپ سے بے تعلقی (اور بیزاری) کا اظہار کرے یا آپ ﷺ کی تکذیب کرے وہ مرتد ہے۔

سحنون ؒ کا قول ہے کہ تمام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر سب و شتم کرنے والا اور آپ کی ذات مقدس میں عیب نکالنے والا کافر ہے اور جو کوئی اس کے کافر اور معذب ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔

اکفار الملحدین، ص: ۱۵۶۔

صفحہ 152

توہین رسالت کا شرعی حکم

”اہانت و گستاخی کردن در جناب انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کفر است۔“

امداد الفتاویٰ، ج:۵، ص:۳۹۱۔

ترجمہ: حضرات انبیاء کرام ؑ کی شان میں توہین اور گستاخی کرنا کفر ہے۔

حضرت مدنی قدس سرہٗ نے اپنی کتاب ”الشہاب الثاقب“ میں ”لطائف رشیدیہ“ کے حوالے سے ذکر فرمایا ہے کہ: ”جو الفاظ موہم تحقیر حضور سرور کائنات علیہ السلام ہوں، اگرچہ کہنے والے نے نیت حقارت کی نہ کی ہو، مگر ان سے بھی کہنے والا کافر ہو جاتا ہے۔“

الشہاب الثاقب، ص:۲۰۔

حضرت سہارنپوری صاحب ؒ ابوداؤد، کتاب الحدود میں حضرت علی ؓ کی ایک روایت کی تشریح کرتے ہوئے اپنی مایہ ناز تصنیف ”بذل المجہود“ میں فرماتے ہیں کہ ”ولذا افتى اكثرهم (أى الحنفية) بقتل من اكثر سب النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم من اهل الذمة وإن أسلم بعد أخذه ۔“

بذل المجهود، ج:۲، ص:۱۲۵۔

ترجمہ: اکثر احناف نے اس ذمی کے قتل کا فتویٰ دیا ہے جو کثرت سے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہو، اگرچہ وہ گرفتاری کے بعد مسلمان بھی ہو جائے، تب بھی اسے قتل ہی کیا جائے گا۔

فائدہ:

فقہاء کا اختلاف صرف ذمی کے بارے میں ہے کہ آیا جب کوئی ذمی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرے تو اسے قتل کیا جائیگا یا نہیں؟ علامہ سہارنپوری ؒ نے احناف کا مذہب ذکر فرمایا ہے کہ عندالاحناف ایسے ذمی کو قتل کیا جائیگا۔ باقی اگر کوئی مسلمان العیاذ باللہ یہ جرم کرے تو فقہاء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اسے قتل کرنا واجب ہے۔ اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں۔

حضرت مفتی صاحب ؒ نے ”فتاویٰ دارالعلوم دیوبند“ میں کئی جگہ پر گستاخِ رسول

صفحہ 153

توہین رسالت کا شرعی حکم

اور توہین رسالت پر مدلل کلام فرمایا ہے، یہاں پر ہم اختصار کے پیش نظر حضرت مفتی صاحبؒ کے صرف دو اقوال کو ذکر کرتے ہیں:

کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ تو مفتی صاحبؒ نے جواب میں فرمایا کہ ایسا شخص کافر ہے۔ چنانچہ مستفتی کا سوال اور مفتی صاحبؒ کا جواب دونوں ملاحظہ فرمائیں:

سوال...... (٤٩) ماقولكم من سب وشتم الانبياء عليهم السلام كلهم عامدا صريحا وسب كتابا فيه ذكرهم سبا قبيحا لفي جماعة من المسلمين، وأى الأحكام جارية عليه مع كونه مسلما؟ الجواب:...... لاريب فى كفر من تفوه بهذا الكلام۔

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مکمل و مدلل، ج: ۱۲، ص: ۲۱۶۔

سوال:...... (۴۲) ایک شخص نے اپنی اہلیہ کو مارا عورت نے شوہر سے کہا کہ خدا اور رسول کے واسطہ مجھ کو نہ مار، اس پر اس کے خاوند نے خدا اور رسول کی شان میں سخت گالیاں دیں وہ کافر ہوا یا نہیں؟ اور اس کی عورت اس کے نکاح سے باہر ہوئی اور دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں، اور اولاد کی پرورش کا حق کس کو ہے؟ الجواب:...... وہ شخص کافر ہو گیا اور اس کی زوجہ اس کے نکاح سے خارج ہوگئی عدت گزار کر دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی، اور اولاد کی پرورش بھی وہی کرے گی۔

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مکمل و مدلل، ج: ۱۲، ص: ۲۱۴۔

حضرت مفتی صاحبؒ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”جناب رسالت پناہ روحی فداہ ﷺ کی یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی کرنے والا یا کسی گستاخی کرنے والے سے ناراض نہ ہونے والا کافر ہے۔ فقہاء کرام رحمہم اللہ متفق ہیں کہ نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے۔ وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا الكافر بسب نبي من الانبياء فإنه

صفحہ 154

توہین رسالت کا شرعی حکم

يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا ولو سب الله تعالى قبلت لأنه حق الله تعالى و الأول حق عبد لا يزول بالتوبة وكذا لو أبغضه بالقلب فتح واشباه ـ وفي فتاوى ” مصنف ويجب إلحاق الاستهزاء والاستخفاف به لتعلق حقه أيضا انتهى مختصرا۔

درمختار جلد ۳، ص: ۳۱۶۔

پس جو شخص ایسے آدمی کے فعل پر خواہ وہ عیسائی ہو یا کوئی اور ہو ناراضگی نہ کرے یا کم از کم دل سے برا سمجھ کر اس جگہ سے اٹھ نہ جائے بیشک وہ بھی کافر ہے۔

کفایت المفتی، ج:۱، ص:۷۱۔

سورۃ الحجرات، آیت:۲ کی تفسیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ فرماتے ہیں کہ: ”آپ ﷺ سے گفتگو کرتے وقت پوری احتیاط رکھنی چاہئے، مبادا بے ادبی ہو جائے اور آپ کو تکدر پیش آئے، تو حضور ﷺ کی ناخوشی کے بعد مسلمان کا ٹھکانہ کہاں ہے؟ ایسی صورت میں تمام اعمال ضائع اور ساری محنت اکارت جانے کا اندیشہ ہے۔“

تفسیر عثمانی، ج:۲، ص:۱۰۹۹۔

فائدہ:

علامہ عثمانی ؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شان میں بے ادبی کرنے کی وجہ سے اعمال ضائع ہو جانے کا خطرہ ہے، اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اعمال صرف کفر ہی کی وجہ سے ضائع ہوتے ہیں، چنانچہ قاضی عیاض مالکی ؒ ”الشفاء“ میں اور امام ابن تیمیہ ؒ ”الصارم المسلول“ میں تحریر فرماتے ہیں:

”ولا يحبط العمل إلا الكفر والكفر يقتل“

الشفاء۲/ ۱۳۶ ۔ الصارم /۴۸۔

ترجمہ: اعمال کو صرف کفر ہی ضائع کرتا ہے اور کافر کو قتل کیا جاتا ہے۔

پس اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ توہین رسالت کی وجہ سے مسلمان کافر اور قتل کا مستحق ہو جائیگا۔

توہین رسالت کا شرعی حکم

حضرت مفتی صاح سورۃ احزاب آیت نمبر ستاون کی تف ”جو شخص رسول اللہ ﷺ ک عیب نکالے خواہ صراحۃً ہو ی

حضرت شیخ التفسیر صاح ”نبی کی اشارۃً اور کنایۃً تحقیر بھ تھے، ﴿راعنا﴾ کہہ کر اشارۃً اور ک فرمایا۔“

”اس میں تو کوئی شبہ نہیں آخرت اور دنیا کو تباہ کر دیتا

شیخ القرآن حضرت تفسیر میں مفسرین عظام کے اقو ”مقصد یہ ہے کہ آنحضرت اذیت کا اندیشہ ہے اور آ

”آنحضرت ﷺ کے بار کہ اگر کسی نے آنحضرت بھی کافر ہو جائیگا۔“

صفحہ 155

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

حضرت مفتی صاحب ؒ اپنی مشہور زمانہ تصنیف ”تفسیر معارف القرآن“ میں سورۂ احزاب آیت نمبر ستاون کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جو شخص رسول اللہ ﷺ کو کسی طرح ایذا پہنچائے ، آپ کی ذات یا صفات میں کوئی عیب نکالے خواہ صراحۃً ہو یا کنایۃً وہ کافر ہو گیا“۔

معارف القرآن، ج:۷، ص:۲۲۹۔

حضرت شیخ التفسیر صاحب ؒ سورۂ بقرہ آیت نمبر ۱۰۴ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: ”نبی کی اشارۃً اور کنایۃً تحقیر بھی کفر ہے، اس لئے کہ یہود صراحۃً آپ کی تحقیر نہیں کرتے تھے، ﴿راعنا﴾ کہہ کر اشارۃً اور کنایۃً آپ ﷺ کی تحقیر کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو کافر فرمایا۔“

تفسیر معارف القرآن، ج:۱، ص:۲۵۵۔

”اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والا بد بخت اپنی آخرت اور دنیا کو تباہ کر دیتا ہے اور ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔“

فتاویٰ مفتی محمود، ج:۱، ص:۲۸۷۔

شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب ؒ سورۃ الحجرات، آیت:۲ کی تفسیر میں مفسرین عظام کے اقوال نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ: ”مقصد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے سامنے رفع اصوات اور شور وغوغا سے آپ کی اذیت کا اندیشہ ہے اور آپ کو اذیت دینا کفر اور حبط اعمال کا موجب ہے۔“

تفسیر جواہر القرآن، ج:۳، ص:۱۱۶۲۔

”آنحضرت ﷺ کے بال مبارک کی توہین بھی کفر ہے فقہ کی کتابوں میں مسئلہ لکھا ہے کہ اگر کسی نے آنحضرت ﷺ کے موئے مبارک کے لئے تصغیر کا صیغہ استعمال کیا وہ بھی کافر ہو جائیگا۔“

آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج:۱، ص:۶۱۔

صفحہ 156

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

مذکورہ آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: ”حضورﷺ کی مجلس میں بیٹھ کر خواہ آپس میں بات چیت کرو یا خود نبیﷺ کی ذات بابرکات سے براہ راست مخاطب ہو، اپنی آواز کو ہمیشہ پست رکھو، اگر ایسا نہیں کرو گے تو ممکن ہے کہ اللہ کے نبی کے دل میں کدورت پیدا ہو جائے، جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائیں اور تمہارے نیک اعمال ہی ضائع ہو جائیں۔“

معالم العرفان فی دروس القرآن، ج:۱۷، ص:۱۷۷

پھر حضرت نے آگے اس موضوع پر تفصیلی کلام فرمایا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: ”مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن حکیم کے مطابق اعمال کا ضیاع کفر، شرک، نفاق یا ریا سے ہوتا ہے، اور محض آواز بلند کرنے سے ایسا نہیں ہوتا، تا وقتیکہ یہ فعل استخفاف، استہزاء یا ایذاء رسانی کے لئے ہو، خاص طور پر اگر اللہ کے نبی کی شان میں اس قسم کی بے ادبی یا گستاخی کی جائے تو کفر لازم آتا ہے، لہٰذا ایسے شخص کے اعمال ضائع ہو جانے کا خدشہ ہے۔“

معالم العرفان فی دروس القرآن، ج:۱۷، ص:۱۷۷۔

”لہٰذا اگر کوئی شخص حضور ﷺ کی شان میں صراحتاً یا اشارۃً قولاً یا فعلاً بدگوئی اور گستاخی کرے تو شرعاً گستاخی کرنے والا شخص قتل کا مستحق ہے۔“

توہین رسالت اور گستاخوں کا بدترین انجام، ص:۸۔

”ساب النبی اگر مسلم ہے تو وہ مرتد ہو جائے گا اور اس کو بالا جماع قتل کیا جائے گا من غیر استتابۃ اور اگر وہ ذمی ہے تو عندالجمہور ایسا کرنے سے اس کا عہد ٹوٹ جائے گا لہٰذا اس کو بھی قتل کیا جائے گا۔“

باخدا دیوانہ باش ...... با محمد ہوشیار

توہین رسالت کا شرعی حکم

باب ششم

سابقہ پانچ ابواب حضور ﷺ کے مبارک ارشادات کے اقوال اور علماء دیوبند ( حضور ﷺ کی یا باقی انبیاء کرام ایسا کرنے والا شخص شرعاً واجب کہ گستاخی کا مفہوم کیا ہے؟ ک اگر گستاخ رسول توبہ کرے تو میں ہم مختلف فصلیں قائم کر کے ان شاء اللہ

صفحہ 157

توہین رسالت کا شرعی حکم

باب ششم

چند اہم سوالات و جوابات

سابقہ پانچ ابواب میں ہم قرآن کریم کی آیات اور مفسرین کرام ؒ کے اقوال، حضور ﷺ کے مبارک ارشادات اور حضرات محدثین عظام ؒ کے فرامین، فقہاء امت ؒ کے اقوال اور علماء دیوبند (کثر اللہ سوادہم) کے فتاویٰ سے یہ ثابت کر کے چلے آ رہے ہیں کہ حضور ﷺ کی یا باقی انبیاء کرام کی شان اقدس میں گستاخی اور توہین و تنقیص موجب کفر ہے اور ایسا کرنے والا شخص شرعاً واجب القتل ہے، لیکن اب یہاں پر چند سوالات پیدا ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ گستاخی کا مفہوم کیا ہے؟ کس چیز کو گستاخی کے زمرے میں شمار کیا جائے گا اور کس چیز کو نہیں؟ اگر گستاخ رسول توبہ کرے تو آیا اس کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ اب اس باب پنجم میں ہم مختلف فصلیں قائم کر کے فرداً فرداً ان جیسے پیدا ہونے والے سوالات پر گفتگو کریں گے۔ ان شاء اللہ

صفحہ 158

توہین رسالت کا شرعی حکم

فصل اول

گستاخی کا مفہوم

یہاں پر سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کا مطلب کیا ہے؟ وہ کون سے ایسے اعمال وافعال ہیں جو گستاخی کے زمرے میں آ کر خرمن ایمان کو خاکستر کرنے والے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ادنیٰ سی بے ادبی، توہین وتنقیص، تحقیر واستخفاف خواہ بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ، بالفاظ صریح ہو یا بانداز اشارہ وکنایہ، ارادی ہو یا غیر ارادی، بنیت تحقیر ہو یا بغیر نیت تحقیر کے یہ تمام صورتیں گستاخی میں شامل ہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ کی ذات گرامی، آپ کی صفات وعادات، اخلاق واطوار، آپ کے اسماء گرامی اور ارشادات اور آپ سے متعلقہ کسی بھی چیز کی ادنیٰ اور معمولی سی تحقیر یا اس میں کوئی عیب نکالنا بھی گستاخی اور موجب کفر ہے۔

ہر وہ شخص جو حضور ﷺ کی ذات اقدس میں عیب اور نقص کا متلاشی ہو آپ کے اخلاق و کردار، عظمت وسیرت ، خصائل واوصاف حمیدہ، نسب پاک کی طہارت و پاکیزگی اور آپ کے لائے ہوئے دین اسلام کی عظمت وحرمت کی طرف کمی وخامی اور عیب منسوب کرتا ہو تو نہ صرف یہ کہ ضلالت و گمراہی ، تاریکی وظلمت کی وادی میں بھٹکنا اس کا مقدر بن جاتا ہے بلکہ اس کے منحوس وجود سے اس زمین کو پاک کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ فقہاء کرام ایسے بد بخت کے واجب القتل ہونے پر متفق ہیں۔

چنانچہ حضرت امام مالک ؒ فرماتے ہیں: "من سب رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم أو شتمه أو عابه أو تنقصه قتل مسلما كان أو كافرا ولا يستتاب ۔"

(الشفاء، ج:۲، ص:۱۳۴۔

صفحہ 159

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ترجمہ: جس شخص نے آپ ﷺ کو گالی دی یا آپ کی طرف عیب منسوب کیا یا آپ کی شان اقدس میں تحقیر و تنقیص کا ارتکاب کیا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کیا جائیگا اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

اسی طرح حضرت امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں کہ: ”كل من شتم النبى أو تنقصه مسلما كان أو كافرا فعليه القتل۔“

الصارم المسلول، ص: ۱۲۔

ترجمہ: ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کو سب وشتم کرے یا آپ کی تنقیص و تحقیر کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے۔

چنانچہ فقہاء کرام نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ ہر وہ قول وفعل جو آپ ﷺ کے حضور میں موہم تحقیر ہو یا جس سے آپ ﷺ کی گستاخی و بے ادبی کا پہلو نکلتا ہو وہ گستاخی کے ضمن میں شامل ہے۔ گویا گستاخی کے مفہوم میں انتہائی عموم ہے، اور اس سے صرف وہ خاص معنی مراد نہیں جسے ہمارے عرف میں گالی کہتے ہیں۔ ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مطلب ہی یہ ہے کہ خدا کے بعد کوئی ہے تو نبی پاک ﷺ کی ذات گرامی ہے تو پھر معاملہ انتہائی نزاکت کا ہے خوب سمجھ لینا چاہئے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ آیا شریعت مطہرہ نے توہین اور گستاخی کی کوئی تعریفی حد بندی کی ہے یا اسے عوامی رواجات پر چھوڑا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے اسے عوامی رواجات پر چھوڑا ہے کہ عرف اور رواج میں جن افعال اور اقوال کو توہین سمجھا جائے گا ان پر گستاخی کے احکامات کا نفاذ ہوگا، چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ ”الصارم المسلول“ میں فرماتے ہیں کہ: إذا لم يكن للسب حد معروف فى اللغة ولا فى الشرع فالمرجع فيه إلى عرف الناس فما كان فى العرف سباً فهو سب للنبى......فكل ما عده الناس شتماً أو سباً أو تنقصاً فإنه يجب به القتل۔

الصارم المسلول، ص: ۳۹۶۔

ترجمہ: سب (برا بھلا کہنا) کی لغت کی زبان میں اور شریعت کی اصطلاح میں کوئی

صفحہ 160

توہین رسالت کا شرعی حکم

تعریف کی گئی ہے۔ بلکہ اس میں اصل مدار لوگوں کا عرف ہے عرف اور رواج میں جسے گالی کہا جائے وہ اللہ کے رسول کے لئے بھی گالی سمجھی جائے گی...... لہذا لوگ جسے گالی، نازیبا جملہ یا توہین تصور کریں، وہ لفظ اگر کسی سے اللہ کے رسول کی شان میں سرزد ہو گا تو شاتم رسول ہونے کے سبب اس کی سزا قتل ہوگی۔

البتہ یہاں پر ہم چند فقہاء کرام کے ارشادات نقل کرتے ہیں جس سے قارئین بآسانی یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا مفہوم کس قدر وسیع ہے لہذا ہر دم یہ خیال ملحوظ خاطر رہنا چاہئے کہ مبادا کوئی قول و فعل ایسا سرزد نہ ہو جائے جو توہین کے زمرے میں آتا ہو اور ایمان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس گئے گزرے زمانے میں مسلمان کے پاس اگر کوئی چیز ہے تو وہ صرف ایمان ہے پھر اگر اس کو بھی نبی پاک ﷺ کی شان میں کوئی ہلکی سی بے ادبی کر کے گنوا بیٹھے تو پھر دونوں جہانوں کا خسارہ مقدر بن جائے گا۔

میں فرماتے ہیں کہ:

”أن جميع من سب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم أو عابه أو ألحق به نقصا فى نفسه أو نسبه أو دينه أو خصلة من خصاله، أو عرض به أو شبهه بشىء على طريق السب له أو الإزراء عليه أو التصغير لشأنه أو الغض منه والعيب له فهو ساب له۔“

الشفاء، ج:۲، ص:۱۳۳۔

ترجمہ: جو شخص آپ ﷺ کو گالی دے (العیاذ باللہ) یا آپ ﷺ پر عیب لگائے یا آپ ﷺ کی ذات گرامی یا آپ کے نسب یا آپ کے دین یا آپ کی عادات میں سے کسی عادت کی طرف نقص اور کمی کی نسبت کرے یا آپ ﷺ پر تعریض کرے یا بطریق گستاخی آپ ﷺ کو کسی چیز سے تشبیہ دے یا آپ کو ناقص کہے یا آپ کی شان کو کم کرے یا آپ ﷺ پر یا آپ کی کسی بات پر عیب لگائے تو وہ آپ ﷺ کا گستاخ کہلائے گا۔

اسی طرح مزید گفتگو کرتے ہوئے قاضی عیاض مالکی ؒ فرماتے ہیں کہ:

توہین رسالت کا شرعی حکم

”وكذلك من لعنه ما لا يليق بمنصبه من الكلام وهجر البلاء والمحنة المعهودة لديه۔“

ترجمہ: اسی طرح جو شخص میں بددعا کرے یا آپ کسی ایسی شے کی نسبت برائی کرنا ہو یا آپ ﷺ یا آپ ﷺ پر جو مصائب دلائے یا بشریت کی وجہ ہوئے ان کی بناء پر آپ

ایک اور مقام پر

”وكذلك أقول النسيان أو السهو أو أذى من عدوه لمن قصد به نقصه

ترجمہ: اسی طرح میں کو بکریوں کا چرانے والا لشکروں کی شکست یا ازواج مطہرات کے کو عار دلائے تو ان سب آپ ﷺ کی ذات

صفحہ 161

AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

"وكذلك من لعنه أو دعا عليه أو تمنى مضرة له، أو نسب إليه ما لا يليق بمنصبه على طريق الذم أو عبس فى جهته العزيزة بسخف من الكلام وهجر ومنكر من القول وزور أو عيره بشىء مما جرى من البلاء والمحنة أو غمصه ببعض العوارض البشرية الجائزة المعهودة لديه۔“

الشفاء،ج:۲،ص:۱۳۳۔

ترجمہ: اسی طرح جو شخص آپ ﷺ پر لعنت کرے (العیاذ باللہ) یا آپ کے حق میں بددعا کرے یا آپ کے لئے کسی ضرر اور تکلیف کی آرزو کرے یا آپ کی طرف کسی ایسی شے کی نسبت کرے جو آپ کی شان کے لائق نہ ہو اور اس کا مقصد آپ کی برائی کرنا ہو یا آپ ﷺ کی شان میں بیہودہ کلام کرے آپ کو برا کہے، یا جھوٹ بکے یا آپ ﷺ پر جو مصائب اور سختیاں آئیں ہیں ان کی وجہ سے آپ ﷺ کو عار دلائے یا بشریت کی وجہ سے عادۃً جو عوارض (بیماری بھوک وغیرہ) آپ ﷺ کو لاحق ہوئے ان کی بناء پر آپ کی قدر کو کم کرے یہ سب صورتیں گستاخی میں شامل ہیں۔

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ:

"وكذلك أقول حكم من غمصه أو عيره برعاية الغنم أو السهو أو النسيان أو السحر، أو ما أصابه من جرح أو هزيمة لبعض جيوشه أو أذى من عدوه أو شدة فى زمنه بالميل إلى نسائه فحكم هذا كله لمن قصد به نقصه القتل۔“

الشفاء،ج:۲،ص:۱۳۶۔

ترجمہ: اسی طرح میں کہتا ہوں کہ جو شخص آپ ﷺ کو حقیر جانے یا آپ ﷺ کو بکریوں کا چرانے والا ، سہو و نسیان اور جادو کے حملے یا آپ کو زخم لگنے یا آپ کے لشکروں کی شکست یا دشمنوں کی ایذا رسانی یا آپ پر مصائب و شدائد کے نزول یا ازواج مطہرات کے ساتھ آپ ﷺ کے حسن سلوک کے حوالوں سے آپ ﷺ کو عار دلائے تو ان سب باتوں کا حکم یہ ہے کہ جو شخص ان سب باتوں میں کسی سے بھی آپ ﷺ کی ذات میں نقص نکالنے کا ارادہ کرے وہ قتل کیا جائیگا۔

صفحہ 162

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 162

"من قال إن رداء النبى صلى الله تعالیٰ عليه وسلم ويروى زر النبى وسخ أرادبه عيبه قتل۔"

الشفاء ، ج:۲، ص:١٣٤۔

ترجمہ: جو شخص یہ کہے کہ نبی کریم ﷺ کی چادر یا آپ ﷺ کی قمیص کا بٹن گندا اور میلا ہے اور اس سے اس کا ارادہ آپ ﷺ کی تحقیر کا ہو تو اسے قتل کیا جائے گا

"من قال إن النبى صلى الله تعالیٰ عليه وسلم كان أسود يقتل۔"

الشفاء ، ج:۲، ص:١٣٥۔

ترجمہ: جو شخص یہ کہے کہ نبی کریم ﷺ کا رنگ سیاہ تھا اسے قتل کیا جائے گا۔

قاضی عیاض رحمہ اللہ نے ”الشفاء“ میں فقہاء اندلس کا ایک متفقہ فیصلہ ذکر کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ:

"وأفتى فقهاء الأندلس بقتل بن حاتم المتفقة الطليطلى وصلبه بما شهد عليه به من استخفافه بحق النبى صلى الله تعالیٰ عليه وسلم و تسميته إياه اثناء مناظرته باليتيم وختن حيدرة وزعمه أن زهده لم يكن قصدا ولو قدر على الطيبات أكلها۔"

الشفاء ، ص:۲، ص:١٣٥۔

ترجمہ: فقہاء اندلس نے بالاتفاق ابن حاتم طلیطلی کے قتل اور سولی دینے کا فتویٰ دیا تھا کیونکہ اس کے خلاف یہ گواہی دی گئی تھی کہ اس نے آپ ﷺ کا استخفاف کیا ہے اور مناظرہ کے دوران آپ ﷺ کو یتیم اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا سسر کہا ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ آپ ﷺ کا زہد اختیاری نہیں تھا (بلکہ آپ اس پر مجبور تھے، کیونکہ آپ کو العیاذ باللہ نعمتیں میسر نہ تھیں) بلکہ اگر آپ کو دنیوی نعمتیں میسر ہوتیں تو آپ انھیں استعمال کرتے۔

اور چونکہ ابن حاتم کا یہ بکواس سراسر آپ ﷺ کی گستاخی تھی اس وجہ سے فقہاء اندلس نے اس کے قتل کا فتویٰ دیا۔

صفحہ 163

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

”قال بعض العلماء لو قال لشعر النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شعیر فقد کفر۔“

فتاویٰ قاضی خان، ج:٤،ص:٨٨٢۔

ترجمہ: اگر کسی شخص نے حضور ﷺ کے بال مبارک کو شعر کہنے کے بجائے شعیر (صیغہ تصغیر کے ساتھ) کہا تو کافر ہو جائے گا۔

کھانا کھا لیتے تو اس کے بعد آپ اپنی انگلیاں صاف کر لیتے سننے والے نے بطور اہانت کے کہا کہ یہ ادب کے منافی ہے تو یہ کہنے والا کافر ہو جائیگا۔

فتاویٰ بزازیہ، ج:٦،ص:٣٢٨۔

نے بطور اہانت وگستاخی کے کہا کہ ٹھیک ہے سنت ہے مگر میں ناخن نہیں ترشواتا تو یہ شخص کافر ہو جائیگا۔

خلاصۃ الفتاویٰ، ج:٤،ص:٣٨٦۔

اور استخفاف کے انداز میں کہے کہ اس طرح کی احادیث میں نے بہت سنی ہوئی ہیں تو یہ کہنے والے کافر ہو جائے گا۔

فتاویٰ بزازیہ، ج:٤،ص:٨٦۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہر وہ قول وفعل جو صراحۃً تو درکنار صرف اس سے یہ شائبہ تک بھی نکلتا ہو یہ حضور ﷺ کی شان اقدس کے خلاف ہے یا اس سے بے ادبی اور استخفاف کا پہلو نکلتا ہے تو وہ گستاخی کے زمرے میں شامل ہوگا اسی طرح ہر وہ چیز جس کا حضور ﷺ کے ساتھ ربط و تعلق ہے اس کے متعلق ادنیٰ سی بے ادبی بھی گستاخی ہونے کی وجہ سے خرمن ایمان کو خاکستر کرسکتی ہے، اس لئے کمال ادب اور محتاط پہلو یہی ہے کہ ہر لمحہ اور ہر لحظہ ایسے قول وفعل سے بچا جائے جو بارگاہ نبوت کے ادب اور تقدس کے خلاف ہو اس لئے کہ؎

ادب گاہیست زیر آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
صفحہ 164

توہین رسالت کا شرعی حکم

فصل دوم

نیت کا مسئلہ

دوسرا اہم سوال جو اس ضمن میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر بالفرض کسی شخص سے ایسے کلمات صادر ہو جائیں یا وہ کوئی ایسا عمل کر بیٹھے جو حضور سرور کائنات ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے زمرے میں آتا ہو، لیکن اس کی نیت اپنے اس قول یا فعل سے آپ کی شان میں گستاخی کی نہیں تھی بلکہ بغیر نیت کے غیر ارادی طور پر اس سے ایسا سرزد ہوا ہے، تو آیا اس پر گستاخ کے احکام جاری ہوں گے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دنیا کے احکام کے اعتبار سے اس پر گستاخ کے احکام جاری ہوں گے یعنی وہ واجب القتل اور سزائے موت کا مستحق ٹھہرے گا کیونکہ نیت اور ارادہ نہ ہونے کی رعایت اگر مل جائے تو پھر ہر گستاخ یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جائے گا کہ میرا ارادہ گستاخی اور اہانت کا نہیں تھا، اور نہ ہی میری ایسی نیت تھی، لہٰذا توہین رسالت کے انسداد کے لئے اور اسے کلیۃً ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس جرم عظیم کے ارتکاب میں کسی گستاخ کی نیت اور قصد و ارادے کا بالکل اعتبار نہ کیا جائے اور یہی جمہور فقہاء کرام کا مذہب ہے ذیل میں ہم چند فقہاء کرام کے حوالے نقل کرتے ہیں، جن سے صاف ظاہر ہوگا کہ گستاخی رسول میں نیت کا کوئی اعتبار نہیں کسی کی نیت گستاخی کی ہو یا نہ ہو، لیکن اس سے اگر ایسے اعمال وافعال صادر ہوں جو گستاخی کے ضمن میں آسکتے ہیں تو وہ سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔

”واعلم أنه قد اجتمعت الأمة على أن الاستخفاف بنبينا أو بأى نبي كان من الأنبياء كفر سواء فعله فاعل ذلك استحلالاً أم فعله معتقداً بحرمته ليس بين العلماء خلاف فى ذلك والقصد للسب

صفحہ 165

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

وعدم القصد سواء إذ لا يعذر أحد فى الكفر بالجهالة، ولا بدعوى زلل اللسان، إذا كان عقله فى فطرته سليما۔“

(تفسیر روح البیان، ج:۳، ص:۳۹۴۔)

ترجمہ: جان لیجئے! کہ امت کا اجماع ہے کہ جو شخص ہمارے نبی ﷺ یا اور انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی بھی نبی کا استخفاف کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے، خواہ اسے حلال سمجھ کر کرے یا حرام سمجھ کر کرے، اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں خواہ وہ سب (گالی) کا قصد کرے یا نہ کرے کوئی فرق نہیں، کیونکہ جہالت کی وجہ سے کفر کرنا کوئی عذر نہیں ہے، اور نہ ہی زبان کا پھسل جانا کوئی عذر ہے، جبکہ اس کی عقل صحیح ہو۔

”المدار فى الحكم بالكفر على الظواهر ولا نظر للمقصود والنيات ولا نظر لقرائن حاله۔“

نسیم الریاض شرح الشفاء، ج:٤، ص:٤٢٦۔

ترجمہ: توہین رسالت کی وجہ سے کفر کا حکم لگانے کا مدار ظاہری الفاظ پر ہے توہین کرنے والے کی نیت اور ارادے کو نہیں دیکھا جائے گا اور نہ ہی قرائن حال کو دیکھا جائیگا۔

فائدہ:

مذکورہ بالا دونوں حوالوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ توہین کرنے والے کو بہرحال میں سزا دی جائیگی، اور اس کی نیت کا کوئی اعتبار نہیں ہے کیونکہ ہر گستاخ یہ کہہ کر بری ہو جائیگا کہ میری نیت اور ارادہ توہین کا نہیں تھا لہٰذا ضروری ہے کہ توہین رسالت میں کسی گستاخ رسول کی نیت اور قصد کا اعتبار نہ کیا جائے۔

”فإذا كان الأذى والاستخفاف الذى يحصل فى سوء الأدب من غير قصد صاحبه يكون كفرا، فالأذى والاستخفاف المقصود المتعمد كفر بطريق أولى۔“

الصارم المسلول، ص:٤٨۔

ترجمہ: جب ایسی تکلیف اور استخفاف جو بغیر نیت اور ارادے کے ہونے کے باوجود سوء

صفحہ 166

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 166

ادب میں داخل اور کفر ہے تو پھر جو استخفاف اور ایذاء قصد اور ارادہ ونیت سے ہو تو وہ بطریق اولیٰ کفر ہوگا۔

فائدہ:

امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شان میں استخفاف کرنا یا آپ ﷺ کو اذیت دینا اگر بغیر ارادہ کے ہونے کے باوجود کفر ہے تو پھر جو شخص اپنے ارادہ اور قصد سے شانِ اقدس میں گستاخی کرے گا تو وہ بطریق اولیٰ کافر ہوگا گویا امام موصوف اس بات کے قائل ہیں کہ بغیر نیت اور ارادے کے بھی اگر کوئی آپ ﷺ کی گستاخی کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ اور یہی ہمارا مدعی ہے۔

"وقد دلت هذه الآية على أن كل من تنقص رسول الله صلى الله تعالیٰ عليه وسلم جاداً أو هازلاً فقد کفر۔"

الصارم المسلول، ص: ۳۲۔

ترجمہ: اور آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے بھی حضور ﷺ کی تنقیص اور اہانت کی خواہ قصدًا اور نیت کر کے کی یا ہنسی مذاق میں (بغیر نیت گستاخی کے) بہر صورت وہ کافر ہو جاتا ہے۔

ہوئے فرماتے ہیں کہ: "فقد اتفقت نصوص العلماء من جميع الطوائف على أن التنقص له كفر مبيح للدم وهم في استتابته على ما تقدم من الخلاف ولا فرق في ذلك أن يقصد عيبه والإزراء به أو لا يقصد عيبه لكن المقصود شيء آخر حصل السب تبعا له أو لا يقصد شيئا من ذلك بل يهزل ويمزح أو يفعل غير ذلك۔" الصارم المسلول، ص: ۳۸۶۔

ترجمہ: تمام مکاتب فکر کے علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ ﷺ کی تنقیص کرنے

توہین رسالت کا شرعی حکم

والا کافر اور مباح الدم میں فقہاء کا وہی اختلا اس نے آپ ﷺ نہیں تھا بلکہ مقصود کوئی کوئی ارادہ ہی نہیں تھا وہ سزائے موت کا مست

"فاطلع الله نبيه وجه قالوه من ج إظهار كلمة الكفر

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے ا کفر ہے (مراد بالقا طور پر (یعنی نیت اور کہے، لہذا یہ آیت اس نیت اور قصد سے کلم دونوں کا حکم برابر ہے

"الشہاب الثاقب" میں ق "جو الفاظ موہم تحق ہو، مگر ان سے بھی ک

میں فرماتے ہیں کہ: "ہنسی دل لگی اور م اعتبار ہے نہ عقیدہ

صفحہ 167

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAA 167

والا کافر اور مباح الدم ہے البتہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا یا نہیں؟ تو اس میں فقہاء کا وہی اختلاف ہے جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ اس نے آپ ﷺ کی عیب جوئی اور گستاخی کی نیت کی تھی یا نیت اور ارادہ گستاخی کا نہیں تھا بلکہ مقصود کوئی اور چیز تھی اور گستاخی اس کے ضمن میں پائی گئی، یا یہ کہ سرے سے کوئی ارادہ ہی نہیں تھا، بلکہ ہنسی مذاق کر رہا تھا بہر حال تینوں صورتوں کا حکم ایک ہے کہ وہ سزائے موت کا مستحق ہو جائے گا۔

6 ....... مشہور فقیہ ابو بکر جصاص رحمہ اللہ ”أحکام القرآن“ میں فرماتے ہیں کہ: ”فأطلع الله نبيه على ذلك فأخبر أن هذا القول كفر منهم على أى وجه قالوه من جد وهزل فدل على استواء حكم الجاد والهازل فى إظهار كلمة الكفر“

أحکام القرآن، ج:۳، ص:۲۰۷۔

ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس بات پر مطلع فرما دیا کہ ان منافقوں کا یہ کہنا کفر ہے (مراد إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ، سورۃ التوبۃ آیت : ۶۵ ہے) خواہ وہ شعوری طور پر (یعنی نیت اور ارادے سے) کہے یا ہنسی مذاق میں (بغیر گستاخی کی نیت کے) کہے، لہٰذا یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ کلمہ کفر کے اظہار میں شعور والے (یعنی جو نیت اور قصد سے کلمہ کفر کہے) اور ہنسی مذاق والے (جو بغیر نیت وارادہ کے کہے) دونوں کا حکم برابر ہے۔

7 ....... شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحب رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تصنیف ”الشہاب الثاقب“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جو الفاظ موہم تحقیر حضور سرور کائنات ہوں اگر چہ کہنے والے نے نیت حقارت نہ کی ہو، مگر ان سے بھی کہنے والا کافر ہو جاتا ہے۔“

الشہاب الثاقب،ص:۲۰۰۔

8 ....... امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تصنیف ”إكفار الملحدين“ میں فرماتے ہیں کہ: ”ہنسی دل لگی اور کھیل وتفریح کے طور پر کلمہ کفر کہنے والا قطعاً کافر ہے، نہ اس کی نیت کا اعتبار ہے نہ عقیدہ کا۔“

صفحہ 168

توہین رسالت کا شرعی حکم

ردالمختار، جلد سوم ،ص:۳۹۳ پر علامہ شامی ؒ بحوالہ بحر فرماتے ہیں کہ: حاصل یہ ہے کہ جو شخص زبان سے کوئی کلمہ کفر کہتا ہے خواہ ہنسی مذاق کے طور پر یا کھیل تفریح کے طور پر یہ شخص سب کے نزدیک کافر ہے۔ اس میں اس کی نیت یا عقیدہ کا کوئی اعتبار نہیں (اس لئے کہ یہ دین کے ساتھ استہزا ہے جو بعینہ موجب کفر ہے۔) جیسا کہ فتاویٰ خانیہ میں اس کی تصریح ہے۔“

اکفار الملحدین، ص: ١٤٤۔

کہ:

”اگرچہ صحابہ کرام سے یہ وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ وہ بالقصد کوئی ایسا کام کریں جو آپ ﷺ کی ایذا کا سبب بنے، لیکن بعض اعمال وافعال جیسے تقدم اور رفع صوت اگر چہ بقصد ایذا نہ ہو، پھر بھی ان سے ایذا کا احتمال ہے اس وجہ سے ان کو مطلقاً ممنوع اور معصیت قرار دیا ہے۔“

تفسیر معارف القرآن، ج:۸،ص:۱۰۲۔

فائدہ:

حضرت مفتی صاحب ؒ کے کلام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر وہ عمل جس سے ایذا کا احتمال ہو، اس میں قصد اور عدم قصد دونوں برابر ہے، اور ہر حالت میں ایسا عمل ممنوع اور معصیت ہے۔ یعنی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری نیت حضور ﷺ کو ایذا دینے کی نہیں تھی، کیونکہ دربار رسالت میں جرم گستاخی کا ارتکاب ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں نیت اور عدم نیت دونوں برابر ہے۔

فرماتے ہیں کہ:

”مفسرین، محدثین اور فقہاء فرماتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کے کسی حکم یا اس کے رسول کے ساتھ تمسخر کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ خواہ اس نے ایسی بات سنجیدگی سے کی ہو یا محض دل لگی سے“۔

معالم العرفان، ج:۹،ص:۴۳۱۔

صفحہ 169

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 169

فائدہ:

حضرت صوفی صاحب ؒ اور اس سے پہلے بھی بعض حوالجات میں یہ عبارت آئی ہے کہ ”گستاخی کرنے والا یہ عمل سنجیدگی سے کرے یا محض دل لگی اور ہنسی مذاق میں دونوں کا حکم برابر ہے“ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گستاخی کی نیت اور ارادے سے وہ عمل کرے یا گستاخی کے ارادے اور قصد کے بغیر دونوں صورتوں میں کافر اور واجب القتل ہو جائیگا، کیونکہ بغیر ارادہ اور قصد کے سنجیدگی نہیں ہوتی، سنجیدہ ہو کر کوئی کام اسی وقت ہوتا ہے کہ آدمی دل سے اس کام کے کرنے کی نیت اور قصد کرے۔ لہٰذا مذکورہ بالا حوالوں سے یہ بات صاف ظاہر ہو جاتی ہے کہ توہین رسالت کا جرم ایسا ہے کہ اس میں نیت اور عدم نیت دونوں برابر ہیں خواہ نیت کر کے قصد اور ارادے سے گستاخی کرے یا بغیر نیت گستاخی کے اس سے یہ فعل سرزد ہو جائے دونوں کا حکم ایک ہے۔

صفحہ 170

توہین رسالت کا شرعی حکم

فصل ثالث

گستاخ رسول کی سزائے موت بطور حد ہے

گستاخ رسول سے متعلقہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کو جو سزائے موت دی جاتی ہے اس کی نوعیت کیا ہے؟ آیا یہ سزائے موت کفر کی وجہ سے ہے؟ سیاسۃ ہے؟ یا بطور حد کے ہے؟

جمہور فقہاء کرام کا مذہب یہ ہے کہ گستاخ رسول کی سزائے موت بطور حد ہے اور حدود کے بارے میں قاعدہ یہ ہے کہ حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوا کرتیں، لہٰذا گستاخ رسول اگر توبہ کر بھی لے تو اس توبہ کی وجہ سے اس کی سزائے موت ختم نہیں ہو سکتی، بلکہ دنیوی احکام میں اسے بہرحال قتل کیا جائیگا، ہاں اگر اس نے سچے دل سے خلوص نیت کے ساتھ توبہ کی ہو تو آخرت کے عذاب سے بچ جائیگا۔

یہاں پر ہم چند فقہاء کرام کے حوالے ذکر کرتے ہیں جنہوں نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ گستاخ رسول کی سزائے موت بطور حد ہے۔ لہٰذا اس پر حدود سے متعلقہ مسائل کا اجراء ہوگا۔

علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ ”فتح القدیر“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

"كل من أبغض رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق أولى ثم يقتل حداً عندنا فلا تقبل توبته في إسقاط القتل قالوا هذا مذهب أهل الكوفة ومالك نقل عن أبى بكر الصديق رضى الله تعالى عنه ۔"

فتح القدير، كتاب السير، باب أحكام المرتدين، ج: ۶، ص: ۲۹۰۔

ترجمہ: ہر وہ شخص جو دل سے آپ ﷺ کے ساتھ بغض رکھے تو وہ مرتد ہے، تو گستاخی

توہین رسالت کا شرعی حکم

کرنے والا تو بطریق حدّاً قتل کیا جائے نہیں ہو سکتی، فقہاء ہے۔ اور حضرت ابو

علامہ شوکانی رحمہ اللہ ہوئے فرماتے ہیں کہ:

”ونقل أبوبكر من سب النبى باتفاق العلم القتل،وحد القذف

نیل الأوطار، کتاب

ترجمہ: امام ابوبکر فار میں نقل کیا ہے کہ جو اگر وہ توبہ بھی کر لے سکتی، کیونکہ یہ ایک نہیں ہوتی۔

علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ

”ثم يقتل حداً أهل الكوفة وم

ترجمہ: پھر ہمارے کی وجہ سے اس کی

صفحہ 171

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 171

کرنے والا تو بطریق اولیٰ مرتد ہوگا، پھر ہمارے احناف کے ہاں اس گستاخ رسول کو حداً قتل کیا جائے گا لہٰذا توبہ کرنے کی وجہ سے اس کی یہ سزائے موت ساقط نہیں ہو سکتی، فقہاء نے لکھا ہے کہ یہی اہل کوفہ اور حضرت امام مالک ؒ کا مذہب ہے۔ اور حضرت صدیق اکبر ؓ سے بھی یہی مذہب منقول ہے۔

علامہ شوکانی ؒ ”نیل الأوطار“ میں امام ابوبکر فارسی ؒ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

”ونقل أبوبکر الفارسی أحد أئمة الشافعیة فی ”کتاب الإجماع“ أن من سب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بماھو قذف صریح کفر باتفاق العلماء، فلوتاب لم یسقط عنہ القتل،لأنہ حد قذفہ القتل، وحد القذف لایسقط بالتوبة۔“

نیل الأوطار،کتاب حد شارب الخمر،باب من صرح بسب النبی ﷺ،ج:۷،ص:٢١٤

ترجمہ: امام ابوبکر فارسی ؒ جو ائمہ شافعیہ میں سے ہیں انھوں نے ”کتاب الاجماع“ میں نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی توہین کرے وہ تمام ائمہ کے ہاں کافر ہے، اگر وہ توبہ بھی کرلے تب بھی اس کی یہ توبہ اس سے سزائے موت کو ساقط نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ ایک ایسی حدقذف ہے جس کی سزا قتل ہے، اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔

علامہ ابن نجیم ؒ اپنی کتاب ”البحر الرائق“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”ثم یقتل حداًعندنا فلاتقبل توبتہ فی إسقاط القتل قالوا ھذا مذھب أھل الکوفة ومالک رحمة اللہ علیہ۔“

البحر الرائق،کتاب السیر،باب أحکام المرتدین،ج:١٣،ص:٤٩٦۔

ترجمہ: پھر ہمارے احناف کے ہاں گستاخ رسول کو حداً قتل کیا جائے گا لہٰذا توبہ کرنے کی وجہ سے اس کی سزائے موت ساقط نہیں ہو سکتی، فقہاء نے کہا ہے کہ یہی اہل کوفہ

صفحہ 172

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 172

اور حضرت امام مالک ؒ کا مذہب ہے۔

علامہ حصکفی ؒ اپنی مشہور زمانہ کتاب ”الدر المختار“ میں فرماتے ہیں کہ: "ومن نقص مقام الرسالة بقوله بأن سبه صلى الله تعالیٰ عليه وسلم أو بفعله بأن بغضه بقلبه قتل حدا، كما مر التصريح به۔"

الدر المختار، کتاب الجهاد، ج:۳، ص:۳۱۸-

ترجمہ: جو شخص اپنے کسی قول سے مقام رسالت کی تنقیص کرے ، بایں طور کہ آپ ﷺ کی گستاخی کرے، یا اپنے کسی فعل سے جیسے دل سے آپ ﷺ سے بغض رکھے تو اسے حداً قتل کیا جائے ، جیسے کہ اس کی صراحت گزر چکی ہے۔

ایک جگہ پر علامہ شامی ؒ گستاخ رسول پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: "فإنه يقتل حدا ، يعنى أن جزآءه القتل على وجه كونه حدا، ولذا عطف عليه قوله ولا تقبل توبته لأن الحد لا يسقط بالتوبة ۔"

رد المحتار، کتاب الجهاد، باب المرتد، ج:۳، ص:۳۱۷-

ترجمہ: پس اس گستاخ کو حداً قتل کیا جائیگا ، یعنی اس کی یہ سزائے موت بطور حد کے ہے ، اسی وجہ سے اس پر مصنف کے اس قول کا عطف کیا ہے کہ ولا تقبل توبتہ کہ اس کی توبہ مقبول نہیں ہے، کیونکہ حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتیں۔

"كل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا الكافر بسب نبي من الأنبياء، فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا۔"

درمختار، ج:۳، ص:۳۱۷-

ترجمہ: ہر مسلمان جو مرتد ہو جائے (العیاذ باللہ ) تو اس کی توبہ قبول ہوتی ہے سوائے اس کافر کے جو انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے کی وجہ سے کافر ہو جائے تو اسے حداً قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ کسی بھی صورت میں مقبول نہیں ہے۔

صفحہ 173

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

"إلا إذا سب الرسول صلى الله تعالى عليه وسلم أو واحدا من الأنبياء عليهم الصلوة والسلام فإنه يقتل حدا۔"

فتاویٰ خیریہ، ج:۱، ص:۱۰۲۔

ترجمہ: ہاں جب حضور ﷺ یا باقی انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے تو اسے حداً قتل کیا جائے گا۔

"وأما إذا سبه عليه الصلوة والسلام أو واحدا من الأنبياء مسلم ولو سكران فإنه يقتل حدا، ولا توبة له أصلا۔"

مجمع الأنہر، کتاب السیر، فصل فی بیان أحکام الجزیۃ، ج:٤، ص:٣٦٥۔

ترجمہ: اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ یا باقی انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے اگرچہ حالت نشہ میں کیوں نہ ہو تو اسے حداً قتل کیا جائیگا، اور کسی بھی صورت میں اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔

"قلنا إذا شتمه سكران لا يعفى ويقتل أيضا حدا، وهذا مذهب أبي بكر الصديق رضی الله تعالى عنه والإمام الأعظم والثوري وأهل الكوفة والمشهور من مذهب مالك وأصحابه ۔"

درر الحکام شرح غرر الأحکام، کتاب الجہاد، ماتسقط بہ الجزیۃ، ج:۳، ص:٤٠٨۔

ترجمہ: ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی نشے کی حالت میں بھی آپ ﷺ کی گستاخی کرے گا اسے معافی نہیں ملے گی بلکہ اسے بھی حداً قتل کیا جائیگا۔ (جس طرح کہ حالت نشہ میں نہ ہونے کی صورت میں گستاخی کرنے والے کو حداً قتل کیا جاتا ہے) اور یہی حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مذہب ہے، امام اعظم رحمہ اللہ، حضرت ثوری رحمہ اللہ اور اہل کوفہ سے بھی یہی مذہب منقول ہے۔ اور حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا مشہور مذہب بھی یہی ہے۔

صفحہ 174

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

10 ...... علامہ ابن عابدین شامی ؒ کا تیسرا قول : "فهو كافر يجب قتله باتفاق الأمة ولا تقبل توبته وإسلامه فى إسقاط القتل سواء تاب بعد القدرة عليه والشهادة على قوله أو جاء تائبا من قبل نفسه لأنه حد وجب ولا تسقطه التوبة كسائر الحدود ۔“ تنقيح الفتاوى الحامدية ، كتاب الشركة ، باب الردة والتعزير ۔ ج : ۲ ، ص : ۱۷۷ ۔

ترجمہ : توہین رسالت کا مرتکب کافر ہے اور بالاتفاق امت اس کو قتل کرنا واجب ہے اور اس سے سزائے موت کے ساقط کرنے کے لئے اس کی توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کا کوئی اعتبار نہیں، برابر ہے کہ گرفتاری کے بعد اور اس کے خلاف گواہیاں ہونے کے بعد توبہ کرے یا خود بخود تائب ہو کر آجائے کیونکہ اس کی یہ سزائے موت بطور حد کے ہے جو توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتی۔ جیسے کہ باقی حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتے۔

11 ...... علامہ ابن تیمیہ ؒ کا فرمان : "وقد استدل بقصة ابن خطل طائفة من الفقهاء على أن من سب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم من المسلمين يقتل وإن أسلم حدا۔“ الصارم المسلول، ص: ۱۰۷ ۔

ترجمہ : فقہاء کرام کی ایک جماعت نے ابن خطل کے قصے سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان توہین رسالت کرے تو اسے حداً قتل کیا جائیگا ، اگر چہ وہ بعد میں مسلمان کیوں نہ ہو جائے ۔

فائدہ:

مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ بات بالکل صاف ظاہر ہوتی ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کے لئے سزائے موت بطور حد کے ہے۔ لہٰذا اگر کوئی گستاخ توبہ کر بھی لے تب بھی اس کے توبہ کرنے کی وجہ سے اس کی سزائے موت ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ حدود توبہ سے معاف نہیں

صفحہ 175

توہین رسالت کا شرعی حکم

ہوتیں اور یہی محققین احناف کا مذہب ہے۔ چنانچہ اسی بات کو بیان کرتے ہوئے جامعہ دارالعلوم کراچی کے استاذ الحدیث و نائب مفتی استاذی المکرم حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ:

”یہ بات بھی خوب ثابت ہو گئی کہ ایسا بدگو مرتد اگر اپنی بدگوئی اور اپنے کفر سے صحیح توبہ کر لے تب بھی اکثر علماء، فقہاء اور محدثین کے نزدیک اس کا اسلام تو قبول ہو جائے گا مگر بدگوئی اور رسول اللہ ﷺ پر تہمت لگانے کی وجہ سے اس کی سزائے قتل ہرگز معاف نہ ہو گی۔ اسلام لانے کے باوجود بطور حد کے قتل کیا جائے گا (جیسا کہ عام انسانوں کو لگائی جانے والی تہمت پر حد قذف کہ وہ بھی توبہ سے معاف نہیں ہوتی۔) احناف کے اکثر جلیل القدر علماء کا یہی مذہب ہے۔

اسلام و مسلمان اور رشدی ملعون، ص: ۷۹۔

صفحہ 176

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

فصل رابع

کیا گستاخ رسول سے توبہ کا مطالبہ کیا جائیگا؟

اگر کوئی مسلمان (العیاذ باللہ) توہین رسالت کا ارتکاب کرے اور جناب نبی کریم ﷺ یا باقی انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی گستاخی یا تنقیص و تخفیف کرے تو باتفاق امت وہ کافر ہو جائیگا گویا وہ مرتد ہو کر دائرۂ اسلام سے خارج ہو گیا، لیکن عام مرتدین اور اس مرتد گستاخ کے حکم میں فرق ہے، اور وہ یہ ہے کہ عام مرتدین کے بارے میں حکم یہ ہے کہ انھیں تین دن کی مہلت دی جاتی ہے ان کے شکوک و شبہات زائل کئے جاتے ہیں، اور ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لہٰذا اگر وہ توبہ کر کے دوبارہ اسلام قبول کرتے ہیں تو ان کی سزائے موت ساقط ہو جاتی ہے، لیکن گستاخ رسول وہ بد بخت کافر ہے کہ اس سے نہ تو توبہ کا مطالبہ کیا جائیگا اور نہ ہی اسے مہلت دی جائے گی، بلکہ فوراً ہی قتل کیا جائیگا، اگر وہ خود بخود توبہ کرلے تو آیا اس کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟ اس بات پر ہم اگلی فصل میں ان شاء اللہ بحث کریں گے یہاں پر صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ گستاخ رسول سے توبہ کا مطالبہ نہیں ہوگا، یعنی اس سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ توبہ کرو، بلکہ اسے بغیر مطالبہ توبہ کے مہلت دیئے بغیر ہی قتل کیا جائیگا، اور اگر کوئی ذمی اس فعل قبیح کا ارتکاب کرے تو اس کا عہد ذمہ ٹوٹ جائے گا اور وہ بھی سزائے موت کا مستحق ہوگا اس بات کو ہم باب اول اور باب دوم میں مفسرین اور محدثین کے اقوال سے ثابت کر چکے ہیں کہ توہین رسالت کرنے کی وجہ سے عہد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے، اور یہی حکم حربی کافر کا بھی ہے، چنانچہ حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ نے اس بات کی صراحت فرمائی ہے۔ یہاں پر ہم بطور نمونہ ان فقہاء کے چند اقوال پیش کرتے ہیں جنہوں نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ توہین رسالت کے مجرم سے توبہ کا مطالبہ نہیں ہوگا۔

صفحہ 177

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

”من سب النبي صلى الله تعالى عليه وسلم أو غيره من النبيين من مسلم أو كافر قتل ولم يستتب ۔“

(السيف المسلول، ص: ۱۰۱ ۔

ترجمہ: جو شخص حضور ﷺ یا باقی انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرے چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر تو اسے قتل کیا جائیگا، اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں ہوگا۔

”وقال الليث فى المسلم يسب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم أنه لا يناظر ولا يستتاب ويقتل مكانه وكذلك اليهود والنصارى ۔“

(أحكام القرآن للجصاص،ج: ٤ ، ص: ٢٧٥ ۔

ترجمہ: امام لیث ؒ فرماتے ہیں کہ جو مسلمان حضور ﷺ کی گستاخی کرتا ہے تو اسے نہ مہلت دی جائے گی اور نہ ہی اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا بلکہ فوراً ہی قتل کیا جائے گا اور یہی حکم یہود و نصاریٰ کا بھی ہے کہ اگر وہ بھی توہین رسالت کرتے ہیں تو انھیں بھی بغیر مہلت کے اور بغیر مطالبہ توبہ کے قتل کیا جائیگا۔

”وأما من سب الله تعالى أو النبي صلى الله عليه وسلم أو أحداً من الملائكة أو الأنبياء فإن كان مسلماً قتل اتفاقاً و اختلف هل يستتاب أو لا؟ و المشهور عند المالكية عدم الاستتابة ۔“

(الفقه الإسلامي وأدلته ،شروط صحة الردة،الأول العقل ، ج: ٧ ، ص: ٥٥٧٧ ۔

ترجمہ: جو شخص اللہ تعالیٰ کی شان میں یا نبی کریم ﷺ کی شان میں یا کسی فرشتے یا انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو اگر وہ مسلمان ہو تو باتفاق اسے قتل کیا جائیگا، اور آیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائیگا یا نہیں؟ تو مالکیہ کے مشہور مذہب کے مطابق اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائیگا۔

”كل من شتم النبى صلى الله تعالى عليه وسلم أو تنقصه مسلماً كان

صفحہ 178

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

أو كافرا فعليه القتل وأرى أن يقتل ولا يستتاب۔“

الصارم المسلول ،ص: ٢٢٥۔

ترجمہ: ہروہ شخص جو حضور ﷺ کو گالی دے یا آپ ﷺ کی تنقیص کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر بہر حال اسے قتل کیا جائیگا ،اور میرا مذہب یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائیگا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائیگا۔

"من شتم النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم من المسلمين قتل أو صلب حيا ولم يستتب والإمام مخير في صلبه حيا أو قتله ـ“

السيف المسلول،ص:١٠٠۔

ترجمہ: مسلمانوں میں سے جو شخص بھی (العیاذ باللہ ) حضور ﷺ کی گستاخی کرے اسے قتل کیا جائیگا، یا زندہ جلادیا جائیگا، اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں ہو گا ، اور امام کو اختیار ہے کہ اگر چاہے تو اسے زندہ جلادے اور اگر چاہے تو اسے قتل کر دے۔

"يقتل على كل حال أسر ذلك أو أظهر ولا يستتاب لأن توبته لا تعرف“۔

الشفا، ج:٢،ص:١٣٤۔

ترجمہ:گستاخ رسول کو بہر حال میں قتل کیا جائیگا ،خواہ وہ گستاخی کو چھپائے یا ظاہر کرے، اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائیگا، کیونکہ اس کی توبہ کرنے کی کوئی مثال پائی نہیں جاتی۔

"من سب النبي صلى الله تعالىٰ عليه وسلم من مسلم أو كافر قتل ولم يستتب ـ“

السيف المسلول،ص:١٠١۔

ترجمہ: جو شخص حضور ﷺ کی گستاخی کرے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کیا جائیگا۔اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائیگا۔

صفحہ 179

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 179

"ومن سب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قتل ولم یستتب ومن سبہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من أھل الذمۃ قتل وإن أسلم۔"

الصارم المسلول ،ص:٢٢٧۔

ترجمہ: جو شخص حضور ﷺ کی گستاخی کرے اسے قتل کیا جائیگا، اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائیگا، اور جو ذمی حضور ﷺ کی گستاخی کرے اسے قتل کیا جائیگا اگرچہ وہ مسلمان بھی ہو جائے۔

’’سابّ النبی اگر مسلم ہے تو وہ مرتد ہو جائے گا اور اس کو بالا جماع قتل کیا جائے گا من غیر استتابۃ‘‘

الدر المنضود ،ج:٦،ص:٢٧٩۔

صفحہ 180

توہین رسالت کا شرعی حکم

فصل پنجم

گستاخ رسول کی توبہ قبول ہے یا نہیں؟

گستاخ رسول سے متعلقہ مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ قبولیت یا عدم قبولیت توبہ کا ہے، (العیاذ باللہ) اگر کوئی شخص حضور ﷺ یا باقی انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے تو آیا اس کی یہ توبہ قبول ہے یا نہیں؟ جمہور فقہاء اسلام اور محدثین ومفسرین عظام کا مذہب یہ ہے کہ گستاخ رسول کی توبہ قبول نہیں ہے، البتہ اس بات کا تعلق دنیوی احکامات کے ساتھ ہے، یعنی دنیوی احکامات کے اعتبار سے ہم یہ کہیں گے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہے، باقی اگر اس نے صدق دل سے خلوص نیت کے ساتھ توبہ کی ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ مقبول ہوگی، اور یہ اخروی عذاب سے بچ جائیگا، چنانچہ علامہ شامی ؒ اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

(فإنه يقتل حداً) قوله ولا تقبل توبته لأن الحد لا يسقط بالتوبة، فهو عطف تفسير وأفاد أنه حكم الدنيا، وأما عند الله تعالىٰ فهى مقبولة۔

ردالمحتار، ج:۴، ص:۳۱۷۔

ترجمہ: گستاخ رسول کو حدّاً قتل کیا جائیگا ماتن کا یہ قول کہ اس کی توبہ مقبول نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حد ہے اور حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتیں پس یہ عطف تفسیر ہے اور اس حکم (یعنی توبہ کا مقبول نہ ہونا) کا تعلق اس دنیا سے ہے، ہاں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی توبہ مقبول ہوگی۔

علامہ شامی ؒ نے صراحت فرمادی کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی توبہ قبول ہوگی، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ شخص اخروی عذاب سے بچ جائیگا، البتہ اس دنیا میں اسے قتل کرنا ضروری ہے، کیونکہ اس کی یہ سزائے موت بطور حد کے ہے اور حدود توبہ سے معاف نہیں ہوتیں

صفحہ 181

توہین رسالت کا شرعی حکم

کرتیں، چنانچہ فقہاء کرام کا اتفاق ہے کہ توہین رسالت کے مجرم کی سزائے موت حداً ہے، جیسا کہ ہم پہلے فصل رابع میں فقہاء کرامؒ کے اقوال کی روشنی میں اس بات کو ثابت کر کے چلے آ رہے ہیں۔ لہٰذا اگر غور کیا جائیگا تو یہ بات واضح ہوگی کہ گستاخ رسول کی توبہ کے قبول ہونے یا نہ ہونے کا تعلق اس کی سزائے موت کے ساتھ نہیں، بلکہ دیگر احکامات کے ساتھ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں تو اسے ہر حال میں قتل ہونا ہی متعین ہے۔

ہاں اگر توبہ کی شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے اس نے توبہ کی ہو تو اخروی عذاب سے بچ سکتا ہے۔ البتہ یہاں پر دو باتوں کا جاننا ضروری ہے:

پہلی بات یہ ہے کہ چند فقہاء کرام کے حوالے ایسے بھی ملتے ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ اس کی توبہ قبل الاخذ قبول ہے، یعنی گرفتار ہونے سے پہلے اگر توبہ کرے تو قابل قبول ہے، لیکن یاد رہے کہ ان فقہاء کرام کے ان حوالوں کی بنیاد پر گستاخ رسول سزائے موت سے پھر بھی نہیں بچ سکتا کیونکہ ان کے ہاں دنیا میں توبہ قبول ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ گرفتاری سے پہلے سچے دل سے توبہ کرے تو پھر بطور حد کے قتل ہو جانے کے بعد اس پر اس دنیا میں مسلمانوں کے احکام جاری ہوں گے یعنی اس کی تجہیز و تکفین ہوگی، جنازہ پڑھا جائیگا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائیگا۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ توبہ قبول ہونے کی وجہ سے سزائے موت سے بچ جائیگا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے احناف کے بعض ائمہ کرام کا قول یہ ہے کہ قبل الاخذ قبولیت توبہ سے اس کی سزائے موت ساقط ہو جائیگی۔ علامہ حصکفیؒ نے حضرت امام صاحبؒ سے بھی ایک روایت اس کے مطابق نقل کی ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

"قبل أخذه اختلف فی قبول توبته فعند أبی حنيفة تقبل ولا يقتل ۔"

الدر المختار، ج: ۳، ص: ۳۲۰۔

ترجمہ: گرفتار ہونے سے پہلے گستاخ رسول کے توبہ کے قبول ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے، حضرت امام صاحبؒ کے ہاں اس کی توبہ قبول کی جائیگی، اور اسے قتل نہیں کیا جائیگا۔

لیکن احناف کے ان اقوال کو بنیاد بنا کر گستاخ رسول کو سزائے موت سے نہیں بچایا جا سکتا، بلکہ ائمہ ثلاثہ کی طرح احناف کے ہاں بھی اسے ہر حال میں قتل کرنا واجب ہے، اس کی دو

صفحہ 182

توہین رسالت کا شرعی حکم

وجوہ ہیں: وجہ اول: جن احناف نے قبولیت توبہ کی وجہ سے اس کو قتل نہ کرنے کا قول اختیار کیا ہے انھوں نے کہا ہے کہ توہین رسالت ارتداد ہے اور مرتد اگر سچے دل سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوتی ہے، اور اس کی حد ساقط ہو کر وہ سزائے موت سے بچ جاتا ہے، لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ توہین رسالت کی وجہ سے جو آدمی مرتد ہوتا ہے اس کا ارتداد عام مرتدین کی طرح نہیں ہے بلکہ اس بدبخت نے کائنات کی مقدس ترین آقائے نامدار ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے جسکی سزا یہ ہے کہ اس کے ناپاک وجود سے اس زمین کو پاک کیا جائے ۔ چنانچہ علامہ ابن نجیم ؒ اسی بات کو بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ:

”أنه لا فرق بين ردة وردة من أنه إذا أسلم ويستثنى منه مسائل؛ الأولى الردة بسبه صلى الله تعالىٰ عليه وسلم ۔“

البحر الرائق، كتاب السير، باب أحكام المرتدين، ج:۱۳، ص:٤٩٦ ۔

ترجمہ: ہر قسم کا ارتداد برابر ہے کہ اگر مرتد مہلت کے تین دنوں میں اسلام کی طرف راغب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائیگا اور وہ سزائے موت سے بچ جائیگا، البتہ اس عمومی حکم سے چند مسائل مستثنیٰ ہیں ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی بد بخت حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد ہو جائے۔

علامہ ابن نجیم ؒ گستاخ رسول کو عام مرتدین کے حکم سے نکال رہے ہیں کہ عام مرتدین اگر توبہ کریں تو ان کی توبہ مقبول ہو کر وہ دنیوی سزا سے بچ جاتے ہیں، لیکن توہین رسالت کا مرتکب توبہ کی وجہ سے سزائے موت سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح علامہ ابن نجیم ؒ ”الأشباه والنظائر“ میں فرماتے ہیں کہ:

”إنما هو فى مرتد تقبل توبته فى الدنيا، أما من لا تقبل توبته فإنه يقتل كالردة بسب النبى صلى الله عليه وسلم والشيخين رضى الله عنهما كما قدمناه ۔“

الأشباه والنظائر، كتاب السير، ج:۱، ص:۲۱۵ ۔

ترجمہ: مذکورہ کلام اس مرتد کے بارے میں تھا جسکی توبہ اس دنیا میں مقبول ہوتی ہے، اور وہ مرتد جس کی توبہ قبول نہیں، تو اسے قتل کر دیا جائیگا، جیسے اس شخص کا ارتداد جو

صفحہ 183

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

آپ ﷺ یا حضرات شیخین ؓ کو سب وشتم کرتا ہے جیسے کہ ہم پہلے بھی پیچھے ذکر کر چکے ہیں۔

علامہ موصوف کی یہ عبارت بھی صراحت سے دلالت کرتی ہے کہ عام مرتدین اور گستاخ رسول کے ارتداد میں فرق ہے لہٰذا گستاخ رسول اگر توبہ کر بھی لے تو اس توبہ کی وجہ سے وہ سزائے موت سے بچ نہیں سکتا۔ کیونکہ اس کا ارتداد بقول علامہ ابن نجیم ؒ کے عام مرتدین کی طرح نہیں ہے۔

وجہ دوم: دوسری وجہ یہ ہے کہ احناف یہاں تعزیرًا اور سیاسۃً قتل کی سزا جاری ہو سکتی ہے یعنی اگر قاضی مناسب سمجھے تو مجرم کو تعزیرًا قتل بھی کر سکتا ہے، یہ بات فقہائے احناف کے مسلّمہ اصولوں میں سے ہے اور کسی کو اس سے انکار نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ تعزیرات کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، جرم کی نوعیت کے لحاظ سے بیک وقت ایک یا متعدد سنگین نوعیت کی سزائیں لاگو کی جا سکتی ہے کیونکہ تعزیری سزاؤں کی سنگینی یا خفیف ہونے کا انحصار جرم کی نوعیت پر ہوتا ہے جرم اگر انتہائی سنگین نوعیت کا ہو، اور مستوجب حد جرائم سے بھی اس کی سنگینی بڑھ جاتی ہو تو حکومت وقت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جرم کی سنگین نوعیت کے اعتبار سے اس کی سزا حد سے بھی زیادہ شدید تجویز کرے، امام طحاوی ؒ نے ”شرح معانی الآثار، ج:۲،ص:۷۲“ امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری ؒ نے ”العرف الشذی،ص ۴۲۶“ اور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ نے ”اعلاء السنن، ج:۱۱،ص:۳۴۷“ میں اس مؤقف کو واضح بتایا ہے۔ اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے دورِ حاضر کے محقق عالم شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہم ”تکملہ فتح الملہم“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

”الأمر في تعيين قدر الضربات موكول إلى رأى الإمام والقاضي بقدر شدة الجناية وخفتها فيجوز له اختيار ما شاء في عدد الضربات بالغاً ما بلغ، فيجوز أن يزيد به على قدر الحد ايضاً وهو مذهب مالك۔

تکملۃ فتح الملہم، ج:۲، ص:۵۱۰۔

ترجمہ: تعزیر بالضرب کی صورت میں کوڑوں کی مقدار کے تعین کا اختیار جرم کے سنگین یا

صفحہ 184

توہین رسالت کا شرعی حکم

خفیف ہونے کے اعتبار سے حاکم وقت یا قاضی کو حاصل ہے ، لہٰذا وہ جتنے کوڑے مناسب سمجھے، متعین کرے۔ حتیٰ کہ حد کی سزا سے بھی زیادہ سنگین سزا تجویز کر سکتا ہے اور یہی امام مالک ؒ کا مذہب ہے۔

اس کے بعد حضرت شیخ الاسلام صاحب مدظلہ نے اور اقوال بھی ذکر کئے ہیں اور بحث کے اختتام پر اسی قول کی ترجیح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

”وذكر شيخنا التهانوي هذه الآثار فی إعلاء السنن (٧٣٧/١١) عن محلى ابن حزم وصحح بعضها وحسن بعضها ورجح من أجل ذالك قول مالك وأبی ثور وأبی يوسف والطحاوی كما رجحه الشيخ الأنور فی العرف الشذی ص٤٢٦۔ تکملہ فتح الملہم، ج:٢، ص:٥١٥۔

ترجمہ: ہمارے شیخ تھانوی ؒ نے یہ روایات اعلاء السنن جلد ١١ صفحہ ٧٣٧ پر علامہ ابن حزم کے محلی سے ذکر کئے ہیں اور ان میں سے بعض کی تصحیح اور بعض کی تحسین کی ہے اور ان آثار کی وجہ سے امام مالک ؒ ، امام ابی ثور ؒ ، امام طحاوی ؒ اور امام ابو یوسف ؒ کے قول کو ترجیح دی ہے (کہ تعزیر بالضرب کی صورت میں کوڑوں کی تعیین کا اختیار امام اور قاضی کو حاصل ہے) جس طرح کہ اسی قول کو علامہ انور شاہ کاشمیری ؒ نے العرف الشذی صفحہ ٤٢٦ پر ترجیح دی ہے۔

اسی طرح ابو حنیفہ وقت علامہ ابن نجیم ؒ علامہ خیر الدین الرملی ؒ کا قول نقل کرتے ہوئے ”البحر الرائق“ میں فرماتے ہیں کہ:

”إذ يجوز الترقی فی التعزير إلى القتل إذا عظم موجبه“

البحر الرائق، فصل فی التعزير

ترجمہ: اگر تعزیر کو لازم کرنے والا جرم بڑا ہو تو تعزیر کی سزا قتل تک پہنچ سکتی ہے۔

لہٰذا اگر بالفرض والمحال گستاخ رسول توبہ کرے اور بقول بعض ائمہ کے توبہ کی وجہ سے اس کی حد ساقط ہو جائیگی تو پھر بطور حد نہ سہی بطور تعزیر قاضی کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ اسے قتل کردے، یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ مجرم کو اس کے جرم کے بقدر سزا دینا ہی عین عدالت وانصاف ہے جس طرح ایک بے گناہ کو بے جا سزا دینا ظلم ہے بالکل اسی طرح مجرم کی متعینہ سزا

توہین رسالت کا میں تخفیف کرتا سے بڑا فائدہ بھی نہیں ہوگی کہ وہ ہے کہ احناف م تعزیر کو معاف کر کوئی فقیہ اس کا قا والحال گستاخ رسو ہے تب بھی تعزیر ا ہے تاکہ آئندہ ک اٹھائے پوری بحث ہی کیا جائے گا:

بعد اس پر مسلمانوں

جاری کرنے کا ف کیا ہے اور علامہ کرنا واجب ہے ذکر کر کے ثابت جمہور کے قول پر بھی بقول علامہ

سکتا، اور تعزیر بال ف

صفحہ 185

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

میں تخفیف کرنا بھی ظلم ہے اور بالخصوص اس وقت کہ اس کا جرم بھی متعدی ہو، شرعی حدود کا سب سے بڑا فائدہ بھی یہی ہے کہ اگر ایک دفعہ کسی مجرم پر حد جاری کیا جائے تو آئندہ کسی کو بھی جرأت نہیں ہوگی کہ وہ اس جرم کا ارتکاب کرے، چنانچہ احناف کے ہاں یہ بات مسلم ہے اور یہی وجہ ہے کہ احناف حدود کو زواجر مانتے ہیں، اور جس طرح حدود میں معافی نہیں ہوسکتی اسی طرح تعزیر کو معاف کر کے مجرم کو بری کرنا ایسی بات ہے کہ آج تک کم از کم ہماری معلومات کے مطابق کوئی فقیہ اس کا قائل نہیں ہوا، لہٰذا ہم اپنے دل کی گواہی سے یہ بات کرتے ہیں کہ اگر بالفرض والمحال گستاخ رسول توبہ کرے اور توبہ کی وجہ سے اس کی سزائے موت بطور حد ساقط ہو بھی جاتی ہے تب بھی تعزیراً اسے قتل ہی کیا جائے گا، اور یہی بات آپ ﷺ کی شان اقدس کے مناسب ہے تاکہ آئندہ کے لئے کسی کو جرأت نہ ہو سکے کہ وہ کائنات کی اس مقدس ترین ہستی پر انگلی نہ اٹھائے پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ گستاخ رسول کو بہر حال میں مندرجہ ذیل امور کی وجہ سے قتل ہی کیا جائے گا:

بعد اس پر مسلمانوں کے احکام جاری ہوں گے، یہ مطلب نہیں کہ وہ قتل ہونے سے بچ جائے گا۔

جاری کرنے کا قول اختیار کیا ہے وہاں علامہ ابن نجیم ؒ نے اس کو عام مرتدین سے مستثنیٰ کیا ہے اور علامہ ابن نجیم ؒ کا قول ہی جمہور کے موافق ہے کیونکہ جمہور کے ہاں اسے حداً قتل کرنا واجب ہے جسکو ہم اپنی اس کتاب میں بہت سارے مقامات پر فقہاء کرام کے حوالے ذکر کر کے ثابت کرنے کے علاوہ ایک پوری فصل قائم کر کے ثابت کر چکے ہیں۔ اور فتویٰ ہمیشہ جمہور کے قول پر ہوتا ہے، لہٰذا اگر بالفرض اس توہین رسالت کے مرتکب کا حکم ارتداد کا بھی ہو تب بھی بقول علامہ ابن نجیم کے یہ عام مرتدین سے مستثنیٰ ہوگا۔

سکتا، اور تعزیراً اسے قتل کیا جائیگا۔

ذیل میں ہم چند فقہاء کرام رحمہم اللہ کے حوالے نقل کرتے ہیں جنہوں نے یہ صراحت

صفحہ 186

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

فرمائی ہے کہ گستاخ رسول کی توبہ قبول نہیں ہے۔

"فتاویٰ میں حضرت امام اعظم ؒ کا مسلک یہ منقول ہے کہ: ’’رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے والا کوئی ہو، مومن ہو یا کافر، بہرحال اس کو قتل کردیا جائے، اور اس کی توبہ بھی قبول نہ کی جائے۔‘‘

تفسیر مظہری، اردو مترجم، ج: ۵، ص: ۲۵۳۔

"قال الصدر الشهيد لاتقبل توبته وإسلامه وبه أخذ الفقيه أبو الليث السمرقندي أبو نصر الدبوسي وهو المختار للفتوىٰ۔"

الجوهرة النيرة ، كتاب السير، باب أسلم وعليه جزية، ج: ۲، ص: ۱۳۹۔

ترجمہ: امام صدر الشہید ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’کہ گستاخ رسول کی نہ توبہ قبول ہے اور نہ ہی اسلام لانا قبول ہے، اور اسی قول کو فقیہ ابولیث سمرقندی ؒ اور ابونصر الدبوسی ؒ نے بھی اختیار کیا ہے اور یہی قول اس لائق ہے کہ اس پر فتویٰ دیا جائے۔‘‘

"وأما من لاتقبل توبته فإنه يقتل كالردة بسب النبي صلى الله تعالیٰ عليه وسلم ، والشيخين كما قدمناه۔"

الأشباه والنظائر، كتاب السير، ج: ۱، ص: ۲۱۵۔

ترجمہ: اور بہرحال وہ مرتد جس کی توبہ قبول نہیں ہوتی، اسے قتل کیا جائیگا، جیسا کہ کوئی آدمی حضور ﷺ یا حضرات شیخین ؓ کی گستاخی کی وجہ سے مرتد ہوجائے یعنی اس کی توبہ قبول نہیں لہٰذا اس کو قتل کرنا ہی متعین ہے۔

"وجزم به في الأشباه وأقره المصنف قائلا وهذا يقوى القول بعدم قبول توبة ساب الرسول صلى الله تعالیٰ عليه وسلم وهو الذي ينبغي التعويل عليه في الافتاء والقضاء رعاية لجانب حضرة المصطفى صلى الله تعالیٰ عليه وسلم ـ"

الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، ج: ۳، ص: ۳۲۱۔

توہین رسالت کا شرعی ترجمہ : اشباہ میں برقرار رکھا ہے کہ کرنے والے کی فیصلہ کرنے کیلیے کی جانب کی رعای

"الكافر بسب

ترجمہ : جو شخص ا کافر ہو جائے تو

"فهو كافر يقت تنقيح

ترجمہ : گستاخی کی کی توبہ قبول نہ

علامہ ا "مجمع الانهر ي

نبی کو سب و شت نے اس کے کا

صفحہ 187

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

ترجمہ: اشباہ میں اسی قول پر جزم کیا گیا ہے اور مصنف نے بھی اس کو یہ کہتے ہوئے برقرار رکھا ہے کہ یہ قول تقویت دیتا ہے اس قول کو کہ نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول نہیں ہوگی، افتاء اور قضا (فتویٰ دینے کیلئے اور عدالت میں فیصلہ کرنے کیلئے) اسی قول پر اعتماد کرنا مناسب ہے، کیونکہ اس میں سرور کونین ﷺ کی جانب کی رعایت ہوتی ہے۔

”الکافر بسب نبی من الأنبیاء فإنه یقتل حداً، ولا تقبل توبته مطلقاً۔“

رد المحتار، کتاب الجہاد، باب المرتد، ج:۳، ص:۳۱۷۔

ترجمہ: جو شخص انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے کی وجہ سے کافر ہو جائے تو اسے حدّاً قتل کیا جائیگا، اور اس کی توبہ کسی بھی حال میں قبول نہیں ہے۔

”فهو کافر یجب قتله باتفاق الأمة ولا تقبل توبته وإسلامه۔“

تنقیح الفتاوی الحامدیة، کتاب الشركة ،باب الردة والتعزیر، ج:۲، ص:۱۷۷۔

ترجمہ: گستاخی کرنے والا کافر ہے اور بالاتفاق امت اس کا قتل کرنا واجب ہے اور نہ اس کی توبہ قبول ہے اور نہ ہی اس کا اسلام لانا قبول ہے۔

علامہ انور شاہ کاشمیری ؒ اپنی مایہ ناز تصنیف ”اکفار الملحدین“ میں فرماتے ہیں کہ:

”مجمع الانہر، درمختار، بزازیہ، درر اور غرر میں لکھا ہے کہ انبیاء کرام ؑ میں سے کسی بھی نبی کو سب وشتم کرنے والے (کافر) کی توبہ مطلقاً قبول نہیں کی جائیگی، اور جس شخص نے اس کے کافر اور معذب ہونے میں شک کیا وہ بھی کافر ہے۔“

اکفار الملحدین، ص: ۱۳۶۔

- ۴۱ -

صفحہ 188

توہین رسالت کا شرعی حکم

فصل ششم

کیا امت کو یہ حق حاصل ہے کہ گستاخ رسول کو معاف کرے؟

حضور ﷺ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ آپ اپنی حیات مبارکہ میں اپنے گستاخ اور موذی کو معاف فرما سکتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی زندگی میں کئی لوگوں کو معاف فرما دیا تھا، لیکن آپ ﷺ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ گستاخ رسول کو معاف کرے، چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ: "أن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم قد كان له أن يعفو عمن سبه وليس للأمة أن تعفو عمن سبه ۔"

الصارم المسلول، ص: ۱۸۰ -

ترجمہ: آپ ﷺ کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے گستاخ کو معاف کر سکتے تھے، لیکن امت کو یہ حق حاصل نہیں کہ گستاخ رسول کو معاف کرے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ: "نقول إن سب النبي صلى الله عليه وسلم كان موجباً للقتل في حياته وكان إذا علم بذالك تولى هذا الحق فإن أحب استوفى وإن أحب عفا فإذا تعذر إعلامه لغيبته أو موته وجب على المسلمين القيام بطلب حقه ولم يجز العفو لأحد من الخلق كما لا يجوز العفو عمن سب غيره من الأموات والغياب ۔

ترجمہ: ہم کہتے ہیں کہ جرم توہین رسالت آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں مستوجب قتل تھا، اس قسم کا جرم جب آپ ﷺ کے سامنے آتا تو آپ ﷺ کو کلی اختیار تھا کہ چاہیں تو مجرم کو قتل فرمادیں اور اگر چاہیں تو معاف فرمادیں، اب جبکہ آپ ﷺ ہمارے درمیان نہیں ہیں تو یہ فرض مسلمانوں کے سر آتا ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ

صفحہ 189

توہین رسالت کا شرعی حکم

میں توہین رسالت کی سزائے قتل کو نافذ رکھیں ، اور اس کیس میں مجرم کو کسی بھی صورت میں معافی دینا جائز نہیں ہے، بالکل اس طرح جس طرح کہ کسی مردہ یا غائب شخص کو کوئی شخص سب وشتم کرے تو متاثرہ شخص کے علاوہ جس طرح کوئی غیر شخص مجرم کو معافی نہیں دے سکتا اسی طرح کسی مسلمان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ شاتم رسول کو معافی دے۔

اسی طرح علامہ ابن القیمؒ نے ”زاد المعاد“ میں اس موضوع پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اپنی زندگی میں کئی ساری مصلحتوں کے پیش نظر بھی گستاخان اور شاتمین کو سزائیں نہ دیں، لیکن آپ ﷺ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد اب کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ شاتم رسول کو معاف کرے، کیونکہ شاتم رسول کو معاف کرنا یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیت تھی چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”أن الحق له فله أن يستوفيه وله أن يتركه وليس لأمته ترك استيفاء حقه صلى الله تعالى عليه وسلم، وأيضا فإن هذا كان في أول الأمر حيث كان صلى الله تعالى عليه وسلم مأمورا بالعفو والصفح، وأيضا أنه كان يعفو عن حقه لمصلحة التأليف وجمع كلمته وأن لا ينفر الناس عنه وأن لا يتحدثوا أنه يقتل أصحابه وكل يختص بحياته صلى الله تعالى عليه و سلم ـ “

(زادالمعاد، فصل في قضائه صلى الله تعالى عليه وسلم

فيمن سبه من مسلم أو ذمى أو معاهد،ج:٥،ص:٥٤۔)

ترجمہ : گستاخان وشاتمین کو سزا دینا آپ ﷺ کا حق تھا تو آپ ﷺ کو یہ اختیار حاصل تھا کہ اگر چاہتے تو اپنا حق وصول کر کے انھیں سزا دے دیتے اور اگر چاہتے تو انھیں چھوڑ دیتے لیکن امت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ آپ ﷺ کے حق کو لینا چھوڑ دے (یعنی گستاخ کو معاف کر دے) اور اسی طرح یہ بات بھی تو ہے کہ آپ ﷺ کا ان شاتمین کو معاف کرنا شروع اور ابتدائی دور کی بات ہے جس وقت آپ ﷺ کو حکم تھا کہ معاف کیا کریں اور درگزر فرمایا کریں، اور اسی طرح یہ بات بھی ہے کہ آپ ﷺ تالیف قلوب اور جمعیت کلمہ کی مصلحت کے پیش نظر بھی معاف

صفحہ 190

توہین رسالت کا شرعی حکم

فرمایا کرتے تھے، اور اس وجہ سے کہ لوگ آپ کے پاس سے بھاگ نہ جائیں، اور یہ باتیں نہ کریں کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو قتل کر رہا ہے لیکن یہ ساری باتیں آپ ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ خاص تھیں، اب امت کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ گستاخ کو معاف کرے۔

امت گستاخ رسول کو معاف نہیں کر سکتی اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ گستاخ رسول کی سزا بطور حد ہے، اور حد اللہ تعالیٰ کا حق ہوا کرتا ہے جس میں کمی کرنا کسی کے لئے بھی جائز نہیں، امام رازیؒ نے ”تفسیر کبیر“ میں ایک روایت ذکر کی ہے کہ:

”یؤتی بوال نقص من الحد سوطا، فیقال له لم فعلت ذاك؟ فیقول رحمة لعبادك، فیقال له أنت أرحم بهم منی، فیؤمر به إلی النار۔ ویؤتی بمن زاد سوطا فیقال له لم فعلت ذلك؟ فیقول لینتهوا عن معاصيك فیقول أنت أحكم به منی فیؤمر به إلی النار۔“

تفسیر کبیر، سورۃ النور، الآیۃ: ۲۔

ترجمہ: قیامت کے ایک حاکم اللہ کے دربار میں پیش کیا جائے گا، جس نے حد میں سے ایک کوڑا کم کر دیا تھا، اس سے کہا جائے گا کہ تم نے ایسا کیوں کیا تھا تو وہ کہے گا کہ: اے اللہ! آپ کے بندوں پر رحم کھاتے ہوئے میں نے ایسا کیا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تو ان کے حق میں ہم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے، پھر اس کے بارے میں جہنم کا حکم دیا جائیگا۔ ایک اور حاکم ایسا پیش کیا جائے گا جس نے حد میں ایک کوڑا زیادہ کیا تھا اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ ایسا کیوں کیا تھا، وہ کہے گا کہ اے اللہ! میں نے ایسا اس لئے کیا تھا تاکہ لوگ آپ کی نافرمانیوں سے باز آ جائیں ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تو ان کے حق میں ہم سے زیادہ حکیم تھا؟ پھر اس کے بارے میں بھی جہنم کا حکم ہوگا۔

اس روایت سے صاف ظاہر ہے کہ جب کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ حدود میں سے صرف ایک کوڑا بھی کم کرے، تو پھر گستاخ رسول کو معاف کرنے کا حق کس کو حاصل ہو سکتا ہے؟ اور جب گستاخ کو معافی نہیں مل سکتی تو اس کا قتل ہی متعین ہے کہ ہر حال میں اس کے ناپاک وجود سے زمین کو پاک کیا جائے۔

توہین رسالت کا شرعی حکم

فصل ہفتم

گستاخ رسول

جس طرح ایک مسلمان کافر نہ ماننا بھی کفر ہے، کیونکہ شریعت ہے، توہین رسالت صرف جرم ہی امت نے صراحت فرمائی ہے کہ شک کرے وہ بھی کافر ہے سابقہ مزید حوالہ جات قارئین کی نذر کئے جا کفر میں شک کرے وہ کافر ہو جاتا

”ومن شك فی عذابہ کفرہ“ ترجمہ: اور جو شخص ایسے گستاخ کافر ہو جاتا ہے۔ اور اس کی

”وفی البزازية من شك مجمع الأنهر، ترجمہ: اور فتاویٰ بزازیہ میں میں شک کرے تو وہ خود کافر

صفحہ 191

توہین رسالت کا شرعی حکم

فصل ہفتم

گستاخ رسول کو کافر نہ ماننے والا بھی کافر ہے

جس طرح ایک مسلمان آدمی کو کافر کہنے والے پر تکفیر لوٹتی ہے، اسی طرح ایک کافر کو کافر نہ ماننا بھی کفر ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ میں نہ افراط کی گنجائش ہے اور نہ تفریط کی اجازت ہے، توہین رسالت صرف جرم ہی نہیں، بلکہ قبیح ترین جرم اور بدترین قسم کا کفر ہے، چنانچہ علماء امت نے صراحت فرمائی ہے کہ توہین رسالت کا مرتکب کافر ہے، اور جو شخص اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے سابقہ حوالجات میں کئی جگہ اس کی تصریح گذر چکی ہے ذیل میں چند مزید حوالجات قارئین کی نذر کئے جا رہے ہیں جن میں یہ تصریح ہے کہ جو شخص گستاخ رسول کے کفر میں شک کرے وہ کافر ہو جاتا ہے:

"ومن شک فی عذابہ وکفرہ کفر، وتمامہ فی الدرر فی فصل الجزیۃ"

الدر المختار، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج: ۳، ص: ۳۱۷ ۔

ترجمہ: اور جو شخص ایسے گستاخ کے کافر اور معذب ہونے میں شک کرے، تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔ اور اس کی پوری تفصیل درر کے فصل الجزیۃ میں مذکور ہے۔

"وفی البزازیۃ من شک فی عذابہ وکفرہ فقد کفر"

مجمع الأنھر، کتاب السیر، فصل فی بیان احکام الجزیۃ، ج: ۴، ص: ۳۶۵ ۔

ترجمہ: اور فتاویٰ بزازیہ میں ہے کہ جو شخص گستاخ رسول کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے تو وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔

صفحہ 192

توہین رسالت کا شرعی حکم

”ومن شك في عذابه وكفره كفر۔ كذا في الفتاوی البزازية۔“

درر الحکام شرح غرر الأحکام، کتاب الجهاد، ماتسقط به الجزية، ج:۳، ص:٤٠٨۔

ترجمہ: اور جو اس کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ فتاویٰ بزازیہ میں بھی اسی طرح تحریر ہے۔

”وحكمه عند الأمة القتل ومن شك في كفره وعذابه كفر۔“

الشفا، ج:۲، ص:١٣٤۔

ترجمہ: اور گستاخ رسول کا حکم بالاتفاق امت یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے، اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے تو وہ بھی کافر ہوجاتا ہے۔

”قاضی عیاض ؒ الشفاء میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر سب وشتم کرنے والا کافر ہے اور جو کوئی اس کے معذب اور کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے۔“

اکفار الملحدین، ص:١٣٦۔

”جو شخص ایسے آدمی (گستاخ رسول) کے فعل پر خواہ وہ عیسائی ہو یا کوئی اور ہو، اظہار ناراضگی نہ کرے یا کم از کم دل سے برا سمجھ کر اس جگہ سے اٹھ نہ جائے بیشک وہ بھی کافر ہے۔“

کفایت المفتی، ج:۱، ص:۱۷۱۔

صفحہ 193

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

فصل ہشتم

گستاخ پر سزائے موت کون جاری کریگا؟

گستاخ رسول کی سزا یہ ہے کہ اسے حداً قتل کیا جائے لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کو سزائے موت کون دے گا؟ بالخصوص ہمارے زمانے میں کہ جب اسلامی شرعی نظام کا عملی نفاذ ہی نہیں ہے، یہ سوال اور بھی اہمیت کا حامل بن گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل میں یہ ذمہ داری حکومت پر ہے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے ایسے مجرم کو پکڑ کر اس پر سزا جاری کرے۔ کیونکہ حدود کا نفاذ حکومت کی ذمہ داری ہے مثلاً چوری کی حد یہ ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے لیکن یہ کام حکومت کرے گی عوام کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ چور کو پکڑ کر اس کا ہاتھ کاٹنا شروع کرے، اسی طرح شادی شدہ زنا کار کو سنگسار کیا جاتا ہے مگر یہ حکومت کی ذمہ داری ہے فرد واحد کو اس کی اجازت نہیں بالکل اسی طرح گستاخ رسول کی سزا یہ ہے کہ اسے حداً قتل کیا جائے لیکن یہ کام بھی گورنمنٹ کرے گی، قانونی طریقہ کار کے مطابق ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، پھر باقاعدہ عدالت میں ملزم پر کیس چلے گا، جج کے سامنے گواہیاں پیش ہوں گی وغیرہ وغیرہ، اس کے بعد تمام قانونی مراحل طے کرنے کے بعد شریعت کی رُو سے اور اسی طرح ملک پاکستان کے آئین کے مطابق بھی جج اس بات کا پابند ہے کہ گستاخ رسول کو سزائے موت دلوائے اس کے علاوہ نہ کوئی اور سزا تجویز کر سکتا ہے اور نہ ہی اسے معاف کر سکتا ہے۔

مسلم تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ غیور مسلمان حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے اس فریضہ منصبی کو ادا کرتے ہوئے گستاخانِ رسول کو ابدی نیند سلایا ہے۔ ہندوستان، یورپ، افریقہ، عرب، اندلس، غرض جس خطۂ ارض پر مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہوا، وہاں کی اسلامی عدالتوں نے اسلامی قانون کی رُو سے گستاخ رسول کو سزائے موت دلوائی ہے، چنانچہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق اسپین کے مسلمان حکمران امیر عبدالرحمن اور ان کے بعد ان کے بیٹے امیر محمد نے تحریک شاتمانِ رسول میں ملوث ترپن (۵۳) گستاخوں کو سزائے موت دی ہے، سلطان صلاح الدین ایوبی نے توہین رسالت کے مرتکب ”ریجی نالڈ“ کا سر اپنے ہاتھ سے قلم کیا ہے، ہندوستان پر برطانوی استعمار سے قبل شاتم رسول کی سزا سزائے موت ہی رہی ہے فتاویٰ عالمگیری کے فتاویٰ

صفحہ 194

توہین رسالت کا شرعی حکم

بات اس پر شاہد ہے بلکہ اکبر جیسے سیکولر بادشاہ کے دور اقتدار میں بھی یہ سزا جوں کی توں موجود تھی، خود ہمارے پنجاب کے مغلیہ دور کے گورنر زکریا خان نے گستاخ رسول ”حقیقت رائے“ پر سزائے موت جاری کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ ہمارے وطن عزیز کے آئین میں بھی (295 سی) کی شق موجود ہے جس کے مطابق گستاخ رسول کی سزا صرف اور صرف موت ہے (جس کی مکمل وضاحت سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر وکیل جناب اسماعیل قریشی صاحب نے اپنی کتاب میں کی ہے) لہٰذا حکومت وقت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ از خود ایسے مجرموں کا نوٹس لیں تا کہ عوام کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ توہین رسالت کا قانون منسوخ کرنے یا اس پر عمل درآمد نہ کروانے کا انجام بہت برا رہا ہے، اس کی واضح مثال ہندوستان پر تاج برطانیہ کا قبضہ ہے۔ برطانوی استعمار نے ہندوستان پر قبضہ جما لینے کے بعد جہاں اور قوانین موقوف کر دیئے تھے وہاں توہین رسالت کا قانون بھی منسوخ کر دیا تھا، لیکن چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ ناموس رسول پر حملہ کرنے والوں کا فیصلہ مسلمانوں نے اپنے ہاتھوں سے کر کے روبرو عدالت قتل کا برملا اعتراف کیا اور بیسیوں فدائیان مصطفیٰ دار و رسن کے ممبر پر مسکراتے ہوئے رونق افروز ہوئے، اور آج غازی علم دین شہید ؒ سے لے کر غازی عامر چیمہ شہید ؒ تک شہداء کا یہ قافلہ اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب بن گیا ہے۔ لہٰذا یہ حکومتی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ جرم ثابت ہونے پر گستاخ رسول پر سزا کے نفاذ کو یقینی بنائے تا کہ عوامی جذبات مجروح نہ ہوں، اور لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کا موقع نہ ملے۔

لیکن یہاں پر ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر چہ حدود کا نفاذ گورنمنٹ کا کام ہے اور یہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ شاتم رسول کو سزائے موت دلوائے، لیکن اگر حکومت وقت کسی وجہ سے اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کر پاتی اور وہاں کوئی غیرت ایمانی سے سرشار غازی علم دین شہید ؒ کا روحانی جانشین خود گستاخ رسول کو ابدی نیند سلا دیتا ہے تو آیا شریعت کی رُو سے وہ ایسا کرنے پر مجرم ہے یا نہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے وہ گستاخ رسول کے قتل کرنے کی وجہ سے مجرم نہیں نہ اس پر قصاص ہے اور نہ تاوان، اس کا یہ فعل صرف خلافِ انتظام ہے۔ شریعت کی رُو سے

صفحہ 195

195 AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

وہ مجرم اس وجہ سے نہیں کہ خود نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں ایک نابینا صحابی نے نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرنے والی عورت پر مقدمہ چلائے بغیر خود ہی اسے قتل کیا تھا، پھر جب نبی کریم ﷺ کو ساری صورت حال کا پتہ چلا تو آپ ﷺ نے نہ صرف یہ کہ اس صحابی پر کسی قصاص یا تاوان کو لازم نہیں کیا بلکہ اس گستاخ عورت کے خون کو ہدر قرار دیا، یہ روایت ابو داؤد شریف میں موجود ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ گستاخ رسول مباح الدم ہوتا ہے، لہٰذا اس کا خون ہدر ہوتا ہے اور مباح الدم کو قتل کرنے کی وجہ سے کوئی ضمان لازم نہیں آتا، چنانچہ علامہ سرخسی ؒ اسی بات کو بیان کرتے ہوئے ”المبسوط“ میں فرماتے ہیں کہ:

”والفعل في محل مباح لا يكون سبب وجوب الضمان“

المبسوط، كتاب الحدود، ج:9 ، ص:106۔

ترجمہ: کسی مباح چیز میں تصرف کرنا ضمان کے واجب ہونے کا سبب نہیں ہوتا۔

اسی طرح علامہ کاسانی ؒ ”بدائع الصنائع“ میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو قتل کرنے کے لئے کسی نے اس پر ہتھیار اٹھایا اور یہ آدمی جواباً اسے قتل کرے تو اس پر کوئی ضمان نہیں کیونکہ حملہ کرنے والا مباح الدم ہو جاتا ہے اور مباح الدم آدمی کو قتل کرنے پر کوئی ضمان نہیں ہوتا، چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ:

”فقد قتل شخصاً مباح الدم فلا شيء عليه“

بدائع الصنائع، كتاب قطاع الطريق۔

ترجمہ: تحقیق اس نے ایک مباح الدم آدمی کو قتل کیا ہے لہٰذا اس پر کوئی تاوان نہیں ہے۔

مذکورہ بالا دونوں حوالوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مباح الدم آدمی کو قتل کرنے کی وجہ سے قاتل پر کوئی تاوان نہیں آتا، اور یہ بات پہلے سے ثابت شدہ ہے کہ توہین رسالت کے ارتکاب کی وجہ سے اس جرم عظیم کا مرتکب مباح الدم ہو جاتا ہے تو نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ گستاخ رسول کو قتل کرنے کی وجہ سے قاتل پر کوئی ضمان نہیں۔

اسی بات کو بیان کرتے ہوئے محقق عالم دین استاذی المکرم پیر طریقت، عارف باللہ حضرت مولانا مفتی عبدالرؤف صاحب سکھروی زید مجدہم اپنی کتاب ”توہین رسالت اور گستاخان رسول کا برا انجام“ میں فرماتے ہیں کہ:

”لہٰذا اگر کوئی شخص حضور ﷺ کی شان میں صراحتاً یا اشارۃً قولاً یا فعلاً بد گوئی اور

صفحہ 196

توہین رسالت کا شرعی حکم

گستاخی کرے تو شرعاً گستاخی کرنے والا شخص قتل کا مستحق ہے۔ اور قتل کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ہے کہ وہ ہر ممکن طریقہ سے ایسے مجرم کو پکڑ کر اس پر قتل کی سزا جاری کرے عام آدمی کے لئے قانون کے نفاذ کو اپنے ہاتھ میں لینا مناسب نہیں، لیکن اس کے باوجود اگر کسی عام شخص نے ایسے گستاخ اور بدگوئی کرنے والے شخص کو قتل کر دیا تو اس پر شرعاً نہ قصاص ہے اور نہ تاوان، کیونکہ ایسے شخص کا خون مباح ہو جاتا ہے اور اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے۔ عام شخص کے لئے ایسا کرنا صرف خلاف انتظام ہے۔‘‘

توہین رسالت اور گستاخان رسول کا برا انجام، ص: ۸-۹۔

یہی بات ملعون سلمان رشدی سے متعلقہ ایک طویل استفتاء کے جواب میں استاذی المکرم حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی زید مجدہم نے بھی ارشاد فرمائی ہے۔ یہاں پر ہم مستفتی کے سوالات میں سے دو سوال مع حضرت مفتی صاحب زید مجدہم کے جواب کے نقل کرتے ہیں:

سوال نمبر ۳...... شریعت کے مطابق جاری کردہ سزا کیسے نافذ کی جائے گی؟ کون سے ادارے یا افراد سزا کو نافذ کرنے کے ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے؟

سوال نمبر ۴..... کیا اسلامی شرعی عدالت میں مقدمہ چلائے بغیر اور صفائی کا موقع دیئے بغیر رشدی جیسے کھلم کھلا اور خود اقراری شاتم رسول (جو کہ بارہا ٹیلی ویژن پر توہین آمیز کلمات دہراتے ہوئے یہاں تک کہہ چکا ہے کہ ”کاش میں نے اس سے بھی سخت تنقیدی کتاب لکھی ہوتی“) کے خلاف اسلامی سزا نافذ کی جاسکتی ہے؟

جواب نمبر ۳....... جس کو قدرت ہو، جب قدرت ہو وہ سزا نافذ کرلے یہ ہر مسلم حکومت کا فرض ہے یا کوئی غازی علم دین پیدا ہو جائے۔

جواب نمبر ۴..... جس کو قدرت ہو فوراً سزا نافذ کرے، قدرت نہ ہو تو قدرت حاصل کرے۔ جیسا کہ احادیث پاک کے حصہ میں گذر چکا ہے کہ بغیر مقدمہ چلائے ایسے گستاخوں کو سزا دی گئی۔ بلکہ حضور ﷺ نے بغیر مقدمہ چلائے ایسے گستاخوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ (دیکھیں نابینا کے باندی کا واقعہ، کعب بن الاشرف، ابن خطل وغیرہ کا واقعہ)۔

اسلام و مسلمان اور رشدی سلمان،ص:۱۳،۱۲،۹۲۔

یاد رہے کہ اس ساری گفتگو سے ہمارا مقصود حکم شرعی کا بیان ہے نہ کہ لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب۔

صفحہ 197

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 197

فصل نہم

گستاخوں کا بدترین انجام

تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی بدبخت نے آقائے دو عالم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کیا ہے اس کا انجام بہت برا رہا ہے۔ اور آج ایسے ازلی بدبختوں کے واقعات تاریخ کا حصہ بن کر قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے درس عبرت بن گئے ہیں۔ ہم یہاں اس فصل میں چند ایسے واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں تاکہ ہمارے قارئین کرام کے لئے نمونہ عبرت بن کر ان کے لئے مقام رسالت کی عظمت کا اندازہ لگانا آسان ہو جائے۔

حدثنا أبونوفل عن أبيه قال كان لهب بن أبى لهب يسب النبي صلى الله عليه و سلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم اللهم سلط عليه كلبك، قال فخرج يريد الشام في قافلة مع أصحابه، قال فنزل منزلا، قال فقال والله إنى لأخاف دعوة محمد (صلى الله عليه وسلم) قال قالوا له كلا قال فحوطوا المتاع حوله وقعدوا يحرسونه قال فجاء السبع فانتزعه فذهب به۔﴾

مسند الحارث، كتاب الحدود والديات،باب فيمن سب النبی صلی الله عليه وسلم۔

ترجمہ: ابونوفل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابولہب کا بیٹا لہب (امام ابونعیم نے ”دلائل النبوۃ“ میں اس کا نام عتبہ ذکر کیا ہے) آپ ﷺ کی گستاخی کرتا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے بددعا دیدی کہ ”اَللّٰهُمَّ سَلِّطْ عَلَيْهِ كَلْبَكَ“ اے اللہ ! اس پر اپنا کتا مسلط فرمادیجئے۔ راوی کہتا ہے کہ اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک قافلہ میں شام روانہ ہوا، راستہ میں جب قافلہ نے ایک منزل پر پڑاؤ ڈالا تو لہب اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ بخدا میں محمد (ﷺ) کی بددعا سے ڈرتا ہوں، وہ کہنے لگے کہ ہرگز نہیں، راوی کہتا ہے کہ انھوں نے اس کے اردگرد اپنا سامان رکھ دیا، اور اس کی

صفحہ 198

توہین رسالت کا شرعی حکم حفاظت کی خاطر چوکیداری کے لئے بیٹھ گئے ایک درندہ آیا اور اس کو سامان کے درمیان سے کھینچ کر لے گیا۔

بیوی کا نام ظفر خاتون تھا، ظفر خاتون عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی تھی، اور اس کی وجہ سے ہلاکو خان کے زیر تسلط علاقوں اور رعایا میں عیسائی کو خوب پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا تھا، عورتوں کی آڑ میں اپنے مذہبی عقائد کا پرچار کلیسا کا پرانا مشغلہ رہا ہے، اور ایسے کسی بھی موقع سے فائدہ اٹھانے سے اہل صلیب کم ہی چوکتے ہیں، بہر کیف ہلاکو خان کی حکومت عیسائیت کے فروغ کے لئے ایک مضبوط سہارے کا کام دے رہی تھی، ایک دفعہ عیسائیوں کی کوششوں سے ہلاکو خان کے ایک اہم جنگی سردار نے عیسائیت قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔

یہ شخص حکومت وقت میں اتنے اہم کردار کا حامل تھا کہ پوری عیسائی دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اور کلیسا نے اس سردار کو عیسائیت میں خوش آمدید کہنے کے لئے باقاعدہ ایک تقریب جشن کا اہتمام کیا، اس تقریب میں شرکت کے لئے مرکزی کلیسا کے کئی پادری خصوصی نمائندے بن کر آئے، تقریب کا آغاز ہوا تو مختلف پادریوں نے باری باری اٹھ کر تقریریں کیں، اور عیسائیت کے فضائل ومناقب بیان کئے، اسی دوران ایک پادری کی باری آئی، تو اس بدبخت نے اپنی تقریر شروع کرتے ہی پیغمبر اسلام ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی شروع کر دی۔ اتفاق سے وہاں قریب ہی ایک تاتاری سپاہی کا شکاری کتا بندھا ہوا تھا، اس کتے کے کان میں جب پادری کے الفاظ پہنچے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ سخت طیش میں آ گیا اور پھر اس نے اپنی رسی چھڑا کر پادری پر حملہ کر دیا، لیکن عین اسی لمحہ لوگ آگے بڑھے پادری کو اس عذاب سے خلاصی دلوائی اور کتے کو دوبارہ رسی سے باندھ دیا گیا، یہ صورت حال دیکھ کر بعض لوگوں نے پادری سے کہا کہ تم نے ایک قابل احترام ہستی کے بارے میں نازیبا باتیں کیں اسلئے کتے نے تم پر حملہ کر دیا، لیکن اس بدبخت کا اصرار تھا کہ میں چونکہ تقریر کے دوران اشارے کر رہا تھا، اس لئے کتا یہ سمجھا کہ میں اس پر حملہ آور ہونے لگا ہوں، بس اس لئے اس نے مجھ پر حملہ کر دیا، یہ کہہ کر پادری نے دوبارہ اپنی تقریر شروع کی، اور کچھ دیر بعد پھر رسول اللہ ﷺ کی شان میں دریدہ دہنی شروع کی، ادھر کتے نے دوبارہ یہ الفاظ سنے تو وہ پھر طیش میں آگیا اور پھر اس نے اپنی رسی

توہین رسالت کا شرعی حکم چھڑائی ،اور اس بدبخت لیا، اور اس وقت تک نہ اس بات کی گواہ ہے کہ وہاں موجود چالیس ہز

لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِ ترجمہ :......اور آپ والا ہو، بے وقعت والا ہو، گناہوں کا ان آیات م الامت حضرت مولا تصریح سے معلوم ہوتا قرآن شریف کے ان کرنے سے نعوذ باللہ کے حق میں اللہ تعالیٰ حلاف، مهین زنیم۔

رى وكان شي مجلس القا منكرة من ي تعالى عليه الفقهاء وأم

صفحہ 199

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 199

چھڑائی ،اور اس بدبخت پادری پر حملہ آور ہو گیا ، اب کی بار کتے نے اس کی گردن کو دبوچ لیا، اور اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک کہ وہ بدطینت انسان تڑپ تڑپ کر مر نہیں گیا۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی گستاخی کرنے والے سے قدرت کا یہ انتقام دیکھ کر وہاں موجود چالیس ہزار افراد نے فوراً ہی اسلام قبول کر لیا۔

حرمت رسول ،ص: ۱۷۹۔

لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ﴾

ترجمہ:..... اور آپ (ﷺ) کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا ہو، بے وقعت ہو، طعنہ دینے والا ہو، چغلیاں لگاتا پھرتا ہو، نیک کام سے روکنے والا ہو، گناہوں کا کرنے والا ہو، سخت مزاج ہو، اس کے علاوہ حرام زادہ ہو۔

ان آیات مبارکہ میں ایک گستاخ رسول ولید بن مغیرہ کی برائیاں ذکر کی گئی ہیں، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: ”جس طرح حدیث شریف کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بار درود پڑھنے سے دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں، اسی طرح سے قرآن شریف کے اشارے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی شان ارفع میں ایک گستاخی کرنے سے نعوذ باللہ منھا اس شخص پر منجانب اللہ دس لعنتیں نازل ہوتی ہیں، چنانچہ ولید بن مغیرہ کے حق میں اللہ تعالیٰ نے بسزائے استہزاء یہ دس کلمات ارشاد فرمائے:

حلاف، مہین، ہماز، مشاء بنمیم، مناع للخیر، معتد، اثیم، عتل، زنیم۔

حرمت رسول ،ص: ۲۷۔

رى وكان شاعراً متفنناً فى كثير من العلوم وكان ممن يحضر مجلس القاضى أبى العباس بن طالب للمناظرة فرفعت عليه أمور منكرة من هذا الباب فى الإستهزاء بالله وأنبيائه ونبينا صلى الله تعالى عليه وسلم فأحضر له القاضى يحيى بن عمر وغيره من الفقهاء وأمر بقتله وصلبه فطعن بالسكين وصلب منكساً ثم أنزل

صفحہ 200

توہین رسالت کا شرعی حکم

وأحرق بالنار، وحكى بعض المؤرخين أنه لما رفعت خشبته و زالت عنها الأيدى استدارت وحولته عن القبلة فكان آية للجميع وكبر الناس وجاء كلب فولغ فى دمه فقال يحيى بن عمر صدق رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم وذكر حديثاً عنه صلى الله تعالى عليه وسلم أنه قال : ” لايلغ الكلب فى دم مسلم “۔

الشفاء ، ج:۲، ص: ۱۳۵۔

ترجمہ: اور فقہاء قیروان نے ابراہیم الفزاری کے قتل کا فتویٰ دیا تھا ،اور یہ ابراہیم الفزاری بے شمار علوم کا ماہر اور شاعر تھا۔ اور یہ قاضی ابوالعباس بن طالب کے مجلس میں مناظرے کے لئے حاضر ہوا کرتا تھا۔ اس پر یہ مقدمہ چلا کہ اس نے اللہ تعالیٰ ،انبیاء کرام اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کی ہے، اس کے لئے قاضی یحییٰ بن عمر اور اس کے علاوہ دیگر فقہاء حاضر ہوئے، اور قاضی نے اس کے قتل کرنے اور سولی چڑھانے کا حکم دیا، لہٰذا اس کے پیٹ میں چھرا گھونپا گیا، اور اوندھے منہ سولی چڑھایا گیا، پھر اتارا گیا اور آگ سے جلایا گیا، اور بعض مورخین نے یہ حکایت نقل کی ہے کہ جب اس کی سولی کی لکڑی بلند کی گئی اور لوگوں نے اسے چھوڑ دیا تو وہ گھوم گئی، اور اس کا منہ قبلہ سے پھیر دیا، تو یہ سب کے لئے عبرت بن گئی، اور لوگوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور ایک کتا آیا اور اس کے خون کو چاٹنے لگا تو قاضی یحییٰ بن عمر نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے سچ فرمایا ہے اور ایک حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: کسی مسلمان کا خون کتا نہیں چاٹتا۔

ما روى البخارى عن أنس قال: كان رجل نصرانيا فأسلم وكان يكتب للنبى ﷺ فعاد نصرانياً فكان يقول ما يدرى محمد إلا ما كتبت له، فأماته الله ، فدفنوه، فأصبح وقد لفظته الأرض، فقالوا هذا فعل محمد وأصحابه نبشوا عن صاحبنا، فألقوه، فحفروا له وأعمقوا، فأصبحوا وقد لفظته الأرض ، فعلموا أنه ليس من

توہین رسالت کا شرع

الناس فألقوه

ترجمہ: اور گستا سے یہ بات بھی ایک عیسائی آدمی عرصہ کے بعد وہ میں اس کے لئے اسے دفن کیا، صبح لگے کہ یہ محمد (ﷺ کفن چوری کی دفن کیا، لیکن صبح کہ یہ لوگوں کا کام

عثمان وتناو في ركبته فقتل

ترجمہ :مجاہد کر گھٹنوں پر رکھ کے گھٹنے میں آ پہلے مر گیا۔

کرتے ہوئے فرما کرتے تھے صاحب ان کے نام یہ ہیں المطلب، جب ان اللہ نے آپ

صفحہ 201

توہین رسالت کا شرعی حکم

الناس فألقوه۔

السيف المسلول، ص: ۱۱۳۔

ترجمہ: اور گستاخ رسول کے جرم کا مرتد کے جرم سے زیادہ سنگین ہونے کے دلائل میں سے یہ بات بھی ہے جو امام بخاری ؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک عیسائی آدمی مسلمان ہو گیا اور وہ نبی کریم ﷺ کے لئے وحی لکھا کرتا تھا، پھر کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ مرتد ہو گیا اور کہنے لگا کہ: محمد (ﷺ) کو صرف اسی چیز کا علم ہے جو میں اس کے لئے لکھا کرتا تھا (اور یہ گستاخی تھی) کچھ عرصہ کے بعد وہ مر گیا لوگوں نے اسے دفن کیا، صبح کو لوگوں نے دیکھا کہ زمین نے اسے باہر نکال پھینکا تھا، عیسائی کہنے لگے کہ یہ محمد (ﷺ) اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے کہ انہوں نے ہمارے ساتھی سے کفن چوری کی ہے، تو انہوں نے اس کے لئے خوب گہرا گڑھا کھودا اور اس میں اسے دفن کیا، لیکن صبح کو کیا دیکھتے ہیں کہ زمین نے اسے دوبارہ باہر پھینکا ہے، پس وہ سمجھ گئے کہ یہ لوگوں کا کام نہیں اور اسے چھوڑ دیا۔

عثمان وتناوله ليكسره على ركبته فصاح به الناس فأخذته الاكلة فى ركبته فقطعها ومات قبل الحول۔

الشفاء، ج:۲، ص: ۴۹۔

ترجمہ: جہجاہ غفاری نے حضرت عثمان ؓ سے نبی کریم ﷺ کا عصا مبارک لے کر گھٹنوں پر رکھ کر توڑنے لگا تو لوگوں کی چیخیں نکل گئیں۔ اس بے ادبی کی وجہ سے اس کے گھٹنے میں آکلہ کا مرض پیدا ہو گیا۔ اس نے گھٹنہ کاٹ ڈالا اور ایک سال سے پہلے پہلے مر گیا۔

کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ”یہ مستہزئین جو آپ ﷺ کے ساتھ اور قرآن کے ساتھ ٹھٹھا کرتے تھے صاحب قوت و وجاہت مشرکین کا ایک گروہ تھا، یہ لوگ رؤساء قریش میں سے تھے ان کے نام یہ ہیں، ولید بن مغیرہ، عاص بن وائل، حارث بن قیس، اسود بن عبد یغوث، اسود بن المطلب، جب ان لوگوں نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ استہزاء اور تمسخر میں حد سے تجاوز کیا تو اللہ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان کے استہزاء اور تمسخر کی طرف التفات نہ کریں ہم آپ

صفحہ 202

توہین رسالت کا شرعی حکم

کی طرف سے ان کے لئے کافی اور بس ہیں۔

ایک دن کا واقعہ ہے کہ آنحضرت ﷺ مسجد حرام میں تشریف فرما تھے اور جبریل امین بھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یہ پانچ مستہزئین مسجد حرام میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کو دیکھ کر ہنسے اور پھر طواف میں مشغول ہو گئے۔ جبریل امین بولے کہ مجھے حکم ہے کہ ان کے شر سے آپ ﷺ کو کفالت کروں پس ولید بن مغیرہ ادھر سے گزرا، جبریل امین نے ولید کی پنڈلی کی طرف اشارہ کیا اس کے بعد ولید کا ایک تیر ساز پر گزر ہوا جو تیر بنا رہا تھا ولید کی ازار اس میں الجھ گئی اس مغرور نے جھکنے کو عار سمجھا اس لئے وہ تیر اس کی ساق (پنڈلی) میں لگا جس سے خفیف سا زخم آیا مگر وہ ایسا پھوٹ نکلا کہ ولید اسی میں مر گیا۔ عاص بن وائل کا ادھر سے گزر ہوا جبریل امین نے اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا اور حضور پرنور ﷺ سے فرمایا قد کفیت (آپ کفایت کیے گئے) یہاں سے نکلنے کے بعد عاص بن وائل کے تلوے میں ایک کانٹا لگا جس سے اس کا پیر پھول گیا اور پھول کر چکی کے پاٹ کی طرح ہو گیا اور اسی میں مر گیا۔ اسود بن المطلب ادھر سے گزرا جبریل امین نے اس کی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اسی وقت نابینا ہو گیا اور مر گیا۔ بعض کہتے ہیں کہ جبریل کے اشارے کے بعد دیوانہ ہو گیا اور اسی دیوانگی میں اپنا سر ایک درخت سے جا کر مارنے لگا اور اسی میں مر گیا۔ اسود بن عبد یغوث کا ادھر سے گزر ہوا تو جبریل امین نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا تو اس کا پیٹ پھول گیا اور استسقاء ہو گیا اور ایک روایت میں ہے کہ اس کو لو لگی اور تمام بدن اس کا سیاہ ہو گیا جب گھر آیا تو گھر والوں نے اس کو پہچانا بھی نہیں اور اسی حالت میں مر گیا۔ حارث بن قیس ادھر سے گزرا تو جبریل امین علیہ السلام نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا جس سے اس کا سر پھول گیا اور اس پر اس قدر ورم آیا کہ اسی میں مر گیا۔ اس طرح سے اللہ نے اپنے نبی کے ساتھ استہزاء اور تمسخر کرنے والوں کو ہلاک کر دیا۔

تفسیر معارف القرآن، ج:۵، ص: ۴۲۰۔

حصہ میں موجود نہیں ہے، یہ وہ پہلا صدر تھا جس نے تین برسوں میں ایسی شان وشوکت سے حکومت کی، یکے بعد دیگرے پانچ وزیراعظم بھگتائے، مشرف کی طرح کئی برس ملک کے سیاہ وسفید کا مالک رہا، تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء کے وقت وہ ملک کا سیکرٹری دفاع

توہین رسالت کا شرعی حکم

تھا، اور وزیر خارجہ قادیانی ظفر کا وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ تھا ا داری خود قبول کی، یہ چھ ماہ تک نبوت وتحفظ ناموس رسالت لاہور شہر میں دس ہزار نو جوا معصوم بچوں نے جانوں کے میں آج بھی ان شہداء کی قب صاف ہوں۔

سکندر مرزا جس بنا، پھر صدر پاکستان بنا، ہلا کو تین ایوبی جرنیلوں جنرل سکندر مرزا کو بھگا کر اس سے تحفظ ختم نبوت او کیا اور فوراً کوئٹہ منتقل کیا گیا جائیگا، پھر تین دن کے بع پر پھر سات گھنٹے کراچی ہو کو جلاوطن کر دیا گیا، جلاو ڈائریاں سب کچھ چھین ل گاڑی رکھنے کے قابل ن دو پینشنوں میں سے ایک پاس موجود نہ تھے، پھر شاد پہلی بیوی کا 1967ء کو کہ گزارا، جنرل یحییٰ کے بیٹی نے بار بار اپیل کی کہ

صفحہ 203

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

تھا، اور وزیر خارجہ قادیانی ظفر اللہ تھا، اور مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت قائم ہو چکی تھی، پنجاب کا وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ تھا اور اس نے میجر جنرل اعظم کو مارشل لاء لگانے کا حکم دیا اور تمام ذمہ داری خود قبول کی، یہ چھ مارچ 1953ء کا دن تھا، تو پھر اس ملعون مارشل لاء کے ذریعہ فدائین ختم نبوت وتحفظ ناموس رسالت سے جو سلوک کیا گیا، وہ ہماری ملی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ صرف لاہور شہر میں دس ہزار نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا، اسی سالہ بوڑھوں سے لے کر چار سالہ معصوم بچوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے، یہ عاشقان مصطفیٰ کی تاریخ کے سنہری باب میں آج بھی ان شہداء کی قبور سے عشق مصطفیٰ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں، مگر شرط ہے کہ کان صاف ہوں۔

سکندر مرزا جس نے عاشقان مصطفیٰ کی لاشوں کو دریا کے حوالے کرایا، وہ گورنر جنرل بنا، پھر صدر پاکستان بنا، بالآخر صدر ایوب خان کے ہاتھوں زوال پذیر ہوا، 27 اکتوبر 1958ء کو تین ایوبی جرنیلوں جنرل اعظم خان، جنرل برکی، جنرل شیخ نے آدھی رات کے وقت سکندر مرزا کو جگا کر اس سے اسلحہ کی نوک پر استعفیٰ لیا۔

تحفظ ختم نبوت و ناموس رسالت کے اس غدار کو شب خوابی کے لباس میں ہی گرفتار کیا اور فوراً کوئٹہ منتقل کیا گیا، اور ایسی جگہ رکھا کہ اب اسے علم نہ تھا کہ وہ قتل کر دیا جائیگا یا بچ جائیگا، پھر تین دن کے بعد اس کو کراچی منتقل کیا گیا چار گھنٹے ماڑی پور کے ہوائی اڈے پر پھر سات گھنٹے کراچی ہوائی اڈے پر سکندر مرزا کو انتظار کی اذیت میں مبتلا رکھا گیا، پھر اس کو جلاوطن کر دیا گیا، جلاوطنی سے قبل اس کے روپے پیسے، قیمتی اشیاء اور ذاتی کاغذات ، ڈائریاں سب کچھ چھین لیا گیا، سکندر مرزا لندن جلاوطن ہو گیا، وہ وہاں پر سواری کے لئے اپنی گاڑی رکھنے کے قابل نہ تھا، وہ عام بسوں میں سفر کرتا ، سودا سلف خود لاتا، اس کی دو پینشنوں میں سے ایک پینشن حکومت نے ضبط کر لی، اور جب وہ بیمار ہوا تو علاج کے لئے پیسے پاس موجود نہ تھے، پھر شاہ ایران نے علاج کے لئے خرچہ دیا، 1966ء میں دل کا دورہ پڑا، اس کی پہلی بیوی کا 1967ء کو کراچی میں انتقال ہوا، لیکن وہ جنازے پر نہ آسکا، دس برس کا طویل عرصہ گزارا، جنرل یحییٰ کے دور اقتدار میں وطن آنے کی خواہش ظاہر کی مگر اجازت نہ مل سکی، اس کی بیٹی نے بار بار اپیل کی کہ ایک دفعہ پاک وطن میں آنے کی اجازت دی جائے، مگر جنرل یحییٰ کبھی

PDF 204

توہین رسالت کا شرعی حکم

اجازت نہ دے سکا، ان شاء اللہ مشرف کا اس سے بھی برا حال ہوگا، پھر 31 نومبر 1969ء کو لندن میں جلاوطنی کے عالم میں جہاں سے گزر گیا، موت کے وقت صرف اس کے پاس اس کی دوسری بیوی موجود تھی، دفن کرنے کے لئے کوئی موجود نہیں تھا ، شاہ ایران نے اس کو ایران کے ”رے“ قبرستان میں دفن کرا دیا، مگر ایران میں شیعہ انقلاب کے بعد 9 فروری 1979ء سکندر مرزا کی قبر مسمار کر دی گئی، اور اس کی ہڈیوں کو نکال کر دریا میں پھینک دیا گیا۔

یہ قدرت کا عجیب انتقام ہے کہ شہدائے ختم نبوت و ناموس رسالت کی قبور آج بھی خاص و عام کے لئے زیارت گاہ ہیں، جبکہ سکندر مرزا کو دنیا میں کہیں بھی قبر نہیں ملی۔

بشکریہ: روزنامہ اسلام قاری عبد الوحید قاسمی صاحب مدظلہ۔

بھٹو کا پھانسی کا فیصلہ سنایا تھا، پھر ضیاء الحق دور میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور پھر چیف الیکشن کمشنر بھی بنے تھے، غدارِ ناموس رسالت قادیانی ظفر اللہ سے ملاقات کر کے اس ووٹر فارم سے حلف نامہ ختم نبوت ختم کرا دیا، اور نئے فارم شائع کرا دیئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس وقت کے رہنماؤں نے فوراً اس کے خلاف تحریک شروع کر دی، اس وقت کے رہنماؤں میں مولانا تاج محمود اور مولانا محمد شریف جالندھری نے قائد جمعیت مولانا مفتی محمود کو ساری صورت حال سے مطلع کیا، مولانا مفتی محمود اس وقت ہسپتال میں داخل تھے، فوراً نواب زادہ نصر اللہ کو صدر ضیاء الحق کے پاس روانہ کیا، لیکن وہ نہ مانا اور عمرہ پر چلا گیا، پھر علماء کرام نے احساس دلایا تو حضرت مفتی صاحب اٹھے اور ویل چیئر پر ہسپتال کے کاؤنٹر پر جا کر فون پر سعودی عرب میں ضیاء الحق سے بات کی، اور حلف نامہ ختم نبوت بحال کرایا، یوں جسٹس مشتاق حسین اور قادیانی سازش ناکام ہوئی۔

یہ شخص ایک وقت میں بڑی شان وشوکت کا مالک تھا، پھر حالات کا دھارا بدلا اور 25 مارچ 1981ء کو اس کو جبری ریٹائرڈ کر دیا گیا، اور گھر جا کر بھی سکون نہ مل سکا، 25 ستمبر 1981ء کو لاہور میں اس کی کار پر حملہ ہوا، جس میں وہ شدید زخمی ہوا پولیس کے پہرے میں یہ دن گزارتا رہا، زندگی بوجھ بن گئی، بالآخر فالج کا حملہ ہوا اور شیخ زید ہسپتال میں انتقال ہوا۔

31 مارچ 1989ء کو جسٹس کی ڈیڈ باڈی اس کی رہائش گاہ B / 55 ماڈل ٹاؤن

توہین رسالت کا شرعی حکم

لاہور سے اٹھا کر نواز شریف پارک لا مکھیوں نے یلغار کر دی، مکھیوں کا حملہ گئے شہد کی مکھیوں کے کاٹنے سے تما سے جنازہ تنہا رہ گیا، تو شہد کی مکھیاں چار ملازم آئے جنھوں نے پلاسٹک ک میں رکھا تو شہد کی مکھیوں نے وہاں بھی ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ شمشان بھومی م مرحلے کا یہ انجام قابل عبرت ہے۔

بشکریہ: روزنامہ

رب کریم سے دعا ہے کہ وہ فرمائیں اور اس کو ہماری نجات، حفاظت

ہیں، وہ کہتے ہیں کہ 1966/67ء م ایڈ کا طالب علم تھا، وہاں ہمارے ایک واقعہ کلاس روم میں سنایا کہ میں بیروت قبل) کے بہت سے طلبہ و طالبات زم الٹرا ماڈرن قسم کی تھی، اس کا تعلق ہند فیشن کے طور پر کمیونزم کا پرچار کر رہی رہی تھی، کہ اس ناہنجار لڑکی نے آپ اسے بے نقط سنائیں، اور بہت برا بھ ہوا کہ مجھ پر اور اس نابکار لڑکی پر ج میں برس کا حملہ ہوا، اس نے اپنے جسم ہسپتالوں سے رجوع کیا، لیکن برس کا ہوگئی، ہندوستان واپسی پر اس کا کہیں پ

صفحہ 205

205 AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA توہین رسالت کا شرعی حکم

لاہور سے اٹھا کر نواز شریف پارک لائی گئی، ابھی لوگ صفیں سیدھی کر رہے تھے کہ یکا یک شہد کی مکھیوں نے یلغار کر دی، مکھیوں کا حملہ اتنا شدید تھا کہ لوگ اپنے جوتے بھی وہیں چھوڑ کر بھاگ گئے شہد کی مکھیوں کے کاٹنے سے تین افراد جاں بحق اور پانچ زخمی ہو گئے، لوگوں کے بھاگنے سے جنازہ تنہا رہ گیا، تو شہد کی مکھیوں نے کفن پر ڈنگ مارنے شروع کر دیئے، پھر پولیس کے چار ملازم آئے جنھوں نے پلاسٹک کا لباس پہنا ہوا تھا، انھوں نے جنازہ اٹھا کر دوسرے پارک میں رکھا تو شہد کی مکھیوں نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا، پھر لکڑیاں اور ٹائر جلا کر مکھیوں کو دور کیا گیا، ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ شمشان بھومی منظر پیدا ہو گیا ہے۔ اس گستاخ کے سفر آخرت کے پہلے مرحلے کا یہ انجام قابل عبرت ہے۔ بشکریہ: روزنامہ اسلام بقاری عبدالوحید قاسمی صاحب مدظلہ۔

رب کریم سے دعا ہے کہ وہ ہماری اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائیں اور اس کو ہماری نجات، حفاظت اور فلاح کامل کا سبب بنائیں۔

10...... پروفیسر میاں محمد یعقوب شعبہ اردو نیشنل سائنس کالج گوجرانوالہ اس واقعہ کے راوی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ 1966/67 کی بات ہے میں لاہور کے سنٹرل ٹریننگ کالج میں بی ایڈ کا طالب علم تھا، وہاں ہمارے ایک بزرگ پروفیسر تھے، چوہدری فضل حسین، انھوں نے یہ واقعہ کلاس روم میں سنایا کہ میں بیروت کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا وہاں ہندوستان (تقسیم سے قبل) کے بہت سے طلبہ و طالبات زیر تعلیم تھے، ان میں سے ایک لڑکی بہت شوخ و شنگ اور الٹرا ماڈرن قسم کی تھی، اس کا تعلق ہندوستان کے کسی مسلمان نواب گھرانے سے تھا، وہ خود شاید فیشن کے طور پر کمیونزم کا پرچار کر رہی تھی، ایک دن بک شاپ پر اسلام اور کمیونزم کی بحث چل رہی تھی، کہ اس ناہنجار لڑکی نے آپ ﷺ کی شان میں ایک آدھ نازیبا لفظ کہہ دیا، میں نے اسے بے نقط سنائیں، اور بہت برا بھلا کہا، اور ہمیشہ کے لئے اس سے قطع کلامی کر لی، پھر یوں ہوا کہ مجھ پر اور اس نابکار لڑکی پر جو اپنی امارت اور حسن پر بہت نازاں تھی، دوران تعلیم ہی میں برص کا حملہ ہوا، اس نے اپنے حسن کو بچانے کے لئے اس وقت کے اعلیٰ ترین ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے رجوع کیا، لیکن برص پھیلتا چلا گیا، اور خود بھی پھولتی چلی گئی، یعنی بے اندازہ موٹی ہو گئی، ہندوستان واپسی پر اس کا کہیں رشتہ نہ ہو سکا، اور اپنی اس بری شکل کی وجہ سے اس نے

صفحہ 206

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

گھر سے نکلنا بھی چھوڑ دیا، اور وہ جو کبھی جان محفل ہوا کرتی تھی ، سوسائٹی میں نسیا منسیا ہوگئی۔ ادھر واپسی کے بعد میں نے جہلم کے ایک معمولی سے ڈاکٹر سے علاج کروایا اور اللہ کے فضل سے ( چہرہ پر ایک آدھ داغ کے سوا ) شفا ہو گئی، ساری کلاس نے سوال کیا، جناب! اسے تو آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے سبب یہ سزا ملی، آپ پر برص کیوں حملہ آور ہوا؟ بوڑھے پروفیسر کے جواب نے نہ صرف پوری کلاس کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا، بلکہ سب کو آنسوؤں سے رلا دیا ، فرمایا: مجھے اس وجہ سے برص ہوا کہ میں نے گالیوں پر اکتفا کیوں کیا؟ اور اسے اسی دم قتل کیوں نہ کر دیا۔

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام، ص:۷۷

11....... اکانوے ہجری میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے حکم سے مدینہ منورہ کے گورنر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مسجد نبوی کی تعمیر کے لئے قبر انور کے حجرہ کی دیواروں کو منہدم کرنے کا حکم دیا، دیوار گرتے ہی قبر انور نظر آنے لگی، ایک رومی معمار نصرانی تھا، اس نے یہ دیکھ کر کہ اس وقت مسجد میں کوئی مسلمان موجود نہیں ہے، اپنے نصرانی ساتھیوں سے کہا کہ: پیغمبر اسلام (ﷺ) کی قبر پر پیشاب کروں گا (والعیاذ باللہ ) اس کے ساتھیوں نے اس کو اس ناپاک ارادہ سے ہر چند منع کیا، مگر وہ ملعون نہیں مانا، لیکن وہ ابھی اس ارادہ سے چلا ہی تھا کہ اوپر سے ایک پتھر اس کے سر پر گرا اور اس کا مغز پاش پاش ہو کر بکھر گیا، یہ معجزہ دیکھ کر بہت سے نصرانی معمار اسی وقت مشرف با اسلام ہو گئے۔

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام، ص:۲۹۴

12....... ۲۶۵ ہجری میں بصرہ کے ایک گاؤں میں اللہ کا ایک بندہ مجمع عام میں مسواک کی فضیلت پر بیان کر رہا تھا، کہ مسواک وضو میں مسنون ہے، سید المرسلین، خاتم النبیین ﷺ نے مسواک کرنے کی بار بار تاکید فرمائی، صحابہ کرام کی یہ حالت تھی کہ مسواک کان مبارک پر قلم کی طرح رکھتے تھے، جس وضو میں مسواک استعمال ہو اس وضو والی نماز کا ثواب ستر گنا زیادہ ہو جاتا ہے، مسواک پل صراط پر سے جلدی گزرنے میں معاون ہے، پروردگار کی خوشنودی کا باعث ہے، شیطان کو ناراض کرتی ہے، سب سے بڑی خوبی موت کے وقت شہادتین کا یاد دلانا ہے، جس کی ہر مسلمان مومن دلی آرزو رکھتا ہے، ایسی ادائے محبوب ہے جو اپنے اندر بیش از بیش فوائد رکھتی ہے۔

لوگو! اس سے غافل نہ ہونا، جبکہ ہمیں فخر عالم ﷺ کی محبت کی پر تاثیر عقیدت کا حکم

توہین رسالت کا شرعی حکم ہے کہ آقائے دو جہاں سے تقریر سن رہے تھے اڑایا اور علی الاعلان ا میں مسواک کو اپنے م بھری محفل میں مسوا حیانہ حرکت کرنے پر ل رہتی تھی، نویں مہینے وصورت یہ تھی کہ چہر دم، پچھلا حصہ خرگوش نے بھی دیکھا ،اس ل بعد دو دن زندہ رہا، حیرت انگیز جانور کو ا دیکھا اور بہت سوں ۔ رَبَّنَا تَقَبَّل التَّوَّابُ الرَّ

صفحہ 207

توہین رسالت کا شرعی حکم ہے کہ آقائے دو جہاں کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرو، عقل میں آئے یا نہ آئے، بتمام سامعین خاموشی سے تقریر سن رہے تھے، مجمع سے ایک بدبخت ابو اسلام نامی نے اٹھ کر سنت محبوب ﷺ کا مذاق اڑایا اور علی الاعلان اپنی گندی زبان سے بکواس کرتا رہا، بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا، کہ میں مسواک کو اپنے مقعد (پاخانے کی جگہ) میں استعمال کروں گا، معاذ اللہ۔ اس بے حیا نے بھری محفل میں مسواک کو اپنے پاخانے والی جگہ میں رکھ کر تھوڑی دیر بعد باہر نکال دیا، اس بے حیا نہ حرکت کرنے پر نو مہینے گزرے اس دوران اس کے پیٹ اور پاخانے کی جگہ میں برابر تکلیف رہتی تھی، نویں مہینے اس کے پیٹ سے ایک جانور نکلا جو چوہے سے مشابہ تھا، اس کی شکل وصورت یہ تھی کہ چار پاؤں تھے، منہ مچھلی کی مانند چار دانت باہر کو نکلے ہوئے، ایک بالشت لمبی دم، پچھلا حصہ خرگوش کی مانند، نکلنے کے بعد جانور زور سے چیخا، اس ہوش ربا چیز کو ابو اسلام کی لڑکی نے بھی دیکھا، اس لڑکی نے ایک پتھر سے اس جانور کا منہ کچل ڈالا، ابو اسلام جانور کو جننے کے بعد دو دن زندہ رہا، تیسرے دن یہ کہتے ہوئے مرا کہ : مجھے اس جانور نے قتل کر دیا ہے، اس حیرت انگیز جانور کو اس اطراف کے بہت سے لوگوں نے دیکھا کتوں نے اس جانور کو زندہ دیکھا اور بہت سوں نے مردہ دیکھا۔

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام، ص: ۲۹۵

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ
التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ

العبد الضعیف ساجد خان اتلوی عفی عنہ ١٤٣٢/٥/١٤ھ

صفحہ 208

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA 208

ضمیمہ

موجودہ دور کے فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ یہ بھی ہے کہ اپنے بزرگوں اور اکابر پر سے اعتماد کو ہٹایا جا رہا ہے۔ تحقیق اور ریسرچ کا ملمع لیبل لگا کر اسلاف کے علمی کاوشوں کو داغدار بنانے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔ اور یہ سب کچھ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب ایک مرتبہ لوگوں کا اپنے اسلاف پر سے اعتماد کمزور پڑ جائے گا تو پھر ان تحقیق کے دعویداروں کے لئے شرعی احکام میں عیب جوئی آسان ہوجائے گی۔ چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے متفق علیہ مسائل جن پر آج تک امت کا اتفاق چلا آ رہا ہے، تحقیق کے نام پر ایسے مسائل کو بھی تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔ چرب زبانی اور قلم کی تیزی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فقہائے امت کے کردار پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ شاید اسی دور کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ”لعن آخر هذه الأمة أولها“ کہ قربِ قیامت میں اس امت کے آخری لوگ گزرے ہوئے لوگوں پر طعن وتشنیع کریں گے۔

انہی فتنوں میں سے ایک فتنہ عنواناً ”فتنہ غامدی“ بھی ہے۔ ہمارے لئے اس فتنے نے جہاں اور بے شمار مسائل پیدا کئے ہیں، وہاں ایک بہت بڑی مصیبت یہ بھی ہے کہ یہ فتنہ ہمارے کئی ایک مستند علمی گھرانوں میں داخل ہوا ہے یا ہونے کی کوشش کر رہا ہے بعض گھرانے ایسے ہیں کہ ان کے مسلمہ دینی و علمی خدمات کی وجہ سے آج ہم ان کا نام لینا اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتے ہیں لیکن صد افسوس کہ اس فتنہ غامدی نے ایسے علمی گھرانوں کے کئی ایک چشم چراغوں کو اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے۔

امام اہل السنت حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب ؒ اور مفسر قرآن حضرت مولانا صوفی عبدالحمید سواتی صاحب ؒ ہمارے سروں کے ایسے تاج ہیں کہ جن کو سجانا ہم اپنا اعزاز وافتخار سمجھتے ہیں اور آج ہم ایسے بزرگوں کے نام لیوا ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں، اسی طرح حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللہ اور حضرت مولانا عبدالقدوس قارن

توہین رسالت کا شرعی حکم صاحب حفظہ اللہ پر آ... گھرانے میں پھلنے پھولنے کے نام پر اختلاف پیدا کرنے ک... مثبت تنقید ک... از کم اتنا تو ضرور ہونا چ... آج اکیسویں صدی کا... کچھ نہیں۔ ہمارے محترم ... ایک کتاب لکھی ہے جس م... ابن تیمیہ ؒ پر بدترین ت... ان گزرے ہوئے بزرگوں کو حالانکہ خود جناب عمار صاحب... توہین رسالت کا نہ صرف چود... کے لئے تنویر کے نام سے ایک... محترم جناب عمار خا... ہیں جس میں بفضل اللہ تعالیٰ ... ہر ہر استدلال کا جواب موجود... افکار“ کے نام سے شائع ہوجا... وجہ سے ہم یہاں مختصراً جناب ... ہیں کہ جناب نے کس طرح سے ... صاحب سے ہماری کوئی ذاتی ... ہمارے لئے باعثِ صد احترام ... ضروری سمجھا کہ اس مسئلے میں ان... عنوان سے عمار صاحب کے مر... ان پر تبصرہ کریں گے۔ وما عل...

صفحہ 209

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

صاحب حفظہ اللہ پر آج بھی ہم فخر کرتے ہیں، لیکن افسوس یہ ہے کہ ایسے علم کے آفتاب و ماہتاب گھرانے میں پھلنے پھولنے کے باوجود جناب عمار خان ناصر صاحب ایسے مسائل میں تحقیق کے نام پر اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ جن پر امت کے سواد اعظم کا اتفاق ہے۔ مثبت تنقید کی ہمیشہ سے حوصلہ افزائی ہوتی چلی آ رہی ہے، لیکن تنقید کرنے کے لئے کم از کم اتنا تو ضرور ہونا چاہئے کہ جس پر آدمی تنقید کرے اس کے برابر درجے کا علم و تفقہ رکھتا ہو۔ آج اکیسویں صدی کا طالب علم اگر متقدمین پر تنقید کرنے بیٹھ جائے تو یہ سوائے گمراہی کے اور کچھ نہیں۔ ہمارے محترم جناب عمار خان ناصر صاحب نے ”توہین رسالت کا مسئلہ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے تحقیق کے نام پر اسلاف امت اور بالخصوص حضرت امام ابن تیمیہ ؒ پر بدترین قسم کی تنقید کی ہے۔ پوری کتاب پڑھنے سے قاری یہی تاثر لیتا ہے کہ ان گزرے ہوئے بزرگوں کو مسئلے کی تحقیق نہیں تھی اور اصل تحقیق صاحب کتاب نے کی ہے، حالانکہ خود جناب عمار صاحب نے اپنی اس تحقیق سے نادانستہ طور پر (اللہ کرے کہ نادانستہ ہو) توہین رسالت کا نہ صرف چور دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش کی ہے بلکہ اس جرم عظیم کے مرتکبین کے لئے تعزیر کے نام سے ایک نوید سحر فراہم کی ہے۔

محترم جناب عمار خان ناصر صاحب کی کتاب کا ہم مدلل و مفصل جواب لکھ رہے ہیں جس میں بفضل اللہ تعالیٰ عمار صاحب کی کتاب کی ایک ایک عبارت پر گرفت اور ان کے ہر ہر استدلال کا جواب موجود ہے، اور عنقریب ”توہین رسالت کا مسئلہ اور غامدی عناصر کے افکار“ کے نام سے شائع ہو جائے گی۔ تاہم بعض حضرات علماء کرام کی نشاندہی اور توجہ دلانے کی وجہ سے ہم یہاں مختصراً جناب عمار صاحب کی کتاب کی چند جھلکیاں قارئین کرام کو دکھاتے ہیں کہ جناب نے کس طرح سے تحقیق کے لبادے میں کیچڑ اچھالا ہے۔ یاد رہے کہ جناب عمار صاحب سے ہماری کوئی ذاتی بغض و عداوت نہیں، بلکہ اپنے معتمد علمی خاندان کی وجہ سے وہ ہمارے لئے باعث صد احترام ہیں، لیکن چونکہ بات ایک حکم شرعی کی ہے اس وجہ سے ہم نے یہ ضروری سمجھا کہ اس مسئلے میں ان کے باطل نظریات کی تردید کی جائے۔ یہاں پر ہم عبارت کے عنوان سے عمار صاحب کے صرف چند ایک عبارتوں کو پیش کریں گے اور جواب کے عنوان سے ان پر تبصرہ کریں گے۔ وما علینا الا البلاغ المبین۔

صفحہ 210

توہین رسالت کا شرعی حکم

عبارت نمبر 1...... ”سب سے پہلے تو یہاں ایک خلط مبحث کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے جو اس مسئلے کے حوالے سے عام طور پر پایا جاتا ہے اور بہت سے کبار اہل علم کے ہاں بھی اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ وہ یہ کہ فقہائے احناف اور جمہور فقہاء کے مذکورہ اختلاف کی تعبیر عام طور پر یوں کر دی جاتی ہے کہ جمہور اہل علم توہین رسالت پر سزا کو حد یعنی شریعت کی مقرر کردہ لازمی سزا سمجھتے ہیں جبکہ احناف کے نزدیک یہ سزا تعزیری اور صوابدیدی سزا ہے۔ ہماری رائے میں یہ تعبیر بالکل غلط اور اختلاف کی نوعیت پر بالکل غور نہ کرنے یا شدید قسم کے سوء فہم کا نتیجہ ہے۔ فقہاء کے مابین اختلاف اس سزا کے حد ہونے یا نہ ہونے میں نہیں اور احناف کی طرح جمہور صحابہ و تابعین، جمہور ائمہ مجتہدین اور جمہور محدثین بھی اس کو تعزیر ہی سمجھتے ہیں۔“

توہین رسالت کا مسئلہ، ص: 16۔

جواب: اس مذکورہ عبارت میں جناب عمار صاحب نے اپنی ناقص عقل کو معیار بنا کر اسلاف امت کو سوء فہم کا شکار ٹھہرایا ہے، حالانکہ جناب کو یہ معلوم نہیں کہ امت کے فقہاء کرام سوء فہم کے مریض نہیں بلکہ خود جناب عقل سے خالی ہیں کیونکہ اگر آنجناب ذرا ہمت کر کے فقہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے تو آج بزرگان دین کو مطعون نہ کرتے۔ چنانچہ خاتمۃ المحققین حضرت علامہ شامی ؒ اپنی کتاب ”تنبیہ الولاۃ والحکام“ میں فرماتے ہیں کہ:

”فاعلم أن مشهور مذهب مالك وأصحابه وقول السلف وجمهور العلماء قتله حداً لا كفراً“ رسائل ابن عابدین، ج: 1، ص: 320۔

علامہ شامی ؒ تو فرما رہے ہیں کہ جمہور علماء اور سلف صالحین کا قول یہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کی سزائے موت بطور حد کے ہے جب کہ عمار صاحب لکھتے ہیں کہ: ”جمہور ائمہ مجتہدین اور جمہور محدثین بھی اس کو تعزیر ہی سمجھتے ہیں“ اب کوئی عمار صاحب سے یہ پوچھے کہ وہ کون سے جمہور مجتہدین و محدثین ہیں کہ جن کا علم علامہ شامی کو نہ ہو سکا اور وہ یہ لکھ بیٹھے کہ جمہور علماء کے ہاں یہ سزا بطور حد کے ہے۔

اسی طرح امام ابوبکر فارسی ؒ نے گستاخ رسول کے لئے سزائے موت کے بطور حد متعین ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

”وقد حكى أبو بكر الفارسي من أصحاب الشافعي إجماع

صفحہ 211

توہین رسالت کا شرعی حکم المسلمين على أن حد من سب النبي ﷺ القتل كما أن حد من سب غيره الجلد

الصارم المسلول ،ص: ۱۲۔

ترجمہ: امام ابوبکر فارسی ؒ نے جو کہ حضرت امام شافعی ؒ کے اصحاب میں سے ہیں مسلمانوں کا اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کی گستاخی کرے اسے حداً قتل کیا جائے جس طرح کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی اور کو گالی دینے والے کی حد یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں۔

اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

” وهذا الإجماع الذي حكاه هذا محمول على إجماع الصدر الاول من الصحابة والتابعين“

الصارم المسلول، ص:۱۲۔

ترجمہ: یہ اجماع جو امام ابوبکر فارسی ؒ نے نقل کی ہے اس سے مراد صدر اول یعنی صحابہ کرام اور حضرات تابعین کا اجماع ہے۔

اب یہاں پر ایک طرف امام ابن تیمیہ ؒ تو یہ فرما رہے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام اور تابعین عظام کا اس بات پر اجماع ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کو حداً قتل کیا جائے اور دوسری طرف جناب عمار صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ: ”احناف کی طرح جمہور صحابہ و تابعین، جمہور ائمہ مجتہدین اور جمہور محدثین بھی اسے تعزیر ہی سمجھتے ہیں“۔ اب سوال یہ ہے کہ جن جمہور صحابہ کرام اور تابعین عظام کی بات عمار صاحب کر رہے ہیں آیا امام ابوبکر فارسی ؒ کو ان کا علم نہیں تھا اور خواہ مخواہ اجماع نقل کر دیا، اور پھر آیا امام ابن تیمیہ ؒ کو بھی اس بات کا علم نہ ہوا اور انہوں نے بھی امام ابوبکر فارسی ؒ کے حکایت کردہ اجماع کو حضرات صحابہ کرام اور تابعین عظام کے اجماع پر محمول کر دیا، اور پھر آیا آج تک اس پوری امت میں سوائے عمار صاحب کے کسی اور کو اس غلطی کا ادراک نہ ہوسکا اور اکیسویں صدی میں آکر جناب عمار صاحب کا ”تفقہ فی الدین“ اتنا بڑھ گیا کہ انہوں نے متقدمین کی غلطیوں کا تدارک شروع کر دیا۔

یاللعجب

عبارت نمبر ۲....... ”جمہور فقہاء کے استدلال کا بغور جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کے ہاں توہین رسالت پر سزائے موت کے باب میں روایات و آثار کا حوالہ دراصل قانونی

صفحہ 212

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

نظائر کی حیثیت سے تائیدی طور پر دیا جاتا ہے، نہ کہ اس سزا کو حد شرعی ثابت کرنے کے لئے اصل مآخذ کے طور پر۔ ان کا زاویہ نظر یہ ہے کہ جن غیر مسلموں کو معاہدۂ ذمہ کے تحت جان کی امان دی گئی، وہ اس سے پہلے حربی اور مباح الدم تھے، اور انھیں جان کا تحفظ معاہدہ ہی کے تحت حاصل ہوا تھا، چنانچہ ان میں سے کوئی شخص اگر کسی ایسے جرم کا مرتکب ہوتا ہے جو معاہدہ کے شرائط کے خلاف ہو تو اس سے معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے، اور نتیجتاً اس کے مباح الدم ہونے کی وہ سابقہ قانونی حیثیت لوٹ آتی ہے جو عقدِ ذمہ سے پہلے تھی، صحیح بخاری کے شارح ابن بطال ؒ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: وحجة من رأى القتل على الذمى بسبه أنه قد نقض العهد الذى حقن دمه إذ لم يعاهد على سبه فلما تعدى عهده عاد إلى حال کافر لا عهد له فوجب قتله ۔“ شرح صحیح البخاری،ج:۸،ص:۵۸۱۔

جواب:....... یہاں اس عبارت میں جناب عمار صاحب نے اپنے مفروضہ پر علامہ ابن بطال ؒ کے قول سے استدلال کیا ہے، لیکن جناب اگر ذرا ہمت کر کے ”کتاب الجہاد“ میں علامہ ابن بطال ؒ کی عبارت پڑھ لیتے تو شاید یہ تمسک نہ کرتے، چنانچہ وہاں پر علامہ ابن بطال ؒ فرماتے ہیں کہ: ”إن قتل ابن الأشرف هو من باب أن من آذى الله ورسوله قد حل دمه، ولا أمان له يعتصم به، فقتله جائز على كل حال۔“

ترجمہ:....... کعب ابن اشرف کو اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دی تھی، جس کی وجہ سے اس کا خون حلال ہو گیا تھا، اور اسے کوئی امان حاصل نہ رہا جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہتا، تو اس کو قتل کرنا ہر حال میں جائز تھا۔

اور علماء نے یہ صراحت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کی گستاخی کرنا آپ کو اذیت دینا ہے، چنانچہ امام تقی الدین السبکی ؒ فرماتے ہیں کہ الساب مؤذ والمؤذى کافر

ترجمہ:....... گستاخی کرنے والا اذیت دینے والا ہے اور اذیت دینے والا کافر ہے۔

اب قارئین کرام غور فرمائیں! کہ ابن بطال ؒ فرماتے ہیں کہ ابن اشرف کو اس

صفحہ 213

توہین رسالت کا شرعی حکم

وجہ سے قتل کیا گیا کہ اس نے نبی کریم ﷺ کو اذیت دی تھی، اور بقول امام سبکی ؒ کے گستاخی کرنا اذیت دینا ہے، جب کہ عمار صاحب فرمارہے ہیں کہ: ”فقہاء کرام روایات کا حوالہ دراصل قانونی نظائر کی حیثیت سے تائیدی طور پر دیتے ہیں نہ کہ حد شرعی کو ثابت کرنے کے لئے اصل مآخذ کے طور پر۔“

اب سوال یہ ہے کہ اگر فقہاء کرام اصل ماخذ کے طور پر روایات کو ذکر نہیں کرتے تو پھر علامہ ابن بطال ؒ کی عبارت ”إن قتل ابن الأشرف ہو من باب أن من آذی اللہ ورسولہ قد حل دمہ“ کا کیا مطلب؟

اسی طرح حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ کی عبارت: ”قولہ: من لکعب الأشرف؟ جواز قتل من سب رسول اللہ ولو کان ذا عہد محلا فلأبی حنیفۃ کذا قال ولیس متفقاً علیہ عند الحنفیۃ۔“ کا کیا مطلب ہوگا؟

سنن ابی داود میں مذکور حضرت ابو برزہ ؓ کی روایت ذکر کرنے کے بعد امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ:

”وقد استدل بہ علی جواز قتل سآب النبی جماعۃ من العلماء منہم أبو داود، وإسماعیل بن إسحاق القاضی، وأبو بکر عبدالعزیز، والقاضی أبو یعلی وغیرہم من العلماء۔“

الصارم المسلول، ص: ۷۷۔

ترجمہ: ...... علماء کی ایک جماعت نے جن میں امام ابو داود، قاضی اسماعیل بن اسحاق ابوبکر عبدالعزیز اور قاضی ابویعلی رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے اہل علم حضرات شامل ہیں، اس روایت سے گستاخ رسول کے قتل کے جواز پر استدلال فرمایا ہے۔

اب یہاں امام ابن تیمیہ ؒ فقہاء کرام کے نام گن گن کر فرمارہے ہیں کہ انھوں نے اور ان کے علاوہ اور بہت سے فقہاء کرام نے حضرت ابو برزہ ؓ کی روایت سے گستاخ رسول کے قتل پر استدلال فرمایا ہے۔ جبکہ عمار صاحب فرمارہے ہیں کہ فقہاء کرام روایات کو صرف قانونی نظائر کی حیثیت سے تائیدی طور پر ذکر فرماتے ہیں، اصل ماخذ کے طور پر نہیں۔ عمار صاحب الفاظ کی ہیرا پھیری کو چھوڑ کر ذرا یہ غور فرمائیں کہ آیا علامہ ابن بطال ؒ

صفحہ 214

توہین رسالت کا شرعی حکم

حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ اور امام ابن تیمیہ ؒ فقہاء میں شامل ہیں یا نہیں؟ اور آیا امام ابوداود، قاضی اسماعیل بن اسحاق، ابوبکر عبدالعزیز اور قاضی ابو یعلی رحمہم اللہ تعالیٰ کو آنجناب فقہاء میں شمار کریں گے یا امام ابن تیمیہ ؒ سے غلطی ہوگئی، اور انھوں نے کم علمی کی وجہ سے ان کا نام فقہاء میں شمار کیا ہے؟

عبارت نمبر ۳...... ”جمہور فقہاء کے موقف کی اصل قانونی اساس یہی نکتہ ہے جو صاف بتاتا ہے کہ وہ اس سزا کو استدلال اور استنباط پر مبنی سمجھتے ہیں نہ کہ شریعت کی طرف سے مقرر کردہ کوئی حد، حتی کہ امام ابن حزم ظاہری نے بھی، جنھوں نے پوری فقہی لٹریچر میں غالباً سب سے زیادہ سخت لب ولہجہ میں احناف کے اس موقف پر تنقید کی ہے، اپنی کتاب ”المحلی“ میں فقہاء احناف کے اس بنیادی نکتہ سے اتفاق ظاہر کیا ہے کہ ایک غیر مسلم کے حق میں سب وشتم کا ارتکاب فی نفسہ موجبِ قتل نہیں ہوسکتا، کیونکہ سب وشتم کفر ہی کی ایک صورت ہے، اور غیر مسلم معاہد کو کسی کفر کے ارتکاب پر قتل نہیں کیا جاسکتا۔“

توہین رسالت کا مسئلہ، ص: ۱۸

جواب:...... امام ابن حزم ظاہری ؒ نے اسی ”المحلی“ میں جس سے عمار صاحب نے تمسک کیا ہے، ایک دوسری جگہ تحریر فرمایا ہے کہ:

”فبين أبو بكر الصديق رضى الله تعالىٰ عنه أنه لايقتل من شتمه، ولكن يقتل من شتم النبى صلى الله تعالىٰ عليه وسلم ،وقد علمنا أن دم المسلمين حرام، إلا بما أباحه الله تعالىٰ به، ولم يبحه الله تعالىٰ قط إلا فى الكفر بعد الإيمان أو زنى المحصن، أو قود بنفس مؤمنة، أو فى المحاربة وقطع الطريق أو فى المدافعة عن الظلمة أو فى الممانعة من حق، أو فى حد فى الخمر ثلاث مرات ثم شربها الرابعة فقط۔ وقد علمنا أن من سب النبى صلى الله تعالىٰ عليه وسلم فبيقين ندرى أنه لم يزن ولا شرب خمراً ولا قصد ظلم مسلم ولا قطع طريقاً فلم يبق إلا أنه عند أبى بكر رضى الله تعالىٰ عنه كافر۔“

المحلى بالآثار لابن الحزم، مسائل التعزير وما لاحد فيه، باب حكم من سب

النبى صلى الله تعالىٰ عليه وسلم أو الله تعالىٰ، ج: ۱۱، ص: ۴۰۹۔

توہین رسالت کا شرعی حکم

ترجمہ: حضرت ابوبکرؓ کی وجہ سے کسی کو قتل جائیگا۔ اور یہ بات ہمیں اللہ تعالیٰ نے مباح ٹھہرایا بعد کفر کرنے کی صورت مومن نفس کے قصاص کرنے کی صورت میں بعد چوتھی مرتبہ شراب پینے اللہ تعالیٰ نے مباح کیا کی شان میں گستاخی کر قصد کرتا ہے اور نہ ہی کا خون مباح ہو جائے (یعنی گستاخی کرنے والا مباح ہوگیا۔

قارئین کرام! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق عبارت نمبر ۴...... ”جمہور موقف کو شریعت کے مقاصد آٹھویں صدی کے عظیم رحمہما اللہ تعالیٰ ہیں۔“

جواب:...... اگر آنجناب تیمیہ ؒ کو تعبیر کی غلطی مقدم نہیں؟ جنھوں نے کتاب الحدود میں ذکر کیا

صفحہ 215

توہین رسالت کا شرعی حکم

ترجمہ: حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اس بات کی وضاحت کر دی کہ اسے گالی دینے کی وجہ سے کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا لیکن حضور ﷺ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائیگا۔ اور یہ بات ہمیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کا خون بہانا حرام ہے سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے مباح ٹھہرایا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مباح نہیں کیا ہے مگر ایمان لانے کے بعد کفر کرنے کی صورت میں، یا شادی شدہ آدمی کے زنا کرنے کی صورت میں، یا کسی مومن نفس کے قصاص کی صورت میں، یا لڑائی اور ڈاکہ کی صورت میں، یا ظلم سے دفاع کرنے کی صورت میں، یا حق کو روکنے کی صورت میں، یا تین مرتبہ شراب پینے کے بعد چوتھی مرتبہ شراب پینے کی صورت میں، (یعنی ان مذکورہ صورتوں میں خون بہانا اللہ تعالیٰ نے مباح کیا ہے۔) اور یہ بات بھی ہمیں یقین سے معلوم ہے کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا نہ زنا کرتا ہے، نہ شراب پیتا ہے، نہ کسی مسلمان پر ظلم کا قصد کرتا ہے اور نہ ہی ڈاکہ ڈالتا ہے۔ (یعنی وہ یہ مذکورہ کام نہیں کرتا جن کی وجہ سے اس کا خون مباح ہوجائے) لہٰذا یہی بات رہ گئی کہ وہ صدیق اکبر ؓ کے ہاں کافر ہے۔ (یعنی گستاخی کرنے سے وہ کافر ہو گیا اور اس کفر بعد الایمان کی وجہ سے اس کا خون مباح ہو گیا۔

قارئین کرام مقام فکر ہے کہ یہاں خود علامہ ابن حزم فرماتے ہیں کہ گستاخ رسول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کے ہاں کافر ہے، اور اسی کفر کی وجہ سے اس کا خون مباح ہے۔

عبارت نمبر ۴...... ”ہماری تحقیق کے مطابق سب سے پہلے جس عالم نے توہین رسالت پر سزائے موت کو شریعت کی مقرر کردہ حد قرار دینے پر اصرار کر کے تعبیر کی اس غلطی کو بنیاد فراہم کی وہ آٹھویں صدی کے عظیم مجدد امام ابن تیمیہ اور ان کی اتباع میں ان کے شاگرد امام ابن القیم رحمہما اللہ تعالیٰ ہیں ۔“

توہین رسالت کا مسئلہ:ص:۱۹

جواب:...... اگر آنجناب ”اسماء الرجال“ کے اہم مصادر و مراجع پر نظر ڈالتے تو شاید امام ابن تیمیہ ؒ کو تعبیر کی غلطی کا مرتکب نہ ٹھہراتے ، آیا امام ابو داود ؒ امام ابن تیمیہ ؒ سے مقدم نہیں؟ جنھوں نے صراحتاً ”سنن ابی داود“ میں توہین رسالت کی مرتکب عورت والی روایت کتاب الحدود میں ذکر کی ہے۔ اور پھر حیرت کی بات تو یہ ہے کہ پوری امت کے چودہ سو سالوں

صفحہ 216

توہین رسالت کا شرعی حکم

میں کسی کو اس غلطی کا علم نہ ہوا، یہاں تک کہ علامہ ابن ہمام ؒ اور علامہ ابن نجیم ؒ جیسے فقہاء اجلہ بھی اس غلطی کا تدارک نہ کر سکے، اور فتح القدیر، البحر الرائق میں اس غلطی کو برقرار رکھتے ہوئے اسے حد سے تعبیر کیا، اور اکیسویں صدی میں آکر جناب عمار صاحب کی تحقیق اس حد تک پہنچ گئی کہ انھوں نے اس غلطی کا تدارک کیا۔ یا للعجب!۔

عبارت نمبر ۵ ...... ”بعد کے دور کے بعض فقہاء نے اس اختلاف کو کسی جگہ محض تجوز اور توسعاً حد ماننے یا نہ ماننے کے اختلاف سے تعبیر کر دیا ہو، لیکن جہاں تک صحابہ و تابعین، جمہور محدثین اور ائمہ مجتہدین میں سے بالخصوص امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا تعلق ہے تو یہ بات پورے اطمینان سے کہی جاسکتی ہے کہ انھوں نے اس سزا کو ہرگز شرعی حد کے طور پر بیان نہیں کیا، اور نہ فقہی مذاہب کی امہات کتب میں اس سزا کو اس حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔“

توہین رسالت کا مسئلہ، ص:۲۰۔

جواب:...... قارئین کرام ذرا مندرجہ ذیل حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:

۱...... امام مالک ؒ اور امام احمد ؒ کے ہاں یہ سزا بطور حد ہی ہے چنانچہ ”تفسیر روح البیان“ میں ہے کہ: ”و قال مالك رحمة الله عليه وأحمد رحمة الله عليه يقتل ولا تقبل توبته ، لأن قتله من جهة الحد لا من جهة الكفر۔“

روح البیان، ج:۷، ص:۲۳۸۔

ترجمہ: امام مالک ؒ اور امام احمد ؒ فرماتے ہیں کہ: ”کہ اس کی توبہ قبول نہیں بلکہ اسے قتل ہی کیا جائے گا، کیونکہ اس کا قتل حد ہے کفر کی وجہ سے نہیں ۔“

۲...... فقہی مصادر و مراجع میں بھی اس سزا کو بطور حد ہی ذکر کیا گیا ہے درج ذیل چشم کشا حوالہ ملاحظہ ہو:

تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ کا حوالہ:

”فهو کافر يجب قتله باتفاق الأمة ولا تقبل توبته وإسلامه في إسقاط القتل سواء تاب بعد القدرة عليه والشهادة على قوله أو جاء تائباً من قبل نفسه لأنه حد وجب ولا تسقطه التوبة كسائر

توہین رسالت کا شرعی حکم الحدود،ولیس فيه التوبة لأن ال الآدميين فقبلت تعلق به حق ال فمن سب النبی صلوات الله علی كفر ولم يتب و اختلف فيه وال الصورتين۔“

تنقیح الفتاویٰ ترجمہ: گستاخی کر سزائے موت کے اختیار نہیں رہا، یا خود بخود تائب ہ ساقط نہیں ہو سک آپ ﷺ کی شا اور وجہ اس کی یہ فرق یہ ہے کہ ، ہے، اس کے علاوہ سے مرتد کی توبہ قبول اس کے ساتھ انسا سکتا جس طرح کہ لہٰذا جس آدمی گستاخی کی تو وہ کافر

صفحہ 217

توہین رسالت کا شرعی حکم

الحدود، وليس سبه صلى الله تعالى عليه وسلم كالارتداد المقبول فيه التوبة لأن الارتداد معنى ينفرد به المرتد لا حق فيه لغيره من الآدميين فقبلت توبته ومن سب النبى صلى الله تعالى عليه وسلم تعلق به حق الآدمى ولا يسقط بالتوبة كسائر حقوق الآدميين ، فمن سب النبى صلى الله تعالى عليه و سلم أو أحدا من الأنبياء صلوات الله عليهم وسلامه فإنه يكفر ويجب قتله ثم إن ثبت على كفره لم يتب ولم يسلم يقتل كفرا بلا خلاف وإن تاب وأسلم فقد اختلف فيه والمشهور من المذهب القتل حدا وقيل يقتل كفرا فى الصورتين۔“

تنقيح الفتاوى الحامدية، كتاب الشركة ،باب الردة والتعزير، ج:۲، ص:۱۷۷۔

ترجمہ: گستاخی کرنے والا کافر ہے باتفاق امت اس کا قتل کرنا واجب ہے، اور اس سے سزائے موت کے ساقط کرنے کے لئے اس کے توبہ کرنے اور اسلام قبول کرنے کا کوئی اعتبار نہیں برابر ہے کہ گرفتاری اور اس کے خلاف گواہیاں ہو جانے کے بعد توبہ کرے یا خود بخود تائب ہو کر آجائے ، کیونکہ اس کی سزائے موت بطور حد کے ہے، جو توبہ سے ساقط نہیں ہو سکتی ، جس طرح کہ باقی حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتیں۔ اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی اس طرح کا ارتداد نہیں جس میں توبہ قبول ہوتی ہے، اور وجہ اس کی یہ ہے کہ (یعنی عام ارتداد اور توہین رسالت کی وجہ سے مرتد ہونے میں فرق یہ ہے کہ ) ارتداد ایک ایسی چیز ہے کہ جس کا تعلق مرتد کے اپنے نفس کے ساتھ ہے، اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کا اس کے ساتھ کوئی حق متعلق نہیں ہوا کرتا ، اس وجہ سے مرتد کی توبہ قبول ہوتی ہے، اور جو آدمی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے تو اس کے ساتھ انسانوں کا حق متعلق ہو جاتا ہے، لہذا توبہ سے اس کا یہ جرم ساقط نہیں ہو سکتا جس طرح کہ انسانوں کے عام حقوق صرف توبہ کرنے سے معاف نہیں ہوتے ، لہذا جس آدمی نے حضور ﷺ یا باقی انبیاء کرام علیہم السلام میں سے کسی نبی کی شان میں گستاخی کی تو وہ کافر ہو جائے گا، اور اس کا قتل کرنا واجب ہو جائیگا پھر اگر وہ اپنے اس کفر

صفحہ 218

توہین رسالت کا شرعی حکم

پر برقرار رہا اور اس نے توبہ بھی نہیں کی اور اسلام بھی قبول نہیں کیا تو بغیر کسی اختلاف کے اس کو قتل کیا جائیگا ، لیکن اگر یہ توبہ کر کے اسلام قبول کرے تو اس صورت میں فقہاء کا اختلاف ہے، مشہور قول کے مطابق اسے پھر بھی حداً قتل کیا جائیگا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں صورتوں میں اسے کفراً قتل کیا جائیگا۔

فتح القدیر کا حوالہ:

كل من أبغض رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم بقلبه كان مرتدا ، فالساب بطريق أولى ، ثم يقتل حدا عندنا ، فلاتعمل توبته فى إسقاط القتل، قالوا هذا مذهب أهل الكوفة ومالك ، ونقل عن أبى بكر الصديق رضى الله تعالى عنه ، ولافرق بين أن يجيء تائبا من نفسه أو شهد عليه بذلك بخلاف غيره من المكفرات ، فإن الإنكار فيها توبة، فلاتعمل الشهادة معه، حتى قالوا يقتل وإن سب سكران ولا يعفى عنه، ولابدفى تقييده بما إذا كان سكره بسبب محظور باشره مختارا بلا إكراه وإلا فهو كالمجنون ، وقال الخطابى ولا أعلم أحدا خالف فى وجوب قتله۔

فتح القدير، كتاب السير، باب أحكام المرتدين،ج:۱۳،ص:۲۹۰۔

ترجمہ: ہر وہ شخص جو دل سے آپ ﷺ کے ساتھ بغض رکھے وہ مرتد ہے، تو گستاخی کرنے والا بطریق اولیٰ مرتد اور خارج از اسلام ہوگا، پھر ہمارے احناف کے ہاں اس گستاخ کو حداً قتل کیا جائے گا، لہٰذا توبہ کرنے کی وجہ سے اس کی سزائے موت ساقط نہیں ہو سکتی، فقہاء نے لکھا ہے کہ یہی اہل کوفہ اور حضرت امام مالک ؒ کا مذہب ہے۔ اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے بھی یہی مذہب منقول ہے۔ باقی وہ خود توبہ کر کے آئے یا اس کے خلاف گواہی دی جائے دونوں صورتیں برابر ہیں بخلاف دیگر مکفرات کے کہ ان میں جرم سے انکار توبہ کی صورت بن جاتی ہے، اور اس کے ہوتے ہوئے گواہی پر عمل نہیں کیا جاتا۔ بلکہ فقہاء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر کوئی نشہ کی حالت میں بھی گستاخی کا ارتکاب کرے گا تو اسے بھی قتل کیا جائے گا اور کوئی معافی نہیں

صفحہ 219

توہین رسالت کا شرعی حکم

ملے گی۔ البتہ نشہ کی حالت میں یہ قید لگانا ضروری ہے کہ اس کو جو نشہ چڑھا ہے وہ ایسی چیز سے آیا ہو جو شرعاً ممنوع ہو اور اس نے بغیر کسی کے مجبور کرنے کے خود اپنی مرضی سے اسے اپنایا ہو، کیونکہ اگر یہ قیود نہ پائی جائیں تو پھر وہ مجنون کے حکم میں ہوگا۔ علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں کہ مجھے کوئی فقیہ ایسا معلوم نہیں کہ جس نے گستاخ رسول کے لئے قتل کے واجب ہونے میں اختلاف کیا ہو۔

البحر الرائق کا حوالہ:

"أنه لا فرق بين ردة وردة مع أنه إذا أسلم ويستثنى منه مسائل: الأولى: الردة بسبه صلى الله تعالى عليه وسلم قال في فتح القدير كل من أبغض رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم بقلبه كان مرتدا فالساب بطريق أولى ثم يقتل حدا عندنا فلا تقبل توبته في إسقاط القتل قالوا هذا مذهب أهل الكوفة ومالك۔"

البحر الرائق، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج: ۵، ص: ۴۹۶۔

ترجمہ: ہر قسم کا ارتداد برابر ہے کہ اگر مرتد مہلت کے تین دنوں میں اسلام کی طرف راغب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائیگا، اور وہ سزائے موت سے بچ جائیگا، البتہ اس عمومی حکم سے چند مسائل مستثنیٰ ہیں، ان میں سے پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی بدبخت آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد ہو جائے۔ فتح القدیر میں لکھا ہے کہ جو آدمی آپ ﷺ کو دل سے مبغوض سمجھتا ہے تو وہ مرتد ہے، گستاخی کرنے والا تو بطریق اولیٰ مرتد ہوگا۔ پھر ہمارے احناف کے ہاں اسے حداً قتل کیا جائے گا، لہٰذا اگر وہ توبہ کرے تو اس توبہ کی وجہ سے اس کی سزائے موت ساقط نہیں ہو سکتی۔ فقہاء نے کہا ہے کہ یہی مذہب اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا ہے۔

درمختار کا حوالہ:

"(وكل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا) جماعة من تكررت ردته على ما مر و (الكافر بسب نبي) من الأنبياء فإنه يقتل حدا، ولا تقبل توبته مطلقا ولو سب الله تعالى قبلت لأنه حق الله تعالى والأول حق

صفحہ 220

توہین رسالت کا شرعی حکم

عبد لا يزول بالتوبة ومن شك في عذابه و كفره كفر وتمامه في الدرر في فصل الجزية۔

(الدرالمختار، کتاب الجھاد باب المرتد، ج:3، ص:317)

ترجمہ : ہر وہ مسلمان جو ارتداد اختیار کرتا ہے تو اس کی توبہ مقبول ہوتی ہے مگر ایک جماعت ایسی ہے کہ ان کی توبہ قابل قبول نہیں ، اور یہ وہ لوگ ہیں جو بار بار ارتداد اختیار کرتے ہیں ، اور اسی طرح وہ آدمی ، جو انبیاء کرام میں سے کسی نبی کی گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد ہو جائے (یعنی اس کی توبہ بھی قابل قبول نہیں ) پس اسے بطور حد قتل کیا جائیگا اور اس کی توبہ کسی بھی صورت میں مقبول نہیں ہے، اور اگر وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں نازیبا الفاظ کہے اور پھر توبہ کرے تو اس صورت میں اس کی توبہ مقبول ہے، کیونکہ اس صورت میں یہ خالص اللہ کا حق ہے، اور پہلی صورت میں وہ بندے کا حق ہے، جو کہ توبہ سے زائل نہیں ہو سکتا ، اور جو شخص ایسے گستاخ کے کافر اور معذب ہونے میں شک کرے، تو وہ بھی کافر ہو جاتا ہے۔ اور اس کی پوری تفصیل درر کے فصل الجزیۃ میں مذکور ہے۔

فتاویٰ شامی کا حوالہ:

"فإنه يقتل حدا، يعنى أن جزاءه القتل على وجه كونه حدا ولذا عطف عليه قوله ولا تقبل توبته لأن الحد لا يسقط بالتوبة فهو عطف تفسير وأفاد أنه حكم الدنيا أما عند الله تعالى فهى مقبولة كما في البحر۔"

رد المحتار، کتاب الجھاد، باب المرتد، ج:3، ص:317۔

ترجمہ : پس اس گستاخ کو حداً قتل کیا جائیگا یعنی اس کی یہ سزائے موت بطور حد کے ہے اسی وجہ سے اس پر مصنف کے اس قول کا عطف کیا ہے کہ ولا تقبل توبتہ کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہے ، کیونکہ حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتے پس یہ عطف تفسیری ہے ، اور یہ گستاخ کا دنیوی حکم ہے (کہ دنیا میں توبہ قبول نہیں اور اسے قتل ہی کرنا متعین ہے کیونکہ یہ حد ہے اور حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتا ) اور بہرحال (آخرت میں ) اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی توبہ قبول ہوگی (اگر سچے دل سے کی ہو) جیسا کہ بحر میں ہے۔

اب عمار صاحب یہ بتائیں کہ آیا "فتح القدیر ، البحر الرائق ، درمختار اور شامی فقہی

توہین رسالت کا شرعی حکم مذاہب کی ''امہات کتب قارئین کرام پیش کی گئی، تمام حوالہ جا کوشش کرتے ہیں کہ بارہا مختلف پائے گئے جو کہ ان شاء اللہ عنقریب

صفحہ 221

توہین رسالت کا شرعی حکم AAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAAA

مذاہب کی ”امہات کتب“ میں سے ہیں یا نہیں؟

قارئین کرام یہ جناب عمار صاحب کی تحقیق کی چند جھلکیاں تھیں جو آپ کے سامنے پیش کی گئی، تمام حوالہ جات مل سکتے ہیں۔ محترم اپنی بات پیش کرتے ہوئے یہ محسوس کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں یہ حرف آخر ہے، جب کہ حقائق اس سے بارہا مختلف پائے گئے ہیں۔ مزید تفصیل ووضاحت کے لئے مستقل تصنیف اور وقت درکار ہے جو کہ ان شاء اللہ عنقریب ”مکمل تصنیفی“ صورت میں پیش کی جائے گی۔

☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆ ☆

PDF 222

قرآن مجید، احادیث شریف، مفسرین محدثین اور فقہاء کرام

کے 200 سے زیادہ حوالہ جات کی روشنی میں

توہین رسالت

کا شرعی حکم

محمد رسول الله

مولانا ساجد خان اٹکوی فاضل دارالعلوم کراچی

مکتبہ ابوبکر عبداللہ

یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ اردو بازار لاہور 4765634-0333