حسن محمود عودہ فلسطینی کا قبول اسلام · مولانا اعجاز احمد
Hasan Muhammad Aod ka Qabool Islam · Idarah Dawat-o-Irshad
PDF 1

قادیانیت کی ایک اور شکست پر

مرزا طاہر کی

بوکھلاہٹ

حسن محمود عودہ فلسطینی کا قبول اسلام

مرتب

(مولانا) اعجاز احمد

سابق مدرس جامعہ عربیہ چنیوٹ

شعبہ تصنیف وتالیف

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ

فون نمبر 332820-0466 فیکس 331330-0466

E.mail: chinioti@fsd.comsats.net.pk

IRSHAD PRINTING PRESS CHINIOT PAKISTAN MOB:0320-4890351

PDF 2

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد للہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ

انگریز کا خود کاشتہ پودا ”قادیانیت“ اسلام کے لبادہ میں اسلام کے خلاف ایک انتہائی خطرناک گہری سازش ہے جسے انگریز نے اپنے مذموم مقاصد کی خاطر جنم دیا اور اس کی پرورش کی۔ استعمار کی تمام باطل قوتیں جن کے یہ ایجنٹ ہیں وہ اب بھی ان کی کھلم کھلا پشت پناہی کر رہی ہیں۔ اس جماعت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ نبوت کرکے حضور رحمتہ للعلمین خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کہ ” میری امت میں تیس دجال و کذاب پیدا ہونگے۔ جو میرے بعد دعویٰ نبوت کریں گے “ کے صدق پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ مرزا قادیانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کا پورا پورا مصداق ہے۔ وہ خود بھی پرلے درجہ کا جھوٹا تھا۔ اس کے جانشین اور اس کی امت بھی دجل و فریب اور جھوٹ میں اس سے کم نہیں ہے۔

مرزا قادیانی کا پوتا اور چوتھا جانشین مرزا طاہر جس نے جنرل ضیاء الحق شہید کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے بعد انتہائی بزدلی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے مرکز ربوہ پاکستان سے چوروں کی طرح خفیہ طور پر بھاگ کر اپنے اصلی مقر اور مرکز لندن میں پناہ لی۔ اور انشاء اللہ اب وہ پاکستان کی پاک سرزمین پر کبھی بھی قدم نہیں رکھ سکے گا۔ آئے دن نئے سے نئے جھوٹ اور بہتان تراشنا اس کا وطیرہ ہے اور گاہے بگاہے اسلام، ملت اسلامیہ اور پاکستان کے بارے میں زہر افشانی اس کا مشن ہے۔ اس کا تعاقب علمائے اسلام اور خدام ختم نبوت وہاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسے سکھ کا سانس اور چین کی نیند وہاں بھی میسر نہیں۔ 84ء میں وہ پاکستان سے بھاگا اور 85ء میں ہم خدام بھی وہیں لندن جا پہنچے اور لندن کے تاریخی ویمبلے ہال میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کرکے اسے دعوت مناظرہ و مباہلہ دی (جس کی روئیداد علیحدہ چھپی ہوئی ہے) پھر 13 اگست 89ء کو لندن کے اسی تاریخی ہال میں رشدی ملعون

صفحہ 2

کے خلاف تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں راقم الحروف کو بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ کانفرنس کے بعد ہم لوگ ساؤتھ ہال میں قاری محمد طیب عباسی مدظلہ کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے کہ حسن محمود عودہ فلسطینی (جن کا تعارف آئندہ صفحات میں آرہا ہے) نے ایک دوست کی معرفت مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ بندہ نے خوش آمدید کہتے ہوئے بڑی خوشی سے اجازت دی۔ چنانچہ اگلے روز حسن محمود صاحب اپنے دوست کے ہمراہ تشریف لائے اور اپنا مفصل تعارف کروایا۔ کچھ اپنے علمی اشکالات میرے سامنے پیش کئے۔ بندہ کے جوابات سے وہ خاصے مطمئن ہوئے اور کہا کہ مرزا طاہر کے خطبات میں اکثر آپ کا تذکرہ سنتا رہتا ہوں۔ مجھے آپ سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا کہ آخر اس شخص کو دیکھنا چاہئے کہ جس کا برے الفاظ اور گالیوں سے اکثر ذکر ہوتا ہے۔ آج آپ سے مل کر میری دلی تمنا اور خواہش پوری ہوئی ہے۔ پھر کہا کہ 29 نومبر 88ء کا جمعہ کا پورا خطبہ مرزا طاہر نے آپ پر لگایا اور میں پہلی صف میں بیٹھا وہ خطبہ سن رہا تھا۔ جس میں مرزا طاہر نے پر زور الفاظ میں یہ پیشگوئی کی کہ پندرہ ستمبر آئیگا اور مولوی چنیوٹی پر مباہلہ کی ذلت پڑیگی۔ اب میں پندرہ ستمبر کا انتظار کر رہا ہوں کہ مرزا طاہر کی یہ پیشگوئی پوری ہوتی ہے یا نہیں۔ اگر پندرہ ستمبر تک آپ زندہ رہے اور آپ پر مباہلہ کا کچھ اثر نہ ہوا تو میں مرزا طاہر اور اس کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے ہونے کا برسرعام اعلان کر دونگا۔ میں نے کہا کہ پندرہ ستمبر تک میں انشاء اللہ زندہ رہونگا اور مرزا طاہر اپنے باپ اور دادا کی طرح اس پیشگوئی میں جھوٹا اور ذلیل و خوار ہوگا۔ اسی سال یکم اکتوبر کو اسی ویمبلے ہال میں ختم نبوت کانفرنس ہو رہی ہے۔ میں انشاء اللہ اس کانفرنس میں دوبارہ حاضر ہونگا۔ حسن محمود عودہ نے کہا کہ اگر آپ زندہ سلامت اس کانفرنس میں شریک ہوئے تو میں اسی اسٹیج پر مرزائیت سے توبہ کرتے ہوئے اس سے برات کا اعلان کر دونگا۔

صفحہ 3

اب پندرہ ستمبر 89ء حق و باطل کے درمیان فیصلے کے دن کا شدت سے انتظار کیا جانے لگا۔ (الحمد للہ بندہ تا حال زندہ سلامت ہے) 16 ستمبر کو فلیٹی ہوٹل لاہور میں ایک بھرپور پریس کانفرنس ہوئی جس میں بندہ سلامت موجود تھا۔ حق و باطل کا تماشا لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ مرزا طاہر اور اس کی جماعت کا ذلت سے روسیاہ ہوا اور مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

بندہ پروگرام کے مطابق یکم اکتوبر 89ء کو ختم نبوت کانفرنس لندن ویمبلے ہال پہنچ گیا جب اسٹیج پر آیا تو پورا ہال مولانا چنیوٹی زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ جب تقریر شروع کی تو حسن محمود عودہ بھی اسٹیج پر پہنچ گئے اور مرزائیت سے توبہ اور مرزا طاہر کے جھوٹے ہونے کا اعلان کر دیا۔ وہ تاریخی منظر کیمرہ کی آنکھ میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا گیا جس میں ایک طرف فضیلۃ الشیخ عبدالحفیظ مکی صدر انٹرنیشنل ختم نبوت مشن‘ دوسری طرف راقم الحروف اور درمیان میں حسن محمود عودہ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑے ہیں۔ حسن محمود عودہ کا یہ اعلان حق‘ اعلان برأت کیا تھا۔ قصر قادیانیت پر بم کا ایک زور دار دھماکہ تھا۔ مرزا طاہر بوکھلا اٹھا اور 8 دسمبر 89ء کو حسن محمود عودہ اور راقم پر جمعہ کا ایک پورا خطبہ لگا دیا۔ حسن محمود عودہ نے اس خطبہ کی پوری کیسٹ اور اپنے تائب ہونے سے قبل کے مرزا طاہر اور اس کی جماعت کے سرکردہ حضرات کے خطوط اور ریمارکس جو اس سے متعلق تھے‘ کی کاپیاں ارسال کیں۔ تاکہ ان خطوط کی روشنی میں مرزا طاہر کے الزامات اور ہرزہ سرائی کا جائزہ لیا جاسکے اور اس تقابل سے عامتہ المسلمین اور امت مرزائیہ حق و باطل کا فیصلہ کر سکیں۔

عزیزم محترم فاضل نوجوان مولانا اعجاز احمد نے بڑی محنت کر کے مرزا طاہر کی تقریر میں لگائے گئے الزامات اور ان کے خطوط میں دیئے گئے ریمارکس کا تقابل اور موازنہ پیش کر دیا ہے۔ اور راقم پر جو الزامات اور بہتان تراشی کی گئی ہے اس کا بھی بالاختصار ازالہ کر دیا ہے۔ اللہ تعالی عزیز کو جزائے خیر عطا فرمائیں اور بھٹکے ہوئے

PDF 5

قادیانیوں کے لئے اسے ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ آمین

سچ اور جھوٹ، حق اور باطل کا فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سچ کو قبول کرنے اور جھوٹ کو چھوڑنے کی توفیق، ہمت اور جرات نصیب فرمائیں۔ جس طرح سعید روح حسن محمود عودہ اور اس کے بھائی صالح محمود عودہ کو نصیب ہوئی۔ آمین یا رب العالمین

(مولانا) منظور احمد چنیوٹی (رئیس ادارہ دعوت و ارشاد چنیوٹ پاکستان)

صفحہ 5

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حسن محمود عودہ کے قبول اسلام پر مرزا طاہر بوکھلا اٹھا

ملاحظہ فرمائیے

مرزا طاہر امیر جماعت مرزائیہ نے 8 دسمبر 1989ء کو فضل مسجد (مرزائیہ) لندن میں ایک تقریر کی۔ جس میں اس نے سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی اور جناب حسن محمود عودہ کو خوب طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ حتی کہ اخلاقی اقدار بلکہ انسانی اقدار تک کو پامال کرتا چلا گیا۔

ہم اس کی تقریر کو سامنے رکھتے ہوئے حقائق سے ذرا سا پردہ سرکانا چاہتے ہیں تاکہ امت مرزائیہ کی آنکھوں سے دجل و فریب کے پردے کو جنبش دیتے ہوئے امت مسلمہ کو صحیح حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔

مرزا طاہر کی تقریر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلا حصہ حسن محمود عودہ سے متعلق اور دوسرے حصہ کا تعلق سفیر ختم نبوت سے ہے۔ دونوں حصوں کو علیحدہ علیحدہ زیر بحث لایا جاتا ہے۔

حصہ اول:۔ جناب حسن محمود عودہ پر جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ حقیقت کے آئینہ میں۔

اس پر کچھ عرض کرنے سے قبل جناب حسن محمود عودہ کی ذات سے متعارف ہونا ضروری ہے اس لئے ان کا قدرے تعارف پیش خدمت ہے۔

جناب حسن محمود عودہ کے نانا نے 1924ء فلسطین کے شہر حیفہ میں عودہ خاندان میں سب سے پہلے قادیانیت قبول کی۔ پھر ان کے دادا قادیانی ہوئے اور رفتہ رفتہ پورا خاندان قادیانیت کی آغوش میں چلا گیا۔ اس خاندان نے قادیانیت کے لئے ایسی خدمات انجام دیں کہ پورے مشرق وسطیٰ میں حیفہ کا قادیانی مرکز سب سے بڑے مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ موصوف کی ولادت 1955ء میں حیفہ میں

صفحہ 6

ہوئی۔ والدین چونکہ قادیانی تھے اس لئے انہوں نے موصوف کو قادیانیت کا مبلغ بنانے کے لئے اللہ تعالیٰ کے سچے نبیوں کی مقدس زمین فلسطین سے قادیان بھیج دیا۔ وہاں موصوف کو مرزا غلام احمد قادیانی کے گھر مہمان خصوصی کی حیثیت سے ٹھہرا کر قادیانیت کی خصوصی تعلیم دی گئی اور ان کی شادی بھی مرزا کے گھر بیت الریاض ہی میں کر دی گئی۔ اس دوران بقول موصوف قادیان میں جماعت کی طرف سے تعمیر کردہ مساجد و مراکز (مسجد اقصیٰ، مسجد مبارک، منارۃ المسیح اور بہشتی مقبرہ وغیرہ) ایک خاص انداز میں دکھائے گئے۔ موصوف ان مراکز کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوئے اور تقریباً چھ سات ماہ کا کورس کرنے کے بعد فلسطین واپس آگئے اور وہاں آکر پوری تندہی اور جانفشانی سے قادیانی جماعت کے لئے مصروف عمل ہو گئے۔

پھر جب مرزا طاہر قادیانی جماعت کا خود ساختہ سربراہ بنا تو اس وقت بھی موصوف اس جماعت کے لئے اپنی صلاحیتیں وقف کئے ہوئے تھے۔ جس کا شہرہ پوری جماعت میں ہو چکا تھا۔ چنانچہ فروری 1983ء کو مرزا طاہر نے موصوف کو خط لکھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے سینے کو اپنی خالص محبت سے بھر دے اور پھر اس نور سے ہزاروں عرب اور ان کے سینے منور ہوں اور پھر دعا دی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ایمان و اخلاص میں برکت دے۔

دسمبر 1984ء میں موصوف کو خدام الاحمدیہ جماعت احمدیہ کبابیر کا صدر منتخب کر دیا گیا۔ چنانچہ شریف امینی جو دارالتبلیغ کبابیر کا مبلغ تھا، نے مرزا طاہر کے نام 3 دسمبر 1984ء کو خط لکھا اور عہدیداران کے نام بھی منظوری کے لئے ارسال کئے۔ جن میں موصوف کو صدر منتخب کیا گیا تھا تو مرزا طاہر نے جواب لکھا۔ ”منظور ہے اللہ مبارک فرمائے“۔

موصوف کی تبلیغی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے جنوری 1985ء میں موصوف کی زوجہ کو جماعت کی عورتوں کی تنظیم ”لجنہ اماء اللہ کبابیر“ کا صدر مقرر کر دیا گیا اور

صفحہ 7

اس کی منظوری مرزا طاہر سے طلب کی گئی تو اس نے لکھا ”منظور ہے اللہ مبارک فرمائے“۔

موصوف کی قادیانی تبلیغی سرگرمیاں جماعت مرزائیہ میں اس قدر شہرت حاصل کر چکی تھیں کہ فروری 1985ء کو دارالتبلیغ کبابیر کے مبلغ نے تحریک جدید لندن کے وکیل اعلیٰ کو خط لکھا کہ حسن محمود عودہ کو عرب لوگوں میں تبلیغ کے لئے باہمی مشورے سے منتخب کر لیا گیا ہے وہ اس کام کے اہل اور قابل بھی ہیں۔ لہٰذا یہ معاملہ حضرت امیر المومنین (مرزا طاہر علیہ اللعنۃ) کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔ پھر موصوف کو مزید ترقی دیتے ہوئے آٹھ (8) ماہ بعد نومبر 1985ء میں برطانیہ میں بطور معلم تعینات کر دیا گیا۔ تھوڑے ہی عرصہ بعد جنوری 1986ء میں مرزا طاہر کی جانب سے عربی ڈیسک قائم کیا گیا اور موصوف کو تبلیغی لٹریچر کی اشاعت اور عربی کتب کے ترجمہ کی اہم ذمہ داری سونپی گئی۔ پھر اگست 1987ء کو ان کے ذمہ ”تبشیر“ (جو قادیانیوں کا بڑا ادارہ ہے) کی جانب سے قادیانی طلباء کی تدریس و تربیت کا کام لگا دیا گیا۔

قادیان کی جماعت احمدیہ کے امیر نے ان تمام خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے موصوف کو فروری 1988ء میں لکھا کہ امیر المومنین (مرزا طاہر علیہ اللعنۃ) نے آپ کے ذمہ بہت عظیم تبلیغی ذمہ داری لگائی ہے اور مجھے خوشی ہے کہ آپ بڑی حسن اسلوبی کے ساتھ اس کو انجام دے رہے ہیں۔ بالآخر مرزا طاہر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکا اور مئی 1988ء میں اس نے موصوف کو ایک خط کا جواب لکھتے ہوئے کہا کہ ”الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس تاریخی خدمت کے لئے چنا ہے عرب دنیا سے روابط کی توسیع کا یہ دور انشاء اللہ تاریخ ساز ثابت ہوگا اور خطبات کا عربی ترجمہ اور ”التقویٰ“ کی اشاعت دو اہم سنگ میل ثابت ہونگے اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے اور آپ کا ساتھی ہو“۔

صفحہ 8

اور پھر جون 1988ء میں لکھا۔ ”جزاکم اللہ بہت بہت شکریہ۔ اللہ آپ کی نصرت فرمائے۔ تاریخی لحاظ سے آپ بہت اہم کام کر رہے ہیں“ اور جنوری 1989ء کو لکھا ”اللہ آپ کو بہترین جزا دے اور آپ کی نصرت و مدد فرمائے“۔

روزنامہ جنگ مورخہ 25 نومبر 1989ء میں موصوف کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے حالات گذشتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ”جب میں لندن کی کھلی فضا میں آیا اور غیر قادیانی حضرات کی باتیں سننے اور ان سے ملنے کا موقعہ ملا تو ذہن میں شکوک و شبہات نے جگہ بنانی شروع کر دی۔ قادیانی جماعت کے سربراہوں اور خود مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں عقیدت کے تصورات بکھرنے لگے۔ قادیانی مرکز میں کام کرنے والے افراد کا عالمی قیادت کے معیار پر پورا اترنے کا احساس جذبات عقیدت کی جڑوں کو کریدنے لگا۔ ادھر مرزا قادیانی کے بارے میں مسلم علماء کے بیانات نے مجھے شکوک و شبہات میں ڈال دیا اور تجسس بڑھنے لگا کہ کھوج لگانا چاہئے کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ ”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے“ اپنے طور پر تحقیق کرتا رہا بالآخر بات کھل گئی اور سمجھ گیا کہ یہ مسلم علماء مرزا قادیانی کا وہ رخ دکھاتے ہیں جو آج تک ہم سے اوجھل رکھا گیا ہے مسلمان علماء اس رخ کو پوری طرح بے نقاب کرتے ہیں اور ان کی بات تسلیم کئے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ دنیا بھر کے مسلمان جب کلمہ پڑھتے ہیں۔ قرآن، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے احکامات مانتے اور ادا کرتے ہیں تو پھر یہ سب کے سب ہمارے نزدیک کافر کیوں ہیں؟ اور وہ کون سی وجوہات ہیں کہ ہمیں ان سب مسلمانوں کو کافر کہنے کا حق حاصل ہے؟ یہ سوالات میرے ذہن میں کلبلاتے رہے اور میری پرسکون زندگی میں ایک طوفان آ گیا۔ دل و دماغ میں ہلچل مچ گئی۔ میں جریدہ ”التقویٰ“ کے چیف ایڈیٹر کے طور پر تو (9) شمارے شائع کر چکا تھا میں برملا قادیانی مرکز میں اپنے سوالات کا جواب مانگنے لگا۔ مرزا طاہر نے مجھے طلب کیا تو میں نے اپنے سوالات اس کے سامنے رکھے لیکن وہ بھی

صفحہ 9

مجھے مطمئن نہ کر سکا۔

ادھر یہ حالات تھے ادھر مرزا طاہر نے 25 نومبر 1988ء کو ٹل فورڈ لندن میں اپنے خصوصی خطاب (جو 15 ستمبر 1988ء کو سفیر ختم نبوت کی طرف سے جواب مباہلہ کا رد عمل تھا) کے دوران کہا کہ 10 جون 1988ء کو جو مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ اس کے نتیجہ میں 15 ستمبر 1989ء تک مولانا منظور احمد چنیوٹی ذلت آمیز طریقہ سے ہلاک ہو جائیں گے۔ اس خصوصی خطاب کے دوران موصوف (حسن محمود عودہ) پہلی صف میں بیٹھے رپورٹنگ کر رہے تھے۔ پھر جب 13 اگست 1989ء کو سفیر ختم نبوت‘ رشدی ملعون کے خلاف ناموس رسالت کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن گئے تو قاری محمد طیب عباسی کے مکان پر موصوف نے ان سے ملاقات کی۔ تبادلہ خیال ہوا تو موصوف نے کہا کہ بہت سے شکوک و شبہات ہیں اب میں 15 ستمبر 1989ء تک مرزا طاہر کے آپ کے بارے میں دعویٰ ہلاکت کا منتظر ہوں کہ اس تاریخ کو حق و باطل کا فیصلہ ہو جائیگا۔

بالاخر 15 ستمبر کا دن بھی آن پہنچا۔ سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی زندہ سلامت تھے۔ حسب عادت چیلنج لے کر فتح مباہلہ کا اعلان کرنے لندن پہنچ گئے۔ جب وہ لندن ویمبلے ہال میں عظیم الشان اجتماع میں اپنے زندہ سلامت رہنے کا اعلان کر رہے تھے تو حسن اتفاق سے حسن محمود عودہ بھی وہیں موجود تھے بس پھر کیا تھا؟ وہ سفیر ختم نبوت کو دیکھتے ہی اسٹیج پر ان کے برابر آن کھڑے ہوئے اور قادیانی مذہب پر لعنت بھیج کر اس سے تائب ہونے کا اعلان بایں الفاظ میں کر دیا ”میں اس مباہلہ کا پہلا نتیجہ ہوں۔ میں آج مولانا چنیوٹی کے ساتھ کھڑا ہوں۔ قادیانیت جھوٹا مذہب ہے جو بالاخر دنیا سے ختم ہو کر رہے گا“۔

ادھر موصوف نے مرزا طاہر کے منہ پر صاف کہہ دیا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو سچا نہیں مانتا۔ تو اسی وقت موصوف کو ٹل فورڈ کے قادیانی مرکز سے نکال دیا

صفحہ 10

گیا اور فوراً برطانیہ چھوڑنے کا کہا گیا اور ان کی سپانسرشپ بھی ختم کر دی گئی۔ موصوف کے یہ جذبات تھے کہ جس طرح انہوں نے عرب میں قادیانیت کے لئے بڑا کام کیا تھا اب اسی طرح اس مذہب کی حقیقت آشکارا کرتے ہوئے مذہب اسلام کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر دیں گے۔

اس سے مرزائی جماعت کو بڑا خطرہ سامنے نظر آنے لگا تو مرزا طاہر نے 8 دسمبر 1989ء فضل مسجد (مرزائوہ) لندن میں تقریر کرتے ہوئے موصوف کی خوب کردار کشی کی تاکہ ان کو اتنا بدنام کر دیا جائے کہ کوئی ان کی بات کو ذرا بھی اہمیت نہ دے۔ چنانچہ مرزا طاہر نے اپنی تقریر میں بڑی ترتیب سے الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا کہ

”فلسطینی عرب (حسن محمود عودہ) جو نہایت معمولی آدمی ہے اس نے جماعت احمدیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا میں نے اسے اس قابل نہ سمجھا کہ اپنی رائے کا اظہار کروں۔ مگر کچھ عرصہ قبل ایک چنیوٹی ملا نے اس کو بحث کا جواز بنایا اور اسے اعلان مباہلہ میں اپنی کامیابی کا نشان قرار دیا۔ لہٰذا میں نے مناسب خیال کیا کہ اس کا جواب دوں“۔

مرزا طاہر کی تقریر کے اس اقتباس میں حسن محمود عودہ کو اتنا معمولی اور گھٹیا آدمی قرار دیا گیا ہے کہ اس کی کوئی بات بھی اس قابل نہیں کہ اس کی طرف نظر التفات کی جا سکے۔ حتیٰ کہ اس کا قادیانی مذہب پر لعنت بھیجنا اور اس کو چھوڑ دینا بھی ادنیٰ اور معمولی درجہ کا فعل ہے۔

پھر مرزا طاہر نے ترقی کرتے ہوئے کہا کہ ”جنوری کی تقرری کے چھ (6) ماہ کے اندر اس کی عادات میں عجیب سے معاملات کا اضافہ ہو گیا اور اس نے جھوٹی سفارشات شروع کر دیں۔ جب بلا کر باز پرس کی گئی تو اولاً اس نے انکار کیا لیکن بعد میں غلطی تسلیم کر لی اور معافی چاہی ہم نے اسے فوری برخاست کرنے کا ارادہ کیا تو

صفحہ 11

اس نے بڑی لجاجت اور عاجزی سے معافی کی درخواست کی تو ہم نے اس کے والدین کی طویل خدمات کو سامنے رکھتے ہوئے اسے معاف کر دیا۔ پھر جب اس کے ذمہ عربوں سے خط و کتابت کا کام لگایا گیا تو ہر طرف سے اعتراضات اور شکایات موصول ہوئیں کہ یہ آدمی خط و کتابت کا اہل نہیں ہے۔ چنانچہ ہم نے مئی 86ء کو اسے خط و کتابت سے منع کر دیا اور اس پر پابندی لگا دی کہ وہ ہمارے نام پر کہیں خط و کتابت نہ کرے۔ پھر جون 86ء میں اسے تحریری طور پر اس سے منع کر دیا گیا لیکن یہ شخص باز نہ آیا۔ چنانچہ ”التبشیر“ کی جانب سے اسے تنبیہہ کا نوٹس جاری کیا گیا پھر اسی سال اس کی کچھ ایسی بدعملیاں سامنے آئیں جن کا تعلق رقوم سے تھا۔ چنانچہ اکتوبر 86ء میں التبشیر کی جانب سے اسے ان بدعملیوں کی وجہ سے نوٹس دے دیا گیا اور میں نے ذاتی طور پر بھی اسے سختی سے سرزنش کی۔ پھر اس نے اپنی ذمہ داریوں میں غفلت اور کوتاہی شروع کر دی۔ تو دسمبر 86ء میں ہم نے اسے وارننگ دی کہ اپنی اصلاح کر لے۔ آئندہ اس کی یہ حرکت برداشت نہیں کی جائیگی۔ یہ اس کے چھ ماہ کی کارکردگی کا جائزہ ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عزائم ہم پر ظاہر کر دیئے تو ہم نے اس کی بدعملیوں کی تحقیق کے لئے ایک کمیشن مقرر کیا جس نے تحقیق کے بعد متفقہ رائے دی کہ یہ شخص جھوٹا، منافق اور برا آدمی ہے اس کے ذمہ ایک منٹ کے لئے بھی جماعت کا کوئی کام نہ لگایا جائے۔ لہٰذا مارچ 89ء کو اسے تمام تر فاش غلطیوں کی بنا پر ”التقویٰ“ سے ڈسچارج کر دیا گیا اور تراجم میں بددیانتی اور خیانت کی وجہ سے اس سے یہ کام بھی واپس لے لیا گیا۔

بعد ازاں مرزا طاہر نے نتیجہ نکالتے ہوئے کہا کہ ”آپ اندازہ لگائیں کہ جس شخص کے فتح کرنے کا یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں وہ کس قدر جھوٹا، منافق اور برا آدمی ہے اور منظور چنیوٹی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ شخص ان کی تبلیغ سے مسلمان ہوا ہے۔ جس کوڑا کرکٹ کو جماعت باہر نکال پھینکے اس کو یہ اپنا لیتے ہیں اور اس کا دعویٰ

صفحہ 12

کرتے ہیں کہ ہم نے اس کو فتح کر لیا ہے"۔

مرزا طاہر کے الزامات اور اتہامات جو اس نے موصوف (حسن محمود عودہ) پر لگائے یہ ان کا مختصر سا خلاصہ ہے۔ اب ہم حقائق کی روشنی میں ان کا ذرا سا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ جس سے یہ کھل کر سامنے آجائیگا کہ مرزا طاہر کی یہ تقریر اس کے کذاب ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔

صفحہ 13

جناب حسن محمود عودہ کے تعارف میں ان کے عہدے اور اعزازات جو جماعت احمدیہ اور اس کے سربراہ کی طرف سے انہیں دیئے گئے تفصیلاً بیان ہو چکے۔ اجملاً پھر ان کا خاکہ دیا جاتا ہے تاکہ الزامات کا ان سے تقابل باسانی ہو سکے۔

فروری 84ء میں مرزا طاہر نے ان کو دعائیہ خط لکھا۔

دسمبر 84ء میں ان کو مرزا طاہر کی منظوری سے انجمن خدام الاحمدیہ جماعت احمدیہ کبابیر کا صدر منتخب کیا گیا۔

جنوری 85ء میں مرزا طاہر کی منظوری سے ان کی زوجہ کو اسی انجمن میں خواتین کا صدر مقرر کیا گیا۔

فروری 85ء میں انہیں عرب میں قادیانیت کی تبلیغ کی ذمہ داری سونپی گئی۔

نومبر 85ء میں برطانیہ میں بطور معلم تعیناتی ہوئی۔

جنوری 86ء میں لٹریچر کی اشاعت اور کتب کا ترجمہ ذمہ لگایا گیا۔

اگست 87ء میں التبشیر کی جانب سے قادیانی طلباء کی تدریس و تربیت سونپی گئی۔

فروری 88ء میں جماعت احمدیہ قادیان کی جانب سے تحسین کا خط لکھا گیا۔ جس میں موصوف کو عظیم منصبی ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھانے پر خوشی اور مبارک کا اظہار کیا گیا۔

مئی 88ء میں مرزا طاہر نے موصوف کو لکھا کہ الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تاریخی خدمت کے لئے چنا ہے یہ دور انشاء اللہ تاریخ ساز ثابت ہوگا۔

جون 88ء میں مرزا طاہر نے موصوف کو لکھا جزاکم اللہ بہت بہت شکریہ۔ اللہ آپ کی نصرت فرمائے۔ آپ تاریخی لحاظ سے بہت اہم کام کر رہے ہیں۔

جنوری 89ء میں مرزا طاہر نے پھر دعائیہ خط لکھا۔

مرزا طاہر کے الزامات اور ان حقائق میں تقابل کرنے کے بعد جو صورتحال سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ

صفحہ 14

بھی قابل التفات نہ ہو اس خاکہ کے بعد اس کی حقیقت سوائے جھوٹ کے کچھ نہیں رہ جاتی کیونکہ موصوف اگر واقعی اس درجہ کا آدمی تھا تو پھر اتنی نظر کرم کیوں؟ کہ آئے دن نیا عہدہ منتظر ہے۔

جھوٹی سفارشات کی وجہ سے فوری برخاست کرنے کا ارادہ کر لیا گیا تھا جو ناگزیر وجوہات کی بناء پر فیصلہ کی منزل تک نہ پہنچ سکا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ غلط عادات اور جھوٹی سفارشات کا یہ انعام کیوں؟ کہ موصوف کو اس کے بعد خط و کتابت اور مضامین کے ترجمہ کی عظیم ذمہ داری سونپ دی گئی۔

کتابت کا اہم کام لگایا گیا پھر بقول مرزا ہر طرف سے خطوط موصول ہوئے کہ موصوف اس اہم ذمہ داری کا اہل نہیں کیونکہ وہ قادیانی عقائد کو غلط رنگ میں پیش کرکے خیانت کا مرتکب ہوتا ہے لہٰذا اسے اس ذمہ داری سے معطل کر دیا جائے۔ چنانچہ ہم نے مئی، جون 1986ء میں اسے منع کر دیا اور پھر جولائی 1987ء، مئی 1988ء میں اسے رویہ درست کرنے کی تنبیہ کی لیکن اس نے عمل نہ کیا اور باز نہ آیا۔

مرزا طاہر کے اس الزام کو سامنے رکھتے ہوئے آپ خود فیصلہ فرمائیں کہ ایک طرف 86ء میں موصوف پر یہ الزام لگا کر کہ وہ قادیانی عقائد کو غلط رنگ میں پیش کرتا ہے۔ خط و کتابت سے منع کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف اگست 87ء میں اس کے ذمہ قادیانی مذہب کی تدریس کا کام لگایا جا رہا ہے۔ اگر موصوف خط و کتابت میں قادیانی عقائد رد و بدل کر کے پیش کرتا تھا تو تدریس و تربیت میں اس پر کیسے اعتماد کر لیا گیا کہ وہ طلباء کے سامنے صحیح عقائد پیش کریگا؟

صفحہ 15

خیانتیں سامنے آئیں جس پر میں نے اسے سرزنش کی اور پھر دسمبر میں اسے وارننگ دی کہ آئندہ اس کی یہ حرکت برداشت نہیں کی جائیگی۔

اب سوال یہ ہے کہ موصوف اگر واقعۃً خائن‘ بدعملیاں کرنے والا اور برا آدمی تھا تو پھر مرزا کا فروری 88ء میں ایک خط کے جواب میں موصوف کو لکھنا "کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزا دے بہت بہت شکریہ۔ اللہ آپ کی نصرت فرمائے۔ تاریخی لحاظ سے آپ بہت اہم کام کر رہے ہیں" کیا معنی رکھتا ہے؟

پھر یہیں پر بس نہیں بلکہ مئی 88ء میں قادیان کی جماعت احمدیہ کے امیر نے موصوف کو خط لکھا کہ امیر المومنین (مرزا طاہر علیہ اللعنۃ) نے آپ کے ذمہ بہت عظیم تبلیغی ذمہ داری لگائی ہے اور مجھے خوشی ہے کہ آپ بڑی حسن اسلوبی کے ساتھ اس کو انجام دے رہے ہیں۔ پھر مئی 88ء کو مرزا طاہر نے ایک خط کے جواب میں لکھا کہ "خدا تعالیٰ نے آپ کو ایک تاریخی خدمت کے لئے چنا ہے اور خود ہی آپ کی قابلیت اور توفیق بڑھا رہا ہے اور قلب و ذہن کو نئی روشنی عطا فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا دے اور آپ کا ساتھی ہو"۔

مرزا طاہر نے اپنی تقریر میں جو الزامات موصوف پر لگائے ہیں اس تقابل کے بعد ان کی حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کی حقیقت سوائے الزام تراشی اور بہتان طرازی کے کچھ نہیں۔ اور مرزا طاہر کا موصوف کو جماعت کا کوڑا کرکٹ‘ معمولی اور گھٹیا درجہ کا آدمی کہنا دنیا کا بدترین جھوٹ ہے۔

مرزا طاہر نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ "جو شخص جھوٹا اور منافق ثابت ہو چکا ہے اس کے مرزائیت چھوڑنے کو مولوی چنیوٹی اپنی فتح کی علامت کہتا ہے۔ جس کو ہم نکال دیتے ہیں مولوی اس کو گلے لگا لیتا ہے اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے کتنی بڑی جنگ جیتی ہے۔

اس کا فیصلہ اب قارئین کرام خود ہی فرمائیں کہ قادیانیوں کے اتنے اہم

صفحہ 16

آدمی کا قادیانیت پر لعنت بھیجنا اور سفیر ختم نبوت کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر حلقہ اسلام میں آ جانا اسلام، ختم نبوت اور سفیر ختم نبوت کی فتح کی علامت اور قادیانیت کے سیاہ چہرے پر لعنت کا طمانچہ نہیں تو اور کیا ہے؟

نوٹ:- جو حقائق پیش کئے گئے ہیں ان سب کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے۔

حصہ دوم :- سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی پر لگائے گئے

اتہامات حقیقت کے آئینہ میں

مرزا طاہر نے اپنی تقریر میں سفیر ختم نبوت پر اتہامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے اپنے 10 جون 88ء کو دیئے گئے مباہلہ کے چیلنج کا ذکر کیا۔ اس لئے سب سے پہلے مباہلہ کی تاریخی حقیقت سے پردہ اٹھانا ضروری ہے۔

قارئین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی جب مناظروں اور مباحثوں کے ذریعہ اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا ثابت ہوا تو اس نے اپنی خفت مٹانے کے لئے مباہلہ کا حربہ استعمال کیا لیکن اس میں بھی اس قدر ذلیل و رسوا ہوا کہ 24 فروری 1899ء کو جی ایم ڈوئی ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کی عدالت میں مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر ایک طویل معافی نامہ تحریر کرتے ہوئے اس نے آئندہ کے لئے مباہلہ سے توبہ کی اور معافی مانگی۔ پھر کچھ عرصہ بعد قادیانی جماعت نے اس معافی نامہ سے ہونے والی ذلت و رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لئے دوبارہ مباہلہ کا پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ تو سفیر ختم نبوت ملک کی چار مشہور مذہبی جماعتوں کی نمائندگی اور ان کے اعتماد کا اعزاز لئے میدان میں آئے اور 6 جنوری 1956ء کو مرزا بشیرالدین محمود کو مباہلہ کی دعوت دی۔ لیکن ان کی تمام تر شرائط پوری کرنے کے باوجود مرزا بشیرالدین محمود کو میدان میں آنے کی ہمت نہ ہوئی۔ یہ 26 فروری 1963ء تک سات سالہ ایک طویل داستان ہے۔ پھر 1965ء میں مرزا ناصر کو دعوت مباہلہ دی لیکن وہ سرے سے اس کو قبول کرنے کی جرات ہی نہ کر سکا۔ پھر 1982ء میں مرزا طاہر آنجہانی مرزا غلام

صفحہ 17

احمد قادیانی کا چوتھا جانشین بنا تو اسے مباہلہ کی دعوت دی لیکن اسے بھی اپنے پیشروؤں کی طرح میدان میں آنے کی جرات نہ ہو سکی حتیٰ کہ اس نے وہ رجسٹرڈ لیٹر جس کے ذریعے دعوت مباہلہ ارسال کی گئی تھی‘ وصول کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ پھر جب مرزا طاہر پاکستان سے فرار ہو کر لندن پہنچا تو مباہلہ کا چیلنج اس کے تعاقب میں وہاں بھی پہنچا لیکن شرف قبولیت نہ پا سکا۔ جب ذلت و رسوائی اس حد تک پہنچی تو مرزا طاہر نے بڑبڑا کر آنکھیں کھولیں اور پوری امت مسلمہ کو مباہلہ کا چیلنج دے کر اپنے ناخلف اولاد ہونے کا ثبوت فراہم کیا کیونکہ اس کا دادا مرزا غلام احمد قادیانی 24 فروری 1899ء کو ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں اپنے توبہ نامہ میں یہ لکھ کر دے گیا ہے کہ ”جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے میں تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا اختیار ہے ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں جس طریق کار پر کاربند ہونے کا میں نے اقرار کیا ہے“ (وہ طریق کار مباہلہ سے پرہیز ہے)۔

مرزا قادیانی کے اس اقرار اور توبہ نامہ کے مطابق مرزائی جماعت کا ہر فرد جو مرزا قادیانی پر ایمان رکھتا ہے پابند ہے کہ وہ کسی کو مباہلہ کی دعوت نہ دے لیکن اس کے باوجود مرزا طاہر نے ایک خطرناک اور گہری سازش (سانحہ ارتحال جنرل محمد ضیاء الحق شہید) کی بنا پر نام نہاد مباہلہ کا چیلنج کر دیا۔ مرزا طاہر اگر واقعہ اپنے اس چیلنج میں سچا ہوتا تو 82ء اور 85ء میں دی گئی دعوت مباہلہ کو اس نے قبول کیوں نہ کیا؟ پھر جب اس کے چیلنج کو قبول کر لیا گیا اور 25 اگست 88ء کو بذریعہ رجسٹری اس کو لندن میں اس کی اطلاع بھی بھیج دی گئی تو وہ میدان میں کیوں نہ آیا؟

اب بجا طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مرزا طاہر نے اپنے بھائی‘ باپ اور دادا کی سنت پر چلتے ہوئے مباہلہ سے راہ فرار اختیار کر کے اپنے کذب پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ جبکہ سفیر ختم نبوت کا چیلنج مباہلہ اب بھی موجود ہے اور ہر سال

صفحہ 18

26 فروری کو اس دعوت کی تجدید کی جاتی ہے۔

مرزا طاہر نے اپنی تقریر میں سفیر ختم نبوت پر جو الزامات عائد کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ حقائق کی روشنی میں اب ان کا تجزیہ پیش خدمت ہے۔

چنیوٹی نے میرے دادا کو دعوت مباہلہ دی تھی۔ حالانکہ میرے دادا اس کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے۔ یہ مولانا چنیوٹی کا صریح جھوٹ ہے۔

کی مرزا طاہر کو یہ خبر تو نظر آگئی لیکن تردیدی خبر کیوں نظر نہیں آئی؟ مولانا چنیوٹی کی کسی تقریر و تحریر میں مرزا طاہر کے دادا کو ان کی طرف سے دعوت مباہلہ کا ذکر نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ بات اتنی واضح اور بدیہی ہے کہ مرزا طاہر کا دادا مولانا چنیوٹی کی پیدائش سے پہلے ہی واصل جہنم ہو گیا تھا۔ مولانا چنیوٹی کا اسے مباہلہ کا چیلنج دینا چہ معنی دارد؟ البتہ مرزا قادیانی کو اس دور کے علماء نے دعوت مباہلہ دی جس سے اس نے راہ فرار اختیار کی۔ مولانا نے اس کے بعد اس کی ذریت کو مباہلہ کی دعوت دی جو آج تک موجود ہے۔

کہ اگلے سال 15 ستمبر تک میں زندہ رہونگا۔ قادیانیت زندہ نہیں رہیگی۔ اس کا خلاف حقیقت اور جھوٹ ہونا سب پر واضح ہے۔

مرزائیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ اصل صورتحال ملاحظہ ہو۔

مرزا طاہر نے لندن میں جمعہ کی تقریر میں کہا کہ ”15 ستمبر تک چنیوٹی زندہ نہیں رہیگا اور اگر زندہ رہ گیا تو وہ دیکھے گا کہ قادیانیت پہلے سے بہت بڑھے گی۔ ادھر مولانا

صفحہ 19

چنیوٹی کا بیان شائع ہوا کہ اگر مرزا طاہر اپنے دیئے گئے مباہلہ کے چیلنج کی صداقت ثابت کرنے کے لئے میدان میں اتر آیا تو یہ اس کی ہلاکت کا پیش خیمہ ہوگا۔ اس وقت مرزا طاہر میدان میں تو نہ آیا لیکن اب امت مرزائیہ کو فریب دینے کے لئے روزنامہ "جنگ" میں مولانا چنیوٹی کے غلط شائع ہونے والے بیان کو بنیاد بنا کر اپنی جمعہ کی تقریر میں مولانا پر خوب سب و شتم کیا۔ جو غلط بیان قادیانی نامہ نگار کی کارستانی کا نتیجہ تھا جس کی حقیقت یہ ہے۔

مولانا چنیوٹی کا بیان روزنامہ "جنگ" کی قادیانی نامہ نگار نے دجل و فریب کی موروثی راہ پر چلتے ہوئے تبدیل کر کے اس طرح شائع کروایا کہ "مولانا نے کہا ہے کہ اگلے سال تک قادیانیت زندہ نہیں رہیگی" جب ادارہ جنگ نے تحقیق کی اور کیسٹ سنی تو اس میں یہ بیان تھا کہ قادیانی پندرھویں صدی کو احمدیت کی صدی کہتے ہیں کہ اس صدی میں احمدیت ساری دنیا پر غالب آجائیگی۔ لیکن انشاء اللہ یہ صدی مرزائیت کے خاتمہ کی صدی ثابت ہوگی۔

قادیانی نامہ نگار کی اس غلط بیانی پر ادارہ جنگ نے اسے سخت تنبیہ کی اور اپنے اخبار میں اس پر معذرت بھی شائع کی۔ نہ جانے مرزا طاہر کو یہ تردیدی خبر کیوں نظر نہیں آئی؟ اور پھر عقل و خرد سے معمولی سا حصہ پانے والا آدمی بھی ایسی بات نہیں کہہ سکتا کہ مرزائیت جس کی پشت پناہی امریکہ جیسی عظیم باطل طاقتیں کر رہی ہوں۔ ایک سال میں ختم ہو جائیگی۔ چہ جائیکہ مولانا چنیوٹی جیسا جہاندیدہ عالم جو ان کے تعاقب میں پوری دنیا روند چکا ہو اور ان کے ناخداؤں سے بخوبی واقف ہو۔

مرزا طاہر نے لندن کی اپنی تقریر میں اپنے جھوٹے پیروکاروں کی اس ذہنی گھٹن کو جو مسلسل قادیانیت کی عبرتناک شکست کی بناء پر ان کے ذہنوں میں جنم لے رہی تھی کو کسی قدر کم کرنے کے لئے یہ بڑ بھی ہانک دی کہ "15 ستمبر تک چنیوٹی زندہ نہ رہیگا۔ اگر کسی طرح زندہ رہ گیا تو وہ دیکھے گا کہ قادیانیت پہلے سے بہت بڑھے گی"

صفحہ 20

(بحوالہ ہفت روزہ چٹان لاہور) یہ مجھے یقین ہے اور آپ سب کو یقین ہے کہ کوئی احمدی اس یقین سے باہر نہیں کہ یہ مولوی اب لازماً اپنی ذلت و رسوائی کو پہنچنے والا ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اب اس کو ذلت و رسوائی سے بچا نہیں سکتی جو خدا تعالیٰ مباہلہ میں جھوٹ بولنے والے باغیوں کے لئے مقدر کر چکا ہے۔ اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین کے اثر اور اس کی پکڑ سے اب دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں بچا سکتی۔ پس انشاء اللہ ستمبر آئیگا اور ہم دیکھیں گے" ستمبر آیا، قادیانیوں نے دیکھا بلکہ دنیا نے دیکھا کہ ذلت و رسوائی کے طمانچے قادیانیت کے چہرہ رو سیاہ پر کس طرح پڑے اور مرزا طاہر کس طرح قعر مذلت میں لڑھکتا چلا گیا اور چلا جا رہا ہے۔

مباہلہ کی یہ یک سالہ مدت 89ء قادیانیوں کے لئے کن رسوائیوں کا پیام لے کر آئی۔ آئیے اس کی ایک جھلک آپ بھی دیکھتے چلئے۔

سال ہم اپنا ربوہ کا سالانہ جلسہ ضرور کریں گے۔ لیکن نہ کر سکے۔

کی تیاریاں بیس سال سے کر رہے تھے۔ لیکن نہ منا سکے۔

ہندوستان میں اسے قادیانیت کی موت سمجھا گیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کو مرتد اور کذاب سمجھنے لگے۔

ایک بھی قادیانی نہ رہا۔

سے تائب ہوئے۔ (قادیانیوں کے عربی ماہنامہ ”التقویٰ“ کے چیف ایڈیٹر جناب

صفحہ 21

محمود وغیرہ بھی انہی میں سے ہیں)۔

رہا ہے وہاں بھی محافظوں کے دستوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔

اس کے بالمقابل مولانا چنیوٹی کے لئے یہ سال کن انعامات و نوازشات الٰہیہ کا پیام بن کر آیا۔ اس کی بھی ہلکی سی جھلک ملاحظہ ہو۔

ممالک چار سفر کئے۔

ہوئی۔

ہوئی اور اہم امور نوٹ کروائے۔

لئے للکارا۔ لیکن اسے جرات نہ ہوئی۔

آرڈیننس کی یاد میں ”ضیاء الحق“ رکھا۔

بالاتفاق مولانا کو اس سلامتی پر ہدیہ تبریک پیش کیا۔

مرزا طاہر کی اس ہرزہ سرائی کہ ”قادیانیت پہلے سے بہت بڑھے گی“ اور ”یہ مولوی اب لازماً اپنی ذلت و رسوائی کو پہنچنے والا ہے“ اور ان حقائق میں تقابل کرکے قارئین خود فیصلہ فرمائیں کہ کیا اس سے بڑھ کر بھی مرزا طاہر کے لئے ذلت و رسوائی ہو سکتی ہے؟

صفحہ 22

3:۔ مولانا چنیوٹی کا یہ دعویٰ تھا کہ اسلم قریشی کے قاتلوں میں اگر مرزا طاہر نہ ہو تو مجھے پبلک میں گولی مار دی جائے۔

ج۔ اس میں بھی تلبیس کی راہ پر چلنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ مولانا چنیوٹی کے بیانات آج بھی موجود ہیں کہ اگر مرزا طاہر کو شامل تفتیش کر کے صحیح تفتیش کی جائے اور اسلم قریشی برآمد نہ ہو تو مجھے گولی مار دی جائے۔ نہ مرزا طاہر شامل تفتیش ہوا۔ نہ صحیح تفتیش ہوئی۔ اب ہرزہ سرائی کیسی؟

4:۔ مولانا اللہ یار ارشد جو انہی کی جماعت کا آدمی ہے اس نے روزنامہ " مساوات" لاہور میں بیان دیا کہ مولانا منظور احمد چنیوٹی ختم نبوت کا نام بیچ رہا ہے اور اس نے ختم نبوت کے نام پر رقم جمع کر کے ذاتی جائیداد اور رہائش بنائی ہے۔

ج۔ اس کا جواب مولانا اللہ یار ارشد کی زبان میں دینا ہی مناسب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ "روزنامہ مساوات میں میری طرف سے جو کیچڑ مولانا چنیوٹی پر اچھالنے کی کوشش کی گئی ہے اس کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔ وہ اخبار کا اتہام اور مرزا طاہر کا بہت بڑا جھوٹ ہے مولانا چنیوٹی محاذ ختم نبوت کے سپہ سالار اور عظیم مجاہد ہیں۔ مسئلہ ختم نبوت میں ان کی قربانیاں بے مثال اور ناقابل فراموش حقیقت ہے"۔

5:۔ ان مولویوں نے یہ پروپیگنڈہ کر رکھا ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک چودہویں صدی آخری صدی ہے حالانکہ ہم اس کے قائل نہیں۔

ج: چند حوالہ جات قارئین کرام کے ہدیہ نظر کئے جاتے ہیں۔ جن کے ہوتے ہوئے مرزا طاہر کا اپنے اس آبائی عقیدہ کہ چودہویں صدی آخری صدی ہوگی سے فرار ناممکن ہو جاتا ہے۔

صفحہ 23

جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔

(حقیقتہ الوحی 193) (رخ جلد ۲۲ ص:۲۰۱)

اس حوالہ سے ثابت ہوا کہ مسیح موعود بقول قادیانی اس امت کے لئے آخری مجدد ہوا اور وہ چودہویں صدی میں ظاہر ہوا تھا تو لازماً ان کے نزدیک چودہویں صدی آخری صدی ٹھہری۔ اب اس سے انکار مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیح موعود کا انکار اور اس کے دجال و کذاب ہونے کا اعتراف نہیں تو اور کیا ہے؟

چودہویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا۔

(اربعین ج 2 ص 23) در روحانی خزائن جلد ۱۷ ص ۴۳۱

جب یہ ثابت ہو گیا کہ مسیح موعود چودہویں صدی میں ہوگا اور قادیانیوں کے نزدیک مسیح موعود مرزا قادیانی ہے جو آخری مجدد بھی ہے تو ان کے لئے اس سے فرار کی کوئی صورت ممکن نہیں کہ ان کے عقیدہ میں چودہویں صدی آخری صدی تھی۔

چودہویں صدی کا مجدد ہوگا۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم 188) (رخ جلد ۲۱ ص:۳۵۹)

جب مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی، قادیانیوں کے عقیدہ کے مطابق) چودہویں صدی میں ہوا کیونکہ بقول مرزا مسیح موعود آخری مجدد ہے۔

اس کے علاوہ مرزا طاہر نے سفیر ختم نبوت پر کچھ ایسے الزامات بھی عائد کئے جن کا تعلق قادیانی عقائد سے ہے اور اس نے کہا کہ یہ وہ عقائد ہیں جو مولانا منظور احمد چنیوٹی ہمارے سر تھوپتے ہیں حالانکہ وہ ان کے خود ساختہ عقائد ہیں ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اب اس کے وہ الزامات ذکر کر کے انہی کی کتابوں کے حوالہ سے ان کے وہ عقائد نوک قلم پر لائے جاتے ہیں۔ تاکہ فیصلہ قارئین کرام کی نظر انصاف کے سپرد کیا جاسکے۔

صفحہ 24

خدا‘ خدا کا بیٹا اور خدا کا باپ ہونے کا مدعی تھا۔

اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہے۔

وسلم سے بھی افضل ہے۔

ہے۔

حسب ترتیب کتب مرزائیہ سے ان کے عقائد ملاحظہ فرمائیں۔

(1) خدا‘ خدا کا بیٹا اور خدا کا باپ ہونے کا دعویٰ۔

564) (روحانی خزائن جلد 5 (میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا کہ میں عین اللہ ہوں اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں)

(اللہ تعالیٰ مجھے اس طرح مخاطب کرتا ہے سن اے میرے بیٹے)

(تو مجھ سے میرے بیٹے کی طرح ہے)

(تو ہمارے پانی سے ہے)

صفحہ 25

(تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں تیرا ظہور میرا ظہور ہے) اس کے بعد بھی کوئی یہ کہنے کی جرأت کر سکتا ہے کہ مرزا خدا، خدا کا بیٹا اور خدا کا باپ ہونے کا مدعی نہیں تھا۔

(2) مرزا کا خدا

(اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نماز پڑھتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں۔ میں جاگتا ہوں اور سوتا ہوں)

(ہمارا رب عاج ہے) عاج کے معنی ہاتھی دانت یا گوبر کے ہیں۔ یعنی مرزا کا خدا ہاتھی دانت یا گوبر سے بنا ہوا ہے۔

(میں رسول کے ساتھ ہو کر جواب دوں گا خطا کروں گا اور صواب کروں گا)

باتیں کرتا ہے کہ اگر کچھ باتیں بیان کر دوں تو جتنے معتقد نظر آتے ہیں سب پھر جائیں۔ (سیرت المہدی جلد ۱ ص: ۲۷)

غور کر کے فیصلہ دیجئے کہ کیا محمد عربی صلی اللہ وسلم کے خدا میں بھی (العیاذ باللہ) یہی صفات ہیں جو مرزا کے خدا میں ہیں۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر مرزا کا خدا وہ نہیں ہو سکتا جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا ہے۔

(3) مرزا کا تمام پیغمبروں بشمول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

سے افضل ہونے کا دعویٰ

صفحہ 26

روحانی خزائن ص: ۱۵۳ جلد ۱۷،

تائید میں اس نے وہ نشانات ظاہر فرمائے ہیں کہ آج کی تاریخ سے جو 16 جولائی 1906ء ہے۔ اگر میں ان کے فرداً فرداً شمار کروں تو میں خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ تین لاکھ سے بھی زیادہ ہیں۔ (حقیقۃ الوحی ص 67) (روحانی خزائن جلد ۲۲ ص: ۷۰)

(حاشیہ تحفہ گولڑویہ ص 165) (روحانی خزائن جلد ۱۷ ص: ۲۶۳)

لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ (اعجاز احمدی ص 71) (روحانی خزائن جلد ۱۷ ص: ۱۸۳) کیا اب بھی کوئی کہہ سکتا ہے کہ مرزا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہونے کا مدعی نہیں تھا۔

(4) مرزا کی کتاب ”تذکرہ“ کے قرآن کریم کے برابر ہونے کا دعویٰ

99) (در روحانی خزائن جلد ۱۸، ص: ۴۷۷)

اسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے اوپر نازل ہوا خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔ (حقیقۃ الوحی ص 211) (در روحانی خزائن جلد ۲۲ ص: ۲۲۰)

(اربعین در روحانی خزائن جلد ۱۷ ص: ۴۵۴)

مذکورہ بالا حوالہ جات میں ”تذکرہ“ کو صراحۃً قرآن کریم کے ہم پلہ قرار دیا گیا ہے۔

(5) فرشتوں کے بارے میں مرزا کا عقیدہ

صفحہ 27

مثل انگریزوں کے تھی۔ کرسی لگائے ہوئے بیٹھا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ آپ بہت ہی خوبصورت ہیں اس نے کہا کہ ہاں میں درشنی ہوں۔ (تذکرہ ص 31) (تذکرہ ص :۲۵)

میرے دامن میں ڈال دیا۔ میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا کہ کچھ نہیں۔ میں نے کہا آخر کچھ تو ہوگا اس نے کہا ٹیچی ٹیچی۔ (حقیقتہ الوحی ص 332) (رخ جلد ۲۲ ص :۴۶

معلوم ہوا کہ مرزا کا فرشتہ بھی انگریز ہی تھا اور جھوٹ بھی بول لیتا تھا کیونکہ اس نے پہلے کہا کہ میرا نام کچھ نہیں۔ پھر اپنا نام بتلا دیا۔ پہلی بات جھوٹ تھی یا دوسری۔ کیونکہ اگر اس کا نام واقعہ کچھ نہ تھا تو اس نے نام بتلا کر جھوٹ بولا اور اگر اس کا نام تھا تو اس نے یہ کہہ کر جھوٹ بولا کہ میرا نام کچھ نہیں۔

فرشتوں کا یہ تصور اسلام میں نہیں بلکہ اسلام میں ان کا تصور لا يعصون الله ما امرهم کہ وہ گناہوں سے قطعاً پاک ہوتے ہیں۔ پیش کیا گیا ہے۔

(6) مرزا کی عبادت گاہ کا خانہ کعبہ سے افضل ہونے کا دعویٰ

حج کے مقاصد پورے نہیں ہوتے۔ (پیغام صلح 19 اپریل 1933ء)

زیادہ ہے (آئینہ کمالات اسلام ص 352) در روحانی خزائن جلد ۵ ص ۳۵۲

مرزا طاہر کا اپنے اس عقیدہ سے انکار دجل و فریب کی ناکام کوشش ہے۔

(7) امت مرزائیہ کا کلمہ امت مسلم کے کلمہ سے مختلف ہے

تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ (بیان مرزا بشیر احمد ایم اے کلمتہ الفصل ص

(158

صفحہ 28

اس سے معلوم ہوا کہ امت مرزائیہ جب کلمہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتی ہے تو محمد رسول اللہ سے وہ مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتی ہے۔ اس کی دلیل مرزا ناصر کے دورہ افریقہ پر تصویری کتاب "AFRICA SPEAKS" پر احمدیہ سنٹرل ماسک نائیجیریا کا وہ فوٹو بھی ہے جس میں ان کا کلمہ لاالہ الا اللہ احمد رسول اللہ تحریر ہے۔ اور احمد سے مراد قادیانی غلام احمد لیتے ہیں جیسا کہ بشریٰ لک یا احمدی (تجھے خوشخبری ہو اے میرے احمد) انجام آتھم ص 51 پر موجود ہے۔

(در روحانی خزائن جلد ۱۱ ص: ۵۵)

ثابت ہوا کہ دراصل امت مرزائیہ کا کلمہ الگ ہے لیکن وہ تلبیس کرتے ہوئے دھوکہ دینے کے لئے امت مسلمہ جیسا کلمہ ہی پڑھتے ہیں۔

مرزا طاہر نے اختتامی کلمات کہتے ہوئے اپنی تقریر اس پر ختم کر دی کہ تمام لوگ بالخصوص عرب دنیا مولوی چنیوٹی کو کہہ رہی ہے کہ وہ جھوٹا ہے قادیانیوں کے یہ عقائد نہیں یہ سب منظور چنیوٹی اور دوسرے مولویوں نے گھڑے ہیں۔

جھوٹ کی کوکھ سے جنم لینے والے مرزا طاہر کے یہ اختتامی کلمات کس طرح چلا چلا کر اس کے کذاب ہونے کی دہائی دے رہے ہیں۔ آئیے آخر میں اس کا نظارہ بھی کرتے چلئے۔

مرزا طاہر نے عرب دنیا کی بات کی ہے کہ وہ قادیانیوں کو ان کے عقائد کفریہ سے مبرا اور مولانا چنیوٹی کو جھوٹا کہہ رہی ہے جبکہ عرب ممالک سعودی عرب، جمہوریہ مصر، جمہوریہ شام اور متحدہ عرب امارات قادیانیوں کو کافر و مرتد قرار دیتے ہوئے اپنے اپنے ممالک میں خلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔ ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی، ان کے دفاتر سربمہر اور ان کی تمام املاک بحق سرکار ضبط کر لی گئی ہیں۔ تفصیلات ملاحظہ ہوں۔

مفتی اعظم جمہوریہ شام کا فتویٰ

"فرقہ قادیانیہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں تسلیم کرتا جس

PDF 30

سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد خاتم النبین کی مخالفت لازم آتی ہے۔ نیز دین اسلام کے بیشتر عقائد کا منکر ہے لہٰذا جو شخص بھی ان کے عقائد اختیار کرے گا میں اس کے کفر کا فتویٰ دیتا ہوں“

اس فتویٰ کی روشنی میں وزارت داخلہ جمہوریہ شام کی ضروری کاروائی کے بعد حکومت شام نے انسپکٹر جنرل پولیس کو بذریعہ ٹیلیگرام اپنے فیصلہ سے مطلع کیا۔ جس کی بناء پر انسپکٹر جنرل پولیس نے یہ نوٹیفکیشن بنام ضلعوں کے تمام ذیلی مقامات‘ عام پبلک اور تحفظ امن پولیس‘ انسپکٹر جنرل پولیس دمشق جاری کیا۔ ”لازم ہے کہ فرقہ احمدیہ کی سرگرمیوں پر قدغن لگائی جائے۔ ان کے مراکز اور دفاتر پر چھاپے مار کر ان کے تمام املاک پر قبضہ کر لیا جائے۔ اور انہیں اوقاف اسلامیہ کے محکمہ کی تحویل میں دے دیا جائے۔ اور ان کے قبضے سے جو ایسے کاغذات برآمد ہوں جو فتویٰ شرعی کے صدور اور ہمارے اعلامیہ کے اجراء کے بعد کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہوں وہ ہم تک پہنچائے جائیں“۔

اس نوٹیفکیشن کے بعد فوری کاروائی کرتے ہوئے محکمہ اوقاف نے قادیانی زاویہ (مرزائیہ) کو جو محلہ شاغور گلی المزار میں واقع تھا‘ بند کر دیا اور اس کی تمام املاک کو ضبط کر لیا۔

مفتی اعظم جمہوریہ مصر کا فتویٰ

”جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ پرلے درجہ کا جھوٹا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا منکر اور بڑا بہتان تراش ہے اس لئے ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی کی متبع تمام جماعت کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی تمام جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے اور اس پر وحی آتی ہے اور ہم یہ بھی فتویٰ دیتے ہیں کہ نہ تو ان سے رشتہ ناطہ جائز ہے اور نہ ہی انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز ہے“۔

صفحہ 30

متحدہ عرب امارات کا فیصلہ

اپریل 1974ء میں عالم اسلام کی ایک سو آٹھ تنظیموں کا اجتماع ہوا جس میں متفقہ قرار داد منظور کی گئی۔

اور دوسرے مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں۔ اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کیا جائے۔

مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے۔

قادیانی کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ نیز ان کے لئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔

قرآن کا شمار کرکے لوگوں کو اس سے متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سد باب کیا جائے۔

اس کے علاوہ سعودی عرب میں بھی قادیانیوں پر پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ حج کے لئے بھی داخل نہیں ہو سکتے۔ 1965ء میں جو قادیانی ہندو پاک سے جانا چاہتے تھے ان کے اجازت نامے منسوخ کر کے انہیں بندرگاہوں سے واپس بھیج دیا گیا۔

PDF 32

مندرجہ بالا عقائد و حقائق پیش کرنے کے بعد ہم فیصلہ قارئین کرام کی نظر انصاف کے حوالہ کرتے ہیں کہ مرزا طاہر کا اپنے ان عقائد سے انکار کرکے انہیں سفیر ختم نبوت کے سر ڈالنا اس کے انتہائی ڈھٹائی پن کا مظاہرہ نہیں تو اور کیا ہے؟ نیز یہ فیصلہ بھی کہ مرزا طاہر نے اپنی تقریر میں جھوٹے الزامات کی بیساکھیوں کا سہارا لیتے ہوئے حقائق کو یوں بر سر عام جھٹلا کر اپنے کذب پر مہر تصدیق ثبت نہیں کر دی؟ اور اگر کر دی ہے اور یقیناً کر دی ہے تو پھر امت مرزائیہ کی آنکھوں سے دجل و فریب کے سیاہ بادل چھٹ جانے چاہئیں۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے، گم کردہ راہ، گم گشتہ منزل لوگوں کے لئے راہ ہدایت پر آنے کا ذریعہ بنا دیں۔ آمین

نوٹ۔

آخر میں ہم بشکریہ ماہنامہ ”الشریعہ“ جناب حسن محمود عودہ کا وہ انٹرویو بھی لف کر رہے ہیں۔ جس میں موصوف نے خود اپنے ترک قادیانیت اور قبول اسلام کے پس منظر سے پردہ اٹھایا ہے امید ہے کہ اس سے بھی اصل حقیقت تک پہنچنے میں ضرور مدد ملے گی۔ (از مرتب)

صفحہ 32

قادیانی مکر و فریب کے تار و پود

قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے سابق دست راست فلسطینی دانشور حسن محمود عودہ کے قبول اسلام کی تفصیل "الشریعہ" کے ایک گذشتہ شمارہ میں شائع کی جا چکی ہے۔ ذیل میں ایک امریکی نو مسلم خاتون محترمہ جمیلہ تھامس اور حسن محمود عودہ کی گفتگو کا ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔ محترمہ جمیلہ تھامس نے قبول اسلام کا اعلان کیا تو قادیانی جماعت نے انہیں اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ موصوفہ کو جناب حسن محمود عودہ کے ترک قادیانیت کا کسی ذریعہ سے علم ہو چکا تھا اس لئے انہوں نے ان سے براہ راست ملاقات کر کے حالات معلوم کرنا زیادہ مناسب سمجھا اور اس پس منظر میں مندرجہ ذیل گفتگو ہوئی جو ان کے قادیانیت کی گمراہی سے بچاؤ اور اصل اسلام پر استقامت کا ذریعہ بن گئی۔ جناب حسن محمود عودہ ان دنوں "التقویٰ" کے نام سے ایک ماہنامہ جریدہ کے ذریعہ قادیانیت زدہ عرب نوجوانوں کو اصل اسلام کی طرف رجوع کی دعوت دینے کی مہم میں مصروف ہیں اور محترمہ جمیلہ تھامس کے ساتھ ان کا درج ذیل انٹرویو بھی "التقویٰ" کے شعبان 1411ء کے شمارہ سے ان کے شکریہ کے ساتھ ترجمہ کیا جا رہا ہے۔

مدیر معاون

جمیلہ تھامس:۔ حسن بھائی! اچھا ہو گا اگر آپ اپنی ذات اور مرزائیت سے تائب ہونے کے اسباب کے بارے میں کچھ بتائیں۔

حسن عودہ:۔ میری پیدائش حیفہ (فلسطین) میں 1955ء میں قادیانی ماں باپ کے گھر ہوئی۔ بدقسمتی سے میرے آباؤ اجداد مرزا غلام احمد کی حقیقت کے بارے میں کچھ جانے بغیر 1928ء میں قادیانیت کو قبول کر بیٹھے جو کہ ہمارے ملک میں ہندو مبلغین کے ذریعے سے پہنچی تھی۔ انہیں یہ بتایا گیا کہ یہ اسلام کی اصلاح کے لئے آسمانی

صفحہ 33

دعوت ہے اور مرزا غلام احمد کی صورت میں مسیح موعود اور مہدی موعود ظاہر ہو گئے ہیں۔

میرا بھی یہی عقیدہ تھا کہ قادیانیت ہی صحیح اسلام اور قادیانی ہی سچے مسلمان ہیں اور دوسرے لوگ کافر، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ہم مرزائیت کے بارے میں صرف مرزائی علماء کی تحریرات پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ میرا یہ نظریہ پختہ ہو گیا کہ قادیانی ہونے کی حیثیت سے میں ہی برحق ہوں اور جو لوگ مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی موعود پر ایمان نہیں لاتے وہ باطل پر ہیں۔ میں نے مرزائیت کے بارے میں مرزائی لٹریچر ہی پڑھا تھا۔ مسلمانوں نے مرزائیت اور مرزا غلام احمد کے بارے میں جو کچھ تحریر کیا ہے وہ میرے علم میں نہیں تھا۔

مرزائیت کے اندرونی ماحول اور مرزائیوں کے آپس کے تعلقات کے بارے میں بات لمبی ہو جائے گی۔ مجھے اس بارے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ مختصراً یہی کہہ سکتا ہوں کہ مرزائی ایسے پر گھٹن ماحول میں رہتے ہیں جہاں کسی فرد پر دوسروں کے اخلاق و اطوار مخفی نہیں ہیں۔ میں اپنے آپ کو کسی عیب سے پاک نہیں سمجھتا اور مجھے یقین ہے کہ کوئی بھی قادیانی یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکتا کہ قادیانی جماعت نے کسی بھی جگہ پر ایک اچھی جماعت ہونے کی مثال پیش کی ہے چنانچہ مرزائیت کے ماحول کا فساد جو بہت سے مرزائیوں سے مخفی نہیں ہے۔

ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے میں سویڈ چلا گیا جہاں خلیفہ ثالث مرزا ناصر سے 1976ء اور پھر 1978ء میں دو مرتبہ میری ملاقات ہوئی۔ اس وقت ”خلیفہ“ کے ساتھ ملاقات میرے لئے ایک اہم اور خاص واقعہ تھا۔ خلیفہ کے مقربین میں جگہ حاصل کرنے کے لئے میں نے سویڈ کو خیر باد کہا اور قادیان چلا آیا جو کہ مرزائیت کا پہلا ہیڈ کوارٹر اور اس کے بانی مرزا غلام احمد کی جائے پیدائش ہے۔

صفحہ 34

1979ء میں‘ میں نے قادیانی مبشر بننے کے لئے قادیان میں تعلیم کا آغاز کیا۔ خلیفہ اور دوسرے ذمہ دار لوگ میرا خاص خیال رکھتے تھے کیونکہ میں قیام پاکستان کے بعد پہلا اور مرزائیت کے آغاز کے بعد دوسرا یا تیسرا عرب طالب علم تھا جو قادیان میں‘ قادیانیت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ میں مرزا غلام احمد کی عربی تصنیفات کے مطالعہ کے علاوہ اس کی اردو تصانیف کو سمجھنے کے لئے اردو زبان بھی سیکھتا تھا۔

قادیان میں میرا قیام تقریباً سات ماہ رہا۔ چھ ماہ ”بیت الضیافہ“ میں اور ایک ماہ ”غرفۃ الرباطہ“ میں‘ یہ وہی کمرہ ہے جہاں مرزا نے اپنے دعوے کے مطابق اپنے نصف برس سے زائد مدت مسلسل روزے رکھنے کے دوران میں تمام انبیاء سے ملاقات کی۔ مجھے کہا گیا کہ مرزا کا گھر جو شعائر اللہ میں سے ہے اس میں قیام سے بڑی برکتیں ملیں گی۔ مرزا کا گھر ”بیت الذکر“ ”بیت الفکر“ ”بیت الدعاء“ اور ”مسجد مبارک“ وغیرہ نام کے کمروں پر مشتمل ہے ”بیت“ سے مراد ایک الگ الگ کمرہ ہے۔ ”بیت الدعاء“ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جو مرزا نے دعا کے لئے خاص کیا تھا۔ ”بیت الذکر“ کو وہ ذکر کے لئے استعمال کیا کرتا تھا۔ اس کا نام ”مسجد مبارک“ بھی ہے۔ اس کے دروازہ پر لکھا ہے ۔ ”من دخلہ کان امنا“ اور کمرے کی اندرونی طرف دیوار پر لکھا ہے (بشارۃ تلقاھا النبیون) وہ بشارت جو نبیوں کو ملی۔ مسجد کے ساتھ ہی ایک کمرہ ہے جس کا نام (ایۃ الحجر الاحمر) ہے۔........... ایک اور کمرہ کا نام حقیقۃ الوحی ہے ۔ ان کے علاوہ اور بھی کمرے ہیں۔

قادیان میں اپنی تعلیم کی یہ مختصر مدت گزارنے کے بعد میں حیفہ واپس چلا گیا تاکہ قادیانی مبلغین کی مدد کروں پھر ایک سال کے بعد مجھے ایک مرزائی لڑکی سے شادی کرنے اور دوسری مرتبہ سالانہ جلسہ میں‘ جو مرزا کی وصیت کے مطابق ہر سال منعقد ہوتا ہے‘ شرکت کرنے کے لئے دوبارہ قادیان جانا تھا۔

پھر حیفہ واپس آنے کے بعد 1984ء میں مجھے مرزائی خدام کا اور میری

صفحہ 35

اہلیہ کو ”لجنۃ اماء اللہ“ کا سربراہ بنا دیا گیا۔

1985ء میں خلیفہ رابع مرزا طاہر نے مجھے مرزائی مبشر مقرر کیا اور لندن میں خلافت کے نئے مرکز میں بلا لیا۔

1986ء کے شروع میں میرے لندن پہنچنے کے فوراً بعد خلیفہ نے پہلی دفعہ اپنی جماعت میں عربی سیکشن کی بنیاد رکھی اور مجھے اس کا ڈائریکٹر مقرر کیا۔

1988ء میں خلیفہ نے مجھے اپنی تقاریر و خطبات کو عربی میں ترجمہ کرنے کے لئے منتخب کیا اور عربی زبان میں ایک ماہنامہ مجلہ شائع کرنے کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی۔

ان ذمہ داریوں کے علاوہ میں تبلیغی اور تدریسی کاموں میں مشغول رہا مثلاً برطانیہ آنے والے مبلغین کو لیکچر دینا برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کو دعوت مرزائیت دینے کے لئے تبلیغی مجالس منعقد کرنا‘ ان مجالس میں‘ میں نے مسلمان علماء اور طلباء سے مرزا غلام احمد کے دعاوی کی سچائی کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا جس سے میرے ذہن میں ایسے سوالات پیدا ہوئے جن کی وجہ سے مجھے مرزا غلام احمد کی شخصیت و دعوت کے بارے میں اپنے مطالعہ کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ یہ میرے ترک مرزائیت کے اسباب میں سے ایک تھا۔

ایک اور سبب‘ میرا شخصی تجربہ اور مرزائی نظم و ضبط کا مشاہدہ تھا۔ خلیفہ اور داعیین پر مشتمل اس نظام کے مشاہدہ سے مجھے یقین ہو گیا کہ مرزائیت حق سے بہت دور ایک گمراہ تحریک ہے۔ ادارے میں میرے عملی تجربہ کے اضافہ کے ساتھ ساتھ مرزائی عقائد اور نظام کے بارے میں میرے شکوک و شبہات بھی بڑھتے گئے۔

جون 1988ء میں مخالفین مرزائیت کے نام مرزا طاہر کی ”دعوت مباہلہ “ بھی قابل ذکر ہے۔ اس وقت سے میں منتظر تھا کہ مرزائیت کی حقانیت پر کوئی آسمانی نشانی اور معجزہ ظاہر ہو حتیٰ کہ خلیفہ نے پہلی نشانی کے ظہور کا اعلان کیا۔ یعنی صدر

صفحہ 36

پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق شہید کر دیئے گئے۔ صدر پاکستان نے اگرچہ دعوت کو قبول کیا نہ اس پر کوئی توجہ ہی دی لیکن پھر بھی مرزائی ان کی شہادت کو آسمانی نشانی سمجھتے تھے جبکہ جن مسلمان علماء نے دعوت مباہلہ کو قبول کیا تھا اور انسانیت پر مرزائیت کی گمراہی کو آشکارا کیا تھا وہ صحیح سالم زندگی بسر کر رہے تھے۔ مرزائیوں کے اس طرز عمل پر مجھے حیرت ہوئی اور اس حیرت میں اضافہ تب ہوا جب خلیفہ طاہر نے اس ”آسمانی نشانی“ کے ظہور پر خوشی کے اظہار کے طور پر ٹل فورڈ جہاں میں مقیم تھا مرزائیوں میں تقسیم کرنے کے لئے مٹھائی بھیجی۔

اس وقت سے میں دعوت مباہلہ کے اصل مقصد کے بارے میں متلاشی ہوا کہ آیا یہ حقیقتاً مباہلہ ہے یا محض ڈھونگ؟ خدا سے دعا مانگی کہ اللهم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ

میں 10 جون کے اعلان مباہلہ اور اس کے وقت کی تعین کے پس پردہ اسباب پر غور کرتا رہا مرزا طاہر احمد نے اعلان مباہلہ سے قریبا ایک سال قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے پیرس میں ایک خواب دیکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ THE 10TH FRIDAY (دس تاریخ کو پڑنے والا جمعہ کا دن)۔ چنانچہ مرزائی 10 تاریخ کو پڑنے والے ہر جمعہ کے دن کسی خاص اور اہم واقعہ کے رونما ہونے کے منتظر رہتے تا آنکہ خلیفہ نے 10 جون 1988ء بروز جمعتہ المبارک اس انگریزی خواب کو پورا کرنے کے لئے دعوت مباہلہ دی۔ یہ میرے غور و فکر کا ایک پہلو تھا۔

دوسرے پہلو سے میں نے دنیا میں مرزائیت کی اندرون خانہ نظر ڈالی۔ 1989ء میں جو مرزائیت کی تاسیس کی صدی پورا کرنے کا سال تھا میں نے دیکھا کہ ادارہ اپنی سو سالہ کاوشوں کے نتائج کی پردہ پوشی کے لئے نئے اعلانات میں مشغول ہو رہا ہے جس سے مجھے مرزائیت کے دھوکہ، گمراہی اور خلق خدا کے لئے ضلالت ہونے میں شک بھی نہ رہا۔ خلیفہ اور ادارہ کی خاص کوشش یہی تھی کہ وہ ہر متعلق و غیر

صفحہ 37

مخلوق کے سامنے اپنی سو سالہ کامیابیوں کو ظاہر کریں۔ اس صورت حال میں حقیقت کو سمجھ لینا مشکل نہ رہا اور پھر میں جماعت مرزائیہ کے اندرونی و بیرونی احوال سے بخوبی واقف بھی تھا۔ اب میں نے مرزائیت کو ایک نئے نقطہ نگاہ سے دیکھا۔ میں نے مرزا کے قبل ازاں تسلیم شدہ دعاوی کو پرکھا اور اس کے بارے میں علماء اسلام کی تحریرات کا مطالعہ کیا۔ چنانچہ مجھ پر چند ایسے امور واضح ہوئے جن سے میں پہلے واقف نہیں تھا یا یوں سمجھیں کہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ مرزائیت سے میری ذہنی و قلبی بُعد کا آغاز اسی وقت میں ہو گیا تھا۔ جن اشکالات سے میرا واسطہ پڑا ان میں سے چند یہ ہیں۔

ضروری ہے۔

اصرار کرنا اور یہ کہنا کہ ”یہ اللہ کا حکم اور ارادہ ہے“ اور پھر جب لڑکی نے اس کو ٹھکرا دیا اور نکاح نہ ہو سکا تو مرزائی یہ عذر کرنے لگے کہ اس پیشین گوئی کا نصف حصہ اس صورت میں پورا ہو گیا ہے۔

خرابی کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ یہ جماعت جب اپنی اصلاح پر قادر نہیں ہے تو اہل عالم کی اصلاح کیسے کرے گی۔

مہدویت کے باوصف غیر مسلموں کو تو اسلام میں داخل نہ کر سکا البتہ مسلمانوں میں سے ہی اپنی ملت تیار کر لی۔

یہ اشکالات مشتے نمونہ از خروارے کا مصداق ہیں۔ بہرحال میں نے آنحضرت

صفحہ 38

صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ طیبہ کے ساتھ مرزا کی سیرت کا موازنہ کیا تو مجھے شب و روز کا فرق نظر آیا۔ میں نے ترک مرزائیت اور قبول اسلام کا عزم صمیم کر لیا۔ جون 1989ء میں میں نے اپنے والدین اور اقرباء سے مل کر انہیں اپنے قبول اسلام کی خوشخبری سنائی۔ 17 جولائی 89ء کو میں نے اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ " مرکز الاحمدیہ" میں اپنے مکان کو چھوڑ کر ایک دوسرے مکان میں سکونت اختیار کی۔ میں نے پہلا کام یہ کیا کہ قریبی مسجد میں 21 جولائی 89ء کے خطبہ جمعہ کے بعد مرزائیت سے برأت اور قبول اسلام کا اعلان کیا۔ اس کے بعد میں چند دوستوں سے ملا اور انہیں مرزائیت کے بارے اپنے تجربات اور مطالعہ سے آگاہ کیا۔ خدا کا شکر ہے کہ میری اہلیہ، بیٹے، بعض رشتہ دار اور دوست بھی مرزائیت کو ترک کر کے اسلام قبول کر چکے ہیں۔

سویڈ میں محترم احمد محمود رئیس قادیانی جماعت نے حیفہ میں میرے بھائی صالح عودہ نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ اور مراکش اور الجزائر کے دیگر حضرات نے بھی ترک مرزائیت کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔

فالحمد للہ رب العالمین اللہم زد و بارک۔

جیلہ تھامس:۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم سب کو مسلمان بنایا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ مرزائی جماعت کے عقائد مسلمانوں سے جدا ہیں مثلا یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام اپنی والدہ مکرمہ حضرت مریم علیہا الصلوات و التسلیمات کے ساتھ ہجرت کر کے کشمیر چلے آئے تھے اور وہاں ایک سو بیس سال کی عمر میں وفات پا گئے اور ان کی قبر بھی وہیں ہے اور یہ کہ ان کا مثیل "مرزا غلام احمد" ہے اور اس کا لقب بھی "مسیح موعود" ہے۔ تو کیا ایسے عقائد بھی آپ کے ترک مرزائیت کا سبب بنے؟

حسن محمود عودۃ:۔ ایسے نفس عقائد تو اگرچہ سبب ترک نہیں بنے البتہ مرزا کی حقیقت جاننے میں مدد گار ثابت ہوئے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ قبول اسلام (ظاہرا)

صفحہ 39

کسی سبب پر موقوف نہیں بلکہ قانون خداوندی ہے ”فمن يرد الله ان يهديه يشرح صدره للاسلام“ البتہ کسی آدمی کے لئے انکشاف حقیقت کو آسان بنا دینا بھی ہدایت ہی ہے۔ مجھ پر اللہ کی رحمت ہوئی کہ اس نے مرزا کی حقیقت کے بارے میں علم کو میرے لئے آسان کر دیا۔ مرزا جس کو میں نبی اور صاحب وحی رسول سمجھتا تھا۔ اس کی ہر بات میرے لئے حق تھی۔ جن کے انکار کی میرے لئے کوئی گنجائش نہ تھی میں نے سرے سے اس کے ایسے دعاوی کی جانچ ہی نہ کی۔ مثلاً یہ کہ عیسیٰ علیہ الصلوات والتسلیمات سری نگر کشمیر کے علاقہ میں مدفون ہیں یا یہ کہ اللہ نے اسے خطاب کیا ہے کہ ”اسمع و اری انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی“ ایک مخلص قادیانی یا جس کی ذہنی تربیت مرزائی طریق کار کے مطابق ہوئی ہو وہ مرزا غلام لعین کو اگر آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ الف صلوات سے افضل نہیں تو کم از کم اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کمتر سمجھنے کو تیار نہیں ہے العیاذ باللہ مرزا غلام احمد اپنی کتاب ”خطبہ الہامیہ“ میں لکھتا ہے۔

”ہمارے نبی کی روحانیت الف خامس میں اپنی مجمل صفات کے ساتھ طلوع ہوئی۔ اس وقت اس کی ترقی کی انتہا نہ ہوئی تھی پھر کامل ہوئی اور یہ روحانیت الف سادس کے آخر میں یعنی اس وقت ظاہر ہوئی ہے تاکہ اپنے کمال ظہور کو پہنچے اور نور کے غلبہ سے کمنار ہو۔ پس میں ہی وہ نور مظہر اور نور مشہود ہوں۔ ایمان لاؤ اور کافروں میں سے نہ ہو اور جان لو کہ ہمارے نبی جیسے الف خامس میں مبعوث ہوئے تھے اسی طرح الف سادس کے آخر میں مسیح موعود کی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ آپ کی روحانیت الف سادس کے آخر یعنی ان ایام میں پہلے سالوں سے زیادہ قوی اور کامل ہے۔

مرزا غلام احمد نے جان لیا تھا کہ وہ اپنے زمانہ کے عام فقراء اور اہل ثروت سے کیسے پیسے بٹور سکتا ہے ایک ایسے زمانے اور ملک میں جہاں جہالت کا دور دورہ تھا

صفحہ 40

اس نے اسلام اور رسولؐ اسلام کی مدح کے نام پر پیسے بٹورنے شروع کئے لیکن اس میدان میں وہ تنہا نہ تھا۔ اس نے اپنے لئے ایک خاص بلند مرتبہ پسند کر لیا اور بزعم خویش ایک عام داعی دین سے آہستہ آہستہ مجدد' مہدی' مسیح' آدم اور مافوق کی طرف ترقی کرتا چلا گیا۔ اس کے خوش حال اور مخلص پیروکار اسے خادم اسلام سمجھتے ہوئے اس کا دفاع کرتے رہے۔ وہ اس کے دعوائے مسیحیت' مہدویت' رسالت آخرالزماں' مثل محمد اور بروز جمیع انبیاء میں چھپے ہوئے زہر سے غافل اور جاہل ہیں۔ بالاختصار مرزا نے دین اسلام کی مدح و توصیف کے ذریعہ سے اپنے پیروکاروں پر اپنے دعاوی کے زہر قاتل کو اسلام کے لبادے میں چھپانے کی کوشش کی۔ وہ جانتا تھا کہ عام مسلمانوں کو لوٹنا بجز اس ذریعہ کے ممکن نہیں ہے۔

یہ مرزائیوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ مرزا کے اسلام کی مدح میں چند اشعار اور اس کی مزعومہ وحی الہی (مثلاً "I LOVE YOU" "انت منی و انا منک" "انت من مائنا" "انت منی بمنزلۃ عرشی" و غیرھا) کے بدلے میں اس کی نبوت' مسیحیت اور مہدویت پر ایقان کر بیٹھے جبکہ بفضل اللہ مسلمانوں کی اکثریت نے اس کے مذکورہ دعاوی کو قبول نہیں کیا ہے۔ مرزا کا ایک شعر حضورؐ کی مدح میں یوں ہے۔

یا عین فیض اللہ والعرفان
یسعی الیک الخلق کالظمان

(ترجمہ) اے اللہ تعالیٰ کے فیض و عرفان کے چشمے مخلوق آپ کی طرف پیاسے کی طرح دوڑی چلی آتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ مسلمانوں نے اس کے ان اشعار کو قبول نہیں کیا ہے جو اس نے اپنی مدح میں کہے ہیں مثلاً انی من اللہ العزیز الاکبر بہت سے مرزائیوں نے اسلام' رسولؐ اللہ اور صحابہ کرامؓ کی مدح میں لکھا ہے مگر مسلمانوں نے صرف حق کو قبول کیا اور باطل کی تردید کی ہے۔

صفحہ 41

جمیلہ تھامس :۔ مرزائیوں کو آپ کی کیا نصیحت ہے؟

حسن عودۃ :۔ میں نے مرزائیت کو اس کے مخصوص منہج کی وجہ سے یا اس سبب سے ترک نہیں کیا ہے ۔ کہ اس جماعت میں عموماً گھٹیا قسم کے لوگ کام کرتے ہیں بلکہ ان میں اچھے آدمی بھی ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ مرزا غلام احمد سے دھوکہ کھا گئے میری اہم نصیحت ان کو یہ ہے۔ وہ مرزائیت اور مرزا کے بارے میں مسلمانوں کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ اور خدا سے ہدایت طلب کریں۔ انه هو الهادى وهو السميع المجيب مرزائی بھائی جان لیں کہ خلیفہ کا حکم کی اطاعت میں مسلمانوں کی ہر قسم کی تحریرات کو نظر انداز کرنے سے ان کے لئے حقیقت کو معلوم کرنا آسان نہیں ہوگا۔

جمیلہ تھامس :۔ آخری سوال مرزائی تاحال اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں کیا انہیں یہ حق حاصل ہے؟

حسن عودۃ :۔ صرف یہ ہی نہیں کہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں بلکہ وہ صرف اپنے آپکو برحق اور باقی سب کے سب کو جن میں مرزا غلام کے منکرین بھی ہیں باطل پر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اسلام سے ہٹ کر اپنا ایک علیحدہ جماعتی تشخص بنایا ہے۔ جس کو "احمدیت" یا " بقول بعض "اسلام صحیح کہا جاتا ہے۔ اسکے مطابق مرزائی کا مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا گناہ ہے مرزائی عورت کا مسلمان سے نکاح معصیت اور مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا منکرات میں سے ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں بلکہ وہ مسلمان کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ جو مسلمان مرزا غلام احمد کی اتباع نہ کرتا ہو ان کے نزدیک "غیر احمدی" دوسرے لفظوں میں کافر ہے۔ کیونکہ وہ مرزا پر جو نبی ہے۔ ایمان نہیں لاتا۔

مرزا اور مرزائیت کی حقیقت کو سمجھتے ہی متعدد اسلامی تحریکات نے مرزائیوں کے بارے میں۔ "غیر مسلم" ہونے کے فتوے صادر کئے۔ مرزائیت کے مستقبل پر ان فتوں کا بڑا اثر پڑا ہے کیونکہ عالم اسلام اور دنیا پر مرزائیت کی حقیقت کو واضح کرنے کیلئے ان فتووں نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے ان کی وجہ سے مرزائیت کی ترقی رک گئی ہے۔ اور مرزائی دعوت و تبلیغ سے ہٹ کر اپنے مسلمان ہونے کے دفاع کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ اگر وہ مرزا غلام احمد کو چھوڑ کر صرف اسلام پر راضی ہوتے تو انہیں اس حق کے دفاع کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

جمیلہ تھامس :۔ بہت بہت شکریہ، خدا آپ کو جزائے خیر دے

بشکریہ مہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

PDF 43

ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کا مختصر تعارف و اپیل

حضرات تقسیم ملک کے بعد چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے مغربی کنارے پر امت مرزائیہ (انگریز کے خود کاشتہ پودا) نے اپنا ایک مستقل مرکز ربوہ (مرزائیل) کے نام سے قائم کیا۔ یہ ان کی ارتدادی اور تخریبی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جس میں تعلیم، علاج، ملازمت، رشتہ وغیرہ کے لالچ اور دیگر مختلف ہتھکنڈوں سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے اس میں ان کا ایک مستقل ادارہ نظارت اصلاح وارشاد کے نام سے قائم ہے جس کے تحت مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت باطلہ کی اشاعت و تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے مبلغ تیار کر کے اندرون ملک اور بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں۔

مختلف زبانوں میں گمراہ کن لٹریچر چھاپ کر لاکھوں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کا سالانہ بجٹ لاکھوں روپے ہوتا ہے۔ چنانچہ شدید ضرورت تھی کہ قادیانیوں کے اس ادارے کے مقابلہ میں شہر چنیوٹ میں ایک مضبوط اور مستقل ادارہ قائم ہو جس کا مقصد وحید ان کا علمی، تبلیغی، سیاسی اور دینی محاسبہ کرنا ہو۔

الحمد للہ کہ محض اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر استاذ العلماء محدث العصر حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی زیر سرپرستی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد ۱۹۷۰ء کو چنیوٹ میں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے تین بنیادی شعبے ہیں۔

شعبہ تعلیم شعبہ تصنیف شعبہ تبلیغ

ہر شعبہ اپنی اپنی خدمات باحسن طریق اندرون و بیرون ملک سر انجام دے رہا ہے۔ ادارے کا سالانہ بجٹ تقریباً 24 لاکھ روپے ہے۔ تعمیراتی کام اس کے علاوہ ہے جس میں آپ کے ہر قسم کے بھر پور تعاون کی ضرورت ہے۔ تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس ادارے کے مستقل معاون بن کر خدام خاتم النبین ﷺ کی فہرست میں اپنا نام رجسٹرڈ کرائیں اور حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی روح مبارک کو خوش کریں اور استدعا ہے کہ زکوٰۃ عشر، صدقات وغیرہ اور تعمیری سامان دے کر ثواب دارین حاصل کریں

ترسیل زر 21 الائیڈ بنک سرگودہا روڈ برانچ چنیوٹ (زکوٰۃ مد) کیلئے 1766 الائیڈ بنک سرگودہا روڈ برانچ چنیوٹ (عطیات مد) 2488-7 نیشنل بنک مین برانچ چنیوٹ (تعمیرات مد)

الداعی الی الخیر (خادم ختم نبوت) منظور احمد چنیوٹی ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ پاکستان