احتساب قادیانیت جلد 26 · مولانا محمد عالم آسی امرتسری
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 26 · Maulana Muhammad Alam Asi
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

حضرت مولانا محمد عالم آسی امرتسریؒ

اِحتِسابِ قادیانیت

جلد ٢٦

عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122

صفحہ ٢

بسم الله الرحمن الرحیم!

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد چھبیس (٢٦) نام مصنف : حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ صفحات : ٦٨٨ قیمت : ٣٠٠ روپے طبع اول : مارچ ٢٠٠٩ء مطبع : ناصر زرین پریس لاہور ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122

صفحہ ٣

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

ب : احتساب قادیانیت جلد چھبیس (٢٦) ف : حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ : ٦٨٨ : ٣٠٠ روپے : مارچ ٢٠٠٩ء : ناصر زین پریس لاہور : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122

بسم اللہ الرحمن الرحیم!

عرض مرتب

قارئین! لیجئے احتساب قادیانیت کی چھبیسویں (٢٦) جلد پیش خدمت ہے۔ یہ جلد ”الکاویۃ علی الغاویۃ“ ”یعنی چودھویں صدی کے مدعیان مسیحیت و مہدویت کے حالات“ پر مشتمل ہے۔ احتساب قادیانیت کی پچیسویں جلد ”الکاویۃ علی الغاویۃ“ کے حصہ اوّل پر مشتمل تھی۔ یہ جلد حصہ ثانی پر مشتمل ہے۔ احتساب قادیانیت کی اس جلد سے ہم حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ امرتسری کی ”الکاویۃ علی الغاویۃ“ مکمل کتاب کی اشاعت سے فارغ البال ہو گئے۔ فالحمد للہ!

حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ امرتسر کے رہائشی تھے۔ مولانا غلام قادر بھیرویؒ (بھیرہ ضلع سرگودھا) کے شاگرد رشید بیان کئے جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ تفصیلات نہ مل سکیں۔ جس کے لئے اپنے طور پر نادم اور قارئین سے معذرت خواہ ہیں۔

اس تصنیف میں مصنف نے جھوٹے مدعیان نبوت، مسیحیت و مہدویت کے عقائد پر بحث کرتے ہوئے ان کے لٹریچر (کتب و رسائل و پوسٹر) کے خلاصہ جات مع تنقیدات اہل اسلام کو درج کیا ہے۔ ان جھوٹے مدعیان نبوت کے عقائد کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے بھی ان کو طویل بلکہ طویل تر اقتباسات درج کرنے

صفحہ ٤

پڑے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان جھوٹے مدعیان نبوت کے ملعون اور خلاف اسلام، عقائد ہمیشہ کے لئے اس کتاب کے ذریعہ مسلمانوں کو معلوم ہو گئے۔

یہ کتاب جولائی ١٩٣٣ء میں شائع ہوئی۔ گویا پاکستان بننے سے بھی چودہ سال قبل کی یہ کتاب ہے۔ فقیر راقم کی پیدائش سن ١٩٤٥ء کی ہے۔ راقم کی پیدائش سے بارہ سال قبل کی یہ تصنیف لیتھو پر شائع شدہ اور اتنی بھدی اور بے ڈھب کتابت کی دوبارہ اشاعت کا دشوار تر مرحلہ صرف وہی دوست ہی اس مشکل کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں جو اس میدان کے شناور ہیں۔ ورنہ دوسروں کے سامنے بین بجانے کا فائدہ نہیں۔

جن دوستوں نے اس کتاب کی تیاری میں تعاون فرمایا: مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا راشد مدنی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالرشید غازی، عزیز الرحمان رحمانی، مولانا عبدالستار حیدری۔ وہ سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔

کمپوزنگ کے لئے برادر یوسف ہارون اور برادر عدنان سنپال نے جانفشانی سے کام لیا۔ ان سب کے شکریہ کے ساتھ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں کی محنت کو قبول فرمائیں۔

اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔

فقیر اللہ وسایا ١٠؍ فروری ٢٠٠٩ء

PDF 5

فائدہ یہ ہوا کہ ان جھوٹے مدعیان نبوت کے طعون اور خلاف اسلام، کے لئے اس کتاب کے ذریعہ مسلمانوں کو معلوم ہوگئے۔ جولائی ١٩٣٣ء میں شائع ہوئی۔ گویا پاکستان بننے سے بھی چودہ یہ کتاب ہے۔ فقیر راقم کی پیدائش سن ١٩٤٥ء کی ہے۔ راقم کی بارہ سال قبل کی یہ تصنیف لیتھو پر شائع شدہ اور اتنی گھنی اور بے کی دوبارہ اشاعت کا دشوار تر مرحلہ صرف وہی دوست ہی اس اندازہ کر سکتے ہیں جو اس میدان کے شناور ہیں۔ ورنہ دوسروں ن بجانے کا فائدہ نہیں۔

وں نے اس کتاب کی تیاری میں تعاون فرمایا: مولانا فقیر اللہ اختر، نی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا عبدالرشید غازی، عزیز الرحمان عبدالستار حیدری۔ وہ سب مبارک باد کے مستحق ہیں۔

کے لئے برادر یوسف ہارون اور برادر عدنان سنپال نے جانفشانی ں سب کے شکریہ کے ساتھ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان سب دوستوں فرمائیں۔

اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔

فقیر اللہ وسایا ١٠؍ فروری ٢٠٠٩ء

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ

الكاوية الغاوية

یعنی

چودھویں صدی ہجری

کے مدعیان نبوت کے مختصر تاریخی حالات

حصہ دوم

حضرت مولانا محمد عالم آسیؒ

صفحہ ٦

بسم الله الرحمن الرحیم!

معروضات آسی

لئے اصل کتاب سے تصدیق کر لینا ضروری ہوگا۔

خود صحیح کر سکتا ہے۔

میں انہوں نے قواعد کی فاش غلطیاں کی ہیں۔ اہل علم غور سے پڑھ کر لطف اٹھائیں۔

(☆) قرآن مجید کا پہلا مفہوم غلط ہے۔ صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ (☆) ہم سب کچھ ہیں۔ (☆) ہم تناسخ اور بروز کے ذریعہ سے محمد ثانی بنے ہیں۔ (☆) ہمیں شریعت جدید پھیلانے کا حکم ہوا ہے۔ (☆) ہم نے علوم شریعت اسلامیہ سے (امی) ناواقف ہو کر خدا سے وحی پائی ہے۔ اس لئے ہماری غلط عبارات پر اعتراض کرنا خدا کی وحی پر اعتراض کرنا ہوگا۔ (☆) بیت المال قائم کرنا ضروری ہے۔ (☆) ہمارے مخالف کافر اور جہنمی ہیں۔ (☆) رسول قیامت تک آتے رہیں گے۔ (☆) ہمارے سوا خاتم النبیین کا معنی آج تک کسی نے نہیں سمجھا۔ (☆) دنیا چاہتی تھی کہ کوئی مجدد پیدا ہو کر اسلامی قیود سے ہمیں آزاد کرائے۔ سو ہم نے آ کر ان کی یہ تمنا پوری کر دی۔ (☆) ہم کرشن ضرور ہیں اس لئے خدا نے ہم میں روپ لیا ہے۔ ورنہ ہم میں اس کا بروز نہ ہو سکتا تھا۔ (☆) سب مذاہب کو حق سمجھو۔ مگر شریعت وہی قابل عمل ہے جو ہم نے پیش کی ہے۔

چلے آئے ہیں۔

کیونکہ مثل مشہور ہے کہ ”الناس علی دین ملوکہم سالکون طرائق سلوکہم“

ممالک مغرب میں پیدا ہوئے تھے۔ جن میں سے حسن بن صباح زیادہ مشہور ہے۔ غالباً چودھویں صدی کے مدعیان نبوت ان کا ہی بروز ہیں اور ان کا خاتمہ بھی ویسے ہی ہوگا جیسا کہ زمانہ اولیٰ کے کاذب مجددین کا ہوا تھا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

آسی عفی عنہ! ١٠؍ستمبر ١٩٣٤ء

صفحہ ٧

بسم الله الرحمن الرحیم!

معروضات آسی

اقتباسات میں مختصر عبارات نقل کی گئی ہیں۔ کیونکہ اصل عبارتیں بہت لمبی تھیں۔ اس اس لئے اصل کتاب سے تصدیق کر لینا ضروری ہوگا۔ عبارات کتاب ہٰذا میں گو لفظی اغلاط بعض جگہ رہ گئی ہیں۔ مگر وہ ایسی ہیں کہ پڑھنے والا تصحیح کر سکتا ہے۔

مدعیان نبوت کا مبلغ علم بتانے کے لئے ان کی وہ خاص عبارات نقل کی گئی ہیں۔ جن جن میں انہوں نے قواعد کی فاش غلطیاں کی ہیں۔ اہل علم غور سے پڑھ کر لطف اٹھائیں۔

ہم مدعی رسالت کم و بیش ذیل کے امور میں متحد الخیال ہیں۔ (☆) قرآن مجید کا پہلا مفہوم غلط ہے۔ صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ (☆) ہم (☆) ہم تناسخ اور بروز کے ذریعہ سے محمد ثانی بنے ہیں۔ (☆) ہمیں شریعت جدید ملی ہے۔ (☆) ہم نے علوم شریعت اسلامیہ سے (امی) ناواقف ہو کر خدا سے وحی پائی ہماری غلط عبارات پر اعتراض کرنا خدا کی وحی پر اعتراض کرنا ہوگا۔ (☆) بیت المال ہمارا ہے۔ (☆) ہمارے مخالف کافر اور جہنمی ہیں۔ (☆) رسول قیامت تک آتے رہیں گے ہمارے سوا خاتم النبیین کا معنی آج تک کسی نے نہیں سمجھا۔ (☆) دنیا چاہتی تھی کہ آ کر اسلامی قیود سے ہمیں آزاد کرائے۔ سو ہم نے آ کر ان کی یہ تمنا پوری کر دی۔ ہم ہندو ہیں اس لئے خدا نے ہم میں روپ لیا ہے۔ ورنہ ہم میں اس کا بروز نہ ہو سکتا تھا۔ یہ سب احمق سمجھو۔ مگر شریعت وہی قابل تعمیل ہے جو ہم نے پیش کی ہے۔ ان کے نزدیک تمام قومیں اچھی ہیں۔ صرف مسلمان ہی برے ہیں اور آج تک گمراہ چلے آئے ہیں۔

ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ حکومت کا مذہب اور تمدن یورپ کی پابندی اختیار کی جائے۔ ایک مثل مشہور ہے کہ ”الناس على دين ملوكهم سالکون طرائق سلوکهم“ تیرہویں صدی ہجری کے ماحول میں بھی اس قسم کے مدعیان نبوت شام، مصر اور ممالک مغرب میں پیدا ہوئے تھے۔ جن میں سے حسن بن صباح زیادہ مشہور ہے۔ چودھویں صدی کے مدعیان نبوت ان کا ہی بروز ہیں اور ان کا خاتمہ بھی ویسے ہی ہو گا جیسا کہ زمانہ اولیٰ کے کاذب مجددین کا ہوا تھا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

آسی عفی عنہ! ١٠؍ ستمبر ١٩٣٢ء

الكاوية على الغاوية

یعنی چودھویں صدی ہجری کے مدعیان نبوت

حصہ دوم

بسم الله الرحمن الرحیم! ”الحمدلله وحده، والصلوٰة على حبيبه محمد لا نبي بعده، وعلى آله واصحابه اجمعين الى يوم الدين وبعد فيقول العبد العاصی محمد عالم عفى عنه بن عبدالحميد الشہیر بالآسی عفا الله عنهما، رب اشرح لی صدری ويسرلی امری“

میں اس کتاب کی وجہ تسمیہ پہلی جلد میں بتا چکا ہوں اور یہاں پر صرف یہ امر بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مرزائی تعلیم بہائی مذہب کی ایک عکسی اور بروزی تصویر ہے جو اسلامی رنگ آمیزی کے ساتھ احمدیہ چوکھٹ میں دکھائی گئی ہے۔ ناظرین دونوں مذاہب کا تطابق خود ہی کر سکیں اور آسانی کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچ جائیں کہ جو متلاشی اسلامی تعلیم چھوڑ کر مرزائی تعلیم قبول کرتا ہے اس کے لئے یہ بہتر ہی ہے کہ پہلے بہائی مذہب کا گرویدہ ہو کر شریعت محمدیہ کو خیر باد کہہ دے۔ تا کہ اپنے عقائد تبدیل کرنے میں اسے کمالِ آسانی حاصل ہو جائے۔

١......سوانح حیات حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام

١...... اقتباسات انجیل برنابا (برنباس)

آ کر کہا کہ خدا نے تجھے ایک نبی کی ماں ہونے کے لئے چنا ہے۔ کہا کہ انسان کے بغیر بیٹا کیسے جنوں گی؟ کہا کہ یہ بات خدا کے نزدیک محال نہیں ہے۔ کیونکہ اس نے بغیر انسان کی موجودگی کے آدم علیہ السلام پیدا کیا تھا۔ کہا اچھا خدا کی مرضی۔ اب مریم علیہا السلام کو اندیشہ ہوا کہ یہودی اسے بدنام کریں گے۔ اس لئے اپنے رشتہ دار یوسف نجار (عبادت گذار) سے نکاح کیا اور جب اس نے دیکھ کر مریم کو چھوڑنے کا ارادہ کیا تو خواب میں اس کو بتایا گیا کہ مت ڈرو مشیت ایزدی سے یسوع نبی پیدا ہوگا۔

صفحہ ٨

علاقہ کی مردم شماری کرے۔ اس لئے یوسف کو اپنے گھر (بیت اللحم) جانا پڑا اور ایک سرائے میں وہاں پہنچ کر قیام کیا تو مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔ سات روز کے بعد ہیکل میں ختنہ کیا گیا۔ پورب کے تین مجوسی مسیح علیہ السلام کا ستارہ دیکھ کر اور یہودیہ پہنچ کر بیت المقدس میں آ ٹھہرے اور مسیح علیہ السلام کا پتہ پوچھا۔ تب بادشاہ نے نجومیوں سے پوچھ کر ان کو بتایا کہ وہ بیت اللحم میں پیدا ہوا ہے۔ تم وہاں جاؤ اور واپس ہو کر مجھے ملنا مجوسی ستارے کے پیچھے ہولئے اور بیت اللحم میں جاکر مسیح پر نیاز چڑھائی۔ بچہ نے خواب میں کہا کہ تم بادشاہ سے نہ ملو۔ تب وہ سیدھے اپنے گھر چلے گئے۔ یوسف مریم کو مصر لے آیا اور پیچھے بیت اللحم کے بچوں کو مار ڈالنے کا حکم جاری ہوا۔ (کیونکہ حاکم کو یسوع سے بڑا خطرہ تھا) اور یوسف حاکم کی وفات تک مصر ہی رہا۔ سات سال کے بعد یوسف یہودیہ سے واپس آیا تو ارخیلاؤس بن ہیرودس وہاں کا بادشاہ تھا۔ اس لئے اس سے ڈر کر جلیل میں چلا گیا۔ یسوع بارہ سال کا ہوا تو بیت المقدس سجدہ کرنے آیا اور لوگوں سے بحث کی۔ جس سے وہ دنگ رہ گئے تو والدین کے ہمراہ ناصرہ میں آ ٹھہرا۔

گئے تو بعد از نماز یسوع کو بذریعہ وحی بتایا گیا کہ وہ یہود کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ والدہ نے تصدیق کی کہ مجھے یہ پہلے ہی بتایا گیا تھا تو تبلیغ کے لئے یسوع پہلی دفعہ بیت المقدس آئے اور راستہ میں ایک کوڑھی کو دعا سے اچھا کیا تو اس نے چلا کر کہا کہ اے بنی اسرائیل اس نبی کی پیروی کرو۔

المقدس آئے اور شہر میں شور مچ گیا۔ کاہنوں نے منبر پر کھڑا کر کے لوگوں کو وعظ سننے کا حکم دیا اور آپ نے وعظ میں تمام فقیہوں، استادوں اور علمائے بنی اسرائیل کو خصوصیت سے آڑے ہاتھوں لیا۔ تب وہ باطنی طور پر مخالف بن گئے۔ مگر بظاہر تسلیم کیا اور آپ اپنے مریدوں کے ہمراہ تبلیغ کے لئے وہاں سے چل دیئے۔

رات نماز میں دعا کی کہ مجھے پوجاریوں سے بچا۔ جو میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صبح خدا کی طرف سے کہا گیا کہ دس لاکھ فرشتے تیری حفاظت کریں گے۔ جب تک تیرا کام انتہاء تک نہ پہنچے اور دنیا کا اختتام نہ ہو تب تک تم نہ مرو گے۔ تو آپ نے سجدہ کیا اور ایک دنبہ قربانی کیا۔ اردن کے گھاٹ سے عبور کر کے چلے گئے اور چالیس دن روزہ رکھا۔ پھر اورشلیم تیسری بار واپس آ کر تبلیغ کی

اور لوگ مطیع ہو گئے۔ جن میں سے آپ نے جس نے یہ انجیل لکھی) متی عشار، یوحنا، یعقوب ثانی، یہودا خریوطی غدار۔

نے وہاں پانی کو شراب بنایا اور حواریوں کو وقت دس ہزار نبی کا قتل ہوا تھا۔ ایک گال پر ہے آگ سے نہیں بجھتی۔ خدا ایک ہے۔ نہ سے اچھے ہو گئے ان سے کہا کہ میں تمہارے السلام سے جو وعدے خدا نے کئے تھے نزول ہوئے۔ راستہ میں جہاز ڈوبنے لگا مگر آپ آپ نے فرمایا کہ بے ایمانوں کو نشانی نہیں جاتا۔ اس پر لوگوں نے آپ کو سمندر میں ڈبو

کہ اس علاقہ سے نکل جاؤ۔ تو آپ صور اور یہودی نہ تھی اور آپ صرف بنی اسرائیل کی ط دوسری دفعہ عید مظال کے وقت میں لاجواب کیا۔ اتنے میں ایک بت پرس تندرست ہو گیا اور گھر جا کر باپ نے بت دعوت دی اور بیمار مذکور کو ذکر کر کے ان کو تا سے صحراء ارون میں آگئے اور چار حواریوں بھی سمجھا دیا۔ مگر یہودا خریوطی نہ سمجھا۔

کی تو پوجاریوں کا سردار کہنے لگا کہ تم ہمار ڈرتا جو خدا سے نہیں ڈرتے اور جنہوں نے الکہنہ نے گرفتار کرنے کا ارادہ کیا مگر لوگوں

.......٩ نبوت کے دوسر نبوت کے دوسر

صفحہ ٩

رہے۔ اس لئے یوسف کو اپنے گھر (بیت اللحم) جانا پڑا اور ایک سرائے میں مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے۔ سات روز کے بعد ہیکل میں ختنہ کیا گیا۔ پورب سے نجومی مسیح علیہ السلام کا ستارہ دیکھ کر اور یہودیہ پہنچ کر بیت المقدس میں آ ٹھہرے اور مسیح کو نہ پایا تب بادشاہ نے نجومیوں سے پوچھ کر ان کو بتایا کہ وہ بیت اللحم میں پیدا ہوا ہے اور واپس ہو کر مجھے ملنا نجومی ستارے کے پیچھے ہولئے اور بیت اللحم میں جا کر مسیح کو دیکھا۔ فرشتے نے خواب میں کہا کہ تم بادشاہ سے نہ ملو۔ تب وہ سیدھے اپنے گھر چلے گئے۔ آیا اور جتنے بیت اللحم کے بچوں کو مار ڈالنے کا حکم جاری ہوا۔ (کیونکہ حاکم کو یقین تھا) اور یوسف حاکم کی وفات تک مصر ہی رہا۔ سات سال کے بعد یوسف آیا تو ارخیلاؤس بن ہیرودس وہاں کا بادشاہ تھا۔ اس لئے اس سے ڈر کر جلیل میں جا بسا۔ بارہ سال کا ہوا تو بیت المقدس سجدہ کرنے آیا اور لوگوں سے بحث کی۔ جس سے وہ گھبرا کر اسی کے ہمراہ ناصرہ میں آ ٹھہرا۔

جب یسوع تیس برس کا ہوا تو یوحنا سے بپتسمہ لینے یردن کو گیا۔ پھر وہاں سے خدا نے مسیح کو بذریعہ وحی بتایا کہ وہ یہود کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ والدہ نے کہا کہ مجھے پہلے ہی بتایا گیا تھا تو تبلیغ کے لئے یسوع پہلی دفعہ بیت المقدس آئے اور ایک کوڑھ والے کو دعاء سے اچھا کیا تو اس نے چلا کر کہا کہ اے بنی اسرائیل اس نبی کی پیروی کرو۔

تب آپ دوسری دفعہ معہ یہود کے ہیکل میں نماز پڑھنے کے لئے بیت المقدس میں گئے ۔ وہاں شور مچ گیا۔ کاہنوں نے منبر پر کھڑا کر کے لوگوں کو وعظ سننے کا حکم دیا اور عوام، تمام فقیہوں، استادوں اور علمائے بنی اسرائیل کو خصوصیت سے آڑے ہاتھوں لیا ۔ سب مخالف بن گئے۔ مگر بظاہر تسلیم کیا اور آپ اپنے مریدوں کے ہمراہ تبلیغ کے لئے چلے گئے۔

چند دن بعد مسیح علیہ السلام جبل زیتون پر دوسری دفعہ گئے اور وہاں ساری رات دعا کی کہ مجھے پوجاریوں سے بچا۔ جو میرے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صبح خدا کی وحی آئی کہ دس لاکھ فرشتے تیری حفاظت کریں گے۔ جب تک تیرا کام انتہاء تک نہ پہنچے اور جب تک تم نہ مرو گے۔ تو آپ نے سجدہ کیا اور ایک دنبہ قربانی کیا۔ اردن کے علاقے میں چلے گئے اور چالیس دن روزہ رکھا۔ پھر اورشلیم تیسری بار واپس آ کر تبلیغ کی

اور لوگ مطیع ہو گئے۔ جن میں سے آپ نے بارہ حواری چن لئے اور اندریاس، پطرس، برنابا (برنباس جس نے یہ انجیل لکھی) متی عشار، یوحنا، یعقوب، انداؤس، یہودا، برتولومائوس فیلپس، یعقوب ثانی، یہودا خریوطی غدار۔

نے وہاں پانی کو شراب بنایا اور حواریوں کو وعظ کی کہ : ”سیاح بنو اور تکلیف سے نہ گھبراؤ اشعیا کے وقت دس ہزار نبی کا قتل ہوا تھا۔ ایک گال پر تھپڑ پڑے تو دوسری آگے کر دو۔ آگ پانی سے بجھتی ہے آگ سے نہیں بجھتی۔ خدا ایک ہے۔ نہ اس کا بیٹا ہے نہ باپ۔“ پھر دس کوڑھیے جو آپ کی دعاء سے اچھے ہو گئے ان سے کہا کہ میں تمہارے جیسا انسان ہوں۔ لوگوں سے جا کر کہو کہ ابراہیم علیہ السلام سے جو وعدے خدا نے کئے تھے نزدیک آ رہے ہیں۔ پھر آپ دوسری دفعہ ناصرہ کو روانہ ہوئے۔ راستہ میں جہاز ڈوبنے لگا مگر آپ کی دعا سے بچ گیا۔ ناصرہ میں علماء نے معجزہ طلب کیا تو آپ نے فرمایا کہ بے ایمانوں کو نشانی نہیں ملے گی۔ کیونکہ کوئی نبی اپنے وطن میں قبول نہیں کیا جاتا۔ اس پر لوگوں نے آپ کو سمندر میں ڈبونا چاہا مگر آپ بچ گئے۔

کہ اس علاقہ سے نکل جاؤ۔ تو آپ صور اور صیدا میں آئے اور کنعانی عورت کا جن نکالا۔ اگر چہ وہ یہودی نہ تھی اور آپ صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث تھے۔

دوسری دفعہ عید مظال کے وقت آپ چوتھی دفعہ اورشلیم میں آئے اور پوجاریوں کو بحث میں لاجواب کیا۔ اتنے میں ایک بت پرست نے اپنے بیٹے کے لئے آپ سے دعا کروائی تو تندرست ہو گیا اور گھر جا کر باپ نے بت توڑ ڈالے۔ پھر آپ نے توحید کی طرف پوجاریوں کو دعوت دی اور بیمار مذکور کو ذکر کر کے ان کو نادم کیا تو وہ قتل کے درپے ہو گئے۔ اس لئے آپ وہاں سے صحراء اردن میں آگئے اور چار حواریوں کے شکوک رفع کئے اور انہوں نے باقی آٹھ حواریوں کو بھی سمجھا دیا۔ مگر یہودا خریوطی نہ سمجھا۔

کی تو پوجاریوں کا سردار کہنے لگا کہ تم ہمارے خلاف تبلیغ نہ کرو۔ آپ نے کہا کہ میں ان سے نہیں ڈرتا جو خدا سے نہیں ڈرتے اور جنہوں نے کئی نبی مار ڈالے اور ان کو کسی نے دفن بھی نہ کیا۔ رئیس الکہنہ نے گرفتار کرنے کا ارادہ کیا مگر لوگوں سے ڈر گیا۔

صفحہ ١٠

ایک بیوہ کا لڑکا بڑے اصرار کے بعد زندہ کیا اور لوگ عیسائی ہوئے۔ مگر رومانیوں نے عیسائیوں سے کہا کہ ہم تو ایسے پیر کو خدا جانتے ہیں تم نے تو کچھ قدر ہی نہیں کی۔ اب شیطان کے بہکانے سے اختلاف رائے پیدا ہو گیا تو ایک فرقہ نے کہا کہ یہ خدا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ خدا محسوس نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ خدا کا بیٹا ہے اور تیسرا توحید کا قائل رہا اور آپ کفر ناحوم میں چلے گئے اور ایک مجمع میں آپ تبلیغ کر کے جنگل کو نکل گئے۔

......١٠ ایک دفعہ قریہ السامریہ پہنچے تو انہوں نے روٹی بھی نہ دی۔ تو یعقوب اور یوحنا نے کہا کہ آپ بددعا کریں کہ ان پر آگ برسے۔ آپ نے فرمایا کیا صرف اس لئے کہ انہوں نے ہم کو روٹی نہیں دی؟ کیا تم نے ان کو رزق دیا ہے؟ یونس علیہ السلام نے نینویٰ والوں کو بددعا دی تھی تو آپ کے جانے کے بعد انہوں نے توبہ کر لی تھی وہ تو بچ گئے۔ مگر آپ کو مچھلی نے نگل کر نینویٰ کے پاس پھینک دیا تھا۔ تب دونوں حواری تائب ہوئے۔

......١١ چھٹی بار آپ عید فصح منانے اورشلیم آئے۔ وہاں بیت الصدے چشمہ پر ایک لولنجا ٣٨ سال سے بیٹھا تھا اور جب چشمہ میں جوش آتا تھا تو بیمار اس میں جا کر شفاء حاصل کرتے تھے۔ مگر اس کو کسی نے اندر نہ جانے دیا تھا۔ آپ نے دعا سے اس کو اچھا کیا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے تبلیغ کی اور بحث میں پوجاریوں کو لاجواب کیا اور وہاں سے روانہ ہو کر حدود قیصریہ میں آئے اور حواریوں سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ پطرس نے جواب دیا کہ آپ خدا کے بیٹے ہیں۔ تب آپ نے ناراض ہو کر اس سے توبہ کرائی۔ مگر عام لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو کر جم چکا تھا۔ تو آپ جلیل میں چلے آئے اور بیماروں کو اچھا کیا۔

......١٢ رات کو حواریوں سے کہا کہ اب امتحان کا وقت آ گیا ہے۔ تب فرشتہ نے بتایا کہ یہودا آپ کا اندرونی دشمن ہے۔ وہ کاہنوں سے اندرونی سازش رکھتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ: ”ایک حواری ہلاک ہوگا ۔“ برنباس نے پوچھا وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا : ”وہ خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔ میں دنیا سے جاتا ہوں۔ میرے بعد ایک رسول آئے گا جو میری تصدیق کرے گا اور بت پرستی کو دور کرے گا ۔“ پھر آپ کوہ سینا پر چلے گئے اور چالیس دن وہیں رہے۔ پھر اورشلیم کو ساتویں دفعہ چلے راستہ میں کسی نے کہا کہ یہ اللہ ہے اور اپنی قوم کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے کہا: ”نہیں میں بشر ہوں ۔“

......١٣ اس کے بعد آپ صحرائے تیرو میں گئے اور حواریوں کو نماز روزے کی تلقین کی اور ان کو کھانا لانے کے واسطے کسی بستی میں بھیجا تو سب چلے گئے۔ مگر برنباس آپ کے پاس رہا تو آپ نے فرمایا کہ : ”اے برنباس! میرا قتل کیا جائے گا۔ خدا مجھ کو زمین سے اوپر تب ہر ایک یہی سمجھے گا کہ وہ مسیح ہے۔ مگر اڑا دے گا۔ خدا تعالیٰ یہ قدرت اس لئے بدلہ دے گا کہ میں زندہ ہوں اور موت س بتائیے وہ شاگرد کون ہے۔ میں اس کا گلا ا یہ بات بتا دوتا کہ اس کو تسلی رہے۔

......١٤ تب آپ نے آ فوج کو اطلاع دی کہ آپ بت پرستی کو برا پا سکے۔ کیونکہ آپ بحر جلیل میں کشتی پر سوا کر ان کو ساحل کے قریب تبلیغ کی اور نائون اس کی ماں نے بڑی خدمت کی ۔ تب لو وہاں سے بھاگ گئے اور پندرہ دن تک نے آپ کو پا کر عرض کی اے معلم! تو ہم شیطانی فوج میرے قتل کے سامان کر ر میرے قتل کا حکم حاصل کرلیں گے ۔ کیونکہ شاگرد مجھ کو ان کے حوالے کر دے گا۔ جو اس کو پکڑا دے گا اور حضرت داؤد علیہ الس ہاتھوں سے بچا کر دنیا سے اٹھا لے گا ۔

اب دوسرے دن آپ کے ڈ کیا تو ان کو موت کے متعلق وعظ کیا کہ ا (آخرت) کا سامان کرنا چاہئے۔ پھر ک کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں دنیا کے اختتا

......١٥ یہودا آپ کا تو تھے۔ صرف اس خیال سے کہ آپ جب اب انکاری ہو کر کہنے لگا کہ اگر یہ نبی ہ

صفحہ ١١

اصرار کے بعد زندہ کیا اور لوگ عیسائی ہوئے۔ مگر رومیوں نے عیسائیوں پر کہ خدا جانتے ہیں تم نے تو کچھ قدر ہی نہیں کی۔ اب شیطان کے بہکانے سے گمراہ ہو گیا تو ایک فرقہ نے کہا کہ یہ خدا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ خدا محسوس نہیں بلکہ خدا کا بیٹا ہے اور تیسرا توحید کا قائل رہا اور آپ کفر ناحوم میں چلے گئے اور ایک مجمع سے بچ کر نکل گئے۔

ایک دفعہ قریۃ السامریہ پہنچے تو انہوں نے روٹی بھی نہ دی۔ تو یعقوب اور یوحنا نے کہا بددعا کریں کہ ان پر آگ برسے۔ آپ نے فرمایا کیا صرف اس لئے کہ روٹی نہیں دی؟ کیا تم نے ان کو رزق دیا ہے؟ یونس علیہ السلام نے نینویٰ والوں کو ڈرانے کے بعد انہوں نے توبہ کر لی تھی وہ تو بچ گئے۔ مگر آپ کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ تب دونوں حواری تائب ہوئے۔

چھٹی بار آپ عید فصح منانے اور شلیم آئے۔ وہاں بیت الصدے چشمہ پر ایک شخص مدت سے بیٹھا تھا اور جب چشمہ میں جوش آتا تھا تو بیمار اس میں جا کر شفاء حاصل کرتے تھے۔ اسے کسی نے اندر نہ جانے دیا تھا۔ آپ نے دعا سے اس کو اچھا کیا۔ لوگ جمع ہو گئے اور بحث میں پوجاریوں کو لاجواب کیا اور وہاں سے روانہ ہو کر حدود قیصریہ میں حواریوں سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ پطرس نے جواب دیا کہ آپ خدا کے بیٹے ہیں۔ آپ نے ناراض ہو کر اس سے توبہ کرائی۔ مگر عام لوگوں میں یہ خیال پیدا ہو کر جم چکا تھا کہ آپ ایلیاہ ہیں۔ پھر آپ وہاں سے گلیل چلے آئے اور بیماروں کو اچھا کیا۔

ایک رات کو حواریوں سے کہا کہ اب امتحان کا وقت آ گیا ہے۔ تب فرشتہ نے آ کر خبر دی کہ آپ کا ایک شاگرد اندرونی دشمن ہے۔ وہ کاہنوں سے اندرونی سازش رکھتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا جو میرے ساتھ روٹی کھاتا ہے وہی ہلاک ہوگا۔“ برنباس نے پوچھا وہ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ خود ہی ظاہر ہو جائے گا۔ اور میں تو اب تم کو چھوڑ کر دنیا سے جاتا ہوں۔ میرے بعد ایک رسول آئے گا جو میری تصدیق کرے گا اور وہ تم کو تمام سچائی کی راہ بتائے گا۔“ پھر آپ کوہ سینا پر چلے گئے اور چالیس دن وہیں رہے۔ پھر اور شلیم کو آئے۔ وہاں ایک اندھا بیٹھا تھا جس کے حق میں کسی نے کہا کہ یہ اللہ ہے اور اپنی قوم کو آپ کے پاس لایا تو آپ نے اسے شفا دی اور فرمایا کہ میں تو خدا کا بندہ ہوں۔“

اس کے بعد آپ صحرائے یہودا میں گئے اور حواریوں کو نماز روزے کی تلقین کے واسطے کسی بستی میں بھیجا تو سب چلے گئے۔ مگر برنباس آپ کے پاس رہا

تو آپ نے فرمایا کہ: ”اے برنباس! میرا ایک شاگرد مجھے تیس روپے پر بیچ دے گا اور میرے نام پر قتل کیا جائے گا۔ خدا مجھ کو زمین سے اوپر اٹھا لے گا اور اس شاگرد غدار کی شکل تبدیل کر دے گا۔ تب ہر ایک یہی سمجھے گا کہ وہ مسیح ہے۔ مگر جب مقدس رسول آئے گا تو میرے نام سے یہ دھبہ اڑا دے گا۔ خدا تعالیٰ یہ قدرت اس لئے دکھائے گا کہ میں نے مسیحا کا اقرار کیا ہے۔ جو مجھے یہ بدلہ دے گا کہ میں زندہ ہوں اور موت کے دھبے سے بری ہوں۔“ برنباس نے کہا کہ مجھے آپ بتائیے وہ شاگرد کون ہے۔ میں اس کا گلا گھونٹ کر مار ڈالوں۔ آپ نے نہ بتایا اور کہا میری ماں کو یہ بات بتا دو تا کہ اس کو تسلی رہے۔

فوج کو اطلاع دی کہ آپ بت پرستی کو برا کہتے ہیں۔ اس لئے وہ واجب القتل ہیں۔ مگر آپ کو نہ پا سکے۔ کیونکہ آپ بحر جلیل میں کشتی پر سوار ہو چکے تھے۔ مگر لوگوں نے ہجوم کیا تو آپ نے لنگر ڈال کر ان کو ساحل کے قریب تبلیغ کی اور نائن کو دوسری بار چلے گئے۔ وہاں ایک یتیم کے گھر قیام کیا اور اس کی ماں نے بڑی خدمت کی۔ تب لوگوں نے مشورہ کیا کہ آپ کو اپنا بادشاہ بنالیں۔ مگر آپ وہاں سے بھاگ گئے اور پندرہ دن تک حواریوں کو بھی نہ ملے۔ تب یوحنا، یعقوب، اور برنباس نے آپ کو پا کر عرض کی اے معلم ! تو ہم سے کیوں بھاگ گیا تھا؟ کہا کہ اس لئے بھاگا ہوں کہ شیطانی فوج میرے قتل کے سامان کر رہی ہے۔ دیکھ لو گے کہ پوجاری حاکم رومانی حاکم سے میرے قتل کا حکم حاصل کر لیں گے۔ کیونکہ ان کو میرے بادشاہ بننے کا خطرہ لگا ہوا ہے اور میرا ایک شاگرد مجھ کو ان کے حوالے کر دے گا۔ جیسا کہ یوسف علیہ السلام مصر میں بیچا گیا تھا۔ مگر خدا تعالیٰ اس کو پکڑوا دے گا اور حضرت داؤد علیہ السلام کا حکم پورا ہوگا۔ (چاہ کن را چاہ در پیش) مجھے ان کے ہاتھوں سے بچا کر دنیا سے اٹھالے گا۔

اب دوسرے دن آپ کے شاگرد دو دو ہو کر حاضر ہوئے اور باقیوں کا انتظار دمشق میں کیا تو ان کو موت کے متعلق وعظ کیا کہ انسان کو عارضی گھر کا خیال نہ کرنا چاہئے۔ بلکہ اصلی وطن (آخرت) کا سامان کرنا چاہئے۔ پھر کہا کہ میں تم کو اس لئے نہیں کہتا کہ میں اب مر جاؤں گا۔ کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میں دنیا کے اختتام تک زندہ رکھا جاؤں گا۔

تھے۔ صرف اس خیال سے کہ آپ جب بادشاہ بن جائیں گے تو مجھے بھی اچھا عہدہ مل جائے گا۔ اب انکاری ہو کر کہنے لگا کہ اگر یہ نبی ہوتا تو ضرور جان لیتا کہ میں اس کا چور ہوں۔ حکیم ہوتا تو

صفحہ ١٢

سلطنت لینے سے نہ بھاگتا۔ اب اس نے رئیس الکہنہ کو وہ تمام ماجرا سنا دیا جو نائین میں پیش آیا تھا۔ تو پوجاریوں نے یہ سوچا کہ آپ ہماری بت پرستی سے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسیحا بنی اسماعیل سے ہوگا اور داؤد علیہ السلام سے نہیں آئے گا اور لوگوں میں آپ کی قبولیت بہت عام ہوچکی ہے اور لوگ آپ کو بادشاہ بنانا چاہتے ہیں۔ مناسب ہے کہ حاکم رومی سے مدد لے کر آپ کو رات کے وقت گرفتار کیا جاوے۔ ورنہ اس کی بادشاہی میں ہم تباہ ہو جائیں گے۔

١٦...... اس وقت تمام شاگرد دمشق میں تھے۔ آپ ہفتہ کی صبح کو ناصرہ تیسری دفعہ چلے آئے اور لوگوں سے ملاقات کر کے یہودیہ چلے گئے۔ راستہ میں شاگردوں نے ہر چند روکا مگر آپ نے فرمایا کہ میں ان سے نہیں ڈرتا۔ تم موجودہ فریسیوں کے خمیر سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ خمیر کی ایک گولی من بھر آٹے کو خمیر بنا دیتی ہے۔

١٧...... پھر نوویں دفعہ اورشلیم میں آئے اور فوج گرفتار کرنے کو آئی۔ مگر قابو نہ پاسکی۔ تو نہر اردن عبور کر کے آپ صحرا میں چلے گئے۔ پوجاریوں نے آ کر بحث کی تو تنگ ہو کر سنگباری شروع کر دی۔ مگر آپ بچ نکلے اور آپس ہی میں ہزار آدمی تک مرے تو آپ معہ اصحاب کے سمعان کے گھر آگئے۔ نیقودیموس نے کہا کہ آپ اورشلیم سے نکل کر قیرون کے نالہ سے پار چلے جائیں تو آرام میں رہیں گے۔ آپ کی والدہ کو فرشتہ نے سب حال بتایا تو روتی ہوئی اورشلیم آگئیں اور اپنی بہن مریم سالومہ کے گھر قیام کیا۔

١٨...... اب رئیس الکہنہ نے یروشلیم میں جلسہ کیا۔ جس میں کچھ لوگ اس کی تقریر سن کر مرتد ہو گئے اور پوجاری ہیرودس اصغر کے پاس چلے گئے۔ اس سے فوج لے کر آپ کی تلاش کرنے لگے۔ مگر نہ پایا۔ اسی رات آپ نے فرمایا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ میں دنیا سے چلا جاؤں گا اور جہاں جاؤں گا تکلیف محسوس نہ کروں گا۔ نیقودیموس کے باغ میں آپ رہتے تھے کہ ایک دن آپ نے یہودا غدار سے فرمایا کہ جو تمہیں کرنا ہے جاؤ کرو تو وہ مخبری کرنے کو اورشلیم چلا گیا۔ دوسروں نے سمجھا کہ عید فصح کے لئے کچھ خریدنے گیا ہے۔ تو یہودا نے رئیس الکہنہ سے جا کر کہا کہ اگر تیس روپے دے دو تو میں آج رات ہی حضرت مسیح علیہ السلام کو بمعہ گیارہ حواریوں کے تمہارے قبضہ میں کردوں گا۔ رئیس نے رقم ادا کر کے یہودا کے ہمراہ ایک دستہ فوج کا مشعلیں اور ہتھیار دے کر روانہ کر دیا۔

١٩...... اس رات آپ نے یہودا کو روانہ کر کے نیقودیموس کے باغ میں سو رکعت نماز پڑھی اور جب فوج آئی تو آپ نے حواریوں کو گھر جا کر جگایا مگر وہ نہ جاگے۔ جب خطرہ زیادہ

صفحہ ١٣

کہا۔ اب اس نے رئیس الکہنہ کو وہ تمام ماجرا سنا دیا جو نائین میں پیش آیا تھا کہ آپ ہماری بت پرستی سے منع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسیحا علیہ السلام سے نہیں آئے گا اور لوگوں میں آپ کی قبولیت بہت عام ہے وہ بادشاہ بنانا چاہتے ہیں۔ مناسب ہے کہ حاکم رومی سے مدد لے کر آپ کو گرفتار کرے۔ ورنہ اس کی بادشاہی میں ہم تباہ ہو جائیں گے۔

اس وقت تمام شاگرد دمشق میں تھے۔ آپ ہفتہ کی صبح کو ناصرہ تیسری دفعہ ملاقات کر کے یہودیہ چلے گئے۔ راستہ میں شاگردوں نے ہر چند روکا مگر آپ نے فرمایا کہ میں اس سے نہیں ڈرتا۔ تم موجودہ فریسیوں کے خمیر سے ڈرتے رہو۔ کیونکہ خمیر خمیر بنا دیتی ہے۔

نویں دفعہ اورشلیم میں آئے اور فوج گرفتار کرنے کو آئی۔ مگر قابو نہ پا کے آپ صحرا میں چلے گئے۔ پوجاریوں نے آ کر بحث کی تو تنگ ہو کر آپ بچ نکلے اور آپس ہی میں ہزار آدمی تک مر مٹے تو آپ معہ اصحاب نیقودیموس نے کہا کہ آپ اورشلیم سے نکل کر قدرون کے نالہ سے پار ہو جائیں گے۔ آپ کی والدہ کو فرشتہ نے سب حال بتایا تو روتی ہوئی اورشلیم کو منہ کر کے گھر قیام کیا۔

رئیس الکہنہ نے یروشلیم میں جلسہ کیا۔ جس میں کچھ لوگ اس کی تقریر سن کر ہیرودس اصغر کے پاس چلے گئے۔ اس سے فوج لے کر آپ کی تلاش میں رات آپ نے فرمایا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ میں دنیا سے چلا جاؤں گا اور تدریس نہ کروں گا۔ نیقودیموس کے باغ میں آپ رہتے تھے کہ ایک دن فرمایا کہ جو تمہیں کرنا ہے جاؤ کرو تو وہ مخبری کرنے کو اورشلیم چلا گیا۔ اس کے لئے کچھ خریدنے گیا ہے۔ تو یہودا نے رئیس الکہنہ سے جا کر کہا کہ اگر آج رات ہی حضرت مسیح علیہ السلام کو بمعہ گیارہ حواریوں کے تمہارے حوالے کر دوں تو کیا انعام دو گے۔ انہوں نے رقم ادا کر کے یہودا کے ہمراہ ایک دستہ فوج کا مشعلیں اور ہتھیار دے کر بھیج دیا۔

رات آپ نے یہودا کو روانہ کر کے نیقودیموس کے باغ میں سو رکعت ادا کی۔ آپ نے حواریوں کو گھر جا کر جگایا مگر وہ نہ جاگے۔ جب خطرہ زیادہ

ہو گیا تو خدا نے جبرائیل علیہ السلام، رفائیل علیہ السلام اور اوریل علیہ السلام کو بھیج کر گھر کی جنوبی کھڑکی سے آپ علیہ السلام کو اٹھا لیا اور تیسرے آسمان پر اپنے پاس رکھ لیا۔

گئے تھے اور شاگرد سو رہے تھے اور اس نے ان کو جگانا شروع کر دیا۔ تو خدا تعالیٰ نے اس وقت اپنی قدرت دکھائی کہ وہ بولی اور شکل میں آپ کے مشابہ بن گیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کو تلاش کرنے لگا۔ یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ یہ وہی مسیح علیہ السلام ہے تو ہم نے کہا کہ اے معلم تو ہی تو ہمارا معلم ہے۔ کیا تو ہم کو بھول گیا ہے۔ اس نے مسکرا کر کہا: ”احمقو! یہودا اسخریوطی کو نہیں جانتے ہو؟“ اتنے میں سپاہی اندر آ گئے اور اس کو مسیح سمجھ کر گرفتار کر لیا۔ ہر چند اس نے کہا کہ میں وہ مسیح نہیں ہوں۔ مگر انہوں نے اسے مخول سمجھ کر ایک نہ سنی۔ کہا کہ میں ہی تو تم کو لایا ہوں۔ تم مجھے ہی باندھ لوگے۔ سپاہیوں نے جانا کہ وہ ان سے فریب کرتا ہے۔ تب انہوں نے اس کو مکے اور لاتیں مار کر ذلیل کیا اور اورشلیم کو گھسیٹتے ہوئے لے چلے اور یوحنا اور پطرس ساتھ گئے اور انہوں نے برنباس سے آ کر کہا کہ تمام کاہن جمع تھے اور قتل کرنے پر اتفاق کیا تھا اور یہودا نے وہاں دیوانگی سے بہت باتیں کیں۔ مگر انہوں نے مخول سمجھا۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہی وہ مسیح ہے اور موت سے ڈر کر باتیں بناتا ہے اور جنون کا اظہار کر رہا ہے۔

کہوں کہ رئیس نے ہی جانا کہ وہ مسیح ہے۔ بلکہ تمام شاگردوں نے بھی اعتقاد سے کہا کہ یہ وہی مسیح ہے۔ حضرت مریم علیہا السلام بھی اپنے اقارب و احباب کے ہمراہ وہیں آگئیں۔ آپ نے بھی یہودا کو اپنا بیٹا مسیح سمجھ کر رونا شروع کر دیا۔ برنباس کہتا ہے کہ خدا کی قسم مجھے اس وقت وہ بات بھول گئی تھی کہ آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں دنیا سے اٹھا لیا جاؤں گا اور دوسرا شخص میری جگہ عذاب دیا جائے گا اور میں دنیا کے خاتمہ تک نہ مروں گا۔ تب برنباس، یوحنا اور مریم صلیب کے پاس گئے تو یہودا کو مشکیں باندھ کر رئیس کے سامنے لائے۔ تب اس نے تعلیم اور شاگردوں کے متعلق پوچھا۔ مگر یہودا نے جواب نہ دیا۔ گویا کہ وہ دیوانہ ہے۔ پھر خدا کی قسم دلا کر پوچھا کہ سچ کہو۔ تب اس نے کہا کہ میں سچ کہتا ہوں کہ میں وہی یہودا اسخریوطی ہوں کہ جس نے وعدہ کیا تھا کہ میں مسیح کو تمہارے ہاتھ میں دے دوں گا۔ مگر میں نہیں جانتا کہ تم کیوں پاگل ہو گئے ہو اور چاہتے ہو کہ میں ہی مسیح ناصری بن جاؤں؟۔

صفحہ ١٤

گئے اور وہ درپردہ حضرت مسیح کا خیر خواہ تھا اور چونکہ وہ یہی سمجھتا تھا کہ یہودا ہی مسیح ہے۔ اس لئے کمرہ میں لے جا کر پوچھنے لگا کہ سچ بتاؤ کہ رئیس الکہنہ نے معہ تمام قوم کے کیوں تجھ کو میرے سپرد کیا ہے۔ کہا کہ میں سچ کہوں گا تو تم نہیں مانو گے۔ حاکم نے کہا کہ میں یہودی نہیں ہوں سچ بتاؤ۔ مجھے اختیار ہے کہ چھوڑوں یا قتل کروں۔ کہا کہ میں یہودا اسخریوطی ہوں اور یسوع جادوگر نے مجھے اپنی شکل پر بدل دیا ہے۔ مگر رئیس اور قوم نے شور مچایا کہ یہی مسیح ناصری ہے۔ ہم اسے خوب پہچانتے ہیں۔ تب حاکم نے خود بری الذمہ ہونے کے لئے اس کو ہیرودس اصغر کے پاس بھیج دیا۔ کیونکہ مسیح جلیل کا باشندہ تھے۔ یہودا نے وہاں بھی جا کر انکار کیا۔ مگر اوروں کی طرح ہیرودس نے بھی اس پر ہنسی اڑائی اور اس کو سفید کپڑے پہنا دیئے ۔ ( جو پاگلوں کا امتیازی لباس تھا ) اور پیلاطس کے پاس واپس روانہ کردیا اور کہا کہ بنی اسرائیل کو انصاف عطا کرنے میں کمی نہ کرے۔ تب اس نے اس کو ان کے حوالے کردیا کہ مجرم ہے اور موت کا مستحق ہے تو وہ اسے جمجمہ پہاڑی پر لائے۔ جہاں صلیب دیا کرتے تھے۔ وہاں اسے ننگا کر کے صلیب پر لٹکا دیا تو یہودا سخت چلایا۔

برنباس کہتا ہے کہ یہودا کی آواز چہرہ اور تمام شکل حضرت مسیح علیہ السلام کے مشابہ ہونے میں یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ شاگردوں اور مؤمنین تمام نے یہی سمجھا کہ وہ مسیح ہے۔ تب بعض لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کو جھوٹا نبی سمجھ کر مرتد ہو گئے۔ کہتے تھے کہ اس کے معجزات جادو تھے اور یہ کہنا غلط نکلا کہ میں نہیں مروں گا۔ جب تک کہ دنیا کا خاتمہ قریب نہ ہو جائے اور وہ دنیا سے لے لیا جائے گا اور جو لوگ دین پر مضبوطی سے قائم رہے انہوں نے بہت غم کیا اور آپ کا کہنا بالکل بھول گئے۔ کیونکہ انہوں نے یہودا کو آپ سے بالکل مشابہ دیکھا تھا اور اسی غلط فہمی میں یعقوب یسوس اور یوسف ابار یما ٹمائی کی سفارش سے یہودا کی لاش پیلاطس سے حاصل کر کے یوسف کی نئی قبر میں (جو اس نے پہلے بنارکھی تھی ) ایک سو رتل خوشبو بھر کے یہودا کو دفن کیا۔

٢٣...... تب برنباس، یعقوب اور یوحنا مریم کے ہمراہ ناصرہ گئے اور وہ فرشتے جو مریم علیہا السلام کے محافظ تھے آسمان پر گئے اور تمام ماجرا مسیح علیہ السلام سے کہا تو آپ نے والدہ کا غم سن کر خدا سے دعا مانگی کہ مجھے والدہ سے ملنے کی اجازت ہو۔ تب فرشتے اپنی حفاظت میں آپ کو نور کے شعلوں میں مریم علیہا السلام کے گھر واپس لے آئے۔ جہاں آپ کی والدہ اور دونوں خالہ مرتا اور مریم مجدلیہ اور برنباس یوحنا، یعقوب اور پطرس مقیم تھے۔ آپ کو دیکھ کر یہ سب بیہوش ہو گئے۔ مگر آپ نے یہ کہہ کر تسلی دی کہ میں زندہ ہوں۔ تب والدہ نے پوچھا کہ بیٹا تو پھر خدا نے تیری تعلیم کو کیوں داغدار بنایا اور کیوں اقارب و احباب کے نزدیک تیری موت دکھلائی اور بدنام

صفحہ ١٥

کیا۔ فرمایا: ” اماں سچ جانو، میں نہیں مرا اور مجھ کو اللہ نے دنیا کے خاتمہ تک محفوظ رکھا ہے۔ یہ کہہ کر چار فرشتوں کو شہادت کے لئے طلب کیا۔ تب فرشتوں نے تصدیق کی۔“ تب برنباس نے پوچھا کہ چوروں کے درمیان قتل ہونے کا دھبا تو آپ پر ہمیشہ لگا رہے گا۔ فرمایا کہ: ” میرے بعد محمد رسول اللہ ﷺ آئیں گے اور یہ دھبا اڑائیں گے اور لوگوں پر واضح کر دیں گے کہ میں زندہ ہوں۔“ پھر برنباس کو آپ نے اپنے حالات قلمبند کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ میری والدہ کو جبل زیتون میں لے جاؤ۔ کیونکہ میں وہاں سے آسمان کو چڑھوں گا۔ تب وہ مریم علیہا السلام کو وہاں لے گئے اور فرشتے تمام کے سامنے مسیح علیہ السلام کو آسمان کی طرف لے گئے۔

تمت اقتباسات انجیل برنباس، مطبوعہ لاہور

خلاصہ یہ ہے کہ یہ انجیل صاف بتا رہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ بجسم عنصری آسمان پر اٹھائے گئے۔ یہودا اپنے کیفر کردار میں مشابہ بالمسیح بن کر مصلوب ہوا اور مسیح علیہ السلام نے اخیر میں یہ بھی فرما دیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ (احمد، محمد، مسیا) آپ سے قتل وصلب کا دھبہ اٹھا دیں گے۔ اب ان تصریحات کے ہوتے ہوئے ہم کس زبان سے کہہ سکتے ہیں کہ (ویأتی من بعدی اسمه احمد ) کی پیشین گوئی سے مرزا قادیانی مراد ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو یہود کے موافق اپنے زعم باطل میں آپ کو قتل اور مصلوب کر چکے تھے اور دشمنان اسلام کو اپنی طرف سے کامیابی دے چکے تھے۔ صرف ہڈی توڑنے کے سوا باقی سارا کام ختم ہو چکا تھا۔

٢....... اقتباس از انجیل سیاح روسی مسٹر نکولس نوٹووچ

” ایک بچہ پیدا ہوا جس میں خدا بولتا تھا۔ اس نے توحید کی دعوت دی اور اس کا نام یسوع رکھا گیا۔ جب وہ تیرہ سال کا ہوا تو سوداگروں کے ہمراہ ملک سندھ کو نکل گیا اور بنارس و جگن ناتھ کے مضافات میں چھ سال تک اپنے کام میں مشغول رہا اور بتایا کہ وید خدا کا کلام نہیں ہیں اور یہ بھی کہا کہ بت پرستی چھوڑ دو۔ کیونکہ وہ نہیں سنتے۔ اس پر براہمنوں نے اس کو مار ڈالنے کی ٹھان لی۔ کیونکہ عام لوگ اس کے تابع ہو گئے تھے۔ یسوع کو اس ارادہ کی خبر لگ گئی تو رات ہی رات جگن ناتھ سے نکل کر نیپال کو چلا گیا۔ پھر کوہ ہمالیہ کو عبور کرتا ہوا راجپوتانہ آ پہنچا اور وہاں سے فارس پہنچ کر تبلیغ شروع کی۔ تو وہاں کے بت پرستوں نے اس کو وعظ توحید سے روک دیا تو ملک شام میں آ گیا اور اس وقت اس کی عمر ٢٩ سال تھی۔ اب جابجا وعظ کرنا شروع کیا اور ہزاروں لوگ تابع ہو گئے۔ چند حکام نے بادشاہ پلاطوس سے جا کر

صفحہ ١٦

شکایت کی کہ عیسیٰ نامی ایک واعظ اس ملک میں وارد ہوا ہے جو اپنی سلطنت کی دعوت دیتا ہے اور تیرے خلاف لوگوں میں جوش پھیلا رہا ہے۔ چنانچہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ تابع بھی ہو گئے ہیں۔ پلاطوس نے اسے گرفتار کر کے موابذ (مذہبی سرداروں) کے پیش کیا۔ مگر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام یروشلم آئے تو لوگوں نے بڑے اعزاز سے آپ کا استقبال کیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ بہت جلد تم لوگ ظالموں سے رہائی پا کر ایک قوم بن جاؤ گے اور تمہارا دشمن بہت جلد تباہ ہو جائے گا۔ جو خدا سے خوف نہیں کرتا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ کون ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میں بنی اسرائیل سے ہوں میں نے سنا تھا کہ میرے بھائی اور بہنیں ظالموں کے ہاتھ گرفتار ہیں۔ اس کے بعد آپ نے جا بجا شہر بشہر وعظ کہنا شروع کیا اور عبرانیوں سے یہ بھی کہنا شروع کیا کہ بہت جلد تم نجات پاؤ گے۔ تب جاسوسوں نے پوچھا کہ کیا ہم قیصر روم کے ماتحت رہ کر اپنے بادشاہ پلاطوس کا حکم مانتے رہیں یا اپنی نجات کا انتظار کریں۔ تو آپ نے جواب دیا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم قیصر روم سے نجات پاؤ گے۔ بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ تم بہت جلد گناہوں سے نجات پاؤ گے۔ اس کے بعد آپ نے مختلف مقامات پر توحید کا وعظ تین سال تک کیا اور آپ کی عمر بتیس سال تک پہنچ گئی۔

جاسوسوں نے اپنا کام شروع رکھا اور پلاطوس کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ لوگ کہیں حضرت مسیح علیہ السلام کو سچ مچ ہی بادشاہ نہ تسلیم کر لیں۔ اب آپ کے ذمہ بغاوت کا جرم لگا کر آپ کو اندھیری کوٹھری میں بند کیا گیا اور مجبور کیا کہ آپ بغاوت کا اقبال کریں۔ مگر آپ نے نہ کیا اور تکالیف برداشت کرتے رہے اور جب دربار میں آپ پیش کئے گئے تو پلاطوس نے پوچھا کہ کیا تم نے یوں نہیں کہا کہ مسیح کو خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ لوگوں میں بغاوت پھیلا کر خود بادشاہ بن جائے؟ جواب میں آپ نے فرمایا کہ جب تم صلیب پر قتل کر سکتے ہو تو اس کی کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں سے اس جرم کا اقبال کرایا جائے۔ اس روکھے جواب پر پلاطوس نے غصہ کھا کر آپ کو صلیب پر لٹکانے کا حکم دیا اور باقی مجرموں کو رہا کر دیا تو سپاہیوں نے آپ کو بمعہ دو اور چوروں کے صلیب دیا تو سارا دن لاش صلیب پر رہی۔ سپاہیوں کا پہرا تھا تابعدار لوگ دیکھ دیکھ کر روتے تھے اور ان کو اپنی جان کا خوف بھی لگ رہا تھا۔ شام کے قریب مسیح کی روح خدا کے پاس چلی گئی۔ اب پلاطوس کو ندامت آئی کہ اس نے برا کیا ہے۔ اس لئے اس نے آپ کی لاش آپ کے رشتہ داروں کے سپرد کی۔ جس کو انہوں نے صلیب خانہ کے پاس ہی دفن کر دیا اور لوگ اس قبر کی زیارت کرنے لگے۔

......اکمال الدین واتمام النعمۃ لقم مرزا قادیانی (روضۃ الصفا جلد اوّل ص قبائل تھے۔ جن میں سے نو قبائل کو بخت نص تھے کیونکہ ان لوگوں کی وضع قطع اور شہروں یا بہ نی، گلگت، طور، صور، صیدا، تخت سلیمان، نینو کشمیر کو آئے اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی بھیڑوں ہور ہے کہ آپ نے اپنی معشوقہ مریم کو خدا ۔ مقدس سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے اور دشو اثر برابر چھاپا ہوا تھا تو لوگوں نے خیال کیا کہ آ ال کر لیا تھا یا یوں اصل واقعہ پر پردہ ڈالتے میں پہنچ کر سلطان اڑیہ کو خط لکھا کہ میں ا تا ہوں۔ کتاب کروی فکشن میں ہے کہ ج لب نہیں دیئے گئے تو اس نے قیصر روم کو شکا عش کی بناء پر مسیح علیہ السلام کو صلیب سے بچ نہ غصہ کھا کر یوسف کو قید کر لیا اور ایک رسال پ کو پکڑ کر واپس لائیں۔ مگر چونکہ آپ کشمیرا نوع کے نام کو کچھ تبدیل کر کے یوں کہنا ش ولایت میں آئے اور وہاں تبلیغ وحدانیت کی۔ میں آئے اور وہیں قیام کیا اور وہیں ٨٧ سال اس تحریر میں مرزا قادیانی نے خواہ یہاں کیا ہے۔ ورنہ اصل کتاب دیکھنے پر یہ تح لکھا ہے کہ اس قبر کا مالک کبھی بھی بیت المقدس کیونکہ اکمال الدین کی عبارت اصل تحریر کے (سولا بت) کا باشندہ تھا۔ اس کے ہاں بیٹا پید نا بالغ ہوا تو حکیم منوہر لنکا سے اس کے پاس آیا۔

صفحہ ١٧

٣....... اکمال الدین و اتمام النعمۃ للقمی

مرزا قادیانی (روضۃ الصفا جلد اول ص ١٣٣) سے لکھتے ہیں کہ یہودی آپ کے عہد میں بارہ قبائل تھے۔ جن میں سے نو قبائل کو بخت نصر نے تبت، کشمیر، ہند اور افغانستان کو جلاوطن کر دیا تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کی وضع قطع اور شہروں یا بستیوں کے نام وہی ہیں جو ملک شام میں تھے۔ مثلاً بابل، گلگت، طور، صور، صیدا، تخت سلیمان، نینویٰ وغیرہ۔ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد کشمیر کو آئے اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی خبر لی اور ٨٧ سال بعد وفات پاگئے اور یہ بھی مشہور ہے کہ آپ نے اپنی معشوقہ مریم کو خدا کے سپرد کیا اور وہاں سے کوہ جلیل میں آئے جو بیت المقدس سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے اور دشمنوں سے خوف کھا کر اس پر چڑھ گئے۔ اس وقت پہاڑ پر ابر چھایا ہوا تھا تو لوگوں نے خیال کیا کہ آپ آسمان کو چڑھ گئے ہیں۔ حواریوں نے بھی یہی خیال کر لیا تھا یا یوں اصل واقعہ پر پردہ ڈالتے ہوئے رفع سماوی کا قول ظاہر کیا۔ مگر آپ نے شہر نصیبین پہنچ کر سلطان اڑیسہ کو خط لکھا کہ میں اب آسمان کو جاؤں گا اور تمہاری طرف چند حواری بھیجتا ہوں۔ کتاب کروسی فکشن میں ہے کہ جب کائفس کاہنوں کے سردار کو معلوم ہوا کہ آپ صلیب نہیں دیئے گئے تو اس نے قیصر روم کو شکایتی خط لکھا کہ پلاطوس نے یوسف اور حواریوں سے سازش کی بناء پر مسیح علیہ السلام کو صلیب سے بچا لیا ہے تو پیلاطوس کو عتاب نامہ پہنچا۔ جس سے اس نے غصہ کھا کر یوسف کو قید کر لیا اور ایک رسالہ حضرت مسیح علیہ السلام کی تلاش میں روانہ کیا کہ وہ آپ کو پکڑ کر واپس لائیں۔ مگر چونکہ آپ کشمیر پہنچ چکے تھے۔ وہاں تک کوئی نہ پہنچا۔ کشمیریوں نے یسوع کے نام کو کچھ تبدیل کر کے یوں کہنا شروع کر دیا تھا۔ یوز آصف، یوز آصف پھر ارض مولابت میں آئے اور وہاں تبلیغ وحدانیت کی۔ وہاں سے نکل کر بہت شہروں میں وعظ کیا اور کشمیر کو واپس آئے اور وہیں قیام کیا اور وہیں ٨٧ سال بعد واقعہ صلیب فوت ہو گئے۔

اس تحریر میں مرزا قادیانی نے خواہ مخواہ یوز آصف کی سوانح عمری کو یسوع کی زندگی پر چسپاں کیا ہے۔ ورنہ اصل کتاب دیکھنے پر یہ تحریر ہر طرح سے مخالف ہے۔ کیونکہ اس میں یہ تحریر نہیں ہے کہ اس قبر کا مالک کبھی بھی بیت المقدس سے جان بچا کر زندگی بسر کرنے کو یہاں آیا تھا۔ کیونکہ اکمال الدین کی عبارت اصل تحریر کے مطابق یوں ہے کہ: ”راجہ جیسیر ملک صولابت (مولابت) کا باشندہ تھا۔ اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ جس کا نام اس نے یوز آصف رکھا۔ جب وہ بالغ ہوا تو حکیم بلوہر لنکا سے اس کے پاس آیا۔ راجہ نے اس کی عزت و آبرو سے تواضع کی اور اپنے

صفحہ ١٨

بیٹے یوز آصف کا اتالیق مقرر کیا۔ شہزادہ نے اس سے مذہبی تعلیم حاصل کی اور دنیا سے بے تعلق رکھنے کی تعلیم نے اس کا دل بادشاہت سے برداشتہ کردیا اور حکیم منوہر اس کا تعلیمی نصاب مکمل کر کے وہاں سے چلا گیا۔ تو ایک دفعہ شہزادہ کو فرشتہ نظر آیا۔ اس نے خدا کی رحمت کی اسے بشارت دی اور کچھ راز بتایا۔ جس پر وہ عمل پیرا رہا۔ پھر فرشتہ نے اسے حکم دیا کہ سفر کے لئے تیاری کرے تا کہ میں تیرے ہمراہ یہاں سے نکل جاؤں۔ اس کے بعد شہزادہ ہجرت کرتے ہوئے اپنے ملک سے نکل گیا تو اس نے ایک صحرا میں پانی کے پاس ایک درخت دیکھا۔ جہاں اس نے کچھ دن قیام کیا اور وہاں اس کو وہی فرشتہ نظر آیا۔ پھر اس نے بستیوں میں وعظ کہنا شروع کیا تو کچھ مدت کے بعد اپنے اصلی وطن سولابت کو واپس چلا گیا اور والد یوہا نے بڑے تپاک سے اس کا استقبال کیا اور شہزادہ نے ان کو توحید کی دعوت دی۔ کچھ مدت کے بعد کشمیر میں آیا اور وہاں کے باشندے اس سے مستفید ہوئے اور اس نے ان کو بھی توحید کی دعوت دی۔ چنانچہ یہ یہیں رہنے لگا اور جب مرنے لگا تو اپنے چیلے یابد کو توحید کی وصیت کی اور جہاں فانی سے رخصت ہوا۔

اب اس عبارت کو حضرت مسیح علیہ السلام پر منطبق کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ سولابت کا معنی بیت المقدس کیا جائے اور حکیم منوہر سے مراد روح القدس لیا جائے۔ اسی طرح والدین سے مراد یوسف اور مریم ہوں اور ان کو کسی علاقہ کا بادشاہ بھی تصور کیا جائے اور جب تک یہ امور ثابت نہ ہوں حضرت مسیح علیہ السلام کے سوانح سے اس عبارت کا تعلق پیدا نہیں ہو سکتا۔

٤...... مؤرخ طبری

دار ) دونوں ایک مسجد میں خادم تھے۔ جو جبل صیہون کے پاس تھی۔ آپ ایک دن چشمہ سے پانی لینے گئیں تو جبرئیل نے نفخ کیا۔ جس سے آپ کو حمل رہ گیا۔ یوسف نے بدظن ہو کر پوچھا کہ بیج کے سوا بھی کوئی پودا ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ سب پودے ابتداء میں بغیر بیج کے تھے۔ آدم کا بھی ماں باپ نہ تھا۔ تو یوسف خاموش ہوگئے اور جب وضع حمل کے آثار پیدا ہوئے تو یوسف آپ کو مصر لے گئے۔ ابھی دور ہی تھے کہ دردزہ شروع ہو گیا تو گدھے پر سے اتر کر ایک کھجور کے نیچے ڈیرہ لگا دیا اور وہاں حضرت مسیح پیدا ہوئے۔ سردی کا موسم تھا۔ فرشتوں نے آکر آپ کو تسلی دی۔ اس رات تمام بت سرنگوں ہو گئے۔ شیاطین آ لپکے مگر ناکام رہے اور یہ عہد کیا کہ اس کی زندگی میں اس کا کام تمام کر ڈالیں گے۔ مجوسی ستارہ دیکھ کر مر، لوبان اور سونا کی نیاز چڑھا گئے۔ کیونکہ مرسے شفا ہوتی ہے اور اس نبی سے شفا حاصل ہوگی۔ لوبان اس لئے کہ اس کا دھواں سیدھا آسمان کو جاتا

اور یہ نبی بھی سیدھا آسمان کو جائے گا اور سو اپنے زمانہ میں بہترین شخص ہوگا۔ (ہیر ..... (اور یہی ربوہ کا مقام ہے) آپ زم تو آپ نے وہاں کے خیرات خوار جمع کر اور اندھے کو کاندھے پر اٹھاؤ۔ اس طریق کو چور ثابت کیا اور واپس شام میں آگئے۔ بعد خدا نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔

نے تو ایک شیطان نے کہا کہ مسیح خود خدا ۔ ہے۔ تیسرے نے کہا کہ یہ دوسرا مستقل خ تھا صلیب قریب تھا تو آپ نے حواریوں ۔ سب سو گئے اور دعانہ کرنے پائی تو آپ نے کو بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ وہ تیس درہم رشوت۔ گیا اور انہوں نے اس کو صلیب دے دیا او ۔ تب حواری گئے تو ایک کم تھا اور وہ نہ تھا کہ گیا ہے۔ وہبؒ کہتے ہیں کہ سات گھنٹے مسیح کا بھی یہی مذہب ہے۔ پھر آسمان سے اتر روانہ کیا۔ چنانچہ پطرس اور پولس روما کو گئے حواریوں کے ملک کوفیلیوس افریقہ کو، بخس فر علما عرب کو، اور سیمون بربر کو روانہ ہوئے او میں بٹھا کر عذاب دینا شروع کر دیا۔ یہاں مار ڈالا اور صلیب پرستی شروع ہوگئی۔

ثم ابنه قلوديوس ثم نيرون ا بوطلايوس ثم اسفسيالوس ططوس فهدم بيت المقدس وقتل

صفحہ ١٩

تالیق مقرر کیا۔ شہزادہ نے اس سے مذہبی تعلیم حاصل کی اور دنیا سے بے تعلق س کا دل بادشاہت سے برداشتہ کر دیا اور حکیم منوہر اس کا تعلیمی نصاب مکمل کر یا۔ تو ایک دفعہ شہزادہ کو فرشتہ نظر آیا۔ اس نے خدا کی رحمت کی اسے بشارت دی ں پر وہ عمل پیرا رہا۔ پھر فرشتہ نے اسے حکم دیا کہ سفر کے لئے تیاری کرے تاکہ ہاں سے نکل جاؤں۔ اس کے بعد شہزادہ ہجرت کرتے ہوئے اپنے ملک سے ایک صحرا میں پانی کے پاس ایک درخت دیکھا۔ جہاں اس نے کچھ دن قیام کیا پھر فرشتہ نظر آیا۔ پھر اس نے بستیوں میں وعظ کہنا شروع کیا تو کچھ مدت کے بعد ولایت کو واپس چلا گیا اور والدین نے بڑے تپاک سے اس کا استقبال کیا اور توحید کی دعوت دی۔ کچھ مدت کے بعد کشمیر میں آیا اور وہاں کے باشندے اس اور اس نے ان کو بھی توحید کی دعوت دی۔ چنانچہ یہ یہیں رہنے لگا اور جب پہلے یابد کو توحید کی وصیت کی اور جہاں فانی سے رخصت ہوا۔ اس عبارت کو حضرت مسیح علیہ السلام پر منطبق کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ یت المقدس کیا جائے اور حکیم منوہر سے مراد روح القدس لیا جائے۔ اسی طرح یوسف اور مریم ہوں اور ان کو کسی علاقہ کا بادشاہ بھی تصور کیا جائے اور جب تک حضرت مسیح علیہ السلام کے سوانح سے اس عبارت کا تعلق پیدا نہیں ہو سکتا۔

طبری

...... مؤرخ طبری لکھتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام اور یوسف (چچازاد رشتہ مسجد میں خادم تھے۔ جو جبل صہیون کے پاس تھی۔ آپ ایک دن چشمہ سے پانی س نے نفخ کیا۔ جس سے آپ کو حمل رہ گیا۔ یوسف نے بدظن ہوکر پوچھا کہ بیج پیدا ہوتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ سب پودے ابتداء میں بغیر بیج کے تھے۔ آدم کا ے تو یوسف خاموش ہوگئے اور جب وضع حمل کے آثار پیدا ہوئے تو یوسف آپ بھی دور ہی تھے کہ درد زہ شروع ہو گیا تو گدھے پر سے اتر کر ایک کھجور کے نیچے ں حضرت مسیح پیدا ہوئے۔ سردی کا موسم تھا۔ فرشتوں نے آ کر آپ کو تسلی دی۔ سرگوں ہو گئے۔ شیاطین آپکے مکر ناکام رہے اور یہ عہد کیا کہ اس کی زندگی میں لیں گے۔ مجوسی ستارہ دیکھ کر مر، لوبان اور سونا کی نیاز چڑھانگے۔ کیونکہ مر سے س نبی سے شفا حاصل ہوگی۔ لوبان اس لئے کہ اس کا دھواں سیدھا آسمان کو جاتا

ہے اور یہ نبی بھی سیدھا آسمان کو جائے گا اور سونا اس لئے کہ تمام مال و دولت کا سردار ہے اور یہ نبی بھی اپنے زمانہ میں بہترین شخص ہوگا۔ (ہیرودس کا قصہ مذکور ہے) پھر بارہ سال آپ مصر میں رہے۔ (اور یہی ربوہ کا مقام ہے) آپ زمیندار کے گھر رہتے تھے۔ ایک رات اس کی چوری ہوگئی تو آپ نے وہاں کے خیرات خوار جمع کر کے ایک اندھے اور ایک لولے کو پکڑ کر کہا کہ تم نیچے بیٹھو اور اندھے کو کاندھے پر اٹھاؤ۔ اس طریق سے وہ زمیندار کے خزانہ تک پہنچ گئے تو آپ نے ان کو چور ثابت کیا اور واپس شام میں آگئے۔ تیس سال کے تھے کہ آپ کو نبوت ملی اور تین برس کے بعد خدا نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔

ب ...... ایک روز تین شیطانوں نے انسانی بھیس میں ایک جلسہ کیا۔ لوگ جمع ہوئے تو ایک شیطان نے کہا کہ مسیح خود خدا ہے۔ دوسرے نے کہا کہ خدا رحم میں نہیں آتا۔ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ تیسرے نے کہا کہ یہ دوسرا مستقل خدا ہے۔ اب عیسائیوں میں شرک پیدا ہو گیا اور جب واقعہ صلیب قریب تھا تو آپ نے حواریوں سے کہا کہ میرے لئے تاخیر اجل میں دعا کرو۔ مگر وہ سب سو گئے اور دعا نہ کرنے پائی تو آپ نے فرمایا کہ میں جاتا ہوں اور ایک حواری تیس درہم سے مجھ کو بیچ ڈالے گا۔ چنانچہ وہ تیس درہم رشوت لے کر آپ کو گرفتار کرانے آیا تو وہ خود ہی آپ کا شبیہ بن گیا اور انہوں نے اس کو صلیب دے دیا اور آپ نے بعد از صلیب ایک اور جگہ جمع ہونے کا حکم دیا۔ تب حواری گئے تو ایک کم تھا اور وہ نہ تھا کہ جس نے مخبری کی تھی۔ کسی نے کہا کہ وہ پھانسی لے کر مرگیا ہے۔ وہبؒ کہتے ہیں کہ سات گھنٹے مسیح مرے تھے۔ پھر زندہ کر کے اٹھالئے گئے۔ عیسائیوں کا بھی یہی مذہب ہے۔ پھر آسمان سے اتر کر مریم مجدلیہ کے ہاں اتر کر حواریوں کو تبلیغ کے لئے روانہ کیا۔ چنانچہ پطرس اور پولس روما کو گئے۔ (پولس تب حواری نہ تھا) متی اور اندرائس انسان خواروں کے ملک کو فیلپوس افریقہ کو، بحنس فسوس (قریہ اصحاب الکہف) کو، یعقوب اور شمعم کو، ابن تلما عرب کو، اور سیمون بربر کو روانہ ہوئے اور جو حواری باقی رہ گئے تھے ان کو یہودیوں نے دھوپ میں بٹھا کر عذاب دینا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ سلطان روم نے عیسائیت قبول کی تو یہودیوں کو مار ڈالا اور صلیب پرستی شروع ہو گئی۔

ج ...... ”قال الطبرى الشام صار بعد طيباريوس الى جايوس ثم ابنه قلوديوس ثم نيرون الذى قتل پطرس وبولس وصلبه منكسا ثم بوطـلابـوس ثـم اسـفـسـيـالوس وبـعـد رفع عيسى اربعين سنة وجـه ابـنـه ططوس فهدم بيت المقدس وقتل اليهود ثم اخرون ثم هرقل ، فالزمان بين

صفحہ ٢٠

تخريب بخت نصر الى الهجرة الف سنة وبين ملك اسكندر والهجرة ٩٢١ سنة وبين ظهوره ومولد عيسى ٣٠٣ سنة وبين مولده وارتفاعه ٣٢ سنة وبين ارتفاعه الى الهجرة ٥٨٦ سنة"

ابن جریرؒ نے بیان کیا ہے کہ جب یہود نے آپ کو ایذاء رسانی شروع کی۔ تو آپ بمعہ والدہ کے سفر میں ہی رہنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے حاکم دمشق کے پاس شکایت کی کہ بیت المقدس میں ایک شخص بغاوت پھیلا رہا ہے تو اس نے حاکم بیت المقدس کی طرف حکم بھیجا کہ ایسے آدمی کو فوراً سولی چڑھا کر قتل کر دو۔ جب یہودی گرفتار کرنے کو آئے تو اس وقت آپ اپنے حواریوں میں بیٹھے تھے (کہ جن کی تعداد ١٢ سے ١٨ تک بتائی گئی ہے) تو انہوں نے بروز جمعہ بعد العصر آپ کو محاصرہ میں لے لیا۔ تب آپ نے کہا کہ میرا شبیہ کون بننا چاہتا ہے تاکہ میری جگہ مصلوب ہو کر میرے ساتھ جنت میں جائے۔ ایک نوعمر جوان آدمی اٹھا۔ آپ نے ہر چند ٹالا۔ مگر اس کے سوا کسی نے جرات نہ کی تو جس کوٹھری میں تھے اس کا ایک روشندان کھول کر نیند کی حالت میں آپ کو فرشتے آسمان پر لے گئے۔ جب کوٹھری سے حواری باہر آ گئے تو شبیہ کو لے جا کر صلیب پر لٹکا دیا۔ اب جو لوگ کمرہ میں تھے انہوں نے کہا کہ مسیح آسمان پر ہے اور جو لوگ باہر تھے ان کو یقین ہو گیا کہ مسیح کو انہوں نے قتل کر ڈالا ہے۔

ابن جریرؒ نے خود آنحضرت ﷺ کا بیان بھی نقل کیا ہے کہ قیامت سے پہلے اہل روما دابق یا عمان میں اتریں گے تو مدینہ شریف سے ایک لشکر مقابلہ کو نکلے گا اور رومی کہیں گے کہ ہمارے قیدی واپس کرو تو مسلمان انکار کریں گے پھر لڑائی شروع ہو گی تو ایک ثلث مسلمان بھاگ جائیں گے۔ ایک ثلث شہید ہوں گے۔ باقی ایک ثلث روم پر فتح پائے گا اور قسطنطنیہ کو فتح کرے گا۔ غنیمت تقسیم ہو رہی ہو گی تو کوئی آواز دے گا کہ مسیح دجال آ پڑا ہے تو وہ ملک شام میں پہنچیں گے تو دجال کو دیکھ لیں گے کہ وہ آ رہا ہے۔ تب لڑائی کی صفیں تیار کریں گے تو نماز فجر کا وقت ہو جائے گا۔ تب حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ امام مہدی کہیں گے کہ آپ نماز پڑھائیں۔ مگر آپ امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ پھر جب آپ کی نظر دجال پر پڑے گی تو وہ نمک کی طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا۔ مگر آپ اپنے نیزہ سے اس کو خود جا کر قتل کریں گے۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ معراج کی رات جب حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات ہوئی تو قیامت کا ذکر چھڑ گیا۔ تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ

صفحہ ٢١

ت نصر إلى الهجرة الف سنة وبين ملك اسكندر والهجرة ٩٢١ ظهوره ومولد عیسی ٣٠٣ سنة وبين مولده وارتفاعه ٣٢ سنة إلى الهجرة ٥٨٦ سنة"

یر نے بیان کیا ہے کہ جب یہود نے آپ کو ایذاء رسانی شروع کی۔ تو آپ میں ہی رہنے لگے۔ اس کے بعد انہوں نے حاکم دمشق کے پاس شکایت کی کہ ایک شخص بغاوت پھیلا رہا ہے تو اس نے حاکم بیت المقدس کی طرف حکم بھیجا کہ سولی چڑھا کر قتل کر دو۔ جب یہودی گرفتار کرنے کو آئے تو اس وقت آپ اپنے تھے (کہ جن کی تعداد ١٢ سے ١٨ تک بتائی گئی ہے ) تو انہوں نے بروز جمعہ بعد میں لے لیا۔ تب آپ نے کہا کہ میرا شبیہ کون بننا چاہتا ہے تاکہ میری جگہ ے ساتھ جنت میں جائے۔ ایک نو عمر جوان آدمی اٹھا۔ آپ نے ہر چند ٹالا۔ مگر جرأت نہ کی تو جس کوٹھری میں تھے اس کا ایک روشندان کھول کر نیند کی حالت آسمان پر لے گئے۔ جب کوٹھری سے حواری باہر آ گئے تو شبیہ کو لے جا کر صلیب گ کمرہ میں تھے انہوں نے کہا کہ مسیح آسمان پر ہے اور جو لوگ باہر تھے ان کو انہوں نے قتل کر ڈالا ہے۔

ے نے خود آنحضرت ﷺ کا بیان بھی نقل کیا ہے کہ قیامت سے پہلے اہل روما اتریں گے تو مدینہ شریف سے ایک لشکر مقابلہ کو نکلے گا اور رومی کہیں گے کہ کرو تو مسلمان انکار کریں گے پھر لڑائی شروع ہوگی تو ایک ثلث مسلمان بھاگ ث شہید ہوں گے ۔ باقی ایک ثلث روم پر فتح پائے گا اور قسطنطنیہ کو فتح کرے رہی ہوگی تو کوئی آواز دے گا کہ مسیح دجال آ پڑا ہے تو وہ ملک شام میں کو دیکھ لیں گے کہ وہ آ رہا ہے۔ تب لڑائی کی صفیں تیار کریں گے تو نماز فجر تب حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔ امام مہدی کہیں گے کہ مگر آپ امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ پھر جب آپ کی نظر دجال کی طرح پگھلنا شروع ہو جائے گا۔ مگر آپ اپنے نیزہ سے اس کو خود جا کر قتل نے یہ بھی فرمایا کہ معراج کی رات جب حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور م سے ملاقات ہوئی تو قیامت کا ذکر چھڑ گیا۔ تو عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ

مجھے خدا سے وعدہ ہے کہ جب دجال ظاہر ہوگا تو میرے پاس دو نیزے ہوں گے تو وہ مجھے دیکھ کر پگھلنا شروع ہوگا اور جب یہود کا خاتمہ ہوگا اور لوگ واپس چلے جائیں گے تو یا جوج ماجوج نکل کر تباہی ڈالیں گے تو میری دعا سے خدا ان کو ہلاک کر دے گا اور ان کے جسم بارش کے ذریعہ سمندر میں چلے جائیں گے تو پھر اس کے بعد قیامت آئے گی۔ ( ابن ماجہ )

آپ نے یوں بھی فرمایا کہ اس وقت (امام مہدی علیہ السلام کے ماتحت ) تین شہر ہوں گے ایک بحرین میں ، دوسرا شام میں اور تیسرا حیرہ میں ۔ لوگ اختلاف رائے میں ہوں گے کہ مسیح دجال ستر ہزار فوج لے کر نکلے گا کہ جن میں اکثر یہودی اور عورتیں ہوں گی اور ان کے سر پر تاج ہوں گے۔ تب مسلمان جبل افیق پر جمع ہوں گے اور بھوک سے تنگ آئیں گے۔ تب آواز آئے گی کہ امداد غیبی آ گئی ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام آئیں گے۔ ( ابن ماجہ )

ایک وعظ میں آپ نے فرمایا کہ خروج دجال کی خبر ہر ایک نبی دیتا رہا ہے۔ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ اگر میرے زمانہ میں ظاہر ہوا تو میں خود سنبھال لوں گا۔ میرے بعد ظاہر ہوا تو تم اپنا بندو بست کرو۔ شام وعراق کے درمیان خروج کرے گا تو دائیں بائیں پھیلے گا۔ وہ نبوت کا دعویٰ کرے گا اور کہے گا کہ : ” انا نبی ، لا نبی بعدی “ میں نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ پھر کہے گا کہ میں رب ہوں ۔ ایک آنکھ بیٹھی ہوگی ۔ دوسری ابھری ہوئی ۔ پیشانی پر کافر لکھا ہوگا۔ جسے ہر خواندہ و ناخواندہ شناخت کر سکے گا ۔ اس کے ہاتھ میں جنت اور دوزخ ہوں گے ۔ تم کو اگر دوزخ میں ڈالے تو سورہ کہف پڑھو تا کہ اس کی آگ سرد ہو جائے ۔ ایک عربی کے والدین زندہ کرے گا تو وہ شیطان اس کے والدین بن کر کہیں گے کہ بیٹا یہی رب ہے۔ اسے مان لو۔ ایک کو دوحصوں میں چروا ڈالے گا ۔ پھر زندہ کر کے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے ۔ وہ کہے گا وہی جو تجھے اور مجھے پیدا کرنے والا ہے ۔ تم دجال ہو ۔ آج مجھے خوب اطمینان ہو گیا ہے ، وہ بارش اور قحط بھی اپنے ساتھ رکھے گا۔ جو قوم اسے مانے گی اس کو بھر پور کر دے گا اور جو نہ مانے گا اسے تباہ کر دے گا ۔ مکہ اور مدینہ پر چونکہ فرشتوں کا پہرہ ہوگا ۔ اس لئے وہاں نہ جا سکے گا ۔ مگر مدینہ شریف کے پاس ضریب احمر کے مقام پر کھڑا ہو کر لوگوں کو دعوت دے گا ۔ تو منافق زن و مرد نکل کر اس کے لشکر میں شامل ہو جائیں گے ۔ اس دن کا نام یوم الخلاص پڑ جائے گا ۔ اس وقت عرب قلیل تعداد میں امام صاحب کے ماتحت بیت المقدس میں جمع ہوں گے تو صبح کی نماز میں نزول مسیح ہوگا ۔ دجال دیکھ کر بھاگے گا تو آپ فرمائیں گے کہ تیرا قتل میرے ہاتھ سے مقدر ہے تو خود جا کر قتل کریں گے اور یہود کو شکست ہو گی ۔ شجر و حجر بھی ان کو پناہ نہ دیں گے ۔ صرف ایک غرقد درخت کی آڑ میں پناہ

صفحہ ٢٢

لے سکیں گے۔ اس کی سلطنت چالیس دن ہوگی۔ یا جس مدت تک کہ خدا کی مرضی ہوگی جن میں سے ایک دن ایک سال کا ہوگا اور آخری دن ایک سلطنت کا کہ ایک دروازہ سے نکل کر دوسرے تک پہنچو گے تو شام ہو جائے گی اور نماز اپنے اپنے وقت پر اندازہ لگا کر پڑھنی ہوگی۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تین سال پہلے ایک ایک حصہ کم ہوتے ہوتے بارش بالکل بند ہو جائے گی اور عبادت گزار تسبیح وتہلیل سے پیٹ بھر لیا کریں گے۔ (کنزالعمال)

اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کا عہد مبارک ہوگا۔ آپ حاکم عادل ہوں گے۔ یہود پہلے ہی تباہ ہو چکے ہوں گے تو اور بھی تباہ ہو جائیں گے۔ جزیہ قبول نہ ہوگا۔ مال و دولت آپ کے عہد میں بکثرت ہوگی اور لوگ سیراب ہوں گے۔ یہاں تک کہ ایک انار ایک کنبہ کو کافی ہو جائے گا۔ آپ صلیب اور خنزیر کو نیست و نابود کر دیں گے اور عیسائیت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ صرف خدا ہی کی پرستش ہوگی۔ قریش اپنی سلطنت پر قائم ہو جائیں گے۔ زمین جوان ہو کر حضرت آدم علیہ السلام کے وقت جیسی نباتات نکالے گی۔ گھوڑے چند روپوں میں ملیں گے۔ کیونکہ دنیا میں امن قائم ہوگا۔ لڑائی کا نام ونشان تک نہ رہے گا۔ بیل کی قیمت بڑھ جائے گی۔ کیونکہ کھیتی میں بہت ضرورت بڑھ جائے گی۔ نزول کے وقت آپ کے سر سے پانی کے قطرے گرتے ہوں گے۔ دو فرشتوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ آپ پر دو زعفرانی چادریں ہوں گی۔ آپ کے دم سے یہودی خود ہی بھسم ہوں گے۔ باب لد میں دجال کو قتل کریں گے۔ دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار کے پاس ٹھہریں گے۔ آپ حج روحاء کے مقام سے حج کا احرام بھی باندھیں گے۔ آپ شادی کریں گے۔ آپ کے بچے ہوں گے۔ آپ کی وفات پر اہل اسلام جمع ہو کر نماز جنازہ پڑھیں گے اور روضہ نبویہ میں آپ کو دفن کیا جائے گا۔ (کنز العمال)

یاجوج ماجوج کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قیام جبل طور پر ہوگا اور یہ قوم بحیرہ طبریہ کو بھی پی کر خشک کر دے گی۔ پھر ان کے آخری حصہ کا گزر ہوگا تو کہیں گے کہ کبھی یہاں پانی ہوتا تھا۔ مسلمان ایسے تنگ ہوں گے کہ ایک بیل کا سر یا خود ایک بیل سو درہم سے زیادہ عزیز ہوگا۔ حضرت کی بددعا سے ان کو پھوڑا نکل کر تباہ کر دے گا اور ان کی لاشوں سے بدبو پھیل جائے گی۔ پھر دعا کریں گے تو بڑے بڑے پرند ان کی لاشیں اٹھا لے جائیں گے اور بعد میں بارش ہو کر زمین صاف ہو جائے گی اور خوب کھیتی ہوگی۔ اس کے بعد ایک ہوا چلے گی تو مسلمان مر جائیں گے اور بے ایمان باقی رہیں گے۔ جن پر قیامت قائم ہوگی۔ (کنزالعمال)

ان تصریحات کو پیش نظر رکھ کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امام مہدی علیہ الرضوان کی سلطنت ملک

صفحہ ٢٣

شام میں اس وقت ہوگی کہ قسطنطنیہ بھی مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ عرب کی سلطنت ازسر نو قائم ہوگی۔ یہودی قوم کا کانا دجال خدائی دعویٰ کرتے ہوئے اسلام کو مٹانے کے لئے نکلے گا۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام کے نازل ہونے سے یہودی سلطنت بالکل تباہ ہو جائے گی اور ملک شام میں کم از کم چالیس سال حکومت کریں گے اور صاحب اولاد ہو کر مدینہ شریف میں روضہ نبویہ کے اندر دفن ہوں گے اور بعد میں اسلام مٹ جائے گا اور بد کرداروں پر قیامت قائم ہوگی۔

(کنز العمال، ابن جریر)

یہ واقعات بالکل صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت مسیح اور حضرت امام مہدی ملک شام میں ظاہر ہوں گے۔ ان کا تعلق ہندوستان وغیرہ سے نہیں ہے اور جو لوگ اس پیشین گوئی کو افسانہ خیال کر کے تکذیب کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ کیونکہ زمانہ کے انقلابات میں آئے دن کئی ایک نئی نئی صورتیں پیش آتی رہتی ہیں کہ جن کا کسی کو وہم و خیال تک بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے ممکن ہے بلکہ یقین ہے کہ اندرون عرب میں ایسے واقعات پیش آئیں جن کا اثر قسطنطنیہ تک بھی پہنچ جائے۔ اگرچہ اس وقت اس پیشین گوئی کے آثار موجود نہیں ہیں۔ لیکن موجود ہوتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ خدا جب چاہتا ہے تو گریت وار پیدا کر کے دنیا کا نقشہ ہی بدل دیتا ہے اور مسلمان ایسے مٹ جاتے ہیں کہ لنگوٹی سنبھالنے کو مستقل حکومت خیال کر لیتے ہیں۔

جس طرز پر اسلامی تصریحات نے ظہور مہدی اور نزول مسیح کو پیش کیا ہے وہ حاکمانہ رنگ ہے۔ محکومانہ یا رعیتانہ بو اس میں نہیں آتی اور یہ ایسے واقعات ہیں کہ ان کے ظہور پذیر ہونے میں کچھ اشکال بھی نہیں۔ گو آج تک مجموعی طور پر یہ تمام واقعات پیش نہیں آئے۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ سرے سے ناممکن بھی ہیں۔ دنیا کی مادی ترقی، انکشافات جدید اور علوم وفنون کی تبدیلیاں یا اقوام میں سیاسی اور تمدنی انقلابات یہ سب کے سب ایسے امور ہیں کہ جن کے سامنے اس پیشین گوئی کا اظہار اصلی رنگ میں دکھائی دینا کوئی ناممکن بات نہیں رہ جاتا اور جن لوگوں نے عجلت پسندی سے یا اس پیشین گوئی کے بعض الفاظ کی بنیاد پر یا کسی غلط فہمی اور مغالطہ اندازی سے یہ یقین کر لیا ہے یا یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ایسے واقعات ظہور پذیر ہو چکے ہیں یا یہ کہ انکا جائے وقوع ہندوستان یا کوئی دوسرا ملک ہے انہوں نے دیدہ دانستہ اس پیشین گوئی کے تمام اجزاء پر نہ کبھی خود غور کیا ہے اور نہ کسی کی توجہ اس طرف منعطف ہونے دی ہے۔ ورنہ بالکل صاف ہے کہ خروج مہدی اور نزول مسیح کے آثار ابھی تک نمایاں طور پر کہیں بھی نمودار نہیں ہوئے اور قیامت کے آثار یعنی علامات صغریٰ ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں البتہ ان میں ترقی ہو رہی ہے۔ معلوم

صفحہ ٢٤

نہیں کب تک پایہ تکمیل کو پہنچ کر ایک دفعہ پھر اسلام ہی اسلام نظر آنے کا موقعہ پیدا ہوگا۔

حضور ﷺ نے قرب قیامت کے علامات سینکڑوں بیان کئے ہیں۔ جن میں سے جس قدر آج ہمارے سامنے موجود ہیں ان کو قلمبند کیا جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ: ”بد زبان لوگ پیدا ہوں گے۔ جو سلام بھی گالیوں میں دیں گے۔ کتاب اللہ پر عمل پیرا ہونا باعث توہین ہوگا۔ جھوٹ زیادہ ہوگا اور سچائی بہت کم ہوگی۔ اپنی ظنی رائے پر فیصلہ ہوگا۔ بارش زیادہ ہوگی اور پھل کم ہوگا۔ زمانہ ساز آدمی بہتر خیال کیا جائے گا۔ قرآن کی بجائے خانہ زاد اصول پیش کئے جائیں گے۔ لیکچرار بہت تیار ہوں گے۔ شراب نوشی بکثرت ہوگی۔ اسلامی جہاد ترک ہو جائے گا۔ شریف النفس کس مپرسی کے عالم میں ہونگے اور کم ذات عالی قدر ہو جائیں گے۔ دنیا میں عامل بالقرآن نہ رہیں گے نوعمر ایک دوسرے پر گدھوں کی طرح چڑھیں گے۔ تجارت اس قدر ہوگی کہ عورتیں بھی اس کام میں امداد کریں گی اور جہاں کہیں مال جائے گا نفع نہ ہوگا۔ رذیل عالم ہوگا اور شریف جاہل گدھوں اور کتوں کی طرح برلب سڑک، عورتوں اور بچوں سے بدفعلی کی جائے گی۔ چھوٹے پر رحم نہ ہوگا اور بڑے کی عزت نہ ہوگی۔ حرامزادے کثرت سے ہوں گے۔ بلاضرورت قسم کھائیں گے۔ ناگہانی موتیں واقع ہوں گی۔ ایمانداری کم ہو جائے گی۔ بے ایمان اپنی اپنی قوم پر حکومت کریں گے۔ عورتیں اکڑ کر چلیں گی۔ جاہل عبادت گزار ہوں گے اور اہل علم بے عمل ہوں گے۔ شراب کو شربت بنائیں گے اور سود کو خرید وفروخت، رشوت ستانی تحفہ بن جائے گا اور چندہ کے مال سے تجارت چلے گی۔ ایماندار کو جانور سے بھی ذلیل سمجھا جائے گا۔ نیک عمل برے تصور ہوں گے اور برے عمل نیک عمل خیال کئے جائیں گے۔ زہد وتقویٰ صرف روایات میں نظر آئے گا اور دکھانے کے لئے پرہیزگاری ظاہر کی جائے گی۔ اولاد سے سکھ نہ ہوگا۔ والدین کہیں گے کہ اس کے بجائے پلا پالتے تو بہتر ہوتا یا پتھر ہوتا تو سہی کام آتا۔ گانے والیاں مہیا کی جائیں گی۔ نوعمر حکمران ہوں گے۔ ناپ اور تول میں کمی بیشی ہوگی۔ مسلمان کے پیٹ میں قرآن شریف کی ایک آیت بھی نہ ملے گی۔ لا الہ الا اللہ کی رسم ہوگی اور اس کی حقیقت سے کوئی بھی واقف نہ ہوگا۔ غیر قوم میں نکاح زیادہ پسند ہوگا اور اپنی رشتہ دار عورت پسند نہ آئے گی ۔ وغیرہ وغیرہ“

(کنزالعمال)

٦....... حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق قادیانی خیالات

کے فاصلہ پر ہے۔

(اتمام الحجہ ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ٨ ص ٢٥)

صفحہ ٢٥

ہوا ہے۔ اس لئے اس نے تلاش کرنا شروع کر دیا۔ ان کو بشارت ہوئی کہ اس ملک سے نکل جاؤ تو وہ مصر میں چلے گئے۔ وہاں ایک زمیندار نے مریم کو اپنی بیٹی بنا کر رکھا۔ جب آپ جوان ہوئے تو بادشاہ مذکور مر چکا تھا تو آپ اپنے وطن واپس آ گئے۔ وہ گاؤں تھا ٹیلے پر اور پانی وہاں کا خوب تھا۔

(موضح القرآن ص ٤٥٠)

(الفضل ص ٦، ٢٩ جنوری ١٩٢٥ء)

(اس کی وجہ اپنی طرف سے یوں بتائی ہے ) کیونکہ آپ فرقہ صوفیہ بنام اسیر میں داخل تھے۔ اس لئے شادی ہی نہیں کی۔

(بدر ص ٤، ٢ جولائی ١٩١١ء)

دیلمی اور ابن نجار نے حضرت جابرؓ سے روایت کی ہے کہ آپ سفر کرتے تھے۔ جب شام پڑتی تو جنگل کا ساگ پات کھاتے اور چشموں کا پانی پیتے اور مٹی کا تکیہ بناتے۔ کہتے کہ نہ تو میرا گھر ہے کہ جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ کوئی اولاد ہے کہ جن کے مرنے کا غم ہو۔

(عسل مصفیٰ حصہ اوّل ص ١٩١)

فاصلہ پر تھا۔ پھر موصل میں تشریف لائے جو نصیبین سے اڑتالیس میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ دریائے دجلہ عبور کرتے ہوئے حدود فارس میں داخل ہوئے جو موصل سے ایک سو میل کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ ہرات اور کابل کو دیکھ کر پشاور اور گلگت میں پہنچے جو وہاں پانچ سو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔

(باب چہارم مسیح ہندوستان میں ص ٦٧، خزائن ج ١٥ ص ٧١ ملخص)

کرتے تھے۔ شہر شہر ٹھہرتے۔ سبزی کھاتے رفیقوں نے گھوڑا خرید کر دیا۔ مگر چارہ نہ ملنے سے واپس کر دیا۔ آپ نصیبین پہنچے جو بیت المقدس سے کئی کوس پر تھا۔ حواری تبلیغ کے لئے شہر گئے تو بادشاہ نے ان کو گرفتار کر لیا۔ آپ نے وہاں پر کئی بیمار اچھے کئے تو وہاں کے باشندے اور بادشاہ آپ کے تابعدار ہو گئے۔

(باب چہارم مسیح ہندوستان میں ص ٦٦ ، ٦٧ ، خزائن ج ١٥ ص ایضاً ملخص)

کہ وہی جسم جو دفن ہو چکا تھا پھر زندہ ہو گیا۔

(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)

واقعی قبر وہی ہے جو کشمیر میں ہے اور شام کی قبر زندہ درگور کا نمونہ تھا۔ جس سے آپ نکل آئے تھے۔

(ست بچن ص ز، خزائن ج ١٠ص ٣٠٧، حاشیہ)

صفحہ ٢٦

دیکھ کر کشمیر کو بعد میں جائیں۔ (کیونکہ پنجاب کے راستہ سے کشمیر اور افغانستان کے درمیان صرف اسی کوس کا فاصلہ ہے اور چترال کے راستہ سے کشمیر تک سو میل کا فاصلہ ہے) تاکہ تبت میں آسانی کے ساتھ پہنچ جائیں۔ پرانی تواریخ سے معلوم ہوتا ہے اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آپ نے نیپال اور بنارس وغیرہ کی سیر بھی کی ہوگی اور جموں یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر گئے ہوں گے اور گرمی کا موسم وہیں گزارا ہوگا۔ کیونکہ آپ سرد ملک کے باشندہ تھے اور چونکہ کشمیری آپ سے شکل وشباہت میں ملتے جلتے تھے۔ اس لئے وہیں اقامت اختیار کر لی ہوگی۔ یہ بھی خیال ہے کہ افغانستان بھی اس سے پیشتر کچھ مدت ٹھہرے ہوں گے اور شادی کر لی ہوگی۔ کیونکہ عیسیٰ خیل آپ کی ہی اولاد معلوم ہوتی ہے۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٦٩، ٧٠، خزائن ج ١٥ ص ایضاً ملخص)

قبر میں رکھا جائے گا۔ مگر چونکہ وہ حقیقی طور پر مردہ نہیں ہوگا۔ اس لئے قبر میں سے نکل آئے گا اور آخر عزیز اور صاحب شرف لوگوں میں اس کی قبر ہوگی۔ چنانچہ سری نگر میں قبر مسیح علیہ السلام کے پاس اولیاء اللہ بھی مدفون ہیں۔

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٢٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٣١٤، مفہوم)

کہ کسی لغزش کی وجہ سے مسیح پر ایک جانکاہ دکھ آئے گا۔ مگر وہ نجات پائے گا اور اس کی عمر دراز ہوگی۔ یسعیاہ میں ہے کہ وہ غار میں نہ مرے گا۔ اس کی روٹی کم نہ ہوگی۔ چنانچہ احادیث سے ثابت ہے کہ آپ ٨٧ سال زندہ رہے اور صاحب اولاد بھی ہوئے۔

(عسل مصفیٰ ج ١ ص ٤٥١ طبع ثانی)

مباحثے کئے اور جب نیپال میں تھے تو آپ کی عمر ٣٦ سال کی تھی۔

(عسل مصفیٰ ج ١ ص ١٩٢، طبع ثانی)

مسیح کا زمانہ تھا۔ دور دراز سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور نہ صرف نبی بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا تھا اور مسیح کے ملک ہی کا باشندہ تھا۔ اس کی تعلیم بھی مسیحی تعلیم سے ملتی جلتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض فقرے بھی انجیلوں میں اس کی تعلیم سے ملتے ہیں۔

(ریویو ص ٣٣٨، دسمبر ١٩٠٣ء)

(راز حقیقت ص ١١ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٦٣)

صفحہ ٢٧

افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے۔ تاکہ ہندوستان میں ۔ (کیونکہ پنجاب کے راستہ سے کشمیر اور افغانستان کے درمیان صرف چترال کے راستہ سے کشمیر تک سو میل کا فاصلہ ہے) تاکہ تبت میں آسانی ہو۔ پرانی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آپ نے سیر بھی کی ہوگی اور جموں یا راولپنڈی کی راہ سے کشمیر گئے ہوں گے اور ہوگا۔ کیونکہ آپ سرو ملک کے باشندہ تھے اور چونکہ کشمیری آپ سے شکل تھے۔ اس لئے وہیں اقامت اختیار کر لی ہوگی۔ یہ بھی خیال ہے کہ تر کچھ مدت ٹھہرے ہوں گے اور شادی کر لی ہوگی۔ کیونکہ عیسیٰ خیل آپ

۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٦٩ ،٧٠ ، خزائن ج ١٥ ص ایضاً ملخص)

یسعیاہ باب ٥ میں ہے کہ مسیح کو صلیب سے اتار کر سزا یافتہ مردوں کی طرح چونکہ وہ حقیقی طور پر مردہ نہیں ہوگا۔ اس لئے قبر میں سے نکل آئے گا اور ایسے لوگوں میں اس کی قبر ہوگی۔ چنانچہ سری نگر میں قبر مسیح علیہ السلام کے ہیں۔ (تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٢٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٣١٤، مفہوم)

مسیح علیہ السلام صاحب اولاد ہیں۔ جس کی تصدیق یسعیاہ سے ہوتی ہے مسیح پر ایک جانکاہ دکھ آئے گا۔ مگر وہ نجات پائے گا اور اس کی عمر دراز وہ غار میں نہ مرے گا۔ اس کی روٹی کم نہ ہوگی۔ چنانچہ احادیث سے زندہ رہے اور صاحب اولاد بھی ہوئے۔

(عسل مصفےٰ ج ١ ص ٤٥١ ، طبع ثانی)

نوٹووچ روسی سیاح لکھتا ہے کہ ہندوستان کے برہمنوں سے آپ نے میں تھے تو آپ کی عمر ٣٦ سال کی تھی۔ (عسل مصفےٰ ج ١ ص ١٩٢، طبع ثانی)

عیسائی اور مسلمان بالاتفاق کہتے ہیں کہ یوز آسف نبی کہ جس کا زمانہ وہی سفر کر کے کشمیر میں پہنچا اور نہ صرف نبی بلکہ شہزادہ بھی کہلاتا تھا اور مسیح کے اس کی تعلیم بھی مسیحی تعلیم سے ملتی جلتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض فقرے بھی ایسے ملتے ہیں۔ (ریویو ص ٣٢٨، دسمبر ١٩٠٣ء)

کشمیر کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ تقریباً انیس سو برس کی ہے۔

(راز حقیقت ص ١١ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٦٣)

لکھا ہے کہ یوز آسف نبی تھا جو کسی ملک سے آیا تھا اور شہزادہ بھی تھا۔ کشمیر میں اس نے انتقال کیا اور حضور علیہ السلام سے پہلے چھ سو سال ہو گزرا ہے۔ (راز حقیقت ص ١٢ حاشیہ، خزائن ج ١٤ ص ١٦٤)

آسف کی کتاب اور انجیل کی عبارتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ ہماری رائے ہے کہ یہ کتاب انجیل مسیح ہے جو ہندوستانیوں کے لئے لکھی گئی ہے۔ (چشمہ مسیحی ص ٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٩ ملخص)

دیکھنے والے بھی کہتے ہیں کہ یہ مسیح کی قبر ہے۔ قرب وجوار کے لاکھوں آدمی شہادت دیتے ہیں کہ یہ قبر انیس سو سال سے ہے۔ صاحب قبر ملک شام سے یہاں آیا تھا۔ اسرائیلی نبی اور شہزادہ نبی کے نام سے شہرت رکھتا تھا۔ قوم نے قتل کا ارادہ رکھا تو وہ بھاگ آیا۔ (ریویو ج ١ ص ٤١٩، نمبر ١٠)

کے رو سے دو ہزار برس کے قریب گزر گیا ہے کہ ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا۔ جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شہزادہ نبی کہلاتا تھا۔ اس کی قبر خانیار میں ہے جو یوسف کی قبر مشہور ہے۔

(ضمیمہ براہین احمدیہ ج ٥ ص ٢٢٨، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٤)

ہے۔ اس میں ہے کہ یوز آسف کی کتاب کا نام انجیل تھا۔ اس میں وہی تعلیم لکھی ہے جو انجیل میں ہے۔ مگر تثلیث کا مسئلہ موجود نہیں۔ چنانچہ پڑھنے والے کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انجیل کا اور اسی کتاب کا مصنف ایک ہی ہے اور استعارہ کے طور پر یہودیوں کو ظالم باپ بیان کرتے ہوئے ایک پر لطف قصہ بیان کیا ہے۔ (تحفہ گولڑویہ ص ١٢، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)

(ضمیمہ براہین احمدیہ ص ٢٢٩، خزائن ج ٢١ ص ٤٠٤)

تھی۔ جس کا اصل نام بشوریٰ ہے۔ (عسل مصفےٰ ج ١ ص ٥٨٥)

جو غیر ملک سے آیا اور کشمیر میں وفات پائی۔ وہ حضرت مسیح علیہ السلام ہی تھے۔ کوئی اور نبی نہ تھا۔ کیونکہ بشوریٰ عبرانی زبان میں انجیل کو کہتے ہیں اور عربی میں بشریٰ کہتے ہیں اور انگریزی میں

صفحہ ٢٨

گاسپل اور یوز آسف حضرت مسیح کا دوسرا نام ہے اور یہ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں۔ جس پر انجیل یعنی بشریٰ نازل ہوئی تھی۔

(ریویو ص ١٧١، ٢، نومبر ١٩٠٣ء)

الواقع یہی حضرت مسیح کی قبر ہے جو یوز آسف کے نام سے مشہور ہے۔ یوز، یسوع کا بگڑا ہوا ہے یا مخفف ہے اور آسف آپ کا انجیلی نام ہے۔ جس کا یہ ترجمہ ہے کہ متفرق فرقوں کو تلاش کرنے والا اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل کشمیر اسے عیسیٰ صاحب کی قبر بھی کہتے ہیں اور پرانی تاریخوں میں ہے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے جو بلاد شام کی طرف سے آیا تھا اور اب تقریباً انیس سو سال گزر چکے ہیں اور اس کے ہمراہ کچھ شاگرد بھی تھے۔ کوہ سلیمان پر عبادت کرتا تھا۔ اس کے عبادت خانہ پر ایک کتبہ بھی تھا جو سکھوں کے عہد میں مٹا دیا گیا۔ اس پر یہ لفظ لکھے تھے کہ یہ ایک شہزادہ نبی ہے جو بلاد شام سے آیا ہے۔ اس کا نام یوز ہے۔ اب وہ لفظ اچھی طرح پڑھے نہیں جاتے۔ وہ قبر بنی اسرائیل کی قبروں کی طرح ہے۔ بیت المقدس کی طرف اس کا رخ ہے۔ تقریباً پانچ سو آدمیوں نے محضر نامہ پر دستخط کئے کہ صاحب قبر اسرائیلی نبی تھا۔ جیسا کہ پرانی تاریخ کشمیر سے ثابت ہے۔ کسی بادشاہ کے ظلم سے یہاں آیا تھا اور بہت بوڑھا ہو کر فوت ہو گیا۔ اس کو عیسیٰ صاحب بھی کہتے ہیں اور شہزادہ نبی بھی اور یوز آسف بھی۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٠٠)

(ریویو ص ٤٢٠، اگست ١٩٢٥ء)

ہیں۔ شاید آپ کا اصل نام یوسع ہو۔ کیونکہ ایسے نام عبرانی میں مروج تھے پھر یوز بن گیا۔ پھر یوزا سے یوسا بنا اور یوسف کا مخفف ہے۔ صف، سف، آسف۔ پس سارا نام یوز آسف یسوع یوسف کا مخفف ہے۔ یوسف حضرت مریم کے شوہر تھے اور مسیح ان کے ربیب یا پروردہ۔ اس لئے حضرت عیسیٰ کو یوسف کا بیٹا کہتے تھے۔

(ریویو دسمبر ١٩٢٥ء)

یہ لفظ یسوع آسف ہے۔ یعنی یسوع غمگین۔ چونکہ مسیح اپنے وطن سے غمگین ہوکر نکلے تھے۔ اس لئے یہ لفظ ساتھ شامل ہوگیا۔ بعض کا بیان ہے کہ اصل میں یہ لفظ یسوع صاحب ہے۔ کثرت استعمال سے یوز آسف بن گیا۔ مگر میرے نزدیک یوز آسف اسم بامسمیٰ ہے جو آپ کے غم پر

صفحہ ٢٩

دلالت کرتا ہے۔ یوسف علیہ السلام کی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ ان پر آسف اور غم وارد ہوئے تھے۔

(ست بچن ص ٥، خزائن ج ١٠ ص ٣٠٦)

لئے کچھ عیسائی کہتے ہیں کہ یوز آسف بھی گوتم بدھ کا دوسرا نام ہے۔

(ریویو ص ٢٣٨، جون ١٩١٠ء)

ہی ہوں۔

(ریویو ج ٢ ص ٤٧٤)

مرجع ہونا چاہئے تھا۔

(ریویو ص ٢٣٩، جون ١٩١٠ء)

اسرائیل کے دس فرقے کہ جن کو انجیل میں اسرائیل کی گم شدہ بھیڑیں لکھا ہے۔ ان ملکوں میں آگئے تھے۔ جب تک ایسا نہ کرتے رسالت نامکمل تھی۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٩٣، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

ایک قبر پائی گئی ہے۔ جس پر یہ کتبہ لکھا ہوا تھا کہ: ”هذا قبر عیسیٰ ابن مریم“ اس روایت سے کم از کم وفات مسیح کا پتہ ضرور لگتا ہے۔ خواہ کہیں مرا ہو۔ یہ قصہ ابن جریر نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے جو نہایت معتبر اور آئمہ حدیث میں سے ہے۔

(چشمہ معرفت ص ٢٥١، خزائن ج ٢٣ ص ٢٦١)

ہجرت کر کے ہند میں آئے تھے۔ اسی طرح حضرت مسیح بھی یہیں ہجرت کر کے آئے تھے اور چونکہ مسیح موعود دونوں کا مثیل ہے۔ اس لئے وہ بھی ہند میں ہی ہوا۔

(رسالہ تنقید غلام رسول ص ٣١)

صلیب پر کھینچا گیا۔ اس کا نام گلگت یعنی سری اور سر ہے اور جس جگہ انیسویں صدی میں آپ کی قبر ثابت ہوئی۔ اس کا نام بھی گلگت یعنی سری ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ گلگت جو کشمیر میں موجود ہے۔ یہ بھی سری کی طرف اشارہ ہے۔ غالباً یہ شہر حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں بنایا گیا ہے اور واقعہ صلیب کی یادگار مقامی کے طور پر اس کا نام گلگت یعنی سری رکھا گیا۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٥، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

صفحہ ٣٠

جو کسی دوسرے نبی میں نہ تھیں۔ اول کامل عمر یعنی ١٢٠ برس زندہ رہنا دوم دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت اس لئے ان کو نبی سیاح کہتے تھے۔ رفع جسمانی تسلیم کیا جائے تو ١٢٠ والی روایت صحیح نہیں رہتی اور نہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ ٣٣ سال میں انہوں نے دور دراز کے سفر کئے ہوں۔ حالانکہ یہ روایتیں ایسی متواتر ہیں کہ ان سے بڑھ کر خیال نہیں کیا جاسکتا۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٣٤) پر ہے کہ: ”اوحی من الله الی عیسی انتقل من مکان لئلا تعرف فتؤذی“ ایک مکان سے دوسرے کو انتقال کرو تا کہ تم کو شناخت کرنے سے دکھ نہ پہنچے اور (ج ٦ ص ٧١) میں ہے کہ: ”کان یسیح فاذا امسی اکل بقل الصحراء ویشرب الماء القراح“ آپ دن بھر سیاحت کرتے تھے۔ شام کو گھاس وغیرہ کھا لیتے اور پانی پیتے اور (ج ٦ ص ٥١) میں ہے کہ: ”احب شئی الی الله الغرباء...... الذین یفرون بدینہم ویجتمعون الی عیسیٰ“ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا کو وہ غریب بہت پیارے ہیں جو عیسیٰ مسیح کی طرح دین لے کر اپنے ملک سے بھاگتے ہیں۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٥٦،٥٥، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

نوٹ ! صحیح ترجمہ یوں ہے کہ مسیح کے پاس جمع ہوتے تھے۔ مگر قادیانی عربی الگ ہے۔

یستقر“ آپ کو مسیح اس لئے کہا گیا کہ آپ ہمیشہ سیاحت میں رہتے تھے۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٧١، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

آئیں اور وہاں کے یہود کو جو افغان کے نام سے مشہور تھے تبلیغ کریں۔

(حوالہ مذکور ص ٦٩، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

دروازے بند کر کے کیونکہ افشاء راز کی ممانعت تھی۔ اسی واسطے ان کو مصنوعی بات بنانی پڑی کہ وہ آسمان پر چلا گیا ہے اور بعض یہودیوں کی توجہ مصروف کرنے کی خاطر مصنوعی قبریں بنالیں۔ تاکہ ان کو معلوم ہو جائے کہ مسیح مر گئے ہیں اور تعاقب نہ کریں۔ حالانکہ مسیح پہاڑ سے اتر کر کئی سو میل نصیبین کو چلے گئے تھے۔

(عسل مصفیٰ ج ١ ص ٥٧١)

روضۃ الصفاء میں ہے کہ آپ کے ہمراہ نصیبین میں آپ کی والدہ اور حواری بھی تھے۔ (مریم، یعقوب، شمعون، تومان) یہ وہی تھوما حواری ہے کہ جس کے متعلق انسائیکلو پیڈیا ببلیکا میں لکھا ہے کہ وہ ہندوستان میں آیا تھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ کشمیر میں یوز آسف کا نام پانے والا

صفحہ ٣١

ہیں۔ اول کامل عمر یعنی ١٢٠ برس زندہ رہنا دوم دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کرتے تھے۔ رفع جسمانی تسلیم کیا جائے تو ١٢٠ والی روایت صحیح نہیں رہتی کہ ٣٣ سال میں انہوں نے دور دراز کے سفر طے کئے ہوں۔ حالانکہ یہ سفر بغیر طویل زمانہ کے خیال نہیں کیا جاسکتا۔ (کنز العمال ج ٢ ص ٣٤) پر ہے کہ:

ان عيسى انتقل من مكان لئلا تعرف فتؤذى ”ایک مکان سے دوسرے مکان تک تاکہ شناخت کرنے سے دکھ نہ پہنچے اور (ج٢ ص٧١) میں ہے کہ: ”کان يأكل بقل الصحراء ويشرب الماء القراح “ آپ دن بھر سیاحت پھل وغیرہ کھا لیتے اور پانی پیتے اور (ج٦ ص٥١) میں ہے کہ: ”احب شئی الى الله الغرباء الذين يفرون بدينهم ويجتمعون الى عيسى “ حضور علیہ غریب بہت پیارے ہیں جو عیسیٰ مسیح کی طرح دین کے لئے اپنے ملک سے بھاگ جاتے ہیں۔ (مسیح ہندوستان میں ص ٥٥، ٥٦ خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

یہ یوں ہے کہ مسیح کے پاس جمع ہوتے تھے۔ مگر قادیانی عربی الگ ہے۔ سمى عیسی مسيحا لا نه كان سائحا فى الارض لا لئے کہا گیا کہ آپ ہمیشہ سیاحت میں رہتے تھے۔

(مسیح ہندوستان میں ص ٧١، خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

مسیح کو آپ نے اس لئے سفر کیا تا کہ فارس کی راہ سے افغانستان جو افغان کے نام سے مشہور تھے تبلیغ کریں۔

(حوالہ مذکور ص ٦٩ خزائن ج ١٥ ص ایضاً)

واقعہ صلیب سے چالیس روز تک آپ حواریوں سے ملتے رہے۔ مگر خفیہ افشاء راز کی ممانعت تھی۔ اسی واسطے ان کو مصنوعی بات بنانی پڑی کہ وہ بعض یہودیوں کی توجہ مصروف کرنے کی خاطر مصنوعی قبریں بنالیں۔ تا کہ مسیح مر گئے ہیں اور تعاقب نہ کریں۔ حالانکہ مسیح پہاڑ سے اتر کر کئی سو میل

(عسل مصفیٰ ج ١ ص ٥٧١)

میں ہے کہ آپ کے ہمراہ نصیبین میں آپ کی والدہ اور حواری بھی تھے۔ تومان ) یہ وہی تھوما حواری ہے کہ جس کے متعلق انسائیکلو پیڈیا ببلیکا میں میں آیا تھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ کشمیر میں یوز آسف کا نام پانے والا

حضرت یسوع آسف ہے نہ کوئی اور۔ (کشف الاسرار ص ٣٨)

حضرت مریم کی قبر بھی ہے۔ (اتمام الحجۃ ص ٢١، خزائن ج ٨ ص ٢٩٩)

میں آ گئی تھیں۔ کیونکہ ان کی قبر بھی ارض مقدسہ میں نہیں ہے۔ مریم کی قبر کاشغر میں ہے۔

(عسل مصفیٰ ج ١ ص ٤٥٣)

ملتا ہے کہ اصل میں کوہ مریم تھا اور عیسیٰ کی جماعت یا اولاد وہاں موجود ہے اور ضرور ان سے آپ کو کچھ تعلق ہے۔ (تنقید از غلام رسول ص ٣٣)

الماء بمعنی جوان عورت کا بگڑا ہوا ہے۔ (اعجاز احمدی ص ١٥ حاشیہ، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

ہے اور صلیب کا بگڑا ہوا ہے۔ کیونکہ کشمیری میں صلیب کو صولیب کہتے ہیں۔ ان کو بہت سمجھایا بھی مگر پھر بھی صولیب ہی کہتے ہیں۔ (ریویو دسمبر ١٩٢٥ء)

بگڑ کر بلو ہر بن گیا ہو۔ (کشف الاسرار از سید صادق حسین اٹاوی)

تھے تو یہ عمر کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟ (ضمیمہ ظہور الحق از ظہور الدین اکمل)

اشارہ ہے کہ ایسو (عیسیٰ) تو کول (پاس) ہی کشمیر میں مدفون ہیں۔ زیادہ کرید کی کیا ضرورت ہے۔ (فاروق ص ١١، ١٩١٦ء)

عزت نہیں۔ مگر اپنے وطن میں مخالف یہ تو مانتے ہیں کہ مسیح نے سیاحت کی۔ مگر جب کہا جاتا ہے کہ کشمیر بھی گئے تو انکار کر دیتے ہیں۔ حالانکہ جب یہ مان لیا کہ عہد نبوت میں آپ نے سیاحت کی تھی تو کیا کشمیر جانا حرام ہو گیا تھا۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہاں گئے ہوں اور وفات پائی ہو۔ پھر جب

صفحہ ٣٢

صلیبی واقعہ کے بعد آپ سیاحت کرتے رہے تو آسمان پر کب گئے۔ اس کا جواب نہیں بن پڑتا۔

(تحفہ گولڑویہ ص ١٣ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ١٠٦، ١٠٧)

ہو۔ جسے داؤد سلیمان وغیرہ نام بطور تفاؤل رکھے جاتے ہیں۔

(تنقید غلام رسول ص ٢٥)

آئے تھے۔ ممکن ہے کہ تھوما کا کام دیکھنے آئے ہوں۔ کیونکہ وہ خود کہتا ہے کہ مسیح نے مجھے بھیجا تھا۔

(فاروق ص ١٥، ٢٧ اپریل ١٩١٦ء)

میں آئے تھے۔ ممکن ہے کہ بعض دیگر حواری بھی آئے ہوں۔ کیونکہ مرقس نے بھی ایلچی بھیجے تھے۔

(فاروق ص ١٠، ١١ مئی ١٩١٩ء)

ایک شخص کا نام ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ ممکن ہے کہ جس طرح گوتم کو بدھ کا خطاب دیا گیا تھا اسی طرح حضرت مسیح کو بھی بدھ کا خطاب دیا گیا ہو۔ اس لئے کہ بدھ حکیم کو کہتے ہیں اور گوتم سے پہلے کئی بدھ ہوچکے تھے۔

(ریویو ص ٢٧٤، نومبر ١٩٠٣ء)

میں یوں دیئے ہیں کہ پلاطوس نے یوسف نامی ایک معتبر رئیس خیرخواہ مسیح کو بلوا کر آپ کے مرنے سے پیشتر ہی لاش دے دی تھی۔ آپ ساری رات اپنی نجات کے لئے دعا مانگتے رہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ منظور نہ ہوئی ہو۔ کیونکہ آپ راست باز اور خدا کے بیٹے کہلاتے تھے۔ متی ب ٢٤ میں زکریا علیہ السلام کو آخری مقتول نبی لکھا ہے جو یہود نے قتل کئے تھے۔ نہ کہ مسیح علیہ السلام کو اور ب ١٦ میں ہے کہ آپ واقعہ صلیب سے واپس آکر یروشلم کی تباہی کے وقت ملے تھے۔ اگر یہ واپسی ہجرت کشمیر کے بعد مراد نہ لی جائے تو ضروری ہے کہ یہ ملاقات روحانی ہو۔ کیونکہ کئی دفعہ زندہ کو عین بیداری کی حالت میں مردہ کا ملنا صوفیائے کرام کے تجربہ سے ثابت ہے۔ جیسا کہ ایک حواری حضرت عمرؓ کے زمانہ میں لشکر اسلام کو ایک پہاڑ پر ملا تھا۔ آپ کی پیشین گوئی تھی کہ میں دوسری دفعہ آؤں گا۔ جس سے مراد صلیب کے بعد زندگی ہے۔ متی ب ٢٤ میں ہے کہ آپ بادل سے اتریں گے۔ اس سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ اس کے عہد میں وہ تمام علامات پائی گئی ہیں جو آپ نے ذکر کی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ تمام قومیں چھاتی پیٹیں گی۔ (تو یہ ظاہر ہے کہ

صفحہ ٣٣

مرزائی جماعت نے سب کو بیزار کر رکھا ہے) اور ب ٢٧ میں ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد مردے قبروں سے نکل کر تصدیق مسیح کے لئے بیت المقدس میں آئے۔ جس سے مراد یہ ہے کہ یہ ایک خواب تھا۔ جس کی تعبیر یہ تھی کہ مسیح کو صلیب سے نجات ملی ہے۔ کیونکہ کتاب تعطیر الانام میں لکھا ہے کہ خواب میں مردہ نکلتا ہوا دکھائی دے تو قیدی کی رہائی ہوتی ہے۔ علاوہ بریں ہجرت کشمیر کی شہادت ملتی ہے۔ مگر ہجرت سماوی کی عین شہادت نہیں ملی۔ آپ کا قول مشہور ہے کہ میں ہادی ہوں خدا سے محبت رکھتا ہوں۔ اس سے میں نے پاک پیدائش پائی ہے اور اس کا پیارا بیٹا ہوں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلیبی موت سے بچ کر کشمیر چلے گئے تھے۔ ورنہ لعنت کی زد میں آجاتے۔ متی باب ٢٦ میں ہے کہ آپ نے کہا کہ جی اٹھنے کے بعد تم سے آگے جلیل کو جاؤں گا۔ مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ آسمان پر جاؤں گا۔ برنباس حواری کی انجیل میں موت صلیبی سے بالکل انکار ہے۔ اس انجیل کو اگرچہ یونہی باطل سمجھا گیا ہے۔ مگر تاریخی نکتہ خیال سے دوسری اناجیل سے کم درجہ نہیں رکھتی۔ اس لئے تاریخی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اناجیل میں ہے کہ آپ حواریوں کو ملے جب کہ وہ کچھ کھا رہے تھے اور اپنے زخم بھی دکھائے تو ان کو خیال ہوا کہ شاید یہ روحانی ملاقات ہے۔ اس لئے آپ نے مچھلی اور شہد کھا کر یقین دلایا کہ آپ کی زندگی واقعہ صلیب کے بعد جسمانی تھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی لکھا ہے کہ قبر سے نکل کر آپ جلیل کو گئے تھے۔ قرائن بھی جسمانی حیات کے موجود ہیں۔ کیونکہ جمعہ کے دن عصر کے قریب آپ کو صلیب دیا گیا۔ مگر اس وقت تین گھنٹے طوفان باد اور زلزلہ آیا۔ جس سے یہودی بے دل ہو گئے اور اگلے دن عید فسح اور سبت اکبر کی تقریب تھی۔ اس لئے وہ نہ چاہتے تھے کہ ہفتہ کی رات کو بھی کوئی مجرم صلیب پر رہے۔ دوسری طرف خیر خواہین مسیح تاک میں تھے کہ ان کو جلدی لاش مل جائے۔ پیلاطوس کی بیوی کو فرشتہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر مسیح صلیب پر مر جائیں گے تو تم تباہ ہو جاؤ گے۔ تو بیوی کے کہنے سے پیلاطوس بھی آپ کو بچانے کی دھن میں لگا ہوا تھا۔ حسن قسمت سے یوسف اریمتا یہودی نے وہ لاش مانگی تو اسے فوراً یہ کہہ کر دی گئی کہ وہ تو مر ہی گیا ہوگا۔ یہود نے بھی اپنی افراتفری میں زیادہ کرید نہیں کی کہ آپ نیم مردہ تھے تو آپ کے خیر خواہوں نے ایک کھڑکی دار قبر میں (جو بلاد شام کے دستور کے مطابق ایک ہوادار کمرہ کی صورت میں سب کے لئے پہلے ہی تیار کی جاتی ہے ) لے گئے۔ کشمیر کی قبر بھی کھڑکی دار ہے۔ ایک اور قرینہ یہ ہے کہ آپ کے ساتھ چور بھی صلیب پر لٹکائے گئے تھے۔ مگر ان کی ٹانگیں اور پسلیاں توڑ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ لیکن مسیح کے پہلو میں برچھی مار کر خون اور پانی دیکھ کر بھی کہہ دیا کہ یہ مر گیا ہے۔ اس لئے آپ کی ٹانگیں نہ توڑیں اور صحیح سلامت

صفحہ ٣٤

صلیب سے اتار لیا اور وہ صلیب بھی آج کل کی پھانسی کی طرح نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایک ٹکٹکی کی شکل کی لکڑی ہوتی تھی۔ جس پر آدمی کو کیلوں سے باندھا جاتا تھا۔ ہاتھ پاؤں میں میخوں کے ٹھونکنے سے گو تکلیف تو بہت ہوتی تھی۔ مگر دو تین روز تک جان نہیں نکلتی تھی۔ اس لئے آپ کا صلیب پر لٹکایا جانا تین گھنٹہ سے زیادہ ثابت نہیں ہوا۔ اسی طرح اس کتاب کے ب ٢ میں لکھا ہے کہ شبہ لھم کا یہ مطلب ہے کہ واقعہ صلیب کے وقت زلزلہ اور طوفان باد سے یہودیوں کی اپنی بدھ ماری گئی تھی۔ اس لئے وہ شناخت نہ کر سکے کہ واقعی مسیح فوت ہو چکے ہیں اور سطحی تحقیق پر ہی یقین کر لیا کہ آپ مر ہی گئے ہوں گے۔ ” وجیها فی الدنیا “ میں یہ اشارہ ہے کہ آپ کشمیر میں واقعہ صلیب کے بعد آئے اور یہود کی دس قوموں میں اعزاز حاصل کیا اور آپ کی تصویر سکہ پر بھی دکھائی گئی۔ ورنہ ملک شام میں آپ کو دنیاوی وجاہت حاصل نہ تھی۔ مظہرک میں یہ اشارہ ہے کہ یہودی آپ کو صلیبی موت سے ملعون کرنا چاہتے تھے۔ مگر خدا نے حکمت عملی سے آپ کو بچا کر کشمیر بھیج دیا۔ کیونکہ روایات سے ثابت ہے کہ آپ کی عمر ١٢٥ برس تھی۔ اگر یہ ہجرت نہ مانی جائے تو یہ روایت جو بہت ہی متواتر ہے جھوٹی ثابت ہوگی۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے وقت آپ کی عمر صرف ٣٣ برس تھی۔ یہ بھی وارد ہے کہ آپ کو وحی ہوئی تھی کہ: ”انتقل من مکان الی مکان اخر“ آپ شام چھوڑ کر کشمیر کو چلے جائیں۔ مرہم عیسیٰ جو خاص واقعہ صلیب کے بعد آپ کو چنگا کرنے کے لئے بذریعہ وحی حواریوں نے ایک ایک دوا تجویز کر کے بنائی تھی چالیس روز تک برابر استعمال کرنے سے تمام زخم درست ہو گئے تھے۔ اس کی تصدیق یونانی کتب طب میں موجود ہے اور ان میں یہ نسخہ بطور کتبہ کے نقل کیا ہے اور صاف لکھ دیا ہے کہ مسیح کے لئے تیار ہوئی تھی اور یہ خیال کرنا درست نہیں کہ شاید واقعہ صلیب سے پہلے کسی اور موقعہ پر آپ کو چوٹ لگی تھی تو حواریوں نے تیار کی تھی۔ کیونکہ واقعہ صلیب سے پہلے کسی تاریخ میں آپ کو چوٹ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی نبوت کے پہلے بھی آپ کے حواری تھے۔ یہ مرہم لوگوں نے مذہب سے غافل ہو کر اپنی اپنی کتابوں میں نقل کی۔ مگر تاریخی فائدہ اٹھانے سے محروم رہے۔ کیونکہ خدا کی تقدیر میں اس سے فائدہ اٹھانا مسیح موعود کے لئے مخزون تھا۔ حالانکہ یہ مرہم کم از کم ہزار کتاب طب میں لکھی جاچکی ہے۔

آخری باب میں لکھا ہے کہ گوتموان کہتا تھا کہ میں پچیسواں بدھ ہوں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدھ بانی مذہب کا تشریعی خطاب ہوتا تھا۔ اس لئے جنہوں نے یوز آسف اور یسوع کو بدھ قرار دیا ہے صحیح ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بدھ مذہب میں آپ کو تیا گوارا (مسیح سپید رنگ) مسیح

صفحہ ٣٥

وہ صلیب بھی آج کل کی پھانسی کی طرح نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ وہ ایک تکتکی کی طرح جس پر آدمی کو کیلوں سے باندھا جاتا تھا۔ ہاتھ پاؤں میں میخوں کے زخموں سے اذیت بہت ہوتی تھی۔ مگر دو تین روز تک جان نہیں نکلتی تھی۔ اس لئے آپ کا مرنا چند گھنٹہ سے زیادہ ثابت نہیں ہوا۔ اسی طرح اس کتاب کے ب ٢ میں لکھا ہے کہ آپ کو یہ واقعہ صلیب کے وقت زلزلہ اور طوفان باد سے یہودیوں کی اپنی بدھ حواسی اور شناخت نہ کر سکے کہ واقعی مسیح فوت ہو چکے ہیں اور سطحی تحقیق پر ہی یقین کر کے چلے جائیں گے۔ ”وجیھا فی الدنیا“ میں یہ اشارہ ہے کہ آپ کشمیر میں واقعہ صلیب کے بعد اور یہودی دس قوموں میں اعزاز حاصل کیا اور آپ کی تصویر سکہ پر بھی بنی ہے۔ اور تمام میں آپ کو دنیاوی وجاہت حاصل نہ تھی۔ مطہرک میں یہ اشارہ ہے کہ آپ کو یہودیوں کی لعنت سے ملعون کرنا چاہتے تھے۔ مگر خدا نے حکمت عملی سے آپ کو بچا کر کشمیر پہنچا دیا۔ اس سے ثابت ہے کہ آپ کی عمر ١٢٥ برس تھی۔ اگر یہ ہجرت نہ مانی جائے تو یہ عمر ١٢٥ برس بھی سراسر بے ثبوتی ثابت ہوئی۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے وقت آپ کی عمر صرف ٣٣ برس تھی۔ پھر یہ واقعہ ہے کہ آپ کو وحی ہوئی تھی کہ: ”انتقل من مکان الی مکان اخر“ یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جائیں۔ مرہم عیسیٰ جو خاص واقعہ صلیب کے بعد آپ کو چنگا کرنے کے لئے حواریوں نے ایک ایک دوا تجویز کر کے بنائی تھی چالیس روز تک برابر استعمال کی گئی جس سے آپ تندرست ہو گئے تھے۔ اس کی تصدیق یونانی کتب طب میں موجود ہے اور ان میں اس مرہم کو نقل کیا ہے اور صاف لکھ دیا ہے کہ مسیح کے لئے تیار ہوئی تھی اور یہ خیال کرنا کہ یہ مرہم واقعہ صلیب سے پہلے کسی اور موقعہ پر آپ کو چوٹ لگی تھی تو حواریوں نے تیار کی تھی، غلط ہے۔ کیونکہ صلیب سے پہلے کی تاریخ میں آپ کو چوٹ کا ذکر نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ صلیب سے پہلے بھی آپ کے حواری تھے۔ یہ مرہم لوگوں نے مذہب سے غافل ہو کر چھوڑ دی تھی جس کو آج کل کی نئی نسل نے پایا مگر تاریخی فائدہ اٹھانے سے محروم رہے۔ کیونکہ خدا کی تقدیر میں اس مرہم کا وجود اس موعود کے لئے مخزون تھا۔ حالانکہ یہ مرہم کم از کم ہزار کتاب طب میں لکھی گئی ہے۔ طب میں لکھا ہے کہ توامان کہتا تھا کہ میں پانچواں بدھ ہوں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدھ مذہب کا پیغمبر بھی خطاب ہوتا تھا۔ اس لئے جنہوں نے یوز آسف اور یسوع کو بدھ سمجھ لیا ہے۔ ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بدھ مذہب میں آپ کو تیا گوارا (مسیح سپید رنگ) میشح

(مسیح) ”راحولتا“ (روح اللہ) لکھا ہے۔ آپ بدھ کے چھٹے مرید تھے۔ یعنی چھ سو سال بعد پیدا ہوئے۔ گویا آپ بدھ کے بروز تھے۔ کیونکہ انجیل میں تناسخ تین قسم لکھا ہے کہ انسان انسان رہے یا دوسرے جون میں انسان کے آثار اس میں پائے جائیں یا تمام جنم بھوگنے کے بعد پھر انسان کی جون میں آئے۔ اس لئے پہلی قسم کا تناسخ بروز ہوگا۔ کیونکہ آپ نے بدھ کے خواص حاصل کئے تھے۔ تعلیم بھی تقریباً اسی کی طرح تھی اور پیدائش بھی بغیر باپ کے اسی کی طرز پر تھی۔ بال بچے اور ماں کی خبرگیری سے دونوں بے نیاز تھے۔ بہر حال بدھ مذہب اور نصرانیت ایک ہی ہیں اور تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت خالد بن الولید کے داخلہ سے پہلے تمام افغانستان یہودی تھا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح ضرور کشمیر میں آئے اور انہوں نے اسرائیلی اقوام کو تبلیغ کی۔

٢...... ہجرت کشمیر پر ایک لمحہ فکریہ

یہاں پر مرزائی خیالات کے باہمی تضاد کو نظر انداز کر کے یہ خلاصہ نکلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام ٣٣ برس کی عمر میں عصر جمعہ کو مصلوب ہوئے۔ تین گھنٹہ کے بعد نیم مردہ اتار لئے گئے اور ایک زمین دوز سرد خانہ میں چالیس روز تک مرہم عیسیٰ سے چنگے ہو کر دجلہ و فرات کے درمیانی فاصلہ کو کاٹتے ہوئے فارس اور کابل پہنچے۔ پھر افغانستان میں شادی کی۔ بچے پیدا ہوئے تو وہاں سے چل دیئے اور پشاور پہنچ کر ہندوستان کے مشہور مقامات بنارس اوجن گڑھ اور جگن ناتھ وغیرہ مقامات میں تشریف فرما ہوئے اور وہاں پھرتے پھراتے کشمیر میں ٨٧ برس گزار کر وفات پائی اور محلہ خانیار سری نگر میں آپ کا مقبرہ تیار ہوا۔ جس میں اب تک دو قبریں موجود ہیں اور رو بقبلہ دونوں شمالاً و جنوباً واقع ہیں۔ حکیم نور الدین کا بیان ہے کہ قبر کا رخ بیت المقدس کی طرف ہے۔ شاید قبر کا سر مراد لیا ہوگا۔ پہلی قبر پنجرہ چوبین کے اندر شمالی طرف رو بقبلہ ہے اور دوسری قبر اسی لائن میں پائنتی کی طرف پہلی کی طرح رو بقبلہ ہے۔ مگر پہلی سے چھوٹی ہے۔ پہلی قبر یقیناً یوز آسف کی ہے۔ شاہزادہ اور عیسیٰ بھی کہتے ہیں۔ دوسری قبر حضرت مریم کی ہے یا سید نصیر الدین مرحوم کی۔ اس پنجرہ کو جنوب کی طرف سے دروازہ رکھا گیا ہے جو عموماً بند رہتا ہے اور پنجرہ کے چاروں طرف مطاف اور پھرنے کی جگہ ہے۔ جیسے کہ عام مزاروں کے ارد گرد ہوتی ہے۔ مگر یہ مطاف بھی مسقف ہے اور اس کی مغربی دیوار میں جنوب و مغرب کے کونے میں اب تک ایک سوراخ موجود ہے۔ جس سے پہلے زمانہ میں خوشبو آتی تھی اور خیال کیا گیا تھا کہ اس میں ایک خزانہ بھی مدفون ہے۔ اس تھیوری (نظریہ) پر یہ شکوک پیدا ہوتے ہیں کہ:

صفحہ ٣٦

مدت عمر ٨٧ سال بتائی جاتی ہے۔ تاکہ دونوں عمریں مل کر ١٢٠ سال کی عمر مکمل کریں۔ مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ آپ نے جلیل سے پشاور تک ہزار کوس سے زیادہ کا فاصلہ کتنی مدت میں طے کیا تھا اور وہاں سے ہندوؤں کے مقامات ومعابد کو جاتے ہوئے کون سا راستہ اختیار کیا تھا اور تقریباً دو ہزار کوس کا چکر کاٹ کر کشمیر میں کس سال اور کس تاریخ کو داخل ہوئے تھے؟

آبادی کے لئے گزاری تھی۔ غالباً تیس چالیس برس سے وہ بھی زائد عرصہ ہوگا۔ کیونکہ عیسیٰ خیل قوم کا وہاں آج تک موجود رہنا ایک پوری زندگی کا مقتضی ہے۔ ورنہ صرف چند سال سے قوم کا آغاز نہیں ہوسکتا۔

تجویز کئے جائیں تو قیام کشمیر کی مدت ٧٧ سال رہ جاتی ہے اور اگر روسی انجیل کے مطابق تعلیم دین و تبلیغ کے لئے بھی الگ وقت نکالا جائے تو دس سال اور کم ہو جائیں گے اور قیام کشمیر کی مدت صرف ٦٠ اور ٦٦ سال کے درمیان رہ جاتی ہے۔ اس لئے یقینی طور پر قیام کشمیر کو ٨٧ سال قرار دینا قرین قیاس نہیں ہے۔

روپوش ہوکر رہتا ہے اور کوئی ایک کشمیری یا افغان عیسائی مذہب قبول نہیں کرتا اور ملک شام میں تو تین سالہ تبلیغ نے تمام ملک کو عیسائیت کا گرویدہ کرلیا تھا۔ مگر یہاں نہ کشمیر میں کسی گرجا کا نشان پایا جاتا ہے نہ کوئی ہیکل ہے اور نہ کوئی صلیبی نشان یا صلیبی تعلیم موجود ہے۔ اگر کہا جائے کہ آپ نے چوری چھپے تبلیغ سے کام لیا تھا اور راجہ کو عیسائی بنایا تھا۔ جس نے کہ آپ کی تصویر اپنے سکہ پر چھپوائی تھی تو یہ شبہ اور بھی زور دار ہو جاتا ہے کہ جس نبی کو شاہانہ قوت حاصل ہو اور تبلیغ رسالت میں ناکام رہے بہت ہی تعجب انگیز امر ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تھیوری صرف خیالی امور پر مبنی ہے اور بس۔

میں یہودی پایا تھا۔ اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ ان کا مذہب اب تک یہودی تھا تو حضرت مسیح کی تبلیغی کوشش کو ناکام تصور کرنا پڑتا ہے اور اگر یہ مراد ہو کہ گو وہ لوگ مذہب کی رو سے یہودی نہ تھے۔ مگر قومیت کی رو سے یہودی ضرور کہلاتے تھے تو ایک اور مشکل آ پڑتی ہے کہ کم از کم

صفحہ ٣٧

عیسیٰ خیل کو تو اس عنوان سے خالی ضرور ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ وہ تو آپ کی صلبی اولاد تھی اور آپ یہودی مشہور نہ تھے۔

حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر تبلیغ اسلام میں مصروف ہوں گے تو شروع شروع میں گو لڑائیاں ہوں گی۔ مگر بعد میں امن قائم ہوگا اور دنیا میں صرف ایک ہی مذہب رہ جائے گا اور یہود و نصاریٰ تمام کے تمام مسلمان ہو جائیں گے تو ان پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ عقیدہ آیات قرآنیہ کے سراسر خلاف ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں صاف مذکور ہے کہ : 'القينا بينهم العداوة والبغضاء الى يوم القيمة ' ہم نے یہود و نصاریٰ کے درمیان قیامت تک دشمنی ڈال دی ہے۔ پس اگر وہ سارے مسلمان ہوں گے تو ان کو یہود و نصاریٰ کیسے کہہ سکیں گے۔ کیونکہ یہ دونوں عنوان مذہبی ہیں اور ان کا قیام ان کے مذاہب کا قیام ہے۔ مگر اس سوال و جواب کے بعد ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا افغانستان اور بالخصوص عیسیٰ خیل با وجود عیسائی ہونے کے یہودی کہلاتے تھے؟ نہیں تو پھر یہ لفظ مذہبی عنوان نہیں رہ سکتا اور اگر یوں کہا جائے کہ آپ نے تبلیغی جدوجہد بالکل ترک کر دی تھی۔ یہاں تک کہ اپنی اولاد کو بھی عیسائی نہ بنا سکے تو یہ الزام پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ سچے نبی تھے تو آپ نے کوتاہی کیوں کی اور اگر آپ کی وعظ سے کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوا تو آپ کی صداقت مخدوش ہو جاتی ہے۔ کیونکہ جب نبی کا مقابلہ یا انکار کیا جاتا ہے تو منکرین کا وجود اپنی حالت پر قائم نہیں رہتا۔

نہ ہوا اور بغیر فیصلہ آسمانی کے یہاں کشمیر میں آ چھپے تو آپ کی صداقت کیسے ثابت ہوگی اور ناکامی کا دھبہ آپ کی سوانح سے کیسے اٹھ سکے گا۔ کیونکہ سچے اور جھوٹے کا معیار قادیانی تعلیم کی رو سے کامیابی اور ناکامی پر مبنی ہوتا ہے۔

یہاں آئے تھے اور اسی بناء پر آپ کو عبرانی زبان میں آسف (متلاشی) کہا گیا تھا۔ مگر صرف کشمیر اور افغانستان میں گواہی اور دلائل سے یہودی قوم بتائی جاتی ہے۔ لیکن جگن ناتھ اور بنارس میں یہودی قوم کا ایک فرد بشر بھی ثابت نہیں کیا جاتا تو پھر کیوں منوایا جاتا ہے کہ آپ غیر اقوام کی طرف سینکڑوں میل کا چکر کاٹ کر گئے تھے اور خواہ مخواہ بے فائدہ تبلیغ کرتے رہے۔ بالخصوص جب کہ ابھی تک یہودی کشمیر میں تبلیغ کے محتاج تھے اور آپ کو وہاں جا کر تبلیغ کرنا فرض کیا گیا تھا تو ایک

صفحہ ٣٨

فرض تبلیغ کو چھوڑ کر زائد تبلیغ کی طرف قدم اٹھانا ایک صاحب شریعت نبی کی شان کے شایان معلوم نہیں ہوتا۔

”كنت عليهم شهيداً مادمت فيهم “ جب تک میں بنی اسرائیل میں دیکھ بھال کرتا رہا۔ کسی نے میرے سامنے اظہار شرک نہیں کیا تھا۔ اب یہودی تین قسم کے بتائے جاتے ہیں۔ شامی، کشمیری اور افغانی۔ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ آپ نے اپنے اس بیان میں کون سے یہودی مراد لئے ہیں۔ کشمیری اور افغانی یہودیوں میں جب آپ کی تبلیغ کا کوئی سچا اور پختہ ثبوت نہیں ملتا تو ظاہر ہے کہ اس آیت میں شامی یہودی ہی مراد ہوں گے اور یہ ماننا پڑے گا کہ آپ کی ساری تبلیغ وہیں منحصر تھی نہ کشمیر میں تھی اور نہ افغانستان یا بنارس میں۔ بالخصوص بنارسی تبلیغ کا تو بالکل پتہ نہیں چلتا۔ کیونکہ ان اطراف میں کوئی یہودی ثابت نہیں کیا گیا۔ اگر یہ عذر کیا جائے کہ یہ جواب آپ کی تبلیغی عمر کے تمام حصوں سے تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ صرف اس حصہ سے تعلق رکھتا ہے۔ جو آپ نے خاص شامی یہودیوں میں بسر کی تھی تو حیات مسیح کا دروازہ بالکل کھل جاتا ہے۔ کیونکہ وہ صرف اسی اصول پر بند تھا کہ آپ ساری تبلیغی عمر میں یہودیوں سے باخبر رہے تھے۔

یہودیوں میں آپ کا دوام عمر اور بقاء رہا انہی میں ہی توفی ہوئی یعنی شام کے یہودیوں میں آپ نے تبلیغی عمر بسر کی اور ان ہی میں توفی کا واقعہ پیش آیا۔ مگر اس تھیوری نے اس آیت کو ایسا بے لطف کر دیا ہے کہ دوام عمر کی جگہ تو شام میں معین کی ہے اور توفی کشمیر کے فرضی یہودیوں میں مقرر کر ڈالی ہے۔ حالانکہ قرآن شریف میں نہ افغانی یہودیوں کا کوئی ذکر ہے اور نہ کشمیری یہودیوں کا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تھیوری معقولیت سے بھی بالکل خالی ہے۔

مضمون کی رہنمائی کے ماتحت یہ کہنا پڑتا ہے کہ توفی، رفع اور تطہیر کا ایک ہی مقام ہے۔ کیونکہ مرزائی تعلیم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ شام کے یہودیوں نے آپ کو صلیب پر کھینچنے سے ملعون ثابت کرنا چاہا تھا۔ مگر خدا نے اپنی حکمت عملی سے آپ کو اس لعنت سے بچا لیا۔ اب رفع روحانی اور توفی بھی اگر ان ہی مخالفوں کے سامنے ہوتی تو ان پر اتمام حجت ہو سکتی تھی کہ یہ لو جس کو تم ملعون ثابت کرتے تھے۔ دیکھو اس کا رفع روحانی بذریعہ موت جسمانی ہورہا ہے۔ مگر حیرت ہے کہ آپ کو روپوش کر کے کس مپرسی کے عالم میں کشمیر پہنچایا جاتا ہے اور مطلقاً مخالفین کو اطلاع نہیں دی جاتی کہ کشمیر میں

آپ کی رفع روحانی قرار پائی ہے تو اس کہا جائے کہ آپ کی رفعت روحانی کشمـ کی بہت کمی ہے۔

اور کبھی کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ خیل آپ کی اور اسے کس مپرسی کی حالت میں چھوڑ کے ہمراہ تھیں اور شیخ نصیر الدین کی قبر کو

بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ مرہم ضرب سـ زخموں کے لئے نہیں بنائی جاتی تو کیا بھی ہوا تھا۔ یا ناسور بھی پڑ گئے تھے۔ کیو کے لئے بنانا اس امر کی دلیل ہے کہ حـ بیماریاں بھی آپ کو ہوئی ہوں گی۔ اس بیمار ہوئے تھے کہ طب کی کتابوں میـ سلیمان علیہ السلام نے شاید بنایا تھا؟ ہاتھ دوائیوں کا بنا ہوا ہے۔ شرب الـ شراب بھی پیا کرتے تھے۔ کتاب ضر بلکہ اسے مرہم رسل، مرہم سلیقا، مرہـ ہیں۔ یونانی زبان میں اسے ڈوویکا زراوند طویل، کندر، جاء شیر، مر مکی، میں زخم میخ کا کوئی ذکر نہیں۔ غالباً بعـ بڑھانے کے مجوسیوں نے تو اسے مر بلکہ اس لئے کہ وہ اس کی پرستش کر اپنے معبود یا کسی بزرگ کی طرف منـ مرہم اثنا عشری کا لقب دے کر تصور حالانکہ بارہویں امام کا ظہور ابھی تک

صفحہ ٣٩

آپ کی رفع روحانی قرار پائی ہے تو اس کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا نکل سکتا ہے کہ یہودیوں کو اگر کہا جائے کہ آپ کی رفعت روحانی کشمیر میں ہو چکی ہے تو وہ صاف کہیں گے کہ تم میں شئے لطیف کی بہت کمی ہے۔

اور کبھی کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ خیل آپ کی اولاد ہیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ والدہ سے آپ کو نفرت تھی اور اسے کس مپرسی کی حالت میں چھوڑ دیا تھا اور کبھی کہا جاتا ہے کہ نہیں نہیں وہ بھی کشمیر میں آپ کے ہمراہ تھیں اور شیخ نصیر الدین کی قبر کو مریم کی قبر قرار دیا جاتا ہے۔

بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ مرہم ضربہ سقطہ اور ناسور و طاعون کے لئے بنائی گئی ہے۔ مخصوص طور پر زخموں کے لئے نہیں بنائی جاتی تو کیا حضرت مسیح کو واقعہ صلیب کے بعد قبر نما سرد خانہ میں طاعون بھی ہوا تھا۔ یا ناسور بھی پڑ گئے تھے۔ کہیں سے گر بھی پڑے تھے یا کہیں چوٹ بھی لگی تھی؟ اگر زخموں کے لئے بنانا اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت مسیح کو صلیبی زخم ہوئے تھے تو یہ بھی امکان ہو گا کہ دوسری بیماریاں بھی آپ کو ہوئی ہوں گی۔ اس اصول کے مطابق یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ جبریل بھی ایک دفعہ بیمار ہوئے تھے کہ طب کی کتابوں میں دواء جبریل بھی مشہور نسخہ ہے۔ نمک سلیمانی بھی حضرت سلیمان علیہ السلام نے شاید بنایا تھا؟ ایک دوائی کا نام یداللہ ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا کا ہاتھ دوائیوں کا بنا ہوا ہے۔ شرب الصالحین ایک شربت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صالحین شراب بھی پیا کرتے تھے۔ کتاب قرابادین عیسوی میں لکھا ہے کہ اس کا نام صرف مرہم عیسیٰ نہیں ہے بلکہ اسے مرہم رسل، مرہم سلیخا، مرہم حوارین، مرہم مندیا، مرہم زہرہ، مرہم اثنا عشری بھی کہتے ہیں۔ یونانی زبان میں اسے ڈوڈیکار فارمیکم کہتے ہیں۔ یعنی بارہ دوائیں (موم سپید، راتینج، اشق، زراوند طویل، کندر، جاء شیر، مر مکی، بیروزہ، مقل، مردہ سنگ، روغن زیت، زنگار ) مگر اس وجہ تسمیہ میں زخم مسیح کا کوئی ذکر نہیں۔ غالباً بعد میں جب دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے تو اس کا تقدس بڑھانے کے مجوسیوں نے تو اسے مرہم زہرہ کہہ دیا نہ اس لئے کہ زہرہ ستارہ کو کبھی کبھی زخم ہوا تھا۔ بلکہ اس لئے کہ وہ اس کی پرستش کرتے تھے اور یہ عادت ہے کہ بہت مفید اور کامل الاجزاء چیز کو اپنے معبود یا کسی بزرگ کی طرف منسوب کر دیا کرتے ہیں۔ اسی بناء پر حضرات شیعہ نے اسے مرہم اثنا عشری کا لقب دے کر تصور دلایا ہے کہ گویا ائمہ اہل بیت کے بارہ اماموں کا فرمودہ ہے۔ حالانکہ بارہویں امام کا ظہور ابھی تک زیر بحث ہے۔ عیسائیوں نے اس کو بارہ رسولوں کی طرف

صفحہ ٤٠

منسوب کر دیا۔ لیکن باوجود اس مقدس وجہ تسمیہ کے یہ لفظ کسی نے نہیں لکھے کہ خاص طور پر واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام پر یہ مرہم استعمال کی گئی تھی۔ جب کہ آپ کو صلیب پر میخوں سے زخم آئے تھے اور طبی نکتہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو یہ مرہم اس جگہ استعمال کی جاتی ہے کہ جب پھوڑے پھنسی گندے مواد سے بھر جائیں۔ نہ ان تازہ زخموں کے لئے جو ابھی ابھی پیدا ہوئے ہوں۔ ہاں ضربہ سقطہ کے لئے کار آمد ہے۔ مگر لوہے سے جو زخم آئے ہوں اور ان میں ضربہ سقطہ کے آثار نہ ہوں۔ ان کے واسطے یہ مرہم مخصوص نہیں ہے۔ اس لئے اس مرہم کو ہجرت کشمیر پر دلیل پیش کرنا قابل اعتبار نہ ہو گا۔

خاص خاص چشموں کے پانیوں کی تاثیرات پر مبنی کیا گیا ہے تو صاف یوں کیوں نہیں کہہ دیا جاتا کہ حواریوں کے پاس یہ مرہم ہر وقت تیار رہتی تھی۔ جس سے اعجاز نمائی کے طور پر پھوڑے پھنسیوں کو اچھا کر دیا کرتے تھے۔ مگر چونکہ ہجرت کشمیر ثابت کرنا تھا۔ اپنا مذہبی اصول چھوڑ کر بات کا بتنگڑ بنا دیا اور اخیر میں لکھ دیا کہ لوگوں نے گو اسے مرہم عیسیٰ تسلیم کیا ہے۔ مگر اس سے تاریخی فائدہ نہیں اٹھایا۔ مگر مخالف کہہ سکتا ہے کہ ؎

سخن شناس نہ دلبرا خطا اینجاست

جناب نے جو تاریخی فائدہ اٹھایا ہے وہ سب خیالی ہے اور واقعات اس کی سخت تردید کر رہے ہیں۔ اگر ایسے وہمی مواد کو کچھ وقعت دی جاسکتی ہے تو ہندوستان و پنجاب میں مکہ، مدینہ، مہدی آباد، مصطفیٰ آباد، محمدی پور وغیرہ بہت سے مقامات موجود ہیں۔ معلوم نہیں کہ قادیانی موشگافی یہاں پر کیا کیا گل کھلاتی ہو گی۔ خصوصاً شیعہ آبادی میں جب ائمہ اہل بیت کے نام پر بارہ بستیوں کے نام ائمہ اطہار سے منسوب پائیں گے تو اور بھی ان کے لئے موقعہ حاصل ہو گا کہ کہہ دیں کہ بارہ اماموں کی اصل جگہ یہی بستیاں ہیں یا کم از کم یہاں بروز ضرور ہوا ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کے اس طرح کے نام مشہور ہوں۔ گویا مرزائی تعلیم میں ہر ایک چیز کی وجہ تسمیہ میں ضرور واقعات مسیح سے کچھ نہ کچھ تعلق ہوتا ہے۔ (بہت خوب)

نہیں اور جو اسلامی ثبوت پیش کئے جاتے ہیں ان میں قطع و برید کی گئی ہے۔ چنانچہ اکمال الدین ایک شیعہ مذہب کی مسلمہ ثبوت پر کتاب لکھی گئی ہے اور انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے حالات و اقوال سے یہ مسئلہ ثابت کیا گیا ہے۔ مگر مرزائی تعلیم میں اس کو کتاب یوز آسف کا ترجمہ صرف اس بناء پر

صفحہ ٤١

باوجود اس مقدس وجہ تسمیہ کے یہ لفظ کسی نے نہیں لکھے کہ خاص طور پر واقعہ مسیح علیہ السلام پر یہ مرہم استعمال کی گئی تھی۔ جب کہ آپ کو صلیب پر میخوں طبی نکتہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو یہ مرہم اس جگہ استعمال کی جاتی ہے کہ جب زخم مواد سے بھر جائیں۔ نہ ان تازہ زخموں کے لئے جو ابھی ابھی پیدا ہوئے ان کے لئے کارآمد ہے۔ مگر لوہے سے جو زخم آئے ہوں اور ان میں ضربہ سقط ان کے واسطے یہ مرہم مخصوص نہیں ہے۔ اس لئے اس مرہم کو ہجرت کشمیر پر دلیل ہوگا۔

مرزائی تعلیم میں جب معجزات عیسویہ کو عمل بالید، عمل ترب اور دوائیوں یا پانیوں کی تاثیرات پر مبنی کیا گیا ہے تو صاف یوں کیوں نہیں کہہ دیا جاتا کہ مرہم ہر وقت تیار رہتی تھی۔ جس سے اعجاز نمائی کے طور پر پھوڑے پھنسیوں کو مگر چونکہ ہجرت کشمیر ثابت کرنا تھا۔ اپنا مذہبی اصول چھوڑ کر بات کا بتنگڑ بنا کر لوگوں نے گو اسے مرہم عیسیٰ تسلیم کیا ہے۔ مگر اس سے تاریخی فائدہ نہیں ہے کہ۔

سخن شناس نہ ئی دلبرا خطا اینجاست

جو تاریخی فائدہ اٹھایا ہے وہ سب خیالی ہے اور واقعات اس کی سخت تردید کرتے ہیں اگر ان مواد کو کچھ وقعت دی جا سکتی ہے تو ہندوستان و پنجاب میں مکہ، مدینہ، محمدی پور وغیرہ بہت سے مقامات موجود ہیں۔ معلوم نہیں کہ قادیانی کیا کہلاتی ہوگی۔ خصوصاً شیعہ آبادی میں جب ائمہ اہل بیت کے نام پر بارہ اماموں سے منسوب پائیں گے تو اور بھی ان کے لئے موقعہ حاصل ہو گا کہ کہہ دیں کہ بلکہ یہی بستیاں ہیں یا کم از کم یہاں بروز ضرور ہوا ہے۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں ان کے نام مشہور ہوں۔ گویا مرزائی تعلیم میں ہر ایک چیز کی وجہ تسمیہ میں ضرور دخل ہوتا ہے۔ (بہت خوب) عقلاً یہ نظریہ اسلام کی مسلسل تعلیم کے خلاف ہے۔ اس لئے قابل التفات نہیں، جو حوالے پیش کئے جاتے ہیں ان میں قطع و برید کی گئی ہے۔ چنانچہ اکمال الدین واتمام النعمہ پر کتاب لکھی گئی ہے اور انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے حالات واقوال درج ہیں۔ مگر مرزائی تعلیم میں اس کو کتاب یوز آصف کا ترجمہ صرف اس بناء پر

بتایا جاتا ہے کہ اس میں چند اوراق کے اندر حکیم بلوہر کے نصائح بھی درج ہیں۔ اسی طرح روضتہ الصفاء ایک مسلمہ اور مذہبی تاریخ ہے۔ اس میں واقعہ صلیب سے اوّل کے حالات متعلقہ مسیح کا ذکر ہے۔ مگر اس نظریہ میں اس کو تبدیل کر کے واقعہ بعد صلیب قرار دیا گیا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس اکمال الدین میں شہزادہ یوز آصف کے تفصیلی سوانح حیات قلمبند کرتے ہوئے مصنف نے اس کے باپ کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ شہزادہ ایک دفعہ اپنے ملک میں خدا رسیدہ ہو کر واپس بھی گیا تھا اور والدین نے بہت خوشی منائی تھی۔ مگر یہ تبلیغ کرتے ہوئے پھر اپنے ملک سے چلا آیا تھا اور کشمیر میں آکر گوشہ نشین ہوا اور بابد شاگرد کو وصیت کر کے وفات پائی۔ بہر حال یوز آصف کی تاریخ میں واقعہ صلیب کا ذرہ بھر بھی ذکر نہیں اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ کوئی قوم اس کو گرفتار کر کے سلطان وقت کے دربار میں بغاوت کے الزام میں لے گئی تھی۔ لیکن مرزائی تعلیم نے اس تاریخی واقعہ کو اس طرح تبدیل کر دیا ہے کہ اس کا سر اور پاؤں دونوں کاٹ کر درمیانی حصہ مسیح پر چسپاں کر کے دکھلا دیا ہے کہ یوز آصف، یسوع بن یوسف ہی تھا۔ وہمی بیانات کو یقینی اصول وعقائد کی صف میں کھڑا کرنے میں کمال جرات سے کام لیا ہے۔ اس لئے محققین کی نظر میں یہ نظریہ گناہ عظیم کا ارتکاب ثابت ہوا ہے۔

(١٢)....... اس نظریہ میں کچھ معقولیت بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہ قرین قیاس کبھی نہیں ہو سکتا کہ مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے بعد قبر نما سردخانہ میں چالیس روز تک زیر علاج رہیں اور بارہ حواری جمع ہو کر کمال اطمینان کے ساتھ ایک مرہم عیسیٰ بھی تیار کریں اور باقاعدہ تیمارداری میں لگے رہیں۔ مگر یہودیوں کو ذرہ بھی اطلاع نہ ہوئی ہو اور ایک روایت کی رو سے حضرت مسیح تیسرے روز جلیل تک سفر بھی کر کے واپس آگئے ہوں۔ لیکن یہودی ایسے اندھے اور بہرے ہو گئے ہوں کہ نہ ان کو حواریوں کا اجتماع نظر آیا تھا اور نہ ان کو حضرت کے متعلق کوئی واقعہ سنائی دیا۔ سب سے بڑھ کر اس نظریہ میں یہ نامعقولیت بھی ہے کہ خواہ مخواہ حضرت کو تکلیف دی گئی ہے کہ بنارس تک تین ہزار کوس کا دور دراز سفر کاٹ کر پھر واپس تشریف لائیں۔ یہاں قدرۃً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنارس کیوں گئے تھے؟ اگر وید سیکھنے گئے تھے تو انجیل کلام الٰہی تسلیم نہیں کی جاسکتی اور اگر تبلیغ کے لئے گئے تھے تو بنارس میں یہودی قوم کا وجود ثابت کرنا پڑتا ہے جو بالکل ناممکن ہے۔ ایک اور نامعقولیت ادنیٰ غور کے بعد بھی معلوم ہو سکتی ہے کہ آج سے انیس سو سال قبل ہندوستان میں نہ امن تھا، نہ سڑکیں تھیں نہ اس قدر گنجان آبادی تھی اور نہ خوردونوش کے سامان مہیا کرنے کے وسائل حاصل تھے۔ ان دنوں ایک سو میل طے کرنا بڑا مشکل ہوتا تھا تو آپ نے کس طرح پانچ

صفحہ ٤٢

ہزار میل کا سفر طے کر لیا تھا۔ اپنے آپ کو پنجاب کے دریاؤں اور جنگلوں سے کیسے پار اتارا تھا اور اپنے چار شاگردوں اور اپنی والدہ کو کیسے امن کے ساتھ بنارس تک پہنچایا تھا۔ بہرحال ہمیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ واقعہ کیسے ہوا؟

.......١٧

جب یوں کہا جاتا ہے کہ یوز آسف مہاتما بدھ اور یسوع ایک شخص کے نام ثابت ہوتے ہیں۔ اس لئے قبر مہاتما بدھ کی ہے جو بگڑ کر یوز آسف کی قبر مشہور ہو گئی ہے۔ ورنہ حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر نہیں ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ اگر بدھ کی قبر ہوتی تو آج بدھ مذہب کے ماننے والوں کا اس پر قبضہ ہوتا اور ساری دنیا کے بدھ اس پر جمع ہوا کرتے۔ مگر یہ خیال نہیں کیا کہ اگر یہی قبر مسیح علیہ السلام کی ہوتی تو ساری عیسائی دنیا اس پر الٹ کر آ جاتی اور اس کو موجودہ حالت میں شکستہ و ویران نہ چھوڑتی اور کبھی یوں جواب دیا جاتا ہے کہ گو بدھ اور مسیح علیہ السلام کی تعلیم میں مشابہت ہے۔ مگر اس مشابہت سے دو شخص ایک آدمی نہیں بن سکتے۔ ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں کہ گو یوز آسف اور حضرت مسیح کے سوانح حیات کچھ کچھ آپس میں ملتے جلتے ہوں۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دو شخص سے ایک آدمی بن جاتا ہے۔ بلکہ یہ صرف توہمات ہیں۔ جن سے کوئی صحیح نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔

.......١٨

صرف نبی کے لفظ سے ثابت کیا جاتا ہے کہ یہ قبر حضرت مسیح علیہ السلام کی تھی۔ کیونکہ یہ لفظ یا مسلمانوں میں مروج ہے اور یا یہودیوں اور عیسائیوں میں۔ اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ اگر صاحب قبر اسلام سے پہلے ہو چکا ہے تو ضرور بنی اسرائیلی ہو گا۔ مگر بحث تو اس میں ہے کہ کشمیریوں نے اس کو نبی کیوں کہا۔ کیا کشمیری زبان بھی عربی یا عبرانی کی ایک قسم ہے تا کہ کہا جا سکے کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے سوا یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا۔ بلکہ غور سے اگر دیکھا جائے تو کشمیری زبان فارسی زبان کی تبدیل شدہ صورت ہے اور فارس و ایران میں زرتشت کو نبی مانا جاتا تھا اور اب بھی مرزائی تعلیم میں اسے نبی کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ زرتشت نہ مسلمان تھا اور نہ یہودی یا عیسائی۔ بلکہ ایک مستقل مذہب کا مالک تھا۔ اس لئے یہ ثبوت بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ اسلامی تاثرات سے پہلے یوز آسف کے ساتھ رشی کا لفظ شامل کیا گیا ہو جس کا ترجمہ نبی گھڑ لیا گیا ہے۔ بہرحال یہ امر ثابت کرنا مشکل ہے کہ یوز آسف کی وفات کے وقت اس کو نبی کے لفظ سے پکارا جاتا تھا اور رشی ، منی وغیرہ سے معنون نہیں ہوتا تھا۔

.......١٩

کہا جاتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام سے تشبیہ دے کر ثابت کیا گیا ہے کہ آپ نے بھی آدم علیہ السلام کی طرح ہندوستان میں ہجرت کی تھی۔ مگر

صفحہ ٤٣

تھا ۔ اپنے آپ کو پنجاب کے دریاؤں اور جنگلوں سے کیسے پار اتارا تھا اور اپنی والدہ کو کیسے امن کے ساتھ بنارس تک پہنچایا تھا۔ بہر حال ہمیں یہ نہیں !؟

تب یوں کہا جاتا ہے کہ یوز آصف مہاتما بدھ اور یسوع ایک شخص کے نام لئے قبر مہاتما بدھ کی ہے جو بگڑ کر یوز آصف کی قبر مشہور ہو گئی ہے۔ ورنہ قبر نہیں ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ اگر بدھ کی قبر ہوتی تو آج بدھ مذہب بقبضہ ہوتا اور ساری دنیا کے بدھ اس پر جمع ہوا کرتے ۔ مگر یہ خیال نہیں کیا ام کی ہوتی تو ساری عیسائی دنیا اس پر الٹ کر آ جاتی اور اس کو موجودہ چھوڑتی اور کبھی یوں جواب دیا جاتا ہے کہ گو بدھ اور مسیح علیہ السلام کی ر اس مشابہت سے دو شخص ایک آدمی نہیں بن سکتے ۔ ہم بھی اسی طرح ر حضرت مسیح کے سوانح حیات کچھ کچھ آپس میں ملتے جلتے ہوں ۔ مگر اس ض سے ایک آدمی بن جاتا ہے۔ بلکہ یہ صرف توہمات ہیں ۔ جن سے ا۔

ف نبی کے لفظ سے ثابت کیا جاتا ہے کہ یہ قبر حضرت مسیح علیہ السلام کی ں میں مروج ہے اور یا یہودیوں اور عیسائیوں میں ۔ اس لئے ثابت لام سے پہلے ہو چکا ہے تو ضرور بنی اسرائیلی ہوگا۔ مگر بحث تو اس میں کیوں تھا۔ کیا کشمیری زبان بھی عربی یا عبرانی کی ایک قسم ہے تا کہ کہا یوں کے سوا یہ لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بلکہ غور سے اگر دیکھا جائے تو تھ پل شدہ صورت ہے اور فارس و ایران میں زرتشت کو نبی مانا جاتا یا اسے نبی کا خطاب دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ زرتشت نہ مسلمان تھا اور نہ قل مذہب کا مالک تھا ۔ اس لئے یہ ثبوت بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ اس ثرات سے پہلے یوز آصف کے ساتھ رشی کا لفظ شامل کیا گیا ہو جس کا ال یہ امر ثابت کرنا مشکل ہے کہ یوز آصف کی وفات کے وقت اس اور رشی ، منی وغیرہ سے معنون نہیں ہوتا تھا۔ کتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام سے تشبیہ ب نے بھی آدم علیہ السلام کی طرح ہندوستان میں ہجرت کی تھی ۔ مگر

لفظ کمثل آدم سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ دونوں کی وفات بھی ایک ہی جگہ ہوئی تھی۔ کیونکہ ہجرت سے وفات لازم نہیں آتی ۔ بلکہ اگر آیت زیر بحث کا مفہوم واقعہ ہجرت سے تعلق رکھتا ہے تو یہ بھی ثابت ہوگا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی طرح توفی سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام بھی ہندوستان چھوڑ کر واپس چلے گئے تھے۔ اگر خلقہ من تراب کا حصہ بھی ساتھ ملایا جائے تو یہ ساری کوشش خاک میں مل جاتی ہے۔ کیونکہ صاف اور صحیح مطلب یہی ہوگا کہ حضرت آدم و مسیح علیہم السلام دونوں کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی نہ کہ ذات باری تعالیٰ سے۔ جیسا کہ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے بیٹا تھے اور وفات مسیح علیہ السلام سے تعلق نہیں رکھتے ۔

روایت سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ مسیح واقعہ صلیب کے بعد زمین پر ہی تھے۔ آسمان پر نہیں گئے۔ مگر یہ خیال رہے کہ یہ قبر کسی حواری کی ہے۔ خود مسیح علیہ السلام کی نہیں ہے۔ جیسا کہ اپنے مقام پر ثابت کیا جائے گا۔ ہاں مگر تعجب خیز یہ امر ہے کہ : ”مرزائی خیالات کی روایت اس امر کی بھی مظہر ہے کہ کوئی شخص کشمیر سے کتبہ اٹھا کر لے گیا تھا اور اس قبر پر رکھ دیا تھا۔ مگر ہم پوچھتے ہیں کہ کب عربی کشمیر میں آئے تھے۔ کب ان دو ملکوں کی تجارت باہمی ہوئی تھی اور کون عقل کا دشمن بتلا رہا تھا کہ قبر کا کتبہ ایک عربی سینکڑوں میل تک اٹھا کر لے گیا تھا۔ اگر لے بھی گیا تھا تو راوی بتائے کہ کیوں لے گیا؟ کیا وہ جیب میں ڈالا جا سکتا تھا؟ یا کشمیر اور مدینہ شریف کے درمیان ریلوے جاری تھی کہ آسانی کے ساتھ ایک بوجھل پتھر کو لے جانا آسان کام سمجھا گیا ہے۔ شاید بقول شخصے اس راوی نے دھوپ میں بیٹھ کر یہ گپ جوڑ لی تھی۔“

انہوں نے واقعہ صلیب کے بعد یہ لقب حاصل کیا ہوگا۔ کیونکہ ٣٣ برس تک سیاحت نہیں کی جاسکتی۔ مگر یہ کہاں لکھا ہے کہ سیاح کے لئے ہجرت کشمیر بھی ضروری ہے۔ کیا دوسرے ملک سیاحت کے لئے کافی نہیں ہیں؟ آپ کی سیاحت کا ثبوت لینا ہو تو انجیل برنباس پڑھیں۔ جس میں لکھا ہے کہ یوم ولادت سے واقعہ صلیب تک آپ کو کہیں آرام نہیں ملا۔ ورنہ خیالی گھوڑے نہ دوڑائیں۔

حکم نہ تھا۔ اس لئے انہوں نے کبھی تو یوں کہہ دیا کہ مسیح آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور کبھی کہہ دیا کہ مر گئے ہیں تا کہ یہود تعاقب نہ کریں اور جس جس جگہ کا نام لیتے تھے وہیں مصنوعی قبریں تیار کی جاتی تھیں ۔ مگر حواریوں کو جب رسالت کا مرتبہ دیا جاتا ہے تو پھر انہوں نے جعلسازی اور خلاف

صفحہ ٤٤

بیانی سے کیوں کام لینا شروع کیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ قادیانی تعلیم میں ہزاروں دورخی باتیں موجود ہیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ گو وہ حواری رسول تھے اور ملہم بھی تھے۔ مگر جھوٹ بھی بولتے تھے اور جعلسازی بھی کرلیا کرتے تھے۔

بریں عقل و دانش بباید گریست

جاتا ہے کہ اس سے مراد مریم علیہا السلام ہیں۔ مگر اس نکتہ آفرینی میں علاوہ مخالفت تاریخ کے ایک پرلطف نظریہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے وقت ٣٣ برس کے تھے۔ مگر کشمیر پہنچتے وقت آپ کی والدہ ابھی جوان تھیں۔ بہت خوب بچہ ٣٣ سال سے اوپر اور ماں ابھی جوان ابھی مریم علیہا السلام کی دوسری اولاد کا ذکر نہیں کیا۔ ورنہ تو آپ کا سن بلوغ بھی خطرہ میں پڑ جاتا۔

نہیں ہوسکتی اور عموماً ان میں پنجابی خیالات کو دخل ہوتا ہے۔ گویا از سر نو الفاظ کے معنی تجویز کئے گئے ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف اور اسلامی تعلیمات کے معانی جب بطرز جدید اختراع ہوئے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ باقی الفاظ متعلقہ بھی ازسرنو وضع نہ کئے جاتے۔ اس لئے نئی وضع کے معنی ان لوگوں کے لئے حجت نہیں ہو سکتے جو قدیم وضع کو ماننے والے ہیں اور ایسی نکتہ آفرینیوں کو خیال توہمات کے سوا نہیں مان سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ نئے نئے نظریئے قائم کئے گئے ہیں۔ جنہوں نے موجب افتراق واختلاق بن کر باہمی جنگ وجدال کو برپا کردیا ہے۔ ورنہ اگر اصل پر ان الفاظ کو قائم رکھا جاتا تو بہت سی مذہبی ابحاث کا خاتمہ ہی ہوجاتا۔ اس مقصد کے نظائر پیش کرنے کے لئے ذیل میں چند لغات قادیانیہ پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ناظرین انصاف سے فیصلہ کریں کہ یہ لوگ کہاں تک حق بجانب ہیں۔

٣...... لغات قادیانیہ

صفحہ ٤٥

شروع کیا تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ قادیانی تعلیم میں ہزاروں دورخی باتیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ گو وہ حواری رسول تھے اور ملہم بھی تھے۔ مگر جھوٹ بھی وحی کر لیا کرتے تھے۔

ایں عقل و دانش بباید گریست

”اللہ ودی“ کی اصلیت الماہ بمعنی جوان عورت بتائی جاتی ہے اور پھر کہا گیا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام ہیں۔ مگر اس نکتہ آفرینی میں علاوہ مخالفت تاریخ کے ایک یہ بھی ستم ڈھایا گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقعہ صلیب کے وقت ٣٣ برس کے تھے۔ اور آپ کی والدہ ابھی جوان تھیں۔ بہت خوب بچہ ٣٣ سال سے اوپر اور ماں جوان۔ حضرت مریم علیہا السلام کی دوسری اولاد کا ذکر نہیں کیا۔ ورنہ تو آپ کا سن بلوغ بھی خطرہ

قادیانی لغات دنیا سے الگ ہے۔ جن کی تصدیق کسی محاورہ یا کتاب سے نہیں ملتی، صرف پنجابی خیالات کو دخل ہوتا ہے۔ گویا از سر نو الفاظ کے معنی تجویز کئے گئے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے معانی جب بطرز جدید اختراع ہوئے تو کوئی وجہ نہیں کہ الفاظ از سر نو وضع نہ کئے جاتے۔ اس لئے نئی وضع کے معنی ان لوگوں کے نزدیک صحیح ہیں جو نئی وضع کو ماننے والے ہیں اور ایسی نکتہ آفرینیوں کو خیال توہمات کے ماتحت لایا گیا ہے کہ نئے نئے نظریئے قائم کئے گئے ہیں۔ جنہوں نے موجب جنگ و جدال کو برپا کر دیا ہے۔ ورنہ اگر اصل پر ان الفاظ کو قائم رکھا جاتا تو ان فتنوں کا خاتمہ ہی ہو جاتا۔ اس مقصد کے نظائر پیش کرنے کے لئے ذیل میں چند الفاظ لکھے جاتے ہیں تاکہ ناظرین انصاف سے فیصلہ کریں کہ یہ لوگ کہاں تک

٣...... لغات قادیانیہ

صفحہ ٤٦

وفات کے بعد یوحنا کو روحانی طور پر جسمانی رنگ میں ملے تھے۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنے حواریوں سے بھی ملے تھے اور جسمانی رنگ میں ہو کر کباب اور شہد بھی استعمال کیا تھا تا کہ ان کو یہ شک پیدا نہ ہو کہ یہ روحانی ملاقات ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی پیش کیا جاتا ہے کہ حواری آپ کا علاج کرتے تھے اور آپ کے راز دار تھے اور لوگوں کو بہکا کر کہتے تھے کہ مسیح آسمان پر چلا گیا ہے یا جھوٹی قبریں بنا کر موت کا یقین دلاتے تھے۔ بہر حال یہ متضاد بیان ثابت کرتے ہیں کہ یا تو ان بیانات کا پیدا کرنے والا وہمیات کا شکار ہو کر ایک عقیدہ پر قائم نہیں اور یا معاذ اللہ حواری ہی ایسے کمزور دماغ تھے کہ اپنی بات ان کو یاد نہیں رہتی تھی۔

آئے تھے۔ یہ بات گو قرین قیاس نہ ہو اور تاریخی ثبوت کی محتاج ہے۔ مگر اس کو صحیح مان کر یوں کہنا کہ یہ خواب کا واقعہ ہے۔ صرف قادیانی معارف کا ایک کرشمہ ہے کہ واقعات کو خواہ مخواہ خواب تصور کر لیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس مذہب میں خواب اور اونگھ سے بہت کام لیا گیا ہے تو لوگوں کو بھی ہر وقت سوئے ہوئے ہی خیال کرتے ہیں۔ المرء یقیس علی نفسہ!

ہے کہ ایک سرسری نظر سے بھی اصلیت ظاہر ہو جاتی ہے۔ کیونکہ انجیل میں تو قحط، طاعون، جنگ و جدال، انقلاب اقوام اور آیات ارضی و سماوی نزول مسیح سے پہلے لکھے ہیں۔ مگر اس تعلیم میں ظہور مسیح علیہ السلام کے بعد پیش کئے جاتے ہیں۔ یہ اتنا بڑا ظلم ہے کہ گویا غیر کا مال چرا کر اپنا بنا لیا گیا ہے۔ معلوم نہیں خدا اس جعلسازی کا بدلہ کیا دے گا۔

حضرت مسیح علیہ السلام صلیبی موت سے مر کر معاذ اللہ ملعون ہوئے ہیں اور ان کی روح خدا کی طرف نہیں گئی۔ (بلکہ کسی اور جگہ چلی گئی ہے) مگر قرآن شریف نے شبہ لھم کہہ کر بتا دیا کہ ان کو اشتباہ میں ڈالا گیا تھا۔ ورنہ اصل میں آپ نیم مردہ اتارے گئے تھے اور ٨٧ برس بعد کشمیر میں اپنی

صفحہ ٤٧

جسمانی موت سے مرے تھے اور آپ کی روح خدا کی طرف گئی تھی۔ چنانچہ ”اوینہما الی ربوة ذات قرار ومعین“ میں مذکور ہے۔ اس عقیدہ پر دلیل یوں دی گئی ہے کہ چونکہ یہود و نصاریٰ میں صرف یہ تنازع چلا آتا تھا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع روحانی ہوا ہے یا نہیں؟ تو قرآن شریف نے بتا دیا کہ رفع روحانی ہو گیا ہے اور رفع جسمانی کا باہمی تنازع کبھی پیدا نہیں ہوا۔ اس لئے رفع جسمانی ثابت کرنا بیجا اور بے محل ہوگا۔ لیکن اس خیالی استدلال سے کچھ نتیجہ پیدا نہیں ہوتا۔ کیونکہ مرزائی تعلیم سے پہلے کسی مذہبی تعلیم نے قرآنی تعلیم کو اس طرح پیش نہیں کیا اور نہ کوئی تصریح موجود ہے کہ یہودیوں کو ایسا جواب دیا گیا تھا۔ اس لئے اگر یہ نظریہ الہام پر مبنی ہے تو غیر مذہب کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا اور اگر اجتہادی رنگ میں پیش کیا گیا ہے تو جب تک اس خیال کو تاریخی یا مذہبی حوالہ جات سے مستند نہ کیا جائے قابل توجہ نہیں ہے اور اگر اس خیال کو کسی تاریخ یا مذہبی روایت کی ضرورت نہیں تو تحریف قرآنی میں درج ہوگا۔ اس کے علاوہ اس خیال میں معقولیت ذرہ بھر بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جن یہودیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر مار ڈالا ہے۔ انیس سو سال کے بعد ان سے یوں کہنا کہ مسیح کا رفع روحانی کشمیر میں ہوا ہے۔ ایسا مضحکہ خیز امر ہوگا کہ جس پر بچے بھی پھبتی اڑا سکتے ہیں۔ کیونکہ نزول قرآن تک بلکہ مرزائی تعلیم کے آغاز تک عیسائیوں کی طرف سے اور اسلام نے یہی جواب دیا جا رہا تھا کہ مسیح کا رفع روحانی (کشمیر میں مرنے سے نہیں ہوا بلکہ) آسمان پر رفع جسمانی کے ذریعہ سے ہوا ہے۔ مگر آج مسلسل تعلیم کے خلاف یوں کہا جاتا ہے کہ رفع روحانی کشمیر میں ہوا ہے اور اس کا ثبوت بھی سوائے وہمی باتوں کے پیش نہیں کیا جاتا۔ کچھ یوز آسف کا حصہ لیا، کچھ تاریخ بدھ کا اور کچھ سیاح روسی کا بیان تبدیل کیا اور کچھ روضتہ الصفاء کی عبارتوں میں قطع و برید کی تو ایک قصہ اختراع کر لیا کہ مسیح کشمیر میں مرے تھے۔ ورنہ یکجائی حالات کسی کتاب سے پیش کرنے سے وفات مسیح کے متوالے بالکل عاجز ہیں جو کچھ پیش کرتے ہیں۔ ظالمانہ قطع و برید اور گداگری سے پیش کرتے ہیں۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا۔ بھان متی نے کنبہ جوڑا۔

کے نام پر کشمیر میں سکہ رائج ہوا تھا اور ”اوينهما“ سے پیش کیا جاتا ہے کہ کشمیر میں مسیح علیہ السلام اور مریم علیہا السلام دونوں نے یہودیوں سے ڈر کر پناہ لی تھی۔ پہلا بیان ثابت کرتا ہے کہ ان کو کوئی خطرہ نہ تھا۔ کیونکہ مسیحی سکہ کسی ملک میں محدود نہ تھا۔ بالخصوص جب کہ یہ مانا گیا ہے کہ کسی تاجر عربی نے ایک کتبہ بھی قبر مسیح سے چرا کر مدینہ شریف کے پاس ایک قبر پر لگا دیا تھا تو اس بات کے انکار کی

صفحہ ٤٨

کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ مسیحی سکہ یہودی تاجروں کے ذریعہ ملک شام میں ضرور ہی پہنچ نہ گیا ہوگا۔ مگر چونکہ مسیح اس وقت بادشاہ تھے۔ اس لئے یہودیوں کو یہ جرات نہ ہوئی کہ آپ کو گرفتار کر کے دوبارہ پلاطوس کے سامنے حاضر کر دیتے۔ مگر اتنا تو کر سکتے تھے کہ اپنا عقیدہ ضرور تبدیل کر دیتے کہ ہم مسیح کو صلیبی موت دینے میں کامیاب نہیں ہوئے اس کا جواب مرزائی تعلیم میں نہیں ملتا۔ دوسرا بیان ظاہر کرتا ہے کہ حضرت مسیح روپوش ہو کر کس مپرسی کی حالت میں پناہ گزین تھے اور کوئی وجاہت دنیاوی ان کو حاصل نہیں ہوئی تھی۔ ہاں اگر افغانستان کی شادی کا خیالی منظر شامل کیا جائے تو واقعات کی یوں ترتیب دی جاسکتی ہے کہ پہلے پناہ گزین تھے۔ پہلے آپ کا سکہ رائج ہوا۔ پھر افغانستان میں شادی کی۔ پھر واپس آ کر گوشہ نشین ہوئے تو پہلے آپ مرے یا ماں مری تو آپ کی قبر کو یوز آسف کی قبر سے مشہور کیا گیا اور آپ کی والدہ کی قبر کو شیخ نصیر الدین مرحوم کی قبر بتایا گیا اور کسی وقت یہ دونوں قبریں بیت المقدس کی طرف رخ نما تھیں۔ بعد میں کسی اسلامی عہد میں ان کو قبلہ رخ کر دیا گیا۔ کیا مرزائی تعلیم اس ترتیب واقعات کو تسلیم کرے گی؟ اور یا ہماری طرف پائے تحقیر سے ٹھکرا کر مجذوب کی بڑ سمجھے گی؟ اصل بات یہ ہے کہ آپ کی وجاہت مذہبی طور پر نزول قرآن سے پہلے تسلیم ہو چکی تھی۔ جس کی تصدیق اسلام بھی آج تک کر رہا ہے۔ باقی رہا سکہ جمانا اور اس پر وجاہت دنیاوی متفرع کرنا سو یہ ایک ایسی بات ہے کہ بالکل قرین قیاس نہیں ہے۔ اسی طرح آپ کی پناہ گزینی جو واقعات اور تصریحات انجیلی سے ثابت ہے۔ وہ آپ کا ابتدائی سفر ہے جو آپ نے اپنی والدہ کے ہمراہ مصر کو کیا تھا۔ جیسا کہ انجیل برنباس میں مذکور ہے نہ یہ کہ کشمیر میں آئے تھے۔ جس کا کوئی ثبوت آج تک پیش نہیں کیا گیا۔

٣٠...... جب حیات مسیح کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے تو مرزائی تعلیم مخول اڑاتی ہے کہ خدا نے مسیح علیہ السلام کو کھڑکی کی راہ سے یا چھت پھاڑ کر ڈاکے کے ذریعہ مسیح علیہ السلام کو اڑا لیا تھا تو سیدھا کیوں نہ بلا لیا۔ کیا ضرورت تھی کہ دوسرے کو مسیح علیہ السلام کا ہم شکل بنایا تو کیا دھوکا دینا اچھا کام ہے؟ بھلا یہ تو بتاؤ کہ جس کو مسیح علیہ السلام کی جگہ صلیب دیا گیا تھا وہ کون تھا؟ اس نے کیا گناہ کیا تھا کہ بے وجہ اس کو سولی دیا گیا۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کوئی بھگتے۔ اگر آسمان پر مسیح علیہ السلام تھے تو پہلے یہ ثابت کرو کہ وہ جسمانی چیز ہے۔ تحقیق جدید تو اسے ایک رقیق عنصر سمجھتی ہے۔ یا صرف حد نگاہ ثابت کرتی ہے تو اس پر انسان کا گذار کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ خوردونوش کا کیا انتظام کرتے ہیں۔ پرانی تحقیق کے مطابق جب آسمان گول ہے تو گول چیز پر تو کوئی چیز ٹھہر ہی نہیں سکتی تو آپ کیسے اب تک زندہ موجود ہیں؟ کیا ابھی تک وہ بوڑھے نہیں

صفحہ ٤٩

سکہ یہودی تاجروں کے ذریعہ ملک شام میں ضرور ہی پہنچ نہ گیا ہوگا۔ مگر تھے۔ اس لئے یہودیوں کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ آپ کو گرفتار کر کے دوبارہ مروا دیتے۔ مگر اتنا تو کر سکتے تھے کہ اپنا عقیدہ ضرور تبدیل کر دیتے کہ ہم مسیح کامیاب نہیں ہوئے اس کا جواب مرزائی تعلیم میں نہیں ملتا۔ دوسرا بیان مسیح روپوش ہو کر کس پیری کی حالت میں پناہ گزین تھے اور کوئی وجاہت ہوئی تھی۔ ہاں اگر افغانستان کی شادی کا خیالی منظر شامل کیا جائے تو دی جاسکتی ہے کہ پہلے پناہ گزین تھے۔ پہلے آپ کا سکہ رائج ہوا۔ پھر پھر واپس آکر گوشہ نشین ہوئے تو پہلے آپ مرے یا ماں مری تو آپ کی مشہور کیا گیا اور آپ کی والدہ کی قبر کو شیخ نصیر الدین مرحوم کی قبر بتایا گیا اور بیت المقدس کی طرف رخ نما تھیں۔ بعد میں کسی اسلامی عہد میں ان کو زائی تعلیم اس ترتیب واقعات کو تسلیم کرے گی؟ اور یا ہماری طرف پائے کی بڑھنے لگی؟ اصل بات یہ ہے کہ آپ کی وجاہت مذہبی طور پر نزول چکی تھی۔ جس کی تصدیق اسلام بھی آج تک کر رہا ہے۔ باقی رہا سکہ جمانا مخترع کرنا سو یہ ایک ایسی بات ہے کہ بالکل قرین قیاس نہیں ہے۔ اسی جو واقعات اور تصریحات انجیلی سے ثابت ہے۔ وہ آپ کا ابتدائی سفر دہ کے ہمراہ مصر کو گیا تھا۔ جیسا کہ انجیل برنباس میں مذکور ہے نہ یہ کہ کشمیر کی ثبوت آج تک پیش نہیں کیا گیا۔

جب حیات مسیح کا واقعہ پیش کیا جاتا ہے تو مرزائی تعلیم مخول اڑاتی ہے کہ ڑکی کی راہ سے یا چھت پھاڑ کر ڈاکے کے ذریعہ مسیح علیہ السلام کو اڑا لیا تھا کیا ضرورت تھی کہ دوسرے کو مسیح علیہ السلام کا ہم شکل بنایا تو کیا دھوکا دینا اؤ کہ جس کو مسیح علیہ السلام کی جگہ صلیب دیا گیا تھا وہ کون تھا؟ اس نے کیا کو سولی دیا گیا۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ گناہ کوئی کرے اور سزا کوئی بھگتے۔ اگر تھے تو پہلے یہ ثابت کرو کہ وہ جسمانی چیز ہے۔ تحقیق جدید تو اسے ایک رقیق حد نگاہ ثابت کرتی ہے تو اس پر انسان کا گزار کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ تے ہیں۔ پرانی تحقیق کے مطابق جب آسمان گول ہے تو گول چیز پر تو تو آپ کیسے اب تک زندہ موجود ہیں؟ کیا ابھی تک وہ بوڑھے نہیں

ہوئے۔ کیا آپ کی عقل ابھی تک قائم ہے؟ آسمان سے نزول کے بعد اسلامی تعلیم اور عربی زبان کس سے سیکھیں گے۔ وہ عبرانی بولیں گے اور لوگ عربی جدید یا انگریزی، تو آتے ہی آپ کو حکومت کس طرح حاصل ہوگی؟ مہدی الرضوان کے ساتھ ملکر نماز کیسے ادا کریں گے؟ کیا ان کو طریق جماعت پہلے سے ہی کسی نے سکھلا دیا ہے؟

مگر اپنی تھیوری کا پتہ نہیں کہ کس طرح بھی درست نہیں۔ نہ کشمیر میں تبلیغ کا نشان بتایا جاتا ہے۔ نہ وہ سکہ پیش کیا جاتا ہے کہ جس پر آپ کی تصویر چھپی تھی۔ نہ عیسیٰ خیل کا اقرار موجود ہے کہ ہم پہلے عیسائی تھے اور مسیح کی اولاد۔ نہ بتایا جاتا ہے کہ اثنائے سفر میں آپ نے کہاں کہاں قیام کیا۔ کس کس جگہ آپ کے چار حواری اور والدہ آپ کے ہمراہ ہوتے گئے۔ حواری کہاں مرے ان کی قبریں کہاں ہیں۔ دشوار گزار گھاٹیوں کو آپ بلا سفر خرچ کے کیسے طے کیا۔ روزانہ آپ کا سفر کتنا تھا؟ کیا آپ روزانہ سفر کرتے تھے یا کبھی وقفہ بھی کیا تھا۔ تو کتنی مدت میں بنارس تک تین ہزار کوس سے زیادہ سفر کیا۔ کیا آپ کے حواری بنارس بھی گئے تھے۔ والدہ بھی وہاں ساتھ تھیں۔ اگر تھیں تو ان کو وہاں جانے کی کیا ضرورت تھی؟ بنارس سے واپسی کب ہوئی؟ اور اثنائے سفر میں دریاؤں جنگلوں اور ڈاکوؤں اور پر خطرات راستوں سے آپ کو کس طرح نجات ملی؟ بھلا آپ تو سیاح نبی مشہور تھے تو کیا مریم علیہا السلام کو بھی سیاح کا لقب دیا گیا تھا اور آپ کے حواری بھی اس سفر کے وجہ سے سیاح کہلاتے تھے؟ کیا آپ کی والدہ جو اس وقت کم از کم چالیس پچاس سال کے درمیان تھی اس قدر تاب رکھتی تھی کہ اپنے بیٹے کے برابر روزانہ سفر کر سکے؟ کیا یہودیوں کو یہ معلوم نہ ہوا کہ مسیح کشمیر کو چلے گئے ہیں اور چالیس روز تک متواتر بارہ حواری علاج کرتے رہے۔ مگر یہودی کیوں معلوم نہ کر سکے؟ آخر مسیح علیہ السلام کے پاس جمع ہو کر حواری خوردونوش کرتے ہوں گے اور دوائیاں استعمال کراتے ہوں گے اور مقویات سے مسیح علیہ السلام کو طاقتور بناتے ہوں گے۔ تا کہ ہزاروں میل کے سفر کو کاٹنے کو تیار ہو جائیں وہ کون سے مقویات ادویہ تھے؟ کہاں سے لاتے تھے؟ کیا ان تمام حالات سے یہودی بے خبر تھے؟ کیا یہ دھوکہ نہیں ہے کہ مسیح علیہ السلام کو تو کشمیر پہنچا دیا اور یہودیوں کو اس شبہ میں (چھ سو سال تک بلکہ آج تک ) رکھا کہ مسیح علیہ السلام کی موت صلیبی واقع ہو چکی تھی؟ کیا یہ بیان ان کی تشفی کے لئے کافی ہے کہ باوجودیکہ عیسائی اور مسلمان آج تک ہجرت کشمیر کے معتقد نہیں ہیں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ انیس سو سال بعد معلوم ہوا کہ آپ کشمیر میں مدفون ہیں۔ گویا اتنی مدت یہ جواب مخفی رکھا گیا تھا۔ مگر کیوں؟ کیا مرزائی تعلیم کا جواب اگر کچھ عرصہ کے لئے مخفی رکھا جائے تو کیا آپ لوگ اس کو بے پر کی اڑائی ہوئی بات سمجھیں گے؟ اور کیا جو

صفحہ ٥٠

مخول اس موقعہ پر حیات مسیح علیہ السلام کے متعلق اڑائے جاتے ہیں۔ ان کا جواب انجیل برنباس سے نہیں ملتا؟ یا جان بوجھ کر عوام الناس میں اپنی چلانے کی سوجھی ہوئی ہے؟

٣١...... (کشف الاسرار ص ١٠) میں تاریخ ہند مؤلفہ ہنٹر سے بدھ کی سوانح عمری یوں نقل کی ہے کہ گوتم بدھ بانی مذہب کا آغاز قبل از مسیح ٥٤٣ میں ہوا۔ باپ چاہتا تھا کہ وہ سپاہی بنے مگر اس نے بچپن کا زمانہ آزادی سے کاٹا اور جوانی میں ایک طاقتور سپاہی بن گیا اور شہزادی سے بیاہ کر لیا تو دس برس کے بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور تیس برس کی عمر میں بال بچے اور بیوی کو چھوڑ کر زاہد بن گیا اور ضلع پٹنہ میں دو سحرا نشین برہمنوں سے تعلیم پائی اور چھ برس تک پانچ چیلوں کی معیت میں گیا کے جنگلوں میں ریاضت کی پھر واعظانہ رنگ میں بدھ (عارف) مشہور ہوا اور عبادت چھوڑ دی ٣٦ برس سے ٨٠ برس تک لوگوں کو بنارس میں تعلیم دی اور تین ماہ میں ساٹھ آدمی مرید ہوئے۔ جن کو اس نے اپنے مبلغ بنا کر ہر ایک ملک میں روانہ کر دیا۔ خود صوبہ بہار، ممالک مغربی و شمالی اور اودھ میں تبلیغ کی۔ اب خلاصہ ہے کہ ٣٠ برس میں تارک الدنیا ہوا۔ ٣٦ برس کی عمر میں تعلیم پائی اور ٤٤ سال تک واعظ رہا۔ اسی سال کی عمر میں ٥٤٣ قبل مسیح انجیر کے درخت کے نیچے وفات پائی اور (تاریخ بنارس ص ٤٩ مطبوعہ میتھڈسٹ پریس) پر سید محمد رفیع صاحب مصنف کتاب ہذا نے لکھا ہے کہ ساڑھے پانچ سو سال مسیح علیہ السلام سے پہلے ساکیہ منو (موجد مذہب بدھ) نے اپنا صدر مقام سارناتھ مہادیو کے پاس بنایا تھا جو بنارس کی پرانی آبادی کے قریب شہر سے ڈیڑھ کوس پر ہے۔ جس کے چند نشان اب بھی پائے جاتے ہیں۔ جن کو سارناتھ کی دھیمکھ کہتے ہیں اور یہ اوندھی ہانڈی کی شکل کا ایک پرانا گنبد ہے جو کسی بدھ بزرگ کی قبر معلوم ہوتا ہے۔ مسیح سے ٥٤٣ برس پہلے بدھ کے مرنے پر راجاؤں نے چاہا کہ اسے اپنے وطن میں لے جا کر دفن کریں۔ تنازع ہو گیا تو چیلوں نے لاش جلا کر ہر ایک کو تھوڑی تھوڑی راکھ دے کر رخصت کر دیا۔ جس کو انہوں نے اپنے اپنے ملک میں دفن کر کے گنبد بنوائے اور پرستش شروع کر دی۔ جو بھلسا، مانکیالا میں اب تک موجود ہیں اور جن کی نقلیں اتار کر سنگھل، برہما، چین، تبت وغیرہ میں گنبد بنائے گئے ہیں۔ جیمس پرنسپ نے ایک ایک دھیمکھ کھدوا کر دیکھا تو ایک ڈبیہ میں تھوڑی سی ہڈی اور راکھ اور کچھ مروجہ سکے اور تانبے کی پتی پر ایک شلوک لکھا ہوا پایا گیا۔ (تاریخ ہند لتھبرج ص ٣٠) میں ہے کہ پھون جب یوز آسف پر ایمان لایا تھا تو اس وقت تین سو برس بدھ کو ہو چکے تھے۔ بدھ مسیح سے پہلے ٥٥٠ برس پیدا ہوا اور ٤٨٧ میں مر گیا۔ کتاب (چشمہ مسیحی ص ٤ ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٠) میں ہے کہ یوز آسف کی کتاب کہ جس کے متعلق انگریز محققین کے یہ خیالات ہیں کہ وہ میلاد مسیح سے پہلے شائع

صفحہ ٥١

ت مسیح علیہ السلام کے متعلق اڑائے جاتے ہیں۔ ان کا جواب انجیل برنباس جو کہ عوام الناس میں اپنی چلانے کی سوجھی ہوئی ہے؟

(کشف الاسرار ص ١٠) میں تاریخ ہند مؤلفہ ہنسر سے بدھ کی سوانح عمری یوں بانی مذہب کا آغاز قبل از مسیح ٥٤٣ء میں ہوا۔ باپ چاہتا تھا کہ وہ سپاہی بنے مانہ آزادی سے کاٹا اور جوانی میں ایک طاقتور سپاہی بن گیا اور شہزادی سے کے بعد اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور تیس برس کی عمر میں بال بچے اور بیوی کو ضلع پٹنہ میں دو صحرا نشین برہمنوں سے تعلیم پائی اور چھ برس تک پانچ چیلوں جنگلوں میں ریاضت کی پھر واعظانہ رنگ میں بدھ (عارف) مشہور ہوا اور رس سے ٨٠ برس تک لوگوں کو بنارس میں تعلیم دی اور تین ماہ میں ساٹھ آدمی س نے اپنے مبلغ بنا کر ہر ایک ملک میں روانہ کر دیا۔ خود صوبہ بہار، ممالک ں تبلیغ کی۔ اب خلاصہ ہے کہ ٣٠ برس میں تارک الدنیا ہوا۔ ٣٦ برس کی عمر ل تک واعظ رہا۔ اسی سال کی عمر میں ٥٤٣ قبل مسیح انجیر کے درخت کے نیچے نارس ص ٩ مطبوعہ ایڈورڈ ہند پریس) پر سید محمد رفیع عالی مصنف کتاب ہذا نے لکھا وسال مسیح علیہ السلام سے پہلے ساکیامنی (موجد مذہب بدھ) نے اپنا مندر کے پاس بنایا تھا جو بنارس کی پرانی آبادی کے قریب شہر سے ڈیڑھ کوس پر ن اب بھی پائے جاتے ہیں۔ جن کو سارناتھ کی دھمیکھ کہتے ہیں اور یہ اوندھی انا گنبد ہے جو کسی بدھ بزرگ کی قبر معلوم ہوتا ہے۔ مسیح سے ٥٤٣ برس پہلے وں نے چاہا کہ اسے اپنے وطن میں لے جا کر دفن کریں۔ تنازع ہو گیا تو ہر ایک کو تھوڑی تھوڑی راکھ دے کر رخصت کر دیا۔ جس کو انہوں نے اپنے کے گنبد بنوائے اور پرستش شروع کر دی۔ جو بھلسا، مانکیالا میں اب تک گیں اتار کر نیپال، برہما، چین، تبت وغیرہ میں گنبد بنائے گئے ہیں۔ جیمس دھمیکھ کھدوا کر دیکھا تو ایک ڈبیہ میں تھوڑی سی ہڈی اور راکھ اور کچھ بھوجپتر یک شلوک لکھا ہوا پایا گیا ۔ (تاریخ ہند لتھبرج ص ٣٠) میں ہے کہ اشوک ان لایا تھا تو اس وقت تین سو برس بدھ کو ہو چکے تھے۔ بدھ مسیح سے پہلے ے ٤٨ میں مر گیا۔ کتاب (چشمہ مسیحی ص ٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٠) میں ہے کہ یوز س کے متعلق انگریز محققین کے یہ خیالات ہیں کہ وہ میلاد مسیح سے پہلے شائع

ہو چکی ہے اور جس کے تراجم ممالک مغربیہ میں ہو چکے ہیں۔ انجیل کو اس کے اکثر مقامات سے ایسا توارد ہے کہ بہت سی باتیں آپس میں ملتی ہیں..... مگر ہماری رائے تو یہ ہے کہ یہ کتاب خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی انجیل ہے جو سفر ہند میں لکھی گئی تھی۔ (کتاب الہدیٰ ص ١٠٩، خزائن ج ١٨ ص ٣٦٢) میں ہے کہ : ”یوز آسف کی تسلی بخش سوانح عمری کتاب اکمال الدین میں مذکور ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ یوز آسف نے اپنی کتاب کا نام انجیل رکھا تھا ۔“ کتاب شہزادہ یوز آسف و حکیم بلوہر مطبوعہ ١٨٩٦ء مفید عام پریس آگرہ میں بحوالہ کتاب (اکمال الدین ص ٣٧١) میں لکھا ہے کہ اگلے زمانہ میں ہندوستان کا ایک بادشاہ بڑا عیش پسند اور صاحب اقبال تھا۔ اپنے ہم خیالوں کو اپنا دوست سمجھتا تھا اور حقیقی خیر خواہوں کو اپنا دشمن جانتا تھا اور چونکہ خود اصول سلطنت سے خوب ماہر تھا۔ اس لئے رعایا تابع تھی اور دشمن مغلوب رہتے تھے اور گو غرور شباب اور مال و منال کی وجاہت سے ہمیشہ مغرور رہتا تھا۔ مگر اس کے ہاں کوئی لڑکا نہ تھا اور اپنی تخت نشینی کے وقت سے خدا پرستی کا دشمن بن گیا تھا اور ملک میں بت پرستی شروع کر دی تھی۔ یہاں تک کہ دینداروں کو بہت ہی برا سمجھا جاتا تھا۔ آخر جب اس کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام یوز آسف رکھا تو اپنا تمام خزانہ بتوں کی نذر کر دیا اور رعایا کو حکم دیا کہ ایک سال تک جشن مناتے رہیں۔ جنم پتری کے لئے نجومی جمع کئے تو سب نے کہا کہ اس لڑکے کی برکت سے ہندوستان مشرف ہوگا۔ مگر ایک منجم نے کہا کہ یہ لڑکا دینداروں کا پیشوا ہوگا اور دنیاوی عظمت اس کے سامنے ہیچ ہوگی۔ جب شہزادہ کا چرچا عام ہوا تو لنکا کا ایک زاہد بلوہر نامی نے ارادہ کیا کہ شہزادہ سے ملے تو بحری سفر کر کے سولا پت میں آیا اور تاجرانہ لباس پہن کر شہزادہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حاضر باشی میں مشغول رہا۔ (ص ٣٣٦ سے ٣٥٥ تک وہ تمام حالات درج ہیں جو حکیم بلوہر اور شہزادہ کے درمیان تبادلہ خیالات کے موقع پر پیدا ہوئے تھے ) آخر جب حکیم بلوہر کو معلوم ہوا کہ شہزادہ کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق خیر خدا تعالیٰ نے عطاء فرمادی ہے تو اپنے وطن کو واپس چلا گیا۔ اس لئے شہزادہ اپنے ہمراز کی جدائی میں غمزدہ رہتا تھا۔ آخر تبلیغ حق کے لئے اپنا وطن چھوڑ دیا اور شاہی لباس وزیر کو دے کر واپس کر دیا اور خود اپنی راہ لی تو کچھ عرصہ تک مسافرانہ زندگی بسر کی اور اپنے وطن مولوف کو واپس آ گیا تو باپ نے بڑے تپاک سے استقبال کیا اور خوشی منائی۔ پھر طبیعت اکتا گئی تو تبلیغ حق کے لئے دوسری دفعہ گھر سے نکل کھڑا ہوا تو شہر بشہر وعظ کرتا ہوا کشمیر آ پہنچا تو وہاں تبلیغ حق میں مصروف رہا اور اقامت اختیار کر لی تو جب وفات کا وقت آ گیا تو اپنے مرید یابد کو وصیت کی کہ حق پر قائم رہو اور باطل کی طرف میلان نہ کرو۔ یہ کہہ کر پھر کہا کہ میرا مقبرہ بناؤ۔ یہ کہہ کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا اور مرتے وقت

صفحہ ٥٢

منہ مشرق کو کیا اور سر مغرب کو اور اسی حالت میں جاں بحق ہوا۔ اب ان بیانات سے بالکل واضح ہوگیا ہے کہ:

ہستی تسلیم کرنا صرف ان لوگوں کی خوش فہمی ہے جو عیسیٰ اور مہدی دو ہستیوں کو ایک ہستی ثابت کرنے کے متوالے ہیں۔

کے متوازی ایک خط میں واقع ہے تو یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ کسی اسرائیلی کی قبر ہو۔ کیونکہ دونوں کا بیت المقدس کی طرف رخ نہیں ہے۔ ورنہ یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ شیخ نصیر الدین مرحوم بھی اسرائیلی بزرگ تھے۔

آرہا تھا تو راستہ میں اسے ایک جگہ نظر آئی۔ جہاں گھنے درخت سرد پانی اور قسم قسم کے پرندے چہچہا رہے ہیں۔ وہاں فروکش ہو کر آرام کیا اور اپنے آئندہ حالات پر نیک شگون حاصل کیا کہ گویا اس کی تعلیم درخت ہے۔ پندونصائح چشمہ ہیں اور پرندے وہ لوگ ہیں جو اس کی تعلیم سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس عبارت سے یہ ثابت کرنا کہ یوز آسف پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ جس کو بشریٰ کہا جاتا ہے۔ کمال خوش فہمی ہے۔ کیونکہ اوّل سے آخیر تک یوز آسف کا حال پڑھ جائیے یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ یوز آسف نے کہیں نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ ہاں اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ شہزادہ اپنے وقت میں خدا پرست زاہد و تارک الدنیا ضرور تھا۔ جس کی نظیریں پرانے ہندوؤں میں بکثرت ملتی ہیں جو رہبانیت کی زندہ مثالیں ہیں۔

عربی میں مرتب کی ہے اور اس میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر ایک نبی اور امام تبلیغ کے زمانہ میں مشکلات سے محفوظ رہنے کی خاطر کچھ عرصہ غائب ہو جاتا ہے اور پھر موقعہ پر ظاہر ہو کر اپنی تبلیغ کو مکمل کرتا ہے۔ اس موضوع کے نظائر قائم کرتا ہوا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک اس نے سب کی غیبت (غائب رہنے کا زمانہ) کو ثابت کیا ہے۔ جن میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمانی زندگی کو غیبت کبریٰ ثابت کیا ہے اور روایات اہل بیت رضی اللہ عنہم سے یوز آسف کی غیبت اور ہجرت بھی ثابت کی ہے اور یہ مطلب نہیں ہے کہ مصنف کے نزدیک یوز آسف اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام معاذ اللہ بھول کر بھی ایک ہستی

صفحہ ٥٣

مغرب کو اور اسی حالت میں جاں بحق ہوا۔ اب ان بیانات سے بالکل واضح

بدھ یوز آسف اور مسیح علیہ السلام الگ الگ تین ہستیاں ہیں اور ان کو ایک ن لوگوں کی خوش فہمی ہے جو عیسیٰ اور مہدی دو ہستیوں کو ایک ہستی ثابت کرنے

قبر کشمیر جب قبلہ رخ اسلامی قبروں کی طرح ہے اور شیخ نصیر الدین کی قبر ں واقع ہے تو یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ کسی اسرائیلی کی قبر ہو۔ کیونکہ دونوں کا بیت نہیں ہے۔ ورنہ یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ شیخ نصیر الدین مرحوم بھی اسرائیلی

کتاب اکمال الدین میں یہ بھی مذکور ہے کہ جب شہزادہ یوز آسف کشمیر کو سے ایک جگہ نظر آئی۔ جہاں گھنے درخت سرد پانی اور قسم قسم کے پرندے چہچہا ں ہو کر آرام کیا اور اپنے آئندہ حالات پر نیک شگون حاصل کیا کہ گویا اس پند و نصائح چشمہ ہیں، اور پرندے وہ لوگ ہیں جو اس کی تعلیم سے استفادہ ت سے یہ ثابت کرنا کہ یوز آسف پر انجیل نازل ہوئی تھی۔ جس کو بشری فہمی ہے۔ کیونکہ اوّل سے اخیر تک یوز آسف کا حال پڑھ جائیے یہ کہیں سف نے کہیں نبوت کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ ہاں اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ دا پرست زاہد و تارک الدنیا ضرور تھا۔ جس کی نظیریں پرانے ہندوؤں میں ی کی زندہ مثالیں ہیں۔

کتاب اکمال الدین شیعہ مذہب کی کتاب ہے۔ ابن بابویہ قمی نے اور اس میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر ایک نبی اور امام تبلیغ کے زمانہ میں نے کی خاطر کچھ عرصہ غائب ہو جاتا ہے اور پھر موقعہ پر ظاہر ہو کر اپنی تبلیغ موضوع کے نظائر قائم کرتا ہوا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر تک اس نے سب کی غیبت (غائب رہنے کا زمانہ) کو ثابت کیا ہے۔ یٰ علیہ السلام کی آسمانی زندگی کو غیبت کبریٰ ثابت کیا ہے اور روایات سے یوز آسف کی غیبت اور ہجرت بھی ثابت کی ہے اور یہ مطلب نہیں یہ یوز آسف اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام معاذ اللہ بھول کر بھی ایک ہستی

تھے۔ ورنہ ان کو الگ الگ بیان کرنا کچھ معنی نہیں رکھتا تھا۔ افسوس ہے کہ قادیانی تعلیم کے متوالے قرآن وحدیث کی طرح اس کتاب کو بھی اپنی تحریف معنوی اور قطع و برید سے رہائی نہیں بخشتے۔ بار ہا اعلان کیا گیا کہ اس کتاب کو اوّل سے اخیر تک پڑھ کر ایمانداری سے بتاؤ کہ یوز آسف اور حضرت مسیح علیہ السلام اس کے نزدیک دو شخص تھے یا ایک؟ مگر کون سنتا ہے اور کون دیکھتا ہے۔ اس تعلیم نے تو ان کی چشم بصیرت پر تعصب کا پردہ ڈال دیا ہے۔ اب کسے سمجھائیں اور کسے بتائیں؟ فذرهم فی طغیانهم يعمهون!

بھی ہوئے جو کتابی صورت میں اکمال الدین کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے معلوم ہوتا ہے کہ یوز آسف و بلوہر کی عظمت نے یہاں تک مجتہدین شیعہ پر ایسا اثر کیا تھا کہ انہوں نے اس کو علی بن حسین بن علی علیہم السلام کی طرف منسوب کر دیا تھا اور ابو جعفر محمد بن علی بن بابویہ قمی نے جو چوتھی صدی میں ہو گذرا ہے۔ اس کو احادیث میں درج کیا ہے۔ کشف الاسرار کے مصنف پر سخت افسوس ہے کہ سمجھے خود نہیں اور صرف تعلیم قادیانی پر غرہ ہو کر کہہ دیا کہ یہ ساری کتاب یوز آسف کا ترجمہ ہے۔ اگر مؤلف کو چشم بصیرت حاصل ہوتی تو وہ ساری کتاب کا مطالعہ اوّل سے اخیر تک کرتا تا کہ اس کو معلوم ہو جاتا کہ نصائح بلوہر اس کتاب میں صرف چند اوراق پر درج ہیں۔ جن کو کتاب یوز آسف کہا جا رہا ہے۔ باقی چار سو صفحہ کی کتاب قرآن وحدیث اقوال ائمہ اور حالات انبیاء پر شامل ہے۔ اس لئے یہ گمراہ کن فقرہ کہ اکمال الدین کتاب یوز آسف کا ترجمہ ہے بالکل غلط ہے۔

١٨٧٩ء میں اٹلی کے ایک اخبار نے شائع کی ہے۔ جس کے اخیر پر یہ فقرہ درج ہے کہ میں پطرس ماہی گیر نے اپنی اسی عمر کے نوے سال میں یہ محبت کے الفاظ اپنے آقا مسیح ابن مریم کی تین عید فصح یعنی تین سال بعد خدا کے مقدس مکان کے نزدیک بولیریہ کے مکان میں لکھنے کا فیصلہ کیا۔

(کشف الاسرار ص ٢٩)

میں (پطرس) ابن مریم کا خادم ہوں اور اب میں نوے سال کی عمر میں یہ خط لکھتا ہوں۔ جب کہ ابن مریم علیہ السلام کو مرے ہوئے تین سال گزر چکے ہیں۔

(تحفہ الندوہ ص ١٦، خزائن ج ١٩ ص ١٠٤)

اس کے بعد عبداللہ کشمیری کا خط درج کیا ہے کہ قبر کشمیر کے متعلق پوری تحقیقات کے

صفحہ ٥٤

بعد یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ایک بنی اسرائیل کے نبی کی قبر ہے جو چھ سو سال حضورﷺ سے پہلے یہاں آ کر دفن ہوئے تھے۔ اس قبر کو شہزادہ یوز آصف کی قبر بھی کہتے ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ یہ حضرت مسیح کی قبر ہے۔ کیونکہ وہ اسرائیلی شہزادہ مشہور تھے۔ (حوالہ مذکور) اخیر میں لکھا ہے کہ ایک یہودی سلمان یوسف اسحاق نامی تاجر نے تصدیق کی ہے کہ واقعی یہ قبر کسی بنی اسرائیل کی ہے اور اس لئے عبرانی زبان میں ١٢ جون ١٨٩٩ء میں ایک تصدیقی تحریر معہ شہادت مفتی محمد صادق بھیروی کلارک دفتر گورنمنٹ جنرل لاہور شائع کی کہ جو کچھ مرزائی تعلیم نے تحقیق کیا ہے درست ہے۔ لیکن پطرس کی تحریر سے ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح علیہ السلام عیسائیوں کے نزدیک ہمیشہ کے لئے مرے ہوئے ہیں۔ کیونکہ وہ قائل ہیں کہ تین دن تک مر کر پھر زندہ ہو گئے تھے۔ غالباً اس سہ روزہ موت کی طرف ہی اس نے اشارہ کیا ہے اور عبداللہ کشمیری کا خط یہ ظاہر نہیں کرتا کہ خصوصیت کے ساتھ یقیناً یہ قبر حضرت مسیح علیہ السلام کی ہے۔ اسی طرح یہودی کی تصدیق سے بھی صرف صاحب قبر کا اسرائیلی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس لئے یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ واقعی یہ قبر کسی اسرائیلی نبی کی ہے۔ کیونکہ اس کے خلاف کتاب اکمال الدین میں پوری تشریح مذکور ہے کہ ایک ہندوستانی توحید پرست شہزادہ کی قبر ہے۔ ممکن ہے کہ شروع میں اس کی لاش جلا کر قبر کا نشان بنا دیا ہو اور کچھ راکھ لے کر بنارس میں بھی دفن کی گئی ہو اور متعدد مقامات پر شہزادہ مذکور کی قبریں موجود ہوں۔ جیسے بدھ کی قبریں متعدد مقامات پر پائی جاتی ہیں اور اس خیال کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ بنارس میں یوز آصف کی قبر پر ایک سالانہ میلہ بھی لگتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کی ایک قبر وہاں بھی موجود ہے۔ کذا قیل!

٣٣....... مسٹر نکولس نوٹووچ ١٨٨٧ء میں ہندوستان آیا تو سری نگر ہوتے ہوئے تبت میں مولیک مٹھ کے مقام پر پہنچ کر لامہ سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر تھا۔ جس کے حالات بدھ مذہب کی کتابوں میں درج ہیں۔ پھر ہمس کے مندر پر پہنچا تو وہاں کے لامہ سے دریافت کرنے پر اس کو معلوم ہوا کہ تین ہزار برس ہو گزرے ہیں کہ بدھ اعظم نے شہزادہ ساکیا منو کا اوتار دہارن کیا تھا اور پچیس سو برس گزر چکے ہیں۔ جب کہ انہوں نے گوتم کا اوتار دہارن کر کے ایک بادشاہت قائم کی۔ پھر اٹھارہ سو برس کا عرصہ ہوا کہ بدھ دیوتا کا اوتار بنی اسرائیل میں پیدا ہوا اور وہ ابھی چھوٹا ہی تھا کہ ہندوستان میں آیا اور جوانی تک بدھ مذہب کی تعلیم پاتا رہا۔ پالی زبان میں اس کے سوانح لکھے گئے اور تبت کی زبان میں ترجمہ ہوئے۔ اس کے بعد مسٹر مذکور نے اپنی کتاب میں یوں لکھا ہے کہ لامہ نے تبتی زبان کی کتابیں منگا کر مجھے

صفحہ ٥٥

یہ ایک بنی اسرائیل کے نبی کی قبر ہے جو چھ سو سال حضور ﷺ سے پہلے تھے۔ اس قبر کو شہزادہ یوز آسف کی قبر بھی کہتے ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ یہ کیونکہ وہ اسرائیلی شہزادہ مشہور تھے۔ (حوالہ مذکور ) اخیر میں لکھا ہے کہ ایک اسحاق نامی تاجر نے تصدیق کی ہے کہ واقعی یہ قبر کسی بنی اسرائیل کی ہے اور ١٤/ جون ١٨٩٩ء میں ایک تصدیقی تحریر معہ شہادت مفتی محمد صادق بھیروی الفضل لاہور شائع کی کہ جو کچھ مرزائی تعلیم نے تحقیق کیا ہے درست ہے۔ ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح علیہ السلام عیسائیوں کے نزدیک ہمیشہ کے لئے زندہ قائل ہیں کہ تین دن تک مر کر پھر زندہ ہو گئے تھے۔ غالباً اس سہ روزہ نے اشارہ کیا ہے اور عبداللہ کشمیری کا خط یہ ظاہر نہیں کرتا کہ خصوصیت کے علیہ السلام کی ہے۔ اسی طرح یہودی کی تصدیق سے بھی صرف صاحب ہوتا ہے۔ مگر حضرت مسیح علیہ السلام کی قبر کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس لئے یہ کہنا کہ کسی اسرائیلی نبی کی ہے۔ کیونکہ اس کے خلاف کتاب اکمال الدین میں ایک ہندوستانی توحید پرست شہزادہ کی قبر ہے۔ ممکن ہے کہ شروع میں اس بنا دیا ہو اور کچھ راکھ لے کر بنارس میں بھی دفن کی گئی ہو اور متعدد مقامات پر موجود ہوں۔ جیسے بدھ کی قبریں متعدد مقامات پر پائی جاتی ہیں اور اس خیال ہوتی ہے کہ بنارس میں یوز آسف کی قبر پر ایک سالانہ میلہ بھی لگتا ہے جس کی ایک قبر وہاں بھی موجود ہے۔ کذا قیل!

مسٹر نکولس نوٹووچ ١٨٨٧ء میں ہندوستان آیا تو سری نگر ہوتے ہوئے مقام پر پہنچ کر لامہ سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر بدھ مذہب کی کتابوں میں درج ہیں۔ پھر ہمیس کے مندر پر پہنچا تو وہاں جانے پر اس کو معلوم ہوا کہ تین ہزار برس ہو گزرے ہیں کہ بدھ اعظم نے دھارن کیا تھا اور پچیس سو برس گزر چکے ہیں۔ جب کہ انہوں نے گوتم کا بادشاہت قائم کی۔ پھر اٹھارہ سو برس کا عرصہ ہوا کہ بدھ دیو کا اوتار بنی وہ ابھی چھوٹا ہی تھا کہ ہندوستان میں آیا اور جوانی تک بدھ مذہب کی میں اس کے سوانح لکھے گئے اور تبت کی زبان میں ترجمہ ہوئے۔ اس کتاب میں یوں لکھا ہے کہ لامہ نے تبتی زبان کی کتابیں منگا کر مجھے

ترجمان کی مدد سے تمام حالات سنائے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ عیسیٰ بنی اسرائیل میں پیدا ہوا۔ چودہ برس کی عمر میں جب کہ وہ وعظ و نصیحت میں مصروف تھا اور والدین شادی پر آمادہ تھے۔ بھاگ کر تاجروں کے ہمراہ سندھ آپہنچا۔ تاکہ وید سیکھے اور ہندوستان میں شہرت پائی اور جب پنجاب اور راجپوتانہ میں سے گزرا تو جین دیو کے تابعداروں نے درخواست کی کہ وہ ان کے پاس رہے۔ مگر وہ اڑیسہ کو چلا گیا۔ جہاں ویاس کرشن کی ہڈیاں دفن تھیں اور برہمنوں سے وید پڑھے اور شفا بخشی کا طریقہ یا جن بھوت نکالنے کا ڈھنگ بھی اس کو سکھا دیا تو جگن ناتھ، راجمن گڑھ وغیرہ میں چھ برس رہا اور شودروں کو اپدیش سنائے۔ جس سے برہمنوں نے اسے قتل کرنا چاہا۔ مگر شودروں نے اسے خبر کر دی کہ آپ کی تلاش میں ایک آدمی پھر رہا ہے تو جگن ناتھ سے رات ہی رات بھاگ کر گوتم بدھ کے تابعداروں میں آکر مقیم ہو گیا اور یہ کوہستانی علاقہ تھا۔ جس میں ساکیا منی بدھ دیو پیدا ہوئے تھے۔ پھر پالی زبان میں وعظ کیا کہ ہر ایک انسان کمال حاصل کر سکتا ہے۔ پھر جب فارس پہنچا تو وہاں کے اہل مذہب نے اس کا وعظ بند کر دیا اور ٢٩ برس کی عمر میں اپنے گھر واپس آگیا اور شہر بشہر وعظ کرتا ہوا یہودیوں کے حوصلے بلند کئے اور تین برس تک تبلیغ کی۔ مگر حاکم کے حکم سے اس کو بمعہ دو چوروں کے صلیب پر لٹکا دیا گیا۔ ان کے جسم دن بھر لٹکتے رہے اور سپاہی پہرہ دیتے رہے اور لوگ چاروں طرف کھڑے دعائیں مانگتے تھے۔ غروب آفتاب کے وقت عیسیٰ کا دم نکلا اور روح خدا سے جاملی۔ اس کتاب کو انجیل روسی سیاح کہتے ہیں۔ جو انگریزی اور فرانسیسی زبان میں شائع ہوئی تھی اور اس کا اردو ترجمہ لالہ جے چند سابق منتری آریہ پرتی مذہبی سبھا پنجاب نے کر کے مطبع دھرم پرچارک جالندھر شہر میں ١٨٩٨ء میں چھپوا کر شائع کیا۔ لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس کتاب نے کہاں تک مرزائی نظریہ کا ساتھ دیا ہے۔ گو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کسی وقت ہندوستان میں آئے تھے۔ مگر اس امر کی سخت تردید کی ہے کہ آپ کشمیر میں مرے تھے یا آپ کا سفر واقعہ صلیب کے بعد ہوا تھا یا یہ کہ آپ کشمیر میں پورے ٨٧ برس مقیم رہے تھے۔ کیونکہ تعلیم وید کے چھ سال اور تعلیم سوتر کے چھ سال ملا کر بارہ سال ہوتے ہیں اور دو سال قطع مسافت کے ملا کر چودہ سال ہوتے ہیں تو اگر ان کو ٨٧ سال سے وضع کیا جائے تو ٧٣ سال رہ جاتے اور قادیانی نظریہ بالکل غلط ہو جاتا ہے۔

......٣٤...... روسی سیاح کے خیالات اور مرزائی تعلیم کے توہمات آپس میں سخت متعارض ہیں۔ اس لئے دونوں قابل استدلال نہیں ہیں۔ اس واسطے ان حالات کو یقینی سمجھنا

صفحہ ٥٦

ضروری ہوگا۔ جو اہل اسلام نے پیش کئے ہیں اور جن سے مرزائی تعلیم متنفر ہے اور تعجب ہے کہ قطع و برید کر کے اسلامی اور غیر اسلامی تحقیقات کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے اور ان کی تردید بھی کی جاتی ہے اور نئے اجتہاد کی بنیاد پر ایک نئی سڑک نکالی جاتی ہے جو قادیان سے نکل کر چھوٹے چھوٹے راستوں میں نیست و نابود ہو جاتی ہے۔ جس پر چلنے والا کسی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ اگر روسی سیاح کا کہنا مانا جائے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ اناجیل اربعہ بدھ اور وید کی تعلیم کا خلاصہ ہیں۔ حالانکہ ان کی تعلیم تورات سے حاصل کی گئی تھی اور یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے ہندوؤں کی شاگردی کر کے پیغمبری کا دعویٰ کر دیا تھا۔ حالانکہ پیغمبر کا علم خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور چودہ سال تک تعلیم پانا شان پیغمبری کے خلاف ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ بھی تعجب خیز امر ہے کہ چودہ سال کی عمر میں مسیح علیہ السلام شادی سے بھاگ کر سادھو بن گیا تھا اور عین جوانی کے عالم میں پھر ملک شام میں واپس آ گیا تھا تو کیا اس وقت شادی کے قابل نہیں رہا تھا؟ بہر حال یہ روسی انجیل اس قابل نہیں ہے کہ اسلامی تحقیق کے سامنے اس کو پیش کیا جائے اور نہ مرزائی تعلیم اس کو پیش کرنے کا حق رکھتی ہے۔

٣٥....... مرزائی تعلیم مانتی ہے کہ بدھ مذہب کے تابعداروں نے اپنے بانی مذہب کے مقبرے مختلف مقامات پر تیار کئے ہوئے ہیں اور یہ بھی مانتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فرضی قبریں بھی یروشلیم، جلیل اور مدینہ طیبہ وغیرہ مقامات میں موجود ہیں اور اس سے بھی انکار نہیں ہوسکتا کہ پنجاب و ہندوستان میں اور بزرگوں کی متعدد قبریں بھی موجود ہیں۔ مثلاً سخی سرور کی قبریں پنجاب میں کئی ایک مقامات میں پائی جاتی ہیں۔ خاکروبوں نے بالک ناتھ کی قبر جا بجا تیار کی ہوئی ہے تو ان حالات کو پیش نظر رکھ کر یوں کہا جاسکتا ہے کہ یوز آسف کی اصلی قبر بنارس یا شولاپت میں ہے۔ جہاں (بقول شخصے) سال بسال اس پر میلہ لگتا ہے اور اگر بنظر تعمق دیکھا جائے تو یہ بھی ثابت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ جس قبر کو یوز آسف کی قبر کہا جاتا ہے واقعی وہ اس کی ہی قبر ہے۔ کیونکہ کتاب اکمال الدین سے اگر چہ یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ یوز آسف کشمیر میں مرا تھا۔ مگر یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی قبر بھی خاص محلہ خانیار میں ہی بنائی گئی تھی۔ ممکن ہے کہ اس کی لاش یا اس کی ہڈیاں اس کے اپنے ملک سولا پت میں واپس پہنچ چکی ہوں اور قبر مصنوعی ہو۔ بہر حال جب یوز آسف کے متعلق ایسے خیالات ممکن ہیں باوجودیکہ اس قبر کو یوز آسف سے معنون کیا جاتا ہے تو جب اس کو بالفرض حضرت مسیح علیہ السلام سے معنون کیا جائے تو ضروری ہوگا کہ اس سے بڑھ کر کئی ہزار گنا خیالات پیدا ہو کر اس نظریہ کو باطل کر دیں کہ یہ قبر یوز آسف کی نہیں بلکہ حضرت مسیح کی ہے۔

صفحہ ٥٧

اسلام نے پیش کئے ہیں اور جن سے مرزائی تعلیم متنفر ہے اور تعجب ہے کہ قطع نظر غیر اسلامی تحقیقات کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے اور ان کی تردید بھی کی جاتی ہے بنیاد پر ایک نئی سڑک نکالی جاتی ہے جو قادیان سے نکل کر چھوٹے چھوٹے نابود ہو جاتی ہے۔ جس پر چلنے والا کسی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔ کیونکہ اسے مانا جائے تو یہ ماننا پڑتا ہے کہ اناجیل اربعہ بدھ اور وید کی تعلیم کا خلاصہ ہیں تورات سے حاصل کی گئی تھی اور یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح علیہ السلام نے کر کے پیغمبری کا دعویٰ کر دیا تھا۔ حالانکہ پیغمبر کا علم خدا کی طرف سے ہوتا ہے کیونکہ شان پیغمبری کے خلاف ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ بھی تعجب خیز امر ہے مسیح علیہ السلام شادی سے بھاگ کر سادھو بن گیا تھا اور عین جوانی کے عالم واپس آ گیا تھا تو کیا اس وقت شادی کے قابل نہیں رہا تھا؟ بہر حال یہ روش ہے کہ اسلامی تحقیق کے سامنے اس کو پیش کیا جائے اور نہ مرزائی تعلیم اس کو ہے۔

مرزائی تعلیم مانتی ہے کہ بدھ مذہب کے تابعداروں نے اپنے بانی مذہب حالات پر تیار کئے ہوئے ہیں اور یہ بھی مانتی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گلیل اور مدینہ طیبہ وغیرہ مقامات میں موجود ہیں اور اس سے بھی انکار نہیں ہندوستان میں اور بزرگوں کی متعدد قبریں بھی موجود ہیں۔ مثلاً سخی سرور کی قبریں مقامات میں پائی جاتی ہیں۔ خاکروبوں نے بالک ناتھ کی قبر جا بجا تیار کی ہوئی مد نظر رکھ کر یوں کہا جا سکتا ہے کہ یوز آسف کی اصلی قبر بنارس یا نیپال یا تبت میں جہاں سال بسال اس پر میلہ لگتا ہے اور اگر بنظر تعمق دیکھا جائے تو یہ بھی ثابت کہ جس قبر کو یوز آسف کی قبر کہا جاتا ہے واقعی وہ اس کی ہی قبر ہے۔ کیونکہ سے اگرچہ یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ یوز آسف کشمیر میں مرا تھا۔ مگر یہ ثابت نہیں اس محلہ خانیار میں ہی بنائی گئی تھی۔ ممکن ہے کہ اس کی لاش یا اس کی ہڈیاں تبت میں واپس پہنچ چکی ہوں اور قبر مصنوعی ہو۔ بہر حال جب یوز آسف ممکن ہیں با وجود یکہ اس قبر کو یوز آسف سے معنون کیا جاتا ہے تو جب اس کو السلام سے معنون کیا جائے تو ضروری ہوگا کہ اس سے بڑھ کر کئی ہزار گنا شبہ کو باطل کر دیں کہ یہ قبر یوز آسف کی نہیں بلکہ حضرت مسیح کی ہے۔

مسجد علی بھی موجود ہے۔ مگر تاریخ اس کی تکذیب کرتی ہے۔ کیونکہ جس خیبر کو حضرت علیؓ نے فتح کیا تھا وہ عرب میں ہے۔ پشاور کا درہ خیبر نہیں۔ اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ یہ علی اور شخص ہے۔ اسی طرح اگر قبر زیر بحث کو قبر عیسیٰ صرف اس لئے قرار دیا جائے کہ عوام الناس میں مشہور ہے تو درہ خیبر کی طرح ممکن ہوگا کہ کوئی اور عیسیٰ بزرگ یہاں پر مدفون ہوا ہو اور لوگوں نے بے پر کی اڑا کر اسے عیسیٰ ابن مریم سمجھ لیا ہو۔ اس لئے مرزائی تعلیم کے اس نظریہ کی بنیاد بہت ناپائیدار اصول پر رکھی گئی ہے جو کسی طرح بھی قابل توجہ نہیں ہو سکتی۔ مرزائی بھی اگر کھلے دل ہو کر غور کریں تو ضرور اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ ان کے بانی مذہب کی یہ تحقیق اجتہادی غلطی پر مبنی ہے اور جس طرح لاہوری جماعت نے اپنے مرشد کے خلاف متعدد جگہ اختلاف رائے قائم کر لیا ہے اور اپنے مرشد کی تحقیق کو اجتہادی غلطی تصور کیا ہے۔ اسی طرح ممکن ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس نظریہ کو بھی اجتہادی غلطی پر محمول کیا جائے۔

٤....... سوانح باب اور اقتباسات نقطۃ الکاف

بابی مذہب کے جو حالات مسٹر براؤن نے خود بابیوں سے حاصل کر کے کتابی صورت میں شائع کئے ہیں۔ فارسی زبان میں وہ حالات نقطۃ الکاف سے معنون ہیں۔ جن کو مختصر طور پر ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے تا کہ وہ خود اندازہ لگا سکیں کہ آیا مرزائی تعلیم کے اصول پختہ دلائل پر مبنی ہیں۔ یا بابی مذہب اپنی قوت استدلال میں اس پر فخر استاذیت کا حق رکھتا ہے؟ پیشتر اس کے کہ ہم اس کتاب سے اقتباسات لکھیں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بابی مذہب کے مذہبی اصول اور اصولی عقائد بھی نقطۃ الکاف کے ابتدائی مباحث میں درج ہیں۔ مگر ہمیں چونکہ صرف تاریخ سے غرض ہے۔ اس لئے ان کو یہاں پر نظر انداز کیا گیا ہے اور تاریخی حصہ کے بقیہ صفحات کو اردو میں پیش کیا گیا ہے۔ تا کہ ناظرین آسانی سے بہرہ اندوز ہو سکیں اور جب عقائد کی بحث میں ضرورت محسوس ہوگی تو انشاء اللہ تعالیٰ نقطۃ الکاف کا پہلا اصولی حصہ بھی پیش کیا جائے گا۔ ناظرین یہ بھی یاد رکھیں کہ رسالہ کوکب الہند دہلی اور کتاب قضیۃ الباب البہاء سے بھی جو باتیں حاصل ہوں گی ان کو بھی ساتھ ساتھ قلمبند کرنے میں کوشش کی جاوے گی۔ نقطۃ الکاف کا مضمون ص ٩٨ سے یوں شروع ہوتا ہے کہ:

ظہور ابواب اربعہ

حضور علیہ السلام کی ہجرت سے بارہویں امام محمد بن عسکری علیہ السلام کی پہلی روپوشی

صفحہ ٥٨

تک دو سو ساٹھ سال کا عرصہ ہوتا ہے اور یہ روپوشی (غیبت صغریٰ) ستر سال تک رہی۔ جس میں (ابواب اربعہ) چار نقیب حضرت امام غائب کی طرف سے تعلیم دیتے رہے۔ پھر یہ تبلیغ بالواسطہ بھی منقطع ہو گئی اور دوسری مکمل روپوشی (غیبت کبریٰ) شروع ہوئی۔ جو (عمر نوح) نو سو پچاس سال پر ختم ہو گی تو بار دوم :

باب اوّل

باب اوّل شیخ احمد احسائی کا ظہور ہوا۔ جس نے امام عسکری کی تعلیم جو جامع کبیر میں درج تھی لوگوں تک پہنچائی اور عرب سے نکل کر عجم میں ہر ایک مسجد اور مجلس میں اپنے پند و نصائح سے لوگوں کو مشرف کیا۔ مگر اپنی ساری تبلیغ میں صاف طور پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ میں باب ہوں (اور امام غائب کی خدمت میں حاضر ہو کر علوم حاصل کر کے لوگوں تک پہنچاتا ہوں) گو کبھی کبھی اشارۃً اپنے منصب کا اظہار بھی کر دیا تھا۔ مگر چونکہ رفتار زمانہ مخالف تھی۔ اس لئے آپ نے اخفاء ہی بہتر سمجھا۔ باب اوّل کی وفات کے بعد :

باب ثانی

باب ثانی حاجی سید کاظم رشتی ملقب بہ نور احمد کا ظہور ہوا کہ جس نے باب اوّل کی مختصر تعلیم کو مشرح اور مفصل کر کے بیان کیا اور قصیدہ سمیہ کی شرح لکھی اور حضرت موسیٰ بن جعفر کے مناقب شائع کئے تو آپ کی تعلیم ہندوستان تک پہنچ گئی۔ مگر عام لوگ مخالف ہو گئے۔ چنانچہ آپ کا ایک مرید اخوند ملا عبد الخالق یزدی جب مقامات مقدسہ اور (مشہد) میں داخل ہوا تو وہاں کے لوگوں نے اس کی خوردونوش بھی بند کر دی اور لعن و تشنیع سے توہین کی اور یہ توہین یہاں تک بڑھ گئی کہ علمائے مشہد نے فتویٰ دے دیا کہ چونکہ اخوند یہاں بازاروں میں پھرتا ہے۔ اس لئے تمام بازاری اشیاء خوردنی حرام ہیں۔ انہی ایام میں ایک شخص طہران سے اخوند کی شہرت سن کر ملاقات کو مشہد میں داخل ہوا تو بہت محظوظ ہوا اور جب واپس طہران کو جانے لگا تو راستہ میں اسے ایک آدمی ملا۔ جس نے اخوند کے حالات دریافت کئے تو اس نے کہا کہ وہ شخص بہت مقدس ہے اور کمال اخلاص سے آبدیدہ ہو کر کہا کہ جو کچھ مخالف خیال کرتے ہیں سب جھوٹ ہے اور اخوند میں کوئی نقص نہیں۔ مگر سامعین ایسے بگڑے کہ فوراً چیخ اٹھے کہ جاؤ تم نجس۔ تمہارے آنسو نجس اور تمہارے کپڑے نجس۔ علیٰ ہذا القیاس باب ثانی کو بہت ایذاء دی گئی۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ سر بسجود تھے تو کسی نے آپ کا عمامہ سر سے اتار لیا۔ ایک دفعہ کسی نے آپ کے منہ پر تھوک دیا تو آپ مسکرائے اور فرمایا کہ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی پیشین گوئی سچ نکلی کہ جب شیعہ آپس

صفحہ ٥٩

میں گتھم گتھا ہوں گے تو امام آخرالزمان کا ظہور ہوگا اور ستر آدمی خدا اور رسول پر بہتان باندھیں گے۔ جس سے وہ برسرپیکار ہوگا۔ ”کذافی البحار“ جب وفات قریب ہوئی اور امام آخر الزمان کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے کوئی تصریح نہ فرمائی۔ بلکہ اشارات استعمال کئے جو شرح قصیدہ اور رسالہ ”الحجۃ البالغۃ فی علامات النائب“ میں پائے جاتے تھے اور کچھ آپ کے اشعار میں بھی موجود تھے۔ جن میں سے ایک یہ شعر بھی ہے۔

يا صغير السن يا رطب البدن
يا قريب العهد من شرب اللبن

جس میں ایک فارسی النسل بچہ کی طرف اشارہ تھا۔ جناب سے امام کا نام پوچھا گیا تو آپ نے کمرہ کی طرف اشارہ کیا تو اس میں باب اعظم داخل ہوئے۔ مگر چونکہ اس وقت آپ مدعی امامت نہ تھے۔ اس لئے آپ کی شناخت نہ ہوسکی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اسی روپوشی کی حالت میں باب اعظم آپ کے وہاں آئے تو آپ متواضع ہوکر بیٹھ گئے اور جناب امام نے فرمایا کہ کیا جو کچھ ہم نے کہا تھا اس کی تبلیغ تم نے کردی ہے؟ اسی طرح کی باتیں ہوتی رہیں۔ (مصنف کتاب کہتا ہے کہ) میں اتفاقاً آپ کے پاس چلا گیا تو دونوں نے سلسلہ کلام ختم کردیا۔

باب ثالث اعظم

باب اوّل نے مسجد نبوی میں کسی سے (غالباً وہ محمد حسین بشروی تھا) کہا تھا کہ باب اعظم کا ظہور قریب ہے۔ تم اس سے ملو گے تو میرا اس سے سلام عرض کردینا۔ آپ نے کچھ علامات بھی بتائے۔ باب اوّل وفات پاگئے۔ باب ثانی کا زمانہ بھی گزر گیا اور وہ شخص مسجد کوفہ میں چالیس روز معتکف رہا تو امر حق اس پر منکشف ہوا تو شیراز میں آکر متلاشی ہوکر جب باب اعظم (ثالث) کے پاس آیا تو آپ نے اندرونی کشش سے اس کو اپنی طرف کھینچ کر اپنا تعارف کرالیا اور اس نے بھی علامت علم سے آپ کو معلوم کرلیا۔ کیونکہ اس نے حدیث الجاریۃ کی تشریح کے لئے جب درخواست کی تو آپ نے فوراً اس کی شرح لکھ دی اور اس وقت باب ثانی کا قول بھی پورا ہوگیا کہ باب اعظم حدیث جاریہ کی تشریح کرے گا۔ پھر اس معتکف نے اپنی قلبی کمزوری اور غشی کی شکایت کی اور کہا کہ مجھے سونے کا کشتہ درکار ہے تو آپ نے اپنے پیالہ سے اپنا پس خوردہ پانی ایک دو گھونٹ پلا دیا۔ جس سے اس کو شفائے کلی حاصل ہوگئی۔ تب وہ معتکف آپ کا مرید ہوگیا اور آپ کی طرف سے دور دراز ممالک میں مبلغ بن کر پہنچا۔ آپ کا قول ہے کہ میں چار زبانوں میں مبعوث ہوا ہوں۔ اوّل لسان الایات جس کا مقام قلب ہے۔ اسے سان

صفحہ ٦٠

اللہ بھی کہتے ہیں اور اس کو مقام لاھوت سے امداد ملتی ہے۔ یہی مقام قلم ہے اور اس کا حامل میکائیل ہے اور ذاکر المشیئۃ ہے۔ (گویا جو کچھ باب کا کلام ہوگا وہ خدا کا کلام ہوگا اور یوں سمجھا جائے گا کہ خدا تعالیٰ باب کی زبان سے بول رہا ہے) دوم لسان المناجاۃ ہے۔ اس میں شان عبودیت ظاہر ہوتی ہے اور وہی لسان نبوۃ بھی ہے۔ اس کا مقام عقل ہے اور اسے حروف سے امداد ملتی ہے۔ اس کا بادشاہ جبرائیل ہے۔ وجہ صفراء میں عقول کی خوراک ہے اور اس کا مقام لوح محفوظ ہے۔ (گویا باب اسی وقت بحیثیت نبی اور انسان ہونے کے خدا سے باتیں کرتا ہے) سوم لسان الخطب جو منسوب الی الولایۃ ہے۔ اس کا مقام نفس ہے۔ اس کو ملکوت سے امداد ملتی ہے۔ اس کا مقام کرسی ہے۔ بادشاہ اسرافیل ہے۔ جو حامل رزق حیات ہے اور اس کے سر پر زمرد کا تاج ہے۔ (گویا اس مقام پر باب ولی اللہ ہوگا اور لوگوں کو اپنے مواعظ ونصائح سے مستفیض کرے گا) چہارم لسان الزیارۃ وتفسیر القرآن والحدیث اور یہی رتبہ بابیت ہے۔ اس کا مقام جسم ہے اور عالم الملک والکثرت کا حصہ ہے۔ اس کا بادشاہ عزرائیل ہے۔ جس کا تخت یاقوت سرخ ہے۔ (گویا اس وقت باب امام غائب سے احکام حاصل کرتا ہے اور مبلغ بن کر امام غائب کی حکومت قائم کرتا ہے اور خود صرف مبشر ہے) جناب کا یہ دعویٰ تھا کہ میں ان چاروں زبان پر متصرف ہوں اور مجھ میں یہ بھی کمال ہے کہ چھ گھنٹے میں بے ساختہ ایک ہزار شعر کہہ سکتا ہوں۔ اس دعویٰ کی تصدیق یوں ہوئی کہ کوئی رادع (اور مد مقابل) پیدا نہ ہوا۔ جو یہ دعویٰ کرتا کہ میں بھی چھ گھنٹے میں ایک ہزار شعر بول سکتا ہوں۔ اگر کچھ لوگ منکر ہو گئے تھے کہ ایسا نہیں ہوسکتا اور کچھ لوگ محو حیرت تھے جو نہ منکر تھے اور نہ مصدق۔

باب اعظم کے ابتدائی حالات

اٹھارہ سال کی عمر میں آپ نے شیراز سے ابوشہر تک تیل کی تجارت شروع کی جو صرف پانچ سال تک جاری رہی۔ ایک دفعہ اپنے ایک دوست سے سلسلہ کلام دراز کرتے ہوئے اس قدر تساہل کیا کہ جس نرخ پر اپنے دوست سے نیل کی فروخت تکمیل پا چکی تھی۔ اس سے ستر تومان (روپیہ) نرخ کم ہوگیا۔ مگر آپ کی کمال شرافت تھی کہ اس سستے نرخ پر اسے دے دیا اور اپنے آپ کو گاہک پر ترجیح نہیں دی۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے چلہ کشی یا مجاہدہ کیا یا کسی شیخ وقت کے ہاتھ پر بیعت کی یہ سب جھوٹ اور افتراء ہے۔ تجارت کے چھٹے سال آپ نے تجارت چھوڑ دی۔ (جس کا اشارہ لفظ بہاء میں مضمر تھا۔ یعنی باء ھاء۔ چھ حرف) اور نجف اشرف کو تشریف لے گئے اور وہاں ایک سال ٹھہرے تاکہ اپنے باپ کی تربت کی زیارت سے مشرف ہوں۔ لوگ کہتے ہیں

صفحہ ٦١

مقام لاہوت سے امداد ملتی ہے۔ یہی مقام قلم ہے اور اس کا حامل ہے۔ (گویا جو کچھ باب کا کلام ہوگا وہ خدا کا کلام ہوگا اور یوں سمجھا کی زبان سے بول رہا ہے) دوم لسان المناجاۃ ہے۔ اس میں شان وہی لسان نبوۃ بھی ہے۔ اس کا مقام عقل ہے اور اسے حروف سے جبرائیل ہے۔ جبہ صفراء میں عقول کی خوراک ہے اور اس کا مقام لوح وقت بحیثیت نبی اور انسان ہونے کے خدا سے باتیں کرتا ہے) سوم الولایۃ ہے۔ اس کا مقام نفس ہے۔ اس کو ملکوت سے امداد ملتی ہے۔ شاہ اسرائیل ہے۔ جو حامل رزق حیات ہے اور اس کے سر پر زمرد کا پر باب ولی اللہ ہوگا اور لوگوں کو اپنے مواعظ ونصائح سے مستفیض یارۃ وتفسیر القرآن والحدیث اور یہی رتبہ بابیت ہے۔ اس کا مقام جسم ت کا حصہ ہے۔ اس کا بادشاہ عزرائیل ہے۔ جس کا تخت یاقوت سرخ یہ امام غائب سے احکام حاصل کرتا ہے اور مبلغ بن کر امام غائب کی و صرف مبشر ہے) جناب کا یہ دعویٰ تھا کہ میں ان چاروں زبان پر یہ بھی کمال ہے کہ چھ گھنٹے میں بے ساختہ ایک ہزار شعر کہہ سکتا ہوں۔ ہوئی کہ کوئی رادع (اور مد مقابل) پیدا نہ ہوا۔ جو یہ دعویٰ کرتا کہ میں شعر بول سکتا ہوں۔ اگر کچھ لوگ منکر ہو گئے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور منکر تھے اور نہ مصدق۔

حالات

عمر میں آپ نے شیراز سے ابوشہر تک تیل کی تجارت شروع کی جو صرف ایک دفعہ اپنے ایک دوست سے سلسلہ کلام دراز کرتے ہوئے اس قدر اپنے دوست سے تیل کی فروخت تکمیل پا چکی تھی۔ اس سے ستر تومان ر آپ کی کمال شرافت تھی کہ اب سستے نرخ پر اسے دے دیا اور اپنے ری۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے چلہ کشی یا مجاہدہ کیا یا کسی شیخ وقت کے وث اور افتراء ہے۔ تجارت کے چھٹے سال آپ نے تجارت چھوڑ دی۔ مضمر تھا۔ یعنی ہاء حاء۔ چھ حرف) اور نجف اشرف کو تشریف لے گئے تا کہ اپنے باب کی تربیت کی زیارت سے مشرف ہوں۔ لوگ کہتے ہیں

کہ سید مرحوم سے آپ کو تلمذ کا فخر حاصل تھا۔ مگر یہ غلط ہے۔ ہاں اتنی بات ضرور قابل تسلیم ہے کہ آپ سید مرحوم کی مجالس وعظ میں حاضر ضرور ہوا کرتے تھے۔ لیکن تلمذ کا ثبوت نہیں ملتا۔ سال کے بعد ارض فاء (غالباً شیراز) میں واپس آگئے اور اپنے آپ کو کس مپرسی کے عالم میں پوشیدہ رکھا۔ مگر جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ محمد حسین بشروی نے آپ سے تعارف حاصل کر لیا تھا۔ ایام رضاعت میں آپ نے یہ آیت پڑھی تھی ۔ ’لمن الملک الیوم‘ اور ایک دفعہ اپنے باپ سے یوں خطاب کیا تھا کہ : ”اذا زلزلت الارض زلزالھا“ تو یہ حالات ایسے ہی پیدا ہوئے جیسا کہ آپ نے اشارہ کیا تھا۔

باب کی تبلیغی جدوجہد

آپ نے شاہان اسلام کو تبلیغی خطوط روانہ کئے اور مکہ شریف جا کر اپنے دعویٰ کا اعلان کر دیا۔ اس سے پیشتر گو یہ اعلان ہو چکا تھا کہ آپ شہر کوفہ کے مضافات میں اظہار دعویٰ کریں گے۔ مگر چونکہ وہاں لوگ کافی تعداد میں جمع نہ ہو سکتے تھے۔ اس لئے یہ اظہار مکہ شریف کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔ حاجی محمد رضا بن حاجی رحیم مخمل فروش کا بیان ہے کہ میں نے آپ کو بیت اللہ کے ارد گرد طواف کرتے دیکھا کہ آپ کمال خضوع و خشوع سے طواف کر رہے ہیں تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ امام وقت ہیں یا اس کے نقیب اور مبشر ہیں۔ پھر بار بار مجھے خواب میں اپنی زیارت سے مشرف کرتے رہے۔ آخر جب مدینہ شریف میں آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ کی تصدیق کرنے پر مجبور ہو گیا۔ یہ حاجی صاحب بارہ برس آپ کی صحبت میں رہے اور ١٢٧٤ء میں آپ کا انتقال ہوا۔

باب کی گرفتاری

آپ مکہ سے ارض فاء (شیراز) کو بحری راستہ سے واپس آئے تو سلطان وقت نے آپ کو نظر بند کر لیا۔ اسی حالت میں جب گھر پہنچے تو آپ کے پاس لوگوں کا آنا جانا بند کر دیا اور خط و کتابت بھی ممنوع قرار دی گئی۔ مگر آپ بدستور مخفی طور پر اپنے مریدوں کی طرف اپنی تحریرات ارسال کرتے رہے۔ کچھ دنوں کے بعد دشمن دیوار پھاند کر اندر آگئے اور آپ کا اور آپ کے ماموں کا تمام مال ومتاع لوٹ کر واپس چلے گئے۔ اس سے پیشتر آپ کے مریدوں کی تشہیر و تعزیر بھی ہو چکی تھی اور ان کو جلا وطن بھی کر دیا تھا۔ جن میں سے بعض کے یہ نام ہیں۔ حاجی حبیب، ملا صادق خراسانی، ملا علی اکبر کردستانی۔ پھر آپ کو داروغہ کے محل میں نظر بند کر دیا گیا تو وہاں وباء پڑ گئی اور حدیث کا مضمون صادق ہوا کہ امام کے عہد میں طاعون ابیض (وباء) اور طاعون احمر

صفحہ ٦٢

(کشت و خون) پڑے گی اور داروغہ کا لڑکا بیمار ہو کر قریب المرگ ہو گیا۔ باب نے دعاء کی تو فوراً تندرست ہو گیا اور داروغہ نے بابی مذہب اختیار کر لیا۔

باب کی ہجرت

آپ نے محمد حسین کردستانی کی وساطت سے تین گھوڑے منگائے اور شیراز سے اصفہان کو ہجرت کی۔ محمد حسین کا بیان ہے کہ آپ نے مجھے پچپن تومان (ایرانی روپے) دیئے اور فرمایا کہ ان سے فلاں فلاں علامت کے تین گھوڑے خرید کر لاؤ تو میں اسی قیمت پر انہی علامات کے گھوڑے خرید کر حاضر خدمت ہوا اور ان کے سوا دوسری قسم کے گھوڑے مجھے دستیاب نہ ہو سکے۔ میں نے ان کو آپ کی خدمت میں مقام حافظیہ پر پیش خدمت کیا تو ایک پر آپ سوار ہوئے۔ دوسرے پر سید کاظم زنجانی اور تیسرے پر میں۔ آپ کا گھوڑا بہت چست و چالاک معلوم ہوتا تھا۔ اگرچہ اسے خوراک کافی نہیں ملتی تھی۔ ہم نے دوسرا گھوڑا تبدیل کر دیا تو وہ بھی آپ کی برکت سے چست چالاک ہو گیا اور جب ہم ذردگاہ کے مقام پر پہنچے تو آپ نے عصر کی نماز بہت لمبی کر دی۔ جب ہم نے سلام پھیرا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہم اس خوفناک مقام سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ پھر آپ نے مجھے پوچھا کہ تمہارا طپنچہ (پستول) کہاں ہے تو میں نے عرض کیا میں بھول گیا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ نہیں وہ تو تمہاری پاکٹ میں موجود ہے میں نے دیکھا تو وہیں تھا۔ ایک دفعہ ہم سیاہ رات میں جا رہے تھے تو ہم آپ سے بچھڑ گئے اور سخت تشویش ہوئی کہ یا تو راستہ سے میں بھٹک گیا ہوں یا کاظم یا جناب؟ تو آپ نے دور سے ہمیں آواز دی ہم آ پہنچے اور اس وقت آپ جلال میں تھے تو کاظم کو غش ہو گئی۔ آپ نے چائے پلائی تو ہوش سنبھالا اور جب اصفہان پہنچے تو وہ مر گیا اور آپ نے اس کا جنازہ پڑھا۔ یہی محمد حسین جب قلعہ تبریز پہنچا تو اسے گرفتار کر لیا گیا اور ہر چند پوچھا گیا مگر اس نے راز داری کی باتیں نہ بتائیں۔ اس لئے اس کی دائیں آنکھ پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

قیام اصفہان

جب آپ اصفہان پہنچے تو معتمدالدولہ منوچہر خاں سے درخواست کی کہ آپ کو چند یوم اصفہان میں قیام کی اجازت بخشے تو اس کی اجازت سے چالیس یوم تک وہاں قیام کیا۔ چنانچہ آپ امام جمعہ کے گھر ٹھہرے۔ امام جمعہ آپ کا معتقد ہو گیا اور آپ کو خود وضو کرایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے عرض کیا کہ جناب آپ کی صداقت کا نشان کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ چھ گھنٹے میں ایک ہزار شعر فی البدیہہ کہہ سکتا ہوں۔ پھر امام جمعہ نے آپ سے درخواست کی کہ جس طرح آپ نے سید

یحییٰ دارابی کو سورہ کوثر کی تفسیر لکھ کر عنایت فرمائیں تو آپ نے فوراً لکھ دی اور نے اثبات نبوت میں ایک رسالہ ا میں ملاقات کو آئے تو اس وقت محمد مہد تھے تو دونوں نے باب سے سوالات دیکھا کہ لوگ جوق در جوق آ رہے ہیں تو معتمد نے کہا کہ تم لوگ اس کی تردید کی دعوت دی۔ مگر مقابلہ پر کوئی نہ آیا۔ کہ وہ باب سے حسن عقیدت رکھتے پر حملہ کر دیا۔ مگر معتمد نے آپ کو ا اعلان جنگ کرے گا تو میں دو قسم کے اگر صلح و صفائی سے آپ کو بلائے تو امید ہے کہ بادشاہ آپ کا معتقد ہو خوب تبلیغ کر سکینگے۔ مگر آپ نے اس دن حقہ پی رہا تھا۔ اتفاقاً ایک چنگاری ڈال دی اور سر پوش لگا دیا۔ معتمد نے کسی پتی کی تاثیر ہے تو آس پاس سے ہٹا تو اس نے اپنا تمام مال باب کے نا دیکھی تو حسد سے مر ہی گیا اور جب نے ایک پانی نہ دی اور دو آدمیوں کو جن میں سے ایک سید یحییٰ یزدی بھی باب کی تصدیق کیسے کی تھی۔ فرمایا کہ خدمت ہو کر باب سے چند سوالات سے میرے قلب پر صدمہ ہوا۔ مگر احم مبذول فرمائیں گے تو واقعی آپ دل میں تین سوال سوچ رکھے تھے۔

صفحہ ٦٣

اور داروغہ کا لڑکا بیمار ہو کر قریب المرگ ہو گیا۔ باب نے دعاء کی تو فوراً نے بابی مذہب اختیار کر لیا۔

حسین کردستانی کی وساطت سے تین گھوڑے منگائے اور شیراز سے حسین کا بیان ہے کہ آپ نے مجھے پچپن تومان (ایرانی روپے) دیئے فلاں علامت کے تین گھوڑے خرید کر لاؤ تو میں اسی قیمت پر انہی حاضر خدمت ہوا اور ان کے سوا دوسری قسم کے گھوڑے مجھے دستیاب آپ کی خدمت میں مقام حافظیہ پر پیش خدمت کیا تو ایک پر آپ سید کاظم زنجانی اور تیسرے پر میں۔ آپ کا گھوڑا بہت چست کہ چارہ خوراک کافی نہیں ملتی تھی۔ ہم نے دوسرا گھوڑا تبدیل کر دیا سے چست چالاک ہو گیا اور جب ہم ذروگاہ کے مقام پر پہنچے تو آپ کر دی۔ جب ہم نے سلام پھیرا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ہم اس خوفناک گئے ہیں۔ پھر آپ نے مجھے پوچھا کہ تمہارا طمنچہ (پستول) کہاں ہے بھول گیا ہوں تو آپ نے فرمایا کہ نہیں وہ تو تمہاری پاکٹ میں موجود تھا۔ ایک دفعہ ہم سیاہ رات میں جا رہے تھے تو ہم آپ سے بچھڑ گئے تو راستہ سے میں بھٹک گیا ہوں یا کاظم یا جناب؟ تو آپ نے دور پہنچے اور اس وقت آپ جلال میں تھے تو کاظم کو غش ہو گئی۔ آپ نے اور جب اصفہان پہنچے تو وہ مر گیا اور آپ نے اس کا جنازہ پڑھا۔ پہنچا تو اسے گرفتار کر لیا گیا اور ہر چند پوچھا گیا مگر اس نے راز داری لئے اس کی دائیں آنکھ پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ہان پہنچے تو معتمد الدولہ منوچہر خان سے درخواست کی کہ آپ کو چند یوم بخشے تو اس کی اجازت سے چالیس یوم تک وہاں قیام کیا۔ چنانچہ آپ م جمعہ آپ کا معتقد ہو گیا اور آپ کو خود وضو کرایا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس کی صداقت کا نشان کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ چھ گھنٹے میں ایک ہزار ۔ پھر امام جمعہ نے آپ سے درخواست کی کہ جس طرح آپ نے سید

یحییٰ دارابی کو سورہ کوثر کی تفسیر لکھ کر عنایت فرمائی تھی۔ اسی طرح مجھے بھی سورہ عصر کی تفسیر لکھ کر عنایت فرمائیں تو آپ نے فوراً لکھ دی اور چونکہ معتمد الدولہ بھی آپ کا معتقد ہو چکا تھا۔ اس لئے آپ نے اثبات نبوت میں ایک رسالہ اسے لکھ کر دیا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ باب معتمد الدولہ کے مکان میں ملاقات کو آئے تو اس وقت محمد مہدی بن حاجی کلباسی اور ملا حسن ابن ملا علی نوری پہلے ہی موجود تھے تو دونوں نے باب سے سوالات کئے جن کا جواب باب نے باصواب دیا۔ مگر بعد میں جب دیکھا کہ لوگ جوق در جوق آ رہے ہیں تو حاسد بن گئے اور امام جمعہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے تو معتمد نے کہا کہ تم لوگ اس کی تردید کریں۔ مگر وہ نہ کر سکے پھر باب نے اس دن کے بعد مباہلہ کی دعوت دی۔ مگر مقابلہ پر کوئی نہ آیا۔ مرزا اقاسی کے پاس امام جمعہ اور تمام لوگوں کی شکایت کی گئی کہ وہ باب سے حسن عقیدت رکھتے ہیں۔ اس لئے امام جمعہ کو خوف پیدا ہو گیا اور لوگوں نے باب پر حملہ کر دیا۔ مگر معتمد نے آپ کو اپنے گھر میں پوشیدہ رکھ لیا اور عرض کی کہ اگر بادشاہ آپ سے اعلان جنگ کرے گا تو میں دو قسم کے لوگ (بختیاری اور شاہسون) جمع کر کے بالمقابل کر دوں گا۔ اگر صلح و صفائی سے آپ کو بلائے تو میں آپ کے ہمراہ طہران جاؤں گا اور حق بات کہہ دوں گا۔ امید ہے کہ بادشاہ آپ کا معتقد ہو جائے اور اپنی لڑکی کا نکاح بھی آپ سے کر دے گا تو آپ خوب تبلیغ کر سکیں گے۔ مگر آپ نے اسے منظور نہ کیا اور معتمد الدولہ آپ کا یوں معتقد ہوا کہ وہ ایک دن حقہ پی رہا تھا۔ اتفاقاً ایک چنگاری اڑ کر زمین پر آ گری تو آپ نے پتوں میں لپیٹ کر ٹوپی میں ڈال دی اور سرپوش لگا دیا۔ معتمد نے دیکھا تو وہ ٹوپی سونے کی بن چکی تھی۔ اسے خیال ہوا کہ شاید کسی پتی کی تاثیر ہے تو آس پاس سے تمام پتے جلا کر عمل کرنا شروع کر دیا۔ مگر ایک دفعہ بھی سونا نہ بنا تو اس نے اپنا تمام مال باب کے نام نذر کر دیا۔ مگر دل سے تصدیق نہیں کی اور جب آپ کی ترقی دیکھی تو حسد سے جل گیا اور جب باب کو اس کی خبر موت پہنچی تو اقاسی سے مال طلب کیا۔ مگر اس نے ایک پائی نہ دی اور دو آدمیوں کو باب نے پہلے ہی ٩ دن اس کے مرنے کی خبر دے دی تھی۔ جن میں سے ایک سید یحییٰ یزدی بھی ہے۔ میں نے (مؤلف) پوچھا تھا کہ جناب نے حضرت باب کی تصدیق کیسے کی تھی۔ فرمایا کہ جب میں نے آپ کا دعویٰ سنا تو شیراز کو کوچ کیا اور حاضر خدمت ہو کر باب سے چند سوالات کئے۔ جن کا جواب اطمینان بخش آپ نے مجھے نہ دیا۔ جس سے میرے قلب پر صدمہ ہوا۔ مگر احباب نے کہا کہ ضرور حضرت باب آپ کی طرف کسی وقت توجہ مبذول فرمائیں گے تو واقعی آپ نے مجھے خلوت میں بلا بھیجا۔ جب میں پیش ہوا تو میں نے اپنے دل میں تین سوال سوچ رکھے تھے۔ جن میں سے دو میں نے پیش کئے اور آپ نے ان کا فوری

صفحہ ٦٤

جواب دے دیا۔ تیسرا سوال میں نے ابھی تک مخفی رکھا تھا۔ لیکن آپ نے جوابی پرچہ کے دوسرے صفحہ پر وہ سوال بھی معہ جواب کے مفصل تحریر فرما دیا۔ جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ واقعی آپ باب الوصول الی اللہ ہیں۔ میں نے پھر پوچھا کہ آپ کے والد صاحب حضرت باب کے متعلق کیا خیال رکھتے ہیں تو آپ نے کہا کہ ابھی تک خاموش ہیں۔ مگر جب مجھے یقین ہو جائے گا کہ وہ باب کی تصدیق نہیں کرتے تو میں ان کو قتل کردوں گا۔

سفر طہران

معتمد کی وفات کے بعد گرگین خان نائب السلطنت مقرر ہوا تو اس نے حضرت باب کو بلوا کر کہا کہ آپ طہران یا کاشان تشریف لے جائیں۔ کیونکہ آقاسی آپ کا مخالف ہے۔ جب وہ مجھے حکم دے گا کہ میں آپ کو اس کے سپرد کردوں تو میں انکار نہ کر سکوں گا۔ کیونکہ معتمد مرحوم کی طرح میں طاقتور نہیں ہوں۔ باب نے عذر کیا کہ میرے پاس سفر خرچ نہیں کیسے جا سکتا ہوں تو گرگین خان نے اپنی طرف سے سفر خرچ اور سواری کا انتظام کر دیا اور باب فوراً روانہ ہوگئے۔ مگر آپ کو بہت ہی ملال تھا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ تمام منافقانہ کارروائی ہے اور گرگین خان چاہتا تھا کہ شاہی دربار میں اقتدار حاصل کرے۔ مگر اس کی قسمت میں نہیں ہے اور اس عجلت سے آپ نے تیاری کی کہ آپ نے جو وہاں پر ایک پاجامہ اور جوتہ (ساغری، عبائی) بھی تیار کرایا تھا۔ وہ بھی وہیں رہنے دیا اور راستہ میں خوردونوش بھی ترک کر دیا۔ آخر جب کاشان کے قریب پہنچے اور وہاں پر کھانا نہ کھایا اور اس وقت آپ کے ہمراہی چھ آدمی تھے تو ان کو خیال پیدا ہوا کہ بھوک سے کہیں آپ تلف نہ ہو جائیں۔ اس لئے انہوں نے آپ کے دو طہرانی مبلغین کو آمادہ کیا کہ آپ کو کھانا کھلائیں۔ یہ دو مبلغ آپ کے حکم سے پہلے ہی دو روز طہران کو روانہ ہو چکے تھے اور ان کا یہ کام تھا کہ طہران میں تبلیغ کریں۔ مگر حضرت باب ان کو راستہ میں ہی جا ملے تھے۔ بہرحال رفقائے سفر نے شیخ علی خراسانی سے کہا کہ حضرت باب خالی پیٹ سفر کر رہے ہیں تو اس نے کھانا تیار کرایا۔ جس میں سے آپ نے قدر قلیل کھا کر باقی واپس کر دیا اور جلدی روانہ ہو کر کاشان پہنچ گئے۔ پھر وہاں سے موضع خانلق تشریف لے گئے تو طہران میں خبر پہنچ گئی کہ آپ آرہے ہیں اور سلطان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور معلوم ہوا کہ خود سلطان بھی زیارت کے خواستگار ہیں۔ مگر گرگین خان وزیر اعظم نے درمیان میں ایک رکاوٹ پیدا کر دی اور آپ کو بارہ سپاہیوں کے ہمراہ ماکو بھیج دیا گیا۔ (غالباً وزیر اعظم نے یہ عذر پیش کیا تھا کہ اس وقت حضرت سلطان خود سفر کو جا رہے ہیں۔ اگر آپ سے ملاقات کریں تو سلطان کو اپنا ارادہ ملتوی کرنا پڑے گا۔ اس لئے جب آپ واپس

صفحہ ٦٥

ں نے ابھی تک مخفی رکھا تھا۔ لیکن آپ نے جوابی پرچہ کے دوسرے سے مفصل تحریر فرما دیا۔ جس سے مجھے یقین ہو گیا کہ واقعی آپ باب ، پھر پوچھا کہ آپ کے والد صاحب حضرت باب کے متعلق کیا خیال بھی تک خاموش ہیں۔ مگر جب مجھے یقین ہو جائے گا کہ وہ باب کی تو قتل کر دوں گا۔

کے بعد گرگین خان نائب السلطنت مقرر ہوا تو اس نے حضرت باب کو شان تشریف لے جائیں۔ کیونکہ اقاسی آپ کا مخالف ہے۔ جب وہ اس کے سپرد کر دوں تو میں انکار نہ کر سکوں گا۔ کیونکہ معتمد مرحوم کی ۔ باب نے عذر کیا کہ میرے پاس سفر خرچ نہیں کیسے جاسکتا ہوں تو سے سفر خرچ اور سواری کا انتظام کر دیا اور باب فوراً روانہ ہو گئے۔ مگر نکہ وہ جانتے تھے کہ یہ تمام منافقانہ کارروائی ہے اور گرگین خان چاہتا کر حاصل کرے۔ مگر اس کی قسمت میں نہیں ہے اور اس عجلت سے آپ وہاں پر ایک پاجامہ اور جوتہ (ساغری، عنابی) بھی تیار کرایا تھا۔ وہ بھی خوردونوش بھی ترک کر دیا۔ آخر جب کاشان کے قریب پہنچے اور وہاں پ کے ہمراہی چھ آدمی تھے تو ان کو خیال پیدا ہوا کہ بھوک سے کہیں س لئے انہوں نے آپ کے دوطہرانی مبلغین کو آمادہ کیا کہ آپ کو کھانا کے حکم سے پہلے ہی دو روز طہران کو روانہ ہو چکے تھے اور ان کا یہ کام تھا کہ حضرت باب ان کو راستہ میں ہی جاملے تھے۔ بہرحال رفقائے سفر نے حضرت باب خالی پیٹ سفر کر رہے ہیں تو اس نے کھانا تیار کرایا۔ جسے کھا کر باقی واپس کر دیا اور جلدی روانہ ہو کر کاشان پہنچ گئے۔ پھر وہاں لے گئے تو طہران میں خبر پہنچ گئی کہ آپ آ رہے ہیں اور سلطان سے معلوم ہوا کہ خود سلطان بھی زیارت کے خواستگار ہیں۔ مگر گرگین خان ایک رکاوٹ پیدا کر دی اور آپ کو بارہ سپاہیوں کے ہمراہ ماکو بھیج دیا یہ عذر پیش کیا تھا کہ اس وقت حضرت سلطان خود سفر کو جا رہے ہیں۔ اگر تو سلطان کو اپنا ارادہ ملتوی کرنا پڑے گا۔ اس لئے جب آپ واپس

آئیں گے تو آپ کو بلوایا جائے گا اور سلطان کی خدمت میں یہ عذر پیش کیا کہ حضرت باب جب آپ کے دربار میں حاضر ہوں گے تو لوگ جوق در جوق جمع ہو جائیں گے اور خواہ مخواہ بابی تحریک از سر نو شروع ہو جائے گی۔ جس سے رعایا میں طرح طرح کے فسادات پیدا ہو جائیں گے )

سفر زنجان اور ظہور خوارق

محمد بیگ جو بارہ سپاہیوں پر افسر تھا۔ باب کا مرید ہو گیا۔ کیونکہ اس نے اثنائے سفر میں ایک روز صبح حوالات کا معائنہ کیا۔ (کیونکہ باب زیر حراست تھے ) تو دروازہ کھلا تھا اور باب ایک نہر کے کنارے وضو کر رہے تھے۔ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے قفل پر ہاتھ رکھا تو فوراً کھل گیا تھا۔ اس لئے میں باہر چلا آیا۔ چند سپاہیوں کا ارادہ ہوا کہ باب پر سختی کریں تو ان سب کو وجع الفواد و معدہ کی درد اٹھی۔ آخر سب نے معافی مانگی تو آپ کی دعا سے فوراً شفا یاب ہو گئے۔ حاکم زنجان نے محمد بیگ کی معرفت ایک درخواست بھیجی کہ وہ باب کو دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر اس وقت مشاغل سفر سے محمد بیگ چونکہ بالکل چور ہو چکا تھا۔ اس لئے اسے وہ درخواست باب کی خدمت میں پیش کرنے کی فرصت نہ مل سکی اور اسے فراموش ہوگئی۔ جب آپ زنجان پہنچے (جو ارض رضوان کہلاتا تھا کیونکہ اس میں آپ کا مبلغ اخوند ملا محمد علی رہتا تھا۔ جس نے اپنی قوت تبلیغ سے لوگوں پر اچھا اثر ڈال رکھا تھا) تو خاص دارالخلافہ میں چوہدری محمود خان کے گھر اترے اور حضرت باب نے محمد بیگ کو یا فلان کہہ کر پکارا۔ مگر اسے جرات نہ ہوئی کہ انکار کرے۔ گو پہلے بہت مغرور تھا اور اس قدر مخالف تھا کہ سلطان کے دربار میں چند مسائل فقہ پر شیخ الاسلام باقر رشتی نامی سے مباحثہ کرنا چاہتا تھا۔ مگر سلطان نے اس کو روک دیا تھا۔ کیونکہ یہ صرف اخباری تھا اور علم فقہ میں مہارت نہ رکھتا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی خطرہ تھا کہ بابی تحریک زور پکڑ جانے سے فساد نہ ہو جائے۔ آخر جب اس نے قرآن الباب کا ایک صفحہ پڑھا تو فوراً اس کے قلب پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ اسے انکار کی کوئی وجہ نظر نہ آئی تو داخل بیعت ہو گیا۔ اس کا بیان ہے کہ جب ہم زنجان پہنچے تو میں نے حضرت باب کی امداد میں سر توڑ کوشش کی اور آپ کے اعزاز میں حکم دے دیا کہ زنجان میں کوئی شخص حقہ نوشی نہ کرے۔ مگر میری شکایت ہو گئی تو سلطان نے مجھے واپس طہران طلب کیا۔ اب میں باب سے خواستگار ہوا کہ کیا میں سلطان سے مقابلہ کروں یا سر تسلیم خم کر کے وہاں جا کر قید ہو جاؤں تو آپ نے حکم دیا کہ تمہارے لئے قید ہو جانا دو جہاں کی عبادت سے بہتر ہے۔ پھر وہاں کے مزید حالات بیان کرتا ہے کہ جب ہم زنجان پہنچے تھے تو ظہر اور عصر کے درمیان کا وقت تھا۔ لوگ سنتے ہی تو پیادہ سرکاری کے ہمراہ حکم نامہ ہمارے نام آ پہنچا کہ مغرب سے پہلے ہی شہر سے نکل جاؤ۔ ہم

صفحہ ٦٦

نے بہتیرا عذر کیا کہ معاف کیجئے۔ ہم تھکے ماندے ہیں۔ مگر حاکم نے ایک نہ سنی تو باب ناراض ہو کر کہنے لگے کہ دیکھو یہ حاکم کس جوش سے ہماری زیارت کا خواہاں تھا۔ اب کس طرح اس نے اپنی رائے تبدیل کر دی ہے۔ (گویا یہ اشارہ اس رقعہ کی طرف تھا جو اثنائے سفر میں حاکم خراسان کی طرف سے ہمیں ملا تھا کہ میں حضرت باب کی زیارت کرنا چاہتا ہوں اور وہ خط پیش کرنا بھول گیا تھا) اے میرے خدا دیکھ! آلِ رسول ﷺ سے یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ اس وقت آپ کا قیام ایک پتھر کی بنی ہوئی سرائے میں تھا۔ آپ نے وہاں سے دو فرسخ (چھ میل) کے فاصلہ پر ایک دوسری سرائے میں اترنے کا فیصلہ کیا جو پکی اینٹوں کی بنی ہوئی تھی۔ جب ہم میلان پہنچے تو راستہ میں ہی زائرین کا ہجوم ہو گیا۔ مگر باب بالاخانہ میں جا کر عزلت نشین ہو گئے اور کسی سے ملاقات نہیں کرتے تھے۔ دوسرا دن ہوا تو ایک بڑھیا عورت ایک کوڑھے بچہ کو لے کر حاضر ہوئی۔ جس کے تعفن سے لوگ بہت تنگ آچکے تھے اور وہ بہرا بھی ہو چکا تھا۔ آپ کو دیکھ کر بہت ہی رحم آیا تو چند کلمات پڑھ کر دم کیا تو اسے چند دن بعد آرام ہو گیا۔ یہ کرامت دیکھ کر دو سو سے زائد داخل بیعت ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ: ”میلان قطعة من الجنۃ“ یہ بستی جنت کا ایک ٹکڑا ہے۔ جب وہاں سے کوچ کر کے شہر تبریز کے قریب ایک منزل پر ہم نے قیام کیا تو ہم رفقائے سفر کو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ بکری کے کباب کھائیں۔ تو کسی نے اسی وقت بکری کا ایک بچہ بطور نذرانہ پیش کیا۔ جس کے کباب بنا کر ہم نے خوب کھا کے پھر ایک دفعہ رفقائے سفر اور شاہی سپاہیوں نے آپ سے نقدی طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ مگر وہ عاجز ہو کر بہت ہی پیچھے پڑ گئے۔ تو آپ جلال میں آگئے اور اپنا (رومال) توشہ دان جنگل میں ان کے سامنے پھینک دیا۔ جس کو ہم نے جھاڑا تو اندر سے مجھے پورے طور پر یاد نہیں دس تومان نکلے تھے یا تیس تومان (طہرانی روپے) دستیاب ہوئے تھے۔ ایک دفعہ آپ گھوڑا دوڑا کر اثنائے سفر میں ہم سے دور نکل گئے اور ہمیں حیرت ہوئی کہ سلطان کو ہم کیا جواب دیں گے؟ کہ باب ہم بارہ سپاہیوں سے بچ کر نکل گئے۔ مگر ہم تھوڑی ہی دور گئے تھے تو ہمیں آپ کھڑے ہوئے نظر پڑے اور مسکرا کر کہنے لگے کہ اگر میں چاہتا تو تم سے بھاگ سکتا تھا۔ بہر حال یہ حالات دیکھ کر میرا ارادہ ہوا کہ آپ کو تبریز پہنچا کر واپس طہران چلا جاؤں اور تبریز سے ماکو تک کا سفر چونکہ نہایت ہی دشوار گزار تھا۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ یہ مہم شہزادہ کے زیر اہتمام انصرام پائے جو تبریز میں رہتا تھا۔ آپ نے بھی میری رائے کو پسند فرمایا اور کہا کہ تبریز سے آگے سفر کرنا ظلم ہے۔ تم اس میں دخل نہ دو۔ میں خود تبریز سے آگے جانا نہیں چاہتا۔

صفحہ ٦٧

ورود تبریز و سفر ماکو

اور جا کر شہزادہ سے کہہ دو کہ ہمیں تبریز میں رہنے دے۔ کیونکہ میں نے دوگانہ چھوڑ کر پوری نماز شروع کر دی ہے اور میرا ارادہ یہیں رہنے کا ہے۔ مجھے بخار تھا۔ اس اثناء میں نے عذر پیش کیا کہ میں نہیں جا سکتا۔ آپ نے فوراً چائے کی ایک پیالی سے اپنی جھوٹی چائے مجھے پلا دی۔ تو مجھے فوراً شفا ہو گئی تو میں نے شہزادہ کو آپ کا پیغام پہنچا دیا۔ مگر اس نے تسلیم نہ کیا اور جب آپ کو اس کے انکار کی میں نے اطلاع دی تو آپ نے نہایت افسوس سے ایک آہ کھینچ کر کہا کہ: ”راضياً بقضاء اللہ اللھم افتح بینی وبین عبادک“ یا اللہ میں رضا بالقضاء کو اختیار کرتا ہوں تو ہی میرے اور اپنے بندوں کے درمیان منصفانہ فیصلہ صادر فرما۔ اس کے بعد آپ کو میں اپنے گھر لے آیا جو تبریز کے مضافات میں تھا تو آپ چند ایام وہاں تشریف فرما رہے اور میرے گھر کے لوگ جب حضرت وضو کرتے تو آپ کا مستعملہ پانی بطور تبرک کے اپنے لئے اٹھا لے جاتے اور دوائی کے طور پر استعمال کرتے۔ دوسری دفعہ باب نے مجھے یوں کہہ کر شہزادہ کے پاس بھیجا کہ میں تبریز سے باہر نہیں جاؤں گا۔ یہاں تک کہ مجھے قتل بھی کیا جائے تو میرا جانا مشکل ہے تو شہزادہ نے جواب میں کہا کہ جو کچھ سلطان نے حکم دیا ہے اس کی تعمیل نہایت ضروری ہے۔ لیکن جب میں واپس آنے لگا تو مجھے پھر بخار ہو گیا اور وہیں پڑا رہا اور مجھے یہ طاقت نہ رہی کہ شہزادہ کا یہ پیغام آپ کو پہنچا دوں۔ اس کے بعد شہزادہ نے ١٣٠ سپاہ سمیت پہنچ کر آپ کو ماکو جانے پر مجبور کیا تو آپ مجھے رخصت کی آخری ملاقات کرنے آئے تو میں کمال حسرت سے رویا اور آپ کو رخصت کیا۔ تو آپ ماکو تشریف لے گئے۔ دو ماہ کے بعد جب مجھے صحت ہوئی تو میں بھی ماکو گیا اور حاضر خدمت ہو کر اس کوتاہی سے معافی مانگی کہ میں شہزادہ کا پیغام آپ کو نہیں پہنچا سکا تھا تو آپ نے مجھے معاف کر دیا اور میرے حق میں دعائے خیر فرمائی اور فرمایا کہ میں نے ابھی سلطان محمد شاہ اور وزیر اقاسی کو بددعا نہیں دی۔ اگرچہ انہوں نے مجھ پر ظلم کیا ہے۔ مگر بتاؤ حاکم زنجان کا کیا حال ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ وہ خود بے ریش اور زن سرشت تھا۔ اس نے کسی کی عورت اغوا کر لی تھی۔ جس پر اہل زنجان بگڑ گئے اور اس کی تشہیر کر کے اسے نکال دیا اور اسی غم میں دیوانہ ہو کر مر گیا ہے اور شہزادہ بھی بہت ذلیل ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ اس نے حق کو ذلیل کیا تھا۔ اس لئے خدا نے بھی اس کو ذلیل کر دیا ہے۔

ماکو میں تین سال نظربندی

باب کو ماکو کے ایک قلعہ میں جو پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا نظر بند کر دیا گیا اور اقاسی

صفحہ ٦٨

(وزیر اعظم) نے علی خان حاکم ماکو کو حکم دے دیا تھا کہ باب سے کوئی آدمی ملاقات کرنے نہ پائے اور نہ ہی کوئی خط و کتابت کرے۔ مگر لوگ دھڑا دھڑ آنے لگے اور خلاف توقع ہر وقت بھیڑ لگی رہتی تھی۔ اس لئے علی خان نے لکھ بھیجا کہ مجھ سے حراست مشکل ہے۔ مناسب ہے کہ باب کو یہاں سے چہریق روانہ کیا جائے۔ بظاہر علی خان آپ کا مرید تھا۔ جب تین سال بعد آپ وہاں سے روانہ ہوئے تو علی خان معافی کا خواستگار ہوا۔ مگر باب نے نور باطن سے اطلاع پا کر کہا کہ ارے وزیر سے خط و کتابت بھی کرتے ہو اور مجھ سے معافی کے خواستگار بھی ہو۔ یہ کیا دورنگی ہے؟ ملا کو اگرچہ ذی عزت اور تین سو خان پر افسر تھا۔ مگر جب آپ سے مسائل میں مختلف ہوا تو آپ نے اس زور سے لاٹھی رسید کی کہ لاٹھی اس کے سر پر ٹوٹ گئی اور آقا سید حسین کو حکم دیا تو ملا ماکو آپ کے دربار سے نکال دیا گیا۔ اسی نظر بندی میں آپ نے سلاطین کو تبلیغی خطوط لکھے جو ایک لاکھ شعر پر مشتمل تھے اور یہ بھی مشہور ہے کہ سلطان اور اقاسی کو ایک ہزار قہری خطبہ (لیکچر) بھی لکھا تھا۔ بہر حال جب آپ ماکو سے روانہ ہوئے تو چہریق کے قریب رومیہ شہر میں اترے۔ کیونکہ روانگی سے پیشتر علی خراسانی کو آپ نے مبلغ بنا کر رومیہ روانہ کر دیا ہوا تھا اور یہ شخص سید مرحوم (باب ثانی) کا بڑا مخلص اور عظیم الشان مرید تھا اور اب اس کو خاتم اور عظیم کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے اور آپ نے ایک رسالہ علم حروف میں لکھا جس میں بیان کیا تھا کہ کس طرح حسین کو علی بنایا جاتا ہے اور علی کس طریق پر عظیم بن جاتا ہے۔ وہاں کے حاکم یحییٰ خان نے جناب کو خواب میں دیکھا تھا۔ جب آپ آئے تو اس نے پہچان لیا اور داخل بیعت ہو گیا۔ مگر آپ کو تبریز میں نظر بند کیا گیا اور لوگ زیارت کے لئے اس اشتیاق سے آئے کہ آپ نے جب حمام میں غسل کیا تو آپ کا مستعملہ پانی ستر تومان سے فروخت ہوا۔ جس کو لوگ ہاتھوں ہاتھ لے گئے۔

تبریز میں مناظرہ

کچھ مدت کے بعد حکومت نے باب سے تبریز میں مناظرہ کرانے کی تجویز پاس کی تو شہزادہ نے اپنے دربار میں باب کو طلب کیا اور مقابلہ میں بہت سے اہل علم جمع کئے گئے۔ جن میں سے ملا محمود ولی عہد کا اتالیق اور ملا محمد ماما قانی بھی تھے اور یہ قرار پایا تھا کہ اگر باب پاگل ثابت ہو تو قید میں رکھا جائے۔ نہیں تو اسے ضرور قتل کیا جائے۔ باب نے پہلے غسل کیا اور لباس بدل کر چوبے بدست عطر لگائے ہوئے مجلس میں السلام علیکم کہہ کر حاضر ہو گئے۔ مگر کسی ایک نے بھی وعلیکم السلام نہ کہا تو ذکر خفی کرتے ہوئے مجلس کی آخری صف میں بیٹھ گئے۔ دو چار منٹ کے بعد ملا محمد ماما قانی نے آپ سے سوال کیا کہ جو تحریرات لوگوں کے پاس تحریک بابیت کے متعلق ہیں وہ آپ کی تحریر

صفحہ ٦٩

کردہ ہیں یا کسی اور یعنی محمد حسین شیروانی کی۔ (کیونکہ اس کو باب الباب اور باب کا مبلغ اوّل کہتے تھے) تو آپ نے فرمایا کہ وہ میری تحریریں ہیں اور یہ کلمات الہیہ ہیں۔ پھر سوال کیا گیا کہ آپ باب ہیں؟ فرمایا ہاں ضرور پھر پوچھا کہ باب کا کیا معنی؟ تو آپ نے فرمایا کہ: ”انا مدینۃ العلم وعلی بابھا“ سے اس کا مطلب سمجھ سکتے ہو۔ پھر آپ نے فرمایا کہ مشاعر (حواس) چار ہیں۔ اوّل آنکھ جو دل کا ترجمان ہے۔ اس کا عامل رکن توحید ہے اور یہی مقام مشیت ہے۔ یعنی انسانی ارادہ اور خدا کی توحید کا یہی مقام ہے۔ دوم کان جو عقل کا مرتبہ رکھتا ہے اور رتبہ نبوت کا حامل ہے اور ارادہ کا مصداق ہے۔ یعنی کان سے خدائی آواز سنائی دیتی ہے اور مکالمہ سے نبوت حاصل ہوتی ہے۔ سوم قوۃ شامہ جو نفس کا ترجمان ہے اور رکن ولایت ہے اور مقام قدر کا حامل ہے۔ چہارم فم (منہ) جو جسم کا ترجمان ہے۔ رکن شیعہ کا مقام ہے اور بمنزلہ قضاء کے ہے اور تمام چہرہ مشعر خامس یعنی بحیثیت مجموعی پانچویں حس ہے جو عدد باب کو ظاہر کرتی ہے اور ہائے ہوز کے برابر ہے۔ (کیونکہ حروفی حساب سے اس کے عدد پانچ ہیں) خلاصہ یہ کہ پانچ کا عدد خدا میں موجود ہے اور انسان کے چہرہ پر ظاہر ہو رہا ہے اور باب میں ظاہر ہو کر یہ اشارہ کرتا ہے کہ الباب وجہ اللہ باب خدا کا مظہر اور چہرہ ہے۔ ملا محمود نے اعتراض کیا کہ کان تو دو ہیں۔ آپ کے نزدیک ایک کیسے ہوئے۔ اسی طرح آنکھیں بھی دو ہیں۔ آپ نے ان کو ایک کیوں شمار کیا تو باب نے جواب دیا کہ آواز ایک ہی سنائی دیتی ہے اور ایک ہی چیز دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے ان کو ایک ایک تصور کیا گیا ہے۔ ملا محمود نے پوچھا کہ کب سے آپ باب ہوئے۔ جناب نے جواب دیا کہ تم ہزار سال سے منتظر تھے کہ محمد بن حسن قائم آل محمد آتے ہیں تو میں وہی ہوں۔ پوچھا کہ کیا دلیل ہے؟ کہا کہ ہمارے پاس آیات ہیں امیر ارسلان اور ولی عہد شہزادہ نے کہا کہ اپنی لاٹھی کے متعلق کچھ آیات پڑھیں تو آپ فوراً شروع ہو گئے اور کئی ایک شعر بول دیئے۔ کسی نے کہا کہ ہم آپ کے آیات نہیں سمجھ سکتے۔ کیونکہ بے معنی ہیں تو آپ نے جواب دیا کہ پھر تم نے آیات کے ساتھ قرآن شریف کی تصدیق کیسے کی ہے؟ امیر ارسلان نے کہا کہ ایسے شعر تو میں بھی بول سکتا ہوں۔ چنانچہ اس نے بھی بے جوڑ تک بندی شروع کر دی اور شعر سازی کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ پھر ولی عہد نے پوچھا کہ کیا آپ ستاروں کے متعلق کچھ جانتے ہیں؟ یہ کہہ کر کرہ آپ کی طرف لڑھکا دیا۔ مگر باب نے کہا میں علم نجوم نہیں جانتا۔ کسی نے کہا کہ آپ بتائیے قولہ کا کیا صیغہ ہے؟ باب بالکل خاموش ہو گئے اور مجلس سے واپس چلے آئے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کو جنون ہے۔ مگر طبیب کی تشخیص پر معلوم ہوا کہ آپ کو جنون کا عارضہ نہیں ہے۔

صفحہ ٧٠

باب کی سزایابی

دوسرے دن ولی عہد نے بلوا کر پیادوں کو حکم دیا کہ باب کو درے لگاؤ۔ مگر سب نے انکار کر دیا کہ پہاڑ کی چوٹی سے گر کر مر جانا منظور ہے۔ لیکن ایک سید آل رسول ﷺ کو درہ لگانا ہم سے نہیں ہو سکتا۔ شیخ الاسلام خود سید تھا۔ اس نے کہا کہ سید کو سید پیٹنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ چنانچہ باب کو بلا کر زبیعتہ پہنایا اور آپ کو اٹھارہ عدد درے لگائے جو عدد حی کی طرف اشارہ ثابت ہوئے کہ باب زندہ رہیں گے اور اس سزایابی کی خبر آپ نے پہلے ہی دی ہوئی تھی۔ بہرحال آپ چہرق کو واپس آگئے۔ اس واقعہ کے بعد مرزا احمد مر گیا اور شیخ الاسلام کو بہت ذلت اٹھانی پڑی۔ مرزا مہدی علی خاں حاکم مازندران کا بیان ہے کہ مجھے خواب آیا کہ سلطان محمد شاہ اپنے تخت پر بیٹھا ہوا ہے اور فوجیں سلامی میں حاضر ہوئیں تو ناگہاں ایک نوجوان سید (یعنی حضرت باب ) آیا جس نے کہ بادشاہ کو ایک تھپڑ رسید کیا اور بادشاہ وہیں مرگیا۔ اس خواب کے بعد سلطان تین روز بیمار رہ کر مر گیا اور وزیر اعظم آغاسی معطل ہو کر بھیک مانگنے لگا۔

آخوند باب الباب محمد حسین بشروئی

اسی اثناء میں خراسانی جماعت بسر کردگی ۔ محمد حسین بشروئی وارد مازندران ہوئی اور یہ صاحب وہ ہیں کہ روپوشی کی حالت میں مستور الحال بن کر حضرت باب کے ہمراہ ماکو تک پہنچے تھے تو وہاں سے آپ نے ان کو مبلغ بنا کر مازندران کے راستہ سے خراسان بھیج دیا ہوا تھا۔ مگر جب اثنائے سفر میں شہر بارفروش میں حاجی محمد بار فروش کے پاس قیام کیا تو آپ نے حاجی صاحب پر اپنی شان بڑھائی۔ مگر دوسرے روز آپ کو معلوم ہوا کہ حاجی صاحب کا تو یہ پایہ ہے کہ حضرت باب جناب کو حبیب کے لفظ سے یاد کیا کرتے تھے۔ اس لئے آپ نے فروتنی اختیار کر لی اور اللہ الصمد کی تشریح میں بیس ہزار شعر کہہ کر پیش کئے۔ اس کے بعد آپ نے اہل خراسان کو عموماً اور سعید العلماء کو خصوصاً تبلیغ کی۔ جس کے معاوضہ میں حضرت باب نے آپ کو خلعت انعام فرمائی۔ جو سفید عمامہ اور قباء پر مشتمل تھی اور ایک توقیع مبارک (یعنی سند حسن کارکردگی ) عطاء فرمائی۔ بہرحال اس وقت آخوند صاحب بمعہ جماعت خراسانی کے مازندران میں فروکش ہوئے اور حاجی محمد علی صاحب بار فروش بھی آپ سے آملے۔ کیونکہ سعید العلماء نے ان کو شہر بدر کر دیا تھا۔ علی ہذا القیاس بابی مذہب کے پیرو ایک کافی جمعیت میں وہاں جمع ہو گئے تو حضرت باب نے ان کو فتنہ خراسان کی خبر قبل از وقوع دے دی۔

صفحہ ٧٠

بروز فاطمہ قرۃ العین طاہرہ

ملا صالح قزوینی کی لڑکی سید مرحوم (باب ثانی) کی پیرو تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ بھی اخوند صاحب (محمد حسین بشروی) کی طرح تلاش باب میں نکل کھڑی ہوئی اور جب اخوند صاحب کو حضرت باب کی خدمت میں شیراز کے مقام پر شرف یابی حاصل ہوئی تو انہوں نے طاہرہ کو خط لکھا اور وہ پہلے ہی غائبانہ بیعت میں داخل تھیں۔ مگر اب تو ظاہرہ بیعت میں بھی داخل ہوگئیں اور مبلغ بن کر کربلا پہنچیں۔ جہاں پر لوگ زیارت کو کثرت سے آئے اور وعظ میں ایک خاص بھیڑ لگی رہتی تھی۔ زن و مرد اکٹھے آتے تھے اور داخل بیعت ہوتے تھے اور یہ لوگ اس قدر متقی اور پرہیز گار بن گئے کہ بازار کربلا کی پکی ہوئی ہانڈی چھوڑ رکھی تھی۔ کیونکہ حضرت باب رکن رابع تھے۔ (یعنی شیعہ کامل تھے) اور شیعہ کامل کو گالی دینے والا ائمہ اہل بیت کو گالیاں دینے والا ہوتا ہے اور ائمہ کو گالیاں دینے والا حضورﷺ کو گالیاں دینے والا ثابت ہوتا ہے اور چونکہ اہل بازار کربلا حضرت باب کو گالیاں دے چکے تھے۔ اس لئے یوں سمجھے گئے کہ انہوں نے معاذ اللہ حضورﷺ کو گالیاں دی ہیں۔ اس لئے وہ واجب الترک کافر ہوگئے اور ان کا پکا ہوا کھانا حرام ہو گیا۔ قرۃ العین طاہرہ کا یہ دعویٰ تھا کہ میں مظہر فاطمہ ہوں اور آپ کا بروز مجھ میں ہوا ہے۔ اس لئے اس نے بازار کی تمام اشیاء پر ایک دفعہ نظر ڈالی تو تمام اشیاء پاک ہوگئیں اور باقی تمام اشیاء کو پاک اور حلال سمجھنے لگ گئے۔ کیونکہ حضرت باب نے اپنے ایک رسالہ الفروع میں یہ اصول لکھا تھا کہ نظر آل اللہ بھی نجس چیز کو پاک کر دیتی ہے اور آل اللہ سے مراد چہاردہ معصوم ہیں اور ان کی نظر خود ان کا ارادہ ہے اور ان کا ارادہ خود اللہ کا ارادہ ہے اور جس چیز کو خدا چاہتا ہے وہ کیسے حرام ہو سکتی ہے۔ اس لئے قرۃ العین نے بروز فاطمہ بن کر نظر ڈالی تو تمام نجس اشیاء پاک ہوگئیں۔ مگر حاکم کربلا کو سخت اندیشه پیدا ہوا اور خلیفہ بغداد کو اطلاع دی اور فرمان خلافت کا منتظر رہا تو اسی اثناء میں اس کا یہ ارادہ ہوا کہ تا وصولیت حکم آپ کو نظر بند رکھے۔ مگر آپ کو کسی نے خبر کر دی۔ اس لئے رات ہی رات بغداد کو چلی گئیں اور وہاں مفتی اعظم کے گھر جا کر پناہ لی۔ لیکن وہاں بھی آپ کو اطمینان حاصل نہ ہوا۔ تو عراق کو چلی گئیں اور تبلیغ کا سلسلہ بدستور جاری رکھا اور بہت سے لوگ داخل بیعت ہوگئے۔ جن میں سے یہ لوگ مشہور ہیں۔ شیخ صالح العرب، ابراہیم واعظ، ملا شیخ طاہر، آغا سید گلپایگانی ملقب بہ بلیغ اور کچھ مرید مرتد بھی ہوگئے تھے۔ کیونکہ انہوں نے آپ کا رویہ اسلام کے خلاف پایا تھا اور انہوں نے حضرت باب کی خدمت میں ایک شکایت نامہ بھیج دیا تو آپ نے جواب میں لکھ دیا کہ قرۃ العین کا کلام الٰہی ہے اور وہ پاکدامن (طاہرہ) ہے۔ اس لئے

بی

رہے دن ولی عہد نے بلوا کر پیادوں کو حکم دیا کہ باب کو درے لگاؤ۔ مگر سب نے ڑکی چوٹی سے گر کر مر جانا منظور ہے۔ لیکن ایک سید آل رسول ﷺ کو درہ لگانا ہم شیخ الاسلام خود سید تھا۔ اس نے کہا کہ سید کو سید پیٹنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ چنانچہ نہ پہنایا اور آپ کو اٹھارہ عدد درے لگائے جو عددی کی طرف اشارہ ثابت ہوئے پس گئے اور اس سزا یابی کی خبر آپ نے پہلے ہی دی ہوئی تھی۔ بہرحال آپ چہریق اس واقعہ کے بعد مرزا احمد مر گیا اور شیخ الاسلام کو بہت ذلت اٹھانی پڑی۔ ایک حاکم مازندران کا بیان ہے کہ مجھے خواب آیا کہ سلطان محمد شاہ اپنے تخت پر بیٹھا سلامی میں حاضر ہوئیں تو ناگہاں ایک نوجوان سید (یعنی حضرت باب) آیا جس تھپڑ رسید کیا اور بادشاہ وہیں مر گیا۔ اس خواب کے بعد سلطان تین روز بیمار رہ کر مرا اور اس کا کام تمام قویٰ معطل ہو کر بھیک مانگنے لگا۔

ب محمد حسین بشروی

مقام میں خراسانی جماعت بسر کر گئی۔ محمد حسین بشروی وارد مازندران ہوئی یہ سن کر روپوشی کی حالت میں مستور الحال بن کر حضرت باب کے ہمراہ ماکو اس سے آپ نے ان کو مبلغ بنا کر مازندان کے راستہ سے خراسان بھیج دیا یہ اثنائے سفر میں شہر بارفروش میں حاجی محمد بارفروش کے پاس قیام کیا تو آپ نے اپنی شان بڑھائی۔ مگر دوسرے روز آپ کو معلوم ہوا کہ حاجی صاحب کا بیعت باب جناب کو حبیب کے لفظ سے یاد کیا کرتے تھے۔ اس لئے آپ لی اور اللہ الصمد کی تشریح میں بیس ہزار شعر کہہ کر پیش کئے۔ اس کے بعد خراسان کو عموماً اور سعید العلماء کو خصوصاً تبلیغ کی۔ جس کے معاوضہ میں آپ کو خلعت انعام فرمائی۔ جو سفید عمامہ اور قبا ء پر مشتمل تھی اور ایک توقیع حسن کارکردگی) عطاء فرمائی۔ بہرحال اس وقت اخوند صاحب بمعہ مازندان میں وارد ہوئے اور حاجی محمد علی صاحب بارفروش بھی چونکہ سعید العلماء نے ان کو شہر بدر کر دیا تھا۔ علی ہذا القیاس بابی مذہب وقت میں وہاں جمع ہو گئے تو حضرت باب نے ان کو فتنہ خراسان کی خبر قبل

صفحہ ٧٢

ان کو بھی آیات طاہرہ سے انکار نہ ہو سکا۔ (اور اس دن سے قرۃ العین کا لقب طاہرہ مشہور ہو گیا) اس کے بعد طاہرہ نے کرمان اور ہمدان میں تبلیغ کی اور طہران جانے کی خواہش تھی۔ مگر آپ کے والد نے آپ کو مجبوراً واپس قزوین میں بلالیا اور کہا کہ اگر تو بیٹا ہوتی تو تبلیغ بابیت پر مجھے کچھ افسوس نہ ہوتا۔ مگر کیا کروں تم لڑکی ہو تو مجھے سخت شرم دامنگیر ہو رہی ہے اور ہر چند اپنے خاوند کے ساتھ مصالحت کرنے کو کہا گیا۔ مگر طاہرہ نے کہا میں طاہرہ ہوں اور وہ خبیث ہے۔ اس لئے ہمارا باہمی نکاح فسخ ہو چکا ہے۔ کیونکہ شیعہ کامل کو گالی دینے والا بحکم حدیث کافر ہوتا ہے اور کافر مسلم کا باہمی نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔

قتل ملا تقی

جیسا کہ اہل اسلام کی عورتیں جب مکہ چلی گئی تھیں تو ان کا نکاح ٹوٹ گیا تھا۔ اسی اثناء میں صالح شیرازی ملا تقی کے پاس چلا گیا۔ جب کہ وہ نماز میں مشغول تھا۔ فراغت کے بعد اس نے سوال کیا کہ شیخ احمد احسائی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے کہا کہ وہ ملعون تھا۔ یہ لفظ سنتے ہی صالح شیرازی نے وہیں مصلے پر پیٹنا شروع کر دیا اور اتنا پیٹا کہ وہ وہیں مر گیا۔ اس پر شور اٹھا تو ستر آدمی پکڑے گئے اور یہ مواد دیر سے پک رہا تھا۔ کیونکہ ایک دفعہ حضرت قزوین کے پاس گزر رہے تھے تو آپ نے ملا تقی سے کچھ امداد مانگی تھی تو اس نے بجائے امداد کے گالیاں دی تھیں اور آپ نے جوش میں آ کر کہا تھا کہ کیا اسے کوئی بھی ہلاک نہیں کر سکتا۔ تا کہ آل محمد کو گالیاں نہ دے۔ مگر اب وہ بات پوری ہو گئی اور صالح شیرازی نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا اور ملا تقی نے اپنے قاتل کو معافی بھی دے دی تھی۔ مگر حاکم نے یہ مصالحت قبول نہ کی اور ستر میں سے چھ آدمی طہران بھیج دیئے۔ جن میں سے اسد اللہ نامی تو طہران پہنچتے ہی جاں بحق ہو گیا۔ کیونکہ وہ بیمار تھا اور صالح شیرازی جو اصل قاتل تھا راستہ میں ہی فرار ہو گیا۔ باقی رہے چار تو ان پر محمد ابن تقی نے دعویٰ کیا کہ یہ بابی ہیں۔ انہوں نے ہی میرے باپ کو قتل کیا ہے۔ لیکن سلطان نے آقا محمود کو بھیج کر تفتیش کی تو صاف جھوٹ ظاہر ہو گیا۔ مگر اشتباہ میں پھر بھی صالح عرب کو مار ڈالا۔ باقی تین مجرم ملا محمد کو مل گئے اور وہ ان کو اپنے وطن قزوین کو واپس لے آیا تا کہ اپنے باپ کی قبر پر طواف کرا کر آزاد کر دے۔ مگر لوگوں نے عین طواف کے وقت ہجوم کر کے تینوں کو مار ڈالا اور ان کی لاشیں آگ میں جلا دیں اور اس وقت طاہرہ خراسان کو بھاگ گئی تھیں اور جب آپ کا قیام شاہرود کے مقام پر ہوا تو آپ کے مرید بھی آ پہنچے اور جناب حاجی محمد علی بار فروش بھی مشہد مقدس کی زیارت سے فراغت پا کر شامل ہو گئے۔ گویا شمس و قمر جمع ہو گئے اور مشیت ایزدی

صفحہ ٧٢

آسمان تھا اور ارادہ الہی زمین تھی۔ جہاں دلوں میں توحید کا تخم بویا گیا۔ باب نے فرمایا کہ:

حقیقت کے مقام پانچ ہیں۔ جس کا راز میری ذات میں مضمر ہے اور میں اس کو باب کے نام سے معنون کرتا ہوں۔ اس لئے میرا پہلا کام یہ تھا کہ حجاب جلالت کو دور کرتا۔

بیعت بدشت اور بروز رسالت و ولایت

تو میں نے علوم کے چہرہ سے پردے اٹھا دیئے۔ دوسرا کام یہ تھا کہ موہوم کو مٹا دیتا اور معلوم کو روشن کر دیتا تو میں نے سورہ یوسف کی تفسیر لکھ کر مٹا دی۔ کیونکہ لوگ ابھی اس قابل نہ تھے کہ اسے سمجھ سکتے اور اس کی بجائے دوسرے علوم روشن کر دیئے اور میرا تیسرا کام یہ تھا کہ راز کا اظہار کروں۔ کیونکہ وہی راز مجھ پر غالب آ چکا تھا اور یہ وہ مقام ہے جس کو مقام ولایت کہتے ہیں تو میں نے اس کا اظہار مقام بدشت میں کر دیا۔ کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہاں کے لوگ معارف وعلوم سمجھنے کے قابل ہیں۔

و آخر اور ظاہر و باطن ہے۔

الملک الیوم ؟ لله الواحد القهار“ کے دن مقدر تھا اور اسی کی طرف ”انا لله وانا اليه راجعون“ میں اشارہ ہے اور ”فاعبد ربك حتى ياتيك اليقين . يوم تبدل الارض غير الارض ، عبدى اطعنى اجعلك مثلى“ تینوں ارشاد بھی یہی بتا رہے ہیں۔

اور ناسوت) میں جاری ہے اور اپنے ہر ایک دور میں اپنے اپنے نام سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس لئے ہی تو حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میں ہی آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام ہوں اور میں ہی محمد ہوں اور حدیث میں آیا ہے کہ: ”القائم بامر اللہ“ (امام آخر الزمان) بھی ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ وہ حقیقت پر قابض ہے۔ جس

رو سے انکار نہ ہو سکا۔ (اور اس دن سے قرۃ العین کا لقب طاہرہ مشہور ہو گیا) نے کرمان اور ہمدان میں تبلیغ کی اور طہران جانے کی خواہش تھی۔ مگر آپ کے دادا نے قزوین میں بلا لیا اور کہا کہ اگر تو بیٹا ہوتی تو تبلیغ بابیت پر مجھے کچھ افسوس نہ تم لڑکی ہو تو مجھے سخت شرم دامنگیر ہورہی ہے اور ہر چند اپنے خاوند کے ساتھ آ گیا۔ مگر طاہرہ نے کہا میں طاہرہ ہوں اور وہ خبیث ہے۔ اس لئے ہمارا باہمی ۔ کیونکہ شیعہ کامل کو گالی دینے والا بحکم حدیث کافر ہوتا ہے اور کافر مسلم کا باہمی سکتا۔

اہل اسلام کی عورتیں جب مکہ چلی گئی تھیں تو ان کا نکاح ٹوٹ گیا تھا۔ اسی ملا تقی کے پاس چلا گیا۔ جب کہ وہ نماز میں مشغول تھا۔ فراغت کے بعد شیخ احمد احسائی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے کہا کہ وہ ملعون تھا۔ یہ لفظ سنتے نے وہیں مصلے پر پیٹنا شروع کر دیا اور اتنا پیٹا کہ وہ وہیں مر گیا۔ اس پر شور اٹھا گئے اور یہ مواد دیر سے پک رہا تھا۔ کیونکہ ایک دفعہ حضرت قزوین کے پاس پ نے ملا تقی سے کچھ امداد مانگی تھی تو اس نے بجائے امداد کے گالیاں دی جوش میں آ کر کہا تھا کہ کیا اسے کوئی بھی ہلاک نہیں کر سکتا۔ تا کہ آل محمد کو اب وہ بات پوری ہو گئی اور صالح شیرازی نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا اور کو معافی بھی دے دی تھی۔ مگر حاکم نے یہ مصالحت قبول نہ کی اور ستر میں بھیج دیئے۔ جن میں سے اسد اللہ نامی تو طہران پہنچتے ہی جاں بحق ہو گیا۔ صالح شیرازی جو اصل قاتل تھا راستہ میں ہی فرار ہو گیا۔ باقی رہے چار تو ان کیا کہ یہ بابی ہیں۔ انہوں نے ہی میرے باپ کو قتل کیا ہے۔ لیکن سلطان تفتیش کی تو صاف جھوٹ ظاہر ہو گیا۔ مگر اشتباہ میں پھر بھی صالح عرب کو ام ملا محمد کو مل گئے اور وہ ان کو اپنے وطن قزوین کو واپس لے آیا تا کہ اپنے آ کر آزاد کر دے۔ مگر لوگوں نے عین طواف کے وقت ہجوم کر کے تینوں کو ہ آگ میں جلا دیں اور اس وقت طاہرہ خراسان کو بھاگ گئی تھیں اور جب مقام پر ہوا تو آپ کے مرید بھی آپہنچے اور جناب حاجی محمد علی بار فروش بھی سے فراغت پا کر شامل ہو گئے۔ گویا شمس و قمر جمع ہو گئے اور مشیت ایزدی

صفحہ ٧٤

کے ظہورات مختلف ہیں۔ اس کی مثال ظاہری سورج ہے۔ جس کے ظہور میں دن ہوتے ہیں اور حجاب میں راتیں اور گو یہ ظہور و حجابات مختلف ہیں۔ مگر حقیقت میں پر تو اند از صرف حقیقت واحد ہی ہے۔ جس کو ہم سورج یا شمس کہتے ہیں اور اس میں تعدد نہیں اور رجعۃ کا معنی بھی اسی سے حل ہوسکتا ہے۔

الرجعات وصاحب الکرات والمرآت “ میں یکے بعد دیگرے رجعتوں کا مالک ہوں اور نئے نئے دور کا مالک ہوں۔

ہے۔ چنانچہ جب آپ حقیقت نبویہ میں ظاہر ہوئے تو محمد کہلوائے اور امیر علیہ السلام کو آپ کا غلام تصور کیا گیا اور آپ نے فرما دیا کہ :”انا عبد من عبید محمد “ میں حضور علیہ السلام کا کمترین غلام ہوں تو جب حضورﷺ نے وفات پائی تو امیر علیہ السلام اپنی ولایت کی طرف لوٹ آئے۔

اتوار ہے۔ اسی طرح باقی اماموں کی شان باہمی اختلاف فضیلت سے حل کر سکتے ہو۔

کے حق میں فرمایا تھا کہ تم آل رسولﷺ کی سرشت ایک ہی ہے جو بالکل پاک اور مصفا ہے اور بعضها من بعض کی شان رکھتی ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ہم آل عباء دراصل ایک ہی حقیقت سے پیدا ہوئے ہیں۔ جس کو درۃ بیضاء ایک چمکتا ہوا سفید موتی بنایا گیا ہے۔

اس کے سامنے ہوتا ہے تو دنیا میں کوئی ہادی نہیں ہوتا اور جب حجاب اٹھ جاتا ہے تو ہادی پیدا ہو جاتے ہیں اور وہی مرجع خلائق بن جاتے ہیں۔ کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ: ”ایاب الخلق الیکم وحسابہم علیکم “ مخلوقات کا انتظام تمہارے سپرد ہے اور ان کا حساب و کتاب تمہیں ہی لینا ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ اگر ذکر خیر ہو تو تم ہی اس کی بنیاد ہوتے ہو اور اصل و فرع یا مبدأ و معاد ہوا کرتے ہو۔

مراتب ہیں۔

طرح باقی صفات کا بھی ا

میں قرب و بعد نہیں ہوتا

(امام الزمان ) ہی ہیں اور لوگ اپنے کی خلاف ورزی نہ کرو۔ حج سے مراد اس کا ارادہ معلوم کرو۔ اس کی قضا و اور اجازت حاصل کرو اور اس کی ام جن کا حاصل کرنا ضروری ہے اور کیونکہ حضرت امیر علیہ السلام نے ف عبودیت وہ حالت ہے جس کی اصل

ارد گرد سات دفعہ طواف واجب کیا

رہتے ہیں اور قیام کے مقام پر ہ ”خلق شرافتہ“ اور شرافت ک ہے اور ”اذا اراد شیئاً ان یـ کو عزت دیتا ہے تو وہ چیز اس کے ارادہ خود خدا کا ارادہ ہوا کرتا ہے کہ: ”لا یسعنی ارضی ولا گنجائش نہیں ہوتی اگر ہوتی ہے حضرت نقطہ ہی ہیں۔ (کیونکہ

صفحہ ٧٥

ہیں۔ اس کی مثال ظاہری سورج ہے۔ جس کے ظہور میں دن ہوتے ہیں اور گو یہ ظہور و حجابات مختلف ہیں۔ مگر حقیقت میں پرتو انداز صرف حقیقت واحد ہی ج یا شمس کہتے ہیں اور اس میں تعدد نہیں اور رجعۃ کا معنی بھی اسی سے حل ہوسکتا

حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا کہ: ”انا صاحب الرجعات بعد حب الكرات والمرآت“ میں یکے بعد دیگرے رجعتوں کا مالک ہوں اور ہوں۔

امیر علیہ السلام کی رجعت چشم زدن سے بھی قلیل وقت میں ہوتی رہی بہ حقیقت نبویہ میں ظاہر ہوئے تو محمد کہلوائے اور امیر علیہ السلام کو آپ کا غلام نے فرمادیا کہ: ”انا عبد من عبيد محمد“ میں حضور علیہ السلام کا ب حضورﷺ نے وفات پائی تو امیر علیہ السلام اپنی ولایت کی طرف لوٹ

حضور علیہ السلام کی مثال ہفتہ کے دن کی ہے اور امیر علیہ السلام کی مثال ق اماموں کی شان باہمی اختلاف فضیلت سے حل کر سکتے ہو۔

کتاب زیارت جامع کبیر میں ہے کہ حضرت امام نے جناب حسن عسکری م آل رسولﷺ کی سرشت ایک ہی ہے جو بالکل پاک اور مصفا ہے اور با شان رہتی ہے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ ہم آل عباء دراصل ایک ئے ہیں۔ جس کو درۃ بیضاء ایک چمکتا ہوا سفید موتی بنایا گیا ہے۔ شمس حقیقت (اور درہ بیضاء) اپنی اصلیت پر قائم ہے۔ مگر جب حجاب تو دنیا میں کوئی ہادی نہیں ہوتا اور جب حجاب اٹھ جاتا ہے تو ہادی پیدا ہو خلاق بن جاتے ہیں۔ کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ: ”ایاب سابهم عليكم“ مخلوقات کا انتظام تمہارے سپرد ہے اور ان کا حساب یہ بھی فرمایا کہ اگر ذکر خیر ہو تو تم ہی اس کی بنیاد ہوتے ہو اور اصل و فرع یا مر اول معرفت ذات باری ہے جس کو علم توحید کہتے ہیں اور جس کے چار

طرح باقی صفات کا بھی اندازہ لگا سکتے ہو)

میں قرب و بعد نہیں ہوتا۔ اس لئے اس سے مراد اس کے مظہر اور اوتار ہوتے ہیں۔

(امام الزمان) ہی ہیں اور لوگ اپنے مال کے مالک نہیں ہیں۔ صوم سے مراد یہ ہے کہ حضرت وجود کی خلاف ورزی نہ کرو۔ حج سے مراد یہ ہے کہ حضرت وجود کے مشیت اور خواہش کو ہمیشہ ملحوظ رکھو۔ اس کا ارادہ معلوم کرو۔ اس کی قضا وقدر (یعنی تجویز اور شروع فعل) کی طرف نظر رکھو۔ اس کا اذن اور اجازت حاصل کرو اور اس کی اجل اور کتاب کا انتظار رکھو اور یہی فعل کے سات مراتب ہیں۔ جن کا حاصل کرنا ضروری ہے اور عبودیت کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے معبود میں فنا ہو جائے۔ کیونکہ حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ: ”العبودیۃ جوہرۃ کنہہا الربوبیۃ“ عبودیت وہ حالت ہے جس کی اصلیت خدائی ہے۔

ارد گرد سات دفعہ طواف واجب کیا گیا ہے۔ تاکہ ظاہر و باطن آپس میں مطابق ہو جائیں۔

رہتے ہیں اور قیام کے مقام پر بیت اللہ سے مراد حضرت نقطہ کا جسم مبارک ہے یا اس سے مراد ”خلق شرافۃ“ اور شرافت کا اظہار ہے۔ کیونکہ ”تعز من تشاء“ میں اسی کی طرف اشارہ ہے اور ”اذا اراد شیئا ان یقول له کن فیکون“ میں اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی چیز کو عزت دیتا ہے تو وہ چیز اس کے ارادہ کے مطابق حرف کن سے پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس کا ارادہ خود خدا کا ارادہ ہوا کرتا ہے۔ یا اس سے مراد حضرت نقطہ کا قلب ہے۔ کیونکہ خدا کا قول ہے کہ: ”لا یسعنی ارضی ولا سمائی الا قلب عبدی المومن“ زمین و آسمان میں میری گنجائش نہیں ہوئی اگر ہوئی ہے تو عبد مومن کے قلب میں ہوئی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اوّل المومنین حضرت نقطہ ہی ہیں۔ (کیونکہ بروز رسالت و ولایت ہیں) اور مرجع خیرات بھی آپ ہی ہیں۔

صفحہ ٧٦

کا حکم ہے کہ: ”السلام عليك يا ابن زمزم والصفاء والمشعر “ یعنی اے نبی علیہ السلام اور علی علیہ السلام اور فاطمہ علیہ السلام کے بیٹے تم پر سلام ہو تو گویا آپ ہی زمزم کوہ صفا اور مشعر الحرام کا مرجع ہیں۔

اس کے واسطے تمام حدود اور احکام مقرر ہوتے ہیں اور جب حجاب اٹھ جاتا ہے تو تمام قیود اور عبادات رفع ہو جاتی ہیں۔ کیا یہ ظاہر نہیں کہ خمس اور زکوٰۃ مال کی موجودگی تک ہی فرض ہوتے ہیں اور جب مال ہی امام کے سپرد کیا جائے تو یہ دونوں حکم خود بخود مرفوع ہو جائیں گے۔ باقی احکام کو بھی اسی اصول سے حل کر سکتے ہو اور ”واعبد ربك حتى يأتيك اليقين “ میں بھی حصول یقین کو انتہائے عبادت قرار دیا گیا ہے۔

جب انسان منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے تو سفر کے تمام احکام دوگانہ اور افطار روزہ وغیرہ ساقط ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جب کھیت کٹ کر کھلواڑے میں صاف ہو جاتا ہے تو اس وقت حفاظت، پانی دینا اور کھیتی باڑی کی تمام مصروفیتیں ختم ہو جاتی ہیں۔

میں یہ شریعت احکام سفر تھی۔ اب جب کہ وہ مقام توحید پر پہنچ چکا ہے تو دین محمدی کے تمام احکام ساقط ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب امام آخرالزمان کی شریعت توحیدی جو نا قابل تنسیخ ہے۔ اس پر عمل درآمد کرنا انسانی فرض ہوگا۔

حضور ﷺ کا حلال و حرام قیامت تک جاری رہیں گے۔ مگر اس سے مراد قیامت صغریٰ یعنی چھوٹی قیامت ہے۔ (جو دوسرے صاحب شریعت کے ظاہر ہونے پر پہلے صاحب شریعت کے لئے ظاہر ہوا کرتی ہے اور حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک اس قیامت کا سلسلہ بدستور جاری رہا ہے)

کمال توحید کا راز نفی صفات میں مضمر ہوتا ہے۔ ”کان الناس امة واحدة “ میں بھی بتایا گیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی شریعتوں نے لوگوں کو مختلف کر دیا تھا۔ (اب وہ زمانہ چلا گیا ہے۔ اس لئے جس طرح پہلے کمال توحید پر لوگ قائم تھے اب بھی قائم ہوں گے)

صفحہ ٧٧

مذاہب کو ایک مذہب بنا دے گا یہ بھی روایت ہے کہ: ”احکامه من الباطن“ اس کے احکام باطنی ہوں گے اور یہ قاعدہ ہے کہ جب باطن آ جاتا ہے تو ظاہر خود بخود دور ہو جاتا ہے۔

ہیں اور عورتیں اس کی لونڈیاں ہیں اور روایت ہے کہ امام اگر چاہے تو بیوی میاں میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ (یعنی تمہارے نکاح کی باگ ڈور بھی اس کے ہاتھ میں ہے )

ہے اور چونکہ پہلے زمانہ میں لوگ توحید کے احکام برداشت کرنے کے نا قابل تھے۔ اس لئے ان کو الگ الگ طرفین سجدہ کی بتائی گئی تھیں ۔ آہستہ آہستہ ” رجعة بعد رجعة “ کے ذریعہ سے وہ احکام اٹھتے گئے۔ یہاں تک کہ اب یہ زمانہ آ گیا ہے کہ اس میں کمال توحید کے احکام جاری ہوں گے۔ کیونکہ اب لوگ توحید فی العمل کے برداشت کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ (اس لئے سب کو اتفاق اور اتحاد مذہبی کا اصول بتایا جا رہا ہے اور فیصلہ کر دیا ہے کہ تمام مذاہب اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں۔ بشرطیکہ وحدت ادیان کو ملحوظ رکھا جائے۔ ورنہ اختلاف کی صورت میں باطل ٹھہریں گے )

ان کی صداقت کا نشان ہے۔ کیونکہ روایت میں آیا ہے کہ جب رایۃ الحق یعنی حقانیت کا علم اٹھایا جائے گا تو اہل مشرق اور اہل مغرب اس پر لعنت بھیجیں گے اور جو لوگ حجاب میں پڑے ہوئے ہیں یا جن کی طبیعت میں جمود اور دقیانوسی خیالات جمع ہوئے ہیں وہ بھی ان کو لعنت بھیجیں گے۔ یہ بھی صداقت کا نشان ہے کہ سیاہ جھنڈے مشرق سے آپ کے لئے ہی نکلے تھے اور یہ کہ چار قسم کے علم یعنی جناب ذکر علی محمد کے ماتحت حسینی جناب قدوس محمد علی کے ماتحت خراسانی سید الشہداء کے ماتحت اور طالقانی طاہرہ کے ماتحت۔ (کیونکہ آپ کا باپ طالقانی تھا) بھی آپ کی صداقت کا نشان ہیں اور یہ کہ سفیانی علم یعنی شاہ ناصر الدین تباہ ہو چکا ہے۔

ہے۔ کیونکہ وہی صاحب آیات ہیں اور مناجات و اعلیٰ خطبوں کے پیدا کرنے والے ہیں۔

وہ حضور قدوس ہی ہیں اور چونکہ جناب ذکر رجعت امیر ہیں اور رجعت نبی سے پہلے سبقت کر چکے

صفحہ ٧٨

ہیں ۔ اس لئے جناب کا ذکر کا نام علی محمد ہو گیا اور جناب قدوس کا نام محمد علی بن گیا اور اس وجہ سے بھی آپ کا نام محمد علی ہوا کہ لڑائی میں ٣١٣ نقیب حاضر ہوئے تھے۔

کہ علوم سابقہ سے پرواز حاصل کر کے قدوس سے آملیں گے۔ اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ وہ زمین کو لپیٹ لیں گے۔ اس سے مراد بھی یہی ہے کہ کچھ جاہل ہوں گے ۔ مگر قعر جہالت سے نکل کر آسمان عقل پر جا پہنچیں گے۔

باب چہارم

خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت قدوس میدان بدشت میں ظاہر ہوئے تو بابی خوشی سے اپنے کپڑوں میں نہیں سماتے تھے۔ اچھلتے کودتے اور ناچتے پھرتے تھے اور وجد میں آکر نعرہ لگا کر دیوانہ وار حرکتیں کرتے تھے۔ مگر یہ تمام شور و غل ابھی فرو نہیں ہوا تھا کہ مخالفین آپڑے تو حضرت قدوس نے حکم دے دیا کہ اپنے مال چھوڑ کر الگ ہو جاؤ اور کسی کی مزاحمت نہ کرو۔ اس لئے بابی وہاں سے چل کر آمل اشرف اور بارفروش میں آگئے ۔ خود حضرت قدوس بھی کچھ مدت بارفروش میں روپوش رہے ۔ سعید العلماء نے حاکم وقت کو رپورٹ دی تو جناب قدوس کو ساری روانہ کیا گیا اور طاہرہ کو نور کی طرف بھیجا گیا اور سید الشہداء اپنے ستر ہمراہیوں اور زاد راہ کے ساتھ خراسان سے مازندران کو روانہ ہوگئے ۔ جب قدوس منزل میامی میں پہنچے تو ملا زین الدین بھی اپنے تیس سے زائد ہمراہیوں کی معیت میں آپ سے شامل ہو گئے۔ ( ملا صاحب کا داماد بھی آپ کے ہمراہ تھا۔ حالانکہ بیاہ کو چند دن ہی گزرے تھے اور اس کی عمر بھی اٹھارہ سال تھی اور ملا صاحب خود عمر رسیدہ بوڑھے تھے۔ ملا صاحب کی سواری کے ساتھ دوڑتا تھا اور کہتا تھا کہ میں حبیب بن مظاہر ہوں اور کربلا بابیہ میں یہ سب شہید ہو گئے تھے ) یہ لشکر جب مازندران کے قریب پہنچا تو حضرت قدوس نے قطع مسافت کو بہت ہی کم کر دیا۔ یہاں تک کہ روزانہ سفر نصف فرسنگ رہ گیا تھا۔ گویا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کسی امر کا انتظار کر رہے ہیں۔ ایک دن ابن السلطان (شہزادہ) سفر میں آپ کو ملا اور پوچھا کہ جناب کہاں جا رہے ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ کربلا جا رہا ہوں۔ اس کے بعد متصل ہی آپ کو خبر ملی کہ بادشاہ مرچکا ہے تو آپ تیز ہوگئے ۔ ( گویا آپ اسی کا انتظار کر رہے تھے ) اور جبل فروز پر پہنچ گئے اور خطبہ دیا کہ جو شخص حکایت بدشت کا ذکر کرتا ہوا معلوم ہوگا اسے سزا دی جائے گی ۔ ہم شہادت کے لئے جا رہے ہیں جو برداشت نہیں کر سکتا وہ واپس چلا جائے۔ میں طبر کوفہ یعنی بارفروش کے قریب قتل کیا جاؤں گا۔ ( اس کو خطبہ ازلیہ کہتے ہیں اور اس شہادت کو

صفحہ ٧٩

شہادت ازلیہ بتاتے ہیں) آپ کے دو سو ہمراہیوں نے شہادت پر بیعت کر لی اور باقی تیس آدمی رو رو کر واپس چلے گئے۔ کیونکہ وہ کمزور تھے اور مبائعین میں کچھ لوگ ذی عزت بھی تھے۔ مثلاً صدا بہی ، صدتومانی، پنجاہ تومانی ایک خراسانی تاجر بھی تھا۔ جس کے ہمراہ پانچ ہزار تمان یمنی کپڑا تھا۔ (یعنی شال تیرمہ وغیرہ زوج) جب دوبارہ بارفروش پہنچے تو سعید العلماء نے شہر میں داخل ہونے سے روک دیا۔

بارفروش میں چپقلش

مگر آپ نے عذر کیا کہ ہم چند روز رہ کر چلے جائیں گے اور چونکہ بادشاہ مرچکا ہے اور راستہ خطرناک ہو رہا ہے۔ اس لئے چند یوم قیام ضروری ہے۔ پھر ہم کربلا کو چلے جائیں گے۔ مگر سعید العلماء نے کوئی عذر تسلیم نہ کیا۔ اسی اثناء میں ایک نابینائی نے سیدرضا پر تیر چھوڑ دیا جو مشہد سے واپس آکر آپ کے ہمراہ ہولیا تھا تو بمعہ گھوڑے کے مرگیا۔ دوسرا تیر حضرت اقدس پر چلایا گیا مگر وہ خطا گیا اور حضرت قدوس نے تلوار اٹھائی تو وہ ایک درخت کی آڑ میں ہوگیا۔ دوسری طرف دیوار تھی۔ اس لئے آپ نے بائیں ہاتھ سے تلوار چلا کر اس کا کام تمام کردیا۔ گو آپ کو بائیں بازو میں رعشہ تھا۔ مگر تلوار خوب زور سے چلائی تھی۔ پھر آپ کا ارادہ ہوا کہ سعید العلماء کے گھر زبردستی داخل ہوں۔ مگر کسی حکمت سے نہ گئے اور اس وقت یہ مشہور ہوگیا کہ ظالم بابیوں نے بچے بھی مارڈالے ہیں اور حقیقت یہ تھی کہ ایک گداگر فقیر اپنے بچے کو گود میں لئے کھڑا تھا کسی بابی نے اس سے منزل مقصود کا راستہ پوچھا مگر اس نے عمداً غلط بتایا۔ پھر پوچھا تو پھر بھی غلط بتایا۔ تیسری دفعہ اسے غصہ آیا تو اس نے اس فقیر کو معہ بچہ کے مارڈالا۔ ورنہ ابھی صرف سات خون ہوئے تھے تو بابی صحیح و سلامت شہر سے باہر آگئے تھے اور ایک سرائے میں ایک برج تھا۔ اس میں پناہ گزین ہوگئے اور شہریوں نے محاصرہ کرلیا۔ حضرت قدوس نے حکم دیا تو ایک نے سرائے پر اذان کہی تو لوگوں نے اسے مارڈالا۔ دوسرا مؤذن بھی نکلا تو وہ بھی مارا گیا۔ تیسرے نے اذان مکمل کرلی تھی کہ وہ بھی ماراگیا۔ پھر بابیوں نے مدافعت شروع کردی۔ جس میں اہالیان شہر ہزیمت اٹھا کر واپس آگئے۔ عباس علی خان بارفروش میں آیا تو اس نے اپنا داماد حضرت کے پاس بھیجا کہ آپ یہاں سے تشریف لے جائیں ورنہ فساد کا اندیشہ ہے۔ آپ نے راستہ کا خوف پیش کیا تو اس نے اپنی طرف سے اپنے داماد کے ماتحت کمک بھیج دی۔ جو آپ کا مصدق تھا اور خسروبھی ساتھ ہولیا۔ جس کے ہمراہ سو سوار تھے۔ جب تھوڑی دور نکل گئے تو داماد واپس لوٹ آیا اور خسرو بطور محافظ کے آپ کے ہمراہ رہا۔ مگر وہ بھی

صفحہ ٨٠

ایک دن پیش ہو کر عذر پیش کرنے لگا اور آپ سے اس حفاظت کی مزدوری طلب کی تو آپ نے اسے ایک سو روپیہ دیا اور کچھ جنس بھی دی۔

خسرو کی لڑائی

مگر اس نے اصرار کیا کہ میں ضرور گھوڑا بھی لوں گا اور آپ کو چونکہ سخت ضرورت تھی۔ اس لئے آپ نے انکار کر دیا۔ اب وہ بگڑ گیا اور کہنے لگا کہ ہم تم کو مار ڈالیں گے اور تمہارے تمام مال کو لوٹ لیں گے اور سخت سست لفظ بھی کہنے شروع کر دیے۔ جس پر ایک بابی نے غصہ کھا کر اسے مار ڈالا۔ اب خسرو کی سپاہ بھی کود پڑی۔ مگر بابیوں نے ان کو مار مار کر بھگا دیا تو انہوں نے قریب کی بستیوں میں پناہ لی۔ گردو نواح سے لوگوں کو جمع کر کے بابیوں پر حملہ کر دیا۔ اس وقت حضرت نے فرمایا کہ مال چھوڑ کر بھاگ جاؤ۔ چنانچہ تمام بابی مال چھوڑ کر قلعہ طبرسیہ میں پناہ گزین ہو گئے اور یہ وہ مقام ہے کہ حضرت نے پہلے ہی خبر دی تھی کہ یہاں کثرت سے خون ہوں گے۔ مگر انہوں نے اپنی اپنی تمام جائیداد ایک جگہ جمع کر لی جو مختلف طریق سے حاصل کر چکے تھے اور آپس میں عقد اخوت قائم کر لیا۔

طبرسیہ کی لڑائی

اور حضرت کو اپنا باپ تصور کر لیا۔ (گویا یہ ایک کنبہ تھا جس کا مربی حضرت کی ذات تھی) دوسری دفعہ پھر خسرو کے لشکر نے حملہ کیا تو آپ نے حکم دے دیا تو مرید قلعہ سے باہر نکل کر کھڑے ہو گئے اور ان کو حکم دیا کہ دشمن خواہ کسی طرح تم کو قتل کرے تم کو اجازت نہیں کہ اس کے مقابلہ پر ہاتھ اٹھاؤ۔ اب وہ بت بن کر کھڑے ہیں اور دشمن تیر و تفنگ سے اپنے مواد کو نذر آتش کر رہا ہے۔ مگر ان کا بال بیکا نہ ہوتا۔ کیونکہ آپ نے کچھ پڑھ کر کنکریاں ان پر پھینک دی ہیں۔ جس سے تیر و تفنگ اثر نہیں کرتے۔ بابیوں کی استقامت دیکھ کر مخالف اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ طالوت نے جالوت کے مقابلہ پر یہی کام کیا تھا۔ کچھ مدت کے بعد سید الشہداء اپنے تمام مریدوں کی معیت میں آپ سے شامل ہو گئے۔ آپ نے ان کا استقبال کیا تو سید صاحب نے بھی آپ کی کمال عزت کی۔ جس سے آپ کے مریدوں پر حضرت قدوس کی جلالت کا سکہ جم گیا۔ (اور سید الشہداء سے مراد محمد حسین بشروی ہیں جو باب کے مبلغ تھے)

لڑائی کی تیاری

اب سید صاحب نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ قلعہ کی مرمت کریں اور اسلحہ سازی میں مشغول ہو جائیں تو ہر ایک سپاہی اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور یہ روایت سچ نکلی کہ امام

صفحہ ٨١

پیش کرنے لگا اور آپ سے اس حفاظت کی مزدوری طلب کی تو آپ نے ے کچھ جنس بھی دی۔

اصرار کیا کہ میں ضرور گھوڑا بھی لوں گا اور آپ کو چونکہ سخت ضرورت تھی۔ کر دیا۔ اب وہ بگڑ گیا اور کہنے لگا کہ ہم تم کو مار ڈالیں گے اور تمہارے تمام سخت وسست لفظ بھی کہنے شروع کر دیئے۔ جس پر ایک بابی نے غصہ کھا کر کی سپاہ بھی کود پڑی۔ مگر بابیوں نے ان کو مار مار کر بھگا دیا تو انہوں نے نادی۔ گردونواح سے لوگوں کو جمع کر کے بابیوں پر حملہ کر دیا۔ اس وقت چھوڑ کر بھاگ جاؤ۔ چنانچہ تمام بابی مال چھوڑ کر قلعہ طبرسیہ میں پناہ گزین کہ حضرت نے پہلے ہی خبر دی تھی کہ یہاں کثرت سے خون ہوں گے۔ مگر جائیداد ایک جگہ جمع کر لی جو مختلف طریق سے حاصل کر چکے تھے اور آپس میں بانٹ لی۔

اپنا باپ تصور کر لیا۔ (گویا یہ ایک کنبہ تھا۔ جس کا مربی حضرت کی ذات کے لشکر نے حملہ کیا تو آپ نے حکم دے دیا تو مرید قلعہ سے باہر نکل کر حکم دیا کہ دشمن خواہ کسی طرح تم کو قتل کرے تم کو اجازت نہیں کہ اس کے وہ بت بن کر کھڑے ہیں اور دشمن تیر وتفنگ سے اپنے مواد کو نذر آتش کر نہ ہوتا۔ کیونکہ آپ نے کچھ پڑھ کر کنکریاں ان پر پھینک دی ہیں۔ جس تھے۔ بابیوں کی استقامت دیکھ کر مخالف اپنے گھروں کو واپس جا رہے طالوت نے جالوت کے مقابلہ پر یہی کام کیا تھا۔ کچھ مدت کے بعد سید کی معیت میں آپ سے شامل ہو گئے۔ آپ نے ان کا استقبال کیا تو کی کمال عزت کی۔ جس سے آپ کے مریدوں پر حضرت قدوس کی سید الشہداء سے مراد محمد حسین بشروی ہیں جو باب کے مبلغ تھے)

ب نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ قلعہ کی مرمت کریں اور اسلحہ سازی میں سپاہی اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور یہ روایت سچ نکلی کہ امام

آخر الزمان کے مرید صلوٰۃ کے کام کریں گے اور صلوٰۃ سے مراد باہمی اتفاق اور تعاون ہے۔ اس لئے وہ سب ایک جماعت بن گئی۔ جب سید العلماء کو یہ معلوم ہوا تو اس نے سلطان ناصر الدین کو طہران میں لکھا کہ قدوسیوں کے مقابلہ پر ایک لشکر بھیج دیا جائے۔ چنانچہ شاہی لشکر نے دو نظر خان کے مقام پر ڈیرے ڈال دیئے اور قدوسیوں نے قلعہ سے باہر نکل کر پہلے حملہ میں ہی تیس سپاہی مار ڈالے۔ اس گاؤں اور تمام سرکاری گودام کو لوٹ کر صاف کر دیا اور یہ خدا کی قدرت تھی اور قدوس کے لئے یہ نشان صداقت تھا۔

سلطانی لشکر سے قدوسیوں کی لڑائی

کہ قدوسیوں کا اس لڑائی میں بھی ایک نہیں مرا اور اس فتح یابی کی خبر قدوس نے پہلے دے دی ہوئی تھی۔ اس طرح پر قدوسیوں نے دو سال کا خرچ قلعہ میں جمع کر لیا اور موضع مذکور کا بالکل صفایا کر دیا۔ کیونکہ وہاں کے باشندوں نے پہلے آپ کی تصدیق کی تھی اور جب شاہی لشکر پہنچا تو وہ سب مرتد ہو گئے اور جب یہ خبر طہران پہنچی تو سلطان نے اپنے بیٹے مہدی قلیخان کو مقابلہ کے لئے روانہ کیا اور عباس قلیخان کو حکم دیا کہ شہزادہ کی امداد میں مصروف رہے۔ یہ مہدی قلی خان وہی ہیں جو حضرت قدوس کو ساری کے مقام پر ملے تھے اور آپ کی تصدیق کی تھی۔ اس کے بعد بارفروش میں آ کر سید الشہداء کی بھی تصدیق کی تھی۔ آپ نے شہزادہ کی امداد سے جی چرایا۔ کیونکہ آپ بابی مشہور تھے۔ اس لئے علمائے اسلام سے فتویٰ دریافت کیا کہ کیا حضرت قدوس واجب القتل ہیں۔ تو امام جمعہ نے قتل کا حکم دیا اور ملا محمود کرمان شاہی خاموش رہے اور اس سے پہلے آپ نے حضرت قدوس سے ایک دفعہ سوال کیا تھا تو جناب نے فرما دیا تھا کہ میں دنیا کا بادشاہ ہوں اور تمام سلاطین میرے پاؤں کے نیچے ہیں اور تمام لوگ میرے تابعدار ہیں تو آپ کو خیال پیدا ہوا کہ قدوس کی خدمت میں رہ کر دنیاوی مال و متاع سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ مگر اس مقولہ کا اصل مطلب عباس قلیخاں کو معلوم نہ تھا۔ کیونکہ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ حضرت قدوس کی حکومت قلوب الناس سے وابستہ ہے اور باطنی طریق سے ان پر حکومت کرتے ہیں اور تمام سلاطین پر فوقیت ہے۔ یہ مطلب تھا کہ حکومت ہاشمیہ جب قائم ہوگی تو آہستہ آہستہ سب لوگ اس کے ماتحت ہوتے چلے جائیں گے۔ بہر حال شہزادہ دو تین ہزار سوار لے کر واز کرو کے مقام پر آٹھہرا جو قلعہ سے دو فرسنگ کے فاصلہ پر تھا اور منتظر تھا کہ عباس قلیخاں اس کے ساتھ شامل ہو گا۔

جناب قدوس سے خط و کتابت

اس لئے دفع الوقتی کے طور پر خط و کتابت شروع کر دی۔ جس میں یہ پوچھا کہ جناب کا

صفحہ ٨٢

دعویٰ کیا ہے تو جناب قدوس نے جواب میں لکھا ہے کہ ہم اصحاب دین ہیں۔ دنیا دار نہیں ہیں۔ مناسب ہے کہ علمائے اسلام سے ہمارا تبادلہ خیالات کرایا جائے۔ ہم پیشتر بھی کئی ایک خط روانہ کر چکے ہیں تو کبھی تم نے کہا کہ قدوس دیوانہ ہے۔ اگر یہ سچ تھا تو تم نے اس کا علاج کیوں نہ کیا اور یا اسے دوسرے پاگلوں کی طرح آزاد کیوں نہ چھوڑ دیا اور کیوں اسے قید کیا اور تکلیف دیتے رہے اور کبھی یہ سمجھا کہ یہ مفسد ہے تو پھر بغیر اصلاح کے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ تم سے تو ہارون رشید اور مامون خلیفہ ہی اچھے تھے۔ جنہوں نے حسنیہ کے لئے چار سو اہل علم جمع کئے تھے اور تمہیں ایک عالم پیش کرنے سے بھی نفرت ہوئی۔ تا کہ حضرت ذکر سے تبادلہ خیالات ہو جاتا۔ فرعون نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مناظرہ کے لئے کئی ایک جادوگر جمع کئے تھے۔ حالانکہ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کا ایک آدمی بھی مار ڈالا ہوا تھا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ تم لوگ اس سے بھی زیادہ متکبر ہو اور فراعنۃ الاسلام ہو۔ ہم چار سو مسلمانوں نے (کہ جن میں کچھ ادنیٰ درجہ کے تھے اور کچھ اعلیٰ درجہ کے) حضرت باب کی تصدیق کی کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو اگر ہماری شہادت ناقابل تسلیم تھی تو پھر تم لوگ ایک مسلم کو قتل کرنے کے لئے دو گواہوں پر کیسے تصدیق کر لیا کرتے ہو؟ ہم نے خدا کی راہ میں جہاد کیا تو اس نے ہم کو ہدایت بخشی۔ کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ: ”والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا“ جو ہماری راہ میں جہاد کرتا ہے تو ہم اسے ہدایت کے راستے دکھاتے ہیں اور سلطنت سے مقابلہ کے متعلق تم کو معلوم رہے کہ چیونٹی بھی اپنی جان کی حفاظت کے لئے تن کر کھڑی ہو جاتی ہے اور کوئی تنگدست اپنی جان فروشی کر کے مال حاصل نہیں کرتا۔ تا کہ اس کے پسماندہ بال بچے آرام سے زندگی بسر کریں تو ثابت ہوا کہ جان بہت عزیز ہے اور اس کی حفاظت ایک فطری امر ہے۔ اس لئے ہم بھی اپنی جان بچانے کے لئے مدافعت کے طور پر لڑتے ہیں۔ مریں گے تو شہید کہلائیں گے زندہ رہے تو مجاہد ثابت ہوں گے۔ باہمی فیصلہ کے لئے مناسب ہے کہ تم اپنے علماء مناظرہ کے لئے جمع کرو تا کہ بحث و تمحیص سے امر زیر بحث کا فیصلہ ہو جائے یا تم ہم سے دس دن کے لئے مباہلہ کرو یا جلتی آگ میں گھس کر دکھلاؤ۔ اگر تینوں امر مشکل نظر آتے ہیں تو ہمیں چھوڑ دو ہم کربلائے معلیٰ کو چلے جائیں۔ ورنہ مدافعانہ جنگ ہم پر بھی واجب ہے۔ شہزادہ! تم دنیاوی مال و دولت پر مغرور نہ ہو جائیو۔ محمد شاہ تم سے پہلے واصل جہنم ہو چکا ہے۔ خدا سے ڈرو اور ہماری طرف دوڑ کر ہماری جماعت میں شامل ہو جائیو۔ جب شہزادہ کو یہ جواب ملا تو اس نے جواب الجواب دیا کہ ہم انشاء اللہ علمائے اسلام کو جمع کریں گے۔ مگر یہ وعدہ صرف حکمت عملی پر مبنی تھا تا کہ عباس قلی شامل ہو جائے اور بڑے زور سے لڑائی کی جائے۔ لیکن حضرت

صفحہ ٨٣

قدوس نے جواب میں لکھا ہے کہ ہم اصحاب دین ہیں۔ دنیا دار نہیں ہیں۔ نے اسلام سے ہمارا تبادلہ خیالات کرایا جائے۔ ہم پیشتر بھی کئی ایک خط روانہ م نے کہا کہ قدوس دیوانہ ہے۔ اگر یہ سچ تھا تو تم نے اس کا علاج کیوں نہ کیا پاگلوں کی طرح آزاد کیوں نہ چھوڑ دیا اور کیوں اسے قید کیا اور تکلیف دیتے یہ مفسد ہے تو پھر بغیر اصلاح کے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ تم سے تو ہارون رشید چھے تھے۔ جنہوں نے حسینہ کے لئے چار سو اہل علم جمع کئے تھے اور تمہیں ایک ھی نفرت ہوئی۔ تا کہ حضرت ذکر سے تبادلہ خیالات ہو جاتا۔ فرعون نے بھی ام سے مناظرہ کے لئے کئی ایک جادوگر جمع کئے تھے۔ حالانکہ موسیٰ علیہ السلام ے بھی مار ڈالا ہوا تھا۔ اس لئے ثابت ہوا کہ تم لوگ اس سے بھی زیادہ متکبر ہو ہم چار سو مسلمانوں نے (کہ جن میں کچھ ادنیٰ درجہ کے تھے اور کچھ اعلیٰ درجہ تصدیق کی کہ وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں تو اگر ہماری شہادت ناقابل تسلیم مسلم کو قتل کرنے کے لئے دو گواہوں پر کیسے تصدیق کر لیا کرتے ہو؟ ہم نے تو اس نے ہم کو ہدایت بخشی۔ کیونکہ اس کا ارشاد ہے کہ: ”وَالَّذِيْنَ يْنَهُمْ سُبُلَنَا “ جو ہماری راہ میں جہاد کرتا ہے تو ہم اسے ہدایت کے راستے ت سے مقابلہ کے متعلق تم کو معلوم رہے کہ چیونٹی بھی اپنی جان کی حفاظت کے تا ہے اور کوئی تنگدست اپنی جان فروشی کر کے مال حاصل نہیں کرتا۔ تا کہ اس آرام سے زندگی بسر کریں تو ثابت ہوا کہ جان بہت عزیز ہے اور اس کی رہے ۔ اس لئے ہم بھی اپنی جان بچانے کے لئے مدافعت کے طور پر لڑتے ید کہلائیں گے زندہ رہے تو مجاہد ثابت ہوں گے۔ باہمی فیصلہ کے لئے علماء مناظرہ کے لئے جمع کرو تا کہ بحث و تمحیص سے امر زیر بحث کا فیصلہ ہو وں کے لئے مباہلہ کرو یا جلتی آگ میں گھس کر دکھلاؤ۔ اگر تینوں امر مشکل چھوڑ دو ہم کربلائے معلےٰ کو چلے جائیں۔ ورنہ مدافعانہ جنگ ہم پر بھی واجب مال و دولت پر مغرور نہ ہو جائیو۔ محمد شاہ تم سے پہلے واصل جہنم ہو چکا ہے۔ طرف دوڑ کر ہماری جماعت میں شامل ہو جائیو۔ جب شہزادہ کو یہ جواب ملا ب دیا کہ ہم انشاء اللہ علمائے اسلام کو جمع کریں گے۔ مگر یہ وعدہ صرف عباس قلی شامل ہو جائے اور بڑے زور سے لڑائی کی جائے۔ لیکن حضرت

قدوس کو یہ بھی حکمت عملی معلوم ہوگئی۔ اس لئے آپ نے جواب آنے پر فوراً تین سو بابیوں کو حکم دیا کہ رات کو لشکر سلطانی پر حملہ کر دیں۔ چنانچہ خود جناب قدوس اور سید الشہداء اپنے مریدوں کو ہمراہ لے کر لشکر کے قریب نعرہ زن ہوئے تو شاہی لشکر نے یہ سمجھا کہ عباس قلی خان شمولیت کے لئے آ گیا ہے۔ اس لئے خوشی کے مارے اچھلنے لگے اور لڑائی سے بالکل غافل ہو گئے تو انہوں نے قتل عام شروع کر دیا۔ اسی اثناء میں اہل مازندران سے بھی ایک سو تیس سوار شامل ہو گئے جو آقا رسول بھیمیری کے ماتحت آئے تھے وہ آتے ہی اسلحہ خانہ میں جا گھسے اور بارود کو آگ لگا دی۔ اس لئے شاہی لشکر رات ہی رات بھاگ گیا اور ان چند بابیوں کو رہا کر دیا جو بارفروش سے حضرت قدوس کی خدمت میں حاضر ہونے کو آئے تھے تو سرکاری آدمیوں نے ان کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد شہزادہ کا محاصرہ کر لیا۔ اس وقت اس کے مکان میں دو اور بھی شہزادے موجود تھے۔ (یعنی حسین بن فتحعلی شاہ داؤد بن ظل سلطان اور مہدی قلی) مہدی قلی خاں تو پاخانہ سے چھلانگ لگا کر جنگلات میں جان بچا کر نکل گیا۔ مگر دو شہزادوں کو قدوسیوں نے آگ لگا کر زندہ ہی جلا دیا۔ اس کے بعد مال لوٹنے میں مصروف ہو گئے اور جناب قدوس نے ہر چند روکا مگر وہ نہ رکے۔ جب صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ دشمن کا ایک ہزار سپاہی پہاڑ کے دامن میں گھات لگائے بیٹھا ہے۔ جب جناب قدوس کا وہاں پر گذر ہوا تو انہوں نے آپ کا محاصرہ کر لیا اور تیر برسانے شروع کر دیئے اور سید الشہداء آپ کی طرف سے مدافعت کرنے کو ہی تھے کہ ایک تیر سے حضرت قدوس کے چار دانت (رباعیۃ ) ٹوٹ کر منہ بھر گیا۔ اب سید الشہداء نے غضب میں آ کر تلوار چلائی اور تین سو دشمن مار ڈالے اور قدوسی صرف تین آدمی مرے۔ یہ لڑائی غزوہ احد کی رجعت تھی۔ کیونکہ وہاں پر بھی صحابہ نے مال لوٹنے پر حرص کی تھی اور حضور ﷺ کے چار دانت شہید ہو گئے تھے۔ اب سید الشہداء کو آپ کے دانت نکل جانے کا بہت رنج ہوا۔ کیونکہ تین ماہ تک حضرت قدوس نے سوائے ریشمی حلوے اور چائے کے کچھ نہیں کھایا تھا تو آپ نے جناب کا بدلہ لینے کو ایک رات اجازت لے کر دشمن پر حملہ کر دیا۔ آپ آگے بڑھے اور کچھ سوار آپ کے پیچھے پیچھے آتے تھے۔ ننگے پاؤں سروں پر بازو اٹھائے ہوئے نمدے کی ٹوپیاں پہنے ہوئے قدارات (ایک قسم کی تلواریں) گلے میں لٹکائے ہوئے جب دشمن کے سامنے ہوئے تو یکجائی ہلہ بول دیا اور صاحب الزمان، یا قدوس کے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھے اور اس استقامت سے لڑے کہ جب ایک مر جاتا تھا تو فوراً اس کی جگہ پہلے کی لاش کے اوپر یا اسے پیچھے سرکا کر کھڑا ہو جاتا تھا اور لوگوں نے واقعہ کربلا بھلا دیا تھا۔ کیونکہ اس وقت دشمن سات ہزار تھے اور انہوں نے سات لنگر (مورچے) لگائے ہوئے تھے۔ مگر

صفحہ ٨٤

قدوسیوں نے سب تباہ کر ڈالے تھے اور قتل عام شروع کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ عباس قلی خان بھیس بدل کر بھاگ نکلا اور کسی پہاڑ کی کھوہ میں اپنے آدمیوں سمیت جا چھپا۔ اس کے بعد قدوسیوں نے دشمن کے خیمے جلا دیئے اور اپنی گردنوں کے ارد گرد سفید کپڑے شعار (امتیازی نشان) کے لئے باندھ لئے۔ کیونکہ اس وقت دشمن بھی جان بچانے کے لئے یا صاحب الزمان اور یا سید الشہداء کے نعرے لگاتے تھے۔ جب آگ کے شعلے آسمان پر پہنچے۔ ہوا تیز ہو گئی اور اتفاقیہ طور پر بارش کا ترشح بھی شروع ہو گیا تو لوگ ذرہ سنبھل گئے اور میدان کارزار روز روشن کی طرح دکھائی دینے لگا۔ اسی اثناء میں عباس قلی خان نے سید الشہداء کو دیکھ لیا اور دو تیر چلائے۔ پہلے سے تو آپ کا سینہ چاک ہو گیا اور دوسرے نے آپ کو سست کر دیا تو قدوسیوں نے آپ کو فوراً قلعہ میں پہنچایا۔ آپ نے گھوڑے سے اترتے ہی جان دے دی۔ حضرت قدوس نے اپنی لاٹھی سے اشارہ فرما کر کہا کہ لاش وہاں رکھ کر چلے جاؤ اور قبر تیار کرو۔ (مؤلف کتاب ہذا کہتا ہے کہ) جب لوگ چلے گئے میں نظر بچا کر دیکھتا رہا تو حضرت قدوس لاش کے پاس جا کر چپکے سے باتیں کرنے لگے۔ جب میں ظاہر ہو گیا تو فوراً آپ نے سید الشہداء کے چہرے پر چادر ڈال دی اور خاموش ہو گئے۔ ایک روز پہلے ہی ہمیں آپ نے سید الشہداء کے شہادت کی خبر دے دی تھی۔ جب کہ میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ میں دیکھتا ہوں کہ بھیڑوں کے بچے قلعہ میں بھوکے پھر رہے ہیں اور ان کی مائیں دشمن کی خوراک بن چکی ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ ہم ان سے بھی زیادہ بھوکے ہیں اور ان سے بڑھ کر یتیم ہیں۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ سید الشہداء کے کاندھے پر رکھ کر فرمایا کہ یہ حسین بنے گا۔ دجال ثابت نہ ہوگا تو یہی ہوا کہ دوسرے دن رجعت کا ظہور ہو گیا۔ چنانچہ دشمن یزیدیوں کی رجعت ثابت ہوئے سید الشہداء نے رجعت حسینی کا رتبہ پایا۔ عباس قلی خان نے ابن سعد کی رجعت قبول کی اور میدان کارزار رجعت کربلا ثابت ہوا۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ جس جگہ حقانیت کا جھنڈا لہرائے وہی مقام کربلا بن جاتا ہے اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ چالیس روز تک قائم بامر اللہ امام حسین علیہ السلام کا بدلہ لے گا۔

مسئلہ رجعت

پھر اس کے بعد ہرج مرج ہو گی۔ رجعت کے متعلق تو پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ حضور علی علیہ السلام کی رجعت فوری اور چشم زدن میں ہوا کرتی ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں۔ اول ....... رجعت بالتولد جیسے خود علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میں موسیٰ علیہ السلام ہوں میں عیسیٰ علیہ السلام ہوں۔ حالانکہ آپ کی اور ان کی جسمانیت الگ الگ تھی۔

صفحہ ٨٥

تباہ کر ڈالے تھے اور قتل عام شروع کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ عباس قلی خان بھیس بدل کر کسی پہاڑ کی کھوہ میں اپنے آدمیوں سمیت جا چھپا۔ اس کے بعد قدوسیوں نے کپڑے پہنے اور اپنی گردنوں کے ارد گرد سفید کپڑے شعار (امتیازی نشان) کے لئے ڈالے۔ جس وقت دشمن بھی جان بچانے کے لئے یا صاحب الزمان اور یا سید الشہداء پکارتے تھے۔ جب آگ کے شعلے آسمان پر پہنچے۔ ہوا تیز ہوگئی اور اتفاقیہ طور پر بارش کا پانی برسا تو لوگ ذرہ سنبھل گئے اور میدان کارزار روز روشن کی طرح دکھائی دینے لگا۔ عباس قلی خان نے سید الشہداء کو دیکھ لیا اور دو تیر چلائے۔ پہلے سے تو آپ کا سینہ چھد گیا جس نے آپ کو سست کر دیا تو قدوسیوں نے آپ کو فوراً قلعہ میں پہنچایا۔ آپ مسکراتے ہی جان دے دی۔ حضرت قدوس نے اپنی لاٹھی سے اشارہ فرما کر کہا کہ انہیں لے جاؤ اور قبر تیار کرو۔ (مؤلف کتاب ہذا کہتا ہے کہ) جب لوگ چلے گئے تو حضرت قدوس لاش کے پاس جا کر چپکے سے باتیں کرنے لگے۔ جب میں نے سید الشہداء کے چہرے پر چادر ڈال دی اور خاموش ہو گئے۔ ایک روز حضرت قدوس نے سید الشہداء کی شہادت کی خبر دے دی تھی۔ جب کہ میں نے آپ سے دریافت کیا کہ بھیڑوں کے بچے قلعہ میں بھوکے پھر رہے ہیں اور ان کی مائیں بے قرار ہیں۔ تو آپ نے فرمایا تھا کہ ہم ان سے بھی زیادہ بھوکے ہیں اور ان سے پہلے ہی قدوس نے اپنا ہاتھ سید الشہداء کے کاندھے پر رکھ کر فرمایا کہ یہ حسین بنے گا۔ یہی ہوا کہ دوسرے دن رجعت کا ظہور ہو گیا۔ چنانچہ دشمن یزیدیوں کی رجعت ہوئی اور سید الشہداء نے رجعت حسینی کا رتبہ پایا۔ عباس قلی خان نے ابن سعد کی رجعت قبول کی۔ غرضیکہ رجعت کربلا ثابت ہوا۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ جس جگہ حقانیت کا جھنڈا گاڑا جاتا ہے کربلا بن جاتا ہے اور یہ بھی حدیث میں آیا ہے کہ چالیس روز تک قائم بامر اللہ اپنا لباس نہ بدلے گا۔

رجعت بعد ہرج مرج ہوگی۔ رجعت کے متعلق تو پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ حضور علی محمد کی رجعت قہری اور چشم زدن میں ہوا کرتی ہے اور اس کی تین قسمیں ہیں۔

اول ...... رجعت بالتولد جیسے خود علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی تھا۔ حالانکہ آپ کی اور ان کی جسمانیت الگ الگ تھی۔

دوم ...... رجعت بالاشراق جیسا کہ روایت میں ہے کہ: ”ارواحکم فی الارواح واجسادکم فی الاجساد ونفوسکم فی النفوس وقبورکم فی القبور وذکرکم فی الذاکرین “ تمہاری روحیں روحوں میں روشن ہیں۔ تمہارے جسم اجسام میں۔ تمہارے نفوس نفوس میں، تمہاری قبریں قبروں میں اور تمہارا ذکر ذاکرین میں روشن ہے۔

سوم ...... بروز اور رجعت کسی اور طریق سے جس کو صاحب الرجعت ہی سمجھ سکتا ہے۔ دوسرے کو لیاقت ہی نہیں کہ دریافت کر سکے۔ مگر یہ ضروری ہے کہ رجعت تناسخ اور حلول نہیں ہے اور نہ ہی اسے اتحاد کہہ سکتے ہیں۔ بلکہ یہ دوسری قسم ہے جو تناسخ وغیرہ سے الگ ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ رجعت دونوں سلسلوں (نوری و ناری) میں چلتی ہے۔ جس طرح کہ رات دن بدلتے رہتے ہیں اور رجعت نوری و ظلماتی دکھاتے رہتے ہیں۔ یہ قول کہ امام آخر الزمان ہزار سال کے بعد ظاہر ہوگا اور قاتلان حسین بھی ظاہر ہوں گے اور یہ ان سے امام حسین کا بدلہ لے گا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے جو ظاہر عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔ بلکہ اس کا کوئی دوسرا اور مطلب ہے جو اہل باطن سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ قاعدہ تسلیم شدہ ہے کہ: ”لا تزر وازرة وزر اخرى“ ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں لادا جا سکتا۔ بہر حال جب رات کو سید الشہداء کو دفن کیا گیا اور صبح ہوئی تو آپ نے اذان دلوائی اور تمام قدوسی جمع ہو گئے۔ ورنہ تو وہ اپنی اپنی جگہ پر ذکر و شغل میں مصروف تھے اور دشمن لہو ولعب میں مشغول تھا اور معلوم ہوا کہ دشمن کے آدمی ایک ہزار سے زائد زخمی بھی ہوئے ہیں اور چار سو تک مارے گئے ہیں اور قدوسی صرف ستر مارے گئے ہیں۔ جیسا کہ قدوس نے اپنے خطبہ ازلیہ میں پہلے ہی بتا دیا ہوا تھا۔ پینتیس آدمی دشمن کے مقتولوں کے بڑے سرگروہ تھے۔ اس لئے ان کو اٹھا کر آمل لے گئے اور جب سید العلماء کو یہ خبر ملی کہ شاہی فوج کو شکست ہوئی ہے تو اس کو سخت خوف پیدا ہوا کہ کہیں حضرت قدوس اس پر بھی حملہ نہ کردیں۔ حالانکہ جناب کا ارادہ سلطنت باطنیہ قائم کرنے کا تھا۔ تاکہ لوگ اپنی رضا مندی سے اس بادشاہت میں داخل ہوں۔ جیسا کہ: ”لا اکراہ فی الدین“ سے ظاہر ہے اور ظاہری سلطنت قائم کرنے کی نیت نہ تھی۔ کیونکہ اس میں جبر واستبداد ضرور ہوتا ہے۔ اس لئے سید العلماء نے رات دن پہرہ لگوا دیا اور کبھی جناب قدوس کے خوف سے آپ کو غشی بھی ہو جاتی تھی اور گھر سے باہر نکلنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت قدوس نے آپ کو دعوت مناظرہ دی تھی۔ مگر آپ نے نہ مانی۔ پھر دس دن تک کا مباہلہ پیش کیا۔ وہ بھی منظور نہ کیا۔ اخیر میں جلتی آگ میں داخل ہو کر صحیح و سلامت نکلنا پیش کیا۔ مگر وہ بھی آپ نے نہ مانا اور سلطان ناصر الدین سے امداد طلب کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ (مصنف

صفحہ ٨٦

کا بیان ہے کہ ) میں ایک دفعہ بارفروش گیا تو وہاں لوگوں میں خوب چل رہی تھی کہ قدوسی مرتد ہیں تو علمائے اسلام ان سے مقابلہ کے لئے کیوں نہیں نکلتے؟ مسلمان ہیں تو لڑائی کیسی؟ کچھ اہل علم خاموش ہیں۔ مگر یہ خاموشی چہ معنی دارد؟ فیصلہ کیوں نہیں کرتے؟ اسی اختلاف رائے میں سید العلماء نے عباس قلی خان کو لکھا کہ قدوسیوں پر تم خود حملہ کردو۔ کیونکہ شہزادہ کو شکست ہوچکی ہے اور قدوسی بھی بے خرچ ہورہے ہیں۔

قدوسیوں کی دوسری لڑائی

اس لئے تمہارے نام پر فتح ہوگی۔ مگر اس وقت وہ سلطان محمد بہادر کی تجہیز و تکفین میں مصروف تھا۔ اس لئے وہ جواب بھی نہ دے سکا۔ لیکن سیدالعلماء نے بار بار لکھ کر اس کو آمادہ کر ہی لیا۔ مگر اس نے یہ اعتراض پیش کیا کہ اگر یہ لڑائی جہاد ہے تو سیدالعلماء اور دوسرے علمائے اسلام اس میں شریک کیوں نہیں ہوتے؟ یا کم از کم عوام الناس میں تحریک کیوں نہیں کرتے کہ وہ لڑائی میں بھرتی ہوں۔ مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ بہرحال عباس قلی خان قلعہ قدوسیہ کے قریب ایک گاؤں میں جا اترا۔ اس وقت حضرت قدوس نے حکم دیا ہوا تھا کہ دشمن کی لاشوں سے سر جدا کر کے قلعہ کے اردگرد لاٹھیوں پر کھڑے کردو۔ شاہی لشکر نے جب یہ منظر دیکھا تو رعب کھا گئے اور پیچھے ہٹ کر تیاری کرنے لگے اور حضرت قدوس کو اس وقت غنیمت بے شمار حاصل ہوچکی تھی۔ آپ قلعہ کے اندر مزے اڑاتے تھے۔ خوراک و پوشاک پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔ سامان رہائش شاہانہ طور پر فراہم کرلیا ہوا تھا اور فرماتے تھے کہ یہ آل محمد کا دور حکومت ہے۔ محمد حسن برادر خورد محمد حسین سید الشہداء بشروی ابھی انیس سالہ جوان تھا کہ پندرہ قدوسیوں کی معیت میں دشمن پر حملہ آور ہوا اور اس وقت دشمن کی تعداد تین سو سے پانچ سو تک تھی۔ جن میں سے تین مارے گئے اور باقی بھاگ گئے۔ (مصنف کا قول ہے کہ) میں نے اس سے پہلی دفعہ طہران میں ملاقات کی تھی۔ جب کہ ابھی وہ کربلا کی زیارت کر ہی چکا تھا۔

خاندان بشروی

اس وقت اس کی والدہ اور ہمشیرہ (زوجہ ابوتراب قزوینی مرید سید مرحوم) بھی ہمراہ تھیں۔ یہ عورت جب کربلا پہنچی تو صرف فارسی میں لکھ پڑھ سکتی تھی۔ مگر جب طاہرہ سے بیعت ہوکر واپس آئی تو آیات قرآنیہ کی تفسیر میں اس کو خاص لیاقت حاصل ہوگئی تھی۔ گویا یہ طاہرہ کی برکت تھی اور اس کی والدہ نے حضرت کی تعریف میں بہت قصیدے بھی لکھے تھے اور اپنا اخلاص دکھایا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ خاندان نور علی نور ہے۔ جب محمد حسین واپس آیا تو حضرت قدوس نے

صفحہ ٨٧

دستار اور علم عنایت فرما کر اپنے تمام لشکروں کا جرنیل مقرر کر دیا تو اس وقت حضرت امیر علیہ السلام کا قول پورا ہو گیا کہ : ”يخرج نار من قعر عدن“ یعنی بالا بوشہر سے آگ نکلے گی۔ ”ابيض ابین کشنن“ ششن گھاس کی طرح سفید ہوگی۔ ”اسمہ حسین و حسن“ اس کا نام حسن ہے یا حسین ہے۔ ”معجم البلدان“ میں ہے کہ ابین وہ علاقہ ہے جس میں عدن واقع ہے۔ یہ نار جب باب سے مل گئی تو نور بن گئی ۔ (کیونکہ حروفی حساب میں باب کے اعداد پانچ ہیں) اسی امر کو ملحوظ رکھ کر اس نار کو بیضاء کہا گیا ہے۔ ورنہ وہ تو سفید نہیں ہوتی ۔ (نار سے نور کا معما حل کرو)

باب پنجم و ششم

علی محمد باب نے پہلے سال باب ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ دوسرے سال جب آپ نے مقام ذکر کا اظہار کیا تو بابیت محمد حسین بشروی سید الشہداء کے سپرد کر دی تھی اور یہ پانچویں باب بن گئے تھے۔ باب سوم نے اسی وجہ سے آپ کا نام محمد حسین کی بجائے السید علی رکھ دیا تھا۔ جب قدوسیوں کے پہلے حملے میں باب پنجم کی وفات ہو چکی تو بابیت آپ کے بھائی حسن کے سپرد ہو گئی اور وہ باب ششم ہو گئے ۔ (مصنف کا قول ہے کہ ) اس قسم کی باتیں ہمیں تو سمجھ میں نہیں آتیں۔ ان کو اہل بیت ہی سمجھ سکتے ہیں۔ کیونکہ ”صاحب الدار ادرے بما فیھا“ مالک مکان اپنے مکان کی اشیاء کو خوب جانتا ہے۔ فتنہ آخرالزمان کے متعلق بھی جو کچھ روایات میں مذکور ہے ان کے اندرونی مطالب بھی اہل بیت ہی کو معلوم ہیں۔ جن کو صرف عقول کاملہ ہی سمجھ سکتی ہیں۔ اس کے بعد دشمن نے ایک برج کے اوپر چار چوبہ کھڑا کر کے خاکریز بھی کر دیا اور طہران سے آتش خانہ بھی منگوا لیا۔ مگر تاہم اہل علم کو قدوسیوں کے خوف سے رات کو نیند نہیں آتی تھی۔ اس لئے عباس قلی خان نے صلح کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جو حضرت قدوس نے بھی منظور کر لیا۔ کیونکہ خوراک کم ہو رہی تھی اور سامان جنگ ختم ہو چکا تھا۔

بھوکے قدوسیوں کے حیرت ناک حالات

صرف دو سو گھوڑے تھے۔ پچاس گائیں اور پانچ سو بھیڑ بکریاں۔ آپ نے اپنے لشکر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا تم قلعہ میں اپنا پیٹ پالنے آئے تھے؟ تم اپنے چلتوک (خوراک کی تھیلیاں) ان جانوروں کے سپرد کر دو۔ کیونکہ ان کو خوراک کی تم سے بڑھ کر ضرورت ہے۔ رفتہ رفتہ دشمن نے ہر طرف سے گھیرا ڈال لیا اور جو قدوسی باہر نکلتا تھا اسے قید کر لیتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ ملا سعید برز کناری چائے اور کھانڈ لینے کو ایک جمعیت کے ساتھ باہر نکلا تو وہ بھی گرفتار ہو گیا۔ گو اس سے پیشتر علمائے نور کو اثبات بابیت کے متعلق بہت سے ثبوت لکھ کر بھیج چکا تھا اور ان کو قلعہ کے

صفحہ ٨٨

حالات بھی حضور سے اجازت حاصل کر کے بیان کر چکا تھا۔ جس پر انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر انصاف ملحوظ ہو تو باب کی صداقت میں کلام نہیں ہے۔ مگر اب جو دشمن نے پکڑ لیا اور اندرون قلعہ کے حالات پوچھتے ہیں تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہاں محمد حسین قمی اس کے بعد جب گرفتار ہوا تو اس نے سب کو بتا دیا تھا۔ اس وقت قدوس کا یہ حکم تھا کہ ناقابل خوراک گھوڑے قلعہ سے باہر نکال دو اور جو قابل خوراک ہیں ان کو ذبح کر کے کباب بنا کر کھاؤ تو قدوسیوں نے کباب کھانے شروع کر دیئے۔ مگر ان کو بدمزہ معلوم ہوتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت قدوس نے ایک کباب کھا کر فرمایا کہ آہا کیا ہی لذیذ ہے۔ تو اس روز سے تمام قدوسیوں کو کباب لذیذ معلوم ہونے لگ گئے۔ محمد حسین قمی کو یہ پہلے ہی معلوم تھا کہ قدوس کی حکومت باطنی ہے ظاہری نہیں۔ اس لئے آپ سے رخصت حاصل کر کے قلعہ سے باہر نکل آیا اور آپ نے اس لئے رخصت دے دی تھی کہ اس سے کچھ نشانات ظاہر ہونے والے تھے۔ اس لئے جب وہ رات کو اپنے دو دوستوں کے ہمراہ قلعہ سے باہر آیا تو زور سے کہنے لگا کہ مجھے گرفتار کر لو تو اسے شہزادہ کے پاس گرفتار کر کے لے گئے تو شہزادہ نے اس کی بہت خاطر و مدارات کی۔ کیونکہ وہ اسماعیل قمی کا داماد تھا اور ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ شہزادہ نے پوچھا تو کہنے لگا کہ قدوس نے ہمیں بڑی امیدیں دلا کر اپنی طرف دعوت دی تھی۔ مگر کوئی بات بھی پوری نہ ہوئی۔ پھر اس نے بتایا تھا کہ یوں ہوگا یوں ہوگا۔ مگر سب جھوٹ نکلا اس لئے میں اس کو جھوٹا مدعی سمجھ کر باہر نکل آیا ہوں۔ یہ تقریر جن لوگوں نے سنی تو ان کے واسطے فتنہ بن گئی۔ کیونکہ کچھ دیر بعد اس نے اپنے بیانات بدل کر کہا کہ جس عقیدہ پر ہوں میں اس سے تائب نہیں ہوں۔ ضرورت یہ ہے کہ تم توبہ کرو۔ اس تخالف بیانی پر شہزادہ کو یہ شک پیدا ہوا کہ شاید جاسوس ہے۔ اس لئے چھ اور قدوسیوں کے ہمراہ ساری کے جیل خانہ میں بھیج دیا گیا۔ اب قدوسی نازک حالت میں ہو گئے۔ کیونکہ گھوڑے بھی ختم ہو چکے تھے تو گھاس کھانا شروع کر دیا اور جب وہ بھی نہ ملا تو گرم پانی پر گزارہ کرنے لگے اور لشکر نے چاروں طرف دمدمے بنائے۔ جس پر بیٹھ کر گولی چلانی شروع کردی۔ اس لئے قدوسی تہ زمین میں گڑھے کھود کر رہنے لگے۔ اب اور یہ مشکل آ پڑی کہ قلعہ مازندران کی زمین میں پانی قریب تھا۔ اس لئے کیچڑ میں ان کو رہنا پڑا اور جو بھی باہر نکلتا تھا مارا جاتا تھا۔ مگر اس وقت بھی حضرت قدوس نے یوں کہا کہ: "من عرفنی فقد اشرک" جس نے مجھے شناخت کیا وہ مشرک ہو گیا۔ "ومن لم یعرفنی فقد کفر" جس نے مجھے شناخت نہیں کیا وہ کافر ہو گیا۔ "ومن قال فی حقی لم وبم فقد جحدنی" اور جس نے میرے کام میں دخل دیا یا چون و چرا کی تو وہ میرا منکر ہو گیا اور یہ بھی کہا کہ: "ما عبدتک

خوفا لنارک ولا طمعا فی جنتک عبادت اس لئے نہیں کی کہ مجھے آگ سے ڈ کہ تجھے میں نے عبادت کئے جانے کا مستح جب باہر نکلا تو گولی کا نشانہ بن گیا اور وہ وہیں سید احمد کو گولی لگی۔ جو دس سال کا بچہ تھا اور م قدوس کے برآمدے میں گولہ پڑا تو محمد حس کہا کہ: "السنا علی الحق" کیا ہم ح آسمان میں پھٹ گیا اور آپ صحیح و سلامت برج توڑ دیا اور اندر گھسنے لگے۔ مگر قدوسیوں نے دوسری رات قلعہ کی ایک دیوار میں پا وہاں موجود تھے۔ دیوار پھٹی تو انہوں نے نہ آسکا اور قدوسی صرف تین مرے۔ باب نکل آیا۔ شہزادہ نے اس کی خاطر و مدارات قتل کیا گیا۔ اس کے بعد دس دس ہو کر بارفروش میں بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد قدوسی اس کو مرمت نہیں کر سکے۔ اب چ کو پانچ سو تومان (ایرانی روپے) دیئے جمعیت میں شاہی فوج نے حملہ کر دیا ا فصیل سے یکے بعد دیگرے دو تیر آگے ایسا سخت مقابلہ کیا کہ شاہی لشکر کو پسپا

قتل قدوس وقدوسین

اب سلیمان خان طہران دھوکہ فریب سے اور یا کسی اور طریق روانہ کیا کہ ہمیں اپنے وطن کو جانے منظور کر لیا اور قرآن شریف پر مہر حضرت قدوس اس پر سوار ہو کر روا

صفحہ ٨٨

خـوفـا لـنـارك ولا طمعاً في جنتك بل وجدتك اهلا للعبادة“ یا اللہ میں نے تیری عبادت اس لئے نہیں کی کہ مجھے آگ سے ڈر لگتا تھا یا مجھے جنت کی خواہش تھی۔ بلکہ صرف اس لئے کہ تجھے میں نے عبادت کئے جانے کا مستحق پایا ہے۔ شیخ صالح شیرازی، ملا تقی قزوینی کا قاتل جب باہر نکلا تو گولی کا نشانہ بن گیا اور وہ وہیں مر گیا۔ اسے دفن کرنے لگے تو محمد علی بن جناب آقا سید احمد کو گولی لگی۔ جو دس سال کا بچہ تھا اور والد کی گود میں بیٹھا تھا تو وہ بھی وہیں سرد ہو گیا۔ حضرت قدوس کے برآمدے میں گولہ آ پڑا تو محمد صادق نے کہا کہ آپ یہاں سے اٹھ جائیے تو آپ نے کہا کہ: ”الـسـنـا على الحق“ کیا ہم حق پر قائم نہیں ہیں؟ خدا کی قدرت سے وہ گولہ اوپر جا کر آسمان میں پھٹ گیا اور آپ صحیح و سلامت بچ رہے۔ دشمن نے ایک رات قلعہ کی ایک طرف کا برج توڑ دیا اور اندر گھسنے لگے۔ مگر قدوسیوں نے خوب مقابلہ کیا اور دشمن کو شکست ہوئی۔ پھر دشمن نے دوسری رات قلعہ کی ایک دیوار میں بارود کی ایک دیگ رکھ کر آگ لگا دی۔ مگر قدوسی پہلے ہی وہاں موجود تھے۔ دیوار پھٹی تو انہوں نے دشمن پر فائر کرنے شروع کر دیئے۔ اس لئے دشمن قریب نہ آسکا اور قدوسی صرف تین مرے۔ بارہ سلامت واپس آگئے۔ آقا رسول مہیزی قلعہ سے باہر نکل آیا۔ شہزادہ نے اس کی خاطر و مدارت کی مگر عباس قلی خان نے اس پر تشدد برتا۔ اس لئے اسے قتل کیا گیا۔ اس کے بعد دس دس ہو کر تیس قدوسی اور نکلے۔ جن کو گرفتار کر کے آمل ساری اور بارفروش میں بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد شہزادہ نے حکم دیا کہ ایک جگہ سے قلعہ مسمار ہو چکا ہے اور قدوسی اس کو مرمت نہیں کر سکے۔ اب جو شخص سب سے پہلے علم شاہی لے کر قلعہ میں داخل ہو گا اس کو پانچ سو تومان (ایرانی روپے) دیئے جائیں گے۔ دوسرے نمبر کو تین سو۔ چنانچہ سات ہزار کی جمعیت میں شاہی فوج نے حملہ کر دیا اور ایک سپاہی انعام کی خاطر مسمار شدہ جگہ سے آگے بڑھا تو فوراً سے یکے بعد دیگرے دو تیر آ لگے۔ جن سے وہ وہیں سرد ہو کر رہ گیا اور اندر سے قدوسیوں نے ایسا سخت مقابلہ کیا کہ شاہی لشکر کو پسپا ہونا پڑا۔

قتل قدوس وقدوسین

اب سلیمان خان طہران سے آیا کہ قلعہ کسی طرح فتح کرے۔ خواہ جبر و استبداد سے یا دھوکہ فریب سے اور یا کسی اور طریق سے۔ تو ان کی خوش قسمتی سے حضرت قدوس نے ایک خط روانہ کیا کہ ہمیں اپنے وطن کو جانے دو۔ شہزادہ اور عباس قلی خان نے اس درخواست کو غنیمت سمجھ کر منظور کر لیا اور قرآن شریف پر مہر لگا کر (حسب دستور ) امن لکھ دیا اور ایک گھوڑا روانہ کیا تو حضرت قدوس اس پر سوار ہو کر دو سو تیس آدمیوں کی جمعیت میں شہزادہ کے پاس پہنچ گئے اور جب

اجازت حاصل کر کے بیان کر چکا تھا۔ جس پر انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر کی صداقت میں کلام نہیں ہے۔ مگر اب جو دشمن نے پکڑ لیا اور اندرون قلعہ تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہاں محمد حسین فمی اس کے بعد جب گرفتار ہوا تو اس س وقت قدوس کا یہ حکم تھا کہ نا قابل خوراک گھوڑے قلعہ سے باہر نکال دو ان کو ذبح کر کے کباب بنا کر کھاؤ تو قدوسیوں نے کباب کھانے شروع کر علوم ہوتے تھے۔ ایک دفعہ حضرت قدوس نے ایک کباب کھا کر فرمایا کہ آہا روز سے تمام قدوسیوں کو کباب لذیذ معلوم ہونے لگ گئے۔ محمد حسین فمی کہ قدوس کی حکومت باطنی ہے ظاہری نہیں۔ اس لئے آپ سے رخصت باہر نکل آیا اور آپ نے اس لئے رخصت دے دی تھی کہ اس سے کچھ ملے تھے۔ اس لئے جب وہ رات کو اپنے دو دوستوں کے ہمراہ قلعہ سے باہر مجھے گرفتار کر لو تو اسے شہزادہ کے پاس گرفتار کر کے لے گئے تو شہزادہ نے ت کی۔ کیونکہ وہ اسماعیل فمی کا داماد تھا اور ایک شریف خاندان سے تعلق تو کہنے لگا کہ قدوس نے ہمیں بڑی امیدیں دلا کر اپنی طرف دعوت دی سانہ ہوئی۔ پھر اس نے بتایا تھا کہ یوں ہو گا یوں ہوگا۔ مگر سب جھوٹ نکلا یا سمجھ کر باہر نکل آیا ہوں۔ یہ تقریر جن لوگوں نے سنی تو ان کے واسطے فتنہ س نے اپنے بیانات بدل کر کہا کہ جس عقیدہ پر ہوں میں اس سے تائب ہے کہ تم توبہ کرو۔ اس مخالف بیانی پر شہزادہ کو یہ شک پیدا ہوا کہ شاید ر قدوسیوں کے ہمراہ ساری کے جیل خانہ میں بھیج دیا گیا۔ اب قدوسی کیونکہ گھوڑے بھی ختم ہو چکے تھے تو گھاس کھانا شروع کر دیا اور جب وہ کرنے لگے اور لشکر نے چاروں طرف دمدمے بنائے۔ جس پر بیٹھ کر س لئے قدوسی یوزین میں گڑھے کھود کر رہنے لگے۔ اب اور یہ مشکل لیکن میں پانی قریب تھا۔ اس لئے کیچڑ میں ان کو رہنا پڑا اور جو بھی باہر ت بھی حضرت قدوس نے یوں کہا کہ: ”مــن عــرفـنـی فـقـد ت کیا وہ مشرک ہو گیا۔ ”ومـن لـم يعـرفـنـي فـقـد كـفـر “ جس نے یا۔ ومـن قـال فـي حـقـى لـم وبـم فـقـد جـحـدنـی “ اور جس دن و چرا کی تو وہ میرا منکر ہو گیا اور یہ بھی کہا کہ : ”مـــا عـبـدتـك

صفحہ ٩٠

دعوت ہو چکی تو شہزادہ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے یہ فساد کیوں کھڑا کیا ہوا ہے؟ تو حضرت قدوس نے جواب میں کہا کہ محمد حسین بشروی سید الشہداء نے اس فتنہ کی ابتداء کی تھی۔ جس سے ہم ان مصائب میں پڑے ہوئے ہیں۔ آپ نے حکم دیا تو سید الشہداء پر لعنت برسائی گئی۔ (مقولہ مصنف) درحقیقت یہ کلام کچھ اور معنی رکھتا تھا جو صرف رازدان ہی سمجھ سکتے تھے۔ اس لئے یہ بھی ایک اور فتنہ ہوا۔ پھر شہزادہ نے حکم دیا کہ حضرت آپ اپنے مریدوں کو حکم دے دیں کہ ہتھیار رکھ دیں تو آپ کے حکم پر کسی نے ہتھیار رکھ دیئے اور کسی نے نہ رکھے۔ کیونکہ آپ نے پہلے ہی بتا دیا ہوا تھا کہ اگر ایسا ہوگا تو میرے کہنے پر ہتھیار نہ ڈالنا۔ مگر شہزادہ نے بہت زور دیا اور قدوس نے بھی بارہا حکم دیا تو مریدوں کو یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ بداء ہے اور آپ کی رائے تبدیل ہو چکی ہے اور بالخصوص ملا یوسف خوی نے بھی یہی حکم دیا تو مریدوں کو اور بھی یقین ہو گیا۔ اس لئے سب نے ہتھیار کھول دیئے اور منتظر رہے کہ ابھی ہمیں اپنے وطن کو جانے کا آرڈر دیا جاتا ہے۔ مگر جب شہزادہ ناشتا کھا کر فارغ ہوا تو قدوس کو دعوت دی۔ جب آپ چادر سے نکلے ہی تھے کہ آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور آپ کے خواص بھی گرفتار کر لئے گئے۔ جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔ محمد حسن، محمد صادق خراسانی، مرزا محمد صادق، محمد حسن خراسانی، نعمت اللہ آملی، محمد نصیر قزوینی، یوسف اردبیلی، عبد العظیم مراغہ اور محمد حسین قمی اور باقی تمام قدوسی قتل کئے گئے۔ (آپ کی پیشین گوئی صادق نکلی کہ اس زمین پر اس قدر خون چلے گا کہ گھوڑوں کے گھٹنے تک پہنچ جائے گا) اور ان کی لاشیں باہر پھینک دی گئیں نہ جلائی گئیں اور نہ دفن ہوئیں۔ اب قدوس کو بمعہ خواص کے بارفروش لایا گیا۔ مگر بعض کہتے ہیں کہ خواص میں سے بھی کچھ آدمی وہیں معرکہ کار زار میں قتل کئے گئے تھے۔ جن کے نام یہ ہیں۔ محمد حسن، مرزا حسن اور محمد نوری۔ اب قدوس نے طہران پہنچ کر بادشاہ سے ملاقات کرنے کی درخواست کی اور شہزادہ ابھی اسی پر غور ہی کر رہا تھا کہ سید العلماء نے کہلا بھیجا کہ اسے وہاں مت بھیجنا۔ کیونکہ یہ تو بادشاہ کا من باتوں ہی میں موہ لے گا۔ اس نے چار سو تومان (بقول شخصے ایک ہزار تومان ) دے کر قدوس کو خرید لیا اور قتل کرنا شروع کر دیا کہ پہلے تو دونوں کان کاٹ ڈالے۔ پھر تبر آہنی سے سر پھاڑ کر دو ٹکڑے کر دیا۔ اس کے بعد قتل گاہ میں بھیج دیا اور کپڑے اتار لئے تو لوگ اس پر تھوکتے اور تحصیل ثواب کی خاطر آپ کو گھونسے مارتے تھے۔ جیسا کہ احادیث ائمہ میں پہلے بیان ہو چکا تھا کہ ایسے واقعات امام قائم کو پیش آئیں گے۔ آخر ایک طالب علم نے آپ کا سر تن سے جدا کر دیا۔ مگر خون نہ نکلا تو کہنے لگا کہ میرے خوف سے خون بھاگ گیا تھا ارادہ ہوا کہ آپ کی لاش جلائیں ہر چند بھٹی میں ڈالی گئی۔ مگر وہ نہ جلی۔ پھر ٹکڑے

ٹکڑے کر کے باہر پھینک دیئے۔ مگر ویران مدرسہ میں دفن کر دیئے۔ جس جارہے تھے فرمایا تھا کہ یہی میرا مقتل۔ کہ میں خود اپنے آپ کو دفن کروں گا۔

دعواے مسیحیت

اس لڑائی سے پہلے ایک کے سال مصائب آئیں گے۔ مگر تم اس نے پہلی شادی ایک باکرہ سے کی نوماہ کے بعد اپنے باپ کے گھر پیدا ہـ لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی اور سوتیلـ کو قید کر کے آپ کے والد سے کہا کہ آپ کا والد قلعہ میں آپ کے پاس شہزادہ کا حکم سنا دیا۔ پھر فرمایا کہ یہ سے تمہارے پہلے نکاح سے پیدا ہو ایک دن ہیزم فروش کی دکان کے سے وہ فلاں شہر میں موجود ہے۔ باکرہ کے پیٹ سے تیرے گھر ظا نے یہ تلخ جواب پا کر رجوع کیا او ہوں؟ اس لئے شہزادہ نے اسے ر

قاتل قدوس

جناب قدوس کے قتل اليهود في قـارطهران“ ا العلماء اس کو مازندران میں قتل لڑائی میں شریک ہوا۔ بلکہ اپنے تھی۔ اس کے آباؤ اجداد یہود باقی قیدی کچھ بیچ ڈالے۔

صفحہ ٩١

و نے پوچھا کہ تم لوگوں نے یہ فساد کیوں کھڑا کیا ہوا ہے؟ تو حضرت قدوس محمد حسین بشروی سید الشہداء نے اس فتنہ کی ابتداء کی تھی۔ جس سے ہم الگ ہوئے ہیں۔ آپ نے حکم دیا تو سید الشہداء پر لعنت برسائی گئی۔ (مقولہ بکلام کچھ اور معنی رکھتا تھا جو صرف راز دان ہی سمجھ سکتے تھے۔ اس لئے یہ بھی شہزادہ نے حکم دیا کہ حضرت آپ اپنے مریدوں کو حکم دے دیں کہ ہتھیار رکھ بعض نے ہتھیار رکھ دیئے اور کسی نے نہ رکھے۔ کیونکہ آپ نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میرے کہنے پر ہتھیار نہ ڈالنا۔ مگر شہزادہ نے بہت زور دیا اور قدوس نے بھی ان کو یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ بداء ہے اور آپ کی رائے تبدیل ہو چکی ہے اور آپ نے بھی یہی حکم دیا تو مریدوں کو اور بھی یقین ہو گیا۔ اس لئے سب نے ہتھیار رکھ دیئے۔ اور منتظر رہے کہ ابھی ہمیں اپنے وطن کو جانے کا آرڈر دیا جاتا ہے۔ مگر جب یہ فتنہ فرو ہوا تو قدوس کو دعوت دی۔ جب آپ چادر سے نکلے ہی تھے کہ آپ کو اور آپ کے خواص بھی گرفتار کر لئے گئے۔ جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔ محمد علی، مرزا محمد صادق، محمد حسن خراسانی، نعمت اللہ آملی، محمد نصیر قزوینی، یوسف اور محمد حسین قمی اور باقی تمام قدوسی قتل کئے گئے۔ ( آپ کی پیشین گوئی یہ تھی کہ اس قدر خون چلے گا کہ گھوڑوں کے گھٹنے تک پہنچ جائے گا ) اور ان کی لاشیں نہ جلائی گئیں اور نہ دفن ہوئیں۔ اب قدوس کو بصد خواص کے بارفروش میں بھیجا گیا۔ حالانکہ خواص میں سے بھی کچھ آدمی وہیں معرکہ کارزار میں قتل کئے گئے تھے۔ مثلاً محمد حسن، مرزا حسن اور محمد نوری۔ اب قدوس نے طہران پہنچ کر بادشاہ سے درخواست کی اور شہزادہ ابھی اسی پر غور ہی کر رہا تھا کہ سیدالعلماء نے کہلا بھیجا کہ اسے ہرگز نہ ملانا کیونکہ یہ تو بادشاہ کا من باتوں ہی میں موہ لے گا۔ اس نے چار سو تومان (رشوت) دے کر قدوس کو خرید لیا اور قتل کرنا شروع کر دیا کہ پہلے تو دونوں کان کاٹے پھر تبر سے سر پھاڑ کر دو ٹکڑے کر دیا۔ اس کے بعد قتل گاہ میں بھیج دیا اور کپڑے اتار کر لوگ ان پر تھوکتے اور تحصیل ثواب کی خاطر آپ کو گھونسے مارتے تھے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا تھا کہ ایسے واقعات امام قائم کو پیش آئیں گے۔ آخر ایک شخص نے آپ کا سر بدن سے جدا کر دیا۔ مگر خون نہ نکلا تو کہنے لگا کہ میرے خوف سے خون خشک ہو گیا ہے۔ پھر آپ کی لاش جلائی گئی ہر چند بھٹی میں ڈالی گئی۔ مگر وہ نہ جلی۔ پھر ٹکڑے

ٹکڑے کر کے باہر پھینک دیئے۔ مگر آپ کی عقیدت مندوں نے تمام ٹکڑے جمع کر کے ایک ویران مدرسہ میں دفن کر دیئے۔ جس کے متعلق جناب نے ایک سال پہلے ہی جب یہاں سے کہیں جا رہے تھے فرمایا تھا کہ یہی میرا مقتل ہے اور یہی میرا مدفن ہے اور خطبہ ازلیہ میں آپ نے فرمایا تھا کہ میں خود اپنے آپ کو دفن کروں گا۔ اس سے مراد یہ تھی کہ مجھے کوئی دفن نہ کرے گا۔

دعوائے مسیحیت

اس لڑائی سے پہلے ایک سال جناب قدوس نے اپنے گھر والوں سے کہہ دیا تھا کہ اب کے سال مصائب آئیں گے۔ مگر تمہیں صبر کرنا ہوگا۔ آپ کے باپ کا نام آقا صالح تھا۔ جب اس نے پہلی شادی ایک باکرہ سے کی تو معلوم ہوا کہ تین ماہ کا حمل اس پیٹ میں موجود ہے تو آپ نوماہ کے بعد اپنے باپ کے گھر پیدا ہوئے اور ماں مر گئی۔ باپ نے دوسرا نکاح کیا۔ جس سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئی اور سوتیلی ماں نے آپ کی پرورش کی تھی۔ ایام فتنہ میں شہزادہ نے سب کو قید کر کے آپ کے والد سے کہا کہ قلعہ میں جا کر اپنے بیٹے سے کہو کہ دعوائے قدوسیت چھوڑ دو۔ آپ کا والد قلعہ میں آپ کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور عرض کرنے کو ہی تھا کہ آپ نے لفظ بلفظ شہزادہ کا حکم سنا دیا۔ پھر فرمایا کہ چلے جاؤ میں تمہارا بیٹا نہیں ہوں۔ (کیونکہ میں باکرہ کے پیٹ سے تمہارے پہلے نکاح سے پیدا ہوا ہوں ) تمہارا بیٹا وہی ہے جو دوسرے نکاح سے پیدا ہوا تھا۔ وہ ایک دن ہیزم فروش کی دکان کے پاس پہنچا تھا تو اسے اپنے گھر کا راستہ بھول گیا تھا۔ اس وقت سے وہ فلاں شہر میں موجود ہے۔ جاؤ اسے اپنا بیٹا بناؤ۔ میں تیرا نطفہ نہیں ہوں۔ میں تو مسیح ہوں جو باکرہ کے پیٹ سے تیرے گھر ظاہر ہوا ہوں اور تم کو مصلحت وقتی ملحوظ رکھ کر باپ بنا لیا تھا۔ باپ نے یہ تلخ جواب پا کر رجوع کیا اور شہزادہ سے ملتجی ہوا کہ جب میرا وہ بیٹا ہی نہیں ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ اس لئے شہزادہ نے اسے رہا کر دیا۔

قاتل قدوس

جناب قدوس کے قتل پر یہ حدیث صادق آئی کہ: ’’ان القائم تقتله سعيدة من اليهود في قارطہران‘‘ امام الزمان کو سعیدہ یہودن مقام طہران میں قتل کرے گی۔ یعنی سید العلماء اس کو مازندران میں قتل کرے گا۔ کیونکہ وہ زن سرشت تھا نہ کبھی جہاد میں نکلا اور نہ قلعہ کی لڑائی میں شریک ہوا۔ بلکہ اپنے گھر ہی خوف کھاتا رہا اور شاہی پہرا لگوا دیا تھا اور داڑھی بھی چھوٹی تھی۔ اس کے آباؤ اجداد یہودی تھے اور قارطہران سے مراد مازندران ہے۔ قتل قدوس کے بعد باقی قیدی کچھ بیچ ڈالے۔

صفحہ ٩٢

اسیران قدوس جیسے سید عبد العظیم اور ملا صادق علی خراسانی ، نصیر قزوینی، محمد حسین قمی اور کچھ بار فروش میں مار ڈالے اور کچھ ساری میں اور دو بابی نعمت اللہ و مرزا باقر خراسانی آمل میں قتل کئے گئے۔ مرزا باقر کو جب قتل کرنے لگے تو امیر المغضب یعنی جلاد کی زبان سے حضرت قدوس کے شان میں کچھ گندے لفظ نکلے تو مرزا نے فوراً اس کے ہاتھ سے حربہ لے کر اپنی بیڑیاں توڑ کر اس کو اسی کے حربہ سے مار ڈالا اور میدان میں شیر کی طرح گرجنے لگا تو سپاہی لوگوں نے دور سے اس پر تیر برسا کر مار ڈالا۔ (قادیانی تعلیم میں قدرت ثانیہ، دعوت مباہلہ، دعوت مناظرہ پیشین گوئیاں، بروز اور تناسخ میں فرق، دعویٰ مسیحیت، تکذیب و تصدیق، قتل سر فدایاں اور کلام فتنہ اور بداء سب کچھ موجود ہے۔ ناظرین غور سے پڑھیں)

باب ہفتم

جناب مؤمن ہندی نجباء میں سے تھے۔ آپ باب کی تلاش میں چہرق پہنچے تھے۔ جب آپ نے جناب باب سوم کو دیکھا تو یوں کہتے ہوئے سجدہ میں گر گئے کہ: ”هذا ربی “ اور جناب باب نے فرمایا کہ: ”أنا القائم الذی ظهر “ میں امام الزمان ہوں۔ جو بروزی طور پر ظاہر ہوا ہوں۔ اس کے بعد جناب کی طبیعت بابیہ کی طرف منتقل ہو گئی اور سلماس میں آگئے۔ جہاں لوگوں نے آپ کو سجدہ کیا اور آپ نے چالیس روز تک گلقند کے سوا کچھ نہیں کھایا۔ شہزادہ حاکم خوی کو خبر ہوئی تو آپ کو بمعہ دو ہمراہیوں کے ( ملا حسین خراسانی اور شیخ صالح عرب) گرفتار کر لیا اور شیخ صالح عرب وہی ہیں جو باب ثالث کی خدمت میں رہ چکے تھے۔ جناب ہندی سے جب پوچھا گیا تو آپ نے اعلان کر دیا کہ : ”اني انا القائم “ میں ہی امام الزمان ہوں تو شیخ صالح عرب کو تو درے مار مار کر مار ڈالا اور باقی دو صاحبوں کو درے لگا کر تشہیر کیا اور اس کے بعد صحراء میں چھوڑ آئے۔ تو جناب ہندی شہر ارذن الروم میں جا پہنچے اور لوگ وہاں پر بھی جمع ہو گئے اور بابیوں کی جمعیت موجود ہو گئی۔ انہی ایام میں کسی منافق نے اڑا دی کہ طہران پر بابی حملہ آور ہونا چاہتے ہیں۔ اس لئے بادشاہ نے حکم دیا کہ جو مشتبہ شخص حضرت باب کو لعنت بھیجے اسے چھوڑ دو ورنہ دوسرے کو مار ڈالو۔ یہ حکم سن کر ملا اسماعیل قمی عالم کربلا جو حضور کا مخلص عقیدت مند تھا۔ بابیوں میں اثنائے وعظ میں کہنے لگا کہ جب ہم نے حضور کی تصدیق کر لی ہے تو ہم کیسے لعنت کر سکتے ہیں۔ اس لئے میں تو قتل اختیار کروں گا اور جس کی مرضی ہو میرے ساتھ شامل ہو جائے تو چھ بابی آپ کے ہمراہ مرنے کو تیار ہو گئے۔ جن کے نام یہ ہیں۔ قربان علی درویش، سید محمد حسین ترشیزی اور سید

صفحہ ٩٢

علی جو حضور کا خالو تھا۔ ملا تقی کرمانی، مرزا محمد حسین تبریزی اور ایک مراغہ کا آدمی اور باقی تیس بابیوں نے اپنا مذہب پوشیدہ کر لیا تو یہ بچ گئے اور باقی قتل کئے گئے۔ قربان علی کو قتل کرنے لگے تو رشتہ داروں نے شور مچایا کہ یہ بابی نہیں ہے۔ ویسے ہی شبہ میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مگر اس نے زور سے اعلان کر دیا کہ میں بابی ہوں ۔ اب ساتوں کو قتل کر کے ایک ہی قبر میں دفن کر دیا گیا۔ جس جگہ یہ ساتوں دفن کئے گئے اس کو کواکب سبعہ کا مقام کہتے ہیں ۔ (مرزائی تعلیم میں اپنی موت کی خبر دعویٰ امامت اپنی تعلیم کو موجب نجات قرار دینا اپنے مذہب کی راز داری اور اپنا تقدس سب کچھ موجود ہے )

باب ہشتم

سید یحییٰ کو حضور نے تبلیغ کلمتہ الحق کا حکم دیا تھا ۔ تو آپ میں جلال اور انقطاع عن الخلق کے آثار نمودار ہو گئے۔ (گویا بابیت کا مرتبہ حاصل کر لیا ) آپ پہلے ہی کہا کرتے تھے کہ مجھے خوب معلوم ہے کہ مجھے کس نے قتل کرنا ہے اور مجھے کس جگہ مرنا ہے ۔ شہر یزد میں وارد ہوئے تو آپ نے تصریح کر دی۔ لوگ بیعت میں داخل ہوئے تو حاکم شہر نے گرفتار کرنے کو لشکر بھیجا۔ مگر ایک قلعہ میں پناہ گزین ہو گئے ۔ اس لئے لڑائی ہوئی۔ جس میں شاہی آدمی بیس تک مر گئے اور بابی صرف سات ہی مرے۔ کچھ دنوں بعد ہمراہیوں نے آپ کا ساتھ چھوڑ دیا تو آپ شیراز کو بھاگ گئے اور وہاں سے اپنے وطن مالوف تبریز میں پہنچے۔ جہاں آپ کی بیوی اور بال بچے تھے تو حاکم شہر نے ان کو شہر بدر کر دیا ۔ تو آپ نے ایک پرانے قلعہ میں پناہ لی ۔ جو شہر سے باہر تھا۔ ایک دفعہ مسجد میں منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا کہ ابن رسول ہوں اور میں سچ کہتا ہوں کہ تم میری مدد کرو۔ ورنہ میرے دادا کی شفاعت شامل نہ ہوگی ۔ تو ستر آدمی قلعہ میں جمع ہو گئے ۔ جن کو والی شہر نے محاصرہ میں لے لیا اور لڑائی ہوئی اور دشمن کو شکست ہوئی ۔ اس کے بعد شہزادہ فرہاد نے شیراز سے شاہی لشکر روانہ کیا۔ جس نے گھیرا ڈال لیا اور باہمی مقابلے شروع ہو گئے ۔ اخیر پر تنگ آکر حاکم شہر نے کہلا بھیجا کہ آپ قلعہ سے باہر آ جایئے اور امن و چین سے جو چاہیں کریئے تو آپ باہر آگئے اور سرکاری آدمیوں نے آپ کی نہایت تعظیم و تکریم کی اور گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ دوسرے دن حکم ہوا کہ آپ بارک سے باہر نہ جائیں۔ جب ہمراہیوں نے سنا تو کہنے لگے کہ یہ نبی ثابت ہوئے ہیں اور انہوں نے وہ کام کیا ہے جو خلیفہ مامون نے علی بن موسیٰ الرضا کے ساتھ کیا تھا۔ اس پر لڑائی چھڑ گئی تو سرکاری آدمیوں نے معافی مانگ کر کہا کہ کسی جاہل نے یہ حکم امتناعی جاری کر دیا تھا ۔ ورنہ ہم تو آپ کو باہر (بارک) سے روکنے والے نہیں ہیں۔ اس لئے آپ اپنے مریدوں

بد العظیم اور ملا صادق علی خراسانی ، نصیر قزوینی، محمد حسین قمی اور کچھ بار فروش ساری میں اور دو بابی نعمت اللہ و مرزا باقر خراسانی آمل میں قتل کئے گئے۔ نے لگے تو امیر المغضب یعنی جلاد کی زبان سے حضرت قدوس کے شان میں مرزا نے فوراً اس کے ہاتھ سے حربہ لے کر اپنی بیڑیاں توڑ کر اس کو اسی کے میدان میں شیر کی طرح گرجنے لگا تو سپاہی لوگوں نے دور سے اس پر تیر ئی تعلیم میں قدرت ثانیہ، دعوت مباہلہ، دعوت مناظرہ پیشین گوئیاں ، بروز نا مسیحیت، تکذیب و تصدیق ، قتل سر فدایاں اور کلام فتنہ اور بداء سب کچھ رے پڑھیں )

ن ہندی نجبا ء میں سے تھے ۔ آپ باب کی تلاش میں چہر یق پہنچے تھے۔ ب سوم کو دیکھا تو یوں کہتے ہوئے سجدہ میں گر گئے کہ: ”ہـذا ربـی“ اور :”انا القائم الذی ظہر“ میں امام الزمان ہوں ۔ جو بروزی طور پر ، بعد جناب کی طبیعت بابیت کی طرف منتقل ہوگئی اور سلماس میں آگئے۔ سجدہ کیا اور آپ نے چالیس روز تک کلقند کے سوا کچھ نہیں کھایا۔ شہزادہ پ کو بمعہ دو ہمراہیوں کے (ملا حسین خراسانی اور شیخ صالح عرب ) گرفتار کر ما ہیں جو باب ثالث کی خدمت میں رہ چکے تھے۔ جناب ہندی سے جب ن کر دیا کہ: ”انـی انـا القائم “ میں ہی امام الزمان ہوں تو شیخ صالح مار ڈالا اور باقی دو صاحبوں کو درے لگا کر تشہیر کیا اور اس کے بعد صحراء میں ی شہر ارذن الروم میں جا پہنچے اور لوگ وہاں پر بھی جمع ہو گئے اور بابیوں نہی ایام میں کسی منافق نے اڑادی کہ طہران پر بابی حملہ آور ہونا چاہتے نے حکم دیا کہ جو مشتبہ شخص حضرت باب کو لعنت بھیجے اسے چھوڑ دو ورنہ ن کربلا اسماعیل قمی عالم کربلا جو حضور کا مخلص عقیدت مند تھا۔ بابیوں میں کہ جب ہم نے حضور کی تصدیق کر لی ہے تو ہم کیسے لعنت کر سکتے ہیں۔ لروں گا اور جس کی مرضی ہو میرے ساتھ شامل ہو جائے تو چھ بابی آپ لئے ۔ جن کے نام یہ ہیں۔ قربان علی درویش، سید محمد حسین ترشیزی اور سید

صفحہ ٩٤

سے کہہ دیں کہ گھر چلے جائیں تو جب وہ اپنے اپنے گھر چلے گئے تو وہ فوراً شیخ کو گرفتار کر لیا اور جو کچھ تھا سب لوٹ لیا۔ لوگوں نے کہا کہ امیر غضب بڑا جابر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ میرا قاتل نہیں ہے۔ جب وہ آیا تو کہنے لگا کہ سید آل رسول کو میں قتل نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد آپ کے سامنے وہ آدمی پیش ہوا کہ جس کے دو بیٹے شیخ کے ہاتھ سے قتل ہو چکے تھے تو اس نے آکر گریبان پکڑ لیا اور دوسروں نے سنگ باری شروع کر دی۔ یہاں تک کہ آپ مر گئے تو امیر غصب نے آپ کی گردن کاٹ ڈالی اور آپ کے ہمراہیوں کی گردنیں اڑا دیں۔ پھر لاشوں میں بھوسہ بھر کر سروں کے ہمراہ سب کی تشہیر کر دی۔

واقعہ زنجان

روایت ہے کہ جناب ذکر نے جب بابیت کا دعویٰ کیا تھا تو آپ نے محمد علی سے امامت جمعہ کا حکم فرمایا۔ کیونکہ فروع (فقہ شیعہ) میں لکھا ہوا ہے کہ بلا اجازت باب کے کوئی امام جمعہ نہیں بن سکتا۔ اس لئے گڑبڑ مچ گئی۔ کیونکہ حاکم شہر نے باب کو ضیافت کے بہانہ سے گھر بلا کر گرفتار کر لیا تو لوگ اس کے گھر پر ٹوٹ پڑے۔ اس لئے مجبوراً اسے چھوڑنا پڑا اور آپ نے ہزار آدمی کی معیت میں ایک قلعہ پر قبضہ جما لیا اور لڑائی شروع ہو گئی۔ جس میں دشمن کو بار ہا شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ نصف زنجان پر بابیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اب انہوں نے انیس سنگر (دمدمے) بنائے اور ہر ایک سنگر پر انیس انیس آدمی اسم واحد کے برابر مقرر کئے تو پانچ وقت مناجات کا انتظام یوں ہوا کہ ایک کہتا تھا اللہ ابھا اور دوسرے اس کی پیروی کرتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ترانوے دفعہ اسم محمد کے برابر یہ اسم دہرایا جاتا تھا۔ مگر جب لڑائی سخت زور پکڑ گئی تو کمزور چلے گئے اور باقی تین سو کے قریب بابی قائم رہے اور دشمن کے لشکر میں سے بھی کچھ بابی بن گئے۔ جیسے سید حسین فیروز کوہی اور کچھ مستورالا یمان ہو گئے۔ جیسے جعفر قلی خان وغیرہ کیونکہ اس نے کہا کہ مجھے روس کے مقابلہ پر جانا ہے۔ سادات اور فقراء کے مقابلہ پر مجھے حکم نہیں ہوا۔ کر دی فوج نے بھی دشمن کا ساتھ چھوڑ دیا۔ کیونکہ ان کے افسر نے کہا کہ امام الزمان کے ظہور کا یہی وقت ہے۔ چنانچہ ایک علامت سلطان ناصر الدین کے عہد میں ظاہر ہو چکی ہے کہ بازکوراں کا داخلہ دربار میں ہوگا۔ کر د قوم کے مذہبی اشعار بھی ہیں۔ جن میں تاریخ ظہور امام معین تھی اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ صاحب الزمان خود خدا ہی ہے۔ اس لئے اس فرقہ کو علی الٰہی کہتے ہیں۔ شیخ کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ اے صاحب الزمان گو اس وقت ہم آپ کی امداد نہیں کر سکتے۔ مگر آپ کی باقی رحمتوں میں ہم ضرور کوشش کر کے آپ کی اعانت کریں گے۔ بہر حال دشمن کی جمعیت تیس ہزار سے اوپر ہو گئی اور برابر نو ماہ تک

صفحہ ٩٥

یہ فساد قائم رہا۔ بابی صرف تین سو ساٹھ تھے۔ اس لئے باب نے حکومت کو لکھا کہ ہم سلطنت کے طلب گار نہیں ہیں۔ بلکہ ہمارا مقصد تو صرف دین الٰہی ہے۔ اس لئے تمہارا فرض ہے کہ علمائے اسلام کو ہم سے مناظرہ کے لئے جمع کریں۔ تا کہ حق ظاہر ہو جائے۔ ورنہ ہمیں آزاد کر دیا جائے تا کہ ہم کسی دوسری جگہ چلے جائیں۔ مگر حکومت نے کہا کہ ہم لڑائی ہی کریں گے۔ تب ممالک غیر سے سفارتیں بھی آئیں۔ مگر مفید نہ پڑیں۔ اس کے بعد روم و روس کے سفیر باب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ ہمارا ان لوگوں سے ظہور جثہ کے متعلق تنازع ہے۔ جس کا فیصلہ تین طریق سے ہو سکتا ہے کہ یا تو دس روز کا مباہلہ کریں یا مناظرہ کریں اور یا جلتی آگ میں داخل ہو کر صحیح و سلامت نکل کر دکھلائیں۔ مگر پھر بھی حکومت نے لڑائی کو جاری رکھا۔ دونوں سفیر واپس چلے گئے۔ لڑائی شروع ہو گئی۔ ایک دفعہ حضرت باب سنگر پر چڑھے تو ایک سپاہی نے دور سے آپ کو تیر کا نشانہ بنایا تو آپ وہیں سرد ہو گئے۔ اب بابی لڑتے تھے۔ مگر ان کا سردار کوئی نہ تھا۔ جس سے دشمن کو کمال حیرت ہوئی کہ یہ لوگ اپنے مذہب پر کس جانفشانی سے لڑ رہے ہیں تو پھر ان کو امن دے کر حکم دیا کہ قلعہ سے باہر آ جائیں تو نکلتے ہی ان کو مار ڈالا اور حضرت باب کی لاش کو جلا دیا۔ بابیوں کے بال بچے غلام بنائے گئے۔ مال لوٹ کھسوٹ سے برباد کئے گئے تو اس وقت حدیث فاطمہ کی صداقت ظاہر ہو گئی کہ: ” الداعی الی سبیلی والخازن لعلمی ھو الحسن واکمل ذلک بابنہ محمد . وھو رحمۃ للعلمین . علیہ کمال موسیٰ وبھاء عیسیٰ وصبر ایوب فتذل اولیاؤہ فی زمانہ وتتھادی روسھم کرؤس الدیلم یقتلون ویحرقون ویحرقون مرعو بین وجلین . وتضبع الارض بدمائھم وتظھر الرنۃ والویل فی نسائھم اولئک اولیائی حقاً بھم ادفع کل فتنۃ عمیاء وبھم اکشف الزلازل والاصال والا غلال اولئک علیھم صلوۃ من ربھم ورحمۃ واولئک ھم المھتدون“ میرے مسلک کی طرف دعوت دینے والا اور میرے علم کا خزانچی وہ حسن ہے اور اس کی تکمیل اس کے بیٹے محمد سے ہوئی ہے۔ وہ رحمۃ للعالمین ہے۔ اس میں کمال موسوی ہے اور جلال عیسوی اور صبر ایوبی اس کے تابعدار ذلیل ہوں گے۔ ان کے سر کافروں کی طرح پھرائے جائیں گے۔ ان کو خوفزدہ حالت میں ان کو جلایا جائے گا۔ زمین ان کے خون سے رنگین ہوگی۔ گریہ زاری ان کی عورتوں میں ظاہر ہوگی۔ میرے سچے تابعدار وہی ہیں۔ ان کے طفیل ہر ایک سیاہ فتنہ دفع ہوگا اور ان کی ذریعہ سے تکالیف دور ہوں گی۔ ان پر خدا کی رحمت ہوگی اور وہی ہدایت یافتہ ہوں گے۔

صفحہ ٩٦

باب نہم....... صبح ازل

جناب ازل کا باپ اراکین سلطنت کا ایک ممتاز فرد تھا۔ جب آپ پیدا ہوئے تو والدہ آپ کی چنداں پروا نہیں کرتی تھی۔ آپ کے بھائی حضرت بہاء کہتے ہیں کہ میری والدہ نے بیان کیا کہ مجھے ایک دفعہ حضور علیہ السلام اور حضرت علی علیہ السلام خواب میں آئے اور فرمایا کہ: ”اس بچہ کی خوب پرورش کرو۔ یہ ہماری ملکیت ہے۔ پھر امام قائم کے سپرد کر دینا۔“ تب سے والدہ نے کمال محبت سے پرورش کی تو آپ خوردسالی تک فارسی سے کمال رغبت تھی اور عربی سے کچھ میلان بھی نہ تھا تو آپ کی والدہ وفات پا گئیں اور آپ کی پرورش آپ کے بھائی جناب بہاء اللہ نے کی۔ (قول مؤلف) ایک دفعہ میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو اس سلسلہ میں کیسے میلان ہوا۔ تو آپ نے فرمایا کہ ایک دفعہ میرے بھائی جناب بہاء نے چند مہمانوں کی اپنے گھر پر دعوت کی تو میں نے دیکھا کہ وہ آپس میں حضرت ذکر (رب اعلیٰ) کا تذکرہ کر رہے تھے اور آہ آہ کی آواز سے مناجاتیں دھراتے تھے تو میرے قلب پر گہرا اثر ہو گیا اور جناب ذکر نے جب اپنے عقیدت مندوں کو خراسان میں جمع ہونے کا حکم دیا تو جناب ازل نے بھی وہاں شامل ہونے کا ارادہ کر لیا۔ مگر جناب بہاء نے آپ کو روک دیا۔ کیونکہ آپ ابھی پندرہ سالہ لڑکے تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ کے رشتہ دار مازندران کو گئے تو آپ کا ارادہ ہوا کہ ان کے ہمراہ چلے جائیں اور وہاں سے خراسان کو سفر کریں۔ مگر جب آپ کے بھائی جناب بہاء حضرت طاہرہ سے مشرف ہوئے اور ارض قدس کی طرف کوچ کیا تو انہوں نے آپ کو پانچ سو تومان تک مالی امداد دی اور آپ کچھ عرصہ سبزوار میں رہے اور وہیں حضرت قدوس کی زیارت سے مشرف بھی ہوئے اور آپ کے اصحاب میں شمار ہونے لگے۔ فتنہ بدشت میں بھی آپ شریک کار تھے اور جناب کی محبت میں اپنا مال خرچ کر ڈالا تھا۔ جب بارفروش کو واپس آئے تو راستہ میں آپ کو جناب قدوس کی خدمت میں شرف باریابی حاصل ہوا تو جناب نے آپ کو خلوت میں بٹھا کر خطبہ دیا اور مناجاتیں گا کر سنائیں۔ اس لئے آپ جناب کے دلدادہ ہو گئے۔ اس کے بعد بارفروش کو آئے اور وہاں طاہرہ سے ملاقات ہوئی۔ مگر اس کے بعد جناب قدوس کی زیارت سے مشرف نہ ہو سکے۔ جناب طاہرہ نے آپ کو اپنے زیر تربیت عالم شباب تک پہنچایا۔ (قول مؤلف) جب جناب قدوس قلعہ میں محصور تھے تو امداد کی خاطر دونوں بھائی (جناب ازل وبہاء) قلعہ کو روانہ ہوگئے۔ میں بھی ساتھ ہی تھا۔ ہم تینوں کو دشمنوں نے گرفتار کر کے آمل میں پہنچا دیا۔ راستہ میں حضرت ازل رات کے وقت ایک گاؤں میں روپوش ہو گئے تھے۔ جو آمل سے دو فرسنگ کے فاصلہ پر تھا اور صبح کے وقت آپ کو اہل قریہ نے

صفحہ ٩٧

باپ اراکین سلطنت کا ایک ممتاز فرد تھا۔ جب آپ پیدا ہوئے تو والدہ گئی تھی۔ آپ کے بھائی حضرت بہاء کہتے ہیں کہ میری والدہ نے بیان علیہ السلام اور حضرت علی علیہ السلام خواب میں آئے اور فرمایا کہ: ”اس ہماری ملکیت ہے۔ پھر امام قائم کے سپرد کر دینا۔“ تب سے والدہ نے تو آپ خردسالی تک فارسی سے کمال رغبت تھی اور عربی سے کچھ میلان وفات پاگئیں اور آپ کی پرورش آپ کے بھائی جناب بہاء اللہ نے دفعہ میں نے آپ سے پوچھا کہ آپ کو اس سلسلہ میں کیسے میلان ہوا۔ دفعہ میرے بھائی جناب بہاء نے چند مہمانوں کی اپنے گھر پر دعوت کی تو میں حضرت ذکر ( رب اعلیٰ) کا تذکرہ کر رہے تھے اور آہ آہ کی آواز تو میرے قلب پر گہرا اثر ہو گیا اور جناب ذکر نے جب اپنے عقیدت ہونے کا حکم دیا تو جناب ازل نے بھی وہاں شامل ہونے کا ارادہ کر لیا۔ روک دیا۔ کیونکہ آپ ابھی پندرہ سالہ لڑکے تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ تو آپ کا ارادہ ہوا کہ ان کے ہمراہ چلے جائیں اور وہاں سے خراسان کے بھائی جناب بہاء حضرت طاہرہ سے مشرف ہوئے اور ارضِ قدس نے آپ کو پانچ سوتومان تک مالی امداد دی۔ وہاں کچھ عرصہ سبزوار میں اس کی زیارت سے مشرف بھی ہوئے اور آپ کے اصحاب میں شمار بھی آپ شریک کار تھے اور جناب کی محبت میں اپنا مال خرچ کر ڈالا آئے تو راستہ میں آپ کو جناب قدوس کی خدمت میں شرف باریابی پ کو خلوت میں بٹھا کر خطبہ دیا اور مناجاتیں گا کر سنائیں۔ اس لئے گئے ۔ اس کے بعد بارفروش کو آئے اور وہاں طاہرہ سے ملاقات ہوئی۔ اس کی زیارت سے مشرف نہ ہو سکے۔ جناب طاہرہ نے آپ کو اپنے پہنچایا۔ (قول مؤلف ) جب جناب قدوس قلعہ میں محصور تھے تو امداد کی ازل و بہاء) قلعہ کو روانہ ہو گئے۔ میں بھی ساتھ ہی تھا۔ ہم تینوں کو اس میں پہنچا دیا۔ راستہ میں حضرت ازل رات کے وقت ایک گاؤں میں اسے دو فرسنگ کے فاصلہ پر تھا اور صبح کے وقت آپ کو اہل قریہ نے

آمل پہنچا دیا تھا۔ مگر جب راستہ میں جارہے تھے تو مناجات اور اشعار میں مستغرق تھے تو آمل کے حاکم شرع نے سب کو حد تعزیر لگائی اور جناب ازل کو صحیح سلامت چھوڑ دیا تو سیدھے گھر واپس آگئے۔ (قول مؤلف ) میں آپ کا خاص راز دار تھا۔ اس وقت باب کو حجیت کا دعویٰ نہ تھا۔ مگر حضرت قدوس کی مناجاتوں کا آپ کو شغف کمال تک پہنچ چکا تھا۔ آپ کے بھائی صاحب کو خیال ہوا کہ آپ کو طہران بھیجا جائے۔ کیونکہ گھر پر خطرہ تھا۔ چنانچہ آپ طہران کو روانہ ہو گئے اور جب چالیس روز کا سفر طے کر چکے تو جناب قدوس کی وفات کی خبر آپ کو پہنچ گئی تو آپ کو اس غم سے تین روز بخار رہا۔ اس کے بعد آپ میں رجعتِ قدوس نمودار ہوگئی اور آپ نے حجیت کا اعلان کر دیا اور جناب ذکر کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ کو کمال خوشی ہوئی۔ جناب نے آپ کی طرف قلمدان دوات اور کاغذ معہ تحریرات خاصہ کے روانہ کر دیئے اور خاص لباس بھی آپ کو پہنا دیا۔ اپنی انگوٹھی بھی آپ کو دے دی اور وصیت فرمائی کہ آپ بیان ہشت واحد لکھیں۔ یہاں تک کہ: ”مَن یُظْهِرُ اللّٰهُ“ کا ظہور ہو تو اس وقت اس بیان کو منسوخ کر دو۔ اس کے بعد جناب باب ( حضرت ذکر ) کو اپنے قتل کے حالات معلوم ہو گئے۔ چنانچہ شاہی حکم سے آپ کو چہریق سے تبریز پہنچایا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں امام قائم ہوں اور میرے دلائل صداقت میرے خطبے ہیں اور مناجات ہیں تو تین روز آپ کو حوالات میں رکھا۔ اس وقت دو بھائی حسن وحسین بھی آپ کے ہمراہ تھے۔

قتل جناب ذکر

جناب حسین آپ کی خاص خدمت وحی کی کتاب پر مقرر تھے اور آپ کے کاتب السر کہلاتے تھے۔ جناب باب نے اپنی کتاب بیان میں لکھا ہے کہ حسین سے اس کتاب کے معارف حاصل کرو۔ محمد علی اور سید احمد بھی آپ کے خاص مرید تھے جو تبریز میں آپ کی تبلیغ کرتے تھے اور آپ نے ان کو بھی اتمام حجت کے لئے خطبے لکھ کر دیئے تھے۔ مگر جب حاکم تبریز کو خبر ملی تو اس نے مبلغین بابیہ کی توہین کی اور جناب باب کے آنے تک ان کو بھی حوالات میں رکھا تھا۔ جناب باب نے اپنی شہادت سے پہلے ایک دن اپنے اصحاب سے کہا کہ تم خود مجھے مار ڈالو تاکہ دشمن کے ہاتھ سے نہ مروں تو محمد علی نے اس پر آمادگی ظاہر کی۔ تاکہ ”الامر فوق الادب “ پر عملدرآمد ہو جائے۔ مگر باقی اصحاب نے روک دیا۔ اس نے کہا کہ میں تو آپ کا حکم ماننے کو تھا اور چاہتا تھا کہ آپ کو شہید کر کے خود کشی کر لوں تو جناب باب نے مسکرا کر اظہار خوشنودی فرمایا۔ ثم! آپ نے اپنے اصحاب کو عموماً اور محمد حسین کو خصوصاً حکم دیا کہ تقیہ کرو اور مجھ پر لعنت بھیجو۔ مگر محمد علی نے کہا کہ

صفحہ ٩٨

میں تو آپ کے ہمراہ قتل ہو جاؤں گا تو آپ نے اس کو منظوری دے دی۔ اس کے بعد باب کی تشہیر کر کے مقتل میں لائے تو محمد علی کو باب کے سامنے یوں قتل کیا کہ پہلے اس سے کہا کہ توبہ کرو اور رشتہ داروں نے کہا کہ وہ دیوانہ ہے۔ اس لئے اسے چھوڑ دو۔ مگر اس نے کہا کہ میں ضرور باب کے ہمراہ قتل ہوں گا۔ تو باب کی رضامندی بھی ہو گئی۔ پھر باب کو زنجیروں میں جکڑ کر تیر برسائے۔ مگر وہ سارے زنجیروں پر پڑے اور زنجیر ٹوٹ گئے تو حضرت باب صحیح سلامت پاس ہی ایک حجرہ تھا۔ اس میں جا گھسے اور جب غبار ختم ہوا۔ دیکھا تو باب وہاں نہ تھے۔ کہنے لگے کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ آپ حجرہ میں ہی موجود ہیں۔ تب آپ نے لوگوں سے منت سماجت کی اور وعظ و نصیحت شروع کیا۔ مگر کسی نے نہ سنی اور دوسری دفعہ زنجیروں میں باندھ کر تیر برسائے تو آپ کو عدد علی کے برابر تین تیر لگے۔ جن سے آپ کی وفات ہوئی۔ بقول شخصے دوسری دفعہ تیر چلانے والے آرمینیہ کے رہنے والے عیسائی سپاہی تھے۔ بہر حال آپ کی لاش دو دن تک وہیں پڑی رہی اور تیسرے دن دفن کی گئی۔ مگر آپ کے مریدوں نے محمد علی اور باب دونوں کی لاشیں نکال کر ریشم میں لپیٹ کر وہاں دفن کر دیں۔ جہاں وحید ثانی نے حکم دیا تھا۔ جہاں آج کل ان پر گنبد موجود ہیں اور لوگ ان کی زیارت اور طواف کرتے ہیں۔

باب دہم ...... ذبیح

اس کے بعد جناب ازل نے اعلان کیا کہ میرا بروز ایک جوان میں ہوگا۔ ”هو شاب ابن ثماني عشرة سنة شكله مليح شغله قناد اسمه ذبیح “. جو خوش شکل قند فروش ١٨ سالہ ہوگا۔ کواکب سبعہ کا غروب ٢٧ میں ہوا تھا اور ذبیح کا ظہور سنہ سات میں ہوا تھا۔ پس صبح ازل نے اس میں تجلی ظاہر کی اور جوان نے کہا کہ: ”انی انا الله ، لا اله الا انا“ مگر جناب ازل کو کچھ معلوم نہ تھا۔ بلکہ آپ کو آپ کے احباب نے اس بروز کی خبر دی تھی اور جب آپ سے سوال ہوا تو فرمایا کہ مجھ سے نہ پوچھو میں تو اپنے سوا تمہارا رب کسی کو نہیں جانتا۔ پھر فرمایا کہ اگر مدعی جامع شرائط حجیت ہو تو انکار نہ کرو۔ جناب ذکر کا یہ دعویٰ تھا کہ میں چھ گھنٹہ میں ایک ہزار شعر نظم کر سکتا ہوں اور میں تین گھنٹہ میں ایک ہزار شعر کہہ سکتا ہوں اور جو آج مدعی بابیت ہے اس کا فرض ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ میں ایک ہزار شعر نظم کر سکے۔ اب آپ کے پاس ذبیح کے متعلق شکایات کا تانتا بندھ گیا۔ یہاں تک کہ جناب ازل کو ذبیح کی طرف لکھنا پڑا کہ تین میم اختیار کرو اور اشارہ یہ تھا کہ مگو و منویس و منشین با اصحاب تو ذبیح نے اپنا دعویٰ ظاہر کرنا چھوڑ دیا۔

صفحہ ٩٩

باب یاز دہم، بصیر

شجرہ ازلیہ کی دوسری شاخ جناب بصیر ہیں۔ جو ایک ہندوستانی سید شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور جن کا مورث اعلیٰ سید جلال تھا۔ ابھی سات سال کے تھے کہ چیچک سے آپ کی بینائی جاتی رہی۔ جب بیس سال کے ہوئے تو حج کو تشریف لے گئے۔ پھر کربلا گئے اور امام قائم کی تلاش میں ایران پہنچے۔ کیونکہ آپ نے اپنے بزرگوں سے ظہور امام کا یہی وقت معلوم کیا ہوا تھا۔ مگر آپ کو امام کی زیارت نصیب نہ ہوئی۔ اس لئے واپس بمبئی آگئے اور وہاں پر یہ معلوم ہوا کہ ایران میں ایک آدمی نے امامت کا دعویٰ کر دیا ہے تو فوراً آپ نے اسی طرف سفر کیا۔ مگر امام صاحب اس وقت حج کو جا چکے تھے۔ اس لئے آپ بھی پیچھے ہولئے اور مسجد حرام میں امام صاحب سے ملاقات حاصل کی اور مقام قائم آپ پر منکشف ہوا تو آپ نے جناب امام کی صداقت پر ایمان قبول کر لیا اور واپس ایران آکر شہر بشہر تبلیغ شروع کر دی اور جب مازندران کا واقعہ پیش آیا تو آپ اس وقت نور کے مضافات میں مصروف تبلیغ تھے۔ آپ نے ہر چند کوشش کی کہ امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوں۔ مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اس لئے اسم اعظم اعلیٰ (حضرت قدوس) کی خدمت میں کچھ عرصہ تک حاضر رہے اور آپ میں جذب ہو گئے۔ مگر جب اہل قلعہ کی جمعیت پراگندہ ہو گئی تو آپ بھی مرزا مصطفےٰ کردی کے ہمراہ گیلان کو چلے گئے۔ راستہ میں موضع انزل میں فروکش ہوئے تو وہاں کے باشندوں نے بری طرح سے آپ کو نکال دیا اور کھانا بھی نہ دیا۔ یہ جب دونوں بزرگ وہاں سے روانہ ہو گئے تو بستی میں آگ لگ گئی اور لوگوں کا بہت بڑا نقصان ہو گیا۔ پھر جناب قزوین پہنچ کر ارض قدس میں دونوں بھائیوں (الوحیدین الازل والبہاء) کی خدمت میں شرفیاب ہوئے۔ حضرت بہاء نے پہلے تو استغناء دکھایا مگر جب آپ کا خلوص نیت دیکھا تو آپ نے تربیت شروع کر دی۔ چنانچہ آپ کی ہیکل میں جناب کی ربوبیت ظاہر ہونے لگی۔ انہی ایام میں حضرت ذبیح سے بھی وہیں آپ کا تعارف ہوا اور نہ اس سے پہلے گفت وشنید بھی نہ تھی اور جب باہمی تبادلہ خیالات ہوا تو آپ ذبیح میں جذب ہو گئے۔ اب جناب بصیر کو مقام فنا حاصل ہو گیا اور دعویٰ کیا کہ میں بروز حسنؓ ہوں اور مجھ میں رجعت حسینیہ ہے اور اسی مضمون پر آپ نے وعظ و نصائح کہنے شروع کر دیئے اور خطبات توحید انشاء فرمائے۔ کچھ عرصہ بعد آپ نے دونوں بھائیوں (ازل وبہاء) کی خدمت میں ایک مخلصانہ عریضہ ارسال کیا۔ جس کے جواب میں حضرت ازل نے آپ کو ”الابصر الابصر“ کے عنوان سے ممتاز فرمایا اور ارشاد کیا کہ: ”انی قد اصطفيتك بين الناس“ تو ارض قدس میں آپ سے خوارق اور معجزات ظاہر ہونے لگے

صفحہ ١٠٠

اور کثیر التعداد لوگوں نے اطاعت قبول کر لی اور اسرار پنہانی کی خبر بھی دیتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک کتا دیکھا کہ وہ زور سے لمبی آواز کے ساتھ بھونک رہا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس میں فلاں بدکار آدمی کی رجعت ہے اور متوفی مذکور کے تمام علامات بھی بتا دیئے۔ اس کے بعد ارضِ نور سے نقطۃ الکاف (شہر کاشان) میں آئے۔ جہاں نقطۃ الکاف (حاجی کاشانی مؤلف کتاب نقطۃ الکاف) کے گھر قیام کیا اور نقطہ اور بصیر میں کشمکش اور جذب و انجذاب شروع ہو گیا۔ مگر آخر نقطہ بصیر میں جذب ہو گیا۔ عقیدت مند سب مرتد ہو گئے۔ مگر نقطہ اپنی حالت پر قائم رہا۔ اس کے بعد آپ کا جناب عظیم سے مناظرہ چھڑ گیا۔ جس میں جناب عظیم نے اپنا ثبوت یوں پیش کیا کہ: ”انا باب الحضر تين وجليب الشمس الازلية والسلطان المنصور بنصوص عدیدۃ“ میں جناب ازل اور سلطان منصور کی متعدد اور صاف تحریرات سے بیعت لینے پر مامور ہوا ہوں۔ اس لئے تمہارا فرض ہے کہ تم میری اطاعت کرو۔ جناب بصیر نے جواب دیا کہ بیشک آپ سچ کہتے ہیں۔ مگر جو کچھ بھی آپ نے فرمایا ہے۔ عند النقطہ صرف دو امر ہیں۔

کہ آپ کی طرف سے ہوا ہے اور مجھے بھی یہ دونوں فخر حاصل ہیں۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میری عبودیت جناب کی عبودیت سے بڑھی ہوئی ہے۔ اس لئے آثار ربوبیت میری ذات میں آپ کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔ اب جناب عظیم خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگے یا تو اس لئے کہ آیت فتنہ ظاہر ہو اور یا اس لئے کہ یہ مناظرہ درجہ کمال تک نہیں پہنچا تھا۔ اس کے بعد مریدوں نے حضور (ازل) کے پاس شکایات روانہ کیں کہ یہ شخص فلاں فلاں کا مدعی ہے تو آپ نے حضرت بصیر کو خط لکھا کہ: ”آيا بصير هل فيك بصيرة القلب موجودة ام تقول بمحض التقلید“ ارے کچھ نور باطن بھی رکھتے ہو یا ایسے ہی اندھی تقلید ہے؟ اب یہ خط بابیوں کے لئے دوسرا فتنہ بن گیا۔ جو چھ ماہ تک قائم رہا اس کے بعد دونوں میں صلح و صفائی ہوئی تو بابیوں کو چین آیا اور ان دونوں ظہوروں سے فیض حاصل کرنا شروع کر دیا۔ جناب ذکر نے جناب عظیم کو دو ظہوروں کی بشارت دی تھی۔ اوّل ظہور حسنی (یا بقول شخصے ظہور یحییٰ) دوم ظہور حسینی اور فرمایا تھا کہ یہ دونوں ظہور اپنی اپنی ماں کے پیٹ میں چھ ماہ سے زائد نہ ٹھہریں گے۔ ان کے علاوہ اور بھی آپ کے ظہور ہیں جیسے ظہور فی ارض الطاء، ظہور ارض الفاء، ظہور فی بغداد۔ جس کو سید علو بھی کہتے ہیں اور ظہور اقا محمد کراوی وغیرہ یہ لوگ سب کے سب صاحب آیات ہیں اور ان کے پاس اپنی اپنی

صفحہ ١٠١

صداقت کے پختہ بینات اور دلائل ہیں۔" انتہی اقتباس کتاب نقطة الكاف فی تاريخ البابية الذی عنوانه المطبوع ھکذا ”نقطة الكاف در تاریخ ظهور باب و وقائع ہشت سال اول از تاریخ بابیہ تالیف ۔ حاجی مرزا کاشانی مقتول در ١٢٦٨ء بسعی و اہتمام ایڈورڈ براؤن پروفیسر زبان ۔ (شیریں بیاں) فارسی در دارالفنون کیمرج از بلاد انگلستان و طبع گردید، در مطبع بریل در لیدن از بلاد ہالنڈ ١٩١٠ء

٥....... انتخاب مقالہ شخصی سیاح کہ در تفصیل قضیہ باب نوشتہ است

جناب باب (غرہ محرم سنہ ١٢٣٥ھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ سید تاجر سید محمد رضا شیرازی کے بیٹے تھے۔ چھوٹی عمر میں ہی آپ کے والد ماجد انتقال کر گئے تھے تو اپنے ماموں مرزا سید علی تاجر کے پاس شیراز میں تربیت پائی۔ جوان ہو کر اپنے ماموں کے ساتھ ہی تجارت کرتے رہے۔ جب پچیس سال کے ہوئے تو آپ نے بابیت کا دعویٰ کیا کہ میں ایک مرد غائب کی دعوت دیتا ہوں جو ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ پھر سورہ یوسف کی تفسیر لکھی۔ جس میں مرد غائب سے استمداد کی۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ : ”یا بقیة الله قد فدیت بکلی لک ورضیت السب فی سبیلک وما تمنيت الا القتل فی محبتک، وکفی بالله العلی معتصماً قدیماً“ اس کے علاوہ بہت سے وعظ، مناجات اور تفسیر آیات قرآنیہ بھی آپ نے تصنیف فرمائیں۔ جن کا نام صحائف الہامیہ اور کلام فطری رکھا۔ مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ آپ نے وحی کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ مگر چونکہ آپ نے مدارس میں تعلیم نہیں پائی۔ اس لئے آپ کے اس تبحر علمی کو وحی تصور کر لیا گیا۔ آپ کے معتقدین (مرزا احمد ازغندی، ملا محمد حسین بشروی، ملا محمد صادق مقدس، شیخ ابوتراب اشتہاروی، ملا یوسف اردبیلی، ملا جلیل اورمی، ملا مہدی کندی، شیخ سعید ہندی، ملا علی بسطامی وغیرہ) نے آپ کو رکن ”رابع“ اور ”مرکز سنوح حقائق“ کا خطاب دیا ہوا تھا اور اطراف ایران میں آپ کی دعوت و تبلیغ دینے میں مصروف ہو گئے تھے۔ جب حج کر کے جناب بوشہر پہنچے تو شیراز میں شور برپا ہو گیا اور جمہور العلماء نے آپ کو واجب القتل قرار دے دیا۔ آپ کے تین مبلغ تھے۔ (محمد صادق، مرزا محمد علی بارفروشی اور ملاعلی اکبر اردستانی) ان کو حاکم فارس حسین خان اجودان باشی نے علمائے اسلام کے حکم سے تعزیر لگائی اور تشہیر کر کے کمال توہین کی اور جناب باب کو بلوا کر مجبور کیا کہ آپ اپنا دعویٰ چھوڑ دیں۔ مگر آپ نے انکار کر دیا۔ اس لئے اس نے آپ کو تھپڑ رسید کر کے پگڑی

صفحہ ١٠٢

اتار ڈالی اور حکم دیا کہ اپنے ماموں کے گھر نظر بند رہیں۔ دوسری دفعہ پھر بلوا کر ترک دعویٰ کے لئے حکم دیا۔ مگر آپ نے اس وقت ایسی تقریر کی کہ سامعین نے یقین کر لیا کہ واقعی امام غائب سے آپ کو تعلیم ملتی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں امام منتظر کے لئے باب نہیں ہوں۔ بلکہ ایک اور شخص (بہاء اللہ) کے لئے تبلیغی وسیلہ ہوں۔ محمد علی شاہ قاجار نے اپنے معتمد الدولہ سید یحییٰ دارابی کو حالات دریافت کرنے کو بھیجا تو پہلی دو صحبتوں میں صرف تبادلہ خیالات ہی ہوتا رہا۔ مگر تیسری صحبت میں معتمد نے سورہ کوثر کی تفسیر کی درخواست کی جو آپ نے فوراً لکھ دی۔ جس سے جناب معتمد حیران رہ گئے اور شہر بروجرد میں جا کر سب سے پہلے اپنے باپ سید جعفر شہیر کشفی کو تبلیغ کی۔ پھر مرزا لطف علی کو تمام واقعات لکھ کر کہا کہ سلطان کی خدمت میں پیش کر دیں اور خود کمال اشتیاق سے اطراف ایران میں دعوت دینے لگے کہ لوگوں نے آپ کو مجنون سمجھا اور آپ کے کلام کو سحر کہنے لگے۔

واقعہ زنجان

اس کے بعد زنجان میں ملا محمد علی بڑے مشہور عالم تھے۔ انہوں نے ایک معتبر آدمی کے ذریعہ حالات دریافت کئے تو جناب باب نے آپ کو اپنی تصانیف بھیج دیں۔ جن کو پڑھ کر ملا صاحب نے فرمایا کہ: ”طلب العلم بعد الوصول الی المعلوم مذموم“ جب مطلب حل ہو گیا تو اب پڑھائی کیسی اور تحریری بیعت کر لی۔ جس کے معاوضہ میں حضرت باب نے کہلا بھیجا کہ میری طرف سے زنجان میں ضرور جمعہ قائم کرو۔ مگر زنجان میں سخت مخالفت ہوئی اور سلطان نے ملا صاحب کو اپنے دربار میں بلوا کر علمائے اسلام سے مناظرہ کرایا۔ جس میں ملا صاحب غالب رہے اور سلطان نے پچاس تومان دے کر واپس زنجان بھیج دیا۔ اب سلطان کو کہا گیا کہ باب کو قتل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ سخت فساد ہوگا۔

پہلا مقابلہ شیراز میں

اس لئے باب نے اپنے معتقد جمع کر لئے اور داروغہ کو حکم ہوا کہ رات کو باب پر چھاپا مار کر تمام کو قید کرے۔ مگر اسے اس رات صرف تین آدمی ملے۔ (باب کا ماموں اور سید کاظم زنجانی) اس لئے وہ ناکام رہا۔ اتفاقاً اسی رات وہاں وباء (طاعون) پھیل گیا۔ اس لئے حاکم شیراز کو حکم دینا پڑا کہ باب شہر بدر ہو جائیں اور وہ پہرہ اٹھا لیا گیا تو آپ سید کاظم کے ہمراہ اصفہان جا کر امام جمعہ کے گھر چالیس روز ٹھہرے۔ ایک دفعہ امام جمعہ نے آپ سے درخواست کی کہ سورہ عصر کی تفسیر لکھ دیں تو آپ نے فوراً لکھ دی۔ پھر حاکم اصفہان نے نبوت خاصہ کے متعلق پوچھا تو

صفحہ ١٠٣

ناموں کے گھر نظر بند رہیں۔ دوسری دفعہ پھر بلوا کر ترک دعویٰ کے لئے کہا تو آپ نے ایسی تقریر کی کہ سامعین نے یقین کر لیا کہ واقعی امام غائب سے ملاقات کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں امام منتظر کے لئے باب نہیں ہوں۔ بلکہ ایک اور تبلیغی وسیلہ ہوں۔ محمد علی شاہ قاجار نے اپنے معتمد الدولہ سید یحییٰ دارابی کو بھیجا تو پہلی دو صحبتوں میں مصروف تبادلہ خیالات ہی ہوتا رہا۔ مگر تیسری ملاقات میں اس نے آپ سے سورہ کوثر کی تفسیر کی درخواست کی جو آپ نے فوراً لکھ دی۔ جس سے جناب یحییٰ وجد میں آ کر سب سے پہلے اپنے باپ سید جعفر شبر کشفی کو تبلیغ کی۔ ساتھ لکھ کر کہا کہ سلطان کی خدمت میں پیش کر دیں اور خود کمال اشتیاق سے دعوت دینے لگے کہ لوگوں نے آپ کو مجنون سمجھا اور آپ کے کلام کو سحر

زنجان میں ملا محمد علی بڑے مشہور عالم تھے۔ انہوں نے ایک معتبر آدمی کے ہاتھ عریضہ بھیجا تو جناب باب نے آپ کو اپنی تصانیف بھیج دیں۔ جن کو پڑھ کر ملا صاحب نے لکھ بھیجا ”طلب العلم بعد الوصول الی المعلوم مذموم“ ”جب مطلب حاصل ہو گیا تو پھر کیا پڑھنا“ اور تحریری بیعت کر لی۔ جس کے معاوضہ میں حضرت باب نے کہلا بھیجا کہ زنجان میں ضرور جمعہ قائم کرو۔ مگر زنجان میں سخت مخالفت ہوئی اور شاہ نے اپنے دربار میں بلوا کر علمائے اسلام سے مناظرہ کرایا۔ جس میں ملا محمد علی کو حاکم نے پچاس تومان دے کر واپس زنجان بھیج دیا۔ اب سلطان کو کہا گیا کہ وہاں ان کا رہنا مناسب نہیں۔ ورنہ سخت فساد ہو گا۔

حاکم نے اپنے معتمد جمع کر لئے اور داروغہ کو حکم ہوا کہ رات کو باب پر چھاپا مارا جائے۔ جس سے اس رات صرف تین آدمی معلوم ہوئے۔ (باب کا ماموں اور سید یحییٰ) مگر باب غائب رہا۔ اتفاقاً اسی رات وہاں وباء (طاعون) پھیل گیا۔ اس لئے حاکم نے حکم دیا کہ لوگ شہر بدر ہو جائیں اور خود بھی چلا گیا تو آپ سید کاظم کے ہمراہ اصفہان چلے گئے اور وہاں چالیس روز ٹھہرے۔ ایک دفعہ امام جمعہ نے آپ سے درخواست کی کہ سورہ والعصر کی تفسیر آپ نے فوراً لکھ دی۔ پھر حاکم اصفہان نے نبوت خاصہ کے متعلق پوچھا تو

آپ نے اثبات میں جواب دیا۔ اس کے بعد مجلس مناظرہ منعقد ہوئی۔ جس میں آقا محمد مہدی اور حسن نوری نے آپ سے صدرالکتاب کے مسائل دریافت کئے تو باب جواب نہ دے سکے اور باقی اہل علم نے کہہ دیا کہ مناظرہ کرنے میں اسلام کی توہین ہے۔ کیونکہ باب صراحتاً اپنے کفر کا اقبال کر رہا ہے۔ مگر حاکم کا یہ منشاء ضرور تھا کہ مباحثہ ہو۔ اس لئے اس نے باب کو طہران بھیج دیا اور سلطان کو تمام واقعات لکھ کر مناظرہ کا مشورہ دیا۔ لیکن جب باب مورچہ خورت کے مقام پر پہنچے تو مخفی طور پر حاکم اصفہان نے آپ کو واپس بلا لیا تو آپ وہاں چار ماہ تک ٹھہرے رہے اور کسی کو معلوم نہ تھا کہ باب کہاں ہے۔ مگر گرگین برادرزادہ حاکم کو خبر لگ گئی تو اس نے فوراً حاجی مرزا آقاسی وزیر اعظم کو خبر دے دی اور اس نے اپنے نوکر بھیج کر باب کو روپوشی کی حالت میں طہران بلا لیا۔ مگر جب آپ قزوین کے مقام پر پہنچے تو وزیر نے کلین کے مقام پر ٹھہرنے کا حکم بھیج دیا اور وہاں سے باب نے سلطان کو چٹھی لکھی کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ مگر وزیر نے جواب میں لکھوا دیا کہ سلطان اس وقت طہران سے باہر جا رہے ہیں اور عام شورش کا بھی خدشہ ہے۔ اس لئے آپ کو ماکو بھی بھیجا جاتا ہے کہ جب تک سلطان اپنے سفر سے واپس نہ آئیں آپ وہیں سلطنت کے زیر امن قیام کریں۔ پھر آپ کو بلا لیا جائے گا۔

تبریز اور ماکو میں قیام

جس کے جواب میں باب نے فرمایا کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ نے مناظرہ کے لئے اصفہان سے مجھے بلایا۔ مگر اب انکار کر دیا۔ لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ اس لئے محمد بیگ چپرچی کے ماتحت شاہی رسالہ کے ہمراہ آپ کو تبریز پہنچایا گیا۔ جہاں آپ چالیس روز ٹھہرے اور کسی کو اجازت نہ تھی کہ اس سے ملاقات بھی کر سکے۔ اس کے بعد آپ کو ماکو کے قلعہ پہاڑی میں پہنچایا گیا۔ جہاں آپ نو ماہ رہے اور علی خان حاکم ماکو نے اثنائے قیام میں ملاقات کی قدرے اجازت دے رکھی تھی اور خود بھی عزت کرتا تھا۔ مگر جب اہل آذربیجان کو فساد کا اندیشہ ہوا تو حکومت سے درخواست کی گئی اور آپ کو قلعہ چہریق میں نظر بند کیا گیا۔ جہاں علی خاں کرد حاکم تھا اور اس نقل و حرکت سے بابی مذہب کا چرچا جا بجا ہونے لگا اور باب صبح شام ”الغائب المنتظر“ کو پکار کر کہا کرتے تھے کہ: ”یا غائب انی وان کان المصائب والآلام قد استوت علی نفسی ولکن قلبی فیه جنة بذکرك“ اگرچہ مجھ پر مصائب آتے ہیں۔ مگر تیری یاد سے دل میں جنت کا لطف ہے۔ تین ماہ کے بعد علمائے تبریز نے حکومت سے درخواست کی کہ بابیوں کو تعزیر لگائی جائے۔ وزیر اعظم بھی اس پر طوعاً و کرہاً راضی ہو گیا۔ اس لئے باب چہریق سے تبریز کو روانہ

صفحہ ١٠٤

ہوئے۔ راستہ میں رومیہ کے حاکم بہت عزت سے پیش آیا اور جب تبریز پہنچے تو چند یوم کے بعد دارالعدالت میں ان کو طلب کیا گیا۔ جب کہ وہاں علمائے اسلام پہلے ہی موجود تھے۔ ( مثلاً نظام العلماء، ملا محمد ماما قانی، مرزا احمد امام الجمعۃ اور مرزا علی اصغر شیخ الاسلام وغیرہ) وہاں آپ نے دعویٰ کیا کہ میں مہدی ہوں۔ نشان صداقت طلب کیا گیا تو آپ نے فرفر عربی کلام میں بولنا شروع کر دیا۔ اعتراض ہوا کہ آپ غلط عربی بولتے ہیں تو آپ نے جواب دیا کہ تمہارے اصول کے مطابق تو قرآن شریف بھی غلط ہے تو مجلس ختم ہو گئی اور باب واپس اپنے مقام پر آگئے۔ اس وقت آذربیجان کا حاکم ولی عہد تھا۔ اس نے آپ کو تنگ کرنا چھوڑ دیا۔ مگر اہل علم نے یہ پاس کر لیا کہ ان کو ضرور سزائش ہونی چاہئے۔ مگر فراشوں نے چوبکاری سے انکار کر دیا۔ لیکن سید علی اصغر نے آپ کو اپنے ہاتھ سے درے لگا کر واپس چہریق بھیج دیا اور پہلے سے زیادہ تنگی شروع کر دی اور گردونواح کے تمام علمائے اسلام کی یہ رائے قرار پائی کہ بابیوں کا خاتمہ کر دینا از بس ضروری ہے۔ لیکن سلطان نے کہا کہ میں سادات کو قتل نہیں کر سکتا۔ جب تک کہ فساد کا اندیشہ نہ ہو۔ اب بابیوں کو جرأت پیدا ہو گئی اور مباہلہ یا مناظرہ کے لئے کھڑے ہو گئے اور جا بجا شور برپا ہو گیا۔ اسی اثناء میں سلطان کو نقرس (پاؤں کے انگوٹھے کی درد) نے مضمحل کر دیا اور وزیر اعظم متقارب الاجل ہو گیا۔ مگر کوئی قطعی فیصلہ نہ کر سکا اور بدحواسی میں یوں کہنے لگا کہ: ”ان موسی یقاتل موسیٰ“ اور کبھی کہتا کہ : ”ان هی الا فتنتك “ اس لئے بھی علمائے اسلام کے مخالف ہو جاتا اور کبھی موافق۔

دلائل مہدویت

مگر لوگ بڑے جوش میں آگئے اور اہل علم نے خود حکم دے دیا کہ لوگ بابیوں کا خود انتظام کر لیں۔ اب جا بجا منبروں پر شور مچ گیا کہ امام آخر الزمان کی غیبت (شیعہ مذہب میں) ضروری ہے۔ جابلقا اور جابلصاء کیا ہوئے؟ غیبت صغریٰ اور غیبت کبریٰ کہاں گئیں؟ حسین بن روح کے اقوال کیا ہوئے؟ مہریار کی روایات کہاں گئیں۔ نقباء ونجباء کا ہوا میں پرواز کرنا کیسے ہوا؟ مغرب مشرق کی فتوحات کہاں ہیں؟ ظہور سفیانی اور خروج دجال کہاں ہیں؟ اور حدیث میں جو باقی علامات مذکور ہیں وہ کیسے پوری ہوئیں۔ روایت جعفریہ تو خواب و خیالات ہیں۔ اس لئے باب قطعا کافر ہے اور واجب القتل ہے۔ اگر ہم اپنے مذہب کی صحیح روایات کو چھوڑ دیں تو مذہب کا نام ونشان نہیں رہتا۔ علاوہ بریں ہم اہل سنت والجماعت نہیں ہیں کہ عوام الناس کی طرح یہ بھی یقین کر لیں کہ امام آخر الزمان ماں کے پیٹ سے پیدا ہو کر ظاہر ہوگا۔ آپ کی دو بڑی علامتیں ہیں کہ

آپ شریف النسب سادات ہیں اور تائی جو مسلسل عقائد چلے آئے ہیں ہم ان کو کریں۔ علمائے سابقین کے متعلق کیا ”واشریعتہ وامذہباہ“ بابیوں ۔ فوقیت ہے۔ کیونکہ روایت برہان کی فرم مردود ہو گی اور یوں بھی کہتے کہ تاویل ا قلبیہ ہیں اور حکومت سے مراد دلوں پر مغلوب رہے۔ باوجود یہ کہ : ” ان جند کہتے تھے کہ :

نہیں پڑھا۔

بیعت میں داخل نہ ہوتے

مازندرانی تلمیذ ، حاجی کاظ جب واپس ہوئے تو آ بابیوں کو یقین ہو گیا کہ حاجی صاح آپ کے مرید بن گئے اور حضرت کے سلسلہ بیعت میں داخل ہو گئے باب میں کمال تک تبلیغ کی اور باب طرف سے ہوتی ہے۔ آخر ( بڑی ل العین قزوینی بھی ایک بے نظیر عور کلانتر کے زیر حراست طہران میں

صفحہ ١٠٥

آپ شریف النسب سادات ہیں اور تائیدات الہی آپ کے ہمراہ ہمیشہ سے ہیں۔ ہزار سال سے جو مسلسل عقائد چلے آئے ہیں ہم ان کو کیا کریں؟ فرقہ ناجیہ اثناء عشریہ کے متعلق کیا رائے قائم کریں۔ علمائے سابقین کے متعلق کیا کہیں؟ کیا وہ سب کے سب گمراہی پر ہی قائم رہے؟ ”واشریعتاه وامذهبا“ بابیوں نے ان دلائل کے جواب یوں دیئے کہ برہان کو روایت پر فوقیت ہے۔ کیونکہ روایت برہان کی فرع ہے۔ اس لئے جو فرع اپنے اصل سے مطابقت نہ رکھے مردود ہو گی اور یوں بھی کہتے کہ تاویل اصل تفسیر اور جوہر قرآن ہے اور فتوحات سے مراد فتوحات قلبیہ ہیں اور حکومت سے مراد دلوں پر حکومت ہے۔ کیونکہ امام حسین علیہ السلام امام حق ہو کر مغلوب رہے۔ باوجود یکہ: ”ان جند نالہم الغالبون“ آپ کے حق میں وارد تھا۔ یوں بھی کہتے تھے کہ:

نہیں پڑھا۔

بیعت میں داخل نہ ہوتے۔

مازندرانی تلمیذ ، حاجی کاظم رشتی آپ حضرت باب کے ہمراہ حج کو گئے تھے۔

جب واپس ہوئے تو آپ سے خوارق اور معجزات کا ظہور ہونے لگا۔ اس لئے بابیوں کو یقین ہو گیا کہ حاجی صاحب مقربین بارگاہ الہی میں سے ہیں۔ اس لئے تمام بابی آپ کے مرید بن گئے اور حضرت محمد حسین بشروی جو بابیوں کے سردار کل تھے وہ بھی آپ کے سلسلہ بیعت میں داخل ہو گئے۔ (آپ کا مرتبہ قدوسیت تک پہنچ گیا ) آپ نے دعوت باب میں کمال تک تبلیغ کی اور باب آپ پر خوش ہو کر فرمانے لگے کہ اس شخص کی تائید خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ آخر ( بڑی لڑائیوں کے بعد ) سید العلماء نے ٦٥ء میں قتل کر دیا۔ قرة العین قزوینی بھی ایک بے نظیر عورت تھی اور تبلیغ میں مردوں سے سبقت لے گئی تھی۔ آخر جب کلانتر کے زیر حراست طہران میں نظر بند ہوئی تو اس وقت اس کے گھر شادی کی مجلس منعقد

صفحہ ١٠٦

ہورہی تھی۔ قرۃ العین نے موقعہ پاکر تبلیغ اس زور سے کی کہ سامعین دنگ رہ گئے اور ان کو تمام راگ و رنگ بھول گیا۔ مگر علمائے اسلام کے فتوے سے مار ڈالی گئی۔

انقلاب عظیم

ان دنوں ہی سلطان محمد شاہ مر گیا اور ولی عہد تخت نشین نے اپنا وزیر مرزا محمد تقی خان کو منتخب کیا۔ جو نہایت ہی سخت گیر تھا۔ چونکہ شہزادہ ابھی نوعمر تھا۔ اس لئے وزیر نے خود مختار ہو کر بابیوں کو پیسنا شروع کر دیا۔ مگر جس قدر تشدد سے کام لیا۔ اسی قدر بابی مذہب دنیا میں ترقی کرتا گیا۔ روایت ہے کہ کاشان میں ایک دفعہ بابیوں کی تشہیر کی جارہی تھی تو ایک مجوسی نے (جو ایک سرائے میں رہتا تھا) اصل واقعہ دریافت کر کے کہا کہ اگر بابی مذہب سچا نہ ہوتا تو اتنے مصائب کے مقابلہ میں کیسے قائم رہ جاتا۔ اسی صداقت کو دیکھ کر بابیوں میں شامل ہو گیا۔ بہر حال بابی مقابلہ میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔ کیونکہ باب نے ان کو مقابلہ کرنے سے بلکہ اپنے پاس آنے سے بھی روک دیا ہوا تھا۔ اس لئے وہ بے خانماں ہو گئے اور مسکین ہو کر جا بجا بھاگنے لگے۔ مگر جس جگہ پر ان کی جمعیت کافی تھی۔ وہاں پر انہوں نے مدافعت بھی شروع کر دی۔

فتنہ قتل بشروی

مازندران میں جب ملا محمد حسین بشروی کے متعلق علمائے اسلام نے فتویٰ دے دیا کہ وہ اور اس کے مرید واجب القتل ہیں اور ان کا مال لوٹ لینا واجب ہے۔ بارفروش میں سید العلماء نے اس فتوے کی رو سے سات بابی مار بھی ڈالے تھے۔ مگر جب بشروی نے دیکھا کہ لوگوں نے آ دبایا ہے تو خود تلوار لے کر کھڑا ہو گیا اور سب کو بھگا دیا۔ آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ بابی یہاں سے نکل جائیں اور خسرو کے ماتحت کہیں چلے جائیں۔ مگر خسرو کے آدمی گھات لگائے پہلے ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان کو مار ڈالنا شروع کر دیا اور بشروی نے اذان دیکر سب کو ایک جگہ اکٹھا کر کے مقابلہ میں کھڑا کر دیا تو مرزا لطف علی مستوفی نے خسرو کی جگہ پر کاری زخم لگایا۔ جس سے وہ وہیں مر گیا۔ اس کے بعد بشروی ایک قلعہ میں پناہ گزین ہوا۔ جو مقبرہ شیخ طبرسی کے پاس تھا۔ محمد علی کو مازندرانی کے آدمی بھی آملے۔ جن کی مجموعی تعداد تین سو تیرہ تھی۔ جن میں سے صرف ایک سو دس آدمی سپاہی تھے اور باقی طالب علم یا مولوی تھے۔ مگر سلطانی لشکر نے چار دفعہ حملہ کیا اور چاروں دفعہ ہی ہزیمت اٹھائی۔ چوتھی شکست میں عباس قلی خان جرنیل تھا اور نواب مہدی قلی خان امیر لشکر تھا۔ چوتھی لڑائی رات کو ہوئی تھی۔ بابیوں نے شاہی خیمے جلا دیئے تھے۔ آگ کی روشنی میں بشروی اپنی جماعت میں جا رہا تھا کہ عباس قلی خان نے (جو اس وقت کسی درخت کی آڑ میں چھپا ہوا تھا) دیکھ

صفحہ ١٠٧

کر گولی کا نشانہ بنایا تو بشروی وہیں مر گیا اور فوراً قلعہ میں پہنچایا گیا۔ مگر پھر بھی سلطانی لشکر نے ان پر فتح نہ پائی۔ حالانکہ بابیوں کی رسد ختم ہو چکی تھی۔ گھوڑوں کی ہڈیاں تک کھا گئے تھے اور گرم پانی پر گزارہ کرنے لگے تھے تو لشکر نے ان کو پناہ دی اور چھاؤنی میں بلا کر دعوت دی۔ جب کھانے بیٹھے تو سب کو مار ڈالا اور اس سے پیشتر جو بہادری بھی بابیوں نے دکھائی تھی وہ مغلوبانہ بہادری تھی۔ کیونکہ مثل مشہور ہے کہ: ”كسنور مغلوب يصول على الكلب“ کھسیانی بلی کتے پر بھی حملہ کر دیتی ہے۔

قتل باب و واقعہ زنجان

ملا محمد علی مجتہد زنجان کا رئیس اعظم تھا اور سید یحییٰ دارابی مازندران میں زعیم القوم (لیڈر) کہلاتا تھا۔ ان دونوں نے بھی مخالفین کے چھکے چھڑا دیئے تھے۔ مگر اخیر میں ہر طرف سے ان پر گھیرا ڈال دیا گیا تھا اور دھوکہ سے سب بابیوں کو قلعہ سے نکال کر قتل کر دیا تھا۔ (جیسا کہ نقطۃ الکاف میں مذکور ہے ) جنگ زنجان کے دنوں میں امیر زنجان کی یہ رائے قرار پائی تھی کہ خود باب کو قتل کیا جاتا کہ سرے سے فساد کا مادہ ہی اٹھ جائے۔ اس لئے اس نے حاکم آذربیجان (شہزادہ حمزہ مرزا) کو اس حکم کے نافذ کرنے کا حکم دیا۔ مگر شہزادہ خود اس فعل کا مرتکب نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اس لئے اپنے بھائی حسن کو لکھا کہ میں تو روس اور افغانوں کے مقابلہ میں جانے والا ہوں۔ اس لئے مجھے فرصت نہیں۔ آپ اس کام کو سرانجام دیں۔ چنانچہ اس نے امیر سے خط و کتابت شروع کر دی۔ جس میں امیر نے صاف لکھ دیا کہ علمائے تبریز نے قتل باب کا صریح فتویٰ دے دیا ہے۔ اس لئے تم آرمینیہ فوج کے ہاتھ سے تمام لوگوں کے سامنے باب کو لوہے کی میخوں سے معلق کر کے گولی سے اڑا دو اور باب کو جب خبر ہوئی تو اپنے تمام اوامر و نواہی، مکتوبات، انگوٹھی اور قلمدان وغیرہ سب کچھ ایک تھیلے میں بند کر کے قفل لگا دیا اور اس کی چابی اپنی جیب میں رکھ لی اور یہ تھیلہ امانت کے طور پر عبد الکریم قزوینی کی طرف ایک اپنے خاص مرید ملا باقر کی وساطت سے روانہ کر دیا تو اس نے قم شہر میں گواہوں کے سامنے وہ امانت عبد الکریم کے سپرد کر دی۔ حاضرین مجلس نے بہت اصرار کیا کہ اس تھیلہ کو کھول دیا جائے۔ مگر عبد الکریم نے اس میں سے صرف ایک تحریر (لوح آبی) شکستہ خط میں دکھائی جو بشکل انسان تھی۔ جب اسے پڑھا گیا تو اس میں لفظ بہاء سے تین سو ساٹھ لفظ پیدا کر کے ایک نقشہ دکھایا گیا تھا۔ اس کے بعد عبد الکریم نے وہ امانت جہاں پہنچانی تھی پہنچا دی۔ اب حسن خان نے باب کو سرباز خانہ تبریز میں بلوا کر عمامہ اور شال جو سادات کی علامت ہیں لے کر اپنے قبضہ میں کر لیں اور فراشوں کا حکم نامہ سنا دیا کہ باب کو قتل کیا

صفحہ ١٠٨

جائے اور باب کو اپنے چار مریدوں کے ہمراہ ستر آرمینی سپاہیوں کی حراست میں جیل بھیج دیا۔ جہاں اس کو ایک کوٹھری میں بند کر دیا گیا۔ دوسرے دن صبح کو فراش باشی آقا محمد علی تبریزی کو ساتھ لئے ہوئے جیل خانہ آیا۔ (کیونکہ ملا محمد ماما قانی، ملا باقر اور مرتضیٰ قلی وغیرہ نے اس کے قتل کا بھی حکم دے دیا تھا) اور سرتیپ فوج ارمنی سام خان کو دروازہ کی حفاظت سپرد کر دی اور دروازہ کے پایہ میں ایک آہنی میخ ٹھونک کر اس سے ایک رسی باندھ دی۔ جس کے ایک طرف باب کو جکڑ دیا اور دوسری طرف آقا محمد علی تبریزی کو اس طرح باندھ دیا کہ اس جوان کا سر باب کے سینہ پر آگیا۔ اب فوج کے تین دستے ہو گئے۔ پہلے نے گولی چلائی دوسرے نے آگ پھینکی اور تیسرے نے تیر برسائے۔ مگر خدا کی قدرت سے بعد میں دیکھا گیا تو باب آقا سید حسین کے پاس کوٹھری میں تشریف فرما ہیں اور محمد علی اس میں جکڑا ہوا صحیح سلامت کھڑا ہے۔ یہ نظارہ دیکھ کر سام خان نے انکار کر دیا کہ میں قتل سادات کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد آقا جان بیگ (خمسہ سرتیپ فوج خاصہ) کو حکم ہوا تو اس نے پھر اسی میخ سے باب کو باندھ کر گولیوں کا نشانہ بنایا۔ جس سے باب کا سینہ چھلنی ہو گیا اور چہرہ کے سوا باقی اعضاء ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے اور یہ واقعہ ٢٨ شعبان ١٢٦٨ میں پیش آیا تھا۔ اس کے بعد دونوں لاشیں خندق میں پھینک دیں۔

دوسرے روز صبح کو روس کا فوٹو گرافر آیا تو اس نے خندق میں سے دونوں لاشوں کا فوٹو حاصل کر لیا اور دوسری رات بابی دونوں لاشیں اٹھا کر کہیں لے گئے تھے۔ لیکن مولویوں نے گپ اڑا دی کہ ان کی لاشوں کو درندے کھا گئے ہیں۔ حالانکہ شہدائے کربلا کی طرح ان کی لاشیں بھی محفوظ تھیں اور کسی درندہ کی جرأت نہ تھی کہ ان سے ذرہ بھر بھی توڑ کر گوشت کھاتا۔ یہ بالکل سچ ہے کہ باب کو معلوم تھا کہ وفات نزدیک ہے۔ اس لئے اپنی تحریرات تقسیم کر چکا تھا اور مصائب کا انتظار کر رہا تھا۔ اسی بناء پر سلیمان خان بن یحییٰ خان آذربیجان سے روانہ ہو کر دوسرے روز تبریز آیا اور وہاں کے کلانتر (حاکم) کے گھر قیام کیا جو اس کا دوست تھا اور بابیوں سے عموماً کاوش بھی نہیں رکھتا تھا اور درخواست کی کہ یہ دونوں لاشیں مجھے مل جائیں۔ کلانتر نے اپنے نوکر اللہ یار خان کو حکم دیا تو اس نے دونوں لاشیں سلیمان کے سپرد کر دیں۔ صبح کے وقت قراول پہرہ داروں نے مشہور کر دیا کہ درندوں نے دونوں لاشیں کھالی ہیں۔ اس رات ایک میلانی آدمی کے کارخانہ میں وہ لاشیں پڑی رہیں جو باب کا مرید تھا اور دوسرے روز صندوق میں بند کر کے آذربیجان سے لے گئے۔ جس طرح کہ طہران سے پہلے ہی حکم آچکا ہوا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ١٢٦٧ھ میں چالیس ہزار بابی مارے گئے اور یہ سب کارروائی مرزا تقی خان کے حکم سے ہوئی تھی۔ اس کو خیال تھا کہ یہ تحریک دب جائے گی۔ مگر جس قدر دبا

سلطان پر گولی چلانا

جن دنوں باب آذربیجان میں ہمراز کو اپنے ہمراہ لے کر بادشاہ سے بدلہ ۔ سلطان شمران میں ہے۔ وہاں پہنچ کر گولی

اب تفتیش شروع ہوئی اور بابی گرفتار ہونے الخیر میں تھے۔ جو طہران سے ایک منزل ۔ وہیں رہا کرتے تھے اور آپ کا وہاں ایک کاسہ گدائی ہاتھ میں لئے ہوئے وہاں آ۔

سلطانی لشکر نے آپ کو گرفتار کر کے شمران یہ سب کارروائی حاجی علی خان صاحب ا نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ س ہے تو بہاء اللہ نے کہا کہ محمد صادق کو اپنے لئے بغیر اس کے کہ کسی کو خبر کرتا یا کسی ۔ بد حواسی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہ کر دیا تھا۔ حالانکہ یہ ایک ایسی حرکت ۔ نے اس تقریر کو واقعی سمجھ کر آپ کو رہا ک لوٹ کھسوٹ میں حاصل کیا ہے۔ واپس بہت کم مقدار میں واپس کیا گیا۔

تعلیمات باب

چند ماہ کے بعد حکومت نے عتبات عالیہ کی زیارت کو کربلا تشریف ۔ نصائح، تفسیر الایات، تاویل آیات، منا الصلوۃ خصوصاً سید الکائنات تحریض و تشویق تالیفات میں آپ نے حقیقت شائع ک ہوئے تھے اور ظہور اعظم کے انتظار میں شد

صفحہ ١٠٩

اپنے چار مریدوں کے ہمراہ ستر آرمینی سپاہیوں کے حراست میں جیل بھیج دیا۔ کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا۔ دوسرے دن صبح کو فراش باشی آقا محمد علی تبریزی کو ساتھ لانے آیا۔ (کیونکہ ملا محمد ماما قانی، ملا باقر اور مرتضیٰ قلی وغیرہ نے اس کے قتل کا بھی اور سرتیپ فوج ارمنی سام خان کو دروازہ کی حفاظت سپرد کر دی اور دروازہ کے میخ ٹھونک کر اس سے ایک رسی باندھ دی۔ جس کے ایک طرف باب کو جکڑ دیا آقا محمد علی تبریزی کو اس طرح باندھ دیا کہ اس جوان کا سر باب کے سینہ پر کے تین دستے ہو گئے۔ پہلے نے گولی چلائی دوسرے نے آگ پھینکی اور برسائے۔ مگر خدا کی قدرت سے بعد میں دیکھا گیا تو باب آقا سید حسین کے تشریف فرما ہیں اور محمد علی اس میں جکڑا ہوا صحیح سلامت کھڑا ہے۔ یہ نظارہ دیکھ کر انکار کر دیا کہ میں قتل سادات کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد آقا جان بیگ (فوج خاصہ) کو حکم ہوا تو اس نے پھر اسی میخ سے باب کو باندھ کر گولیوں کا نشانہ باب کا سینہ چھلنی ہو گیا اور چہرہ کے سوا باقی اعضا ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے تھے اور یہ ١٢٦٦ھ میں پیش آیا تھا۔ اس کے بعد دونوں لاشیں خندق میں پھینک دیں۔ افسروں کا فوٹو گرافر آیا تو اس نے خندق میں سے دونوں لاشوں کا فوٹو حاصل رات باقی دونوں لاشیں اٹھا کر کہیں لے گئے تھے۔ لیکن مولویوں نے گپ لاشوں کو درندے کھا گئے ہیں۔ حالانکہ شہدائے کربلا کی طرح ان کی لاشیں بھی درندہ کی جرات نہ تھی کہ ان سے ذرہ بھر بھی توڑ کر گوشت کھاتا۔ یہ بالکل سچ تھا کہ وفات نزدیک ہے۔ اس لئے اپنی تحریرات تقسیم کر چکا تھا اور مصائب کا بناء پر سلیمان خان بن یحییٰ خان آذربیجان سے روانہ ہو کر دوسرے روز تبریز کلانتر (حاکم) کے گھر قیام کیا جو اس کا دوست تھا اور بابیوں سے عموماً کاوش بھی درخواست کی کہ یہ دونوں لاشیں مجھے مل جائیں۔ کلانتر نے اپنے نوکر اللہ یار نے دونوں لاشیں سلیمان کے سپرد کر دیں۔ صبح کے وقت قراول پہرہ داروں درندوں نے دونوں لاشیں کھا لی ہیں۔ اس رات ایک میلانی آدمی کے کارخانہ دار ہیں جو باب کا مرید تھا اور دوسرے روز صندوق میں بند کر کے آذربیجان طرح کہ طہران سے پہلے ہی حکم آچکا ہوا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ١٢٦٧ھ میں دے گئے اور یہ سب کارروائی مرزا تقی خان کے حکم سے ہوئی تھی۔ اس کو خیال

تھا کہ یہ تحریک دب جائے گی۔ مگر جس قدر دبایا گیا زور پکڑتی گئی۔

سلطان پر گولی چلانا

جن دنوں باب آذربیجان میں تھے محمد صادق نامی آپ کے ایک مرید نے ایک ہمراز کو اپنے ہمراہ لے کر بادشاہ سے بدلہ لینے کی ٹھان لی اور جب طہران پہنچا تو معلوم ہوا کہ سلطان شمران میں ہے۔ وہاں پہنچ کر گولی چلا دی۔ مگر خطا گئی اور بادشاہ بال بال بچ گیا۔ اب تفتیش شروع ہوئی اور بابی گرفتار ہونے لگے تو ان پر زمین تنگ ہو گئی۔ بہاء اللہ ان دنوں لواسان میں تھے۔ جو طہران سے ایک منزل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ آپ گرمیوں کے ایام میں وہیں رہا کرتے تھے اور آپ کا وہاں ایک مکان بھی تھا اور آپ کا بھائی یحییٰ فقیرانہ لباس میں کاسہ گدائی ہاتھ میں لئے ہوئے وہاں آ پہنچا۔ مگر بہاء اس وقت نیاوران کو گئے ہوئے تھے۔ سلطانی لشکر نے آپ کو گرفتار کر کے شمران پہنچا دیا اور پھر وہاں سے طہران چالان کیا گیا اور یہ سب کارروائی حاجی علی خان صاحب الدولہ کی تحریک سے وقوع پذیر ہوئی تھی اور بہاء کو نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ سلطان نے جب بہاء اللہ سے سوال کیا کہ یہ کیا معاملہ ہے تو بہاء اللہ نے کہا کہ محمد صادق کو اپنے پیر کی محبت نے اندھا اور بے عقل کر دیا ہوا تھا۔ اس لئے بغیر اس کے کہ کسی کو خبر کرتا یا کسی سے پوچھتا۔ خود ہی اس فعل کا مرتکب ہو گیا۔ اس کی بدحواسی کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ اس نے طپانچہ میں ساچمہ (چہرہ) داخل کر دیا تھا۔ حالانکہ یہ ایک ایسی حرکت ہے کہ کوئی ذی عقل اس کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ بادشاہ نے اس تقریر کو واقعی سمجھ کر آپ کو رہا کر دیا اور حکم ہوا کہ لشکر نے جو کچھ آپ کا مال و متاع لوٹ کھسوٹ میں حاصل کیا ہے۔ واپس کر دیا جائے۔ مگر چونکہ وہ ہضم ہو چکا تھا۔ اس لئے بہت کم مقدار میں واپس کیا گیا۔

تعلیمات باب

چند ماہ کے بعد حکومت نے بہاء کو اجازت دی تو سرکاری آدمیوں کے ہمراہ آپ عتبات عالیہ کی زیارت کو کربلا تشریف لے گئے۔ باب کی تعلیم مختلف تحریرات، خطبات، مواعظ نصائح، تفسیر الایات، تاویل آیات، مناجات، خطب، ارشادات بیان، مراتب توحید، اثبات النبوۃ خصوصا سید الکائنات تحریض و تشویق بتصریح اخلاق تخلق بنفحات اللہ میں قلمبند ہے اور سلسلہ تالیفات میں آپ نے حقیقت شاخصہ کا بیان کیا ہے۔ کیونکہ اپنے آپ کو مقام تبشیر میں سمجھے ہوئے تھے اور ظہور اعظم کے انتظار میں شب و روز مشغول رہتے تھے اور فرماتے تھے کہ: ”انا

صفحہ ١١٠

حرف من ذلك الكتاب وظل من ذلك البَحر ، اذا ظهر ظهر ماكتبته من الاشارات ويظهر ذلك بعد حين “ یعنی ١٢٦٩ھ

٦...... من يظهره الله ! بہاء اللہ یعنی ظہور اعظم اور حقیقت شاخصہ

جن دنوں حضرت باب کا ظہور ارضِ مقدس طہران میں ہوا خاندان وزارت میں ایک نوجوان (شاب) تیز طبع، ذہین، فہیم فخر قوم امیر زادہ مظہر آثار النجابۃ والشرافۃ پیدا ہوا۔ جس کے متعلق یہ خیال تھا کہ تائید الٰہی آپ کے شامل حال رہتی ہے۔ حضرت باب کی طرح آپ بھی امی تھے۔ پڑھا پڑھایا ایک حرف بھی نہ تھا۔ آزاد منش، سر کے بال بڑے بڑے اور وہ بھی اڑتے ہوئے نظر آتے تھے۔ سر پر ٹوپی ہوتی تو وہ بھی ذرہ سی کسی کو خیال تک نہ تھا کہ باب کے بعد آپ مدعی ہوں گے۔ جب باب نے طہران میں دعویٰ کیا تو بہاء نے اپنے خویش واقارب میں دعوت دی۔ پھر مجالس و مساجد میں خطبے دیئے اور لوگ اس قدر مطیع ہوگئے کہ اس مذہب میں قتل ہونے کو شہادت سمجھنے لگے۔ شہر نور کے چار عالم آئے۔ تقریر سن کر مفتون ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ ابھی تم نو تعلیم یافتہ ہو۔ الف ب پڑھو۔ اس کے بعد الف اور نقطہ کی تشریح مختلف مجالس میں بیان فرمائی۔ اب آپ کا شہرہ بار فروش اور نور تک پہنچ گیا۔ ان دنوں مجتہد اعظم ملا محمد نوری قشلاق میں تھے۔ انہوں نے بہاء اللہ کی خدمت میں دو لائق اور فصیح البیان مناظر بھیجے کہ آپ کو ساکت کر دیں اور یا کم از کم آپ کا فروغ کم کردیں تا کہ لوگ داخل بیعت نہ ہوں۔ مگر انہوں نے جب دیکھا کہ آپ بحر ناپیدا کنار ہیں تو خود آپ کے مبلغ بن گئے اور مجتہد اعظم نوری کو کہلا بھیجا کہ تم بھی بیعت میں داخل ہو جاؤ اور جب آپ آمل اور ساری کو سفر کر رہے تھے تو مجتہد اعظم سے آپ کی ملاقات ہوئی۔ مگر مجتہد مذکور نے استخارہ کرکے کہا کہ اس وقت مناظرہ مفید نہیں۔ اس لئے لوگوں نے سمجھ لیا کہ جناب مجتہد بھی مناظرہ میں عاجز آگئے ہیں۔ اس لئے نوجوان (شاب) بہاء اللہ کی مقبولیت اور بھی زیادہ ہوگئی۔ اب اس نوجوان نے تمام اطراف ایران میں تبلیغ باب کا ڈنکا بجا دیا اور عرصہ دراز تک اسی کام میں مصروف رہا۔ یہاں تک خاقان (محمد شاہ) مر گیا تو اس وقت یہ نوجوان طہران واپس آگیا۔

راز داری

جناب بہاء کی مخفی خط و کتابت حضرت باب سے ہمیشہ جاری تھی اور ملا عبدالکریم قزوینی درمیانی وسیلہ تھا اور اسی بناء پر جب طہران میں بابی مذہب کی بنیاد پڑگئی اور باب و بہاء دونوں

صفحہ ١١١

الكتاب وظل من ذلك البحر، اذا ظهر ظهر ماكتبته من هر ذلك بعد حين“ یعنی ١٢٦٩ھ

ظهره الله! بہاء اللہ یعنی ظہورِ اعظم اور حقیقتِ شاخصہ

ں حضرت باب کا ظہور ارضِ مقدس طہران میں ہوا خاندان وزارت میں ایک نیک طبع ، ذہین ، فہیم ، فخر قوم امیر فیصل مظہر آثار النجابتہ والشرافتہ پیدا ہوا۔ جس کے تائید الہی آپ کے شامل حال رہتی ہے۔ حضرت باب کی طرح آپ بھی امی ایک حرف بھی نہ تھا۔ آزاد منش، سر کے بال بڑے بڑے اور وہ بھی اڑتے ے سر پر ٹوپی ہوتی تو وہ بھی ذرہ سی کسی کو خیال تک نہ تھا کہ باب کے بعد آپ ب باب نے طہران میں دعویٰ کیا تو بہاء نے اپنے خویش واقارب میں دعوت اجد میں خطبے دیئے اور لوگ اس قدر مطیع ہوگئے کہ اس مذہب میں قتل ہونے کو شہور کے چار عالم آئے۔ تقریر سن کر مفتون ہوگئے تو آپ نے فرمایا کہ ابھی تم سب پڑھو۔ اس کے بعد الف اور نقطہ کی تشریح مختلف مجالس میں بیان فرمائی۔ ریش اور نور تک پہنچ گیا۔ ان دنوں مجتہد اعظم ملا محمد نوری قشلاق میں تھے۔ کی خدمت میں دو لائق اور فصیح البیان مناظر بھیجے کہ آپ کو ساکت کر دیں اور یا منع کر دیں تا کہ لوگ داخلِ بیعت نہ ہوں۔ مگر انہوں نے جب دیکھا کہ آپ خود آپ کے مبلغ بن گئے اور مجتہد اعظم نوری کو کہلا بھیجا کہ تم بھی بیعت میں ب آپ آمل اور ساری کو سفر کر رہے تھے تو مجتہد اعظم سے آپ کی ملاقات نے استخارہ کر کے کہا کہ اس وقت مناظرہ مفید نہیں۔ اس لئے لوگوں نے سمجھ لیا مناظرہ میں عاجز آگئے ہیں۔ اس لئے نوجوان ( خوشاب ) بہاء اللہ کی مقبولیت اب اس نوجوان نے تمام اطراف ایران میں تبلیغ باب کا ڈنکا بجا دیا اور عرصہ مصروف رہا۔ یہاں تک خاقان (محمد علی) مر گیا تو اس وقت یہ نوجوان طہران

باہمی مخفی خط و کتابت حضرت باب سے ہمیشہ جاری تھی اور ملا عبد الکریم قزوینی کسی بناء پر جب طہران میں بابی مذہب کی بنیاد پڑ گئی اور باب و بہاء دونوں

سیاسی زنجیروں میں جکڑے گئے تو یہ تجویز ہوا کہ مرزا یحییٰ برادر بہاء کو یہ عہدہ دیا جائے تو اس طریق سے بہاء کی رہائی ہوگئی اور مرزا یحییٰ روپوش ہو کر گمنام ہوا کہ کوئی بھی اس کی شناخت نہیں کر سکتا تھا۔ اس پر حضرت باب بہت ہی خوش تھے۔ کیونکہ آپ کا ارادہ بھی یہی تھا۔ اب بہاء جب عتبات عالیات کی زیارت کر کے بغداد پہنچے تو آپ نے وہ دعویٰ ظاہر کر دیا جو باب نے بعد حین کے فقرہ میں پوشیدہ رکھا ہوا تھا۔ (یعنی آپ کا دعویٰ عدد حین کے بعد ٦٨ میں ہوگا ) اب لوگ حیران ہو گئے اور اسی حیرت میں کچھ تو بیعت میں داخل ہوئے۔ مگر عام طور پر مخالفت شروع ہو گئی اور روپوش یحییٰ کبھی کبھی فقیرانہ لباس میں وقتاً فوقتاً ملاقات کرتا تھا۔ ایک سال کے بعد آپ نے عراق عرب سے کرد عثمانیہ کے علاقہ میں جا کر اقامت اختیار کر لی اور وہاں دو سال کی اقامت میں ایسی عزلت نشینی اختیار کی کہ کسی رشتہ دار اور خدمت گار کو بھی اطلاع نہ تھی۔ اس کے بعد جب جبل سرکار میں وارد ہوئے تو آپ کی شہرت ہونے لگی اور چاروں طرف سے اہل علم نے آپ سے مشکل مسائل حل کرانے شروع کر دیئے اور آپ کی عزت و احترام کرنے لگے اور اب بابیوں کو بھی معلوم ہو گیا کہ جبل سلیمانیہ میں ایک بزرگ ظاہر ہوا ہے تو وہ شناخت کر کے اپنے وطن لے گئے ۔ آپ آئے تو بابی بہت ہی بدظنی میں تھے۔ آپ نے حکم دے دیا کہ اب مقابلہ بالکل چھوڑ دو۔ تا کہ نقض امن کا الزام تم سے جاتا رہے اور چونکہ عقائد پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ اس لئے تبدیل عقائد کا امکان نہ رہا اور اسی طریق پر پینتیس سال گزر گئے اور اسی عرصہ میں جب کبھی بھی قتل بابی وقوع پذیر ہوتا تو بابیوں کی طرف سے بالکل خاموشی رہتی اور صبر و استقلال نشر و اشاعت کا باعث ہوتا۔ ”لان التدمير سبب التعمير“

خاموش مقابلہ

روایت ہے کہ ایک تعلیم یافتہ بابی نے مقابلہ شروع کر دیا تو دوسروں نے خاموشی کی تعلیم دی۔ اس لئے اس غلطی کو محسوس کر کے مازندران چلا گیا۔ مگر مسلمانوں نے اسے پکڑ کر جبراً زیر حراست کر دیا۔ جب کپڑے اتارے تو اس کی جیب سے یہ تحریر نکلی ۔ ”قال بهاء الله ان الله برئى من المفسدين ان تقتلوا خیرلكم من ان تقتلوا فاذا عوقبتم فعليكم بولاة الامور ولا ذابجمهور. وان اهلتم فوضوا الا مورالى الرب الغيور. هذا سمة المخلصين وصفة الموقنين“ افسر نے کہا کہ اس رقعہ کے بموجب بھی تمہیں سزا ملے گی تو اس نے بسر و چشم قبول کر کے سزا یابی کو برداشت کرنے کا اظہار کیا۔ اس پر افسر نے مسکرا کر اسے رہا کر دیا۔ بہر حال جناب بہاء اللہ کی تعلیم میں امور ذیل کی بنیاد کو مستحکم کرنا منظور تھا۔

صفحہ ١١٢

تعلیمات بہائیہ جو خاموش مقابلہ پر مبنی ہیں اور جنہوں نے حکومت کو نیچا دکھایا تھا ان کی مختصر فہرست یہ ہے کہ تشویق بحسن اخلاق تحصیل معارف فی الآفاق ہو۔

تعلیمات بہائیہ

جمیع اقوام عالم سے حسن سلوک، ہر ایک کی خیر خواہی اور الفت واتحاد، اطاعت وانقیاد، تربیت اطفال، بہم رسانی ضروریات انسانی، تاسیس سعادت، حقیقت وغیرہ۔ ان واقعات کے متصل ہی آپ نے اطراف ایران میں صحائف روانہ کر دیئے جو آج سوائے چند تحریرات کے بدخواہ دشمن کی دستبرد سے تمام ناپید ہیں۔ ان میں بھی یہی تعلیم تھی کہ تہذیب اخلاق کی طرف توجہ دلائی جائے اور اہل فساد سے شکایت اور اپنے بے لگام مریدوں کی سرزنش کی تھی۔ ایک تحریر کا خلاصہ یہ بھی تھا کہ مجھے قید میں ذلت نہیں بلکہ وہ میرے لئے باعث عزت ہے۔ لیکن جو میرے عقیدت مند مجھ سے تعلق پیدا کر کے بعد میں شیطان اور نفس کے تابع ہو چکے ہیں۔ ان کا وجود میرے لئے باعث ذلت ہے۔ ”منهم من اخذ الهوی، واعرض عما امر ومنهم من اتبع الحق بالهدی، فالذين ارتكبوا الفحشاء وتمسكوا بالدنيا انهم ليسوا من اهل البهاء“ خدا تعالیٰ نے ہر ایک دور زمانہ میں اپنا ایک امین مبعوث کیا ہے۔ تاکہ معدن انسانی سے جواہر معانی کا استخراج کرے۔ دین الہیٰ کی بنیاد یہ ہے کہ اختلاف مذاہب کو بغض وعناد کا سبب نہ سمجھا جائے۔ ”لان لها مطلعاً واحداً والاختلاف انما هو بمصالح الوقت والزمان“ اے اہل بہاء توحید کے لئے اٹھو اور سب کو ملا دو۔ تاکہ درمیان سے اختلاف مذہبی رفع ہو جائے۔ محبت الہیٰ اور مخلوقات پر رحم کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ مذہبی کینہ سخت آگ ہے۔ جس کا فرو کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ امید ہے کہ تمہاری کوشش سے یہ آگ بجھ جائے گی۔ کئی دفعہ دو حکومتیں اسی باعث سے آپس میں ٹکرا کر باہمی ہلاکت کا سبب بن چکی ہیں اور کئی ایک شہر اسی کے نذر ہو چکے ہیں۔ آج ان کا نشان تک بھی نہیں ملتا۔ ”هذا الكلمة مصباح لمشكوة البيان“ اے اہل عالم تم سب ثمر واحد ہو اور ایک ٹہنی کے پتے ہو۔ اتحاد سے معاشرت کرو۔ ”اقسم بشمس الحقيقة“ نور اتفاق سے اطراف عالم منور ہوتے ہیں۔ ”الله رقيب بما اقول لكم“ پوری کوشش کرو۔ صیانت عالم اور حفاظت انسانی کے اعلیٰ مراتب پر پہنچ جاؤ۔ ”هذا هو قصد سلطان الآمال ومامول مليك المقاصد“ ہمیں خدا تعالیٰ سے امید ہے کہ سلاطین عالم کو شمس عدل کی تجلیات سے منور کرے گا اور وہ اس سے دنیا کو منور کریں گے۔ ”نحن قلنا مرة بلسان الشريعة ومرة بلسان الحقيقت والطريقة، والمقصود اظهار

صفحہ ١١٣

غلبہ پر مبنی ہیں اور جنہوں نے حکومت کو نیچا دکھایا تھا ان کی مختصر فہرست تفصیل معارف فی الافاق ہو۔

سے حسن سلوک، ہر ایک کی خیر خواہی اور الفت و اتحاد، اطاعت و انقیاد، ضروریات انسانی، تاسیس سعادت، حقیقت وغیرہ۔ ان واقعات کے بعد ایران میں صحائف روانہ کر دیئے جو آج سوائے چند تحریرات کے بقیہ تمام ناپید ہیں۔ ان میں بھی یہی تعلیم تھی کہ تہذیب اخلاق کی تلقین، فساد سے شکایت اور اپنے بے لگام مریدوں کی سرزنش کی تھی۔ ایک مجھے قید میں ذلت نہیں بلکہ وہ میرے لئے باعث عزت ہے۔ لیکن جو غلو پیدا کر کے بعد میں شیطان اور نفس کے تابع ہو چکے ہیں۔ ان کا گروہ ہے۔” منهم من اخذ الهوى، واعرض عما امروا منهم فالذين ارتكبوا الفحشاء وتمسكوا بالدنيا انهم ليسوا حق نے ہر ایک دور زمانہ میں اپنا ایک امین مبعوث کیا ہے۔ تاکہ عدل رواج کرے۔ دین الہی کی بنیاد یہ ہے کہ اختلاف مذاہب کو بغض و عناد کا سبب نہ بناؤ ۔ کلها مطلعاً واحداً والاختلاف انما هو بمصالح الوقت توحید کے لئے اٹھو اور سب کو ملا دو۔ تاکہ درمیان سے اختلاف مذہبی اٹھ جائے۔ مخلوقات پر رحم کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ مذہبی کینہ سخت آگ ہوتی ہے۔ امید ہے کہ تمہاری کوشش سے یہ آگ بجھ جائے گی۔ کئی قومیں آپس میں ٹکرا کر باہمی ہلاکت کا سبب بن چکی ہیں اور کئی ایک شہر اسی وجہ سے مٹ گئے اور ان کا نشان تک بھی نہیں ملتا۔ ”هذا الكلمة مصباح لمشكوة الافاق۔ تم سب ثمر واحد ہو اور ایک ٹہنی کے پتے ہو۔ اتحاد سے معاشرت کرو۔ کیونکہ نور اتفاق سے اطرافِ عالم منور ہوتے ہیں۔”الله رقیب بما تعملون“ کوشش کرو۔ صیانت عالم اور حفاظتِ انسانی کے اعلیٰ مراتب پر پہنچ جاؤ۔”هذا مآل ومامول مليك المقاصد“ ہمیں خدا تعالیٰ سے امید ہے کہ اپنی تجلیات سے منور کرے گا اور وہ اس سے دنیا کو منور کریں گے۔”نحن نوصيكم مرة بلسان الحقيقت والطريقة، والمقصود اظهار

هذا المقام الاعلى، وكفى بالله شهيداً “ دوستو! روح وریحان سے معاشرت کرو۔ اگر کلمہ خیر تمہارے پاس ہے اور غیر کے پاس نہیں تو اسے پہنچا دو۔ منظور کرے تو بہتر ورنہ جانے دو اور اس کے حق میں نیک دعاء کرو۔ بے رخی اور جفا ء کاری کا برتاؤ اس سے مت کرو۔ ”لان لسان الشفقة جذاب القلوب ومائدة الروح بمثابة المعاني للالفاظ وكالافق لا شراق الحكمة والعقل “ اگر اس آخری زمانہ میں لوگ خاتم المرسلین (روحی ماسواہ فداہ) کی شریعت پر عمل پیرا رہتے تو ان کی حکومت کا قلعہ کبھی مسمار نہ ہوتا اور ان کے آباد شہر کبھی ویران نہ ہوتے۔ بلکہ امن وامان کے طرہ امتیاز سے مزین ہو جاتے۔ مگر اختلاف امت کی ظلمت سے ملت بیضاء کا چہرہ سیاہ ہو چکا ہے۔ ”لو عملوا بها لما غفلوا عن شمس العدل “ یہ مظلوم (میں بہاء اللہ ) ایام ظہور سے لے کر آج تک غافلوں کے ہاتھ میں مبتلا رہا ہے۔ کبھی عراق بھیجا گیا اور کبھی ادرنہ (اڈریانوپل ) اور کبھی عکا میں جلا وطن کیا گیا۔ ”الذي هو منفى اللصوص والقاتلين “ اور اس وقت معلوم نہیں کہ ہمیں کہاں جلا وطن کیا جائے گا۔ اب جو ہو سو ہو مگر ہمارے احباب کا فرض ہے کہ اصلاح عالم میں کوشان رہیں۔ کیونکہ جو کچھ بھی ہم پر مصیبت گزرتی ہے وہ رفعت کلمہ توحید کا باعث ہے۔” خذوا امر الله وتمسكوا به انه نزل من لدن امر حكيم، فاقسم بشمس الحقيقة “ اہل بہاء کا اصلاح عالم کے سوا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ صدق وصفاء پر ان کی بنیاد ہے اور ظاہر و باطن یکساں ہے۔ ”اعمالهم عليهم شاهدة “ ان کے اعمال دیکھ کر پتہ لگ جاتا ہے کہ ان کا اصل مقصد کیا ہے۔ ایام عراق (بغداد) میں مجھے ہر ایک مذہبی فرقہ سے الفت تھی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو منافق بن کر کبھی ہماری جماعت میں داخل ہوا وہ مؤمن بن کر نکلا۔ فضل کا دروازہ ہر ایک موافق ومخالف کے لئے کھلا ہوا ہے۔ ”لعل المجرمين يهتدون الى بحر رحمة “ اسم ستار کے تجلیات ظاہر ہو رہے ہیں اور اشرار بھی ابرار کی صف میں آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔ لوگ ہم سے کنارہ کش ہیں۔ کس لئے؟ اس کے دو سبب ہیں۔ اول علمائے ایران کی مخالفت۔ دوم جاہل بابیوں کے اعمال، علماء سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو بحر رحمت پر آنے سے روکتے ہیں۔ ورنہ جو ان میں سے عامل ہیں وہ تو دنیا کی جان اور روحِ رواں ہے۔ وہ عالم بڑا ہی خوش نصیب ہے۔ جس کے سر پر تاجِ عدل ہے اور بدن پر انصاف کا لباس نمودار ہے۔ ”فيوصى قلم النصح للاحباب بالمحبة والشفقت والحكمت والمداراة ،المظلوم مسجون اليوم وناصره جنود اعماله واخلاقه لا الصفوف والجنود ولا المدافع ولا القذائف “ نیک عمل ایک بھی ہو تو مٹی کو جنت بنا دیتا

صفحہ ١١٤

ہے ۔ دوستو ! (مجھ) مظلوم کی اعانت اخلاق مرضیہ اور اعمال طیبہ کے ساتھ کرو۔ ہر ایک کا فرض ہے کہ ذروۂ کمال پر پہنچے۔ اپنی کمالیت پر نظر نہ ڈالے۔ بلکہ خدا کی رحمت پر نظر ہونی چاہئے۔ اپنے منافع پر نظر نہ کرو۔ بلکہ وہ اشیاء پیش نظر رکھو جن سے کلمہ توحید بلند ہو اور ہوا و ہوس سے نفس کو پاک رکھو۔ کیونکہ مؤمن اور متقی کا ہتھیار تقویٰ ہے۔ تقویٰ ہی وہ زرہ ہے جس پر بغی اور فحشاء کے تیر نہیں پڑتے۔ اسی کا علم فتح مند رہا ہے اور ایک زبردست لشکر شمار کیا گیا ہے۔ ”بهاء فتح المقربون مدن القلوب باذن الله“ دنیا پر تاریکی چھائی ہوئی ہے اور اس میں روشنی صرف حکمت وسائنس سے حاصل ہوسکتی ہے۔ اس لئے ہر حالت میں اس کے مقتضیات کا خیال ضرور ہونا چاہئے۔ ہر ایک کام اور ہر ایک بات کی موقعہ شناسی ایک بڑا فلسفہ ہے۔ ”ومن الحكمة الحزم لان الانسان لا يجب عليه ان يقبل ماقاله كل نفس“ تم خدا سے ہی اپنے حاجات کی درخواست کرو۔ ”لانه لا يحرم عباده من رحيق المختوم وانوار اسمه القيوم. يا احباء الله يوصيكم قلم الصدق بالامانة الكبرى . لعمر الله نورها اظهر من نور الشمس. قد خسف كل نور عند اشراقها نطلب من الحق ان لا تحرم من اشراقاتها نحن دللنا الجميع بالامانة والعفة والصفاء والوفاء واوصيناهم بالاعمال الصالحة الطيبة و الاخلاق المرضية لتكون الكلمة قائمة مقابل السيف او الصبر مقابل السطوة والالتيام في مقام الظلم والتفويض عند الشهادة“ جو مصائب اس مظلوم جماعت پر عرصہ تیس سال سے نازل ہورہے ہیں۔ ان کو صبر وشکر سے جھیل رہی ہے۔ ”ويشهد بذلك كل من له عدل وانصاف“ اس مظلوم نے نصائح شافیہ اور مواعظ حسنہ کے ذریعہ سے اپنے آپ کو تیر مصائب کا نشانہ صرف اس لئے بنایا ہوا ہے کہ جو نفوس میں خزانے مضمر ہیں وہ سب ظاہر ہو جائیں۔ کیونکہ تنازعات مذہبی انسانی اعمال صالح کے لئے درندے ثابت ہورہے تھے۔ ”تبارك الرحمن الذي خلق الانسان علمه البيان“ مگر باوجود ان مصائب کے نہ امرائے ملک کو رحم آیا اور نہ ہی علمائے ملت نے ترس کھایا کہ حضور سلطان کے خدمت میں ایک ہی سفارش کا کلمہ بیان کرتے۔ ”لن يصيبنا الا ما كتب الله لنا“ انہوں نے کوئی احسان نہ کیا اور ایذارسانی میں کچھ کوتاہی نہ کی۔ اس لئے انصاف عنقاء ہو گیا ہے اور صدق کبریت احمر۔

شکایت از اہل زمان

دنیا انصاف کی دشمن ہے اور اہل حق کو ان سے نفرت ہے۔ ”سبحان

صفحہ ١١٥

الله ، لم يتكلم احد بما حكم به الله فى مقدمة ارض طاء“ اپنی وفاداری اور اقتدار بڑھانے کے لئے انہوں نے اچھی بات کو برے پیرایہ میں ظاہر کیا اور مصلح کو مفسد بتایا۔ اسی قسم کے آدمی ذرہ کو سورج بتا دیتے ہیں اور قطرہ کو سمندر ظاہر کرتے ہیں اور مصلحین عالم کو مفسد ثابت کرتے ہیں۔ بخدا یہ لوگ صرف اظہار وفاداری اور شکم پروری کرنا چاہتے ہیں۔ دوستو! خدا سے درخواست کرو کہ جو دنیا کرنا چاہتی ہے اسے پورا کرے اور خدا سلطان کی امداد کرے۔ تاکہ تمام زمین طراز امن سے مزین ہو جائے اور اس مظلوم کی وفاداری پر نظر کرتے ہوئے رہا کر دے اور اسے حریت کا تمغہ عطاء فرمائے۔ مجھے ایک گذارش کرنا بھی ضروری ہے کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضور کی خدمت میں جناب نواب اعظم معتمد الدولہ مرزا فرہاد نے اس مظلوم کے متعلق کچھ جھوٹ موٹ شکایت کی ہے۔ جس کا ذکر کرنا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ میں ایسے آدمیوں سے میل جول ہی نہیں رکھتا۔ ہاں مجھے اتنا یاد ہے کہ جب میرا مقام اسیری شمران میں تھا تو ایک دفعہ عصر کے وقت مجھے ملے تھے اور دوسری دفعہ صبح جمعہ کو ملاقات ہوئی۔ تو مغرب سے پہلے واپس آگئے تھے۔ مگر آپ کا فرض تھا کہ سچ سچ بات کہتے جو آپ کو معلوم ہوا۔ یا ابن الملک میری درخواست آپ سے صرف یہی ہے کہ عدل وانصاف سے دیکھیں کہ اس مظلوم پر کیسے مصائب آئے تھے اور آ رہے ہیں۔

”طوبى لنفس لم يمنعه شبهات اهل الهوى من اظهار العدل ولم يحرمه من انوار نير الانصاف ، يا اولياء الله فى اخر القول نوصيكم مرة اخرى بالعفة والصفاء والامانة والديانة والصدق ضعوا المنكر وخذوا المعروف هذا ما امرتم به فى كتاب الله العزيز الحكيم ، طوبى للعالمين فى هذا الحين ينوح القلم ويقول يا اولياء الله كونوا ناظرين الى افق الصدق منقطعين عمن سواه احرار طلقاء لاحول ولا قوة الا بالله“ بہر حال اس جماعت کے متعلق ممالک ایران میں ایسی روایات مشہور ہو چکی تھی جو انسانی تہذیب کے خلاف ہیں اور موہبت الہیہ کے مخالف ہیں۔ مگر جب ان کا صحیح مسلک معلوم ہو گیا تو وہ تمام شکوک رفع ہو گئے اور حقیقت حال کھل گئی اور ثابت ہو گیا کہ ان روایتوں کی بنیاد صرف ظنون فاسدہ پر تھی۔ ہمیں لوگوں کے اخلاق پر اعتراض نہیں۔ مگر بعض عقائد پر ضرور ہم معترض ہیں۔

مسئلہ عراق

خلاصہ یہ ہے کہ جوں جوں اس جماعت کو تنگ کیا گیا۔ اس کی شہرت بڑھتی گئی اور جس قدر اسے دبایا گیا اسی قدر ابھرتی گئی۔ یہاں تک کہ غیر ممالک کے لوگوں نے بھی ارادہ کر لیا کہ اس

صفحہ ١١٦

جماعت سے مل کر اپنے کاروبار میں ترقی حاصل کریں۔ مگر شیخ طائفہ (حضرت بہاء) اس قدر ہوشیار تھے کہ کسی کو اپنا راز دار نہ بناتے تھے اور صرف نیک نیتی اور مقاصد خیر کی نصیحت کر کے رخصت کر دیتے تھے۔ چنانچہ عراق میں یہ مسلک بہت مشہور ہو گیا۔ ممالک غیر کے مامورین بھی آپ سے عقد اخوت پیدا کرنا چاہتے تھے۔ مگر آپ نے اپنی حکومت کے خلاف ان سے کوئی پخت وپز نہیں کی۔ یہاں تک کہ اگر شاہی خاندان میں سے کسی ایک نے بھی اس مخالفانہ تحریک میں حصہ لیا تو اس کو بھی ڈانٹ دیا اور فرمایا کہ یہ کیسی قبیح حرکت ہے کہ انسان طمع زائد کی خاطر اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال کر دینی اور دنیاوی رسوائی حاصل کرے۔ ممکن ہے کہ انسان تمام جرائم کی برداشت کر سکے۔ مگر ہم وطنوں سے خیانت کی تاب نہیں لاسکتا۔ علیٰ ہذا القیاس تمام گناہ قابل مغفرت ہیں۔ مگر اپنی حکومت سے غداری اور بے وفائی کرنے کا گناہ قابل معافی نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے انسان کا دین بھی خراب ہوجاتا ہے۔ اس لئے وہ حکومت کے خیرخواہ ثابت ہوئے اور حقوق وفاداری میں مقدس سمجھے گئے تو اہل عراق نے ان کی تحسین کی اور محبان وطن نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس لئے خیال تھا کہ حکومت ایران کو صحیح رپورٹ دی جائے گی۔ مگر راستہ میں بعض مشائخ کی مہربانی سے کچھ ایسی الٹ پلٹ باتیں گھڑی گئیں کہ سن کر حیرت ہوتی ہے اور خیال پیدا ہوتا ہے کہ یہ باتیں صرف رفعت دنیاوی حاصل کرنے کے لئے گھڑی گئی تھیں کہ بادشاہ کے حضور میں اقتدار دنیوی حاصل ہوجائے اور چونکہ شاہی دربار میں اراکین سلطنت آزادی سے کلام نہیں کرسکتے تھے اور وزراء بھی کسی مصلحت کی وجہ سے خاموش تھے۔

جنرل بغداد کی ناکامی

اس لئے مسئلہ عراق کے متعلق بہت سی جھوٹی روایات شائع ہو کر کدورت مزاج شاہی کا باعث بن گئیں اور چغل خوروں نے دل کھول کر جو چاہا گھڑ لیا اور مسئلہ عراق نے بڑی اہمیت پیدا کر لی۔ مگر جنرل قونسل روس نے جب اصلیت پر پوری پوری اطلاع پائی تو استقلال سے اس مسئلہ کے حل کرنے میں کھڑے ہوگئے۔ لیکن جب مرزا بزرگ خان بغداد کے جنرل کونسل مقرر ہوئے تو چونکہ ناعاقبت اندیش تھے اور عموماً اپنے اوقات عزیز کو غفلت میں گزار دیتے تھے تو مشائخ عراق نے پختہ ارادہ کرلیا کہ اس گروہ کا استیصال کردیا جائے اور جس قدر بھی ہوسکتا تھا حکومت ایران کو اس ارادہ کے پورے کرنے میں تقریر و تحریر کے ذریعہ سے بڑے زور سے برانگیختہ کرنے کے لئے روزانہ شکایات کا ایک بڑا طومار لکھ کر روانہ کرتے تھے۔ مگر چونکہ ان شکایات کی کچھ اصلیت نہ تھی۔ اس لئے خدا کی طرف سے ان پر عمل درآمد کرنے میں تاخیر اور دیر پڑتی گئی۔ آخر تنگ آکر خود

صفحہ ١١٧

جنرل بغداد اور مشائخ بغداد نے باہمی مشاورت کے لئے کاظمین میں ایک جلسہ منعقد کیا۔ جس میں علمائے نجف اور علمائے کربلائے معلیٰ کی حاضری ضروری قرار دی گئی تو تمام مجتہد تشریف لائے۔ مگر کچھ تو واقعات پر اطلاع پا کر تشریف لائے تھے اور کچھ صرف تعمیل حکم سلطانی کے لئے حاضر ہو گئے۔ ورنہ ان کو اصلی حالات سے اطلاع نہ تھی۔ چنانچہ حضرت خاتمۃ المحققین شیخ مرتضیٰ رئیس الکل بھی لاعلمی کی حالت میں آ کر شامل ہو گئے ۔ مگر جب آپ کو اصل حقیقت منکشف ہوئی تو فرمانے لگے کہ مجھے ابھی تک بابی مذہب کی واقفیت نہیں اور بظاہر مجھے یہ فرقہ قرآن شریف کے خلاف معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے مجھے معذور سمجھا جائے اور تکفیری فتویٰ دینے میں ہر ایک کو مجبور نہ کیا جائے۔ اب جنرل بغداد اور مشائخ کو ناکامی اور ندامت کا منہ دیکھنا پڑا۔ جلسہ برخاست ہوا اور لوگ واپس گھر چلے گئے ۔ انہی ایام میں مفسدہ پرداز اور معزول شدہ وزیر بھی پیچھے پڑ گئے اور جھوٹی افواہیں اڑا دیں کہ حکومت ایران بابیوں کی بیخ کنی کا فیصلہ کر چکی ہے اور عنقریب تمام بابی گرفتار ہو کر ایران پہنچائے جائیں گے۔ مگر وہ آرام سے زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اب بزرگ خان نے لوگوں کو بابیوں کے خلاف اشتعال دلانا شروع کر دیا۔ تا کہ لوگ ہر ایک جگہ فساد برپا کر کے ان کو دق کریں۔ لیکن جب یہ دوسری چال بھی نہ چلی تو پورے نو ماہ تک ان کے خلاف علمائے اسلام سے مشورہ کرتا رہا اور چند بابیوں نے مصلحت وقتی کی بناء پر حکومت عثمانی کی تابعداری اختیار کرلی۔ جس سے یہ چال بھی فیل ہو گئی۔ بہر حال عراق میں جناب بہاء اللہ گیارہ سال یا کچھ زیادہ عرصہ تک مقیم رہے اور بابیوں کی شہرت اس قدر دور دور تک پھیل گئی کہ ہر ایک فرقہ ان سے خوش تھا اور بڑے بڑے علمائے اسلام اپنی مشکلات حل کرانے کو آپ کے پاس حاضر ہوتے اور لوگ خیال کرتے کہ آپ کا علم جادو ہے یا کوئی عجیب قسم کا غیبی فیضان ہے۔ اس کے بعد حکومت عثمانیہ نے حکم دے دیا کہ بابی بغداد چھوڑ دیں۔ اس وقت اور اس سے پہلے گیارہ سال کے قیام میں بھی مرزا یحیٰ بدستور سابق بھیس بدل کر ہی ادھر ادھر گھومتا رہا اور اسرار نویسی کا کام کرتا رہا۔

اڈریانوپل کو روانگی

اور جب یہ قافلہ ادرنہ کو روانہ ہوا اور حکومت عثمانیہ نے راستہ کی حفاظت ہر طرح سے اپنے ذمہ لی تو پھر بھی یحیٰ نے اپنی طرز معاشرت نہ چھوڑی اور اپنے آپ کو غیر جانبدار ہی ظاہر کرتا رہا۔ کبھی معلوم ہوتا کہ ہندوستان جائے گا۔ کبھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہیں ٹرکی میں رہے گا۔ مگر بعد میں کوک اور اربیل جانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔ جہاں پر اس قافلہ کو گزرنا تھا۔ پھر موصل بھی پہنچ گیا۔ مگر وہاں قافلہ سے کچھ فاصلہ پر ڈیرہ جما لیا۔ گو کسی قسم کا خطرہ نہ تھا۔ مگر وہ اپنی شناخت

صفحہ ١١٨

کرانا نہیں چاہتا تھا۔ تاکہ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔ اس کے بعد قافلہ استنبول پہنچا تو حکومت نے کمال عزت وتوقیر کے ساتھ فروکش کیا۔ پہلے قیام ایک سرائے میں تھا۔ مگر جب زائرین زیادہ ہوگئے تو تیس یوم کے بعد دوسری جگہ تبدیل کرنی پڑی۔ مگر وہاں دشمنوں نے اڑا دیا کہ یہ لوگ گوبظاہر خوش مزاج اور نیک خصال ہیں۔ مگر درحقیقت فساد و بغاوت کا مجسم شعلہ آتش ہیں اور ہر قسم کی سزا کے مستوجب ہیں۔ اس وقت کو بعض اراکین سلطنت نے بھی مشورہ دیا کہ حکومت سے درخواست کی جائے کہ اس قسم کی شکایات بے جا ہیں۔ اس لئے ہمیں واپس اپنے وطن ایران کو بھیجا جائے۔ مگر بابیوں نے کہا کہ حکومت عثمانیہ جو حکم دے ہمیں منظور ہے۔ اس سے سرتابی نہیں کر سکتے اور ایسا استقلال دکھایا کہ جو اراکین سلطنت بھی ملاقات کو آتے تھے ان سے بھی شکایت کی بجائے مسائل الہیہ کی بحث شروع رہتی تھی اور علوم وفنون پر بحث چلتی تھی اور یہ بھی کہا کہ اگر خود حکومت کو مطلوب ہو تو ہمارے حالات کا مطالعہ کرے۔ ورنہ ہمارے کہنے سے حقیقت حال کا انکشاف مشکل ہوگا۔ اس لئے ہماری ذاتی رائے کوئی بھی نہیں ہے۔”قل کل من عند اللہ ان یمسک اللہ بضر فلا کاشف لہ لنا برھان شافی“ کچھ عرصہ بعد حکم ہوا کہ صوبہ روملی ادرنہ میں چلے جائیں تو وہاں جا کر بابیوں نے ڈیرے ڈال دیئے اور مکانات تعمیر کر لئے۔

مرزا محمد یحییٰ کی علیحدگی

اس امن و راحت کے ایام میں سید محمد اصفہانی نے مرزا یحییٰ سے آپس میں سمجھوتہ کیا کہ تم یہاں سے نکل چلو کہ میں مرید بنوں اور تم پیر اور تبلیغ کے کام میں مصروف ہوں۔ احباب نے ہر چند سمجھایا کہ تم اپنے بھائی بہاءاللہ کی گود میں اتنے بڑے ہو کر صاحب مراتب عالیہ ہوئے ہو۔ اب ان کا ساتھ نہ چھوڑو۔ مگر اس احسان یاددھانی کا کوئی اثر نہ ہوا تو انہوں نے اپنے مبلغ سرائیہ میں بھیج دیئے اور وہاں جا کر چندہ شروع کر دیا۔ مگر جب حضرت بہاء کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ کو بہت ملال ہوا اور اسی غصہ میں آ کر دونوں (یحییٰ ومحمد) کو ادرنہ سے نکال دیا تو دونوں اسلامبول پہ پہنچ گئے اور اصفہانی نے یوں کہنا شروع کر دیا کہ جس کی شہرت عراق میں عالمگیر تھی وہ سید محمد یحییٰ تھے۔ بہاءاللہ نہ تھے تو کسی فتنہ پرداز نے مشہور کر دیا کہ یہاں تبلیغ کا کام شروع کردو۔ کامیابی ہوگی۔ اسی دھوکہ میں آکر خوب تبلیغ کی اور ان ہی فتنہ پردازوں نے لوگوں کو ان دونوں کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا اور حکومت کو توجہ دلائی کہ بابی فساد کا مادہ ہیں۔ سلطنت سے ان کا اخراج ضروری ہے۔ اس لئے حکم ہوا کہ صرف بہاءاللہ کو ادرنہ سے جلاوطن کیا جائے اور کوئی بابی ہمراہ نہ جانے پائے اور یہ نہ بتایا کہ کہاں جلاوطنی ہوگی۔ اس لئے کمال اضطراب میں بابی آتش درنعل

صفحہ ١١٩

ہوگئے اور التجاء کی کہ ہم اپنے شیخ کے ساتھ ہی جلاوطن ہوں گے۔ مگر حکومت نے منظور نہ کیا کہ تو اسی اضطراب و مایوسی میں حاجی جعفر آپ کے فراق میں دیوانہ ہوگیا اور خودکشی کر لی۔ اب حکومت نے اجازت دے دی کہ بہاء اللہ اپنے احباب کے ہمراہ عکا بھیجا جائے اور یحییٰ کو ماغوسا میں نظر بند کیا جائے۔

حکومت ایران کی خدمت میں درخواست

جب بہاء اللہ ادرنہ میں قیام پذیر تھے تو وہاں ایک درخواست سلطان ایران کی طرف لکھی تھی۔ جس میں اپنی صداقت دعویٰ، حسن نیت اور شعار بابیت کو درج کیا تھا اور وہ درخواست کچھ فارسی میں تھی اور کچھ عربی میں۔ بہر حال اسے لفافہ میں بند کر کے یوں معنون کیا کہ باسم سلطان ایران اب کوئی بابی یہ درخواست پہنچانے کو تیار نہ ہوا۔ آخر مرزا بدیع خراسانی نے حوصلہ کر کے عرض کی کہ میں یہ درخواست ایران پہنچا دوں گا تو وہ روانہ ہوا۔ جب وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ سلطان اس وقت شہر سے باہر تشریف رکھتے ہیں۔ اس لئے راستہ کے قریب تین روز ایک پتھر پر قیام کیا جو شاہی خیموں کے محاذ پر تھا اور شب و روز صوم وصلوٰۃ میں مصروف رہ کر منتظر تھا کہ سلطان کا یہاں پر گذر ہو تو وہ درخواست پیش کردوں۔ مگر اسی انتظار میں بھوکا پیاسا اس قدر کمزور ہوگیا کہ صرف تنفس ہی باقی رہ گیا تھا۔ چوتھے روز سلطان دور بین سے دیکھ رہے تھے کہ آپ کی نظر بدیع پر پڑی تو فی الفور اسے حاضر کیا گیا اور اس سے درخواست لے کر اسے نظر بند کرلیا گیا۔ اب سلطان اگرچہ شدت پسند نہ تھے۔ مگر اراکین سلطنت نے اس کو سزا دینا شروع کردیا۔ کیونکہ یہ ان بابیوں میں سے تھا جو بغلار اور سقلاب وغیرہ میں جلاوطن کئے گئے تھے اور یہ خیال کیا کہ اگر اس کو سزا نہ دی گئی تو آئے دن ان کے قاصد آنے شروع رہیں گے۔ اب اسے شکنجہ میں کھینچا۔ تاکہ باقی پارٹی کے حالات بھی بتائے۔ مگر اس نے صبر و سکوت سے کام لیا اور پھر اسے زنجیروں میں جکڑ کر تشہیر کیا۔ وہ اس میں بھی خاموش رہا۔ آخر جب کوئی حیلہ کارگر نہ ہوسکا تو اس کی تصویر لے کر اسے قتل کردیا گیا۔ (قول مصنف) میں نے وہ خود تصویر دیکھی ہے۔ سلطان نے جب درخواست پڑھی تو بعض فقرات نے آپ کے دل پر گہرا اثر کیا اور جب معلوم ہوا کہ بابی مذکور قتل ہوا ہے تو آپ نے ناراضگی میں کہا کہ کیا قاصد کو پیغام رسانی کے جرم میں قتل کیا جاسکتا ہے؟ پھر حکم دیا کہ علمائے شہر اس درخواست کا جواب لکھیں تو شہر کے سرکردہ علمائے اسلام نے جواب میں عرض کیا کہ قطع نظر اس سے کہ وہ اسلام کے مخالف ہے۔ آئین حکومت کے بھی خلاف ہے۔ اس لئے اس گروہ کا استیصال از حد ضروری ہے۔ مگر سلطان کو اس جواب سے اطمینان نہ ہوا۔ کیونکہ

صفحہ ١٢٠

اس درخواست میں حکومت اور اسلام کے خلاف کوئی بات درج نہ تھی۔

اقتباسات درخواست

ذیل میں ہم اس درخواست کے چند فقرات بطور نمونہ درج کرتے ہیں کہ اس درخواست کے باب اول میں یہ امور درج ہیں۔ مراتب ایمان و ایقان، فدائے روح فی سبیل الله، مقام تسلیم و رضا، کثرت مصائب و آلام، دشمنوں کی شکایت سے بدنامی، اپنی برأت مفسدہ پردازوں سے بیزاری، خلوص ایمان بخصوص القرآن، لزوم خلائق الرحمٰن، امتیاز عن سائر الخلق، اتباع الاوامر، اجتناب عن النواہی، ظہور قضیہ باب بتائید الٰہی، اہل دنیا کا اس کے مقابلہ سے عاجز ہونا، باب کا مصائب میں پڑنا، تعلیم کے بغیر موہبت ایزدی کا حصول، غیب الٰہی سے استفاضہ، اشراق علم لدنی، باب نصیحت کرنے میں معذور تھا۔ اکتساب کمالات انسانیہ، اشتعال بالحجۃ الالٰہیۃ، تشویق حصول مقام اعلیٰ جو سلطنت سے بھی اوپر ہے۔ المناجات والابتهال وغیرہ۔

باب دوم میں اصل مقصد شروع ہوتا ہے۔ جس کا اقتباس ذیل میں درج ہے کہ: ”یا الهی هذا كتاب لم يدان أرسله الى السلطان ، انت تعلم انی مااردت الاظهور عدله لخلقك وبروز الطافه لا هل مملكتك ، وحشيتك غاية رجائی ، ايد يا الهی حضرت السلطان على اجراء حدودك بين عبادك واظهار عدلك حين خلقك ليحكم على هذه الفئة (البابية) كما يحكم على من دونهم انك انت العزيز المقتدر الحكيم“ حسب الحکم حضور سلطان کے بندہ طہران سے عراق کو جلا وطن ہو کر وہاں بارہ سال مقیم رہا اور اس عرصہ قیام میں مجھے یہ قدر نہ تھی کہ حضور کی خدمت میں اپنا حال لکھ کر پیش کرتا یا کم از کم غیر ممالک میں اپنا حال لکھ کر بھیجتا۔ اس کے بعد ایک سرکاری آدمی نے ہم فقیروں کو ستانا شروع کر دیا اور علمائے اسلام کو ہمارے خلاف برانگیختہ کرتا تھا۔ حالانکہ ہم سے حکومت کے خلاف کوئی امر سرزد نہیں ہوا تھا اور صرف اس امر کو ملحوظ رکھ کر کہ ہم سے کوئی امر مخالف سرزد نہ ہو جائے اپنا تمام حال لکھ کر مرزا سعید خاں کو دیا تا کہ آپ کی خدمت میں پیش کر کے جو حکم صادر ہو ہم پر نافذ کرے۔ مگر بہت عرصہ گزرنے پر بھی کوئی شاہی حکم جاری نہ ہوا۔ اس لئے ہم معدودے چند عراق کو چلے گئے۔ تا کہ مخلوق خدا کی خونریزی نہ ہو۔ اگر حضور غور فرمائیں تو یہ سب کچھ مصلحت عامہ کو مدنظر رکھ کر پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ ہم جہاں کہیں ہوتے حکام وقت کو ہمارے خلاف اکسایا جاتا تھا۔ مگر اس عبد فانی (بہاء اللہ) کا ہمیشہ یہی حکم ہوتا تھا کہ کوئی بابی فتنہ پردازی میں حصہ نہ لے۔ اس پر میرے اعمال شاہد ہیں اور تمام دنیا جانتی ہے کہ بابی کو اس وقت پہلے کی بہ

صفحہ ١٢١

نسبت زیادہ ہیں۔ لیکن فتنہ و فساد سے متنفر ہیں۔ آج پندرہ برس ہورہے ہیں کہ صبر و تسلیم سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جب بندہ فانی ادرنہ آیا تو کسی نے مجھ سے سوال کیا کہ نصرۃ کا مفہوم کیا ہے؟ تو اس کو کئی ایک طرح جواب دیئے گئے۔ ان میں سے ایک جواب یہاں بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ تا کہ حضور بھی معلوم کر سکیں کہ اصلاح عالم کے بغیر ہمارا کوئی مقصد نہیں ہے۔ اگر چہ حضور پر وہ الطاف الہیہ تو منکشف نہیں ہو سکتے ۔ جو خدا تعالیٰ بغیر استحقاق کے انعام کئے ہیں۔ مگر تاہم اس قدر جناب کو ضرور معلوم ہو جائے گا کہ مجھے عقل و فراست سے ضرور آراستہ و پیراستہ کیا ہوا ہے۔ ”انی لست مجنونا كما يظنه الاعداء “ ہاں ایک جواب جو سائل کو لکھ بھیجا تھا وہ یوں تھا کہ : ”هو الله تعالیٰ “ یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ دنیا و مافیہا سے مستغنی ہے۔ اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ کوئی کسی سے لڑائی کرے۔ سلطان یفعل ما یشاء بحر و بر کی حکومت اس نے سلاطین کے سپرد کر دی ہوئی ہے۔ اس لئے وہ قدرت الہیہ کے اپنے اپنے مقدور کے مطابق مظاہر ہیں اور جو کچھ اس نے اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے۔ وہ دل ہے جو علوم الہیہ ذکر وشغل اور محبت الہی کا مخزن ہوتا ہے اور ہمیشہ سے خداوند تعالیٰ کا یہ ارادہ بھی چلا آتا ہے کہ دنیا وما فیہا کے کچھ اشارات اپنے بندوں کے دلوں پر منکشف کرے۔ تا کہ اپنے تجلیات کے قبول کرنے کے لئے ان دلوں کو مستعد کرے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مدینۃ قلب میں غیر کو دخل نہ دیا جائے۔ تا کہ حبیب اپنے مکان میں قیام کر سکے۔ یعنی خدا کے اسماء وصفات کی تجلی قلوب پر ہو ورنہ تو ذات باری صعود و نزول سے پاک ہے۔ اب نصرت کا معنی یہ نہیں ہے کہ کسی پر اعتراض کیا جائے یا نفسانی بحث کی جائے۔ بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ ان مدائن قلوب کو فتح کیا جائے جو ہوا و حرص اور آزادی کے لشکروں کی دستبرد میں فنا ہو چکے ہیں اور حکمت و بیان کی تلوار چلا کر اپنے قبضہ میں کر لیا جائے ۔ ”هذا هو معنى النصرة “ فساد خدا کو پسند نہیں ہے اور جاہل (بابی ) اس سے پیشتر جو فساد کر چکے ہیں وہ بھی پسندیدہ نہیں ہو سکتا اور جو شخص نصرۃ کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ سیف بیان و معانی کے ساتھ اپنے قلب پر تصرف کرے اور غیر اللہ کی یاد سے اس کو چاروں طرف سے روک دے۔ اس کے بعد مدائن قلوب العباد کا رخ کرے۔ ” هذا هو المقصود بالنصرة “ خدا تعالیٰ کی رضا میں مار ڈالنے سے خود مرجانا بہتر ہے۔ احباب کو چاہئے کہ ایسی شان دکھائیں جس سے مخلوق الہی کو تسلیم و رضا کا راستہ دکھائیں۔ ”اقسم بشمس افق التقدیس “ خدا کے بندوں کی نظر مٹی اور احوال اراضی کی طرف ہرگز نہیں ہوتی اور خدا تعالیٰ بھی محض فضل وکرم سے صرف دلوں کو دیکھتا ہے تا کہ وہ دل اور نفوس فانیہ خاکی آلائشوں سے پاک ہو کر مقامات عالیہ میں پہنچ سکیں۔ ورنہ اس سلطان حقیقی کو کسی

صفحہ ١٢٢

طرح کے نفع ونقصان سے تعلق نہیں ہے۔’ کل الیه راجعون والحق فرد واحد مستقر فی مقره مقدس عن الزمان والمکان والذكر والبيان والاشارة والوصف والعلو والدنو ولا یعلم ذلك الا هو ومن عنده علم الكتاب لا اله الا هو العزيز الوهاب “ اب سلطان کا فرض ہے کہ عدل ورحم سے اس امر مہم میں کام کریں اور لوگوں کی معروضات پر توجہ نہ کریں۔ کیونکہ وہ سب فرضی اور بغیر دلیل کے ہیں۔ اس کے بعد ہمیں حکم ہوا تو استنبول حاضر ہوئے۔ مگر وہاں بھی ہمیں حکومت عثمانیہ کے حضور اپنے اصلی حالات پیش کرنے کا موقعہ نہ ملا اور ہم نے خود بھی ارادہ نہ کیا تا کہ معلوم ہو جائے کہ ہمارا ارادہ کسی قسم کے فساد اور بغاوت کا نہیں ہے۔ سلطان ظل الٰہی ہوتا ہے۔ جس طرح خدا کی تربیت کسی خاص انسان سے مختص نہیں ہے۔ اسی طرح ظل الٰہی کی تربیت بھی کسی خاص بنی نوع انسان سے مخصوص نہیں ہونی چاہئے۔ تاکہ رب العالمین کی تجلی تربیت میں ظاہر ہو۔ اس اصول پر بابی قائم ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ انہوں نے اپنے مقاصد چھوڑ کر مشیت ایزدی کو پیش نظر رکھا ہوا ہے اور اس سے بڑھ کر اس صداقت کا نشان اور کیا ہو سکتا ہے کہ محبت الٰہی میں اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔ ورنہ بغیر کسی خاص مطلب کے کوئی عقلمند اپنی جان ضائع نہیں کرتا۔ کہا جاتا ہے کہ ہم مجنون اور پاگل ہیں۔ مگر ایک دو شخص مجنون اور دیوانے ہوں تو ممکن ہوگا۔ لیکن ایک بڑی جماعت کا دیوانہ ہونا ممکن نہیں ہو سکتا۔ جس نے اس اصول کو قائم کرنے کی خاطر اپنی جان و مال قربان کر دیئے ہیں۔ پس اگر یہ لوگ اپنے دعاوی میں سچے ہیں تو مخالفین کے پاس کیا ثبوت ہے؟ کہ ہم جھوٹے ہیں۔ حاجی مرحوم سید محمد نے روس کی لڑائی میں جہاد کا فتویٰ دیا اور خود بھی اس جہاد میں شریک ہوئے۔ اگر چہ آپ علامہ زمان تھے۔ مگر ان پر بھی یہ راز منکشف نہ ہوا کہ تربیت ایک بہت بڑا کام ہے۔ بیس برس ہو رہے ہیں کہ بابی دور دراز ملکوں میں جلاوطن کئے جارہے ہیں اور ان کے بچے یتیم اور مائیں بے اولاد کر دی گئیں ہیں اور ان کو سطوت سلطانی سے اس قدر بھی قدرت نہیں کہ اپنی اولاد پر نوحہ کر سکیں۔ باوجود اس کے پھر بھی محبت الٰہی ان میں جلوہ گر ہے۔ ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔ مگر ان کے اس عقیدہ میں فرق نہ آیا۔ جس سے ثابت ہو گیا کہ وحدت رحمانیہ کی طرف بالکل جذب ہو چکے ہیں۔ گو علمائے ایران نے سلطان کا دل ہماری طرف سے مکدر کر دیا ہوا ہے۔ افسوس ہے کہ مجھے یہ موقعہ نہیں دیا گیا کہ آپ کے روبرو تبادلہ خیالات کے لئے ان سے گفتگو کروں ۔ اب بھی گزارش کرتا ہوں کہ مجلس مناظرہ منعقد کر کے ہمارے دعاوی پر مباحثہ ہو جائے ۔ ” فتمنوا الموت انکنتم صادقین “ میں صداقت کی علامت تمنائے موت قرار دی گئی ہے۔ اب خود

صفحہ ١٢٣

بتائیں کہ خدا کی راہ میں کس قوم نے اپنی قربانی دی ہے اور کس کا ظاہر و باطن یکساں نظر آ رہا ہے؟ بعض علمائے ایران نے بغیر اس کے کہ مجھے دیکھا ہو یا میرے مقاصد پر غور کیا ہو۔ میری تکفیر کا فتویٰ دے دیا ہے۔ حالانکہ دعویٰ بلا دلیل تسلیم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ظاہری زہد و تقویٰ کسی کام آتا ہے۔ اب میں صحیفہ فاطمیہ سے جو کلمات مکنونہ کے عنوان سے مشہور ہے۔ چند فقرات ایسے علمائے اسلام کی کلی کھولنے کے لئے پیش کرتا ہوں۔ جس میں آپ نے ایسے علماء کے لئے یوں فرمایا تھا کہ اے دھوکہ بازو تم کیوں حفظ نفس کا دعویٰ کرتے ہو۔ حالانکہ تم بھیڑیئے ہو؟ تمہاری مثال صبح کا ستارہ ہے کہ بظاہر روشن اور چمکدار ہے اور باطن میں رہروان ممالک بعیدہ کے لئے ہلاکت کا باعث ہے۔ ( کیونکہ اس وقت رہزن لوٹ مار کرتے ہیں ) یا کڑوا پانی تمہاری نظیر ہے کہ بظاہر مصفےٰ اور دلربا نظر آتا ہے۔ مگر باطن میں ایسی تلخی رکھتا ہے کہ ایک قطرہ بھی زبان پر نہیں رکھا جا سکتا۔ خدا تعالیٰ کی تجلی ہر ایک پر ہے۔ مگر مٹی اور فرقد ستارہ میں قبولیت روشنی کے رو سے بڑا فرق ہے۔ حدیث قدسی میں خدا فرماتا ہے کہ کئی دفعہ اے ابن دنیا میں نے تجھ پر صبح کو اپنی تجلی ڈالی۔ مگر تم بستر راحت پر سوئے رہے اور غیر سے مشغول ہوتے دیکھ کر میں واپس جاکر خاموش رہا اور اپنے فرشتوں کو بھی نہیں بتایا کہ تم کو ندامت نہ ہو۔ دوسری روایت میں ہے کہ: ”الداعى لمحبتى قد هبت عليك نسيم عنايتى ووجدتك نائما على فراش الراحة فبكيت على حالك ورجعت“ اس لئے ضروری ہے کہ سلطان ہمارے مخالفین کی بے دلیل شکایت پر توجہ نہ کریں۔ قرآن مجید میں ہے کہ: ”ان جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا “ اور حدیث شریف میں ہے کہ: ”لا تقبلوا النمام “ چغل خور کی بات نہ مانو۔ بہت سے علماء نے مجھے دیکھا بھی نہیں اور جنہوں نے دیکھ لیا وہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ہم اس امر پر عمل پیرا ہیں کہ جس کا ہمیں خدا نے حکم دیا ہے اور ان کو یہ آیت پیش نظر ہے کہ: ”هل تنقمون منا الا ان آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل من قبل “ ہماری نظریں آپ کے توجہ کریمانہ کی طرف لگی ہوئی ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اس شدت کے بعد ہمیں ضرور آرام ملے گا۔ مگر معروض الامر صرف یہی ہے کہ حضور خود اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کریں۔ ”يا الهى ان قلب السلطان بين أصبعى قدرتك لوتر قلبه الى شطر الرحمة انك انت المقتدر المنان لا اله الا انت العزيز المستعان “ ہاں جو علمائے اسلام اپنے نفس کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ دین کے محافظ ہیں۔ ہوائے نفس کے مخالف ہیں اور فرمان الٰہی کے تابع ہیں تو عوام کا فرض ہے کہ ایسے علماء کی تقلید کریں۔ اگر سلطان ان بیانات پر نظر ڈالیں جو مظہر الہام الرحمٰن (بہاء اللہ) پر ظاہر ہوئے ہیں تو یقیناً سمجھ لیں گے کہ جو عالم

صفحہ ١٢٤

صفات مذکور سے متصف ہو سکتا ہے وہ کبریت احمر (سرخ گندھک) سے بھی زیادہ کمیاب ہے اور جو اس وقت کے علمائے اسلام ہیں۔ ”شر فقہاء تحت ظل السماء“ کے حکم میں داخل ہیں۔ ”منهم الفتنة خرجت واليهم تعود“ اگر ان روایات میں شک ہو تو بندہ ثابت کرنے کو حاضر ہے۔ مگر جو سید مرتضیٰ مرحوم جیسے علمائے اسلام غیر جانبدار ہیں۔ ان کے متعلق ہمیں کوئی شکایت نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اصل مقصد سے چشم پوشی کی ہوئی ہے اور صرف بابیوں کی ایذاء پر تلے ہوئے ہیں۔ اگر ان سے پوچھا جائے کہ تم نے کون سی اسلامی خدمت انجام دی ہے یا کس امر متعلقہ ترقی حکومت پر توجہ کی ہے کہ جس سے ملکی یا سیاسی ترقی ہو تو خاموش رہ کر کہتے ہیں کہ یہ معترض بابی ہے۔ پھر اسے قتل کروا کر مال لوٹ لیتے ہیں۔ جیسا کہ تبریز کا واقعہ مشہور ہے اور سلطان تک خبر بھی نہیں پہنچنے دیتے۔ کیونکہ اس جماعت کا کوئی معین و مددگار نہیں ہے۔ اب ایسے لوگ جب سلطان کی رعایا بننے کا حق رکھتے ہیں۔ ان کے سوا اور مذاہب بھی ظل عاطفت میں پرورش پا رہے ہیں تو اس جماعت کو بھی ملک میں رہنے کی اجازت ہونی چاہئے اور اراکین سلطنت کا فرض ہے کہ ایسے قواعد پاس کریں کہ تمام مذہبی فرقے امن و امان سے زندگی بسر کر سکیں اور ملک میں ترقی ہو۔ کیونکہ خدا کا منشاء صرف یہی ہے کہ عدل و انصاف سے رعایا کی حفاظت کی جائے۔ ”ولکم فی القصاص حیوة“ یہ امر بعید ہے کہ ایک شخص کی بدعملی سے ایک جماعت کو سزا دی جائے۔ ”لا تزر وازرة وزر اخریٰ“ نیک و بد ہر ایک فرقہ میں ہوتے ہیں، مگر عقلمند برائی کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اگر وہ طالب مولیٰ ہے تو اس کو ایسے افعال کے ارتکاب کی طرف مطلقاً توجہ نہ ہوگی۔ اگر وہ طالب دنیا ہے تو وجاہت طلبی اس کو ایسے امور سے مانع ہوگی کہ کہیں لوگ اس سے برگشتہ نہ ہو جائیں۔ ”سبحنك اللهم يا الهي تسمع كلامي وترى حالى وضرى فان كان نداى خالصاً لوجهك فاجزب به قارب بريتك الى افق سماء عرفك وقلب السلطان الى يمين اسم عرشك الرحمن، ثم ارزقه النعمة التي نزلت من سماء كرمك لينقطع عما عنده ويتوجه الى شطر الطافك، اى رب ايده على اعانة المظلومين واعلا كلمتك وانصره بجنود الغيب والشهادة ليسخر المدائن باسمك لا اله الا انت العزيز“ اگر ہم میں سے کوئی فعل قبیح کا مرتکب ہو جاتا ہے تو یہ لوگ شکایت کر دیتے ہیں کہ یہ فعل قبیح بھی ان کے مذاہب میں داخل ہے۔ حاشا و کلا میں نے کبھی ایسے مکروہ افعال کی کبھی اجازت نہیں دی۔ بالخصوص ان افعال قبیح کی کہ جن کی تصریح قرآن شریف میں موجود ہے۔ دیکھئے شراب نوشی کی ممانعت قرآن شریف میں موجود ہے اور یہ لوگ بھی

صفحہ ١٢٥

ممانعت کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی لوگ اس کا ارتکاب کر لیتے ہیں۔ تو سزا یابی کے مستوجب صرف یہی غافل نفوس قرار پاتے ہیں۔ نہ یہ کہ علمائے اسلام پر کوئی امر عائد کیا جاتا ہے۔ ”بل ان ھذا الحزب يعلم ان الله يفعل ما يشاء ويحكم ما يريد“ اعتراضات ہمیشہ ہر ایک عالم وجاہل دونوں پر ہوتے چلے ہیں۔ دیکھئے انبیاء علیہم السلام اعتراضات سے نہ بچ سکے تو بھلا یہ فرقہ کیا حقیقت رکھتا ہے۔ ”وھمت کل امة برسولھا لیا خذوہ وجادلوا بالباطل لید حضوا به الحق ومایاتیہم من رسول الاکانوا بہ یستھزؤن ”حضور خاتم المرسلین ﷺ کا ظہور ہوا تو چاروں طرف سے جبر واستبداد کی کالی گھٹائیں آپ پر چھا گئیں اور لوگ ایذا رسانی کو کار ثواب سمجھنے لگے اور علمائے یہود ونصاریٰ نے حق سے چشم پوشی کی اور اس نیّر اعظم کو تاریک کرنے میں کوشاں ہو گئے۔ کعب بن اشرف، وہب بن راہب اور عبداللہ بن ابی جیسے لوگ مقابلہ کے لئے کھڑے ہو گئے۔ آخر یہ مشورہ ہوا کہ حضور علیہ السلام کو قتل کیا جائے۔ ”اذ یمکرو بک الذین کفروا وان کان کبر عليك اعراضهم ”غرض کہ مطلع انوار الہیہ کے وقت ایسے واقعات پیش آیا کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر علمائے یہود نے کفر وطغیان کا فتویٰ لگا دیا تھا اور مفتی حنان اور قاضی قیافا کے حکم سے آپ کو وہ حالات پیش آئے جو قابل ذکر نہیں ہیں۔ ”الی ان رفعہ اللہ الی السماء ”اگر سلطان حکم دیتے تو میں آپ کی خدمت میں اپنے وہ بیانات تسلی بخش پیش کر دیتا جن سے جناب کو یقین ہو جاتا کہ: ”عنده علم الکتب ”اگر اب بھی علمائے اسلام کی رنجیدگی کا خوف نہ ہوتا تو ایک ایسا مقالہ سپرد قلم کرتا جو موجب اطمینان ہوتا۔ مگر مقتضائے وقت سے قلم کو روک دیا گیا ہے۔ ”سبحنك اللهم يا الهي تحفظ سراج امرك بزجاجة قدرتك لئلا تمر عليه ارياح الانكار من الذين غفلوا من اسرار اسمك ولا تدعنى بين خلق وارفعني اليك واشربنى من زلال عنايتك ”حضور! تمام اطراف میں کجروی کی آگ بھڑک اٹھی ہے۔ یہاں تک کہ میرے اہل وعیال کو قید کر لیا گیا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے لوگوں نے آل رسول کو قید کر لیا تھا اور جب دمشق پہنچے تو جناب امام زین العابدین سے پوچھا گیا کہ کیا تم خارجی ہو؟ تو فرمایا کہ نہیں ہم تو عباد اللہ ہیں کہ جن کی بدولت ایمان کی سرحد روشن ہوئی ہے۔ ”آمنا باللہ فرآیاتہ ”اور ہماری طفیل دنیا سے ظلمت اٹھ گئی اور روشنی پھیل چکی ہے۔ ”ونحن اصل الامر ومبداہ واوّل خير ومنتھا “ پھر سوال ہوا کہ کیا تم نے قرآن شریف چھوڑ دیا؟ فرمایا کہ:”فینا انزلہ الرحمن “ پھر پوچھا گیا کہ کیا تم نے خدا کے حلال وحرام کو تبدیل کر ڈالا تھا؟ تو آپ نے جواب

صفحہ ١٢٦

دیا کہ : ”نحن اوّل من اتبع اوامر اللہ“ سب سے پہلے ہم نے ہی تو قرآن کی تابعداری کی تھی۔ آخر یہ پوچھا گیا کہ پھر تم ایسے مصائب میں کیوں گرفتار ہوئے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ: ”لحب اللہ وانقطاعنا عما سواه “ خدا کی محبت اور دنیا سے دل اٹھا لینے کی وجہ سے ہم پر مصائب نازل ہوگئے ہیں۔ ہم نے حضور علیہ السلام کا فرمان صرف لفظی رنگ میں پیش نہیں کیا تھا۔ بلکہ اس کے بحرِ حیات میں سے ایک قطرہ پیش کیا تھا۔ تا کہ مردہ دل زندہ ہو جائیں اور ان کو معلوم ہو جائے جو اس بدبخت قوم سے ہم پر نازل ہوا ہے۔ ”تالله ما اردت الفساد بل تطهير العباد عما منعهم من التقرب الى الله “ میں تو سو رہا تھا۔ اچانک عنایت الٰہی نے مجھے جگا دیا۔ ”مرت على نفحات ربي الرحمن وايقظتنى من النوم يشهد بذلك سكان جبروته وملكوته واهل مدائن عزه ونفسه الحق “ مجھے آلام و مصائب سے کچھ گھبراہٹ نہیں۔ ”قد جعل الله البلاء غادية لهذه الشجرة الخضراء وذبالة لمصباحه الذي به اشرقت الارض والسماء “ جس قدر لوگ مر چکے ہیں۔ ان کو ان کے مال و دولت نے کچھ فائدہ نہیں دیا اور آج مٹی میں مل کر شاہ و گدا یکساں ہوگئے ہیں۔ ”تاللہ لقد رفع الفرق الا من قضى الحق وقضى بالحق٠ اين العلماء والفضلاء والامراء اين الغطاريف ذوو العز واين خزائنهم المستوره وزخارفهم المشهودة وسررهم الموضونه هيهات صار الكل بورا جعلهم قضاء الله هباء منثورا٠ فاصبحوا لا ترى الا مساكنهم الخاليه٠ وسقوفهم الخاويه٠ ايمارى القوم وهم يشهدون٠ لم ادر فى اى وادى يهيمون الم يان للذين آمنوا ان تخشع قلوبهم لذكر الله٠ طوبى لمن قال بلى يارب حان وان٠ هيهات لا يحصد الا ما زرع٠ ولا يوخذ الا ما وضع٠ هل لنا من العمل ما يزول به العلل٠ ويقربنا الى مالك العلل٠ يا ملك انى رايت في سبيل الله ما لا عين رأت ولا اذن سمعت٠ قد انكرنى المعارف وضاق على المخاوف٠ كم من بلايا نزلت وتنزل قد استهل دمعى٠ الى ان بل مضجعى تالله راسى تشتاق الرماح فى حب مولاه وما مررت على شجر الا وقد خاطبه فوادى ياليت قطعت لاصلب عليك جسدى٠ فى سبيل ربى بل بما لدى الناس يعمهون٠ غدا يرون ما ينكرون٠ سوف ننتقل من هذا الموضع الى سجن عكا ومما يقولون انها اخرب مدن الدنيا واقبحها صورة واردأها هواء وانتنها ماء كانها دار حكومة البوم

صفحہ ١٢٦

ارادوا ان يحبسوا العبد فيها ويسد واعلى وجوهنا ابواب الرخاء تالله لو ينهكنى اللغب . ويهلكنى السغب ويجعل فرشى من الصخرة الصماء . وموانسى وحوش العراء لا اجزع واصبر كما صبر اولوا العزم ونرجو من الله عتق الرقاب من السلاسل والاغلال ، نسال الله ان يجعل هذا البلاء الادهم درعا لهيكل اوليائه ، وبه يحفظهم من سيوف شاهره وقضب نافذه هذه سنة قد خلت فى القرون الخاليه ، والاعصار الماضيه ، فسوف يعلم القوم ما لا يفقهونه اليوم الى متى يركبون مطية الهوى ويهيمون فى هيماء الغفلة والغوى اى سرير ماكسر ، واى سرير ما فقر ، لو علم الناس ماوراء الختام من رحيق رحمة ربهم العزيز العلام لنبذوا الملام واسترضوا عن الغلام اما الان حجبونى بحجاب الظلام ، الذى نسجوه بايدى الظنون والاوهام سوف تشق اليد البيضاء جيبا هذه الليلة الدلماء يومئذ يقول العباد ما قالته اللائمات من قبل ليظهر فى الغايات ما بدا فى البدايات ، يومئذ يقوم الناس من الاجداث ، ويسالون عن التراث ، طوبى لمن لا تنؤبه الاثقال ، فى اليوم الذى فيه تمر الجبال ، ويحضر الكل للسوال ، فى محضر الله المتعال ، انه شديد النكال ، نسال الله ان يقدس قلوب بعض العلماء من الضغينة والبغضاء ، ويصعدهم الى مقام لا تقلبهم الدنيا ورياستها عن المنظر الى الافق الاعلى ، ولا يشغلهم المعاش عن يوم يجعل فيه الجبال كالفراش ، ولو يفرحون بما رماه علينا من البلاء صنوف ياتى يوم فيه يبكون وربى لو خيرت بين ماهم فيه من الغناء وما انا فيه من البلاء لا خترت ما انا فيه اليوم“

اہل بینش جانتے ہیں کہ میں ایک غلام ہوں ۔ میرے سر پر ایک بال کے ساتھ لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔ ابھی پڑی کہ پڑی ۔ پھر بھی خدا کا شکر گزار ہوں اور دعاء کرتا ہوں کہ سلطان کا سایہ دراز ہو کہ مخلص اور موحد بھی اس کی طرف دوڑیں اور اس کو توفیق دے کہ افق اعلیٰ کے قریب ہو اور رعایا کو نظر عنایت سے دیکھے اور اسے کجروی سے باز رکھے۔ اپنے حکم کا ناصر بنائے تا کہ لوگوں پر بھی ویسا ہی عدل کرے۔ جیسا کہ اپنے اہل قرابت پر کرتا ہے۔ ”انه لهو المقتدر المتعال المهيمن القيوم“

من اتبع اوامر الله ”سب سے پہلے ہم نے ہی تو قرآن کی تابعداری کی کہ پھر تم ایسے مصائب میں کیوں گرفتار ہوئے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ: فاعنا عما سواه “خدا کی محبت اور دنیا سے دل اٹھا لینے کی وجہ سے ہم پر ہیں۔ ہم نے حضور علیہ السلام کا فرمان صرف لفظی رنگ میں پیش نہیں کیا ت میں سے ایک قطرہ پیش کیا تھا۔ تا کہ مردہ دل زندہ ہو جائیں اور ان کو بخت قوم سے ہم پر نازل ہوا ہے۔ ” تالله ما اردت الفساد بل نعهم من التقرب الى الله “ میں تو سو رہا تھا۔ اچانک عنایت الٰہی نے لى نفحات ربى الرحمن وايقظتنى من النوم، يشهد بذلك كوته واهل مدائن عزه ونفسه الحق “ مجھے آلام و مصائب سے ء جعل الله البلاء غادية لهذه الشجرة الخضراء وذبالة شرقت الارض والسماء “ جس قدر لوگ مرچکے ہیں۔ ان کو ان کے و نہیں دیا اور آج مٹی میں مل کر شاہ گدا یکساں ہو گئے ہیں۔ ”تالله لقد ضى الحق وقضى بالحق ، اين العلماء والفضلاء والامراء واين خزائنهم المستوره وزخارفهم المشهودة وسررهم صار الكل بورا جعلهم قضاء الله هباء منثورا ، فاصبحو م الخاليه ، وسقوفهم الخاويه ، ايمارى القوم وهم اى وادى يهيمون الم يان للذين آمنوا ان تخشع قلوبهم قال بلى يارب حان وان ، هيهات لا يحصد الامازرع ، ء هل لنا من العمل مايزول به العلل ، ويقربنا الى مالك رايت فى سبيل الله مالا عين رات ولا اذن سمعت ، قد اق على المخاوف ، كم من بلايا نزلت وتنزل قد استهل ضجعى تالله راسى تشتاق الرماح فى موجب مولاه وما وقد خاطبه فوادى ياليت قطعت لاسمك وصلب عليك بى بل بمالدى الناس يعمهون ، غدا يرون ماينكرون ، وا المنفى الى سجن عكاء ومما يقولون انها اخرب مدن واردأها هواء وانتنها ماء كانها دار حكومة الصدى

صفحہ ١٢٨

الواح بہاء

اب جناب بہاء کے اخلاقی احکام لکھے جاتے ہیں جو مختلف الواح سے منتخب کئے گئے ہیں ۔ ”عاشروا الاديان بالروح والريحان كل بدء من الله ويعود اليه قد منعتم من الفساد والجدال فى الصحف والا الواح مااريد به الاسموكـم نـسـال الله ان يمد اولياء كـم ويوفق من حولى على العمل بما امروا به من القلم الا على انتم جميعا ثمرة عضن واحد وارواق عضن واحد ليس الفخر لمن يحب الوطن بل لمن يحب العالم ان الذي ربى ابنه اوابنا من الابناء كأنه ربى احدا من ابـنـائـى . عـلـيـه بـهـاء الله وعنائة . يا اهل البهاء انتم مطالع العنايه الالهية لا تـلـوثـو الـسـانـكـم بـالـطـعـن واللعن واحفظوا عينكم ممالا ينبغى ما عندكم فاعرضوه للناس فان قبلوا فبها والا فدعوهم ولا تعرضوا بهم لا تكونوا سبب الحزن والـغـم فـضـلا عن الفساد دين الله ومذهبه اتحاد اهل الدنيا واتفاقهم لا غير لاتجعلوه سببا للاختلاف والنفاق تربية العالم من أصول الله على الامراء ان يحفظوا هذا المقام . لا نهم مظاهر العدل وعلى الملوك ان يطلبوا أمر الرعية تفحصا من عند نفسهم حزبا حزبا ليرتفع الاختلاف من البين لا نهم مظاهر القدرة ما يطلبه هذا العبد انما هو الانصاف . لا تكتفوا بـاالاصـفـاء فـقـط مـا ظـهـر مـنـى فتـكفـروا فيه اقسم بشمس البيان لم نجعل مانطقنا به محل الشماتة ومفتريات العباد“

درخواست اہل بصیر

١٢٥٨ھ میں بہاء معہ اصحاب عکا میں پہنچ گئے اور مرزا یحییٰ ماغوسا میں ۔ میں اس کے بعد اہل البصیر باب نے اراکین سلطنت سے درخواست کی کہ سلطان خود باببوں کے حالات دریافت کریں ۔ کیونکہ جو کچھ کہا جاتا ہے وہ کچھ تو مبالغہ ہے اور کچھ جھوٹ ہے۔ دراصل باببوں کو سیاسیات سے کچھ بھی تعلق نہیں ۔ بلکہ اس مذہب کی بنیاد صرف امور روحانی تحقیق اشارات اور تربیت نفوس پر ہے اور حکومت کا اصول ہے کہ ہر ایک فرقہ کی نگہداشت کرے۔ اس مذہب کی تحریرات جو جناب کو موصول ہو چکی ہیں ۔ ان میں بھی منع عن الفساد اور ارشاد الی الطاعة والانقیاد کا حکم موجود ہے۔ اگر چہ حکومت نے عقائد پر قبضہ کرنا چاہا۔ مگر ناکامی رہی۔ بلکہ جس قدر دبایا اور ابھرتے گئے اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ دوسری حکومتوں کی طرح یہ بھی بابیوں کو آزادی بخشے۔

صفحہ ١٢٩

کیونکہ جب چھیڑ چھاڑ بند کی جاتی ہے تو ایسے مذہب خود بخود فرو ہو جاتے ہیں۔ زمانہ بدل چکا ہے۔ اب تعرض کا موقعہ نہیں رہا۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ سیاسی جماعت کو دبایا جائے۔ کیونکہ وہ حفظ امن کے خلاف ہے اور اس جماعت میں سے بھی جو کمینہ پن کرتے ہیں ان کی طرز عمل کو مذہب قرار نہ دیا جائے۔ کیونکہ ہر ایک مذہب وملت کی مساوات کو ملحوظ رکھتی ہیں۔ تیس سال گزر چکے ہیں۔ بابیوں کو فتنہ و فساد سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ بلکہ سکون و انقیاد سے زندگی بسر کرنا اپنا شعار مذہبی بنائے ہوئے ہیں۔ مذہبی مداخلت آئین حکومت کے خلاف ہے۔ جب تک حکومت ایران کا یہ مسلک رہا حکومت ترقی کرتی رہی اور جب سے مذہبی مداخلت شروع ہوئی بڑے بڑے علاقے کلدان، توران اور آشورہ وغیرہ ہاتھ سے نکل گئے۔ اگر فتویٰ شرعیہ کا یہ مقتضاء ہو تو موجودہ دوسرے مذہبی فرقے (متشرعہ، نصیریہ، شیخیہ، صوفیہ اور سائرہ وغیرہ) کا اخراج بھی ضروری ہوگا۔ ورنہ آج فتاویٰ شرعیہ پر حکومت نہیں چل سکتی۔ حکومت برطانیہ جو صرف شمالی حصہ میں قائم تھی آج دنیا کے ١/٥ پر حکومت کر رہی ہے۔ کیونکہ اس نے مساوات مذہبی کو قائم رکھا ہے اور مداخلت مذہبی کو خلاف حکومت سمجھتی ہے۔ آج ہندوستان بھی اس حکومت پر مفتخر ہے اور عدل و انصاف کے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے۔ متوسط زمانہ میں (جو حکومت روما کے تنزل سے شروع ہو کر فتح اسلام قسطنطنیہ تک ختم ہوتا ہے) یورپ میں بھی علمائے مذہب کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور رہی ہے تو دنیا کو چین نصیب نہیں ہوا اور جب مذہبی حکومت اٹھ گئی تو دنیا کو آرام حاصل ہو گیا اور ہر ایک مذہبی جماعت امن کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگی۔ اب یہ حال ہے کہ ایشیاء کی بڑی سے بڑی حکومت بھی یورپ کی چھوٹی سے چھوٹی حکومت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ (وجدان انسانی) اور مذہبی نقطہ نگاہ ایک ایسا امر مقدس ہے کہ جس قدر اس کو وسعت اور آزادی دی جاتی ہے۔ حکومت ترقی پذیر ہوتی ہے اور جس قدر اس کو تنگ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اسی قدر حکومت کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کیونکہ مذہب خدا کی امانت ہے۔ اس پر انسان کا دخل نہیں اور دل اور روح خدا کے قبضہ میں ہیں۔ حکومت کے قبضہ میں نہیں آسکتے اور نقطہ خیال ہر ایک کا الگ ہوتا ہے۔ کوئی دو شخص بھی آپس میں متحد الخیال نہیں پائے جاسکتے۔ ”لكل جعلنا منسکا“ حکومت نے جس قدر بابی مذہب کے خلاف ہمت خرچ کی ہے۔ اگر وہ اصلاح حکومت میں خرچ ہوتی تو آج ایران سب پر ممتاز ہوتا۔

حکومت کا رویہ

(درخواست بہاء اللہ اور درخواست بصیر کے بعد) حکومت ایران نے خود حالات کی

صفحہ ١٣٠

پڑتال شروع کر دی تو معلوم ہوا کہ تمام شکایات وجاہت طلبی اور مذہبی عداوت یا ذاتی مفاد پر مبنی تھیں۔ اس لئے حکومت نے تمام شکایات کا سلسلہ بند کر دیا اور جو مظالم بابیوں پر ڈھائے جاتے تھے یکدم بند کر دیئے گئے۔ ورنہ اس سے پیشتر بارہ سال کا عرصہ ہوا ہے کہ دو بھائی طبا طبائی خاندان کے سید حسن اور حسین نامی اصفہان میں کمال دیانت کے ساتھ تجارت کیا کرتے تھے اور ملا محمد حسین خطیب جامع مسجد اصفہان سے ان کا لین دین تھا۔

قتل حسنین

جب حسابات کی پڑتال ہوئی تو خطیب کی طرف اٹھارہ ہزار روپے کی رقم نکلی۔ چیک سربمہر لکھ دینے کو کہا گیا تو خطیب نے برا منایا اور اپنے بچاؤ کے لئے لوگوں پر یہ ظاہر کر دیا کہ یہ دونوں تاجر بابی مذہب کے پیرو ہیں۔ اس لئے واجب التعزیر اور مستوجب غارت ہیں۔ اس لئے لوگوں نے ان کا باقی مال بھی لوٹ لیا۔ اب اس خیال سے کہ کہیں سلطان تک یہ شکایت نہ پہنچ جائے۔ خطیب نے تمام علمائے اسلام سے فتویٰ حاصل کر کے دونوں کو قتل کروا دیا۔ وہ دونوں بھائی بھی اپنے وجدانیات پر ایسے قائم رہے کہ ہر چند ان سے کہا گیا کہ صرف اتنا کہہ دو کہ:”لسنا من هذه الطائفة“ ہم بابی نہیں ہیں تو تم کو رہا کر دیا جائے گا۔ مگر انہوں نے ایک نہ مانی اور ایسے برے طریق سے ان کا قتل وقوع پذیر ہوا کہ غیر مذاہب بھی چونک اٹھے۔ مگر اس وقت حکومت ایران میں کسی کو ایسے واقعات پیدا کرنے کی جرأت باقی نہیں رہی۔

”الحمدلله على ذلك فرغ من كتابته كاتبه المسكين حرف الزاء ليلة الجمعة ١٨؍ شہر جمادی الاولی ١٣٠٧ھ“

رباعیات نقطۃ الکاف

اس کتاب کا انتخاب پہلے درج ہو چکا ہے۔ اب ہم وہ اصول درج کرتے ہیں کہ بہائیوں کے نزدیک جن کے اجزاء چار چار ہیں اور نقطۃ الکاف نے کتاب کے شروع میں لکھے ہیں۔

الجبروت) الوف (فی اللاهوت)“

ماء) قضاء (عنصر تراب)“

صفحہ ١٣١

”مراتب خلق: العلقة والمضغہ العظام العروق والاعصاب اللحم والجلد“

ظہورات نبوت: آدم ونوح، ابراہیم وداؤد، موسیٰ وعیسیٰ، محمدﷺ

انہار اربعہ: اوّل نہر رسالت متعلقہ محبت رسول رکن بیضاء مقام او در جنت درہ بیضاء رنگ سپید از زہر قاتل۔ دوم نہر ولایت مقام او در جنت زبرجد لباس زرد رنگ زرد، از زہر الشمشیر عبدالرحمن بن ملجم ۔ سوم نہر حسن مقام او در جنت زمرد، لباس سبز رنگ سبز، از زہر۔ چہارم نہر حسینی مقام او یاقوت لباس سرخ، رنگ سرخ ، از خون شہادت ۔

قیامت: اصغر (قیامت ملک) صغیر (قیامت ملکوت) کبیر (قیامت جبروت) اکبر (قیامت لاہوت)

اسفار اربعہ: ”من الخلق الی الحق ، فی الحق بالحق من الحق الی الحق ، فی الخلق بالحق“

اہل باطن: اہل فؤاد اہل عقل اور اہل نفوس طیبہ

اہل ظاہر: متصرف بعلویات متصرف بالحیوان، متصرف بالنبات، متصرف بالجمادات.

لوازم نبوت: عدم دعویٰ محال، اظہار آیت، اقتران آیت باادعاء، آیت از صنف ادعاء عدم رادع۔

تردید رب سامریہ: لم یرہ الا النبي اعطی المعجزتین . ظہور عصمة موسیٰ تعلیم بداء

فتنة ابراہیم: معرفت الہیہ القاء في النار، ذبح اسماعیل، فتنة مال کہ ملائکہ خواستند

ارکان اربعہ: كلمة توحید، اقرار نبوت، اقرار ولایت و امامت، اقرار بالابواب الاربعة

مقام فناء: درفؤاد، درعقل، درنفس، درجسم۔

چہار فرقہ: حکما واخباری عرفا وعلمائے اصول شیخیہ وعلمائے فقہ، بالاسری والشرقی۔

صفحہ ١٣٢

میشود و ضرب دوم دہ ہزار و ضرب سوم صد ہزار سال و ضرب چہارم ہزار ہزار، چونکہ ہر ملکے را دو دو آسمان (غیب و شہادت) مے باشد ازیں جہت آسمان ہشت شد، ازیں در ضرب دوم ہر آسمان دہ ہزارے مے باشد ہشت آسمان ہشتاد ہزار، و اینکہ وارد است کہ غلظت ہر آسمان و مابین ہر یک پانصد ہزار سال ست، ہر گاہ چہار ملک بگیرید در ضرب دوم مے شود، و ہر گاہ ہشت فلک مراد باشد، در ضرب چہارم محسوب میگردد، معنی آنکہ یوم قیامت پنجاہ ہزار سال ست بایست دریں ملک قیامت واقع شود و پنج سال ناسوتی قیام نماید کہ ہر سال در ضرب اوّل ہزار شد و در ضرب دوم دہ ہزار۔ لہٰذا پنج سال پنجاہ ہزار سال لاہوت مے باشد و بایست کہ یوم اللہ در ملک ملکوت ظاہر شود و در ناسوت در ہیکل شیعہ ظاہر گردد۔

پھر نباتات (نے زار) کا زمانہ دو ہزار سال تک رہا۔ پھر حیوانات کا زمانہ دو ہزار سال رہا۔ جس میں چار پاؤں کا بادشاہ گھوڑا تھا اور پرندوں کا گدھ۔ پھر دو ہزار سال تک فرشتے رہے اور خلق آدم کا مشورہ ہوتا رہا۔ پھر جان بن جان کا زمانہ آیا جس میں عزازیل معلم الملکوت بنا۔ اخیر میں ظہور الٰہی آدم علیہ السلام پیدا ہوئے تو سجدہ کا حکم ہوا۔ مگر عزازیل نے کہا کہ خدا کا فیض بند ہو چکا ہے۔ اس لئے سجدہ نہ کیا۔

پہلے غیر متناہی دور گزر چکے تھے۔ جیسا کہ روایت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک ٹیلہ پر آواز دی تو ایک فرشتے نے جواب دیا کہ آپ سے پہلے ہزاروں موسیٰ ہو گزرے ہیں۔ جن کی تعداد اسی ٹیلہ کی ریت کے دانوں سے بھی زائد ہے اور جن کی آواز بھی آپ کی آواز جیسی تھی۔

بہائی مذہب کے مزید حالات

عبدالبہاء عباس آفندی

جناب بہاء اللہ کے صاحبزادے عبدالبہاء یوم جمعہ کو طہران میں ٢٣؍ مئی ١٨٤٤ء مطابق یکم محرم الحرام ١٢٦٠ھ نصف رات کو پیدا ہوئے اور اسی روز جناب باب نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ جب بہاء اللہ بغداد گئے تو آٹھ سال تھی اور جب بہاء اللہ جبل اور اس وقت اس کی عمر بارہ سال تھی۔ تھا کہ مجھے سب کچھ اپنے باپ کے طفی کیا۔ اس لئے اس کا نام شاب حکیم ر تھا۔ گیارہ سال کے بعد حکومت ترک آپ کے ہمراہ رہا۔ استنبول سے پا کے ہمرکاب تھا اور وہاں پانچ سال مح چونکہ آپ بہت سخی مشہور ہو چکے تھے خدمت میں آخری دم تک حاضر ر پاگئے۔ عکا میں جب کچھ عرصہ گزر اٹھالی تھیں اور بستان بھی آپ کی ر کی حاضری سے مشرف ہوتے تھے۔ جب صبح بہاء اللہ پیدل سفر کرتے ہ گو خاندانی امیر تھے۔ مگر حکومت تک فقراء پر روپے تقسیم کیا کرتے شریک مصائب رہے۔ (کوکب د روانہ کیا گیا تھا اور عبدالبہاء عباس کردی تو حکومت نے آپ کو بھی ہوچکی تھی رہا کر دیا تو امریکہ ویورپ

شوقی آفندی

آپ کے بعد شوقی آ بیٹے ہیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی ہوا۔ (شمشیر آبدار سے نشتر یا ملقب بصدیق العلماء قتل ہونے خیال کر لیا گیا تھا۔ اس وقت خ

صفحہ ١٣٣

کیا تھا۔ جب بہاء اللہ بغداد گئے تو یہ صاحبزادہ آپ کے ہمراہ تھا اور اس وقت اس کی عمر صرف آٹھ سال تھی اور جب بہاء اللہ جبل سلیمان سے بغداد کو واپس آئے تو پھر بھی یہ آپ کے ہمراہ تھا اور اس وقت اس کی عمر بارہ سال تھی۔ مگر آتے ہی بڑے بڑے اہل علم کو نیچا دکھلانے لگا اور فخریہ کہتا تھا کہ مجھے سب کچھ اپنے باپ کے طفیل حاصل ہوا ہے۔ ورنہ میں نے مکتب میں کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔ اس لئے اس کا نام شاب حکیم رکھا گیا اور حسن و جمال کی رو سے بھی نوجوانان بغداد میں ممتاز تھا۔ گیارہ سال کے بعد حکومت ترکیہ نے جب آپ کو استنبول بلا لیا تو اس وقت بھی یہ صاحبزادہ آپ کے ہمراہ رہا۔ استنبول سے پانچ ماہ کے بعد آپ کو ادرنہ جانے کا حکم ہوا تو یہ صاحبزادہ آپ کے ہمرکاب تھا اور وہاں پانچ سال محبوس رہے۔ عکا کی جلاوطنی میں بھی عبدالبہاء ساتھ ہی رہے اور چونکہ آپ بہت سخی مشہور ہو چکے تھے۔ اس لئے آپ کا لقب سرکار آقا پڑ گیا تھا۔ آپ باپ کی خدمت میں آخری دم تک حاضر رہے۔ یہاں تک کہ بہاء اللہ ٧٥ سال کی عمر میں ١٨٩٢ء کو وفات پا گئے۔ عکا میں جب کچھ عرصہ گزر گیا تو حکومت نے خاص خاص حدود میں نظر بند کر کے بیڑیاں اٹھائی تھیں اور بستان بہجی آپ کی رہائش تھی اور عبدالبہاء کڑا کے کی گرمی میں بھی پیدل چل کر آپ کی حاضری سے مشرف ہوتے تھے۔ کسی نے کہا کہ سواری کیوں نہیں خرید لیتے تو جواب میں کہا کہ جب مسیح بہاء اللہ پیدل سفر کرتے ہیں تو کیا میں ان سے افضل ہوں کہ سواری پر سفر کروں؟ آپ گو خاندانی امیر تھے۔ مگر حکومت نے آپ کی تمام جائیداد پر قبضہ کر لیا ہوا تھا۔ مگر تاہم پانچ پانچ سو تک فقراء پر روپے تقسیم کیا کرتے تھے اور آپ اپنے باپ کی خدمت میں پچاس سال کی عمر تک شریک مصائب رہے۔ (کوکب ٢٥ نومبر ١٩٢٥ء ) خلاصہ یہ ہے کہ بہاء اللہ ١٨٦٨ء میں عکا کو روانہ کیا گیا تھا اور عبدالبہاء عباس آفندی نے باپ کی وفات کے بعد گدی نشین ہو کر تبلیغ شروع کردی تو حکومت نے آپ کو بھی وہیں نظر بند کر دیا اور ١٩٠٨ء جب کہ آپ کی عمر چونسٹھ سال ہو چکی تھی رہا کر دیا تو امریکہ و یورپ کا سفر تین سال تک سرانجام دیا اور ١٩٢١ء میں وفات پائی۔

شوقی آفندی

آپ کے بعد شوقی آفندی گدی نشین قرار دیئے گئے جو جناب عبدالبہاء کی بیٹی کے بیٹے ہیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں۔ اسی سال کے عرصہ میں بیس ہزار بابی قتل ہوا۔ ( شمشیر آبدار سے تیر یا تبر سے گرم پانی یا آگ سے ) اور ١٩٢٤ء میں شیخ عبدالمجید ملقب بصدیق العلماء قتل ہوئے اور آپ کے ہمراہ ایک امریکہ کا سفیر بھی قتل ہوا جو بہائی خیال کر لیا گیا تھا۔ اس وقت مذہب بہائیت کی نشر و اشاعت کے لئے گیارہ رسائل جاری

صفحہ ١٣٤

ہیں ۔ سٹار آف دی ویسٹ ،نجم باختر ، ورلڈ فیلو شپ گارڈن امریکہ، خورشید خاور روس، شمس حقیقت جرمنی ،حقیقت جرمنی ،نجم خاور جاپان، ہیرلڈ آف دی ایسٹ کانپور، دی ڈان رنگون، الاشراق رنگون ،کوکب دہلی ، ( کوکب ٩ فروری ١٩٢٥ء )

بہاؤ اللہ

مرزا حسین علی صاحب نوری (منسوب بقریہ نور ) ١٨١٧ء کو طہران میں پیدا ہوئے اور ١٨٤٤ء میں جناب باب سے تعلق پیدا کیا۔ اپنے شیخ کی وفات کے بعد ادرنہ میں اپنا دعویٰ کر دیا اور سلاطین یورپ کو تبلیغی خطوط روانہ کئے ۔ جو بابی آپ کے تابع ہوئے بہائی کہلائے اور ٢٩؍مئی ١٨٩٢ء کو وفات پائی اور آپ کا بڑا بیٹا عبدالبہاء عباس آفندی گدی نشین ہوا۔ یہودی مسیح کے منتظر تھے۔ عیسائی مسیح کے ظہور ثانی کے لئے چشم براہ تھے۔ اہل اسلام کو اپنے موعود کا انتظار تھا۔ بدھ مذہب کے پیرو پانچویں بدھ کے منتظر تھے۔ زرتشت کی امت شاہ بہرام کی راہ دیکھ رہے تھے۔ ہندو کہتے تھے کہ کرشن دوم آنے والا ہے اور دہریہ خیرالنظام کے اور بہترین انتظام کے منتظر تھے۔ اس لئے جناب بہاء نے تمام مذاہب کو دعوت اتحادیہ کی تعلیم دی اور دو کتابیں لکھیں۔ کتاب اقدس اور کتاب مبین بہت سی الواح بھی ہیں۔ جو لکھ کر بادشاہوں کو روانہ کی گئیں۔ جو لوگ عبادات پر عامل رہیں وہ بہائی مذہب میں داخل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس مذہب کا دارو مدار کام پر ہے۔ اس لئے بچوں کی تعلیم ضروری ہے اور نکاح بھی ضروری ہوا اور ہر ایک ملک کے لئے اپنا اپنا رسم و رواج اور فقہی ذخیرہ کارآمد ہو سکتا ہے۔ ورنہ بیت العدل کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ سلاطین کا احترام فرض ہے۔ کوشش کی جائے کہ ساری دنیا کی ایک زبان ہو جائے۔ جہاد اور بحث و مباحثہ ختم کرنا ضروری ہے۔ (کوکب ٢٥؍اپریل ١٩٢٥ء ) یکم محرم الحرام ١٢٦٠ھ (٢٣؍مئی ١٨٤٤ء) کو سید علی محمد شیرازی پچیس برس کے تھے۔ کیانی خاندان وزارت کے ممتاز فرد بہاء اللہ ستائیس برس کے تھے اور عبدالبہاء عباس آفندی اس روز پیدا ہوئے تھے۔ اسی روز سید علی محمد باب نے دعویٰ کیا کہ میں مہدی موعود اور قائم آل محمد ہوں اور ”مَنْ یُّظْھِرُہُ اللہ“ کا مبشر ہوں اور ١٨٥٠ء میں اسی میدان میں قتل کئے گئے جو پہلے سے ہی میدان صاحب الزمان کے نام سے مشہور تھا۔ آپ کی وفات کے بعد جناب بہاء اللہ نے اس مذہب کی دعوت دی تو اس قدر زنجیروں میں جکڑے گئے کہ ان کو اٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔ چار سو گاؤں جا گیر تھے۔ حکومت نے سب پر قبضہ کر لیا اور عوام الناس نے گھر کا تمام اثاثہ لوٹ لیا اور چار ماہ تک محبوس رہے۔ پھر معہ اہل وعیال اور نوکر چاکروں کے بغداد بھیجے گئے۔ وہاں بارہ سال رہے۔ اس عرصہ میں روپوش ہو کر دو سال برقعہ پوش ہو کر جبل کردستان میں

صفحہ ١٣٥

ی ویسٹ، نجم باختر، ورلڈ فیلوشپ گارڈن امریکہ، خورشید خاور روس، شمس حقیقت جرمنی، نجم خاور جاپان، ہیرلڈ آف دی ایسٹ کانپور، دی ڈان رنگون، کوکب دہلی، (کوکب ٩؍فروری ١٩٢٥ء)

حسین علی صاحب نوری (منسوب بقریہ نور) ١٨١٧ء کو طہران میں پیدا ہوئے اور باب سے تعلق پیدا کیا۔ اپنے شیخ کی وفات کے بعد ادرنہ میں اپنا دعویٰ کر دیا کو تبلیغی خطوط روانہ کئے۔ جو بابی آپ کے تابع ہوئے بہائی کہلائے اور وفات پائی اور آپ کا بڑا بیٹا عبدالبہاء عباس آفندی گدی نشین ہوا۔ یہودی مسیح نا مسیح کے ظہور ثانی کے لئے چشم براہ تھے۔ اہل اسلام کو اپنے موعود کا انتظار تھا۔ پانچویں بدھ کے منتظر تھے۔ زرتشت کی امت شاہ بہرام کی راہ دیکھ رہے تھے۔ ن دوم آنے والا ہے اور دہر یہ خیر النظام کے اور بہترین انتظام کے منتظر تھے۔ نے تمام مذاہب کو دعوت اتحاد یہ کی تعلیم دی اور دو کتابیں لکھیں۔ کتاب اقدس سی الواح بھی ہیں۔ جو لکھ کر بادشاہوں کو روانہ کی تھیں۔ جو لوگ عبادات پر مذہب میں داخل نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اس مذہب کا دارومدار کام پر ہے۔ اس ضروری ہے اور نکاح بھی ضروری ہوا اور ہر ایک ملک کے لئے اپنا اپنا رسم ورواج ہو سکتا ہے۔ ورنہ بیت العدل کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ سلاطین کا احترام جائے کہ ساری دنیا کی ایک زبان ہو جائے۔ جہاد اور بحث و مباحثہ ختم کرنا (٢٥؍اپریل ١٩٢٥ء) یکم محرم الحرام ١٢٦٠ھ (٢٣؍مئی ١٨٤٤ء) کو سید علی محمد ار تھے۔ کیانی خاندان وزارت کے ممتاز فرد بہاء اللہ ستائیس برس کے تھے اور ما اس روز پیدا ہوئے تھے۔ اسی روز سید علی محمد باب نے دعویٰ کیا کہ میں محمد ہوں اور "من یظہر اللہ" کا مبشر ہوں اور ١٨٥٠ء میں اسی میدان ء سے ہی میدان صاحب الزمان کے نام سے مشہور تھا۔ آپ کی وفات کے اس مذہب کی دعوت دی تو اس قدر زنجیروں میں جکڑے گئے کہ ان کو اٹھا سو گاؤں جاگیر تھے۔ حکومت نے سب پر قبضہ کر لیا اور عوام الناس نے گھر چار ماہ تک محبوس رہے۔ پھر مع اہل وعیال اور نوکر چاکروں کے بغداد بھیجے ہے۔ اس عرصہ میں روپوش ہو کر دو سال برقعہ پوش ہو کر جبل کردستان میں

عبادت گزار رہے اور چند ماہ بعد ادرنہ کو جلاوطن ہوئے۔ وہاں اعلان کیا کہ باب نے جس کی بشارت دی تھی۔ وہ میں ہی ہوں۔ اب بابی بہائی بن گئے اور عکا کے قلعہ میں روانہ کئے گئے اور وہاں قصر البہجہ میں نظر بند رہے اور ١٨٩٢ء میں آپ کی وفات ہوئی۔ عبدالبہاء نے ١٩٠٨ء میں رہائی پا کر امریکہ میں آپ کا مذہب پہنچایا اور ١٩٢١ء میں وفات پائی۔ آپ کی یہ تعلیم تھی کہ ترک تقلید کرتے ہوئے تمام مذاہب سے آزاد ہو اور اصل حقیقت کی تلاش میں رہو۔ تاکہ تم پر منکشف ہو جائے کہ سب ادیان اور مذاہب ایک ہی ہیں۔ اخوت عامہ، صلح عمومی، محبت نوعیہ، تعلیم عمومی، وجوب اکتساب المال" لـقـولـه تـعـالـى جـعـلـنـا اشـتـغـالـكـم بـالامـور نـفـس العـبـادة لله" وحدة اللسان، مجلس الاقوام (کوکب ٩؍فروری ١٩٢٥ء) سلطان پر گولی چلانے کا واقعہ بغداد کو جلاوطن ہونے سے پہلے واقع ہوا تھا۔ دو سال کی روپوشی کے بعد پھر بغداد میں آٹھ سال قیام کیا۔ پھر قسطنطنیہ کو ١٨٦٣ء میں روانہ ہوئے اور ادرنہ کے بعد عکا میں حبس دوام کے لئے بھیجے گئے۔ جہاں چوبیس سال نظر بند رہے اور اسی نظر بندی میں الواح سلاطین نازل ہوئیں۔ جو سلطان ایران، نپولین ثالث، سلطان فرانس، ملکہ وکٹوریہ، زار روس، پوپ روم، صدر ممالک امریکہ کو روانہ کی گئیں۔ آخری عمر میں عکا سے نکل کر چار میل کے فاصلہ پر قصر بہجت کے مقام پر جبل کرمل کے قریب دو سال تک قیام کیا۔ ٧٥ برس میں ١٨٩٢ء کو وفات پائی۔ (کوکب ٢٠؍اگست ١٩٢٠ء)

کوکب ایڈیشن بمبئے نمبر ٥ میں ہے کہ علی محمد تاجر پشمینہ کے بیٹے تھے۔ ٤؍اکتوبر ١٨١٩ء کو شیراز میں پیدا ہوئے اور ١٢٦٠ھ، ١٨٤٤ء میں ٢٥ برس کی عمر میں باب الوصول الی معرفۃ اللہ کا دعویٰ کیا۔ مکہ شریف میں حجاج کے سامنے پہلے اعلان کر چکے تھے کہ میں قائم بامر اللہ ہوں۔ جب بوشہر واپس آئے تو ایران میں تہلکہ مچ گیا اور حکومت نے آپ کو قید کر لیا اور تبریز میں ١٨٥٠ء کو شہادت پائی۔ آپ کی تعلیم یہ تھی۔ عبادۃ الٰہی، تخلق بمکارم اخلاق، مساوات زن و مرد در حقوق وغیرہ اپنی وفات سے پہلے نو سال کہا کہ : "من یظہر اللہ" آتے ہیں۔ ١٨٥٢ء میں بیس ہزار بابی مارے گئے۔ مرزا حسین علی خاندان وزارت طہران کا بہترین فرزند طہران میں ١٨١٧ء کو پیدا ہوا۔ باپ دادا وزیر تھے۔ باب کی طرح آپ کو بھی عطائی علم تھا۔ ٢٧ برس کی عمر میں باب سے بیعت کی اور قید ہوا۔ پھر چار ماہ کے بعد بغداد گیا اور وہاں گیارہ برس رہا اور جب قسطنطنیہ کو سفر کیا تو بغداد سے بارہ دن کے فاصلہ پر نجیب پاشا کے باغ میں اپنے بیٹے اور مریدوں کے سامنے اعلان کیا کہ میں من یظہر اللہ ہوں۔ جس کی بشارت باب اور انبیاء سابقین نے دی ہے اور کہا ہے کہ زمین پر حکومت الٰہی قائم کرے گا۔ ابھی قسطنطنیہ میں پانچ ہی ماہ قیام کیا تھا کہ ادرنہ کو جلاوطنی کا حکم آگیا۔ جہاں

صفحہ ١٣٦

صرف یہود و نصاریٰ رہتے تھے اور وہاں تین سال قیام کیا اور ١٨٦٦ء، ١٨٦٩ء کے درمیانی عرصہ میں سلاطین عالم کو تبلیغی خطوط روانہ کئے۔ جن میں دعویٰ کیا کہ مجھ میں خدا ظاہر ہوا ہے۔ ملکہ وکٹوریہ نے جواب دیا کہ اگر تم خدا کے مظہر ہو تو دیر تک قائم رہو گے۔ ورنہ تم ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ جواب الجواب میں آپ نے لکھا کہ تم دیر تک حکومت کروگی۔ زار روس نے آپ کے خط کی عزت کی۔ پوپ نے برا منایا۔ آپ نے لوح ثانی لکھ کر روانہ کی کہ بہت جلد تم کو رسوائی ہوگی تو فرانس و جرمن کی جنگ میں ملک عمانوئیل نے اس کو قلعہ میں قید کر دیا۔ شاہ جرمن فریڈرک تھرڈ جب ملک شام میں آیا اور مقامات مقدسہ کی زیارت کی۔ اثناء میں آپ کے پاس نہیں آیا۔ باوجودیکہ آپ نے اسے بلا بھی بھیجا تھا تو آپ نے فرمایا کہ تم کو حکومت نہ ملے گی۔ چنانچہ جب اس کی تاج پوشی ہوئی تو قریب الموت تھا اور ایک روز بھی حکومت نہ کرسکا۔ نپولین ثالث سلطان فرانس نے جواب میں کہا کہ اگر تم ایک خدا کے مظہر ہو تو ہم دو خداؤں کے مظہر ہیں اور میں خود خدا ہوں تو آپ نے لوح ثانی میں اس کو جواب دیا کہ تم اپنے وطن سے باہر مرو گے اور بہت جلد حکومت سے محروم کئے جاؤ گے تو جب فرانس و جرمن میں ١٨٧٠ء کو لڑائی ہوئی تو حکومت جمہوریہ قائم کی گئی اور نپولین کو انگلستان میں پناہ ملی اور وہیں مرا۔ ١٨٦٨ء میں بہاء اللہ کو عکہ میں جلاوطن کیا گیا۔ جہاں کی آب و ہوا ناموافق تھی اور آپ کے ساتھی آپ کے ہمراہ دو کوٹھریوں میں دو سال تک نہایت کم خوراک پر گزارہ کرتے رہے۔ پھر آپ کے لئے بڑا وسیع مکان بنایا گیا اور حکم ہوا کہ تم عکہ کے آس پاس سیر کر سکتے ہو تو قصر بہجت میں ٢٩ مئی ١٨٩٢ء کو وفات پائی اور تحریر و تقریر میں اپنے بیٹے عبدالبہاء کو خلیفہ بنا دیا تھا۔

عبدالبہاء کی شخصیت

آپ وہ ہیں کہ جس کے متعلق عیسائیوں کا خیال تھا کہ اپنے باپ کے جلال میں ظاہر ہوگا۔ زبور ٨٩:٢٧ میں ہے کہ: ”انه يدعوني اباه واجعله ابنا واحدا“ اور زکریا ٦:١٢ میں ہے کہ: ”ذلك الذي اسمه غصن يملك ارض الله ويكهن“ زبور ٢:٦ میں ہے کہ: ”اني اجلست سلطاني علي جبل صيهون (كرمل)“ اور عبدالبہاء نے اپنے مقاصد میں کامیابی پا کر یہود و نصاریٰ زرتشتی اور مسلمانوں کو ایک دستر خوان پر جمع کر دیا۔ عکہ میں جب بابی موسمی بخار سے بیمار ہوئے تو آپ ہی ان کی تیمارداری کرتے تھے۔ (اس وقت بابیوں کی تعداد ستر تھی) ترکوں نے آپ کو وہیں قید رکھا۔ مگر ١٩٠٨ء میں آپ کو رہا کر دیا تو آپ نے ١٩١٠ء میں عکا چھوڑ دیا اور یہاں آپ چالیس برس قید رہے تھے۔ رہائی کے بعد آپ مصر آئے اور دس ماہ تک

صفحہ ١٣٧

وہاں قیام کیا۔ پھر سوئیزرلینڈ، امریکہ اور فرانس کا سفر کر کے اسکندریہ کو واپس تشریف لے گئے ۔

قرۃ العین

نکتہ الکاف میں لکھا جا چکا ہے کہ واقعہ بدشت کے بعد زرین تاج قرۃ العین کو شہر نور میں بھیج دیا گیا تھا اور وہاں پہنچتے ہی اس نے تبلیغ اس سرگرمی سے شروع کر دی کہ علمائے اسلام کو شاہی امداد لینی پڑی۔ چنانچہ وہاں فریقین میں سخت لڑائی ہوئی اور قرۃ العین گرفتار ہو کر سلطان ناصرالدین قاچار کے سامنے حاضر کی گئی۔ مگر جب اس نے شاہی دربار میں ایک تبلیغی خطبہ دیا اور اپنے حسن و جمال کا جلوہ دکھایا تو سلطان نے بے ساختہ کہہ دیا کہ: ”ایں را مکشید کہ طلعتی زیبا دارد“ اسے قتل نہ کرنا۔ کیونکہ یہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ مگر اس کو محتسب بلدہ محمد خان کے پاس نظر بند کر دیا گیا اور وہ بدستور تبلیغ میں مصروف رہی اور بابی لگا تار آتے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد محتسب نے کہا کہ اگر تم اپنے پیر و مرشد باب کو ایک ہی دفعہ برا کہہ دو تو میں ابھی تم کو نجات دلا سکتا ہوں۔ مگر اس نے نہ مانا۔ دوسرے دن بادشاہ کے دربار میں پیش کی گئی تو جاتے ہی تبلیغی خطبہ دینا شروع کر دیا۔ جس میں اپنے تمام عقائد کا خاکہ کھینچ کر سامنے رکھ دیا کہ مشیت اولیٰ آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی۔ رفتہ رفتہ تمام انبیاء میں ظاہر ہوتی رہی اور آج میں اسے باب کے چہرہ میں دیکھ رہی ہوں۔ اس پر سلطان نے قتل کا حکم جاری کر دیا تو اواخر اگست ١٨٥٢ء میں قتل کر کے بستان ایلخانی میں ایک ویران کنوئیں کے اندر اس کی لاش پھینک دی گئی اور اوپر اس قدر پتھر پھینکے گئے کہ لاش پتھروں میں دب گئی۔ کہتے ہیں کہ اس کا قتل یوں وقوع میں آیا کہ مرنے کے لئے دیدہ زیب لباس میں ایک باغ میں لائی گئی تھی تو اس کی زلفیں خچر کے دم سے باندھ کر خچر کو دوڑایا گیا تھا۔ مگر کوکب ہند ٢٢ نومبر ١٩٢٩ء میں لکھا ہے کہ اس کو گلا گھونٹ کے مار ڈالا گیا تھا۔ قرۃ العین کی ادبی لیاقت کے چند اشعار ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔ جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مدعی بروز محمدی نبی قادیان کی ادبی لیاقت مدعی بروز فاطمہ قرۃ العین طاہرہ قزوینی کے سامنے کوہ و کاہ کا وزن رکھتی ہے۔

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

روایت ہے کہ ذیل کے اشعار میں قرۃ العین نے اپنے شیخ باب کو حضور علیہ السلام پر ترجیح دے کر جب سلطان کے سامنے تبلیغی خطبہ دیا تھا تو سلطان کو اسلامی غیرت نے آپے سے باہر کر دیا تھا اور فوراً حکم دے دیا تھا کہ اسے مار ڈالو۔ بڑی گستاخ ہے بہر حال وہ اشعار تین قصیدوں کی شکل میں ہدیہ ناظرین ہیں۔ تا کہ ان کو قادیانی اور ایرانی ادبیت کے توازن میں آسانی ہو۔

صفحہ ١٣٨

قصیدہ اوّل مشتمل بر درخواست رحم واظہار شان باب

جذبات شوقک الجمت بسلاسل الغم والبلا ہمہ عاشقان شکستہ دل کہ دہند جاں خود برملا
لمعات وجہک اشرقت بشعاع وجہک انجلے زچہ رو الست بربکم نزنی؟ بزن کہ بلیٰ بلیٰ
اگر آں صنم زسرِ ستم پئے کشتن من بیگناہ لقد استقام بسیفہ فلقد رضیت بما رضیٰ
تو کہ غافل از مئے وشاہدی پئے مرد عابد وزاہدی چہ کنم کہ کافر وجاحدی ز خلوص نیت اصطفیٰ
تو و مُلک و جاہ سکندری، من و رسم و راہ قلندری اگر آں خوش است تو درخوری وگر ایں بدست مرا سزا
بجواب طبل الست تو ز دلا چوکوس بلیٰ زدند ہمہ خیمہ زو بدر دلم سپہ غم و حشم وبلا
چہ شود کہ آتش حیرتے زنی ام بقلعہ طور دل فدککتہ ودککتہ متدکد گا متزلزلا
پئے خوان دعوت عشق اوہمہ شب ز خیل کروبیاں رسد ایں صفیرِ مہیمنے کہ گروہ غمزده الصلا
بلہ اے گروہ امامیان بکشید ولولہ را میاں کہ ظہور دلبر ما عیاں شدہ فاش و ظاہر وبرملا
گرتاں بود طمع بقادر تاج بود ہوس لقا زوجود مطلق مطلقا برآں صنم بشوید لا
طلعت زقدس بشارتے کہ ظہور حق شدہ برملا بزن اے صبا تو بمحضرش بگر وہ زندہ دلاں صدا
طہ اے طوائف منتظر زعنایت شہ مقتدر مہ مفتخر شدہ مشتہر منہمیا متھللا
دو ہزار احمد مجتبےٰ زبرق آں شہ اصفیاء شدہ مختفی شدہ درخفا متدثرا متزملا
تو کہ فلس ماہیئے حیرتی چہ زنی زبحرِ وجودم
بنشیں چو طاہرہ دمبدم بشنو خروشِ نہنگ لا

قصیدہ طاہرہ دوم

طلعات قدس بشارتی کہ جمال حق شدہ برملا بزن اے صبا تو بساحتش بگروہ غمزدگان صلا
شدہ طلعت صمدی عیاں کہ بپاکند علم بیاں ز گمان دوہم جہانیاں جبروت اقدس اعتلا
بسر ِ عزلت وفخرِ شان بنشستہ آں شہِ بے نشاں بزو آں صلا ببلا کشان کہ گروہ مدعی الولا
چوکسی طریق مرا رود بگوش ندا کہ خبر شود کہ ہر آنکہ عاشق من شود بزیہد ز محنت وابتلا
کسی ار نکرد اطاعتم نگرفت حبل ولایتم کشمش ببعد ز ساحتم دہمش بجہر ببلا و لا
صمدم ز عالم سرمدم احدم ز مجمع اوحدم پئے اہل افئدہ آمدم بہم الینا مقبلا
قبسات نار مشیئتی نادت الست بربکم بگذر بساحت قدسیاں بشنو صفیر بلیٰ بلیٰ
منم آں ظہور مہیمنی منم آں نیت بے منی منم آں سفینہ ایمنی ولقد ظہرت مجلجلا
شجر مرقع جاں منم ثمر عیاں ونہاں منم ملک الملوک جہاں منم ولی البیان وقد علا
شہدائے طلعت نار من بدوید
بزنید نغمہ زہر طرف کہ ز وجہ ما ط
برسید باسپہ طرب صفی مجم
فوران نار زارض فانو را ا
طیرا لھماء تعلقت ورق الـ
زظہور آں شہ آلہہ زالست
بتموج آمدہ آں یمی کہ بکرد
زکمان آں رخ پرولہ، زکند
ہمہ موسیان عمایش ہمہ عـ
بحر الوجود تموجت لعل ا
مکلل جمال بطلعتش قلل ا
دلم از دوزلف سیاہ او ز فراق
زغم تو ای مہ مہرباں زفراقت
تو در آں تشعشع روئے خود تو و آں
من وعشق آں مہ خوبرو کہ چہ در
چو شنید عزمِ مرگِ من پئے ساز مـ
سحر آن نگار ستمگرم قدم ا
زچہ چشم فتنہ شعار اوز چہ زلـ
بمراد زلف معلقی پئے اسم
بگذر ز منزل ما و من بگویں
نیران وصلک اوقدت ترات
چو بکنج زلف تو پر شکن گر بے
ہمہ اکا
من ا

قصیدہ طاہرہ سوم

مشتملبر اظہار اشتیاق

صفحہ ١٣٩
شہدائے طلعت ناز من بدوید سوے دیار من سر و جاں کشید فدائے من کہ منم شہنشہ کربلا
بزنید نغمہ زہر طرف کہ ز وجہ ما طلعت ما عرف رفع القناع وقد کشف ظلم الیال قد انجلی
برسید باسپہ طرب صنمی عجم صمدی عرب بدمید شمس بدے غرب بدوید الیہ مہرولا
فوران نار ز ارض فأنوار نور ز شطر طہٰ ظہران روح زشطرہا ولقد علا وقد اعتلا
طیرا العماء تکلفت ورق البہاء تضعفت ذیک الضیاء تذوقت متجملا متجللا
زظہور آں شہ آلہہ زالست آں مہ مآلہ شدہ آلہہ ہمہ والہہ بتجلیات بلیٰ بلیٰ
بتموج آمدہ آں یمے کہ بکربلاش بحر مے متظہر است بہروے دو ہزار وادیٰ کربلا
زکمان آں رخ پر ولہ، زکمند آں مہ رو ولہ دو ہزار فرقہ وسلسلہ متفرقا متسلسلا
ہمہ موسیاں عمائکش ہمہ عیسیاں سمائکش ہمہ دلبراں بلقائیش متولہا متزملا
بحر الوجود تموجت لج الشہود تولجت صعق الجمود تلجلجت بلقائہ متجملا
تذلل جمال زطلعتش قلل جبال زرفعتش دول جلال زسطوتش متضعضعا متزلزلا
دلم از دو زلف سیاہ اوز فراق روی چوماہ او بتراب مقدم راہ اوشدہ خون من متبلبلا
زغم تو ای مہ مہرباں زفراقت ای شہ دلبراں شدہ روح ہیکل جسمیاں متخففاً متخلخلا
تو و آں تشعشع روئے خود تو و آں ملمع موئے خود کہ رسانیم تو بکوے خود متسرعاً متعجلا
من و عشق آں مہ خوبرو کہ چو در صلاے بلیٰ بزد بنشاط وقہقہہ شد فرو کہ انا الشہید بکر بلا
چوشنید نالہ مرغ من پئے ساز من شد وبرگ من فمشی الی مہرولا وبدا علی مجلجلا
سحر آں نگار ستمگرم قدمی نہاد بہ بسترم واذا رایت جمالہ طلع الصباح کانما
زچہ چشم فتنہ شعار اوز چہ زلف غالیہ بار او شدہ نافہ ہمہ ختن شدہ کافری ہمہ خطا
بمراد زلف معلقی پے اسب وزین مفرقی ہمہ عمر منکر مطلقی زفقیر فارغ بے نوا
بگذر ز منزل ماومن بگزین بملک فنا وطن فاذا فعلت بمثل ذا فلقد بلغت بما تشا
نفحات وصلک اوقدت جمرات شوقک فی الحشا زغمت بہ سینہ بکشم آتشی کہ بزد زبانہ کما تشا
چو رخ و زلف تو پر شکن گرہے فتادہ بکار من بگرہ کشائی زلف خود گہ زکار من گرہے کشا
ہمہ اہل مسجد وصومعہ پئے ورد صبح ودعائے شب
من و ذکر طرہ وطلعت تو من الغداة الی العشا

قصیدہ طاہرہ سوم

مشتمل بر اظہار اشتیاق زیارت باب کیونکہ اس کو مدت سے شیخ کی ملاقات نصیب نہیں ہوئی۔

صفحہ ١٤٠
گر بتو افتدم نظر چہرہ بچہرہ روبرو شرح دہم غم ترا نکتہ بنکتہ موبمو
از پے دیدن رخت ہمچو صبا فتادہ ام خانہ بخانہ در بدر کوچہ بکوچہ کو بکو
دور دہان تنگ تو عارض عنبریں خطت غنچہ بغنچہ گل بگل لالہ بلالہ بو ببو
میرود از فراق تو خون دل از دو دیدہ ام دجلہ بدجلہ یم بیم چشمہ بچشمہ جو بجو
مہر ترا دل حزیں بافتہ بر قماش جاں رشتہ برشتہ نخ بنخ تار بتار پوبپو
در دل خویش طاہرہ گشت و نیافت جز ترا
صفحہ بصفحہ لا بلا پردہ بپردہ تو بتو

یہ قصیدہ بھی چونکہ آمد کا بہترین نمونہ ہے۔ اس لئے اس کا ترجمہ کر دینا بھی مناسب ہے کہ:

اپنے غم کی تفصیل ذرہ ذرہ اور بال بال کر کے بتادوں۔

اور آپ کے رخسار پر خط عنبریں (یعنی معطر ریش مبارک) خوشبو پر خوشبو دے رہا ہے۔

دجلہ پر دجلہ ہے۔ یا ندی پر ندی اور یا چشمہ پر چشمہ۔

مختصر تواریخ بابیہ

کوکب ہند نے جولائی ١٩٣١ء میں اپنے شیوخ کی سوانح عمری مختصر طور پر درج کی ہے۔ جس کا خاکہ ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔

٢٣؍ مئی ١٨٤٤ء کو دعویٰ کیا کہ میں ایلیاء اور مہدی موعود ہوں۔ ١٨٤٤ء سے ١٨٥٠ء تک چھ سال کام کرتے رہے۔ آپ کی کل عمر ٣١ برس تھی۔

ہوئے۔ پہلے آپ نے ١٨٥٣ء میں دعویٰ کیا۔ پھر ١٨٦٣ء میں اعلان کر دیا کہ میں وہ ظہور اعظم ہوں کہ جس کی بشارت تمام انبیاء نے دی تھی۔ حکومت ایران و ترکی نے بغداد سے قسطنطنیہ پہنچایا۔

صفحہ ١٤١

یہاں آپ چار مہینے رہے۔ دسمبر ١٨٦٣ء میں آپ کو ایڈریا نوپل بھیج دیا گیا اور وہاں چار سال اور دو ماہ رہے۔ ١٨٦٨ء میں بمقام عکہ (ملک شام) پہنچائے گئے اور نظر بند رہے۔ ٢٨ مئی ١٨٩٢ء کو وفات پائی۔ (تبلیغی عمر ٣٩ سال ہوئی اور طبعی عمر ٧٥ سال)

اخیر تک اپنے والد کے ہمراہ رہے۔ والد کے وفات کے بعد گدی نشین ہوئے۔ (عکا کی نظر بندی سے) ستمبر ١٩٠٨ء میں حکومت ترکی نے رہا کر دیا۔ اگست ١٩١١ء میں یورپ روانہ ہوئے۔ ستمبر ١٩١١ء میں لندن پہنچے پھر پیرس گئے۔ دسمبر میں مصر واپس آئے۔ ١٩١٢ء میں امریکہ گئے۔ ١٥ دسمبر کو گریٹ برٹن گئے۔ لیورپول، لندن، برسٹل، اڈنبرا پھرتے پھراتے پیرس میں واپس آ گئے۔ پھر سٹٹکارٹ جرمنی میں گئے۔ پھر بود ہاپسٹ (ہنگری) اور وین ( دارالخلافہ آسٹریا) مئی ١٩١٣ء کو مصر اور ٥ دسمبر ١٩١٣ء کو حیفا پہنچے اور ٢٥ نومبر ١٩٢١ء کو ٧٧ سال کی عمر میں وفات پائی۔

اپنا خلیفہ مقرر فرمایا۔ آپ حیفا (فلسطین) میں رہے۔ عربی، فارسی، ترکی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کے ماہر ہیں۔

تعلیمات

اس رسالہ میں یہ تعلیمات شائع ہوئی ہیں کہ خدا کے مطلع کا پہچاننا فرض ہے۔ مظہر کی ملاقات خدا کی ملاقات ہے۔ کیونکہ وہ خدا کا نائب ہے۔ حقیقت خداوندی ادراک سے باہر ہے۔ خدا کے مظہر اوّل از اول سے ہیں اور آخر تا آخر رہیں گے۔ مظہر کے احکام پر چلنا واجب ہے۔ کیونکہ ایمان و اعمال لازم ملزوم ہیں۔ جس طرح انسان مختلف لباس بدلتا ہے۔ اسی طرح مصلحت وقتی سے دین الٰہی بھی مختلف رنگ بدلتا رہا ہے۔ اس لئے وحدت ادیان کا عقیدہ فرض ہوگا۔ یہ نہ کہو کہ میرا دین اچھا ہے اور تمہارا برا۔ سب پیغمبر اور اوتار ایک ہیں۔ سب میں ایک ہی روشنی ہے۔ فانوس مختلف ہیں۔ تم روشنی دیکھو فانوس کی رنگت کے عاشق مت بنو۔ اب بھی اگر کوئی نبی آ جائے تو اسے بھی تسلیم کرلو۔ بنی نوع انسان سب مساوی ہیں۔ ایک ہی کنبہ کے آدمی ہیں۔ زن ومرد میں روح مساوی ہے۔ اس لئے تعلیم و تربیت اور مال میں بھی زن ومرد کے حقوق مساوی ہوں گے۔ بچوں کی تعلیم ابتدائی جبریہ ہے۔ ورنہ ان کو جاہل رکھنا قتل کرنے کے برابر ہوگا اور یہ گناہ قابل معافی نہیں۔ عبادت کی طرح کاروبار کر کے مال و دولت حاصل کرنا بھی فرض ہے۔ کیونکہ کسب مال عین عبادت ہے اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ گداگری کو بند کرو۔ کیونکہ وہ تباہ کن بجلی ہے اور افلاس

صفحہ ١٤٢

قہر الٰہی ہے محتاج لوگوں کے لئے محتاج خانہ تیار کرو۔ جس میں ان کی پرورش کا انتظام ہو۔ تعصب مذہبی نے فساد قائم کیا ہوا ہے اور ناجائز کاموں کو حلال کر دیا ہوا ہے۔ اسے چھوڑ دو۔ قومی، نسلی، وطنی، سیاسی رنگ و زبان کا رسم و رواج کا، شکل اور لباس اور اس قسم کے تمام تعصب چھوڑ کر ایک بن جاؤ۔ سب کی زبان اور خط ایک ہونا ضروری ہے۔ اس لئے اسپرانتو زبان جو اسی مقصد کے لئے بنائی گئی ہے سیکھنا ضروری ہے۔ مزدوروں کو سرمایہ داروں میں حصہ دار بناؤ۔ کیونکہ سرمایہ داری کا تعصب بہت خطرناک ہے۔ غریب مالداری حاصل کریں اور مالداران کو مالدار بنانے میں کوشش کریں۔ محکمہ کبریٰ قائم کرو۔ جس میں مختلف مذاہب کے فیصلے ہوا کریں۔ گاؤں کے نمائندے تحصیل میں آئیں۔ وہاں سے انتخاب ہو کر ضلع میں جائیں۔ پھر وہاں سے انتخاب ہو کر صوبہ میں جائیں۔ پھر وہاں سے انتخاب پا کر صدر مقام پر جائیں اور یہاں ہر ایک ملک کے نمائندے منتخب ہو کر مجلس بین الاقوام قائم کریں۔ اس کے فیصلے تمام اقوام کے لئے ناطق ہوں۔ تبلیغ مذہب میں تشدد نہ کرو۔ اگر کوئی نہیں سنتا تو اس کے حق میں دعا کرو۔ ورنہ چھوڑ دو اور لعن طعن نہ کرو۔ کیونکہ یہ بہت برا ہے۔ جنگ و جدال تو شیطان سے بھی نہ کرو۔ اپنے مذہب کا نمونہ بن کر تبلیغ کرو۔ جنگ کو قانون سے منع کرو۔ جنگ سے نہ روکو۔ کیونکہ خون کا دھبہ خون سے صاف نہیں ہوتا۔ تبلیغ کی راہ میں تکلیف پہنچے تو صبر کرو۔ شروع بلوغ سے نماز روزہ فرض ہے۔ بیمار اور بوڑھوں کو معاف، مریض، مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتیں روزہ نہ رکھیں۔ کسی انسان کے ہاتھ نہ چومو اور نہ ہی کسی کے سامنے اپنی برائیوں کا اظہار کر کے توبہ کرو۔ سونے چاندی کے برتن استعمال کر سکتے ہو اور کھانے میں ہاتھ ڈال کر نہ کھاؤ اور صفائی و پاکیزگی برتو۔ صبح و شام خدا کی آیات اس قدر پڑھو کہ تم پر بوجھ معلوم نہ ہو۔ منبر پر نہ چڑھو جو تمہارے سامنے آیات تلاوت کرے اس کو کرسی پر بٹھاؤ جو تخت پر رکھی ہوئی ہو اور باقی کرسیوں پر تم بیٹھو۔ بردہ فروشی بند کرو۔ وہ علوم اور زبان حاصل کرو جن سے روحانی یا جسمانی فائدہ ہو اور وہ علم نہ پڑھو جو حروف سے شروع ہو کر حروف پر ختم ہو جاتے ہیں۔ نئے موجد اور مفید کام کرنے والوں کی عزت تم پر فرض ہے۔ بحث و مناظرہ اور لفظی جنگ و جدال میں نہ پڑو۔ ریا کاری کی عبادت مقبول نہیں ہوتی۔ سننے والا بے رخی کرے تو نہ سناؤ۔ موت فنا کا نام نہیں بلکہ نقل مکانی کا نام ہے۔ مرنے کے بعد فوراً جزاء سزا مل جاتی ہے اور روح کو اسی وقت ایک باقی رہنے والی شکل دی جاتی ہے کسی دور دراز زمانہ کا محتاج نہیں رہتا۔ موت کے بعد آرام پانا جنت ہے اور تکلیف میں رہنا دوزخ ہے۔ ان کا باعث اعمال نیک و بد ہیں اور امر حق پر ایمان لانا یا انکار کرنا تو گویا ابھی سے جنت و دوزخ شروع ہیں۔ مظہر الٰہی (نبی جدید) کا پیدا ہونا قیامت

صفحہ ١٤٣

ہے۔ اس پر ایمان لانے والے اپنی قبروں سے نکلنے والے ہیں۔ ندائے تبلیغی صور (قرنائے قیامت) ہے۔ شریعت اوّل کا رفع ہو جا کر آسمان کا ٹوٹ جانا ہے اور نئی شریعت کا اجراء نیا آسمان ہے۔ پہلے نبی کی روشنی کم ہو جانا سورج کی سیاہی ہے اور نور ولایت کا روپوش ہو جانا چاند کی سیاہی ہے۔ علمائے امت کی گمراہی ستاروں کا ٹوٹنا ہے۔ احکام شریعت کی منسوخی سلطنتوں کی بربادی اور بڑوں کی پستی پہاڑوں کا اڑنا، مظہر امر پر ایمان لانے والے کامیابی کے جنت میں داخل ہوتے ہیں اور سرتابی کرنے والے ناکامی کے دوزخ میں رہتے ہیں اور یہی حساب کتاب ہے خدا کا عدل میزان ہے۔ نئی شریعت پل صراط ہے۔ جس سے لڑکھڑانا جہنم میں جانا ہے۔ قیامت کی یہی حقیقت ہے۔ باقی سب اوہام ہیں۔ اسی قسم کی قیامت صغریٰ ہر نبی کے وقت ہوتی رہی ہے۔ مگر قیامت کبریٰ جس میں اب ہم جا رہے ہیں۔ واقع ہو چکی ہے۔ کیونکہ باب اعظم نے دعویٰ کیا تھا تو نفخۂ اولیٰ اور پہلا صور پھونکا گیا تھا اور بہاء اللہ نے امر اللہ کا اعلان کیا تھا تو دوسرا صور پھونکا گیا تھا جو کلام الٰہی اب نازل ہوا ہے۔ اس میں بار بار اس کو دہرایا گیا ہے۔ خدا کے مظہر کا دیدار خدا کا دیدار ہے۔ کیونکہ وہ آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا۔ چنانچہ بہاء اللہ کی ہستی جلوہ گاہ الٰہی ہے۔ ایمان سے جلوہ نظر آتا ہے۔ انکار سے نظر نہیں آتا۔ قیامت کو جس ہیکل میں ظہورِ خداوندی لکھا ہے وہ ایسا مقام ہے جو کسی نبی کو نہیں ملا اور ظہور نبی یا ظہور رسول کے لقب سے ملقب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دورِ نبوت حضرت محمد ﷺ پر ختم ہو چکا ہے اور اس دور جدید کے متعلق یہ حکم ہے کہ: ”ھٰذا یوم اللّٰہ لا یذکر فیہ الا ھو“ یہ خدا کا دن ہے۔ اس میں اس کے سوا کسی کا ذکر نہیں۔ حضرت بہاء کا قول ہے کہ اس مقام پر وجود انسانی بالکل بے نام و نشان ہے اور یہ مقام فنا فی نفس اور بقا باللہ کا مقام ہے۔ کوکب ٨ ستمبر ١٩٢٩ء میں ہے کہ یہود و نصاریٰ اور ہنود کے معابد میں جاؤ۔ کیونکہ سب کا دین ایک ہی ہے۔ اندھی تقلید چھوڑ دو۔ کیونکہ اس سے دل مر جاتا ہے اور نور تحقیق جاتا رہتا ہے۔ سلسلہ روایات آج سے بند ہے۔ کیونکہ اس سے انتظام معاشرت میں خلل پڑتا ہے اور دھڑے بندی پیدا ہوتی ہے۔ گندہ دہانی اور بدزبانی تحریری و تقریری قطعاً بند ہے۔ بعثتِ محمدی اس طرح پر ہے کہ: ”ولئن قلت انکم مبعوثون من بعد الموت (ھود) ائذا متنا وكنا ترابا ائنا لفی خلق جديد (رعد) بل ھم فی لبس من خلق جديد، ونفخ فی الصور ...... جأت کل نفس (زمر)“ لوگوں سے کہا گیا کہ تم نئی نبوت کے دور میں ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم پر جادو چلایا گیا ہے۔ کہا کہ جب ہم موت غفلت سے مر چکے ہیں تو کیا نئی نبوت کی ہستی میں ہم کو دھکیل دیا گیا ہے۔ نہیں نہیں ان پر یہ امر ابھی تک مشتبہ رہا ہے۔ حالانکہ نفخ صور ہو چکا اور ہر ایک نفس

صفحہ ١٤٤

حاضر ہو چکا ہے۔ بعثت بہاء یوں ہے کہ: ”قال محمدﷺ ان لكم يوم الفصل قال المسيح يجيئ ابن آدم فى جلاله ويجزئى كلا باعماله (متى) الملائكة يجمعون الكفرة فى النار ويلتمع الصادقون فى الملكوت كالشمس (متی) قال بطرس هو زمان البهجة والنضارة اى دور البهاء وظهور الذى ذكره الانبياء هو ظهور البهاء “ امراض اختلاف کا علاج ضروری ہے۔ تاکہ صحت وحدت حاصل ہو۔ گو اختلاف طبائع سے اختلاف رائے کا ہونا ضروری ہے۔ مگر یہ اختلاف رائے خدا تعالیٰ کو صرف اس حد تک منظور ہے کہ ان میں جنگ و جدال پیدا نہ ہو۔ ورنہ وہ سب اہل نار ہوں گے۔ بیان و حکمت کی تلوار نکال کر خدا کی راہ میں جہاد کرو۔ کیونکہ لوہے کی تلوار سے گلے کٹتے ہیں اور اس سے کٹے ہوئے گلے درست ہو جاتے ہیں۔ اس لئے قتال مطلقاً حرام ہے۔ خواہ تلوار سے ہو یا قلم اور زبان سے ہو۔ ”لان اللہ یقول ان اللسان لذكرى لا تلوثوه بالمنكرات والتكفير والتلعين والشتم والجدال والقتال “ کوکب ٢٨؍ ستمبر ١٩٢٧ء میں لکھا ہے کہ لوگوں کے درمیان مال تقسیم کرو اور وراثت کی ترتیب میں وسعت دے کر تمام وارثوں پر مال تقسیم کیا جائے اور جو اس مال متروکہ پر سود حاصل ہوا ہو وہ فقراء اور مساکین کی معین تعداد پر تقسیم کیا جائے۔ نئی تحریک جب پیدا ہوتی ہے تو یوں سمجھو کہ خدا تعالیٰ اپنا کوئی نیا مظہر پیدا کرنا چاہتا ہے۔ جس کو نبی کہا جاتا ہے اور جس کا کام یہ ہے کہ وحشت سے نکال کر دنیا کو بام ترقی پر پہنچائے۔ وعظ کر کے مال مت کماؤ۔ کیونکہ ایسی کمائی بالکل حرام ہوچکی ہے اور کمائی کر کے پیٹ پالنا واجب ہوچکا ہے۔ عورتوں کو فلسفہ، تاریخ اور زمانہ کے علوم پڑھانے میں بہت زور دیا جائے اور کوشش کی جائے کہ قرۃ العین کے مرتبہ پر پہنچ جائیں۔ جس نے برقعہ اتار کر کمال دلیری کے ساتھ اپنے تبلیغی مناظروں میں مخالفین کو نیچا دکھایا تھا۔ کثرت ازدواج سے روکا جائے۔ منگنی کی رسم یوں ادا کی جائے کہ فریقین کو کچھ روز آزادی دی جائے تاکہ وہ ایک دوسرے کے حسن و قبح پر اطلاع پاسکیں۔ نکاح کے لئے صرف یہی لفظ کافی ہیں کہ: ”نحن راضون بما رضی به الله “ ہم خدا کی مرضی پر راضی ہیں۔ صرف اتنا کہنے سے نکاح بندھ جائے گا۔ طلاق بالکل حرام ہے۔ ضرورت پڑے تو ایک سال تک یہ معاملہ زیر غور رہے تو پھر اگر رضا مندی ہو جائے تو فبہا ورنہ خود بخود طلاق ہو جائے گی۔ یہ امر پایہ یقین تک پہنچ چکا ہے کہ دنیا کی کوئی ابتدا نہیں ہے۔ اگرچہ ہر ایک قسم کی خاص خاص مخلوقات کی ابتداء ضرور ہے۔ مگر عام مخلوقات کی کوئی ابتدا نہیں ہے۔ ورنہ یہ لازم آئے گا کہ خدا کو کسی وقت اس حالت میں مانا جائے کہ وہ ہے اور مخلوق نہیں تو خلق کی صفت منفی ہونے

صفحہ ١٤٥

سے خود خدا کی نفی ہو جائے گی۔ کیونکہ اس کے صفات بعینہ اس کی ذات ہیں۔ اس لئے صفات کی نفی سے ذات کی نفی ہو جائے گی۔ مظہر الٰہی کی شعاع کا حاصل کرنا دنیا میں جنت ہے اور اس سے محروم رہنا دوزخ ہے۔ جن کو قرب الٰہی حاصل ہے ان کی شفاعت ہو گی۔ کیونکہ اس دنیا میں گنہگار توبہ سے ترقی پاتا ہے اور دوسری دنیا میں کسی کی سفارش سے کمال تک پہنچ سکتا ہے۔ انسان بننے سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں ہے۔ مگر انسانیت کے مدارج بے شمار ہیں۔ بہائی مذہب کی جنتری میں انیس انیس دن کے انیس مہینے ہوں گے۔ جن کے نام یہ ہیں۔ بہاء، جلال، جمال، عظمۃ، نور، رحمۃ، کلمات، کمال، اسماء، عزۃ، مشیۃ، علم، قدرہ، قول، مسائل، شرف، سلطان، ملک، عطاء۔ تمام الہامی کتابیں حق ہیں۔ خواہ کسی مذہب کی ہوں۔ قدیم زمانہ کی آسمانی کتابوں میں مجاز اور استعارہ بہت استعمال کیا گیا ہے۔ جناب بہاء نے بھی اپنے الواح میں مجاز واستعارہ بہت استعمال کیا ہے۔ تو جو لوگ غور نہیں کرتے۔ گمراہ ہو جاتے ہیں۔ بہائی مذہب کے اصول فطرت انسانی پر مبنی ہیں۔ سورہ احزاب اور سورۂ آل عمران میں مذکور ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام سے عموماً اور حضور علیہ السلام سے خصوصاً یہ عہد لیا گیا ہے کہ ایک نبی (بہاء اللہ ) آنے والا ہے۔ اس کی تصدیق کرنا تم پر لازم ہے۔ ہر ایک نبی کے لئے ایک مدت مقرر ہوتی ہے اور جب دوسرا آتا ہے تو اس کی شریعت منسوخ ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رہے گا۔ شریعت محمدی کا دور دورہ بہاء اللہ کے آنے سے ختم ہو گیا ہے۔ دور محمدی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ دوسرے انبیاء کے زمانہ میں نبی غیر تشریعی آتے رہے ہیں۔ ”یحکم بھا النبیون“ مگر دور محمدی میں کوئی نبی نہیں آیا۔ ”لا نبی بعدی انا خاتم النبیین فسیکون خلفاء سیکون فی امتی دجالون کذابون کلھم یزعم انہ نبی اللہ“ سورہ آل عمران وسورۂ احزاب میں دونوں میثاق تصدیق کے لئے مذکور ہیں۔ یہ نہیں کہ ایک تو تصدیق کے لئے ہو اور دوسرا تبلیغ کے لئے۔ کیونکہ مشہور ہے کہ: ”القرآن یفسر بعضہ بعضاً“ قرآن شریف اپنی مختصر عبارتوں کو خود ہی مفصل عبارتوں سے حل کر لیا کرتا ہے۔ اس لئے اگر ایک آیت میں میثاق کا ذکر مختصر ہے تو دوسری آیت اس کی تشریح کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ جب یہ قاعدہ ہے کہ تبلیغ اور تصدیق لازم وملزوم ہوتے ہیں تو یہ فرق کرنا کہ ایک میثاق تبلیغ ہے اور دوسری میں میثاق تصدیق بالکل بے سود ہوگا۔ کوکب ٢٧؍ ستمبر ١٩٢٦ء میں ہے کہ وضع قانون عوام کا حق ہے۔ بچپن میں نکاح نہ کرو۔ جناب بہاء اللہ نبی نہ تھے۔ کیونکہ نبوت کا دور آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر محمد خاتم النبیین ﷺ تک ختم ہو چکا ہے اور اب دور بہائی ہے۔ جس میں امر اللہ ظاہر ہوا ہے اور یہی یوم عظیم ہے۔ خدا نے ہیکل بہاء میں اپنا

صفحہ ١٤٦

ظہور کیا۔ ”بلاحلول وبروز“ جس طرح وادی مقدس میں ایک درخت پر ظہور کیا تھا اور اسی ظہور کی طرف ان آیات میں اشارہ بھی ہے کہ: ”یوم یاتی اللہ وجوہ یومئذ ناضرة الی ربھا ناظرة“ اس لئے جناب بہاء مظہر الوہ نہیں ہیں۔ بلکہ مظہر اللہ ہیں۔ جس کی خبر پہلے انبیاء دے چکے ہیں۔ جب انسان کہتا ہے کہ میں مجروح ہوں تو اس سے مراد جسمانی حالت ہوتی ہے۔ جب کہتا ہے کہ میں خوش ہوں تو اس کا تعلق روح سے ہوتا ہے اور جب کہتا ہے کہ: ”انی اوحیت کذا وکذا“ میں نے فلاں کی طرف وحی بھیجی ہے تو اس وقت اس فقرہ کا تعلق ذات باری سے ہوگا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ ”وما رمیت ...... بل ہو قول رسول کریم“ کتاب اقدس ص ٣٠ میں ہے کہ: ”ان السجدة کانت لحضرة الغیب ولا یجوز السجدة لھیکل الظھور والا فتوبوا ان اللہ غفور رحیم“ اگر ہیکل ظہور کو سجدہ کیا جائے تو وہ درحقیقت ذات باری کو سجدہ ہوتا ہے۔ ورنہ صرف ہیکل کو سجدہ ناجائز ہوگا۔ بہاء اللہ کے بعد مظہر ثانی آیات بینات لے کر ایک ہزار سال بعد آئے گا تو اس وقت تعلیمات بہائیہ کی طرف لوگ خود بخود متوجہ ہو جائیں گے اور تمام فیصلہ جات بیت العدل سے کرائیں گے جو اس کام کے لئے بنایا گیا ہوگا۔ تم انبیاء کو تسلیم کرو۔ مگر احکام وہی واجب التعمیل سمجھو۔ جو بہاء اللہ نے جاری کئے ہیں۔ رسالہ پیام اسلام جالندھر ١٧ اکتوبر ١٩٢١ء میں عبدالبہا عباس مدیر رسالہ ہذا اور احکام بھی لکھتے ہیں کہ واحد کے اعداد ١٩ ہیں۔ اس عدد کو قائم رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جو شخص کسی کو ایک قدم کا سفر بھی جبراً کرائے یا بلا اجازت اس کے گھر میں داخل ہو جائے یا اس کا مال بلا اجازت اپنے قبضہ میں کر لے تو انیس روز اس کی بیوی اس پر حرام رہے گی۔ جو شخص کسی کو ایک سال تک ستاتا رہے۔ وہ اپنی ایذا رسانی سے باز آ جائے۔ ورنہ ١٩ دن اس پر اپنی بیوی حرام ہو جائے گی۔ توبہ کرے تو بہتر ورنہ جس کو ستاتا ہے۔ اسے ١٩ مثقال سونا دینا ہوگا۔ جو شخص کسی کو حبس میں رکھے تو اس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہو جائے گی تو پھر اگر اس بیوی کو اپنے گھر لانا چاہے تو ١٩ ماہ تک فی ماہ انیس انیس مثقال جرمانہ ادا کرے۔ ورنہ وہ ایمان سے خارج کر دیا جائے گا اور کبھی داخل نہ ہوگا اور نہ ہی توبہ منظور ہوگی۔ کتاب اقدس میں لکھا ہے کہ انیس آدمیوں کی ضیافت ١٩ روز کرو۔ اگرچہ تمہارے پاس کچھ بھی نہ رہ جائے۔ ایسے کپڑے نہ پہنو کہ جن سے تمہارے بچے ڈر جائیں۔ غیر کا خط نہ پڑھو اور نہ دیکھو۔ جس زبان میں خط لکھا ہوا ہو۔ اسی زبان میں جواب لکھو۔ بھول جاؤ تو آسان زبان میں لکھو۔ جو خط کا جواب نہیں دیتا یا اسے پھینک دیتا ہے وہ مذہب سے خارج ہوگا۔ بھیک مانگنا حرام ہے اور بھیک مانگنے والوں پر دینا بھی حرام ہے۔ شادی کے موقع پر ریشم کے سوا

صفحہ ١٤٧

”حلول و بروز :“ جس طرح وادی مقدس میں ایک درخت پر ظہور کیا تھا اور اسی ان آیات میں اشارہ بھی ہے کہ: ”یوم یاتی اللہ وجوہ یومئذ ناضرة الی ربھا“ اس لئے جناب بہاء مظہر العبودیہ نہیں ہیں۔ بلکہ مظہر اللہ ہیں۔ جس کی خبر پہلے ہیں۔ جب انسان کہتا ہے کہ میں مجروح ہوں تو اس سے مراد جسمانی حالت ہوتی ہے کہ میں خوش ہوں تو اس کا تعلق روح سے ہوتا ہے اور جب کہتا ہے کہ :” انی ذا وکذا“ میں نے فلاں کی طرف وحی بھیجی ہے تو اس وقت اس فقرہ کا تعلق ذات جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ۔ ” وما رمیت ...... بلکہ قول رسول کریم “ ص ٣٠ میں ہے کہ: ” ان السجدة كانت لحضرة الغيب ولا يجوز لہیکل الظهور والا فتوبوا ان الله غفور رحیم“ اگر ہیکل ظہور کو سجدہ کیا حقیقت ذات باری کو سجدہ ہوتا ہے۔ ورنہ صرف ہیکل کو سجدہ ناجائز ہوگا۔ بہاء اللہ کے آیات بینات لے کر ایک ہزار سال بعد آئے گا تو اس وقت تعلیمات بہائیہ کی طرف متوجہ ہو جائیں گے اور تمام فیصلہ جات بیت العدل سے کرائیں گے جو اس کام کے لئے بنا ہے۔ تم انبیاء کو تسلیم کرو۔ مگر احکام وہی واجب التعمیل سمجھو ۔ جو بہاء اللہ نے جاری کئے پیغام اسلام جالندھر ١٧ / اکتوبر ١٩٢١ء میں عبدالحق عباس مدیر رسالہ ہذا نے احکام بہائیہ درج کئے ہیں۔ اس عقیدہ کو قائم رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ جو شخص کسی کو ایک درہم کا دکھ دے یا بلا اجازت اس کے گھر میں داخل ہو جائے یا اس کا مال بلا اجازت اپنے قبضہ میں رکھے تو اس کی بیوی اس پر حرام رہے گی ۔ جو شخص کسی کو ایک سال تک ستاتا رہے۔ ایذا سے باز آ جائے ۔ ورنہ ١٩ دن اس پر اپنی بیوی حرام ہو جائے گی۔ توبہ کرے تو معاف ہے۔ اسے ١٩ مثقال سونا دینا ہوگا۔ جو شخص کسی کو حبس میں رکھے تو اس کی بیوی حرام ہو جائے گی تو پھر اگر اس بیوی کو اپنے گھر لانا چاہے تو ١٩ ماہ تک فی ماہ انیس مثقال ادا کرے ۔ ورنہ وہ ایمان سے خارج کر دیا جائے گا اور کبھی داخل نہ ہوگا اور نہ بخشا جائے گا۔ کتاب اقدس میں لکھا ہے کہ انیس آدمیوں کی ضیافت ہر ١٩ روز کرو۔ اگرچہ پانی پر ہی کی جائے۔ ایسے کپڑے نہ پہنو کہ جن سے تمہارے بچے ڈر جائیں ۔ غیر کا خط نہ دیکھو۔ جس زبان میں خط لکھا ہوا ہو۔ اسی زبان میں جواب لکھو۔ بھول جاؤ تو معاف ہے۔ جو خط کا جواب نہیں دیتا یا اسے پھینک دیتا ہے وہ مذہب سے خارج ہوگا۔ سود حلال ہے اور بھیک مانگنے والوں پر دینا بھی حرام ہے۔ شادی کے موقع پر ریشم کے سوا

دوسرا کپڑا نہ پہنو۔ مسکرات سے کنارہ کشی فرض ہے۔ چہرہ کو بالوں سے صاف رکھو تا کہ فطرتی خوبصورتی سے بڑھ جاؤ۔ پردہ اٹھا دو اور عورتوں کو وہاں لے جاؤ۔ جہاں تم جاتے ہو تا کہ وہ بھی قوم کی رہبری کریں۔ ( یہ مسائل بھی ان کی طرف منسوب ہیں) کہ نو رکعت نماز فرض ہے۔ دو صبح ، دو مغرب اور پانچ پچھلی رات کو ۔ نماز جنازہ چھ رکعت ہے۔ نماز کسوف و خسوف منسوخ ہیں ۔ نماز جنازہ کے سوا جماعت کی ضرورت نہیں ۔ عید نوروز کا روزہ فرض ہے۔ راگ سننے میں کوئی حرج نہیں ۔ خروج منی سے غسل واجب نہیں ۔ کوئی چیز نجس نہیں ۔ مشرک بھی نجس نہیں ۔ میت کو ریشم کے پانچ کپڑوں میں لپیٹو یا کم از کم ایک میں ۔ مہینے میں کم از کم ایک دفعہ ضیافت ضرور کرو۔ اگر چہ پانی ہی سے ہو۔ میت کو اتنی دور نہ لے جاؤ کہ گھنٹہ سے زائد وقت لگ جائے ۔ وضو اور سجدہ معاف ہیں ۔ بہاء اور جلال میں عید کرو۔ البیان کے سوا کوئی مذہبی کتاب نہ پڑھو۔ نماز جمعہ حرام ہے۔ نکاح میں والدین سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ روزے ١٩ ہیں ۔ قبلہ عکاء ہے۔ البیان قرآن سے افضل ہے۔ بیت اللہ شریف گراؤ۔ شیراز میں مکان خرید سکتے ہو۔ مردے کو سونے کی انگوٹھی اور ہیکل پہناؤ۔ کتاب مبین میں ہے کہ اگر بہاء نہ ہوتا تو کوئی صحیفہ آسمانی نازل نہ ہوتا۔ کیونکہ آپ سلطان الرسل اور محبوب رب العالمین ہیں۔ گالیاں دینے والے کو ٥٠ مثقال جرمانہ لگاؤ۔ ہر ایک شہر میں بیت العدل قائم کرو۔ تا کہ تعلیم عام ہو۔ (کوکب ٩ / مارچ ١٩٢٧ء میں ہے کہ ) یہودی کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے لاٹھی کو سانپ بنایا۔ من وسلویٰ اتارا اور ہاتھ سے روشنی نکالی ۔ عیسائی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے مردے زندہ کئے۔ مادر زاد اندھے بینا کئے۔ کوڑھیوں کو اچھا کیا۔ سمندر کو ڈانٹ بتائی تو ساکن ہو گیا اور خود قبر سے زندہ ہو کر نکلے اور مسلمان کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے چاند دو ٹکڑے کیا۔ براق پر سوار ہوئے ۔ رفرف پر چلے اور کوہ اور پتھر سے کلام کیا اور کلمہ توحید کہلوایا ۔ مگر یہ معجزہ نہیں ہے بلکہ معجزہ یہ ہے کہ اپنے دعاوی میں دشمنوں پر فتح حاصل کی جائے۔ جیسا کہ بہاء اللہ نے کر دکھایا ہے۔ (کوکب ١٧/ مارچ ١٩١٧ء) میں ہے کہ انسان کی روحانی ترقی ہفت عالم میں ہوتی ہے۔ (جس کو ہفت منزل ہفت بحر ہفت آسمان ہفت شہر یا ہفت درجات بھی کہتے ہیں) گویا یوں سمجھو کہ انسان کی روح پر پیاز کی طرح سات پردے آئے ہوئے ہیں۔ جوں جوں پردے اترتے ہیں الوہیت کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے تو پہلی دنیا عالم ناسوت ہے۔ جس میں کھاتا پیتا ہے اور مرتا جیتا ہے۔ اس کے بعد دوسری دنیا عالم مثال ہے۔ اس میں اس کو وہ شفاف اور نورانی جسم دیا جاتا ہے۔ جو اس وقت بھی اس کے اندر پوشیدہ طور پر موجود ہے۔ مگر زندگی کے بعد موت آنے پر جب بیرونی جسم چھوڑتا ہے تو اس عالم مثال کے نورانی جسم

صفحہ ١٤٨

کے اندر روح رہنے لگتی ہے۔ تیسری دنیا عالم روح ہے۔ جب انسان یہاں پہنچتا ہے تو دنیاوی تعلق نہیں رہتے اور بجلی کی طرح تمام دنیا کی سیر کر سکتا ہے اور دریافت کرنے میں اس کو کسی عضو یا آلہ کی ضرورت نہیں رہتی۔ چوتھی دنیا عالم نور ہے۔ جس میں پہنچ کر جمال الٰہی کے نور میں غرق ہو جاتا ہے۔ پانچویں دنیا عالم صفات ہے۔ اس میں خدا کا چہرہ دیکھتا ہے۔ چھٹی دنیا عالم حرارت ہے۔ جس میں الوہیت کی گرمی محسوس کرتا ہے۔ گویا یوں سمجھو کہ الوہیت کے دروازے پر بیٹھا ہوا ہے۔ ساتویں دنیا عالم اختلاط ہے۔ اس میں انسان اور خدا آپس میں مل جاتا ہے اور اپنی شخصیت بھی ضائع نہیں کرتا۔ جیسے کہ لوہا آگ میں اپنی شخصیت قائم رکھتے ہوئے آگ بن جاتا ہے۔ ان سات دنیا کی سیر زندگی میں ہی ہو سکتی ہے۔ بشرطیکہ کسی نبی وقت کی تابعداری کی جائے۔ روح شیشہ ہے۔ جس پر غبار پڑا ہوا ہے۔ تم اسے صاف کر کے ملکوت کی دریافت پر قادر ہو سکتے ہو۔ عبدالبہاء کا قول ہے کہ اگر تم انبیاء کی پیروی نہیں کرو گے تو ہم کہیں گے کہ تم ان کو مانتے ہی نہیں۔ بحوالہ مذکور (کتاب مبین ص ٦٧) میں ہے کہ کیا لوگوں نے ہم کو اس لئے نظر بند کیا کہ ہم تجدید دین کے لئے کھڑے ہوئے تھے؟ اگر تجدید قابل اعتراض تھی تو انجیل یا تورات کو کیوں چھوڑ دیا تھا؟ اگر تجدید جرم تھا تو ہم سے پہلے خود حضور ﷺ اس کے مرتکب ہو چکے ہیں اور آپ سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام بھی اس جرم سے ملوث ہو چکے ہیں۔ اگر اعلائے کلمتہ اللہ جرم ہے تو ہم سب سے اوّل اس جرم کے اقبالی ہیں۔ تجدید شریعت کے منکر یہ آیات تلاوت فرمائیں۔ ”ما یاتیھم من ذکر محدث....... قالوا ید اللہ مغلولة (ای یتجلی فی تجدید الشرائع) یمحو اللہ ما یشاء....... یفعل اللہ ما یشاء....... لا تبدیل لكلمات اللہ....... ما نفدت کلمات اللہ....... عندہ ام الكتاب“ جو شخص کتاب اقدس یا ایقان اور کتاب مبین یا بیان کو معترضانہ حالت میں پڑھے گا نقصان اٹھائے گا۔ ”لا یزید الظلمین الا خسارا“ اور جو شخص صدق دل سے پڑھنا چاہے تو اس پر فرض ہے کہ پہلے اپنا دل صاف کرے تاکہ اس میں معارف کی تصویر صحیح طور پر آسکے ورنہ ہاتھ بھی نہ لگائے۔ ظہور بہاء کی طرف اس قسم کی آیات میں اشارہ ہے۔ ”ففزع من السموات....... کل اتوہ داخرین....... وجوہ یومئذ ناضرة....... وجوہ یومئذ باسرہ....... انہم عن ربہم یومئذ لمحجوبون“ (مکالمات ص ٢٠٥) میں ہے کہ واقعہ کربلا کو واقعہ مازندران نے مٹا دیا ہے۔ کیونکہ بمقابلہ اس کے وہ مصائب پیش آئے ہیں جو اس میں نہیں تھے۔ کیونکہ اوّل اہل کربلا را بہشت نشان می دادند و ایشانرا مجال چون و چرا نبود۔ دوم قتیل اوشاں گفت ادرکنی یا ابا عبداللہ پس ملاطفت نمودند ۔ وایشان دیدند کہ سید الشہداء را حضرت

صفحہ ١٤٩

قدوس با سر عصا پرت دادند۔ سوم اسیری زنان اوشاں بعد ممات بود و اسیری زنان ایشاں در حیات۔ چہارم اوشاں را غربت دہ روز بود و ایشاں را غربت نہ ماہ۔ پنجم اوشاں را قتال با عداء یک شب و نصف روز بود و ایشاں را نوزدہ روز۔ ششم اوشاں را سہ شبانہ روز تشنگی بصحرا بود۔ پس زنان بنی اسد دفن نمودند ایشاں را دفن نہ نمودند۔ ہفتم اوشاں را در لشکر اعدا ہفتاد ہزار حامل قرآن بودند و ایشاں را کسے حامل قرآن در لشکر اعدا نبود۔ ہشتم مردان اوشاں را اسیر نہ نمودند و ایشاں را (مرداں را) اسیر نمودند و کلاہ کاغذی بسر ایشاں نہادہ شماتت نمودند نہم دشمناں اوشاں را بمردانگی شہید نمودند و ایشاں را بنامردی شہید کردند۔ دہم اوشاں بظاہر شریعت دعوت نمودند و ایشاں یعنی حضرت بباطن شریعت دعوت نمودند۔ یازدہم اوشاں قوت یافتند و ایشاں نوزدہ روز قوت نیافتند۔

ڈاکٹر براؤن مقدمہ الکتاب میں لکھتا ہے کہ : ”باب اولاً باب بودند در سنہ۔ دوم ذکر گشتہ عنوان باب بمحمد حسین بشروی عطاء کردند و نام خود ہم عطا نمودند پس محمد حسین محمد علی نامیدہ شد۔ بعد از شہادت ایشاں مقام بابیت و رکن رابع و منصب سید الشہداء بجناب حسن رسید۔ عمر عالم باب سی سال بود درجات ترقی و معرفت ایں ست اوّل علو عارف از معروف۔ دوم علو معروف از عارف وہو مقام اخلیلہ ۔ سوم تساوی درمیان عارف و معروف۔ چہارم اتحاد درمیان عارف و معروف۔“

نفس کے درجات بھی چار ہیں۔ اوّل نفس ملہمہ جس کا ادراک شک ہے۔ دوم نفس لوامہ جس کا ادراک ظن ہے۔ سوم نفس مطمئنہ جس کا ادراک یقین ہوتا ہے۔ چہارم نفس امارہ جس کا ادراک جہالت ہے۔ یقین تین قسم ہے۔ علم الیقین ۔ عین الیقین اور حق الیقین ۔ علی محمد باب کے نام یہ ہیں۔ واسطہ باب اوّل ۔ قائم، ذکر ، ذات حروف سبعہ ، مہدی ، نقطہ اور اعلیٰ ، حسین علی اور مرزا یحیٰ سوتیلے بھائی تھے۔ حسین علی کے نام یہ ہیں۔ بہاء اللہ نوری، مازندرانی اور وحید اوّل اور مرزا یحیٰ کے نام یہ ہیں۔ صبح ازل ، باب دوم کیونکہ باب اوّل کے بعد پانچویں سال ظہور کیا تھا۔ اسم الوجود اور وحید ثانی۔ ”نور يشرق من صبح الازل فيلوح على هياكل التوحيد اثارہ “ حضرت قدوس کہ ٣١٣ تن ہمرہش بود اسم او اسم نبوت و اسم ولایت است یعنی محمد علی ۔ ”من كلام المعصوم كلامنا صعب مستعصب لا يتحمله ملك مقرب ولا نبي مرسل ولا مؤمن ممتحن وفي رواية لا يحتمله الا .....“ کوکب ٢٠ اگست ١٩٢٩ء میں عبدالبہاء کا قول مذکور ہے کہ ہمیں آسمان کی زبان اور روح کی زبان سے بولنا چاہئے۔ یہ زبان ہماری زبان سے ایسی مختلف ہے۔ جیسے یہودیوں کی زبان ہماری زبان سے مختلف ہے۔ روح کی

صفحہ ١٥٠

زبان کے ساتھ ہم خدا سے باتیں کرتے ہیں۔ نماز قطعاً فرض ہے۔ انسان کسی بہانہ سے بھی اس سے معاف نہیں کیا گیا۔ البتہ اگر اس میں کوئی دماغی فتور ہو یا کوئی اور ناقابل گذر عذر اس کی راہ میں ہو۔ مقام بہجی شہر عکہ سے چار میل باہر ہے اور کرمل کے پاس ہے۔ اس میں دو سال آپ نظر بند رہے۔ شاہوں کے شاہنشاہ، موعود کل ادیان، انسانی شکل میں شمس حقیقت کے مظہر ٧٥ سال تک زندہ رہے اور ١٨٩٢ء میں وفات پائی۔ کوکب ٢٢ نومبر ١٩٢٩ء میں جناب بہاء اللہ کا قول یوں مذکور ہے کہ روپیہ اور چاندی سونے کا سود حلال طیب اور پاک ہے تاکہ مخلوق خدا کی یاد میں مشغول ہو۔ شریعت بہائیہ کے مطابق ہر شخص آزاد ہے کہ وہ اپنی حین حیات میں جس طرح چاہے اپنی ملکیت کا انتظام کرے۔ ہر شخص پر فرض ہے کہ وصیت نامہ لکھ کر تیار رکھے۔ اگر کوئی بلا وصیت مرجائے تو اس کی جائیداد اولاد، شوہر یا بیوی، باپ، ماں، بھائی، بہن اور استاد کے درمیان مخصوص مناسبت سے تقسیم کر دیا جائے۔ اگر ایسا کوئی وارث نہ ہو تو وہ مال بیت المال میں داخل کرو۔ جو غریبوں، یتیموں اور رفاہ عام کے کاموں میں خرچ ہوگا۔ اگر صرف ایک شخص کے لئے وصیت ہو تو بھی جائز ہے۔ کوکب ٢٢ نومبر ١٩٢٩ء میں ہے کہ تربیت کے لئے نمونہ زیادہ مؤثر ہے۔ والدین، استاد اور دوستوں کا چال چلن اہم عنصر ہے۔ مظہر الہی اعلیٰ معلم ہیں۔ اس لئے سب سے پہلے کلمات بہائیہ سکھائے جائیں۔ ان کو الواح الرحمٰن یاد کراؤ تاکہ وہ مشرق الاذکار میں اپنی سریلی آواز سے پڑھیں۔ برے کام کا انجام بھی برا ہے۔ لیکن ہیئت اجتماعیہ کو تحفظ و مدافعت کا حق حاصل ہے۔ اخلاق اچھے ہوں تو انتقام کی ضرورت نہیں رہتی۔ (کوکب ٢٥ اپریل ١٩٢٥ء ص ١٢) میں ہے کہ امر یعنی بہاء اللہ اور یکہ بمعنی اتحاد۔ یعنی جب بہائی تعلیم امریکہ میں پہنچے گی تو اتحاد پیدا ہو جائے گا اور یہی امریکہ کی وجہ تسمیہ ٹھہری۔

٦...... صداقت بابیت و بہائیت

بابی اور بہائی اپنی صداقت یوں پیش کرتے ہیں کہ اولاً تورات میں ظہور امام کا وقت یوم اللہ اور یوم الرب ظہور ایلیاء اور ظہور اللہ مذکور ہے۔ انجیل میں اس کو یوم الرب، ظہور یحییٰ اور ظہور ثانی بتایا گیا ہے۔ قرآن شریف میں یوم القیمۃ، یوم الساعۃ، یوم الجزاء اور یوم الدین کہا گیا ہے۔ احادیث میں ظہور مہدی اور قیام روح اللہ لکھا ہوا ہے اور کلام ائمہ میں ظہور اوّل (باب) اور ظہور ثانی (بہاء حسین نوری) آیا ہے۔ ثانیاً حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یوم اللہ یعنی ظہور امام کی ١٥٠٠ سال پہلے انجیل میں خبر دی تھی تو حضرت مسیح ارض مقدس میں پیدا ہوئے اور انہوں نے دعوت دی کہ: ”توبوا الیٰ اللّٰہ قد اقترب ملکوت اللّٰہ“ ٦٢٠ سال گزرے تو حضور خاتم

صفحہ ١٥١

المرسلین ﷺ کی بعثت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ: ”اتی امر الله فلا تستعجلوه ، اقترب للناس حسابهم، انا على نسم الساعة“ اور اس کے وعدے کے مطابق ١٢٦٠ھ حضرت باب شیرازی پیدا ہوئے۔ آپ نے سات سال دعوت دی کہ: ”بشری بشری صبح الهدی قد تنفس“ اور الواح مقدسہ سے دنیا کو آگاہ کیا اور چونکہ یہ وارد تھا کہ : ”لا بدلنا من اذربجان“ تو حکومت وقت نے قید کے بعد آپ کو تبریز میں شہید کیا۔ (تو وفات پائی) آپ کے بعد قصبہ نور سے مرزا حسین علی الملقب بہاء اللہ الاقدس الابھی صبح موعود ظاہر ہوئے اور حکومت ایرانی و ترکی نے آپ کو عکا شہر میں ٢٤ سال تک نظر بند رکھا تو احادیث کا مفہوم صادق ہوا کہ ظہور امام عکا ہے۔ آپ نے الواح مقدسہ سے تبلیغی احکام شاہان وقت کے نام بھیجے اور کتاب اقدس نازل ہوئی۔ جس میں موعودہ علم و عمل کی تلقین کی گئی اور اسلام سے سبکدوش کر دیا۔ تب یہ وعدہ پورا ہوا کہ: ”ترى الارض غير الارض ، اشرقت الارض بنور ربها، لكل امرئ منهم يومئذ شان يغنيه“ اخیر عمر میں کتاب عہد اقدس لکھی اور ٢/ ذیقعدہ ١٣٠٩ھ ١٨٩٢ء میں شہادت پائی۔ ”ثالثاً الم لا اله الا الله“ میں امام حسن ظاہر ہوئے۔ ”المص“ میں سفا پیدا ہوا۔ ”المر“ کے شامل ہونے پر ١٢٧٢ھ کو حضرت باب ظاہر ہوئے۔ جو حروف مقطعات بلا تکرار جمع کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ رابعاً ٢٦٠ کو حسن بن علی امام عسکری پوشیدہ ہو گئے۔ ”فلا اقسم بالکنس“ کا اشارہ آپ کی طرف ہی ہوا تو آپ کے بعد اختلاف پیدا ہو گیا۔ حدیث میں ہے کہ لوگ امام کو بوڑھا سمجھیں گے۔ مگر آپ عند الظہور جوان ہوں گے۔ امام جعفر صادق کے نزدیک آپ کی عمر ٤٥ سال ہوگی۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ مشرقی ستارہ کی تابعداری کرو۔ تمہیں منہاج رسول پر چلائے گا اور تم سے شریعت اسلام کا بوجھ اتار دے گا۔ سرمگین چشم درمیانہ قد، تن اور رخسار پر خال سیاہ مشرق سے نمودار ہوگا اور شہر عکا میں قیام کرے گا۔ ظلمت کو دور کرے گا۔ نئی روشنی پھیلائے گا اور علم وفضل سے لوگوں کو مالا مال کر دے گا اور اپنی کتاب سے اس قدر قلوب کی اصلاح کرے گا کہ قرآن سے نہیں ہوسکی۔ آپ کے حواری اہل عجم ہوں گے۔ مگر عربی میں کلام کریں گے۔ آپ کا محافظ خاص وزیر ہوگا جو اس قوم سے نہ ہوگا۔ سب قتل ہوں گے۔ آپ کا نزول مرج عکا میں ہوگا۔ کتاب الغیبة میں ہے کہ امام کا ظہور گھنے درختوں میں ہوگا۔ جو بحیرہ طبریہ کے کنارے پر ہوں گے۔ عکا بھی بحیرہ طبریہ کے پاس ہی نہر اردن کے پاس واقع ہے۔ جو ہیرودس نے نکالی تھی اور شہر طبریہ ارض مقدس میں ہے۔ یہ ملک کثرت نباتات سے بلاد سوریہ کہلاتا ہے۔ خامساً تورات میں مقام بیعت جبل کرمل بیت المقدس کے پاس مذکور ہوا ہے۔ جس کی طرف

صفحہ ١٥٢

”يوم ينادى المناد من مكان قريب“ میں اشارہ ہے تو روح اللہ عکاء میں تھے اور ندا مہدی حضرت باب میں تھی۔ علامہ مجلسی اپنی کتاب بحار میں لکھتے ہیں کہ اہل اسلام امام کے ساتھ ان کفار سے بھی بڑھ کر بدسلوکی کریں گے۔ جو انہوں نے حضور علیہ السلام سے کی تھی۔ کافی میں ہے کہ: ”بہ کمال موسیٰ وبہا عیسٰی وصبر ایوب“ امام کے حواری مقتول ہوں گے۔ ذلیل ہوں گے اور ان کے خون سے زمین رنگین ہوگی۔ وہی خدا کے پیارے ہیں اور ”اولئك هم المهتدون حقا“ حسن بن علی فرماتے ہیں کہ اس وقت منہ پر تھوکا جائے گا، لعنتیں برسائی جائیں گی۔ امام ابو جعفر کا قول ہے کہ اہل حق چن چن کر صاف رہ جائیں گے تو امام کے اصحاب بنیں گے اور خدا کے نزدیک عزت پائیں گے۔ حضرت علی کا قول ہے کہ : ”كما بدأكم تعودون“ اہل حق ابتدائے اسلام میں مظلوم تھے۔ اخیر میں بھی مظلوم ہی ہوں گے۔ یہ بھی فرمایا ہے کہ : ”حجة الله“ ہمیشہ موجود ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو دنیا غرق ہو جائے۔ مگر لوگ اسے نہیں شناخت کرتے اور برادران یوسف علیہ السلام کی طرح حجۃ اللہ ان کو شناخت کرتے ہیں۔ کافی اور کتاب البحار میں ہے کہ امام دعوتِ جدیدہ (کتاب اقدس) دے گا۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام نے دعوتِ جدیدہ (قرآن) پیش کی تھی۔ ذیل کی تحریرات بھی اس کی مؤید ہیں ۔”يخالف فى احكامه مذهب العلماء (يواقيت) بنا يختم الله الدين كما فتح بنا (ملاّ على قارى) يختم به الدين كما فتح بنا (مشارق الانوار) يقوم القائم بامر جديد على العرب شديد . يبايع الناس بامر جديد وكتاب جديد وسلطان جديد من السماء (ابو نصير فى البحار) اوّل من يتبعه محمد وعلى الثانى (مجلسی) ”اب یہ کہنا کہ ختم رسالت اور انقطاعِ وحی اسلامی عقیدہ ہے غلط ہوگا۔ کیونکہ یہ تحریرات اس کی تردید کر رہی ہیں۔ سادسًا کاہنوں سے عہد نمرود میں نجم خلیل کی خبر دی تھی۔ (ابن اثیر) اور عہد فرعون میں نجم موسٰی کی (مثنوی مولانا روم) یہودیوں اور مجوسیوں نے نجم مسیح کی (انجیل) یہودیوں اور چند عربوں نے ”نجم احمد خاتم المرسلين عليه السلام“ کی اور مجوسیوں اور دو معتبر عالموں نے نجم القائم کی خبر دی ہے۔ جن کے نام نامی یہ ہیں۔ شیخ احمد احساوی اور سید کاظم رشتی ۔ انہوں نے ولادتِ امام سے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ تیمور خوارزمی کا قول ہے کہ جو ستارے ١٢٣٠ھ سے ١٢٥٠ھ تک نمودار ہوئے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انقلابِ عظیم ہوگا۔ مرزا آقا خاں منجم منوچہر کا قول ہے کہ ایک آدمی پیدا ہوگا جو شریعتِ جدیدہ کی دعوت دے گا۔ سابعًا سریانی زبان قدیم ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی زبان بھی یہی تھی۔ مذہب صابی حضرت

صفحہ ١٥٣

شیث علیہ السلام سے منقول ہے۔ یہی دین اقدم الادیان ہے۔ اس میں کمزوریاں پیدا ہوگئی تھیں تو ان کے رفع کرنے کو حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ پھر کمزوریاں پیدا ہوئیں تو حضرت ختم المرسلین تشریف لائے۔ اخیر زمانے میں جب اس دین میں تاثیر نہ رہی تو حضرت بہاء تشریف لائے اور کتاب اقدس کی تعلیم دی۔

”قال فی عمدة التنقیح فی دعوة المہدی والمسیح ید برالامر (الاسلام) من السماء الی الارض (ینزلہ من السماء) ثم بعد المائتین یرجع (ذلك الدین) الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنة مما تعدون (ای یشرع رفع الدین) بعد 260 اذهو زمان اختفاء الامام الی سنة 1260هـ لا تحرک بہ لسانک الایة فالمراد فیہ بالبیان الحدیث اذبہ فصل القرآن ثم صار تکمیل الحدیث الی 1260هـ (وهو زمان تصنیف صحیح المسلم) فشرع زمان الرجوع الی الالف فتم التدبیر والرجوع الی 1260هـ وهو زمان ظهور الباب من آل فارس (وهو الشیراز) حیث جبل بینتون ویقال لہ مطلع العلوم ومطلع اهل فارس اذلا یبقی من الاسلام الا رسمہ ولا من القرآن الا اسمہ وفی الحدیث اقرء والقرآن قبل ان یرفع فنا لہ رجل من الثریا، وفی الحجج المراد بقولہ علیہ السلام الایات بعد المائتین اما ایات صغری وهی شرور حدثت فی الاسلام واما ایات کبری بعد الالف ای فی المایة الثالثة عشر، قال ابوالبرکات فی کتابہ التوضیح ہذہ الایات تقع فی المائیة الاخیرة من الیوم الذی وعدبہ علیہ السلام امة بقولہ ان صلحت امتی فلها یوم وان فسدت فلها نصف یوم من ایام الرب وان یوما عند ربک کالف سنة مما تعدون ہکذا فی الجواهر ثم قال المجلسی ان لکل امة مدة معلومة تنتقی بعدها لقولہ تعالی لکل امة اجل فاذا جاء اجلهم لا یستاخرون ساعة ولا یستقدمون وهی لہذہ الامة الف سنة لقولہ تعالی ید برالامر الآیة، ولما مضی 260 الی زمان الامام العسکری حسن بن علی وغاب عن الناس وظهرت الفتن بعدہ فظهر القائم بعدہ بعد یوم الرب ای الف سنة 1260هـ والیہ نظر قولہ تعالی ویستعجلونک بالعذاب اذ قالوا ان کان ہذا ہو الحق من عند ربک فامطر علینا حجارة من السماء اوأتنا بعذاب الیم فقال لهم الله تـ عـالی لکم

صفحہ ١٥٤

ميعاد يوم لا تستاخرون منه ساعة ولا تستقدمون قال الآسی هذه الاستد لالات وانکانت علی غیر شیئی لکنها عند الخصم علی شئی خطیر“

٧.......اقتباس از کتاب مستطاب ایقان

”بسم الله العلی الاعلیٰ . العباد لن یصلوا الی العرفان الا بالا نقطاع عن الکل . قدسوا انفسکم لعل تصلن الی مقام قدر الله وتدخلن فی سرادق جعله الله فی سماء البیان مرفوعاً“ غیر کی بات پر کان نہ دھرو تا کہ معرفت حاصل ہو۔ کیونکہ مباحثہ سے کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔ دیکھو پہلے لوگ منتظر تھے کہ جمال موعود نظر آئے۔ مگر موقع آیا تو سب نے تکذیب کی۔ ”ما یاتیهم من رسول الا کانوا بـه یستهزؤن (یسین) وهمت کل امة برسولهم لیاخذوه (مومن)“ سورہ ہود میں غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ نوح علیہ السلام نے ٩٥٠ سال نوحہ کیا۔ مگر کسی نے نہ مانا۔ بلکہ مارنے کو آئے۔ ”کلما مر علیه قوم سخروا منه (هود)“ جب آپ اپنے تابعداروں کی فتح مندی کا وعدہ کرتے تو بَدا (تبدیلی مشیت ایزدی) کا ظہور ہو جاتا تو تابعدار بگڑ جاتے۔ چنانچہ آپ کے تابعدار صرف چالیس یا بہتر (٧٢) تک رہ گئے۔ آخر الامر آپ نے بددعا کی کہ: ”رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیاراً (نوح) “ اور بَدا میں حکمت یہ تھی کہ سچے اور جھوٹے تابعدار ممتاز ہو جائیں۔ ”احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وهم لا یفتنون (عنکبوت)“ اس کے بعد حضرت ہود علیہ السلام سات سو آدمی یا کم و بیش کی دعوت توحید میں ایک سو سال تک مصروف رہے۔ مگر آپ کو بھی تسلیم نہ کیا گیا۔ ”لا یزید الکفرین کفرهم الا خساراً (فاطر) “ تو وہ عذاب صیحہ (آسمانی گونج) سے ہلاک ہوگئے۔ پھر جناب ابراہیم علیہ السلام سے بھی ایسا ہی ہوا۔ ”الا الذین عرجوا بجناحی الایقان الی مقام جعله الله عن الادراک مرفوعاً“ آپ کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے امر اور ید بیضائے معرفت کے ساتھ کوہ فاران محبت اور شبان قدرت کے لئے ظہور کیا۔ مگر فرعون نے آپ کی تکذیب کی اور ایک مومن نے کہا کہ: ”اتقتلون رجلا ان یقول ربی الله (مؤمن)“ تو اس کو بھی مار ڈالا۔ غور کا مقام ہے کہ گو ہر نبی نے بعد میں آنے والے نبی کی بشارت دی۔ مگر لوگ مخالف رہے۔ ”افکلما جاء کم رسول بما لا تهوی انفسکم استکبرتم (بقره) “ اور کیوں مخالف رہے؟ اگر یہ کہا جائے کہ اتمام حجت نہیں ہوئی تھی تو صاف جھوٹ ہے۔ کیونکہ یہ

صفحہ ١٥٥

ممکن نہیں کہ خدائے تعالیٰ اتمام حجت کے بغیر کسی شریعت کا حکم دے۔ بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے علمائے مذہبی کی پیروی میں ڈوب کر حالات حاضرہ پر روشنی ڈالنے کی تکلیف گوارا نہ کی تھی۔ ورنہ وہ ضرور ایمان لے آتے۔ کسی کو حب ریاست مانع تھی۔ کوئی اپنے علم پر نازاں تھا اور بہت سے لوگ جاہل تھے۔ اس لئے ان کی میزان عقل میں انبیاء کا ظہور ناممکن تھا اور جس نے دعویٰ کیا اس کے قتل پر آمادہ ہوگئے۔ علمائے عصر کے متعلق سنئے ۔ ”يا اهل الكتاب لم تكفرون بايات الله وانتم تشهدون (آل عمران) “ تاریخ شاہد ہے کہ صراط مستقیم سے روکنے والے علمائے عصر ہی تھے۔ یہ بھی ثابت ہے کہ تاویل کلمات مظہر الٰہی کے سوا دوسرا کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا ۔ ”وما يعلم تاويله الا الله والراسخون في العلم (آل عمران)“ چنانچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو یہود نے کہا کہ ظہور مسیح کی علامات پوری نہیں اتریں اور اس نے طلاق اور سبت کو منسوخ کر دیا ہے۔ حالانکہ تورات پر عامل ہونا اسے ضروری تھا۔ آج تک اسی وجہ سے ظہور مسیح کے قائل ہیں۔ کیا معلوم کہ ان کا خیالی مسیح کب نازل ہوگا؟ درحقیقت یہود خود تورات نہیں سمجھتے تھے۔ اس لئے ”لقاء الله“ سے محروم ہوگئے۔ ہم اس مسئلہ کو ایک صاحب کی درخواست پر عربی میں ظاہر کر چکے ہیں اور اب فارسی میں ظاہر کرتے ہیں۔ ”لعل يجرى من هذا القلم ما يحيى به افئدة الناس“ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا سے رخصت ہونے لگے تو فرمایا کہ میں پھر آؤں گا اور یہ بھی فرمایا کہ میرے بعد ایک اور آئے گا جو میری تعلیم کو مکمل کر دے گا۔ درحقیقت دونوں کلام کا مطلب ایک ہی ہے۔ کیونکہ آپ کے بعد جب جناب خاتم النبیین تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کہ میں تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور میرا نام عیسیٰ ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کا معنی آپ کا ظہور ہی تھا۔ کیونکہ دونوں قائم بامر اللہ تھے اور دونوں ہی ناطق بذکر اللہ تھے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ اگر سورج کہے کہ میں پھر آؤں گا یا یوں کہے کہ کل اور سورج نکلے گا تو دو عبارتوں کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ سورج ایک ہی ہے اور صرف مطلع میں فرق ہے۔ اسی اصول سے تمام مظاہر کا ظہور حل ہو سکتا ہے۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ظہور کا نام اور علامات کو مختلف مقامات میں بیان فرمایا تو آپ کے شاگردوں نے عرض کی کہ یہ رجعت کب ہوگی؟ تو آپ نے ہر ایک رجعت کا وقت اور نشان بتا دیا اور یہ مظلوم (بہاءاللہ) جب بغداد میں نظر بند تھا۔ اس کی تشریح کر چکا ہے۔ اب پھر احسان کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ ”لا نريد منكم جزاء ولا شكوراً (دھر)“ مائدہ سماوی ہرگز ہرگز منقطع نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔”انزل علينا مائدة من السماء (مائدة)“ کیونکہ وہ شجرہ طیبہ ہے۔ ’اصلہا

صفحہ ١٥٦

ثابت وفرعها في السماء تؤتي اكلها كل حين (ابراهيم) "افسوس ہے کہ ہم اس مائدہ سے محروم رہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ : "يا احباء الله" دل کے کان کھول کر باغ قدس کا نغمہ سنو۔ کیونکہ غنیمت ہر وقت حاصل نہیں ہوتی۔

نزول مسیح کی پیشین گوئی اور بہائی تحریف

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی رجعت کے متعلق یوں فرمایا تھا کہ ایک وقت لوگوں پر تنگی ہوگی۔ سورج سیاہ ہو جائے گا۔ ستاروں میں نور نہ ہوگا۔ ارکان ارض متزلزل ہوں گے تو اس وقت ابن انسان آسمان سے بڑے جاہ وجلال کے ساتھ ابر سے فرشتوں کے ساتھ نزول کرے گا۔ (متی) عیسائیوں نے جب اصل مقصد نہ سمجھا۔ اس لئے حضور خاتم الانبیاء کی شریعت سے محروم رہے اور کہنے لگے کہ یہ علامات ظاہر نہیں ہوئے۔ حضور کے بعد صور ثانی پھونکا گیا۔ قبور غفلت سے مردہ دل جاگ اٹھے۔ مگر لوگ پھر بھی منتظر ہیں کہ کب یہ علامات ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ زمین و آسمان ٹل جائیں گے۔ مگر میرا کہنا نہیں ٹلے گا۔ یہاں سے عیسائیوں نے سمجھ لیا کہ انجیل منسوخ نہ ہوگی۔ اسی بناء پر انہوں نے جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کی تھی۔ اگر ایسے کلام کا مفہوم مظہر الٰہی سے پوچھ لیتے تو گمراہ نہ ہوتے۔ کیونکہ تنگی ایام سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ یقین اٹھ جائے گا۔ ظنون فاسدہ پھیل جائیں گے اور جاہلوں کے ہاتھ میں ان کی باگ ڈور ہوگی۔ آج کل یہی حالت ہے کہ باوجودیکہ ابواب علم الٰہی مفتوح ہیں۔ مگر یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی وہ بند ہیں۔ ان کو تو ابواب علم کی ضرورت ہی نہیں رہی۔ ہاں یہ چاہتے ہیں کہ ابواب نان کھلے رہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی عزت میں فرق آجائے۔ اگر کوئی معارف الٰہی پر نظر ڈالتا ہے تو درندوں کی طرح اس کا ماس کھا جاتے ہیں۔ اب بتائیے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا تنگی ہوگی۔

علیٰ ہٰذا القیاس ہر ظہور کے وقت اس قسم کی تنگی ہوا کرتی ہے اور اسی تنگی کو احادیث میں ظلمت کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ معارف الٰہیہ سے تنگی مراد ہے کہ ایام غروب شمس حقیقت میں خدا رسیدوں کو پہنچتی ہے اور کسی کے پاس پناہ نہیں لے سکتے۔ "كذلك نعلمك من تاويل الاحاديث" حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ سورج میں سیاہی آئے گی اور ستاروں میں روشنی نہ رہے گی اور زمین پر گریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شمس حقیقت کا طلوع ہوگا تاکہ ایقان وتوحید کے اشجار واثمار اس کی روشنی سے حرارت محبت الٰہی میں پایہ تکمیل تک پہنچ سکیں۔ "منها ظهرت الاشياء والى خزائن امرها رجعت ومنها البدء واليها العود" اگرچہ ان پاک ہستیوں کی تعریف وتوصیف ناممکن ہے۔ "سبحان الله من ان يعرف اصفیائه

صفحہ ١٥٧

بغیر صفاتهم او یوصف اوليائه بغیر انفسهم“ مگر شمس و قمر کا اطلاق ان پر وارد ہے۔

چنانچہ دعائے ندبہ میں مذکور ہے کہ: ”این الشموس الطالقه . این الاقمار المنيرة . اين الانجم الزاهرة ؟ “ یعنی انبیاء اولیاء اور اصحاب کو شمس و قمر اور ستارے کہا گیا ہے۔ دوسرے مقام پر شمس و قمر اور ستاروں سے مراد وہ علمائے عصر بھی ہیں جو ظہور قبل اور ظہور بعد کے درمیانی زمانہ میں موجود ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ شمس حقیقت سے نور حاصل کریں تو روشن ہوں گے۔ ورنہ سیاہ ہو جائیں گے۔ علم وفضل میں شہرت کی وجہ سے ان کو شمس کہا گیا ہے۔ مگر شمس حقیقت کے سامنے انکا نور ماند پڑ جاتا ہے۔ پس اگر شمس حقیقت سے نور حاصل کریں تو ان کو شموس عالیہ کہتے ہیں۔ ورنہ ان کو شموس مکسفین کہا جاتا ہے۔ ”الشمس والقمر بحسبان (رحمن)“

(نوٹ! شمس و قمر موافق عقائد شیعہ لکھے گئے ہیں۔ کیونکہ اس کتاب کے لکھنے سے ہمارا مطلب صرف یہ ہے کہ ان کو ہدایت ہو۔ ”نشهد انهم من المفترين . الا من اتى الله بقلب سليم “) ”ايها السآئل “ ہمیں عروۃ الوثقیٰ ہاتھ میں لانا ضروری ہے۔ تاکہ نفی سے اثبات میں آسکیں اور نار حسبان سے آزاد ہو کر وجہ منان کے نور سے مشرف ہوں۔ والسلام شمس و قمر سے ایک اور مقام پر شریعت کے احکام مرتفعہ مراد ہوتے ہیں۔

شمس و قمر و نجوم کا دوسرا معنی

چونکہ ہر شریعت میں صوم وصلوٰۃ کی کیفیت جدا گانہ رہی ہے۔ اس لئے تنسیخ و تجدید کے رو سے شمس و قمر کہا گیا ہے۔ ”لیبلوكم ايكم احسن عملا (ملك)“ حدیث میں ہے کہ: ”الصوم ضياء والصلوة نور “ میں ایک روز اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک مولوی صاحب نے فرمایا کہ صوم سے چونکہ حرارت پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو شمس کہا گیا اور صلوٰۃ اللیل سے سردی کا عالم نظر آتا ہے۔ اس لئے اس کو قمر کہا گیا ہے۔ مگر اصل حقیقت سے وہ مولوی صاحب واقف نہ تھے۔ میں نے کہا کہ یہ معنی تو عوام الناس کو بھی معلوم ہے۔ مگر اس کا ایک اور معنی بھی ہے کہ قرآن شریف آسمان ہے اور صوم وصلوٰۃ اس میں شمس و قمر ہیں اور تاریکی شمس و قمر سے مراد ان کی تنسیخ ہے۔ جو اس ظہور سے معلوم ہو سکتی ہے۔ جس کو ابرار کے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ”ان الا برار يشربون من كاس كان مزاجها كافورا (دھر)“ یہ مسلم ہے کہ ہر ایک ظہور بعد کے وقت ظہور قبل کے احکام اور امر ونواہی منسوخ ہو جاتے ہیں اور یہی معنی شمس و قمر کے سیاہ ہونے کا ہے۔ اگر عیسائی اس معنی کو سمجھ لیتے اور اس فقرہ کا معنی معدن علم سے اخذ کر لیتے تو گمراہ نہ ہوتے۔ کیا ان کو ابھی یہ معلوم نہیں ہوا کہ شمس موعود افق ظہور سے روشن ہو چکا ہے اور ظہور قبل کے

صفحہ ١٥٨

علوم و احکام تاریک ہو چکے ہیں؟ دوستو! راہ راست پر آجاؤ۔ تا کہ تم کو یہ اسرار اپنی آنکھ سے نظر آجائیں۔ ”ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل عليهم الملائكة (سجده)“ روحانی قدم اٹھا کر دور دراز کی منزل طے کر کے ان معارف تک پہنچ جاؤ۔ ”فلا اقسم برب المشارق والمغارب (معارج)“ میں بھی یہی اشارہ ہے۔ کیونکہ ہر ایک شمس حقیقت کے لئے الگ الگ مشرق و مغرب ہوتا ہے۔ علمائے عصر چونکہ جاہل تھے۔ اس لئے ان کو ان معارف کی خبر نہیں ہوئی۔ اس لئے کہتے ہیں کہ چونکہ روزانہ نقطہ طلوع و غروب بدلتا رہتا ہے۔ اس لئے مشارق و مغارب کہا گیا یا فصولِ اربعہ کی تبدیلی مشرق و مغرب کی تبدیلی سے مراد ہے۔ ہماری تشریح سے آسمان کے پھٹنے کی کیفیت بھی کھل جاتی ہے۔ ”اذا السماء انفطرت (انفطار)“ کیونکہ آسمان سے مراد یہاں ایک شریعت ہے جو شریعت جدیدہ کے ظہور سے پھٹ جاتی ہے۔ یعنی منسوخ اور باطل ہو جاتی ہے۔ آسمان شریعت کا پھٹنا آسمان بالا کے پھٹ جانے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ جس کی جاہل مولویوں کو خبر نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ خیال کرو کہ مظہر الٰہی تمام اہل ارض کے بالمقابل حدود الٰہی قائم کرنے میں کس قدر زحمت اٹھاتے ہیں اور قوم کی ایذاء رسانی میں کس طرح صبر کرتے ہیں۔

تبدیل ارض

تبدیل ارض کا معنی بھی یہی ہے کہ دلوں کی زمین میں طرح طرح کے توحیدی پودے لگا کر بیل اور پھولوں سے مزین کر دیتے ہیں۔ اگر تبدیل ارض کا یہ معنی مراد نہ ہو تو کس طرح وہ لوگ جو کبھی ایک حرف بھی تعلیم نہیں پاتے اور استاذ کی شکل بھی نہیں دیکھی اور نہ ہی کسی مکتب میں قدم اٹھا کر جاتے ہیں۔ معارف و معانی بتانے لگتے ہیں کہ جن کو کوئی دوسرا محدود علم کا حاصل کرنے والا سمجھ ہی نہیں سکتا۔ گویا ان میں مٹی علم سرمدی ہوتی ہے اور پانی اسرار حکمت کا ہوتا ہے۔ جس سے خمیر پا کر ان کی سرشت تیار ہو جاتی ہے۔ ”العلم نور يقذفه الله فى قلب من يشاء“ ورنہ سرد روی کے دوسرے علوم جو ایک دوسرے سے سرقہ کر کے حاصل کرتے ہیں۔ کبھی قابل تعریف نہیں ہو سکتے۔ اے کاش لوگوں کے دل ان کلمات محدودہ اور خیالات محجوبہ سے پاک ہو جاتے اور شمس علوم حکمت لدنی سے منور ہو جاتے۔ اگر قلوب کی زمین تبدیل نہ ہو سکتی ہوتی تو کیسے ان میں علوم الوہیت کا ظہور ہوتا۔ ”يوم تبدل الارض غير الارض (ابراهيم)“ اس وقت سلطان وجود کی عنایت سے ارض ظاہر بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ ”لو انتم فى اسرار الظهور تتفكرون الارض جميعاً قبضته يوم القيمة والسموات مطويات بيمينه (زمر)“

صفحہ ١٥٩

طی الارض

اگر اس آیت سے یہ سمجھا جائے کہ خدا تعالیٰ زمین و آسمان کو اپنے ظاہری ہاتھ میں لے کر چھپالے گا تو بالکل بے معنی بات ہو جاتی ہے اور صریح کفر لازم آتا ہے۔ اگر یوں کہو کہ مظاہر امر قیامت کو ایسا کریں گے تو یہ حرکت بھی فضول نظر آتی ہے۔ بلکہ مراد یہاں ارض معرفت اور آسمان شریعت ہے جو آج خدا نے سمیٹ کر دوسری زمین اور دوسرا آسمان پیدا کر دیا ہے اور شمس و قمر و نجوم جدیدہ سے ان کو آراستہ کر کے مزین کر دیا ہے اور یہ رموز و اشارات جو مصادر امریہ سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ان میں سخت امتحان مضمر ہوتا ہے کہ دیکھیں ارض قلوب میں سے کس قدر اچھی ہے اور کس قدر بری؟ آیت قبلہ میں بھی غور کرو کہ ہجرت سے پہلے حضور علیہ السلام بیت المقدس کو سجدہ کرتے تھے۔ جو بعض کو ناگوار گزرتا تھا۔ پھر یہ حکم نازل ہوا کہ: ”قد نری تقلب وجهك في السماء (بقر)“ ایک روز آپ نماز ظہر پڑھا رہے تھے اور ابھی دو رکعت باقی تھیں کہ حکم ہوا ۔ ”فول وجهك شطر المسجد الحرام“ تو آپ نے اسی وقت بیت اللہ کی طرف رخ تبدیل کر لیا۔ اس میں بھی امتحان ہی مطلوب تھا۔ ورنہ اگر وہی بیت المقدس سجدہ گاہ بنا رہتا تو کیا بعید تھا۔ کیونکہ پہلے انبیاء علیہم السلام اسی کو سجدہ کرتے رہے تھے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے تھے۔ یوں تو تمام روئے زمین کو خداوند تعالیٰ سے ایک ہی نسبت حاصل ہے۔ ”فاینما تولوا فثم وجه الله“ مگر اسے اختیار ہے کہ ایک زمین کو اپنے لئے مخصوص کر کے اپنے بندوں کا امتحان کرے۔ ”الا لنعلم من يتبع الرسول ممن ينقلب على عقبيه (بقرہ)“ کہ کون نماز توڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ ”حمر مستنفرة (مدثر)“ اس قسم کی تبدیلیوں میں اگر غور کیا جائے تو تمام مطالب حل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ خدا کو کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں اور یہ تبدیلیاں صرف تربیت نفس کے لئے ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ بندہ اپنی ذاتی اغراض سے نکل کر احکام الٰہی کے ماتحت ہو جائے۔ اس لئے اس کے امتحانات ہر وقت بارش کی طرح نازل ہوتے رہتے ہیں۔ اگر انبیائے سابقین پر نظر دوڑاؤ تو تمام شبہات دور ہو جائیں گے۔ دیکھئے حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک قبطی کو قتل کر کے مدین کو دوڑ جاتے ہیں۔ وہاں حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس رہ کر واپس آتے ہیں تو وادی ایمن میں ”مامور من الله“ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد فرعون کو دعوت توحید دیتے ہیں تو قتل کا الزام لگا کر انکار کر دیتا ہے اور خود بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں کہ : ”فعلتها اذا وانا من الضالين (شعراء)“ اس سے پہلے فرعون کے گھر ہی تیس سال پرورش پاتے رہے۔ اگر ابتلاء خدا کو منظور ہوتا تو موسیٰ علیہ السلام کو

صفحہ ١٦٠

ان الزامات سے روکا جاسکتا تھا۔ مریم علیہا السلام کو دیکھئے کہ تولید عیسیٰ علیہ السلام کے بعد تنگ آکر یوں کہتی ہیں کہ: ”يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا (مریم)“ ”ہائے میں اس سے پہلے ہی مرجاتی۔“ اور دشمنوں کو ان کے تحقیر آمیز کلمات کا کوئی جواب نہیں دیتیں۔ پھر بے پدر بیٹے کو خدا نے پیغمبری بخشی تو اور ابتلاء ہوا اور لوگوں کے خواہش کے مطابق خدا نے نہ کیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایسے تمام واقعات برے لوگوں کے لئے باعث نفرت ہوا کرتے ہیں اور نیک سرشت لوگوں کے حق میں رحمت ہوتے ہیں۔ اگر اس وقت ایسے واقعات رونما ہوں تو ایک بھی تسلیم نہ کرے گا اور کہیں گے کہ بے پدر کیسے پیغمبر ہوسکتا ہے اور قاتل بے گناہ کو کس طرح پیغمبری مل سکتی ہے اور موجودہ ظہور میں اگر چہ اس قسم کے واقعات رونما نہیں ہوئے۔ مگر پھر بھی دیکھئے مخالفوں نے کیا کیا مصائب ڈھائے ہیں۔ جب ہم یہ بیانات ختم کر چکے ہیں تو ہمیں خدا کی طرف سے تازہ بشارات حاصل ہوئی ہیں اور اس یار بے نشان سے بیشمار عنایات پہنچی ہیں۔ جن کو ہم بیان نہیں کرسکتے۔ اسرار و دقائق ہمارے سینہ میں ودیعت رکھ دیئے ہیں اور اس قدر عنایات ہوئی ہیں کہ روح القدس بھی کمال حسرت میں خاموش ہے۔ کبریئے کو مشک نافہ کی امید ہورہی ہے۔ جسمانی قبروں سے مردے اٹھ رہے ہیں۔ دوستو! دل میں روحانی چراغ جلاؤ اور عقل کی چمنی لگا کر محفوظ رکھو کہ کہیں باد مخالف سے گل نہ ہوجائے۔

ظہور عیسیٰ علیہ السلام کا مفہوم

عیسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اس وقت ابن انسان ابر میں ظاہر ہو کر کمال جلال میں نازل ہوگا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مظہر الٰہی سے پہلے شریعت سابقہ کے منسوخ ہونے کے وقت آسمان پر ایک ستارہ نظر آئے گا کہ جس سے اس کی تصدیق ہوگی اور زمین پر ایک تصدیقی اور بشارت آمیز آواز بلند ہوگی جو ظہور مظہر سے پہلے لوگوں کو سنائی دے گی۔ (جیسا کہ ظہور بہاء کے اوّل ستارہ نمودار ہوا اور وہ مبشر احمد و کاظم بھی تبلیغ کرتے رہے) اور یہ قاعدہ ہے کہ مظہر الٰہی کے اوّل آسمان پر ایک تصدیقی ستارہ نمودار ہوتا ہے اور زمین پر ایک بشارت دینے والی آواز آتی ہے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے نمرود کو خواب آیا تو نجومیوں نے بتایا کہ ایک ستارہ نمودار ہوا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ہستی ایسی زبردست ظاہر ہونے والی ہے کہ تیری تباہی اس کے ہاتھ سے ہوگی۔ اس کے علاوہ ایک مبشر بھی پیدا ہوا۔ جو لوگوں میں حضرت خلیل علیہ السلام کی خبر سنایا کرتا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا ستارہ بھی کاہنوں نے فرعون کو بتادیا تھا اور ایک عالم ایسا بھی پیدا ہوا تھا جو بنی اسرائیل کو ظہور موسیٰ علیہ السلام کی بشارت دیا کرتا تھا۔

صفحہ ١٦١

حضرت مسیح علیہ السلام ظاہر ہوئے تو یہودیوں نے ستارہ کی خبر دی اور حضرت یحییٰ مبشر بن کر پہلے آچکے تھے۔ حضور ﷺ کے وقت ایک نہیں کئی ہزار آثار سماوی ظاہر ہوئے تھے اور چار مبشروں نے پہلے ہی خبر دے دی تھی۔ جن کی ہدایت کی رو (سلمان فارسی) مشرف باسلام ہوئے تھے اور عام نجومیوں نے بھی بتا دیا تھا کہ حضور ﷺ کا ظہور قریب ہے۔

مسیح علیہ السلام کا ابر سے اترنا

مسیح علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اس وقت تمام روئیں گے تو ابن انسان کمال جلال میں ابر سے اترے گا۔ اس کا یہ معنی ہے کہ جب شمس الٰہی کا فقدان ہوگا اور قمر علم سیاہ ہو جائے گا اور انجم حکمت لدنی پوشیدہ ہو جائیں گے تو لوگ روئیں گے۔ اس وقت مشیت ایزدی کے آسمان سے شمس الٰہی کا ظہور ہوگا اور ابر سے ظاہر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کینونات قدیمہ ہمیشہ سے قالب بشری میں نمودار ہوتے ہیں اور ماں کے پیٹ سے نکلتے ہیں۔ مگر باطن میں سماوات امر سے نازل ہوتے ہیں اور گو بظاہر کھاتے پیتے چلتے پھرتے جسمانی قویٰ سے نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت میں عالم ارواح میں بے پر اڑتے ہیں۔ بے قدم چلتے ہیں ایک لمحہ میں مشرق ومغرب کی خبر حاصل کرتے ہیں اور آسمان کا لفظ شموس معانی کے متعلق مختلف مراتب کمال پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں۔ ”سماء مشیئۃ سماء ارادہ، سماء عرفان، سماء ایقان، سماء تبیان، سماء ظہور، سماء بطون“ وغیرہ اور ہر مقام پر سماء کا معنی وہ مراد ہوتا ہے جو ابرار کے سوا کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ قرآن شریف میں ہے کہ:”وفی السماء رزقکم (ذاریات)“ حالانکہ خوراک زمین پر ہے۔ یہ بھی وارد ہے کہ: ”السماء تنزل من السماء“ جب تک ظاہری علوم سے نکل کر حقیقی علوم کی روشنی میں ان معانی کے سمجھنے کی کوشش نہ کرو گے یہ تمام امور خلاف ظاہر نظر آئیں گے۔ علم دو قسم ہے۔ اوّل الہامی جو الہام سے حاصل ہوتا ہے اور اس کا معلم خود خدا ہے۔ ”اتقوا الله یعلمکم“ اور اس سے صبر وعرفان اور محبت پیدا ہوتی ہے۔ دوم شیطانی، جو وساوس نفسانی اور ظلمات نفس سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کا معلم شیطان ہے اور وساوس نفسانی ”العلم الحجاب الاکبر“ اور اس سے کبر وغرور ونخوت پیدا ہوتی ہے۔ ”ظله نار مهلك وثمره سم قاتل۔ تمسك باذيال الهوى فاخلع الحيا۔ وخل سبيل الناسكين وان جلا“ سینہ صاف کئے بغیر علم الٰہی حاصل نہیں ہوتا۔ ”السالك في النهج البيضاء والركن الحمراء لن يصل الى وطنه الا بالف الصفر عما في يد الناس“ خلاصہ یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کا ابر سے اترنا یہ ہے کہ مسیح کے خلاف توقع خواہشات اہل زیغ نازل ہوگا۔ مثلاً تغیر احکام،

صفحہ ١٦٢

تبدیل شرائع، ارتفاع قواعد ورسوم عادیہ وتقدم مؤمنین بر معرضین از علماء و جہلاء، یا ابر سے مراد مسیح کا عوارض بشریہ سے ملتبس ہونا ہے۔ جیسے کھانا، پینا، نوم ویقظہ وغیرہ اور یہ وہی ابر ہے کہ جس سے علم وعرفان کا آسمان پھٹ جائے گا۔ ”يوم تشقق السماء بالغمام (فرقان)“ اسی ابر سے شمس حقیقی نظر نہیں آتا۔ ”وقالوا ما لهذا الرسول ياكل الطعام (فرقان)“ یہ لوازم جسمانی اور بھوک، پیاس، یا غم والم ایک رکاوٹ پیدا کر دیتے ہیں کہ ایسا آدمی کس طرح اپنے آپ کو تمام دنیا کی ہستی کا سبب ثابت کر سکتا ہے۔ ”لولاك لما خلقت الافلاك“ اور یہی سیاہ ابر ہے کہ شمس حقیقت کو دیکھنے نہیں دیتا۔ سالہا سال گزر جاتے ہیں۔ آباؤ اجداد کی تقلید میں زندگی بسر ہوتی ہے۔ احکام و شرائع جاری ہیں اور ان کا خلاف کفر سمجھا جاتا ہے۔ مگر دور جدید آتا ہے اور شمس حقیقت دوسری دفعہ چمک کر احکام جدیدہ لاتا ہے تو احکام سابقہ کے سیاہ ابر میں لوگ پھنسے ہوئے فوراً مظہر الٰہی کو کافر اور واجب القتل سمجھتے ہیں۔ جس کا ثبوت ہر ایک نبی کی سوانح حیات سے مل سکتا ہے اور اس وقت بھی موجود ہے۔ ”هل ينظرون الا ان ياتيهم الله في ظلل من الغمام (بقرہ)“ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہمی قیامت کے ایک روز خدا ابر سے ظاہر ہوگا۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ظہور جدید کے وقت لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ گذشتہ شریعت لے کر ہی یہ ظہور بھی آئے گا۔ کیونکہ خدا کا آنا مظہر کا آنا ہے اور ابر سے مراد شریعت قدیمہ ہے۔ اور یہ مضمون بارہا کتب سماویہ میں دھرایا گیا ہے۔ ”يوم تاتي السماء بدخان مبین (دخان)“ میں بھی یہی مضمون ہے کہ مخالفین کے لئے شریعت جدیدہ عذاب الیم اور دخان عظیم کا نمونہ بن جاتا ہے اور جس قدر ظہور جدید کو رفعت حاصل ہوتی ہے یہ لوگ اسی قدر اضطراب میں پڑ جاتے ہیں۔ عہد حاضر میں بھی جب مخالف سامنے آتا ہے تو سوائے اقرار وتصدیق کے کچھ نہیں کر سکتا۔ مگر جب خلوت میں جا کر اپنے ہم مشربوں سے ملتا ہے تو وہی سب وشتم شروع کر دیتا ہے۔ ”اذا لقواكم قالوا امنا فاذا خلوا عضوا عليكم الانامل (آل عمران)“ امید ہے کہ بہت جلد ہماری تعلیم تمام روئے زمین پر پھیل جائے گی۔ ان آیات کو چونکہ لوگوں نے وہمی قیامت پر چسپاں کر دیا ہوا ہے۔ اس لئے اصل مقصد سے بے بہرہ رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ مسیح ابر سے فرشتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہمراہی قوت روحانیہ کی وجہ سے فرشتہ صفت ہوں گے۔ کیونکہ حضرت صادق کا قول ہے کہ: ”قوم من شيعتنا خلف عرش“ پھر فرمایا کہ: ”المؤمن كبريت أحمر“ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل مؤمن بہت کم ہیں۔ اس وقت بے ایمانوں نے اہل ایمان پر ظالمانہ طور پر کفر کے فتوے

صفحہ ١٦٣

لگا دیئے ہیں۔ عیسائیوں کو چونکہ اس پیشین گوئی کی اصلیت کا پتہ نہیں چلا۔ اس لئے جب بھی ظہور جدید ہوا اس سے انکار ہی کرتے رہے ہیں۔ اتنا نہیں سوچا کہ اگر مظہر جدید کے تمام نشان ویسے ہی ظاہر ہوں جس طرح کہ لوگوں نے اپنے وہم میں بٹھا رکھے ہیں۔ تو ابتلاء الہی کیسے قائم رہ سکتا ہے اور شقی وسعید میں امتیاز کیسے ہوگا؟ کیونکہ انجیل کی پیشین گوئی کے مطابق اگر ظہور جدید کی آمد تسلیم کی جائے تو کسی کو انکار کا موقعہ ہی نہیں رہتا۔ بلکہ ابر سے فرشتوں کے ساتھ اترنے والے مسیح پر ایمان بالمشاہدہ پر مجبور ہو جائیں گے۔ مگر چونکہ اصل مقصد کچھ اور تھا۔ عیسائیوں نے ظاہری الفاظ پر زور دے کر حضور علیہ السلام کے ظہور پر بھی وہی اعتراض جڑ دیا کہ فرشتہ کہاں ہے۔ جو آپ کی صداقت ظاہر کرتا ہو۔ ”لولا انزل عليه ملك فيكون معه نذيراً (فرقان) “ اور یہ بیماری ہر ظہور کے وقت پھیلتی رہی ہے اور اگر علمائے عصر سے پوچھتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ ابھی فلاں علامت نہیں پائی گئی اور اپنے اجتہاد سے ظہور جدید کا انکار کر دیتے ہیں۔ روایت ہے کہ: ”حديثنا صعب مستعصب لا يحتمله الا ملك مقرب او نبی مرسل او عبدا متحن الله قلبه الایمان “ اس کے ہوتے ہوئے بھی ان کو خیال پیدا نہیں ہوتا کہ علامات کا تصفیہ خود ظہور جدید سے کرا لینا ضروری ہے۔ درحقیقت یہ غافل ہیں۔ کیونکہ تمام نشان موجود ہو چکے ہیں۔ پل صراط رکھا جا چکا ہے۔ ”والمؤمنون كالبرق عليه يمرون وهم لظهور العلامة ينتظرون“ جب ان سے سوال ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے ظہور کے وقت بھی تو تمام ظاہری علامات پیدا نہیں ہوئی تھیں تو جواب دیتے ہیں کہ اہل کتاب نے ان کو بدل ڈالا تھا۔ ورنہ سب کا ظہور یقینی تھا۔

تحریف

حالانکہ قرآن خود شاہد ہے کہ یہ کتب سابقہ من عند اللہ ہیں۔ تحریف صرف ایک واقع میں ہوئی ہے کہ رجم کے متعلق ابن صوریا سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ بے شک تو رات میں رجم کا حکم موجود ہے۔ مگر جب بخت نصر کے زمانہ میں یہودی کم ہو گئے تھے تو علمائے عصر نے رجم کا حکم منسوخ کر دیا تھا۔ ”يحرفون الكلم عن مواضعه (نساء) “ لوگ بے سمجھی کی وجہ سے کہہ دیتے ہیں کہ یہود نے حضور علیہ السلام کے علامات ظہور بھی بدل ڈالے تھے۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ کیونکہ تو رات صرف مکہ مدینہ میں نہ تھی۔ بلکہ تمام عرب میں موجود تھی۔ اگر کسی نے تبدیلی کی ہوتی تو دوسرا صحیح نسخہ اس کی تکذیب کر سکتا تھا۔ ہاں تحریف سے مراد صرف یہ ہے کہ اپنے خیالات کے مطابق تو رات کی تفسیر کی جاتی تھی۔ جیسا کہ آج قرآن شریف کی تفسیر اپنے خیالات کے

صفحہ ١٦٤

مطابق خود مسلمان کر رہے ہیں۔ اس لئے ان کو بھی حضور علیہ السلام کے ظہور میں تامل پیدا ہو گیا تھا۔” يسمعون كلام الله ثم يحرفونه من بعد ما عقلوه (بقره) “ ورنہ وہ محکمات تورات کے مرتکب نہیں ہوئے تھے۔”يكتبون الكتاب بايديهم ثم يقولون هذا من عند الله (بقره) “عہد حاضر میں علمائے عصر اپنے خیال کے مطابق تفسیر کر کے کہہ دیتے ہیں کہ ظہور بہاء قرآن کے خلاف ہے۔ کچھ احمق یوں کہہ دیتے ہیں کہ اصل انجیل آسمان پر اٹھا لی گئی ہے اور عیسائیوں کے پاس نہیں رہی۔ مگر یہ غلط ہے۔ کیونکہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام فلک چہارم پر ارتقاء فرما کر قوم سے غائب ہو گئے تو جب انجیل بھی ساتھ ہی لے گئے تھے تو لوگوں کے لئے کون سا دستور العمل چھوڑ گئے تھے۔ جس پر عمل پیرا ہو کر نجات پاسکتے تھے؟ کیا چھ سو سال لوگ گمراہی میں ہی پڑے رہے اور خدا تعالیٰ نے اپنا فیض بند کر دیا تھا اور بخل سے کام لے کر نجات کی راہ بند کر دی تھی۔”فنعوذ بالله عما يظن العباد في حقه فتعالى عما هم يعرفون“ دوستو! صبح ازل نمودار ہو گئی ہے۔ کمر ہمت باندھ لو، تاکہ انا للہ کے مقام میں داخل ہو کر الیہ راجعون تک رسائی پاسکو۔ کیونکہ حق تعالیٰ کا وجود محتاج دلیل نہیں۔ کیونکہ انسان جب روح و ریحان کی ہوا میں پرواز کرتا ہے تو خدا کے سوا اسے کچھ نظر نہیں آتا۔ اگر دلیل پر توجہ ہو تو یہی آیت کافی ہے کہ: ”اولم يكفهم انا انزلنا عليك الكتاب (عنکبوت) “امید ہے کہ آپ لوگ اصل مقصد پر اطلاع پا کر کتاب کی بعض عبارتوں پر اس قسم کے اعتراضات پیدا نہ کریں گے۔ جو کور فرق (خردماغ) پیدا کیا کرتے ہیں۔ کیونکہ خدا قادر ہے کہ قبض روح کرے یا اپنی عنایت سے تمام کو حیات بدیعہ بخشے تم اسی کے منتظر رہو۔ کیونکہ اصل مقصد اس کا لقاء ہے۔”ليس البر ان تولوا وجوهكم (بقره) اسمعوا يااهل البيان ما وصيناكم بالحق لعل تسكنن في ظل كان في ايام الله ممدودا“

شمس حقیقت

”الباب المذكور في بيان ان شمس الحقيقه ومظهر نفس الله ليكونن سلطانا على من فى السموات والارض وان لن يطيعه احد من اهل الارض وغنيا عن كل من فى الملك وان لم يكن عنده دينار۔ كذلك نظهرلك من اسرار الامر ونلقى عليك من جواهر الحكمة لتطيرن بجناحي الا نقطاع في الهواء الذي كان عن الابصار مستورا“ ہر زمانہ میں مظہر الٰہی موجود ہوتا ہے۔ جس کو شمس حقیقت کہتے ہیں اور ایک زبردست سلطنت کے ساتھ ظاہر ہو کر ”يفعل الله ما يشاء

صفحہ ١٦٥

ويحكم ما يريد (انعام)“ کا محل بروز بنتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ذات باری بروز، ظہور، صعود، نزول، دخول، خروج اور ادراک بالبصر وغیرہ سے پاک ہے۔ ”لا تدركه الابصار (انعام)“ کیونکہ ممکنات سے اس کو نسبت، ربط، فصل وصل اور قرب و بعد یا جہت واشارہ کا تعلق نہیں ہے اور جملہ کائنات کلمہ امر سے موجود ہوئی ہے اور اس کے ارادہ اور مشیت سے معرض وجود میں آئی ہے۔ بلکہ ممکنات اور کلمہ الہیہ کے درمیان بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ”يحذركم الله نفسه (آل عمران) كان الله ولم يكن معه شئ “ تمام انبیاء واصفیاء واولیاء معترف ہیں کہ اس کی کنہ ذات کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ اس لئے تقاضائے رحمت الہیہ یوں ہوا کہ جواہر قدس نورانی کو عالم روح و ریحان سے انسانی ہیکل میں ظاہر فرمائے تاکہ وہ ذات باری کی ترجمانی کریں۔ اس لئے ان مرایائے قدسیہ کا علم قدرت، سلطنت، جمال اور ظہور اسی کا علم و قدرت اور اسی کا جمال اور سلطنت اور اسی کا ظہور ہوتا ہے اور علوم ربانی کا مخازن اور فیض نامتناہی کے مظاہر ہوتے ہیں اور شمس لایزالی کے مطلع بھی یہی ہیں۔ ”لا فرق بينك وبينهم الا بانهم عبادك وخلقك “ اور یہی وہ مقام ہے کہ: ”انا هو وهو انا “ کائنات کا ہر ذرہ محل بروز صفات الہیہ ہے اور اس میں نامتناہی کمالات مرکوز ہیں۔ مگر انسان خصوصیت کے ساتھ تمام صفات الہیہ کا مکمل مظہر ہے۔ ”الانسان سرى وانا سره سنريهم آياتنا في الافاق وفى انفسهم (سجده) وفى انفسكم افلا تبصرون (ذاريات) كالذين نسوا الله فانساهم انفسهم (حشر) (قال علىّ) ايكون لغيرك من الظهور ماليس لك حتى يكون هو المظهر لك . عميت عين لا تراك، ما رأيت شيئا الاوقد رايت الله فيه او قبله اوبعده . نور اشرق من صبح الازل فيلوح على هياكل التوحيد اثاره “ اور جو انسان کامل ہوتے ہیں وہ شمس حقیقت کا مظہر بنتے ہیں اور باقی کائنات ان کے ارادہ سے موجود ہے اور انہی کے فیض سے متحرک ہے۔ ”لولاك لما خلقت الافلاك “ یہ ہیکل قدسیہ مرایائے اولیہ ازلیہ ہوتے ہیں۔ ان ہی سے اسمائے وصفات کا ظہور ہوتا ہے۔ گو اس کمال میں تمام مظاہر مساوی ہیں۔ مگر بعض میں چند صفات کا ظہور نہیں ہوتا۔ اس لئے ان میں کچھ فرق پیدا ہو گیا ہے۔ ”فضلنا بعضهم على بعض (بقره)“ اور چونکہ تمام مظہر اسمائے وصفات الہیہ ہیں۔ اس لئے تمام کے تمام میں سلطنت وعظمت کا پایا جانا ضروری ہے۔ گو اس کا ظہور ان کے عین حیات میں ہو یا بعد میں، مخالف چونکہ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اس لئے ان کے بارے میں نازل ہوا ہے کہ: ”ان يروا سبيل الغى يتخذوه سبيلا (اعراف)“

صفحہ ١٦٦

قیام سلطنت

غفلت کی وجہ سے ان کو راہ راست نہیں ملا۔ ہم سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ: ”القائم بامر اللہ“ کی سلطنت حسب روایات ظاہری طور پر معلوم ہوتی ہے۔ عہد بہاء میں اس کے برخلاف ظلم وستم تجبر واستبداد اور قتل وغارت کے آثار نمودار ہو رہے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر انبیاء ہو گزرے ہیں۔ ہر ایک نے دوسرے کی سلطنت کی خبر دی ہے۔ اسی طرح حضور علیہ السلام نے بھی قائم بامر اللہ کے متعلق سلطنت کی خبر دی ہے۔ اس لئے جس طرح انبیاء میں سلطنت کا ظہور ہوا ہے۔ اسی طرح قائم بامر اللہ میں بھی ظہور تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ وہ سلطنت اور دیگر صفات الہیہ کے مظہر اتم ہوتے ہیں۔ علاوہ بریں سلطنت سے مراد غلبہ اور تمام ممکنات پر قبضہ یا احاطہ ہے۔ خواہ یہ معنی سلطنت ظاہری سے پیدا ہو یا باطن سے اور نبی کے عہد حیات میں یا بعد از حیات۔ یہ سب خدا کی مرضی پر منحصر ہے۔ جب چاہے اس کا ظہور کرے۔ بلکہ سلطنت سے مراد احاطہ باطنی ہے اور آہستہ آہستہ احاطہ ظاہری بھی نمودار ہوتا چلا جاتا ہے۔ حضور علیہ السلام کو دیکھئے کہ کفار اور علماء عصر نے کس قدر آپ پر ظلم ڈھائے اور کس قدر آپ کو ایذاء رسانی سے اپنی تحصیل ثواب میں کوشاں رہے اور کس قدر عبداللہ بن ابی، ابو عامر راہب، کعب بن اشرف اور نضر بن حارث وغیرہ علمائے عصر نے آپ کی تکذیب کی۔ اب بھی علمائے عصر اگر کسی کو کافر کہہ دیتے ہیں تو کس قدر اس کی شامت آجاتی ہے۔ جیسا کہ اس مظلوم پر وارد ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ: ”ما اوذی نبی بمثل ما اوذیت“ اور قرآن شریف میں بھی آپ کے یہ جانفرسا واقعات مذکور ہیں کہ جو شخص آپ کی حمایت کرتا تھا اس کی بھی شامت آجاتی تھی۔ ایک دفعہ حضور کمال پریشانی میں تھے۔ تو یہ حکم ہوا کہ : ”وان كان كبر عليك اعراضهم (انعام)“ لیکن آج یہ حال ہے کہ سلاطین عالم آپ کی غلامی کو طرہ امتیاز بنائے ہوئے ہیں اور آپ کا نام کمال تعظیم وتکریم سے لیا جارہا ہے۔ یہی سلطنت ظاہرہ کا مقام ہے جو ہر نبی کو نصیب ہوتا ہے۔ خواہ عین حیات میں یا بعد از عروج بموطن حقیقی اور سلطنت الہی ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی ہے۔ ایک دم جدا نہیں ہو سکتی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک ہی آیت سے آپ نے نور وظلمت میں فرق کر دیا اور حشر ونشر حساب و کتاب تمام امور بھی اسی سے ظاہر ہو گئے اور یہی آیت ابرار کے لئے رحمت بن گئی۔ ”ربنا سمعنا واطعنا“ اشرار کے لئے مصیبت ثابت ہوئی۔ ”سمعنا وعصینا“ اور یہی سیف اللہ ثابت ہوئی۔ جس سے مؤمن و کافر جدا ہو گئے ۔ عاشقوں نے معشوق چھوڑ دیئے اور باپ بیٹے کے درمیان تفرقہ ڈال دیا۔ مگر دوسری طرف سالہا سال کی عداوت کا خاتمہ بھی کر دیا اور

صفحہ ١٦٧

قیام سلطنت

غفلت کی وجہ سے ان کو راہ راست نہیں ملا۔ ہم سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ : ”القائم بامر اللہ“ کی سلطنت حسب روایات ظاہری طور پر معلوم ہوتی ہے۔ عہد بہاء میں اس کے برخلاف ظلم وستم تجبر واستبداد اور قتل وغارت کے آثار نمودار ہورہے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس قدر انبیاء ہو گزرے ہیں۔ ہر ایک نے دوسرے کی سلطنت کی خبر دی ہے۔ اسی طرح حضور علیہ السلام نے بھی قائم بامر اللہ کے متعلق سلطنت کی خبر دی ہے۔ اس لئے جس طرح انبیاء میں سلطنت کا ظہور ہوا ہے۔ اسی طرح قائم بامر اللہ میں بھی ظہور تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ وہ سلطنت اور دیگر صفات الہیہ کے مظہر اتم ہوتے ہیں۔ علاوہ بریں سلطنت سے مراد غلبہ اور تمام ممکنات پر قبضہ یا احاطہ ہے۔ خواہ یہ معنی سلطنت ظاہری سے پیدا ہو یا باطن سے اور نبی کے عہد حیات میں یا بعد از حیات۔ یہ سب خدا کی مرضی پر منحصر ہے۔ جب چاہے اس کا ظہور کرے۔ بلکہ سلطنت سے مراد احاطہ باطنی ہے اور آہستہ آہستہ احاطہ ظاہری بھی نمودار ہوتا چلا جاتا ہے۔ حضور علیہ السلام کو دیکھئے کہ کفار اور علماء عصر نے کس قدر آپ پر ظلم ڈھائے اور کس قدر آپ کو ایذاء رسانی سے اپنی تحصیل ثواب میں کوشاں رہے اور کس قدر عبد اللہ بن ابی، ابو عامر راہب، کعب بن اشرف اور نضر بن حارث وغیرہ علمائے عصر نے آپ کی تکذیب کی۔ اب بھی علمائے عصر اگر کسی کو کافر کہہ دیتے ہیں تو کس قدر اس کی شامت آجاتی ہے۔ جیسا کہ اس مظلوم پر وارد ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ : ”ما اوذی نبی بمثل ما اوذيت“ اور قرآن شریف میں بھی آپ کے یہ جانفرسا واقعات مذکور ہیں کہ جو شخص آپ کی حمایت کرتا تھا اس کی بھی شامت آجاتی تھی۔ ایک دفعہ حضور کمال پریشانی میں تھے۔ تو یہ حکم ہوا کہ : ”وان كان كبر عليك اعراضهم (انعام)“ لیکن آج یہ حال ہے کہ سلاطین عالم آپ کی غلامی کو طرۂ امتیاز بنائے ہوئے ہیں اور آپ کا نام کمال تعظیم وتکریم سے لیا جارہا ہے۔ یہی سلطنت ظاہرہ کا مقام ہے جو ہر نبی کو نصیب ہوتا ہے۔ خواہ عین حیات میں یا بعد از عروج بموطن حقیقی اور سلطنت الہی ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی ہے۔ ایک دم جدا نہیں ہو سکتی۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک ہی آیت سے آپ نے نور وظلمت میں فرق کر دیا اور حشر ونشر حساب وکتاب تمام امور بھی اسی سے ظاہر ہو گئے اور یہی آیت ابرار کے لئے رحمت بن گئی۔ ”ربنا سمعنا واطعنا“ اشرار کے لئے مصیبت ثابت ہوئی۔ ”سمعنا وعصينا“ اور یہی سیف اللہ ثابت ہوئی۔ جس سے مومن وکافر جدا ہو گئے۔ عاشقوں نے معشوق چھوڑ دیئے اور باپ بیٹے کے درمیان تفرقہ ڈال دیا۔ مگر دوسری طرف سالہا سال کی عداوت کا خاتمہ بھی کر دیا اور

مدت کے دشمن آپس میں ایسے ہو گئے کہ گویا صلبی بھائی ہیں اور مختلف المذاہب یا مختلف المزاج جب اس توحید جدید میں داخل ہوئے تو متحد الخیال بن گئے اور بھیڑیئے بکری کا نظارہ پیش ہو گیا کہ ایک گھاٹ سے پانی پی رہے ہیں، مگر جاہل ابھی تک منتظر ہیں کہ یہ نظارہ کب ہوگا۔ ”لهم قلوب لا يفقهون بها ولهم اعين لا يبصرون بها (اعراف)“ اور یہ بھی دیکھ لیجئے کہ ایک ہی آیت کے نازل ہونے سے کس طرح تمام مخلوقات کا حساب ہو گیا ہے کہ سیئات معاف ہو کر حسنات کو سبقت کر رہی ہیں۔ ”فصدق انه سريع الحساب ، كذلك يبدل الله السيئات بالحسنات لو تتفرسون“ ہر مومن نے حیوۃ ابدیہ حاصل کر لی ہے اور منکر موت ابدی میں مبتلا ہو گئے ہیں اور اس مقام پر موت وحیات سے مراد ایمانی موت وحیات ہے۔ حضور علیہ السلام نے بھی اپنے اہل عصر پر موت وحیات حشر ونشر کا حکم لگایا تو غل کرنے لگے۔ اسی طرح ہمارے زمانہ میں معرض وجود میں آیا ہے۔ ”ولئن قلت انكم مبعوثون من بعد الموت (هود)“ اگر ان سے کہا جائے کہ تم موت کے بعد اٹھے ہو تو کہتے ہیں کہ یہ دھوکا ہے۔ ”فعجب قولهم، ءاذا كنا تراباً ائنا لفى خلق جديد (رعد)“ یہ ان کی بات بہت عجیب ہے کہ ہم تو مٹی تھے کیا ہم مبعوث ہو چکے ہیں۔ ”بل هم فى لبس من خلق جديد“ مشرک اس نئی ہستی کے متعلق شک کر رہے ہیں۔ نادانوں نے غلط تفسیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ : ”اذا“ حرف شرط یہاں موجود ہے۔ اس لئے ان آیات کا تعلق آئندہ عالم آخرت سے ہوگا۔ مگر جب وہ آیات پیش کی جاتی ہیں کہ جن میں اذا موجود نہیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔ جیسے ”نفخ فى الصور (ق)“ بگل بج گیا اور یہی یوم وعید ہے۔ پھر یا تو اذا اپنی طرف سے لگا دیتے ہیں۔ یا یوں عذر کرتے ہیں کہ قیامت چونکہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ اس لئے اس کو فعل ماضی کی شکل میں بیان کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس جگہ نفخہ محمدی مراد ہے اور قیامت سے مراد آپ کا قیام ہے اور آپ نے مردہ دلوں کو نور ایمان سے زندہ کیا تھا۔ کیونکہ یہ صاف مذکور ہے کہ : ”فسينغضون اليك رؤوسهم ويقولون متى هو؟ (اسرئے)“ مخالف کہیں گے کہ یہ کب ہوگا تو آپ کہہ دیں کہ شائد وہ بالکل قریب ہے۔ مگر لوگوں نے نہ سمجھا اور علمائے عصر کے خیالی بتوں کی پرستش کرتے رہے۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام پہلے فرما چکے تھے کہ: ”لا بد لكم بان تولدوا مرة اخرى“ تم کو ایک دفعہ اور پیدا ہونا پڑے گا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ : ”من لم يولد من الماء والروح لا يقدر ان يدخل ملكوت الله ، المولود من الجسد جسد هو ، والمولود من الروح روح هو“ جو شخص آب معرفت اور روح عیسوی سے پیدا نہیں ہوتا۔ وہ خدا کی حکومت میں داخل نہیں

صفحہ ١٦٩

ہوگا۔ کیونکہ جو جسم ظاہری سے پیدا ہوگا۔ وہ جسم ہی ہوگا اور جو نفس عیسوی سے پیدا ہوگا وہ خاص روح ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص مظاہر قدس کے نفخہ اور روح سے تولد پا کر زندہ ہوتا ہے تو اس کا حشر جنت محبت الہی میں ہوتا ہے اور جو لوگ اپنے زمانہ کے روح القدس سے فیض یاب نہیں ہوتے۔ ان پر موت، نار، عدم بصر وغیرہ کا حکم لگ جاتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک عقیدت مند کا باپ مر گیا۔ تو اس نے کفن دفن کے لئے اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا کہ: ”دع الموتی یدفنوہ الموتی“ جانے دو مردے خود مردوں کو دفن کر لیں گے۔ حضرت علی علیہ السلام کے پاس ایک آدمی بیعنامہ تیار کرانے کو آیا تو آپ نے منشی سے فرمایا کہ لکھو: ”قد اشتری میت عن میت بیتا محدودا بحدود اربعة . حد الى القبر وحد الى اللحد وحد الى الصراط وحد اما الى الجنة واما الى النار “ اگر اس کاغذ کے دونوں فریق (بائع ومشتری) بعثت علوی کو تسلیم کئے ہوتے تو ہرگز آپ ان کو میت اور مردہ نہ کہتے۔ کیونکہ کبھی بھی انبیاء اولیاء کے نزدیک حشر، بعثت اور حیات سے بجائے حقیقی معنی کے رواجی معنی نہیں لئے گئے اور حیات حقیقی سے مراد حیات قلب (زندہ دلی) ہے۔ جو صرف ایمانداروں کو ملتی ہے۔ جس کے بعد موت نہیں آتی۔ ”المؤمن حى فی الدارین“ اب ہم اپنے مدعا پر ایک روشن دلیل پیش کرتے ہیں کہ امیر حمزہؓ جب مسلمان ہوئے تھے اور ابو جہل ایمان سے باز رکھا گیا تھا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ: ”افمن کان میتا فاحییناہ ....... کمن مثله فی الظلمات لیس بخارج منہا (انعام)“ جناب حمزہؓ مردہ دل تھے۔ ہم نے ان کو زندہ دل کر دیا ہے۔ اب کیا ابو جہل ان کے برابر ہو سکتا ہے جو ابھی تک ظلمت کفر میں پڑا ہوا ہے اور نکلنے کو تیار نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ حمزہؓ کب مردہ دل تھے کہ اب زندہ ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ معارف سے آشنا نہ تھے۔ آج بھی چھوٹے بڑے جعل ہائے ظلمانی اور مظاہر شیطانی کی پیروی کرتے ہیں اور انہی سے مشکل مسائل پوچھتے ہیں۔ جن کا جواب وہ اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے تقدس میں فرق نہ آئے۔ حالانکہ جعل سرشتوں کو خوشبوئے معرفت نصیب نہیں ہوئی تو دوسروں کو کیا خوشبو پہنچا سکتے ہیں۔ ”لن یفوز باسرار الله الا الذین هم اقبلوا الیه واعرضوا عن مظاہر الشیطان . کذلک اثبت الله حکم الیوم من قلم العزة علی لوح کان علی سرادق العز مکنونا“ ان تمام بیانات سے ہمارا مطلب یہ تھا کہ سلطان السلاطین کی سلطنت حقیقی ثابت کریں۔ سو ناظرین خود انصاف کریں کہ کیا چند دن کی ظاہری سلطنت جو اعانت اور امن رعایا کی محتاج ہے بہتر ہے یا وہ سلطنت افضل ہے جو صرف ایک

کلمہ سے غالب اور قاہر رہتی ہے اور ہمیشہ کے لئے اس کے حکم رائج رہتے ہیں۔ ”ما للتراب ورب الارباب؟“ ہاں سلطنت کے اور بھی بہت معانی ہیں کہ جن کے بیان کرنے پر نہ میں طاقت رکھتا ہوں اور نہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ”فسبحان الله عما یصف العباد فی سلطنته وتعالى عما هم یذکرون“ اگر سلطنت کا ظاہری معنی لے کر یہ سمجھا جائے کہ اس سے دوست آرام پاتے ہیں اور دشمن ذلیل ہوتے ہیں تو ذات باری میں یہ معنی نہیں پایا جا سکتا۔ کیونکہ اس کے دوست ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں اور دشمن آرام میں رہتے ہیں۔ جناب حسین بن علی علیہ السلام ارض طف میں جام شہادت پیتے ہیں اور ”لولا لم یکن فی الملک مثله“ کا طرہ امتیاز حاصل کئے ہوئے ہیں۔ مگر ”ان جندنا هم الغالبون (صافات)“ کا مصداق نہیں بن سکتے۔ اس لئے یہاں غلبہ ظاہری مراد نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کفار نے انبیاء کو نیچا دکھا کر قتل تک پہنچا دیا۔ مگر حکم یہ ہوتا ہے کہ: ”والله متم نورہ ولو کرہ الکافرون“ جس سے مراد یہ ہے کہ غلبہ حقیقی سے نور کی تکمیل ہوگی۔ چنانچہ جناب حسین علیہ السلام کا خون جس مقام پر گرا ہے اس کا ایک ذرہ بیماریوں کی شفا ثابت ہو چکا ہے اور گھر میں رکھنا موجب خیر و برکت اور کثرت مال و حفاظت مال و جان ہوتا ہے اور اس میں اس قدر فوائد ہیں کہ اگر بیان کروں تو لوگ کہیں گے کہ تم تو مٹی کو خدا سمجھنے لگ گئے ہو۔ اسی طرح جناب کو کمال کس مپرسی میں بلا غسل و کفن دفن کیا گیا۔ مگر آج یہ عزت ہے کہ چاروں طرف سے لوگ زیارت کے لئے آپ کی آستان پر جبہ سائی کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے ”فنا کلی“ کے مقام پر خدا کی راہ میں مال و جان قربان کر دیا تھا۔ اس لئے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ہمیں بھی امید ہے کہ ہماری جماعت میں سے بھی اس مقام پر بہت سے لوگ پہنچیں گے۔ مگر ابھی تک سوائے معدودے چند کے ہم کسی کو کامیاب نہیں دیکھتے۔ ”کذالک نذکر لکم من بدائع امر الله ونلقی علیکم من نغمات الفردوس ، لعلکم بمواقع العلم تصلون . ومن ثمرات العلم ترزقون “ یہ لوگ اگرچہ مفلس ہوں۔ پھر اپنے آپ کو غنی سمجھتے ہیں۔ ذلیل ہوں تو دماغ عرش پر ہوتا ہے۔ عاجز ہوں تو سلطان وقت بنتے ہیں اور غیر کے قبضہ میں گرفتار ہوں تو اپنے آپ کو غالب اور فتح مند جانتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے ایک دن کرسی پر بیٹھ کر یوں فرمایا تھا کہ بظاہر میری غذا گھاس ہے۔ جس سے میں اپنی بھوک بند کر لیتا ہوں اور بسترہ سطح زمین ہے۔ چراغ چاند کی روشنی اور سواری میرے دونوں پاؤں ہیں۔ مگر اس ناداری پر ہزار مالداری نثار ہیں۔ اور اس ذلت پر لاکھوں عزت قربان ہیں۔ جناب صادق علیہ السلام کے پاس ایک عقیدت مند نے ناداری کی شکایت کی تو آپ نے

صفحہ ١٦٩

ما سے پیدا ہوگا۔ وہ جسم ہی ہوگا اور جو نفس عیسوی سے پیدا ہوگا وہ خاص کہ جو شخص مظاہر قدس کے نفخہ اور روح سے تولد پا کر زندہ ہوتا ہے تو اس کا ہوتا ہے اور جو لوگ اپنے زمانہ کے روح القدس سے فیض یاب نہیں ر، عدم بصر وغیرہ کا حکم لگ جاتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے ایک با۔ تو اس نے کفن دفن کے لئے اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا کہ: ”دع الموتی“ جانے دو مردے خود مردوں کو دفن کر لیں گے۔ حضرت علی علیہ میں میت نامہ تیار کرایا جائے تو آیا تو آپ نے منشی سے فرمایا کہ لکھو: ”قد ميت بيتا محدودا بحدود اربعة ، حد الى القبر وحد الى الصراط وحد اما الى الجنة واما الى النار“ اگر اس کاغذ کے کی) بعثت علوی کو تسلیم کئے ہوتے تو ہر گز آپ ان کو میت اور مردہ نہ کہتے۔ ام کے نزدیک حشر ، بعث اور حیات سے بجائے حقیقی معنی کے رواجی معنی حقیقی سے مراد حیات قلب ( زندہ دلی ) ہے۔ جو صرف ایمانداروں کو ملتی ہمیں آتی ۔ ”المؤمن حى في الدارين“ اب ہم اپنے مدعا پر ایک ہیں کہ امیر حمزہ جب مسلمان ہوئے تھے اور ابو جہل ایمان سے باز رکھا گیا نازل ہوئی تھی کہ : ”افمن كان ميتا فاحييناه ..... كمن مثله في خارج منها (انعام)“ جناب حمزہ مردہ دل تھے۔ ہم نے ان کو زندہ دل مل ان کے برابر ہو سکتا ہے جو ابھی تک ظلمت کفر میں پڑا ہوا ہے اور نکلنے کو کہا کہ حمزہ کب مردہ دل تھے کہ اب زندہ ہو گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نہ تھے۔ آج بھی چھوٹے بڑے جعل ہائے ظلمانی اور مظاہر شیطانی کی ما سے مشکل مسائل پوچھتے ہیں۔ جن کا جواب وہ اس طرح دیتے ہیں کہ نہ آئے۔ حالانکہ جعل سرشتوں کو خوشبوئے معرفت نصیب نہیں ہوئی تو کتے ہیں۔ ”لن يفوز بانوار الله الا الذين هم اقبلوا اليه ظاهر الشيطان ، كذلك اثبت الله حكم اليوم من قلم العزة فی سرادق العز مكنونا “ ان تمام بیانات سے ہمارا مطلب یہ تھا کہ عثت حقیقی ثابت کریں۔ سو ناظرین خود انصاف کریں کہ کیا چند دن کی اور امن رعایا کی محتاج ہے بہتر ہے یا وہ سلطنت افضل ہے جو صرف ایک

کلمہ سے غالب اور قاہر رہتی ہے اور ہمیشہ کے لئے اس کے حکم رائج رہتے ہیں۔ ”ما للتراب ورب الارباب؟“ ہاں سلطنت کے اور بھی بہت معانی ہیں کہ جن کے بیان کرنے پر نہ میں طاقت رکھتا ہوں اور نہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ”فسبحان الله عما يصف العباد في سلطنتہ وتعالى عما هم يذكرون“ اگر سلطنت کا ظاہری معنی لے کر یہ سمجھا جائے کہ اس سے دوست آرام پاتے ہیں اور دشمن ذلیل ہوتے ہیں تو ذات باری میں یہ معنی نہیں پایا جا سکتا۔ کیونکہ اس کے دوست ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں اور دشمن آرام میں رہتے ہیں۔ جناب حسین بن علی علیہ السلام ارض طف میں جام شہادت پیتے ہیں اور ”لولا لم يكن في الملك مثله“ کا طرہ امتیاز حاصل کئے ہوئے ہیں۔ مگر ”ان جندنا هم الغالبون (صافات)“ کا مصداق نہیں بن سکتے۔ اس لئے یہاں غلبہ ظاہری مراد نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کفار نے انبیاء کو نیچا دکھا کر قتل تک پہنچا دیا۔ مگر حکم یہ ہوتا ہے کہ: ”والله متم نوره ولو كره الكافرون“ جس سے مراد یہ ہے کہ غلبہ حقیقی سے نور کی تکمیل ہوگی۔ چنانچہ جناب حسین علیہ السلام کا خون جس مقام پر گرا ہے اس کا ایک ذرہ بیماریوں کی شفا ثابت ہو چکا ہے اور گھر میں رکھنا موجب خیر و برکت اور کثرت مال وحفاظت مال و جان ہوتا ہے اور اس میں اس قدر فوائد ہیں کہ اگر بیان کروں تو لوگ کہیں گے کہ تم تو مٹی کو خدا سمجھنے لگ گئے ہو۔ اسی طرح جناب کو کمال کس مپرسی میں بلا غسل و کفن دفن کیا گیا۔ مگر آج یہ عزت ہے کہ چاروں طرف سے لوگ زیارت کے لئے آپ کی آستان پر جبہ سائی کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے ”فنا کلی“ کے مقام پر خدا کی راہ میں مال وجان قربان کر دیا تھا۔ اس لئے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔ ہمیں بھی امید ہے کہ ہماری جماعت میں سے بھی اس مقام پر بہت سے لوگ پہنچیں گے۔ مگر ابھی تک سوائے معدودے چند کے ہم کسی کو کامیاب نہیں دیکھتے۔ ”كذالك نذكر لكم من بدائع امر الله ونلقى عليكم من نغمات الفردوس ، لعلكم بمواقع العلم تصلون، ومن ثمرات العلم ترزقون “ یہ لوگ اگرچہ مفلس ہوں۔ پھر اپنے آپ کو غنی سمجھتے ہیں۔ ذلیل ہوں تو دماغ عرش پر ہوتا ہے۔ عاجز ہوں تو سلطان وقت بنتے ہیں اور غیر کے قبضہ میں گرفتار ہوں تو اپنے آپ کو غالب اور فتح مند جانتے ہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے ایک دن کرسی پر بیٹھ کر یوں فرمایا تھا کہ بظاہر میری غذا گھاس ہے۔ جس سے میں اپنی بھوک بند کر لیتا ہوں اور بسترہ سطح زمین ہے۔ چراغ چاند کی روشنی اور سواری میرے دونوں پاؤں ہیں۔ مگر اس ناداری پر ہزار مالداری نثار ہیں۔ اور اس ذلت پر لاکھوں عزت قربان ہیں۔ جناب صادق علیہ السلام کے پاس ایک عقیدت مند نے ناداری کی شکایت کی تو آپ نے

صفحہ ١٧٠

فرمایا کہ تم تو غنی ہو۔ وہ حیران ہوا کہ میں کیسے غنی ہوں؟ تو آپ نے فرمایا کہ آیا تم میری محبت رکھتے ہو؟ کہا ہاں۔ فرمایا کیا تم اس کو ہزار دینار سے بیچو گے؟ کہا نہیں۔ تو فرمایا جب تمہارے پاس ایسی قیمتی چیز موجود ہے تو پھر تم کیسے مفلس ہو؟ اس لئے خدا کے نزدیک سب فقیر ہیں۔ ”انتم الفقراء الی الله والله هو الغنى“ غیر سے استغناء کا نام مالداری ہے اور خدا کی طرف محتاج ہونے کا نام ناداری ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام جب پلاطوس اور قیافا کے سامنے گرفتار ہو کر آئے تو پوچھا گیا کہ جناب نے یوں نہیں کہا کہ میں مسیح ہوں۔ شہنشاہ ہوں۔ صاحب کتاب ہوں اور مخرب یوم سبت ہوں؟ تو آپ نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ ابن انسان قدرت وقوت الہی کے دائیں ہاتھ بیٹھا ہوا ہے؟ اس کا مطلب یہ تھا کہ بظاہر گو میں گرفتار ہوں۔ مگر قدرت باطنی رکھتا ہوں۔ جو تمام عالم پر محیط ہے۔ اس جواب پر لاجواب ہو کر قتل کرنے کو آئے تو فلک چہارم پر آپ کو جانا پڑا۔ لوقا لکھتا ہے کہ ایک دن ایک فالج زدہ آپ سے شفاء حاصل کرنے آیا تو آپ نے اسے فرمایا کہ تمہارے گناہ معاف ہو گئے ہیں۔ کھڑے ہو جاؤ۔ یہودیوں نے اعتراض کیا کہ کیا خدا کے سوا کوئی گناہ بخش سکتا ہے؟ کہا کہ ابن انسان کو بھی گناہ بخشنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کو اسی قسم کی سلطنت حقیقی دی گئی ہے مگر لوگ ناواقف ہیں اور ہم پر بعینہ وہی اعتراض کرتے ہیں جو یہود و نصاریٰ نے حضور ﷺ کے زمانہ میں آپ پر کئے تھے۔ ”ذرھم فی خوضهم يلعبون (انعام) لعمرك انهم لفی سکرتهم یعمهون (حجر)“ حضور ﷺ پر یہود نے ایک یہ بھی اعتراض کیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ ہاں ایک مظہر کا ظہور لکھا ہے کہ وہ تورات کی اشاعت کرے گا۔ اسی کی طرف یہ اشارہ ہے کہ: ”قالت الیهود یدالله مغلولة (مائده) یدالله فوق ایدیهم (فتح)“ یہود کہتے ہیں کہ خدا کے ہاتھ جکڑ دیئے ہوئے ہیں۔ اب کسی کو پیغمبر بنا کر نہیں بھیج سکتا۔ نہیں نہیں اس کے ہاتھ تو دونوں کھلے ہوئے ہیں اور ہر وقت نبی بھیج سکتا ہے۔ اس مقام پر بھی لوگوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہوئی ہے اور توہمات میں پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یوں تو یہودیوں پر اعتراض کرتے ہیں مگر خود بھی وہی بات کہتے ہیں جو یہود کہہ چکے ہیں کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے اور ایسے بے سمجھ اور نادان جانور ہیں کہ خدا کے فضل وکرم کی وسعت کو انہوں نے محدود کر دیا۔ حالانکہ اس کی وسعت بے انتہاء ہے۔ ان کی ذلت اس سے بڑھ کر کیا ہوگی کہ لقاء اللہ سے محروم ہو رہے ہیں۔ جس کا وعدہ تمام مومنین کو دیا گیا تھا اور باوجود بے شمار نشانات صداقت کے پھر بھی انکار کر رہے ہیں۔ ”والذین کفروا بایات الله ولقائه اولئك یئسوا من رحمتی

صفحہ ١٧١

واولئك لهم عذاب أليم (عنكبوت) انهم ملاقوا ربهم (بقره) انهم ملاقوا الله (بقره) من كان يرجوا لقاء ربه (كهف) لعلكم بلقاء ربكم توقنون (رعد) “ ان آیات سے لقاء اللہ کا وعدہ ثابت ہوتا ہے۔ مگر یہ لوگ منکر ہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ ان آیات میں تجلی الہی مذکور ہے جو قیامت میں ہوگی تو ہم کہتے ہیں کہ کیا تجلی الہی اس وقت ہر چیز میں موجود نہیں ہے؟ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ ہر ذرہ کائنات کا بروز الہی ہے۔ مگر انسان اس کا کامل بروز ہے۔ دیکھئے ارشاد ہے کہ : ”و ان من شئی الا يسبح بحمده (بني اسرائيل) كل شئی احصيناه كتاباً (عم) “ تو جب ہر چیز میں اس کی تجلی موجود ہے تو پھر قیامت کو کس تجلی کی ضرورت ہوگی۔ اگر اس سے مراد فیض اقدس اور تجلی اوّل ہو تو وہ چونکہ ذات غیب سے مخصوص ہے۔ اس لئے کسی کو وہاں تک رسائی ممکن نہیں تو پھر اس کا کیوں وعدہ دیا گیا ہے؟ اگر اس سے مراد تجلی ثانی اور فیض مقدس ہو تو اس سے مراد ظہور اولیاء اور بروز بدیعہ ہوگا۔ جو انبیاء و اولیاء سے مخصوص ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ذات باری کے لئے شیشہ ہیں۔ اس لئے ان کا لقاء لقاء اللہ ہوتا ہے۔ ان کا علم علم الہی ہوتا ہے اور ان کی ظاہریت و باطنیت اسی کی ظاہریت و باطنیت ہوتی ہے۔ ”هـــو الاول والآخر و الظاهر والباطن ( حدید) “علیٰ ہٰذا القیاس وہ تمام اسمائے صفاتی کا مظہر ہوتے ہیں۔ پس جو شخص ان سے ملاقی ہو وہ خدا سے ملاقی ہوا اور جنت ابدی میں داخل ہو گیا اور یہ لقاء الہی قیامت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ یعنی اس وقت کہ خدا کسی میں روپ لے کر قائم ہو جائے اور اس روز سے عظیم تر کوئی دوسرا روز نہیں ہے تو پھر انسان کس طرح توہمات میں پڑ کر ایسے روز کی برکت سے محروم رہ سکتا ہے؟ ”اذا قام القائم قامت القيامة هل ينظرون الا ان ياتيهم الله في ظلل من الغمام (بقره) “ ان کی تشریح ائمہ معصوم نے وہی کی ہے جو ہم نے لکھ دی ہے۔ دوستو ! قیامت کا معنی خوب سمجھ لو اور مردودوں کی بات نہ سنو۔ اس روز کا عمل ہزار سال کے عمل سے بڑھ کر ہے۔ بلکہ اس کی کوئی انتہاء ہی نہیں ہے۔ ”هیچ رعاع “ یعنی بے عقل اور نادانوں نے جب قیامت اور لقاء الہی کا معنی نہیں سمجھا۔ اس لئے فیض الہی سے محروم رہ گئے ہیں۔ خود غور کرو کہ ظہور حق کے روز اگر کوئی ہزار سال تک کا ظاہری علوم پڑھا ہوا۔ انکار کر دے تو کیا اس کو عالم کہا جاسکتا ہے؟ نہیں نہیں بلکہ ایک ناخواندہ جب اس روز کی شناخت کرتا ہے تو وہ اس عالم سے بڑھ کر ہوگا اور علمائے ربانی میں شمار ہوگا۔ یہ انقلاب بھی نشان صداقت ہے۔ روایت ہے کہ: ”يجعل اعلاكم اسفلكم واسفلكم اعلاكم“ اور آیت ہے کہ :”نريد ان نمن على الذين استضعفوا في الارض ونجعلهم ائمة ونجعلهم الوارثين

صفحہ ١٧٢

(قصص) ’’چنانچہ آج کئی ایک عالم جہالت کے گڑھے میں گر گئے ہیں اور کئی ایک ناخواندہ جہالت سے نکل کر رفعت علم پر پہنچ گئے ہیں اور یہ خدا کی قدرت ہے۔ ’’یمحوا الله ما يشاء ويثبت (ابراهیم)‘‘ اس لئے کہتے ہیں کہ: ’’طلب الدليل عند حصول المدلول قبيح والاشتغال بالعلم بعد الوصول الى المعلوم مذموم٠ قل يا اهل الارض هذا فتى نادى يركض في برية الروح ويبشركم بسراج الله ويذكركم بالذكر الذي كان عن افق القدس في شطر العراق تحت حجبات النور بالستر مشهودا‘‘ اگر قرآن مجید کو غور سے مطالعہ کرو تو تم کو یقین ہو جائے گا کہ جو امور حضور ﷺ کی رسالت کے منکروں کو پیش آئے تھے۔ آج بھی وہی ہماری صداقت کے منکروں کو پیش آئے ہوئے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس اسرار رجعت اور غوامض بعثت پر تم کو اطلاع ہو جائے گی۔ ایک دفعہ مخالفین نے بطور طنز یوں کہا تھا کہ: ’’ان الله قد عهد الينا ان لا نؤمن لرسول حتىٰ ياتينا بقربان تاكله النار (آل عمران)‘‘ خدائے ہمیں اس رسول پر ایمان لانے کو کہا ہے۔ جو ہابیل وقابیل کا معجزہ ناری ظاہر کرے تو آپ نے فرمایا کہ: ’’قد جاء كم رسل من قبلی بالبينات وبالذي قلتم فلم قتلتموهم (آل عمران)‘‘ ایسے معجزات مجھ سے پہلے رسول تمہارے پاس لا چکے ہیں تو پھر تم نے ان کو کیوں قتل کیا تھا؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ گذشتہ مخالفین کا الزام قتل وغیرہ موجودہ مخالفین کے سر پر حضور ﷺ نے کیوں تھوپ دیا؟ کیا جھوٹ یا لغو الزام تھا؟ نہیں نہیں بلکہ آپ نے اپنے زمانہ کے مخالفین کو وہی مخالف رسالت سمجھا جو پہلے ہو گزرے تھے۔ اس مقصد پر چونکہ ان کی رسائی نہ تھی۔ اس لئے آپ کو جنون سے نسبت دینے لگ گئے۔ ’’وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا (بقرہ)‘‘ آپ سے پہلے یہی لوگ مخالفین پر الٰہی فیصلہ چاہتے تھے۔ مگر جب حضور ﷺ تشریف فرما ہوئے تو منکر ہو بیٹھے۔ اس موقعہ پر بھی اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہی قرار دیا ہے۔ کیونکہ ہر زمانہ میں مخالفین رسالت کی نوعیت ایک ہی ہوا کرتی ہے۔ اسی طرح تمام مخلوق کی نوعیت ایک ہوا کرتی ہے۔ کیونکہ ارشاد ہے کہ: ’’لما جاء هم ما عرفوا کفروا به‘‘ جس جس نبی کو انہوں نے شناخت کر لیا ہوا تھا۔ جب سامنے آیا تو نا آشنا بن بیٹھے۔ اب یہ مسئلہ صاف ہو گیا کہ ان آیات میں تسلیم کیا گیا ہے کہ نبی بعد، اپنے پہلے کی رجعت تھا اور مخالفین عہد رسالت پہلے مخالفین رسالت کے رجعت تھے۔ کیونکہ جس قدر مظاہر حق ظاہر ہوئے ہیں وہ سب کے سب گویا ایک ذات اور ایک نفس تھے اور شجرہ توحید سے خوراک حاصل کرتے تھے اور درحقیقت ان کے دو مقام ہیں۔ اوّل مقام تجرید اور امتیازی

صفحہ ١٧٣

حالت۔ جس میں وہ الگ الگ نظر آتے ہیں۔ مگر جب ان کو ایک اسم اور ایک ہی صفت سے موسوم وموصوف کرو تو کوئی بری بات نہیں ہوگی۔ کیونکہ ارشاد ہوا ہے کہ: ”لا نفرق بین احد من رسله (بقرہ) ” تم کہو کہ ہم ان میں تفریق کے قائل نہیں ہیں اور حدیث میں آیا ہے کہ: ”اما النبیون فانا “ تمام انبیاء کا بروز میں ہی ہوں اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں ہی آدم اول ہوں، میں ہی نوح موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ہوں اور اسی مضمون کو حضرت علیؓ نے دھرایا ہے۔ خدا کا فرمان ہے کہ: ”ما امرنا الا واحد (قمر) ”جب امر ایک ہو تو تمام مطلع امر اور انبیاء بھی ایک ہی ہوئے روایت ائمہ معصومین بھی اسی کو مؤید ہے کہ: ”اولنا محمد اوسطنا محمد واخرنا محمد “ ہمارے اول آخر اور درمیان حضور ہی حضور ﷺ ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ تمام انبیاء علیہم السلام امر الہی کے مختلف ہیاکل ہیں کہ مختلف رنگوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔

رجوع و بروز انبیاء و اولیاء

مگر غور سے معلوم ہو سکتا ہے کہ تمام ایک ہی جنت رضوان میں ساکن ہیں۔ ایک کلام کے ناطق ہیں اور ایک ہی حکم کے بتانے والے ہیں تو اگر کوئی نبی کہے کہ میں تمام انبیاء کا بروز اور رجوع ہوں تو صادق ہوگا اور رجوع اوّل کی تصدیق کرے گا۔ جب قرآن وحدیث سے رجوع انبیاء ثابت ہو گیا تو رجوع اولیاء بھی ثابت ہو گیا۔ بلکہ رجوع اولیاء ایسا ظاہر ہے کہ کسی دلیل کا محتاج ہی نہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام بھی ایک نبی تھے۔ آپ کی بعثت پر جو ایمان لائے ان کو حیات جدیدہ نصیب ہوگئی۔ کیونکہ اس ایمان سے پہلے وہ ایسے مقلدانہ علائق میں پھنسے ہوئے تھے کہ اگر ان کو قتل بھی کیا جاتا تو اس تقلید کو نہ چھوڑتے۔ ”انا على اثارهم مقتدون (زخرف) “ مگر جب ایمان لائے تو ان میں ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ زن و فرزند اور مال و منال سے الگ ہو گئے اور خلق جدید میں موجود ہو گئے اور اس سے پہلے اپنی جان کو لومڑی سے بھی محفوظ رکھتے تھے۔ لیکن اب وہ ایسے دلیر ہیں کہ گویا اپنی جان سے بیزار ہیں اور چاہتے ہیں کہ خدا کی راہ میں اپنی جان مفت دے دیں۔ اس دور جدید سے پہلے وہ وہی تھے جو اب ہیں۔ مگر قدرت نے ایسا انقلاب پیدا کیا ہے کہ ان میں طبعی اور اصلی حالات ہی تبدیل ہو گئے ہیں۔ مشہور ہے کہ تانبا اپنی کان میں ستر سال پڑا رہے تو سونا بن جاتا ہے اور بعض کا قول ہے کہ خود سونے میں کمال پیوست آجاتی ہے۔ وہ تانبا بن جاتا ہے۔ بہرحال پہلی روایت کے بموجب یہ ماننا پڑتا ہے کہ عمل اکسیری نے اس میں ایسا انقلاب پیدا کر دیا ہے کہ اب اس کو تانبا نہیں کہہ سکتے۔ علیٰ ہٰذا القیاس نفوس ترابی کو اکسیر الہی ایک ہی آن میں عالم قدس میں پہنچا دیتی ہے اور وہ مکان سے لامکان تک پہنچ جاتے

صفحہ ١٧٤

ہیں ۔ تم کو چاہئے کہ یہ اکسیر حاصل کرو اور ظلمت جہالت سے نکل کر صبح نور میں داخل ہو جاؤ ۔ اگر سونے کو اس وقت تانبا کہہ سکتے ہیں تو ان نفوس کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ پہلے ہی نفوس تھے۔ اب ان بیانات سے رجوع ، بعثت اور خلق جدید کا مفہوم ثابت ہو گیا ہے اور جو لوگ ظہور قبل میں ایماندار ہیں۔ اسم واسم اور فعل وفعل یا امر کے لحاظ سے بعینہ وہی نفوس ہیں جو ظہور بعد میں پیدا ہوئے ہیں ۔ کیونکہ ہر دو ظہور بھی تو خود متحد فی الذات ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان میں بیرونی عوارض مختلف پائے گئے ہیں ۔ مگر تم اس پودے کی شاخیں دیکھ کر تکثر کے قائل نہ ہو۔ بلکہ خوشبو اور ذاتی آثار کی رو سے اسے متحد سمجھو ۔ نقطۂ فرقان (جناب محمد رسول اللہ ﷺ) کے وقت جن لوگوں نے اس راز کو سمجھ کر سب کے اول ایمان قبول کیا ۔ انہوں نے حضور ﷺ پر اپنا مال وجان سب قربان کر دیا اور ایسے راسخ الایمان واقع ہوئے کہ شہادت پانے کو بھی موجب فخر سمجھتے تھے۔ اسی طرح اس وقت نقطہ بیان ( بہاء اللہ ) پر ایمان لانے والے بھی ایسے جان نثار واقع ہوئے ہیں کہ تمام سے انقطاع کلی حاصل کر کے اپنی جان قربان کر رہے ہیں۔

بروز محمدی

کیونکہ یہ دونوں ایک ہی شمع کے پروانے ہیں اور ایک ہی درخت کے پھل اور پھول ہیں ۔ ”ذلك فضل الله يوتيه من يشاء من خلقه“ پس اگر آخر لآخرین قائم بامر اللہ ظاہر ہوں تو اول الاولین قائم بامر اللہ کی شکل ان میں ضرور ظاہر ہوگی۔ جس طرح کہ دور شمسی میں دنیا کا پہلا سورج دکھائی دے گا۔ گو بظاہر ہر روز اپنے عوارض کی وجہ سے مختلف نظر آتا ہے۔ مگر در حقیقت ایک ہی ذات ہے جو بار ہا ظاہر ہورہی ہے۔ اس موقعہ پر ختم نبوت کا انکشاف ہو گیا ہے۔

ختم نبوت

کیونکہ جب حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ : ”اما النبيون فانا، انا آدم عليه السلام ونوح عليه السلام وموسى عليه السلام وعيسى عليه السلام . كنت نبيا وآدم عليه السلام بين الماء والطين“ میں سب سے پہلے نبی ہوں اور درمیان میں آدم علیہ السلام ونوح علیہ السلام وموسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام بھی ہوں اور اس کے علاوہ تمام انبیاء خود میں ہی ہوں ۔ تو اگر آپ کو آخری نبی اور خاتم النبیین کہا جائے تو کون سی مشکل نظر آئے گی۔ کیونکہ جب خود خدائے تعالیٰ اوّل و آخر ظاہر وباطن اور مختلف صفات سے موصوف ہے تو اس کے مظاہر بھی اوّل و آخر اور ظاہر وباطن کے اوصاف سے متصف ہوں گے ۔ ورنہ اگر صرف

صفحہ ١٧٥

ذاتی تجرد کا لحاظ کیا جائے۔ تو یہ سب اوصاف خارج نظر آتے ہیں۔ ”كان الله ولم يكن معه شئے“ یہ مسئلہ اکثر دفعہ ہم سے پوچھا گیا ہے اور لوگوں کو ابھی تک اس راز کی حقیقت منکشف نہیں ہوئی۔ اس لئے اسی حجاب میں پڑ کر انوار الٰہی سے محروم ہو رہے ہیں اور ایک بہت بڑا حجاب علمائے عصر ہیں۔ جو وجاہت طلبی کی وجہ سے امر اللہ کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اس کی بات سنتے ہیں۔ ”يجعلون اصابعهم فى اذانهم“ اور ان کے تابعدار چونکہ ان کو ”اولياء من دون الله“ بنائے ہوئے ہیں۔ اس لئے ان بے حس پیروں کے رد و قبول کے منتظر رہتے ہیں۔ ”كانهم خشب مسنده “ کیونکہ وہ خود سمع بصر اور عقل نہیں رکھتے کہ حق و باطل میں تمیز کر سکیں۔ حالانکہ انبیاء واولیاء واصفیاء کا حکم ہے کہ انسان خود اپنے حواس کو استعمال کرے اور دوسروں کی تقلید میں نہ رہے۔ مگر یہ ایسے پھنسے ہیں کہ اگر کوئی ناخواندہ دعوت تبلیغ دیتا ہے کہ :”يقوم اتبعوا المرسلین “ تو جواب دیتے ہیں کہ اگر یہ شخص مرسل ہوتا تو سب سے پہلے علمائے عصر اور فضلائے دہر اس کی پیروی کرتے۔

پس یہی ایک بات ہے جو ہر زمانہ میں حق قبول کرنے سے مانع رہی ہے اور جو بھی نبی مبعوث ہوا ہے۔ اس کی راہ میں علمائے عصر ہی رکاوٹ پیدا کرتے رہے ہیں۔ ”قاتلهم الله بما فعلوا من قبل ومن بعد ماكانو يفعلون “ دوستو! اس حجاب اکبر سے بڑھ کر کوئی اور حجاب نہیں ہے۔ جس کا اٹھا دینا بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ ” وفقنا الله واياكم يا معشر الروح لعلكم بذاك فى زمن المستغاث . توفقون ومن لقاء الله فى ايامه لا تحتجبون “ دوسرا حجاب اکبر مسئلہ ختم رسالت کا ہے۔ جس میں یہ ”ہمج رعاع “ نادان فرقہ مولویاں بھٹک رہا ہے۔ کیا انہوں نے حضرت امیر علیہ السلام کا یہ قول کبھی نہیں پڑھا کہ: ”نکحت الف فاطمة كلهن بنت محمد خاتم النبيين“ میں نے ہزار فاطمہ سے نکاح کیا ہے۔ جس میں سے ہر ایک محمد خاتم النبیین کی بیٹی تھی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش اوّل از اوّل تھی اور پھر اس کے مظاہر جمال غیر متناہی اور بے شمار ہوں گے اور اسی طرح جناب حسین بن علی علیہ السلام جناب سلمان فارسی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ جس کا مضمون یہ ہے کہ: ”كنت مع الف آدم بين كل واحد منهم خمسون الف سنة وعرضت على كل منهم ولاية ابى الى ان قال قاتلت فى سبيل الله الف مرة اصغرها غزوة خيبر التی حارب فيها ابى بالكفار “ میں ہزار آدم کے ساتھ رہا ہوں۔ جن میں سے ہر ایک آدم کا زمانہ پچاس ہزار سال تھا اور ہر ایک پر میں نے اپنے باپ کی ولایت کا مسئلہ پیش کیا ہے۔ اسی

صفحہ ١٧٦

سلسلہ بیان کو دور تک چلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں ہزار دفعہ خدا کی راہ میں ایسی لڑائیاں لڑا ہوں کہ خیبر کی لڑائی جو میرے باپ نے جیتی تھی ان کے مقابلہ میں بہت معمولی ہے۔ ان دو روایتوں سے ختم رسالت، رجع اور لا اولیت اور لا آخریت کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ مگر مخالفین اس کو نہیں سمجھ سکتے ۔ ” بل لا يعرف ذلك الا اولو الالباب ، قل هو الختم الذى ليس له ختم فى الابداع ولا بدء له فى الاختراع . اذاً يا ملا الارض فى ظهورات البدء تجليات الختم تشهدون“ تعجب ہے کہ یہ لوگ اپنے مطلب کی روایات مان لیتے ہیں اور دوسری روایات کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ” قل اتؤمنون ببعض الكتاب وتكفرون ببعض (بقرہ) مالكم كيف تحكمون الا تشعرون “ حالانکہ قرآن مجید میں آیت خاتم النبیین کے بعد لقاء اللہ کا وعدہ دیا گیا ہے۔ جس میں کسی طرح کا شبہ نہیں ہے ۔ ” فهنيئا لمن فاز به فى يوم اعرض عنه اكثر الناس كما انتم تشهدون “ قیامت کا شبہ تھا تو وہ بھی ثابت کر دیا ہے۔ مگر وہ اب بھی اسی شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور یوم قیامت لقاء اللہ اور ختم و بدء سے محجوب ہو رہے ہیں ۔ ” ولويؤاخذ الله الناس بما كسبت ايديهم ما ترك على ظهر ما من دابة (ملائکہ) “ اگر یہ لوگ صرف یہی دیکھ لیتے کہ : ”يفعل الله ما يشاء“ تو خدا پر کوئی اعتراض نہ کرتے ۔ ” بيده الامر والقول والفعل . من قال لم ولم فقد كفر “ یہ لوگ اگر کچھ بھی غور کریں تو جان لیں گے کہ وہ ایسے شبہات کی وجہ سے دوزخ میں گرتے جارہے ہیں۔ کیونکہ وہ تو اتنا بھی نہیں جانتے کہ: ” لا يسئل عما يفعل (انبیاء) “ وہ جو چاہے کرتا ہے۔ کوئی اس پر معترض نہیں ہو سکتا۔ اس سے بڑھ کر اور نادانی اور جہالت کیا ہو سکتی کہ یہ لوگ اپنے ارادہ اور علم کو تو مانتے ہیں۔ مگر جب مشیت ایزدی اور ارادہ الٰہی کا ذکر آجاتا ہے تو فوراً منکر ہو جاتے ہیں۔ واللہ اگر قدرت میں مہلت نہ لکھی ہوتی تو یہ سب معدوم ہو جاتے ۔ ” لكن يؤخر ذلك الى ميقات يوم معلوم “ دیکھئے آج بارہ سو اسی سال ہو رہے ہیں اور یہ تمام ھمج رعاع روزانہ قرآن شریف کی تلاوت سے مقصد تو یہ تھا کہ معانی پر بھی غور کرتے ۔ کیونکہ تلاوت بے معرفت چنداں مفید نہیں ہوتی۔ مجھے ایک سے قیامت حشر نشر علامات قیامت اور حساب خلائق کے متعلق مباحثہ چھڑ گیا تو کہنے لگا کہ اگر ظہور بدیع (یعنی آپ کے زمانہ) میں یہ سب کچھ واقع ہو چکا ہے تو بتائیے تمام مخلوقات کا حساب کیسے لیا گیا ہے۔ حالانکہ کسی ایک کو بھی معلوم نہیں کہ اعمال کا حساب بھی ہونے کو تھا یا نہیں۔ تو میں نے جواب دیا کہ حساب و کتاب زبانی مراد نہیں ہے۔ کیونکہ ارشاد ہے کہ : ” فيومئذ لا يسئل عن ذنبه انس ولا جان . يعرف المجرمون

صفحہ ١٧٧

بسيماهم فيؤخذ بالنواصي والاقدام (رحمان) “ اس روز لوگوں سے زبانی حساب نہیں ہوگا۔ بلکہ مجرم اپنے نشانات سے پہچانے جائیں گے اور اس شناسائی سے ہی حساب ہو جائے گا۔ جیسا کہ آج خود ظاہر ہے کہ اہل ہدایت اہل ضلالت سے روز روشن کی طرح ظاہر اور ممتاز ہیں۔ اگر ”خالصاً لوجہ اللہ“ یہ لوگ ان آیات میں غور کریں تو تمام امور زیر بحث ظاہر ہو سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ کس طرح مظہر صفات الہیہ اپنے وطن اور مال ومنال سے نکال کر بے وطن اور بے خرچ کر دیا گیا ہے۔ ”ولکن لا یعرف ذلك الا اولوا الالباب ، اختم القول بما نزل على محمد من قبل ليكون ختامه المسك الذى يهدی الناس الى رضوان قدس منیر ھو قوله تعالى والله يدعوا الى دار السلام (یونس) لھم دار السلام عند ربهم وهو وليهم (انعام) ليسبق هذا الفضل على العالم والحمد لله رب العالمین“ اس مطلب کو ہم نے بار بار اس لئے بیان کیا ہے کہ اگر کسی کو ایک طرز بیان سے سمجھ نہیں آیا تو دوسری طرز پر سمجھنے کی کوشش کر سکے۔ ”لیعلم کل اناس مشربهم“ واللہ مجھے وہ راز سمجھائے گئے ہیں کہ جن میں سے میں نے ابھی تک کچھ بھی بیان نہیں کیا۔ شاید کسی آئندہ وقت میں ظاہر ہوں گے۔ ”وما من امر الا بعد اذنه، وما من قدرة الا بحوله ، وما من اله الا هو له الخلق والامر وكل بامره ينطقون ، ومن اسرار الروح يتکلمون“ یہاں تک کہ مشارق الہیہ کا پہلا مقام ذکر ہوا ہے۔ اب دوسرا مقام ذکر کرتا ہوں کہ جس میں حدود بشریہ کی تفصیل موجود ہوتی ہے۔ کیونکہ اس مقام پر ہر ایک مظہر کی حدود مخصوص ہوا کرتی ہیں اور ہر ایک کا اسم اور صفت الگ الگ ہوتے ہیں اور شریعت جدیدہ پر مامور ہوتے ہیں۔ ”فضلنا بعضهم علی بعض (بقرہ)“ اس لئے ان کی زبان پر مختلف بیانات ظاہر ہوا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ لوگ ظاہری بیانات پر مطلع ہوکر مسائل الٰہیہ سے جو صرف ایک کلمہ میں منحصر ہیں۔ غافل ہوجاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان مظاہر پر ربوبیت والوہیت واحدیت صرفہ اور ہویت بحتہ کا اطلاق ہوا کرتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ کیونکہ تمام مظاہر ظہور الٰہی کے عرش پر ساکن ہیں اور بطون اللہ کی کرسی پر واقف ہیں۔ یعنی ظہور الٰہی ان کے ظہور سے وابستہ ہے اور دوسرے مقام میں تمیز وتفصیل اور تحدید و اشارات یا عبودیت صرفہ اور فقر بحت یافتہ کے باطن ان سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ”انی عبداللہ وما انا الا بشر مثلکم“ اگر یہ مظاہر ”انى انا اللہ“ کہہ دیں تو وہ بھی بجا ہوگا۔ کیونکہ ان کے ظہور اور اسماء صفات سے ہی ظہور الہی اور ظہور اسماء وصفات الہیہ ہوا کرتا ہے۔ ”وما رمیت اذ رمیت (انفال) انما

صفحہ ١٧٨

یبایعون الله (فتح) ”اگر تمام انبیاء یا حضور علیہ السلام نے ”انی رسول الله“ کا اعلان کیا ہے تو وہ بھی بجا ہوگا۔ ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله“ اس مقام میں تمام انبیاء شریک ہیں۔ اگر تمام انبیاء ”انا خاتم النبیین“ کا دعویٰ کریں تو بھی غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ تمام یک ذات و یک روح و یک جسد اور ایک ہی امر کے مالک ہیں۔ اسی طرح سب کے سب مظہر بدئیت و ختمیت اوّلیت اور آخریت یا ظاہریت و باطنیت ذات باری تعالیٰ کے واسطے ثابت ہو چکے ہیں۔ اگر یہ کہیں کہ : ”نحن عباد الله“ تو یہ بھی درست ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ استغراق کی حالت میں ان بزرگوں کی زبان پر دعویٰ الوہیت کا اجرا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ اس وقت اپنی ہستی کو معدوم سمجھ کر اس کا ذکر شرک اکبر جانتے ہیں۔ کیونکہ اس مقام پر کسی قسم کی ہستی کا ذکر بھی غلط ہوتا ہے تو بھلا اپنی ہستی کا ذکر کیسے کر سکتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ان کے مقام مختلف ہیں۔ کسی میں ذکر ربوبیت ہوتا ہے۔ کسی میں رسالت اور کسی میں عبودیت اس لئے ان کی رسالت، عبودیت، الوہیت اور ولایت یا امامت تمام دعاوی حق ہیں۔ ایسے مقامات سے اطلاع پانے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ ورنہ کسی ایسے شخص سے دریافت کرنا ضروری ہوتا ہے جو ان مقامات سے بخوبی واقف اور مطلع ہوتا ہے۔ نہ یہ کہ اپنی رائے ناقص سے خود ایسے مقامات کی تشریح کر کے اعتراض پر اعتراض کرنے لگ جائیں۔ جیسے کہ آج علمائے عصر اپنی نادانی کو علم سمجھ بیٹھے ہیں اور ظلم کو عدل قرار دیتے ہیں۔ ان کی عادت ہے کہ جب سوال کا جواب اپنی سمجھ کے مطابق نہیں پاتے تو مظہر الٰہی کو جاہل بتانے لگ جاتے ہیں۔ چنانچہ حضور ﷺ سے لوگوں نے پوچھا تھا کہ یہ ہلال کیا ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ : ”مواقيت للناس“ وقت شناسی کے نشان ہیں تو انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ جواب ناواقفیت ظاہر کرتا ہے۔ روح کے متعلق سوال ہوا تو یوں جواب دیا کہ : ”الروح من امر ربی (بنی اسرائیل) “ تو شور مچا دیا کہ جس کو روح کی خبر نہیں ہے تو بھلا وہ علم لدنی کیا رکھتا ہوگا۔ عہد حاضر کے مسلمان بھی حضور ﷺ کو تقلیدی طور پر مانتے ہیں۔ ورنہ یہ لوگ اس وقت بھی سوال کرتے تو یقیناً کبھی نہ مانتے ۔ چنانچہ اب بھی وہی طریق اختیار کر رہے ہیں۔ کیونکہ مظاہر الٰہی ان علوم مجہولہ سے منزہ ہوتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ تمام علوم اٹکل محض اور صاف جھوٹ ہیں اور جو کچھ ان مخازن الہیہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ حقیقت میں وہی علم ہوتا ہے۔ باقی سب جہالت ہے۔

صفحہ ١٧٨

علم و جہالت

”العلم نقطة كثرها الجاهلون والعلم نور يقذفه الله في قلب من يشاء“ مگر لوگوں نے جو کچھ بظاہر جہالت سے پیدا ہوا ہے۔ اس کو علم سمجھ رکھا ہے۔ چنانچہ ایک علامہ زمان اس عہد حاضر میں بھی موجود ہیں جو اہل حق پر سب وشتم بڑے زور سے کیا کرتے ہیں اور ان کے رسائل بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مجھے خیال پیدا ہوا کہ ان کی تصنیفات کا بھی مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ تلاش کرنے پر ان کی عربی تصنیفیں تو میسر نہ ہوئیں۔ مگر کسی نے بیان کیا کہ ان کی ایک تصنیف ارشاد العوام یہاں ملتی ہے۔ گو اس کا نام ہی بتا رہا تھا کہ اپنے آپ کو وہ بڑا عالم سمجھتے ہیں اور دوسروں کو جاہل قرار دیتے ہیں۔ کبر اور نخوت کا شکار ہو چکے ہیں۔ مگر بادل ناخواستہ وہ کتاب منگا کر چند روز میں نے اپنے پاس رکھ لی۔ اگرچہ مجھے غیر مذہب کی کتابوں کا شوق مطالعہ نہیں، مگر تاہم اس فاضل کی تصانیف کا شوق مطالعہ دامنگیر ہو گیا۔ ایک دو مقام دیکھنے کا اتفاق ہوا تو مجھے نظر پڑا کہ جناب نے حدیث معراج نبوی ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ حدیث معراج کو سمجھنے کے واسطے بیس علوم کی ضرورت ہے۔ جن میں سے جناب نے علم فلسفہ مردود اور علم کیمیا و سیمیا کو بھی ضروری قرار دیا تھا۔ حقیقت میں اس فاضل علامہ نے علوم حقہ کو بدنام کر دیا ہے اور ان پر ہزاروں اعتراضات کا دروازہ کھول دیا ہے۔

مہتمم داری کسانے را کہ حق
کرد امین مخزن ہفتم طبق

یہ کس کو معلوم نہیں کہ اس قسم کے مردود علوم علمائے حقیقی کے نزدیک حدیث معراج سمجھنے کے لئے شرط نہیں ہیں۔ کیونکہ خود حضور ﷺ نے ان علوم میں سے ایک حرف بھی تعلیم نہیں پایا تھا۔

جملہ ادراکات بر خر پائے لنگ
حق سوار باد پراں چوں خدنگ

واللہ اگر کوئی حدیث معراج کا مفہوم سمجھنا چاہے تو اگر اسے یہ علوم مردودہ حاصل بھی ہوں تو سب سے پہلے ان سے اپنے قلب کو صاف کر لینا ضروری ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بھی جو لوگ علوم الہیہ میں مستغرق ہیں۔ ایسے علوم کی تعلیم کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ”العلم حجاب الاکبر“ بنا بر محبت یار سوختیم۔ بایں افتخار مے نمائیم، کہ بحمد اللہ سبحات جلال را بفدائے جمال محبوب ساختیم ۔ وجز مقصود در دل جا نداریم۔ نہ بعلمے جز علم او متمسک ایم، ونہ بمعلومے جز تجلی انوار او متشبث ۔ مجھے تعجب ہوا ہے کہ باوجودیکہ اس فاضل علامہ کو علم حقیقی سے ایک ذرہ بھی حاصل نہیں۔

(يتبع) ’اگر تمام انبیاء یا حضور علیہ السلام نے ”انی رسول اللہ“ کا اعلان کیا ہوگا۔ ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله“ اس میں شریک ہیں۔ اگر تمام انبیاء ’انا خاتم النبیین‘ کا دعویٰ کریں تو بھی غلط نہ ہوگا۔ کیونکہ ایک ذات و یک روح و یک جسد اور ایک ہی امر کے مالک ہیں۔ اسی طرح مظہر ابدیت و ختمیت اولیت اور آخریت یا ظاہریت و باطنیت ذات باری تعالیٰ کے مظہر ہیں۔ اگر یہ کہیں کہ: ”نحن عباد الله“ تو یہ بھی درست ہوگا۔ یہی وجہ ہے ت سکر میں ان بزرگوں کی زبان پر دعویٰ الوہیت کا اجرا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ وہ اس معدوم سمجھ کر اس کا ذکر شرک اکبر جانتے ہیں۔ کیونکہ اس مقام پر کسی قسم کی ہستی کا تو بھلا اپنی ہستی کا ذکر کیسے کر سکتے ہیں۔

یہ ہے کہ ان کے مقام مختلف ہیں۔ کسی میں ذکر ربوبیت ہوتا ہے۔ کسی میں عبودیت اس لئے ان کی رسالت، عبودیت، الوہیت اور ولایت یا امامت ہا۔ ایسے مقامات سے اطلاع پانے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔ ورنہ کسی یعت کرنا ضروری ہوتا ہے جو ان مقامات سے بخوبی واقف اور مطلع ہوتا ہے۔ شخص سے خود ایسے مقامات کی تشریح کر کے اعتراض پر اعتراض کرنے لگ پر علمائے عصر اپنی نادانی کو علم سمجھ بیٹھے ہیں اور ظلم کو عدل قرار دیتے ہیں۔ ان جب سوال کا جواب اپنی سمجھ کے مطابق نہیں پاتے تو مظہر الہی کو جاہل بتانے چنانچہ حضور ﷺ سے لوگوں نے پوچھا تھا کہ یہ ہلال کیا ہیں تو آپ نے فرمایا ، للناس “ وقت شناسی کے نشان ہیں تو انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ ر کرتا ہے۔ روح کے متعلق سوال ہوا تو یوں جواب دیا کہ: ”الروح من امر ربی“ کو شور مچا دیا کہ جس کو روح کی خبر نہیں ہے تو بھلا وہ علم لدنی ضر کے مسلمان بھی حضور ﷺ کو تقلیدی طور پر مانتے ہیں۔ ورنہ یہ لوگ اس تے تو یقیناً کبھی نہ مانتے۔ چنانچہ اب بھی وہی طریق اختیار کر رہے ہیں۔ علوم مجہولہ سے منزہ ہوتے ہیں اور ان کے نزدیک یہ تمام علوم افک محض ا اور جو کچھ ان مخازن الہیہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ حقیقت میں وہی علم ہوتا ت ہے۔

صفحہ ١٨٠

لوگوں کو اپنے علم وفضل کی طرف توجہ دلاتا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ تعجب ہوا کہ لوگ ایسے جاہل کے گرویدہ کیسے ہورہے ہیں کہ جس کے ہاتھ میں صرف مٹی ہے اور بلبل کا نغمہ چھوڑ کر کوے کی کائیں کائیں پر دل لگائے بیٹھے ہیں۔ غرضکہ اس قسم کے اور کلمات مجہولہ اس کتاب میں اس قدر ہیں کہ میں بیان کرنا نہیں چاہتا۔ ہاں اس نے علم کیمیا کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ اگر سچا ہے تو تجربہ سے اس کو ثابت کر دکھلائے۔ تاکہ حق و باطل ظاہر ہو جائے۔ مگر لوگ بگڑے ہوئے ہیں اور ان کے جفا کا اثر ابھی تک میرے تمام جسم پر نمایاں ہے۔ قرآن شریف میں اس کے علوم کے متعلق یوں ذکر کیا گیا ہے کہ: ”ان شجرة الزقوم طعام الاثيم ، ذق انك انت العزيز الكريم (دخان)“ کیونکہ اس فاضل نے خود اپنی کتاب میں اپنا نام اثیم ظاہر کیا ہے۔ ”اثیم هي الكتاب ، عزیز بين الانعام ، وكريم فی الاسم“ دیکھا قرآن شریف نے اس کے متعلق کیسا عمدہ فیصلہ کر دیا ہے۔ ”لا رطب ولا يابس الا فی کتاب مبین (انعام)“ لوگ باوجود اس کے موسیٰ علم سے روگردان ہو کر سامری جہالت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ حالانکہ قلوب صافیہ کے سوا کسی اور جگہ علوم الٰہیہ نہیں ملتے۔ ”البلد الطيب يخرج نباته باذن ربه والذي ، خبث لا یخرج الا نکدا (اعراف)“ پس ضروری ہے کہ مسائل مشکلہ کا حل ان لوگوں سے کرانا چاہئے۔ جن پر افاضات الٰہیہ ہوئے ہیں۔ نہ ان لوگوں سے جن کا علم اکتسابی ہوتا ہے۔ ”فاسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون (انبياء)“ صاحبان جو شخص معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ ایسے علوم سے دل کو پاک وصاف کرے۔ کیونکہ وہ دل تجلی اسرار کا محل بروز ہوتا ہے اور اغیار کی محبت سے بکلی صاف کر دے تاکہ راستے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

نصائح بہائیہ

ان دو عیبوں کی وجہ سے لوگ معرفت الٰہی سے محروم ہورہے ہیں۔ خدا پر توکل کرے۔ لوگوں سے منہ موڑ لے۔ اپنے آپ کو کسی سے بہتر نہ سمجھے۔ فخر وغرور نہ کرے۔ صبر کرے خاموش رہے اور کثرت کلام سے رک جائے۔ کیونکہ زبان کی آگ روح کو جلا دیتی ہے۔ غیبت نہ کرے۔ کیونکہ اس سے دل کی روشنی مرجاتی ہے۔ قلیل پر قناعت کرے۔ جن کو انقطاع الی اللہ کا مقام حاصل ہے۔ ان کی مجلس کو غنیمت سمجھے۔ سحری کے وقت ذکر میں مشغول ہو جایا کرے۔ ماسوائے اللہ کی محبت چھوڑ دے۔ غفلت چھوڑ دے۔ حصہ داروں کو حصہ دے۔ ناداروں پر احسان واعطاء کرنے میں دریغ نہ کرے۔ جانوروں کی رعایت کرے۔ انسان اور اہل بیان اور خصوصاً جانان

صفحہ ١٨٠

جان سے دریغ نہ کرے۔ شماتت خلق سے نہ گھبرائے۔ آنچہ برخود نہ پسندی بدیگراں مپسند۔ کہے تو پورا کرے۔ باوجود قدرت کے قصور وار کا قصور معاف کرے۔ معافی دے۔ غیر کو بنظر تحقیر نہ دیکھے۔ کیونکہ حسن وقبح کا فیصلہ موت پر ہوتا ہے۔ ماسوائے اللہ کو فانی سمجھے۔ یہ تمام نصائح ان لوگوں کے لئے ہیں جو راہ معرفت اور علم الیقین میں چلنا چاہتے ہیں۔ اس مقام کے بعد طالب صادق کے لئے لفظ مجاہد استعمال کیا گیا ہے۔ ”والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا (عنکبوت)“ اور اس کے لئے راہ ہدایت کھل جاتا ہے۔ جب اس مجاہدہ کی روشنی قلب میں پھیل جاتی ہے تو شک وشبہ کی ظلمت دور ہو جاتی ہے اور روح القدس کی تائید سے حیات تازہ حاصل ہو جاتی ہے اور اپنے اندر نئی روشنی، نئی بینائی، نیا دل اور نئی گویائی و شنوائی پاتا ہے اور مخفی امور پر اطلاع پانے لگتا ہے اور مخفیات الانفسیہ کھل جاتے ہیں اور ہر ایک ذرہ میں اس کو ایک دروازہ کھلا ہوا ملتا ہے۔ جس سے وہ عین الیقین، حق الیقین اور نور الیقین تک پہنچ جاتا ہے اور ہر جگہ اس کو تجلیات الٰہیہ نظر آنے لگتے ہیں۔ واللہ اگر سالک اس مقام پر پہنچ جائے تو رائحۂ حق کو دور دراز کے فاصلہ سے دریافت کر سکتا ہے اور حق و باطل اس کے نزدیک ایسے ظاہر ہو جاتے ہیں کہ گویا ان میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور آثارِ حق ممتاز طور پر دیکھ لیتا ہے اور تمام علوم مکنونہ پر اطلاع پاتا ہے۔ گویا اسرار رجوع کو اپنی آنکھ سے مشاہدہ کر رہا ہے۔

مدینہ روحانی

اور جب مجاہدہ ماسوائے اللہ سے منقطع ہو جاتا ہے تو مدینہ روحانی میں ایسا انس پکڑتا ہے کہ ایک لحظہ بھی اس سے جدائی پسند نہیں کرتا اور وہ مدینہ روحانی زیادہ سے زیادہ ایک ہزار سال بعد از سر نو تعمیر ہوتا ہے۔ طالبان حق کو اس مدینہ میں پہنچنا لازم ہے اور اس مدینہ روحانی سے مراد کتب الٰہیہ ہیں۔ چنانچہ عہد موسیٰ علیہ السلام میں تورات تھی۔ عہد عیسوی میں انجیل۔ عہد محمدی میں فرقان اور اس عہد حاضر میں بیان اور من یظہرہ اللہ کے عہد میں خود اس کی کتاب ہے جو تمام کتب الٰہیہ پر شامل ہے۔ اس میں توحید کا سبق ملتا ہے۔ مثلاً فرقان امت محمدیہ کے لئے ایک محفوظ قلعہ تھا کہ شیطانی حملوں سے بچ کر لوگ اس میں داخل ہوتے رہے ہیں اور فواکہ طیبہ، خمر اسرار توحید، ماء غیر آسن معرفت اور تمام ما یحتاج الیہ اس سے حاصل کرتے رہے ہیں اور سنہ ساٹھ تک اسی کے اتباع کا حکم تھا۔ اس کے بعد ظہور بدیع کا وقت آیا۔ جس میں طالبان ہدایت اصل مقصد کو پہنچ گئے ہیں۔ مگر یہ فخر روایات اور احادیث کو حاصل نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا اعتبار قرآن سے وابستہ ہے اور ان میں اختلاف بہت دور تک چلا گیا ہے۔ اسی لئے حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ: ”انی

فضل کی طرف توجہ دلاتا ہے اور اس سے بڑھ کر یہ تعجب ہوا کہ لوگ ایسے جاہل کے رہے ہیں کہ جس کے ہاتھ میں صرف مٹی ہے اور بلبل کا نغمہ چھوڑ کر کوے کی کائیں ئے بیٹھے ہیں۔ غرضکہ اس قسم کے اور کلمات مجہولہ اس کتاب میں اس قدر ہیں کہ نا چاہتا۔ ہاں اس نے علم کیمیا کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ اگر سچا ہے تو تجربہ سے اس کو ۔ تاکہ حق و باطل ظاہر ہو جائے۔ مگر لوگ بگڑے ہوئے ہیں اور ان کے جفا کا اثر تمام جسم پر نمایاں ہے۔ قرآن شریف میں اس کلام کے متعلق یوں ذکر کیا گیا جرة الزقوم طعام الاثيم ٠ ذق انك انت العزيز الكريم (دخان)“ نے خود اپنی کتاب میں اپنا نام اثیم ظاہر کیا ہے۔ ”اثیم ھی الکتاب ، عزیز وکریم فی الاسم “ دیکھا قرآن شریف نے اس کے متعلق کیسا عمدہ فیصلہ طب ولا یابس الافی کتاب مبین (انعام) “ لوگ باوجود اس کے موسیٰ ہو کر سامری جہالت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ حالانکہ قلوب صافیہ کے سوا کسی ملتے۔” البلد الطيب يخرج نباته باذن ربه والذی خبث لا کدا (اعراف) “ پس ضروری ہے کہ مسائل مشکلہ کا حل ان لوگوں سے کرانا اضات الٰہیہ ہوئے ہیں۔ نہ ان لوگوں سے جن کا علم اکتسابی ہوتا ہے۔ الذكر ان كنتم لا تعلمون (انبیاء) “ صاحبان جو شخص معرفت حاصل س کا فرض ہے کہ ایسے علوم سے دل کو پاک وصاف کرے۔ کیونکہ وہ دل تجلی ہوتا ہے اور اغیار کی محبت سے بکلی صاف کر دے تاکہ راستے میں رکاوٹ بوں کی وجہ سے لوگ معرفت الٰہی سے محروم ہو رہے ہیں۔ خدا پر توکل کرے۔ لے۔ اپنے آپ کو کسی سے بہتر نہ سمجھے۔ فخر و غرور نہ کرے۔ صبر کرے خاموش سے رک جائے۔ کیونکہ زبان کی آگ روح کو جلا دیتی ہے۔ غیبت نہ کرے۔ ا، روشنی مرجاتی ہے۔ قلیل پر قناعت کرے۔ جن کو انقطاع الی اللہ کا مقام س کو غنیمت سمجھے۔ سحری کے وقت ذکر میں مشغول ہو جایا کرے۔ ماسوائے ۔ غفلت چھوڑ دے۔ حصہ داروں کو حصہ دے۔ ناداروں پر احسان واعطاء کرے۔ جانوروں کی رعایت کرے۔ انسان اور اہل ایمان اور خصوصاً جانان

صفحہ ١٨٢

تارك فيكم الثقلين كتاب الله وعترتى“ اگر احادیث کا اعتبار ہوتا تو آپ اس فقرہ میں احادیث کو درج فرماتے اور جب عترۃ کا وجود بھی نہیں رہا۔ اس لئے صرف کتاب اللہ قرآن ہی قابل تمسک رہا۔ ”آلم . ذلك الكتاب لا ريب فيه . هدى للمتقين “ حروف مقطعہ میں اشارہ ہے کہ اے محمد ہم نے تیری طرف یہ کتاب بھیجی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ وہ متقین کے لئے راہ ہدایت ہے۔ اس آیت نے فیصلہ کر دیا کہ: ” ثقل اعظم (قرآن)“ ہی خدا کی طرف سے مقرر ہے۔ اس کے مقابلہ پر فلاں وفلاں کا قول معتبر نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ان کی تصدیق کا حکم ہوتا تو اس آیت میں ضرور ذکر کیا جاتا اور یہ ظاہر ہے کہ جو شخص کتب سابقہ کا معترف نہیں وہ قرآن کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ یہ ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اس آیت کے اگر اسرار بیان کئے جائیں تو دنیا ختم ہونے تک بھی ختم نہ ہوں۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ: ”ان كنتم في ريب مما نزلنا“ اگر تم کو ان آیات میں شک ہے جو ہم نے اپنے رسول پر نازل کئے ہیں تو اپنے علمائے عصر کو بلا کر اس کی مثل پیش کرو۔ اس سے ثابت ہوا کہ آیات نازلہ اعظم ترین دلیل قاطعہ ہوتے ہیں اور دوسرے دلائل قطعیہ ان کے مقابلہ پر شمس کے مقابلہ میں ستارہ کا حکم رکھتے ہیں اور ان میں دو قسم کی تاثیر ہے کہ تابعداروں کو حب الہی میں ترقی دیتی ہیں اور دشمنوں کو غفلت میں سرد کر دیتی ہیں۔ آیت ” فبای حدیث بعد الله واياته يؤمنون (جاثیہ) “ میں بتایا ہے کہ ظہور حق اور آیات نازلہ چھوڑ کر کس کو ماننا صحیح ہے؟ پھر فرمایا کہ: ” ويل لكل افاك اثيم . يسمع آيات الله تتلى عليه ثم يصر مستكبر (جاثیہ) “ جو شخص آیات اللہ ماننے میں غرور کرتے ہیں۔ ان کو سخت عذاب ہوگا۔ ” في هذه الآية كفاية لكل من في الارض لوكانوا فى آيات ربهم يتفرسون “ مگر افسوس ہے کہ آج آیات نازلہ سے بڑھ کر لوگوں کے نزدیک کوئی نکمی چیز نہیں ہے۔ یہ وہی کہیں گے جو ان کے باپ کہتے چلے آئے ہیں۔ ” فالنار مثواهم . فبئس مثوى الظلمين . اذا علم من اياتنا شيئاً اتخذها هزواً اولئك لهم عذاب مهين (جاثیہ) “ یہ بھی ایک مخول ہے کہ آیات کے ہوتے ہوئے کوئی اور معجزہ مانگا جائے کہ: ” فاسقط علينا كسفاً من السماء (شعراء) “ ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دو۔ ” یا امطر علينا حجارة من السماء (انعام) “ آسمان سے پتھر برسا دو۔ یہودیوں نے آسمانی مائدہ کی تبدیلی میں لہسن پیاز حاصل کیا تھا اور یہ لوگ بھی آیات منزلہ کو ظنون فاسدہ سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ مائدہ معنویہ آسمان سے نازل ہو رہا ہے اور وہ کتوں کی طرح مردار پر جمع ہو رہے ہیں۔ تعجب ہے کہ سورج دیکھ کر اس کے وجود پر دلیل مانگتے ہیں۔ ہاں ہاں اندھے ہیں۔ جن کو

صفحہ ١٨٣

صرف سورج کی گرمی محسوس ہوتی ہے اور قرآن سے بھی ان کو صرف حروف کی شکلیں ہی نظر آتی ہیں۔ ”قالوا ائوا بابائنا ان كنتم صادقين (جاثیه)“ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادے واپس لا کر دکھلاؤ۔ حالانکہ آیات نازلہ سے مردہ دل زندہ ہو گئے جو خلق سماوات سے بھی زیادہ تر مشکل کام ہے اور ہر ایک آیت تمام دنیا پر حجت کامل ہے۔ ”لو کنتم في آیات الله تتفکرون“ یہ عذر بالکل قابل شنوائی نہیں کہ آیت الہی کو عوام نہیں سمجھ سکتے۔ کیونکہ قرآن شریف تمام عالم کے لئے آیا ہے۔ اگر عوام میں ادراک نہ ہوتا تو اس کی صداقت کیسے ظاہر ہوتی؟ ہاں معرفت الہی مشکل ہے جو عوام نہیں پاسکتے۔ مگر فہم آیات اور معرفت الہی دوامر الگ الگ ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ایسے بہانوں سے علمائے عصر حق سے اعراض کر رہے ہیں۔ سچ پوچھو تو ان سے وہ عوام ہی اچھے ہیں جو فوراً حق قبول کر لیتے ہیں۔ کیونکہ ادراک حق کے لئے کسی خاص علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ ضرورت صرف اس امر کی ہوتی ہے کہ اپنے ظنون فاسدہ سے خالی ہو کر ادراک حق کے لئے پیش ہوں۔ ”فطوبى للمخلصين من انوار يوم عظيم . والذين كفروا بايات الله ولقائه اولئك يئسوا من رحمتی واولئك لهم عذاب اليم (عنكبوت) ويقولون ائنا لتاركوا الهتنا لشاعر مجنون (صافات)“

ادبی لیاقت

حضور ﷺ کے متعلق ان کا خیال تھا کہ ادھر ادھر کی باتیں جمع کر کے اساطیر الاولین بنا کر پیش کر دیتا ہے۔ اس وقت میرے متعلق بھی یہی کہتے ہیں کہ غلط سلط عربی لکھ کر کہہ دیتا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ ”قد كبر قولهم وصغر شانهم وحدهم“ لوگوں نے کہا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام وعیسیٰ علیہ السلام کے بعد کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آئے گا۔ کیونکہ ایسے نبی کی ضرورت ہے جو پہلی شریعت کی تجدید کرے تو یہ نازل ہوا کہ: ”لقد جائكم يوسف من قبل (مومن)“ یوسف علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے تو تم کو ان کے متعلق ہمیشہ شک رہا۔ مگر جب انتقال فرما گئے تو تم نے کہہ دیا کہ اب کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا۔ وہمیوں کو خدا تعالیٰ ایسا ہی گمراہ کیا کرتا ہے۔ یہ مرض تمام امتوں میں پھیلا ہوا ہے۔ عیسائی کہتے تھے کہ انجیل کا نسخ نہیں ہو سکتا۔ اب محمدی بھی کہتے ہیں کہ چونکہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ اس لئے کوئی صاحب شریعت نبی نہیں آسکتا۔ حالانکہ خود یہ بھی ساتھ ہی پڑھتے ہیں کہ: ”ما يعلم تاويله الا الله والراسخون في العلم (آل عمران)“ راسخ فی العلم اور خدا کے سوا اس کی تشریح کوئی نہیں جانتا۔ مگر جب کوئی

صفحہ ١٨٤

راسخ فی العلم تشریح کر دیتا ہے تو ایسی ویسی باتیں کہنے لگتے ہیں۔ کیونکہ ان کے مطلب کی بات نہیں ہوتی۔ درحقیقت علمائے عصر نے ان کو بگاڑا ہوا ہے اور یہ سب ان کی شرارت ہے کہ جن کا مذہب پیسہ ہے اور جن کا خدا اپنا نفس امارہ ہے اور حجاب علم میں آکر گمراہ ہوچکے ہیں۔

مخالفین پر فتویٰ کفر

”أفرأيت من اتخذ الهه هواه (جاثیہ) “ دیکھا جنہوں نے نفس امارہ کو اپنا خدا بنا لیا ہے اور باوجود تعلیم یافتہ ہونے کے ان کو خدا نے گمراہ کر دیا ہے اور سمع وبصر پر مہر لگادی ہے۔ آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اب ان کو ہدایت کرے تو کون کرے۔ اس آیت میں علمائے عصر کا حال مذکور ہوا ہے کہ اپنے علوم پر نازاں ہوکر علوم الہیہ سے غافل ہورہے ہیں۔ ”ھو نباء عظيم انتم عنه معرضون (ص) ماهذا الا رجل يريد ان يصدكم عما كان يعبد اباكم (سبا) ماهذا الا افك مفترى“ کہتے تھے کہ یہ آدمی تم کو اپنے باپ دادوں کی طرز عبادت سے روکنا چاہتا ہے اور جو کچھ پیش کرتا ہے وہ خدا کے ذمہ افترا باندھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ یہ بے ایمانی کرنے آیا ہے اور کچھ آپ کو مجنون کہتے تھے۔ آج بھی یہی حالت ہے۔ آیات آسمان سے بارش کی طرح نازل ہورہی ہے اور اس قدر فیوضات الہیہ ظاہر ہورہے ہیں کہ اس سے پیشتر ان کی نظیر نہیں ملتی۔ کیونکہ جس قدر پہلے انبیاء آئے ان کی کتابیں محدود اوراق میں بند تھیں۔ مگر یہاں اس قدر نزول آیات الہیہ ہے کہ ابھی تک کسی کو خبر نہیں کہ ان کی انتہاء کہاں تک ہے؟۔

بیشمار نزول آیات سے انکار

چنانچہ اس وقت ہمارے ہاتھ میں بیس مجلد موجود ہیں اور کئی ایک کتابیں ابھی تک دستیاب نہیں ہوئیں اور کچھ ایسی بھی کتابیں ہیں کہ مشرکوں کے قبضہ میں ہیں۔ غرضکہ اس وحی کی کوئی انتہاء ابھی تک معلوم نہیں ہوئی۔ ہاں جس قدر دستیاب ہوئی ہیں ان پر عمل کرو اور خدا کے فضل میں جگہ پاؤ۔”وانه بعباده لغفور رحيم (مائده) يا اهل الكتاب هل تنقمون منا (آل عمران)“ جب لوگوں نے اسلام کو کفر قرار دیا تھا اور صحابہ کو کہتے تھے کہ تم کیوں ایک مفتری اور ساحر کذاب کے قبضہ میں آگئے ہو اور ہر طرح سے سب و شتم اور رجم وزجر سے ان کو ستاتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ ان سے کہہ دو کہ کیا تم صرف اس لئے ہمیں ستاتے ہو کہ ہم شریعت جدیدہ کے قائل ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ہم پہلے انبیاء کو بھی مانتے ہیں۔ اب کیا یہ جائز ہے کہ جو آیات بدیعہ مشرق ومغرب تک پھیل چکی ہیں۔ یہ لوگ ان سے معرض ہوکر ایماندار رہ سکتے ہیں؟ یا یہ کہ خود

صفحہ ١٨٥

خدائے تعالیٰ اقرار کرنے والوں کو کافر قرار دے سکتا ہے۔ ” حـاشا وكلا اذ انه مثبت الحق باياته وحقق الامر بكلماته انه لهوا لمقتدر المهيمن القدير . ولو نزلنا عليك كتاباً في قرطاس فلمسوه بايديهم لقال الذين كفروا ان هذا الا سحر مبين (انعام) “ اس قسم کی آیات بہت ہیں۔ مگر ہم نے اختصار سے کام لیا ہے۔ اب خود خیال کرو کہ منکرین اور بخیل کرنے والوں پر نار جہنم کا وعدہ نازل ہوا ہے۔ اس وقت اگر کوئی مبعوث ہو کر کروڑہا آیات خطب یا صحائف اور مناجات پیش کرے۔ بغیر اس کے کہ اس نے کسی سے تعلیم حاصل کی ہو تو پھر کیسے اعتراض ہو سکتا ہے۔ کیا صرف حدیث کی بناء پر کہ جس کی اصلیت خود نہیں سمجھتے یا کسی ایسے شخص کے کہنے پر جو شیطان عصر بن کر لوگوں کو بہکا رہا ہے۔ ایسے شخص سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ جس نے کئی ایک کتابیں بھی مرتب کی ہوں۔ جیسے کہ بعض انبیاء پر کتابیں نازل ہوئی تھیں۔ اب ان کو اقرار کرایا جائے تو کس طریق سے کرایا جائے۔ ” بل ولکل وجهة هو موليها فقد هديناك السبيلين ثم امش على ماتختار لنفسك . وهذا قول الحق . وما بعد الحق الا الضلال “

چار سو علمائے عصر کی شہادت

گزشتہ انبیاء کی تصدیق جب معمولی آدمیوں نے کی تو ذی وجاہت اعتراض کرتے تھے کہ اراذل الناس کے سوا کسی نے پیروی نہیں کی۔ ” فقال الذين كفروا من قومه ما نراك الا بشرا مثلنا ما نراك الا اتبعك الذين هم اراذلنا بادى الراى (هود) “ ہاں اگر اہل علم ایمان لاتے تو قابل توجہ بھی ہوتا۔ مگر اس وقت ظہور اظہر کی بعثت کو بہت سے علمائے عصر نے بھی تسلیم کر لیا ہوا ہے تو اب کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ زیادہ اطمینان کے لئے چند فقہائے عصر کا نام پیش کرتا ہوں۔ اول محمد حسین جو محل اشراق شمس ظہور ہوئے ہیں۔ ” لولا مـاسـتـوى الله عـلـى عـرش حـمـايـتـه ومـا اسـتـقـر علـى كرسـي صمد انيته “ دوم آقاسید یحییٰ جو وحید عصر تھے۔ سوم محمد علی زنجانی۔ چہارم ملا علی بستامی۔ پنجم ملا سعید بار فروش۔ ششم نعمت اللہ مازندرانی۔ ہفتم ملا یوسف اردبیلی۔ ہشتم ملا مہدی خوئی۔ نہم آقا سید حسین ترشیزی۔ دہم ملا علی برقانی وغیرہ چار سو تک ہیں۔ جن کے نام لوح محفوظ الٰہی میں درج ہیں۔ ان سب نے ایمان کے جوش میں مال و جان بھی فدا کر دیا تھا اور مشرکوں کے ہاتھ سے قتل بھی ہو چکے تھے تو کیا ان لوگوں کی شہادت منظور ہو سکتی ہے یا ان لوگوں کی جو زخارف دنیا میں مشغول ہو کر منکر ہورہے تھے۔ ” تاهت العقول فى العقول في افعالهم وتحيرت النفوس في اصطبارهم وبما حملت

صفحہ ١٨٦

اجسادهم‘‘ کیا ایسا انکار کسی شریعت میں جائز ہو سکتا ہے؟ اور سنئے جناب حسین علیہ السلام کی شہادت کو صداقت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ ان نفوس مقدسہ کی شہادت کو علامت صدق نہ قرار دیا جائے۔ حالانکہ جناب امام کی شہادت صرف صبح سے ظہر تک جاری تھی اور ان کی شہادت کا سلسلہ پورے اٹھارہ برس جاری رہا اور وہ مصائب اٹھائے جو حضرت امام کو پیش نہ آئے تھے۔ کیا ان لوگوں نے وجاہت دنیاوی کے لئے اتنے مصائب برداشت کئے تھے؟ یا کیا زمانہ ان سے بڑھ کر کوئی ایسی جماعت پیش کر سکتا ہے کہ جنہوں نے اس جانفشانی سے کام کیا ہو؟ سوچو تو یہی نشان صداقت کافی ہوگا۔ ’’لوکان الناس فى اسرار الامر يتفكرون . وسيعلم الذين كفروا اى منقلب ينقلبون (شعراء) فتمنوا الموت ان كنتم صادقین (جمعه)‘‘ اس آیت میں نشان صداقت تمنائے موت قرار دیا گیا ہے۔ جو ان نفوس مقدسہ میں پایا جاتا ہے۔ اس کسوٹی پر امتحان کر لینا چاہئے کہ آیا ان لوگوں کی شہادت قولی تھی معتبر ہوسکتی ہے کہ جنہوں نے مال کے پیچھے دین بھی ضائع کر دیا ہوا ہے اور اسلام میں ایک ذرہ بھی خرچ نہیں کیا۔ ’’يا ابن الانسان قد مضت عليك ايام، واشتغلت فيها بما تهوى به نفسك من الظنون والاوهام، الى متى تكون راقدا على بساطك فارفع راسك عن النوم فان الشمس قد ارتفعت فى وسط الزوال، لعل تشرق عليك بانوار الجلال والسلام‘‘ ان میں سے کوئی عالم ذی وجاہت نہ تھا کہ جس کے ہاتھ میں لوگوں کی تکمیل ہوتی۔ شاید ایک دو ایسے بھی ہوں تو تعجب نہیں۔ کیونکہ وارد ہے کہ: ’’قليل من عبادی الشکور (سبا)‘‘ حالانکہ رب اعلیٰ نے ہر ایک نامور عالم اور فقیہ کے نام تبلیغی مکتوب بھی روانہ کر دیئے تھے۔ اب یہ شبہ بھی رفع ہو گیا جو اہل جویان کو دوسری قیامت میں پیدا ہو سکتا تھا۔ کیا وجہ ہے کہ ظہور بیان میں تو علمائے نامور کی ایک جماعت بھی شامل ہو گئی تھی اور اس ظہور میں کوئی عالم نامور شامل نہیں ہوا۔ ایک اور دلیل یہ ہے کہ عالم شباب میں جناب نے اس استقامت سے اپنے دعوے پر قیام کیا کہ ہرگز کسی سے خوف نہیں کیا۔ تو کیا یہ جنون تھا؟ جیسے انبیاء قبل کے متعلق خیال کیا گیا تھا اور یا حب ریاست نے یہ سب کام کروا ڈالے تھے؟ واللہ نہ یہ جنون تھا اور نہ ہی حب ریاست نے اس پر آمادہ کیا تھا۔ کیونکہ اپنی پہلی تصانیف میں کہ جن کو قیوم اسماء کے نام ملقب کیا ہے۔ ان میں اپنے قتل کی صاف شہادت پیش کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ: ’’يا بقية الله قد فديت بكلى لك ورضيت السب فى سبيلك، وما تمنيت الا القتل فى محبتك، وكفى بالله العلى معتصما قديما‘‘ اور تفسیری تحریرات میں لکھتے ہیں کہ:

صفحہ ١٨٧

"کانی سمعت مناديا ینادی فی سری افد . احب الاشیاء لديك فى سبيل الله كما فدى الحسين عليه السلام ، فلولا كنت ناظرا بذلك السر الاوقع فوالذی نفسی بیده لواجتمعوا ملوك الارض لن يقدروا ان ياخذوا منى حرفا فكيف عبيد الذي ليس لهم شان بذلك وانهم مطرودون ...... ليعلم الكل مقام صبرى ورضائى وفدائى فى سبيل الله “ اب منکرین کو دیکھئے کہ کس قدر ان میں نسناس اور بندر ہیں۔ جو حق کو نہیں دیکھتے اور مطالعہ قدسیہ کی طرح طرح کی نسبت دیتے ہیں۔ ”كذلك نذكر لك ما اكتسبت ايدى الذى كفروا واعرضوا عن لقاء الله في يوم القیمه وعذبهم الله فى نار شركهم واعد لهم فى الاخرة عذابا تحترق به اجسادهم وارواحهم . ذلك بانهم قالوا بان الله لم يكن قادرا على شئى . وكانت يده عن الفضل مغلولة “ یہی استقامت علامت صداقت ہے۔ چنانچہ حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ: ”شيبتنى الايتين “ مجھے دو آیتوں نے بوڑھا کر دیا۔ یعنی ان دو آیتوں نے کہ: ” فاستقم كما امرت (هود) “ صداقت کی ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ غلبہ اور قدرت خود بخود پیدا ہوتا چلا گیا ہے۔ آپ شیراز میں ٦٠ھ میں ظاہر ہو کر مصروف تبلیغ ہوئے تو چار اطراف میں آپ کی تبلیغ اس سرعت سے پھیل گئی کہ مخالفین ہر طرف سے رد و قدح پر آمادہ ہو گئے۔ ہزاروں صاف باطنوں نے آپ کو قبول کر لیا اور کئی ایک علوم لدنی کے کرشمے ظاہر ہوئے اور سینکڑوں نے اس راہ میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ ادھر سے رضا بالقضاء کا منظر تھا اور ادھر اذیت و ظلم کا نقارہ بج رہا تھا اور ان کی جان لینے کو موجب ثواب قرار دیا گیا تھا اور کسی تاریخ عالم میں اس کثرت سے نہ کسی پر ظلم ہوا اور نہ کسی نے اس صبر واستقلال سے اپنی جان دینے میں رضا بالقضا کا اظہار کیا ہے۔ ایک اور دلیل صداقت یہ بھی ہے کہ لوگوں نے ہر طرف سے لعن وطعن کیا اور رد و سب کے مقابلہ پر ان شہسواران میدان رضا نے انقطاع کلی اور تسلیم کامل اختیار کی اور جو کچھ بھی وقوع میں آیا۔ اس کی خبر پہلے ہی کتب میں دی گئی تھی۔ روایت ہے کہ: ”اذا ظهرت راية الحق لعنها اهل الشرق والغرب، ساعة خير من عبادة سبعين سنة “

تنسیخ شریعت

آخر غور کرنا چاہئے کہ اس قدر لعن وطعن کیوں پیدا ہوا اور کس لئے ” جميع من فى الارض“ مخالفت پر تل گئے؟ جواب ظاہر ہے کہ تمام اطراف عالم میں یہ مشہور تھا کہ ان کی شریعت قابل تنسیخ نہیں اور یہ رسوم و رواج قیامت تک جاری رہیں گے۔ اگر یہ نفوس قدسیہ تنسیخ

صفحہ ١٨٨

شریعت کے لئے کھڑے نہ ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ کوئی بھی مخالفت کرتا۔ مگر منظور خدا یہی تھا کہ تبدیل شریعت ہو ورنہ مظہر حق کا مبعوث کرنا بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ لوگ اگر تحقیقی روایات کا بھی مطالعہ کرتے تو ضرور اس حکم کی بھی تعمیل کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے۔ مگر کیا کریں اس قسم کی روایات کو ہاتھ تک نہیں لگاتے۔ اس لئے ہمیں ان کا اظہار ضروری معلوم ہوتا ہے۔ اوّل قرآن شریف میں ہے کہ: ”يوم يدع الداع الى شئ نكر (قمر)“ ایک دن داعی الی الحق ایک نئی شریعت کی دعوت دے گا اور چونکہ یہ ندائے الٰہی ان کے ہوائے نفسانی کے خلاف ہوگی۔ اس لئے اس کو شئی نکر سمجھیں گے۔ اس قسم کی آیات اور بھی ہیں۔ جن سے تنسیخ شریعت کا اظہار ہوتا ہے۔ مگر یہ لوگ امر بدیع کے منتظر تو ہیں۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ شریعت قرآنی پر عمل پیرا ہونے کا حکم دے گا۔ جیسے یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ مسیح تورات و انجیل پر عامل ہوگا۔

دوم دعائے ندبہ میں ہے کہ: ”اين المدخر لتجديد الفرائض والسنن واين المتخير لاعادة الملة والشريعة“ سوم زیارت قبور میں ہے کہ: ”السلام على الحق الجديد سئل ابو عبدالله عن سيرة المهدى كيف سيرته قال ايصنع ما صنع رسول الله ﷺ ويهدم ما كان قبله كما هدم رسول الله امر الجاهلية“ چہارم کتاب العوالم میں ہے کہ: ”يظهر من بنى هاشم صبى ذو كتاب واحكام جديد واكثر اعدائه العلماء“ پنجم اسی میں ہے کہ: ”قال صادق بن محمد ولقد يظهر صبى من بنى هاشم ويأمر الناس ببيعة وهو ذو كتاب جديد ـ يبايع الناس بكتاب جديد على العرب شديد فان سمعتم منه شيئا فاسرعوا اليه“ مگر برعکس اس کے لوگ اس صبی کی طرف تلواریں لے کر دوڑے اور علمائے اسلام نے کینہ و غضب کی برچھیاں چلائیں۔ وہ اگر جوہر حق کو بیان فرماتے ہیں تو فوراً تکفیری فتویٰ شائع ہو جاتا ہے کہ یہ قول ائمہ دین کے خلاف ہے۔ ششم اربعین میں ہے کہ: ”يظهر من بنى هاشم صبى ذو احكام جديد فيدعو الناس فلم يجيئه احد ـ واكثر اعدائه العلماء ـ فاذا حكم بشئى لم يطيعوه فيقولون هذا خلاف ما عندنا من ائمة الدين“ اور مخالفین کو یہ پتہ نہیں کہ جناب امام کو ”يفعل ما يشاء ويحكم ما يريد“ کا مرتبہ حاصل ہے۔ ہفتم بحار الانوار عوالم اور ینبوع میں امام صادق سے روایت ہے کہ: ”العلم سبعة وعشرون حرفا وجميع ما جاءت به الرسل حرفان ولم يعرف الناس حتى اليوم غير الحرفين فاذا قام قائمنا اخرج الخمسة والعشرين حرفا“ اس روایت سے ثابت

صفحہ ١٨٩

ہوتا ہے کہ جناب کا مرتبہ تمام انبیاء اولیاء اور اصفیاء سے بلند تر ہے۔ کیونکہ وہ از آدم تا خاتم صرف دو حرف ہی ظاہر کر سکے۔ مگر امام الزمان پچیس حرف قائم کر کے پورے ستائیس حرف بتائے گا اور تعلیم الہی کی تکمیل ہوگی۔ کیونکہ اس کی تعلیم ٢٧ حروف میں مضمر ہے۔ تعجب ہے کہ انبیاء سابقین تو ٢٥ حرف نہیں بتا سکے۔ مگر علمائے عصر ( ہمج رعاع ) جناب کی مخالفت میں اتر کر تمام علوم کے مدعی بنے بیٹھے ہیں اور اپنے آپ کو انبیاء سابقین سے بھی زیادہ عالم تصور کرتے ہیں۔ ”ام تحسب ان اكثرهم يسمعون او يعقلون ٠ ان هم الا كالانعام بل هم اضل سبيلا (فرقان)“ ہشتم کافی میں ہے کہ: ”جاء فى لوح فاطمة فى وصف القائم عليه بهاء عيسى وكمال موسى وصبر ايوب فيذل اولياوه فى زمانه، وتتهادى رؤسهم كما تتهادى رؤس الترك والديلم فيقتلون ويحرقون ويكونون خائفين مرعوبين وجلين، تصبغ الارض بدمائهم، ويفشق الويل والزنه فى نسائهم اولئك اوليائى حقاً“ اگر شریعت جدیدہ درمیان میں نہ ہوتی تو ایسے علامات کیوں ظاہر ہوتے۔ نہم روضہ کافی میں بروایت معاویہ بن وہب عن ابی عبداللہ مذکور ہے کہ:”قـــال اتعرف الزوراء قلت جعلت فداك يقولون انها بغداد قال لا ٠ ثم قال دخلت الرى قلت نعم قال دخلت سوق الدواب قلت نعم ٠ قال رايت جبل الاسود عن يمين الطريق ٠ تلك الزوراء ٠ يقتل فيها ثمانون رجلا من ولد فلان كلهم يصلح الخلافة قلت من يقتلهم قال يقتلهم اولاد العجم“ لوگ دیکھ چکے ہیں کہ ان اصحاب کو رے شہر میں بدترین عذاب کے ساتھ قتل کیا جا چکا ہے۔ مگر ان خراطین الارض کو پھر بھی عقل نہیں آتی اور صرف چند روایات لے کر منکر ہو گئے ہیں۔ مگر سب شرارت علمائے عصر کی ہے کہ جن کے متعلق امام صادق کا قول ہے کہ:”فقهاء ذلك الزمان شرفقهاء تحت ظل السماء منهم خرجت الفتنة واليهم تعود“ اب میں علمائے عصر کی خدمت میں گذارش کرتا ہوں کہ اس مظہر علوم کا مقابلہ چھوڑ دیں اور اپنے علوم وفنون کو بالائے طاق رکھ کر مظہر علوم تامتناہی کی طرف رجوع کریں۔ مگر ایک رجل اعور جو رئیس القوم ہے اور جس کے اشارے پر سب چلتے ہیں۔ اس نے مخالفت پر خوب کمر بستہ ہو کر اظہار عداوت کر رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے اہل حق جلا وطن ہو گئے ہیں اور کچھ مارے بھی گئے ہیں۔ امید ہے کہ اہل بیان ہماری اس تقریر سے مستفید ہوں گے۔ اگر چہ حسد وبغض کی ہوا دور تک چلی گئی ہے۔ جس کی نظیر ابتدائے آفرینش عالم سے (اگرچہ اس کی کوئی ابتداء نہیں) آج تک نہیں ملتی اور اس عہد کے مخالفت میں طرح طرح کی

صفحہ ١٩٠

اذیت کے وسائل سوچ رہے ہیں۔ حالانکہ میں کسی سے مخالفت نہیں کرتا۔ ہر ایک کا مصاحب رہا ہوں۔ کسی پر فخر نہیں کیا اور علماء و فضلاء کے سامنے بھی سر تسلیم خم رکھا ہے۔

ہجرت

میں جب یہاں آیا تو پہلے سے ہی مجھ کو معلوم ہو چکا تھا کہ نئی نئی شرارتیں کھڑی کی گئی ہیں۔ تو میں نے ہجرت کی ٹھان لی اور پورے دو سال ہجرت میں گزارے۔ حالت یہ تھی کہ آنکھوں سے چشمہ جاری تھا اور دل سے غم والم کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ مگر اس تنہائی میں پڑھ بھی مجھے سرور کامل حاصل تھا اور یہ خیال بھی نہ تھا کہ میں واپس جاؤں گا اور موجب اختلاف ثابت ہوں گا۔ مگر مصدر حکم سے حکم جاری ہوا کہ واپس جاؤ۔ مجبوراً واپس آیا تو وہ حالات دیکھے کہ جن کے بیان سے قلم قاصر ہے۔ اب واپس آئے ہوئے بھی دو سال ہورہے ہیں کہ لوگ میری جان کے در پے ہیں اور میں بکمال تسلیم اپنی جان ہاتھ پر رکھ کر حاضر ہوں کہ میری جان خدا کی راہ میں چلی جاوے۔ واللہ اگر یہ مقصد نہ ہوتا تو میں مدت سے اس شہر کو خیر باد کہہ کر چلا جاتا۔ ’اختم القول بلا حول ولا قوة الا بالله وانا لله وانا اليه راجعون‘ دہم مفضل کی روایت ہے کہ: ”سئل عن الصادق فكيف يا مولاى فى ظهوره فقال في سنة الستين يظهر امره وبعدہ ونکره“ اس میں زمانہ ظہور ظاہر کیا گیا ہے۔ یازدہم ”فى البحار ان في قائمنا اربع علامات من اربعة نبي العلامة من موسى الخوف والانتظار واما العلامة من عيسى ما قالوا في حقه والعلامة من يوسف السجن والتقية والعلامة من محمد يظهر بآثار مثل القرآن“ مجھے امید نہیں کہ مخالف اب بھی ہماری گزارش پر کان دھریں گے۔ ”الا من شاء ربك ان الله يسمع من يشاء وما انا بمسمع من في القبور“

ابتلاء و امتحان

واضح رہے کہ کلام ائمہ دو طرح پر ہے۔ ایک وجہ ظاہر جس کا مطلب ہر ایک سمجھ سکتا ہے۔ جیسا کہ روایات مذکورہ میں بیان ہو چکا ہے۔ دوم وجہ باطن کہ جس میں اصل مقصد پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ تاکہ ایمان کا امتحان لیا جائے اور کھرے کھوٹے کی پہچان ہوسکے۔ ”عن الصادق والله ليمحصن والله لا يغربلن لكل علم سبعون وجها وليس بين الناس الا واحد واذ اقام القائم يبث باقى الوجوه بين الناس نحن نتكلم بكلمة ونريد منها احدى سبعين وجها ولنا لكل منها المخرج“ اب جن روایات کو مخالفین

صفحہ ١٩١

پیش کرتے ہیں ان کا حل مظہر حق کے سوا کسی اور سے نہ پوچھنا چاہئے۔ کیونکہ روایت مذکورہ بالا کی یہی ہدایت ہے۔ لیکن یہ لوگ ارض نسیان میں ساکن ہورہے ہیں اور اہل بغی وطغیاں کے تابعدار ہیں۔”لكن الله يفعل بهم كما هم يعلمون وينساهم كما نسو القائه فى ايامه . وكذلك قضى على الذين كفروا يقضى على الذين كانوا باياته يجحدون . واختم القول بقول تعالى ومن يعش عن ذكر الرحمن نقيض له شيطانا فهو له قرين (زخرف) ومن اعرض عن ذكرى فان له معيشة ضنكا (طه) وكذلك نزل من قبل لو انتم تعقلون ، المنزول من الباء والهاء والسلام على من سمع نغمة الورقاء في سدرة المنتهى ، فسبحان ربنا الاعلى (١٣١٨ه، ١٩٠٠ء قل هذا يوم فيه تمت الحجة وظهرت الكلمة ولاح البرهان انه يدعوكم بما ينفعكم ويامركم بما يقربكم الى الله مالك الاديان) “ نوٹ! خطوط وحدانیہ کی عبارت کتاب مستطاب کے پہلے صفحہ پر درج ہے۔

٨...... بہائی مذہب کے متعلق اہل اسلام کے خیالات

اقدس کو جو جناب بہاء پر نازل سمجھی جاتی ہے۔ وحی آسمانی سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی غیر بہائیوں کو اپنے مذہب کے رو سے اور قرآن مجید کے رو سے بھی بے ایمان اور کافر یقین کرتے ہیں۔

حکومت ایران سے اس مذہب کی روک تھام کے لئے کوشش کی اور تحریرات تنقیدانہ کے ذریعہ ان کی تردید کی خواہ وہ اہل ثروت تھے یا اہل علم۔ ان کو اس نفرت سے دیکھتے ہیں کہ شیطان بھی اس سے کم نظر آتا ہے۔

اپنی حفاظت خود اختیاری میں ایسے ثابت قدم ہوئے کہ حکومت ایران کو یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ: "اقتلوهم حيث وجدتموهم“

اور تمام لوگ ایک ہی درخت کے پتے ہیں۔ مگر عملی طور پر مسلمانوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ خطا کار اور قابل احتراز جانتے ہیں اور ان کو مظہر شیطان اور ہمج رعاع کا خطاب دیتے ہیں۔

صفحہ ١٩٢

کیا اور اب تک بھی ان کا یہی دستور العمل ہے کہ گوش شنواء بہت ہیں ۔ مگر چشم بینا نہیں ملتی ۔

بہائیت کی ہدایات تمدن یورپ اور بالشوِزم پر مبنی ہیں اور ان کی اپنی عبادات کی طرز ادائیگی بھی یہود و نصاریٰ سے ملتی جلتی ہے ۔

کو بھی علم الٰہی اور مظہر الٰہی کا نتیجہ ظاہر کیا ہے اور دعویٰ اس زور سے کیا ہے کہ آج تک اس دنیا میں ان کی نظیر پائی نہیں گئی ۔

اصول پر ان کی عربیت بالکل طفل نو آموز کی تک بندی معلوم ہوتی ہے ۔ ناظرین اہل دانش خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو عربی عبارات اس موقعہ پر نقل کی گئی ہیں ۔ وہ کس قدر عربی مبین سے دور ہیں ۔ ہاں روزمرہ کے محاورات اور گفتگو میں گورے عاشق اور بابو انگلش کی طرح ان کو بھی ید طولیٰ کا دعویٰ ہے اور اپنی غلط نویسی کو بھی تجدید اللسان کا معجزہ سمجھتے ہیں ۔

تھے ۔ مگر چونکہ عرب و فارس کے باہمی گہرے تعلقات کی وجہ سے اعلیٰ طبقہ کے لوگ عام طور پر اتنی عربی ضرور حاصل کر سکتے ہیں جو ملا آن ست کہ بندہ شود کا سہارہ پیدا کر سکے ۔ تو علم لدنی کے دعویٰ کرنے میں آسانی کے ساتھ کامیاب ہو گئے ۔ کیونکہ یہ اصول ناقابل تردید ہے کہ دارالخلافہ کے باشندے عام رعایا سے علم و فضل میں اگرچہ باقاعدہ تعلیم نہ بھی پائیں کسی قدر بڑھے ہوتے ہیں ۔ بالخصوص طبقہ وزارت اور نظم و نسق کے مالک تو روزمرہ کے چشم دید واقعات سے تجربہ حاصل کرتے ہوئے اور مختلف ممالک کی زبانوں سے آشنائی کی وجہ سے باقی سکنائے دار الخلافہ سے اور بھی فوقیت رکھتے ہیں ۔ اس لئے اگر ان کا ہر ایک فرد بشر علم لدنی کا مدعی بن کر اعجاز نمائی کرنے لگے تو بے جا نہ ہو گا ۔

(جیک اوف آل ماسٹراوف نن) وہ تمام مذاہب کو صحیح مانتے ہیں اور عمل درآمد کسی پر نہیں تو گویا ہر ایک مذہب سے شائستہ طور پر بیزاری کا طریق سکھانے میں یہ مذہب عام دہریت سے بھی بڑھ کر ثابت ہوا ہے ۔

صفحہ ١٩٣

جاتا ہے۔ جس کا مطلب ہزار سال کے بعد صرف طہران اور شیراز میں چند مدعیان ربوبیت کی تعلیم میں کھلا ہے اور یہ کتنا بڑا خدا پر افتراء باندھا گیا ہے کہ اس نے ہزار سال تک مسلمانوں کو یہ بصیرت ہی نہیں بخشی کہ وہ قرآن وحدیث کو اس طرح سمجھیں۔ جس طرح کہ شیرازی اور طہرانی بہائی سمجھتے ہیں تو وہ رحمان ورحیم کیسے رہا۔

اس مذہب کی نکتہ آفرینی اور دماغ سوزی کا ایک شمہ بھی نظر نہیں آتا۔ اس لئے اسلامی اصطلاح میں اس قسم کی تاویلات کو تحریف کہا جاتا ہے۔ یا یوں کہو کہ مذہبی الفاظ کو محاورات عرب اسلوب اسلام اور تعارف مذہب سے نکال کر اپنی طرف سے ایک نیا جامہ پہنایا گیا ہے اور معانی جدید کے مقابلہ میں ازسرنو ان کو وضع کر کے ان کی اصلی کایا پلٹ کر دی ہے۔ مثلاً:

صفحہ ١٩٤

زردشتی تھا۔ اس لئے فارسی لکھنے میں اور زردشتی اصول کی نشر اشاعت میں اپنی نظیر آپ ہی تھے۔ مگر چونکہ عربی زبان سے ان کے آبا و اجداد آشنا ہو چکے تھے اور اسلام کی باقاعدہ تعلیم بھی صرف ذاتی قابلیت سے حاصل کی تھی۔ اس واسطے ان کی عربی پھسپھسی اور مذہبی استدلالات از قسم لا تقربوا الصلوٰۃ تھے اور یہی وجہ تھی کہ اس مذہب کو صرف ان لوگوں نے قبول کیا تھا کہ جن کی عربی مبین کمزور تھی اور مذہبی استدلال میں جدت پسند تھے۔ ورنہ صاف ظاہر تھا کہ جس قدر بھی قرآن وحدیث سے استدلال پیش کئے ہیں۔ ان کا ماحول ہی مخالف ہے اور ماقبل و مابعد ان کی تردید کر رہا ہے۔

ائمہ معصومین کی رو سے امام آخر الزمان جس کو قائم بامر اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ شخص واحد ثابت ہوتا ہے۔ مگر تاریخ بابیت کی قوت استدلالیہ نے صرف آٹھ سال کے اندر گیارہ شخص ایسے پیش کئے ہیں جو امام آخر الزمان بن کر باب ہونے کے بھی مدعی ہوئے ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ: ”قائم بامر اللہ “ ان کے نزدیک مفہوم کلی ہے۔ جس کے افراد متعدد ہو سکتے ہیں اور امید دلائی جاتی ہے کہ جس طرح ایک ہزار کے بعد رجعت اور بروز کے ذریعہ امام آخر الزمان مختلف مواقع اور متعدد شخصیتوں میں ظاہر ہوئے ہیں۔ پھر ہزار سال کے بعد اسی طرح یا کسی اور طرح ظاہر ہوں گے۔ اس تحدید مدت کی کوئی وجہ سوائے اس کے نہیں بتائی گئی کہ ہم نے فرما دیا ہے۔ چون وچرا کی گنجائش نہیں۔

صفحہ ١٩٥

ہے کہ اولیاء و اصفیاء بلکہ انبیاء و رسل کو بھی اس میں شامل کر لیا ہے۔ مگر اخیر میں آ کر سب پر برتری اور فوقیت کا دعویٰ کر کے درجہ اعتبار سے ایسا گرا دیا ہے کہ اب ان بزرگوں کی تعلیم پر عمل پیرا ہونا دخول فی النار کے مساوی سمجھ لیا گیا ہے۔

تسلیم کر لیا ہے تو بابی اور بہائی تعلیم نے کچھ کمی نہیں رکھی۔ القائم بامر اللہ کی صداقت کے نشانات گیارہ مشہور ابواب اور باقی غیر مشہور بابوں پر تقسیم کر دیئے ہیں اور جو باقی بچے تھے وہ ظہور اعظم نے توڑ موڑ کر اپنے اوپر منطبق کر لئے ہیں اور آئندہ کے لئے مدعیان امامت کے لئے راستہ صاف کر دیا ہے کہ تحریف و تبدیل کے ذریعہ سے ایک دو نشانات اپنے اوپر منطبق کر کے باقی نشانات کے متعلق کہہ دیں کہ ان کے معانی کچھ اور ہیں۔ اس لئے ہماری طرف رجوع کر کے رفع شکوک کر لینا ضروری ہے۔

مدت سے اس کی تکمیل کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں اور آئے دن اصلاح معاملات پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ پس اگر یہی اصلاحات ملحوظ خاطر تھیں تو ان کے لئے نہ مظہر الہی بننے کی ضرورت تھی اور نہ باب الوصول الی اللہ کا دعویٰ ضروری تھا۔ بلکہ صرف یہی کافی تھا کہ انسان اسلامی تمدن چھوڑ کر تمدن یورپ کا پیرو بن جائے اور اگر یہی تمدن اصلاح الہی ہے تو مظہر الہی بننے کا سہرا مصلحین یورپ کے سر ہونا چاہئے تھا کہ انہوں نے قوم کو بردہ فروشی اور وحشیانہ سلوک سے روک دیا۔ غربا اور مفلس افراد قوم کے حقوق قائم کئے اور جہالت کی راہ بند کر کے سائنس اور حکمت کے دریا بہا دیئے اور غیر اقوام کے لئے باہمی ہمدردی اور ترقی کے اسباب پیدا کر دیئے۔ بالخصوص جب کہ ان میں کچھ ایسی ہستیاں بھی گزر چکی ہیں کہ جنہوں نے بت پرستی سے روک کر خدا کی بادشاہت قائم کرنے پر اپنی جان و مال تک خرچ کر ڈالا یا جنہوں نے اپنی پیشین گوئیوں اور غیبی آواز سن کر قوم کو ایک ایسے صراط مستقیم پر لا کھڑا کر دیا کہ جس سے ان کی سلطنت کی بنیاد پڑ گئی اور دنیا میں تمام اقوام کے قلب میں جگہ لے کر باعث رشک بن گئے۔ ہر ایک عقلمند تعجب کر سکتا ہے کہ ایسی قوم کے سرکردوں نے باوجود اس قدر اصلاحات اور ایجادات کے اور باوجود احصائے حدود عالم کے اور باوجود رفاہیت عوام کے اسباب پیدا کرنے کے اور بام ترقی پر پہنچنے کے کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ مظہر الہی بن کر بروز کمالات خداوندی کے دعویدار ہیں۔

صفحہ ١٩٦

میں منذر ہو گزرے ہیں اور آریہ یا ہندوؤں کی خوشنودی کے لئے رام چندر، کرشن وغیرہ کو نبی منوایا جاتا ہے۔ مگر یہ کیسی بے انصافی ہے کہ یورپ کا کوئی نبی نام لے کر پیش نہیں کیا جاتا۔ کیا شکسپئیر علم لدنی کی رو سے مظہر الٰہی نہیں بن سکتا؟ کیا جینی جس نے کہ فرانس کے تخت و تاج کو غیبی آوازوں سے برسر اقتدار کیا تھا۔ آج کے نبیوں سے کم ہے جو اپنی پیشین گوئیوں کی نشر واشاعت میں قوم کے ہزاروں روپے برباد کر رہے ہیں۔ یا وہ جماعت کوئی ان سے کم حیثیت رکھتی ہے کہ جس نے یورپ کے اصلاحی قوانین مرتب کر کے تعزیرات ہند کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچا دیا تھا؟ اس لئے جو شخص الہام فروشوں کو نبی ماننے پر آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ جن ممتاز ہستیوں کو ہم نے پیش کیا ہے۔ ان کو بھی اپنے پیش نظر رکھے تا کہ کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔

دوسرے کی تصدیق کرتے ہوئے ایک صراط مستقیم پر لوگوں کو دعوت دیتے رہے ہیں اور اسلام کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء کا تسلیم شدہ اور متفقہ دستور العمل ہوں۔ مگر حیرت ہے کہ خود اسلام کے اندر ہی آج اس قدر نبوت فروش پیدا ہو رہے ہیں کہ ہر ایک کی تعلیم جدا ہے۔ اصول جدا ہیں طرز تعلیم جدا ہے اور طرز معاشرت میں تو ایسے نا گفتہ بہ ہیں کہ بہائی مرزائی کو کافر مانتا ہے۔ مرزائی بابی اور بہائی دونوں کو کافر مانتے ہیں۔ صوبہ بہار کے مہدی اپنی تعلیم ہی کو مدار نجات سمجھے ہوئے ہیں۔ فرمان کا مصنف یحییٰ مدعی الوہیت اپنی ہی ہانکتا ہے اور خصوصاً مرزائی تعلیم پر چلنے والے چھوٹے چھوٹے حشرات الارض کی طرح اس قدر نبی پیدا ہو گئے ہیں کہ ہر ایک الہام کا مدعی ہے۔ مگر تماشا یہ ہے کہ یہ برساتی نبی آپس میں بھی ایک ایک کو کاٹ کر کھا رہے ہیں اور ہر ایک نے دوسرے کے خلاف پیشین گوئیوں کے کئی ایک اشتہار بھی دے رکھے ہیں تو اندریں حالات جو شخص اسلام چھوڑ کر ان میں سے کسی ایک مذہب کو اختیار کرنا چاہے تو اس کا فرض اولین ہوگا کہ وہ پہلے اس سوال کا جواب سوچ رکھے کہ موجودہ زمانہ کی اشتہاری نبوت جب اپنے اندر تصدیق اور اتحاد کا مادہ نہیں رکھتی اور کسی صورت سے بھی اصلاح و تمدن یورپ پر فوقیت نہیں رکھتی تو پھر کیوں اس تکفیری طوفان میں کودا جائے اور کس لئے اسلامی اتحاد کو چھوڑ کر تفرقہ اندازی اور پارٹی بازی میں تضیع اوقات کی جائے؟

تکمیل تک پہنچائے گی۔ مگر یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ وہ تمام ادیان عالم کے لئے ایک مخصوص ہستی

صفحہ ١٩٦

ہوگی۔ جو قادیان یا شیراز میں رونما ہو چکی ہے۔ ہاں یہ ظاہر ہے کہ جو شخص تمام علوم وفنون کا مدعی ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ جہل مرکب کا شکار ہوتا ہے اور یا اس میں دیانتداری کے اصول بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ورنہ یہ جائز ہوگا کہ ایک ہی شخص شاہ انگلستان بن کر یہ بھی کہہ دے کہ میں شاہ فرانس اور شاہ افغانستان بھی ہوں۔ مگر سخت افسوس ہے کہ ایک نہیں دو نہیں جس قدر بھی ہندوستان اور ایران میں مدعی بنے۔ سب مجنون فلاسفہ کی شکل میں رونما ہوئے ہیں اور سب نے ہی مہدی، مسیح، کرشن، رشی وغیرہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ اب غیر جانبدار مسلمان ترجیح دے کر سچا مانے تو کس کو اور جھوٹا مانے تو کس کو؟ سب کے اصول دعویٰ ایک ایک دوسرے کی تغلیط و تکفیر ایک اور اپنی کامیابی کی اشتہار بازی ایک اس لئے اگر "لا نفرق بین احد منھم" کا فیصلہ دیا جائے تو سب سے نجات ہو سکتی ہے۔

ہیں کہ قرآنی تعلیم نجات پانے کے لئے کافی ہے اور جس طریق پر نبی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام جادہ پیما تھے وہ خدا تک پہنچاتا ہے۔ گو ان لوگوں نے یہ چکمہ ضرور دیا ہے کہ اس وقت اسلامی تعلیم اصلی صورت میں دکھائی نہیں دیتی۔ یا اس وقت اپنی لاعلمی کی وجہ سے اسلام کا پیرو بام ترقی پر نہیں پہنچ سکتا۔ مگر جب ہمارے پاس قرآن شریف اپنی اصلی صورت میں موجود ہے اور اس کی اصلی تشریحات اور عمل درآمد کی تصویریں ہمارے سامنے ہیں۔ خود عہد رسالت اور عہد خلافت راشدہ کا تمام علمی اور عملی مجموعہ ہمارے پاس موجود ہے تو پھر اسے چھوڑ کر یہ کہنا کیسے صحیح ہو گا کہ اصلی اسلام نہیں ملتا۔ تشریحی تجدید کی ضرورت درپیش ہے۔ اس لئے ان نبوت فروشوں کی روک تھام کے لئے علمائے اسلام کا فرض ہے کہ دنیا کے سامنے اصلی اسلام پیش کریں اور عوام الناس کا بھی فرض ہے کہ وہ خود بھی علمائے اسلام کی طرف متوجہ ہو کر اصل اسلام کی تعلیم حاصل کریں۔ تا کہ جو فروشوں کی گندم نمائی سے اپنی جان بچا سکیں۔

تابعدار نبی جس قدر بھی ہیں۔ گو کسی قدر اردو فارسی میں طبع آزمائی کی کچھ قوت رکھتے ہیں۔ مگر اسلامی زبان اور قرآنی عربی میں کہ جس پر اسلام کو آج ایک بڑا ناز ہے۔ یہ سب طفل مکتب ہی ثابت ہوئے ہیں۔ شاید قدرت نے ان کو اس میں فوقیت حاصل کرنے سے صرف اس لئے روک دیا ہوا ہے کہ کہیں قرآن شریف کا مقابلہ نہ کر سکیں اور اس کے اعجازی دعویٰ کو نہ توڑ سکیں۔ ایرانیوں نے اپنی کمزوری چھپانے کے لئے اعجاز قرآنی کا دارو مدار عربی مبین کی لفظی حیثیت قرار نہیں دی

نبی نبوت تسلیم کرانے کے لئے قرآن مجید پیش کیا جاتا ہے کہ ہر ایک قوم پر آریہ یا ہندوؤں کی خوشنودی کے لئے رام چندر، کرشن وغیرہ کو نبی منوایا جاتی ہے کہ یورپ کا کوئی نبی نام لے کر پیش نہیں کیا جاتا۔ کیا شکسپیر علم میں بن سکتا؟ کیا چینی جس نے کہ فرانس کے تخت و تاج کو غیبی آوازوں ج کے نبیوں سے کم ہے جو اپنی پیشین گوئیوں کی نشر واشاعت میں قوم رہے ہیں۔ یا وہ جماعت کوئی ان سے کم حیثیت رکھتی ہے کہ جس نے رتب کر کے تعزیرات ہند کو بھی پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا تھا؟ اس لئے جو نے پر آمادگی ظاہر کرتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ جن ممتاز ہستیوں کو ہم پنے پیش نظر رکھے تاکہ کسی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔

ا میں جس قدر مسلمہ فریقین نبی پیدا ہوئے ہیں۔ وہ سب ایک ہوئے ایک صراط مستقیم پر لوگوں کو دعوت دیتے رہے ہیں اور اسلام کا تسلیم شدہ اور متفقہ دستور العمل ہوں۔ مگر حیرت ہے کہ خود اسلام کے روش پیدا ہو رہے ہیں کہ ہر ایک کی تعلیم جدا ہے۔ اصول جدا ہیں طرز رت میں تو ایسے نا گفتہ بہ ہیں کہ بہائی مرزائی کو کافر مانتا ہے۔ مرزائی مانتے ہیں۔ صوبہ بہار کے مہدی اپنی تعلیم ہی کو مدار نجات سمجھے ہوئے مدعی الوہیت اپنی ہی ہانکتا ہے اور خصوصاً مرزائی تعلیم پر چلنے والے لارض کی طرح اس قدر نبی پیدا ہو گئے ہیں کہ ہر ایک الہام کا مدعی ساتی نبی آپس میں بھی ایک ایک کو کاٹ کر کھا رہے ہیں اور ہر ایک ین گوئیوں کے کئی ایک اشتہار بھی دے رکھے ہیں تو اندریں حالات سے کسی ایک مذہب کو اختیار کرنا چاہے تو اس کا فرض اولین ہو گا کہ وچ رکھے کہ موجودہ زمانہ کی اشتہاری نبوت جب اپنے اندر تصدیق رکسی صورت سے بھی اصلاح و تمدن یورپ پر فوقیت نہیں رکھتی تو پھر کو داجائے اور کس لئے اسلامی اتحاد کو چھوڑ کر تفرقہ اندازی اور پارٹی ئے؟

کہ ہر ایک مذہب میں کسی ایک ہستی کا انتظار باقی ہے جو اصلاح عالم کو یہاں سے ثابت ہوا کہ وہ تمام ادیان عالم کے لئے ایک مخصوص ہستی

صفحہ ١٩٨

اور قادیانیوں نے اپنی کمزوری کو الہام جدید کے پردہ میں چھپا دیا ہے۔ لیکن حقیقت شناس طبائع اس حکمت عملی کو تاڑ گئی ہیں اور کہہ چکی ہیں۔

نہاں کے ماند آں رازے کزو سازند محفلها

”ماهذا قول البشر“ اور کسی اشد ترین عرب نے بھی اس پر نکتہ چینی کرنے کا موقعہ نہیں پایا اور جو کچھ آج قرآنی عربیت پر اعتراضات نظر آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے ہیں کہ جن کو خود عربیت سے دور کا واسطہ کبھی نہیں اور مسٹر گلیڈسٹون وغیرہ نے جو کچھ لکھا ہے وہ اس خیال سے لکھا ہے کہ انگریزی بندش الفاظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن شریف میں ایسی ویسی عبارتیں ہونی چاہئیں۔ جن کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ مستشرقین یورپ کی طبع نارسا کے موافق قرآنی بندش نہیں ہے۔ اس لئے ان کے نزدیک قرآن کا اعجازی دعویٰ غلط ہے۔ مگر اس دعویٰ کی تصدیق تو تب ہوتی کہ عربی مبین میں یہ لوگ بھی کوئی ایسی کتاب ہی لکھ کر پیش کرتے جو کم از کم مقامات حریری کے توازن پر ہی پوری اترتی۔ اس لئے ایسے جہالت آمیز اعتراضات قابل توجہ نہیں ہوتے۔ یہ تو ہوا اعجاز قرآنی، اب اعجاز ایرانی اور قادیانی پر نظر دوڑائیے۔ کہاں تک اس میں صداقت ہے۔ ادھر الہامی عبارتیں شائع ہوئیں ادھر ہم عصر علمائے عربیت نے تغلیط شروع کردی۔ ایک طرف اعجازی دعویٰ ہے تو دوسری طرف مخالفین نے اعجاز کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے۔ لیکن ملا آن ست کہ بند نہ شود انہوں نے اپنا پلہ یوں چھڑایا کہ لوگ قرآن پر بھی تو لفظی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں تو اس سے اس کی صداقت اور اعجاز میں کیا کوئی فرق آگیا ہے۔ کبھی یوں کہہ دیا کہ خداوند تعالیٰ قواعد انسانی کے پابند نہیں رہے اور کسی وقت یوں تعلی دکھائی کہ ہم الفاظ کو اصولی زنجیروں سے رہا کرانے آئے ہیں۔ اہل دانش دیکھ سکتے ہیں کہ کہاں تک یہ بہانہ سازی کارگر ہو سکتی ہے اور یہ کس قدر ظلم ہے کہ ان کے تابعداروں نے ان کو ”سلطان القلم“ اور اعجاز رقم بنا رکھا ہے۔ مگر خدا کی شان یہ لقب دینے والے بھی عربیت میں اسی طرح کمزور ہیں کہ جیسے ان کے نبی کمزور تھے۔ اب من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو، کا معاملہ نہ ہو تو اور کیا ہو؟

عبارات میں ید طولیٰ دکھا گئے ہیں۔ عربی لکھنے لگے تو طفل مکتب سے بڑھ کر یا ایک آریہ سے بڑھ کر قرآن کا مقابلہ نہیں کر سکے۔ شاید انگریزی یا اردو اور پنجابی لکھتے تو معلوم نہیں کیا کیا گل کھلاتے اور قادیانی نبی چونکہ پنجابی آب و ہوا میں نشو و نما پا چکے تھے اور سلطنت مغلیہ کا زمانہ قریب تھا اور

صفحہ ١٩٩

با قاعدہ فارسی کی تعلیم بھی پا چکے تھے۔ اس لئے گجراتی نبی کے مقابلہ پر فارسی نویسی میں فیل ہو چکے تھے۔ مگر تاہم شد بود اچھی اور خاصی جانتے تھے اور پنجابی محاورات کو فارسی عبارات میں گھسیڑ دینے میں پورے طور پر کمزوری ظاہر کر چکے تھے۔ اگر پنجابی لکھتے تو غالباً صحیح لکھتے۔ کیونکہ ان کی مادری زبان یہی تھی۔ مگر ان کو اس سے نفرت تھی اور اس کی بجائے اردو میں نظم و نثر لکھنے میں کچھ دن مشق کی۔ مگر چونکہ کسی استاد نے اصلاح نہیں دی۔ وہی ٹھیٹھ اردو اور پنجابی نما شعر کہتے رہے۔ اب رہی عربی تو اس میں بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے اور قرآنی آیات کی طرح ایرانی نبی کے تتبع میں ردیف وار لکھنا شروع کر دیا۔ مگر آخر قافیہ تنگ ہوا اور قلم توڑ کر بیٹھ گئے اور ان کی ضمیر ملامت کرتی تھی کہ اس میدان میں قدم نہ رکھے گا۔ مگر ان کو ایک نئی بات سوجھی کہ اپنی عبارات میں صرف ان لوگوں کو مخاطب کیا تھا جو عربی علم ادب سے نا آشنا تھے اور مرید بھی ایسے ہی اہل علم مشہور ہوئے کہ جو آج تک عربی مبین سے نا آشنا تھے اور اب بھی وہی لوگ اپنے نبی کو اعجازی مرتبہ دے رہے ہیں کہ جن کو خود عربی لکھنا نہیں آتا۔ اگر لکھتے بھی ہیں تو غلط سلط لکھ کر کاغذ کا منہ کالا کر دیتے ہیں۔ غرضکہ جب تصدیق کنندگان اور آویزش کنندگان عربیت سے نا آشنا تھے تو نبی قادیان کو اندھوں میں کانا سردار بننے کی کیوں نہ سوجھتی۔ اس نظریہ کو جانے دیجئے۔ خود براہین احمدیہ کی جلد چہارم اٹھا کر دیکھئے۔ قرآن شریف کی حمایت میں عیسائیوں کو چیلنج دیتے ہیں کہ اگر تم کو قرآنی عربیت پر اعتراض ہے تو تم آؤ ہم ایک فرد عربی پیش کرتے ہیں۔ اس سے ایک گھنٹہ تک گفتگو کرو۔ تب ہم سمجھیں گے کہ معترض عیسائی بھی عربی جانتے ہیں۔ اس موقعہ پر گویا ظاہر کرنا مقصود تھا کہ قرآن مجید کی عربیت پر اعتراض کرنے والے خود عربی نہیں جانتے۔ اس لئے ان کے اعتراضات بے سمجھی کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اور یا ان کا دار و مدار اسلام سے عناد اور دشمنی پر ہے۔ لیکن ایک یہ اہم مسئلہ بھی اس ضمن میں حل ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی خود بھی عربی میں قادر الکلام نہ تھے۔ حالانکہ ان کو الہام بھی ہوتا تھا اور قرآنی معارف بیان کرنے کا بھی بڑا دعویٰ تھا۔ ورنہ پدرم سلطان بود کو پیش نظر رکھ کر عیسائیوں کے مقابلہ پر کسی عربی آدمی کے خواہاں نہ ہوتے۔

.......٢٥....... اسلام کی عربی زبان عبادات و معاملات اور ضروری گفتگو یا تعارف میں عربی تھی۔ جس کی وجہ سے ساری دنیا کے مسلمان ایک جگہ عبادت کر سکتے تھے اور باہمی تعارف آسانی کے ساتھ پیدا کر کے عقد اخوت پیدا کر لیتے تھے۔ مگر آج کل کے پیغمبروں نے اس زبان کا ایسا ستیاناس کیا ہے کہ قرآن مجید کو بھی عربی زبان میں دیکھنا ممنوع قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ ان کو خود بھی اقرار ہے کہ غیر زبان عربی زبان کا مفہوم ادا کرنے میں پورے طور پر متحمل نہیں

صفحہ ٢٠٠

ہوسکتی۔ اس لئے قرآن مجید کا خالی ترجمہ خواہ کسی زبان میں دیکھ لیا جائے۔ اس فرض کی ادائیگی سے قاصر ہوگا ۔ مگر ان مدعیان نبوت کا غالباً اصل مقصد یہی ہے کہ نہ قرآن رہے نہ قرآنی زبان ، نہ ہمارے سوا کوئی عربی دان کہلائے سو جو ہم کہیں لوگ اسی کو قرآن سمجھ لیں۔

چنگیز خانیہ کو رواج دیا اور اپنی زیر حکومت میں اسلامی شرائع کی بجائے اسی کو دستورالعمل قرار دیا۔ جس کا اثر عالمگیر کے زمانہ تک باقی رہا۔ بعد میں ترک شیرازی نے اپنا دستورالعمل قائم کر کے اس کو منسوخ کر دیا۔ جس سے سلطنت ترکیہ متاثر ہو کر اسلام کو خیر باد کہہ رہی ہے اور باقی حکومتیں بھی لبیک کہنے کو تیار ہیں۔ اخیر میں پنجابی ترک نے وہ کام کیا کہ پہلوں کے فلک کو بھی یاد نہ تھا کہ بظاہر تو یہ فتویٰ لگا دیا کہ قرآن کا ایک شوشہ منسوخ سمجھنے والا بھی کافر ہے۔ مگر خود اس میدان میں نکلے تو تمام عقائد منسوخ کر دیئے ۔ دبی زبان سے سود جائز کر ڈالا اور اعلان کر دیا کہ جہاد منسوخ ہے۔ تصویر کشی ایک حد تک مفید اور جائز ہے وغیرہ وغیرہ اور اپنے تکفیری فتویٰ سے یوں بچ کر نکل گئے کہ میں حکم بن کر آیا ہوں اور مجدد ہوں جو چاہوں کروں۔ کوئی مجھے کافر نہیں کہہ سکتا۔ آخر بات وہی بنی کہ کسی نے اسلام کو اپنی شریعت سے یا اپنے تورہ سے بدل دیا اور کسی نے اس کو روشن پہلو دکھا کر اسلام جدید پیش کر دیا۔ مگر ارباب بصیرت پر روشن ہے کہ یہ سب حکمت عملیاں صرف اس لئے کھیلی جاتی ہیں کہ قرآن شریف کا نام دنیا سے مٹ جائے۔

بہر قدے کہ خواہی جامہ میپوش
من انداز قدت را مے شناسم

اپنا اسلام نہ کھو بیٹھیں۔ کیونکہ اس نبوت کے ماننے والے مسلمانوں کے اندرونی دشمن ہیں اور طرح طرح کے حیلوں سے چاہتے ہیں کہ نہ قرآن دنیا میں رہے اور نہ قرآن ماننے والے، صرف فرق اتنا ہے کہ کوئی سیدھا منکر ہے اور کوئی ذرہ دو تین چکر کھا کر انکار پیش کرتا ہے۔ بہر حال یہ ایک فتنہ ارتداد ہے کہ لفظ اسلام کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور میٹھی چھری بن کر اسلام کا گلا کاٹ رہا ہے۔

من از بیگانگاں ہر گز ننالم
کہ با من ہرچہ کرد آں آشنا کرد

کو اس بے رحمی سے قتل کیا جارہا ہے کہ شاید ہی دنیا کے کسی کونے میں اس کی نظیر مل سکے اور جرائم کی

صفحہ ٢٠١

شریعت تسلیم کرانے میں سارا زور خرچ کر رہے ہیں۔ حکومت برطانیہ کا سایہ اگر مسلمانوں پر نہ ہو تو معلوم نہیں یہاں کی ترکی نبوت کیا کیا فتنہ ارتداد پیدا کرے۔ گو یہ حکومت خصوصیت کے ساتھ اسلام کی حامی نہیں۔ مگر اس میں اتنا وصف قابل ستائش ضرور ہے کہ اگر دائیں آنکھ سے ہمارے مخالفوں کو دیکھتی ہے تو مسلمانوں کو بھی بائیں آنکھ ضرور دیکھ کر اغیار کے تجبر و استبداد کی تباہ کن آندھیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئے دن اس حکومت کا تسلط روز افزوں بام اوج تک پہنچ رہا ہے اور باقی حکومتیں اپنے بے جا تشدد اور بے ہنگام استبداد سے تباہ ہو رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے آئے دن وہاں راعی و رعیت کے درمیان جدال و قتال کا بازار گرم ہے۔

٩......مقتبس من الكتاب الاقدس الذى نزل على البهاء

الصوم والصلوة

”قد كتب عليكم الصلوة تسع ركعات حين الزوال وفى البكور والاصال وعفونا عدة اخرى امرا فى كتاب الله ، واذ اردتم الصلوة ولو اوجوهكم شطرى الاقدس (عكاء) المقام المقدس ، الذى جعله الله مطاف الملاء الاعلى ، ومقبل اهل مدائن البقاء ومصدر الامر لمن فى الارضين والسموات ، والمقر الذى قدرناه لكم ، انه لهو العزيز العلام ، قد فصلنا الصلوة فى ورقة اخرى ، طوبى لمن امر به من لدن مالك الرقاب ، قد نزلت فى صلوة الميت ست تكبيرات من الله منزل الايات ، والذى عنده علم القرأة له ان يقرأ ما نزل قبلها وعفا الله عنه ، لا يبطل الشعر صلوتكم ولا ما منع عن الروح مثل العظام وغيرها ، البسوا السمور كما تلبسون الخز و السنجاب ومادونهما ، وما نهى فى القرآن ولكن اشتبه على العلماء ، فرض عليكم الصلوة والصوم من اوّل البلوغ من كان فى نفسه ضعف من الهرم والمرض عفا الله عنه ، قد اذن الله السجود على كل طاهر و رفعنا عنكم الحد ، من لم يجد الماء يذكر خمس مرّات بسم الله الا طهر الاطهر والبلدان التى طالت فيها الليالى والايام فليصلوا بالساعات والمشاخض التى فيها تحدت الاوقات ، عفونا عنكم صلوة الايات اذا ظهرت ، كتب عليكم الصلوة فرادى قد رفع عنكم حكم الجماعة الا فى صلوة الميت عفا الله عن النساء

صفحہ ٢٠٢

حين ما يجدن الدم الصوم والصلوة ، ولهن ان يتوضأن ويسبحن خمسا وتسعين مرة من زوال الى زوال "سبحان الله ذي الطلعة والجمال" ولكم ولهن في الاسفار اذا نزلتم واسترحتم مكان كل صلوة سجدة واحدة واذكر وافيها سبحان الله ذي العظمة والاجلال والموهبة والافضال . والعاجز يقول سبحان الله . بعد اتمام السجود لكم ولكن ان تقعدوا على هيكل التوحيد وتقولو اثمانى عشرة مرة سبحان الله ذي الملك والملكوت . يا قلم الا على قل يا ملأ الانشاء قد كتبنا عليكم الصيام ايا ما معدودات (من اوّل مارس الى تاسع عشر منه) وجعلنا النور وزعيدا لكم (حادى عشرين فارس) اجعلوا الايام لزائدة عن الشهور قبل شهر الصيام عيدا (كل شهر تسعة عشر يوما والشهور ايضاً تسعة عشر فصارت ايام السنة ثلثماية واحد اوستين يوما والملحق به لتكميل السنة اربعة ايام وبعد اربع سنين خمسة ايام . فهذه الايام ايام زائدة كل سنة قبل مارس) انما جعلناها مظاهر الهاء . لذاما تحدت بحدود السنة والشهور ينبغى لأهل البهاء ان يطعموا فيها انفسهم وذوى القربى ثم الفقراء والمساكين ويهللنو يسبحن ويمجدن ربهم . واذ تمت ايام الاعطاء قبل الامساك فليدخلن فى الصيام ليس على المسافر والمريض والحامل والمرضع من حرج كفوا انفسكم عن الاكل والشرب من الطلوع الى الافول . قد كتب لمن دان الله ان يغسل يديه ثم وجهه ويقعد مقبلا الى الله ويذكر خمسا وتسعين مرة الله ابهى كذلك الصلوة . حرم القتل والزنا والغيبة والافتراء"

المواريث

"قد كتبنا المواريث على عدد الزاء منها ، منها قدر لذرياتكم من كتاب الطاء على عدد المقت وللازواج من كتاب الهاء على عدد التاء والفاء وللاباء من كتاب الراء على عدد التاء والكاف ، وللامهات من كتاب الواو على عدد السميع وللاخوان من كتاب الهاء عدد السين وللاخوات من كتاب الدال عدد الراء والميم وللمسلمين من كتاب الجحيم عدد القاف والفاء . انا سمعنا ضجيج الذريات فى الاصلاب اذا ما نقصت ما لهم ونقضا عن الاخرى . من

مأت ولم يكن له ورثة ترجع حق فى الايتام والارامل وما ينتفعوا مادونها عما حددني الكتاب ير بيت العدل والذى لم يكن من يرث وبناتهما فلهم الثلثان وللاعمام وبعدهن لا بائهم وابنائهن واب ومن مات ولم يكن له من الذين نز كلها الى المقر المذكور جعلنا ال من الذكر ان دون الاناث والورا ضعافا سلمو امالهم الى الامين الشراكة ثم عينو اللامين حقا م الله والديون والتجهيزو حمل تعتدوها باهواء انفسكم"

بيت العدل

"قد كتب الله على ام ويجتمع فيه النفوس على ع مصالح العباد . عمروا بيوتكم با لها لا بالصور والامثال . قد النساء . وجب على كل واحد الا نفس العبادة . لا تضيعوا اوقات الايادى . ليس لا حد ان يستغفر جاء الوعد والموعود اختلف الن

التقديس وتكفير المدعى

"والاوهام . من الناس قل من انت يا ايها الغافل العرا قل يا ايها الكذاب تالله ما عندك

صفحہ ٢٠٣

مات ولم يكن له ورثة ترجع حقوقهم الى بيت العدل يصرفوا امناء الرحمن فى الايتام والارامل وما ينتفعوا به جمهور الناس ٠ وللذى له ذرية مالم يكن مادونها عما حدد فى الكتاب يرجع الثلثان مما تركه الى الذرية والثلث الى بيت العدل والذى لم يكن من يرثه وكان له ذوالقربى من ابناء الاخ والاخت وبناتهما فلهم الثلثان والا للاعمام والاخوال والعمات والخالات من بعدهم ٠ وبعدهن لا بائهم وابنائهن وابنائهم وبناتهن والثلث يرجع الى مقر العدل ومن مات ولم يكن له من الذين نزلت اسمائهم من القلم الاعلى ترجع الاموال كلها الى المقر المذكور جعلنا الدار المسكونة والالبسة المخصوصة للذرية من الذكران دون الاناث والوراث ٠ والذى مات فى ايام والده وترك ذرية ضعافا سلمو امالهم الى الامين ليتجر لهم الى ان يبلغوا اشدهم والى محل الشراكة ثم عينو اللامين حقا مما حصل من التجارة ٠ كل ذلك بعد اداء حق الله والديون والتجهيز وحمل الميت بعزة والاعتزاز ٠ تلك حدود الله لا تعتدوها باهواء انفسكم“

بيت العدل

”قد كتب الله على اهل كل مدينة ان يجعلوا فيها بيت العدل ٠ ويجتمع فيه النفوس على عدد البهاء ٠ وان ازداد لا بأس ويشاورو افى مصالح العباد ٠ عمروا بيوتكم باكمل ما يمكن فى الامكان وزينوها بما ينبغى لها لا بالصور والامثال ٠ قد حكم الله لمن استطاع منكم حج البيت دون النساء ٠ وجب على كل واحد الاشتغال بامر من الصنائع ٠ وجعلنا اشغالكم نفس العبادة ٠ لا تضيعوا اوقاتكم بالبطالة والكسالة قد حرم عليكم تقبيل الايادى ٠ ليس لاحد ان يستغفر عند احد ٠ توبوا الى الله تلقاء انفسكم ٠ لما جاء الوعد والموعود اختلف الناس وتمسك كل حزب بما لديه من الظنون “

التقدس وتكفير المدعى النبوة

”والاوهام ٠ من الناس من يقعد صف النعال طلبا اصدر الجلال ٠ قل من انت يا ايها الغافل الغرار ٠ ومنهم من يدعى الباطن وباطن الباطن ٠ قل يا ايها الكذاب تالله ما عندك انه من القشور تركناها لكم كما تترك العظام

صفحہ ٢٠٤

للكلاب ، من يدعى قبل اتمام الف سنة كاملة انه كذاب مفتر . نسأل الله بان يؤيده على الرجوع ان تاب ، وان اصر يبعث عليه من لا يرحمه من ياول من الاية او يفسرها بغير ما نزل فى الظاهر انه محروم من الروح . يا اهل الارض اذا غربت شمس جمال قوموا على نصرة امرى وارتفاع كلمتى بين العالمين انا معكم من كل الاحوال وبنصركم بالحق انا كنا قادرين . لا تجزعوا فى المصائب لا تحلقوا روسكم قد زينها الله بالشعر . ولا ينبغى ان يتجاوز عن الاذن . قد كتب على السارق النفى والحبس . وفى الثالث فاجعلوا على جبينه علامة يعرف بها ، من اراد ان يتعمل اوفى الذهب والفضة لا بأس به اياكم ان تنغمس اياديكم فى الصحاف والصحان . تمسكوا بالنظافة فى كل الاحوال كتب على كل اب تربية ابنه وبنته بالعلم والخط ودونهما . والذى ترك ما امر به فعلى الامناء ان يا خذوا منه ما يكون لازما لتربيتهما ان كان غنيا والا يرجع الى بيت العدل . ان الذى ربى ابنه او ابنا من الابناء كانه ربى احد بنائى عليه بهائى . قد حكم الله لكل زان وزانية دية مسلمة الى بيت العدل وهى تسعة مثاقيل من الذهب ان عاد مرة اخرى عودوا بضعف الجزاء، انا حللنا لكم اصغاء الاصوات والنغمات . اياكم ان يخرجكم الاصغاء عن شان الادب والوقار . قد ارجعنا ثلث الديات الى مقر العدل . يا رجال العدل كونوا رعاة اغنام الله واحفظوهم عن الذئاب الذين ظهروا بالاثواب . اذا اختلفتم فى امرنا رجعوا الى الله مادامت الشمس مشرقة من افق هذه السماء . واذا غربت ارجعوا الى ما نزل من عندالله . اما الثجاج والضرب مختلف احكامها باختلاف مقاديرها لكل مقدارية معينة لو نشاء نفصلها بالحق وعدا من عندنا . قد رتب عليكم الضيافة فى كل شهر مرة واحدة ولو بالماء . اياكم ان تفرقوا اذا ارسلتم الجوارح الى الصيدا ذكروا اسم الله اذاً يحل ما اسكن لكم ولو تجدوه ميتا . من احرق بيتا متعمدا فاحرقوه ومن قتل نفسا عامداً فاقتلوه . ان تحكموا لهما حبسا ابديا لا باس عليكم كتب الله عليكم النكاح اياكم ان تتجاوزوا من الاثنتين انه قد حدد فى البيان برضاء الطرفين انا لا زدياد المحبة علقناه باذن الابوين “

النكاح والطلاق

"لا يحقق الاصهار الا با من الذهب الابريز والقرى هى من يتجاوز من خمسة وتسعين مثقالا ان يجعل ميقاتا الصاحبة فى اية بعذر حقيقى فله ان يخبر قرينة مات فلها تربص تسعة اشهر و بعد ا فانه يحب الصابرات والصابري والعد لين لها ان تلبث فى البيت فيما تختار وان حدث بينهما كدورة كاملة . لعل تسطع عليهما رائحة ا عما عملتم بعد طلقات ثلث . والذى كل شهر مالم تستحصن والذى ساف فله ان ياتيها نفقة سنة كاملة وير بيد امين ليبلغها الى محلها . والت ايام تربصها . قد حرم عليكم بيع ال حكم الله بالطهارة على ماء الن بالثلاث . اياكم ان تستعملوا ماء تغ حكم دون الطهاره عن كل اشياء وتغسيل ماتغير بالغبار وكيف ا كسائه وسخ انه لا يصعد دعائه الى قد عفا الله عنكم مانزل فى الب العلوم ما ينفعكم لا ما ينتهى الى الم البابية باحرق جميع ما نزل قبله من ان ينزل الكتاب الاقدس على ا البيان فهذا هو من الاحكام المنسوخ

صفحہ ٢٠٥

النكاح والطلاق

”لا يحقق الاصهار الا بالامهار . قد قدر للمدن تسعة عشر مثقالا من الذهب الابريز والقرى هى من الفضة ، ومن اراد الزياده حرم عليه ان يتجاوز من خمسة وتسعين مثقالا . قد كتب لكل عبد اراد الخروج من وطنه ان يجعل ميقاتا لصاحبته فى اية مدة اراد ان اتى وفى بالوعد . وان يعتذر بعذر حقيقى فله ان يخبر قرينته وليكون فى غاية الجهد للرجوع اليها وان مات فلها تربص تسعة اشهر و بعد اكمالها لا باس عليها باختيار الزوج وان صبرت فانه يحب الصابرات والصابرين وان اتاها خبر الموت او القتل بالشياع والعدلين لها ان تلبث فى البيت اذا مضت اشهر معدودات فلها الاختيار فيما تختار وان حدث بينهما كدورة ...... ليس له ان يطلقها وله ان يصبر سنة كاملة . لعل تسطع عليهما رائحة المحبة والا فلا بأس بالطلاق ، قد نهى الله عما عملتم بعد طلقات ثلث . والذى طلق له الاختيار الى الرجوع بعد انقضاء كل شهر ما لم تستحصن والذى سافر وسافرت معه ثم حدث بينهما الاختلاف فله ان ياتيها نفقة سنة كاملة ويرجعها الى مقرها الذى خرجت عنه او يسلمها بيد امين ليبلغها الى محلها . والتى طلقت لما ثبت عليها منكر لا نفقة عليها ايام تربصها . قد حرم عليكم بيع العبيد والاماء لا يعترض احد على احد . قد حكم الله بالطهارة على ماء النطفة طهروا كل مكروه بالماء الذى لم يتغير بالثلاث . اياكم ان تستعملوا ماء تغير بالهواء وبشئ اخر . قد رفع الله عنكم حكم دون الطهاره عن كل اشياء وعن ملل اخرى . وحكم باللطافة الكبرى وتغسيل ما تغير بالغبار وكيف الاوساخ المنجمدة ودونها . والذى يرى فى كسائه وسخ انه لا يصعد دعائه الى الله . استعملوا ماء الورد ثم العطر الخالص قد عفا الله عنكم ما نزل فى البيان من محو الكتب قد اذناكم ان تقرؤا من العلوم ما ينفعكم لا ما ينتهى الى المجادلة (اعلم ان البيان نزل على الباب وامر البابية باحراق جميع ما نزل قبله من الكتب وتعطيلها او ما زاحمه من العلوم الى ان ينزل الكتاب الاقدس على البهاء وينسخ ما شاء من الاحكام ما جاء فى البيان فهذا هو من الاحكام المنسوخة) “

صفحہ ٢٠٦

نداء التبليغ

”يا معشر الملوك قداتى الملك توجهوا الى وجه ربكم قد نزل الناموس الاكبر اتت الساعة وانشق القمر . لا نريد ان نتصرف فى ممالك بل جئنا التصرف القلوب ، طوبى لملك قام على نصرة امرى فى مملكتى وانقطع عن سوائى انه من اهل السفينة الحمراء . ينبغى لكل ان يعزروه ويوقروه وينصروه ، يا ملك النسمة كان مطلع الاحدية فى سجن عكاء اذ مررت وما سألت عنه ، قد اخذتنا الاخر ان تملأ اخشانا تدور لا سمنا ولا تعرفنا امام وجهك يا ملك برلين اسمع النداء من هذا الهيكل انه لا اله الا انا الباقى الفرد القديم . اذكر من كان اعظم شانا منك این هوانه نبذ لوح الله ورائه انه اخذته الذلة . يا ملوك امريكا اسمعوا ما تغن به الورقاء على غضن البقاء انه لا اله الا انا قدر ظهر الموعود فى هذا المقام المحمود ان بقاء نهيرلكم يا معشر الامراء اسمعوا ما ارتفع من الكبرياء انه لا اله الا انا يا معشر الروم نسمع فيكم صوت البوم يا ايتها النقطة الوقعة فى شاطئ البحرين نرى فيك الجاهل يحكم على العاقل . سوف تفنى ورب البرية وتنوح البنات والارامل والقبائل . يا شواطئ نهر الرين قد رايناك مقطاة بالدماء ونسمع حنين البرلين ولوانها اليوم فى غرمبين . يا ارض الطعاء افرحى بماولد فيك مطلع الظهور سوف تنقلب فيك الامور ويحكم عليك وجمهور الناس . يا ارض الخاء طوبى ليوم تنصب رايات الاسماء باسمى الابهى . يومئذ يفرح المخلصون وينوح المشركون . يا بحر الاعظم رش ما امرت به وزین به هیاکل الانام والذى تملك ما ية مثقال من الذهب فتسعة عشرة مثقالاً لله . فذلك تطهير اموالكم . يا معشر العلماء لا تزنوا كتاب الله بما عندكم من القواعد والعلوم “

المعاملات

”توجهو اياقوم الى البقعة الحمراء فيها تنادى سدرة المنتهى انه لا اله الا انا . يا معشر العلماء هل يقدر احد منكم ان يستن معى فى ميدان المكاشفة والعرفان والحكمة والتبيان . انا مادخلنا المدارس اسمعوا

صفحہ ٢٠٧

ما يدعوكم به هذا الامى الى الله ، قد كتب عليكم تقليم الاظفار والدخول فى ماء يحيط هياكلكم فى كل اسبوع وتنظيف ابدانكم ادخلوا ماء بكر او المستعمل لا يجوز اتركوها والذى يصب على بدنه الماء يكفى عن الدخول فيه ، حرمت عليكم ازدواج امهاتكم ونستحيى ان نذكر حكم الغلمان ٠ ليس لاحد ان يحرك لسانه امام الناس اذ تمشى فى الطرق والاسواق بل فى مقام بنى لذكر الله اوفى بيته قد فرض لكل نفس كتاب الوصية ، انتهت الاعياد الى العيدين الاعظمين الاوّل ايام فيها تجلى الرحمن واليوم الاخر يوم بعثنا فيه من بشر الناس بعد الاسم (اول مارس واخره) اذا مرضتم فارجعوا الى حذاق من الاطباء قد كتب الله على كل نفس ان يحضر لدى العرش بما عنده مما لا عدل له ٠ طوبى لمن توجه الى مشرق الاذكار وهو كل بيت بنى لذكر الله فى الاسحار ذاكرا مستغفرا ٠ اذا دخل يقعد صامتا لاصغاء آيات الله ، الذين يتلون آيات الرحمن باحسن الالحان يدركون منها ما لا يعادله ملكوت السماء والارضين ٠ يا قوم انصروا اصفيائى الذين قاموا بارتفاع كلمتى والذى يتكلم بغير ما نزل فانه ليس منى قد اذن الله ان يتعلم الالسن المختلفة ليبلغ شرق الارض وغربها ليس للعاقل ان يشرب ما يذهب به العقل ٠ زينوا رؤسكم بالامانة والوفاء وقلوبكم برداء التقوى والسنتكم بالصدق وهياكلكم بطراز الادب ٠ ان الحرية تخرج الانسان عن شئون الاداب وتجعله من الارذلين ٠ حرم عليكم السوال في البيان فاسئلوا ما ينفعكم فى امر الله ان عدة الشهور تسعة عشر ٠ حكم الله دفن الاموات فى البلور والاحجار الممتنعة او الاخشاب الصلبة اللطيفة ووضع الخواتيم المنقوشة فى اصابعهم ٠ يكتب للنساء فيها لله ملك السموات والارض وما بينهما وكان الله على كل شئ قديرا وللرجال لله ما فى السموات والارض وما بينهما وكان الله بكل شئ عليما ٠ لو ينقش ما نزل فى الحين انه خير لهم ولهن ٠ قد بدات من الله ورجعت اليه منقطعا عما سواه ومتمسكا باسمه الرحمن الرحيم ٠ ان تكفنوه فى خمسة اثواب من الحرير او القطن من لا يستطيع يكتفى بواحده منهما حرم عليكم نقل الميت ازيد من مسافة ساعة

صفحہ ٢٠٨

من المدينة ٠ اسمعوا نداء مالك الاسماء من شطر سجنه الاعظم انه لا اله الا انا ٠ ارفعن البيتين فى المقامين جبل كرمل والمقامات التى استقر فيها عرش الرحمن ٠ ياملاء البيان انما القبلة من يظهر الله متى ينقلب تنقلب الى ان يستقر ٠ من اقرّ من آياتى خير له من ان يقرأ كتب الاولين والاخرين ، عاشروا مع الاديان بالروح والريحان اياكم ان تدخلوا بيتا عند فقدان صاحبه الا بعد اذنه وان تاخذكم حمية الجاهلية فى البرية ، قد كتب عليكم تزكية القلوب وما دونها بالزكوة سوف نفصل لكم نصابها ٠ لا يحل السوال ومن يسئل حرم عليه العطاء قد كتب على الكل ان يكسب والذى عجز فللو كلا والا غنيا ان يعينواله ما يكفيه ٠ قد منعتم عن الجدال والنزاع والضرب من يحزن احد افله ان ينفق تسعة عشر مثقالا من الذهب لا ترضوا لاحد ما لا ترضونه لا نفسكم اتلوا آيات الله فى كل صباح ومساء، لا يغيرنكم كثرة القرأة والاعمال ٠ علموا ذر ياتكم ليقرؤا الواح الرحمن ٠ كتب عليكم تجديد اسباب البيت بعد تسع عشرة سنة والذى لم يستطع عفا الله عنه اغسلوا ارجلكم كل يوم فى الصيف وفى الشتاء كل ثلاثة ايام مرة واحدة من اغتاظ عليكم قابلوه بالرفق والذى يزجركم لا تزجروه قد منعتم عن الارتقاء الى المنابر ٠ من اراد التلاوة فليقعد على الكرسى الموضوع على السرير ٠ قد احب الله الجلوس على السرير والكراسى ٠ حرم عليكم الميسر الافيون ٠ اياكم ان تستعملوا ما تكسل به هياكلكم ويضرا بدانكم ٠ اذا دعيتم الى الولائم والعزائم اجيبو ٠ حرم عليكم حمل الآت الحرب الا حين الضروره واحل لكم لبس الحرير ٠ قد رفع الله عنكم حكم الحد واللباس واللحى ٠ يا ارض الكاف والراء سوف يظهر الله فيك اولى باس شديد يذكروننى باستقامة ٠ اذكروا الشيخ محمد حسن لما ظهر الحق اعرض عنه ٠ يا معشر العلماء لا تكونوا سبب الاختلاف اذكرو الكريم اذ دعوناه الى الله استكبر الى ان اخذته زبانية العذاب يا ملا البيان انا دخلنا مكتب الله اذ انتم راقدون ٠ قد احطنا الكتاب قبل كل قد خلق الله ذلك المكتب قبل خلق السموات والارضين ٠ لا تحملوا على الحيوان ما يعجز عن حمله ٠ من قتل

نفسا خطأ فله دية ماية مثقال الارض وكذلك من الخطوط ليس منى ٠ يا اهل الارض لا تجـ الاقدس الذى انزله الرحمن لا سبيل الله“

وقائع الاحوال

”فاصبروا اوتمسكوا راقد اقد هزنى هزنى نسيم يو عنه ٠ يا بديع كن فى النعمة ـ الوجه طلقا وللفقراء كنز ا للـ فيافى الامور منصفا فى الجمع ـ الظلمة سراجا للهموم فرحا او عضد او ظهر افى الاعمال ـ حصنا للضرير بصرا لمن ضل طراز اولبيت الاخلاق عرشا لـ الخير نور اوللارض الطيبة وبراس الحكمة اكليلا للجبين ولا تتبعوا كل مشرك مرتاب ٠ تـ عين شفقتى ناح قلبى بما لـ فضلى وسماء كرمى الذى احاط المقصود ويدعوهم الى المقا ارض ارتفع فيها ندأ ابن مريـ نطق الملالا على قداتى الـ الانجيل قد فتح باب السماء واتـ ويبشر الكل بهذا الظهور للذى الموعود ٠ ان ياتكم فاسق بكتاب

صفحہ ٢٠٩

نفسا خطأ فله دية ماية مثقال من الذهب . اختاروا لغة ليتكلم بها من على الارض وكذلك من الخطوط قد حرم عليكم شرب الافيون والذى شرب ليس منى . يا اهل الارض لا تجعلوا الدين سببا للاختلاف تمسكوا بالكتاب الاقدس الذى انزله الرحمن لا تسبوا احد وان يسبكم احد ويمسكم ضر فى سبيل الله"

وقائع الاحوال

"فاصبروا او تمسكوا بما ينتفع به انفسكم واهل العلم يا رب كنت راقدا قد هزنى نسيم يوم ظهورك واذا ايقظنى والهمنى ما كنت غافلا عنه . يا بديع كن فى النعمة منفقا وفى فقدها شاكرا فى الحقوق امينا فى الوجه طلقا وللفقراء كنزا للاغنيا نصحا للمنادى مجيبا فى الوعد و فيا فى الامور منصفا فى الجمع صامتا فى القضاء عادلا للانسان خاضعاً فى الظلمة سراجا للهموم فرحا للظمان بحرا للمكروب ملجا للظلوم ناصرا و عضدا و ظهرا فى الاعمال متقيا للغريب وطنا للمريض شفاء للمستجير حصنا للضرير بصرا لمن ضل صراطا ولوجه الصدق جمالا ولهيكل الامانة طرازا ولبيت الاخلاق عرشا لجسد العالم روحا لجنود العدل راية ولأفق الخير نورا وللارض الطيبة رذاذا ولبحر العلم فلكا لسماء الكرم نجما ولرأس الحكمة اكليلا لجبين الدهر بياضا ولشجر الخضوع ثمرا . اتقوا ولا تتبعوا كل مشرك مرتاب . تالله لقد صعدت زفراتى ونزلت عبراتى بكت عين شفقتى ناح قلبى بما ارى العباد معرضين عن بحر رحمى وشمس فضلى وسماء كرمى الذى احاط من فى السموات والارضين . يبشرهم لسان المقصود ويدعوهم الى المقام المحمود وهم يفترون عليه بظلم مبين هذه ارض ارتفع فيها نداء ابن مريم الذى بشر الناس بهذا الظهور الذى اذ ظهر نطق الملأ الاعلى قد اتى الغيب المكنون بسلطان مشهود . قل يا ملأ الانجيل قد فتح باب السماء واتى من صعد اليها وانه ينادى فى البر والبحر ويبشر الكل بهذا الظهور الذى به نطق لسان العظمة قد اتى الوعد وهذا هو الموعود . ان يأتكم فاسق بكتاب مبين دعوه وراءكم سوف تنتشر الواح

صفحہ ٢١٠

النار فى الديار ٠ انا نذكر الالف والجيم قبل الالف والجم ليشكر به ٠ انا فزت بلوح الله فول وجهك شطر السجن وقل لك الحمد يا الهى قل تالله لقد ظهر ما هو المسطور فى كتاب الله انه هو الذى سمى فى التوراة بيهواه وفى الانجيل بروح الحق وفى القرآن بالنبأ العظيم تمسكوا بما وعدتم به من قبل بلسان النبيين والمرسلين اياكم ان تمنعكم الواح النار وكتاب السجين ٠ يا ملأ الاديان دعواما عندكم تالله قداتى الرحمن بالحجة والبرهان ٠ ليس لا حد ان يتوجه الى شطر السجن الا بعد اذنه ٠ يا قوم قداتى يوم القيام قوموا عن مقاعد كم وسبحوا بحمدربكم ٠ قدارتفعت الصيحة واتت الساعة وظهرت القارعة لكن القوم فى حجاب غليظ ٠ قد انكر علماء الاحزاب اذ اتى محمد رسول الله ﷺ وعلماء التورة اذا اتى الروح منهم الفتنة ظهرت واليهم رجعت ٠ انا اظهرنا الصحيفة المكنونة المختومة التى كانت مرقومة باصبع القدرة ومستورة خلف حجب الغيب ٠ تالله انى انا الصراط المستقيم وانا الميزان الذى يوزن به كل صغير وكبير ٠ يا اهل البهاء خذوا كتاب الله بقوة القوم فى وهم عجاب يعبدون الاوهام قد زينوا رؤسهم بالعمائم ضلوا واضلوا الا انهم لا يعلمون ٠ يا ملأ البيان لا تقتلونی بسيوف الاعراض تالله كنت نائما ايقظتنى يد ارادة ربكم الرحمن وامرنى بالنداء بين الارض والسماء ليس هذا من عندى لوانتم تعلمون ٠ لو يرى احدا قائما على الامر ناطقاما اقامنى وما انطقنى بكلمة ٠ قد اخذ المختار من كفى زمام الاختيار واقامنى كيف شاء وانطقنى كيف اراد ٠ يا ملأ البيان دعونى لاهل القرآن انهم احاطونى اتقوالله ولا تكونوا من الظلمين“

تكفير اهل البيان

”قد انكر ملأ البيان حجة الله وبرهانه ٠ ان الذين اتخذوا الاوهام لا نفسهم اربابا من دون الله اولئك اصحاب النارقد احاطت المظلوم ذئاب الارض واشرار هاقد انكروه ان الذى ربيناه اراد سفك دمى فلما ظهر الامرصاح فى نفسه متمسكا بمفتريات لا ذكرلها عند الله ٠ ا ميرزا يذكرك

صفحہ ٢١١

مولى الاسماء فى هذا المقام ٠ ان قلمى ينوح بما ورد على من الذين كفروا يذكرون نقطة البيان ويفتون على مرسله ويقرؤن الايات وينكرونها الا انهم من اصحاب النار ٠ يا عباد الرحمن اذا جاءكم ناعق دعوه بنفسه متوكلين على الله تالله ان البيان ما نزل الا لذكرى وما بشر العباد الا بظهورى ان كنتم فى ريب اقرءوا ايات الله وما عندكم ثم انصفوا يا اولى الابصار ٠ اتقوا الرحمن ولا تسفكوا ادم الذى نصركم بجنود الوحى والالهام ٠ قد انكرنى من خلق لخدمتى قد اراد سفك دمى من حفظته تحت جناح الفضل فى سنين متواليات ٠ هل منكم من احد يجول فارس المعانى فى مضمار الحكمة والبيان يا اهل الارض اسمعوا تالله هذا نداء سمع الحبيب فى المعراج والكليم فى الطور والروح حين صعوده الى الله ٠ قد اتى المظلوم لنجاة العالم ولكن الامم قاموا عليه بظلم تغيرت به الافاق ٠ هذا هو الذى بشركم محمد رسول الله هذا هو الذى ذكرتموه فى القرون الاعصار قد اهتز القوم شوقا للقائه ٠ اى رب تعلم انى ماردت الا حرية عبادك ونجاتهم من سلاسل التقليد والاوهام ٠ انا وصيناهم بالظهور الاعظم وبشرناهم بهذا اليوم العظيم فلما ظهر أعرضوا عن الذى اتى بالحق يا ملأ البيان اذكروا ما انزله الرحمن فى القرآن يوم يقوم الناس لرب العلمين ٠ ان الذى اتخذتموه ربا لانفسكم من دون الله كان يفر من مقام الى مقام يشهد به الانام ٠ ان تريدوا الايات انها احاطت الافاق تريدوا البينات انها ظهرت لا ينكرها الا كل معتد اثيم ٠ ان يعذب الله احدا امن بهذا الظهور فباى حجة لا يعذب الذين امنوا بنقطة البيان ومن قبله بمحمد وبابن مريم وبموسى الكليم الى ان يرجع الامر الى البديع الاول فاتقوا الله ولا تتبعوا الاصنام الذين كفروا بالشاهد والمشهود ليس لاحد ان يتذلل عند نفس ٠ حرم عليكم التقبيل والسجود والانطراح والانحناء ان السجود ينبغى لمن لا يعرف ولا يرى ٠ والذى يرى ليس لاحد ان يسجد له والا رجع ويتوب الى الله قد ثبت بالبرهان ان السجدة لم تكن الا لحضرة الغيب ٠ من المعرضين من قال انه سرق الايات ونسبها الى الله ومنهم من قال انه نهى الناس عن

صفحہ ٢١٢

المعروف ويل لك ايها الغافل الكذاب، قد كنتم رقودا خلف الاستاذ وقلمی الاعلى يجول في مضمار الحكمة والعرفان، قد فتحنا باب النصح على وجوهكم اذ وجدناكم اشقى العباد، لما نشر المسيح لوائه واتى مكلم الطور قام العلماء على الارض منهم من كفره ومنهم من اعرض ومنهم من اعترض ومنهم من افتى عليه بظلم به ذرفت عيون الابرار“

المنكر هو الكافر

”كذلك سولت لهم انفسهم نشهد انهم من اصحاب النار، انا في اوّل الايام قمنا امام وجوه العالم وعن يميني رايات الايات وعن يساري اعلام البينات ودعونا الكل الى الله قد قام علينا الاحزاب باسياف الاعتساف، منهم من قال انه افترى على الله ومنهم من انكر ما نزل من الله قل هذا نور به استضاء العالم ونار به احترقت افئدة كل جاهل مردود، يا ملا البيان لا تكونوا من انكروا حجة الله لو تنكرونه فباى برهان ثبت ما عندكم فاتوا به ولا تعترضوا على الذى بامره نطق كل نبى وكلم كل رسول، واعلم ان كلام الله اجل من ان يكون مما تدركه الحواس لانه ليس بطبيعة ولا بجوهر قد كان مقدسا عن العناصر المعروفة، انه ظهر من غير لفظ وصوت، لما ملئت عيون اهل الشرق من صنائع اهل الغرب تراهم يوافى الانسان ليعلم ان اكثرها اخذوا من حكماء القبل والقدماء اخذوا العلوم من الانبياء“

الحكمة القديمة

”ان امبيد قليس كان في زمن داؤد وفيثا غورس في عهد سليمان واخذا الحكمة منهما، انا نذكرلك نبأ يوم تكلم فيه احد من الانبياء فلما انفجرت ينابيع الحكمة من الناس من اخذ هذا القوم ووجد في زعمه الحلول ومنهم من فاز بالرحيق المختوم، ان الفلاسفه ما انكروا الله القديم ان بقراط اعترف بالله وسقراط اعتزل في الغار ومنع الناس عن عبادة الاوثان فخذوه وقتلوه في السجن هو الذى اطلع على الطبيعة الموصوفة با الغلبة بانها تشبه الروح الانساني قد اخرجها من الجسد الحيوانى وعجز

حكماء العصر ان ادراكه افلاطـ طاليس الذى ادرك القوة البـ الطلسمات وانتشر منه من العلو اله الا غيرك، اننا ما قرانا كـ والحكماء يظهر ما ظهر في العالـ تسمع على ستين ميلا، انا نحـ وايدناهم بامر من عندنا انا كـ الذين جعلهم مطالع اسمه الصانـ التكلم بالهوى والاعراض عـ وما ورد على وما ينسب الى النـ امن بالله ان يعمل بما امر به الغيوب قل املأ الارض ضـ الغنى المتعال لو انتم تشعر واللقاء ولكن الناس عنه معرضـ

ورقة بيضاء

”انا كنا مستويا رفيعة بيضاء اصبحت كالبد ترعين مثلها لما حلت اللثـ كغصن البان، ثم طافت مـ يهلل ورائها من بديع حسنـ السودا على طول عنقها البيـ بهئ، لما تفرسنا في وجهها و مشرقة من افق جبينها كان بـ النقطة نقطة اخرى فوق ثديـ سامعة متحركة من ايات ربها تقربت وقالت نفسى الفداء

صفحہ ٢١٣

حكماء العصر ان ادركه افلاطون تلميذ سقراط اقر بالله ٠ وبعده ارسطو طاليس الذى ادرك القوة البخارية ٠ ثم جالينوس ابوالحكمة صاحب الطلسمات وانتشر منه من العلوم مالا انتشر من غيره قال فى مناجاته انت لا اله الا غيرك ٠ اننا ما قرانا كتب القوم وكلما اردنا ان نذكر بيانات العلماء والحكماء يظهر ما ظهر فى العالم امام وجه ربك نذكر نبأ مورطس صنع الة تسمع على ستين ميلا ٠ انا نحب الحكماء الذين ظهر منهم ما انتفع به الناس وايدناهم بامر من عندنا انا كنا قادرين ٠ اياكم ان تنكروا عبادى الحكماء الذين جعلهم مطالع اسمه الصانع انا نتبرء عن كل جاهل ظن بان الحكمة هو التكلم بالهوى والاعراض عن الله ٠ تفكر فى بلائى وسجنى وغربتى وماورد على وما ينسب الى الناس الا انهم فى حجاب غليظ ٠ ينبغى لكل اسم امن بالله ان يعمل بما امر به فى الكتاب الاقدس الذى من لدى الحق علام الغيوب قل ا ملأ الارض ضعوا الا قوال وتمسكوا بالاعمال كذلك يا مركم الغنى المتعال لوانتم تشعرون ٠ هذا يوم الذكر والثناء هذا يوم المكاشفة واللقاء ولكن الناس عنه معرضون “

ورقة بيضاء

” انا كنا مستو يا على العرش دخلت ورقة نور اولا بستة ثيابا رفيعة بيضاء اصبحت كالبدر الطالع من افق السماء ٠ تعالى الله موجدهالم ترعين مثلها لما حلت اللثام اشرقت السموات والارض هى تبسم وتميل كغصن البان ٠ ثم طافت من غير ارادة تمشى والجلال يخدمها والجمال يهلل ورائها من بديع حسنها ودلالها واعتدال اركانها ثم وجدنا الشعرات السودا على طول عنقها البيضاء كان الليل والنهار اعتنقا فى هذا المقر الا بهئ ٠ لما تفرسنا فى وجهها وجدنا النقطة المستورة تحت حجاب الواحدية مشرقة من افق جبينها كان بها فصلت الواح محبة الرحمن وحكيت عن تلك النقطة نقطة اخرى فوق ثديها الايمن ٠ وقام هيكل الله يمشى وتمشى ورائه ساطعة متحركة من ايات ربها ثم ازدادت سرورا الى ان انصعقت فلما افاقت تقربت وقالت نفسى الفداء لسبحنك يا سرالغيب ٠ كانت منتظر الى شرق

صفحہ ٢١٤

العرش كمن بات فى سكر الى ان وضعت يدها حول عنق ربها وضمته اليها . فلما تقربت تقربنا وجدنا منها ما نزل فى الصحيفة المخزونة الحمراء من قلمى الاعلى . ثم مالت براسها واتكأت بوجهها على اصبعيها كان الهلال اقترن بالبدر التمام عند ذلك صاحت وقالت كل الوجود فداء لبلائك ياسلطان الارض والسماء الام اودعت نفسك فى معاينة عكاء اقصد ممالكك الاخرى التى ما وقعت عليها عيون اهل السماء . عند ذلك تبسمنا وقد تصادف هذا الذكر يوماً فيه ولد مبشرى الذى نطق بذكرى واخبر الناس بسماء مشيتى وعززناه بيوم اخر الذى فيه ظهر الغيب للكون الذى به اخذ الاضطراب سكان ملكوت الاسماء وانصعق من فى الارض والسماء الا من انقذناه بسلطان من عندنا وانا المقتدر على ما اشاء لا اله الا انا العليم الحكيم“

الثواب والعقاب

”انا نريهم افق اليقين وهم يعرضون عنه . يذكرهم قلم الوحى وهم لا يتذكرون . يتبعون الجهلاء ويسمونهم بالعلماء الا انهم لا يفقهون . ان الذين لا يميزون اليمين عن الشمال يدعون العلم وبه استكبروا على الحق علام الغيوب . قل ومالك الابداع انتم همج رعاع تبرأ منكم جوارحكم وانتم لا تشعرون . سوف يرى المشركون مثواهم فى النيران والموحدون فى ملكوت الله قد خرقت الاحجاب وظهر الوهاب بسلطان لا تمنعه جنود العالم ولا ضوضاء الامم ينطق فى كل حين الملك لله . ان الذى اقبل الى مطلع الايات انه اقبل الى الله يا قوم لا ينفعكم اليوم شئ الا ان تتوبوا وترجعوا الى الله انا نذكر الذين اقبلوا الى الله سوف يجعله الله كنزا لهم اذا تشرفت بلوح الله اقرأه بالليالى والايام . انه يقربك الى المقام الرفيع . يا اهل البهاء تالله ربحتم فى تجارتكم . سوف ترون انفسكم فى مقام لا يسعه البيان ولا تحيطه اوصاف العارفين . اشكروا الله انه معكم فى كل الاحوال ويؤيدكم على ما انتم عليه قد ظهرت الكلمة ونادت الساعة وقامت القيمة بشرى لكم يا ملأ الارض بهذا اليوم المبارك انتبهوا من رقدة الهوى قد اتى مالك الورى . اياكم

صفحہ ٢١٥

ان تحجبكم زماجر اهل النفاق زين لسانك بالذكر انه يذكرك فى المقام الذى سمى بالسجن مرة واخرى بالمقام الكريم . كتاب نزل بالحق لمن توجه الى الافق الاعلى قل ظهر ام الكتاب ينطق انه لا اله الا انا . قد خلقت الخلق لعرفانى فلما اظهرت نفسى كفروا واعرضوا الا من شاء الله . قد انتظر الكل ايام الوصال فلما اتى الغنى المتعال اعرضوا عنه . كن على شان لا تحجبك احجاب العالم . كذلك يعلمك من علم ادم الاسماء كلها يا اهل البهاء اسمعوا النداء من البقعة النوراء من لدى الله تمسكوا بحبل الوفاء. هذه جنة لها انهار تجرى فى ظلال هذا السدرة التى ارتفعت بالحق . نهر مسمى بالوفاء من شرب منه فاز بالاستقامة الكبرى ويجد نفسه فى مقام لا تمنعه الاسماء عن مالكها ولا المسمى عن صراط المستقيم. انه ممن شهد له الرحمن فى كتابه قال وقوله الحق لا يمنعه ذكر النبى عن الذى بقوله يخلق النبيين والمرسلين قد اجتمع العلماء على ضرنا لكن الله اخذهم بالعدل فلما رجعوا الى مقرهم قام بعدهم من سمى بباقر بظلم بكت منه عيون الذين طافوا حول العرش. افما اركسنا ثم تاخذه ونرجعه الى مقر يفر منه الجحيم . نعيماً لمن تزين بطراز الاستقامة فى هذا الامر الخطير قد جرى الكوثر والسبيل وظهر السبيل بهذا الاسم المهيمن وكذلك اشرقت شمس الوحى من ربك لتتوجه اليها بقلبك واشكروا كن من الحامدين “

السجن ونزوله تعالى

”يا على اسمع النداء من سجنى الاعظم انه لا اله الا هو تمسك بحبل الله ليحفظك من الذين كفروا بيوم الدين كن مستقيما على حب الله لا يمنعك نفاق كل شيطان رجيم انه يلهم اوليائه كما الهم فى القرون الاولى تجنب عنه وتوكل على الله سراج الله ينادى بينكم ويقول الى الى يا شعبى وعبادى لعمرى اظهرت نفسى لكم اتبعوا امرى لا تعقبوا الذين كفروا بالله رب العلمين. قيل هل نزلت الالواح قل اى وربى. من الناس من توجه الى النعيب الغراب . اتقوا الله ولا تعارضوا على الذين ظهرت به الحجة. شهد القيوم لهذا المظلوم انه لا اله الا هو قد فتح باب السماء وهو هذا الباب الذى

صفحہ ٢١٦

بالاسم الاعظم على من فى الملك والملكوت . قد ظهر المنظر الاكبر ولكن الناس عنه معرضون والذى اعرض انه من اصحاب القبور سبحان الذى الهم عباده الاصفياء وعرفهم هذا اليوم الذى كان مسطورا . ان اليوم يمشى وينطق ولكن القوم اكثرهم من الغافلين انه بنفسه ينادى العالم ويقول تالله قداتى مالك القدم الاسم الاعظم توجهوا ولا تكونن من الغافلين“

الهيكل

”قد ظهرت الكلمة العلياء وبها هدرت الورقاء على السدرة المنتهى انه هو هو توجهوا اليه ان الذين اعرضوا عن الوجه اولئك فى خسران عظيم . انا اظهرنا الامانة على هيكل الانسان وانه يقول كل الفضل لمن تمسك بى ان الذين اعرضوا عنى ليس لهم نصيب فى الكتاب . اسمع ما قاله المشرك بالله بعد ما اويناه فى ظل الشجرة وحفظناه بسلطانى المهيمن قد افتى بالظلم على الذين ينبغى له ان يخدمهم ثم قال ما لا قاله احد من المشركين مثله مثل الحية الرقطاء تلدغ وتصيئ سبحان الذى نطق وانطق كل شئى على انه لا اله الا هو . قد نار افق العالم بشمس اسمى الاعظم لكن اكثرهم لا يشعرون . كتاب انزله المظلوم فى السجن الاعظم لمن امن بالله انا نذكر من يذكرنا ونبشر من اقبل الى الله . طوبى لمقبل اقبل الى الله ولقاصد قصد المقصود اذ كان فى سجنه الاعظم كذلك ذكرناك وانزلناك ما انجذب منه العالم . هنيئاً لمن فاز بايامى ومريئاً لمن شرب كوثر الحيوان من هذا القلم“

طبع فى مطبع الناصرى فى شهر محرم الحرام فى بمبئ ١٣١٤هـ

١٠...... اقتباسات كتاب البريه

مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”میرا شجرہ نسب یہ ہے۔ غلام احمد، غلام مرتضیٰ، عطاء محمد، گل محمد، فیض محمد، محمد قائم، محمد اسلم، محمد دلاور، الہ دین، جعفر بیگ، محمد بیگ، عبدالباقی، محمد سلطان، ہادی بیگ۔ میری قوم مغل برلاس ہے۔ میرے بزرگ (اپنی برادری کو چھوڑ کر) سمرقند سے پنجاب قادیان میں آئے تھے۔ جو لاہور سے پچاس میل کے فاصلہ پر شمال مشرق پر واقع ہے۔ جہاں اس

وقت ایک جنگل تھا۔ جس کو آباد کر کے نام سے مشہور ہوا۔ پھر صرف قاضی ما ہے۔ یہ سارا علاقہ ماجھا کہلاتا تھا۔ بزرگ والیان ملک کے خاندان سے سکھوں کے عہد میں میرے دادا گل کچھ گاؤں ہاتھ سے نکل گئے۔ مگر جاگیر دے دیئے۔ جواب تک ان کھانا کھاتے تھے اور ایک جماعت وصلوٰۃ کے پابند تھے۔ لوگ اس وقت پناہ تھا اور مرزا صاحب کرامات مشہور

گل محمد اور ریاست

میں نے کئی بار اپنے با قادیان آیا اور آپ کی مدبرانہ حکومت کسل سلطنت مغلیہ میں آپ کو تخت لینے کو کہا گیا تو آپ نے انکار کر دیا محمد گدی نشین ہوئے۔ اس وقت سکھ چاروں طرف مورچوں میں فوج ر فرقہ رام گڑھیا اجازت لے کر ان لوٹ کر تمام مساجد کو مسمار کر دیا۔ انہوں نے دھرم سالہ بنا رکھا ہے ا میرے بزرگوں کو کسی دوسری سلطن آخری عہد میں میرے والد غلام تسلیم کئے گئے اور گورنر جنرل کے گھوڑ سوار حکومت کو پیش کئے اور آ وثیقے عطاء کئے گئے۔ جن کا تن کئی دفعہ خود ڈپٹی کمشنران کو گھر پر

صفحہ ٢١٧

وقت ایک جنگل تھا۔ جس کو آباد کر کے اسلام پور نام رکھا جو کچھ عرصہ بعد اسلام پور قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا۔ پھر صرف قاضی ماجھی رہ گیا۔ پھر قادی پھر قادیان۔ اس علاقہ کا طول ساٹھ کوس ہے۔ یہ سارا علاقہ ماجھا کہلاتا تھا۔ کیونکہ اس میں مجھ یعنی بھینس بکثرت پائی جاتی ہے۔ میرے بزرگ والیان ملک کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ جو کسی وجہ مخاصمت سے ان کو سمرقند چھوڑنا پڑا سکھوں کے عہد میں میرے دادا گل محمد کے پاس پچاسی گاؤں تھے۔ سکھوں کے متواتر حملوں سے کچھ گاؤں ہاتھ سے نکل گئے۔ مگر پھر بھی دریا دلی سے آپ نے چند تفرقہ زدہ رفقاء کو کچھ بطور جاگیر دے دیئے۔ جو اب تک ان کے پاس ہی ہیں اور تقریباً پانچ سو آدمی آپ کے دستر خوان پر کھانا کھاتے تھے اور ایک جماعت طلباء وعلماء آپ کی وظیفہ خوار بھی تھی اور تمام ملازم تہجد تک صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔ لوگ اس وقت اسے مکہ کہتے تھے۔ کیونکہ یہ گاؤں اس وقت اسلام کی جائے پناہ تھا اور مرزا صاحب کرامات مشہور تھے اور آئین حکومت سے بھی باخبر تھے۔

گل محمد اور ریاست

میں نے کئی بار اپنے باپ سے سنا تھا کہ سلطنت مغلیہ کا ایک وزیر (غیاث الدولہ) قادیان آیا اور آپ کی مدبرانہ حکومت دیکھ کر کہنے لگا کہ اگر مجھے اس بیدار مغز کا پتہ معلوم ہوتا تو ایام کسل سلطنت مغلیہ میں آپ کو تخت نشین کر دیتا۔ مرض موت کے ایام میں ہچکی نے آگھیرا تو شراب پینے کو کہا گیا تو آپ نے انکار کر دیا۔ کہا کہ اس کی اور دوائیں بھی ہیں۔ تو آپ کے بعد مرزا عطاء محمد گدی نشین ہوئے۔ اس وقت سکھوں کی دستبرد سے صرف قادیان کا قلعہ قبضہ میں رہ گیا۔ جس کی چاروں طرف مورچوں میں فوج رہتی تھی۔ فصیل کی اونچائی ٢٢ فٹ اور عرض بقدر تین چھکڑے تھا۔ فرقہ رام گڑھیا اجازت لے کر اندر آ گھسا اور دھوکے سے قابض بن گیا اور تمام مال واسباب لوٹ کر تمام مساجد کو مسمار کر دیا۔ جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے پاس ہے۔ جس پر انہوں نے دھرم سالہ بنا رکھا ہے اور ایک کتب خانہ جلا دیا۔ جس میں پانچ سو قرآن مجید تھے اور میرے بزرگوں کو کسی دوسری ریاست میں بھیج دیا۔ جہاں میرے دادا کو زہر دیا گیا۔ رنجیت سنگھ کے آخری عہد میں میرے والد غلام مرتضیٰ قادیان واپس آئے تو ان کو پانچ گاؤں واپس ملے اور رئیس تسلیم کئے گئے اور گورنر جنرل کے دربار میں ان کو کرسی ملتی تھی۔ ١٨٥٧ء میں آپ نے پچاس آدمی گھوڑ سوار حکومت کو پیش کئے اور آئندہ امداد کا بھی وعدہ دیا تو آپ کو حکومت کی طرف سے اعزازی چٹھیات عطاء کئے گئے۔ جن کا تذکرہ سر لیپل گریفن نے اپنی کتاب تاریخ رئیساں میں کیا ہے اور کئی دفعہ خود ڈپٹی کمشنر ان کو گھر پر ملنے آیا کرتا تھا۔

صفحہ ٢١٨

پیدائش مسیح قادیان

میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ جب کہ سکھوں کا آخری زمانہ تھا اور میں ١٨٥٧ء میں سولہ یا سترہ برس کا تھا۔ میرے والد نے میری پیدائش سے پہلے ایک دفعہ ہندوستان کا سفر پیدل کیا تھا۔ مگر اب وہ تنگی دور ہو چکی تھی اور میں نے ان مصائب سے کوئی حصہ نہیں لیا تھا۔ گو مسیح کی طرح مجھے سر رکھنے کی بھی جگہ نہ تھی اور موروثی جائیداد ختم ہوچکی تھی۔ مگر خدا تعالیٰ نے چاہا کہ ایک نیا سلسلہ شروع کرے۔ میں توام تھا۔ میرے ساتھ لڑکی پیدا ہو کر مر گئی۔ جس سے ثابت ہوا کہ مجھ میں انوثیت کا مادہ باقی نہیں رہا۔ براہین میں الہام درج ہے کہ: ”سبحان اللّٰہ تبارک وتعالىٰ، زاد مجدک وینقطع آباؤک ویبدأ منک“ اور یہ بھی بشارت دی کہ میں تجھے برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔

مرزا قادیانی کی تعلیم

میں چھ سات برس کا تھا کہ فضل الٰہی کو نوکر رکھا گیا۔ جس سے میں نے قرآن شریف اور کچھ فارسی پڑھی۔ دس برس کا تھا تو فضل احمد سے عربی پڑھی۔ سترہ برس کا تھا تو گل علی شاہ سے منطق، حکمت اور نحو وغیرہ پڑھی اور علم طبابت اپنے باپ سے حاصل کیا۔ (کوئی نبی چار پانچ استادوں سے نہیں پڑھا اور نہ ہی کتب بین ہوتا ہے) اور کتب بینی اس قدر غالب تھی کہ اس وقت گویا میں دنیا میں نہ تھا۔ جس سے والد صاحب مجھے ہمیشہ روکتے تھے اور اسی وجہ سے مجھے مقدمات میں لگا دیا۔ جو انہوں نے دوبارہ واپس دلانے، یا جائداد دیہات مذکورہ کے واگزار کرانے کے لئے دائر کر دیئے تھے اور عرصہ دراز تک مجھے زمینداری میں بھی لگا دیا۔ مگر چونکہ میں اس فطرت کا نہ تھا۔ اس لئے والد صاحب ناراض رہتے تھے اور روزگار کرنے میں کوشش کرتے تھے۔ مگر میں اس سے متنفر تھا۔

باپ کی ناراضگی

ایک دفعہ ڈپٹی کمشنر صاحب آئے تو مجھے آپ نے کہا کہ پیشوائی کے لئے دو تین کوس جانا چاہئے۔ مگر میں بیمار تھا اور کراہت بھی تھی۔ اس لئے نہ جاسکا تو یہ امر بھی ناراضگی کا باعث ہوا۔ مگر تاہم میں نے اپنے آپ کو تحصیل ثواب کے لئے محو خدمت کر دیا اور وہ بھی مجھے ”بَرّ بالوالدین“ جانتے تھے۔ فرماتے تھے کہ میں صرف ترحم کے طور پر متوجہ بہ دنیا کرنا چاہتا ہوں۔ ورنہ مجھے معلوم ہے کہ جس کی طرف اس کی توجہ ہے۔ سچ ہے ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں۔ آپ کے زیر سایہ چند سال کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔ مگر چونکہ میری جدائی پسند نہ تھی۔ اس لئے میں نے نوکری چھوڑ دی۔ مگر مجھے معلوم ہو گیا کہ ملازم عموماً

صفحہ ٢١٩

بددیانت اور غیر متشرع ہوتے ہیں۔ بہتوں کو اخوان الشیاطین پایا۔ جن کو اخلاق فاضلہ سے خالی پایا اور اخلاق رذیلہ سے پر تھے۔ واپس آ کر زمینداری مشاغل میں مصروف رہا۔ مگر اکثر حصہ قرآن وحدیث کے تدبر اور تفاسیر میں گذارتا تھا اور وہ کتابیں زیر مطالعہ آپ کو سناتا بھی تھا۔ آپ نے مقدمات میں ستر ہزار روپے خرچ بھی کر ڈالے۔ مگر آخر نا کام رہے۔ یہ موقعہ میری پاک تبدیلی کے لئے بہت زرین تھا۔ کیونکہ آپ کے غموم کا نقشہ مجھے بے کدورت زندگی کا سبق دیتا تھا۔ باوجودیکہ چند دیہات آپ کے قبضہ میں تھے۔ پنشن بھی آتی تھی اور سالانہ انعام بھی مقرر تھا۔ مگر جو کچھ آپ نے دیکھا ہوا تھا۔ اس کے مقابلہ میں ہیچ تھا۔ اس لئے مغموم ہو کر یہ شعر پڑھتے تھے۔

عمر بگذشت و نماندست جز ایامے چند
بہ کہ بر یادِ کسے صبح کنم شامے چند
از در تو اے کسے ہر بے کسے
نیست امیدم کہ بروم ناامید
بآب دیدۂ عشاق و خاکپائے کسے
مرا دلے ست کہ در خون تپد بجائے کسے

ایک خواب

ایک دفعہ حضورﷺ کو خواب میں دیکھا۔ استقبال کے لئے دوڑے اور نذرانہ پیش کیا تو ایک کھوٹا روپیہ جیب سے نکلا۔ اس کی تعبیر حب دنیا سے کیا کرتے تھے۔ اسی غم پر دادا صاحب کا ایک شعر بھی پڑھا کرتے تھے۔ جس کا ایک مصرعہ بھول گیا ہوں۔

کہ جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے

مرنے سے پہلے چھ ماہ آپ نے ایک جامع مسجد وسط آبادی میں تیار کروائی اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک کونہ میں میری قبر ہو۔ مسجد مکمل ہو گئی فرش باقی تھا کہ پیچش سے چند روز بیمار رہ کر (جون ١٨٥٧ء) کو فوت ہو گئے۔ آپ کی عمر ٨٠ یا ٨٥ سال تھی اور اس وقت میری عمر ٣٤ یا ٣٥ سال تھی۔ میں اس وقت لاہور میں تھا۔ مجھے خواب میں بتایا گیا کہ آپ کی موت قریب ہے۔ میں قادیان آیا تو دوسرے دن آپ فوت ہو گئے۔ حالانکہ آرام بھی ہو گیا تھا۔ مجھے کہا کہ گرمی بہت ہے۔ آرام کرو۔ میں چوبارہ میں چلا گیا۔ نوکر پاؤں دبانے لگا۔ تو غنودگی میں الہام ہوا۔ ”والسماء والطارق“ (قسم ہے آسمان کی جو قضاء قدر کا مبداء ہے) اور قسم ہے اس حادثہ

صفحہ ٢٢٠

کی جو غروب شمس کے بعد نازل ہونے والا ہے۔ یہ خدا کی طرف سے تعزیت تھی کہ رات کو تیرا باپ مر جائے گا۔ جب مجھے غم ہوا تو فوراً یہ الہام ہوا کہ: ”الیس اللہ بکاف عبدہ“ اور یہ پہلا الہامی نشان تھا۔ جو نگینہ میں کھدا ہوا اب تک موجود ہے۔ میرے چالیس برس کے قریب جب والد صاحب نے وفات پائی تو مکالمہ زور سے ہونے لگا۔ حالانکہ نہ کوئی میں نے محنت کی نہ مجاہدہ۔ نہ گوشہ نشینی نہ چلہ کشی نہ رہبانیت۔ بلکہ بدعتیوں سے بچتا رہا۔ ہاں خواب میں ایک معمر آدمی نے مجھے روزہ رکھنے کو کہا تو میں نے مخفی طور پر اس سنت نبوی کو نبھایا۔ مردانہ نشست میں میرا کھانا آتا تو ان کو یتیموں پر تقسیم کر دیتا۔

مجاہدہ اور ابتدائی الہامات

دو تین ہفتہ بعد معلوم ہوا کہ کم کھانے میں لطف ہے تو کھانا بالکل ہی کم کر دیا کہ جس پر دو تین ماہ تک کا بچہ بھی صبر نہیں کر سکتا اور مکاشفات کھلے، انبیاء و اولیاء بھی ملے۔ ایک دفعہ عین بیداری میں پنج تن پاک کی زیارت ہوئی۔ بعض ستون سرخ و سبز دلکش دلستان نظر آتے تھے۔ در حقیقت وہ ایک نور میرے دل سے نکلتا تھا اور دوسرا نور خدا کی طرف سے نازل ہوتا تھا اور دونوں سے ایک ستون پیدا ہو جاتا تھا۔ فاقہ کشی سے ثابت ہوا کہ انسان طعم پسندی میں ترقی نہیں کر سکتا۔ میں ہر ایک کو مشورہ نہیں دیتا کہ وہ ایسا کرے۔ کیونکہ بعض صوفی مجاہد یبوست دماغ کی وجہ سے مجنون ہو جاتے ہیں۔ یا سل، دق اور دوسری امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جو کمزور دماغ ہو۔ اس کے لئے اس قسم کے مجاہدوں سے پرہیز بہتر ہے۔ مگر جو الہام کے ذریعہ ہو اس کا کرنا ضروری ہے۔ روحانی سختی ابھی باقی تھی۔ جسمانی سختی آٹھ نو ماہ تک لگا تار رہی۔ اب روحانی سختی کشی کی باری آئی۔ تو اپنی قوم کے مولویوں نے بدزبانی اور تکفیر اور عوام کی دشنامی سے یہ حصہ مل گیا۔ جو حضورﷺ کے بعد کسی کو نہیں ملا۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھ کو دونوں حصے مل گئے۔

الہام اور مسیحیت

جب چودھویں صدی کا آغاز ہوا تو مجھے الہام ہوا کہ تو اس صدی کا مجدد ہے اور یہ الہام ہوا۔ ”الرحمن علم القرآن لتنذر قوما ما انذر آباؤہم ولتستبین سبیل المجرمین۔ قل انی امرت وانا اول المؤمنین“ یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور صحیح معنی اس کے تجھ پر کھول دیئے۔ تا ان لوگوں کو ڈرائے بدانجام سے جو باعث پشت در پشت غفلت اور نہ دیئے جانے تنبیہ کے غلطیوں میں پڑ گئے اور تا ان مجرموں کی راہ کھل جائے جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست پر نہیں آئے۔ ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ ہوں اور اوّل

المومنین ہوں۔ یہ الہام براہین ا کے لئے مامور کیا گیا؟ کیا زمانہ کی روک تھام کے لئے صدی کے مولوی میرے ثنا گو رہے اور اس اور جب تک صریح طور پر میں نے کا دعویٰ ہوا تو عجیب شور اٹھا۔ تکفیر کئے اور یہ نوشتہ پورا ہوا کہ امام مو غیر جانبدار، میرے موافق اگر چہ اکثر خواص ہیں اور ذی عزت ع قطبوں کی نسل۔ خدا ہماری جماع کہ نیک دل، پارسا طبع، اولوالعز وہ دعویٰ تھا کہ جس کے تمام خطر کے درجے تک پہنچا ہوا ہے۔ ی اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ

فیج اعوج کے تناقضات

مگر فیج اعوج کے علا

قرآن وحدیث س عقیدہ رکھتے ہیں کہ

حضورﷺ کو خاتم ا

دجال کے غلبہ کے ظہور غلبہ صلیب ک پر غالب ہوگی اور ا

مسیح اور مہدی دو مخ ان چار تناقضوں س تھا کہ نیچری ان معنوں کو رد کر د سچے معنے سمجھنے کا موقعہ دیا ہے۔ ان

صفحہ ٢٢١

المؤمنین ہوں۔ یہ الہام براہین احمدیہ میں اٹھارہ سال قبل شائع ہو چکا ہے۔ میں کیوں اس خدمت کے لئے مامور کیا گیا؟ کیا زمانہ کی حالت مقتضی نہ تھی کہ اسلام پر بیرونی حملوں اور فسق و بدعات کی روک تھام کے لئے صدی کے سر پر ایک مجدد کی ضرورت ہے۔ براہین احمدیہ کے زمانے تک مولوی میرے ثنا گو رہے اور اس پر ریویو بھی لکھا۔ حالانکہ اس میں مجھے مسیح موعود اور عیسیٰ بھی لکھا تھا اور جب تک صریح طور پر میں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لوگ مخالف نہ تھے۔ مگر مسیحیت کا دعویٰ ہوا تو عجیب شور اٹھا۔ تکفیری استفتاء تیار ہوا۔ جس پر کم فہم اور موٹی عقل والوں نے دستخط کئے اور یہ نوشتہ پورا ہوا کہ امام موعود کی تکفیر ہوگی۔ اب لوگ تین قسم کے ہو گئے۔ موافق مخالف اور غیر جانبدار، میرے موافق اگر چہ تھوڑے ہیں۔ مگر غیر ممالک تک پہنچ گئے ہیں۔ ہمارے گروہ میں اکثر خواص ہیں اور ذی عزت عہدہ دار ہیں۔ اکثر تعلیم یافتہ تاجر، تعلقہ دار، جاگیردار اور غوثوں، قطبوں کی نسل۔ خدا ہماری جماعت کو فوق العادت ترقی دیتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ خدا چاہتا ہے کہ نیک دل، پارسا طبع، اولوالعزم، سعادت مند لوگوں کو اس جماعت میں داخل کرے۔ مسیحیت کا وہ دعویٰ تھا کہ جس کے تمام منتظر تھے۔ گو قرآن شریف میں یہ وعدہ اجمالی تھا۔ مگر احادیث میں تواتر کے درجے تک پہنچا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ علماء نے لکھا ہے جو شخص اس پیشین گوئی کا انکار کرے اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔ کیونکہ متواتر کا انکار گویا اسلام کا انکار ہے۔

فج اعوج کے تناقضات

مگر فج اعوج کے علماء نے اس کے معنی سمجھنے میں دھوکہ کھا کر تناقضات پیدا کر لئے ہیں۔

عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ زندہ آسمان پر موجود ہیں۔

ظہور غلبہ صلیب کے وقت قرار دیا ہے کہ عیسائیت غالب ہوگی اور عیسائی طاقت سب پر غالب ہوگی اور اس کا مسقط سوائے حرمین کے ہر جگہ ہوگا۔

ان چار تناقضوں سے تذبذب پیدا ہوا اور نیچریوں نے اس کا انکار ہی کر دیا۔ مناسب تھا کہ نیچری ان معنوں کو رد کر دیتے۔ جو ناقص الفہم اور نادان مولویوں نے کئے تھے۔ اب خدا نے سچے معنے سمجھنے کا موقعہ دیا ہے۔ انصاف پسند تلاش کریں اور مکذبین میں شامل نہ ہوں۔ ملاکی نبی کی

صفحہ ٢٢٢

پیشین گوئی میں ایلیا کا ظہور تمثیلی تھا۔ مگر یہود نے جسمانی سمجھ کر مسیح کا انکار کر دیا اور آسمانی بادشاہی کو زمینی بادشاہی سمجھ بیٹھے۔ مگر یہودی نص صریح پیش کرتے تھے اور عیسائی تاویل سے مسیح کی صداقت پیش کرتے تھے۔ پس جب یہودی جھوٹے ثابت ہوئے تو مولوی کیسے سچے نکل سکتے ہیں۔ کیونکہ صحیحین میں موجود ہے کہ : ”امامکم ، امکم“ مسیح امام وقت ہوگا۔ عمر بھی ایک سو بیس برس لکھی ہے اور ١٢٠ء میں آپ فوت ہو چکے ہیں۔ جس پر قرآن شاہد ہے۔ ہمارے عقیدہ کی نظیر موجود ہے اور مولویوں کے عقیدہ کی نظیر موجود نہیں۔ تنگ آ کر کہتے ہیں کہ ہم مدعی نبوت ہیں اور معجزات یا ملائکہ کا انکار کر دیا ہے۔ حالانکہ ہم حضورﷺ کو خاتم الانبیاء مانتے ہیں اور تمام عقائد اہل سنت کے معہ معجزات اور ملائکہ کے قائل ہیں۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ مخالف نزول مسیح جسمانی مانتے ہیں اور ہم صوفیاء کی طرح روحانی نزول کو بروزی طور پر ثابت کرتے ہیں۔

دلیل صداقت

اور میری صداقت یہ دلیل ہے کہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جو مجدد عیسائیت کو فرو کرنے کے لئے ظاہر ہوگا۔ اس کا نام حضورﷺ نے بلحاظ اصلاح عیسائیت کے مسیح رکھا ہے۔ مگر عوام نے دھوکہ کھایا ہے کہ مسیح آسمان سے نازل ہو کر مجدد بنے گا اور چودھویں صدی کے سر پر آئے گا۔ کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ جو نبی اپنی طبعی عمر پا کر دار النعیم میں داخل ہو چکا ہے۔ دوبارہ دار الابتلاء میں کیوں آئے۔ کیا وہ نبوت جس پر مہر لگ چکی ہے اور وہ کتاب جو خاتم الکتب ہے۔ فضیلت ختمیت سے محروم رہ جائے گی؟ در حقیقت استعارہ یہ بتانا مقصود تھا کہ ایک وقت عیسائیت کا غلبہ ہوگا۔ جب عیسائی انسان پرستی اور صلیب پرستی میں کمال دجل وتحریف کی رو سے دجال ہو جائیں گے۔ تب ان کی اصلاح کے لئے آسمانی مسیح پیدا ہوگا۔ جو دلائل سے ان کی صلیب توڑے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس پیشین گوئی میں اسرائیلی مسیح مراد نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ: ”لا نبی بعدی“ اور یہ حدیث مشہور ہے۔ اس میں کسی کو کلام نہیں اور قرآن شریف کہ جس کا ایک ایک لفظ قطعی ہے۔ اپنی آیت ”وخاتم النبیین“ میں اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ آپ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ نبوت کے حقیقی معنوں کے اعتبار سے مسیح آپ کے بعد تشریف لائیں اور یہ کہنا بہت بے حیائی ہے کہ آپ نبوت سے معطل ہو کر آئیں گے۔

وفات مسیح

الغرض قرآن وحدیث کی رو سے کوئی نبی حقیقی معنی نبوت کے رو سے آپ کے بعد نہیں آسکتا۔ ”امامکم“ اور ”امکم“ نے بھی تصریح کر دی ہے۔ ”توفیتنی“ نے موت ہی کا فیصلہ

کر دیا ہے۔ یہاں ماضی کو مضارع مانا و مؤخر ہیں تو جب فساد نصاریٰ تسلیم ہے ہوتے ہوئے اجماع کا کون دعویٰ کر سکتا اور دروغگو ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے جب م ہے۔ ”قد خلت من قبلہ الرسل نبی زندہ نہیں ہے اور کوئی منکر نہ ہوا۔ امام غزالی اور فرقہ معتزلہ سب وفات مسیح کے خیالات ہیں۔ جب کہ دین میں ہزار ہا اعوج کہا گیا ہے اور اس زمانہ کے لوگوں کو نے حیات مسیح تسلیم کرنے سے چار طرح

زندہ ہیں۔ حالانکہ زمین پر نہیں رہا۔ تو پھر آسمان پر کی

پذیر ہے۔

اور اس کی نبوت حقیقی نبوت اگر مسیح نبوت کے ساتھ آ

دلیل قرآن وحدیث سے نہیں لا سکتے۔ بڑھا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کیونکہ حالانکہ نزول مسافر کے لئے آتا ہے۔ نز اترے ہیں۔ یہ مراد نہیں ہوتا کہ آپ کس کرو تو صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی پر گئے تھے اور پھر واپس آئیں گے۔ اگ دے سکتے ہیں۔ تو بہ کرنا اور اپنی کتابیں

صفحہ ٢٢٣

کر دیا ہے۔ یہاں ماضی کو مضارع ماننا بے جا ہے۔ کیونکہ توفی اور فساد نصاریٰ بالترتیب مقدم و مؤخر ہیں تو جب فساد نصاریٰ تسلیم ہے۔ تو وجود توفی بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ ان تصریحات کے ہوتے ہوئے اجماع کا کون دعویٰ کر سکتا ہے کہ مسیح زندہ ہیں۔ ورنہ وہ سخت نادان سخت خیانت پیشہ اور دروغگو ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جب محسوس کیا کہ حضور ﷺ کو وفات کے بعد زندہ تصور کیا جا رہا ہے۔ ”تو قد خلت من قبلہ الرسل“ سے ثابت کر دیا کہ نبی سارے فوت ہو گئے ہیں اور کوئی نبی زندہ نہیں ہے اور کوئی منکر نہ ہوا۔ امام مالک، ابن حزم، امام بخاری، ابن تیمیہ، ابن قیم اور ابن عربیؒ اور فرقہ معتزلہ سب وفات مسیح کے قائل ہیں تو اجماع کیسے ہوا۔ درحقیقت یہ اس زمانہ کے خیالات ہیں۔ جب کہ دین میں ہزار ہا بدعات پیدا ہو گئے تھے اور یہ وسط کا زمانہ تھا۔ جس کو فج اعوج کہا گیا ہے اور اس زمانہ کے لوگوں کو ”لیسوا منی ولست منھم“ کہا ہے۔ اب لوگوں نے حیات مسیح تسلیم کرنے سے چار طرح قرآن شریف کی مخالفت کی ہے۔

زندہ ہیں۔ حالانکہ زمین پر گو تمام سامان مہیا ہیں۔ کوئی شخص انیس سو سال تک زندہ نہیں رہا۔ تو پھر آسمان پر کیسے اتنی دیر زندہ رہ سکتا ہے۔

پذیر ہے۔

اور اس کی نبوت حقیقی نبوت ہے۔

اگر مسیح نبوت کے ساتھ آئے تو آپ خاتم الانبیاء کیسے رہ سکتے ہیں؟ رفع جسمانی کی دلیل قرآن وحدیث سے نہیں لاسکتے۔ بلکہ صرف نزول کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ بڑھا کر عوام کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کیونکہ کسی حدیث مرفوع متصل میں من السماء کا لفظ نہیں ہے۔ حالانکہ نزول مسافر کے لئے آتا ہے۔ نزول مسافر کو کہتے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کہاں سے اترے ہیں۔ یہ مراد نہیں ہوتا کہ آپ کس آسمان سے اترے ہیں۔ اگر تمام فرقوں کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہ پاؤ گے کہ حضرت عیسیٰ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر گئے تھے اور پھر واپس آئیں گے۔ اگر کوئی ایسی حدیث پیش آئے تو ہم بیس ہزار روپیہ تاوان دے سکتے ہیں۔ توبہ کرنا اور اپنی کتابیں جلا دینا اس کے علاوہ ہوگا۔ جس طرح چاہیں تسلی کر لیں۔

صفحہ ٢٢٤

سادہ لوح علماء لفظ نزول سے اس بلا میں گرفتار ہیں اور منتظر ہیں کہ ایک دن آسمان سے فرشتوں کے درمیان ہو کر اتریں گے۔ جو ان کو آسمان سے اٹھا کر لائیں گے۔ فرشتے تو ہر ایک انسان کے ساتھ ہیں اور طالب علموں پر سایہ ڈالتے ہیں۔ اگر مسیح کو مانیں تو کس نرالی صورت میں مانیں۔ قرآن شریف میں تو ”حملناهم فی البحر والبر“ کی رو سے خدا ہر ایک کو اٹھائے کھڑا ہے یہ کیا وہ کسی کو نظر آتا ہے۔ یہ استعارہ ہے۔ بیوقوف فرقہ چاہتا ہے کہ اس کو حقیقی رنگ میں دیکھے اور مخالف اعتراض کر سکیں۔ اگر احادیث کا مقصد یہی تھا تو نزول کی بجائے رجوع کا لفظ مناسب تھا تو پھر نزول کا لفظ حضورﷺ کی طرف کیوں منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کم فہم علماء کو ایک اور دھوکہ لگا ہوا ہے کہ ”ماقتلوہ“ میں قتل اور صلب کی نفی ہے اور رفع کا مقتضا یہ ہے کہ آپ آسمان پر بجسم عنصری اٹھائے گئے ہیں۔ گویا زمین پر حفاظت کے لئے خدا کے پاس کوئی جگہ نہ تھی۔ حضورﷺ کو تو سانپ بھری غار کافی ہو گئی۔ مگر یہودیوں سے خدا ایسا ڈرا کہ ان سے عاجز ہو کر سوائے آسمان کے مسیح کے لئے کوئی جگہ تجویز نہ کی۔ قرآن میں تو رفع الی السماء کا ذکر بھی نہیں اور رفع الی اللہ ہر مومن کو ہوتا ہے۔ یہ لوگ شان نزول کو بھی نہیں سوچتے کہ یہود و نصاریٰ میں صرف رفع روحانی کا جھگڑا چلا آیا ہے اور اب بھی ہے کہ مومن کا رفع الی اللہ ہوتا ہے اور مصلوب کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا۔ اس لئے مسیح صلیب پر لعنتی موت سے مرا ہے۔ نالائق عیسائیوں نے بھی تین دن تک مسیح کو لعنتی ٹھہرایا ہے۔ اب قرآن نے فیصلہ کر دیا کہ رفع الی اللہ ہوا ہے۔ علمائے یہود سے پوچھ لو کہ رفع جسمانی زیر بحث تھا کہ رفع روحانی؟ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ سچا مسیح اس وقت آئے گا جب ایلیا دوبارہ دنیا میں آ چکا ہوگا۔ مگر ایلیا نہ آیا اور خدا نے یہود کو ابتلاء میں ڈال دیا اور ابن مریم نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو یہود نے کہا کہ اگر یہ سچا ہے تو تورات باطل ہے۔ اس لئے وہ آپ کے دشمن ہو گئے اور آپ کو کافر ملحد مرتد اور دجال کہا۔ تمام علماء کا فتویٰ ان کے کفر پر ہو گیا۔ کیونکہ مسیح نے نزول کی تاویل کی کہ نزول سے مراد وہ شخص ہے جو ایلیا کی خو اور طبیعت کا ہو۔ یعنی وہ شخص اب یوحنا (یحییٰ بن زکریا) ہے۔ مگر یہود نے آپ کو ملحد یعنی نصوص کو ظاہر سے پھیرنے والا کہا۔ مگر یہ تاویل خدا کو منظور تھی۔ بعض نے کہا کہ اگر مسیح سچا نہیں تو انوار الٰہی اس پر کیوں نازل ہوتے ہیں۔ پس اس خیال کے دور کرنے میں یہودیوں کے مولوی ہر وقت اسی تدبیر میں رہے کہ کسی طرح عوام کو یہ یقین دلایا جائے کہ مسیح کاذب اور ملعون ہے۔ آخر یہ سوچا کہ اگر آپ کو صلیب پر کھینچا جائے تو البتہ ہر ایک پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ شخص لعنتی ہے اور رفع الی اللہ سے محروم ہے۔ کیونکہ تورات میں صاف لکھا تھا کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جاوے وہ لعنتی ہے۔ سو انہوں نے اپنی دانست میں ایسا ہی

صفحہ ٢٢٥

کیا اور نصاریٰ بھی کہنے لگے کہ آپ مصلوب ہو گئے ہیں۔ مگر اس لعنت کو دور کرنے کے لئے ان کو یہ سوجھی کہ ان کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ جس نے دنیا کی تمام لعنتیں اپنے سر پر اٹھائیں اور لعنتی موت سے مرا۔ کیونکہ وہ جرائم پیشہ اور قاتلوں کو صلیب کے ذریعہ سے ہی ہلاک کیا کرتے تھے اور ملعون قرار دیتے تھے۔ عیسائیوں کو بڑا دھوکہ لگا۔ کیونکہ لعنت خدا کے اس عمل کا نام ہے جو اس وقت ظہور میں آتا ہے کہ انسان عمداً بے ایمان ہو کر خدا سے تعلقات توڑ دے اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور ایک ذرہ بھی خدا کی محبت اس کے دل میں نہ رہے۔ اسی وجہ سے شیطان کا نام لعین ہے۔ مگر آپ اس سے پاک تھے اور یہودیوں نے شرارت سے اور عیسائیوں نے حماقت سے آپ کو ملعون ٹھہرا دیا۔ کیونکہ لعنت رفع کی نقیض ہے۔ اس لئے مسیح جہنم رسید ہو گئے اور عیسائیوں کے نزدیک بھی تین روز تک آپ جہنم میں رہے۔ مگر اسلام نے کہا کہ آپ نبی وجیہ اور مقرب الی اللہ تھے۔ نہ قتل ہوئے نہ مصلوب ہوئے اور ان کا رفع الی اللہ ہوا۔ اب اس کلام سے چھ سو برس کی لعنت دور ہو گئی۔

رفع جسمانی

اور یہ ضروری تھا کہ ان احمقوں اور شریروں کی تہمت سے آپ کو بری کر دیا جاتا۔ اب ثابت ہوا کہ رفع جسمانی کے نہ ہونے سے آپ کا کاذب ہونا یا ملعون ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ اگر مقرب الی اللہ ہونے کے لئے رفع جسمانی ضروری تھا تو ان نادان علماء کے نزدیک وہ تمام مقرب الی اللہ نہیں ہو سکتے کہ جن کا رفع جسمانی نہیں ہوا۔ پس رفع جسمانی صدق و کذب کا معیار ہی نہیں تو کیوں اس مقام پر یہ فضول لغو اور بے تعلق جھگڑا کیا جاتا ہے۔ اگر توریت میں یوں ہوتا کہ جو شخص مصلوب ہو تو اس کو رفع جسمانی نہیں ہوتا تو ممکن تھا کہ خدا آپ کو آسمان پر پہنچا دیتا۔ مگر اب تو یہ خیال سراسر بے تعلق ہے۔ خدائی تعلیم راہ نجات بتاتی ہے اور انبیاء سے وہ الزام اٹھاتی ہے کہ جن سے ان کا ناجی اور منجی ہونا مشتبہ ہو جاتا ہے۔ مگر رفع جسمانی الی السماء کو نجات اور قرب الی اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ نادان مولوی یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر تورات کا یہ مطلب ہو کہ صلیب پر مرنے والا رفع جسمانی سے محروم ہوتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ کیونکہ اس وقت باقی انبیاء رفع جسمانی کے نہ ہونے سے ناجی نہیں ٹھہرتے۔ پس رفع جسمانی کو تقرب الی اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو قرآن کو اصل مقصد سے پھیرنا اور شان نزول سے لاپروا ہونا اور خود بخود رفع جسمانی مراد لینا کس قدر گمراہی ہے۔ یہ بھی تو آتا ہے کہ بلعم کا رفع خدا نے کرنا چاہا۔ مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا۔ کیا یہاں کہو گے کہ خدا اس کو رفع جسمانی کے ذریعہ آسمان پر لے جانا چاہتا تھا۔ سو ہر ایک یاد رکھے اور

صفحہ ٢٢٦

بے ایمانی کی راہ اختیار نہ کرے۔ کیونکہ قرآن شریف میں ہر ایک جگہ رفع سے مراد رفع روحانی ہے۔ نادان علماء کہتے ہیں کہ ادریس کو رفع جسمانی ہوا اور ”رفعناہ مکاناً علیاً “ کے لئے ایک قصہ گھڑتے ہیں۔ حالانکہ یہاں بھی رفع روحانی مراد ہے۔ کفار کا رفع روحانی نہیں ہوتا۔ ”لا تفتح لهم ابواب السماء ۔ فیها تحیون “ میں قطعی فیصلہ ہے کہ کوئی انسان آسمان پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ خواہ عیسیٰ ہو یا ادریس۔ ”فیها تموتون “ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کی قبریں زمین پر ہوں گی اور لازم آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح وہ بھی کسی وقت آسمان سے نازل ہوں گے۔ حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح ان کی قبر بھی موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آئیں گے۔ گو یہ عقیدہ ”ویمسك التی قضی علیها الموت “ کے خلاف ہے کہ دوبارہ کوئی شخص دنیا میں زندہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن کسی حدیث یا قول صحابہؓ سے اس عقیدہ کی تائید نہیں ہوتی۔ ہمارے مخالفین جھوٹے عقیدہ میں پھنس کر گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں۔ نیچریوں نے جب سنا کہ دجال کا گدھا تین سو گز لمبا ہوگا۔ مردے زندہ کرے گا۔ بارش برسائے گا۔ اہل حق قحط میں پڑیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو صاف منکر ہو گئے۔ کیونکہ ایسا گدھا کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کافر تو دم عیسوی سے مرجائیں مگر دجال نہ مرے اور یہ بھی ناممکن ہے کہ خدا اپنے بندوں کو سخت فتنہ میں رکھے۔ عیسیٰ سے تو ایک چوہا بھی نہ بن سکا۔ پھر بھی اس کے ماننے والے چالیس کروڑ ہیں اور دجال جب خدائی کا مالک ہوگا تو معلوم نہیں کہ اس کے تابعدار کتنے کروڑ ہوں گے اور کیا وجہ ہے کہ ان کو معذور نہ سمجھا جائے۔ نیچریوں کا حق تھا کہ ایسے امور سے ضرور انکار کر دیتے۔ کیونکہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور آیت ”سبحان ربی “ میں اس کی تکذیب موجود ہے۔ یہ گناہ ہمارے علماء کی گردن پر ہے کہ جنہوں نے دجال کو خدائی جامہ پہنا دیا ہوا ہے۔ جس سے محققین متنفر ہو رہے ہیں۔ اگر صحیح اور صاف معنی کرتے تو وہ اس تواتر سے متنفر نہ ہوتے۔ کیونکہ یہ تواتر تمام تواتروں سے بڑھ کر ہے۔ دجل کا معنی ہے ۔ گندم نمائی اور جو فروشی اور دھوکہ دہی کے پیشہ کو کمال تک پہنچانا۔

دجل و دجال

احادیث میں ہے کہ وہ خدائی دعویٰ کرے گا اور نبوت کا بھی مدعی ہوگا اور یہ دونوں ادعا جمع نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ نبی خدا کا مقرب ہوتا ہے اور خدا کا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ در حقیقت دجال اس جماعت کا نام ہے جو اپنے آپ کو متدین اور امین ظاہر کرتی ہے اور فی الواقع ایسی نہیں ہوتی تو دجل نبوت عیسائیوں میں موجود ہے۔ جو اصل انجیل کھو بیٹھے ہیں اور طبع

صفحہ ٢٢٧

نہ کرے۔ کیونکہ قرآن شریف میں ہر ایک جگہ رفع سے مراد رفع روحانی کہ ادریس کو رفع جسمانی ہوا اور ”رفعناہ مکاناً علیاً“ کے لئے ایک کلمہ یہاں بھی رفع روحانی مراد ہے۔ کفار کا رفع روحانی نہیں ہوتا۔ ”لا سماء ۔ ”فیھا تحیون“ میں قطعی فیصلہ ہے کہ کوئی انسان آسمان پر زندگی ہو یا ادریس۔ ”فیھا تموتون“ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کی قبریں م آتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی طرح وہ بھی کسی وقت آسمان سے نازل لیہ السلام کی طرح ان کی قبر بھی موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے۔ گویا عقیدہ ”ویمسك التی قضى علیھا الموت“ کے شخص دنیا میں زندہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن کسی حدیث یا قول صحابہؓ سے اس عقیدہ رے مخالفین جھوٹے عقیدہ میں پھنس کر گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں۔ دجال کا گدھا تین سو گز لمبا ہوگا۔ مردے زندہ کرے گا۔ بارش برسائے یں گے اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے تو صاف منکر ہو گئے۔ س دیکھا گیا اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ کافر تو دم عیسوی سے مر جائیں مگر ناممکن ہے کہ خدا اپنے بندوں کو سخت فتنہ میں رکھے۔ عیسیٰ سے تو ایک چوہا ں کے ماننے والے چالیس کروڑ ہیں اور دجال جب خدائی کا مالک ہوگا تو بعد اتنے کروڑ ہوں گے اور کیا وجہ ہے کہ ان کو معذور نہ سمجھا جائے۔ امور سے ضرور انکار کر دیجئے۔ کیونکہ دنیا میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور آیت اس کی تکذیب موجود ہے۔ یہ گناہ ہمارے علماء کی گردن پر ہے کہ جنہوں پہنا دیا ہوا ہے۔ جس سے محققین متنفر ہو رہے ہیں۔ اگر صحیح اور صاف معنی ے متنفر نہ ہوتے۔ کیونکہ یہ تواتر تمام تواتروں سے بڑھ کر ہے۔ دجل کا معنی ٹی اور دھوکہ دہی کے پیشہ کو کمال تک پہنچانا۔

ب ہے کہ وہ خدائی دعویٰ کرے گا اور نبوت کا بھی مدعی ہوگا اور یہ دونوں کیونکہ نبی خدا کا مقرب ہوتا ہے اور خدا کا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ اعت کا نام ہے جو اپنے آپ کو متدین اور امین ظاہر کرتی ہے اور فی دجل نبوت عیسائیوں میں موجود ہے۔ جو اصل انجیل کھو بیٹھے ہیں اور طبع

زاد تراجم کو خدا کا کلام بتاتے ہیں اور وہ کلام الہی پیش نہیں کر سکتے۔ جس کی نسبت مسیح نے کہا تھا کہ میں وہی کہتا ہوں جو خدا نے مجھے کہا تھا۔ کیونکہ جعل سازی سے انہوں نے منصب نبوت کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ جو چاہتے ہیں لکھ کر خدا کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ پس یہ طریق مشابہ نبوت ہے اور دجل الوہیت فلاسفروں میں ہے۔ کیونکہ وہ اپنی کلوں سے دھوکہ دیتے ہیں کہ ان کو خدائی میں دخل ہے اور ان کے نزدیک قدرت الہی پر ایمان رکھنا کوئی چیز نہیں ہے۔ اس گروہ کے تابع خواص عیسائی ہیں۔ جو ہمیشہ اس دھن میں رہتے ہیں کہ بارش کس طرح برسائی جاتی ہے اور بچہ کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ گویا یہ خدائی دعویٰ ہے۔ انسان کو جب نظام عالم میں کچھ کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس میں تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔ جو خاص صفت الہی ہے۔ پھر انانیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جس کو خدائی دعویٰ کہہ سکتے ہیں۔ جب وہ کسی طوفان بادی یا آبی پر قادر ہوتا ہے تو خدا کی عظمت اس کے دل میں گھٹ جاتی ہے۔ اس کے نزدیک علل و معلول کی ناسمجھی کی وجہ سے خدا کا اقرار پیدا ہوا ہے اور اس نادانی کی وجہ سے یہ باتیں خدا سے مانگتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب کچھ انسان خود کر سکتا ہے۔ یہی خدائی کا دعویٰ یورپ میں پیدا ہوا اور لوگوں نے یہ عظمت دیکھ کر ان میں خدائی کا ایک حصہ ثابت کر دیا ہے۔ ایک ہندو کا قول ہے کہ لوگ جب کنہ اشیاء سے عاجز آتے ہیں تو خدا کی قدرت بتانے لگتے ہیں۔ انگریزوں نے وہ خدائی دکھلادی ہے کہ قدرت کے پردے کھول دیئے ہیں۔ یہ اثر نو تعلیم یافتوں میں بہت ہے۔ اگر کہا جائے کہ انگریز صبح آم بیج کر شام کو پھل لے سکتے ہیں تو شاید ان میں کوئی منکر نہ ہو۔ بہت نادان کہتے ہیں کہ انگریزوں کے نزدیک کوئی بات ناممکن نہیں۔ قاعدہ ہے کہ چند تجربہ کے بعد مبالغہ اس حد تک پہنچا دیتے ہیں کہ اگر مخول سے سرسید وغیرہ کو کہا جائے کہ انگریزوں نے ایسا مادہ تیار کیا ہے کہ درخت کے سامنے رکھ دیں تو وہ خود بخود اس کی طرف دوڑ آتا ہے۔ تو وہ انکار نہیں کر سکتے۔ مگر جب حضور ﷺ کے متعلق درختوں کا چلنا بیان کیا جائے تو روایت کو موضوع ثابت کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ غرضیکہ دجال کے دو جبڑے یہی دونوں پادری اور فلاسفر ہیں۔ خواص فلاسفروں کے تابع ہیں اور عوام پادریوں کے۔ یقیناً یہی سمجھو کہ یہ دجال ہے۔ دجال کی خدائی سے یہی منشاء تھا جو ظاہر ہو گیا۔ خود دجل کا لفظ بتا رہا ہے کہ دجال میں حقیقی نبوت نہیں اور یہ ایسا فتنہ ہے کہ از آدم تا ایندم اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس سے خدا کی عظمت سرد ہوگئی۔ ایمان خطرہ میں پڑ گیا۔ بعض پر پورا محیط ہو گیا اور بعض پر کچھ اثر ہوا۔ سو جو یہی سچ ہے جو صحیفہ قدرت کا مطالعہ کرنے والے ہیں۔ ان کو موقعہ ہے کہ مجھے مان لیں۔ ان کو وہ مشکلات

صفحہ ٢٢٨

پیش نہیں جو دوسروں کو ہیں۔ کیونکہ وہ پہلے سے ہی مسیح کو زندہ نہیں سمجھتے اور تواتر سے انکار بھی نہیں کر سکتے۔ ان کو ضرور ماننا پڑے گا کہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے ہوگا۔

اثبات مسیحیت

رہا یہ سوال کہ ہم کس طرح مسیح ہیں۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ میرے ملک میرے وجود اور میرے زمانہ میں تمام علامات مسیح (قصبہ ملک جس میں اس کا ظہور ہونا ہے۔ اس کی علت غائی اور حوادث ارضی و سماوی اور علوم و معارف خاصہ) سب موجود ہیں۔

چوں مرا حکم از پئے قوم مسیحی دادہ اند
مصلحت را ابن مریم نام من بنہادہ اند
آسمان بارد نشاں الوقت میگوید زمیں
ایں دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند

حضور علیہ السلام مثیل موسیٰ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد یہودی بگڑے اور ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے تو مسیح آئے اور تمام اختلافات مٹا دیئے۔ بھیڑ ، بکری کو ایک جگہ پانی پلایا۔ اسی طرح اب پھر احادیث سے اختلاف میں پھنس گئے۔ ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے تو ”لما یلحقوا“ کے ماتحت مسیح کا حکم ہو کر آنا قرار پایا۔ سو اس زمانہ میں یہودیوں کی طرح ایک حکم کی ضرورت تھی تو خدا نے مجھے بھیج دیا۔ مسیح ، موسیٰ علیہم السلام کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح میں حضورﷺ کے بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوا۔ خدا نے میرا نام غلام احمد قادیانی رکھ کر بتلایا کہ تیرہ سو سال پر تیرا ظہور ہوگا۔ ”یکسر الصلیب“ میں اشارہ ہے کہ عیسائی مذہب زور پر ہوگا۔ ”اُومئ الی المشرق“ سے ظاہر ہے کہ دجال کا ظہور مشرق میں ہوگا تو ضرور ہے کہ مسیح بھی مشرق میں دجالیت دور کرنے کے لئے پیدا ہو۔ پنجاب مکہ سے مشرق پر ہے اور حدیث دمشقی بھی مشرق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ مہدی موعود کا ظہور قصبہ کدعہ یا کدیہ ہے۔ جو قادیان کا مخفف ہے۔ یہ غلط ہے کہ احادیث میں کدعہ یمن کا ایک قصبہ بتایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ حدیث کا لفظ نہیں بلکہ کسی نے بعد میں شامل کر دیا ہے۔ شاید پہلے ہو۔ مگر اب وہاں یہ قصبہ موجود نہیں اور نہ اس میں کسی نے دعویٰ کیا ہے۔ مگر قادیان اور مدعی مہدویت دونوں موجود ہیں۔ وجود مسیح کی علت غائی اور ضرورت دجل دور کرنا تھا۔ سو میں نے عیسائی مذہب کے اصول کا خاتمہ کر دیا ہے کہ مسیح کی طرف لعنتی موت منسوب نہیں ہو سکتی۔ عقلمند سمجھ چکے ہیں کہ کسر صلیب ہوگئی۔ عیسائی تحریرات بتا رہی ہیں کہ ضرور صلیبی مذہب کی بنیاد گر جائے گی اور وہ گرنا نہایت خوفناک ہوگا۔

صفحہ ٢٢٩

”يرجى برء من جرحه السنان ولا يرجى برء من خزقة البرهان“ میں نے ثابت کر دیا ہے کہ رفع جسمانی بالکل جھوٹ ہے۔ مدت تک عیسائیوں کا عقیدہ تھا کہ مسیح فوت ہو گئے ہیں اور ان کا رفع روحانی ہو چکا ہے۔ مگر ثبوت نہ دے سکے۔ اس لئے یہودیوں کے مقابلہ پر یہ بات بنائی کہ یسوع کو آسمان پر جاتے وقت فلاں آدمی نے دیکھا ہے۔ مگر آسمان پر جانے سے اصل مطلب پھر بھی حل نہ ہوا۔ کیونکہ یہودی یوں نہ کہتے تھے کہ صلیبی موت سے آسمان پر جسم نہیں جاتا اور نہ یہ کہ جو ملعون نہیں ہوتے۔ ان کا جسم آسمان پر چلا جاتا ہے۔ تورات میں ہے کہ یوسف علیہ السلام کی ہڈیاں چار سو برس بعد موسیٰ علیہ السلام مصر سے کنعان کی طرف لے گئے تھے۔ جس سے ثابت ہوا کہ انسان مر کر مٹی میں چلا جاتا ہے اور تمام انبیاء خاک میں گئے۔ اگر ملعون کی علامت یہ ہو کہ اس کا جسم آسمان پر نہیں اٹھایا جاتا تو معاذ اللہ تمام انبیاء ملعون ہوں گے۔ تورات کی رو سے جو شخص لکڑی پر لٹکایا جائے وہ لعنتی ہے۔ مگر لعنت کو جسم سے تعلق نہیں ہے اور نہ عدم لعنت رفع جسمانی کے لئے ضروری ہے۔ لہٰذا یہودی آپ کو اس مقام سے بے نصیب ثابت کرتے تھے۔ جہاں ابراہیم، اسرائیل اور یعقوب وغیرہ کی روحیں گئی ہیں۔ تو اب رفع جسمانی اور الوہیت کا نظریہ یہودیوں کے اعتراض سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا۔ معلوم ہوا کہ اس زمانہ کے گزرنے کے بعد یہ دعویٰ کہ یسوع آسمان پر چلا گیا ہے۔ اس غرض سے تھا کہ لعنت دور کی جائے اور اس وقت عیسائیوں کا بھی یہی خیال تھا کہ فقط روح اٹھائی گئی ہے۔ دوسرے زمانہ میں یہ خیال پیدا ہوا کہ مسیح کا جسم آسمان پر چلا گیا ہے اور وہ خدا ہے۔ حالانکہ اصل مطلب یہ تھا کہ رفع روحانی سے لعنت دور کی جائے اور تورات کی رو سے وہ لعنت سے دور ہو سکتا ہے کہ جس کا رفع روحانی ہو نہ رفع جسمانی، عیسائی جانتے ہیں کہ صلیبی موت سے وہ اس الزام کے نیچے آگئے تھے کہ مسیح ابدی لعنتی ہیں۔

ابدی لعنت سے رہائی

اس پر یہ اعتراض ہوتا تھا کہ شیطان سیرت ہو کر مسیح کا لعنتی ہونا تین دن تک کیوں محدود ہے؟ کیا تورات میں مصلوب کی لعنت تین دن تک محدود ہے؟ اس کے رو سے صلیبی موت سے روح جہنم میں جاتی ہے اور عیسائی بھی مانتے ہیں کہ تین روز تک مسیح جہنم میں رہے۔ پھر اس ملعون جسم کے ساتھ آسمان پر چلے گئے۔ وہ کہتے ہیں کہ لعنت کے دنوں کا یہ تقاضا ہوا کہ آپ کی روح جہنم میں جائے اور لعنت سے پاک ہونے کے دنوں کا یہ تقاضا ہوا کہ آپ کی روح پاک ہو کر خدا سے جاملے۔ تو اب اس تقاضا کی وجہ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا رفع صرف روحانی تھا۔ رفع جسم کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ وہ صلیب سے ناپاک ہو چکا تھا۔ کیونکہ جب جسم قبر میں رہا اور صرف

صفحہ ٢٣٠

روح جہنم میں گئی تو سزا کے بعد خدا کی طرف (جو صرف روح ہے) جسم کیوں گیا۔ حالانکہ جہنم میں جسم کا جانا ضروری تھا۔ کیونکہ جسم بھی معاذ اللہ آپ کے لعنتی دل کے ساتھ شریک تھا اور اس لئے بھی کہ عیسائیوں کا جہنم ایک جسمانی آتش خانہ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عیسائیوں نے رفع جسمانی کے عقیدہ سے کئی ایک غلطیوں اور تناقضات کا اقرار کر لیا ہے۔ اصل بات یہی ہے کہ رفع روحانی ہوا۔ مگر واقعہ صلیب کے بعد مدت دراز کے بعد ثابت ہوا کہ خدا کی طرف رفع الوہیت ثابت نہیں کرتا۔

بات یہ ہے کہ یہودیوں نے ستانا شروع کیا تھا کہ مسیح لعنتی ہو گیا ہے اور یسوع گو زندہ بچ گیا تھا۔ مگر ظالم یہودیوں کے سامنے جانا بہتر نہ سمجھتا تھا۔ اس لئے عیسائیوں نے یہ کہہ کر پیچھا چھوڑایا کہ فلاں مرد یا عورت کے سامنے آسمان پر چلا گیا ہے۔ مگر یہ بات بالکل جھوٹا منصوبہ یا کسی مراقی عورت کا وہم تھا۔ کیونکہ اگر خدا کا یہی ارادہ ہوتا تو دس بیس یہودیوں کے سامنے آسمان پر مع جسم اٹھایا جاتا۔ نہ یہ کہ کوئی عورت مجہول الحال یا کوئی عیسائی دیکھتا۔ جس پر لوگ مخول اڑاتے عیسائی خود جھوٹے ہیں۔ کیونکہ روح جب جہنم میں گئی تھی تو وہی پاک ہو کر خدا کی طرف بھی گئی ہوگی۔ ورنہ جسم کو کیا تعلق تھا اور ہم تو سرے سے مانتے ہی نہیں کہ مسیح کسی وقت ملعون بھی ہوئے تھے۔ اب تحقیق جدید سے دو باتیں ثابت ہیں۔ اول یہ کہ رفع جسمانی نہیں ہوا۔ کیونکہ اس کی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی اس کا ثبوت ہے۔ ہاں واقعہ صلیب کے بعد ٨٧ برس رفع روحانی ہوا ہے۔ جو قرآن سے ثابت ہے۔ علماء کی غلطی ہے کہ صلیب کے بعد رفع جسمانی مانتے ہیں۔ حالانکہ ١٢٠ برس عمر بھی مانتے ہیں اور جب اناجیل اور رومی تواریخ سے ثابت ہے کہ صلیب کے وقت آپ کی عمر ٣٣ سال تھی تو ١٢٠ برس میں رفع جسمانی کیسے ہوا۔ حالانکہ یہ حدیث صحیح اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ١٢٠ برس کی حد لگا دینا بھی اس امر کی شہادت ہے کہ طبعی موت واقع ہو چکی ہے۔ جب مصلوب ہونا رفع روحانی کا مانع تھا تو عیسائیوں کا یہ عذر بیہودہ ہوگا کہ تین دن تک لعنتی ہونے کے بعد رفع جسمانی ہو گیا تھا۔ کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ تورات کا حکم اوروں کے لئے ابدی ہو اور مسیح کے لئے صرف تین دن کے لئے ہو۔ تین دن کی تخصیص کوئی عیسائی نہیں دکھا سکتا اور یہ بھی تعجب خیز ہے کہ فلاں نے رفع جسمانی دیکھا ہے۔ کاش یہودی بھی دیکھ لیتے اور تورات منجانب اللہ نہ رہتی۔ مگر اب تو یہودیوں کا ہاتھ خود عیسائیوں نے اوپر کر دیا ہے۔ کیونکہ جب مصلوب مانا تو لعنتی ابدی بھی مان لیا اور تین دن کی تحدید بھی نہیں دکھا سکتے۔ اگر یہ تحدید مان بھی لیں تو پھر بھی رہائی نہیں۔ کیونکہ لعنت کا لفظ ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی بیزاری اور شیطان خصلت ہونا ایک لمحہ کے

صفحہ ٢٣١

لئے بھی ہم مسیح کے لئے تجویز نہیں کر سکتے۔ اگر لعنت نہیں پڑی تو یسوع مصلوب بھی نہیں ہوا۔ کیونکہ اس نے کہا تھا کہ یونس کی طرح تین دن قبر میں زندہ رہوں گا۔ کیونکہ یونس خود مچھلی کے پیٹ میں تین دن زندہ رہا تھا۔ ممکن نہیں کہ یہ مثال غلط نکلے۔ جب پاک ہونے کو صرف روح جہنم میں گئی تھی تو ناپاک جسم آسمان پر کیسے چڑھ گیا اور جہنم میں کیوں نہ گیا۔ کیا یہ ظلم نہیں کہ سزا بھگتنے روح جائے اور خدا کے پاس جانے کو جسم ناپاک بھی ساتھ ہو جائے۔ حالانکہ ان کا عقیدہ ہے کہ جہنم جسمانی آتش خانہ ہے۔ جس میں گندھک کے بڑے بڑے پتھر ہیں۔ تو وہ جسم کیوں نہیں وہاں گیا۔ جس پر تمام دنیا کی لعنت برسی تھی۔ اگر باپ نے صرف روحانی سزا تجویز کی تھی اور اسے تین دن تک محدود کیا تھا تو یہ رعایت مخلوق سے بھی کی ہوتی۔ کیونکہ یہ بے انصافی جب بیٹے کے لئے جائز ہوئی تو مخلوق کے لئے بھی جائز ہونی چاہئے۔ یہ تمام غلطیاں ہیں جن پر خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تاکہ میں گمراہوں کو مطلع کر دوں۔ میں نے صرف معقول طور پر ان کو مطلع نہیں کیا۔ بلکہ ساتھ ساتھ آسمانی نشان بھی دکھائے ہیں۔ مسلمانوں کو بھی متنبہ کر دیا ہے کہ جو فرضی دجال کے منتظر تھے جس کے ماننے سے از سر نو شرک کی بنیاد پڑتی ہے اور ختم نبوت بھی ہاتھ سے چلی جاتی ہے۔

میں کب اور کیوں مجدد بنا

سو خدا نے مجھے بھیجا تا کہ میں راہ توحید دکھاؤں اور کمزور ایمان والوں کو قوی الایمان بناؤں۔ کیونکہ ان کو خدا پر بھروسہ نہیں رہا۔ حضرت مسیح نے بھی یہودیوں کو اسی حالت پر پایا تھا۔ سو میں بھیجا گیا ہوں تا کہ سچائی کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔ سو یہی افعال میری علت غائی ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ آسمان پھر زمین کے قریب ہوگا۔ بعد اس کے کہ دور ہو گیا تھا۔ قرآن وحدیث کے متعلق یقین بخشنا دو طور سے ظاہر ہوا ہے۔ اوّل قرآن شریف کی صداقت ظاہر کرنا۔ چنانچہ میری کتابیں نکات ومعارف قرآنیہ سے پر ہیں اور ان سے ایمان ترقی پاتا ہے۔ دوم آسمانی نشان ہیں اور استجابت دعا جو نشان ایسے ہیں کہ جن کے تسلیم کرنے سے گریز نہیں۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ پادری معجزات نبویہ کے منکر تھے اور آج ہمارے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ کیونکہ نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔ مدت ہوئی رمضان میں کسوف و خسوف ہو چکا۔ ستارہ ذوالسنین بھی نکل چکا۔ تکفیر بھی ہو چکی اور معارف بھی ظاہر ہو گئے۔ ماموریت کا دعویٰ مکمل تین طریق سے ہو سکتا ہے کہ خلاف قرآن نہ ہو۔ عقلی دلائل اس کے خلاف نہ ہوں اور آسمانی نشانات تائید کریں۔ میری مؤید حدیث اختلاف حلیہ کی روایت ہے جو (بخاری ص ١٠٥٥، ٣٨٥) پر درج ہے۔ عالم کشف میں حضور ﷺ نے

صفحہ ٢٣٢

مسیح موعود کو طواف کعبہ کرتے دیکھا کہ وہ گندم گوں تھا۔ بال سیدھے تھے۔ مسیح ناصری سرخ رنگ تھے۔ بال گھنگرالے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے دو مسیح قرار دیئے ہیں اور بعض مناسبات کی وجہ سے دونوں کو ابن مریم بھی کہہ دیا ہے۔ نیز مسیح موعود کے ساتھ مسیح دجال کا بھی ذکر کیا ہے اور مسیح ناصری کے ساتھ دجال کا ذکر نہیں ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابن مریم دو شخص ہیں اور اہل شام گندم گوں نہیں ہوتے اور اہل ہند (آدم) گندم گوں ہوتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود کا ظہور ہند میں ہوگا۔ شام میں نہ ہوگا۔ تاریخ عیسائیت بھی شاہد ہے کہ آپ سرخ رنگ تھے۔ گندم گوں نہ تھے۔ حدیث ”من یجدد لها دینها“ بھی میری مصدق ہے۔ (رواہ ابوداؤد و مستدرک) مجدد کا فرض تھا کہ عیسائیوں کے خطرناک فتنہ کو فرو کرنے کے لئے کسر صلیب کرے اور احادیث کی رو سے وہی مسیح ہوگا۔ اگر چہ فسق و فجور عام ہے۔ مگر سب کی اصل یہی ہے کہ ایک انسان کے خون نے سب کے گناہوں کی باز پرس سے کفایت کر دی ہے۔ اسی وجہ سے یورپ سب سے بڑھ کر گناہوں میں پھنسا ہوا ہے اور ان کی اس متعدی بیماری سے اور ان کی مجاورت سے تمام قومیں بگڑ گئی ہیں۔ کیونکہ یہی عقیدہ تمام آزادیوں کی جڑ ہے۔ جس سے کئی ایک بے ایمان ہو گئے ہیں اور کئی ایک مسیحی بن کر اندرونی طور پر مرتد ہو چکے ہیں۔ اس لئے خدا نے چاہا کہ جس دجالیت سے انسان کو خدا بنایا جاتا ہے۔ اس کے پردے کھول دے اور چونکہ یہ مصیبت اس صدی میں کمال تک پہنچ چکی تھی۔ اس لئے اس صدی کے مجدد کا کام کسر صلیب ٹھہرا اور کسر صلیب کرنے والا مسیح ہوا۔ تفصیل یہ ہے کہ حجج عقلیہ، آیات سماویہ اور دعا سے کسر صلیب ہوگا۔ ان تینوں میں خدا نے وہ اعجازی طاقت رکھی کہ کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پس اسی طرح اسے توڑ کر توحید کے دروازے کھولے جائیں گے اور یہ کام تدریجی ہوگا۔ اسلام بھی تدریجی پھیلا ہے۔ یہ سوال کہ تم نے اب تک کس قدر کسر صلیب کیا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے پادریوں کا منہ بند کر دیا۔ پیشین گوئیاں پوری ہوئیں اور قرآنی تعلیم نے جو میری طرف سے ہوئی مخالفین کا سر جھکا دیا۔ جلسہ مذاہب لاہور میں میرا مضمون اعلیٰ رہا۔ عیسائی اصول ایسے توڑے کہ کبھی کسی کو میسر نہ آیا۔ کسی کو شک ہو تو کوئی ایسا اعتراض پیش کرے کہ جس کو ہم نے کالعدم نہیں کیا۔ یا ہم سے پہلے کسی نے کالعدم کیا ہو۔

میں مہدی کیسے ہوا؟

ظہور مہدی کا نشان بھی یہی ہے کہ اس سے پہلے زمین ظلم و فساد سے پر ہوگی اور وہ عدل و انصاف سے پر کرے گا۔ اب ظاہر ہے کہ فسق و فجور زور پر ہے۔ مخلوق پرست شرک پھیلانے میں

صفحہ ٢٣٣

سرگرم ہیں۔ ایمان صرف زبان پر رہ گیا ہے۔ پس یہ وہی زمانہ ہے کہ جس میں ہر ایک قسم کی بدکاری اور شرک جو ظلم عظیم ہے۔ پھیل رہا ہے اور روشن پیشانی اور اونچی ناک میں علاوہ ظاہری علامت کے ایک باطنی حقیقت بھی اس میں مضمر ہے کہ ناک کی بڑائی کبریائی ظاہر کرتی ہے اور روشن پیشانی نور صداقت ہے۔ اگرچہ دونوں علامتیں بندگان خدا میں ہوتی ہیں۔ مگر مہدی موعود میں قوت سے موجود ہیں۔ نور پیشانی دلوں کو جذب کرے گا۔ لوگ کہیں گے کہ یہ جادوگر ہے۔ کبریائی سے شریروں کے سامنے تذلیل نہیں کرے گا۔ بلکہ شریر اس کے سامنے تذلیل کریں گے۔

١٨ برس پہلے براہین میں الہام درج ہوچکا ہے۔ ”القیت عليك محبة منی نصرت بالرعب“ جو اس علامت کی تشریح ہے۔ مجھ میں یہ دونوں علامتیں موجود ہیں۔ نیک دل کھنچے آتے ہیں اور مخالف پر رعب ہے۔ ”لوكان الدین عند الثریا“ کی حدیث بھی میری مؤید ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام ضعیف ہوگا تو ایک فارسی الاصل اسلام کو پھر زمین پر لائے گا اور وہی مہدی موعود ہے اور ”لا مهدی الا عیسیٰ“ نے بتا دیا کہ وہ مسیح موعود بھی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فارسی النسل ایمان قوی کرے گا۔ عقائد کی تصحیح کرے گا۔ حقائق قرآنی سمجھائے گا۔ ہتھیار نہیں اٹھائے گا۔ نہ لڑائی لڑے گا۔ بلکہ حجج سماویہ اور براہین عقلیہ سے غیر ملتوں کو ہلاک کرے گا اور اس کا حربہ آسمانی ہوگا نہ زمینی۔ سو شکر کرو کہ تم نے یہ زمانہ پایا ہے۔

میں ہے کہ: ”لوکان الایمان بالثریا لناله .

(براہین ص ٢٤١، خزائن ج ١ ص ٢٦٧)

انار الله برهانه ...... انا فتحنا لك فتحا مبينا فتح الولى فتح . قربناه نجيا . اشجع الناس . يا احمد فاضت الرحمة على شفتيك انی رافعک الی . القیت علیک محبة منی . خذوا التوحيد يا ابناء فارس . بشر الذین آمنوا ان لهم قدم صدق عند ربهم . اتل عليهم ما اوحی الیک من ربك . لا تصعر لخلق الله ولا تسئم من الناس . اصحاب الصفة ما اصحاب الصفة ، ترى اعينهم تفيض من الدمع . يصلون عليك ربنا اننا سمعنا مناديا ينادی للایمان وداعيا الی الله وسراجا منیرا . آمنوا“ ہم تجھے دیں گے ولی کی فتح۔ ہم نے اسے راز دار اور مقرب بنایا ہے۔ وہ سب سے زیادہ بہادر ہے۔ اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو وہ وہاں سے لے آتا۔ خدا اس کی برہان کو روشن کرے گا۔ اے احمد رحمت تیری لبوں پر جاری ہے۔ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور اپنی محبت تجھ پر ڈالوں گا۔ (اور لوگ تجھ سے محبت کریں گے) فارس کے بیٹو توحید پکڑو۔ ان کو خوشخبری دے جو تجھ پر ایمان لائے ہیں کہ وہ صادق ٹھہر گئے ہیں اور ان کا صدق قدم صادق ثابت

سرگرم ہیں۔ ایمان صرف زبان پر رہ گیا ہے۔ پس یہ وہی زمانہ ہے کہ جس میں ہر ایک قسم کی بدکاری اور شرک جو ظلم عظیم ہے۔ پھیل رہا ہے اور روشن پیشانی اور اونچی ناک میں علاوہ ظاہری علامت کے ایک باطنی حقیقت بھی اس میں مضمر ہے کہ ناک کی بڑائی کبریائی ظاہر کرتی ہے اور روشن پیشانی نور صداقت ہے۔ اگرچہ دونوں علامتیں بندگان خدا میں ہوتی ہیں۔ مگر مہدی موعود میں قوت سے موجود ہیں۔ نور پیشانی دلوں کو جذب کرے گا۔ لوگ کہیں گے کہ یہ جادوگر ہے۔ کبریائی سے شریروں کے سامنے تذلیل نہیں کرے گا۔ بلکہ شریر اس کے سامنے تذلیل کریں گے۔

١٨ برس پہلے براہین میں الہام درج ہوچکا ہے۔ ”القیت عليك محبة منی نصرت بالرعب“ جو اس علامت کی تشریح ہے۔ مجھ میں یہ دونوں علامتیں موجود ہیں۔ نیک دل کھنچے آتے ہیں اور مخالف پر رعب ہے۔ ”لوكان الدین عند الثریا“ کی حدیث بھی میری مؤید ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اسلام ضعیف ہوگا تو ایک فارسی الاصل اسلام کو پھر زمین پر لائے گا اور وہی مہدی موعود ہے اور ”لا مهدی الا عیسیٰ“ نے بتا دیا کہ وہ مسیح موعود بھی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فارسی النسل ایمان قوی کرے گا۔ عقائد کی تصحیح کرے گا۔ حقائق قرآنی سمجھائے گا۔ ہتھیار نہیں اٹھائے گا۔ نہ لڑائی لڑے گا۔ بلکہ حجج سماویہ اور براہین عقلیہ سے غیر ملتوں کو ہلاک کرے گا اور اس کا حربہ آسمانی ہوگا نہ زمینی۔ سو شکر کرو کہ تم نے یہ زمانہ پایا ہے۔

(براہین ص ٢٤١، خزائن ج ١ ص ٢٦٧)

میں ہے کہ: ”لوکان الایمان بالثریا لناله . انار الله برهانه ...... انا فتحنا لك فتحا مبينا فتح الولى فتح . قربناه نجيا . اشجع الناس . يا احمد فاضت الرحمة على شفتيك انی رافعک الی . القیت علیک محبة منی . خذوا التوحيد يا ابناء فارس . بشر الذین آمنوا ان لهم قدم صدق عند ربهم . اتل عليهم ما اوحی الیک من ربك . لا تصعر لخلق الله ولا تسئم من الناس . اصحاب الصفة ما اصحاب الصفة ، ترى اعينهم تفيض من الدمع . يصلون عليك ربنا اننا سمعنا مناديا ينادی للایمان وداعيا الی الله وسراجا منیرا . آمنوا“ ہم تجھے دیں گے ولی کی فتح۔ ہم نے اسے راز دار اور مقرب بنایا ہے۔ وہ سب سے زیادہ بہادر ہے۔ اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو وہ وہاں سے لے آتا۔ خدا اس کی برہان کو روشن کرے گا۔ اے احمد رحمت تیری لبوں پر جاری ہے۔ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور اپنی محبت تجھ پر ڈالوں گا۔ (اور لوگ تجھ سے محبت کریں گے) فارس کے بیٹو توحید پکڑو۔ ان کو خوشخبری دے جو تجھ پر ایمان لائے ہیں کہ وہ صادق ٹھہر گئے ہیں اور ان کا صدق قدم صادق ثابت

صفحہ ٢٣٤

ہوا تو میرے ان کو الہام سنا اور مخلوق سے منہ مت پھیر۔ ملاقات سے ملول مت ہو۔ (وہ وقت آتا ہے کہ لوگ فوج در فوج آئیں گے) ایک وہ گروہ ہوں گے جو اصحاب صفہ ہوں گے جو حاضر رہیں گے۔ ان کی شان بڑی ہے تو دیکھے گا کہ اکثروں کے آنسو جاری ہیں اور تجھ پر درود بھیجیں گے۔ (یعنی معارف سنیں گے۔ نشان دیکھیں گے اور انشراح صدر کی حالت ان پر غالب ہوگی۔ تو فرط محبت سے تجھ پر درود بھیجیں گے اور دعاء کرتے ہوئے کہیں گے کہ) اے اللہ ہم نے سنا ہے جو ایمان کی منادی کرتا ہے۔ خدا کی طرف بلاتا ہے اور وہ چراغ روشن ہے۔ لکھ لو میرا کام ایمان کی منادی ہے کہ تازہ ہو۔ کیونکہ اس وقت وہ کمزور ہو گیا ہوگا تو نہ بت رہیں گے اور نہ صلیب۔ سمجھدار دلوں سے ان کی عظمت اٹھ جائے گی۔ وہ جنگ نہیں کرے گا۔ بلکہ دلائل سے اسلام کی طرف لائے گا۔ وہی منکر ہوں گے کہ جن کے دل مسخ ہیں۔ خدا ایک ہوا چلائے گا اور روحانیت نازل کرے گا۔ جو مختلف ممالک میں پھیل جائے گی۔ جن مذاہب پر اس کی توجہ ہوگی۔ ان کو پیس ڈالے گا۔ دلوں کو حق کی طرف پھیرے گا۔ کسی اہل مذہب کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ نرمی کرے گا تو سمجھیں گے کہ ہمارے عقائد صحیح نہیں ہیں۔ جب دیکھو کہ سچا خدا سمجھنے کی طرف دل متوجہ ہیں تو یہ سمجھ لو کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ یہ باتیں پوری ہوں۔ موسم بہار میں سوکھی لکڑی سے پتے اور پھول اور پھل نکلتے ہیں۔ اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ محبت الٰہی میں وہی زیادہ ترقی کریں گے جو پاس رہیں گے۔ وہ خدا کے پیارے ہیں۔ مسیح عیسائیوں کی طاقت کے زمانہ میں پیدا ہوگا۔ ریل گاڑی ہوگی۔ نہریں نکلیں گی۔ پہاڑ چیرے جائیں گے۔ اونٹ بیکار ہوں گے۔ (دیکھو مسند احمد ابواب مہدی و عیسیٰ اور چہل حدیث مرتبہ محمد احسن قادیانی جو ابھی شائع ہوگی) فصوص الحکم میں ابن عربی نے لکھا ہے کہ وہ خاتم الولایت ہے اور توام پیدا ہوگا اور چینی ہوگا۔ میرے ساتھ بھی ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور ہمارے بزرگ سمرقند میں جو چین سے تعلق رکھتا ہے رہتے تھے۔

اشتہار برائے توجہ سرکار

(مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٤٥٦، ٤٥٧ ملخص) کے اوّل گورنمنٹ برطانیہ کی شکر گزاری میں یوں لکھا ہے کہ مجھ پر ١٨٩٧ء میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ میں نے عبدالحمید کو ڈاکٹر کلارک (مشنری علاقہ گورداسپور) کے قتل کے لئے بھیجا تھا۔ مگر ٢٣؍ اگست ١٨٩٧ء کو یہ دعویٰ بعدالت ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور دائر ہوا۔ یہ الزام امرتسر میں مجسٹریٹ کے سامنے لگایا گیا تھا۔ مگر ڈپٹی کمشنر صاحب ممدوح نے کپتان لیار چنڈ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ کو دوبارہ تفتیش پر لگایا تو معاملہ صاف ہو گیا۔ یہ مقدمہ عیسائیوں کی جماعت کی طرف سے تھا۔ ہم تہہ دل سے دعاء کرتے

صفحہ ٢٣٥

اور مخلوق سے منہ مت پھیر۔ ملاقات سے ملول مت ہو۔ (وہ وقت آتا کہیں گے) ایک وہ گروہ ہوں گے جو اصحاب صفہ ہوں گے جو حاضر بڑی ہے تو دیکھے گا کہ اکثروں کے آنسو جاری ہیں اور تجھ پر درود پیئیں گے۔ نشان دیکھیں گے اور انشراح صدر کی حالت ان پر غالب پر درود بھیجیں گے اور دعاء کرتے ہوئے کہیں گے کہ ) اے اللہ ہم نے رتا ہے۔ خدا کی طرف بلاتا ہے اور وہ چراغ روشن ہے۔ لکھ لو میرا کام ہو۔ کیونکہ اس وقت وہ کمزور ہو گیا ہوگا تو نہ بت رہیں گے اور نہ ان کی عظمت اٹھ جائے گی۔ وہ جنگ نہیں کرے گا۔ بلکہ دلائل سے ہی منکر ہوں گے کہ جن کے دل مسخ ہیں۔ خدا ایک ہوا چلائے گا اور مختلف ممالک میں پھیل جائے گی۔ جن مذاہب پر اس کی توجہ ہوگی۔ حق کی طرف پھیرے گا۔ کسی اہل مذہب کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ نری ہمارے عقائد صحیح نہیں ہیں۔ جب دیکھو کہ سچا خدا سمجھنے کی طرف دل آ گیا ہے کہ یہ باتیں پوری ہوں۔ موسم بہار میں سوکھی لکڑی سے پتے اب بھی ایسا ہی ہوگا۔ محبت الٰہی میں وہی زیادہ ترقی کریں گے جو پاس تے ہیں۔ مسیح عیسائیوں کی طاقت کے زمانہ میں پیدا ہوگا۔ ریل گاڑی پھیرے جائیں گے۔ اونٹ بیکار ہوں گے۔ (دیکھو مسند احمد ابواب مرتبہ محمد احسن قادیانی جو ابھی شائع ہوگی ) فصوص الحکم میں ابن عربی ت ہے اور توام پیدا ہوگا اور چینی ہوگا۔ میرے ساتھ بھی ایک لڑکی پیدا قد میں جو چین سے تعلق رکھتا ہے رہتے تھے۔

(ص ٣٥٦، ٣٧٤ ملخص) کے اوّل گورنمنٹ برطانیہ کی شکر گزاری میں میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ میں نے عبدالحمید کو ڈاکٹر کلارک (مشنری لئے بھیجا تھا۔ مگر ٢٣ اگست ١٨٩٧ء کو یہ دعویٰ بعدالت ایم ڈبلیو ر داسپور دائر ہوا۔ یہ الزام امرتسر میں مجسٹریٹ کے سامنے لگایا گیا ج نے کپتان لیار چند ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ کو دوبارہ تفتیش پر لگایا تو یسائیوں کی جماعت کی طرف سے تھا۔ ہم تہہ دل سے دعاء کرتے

ہیں کہ خدا ایسے حکام کو خوش رکھے۔ ڈاکٹر صاحب نے میرے چال چلن پر بھی الزام قائم کئے تھے اور یہ بھی کہا کہ میرا وجود گورنمنٹ کے لئے مضر ہے۔ حالانکہ یہ بھی جھوٹ ہے۔ کیونکہ میرا والد غلام مرتضیٰ سچا وفادار سرکار تھا۔ ١٨٥٧ء میں پچاس سوار اور گھوڑے امداد سرکار کے لئے دیئے تھے اور چٹھیاں بھی حاصل کی تھیں۔ چنانچہ ڈلن صاحب نے ١١؍ جون ١٨٣٩ء کو بمقام انارکلی لاہور یوں لکھا تھا کہ سرکار انگریزی تمہارے احسانات فراموش نہ کرے گی۔ رابرٹ صاحب بہادر کمشنر لاہور نے ٢٠؍ ستمبر ١٨٥٨ء کو لکھا کہ مدد پہنچی اور آج تک تم خیر خواہ سرکار رہے۔ فنانشل کمشنر صاحب نے ١٩؍ جون ١٨٧٦ء کو لکھا کہ ہم کو تمہارے والد غلام مرتضیٰ کی وفات سے افسوس ہے۔ ہم تمہاری عزت بدستور قائم رکھیں گے۔ اسی طرح کی اور بھی چٹھیاں تھیں۔ مگر گم ہوگئی ہیں۔ میرے والد کے بعد میرا بھائی غلام قادر خدمت گذار سرکار رہا۔ جموں کی لڑائی میں سرکار کی طرف سے لڑا بھی تھا۔ بھائی کی وفات کے بعد میں گوشہ نشین تھا۔ تاہم سرکار کی امداد اور تائید میں سترہ برس سے اپنی قلم سے کام لیتا ہوں جتنی کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سرکار کی اطاعت کی ترغیب دی اور جہاد کی ممانعت کی ہزار ہا روپیہ صرف کر کے ممانعت جہاد میں عربی فارسی کتابیں غیر ممالک میں بھیجیں۔ تاکہ کسی وقت ان کا اثر پیدا ہو۔ کیا میری نظیر مخالف پیش کر سکتے ہیں۔ وہ کتابیں یہ ہیں۔

(١) براہین احمدیہ نمبر ٣، مطبوعہ ١٨٨٢ء الف سے ب تک ایضاً نمبر ٤ الف سے داخل تک۔ (٢) آریہ دھرم درباره توسیع دفعہ ٢٩٨، مورخہ ٢٢ ستمبر ١٨٩٥ء ص ١٧، ٤٥، ٢٠١، ٢٧٠، ٢٧٩۔ (٣) خط درباره توسیع دفعہ ٢٩٨، مورخہ ٢١؍ اکتوبر ١٨٩٥ء ص ١، ٨۔ (٤) آئینہ کمالات اسلام فروری ١٨٩٣ء نمبر ١٧، ٢٠، ص ٥١١، ٥٢٠۔ (٥) نور الحق نمبر ١ ١٣١١ھ ص ٢٣، ٥٤، نمبر ٢ ص ٣٩، ٥٠۔ (٦) شہادت القرآن ٢٢؍ ستمبر ١٨٩٣ء الف، ع۔ (٧) سر الخلافۃ ١٣١٢ھ ص ٧١، ٧٣۔ (٨) اتمام الحجۃ ١٣١١ھ ص ٢٥، ٢٧۔ (٩) حمامۃ البشریٰ ١٣١١ھ ٢٥؍ مئی ١٨٩٧ء ص ١٥٣، ١٥٤۔ (١٠) انجام آتھم جنوری ١٨٩٧ء ص ٢٨٣، ٢٨٤۔ (١١) سراج منیر مئی ١٨٩٧ء ص ٧٤۔ (١٢) تکمیل تبلیغ ١٢؍ جنوری ١٨٨٩ء ص ٦، ٧۔ (١٣) اشتہار قابل توجہ گورنمنٹ ٢٧؍ فروری ١٨٩٥ء۔ (١٤) اشتہار سفیر روم ٢٤؍ مئی ١٨٩٧ء ص ١، ٣۔ (١٥) اشتہار جوبلی ٢٣؍ جون ١٨٩٧ء۔ (١٦) اشتہار شکریہ جوبلی ٧؍ جون ١٨٩٧ء۔ (١٧) اشتہار بزرگ ٢٥؍ جون ١٨٩٧ء ص ١٠۔ (١٨) اشتہار لائق توجہ گورنمنٹ ١٠؍ دسمبر ١٨٩٤ء ص ١، ٧۔ (١٩) اشتہار ٢٤؍ مئی ١٨٩٧ء۔

پس میں امن دوست ہوں اور اطاعت سرکار میرا اصول ہے اور شرائط بیعت میں داخل

صفحہ ٢٣٦

ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ بحکم سرکار پیشین گوئیاں روک دی گئی ہیں۔ نہیں اجازت لے کر انذاری پیشین گوئیوں پر کوئی قانون عائد نہیں ہو سکتا ۔ جب تک مجسٹریٹ ضلع اجازت نہ دے۔ کوئی انذاری پیشین گوئی نہ کی جائے گی۔ ہر جگہ جوابی طور پر سخت لفظ میں نے استعمال کئے ہیں۔ ورنہ ابتدائی سختی مخالفین سے شروع ہوئی ہے اور کتاب البریہ میں میں نے مخالفین کے تمام لفظ جمع کر کے شامل مثل کر دیئے ہیں اور جوابی سختی بھی اس لئے تھی کہ مخالفین تہذیب سے کام لیں۔ چنانچہ لیکھرام ، اندرسن ، دیانند اور عمادالدین پادری سے خوف تھا، مگر چونکہ جواب میں ذرہ سختی سے کام لیا گیا ۔ اس سے عام مسلمانوں کا جوش دب گیا اور یہ طرز قابل تعریف نہیں ۔ اس سے بد اخلاقی پھیلتی ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ کسی پیشواے قوم اور کتاب کی توہین قانو ناً ممنوع قرار دی جائے اور واقعات معلوم کئے بغیر کوئی اعتراض نہ کیا جائے ۔ درخواست تیار ہے کافی دستخط ہو جائیں تو پیش کر دوں گا۔ بے جا الزام اور ہتک آمیز لفظ سے فتنہ کا زہر یلا بیج بویا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نے کہا کہ میں نے سخت لفظ استعمال کئے ہیں۔ مگر وہ بھی جوابی اور کمزور تھے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے روک دیا ہے۔ میں سخت لفظ استعمال نہ کروں گا اور اس حکم پر کار بند رہوں گا اور اس اشتہار کے ذریعہ اپنے مریدوں کو حکم دیتا ہوں کہ دفعہ چہارم شرائط بیعت کے ماتحت سرکار اور بنی نوع کی سچی خیر خواہی کرتے ہوئے اشتعال سے پرہیز کریں ۔ خلاف ورزی کرنے والا جماعت سے خارج ہوگا اور مجھ سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہے گا ۔ ہمارے نصائح کا خلاصہ تین امر ہیں۔ اوّل عظمت الٰہی اور پاک زندگی ۔ دوم بنی نوع انسان سے ہمدردی اور بھلائی کرنا یا کم از کم اس کا ارادہ رکھنا ۔ سوم سرکار کی سچی خیر خواہی کرنا ۔ مخالفین کو نوٹس دیا جاتا ہے کہ ہتک آمیز لفظ شائع نہ کریں۔ ورنہ ہمارا فرض ہوگا کہ عدالت میں چارہ جوئی کریں ۔ بحث کرنے والوں کا فرض ہے کہ بیہودہ اعتراض نہ کریں۔ بلکہ ہماری طرح حکیمانہ طرز اختیار کریں کہ اگر مسیح کو خدا کا اپنا بیٹا بنا کر دنیا میں بھیجنا قدیم ہے تو اس سے پہلے کئی بیٹے آئے ہوں گے اور مصلوب ہوئے ہوں گے۔ حادث ہے تو اس عادت کو اس نے کیوں بدل دیا اور یہ کیسے صحیح ہے کہ مسیح لوگوں کے گناہوں کے بدلے لعنتی ٹھہرے ۔ ہمارا اصول ہے کہ ہم کسی گذشتہ نبی کی توہین نہیں کرتے ۔ کیونکہ مفتری کی عزت نہیں ہوتی کہ مقبولوں کی طرح ہزار ہا قو میں اور افراد اس کو مان لیں۔ اس کا دین جم جائے اور عمر پاوے تمام فارسی، چینی ، ہندی، عبرانی نبی حق تھے اور جو باتیں خلاف حق پھیل گئی ہیں۔ وہ سب الحاقی ہیں ۔ یہی اصول اختیار کرو اور جو مخالفین کی گالیوں پر صبر نہ کر سکے اس کو قانونی چارہ جوئی کرنے کا اختیار ہے۔ مگر سختی کا مقابلہ سختی کے ساتھ کر کے مفسدہ پردازی نہ کریں ۔ حکومت کا فرض ہے کہ مخالفین کی بد زبانی کا تدارک

کرے۔ بعض نادانوں کا خیال ہے کہ میر خدا پر ایمان کم ہو جاتا ہے تو اس وقت میر لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا ہے۔ خدا کا شکر ۔

کتاب البریہ کیوں لکھی؟

کتاب البریہ ١٨٩٨ء میں ۔ بازوں کو کس طرح بہتان سے بچاتا ہے صلیب دلانے کی ٹھہرائی تھی ۔ مگر پیلاطو تین دن کے اوّل ہی اتار لیا تو کشمیر م یوز آصف یعنی مسیح غمگین کی قبر سے مشہو ر تھا۔ تین دن کے بعد وہاں سے ن ساتھ علاج کیا جو ہزار کتاب میں مذکو ر ہیں تو اس مرہم سے معلوم ہوا کہ آس جسمانی غلط ہے۔ کیونکہ اس کا جھگڑا نہ تھ تک غباوت چھائی ہوئی ہے اور بلادت میں جسمانی کا موقع ہی کیا ہے؟ تورات کے بعد رفع روحانی نہیں ہوتا تو خدا نے خدا کی طرف روح جاتی ہے۔ جسم نہیں نہ یہ کہ رفع قبل از موت ہے۔ قرآن بغیر دلیل محکم کے نہیں بدل سکتے ۔" ن سے بچالیا۔ حضور ﷺ کو بھی بچایا ۔ غار آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔ مگر روساے آشیانہ ہے اور ایک درخت ہے کہ حق ہے۔ جب تک درخت نہ کٹے اور آش کبوتری کے مشابہ تھی۔ پس خدا راست ہے۔ مگر نادان احمق نہیں سمجھتا۔ مولوی

صفحہ ٢٣٧

کرے۔ بعض نادانوں کا خیال ہے کہ میں نے افتراء سے الہام کیا ہے۔ یہ خدا کا کام ہے کہ جب خدا پر ایمان کم ہو جاتا ہے تو اس وقت میرے جیسا انسان پیدا کیا جاتا ہے اور عجائبات دکھاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو ایسی گورنمنٹ عطاء کی۔

(٢٠ ستمبر ١٨٩٧ء مرزا غلام احمد از قادیان)

کتاب البریہ کیوں لکھی؟

کتاب البریہ ١٨٩٨ء اس لئے لکھی گئی ہے کہ معلوم ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اپنے راست بازوں کو کس طرح بہتان سے بچاتا ہے اور خدا کے نشانات ظاہر ہوتے ہیں۔ مسیح کو بھی یہود نے صلیب دلانے کی ٹھہرائی تھی۔ مگر پیلاطوس بیوی کی خواب سے ڈرا اور مسیح کو بغیر ہڈی توڑنے کے تین دن کے اوّل ہی اتار لیا تو کشمیر میں جاکر فوت ہوئے اور وہاں ان کی قبر موجود ہے۔ جو یوز آسف یعنی مسیح غمگین کی قبر سے مشہور ہے۔ صلیب کے بعد جس قبر میں رکھا تھا تو ایک بڑا وسیع کمرہ تھا۔ تین دن کے بعد وہاں سے نکل کر کباب کھائے اور چالیس روز تک مرہم حواریین کے ساتھ علاج کیا جو ہزار کتاب میں مذکور ہے۔ آپ کو زخم لگے تو الہام کے ذریعہ یہ دوائیں معلوم ہوئیں تو اس مرہم سے معلوم ہوا کہ آپ صلیبی موت سے بچ گئے تھے اور رفع روحانی تھا اور رفع جسمانی غلط ہے۔ کیونکہ اس کا جھگڑا نہ تھا ”مَا قَتَلُوْهُ “ میں یہی اشارہ ہے۔ کج فہم علماء پر کہاں تک غباوت چھائی ہوئی ہے اور بلادت طاری ہے۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ” متوفیک “ اور ”رافعک“ میں جسمانی کا موقع ہی کیا ہے؟ تورات میں ہے کہ مصلوب کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا۔ یعنی مرنے کے بعد رفع روحانی نہیں ہوتا تو خدا نے بچا لیا۔ اس لئے ”رافعک الی السماء“ نہیں کہا۔ کیونکہ خدا کی طرف روح جاتی ہے۔ جسم نہیں جاتے توفی کے بعد رفع بھی بتا رہا ہے کہ رفع بعد توفی ہے۔ نہ یہ کہ رفع قبل از موت ہے۔ قرآن شریف وہ اُلٹتے ہیں کہ جن کی روحیں یہودیوں کی ہیں۔ ہم بغیر دلیل محکم کے نہیں بدل سکتے۔ ” توفیتنی “ میں بعد وفات ہے۔ موسیٰ کو بھی خدا نے دشمنوں سے بچالیا۔ حضورﷺ کو بھی بچایا۔ غار ثور تک سراغ پہنچا تو سراغ رسان نے کہا کہ آپ اندر ہیں یا آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔ مگر روسائے مکہ نے کہا کہ اس بڈھے کی عقل ماری گئی۔ اس پر تو کبوتر کا آشیانہ ہے اور ایک درخت ہے کہ حضورﷺ کی پیدائش سے بھی پہلے کا ہے اور یہ سانپوں کا غار ہے۔ جب تک درخت نہ کٹے اور آشیانہ نہ ہٹے کوئی اندر نہیں جاسکتا۔ یہ کبوتری حضرت نوح کی کبوتری کے مشابہ تھی۔ پس خدا راست باز کو بچاتا ہے اور مصیبت کو نشان ظاہر کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔ مگر نادان احمق نہیں سمجھتا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی اس مقدمہ میں میرے خلاف اس لئے گواہ

صفحہ ٢٣٨

چاہتا تھا کہ مجھے ذلت ہو اور جو وارنٹ گرفتاری یکم اگست ١٨٩٧ء کو جاری ہوا وہ امرتسر سے گورداسپور تک کئی روز نہ پہنچا۔ وارث دین عیسائی اور دیگر مولوی اسٹیشن پر منتظر تھے کہ میں کس طرح گرفتار ہو کر امرتسر آتا ہوں۔

کارروائی مقدمہ قتل

٧؍ اگست تک تعمیل نہ ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر صاحب امرتسر کو معلوم ہوا کہ غیر ضلع میں وارنٹ گرفتاری نہیں جاسکتا۔ گورداسپور تار بھیجی کہ تعمیل روک دی جائے اور وہ حیران تھے کہ وارنٹ کب آیا تھا۔ مثل گورداسپور آئی، ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو معلوم ہوا کہ یہ مقدمہ صحیح نہیں ہے۔ سمن بھیجا تو میں نو بجے بٹالہ پہنچ گیا اور مجھے کرسی ملی۔ مخالفین کے لئے یہ ایک عذاب عظیم تھا۔ ڈاکٹر کلارک نے مولوی محمد حسین کو کرسی کے لئے سفارش کی مگر منظور نہ ہوئی۔ اس نے کرسی طلب کی تو جواب دیا گیا کہ پہلے بھی نہیں ملتی تھی۔ اپنے باپ رحیم بخش کی کرسی نشینی پیش کی۔ مگر ثبوت نہ ملا۔ کہا ہمارے پاس چٹھیاں ہیں۔ حاکم نے کہا بک بک مت کر سیدھا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو جا۔ تب یہ الہام سچا ہوا کہ : ”انی مهین من اراد اهانتك“ وہ چشم بصیرت سے دیکھتا تو اس کو یہ قدرت الٰہی نظر آجاتی۔ اوّل وارنٹ کی غیبت۔ دوم اس کی بجائے سمن کا اجراء۔ سوم ذلت کی بجائے میری عزت۔ چہارم محمد حسین کی اپنی ذلت کہ ہزار آدمی کے سامنے اسے جھڑک دی گئی۔ اردلی کے کمرہ میں آیا تو اس نے بھی اٹھا دیا۔ پھر پولیس کے کمرہ میں کرسی پر بیٹھنے لگا تو انہوں نے بھی روک دیا۔ پنجم میں بری ہو گیا۔ حاکم نے کہا کہ یہ وارث دین وغیرہ کی بناوٹ ہے۔ محمد حسین نے دو جھوٹ بولے کہ اسے اور اس کے باپ کو کرسی ملتی تھی۔ خود خشک اور نیم ملا تھا۔ جو نذیر حسین سے چند حدیثیں پڑھ آیا تھا۔ جس کے ہم جنس مسجدوں کے حجروں میں روٹیوں پر گزارہ کرتے ہیں۔ اس کا باپ ایک رئیس کے ہاں ملازم تھا۔ ایک دفعہ بٹالہ کے میاں صاحب رئیس نے روٹی پر اس کو ملازم رکھا تھا یا تنخواہ پر۔ ایک دفعہ ہمارے پاس بھی آیا تھا۔ مگر ملازم نہ ہوسکا اور ہمیشہ ارادت اور خوش اعتقادی سے آتا تھا۔ محمد حسین پر ناراض تھا۔ ایسے لفظ کہتا تھا کہ میں نہیں کہہ سکتا۔ اس کی چٹھیاں میرے پاس موجود ہیں۔ جن میں ناگفتنی حالات درج ہیں۔ اس کا باپ اسے عدالت میں پہنچانا چاہتا تھا۔ مگر میں نے اس کو اس کے قدموں پر گرا دیا تھا۔ ورنہ غلام علی امرتسری وغیرہ تو اس کو برا سمجھتے تھے۔ مگر میں اس کو اس کی پردہ دری سے روکتا تھا تو اس کے باپ دادا کرسی نشین نہ تھے۔ ورنہ گریفن صاحب اپنی کتاب میں ذکر کرتے۔ بہتر تھا کہ گواہی دے کر چلا جاتا۔ مگر ایسا ذلیل ہوا کہ باہر ایک آدمی کی چادر پر بیٹھنے لگا تو اس نے بھی اٹھا دیا کہ عیسائیوں کے جھوٹے

مقدمہ میں گواہی دینے آیا تھا۔ میری چا ایک پیر مرد نے آہ! کھینچ کر کہا کہ مولوی بچالیا۔ لیکھرام کے مقدمہ میں میری تلاش کہا کہ وہ مرزا کا دشمن ہے۔ وہ مجھے عی چھوڑتے ہیں تو مالک مکان کرسی دیتا۔ بھیک۔ اس نے بیان دیا کہ لیکھرام کا پت لیکھرام نے پیشین گوئی مانگی تھی تو خدا ن چاہتا تھا کہ ہندوؤں کے ملہموں سے قا کے ذریعہ سے مجھ سے قاتل کا نام طلب کا نام بتائے۔ خدا نے تو یعقوب علیہ الس رہے تھے۔ مجھے لیکھرام سے ذاتی عداو کام ہے۔ یہ کس قدر حماقت ہے کہ ہم۔ تھا کہ منصوبہ باندھ کر قتل کرایا جاتا ہے حالانکہ وہ لا یسئل عما یفعل‘ پیشین گوئی کا بہانہ ہے۔ تب گورنمنٹ بے شک میں ہی قاتل ہوتا۔ خدا کا شکر۔

پیشین گوئیاں

اس کا یہ قول درست ہے کہ گوئیاں بھی سچی ہوں۔ مگر میری تمام پیشی مشروط تھی اور لیکھرام کی غیر مشروط۔ احم ڈرا اور مر گیا۔ مگر اس کے عزیزوں نے نم گوئی میں مہلت ہوتی۔ جیسا کہ یونس علی الميعاد“ وارد ہے۔ لا يخلف ا جیسا کہ مسیح کی بادشاہت مشتبہ رہی او دلانے میں شک ہوا۔ حدیبیہ میں تاخیر مشتبہ رہیں۔ وہ ایسا لفظ نہیں کہتا جو پہلے ا

صفحہ ٢٣٩

ت گرفتاری یکم اگست ١٨٩٧ء کو جاری ہوا وہ امرتسر سے گورداسپور ن عیسائی اور دیگر مولوی اسٹیشن پر منتظر تھے کہ میں کس طرح گرفتار ہوئی۔ ڈپٹی کمشنر صاحب امرتسر کو معلوم ہوا کہ غیر ضلع میں وارنٹ ور تار بھیجی کہ تعمیل روک دی جائے اور وہ حیران تھے کہ وارنٹ کب ٹی کمشنر گورداسپور کو معلوم ہوا کہ یہ مقدمہ صحیح نہیں ہے۔ سمن بھیجا تو رسی ملی۔ مخالفین کے لئے یہ ایک عذاب عظیم تھا۔ ڈاکٹر کلارک نے سفارش کی مگر منظور نہ ہوئی۔ اس نے کرسی طلب کی تو جواب دیا گیا باپ رحیم بخش کی کرسی نشینی پیش کی۔ مگر ثبوت نہ ملا۔ کہا ہمارے ا بک بک مت کر سیدھا پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو جا۔ تب یہ الہام سچا ہوا ڈ اھانتك “ وہ چشم بصیرت سے دیکھتا تو اس کو یہ قدرت الٰہی نظر ۔ دوم اس کی بجائے سمن کا اجراء۔ سوم ذلت کی بجائے میری ذلت کہ ہزار آدمی کے سامنے اسے جھڑک دی گئی۔ اردلی کے کمرہ پھر پولیس کے کمرہ میں کرسی پر بیٹھنے لگا تو انہوں نے بھی روک دیا۔ کہا کہ یہ وارث دین وغیرہ کی بناوٹ ہے۔ محمد حسین نے دو جھوٹ پ کو کرسی ملتی تھی۔ خود خشک اور نیم ملا تھا۔ جو نذیر حسین سے چند م محض مسجدوں کے حجروں میں روٹیوں پر گذارہ کرتے ہیں۔ اس کا تھا۔ ایک دفعہ بٹالہ کے میاں صاحب رئیس نے روٹی پر اس کو ملازم رے پاس بھی آیا تھا۔ مگر ملازم نہ ہو سکا اور ہمیشہ ارادت اور خوش پر ناراض تھا۔ ایسے لفظ کہتا تھا کہ میں نہیں کہہ سکتا۔ اس کی چٹھیاں میں نا گفتنی حالات درج ہیں۔ اس کا باپ اسے عدالت میں پہنچانا س کے قدموں پر گرا دیا تھا۔ ورنہ غلام علی امرتسری وغیرہ تو اس کو کو اس کی پردہ دری سے روکتا تھا تو اس کے باپ دادا کرسی نشین نہ کتاب میں ذکر کرتے۔ بہتر تھا کہ گواہی دے کر چلا جاتا۔ مگر ایسا چادر پر بیٹھنے لگا تو اس نے بھی اٹھا دیا کہ عیسائیوں کے جھوٹے

مقدمہ میں گواہی دینے آیا تھا۔ میری چادر پلید ہو جائے گی۔ عام خیال تھا کہ یہ کینہ لینے آیا ہے۔ ایک پیر مرد نے آہ! کھینچ کر کہا کہ مولوی مشکل سے ایمان لے جائیں گے۔ خدا نے مجھے اس سے بچالیا۔ لیکھرام کے مقدمہ میں میری تلاشی ہوئی تو میں بری ہو گیا۔ اس کے متعلق کمشنر صاحب نے کہا کہ وہ مرزا کا دشمن ہے۔ وہ مجھے عیسائیوں کے ہاتھ میں پھنسانے آیا تھا۔ شریف خود کرسی چھوڑتے ہیں تو مالک مکان کرسی دیتا ہے۔ کیوں شیخی ماری؟ بن مانگے موتی ملیں، مانگیں نہ ملے بھیک۔ اس نے بیان دیا کہ لیکھرام کا پتہ بھی اس سے پوچھنا چاہئے۔ کیونکہ الہام کا مدعی ہے۔ مگر لیکھرام نے پیشین گوئی مانگی تھی تو خدا نے مجھے الہام کر دیا تھا اور قاتل کا نام نہیں بتایا تھا۔ محمد حسین کو چاہئے تھا کہ ہندوؤں کے ملہموں سے قاتل کا نام دریافت کر لیتا۔ یا گورنمنٹ کو توجہ دلاتا کہ الہام کے ذریعہ سے مجھ سے قاتل کا نام طلب کرتی۔ مگر میں خدا پر زور نہیں ڈال سکتا کہ وہ ضرور مجھے اس کا نام بتائے۔ خدا نے تو یعقوب علیہ السلام کو اپنے بیٹے کا حال نہیں بتایا تھا اور چالیس برس روتے رہے تھے۔ مجھے لیکھرام سے ذاتی عداوت نہ تھی کہ میں جھوٹی پیشین گوئی کرتا۔ کیونکہ یہ شریروں کا کام ہے۔ یہ کس قدر حماقت ہے کہ ہم نے مرید بھیج کر اسے قتل کروایا تھا۔ کیا وہ قاتل مرید رہ سکتا تھا کہ منصوبہ باندھ کر قتل کرایا جاتا ہے۔ گویا محمد حسین مجبور کرتا تھا کہ خدا قاتل کا نام بتلائے۔ حالانکہ وہ ”لا یسئل عما یفعل“ کا مالک ہے۔ مناسب تھا کہ کہہ دیتا کہ یہی قاتل ہے اور پیشین گوئی کا بہانہ ہے۔ تب گورنمنٹ میرا امتحان کرلیتی۔ اگر میں پیشین گوئیوں میں جھوٹا نکلتا تو بے شک میں ہی قاتل ہوتا۔ خدا کا شکر ہے کہ گورنمنٹ عادل ہے۔ ورنہ یہ ملا کب چھوڑتے۔

پیشین گوئیاں

اس کا یہ قول درست ہے کہ ایک پیشین گوئی تب سچی ہوتی ہے کہ دوسری تمام پیشین گوئیاں بھی سچی ہوں۔ مگر میری تمام پیشین گوئیاں سچ ہیں۔ کیونکہ احمد بیگ اور آتھم کی پیشین گوئی مشروط تھی اور لیکھرام کی غیر مشروط۔ احمد بیگ کے سامنے خوف کا کوئی نمونہ پیش نہ تھا۔ اس لئے نہ ڈرا اور مر گیا۔ مگر اس کے عزیزوں نے نمونہ دیکھ لیا اور فائدہ اٹھایا۔ اگر وہ ڈر جاتے تب بھی پیشین گوئی میں مہلت ہوتی۔ جیسا کہ یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی میں ہوا ہے۔ کیونکہ ”لا يخلف الميعاد“ وارد ہے۔ ”لا يخلف الوعید“ وارد نہیں ہوا۔ بعض دفعہ عوام پر اشتباہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ مسیح کی بادشاہت مشتبہ رہی اور ایلیا کا نزول جسمانی نہ ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام کی نجات دلانے میں شک ہوا۔ حدیبیہ میں تاخیر ہوئی۔ محمد حسین جہلاء کا بھائی ہے۔ جن پر یہ پیشین گوئیاں مشتبہ رہیں۔ وہ ایسا لفظ نہیں کہتا جو پہلے انبیاء کے متعلق نہیں بولا گیا۔ حال میں ایک یہودی نے اپنی

صفحہ ٢٤٠

کتاب میں ایک فہرست دی ہے کہ یہ پیشین گوئیاں مسیح کی پوری نہیں ہوئیں اور یہ کہ اس کی تعلیم تورات کے خلاف ہے۔ ایلیا نہیں آیا یہ غلط ہے کہ ایلیا یحییٰ تھا۔ کیونکہ تب خدا یوں نہ کہتا کہ ایلیا خود آئے گا۔ بلکہ یوں کہتا کہ اس کا مثیل آئے گا اور صریح کو تحریف کرنا جھوٹے کا نشان ہے۔ پیشین گوئیوں کے سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔ کیونکہ ان میں استعارات غالب ہوتے ہیں۔ عقلمند وہ ہے جو دوسروں کی نصیحت قبول کرے۔ مسلمان نزول مسیح میں ظاہر پر زور دیتے ہیں۔ جس کی نظیر نہ ہو اس پر اڑے رہنا بیوقوفی ہے۔ ”فاسئلوا اهل الذکر“ وارد ہے۔ ٢٩؍ جولائی ١٨٩٧ء میں مجھ کو الہام ہوا کہ مقدمہ ہوگا۔ باز پرس ہوگی اور جھوٹے الزام سے بریت ہوگی۔ ٢٢؍ اگست تک اطمینان کے الہام ہوتے رہے اور ٢٣؍ اگست کو بری کر دیا گیا۔ اپنی جماعت کو یہ الہام سنائے گئے تھے۔ جن میں یہ لوگ بھی تھے۔ حکیم نور دین، محمد علی، فضل دین، عبد الکریم سیالکوٹی، کمال الدین، رحمت اللہ وغیرہ۔ انہوں نے چار نشان دیکھے۔ ”انی مهین“ کی صداقت، اظہار قبل از وقت، مدعی کا ملزم ہونا اور محمد حسین کی ذلت اور سات مشابہتیں مسیح کے ساتھ۔

مسیح علیہ السلام سے مشابہت

مجھے گرفتار کرانے کی کوشش کی۔

مقدمہ کی سازش دو وجہ سے ثابت ہوئی۔ اوّل یہ کہ عبد الحمید نے بیان بدل دیا۔ دوم یہ کہ پادری نور الدین اور گرے نے کہا تھا کہ عبد الحمید پہلے ہمارے ہاں آیا تھا۔ رونی نہ ملی تو کلارک کے پاس چلا گیا۔ اگر سازش کے لئے آتا تو سیدھا کلارک کے پاس جاتا۔ مگر محمد حسین اس کو پہچاننے میں ناکام رہا۔ اسے کیوں ہدایت نہ ہوئی؟ اس لئے کہ انسان بدی کرتا ہے تو اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ نزول مسیح بروزی طور پر محقق تھا۔ اکابر دین مان چکے تھے اور ابن عربی لکھ چکے تھے کہ وہ بروزی رنگ میں ظاہر ہوگا۔ مگر ان کو تعصب نے دور پھینکا ہاں یہ فائدہ ضرور ہوا

صفحہ ٢٤١

کہ ان کے فعل سے ان کی ریا کاری کے پردے کھل گئے کہ کس قدر خود بینی، حسد، بخل اور تکبر کا سرچشمہ ہیں۔ امید قوی ہے کہ ان کو چشم بصیرت حاصل ہو جائے گی۔ جس سے وہ خطرناک راستوں سے مجتنب ہو جائیں گے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ اطمینان قلب کے تین طریق ہیں۔

وسائل ثلاثہ اطمینان قلبی

کتاب الٰہی، عقل اور نشان آسمانی۔ جس کا سرچشمہ نبیوں کے بعد مجدد وقت، امام الزمان ہوا کرتا ہے۔ اصل وارث ان نشانوں کے انبیاء ہیں۔ مگر جب مدت کے بعد متولی بن کر کمزور ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کے قدم پر کسی ایک کو پیدا کرتا ہے۔ تاکہ لوگ ایمان تازہ کر لیں۔ بد نصیب ہیں جو ہدایت نہیں پاتے۔ (بیرونی اور اندرونی مخالف) مولویوں کو وفات مسیح از روئے قرآن وحدیث دکھائی گئی۔ عقلی طور پر بھی شرم دلائی کہ آسمان سے آج تک کوئی نہیں اترا۔ پھر ان کو نشان بھی دکھائے۔ مگر تعصب نہ چھوڑا۔ پادریوں کو بھی ان وسائل ثلاثہ سے نرم کیا گیا کہ پہلی تعلیم سے ان کے جسمانی اور مخلوق ہونے کا پتہ نہیں چلتا۔ یہودیوں کو جو چودہ سو سال سے تعلیم انبیاء سے باخبر تھے۔ یہ معلوم ہوا کہ ایک شخص خدائی کا دعویٰ کرتا ہے تو کہا کہ یہ دعویٰ مسلسل تعلیم مذہبی کے خلاف ہے۔ اس سے بڑھ کر دلیل بطلان اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہودیوں کو اس جدید عقیدہ کا خیال تک بھی پیدا نہ ہوا اور یہ کیسے ممکن تھا کہ انبیاء سابقین ایسی پیشین گوئیاں درج کرتے جو توحید کے خلاف ہوتیں۔ اس لئے پادریوں کا یہ استدلال درست نہ ہوا۔ کیونکہ قاعدہ ہے کہ تعلیم میں صراحت اور تفصیل ہوتی ہے اور پیشین گوئی میں استعارات اور مجاز بھی ہوتا ہے۔

تثلیث مسیح علیہ السلام

اس لئے جب ان میں مخالفت پیدا ہو تو تعلیم کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے افادہ و استفادہ مطلوب ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے مقاصد کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتے۔ برخلاف پیشین گوئیوں کے کہ اکثر گوشہ گمنامی میں پڑی رہتی ہیں۔ اس لئے یہودی سچے ہیں اور ان کے معنی اس لئے بھی مستند ہیں کہ وہ انبیاء سے ایسا ہی سنتے آئے ہیں۔ شام میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ایک فرقہ موجود ہے۔ وہ بھی عیسائیوں کے اس عقیدہ کے برخلاف ہے۔ عقلاً بھی جھوٹے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک جہاں تثلیث کی آواز نہیں پہنچی وہاں توحید سے سوال ہوگا۔ نشانوں کا ذریعہ بھی ان میں مفقود ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک معجزات کا سلسلہ بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ مسیح علیہ السلام نے اگر چند ماہی گیروں کو خدائی کے نشان دکھائے تھے تو اب ضرورت ہے کہ جدید تعلیم یافتوں کو نشان دکھائے جائیں۔ کیونکہ ان کو اس کی خدائی سمجھ میں نہیں آتی اور نہ کوئی فلسفہ بتاتا ہے کہ اس شخص کو

صفحہ ٢٤٢

خدا کیوں نہ سمجھا جائے کہ جس کی دعا ساری رات منظور نہ ہوئی اور جس کی روح ناپاک اور نادان بھی ہے۔ زندہ ہے تو اپنی جماعت کو مدد دے۔ کیونکہ انسان ہمیشہ خدا شناسی کا طالب ہوتا ہے۔ سو سچا مذہب خدا شناسی کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ عیسائی مذہب تینوں ذرائع سے خالی ہے۔ نہ مسلسل تعلیم نہ عقل۔ کیونکہ عقلی امر ہمیشہ قاعدہ کے ماتحت ہوتا ہے تو کیا یسوع جیسے اور بھی خدا تھے یا ہوں گے؟ جواب ملتا ہے کہ نہیں عقلی نشان بھی موجود نہیں۔ کیونکہ وہ تو خود بیچارہ اور بے خبر تھا۔ دوسروں کی کیا سنے؟ اگر تمام مذاہب کے زوائد اور مخلوق پرستی کو دور کیا جائے تو صرف توحید باقی رہ جاتی ہے۔ جو اسلام کا بنیادی اصول ہے۔ تو عیسائیوں کے خلاف چار گواہ ہیں۔

قیصر روم کے سامنے ہوا تھا اور غالب رہا تھا اور قیصر روم نے بھی تثلیث ترک کر دی تھی۔

علیہ السلام صرف انسان تھے اور خدا نے اب مجھے کھڑا کر دیا ہے کہ تثلیث کو توڑوں۔ ہماری مجلس خدا نما ہے۔ دہریہ بھی ہماری مجلس میں خدا کا اقراری بن سکتا ہے۔ عیسائی میری صحبت سے دیکھ سکتا ہے کہ کس طرح نشان دیئے جاتے ہیں۔ عیسائیو! درماندہ اور ضعیف الخلقت کو خدا نہ بناؤ۔ ان کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ تقدس صرف عیسائیوں میں باقی ہے۔ کیونکہ کئی ایک ان میں قابل شرم زندگی بسر کرتے ہیں۔ انجیل ایسی بگاڑی کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ طمانچہ کے لئے دوسری گال پیش نہیں کرتے۔ بلکہ افتراء سے مجھ پر جھوٹا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

آتھم اور قسم کھانا

وارث دین، پریم داس، عبد الرحیم اور یوسف خاں نے جھوٹی قسمیں کھائی تھیں۔ آتھم کے مقدمہ میں لکھتے تھے کہ جھوٹی قسمیں کھانا جائز نہیں۔ آتھم سے بھی تقاضا کیا گیا تھا کہ قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نہیں ڈرا۔ عدالت کے سوا قسم جائز نہیں تو مسیح اور پولوس نے بغیر عدالت آئے قسم کیوں کھائی تھی۔ نیز عدالت میں مجلس ثالثی بھی درج ہے۔ ہم نے قسم پر چار ہزار روپیہ دینا بھی منظور کیا اور الہام پہلے ہی ہو چکا تھا کہ اگر وہ خوف کھائے گا تو ہلاکت سے رہائی پائے گا۔ اس کے افعال خود گواہی دے رہے تھے کہ وہ اندر سے ڈر گیا ہے۔ اب قسم کیسے کھا سکتا تھا۔ عیسائی یہ تو سوچتے کہ اس کا یہ کہنا کہ سانپ چھوڑے گئے، بندوقیں دکھائی گئیں، تلواروں سے حملہ ہوا۔ تب مسیح

صفحہ ٢٤٣

تھا کہ عدالت میں قسم کھانا الہام میں یہ بھی تھا کہ اگر سچائی کو چھپائے گا تو جلد ہلاک ہوگا۔ تو ہمارے آخری اشتہار سے چھ ماہ کے اندر مر گیا۔ ان کو یہ شرم بھی آئی کہ لیکھرام عید کے دوسرے روز مارا گیا۔ جلسہ مذاہب لاہور میں انہوں نے دیکھ لیا کہ ہماری تقریر بالا رہی اور سول ملٹری گزٹ نے اس پر شہادت دی۔ ایک اور ندامت ان کو یہ ہے کہ ہم نے تردید عیسائیت میں کئی کتابیں لکھی ہیں۔ جن سے ان کی قلعی کھل گئی ہے۔ اس لئے مجھے خود خطرہ تھا کہ تنگ آ کر یہ لوگ مجھ پر حملہ کر دیں گے۔ چنانچہ یہ مقدمہ بنایا گیا اور یہ ضروری تھا کہ آریہ اور محمد حسین بھی شامل ہوتا کہ ان کی ذلت بھی ہو جائے۔ پادریوں کو اس لئے زیادہ جوش تھا کہ ان کو میرے اعتراضات نے تنگ کر دیا ہوا تھا۔

عیسائیت پر اعتراضات

ہے تو شریعت فضول ہوگی۔

ہے۔ مگر اس مذہب سے کچھ ثابت نہیں ہوتا جو اپنے پیٹ میں مردہ بچہ رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مسیح نے مردے زندہ کئے اور تصدیق کے لئے مردے قبروں سے نکل کر بیت المقدس میں داخل شہر ہوئے تھے۔ ایسا ہی ہندو کہتے ہیں کہ مہادیو کی لٹوں سے گنگا بہہ نکلی تھی۔ رام چندر نے انگلیوں پر پہاڑ اٹھایا تھا۔ راجہ کرشن نے ایک تیر سے کئی لاکھ آدمی مار ڈالے تھے۔ یہ مذہب خدا کی ہستی ظاہر نہیں کرتے اور دہریت کا اثر باقی رہتا ہے۔ انسان سم الفار سے ڈرتا ہے۔ بادشاہ سے خوف کرتا ہے۔ مگر خدا سے نہیں ڈرتا۔ حالانکہ تمام سعادت خدا شناسی میں ہے اور تمردانہ زندگی میں اسے موت آجاتی ہے۔ کسی کے کھانے سے ہم سیر نہیں ہوتے اور کسی کی خدا شناسی سے ہم کو فائدہ نہیں ہوتا۔ وید اور انجیل اتنا تو ثابت کرتے ہیں کہ خدا ہونا چاہئے۔ مگر یہ ثابت نہیں کرتے کہ یقینی طور پر وہ موجود بھی ہے۔ جو شخص جلالی تجلیات کے نیچے زندگی بسر کرتا ہے اس کی شیطنت مرجاتی ہے۔ انجیل نے سوائے کفارہ کے کوئی خدا شناسی کا طریق نہیں بتایا۔ جس سے یسوع نہ اس وقت لعنت سے سبکدوش ہوا اور نہ آئندہ کسی وقت کوئی نسل اس کو سبکدوش کرے گی۔ یہ کیا ظلم ہے کہ ایک

صفحہ ٢٤٤

خبیث یسوع پر ایمان لے آوے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔ مسلسل لعنتوں سے فارغ ہو کر یسوع کب اس سے ملے گا۔ اصل نجات دینے والی چیز سے یہ لوگ بے خبر ہیں کہ آسمانی نور تمام تاریکیاں دور کرتا ہے اور نشانوں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ اب جو خدا شناسی سے محروم ہے وہ اسے آئندہ بھی نہیں دیکھ سکتا۔ خدا نے کہا ہے کہ میں اپنے طالب کا دل اپنے نشانوں سے منور کروں گا۔ یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھے گا۔ مکالمات میں بھی، سچی باتیں میں نے سنی ہیں۔ ہم نے یہ حقیقت قرآن سے پائی ہے اور اس کی آواز سنی ہے۔ اس لئے بصیرت کی راہ سے اوروں کو دعوت دیتے ہیں کہ ہم نے نور پایا۔ ظلمت دور ہوئی۔ اب انسان اپنی خواہشات سے ایسا باہر آ جاتا ہے۔ جیسا سانپ اپنی کینچلی سے۔

کیوں نہیں کہا تھا کہ میرے بعد فارقلیط نقصان کا تدارک کرے گا۔ نیز اس میں صرف عفو کا ذکر ہے جو کسی وقت مجرم کو سر چڑھا دیتا ہے۔ انسان میں کئی ایک قوتیں ہیں۔ سوائے عفو کے انجیل میں دوسری قویٰ کے متعلق کوئی تعلیم موجود نہیں۔ جسمانی اعتدال خوردونوش کے اعتدال پر قائم ہے۔ روحانی قویٰ کا اعتدال ان کے معتدل استعمال پر قائم ہے۔ حسد نیک طریق پر ہو تو غبطہ (رشک) بن کر موجب فضیلت ہے۔ ورنہ خساست ہے۔ اس لئے عیسائیوں کو اپنے قوانین بنانے پڑے۔ قرآن کی روشنی میں انجیل مدہم پڑگئی اس لئے انجیل کو آسمانی نشان بتانا سخت غلطی ہے۔

پاک دامن انسان پیدا ہو تو اس سے یکجان ہو جاؤں۔ چنانچہ یسوع کے سوا کسی کو بے گناہ نہ پایا۔ اس لئے اس سے متحد ہو کر جسمانی صورت میں ہمیشہ کے لئے آ گیا اور یسوع جسمانی خدا بن گیا۔ دوسرے اقنوم روح القدس نے کبوتری کی شکل اختیار کی۔ اقنوم اوّل، یعنی باپ کا وجود یسوع اور روح القدس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ توحید کافی نہ تھی۔ جب تک کہ خدا انسانی راہ سے تولد نہ ہوتا اور مرنے کے بعد لعنت اس پر نہ برستی۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہر ایک پاک دامن سے اگر اقنوم کا تعلق اتحادی ہو سکتا ہے تو ملک صدق سالم سے ایسا تعلق پیدا کیوں نہ ہوا۔ جو پاک دامن تھا اور مسیح سے پہلے ہو گذرا تھا۔ یسوع کا انتظار کیوں تھا؟ بپتسمہ کی جماعت کہتی ہے کہ اقنومی کبوتری جب نظر آئی تھی تو اس وقت مسیح تیس برس کے تھے اور اسی وقت اقنوم کا تعلق بھی ہوا تو کیا یسوع پہلے تیس سال پاک دامن نہ تھا؟ شاید اسی اشتباہ کی وجہ سے کسی عیسائی نے یسوع کی ابتدائی زندگی نہیں لکھی اور حالات کو قابل ذکر نہیں سمجھا۔ یہ ظاہر ہے کہ خدا بھوک پیاس تولد و موت دکھ درد اور عجز و نادانی سے

صفحہ ٢٤٥

پاک ہے۔ مگر یسوع ایسا نہ تھا۔ وہ خدا تھا تو یہ کیوں کہا کہ مجھے قیامت کی خبر نہیں اور مجھے نیک نہ کہو اور کیوں اس کی دعاء قبول نہ ہوئی۔

نہیں ہے۔ کیونکہ روح بغیر جسم کے کوئی کام نہیں کر سکتی۔ جسم کا ایک حصہ خراب ہو جاتا ہے تو خیال یا حافظہ کام نہیں کر سکتا۔ اس لئے جب راحت یا عذاب تسلیم ہے تو ضرور ہے کہ جسم بھی ساتھ ہو۔ ورنہ ادراک ناممکن ہوگا۔ گو یہ ممکن ہے کہ موت کے بعد کوئی دوسرا جسم اس کو مل جاتا ہوگا۔ جس کے ذریعہ اس کو پورا انکشاف، راحت، خوشی، عذاب یا مسرت حاصل ہو سکتی ہے۔ یوں تو عذاب میں جسم اور روح دونوں کو شریک سمجھتے ہیں۔ مگر بہشت کے لائق صرف روح سمجھی جاتی ہے۔ کیا یہ بے انصافی نہیں کہ دنیا میں تو روح اور جسم دونوں نیک و بد کمائیں اور بہشت میں جسم محروم رہ جائے۔ قرآن شریف میں "وجوہ یومئذ ناضرۃ" وارد ہے۔ جس میں نضارت روحانی اور بصارت جسمانی دونوں کا ذکر ہے۔ مسیح نے بھی اشارۃً یہی ذکر کیا ہے۔

گا۔ مگر یہ نہیں مانتے کہ اس کو لذات جسمانی بھی حاصل ہوں گی۔ حالانکہ وہ جسم یا راحت میں ہوگا یا غیر راحت میں۔ تو ہر صورت میں لذت جسمانی کا حصول تسلیم کرنا پڑے گا۔

کے باقی نوع کے لئے رحمت بن جاتا ہے۔ خونی کو قتل نہ کیا جائے تو قوم لڑ لڑ کر فنا ہو جائے گی۔ اس لئے خدا عادل اور رحیم دونوں صفات سے متصف ہے۔ یہ کیا انصاف یا رحم ہے کہ بے گناہ یسوع کو ساری دنیا کی لعنتوں کا متحمل بنایا جاتا ہے۔

آنکھ گناہ کرتی ہے تو اسے نکال دے اور تجھے کانا رہنا بہتر ہوگا۔

تو جب انسان کو عقل دی گئی ہے تو اس سے برتاؤ بھی عدل کے ساتھ کیا جائے گا۔

ہے۔ کیونکہ آدم علیہ السلام اپنے گناہ سے پہلے ضرور گوشت کھاتا ہوگا تو جانور مرتے ہوں گے۔ پانی پیتا ہوگا تو اس میں باریک جانور مرتے ہوں گے۔ یا یوں کہو کہ آدم علیہ السلام سے پہلے بھی دنیا آباد تھی۔ جس میں جانور مرتے بھی تھے تو ان صورتوں میں آدم کا گناہ موت کا سبب کیسے ہوا؟

صفحہ ٢٤٦

......١٤...... اناجیل اس لئے غیر معتبر ہیں کہ ان میں لکھا ہے کہ یسوع نے اتنے کام کئے کہ اگر وہ لکھے جاتے تو وہ کتابیں دنیا میں نہ سما سکتیں۔ کیا خوب ہے کہ تین سال میں تو اس کے کام سمٹ گئے۔ مگر کاغذات میں نہ سمٹ سکے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ یسوع کو دنیا میں سر رکھنے کی جگہ نہ تھی۔ حالانکہ اس کی اپنی ماں کا مکان موجود تھا اور اس کے پاس روپیہ بھی کافی جمع رہتا تھا اور یہودا خزانچی مقرر تھا۔ جو کچھ کچھ چرا بھی لیتا تھا۔ یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ اس نے خدا کی راہ میں کچھ دیا بھی تھا؟

......١٥...... یہ جھوٹ ہے کہ پہلی کتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح ناصری کہلائے گا۔ پھر ایک پیشین گوئی کے مطابق ناصرہ بمعنی شاخ ہے اور عبرانی میں اس کا معنی تر وتازہ ہے۔

......١٦...... یہ حوالہ بھی غلط ہے کہ مسیح نے کہا کہ پہلی کتابوں میں لکھا ہے کہ پڑوسی سے محبت کر اور دشمن سے نفرت کر۔

......١٧...... قرآن مجید اس انجیل کا مصداق ہے جو مسیح پر نازل ہوئی تھی۔ نہ وہ انجیل جو حواریوں نے بعد میں تصنیف کر لی ہے اور اصل انجیل پیش نہیں کر سکتے۔

......١٨...... انجیل کی رو سے برائی اپنے اندر اثر رکھتی ہے تو نیکی بھی اپنے اندر اثر رکھتی ہوگی۔ اس لئے کفارہ باطل ٹھہرا۔ کیونکہ نہ اس سے تمام اشیاء حلال ہوگئی ہیں اور نہ ان کا وجود معدوم ہوا۔

......١٩...... مسیح علیہ السلام کو خسرہ نکلا تھا۔ بھوک پیاس سے تکلیف بھی ہوتی تھی۔ اپنی والدہ سے گوشت پوست بھی حاصل کیا تھا۔ موسی اور بچپن کی تکالیف بھی ہوئی ہوں گی تو بے گناہ کیسے ثابت ہوا۔ کیونکہ ان کا اصول ہے کہ جسمانی تکلیف گناہ کا نتیجہ ہے۔ اس سے بڑھ کر ملک صدق ہی زیادہ پاک تھا تو یہ ضروری تھا کہ روح القدس کا تعلق اس سے ہوتا مسیح علیہ السلام نہ ہوتا۔

......٢٠...... ان کا اصول ہے کہ اصلی نجات گناہوں کو چھوڑنے سے حاصل ہوتی ہے تو کفارہ کو باعث نجات کیوں سمجھا گیا۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا سے تعلق پیدا ہو تو نجات ہوتی ہے۔ اس سے میلان یا قطع تعلق ہو تو عذاب ہوتا ہے۔ جناح میلان عن الحق کا نام ہے اور جرم قطع تعلق کا نام ہے اور یہ دونوں انسانی اپنے فعل ہیں۔ اس میں کسی کا مطلوب ہونا یا نہ ہونا کچھ اثر نہیں کرتا۔ پس عمل کے بغیر نجات کا مفت میں حاصل کرنا غلط ہوگا۔ ورنہ کیا ضرورت تھی کہ مسیح چالیس روز روزہ رکھتے۔ اسی سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ نیکیاں برائیوں کا کفارہ ہیں۔ زوال صحت بیماری کا نام ہے۔ اس طرح زوال نیکی برائی ہوتی ہے۔ تو نیکی جب اپنی جگہ موجود ہو جائے تو اس کا زوال جاتا رہے

گا۔ ”تطلع علی الافئدہ“ سے معلو ہی اٹھتی ہے۔ ورنہ نیک دل کو آنچ تک ہے۔ جیسا کہ تجربہ بتا رہا ہے۔ اس لئے اور نبی آخرالزمان کے ذریعہ سے حاصل کیونکہ خدا اس آدمی کی طرح تنگ دل ن دوسرے کا گلا گھونٹ دیتا ہو اور درگزر کرنا

......٢١...... توحید تین قسم کی کو مؤثر نہ سمجھا جائے۔ خاص الخاص کہ نفسہ سورہ اخلاص کے مقابلہ میں وہاں کون سی پھر کیوں کہتے ہیں کہ قرآن کی ضرورت ن قرآن شریف تمام دنیا کے لئے نازل ہوا

......٢٢...... اناجیل کے مجعہ مدعی نبوت نہ تھے کہ ان کا کلام بیہودگی ۔ لئے بھی ضروری ہے کہ صادق القول صحیح ا غلط حوالے لکھ چکے ہیں۔ باتیں بھی ناممکن صلیب دیا، ذلیل کیا اور عاجز ہوا۔ ماں نکلا۔ پھر کچھ انسان بنا اور کچھ کبوتر اور اپنے

......٢٣...... اناجیل تمام قوا۔ متعلق لکھا ہے اور یوں کہنا کہ تبدیل شرائع شریف نے جہاں تفصیلی احکام بتائے ہیں کے لئے کارآمد ہوتے ہیں۔ چنانچہ ”السد دیا ہے۔ تا کہ اس مجرم کو بھی سزادی جائے

......٢٤...... یسوع کے ابتدا مریم سے کہا تھا کہ بچہ کا نام یسوع رکھنا کیوں بیزار تھا۔

......٢٥...... یوحنا لکھتا ہے کہ

صفحہ ٢٤٧

گا۔ ”تطلع علی الافئدہ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کا تعلق دل سے ہے۔ کیونکہ بدی دل سے ہی اٹھتی ہے۔ ورنہ نیک دل کو آنچ تک نہیں لگتی۔ جزا و سزا کا تعلق انسان کے فعل پر مرتب ہوتا ہے۔ جیسا کہ تجربہ بتا رہا ہے۔ اس لئے اسلام نے کہا ہے کہ توحید موجب نجات ہے۔ جو قرآن اور نبی آخرالزمان کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے تو یہ عقیدہ کہ بدی کا بدلہ ضرور ملے گا۔ غلط ہو گیا کیونکہ خدا اس آدمی کی طرح تنگ دل نہیں ہے جو اپنے نوکر کو سزا ضرور دیتا ہو یا اس کے عوض دوسرے کا گلا گھونٹ دیتا ہو اور درگذر کرنا نہ جانتا ہو۔

کو موثر نہ سمجھا جائے۔ خاص الخاص کہ نفسانیت بھی ترک کی جائے۔ تورات میں یہ توحید نہیں ملتی۔ سورہ اخلاص کے مقابلہ میں وہاں کون سی آیت ہے۔ سیاسیات اور اقتصادیات کو کہاں ذکر کیا ہے تو پھر کیوں کہتے ہیں کہ قرآن کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ تورات صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی اور قرآن شریف تمام دنیا کے لئے نازل ہوا ہے۔

مدعی نبوت نہ تھے کہ ان کا کلام بیہودگی سے پاک ہوتا۔ صرف وقائع نگار تھے۔ مگر وقائع نگار کے لئے بھی ضروری ہے کہ صادق القول صحیح الحافظہ عمیق الفکر محقق یا عینی شہادت رکھتا ہو۔ مگر ہم ان کے غلط حوالے لکھ چکے ہیں۔ باتیں بھی ناممکن لکھی ہیں کہ مردے نکلے مخلوق نے خدا کے منہ پر تھوکا۔ صلیب دیا، ذلیل کیا اور عاجز ہوا۔ ماں کے پیٹ میں خون پیتا رہا، پیشاب کے راستے سے باہر نکلا۔ پھر کچھ انسان بنا اور کچھ کبوتر اور اپنے دونوں جسموں میں تقسیم ہو کر رہ گیا۔

متعلق لکھا ہے اور یوں کہنا کہ تبدیل شرائع کو ملحوظ رکھ کر اس نے کچھ نہیں بتایا۔ غلط ہے کیونکہ قرآن شریف نے جہاں تفصیلی احکام بتائے ہیں۔ وہاں اجمالی طور پر قواعد کلیہ بھی لکھ دیئے ہیں۔ جو ہمیشہ کے لئے کارآمد ہوتے ہیں۔ چنانچہ ”السن بالسن“ کے ساتھ ”جزاء سیئۃ سیئۃ“ بھی لکھ دیا ہے۔ تا کہ اس مجرم کو بھی سزا دی جائے کہ جس کے منہ میں دانت نہ ہوں۔

مریم سے کہا تھا کہ بچہ کا نام یسوع رکھنا۔ مگر مریم اور مسیح کے بھائی کیوں منکر تھے اور مسیح ان سے کیوں بیزار تھا۔

صفحہ ٢٤٨

کہتے ہیں کہ آٹھ برس میں تیار ہوئی تھی اور قرین قیاس بھی یہی ہے۔

میں یہ قول مذکور تھا۔

کتاب محمد ازم میں لکھتا ہے کہ معجزات نبویہ کے راوی بڑے مشہور اور معتبر فاضل تھے۔ جنہوں نے پشت در پشت کی اسناد سے ان کو ہم پہنچایا ہے اور ان کی سچائی تسلیم شدہ ہے۔ اگر یہ طریق اختیار نہ کیا جاتا تو دوسرا کون سا طریق تھا؟ خصوصاً جب کہ حضور ﷺ نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے اس کی سزا آگ ہے تو اور بھی تصدیق ہو جاتی ہے۔ مگر یہ طریق اناجیل کو نصیب نہ ہوا۔

ہے اور ایسے لوگ بھی پیدا کئے ہیں جن سے تائیدی نشان ظاہر ہوئے ہیں۔ جیسے جناب شیخ عبدالقادر جیلانیؒ، ابوالحسن خرقانیؒ، بایزید بسطامیؒ، جنید بغدادیؒ، ابن عربیؒ، ذوالنون مصریؒ، معین الدین اجمیریؒ، بختیار کاکیؒ، فرید الدینؒ پاک پٹنی، نظام الدینؒ دہلوی، شاہ ولی اللہؒ دہلوی اور شیخ احمدؒ سرہندی۔ اس قسم کے اور بھی ہزاروں آدمی ہو گزرے ہیں۔ اب بھی ایک آدمی موجود ہے۔ کیا تم نے کبھی اسے دیکھا ہے؟ یسوع کی تائید تو صرف قصوں سے ہوتی ہے۔ مگر حضور ﷺ کی تائید میں اب بھی نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں۔

کہ دوسری صدی کے وسط تک ان چار انجیلوں کا نام ونشان نہ تھا۔ سیموئیل لکھتا ہے کہ موجودہ عہدنامہ نیک نیتی کے بہانہ سے مکاری کے ساتھ دوسری صدی کے آخر میں لکھا گیا ہے۔ ایولن پادری انگلستان کا باشندہ لکھتا ہے کہ متی کی یونانی انجیل دوسری صدی میں ایسے آدمی نے لکھی تھی جو یہودی نہ تھا۔ کیونکہ جغرافیہ اور رسوم کی غلطیاں اس میں موجود ہیں۔

اور نہ تجارت کر سکتا ہے۔ کیونکہ اس میں کل کی فکر کرنے کی ممانعت ہے اور نہ فوج میں داخل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ دشمن سے محبت کرنے کا حکم ہے اور شادی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ وہ بھی منع ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کے احکام منقص القوم اور منقض الزمان تھے۔

کیونکہ سامر اور دجال واحد بمعنی جو فرشتہ کو بھی الوہیم کہتے ہیں۔ قاضی فرشتہ دیکھا تو اس نے کہا کہ ہم ۔ ہے کہ اے موسیٰ میں نے تم کو فرعو چھوڑ دیا۔ جس نے اس کو پیدا کیا الوھا۔ معلوم ہوا کہ اظہار طاقت ۔ کہ ہم انسان کو اپنی شکل پر بنا ئیں مذکور ہے جوصنع کا مرادف یا محرف

زندگی پر کیڑے مکوڑے مارے م کے عہد میں سرسنائی نے لڑائی کے پیاسا مر گیا تھا۔ شاید اس لئے مرا کیونکہ خدا ایسا ایثار نہیں کرتا کہ مخل ترقی مدارج کا محتاج نہیں ہے۔ ب بیٹھ جائے اور یہ بھی ایثار نہیں کہ یہ بیوقوفی ہے۔ ایثار میں عزت ا دوسرے کو دیدے یا ایک جرنیل ہندوؤں کا ایثار قابل تعریف نہیں ناتھ کے پہیے کے نیچے کچلے جائے

الہامات محویت

کیونکہ مجھے (مرزا) سے۔ زمین و آسمان تیرے ساتھ اور لوگ خشکی سے ہیں۔ تو مجھ سے کسی کو معلوم نہیں۔ خدا عرش پر

صفحہ ٢٤٩

کیونکہ سامر اور دجال واحد بمعنی جماعت ہیں اور الوہیم جمع بمعنی واحد ہے اور خدا کے سوا قاضی اور فرشتہ کو بھی الوہیم کہتے ہیں۔ قاضیوں میں ہے کہ جب منوحا سمون کے باپ نے خداوند کا ایک فرشتہ دیکھا تو اس نے کہا کہ ہم نے الوہیم دیکھا ہے۔ خروج میں ہے کہ الوہیم بمعنی قاضی ہے اور ہے کہ اے موسیٰ میں نے تم کو فرعون کے لئے الوہیم بنایا ہے۔ استثناء میں ہے کہ اس نے الوھا کو چھوڑ دیا۔ جس نے اس کو پیدا کیا تھا۔ کئی جگہ الوھاء الوہیم کی جگہ آیا ہے۔ یسعیا میں الوہیم ہے اور الوھاء معلوم ہوا کہ اظہار طاقت کے لئے جمع کا صیغہ واحد پر اطلاق ہو سکتا ہے۔ پیدائش میں ہے کہ ہم انسان کو اپنی شکل پر بنائیں گے۔ یہاں قدرت کا اظہار مراد ہے۔ یہاں عبرانی میں نعسہ مذکور ہے جو نصنع کا مرادف یا محرف ہے۔ اگر اس سے کثرت مراد ہے تو تین تک کیوں محدود ہوئی؟

زندگی پر کیڑے مکوڑے مارے جاتے ہیں تو مسیح کو ہم پر کیوں قربان کیا گیا؟ کہتے ہیں کہ الزبتھ کے عہد میں سرسڈنی نے لڑائی کے موقعہ پر ایثار کر کے دوسرے زخمی کو پانی کا پیالہ دے دیا تھا اور خود پیاسا مر گیا تھا۔ شاید اس لئے مرا ہوگا کہ سپاہی کام میں آئے تو یہ انسانی ایثار ہے جو زیر بحث نہیں۔ کیونکہ خدا ایسا ایثار نہیں کرتا کہ مخلوق کو بچانے کے لئے آپ ذبح ہو جائے۔ کیونکہ وہ ایثار کر کے ترقی مدارج کا محتاج نہیں ہے۔ یہ بھی ایثار نہیں کہ خدا اپنی صفت کسی کو دے دے اور خود معطل ہو کر بیٹھ جائے اور یہ بھی ایثار نہیں کہ بلا احتیاج خوراک دوسرے کو دیدے اور خود بھوکوں مرے۔ بلکہ یہ بیوقوفی ہے۔ ایثار میں عزت افزائی بھی ہوتی ہے۔ اس لئے یہ جائز نہ ہوگا کہ کوئی اپنی بیوی دوسرے کو دیدے یا ایک جرنیل بکری کی جان بچانے کے لئے اپنی جان دیدے۔ اس لئے ہندوؤں کا ایثار قابل تعریف نہیں کہ بتوں کے سامنے اپنے ہاتھ پاؤں کاٹ دیتے ہیں۔ یا جگن ناتھ کے پہیئے کے نیچے کچلے جاتے ہیں۔

الہامات محویت

کیونکہ مجھے (مرزا) بھی ایسے الہام ہوئے ہیں کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ زمین و آسمان تیرے ساتھ ہیں۔ جیسا کہ میرے ساتھ ہیں۔ تو ہمارے پانی میں سے ہے اور لوگ خشکی سے ہیں۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے کہ میری توحید۔ تو مجھ سے اس مقام اتحاد میں ہے کہ کسی کو معلوم نہیں۔ خدا عرش پر تیری تعریف کرتا ہے تو اس سے نکلا۔ اس نے تمام دنیا سے تجھ کو

صفحہ ٢٥٠

چنا۔ تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔ میں نے اپنے لئے تجھ کو پسند کیا۔ تو جہان کا نور ہے۔ تیری شان عجیب ہے۔ میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا۔ تیرے گروہ کو قیامت تک غالب رکھوں گا۔ تو برکت دیا گیا۔ خدا نے تیری مجد کو زیادہ کیا۔ تو خدا کا وقار ہے۔ پس وہ تجھے ترک نہیں کرے گا۔ تو کلمتہ الازل ہے۔ پس تو مٹایا نہیں جائے گا۔ میں فوجوں سمیت تیرے پاس آؤں گا۔ میرا لوٹا ہوا مال تجھے ملے گا۔ میں تجھے عزت دوں گا اور تیری حفاظت کروں گا۔ یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا۔ پھر انتقال ہوگا۔ تیرے پر میرے کامل انعام ہیں۔ لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے پیار کرتے ہو تو آؤ میرے پیچھے چلو تا خدا تم سے بھی پیار کرے۔ میری سچائی پر خدا گواہی دیتا ہے۔ پھر تم کیوں ایمان نہیں لاتے۔ تو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں۔ تیرے پر درود بھیجتے ہیں۔ اگرچہ چاہیں گے کہ اس نور کو بجھائیں۔ مگر خدا اس نور کو جو اس کا اپنا نور ہے کمال تک پہنچائے گا۔ ہم ان کے دلوں پر رعب ڈالیں گے۔ ہماری فتح آئے گی۔ زمانہ کا کاروبار ہم پر ختم ہوگا۔ اس دن کہا جائے گا کہ کیا یہ حق نہ تھا؟ میں تیرے ساتھ ہوں جہاں تو ہے، جس طرف تیرا منہ ہے۔ اس طرف خدا کا منہ۔ تجھ سے بیعت کرنا ایسا ہے جیسا کہ مجھ سے تیرا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔ لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے۔ خدا کی نصرت تیرے اوپر اترے گی۔ تیرے لئے لوگ خدا سے الہام پائیں گے اور تیری مدد کریں گے۔ کوئی نہیں جو خدا کی پیشین گوئیوں کو ٹال سکے۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری ہے۔ تیرا ذکر بلند کیا گیا ہے۔ خدا تیری حجت کو روشن کرے گا۔ تو بہادر ہے۔ اگر ایمان ثریا پر ہوتا تو تو اس کو پالیتا۔ خدا کی رحمت کے خزانے تجھے دیئے گئے ہیں۔ تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہوگا اور ابتداء تجھ سے کرے گا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم یعنی تجھ کو پیدا کیا۔ ”اوا ہن“ یعنی خدا تیرے اندر اترا۔ خدا تجھے ترک نہیں کرے گا اور نہ چھوڑے گا۔ جب تک پاک اور پلید میں فرق نہ کرے۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں تو مجھ میں اور مخلوق میں واسطہ ہے۔ میں نے اپنی روح تجھ میں پھونکی تو مدد دیا جائے گا۔ گریز کی جگہ کسی کو نہیں رہے گی تو حق کے ساتھ نازل ہوا۔ تیرے ساتھ انبیاء کی پیشین گوئیاں پوری ہوئیں۔ خدا نے اپنے فرستادہ کو بھیجا تاکہ اپنے دین کو قوت دے اور سب دینوں پر اس کو غالب کرے۔ اس کو خدا نے قادیان کے قریب نازل کیا۔ حق کے ساتھ اترا اور حق کے ساتھ اتارا گیا۔ ابتداء سے ایسا ہی مقرر تھا۔ تم گڑھے کے کنارے پر تھے۔ خدا نے تمہیں نجات دینے کے لئے اسے بھیجا۔ اے میرے احمد تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری بزرگی کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ میں تجھے لوگوں کا امام

صفحہ ٢٥١

بناؤں گا اور تیری مدد کروں گا۔ کیا یہ لوگ اس سے تعجب کیا کرتے ہیں۔ کہہ خدا عجیب ہے چنتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا۔ خدا کا سایہ تیرے پر ہوگا۔ آسمان بندھا ہوا تھا اور زمین بھی ہم نے دونوں کو کھول دیا۔ تو وہ عیسیٰ ہے جس کا وقت ضائع نہ ہوگا۔ تیرے جیسا موتی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہم تجھے لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے۔ یہ امر ابتداء سے مقدر تھا۔ تو میرے ساتھ ہے تیرا بھید میرا بھید ہے۔ تو دنیا و آخرت میں وجیہ ومقرب ہے۔ تیرے پر انعام خاص ہے۔ تمام دنیا پر تجھے بزرگی ہے۔ بخرام کہ وقت تو نیک رسید پائے محمدیاں بر منار بلند تر محکم افتاد۔ میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھے اٹھاؤں گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ مگر خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ اس کے لئے وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے قوت اعمال سے نہیں پہنچ سکتا۔ تیرے لئے رات اور دن پیدا کیا گیا۔ تیری میری طرف وہ نسبت ہے کہ مخلوق کو آگاہی نہیں۔ اے لوگو! تمہارے پاس خدا کا نور آیا۔ تم منکر مت بنو۔

مکاشفات محویت

غرضیکہ اسی قسم کے الہامات اور بھی بہت ہیں اور اب وہ مکاشفات ذکر کرتا ہوں کہ جن میں محویت نظر آتی ہے۔ میں نے مکاشفہ میں دیکھا کہ میں اور مسیح ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے ہیں۔ اس کو براہین میں شائع کر چکا ہوں۔ اس لئے ثابت کرتا ہے کہ ان کی مجھ میں تمام روحانیت اور کمالات موجود ہیں۔ ایک اور کشف (آئینہ کمالات ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً) میں درج ہے کہ میں نے اپنے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں اور میرا اپنا ارادہ خیال اور کوئی عمل نہ رہا اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا یا اس شئے کی طرح کہ جس کو کسی نے بغل میں دبا لیا ہو۔ اللہ کی روح مجھ پر محیط ہو گئی۔ مجھ پر مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا۔ یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ باقی نہ رہا۔ میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضاء اس کے اعضاء، میری آنکھ، میرے کان اور میری زبان اسی کی بن گئی تھی۔ مجھے ایسا پکڑا کہ میں اس میں بالکل محو ہو گیا۔ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں موجزن تھی۔ میرے دل کے چاروں طرف اس کے خیمے لگائے گئے تھے۔ سلطان جبروت نے میرے دل کو پیس ڈالا۔ سو نہ تو میں ہی رہا اور نہ ہی میری تمنا رہی۔ میری اپنی عمارت گر گئی اور اس کی عمارت نظر آنے لگی۔ الوہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب آ گئی۔ سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک اس کی طرف کھینچا گیا، ہمہ مغز ہو گیا۔ جس پر کوئی پوست نہ تھا اور تیل بنا کہ جس میں میل نہ تھی۔ مجھ میں اور میرے نفس میں جدائی ڈال

صفحہ ٢٥٢

دی گئی۔ اُس شئے کی طرح ہو گیا جو نظر نہیں آتی یا اس قطرہ کی طرح جو دریا میں مل جاتا ہے اور دریا اس کو اپنی چادر کے نیچے دبا لیتا ہے۔ اب میں نہیں جانتا تھا کہ میں پہلے کیا تھا۔ الوہیت میرے پٹھوں اور رگوں میں سرایت کر گئی اور اپنے آپ سے کھویا گیا اور اس نے میرے تمام اعضاء اپنے کام میں لگا لئے۔ اس زور سے اپنے قبضہ میں کر لیا کہ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ چنانچہ اس کی گرفت سے بالکل معدوم ہو گیا۔ مجھے یقین تھا کہ میرے اعضاء میرے اعضاء نہیں بلکہ اس کے اعضاء ہیں۔ میں خیال کرتا تھا کہ اپنے وجود سے معدوم اور اپنی معیت سے قطعاً نکل چکا ہوں۔ اب کوئی شریک اور روک کرنے والا نہیں رہا۔ وہ میرے وجود میں داخل ہو گیا اور میرا غضب، حلم، تلخی، شیرینی اور حرکت سکون سب اسی کا ہو گیا اور اس حالت میں یوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نئی زمین و آسمان بنانا چاہتے ہیں۔ سو پہلے تو زمین و آسمان کو اجمالی صورت میں پیدا کیا۔ جس میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر حق نے منشاء حق کے مطابق اس کی ترکیب وتفریق کی اور میں دیکھتا تھا کہ میں اس کے خلق پر قادر ہوں اور پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا کہ ”انا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ میں نے کہا کہ اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔ پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف بدل گئی اور میری زبان پر جاری ہوا کہ ”اَردت ان استخلف فخلقت آدم. انا خلقنا الانسان فی احسن تقویم“ براہین میں اس قسم کے الہامات ٢٥ برس ہوئے شائع کر چکا ہوں۔

خدائی میں مقابلہ

پادری مسیح کے ان الہامات سے مقابلہ کریں۔ جن سے الوہیت مسیح ثابت کرتے ہیں۔ پھر بتائیں کہ کس کے الہام بڑھ کر ہیں؟ اگر مسیح کے الہامات سے خدائی ثابت ہوتی ہے تو میرے الہامات سے اس سے بڑھ کر ثابت ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر حضور ﷺ کی خدائی ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ صرف نہیں کہ آپ کی بیعت خدا کی بیعت ہے۔ یا آپ کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے یا آپ کا فعل خدا کا فعل ہے یا آپ کا تمام کلام ”وما ينطق عن الهوىٰ“ کہہ کر خدا کا کلام ٹھہرایا ہے۔ بلکہ قل یا عبادی میں تمام لوگوں کو آپ کے بندے ٹھہرایا ہے۔ تم نہیں سوچ سکتے تو تین منصف حلفاً کہہ دیں کہ یسوع کی خدائی زیادہ ثابت ہوتی ہے تو میں ایک ہزار روپیہ ان کو دے سکتا ہوں۔ بشرطیکہ وہ کہہ دیں کہ اگر ہم اپنے بیان میں سچے نہ ہوں تو ایک سال میں خدا ہم کو برباد کر دے۔ اگر کہا جائے کہ یسوع کا کلام خدا کا کلام تھا اور تمہارا کلام خود تمہارا ہی ہے تو جواب یہ ہے کہ کسی نے یسوع کی اپنی زبان سے اپنی خدائی کے متعلق کچھ نہیں سنا۔ صرف چند

صفحہ ٢٥٣

کلمات مروڑ تروڑ کر یسوع کی طرف منسوب کر دیئے ہیں اور میرے الہام اور کشوف ان سے صدہا درجہ بڑھ کر ہیں۔ اگر کہا جائے کہ ان کے الہام خوارق سے ثابت ہیں تو میں کہوں گا کہ ان کی عینی شہادت موجود نہیں اور میرے پاس عینی شہادت موجود ہے۔ پھر کہتا ہوں کہ سوچو کہ ہم دونوں کے الہامات میں سے الوہیت پر کس کے الہام قوی الدلالہ ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آمد مسیح کی خبر پہلی کتابوں میں تھی۔ میں کہتا ہوں میری آمد کی خبر خود مسیح نے دی تھی کہ دوبارہ آؤں گا اور میری تصدیق زلزلوں سے ہوئی۔ قوموں کے غلبہ سے وباء پڑنے سے اور آسمان پر بھی نشان ظاہر ہوئے۔ مسیح کے وقت ایلیا کے آسمان سے نہ اترنے کا عذر پیش کیا گیا تھا اور اس وقت بھی یوں کہا جاتا ہے کہ مسیح زندہ آسمان سے نہیں اترا۔ تم نے میرے نشان دیکھ لئے ہیں۔ میرے پاس آؤ ایک برس کے اندر کئی نشان پاؤ گے۔ خدا اس عاجز کے دل پر تجلی کر رہا ہے۔ یسوع بن مریم خدا نہیں ہے۔ یہ کلمات جو اس کے منہ سے نکلے ہیں اہل اللہ کے زبان سے نکلا کرتے ہیں۔ مگر ان سے کوئی خدا نہیں بن سکتا۔ پادریوں کو میرے سبب بہت ندامت ہوئی تو مجھ پر مقدمہ بنا دیا۔ مگر اس میں بھی ان کی پردہ دری ہوئی۔ محمد حسین نے لدھیانہ میں وفات مسیح پر مجھ سے مناظرہ کیا۔ مگر حیات مسیح ثابت نہ کر سکا۔ میں نے اس کے مقابلہ پر عربی کتابیں لکھیں۔ وہ ان کا جواب بھی نہ دے سکا اور سب سے پہلے لدھیانہ میں ہی ایک پیر مرد موحد کریم بخش نے کہا کہ میرے مرشد نے کہا تھا کہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ اس کا نام غلام احمد ہوگا۔ گاؤں کا نام قادیان ہوگا اور لدھیانہ میں آئے گا۔ مولوی اس کو کافر ٹھہرائیں گے۔ مگر وہ سچ پر ہوگا اور تو اسے دیکھے گا۔ یہ ہمارا پہلا نشان صداقت تھا۔ دوسرا نشان صداقت کسوف وخسوف تھا۔ جو کسی مدعی مہدویت کے لئے ظاہر نہ ہوا تھا۔ تیسرا نشان ستارہ دمدار تھا۔ جو عیسیٰ کے وقت نکلا تھا اور خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت نکلے گا۔ چوتھا نشان آتھم کا شرط کے مطابق بچنا پھر مرنا۔ پانچواں احمد بیگ ہوشیار پوری کا مرنا چھٹا نشان لیکھرام کا مرنا۔ ساتواں جلسہ مہوتسو (مذاہب عالم لاہور) میں میرے مضمون کا اعلیٰ رہنا۔ آٹھواں مقدمہ کلارک میں یہ خبر پانا کہ بریت ہوگی۔ نواں محمد حسین کی ذلت پہلے یہ الہام ہوا کہ ”قد ابتلیٰ المؤمنون“ پھر الہام ہوا کہ ”انی مع الافواج اتیک بغتةً“ پھر حفاظت کا الہام۔ دسواں راولپنڈی کے بزرگ کی پیشین گوئی اور توبہ اس نے اخبار چودھویں صدی میں ١٨٩٧ء میں میری توہین کی تھی کہ؎

چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنہ پاکاں برد
صفحہ ٢٥٤

مجھے رنج ہوا، دعاء مانگی کہ یا اللہ یا اسے توبہ بخش یا اسے ہلاک کر۔ تو الہام سے اس کی توبہ معلوم ہوئی۔ سو اس کو خدا سے الہام پا کر ایک خط لکھا جو اخبار چودھویں صدی کی اشاعت نومبر ١٨٩٧ء میں شائع ہوا اور میں اصل تحریر شائع کرتا ہوں تاکہ سرسید کے لئے قبولیت دعاء کا تیسرا نمونہ ہو۔ وہ بزرگ پنجاب کے رئیس جاگیر اور ملہم ذی علم ہیں۔ انہوں نے ٢٩؍ اکتوبر ١٨٩٧ء کو مجھے ایک معذرت نامہ لکھ کر بھیجا تھا کہ میں اخبار چودھویں صدی ١٨٩٧ء والا مجرم ہوں۔ فدوی خاکسار خطاکار خط کے ذریعہ حاضر ہو کر معافی کا خواستگار ہے۔ جس نے جولائی ١٨٩٧ء و جولائی ١٨٩٨ء کے درمیان جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ میں متلاشی تھا اب نوے فیصدی یقین ہو گیا ہے۔ قادیانی آریوں نے کہا کہ آپ پاکباز ہیں۔ جوانی میں عبادت گزار رہے۔ تصنیفات میں زندہ روح ہے اور آپ کا مشن حکومت کی بغاوت کی طرف رہنمائی نہیں کرتا۔ مثنوی کا شعر اس لئے لکھا تھا کہ میں نے لاہور میں اپنے دوستوں سے برے کلمات سنے تھے کہ آپ خاتم المرسلین ہیں۔ ترک تباہ ہوں گے، سلطان قتل ہوگا اور دنیا کے مسلمان آپ سے التجا کریں گے کہ ایک سلطان مقرر کروں۔ یہ امر باعث رنج تھا۔ کیونکہ وہ مقامات مقدسہ پر قابض ہیں۔ ورنہ ہم ہندوستانیوں کی خبر مطلقاً انہوں نے نہیں لی۔ مناسب تھا کہ ان کے حق میں دعاء بخیر کی جاتی اور آپ نے مسیح کے متعلق سخت لفظ استعمال کئے ہیں۔ ترکیوں کی تباہی کا اشتہار جب آپ نے نکالا تو مثنوی کا شعر میرے منہ سے بیساختہ نکلا۔ مگر جلسہ مذاہب لاہور کی تقریر اور ازالہ اوہام سے معلوم ہو گیا کہ آپ کے متعلق دعویٰ رسالت بہتان ہے اور مسیح کے متعلق آپ کے لفظ الزامی طور پر ہیں۔ جیسا کہ کسی نے حضرت علی کے متعلق کہا ہے کہ

آں جوانے بروت مالیدہ
بہر جنگ دغا سگالیدہ
برخلافت دلش ہمے مائل
لیک بوبکر شد میاں حائل

آخر دل تڑپ اٹھا کہ توبہ کرو۔ مومن آل فرعون کا قصہ یاد آیا کہ: ”ان يك كاذباً فعليه كذبه“ اس کا اثر خارج میں بھی محسوس ہوا۔ میں اب حاضر نہیں ہو سکتا۔ شاید جولائی ١٨٩٨ء سے پہلے حاضر ہو جاؤں۔ امید کہ خدا معافی کی تحریک کرے گا۔ حضور کا مجرم (دستخط)

راولپنڈی ٢٩؍ اکتوبر ١٨٩٧ء۔ اس بزرگ اور آتھم کے متعلق پیشین گوئی یکساں مشروط تھی۔ مگر بزرگ میں ایمان تھا۔ معذرت بھیج دی اور آتھم میں ظلمت تھی۔ اس لئے وہ احساس خوف پر حلف

صفحہ ٢٥٥

نہ کھا سکا اور ہلاک ہوا۔ بعد میعاد پیشین گوئی کے اس نے شور مچایا کہ امرتسر، لدھیانہ اور فیروز پور میں مجھ پر بندوق، سانپ اور دروازہ توڑ کر حملے ہوئے۔ اگر سچ تھا تو نالش کرتا اس کا داماد عدالت میں ملازم تھا۔ وہی ہمت کرتا یا کم از کم میری ضمانت ہی کرواتا۔ مگر وہ تو مارے خوف کے مرا ہی جاتا تھا۔ بہر حال خدا اس بزرگ کو معاف کرے۔ ہم معاف کرتے ہیں۔ ہماری جماعت اس کو دعائے خیر سے یاد کرے۔

(غلام احمد از قادیان ٢٠ نومبر ١٨٩٧ء)

حکومت کی خدمت میں اظہار مظلومیت

چونکہ حکومت سب کو ایک آنکھ سے دیکھتی ہے اور اس کی شفقت ہر ایک قوم کو شامل ہے۔ اس لئے ہمارا حق ہے کہ اپنی تکالیف حکومت کے پیش کریں کہ عیسائی ہماری نرم سے نرم تقریر کو بھی سخت بنا کر بطور شکایت پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ ہمارے نبی کو سخت گالیاں دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ان کے مقابلہ پر بالکل خاموش رہیں۔ ہمارا حق تھا کہ سخت الفاظ کی شکایت کرتے۔ مگر وہ الٹے ہماری شکایت کرتے ہیں کہ مسیح کو یہ لوگ برا کہتے ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ ہم مسیح کو سچا نبی اور راست باز جانتے ہیں۔ اسی بناء پر انہوں نے مجھ پر مقدمہ کھڑا کر دیا تھا۔ جو خارج ہو گیا۔ اس لئے اطلاعاً مرقوم ہے کہ پادری اور ان کی تقلید میں آریہ جو سخت لفظ استعمال کرتے ہیں ہم ان کی زیادتی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ ظاہر ہے کہ کوئی بھی اپنے مقتداء کے حق میں مفتری یا کاذب کا لفظ نہیں سن سکتا۔ مسلمان بار بار توہین سن کر زندگی کو بے شرمی کی زندگی جانتا ہے تو پھر اپنے ہادی کے متعلق کیونکر توہین سن سکے گا۔ عماد الدین امرتسر نے گالیاں دیں۔ ٹھاکر داس نے برا کہا، رامچندر نے رسالہ مسیح دجال بنایا، سوانح عمری واشنگٹن میں بھی سخت الفاظ ہیں۔ نور افشاں بھی بدزبانی کرتا ہے۔ آپ سوچیں ان بد زبانیوں کے کیا نتائج ہیں۔ کیا ایسے الفاظ کسی مسلمان کی زبان سے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق نکل سکتے ہیں۔ ان سے سخت وہ لفظ ہیں جو انہوں نے خود ہمارے نبی کے متعلق لکھے ہیں۔ جن پر کروڑوں فدا ہیں۔ جن کی نظیر دوسری اقوام میں نہیں مل سکتی۔ پھر ہم پر الٹا شکایت کرنا صریح ظلم ہے۔ ہم یقین کرتے ہیں کہ حکومت اس رویہ کو پسند نہ کرے گی اور نہ عیسائیوں کو ہم مسلمانوں پر بیجا رعایت دے گی۔ گالیوں کی فہرست اس لئے پیش کی جاتی ہے کہ گورنمنٹ ستم رسیدوں کی اعانت کرے۔ (یہاں پر وہ فہرست ہے جس کو درج کرنا مناسب نہیں) غالباً حکومت کو معلوم نہیں کہ پادری اس قدر بد زبان ہیں۔ ورنہ خود ہی ضرور انسداد کرتی۔ ڈاکٹر کلارک نے عدالت میں لکھوایا تھا کہ سخت کلامی سے ہم پر حملہ کیا گیا ہے۔ اگر عدالت کو معلوم ہوتا کہ ان کی طرف سے کئی سخت حملے ہو چکے ہیں تو کبھی یہ لفظ قلمبند نہ کرتی۔

صفحہ ٢٥٦

مذہبی کتابوں کی سختی نرمی بالمقابل رکھنے سے معلوم ہوتی ہے۔ ورنہ صرف تردید سختی کا مواد نہیں ہو سکتی بلکہ توہین اور سختی یہ ہے کہ کسی قوم کے مقتداء کو نہایت درجہ کی بے عزتی کے ساتھ یاد کیا جائے یا ناپاک افعال کی نسبت دی جائے۔ ہم کیسے سختی کر سکتے ہیں۔ ہم تو خود مسیح کی توقیر پر مامور ہیں۔ ہاں ان کو خدا نہیں سمجھتے۔ مگر پادری ہمارے حضرت ﷺ کے متعلق کیا حسن ظن رکھ سکتے ہیں ان کے نرم لفظ یہ ہیں۔ (نقل کفر کفر نہ باشد۔ آسی) کہ معاذ اللہ وہ مفتری تھے۔ سو کوئی مسلمان اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ انصاف یہ تھا کہ وہ بھی یہ لفظ چھوڑ دیتے۔ کیونکہ جن لفظوں سے مسیح کی خدائی ثابت کرتے ہیں۔ ان سے بڑھ کر ہمارے نبی ﷺ میں موجود ہیں اور آپ کے نشانات بھی صدہا سے زیادہ ہیں۔ جن میں سے اب بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ گالیاں اس لئے جمع کی گئی ہیں کہ حکومت کو معلوم ہو جائے کہ ابتداء کس سے ہوئی ہے۔ پادریوں نے اپنی شکایت کو ایک روک بنا لیا تھا کہ کوئی مسلمان ان کا مقابلہ نہ کر سکے کہ ان کے لفظ سخت متصور ہو کر قانون کے نیچے لائے جاتے ہیں اور پادریوں کو گالیاں دینے کا موقعہ مل جائے۔ مگر دوسرا شخص نرمی کے ساتھ بھی سر نہ اٹھائے۔ امید ہے کہ حکومت مذہبی معاملہ میں کسی کی رعایت نہ کرے گی اور ایسے نوٹس کو دھوکہ کھانے کی وجہ سے لکھا گیا ہے۔ منسوخ سمجھے گی۔

گندی کتابوں کی فہرست

اسی کتاب کے ص ٩١ پر یوں فہرست دی ہے کہ یہ کتابیں اسلام کے خلاف لکھی گئی ہیں۔

صفحہ ٢٥٧

و عبدالحق

١١...... کتاب البریہ پر ایک سرسری نظر

رکھنے کی کوشش نہ کرتے تھے اور عہد تعلیم میں قرآن وحدیث کا مطالعہ از خود کیا تھا۔ اس لئے ایسی ٹھوکریں کھائیں کہ مسلمانوں کو اب تک ان کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور ”یضل بہ کثیراً“ کا منظر دکھائی دے رہا ہے اور جب ہم عہد تعلیم کے بعد جناب کی اشاعت اسلام کا نقشہ کھینچتے ہیں تو اس میں جا بجا ہمیں سخت گیری اور خود ستائی کی بد نما شکلیں نظر آتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جناب کو شروع سے اغیار پر نکتہ چینی کا ایسا ڈھب آیا ہوا تھا کہ دوشالہ میں لپیٹ کر جوتوں کی ایسی مار کرتے تھے کہ مخالفین مجبور ہو جاتے تھے کہ کھلم کھلا دشنامی مقابلہ کریں یا عدالت سے چارہ جوئی کرتے ہوئے ایسی دلدل میں پھنسائیں کہ جناب کو نکلنا مشکل ہو جائے۔ مگر جناب بھی کوئی معمولی ہستی نہ تھے۔ رئیس اعظم تھے۔ آباؤ اجداد سے حکومت برطانیہ کے پکے وفادار اور مددگار غیبی تھے۔ کیا مجال تھی کہ جناب کو رہائی دلانے کے وجوہات نہ سوچے جاتے اور مخالفین کو ناکام نہ رکھا جاتا۔ غالباً اسی استظہار کی حوصلہ افزائی پر قبل از وقت جناب کو فرشتے بھی نازل ہوتے ہوئے نظر آتے تھے اور الہام کی بارش بھی ہونے لگتی تھی۔

کاغذات سے پیش نہیں کی گئی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وجہ تسمیہ میں صرف دماغ سوزی سے کام

صفحہ ٢٥٨

لیا گیا ہے۔ ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ جس قدر بھی قادیان کے دور و نزدیک دوسرے گاؤں اسی نام سے آباد ہیں۔ وہاں بھی یہی ارتقاء لفظی پیدا ہوا تھا۔ حالانکہ ان کے متعلق کوئی تصریح نہیں ملتی کہ وقائع مذکور ان میں بھی نمودار ہوئے تھے۔ پھر لطف یہ ہے کہ جس نام کے لئے اتنی جدوجہد کی جاتی ہے۔ وہ کدیہ یا کرعہ موضع ظہور مہدی ہے۔ مگر اس ارتقاء میں کسی سٹیج پر یہ بروز نہیں دکھایا گیا اور نہ کوئی سرکاری شہادت پیش کی گئی ہے کہ قادیان کو کسی وقت کدیہ یا کرعہ بھی لکھا گیا تھا۔ اس لئے یوں کہا جا سکتا ہے کہ کسی غلام قادر یا قادر بخش کے نام پر یہ اور دوسرے گاؤں آباد ہوئے ہیں۔ کیونکہ پنجاب میں ایسے نام کو مختصر کرتے ہوئے اب بھی قادی بولتے ہیں یا یوں کہیں کہ قادی کسی خاص قوم کی عرف عام ہو گی۔ جو اس کے آرائیں (راعین) ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ بہرحال اگر ہمارا خیال درست نہیں ہے تو جناب کی رائے بھی پایہ یقین تک نہیں پہنچتی۔ بہائی مذہب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ تمام مراحل طے کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ کیونکہ ان کے مہدی کا ظہور ایک ایسے گاؤں سے ہو چکا ہے جو ایران میں اس وقت موجود تھا۔ بہت ممکن ہے کہ اس مذہب کے دوش بدوش چلنے کی خاطر قادیان کو بھی یہ نام دینے کی کوشش کی جارہی ہو اور یہ امر بھی مشتبہ ہے کہ لاہور سے قادیان پچاس میل کے فاصلہ پر مغرب شمال کے کونہ پر کس طرح وقوع پذیر ہے۔ حالانکہ بٹالہ اور گورداسپور وہاں سے مشرق وجنوب میں واقع ہیں۔ جن کے پاس ہی قادیان بھی واقع ہے۔ شاید اس میں بھی کوئی مخفی راز ہو جو اب تک نہیں کھلا۔

استادوں سے حاصل کی تھی۔ مگر قرآن وحدیث کا مطالعہ اس قدر تھا کہ ان دنوں آپ کو اپنے ماحول کی بھی خبر نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسائل اسلامیہ میں اور عقائد اسلام کے بیان کرنے میں ہمیشہ رائے تبدیل کرتے رہتے تھے اور نیم ملا بن کر بیچارے مسلمانوں کے ایمان خطرہ میں ڈالتے رہے۔ گو اہل دانش اس تعلیمی نقص کو ایک تذبذب ایمانی جانتے ہیں۔ مگر جناب اس کو اپنا مایہ ناز سمجھتے رہے باب اور بہاء بھی اس نقص کو اور اپنے امی ہونے کو نشان صداقت پیش کرتے رہے اور جس قدر اسلام کو ان کے وجود سے نقصان پہنچا ہے۔ وہ اس قدر نہیں کہ جس قدر جناب کے وجود سے پہنچا ہے۔ کیونکہ ان کا سارا مبلغ علم مطالعہ ہی تھا اور جناب کا علمی سرمایہ کچھ باقاعدہ تعلیم پا کر بھی حاصل ہوا تھا۔ الغرض ایسے خود رائے مولویوں نے نہ صرف اپنی خود رائیوں کو الہامی رنگ چڑھایا ہے۔ بلکہ یہاں تک علم لدنی کے دعویدار ہو کر آگے بڑھے ہیں کہ اپنے اغلاط اور فاسد خیالات کو تجدید اسلام اور تجدید لسان کے پیرایہ میں پیش کرتے ہوئے خوردہ گیر کو کمال پائے استحقار سے ٹھکرا دیا

صفحہ ٢٥٩

ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے نزدیک جہل مرکب ایک لاعلاج بیماری ہے ۔ وہ بابی ، بہائی اور قادیانی تعلیم کو قبول کرنے سے استکراہ واستنکاف سے کام لیتے ہیں ۔

فصاحت کے مساوی سمجھ کر اپنی لاعلمی اور ناقدر شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک بڑھ گئے ہیں کہ لفظی یا معنوی کمزوریوں کے متعلق وہی جواب دیتے ہیں جو آج تک مسلمان قرآن شریف کی حمایت میں پیش کرتے رہے ۔ حالانکہ قرآنی عربیت کو اہل زبان عربی فصحاء لا جواب پا کر اس کے سامنے ہتھیار ڈال چکے تھے اور شیرازی یا قادیانی عربیت کو خود معاصرین اہل علم نے بنظر تحسین نہیں دیکھا تو بھلا عرب کے اہل قلم اور فصحائے حجاز سے کب امید ہو سکتی ہے کہ ایسی عربیت کو کم از کم عربیت کا ہی درجہ بخشیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اعتراض تو قرآن مجید پر ہوئے ہیں مگر یہ کبھی غور نہیں کیا کسی عرب نے بھی آج تک اس پر اقدام کیا ہے ؟ بلکہ جو کچھ آج پیش کیا جاتا ہے وہ ان لوگوں کی کراہت طبع کا نتیجہ ہے جو خود عجمی الاصل یا عرب مستعربہ اور عرب مولدین ہیں۔ اس لئے اس موقعہ پر یہ قیاس مع الفارق ہوگا۔

عجمی النسل بن کر ابناء فارس کا مصداق بننے کی کوشش میں تھے اور جناب اپنی موجودہ ہستی میں پنجابی النسل تھے اور خاندان کی رو سے سمرقندی النسل ہونے پر مفتخر ہو کر ابناء فارس میں داخل ہونا چاہتے تھے اور ایک الہام کے رو سے آپ عربی النسل بھی بن چکے تھے ۔ لہٰذا مکمل طور پر ابناء فارس نہ بہاء باب تھے اور نہ جناب ۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ ابناء فارس کا صحیح مصداق صرف وہ لوگ تھے جو اپنے آپ کو اوّل سے آخر تک حضرت سلمان فارسی کی طرح فارسی النسل ہی کہلاتے رہے ہیں۔ باقی دخیل کار اس کا صحیح مصداق نہیں بن سکتے ۔ ہاں جناب نے اس موقعہ پر ابناء فارس میں داخل ہونے کا فخر اپنے الہام ” خذوالتوحید یا ابناء فارس“ کی وساطت سے بھی حاصل کرنا چاہا ہے ۔ مگر جب اس الہام کو واقعات کے پیش کیا جاتا ہے تو حدیث النفس سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ علاوہ بریں اسلامی تعلیم کی رو سے مہدی یا مسیح کا عجمی النسل ہونا سرے سے ضروری ہی نہیں تو پھر معلوم نہیں کہ خواہ مخواہ اس معاملہ کو کیوں چھیڑ دیا ہے ۔

سے پہلے باب نے علوم اکتسابیہ کے متعلق عدم جواز کا فتویٰ دے دیا تھا اور حضرت بہاء صرف ان علوم کی تعلیم جائز سمجھتے تھے کہ جن سے شکم پروری حاصل ہو ورنہ دوسرے علوم عالیہ کے متعلق ان کا

صفحہ ٢٦٠

بھی یہی خیال تھا کہ وہ جہالت اور اوہام کے مدارج ہیں اور ان دونوں (باب وبہا) کے نزدیک علم صرف ان تعلیمات کا نام تھا کہ جن کے ذریعہ سے انہوں نے قرآن شریف کو قرآنی مفہوم جدید پیدا کرنے سے منسوخ کر دیا تھا اور جناب بھی گو قرآن شریف کی تنسیخ کو کفر سمجھتے تھے۔ مگر باطن قرآن سے مفاہیم جدیدہ پیدا کرنے میں آپ بھی ان دو بزرگوں سے کسی طرح کم نہ تھے۔ بلکہ دافع البلاء میں تو جناب نے حضرت داؤد و سلیمان کے قصے بیان کرتے ہوئے اعلان ہی کر دیا تھا کہ جب ایک نبی کو دوسرے نبی کے مقابلہ پر معانی جدید سمجھائے جاتے ہیں تو ہمارا باطن قرآن میں معانی جدید کا اختراع کرنا مولویوں کے مقابلہ میں جو کسی طرح بھی نبوت کے مقام پر نہیں پہنچ سکتے، قابل تعجب نہ ہوگا۔ کیونکہ یہاں نبی اور غیر نبی کا مقابلہ ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک غیر جانبدار مفتش کے نزدیک یہ تینوں بزرگ ایک ہی درجہ کے علم لدنی رکھنے کے دعویدار تھے۔

٧...... کتاب اقدس میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کی بجائے تمام فصول وابواب کے شروع میں ”بسم العلی الا بھی“ وغیرہ لکھا ہوا ہے اور قرآن مجید کی طرح بڑی سورتوں سے شروع کر کے چھوٹی سورتوں میں ختم کیا ہے۔ آیات کے نشان بھی اسی طرح دیئے ہیں۔ اعجاز المسیح اور استفتاء میں گو ”بسم اللہ“ تو نہیں بدلی۔ مگر قرآنی آیات کی طرح فقرات ختم کئے ہیں۔ حال میں علامہ مشرقی عنایت اللہ نے اپنی کتاب تذکرہ میں قرآن مجید کا مفہوم جدید تراشنے میں یہی چال چلی ہے۔ غالباً ان مدعیان الہام کی یہ کوشش نظر آتی ہے کہ وہ اپنی وحی یا الہام کو قرآن شریف کے مقابلہ پر دکھائیں۔ مگر کجا قرآنی اعجاز اور کجا ان کی پھسپھسی عربی کہ ابتدائی طالب علم عربی خواں بھی جس کو اصول عربیت سے گری ہوئی خیال کرتا ہے۔ مسیلمہ کذاب نے فرقان اول فرقان دوم لکھا تھا اور جناب ابوالعلاء مصری نے بھی اپنا قرآن تیار کیا تھا۔ مگر باوجود یکہ اہل زبان تھے۔ اس کے مقابلہ پر فیل ہوگئے۔ آج کوئی شخص بھی ان کے اقوال کو مقابلہ پر لانے کی جرأت نہیں کرسکتا تو بھلا پنجابی اور شیرازی ملہموں کی کیا جرأت ہوسکتی ہے کہ اس کا مقابلہ کرسکیں۔ کہنے کو تو کہہ دیتے ہیں کہ حضور ﷺ نے قرآن اپنے لفظوں میں لکھا تھا۔ مگر اندھے بھی جانتے ہیں کہ حضور ﷺ کے خود اپنے اقوال بھی قرآنی عربیت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

٨...... بہاء و باب نے مخالفین کو ہمج رعاع وغیرہ کہا اور جناب نے اپنے مخالفین کو اس قدر گندے الفاظ سے یاد کیا ہے کہ ان کے جواب میں مخالفین نے ترکی بترکی جواب دینے میں جناب کے دانت کھٹے کر دیئے تھے تو مجبوراً حکومت سے پناہ لی کہ ان کو روک دینا ضروری ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ١٨٥٧ء کے بعد جب لڑائیوں کا خاتمہ ہوا تو قلمی لڑائیاں شروع ہوگئیں۔

صفحہ ٢٦١

وہابیت کی جنگ میں بڑے بڑے تکفیری اور دشنامی گولے چھوڑے گئے۔ عیسائیت کی جنگ چھڑی تو اس وقت بھی مولانا رحمت اللہ مرحوم اور مولانا محمد قاسم وغیرہ کے باہمی مناقشات میں الزامی طور پر مناظرہ و چیلنج کا دارو سکہ استعمال ہوتا رہا۔ بعد میں جناب کا زمانہ آیا تو تیر و تفنگ کی بجائے دشنامی مشین چلنے لگی اور فضائے مذہب کو ایسا مکدر کر دیا کہ جب تک جناب دنیا سے رخصت نہ ہوئے۔ آریوں عیسائیوں اور مسلمانوں نے دشنامی ہتھیار نہ ڈالے۔ کتاب البریہ میں جناب نے گالیوں کی فہرست تقریباً چار سو تک دی ہے۔ جو جناب کی خدمت میں پیش کی گئی تھیں۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ جناب نے براہین، انجام آتھم، اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی وغیرہ رسائل میں کیا کیا کچھ کہا ہوگا۔ ورنہ بے وجہ کوئی کسی کو گالیاں دینے پر جرات نہیں کر سکتا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب کا عہد مسیحیت ایسے گندے مواد سے پر تھا کہ ممکن نہیں کہ آئندہ اس کا ریکارڈ بیٹ کیا جائے۔ عہد رسالت میں گو مخالفین نے سخت و سست لفظ استعمال کئے تھے۔ جس کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑا۔ مگر آج پرانی کوئی تحریر یا شعر ایسا نہیں ملتا کہ جس میں اسلام کو یا پیغمبر اسلام کو برے لفظوں سے یاد کیا گیا ہو۔ اس لئے قادیانی لٹریچر کو اسلامی لٹریچر سے کوئی نسبت نہیں دی جا سکتی اور حکومت خواہ کتنے ہی آرڈینینس جاری کرے۔ مگر جب تک قصائد مرزا اور تحریرات مرزا دلخراش الفاظ پیش کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ جوابی توہین کا انسداد مشکل نظر آتا ہے۔ میدان صحافت میں قادیانی اخبارات نے بہت کچھ اصلاح کر لی ہے تو اگر اپنے قادیانی لٹریچر کی اصلاح بھی ہو جائے تو کم از کم جناب کی زندگی پر یہ حرف نہیں آئے گا کہ جناب کا ریکارڈ بہت گندہ تھا۔ گو اب یہ کہنا غلط ہے کہ جناب سے پہلے مناظرین نے بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ کیونکہ انہوں نے جو کچھ کہا الزامی طور پر کہا اور اپنے تقدس یا الہامات مسیحیت کو پیش کر کے توہین نہیں کی۔ مگر جناب نے یہ غضب کیا کہ اپنے الہام کو کلام مسیح کے مقابلہ پر رکھ کر انعامی اعلان کر دیا کہ جو شخص میرے الہامات کو کلام مسیح سے کم درجہ ثابت کرے۔ وہ انعام کا مستحق ہوگا۔ بہر حال یہ مقدس توہین آج تک لاجواب رہی ہے۔

ہے۔ مگر اپنا یہ حال ہے کہ والد کی وفات کے بعد معاً ایک خواب کی بناء پر فاقہ کشی شروع کر دی اور رنگ برنگ ستونوں کا منظر پیش آنے لگا۔ جس کو عالم ثانی سمجھے اور تقدس اور خشک مزاجی میں پھنس گئے۔ طبیعت پر گوشہ نشینی اور غصہ کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ بات بات پر سخت و سست لکھنا شروع کر دیا اور دنیائے مذہب پر وہ کالی گھٹائیں اٹھائیں کہ جن کی ژالہ باری اب تک لوگوں کے

صفحہ ٢٦٢

سر صاف کر رہی ہے۔ دوسروں سے کہا کہ ایسا کرنے سے سل دق وغیرہ بیماریاں ہو جاتی ہیں۔ مگر اپنے آپ کی خبر نہ لی کہ مراق، دوران سر، ذیابیطس کے ساتھ صحت جسمانی کا ستیا ناس کر رہا ہے اور ایسی غلط فہمی میں مبتلا ہوئے کہ اپنی بیماریاں بھی نشان صداقت میں داخل کرلیں۔

خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کا نام جرم ہے اور جب جناب پر ادعائے مہدویت و مسیحیت کی بناء پر تکفیری فتوے لگے تو بجائے اس کے کہ آپ اپنے لفظ واپس لیتے اور خدمت اسلام یا کسر صلیب کے لئے مہدی یا مسیح بننے کو ضروری نہ سمجھتے اور ابھرے اور مخالفین کو مجرم قرار دیا اور ”لتستبين سبيل المجرمین“ کا الہام شائع کر کے تمام دنیائے اسلام کو مجرم غیر ناجی اور اسلام سے خارج قرار دیا۔ یہ جناب کا پہلا مقدس حملہ تھا کہ جس سے کوئی مسلم جانبر نہ ہوسکا۔ پھر اس کے بعد دوسرے حملے اس سے بھی بڑھ کر کھلے لفظوں میں کئے۔ جن کا نتیجہ اخیر میں یہ ہوا کہ اسلام کو صرف اپنے تابعداروں میں ہی منحصر کر دیا اور شیرازہ اسلام کو ایسا منتشر کیا کہ تیمور اور چنگیز خان کی روح سے بھی خراج تحسین لے کر چھوڑا۔

بار بار ذکر کرتے ہوئے مولوی محمد حسین بٹالوی کو کرسی نہ ملنے کی وجہ اس نخوت میں بیان کی ہے کہ گویا آپ کو کرسی کیا ملی تھی۔ عرش بریں مل گیا تھا۔ جس کے شکریہ میں اپنے تمام آئندہ الہام بھی گورنمنٹ کے قبضہ میں کر دیئے تھے کہ جسے چاہے اشاعت کے لئے منظوری دے اور جسے چاہے مسترد کر دے۔ مگر یہ پابندی اگر کسی اور مدعی الہام پر عائد ہوتی تو جناب کے نزدیک یہی سخت کمزوری اور ذلت کا باعث ہوتی۔

کہ کس قسم کے لوگ داخل اسلام ہو رہے ہیں تو تصدیقی جواب یوں دیا گیا تھا کہ وہ غریب لوگ ہیں۔ پھر آباؤ اجداد کا سوال ہوا تھا تو جواب دیا گیا تھا کہ وہ حکمران نہ تھے۔ تو ہرقل نے یہی علامت صداقت پیش کی تھی۔ مگر یہاں یہ عالم ہے کہ کمشنر صاحب گھر آتے ہیں تو یوں سمجھا جاتا ہے کہ خدا ہی آ گیا ہے۔ کرسی ملتی ہے تو بار بار اپنی صداقت کو اس پر جلوہ افروز کیا جاتا ہے۔ جدی جائیداد اور موروثی وفاداری اور مورث اعلیٰ کے عملداری کو اس رنگ میں بیان کیا جاتا ہے کہ صاف یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ تمام جدوجہد اپنی کھوئی ہوئی جائیداد کو واپس دلانے کے لئے کی جارہی ہے یا کم از کم موجودہ مالیت کے بقاء کے لئے حلف وفاداری میں بیسیوں کتابیں لکھی جارہی ہیں اور

صفحہ ٢٦٣

مخالفت جہاد میں اتنی کوشش کی جارہی ہے کہ گویا حکومت سے الجھنا خدا سے الجھنے کے برابر ہے۔ دوسرا پہلو دیکھئے فخریہ طور پر اپنی جماعت کو ان افراد پر مشتمل کیا جا رہا ہے کہ جن میں سودائے دنیاوی وجاہت کے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔

قرآن مجید مسیح کو مردہ ثابت کر رہا ہے اور یہ لوگ اسے زندہ سمجھتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اہل اسلام نے قرآن سے ہی حیات مسیح ثابت کی ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھو کادیہ حصہ اوّل باب حیات مسیح بالقرآن دوم یہ کہ خاتم الانبیاء کا عقیدہ رکھ کر نزول مسیح کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جناب نے بھی تو اس جرم کا ارتکاب کیا ہے کہ آخری مجدد کا نام مسیح موعود ہے اور نبی اللہ بھی ہے اور حکم بھی تو اگر آپ یہ تاویل کریں گے کہ یہ صرف اعزازی خطاب ہے یا یہ نبوت بروزی اور بطریق رجعت ہے تو اہل اسلام بھی یہ تاویل کرتے ہیں کہ خاتم الانبیاء کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت صحیح نہیں اور مسیح کی بعثت حضورﷺ سے اوّل ہوچکی ہے اور نزول کے بعد بعثت سابقہ کے ساتھ خاتم الخلفاء ہوں گے۔ سوم یہ کہ نزول مسیح غلبہ دجال اور غلبہ نصاریٰ کے وقت تسلیم کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ دو قسم کے غلبے ایک وقت جمع نہیں ہوسکتے۔ جواب یہ ہے کہ جناب کو اصلی حالات پر اطلاع نہیں کہ آثار نزول مسیح میں سے غلبہ نصاریٰ شامل کیا گیا۔ جس کے بعد مسیح دجال یہودیوں کا بادشاہ ہونا قرار پایا ہے جو نصاریٰ پر بھی اپنا تبلیغی اثر کرے گا۔ جس طرح کہ آج کل مسیح ایرانی یا قادیانی عیسائیت کو مغلوب کرنے میں مستغرق ہیں۔ ورنہ حکومت صرف یہودیوں پر کرے گا اور ان کی سرکردگی میں دنیائے اسلام کو مٹانا چاہے گا تو اس ارض مقدس میں پہلے امام مہدی کے ساتھ چپقلش ہوگی۔ بعد میں مسیح علیہ السلام اس لڑائی کا خاتمہ کر دیں گے۔ گو اس وقت غلبہ نصاریٰ ہے۔ مگر غلبہ یہود کے قرائن بھی موجود ہونے میں بہت امکان ہے۔ کیونکہ اس وقت وہ ارض مقدس میں جمع ہو رہے ہیں۔ چہارم یہ کہ مسیح کو امام مہدی مانتے ہیں اور انکار بھی کرتے ہیں تو اس کا جواب بھی ظاہر ہے کہ نزول مسیح کے اوّل امام المسلمین جناب مہدی علیہ السلام ہوں گے۔ کچھ مدت کے بعد دوسرے امام المسلمین مسیح علیہ السلام ہوں گے۔ جن کو حکم اور مہدی وقت کہا جائے گا۔ چونکہ جناب کو اصل واقعات پر عبور کامل نہ تھا۔ اس لئے تو تعلیم یافتہ کی طرح آپ کو تناقض ہی تناقض نظر آتا تھا۔

ناصری سے پہلے نزول ایلیاء بروزی طور پر تھا۔ اسی رنگ میں خاتم الانبیاء کے بعد نزول مسیح بھی

صفحہ ٢٦٤

بروزی رنگ میں ہوگا۔ ورنہ اگر نزول ایلیا جسمانی طور پر مشروط ہوتا تو مسیح ناصری کی تکذیب لازم آتی ہے۔ جواب یہ ہے کہ اگر یہ نظریہ تسلیم کیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ نبی کا بروز بھی مستقل نبی ہوتا ہے۔ کیونکہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بروز ایلیا تسلیم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح مسیح ناصری کا بروز یا حضور ﷺ کا بروز بھی ضروری طور پر نبی مستقل کے طور پر ہوگا اور جناب کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ نبی مستقل ہیں یا حضرت یحییٰ علیہ السلام بھی صرف اعزازی نبی تھے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ نظریہ ہی غلط ہے۔ کیونکہ غور سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو ایلیاء تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی خود حضرت مسیح نے اپنے آپ کو ایلیاء قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس سے مراد حضور علیہ السلام کا ظہور تھا جو دونوں بزرگوں کے بعد ہوا اور چونکہ ظہور ایلیا کی خبر بڑی سرگرمی سے دی جا رہی تھی۔ اس لئے تمام طبائع اس کی طرف لگی ہوئی تھیں اور جو نبی ظاہر ہوتا تھا اسی کو ایلیا تصور کرنے لگ جاتے تھے اور اگر نزول ایلیا نزول مسیح کے لئے شرط تسلیم کیا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ کا نزول جسمانی شب معراج کو ہوا اور نزول مسیح جسمانی طور پر آسمان سے بہت جلد ہونے والا ہے۔ کیونکہ نصاریٰ اور جمعیت یہود کے آثار نمایاں طور پر موجود ہیں۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ خود جناب کو تسلیم ہے کہ انجیل نویسوں نے معقولیت کے ساتھ صحیح واقعات قلمبند نہیں کئے۔ اس لئے ان کے بیانات سے ایک نظریہ قائم کرنا نہ صرف غلط ہوگا بلکہ دنیائے اسلام کو بڑے مغالطہ میں ڈالنا ہوگا۔ ہاں یہ نظریہ اگر اسلامی تعلیم پیش کرتی تو پھر کسی قدر نزول مسیح کے بالمقابل ایک ضرور سد راہ واقع ہوتی۔ اس مقام پر جناب نے فخریہ طور پر لکھا ہے کہ نزول مسیح کو بروزی رنگ میں پیش کرنا نیچریوں کو بھی تذبذب سے نجات دیتا ہے۔ مگر یہ غلط ہے کیونکہ وہ تو خدا کی ہستی سے ہی منکر ہوئے بیٹھے ہیں تو ان سے نزول مسیح بروزی کی توقع رکھنا خواب و خیال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔

١٥....... جناب نے ایک طعنہ دیا ہے کہ نزول بروزی کی نظیر تو موجود ہے۔ مگر نزول جسمانی کی نظیر موجود نہیں۔ گویا مرزائی تعلیم نظائر قائم کرنے کے بعد قائم نہیں رہ سکتی تو بھلا مسیح بن باپ کی نظیر کہاں سے ملتی ہے؟ اور یا اس کی نظیر کہاں سے پیش کی جا سکتی ہے کہ ایک شخص نبی کا بروز ہو۔ مگر حقیقی نبی نہ ہو۔ توفی اور نزول کے نظائر طلب کرتے وقت ذرہ یہ خیال کر لیا کریں کہ خود آپ کس قدر نظائر پیش کر سکتے ہیں۔ جب ضمیر نے ملامت کی ہوگی تو ایک سو بیس سال کی عمر پیش کر دی اور کہہ دیا کہ عمر مسیح کی حد بندی ہو چکی ہے۔ مگر اس حدیث کی تفصیل پر جناب کو نظر دوڑانا نصیب نہیں ہوا۔ ورنہ تو پہلا جواب یہ تھا کہ واقعہ صلیب کے متعلق اہل اسلام کو اشتباہ پڑا کہ آیا اس وقت

آپ کی عمر ٣٣ سال تھی یا ہی چالیس برس کا اضافہ کر لوگ ٣٣ برس عمر قرار دینے بہر حال دونوں گروہ نزولِ م تقویت دیتے ہیں۔ ٣٣ بر پیش کرتے ہیں اور ١٢٠ بر حضور ﷺ نے اس عمر کا تع فریق مسیح کے لئے دو عمروں مذاہب کو جمع کر کے قطع و بر مگر ایمانداری سے کام نہیں مقابلہ پر کمزور ہے۔ کیونک خلاف ہے۔ "عشرون جواب یہ ہے کہ اگر اس ح (عاش) اور اس کی تمام عم ہیں اور کچھ ابھی باقی ہے۔ "مات وله سنة كذا دماغ کی ضرورت ہے۔

......١٦ تسلیم کیا ہے اور دونوں ف نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی اور قرآن آخری پیغام ا چکی ہیں اور نہ یہ کوئی ن موجودگی کو معرض فنا میں دوسری بیرونی شہادتوں تسلیم کی جاتی ہے یا کیو ٹھیک نہیں کہ خاتم کا لفط

صفحہ ٢٦٥

آپ کی عمر ٣٣ سال تھی یا ١٢٠ برس تو جن لوگوں نے آپ کی عمر اس وقت ١٢٠ تسلیم کی ہے وہ ساتھ ہی چالیس برس کا اضافہ کر کے وفات بعد نزول کے وقت آپ کی عمر ١٦٠ برس قرار دیتے ہیں اور جو لوگ ٣٣ برس عمر قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک آپ کی عمر بوقت وفات ٧٣ برس بنتی ہے۔ بہر حال دونوں گروہ نزول مسیح کے قائل ہو کر عمر مسیح میں مختلف ہو گئے ہیں اور اپنی اپنی روایت کو تقویت دیتے ہیں۔ ٣٣ برس کی روایت کو تقویت دینے والے قول نصاریٰ اور حیات اہل جنت پیش کرتے ہیں اور ١٢٠ برس پیش کرنے والے وہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ جس میں اپنی عمر حضورﷺ نے اس عمر کا نصف بتایا ہے۔ جو مسیح کو واقعہ صلیب کے وقت حاصل تھی۔ پھر دونوں فریق مسیح کے لئے دو عمروں کے قائل ہیں۔ ایک عمر کا کوئی قائل نہیں۔ ہاں مرزائی تعلیم نے دونوں مذاہب کو جمع کر کے قطع وبرید کے ذریعہ سے مسیح کی ایک مسلسل عمر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر ایمانداری سے کام نہیں لیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ١٢٠ برس کی حدیث ٣٣ سال کی حدیث کے مقابلہ پر کمزور ہے۔ کیونکہ اس کے راوی کمزور ہیں اور عبارت کی ترتیب بھی قواعد عربیت کے خلاف ہے۔ ”عشرون ومائة سنة “ اور کسی صحیح حدیث سے اس کی تائید بھی نہیں ہوتی۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر اس حدیث کو مان لیا جائے تو اس کا یہ مفہوم بھی نکل سکتا ہے کہ مسیح زندہ ہیں۔ (عاش) اور اس کی تمام عمر (صلیبی اور نزولی) ملا کر ١٢٠ برس ہے۔ جس کا کچھ حصہ گزار چکے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہے۔ چوتھا جواب یہ ہے کہ جب کسی کی وفات بیان کرتے تو یوں کہتے ہیں کہ: ”مات وله سنه كذا “ اور یوں نہیں کہتے ”عاش وله سنه كذا “ اس لئے محاورہ فہمی کو صحیح دماغ کی ضرورت ہے۔

١٦...... جناب نے قرآن شریف کو خاتم الکتب کہا ہے اور حضورﷺ کو خاتم الانبیاء تسلیم کیا ہے اور دونوں فقروں کو ملا کر یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آپ کے نزدیک کوئی نبی جدید مبعوث نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی نئی کتاب نازل ہوگی۔ کیونکہ حضورﷺ آخری اور آخر الزمان نبی ہیں اور قرآن آخری پیغام الہی ہے اور یہ مطلب نہیں ہے کہ کتب الہی سابقہ سب کی سب کلی طور پر مٹ چکی ہیں اور نہ یہ کہ کوئی نبی سابق بھی اب تک زندہ نہیں۔ کیونکہ خاتم کا لفظ نہ کسی تعلیم سابق کی موجودگی کو معرض فنا میں ڈالتا ہے اور نہ کسی نبی کی ہستی کو منفی کرتا ہے۔ بلکہ ایسے امور کے لئے دوسری بیرونی شہادتوں کی ضرورت ہے۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہیں کہ ایک نبی کی زندگی اس جگہ کیوں تسلیم کی جاتی ہے یا کیوں کتب سابقہ کا وجود تسلیم کیا جاتا ہے اور بعض نادان مبلغوں کا یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں کہ خاتم کا لفظ جمع کی طرف مضاف ہو کر آئے تو اس کا معنی آخری نہیں ہوتا۔ کیونکہ خاتم

صفحہ ٢٦٦

الکتب کا فقرہ اس کی تردید کر رہا ہے۔ علاوہ بریں جب بروزی نبوت کو خاتم الانبیاء اور آخر الزمان نبی مان کر بھی ایچ پیچ سے ثابت کیا جاتا ہے کہ وہی نبوت محمدیہ سدا بہار گلاب کی طرح بار بار پھول دیتی ہے تو نزول مسیح کو مان کر بھی کہا جاسکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام بھی اسی گلاب کا ایک پھول بن کر ظاہر ہوں گے۔ نہ یہ کہ ان کا رنگ کچھ اور ہوگا۔ کیونکہ دونوں فریق مسیح موعود کو مجدد تسلیم کرتے ہیں۔ گو جناب نے اس کو مجدد تسلیم کر کے مسیح موعود قرار دیا ہے اور فریق ثانی مسیح موعود مان کر مجدد تسلیم کرتا ہے۔ مگر دونوں نے بغیر تاویل کے اظہار مطلب کو ممتنع ثابت کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جناب نے خاتم کو گو کسی اور جگہ سید، افضل، نبی ساز یا اعزازی خطاب سمجھا ہو۔ مگر اس موقعہ پر اظہار عقیدت کے لئے آخری معنی خاتم بمعنی آخر الزمان بھی تسلیم کرنا پڑا ہے۔ جس کا یہ معنی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا اور نہ کوئی کتاب الٰہی نازل ہوگی اور یہ عذر معقول نہیں کہ جناب کی نبوت اور جناب کی وحی چونکہ تائیدی طور پر ہے۔ اس لئے لفظ خاتم کے منافی نہیں ہے۔ ورنہ بہائی مذہب بھی یہ کہنے کا حق رکھتا ہے کہ ہم قرآنی آیات کے رو سے گو ختم نبوت کا قول کرتے ہیں۔ مگر خود خدا کے روپ بدلنے کو قرآن سے ہی ثابت کرتے ہیں۔ (دیکھو ایقان کا آخری حصہ) بنا بریں ہم یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے تمام خصموں سے رہائی پانے کے لئے اسلام کا وہی شاہراہ اختیار کیا جائے کہ جس پر آج تک اہل سنت چلے آئے ہیں۔

جائے گا کہ جب تو نے مجھے کشمیر بھیجا۔ اسی وقت سے میری نگرانی ختم ہو چکی تھی اور ماننا پڑے گا کہ آپ کی روپوشی کے عہد حیات میں ہی فساد نصاریٰ کا وقوع ہو چکا تھا۔ کیونکہ جناب کو تسلیم ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد حواریوں نے یوں کہنا شروع کر دیا تھا کہ مسیح آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور یہ اصول خود ہی غلط ہو جاتا ہے کہ توفی کا فاعل اللہ ہو۔ مفعول بہ انسان اور باب تفعل تو صرف موت کا معنی ہی مراد ہوگا۔ کیونکہ واقعہ صلیب کے بعد متصل موت واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ مفارقت ہوئی ہے۔ جس کی تائید حدیث اصحابی سے بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں یوں مذکور ہے کہ : ”مـــــــا لا تدری ما احدثوا بعدك منذ فارقتہم“ اور یہ کہنا غلط ہے کہ حضور ﷺ توفیتنی کا حوالہ دے کر اپنی وفات کو ثابت کریں گے۔ کیونکہ وفات تو حضور ﷺ کی پہلے ہی ثابت ہوگی۔ زیر بحث صرف یہ ہوگا کہ بعد از مفارقت امت کا فساد ہوا ہے یا نہیں؟ تو اس کے واسطے وقوع موت ضروری نہیں بلکہ مفارقت الیٰ کشمیر بھی کافی ہے۔ علاوہ بریں جب تمثیلی طور پر کوئی فقرہ پیش کیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اب بھی بعینہ وہی حال پیش آ رہا ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ کسی عام

صفحہ ٢٦٧

ہا ہے۔ علاوہ بریں جب بروزی نبوت کو خاتم الانبیاء اور آخر الزمان کہا جاتا ہے کہ وہی نبوت محمدیہ سدا بہار گلاب کی طرح بار بار پھول نہیں کہا جاسکتا ہے کہ مسیح علیہ السلام بھی اسی گلاب کا ایک پھول بن کر رنگ کچھ اور ہوگا۔ کیونکہ دونوں فریق مسیح موعود کو مجدد تسلیم کرتے تسلیم کر کے مسیح موعود قرار دیا ہے اور فریق ثانی مسیح موعود مان کر مجدد بغیر تاویل کے اظہار مطلب کو ممتنع ثابت کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ، سعید، افضل، نبی ساز یا اعزازی خطاب سمجھا ہو۔ مگر اس موقعہ پر معنی خاتم بمعنی آخرالزمان بھی تسلیم کرنا پڑا ہے۔ جس کا یہ معنی ہے کہ نہ ہوگا اور نہ کوئی کتاب الٰہی نازل ہوگی اور یہ عذر معقول نہیں کہ کا چونکہ تائیدی طور پر ہے۔ اس لئے لفظ خاتم کے منافی نہیں ہے۔ تا رکھا ہے کہ ہم قرآنی آیات کے رو سے گو ختم نبوت کا قول کرتے کو قرآن سے ہی ثابت کرتے ہیں۔ (دیکھو ایقان کا آخری حصہ) ایسے تمام مجسموں سے رہائی پانے کے لئے اسلام کا وہی شاہراہ اہل سنت چلے آئے ہیں۔

کا فقرہ اگر درست تسلیم کیا جائے تو لما توفیتنی کا معنی یوں کیا ہے۔ اسی وقت سے میری نگرانی ختم ہو چکی تھی اور ماننا پڑے گا کہ میں ہی فساد نصاریٰ کا وقوع ہو چکا تھا۔ کیونکہ جناب کو تسلیم ہے کہ انہوں نے کہنا شروع کر دیا تھا کہ مسیح آسمان پر چڑھ گئے ہیں اور یہ کا فاعل اللہ ہو۔ مفعول بہ انسان اور باب تفعل تو ضرور موت کا سب کے بعد متصل موت واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ مفارقت ہوئی سے بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں یوں مذکور ہے کہ: ”ما فا رقتهم“ اور یہ کہنا غلط ہے کہ حضورﷺ توفیتنی کا حوالہ دے کیونکہ وفات تو حضورﷺ کی پہلے ہی ثابت ہوگئی۔ زیر بحث ت کا فساد ہوا ہے یا نہیں؟ تو اس کے واسطے وقوع موت ضروری ہے۔ علاوہ بریں جب تمثیلی طور پر کوئی فقرہ پیش کیا جائے تو اس نہ وہی حال پیش آرہا ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہوتا ہے کہ کسی عام

مفہوم میں اس کے ساتھ اشتراک ہے۔ ورنہ ”لیست اول قارورة كسرت فی الاسلام“ جب ہی صحیح ہوگا کہ کسی نے بوتل توڑی ہو تو حضورﷺ کا اپنے کلام میں توفیتنی پیش کرنا یا تو اس لئے ہوگا کہ مسیح علیہ السلام سے پہلے بحث ہو چکی ہوگی اور یا اس لئے کہ نزول فی القرآن کا حوالہ مراد ہوگا۔ بہرحال قول حضورﷺ کو قول مسیح سے تشبیہ ہے یا توفی کو مفارقت سے مساوی کیا گیا ہے۔ ورنہ موت کو زیر بحث لانا امر زائد ہوگا جو مقتضائے مقام سے تعلق نہیں رکھتا۔

تھا کہ سارے نبی مرچکے ہیں اور نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ وفات مسیح پر تمام صحابہؓ کا اتفاق ہوا۔ کیونکہ زیر بحث حضورﷺ کی موت تھی۔ جو آپؓ نے ”افان مات او قتل“ سے ثابت کر دی تھی اور بعض صحابہؓ کا یہ خیال باطل کیا تھا کہ حضورﷺ بھی مسیح کی طرح آسمان پر چلے گئے ہیں یا یہ کہ آپ جب تک تمام منافقین کا کام تمام نہ کرلیں گے نہیں مریں گے۔ یا یہ کہ نبوت محمدی اور موت کو ممکن الاجتماع سمجھنے میں ان کو توقف پیدا ہوچکا تھا۔ تو صدیق اکبرؓ نے یہ تمام آیات پیش کر کے ثابت کر دیا کہ جس طرح انبیاء کا خلو ہوچکا ہے آپ کا بھی ہوچکا ہے اور عہدہ تبلیغ سے سبکدوش ہوچکے ہیں اور جس طرح جماعت انبیاء کو موت آئی آپ کو بھی موت آچکی ہے۔ زندہ آسمان پر نہیں گئے تو ایک تمثیلی فقرہ پیش کرنے سے انبیاء اور حضورﷺ کا خلو بہرصورت یکساں نہیں ثابت ہوگا۔ ورنہ یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ہر ایک نبی کی وفات اپنے اپنے حجرے میں ہی ہوئی تھی۔ یا سب بخار کی بیماری سے فوت ہوئے تھے اور یا سب مدینہ شریف میں ہی مرے تھے وغیرہ وغیرہ۔ علاوہ بریں جن صحابہؓ کا اتفاق پیش کیا جاتا ہے انہی کی زبانی حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی منقول ہے۔ کیا ابوہریرہؓ اور ابن عباسؓ کی مشہور روایات کتب احادیث میں درج نہیں ہیں یا حضرت خضر علیہ السلام کی زندگی محدثین نے اب تک نہیں مانی؟ تو قد خلت کا صحیح مفہوم یہ ہوگا کہ انبیاء کی ایک جماعت کا خلو آپ سے پہلے ہوچکا ہے نہ یہ کہ آپ سے پہلے جو تمام انبیاء تھے ان سب کا خلو ہوچکا ہے۔ ناواقفیت کی وجہ سے اس آیت کا ترجمہ بگاڑ دیا گیا ہے۔ اس لئے ہم نحوی ترکیب سے یہ معنی صاف کرنا چاہتے ہیں کہ: ”من قبله“ مفعول فیہ ہے۔ الرسل کی صفت نہیں ہے۔ کیونکہ جب صفت مقدم ہوتی ہے تو صفت نہیں رہتی۔ بلکہ عطف بیان بن جاتی ہے۔ (بکری بشر) یا مضاف ہوکر مرکب اضافی پیدا کرتی ہے۔ (خیر مقدم) یا موصوف کو الگ جملہ میں داخل کیا جاتا ہے۔ ”نعم الشاعر زيد انه هو زيد“ اور من قبلہ کو اس انقلاب میں حالت بدلتے نہیں دیکھا گیا۔ اس لئے سرے سے اس کو صفت کہنا ہی غلط ہے اور صفت مان کر مقدم سمجھنا ڈبل غلطی ہوگی۔ جو قائل کی قابلیت پر عدم واقفیت

صفحہ ٢٦٨

کی مہر لگاتی ہے اور جو لوگ اس آیت کو قیاس اقترانی بناتے ہیں ان کو من قبلہ کا لفظ حد اوسط پیدا کرنے میں سنگ راہ واقع ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس کو قیاس تمثیلی کے طور پر پیش کرنا درست ہوگا۔ جو مفید یقین کلی نہیں ہوتا۔ اس لئے اسلامی تعلیم کی رو سے بڑے وثوق کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اس آیت کا مفہوم یہ ثابت کرتا ہے کہ حضور ﷺ کے قبل ایک جماعت انبیاء کا خلو ہوا کسی کا موت سے اور کسی کا رفع الی السماء سے۔ بہرحال وہ اپنی اپنی ڈیوٹی سے فارغ ہو چکے ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف میں عام طور پر جمع کے لفظ آتے ہیں۔ مگر بعض دفعہ ان سے مراد کچھ لوگ ہوتے ہیں۔ سارے مراد نہیں ہوتے۔ ”یمددکم باموال وبنین“ اسی طرح یہاں بھی بعض رسول مراد ہیں اور بعض نہیں۔ نیز خلو کا لفظ موت کا معنیٰ نہیں دیتا۔ ”خلوا الیٰ شیاطینہم“ حرف جار کے بغیر آئے تو استمرار کا معنیٰ دیتا ہے۔ ”خلت سنۃ الاولین“ یا گذرنے کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ ”خلت الرسل“ من حرف جار صلہ ہو کر آئے تو بے تعلقی کا معنیٰ دیتا ہے۔ ”خلا منہ“ زائد ہو تو خلو اپنے اصلی معنیٰ پر قائم رہتا ہے۔ ”خلت من قبلہ الرسل“ عرف عام میں گو بعض لفظ موت کا معنیٰ دیتے ہیں۔ مثلاً انتقال، صعود، وصال، رحلت وغیرہ مگر اصلی معنیٰ کے رو سے کوئی بھی موت کا معنیٰ نہیں دیتا۔ اس لئے اگر بعض جگہ خلو کا معنیٰ موت مفہوم ہو تو اس سے یہ قاعدہ نہیں گھڑا جا سکتا کہ ہر جگہ موت ہی موت مراد ہوتی ہے۔ ”اُمۃ قد خلت“ کیونکہ قرآن مجید میں ایک لفظ کو عرف عام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے اور حقیقی معنیٰ یا استعارہ یا مجاز یا عرف خاص کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ مگر شناخت کے لئے چشم بصیرت کی سخت ضرورت ہے جو آج کل تعلیمات جدیدہ میں کم پائی جاتی ہے۔

مسیح سمجھ کر پھر خیرالقرون کا عہد یقین کیا جاتا ہے اور یوں کہا جاتا ہے کہ حیات مسیح کا مسئلہ وسط زمانہ میں پیدا ہوا تھا۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قسم کی غلطی مدعی نبوت کے قلم سے صادر نہیں ہونی چاہئے تھی۔ کیونکہ پہلے تو یہی کہنا غلط اور بلا ثبوت ہے کہ خیرالقرون میں حیات مسیح کا قول کسی نے نہیں کیا۔ حالانکہ مذاہب اربعہ خیرالقرون یا اس کے متصل ہی مرتب ہوئے ہیں۔ جن میں حیات مسیح کو اصولی طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور قرآن وحدیث سے اس پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے۔

وغیرہ وفات مسیح کے قائل تھے۔ کیونکہ اس کی تردید کتاب ہذا حصہ اوّل کے باب اتہامات میں بالتصریح موجود ہے۔

صفحہ ٢٦٩

سوم...... یہ بھی غلط ہے کہ ابن تیمیہ ابن قیم اور ابن عربی فج اعوج کے زمانہ میں نہ تھے۔ حالانکہ یہ بزرگ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری میں ہوئے ہیں۔

چہارم...... یہ کہ جب اہل سنت کا اجماع پیش کیا جاتا ہے تو معتزلہ کا قول پیش کرنا صحیح نہ ہوگا۔

پنجم...... دیدہ و دانستہ کسی پر اتہام لگانا اخلاقی اور شرعی گناہ کبیرہ ہے جو مدعی نبوت کے پاس بھی نہیں پھٹکنا چاہئے اور اگر سرسید کی تحریروں نے یا حاشیہ نشینوں کی خوشامدوں نے جناب کو دھوکہ میں ڈال دیا تھا تو مدعی نبوت کے لئے ایک اور مشکل آپڑتی ہے کہ حقائق اشیاء دریافت کرنے کے لئے اسے نور باطن کافی نہیں ملا تھا اور اگر خود ہی مطالعہ کی کثرت سے الٹا سمجھا تھا تو یہ بھی نقص ہوگا اور غالباً یہی کمی رہ گئی ہے۔ کیونکہ جب عہد شباب میں جناب نے قرآن وحدیث کا مطالعہ شروع کیا تھا تو مشکل سے صحاح ستہ اور تصوف کی عام کتابیں دیکھ ڈالی ہوں گی۔ ورنہ مہدویت اور مسیحیت یا تبلیغ اسلام کی دھن میں آپ کو کب وسیع مطالعہ کی وسعت ملی ہوگی کہ کم از کم ابن تیمیہ اور ابن قیم کی تصانیف ہی مطالعہ کر لیتے۔ یا کم از کم علامہ ابن تیمیہ متوفی ٧٢٨ھ کی مشہور کتاب ”الجواب الصحيح لمن بدل قول المسيح“ جلد دوم ص ٢٨٢ مطبوعہ مصری دیکھ لیتے۔ تا کہ انہیں ان کا اپنا مسلک اور اسلام کا صحیح نقشہ نظر آ جاتا۔ ”قال الامام وما قتلوه وما صلبوه . اضاف الى اليهود وذمهم عليه ولم يذكر النصارى لان الذين تولوا صلب المصلوب المشبه به هم اليهود ولم يكن احد من النصارے شاهدا معهم بل كان الحواريون غائبين خائفين فلم يشهد احد منهم الصلب وانما شهده اليهود وهم الذين اخبرو الناس انهم صلبوا المسيح والذين نقلوا ان المسيح صُلب من النصارے وغيرهم انما نقلوه عن اولئك اليهود وهم شرط من اعوان الظلمة لم يكونوا خلقا كثيرا يمتنع تواطؤهم على الكذب . ليؤمنن به . قبل موته . معناه قبل موت المسيح قيل قبل موت اليهودى وهو ضعيف كما قيل قبل موت محمد وهو اضعف ولا لنفعه ايمانه...... وهذا يعم اليهود والنصارى . فدل على ان جميع اهل الكتاب اليهود والنصارے يومنون بالمسيح قبل ان يموت المسيح وذلك اذا نزل امنت اليهود والنصارے بانه رسول الله ليس كاذبا كما يقول اليهود ولا هو الله كما يقول النصارے . والمحافظة على هذا العموم اولى من ان يدعى ان كل كتابى يومن به قبل موت الكتابى لانه خلاف الواقع . واريد بالعموم عموم من كان موجود

صفحہ ٢٧٠

احين نزوله لا من كان ميتا منهم لقوله لا يبقى بلد الا دخله الدجال الا مكة والمدينة اى المدائن الموجودة حينئذ، فالله ذكر ايمانهم به اذا نزل الى الارض فان الله تعالى ذكر رفعه اليه بقوله انى متوفيك وهو ينزل الى الارض قبل يوم القيمة ويموت حينئذ اخبر بايمانهم قبل موته، ما قتلوه بيان ان الله رفعه حيا سالما من القتل وبين انهم يؤمنون به قبل موته، وكذالك قوله تعالى ومطهرك ولومات لم يكن بينه وبين غيره فرق ولفظ التوفى معناه الاستيفا والقبض وذلك ثلثة انواع احدها توفى النوم والثاني توفى الموت الثالث توفى الروح والبدن جميعا فانه بذالك خرج عن حال اهل الارض المحتاجين الى الاكل والشرب واللباس والبول والبراز والمسيح توفاه الله وهو فى السماء الثانية الى ان ينزل الى الارض ليست اهل السماء كاهل الارض “

رکھتے ہیں کہ مسیح موعود حقیقی نبی ختم الانبیاء ہے اور زندہ ہے اور انسان کا آسمان پر اتنی دیر زندہ رہنا مانتے ہیں۔ حالانکہ زمین پر بھی کوئی شخص اتنی دیر زندہ نہیں رہا۔ جواب یہ ہے کہ مسیح کی نبوت پہلے کی ہے بعد کی نہیں اور آپ کی حیات حافظ ابن تیمیہ نے قرآن سے ثابت کی ہے اور منتہی الارب میں عوج کی زندگی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد تک لکھی ہے۔ (دیکھو لفظ عوج) اور یہ عذر کہ آسمان کا لفظ حدیث میں نہیں ہے بالکل غلط ہے۔ کیونکہ حدیث معراج میں آپ کی ملاقات آسمان ہی پر ہوئی تھی اور یہ حدیث مرفوع متصل بھی ہے اور نزول الی الارض کا لفظ کئی احادیث میں موجود ہے جو رفع علی السماء کا مقتضی ہے۔ اس لئے یہ کہنا بالکل غلط ہو گا کہ کسی موضوع حدیث میں بھی رفع جسمانی کا ذکر نہیں ہے اور بیس ہزار روپیہ کا انعام صرف کہنے کو ہے دینے کے لئے نہیں۔ اب اگر اپنے وعدہ کا پاس ہے تو مرزائی اپنی تمام کتابیں جلا دیں اور توبہ کریں۔ طحاویہ جلد اوّل میں اور روایتیں بھی درج ہیں جن میں سماء کا لفظ موجود ہے۔

کاندھوں پر اٹھاتا ہے۔ بلکہ اس کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ہم نے اس کو سوار کر دیا ہے۔ مطلب خود نہیں سمجھے استعارہ کی جہت سوجھ گئی کہ طالب علموں پر فرشتے سایہ کرتے ہیں۔ حالانکہ صحیح مطلب یہ ہے کہ وہ پر بچھاتے ہیں۔ مسیح علیہ السلام کا نزول صحیح معنوں میں فرشتوں کے ساتھ ہو گا۔ جناب

صفحہ ٢٧١

نے جب خدا سے دستخط کرائے تھے تو قلم کی چھڑکی ہوئی سیاہی کی چھینٹیں کرتے پر نمودار ہو گئی تھیں اور کہا گیا تھا کہ الواح موسیٰ کی طرح غیر محسوس کو محسوس ہو گیا ہے۔ مگر اب فرشتوں کو کیوں محسوس نہیں سمجھا جاتا۔

......٢٢...... یہ اپنی نادانی ہے کہ لوگوں کو نادان سمجھ کر کہا جاتا ہے کہ یہ دھوکا دیتے ہیں کہ مسیح کو قتل اور صلیب سے چونکہ موت نہیں آئی۔ اس لئے وہ آسمان پر چلے گئے۔ کیا ان کو بچانے کے لئے زمین پر کوئی جگہ نہ تھی؟ جواب یہ ہے کہ رفع مسیح کا عقیدہ آپ کے پیش کردہ اصول پر مبنی نہیں ہے۔ بلکہ اہل اسلام کے پاس صاف لفظ موجود ہیں۔ ”انہ حی، ان عیسیٰ لم یمت انہ راجع الیکم“ اپنی کمزوری دوسروں کے سر تھوپنی اچھی نہیں اور یہ حملہ خدا کی قدرت پر ہوگا کہ حضور ﷺ کو تو غار میں پناہ دی اور مسیح کو آسمان پر۔ کیا خدا تعالیٰ نے طریق نجات صرف ایک ہی رکھا ہوا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو غرق ہونے سے نجات دی تو پانی پھاڑ دیا۔ نوح علیہ السلام کو بچایا تو کشتی تیار کروائی اور لوط علیہ السلام کو بچایا تو ہجرت کا حکم دیا اور ابراہیم علیہ السلام کو بچایا تو آگ سرد کردی۔ اب بھی کہئے کہ ہماری منشاء کے مطابق نجات کا سلسلہ قائم نہیں رہا۔

......٢٣...... تورات میں مصلوب کو ملعون قرار دیا گیا ہے۔ اس میں یہ شرط نہیں لگائی کہ وہ مصلوب صلیب پر مر بھی گیا ہو اور جناب بھی مانتے ہیں کہ مصلوب زندہ رہ سکتا ہے۔ مولوی چراغ علی نے بھی اپنی کتاب واقعہ صلیب میں کئی واقعات لکھے ہیں کہ مصلوب زندہ رہ سکتا ہے۔ اب بتائیے کہ اگر عیسائیوں نے تین دن کے لئے بقول جناب مسیح کو ملعون کر دیا تھا تو آپ نے بھی کچھ کمی نہیں کی۔ آپ بھی تو تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام مصلوب ہوا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہ معاذ اللہ ملعون ہوا اور ٨٧ برس لعنتی حالت میں رہ کر کشمیر میں جا مرا۔ اس لئے اسلام کی نظر میں یہودی عیسائی اور مرزائی تینوں فرقے مسیح کو مصلوب مان کر ملعون قرار دیتے ہیں۔ مگر اسلام کہتا ہے کہ یہودی آپ کو صلیب پر زندہ نہیں لا سکے۔ ”ماصلبوہ“ اور نہ ہی قتل کر کے صلیب پر کھینچ سکے۔ ”ماقتلوہ“ بلکہ ایک دوسرے شخص کو آپ کی بجائے صلیب پر لٹکایا گیا تھا۔ ”شبہ لہم“ اس کی زیادہ تشریح نمبر ١٩ میں دیکھو۔ افسوس ہے کہ جس کنویں میں گرنے کا الزام اہل کتاب کو دیا جاتا ہے۔ اس میں خود گر رہے ہیں اور اپنی بے بنیاد تحقیق پر اس قدر غرہ ہو رہے ہیں کہ دوسروں کو نادان، کم فہم، جاہل اور عقل کے دشمن سمجھا جاتا ہے اور یہ اپنی کمزوری ہے کہ مسیح کو لعن سے بھی نہیں بچا سکے۔

......٢٤...... رفع روحانی کی بحث ہجرت کشمیر کے نظریہ میں گزر چکی ہے کہ رفع روحانی

صفحہ ٢٧٢

زیر بحث نہ تھی۔ بلکہ صلیب پر کھینچا جانا زیر بحث تھا۔ یہودی کہتے تھے کہ ہم نے ان کو صلیب دے دیا ہے۔ اس لئے وہ لعنت میں آگئے ہیں۔ عیسائیوں اور مرزائیوں نے یہ سمجھا کہ صلیب پر مرنا یا مرے رہنا بھی لعنت کے لئے شرط ہے۔ اس لئے انہوں نے آپ کی زندگی بعد میں از سر نو ثابت کی۔ مگر قرآن شریف نے سرے سے انکار ہی کر دیا کہ آپ صلیب پر کھینچے ہی نہیں گئے تھے تو لعنت کیسی؟ اب اناجیل اربعہ یا تحقیق سرسید کی تائید میں صلیب مان کر پھر زندگی کا قول کرنا اور صلب کا معنی صلیب پر مرنا مراد لینا قرآن میں تحریف ہوگی۔ جس کا ثبوت اسلام اور انجیل برنباس میں نہیں ملتا۔ جو عینی شہادت پر مشتمل ہے۔ برخلاف اناجیل اربعہ کے کہ ان میں واقعہ صلیب کی کوئی عینی شہادت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے صرف یہودیوں سے سن کر یہ واقعہ لکھا ہے۔ جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ نے ثابت کر دیا ہے۔

غلط ہوگا کہ مسیح کو انی رافعک میں رفع روحانی اور موت کا وعدہ دیا گیا تھا۔ کیونکہ وعدہ اس چیز کا ہوتا ہے کہ فی الحال موجود نہ ہو اور آئندہ حاصل ہو۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ معاذ اللہ مسیح کو ان دونوں میں شک تھا۔ اس لئے خدا نے آپ کی تسلی کر دی تھی۔ تو اس آیت کا صحیح ترجمہ رفع جسمانی اور توفی جسمانی سے ہی کرنا پڑے گا۔ تاکہ وعدہ اپنے صحیح معنوں میں پورا ہو اور یہ کہنا غلط ہے کہ قرآن شریف میں ہر جگہ رفع بمعنی اعزاز اور رفع روحانی ہوتا ہے۔ مانا کہ ایک دو جگہ ہو مگر رفعنا لک ذکرک میں ذکر کی روح کہاں سے لائیں گے۔ رفعنا فوقکم الطور میں کوہ طور کی روح کو مرفوع کیسے مانیں گے اور رفع ابویہ علی العرش کیسے مانا جائے گا کہ یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کی روحیں تخت پر بٹھائی تھیں۔ اس لئے قادیانی تعلیم کا یہ اصول غلط ہے کہ ایک جگہ اگر کوئی محاورہ آجائے تو سارے قرآن میں وہی برتا جاتا ہے۔ خود توفی کا لفظ جو اپنی اصلیت کی رو سے موت پر دلالت نہیں کرتا کبھی توفی بالموت کے مقام موت کا معنی دیتا ہے اور کبھی توفی بالنوم کے موقعہ پر صرف توفی نفس کا معنی دیتا ہے اور جب رفع کے ساتھ مل کر آتا ہے تو توفی جسمانی مع رفع جسمانی کا معنی دیتا ہے۔ یقین کا لفظ لیجئے سورۃ تکاثر میں یقین علم کے موقعہ پر استعمال ہوا ہے اور حتی یاتیک الیقین میں موت کا معنی دیتا ہے۔ اسی طرح دابۃ الارض سے سلیمان علیہ السلام کے واقعہ میں دیمک مراد ہے اور یاجوج ماجوج کے واقعات میں ایک خاص معجز نما پرند مراد ہے اور مامن دابۃ میں تمام جاندار اشیاء مراد ہیں۔ اس لئے جناب کی تحقیق پر تقلید کرنے والوں سے گذارش ہے کہ اس موقعہ پر جناب کو معذور سمجھیں۔

صفحہ ٢٧٣

٢٦ ...... نیچریوں کی خوشامد میں خلاف قرآن واقعات میں تبدیلی پیدا کرنا راست بازوں کا کام نہیں ہے۔ کیونکہ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ خر دجال سے مراد ریل گاڑی ہے تو وہ پھر تمسخر اڑائیں گے کہ یہ تو مسیح قادیانی کی پیدائش سے پہلے ہی موجود تھی۔ تو نزول مسیح سے اس کا کیا تعلق ہوا اور خود ہی اس پر سوار ہوتے تھے تو دجال کے لئے کیوں مخصوص رہی۔ دجال اگر مشنری اور مشین ساز انگریز ہیں تو ان کا داخلہ قادیان میں کیوں جائز رکھا گیا۔ کیونکہ اس کو جناب نے مکہ لکھا ہے اور اب مرید مدینۃ المسیح کا مصداق لاہور اور قادیان دونوں کو قرار دیتے ہیں تو پھر مستری اور مشنری کیوں وہاں داخل ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ امر مسلم بین الفریقین ہے کہ مکہ اور مدینہ میں دجال کا داخلہ ممنوع ہوگا۔ وہ مسیح ہی کیا ہوا کہ مکہ مدینہ سے دجال کو بھی نہیں روک سکا اور اگر کہا جائے کہ یہ سب فرضی اور اعزازی نام ہیں تو سارا بھرم آپ ہی کھل جاتا ہے کہ نبوت بروزی سے بھی مراد صرف فرضی نبوت ہوگی۔ مگر ہمیں تعجب ہے کہ اسلام میں دجال ایک خاص ہستی کا اسم علم معلوم ہوتا ہے اور جناب نے نیچریوں کو خوش کرنے کی خاطر دو جماعتوں کا نام کیوں رکھ دیا اور پھر یہ کیوں کہہ دیا کہ دجال اسم جمع ہے۔ کیا وہ اتنے ہی عربی زبان سے نا آشنا ہیں کہ جناب کی ملمع سازی پر مطلع نہیں ہوں گے۔ ورنہ صاف کسی لغت کا حوالہ دیا جاتا کہ دجال اسم جمع ہے۔ یا دو جماعتوں (مشنریوں اور مستریوں) نام ہے۔ ورنہ یوں سمجھا جائے گا کہ دجال کی وجہ تسمیہ میں جو محاورات کتب لغت میں پیش کئے گئے ہیں۔ جناب نے غلطی سے ان کو ہی اس لفظ میں موضوع سمجھ لیا تھا۔ غالباً اگر جناب کے پیرو نظر ثانی کرتے تو ضرور جناب کے خلاف اپنی رائے تبدیل کر لیتے۔ لیکن بدقسمتی سے تابعداروں نے اس غلط تحقیق کو الہامی تحقیق سمجھ کر لغوی استناد کو فضول سمجھا ہوا ہے اور اس قدر غرہ ہو گئے ہیں کہ اپنے تمام مخالفین کو بھی دجال کا لقب دیتے ہوئے ایسے بدنام ہوئے کہ خود بھی اس لفظ کا مصداق سمجھے جانے لگے اور بے جا تحریف کی وجہ سے اپنے شیخ کو بھی اس فتنے سے نہ بچا سکے اور تاویل کی مجبوری پر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اگر دجال کے متعلق تاویل وتحریف نہ کی جائے تو دجال کو دو متضاد دعاوی کا مدعی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ خدا بھی ہے اور نبی بھی۔ مگر جناب ہی بتائیں کہ آپ نے یہ دونوں متضاد دعوے کیوں جمع کر لئے تھے کہ میں نبی بھی ہوں اور ایک دفعہ خدا بھی بن گیا تھا؟ تو ممکن ہے کہ وہ دجال بھی نبی بن کر اپنے مکاشفات کی رو سے خدائی دعویٰ کرے گا یا بڑا مستری یا مشنری بن کر عجیب عجیب کرتب دکھائے گا۔ جو اہل یورپ کو بھی دنگ کر دیں گے۔ کیونکہ دنیا ترقی کر رہی ہے اور ایسے ناممکن امور ممکن ہو رہے ہیں کہ بقول جناب وہ خدائی کام سمجھے جاتے ہیں۔

صفحہ ٢٧٤

٢٧....... مسیح ایرانی کے وقت سے مادی ترقیات کا ظہور ہوا ہے۔ اس لئے ریل گاڑی اخبارات مطبع وغیرہ تمام ایجادات کو مخصوص طور پر صرف جناب کی صداقت کا معیار ٹھہرانا صحیح نہ ہوگا اور تقریبی حساب سے یوں کہنا بھی صحیح نہیں کہ حضورﷺ مثیل موسیٰ تھے اور میں مثیل عیسیٰ ہوں کہ چودھویں صدی میں ظاہر ہوا ہوں۔ کیونکہ پہلے تو اس تقریبی حساب سے مسیح ایرانی بھی مسیحیت کا حقدار ثابت ہوتا ہے۔ دوم حضورﷺ کو مثیل موسیٰ علیہ السلام قرار دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ جناب کی طرح حضورﷺ بھی بروزی رنگ میں ظلی نبی تھے۔ جو صرف غلط ہی نہیں بلکہ حضورﷺ پر ایک سخت حملہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اپنی شخصیت ثابت کرنے پر جناب نے دوسروں کی شخصیت کو قربان کر دیا تھا۔ سوم یہ بھی غلط ہے کہ مثیل مسیح لما یلحقوا کے ماتحت حضورﷺ کی ذات مبارک کا رجعت کے طور پر بعثت ثانیہ کا مصداق ہے۔ کیونکہ شیعہ مذہب کے سوا اہل سنت کی کسی جماعت نے رجعت یا تناسخ کو قبول نہیں کیا۔ حالانکہ جناب کا دعویٰ ہے کہ آپ اہل سنت والجماعت ہیں۔ پھر غضب یہ کیا ہے کہ الوصیت میں پھر اپنی رجعت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ میں قدرت ثانیہ ہو کر ظاہر ہونے کو ہوں گا تو جناب کے بعد جب مریدوں نے قدرت ثانیہ بننے میں اپنے اپنے دلائل پیش کئے تو چونکہ خلیفہ محمود گدی نشین ہو چکے تھے اور اپنے باپ سے ”کَانَ اللّٰہُ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ“ کا خطاب پا کر میدان جیت چکے تھے۔ اس لئے محمد سعید سمبڑیالی، ظہیر گوجرانوالہ، یار محمد ہوشیار پوری اور فضل احمد چنگانوی وغیرہ فیل ہوگئے اور احمد نور کابلی کا بھی بس نہ چلا۔ بہرحال اس بروز اور رجعت نے ایسا فتنہ برپا کیا ہوا ہے کہ جا بجا نبوت کا نرخ دھیلے کی بڑھیا سے بھی زیادہ سستا ہو رہا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ یہ فتنہ فتنہ ارتداد سے بھی بڑھ کر اسلام کے لئے ضرر رساں ہے۔

٢٨....... رسالہ (کلام الرحمٰن ص ١١٢ وید ہے نہ قرآن) میں بھکشو لکھنوی آریہ نے اپنے رشیوں کی بود و باش کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تبت میں چار رشی حضرت آدم علیہ السلام کی طرح پیدا ہوئے تھے اور خدا نے اپنا روپ ان میں لیا تھا تو انہوں نے چاروں وید شائع کئے تو پھر غائب ہوگئے۔ معلوم نہیں کہ اس سے پہلے وہ چار رشی کتنی دفعہ ظاہر ہوچکے ہیں۔ انقلاب زمانہ کے باعث جب وید کی تعلیم پر پابندی کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو اس وقت ظاہر ہوکر ویدوں کی تجدید کرتے ہیں اور ان کا مفہوم جدید پیش کر کے غائب ہوجاتے ہیں۔ بعض دفعہ دیانند جیسے راست باز بھی تجدید وید کے اعزاز سے ممتاز ہوتے ہیں اور از سر نو ویدوں کے معانی قائم کرتے ہیں۔ جناب بھی دیانند کے ہمعصر تھے اور ہمیشہ اس سے برسرپیکار رہے ہیں۔ غالباً اس کے مقابلہ

صفحہ ٢٧٥

میں آپ نے بھی یہ افسانہ تیار کیا ہوگا کہ نبوت محمدیہ بھی ضرورت زمانہ کے مطابق قرآنی مفاہیم کا روشن پہلو دکھانے کے لئے مجددین کی صورت میں بار بار ظاہر ہوا کرتی ہے اور اس کی تائید میں لما یلحقوا اور حدیث مجددین کو پیش کرنے کی سوجھی ہوگی اور آسمانی نشانات کے اظہار کے ساتھ دیانند کو خوب حیران کر دیا ہوگا۔ ورنہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک معمولی تعلیم یافتہ مولوی کہ جس نے قرآن وحدیث کی باقاعدہ تعلیم بھی نہ پائی ہو اور اس کو علوم قرآنیہ میں خود بھی دسترس حاصل نہ ہو اور نہ ہی یہ معلوم کیا ہو کہ علمائے اسلام نے قرآن وحدیث کی خدمت میں کیا کیا قلمی لڑائیاں کی ہیں۔ جن سے ناپاک ہستیاں اب تک نالاں ہیں۔ کیسے جرأت کر سکتا ہے کہ مبلغ اسلام بن کر ترقی کرتے ہوئے مہدی، مسیح، کرشن اور خدا بن جائے تو اگر یہ سب کارروائی سب نقلی تھی تو نقل راہم عقل باید کے بموجب اس پر اصرار نہیں کرنا چاہئے تھا اور اگر دیدہ و دانستہ کسی کے مقابلہ پر یہ طریق اختیار نہیں کیا تھا تو سخت افسوس ہے کہ لم یلحقوا کو اسی مفہوم پر کیوں نہ رہنے دیا۔ جس پر کہ آج تک قرآنی مفہوم قائم تھا کہ حضور ﷺ اپنے زمانہ میں بھی دنیا کے لئے مبعوث تھے اور آئندہ کے لئے بھی قیامت تک باقی نسلوں کے واسطے مبعوث سمجھے گئے ہیں اور یہ معنی غلط نہ تھا۔ کیونکہ دوسرے انبیاء بھی اپنی اپنی وسعت بعثت کے مطابق آئندہ نسلوں کے لئے بھی مبعوث سمجھے گئے تھے اور ان میں یہ ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی کہ کچھ مدت کے بعد کوئی ان کا بروز پیدا ہو۔ مگر تعجب یہ ہے کہ ایک غلط راستہ پر خود چل کر دوسروں کی تکمیل کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ قرآن کا صحیح مفہوم جناب پر ہی منکشف ہوا ہے اور اتنا بھی خیال نہیں کیا کہ اگر بروز محمدی حق تھا تو خلافت راشدہ کو ہی بروز محمدی تسلیم کیا جاتا اور بعد میں جب فتح العوج کا عہد آیا تھا تو ضرورت زمانہ کو ملحوظ رکھ کر اسی وقت ہی بروز محمدی کا ظہور ہوتا۔ کیا خدا تعالیٰ کو ترس نہ آیا کہ امت محمدیہ تو وسط زمانہ میں گمراہ ہو رہی ہو اور بروز محمدی کو روک دیا جائے اور جب اچھی طرح ستیاناس ہو گیا اور بقول جناب رشد و ہدایت کا زمانہ آیا تو خدا کو بھی بروز محمدی کی سوجھی۔ کیا یہی انصاف ہے جو مرزائی تعلیم پیش کر رہی ہے۔ دوسروں کو مخول کرنا ہی آسان ہے۔ اپنی کمزوری کو کمزوری ہی نہیں سمجھا جاتا۔

٢٩........ کہا جاتا ہے کہ جناب نے کسر صلیب کی اور قلمی جنگ کے ذریعہ عیسائی مذہب کے تمام اصول توڑ ڈالے۔ مگر اہل دانش کے نزدیک یہ نعرہ نہیں لگایا جاسکتا۔ بلکہ صرف ان لوگوں کے سامنے یہ آواز کسی جا سکتی ہے کہ جنہوں نے اسلامی واقعات اور اسلامی لٹریچر کو براہ راست نہیں دیکھا اور اگر دیکھا ہے تو انگریزی لٹریچر یا قادیانی تعلیم کے زیر اثر ہو کر دیکھا ہے۔ ورنہ اگر مخلی بالطبع ہو کر دیکھتے تو علامہ ابن قیم اور حافظ ابن تیمیہ کی تصانیف ہی کسر صلیب میں وہ

صفحہ ٢٧٦

منظر دکھاتیں کہ براہین احمدیہ کی کوئی ہستی باقی نہ رہتی۔ ان کے بعد القول الفصیح نوید جاوید، اظہار حق کا مطالعہ کرتے تو معلوم ہو جاتا کہ جناب ان کے سامنے طفل مکتب بھی نہ تھے۔ بعد میں اگر مولانا محمد قاسم مرحوم کے تصانیف پر نظر ڈالتے تو صاف بول اٹھتے کہ واقعی کسر صلیب میں کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ مگر مشکل یہ ہے کہ آج چشم بصیرت بند کر کے جناب کے غلط سلط اور طعن آمیز مضامین کو سمجھا جاتا ہے اور یقین دلایا جاتا ہے کہ بس کسر صلیب ان سے ہی ہوئی ہے۔ اس سے پیشتر نہیں حالانکہ نرا جھوٹ ہے اور صاف پردہ پوشی ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کو گھڑے کا مینڈک بنایا جا رہا ہے۔

میں جانا چاہئے تھا۔ مگر وہ نہیں مانتے تھے اس لئے ان کا عقیدہ معقول نہیں ہے۔ مگر جناب بھی تو موجودہ جسم کے قائل نہیں کہ یہی بعینہ دوسری دنیا میں موجود ہوگا۔ بلکہ آپ کا بھی تو مذہب یوں ہے کہ یہ جسم فنا ہو جاتا ہے اور ایک دوسرا جسم روح کو ملتا ہے۔ جس میں وہ ساکن ہو کر دوزخ یا جنت میں جاتا ہے تو حضرت مسیح کی روح بھی جب اس جسم عنصری کو چھوڑ چکی تھی تو اس کو بھی ایک قسم کا دوسرا جسم مل گیا ہوگا۔ جس کی وجہ سے اس کو عذاب کا احساس ہوتا رہا۔ اس لئے جناب سے کسر صلیب نہ ہوئی۔

مسئلہ مخدوش ہو جاتا ہے اور ایمان میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے تو جناب کی تعلیم سے بھی تو شرک کی بنیاد پڑ گئی ہے کہ خلیفہ محمود ”کان اللہ نزل من السماء“ بن گئے اور آپ اپنے مکاشفہ میں خدا کے اندر ایسے جذب ہو گئے کہ آپ کا نام ونشان تک نہ رہا۔ پھر آپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مجھ میں بروز نبوت محمدی ہوا ہے اور جب یہ خدشہ پیدا ہوا کہ ختم نبوت کا مسئلہ مخدوش ہوا جاتا ہے تو آپ نے کہہ دیا کہ میں خود محمد ہوں اور نبوت محمدی مجھ کے پاس ہی رہی۔ مگر اس تاویل کو کون عقل کا دشمن مان سکتا ہے۔ کیونکہ اگر چہ آپ محمد ہیں مگر محمد ثانی ہوں گے اوّل نہیں ہو سکتے۔ بہر حال یا تناسخ مان کر ایمان کمزور کرنا پڑے گا اور یا مسئلہ ختم نبوت پر ہاتھ صاف ہو جائے گا۔ اس لئے اگر جناب کے پہلے اسلام میں نقائص تھے تو آپ کے آنے پر اسی قسم کے اور نقائص پیدا ہو گئے ہیں۔

نزدیک کسوف و خسوف اگر صحیح طور پر ہوا تھا تو صرف آپ کے لئے نہ تھا۔ بلکہ بہائی مذہب بھی اس میں شریک کار ہے۔ عقلی دلائل بھی دیکھ لئے ہیں جو صرف اپنے ملفوظات پر ہی مبنی ہیں اور قرآنی دلائل سے بھی جناب کا مبلغ علم معلوم ہ اصول سے بھی نا قابل التفات ہے۔

تھا اور دوسرا گندم گوں۔ مگر عینی شہادت او نہ آپ گندمی مسیح تھے نہ سرخ مسیح بلکہ سفید میں“ کے آخری باب میں لکھ چکے ہیں کہ چار مسیح بنتے ہیں۔ دو گورے سوم سرخ اور مخلوط اللون ثابت کریں گے تو اہل اسلا خوشنما معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال یہ تحقیق بھی

ہے۔ ہاں جناب نے یہ افسانہ ضرور گھڑا ظہور مہدی ساتویں ہزار میں لکھا ہے اور آ تو محدث اور مسیح بھی بن گیا تو اخیر میں مہد انسان۔ اہل اسلام اسی طرح کی افسانہ ط مسلسل تعلیم اس معجون مرکب کی تصدیق نہ لارڈ کرزن کہلانے لگ جائے اور نہ ہی کو کا ارتکاب جائز سمجھیں اور یہ بالکل ظاہر مانتے ہیں کہ فسق و فجور کے وقت اس کا ظہو فسق و فجور نہ مٹا عیاشی اور بدمعاشی کی روز سے بھی اس کے زہریلے اثر کو دور نہ کر سکا دنیائے اسلام کو کیا فائدہ ہوا؟

احمد مرفوع، حبیب اللہ، ابناء فارس، صادق نام دیا ہے کہ املوا (نوٹ کرلو) زکریا ا مگر یہ جناب کے اپنے لفظ ہیں تو جب آم سے فائدہ ہوگا۔ ممکن ہے کہ خدا نے جناب

صفحہ ٢٧٧

دلائل سے بھی جناب کا مبلغ علم معلوم ہو چکا ہے۔ بہرحال قادیانی تعلیم اپنے ہی پیش کردہ تین اصول سے بھی ناقابل التفات ہے۔

تھا اور دوسرا گندم گوں۔ مگر عینی شہادت اور فوٹو بتا رہا ہے کہ جناب کا رنگ تو بالکل سفید تھا۔ اس لئے نہ آپ گندمی مسیح تھے نہ سرخ مسیح بلکہ سفید مسیح تھے۔ اس کے علاوہ آپ اپنی کتاب ”مسیح ہندوستان میں“ کے آخری باب میں لکھ چکے ہیں کہ مسیح کو گورا چٹا یعنی سفید رنگ لکھتے تھے تو اس حساب سے چار مسیح بنتے ہیں۔ دو گورے سوم سرخ اور چوتھا گندم گوں اور اگر جناب مسیح ناصری کو سفید اور سرخ مخلوط اللون ثابت کریں گے تو اہل اسلام بھی مسیح کا رنگ سرخ گندمی بتا دیں گے۔ جو عام طور پر خوشنما معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال یہ تحقیق بھی مشکوک ہے۔

ہے۔ ہاں جناب نے یہ افسانہ ضرور گھڑ لیا ہے کہ شخص واحد چودھویں صدی کے سر پر مجدد ہوگا اور ظہور مہدی ساتویں ہزار میں لکھا ہے اور مسیح کے سوا اور کوئی مہدی نہیں۔ اس لئے جب میں مجدد ہوا تو محدث اور مسیح بھی بن گیا تو اخیر میں مہدی اور نبی اللہ بن کر خدا میں جذب ہو گیا اور پھر انسان کا انسان۔ اہل اسلام اسی طرح کی افسانہ طرازی کو تحریف اور دجل کہا کرتے ہیں۔ ورنہ اسلام کی مسلسل تعلیم اس معجون مرکب کی تصدیق نہیں کرتی۔ نہ عقل مانتی ہے کہ ایک ہی شخص لارڈ جارج اور لارڈ کرزن کہلانے لگ جائے اور نہ ہی کوئی آسمانی نشان ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ایسے غیر معقول امور کا ارتکاب جائز سمجھیں اور یہ بالکل ظاہر ہے کہ ظہور مہدی سے عدل و انصاف پھیلے گا اور آپ بھی مانتے ہیں کہ فسق و فجور کے وقت اس کا ظہور ہوگا تو جب اس کے وجود سے دنیا کی اصلاح نہ ہوئی۔ فسق و فجور نہ مٹا عیاشی اور بدمعاشی کی روز افزوں ترقی میں فرق نہ آیا۔ بلکہ خود اپنے موضع قادیان سے بھی اس کے زہریلے اثر کو دور نہ کر سکا۔ تو بھلا آپ ہی فیصلہ کریں کہ آپ کے مہدی بننے سے دنیائے اسلام کو کیا فائدہ ہوا؟

احمد مرفوع، حبیب اللہ، ابناء فارس، صادق القدم، تالی وجیہ، منادی، داعی، سراج منیر اور اخیر میں حکم دیا ہے کہ املوا (نوٹ کر لو) اگر یہ الہامی لفظ ہیں تو سامعین بتائے جائیں کہ کس کے تھے اور اگر یہ جناب کے اپنے لفظ ہیں تو جب آپ نے درج کتاب کر لئے ہیں تو دوسروں سے یوں کہنا بے فائدہ ہوگا۔ ممکن ہے کہ خدا نے جناب سے نوٹ کر لینے کی ہدایت کی ہوگی۔ لیکن اس وقت یہ

صفحہ ٢٧٨

امر مشتبہ ہو جاتا ہے کہ یہ حدیث النفس ہے یا الہام۔ کیونکہ ایسا حکم کسی گذشتہ الہام میں نہیں پایا گیا۔ جو انبیاء علیہم السلام کو ہوئے ہیں کہ: ”املوا“ یہ کیسا کریہہ لفظ ہے۔ بہر حال اس قسم کے الہامات اور اس قسم کے کشوف محویت اگر صرف عیسائیوں کو لاجواب کرنے کے لئے لکھے ہیں تو دبی زبان سے گویا یہ اقرار ہے کہ ہم نے خود گھڑ لئے ہیں۔ ورنہ ان کی کچھ اصلیت نہیں اور اگر ان میں کچھ واقعیت بھی ہے تو نزول مسیح یا حیات مسیح سے جو شرک لازم آتا ہے۔ اس سے بڑھ کر موجب شرک ثابت ہو رہے ہیں اور جو کچھ اس قسم کے الفاظ مسلمانوں یا حضور ﷺ کے متعلق پیش کئے ان میں اس قسم کی محویت درج نہیں ہے۔ بلکہ ان میں یہ شان دکھائی گئی ہے کہ جو کارہائے نمایاں اہل اسلام سے یا خود حضور ﷺ سے ثابت ہوئے تھے۔ وہ سب خدائی تائید سے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپنے الہامات کو اسلامی وحی پر قیاس کرنا بالکل بے جا ہوگا اور بالخصوص جب کہ کشوف محویت کا ثبوت عہد رسالت میں نہیں ملتا تو وہ سب خودستائی پر محمول ہوں گے۔ یا ان صوفیوں کے کشوف میں درج ہوں گے کہ جن کو اہل اسلام نے شطحیات میں درج کر کے ناقابل التفات قرار دیا ہوا ہے۔

دی ہے اور کتاب کے باقی باب یا فصلوں کی کوئی تفصیل نہیں دکھائی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب پر نسیان غالب تھا۔ اس قسم کی غلطی جناب نے ایک اور رسالہ میں بھی کی ہے کہ جس میں ارتقاء انسانی کی دو قسمیں بتائی ہیں اور قسم اوّل میں ایک فحش منظر دکھا کر دوسری قسم کا نام تک نہیں لیا اور وہ فحش تشبیہ غالباً جناب نے کتاب اقدس سے حاصل کی ہوگی۔ جو ”ورقہ نوراء“ کے عنوان سے لکھی گئی تھی۔ ”براہین احمدیہ“ دیکھئے تو اور بھی تعجب آتا ہے کہ باب اوّل ہے تو باب دوم نہیں۔ اگر فصل اوّل کا عنوان دیا ہے تو فصل دوم ندارد اور جب ایسا نسیان تھا اور الہام بھی بھول جاتے تھے تو بتائیے باقی امور میں کس قدر بے اعتمادی ہوگی۔

کی ہے اور کلارک پر بھی بہت حملے کئے ہیں۔ مگر افسوس کہ آپ نے ان کے متعلق کوئی انذاری پیشین گوئی نہیں کی۔ شاید گورنمنٹ نے اجازت نہ دی ہوگی یا ان لوگوں نے منظوری نہ دی تھی۔ بہر حال یہ رنگ بالکل نرالا ہے کہ پیشین گوئیوں کا اجراء بھی مجسٹریٹ اور فریق مخالف کے قبضہ میں ہو۔ اس سے تو شیرازی نبوت ہی طاقتور نکلی کہ جس نے سلطان طہران کو بغیر منظوری کے ہلاک کر دیا تھا اور جو کچھ مقدمہ سے بری ہونے کے متعلق لکھا ہے وہ بھی تصنع اور تعریف نفس پر مشتمل ہے۔

صفحہ ٢٧٩

یا کسی ایسی طاقت کا اظہار ہے جو اندر ہی اندر کا کام کر رہی تھی۔ ورنہ عدالت میں کرسی ملنے یا نہ ملنے پر اظہار ملال یا اظہار خدا نمائی کا کوئی معنی نہ تھا۔

٣٨...... اپنی پیشین گوئیوں کی تکمیل کے لئے کئی عذر کئے ہیں کہ خدا مجبور نہ تھا۔ یا وہ مختصر تھیں ، مشروط تھیں ، تخلف وعید جائز ہوتا ہے یا فریق مخالف خوفزدہ ہو گیا تھا۔ مگر گذارش یہ ہے کہ جس قدر جناب کی پیشین گوئیوں میں زور دار اور معیار صداقت الفاظ کی بھرمار ہوتی ہے۔ کسی نبی کی پیشین گوئی میں نہیں۔ خود یونس علیہ السلام کے لفظ بالکل سادہ ہیں اور وہ اپنی صداقت کا معیار نہیں ٹھہراتے اور نہ ہی فریق مخالف سے یا اس وقت کی حکومت سے منظوری لے کر ان کا اجراء ہوا تھا۔ بلکہ شروع سے ہی خدا کی مرضی پر منحصر کر دیا گیا تھا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیشین گوئی کو اپنا اشتہار بنانا خاص جناب کے لئے ہی مخصوص تھا۔ فتح مکہ کی پیشین گوئی انشاء اللہ پر شامل تھی۔ مگر جناب کی کسی پیشین گوئی میں یہ شان نظر نہیں آتی۔ اس لئے تمام پیشین گوئیاں مشتبہ ہو چکی ہیں۔ اس سے تو بڑھ کر باب اور بہاء کی پیشین گوئیاں تھیں کہ فی الفور پوری ہو گئی تھیں۔

٣٩...... سات وجوہ سے مسیح کے ساتھ مماثلت جس تکلف سے پیدا کی گئی ہے۔ اس کی حقیقت سب پر عیاں ہے۔ ورنہ ابتدا ہی غلط ہے۔ کیونکہ مسیح پر قتل کا الزام عائد نہ تھا اور نہ ہی جناب کو تین روز کے لئے صلیب پر کھینچ کر کشمیر بھیجا گیا تھا اور نہ ہی دو ڈاکو آپ کے ہمراہ سزایاب ہوئے تھے اور عدالت کا باخبر ہونا یا کاغذات کا گم ہو جانا کوئی کرامت نہ تھی۔ بلکہ وہ اندرونی طاقت تھی کہ جس کا اظہار بارہا جناب نے کئی کتابوں میں کر دیا ہوا ہے۔

٤٠...... عیسائیوں کے مقابلہ پر یہودیوں کی طرف سے تین اصول پیش کئے ہیں۔ مسلسل تعلیم کی تصدیق ۔ عقل کی تصدیق اور آسمانی شہادت ۔ مگر قادیانی تعلیم بھی انہی تین اصول سے ناقابل عمل ثابت ہو رہی ہے۔ ورنہ آپ دکھائیں کہ اسلامی تعلیم میں کہاں پر بعثت ثانیہ کا ذکر ہے۔ کس نے لکھا ہے کہ مہدی اور مسیح موعود ایک ہیں اور دجال ایک جماعت کا نام ہے۔ جس کے دو حصے فلاسفر اور پادری ہیں۔ خدا کو حاضر و ناظر یقین کر کے یہ بتائیں کہ اہل سنت والجماعت میں سے کس نے حیات مسیح سے انکار کیا ہے۔ یا کس نے یہ جائز رکھا ہے کہ غیر کے کلام کو قطع و برید کر کے خود اس کی اپنی ذاتی رائے کے خلاف اتہام باندھنا بھی جائز ہے۔ یہ کہاں کا مسئلہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کی توہین کر کے اپنا تقدس بڑھایا جائے۔ یہ کس اسلام میں ہے کہ مدعی تقدس اپنے مخالفین کو چوہڑوں اور چماروں کی طرح فحش گالیاں دے کر مشتہر کرے۔ یا کس نے فتویٰ دیا ہے کہ الہام اور کشوف ایسے بھی گھڑے جائیں کہ جن کی نظیر ہمارے آقا جناب رسالت مآب ﷺ

صفحہ ٢٨٠

کے الہامات و کشوف میں نہ ملتی ہو۔ بلکہ فحش منظر اور شرکیہ یا حلولیہ تصویر پیش کرتے ہوں۔ اسلام میں کون سا الہام ہے کہ جس میں یہ بیان ہو کہ بجائے اس کے کہ خدا انسان میں جذب ہوتا ہوا دکھایا جائے۔ الٹا انسان کو خدا میں جذب اور فنا ہوتا ہوا پیش کیا گیا ہو۔ کس اسلام نے آپ کو بتایا ہے کہ مسیح کی قبر کشمیر میں ہے؟ اور کس اسلامی اصول سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ نبوت محمدیہ سدا گلاب کی طرح ہمیشہ پھول دیتی رہی۔ مگر نبوت کا پھول اس نے صرف چودھویں صدی میں ہی دیا تھا اور آئندہ کے لئے قدرت ثانیہ کے پھول دیا کرے گی۔ آپ کو کس نے بتایا کہ قرآن وحدیث کے وہ معانی گھڑ لینے بھی جائز ہیں کہ جن سے اسلامی اصول اور اسلامی مسلمات کی بیخ و بنیاد اکھاڑنے پر عمل کیا جاتا ہو۔ آپ کس دلیل سے کہتے ہیں کہ ظہور مہدی اور نزول مسیح کا مقام قادیان ہے اور کسی اسلامی تصریح سے آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ بروز اور رجعت کو یا تناسخ اور حلول کو اسلام میں جائز الوقوع سمجھا گیا ہے۔ منقولی طور پر ان کی سند پیش کرنے پر آپ کی تعلیمات قابل توجہ ہو سکتی ہیں۔ ورنہ عیسائیوں کی طرح آپ کی مسیحی جماعت بھی قعر ضلالت میں پڑی ہوئی نظر آتی ہے۔

اب عقلی دلائل کی رو سے تعلیم قادیانیہ یوں مخدوش ہے کہ ایسے الہام منوائے جاتے ہیں کہ جن میں خدا کی سیاہی کی رنگت بھی نمودار ہوتی ہو۔ مگر الواح موسیٰ کی طرح وہ تحریر ابھی تک محسوس نہ ہو کہ جس پر خدا کے دستخط کرائے گئے تھے؟ ہجرت کشمیر کا نظریہ ایسا بے بنیاد ہے کہ اس کی تائید سچ پوچھو تو کسی تاریخ سے اور کسی مذہب سے نہیں ملتی ۔سوائے اس کے کہ الہام سے ثابت ہو۔ واقع میں کوئی دلیل نہیں وہ زمین و آسمان کہاں ہیں جو مرزا قادیانی نے بنائے تھے اور وہ انسان کہاں رہتا ہے جو اس نئی دنیا میں رہنے کو گھڑا تھا۔ یہ کب قرین قیاس ہو سکتا ہے کہ ایک انسان عورت بن کر بچہ جنے تو پھر وہ بچہ خود ہی ہو۔ حیض کو کس خدا رسیدہ نے اپنے اوصاف میں درج کیا ہے؟ کسی نبی نے کہا ہے کہ میں خدا کی توحید و تفرید کی بجائے ہوں۔ بہر حال اس طرح کے نقائص کئی ایک مقامات میں موجود ہیں۔ جس کا جواب سوائے متشابہات منوانے کے کچھ نہیں دیا جاتا۔ اب آسمانی نشانات بھی سن لیجئے۔ نمایاں طور پر کوئی نشان پیدا نہیں ہوا۔ جناب کے مخالف متعدد تھے۔ جن میں سے جو مرگئے ہیں۔ ان کے متعلق پیشین گوئیوں کے بنڈل بھی کھول دیئے ہوئے ہیں اور جو ابھی تک زندہ ہیں اور خوشحال ہیں ان کے متعلق ایسی سر بستی اور خاموشی ہے کہ ان کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ طاعون منگوائی تھی منکروں کے لئے تو خود قادیان میں بھی آگئی۔ اس میں کوئی مخالف نہیں مرا۔ مرے بھی تو وہ غریب جن کو اتنا بھی معلوم نہ تھا کہ مرزا قادیانی کون تھے؟ زلزلے آئے تو پھر کسی متشدد اور مخالف کو تکلیف نہ پہنچی۔ غرق ہوئے تو وہ بیچارے جو کانگڑے اور مظفر پور میں رہتے تھے

صفحہ ٢٨١

اور جنہوں نے مخالفت کجا نام بھی جناب کا نہیں سنا تھا۔ کسوف وخسوف بھی رمضان شریف میں عادت الٰہی کے مطابق ہوا۔ حالانکہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایسا واقعہ ابتدائے آفرینش سے وقوع پذیر نہیں ہوا۔ غرضیکہ اس تعلیم کا یہ پہلو بھی عیسائی تعلیم کی طرح کمزور ہے۔

یہ ہے کہ کفارہ اگر صحیح تھا تو اب گناہ کیوں کئے جاتے ہیں یا وہ کیوں موجود ہیں اور یہ کہ اس وقت عیسائیت میں خدا نمائی موجود نہیں رہی۔ مگر یہ نہیں سوچا کہ کفارہ صرف اس شخص کے لئے ہے جو مسیحیت قبول کرتا ہے نہ کہ ساری دنیا کے لئے اور اس قسم کا مفہوم بھی کہیں اس کفارہ یا قربانی سے بڑھ کر نہیں ہے۔ جو اسلام میں بھی موجود ہے۔ اس لئے کسر صلیب کی ذمہ داری سے آپ عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ باقی رہا خدا نمائی کا معاملہ سو وہ بھی اظہر من الشمس ہے کہ نہ تو خدا نے آپ کو اتنی علمی طاقت بخشی تھی کہ جس سے آپ صحیح مطالب کو پہنچ سکے۔ یا اپنے آپ کو نظم ونثر میں مافوق العادۃ قادر الکلام ثابت کر سکتے۔ نہ ہی تاثیر بانفس آپ کے پاس تھی کہ آپ کے پاس رہ کر انسان خدا رسیدہ ہو جاتا۔ ورنہ آپ بتائیے کہ آپ کے کتنے مرید دست شفا رکھتے تھے۔ یا کس کس کو جناب نے مسیح یا حواریوں کی طرح صرف توجہ سے اچھا کیا تھا۔ دغا بازی کا ذکر آتا ہے تو پھر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ کبھی کسی مصلحت سے دعاء کو کسی دوسری صورت میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

بہر حال آسمانی نشان نمایاں طور پر تعلیم مرزائیہ میں نہیں پائے جاتے اور زیادہ سے زیادہ کچھ کچھ پیش از وقت معلوم کر لینا یا کچھ کچھ نفسانی یا روحانی تصرف کرنا۔ جس پر آپ کی تعلیم نازاں ہے۔ یہ سب کچھ ہر ایک محنتی آدمی بھی کر سکتا ہے جو آپ کی طرح کچھ عرصہ روزے رکھ کر گوشہ نشین رہا ہو اور اپنے تقدس کے عہد میں ہی لوگوں سے کنارہ کش ہو کر اپنے خیالات پر نگاہ دوڑاتا ہوا ایک ایک بات نوٹ کرتا رہا ہو۔ کیونکہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہر ایک شخص چوبیس گھنٹہ میں دو چار باتیں ضرور ایسی بھی کرتا ہے کہ اگر ان کو نوٹ کر لیا جائے تو ضرور اس کے تقدس کا سبب بن سکتی ہیں۔ لیکن نبی کی یہ شان نہیں کہ اگر کسی کو کرسی نہیں ملتی تو لگے نعرہ لگانے کہ لو صاحب اس کی ذلت اس لئے ہوئی کہ وہ ہماری ذلت کا خواہاں تھا۔ اس طرح کی انانیت کا بیمار لیل ونہار کے انقلاب کو اپنا زیر اثر سمجھتے ہوئے گمراہی کا باعث بن جاتا ہے۔ سو بالفرض اگر جناب واقعی اپنے اندر خدا نمائی کا اثر رکھتے تھے تو اس سے دوسروں کی پیاس کب بجھ سکتی تھی اور وہی اعتراض جو عیسائیوں پر کیا تھا اپنے اوپر لوٹ کر پڑتا ہے۔

صفحہ ٢٨٢

عین شباب میں ہوا تھا تو اب یہ اعتراضات غلط ہوگئے کہ خدا بول کے راستہ سے کیوں پیدا ہوا تھا۔ یا اس کو عوارض جسمانی اور حالات انسانی کیوں پیش آئے تھے وغیرہ وغیرہ۔ کیونکہ یہ اعتراضات اس صورت میں پڑ سکتے تھے کہ شروع سے ہی اقنومی اتحاد ہو چکا ہوتا۔ اس لئے یہاں بھی کسر صلیب کا معاملہ مخدوش رہ جاتا ہے۔ پھر یہ کہنا اور بھی بیجا ہے کہ فلاں سے اتحاد کیوں نہ ہوا۔ کیونکہ جناب خود مانتے ہیں کہ خدا اپنے کام میں کسی کے زیر اثر نہیں ہوتا۔ آپ کے الہام بھی ایسے ہی تھے کہ ان میں کئی باتیں مذکور نہ ہوتی تھیں تو آپ بھی یہی جواب دیتے تھے کہ خدا خود مختار ہے۔ ہمارے زیر اثر نہیں ہے۔ بہرحال عیسائی کہہ سکتے ہیں کہ عین اتحاد کے وقت مسیح کی زندگی بے لوث تھی۔ کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ اس وقت آپ سے کوئی جرم سرزد ہوا تھا۔ ہاں غلطیوں سے انسان خالی نہیں ہوتا۔ جس سے انسان کو تکلیف بھی ہوتی ہے اور جسمانی عوارض بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لئے خسرہ نکلنے کا اعتراض بے جا ہوگا اور چونکہ انسان میں انکساری کا مادہ بھی ہے۔ اس لئے مسیح کی لاعلمی کا اقرار بھی صحیح ہوگا اور چونکہ آپ ہمیشہ مسافر رہتے تھے۔ اس لئے آپ کا دوسرے ممالک میں یہ کہنا صحیح ہو گیا کہ مجھے سر رکھنے کو بھی جگہ نہیں ملتی اور یہ بھی یاد رہے کہ مسیحی تعلیم کا یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ نیکی کرنا بالکل بیکار ہے۔ بلکہ نیکی بدی کو صحیح سمجھ کر کفارہ صرف یہی معنی رکھتا تھا کہ: ”من قال لا اله الا الله دخل الجنة“ ورنہ اس اصول پر بھی یہی اعتراض عائد ہوں گے۔

سمجھ کر واقعات نہیں لکھے گئے۔ مگر مرزائی تعلیم بھی تو اس کمزوری سے خالی نہیں۔ اس میں بھی مسیح کو ہندوستان میں لاتے ہوئے کوئی عینی شہادت پیش نہیں کی۔ نہ ہجرت کشمیر میں قطع و برید سے احتراز کیا گیا ہے اور وفات مسیح میں تو اس قدر غلط سلط دلائل پیش کئے ہیں کہ جن کی تصدیق سوائے قطع و برید کے کہیں نہیں ملتی اور غلطی سے ایسے لوگوں کو اپنا ہم خیال پیش کیا ہے کہ جن کی نسبت تمام عالم اسلام گواہ ہے کہ وہ جناب کے برخلاف تھے تو اگر انجیل نویسوں نے واقعات قلمبند کرنے میں یا صحف سابقہ کی سند پیش کرنے میں غلطی کی ہے تو جناب کی تعلیم بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔

صفت نہیں یا یہ کہ واقعہ صلیب کے وقت دنیا کا منتظم کون تھا وغیرہ، بالکل کمزور طریق ہے۔ کیونکہ اناجیل کی رو سے خدا پر موت نہیں آئی تھی۔ صرف بشریت کی تکلیف سے الوہیت پر اعتراض پیدا نہیں ہوتا۔ اس لئے ایثار کا تعلق بشریت سے ہوگا اور آپ سے کسر صلیب کی شان ظاہر نہ ہوگی۔

صفحہ ٢٨٣

نہ تھی اور نہ ہی جناب نے اس وقت اپنی تعلیم کو پورے طور پر شائع کیا تھا۔ اس لئے حسن ظن کی بناء پر اگر آپ کی تعریف کی تو یہ صداقت کا معیار نہیں بن سکتی۔ کیونکہ بقول جناب بات وہی باوثوق ہوتی ہے جو عینی شہادت اور تعمق نظر ، سلامتی عقل ، صدق قول اور حافظہ کی سلامتی کے وقت پیدا ہو۔ ورنہ نہیں۔

١١...... حضرت عیسیٰ مسیح ابن مریم رسول اللہ اور صلیب

مذکور الصدر عنوان کا ایک رسالہ از تصنیف نواب اعظم یار جنگ مولوی چراغ علی مرحوم مطبوعہ نولکشور پریس لاہور ١٩١٠ء میں شائع ہوا تھا۔ جس میں سرسید کی تعلیم نے تمام وہ نقشہ واقعہ صلیب کے متعلق کھینچ کر پیش کیا ہے۔ جس پر آج مرزائی تعلیم وحی آسمانی کا رنگ چڑھاتی ہوئی دکھا رہی ہے۔ ناظرین آسانی کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب تک اس تعلیم سے نبی قادیان بے خبر یا محترز تھے۔ مسلمانوں کے ہم نوا رہے تھے اور حیات مسیح ونزول مسیح میں براہین کی جلد چہارم کے زمانہ تک ثابت قدم رہے۔ مگر بعد میں جب سرسید کی تعلیم زیر مطالعہ آئی یا اس نے تاثیر کرنا شروع کیا تو فوراً جناب بھی اس سے متفق ہو گئے۔ نہ یہ کہ خدا تعالیٰ نے الہامات تبدیل کر ڈالے تھے۔ ورنہ الہام الٰہی یقینی نہیں رہ سکتا اور یہ بھی لازم آتا ہے کہ الہام کرنے والا بھی علمی ترقی کرتا رہتا ہے اور اگر یوں کہا جائے کہ براہین میں جناب نے مولویانہ رنگ میں حیات مسیح کا قول کہا تھا تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ شرک اکبر ہے تو جناب کی زندگی پچاس سال تک مشرکانہ ثابت ہوتی ہے اور یہ قرین قیاس نہیں کہ پچاس سال تک خدا نے اپنے نبی کو شرک کی لعنت میں پڑا رہنے دیا ہو اور ذرہ رحم نہ آیا ہو کہ اس کو اپنی امت کے سامنے اپنی سابقہ عمر کس طرح بے لوث ثابت کرنے کا امکان باقی رہے گا۔ کیونکہ جب مسیح کی زندگی پر یہ اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ اناجیل کی رو سے شیطان نے آپ کو مغلوب کر لیا تھا تو یہاں براہین کی رو سے جناب پر بھی یہ اعتراض پڑتا ہے کہ جو شخص پچاس سال تک مشرک رہا ہو۔ وہ کیسے نبی بن سکتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے واقعات کو یہاں پر دہرایا جاتا ہے۔ مگر وہاں ابتدائی حالت تھی بچپن کا زمانہ تھا۔ دور ونزدیک کے حالات شرک آمیز تھے۔ مگر تاہم نور نبوت کی ہی یہ شان تھی کہ توحید میں کرید کرتے کرتے آخر مقصد پر پہنچ گئے اور بقاء علی الشرک کا زمانہ پیش نہ آنے پایا۔ لیکن یہاں معاملہ ہی دگرگوں ہے۔ اگر یہاں بھی نور نبوت کا امکان ہوتا تو براہین لکھتے لکھتے ہی وفات مسیح کا عقیدہ ظاہر کر دیتے یا بچپن سے ہی نور باطن آپ کو براہین میں شرک نویسی سے بچائے رکھتا۔ اس لئے مجبوراً کہنا پڑتا ہے کہ قادیانی نبوت

صفحہ ٢٨٤

بقول لاہور پارٹی صرف اعزازی نبوت تھی۔ ورنہ اصلی نبوت کا امکان نہ تھا اور اہل اسلام تو اعزازی نبوت سے بھی منکر ہیں۔ کیونکہ پچاس سالہ مشرک یا غلطی میں ڈوبا ہوا اس اعزاز کے لائق نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ مشہور ہے کہ: ”النبی نبی ولو کان صبیاً“

واقعہ صلیب اور قرآن

بہر حال نواب صاحب ”شبه لهم“ کا ترجمہ کرتے ہیں کہ ان کے آگے قتل کی صورت بن گئی تھی اور قتل کرنے والوں کو دھوکہ ہو گیا یا ان سے اصل بات پوشیدہ ہو گئی یا ان کو آپ کی موت کا تشابہ ہو گیا۔ حالانکہ وہ یقیناً نہیں مرے تھے۔ البتہ تین گھنٹے تک صلیب پر اذیت سے لٹکتے رہے اور پھر اتارے گئے۔ صلیب پر مصلوب ہونے سے جلدی کوئی نہیں مرتا۔ بلکہ کئی روز تک لٹکے رہنے دھوپ کی تپش اور بھوک کی شدت اور زخموں کی تکلیف سے البتہ مر جاتا ہے۔ یہ معاملہ حضرت سے نہیں ہوا اور جب ایک مقبرہ میں رکھے گئے تو ان کو کڑا بھی زندہ مگر غشی میں تھے۔ بعض مخلصین شب کو مقبرہ سے نکال کر گھر میں کہیں پوشیدہ لے گئے۔ پھر آپ بعض حواریوں کو زندہ نظر آئے۔ مگر یہود کی عداوت اور رومیوں کے اندیشہ سے کہیں دیہات میں اپنے قرابت داروں کے ساتھ رہتے تھے۔ پھر خدا نے ان کو اٹھا لیا۔ یعنی اپنی طبعی موت سے مر گئے اور خدا کے پاس چلے گئے اور اس کے داہنے ہاتھ جگہ پائی اور یہ دونوں باتیں مجازاً اور فضیلۃً کہی جاتی ہیں جو لوگ سمجھتے تھے کہ ہم نے ان کو مار ڈالا یا ان کی صورت کا دوسرا آدمی پکڑا گیا۔ قرآن مجید ان کو جھٹلاتا ہے کہ اصل بات ان سے چھپ گئی یا پوشیدہ کی گئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اضلال کا فتویٰ لگایا گیا تھا۔ جیسا کہ: ”یهود هٰذه الامة“ کر رہے ہیں اور ایسے شخص کی سزا سنگساری سے قتل کرنے کی تھی۔ (احبار ب ٢٤ آیت ١٦، استثناء ب ١٣ آیت ١٠) بلکہ بغاوت کا الزام بھی لگا دیا تھا۔ اس لئے سنگساری کی بجائے صلیب پر چڑھا کر مار ڈالنے کی سزا دی گئی اور عید فصح کے روز عیسیٰ بار بان کو چھوڑ دیا گیا اور آپ کو مقام جلجہ میں صلیب سے باندھا۔ جس پر کہ میخوں یا رسیوں سے مجرم کو باندھتے تھے۔ صلیب دو متقاطع لکڑیوں سے بنتی تھی اور درمیان ایک عمودی لکڑی مصلوب کے بیٹھنے کے لئے ہوتی تھی۔ ورنہ دھڑ لٹک کر گر جاتا تھا۔ معلوم نہیں کہ آپ کے پاؤں چھیدے گئے تھے یا باندھے گئے تھے۔ مگر پیاس کی شدت میں اسفنج کے ذریعہ سرکہ پلایا گیا۔ جس سے آپ کو بہت تسکین ہوئی اور یہ شربت حمیات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مصلوب تین چار روز کی بھوک پیاس کی شدت اور زخموں اور دھوپ کی تپش سے مر جاتا تھا اور ایسی کئی ایک مثالیں ہیں کہ مصلوب عذاب میں کئی روز زندہ رہا۔ (تفسیر خازن ج ٣ ص ١٥٧، ١٨٦٨ء) شاگرد اس وقت بھاگ گئے تھے۔ کچھ عورتیں اور

صفحہ ٢٨٥

روشناس دور کھڑے دیکھ رہے تھے۔ یوحنا پاس تھا۔ کیونکہ اس نے اس کی بات سن لی تھی۔ صلیب کا دن عید فصح کا دن تھا۔ یہ واقعہ دو پہر کو ہوا۔ اب سبت شروع ہونے کو تھا۔ جس میں بڑے اہتمام سے کام کرنا تھا اور یہ بھی حکم تھا کہ مصلوب کی لاش اسی دن دفن کر دی جائے۔ (استثناء ب ٢١ آیت ٢٢، یوشع ب ٨ آیت ٢٩) اور یہود سنگسار کر کے مردہ کو صلیب پر چڑھاتے تھے۔ مگر رومیوں نے یہ منسوخ کر دیا تھا۔ لیکن مصلوب مرے یا نہ مرے۔ مگر اسی دن اس کو صلیب سے اتارنا ضروری تھا۔ اس لئے نہ تو انہوں نے صلیب کے متعلق کچھ اہتمام کیا اور نہ بعد صلیب کے صلیب پر رہنے دیا۔ بلکہ درخواست کی کہ آپ کی ٹانگیں توڑ کر اتار لیں۔ کیونکہ مطلق صلیب پر کوئی مصلوب نہیں مرتا۔ مگر آپ کی ٹانگیں نہیں توڑیں۔ کیونکہ آپ مردہ معلوم ہوتے تھے۔ ”شـبـه لهـم “ اڑھائی گھنٹہ کے بعد برچھی مارنے سے معلوم ہوا کہ ابھی زندہ ہیں اور اسی وقت اتار لئے گئے اور یوسف ممبر آف کونسل سنہیڈریم لاش لے کر دفن کو لے گیا اور آپ کو لحد میں رکھا گیا اور دروازے پر ایک سل رکھ دی تاکہ پرسوں کو عطریات لا کے قبر میں رکھیں گے۔ عورتوں نے موقعہ دیکھ لیا۔ مگر سب یہودی اور رومی چلے گئے۔ اب دوسرے دن احمقوں کو سوجھی کہ کوئی دشمن لاش نہ نکال لے جائے۔ اس لئے انہوں نے اپنے سپاہی حفاظت کے لئے بٹھائے۔ اتوار کی صبح کو دو عورتیں آئیں تو حضرت کو نہ پایا تو حاکم کے دو تین فرستادوں نے کہا کہ تم زندہ کو مردوں میں ڈھونڈتی ہو اور انہوں نے پطرس یوحنا کو خبر کی کہ وہ جی اٹھے ہیں۔ تو تین دفعہ حواریوں کو زندہ نظر آئے۔ عیسائیوں نے آپ کے جلدی مرجانے اور جی اٹھنے کو معجزہ سمجھ لیا۔ حالانکہ کئی مصلوب علاج سے زندہ ہو چکے تھے۔ سندرکیس کو دارا نے صلیب دیا تھا۔ ترس کھا کر پھر فوراً بچا لیا۔ (تاریخ ہیروڈس ج ٥ ص ١٩٤) یوسیفس کہتا ہے کہ میں نے طیطوس کے عہد میں بہت سے آدمی صلیب پر دیکھے کہ جن میں سے تین آدمیوں کو اتروا کر علاج کیا گیا۔ مگر دو مر گئے اور ایک بچ گیا۔ (سوانح عمری خود ص ٧٥) یہود تو شاید اس دن صلب گاہ پر بھی حاضر نہ تھے۔ کیونکہ فصح کا دن تھا (خروج ب ١٢ آیت ١٦، لیویاں ب ٢٣ آیت ٥) اور عدالت میں بھی حاضر نہ تھے۔ بلکہ فطیری روٹیوں اور قربانیوں کی فکر میں تھے۔ باسالیدیان اور سرن تھیان اور کار پو کری تیان وغیرہ قدیم عیسائیوں کے نزدیک شمعون مصلوب ہوا تھا۔

مصلوب اور اس کی زندگی

برنباس لکھتا ہے کہ یہودا مصلوب ہوا تھا۔ مگر قرآن اس کی تکذیب کرتا ہے۔ پس جب صلیب پر آپ کی موت نہیں ہوئی اور قبر میں بھی نہ رہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ یوسف اور نقید موس ان کو اٹھا کر لے گئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بغیر غسل کے دفن کیا تھا۔ عیسائیوں نے

صفحہ ٢٨٦

کہا کہ قرآن واقعی تاریخ کے خلاف ہے۔ مگر قرآن نے کہا ہے کہ نہ تو عیسیٰ کو پتھراؤ کر کے یا تلوار سے مارا ہے اور نہ صلیب پر چڑھا کے مارا ہے۔ یہ کہ وہ صلیب پر چڑھائے ہی نہیں گئے۔ کیونکہ یہاں صلیبی موت کی نفی مراد ہے۔ مگر موت کی صورت بنادی گئی کہ مصلبین کو مردہ نظر آئے۔ کیونکہ میخوں کی اذیت سے غشی ہو گئی تھی۔ مگر چونکہ موسم اچھا تھا۔ ابر بھی تھا، دھوپ بھی نہ تھی اور جلدی اتار بھی لئے گئے۔ اس لئے زیادہ صدمہ نہیں پہنچا۔ حشویہ اور مفسرین نے لکھا ہے کہ دوسرے پر صورت القاء ہوئی۔ مگر اس طرح تو معاملات کا اعتبار ہی اڑ جاتا ہے اور اس وقت شبہ کا فاعل نہ مسیح بن سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ مشبہ بہ تھے اور نہ کوئی اور کیونکہ وہ مذکور نہیں۔ پس کسی اور کا ان کی جگہ مصلوب قرین قیاس نہیں۔ کیونکہ شمعون قرینی بعد میں عرصہ تک زندہ رہا اور عیسائیوں سے شریک کار رہا اور یہودا بھی بعد میں مرا۔ ”ماقتلوہ یقینا“ جس طرح قتل کا حق تھا۔ ایسا قتل نہیں کیا یا یقینا قتل نہیں کیا۔ کیونکہ تین گھنٹے صلیب پر موت کے لئے کافی نہ تھے۔ بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ یہ بات تشریف وتکریم کے لئے ہے۔ نہ یہ کہ در حقیقت بادلوں میں آسمان کو اڑتے ہوئے نظر آئے اور کسی آسمان پر جا بیٹھے۔ جس طرح ”انی ذاہب الی ربی اور من یخرج من بیتہ مهاجرا الی اللہ“ وارد ہے۔ بعد میں حضرت عیسیٰ یقینا مر گئے۔ کیونکہ یوں آیا ہے کہ: ”انی متوفیک“ اس کی تفسیر میں بہت الٹ پلٹ کیا گیا ہے۔ یعنی ”رافعك ومتوفيك“ مگر قرآن کی اصل عبارت یوں نہیں۔ شاید مفسرین کے کسی نئے قرآن خود ساختہ میں ہوگی۔ پھر فرمایا کہ: ”توفیتنی“ جب مجھے تو نے وفات دی تب تو ہی ان پر نگہبان رہا۔ ”الله يتوفى الانفس حين موتها“ پس ان کی وفات کی خبر بہت صاف ہے۔ مگر یہ بات کہ کب مرے کہاں مرے معلوم نہیں۔ جیسا کہ حضرت مریم کا حال پھر معلوم نہ ہوا۔ حالانکہ مسیح نے ان کو یوحنا کے حوالے کر دیا تھا اور دور کے دیہات میں چلے گئے تھے۔ بخاری کی ایک روایت جو کتاب ”بدأ الخلق باب ذکر الملائکہ“ میں لکھی ہے۔ اس میں ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام حضور ﷺ کو دوسرے آسمان پر ملے تھے۔ مگر یہ روایت بہت ہی مشتبہ ہے۔ ”هدبة ضعيف عند النسائى وهمام له وهم وخليفة يخطئ وسعيد يدلس كثيرا وهشام قد يدلس . وروى انس عن مالك بن صعصعة ففيها عنعنة وارسال . ولعل مالك مات قبل رواية عنه

(تقريب التهذيب لابن حجر العسقلانى، مطبوعه دهلی ١٢٧١ھ)

خوابی فیصلہ پر جرح

اسلام میں آج تک وہی فیصلہ چلا آتا تھا جو مورخ طبری اور برنباس نے کیا ہے۔ مگر

صفحہ ٢٨٧

سرسید کی پارٹی عیسائیوں کے پنجہ میں آگئی۔ انہوں نے اناجیل اربعہ کو قرآن سے مطابق کرتے ہوئے یہ نظریہ قائم کیا کہ ماصلبوہ کا معنی ہے کہ انہوں نے آپ کو صلیب پر نہیں مارا۔ حالانکہ کسی لغت سے یہ معنی ثابت نہیں ہوتا اور خود بھی مانتے ہیں کہ مصلوب زندہ بھی رہ سکتا ہے۔ تو ”مـــــــا صلبوہ“ کا ترجمہ ”ماقتلوہ علی الصلب“ کس طرح صحیح ہوا؟ اس کے بعد ”شبہ لہم“ کا ترجمہ ”اوقع الشبہۃ لہم“ چھوڑ کر مشبہ اور مشبہ بہ کے پیچھے پڑ گئے اور صاف راستہ چھوڑ کر یہ ترجمہ گھڑ لیا کہ مسیح مشبہ بالمقتول بنائے گئے۔ حالانکہ اس ترجمہ کا ثبوت منقولی طور پر کسی اسلامی تصریح سے نہیں دکھایا گیا۔ اخیر میں ”ماقتلوہ یقیناً“ کا معنی کر دیا ہے کہ وہ پورے طور پر اسے نہ مار سکتے تھے۔ تو پھر یہ کیا بات ہوئی کہ وہ پورے طور پر قتل نہ کر سکے۔ کیا مصلوب کو مقتول کہا جاسکتا ہے یا مصلوب کا میت ہو جانا بھی ضروری ہے۔ یوں کیوں نہیں کہتے کہ نواب صاحب کو یہ دھوکہ لگ گیا تھا کہ : ”ما قتلوہ“ کو ”ماصلبوہ“ سمجھنے لگ گئے تھے۔ حالانکہ دو سزائیں الگ الگ تھیں۔ قتل بالسیف اور صلب الی الموت مگر تحریف کی دھن میں یہاں پر دونوں کو ایک ہی سمجھ بیٹھے۔ ”رافعہ الیہ“ کا ترجمہ ”مہاجر الی ربی“ کا سہارا لے کر یوں کیا ہے کہ خدا نے آپ کو کسی گاؤں بھیج دیا تھا اور یہ نہ کیا کہ کسی آسمان پر بھیج دیا تھا۔ کیونکہ انگریز آسمان نہیں مانتے۔ حدیث بخاری کی باری آئی تو راوی کمزور کر دکھلائے اور یہ نہ سوچا کہ یہ حدیث بالفرض اگر ایک طریق سے کمزور ہے تو اس کے لئے اس قدر اور طریق بھی ہیں کہ سب کے ملانے سے تواتر تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر نوابی دماغ کو یہ تکلیف کب گوارا تھی کہ ایسی محنت میں پڑتے اور جب جاگیردار قادیان بعد میں جلوہ گر ہوئے تو آپ نے اس نظریہ پر اور بھی حاشیے چڑھا دیئے کہ مسیح کشمیر کو گئے تھے اور ان کی ہڈیاں نہیں توڑی گئی تھیں۔ ”ما صلبوہ“ اور سند پیش کرنے میں ایسی دور کی سوجھی کہ اندھے کو اندھیرے میں بھی نہیں سوجھتی۔ ذرہ انصاف نہیں کیا کہ اگر توفی بمعنی رفع جسمانی ہم پیش کرتے ہیں تو ہم پر کئی شرائط لگائے جاتے ہیں کہ جن کا خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ بعینہ یہ لفظ کسی دوسرے زندہ مسیح کے لئے استعمال ہوتا ہوا دکھاؤ۔ اب اپنی باری آئی تو صرف ایجاد بندہ ہی سند کافی سمجھی گئی۔ الغرض ہمیں یہ دکھانا منظور ہے کہ وفات مسیح کا نظریہ قائم کرنے میں نواب صاحب کو سبقت حاصل ہے۔ جنہوں نے جناب سرسید سے یہ فیض حاصل کیا تھا اور چونکہ جناب بھی جاگیردار تھے۔ اس لئے ہم جنس کا نظریہ وحی کے رنگ میں دکھاتے تھے۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ کسر صلیب میں پہلے کس نے کوشش کی؟ چودھویں صدی کا مجدد نواب صاحب یا سرسید ہوئے یا جاگیر دار صاحب قادیان؟ اور ہمیں یہ بھی پوچھنا ہے کہ پیٹ چاک کرنے کے بعد مسیح کیسے جانبر ہو سکے

صفحہ ٢٨٨

تھے ۔ جب کہ وہ پہلے ہی نیم مردہ ہو کر سرد ہوچکے تھے اور دو دن تک بند کمرہ میں پڑے رہے تھے۔ نہ پیٹ سیا گیا نہ اس پر پٹی لگائی گئی اور نہ کوئی خوردونوش کا انتظام کیا گیا؟ اس لئے ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ اگر بقول جناب مسیح علیہ السلام صلیب پر نہیں مرتے تھے تو بعد میں پہلو شگاف زخم سے ضرور مر چکے تھے۔ مگر آپ کہتے ہیں کہ تیسرے روز صبح ایک جلسہ میں بھی حاضر ہو گئے تھے تو کیا آپ کوئی خواب سنا رہے ہیں یا کوئی افسانہ لکھ رہے ہیں۔ محقق بن کر ایسی غلطی 'لاحول ولا قوۃ الا بااللہ“

١٢....... سیرۃ المہدی مرزا بشیر احمد ولد مرزا غلام احمد قادیانی

سے چند تاریخی نوٹ معہ دیگر رسائل قادیانیہ و تاریخیہ

مرزا قادیانی کے اسلاف واقارب

آپ کے حقیقی ماموں جمعیت بیگ کے دماغ میں کچھ خلل آگیا تھا۔ اس کی لڑکی حرمت بی بی سے آپ کا نکاح ہوا۔ جس کے بطن سے مرزا سلطان احمد و فضل احمد پیدا ہوئے اور اس کا لڑکا علی شیر احمد بیگ کی بہن حرمت بی بی سے بیاہا گیا اور ایک لڑکی عزت بی بی پیدا ہوئی۔ جو فضل احمد کے نکاح میں آئی۔ سلطان احمد کی پہلی بیوی ائمہ ضلع ہوشیار پور کی تھی۔ جس سے عزیز احمد پیدا ہوا۔ اس کی زندگی میں ہی دوسری شادی خورشید بیگم بنت امام الدین سے کر لی تو پہلی بیوی فوت ہو گئی۔ آپ کی دادی کے دماغ میں خلل آ گیا تھا۔ کیونکہ بڑی عمر کی تھیں اور جناب نے اسے دیکھا بھی تھا۔ مرزا غلام قادر کی اہلیہ طائی حرمت بی بی کے نام سے مشہور تھی اور اپنے شوہر سے بڑی تھی۔ پھر جناب سب سے بڑے تھے۔ غلام مرتضیٰ کے ہاں پہلے لڑکا ہو کر مر گیا۔ پھر مراد بی بی پیدا ہوئی۔ پھر غلام قادر پھر دو لڑکے پیدا ہو کر مر گئے۔ پھر پانچ سال بعد ترس ترس کر جناب پیدا ہوئے تو توام تھے اور توام جنت مر گئی۔ منتیں مان کر آپ کی پرورش ہوئی۔ راجا تیجا سنگھ بٹالوی کو پھوڑا ہوا تو غلام مرتضیٰ کے علاج سے تندرست ہوا تو اس نے شتاب کوٹ اور حسن پور (حسن آباد) جو آپ کی پرانی ریاست میں شامل تھے۔ آپ کو انعام دیئے۔ مگر آپ نے انکار کر دیا کہ ہتک سمجھتا ہوں۔ آپ وسیع الاخلاق تھے۔ جوتی ولد دولہ بیمار ہوا تو گو اس نے آپ کے خلاف شہادت بھی دی تھی۔ مگر اس کا علاج کیا۔ آپ کا تخلص تحسین تھا۔ آپ کا شعر ہے۔

اے وائے بما کہ ماچہ کردیم
کردیم ناکردنی ہمہ عمر
صفحہ ٢٨٩
درد سر من مشو طبیبا
ایں درد دل است ودرد سر نیست

سلطان احمد نے آپ کا کلام جمع کر کے ایڈیٹر پنجابی اخبار کو دیا تھا۔ جو اس نے ضائع کر دیا۔ غلام قادر کا تخلص مفتون تھا۔ ایک ایرانی آیا تو اس نے کہا کہ غلام مرتضےٰ کا کلام فصیح ہے۔ بٹالہ کے ایک ہندو حجام نے آپ سے کہا کہ میری معافی ضبط ہوگئی ہے۔ آپ ایجڑٹن صاحب فنانشل کمشنر سے سفارش کریں تو آپ لاہور گئے اور اس وقت شالامار باغ میں جلسہ ہو رہا تھا تو جلسہ ختم ہونے پر آپ نے حجام کا ہاتھ، صاحب کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ لاج رکھو۔ تو اس نے معافی واپس کر دی۔ رابرٹ کسٹ صاحب کمشنر کی ملاقات کو گئے تو دوران گفتگو میں اس نے پوچھا کہ قادیان سے سری گوبند پور کتنا دور ہے تو آپ نے خوداری میں کہا کہ میں ہرکارہ نہیں ہوں اور ناراض ہو کر رخصت ہونا چاہا۔ مگر صاحب نے بٹھا لیا۔ بٹالہ میں غلام قادر نے ایک برہمن پٹواری کو مارا تو ڈیوس صاحب مہتمم بندوبست نے ایک سو روپیہ جرمانہ کر دیا۔ آپ امرتسر میں تھے خبر ہوئی تو ایجڑٹن صاحب کے پاس جا کر جرمانہ معاف کرا لیا۔ غلام قادر جب پولیس میں ملازم تھا تو سمیٹ صاحب ڈپٹی کمشنر نے کسی بات پر اس کو معطل کر دیا۔ پھر جب صاحب بہادر قادیان آئے تو اس نے خود ہی کہہ دیا کہ ہم نے آپ کے لڑکے کو معطل کر دیا ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر قصور ثابت ہے تو ایسی سزا دینی چاہئے تھی کہ شریف زادے ایسا کام نہ کریں۔ صاحب بہادر نے سمجھا کہ جب باپ ایسا مربی ہے تو سزا کی ضرورت ہی کیا ہے۔ پھر اس کو دوبارہ بحال کر دیا۔ غلام قادر ضلع کے سپرنٹنڈنٹ بھی رہے ہیں۔ نہر میں بھی کام کیا تھا۔ ٹھیکہ داری بھی کی تھی۔ اور چھینہ کے پاس ایک پل کا ٹھیکہ بھی لیا تھا۔ مہاراجہ شیر سنگھ کاہنواں کے چھنب میں شکار کھیلنے آیا تو آپ بھی ہمراہ تھے۔ تو راجہ کے ایک ملازم جولاہے کو زکام ہو گیا۔ آپ نے دو تین پیسہ کا نسخہ لکھ دیا تو اسے آرام ہو گیا۔ پھر مہاراجہ کو زکام ہو گیا تو آپ نے قیمتی نسخہ لکھا تو راجہ نے کہا کہ جولاہے کو دو پیسے کا نسخہ کیوں لکھ دیا تھا اور مجھے کیوں اتنا قیمتی نسخہ دیا ہے۔ تو آپ نے کہا کہ جولاہا راجہ نہیں ہے۔ راجہ نے خوش ہو کر سونے کے کڑے انعام دیئے۔ مرزا امام الدین نے آپ کے قتل کی ٹھان لی اور سوچیت سنگھ کو اس کام کے لئے مقرر کر دیا۔ مگر جب کبھی دیوان خانہ کی دیوار پھاندتا تو اس وقت اسے دو آدمی پہرے دار نظر آتے۔ اس لئے کامیاب نہ ہوسکا۔ (شاید فرشتے تھے) آپ کا روزمرہ میں یہ تکیہ کلام تھا۔ ”ہے بات کہ نہیں“ اور سنائی یوں دیتا تھا ”ہے با کہ نہیں“ ایک بغدادی مولوی آیا تو آپ نے اس کی کمال خدمت کی۔ مگر اس نے کہا کہ تم نماز نہیں پڑھتے۔ آپ نے کمزوری کا اعتراف

صفحہ ٢٩٠

کیا۔ تکرار کے بعد مولوی نے کہا کہ تمہیں خدا دوزخ میں ڈالے گا۔ تو آپ نے جوش میں آ کر کہا کہ تم کو کیا معلوم مجھے کہاں ڈالے گا۔ میں خدا سے بدظن نہیں ہوں۔ تم مایوس ہو تو ہو مگر میں مایوس اور بداعتقاد نہیں ہوں۔ میری عمر ٧٥ سال کی ہے۔ خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی تو کیا اب مجھے دوزخ میں ڈالے گا۔ آپ کی اہلیہ فوت ہو گئی تو آپ نے گھر آنا چھوڑ دیا۔ صرف ایک دفعہ اپنی لڑکی سے ملنے آئے تھے۔ آپ نے علم طب حافظ روح اللہ باغبانپوری سے سیکھا تھا۔ پھر دہلی جا کر تکمیل کی تھی۔ آپ کی کتابیں پٹاروں میں تھیں۔ جن میں سے خاندانی تاریخ بھی درج تھی۔ سلطان احمد باپ دادا دونوں کی کتابیں چرا لے جاتا تھا۔ دادا کہتے کہ کتابوں میں چوہا لگ گیا ہے۔ غلام قادر کی شادی دھوم دھام سے ہوئی۔ ٢٢ طائفے ارباب نشاط کے جمع تھے۔ مگر مرزا قادیانی کی شادی سادگی سے ہوئی۔ آپ کی اہلیہ بڑی مہمان نواز تھی اور آپ نے آخری عمر میں جہاں بڑی مسجد ہے اور مسجد بنانے کا ارادہ کیا۔ اس جگہ سکھ کارداروں کی حویلی تھی۔ وہ نیلام ہوئی تو ضد میں آ کر دوسروں نے قیمت بڑھادی۔ مگر آخر سات سو روپے پر آپ نے ہی خرید کر لی۔ جو اس وقت کی قیمت سے زیادہ نہ تھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی ممانی (سلطان احمد کی نانی) مسمات چراغ بی بی جناب سے بہت محبت کرتی تھی۔ باقی سب مخالف تھے۔ کہتی تھی کہ لوگ غلام احمد کو کیوں بددعائیں دیتے ہیں۔ اسے تو میری چراغ بی بی نے منتیں مان کر ترس ترس کر پالا تھا۔ قادیان میں ہیضہ پھوٹا تب مرزا غلام مرتضیٰ بٹالہ میں تھے۔ جب آئے تو چوباروں میں کچھ کیس ہو چکے تھے۔ آپ نے ان کو تسلی دی اور مٹی کے بڑے بڑے برتنوں میں آملہ کشتہ اور گڑ یا نمک ڈلوا دیا کہ جو چاہے نمکین پیئے اور جو چاہے شیریں تو ہمیشہ جاتا رہا۔ ہاکو و ناگوہر والوں کی ماں لاڈو آپ کی دایہ تھی۔ مرزا سلطان احمد و عزیز احمد کو بھی اسی نے ہی جنایا تھا۔ ایک دفعہ آپ نے اس سے اپنی پیدائش کی شہادت بھی لی تھی۔ ایک عورت پس گئی تو اسی سے جنی تھی۔ دوسرے نکاح کے وقت سے اس کو گھر نہیں آنے دیا۔ کیونکہ اس پر کچھ شبہ پیدا ہو گیا تھا۔ عزیز احمد کو اس نے جنایا تھا تو اسے خارش تھی۔ عزیز احمد کو بھی خارش ہو گئی۔ غلام قادر کے گھر آہستہ آہستہ سب کو ہو گئی۔ آپ کے گھر بھی آ گئی اور آپ کو بھی ہو گئی۔ آپ کی دوسری بیوی کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔ مہر ایک سو روپیہ مقرر ہوا تھا۔ اس کا والد میر نواب ناصر ہیں۔ جو خواجہ میر درد صاحب دہلوی کی اولاد ہیں۔ محکمہ انہار پنجاب میں ملازم تھے۔ ٢٥ سال پنشن لیتے رہے۔ شروع میں کچھ مخالف تھے۔ مگر بعد میں داخل بیعت ہو گئے تھے۔ مرزا غلام مرتضیٰ صوبہ کشمیر میں صوبہ دار تھے۔ گھر نقدی بھیجتے تھے تو کسی کی گدڑی میں سی کر روانہ کرتے تھے۔ وہ آتا تو گھر گدڑی دے دیتا۔ گھر والے اسے خالی کر

کے واپس کر دیتے۔ جناب کی والد مرزا غلام قادر لاولد مر گئے تو اپنی مرزا غلام مرتضیٰ نے اپنی زمین میں آباد کرائے تھے۔ ایک مشرقی طرف غیر کے قبضہ میں چلا گیا تھا۔ مگر اب شریف احمد یکساں قابض ہیں اور سلس علم کے لئے دہلی گئے تو ان کا مراس آپ کھا رہے تھے تو اس نے کہا کہ پھینک دی۔ جو اس کے ناک پر لگی روپیہ کمایا تھا جو قادیان کی جائیداد کہ اتنے روپے سے تو سو گنا زیادہ پرانے جدی حقوق ہاتھ سے نہ جا تھے۔ واقعی آپ کے بزرگ عہد با دیہات بطور ریاست یا جاگیر کے رنجیت سنگھ کے عہد میں جاگیر کا کچھ سابقہ ضبط ہو گئے۔ مقدمات کے ب تسلیم کئے گئے اور دو دیہات پر حقو ہاتھ سے جائیداد کا ایک بڑا حصہ م تھا۔ مگر اب وہ بھی واپس آ گیا ہے نے فرمایا تھا کہ بھائی صاحب مقد آخر ڈگری ہو گئی تو کہنے لگے ۔’ قبضہ پھر بھی نہ دیا اور اسی حالت میں آپ نے فرمایا کہ قبضہ دے دو تو جون ١٨٧٦ء میں وفات پائی۔ وفات تقریباً ٥٥ سال کی عمر میں ١٨٣٩ء ایک مشکوک امر ہے۔ ک

صفحہ ٢٩١

کے واپس کر دیتے۔ جناب کی والدہ چراغ بی بی والد صاحب سے پہلے ہی وفات ہوچکی تھی۔ مرزا غلام قادر لاولد مرگئے تو اپنی تمام جائیداد اپنے بھتیجے مرزا سلطان احمد کے نام کر گئے۔ مرزا غلام مرتضیٰ نے اپنی زمین میں دوگاؤں اپنے دونوں بیٹوں غلام قادر اور غلام احمد کے نام پر آباد کرائے تھے۔ ایک مشرقی طرف قادر آباد اور دوسرا شمال کی طرف احمد آباد جو چالیس سال تک غیر کے قبضہ میں چلا گیا تھا۔ مگر اب پھر واپس آگیا ہے۔ جس پر تینوں بھائی مرزا محمود، بشیر اور شریف احمد یکساں قابض ہیں اور سلطان احمد کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ مرزا غلام مرتضیٰ تحصیل علم کے لئے دہلی گئے تو ان کا مراسی بھی ساتھ ہی تھا۔ فاقہ آیا تو کسی نے ایک سوکھی چپاتی دی۔ آپ کھا رہے تھے تو اس نے کہا کہ ’’مرزا جی ساڈا وی دھیان رکھنا‘‘ آپ نے وہی چپاتی اس پر پھینک دی۔ جو اس کے ناک پر لگی اور خون نکل آیا۔ آپ نے ملازمت کشمیر وغیرہ سے ایک لاکھ روپیہ کمایا تھا جو قادیان کی جائیداد کے حقوق مالکانہ قائم رکھنے پر خرچ کر دیا۔ مرزا قادیانی کہتے تھے کہ اتنے روپے سے تو سوگنا زیادہ جائیداد خریدی جاسکتی تھی۔ مگر ان کو یہ خیال تھا کہ قادیان کے پرانے جدی حقوق ہاتھ سے نہ جائیں۔ کیونکہ قادیان کی ملکیت کو ریاست سے بھی اچھی جانتے تھے۔ واقعی آپ کے بزرگ عہد بابری میں ہندوستان آئے تو قادیان اور کئی میل تک اردگرد کے دیہات بطور ریاست یا جاگیر کے ہمارے قبضے میں آئے۔ رام گڑھیوں کی دست اندازی کے بعد رنجیت سنگھ کے عہد میں جاگیر کا کچھ حصہ پھر واپس ملا۔ مگر حکومت انگریزی کی ابتداء میں کئی حقوق سابقہ ضبط ہو گئے۔ مقدمات کے بعد صرف قادیان اور قریب کے تین دیہات پر حقوق تعلقہ داری تسلیم کئے گئے اور دودیہات پر حقوق مالکانہ اب تک قائم ہے۔ ہاں درمیان میں مرزا غلام قادر کے ہاتھ سے جائیداد کا ایک بڑا حصہ مرزا اعظم بیگ لاہور کے خاندان کے پاس ٣٥ برس تک چلا گیا تھا۔ مگر اب وہ بھی واپس آگیا ہے۔ مرزا غلام قادر اسی صدمہ سے دو سال بیمار رہ کر مر گئے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ بھائی صاحب مقابلہ نہ کرو۔ مگر وہ نہ رکے اور چیف کورٹ تک جھگڑتے چلے گئے۔ آخر ڈگری ہو گئی تو کہنے لگے۔ ’’لے غلام احمد جوتوں کہندا سی اوہوا ہی ہویا اے‘‘ مگر فریق مخالف کو قبضہ پھر بھی نہ دیا اور اسی حالت میں مرگئے۔ سلطان احمد کو جب ان کا ترکہ ملا۔ کیونکہ یہ بھتیجا تھا تو آپ نے فرمایا کہ قبضہ دے دو تو اس نے دے دیا۔ مرزا غلام مرتضیٰ نے ٨٠ برس سے اوپر عمر پا کر جون ١٨٧٦ء میں وفات پائی۔ آپ کی ایک تحریر کے مطابق ٢٠ اگست ١٨٨٣ء کو غلام قادر کی وفات تقریباً ٥٥ سال کی عمر میں ١٨٨٣ء کو واقع ہوئی تھی۔ آپ کی تاریخ پیدائش ١٨٣٨ء یا ١٨٣٩ء ایک مشکوک امر ہے۔ کیونکہ سکھوں کے زمانے میں ریکارڈ نہ تھا۔

(براہین احمدیہ حصہ پنجم

صفحہ ٢٩٢

ص ١٩٣) آپ پانچ بہن بھائی تھے۔ سب سے بڑی بہن مراد بی بی تھی۔ جس کی شادی محمد بیگ سے ہوئی۔ کسی بزرگ نے خواب میں اس کو ایک تعویذ دیا تھا۔ بیدار ہوئی تو ہاتھ میں بھوج پتر پر سورۂ مریم لکھی ہوئی موجود تھی۔ اس سے چھوٹے غلام قادر تھے۔ ان سے چھوٹا ایک اور لڑکا تھا جو بچپن ہی میں مر گیا اور اس سے چھوٹی جنت بی بی تھی جو جناب کے ساتھ توام پیدا ہوئی اور جلد مرگئی تھی اور سب سے چھوٹے آپ ہی تھے۔ مرزا گل محمد متوفی ١٨٠٠ء نے جاگیر کا بڑا حصہ بچائے رکھا تھا۔ مگر مرزا عطاء محمد سے رام گڑھیوں نے ساری جاگیر چھین لی تھی تو آپ بیگو وال ریاست کپور تھلہ میں چلے گئے اور چند سال بعد زہر سے مارے گئے اور مرزا غلام مرتضیٰ آپ کا جنازہ قادیان میں لائے تو سکھوں نے مزاحمت کی۔ مگر عوام کی ہمت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ رنجیت سنگھ کے بعد رام گڑھیوں کا زور ٹوٹا اور سب جگہ پر ان کا قبضہ نہ رہا تو مرزا غلام مرتضیٰ نے کچھ حصہ فوراً واپس لیا اور واپس قادیان میں آ بسے اور آپ نے اپنے بھائی غلام محی الدین کی معیت میں رنجیت سنگھ کی کئی فوجی خدمات بھی سرانجام دیں اور جب سکھ حکومت کا خاتمہ ہوا تو قلعہ پسراواں میں دونوں بھائی قید کئے گئے اور انگریزوں نے جائیداد ضبط کر کے سالانہ پنشن مقرر کر دی جو مرزا غلام مرتضیٰ کی وفات پر ١٨٠ روپے تک رہ گئی تھی اور مرزا غلام قادر کی وفات پر بند ہو گئی۔ آپ نے برادری کو جائیداد واگزار کرانے کے لئے بہت کچھ کہا۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ آخر آپ نے کچھ جائیداد واپس کرائی اور منصرم بن گئے اور قبضہ کر لیا۔ باقی رشتہ داروں کو آمد سے حصہ رسدی ملتا تھا۔ یہ ملکیت پانچ حصوں میں تقسیم ہوئی۔ دو حصے مرزا جیلانی کی اولاد کو ملے۔ دو گل محمد کی اولاد کو اور ایک حصہ مرزا غلام مرتضیٰ کو بطور منصرم ملا تھا۔ جو ان کی اولاد پر تقسیم ہوا۔ مگر اس وقت صرف نظام الدین کا ایک لڑکا گل محمد زندہ ہے۔ جو بیعت میں داخل ہو چکا ہے۔ باقی سب کی اولاد نہیں رہی اور الہام پورا ہوا کہ: ”ینقطع من ابائک و یبدأ منک“ ہمیشہ سے آپ کا خاندان طبابت میں مشہور رہا ہے۔ مرزا محمود کو بھی جناب نے تعلیم طب کی ہدایت کی تھی۔ مگر کسی نے بھی اس سے کچھ نہیں کمایا۔ آپ کی والدہ چراغ بی بی ایمہ ضلع ہوشیار پور کی تھی۔ مرزا غلام قادر کی ایک لڑکی عصمت تھی اور ایک لڑکا عبدالقادر۔ مگر دونوں بچپن میں ہی مر گئے تھے۔ آپ کو عصمت کے ساتھ محبت تھی۔ اس لئے آپ نے اپنی لڑکی کا نام بھی عصمت ہی رکھا۔ آپ کے پہلے نکاح سے فضل احمد عین شباب میں ہی پیدا ہو گیا تھا۔ پھر سلطان احمد پیدا ہوا دوسرے نکاح سے بالترتیب یہ اولاد پیدا ہوئی۔ عصمت، بشیر احمد، بشیر الدین محمود، شوکت بی بی، بشیر احمد، شریف احمد، مبارکہ بیگم، مبارک احمد، امۃ النصیر، امۃ الحفیظ ۔ ریویو مئی ١٩٣٣ء میں مسٹر گوہر بی اے نے آپ کا شجرہ نسب یوں بیان کیا ہے کہ: ”ایرو

صفحہ ٢٩٣

مجی برلاس، فارس کا باشندہ کثیرالاولاد بقول شخصے ٢٩ بیٹوں کا باپ تھا۔ اس کے بیٹے "سوغنجن" کے ہاں "قراچار" پیدا ہوا اور اس نے چنگیزی حملہ کے وقت فارس سے نکل کر توران کو اپنا وطن بنالیا۔ اس کی قابلیت دیکھ کر چنگیز خان اسے اپنا ابن عم کہا کرتا تھا۔ بقول شخصے چھٹی صدی ہجری میں مسلمان ہوا اور اپنی قوم برلاس کا قابل قدر رہنما اور چغتائی خاندان کا داماد اور وزیر تھا۔ چنگیز خان چغتائی کے مرنے پر حسب وصیت حکمران ہو گیا۔ اس وقت اس کی عمر ٨٠ سال تھی اور یہ ٦٥٢ھ کا زمانہ تھا۔ اس کا بیٹا انگیل پیدا ہوا اور اس کا ایلنگیر اور اس کا برکل جس کے دو بیٹے پیدا ہوئے۔ اول طراغائی امیر تیمور لنگ کا باپ، دوم حاجی برلاس جو آپ کے خاندان کا مورثِ اعلیٰ ہے۔ یہ سارا خاندان برلاس کہلاتا تھا۔ مگر جب تیمور خضر خواجہ شاہ مغل کا داماد مقرر ہوا تو اس وقت سے گورگاں یعنی داماد کے لقب سے مشہور ہو گیا۔ ایروچی پارسیوں کا نام ہے جو بلاشبہ فارسی لفظ ہے اور اس لفظ سے ہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ خاندان دراصل فارسی ہے۔ تیمور کی پانچویں پشت میں بابر تھا اور حاجی برلاس حاکم کش کی چھٹی پشت میں مرزا ہادی ہوا ہے جو عہد بابری میں سمرقند سے نکل آیا تھا اور قادیان کو آباد کیا اور مرزا مشہور ہوا۔ کیونکہ یہ خاص فارسی نام اس کے آباؤ اجداد سے اس کو حاصل ہو چکا تھا اور لفظ میرزا اصل میں امیر زادہ کا اختصار ہے۔ مغلوں کی سلطنت اس وقت سب سے بڑی سلطنت تسلیم کی جاتی تھی اور برلاسی و تیموری خاندان نے ان کے عہد میں بڑی فوقیت بھی حاصل کر لی تھی۔ مگر اپنا لقب مرزا ہی رکھا اور اپنے آپ کو خان کے لقب سے کبھی بھی معنون نہ کیا۔ کیونکہ یہ لقب خاص مغلوں کے لئے مخصوص ہو چکا تھا۔ مگر عوام الناس میں وہ دونوں قومیں مغل اور خان ضرور مشہور ہو گئیں۔ کیونکہ مغلوں کی ان سے گہری رشتہ داریاں اور شدید تعلقات قائم ہو چکے تھے اور اس وجہ سے بھی کہ خان کا لقب سلطانی اعزاز اور فخریہ نشان سمجھا جاتا تھا تو جس طرح پنجاب میں ایک شخص غیر سید سادات سے تعلق پیدا کر کے سید کہلاتا ہے۔ اسی طرح مرزائیوں نے مغلوں سے نسبی تعلقات پیدا کر کے اپنے آپ کو مغل اور خان کہلانا پسند کر لیا ہے۔ مگر تاہم اپنی اصلیت بتانے کو مرزا کا لفظ ترک نہیں کیا اور خود مرزا کا خطاب ایسا ہر دلعزیز تھا کہ تیموریہ خاندان کی تقلید میں مغل بھی مرزا کہلانے لگے۔ اگر چہ وہ ترک یا تاتار النسل کے تھے۔ بعد میں مرزا کا خطاب خان کی طرح اعزازی ڈگری بن کر بھی تقسیم ہونے لگا اورنگزیب نے جب راجوری خاندان کشمیر میں شادی کی تو ان کو مرزا کا خطاب عطاء کر دیا۔ اسی طرح راجہ جے سنگھ اوف جے پور کو تیموری خاندان کی طرف سے مرزا کا خطاب ملا جو آج تک چلا آ رہا ہے۔ سات سو سال بعد مغلوں نے خان کی بجائے مرزا کہلانا ہی بہتر سمجھا۔ مگر اپنے ناموں کے ساتھ بیگ کا اضافہ قائم

صفحہ ٢٩٤

رکھا۔ تاکہ اپنی اصلیت ظاہر کرتے رہیں اور انگریزی حکومت نے مرزا کی بجائے خان کو اعزازی لقب قرار دیا۔ الغرض کہ مغلوں کے ساتھ باہمی مناکحت کی وجہ سے یہ دونوں خاندان ان میں بالکل جذب ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان میں امتیاز کرنا محال ہو گیا۔ مگر چونکہ وہ دونوں خاندان اصل میں فارسی تھے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا فارسی النسل ہونا ثابت ہو گیا اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ ذریت ابراہیم میں بھی داخل ہیں۔’’راجع الی کتابی تحفة الهند فی قادیان يباع بروبيه‘‘ کیونکہ احادیث میں وارد ہے کہ:’’أهل فارس هم بنو اسحاق (رواه الحاكم في تاريخه عن ابن عمر كنز العمال ج ٦ ص ٢١٥) فارس عصبتنا اهل البيت لان اسماعیل هم ولد اسحق عم ولد اسماعیل (كنز العمال ج ٦ ص ٢٦٤) ولد سام العرب وفارس الروم والخير فيهم (رواه ابن عساكر عن ابي هريرة) من اسلم من فارس لهم من قريش اخوتنا وعصبتنا (رواه الديلمي عن ابن عباس) سلمان منا اهل البيت (رواه الطبراني والحاكم، كنز العمال ج ٦ ص ١٧٦) عن صالح بن ابي صالح قال سمعت ابا هريرة يقول ذكرت الاعاجم عند النبي ﷺ فقال أنا بهم أو بعضهم أوثق مني بكم أو بعضكم (ترمذی باب فضائل العجم ص ٣٢٨)‘‘ ان احادیث سے تو تمام مرزائی چھوڑ تمام آریہ بھی عجم میں شامل ہیں اور فارس کا اہل عجم ہونا تو سب کو معلوم ہے۔’’انتهی ما فی ریویو ملخصاً‘‘

ہندوستان کا نقشہ یوں سمجھا جاتا ہے کہ گویا ایک شیر کسی غار سے نکلا ہے۔ جس کا نصف حصہ ابھی غار میں ہی پوشیدہ ہے اور اس کے سامنے پھٹا پرانا کمبل پڑا ہوا ہے۔ جس کے دو چیتھڑے دور تک چلے گئے ہیں اور ان دو چیتھڑوں کے درمیان ایک کھلی زمین ہے۔ پس وہ کمبل بحیرہ عرب ہے اور دو چیتھڑے عرب کے گھیرے ہوئے۔ بحر عمان معہ بحر فارس اور بحر قلزم ہیں۔ شیر کے دو جبڑوں کے درمیان ملک گجرات ہے۔ اس کی داڑھی میں ہندوستان ہے اور سر کی چوٹی میں پنجاب۔ اس کی لمبی ناک میں سندھ واقع ہے۔ آنکھ ملتان ہے جو سامنے فارس کو دیکھ رہی ہے۔ پنجاب کے بالمقابل کابل توران اور سمرقند اور بخارا معہ ماوراء النہر واقع ہیں۔ سمرقند اور فارس کے درمیان خراسان واقع ہے۔

کوکب دہلی ٢٥؍ اپریل ١٩٢٤ء میں ایم۔اے لطیف نے لکھا ہے کہ:’’رجال من ابناء فارس‘‘ کا مصداق مرزا قادیانی نہیں ہیں۔ کیونکہ وہ ایرانی نہ تھے بلکہ جب احادیث متعلقہ خراسان آذربایجان اور اصفہان وغیرہ کو ساتھ ملا لیا جائے تو بالکل ہی اس کا امکان نہیں

صفحہ ٢٩٥

رہتا۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤٧، خزائن ج ١٧ ص ١٦٧) میں مسیح موعود، دجال موعود اور مہدی موعود تینوں کا بروز میں مشرق سے ظاہر ہونا تسلیم کیا گیا ہے۔ ازالہ میں فارس ہی مشرق سے مراد لی ہے۔ تفسیر طبری وغیرہ میں ”آخرین منھم“ سے مراد اہل فارس ہیں۔ نہ فارسی الاصل ، فصوص الحکم میں ابن عربی کا کشف بھی تریاق القلوب میں یوں لکھا ہے کہ: ”کشفھالی بمدینة فارس حتی رایت خاتم الولایة منہ“ (حجج الکرامہ ص ٤٠٨) میں بھی لکھا ہے کہ مراد بمشرق فارس است۔ (براہین احمدیہ ص ١٨٥، خزائن ج ٢١ ص ٣٥٦) میں ہے کہ میرا دعویٰ یہ نہیں کہ میں وہ مہدی ہوں جو ”من ولد فاطمة ومن عترتی“ کا مصداق ہے۔ (اربعین ص ١٨، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٥ حاشیہ) میں مرزا قادیانی خود اقراری ہیں کہ کوئی تذکرہ ہمارے خاندان کی تاریخ میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ وہ بنی فارس کا خاندان تھا۔ (تحفہ گولڑویہ ص ٤١، خزائن ج ١٧ ص ١١٧) میں ہے کہ میرے بزرگ چینی حدود سے پنجاب میں پہنچے ہیں۔ پھر اسی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ١١٦) میں دوسری جگہ یوں لکھا ہے کہ میرے پاس اپنے فارسی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ سوائے الہام کے جو مخالفین کے لئے سند نہیں ہو سکتا۔ (عسل مصفےٰ ص ٤٢٨) میں ہے کہ: ”ولد نوح ثلاثة سام وحام یافث وولد سام العرب والفارس والروم والخیر فیھم وولد یافث یاجوج وماجوج والترک ولا خیر فیھم وولد حام القبط والبربر والسودان (ابن عساکر عن ابی ھریرة)“ ناظرین خود انصاف کریں کہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ وہ اہل پنجاب میں اہل فارس نہیں ہیں اور فارسی الاصل نہیں، ترکی النسل ہیں۔ جس کو گوہر نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ بنی ہاشم سے ہونا ان میں نہیں پایا جاتا۔ سام کی اولاد نہیں تا کہ خیر حاصل کرتے۔ بلکہ یافث کی اولاد ہیں۔ جن میں خیر نہیں۔ مرزا قادیانی کو اقرار ہے کہ کوئی تاریخ ان کے الہام کی تائید نہیں کرتی۔ اس لئے گوہر صاحب کی تحقیق بغیر تنقید کے تسلیم کر لینا مفید نہ ہوگا اور مدعی سست اور گواہ چست کا منظر دکھانا پڑے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی پہلے نمبر پر پنجابی الاصل ہیں۔ پھر ترکی الاصل اور تیسرے نمبر پر تحقیق گوہری کے مطابق فارسی الاصل بنتے ہیں۔ مگر اہل فارس نہیں بنتے جو حدیث میں مذکور ہے۔ اس لئے حدیث سے ان کو دور کا واسطہ بھی نہیں رہا۔ جناب بہاء فارسی الاصل نہیں اہل فارس ضرور ہیں۔ بلکہ عربی الاصل ہاشمی ہیں۔ اس لئے اس حدیث کے مصداق بننے کے کچھ حق دار ہیں۔ لیکن اہل تحقیق کے نزدیک مہدی موعود عربی الاصل اور اہل عرب ہیں۔ فارس سے ان کو کوئی تعلق نسبی نہیں۔ اس لئے دونوں کی مہدویت ہماری نظر میں مخدوش ہے۔ ورنہ دور کے تعلق سے تمام لوگ ہندی الاصل ہیں۔ کیونکہ آدم علیہ السلام ابوالبشر کا تعلق لنکا سے تھا۔

صفحہ ٢٩٦

اسی طرح ذیل کا مضمون بھی حل کر لینا چاہئے۔

نام باپ اولاد گل محمد غلام نبی، عطاء محمد، قاسم بیگ عطاء محمد غلام مصطفے، غلام محی الدین، غلام مرتضے، غلام حیدر، غلام محمد۔ غلام مرتضیٰ غلام احمد، غلام قادر غلام احمد سلطان احمد، فضل احمد، بشیر اول، محمود احمد، بشیر احمد، شریف احمد، مبارک احمد۔ محمود احمد ناصر احمد، مبارک احمد، منور احمد وغیرہ۔ بشیر احمد مظفر احمد، حمید احمد، منیر احمد، مبشر احمد وغیرہ۔ شریف احمد منصور احمد، ظفر احمد، داؤد احمد وغیرہ۔

آپ کا خاندانی سلسلہ ساسانی ہے۔ جو ایران وتوران کے سلاطین وقت سے تعلق رکھتا ہے۔ فریدون کے بیٹے ایرج نے ایران آباد کیا اور تور نے توران اور یہ دونوں صوبے مملکت فارس کے تھے۔ جب کیکاؤس کے بعد اس کا بیٹا کیخسرو تخت نشین ہوا تو اس نے بھمن ولد افراسیاب کو قید سے نکال کر توران کی حکومت دے دی اور یوں کہا کہ؎

مرا با تو مہر ست و پیوند خوں
بباید کہ آئی زبندم بروں

جس سے ثابت ہوا کہ ان دونوں میں ان دنوں رشتہ داری تھی اور سمرقند جہاں سے آپ کے آباؤ اجداد ہندوستان آئے توران میں واقع ہے۔ اس لئے آپ کا خاندان فارسی ہے نہ مغل اور نہ معلوم کس غلطی کی بناء پر مغلیہ خاندان کے نام پر مشہور ہوگیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ جب یزدجرد بن بہرام بن شاہ پور ساسانی فارس سے ترکستان کو بھاگ گیا اور وہاں پر رشتہ داری پیدا کر لی تو دو چار پشتوں بعد ترک مشہور ہو گیا اور مرزا یا بیگ اعزازی خطاب ہیں جو سلاطین فارس اور ترک بادشاہ اظہار خوشنودی پر دیا کرتے تھے۔

مرزا قادیانی کا عہد طفولیت وتعلیم

مرزا غلام قادر اور دوسرے لوگ آپ کو مسیتر (مسجد میں گوشہ نشین ہونے والا) کہتے تھے۔ بچپن میں آپ خوب تیرتے تھے۔ ایک دفعہ ڈوب بھی چلے تھے۔ مگر ایک بوڑھے نے بچا لیا جو پھر نہیں دیکھا گیا تھا۔ سوار بھی خوب تھے، سرکش گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس نے آپ کو ہلاک

صفحہ ٢٩٧

کرنا چاہا اور آپ کو درخت سے ٹکرایا اور خود مر گیا اور آپ گر کر بچ نکلے۔ آپ کو بچوں نے کہا کہ گھر سے میٹھا لاؤ تو آپ نے بغیر اجازت کے نمک کا بورا کھانڈ سمجھ کر جیبیں بھر لیں اور بچوں میں جا کر خوب منہ بھر کر کھانے لگے تو دم رک گیا اور بڑی تکلیف ہوئی۔ ایک دفعہ آپ نے والدہ سے روٹی کے ساتھ کچھ کھانے کو مانگا تو انہوں نے گڑ پیش کیا۔ آپ نے انکار کر دیا۔ پھر کچھ اور پیش کیا اس سے بھی انکار کر دیا۔ بہت اصرار کیا تو والدہ نے ناراضگی میں کہا کہ جاؤ پتھر راکھ سے کھاؤ تو آپ روٹی پر راکھ رکھ کر بیٹھ گئے۔ آپ ایک دن کسی کنوئیں پر لاسا بنا رہے تھے تو ایک چیز کی ضرورت پڑی۔ ایک چرواہے سے کہا کہ تم گھر سے وہ چیز لا دو میں تمہاری بکریاں چراؤں گا تو وہ سارا دن واپس نہ آیا تو گویا سنت انبیاء پوری ہوگئی اور لاسا گوند اور درختوں کے دودھ وغیرہ سے پرندوں کے شکار کے لئے بناتے ہیں۔ آپ والدہ کے ہمراہ ہوشیار پور جاتے تھے تو چوہوں (بارانی نالیوں) میں پھرا کرتے تھے۔ ایک نے آپ کے استاد سے کہا کہ خواب میں ایک مکان دھوئیں سے گھرا ہوا میں نے دیکھا ہے اور عیسائیوں نے اس کا محاصرہ کر لیا ہے۔ اندر معلوم ہوتا تھا کہ حضورﷺ تھے۔ استاد صاحب تعبیر نہ دے سکے تو آپ نے کہا کہ وہ عیسائی ہو جائے گا۔ کیونکہ انبیاء شیشے ہیں۔ ان سے اپنا منہ نظر آتا ہے تو ایسا ہی ہوا۔ آپ کے استاد فضل الٰہی قادیان کے باشندہ حنفی تھے۔ دوسرے استاد فضل احمد فیروز پور والضلع گوجرانوالہ کے باشندہ اہل حدیث تھے۔ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی انہی کے بیٹے تھے۔ جو خلافت ثانیہ کے رو میں بہہ گئے۔ تیسرے استاذ سید گل شاہ بٹالہ کے باشندہ اور شیعہ تھے۔ آپ جمعہ کے دن پیدا ہوئے تھے تو توام تھے۔ آپ اپنے ننہال (ائمہ ضلع ہوشیار پور) میں کئی دفعہ گئے تو وہاں چڑیاں پکڑا کرتے تھے۔ چاقو نہ ہوتا تو سرکنڈے سے ہی ذبح کر لیتے تھے۔ ایک دفعہ ننہال کی چند بوڑھی عورتیں قادیان آئیں تو کہنے لگیں کہ سندھی (مرزا قادیانی) ہمارے گاؤں میں چڑیاں پکڑا کرتا تھا۔ تب دستور تھا کہ چھوٹے بچے کو پیار سے سندھی کہہ کر پکارتے تھے۔ کیونکہ جس بچے کے گلے میں سیندھی (ہسلی) ڈال کر نذر پوری کرتے تھے۔ اس کا نام عموماً سندھی رکھ لیا کرتے تھے۔ (اسلاف کے بیان میں مذکور ہو چکا ہے کہ سلطان احمد کی نانی کہتی تھی کہ آپ کی والدہ نے منتیں مان کر آپ کی پرورش کی تھی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعی آپ کا پیارا نام پہلے سندھی ہی تھا) ہمیں اس سے بحث نہیں کہ آپ کا نام کیا تھا۔ اس میں کیا تبدیلی ہوئی۔ مگر یہ ضرور ماننا پڑتا ہے کہ آپ کا عہد طفولیت دیہاتی بچوں کی طرح نہایت لاپروائی میں گزرا ہے اور جسمانی عوارض کا شکار آپ پہلے سے ہی ہو چکے تھے۔ خلوت نشینی، دل کی کمزوری، ضد کرنا اور چپ چاپ رہنا اور سائیں لوگ یا مسیتر کہلانا

صفحہ ٢٩٨

یہ سب ایسے بچے کے عوارض ہوتے ہیں کہ جس کی فطرتی صحت میں کچھ خلل آگیا ہو۔ معراج دین عمر نے براہین احمدیہ کے اول آپ کی سوانح حیات لکھتے ہوئے بیان کیا ہے کہ آپ کے والد صاحب سے کسی نے پوچھا تھا کہ غلام احمد کہاں ہیں تو آپ نے کہا تھا کہ جاؤ مسجد میں ہوگا۔ یا مسجد کی ٹوٹیوں کے ساتھ لگا ہوا ہوگا۔ اگر وہاں نہ ملے تو کسی نے صف میں لپیٹ دیا ہوگا۔ کیونکہ اس پر کچھ ہوش نہیں۔ مجھے تو یہ فکر ہے کہ بڑا ہو کر یہ اپنا پیٹ کس طرح پالے گا؟ ”او کما قال“ مگر آپ کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ شخص ایسا کام کرے گا کہ دنیا میں ان لوگوں کی تعداد میں آئے گا جو انگلیوں پر شمار کئے جاتے ہیں۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ؎

بنا داں آں چناں روزی رسانند
کہ دانا اندراں حیراں بمانند

بہر حال کچھ بھی ہو آپ کا عہد طفولیت کسی نبی کے عہد طفولیت کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا۔ نہ اس میں ابراہیمی طفولیت کا ولولہ توحید موجود ہے۔ نہ موسوی وجاہت اور جلال کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ نہ عیسوی اعجاز نمائی کا کرشمہ موجود ہے اور نہ احمدی طفولیت کی عصمت قدر افزائی اور آثار نجابت یا تاثر رسالت نمایاں ہیں۔ ہاں اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو رام چندر، کرشن مہاراج، بابا نانک کے عہد طفولیت سے آپ کے حالات ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے کرشن وغیرہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ طبی اصول سے اگر آپ کے عہد طفولیت کا موازنہ کیا جائے تو کسی انسان کامل کے بچپن کے ساتھ ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جو بچہ پیدائشی ہی دائم المرض ہو اس میں شان رسالت کا نمودار ہونا بالکل ناممکن ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ جو لوگ بچپن ہی میں دماغی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں تو لوگ ان کو مقدس خیال کرنے لگ جاتے ہیں اور وہ بھی اپنا تقدس قائم رکھنے کی دھن میں شب و روز ایسے وسائل سوچتے رہتے ہیں کہ جن سے ان کی دماغی بیماریاں استغراق فی ملکوت اللہ اور فنا فی اللہ کا رنگ دکھاتی رہتی ہیں۔ ورنہ حقیقت میں نہ ایسے لوگ خدا رسیدہ ہوتے ہیں اور نہ اولیاء نہ پیغمبر۔ بلکہ زیادہ سے زیادہ ان کو مجذوب یا کاہن کا خطاب دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ شان رسالت کے لئے عقلاً یہ پہلی شرط ہے کہ مدعی نبوت کو دماغی عارضہ نہ ہو اور جسمانی بیماریوں سے بھی اس کے جسمانی حالات مشتبہ نہ ہوں۔ تاکہ تبلیغ رسالت کا کام اچھی طرح سرانجام دے سکے اور نقص عقل صنف نازک کی طرح نقص دین کا باعث ہو کر مدعی کو اپنے پایہ اعتبار سے نہ گرا دے۔ آپ کے حالات جب یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایام شباب میں بھی آپ بہت رویا کرتے تھے اور تنہائی پسند اور مسیٹر کہلاتے تھے اور دماغی

صفحہ ٢٩٩

دورے اس کثرت سے پڑتے تھے کہ آپ روزہ رکھنے سے بھی معذور ہوگئے۔ مسجد کی امامت کرانے کے بھی قابل نہ رہے اور اعتکاف بھی نہ کر سکتے تھے تو ایسا معذور آدمی امامت صغریٰ کی اہلیت نہ رکھتے ہوئے کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ امامت کبریٰ کا بھی حق دار ہے یا یہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ وہ آسمانی بادشاہت کا مدعی بن کر اپنے منکرین کو دین الٰہی کے باغی اور منکر اسلام قرار دے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ انبیاء کی جسمانی طاقت اور دماغی قویٰ مشک وعنبر کے مرکبات کے محتاج نہیں ہوتے۔ بلکہ روکھی سوکھی کھا کر فطرتی طور پر انوار شباب کو ساٹھ سال بلکہ ٧٠ سال تک نمایاں طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے رہتے ہیں۔ مریل اور دائم المریض نہیں ہوتے کہ مذہبی فرائض ادا کرنے سے بھی معذور ہوں۔

ولا ينفع الجرباء قرب صحيحة
اليها ولـكـن الصحـيـحـه تجـرب

مزاج وعادات

سوتے وقت تہ بند باندھتے اور کرتہ اتار دیتے۔ رفع حاجت کے بعد اپنا ہاتھ مٹی سے مل کر پانی سے دھوتے۔ ململ کے سپید رومال میں کچھ پیسے باندھ رکھتے تھے۔ بچے مانگتے تو دے دیتے۔ کام ہوتا تو کہتے پھر آنا ابھی تنگ نہ کرو۔ اُس سفید رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ سے سلوا لیتے تھے۔ یا کاج میں باندھ لیتے تھے۔ چابیاں آزار بند سے باندھتے تھے۔ جو کبھی لٹک بھی آتا تھا۔ وہ آزار بند عموماً ریشمی ہوتا تھا۔ کیونکہ کثرت پیشاب سے آپ کو بار بار کھولنے میں آسانی ہوتی تھی۔ ورنہ سوتی کی گرہ مشکل سے کھلتی ہے۔ صبح کو ایک دو میل سیر کو جاتے۔ خادم ساتھ ہوتے اور ان سے گفتگو ہوتی تو اخبار والے نوٹ کر لیتے۔ جاتے وقت مولوی نور الدین صاحب اور نواب محمد علی کو ساتھ لے جاتے۔ کئی دفعہ کئی منٹ انتظار بھی کرتے۔ مولوی صاحب پیچھے رہ جاتے تو ٹھہر کر ساتھ ملا لیتے تھے۔ کیونکہ آپ تیز رو تھے۔ سیر کے لئے بسراوان (مشرق قادیان) یا بوہڑ (شمال) کو نکل جاتے یا اپنے باغ میں جاتے تو شہتوت وغیرہ کھلاتے اور کھاتے۔ کسی کی ٹھوکر سے عصا گر جاتا تو پروا نہ کرتے۔ بسراوان سے ایک دفعہ واپس آئے تو راستہ میں مرزا نظام الدین نے جھک کر سلام کیا۔ کیونکہ لوگ بکثرت ہمراہ تھے۔ آخری جلسہ میں بوہڑ کو نکلے تو زیادہ بھیڑ سے گھبرا کر تھوڑی دور جا کر واپس آگئے۔ بھیڑ ہوتی تو خادم ارد گرد اپنے بازوؤں سے چکر بنا لیتے تھے۔ آپ میانہ قد، گندم گوں، چہرہ بھاری، بال سیدھے اور ملائم اور ہاتھ پاؤں بھرے بھرے تھے۔ آخری عمر میں بدن بھاری ہو گیا تھا اور با رعب تھے۔ ایک دفعہ ایک سفر میں اسٹیشن پر گاڑی کو دیر تھی تو آپ

صفحہ ٣٠٠

اہلیہ کے ہمراہ پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے۔ مولوی عبد الکریم نے مولوی نور الدین صاحب سے کہا کہ اہلیہ کو کسی جگہ بٹھا دیں تو اچھا ہے۔ لوگ ادھر ادھر پھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تم ہی جاکر کہو۔ تو جا کر عرض کی تو جناب نے فرمایا کہ: ”جاؤ جی میں ایسے پردے کا قائل نہیں ہوں ۔“ جناب کو جب دورے پڑنے شروع ہوئے تو سارا رمضان روزے نہیں رکھے۔ دوسرا رمضان آیا تو آٹھ روزے رکھے تو دورہ شروع ہو گیا۔ تو باقی چھوڑ دیئے۔ تیسرا رمضان آیا تو دس رکھے تو دورہ شروع ہو گیا۔ چوتھے رمضان میں تیرہ رکھے تو مغرب کے قریب دورہ ہوا تو آپ نے روزہ توڑ دیا۔ شروع شروع میں جب برد اطراف اور دورانِ سر کے دورے پڑے تو بہت کمزور ہو گئے تھے اور رمضان تک بھی طاقت نہ پائی تھی کہ روزے شروع کر دیئے تو پھر جب دورہ پڑتا تھا تو روزے ترک کر دیتے تھے اور فدیہ ادا کر دیتے تھے۔ اوائل عمر میں غرارے پہنتے تھے۔ پھر معمولی پاجامہ پہنتے تھے۔ پگڑی سپید ململ کی ہوتی تھی۔ پگڑی کے نیچے گرم قسم کی رومی ٹوپی پہنتے تھے اور گھر صرف وہی ٹوپی ہوتی تھی۔ گرمیوں میں ململ کا کرتہ پہنتے تھے۔ جس پر گرم کوٹ یا گرم صدری ہوتی۔ پاجامہ بھی آپ کا گرم ہوتا تھا۔ جراب پہنے رہتے تھے۔ سردیوں میں دو دو تین تین جرابوں کے جوڑے تہہ بتہہ پہنے تھے۔ جوتہ دیسی پہنتے تھے۔ جب سے دورے پڑنے شروع ہوئے۔ سردی گرمی میں گرم کپڑے پہننے شروع کر دیئے۔ گو کبھی تکلیف ہوتی۔ مگر ان کا استعمال نہیں چھوڑا۔ شیخ رحمت اللہ گجراتی (پھر لاہوری) جب سے داخل بیعت ہوئے کپڑوں کے جوڑے وہی لاتے تھے۔ کسی نے گرگابی پیش کی تو الٹے سیدھے کا آپ کو پتہ نہ تھا۔ اہلیہ نے نشان بھی کر دیا مگر تاہم الٹا سیدھا پہن لیتے تھے۔ آخر اسے چھوڑ کر کہا کہ انگریزوں کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔

بود و باش

انگریزی قمیص کی کالر کے متعلق بھی یہی لفظ فرماتے تھے۔ کیونکہ بٹن کھولنے اور لگانے سے آپ گھبراتے تھے۔ کہتے تھے کہ یہ کیا کان سے لٹکتے رہتے ہیں۔ عام طور پر جیسا کپڑا مل جاتا پہن لیتے تھے۔ جکڑنے والے لباس سے نفرت تھی۔ گھر میں پگڑیاں اور ململ کے کرتے تیار ہوتے تھے۔ باقی کپڑے ہدیۃً آتے تھے۔ کمر پر پٹکہ استعمال کرتے تھے۔ باہر جاتے تو کوٹ ضرور پہنتے۔ عصا بھی لیتے۔ آخری سال اہلیہ نے پورے ایک تھان کے کرتے تیار کرائے تو آپ نے کہا کیا ضرورت تھی؟ جمعہ کے روز کپڑے بدل کر خوشبو لگاتے تھے۔ مغرب کی نماز پڑھاتے تو ”انما اشکوا بثی“ ضرور پڑھتے۔ آپ کی قرأت لہر دار ہوتی اور اعتکاف کبھی نہیں کیا۔ آپ بیت الفکر میں لیٹے ہوئے تھے کہ ملاوامل یا لالہ شرم پت نے دستک دی۔ عبداللہ خادم کنڈہ کھولنے چلا تو

صفحہ ٣٠١

آپ پہلے دوڑ کر کھول آئے۔ کہا کہ حدیث کے مطابق مہمان کی عزت واجب ہے۔ ( بیت الفکر قادیانی عبادت گاہ مبارک کا ایک حجرہ ہے جو جناب کے گھر سے ملحق ہے ) عبداللہ سنوری نے کہا کہ شیخ حامد علی نے بتا دیا کہ میں حقہ پیتا ہوں۔ پیر دبانے لگا تو حامد علی سے کہا کہ حقہ تازہ کر کے لے آؤ۔ پھر مجھے کہا کہ پیتے کیوں نہیں؟ میں نے شرم کے مارے ایک گھونٹ پیا پھر نفرت ہو گئی۔ پھر میرے مسوڑھے پھول گئے تو آپ نے فرمایا کہ بطور علاج پی سکتے ہو۔ کچھ دن پیا پھر چھوڑ دیا۔ آپ نے مجھے ایک ٹوٹا ہوا حقہ کیل سے لٹکا ہوا دکھایا کہ ہم نے تو اسے پھانسی دیا ہوا ہے۔ کیونکہ ہم کو تو اس سے طبعی نفرت ہے۔ شاید یہ حقہ کسی عورت کا ہوگا۔ چوہدری غلام محمد بی۔اے ١٩٠٥ء کو قادیان آیا تو آپ نے سبز رنگ کی پگڑی پہنی ہوئی تھی۔ مجھے گراں گذرا۔ مگر مقدمہ ابن خلدون پڑھا تو معلوم ہوا کہ سبز پگڑی میں وحی بہت ہوتی ہے۔

مولوی ثناء اللہ صاحب اعجاز احمدی کی تصنیف، کے بعد مباحثہ کے لئے آئے تو دستی خط و کتابت شروع ہوئی تو آپ جب اپنی عبادت گاہ سے گھر جارہے تھے تو مولوی صاحب کے آدمی نے کہا کہ فلاں کام کون کرے گا تو آپ نے کہا، تو اس سے پیشتر یہ لفظ کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ آپ کو کسی نے گھڑی تحفہ دی۔ جس کو رومال میں باندھ کر رکھتے تھے اور وقت دیکھتے تو ایک دو گھنٹے پہلے اصل وقت پر پہنچ جاتے۔ آپ بڑی عبادت گاہ میں جاتے تو ڈول سے ہی منہ لگا کر پانی پیتے یا ٹنڈ اور آبخورہ سے پیتے۔ تازہ پکوڑے مسجد میں ٹہل ٹہل کر کھاتے تھے۔ سالم مرغ کا کباب بھی پسند تھا۔ ہوشیار پور گئے تو مرغ کا کباب ساتھ لے گئے تھے۔ مولی کی چٹنی، گوشت معہ مونگرہ، بھنی ہوئی بوٹیاں، خوب سینکی ہوئی چپاتی اور پتلا شوربا جس میں گوشت خوب گداز ہو چکا ہو۔ سکنج بین، چاول شیریں گڑ کے، میٹھی روٹی، چائے میں دیسی شکر مرغوب خاطر تھی۔ کہا کہ صرف گوشت ہی کھانے سے چالیس دن تک دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ اس میں سبزیاں بدل بدل کر کھانا چاہئے۔ کیچڑ جیسا شوربا پسند نہ تھا۔ کہا کہ ایک آنہ کے گوشت میں ( جو سیر بھر مل جاتا تھا ) دس آدمی کے لئے شوربا بنانا چاہئے۔ بھیڑ کا گوشت آپ کو پسند نہ تھا۔ کسی نے تسبیح پیش کی تو عبداللہ سنوری کو دے دی کہ تم اس پر درود شریف پڑھا کرو۔ کیونکہ آپ تسبیح کو پسند نہیں کرتے تھے۔ قادیان کے پہلے جلسہ میں تقریر سے پہلے کہا کہ عبداللہ سنوری ہمارے اس وقت کے دوست ہیں جب کہ ہم گوشہ گمنامی میں تھے۔ یہ اس لئے کہا کہ تم اس سے واقف ہو جاؤ۔ آپ کا یہ اکثر مقولہ تھا کہ خدا داری چہ غم داری، چوبارے میں رہتے تھے اور وہیں کھانا آتا تھا اور کبھی اعتراض نہیں کیا گیا۔ ایک دفعہ بیمار ہوگئے۔ حالت نازک ہوگئی۔ حکیموں نے لا علاج کر دیا اور نبض بھی ساقط ہو گئی تو آپ نے کہا کہ

صفحہ ٣٠٢

میرے پیٹ پر نیچے اوپر کیچڑ رکھو تو آرام آگیا۔ کیونکہ زحیر کا مرض تھا۔ عموماً غرارہ پہنتے تھے مگر سفر میں تنگ پاجامہ بھی پہنتے تھے۔ شرم پت اور ملاوامل ہی قادیانی دوست تھے اور کوئی نہ تھا۔ آپ یہ اخبار پڑھا کرتے تھے۔ رجب علی کا اخبار سفیر امرتسر، اگنی ہوتری کا رسالہ ہندوبندہ اور منشور محمدی اخیر عمر میں اخبار عام لاہور اور اس میں اپنا مضمون بھی بھیجتے تھے۔ میٹھی روٹی آپ کو مرغوب تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ میٹھی روٹی کھانے لگے تو کچھ تلخی معلوم ہوئی۔ مگر کچھ محسوس نہ کیا۔ پھر تلخی معلوم ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ خادمہ نے کھانڈ کی بجائے کنین ڈال دی تھی۔ جہلم کے مقدمہ میں ایک دن گورداسپور پہلے ہی چلے گئے۔ دعاء کے لئے ایک کوٹھڑی مقرر کر رکھی تھی۔ اس میں جاتے ہوئے اپنی چھتری مولوی محمد علی صاحب کو دیتے گئے۔ باہر نکلے تو آپ کو دی گئی۔ کہا کہ کیا یہ میری ہی چھتری ہے؟ محویت میں غرق تھے۔ پہچان نہ سکے۔ حالانکہ وہی چھتری مدتوں سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ ایم ذو الفقار کی روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ سے مسجد کی سیڑھیوں میں ملے۔ جب کہ آپ ایک افغان کو افغانستان میں تبلیغ کے لئے بھیج رہے تھے اور وہ ڈرتا تھا۔ اس لئے آپ ناخوش تھے۔ آپ نے مجھے نہ پہچانا واپس چلے گئے۔ ظہر کے وقت کسی نے کہا کہ تحصیلدار صاحب آئے ہوئے ہیں تو آپ نے بڑے تپاک سے پوچھا کہ آپ کب سے آئے ہیں؟ میں نے کہا کہ اس وقت سے کہ افغان کو آپ بھیج رہے تھے تو آپ نے میری طرف توجہ نہیں کی تھی۔ اس لئے میں روتا رہا کہ یا اللہ آج کیا بات ہے کہ حضور نے بشاشت کے ساتھ ملاقات نہیں کی۔ آپ مسرت اور تبسم سے ملتے تھے۔ چھوٹے بڑے سب کی باتیں غور سے سنتے تھے۔ وہ غیر مہذب ادھر ادھر کے قصے چھیڑ دیتے تو سنتے رہتے تھے۔ مجلس بے قاعدہ ہوتی تھی۔ عموماً بعد از نماز ہوتی تھی۔ کوئی سوال پوچھتا یا مخالف کا ذکر آ جاتا یا اپنی جماعت کی تکالیف کا ذکر آ جاتا تو آپ تقریر کرتے ہوئے چھوٹی آواز سے شروع کرتے۔ پھر آواز بڑی ہو جاتی تو دور والے بھی سن لیتے تھے اور آپ کی آواز میں خاص سوز ہوتا تھا۔ فضل الدین وکیل لاہوری غیر احمدی نے عیسائیوں کے مقدمہ میں مولوی محمد حسین پر جرح کرنے کے بعد آپ سے پوچھا کہ اس کا حسب نسب پوچھ کر شہادت کمزور کردوں تو آپ نے اجازت نہ دی اور کہا کہ: ”لا یحب اللہ الجہر بالسوء“ اور جب مولوی محمد حسین کو عدالت میں کرسی نہ ملی تو اس کی خوب اہانت ہوئی اور یہ الہام پورا ہوا کہ: ”انی مہین من اراد اہانتک“ ڈگلس صاحب کو آپ نے کہا کہ مجھ پر قتل کا الزام لگایا ہے تو اس نے کہا مبارک ہو میں نے آپ کو بری کر دیا ہے۔ ڈگلس پہلے فوجی کپتان تھا۔ پھر ڈپٹی کمشنر ہوا پھر جزائر انڈمان میں چیف کمشنر ہو گیا تھا اور فوجی کرنل کے عہدہ میں پینشنر ہوکر

صفحہ ٣٠٣

ولایت چلا گیا۔ مولوی مبارک علی مبلغ قادیان ٢٨ / جولائی ١٩٢٢ء کو جب صاحب ممدوح سے ملے تو دوران گفتگو میں اس نے کہا کہ مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ عبدالحمید مستغیث مشنریوں کے پاس رہ کر ہر روز جھوٹ گھڑ کر اپنی مثل مکمل کرتا رہتا ہے۔ اس لئے جب حوالہ پولیس ہوا تو فوراً میرے قدموں پر گر کر اقبالی ہو گیا کہ یہ صاف افتراء ہے۔ پھر کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ غلام احمد کا قائم کیا ہوا سلسلہ اتنی ترقی کر گیا۔ آپ کی عادت تھی کہ جماعت کی کمزوری مطالعہ کرتے تو عام تقریر کر کے اصلاح کر دیتے اور بات بات پر ٹوکنے کی بجائے دعاء پر زور دیتے تھے۔ کہتے تھے کہ دل درست ہو جائے جو جڑ ہے تو اعمال جو شاخ ہیں خود بخود درست ہو جائیں گے۔ تم کو داڑھی کی فکر ہے اور مجھے ایمان کی فکر ہے۔ کہا کہ جو شخص سچے دل سے مجھے خدا کا بھیجا ہوا سمجھتا ہے وہ جب دیکھے گا کہ میں داڑھی رکھتا ہوں تو اس کا ایمان خود داڑھی رکھوا لے گا۔ صبر اور ہمدردی پر بہت زور دیتے تھے۔ تکبر، سنگدلی، درشتی اور تنعم و تعیش سے نفرت تھی۔ کہتے تھے کہ سور سے طبعی نفرت مسلمان کو اس لئے ہوتی ہے کہ باقی محرمات کو بھی یوں ہی سمجھے۔ کہا کرتے تھے کہ :” الاستقامة فوق الكرامة “ آپ کہتے تھے کہ مجھے بعض دفعہ تکلیف سے غصہ کا اظہار کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ غصہ بہت کم پیدا ہوتا ہے۔ ایک دفعہ مولوی محمد علی ڈھاب میں نہانے لگے تو گہرے پانی میں چلے گئے تو لوگوں نے نکالنا شروع کیا۔ مگر جو جاتا اسے بھی دبا لیتے۔ خوب غوطے کھائے تو قاضی میر حسین نے غوطہ لگا کر نیچے سے ان کو باہر پھینک دیا تو باہر آ گئے تو آپ نے کہا کہ گھڑے کے پانی سے نہا لیا کریں۔ میں تو بچپن میں اتنا تیرتا تھا کہ ڈھاب بھر جاتی تو ساری قادیان کے ارد گرد ایک دفعہ ہی چکر لگا لیتا تھا۔ واضح رہے کہ ڈھاب چاروں طرف محیط ہے۔ بارش کے موقعہ پر قادیان جزیرہ بن جاتا ہے۔ نکاح ثانی کو پندرہ سال گزر گئے۔ مگر آپ نے ایک دفعہ بھی گھر میں ناچاقی پیدا نہیں ہونے دی تھی۔ عورتیں کہتی تھیں کہ مرزا بیوی دی گل بڑی من دا اے۔ آپ نے کہا کہ ایک دفعہ میں نے بیوی پر آواز کسی جس سے معلوم ہوا کہ میرے دل میں رنجش ہے تو مجھے استغفار اور صدقہ خیرات اور نوافل ادا کرنے پڑے۔ محمدی بیگم کے نکاح میں دوسری اہلیہ خود دعاء کرتی تھیں کہ یا اللہ یہ کام سر انجام ہو۔ ایک دفعہ اسے دعاء مانگتے ہوئے دیکھ کر کہا کہ تمہیں سوت کیونکر پسند ہے تو اس نے کہا کہ کچھ ہی ہو مگر آپ کی بات پوری ہو جائے۔ آپ مصروفیت میں محو رہتے تھے۔ معاون تھک جاتے تھے۔ مگر آپ تصنیف و تالیف، تربیت جماعت اور دیگر مشاغل میں ہر وقت مستغرق رہتے تھے۔ مولوی عبدالکریم کا قول ہے کہ میں نے دیکھا کہ مشکل سے مشکل مضمون بھی آپ لکھتے ہوئے ماحول کے شور و شغب سے متاثر نہ ہوتے تھے۔ کسی نے پوچھا تو فرمایا کہ میں تو سنتا ہی نہیں

صفحہ ٣٠٤

تو پھر تشویش کیا ہو؟ تبلیغ لکھنے کے دنوں میں ایک دو ورقہ آپ نے لکھا جس کا ترجمہ فارسی میں کرنے کو مولوی عبدالکریم کو دینا تھا۔ آپ کو دینا یاد نہ رہا۔ سیر کو گئے تو راستہ میں آپ نے وہ دو ورقہ حکیم صاحب کو دے دیا کہ ان کو پہنچا دیں۔ مگر ان سے گر گیا۔ بہت تلاش کیا مگر نہ ملا۔ مولوی صاحب نے مضمون منگوا بھیجا اور آپ اس وقت سیر سے فارغ ہو کر گھر چلے گئے تھے۔ حکیم صاحب کا رنگ فق ہو گیا تھا۔ مگر آپ مسکرا کر کہنے لگے کہ مجھے خدا سے امید ہے کہ اس سے بہتر عنایت کرے گا۔ سید سرور شاہ کہتے ہیں کہ آپ نے جب مسیحیت کا دعویٰ کیا تو میں لاہور تعلیم پاتا تھا اور دیو بند جانے کو تھا۔ حکیم صاحب کے ساتھ میرے والد صاحب کے تعلقات بہت تھے۔ اس لئے میں حکیم صاحب کے پاس جایا کرتا تھا۔ حکیم صاحب اس وقت مسجد چونیاں لاہور میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی بھی آگئے تھے۔ جب کہ وہ وضو کر رہے تھے کہا کہ مولوی صاحب آپ جیسے بھی مرزا کے ساتھ ہو گئے تو حکیم صاحب نے کہا کہ: ”علیٰ وجہ البصیرۃ“ مانا ہے اور منجانب اللہ پایا ہے۔ اسی پر تنازع ہو گیا۔ دوسرے دن بحث ہوئی۔ مگر ابھی بحث ختم نہ ہوئی تھی کہ حکیم صاحب کو تار آ گیا کہ جوں فوراً چلے آؤ تو حکیم صاحب لدھیانہ آگئے کہ آپ سے مل کر جائیں۔ کچھ عرصہ بعد میں خود لدھیانہ گیا اور ابراہیم غیر احمدی کے پاس ٹھہرا تو اس نے کہا کہ مرزا قادیانی آج کل یہیں ہیں۔ مخالفت بہت ہے میں تو نہیں جانے کا تم خود مل سکتے ہو۔ میں گیا تو آپ کمرہ سے باہر بیٹھے ہوئے تھے۔ مصافحہ کیا تو آپ سر نیچے کر کے بیٹھے رہے۔ انگریزی حکومت کا ذکر دیر تک ہوتا رہا۔ مگر آپ نے سر نہیں اٹھایا۔ اس وقت آپ کا رنگ زرد تھا۔ بہت کمزور تھے۔ کچھ دیر بعد مصافحہ کر کے میں اٹھ آیا اور ابراہیم سے کہا کہ لوگ ویسے ہی مخالف ہو رہے ہیں۔ وہ تو چند دن کے مہمان ہیں۔ بچتے نظر نہیں آتے۔ اصل میں ابتدائے دعاوی کے وقت سے دورے بھی شروع ہو گئے تھے۔ مگر بعد میں الہام ہوا کہ: ”نرد الیک انوار الشباب“ تو آپ کی طبیعت سنبھل گئی اور اچھی طرح کام کرنے کے قابل ہو گئے۔ اب اپنے خادموں سے بے تکلف بھی رہتے تھے۔ ایک دفعہ جب خواجہ کمال الدین کے حافظہ کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا کیا کہنا ہے۔ وہ ایک دفعہ پاخانے گئے تو لوٹا وہیں بھول آئے اور نوکروں نے یہ سمجھا کہ لوٹا گم ہو گیا ہے۔ مفتی محمد صادق کے متعلق آپ کہا کرتے تھے کہ ہمارے مفتی صاحب، جس سے معلوم ہوتا تھا کہ مفتی صاحب سے بھی آپ کو بہت پیار تھا۔ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی کاربنکل سے بیمار ہوئے تو جناب کے کمرہ کے نیچے کوٹھری میں رہتے تھے۔ ڈاکٹروں نے چیر پھاڑ کر آپ کا بدن چھلنی کر دیا تھا۔ آپ کراہتے تو جناب کو تکلیف ہوتی۔ اس لئے جناب نے

کمرہ بدل لیا تھا اور تادم مرگ مولوی دیکھنا ناقابل برداشت تھا کہ کہیں دور بہت مشتاق تھے۔ غشی میں کہتے کہ سو ایک دفعہ کھڑے کھڑے مجھے اپنا ذ ملاقات کو لکھا کہ آپ تیار ہو گئے۔ ا ہیں تو مولوی صاحب نے روک دیا ورنہ مجھے معلوم ہے کہ جناب میری ت ورک (تفتیش حوالہ جات) کر رہے تھے۔ معراج الدین عمر لاہوری نے یہ بھی لکھا کہ السلام علیکم آپ کو لکھنا خط لکھا تو السلام علیکم لکھ دیا۔ کاٹ ک بدل لیا۔ آپ منگل کو برا جانتے تھے بیگم کی ولادت منگل کو ہو رہی ہے تو کو دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشد خراب ہوگئی۔ ایک دفعہ نماز کو نکلے گرم کر دو۔ اہلیہ نے حال پوچھ گچھ جناب نے فرمایا کہ اب افاقہ ہے آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ پڑتے رہے۔ جن میں ہاتھ پاؤں تھے۔ سر میں چکر ہوتا اور بدن سن خفیف معلوم ہونے لگے۔ کیونکہ ا نماز پڑھانی چھوڑ دی تھی۔ الہام اپنے مکان میں ہی تھے کہ صبح کے شنوائی دینے لگے جسے ہم نہیں سمجھ لیتے تھے۔ پہلے پہل کتاب پر ہی اب تک مرزا محمود کے پاس موجو

صفحہ ٣٠٥

کمرہ بدل لیا تھا اور تادم مرگ مولوی صاحب کو دیکھنے بھی نہیں گئے۔ کیونکہ جناب کو آپ کا دکھ دیکھنا ناقابل برداشت تھا کہ کہیں دیکھ کر اپنا دورہ نہ شروع ہو جائے۔ مولوی صاحب زیارت کے بہت مشتاق تھے۔ غشی میں کہتے کہ سواری لا کر مجھے قادیان پہنچاؤ۔ ہوش سنبھالتے تو کہتے کہ کم از کم ایک دفعہ کھڑے کھڑے مجھے اپنا دیدار دے جائیں۔ مولوی صاحب کی اہلیہ نے جناب سے ملاقات کو لکھا کہ آپ تیار ہو گئے۔ اس نے جلدی سے مولوی صاحب کو خبر کر دی کہ جناب آتے ہیں تو مولوی صاحب نے روک دیا کہ جناب تکلیف گوارا نہ فرماویں میں تو اپنا دکھڑا روتا ہوں۔ ورنہ مجھے معلوم ہے کہ جناب میری تکلیف دیکھ کر برداشت نہ کر سکیں گے۔ ایک دفعہ آپ ریسرچ ورک (تفتیش حوالہ جات) کرا رہے تھے تو کام کرنے والے پرچیاں بھیج کر آپ سے بات پوچھتے تھے۔ معراج الدین عمر لاہوری نے پرچی بھیجی تو السلام علیکم لکھنا بھول گئے تو آپ نے جواب میں یہ بھی لکھا کہ السلام علیکم آپ کو لکھنا چاہئے تھا۔ آپ کو السلام علیکم لکھنے کی اتنی عادت کہ ایک ہندو کو خط لکھا تو السلام علیکم لکھ دیا۔ کاٹ کر پھر لکھ دیا اور تیسری دفعہ پھر لکھ دیا۔ تو آخر آپ نے کاغذ ہی بدل لیا۔ آپ منگل کو برا جانتے تھے۔ یہاں تک کہ جب آپ کو معلوم ہوا کہ آپ کی لڑکی مبارکہ بیگم کی ولادت منگل کو ہو رہی ہے تو بہت دعاء کی تو پھر خدا نے ولادت بدھ کے دن بدل دی۔ آپ کو دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول متوفی ١٨٨٨ء کی وفات پر ہوا۔ رات کو اٹھو آیا۔ طبیعت خراب ہو گئی۔ ایک دفعہ نماز کو نکلے تو کہا کہ طبیعت خراب ہے۔ حامد علی نے گھر دستک دی کہ پانی گرم کر دو۔ اہلیہ نے حال پوچھ بھیجا تو حال خراب معلوم ہوا۔ تو خود پردہ کر کے مسجد میں آئیں تو جناب نے فرمایا کہ اب افاقہ ہے۔ نماز پڑھ رہا تھا کہ کالی کالی چیز سامنے اٹھتی ہوئی نظر آئی جو آسمان تک چلی گئی۔ پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی ہو گئی۔ اس کے بعد باقاعدہ دورے پڑتے رہے۔ جن میں ہاتھ پاؤں سرد ہو جاتے تھے اور خاص کر گردن کے پٹھے تو کھچے بھی جاتے تھے۔ سر میں چکر ہوتا اور بدن سہار نہیں سکتے تھے۔ شروع میں یہ دورے سخت پڑتے تھے۔ بعد میں خفیف معلوم ہونے لگے۔ کیونکہ آپ عادی اور کمزور ہو چکے تھے۔ دوروں کے وقت سے آپ نے نماز پڑھانی چھوڑ دی تھی۔ الہام کے وقت رنگ سرخ ہو جاتا تھا۔ پیشانی پر پسینہ آ جاتا۔ ایک دفعہ اپنے مکان میں ہی تھے کہ صبح کے وقت آپ کو غنودگی ہو گئی۔ لیٹ گئے تو ہونٹوں سے کچھ آواز شنوائی دینے لگے جسے ہم نہیں سمجھ سکتے تھے۔ کہا کہ یہ الہام کی حالت تھی۔ عموماً آپ بیدار ہو کر لکھ لیتے تھے۔ پہلے پہل کتاب پر ہی نوٹ کر لیتے تھے۔ بعد میں بڑی کاپی بنائی پھر نوٹ بک تیار کی جو اب تک مرزا محمود کے پاس موجود ہے۔ اخیر عمر میں ٹیڑھی نب سے لکھتے تھے۔ بغیر لکیر کے سفید کاغذ

صفحہ ٣٠٦

لے کر دونوں طرف حاشیہ کے لئے شکن ڈالتے تھے۔ کالی اور بلو بلیک دونوں طرح کی سیاہی استعمال کرتے تھے۔ مٹی کا ٹیلہ بنا کر اس میں دوات نصب کر لیتے تھے۔ عموماً ٹہلتے ہوئے لکھتے تھے اور دوات ایک جگہ پر پڑی رہتی۔ پاس جاتے تو نب تر کر لیتے اور لکھتے ہوئے باریک آواز سے پڑھتے بھی جاتے تھے۔ مگر ہمیں سمجھ نہیں آتا تھا۔ خط شکستہ تھا جس کو مشق ہوتی وہی پڑھ سکتا تھا۔ تحریر بہت باریک تھی اور لفظ کاٹ کاٹ کر لکھتے تھے۔ اوائل میں آپ کو دورہ سخت پڑا تو آپ کے دونوں بیٹے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد پاس آگئے اور ان کے سامنے بھی دورہ پڑا۔ سلطان احمد خاموش رہا اور فضل احمد بیتاب ہو گیا اور گھبراہٹ سے اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ آپ ایک دفعہ مرزا امام الدین کے ہمراہ پنشن وصول کرنے گئے تو وہ آپ کو پھسلا کر کہیں لے گیا۔ جب سارا روپیہ ختم ہو گیا تو وہ کہیں اور جگہ چلا گیا اور آپ شرم کے مارے گھر واپس نہ آئے اور اس نے ایک قافلہ پڑاؤ پر ڈاکہ مارا تو پکڑا گیا۔ مگر مقدمہ میں آپ کی وجہ سے رہا ہو گیا۔ ایک دفعہ والد نے نوکری کے لئے بلا بھیجا تو اس وقت آپ کتاب مطالعہ کر رہے تھے۔ جواب دیا کہ میں نوکر ہو چکا ہوں۔ باپ نے کہا کہ اچھا۔ آپ کو یہ چیزیں مرغوب تھیں۔ پرندوں کا گوشت، مچھلی، پکوڑے، مکی کی روٹی۔ مگر ایام طاعون میں بٹیر کا گوشت چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔ ناشتہ اور خوراک بے قاعدہ تھی۔ مگر صبح کو دودھ ہر روز پی لیتے تھے۔ گو ہضم نہ ہوتا تھا۔ ایک دفعہ سکنج بین عرصہ تک پیتے رہے۔ ایک دفعہ چائے کثرت سے پی تھی اور ایک دفعہ صرف دہی سے روٹی کھاتے رہے۔ کھاتے وقت روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرتے چلے جاتے تھے۔ اس لئے ریزے بہت ہوتے تھے۔ لنگر خانہ کا انتظام گھر پر ہی کرواتے تھے۔ مہمان مقیم ہوں یا مسافر دونوں کے لئے خاطر خواہ کھانا تیار کراتے تھے۔ ہر چند مشورہ دیا گیا کہ مہمان خانہ کا انتظام کسی کے سپرد کیا جائے۔ مگر آپ نے منظور نہ کیا۔

آپ کے بعد حکیم نورالدین صاحب نے یہ انتظام صدر انجمن احمدیہ کے سپرد کر دیا تھا۔

(انتہی) خونی قے اور اتھو گورداسپور کے مقدمہ میں وقوع پذیر ہوئی۔ جس پر آپ کو ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑا۔ پھر اسی موقعہ پر لکھا ہے کہ آپ کی آنکھیں نیم بند رہتی تھیں۔ (دیکھو بحث کرامات) آپ کا دایاں ہاتھ بالکل کمزور تھا۔ کیونکہ ایک دفعہ آپ دریچہ سے گر پڑے تھے۔ (دیکھو بحث کرامات) الوصیہ میں لکھا ہے کہ آپ کے بال تیس سال میں ہی سفید ہونے شروع ہو گئے تھے۔

عہد شباب

ایک دفعہ آپ کو سل ہو گئی تھی اور نا امیدی ہو چکی تھی۔ تو مرزا غلام محی الدین نے طفل

صفحہ ٣٠٧

تسلی دی کہ ڈرنا نہیں چاہئے۔ باپ نے چھ ماہ تک علاج کیا اور چھ ماہ تک بکرے کے پائے کا شوربہ پلایا۔ ١٨٧٧ء میں آپ کی دوسری اہلیہ بھی اٹھ نو سال کی تھی کہ میر ناصر قادیان آئے اور مرزا غلام قادر کے مکان میں رہے تھے۔ جناب کو نہیں دیکھا کیونکہ اس وقت آپ چالیس سال کی عمر میں گوشہ نشین تھے۔ گوشہ نشینی کا کمرہ وہی تھا۔ جو آج مرزا سلطان احمد کے قبضہ میں ہے۔ دوسری شادی کا الہام آپ کو دلی میں شادی کرانے کا ہوا تھا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی کے پاس تمام خواستگاران اہل حدیث کی فہرست رہتی تھی اور میر صاحب بھی اہل حدیث تھے۔ اس لئے آپ کی بھی ان سے ملاقات تھی۔ مولوی صاحب کے مشورہ سے جناب نے میر صاحب کو دہلی لکھا۔ گو عمر کا فرق تھا۔ مگر آپ رضا مند ہو گئے۔ جناب نکاح کے لئے حامد علی و ملاوا مل کو بھی ساتھ لے گئے۔ ٢٧ محرم ١٣٠٢ھ مطابق ١٨٨٤ء میں مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے نکاح پڑھایا۔ جناب نے پانچ روپے اور ایک مصلے نذر کیا۔ اس وقت جناب پچاس سالہ تھے۔ نکاح کی تقریب پہلے اتوار کو تھی۔ مگر جناب نے پیر کے دن تبدیل کرائی تھی۔ مولوی میر حسن صاحب سیالکوٹی سرسید کے دلدادہ تھے۔ مگر وہ لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی ١٨٦٤ء میں سیالکوٹ ملازمت کے لئے آئے۔ آپ عزلت نشین تھے۔ لالہ بھیم سین بٹالہ سے ہی آپ کا دوست بن چکا تھا۔ کیونکہ وہ بھی فارسی دان علم دوست تھا۔ اوائل غدر میں محمد صالح نامی ایک عرب وارد شہر ہوئے۔ تو پرکن صاحب ڈپٹی کمشنر نے جاسوسی کے شبہ میں اس کے بیانات قلم بند کئے۔ جن میں مرزا قادیانی ترجمان مقرر ہوئے تھے۔ مولوی الٰہی بخش محرر مدارس یعنی ڈسٹرکٹ انسپکٹر نے منشیوں کے لئے ایک انگریزی مدرسہ قائم کیا۔ ڈاکٹر امیر شاہ پنشنر استاد تھے۔ مرزا قادیانی نے بھی انگریزی کی ایک دو کتابیں پڑھیں۔ آپ کو مباحثہ کا شوق تھا۔ دیسی پادری الایشہ نے کہا کہ عیسائی مذہب کے سواء نجات نہیں ہوتی۔ آپ نے کہا کہ نجات سے کیا مراد ہے؟ وہ خاموش ہو گیا۔ بٹلر صاحب سے آپ کا مباحثہ بہت دفعہ ہوا۔ (یہ ایم۔ اے تھے اور موضع گوہد پور میں رہتے تھے) کہا کہ بے باپ پیدا کرنے میں یہ بھید تھا کہ آدم کی شرکت سے بری رہے۔ کیونکہ وہ گنہگار تھا۔ آپ نے کہا کہ مریم علیہا السلام بھی تو آخر آدم کی ہی نسل سے تھی تو بریت کیسی بالخصوص جب کہ عورت ہی گنہ کا باعث بنی تھی؟ پادری صاحب خاموش ہوگئے۔ مگر ولایت جانے لگے تو آخری ملاقات کو آپ کے کمرہ میں فرش پر ہی بیٹھ گئے۔ مراد بیگ متخلص بہ سکتہ وموحد نے آپ سے کہا کہ سرسید نے انجیل کی تفسیر لکھی ہے۔ آپ کو شغف ہے تو منگا لیں تو آپ نے عربی میں خط لکھا۔ شیخ الہ داد سابق محافظ دفتر اور مولوی محبوب عالم نقشبندی سے آپ کا انس تھا۔ حکیم منصب علی وثیقہ نویس کی بیٹھک برسر بازار تھی اور

صفحہ ٣٠٨

حکیم حسام الدین کی دواسازی عروج پر تھی۔ اس لئے آپ کا تعارف حسام الدین سے ہو گیا تو اس نے آپ سے قانونچہ اور کچھ موجز پڑھی۔ آپ ملازمت کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اس لئے مختاری کی طرف رخ کیا۔ مگر امتحان میں ناکام رہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایک استاد کی ضرورت تھی۔ آپ سے درخواست کے لئے کہا گیا کہ مدرسی اچھی نہیں۔ کیونکہ لوگ علم کو ناجائز امر کا آلہ بنا لیتے ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ نبی کو احتلام کیوں نہیں ہوتا۔ کہا کہ وہ نیک خیال ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ جھگڑا ہوا کہ پاجامہ کی موہری کیسے ہونی چاہئے۔ کہا کہ تنگ تاکہ ستر عورت بھی ہو تو سب نے پسند کیا۔ آپ نے تنگ آ کر ١٨٦٨ء میں استعفاء داخل کر دیا اور ١٨٧٧ء میں لالہ بھیم سین کے مکان پر آئے اور حکیم حسام الدین نے دعوت دی۔ ان دنوں سرسید نے قرآن شریف کی تفسیر شروع کی تھی۔ میں اور الہ داد لالہ صاحب کے مکان پر گئے تو میں نے کہا کہ تین رکوعوں کی تفسیر میرے پاس آگئی ہے۔ کہا کہ کل لیتے آئیں۔ مگر دوسرے دن تفسیر سن کر خوش نہ ہوئے۔ ١٨٦٤ء میں آپ کی عمر ٢٨ سال سے متجاوز نہ تھی۔ صاحبزادہ بشیر احمد لکھتے ہیں کہ میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا تو قلم دان پر (Red Copying Blue) لکھا ہوا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ (Copying) کا لفظ نہیں پڑھ سکے۔ گویا آپ کو صرف حرف شناسی تھی۔ سرسید نئی روشنی سے مرعوب ہو کر خوارق وغیرہ کے منکر ہو گئے تھے تو آپ نے آئینہ کمالات اسلام میں ان کو دردمندانہ طریق سے متنبہ کیا تھا۔ اوائل میں حکیم نور الدین بھی سرسید سے متاثر تھے۔ مگر آپ کی صحبت سے یہ اثر جاتا رہا۔ مولوی عبدالکریم سیالکوٹی بھی ایسے ہی تھے۔ چنانچہ ان کا شعر ہے کہ

مدتے در آتش نیچر فرو افتادہ بود
ایں کرامت بیں کہ از آتش بروں آید سلیم

ایک دفعہ آپ چوبارہ کی کھڑکی سے گر پڑے تو دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور آخر عمر تک وہ ہاتھ کمزور رہا۔ اس سے لقمہ تو اٹھا سکتے تھے مگر پیالہ نہیں اٹھایا جاتا تھا۔ نماز میں بھی دایاں ہاتھ بائیں کے سہارے سنبھالنا پڑتا تھا۔ سارا دن الگ بیٹھ کر پڑھا کرتے۔ کتابوں کا ڈھیر اردگرد ہوتا۔ شام کو پہاڑی دروازہ سے شمال کو سیر کرتے۔ ہر وقت دین کے کام میں لگے رہتے۔ گاؤں والے آپ کو امین کہتے تھے۔ آپ ہی کا فیصلہ مانتے تھے۔ مغل نہیں فقیر بن کر زندگی بسر کرتے تھے۔ ناراض بھی صرف دینی امور میں ہوتے تھے۔ سلطان احمد کو نماز کا حکم دیتے۔ مگر وہ نزدیک بھی نہ جاتا تھا۔ حضورﷺ کی شان میں گستاخی سنتے تو فوراً چلے جاتے۔ چہرہ سرخ ہو جاتا۔ جب دسمبر ١٩٠٧ء کو آریوں نے وچھووالی لاہور میں جلسہ کیا تو آپ نے حکیم صاحب کی معیت میں چند

صفحہ ٣٠٩

احمدی دے کر ایک مضمون پیش کیا تھا۔ مگر آریوں نے خلاف وعدہ حضور ﷺ کے حق میں بدزبانی کی جب آپ کو معلوم ہوا تو سب کو ڈانٹا۔ حکیم صاحب سر نیچے کئے بیٹھے تھے۔ کہا کہ تم کیوں نہ اٹھ کر چلے آئے۔ ایک دفعہ آپ ایسیسر بھی مقرر ہوئے تھے۔ مگر آپ نے انکار کر دیا۔ جو خادمہ آپ کو کھانا دینے جاتی تھی واپس آ کر کہتی تھی۔ ان کو کیا ہوش ہے یا وہ ہیں یا کتابیں۔ محمد عظیم خادم پیر جماعت علی شاہ علی پوری کا بیان ہے کہ ایام جوانی میں عیسائیوں کا وعظ جگہ جگہ ہوتا تھا۔ آپ امرتسر آتے تو عیسائیوں کے خلاف بڑا جوش رکھتے تھے اور ان کا مقابلہ کرتے تھے۔ میر حسن صاحب سیالکوٹی سے روایت ہے کہ ایک اہل کار کچہری سے گھر کو واپس ہوئے تو تیز دوڑنے کا ذکر آ گیا۔ بلاشبہ نے سب سے بڑھ کر دعویٰ کیا تو مرزا قادیانی مقابلہ میں آئے اور شیخ الہ داد منصف مقرر ہوئے۔ ننگے پاؤں کچہری سے پل تک جانا تھا۔ جو شہر کے قریب تھی ایک آدمی پہلے بھیجا گیا کہ پل پر انتظار کرے کہ پہلے کون وہاں پہنچتا ہے۔ دوڑ ہوئی تو مرزا قادیانی پہلے پہنچ گئے۔ ١٨٨٤ء لغایت ١٨٨٦ء ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے۔ والدہ بیمار ہوئیں تو والد کے حکم سے مستعفی ہو کر واپس آ گئے۔ ابھی امرتسر پہنچے ہی تھے اور یکہ کرایہ کر لیا تھا کہ ایک آدمی قادیان سے آپ کے لینے کو آ حاضر ہوا اور کہا کہ جلدی چلو حالت نازک ہے۔ مگر آپ کو معلوم ہو گیا کہ وہ مر چکی ہیں۔ (انتہی سیرۃ المہدی) اس بیان سے معلوم ہوا کہ: ”عہد شباب میں بھی عوارض جسمانی نے آپ کا پیچھا نہیں چھوڑا اور آپ کے اوّل المؤمنین حکیم صاحب اور مولوی عبدالکریم صاحب بلکہ خود بھی سرسید کے اثرات میں مدتوں متاثر رہے تھے ۔“

ادبیات

آپ نے کہا کہ میری جتنی عربی تحریریں ہیں وہ ایک رنگ میں الہام ہی ہیں۔ کیونکہ خدا کی تائید سے لکھی گئی ہیں۔ کئی ایسے فقرات بھی لکھ جاتا ہوں کہ جن کے معنی نہیں آتے۔ پھر لغت دیکھتا ہوں۔ عربی کی کاپیاں اور پروف حکیم نورالدین اور مولوی محمد احسن کے پاس اصلاح کے لئے بھیج دیتے تھے۔ حکیم صاحب تو یوں ہی واپس کر دیتے اور مولوی صاحب کسی جگہ اصلاح کرتے تو آپ کہتے کہ میرا لفظ زیادہ فصیح اور برمحل ہے۔ کسی جگہ ان کا لفظ بھی رہنے دیتا ہوں کہ دل شکنی نہ ہو۔ آپ نے ”ایا ارض مد“ کا قصیدہ لکھا تو حکیم صاحب سے پوچھا کہ کیا ایا حرف ندا ہے۔ آپ نے کہا کہ ہاں کہا کہ مجھے خیال نہیں تھا۔ آپ کبھی ایسا محاورہ بھی لکھ دیتے تھے کہ جو بڑی جستجو سے ملتا تھا۔ آپ نے کہا کہ جن آیات کے معانی ظاہر نہیں اور ان پر اعتراض پڑتے ہیں۔ درحقیقت وہ معارف کا خزانہ ہیں جن پر بد نما قفل لگے ہیں اور زیر زمین انہیں جنگلوں میں

صفحہ ٣١٠

مدفون ہیں۔ اردو، فارسی آپ شعر کہتے تھے اور آپ کا تخلص فرخ تھا۔ آپ کی کاپی سے کچھ شعر دستیاب ہوئے ہیں جن کا نمونہ درج ذیل ہے۔

عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے
کچھ مزا پایا مرے دل! ابھی کچھ پاؤ گے تم بھی کہتے تھے کہ الفت میں مزا ہوتا ہے
ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے
اس کے جانے سے دل سے صبر گیا ہوش بھی ورطۂ الم میں پڑے
سبب کوئی خداوندا بنادے کسی صورت سے وہ صورت ملا دے
کرم فرما کے آؤ میرے جانی بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے
کبھی نکلے گا آخر تنگ ہوکر دلا اکبار شور و غل مچا دے
نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پا کی سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی
میرے بت اب سے پردہ میں رہو تم کہ کافر ہوگئی خلقت خدا کی
نہیں منظور تھی گر تم کو الفت تو یہ مجھ کو بھی جتلایا تو ہوتا
میری دلسوزیوں سے بے خبر ہو میرا کچھ بھید بھی پایا تو ہوتا
دل اپنا اس کو دوں یا ہوش یا جاں کوئی اک حکم فرمایا تو ہوتا
کوئی راضی ہو یا ناراض ہووے رضا مندی خدا کی مدعا کر

کچھ شعر ادھورے ہیں اور کچھ نظرثانی کے لئے پڑے ہیں۔ آپ کے کاغذات سے یہ چٹھی ملی ہے جو تاریخ سے خالی ہے اور مکتوب الیہ کو نہیں ملی۔ حضرت والد مکرم من سلامت مراسم غلامانہ وقواعد فدویانہ بجا آوردہ معرض خدمت والا میکند چوں کہ دریں ایام رای العین مے بینم وبچشم سر مشاہدہ میکنم کہ در ہمہ ممالک و بلدہ ہر سال چناں وبائے مے افتد کہ دوستاں وخویشاں را از خویشاں جدا میکند ۔ ہیچ سالے نمے بینم کہ ایں تارۂ عظیم وچنیں حادثہ الیم در ایں سال شور قیامت بپا میکند ۔ بنا بر آں دل از دنیا سرد شدہ و رو از خوف جان زرد واکثر ایں دو مصرعہ مصلح الدین سعدی شیرازی بیاد مے آیند واشک حسرت ریختہ میشود

مکن تکیہ برعمر ناپائدار
مباش ایمن از بازیئے روزگار

ونیز ایں دو مصرعہ از دیوان فرخ قادیانی نمک پاشی جراحت دل میشود

بدنیای دوں دل مبند اے جواں
کہ وقت اجل سرسید ناگہاں
صفحہ ٣١١

لہذا میخواہم کہ بقیہ عمر در گوشہ تنہائی نشینم و دامن از صحبت مردم بکشم و بیاد او بخانہ مشغول شوم مگر گذشتہ را عذرے ومافات را تدارکے شود

عمر گذشت و نماندست جز ایامے چند
بہ کہ در یاد کسے صبح کنم شامے چند

کہ دنیا را اساسے محکم نیست وزندگی را اعتبارے نے "وبئس من خاف علی نفسه من آفة غير" والسلام!

مرزا قادیانی نے براہین حصہ پنجم میں مولوی محمد حسین کی تقریظ کا ذکر یوں کیا ہے کہ:

"أيا راشقى قد كنت تمدح منطقى . وتثنى على بالفۀ وتوقر . ولله درك حين قرظت مخلصا كتابى وصرت لكل ضال محقر . وانت الذى قد قال فى تقريظه . كمثل المؤلف فينا غضنفر . عرفت مقامى ثم انكرت مدبرا . فما الجهل بعد العلم ان كنت تشعر . كمثلك مع علم بحالى وفطنة عجبت له يبغى الهدى ثم ياطر قطعت ودارا قد غرسناه فى العبا . صادق لا ازور (انتهى ما فى سيرت المهدى) “ اس موقعہ پر اوّل یہ معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے عہد میں قبل از ادعاء بھی طاعون کا زور تھا اور اس سے خود بھی گھبرایا کرتے تھے۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہو گیا کہ طاعون دعوٰی نبوت کا آسمانی نشان تھا۔ دوم یہ کہ ١٩٠٧ء تک بھی مرزا قادیانی اپنی نظم میں وہی غلطیاں کرتے رہے جو ١٩٠٢ء یا اس سے پہلے کرتے تھے۔ کیونکہ براہین حصہ پنجم ١٩٠٨ء میں شائع ہوئی ہے۔ جس میں اپنے قصیدہ عربیہ متعلقہ تقریظ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پر فخریہ انداز ظاہر کیا ہے۔ کہنا ہے کہ ٧٥ فیصدی شعر انداز شاعری سے خارج ہیں۔ امید تھی کہ ١٩٠٧ء تک کچھ اصلاح ہو جائے گی۔ مگر "ولن يصلح العطار ما افسد الدهر“

کرامات

محمد یوسف مردانی کے ساتھ ایک مردانی مریض علاج کرانے حکیم صاحب کے پاس آیا۔ احمدیوں کے محلہ سے بھی متنفّر تھا۔ جب افاقہ ہوا تو محمد یوسف اسے مسجد مبارک میں لے آئے۔ جب کہ وہاں کوئی نہ تھا۔ مگر اسی وقت جناب کھڑکی کھول کر آگئے۔ نظر پڑی تو فوراً داخل بیعت ہو گیا۔ فخر الدین ملتانی کا باپ سخت بد زبان تھا۔ قادیان آیا تو پھر بھی بند نہ ہوا۔ جناب کے پاس لایا گیا تو ادب سے خاموش ہو گیا اور آپ نے اثنائے تقریر میں بہت ابھارا مگر اس کے منہ پر مہر لگ گئی۔ گجرات کا ایک ہندو کسی برأت میں قادیان آیا تو مسجد میں جناب بیٹھے تلقین کر رہے

صفحہ ٣١٢

تھے۔ اس نے اپنی توجہ ڈالی کہ جناب کے منہ سے بیساختہ کوئی لفظ نکلے کہ ٹھیک ہو۔ مگر پہلی دفعہ کانپا، دوسری دفعہ خوفزدہ آواز نکالی۔ تیسری دفعہ چیخ کر مسجد سے بھاگ نکلا۔ پوچھا گیا تو کہا کہ میں اپنی توجہ جناب پر ڈال رہا تھا کہ مجھے شیر نظر آیا تو میں ڈر گیا۔ دوسری دفعہ حوصلہ کیا تو وہ میرے قریب آ گیا تو میں کانپ گیا۔ تیسری دفعہ توجہ کرنے پر مجھ پر حملہ آور ہو گیا۔ اس لئے میں بھاگ نکلا۔ پھر وہ جناب کا معتقد ہو گیا تھا۔ محمد بوٹا کپور تھلہ ۔ کہتا تھا کہ ہم بیمار بھی ہوتے تو جناب کا منہ دیکھ کر شفا پا لیتے تھے۔ کپور تھلہ میں احمدیوں کا غیر احمدیوں سے مسجد کا تنازع تھا اور جج غیر احمدی تھا۔ تو اس نے مخالفت زور سے کی۔ انہوں نے دعاء کے لئے قادیان لکھا تو آپ نے زور سے لکھا کہ اگر میں سچا ہوں تو مسجد تم کو مل جائے گی۔ فیصلہ سنانے کے دن صبح جج نے نوکر سے کہا کہ بوٹ پہنائے وہ مصروف کار ہوا تو کھٹ کی سی آواز آئی۔ دیکھا تو حرکت قلب کے بند ہونے سے جج کرسی پر غشی میں پڑا تھا۔ دوسرے دن ہندو جج آیا تو احمدیوں کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس جماعت نے وہی فقرہ مسجد میں لکھوا کر نصب کرا دیا تھا۔ اس جماعت کے متعلق جناب نے کہا تھا کہ جس طرح جماعت کپور تھلہ نے دنیا میں میرا ساتھ دیا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ جنت میں بھی میرے ساتھ ہوگی۔ مولوی رحیم بخش صاحب کا دادا (خلیفہ ) بد زبان تھا۔ آپ کے والد نے قادیان میں دعاء کی درخواست کی۔ جناب نے لکھ بھیجا کہ اب وہ بدزبانی نہیں کرے گا۔ جواب سب کو سنایا گیا۔ تو جمعہ کے دن لوگ منتظر تھے کہ بدستور گالیاں سنائے گا۔ مگر خاموش ہو کر کہتا تھا کہ گالیوں سے کیا فائدہ ۔ مولوی صاحب نے بھی آج یہی وعظ کیا تھا۔ پھر باوجود بھڑکانے کے کبھی نہیں بولا۔ ایک دفعہ مسجد مبارک میں تلقین کر رہے تھے۔ عبد اللہ سنوری کی طرف خاص توجہ تھی تو سید فضل شاہ کو رشک ہوا۔ آپ سمجھ گئے اور فرمایا کہ؎

قدیمان خود را بیفزائے قدر

بشیر اوّل کی ولادت تھی تو نصف رات کو جناب عبداللہ کے پاس آئے کہ یٰسین یہاں پڑھو اور میں اندر جا کر پڑھتا ہوں۔ کیونکہ وہ بیمار کی تکلیف کم کرتی ہے۔ نزع کی حالت میں بھی اسی لئے پڑھتے ہیں اور ختم ہونے سے پہلے تکلیف دور ہو جاتی ہے۔ تھوڑی دیر ہوئی کہ آپ مسکراتے ہوئے مسجد میں آئے کہ لڑکا پیدا ہوا ہے۔ میں نے مسجد کے اوپر چڑھ کر کہا کہ مبارک ہو۔ مبارک ہو۔ شادی کے بعد ایک مہینہ ٹھہر کر اہلیہ واپس دہلی گئیں تو جناب نے خط لکھا کہ میں نے خواب میں تمہارے تین جوان لڑکے دیکھے ہیں۔ ١٨٨٩ء میں جب لدھیانہ میں بیعت کا اشتہار دیا تو بیعت سے پہلے میر عباس علی کے پاس ہوشیار پور بتقریب شادی مدعو ہوئے تو میر عباس علی،

صفحہ ٣١٣

حامد علی اور عبداللہ سنوری ساتھ تھے۔ گو دوسروں کے لئے الگ انتظام تھا مگر جناب نے ہم کو اپنے دائیں بائیں بٹھالیا۔ ان دنوں محمود شاہ ہزاروی کا بہت چرچا تھا۔ اس کے وعظ میں عبداللہ کو اعلان کرانے کے لئے بھیجا۔ پھر آپ بھی گئے۔ مگر اس نے وہ اعلان اخیر میں سنایا۔ جب لوگ جانے لگے تو آپ کو رنج ہوا اور کچھ عرصہ بعد محمود شاہ چوری کے جرم میں پکڑا گیا۔ عبداللہ نے کہا کہ مئی یا جون ١٨٨٤ء کو آپ نماز فجر ادا کر کے مسجد مبارک کے غسل خانہ میں جو تازہ ہی پلستر کیا ہوا تھا ایک چارپائی پر لیٹ گئے۔ سر شمال کو تھا۔ کہنی کا تکیہ بنا کر دوسری کو چہرے پر رکھ لیا اور سوگئے۔ تاریخ ٢٧/رمضان یوم جمعہ اور رات شب قدر تھی۔ کیونکہ میں نے سنا ہوا تھا کہ شب جمعہ کو ستائیسویں رمضان ہو تو شب قدر ہوتی ہے۔ آپ کانپے اور میری طرف دیکھا تو آبدیدہ تھے۔ پھر سوگئے۔ پاؤں دباتا ہوا پنڈلی پر آیا تو ٹخنے کے نیچے سخت جگہ تھی۔ اس پر سرخ نشان پایا کہ گویا خون بستہ ہے۔ انگلی لگائی تو ٹخنے پر بھی پھیل گیا اور انگلی پر بھی لگ گیا۔ سونگھا تو خوشبو نہ تھی۔ پھر پسلیوں کے پاس پہنچا تو وہاں بھی کیا سرخ نشان تھا۔ اٹھ کر دیکھا مگر کوئی سبب معلوم نہ ہوا۔ پھر دبانے لگا تو آپ اٹھ کر مسجد میں جا بیٹھے۔ میں مونڈھے دباتا تھا پوچھا کہ یہ سرخی کہاں سے آئی تھی کہا کہ آم کا رس ہوگا۔ میں نے کہا نہیں یہ تو سرخی ہے۔ فرمایا: ”کتھے اے“ میں نے کرتہ کا نشان دکھایا تو خاموش ہوگئے۔ فرمایا کہ خدا کی ہستی وراء الوراء ہے۔ دنیا کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ البتہ اس کے صفات جلالی یا جمالی ظاہر ہوتے ہیں۔ شاہ عبدالقادر نے لکھا ہے کہ میں نے خدا کو اپنے والد کی شکل میں دیکھا۔ پھر دیکھا تو اس نے ہلدی کا ٹکڑا دیا۔ بیدار ہوئے تو ہلدی موجود تھی۔ ایک بزرگ نے کشف میں دیکھا کہ کسی نے نیچے سے مصلےٰ نکال لیا ہے۔ دن چڑھے دیکھا تو وہی مصلےٰ صحن مسجد میں پڑا تھا۔ جب تم پاؤں دبا رہے تھے مجھے ایک وسیع اور مصفا مکان نظر آیا۔ پلنگ پر ایک آدمی تھا جسے میں نے خدا سمجھا اور حاکم اور اپنے آپ کو سررشتہ دار۔ میں نے کچھ احکام قضا وقدر کے متعلق لکھے تھے۔ دستخط کرانے گیا تو پلنگ پر بٹھالیا۔ گویا باپ بچھڑے ہوئے بیٹے سے ملا ہے۔ پھر احکام پیش کئے تو حاکم نے سرخی کی دوات سے قلم ڈبو کر مجھ پر چھڑکی اور دستخط کر دیئے۔ یہ وہی سرخی ہے۔ دیکھو تمہاری ٹوپی پر بھی کوئی نشان ہوگا۔ دیکھا تو اس پر بھی ایک قطرہ تھا۔ میں نے پوچھا کہ تبرک جائز ہے۔ فرمایا ہاں تو پھر اپنا کرتہ مجھے دے دیجئے۔ کہا کہ نہیں کیونکہ مرنے کے بعد لوگ زیارت بنائیں گے اور پوچھیں گے میں نے کہا کہ حضورﷺ کے تبرکات بھی تو آخر تھے۔ فرمایا کہ صحابہؓ نے اپنے ساتھ قبر میں دفن کرا لئے تھے۔ میں نے کہا کہ میں بھی ایسا ہی کروں گا۔ تو آپ نے کہا اچھا پھر غسل کر کے آپ نے کپڑے بدلے تو میں نے وہ کرتہ سنبھال لیا۔ اس سے پہلے دو تین مہمان

صفحہ ٣١٤

آئے تو میں ان سے کہہ بیٹھا کہ قطرے گرے ہیں۔ انہوں نے تصدیق کرائی تو انہوں نے بھی وہی کرتہ مانگا کہ ہم سب تقسیم کر لیں گے۔ اس لئے میں نے کہا کہ جناب یہ کرتہ میرا ہو چکا ہے تو مسکرا کر کہا کہ عبداللہ مالک ہے۔ اس سے لو مگر میں نے انکار کر دیا۔ آج تک وہی داغ موجود ہے۔ کوئی تغیر نہیں ہوا۔ (نیتو کا بنا ہوا ہے) صرف سات روز پہنا تھا۔ میں کسی کو نہیں دکھاتا تھا۔ خلیفہ ثانی سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ بہت دکھایا کرو تاکہ اس کی رویت کے گواہ بہت پیدا ہوں گے۔ مگر اب بھی خواہش مند کو ہی دکھاتا ہوں۔ از خود نہیں دکھاتا اور سفر میں پاس رکھتا ہوں کہ معلوم نہیں کہاں مر جاؤں۔ اب اس سرخی کا رنگ ہلکا ہے۔ عبداللہ سنوری کا بیان ہے کہ ١٨٨٢ء میں جب قادیان آیا تو اس وقت میری عمر سولہ سترہ سال کے درمیان تھی۔ ایک شادی ہو چکی تھی۔ دوسری کا خیال دامنگیر تھا۔ جس کے متعلق مجھے خوابیں بھی آئیں۔ آپ نے کہا کہ مجھے بھی دوسری شادی کا الہام ہوا ہے۔ دیکھئے پہلے کس کی ہو؟ مجھے اپنے ماموں اسماعیل کی لڑکی کا خیال ہوا تو میں قادیان آیا اور ماموں صاحب مجھ سے پہلے حاضری دے چکے تھے تو آپ نے کہا کہ مجھے کہا ہوتا تو اسے کہہ دیتے۔ مگر آپ نے میرے ماموں محمد یوسف کو کہ جس کے ذریعہ سے مجھے بیعت حاصل ہوئی تھی خط لکھا۔ جس میں والد خسر اور دادا کی طرف حکم لکھ بھیجا کہ چونکہ یہ دینی تحریک ہے۔ مزاحمت نہ کریں اور اس پر ”الیس الله بکاف عبدہ“ کی مہر لگائی اور دعاء کی۔ ابھی جواب نہیں آیا تھا کہ الہام ہوا۔ ناکامی پھر الہام ہوا: ”اے بسا آرزو کہ خاک شدہ“ پھر الہام ہوا کہ: ”فصبر جمیل“ جواب آیا کہ سب راضی ہیں۔ مگر اسماعیل نہیں مانتا۔ فرمایا کہ اسے ہم خود کہیں گے۔ میں نے کہا کہ ادھر ناکامی ہے۔ ادھر آپ کوشش کرتے ہیں تو فرمایا کہ: ”کل یوم ھو فی شان“ ممکن ہے کہ کوئی دوسری سبیل کامیابی کی نکل آئے۔ اسماعیل سرہند کے قریب پٹواری تھا۔ آپ انبالہ گئے اور تحصیل سرہند میں حشمت علی کے پاس ٹھہرے۔ جس سے پہلے وعدہ ہو چکا تھا کہ ہم سرہند آئیں گے تو مجدد صاحب کا روضہ بھی دیکھیں گے۔ بعد از فراغت نماز اسماعیل پاؤں دبا رہا تھا۔ سب کو اٹھا دیا اسے کہہ دیا تو اس نے عذر کیا کہ دو بیبیاں لڑتی ہیں اور اس کی تنخواہ صرف ساڑھے چار روپے ماہوار ہے۔ خسر اوّل بھی ناراض ہوگا۔ آپ نے ذمہ لیا مگر اس نے کہا کہ میری بیوی نہیں مانتی۔ آپ نے کشف میں دیکھا کہ اسماعیل نے میرے ہاتھ پر دست پھیر دیا ہے اور اس کی سبابہ کٹ گئی ہے تو سمجھ گئے کہ وہ نہیں مانے گا۔ آپ کو اس سے نفرت ہو گئی۔ مگر مجھے تشویش ہوئی تو آپ نے مجھے قادیان بلا لیا کہ خیالات تبدیل ہوں۔ مگر اسماعیل پر بڑی مصیبت نازل ہو گئی۔ جب کہ اس نے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کر دی تھی۔ معافی کا خواستگار ہوا۔

صفحہ ٣١٥

مگر اسے ملاقات نصیب نہ ہوئی۔ (دیکھو نشان ٥٥ حقیقت الوحی) دوسری جگہ تجویز ہوئی تو آپ نے کہا کہ لڑکی دیکھو۔ دیکھی تو مجھے اس سے نفرت ہوگئی کہ قے آتی تھی۔ پھر لدھیانہ میں ایک معلمہ سے تجویز ہوئی تو آپ نے اس سے بھی انکار کر دیا۔ پھر ماسٹر قادر بخش کی ہمشیرہ کا ذکر کیا۔ تو فرمایا کر لو۔ آپ نے بھی اسے لکھا تو اس نے کہا کہ میرا باپ ناراض ہے مگر راضی کر لوں گا یا مرجائے تو نکاح کردوں گا۔ اس وقت آپ باغ کو جارہے تھے بڑے خوش ہوئے۔ ماسٹر صاحب نے ہمشیرہ کا نکاح خفیہ کر دیا۔ آپ سرہند جاتے ہوئے سنور بھی گئے تھے۔ حکیم نور الدین صاحب کا بیان ہے کہ جب میں پہلی دفعہ قادیان آیا تو چھوٹی مسجد کے پاس چوک میں اترا۔ امام الدین اور نظام الدین کو دیکھ کر دل بیٹھ گیا اور ٹانگہ ٹھہرا لیا کہ شاید واپس جانا ہوگا۔ مگر انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب کو ملو گے؟ تو میری جان میں جان آئی کہ کوئی اور بھی مرزا صاحب ہیں۔ چھوٹی مسجد میں چھوڑ گئے آپ نے کہا کہ ظہر کو آؤں گا۔ اس وقت آپ براہین میں مصروف تھے تو آپ نے کہا کہ میں دعاء کرتا تھا کہ موسیٰ کی طرح مجھے ہارون دے۔ میری طرف دیکھتے ہی کہا کہ ہذا دعائی میں جب جموں سے فارغ ہوا تو بھیرہ میں مکان تعمیر کرانا شروع کردیا تھا۔ سامان لینے لاہور آیا تو قادیان کا خیال پیدا ہوگیا۔ یہاں آیا تو آپ نے کہا اب تو فراغت ہے۔ کچھ دن ٹھہرو گے۔ کچھ دن کے بعد فرمایا کہ گھر والوں کو بھی یہیں بلالو۔ عمارت بند کرا دی اور اہل و عیال منگوالیا۔ پھر کہا کہ بھیرہ کا خیال ترک کرو تو میرے دل میں یہ کبھی خیال نہ آیا کہ بھیرہ بھی میرا وطن تھا۔ جہلم کے مقدمہ میں گورداسپور گئے تو تین مہمان آلہ آباد سے آئے۔ جن میں سے قادر بخش نے تبادلۂ خیالات کے بعد بیعت کر لی۔ ایک دفعہ الہی بخش صاحب آپ کے ساتھ ساتھ مکان کے صحن میں ٹہل رہے تھے تو کہا کہ میری بیعت سے بہت لوگ اور بھی داخل بیعت ہوں گے۔ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور کہا کہ مجھے کیا پروا ہے۔ یہ خدا کا کام ہے۔ وہ خود لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر میرے پاؤں پر گرائے گا اور گرا رہا ہے۔ دوسرے دن جب واپس جانے لگے تو پوچھا گیا کہ آپ کی تسلی ہوگئی۔ کہا ہاں۔ ذوالفقار علی خان نے کہا کہ پھر بیعت؟ آپ نے کہا کہ تمہارا حق نہیں جانے دو۔ تیسرے چوتھے روز آپ قادیان آئے تو اپنے رومال سے کارڈ نکال کر دکھایا کہ تحصیلدار صاحب آپ تو جلدی کرتے تھے۔ دیکھئے ! دیکھا تو الہی بخش صاحب لکھنؤ جاتے ہوئے پنسل سے ریل میں سے لکھتے ہیں کہ جب حق کھل گیا تو دیر کیسی۔ راستہ میں مر جاؤں تو کیا جواب دوں گا۔ اس لئے میری بیعت قبول کی جائے۔ آپ نے کہا کہ تنہائی میں آدمی صحیح نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔ مولوی کرم الدین صاحب نے مقدمہ میں ١١؍ فروری ١٩٠٤ء کو گورداسپور جانا تھا۔ سرور شاہ صاحب کو معہ حامد

صفحہ ٣١٦

علی و عبدالرحیم نائی کو دو روز پہلے بھیجا کہ حوالہ جات تلاش کر کے پیشی کی تیاری کرو۔ وہاں آکر انہوں نے ڈاکٹر محمد اسماعیل کو دروازہ کھولنے کے لئے آواز دی تو ڈاکٹر صاحب نے رونا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد آئے تو کہا کہ محمد حسین پیش کار آیا تھا کہ آریوں کا جلسہ ہوا ہے۔ جلسہ کے بعد پرائیویٹ میٹنگ ہوئی میں پاس ہی تھا۔ ایک نے چندو لال مجسٹریٹ سے کہا کہ مرزا آریوں کا دشمن اور لیکھرام کا قاتل ہے۔ شکار ہاتھ میں آ گیا ہے۔ ساری قوم کی نظر آپ کی طرف لگی ہوئی ہے۔ آپ چھوڑیں گے تو دشمن ہوں گے۔ چندو لال مجسٹریٹ نے کہا کہ مرزا اور اس کے گواہوں کو جہنم رسید کروں گا۔ مگر کیا کروں کہ مقدمہ ایسی ہوشیاری سے چلایا گیا ہے کہ ہاتھ نہیں پڑسکتا۔ مگر میں عدالتی کارروائی پہلی پیشی میں ہی عمل میں لاؤں گا۔ یعنی بغیر ضمانت کے حوالات میں کر دوں گا۔ گو میں مخالف ہوں۔ مگر کسی شریف کو ہندؤوں کے ہاتھ سے ذلیل ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ یا تو چیف کورٹ میں مقدمہ تبدیل کراؤ یا مرزا قادیانی کا ڈاکٹری سرٹیفکیٹ پیش کر دو۔ پس تجویز ہوا کہ ابھی کوئی قادیان جائے۔ یکہ تلاش کیا اور چار گونہ زیادہ کرایہ بھی دیا۔ مگر مخالفت اتنی تھی کہ کوئی نہ مانا۔ آخر شیخ حامد علی عبدالرحیم نائی اور ایک اور آدمی پیدل قادیان آئے اور صبح آپ کو خبر دی۔ آپ نے کہا کہ خیر ہم بٹالہ چلتے ہیں۔ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی لاہور سے آتے ہیں۔ ان سے پوچھیں گے تو انہوں نے کہا کہ تبدیلی مقدمہ میں کامیابی نہیں ہوتی۔ جب گورداسپور پہنچے تو الگ کمرہ میں لیٹ گئے تو مولوی صاحب نے واقعہ سنا دیا۔ تو یک لخت آپ چار پائی پر بیٹھ گئے۔ چہرہ سرخ آنکھیں چمک اٹھیں۔ جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں۔ کہا میں اس کا شکار ہوں؟ نہیں۔ شیر ہوں اور شیر بھی خدا کا۔ وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ ہاں کشتی کر کے تو دیکھے۔ آواز اتنی بلند تھی کہ باہر کے لوگ بھی چونک اٹھے۔ شیر کا لفظ کئی بار دہرایا کہا کہ میں کیا کروں میں نے تو کہا ہے کہ لوہا پہننے کو تیار ہوں۔ مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کروں گا۔ پھر جھٹ اٹھے۔ پھر نصف گھنٹہ تقریر کی۔ پھر ابکائی آئی تو خونی قے ہوئی۔ منہ صاف کیا اور پوچھا کہ کیا ہے۔ مولوی صاحب نے کہا کہ خون ہے۔ ڈاکٹر انگریز بلایا گیا۔ کہا کہ بڑھاپے میں خونی قے خطرناک ہے۔ آرام کیوں نہیں کرتے۔ خواجہ صاحب نے کہا کہ مجسٹریٹ تنگ کرتا ہے۔ حالانکہ یہ مقدمہ یونہی طے ہو سکتا تھا۔ ایک ماہ کے لئے سرٹیفکیٹ لکھ دیا اور بغیر کسی رکاوٹ کے ہم سب قادیان آ گئے۔ دوسرے روز مجسٹریٹ نے سرٹیفکیٹ پر اعتراض کیا۔ مگر ڈاکٹر نے کہا کہ میرا سرٹیفکیٹ ہمیشہ عدالتوں میں جاتا ہے۔ پھر وہ تبدیل ہو گیا اور ای۔اے۔سی تھا۔ منصف ہو گیا۔ مولوی کرم الدین صاحب کے مقدمہ میں اہلیہ صاحبہ کو خواب آیا

صفحہ ٣١٧

کہ کوئی کہتا ہے کہ آپ کو امرتسر میں سولی پر لٹکایا جائے گا تا کہ قادیان والوں کی آسانی ہو۔ آپ نے تعبیر کی کہ عزت ہوگی۔ چنانچہ امرتسر میں اپیل کے ذریعہ سے آپ کی بریت ہوئی۔ آپ نے گھر والوں سے کہا کہ مجسٹریٹ کی نیت خراب معلوم ہوتی ہے اور اس کی بیوی نے خواب دیکھا ہے کہ اگر مجسٹریٹ کوئی خراب کام کرے گا تو اس پر وبال آئے گا۔ تو اس کا ایک لڑکا مر گیا۔ بیوی نے کہا کہ تم کیوں گھر اجاڑنے لگے ہو۔ فیصلہ کے دن عام مرید بہت روپیہ لے گئے تھے اور نواب محمد علی تو ہزاروں روپیہ لائے تھے کہ اگر جرمانہ ہوا تو ہم ادا کر دیں گے۔ درختوں کے نیچے عدالت کے پاس آپ کا ڈیرہ ہوتا تھا۔ کئی دفعہ ڈپٹی کمشنر انگریز گزرتا تو کہتا کہ اگر میں ہوتا تو ایک دن میں ہی فیصلہ کر دیتا۔ ماسٹر محمد الدین بی۔اے نے کہا کہ آپ کی حاضری میں ہمیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ طبیعت صاف ہورہی ہے اور روحانیت ترقی کر رہی ہے۔ الگ ہوتے تو وہ بات نہ ہوتی۔ مولوی شیر علی نے کہا کہ اس وقت خواہ طبیعت کیسی ہوتی خوش ہو جاتی تھی۔ عبداللہ سنوری پہلے پہل قادیان آئے تو آپ نے ان کے والد کا حال پوچھا۔ کہا کہ وہ تو شرابی اور خراب آدمی ہے۔ آپ نے ڈانٹا کہ آخری دم کسی کو معلوم نہیں اچھا ہے یا برا تو ان کا والد اخیر میں عشق کی حالت میں مرا۔ امام بی بی اور احمد بیگ بہن بھائی تھے۔ امام بی بی کی شادی مرزا غلام حسین سے ہو چکی تھی۔ جو مفقود الخبر ہو گیا تھا اور اس کی جائیداد امام بی بی کے نام ہوگئی تھی۔ اب احمد بیگ نے اپنی ہمشیرہ سے درخواست کی کہ اپنی تمام جائیداد اس کے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام کرادے۔ وہ تو مان گئی مگر قانوناً جناب کی رضامندی کے سوا ہبہ نامہ نامکمل تھا۔ اس لئے احمد بیگ ملتجی ہوا کہ آپ اس پر دستخط کر دیں۔ مگر آپ نے استخارہ پر ٹال دیا اور استخارہ میں الہام ہوا کہ اس کی لڑکی محمدی بیگم کے نکاح کی سلسلہ جنبانی کرو۔ وہ منظور کریں تو خیر ورنہ انجام برا ہوگا۔ اڑھائی تین سال تک بربادی ہوگی۔ آپ نے یہ بھی لکھا کہ مکاشفات نے حوادث کو تین سال کے اندر بھی دکھایا ہے۔ یہ لکھ کر احمد بیگ کو بھیج دیا۔ مگر لڑکی کے ماموں مرزا نظام الدین نے استہزاء کے طور پر یہ تحریر شائع کر دی تو آپ کو بھی موقعہ مل گیا۔ ایک نے کہا کہ جلتی آگ میں گھس کر سلامت نکلتا ہوں۔ مرزا قادیانی نبی ہیں تو وہ بھی داخل ہو کر دکھلائیں۔ آپ نے فرمایا کہ میرے سامنے اگر آگ میں داخل ہو تو کبھی نہ نکلے۔ ایک دفعہ مہمان آگئے۔ کھانا تیار ہوا کھلانے لگے تو اتنے اور آگئے۔ آپ گھر گئے تو زردہ کو ڈھانپ کر ہاتھ رکھا وہ اتنا بڑھا کہ سب سیر ہو گئے۔ ایک دفعہ آپ کے لئے مرغ کا پلاؤ پکایا گیا تو نواب صاحب کے گھر کے آدمی بھی آپ کے ہاں آگئے۔ ان کے مکان میں دھونی ہو رہی تھی۔ آپ نے کہا کہ ان کو بھی کھانا کھلاؤ۔ چاول کم تھے تو آپ نے دم کیا وہ اتنے بڑھے کہ نواب صاحب

صفحہ ٣١٨

کے آدمی بھی کھا گئے اور دوسرے آدمی بھی تبرک سمجھ کر لے گئے۔ محمد حسین بٹالوی نے جناب کے دعویٰ مسیحیت سے پہلے اپنے وعظ میں بیان کیا کہ ایک دفعہ انبالہ میں ہم دس بارہ آدمی ملاقات کو آئے۔ کھانا آیا تو صرف دو آدمیوں کے لئے کافی تھا۔ مگر سب کو کافی ہو گیا۔ دعویٰ مسیحیت پر یہ انکاری ہو گیا تھا اور اب مر چکا ہے۔ ڈاکٹر محمد اسماعیل نے کہا کہ جلسہ کے موقعہ پر چائے اور زردہ تیار ہو رہا تھا۔ آپ کا کھانا کشتہ اور دال اندر سے آیا۔ ہم نے خیال کیا کہ بہت لذیذ ہوگا۔ آپ نے اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ کھانا ایک آدمی کا تھا۔ مگر ہم سب سیر ہو گئے۔ دھرمپال آریہ مرتد نے ترکِ اسلام میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر اعتراض کیا تو حکیم صاحب نے جواب لکھا کہ وہ مخالفت کی آگ تھی۔ جناب نے کہا کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔ ہم خود موجود ہیں۔ ہمیں آگ میں ڈال کر دیکھ لیں۔ گلزار ہوتی ہے یا نہیں؟ آپ نے یہ شعر بھی کہا ہے کہ

ترے مکروں سے اے جاہل مرا نقصان نہیں ہرگز
کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے

آپ کا الہام بھی ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام ہے۔ بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ منارۃ المسیح بننے لگا تو لوگوں نے شکایت کی کہ اس سے بے پردگی ہوگی۔ موقعہ پر ایک ڈپٹی آیا۔ آپ مسجد مبارک کے حجرہ میں تھے۔ بڈھا مل رکن اعظم آریہ پاس تھا تو آپ نے کہا کہ اسی سے پوچھو کہ میں نے کبھی فائدہ پہنچانے میں دریغ کیا ہے اور اس نے کبھی ایذا رسانی میں کسر چھوڑی ہے تو وہ ایسا شرمندہ ہوا کہ بول نہ سکا۔ چہرہ کا رنگ سپید ہو گیا تھا۔ عبداللہ سنوری نے کہا کہ مجھے میرے تمام حالات خاتمہ عمر تک بتلادیئے تھے تو اسی کے مطابق حالات پیش آتے تھے۔ ریاست پٹیالہ میں نو گاؤں کا میں پٹواری تھا۔ سالانہ تنخواہ پچپن روپے تھی۔ میں نے دوسرے پٹواری سے مل کر پائل پور میں تبادلہ کرالیا۔ مگر وہاں کوئی مسجد نہ تھی۔ تو میں نے آپ سے درخواست کی کہ دعاء کریں۔ مجھے نوگاؤں واپس مل جائے۔ کہا کہ وقت آنے دو تو میرا تبادلہ غوث گڑھ میں ہو گیا۔ جس میں میرا ایسا دل لگا کہ نوگاؤں کا خیال جاتا رہا۔ کچھ عرصہ بعد غوث گڑھ کا حلقہ خالی ہو گیا اور تحصیل دار نے مجھے نوگاؤں بھی میرے حلقہ سے ملحق کر دیا اور میری تنخواہ سالانہ ایک سو دس روپیہ ہو گئی۔ حالانکہ دونوں حلقوں میں پندرہ میل کا فاصلہ تھا اور درمیان میں اور حلقے بھی تھے اور غوث گڑھ تمام احمدی ہو گیا۔ ایک نے پوچھا کہ کیا آپ واقعی مسیح موعود اور مہدی ہیں؟ تو آپ نے اس انداز سے کہا: ”ہاں“ کہ وہ شخص فوراً بیعت میں داخل ہو گیا اور میرے (عبداللہ سنوری) کے دل پر بھی گہرا اثر ہوا۔ فخرالدین ملتانی سے کہا کہ ١٩١٠ء میں نوروز ضلع کانگڑہ

صفحہ ٣١٩

میں رہے تو وہاں کے کورٹ انسپکٹر اوف پولیس نے جو غیر احمدی تھا ایک دعوت قائم کی۔ جس میں مجھے بھی بلایا تو اس نے اثناء گفتگو میں کہا کہ جب پندرہ ماہی پیشین گوئی کا آخری دن تھا۔ پہرے کا انتظام میرے سپرد تھا۔ چاروں طرف پولیس کھڑی تھی۔ مگر آتھم کوٹھی کے اندر بھی بیتاب تھا۔ بندوق کی آواز آتی تو اور بھی حالت ابتر ہو گئی۔ تو عیسائیوں نے اسے شراب پلا کر بیہوش کر دیا تو دوسرے دن اس کا جلوس نکال کر نعرہ لگاتے تھے کہ مرزا کی پیشین گوئی جھوٹی نکلی۔ انہی دنوں لوئیس صاحب لدھیانہ میں ڈسٹرکٹ جج تھا اور آتھم اس کا داماد تھا۔ دوران میعاد میں آتھم اس کی کوٹھی پر ٹھہرا تو ایک غیر احمدی پنکھا قلی نے بتایا کہ رات بھر وہ روتا رہتا ہے۔ پوچھا گیا کہ کیوں؟ کہا کہ تلواروں والے نظر آتے ہیں اور وہ صرف مجھے ہی نظر آتے ہیں۔ کبھی اسے کتے نظر آتے تھے اور کبھی سانپ۔ اس لئے مخالفوں کا کہنا درست نہیں کہ احمدیوں سے ڈرتا تھا۔ ورنہ اس طرح کی بے چینی نہ ہوتی۔ اس کی حالت تو اسی وقت خراب ہو چکی تھی۔ جب کہ جلسہ مباحثہ میں ساٹھ ستر عیسائیوں کے سامنے کہتا تھا کہ میں نے دجال کا لفظ حضورﷺ کے متعلق نہیں لکھا۔ حالانکہ اندرونہ بائبل میں یہ لفظ موجود تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ خدا علیم بھی ہے اور قدیر بھی۔ پہلی صفت کے ماتحت جو پیشین گوئی ہوتی ہے تو عین تاریخ پر ہوتی ہے۔ جیسے حضورﷺ کی پیشین گوئی۔ جناب فاطمۃ الزہراؓ کے متعلق تھی کہ وہ چھ ماہ کے اندر دنیا سے رخصت ہو جائیں گی اور دوسری صفت کے زیر اثر جو پیشین گوئی ظاہر ہوتی ہے وہ تخلف عن الوعید کے طرز پر تاریخ کی پابند نہیں ہوتی۔ کیونکہ مجرم کبھی کچھ نیکی یا خوف الٰہی کے عوض تاخیر عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے اور آخر جب وہ باز نہیں آتا اور مغرور ہو جاتا ہے تو اس کا وقوع ہو جاتا ہے۔ جیسے حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی امت کے خوف سے ٹل ہی گئی تھی۔ امرتسر میں جب آتھم سے مباحثہ ہوا تو عیسائیوں نے مادر زاد اندھا، لولنجا وغیرہ پیش کر کے چنگا کرنے کو کہا تھا۔ کیونکہ حضرت مسیح علیہ السلام ایسوں کو تندرست کر دیا کرتے تھے تو آپ نے جواب میں لکھوایا کہ میں تو اس معجزہ کا اس طرح قائل ہی نہیں۔ البتہ تم کہتے ہو کہ جس میں ذرہ بھر بھی ایمان ہو۔ وہ ایسوں کو چنگا کر سکتا ہے۔ تم تجربہ کرو ہم دیکھیں گے کہ کہاں تک صحیح ہے۔ تب وہ خاموش ہو گئے۔ جب محمدی بیگم ابھی زیر تجویز تھی تو اس کا ماموں جو جالندھر اور ہوشیار پور میں آمد و رفت رکھتا تھا۔ آپ سے انعام کا خواہاں ہوا۔ جب کہ ایک دفعہ آپ ایک ماہ کے لئے جالندھر مقیم تھے اور آپ نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ بشرطیکہ وہ نکاح کرا دے۔ مگر وہ بد نیت تھا۔ دوسری جگہ ناطہ دلوانے میں کوشش کر رہا تھا۔ اس لئے آپ نے حکیمانہ طور پر احتیاط برت رکھی تھی اور ایسے موقعہ پر جدوجہد اس لئے کی جاتی ہے کہ عالم اسباب میں کسی چیز کا انصرام

صفحہ ٣٢٠

بغیر کسب کے نہیں ہوتا اور خدا بھی خفا ہو جاتا ہے کہ جب بندہ کو ضرورت نہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے۔ اس لئے محبت کا تقاضا ہے کہ اپنے محبوب کے ارادوں کو پورا کرنے میں اپنی کوشش پیش کی جائے۔ نیز چونکہ غلبہ دین مقصود ہوتا ہے تو نبی کا ثواب سمجھ کر اس میں حصہ لیتا ہے۔ اس پیشین گوئی کی اصلی غرض و غایت اظہار قدرت تھا اور تمام الہامات کا یکجائی خلاصہ مضمون یہ نکلتا ہے کہ اس کا بیرونی مضمون یوں تھا کہ اگر یہ لوگ تمردانہ حالت نہ چھوڑیں گے جس کی علامت یہ تھی کہ وہ نکاح قبول نہ کریں تو اس صورت میں وہ تباہ ہوں گے اور بالخصوص جب تک سلطان محمد تمرد نہ چھوڑے تین سال کے اندر تباہ ہوگا اور وہ واپس آئے گی اور اندرونی مضمون یہ تھا کہ اگر وہ تمرد چھوڑ دیں گے تو عذاب سے بچ رہیں گے اور بالخصوص جب سلطان محمد تمرد چھوڑ دے گا تو نہ خود ہلاک ہو گا اور نہ ہی وہ واپس آئے گی۔ اس الہام کو اٹل صرف بیرونی صورت کے لحاظ سے کہا گیا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد جب اندرونی صورت رونما ہوئی تو وہ تقدیر بھی ٹل گئی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس قوم کو ایک نشان دکھلانا مطلوب تھا جو ہمیشہ مخول سے نشان کی طالب تھی۔ تو جس قدر پیشین گوئی نے موقعہ پایا اس نے اپنا کام پورا کر دیا۔ چنانچہ لڑکی کے عیال سرکشی سے باز نہ آئے تو سب تباہ ہو گئے اور ان کی نسل کا صرف ایک بچہ بھی صرف اس لئے بچا ہوا ہے کہ احمدی ہو گیا ہے اور احمد بیگ بھی اسی سلسلہ میں تپ محرقہ سے ہوشیارپور میں تباہ ہو گیا۔ سلطان محمد نے کبھی بھی جناب کے حق میں گستاخی نہیں کی۔ آریوں اور عیسائیوں نے بہتیرا لالچ دے کر ابھارا بھی مگر اس نے اس جرم کا ارتکاب نہیں کیا۔ اس لئے اس کی جان بچ گئی اور نکاح بھی قائم رہا۔ رہا یہ امر کہ اس نے بیعت کیوں نہ کی یا بیوی کیوں نہ چھوڑی یا وہ نکاح قائم رکھنے کے جرم میں مارا کیوں نہ گیا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کا صرف انکار موجب ہلاکت نہیں ہوتا بلکہ تمرد اور سرکشی موجب ہلاکت ہوا کرتا ہے جو اس سے سرزد نہیں ہوئی اور انکار نبوت کی سزا آخرت میں ملے گی جو اس دنیا سے متعلق نہیں اور دنیا میں طاعون وغیرہ ہلاکتوں کا انکار کے باعث آنا صرف اسی لئے ہوتا ہے کہ قوم بیدار ہو کر نبی وقت کی متلاشی بن جائے۔ اس لئے قومی عذاب کو شخصی عذاب پر قیاس کرنا صحیح نہ ہوگا۔ غرضیکہ آسمانی نشان پورا ہو گیا تھا۔ ورنہ آپ کی غرض وجاہت دنیاوی نہ تھی۔ کیونکہ سلطان محمد کا خاندان ادنیٰ خاندان تھا۔ نہ ہی وہ خوبصورت تھی اور نہ ہی نفسانی جذبات کا تقاضا تھا۔ کیونکہ آپ کی عمر پچاس برس کے اوپر ہو چکی تھی۔ حافظ جمال احمد نے کہا کہ مرزا سلطان محمد سے میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرا خسر پیشین گوئی سے مر گیا اور خدا غفور رحیم ہے دوسروں کی سنتا ہے اور ایمان سے کہتا ہوں کہ پیشین گوئی میرے لئے شبہ کا باعث نہیں ہوئی تو پھر بیعت کیوں نہیں کی؟ کہا کہ

صفحہ ٣٢١

جب میں انبالہ چھاونی میں تھا تو میں نے ایک احمدی کے استفسار پر ایک تحریر لکھ بھیجی تھی۔ (جو تحفہ الاذہان میں موجود ہے) اور بھی وجوہات ہیں جن کا بیان کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ میں چاہتا ہوں کہ قادیان آ کر آپ سے وہ سب کچھ عرض کروں۔ پھر چاہیں تو شائع بھی کر دیں۔ عیسائیوں اور آریوں نے لاکھ روپیہ دے کر اس کے لئے ابھارا مگر میں نے انکار کر دیا اور جب فرانس میں سلطان محمد کو گولی لگی تھی تو محمدی بیگم کو تشویش ہوئی۔ رات کو رویا میں مرزا قادیانی نے دودھ کا پیالہ دے کر فرمایا کہ یہ پی لو فکر نہ کرو۔ تیرے سر کی چادر سلامت ہے تو اسے کمال اطمینان ہو گیا۔

سیالکوٹ آپ کمرہ میں بیٹھے تو بجلی آئی اور گھوم کر چلی گئی۔ جس سے گندھک کی بو آتی تھی اور کمرہ دھوئیں سے بھر گیا۔ پھر تیجا سنگھ کے مندر میں گری اور وہاں بیچ در بیچ طواف کے لئے دیوار تھی۔ جس میں ایک ہندو تھا۔ مگر وہ بجلی تمام چکر کاٹ کر اسی ہندو کو جلا گئی۔ وہیں چھت گرنے کا واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ پھر ایک دفعہ لحاف میں بچھو مرا ہوا پایا۔ دوسری دفعہ لحاف کے اندر چلتا ہوا دیکھا۔ ایک دفعہ آپ کے دامن کو آگ لگی تو دوسرے نے بجھائی۔ (براہین احمدیہ حصہ سوم ص٢٢٨، خزائن ج١ ص٢٧٥) میں قطبی کا مشہور خواب دیکھا۔ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپ کے ہم مکتب تھے۔

جب مولوی بن کر آئے تو ان کے خیالات لوگوں کو ناگوار گزرے۔ ایک نے بحث کے لئے آپ کو بلایا۔ مگر مولوی صاحب کی تقریر میں کوئی مخالفت نہ پائی گئی اور بحث ترک کی گئی تو الہام ہوا کہ خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر کشف میں وہ بادشاہ بھی دکھائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔ عطاء محمد پٹواری ونجوان ضلع گورداسپور کا بیان ہے کہ میں شرابی کبابی تھا۔ قاضی نعمت اللہ خطیب بٹالوی مجھے تبلیغ کرتے۔ مگر مجھے کوئی اثر نہ ہوا۔ تنگ آ کر میں نے ایک دن ان سے کہہ دیا کہ میری تین بیویاں ہیں۔ بارہ سال سے اولاد نہیں ہوئی۔ اگر ان کی دعاء سے خوبصورت لڑکا بڑی بیوی سے پیدا ہو تو سچا مان لوں گا۔ خطیب نے خط لکھ کر دعاء منگوائی۔ آپ نے جواب دیا کہ لڑکا ہوگا۔ بشرطیکہ زکریا والی توبہ کرو۔ یعنی شراب چھوڑ کر نمازی بن جاؤ۔ چار پانچ ماہ کا عرصہ ہوا تو میری بڑی بیوی رونے لگی کہ اب تو حیض بھی بند ہو گیا ہے۔ مجھے میرے بھائی کے پاس بھیج دو۔ جا کر علاج کراؤں تو میں نے یہی دایہ بلالی تو اس نے کہا کہ خدا بھول گیا ہے۔ اس کو تو حمل ہو گیا ہے۔ پھر آثار شروع ہو گئے۔ پھر لڑکا خوبصورت نصف رات کو پیدا ہوا۔ جس کا نام عبدالحق رکھا گیا۔ دھرم کوٹ جا کر سب رشتہ داروں کو اطلاع دی تو ونجواں اور دھرم کوٹ کے باشندوں نے آپ سے بیعت کر لی۔ میں قادیان آیا تو مسجد کا راستہ دیوار سے بند تھا۔ آپ باغ میں تھے میں نے خواب سنایا کہ

صفحہ ٣٢٢

میرے ہاتھ میں خربوزہ ہے۔ کھانے میں شیریں ہے ایک قاش عبدالحق کو دی تو وہ خشک ہو گئی۔ آپ نے کہا کہ ایک اور لڑکا پیدا ہو کر مر جائے گا۔ تو ایسا ہی ہوا۔ جس رات امۃ النصیر پیدا ہوئی تو خود مولوی محمد احسن صاحب کے دروازہ پر حاضر ہو کر کہنے لگے کہ لڑکی پیدا ہوئی۔ مگر الہام ہوا ہے کہ:”غاسق اللہ“ (جلدی فوت ہو جانے والی) تو ویسا ہی ہوا۔ محمد بخش تھانہ دار کہ جس کی رپورٹ سے حفظ امن کا مقدمہ ١٨٩٩ء میں دائر ہوا تھا۔ طاعون سے مرا۔ مگر اس کا لڑکا نیاز محمد مرید ہو گیا۔ آخری تقریر میں جب آپ نے کہا کہ عبداللہ آتھم نے حضور ﷺ کے حق میں اندرونہ بائبل میں معاذ اللہ دجال لکھا ہے تو خوف زدہ ہو کر زبان باہر نکال کر کانوں کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ میں نے کب کہا ہے اور کہاں؟ ایک دفعہ اپنے باغ میں پھر رہے تھے۔ اہلیہ نے سنگترہ مانگا اور اس وقت موسم نہ تھا تو آپ نے ایک پودہ پر ہاتھ مار کر سنگترہ حاضر کر دیا۔ آپ ٹانگہ میں سوار ہوئے تو رفیق سفر ہندو نے آپ کو دھوپ میں جگہ دی۔ مگر ابر نے سایہ کر دیا اور قادیان تک یہی حالت رہی تو پھر وہ ہندو پشیمان ہو گیا۔ ایک مقدمہ پر آپ ڈلہوزی گئے۔ راستہ میں بارش آ گئی۔ ایک پہاڑی آدمی کے گھر گئے۔ اس نے دوسروں کو تو جگہ نہ دی۔ مگر آپ کو اندر لے گیا۔ کیونکہ اس کی لڑکی جوان تھی اور غیروں کا داخلہ بند کر دیا تھا۔ سیالکوٹ میں ایک نئے مکان پر آپ لوگوں کے ہمراہ بیٹھے تھے کہ کڑکڑ کی آواز ہوئی۔ کسی نے کہا کہ چو ہا ہوگا۔ مگر آپ نے کہا کہ خطرہ ہے۔ لوگوں نے نہ مانا۔ آخر آپ ابھی لوگوں کو اپنے ہمراہ لے کر نیچے اترے ہی تھے کہ مکان گر گیا۔ گویا آپ کا ہی انتظار کر رہا تھا۔ ایک دفعہ عدالت کی پیشی میں دیر تھی تو آپ نے نماز شروع کر دی۔ ابھی ختم نہ کی تھی کہ بہرے نے خبر دی کہ آپ کی فتح ہو گئی ہے۔ جہلم کے مقدمہ میں آپ گورداسپور گئے۔ پیشی بھگت کر کچہری کے پاس ہی آرام کرتے ہوئے لیٹ گئے اور اس وقت مولوی شیر علی اور مفتی محمد صادق ہی پاس تھے۔ آپ نے کہا کہ الہام ہوا ہے۔ لکھ لو۔ قلم دوات پاس نہ تھی۔ مفتی صاحب نے باورچی خانہ سے کوئلہ لا کر لکھ لیا اور بھی الہام ہوئے جن میں سے ایک الہام یہ بھی تھا کہ: ”یَسْئَلُوْنَکَ عَنْ شَانِکَ قُلِ اللّٰہُ ، ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ “ دوسرے دن وکیل مستغیث نے تحفہ گولڑویہ میں سے آپ کی تسلی کے چند الفاظ پڑھے اور پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ہاں یہ اللہ کی شان ہے۔ قادیان کو جب واپس آئے تو راستہ میں شیر علی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ عربی الہام پورا ہو گیا ہے۔ تو آپ نے کہا۔ ہاں ! جب مرزا کمال الدین نے دیوار بنا کر مسجد کا راستہ بند کر دیا تو مرزا بشیر کو خواب آیا کہ وہ گرائی گئی ہے۔ آپ نے نوٹ کر لیا پھر قانونی چارہ جوئی کی اور کامیاب ہوئے۔ ١٩٠٥ء میں بڑا زلزلہ آیا تو مفتی محمد صادق کے چھوٹے لڑکے

صفحہ ٣٢٣

نے خواب میں دیکھا کہ بکرے ذبح ہو رہے ہیں۔ آپ اس وقت باغ میں ٹہل رہے تھے تو آپ نے یہ خواب معلوم کرنے پر کئی بکرے صدقہ کرا دیئے اور لوگوں نے بکرے ذبح کرائے۔ سب کی تعداد سو سے زیادہ ہوگی۔ مرزا بشیر کا بیان ہے کہ زلزلہ آیا تو میں نواب صاحب سے ملحق مکان میں بمعہ دوسرے بچوں کے لیٹ رہا تھا۔ ہم ڈر کر صحن کو دوڑے تو آپ اور میری والدہ دونوں صحن کی طرف گھبرا کر آ رہے تھے۔ پھر باغ میں چلے گئے۔ جہاں کچے مکان بنا رکھے تھے اور خیمے بھی لگوا دیئے سکول بھی کچھ عرصہ وہیں لگتا تھا۔ قادیان میں امیر حسین قصر صلوٰۃ اس وقت جائز سمجھتے تھے کہ لڑائی شروع ہو۔ حکیم نور الدین صاحب سے بھی بحث کرتے تھے۔ گورداسپور میں آپ جہلم کے مقدمہ کے لئے گئے تو قاضی صاحب کو ظہر کی نماز میں امام بنایا اور کان میں کہا: ”اب تو قصر کرو گے نا؟“ تب سے قاضی صاحب نے اپنا عقیدہ بدل لیا۔ ان کا لڑکا مر گیا تو لڑکے کی ماں اور نانی بہت روئیں۔ آپ جب جنازہ پڑھا کر فارغ ہوئے تو وعظ کرتے ہوئے فرمایا کہ اپنی بیوی سے بھی کہہ دینا۔ پھر دو لڑکے اور بھی فوت ہوئے۔ مگر وہ نہ روئیں۔ ایک دفعہ گورداسپور جاتے ہوئے بٹالہ میں ٹھہرے۔ کسی نے انگور پیش کئے تو آپ نے تناول فرماتے ہوئے کہا کہ گو اس میں ترشی ہوتی ہے۔ مگر زکام کو مضر نہیں ہوتی۔ کلام کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ میرا جی انگور کو چاہتا تھا۔ خدا نے بھیج ہی دیئے۔ پھر فرمایا کہ ایک دفعہ میں کہیں جا رہا تھا تو مجھے پونڈے کی خواہش ہوئی۔ مگر وہاں نہ ملتا تھا۔ اس کے بعد مجھے ایک آدمی ملا جس سے مجھے پونڈے مل گئے۔ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ کرائی گئی تو آپ نے اپنے دونوں لڑکوں کو خط لکھا کہ میرے ساتھ رہو یا مخالفین سے مل جاؤ ورنہ میں تم کو عاق کروں گا۔ سلطان احمد نے کہا کہ میں اپنے رشتہ داروں سے تعلق قائم رکھوں گا۔ فضل احمد سے کہا کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس نے دے دی۔ مگر دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے پھر مخالفوں سے جا ملا۔ شرمیلا بہت تھا مر گیا تو جناب کو بہت غم ہوا۔ ساری رات نہیں سوئے۔ دو تین روز مغموم بھی رہے۔ محمدی بیگم جناب کی چچا زاد بہن عمر النساء کی لڑکی تھی۔ امام الدین و نظام الدین کی بھانجی مرزا غلام قادر کی بیوہ اس کی خالہ تھی۔ احمد بیگ ہوشیار پوری اس کا والد امام الدین کا بہنوئی تھا۔ آپ کی حقیقی ہمشیرہ محمد بیگ برادر کلاں احمد بیگ سے بیاہی ہوئی تھی۔ یہ تمام رشتہ دار بے دین تھے۔ آپ کو خیال پیدا ہوا کہ یا تو ان کی اصلاح ہو جائے یا کوئی اور فیصلہ ہو تو الہام ہوا کہ محمدی بیگم کے نکاح کی سلسلہ جنبانی کر۔ شادی ہوگی تو برکت پائیں گے ورنہ ان کے گھر بیواؤں سے بھر جائیں گے۔ لڑکی کا والد تین سال میں مر جائے گا اور جس سے شادی ہوگی وہ بھی اڑھائی سال میں مر جائے گا۔ سو احمد بیگ مر گیا۔ شوہر خوفزدہ ہو گیا اور

صفحہ ٣٢٤

عجز و نیاز کا خط لکھا۔ جو تشحیذ الاذہان میں شائع ہو چکا ہے۔ اس لئے بچ گیا۔ باقی رشتہ دار تباہ ہو گئے۔ اس خاندان کا ایک بچہ رہ گیا۔ مگر وہ بھی احمدی ہو گیا۔ غلام قادر کی بیوہ بھی احمدی ہو گئی۔ باقیوں نے مخالفت چھوڑ دی ہے۔ آپ کا یہ الہام پورا ہوا کہ ہم کچھ حسنی طریق پر داخل ہوں گے اور کچھ حسینی طریق پر۔ سعد اللہ لدھیانوی کے متعلق آپ نے لکھا تھا کہ یہ ابتر رہے گا۔ کیونکہ اس کا لڑکا نامرد ہے۔ مولوی محمد علی نے کہا کہ ایسی تحریر قانون کے خلاف ہے۔ بہت تکرار کے بعد آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا: ”جب نبی ہتھیار لگا کر باہر آ جاتا ہے تو پھر ہتھیار نہیں اتارتا ۔“ ” انتہی ما فی سیرۃ المہدی“ ان کرامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو اتفاقیہ واقعات میں کرامت دکھلانے کا بہت بڑا موقعہ ملا تھا اور کرامات دکھانے میں یہ وطیرہ اختیار کیا ہے جو ہر ایک خواندہ آدمی کو حاصل ہو سکتا تھا۔ جب کہ وہ اپنے پاس پاکٹ بک رکھ کر چیدہ چیدہ باتیں نوٹ کرتا رہے۔ سال کے بعد اس کی کئی ایک تخمینی باتیں پوری ہو جائیں گی اور اگر اپنے آپ کو مقدس ظاہر کرے تو کرامات کا ڈھیر بھی لگ جائے گا۔

ان کرامات میں سب سے بڑی کرامت محمدی بیگم کا نکاح ہے جو صرف اس لئے تجویز ہوا تھا کہ مرزا قادیانی مسیح بن کر نئی شادی کر کے صاحب اولاد ہوں۔ جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے۔ مگر چونکہ کامیابی نہ ہوئی اور تمام پیشین گوئیاں حدیث النفس ثابت ہوئیں۔ اس لئے پہلے تو اس حدیث کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ پھر ناکامیابی کے وجوہات گھڑنے شروع کر دیئے کہ یہ آیات متشابہات سے ہے یا اس سے مراد اولاد در اولاد کا نکاح ہے یا یہ مشروط پیش گوئی تھی یا تخلف عن المیعاد کا جواز ممکن ہے اور یار محمد صاحب وکیل نے تو کمال ہی کر دیا کہ محمدی بیگم میں ہوں۔ میں نے بیعت کی تو آپ کے نکاح میں آ گیا۔ اخیر میں مؤلف سیرت المہدی نے اس کا ظاہر و باطن بنا کر بنائے پیش گوئی وجود تمرد کو قرار دیا ہے اور تفہیمات ربانیہ کے مؤلف نے اس پیش گوئی کو ابھی واجب الوصول قرار نہیں دیا۔ بلکہ عالم آخرت پر چھوڑ دیا ہے کہ یا تو وہاں پر آپ کو کامیابی نکاح کی صورت میں ہوگی اور یا اس کے عوض میں کچھ نعمت مل جاوے گی ۔ بہر حال یہ پیش گوئی کسی کے نزدیک بھی بظاہر پوری نہیں ہوئی اور جس آن بان سے اس کو شائع کیا گیا تھا اور اپنی صداقت کا معیار اس کو ٹھہرایا گیا تھا۔ سب کچھ غلط نکلا۔ ہاں اگر نکاح ہو جاتا اور اولاد بھی پیدا ہو جاتی تو آپ کی مسیحیت پر چار چاند لگ جاتے۔ مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔ گو ہزار تاویلیں کی جائیں اس سے نشان مسیحیت کا ثبوت ملنا مشکل ہو گیا ہے۔ جو اہل اسلام کے نزدیک ایک بھاری صداقت کا نشان تھا۔

صفحہ ٣٢٥

زہد واتقاء

١٨٨٤ء میں چلہ کشی کا ارادہ کیا کہ باہر جائیں اور ہندوستان کی سیر بھی کریں۔ سوجان پور ضلع گورداسپور میں جانے کا ارادہ کیا اور عبداللہ سنوری کو ہمراہ لے جانا منظور کر لیا تو الہام ہوا کہ ہوشیار پور جاؤ۔ جنوری ١٨٨٦ء میں روانہ ہوئے تو عبداللہ کو خط بھیج کر منگوا لیا۔ شیخ مہر علی رئیس ہوشیار پور کو خط لکھا کہ دو ماہ کے لئے ہمارے لئے شہر کے کنارے بالا خانہ والا مکان کرائے پر لے دو تو جناب بہلی میں بیٹھ کر بیاس کے کنارے روانہ ہوئے۔ شیخ حامد علی اور فتح خان بھی ساتھ تھے۔ فتح خان رسول پور متصل ٹانڈہ ضلع ہوشیار پور کا باشندہ تھا۔ پہلے بہت معتقد تھا۔ بعد میں مولوی محمد حسین صاحب کے کہنے سے مرتد ہو گیا تھا۔ دریا پر پہنچے تو کشتی تک راستہ میں کچھ پانی تھا۔ ملاح نے آپ کو اٹھا کر کشتی میں بٹھایا تو آپ نے اس کو ایک روپیہ انعام دیا۔ کشتی روانہ ہوئی تو عبداللہ سے فرمایا کہ کامل کی صحبت دریا کی مانند ہے۔ پار ہونے کی بھی امید ہے اور ڈوبنے کا بھی ڈر ہے۔ فتح خان مرتد ہوا تو مجھے یہ بات یاد آگئی۔ راستہ میں فتح خان کے گاؤں میں قیام کر کے دوسرے دن ہوشیار پور پہنچے اور طویلہ کے بالا خانہ میں قیام کیا اور ہم تینوں کے الگ الگ کام مقرر کر دیئے۔ عبداللہ کے سپرد کھانا پکانا تھا۔ فتح خان کے سپرد بازار سے سودا لانا تھا اور مہمان نوازی وغیرہ حامد علی کے سپرد تھی۔ پھر دستی اشتہار دے کر اعلان کر دیا کہ مجھے کوئی ملنے نہ آئے۔ چالیس دن بعد بیس روز ٹھہروں گا۔ ملنے والے دعوت کرنے والے اور سوال و جواب کرنے والے اس وقت آ سکتے ہیں۔ کنڈہ لگا رہے۔ گھر میں بھی کوئی نہ بلائے۔ کھانا اوپر بھیجا جائے۔ میں کسی کو بلاؤں تو ضروری بات کر کے واپس آ جائے۔ دوسرے وقت برتن لے جائیں۔ نماز اوپر پڑھوں گا تم نیچے پڑھ لیا کرو۔ ویران مسجد تلاش کرو۔ جہاں جمعہ مل کر پڑھ لیا کریں۔ شہر سے باہر ایک مسجد ویران پڑی تھی۔ وہاں جمعہ پڑھتے تھے۔

ایک دفعہ عبداللہ کھانا دینے آیا تو آپ نے کہا کہ مجھ پر اللہ کے فضل کے دروازے کھل گئے ہیں۔ دیر تک خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔ لکھوں تو کئی ورق ہو جائیں۔ پسر موعود کے متعلق بھی الہام اسی جگہ ہوا تھا۔ (اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٠٠) چالیس دن کے بعد بیس روز ٹھہرے تو دعوت کرنے والے تبادلہ خیالات کرنے والے اور دور و نزدیک کے مہمان آگئے۔ انہی دنوں میں مرلی دھر آریہ سے مباحثہ ہوا۔ جو سرمہ چشم آریہ میں درج ہے۔ دو ماہ کے بعد قادیان کو روانہ ہوئے۔ ہوشیار پور سے پانچ چھ میل کے فاصلہ پر ایک بزرگ کی قبر تھی۔ وہاں بہلی سے اتر کر قبر کی طرف گئے۔ قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر دعاء کی تو عبداللہ سے کہا کہ جب میں نے

صفحہ ٣٢٦

ہاتھ اٹھائے تو یہ بزرگ میرے سامنے دوزانو ہو کر بیٹھ گیا۔ تم ساتھ نہ ہوتے تو اس سے باتیں کر لیتا۔ اس کی آنکھیں موٹی ہیں اور رنگ سانولا ہے۔ مجاوروں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ سو سال سے یہ قبر ہے۔ باپ دادا سے سنا ہے کہ یہ ایک بزرگ بزرگ چشم سانولا رنگ تھے۔ پھر قادیان پہنچ گئے۔ عبداللہ سے پوچھا گیا کہ آپ کس طرح عبادت کرتے تھے تو اس نے لاعلمی ظاہر کی۔ مگر کہا کہ ایک دن کھانا دینے گیا تو آپ نے کہا کہ الہام ہوا ہے کہ: ”بُورِكَ مَن فِيهَا وَمَن حولها“ مَن فِيهَا سے میں مراد ہوں اور من حولھا سے تم لوگ مراد ہو۔ حامد علی اور عبداللہ سارا دن آپ کے پاس رہتے تھے اور فتح علی سارا دن باہر رہتا تھا۔ غالباً اس الہام کے وقت بھی وہ باہر ہی تھا۔ مگر وہ اتنا معتقد تھا کہ اثنائے گفتگو میں کہا کرتا تھا کہ میں جناب کو نبی سمجھتا ہوں۔ مگر میں پرانے معروف عقیدہ کے بنا پر گھبراتا تھا۔

ایک دفعہ میں کھانا چھوڑنے گیا تو جناب نے فرمایا کہ خدا مجھ سے اس طرح کی باتیں کرتا ہے کہ اگر ان میں سے کچھ تھوڑا سا بھی بیان کروں تو جتنے معتقد نظر آتے ہیں۔ سب پھر جائیں۔ کسی نے حکیم صاحب کو بذریعہ خط پوچھا کہ ناف کے اوپر ہاتھ باندھنے میں کیا حکم ہے؟ آپ نے جناب کے پاس کہلا بھیجا کہ فوق السرہ کی ہر ایک حدیث مخدوش نظر آتی ہے تو کہا کہ باوجود یکہ اردگرد کے تمام حنفی تھے۔ زیر ناف ہاتھ باندھنے سے مجھے نفرت رہی ہے۔ تلاش کرو حدیث مل جائے گی۔ کیونکہ جس کا ہمیں میلان ہو اس کا حکم مل جایا کرتا ہے۔ حکیم صاحب نے آدھ گھنٹہ بھی نہ گذرا کہ حدیث علی الشرط الشیخین پالی اور پیش کر کے کہا کہ یہ حضور کی برکت ہے۔ ایک مہمان آیا تو عصر کے قریب آپ نے اس کا روزہ افطار کرانا چاہا۔ مگر اس نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ خدا فرمانبرداری سے راضی ہوتا ہے سینہ زوری سے نہیں۔ اس کا حکم ہے کہ مسافر روزہ نہ رکھے تو روزہ کھلوا دیا۔ حکیم نور الدین صاحب معتکف تھے۔ عدالت میں جانا پڑا تو اعتکاف توڑ دیا۔ آپ نے کہا کہ جب جانا ہی تھا تو اعتکاف کیوں بیٹھے تھے۔ سراج الحق کو روزہ تھا۔ بھول کر کسی نے پانی منگوایا تو اس کو یاد آ گیا۔ آپ نے کہا کہ یہ خدا کی مہمانی تھی جو سوال کرنے سے روک دی گئی۔ ماہ ذی الحجہ ١٣٠٣ھ بوقت ١٠ بجے عبداللہ سنوری سے کہا کہ رعب اور خوف سے بچنے کے لئے تین دفعہ سورہ یٰسین پڑھ کر اپنی پیشانی پر یا عزیز خشک انگلی کے ساتھ لکھ لیا کرو۔ حکیم صاحب نے ایک دفعہ زراعتی کنواں ساڑھے تین ہزار میں رہن لیا۔ مگر تحریر نہ لی اور مالک کے قبضہ میں ہی رہنے دیا۔ آمد کا مطالبہ کیا تو وہ منکر ہو گیا۔ جناب کو معلوم ہوا تو فرمایا کہ مولوی صاحب کو مال کی فکر ہے اور مجھے آپ کے ایمان کی کہ کیوں مالک کو ایسا موقعہ دیا۔ لکھوا کیوں نہ لیا؟ اور کیوں

صفحہ ٣٢٧

قبضہ نہ لیا؟ عبداللہ سنوری آمین بالجہر اور رفع یدین کے دلدادہ تھے۔ ایک دن آپ نے کہا کہ سنت پر بہت عمل ہو گیا ہے۔ اس دن سے یہ دونوں چھوڑ دیئے اور آپ نے کبھی نہ یہ دونوں کام کئے اور نہ جہر سے بسم اللہ پڑھی اور یہی اکثری عمل حضور ﷺ کا تھا۔ اوائل میں جناب خود ہی مؤذن اور خود ہی امام تھے۔ حکیم نور الدین مقرر ہوئے تو مولوی عبدالکریم کو مقرر کر دیا تھا اور ١٩٠٥ء تک تادم مرگ وہی امام رہے۔ جناب مولوی صاحب دائیں طرف کھڑے ہوا کرتے تھے اور باقی مقتدی پیچھے ہوتے تھے۔ ان کی غیر حاضری میں اور ان کی وفات کے بعد حکیم صاحب امام ہوتے تھے۔ مسجد اقصیٰ میں امام جمعہ بھی مولوی عبدالکریم ہوا کرتے تھے۔ بعد میں جب آپ کی طبیعت ناساز رہتی تو مولوی صاحب مسجد مبارک میں جمعہ پڑھاتے تھے اور اقصیٰ میں حکیم صاحب امام جمعہ ہوتے تھے۔ مولوی صاحب کی وفات کے بعد مولوی محمد احسن صاحب، وہ نہ ہوں تو سرور شاہ صاحب امام بنتے تھے۔ وفات مسیح تک یہی طریق تھا۔ عید کے امام مولوی صاحب یا حکیم صاحب ہوتے تھے۔ جنازہ جناب خود پڑھاتے تھے۔ عید الاضحیٰ ١٩٠٠ء پر خطبہ الہامیہ مسجد مبارک میں پڑھنا تھا۔ مسجد اقصیٰ آ گئے اور خطبہ شروع کیا۔ لکھنے پر مولوی عبدالکریم اور حکیم صاحب مقرر ہوئے۔ ایک دفعہ کہا کہ جلدی لکھو یہ وقت پھر نہیں رہے گا۔ اس وقت آپ کرسی پر تھے۔ بائیں طرف خطبہ نویس تھے۔ آواز متغیر تھی۔

بعد از خطبہ آپ نے کہا کہ یہ خطبہ میری طرف سے نہ تھا بلکہ القاء من اللہ تھا۔ بعض دفعہ لکھا ہوا نظر آ جاتا تھا۔ جب لفظ بند ہو گئے خطبہ بھی بند ہو گیا۔ صاحبزادہ نے کہا کہ ہم اس وقت سات برس کے قریب تھے۔ مگر اتنا یاد ہے کہ آپ کی آنکھیں اس وقت قریباً بند تھیں۔ خطبہ کا باب دوم بعد میں لکھا گیا ہے اور ١٩٠٢ء میں شائع ہوا۔ عبداللہ سنوری نے کہا کہ مسجد مبارک میں، میں ظہر کی سنتیں پڑھ رہا تھا۔ بیت الفکر (جو آپ کی مسجد مبارک کے متصل مکان رہائشی کا حصہ ہے) سے آپ نے آواز دی تو میں نماز توڑ کر متوجہ ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا کیا اور یہ ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ ابھی حکیم نور الدین صاحب جموں میں ملازم تھے تو انہوں نے خط لکھا کہ اگر یہاں تشریف لے آئیں تو مہاراج آپ کی ملاقات کی خواہش رکھتے ہیں تو عبداللہ سنوری سے جواب لکھایا کہ: ”بئس الفقیر علیٰ باب الامیر“ عبداللہ سنوری سے کہا کہ قیامت کو ایک شخص خدا کے سامنے حاضر ہوگا۔ پوچھے گا کہ تم نے کوئی نیک عمل بھی کیا ہے۔ کہے گا کہ نہیں تو پھر کسی بزرگ سے بھی ملا؟ کہے گا کہ نہیں۔ ہاں ایک دفعہ کوچہ میں ایک بزرگ جا رہا تھا تو وہ دیکھا تھا۔ خدا فرمائے گا کہ جا تمہیں اسی کی خاطر بخش دیا۔ یہ بھی کہا کہ جو شخص کامل کے پیچھے نماز پڑھتا

صفحہ ٣٢٨

ہے تو سجدہ کرنے سے پہلے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ مگر صحت نیت شرط ہے۔ آپ نے کہا کہ انسان دو بیویاں کر کے درویش ہو جاتا ہے۔ کہا کہ مردے کا چہلم غیر مقلدوں کے نزدیک ناجائز ہے۔ مگر چونکہ مردہ کی روح چالیس دن بعد رخصت ہوتی ہے۔ اس لئے غرباء میں کھانا تقسیم کر کے اسے رخصت کرنا چاہئے۔ عبداللہ سنوری نے کہا کہ آپ اس رسم کے پابند نہ تھے۔ مگر حکمت بتادی۔ بچپن میں میاں محمود صاحب خلیفہ ثانی ایک دفعہ دروازہ بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے تو آپ نے جمعہ کو جاتے ہوئے دیکھا کہ ایماندار گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔ جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں۔ مرزا سلطان احمد نے کہا کہ آپ قرآن مجید، دلائل الخیرات اور مثنوی روم بہت پڑھتے تھے اور کچھ نوٹ بھی کرتے تھے۔ یہ بھی کہا کہ آپ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کو ملنے جاتے تھے اور کبھی میاں شرف الدین صاحب المعروف فقیر سائیں والا سے بھی ملنے جاتے تھے اور موضع سم طالب پور کے نزدیک ضلع گورداسپور میں ہے۔ وہاں ایک چشمہ بھی ہے شاید اسی واسطے سائیں والا کہتے ہوں گے۔

مرزا غلام مرتضیٰ کے پاس جب دونوں بھائی جاتے تو آپ مرزا غلام قادر کو کرسی پر بٹھا دیتے اور جناب خود ہی نیچے بیٹھ جاتے۔ گو خود متکبر تھے۔ مگر والد صاحب کی خاطر افسروں سے ملاقات کر لیتے تھے۔ (از سلطان احمد) ایک دفعہ آپ مغرب کی طرف سیر کو گئے تو قبرستان کے شمال میں کھڑے ہو کر دعاء کی۔ کیونکہ وہاں رشتہ داروں کی قبریں تھیں، امتہ النصیر کو وہیں دفنایا تھا تو خود اٹھا کر لے گئے تھے۔ ایک دفعہ حکیم صاحب کے درس میں جنگ بدر کا ذکر آیا تو حکیم صاحب نے فرشتوں کے متعلق کچھ تاویل کی تو آپ نے کہا کہ نبی کے ساتھ دوسروں کو بھی فرشتے نظر آ جاتے ہیں۔ ٤؍ اپریل ١٩٠٥ء میں زلزلہ آیا تو آپ نے باغ میں آٹھ نو بجے لمبی نماز پڑھی، سیر کو گئے تو کسی نے کہا: ”لم اخنہ بالغیب“ کس کا قول ہے۔ حکیم صاحب زلیخا کا قول بتاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایسا پر معنی قول حضرت یوسف علیہ السلام کا ہی ہو سکتا ہے۔ زلیخا کا نہیں ہو سکتا۔ ١٨٨٤ء میں سلطان احمد نے تحصیلداری کا امتحان دیا تو دعاء کے لئے رقعہ لکھا تو آپ نے پھینک دیا اور کہا کہ دنیا داری کے لئے ہی دعاء کراتے ہیں۔ مگر بعد میں کہا کہ الہام ہوا ہے کہ وہ پاس ہوگا۔ چنانچہ پاس ہو گیا۔ آپ نے اور آپ کے والد صاحب نے طبابت کو کبھی ذریعہ معاش نہیں بنایا تھا۔ خیراتی کام سمجھ کر کرتے تھے۔ اس لئے معراج الدین عمر کا یہ قول غلط ہے کہ آپ کے والد صاحب کا ذریعہ معاش طبابت تھی۔ جب منصوری پیسے (موٹے پیسے) چلتے تھے تو کسی نے آپ سے استفتاء کیا کہ مجھے کمپنی کا ترکہ ملا ہے کیا کروں؟ تو آپ نے کہا کہ اسلام کی تبلیغ میں ایسا مال

صفحہ ٣٢٩

خرچ ہوسکتا ہے۔ جب دیوانہ کتا حملہ آور ہو اور منصوری پیسوں کے سوا کچھ نہ ہو جو نجاست میں پڑے ہوں تو کیا تم ان کے ساتھ اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے ان کو لے کر کتوں کو نہیں مارو گے؟ صاحبزادہ کہتے ہیں کہ سود کا فتویٰ جواز کچھ شرائط کے ماتحت صرف وقتی ہے۔ ایک دفعہ آپ مسجد متصلہ اسٹیشن لاہور میں وضو کر رہے تھے تو لیکھرام نے آکر باہر سے سلام کیا جواب ندارد پھر کہا جواب ندارد اور کہا کہ میرے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور مجھے سلام کرتا ہے۔ سوالی نے کچھ مانگا تو آپ نے کثرت شور سے آواز نہ سنی۔ گھر چلے گئے واپس آئے تو وہ چلا گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ خود ہی آگیا تو آپ نے اسے کچھ نقدی دے دی کہ گویا آپ کے سر سے بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔ آپ نے یہ بھی کہا کہ میں نے دعاء کی تھی کہ وہ فقیر واپس آئے۔ شروع میں آپ نماز کے وقت پہلی صف میں دوسرے مقتدیوں کے ساتھ مل کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ لیکن پھر بعض باتیں ایسی ہوئیں کہ آپ نے اندر حجرہ میں امام کے ساتھ کھڑا ہونا شروع کر دیا اور جب حجرہ گرا کر تمام مسجد ایک کی گئی تو پھر بھی آپ بدستور امام کے ساتھ ہی کھڑے ہوتے تھے۔ باوضو ”سبحان الله وبحمدہ سبحان الله العلی العظیم“ پڑھا کرتے تھے۔

اشراق و تہجد بھی حتی الوسع پڑھتے تھے۔ رات کو نیند کم آتی تھی اور رات کو یا کثرت پیشاب تھی یا تہجد اور یا مضمون نویسی۔ فجر کی سنت خفیف صورت میں گھر پڑھتے تھے۔ جناب نے شباب میں بھی روزے رکھے اور اخیر عمر میں بھی اور شوال کے چھ روزے ضرور رکھتے تھے۔ دعاء کرنی ہوتی تو روزہ رکھ لیتے۔ مگر اخیر عمر میں کمزوری کے باعث تین سال رمضان کے روزے بھی نہیں رکھے۔ ایک دفعہ آپ نے حجامت کرائی تو قاضی امیر حسین نے تبرک کے طور پر بال اپنے پاس رکھ لئے۔ کچھ بال مرزا بشیر احمد کے پاس بھی اب تک موجود ہیں۔ نماز مغرب میں آپ نے چھوٹی چھوٹی سورتوں سے امامت کرائی تو سوز اور درد دل سے سامعین چیخ اٹھے اور قاضی صاحب سے فرمایا کہ عشاء آپ پڑھائیں مجھے تکلیف ہوئی ہے۔ مرزا بشیر احمد نے ایک دفعہ یوں کہا تھا کہ نظام الدین تو آپ نے کہا آخر وہ تمہارا چچا ہے۔ بڑوں کا اس طرح نام نہیں لیا کرتے۔ آپ صدقہ میں جائیداد کا دسواں حصہ محتاجوں کو خواہ غیر احمدی کیوں نہ ہوں خفیہ طور پر دیا کرتے تھے۔ قرضہ لیتے تو واپسی میں زیادہ دیتے۔ حکیم نور الدین صاحب نے ایک دفعہ قرضہ لیا جب واپس کرنے لگے تو آپ نے انکار کر دیا اور کہا کہ کیا میرا روپیہ اور ہے؟ حکیم فضل الدین نے بھی آپ سے قرضہ لیا ہوا تھا تو حکیم صاحب نے ان کو کہلا بھیجا کہ اگر تم اپنا قرضہ واپس نہ بھیجو تو کسی اور طریق سے واپس کرو۔ ورنہ مرزا قادیانی ناراض ہوں گے۔ آپ نے حج کا پختہ ارادہ کیا تھا۔ مگر

صفحہ ٣٣٠

آپ عہدہ برآ نہ ہو سکے۔ وفات کے بعد آپ کی اہلیہ نے آپ کی طرف سے حج کروا دیا تھا۔ ”انتهى فے ما سيرت المہدی“ ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا زہد اور تشرع کچھ رواج پر مبنی تھا۔ کچھ مذہب اہل حدیث پر اور کچھ تصوف پر اور یہ بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ دائم المریض ہونے کی وجہ سے بھی آپ کو کئی جگہ زہد اختیار کرنا پڑا۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ آپ کامل انسان نہ تھے۔ کیونکہ جس قدر ایسے انسان ہو گذرے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جو ذیابیطس، کثرت پیشاب، تار چشم، ضرب بازو، نزف دم، غشیان و قے، ضعف و بدہضمی، کزاز و تشنج اعضاء اور مراق وغیرہ میں ہمیشہ کے لئے مبتلا رہا ہو۔ اس لئے ایسا دائم المریض انسان ناقص الاسلام اور ضعیف العمل سمجھا جاتا ہے۔

چنانچہ آپ نے نہ کبھی اعتکاف کیا نہ حج کرنے پر قدرت پائی۔ نہ رمضان کے روزے مکمل طور پر نصیب ہوئے اور نہ ہی نماز باجماعت کی فضیلت پر قیام دکھایا اور نہ ہی نمازوں کو اپنے اپنے اوقات پر ادا کرنے کی فضیلت حاصل کی۔ بلکہ زہد واتقاء کے خلاف روزہ داروں کے روزے بھی تڑوا دیئے اور سنن ونوافل اور جمع بین صلوتین یا بین الصلوٰت سے اسلام کی رہی سہی وقعت بھی اڑا دی۔ اپنی اولاد کو عاق کر کے لاوارث بناتے ہوئے اتنا بھی خیال نہیں کیا کہ اسلام میں عاق ہونے سے کوئی بیٹا لاوارث نہیں بن سکتا۔ اب اگر اس کو اسلامی حکم مانا جاوے تو ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی صاحب شریعت نبی تھے۔ جو احکام جدیدہ کے اجراء پر قادر تھے تو پھر یہ اصول صحیح نہ رہا کہ حضورﷺ کے بعد تشریعی نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ پیغامی جنتری ١٩٢١ء ص ٧٤ میں لکھا ہے کہ جو خط دعاء کے لئے آتا فوراً دعاء کرتے کہ کہیں بھول نہ جائے۔ نماز کے قیام میں ایڑیوں کا فاصلہ انگلیوں کی نسبت کم ہوتا تھا۔ نماز میں ہاتھ سینہ پر باندھتے تھے۔ آمین بالجہر آپ سے کبھی نہیں سنی گئی۔ نمازی کے آگے سے نہیں گذرتے تھے۔ علالت کی وجہ سے معذور ہوتے تو کہلا بھیجتے کہ نماز پڑھ لو۔ آپ جتنی دفعہ آتے السلام علیکم کہتے۔ نماز جنازہ کی امامت خود کراتے تھے اور باقی نمازوں میں بھی آپ ہی عموماً امام ہوتے تھے۔ سنتیں و نوافل گھر پڑھتے تھے۔ مگر مغرب کی سنتیں مسجد میں ہی پڑھ لیتے تھے اور رمضان شریف میں یہ سنتیں بھی گھر جا پڑھتے۔ آپ کی مجلس بین المغرب والعشاء ہوتی یا بین الظہر والعصر۔

سوانح مختلفہ

ایک دفعہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آپ نے مرزا بشیر احمد کو قلابازیاں لگاتے ہوئے اپنے گھر چارپائیوں پر دیکھا۔ جب کہ ابھی وہ دوسری جماعت میں تھا تو کہا کہ اسے

صفحہ ٣٣١

بی۔اے پاس کرانا۔ بچوں کو کبھی بھلے برے کی کہانی سناتے کہ بھلے کا انجام بھلا ہوا اور برے کا برا اور کبھی بیگن کی کہ ایک نے نوکر سے کہا کہ بیگن برا ہے۔ پھر کسی اور دن کہا کہ بیگن اچھی چیز ہے، تو نوکر نے کہا کہ ہاں اچھی چیز ہے۔ آقا نے پوچھا کہ تم نے پہلے برا کیوں کہا تھا۔ کہا کہ میں جناب کا ملازم ہوں۔ بیگن کا ملازم نہیں۔ آپ کے تینوں صاحبزادوں نے ہوائی بندوق منگوانے کے لئے قرعہ اندازی کی کہ کس قسم کی منگوائی جائے تو آپ نے جس نام کا قرعہ نکالا وہی منگائی گئی۔ جس سے بہت شکار کیا گیا۔ میاں شریف کو بچے بہت چھیڑتے تھے کہ ابا تم سے پیار نہیں کرتے تو وہ روتا تھا تو ناک سے رطوبت بہت نکلتی تھی۔ آپ کو اپنے پاس بلاتے تو وہ مارے شرم کے پیچھے ہٹتا۔ موضع بسراواں واقعہ جانب شرق قادیان میں مرزا غلام مرتضیٰ و مرزا غلام محی الدین کو وہاں پر قلعہ خام میں بند کر کے سکھوں نے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ جب کہ رنجیت سنگھ کے بعد بدامنی پھیل گئی تھی تو مرزا غلام حیدر برادر خورد غلام محی الدین کو خبر لگی تو اس نے لاہور سے کمک منگوا کر بچا لیا تھا۔ آپ کے عہد میں کبھی نماز استسقاء ادا کرنے کا موقعہ نہیں آیا۔ کیونکہ اگر ایک دن گرمی ہوتی تو آپ فرماتے آج بہت گرمی ہے۔ دوسرے تیسرے دن بارش ہو جاتی۔ فصل بھی خوب ہوتی تھی۔ آپ کے بعد مہینوں آگ برستی ہے اور بارش نہیں پڑتی۔ صاحبزادہ مبارک احمد بیمار تھا۔ تو حکیم نور الدین صاحب پوچھنے آئے اور جناب چارپائی پر تھے۔ حکیم صاحب نیچے بیٹھنے کو تھے تو آپ نے حکیم صاحب کو پائنتی پر بٹھا لیا۔ آپ نے کہا کہ اللہ کے کاموں میں اخفا ہوتا ہے۔ پسر موعود کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ مگر یہ صفت سب میں موجود ہے۔ کیونکہ خلیفہ محمود اس لئے ایسا ہوا کہ فضل احمد، سلطان احمد اور بشیر اوّل کو ساتھ ملایا گیا۔ بشیر احمد اس لئے کہ صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے۔ شریف احمد کو اس لئے کہ صرف نکاح دوم کے زندہ اور متوفی لڑکے شمار کر لئے اور مبارک کو اس طرح کہ نکاح دوم کے صرف زندہ لڑکے اور بشیر اوّل متوفی کو شمار کر لیا۔ حاجی عبدالمجید لدھیانوی کے مکان میں نیم کا درخت تھا۔ آپ نے حاجی صاحب سے کہا کہ دیکھو برسات سے پتے کیسے خوشنما ہیں۔ میں نے دیکھا تو آپ کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ ازالہ اوہام کے مرتب کرنے کے دنوں میں بروایت سنوری یہ الہام ہوا کہ سلطنت برطانیہ تا ہشت سال، بعد ازاں باشد خلاف و اختلال اور بروایت حامد علی، سلطنت برطانیہ۔ تا ہشت سال بعد ازاں ایام ضعف و اختلال۔ اس کا وقوع یا یوم الہام سے ہے یا وفات وکٹوریہ سے یا انیسویں صدی کا آغاز یا جناب کی وفات سے۔ ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ لدھیانہ میں پہلی بیعت ٢٠/ رجب ١٣٠٦ھ مطابق ٢٣/ مارچ ١٨٨٩ء کو لی تو حامد علی کو دروازہ پر بٹھایا تو آپ نے

صفحہ ٣٣٢

پہلے حکیم نورالدین صاحب سے بیعت لی۔ پھر عباس علی سے پھر محمد حسین مراد آبادی سے۔ پھر عبداللہ سنوری سے پھر باقی لوگوں سے۔ پہلے الگ الگ بیعت لیتے تھے۔ پھر اکٹھے کر کے لینے لگے۔ بیعت یوں لیتے تھے کہ سچے دل سے وعدہ کرتا ہوں کہ تادم مرگ گناہوں سے بچوں گا اور دین کو نفس کی لذات پر مقدم رکھوں گا۔ ١٢؍جنوری کی دس شرطوں پر حتی الوسع پابند رہوں گا۔ اب بھی گذشتہ گناہوں سے معافی چاہتا ہوں۔ ’’استغفراللہ من کل ذنب واتوب الیہ‘‘ تین بار کلمہ شہادت ’’رب انی ظلمت نفسی واعترفت بذنبی فاغفرلی ذنبی. فانہ لا یغفر الذنوب الا انت‘‘ بیعت میں ہاتھ کی کلائی پر اپنا ہاتھ رکھتے یا ہاتھ میں ہاتھ دیتے۔ بیعت اولیٰ میں مولوی عبدالکریم صاحب وہاں ہو کر شریک نہیں ہوئے۔ بیعت لینے کے بعد آپ علی گڑھ گئے اور سید تفضل حسین تحصیلدار کے مکان پر ٹھہرے۔ تو سید صاحب کے کسی دوست تحصیلدار نے انگریزی طریق پر عام دعوت میں آپ کو بلایا۔ میر عباس علی نے نفرت کی۔ آپ نے کہا کوئی حرج نہیں مگر وہ انکاری ہی رہا۔ بعد میں جب وہ مرتد ہو گیا تو عبداللہ نے کہا کہ وہ تو اسی دن سے کٹ گیا تھا۔ آپ کے لیکچر کا وہاں اشتہار ہوا تو سید صاحب سے آپ نے کہا کہ الہام ہوا ہے کہ لیکچر نہ دو۔ بہت اصرار ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میں حکم الٰہی کی نافرمانی کیسے کر سکتا ہوں۔ سات دن قیام کر کے واپس لدھیانہ آگئے۔ ان دنوں ہی اسماعیل علی گڑھی نے آپ کے خلاف ایک کتاب لکھی تھی اور بعد میں مر گیا تھا۔

حکیم نورالدین کا بیان ہے کہ فتح الاسلام اور توضیح المرام شائع ہوئیں تو ابھی میرے پاس نہ پہنچی تھیں کہ ایک مخالف نے دیکھ کر کہا کیا نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ہو سکتا ہے؟ کیا کوئی دعویٰ کرے تو پھر؟ میں نے کہا کہ اگر وہ صادق ہے تو بہرحال لوگ اس کا قول قبول کریں گے۔ یہ سن کر کہا کہ تم قادیان ہی آئے ہیں تو چاہتا تھا کہ تم کو مرزا سے الگ کر دوں۔ یہ قصہ سنا کر حکیم صاحب کہا کرتے تھے کہ یہ تو صرف نبوت کی بات ہے۔ مرا تو ایمان ہے کہ اگر وہ صاحب شریعت ہونے کا بھی دعویٰ کر دیں اور قرآنی شریعت کو منسوخ کر دیں تو بھی مجھے انکار نہ ہو۔ کیونکہ ان کو منجانب اللہ حق مان لیا۔ تو جو بھی آپ فرمائیں گے حق ہو گا اور سمجھ لیں گے کہ خاتم النبیین کے کوئی اور معنی ہیں۔ عبداللہ سنوری نے کہا کہ پسر موعود کی پیش گوئی کے بعد ہم سے کہا کرتے تھے کہ دعاء کرو۔ لڑکا پیدا ہو تب امیدواری بھی تھی بارش ہوئی تو مسجد مبارک کے اوپر جا کر میں نے دعاء کی۔ پھر قادیان سے مشرق کو نکل کر جنگل میں دعاء کی تو سارا دن بارش میں دعاء کرتے گذرا۔ شام کو الہام ہوا کہ ان کو کہہ دو کہ انہوں نے بہت رنج اٹھایا ہے۔ ثواب بہت ہو گا۔

میں نے کہا کہ یہ میرے متعلق ہی ہے ہو۔ آپ نے تصدیق کی اور ایک آ دعاء قبول نہیں ہوئی۔ مگر ثواب مل گیا لے لیں۔ کہا کہ پیر کا کام بھنگی کا کام مجھے کراہت ہے تم شاگرد بن جاؤ۔ مجھے بھی دیئے۔ ایک ہفتہ کے بعد ا دیتے۔ کہتے کہ تم میں معارف کی نے نصف پارہ پڑھایا ہوگا کہ میں تھے کہ میں معانی قرآن کے لئے عبدالمجید لدھیانوی اور حکیم نورالد تو جب حکم ہوا بیعت لینی شروع کر ایک دن بڑی مسجد م میری نظر مل گئی تو میرا دل پگھل گی کہ کامل کی نظر میں کیا تاثیر ہوتی راستے میں پیری کے پاس ایک لا نہ کھاؤ۔ تب سے میں نے ایسے کردی تھی اور زبانی مباحثہ بھی دیکھا تھا۔ سیالکوٹ کی ملازمت مضامین بھی شائع کئے۔ براہین حصہ چہارم ١٨٨٤ء میں شائع اسلام کھڑے ہوگئے۔ گویا یہ اپنی ماموریت کا اعلان کیا۔ ١٦ بشارت ملی اور ١٨٨٦ء میں اس مئی ١٨٨٦ء کولڑکی پیدا ہوئی۔ اس کی تعیین نہیں ہوئی تھی۔ لوگو ١٨٨٨ء سے پہلے دس ماہ سلسلہ

صفحہ ٣٣٣

میں نے کہا کہ یہ میرے متعلق ہی ہے۔ کیونکہ میں نے بارش میں اور جنگل میں دعاء کی تھی تا کہ قبول ہو۔ آپ نے تصدیق کی اور ایک آنہ کے بتاشے تقسیم کئے۔ مگر عصمت پیدا ہوئی تو معلوم ہوا کہ دعاء قبول نہیں ہوئی۔ مگر ثواب مل گیا۔ ابھی بیعت لینی شروع نہ ہوئی تھی کہ میں نے کہا میری بیعت لے لیں۔ کہا کہ پیر کا کام بھنگی کا کام ہوتا ہے۔ اپنے ہاتھ سے مرید کے گناہ دھونے پڑتے ہیں اور مجھے کراہت ہے تم شاگرد بن جاؤ۔ میں نے ایک آنہ کے بتاشے لا کر رکھ دیئے جو تقسیم کر دیئے اور مجھے بھی دیئے۔ ایک ہفتہ کے بعد ایک آیت کا ترجمہ سادہ پڑھاتے تھے اور کبھی کچھ تشریح بھی کر دیتے۔ کہتے کہ تم میں معارف کی برداشت نہیں۔ شاید اس لئے کہ میں مجنون نہ بن جاؤں۔ آپ نے نصف پارہ پڑھایا ہوگا کہ میں نے جانا کہ میرے دل پر معانی کی پوٹلی گرا دی جاتی ہے۔ کہتے تھے کہ میں معانی قرآن کے لئے ہی مبعوث ہوا ہوں اور ہماری صحبت سے یہی فائدہ ہے۔ حاجی عبدالمجید لدھیانوی اور حکیم نورالدین صاحب کو بھی یہی جواب دیا تھا کہ: ”لست بماموربہ“ تو جب حکم ہوا بیعت لینی شروع کر دی۔

ایک دن بڑی مسجد میں قرآن پڑھ رہا تھا اور آپ ٹہل رہے تھے۔ آپ کی نظر سے میری نظر مل گئی تو میرا دل پگھل گیا اور دیر تک دعاء کرتا رہا۔ پھر آپ نے بند کرا دی تو میں نے سمجھا کہ کامل کی نظر میں کیا تاثیر ہوتی ہے۔ میں اور حامد علی آپ کے ہمراہ شال کو سیر کے لئے نکلے۔ راستے میں بیری کے پاس ایک لال بیر تھا۔ میں نے اٹھا لیا تو آپ نے فرمایا کہ کسی کی ملکیت ہوگا نہ کھاؤ۔ تب سے میں نے ایسے بیر نہیں کھائے۔ گو عہد شباب میں ہی آپ نے تبلیغ تعلیم شروع کر دی تھی اور زبانی مباحثہ بھی ہوتا تھا۔ جس کے متعلق ١٨٦٥ء، ١٨٨٢ء کو ایک تبلیغی خواب بھی دیکھا تھا۔ سیالکوٹ کی ملازمت میں بھی آپ نے یہ کام شروع رکھا۔ ١٨٧٨ء، ١٨٧٧ء میں آپ نے مضامین بھی شائع کئے۔ براہین کا کام گو پہلے شروع تھا۔ مگر اشاعت ١٨٨٠ء سے شروع ہوئی اور حصہ چہارم ١٨٨٤ء میں شائع ہوا تو آپ مجدد تسلیم ہوئے اور ایک جماعت تیار ہو گئی اور مخالفین اسلام کھڑے ہو گئے۔ گویا یہ پہلا زلزلہ تھا۔ براہین کے بعد بیس ہزار اشتہارات کے ذریعہ سے اپنی ماموریت کا اعلان کیا۔ ١٨٨٦ء میں ہوشیار پور کا جلسہ رونما ہوا۔ جس میں عظیم الشان بیٹے کی بشارت ملی اور ١٨٨٦ء میں اس کا اعلان کر دیا۔ اب موافق و مخالف منتظر رہے۔ گھر امیدواری تھی تو مئی ١٨٨٦ء کو لڑکی پیدا ہوئی۔ یہ دوسرا زلزلہ تھا جو ابتلاء ثابت ہوئی اور اعلان کیا گیا کہ الہام میں اس کی تعیین نہیں ہوئی تھی۔ لوگ سنبھل گئے مخالفین نے استہزاء کی اور آمد کا جوش نہ رہا۔ یکم دسمبر ١٨٨٨ء سے پہلے دس ماہ سلسلہ بیعت کا اعلان ہوا اور ١٨٨٩ء میں بیعت اولیٰ لدھیانہ میں لی گئی۔

صفحہ ٣٣٤

اس وقت تک لوگ آپ کو بینظیر خادم اسلام سمجھتے تھے۔ ١٨٩١ء کے شروع میں فتح اسلام تصنیف ہوئی۔ جس میں آپ نے وفات مسیح اور اپنی مسیحیت کا اعلان کر دیا اور کفر کے فتوے لگ گئے اور مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو اس سے پہلے موافق تھا۔ سب پر تکفیر میں سبقت کی اور فتوئے تکفیر شائع کیا۔ یہ تیسرا زلزلہ تھا۔ اس کے بعد پندرہ ماہی پیش گوئی متعلقہ آتھم کے متعلق شور اٹھا۔ مگر جماعت برداشت کر گئی اور یہ چوتھا زلزلہ تھا۔ پانچواں زلزلہ جو زلزلۃ الساعۃ تھا۔ آپ کی وفات تھی۔ مگر آپ کی مقناطیسی طاقت نے جماعت کو الگ نہ ہونے دیا۔ اس کے بعد خلیفہ اوّل کی وفات پر شور اٹھا۔ مگر یہ صدق دعویٰ سے متعلق نہ تھا۔ صاحبزادہ بشیر احمد کا قول ہے کہ پانچ زلزلوں کی پیش گوئی ان زلزلوں پر بھی منطبق ہو سکتی ہے۔ چھوٹے زلزلے کئی دفعہ آئے اور آئیں گے۔ مگر ان کے برابر نہیں ہو سکتے۔ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی ملنے گئے تو آپ اپنے مکان میں خربوزے کھا رہے تھے۔ آپ نے ایک موٹا خربوزہ مولوی صاحب کو دے کر کہا کہ مولانا دبی منافق ہوتا ہے۔ دیکھیں کیسا نکلتا ہے۔ چیرا تو پھیکا تھا لالہ ملاوامل نے کہا کہ آپ نے مجھے صندوقچی کھول کر براہین کا مسودہ دکھایا کہ میرا یہی سب مال اور یہی جائیداد ہے۔

١٨٧٩ء میں جب آپ نے براہین کا اعلان کیا تو اس وقت تک اس کا حجم دو اڑھائی ہزار صفحہ تک پہنچ چکا تھا۔ جن میں آپ نے اسلام کی صداقت پر تین سو دلائل لکھے تھے اور آپ کا ارادہ تھا کہ اشاعت پر اور بھی اضافہ کیا جائے گا۔ چنانچہ چار جلدیں شائع ہوئیں تو مقدمہ اور حواشی بڑھا دیئے۔ مگر اصل کتاب کے صرف چند ورق درج ہوئے ہیں اور صرف ایک دلیل لکھی گئی ہے اور وہ بھی ادھوری۔ پھر اشاعت رک گئی اور باقی مسودہ جل کر تباہ ہو گیا۔ جلد چہارم کے اخیر پر لکھ دیا کہ ابتداء میں کچھ اور خیال تھا۔ دوران اشاعت میں آپ مامور بن گئے اور پہلے ارادے ترک کر دیئے۔ صاحبزادہ کا قول ہے کہ آپ کی ٨٠ کتابیں اور آپ کا وجود ہی تین سو دلائل صداقت اسلام کی ضمانت ہے جو کہ ہر کہ و مہ پر ظاہر ہے۔ چوہدری حاکم الدین کا بیان ہے کہ جب مرزا امام الدین و نظام الدین نے مسجد کا راستہ بند کیا تو آدمی بھیج کر منت سماجت کی ۔ مگر انہوں نے نہ مانا۔ اس وقت قادیان کے قریب کسی موقعہ پر ڈپٹی کمشنر صاحب تحقیق کے لئے آئے ہوئے تھے۔ آپ نے اس کے پاس اپنے آدمی بھیجے۔ مگر اس نے بھی غصہ میں آ کر کہہ دیا کہ میں تم کو جانتا ہوں۔ میں تمہاری خبر لینے والا ہوں تم کو پتہ لگ جائے گا۔ کیونکہ سوائے چند مہاجرین اور مہمانوں کے سارا قادیان آپ کے خلاف تھا۔ آپ نے احمدیوں کی تکلیف دیکھ کر کہا کہ یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے۔ ہجرت انبیاء کا کام ہے کہیں باہر چلے جائیں۔ حکیم صاحب نے کہا کہ بھیرہ چلیں۔ میرا

صفحہ ٣٣٥

مکان حاضر ہے۔ مولوی عبدالکریم نے سیالکوٹ جانا پیش کیا۔ شیخ رحمت اللہ نے لاہور اپنے پاس لے جانے کو کہا اور میں نے کہا کہ میرا گاؤں صحیح و سالم موجود ہے۔ گویا وہاں ہماری ہی حکومت ہے۔ پاس ہی دوسرا گاؤں ہے جس سے تمام اشیاء مہیا ہو سکتی ہیں۔ آپ نے کہا کہ اچھا وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔ ١٨٨٧ء میں بھی ہجرت کرنے کا آپ نے ارادہ کیا تھا۔ جس کا ذکر شحنہ حق میں ہے۔ ہوشیار پور میں چلہ کشی کا حساب و کتاب عبداللہ سنوری نے اپنی پاکٹ بک میں درج کیا تھا۔ جس کا نمونہ درج ذیل ہے۔ ٣١؍ مارچ ١٨٨٦ء مربائے آم، آچار، دودھ، مصری، چٹنی، گوشت، لفافہ، پالک، دال ماش، نمک، دھنیا، پیاز، تھوم، ادرک، مرمت تھیلا، ریوڑی۔ چوہڑہ ضلع امرتسر کا ایک معمر سوا سو سال کا بوڑھا پست قد حضرت سید احمد صاحب بریلوی کا مرید اور شریک سفر حج بھی تھا اور اس کے جسم پر زخموں کے نشان بھی تھے، قادیان آیا۔ جبکہ حافظ روشن علی صاحب یہاں ابھی ابھی آئے تھے۔ اس نے بیعت کی حکیم صاحب نے صلوٰۃ خوف کے عملی طریق اس سے سیکھے تھے۔ چار دن رہ کر روانہ ہونے لگا تو آپ نے دو ماہ کے لئے اور ٹھہرا لیا۔ ایک دفعہ پھر آیا تھا۔ مگر جلدی واپس جا کر مر گیا۔ یہ وہ شخص تھا کہ جس نے دو اماموں سے بیعت کی اور صدیوں کے ثمر پائے۔ احمدیوں کو اہل قادیان خصوصاً ایذاء رسانی کرتے تھے۔ کسی کے کھیت میں کسی نے پاخانہ پھر دیا تو اسی کے ہاتھوں اٹھواتے تھے۔ ڈھاب سے مٹی اٹھائی تو لپٹ گئے۔ مگر آپ نے ہمیشہ صبر کی تلقین کی۔

سید احمد نور کابلی مہاجر نے ایک دفعہ اجازت مانگی تو آپ نے کہا کہ لڑنا ہے تو واپس کابل چلے جاؤ۔ ١٩٠٦ء میں ایک دفعہ ایک احمدی نے مکان کے لئے ڈھاب سے مٹی اٹھوائی۔ سکھ لاٹھیاں لے کر آ پڑے۔ احمدیوں نے بھی مزاحمت کی، جانبین زخمی ہوئے۔ پولیس نے سکھوں کا چالان کر دیا۔ مگر جب آپ قادیان آئے تو سکھوں نے غلطی کا اعتراف کیا تو آپ نے معاف کر دیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ایذاء رسانی کم ہوتی گئی۔ آج یہ حالت ہے کہ قانونی ایذاء رسانی تو کرتے ہیں مگر دستی ایذاء رسانی پر قادر نہیں رہے۔ کیونکہ خود قادیان میں احمدیوں کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ دعویٰ مسیحیت سے پہلے الہام ہوا کہ: ”وسع مكانك“ عبداللہ سنوری سے کہا کہ مگر ہم تین چھپر بنا لیتے ہیں۔ امرتسر حکیم محمد شریف کہ جس کے پاس آ کر ٹھہرا کرتے تھے کے پاس جا کر مصالحہ اور کاریگر لے آؤ تو اس طرح چھپر تیار ہو گئے۔ وہ بہت مدت رہے آخر خراب ہو گئے۔ منشی احمد جان صاحب سجادہ نشین لدھیانہ آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے پوچھا کہ آپ نے کیا سیکھا ہے۔ کہا کہ علم توجہ سے مخاطب کو گرا لیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا تو پھر کیا ہوا؟ بس

صفحہ ٣٣٦

اتنے سے ہی حقیقت کھل گئی اور آپ کے معتقد ہو گئے۔ فج اعوج کے زمانہ میں صوفیا نے یہی کمال سمجھا رکھا تھا۔ یہ تو ہر ایک دھریہ بھی کر سکتا ہے۔ منشی صاحب دعوائے مسیحیت سے پہلے ہی مر چکے تھے اور آپ کی لڑکی کا نکاح حکیم نور الدین سے ہوا تھا۔ آپ کے دونوں لڑکے یہیں ہجرت کر کے گئے تھے۔ حکیم صاحب کی نرینہ اولاد اسی شادی سے ہوئی۔ منشی صاحب نے ایک دفعہ یوں شعر کہا۔

ہم مریضوں پہ ہے تمہیں کی نظر
تم مسیحا بنو خدا کے لئے

لالہ بھیم سین سیالکوٹی کو آپ سے عقیدت تھی۔ آپ اس سے قرضہ بھی لیا کرتے تھے۔ جہلم کے مقدمہ میں اس نے اپنا لڑکا کنور سین وکیل پیروی کے لئے مفت پیش کیا۔ مگر آپ نے نہ مانا۔ اس نے آپ کے ساتھ مل کر مختاری کا امتحان دیا تو الہام ہوا کہ بھیم سین کے سوا سب فیل ہیں۔ اس لئے آپ بھی فیل ہو گئے۔ قادیان میں بھی جناب گوشہ نشین رہتے تھے۔ آریہ شرم پت اور ملاوامل تاہم آپ کے پکے دوست تھے۔ ملاوامل دوسری شادی پر دہلی بھی گیا تھا۔ مگر بعد میں اس کا آنا کم ہو گیا تھا تو الہام یہودا اسکریوطی پورا ہوا۔ آپ نے اتمام حجت کے لئے ان دونوں کو اپنا شاہد مقرر کیا تھا کہ واقعات جھوٹ ہوں تو یہ دونوں اشتہار دے دیں۔ ”الیس اللہ بکاف عبدہ“ والی انگوٹھی بھی لالہ ملاوامل تیار کرانے امرتسر آیا تھا اور پانچ روپے میں تیار ہوئی تھی۔ حکیم صاحب کے کچھ شاگردوں پر بدکاری کا الزام عائد ہوا تو آپ نے کہا کہ وہ قادیان سے چلے جائیں۔ حکیم صاحب نے کہا کہ حضور صرف شبہ ہی ہے تو آپ نے کہا کہ ہم بھی تو شرعی حد نہیں لگا رہے۔ آپ نے اپنے اصحاب کے متعلق لکھا ہے کہ؎

مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا

عبد الحکیم مرتد نے کہا کہ صرف حکیم صاحب عملی رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے مجھ پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں۔ موسیٰ کے پیروان سے ان کو ہزار ہا درجہ بہتر سمجھتا ہوں۔ ہزار ہا آدمی دل سے فدا ہیں۔ کہوں تو مال سے دستبردار ہو جائیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ صحابہ میں تو شان نظر آتی ہے اور ان میں نہیں کیا وجہ ہے جواب یہ ہے کہ:

صفحہ ٣٣٧

منافق نہیں اور ہم عملاً دیکھ رہے ہیں کہ احمدی کہلانے والوں میں بھی منافق پائے جاتے ہیں۔ کوئی کسی وجہ سے اور کوئی کسی وجہ سے۔ بہتر ہے کہ ایسے لوگوں کو الگ کر دیا جائے۔

جناب لکھتے ہیں کہ میں ان کو ترقیات کی ترغیب دیتا ہوں اور ان کی نیکیاں ان کو نہیں سناتا، مگر دل میں خوش ہوں۔

مبارک احمد بیمار ہوا تو آپ کو قلق تھا۔ فوت ہو گیا تو آپ خط لکھنے بیٹھ گئے کہ الہام پورا ہوا کہ خدارسیدہ ہوگا یا بچپن میں مرے گا۔ حکیم صاحب نے نبض دیکھی تو کہا کہ بہت کمزوری ہے۔ کہا کہ آپ کستوری لائیں۔ آپ لانے میں مشغول ہو گئے اور دیر ہو گئی اور وہ چل دیا۔ قبر میں دیر تھی۔ اس لئے باغ میں بیٹھ گئے تو آپ نے خاموشی کے بعد کہا کہ شریعت خدا نے اپنے بندوں کے ہاتھ میں دے دی ہے کہ اس میں آسانی تلاش کر سکے۔ مگر قضا و قدر کا سلسلہ اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ جب اس کی چوٹ آلگتی ہے اور بندہ صبر کرتا ہے تو ایک آن میں اتنی ترقی کرتا ہے کہ چالیس سال کی صوم وصلوٰۃ سے نہیں کر سکتا۔ ایک دفعہ آپ نے کہا کہ ایک بزرگ کا بچہ مر گیا تو کہا سگ بچہ مرد دفن بکنید۔ مگر مقتدائے قوم ایسی بات نہیں کرتے۔ جب آتھم کی موت میں ایک دن رہ گیا تو آپ نے عبداللہ اور حامد علی سے کہا کہ چنے لے کر ان پر فلاں سورۃ پڑھو وہ سورۃ چھوٹی سی تھی۔ ہم نے ساری رات میں وہ وظیفہ ختم کیا۔ ہم چنے لے گئے تو آپ نے قادیان سے شمال کی طرف جا کر فرمایا کہ یہ چنے غیر آباد کنوئیں میں ڈال دوں گا اور جب ڈال

صفحہ ٣٣٨

چکوں تو بہت جلدی ہم کو منہ موڑ کر واپس آنا چاہئے ۔ چنانچہ آپ نے غیر آباد کنوئیں میں چنے ڈال دیئے اور منہ موڑ کر واپس جلدی سے چلے آئے اور پیچھے نہیں دیکھا۔ آپ کے سوانح حیات میں یہ کتابیں اس وقت تک تیار ہو چکی ہیں۔

میں چشم دید واقعات اور خانگی امور پر خصوصیت سے بحث کی گئی ہے۔ کیونکہ آپ جناب کے اپنے مکان میں ہی رہتے تھے۔

داخل بیعت ہوئے تھے۔ تاریخ تصنیف ١٩٠٦ء چشم دید سرسری واقعات پر مشتمل ہے۔

تصنیف ١٩٠٦ء اس میں کوئی خاص بات نہیں۔

١٩١٥ء۔ اخبار الحکم سے واقعات قلم بند کر کے اب تک دو جلدوں میں شائع کر چکے ہیں۔

مسلسل نہیں۔ برجستہ مضامین چشم دید واقعات کے متعلق ہیں۔ تاریخ تصنیف ١٩١٥ء دو حصوں میں شائع ہو چکی ہے۔

تصنیف ١٩١٦ء۔

اور کچھ تعصب آمیز۔

لٹریچر سے ماخوذ اور متعصبانہ رنگ۔

آپ کی ٨٠ کتابیں الحکم البدر تشحیذ الاذہان و دیگر رسائل بھی تاریخ میں شامل ہیں۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کی سیرت میں تواریخ کی تعیین نہ تھی۔ کیونکہ تجربہ ثابت ہوا ہے کہ ایسے دماغ اپنے دوسرے قوائے ذہنی میں کمزور ہوتے ہیں۔ بچوں کی شادیاں چھوٹی عمر میں ہی کر دی تھیں تا کہ اختلاط سے عمر خراب نہ ہو۔ شیخ رحمت اللہ لاہوری ایک نوجوان عیسائی کو قادیان لائے کہ داخل بیعت کریں۔ عبدالرحمان مصری بھی حاضر ہو گئے تو ان کی بیعت تو لی گئی مگر عیسائی سے کہا

صفحہ ٣٣٩

کہ پھر آؤ۔ دوسری دفعہ بھی یہی کہا۔ تیسری دفعہ اس نے بروز منگل تعین چاہی تو جمعرات بتائی تو ناراض ہو کر چلا گیا اور عیسائی ہو گیا۔ تو آپ نے کہا کہ عیسائی قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ اسی واسطے ٹھہرایا تھا۔ مرزا سلطان احمد آپ سے نحو میر گلستان بوستان وغیرہ پڑھتے تھے۔ دادا صاحب نے روک دیا کہ میں نے سب کو ملا نہیں بنانا۔ لاؤ میں پڑھاؤں گا۔ ملا جان محمد کشمیری پرانا امام تھا۔ خلیفہ ثانی نے اس سے کچھ پڑھا تھا۔ پہلے وہی امام مسجد تھا۔ آپ کے سفر و حضر میں حاضر رہتا تھا۔ اس کا بھائی غفار جاہل اور بے نماز تھا۔ آمد و رفت زیادہ ہو گئی تو اس نے یکہ بنالیا۔ اس کی اولاد یہی کام کرتی ہے۔ آپ اسے اعرابی کہتے تھے۔ کیونکہ اس نے نماز شروع کر کے چھوڑ دی تھی۔ جان محمد کا بیٹا دین محمد عرف بگا کو اکثر احمدی جانتے ہیں۔ چونکہ مرزا سلطان احمد و فضل احمد جوانی میں پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے اپنے دادا کے پاس ہی رہا کرتے تھے اور آپ سے میل ملاپ نہ تھا۔ آپ کی ایک بہن تھی۔ مرزا غلام مرتضےٰ کا خیال تھا کہ اس کے دماغ میں خلل ہے۔ اسے خواب بہت آتے تھے۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کسی سفید ریش بزرگ نے اسے تعویذ دیا ہے۔ دیکھا تو بھوج پتر پر سورۃ مریم لکھی ہوئی موجود تھی۔ ایک دفعہ خواب میں دریا دیکھا اور پانی پانی کہہ کر چلا اٹھی۔ دیکھا کہ پاؤں بھیگے ہوئے تھے اور ریت بھی لگی ہوئی تھی۔ اس لئے خلل دماغ کا شبہ جاتا رہا۔ مسٹر میکائلی ڈپٹی کمشنر نے مرزا غلام مرتضےٰ سے پوچھا کہ ہماری حکومت اچھی ہے یا سکھوں کی۔ کہا کہ قادیان میں جواب دوں گا۔ وہ دورے پر آیا تو کہا کہ یہ میرے مکان سکھوں کے عہد کے ہیں۔ آپ کے عہد میں میری اولاد شاید مرمت بھی نہ کر سکے گی۔ آپ کی دوسری شادی ہوئی تو سلطان احمد کی پہلی اہلیہ آپ کی اہلیہ سے بڑی معلوم ہوتی تھی اور فضل احمد کی شادی اس سے پہلے ہو چکی تھی۔ آپ کے دوسرے خسر کی بدلی ہنودان میں ہوئی تو آپ کی خوشدامن بیمار ہو گئی۔ جو ڈولی میں بٹھا کر قادیان پہنچی تو آپ کے والد صاحب نے نسخہ لکھ کر رخصت کر دیا۔ ایک دفعہ جب گھر میں آئی تو آپ الگ کمرہ میں قرآن شریف تلاوت کر رہے تھے۔ پیٹھ دیکھ کر کہا کہ کون ہے؟ گھر والوں نے کہا کہ یہ غلام احمد کا چھوٹا لڑکا ہے جو بالکل ولی ہے۔ آپ کی دوسری اہلیہ ابھی بہت چھوٹی تھی جو گھر میں اس وقت اکیلی تھی۔ شام کے وقت چلائی مگر والد آگئے تو تسلی ہوئی۔ یوں تو ساری عمر جہاد ہی میں گذری۔ مگر باقاعدہ مناظرے صرف پانچ ہوئے ہیں۔

مذکور ہے۔

صفحہ ٣٤٠

شائع نہیں ہوئی۔ مگر اشتہار مورخہ ٣ فروری ١٨٩٢ء میں کچھ ذکر ہے۔

مقدس میں مذکور ہے اور دو حملے ہوئے ہیں۔ اوّل بمقام بٹالہ محمد حسین پر ١٨٦٨،٦٩ء میں جو براہین حصہ چہارم ص ٥٢٠ پر ہے۔ دوم میاں نذیر حسین صاحب دہلوی پر بمقام جامع مسجد دہلی ٢٠ اکتوبر ١٨٩١ء کو جو اشتہارات میں درج ہے۔

مخالفین کے مقدمات کی تفصیل یہ ہے۔

سے ہوا تھا۔ جس کی تشریح مولوی محمد حسین بٹالوی کو خط لکھتے ہوئے آئینہ کمالات اسلام میں شائع ہوچکی ہے۔

حسین بٹالوی کی درخواست برائے اسلحہ حفظ خود اختیاری مورخہ ٥ دسمبر ١٨٩٨ء بعنوان مقدمہ حفظ امن زیر دفعہ ١٠٧ ضابطہ فوجداری بعدالت ڈپٹی کمشنر گورداسپور دائر ہو کر ٢٤ فروری ١٨٩٩ء کو فیصل ہوا اور ضمانت سے برأت ہوئی۔ جس کی تفصیل الحکم مارچ ١٨٩٩ء اور اشتہار ٢٦ فروری ١٨٩٩ء میں درج ہے۔

پہلے جہلم میں دائر ہوا۔ پھر گورداسپور میں چلایا گیا تھا۔ بالآخر بعدالت اے ہری سشن جج امرتسر ١٧ جنوری ١٩٠٥ء کو فیصل ہوا اور آپ بری ہوگئے۔ ماتحت عدالت کا فیصلہ بعدالت آتمارام مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور ١٨ اکتوبر ١٩٠٤ء کو ہوا تھا۔ اس کی تفصیل الحکم میں ہے۔

١٧ جنوری ١٩٠٠ء کو مسجد مبارک کے سامنے دیوار اٹھا کر راستہ بند کردیا تھا۔ ١٢ اگست ١٩٠١ء کو بعدالت شیخ خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ جج گورداسپور آپ کے حق میں فیصلہ ہوا اور ٢٠ اگست ١٩٠١ء کو دیوار گرائی گئی۔ دیکھو تفصیل کے لئے الحکم اور حقیقت الوحی۔

گورداسپور فیصلہ ہوا اور ٹیکس نہ لگا۔ اس کی تفصیل ضرورت الامام میں شائع ہوئی ہے۔

صفحہ ٣٤١

ہفتم...... فوجداری مقدمہ جو مارٹن کلارک پادری نے قتل کے الزام پر دائر کیا تھا۔ ابتدائی کارروائی یکم اگست ١٨٩٧ء کو امرتسر میں بعدالت مارٹینو ڈپٹی کمشنر امرتسر ہوئی اور آخری کارروائی میں ٢٣؍ اگست ١٨٩٧ء کو ایم ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے بری کر دیا۔ دیکھو کتاب البریہ، ٨؍ اپریل ١٨٩٧ء کو جناب اندر دالان میں کام کر رہے تھے کہ سپاہی آئے مسجد کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ڈیوڑھی پر بھی ایک سپاہی آ گیا۔ مرزا محمود کو کہہ کر بھیجا کہ جناب آتے ہیں۔ جب مسجد کو نکلے انگریز کپتان مسجد میں کھڑا تھا کہ لیکھرام کے قتل میں آپ کی خانہ تلاشی لوں گا تو کپتان معہ دوسرے سپاہیوں نے ساری خانہ تلاشی خوب لی۔ سردخانہ میں جانے لگا تو سر دروازے سے ٹکرایا اور سخت بے چین ہوا۔ آپ نے تیمار داری کی۔

اثنائے تفتیش میں ایک خط نکلا کہ جس میں کسی نے لیکھرام کے قتل پر مبارک باد لکھی تھی۔ مخالفین نے کہا کہ دیکھئے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے تو آپ نے بستہ کھول کر اور بھی اس قسم کے خط نکال کر پیش کر دیئے اور کپتان نے کہا کوئی بات نہیں۔ دیکھو اشتہار ١١؍ اپریل ١٨٩٧ء، لیکھرام ٦؍ مارچ ١٨٩٧ء کو قتل ہوا تھا۔ میر ناصر نواب صاحب سے مولوی محمد علی کی کشمکش ہو گئی تو میر صاحب نے آپ کے پاس شکایت کر دی۔ بعد میں مولوی صاحب نے کہا کہ اگر ایسی شکایتیں شروع ہو گئیں تو ہم سے کوئی اسلامی کام نہ ہو سکے گا۔ اس لئے بہتر ہے کہ ہم قادیان سے چلے جائیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ آئے تھے۔ مگر مجھے معلوم نہیں وہ کیا کہہ گئے ہیں۔ میں اپنے خیال میں محو تھا کہ گو میری جماعت نے قوۃ استدلالی میں کافی ترقی کر لی ہے اور مخالف بھی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ مگر اصلی غرض جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔ ابھی اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ یعنی جماعت میں مکارم اخلاق، تقویٰ واصلاح، اسوہ حسنہ پر عمل درآمد، اسلام کو اپنا شعار بنالینا موجود نہیں ہوا اور یہ فکر شب و روز خلوت و جلوت میں دامن گیر ہے۔ عبداللطیف کی شہادت کی خبر آئی تو خوش ہوئے اور کہا کہ ایمان کا نمونہ قائم ہو گیا ہے اور افسوس بھی کیا کہ ایک متبع الگ ہو گیا ہے۔ وہ جب کابل جانے لگے تھے تو خود ہی کہتے تھے کہ اب میں زندہ نہ رہوں گا۔ یہ موقعہ آخری رخصت کا جانتے تھے۔ آپ رخصت کرنے دور تک چلے گئے تو وہ قدم پر گر کر رونے لگے۔ مگر آپ نے الامر فوق الادب کہہ کر کھڑا کر دیا تو حضرت سے حسرت کے ساتھ رخصت ہوئے۔

عبداللہ سنوری کا بیان ہے کہ میں ایک امیر کے لئے (جو غالباً پٹیالہ کا تھا) دعاء کرانے کو قادیان آیا۔ کیونکہ وہ ناولد تھا اور جائیداد بہت تھی۔ مگر جناب نے اثنائے تقریر میں فرمایا کہ دعاء کے لئے تعلق کا ہونا ضروری ہے۔ ورنہ دعاء کرانے والے کو ضروری ہے کہ کوئی ایسا کام کرے

صفحہ ٣٤٢

جس سے دعاء کرنے والے کا دل پگھلے۔ اس کے بعد کہا کہ جاؤ اس سے کہہ دو کہ تبلیغ اسلام کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے۔ پھر ہم اس کے لئے دعاء کریں گے۔ پھر ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو لڑکا عنایت کرے گا۔ عبداللہ سنوری نے اس کو جاکر بعینہ یہی لفظ کہہ دیئے اور خاموش ہوگیا اور لاولد ہی مرگیا اور جائیداد تقسیم ہوگئی۔ مولوی فخر الدین ملتانی نے کہا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کی عمر کے متعلق مختلف خیال تھے تو میں مولوی محمد حسین صاحب کے پاس آیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ احمدی ظاہر ہوجاؤں۔ مگر آپ نے پوچھا کہ کہاں جاتے ہو۔ تو میں نے کہا کہ قادیان، تو اثنائے گفتگو میں میں نے کہا کہ آپ تو وفات مسیح کے قائل ہوں گے؟ تو جواب سختی سے دے کر کہا کہ میں مسیح زندہ مانتا ہوں۔ دوران گفتگو میں کہا کہ میں مرزا صاحب کا بچپن میں ہم مکتب بھی تھا اور میری ملاقات بھی رہی ہے اور جوانی سے جانتا ہوں۔ آپ کا مقولہ ہے کہ جو لوگ سادگی میں عمر بسر کرتے ہیں۔ بہت ہی پیارے لگتے ہیں اور یہ بھی آپ کا مقولہ تھا کہ مرضی مولیٰ بہر حال اولیٰ۔

میاں ظفر احمد کپور تھلوی کو دوسری شادی کی ضرورت ہوئی تو آپ نے کہا کہ یہاں دو لڑکیاں ہیں۔ ان میں کوئی ایک پسند کرلیں۔ آپ آگئے اور ان کو کمرہ کے باہر چک (چق) کے در سے کھڑا کردیا کہ وہ پسند کریں۔ اس نے دیکھ لیں تو آپ نے ان کو رخصت کردیا۔ پوچھا کہ کون سی پسند ہے۔ کہا کہ لمبے چہرہ والی مگر آپ نے کہا کہ گول چہرے والی اچھی ہے۔ کیونکہ اس کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔ مگر ان میں سے کسی کا رشتہ نہ ہوسکا۔ عبداللہ سنوری کو جب دوسری شادی کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے کہا کہ بہت جلد اس قلعہ میں آجانا چاہئے اور زید بکر کی پروا نہ کرو۔ آپ خوبصورت چیز کو پسند کرتے تھے۔ اس لئے کہ ”ان اللہ جمیل ویحب الجمال“ آپ نے غالباً بیعت سے پہلے اشتہار دیا تھا کہ اگر کسی مخالف یا غیر مسلم کو شک ہو تو ہمارے پاس کچھ عرصہ ٹھہرے تاکہ اس کو نشان مل جاوے۔ ورنہ وہ انعام کا مستحق ہوگا تو پھر آپ نے عبداللہ سنوری سے کہا کہ بہت بلایا ہے کوئی نہیں آتا۔ وائٹ بریخت پادری بٹالہ میں ہے۔ تم اس کے پاس متلاشی حق بن کر کہو کہ مرزا نے بڑا شور مچا رکھا ہے۔ آپ اس سے مقابلہ کریں اگر وہ ہار گیا تو میں بلا عذر عیسائی ہوجاؤں گا اور بہت سے لوگ اور بھی عیسائی ہوجائیں گے۔ شام کا وقت تھا۔ سردی اور بارش بھی تھی۔ حامد علی نے مجھے روکا بھی مگر اسی وقت بٹالہ کو چلا آیا۔ تقریباً گیارہ بجے کوٹھی پر پہنچا تو خانساماں نے مجھے ٹھہرا لیا کہ صبح ملاقات کرادوں گا۔ صبح ہوئی تو پادری اور میم دونوں سے ملاقات کرکے میں نے وہ سب لفظ کہہ دیئے جو آپ نے فرمائے تھے۔ مگر وہ انکاری

صفحہ ٣٤٣

ہو گیا کہ ہم ایسے معاملہ میں نہیں آنا چاہتے تو میں مایوس ہو کر واپس قادیان آ گیا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی سے لدھیانہ میں جب مناظرہ ہوا تو تحریری مناظرہ تھا۔ حاجی نظام الدین مولوی صاحب کے پاس ہی کھانا کھاتے تھے۔ وہ ایک دفعہ آپ کے پاس آئے کہ خلاف قرآن تم نے کیوں وفات مسیح کا قول کیا ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر کوئی قرآن سے حیات مسیح ثابت کرے تو ابھی عقیدہ بدل لوں گا۔ کہا کہ ابھی مولوی صاحب سے پچاس آیتیں لکھواتا ہوں ۔ آپ نے کہا کہ پچاس کی ضرورت نہیں ایک ہی لکھوا لاؤ۔ پس وہ گئے اور سر جھکائے واپس آ گئے۔ کیوں؟ کہا کہ جب میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ مرزا قادیانی عقیدہ بدلنے کا اقرار کرتے ہیں تو آپ جلدی آیتیں لکھ دیجئے تو آپ ناراض ہو گئے کہ ارے الو ہم تو اسے احادیث کی طرف لاتے ہیں اور تم پھر قرآن کی طرف لے جاتے ہو۔ میں نے کہا کہ کیا قرآن میں حیات مسیح کا ذکر نہیں۔ کہا کہ نہیں میں نے کہا کہ جب قرآن سے وفات ثابت ہوتی ہے تو ہم مخالف حدیثوں کو کیا کریں تو انہوں نے گالیاں دیں تو حاجی صاحب نے آپ سے بیعت کر لی۔ کہتے ہیں کہ جب حاجی صاحب نے کہا کہ ہم تو قرآن کے ساتھ ہیں تو مولوی صاحب نے ساتھیوں سے کہا کہ اس کی روٹی بند کر دو۔ تو مذاق کے طور پر حاجی نے دست بستہ ہو کر کہا کہ نہیں نہیں میں قرآن چھوڑ دیتا ہوں ۔ آپ میری روٹی بند نہ کریں۔ تو مولوی صاحب شرمندہ ہو گئے۔

مولوی محمد حسین نے مخالفت سے پہلے براہین ہر چہار حصہ پر ایک مبسوط تقریظ لکھی تھی۔ جس کا اقتباس درج ذیل ہے کہ: ” اس زمانہ میں بلحاظ حالات حاضرہ کے یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی نظیر آج تک پیدا نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبر نہیں۔ اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی ، جانی ، قلمی ، لسانی ، حالی اور قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے کہ جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں نہیں ملتی۔ کوئی مبالغہ سمجھے تو ایسی کوئی کتاب بتاوے کہ جس میں آریہ و برہم سماج سے مقابلہ پایا جاتا ہو اور اسلام کی نصرت کا بیڑا اٹھالیا ہو اور تحدی کی ہو کہ جس کو الہام میں شک ہو وہ ہمارے پاس آ کر مشاہدہ کرلے۔ مؤلف ہمارے ہموطن ہیں۔ بلکہ اوائل عمر میں ( جب شرح ملا اور قطبی ) پڑھتے تھے۔ ہمارے ہم مکتب بھی تھے اور اب تک خط و کتابت بھی جاری ہے۔ اس نے مسلمانوں کی عزت رکھ لی ہے یا اللہ لوگوں کے دلوں میں اس کتاب کی محبت ڈال اور اس گنہگار بندے کو بھی اس کتاب کے خاص برکات سے فیضیاب کر

وللارض من كاس الكرام نصيب

(دیکھو اشاعۃ السنہ جلد ششم ) فتح اسلام میں وفات مسیح اور مثیل مسیح کا تذکرہ سرسری طور

صفحہ ٣٤٤

پر کیا تھا نہ اس میں تحدی تھی اور نہ دلائل تھے۔ مگر اس کے بعد توضیح مرام میں کچھ ان دونوں مسئلوں پر روشنی ڈالی گئی۔ تاہم ایسی نہیں کہ انقلاب نما ہو لیکن اس کے بعد جب ازالۃ الاوہام شائع ہوا تو ان دونوں نے انقلابی رنگ اختیار کر لیا تھا اور جس قدر درمیانی اشتہارات نکلتے رہے ان میں بھی ایسی صراحت نہ تھی۔ جس قدر کہ ازالہ میں ہے۔ بہرحال جب یہ اعلان ہوا تو شور مچ گیا اور آپ لدھیانہ، دہلی اور لاہور میں پر زور مباحثات کرنے پڑے اور جب ثابت ہوا کہ آپ مخالفین کے رعب میں آنے والے نہیں ہیں تو محمد حسین نے استفتاء تیار کیا اور میاں نذیر حسین دہلوی سے جواب لکھوا کر دو سو مولویوں کے دستخط کرائے اور ١٨٩٢ء میں شائع کیا تو وہ پیشین گوئی پوری ہو گئی کہ مسیح موعود پر تکفیری فتویٰ لگے گا۔

جناب مولوی میر حسن نے مرزا قادیانی کے مزید حالات بھی اپنے ایک خط میں لکھے ہیں۔ جو صاحبزادہ کو کچھ عرصہ ہوا آپ نے بھیجا تھا کہ مرزا قادیانی سیالکوٹ محلہ کشمیریوں میں کرایہ کا مکان لے کر مقیم ہوئے تھے۔ مالک مکان کا نام عمرا جولاہا تھا۔ جو میرا قریبی ہمسایہ ہی تھا۔ آپ فراغت کے وقت تلاوت قرآن مجید میں مصروف رہتے تھے اور رویا کرتے تھے۔ حاجت مند حسب دستور آتے تو فضل الدین برادر کلاں عمرا جولاہا کو بلا کر کہتے کہ ان کو سمجھا دو یہاں نہ آیا کریں۔ جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے کچہری میں ہی کرتا ہوں تو فضل الدین چونکہ اپنے محلہ میں موقر تھا۔ اس لئے ان کو نکال دیتا تھا۔ مولوی عبد الکریم سیالکوٹی بھی اسی محلہ میں رہتے تھے۔ پھر جامع مسجد کے سامنے ایک بیٹھک پر منصب علی حکیم وثیقہ نویس کے ہمراہ رہنے لگے۔ بیٹھک کے قریب فضل الدین دکاندار رات کو دکان کھولے رکھتے تھے اور لوگ وہاں جمع ہو جاتے تھے تو کبھی وہاں پر نصر اللہ عیسائی ہیڈ ماسٹر مشن سکول اور مرزا قادیانی کا مباحثہ بھی ہو جاتا تھا۔ مولوی محبوب عالم صوفی تھے۔ آپ اور آپ کے دوست بھیم سین دونوں ان کی خدمت میں جاتے تھے۔

بیعت کا تذکرہ ہوتا تو مرزا قادیانی کہتے کہ انسان کو خود کوشش کرنا چاہئے۔ کیونکہ "والذین جاھدوا" وارد ہے تو صوفی صاحب کشیدہ خاطر ہو جاتے تھے کہ بیعت کے بغیر راہ نہیں ملتی۔ پھر آپ نے ایک سکھ سے دوڑ کرنے میں سبقت حاصل کی تھی۔ (دیکھو سوانح شباب) حکیم نور الدین صاحب کا ایک بھتیجا مسمی عبدالرحمان بدمعاش بھگڑ قادیان کچھ مانگنے آیا تو آپ کو کچھ شبہ پیدا ہو گیا۔ اس لئے حکیم صاحب سے کہلا بھیجا کہ نکال دو۔ حکیم صاحب نے روپے پیش کئے تو اس نے زیادہ مانگے اور حکیم صاحب کے پاس اتنے ہی روپے تھے۔ اسی کشمکش میں کچھ دیر ہو گئی تو آپ نے پھر کہلا بھیجا کہ آپ اسے رخصت کر دیں یا خود بھی چلے جائیں۔ تو قرضہ لے کر

صفحہ ٣٤٥

آپ نے اُسے رخصت کر دیا۔ ایک غیر احمدی مالدار، راولپنڈی کا رہنے والا حکیم صاحب کو اپنے گھر معالجہ کے لئے لینے آیا اور حکیم صاحب کو لے جانے کے لئے درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ گو اگر میں حکیم صاحب سے کہوں کہ پانی یا آگ میں کود پڑو اور ان کو کوئی عذر نہ ہوگا۔ مگر ہمیں بھی تو حکیم صاحب کے آرام کا خیال ہونا چاہئے۔ ان کے گھر بچہ پیدا ہونے والا ہے وہ کیسے جاسکتے ہیں۔ حکیم صاحب نے سنا تو بہت خوش ہوئے کہ ہمارے متعلق آپ کا ایسا خیال ہے۔ ایک دفعہ لیکچر دے رہے تھے تو ایک سکھ مسجد میں آکر گالیاں دینے لگا۔ لوگ کھڑے تھے۔ مگر آپ نے کہا جب خاموش ہو جاوے۔ دو آدمی پکڑ کر باہر لے جاؤ۔ مزاحمت کرے تو حاکم علی سپاہی کے سپرد کر دو۔ جو حکومت کی طرف سے یہاں مقرر ہے۔

مرزا نظام الدین مرزا سلطان احمد کا وکیل تھا۔ باغ کی تقسیم کے لئے قرعہ تجویز ہوا تھا۔ آپ گھر سے نکلتے تو وہ گلی میں کھڑا تھا۔ آپ نے دو لفافے پیش کئے۔ اس نے ایک اٹھا لیا۔ جس میں شمالی حصہ تھا۔ اس تقسیم کے بعد آپ کی ضرورت درپیش آئی تو اہلیہ ثانی کا زیور لے کر باغ کا اپنا حصہ اس کے پاس رہن رکھ دیا۔ جس کی میعاد تین سال رکھی۔ عبداللہ سنوری کا بیان ہے کہ ایک دفعہ آپ نے اپنی ظلی نبوت کا ثبوت دیتے ہوئے یوں کہا کہ ایک بادشاہ نے ایک مستری سے دیوار بنوائی۔ جس پر اس نے اعلیٰ قسم کی گلکاری کرنے میں سارا زور خرچ کر ڈالا۔ اس کے مقابل پر دوسرے مستری سے کہا کہ تم بھی ایسی دیوار بناؤ اور اس پر کمال جانفشانی سے اپنے نقش و نگار کا انتہائی نمونہ پیش کرو اور دونوں کے درمیان پردہ لٹکوا دیا تا کہ ایک دوسرے کے کام پر اطلاع نہ پاسکیں اور جب دونوں دیواریں مکمل ہو گئیں تو بادشاہ اور لوگ دیکھنے آئے اور درمیان سے پردہ اٹھا دیا کہ اچھی طرح موازنہ ہو سکے۔ مگر یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ جو نقش ایک دیوار پر ہیں۔ بعینہٖ وہی نقش دوسری دیوار پر بھی ہیں۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ پہلے مستری نے بیل بوٹے دکھانے میں کمال کیا تھا تو دوسرے نے دوسری دیوار کو اس قدر مصفا اور شفاف کر دیا تھا کہ پہلی دیوار کے تمام نقوش اس پر ظاہر ہونے لگے تھے۔ آپ کا مکان احباب کا گھر تھا۔ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی حصہ زیریں میں رہے تھے۔ محمد علی صاحب بھی آپ کے مکان کے مختلف حصوں میں رہتے تھے۔ نواب محمد علی صاحب جب آئے تو وہ بھی ایک حصہ میں رہتے تھے۔ پھر اپنا مکان بنا لیا تو وہاں چلے گئے۔ مفتی محمد صادق کو بھی پہلے پہل وہیں جگہ ملی تھی۔ مولوی محمد احسن صاحب بھی کئی بار آپ کے مکان پر ہی ٹھہرے تھے اور ڈاکٹر سید عبدالستار صاحب بھی جب اہل وعیال سمیت آتے تو وہ بھی وہیں ٹھہرتے۔ ایک دفعہ آل محمد نے آ کر دستک دی اور کہا بڑی فتح کی خبر لایا ہوں۔ جناب

صفحہ ٣٤٦

کے پاس مفتی محمد صادق تھے۔ آپ نے ان کو دریافت کے لئے بھیج دیا۔ مفتی صاحب نے معلوم کیا کہ ایک مقام پر مولوی محمد احسن صاحب ایک مولوی سے جھگڑے تو اس کو خوب رگیدا۔ آپ نے جناب نے یہی لفظ کہہ دیئے تو آپ نے کہا کہ میں سمجھا تھا کہ یورپ مسلمان ہو گیا ہے۔ آپ نے اپنی اہلیہ سے پوچھا کہ کیا مرزا محمود کو اپنا جانشین مقرر کریں تو اس نے کہا کہ آپ کی مرضی اور یہ بھی کہا کہ ہماری جماعت میں تین قسم کے آدمی ہیں۔

بیعت اولیٰ لدھیانہ میں چالیس آدمیوں نے کی کہ آپ مجدد ہیں۔ سب سے پہلے حکیم نورالدین صاحب نے بیعت کی۔ پھر حامد علی نے پھر عبداللہ سنوری نے۔ پھر باقی لوگوں نے۔ قادیان واپس آئے تو اہلیہ اور دوسری عورتوں نے بھی بیعت کر لی اور جب دعویٰ مسیحیت کیا تو آپ نے کہا کہ اب بہت شور اٹھے گا۔ تو جب آپ نے لدھیانہ جا کر یہ اعلان کیا تو بہت شور اٹھا اور کچھ مرید مرتد بھی ہو گئے۔ آپ کے سسرال لدھیانہ میں مقیم تھے تو جناب نے وہاں مسیحیت کا اعلان کر دیا۔ اس وقت ڈاکٹر اسماعیل، مرزا محمود کے حقیقی ماموں تیسری جماعت میں پڑھتے تھے تو ان سے ہم جماعت لڑکوں نے کہا کہ مسیح تو زندہ ہیں۔ مگر آپ کے گھر جو مرزا قادیانی آئے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مسیح مر گئے ہیں۔ اس پر ڈاکٹر صاحب متعجب ہو کر گھر آئے تو آپ سے پوچھنا شروع کر دیا۔ آپ نے فتح اسلام کی ایک جلد الماری سے نکال کر ان کو دے دی تاکہ خود تشفی کر لیں۔ مرزا امام الدین نے اپنے مکان میں کھڑے ہو کر کسی سے کہا کہ لوگ (مرزا قادیانی) دکانیں کھول کر نفع اٹھا رہے ہیں۔ ہم بھی کوئی دکان بنائیں تو خاکروبوں کا پیر بن بیٹھا۔ قاضی امیر حسین نے کہا کہ ایک دفعہ خواجہ کمال الدین سے میرا جھگڑا ہو گیا تو خواجہ صاحب نے مجھ سے کہا۔ دیکھئے مرزا قادیانی میری کتنی عزت کرتے ہیں تو اس کے جواب میں، میں نے کہا کہ میں ایک دفعہ آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھے چائے تیار کروا دی۔ مگر خیال پیدا ہوا کہ کہیں میں منافق تو نہیں سمجھا گیا کہ اتنی عزت ہو رہی ہے۔ (مطلب یہ تھا کہ مرزا قادیانی منافقوں کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔ اس لئے خواجہ کمال الدین کو مغرور نہ ہونا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے آپ کی عزت کی تھی) فضل احمد کی والدہ صاحبہ سے آپ کو بے دینی کی وجہ سے نفرت تھی۔ اسے ”پنجے دی ماں“ کے لقب سے پکارتے تھے۔ دوسری شادی ہوئی تو آپ نے کہلا بھیجا کہ یا طلاق لے لو یا حقوق بخش کر خرچ لیتی رہو۔ تو اس نے خرچ لینا منظور کر لیا۔

صفحہ ٣٤٧

محمدی بیگم کے جھگڑے میں وہ مخالفین سے مل گئی ۔ تو آپ نے اسے طلاق دے دی۔ (دیکھو اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین مجریہ ٤؍مئی ١٨٩٤ء) اس کے بعد ایک دفعہ وہ بیمار ہو گئی تو آپ نے دوسری اہلیہ سے کہا کہ دو گولیاں دے آؤ۔ مگر میرا نام نہ لینا۔ مارچ ١٨٨٢ء کو آپ اصلاح حق کے لئے مامور ہوئے۔ (براہین ج ٣ ص ٢٣٨، خزائن ج ١ ص ٢٦٤) مگر احتیاطاً توقف کر کے دسمبر ١٨٨٨ء کو بیعت کا اعلان کیا اور شروع ١٨٨٩ء کو بیعت لینی شروع کر دی کہ میں مجدد ہوں اور مسیح ناصری کے رنگ میں ظاہر ہوا ہوں۔ ١٨٩١ء میں اعلان کیا کہ مسیح مر گیا ہے اور مسیح موعود میں ہوں۔ بیسویں صدی کا آغاز ہوا تو آپ نے اپنے متعلق نبی اور رسول کا لفظ صراحۃً استعمال کرنا شروع کر دیا اور مثیل کرشن ہونے کا دعویٰ ١٩٠٤ء میں کیا۔ ”انتھی ما فی سیرۃ المھدی حصہ اول“ آپ نے جو دعاوی کئے ہیں۔ ان کی فہرست مختصر طور پر بترتیب سنہ عیسوی و نمبر دعویٰ یوں ہے۔

طرز پر کمال تواضع سے اصلاح خلق کے لئے کوشش کرے۔“

(مندرجہ براہین ص ٤٩١، خزائن ج ١ ص ٥٩٣، ١٨٨٢ء)

ہونے کا ایسا دعویٰ کیا۔ جیسا کہ اس عاجز نے کیا ہے۔“

(ازالہ ص ١٥٤، خزائن ج ٣ ص ١٧٩، ستمبر ١٨٩١ء)

محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنی سے نبی ہی ہوتا ہے۔ گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں۔ مگر تاہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے۔“

(توضیح المرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠، ازالہ ص ٤٢٢، جنوری ١٨٩١ء)

کہ ایک شخص حارث نام ماوراء النہر یعنی سمرقند کی طرف سے نکلے گا۔ جو آل رسول کو تقویت دے گا اور جس کی امداد ہر مؤمن پر واجب ہوگی۔ الہامی طور پر مجھ پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ پیشین گوئی اور مسیح کے آنے کی پیشین گوئی (جو مسلمانوں کا امام اور مسلمانوں میں سے ہوگا) دراصل دونوں متحد المضمون ہیں اور دونوں کا مصداق بھی عاجز ہے۔“

(ازالہ ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ١٤١، ١٣ ستمبر ١٨٩١ء)

ابراہیم، اسحاق، اسماعیل، یعقوب، یوسف، موسیٰ، داؤد، عیسیٰ اور آنحضرت ﷺ کا مظہر اتم ہوں۔ یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)

صفحہ ٣٤٨

خدا کی طرف سے روح پھونکی گئی ہے۔ پھر فرمایا کہ روح پھونکنے کے بعد عیسوی مرتبہ کی طرف منتقل ہو گیا اور اس طرح مریم سے عیسیٰ پیدا ہو کر ابن مریم کہلایا۔“

(ازالہ ص ٤١٨، ٤٧١، براہین احمدیہ ص ٤٩٦، کشتی نوح ص ٤٧، حقیقت الوحی ص ٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٧٥)

”تعریف اس خدا کی کہ جس نے تجھے (مجھے) مسیح ابن مریم بنایا۔“

(حقیقت الوحی ص ٧٢، اربعین نمبر ٢ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢٢)

(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، خزائن ج ٥ ص ایضاً، کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)

کیا۔ پھر (ریویو نومبر ١٩٠٣ء ص ٤٠٧) وغیرہ میں بھی اس کو بار بار دہرایا۔“

(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)

”اس کے بعد (ایک غلطی کا ازالہ ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦) یہ بھی لکھا ہے کہ خدا کی وحی جو مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں ایسے رسول، مرسل اور نبی ایک دفعہ نہیں صدہا دفعہ موجود ہیں۔“

پاک وحی پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں۔ جیسا کہ ان تمام وحیوں پر ایمان لاتا ہوں جو مجھ سے پہلے ہو چکی ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

”پھر (حقیقت الوحی ص ١٥٠) میں بھی اس کو دہرایا ہے۔ انسان جب تک آپ کو مسیح موعود نہیں مانتا۔ قابل مواخذہ ہے اور اس کی نجات نہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٤)

کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

اس کو یوں پختہ کیا ہے کہ: ”کفر دو قسم کا ہے۔ اوّل آنحضرت ﷺ کو رسول نہ ماننا۔ دوم مسیح موعود کو نہ ماننا کہ جس کی تصدیق کے لئے خدا اور رسول نے حکم دیا ہے۔ بلکہ پہلے نبیوں نے بھی تصدیق کی۔ تاکید کی ہے اور درحقیقت دونوں کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ١٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٨٥)

صفحہ ٣٤٩

سے افضل اور زیادہ مقدس ہیں۔ چنانچہ ازالہ اوہام ١٨٩١ء اور انجام آتھم ١٨٩٧ء میں یوں لکھا ہے کہ آپ کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے مسیح کا وجود ہوا۔“

(ضمیمہ انجام ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

”اسی نادان اسرائیلی نبی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی نام کیوں رکھا۔“

(ضمیمہ انجام ص ٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)

”یہ بھی یاد رہے کہ مسیح کو جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“

(ضمیمہ آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔

(دفع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

”خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا جو پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ بخدا اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں ہرگز نہ کر سکتا اور جو نشان مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں ہرگز نہ دکھلا سکتا۔“ (حقیقت الوحی ص ١٤٨، ١٥٢، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢)

ناظرین! یہ تحریر اس شبہ کو بالکل کافور کر دیتی ہے کہ مرزا قادیانی، عیسیٰ علیہ السلام کی توہین صرف الزامی طور پر کرتے تھے اور جس جگہ مرزا قادیانی نے یہ بہانہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ گو مسیح علیہ السلام مقدس ہستی تھے۔ مگر مجھ سے کم تھے۔

(مرزا قادیانی کے) اندر اتر آیا۔“

(کتاب البریہ ص ٨٤، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)

اور اس سے پہلے آئینہ کمالات کا الہام ١٨٩٣ء میں گذر چکا ہے کہ خدا کے اندر خود آپ مرزا قادیانی اتر کر جذب ہو گئے تھے۔ اس لئے یہ الہام بالکل درست ہو گیا کہ: ”انا منك وانت منی“ اور یہ ایسا الہام ہے کہ افضل المرسلین ﷺ کو بھی نصیب نہیں ہوا۔

(حقیقت الوحی ص ٧٤، خزائن ج ٢٢ ص ٧٧)

کا رہبر ہوگا۔“

(کتاب البریہ ص ٨٤، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢، حقیقت الوحی ص ٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٨٢)

یعنی تجھے پیدا کیا۔“

(کتاب البریہ ص ٧٦، خزائن ج ١٣ ص ١٠٢)

صفحہ ٣٥٠

میکائیل کے ہیں۔ خدا کی مانند۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٤١٣)

ہے۔

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

(اربعین نمبر ٤ ص ١٥، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

دیکھنا چاہتے ہیں۔ یعنی ناپاکی اور خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اپنی متواتر نعمتیں جو مجھ پر ہیں دکھلاوے اور خون حیض سے تجھے کیونکر مشابہت ہو اور وہ کہاں تجھ میں باقی ہے۔ پاک تغیرات نے اس خون کو خوبصورت لڑکا بنادیا اور وہ لڑکا جو اس خون سے بنا میرے ہاتھ سے پیدا ہوا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢ حاشیہ)

کہ امت محمدیہ میں جب بہت فرقے ہو جائیں گے تب آخر زمانہ میں ایک ابراہیم پیدا ہوگا اور اس زمانہ میں وہ فرقہ نجات پائے گا جو اس ابراہیم کا پیرو ہوگا۔ (اربعین نمبر ٣ ص ٣٢، خزائن ج ١٧ ص ٤٢١)

(اربعین نمبر ٣ ص ٢٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١١)

مصداق تو ہی ہے۔“ (اعجاز احمدی ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

”اگر کہو کہ صاحب شریعت افتراء کرنے سے ہلاک ہو جاتا ہے۔ (نہ ہر ایک مفتری) تو (اولاً) یہ دعویٰ ہی بے دلیل ہے۔ کیونکہ خدا نے افتراء کے ساتھ شریعت کی کوئی قید نہیں لگائی۔ (ثانیاً) یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے؟ جس نے اپنے وحی کے ذریعے چند امر و نہی بیان کئے۔ وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخاطب ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔ ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم“ وغیرہ۔ دوسرے الہامات براہین میں درج ہیں اور ٢٣ سال کا عرصہ بھی گزر چکا ہے اور اب تک میری وحی میں امر

صفحہ ٣٥١

بھی ہے نبی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید بھی۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

”اور میرے اس دعویٰ کی بنیاد حدیث نہیں ہے بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی سے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٠، خزائن ج ١٧ ص ٥١ حاشیہ)

جس کرشن کے منتظر ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١)

(ریویو اپریل ١٩٠٦ء)

کہ میں یحییٰ بھی ہوں۔“ او کما قال!

زمانہ میں وہ نشانات دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“

(حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٥)

”سچ تو یہ ہے کہ اس نے اس قدر معجزات کا دریا رواں کر دیا ہے کہ باستثناء ہمارے نبی ﷺ کے باقی تمام انبیاء میں ان کا ثبوت اس کثرت کے ساتھ اور یقینی طور پر ملنا محال ہے اور خدا نے اپنی حجت پوری کر دی ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٧، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٤)

لہ خسف القمر المنیر وان لہ
غسا القمر ان المشرقان اتنکر

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

واحمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١١)

خاتم الانبیاء ہوں۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٨، خزائن ج ١٨ ص ٢١٢)

وہ تو ہی ہے۔ آریوں کا (آسمانی) بادشاہ۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢٢)

صفحہ ٣٥٢

(کشتی نوح ص ٥٠، خزائن ج ١٩ ص ٥٠، براہین ج ٥ ص ٨٤، خزائن ج ٢١ ص ١١٠)

بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطاء کی گئی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢١٥)

میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے اور اس نے میری تصدیق کے لئے بڑے بڑے نشانات ظاہر کئے ہیں۔ جو تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)

(اخبار عام لاہور)

(قادیانی جنتری ص ٩، ١٩٢٦ء) میں مرزا قادیانی کی طرف سے یوسف نے نظم شائع کی جس کا اقتباس درج ذیل ہے۔

اے امیر المنکریں ہم احمد موعود ہیں کان دھر کر تم سنو ہم عیسیٰ معہود ہیں
ہم بروز آدم ونوح وخلیل اللہ ہیں مظہر زرتشت موسیٰ کرشن اور داؤد ہیں
ہم مثیل لوط واسحاق اور اسماعیل ہیں ہم مثال یوسف ویعقوب صالح وہود ہیں
ہم ہیں عکس ایلیا حزقیل اور ہیں دانیال ہم ہیں تصویر محمدؐ حامد ومحمود ہیں
ہم نبی اللہ ہیں اور مظہر جملہ رسل جو نہ مانیں گے ہمیں وہ کافر ومردود ہیں
سب نبی دیتے رہے ہیں جن کے آنے کی خبر وہ ہیں ہم، حکم خدا سے وقت پر موجود ہیں
ہم سنانے آئے ہیں پیغام ہر ایک قوم کو اسود واحمر ہمارے سب کے سب مقصود ہیں
جو ہمیں مانیں مسیح اور اپنے جھگڑوں میں حکم وہ ہمارے متبع ہیں وہ ہمیں مودود ہیں
ہم جو آئے پھر ہوا تجدید حکم اسجدوا ہو کے آدم سب ملائک کے بنے مسجود ہیں
جو ہمارے در پہ آئے ہو گئے مقبول حق جو یہاں سے پھر گئے وہ اس کے ہاں مطرود ہیں
انبیاء ہوویں ہمارے بعد یا ہوں اولیاء اب ہمارے اتباع میں تا ابد محدود ہیں
ہم نے اپنی زندگی میں وحی حق سے دی خبر جن امور سر و اخفیٰ کی وہ اب مشہود ہیں
جانشیں اوّل تو اپنے ہو چکے ہیں نور دیں بعد ان کے جانشیں فضل عمر محمود ہیں
مؤمنوں میں آتش فتنہ جلانا تھا ضرور بعض ان اصحاب نے جو ساکن اخدود ہیں
جو مخالف تھے بڑے سب مٹ گئے ان کے نشاں صفحہ ہستی سے ان کے نقش اب مفقود ہیں
صفحہ ٣٥٣
سعدی و ڈوئی پگٹ بموئی آتھم ہیں کہاں خاک میں سب مل گئے اور ناک خاک آلود ہیں
فتنہ گر اعداء جو اب ہیں ان کو بھی تم دیکھنا چند سالوں میں جہاں سے ہوتے یہ نابود ہیں
یہ درد جو نظم میں منظوم یوسف نے کئے یہ ہماری وحی اور تحریر میں موجود ہیں

عہدِ وفات

آپ کو وفات کے قریب وفات کے متعلق کثرت سے الہامات منذرہ اور خواب آئے۔ لاہور گئے تو اور بھی کثرت ہوئی۔ اہلیہ نے کہا کہ واپس قادیان چلیں۔ کہا کہ خدا لے جائے گا۔ تب ہی چلیں گے۔ مگر اس وقت بھی آپ رسالہ پیغام صلح کی تالیف میں مصروف رہے اور تقاریر کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ چنانچہ ٢٥ مئی ١٩٠٨ء بعد از عصر خواجہ کمال الدین کے مکان پر ایک پُر جوش تقریر کی۔ کیونکہ ابراہیم سیالکوٹی کی طرف سے مباحثہ کا چیلنج آیا تھا اور شرائط مناظرہ کے لئے مولوی محمد احسن صاحب کو مقرر کیا تھا۔ چہرہ سرخ ہو گیا تھا اور اثنائے تقریر میں کہا کہ عیسیٰ کو مرنے دو کہ اسی میں اسلام کی زندگی ہے اور یہ بھی کہا کہ ہم تو اپنا کام ختم کر چکے ہیں۔ آپ کی وفات پر پائینر الہٰ آباد نے یوں لکھا: کہ اگر کوئی اسرائیلی آسمان سے اتر کر تبلیغ کرے تو غلام احمد قادیانی سے ہی مشابہت رکھے گا۔ ہم کوئی عالمانہ رائے قائم نہیں کر سکتے۔ مگر اسے اپنی صداقت کا پورا یقین تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ بشپ ویلڈن کو چیلنج دیا کہ نشان نمائی میں مقابلہ کرے اور یہ چیلنج ایسا ہی تھا جو الیاس نبی نے بعل کے پروہتوں کو دیا تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے مذہب کے رنگ میں دنیا کے اندر ایک حرکت پیدا کر دی ہے وہ اپنی طبیعت میں مرزا قادیانی سے بہت مشابہت رکھتے ہیں۔ اگر ارنسٹ رین جو فرانس کا مشہور مصنف ہے۔ آپ کے زمانہ میں ہوتا تو ضرور آپ سے ملتا۔

بہر حال قادیان کا نبی ایسے لوگوں میں سے تھا جو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے۔ ٹائمز اوف لندن نے لکھا کہ آپ ذی وقار جذبہ رکھنے والے خوب ذہین تھے۔ آپ کے متبعین بڑے لوگ بھی ہیں۔ آپ دھوکہ خوردہ تھے۔ دھوکہ دینے والے ہرگز نہ تھے۔ علی گڑھ انسٹیٹیوٹ نے لکھا کہ آپ اسلام کے پہلوان تھے۔ دی پونینی کلکتہ نے لکھا ہے کہ آپ بہت دلچسپ تھے۔ ایمان کے زور سے بیس ہزار متبع پیدا کر لئے تھے۔ صادق الاخبار ریواڑی نے لکھا کہ آپ نے خدمت اسلام میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا۔ انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم فاضل اجل حامی اسلام کی ناگہانی اور بے وقت موت پر افسوس کیا جاوے۔ تہذیب نسواں لاہور نے لکھا آپ برگزیدہ بزرگ تھے۔ ہم انہیں مذہباً سچ تو نہیں مانتے۔ لیکن ان کی رہنمائی مردہ روحوں کے لئے واقعی مسیحائی تھی۔ آریہ پترکالاہور نے لکھا کہ جو کچھ آپ نے اسلام کی ترقی کے لئے کیا۔ مسلمان ہی

صفحہ ٣٥٤

اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ مگر ان کی تصانیف میں پایا جاتا ہے کہ آپ کے خیالات بڑے وسیع تھے اور زیادہ قابل برداشت تھے۔ آریہ سماج سے آپ کے تعلقات دوستانہ نہ تھے۔ اس لئے جب ہم آپ کو یاد کرتے ہیں تو دل میں جوش پیدا ہوتا ہے۔ اندر نے لکھا کہ مرزا قادیانی ایک صفت (استقلال) میں محمد صاحب (ﷺ) سے مشابہ تھے اور آخر دم تک اس پر قائم رہے۔ برہم چارک نے لکھا کہ آپ بلحاظ لیاقت وشرافت کے بڑے پایہ کے انسان تھے۔ امرتا بازار پتر کا کلکتہ سے لکھا ہے کہ آپ درویشانہ زندگی بسر کرتے تھے اور سینکڑوں آدمی روز مہمان کے لنگر سے کھانا کھاتے تھے۔ سٹیٹس مین کلکتہ سے لکھا ہے کہ آپ مشہور اسلامی بزرگ تھے۔ اخبار وکیل امرتسر نے لکھا کہ اس شخص کا قلم پر سحر تھا۔ زبان جادو، دماغی عبقریات کا مجسمہ، نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ وہ شخص جو تیس برس تک مذہبی دنیا کے لئے زلزلہ اور طوفان رہا اور شور قیامت ہو کر خفتگان ہستی کو بیدار کیا۔ خالی ہاتھ دنیا سے اٹھ گیا۔

ایسے شخص دنیا میں ہمیشہ نہیں آتے کہ جن سے مذہبی دنیا میں انقلاب پیدا ہو۔ آپ کی مفارقت سے مسلمانوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ ان سے ایک بڑا شخص جدا ہو گیا ہے۔ جس سے مخالفین اسلام سے مدافعت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ عیسائیوں اور آریوں کے مقابلہ پر آپ کا لٹریچر قبولیت حاصل کر چکا ہے۔ آپ نے قلمی مجاہدوں کی پہلی صف میں کھڑے ہو کر فرض مدافعت ادا کر دیا تھا۔ کثرت مشق ومباحثہ نے آپ میں ایک شان پیدا کر دی تھی۔ تبلیغ و تلقین یہاں تک تھی کہ مخاطب برجستہ جواب سن کر فکر میں پڑ جاتا تھا۔ ہندوستان مذاہب کا گھر ہے۔ آپ کا دعویٰ تھا کہ میں حَکم اور ثالث ہو کر آیا ہوں۔ تو بے شک باقی مذاہب پر اسلام کی فوقیت دینے میں آپ خاص قابلیت رکھتے تھے۔ امید نہیں کہ مذہبی دنیا میں کوئی ایسا آدمی پیدا ہو۔ ڈاکٹر والٹر صاحب ایم اے سیکرٹری اوف وائی ایم سی اپنی کتاب احمدیہ موومنٹ میں لکھتے ہیں کہ آپ فیاض اور سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور مخالفین کے سامنے جو جرأت آپ نے دکھائی تھی وہ قابل تحسین ہے۔ صرف مقناطیسی قوت جاذبہ رکھنے والا ہی ایسے لوگوں کی وفاداری حاصل کر سکتا ہے کہ جن میں سے دو نے افغانستان میں جان دے دی۔ مگر آپ کا دامن نہ چھوڑا۔ کئی احمدیوں سے پوچھا گیا تو انہوں نے آپ کی مقناطیسی طبیعت کو ہی پیش کیا۔ آپ کی وفات لاہور میں ہوئی۔ احمدیہ بلڈنگس متصل اسلامیہ کالج میں کچھ دن آپ نے قیام کیا تھا۔

حکیم نور الدین صاحب نیچے صحن میں روزانہ تبلیغ کرتے تھے اور اوپر کے مکان میں آپ معہ اہل وعیال رہتے تھے۔ پاس ہی دوسرے میدان میں مخالفین نے جلسہ گاہ قائم کر دی تھی۔

صفحہ ٣٥٥

مقابلہ میں وعظ ہوتے تھے اور ایک میلہ لگا ہوا تھا۔ تقریباً دو ہفتے یہی کارروائی رہی۔ آخر ایک روز فوری موت کی خبر اڑ گئی کہ آپ رخصت ہو گئے ہیں۔ وجوہات مختلف بیان کئے جاتے تھے۔ کوئی درد گردہ کا دورہ بتاتا تھا۔ کوئی بند ہیضہ کی شکایت پیش کرتا اور کوئی دل کی حرکت کا بند ہونا بتاتا تھا۔ اندر گھر کے ناگہانی واقعہ پیش آیا۔ اس لئے صحیح طور پر کوئی رائے قائم نہ ہوسکی۔ آخر الامر جب مرزا بشیر احمد نے سیرۃ المہدی لکھی تو اس نے صحیح واقعات پیش کر دیئے کہ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ مرض الموت میں بیمار ہو گئے۔ حالت نازک ہوگئی۔ تو آپ کی اہلیہ بہت گھبرا کر کہنے لگیں یا اللہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔ تو آپ نے جواب دیا وہی جو میں کہا کرتا تھا۔ ٢٥؍مئی ١٩٠٨ء کو آپ تندرست تھے۔ نماز عشاء کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ کھانا کھایا۔

مرزا بشیر احمد کہتے ہیں کہ صبح کے قریب میں دیکھتا ہوں کہ آپ اسہال سے سخت بیمار ہیں اور حالت نازک ہے۔ معالج اور تیماردار اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں۔ تو میرا دل بیٹھ گیا کہ یہ مرض الموت ہے۔ کمزور تو ہو ہی چکے تھے۔ ڈاکٹر نے نبض دیکھی تو ندارد سب سمجھے کہ آپ وفات پا چکے ہیں۔ پھر نبض چلنی شروع ہوئی۔ چارپائی صحن میں تھی اندر لائی گئی روشنی ہوگئی تو اپنے وقت پوچھ کر تیمم کے ساتھ نماز شروع کردی۔ تو غشی ہوگئی۔ پھر پوچھا تو نماز شروع کردی۔ مگر کرب بہت تھا۔ آٹھ بجے کے قریب ڈاکٹر نے پوچھا کہ کیا تکلیف ہے تو جواب ندارد۔ لکھنا چاہا تو قلم گھسٹتا ہوا چلا گیا۔ پھر نو بجے غرغرہ شروع ہوگیا اور لمبے سانس آنے لگے۔ مستورات پلنگ کے پاس نیچے بیٹھ گئیں۔ ڈاکٹر محمد حسین نے قلب کے پاس انجکشن دیا تو جگہ ابھر آئی۔ آخر ایک لمبا سانس آیا تو رخصت ہو گئے۔ مرزا بشیر احمد اس مقام پر اپنی والدہ کا بیان یوں درج کرتے ہیں کہ پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ کچھ دیر بعد دو دفعہ پاخانہ میں رفع حاجت کو گئے۔ زیادہ ضعف ہوا۔ تو مجھے اٹھا کر میری چارپائی پر لیٹ گئے۔ پھر حاجت ہوئی تو چارپائی کے پاس ہی رفع کرلی۔ میں پیر دباتی تھی کہ ایک اور دست آیا۔ (ان پانچوں دستوں کے بعد) قے آئی تو بالکل ہی ناطاقت ہو کر چارپائی پر گر پڑے۔ گرتے ہوئے چوٹ بھی آئی تھی اور حالت دگرگوں ہوگئی تو حکیم نور الدین صاحب اور مرزا محمود (خلیفہ وقت) کو بلا لیا۔

اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ ہیضہ کے عارضہ سے وفات واقع ہوئی۔ وفات سے پہلے ایک انگریز نے مولوی محمد علی صاحب سے رسالہ الوصیۃ مرتب کرنے کے دنوں میں پوچھا تھا کہ جناب نے اپنے بعد جانشین کسے قرار دیا ہے تو آپ نے اہلیہ سے پوچھا کہ کیا مرزا محمود کو جانشین مقرر کیا جائے؟ تو اس نے کہا کہ آپ کی مرضی۔ آپ نے وفات پائی تو حکیم نور الدین

صفحہ ٣٥٦

صاحب سن کر اندر آئے اور آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ واپس ہو کر دروازے سے باہر نکل رہے تھے تو مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے کہا کہ: ”انت صدیقی“ تو حکیم صاحب نے کہا کہ قادیان چل کر فیصلہ ہوگا۔ آپ کی تین انگوٹھیاں تھیں۔ ایک پر ”الیس اللہ بکاف عبدہ“ لکھا تھا۔ جو دعویٰ نبوت سے پہلے کی تھی۔ دوم، دعویٰ کے بعد کی جس پر یہ لکھا تھا کہ: ”غرستك بیدی برحمتی و قدرتی“ سوم، وفات کی انگوٹھی جو آپ وفات کے وقت پہنے ہوئے تھے۔ یہ کسی نے بنوا دی تھی اور اس پر یہ لکھا تھا کہ: ”مولا بس“ قرعہ اندازی سے پہلی محمود صاحب کو ملی۔ دوسری بشیر صاحب کو اور تیسری شریف احمد کو۔ حکیم محمد حسین صاحب قریشی موجد مفرح عنبری اپنے رسالہ موسوم بہ ”خطوط امام بنام غلام“ کے ص٩ پر لکھتے ہیں کہ وحی الہی کے مطابق ٢٧؍ اپریل ١٩٠٨ء کو حضور قادیان سے بعزم لاہور روانہ ہوئے۔ دو روز بٹالہ ٹھہر کر ٢٧؍ ربیع الاول ١٣٢٦ھ کو لاہور پہنچے۔ ٢٧ روز ہی لاہور میں تشریف فرما رہے اور پھر ٢٧؍ مئی ١٩٠٨ء کو ہی مقبرہ بہشتی میں دفن ہوئے۔ غسل میرے ہاتھ سے ہوا اور دوسرے احباب پانی ڈالتے تھے۔ لاہور میں حضور کو تاریخ وفات کے رنگ میں یہ مصرعہ الہام ہوا:

مکن تکیہ بر عمر ناپائدار

(احمدیہ جنتری لاہور ١٩٢١ء ص ٣٦) میں ہے کہ ١٩٠٥ء میں جناب نے تبلیغ سلسلۂ قادیانیہ کا کام اصحاب ذیل کے سپرد کیا۔ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ، خواجہ کمال الدین، سید محمد احسن امروہی، صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد، خان صاحب محمد علی رئیس مالیرکوٹلہ، سیٹھ عبدالرحمان مدراسی، غلام رسول پشاوری، میر حامد شاہ سیالکوٹی، شیخ رحمت اللہ لاہوری، مرزا یعقوب بیگ شاہ پور، خلیفہ رشید الدین آگرہ، ڈاکٹر سید محمد حسین لاہور اور ڈاکٹر محمد اسماعیل لاہور۔ چنانچہ ٢٩؍ جنوری ١٩٠٦ء کو سیکرٹری نے اپنے تبلیغی اصول شائع کرنے کا کام شروع کر دیا اور جناب نے اس انجمن کو یہ چارٹر عنایت کیا کہ انجمن کے امور وہی صحیح سمجھے جائیں۔ جو کثرت رائے سے پاس ہوں۔ مگر خاص دینی اغراض جو ہم سے تعلق رکھتے ہیں ان کی اطلاع مجھے دینی چاہئے۔ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا اس میں کوئی خاص ارادہ ہو۔ میری زندگی کے بعد صرف اس انجمن کا اجتہاد کافی ہوگا۔ الراقم مرزا غلام احمد ٢٧؍ اکتوبر ١٩٠٧ء، ضمیمہ الوصیت کی دفعہ نمبر ٦ میں لکھا ہے کہ چونکہ یہ انجمن خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین ہے۔ اس لئے اسے دنیا داری کے رنگوں سے پاک رہنا چاہئے۔

٢٧؍ مئی ١٩٠٨ء کو آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو کر جملہ اراکین نے متفقہ طور پر حکیم نور الدین صاحب کو خلیفہ المسیح قرار دیا اور آپ کی وفات ١٣؍ مارچ ١٩١٤ء تک متفقہ کام قادیان

صفحہ ٣٥٧

میں ہوتا رہا۔ مگر آپ کی وفات پر ہی وہ انجمن دو حصے ہو گئی اور ایک فریق تو وہیں قادیان میں رہا اور دوسرے فریق نے لاہور کو صدر مقام احمدیہ بلڈنگس قرار دیا۔ جہاں مسیح کی وفات ہوئی تھی اور اپنا امیر جماعت مولوی محمد علی صاحب کو مقرر کر لیا اور ٢؍ مئی ١٩١٤ء کو احمدیہ انجمن اشاعت اسلام کے نام سے کام شروع ہوا اور ڈیڑھ سال (یعنی اخیر دسمبر ١٩١٥ء تک) کے عرصہ میں اخبار پیغام صلح جو مشترکہ سوسائٹی کی ملکیت تھا۔ اسے خرید کر قومی اخبار بنایا گیا۔ کل آمدنی اس عرصہ میں معہ شمولیت ووکنگ مشن ساڑھے باون ہزار سے اوپر ہوئی اور خرچ پونے اکاون ہزار کے قریب ہوا اور امیر صاحب نے حدیث کا درس دیا اور مولوی فضل الہی عربی پڑھاتے رہے۔ انگریزی ترجمہ قرآن مؤلفہ امیر صاحب چھپنا شروع ہوا اور جہاد اکبر اور حدوث مادہ وغیرہ رسائل مفت تقسیم کئے۔ ووکنگ مشن میں مولوی صدر الدین اور شیخ نور احمد اور خواجہ کمال الدین کام کرتے رہے۔ دوسرے سال (اکتوبر ١٩١٥ء لغایت ستمبر ١٩١٦ء) تقریباً ساڑھے چونسٹھ ہزار آمد ہوئی اور خرچ انگلستان میں پونے چونتیس ہزار ہوا۔ باقی ہندوستان میں پہنچا۔

اس سال تعلیمی طور پر کام شروع ہوا اور امیر صاحب نے النبوۃ فی الاسلام کتاب لکھی اور احمدیہ لائبریری ایڈیشن پر سلسلہ تصانیف احمدیہ کی پہلی جلد براہین احمدیہ ہر چہار جلد شائع ہوئی۔ مولوی محمد احسن امروہی بھی لاہوری فریق میں (قادیانی فریق سے نکل کر) شامل ہو گئے اور خرچ ٣٢ ہزار کے قریب ہوا۔ تیسرے سال (اکتوبر ١٩١٦ء لغایت ١٩١٧ء) میں انگریزی ترجمہ قرآن شریف باہتمام مولوی صدر الدین چھپ کر ہندوستان پہنچا۔ مسلم ہائی سکول مع کیمبرج کلاس کے جاری ہوا۔ مئی ١٩١٧ء میں کوٹ موگل اور موہن پور ضلع سیالکوٹ میں قوم پکھی وارہ کی اصلاح گورنمنٹ کی طرف سے اس انجمن کے سپرد ہوئی اور حسن کارکردگی میں انعام حاصل کیا۔ آمد ٤٧ ہزار کے قریب ہوئی اور خرچ ساڑھے ٤٣ ہزار کے قریب ہوا۔ یہ رسائل بھی جاری ہوئے۔ احمدیہ موومنٹ چار جلد، نکات القرآن وغیرہ مؤلفہ امیر صاحب سال چہارم (اکتوبر ١٩١٧ء لغایت ستمبر ١٩١٨ء) ٥٥ ہزار کے قریب آمدنی ہوئی اور ٥٢ ہزار خرچ ہوا۔ مبلغین بھیجے اور امیر صاحب نے درس قرآن لاہور اور شملہ میں دیا اور نکات القرآن اور حقیقت المسیح شائع ہوئے۔ سال پنجم (اکتوبر ١٩١٨ء لغایت ستمبر ١٩١٩ء) ٧٣ ہزار تک آمدنی ہوئی اور ٦٧ ہزار تک خرچ ہوا۔ اسی سال اردو ترجمہ قرآن، صحیح البخاری مترجم اور سیرت النبی ﷺ امیر صاحب نے مرتب کی۔ چنانچہ سیرت اکتوبر ١٩٢٠ء میں شائع ہو گئی۔

صفحہ ٣٥٨

١٧......خاص خاص حالات مسیح قادیان

یوں تو سیرت المہدی اور کتاب البریہ کے اقتباسات مطالعہ کرنے کے بعد جناب کے مزید حالات دریافت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مگر تاہم جن خیالات پر زیادہ زور دیا جاتا ہے ان پر بھی خامہ فرسائی کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔

بیماریاں اور دوائیں

اسلاف کے بیان میں گذر چکا ہے کہ دماغی کمزوری آپ کے ورثہ میں تھی اور بچپن سے ہی آپ دائم المریض اور گوشہ نشین چلے آئے ہیں۔ شباب بھی آپ کا بیماریوں میں ہی گذرا اور شیخوخت میں تو اس قدر عوارض جمع ہو گئے تھے کہ آپ کو کتاب الوصیۃ لکھنی پڑی اور مرض الموت میں بھی آپ کو ہیضہ کا عارضہ ہوا تھا اور یہ کہنا کہ کیا کیا دوائیں استعمال کرتے تھے یا کن کن عوارض میں آپ گرفتار رہتے۔ ان کا کچھ بیان تو باب المزاج میں گذر چکا ہے اور کچھ رسالہ مسمے ”خطوط امام بنام غلام“ مؤلفہ حکیم محمد حسین صاحب قریشی لاہوری موجد مفرح عنبری مطبوعہ ٩ جولائی ١٩٠٩ء سے اقتباساً درج ذیل ہے۔ جس میں حکیم صاحب نے آپ کے وہ خطوط فخریہ طور پر درج کئے ہیں۔ جو وقتاً فوقتاً آپ نے ان کے نام روانہ کئے تھے۔ ہم ان کو نمبر وار درج کرتے ہیں۔

ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، چونکہ باعث بیماری کے میرے گھر مشک خالص کی ضرورت ہے اور مجھے بھی سخت ضرورت ہے اور پہلی مشک ختم ہو چکی ہے۔ پچاس روپے بذریعہ منی آرڈر ارسال ہیں۔ دو تولہ مشک خالص دو شیشیوں میں ارسال کریں۔ بروز پنجشنبہ سیالکوٹ جاؤں گا۔ بہتر ہے کہ آپ اسٹیشن پر مجھے دے دیں۔

(غلام احمد ٢٢؍ اکتوبر ١٩٠٠ء)

چکا ہوں۔ شاید چار روپے قیمت پر آتی ہے۔ دوسری وائی پیوٹر جو رحم کے لئے ہے۔ اس کے لئے دو روپے کافی ہوں گے۔ بذریعہ وی پی ارسال کریں۔

شربت فولادی ایک بوتل بہت جلد بھیجیں۔ قیمت دی جائے گی۔ اس کو شدت تپ میں ام الصبیان کا عارضہ بھی ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد حسین سے مشورہ کر کے کوئی اور دوا بھی بھیج دیں۔ جگر کا بھی خیال رہے۔

صفحہ ٣٥٩

وائن کی پلومر کی دکان سے خرید دیں۔

ہوتا ہے تو خاتمہ زندگی محسوس ہوتا ہے۔ ساتھ سر درد بھی ہے۔ اس لئے روغن بادام سر اور پاؤں کی ہتھیلیوں پر ملنا مفید ہوتا ہے۔ بدست محمد یار پانچ روپے ارسال ہیں۔ ایک بوتل روغن بادام تازہ خرید کر کے بھیج دیں۔

عمدہ خالص خوشبودار جس میں چھچھڑا نہ ہو۔ درجہ اوّل شرطی یا اپنی ذمہ داری پر بھیج دیں اور دو ڈبیا سر درد کی ٹکیوں کی بھی جو بڑی ہوں بھیج دیں۔

اور تازہ و خوشبو ناک ہو بہت جلد وی پی کریں۔ کیونکہ پہلی مشک ختم ہو چکی ہے اور بواعث دورہ مرض ضرورت رہتی ہے۔

(٢٨؍اپریل ١٩٠٤ء)

لاہور سے بھیجی تھی وہ ختم ہوچکی ہے۔ آپ جاتے ہی ایک تولہ مشک خالص جس میں چھچھڑا نہ ہو اور عمدہ خوشبو دار ہو وی پی کردیں۔ قیمت جتنی ہو مضائقہ نہیں اور ساتھ ہی اس کے انگریزی دکان سے ٹنکچر لونڈر جو ایک سرخ رنگ کا عرق ہے۔ (غالباً وہ انگوری شراب ہوتا ہے) پرسوں تک ضرور بھیج دیں۔ کیونکہ مجھے اپنی بیماری کے دورہ میں ان کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔

روپیہ مشک خالص جس میں چھچھڑا نہ ہو قیمتی اٹھائیس روپے پان بیگی عمدہ قیمتی ایک روپیہ اور ایک انگریزی وضع کا پاخانہ جس کی قیمت معلوم نہیں۔ اس کی قیمت یہاں سے مل جائے گی۔ مجھے دوران سر کی بہت شدت سے مرض ہو گئی ہے۔ پیروں پر بیٹھ کر پاخانہ کرنے سے کثرت پیشاب کی بہت شکایت ہے۔ تمام رات بار بار پیشاب آنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ پہلے میں نے سوڈا سیلی سلاس استعمال کیا تھا۔ فائدہ ہوا ٤ آنے کی خرید کر بھیج دیں۔ اس کی علامت یہ ہے کہ اس کے ذرے ریت کی طرح براق ہوتے ہیں۔ یہ دوائی دو تولہ بھیج دیں۔ قیمت کی کمی بیشی بعد میں دیکھی جائے گی۔ ساتھ ہی اس کے آٹھ جوڑہ جراب عمدہ ولایتی قیمتی ٨ آنے جلد تر وی پی کردیں۔ کیونکہ ایک طرف دوران سر کی شکایت ہے اور دوسری طرف پاؤں کی سردی کی بھی تکلیف ہے۔ اگر کوئی

صفحہ ٣٦٠

پشمینی پوستین کابلی جوتی اور گرم اور کشادہ جو مل جائے تو اس کی قیمت سے بھی اطلاع دیں۔ جوڑہ جراب کسی رنگ کا ہو مضائقہ نہیں۔ اس قدر پاؤں کو سردی ہے کہ اٹھنا مشکل ہے۔

گنجائش ہوئی تو اور منگوالوں گا۔ بوقت ضرورت جس طرح بن پڑے منگوانی پڑتی ہے۔ وہ مشک تھوڑی سی موجود ہے باقی سب خرچ ہو چکی ہے۔

روانگی نہیں دی گئی اور حکیم صاحب نے ص ٨ پر ایک نوٹ دیا ہے کہ: ”میں اپنا فخر سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزا قادیانی) اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا بھی استعمال فرماتے تھے۔ چونکہ دورہ مرض کے وقت اکثر مشک و دیگر مقوی دل ادویات کی ضرورت رہتی تھی۔ جو اکثر میری معرفت جایا کرتی تھیں۔ مجھے خیال آیا کہ میری مفرح عنبری آپ استعمال کریں تو بہت سا خرچ بچ جائے گا۔ لہٰذا میں نے ایک دفعہ دوسری ادویہ کے ساتھ ایک ڈبیہ مفرح عنبری بھی بھیج دی اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا کہ اگر آپ کو موافق آ جائے تو ہمیشہ پیش کر دیا کروں گا۔ میری خواہش پوری ہوئی اور آپ نے ایک ہفتہ بعد میر مہدی حسین کو بھیج کر قیمتاً ایک اور ڈبیہ منگائی تو میں نے قیمت واپس کرتے ہوئے ایک اور ڈبیہ بھیج دی۔ اس کے بعد آپ نے لاہور کو آخری سفر کیا۔“

اور ص ٧ پر لکھا ہے کہ: ”گرم پوستین چالیس روپیہ میں خرید کر کے بھیج دی گئی تھی۔ جس کی نصف قیمت میں روپے مستری محمد موسیٰ سوداگر بائیسکل نے دی تھی۔“

اور ص ٣ پر لکھتے ہیں کہ: ”آپ مجھ سے ہی مشک منگوایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ خادم امرتسر سے لے گیا تھا تو آپ نے واپس کر دی تھی۔“

اخبار الحکم ٢٨؍ مئی ١٩٠٦ء میں ہے کہ مرزا قادیانی کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی۔ دماغی کام کرتے (تو بڑھ جاتی) کھانا ہضم نہ ہوتا۔ دل سخت کمزور تھا۔ نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی۔ مشک وعنبر کے استعمال سے واپس آ جاتی تھی۔ لاہور کے آخری قیام میں بھی یہ عارضہ دو تین دفعہ پیش آیا۔ لیکن ٢٥؍ مئی ١٩٠٨ء کی شام کو جب سارا دن پیغام صلح کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر پھر یہ دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی مقوی معدہ جو استعمال ہوتی تھی مجھے حکم بھیج کر تیار کرائی۔ مگر فائدہ نہ ہوا اور قریباً گیارہ بجے ایک اور دست آنے پر طبیعت ازحد

صفحہ ٣٦١

کمزور ہوگئی۔ مجھے اور حکیم نورالدین کو بلایا۔ مقوی ادویات دی گئیں۔ اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض ہے۔ نیند آنے سے آرام آ جائے گا۔ اس لئے ہم واپس چلے گئے۔ دو تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آیا۔ نبض بالکل بند ہو گئی تو حکیم نورالدین اور خواجہ کمال الدین نے مجھے اور میرے برادر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کو گھر سے بلوایا۔ مرزا قادیانی نے یعقوب بیگ سے پاس بلا کر کہا کہ مجھے اسہال کا دورہ سخت ہو گیا ہے۔ دوائی تجویز کریں۔ علاج شروع ہوا مگر حالت نازک تھی۔ نبض واپس نہ آئی۔ اس لئے ہم پاس ہی رہے۔ یہاں تک کہ سوا دس بجے آپ رخصت ہو گئے۔ (البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥) میں ہے کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں۔ یہ الہام پورا نہ ہوا تو لاہوریوں نے لاہور کو ہی مدینہ المسیح تصور کر لیا اور قادیانیوں نے قادیان کو ہی دارالامان یعنی مکہ بنا ڈالا۔ تاکہ یہ مفہوم پیدا ہو جائے کہ یا لاہور میں مریں گے یا قادیان میں۔ مگر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کس جرأت سے مکہ مدینہ، نبی و رسول، بیت المقدس، دمشق منارۃ بیضاء اور باب لد وغیرہ تیار کر لئے ہیں۔ لیکن نقل نقل ہی ہے اور اصل اصل۔ دانش مند نقلی مال کے خواہاں نہیں ہوتے اور اصلی مال کو بڑے داموں پر خریدتے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ مسیح موعود حضور ﷺ کے روضہ نبویہ میں دفن ہوں گے۔ اس کی تاویل یوں کی کہ بروزی طور پر بہشتی مقبرہ ہی گنبد خضراء کا مقام ہے۔ اس لئے آپ روضہ نبویہ میں ہی دفن ہوئے ہیں اور یہ بھی وارد ہے کہ مسلمان مسیح پر نماز جنازہ پڑھیں گے۔ اس کا مطلب یوں گھڑ لیا کہ صرف آپ پر نماز جنازہ حاضر یا غائب پڑھنے والے ہی اس وقت مسلمان ہوں گے۔ باقی اہل اسلام سب کافر ہوں گے۔ یہ بھی وارد ہے کہ مسیح روحا کے درمیان تلبیہ کریں گے تو اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ ایک وسیع میدان یعنی قادیان میں مسیح موعود تبلیغ اسلام کی آواز کو بلند کرینگے۔ یہ بھی وارد ہے کہ مسیح نکاح کر کے اولاد پیدا کرے گا تو آپ نے نکاح ثانی سے اولاد پیدا کر لی تھی۔ مگر محمدی بیگم اس پیشین گوئی کا مصداق نہ بن سکی۔ ورنہ یہ کہنے کی بھی گنجائش نہ رہتی کہ نکاح ثانی دعویٰ مسیحیت سے پہلے تھا۔

تمدن رئیسانہ

پہلے عنوان میں بیان ہو چکا ہے کہ آپ اپنی دماغی بیماریوں کے لئے مشک، وائن اور مفرح عنبری وغیرہ کا استعمال کیا کرتے تھے۔ جو خاص امراء و شرفاء کا حصہ ہے۔ اب ہم حکیم محمد حسین صاحب قریشی کی کتاب موسوم بہ خطوط امام بنام غلام سے چند تحریریں درج کرتے ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا باقی تمدن بھی امیرانہ تھا۔

صفحہ ٣٦٢

ہیں ۔ کچھ اشیاء خریدنی ہیں۔ آپ اپنے ہمراہ اشیاء خرید دیں روپیہ مرسلہ کم نکلے تو اپنی طرف سے دے دیں میں بھیج دوں گا۔

(٢٠/ اکتوبر ١٩٠٣ء خط نمبر ٢ ص ٢)

تاکہ ڈالنے کے لئے بھیجتا ہوں۔ تیار کروا کر بدست حال بھیج دیں۔

(خط نمبر ٢ ص ٣)

اخلاص کی راہ سے بھیجا تھا۔ سردی میں میرے لئے بہت کارآمد ہے۔ جزاکم اللہ خیرا!

(خط ٦ ص ٣)

لے آویں۔ (حکیم صاحب نوٹ لکھتے ہیں کہ ) یہ کپڑے مبارکہ بیگم کی تقریب نکاح پر منگوائے تھے۔

(خط ٢٣ ص ٧)

آپ سے پینس مانگی تھی۔ کیونکہ میری بیوی حاملہ میرے ساتھ تھی تو آپ نے جواب لکھا کہ سڑک بٹالہ سے لے کر قادیان تک بالکل خراب ہے۔ پینس کی سواری خطرناک ہے۔ حمل کی حالت میں گویا ہلاکت کے ہاتھ میں ڈالنا ہے۔

(خط نمبر ١٢ ص ٥)

آج خیمہ خریدنے کے لئے بدست شیخ عبدالرحیم صاحب بھیجتا ہوں۔ آپ معہ تجربہ کار احباب کے خیمہ مع قناتوں اور دوسرے سامان کے بہت جلد روانہ فرمائیں اور کسی بیچنے والے کو یہ خیال نہ ہو کہ کسی نواب صاحب نے یہ خیمہ خریدنا ہے۔ کیونکہ نوابوں سے بہت قیمت لیتے ہیں۔ خیمہ نیا ہو پاخانہ وغیرہ کا بھی انتظام ہو۔

(خط نمبر ٩ ص ٤)

بموجب تاکید والدہ محمود آپ میری لڑکی مبارکہ کے لئے ایک قمیص ریشمی یا جالی کی جو چھ روپے سے زیادہ نہ ہو عید سے پہلے تیار کر کے بھیج دیں۔

(١٤/ فروری ١٩٠٤ء خط نمبر ١١ ص ٥)

کے ارسال فرماویں۔ بشرطیکہ نیم گھنٹہ کی آواز دینے والی کل ہرگز نہ ہو۔ کیونکہ بسا اوقات دھوکا لگ جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اور چیزیں بھی خریدنی ہیں۔

(خط نمبر ١٣ ص ٥)

کرایہ مولوی محمد علی صاحب کو دے دیئے ہیں۔

(خط نمبر ١٥ ص ٨)

صفحہ ٣٦٣

دعائیں

احمدیہ جنوری ١٩٢٥ء میں ہے کہ:

استخارہ یوں ہے کہ رات کو توبہ نصوح کر کے دو رکعت نماز نفل کی رکعت اوّل میں سورۃ یٰسین پڑھو۔ دوسری میں اکیس دفعہ سورۃ اخلاص نفل کے بعد تین سو مرتبہ درود شریف پڑھو اور تین سو مرتبہ استغفار۔ پھر دعاء کرو کہ اے قادر کریم تو پوشیدہ حالات جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے اور مقبول مردود مفتری اور صادق تیری نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ پس ہم عاجزی سے تیری طرف التجا کرتے ہیں کہ اس شخص کا تیرے نزدیک جو مسیح موعود اور مہدی ومجددالوقت ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ کیا حال ہے کیا صادق ہے یا کاذب مردود ہے یا مقبول؟ اپنے فضل سے یہ حال رؤیا یا کشف یا الہام سے ہم پر ظاہر فرما تا کہ اگر مردود ہے تو اس کے قبول کرنے سے گمراہ نہ ہوں۔ مقبول ہے اور تیری طرف سے ہے تو اس کے انکار اور اس کی اہانت سے ہم ہلاک نہ ہو جائیں۔ ہمیں ہر ایک فتنہ سے بچا۔ کیونکہ ہر ایک قوت تجھ ہی کو ہے۔ یہ استخارہ کم از کم دو ہفتے کریں۔ بشرطیکہ دل میں بغض نہ ہو۔ ورنہ خواب میں شیطان آئے گا۔

(بدر ج٩)

دعاء لکھ دی کہ میری طرف سے بیت اللہ شریف میں پڑھیں۔ چنانچہ صوفی صاحب نے حج اکبر کے دن بیت اللہ شریف میں یہ دعاء پڑھی اور ساتھ کی جماعت آمین کہتی رہی۔ وہ دعاء یہ ہے۔ ”اے ارحم الراحمین ایک تیرا بندہ عاجز اور ناکارہ پر خطا اور نالائق غلام احمد اور جو تیری زمین ملک ہند میں ہے۔ اس کی یہ عرض ہے کہ تو مجھ سے راضی ہو اور میرے گناہ بخش کہ تو غفور رحیم ہے اور مجھ سے وہ کام کرا جس سے تو بہت ہی راضی ہو جائے۔ مجھ میں اور میرے نفس میں مشرق ومغرب کی دوری ڈال۔ میری زندگی میری موت اور میری ہر ایک قوت جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل محبین میں مجھے اٹھا۔ جس کام کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے۔ اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اس کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین اور بے خبروں پر پوری کر اور اس عاجز کو اور اس کے محبوں کو اپنے ظل حمایت میں رکھ کر دین و دنیا میں ان کا متکفل ہو اور سب کو دارالرضاء میں پہنچا اور اپنے رسول اور اس کی آل پر درود اور رحمت نازل فرما۔“

صفحہ ٣٦٤

هو أحب كل محبوب اغفر لى وتب على وأدخلنى فى عبادك المخلصين“

(خط بنام منشی رستم علی ١٥؍ فروری ١٨٨٨ء)

پڑھے گا آفت سے نجات پائے گا۔ ”رب كل شئى خادمك ، رب فاحفظني وانصرنى وارحمنى“ ہمیشہ کے لئے رات اٹھ کر اس اسم اعظم کا تکرار نماز کے رکوع و سجود وغیرہ اور دوسرے وقتوں میں کرو۔

(الحکم ج ٧)

في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار“

(دسمبر ١٨٩٨ء)

(الحکم ج ٧)

فیصلہ جلد ظاہر کر کہ پگٹ اور ڈوئی کا جھوٹ لوگوں پر ظاہر کر دے۔ کیونکہ تیرے عاجز بندے اپنے جیسے انسانوں کی پرستش میں گرفتار ہو کر تجھ سے بہت دور جا پڑے ہیں۔ ان کو اس زہر سے رہائی بخش اور اپنے وعدوں کو پورا کر۔ جو اس زمانہ کے لئے تیرے تمام نبیوں نے کئے ہیں ...... اور حقیقی نجات کے سرچشمہ سے ان کو سیراب کر ...... کیونکہ نجات تیری محبت میں ہے کسی کے خون میں نہیں ہے ...... مخلوق پرستی پر بہت سا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب ان پر تو رحم کر ...... صلیب اور خون کے خیالات سے ان کو نجات بخش۔ میری دعائیں سن اور آسمان سے نور نازل کر تاکہ وہ تجھے دیکھ لیں ...... نوح کے دنوں کی طرح ان کو ہلاک مت کر کہ آخر وہ تیرے بندے ہیں ...... جب کہ تو نے مجھے اس کام کے لئے بھیجا ہے۔ سو میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں نامرادی سے مروں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جو کچھ اپنی وحی کے ذریعہ تو نے مجھے وعدے دیئے ہیں۔ ان وعدوں کو تو پورا کرے گا۔ ضرور کرے گا کیونکہ تو ہمارا صادق خدا ہے۔ میرا بہشت دنیا میں یہی ہے کہ تیرے بندے مخلوق پرستی سے نجات پائیں۔ وہ مجھے عطاء کر اور ان پر ظاہر کر دے کہ وہ خدا سے بے خبر ہیں۔

(الحکم ج ٨ ص ٤)

کچھ نہیں ہو سکتا تو مجھے گناہوں سے پاک کر۔

(بدر ج ٢ ص ٣٠)

صفحہ ٣٦٥

حکیموں اور فلاسفروں کی آنکھ پر پردہ ڈالتا ہے۔ مگر میں عرض کرتا ہوں کہ ان لوگوں سے ایک جماعت میری طرف کھینچ لا۔ تاکہ تیری نعمت کا قدر پہچان کر اس کے حاصل کرنے کو متوجہ ہوں۔

کہ رات کو دوگانہ پڑھ کر یہ دعاء کرو کہ اے میرے محسن خدا میں تیرا پر معصیت بندہ ہوں تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا تو نے ہمیشہ پردہ پوشی کی ...... تو اب بھی مجھ پر پردہ پوشی کر۔

نہیں کر سکتا۔ میرے گناہ بخش دے تا کہ ہلاک نہ ہو جاؤں۔ اپنی محبت میرے دل میں ڈال تا کہ مجھے زندگی حاصل ہو جائے۔ میری پردہ پوشی کر اور مجھ سے ایسے عمل کرا کہ تو راضی ہو جائے۔ دنیا اور آخرت کی آفت سے بچا۔

خلاصہ یہ ہے کہ کچھ دعائیں احادیث کا ترجمہ ہیں اور کچھ خود ساختہ ہیں جو عیسائی طرز تعلیم سے ملتی جلتی ہیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ آپ کی دعائیں منظور نہ ہوئیں۔ ورنہ آج کوئی عیسائی نظر نہ آتا۔ حالانکہ آپ کے زمانہ میں اگر ہندوستان کے عیسائی سات لاکھ تھے تو آج اٹھائیس لاکھ تک بڑھ گئے ہیں تو پھر یہ شوخی کیسے صحیح ہو سکتی ہے کہ ہماری دعائیں قبول ہوتی ہیں اور قبولیت دعاء کو معیار صداقت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ مرزائی ضرور ہی مسلمانوں سے الگ ہو کر نماز پڑھیں۔ کیونکہ جو دعائیں مرزائی پڑھتے ہیں مسلمان نہیں پڑھتے۔ غالباً درود شریف بھی مرزائیوں کا الگ ہے۔ جس میں ”وصلی اللہ علی عبدہ المسیح الموعود“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ خدا مجھ پر درود بھیجتا ہے تو پھر ان کی امت درود کیوں نہ بھیجے۔

مشہور واقعات متعلقہ جماعت مرزائیہ

...... جنوری ...... مارچ (١٢) میاں محمود پیدا ہوئے ١٨٨٩ء (١) مدرسہ تعلیم الاسلام کا اجراء قادیان میں ١٨٩٨ء (٢٠) ریویو آف ریلیجنز زیر ادارت مولوی محمد علی (٣) سعد اللہ لدھیانوی مر گیا ۔ ١٩٠٧ء جاری ہوا ۔ ١٩٠٢ء (٥) مسجد کے سامنے دیوار بنائی گئی ۔ ١٩٠٠ء (٢٧) امۃ النصیر پیدا ہوئی ۔ ١٩٠٣ء (١١) رستم علی مر گیا ١٩٠٩ء

صفحہ ٣٦٦

٢...... تبلیغ...... فروری

٣...... امان...... مارچ

٤...... شہادت...... اپریل

طاعون سے مر گیا۔١٩٠٧ء

٥...... ہجرت...... مئی

الاسلام کی برانچ کھولی گئی۔١٩٠٧ء

بلڈنگس بمکان سید محمد حسین لاہور )١٩٠٨ء

صفحہ ٣٦٧

٦......فوق.....جون

(١) صدر الدین یورپ باراول پہنچے۔١٩١٣ء

(٢٥) امۃ الحفیظ کی ولادت۔ ١٩٠٤ء

(٦) آتھم سے مباحثہ ختم ہوا۔ ١٨٩٣ء

(٢٧) محمد احمد ولد مولوی محمد علی ایم اے کی ولادت۔ ١٩٢٠ء

(١٤) مبارک احمد کی ولادت۔ ١٤ر صفر ١٣١٧ھ، ١٨٩٩ء

(٢٨) شیخ نور احمد ایجنٹ خواجہ کمال الدین یورپ گئے۔ ١٩١٣ء

(٣٠) عبدالحی ولد نورالدین کی آمین ہوئی۔ ١٩٠٥ء

٧......برکات......جولائی

(١) مولوی محمد علی نے قادیان کو ہجرت کی۔ ١٨٩٨ء

(٢٢) مولوی محمد حسین سے لدھیانہ میں مباحثہ شروع ہوا۔ ١٨٩١ء

(١) رسالہ تعلیم الاسلام صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے شائع ہوا۔ ١٩٠٦ء

(٢٦) آتھم فیروز پور میں مر گیا۔ ١٨٩٦ء

(٢) شیخ نور احمد ولد چوہدری فتح محمد بمبئی سے جہاز پر سوار ہوئے۔ ١٩١٣ء

(٢٩) خواجہ کمال الدین کا لیکچر مذہبی کانفرنس پیرس میں خصوصیات اسلام پر ہوا۔ ١٩١٣ء

(١٠) پیغام صلح لاہور کا اجراء ہوا۔ ١٩١٣ء

(٣٠) مولوی محمد حسین سے مباحثہ ختم ہوا۔ ١٨٩١ء

٨......تحت......اگست

(١) عبدالحمید جہلمی کی معرفت ڈاکٹر کلارک نے اقدام قتل کا مقدمہ دائر کیا۔ ١٨٩٧ء

(٢٠) دیوار مانع مسجد گرائی گئی۔ ١٩٠١ء

(٧) بشیر اوّل پیدا ہوا۔ (١٦؍ ذیقعدہ ١٣٠٢ھ، ١٨٨٧ء)

(٢١) عبدالکریم کو سرطان ہوا۔ ١٩٠٥ء

(١٣) خواجہ کو دوکنگ مسجد پر قبضہ ملا۔ ١٣٣١ھ

(٢٣) عبدالحمید والا مقدمہ خارج ہوا۔ ١٨٩٧ء

(١٤) حکیم حسام الدین سیالکوٹی مر گیا۔ ١٩١٣ء

(٣٠) مبارک احمد کا نکاح ڈاکٹر سید ستار شاہ کی لڑکی مریم بیگم سے ہوا۔ ١٩٠٧ء

صفحہ ٣٦٨

٩......خیر......ستمبر

کیا ۔ ١٩٠٢ء

سب رجسٹرار پشاور سے ہوا۔ مہر ایک ہزار ١٩٠٢ء

١٩٠٠ء

گئی ۔ ١٩٠٠ء

١٠......بشارت......اکتوبر

لڑکی محمودہ بیگم سے ہوا۔ ١٩٠٢ء

میں شروع ہوا۔ ١٨٩١ء

سے بمقام مد ضلع گورداسپور شروع ہوا۔ ١٩٠٢ء

١١......قبول......نومبر

کا لیکچر ہوا۔ ١٩٠٤ء

ہوا۔ ١٩٠٠ء

سیالکوٹی ) ١٩٠٠ء

زینب سے بمہر ایک ہزار ہوا۔ ١٩٠٠ء

تے) فضل الہی ولد منظور الہی بمقام لا ہوا۔ ١٩٠٩ء

بمہر دو صد روپیہ۔ ١٩٠٨ء

١٢......فلک......دسمبر

ائی۔ ١٩٠٢ء

کیونکہ آتھم کے ساتھ اس کو بھی خطاب

ولی رہی۔ جو مولوی عبد الکریم نے پڑھی تھ

سنہ مرزائیہ

چونکہ پنجاب میں آپ کی یادگار میں اسی سال ١٨٨٨ء سے ان ضمن میں ایک ایک الہام کا مفہوم م میں آپ کا ٢٥ سنہ ہوگا۔

...... فلک ۔’’اصنع الفلا ...... مانع ۔’’منعہ مانع م ...... روک دیا ہے۔ (١٤ از ...... سلام ۔ (١٠؍ فروری ٦

صفحہ ٣٦٩

ہوا۔ ١٩٠٩ء

بمہر دوصد روپیہ۔ ١٩٠٨ء

ہوئی۔ ١٩٠٥ء

١٢...... فلک ...... دسمبر

پائی۔ ١٩٠٢ء

کیونکہ آتھم کے ساتھ اس کو بھی خطاب تھا۔ ١٩٠٧ء

عبدالکریم کی لاش منتقل ہوئی۔ ١٩٠٥ء

اعلیٰ رہی۔ جو مولوی عبدالکریم نے پڑھی تھی۔ ١٨٩٦ء

جس میں پہلے ٧٥ آدمی شامل ہوئے۔

سنہ مرزائیہ

چونکہ پنجاب میں آپ کی پہلی بیعت ١٨٨٨ء سے کچھ تغیر رونما ہوا تھا۔ اس لئے اس کی یادگار میں اسی سال ١٨٨٨ء سے انہوں نے بھی اپنے نئے مہینے تجویز کئے ہیں اور ہر ایک ماہ کے ضمن میں ایک ایک الہام کا مفہوم مضمر رکھا ہے۔ گویا وہ ایک ایک الہام کی یادگار ہیں اور ١٩٣٣ء میں آپ کا ٤٥ سنہ ہوگا۔

روک دیا ہے۔ (١٤؍ جنوری ١٩٠١ء)

صفحہ ٣٧٠

(١٦؍مارچ ١٨٩٧ء)

(٢٧؍اگست ١٨٩٩ء)

خود۔ (١٥؍نومبر ١٨٩٦ء)

ہر سال ماہ عجل ٣٠ یوم کا ہوگا۔ مگر چوتھے سال ٣١ یوم کا ہوگا۔ بشرطیکہ اس سال کے اعداد چار پر تقسیم ہوسکیں۔ ہر صدی اور ہزار سال کے اخیر پر بھی ماہ عجل ٣٠ یوم کا ہوگا۔ مگر چوتھی صدی پر ٣١ یوم کا ہوگا۔ بشرطیکہ وہ صدی یا ہزار سال چار پر تقسیم ہوسکے۔

تاریخ ہائے تصانیف معہ تاریخ اشاعت

صفحہ ٣٧١
صفحہ ٣٧٢

اشتہارات مسیح

صفحہ ٣٧٣

اشتہارات مسیح

صفحہ ٣٧٤
صفحہ ٣٧٥

مسافر کا اشتہار۔ ٢٠؍اکتوبر ١٨٩١ء ...... ٣٣ مقابلہ نذیر حسین صاحب دہلوی۔ ٦؍اکتوبر ١٨٩١ء ...... ٣٥ بحث وفات مسیح بمقابلہ نذیر حسین صاحب۔ ١٧؍اکتوبر ١٨٩١ء ...... ٣٦ واقعات مباحثہ نذیر حسین صاحب۔ ٢٣؍اکتوبر ١٨٩١ء ...... ٣٧ دعوت خریداری ازالۃ اوہام۔ اکتوبر ١٨٩١ء ...... ٣٨ دعوت مناظرہ وفات مسیح محمد اسحاق صاحب کو۔ ٣١؍اکتوبر ١٨٩١ء ...... ٣٩ لائق غور منصفین۔ جنوری ١٨٩٢ء ...... ٤٠ عام اطلاع جلسہ تقریر برکوٹھی میراں بخش لاہور۔ ٢٨؍جنوری ١٨٩٢ء ...... ٤١ مباحثہ نبوت واعلان محدثیت۔ ٣؍فروری ١٨٩٢ء ...... ٤٢ امداد عرب مسافر۔ ١٧؍مارچ ١٨٩٢ء ...... ٤٣ آسمانی فیصلہ اور خط و کتابت۔ ٩؍مئی ١٨٩٢ء ...... ٤٤ آئینہ کمالات اسلام۔ ١٠؍اگست ١٨٩٢ء ...... ٤٥ امداد محمد احسن صاحب۔ ١٢؍ستمبر ١٨٩٢ء ...... ٤٦ انعقاد جلسہ ٢٧؍دسمبر۔ ٧؍دسمبر ١٨٩٢ء ...... ٤٧ متعلقہ محمد حسین صاحب۔ ١٩؍اپریل ١٨٩٣ء ...... ٤٨ مباہلہ عبدالحق ومحمد یوسف غزنوی۔ ٢٥؍اپریل ١٨٩٣ء ...... ٤٩ واپسی قیمت براہین احمدیہ۔ یکم مئی ١٨٩٣ء ...... ٥٠ جنگ مقدس۔ ٥؍جون ١٨٩٣ء ...... ٥١ اعلان مباہلہ عبدالحق۔ ١٨؍مئی ١٨٩٣ء ...... ٥٢ وقوع مباہلہ با عبدالحق بمقام امرتسر۔ ٢٧؍مئی ١٨٩٣ء ...... ٥٣ معیار الاشرار والاخیار برائے عمادالدین انعام پانچ ہزار۔ ١٧؍مارچ ١٨٩٣ء ...... ٥٤ ردّ نصاریٰ۔ ٢٧؍مئی ١٨٩٤ء ...... ٥٥ فتح اسلام۔ ٩؍ستمبر ١٨٩٣ء ...... ٥٦ اشتہار دو ہزار انعامی برائے آتھم۔ ٢٠؍ستمبر ١٨٩٣ء و تین ہزار انعامی۔ ٥؍اکتوبر ١٨٩٤ء ...... ٥٧ لائق توجہ گورنمنٹ۔ ١٠؍دسمبر ١٨٩٤ء ...... ٥٨ قابل توجہ گورنمنٹ۔ ٢٧؍فروری ١٨٩٥ء ...... ٥٩

صفحہ ٣٧٦
صفحہ ٣٧٧
صفحہ ٣٧٨

متعلقہ پیشین گوئی ۔ ٢٢ رنومبر ١٨٩٨ء، ٢٧ ردسمبر ١٨٩٨ء ...... ١٢٢ پیر گولڑوی ۔ ٥ ...... ١٤٨ استفتاء عقیدہ مہدی فاطمی ۔ دسمبر ١٨٩٨ء ...... ١٢٣ تجویز رسالہ ر ...... ١٤٩ متعلقہ محمد حسین و ایک پیشین گوئی ۔ ٣ جنوری ١٨٩٩ء ...... ١٢٤ ظہور معجزہ ۔ ٢٠ ...... ١٥٠ ایک پیشین گوئی کا وقوع ۔ ٦ جنوری ١٨٩٩ء ...... ١٢٥ الصلح خیر ۔ ٥ ...... ١٥١ پنجاب و ہندوستان کے مولویوں کی ایمانداری کا نمونہ ۔ ٧ جنوری ١٨٩٩ء ...... ١٢٦ طاعون ۔ ١٧ ا ...... ١٥٢ نقل ڈیفنس ۔ ٢٠ جنوری ١٨٩٩ء ...... ١٢٧ امتحان کتب ...... ١٥٣ استفتاء برمنصفانہ گواہی ۔ ٢١ جنوری ١٨٩٩ء ...... ١٢٨ ایک غلطی کا از ...... ١٥٤ اپنی جماعت کے ہر ایک رشید کے نام ۔ ٩ اگست ١٨٩٩ء ...... ١٢٩ متعلقہ آیات ا ...... ١٥٥ بحضور گورنمنٹ ایک عاجزانہ درخواست ۔ ٢٧ ستمبر ١٨٩٩ء ...... ١٣٠ النار ۔ ١٨ رنو ...... ١٥٦ اشتہار للانصار ۔ ٤ اکتوبر ١٨٩٩ء ...... ١٣١ الطاعون عربی ...... ١٥٧ جلسہ الوداع ۔ ١٠ اکتوبر ١٨٩٩ء ...... ١٣٢ انتظام لنگر خا ...... ١٥٨ اپنی جماعت کو اطلاع ۔ ٥ نومبر ١٨٩٩ء ...... ١٣٣ التوائے جلس ...... ١٥٩ آسمانی گواہی کے لئے دعاء کی درخواست ۔ ٥ نومبر ١٨٩٩ء ...... ١٣٤ اصلاح متعلق ...... ١٦٠ متعلقہ حسین کامی ۔ ١٨ نومبر ١٨٩٦ء ...... ١٣٥ پیش از وقت ...... ١٦١ پیشین گوئی کا وقوع ۔ ١٧ دسمبر ١٨٩٩ء ...... ١٣٦ امداد ریویو ۔ ...... ١٦٢ چندہ ٹرانسوال ۔ فروری ١٩٠٠ء ...... ١٣٧ ایک واقعہ کا ا ...... ١٦٣ بشپ صاحب لاہور سے فیصلہ کی درخواست ۔ ٢٥ مئی ١٩٠٠ء ...... ١٣٨ الوصیۃ ۔ ٢٧ ...... ١٦٤ زندہ رسول پر کچھ بیان ۔ ٢٥ مئی ١٩٠٠ء ...... ١٣٩ متعلقہ اخبار ...... ١٦٥ معیار الاخیار ۔ ٢٥ مئی ١٩٠٠ء ...... ١٤٠ متعلقہ زلزل ...... ١٦٦ چندہ منارۃ المسیح ۔ ٢٨ مئی ١٩٠٠ء ...... ١٤١ الانذار ۔ ٨ ...... ١٦٧ جہاد کی ممانعت ۔ ٧ جون ١٩٠٠ء ...... ١٤٢ النداء من ...... ١٦٨ متعلقہ منارۃ المسیح قابل توجہ جماعت خود ۔ یکم جولائی ١٩٠٠ء ...... ١٤٣ خبر سوم زلزل ...... ١٦٩ پیر گولڑوی سے فیصلہ ۔ ٢٠ جولائی ١٩٠٠ء ...... ١٤٤ قابل توجہ گ ...... ١٧٠ اطلاع مباحثہ گولڑوی ۔ ٢٥ اگست ١٩٠٠ء ...... ١٤٥ تبلیغ الحق م ...... ١٧١ پیر گولڑوی اور عربی تفسیر نویسی ۔ ٢٨ اگست ١٩٠٠ء ...... ١٤٦ تازہ اشتہا ...... ١٧٢ متعلقہ نام احمدی ۔ ٤ نومبر ١٩٠٠ء ...... ١٤٧ پیشین گوئی ...... ١٧٣

صفحہ ٣٧٩
صفحہ ٣٨٠

(منقول از جنتری احمدیہ لاہوری ١٩٢١ء)

ووکنگ مسجد

١٨٩١ء میں جناب نے ایک خواب دیکھا کہ لنڈن میں میز پر کھڑے ہو کر انگریزی میں صداقت اسلام پر لیکچر دے رہے ہیں۔ پھر آپ نے چھوٹے چھوٹے درختوں پر بہت سے پرندے تیتر کی جسامت کے پکڑے۔ اس کی تعبیر یوں کی کہ میرے بعد میری تحریرات وہاں شائع ہوں گی۔ اس خواب کے بعد ٢١ سال اور وفات کے بعد ٤ سال یعنی اگست ١٩١٢ء کو خواجہ کمال الدین نے ولایت جانے کا ارادہ کر لیا۔ شروع ستمبر ١٩١٢ء میں آپ رخصت ہوئے۔ ٧؍ ستمبر ١٩١٢ء کو بارہ بجے بمبئی سے سوار ہو کر ٢٣؍ ستمبر ١٩١٢ء کو بمقام پورٹ سموتھ انگلستان پہنچ گئے۔ پینتالیس روپے ماہوار پر ایک مکان کرایہ پر لیا اور عید الضحیٰ کی نماز پچاس ساٹھ آدمیوں کی معیت میں کیکسٹن ہال میں پڑھی گئی اور اشتہار تقسیم کئے۔ فروری ١٩١٣ء سے رسالہ مسلم انڈیا اور اسلامک ریویو شائع کیا۔ جنوری ١٩١٣ء میں کیمبرج میں پادری فریئر سے مباحثہ ہوا۔ فروری ١٩١٣ء میں پہلی خاتون مسز ابراہام ایک کرنیل کی لڑکی جمعہ میں شامل ہوئی۔ مارچ ١٩١٣ء میں غلبت الروم کی پیش گوئی شائع کی اور ووکنگ کے مسجد میں پہلے ہفتہ نماز عشاء ادا کی۔ دوسرے ہفتہ جمعہ پڑھایا۔ جس میں عبدالبہا اور حکیم محمود بائی بھی شریک ہوئے۔ مسجد ووکنگ کا بانی ڈاکٹر لائٹر تھا۔ جس نے پنجاب یونیورسٹی اور اورینٹل کالج کی بنیاد ڈالی۔ وہ ہندوستان سے واپسی پر بہت سا روپیہ ساتھ لے گیا۔ لندن سے تیس میل کے فاصلہ پر شہر ووکنگ میں کچھ مشرقی طریق پر ایک رہائشی مکان تعمیر کیا۔ جس میں مشرقی یادگاریں بھی رکھیں اور سوگز کے فاصلہ پر ٢٥×٢٠ گز مربع مسجد بھی بنائی۔ جس کے مسقف حصہ میں چالیس کے قریب آدمی آسکتے ہیں۔ شروع مئی ١٩١٣ء میں ساگر چند جو وکالت کا طالب علم تھا مسلمان ہوا۔ اسلامی نام محمد رکھا گیا۔ اگلے اتوار دہریہ جماعت کو کیمبرج میں لیکچر دیا۔ ٢٦؍ مئی کو پکیڈلی میں عورت پر لیکچر دیا۔ ٣٠، ٣١؍ مئی کو فاکسن میں دو لیکچر دیئے۔ جون میں ریسرچ کلب

میں لیکچر دیا۔ کام زیادہ ہو گیا تو محمد ایم اے اور شیخ نور محمد ایجنٹ خاتون کو تبلیغ کے لئے بھیجے گئے۔ کو مسجد ووکنگ کے خواجہ صاحب ہال میں سو آدمی کے ساتھ پڑھی ١٦؍ نومبر ١٩١٣ء کو لارڈ ہیڈلے اور مرد و زن مسلمان ہوئے۔ ٨ مس فلی رستم اور مسز کلفورڈ مسل سالانہ دینے کا انتظام کیا۔ دسمبر واپس ہندوستان آ گئے اور مولو کام تیزی سے شروع رہا پھر سر پھر ولایت گئے اور علیل ہو گئے ١٩١٩ء میں واپس ہندوستان آ حسن پشاوری اور دوست محمد اؤ حسن قدوائی، ملک عبدالقیوم انگریزی نہ جانتے تھے اور خواج ووکنگ کا خطاب پایا اور ١٩١٩ مصطفیٰ خان صاحب بی۔اے۔

تعبیر خواب

نیک و بد کی تعبیر نقصانی (جیسے بلی کو چھچڑے سے ہی شناخت کیا جا سکتا ۔ سکتی۔ منذر کے لئے صدقہ درست ہے۔ مجھے گور داسپو بکری کے گلے میں رسی ڈال گی۔ ٹکٹ کا مقابلہ تھا راس

صفحہ ٣٨١

میں لیکچر دیا۔ کام زیادہ ہو گیا تو حکیم نورالدین صاحب کے حکم سے ٢٨؍ جون ١٩١٣ء کو چوہدری فتح محمد ایم اے اور شیخ نور محمد ایجنٹ خواجہ صاحب لندن گئے اور جون ١٩١٣ء میں خواجہ صاحب ایک خاتون کو تبلیغ کے لئے بلجیم گئے۔ ٢٩؍ جولائی کو مذہبی کانفرنس پیرس میں لیکچر دیا۔ ١٣؍ اگست ١٩١٣ء کو مسجد ووکنگ کے خواجہ صاحب انچارج ہوئے۔ اب وہیں رہنے لگے۔ ٣٠؍ ستمبر کو عید الفطر کیکسٹن ہال میں سو آدمی کے ساتھ پڑھی۔ نواب صاحب بہاولپور نے پیش امام سمجھ کر دس پونڈ پیش کئے۔ ١٦؍ نومبر ١٩١٣ء کو لارڈ ہیڈلے مسلمان ہوا اور اسلامی نام رحمت اللہ فاروق حاصل کیا۔ پھر دو چار اور مرد و زن مسلمان ہوئے۔ ٢٨؍ نومبر ١٩١٣ء کو وائی کاؤنٹ ڈی پور سکنہ بلجیم ۔ کپتان سٹینلے مارگریٹ مس فلی رستم اور مسز کلفورڈ مسلمان ہوئے۔ سید امیر علی مرحوم نے لنڈن مسجد فنڈ سے ایک سو پونڈ سالانہ دینے کا انتظام کیا۔ دسمبر ١٩١٣ء میں روسی شاہزادہ جسرو مسلمان ہوا۔ ١٩١٤ء میں خواجہ صاحب واپس ہندوستان آگئے اور مولوی صدرالدین وہاں کام کرتے رہے۔ کچھ عرصہ تک ووکنگ مشن کا کام تیزی سے شروع رہا پھر سرد ہو گیا۔ صدرالدین صاحب واپس آئے تو ١٩١٦ء میں خواجہ صاحب پھر ولایت گئے اور علیل ہو گئے اور اپنے بیٹے بشیر احمد بی۔ اے کی وفات سے ان کو صدمہ ہوا۔ ١٩١٩ء میں واپس ہندوستان آگئے اور ان کی جگہ مولوی صدرالدین، مولوی عبداللہ جان ابن غلام حسن پشاوری اور دوست محمد ایڈیٹر پیغام صلح ولایت گئے۔ خواجہ صاحب کے ایام علالت میں شیخ شیر حسن قدوائی، ملک عبدالقیوم وغیرہ نے کام شروع رکھا۔ شیخ نور احمد صاحب جالندھری اگرچہ انگریزی نہ جانتے تھے اور خواجہ کے ایجنٹ تھے۔ مگر چار پانچ سال اخلاص سے وہاں کام کیا اور اہل ووکنگ کا خطاب پایا اور ١٩١٩ء میں لاہور آکر وفات پائی۔ ١٩٢٠ء میں صدرالدین واپس آئے تو مصطفےٰ خان صاحب بی۔اے ووکنگ کے امام مقرر کئے گئے۔

(منقول از جنتری احمدیہ لاہور ١٩٢١ء)

تعبیر خواب

نیک و بد کی تعبیر الگ الگ ہوتی ہے اور خواب تین قسم ہیں۔ رحمانی (خدا کا پیغام) نفسانی (جیسے بلی کو چھیچھڑے کا خواب) اور شیطانی (خوفناک منظر) رحمانی خواب کو روحانی امور سے ہی شناخت کیا جا سکتا ہے اور جو خواب منذر ہے مبشر نہیں ہو سکتی اور جو مبشر ہے منذر نہیں بن سکتی۔ منذر کے لئے صدقہ خیرات کی ضرورت ہے۔ معبر اوّل کی تعبیر کچھ تاثیر نہیں رکھتی۔ تفاول درست ہے۔ مجھے گورداسپور مقدمہ میں جانا پڑا اور ایک شخص کو سزا ملی تھی۔ راستہ میں ایک لڑکے نے بکری کے گلے میں رسی ڈال کر کہا کہ آیا وہ پھنس گئی تو میں نے خیال کیا کہ اسے ضرور سزا ہو جائے گی۔ بکٹ کا مقابلہ تھا راستہ میں ایک نے کہا کہ السلام علیکم تو میں نے سمجھا کہ ہماری فتح ہو گی۔

صفحہ ٣٨٢

خواب میں اسم سے مسمے یا موصوف سے صفت یا ملزوم سے لازم مراد ہوتی ہے یا بالعکس فطرۃ کوئی برا نہیں ہے۔ اس لئے برے کو بھی نیک خواب آسکتا ہے۔ خواب مبشر ہو تو پھر نہ سونا چاہئے۔ خواب تہ زمین کے پانی کی طرح ہیں جو محنت سے دستیاب ہوتا ہے۔ فتور حواس کے وقت خواب آتا ہے۔ اسی وجہ سے خواب کی حالت محسوس نہیں ہوتی۔ خواب کے علاوہ ایک حالت غیبت ہے جو نیم خوابی کی حالت میں فنافی اللہ انسان پر طاری ہوتی ہے اور اس کا باعث صرف روحانی طاقت ہے۔ حضور علیہ السلام کا دل بہت صاف تھا۔ اس لئے قرآن مجید میں خدا کی تصویر روشن ہے اور باقی کتابوں میں اس کی دھندلی تصویر نظر آتی ہے۔ صبح کو خواب بیان کرنا سنت ہے۔ خواب اور الہام کا مادہ ہر شخص میں رکھ دیا ہے۔

میرا یہ مذہب ہے کہ بدکار کو کبھی سچا خواب اور الہام صحیح بھی ہو جاتا ہے۔ مگر مومن کے اکثر خواب سچے ہوتے ہیں اور اس میں بشارت کا حصہ زیادہ ہوتا ہے اور کافر کی نسبت وہ صاف ہوتا ہے۔ کبھی نہ کبھی خواب کا آنا ضرور ہے۔ مگر قضائے مبرم کی طرح اٹل نہیں ہوتا۔ بلکہ قضائے معلق کی طرح ہوتا ہے۔ مبشر ہو تو بشارت کی صورت میں ظاہر ہونے کے لئے دعا کرو۔ منذر ہو تو توبہ و استغفار کرو۔ تعبیرات یوں ہیں۔ ہاتھی کو تیل ملنا (اچھا ہے ) گالیاں کھانا (غلبہ کا نشان ہے ) بجلی کی چمک (آبادی ہے ) ہاتھی پر سواری (طاعون پر سواری ہے ) بیسنی روٹی ( کچھ تکلیف ہے ) زلزلہ (طاعون ہے ) خواب میں نام پر خوب غور کرو اس سے تعبیر کھل سکتی ہے۔ دشمن سے فرار (اس پر فتح ہے ) نماز پڑھنا یا شیرینی کھانا (نماز میں لطف آئے گا ) سورہ تبت پڑھنا (غلبہ ہے ) انگوٹھی (ایک حلقہ میں داخلہ ہے ) موت کی خبر پانا (بیعت میں داخلہ ہے ) دریا دیکھنا (علوم و معارف ہیں ) ابابیل (مستفید لوگ ہیں ) ختنہ کرنا (قطع شہوات ہے ) قیامت کی خبر پانا (نیک کی فتح اور بد کی بدبختی ہے ) سلطان محمد کا آنا (کسی تائید کا ظاہر ہونا ہے۔ کیونکہ سلطان کا نام یہی ظاہر کرتا ہے ) لبیں کترے ہوئے دیکھنا (تواضع ہے ) مریض قولنج کی موت (صحت ہے ) مامور کا آنا (رحمت کا ظہور ہے ) دایاں کان دین ہے اور بایاں دنیا۔ اس لئے ان سے کچھ سننا (نیک بات ہے ) کتا (لالچی آدمی ہے ) بندر (ایک مسخ شدہ آدمی ہے ) دانت ٹوٹ کر (ہاتھ میں آئے تو اچھا ہے ورنہ برا ) چاندی دینا (اظہار محبت اسلامی ہے ) سورہ تبارك و عم يتساءلون دکھلانا (اعتراضات مخالفین اور مشیت الٰہی ہے ) کپڑے کو آگ لگنا اور پانی ڈال کر اسے صاف دیکھنا (صحت کی علامت ہے ) شہر میں عید پڑھنا (مبارک ہے ) منذر کو بری صورت میں دیکھا (اپنی پردہ دری ہے ) جوان عورت (دنیاوی اقبال ہے ) مردے کا کلمہ پڑھنا (دین کی سرسبزی ہے )

صفحہ ٣٨٣

بڑھ (عیسائیت ہے) مردہ کا زندہ ہونا (کوئی بات پھر زندہ ہو) کلیجہ (مال ہے) نورانی کپڑے (کامیابی ہے) مضمون عطاء کردہ مسیح کا نقل کرنا (کامیابی ہے) حضرت عمر کی ملاقات (شجاعت ہے) گالیاں دینا (مغلوب ہونا ہے) کتے کا خفیف کاٹنا اور انڈے دینا (کچھ ایذا رسانی ہے اور انڈے اس کی اولاد ہیں وہ توڑے جائیں تو وہ بھی تلف ہوں گے) قبر سے مردہ کا نکلنا (گرفتار کی رہائی ہے) سبحان اللہ پڑھنا (تصدیق وعدہ الہی ہے) پیسے (جھگڑا ہیں) کسی کا کچھ کہنا (کبھی دوسرے کی طرف اشارہ ہوتا ہے) دوائی دینا (شفا بخشی ہے) چنے مولی بیگن یا پیاز وغیرہ (مکروہ ہے) حقہ (اچھا ہے) گنا (فتنہ پردازی ہے)

عقائد اور ملفوظات

آپ چودھویں صدی کے مجدد اور مسیح موعود اور مہدی معہود ہیں۔ وہ نبی اور رسول نہیں کیونکہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی پرانا ہو یا نیا نہیں آسکتا اور مجدد اور محدث آتے رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔ پس اگر لفظ نبی یا مرسل کا اطلاق ان پر ہوگا تو مجازی طور پر ہوگا۔ آپ کو دوسرے مجددوں پر اس لئے فضیلت ہے کہ آپ کی آمد کے لئے صریح پیشین گوئیاں موجود ہیں اور جس فتنہ کے اصلاح کے لئے آپ مبعوث ہوئے ہیں کسی دوسری کو ایسی اصلاح سپرد نہیں ہوئی۔ پھر آپ کی دعوت عامہ ہے اور پہلے مجددین کی دعوت مختص الوقت اور مختص المقام تھی۔ پس حقیقی نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پہلی امتوں میں انبیاء کے خلفاء حقیقی نبی ہوتے رہے ہیں۔ مگر اس امت میں کوئی خلیفہ حقیقی نبی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ کامل کتاب قرآن سے پہلے نازل نہیں ہوئی اور چونکہ حضورﷺ رحمۃ للعالمین اور کافۃ للناس کی طرف مبعوث تھے۔ اس لئے کسی مخصوص التعلیم اور مختص القوم کی بھی بعد میں ضرورت نہ رہی۔ مگر سلسلہ تجدید جاری رہا تا کہ بھولوں کو اسلام یاد دلایا جائے اور چونکہ آپ کی نسبت خاص طور پر پیشین گوئیاں وارد ہیں اور اسلامی کامیابی آپ کی ذات سے وابستہ ہے، اس لئے دوسرے مجددین کی نسبت آپ کا برحق ماننا زیادہ ضروری ہوا۔ گو کوئی شخص آپ کو نہ ماننے سے خارج از اسلام نہیں ہوتا۔ مگر کسی مسلمان کو یا مسیح موعود کو مفتری یا کاذب جاننے والا ضرور کافر ہوتا ہے۔ (تو پھر انکار بھی موجب کفر ہوا) آپ نے کہا کہ ہماری جماعت میں چندہ دینے والے بہت تھوڑے ہیں۔ جو ماہ بماہ چندہ دیتے ہیں۔ جو چندہ نہیں دیتا اس کے وجود سے اس سلسلہ کو کیا فائدہ ہے۔ جب بچوں کے لئے بازار سے کچھ نہ کچھ ضرور خرید کر لاتا ہے تو کیا یہ عظیم الشان سلسلہ اس لائق بھی نہیں کہ اس کے لئے چند پیسے بھی قربان کر سکے۔ آج دنیا میں کون سا سلسلہ ہے جو بغیر پیسہ کے چل سکتا ہے۔ وہ کس قدر بخیل ہے جو اس مقصد کے لئے چند پیسے بھی

صفحہ ٣٨٤

خرچ نہیں کر سکتا۔ صدیق اکبرؓ نے اپنا کل گھر بار نثار کر دیا۔ فاروق اعظمؓ اور ذی النورینؓ نے اپنی طاقت کے مطابق مال قربان کر دیا۔ ایک وہ ہیں کہ بیعت تو کر جاتے ہیں اور اقرار بھی کرتے ہیں کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم سمجھیں گے مگر امداد کے وقت اپنی جیبوں کو دبا کر پکڑے رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا وجود ہرگز نفع رسان نہیں۔ اس وقت ہماری جماعت تین لاکھ ہے۔ پیسہ پیسہ بھی دیں تو کئی لاکھ پیسے ہو سکتے ہیں۔ چار روٹیاں کھانے والا اگر آدھی روٹی بھی بچا دے تو بھی اس کام سے عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ مگر اب تک اکثر لوگوں کو کہا بھی نہیں گیا۔ جو رو رو کر بیعت کر جاتے ہیں۔ اگر ان کو چندہ کے لئے کہا جائے تو ضرور چندہ دے دیں گے۔ تم ضرور ان کو باخبر کرو یہ موقعہ ہاتھ آنے کا نہیں۔ یہ کیسا برکت کا زمانہ ہے کہ جان نہیں مانگی جاتی۔ اس لئے ہر ایک شخص تھوڑا تھوڑا جو لنگر اور مدرسہ اور دوسری ضروری مدوں میں دے سکتا ہے دے۔ باقاعدہ دینے والا اگرچہ تھوڑا ہی دے، بے قاعدہ دینے والوں سے بہتر ہے۔ خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں وہی مسیح موعود ہوں جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے احادیث صحیحہ میں دی ہے جو بخاری و مسلم و دیگر صحاح میں درج ہیں۔ "وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا"

٨؍ اگست ١٨٩٩ء مرزا غلام احمد۔ جو بیعت کرے اس کو قال اللہ اور قال الرسول کا پابند ہونا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں کہ وہ حنفی ہو یا شافعی۔ کوئی نئی شریعت اب نہیں آسکتی اور نہ کوئی نیا رسول آ سکتا ہے۔ مگر ولایت امامت اور خلافت کی ہمیشہ قیامت تک راہیں کھلی ہیں اور جس قدر مہدی دنیا میں آئے یا آئیں گے ان کا شمار خدا کو معلوم ہے۔ وحی رسالت ختم ہوگئی مگر ولایت امامت اور خلافت کبھی ختم نہ ہوگی۔ کسی کو گذشتہ لوگوں میں سے بجز حضور ﷺ کے جمیع کمالات کے رو سے بے مثل نہیں کہہ سکتے اور ممکن نہیں کہ آئندہ بھی کوئی آپ سے مجموعی طور پر بہتر ہو۔ ہاں جزوی لحاظ سے بعض لوگ پیش ٹھہر سکتے ہیں۔ مثلاً صحابہ کرامؓ کا حضور ﷺ کی محبت اٹھانا آپ کے ہمراہ جہاد کرنا اور مال و جان حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر کرنا وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایسی خصوصیات ہیں جو دوسروں میں نہیں پائی جاسکتیں۔ مگر اس کے سوا ہر ایک کمال کے دروازے کھلے ہیں۔ خدا کے پیارے اور اعلیٰ درجہ کے مقبول بندے اور امام الوقت اور خلیفۃ اللہ فی ارض اللہ اب بھی ایسے ہی موجود ہیں جیسے پہلے ہوئے تھے اور اب بھی اکرام و انعام کی وہ راہیں کھلی ہیں جو پہلے کھلی تھیں۔ کمالات نبوت و رسالت بھی ظلی طور پر حاصل ہو سکتے ہیں۔ جس قدر استعداد ہوگی پرتو نور کا اس پر پڑے گا۔ زندہ اسلام اسی کا نام ہے۔ مگر جو لوگ امامت اور خلافت اور صدیقیت کو پہلے لوگوں پر ختم کر چکے ہیں ان کے ہاتھ میں اب مردہ اسلام ہے جو مذہب آئندہ کمالات کے دروازے بند کرتا

ے وہ انسانی ترقی کا دشمن ہے۔ قو مستقیم ”یہ عقیدہ بھی ضروری فرشتہ پر فخر کرنا نامردوں کا کام۔ کے لحاظ سے نہیں ہے۔ ”ان ا محفوظ ہے اور کوئی ایسا قرآن نہیں ہے کہ چار یار رضی اللہ عنہم امین شر مقصد یہ ہے کہ انسان خدا کے غضب

(خط مسیح بنام نواب م

نسخہ جات

دہی وسرکہ سے مچھلی کی پھر کیوڑہ اور نرگسی کھلاؤ اور جونک الائچی خرد ٤ تولہ کیوڑہ بقدر ضرور کابلی وزرد وسیاہ بنفشہ وسقمونیا مکہ و عنبر مکہ ١٠ مثقال، صندل سفید و روغن میں چرب کریں۔ پھر عناب ڈیڑھ وزن شیرہ مربائے ہلیلہ اور مشک ٣ ماشہ ورق نقرہ ٢٥ عدد ورق برداشت، اٹھرا کے لئے مشک خا وقت شام ٢ رتی استعمال کرائیں ا سرکہ میں پیس لیں بڑے کے لئے پھر کیمفر کو ٥ قطرہ وائن ایپیکاک ٩ پانی ٤ تولہ پی لیں۔ یہ مقدار ابتہ ٤٠ بوند اور سپرٹ کلورافارم ٦٠ بوند سے بچنے کے لئے روزانہ غسل، وغیرہ خوشبودار چیزیں جلانا کچے کو میں ہجوم تاریکی اور حبس نہ ہو اور

صفحہ ٣٨٥

ہے ۔ وہ انسانی ترقی کا دشمن ہے ۔ قرآن شریف میں بھاری دعاء یہی ہے کہ : ” اهدنا الصراط المستقیم “ یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ کسی رشتہ سے گورسول سے ہو کوئی فضیلت پیدا نہیں کرتا۔ فقط رشتہ پر فخر کرنا نامردوں کا کام ہے ۔ صحابہ یا ذوی القربیٰ میں سے جو قابل تعریف ہے وہ صرف رشتہ کے لحاظ سے نہیں ہے ۔ ” ان اکرمکم عند الله اتقاکم “ قرآن ہر ایک تصرف سے بکلی محفوظ ہے اور کوئی ایسا قرآن نہیں ہے کہ جس کو کوئی شخص غار میں لے کر چھپا بیٹھا ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ چار یار رضی اللہ عنہم امین شرع تھے۔ شرک سے بکلی پاک رہنا ضروری ہے اور بیعت کا مقصد یہ ہے کہ انسان خدا کے غضب سے پرہیز کرے۔

(خط مسیح بنام نواب محمد علی صاحب)

نسخہ جات

دہی وسرکہ سے مچھلی کی ہڈی گلے سے اتر جاتی ہے۔ طاعون میں مگنیشیا کا مسہل دے کر کیوڑہ اور نرمی طلاؤ اور جونک بھی مفید ہے۔ سکنجبین مقوی معدہ یوں بناؤ عرق لیمو ایک سیر الائچی خورد ٤ تولہ کیوڑہ بقدر ضرورت۔ اطریفل مقوی دماغ اور دافع قبض یوں بناؤ، پوست ہلیلہ کابلی وزرد وسیاہ بنفشہ وسقمونیا منہ ٥ مثقال گلسرخ وطباشیر و نیلوفر ، پوست بلیلہ و آملہ منہ ٢ مثقال تربد وکشنیز منہ ١٠ مثقال، صندل سفید و کتیرا منہ ١ مثقال، روغن بادام ٥ مثقال ۔ یہ سب دوائیں بادام روغن میں چرب کریں۔ پھر عناب ٥٠ دانہ، سپستان ٥٠ دانہ، گل بنفشہ ٥ مثقال کے جوشاندہ میں ڈیڑھ وزن شیرۂ مربائے ہلیلہ اور ایک وزن شہد ملا کر گوندھ کر آگ پر رکھیں۔ قوام ہو جائے تو مشک ٣ ماشہ ورق نقرہ ٢٥ عدد ورق طلا ١٠ عدد ملا کر اتار لیں۔ خوراک اوّل ڈیڑھ ماشہ پھر حسب برداشت، اٹھرا کے لئے مشک خالص ٦ ماشہ، نرسی ٣ ماشہ، فولاد قلمی ٣ ماشہ۔ باہم پیس کر روزانہ بوقت شام ٢ رتی استعمال کرائیں اور غم سے بچائیں۔ طاعون کا انگریزی علاج یوں ہے کہ جدوار سرکہ میں پیس لیں بڑے کے لے سات سرخ اور چھوٹے کے لئے پانچ سرخ گولی بنا کر کھائیں۔ پھر مکسچر کو ١٥ قطرہ وائینم اپیکاک ٩ قطرہ سپرٹ کلورا فارم ١٥ قطرہ عرق کیوڑہ ٥ تولہ عرق سرس ٥ تولہ، پانی ٤ تولہ پی لیں۔ یہ مقدار ابتدائی مرض میں ہے۔ ورنہ مکسچر کو بعد میں ٦٠ بوند وائینم اپیکاک ٤٠ بوند اور سپرٹ کلورافارم ٦٠ بوند عرق کیوڑہ ٢٠ تولہ عرق سرس ٢٥ تولہ تک بڑھا سکتے ہو۔ طاعون سے بچنے کے لئے روزانہ غسل، تبدیلی پوشاک، مکان اور بدرو کی صفائی اپر سٹوری پر رہائش عود وغیرہ خوشبودار چیزیں جلانا کچے کوئلے اور چونا جمع رکھنا اور گھر کو گرم رکھنا۔ از بس ضروری ہے مکان میں ہجوم تاریکی اور حبس نہ ہو اور روغن عقربی بھگو کر دروازوں پر لٹکانا بھی مفید ہے اور مرہم عیسیٰ

صفحہ ٣٨٦

بہت مفید ہے۔ بال پیدا نہ ہوں تو ہڑتال نیچے بیٹھ جائے تو تیل صاف کر کے استعمال کریں۔ حمل گرتا ہو تو یہ نسخہ دیں۔ مروارید ١ ماشہ، در گلاب حل کردہ، عاقر قرحا ١ ماشہ، زنجبیل ٤ درم، مصطگی زرنباد، درونج، کرفس، شیطرج، قاقلہ، جوزبوا، بسباسہ، قرفہ، ہر یک ٢ درم، فلفل ٣ درم، دار فلفل ٣ م، دارچینی ٥م، جدوار ٧م، طباشیر ٥م، مشک ٢م، عود ٤م، نبات سفید دو چند، خوراک حسب برداشت، بچہ کو پیٹ میں قائم رکھنے کے لئے یہ آبزن استعمال کرو۔ گل سرخ ٧م، گلنار ٥م، برگ خنک ٤م، شب یمانی ٣م، پوست انار ٣م سب کو جو کوب کر کے دس سیر پختہ پانی میں جوش دیں۔ ٥ سیر رہ جائے تو وہ پانی کسی بڑے برتن میں ڈال کر اس میں حاملہ کو لٹائیں۔

مبلغین قادیانیت

یوں تو ہر ایک قادیانی مبلغ بنتا ہے۔ مگر سر کردہ مبلغ یہ ہیں۔ سید سرور شاہ مفسر قرآن، سید امیر حسین مدرس اعلیٰ مدرسہ احمدیہ، محدث فقیہ اور پنجابی واعظ، میر محمد اسحاق مولوی فاضل، ایک ایک بات کو بار بار دہرانے والے حافظ روشن علی نابینا، مقرر و مباحث شیخ عبد الرحمان مصری مولوی فاضل ہیڈ ماسٹر مدرسہ احمدیہ نو مسلم تعلیم یافتہ مصر، مولوی اسماعیل حافظ حوالہ جات تحریرات مسیح فارسی دان خصوصی، مولوی فضل الدین وکیل ماہر تالیف، مولوی شیر علی بی۔اے۔ سابق ایڈیٹر ریویو آف ریلجنز نائب خلیفہ ثانی، بوقت ضرورت سادہ گو۔ میر قاسم علی ایڈیٹر فاروق، مناظر مہیب برائے ثناء اللہ و آریہ سماج، برجستہ اور پرزور اور تلخ گو۔ شیخ محمد یوسف (سکھ) ایڈیٹر نور نو مسلم مترجم قرآن بزبان گور مکھی و دیگر کتب۔ صوفی غلام رسول راجیکی، ماہر تصوف حافظ غلام رسول وزیر آبادی والد شہید ماریشس، عبید اللہ نابینا واعظ پنجابی، مفتی محمد صادق مبلغ انگلستان ہشت سال ماہر علوم عیسوی۔ عبد الرحیم نیر مبلغ نائیجیریا و افریقہ، چوہدری فتح محمد ایم۔اے مبلغ انگلستان و ملگانہ، مولوی اللہ دتہ جالندھری مولوی فاضل مؤلف تفہیمات ربانیہ، بجواب عشرہ مبشرہ، مولوی فاضل سادہ گوجلال الدین شمس ہسوانی پیرو کار مقدمہ بہاولپور۔

دس شرائط بیعت مسیح

مسیح احمدی جنتری ص١١، ١٩٢٦ء میں ہے کہ مرزا قادیانی کی بیعت کے شرائط یہ دس امور تھے۔

دکھلانا۔

پھر (ص١٠) پر آپ کے نص تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا۔ آخر ع تصرف سے توبہ نہیں کرتا۔ نماز کا پابند والدین کی عزت نہیں کرتا۔ اہلیہ اور اق الواقع مسیح موعود اور مہدی معہود نہیں جماعت میں بیٹھ کر ہاں میں ہاں ملاتا قمار باز خائن مرتشی، غاصب ظالم در ر لگانے والا، میری جماعت سے نہیں۔ (ص٤٦) پر آپ کا ایک مکالمہ لکھا ہے

مگر ان کا صحیح استعمال ا

ایک ہی راہ ہے جو اسل

ملنے کی راہ کو کہتے ہیں کہ

اسلام کے بغیر نہیں چل

صفحہ ٣٨٧

دکھلانا۔

پھر (ص ١٠) پر آپ کے نصائح لکھے ہیں کہ ظاہری بیعت کچھ نہیں۔ میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اسے مت کھاؤ۔ دعاء کرو جو خدا کو قادر نہیں سمجھتا۔ جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا۔ آخرت کو نہیں دیکھتا، قمار بازی بد نظری خیانت رشوت اور ناجائز تصرف سے توبہ نہیں کرتا۔ نماز کا پابند نہیں۔ برے رفیق کو نہیں چھوڑتا جو اس پر برا اثر ڈالتا ہے۔ والدین کی عزت نہیں کرتا۔ اہلیہ اور اقارب سے نرمی نہیں برتتا۔ شرائط بیعت کو توڑتا ہے۔ مجھے فی الواقع مسیح موعود اور مہدی معہود نہیں سمجھتا۔ امر معروف میں میری اطاعت نہیں کرتا۔ مخالفوں کی جماعت میں بیٹھ کر ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا۔ فاسق زانی شرابی خونی چور قمار باز خائن مرتشی ، غاصب ظالم دروغ گو، جعلساز اور ان کا ہم نشین اور اپنے بہن بھائیوں پر تہمت لگانے والا ، میری جماعت سے نہیں ہے اور تم ان زہروں کو کھا کر کسی طرح سے بچ نہیں سکتے۔ پھر (ص ٣٦) پر آپ کا ایک مکالمہ لکھا ہے جو کسی صلح کل سے ہوا تھا۔

مگر ان کا صحیح استعمال اسلام کے سوا کسی دوسرے طریق پر ممکن نہیں۔

ایک ہی راہ ہے جو اسلام ہے۔ کیونکہ اسی سے تزکیہ نفس اور یقین حاصل ہوتا ہے۔

ملنے کی راہ کو کہتے ہیں تو پھر اسے کیوں چھوڑا جا سکتا ہے۔

اسلام کے بغیر نہیں چل سکتا۔

صفحہ ٣٨٨

پیروی نہ رہی تو ایسا آزاد اگر نجات پائے گا تو وید کی تعلیم بیکار ہوئی۔ اگر نجات نہیں پائے گا تو یہ مقولہ درست نہ رہا۔

انجام مکذبین

غلام دستگیر قصوری، چراغ الدین جمونی، اسماعیل علی گڑھی، امریکن ڈوئی، فقیر مرزا دوالمیالوی، نور احمد بھڑی چٹھا، زین العابدین مولوی فاضل، حافظ سلطان سیالکوٹی، سکندر بیگ سیالکوٹی، رشید احمد گنگوہی، شاہ دین لدھیانوی، مولوی عبدالعزیز، مولوی محمد عبداللہ لدھیانوی، محمد حسن بھینوی، نذیر حسین دہلوی، رسل بابا امرتسری، عبدالرحمان لکھوکے، نور احمد و نور محمد ملتانی، عبدالمجید دہلوی، سعد اللہ لدھیانوی، فضل داد جنگلوی، سومراج و بھگت رام آریہ و اچھڑ چند قادیانی، ابوالحسن پنجگرائیں، فیض اللہ جنڈیالہ، عبداللہ آتھم، بابو الٰہی بخش ہلاک ہوئے مگر مولوی ثناء اللہ، پیر جماعت علی شاہ صاحب و پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی، فضل احمد لدھیانوی، عبدالحکیم سیالکوٹی، ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی، عبدالحق غزنوی، محمد حسین بٹالوی، جعفر زٹلی لاہور، ظفر علی خان لاہور ایڈیٹر زمیندار، سید حبیب ایڈیٹر سیاست، مولوی محمد علی صاحب مونگیری، مرتضیٰ حسین صاحب دربھنگوی وغیرہ کذب کے عذاب سے بچے رہے۔ اس لئے نظام دنیا کے ہر تغیر کو اپنی طرف منسوب کرنا کمال خوش فہمی ہوگی۔ پھر یہ تاویلیں کرنا کہ ان کا باطن خوفزدہ تھا یا انہوں نے دعاء کی منظوری نہیں دی تھی اور بھی تعجب خیز ہے۔ کیونکہ جب انسان اپنی بد دعاء سے آپ ہلاک ہوتا ہے تو مدعی صداقت میں کیا خوبی ہوئی۔ اس سے تو مسیح ایرانی ہی سخت جان نکلا کہ بغیر منظوری کے دشمن کے ہلاک ہونے کا ثبوت پیش کرتا تھا۔

مرزا قادیانی جب دنیا کو خیر باد کہنے لگے تو تین سال پہلے اپنا ایک وصیت نامہ شائع کر دیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”چونکہ خدا نے وحی کے ساتھ میری عمر کو جڑ سے ہلا دیا ہے۔ اس لئے وصیت کرتا ہوں کہ مجھے یہ وحی ہوئی ہے کہ تیرے متعلق ہم ایسی باتوں کا نام و نشان نہیں چھوڑیں گے جو (مخزیات) موجب رسوائی ہوں اور ایسے تمام اعتراضات دفع کریں گے جن سے تیری رسوائی ہوتی ہو۔ ہم قادر ہیں کہ مخالفین کے متعلق جو پیشین گوئیاں ہیں ان میں سے تمہیں کچھ

ہلائیں یا تجھے مار دیں تو اس حالت ایسے کھلے نشان ہمیشہ موجود رہیں گے ہوتی ہے۔ لوگوں کے پاس بیان کرنا مخزیات کے دو معنی ہیں۔ معلوم یہ کہ ایسی شرارت کرنے والوں سے اٹھا لیں گے اور صفحہ ہستی سے مٹا جائیں گے۔ اس کے بعد پھر الہام ہ جائے گی۔ یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا۔ ب کھانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا فتح ہوگی۔ توبہ کرنے والوں پر خدا ک طرف سے نذیر ہے۔ میں نے تجھے آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا اور و دیکھتے تو معلوم ہو جاتا کہ میں صد بھی رمضان میں ہوا ۔ طاعون اور قبول نہ کیا) میں تجھے اس قدر برک (آئندہ زلزلہ کے متعلق کہا کہ) پھر بہار (اس لئے زلزلہ شد محفوظ ہو۔ کئی آفتیں آئیں گی سلسلہ کو ترقی دے گا۔ کچھ میرے اور رسلی“ کا قاعدہ جاری ہے یہ ہے کہ ان کی صداقت کے نشا ہے۔ مگر تکمیل نہیں کراتا بلکہ ان دست قدرت سے جو کمی رہ گئی ہیں اور کئی مرتد بھی ہو جاتے ہی کے بعد عہد صدیقی میں ہوا تھا

صفحہ ٣٨٩

دکھلائیں یا تجھے مار دیں تو اس حالت میں فوت ہو گا کہ میں تجھ سے راضی ہوں گا اور ہم تیرے لئے کھلے کھلے نشان ہمیشہ موجود رکھیں گے۔ جو وعدہ کیا گیا وہ قریب ہے اپنے رب کی نعمت کا جو تجھ پر ہوئی ہے۔ لوگوں کے پاس بیان کر جو تقویٰ اختیار کریں خدا ان کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

مخزیات کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ رسوا کرنے والے اعتراضات ہم دفع کریں گے۔ دوم یہ کہ ایسی شرارت کرنے والوں کو جو شرارت اور بدذکر کرنے سے باز نہیں آتے ہم ان کو دنیا سے اٹھالیں گے اور صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے اور ان کی نابودگی سے اعتراضات خود بخود معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے بعد پھر الہام ہوا کہ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔ یہ ہوگا یہ ہوگا یہ ہوگا۔ بعد اس کے تمہارا واقعہ ہوگا۔ تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھانے کے بعد تمہارا حادثہ آئے گا۔ حوادث سے مراد موت اور زلزلہ قیامت کا نمونہ ہوگا۔ زندگی تلخ ہوگی۔ توبہ کرنے والوں پر خدا کا رحم ہوگا۔ راستوں کو کچھ غم نہیں اور نہ خوف۔ پھر کہا کہ تو میری طرف سے نذیر ہے۔ میں نے تجھے بھیجا تاکہ مجرم نیکوں سے الگ کئے جائیں۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا اور وہ بڑے زور آور حملوں سے اس کی تصدیق ظاہر کرے گا۔ (لوگ دیکھتے تو معلوم ہو جاتا کہ میں صدی کے سر پر ظاہر ہوا۔ ربع صدی چہار دہم بھی گزر گئی اور کسوف بھی رمضان میں ہوا، طاعون اور زلزلے بھی آئے اور آئیں گے۔ مگر دنیا کے پیاروں نے مجھے قبول نہ کیا) میں تجھے اس قدر برکت دوں گا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ (آئندہ زلزلہ کے متعلق کہا کہ)

پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی

(اس لئے زلزلہ شدید آئے گا مگر راست باز محفوظ رہیں گے) پس راست باز ہو تا کہ محفوظ ہو۔ کئی آفتیں آئیں گی۔ (مگر کچھ زندگی میں اور کچھ میری موت کے بعد) خدا میرے سلسلہ کو ترقی دے گا۔ کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد ہمیشہ سے ’’لاغلبن انا ورسلی‘‘ کا قاعدہ جاری ہے۔ (کہ خدا اور خدا کے رسول غالب رہیں گے) غلبہ رسل سے مراد یہ ہے کہ ان کی صداقت کے نشانات ظاہر ہوں۔ وہ صداقت کی تخم ریزی ان کے ہاتھ سے کراتا ہے۔ مگر تکمیل نہیں کراتا بلکہ ان کو وفات دے کر مخالفین کو طعن و تشنیع کا موقعہ دیتا ہے۔ اس کے بعد دست قدرت سے جو کمی رہ گئی ہو پوری کر دیتا ہے۔ اس لئے جماعت کے لوگ تردد میں پڑ جاتے ہیں اور کئی مرتد بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر وہ گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ جیسا کہ عہد رسالت کے بعد عہد صدیقی میں ہوا تھا۔ پھر ’’لیمکنن لہم دینہم‘‘ پورا ہوا (کہ ہم ان کے دین کو غالب

صفحہ ٣٩٠

کریں گے) حضرت موسیٰ بھی مصر اور کنعان کی راہ میں منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے وفات پا گئے تھے اور بنی اسرائیل چالیس روز تک روتے رہے۔ واقعہ صلیب کے وقت بھی حواری تتر بتر ہوگئے تھے اور ایک مرتد بھی ہو گیا تھا۔

قدرت ثانیہ

پس دو قدرتوں کا آنا ضروری ہوا اور دوسری قدرت جب تک میں ہوں ظاہر نہ ہوگی۔ اس لئے میرا جانا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق تمہارے ساتھ ہے۔ براہین میں ہے کہ اس جماعت کو قیامت تک غالب رکھوں گا جو تیرے پیرو ہیں۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا ہوں اور خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں۔ میرے بعد اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ سو تم خدا کی قدرت کے انتظار میں دعاء کرتے رہو۔ تا وہ آسمان سے نازل ہو۔ چاہئے کہ میری جماعت کے بزرگ نفس میرے نام پر میرے بعد بیعت لیں۔ خدا چاہتا ہے کہ نیک فطرتوں کو یورپ اور ایشیاء سے توحید پر جمع کرے۔ جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اور جب تک کوئی روح القدس پا کر کھڑا نہ ہو سب مل کر میرے بعد کام کرو۔ (چالیس آدمی جس پر اتفاق کریں وہ بیعت لے سکے گا۔ خدا نے کہا کہ تیری ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا۔ سو تم منتظر رہو۔ ممکن ہے کہ وہ اس وقت معمولی انسان ہو جیسا کہ ایک کامل انسان بھی پیش از وقت مضغہ اور علقہ ہوتا ہے) طہارت قلبی اور ہمدردی سے روح القدس کا حصہ حاصل کرو۔ کیونکہ اس کے سوا تقویٰ حاصل نہیں ہوتا۔ خدا کی رضا میں تنگ راہ اختیار کرو۔ اگر تم اس کے قریب آ جاؤ تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور کوئی دشمن تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور تم راست بازوں کے وارث بن جاؤ گے۔ جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں۔

حصول نبوت

خدا نے کہا ہے کہ تقویٰ ایک درخت ہے جو دل میں لگانا چاہئے وہ جڑ ہے اگر وہ نہیں تو کچھ نہیں۔ اگر وہ ہے تو سب کچھ ہے۔ وہ ہلاک ہے جو دین کے ساتھ دنیا کی ملونی رکھتا ہے۔ ورنہ وہ کیڑوں کی طرح ہلاک ہو جائے گا۔ اگر تم میں خدا نہیں تو تمہیں ہلاک کر کے خوش ہوگا۔ اگر تم نفس سے مر جاؤ گے تو خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے اور تمہاری حرکت و سکون خدا کے لئے ہو جائے گی۔ توحید کا اقرار عملی طور پر کرو کہ خدا بھی عملی طور پر احسان ظاہر کرے۔ کینہ وری چھوڑ کر بنی نوع کی ہمدردی اختیار کرو۔ قرب الہی میں داخل ہو جاؤ۔ اچھا موقعہ ہے یہ خیال نہ کرو کہ تم

صفحہ ٣٩١

ضائع ہو جاؤ گے۔ کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا پھولے گا اور اس کی شاخیں پھیلیں گی۔ مبارک وہ ہے جو مصائب سے نہ ڈرے۔ کیونکہ ان کا آنا ضروری ہے اور صابر اخیر میں فتح یاب ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ جو لوگ ایسا ایمان لائے جس میں دنیا کی ملوثی نہیں نفاق اور بزدلی سے بھی آلودہ نہیں اور اطاعت سے محرومی نہیں ایسے لوگ پسندیدہ ہیں۔ تم خدا کے ہو جاؤ۔ شریک نہ لاؤ۔ وہ زندہ ہے اب بھی بولتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بولتا تھا وہ تمثیل کے طور پر اپنے تئیں اہل کشف پر ظاہر کرتا ہے۔ غیر متشکل اور غیر مجسم عرش پر ہے۔ زمین پر بھی ہے۔ منبع جمیع صفات کاملہ ہے۔ منزہ عن العیوب ہے۔ اپنے تئیں نشانات سے ظاہر کرتا ہے اور راست بازوں پر ہمیشہ وجود ظاہر کرتا ہے۔ نادان ہے وہ جو اس کی قدرتوں سے منکر ہے اور اندھا ہے وہ جو اس کی عمیق طاقتوں سے بے خبر ہے۔ وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ بغیر ان امور کے جو اس کی شان کے خلاف ہیں۔ اس کی طرف پہنچنے کا صرف ایک ہی دروازہ قرآن مجید ہے۔ باقی نبوتوں اور کتابوں کی الگ پیروی کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ کیونکہ نبوت محمدیہ ان سب پر حاوی ہے۔ اس لئے اس پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور یہ نبوت فیض رسانی میں قاصر نہیں۔ اس کی پیروی خدا سے مکالمہ تک پہنچادیتی ہے۔ مگر اس کا کامل پیرو صرف نبی (یعنی مستقل نبی) نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ نبوت تامہ محمدیہ کی اس میں ہتک ہے۔ ہاں امتی اور نبی دونوں لفظ اس پر صادق آسکتے ہیں اور اس میں اس کی کوئی ہتک نہیں۔ بلکہ اس کے فیضان سے اس کی چمک اور زیادہ ہو جاتی ہے۔ (نبوت تشریعی کا دروازہ حضور ﷺ کے بعد بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد کوئی اور کتاب نہیں جو اسے منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے) جب انسان کا مکالمہ خدا سے مکمل ہو جاتا ہے تو نبوت کے خطاب سے موسوم ہو جاتا ہے۔ جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔ یہ ممکن نہ تھا کہ خیر الامم اس مرتبہ عالیہ سے محروم رہ جاتی اور فیضان نبوت بند ہو جاتا۔ اس لئے نقائص کے رفع کرنے کے لئے خدا نے یہ شرف ایسے افراد کو بخشا جو فنا فی الرسول ہوگئے اور کوئی حجاب نہ رہا اور امتی بننے کا مفہوم اور پیروی کا معنی اتم اور اکمل درجہ پر ان میں پایا گیا۔ ایسے طور پر کہ ان کا وجود اپنا وجود نہ رہا۔ بلکہ ان کی محویت کے آئینہ میں حضور کا وجود منعکس ہوگیا اور دوسری طرف مخاطبہ الہیہ اور مکالمہ اتم اور اکمل طور پر نبیوں کی طرح ان کو نصیب ہوا۔ پس اس طرح بعض افراد نے باوجود امتی ہونے کے نبی کا خطاب پایا۔ یہی اس فقرہ کا معنی ہے کہ: ”المسیح نبی اللہ امامکم منکم“ یعنی وہ نبی بھی ہے اور امتی بھی۔ مسیح ناصری مر چکے ہیں۔

صفحہ ٣٩٢

وفات مسیح

آیت توفی میں مذکور ہے کہ خدا قیامت کو آپ سے پوچھے گا کہ تم نے یہ شرکیہ تعلیم (تثلیث پرستی) دی تھی؟ تو وہ جواب دیں گے کہ میں جب تک ان میں رہا ان کا نگہبان تھا۔ اب وفات کے بعد مجھے کیا علم تھا کہ وہ کس ضلالت میں مبتلا ہوئے۔ اب اگر کوئی چاہے تو یہ معنی کرے کہ جب تو نے مجھے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا۔ مگر نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے ورنہ یہ ممکن نہیں کہ خدا کے سامنے اتنا بڑا جھوٹ بولیں گے۔ کیا جو شخص دوبارہ دنیا میں آئے اور چالیس برس عیسائیوں سے لڑائی کرے تو نبی کہلا کر ایسا جھوٹ بول سکتا ہے۔ اگر وہ نہیں اتریں گے تو کیا ان کی قبر آسمان پر بنے گی؟ جو "فیہا تموتون" کے خلاف ہے۔ اب کتاب اللہ کی مخالفت نہیں تو اور کیا ہے؟ میں نہ آیا ہوتا تو یہ غلطی قابل معافی تھی۔ مگر جب قرآن کے معانی کھل گئے تو غلطی کو نہ چھوڑنا ایمانداری کا شیوہ نہیں ہے۔ زمین و آسمان میں میرے نشان ظاہر ہو چکے ہیں تو اب بھی حق کو قبول نہ کرنا سخت دلی ہے۔ نشان ابھی ختم نہیں ہوئے۔

صداقت کے نشان اور زلزلے

٤؍ اپریل ١٩٠٥ء کو جو زلزلہ میری پیشین گوئی کے مطابق آیا تھا۔ اس کے بعد اور زلزلوں کی خبر مجھے دی گئی ہے کہ بہار کے موسم میں ایک اور زلزلہ آنے والا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ بہار کا آغاز ہوگا یا درمیان یا اخیر۔ چونکہ اخیر جنوری سے پتے نکلنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لئے جنوری سے اخیر مئی تک بہار کے دن ہوں گے۔ (اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ بہار سے مراد کون سی بہار ہے۔ بہر حال بہار کا ہونا ضروری ہے خواہ کوئی ہو) یہ بھی الہام ہوا:

لئے ہم نشانات دکھلائیں گے اور عمارتیں بناتے ہیں ان کو گراتے جائیں گے)

و بالا کر دے گا۔ جیسا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا)

کیونکہ گناہ حد سے بڑھ گیا ہے اور لوگ دنیا سے پیار کر رہے ہیں اور خدا کی راہ بنظر تحقیر دیکھتے ہیں)

صفحہ ٣٩٣

ایک امر آسمان سے اترے گا۔ جس سے تو خوش ہو جائے گا اور ضرور ہے کہ آسمان اس کے نازل کرنے سے رکا رہے۔ جب تک یہ پیشین گوئی شائع نہ ہو جائے)

کون ہے جو ہماری باتوں پر ایمان لائے۔ بجز اس کے جو خوش قسمت ہو۔ ہماری نیت ان (چھ) الہاموں سے موت نہیں بلکہ بچاؤ ہے جو توبہ کریں گے بچ جائیں گے۔ مگر جو شوخی کرتا ہے وہ گناہ نہیں چھوڑتا۔ اس کی ہلاکت قریب ہے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ خدا نے میری وفات کی خبر دے دی ہے کہ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ تمام حوادث اور عجائبات قدرت دکھلانے کے بعد تیرا حادثہ آئے گا۔ پس ضرور ہے کہ میری وفات سے پہلے دنیا میں کچھ حوادث پڑیں تاکہ دنیا انقلاب کے لئے تیار ہو جائے۔

بہشتی مقبرہ

پھر میری وفات جو مجھے میری قبر کی جگہ دکھلائی گئی ہے۔ جو چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی مٹی تمام چاندی کی تھی اور کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے۔ ایک اور جگہ دکھائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا کہ اس میں بہشتیوں کی قبریں ہیں۔ تب سے مجھے فکر تھی کہ ایک قطعہ زمین قبرستان کے لئے خریدا جائے۔ مگر چونکہ موقعہ کی زمین زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ اس لئے یہ امر ملتوی رہا۔ جب مولوی عبد الکریم کی وفات کے بعد میری وفات کی خبر آئی تو بہت جلد انتظام کرنا پڑا اور اپنی ملکیت کی زمین جو ہزار روپیہ سے کم نہیں اور میرے باغ کے قریب ہے اس کے واسطے تجویز کرلی۔ میری دعا ہے کہ خدا اسی کو بہشتی مقبرہ بنائے اور میری جماعت میں سے ان لوگوں کی خوابگاہ ہو کہ جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم سمجھا ہے اور ان میں پاک تبدیلی آگئی ہے اور صحابہ کی طرح صدق اور وفاداری کا نمونہ ہیں۔ اے میرے خدا میری جماعت میں سے ان لوگوں کی قبریں بنا جو تیرے لئے ہو چکے ہیں۔ ان کو صرف یہ جگہ دے جو تیرے اس فرستادہ پر سچا ایمان رکھتے ہیں اور کوئی نفاق اور بدظنی اور غرض نفسانی اپنے اندر نہیں رکھتے۔ (بدظنی آگ کی طرح ایمان کو کھا جاتی ہے جو خدا کے مرسلوں پر بدظنی کرتا ہے خدا اس کا دشمن بن جاتا ہے۔

چنانچہ مجھے فرمایا کہ میں رسول کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں اور جو اسے برا جانتا ہے میں

صفحہ ٣٩٤

بھی اسے برا جانتا ہوں ۔ میں تجھے وہ دوں گا جو تیرے لئے آسمان پر رتبہ بڑھائے اور ان لوگوں میں جو دیکھتے ہیں ۔ لوگوں نے کہا کہ تو اسی مقبرہ میں مفسدوں کو جگہ دے گا۔ نہیں میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ جلدی نہ کرو خدا کا حکم آچکا ہے۔ ڈرو مت۔ رسول نہیں ڈرتے۔ یہ بشارت ہے جو انبیاء نے حاصل کی تھی۔ اے میرے احمد تو میری مراد ہے اور تو میرے ساتھ ہے تو میری توحید وتفرید کی جگہ ہے اور تو میرے ہاں اس مرتبہ میں ہے کہ لوگ اسے نہیں جانتے ) یہ مقبرہ ان کے لئے ہے جو تیرے لئے اپنی جان قربان کر چکے ہیں ۔ تیری محبت میں کھوئے گئے ہیں اور تیرے فرستادوں سے وفاداری ادب کامل اور انشراح ایمان سے محبت اور جانفشانی کا تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ صرف بہشتی مقبرہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے متعلق یہ بھی الہام ہوا ہے کہ: ”انزل فیھا کل رحمۃ “ (یعنی کوئی ایسی رحمت نہیں کہ جس میں سے اس کو حصہ نہیں ملا) اس لئے میرا دل بذریعہ وحی خفی اس طرف متوجہ ہوا ہے کہ چار شرطیں لگا دوں۔

اعلاۓ کلمہ توحید ہوگا۔ ایک ہزار روپیہ کی زمین دے چکا ہوں اور ایک ہزار روپیہ کی اور زمین بھی اس میں شامل کرنا ہے اور ایک ہزار روپیہ پل بنوائی اور درخت لگوائی کے لئے بھی درکار ہے۔ تو یہ حکیم نور الدین کے پاس جمع رہے گا اور میرے مرنے کے بعد ایک جماعت کے قبضہ میں دیا جائے۔ جو اشاعت توحید پر خرچ کرتی رہے۔

لکھ دے جو تبلیغ احکام قرآن اشاعت اسلام پر ، پرورش ایتام و مساکین اور نو مسلموں کی امداد اور باقی مصالح اسلام پر خرچ ہوگا۔ جن کی تفصیل قبل از وقت مشکل ہے اور یہ جائز ہوگا کہ انجمن اس کو ترقی دینے کے لئے تجارت میں خرچ کرے اور مجھے خطرہ ہے کہ کثرت اموال کی وجہ سے کہیں تم دنیا سے پیار نہ کرنے لگ جاؤ۔

مسلمان ہو۔

جاوے۔ داخل کیا جائے گا اور ہدایات مفصلہ ذیل بھی واجب التعمیل ہیں۔

اخبارات میں اس کا شائع کر

سے لاش نکالنا مناسب نہیں نہیں بناتا۔ بلکہ بہشتی اس میں اس کی اشاعت کرو۔ آئندہ کی بدگوئی پر صبر کرو۔

تنقیدات

اس میں شک مگر جو دلائل دیئے ہیں وہ

ورنہ اہل اسلام کے نزدیک مسیح علیہ السلام نبی اللہ التفات نہیں۔

ہیں۔ کیونکہ خیرالقرون ہاں شطحیات صوفیاء میں نظر آتے ہیں۔ مگر تا ہم ناجی اور ناپاک قرار د بیانات امت محمدیہ کے کہ مشرک بن گئے اور اسلام کو بھگتنا پڑتا ہے مرزا قادیانی نے یادو رجعت اور شرک فی

صفحہ ٣٩٥

اخبارات میں اس کا شائع کرنا ضروری ہوگا۔

سے لاش نکالنا مناسب نہیں۔ (یہ بدعت نہ سمجھو کیونکہ یہ وحی الٰہی کا حکم ہے اور یہ مقبرہ کسی کو بہشتی نہیں بناتا۔ بلکہ بہشتی اس میں آتے ہیں) اللہ کا ارادہ ہے کہ ایسے تمام آدمی اس میں یکجا جمع ہوں۔ اس کی اشاعت کرو۔ آئندہ نسلوں کے لئے اسے محفوظ رکھو اور مخالفین کے لئے بھی تبلیغ کرو اور بدگو کی بدگوئی پر صبر کرو۔

(غلام احمد ٣٠/ دسمبر ١٩٠٥ء)

تنقیدات

اس میں شک نہیں کہ مسیح قادیان نے اپنے آپ کو انبیاء کی صف میں لاکھڑا کر دیا ہے۔ مگر جو دلائل دیئے ہیں وہ اہل اسلام کے نزدیک مخدوش ہیں۔ کیونکہ:

ورنہ اہل اسلام کے نزدیک تو یہ معنی تھا کہ امام مہدی علیہ السلام امت محمدیہ میں سے ہوں گے اور مسیح علیہ السلام نبی اللہ نازل ہو کر چالیس سال حکومت کریں گے۔ اس لئے یہ تحریف قابل التفات نہیں۔

ہیں۔ کیونکہ خیر القرون میں بھی کوئی ایسا تابع کامل نہیں پایا گیا کہ جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ ہاں شطحیات صوفیاء میں ایسے بیانات ضرور پائے جاتے ہیں کہ جن میں وہ مظہر رسالت کے مدعی نظر آتے ہیں۔ مگر تاہم ان کو یہ حوصلہ نہیں پڑا کہ اپنی نبوت کسی سے منوائیں اور اپنے منکر کو کافر غیر ناجی اور ناپاک قرار دیں۔ کیونکہ شطحیات صوفیاء کو اسلام میں دخل نہیں ہوتا اور اس طرح کے بیانات امت محمدیہ کے لئے فتنہ ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہی کئی لوگ پیر پرستی میں ڈوب کر مشرک بن گئے اور کئی ایک جاہل اپنے پیر کو خدا تک اڑا لے گئے۔ جن کا خمیازہ آج تک اہل اسلام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ وحدت وجودی بروز رسالت فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول کا یہ مطلب جو مرزا قادیانی نے یا دوسرے ناعاقبت اندیش صوفیاء نے پیش کیا ہے۔ محققین اسلام نے اس کو تناسخ رجعت اور شرک فی الرسالۃ یا شرک فی الالوہیۃ قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس قسم کی باتیں اسلام کے

صفحہ ٣٩٦

علاوہ ہندوؤں، یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ کے تصوف میں بھی مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں اور وہ بھی اوتار اور مظہر الٰہی بن کر اپنی پوجا کراتے ہیں۔ بہاء اللہ اور باب نے بھی اسی قسم کی بے ثبوت باتیں پیش کر کے اپنے آپ کو مظہر الٰہی مظہر نبوت اور مظہر امامت پیش کیا تھا اور مرزا قادیانی بھی وہی چال چلے ہیں تو اب اگر مرزا قادیانی ان لایعنی باتوں سے نبی بن سکتے ہیں تو بہاء اللہ وغیرہ بھی نبی بلکہ امام الزمان اور مظہر الٰہی بننے کے حقدار ہیں۔

خیر الامم کا خطاب نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ اسی دلیل سے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر مخلوق الٰہی میں سے کوئی درجہ الوہیت تک نہ پہنچ جائے تو اس کو احسن تقویم کا خطاب نہیں مل سکتا اور نہ ہی یوں کہا جاسکتا ہے کہ ”ان اللہ خلق آدم علیٰ صورتہ“ اصل بات یہ ہے کہ امت محمدیہ کو خیر الامم کا خطاب قرآن مجید کی رو سے اس لئے دیا گیا ہے کہ اس کا ہر ایک فرد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قرار دیا گیا ہے اور اس لئے بھی کہ یہود ونصاریٰ کے باہمی مناقشات کو رفع کر کے اس کو تعلیم دی گئی ہے کہ انبیائے سابقین پیش کردہ قرآن شریف کو بنظر تحسین دیکھ کر تصدیق کرے اور اس لئے بھی اسے خیر الامم کہا گیا ہے کہ خیر المرسلین کی امت ہے اور امۃ وسط کا طغرا بھی اس کے سر پر ہی چمک رہا ہے اور اس لئے بھی کہ اس میں ایسے اہل علم کا ہونا قرار پایا ہے جو تبلیغی امور میں وہی کام کرتے ہیں جو پہلے نبی کرتے تھے۔

خدا سے کامل مکالمہ کا شرف حاصل کرتا ہے اور جس میں یہ دونوں صفات موجود ہو جائیں وہ نبی بن جاتا ہے۔ یہ سب خیالی باتیں ہیں۔ ان کا ثبوت قرآن وحدیث سے نہیں ملتا اور نہ ہی واقعات اس کی تائید کرتے ہیں۔ انہی خیالی اصول پر تو بہاء اللہ اور باب کی مخالفت کی گئی تھی۔ مرزا قادیانی نے بھی آخری چکمہ دے کر اپنی نبوت منوانے کی ٹھان لی۔ اب اہل علم کے لئے یہ مشکل ہے کہ وہ کس دلیل سے ایک کو جھوٹا کہیں اور دوسرے کو سچا۔

میں یہ وہی بات ہے جو بہاء اللہ نے کہی تھی کہ نبوت ایک حقیقت ہے۔ بار بار اسی ایک کا ظہور ہوتا ہے اور نام بدلتے رہتے ہیں۔ یہی ظہور شیعہ کے نزدیک رجعت کے نام سے پکارا جاتا ہے اور

صفحہ ٣٩٧

مرزائی تعلیم میں قدرت ثانیہ کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے اور ہندو اسی کو اوتار کہتے ہیں اور اہل تناسخ اسی طرز پر تناسخ کا ثبوت دیتے ہیں۔ مگر اسلام ان سب کے مخالف ہے۔ کیونکہ عہد رسالت سے کوئی ایسی تصریح موجود نہیں ہے کہ جس میں حضور ﷺ نے خود بھی کہا ہو کہ میں بطور رجعت یا بروز اور قدرت ثانیہ بن کر آؤں گا۔ کیا حضور ﷺ سے بڑھ کر کوئی دعویدار ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ لوگوں نے اپنی طرف سے ایچ پیچ لگا کر قرآن وحدیث سے بروز یا رجعت اور تناسخ کا ثبوت دے دیا ہے۔ لیکن ایسی تشریحات کے یہ لوگ خود ذمہ دار ہیں اسلام جواب دہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایسے محرف پیدا ہوتے ہیں تو اصل اسلامی تعلیم پر قائم رہنے والے ہر طرف سے ان کی تردید پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

.......٦....... بہشتی مقبرہ کی زمین واقعی چاندی کی ہے۔ کیونکہ بہت قیمت پر بکتی ہے اور امیدوار کو دو بالشت چوڑی اور اڑھائی گز لمبی زمین معہ کتبہ ملتی ہے۔ جس کی قیمت کم از کم جائیداد کا عشر (دسواں حصہ) ہوتا ہے اور جن کی لاش وہاں نہیں پہنچتی ان کا کتبہ لکھ کر نصف قبری زمین پر لگا دیتے ہیں اور سب قبریں ایک قطار میں آپ کے رشتہ دار اور خلفاء کا داخلہ ہوتا ہے۔ چاروں طرف دیوار اٹھائی گئی ہے۔ مسیح کی قبر پر بھی ایک کتبہ لکھا ہوا ہے۔ گنبد کسی پر نہیں، چار دیواری میں مغرب کی طرف صرف ایک دروازہ ہے۔ جس میں مرزائی داخل ہو کر قبر مسیح پر ”اللهم صل علی عبدك المسيح “ پڑھتے رہتے ہیں۔ مقبرہ کے چاروں طرف چار مربعہ کنال میں زیبائشی پودے لگے ہوئے ہیں۔ مغربی مربعہ قبروں سے آباد ہوچکا ہے۔ مشرقی مربعہ نصف تک آباد ہو رہا ہے۔ جنوبی اور شمالی دو مربعے ابھی خالی پڑے ہیں۔

دوسری خلافت تک ابھی سارا مقبرہ پر نہیں ہوا۔ ناظرین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کس قدر قبر فروشی سے آمدنی کی توقع ہوسکتی ہے۔ مقبرہ کے مغرب میں آموں کا باغ ہے جس میں مرزا قادیانی معہ خاندان کے چہل قدمی کیا کرتے تھے۔ جس کے جنوب میں پرانی وضع کے ایک دو کمرے بھی کھڑے ہیں۔ جن میں آپ استراحت فرمایا کرتے تھے۔ اب یہ مقامات مقدسہ میں شامل ہیں۔ معلوم نہیں اس باغ کے آم کس تقدس سے فروخت ہوتے ہوں گے؟ کیونکہ تہ زمین میں بہشت دفن شدہ بتایا جاتا ہے۔ بہرحال یہ قبر فروشی ایک ایسی تجارت ہے کہ جس سے وہ جوہڑ کا کنارہ جو کسی وقت بالکل ویران پڑا ہوا تھا۔ سونے سے تل کر بک رہا ہے۔ مگر اس کی نظیر کسی نبی کے

صفحہ ٣٩٨

مقبرہ میں نہیں ملتی ۔ کیونکہ ان کے ہاں جنت صرف اعمال صالحہ سے ملتا تھا۔ مگر اب جنت فروشی کا وقت آگیا ہے۔ مالدار کے سوا کون لے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقبرہ کے مشرقی طرف دو سو قدم کے فاصلہ پر شمال سمت میں غریب مرزائیوں کا قبرستان بری حالت اور سادہ منظر میں چراغ وگل تیار کیا ہوا ہے۔ جس میں ابھی آبادی بہت کم ہے اور اس کے جنوب میں لاہوری پارٹی کا قبرستان ہے جو بالکل ہی کم آباد ہے۔ کیونکہ ان کی جنت فروشی نہیں چل سکی۔

اور شرکیہ استمداد اور عورتوں کی نذر نیاز تک پہنچ چکی ہے۔ چند برس کے بعد باقاعدہ طور پر اس بت کی پوجا شروع ہو جائے گی ۔ کیونکہ گدی نشین دوسری تیسری پشت میں صرف شکم پرور ہی رہ جاتے ہیں۔ سالانہ میلہ ٢٧، ٢٨، ٢٩ دسمبر کو بلاناغہ بڑی شدومد سے لگتا ہے۔ جس میں گدی نشین کو چڑھاوے بہت ملتے ہیں اور نذرونیاز کا تو کچھ اندازہ ہی نہیں۔

خوش کرنے کے لئے دسمبر میں ہی کیا کرتے تھے اور اس وقت گویا وہ زندہ پیر کا عرس تھا اور اب مردہ مسیح کا عرس بن گیا ہے۔ مگر دوسرے مزاروں کی طرح اس مزار کے اردگرد ایصال ثواب کے لئے نہ تلاوت کلام اللہ کا اہتمام کیا گیا ہے نہ وضو اور طہارت بدنی کے لئے مسجد حوض اور سبیل کا انتظام ہے۔ بلکہ دور سے ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا قبرستان ہے۔ وہی ترتیب وہی درخت وہی قبریں کھودی ہوئیں موجود اور وہی قبروں کی قطاریں اور وہی پتھر کے کتبے اور ہونا بھی یونہی چاہئے تھا۔ کیونکہ آخر وہ عیسٰی ابن مریم تھے اور اپنے مریدوں کو بنی اسرائیل یعنی یہودی کہہ چکے تھے۔ مقبرہ میں اگر عیسائیت کا بروز نہ ہوتا تو وہ عیسٰی کیسے رہ سکتے تھے۔ ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دیسی عیسائی ہیں اور وہ ولائتی ۔

رہنا چاہئے کہ دین سے مراد شریعت مسیحی ہے۔ جس کے سامنے شریعت محمدیہ عملی طور پر مؤخر کی جاتی ہے۔ ١٩٣٤ء میں ان کا عرس رمضان شریف کے پہلے ہفتہ میں منایا گیا تھا۔ ایام عرس میں سب مرزائی تارک صوم تھے۔ کیونکہ بیرونی مہمان مسافر تھے۔ جن کے متعلق شریعت مسیحائی کا حکم تھا کہ کوئی روزہ نہ رکھے اور باشندگان قادیان چونکہ مصروف مشاغل عرس تھے۔ اس لئے ان کی افطاری

صفحہ ٣٩٩

بھی ضروری تھی۔ سنن ونوافل سب بالائے طاق فرائض تھے تو وہ بھی نصف یا پانچوں وقت کے ایک دفعہ ہی ادا کئے جاتے تھے۔

قادیان ارض حرم بن جاتی ہے۔ تیسری شب کو پنڈال میں خلیفہ خطبہ دیتا ہے اور سب اپنی اپنی حاجات کی درخواستیں پیش کرتے ہیں اور دیر تک اہل کنیسہ کی طرح بیٹھ کر میز کرسی لگائے ہوئے دیر تک دست بدعا رہتے ہیں۔ گویا پنڈال میدان عرفات کا بروز ہوتا ہے۔ جس میں مرزائی داخل ہو کر حاجی ہونے کی بجائے فدوی کا خطاب حاصل کر لیتے ہیں اور محمد علی باب کی سنت زندہ کر کے اپنے آپ کو بابیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

میں تقریبا تیس ہزار آدمی کی خوراک ان دنوں تیار ہوتی ہے جس کے لئے فراہمی چندہ کی کفالت کافی ہو جاتی ہے۔ خلیفہ صاحب اپنی زیارت گاہ میں بیٹھ کر نذرانے وصول کرتے ہیں اور پہلی تقریر میں مزید چندہ کی اپیل سناتے ہیں اور آخری تقریر کے بعد دعاء سے جلسہ برخاست ہوتا ہے۔ ایام حج کی طرح ان دنوں مخالفین کو بھی کشادہ پیشانی سے ملتے ہیں اور ہر ایک کو موقعہ دیا جاتا ہے کہ قادیانیت کے اثرات سے بہرہ ور ہو کر داخل بیعت ہو سکے۔

قاسم علی کے ماتحت ہے۔ ”النور“ محمد یوسف کے ماتحت شائع ہوتا ہے۔ ”المصباح“ عورتوں کے لئے مخصوص ہے۔ لاہوری پارٹی نے صرف ”پیغام صلح“ جاری کر رکھا ہے۔

کیا گیا ہے اور اس کی بجائے ”تشحیذ الاذہان“ سکول کی طرف سے ایام تعلیم میں خلیفہ نے جاری کیا تھا جو اب تک جاری ہے۔ ”ریویو اوف ریلیجنز“ مسلسل چل رہا ہے جس میں تمام مذاہب پر تنقید کی جاتی ہے۔ لاہوریوں نے اس کے مقابلہ پر ”لائٹ“ ماہواری جاری کیا ہوا ہے۔

میں کھڑے سمجھ کر چاروں طرف نظر دوڑائیں۔

صفحہ ٤٠٠

نقشہ شہر مکہ پنجاب قادیان

اس نقشہ ......ا۔ ......☆ ......☆ ......☆ ......٢ ......☆ ......☆ ......☆ ......☆ ......☆ ......٣ بالکل پرانی وضع منظور ہو جائے گی نذر و نیاز بھی پیش ہے۔ اس کے ا قادیان سمجھی جا کو مرید خاک کو لوگ آب ز لیکن ابھی تک ہے...... الا مرزا قادیانی بہت سا روپیہ بعد پہلی خلافت

مشرق سڑک پٹھانکوٹ و دھرمسالہ سڑک ہریانہ سڑک دیہات جنرل سڑک شمال سڑک بٹالہ جلسہ گاہ سالانہ دفتر نظارت علیا و غیرہ محلہ دارالرحمت محلہ دارالانوار محلہ دارالفضل منارۃ المسیح مسجد اقصیٰ دفتر خلافت گول کمرہ لنگر خانہ دارالضیافت باغ حضرت خلیفہ جنوب سڑک ریلوے سٹیشن محلہ دارالعلوم مدرسہ احمدیہ نور ہسپتال بہشتی مقبرہ مغرب

صفحہ ٤٠١

اس نقشہ کے متعلق تفصیلات ذیل ملاحظہ ہوں۔

بالکل پرانی وضع کا اب تک موجود ہے۔ اس کے متعلق الہام ہے کہ جو شخص یہاں آ کر دعا کرے گا منظور ہو جائے گی۔ خاص خاص مریدوں کو وہاں جانے کی اجازت ملتی ہے۔ بقول شخصے وہاں کچھ نذر و نیاز بھی پیش کرنی پڑتی ہے۔ کمرے کے درمیان ایک چھوٹا سا ستون اینٹوں کا بنا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے اوپر لکڑی کا ایک ٹب پڑا ہوا ہے اس میں مٹی پڑی ہوئی ہے۔ جو خاک شفائے قادیان سمجھی جاتی ہے۔ واپسی کے وقت اس میں سے تھوڑی سی مقدار تبرکاً عنایت ہوتی ہے۔ جس کو مرید خاک شفا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کبھی اس ٹب میں پانی بھر دیتے ہیں اور اس پانی کو لوگ آب زم زم کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ کبھی خشک مٹی الگ رکھتے ہیں اور پانی الگ۔ لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس مٹی اور پانی کا مطلب کیا ہے؟

ہے۔ تعلیم الاسلام ہائی سکول کی مسجد نور ہے اور قادیان کو دمشق کا خطاب دیا جاتا ہے۔ خود مرزا قادیانی مسیح ہیں۔ آپ کی امت بنی اسرائیل یعنی یہودی اور عیسائی ہیں۔

بہت سا روپیہ صرف ہوا۔ زمین سے دو تین گز کی بلندی تک پہنچا کہ آپ انتقال فرما گئے۔ آپ کے بعد پہلی خلافت میں مکمل کر دیا گیا۔ دوسری خلافت نے اس پر کلاک لگایا اور سنگ مرمر کے پلستر

صفحہ ٤٠٢

سے اس کو المنارۃ البیضاء شرقیہ دمشق یعنی قادیان کا سفید منارہ بنادیا اور یہ مینار اندرونی سیڑھیوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ عموماً اذان اسی کے اوپر چڑھ کر دی جاتی ہے اور یہ اپنی قد و قامت میں ترن تارن کے مینار سے کم نہیں۔ یہ اس لئے نصب کیا گیا ہے کہ قادیان دور سے معلوم ہو اور مرزا قادیانی کے مقامات مقدسہ کا دور سے ہی پتہ چل جائے۔ بقول شخصے اپنی ترقی کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ گویا دوسری خلافت میں مرزائیت پایۂ تکمیل تک پہنچ چکی ہے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ مسیح خود مینار بنائے گا۔ کیونکہ اس پیشین گوئی سے یہ مطلب ہے کہ مسیح ایک نورانی جگہ میں پیدا ہوگا۔

(خوب بہت خوب)

عرض میں واقع ہے۔ جس میں تمام بستی کی گندگی گرتی ہے اور تعفن اس قدر ہے کہ گویا وہ نہر غسلین یا نہر غساق ہے جو قادیان کو مشرق جنوب اور مغرب سے محیط ہے۔ شمال سے بھی محیط تھی۔ مگر اب وہاں بھرتی ڈال دی گئی ہے۔ گویا یہ دوزخ ہے جس پر پختہ پل باندھا گیا ہے اور پل کی سڑک کو وسیع کر کے رہائشی مکان بھی اہل اعراف کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔ نو وارد پل صراط سے گزرتا ہے تو ناک بند کر کے گزرتا ہے۔ مگر وہاں کے اصحاب النار اس تعفن کے عادی ہو چکے ہیں۔ اسے عبور کر کے آموں کے باغ دیکھو گے اور بائیں طرف مڑ کر بہشتی مقبرہ پاؤ گے۔

ہوتے ہوئے بہشتی مقبرہ تک نصف دائرہ کا چکر کاٹ چکے ہیں تو اس نصف دائرہ کے مرکز میں خالی میدان پڑا ہوا ہے۔ جس میں مہاجرین زمین کے ٹکڑے خرید خرید کر انگریزی طرز پر مکان بنا رہے ہیں۔ بستی اور اسٹیشن کے درمیان اسی حصہ کے اندر دو چار سڑکیں تعمیر ہو چکی ہیں۔ جن میں مہاجر رہتے ہیں۔ یا مہاجرین کی صنف نازک کی بود و باش ہے جو مدرسۃ البنات میں داخل ہیں۔ صبح سیر کو نکلو تو صنف نازک اپنے بنگلوں سے نکل کر مشرق کی طرف کھیتوں میں دور تک سیر کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور واپسی کے وقت مزار مسیح کی زیارت اور پرستش سے فارغ ہو کر برقعہ پوش لشکر کی صورت میں نظر آتی ہے۔ جس میں حرم سرا کا برقعہ سیاہ فام ہوتا ہے اور باقی سفید رنگ ہوتے ہیں اور اندرون پردہ نیو فیشن کے نشان ملتے ہیں۔ سیر کے بعد خلیفہ صاحب ایک بڑے ہال میں صنف نازک کو بر ملا قرآن کی تعلیم دیتے ہیں اور باقی تعلیم استانیوں کے سپرد ہے۔ جس کا انتظام میر قاسم علی کرتے ہیں۔

صفحہ ٤٠٣

وطلاق کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ باقی ایام میں محکمہ قضاء الگ کھلا رہتا ہے۔ جس میں خلیفہ کی زیر نگرانی قاضی جھگڑے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ نئی آبادی کی خرید وفروخت کا محکمہ بھی اسی قضاء خانہ کی ایک شاخ ہے جو مرید قطعہ اراضی خرید کرتا ہے۔ اس سے قیمت وصول کر کے یہ شرط لکھا لیتے ہیں کہ کسی غیر احمدی کے پاس یہ جائیداد فروخت نہ ہوگی۔ بہرحال کسی دن یہ حارة المہاجرین قادیان کو ایک شہر کی حیثیت میں لے آئے گا۔

١٩....... مسیح قادیانی کی وفات

یہ مسئلہ آج تک طے نہیں ہوا کہ مسیح قادیانی کی موت کیوں ہوئی؟ مخالفین کے نزدیک ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کی پیشین گوئی یا پیر سید جماعت علی شاہ علی پوری قبلہ کی بدعاء کارگر ہوئی تھی اور یا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مباہلہ رنگ لایا تھا۔ مگر آپ کے مرید کہتے ہیں کہ آپ کو خود اس طرح کے الہام ہو چکے تھے کہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو وفات ہو جائے گی۔ چنانچہ ریویو نمبر ٦، ٧ جلد سوم میں خلیفہ محمود نے بعنوان ”مسیح موعود کے دشمنوں کے سوالوں کے جوابات“ لکھا ہے کہ:

کہا کہ دعاء کرو تبلیغ کے لئے کافی عمر مل جاوے۔ مگر مولوی صاحب نے سینہ تک ہاتھ اٹھا کر صرف یہ کہا تھا کہ: ”اکیس سال“ تو آپ تبلیغی عمر اکیس سال پا کر مر گئے۔ کیونکہ ١٨٨٨ء مطابق جمادی الاول ١٣٠٦ھ میں آپ نے بیعت کا اعلان کیا تھا اور ١٩٠٨ء میں مر گئے اور سینہ تک ہاتھ اٹھانے کا بھی یہی مطلب تھا کہ تبلیغ ناقص رہے گی۔

رہ گیا۔ مگر تھا بہت صاف۔ پھر الہام ہوا کہ آب زندگی؟ تو اسی کے مطابق اڑھائی سال بعد آپ کا انتقال ہوا۔

٢٢٣۔ مطلب یہ تھا کہ ١٥؍اکتوبر سے ٢٥ مئی ١٩٠٨ء تک ٢٢٣ دن ہوں گے۔ جیسا کہ اس تشریح سے معلوم ہوتا ہے۔ (ایام ١٦؍اکتوبر، ٣٠؍نومبر، ٣١؍دسمبر، ٣١؍جنوری ١٩٠٨ء، ٢٩؍فروری، ٣١؍مارچ، ٣٠؍اپریل، ٢٥ مئی) میزان کل ٢٢٣۔ یہ حساب ایک سال بعد شروع ہوا تھا تاکہ فروری ٢٩ دن کا حاصل ہو جائے۔

صفحہ ٤٠٤

کسی اور جگہ ہوگی۔ ٢٠؍فروری ١٩٠٧ء کو الہام ہوا کہ افسوس ناک خبر آئی اور انتقال ذہن لاہور کی طرف ہوا۔

اے خدا اس امتحان کو قبول کر۔ اے میرے اہل بیت خدا تم کو محفوظ رکھے تو وہ ہے جس کی روح میری طرف اڑ آئی ہے۔ کیا تم کو عجیب معلوم ہوتا ہے کہ مرجاؤگے۔ ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔

اللہ خیر وابقی، خوشیاں منائیں گے۔ وقت رسید، تو اس الہام کے مطابق ٢٧؍مئی ١٩٠٨ء کو آپ قادیان میں دفن ہوئے۔

جاکر الہام ہوا کہ مکن تکیہ برعمر ناپائدار اس الہام میں ١٣٢٦ھ بتایا گیا۔ جس میں آپ فوت ہوئے۔

سے معلوم ہوا کہ آپ کی وفات قادیان سے باہر ہوگی۔

بوجھ اٹھائے گا۔

ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیشین گوئی

ڈاکٹر عبدالحکیم بیس سال مرید رہ کر مرتد ہوگیا تھا۔ (کیونکہ اس نے خط لکھا تھا کہ کیا کوئی اطاعت رسول کے سوا بھی نجات پاسکتا ہے؟ تو آپ نے جواباً لکھا کہ نہیں اور اسی عقیدہ پر بگڑ کر مخالف ہوگیا تھا) آپ کی وصیت شائع ہونے کے بعد اس نے اپنے رسالہ الحکیم نمبر ٤ میں پیش گوئی کی تھی کہ مرزا تین سال تک مرجائے گا اور میں سچا ہوں اور وہ جھوٹا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی وصیت بھی شائع کردی اور جب مرزا قادیانی نے یہ الہام شائع کیا کہ تیری موت قریب ہے تو اس نے شائع کردیا کہ: ’’مرزا چودہ ماہ کے اندر مرجائے گا۔‘‘ اس وقت تین سال والی پیشین گوئی سے آٹھ ماہ گزر چکے تھے۔ مگر آپ (مرزا) کو الہام ہوا کہ عمر بڑھادی گئی ہے اور کہا کہ یہ الہام تین سال والی پیشین گوئی کے متعلق ہے۔ پھر جب آپ کو الہام ہوا کہ موت بہت ہی قریب ہے تو اس نے شائع کردیا کہ مرزا قادیانی ٤؍اگست ١٩٠٨ء مطابق ٢١ ساون فوت ہوجائے گا۔ مگر مرزا قادیانی

صفحہ ٤٠٥

اس کی تکذیب کرتے ہوئے ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہوگئے۔ لعنت ہے اس کی اصلاح پر اور تف ہے اس کی رسالت پر کیونکہ وہ اپنے رسالہ اعلان حق میں خود مقر تھا کہ میں صوم وصلوٰۃ کا پابند نہیں ہوں اور مجھے شیطانی الہام بھی ہوتے ہیں اور رحمۃ اللعالمین بھی ہوں۔ اسی میں سہ سالہ پیشین گوئی بھی درج کی تھی اور ٤؍ اگست کی پیشین گوئی بھی درج کی تھی۔ جو اخبار اہل حدیث، پیسہ اخبار، بریلی گزٹ اور اخبار وطن میں شائع ہوچکی تھی۔ مگر بعد میں اس نے پھر یوں لکھ دیا تھا کہ میں نے ٤؍ اگست تک کی پیشین گوئی کی تھی۔ جو پوری ہوگئی۔ لعنة الله على الكاذبين!

عبدالحکیم کی ہلاکت

آپ نے تبصرہ میں الہام شائع کیا تھا کہ اپنے دشمن سے کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ کرے گا۔ میں تیری عمر بڑھا دوں گا۔ یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ ماہ تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں۔ یا ایسا ہی جو اور دشمن پیشین گوئی کرتے ہیں۔ ان سب کو جھوٹا کروں گا اور تیری عمر بڑھا دوں گا۔ جو دشمن تیری موت چاہتا ہے وہ خود تیری آنکھوں کے روبرو اصحاب فیل کی طرح نابود ہوجائے گا اور تباہ ہوجائے گا۔ یہ پیشین گوئی ڈاکٹر کی اس پیشین گوئی کے مقابلہ پر تھی کہ مرزا چودہ ماہ تک مرجائے گا۔ مگر جب اس نے ٤؍ اگست ١٩٠٨ء کی پیشین گوئی شائع کردی تو یہ پیشین گوئی استعمال نہ کی گئی اور منسوخ ہوکر کٹ گئی۔ اس لئے ڈاکٹر مرزا قادیانی سے پہلے نہ مرا۔ جیسے کہ کوئی اسلام کو برا کہتا ہے اور ہلاک ہونے کے قریب ہوتا ہے۔ مگر جب مسلمان ہوجاتا ہے تو وہ ہلاکت منسوخ ہوجاتی ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس!

یہ الہام بھی تاخیر میں ڈال دیا گیا کہ: ”رب فرق بین صادق وكاذب ، انت ترى مصلح وصادق ، الم تر كيف فعل ربك باصحاب الفيل ، الم يجعل كيدهم في تضليل“ تیرے دشمنوں کا اخزاء و افساد تیرے ہی ہاتھ سے مقدر تھا۔ کیونکہ اس میں یہ لفظ نہیں کہ ڈاکٹر تیرے حین حیات میں مرے گا۔ گو مرزا قادیانی نے اجتہادی غلطی کی وجہ سے اس کی تشریح کرتے ہوئے یہ سمجھ لیا تھا کہ ڈاکٹر کی ہلاکت آپ کی زندگی میں مقدر ہے۔ مگر اس سے آپ پر کوئی حرف نہیں آتا۔ کیونکہ سنت انبیاء یونہی چل آئی ہے کہ وہ اجتہادی غلطی کرتے آئے ہیں۔ جیسے نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے متعلق غلط مفہوم سمجھا تھا اور حضورﷺ کا مکہ پر قبضہ بعد میں ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سمجھا تھا کہ بیت المقدس پہنچوں گا اور عیسیٰ علیہ السلام نے سمجھا تھا کہ میں بادشاہ بن جاؤں گا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ پیشین گوئی بھی ڈاکٹر کی چودہ ماہ والی پیشین گوئی کے ساتھ کٹ گئی تھی۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے بعد عہد

صفحہ ٤٠٦

خلافت بھی آپ کی ہی زندگی کا زمانہ سمجھا جاتا ہے۔ (کیونکہ اس میں قدرت ثانیہ کا ظہور ہوا ہے اور آپ نے روپ بدل کر خلیفہ کہلایا ہے ) اس لئے اجتہادی ترجمہ بھی صحیح ہوسکتا ہے۔ لوگو! ہمیں ستانا چھوڑ دو اور چار لاکھ آدمیوں کی آہ وزاری سے خوف کرو۔ جو آج اپنے روحانی باپ سے جدا ہو چکے ہیں۔ نومبر ١٩٠٧ء میں آپ کو موسمی کھانسی ہوگئی تھی جو بعد میں جاتی رہی۔ مگر ڈاکٹر عبدالحکیم نے اعلان حق میں شائع کر دیا تھا کہ مرزا پھپھڑوں کی بیماری سے مرے گا اور وفات کے بعد شائع کر دیا کہ مرزا ہیضہ سے مرا ہے تو کیا سل کا مرض ہیضہ سے تبدیل ہوسکتا ہے؟ پھر اعلان حق میں شائع کیا کہ میں نے الہام شائع کیا تھا کہ مرزا ٢١؍اگست تک فوت ہو جائے گا۔ حالانکہ اس کی دستخطی چٹھی عکسی طور پر پیسہ اخبار میں شائع ہوچکی تھی۔ جس میں یہ لفظ موجود تھے کہ مرزا ٢١؍اگست کو مر جائے گا۔ افسوس ایسے جھوٹے رسول پر جب وہ خود ایسے جھوٹ بولتا ہے تو اس کی امت کیا کرے گی؟

ہلاکت مولوی ثناء اللہ

اول....... مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق یوں گذارش ہے کہ جب کتاب ”قادیان کے آریہ اور ہم“ شائع ہوئی تو مولوی صاحب نے لکھا کہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی جھوٹے ہیں اور ان کے الہام سراسر کذب ہیں تو ان کو لکھا گیا کہ حقیقت الوحی تیار کر کے آپ کو بھیج دی جائے گی۔ اس پر یہ لفظ لکھ دیں اور یہ بھی لکھ دیں کہ: ”اے میرے خدا اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو میری دعاء ہے کہ تیرا عذاب مجھ پر نازل ہو ۔“ اس عبارت کے شائع ہونے کے بعد مرزا قادیانی بھی شائع کردیں گے کہ: ”یہ تمام الہامات خدا کی طرف سے ہیں۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو میری دعاء ہے کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ مگر مولوی صاحب نے لکھا کہ عذاب کی تعیین کرو تو مباہلہ کروں گا۔

دوم....... مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے اشتہار دیا کہ: ”مولوی ثناء اللہ مجھے مفتری جانتا ہے یا اللہ تو جھوٹے سچے میں فرق کر۔ تا کہ دنیا گمراہی سے بچ جائے۔ تو ایسا کر کہ اگر میں سچا ہوں تو میری زندگی میں ہی مولوی ثناء اللہ کو کسی مہلک مرض میں مبتلا کر یا میرے سامنے ہی اسے موت دے۔ اگر میں جھوٹا ہوں تو اس کی زندگی میں ہی مجھے دنیا سے اٹھالے۔ یہ الہام نہیں دعاء ہے۔ مولوی صاحب جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں ۔“ مگر مولوی صاحب نے اہل حدیث ٢٦؍اپریل ١٩٠٧ء میں لکھ دیا کہ مجھے یہ فیصلہ منظور نہیں اور کوئی دانا اسے مان بھی نہیں سکتا۔ اب مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد خود ہی جاہل و نادان بن گئے اور کہنے لگ گئے کہ مرزا قادیانی اسی فیصلہ کے مطابق مر گئے ہیں۔

صفحہ ٤٠٧

سوم....... نبی اصلاح کے لئے آتے ہیں۔ نہ افسانہ کے لئے۔ مرزا قادیانی بھی اس لئے نہیں آئے تھے کہ آتھم مرے۔ طاعون پڑے اور زلزلے وغیرہ آئیں۔ مولوی صاحب نے جب دعاء سے انکار کر دیا تو اب اگر مر جاتے تو اس کے تابعدار کہہ دیتے کہ وہ انکاری تھے۔ اس لئے دعاء کے اثر سے نہیں مرے تو اصلاح کی بجائے افساد ہو جاتا۔ اس لئے وہ معاملہ التواء میں ڈال دیا گیا۔ ورنہ ان کو خوف تھا کہ کہیں سزا نہ مل جائے۔ چنانچہ مرقع قادیانی مئی ١٩٠٨ء میں لکھتے ہیں کہ مجھ پر مباہلہ کا کوئی اثر نہ ہوا۔ کیونکہ ایک سال میعاد مباہلہ گذر چکی ہے اور چند دن وفات مرزا سے پہلے مرقع جون ١٩٠٨ء ص ٨ میں لکھا تھا کہ مرزائی جماعت کے جوشیلے ممبرو اب کس وقت کا انتظار ہے۔ تمہارے پیر مغاں کی میعاد کا زمانہ تو گزر گیا۔ درحقیقت وہ دھوکا دیتے تھے۔ کیونکہ وہ مباہلہ اس لئے منسوخ ہو چکا تھا کہ انہوں نے منظوری نہ دی تھی۔

چہارم ...... اہل حدیث ٢٩؍ اپریل ١٩٠٧ء میں لکھ چکے تھے کہ مفتری کی رسی دراز ہوتی ہے۔ تو خدا نے اسی اصول پر فیصلہ کر دیا کہ مرزا قادیانی مفتری نہ تھے اور مولوی صاحب مفتری تھے۔ اس لئے جھوٹا زندہ رہا اور سچا مر گیا۔ اس کے برخلاف اسماعیل علی گڑھی، غلام دستگیر قصوری، چراغ الدین جمونی اور فقیر مرزا کا عقیدہ تھا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جاتا ہے۔ اس لئے وہ اپنے اصول کے مطابق سزا یافتہ ہو گئے اور مولوی ثناء اللہ چونکہ معتقد تھے کہ جھوٹے کی رسی دراز ہوتی ہے۔ اس لئے وہ اپنے اصول کے مطابق جھوٹے بن کر سزا بھگت رہے ہیں۔ گویا یہ نسخہ الگ ہے اور وہ نسخہ الگ ہے۔ ان کا زندہ رہنا ہی کذب کی علامت ہے اور خدا نے ”سنسمہ علی الخرطوم“ کے پیرایہ میں یہ داغ ان کی ناک پر لگا دیا ہے۔ عبدالحق سرہندی نے اسی مرقع میں لکھا تھا کہ یہ کوئی قاعدہ نہیں ہے کہ سچے کی زندگی میں جھوٹا مرے۔ کیونکہ مسیلمہ بعد میں مرا تھا۔ بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ جھوٹے کی رسی دراز ہوتی ہے۔ اس لئے خدا نے یہی اصول برت کر مولوی صاحب کو زندہ رکھا ہوا ہے اور یہ اعتراض کہ ثنائی پارٹی پر اس کا کیا اثر ہوا۔ بالکل واہیات ہے کیونکہ اس کا اثر تب ظاہر ہوگا جب کہ یہ جھگڑا شائع ہو کر ہر ایک کے پاس پہنچ جائے گا تو لوگ خود بخود غور کر کے فیصلہ دے دیں گے کہ مولوی صاحب نے اپنا ہی نسخہ استعمال کیا ہے۔ اس لئے وہ جھوٹے ہیں۔ شاید یہ نتیجہ ابھی دیر طلب ہو۔ ”لعلک باخع“ کے زیر ہدایت عجلت نہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی احمد تھے اور ثناء اللہ مسیلمہ۔ اس لئے ان کا بعد ہی میں مرنا ضروری ہوا۔

پنجم ...... اہل حدیث ١٩؍ اپریل ١٩٠٧ء ص ٤ میں مولوی صاحب لکھ چکے ہیں کہ مباہلہ اور چیز ہے اور قسم اور چیز ہے اور قسم کو مباہلہ کہنا آپ جیسے (مرزائیوں کا) ہی کام ہے۔ مگر پھر

صفحہ ٤٠٨

بار بار لکھ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی نے مباہلہ میں ہار کھائی ہے۔

پہلے ختم ہوچکی ہے۔ تو اب وفات مرزا کو مباہلہ میں داخل کرنا بالکل غلط ہوگا۔

تنقید و تشریح

طرح دعاء مانگتے تھے اور اگر انہوں نے دعاء کے لئے ہاتھ ملا کر اکیس سال کا لفظ کہا تھا تو اس پر تعجب کیوں کیا گیا تھا کہ صرف سینہ تک ہی ہاتھ اٹھائے تھے۔ کیا دعاء کے لئے سر پر ہاتھ رکھے جاتے ہیں؟ اگر نہیں تو تکمیل تبلیغ کا اشارہ کیوں نہ سمجھا گیا۔ اس کے بعد یہ تاویل اس لئے بھی مخدوش ہے کہ مسیح سے یہ تاویل منقول نہیں معلوم نہیں کہ مسیح نے اس سے کیا سمجھا تھا۔ اس کے علاوہ تاریخ الہام کا بھی پتہ نہیں دیا گیا کہ اس تاریخ سے اڑھائی سال شروع ہوں گے۔

عبارت نہیں بتائی کہ گھونٹ کتنے پئے تھے؟ اور ان سے کیا مراد تھی؟

(درمان) پر الف لام داخل کرلیا ہوگا یا آپ نے اسے عربی ہی سمجھ لیا ہو۔ بہرحال یہ الہام کا لفظ نہیں ہوسکتا۔ صرف حدیث النفس ہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک سال چھوڑ کر حساب شروع کرنا کوئی ہوشمندی نہیں ہے۔ بالخصوص جب کہ ملہم نے اس کی تصریح نہیں کی تو یہ الہام اور بھی کمزور ہوجاتا ہے۔

اس ہجرت کے متعلق کوئی تحریر نہیں ملتی کہ مرزا قادیانی لاہور جانے سے کھٹکتے تھے۔ یہ نکتہ بعد الوقوع گھڑ لیا گیا ہے۔ جس کا خود ملہم کو بھی علم نہ تھا۔ ١٩٠٧ء میں آپ کی افسوس ناک خبر آئی۔ مگر معلوم نہیں کہ کس کے متعلق یہ الہام تھا۔ ممکن ہے کہ خواجہ کمال الدین کے مرنے کی طرف اشارہ ہو۔ پس خواہ مخواہ وفات مرزا پر اس کو چپکانا اصول دیانت کے خلاف ہوگا۔

خبر ہے۔ ممکن ہے کہ اس وقت ملہم کو قادیان کا ہی خیال ہو۔ ہاں اتنا تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ چونکہ آپ دائم المرض تھے اور عمر بھی کھا چکے تھے اور مخالفین نے مرنے کے متعلق پیشین گوئیاں بھی شائع کر دی تھیں۔ اس لئے رات دن یہی وہم رہتا ہوگا کہ اب مرے اب مرے تو پھر ایسے الہام کا منجانب اللہ ہونا مخدوش ہوجاتا ہے۔

صفحہ ٤٠٩

کیا خصوصیت ہے۔

ہے۔ ذرہ سوچ کر یہ دلیل پیش کی جاوے تو شاید سولہویں صدی ہجری میں کسی قدرت ثانیہ کے موت کی طرف اشارہ ہوگا۔

آتھم کی طرح ہر وقت موت کا خوفناک منظر ہی دکھائی دیتا ہوگا۔ ورنہ ایسے مہمل فقرے خدا کی طرف منسوب کرنا کسی عقلمند کا کام نہیں؟

اور یہ بھی غلط ہے کہ خدا نے بوجھ اٹھایا تھا۔ معلوم نہیں ملہم کا خدا بھی شاید سترا بہترا ہو گیا تھا کہ جو الہام کرتا ہے سب گونگے کے اشارے ہوتے تھے۔

تھا۔ اس لئے رجسٹر سے نام کاٹ کر مرتد تصور کیا گیا۔ مگر اس کی تہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے یوں کہا ہوگا کہ جو شخص خود رسالت تک پہنچ جائے اسے دوسرے رسول کی اطاعت ضروری نہیں۔ اس پر مرزا قادیانی بگڑ گئے ہوں گے کہ لو جی ایک شریک پیدا ہو گیا۔ ورنہ کسی مسلمان سے یہ امید نہیں ہو سکتی کہ اطاعت رسول کو مدار نجات نہ جانتا ہو۔ خصوصاً جب کہ ڈاکٹر کے اس لیکچر کا مطالعہ کیا جائے جو اس نے مسلمان ہو کر محمڈن ہال لاہور میں دیا تھا تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی بہم پہنچانے سے تنگ آ گیا تھا۔ (دیکھو ریویو جلد اول) ہمارے سامنے دونوں مدعی رسالت اپنا اپنا بیان ایک دوسرے کے خلاف دے رہے ہیں۔ اب کسے کہیں کہ جناب آپ کے سر پر بھوتنا سوار ہے؟

رکھ کر یوں لکھتے ہیں کہ : ”کئی دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور ان کا نام و نشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام ڈاکٹر عبدالحکیم خان ہے۔ جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں چار اگست تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا۔ یہ الہام کامدعی ہے اور مجھے دجال کافر اور کذاب جانتا ہے۔ بیس برس تک مرید رہا تو اس نے یہ عقیدہ اختیار کر لیا تھا کہ بغیر اطاعت حضورﷺ کے بھی نجات ہو سکتی

صفحہ ٤١٠

ہے ۔ چونکہ یہ عقیدہ جمہور کے خلاف تھا۔ میں نے منع کیا ۔ مگر باز نہ آیا تو جماعت سے نکال دیا۔ تب اس نے پیشین گوئی کی کہ میں اس کی زندگی میں ہی ٤؍ اگست تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر خدا نے کہا کہ وہ خود عذاب میں ہوگا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ بلاشبہ یہ بات سچ ہے کہ خدا سچے کی مدد کرے گا۔

(چشمہ معرفت ص ٣٢١ ، خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦، ٣٣٧)

اس عبارت میں ٤؍ اگست تک کے لفظ کو آپ نے دو دفعہ دہرایا ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر نے گو کسی وقت ”٤؍ اگست کو“ کا لفظ لکھ دیا ہوگا ۔ مگر فریقین مقدمہ کا متفقہ لفظ یہی ہے کہ اگست تک مرزا مر جائے گا۔ اب اس سے یہ نتائج پیدا ہوتے ہیں کہ:

کے مرزائیوں کا ”٤؍ اگست تک“ کو غلط قرار دینا غلط ہوگا۔

پیش گوئی سے تعلق رکھتی ہے۔ بلکہ اس میں صاف یہ مقابلہ کیا گیا ہے کہ چونکہ ڈاکٹر نے ٤؍ اگست تک ہلاکت مرزا پر پیشین گوئی پیش کی۔ اس لئے ہم بھی اس کے مقابلہ پر یہ پیشین گوئی پیش کرتے ہیں کہ: ”ہماری زندگی میں ہی وہ ہمارے سامنے مرے گا اور ہم اس کے شر سے محفوظ رہیں گے“ اب مرزا محمود کی تاویل غلط ہوگئی کہ مرزا قادیانی کی بددعا کا اثر اس لئے پیدا نہ ہوا تھا کہ اس کا تعلق تین سال اور چودہ ماہ کی پیش گوئی سے تھا۔ پس جب وہ غلط نکلی تو مرزا قادیانی کی بددعا بھی اکارت گئی۔

رکھا تھا کہ ڈاکٹر کی ہلاکت آپ کی حیات میں ہوگی ۔ ورنہ پیشین گوئی میں یہ لفظ درج نہیں ہیں۔ کیونکہ اس کے آخری لفظ یہ ہیں کہ: ”خدا مرزا کو ڈاکٹر کی شرارت سے محفوظ رکھے گا۔ یعنی اس کی پیشین گوئی کو سچا نہ ہونے دے گا۔“ اس سے بڑھ کر اور کیا تصریح ہو سکتی ہے ۔ شاید مرزا محمود نے اس پر غور نہیں کیا۔

منظوری کا کوئی تذکرہ نہیں ۔ اس لئے اس پر مزید حاشیہ آرائی کرنا خود اپنے پیغمبر کے کلام کو تحریف کرنے کا ارتکاب لازم آئے گا۔

جھوٹے تھے اور ڈاکٹر سچا تھا۔ کیونکہ اس

اندر ہی ٢٦؍ مئی کو مر گئے۔ مگر ڈاکٹر پر د

کے شر سے محفوظ رہوں گا تو ”رب فر اجزاء افساد کا وجود بھی حیات مسیح سے سے وابستہ کرتے ہوئے اجتہادی غلطی

ہے تو فوراً خدا اس کی تصحیح اسی سے کر خلیفہ دوم کو سوجھتی ہے۔ مسیح بھی غلطی ناپاک اُمت کو خدا تباہ کرے جو اپنے

مرے گا تو ہیضہ کی بیماری کا اعلان کر بھی نکلتی ہے اور ہیضہ کی طرف سل

جگہ غلط ہے کیونکہ ڈاکٹر دوبارہ مرزا

دست پروردہ شاگرد تھا۔ اسے پیشی اور بالفرض اگر ٤؍ اگست کو ہی صحیح مقصد ہلاکت تھی جو واقع ہو چکی۔ پیشین گوئی میں خلل انداز نہیں ہو بشرطیکہ مقابلہ پر پیشین گوئی کر ہیضہ نے قبل از وقت ہی دبا لیا کرتی ہیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب

بحث مباہلہ تھی یا یکطرفہ بددعا تھی

صفحہ ٤١١

جھوٹے تھے اور ڈاکٹر سچا تھا۔ کیونکہ اس کے خود اقبالی ہو چکے تھے۔

ششم ...... ڈاکٹر کی شرارت یعنی پیشین گوئی نے آپ کو محفوظ نہ رہنے دیا اور ٤؍اگست کے اندر ہی ٢٦؍مئی کو مر گئے۔ مگر ڈاکٹر پر مدعی مسیحیت کی دعاء کا اتنا اثر بھی نہ ہوا کہ اسے زکام ہی لگ جاتا۔

ہفتم ...... جب یہ صاف ہو گیا کہ مسیح نے یہ بھی پیشین گوئی میں کہا ہے کہ میں ڈاکٹر کے شر سے محفوظ رہوں گا تو ”رب فرق“ کی دعاء کا وقوع بھی مسیح کی زندگی سے ہی وابستہ ہوگا اور اخراء افساد کا وجود بھی حیات مسیح سے پیوستہ ہوگا۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہوگا کہ مسیح نے اس کو اپنی زندگی سے وابستہ کرتے ہوئے اجتہادی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔

ہشتم ...... اجتہادی غلطی کی تمام مثالیں غلط ہیں۔ کیونکہ اگر کسی پیغمبر سے غلطی ہوتی ہے تو فوراً خدا اس کی تصحیح اسی سے کرا دیتا ہے۔ مگر یہاں مسیح مر جاتا ہے تو کئی سال بعد اس کی تصحیح خلیفہ دوم کو سوجھتی ہے۔ مسیح بھی غلطی کا شکار بنا اور خلیفہ اوّل بھی اسی دلدل میں پھنسا رہا۔ ایسی ناپاک امت کو خدا تباہ کرے جو اپنے پیغمبر کو غلط گو کہہ کر اسے وحی کا صحیح مطلب بتاتی ہے۔

نہم ...... ڈاکٹر نے اگر کھانسی دیکھ کر کہہ دیا تھا کہ مرزا پھیپھڑے کی بیماری سے مرے گا تو ہیضہ کی بیماری کا اعلان کرنا اسے جھوٹا ثابت نہیں کرے گا۔ کیونکہ ڈاکٹر کی تشخیص کبھی غلط بھی نکلتی ہے اور ہیضہ کی طرف سل کے تبدیل ہونے کا کسی نے دعویٰ نہیں کیا تھا۔

دہم ...... یہ تمثیل کہ اسلام کو برا کہنے والا مسلمان ہو کر عذاب سے بچ جاتا ہے۔ اس جگہ غلط ہے کیونکہ ڈاکٹر دوبارہ مرزائی نہ ہوا تھا۔

یازدہم ...... مرزا قادیانی اپنے الہام تبدیل کرتے رہتے تھے۔ ڈاکٹر بھی آپ ہی کا دست پروردہ شاگرد تھا۔ اس نے پیشین گوئی میں ”کو“ کی بجائے ”تک“ کی ترمیم کر ڈالی تو کیا ہو گیا اور بالفرض اگر ٤؍ اگست کو ہی صحیح مان لیا جائے تو پھر بھی نقصان نہیں۔ کیونکہ آتھم کی طرح اصل مقصد ہلاکت تھی جو واقع ہو چکی۔ باقی چند ایام کا پس و پیش ہونا تو جیسا استاذ کے نزدیک وعیدی پیشین گوئی میں خلل انداز نہیں ہوتا۔ اسی طرح شاگرد بھی کہہ سکتا ہے کہ ٤؍ اگست کو ہی مسیح مرتے۔ بشرطیکہ مقابلہ پر پیشین گوئی کر کے تمرد اختیار نہ کرتے۔ مگر انہوں نے بیخوفی کا اظہار کیا۔ اس لئے ہیضہ نے قبل از وقت ہی دبا لیا۔ کیونکہ وعیدی پیشین گوئیاں ہمیشہ حالت ماحول سے مشروط ہوا کرتی ہیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق یوں کہا جاتا ہے کہ:

اوّل ...... جب تک دعا بازی کا سلسلہ جاری رہا یہ تصریح نہ کی گئی تھی کہ بددعا زیر بحث مباہلہ تھی یا یکطرفہ بددعا تھی۔ ڈاکٹر عبدالحکیم کی ہلاکت اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی ہلاکت

صفحہ ٤١٢

کے متعلق یکساں طور پر کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ خدا کے سپرد ہے۔ مگر صرف فرق اتنا ہے کہ ڈاکٹر سے منظوری کی درخواست نہیں کی گئی اور مولوی صاحب سے کچھ مشتبہ الفاظ میں درخواست ضرور کی گئی تھی کہ جو چاہیں لکھ دیں۔ جس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ خواہ آپ منظور کریں یا نہ کریں یہ مقدمہ خدا کی جناب میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ تحدیانہ فقرہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی دعا منظور بھی ہو چکی تھی۔ کیونکہ آپ مظلومانہ رنگ میں بددعا دیتے ہیں۔ جس میں ظالم کی منظوری لینا عبث معلوم ہوتا ہے اور مولوی صاحب نے گو اجتہادی غلطی سے اس دعاء کو مباہلہ سمجھ رکھا تھا۔ مگر مرزا قادیانی کی طرف سے یکطرفہ دعاء تھی۔ کیونکہ آپ ١٩٠٦ء سے تمام قسم کے مباہلے ختم کر چکے تھے۔ اس لئے یہ یکطرفہ ایکسال کے بعد پوری ہوئی اور آپ دنیا سے رخصت ہو گئے۔

دوم....... مولوی صاحب کا اہل حدیث ٢٦؍ اپریل ١٩٠٧ء میں نامنظوری کا اعلان کرنا اجتہادی غلطی تھی کہ وہ اسے مباہلہ سمجھ چکے تھے۔ ورنہ یہ صاف ظاہر تھا کہ مباہلہ بازی کا کھیل ١٩٠٦ء سے بند ہو چکا تھا اور اس مضمون کی مظلومانہ نوعیت بتا رہی تھی کہ ظالم خواہ منظوری نہ بھی دے تب بھی یہ دعاء ٹلنے کی نہیں۔ اس لئے بہانہ کرنا کہ مولوی صاحب نے چونکہ منظوری نہیں دی تھی اس لئے یہ کھیل ہی بند کیا گیا تھا بالکل غلط ہوگا۔

سوم....... جب یہ تسلیم کیا جائے کہ یہ دو طرفہ بددعاء اور مباہلہ تھا اور وفات مرزا سے پہلے ایک ماہ اس کی میعاد ختم بھی ہو چکی تو یہ ماننا پڑے گا کہ یہ مباہلہ یکطرفہ دعاء کی حیثیت میں تبدیل ہو چکا تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی عدم منظوری کے بعد دس دن بدر ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء میں شائع کر چکے تھے کہ یہ دعاء ہے جو اجیب دعوۃ الداع کے زیر اثر ضرور قبول ہو چکی تھی۔ کیونکہ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعاء ہوتی ہے یا یوں کہنا پڑے گا کہ میعاد مباہلہ ایک ماہ بعد شروع ہوئی تھی۔ جیسا کہ ”علم الدرمان“ کے الہام میں ایک سال بعد میعاد شروع کی گئی تھی تاکہ ”اجیب دعوۃ الداع“ کا الہام بھی درست رہے اور وفات مسیح کا وقوع بھی۔ اس کے ماتحت عین اختتام میعاد پر ثابت ہو۔

چہارم....... مولوی صاحب کی سلامتی کی وجہ جب یوں پیش کی جاتی ہے کہ خدا ہر ایک کو اس کے عقیدہ کے مطابق گرفتار کرتا ہے اور چونکہ مولوی صاحب کا عقیدہ تھا کہ شقی کی رسی دراز ہوتی ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی ان کی زندگی میں ہی رخصت ہو گئے تو فوراً یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کی بددعا یکطرفہ تھی اور ”اجیب دعوۃ الداع“ کا الہام بھی جھوٹا تھا۔ ورنہ ضروری تھا کہ مولوی صاحب مرزا قادیانی کی زندگی میں تباہ ہو جاتے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا بھی تو یہ عقیدہ

تھا کہ سچے کے مقابلہ میں جھوٹا تباہ ہو جا مولوی صاحب کا عقیدہ استعمال کیا گیا تو

پنجم....... یہ کیسی حجت باز ”فتمنوا الموت ان کنتم صادقی مولوی صاحب مسیلمہ تھے اور مرزا قادیا قادیانی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس پہلو بدلنے زرگری تھا۔ ورنہ صاف ظاہر ہے کہ مو مسیحیت کی طرح انہوں نے کوئی الہام ہی انہوں نے اپنی ذاتی صداقت کی کبھی صادق فی الالہام قرار دینا وہی بات ہوئ طرح آپ کو سچا نہ سمجھتے تھے تو کیا سار کے علاوہ مرزا محمود نے ایک اور تقدس آ مولوی صاحب نے اپنا نسخہ برتا ہے تو تھے۔ مگر جب لوگ یہ سوچ چکے ہیں ک ہار جیت بالکل بے جا طور پر پیش کی جات الہام ہی نظر آتا ہے۔ ”المریقیس ع

ششم....... مولوی صاحب اور مباہلہ اس یکطرفہ دعاء کو کہا ہے کہ م ہیں۔ حقیقت میں یہ ان کا لفظ ہے۔ مو کیا تھا۔ جیسا کہ مسلمان مہاتما گاندھ ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہ تھا ک

ہفتم....... مولوی صاح اگر وہ مباہلہ سچا ہوتا تو میں کیوں نہ مر اصل بات یہ ہے کہ جب وفات مرزا تو معلوم ہوا کہ وہ یکطرفہ دعاء تھی جو کے حق میں مضر ہونے کے باعث

صفحہ ٤١٣

تھا کہ سچے کے مقابلہ میں جھوٹا تباہ ہو جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ مدعی نبوت کا عقیدہ بار آور نہ ہوا اور مولوی صاحب کا عقیدہ استعمال کیا گیا تو کیا مدعی نبوت کا عقیدہ یوں ہی اکارت ہو جایا کرتا ہے؟

پنجم ...... یہ کیسی حجت بازی ہے کہ سچے جھوٹوں کی زندگی میں مرجاتے ہیں اور ’’فتمنوا الموت ان کنتم صادقین‘‘ میں بھی صداقت کا نشان تمنائے موت ہے اور چونکہ مولوی صاحب مسیلمہ تھے اور مرزا قادیانی احمد اوتار تھے۔ اس لئے مسیلمہ امرتسری کے سامنے احمد قادیانی کا خاتمہ ہو گیا۔ اس پہلو بدلنے میں صاف اقرار ہے کہ دعاء بازی کا کھیل صرف جنگ زرگری تھا۔ ورنہ صاف ظاہر ہے کہ مولوی صاحب مسیلمہ کی طرح مدعی نبوت نہیں اور نہ مدعی مسیحیت کی طرح انہوں نے کوئی الہام یا وحی کا دعویٰ کر کے افتراء کا اعزاز حاصل کیا ہوا ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنی ذاتی صداقت کی کبھی ڈینگ ماری ہے تو اندریں حالات ان کو مفتری، مسیلمہ اور صادق فی الالہام قرار دینا وہی بات ہوئی کہ دو اور دو چار روٹیاں۔ تمام غیر احمدی مولوی صاحب کی طرح آپ کو سچا نہ سمجھتے تھے تو کیا سارے ہی مفتری مسیلمہ اور کاذب فی الالہام بن گئے؟ اس کے علاوہ مرزا محمود نے ایک اور تقدس آمیز فقرہ لکھ دیا ہے کہ جب لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ مولوی صاحب نے اپنا نسخہ برتا ہے تو جھٹ اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ مولوی صاحب جھوٹے تھے۔ مگر جب لوگ یہ سوچ چکے ہیں کہ مولوی صاحب مدعی الہام نہیں اس لئے الہام بازی کی ہار جیت بالکل بے جا طور پر پیش کی جاتی ہے۔ جس کا نتیجہ صرف یہی ہے کہ مرزا محمود کو ہر ایک مدعی الہام ہی نظر آتا ہے۔ ’’المرأ یقیس علی نفسہ‘‘

ششم ...... مولوی صاحب نے اس بات پر قسم کھائی تھی کہ میں مرزا کو جھوٹا جانتا ہوں اور مباہلہ اس یکطرفہ دعاء کو کہا ہے کہ مرزائی مباہلہ کے طور پر (مباہلہ بازی کے بعد) پیش کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہ ان کا لفظ ہے۔ مولوی صاحب کا نہیں اگر تھا بھی تو اجتہادی غلطی سے استعمال کیا تھا۔ جیسا کہ مسلمان مہاتما گاندھی کا لفظ جو ہندوؤں کا مشہور لفظ ہے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ وہ ان کے لئے امام الزمان بن کر آیا تھا۔

ہفتم ...... مولوی صاحب نے بقول مرزائیہ یکطرفہ دعاء کو مباہلہ کہہ کر پوچھا تھا کہ اگر وہ مباہلہ سچا ہوتا تو میں کیوں نہ مرتا اور یہ مطلب نہ تھا کہ مرزا قادیانی کیوں نہ مرے تھے اور اصل بات یہ ہے کہ جب وفات مرزا سے پہلے وہ مباہلہ مولوی صاحب کے حق میں مضر ثابت نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ یکطرفہ دعاء تھی جو خود داعی کے حق میں مضر واقع ہوئی اور اگر مباہلہ ہی تھا تو کسی کے حق میں مضر ہونے کے باعث ’’ما دعاء الکفرین الا فی ضلل‘‘ کا شکار ہو گیا تھا اور اگر

صفحہ ٤١٤

منسوخ ہو چکا تھا تو مرزا محمود کا فرض تھا کہ ملہم کا کوئی ایسا قول پیش کرتے کہ چونکہ مولوی صاحب نے منظوری نہیں دی۔ اس لئے یہ مباہلہ منسوخ سمجھا جائے۔ جیسا کہ واقعہ نجران میں خود حضورﷺ کا قول التواء مباہلہ پر مذکور ہے۔

ہشتم ...... خلاصہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی ڈاکٹر عبدالحکیم کے الہام سے اپنے حق میں اپنی بددعا سے یا اپنے اوہام والہامات سے جو مخالفین کے پیشین گوئیوں کے زیر اثر تیار ہوئے تھے۔ ناگہانی موت سے ہیضہ میں گرفتار ہو کر ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ منگل کا دن تھا کڑاکے کی دھوپ تھی۔ تبلیغی کیمپ مصروف کار تھا۔ احمدیہ بلڈنگس کے سفید میدان میں بسر کردگی مولوی حکیم نورالدین صاحب روزانہ نشر وتبلیغ مرزائیت میں ولولہ انگیز تقریریں ہوتی تھیں۔ خیال تھا کہ تبلیغی دورہ سیالکوٹ تک کیا جائے گا۔ دوسری طرف کچھ فاصلہ پر دو سڑکوں کے مغربی تقاطع پر جناب پیر جماعت علی شاہ صاحب قبلہ علی پوری کا خیمہ تردید لگا ہوا تھا۔

ہلاکت مرزا اور کرامت پیر صاحب علی پوری

علمائے اسلام ......... مضامین سے مرزائیت کا بخیہ ادھیڑتے چلے جاتے تھے۔ پیر صاحب سرگرم مدافعت تھے اور تقدس باطنی سے ہلاکت مرزا کی خواستگاری بجناب باری جلسہ گاہ کا مطلع و مقطع بنا ہوا تھا۔ ٢٢ مئی ١٩٠٨ء کو شاہی مسجد لاہور میں پیر صاحب نے ہلاکت مرزا کی بددعاء بڑی شدومد سے کرائی۔ جس میں ہزاروں مسلمان شریک تھے اور یک زبان ہو کر التجا کرتے تھے کہ یا اللہ اس ابتلائے قادیانی سے اسلام کو رہائی بخش اور مسلمانوں کو راہ راست پر قائم رکھ۔ آمین کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔ اس دعاء کے بعد جلسہ گاہ میں متواتر دعائیں ہوتی رہیں۔ آخر ٢٥ مئی ١٩٠٨ء کو بروز پیر، پیر صاحب قبلہ نے بڑے زور سے خبر دی کہ چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر مرزا قادیانی دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ جیسا کہ (تازیانہ نقشبندی ص١٢، اشاعت مرید و مرشد صادق ص٥٠، مطبوعہ گلزار ہند پریس لاہور، بفرمائش ایم حسام الدین ایڈیٹر رسالہ خدام الصوفیہ) میں مذکور ہے کہ مرزا بمعہ سٹاف کے لاہور آیا۔ شاہ صاحب نے بھی تردیدی جلسہ بالمقابل قائم کیا۔ ٢٢ مئی ١٩٠٨ء کو شاہی مسجد میں اثنائے وعظ میں آپ نے فرمایا کہ میری عادت پیشین گوئی کرنے کی نہیں ۔ مگر مجبوراً کہتا ہوں کہ اگر مرزا کو سیالکوٹ جانے کی طاقت ہے تو وہاں جا کر دکھلائے میں کہتا ہوں کہ وہ وہاں کبھی نہیں جا سکتا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اسکو توفیق ہی نہیں دے گا کہ سیالکوٹ جاسکے۔ اس سے پہلے ١٩٠٣ء میں عبدالکریم کی موت سے وہ اپنی رسوائی دیکھ چکا ہے۔ اب سب لوگ گواہ رہو کہ مرزا بہت جلد ذلت اور عذاب کی موت سے مارا جائے گا اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ مرزا کو لاہور سے

صفحہ ٤١٥

نکال کر جاؤں گا۔ کیونکہ یہ محمدیوں کے ایمانوں کا ڈاکو ہے۔ آپ نے ہر روز یہ لفظ دہرائے۔ آخر ٢٥ مئی ١٩٠٨ء کی شب کو نہایت جوش سے کھڑے ہو کر فرمایا کہ ہم کئی روز سے مرزا کے مقابلہ میں آئے ہوئے ہیں۔ پانچ ہزار روپے کا انعام بھی مقرر کیا ہوا ہے کہ جس طرح چاہے وہ ہم سے مناظرہ کرے یا مباہلہ کرے اور اپنی کرامتیں اور معجزے دکھائے۔ لیکن اب وہ مقابلہ میں نہیں آتا۔ لیکن آج میں مجبوراً کہتا ہوں کہ آپ صاحبان سب دیکھ لیں گے کہ کل ٢٤ گھنٹے میں کیا ہوتا ہے۔ آپ اتنے ہی لفظ کہہ کر بیٹھ گئے مگر رات کو مرزا ہیضہ سے بیمار ہو گیا اور دوپہر تک مر گیا۔ مفتی عبداللہ صاحب ٹونکی مرحوم پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نے فرمایا کہ ہم پہلے تو اس پیشین گوئی کو معمولی سمجھتے تھے۔ آخر وہ تو سب سے بڑھ کر نکلی۔ ایک مخالف نے کہا کہ یہ پیشین گوئی حدیث النفس ہے۔ مگر اس کو یاد رہے کہ وہ بھی توہین آل رسول کر کے خیر نہ منائے۔ مرزا کی تاریخ وفات ہے۔ ”لقد دخل فی قعر جہنم“

ناظرین! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس پیشین گوئی کی صداقت نے ٢٤ گھنٹے کے اندر ہی تمام پیشین گوئیوں اور الہاموں سے بڑھ کر نمبر لئے ہیں۔ نہ ڈاکٹر کی پیشین گوئی نے تعین وقت پر جرأت کی نہ مرزا قادیانی کے اپنے الہامات نے کوئی ہفتہ یا عشرہ مخصوص کیا۔ بلکہ جیسا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے آپ کا ارادہ تھا کہ لاہور میں تبلیغی جلسوں کے بعد سیالکوٹ جائیں گے۔ مگر آل رسول کی زبان سیف وسنان کی طرح کاٹتی ہوئی آپ کی تمام امیدوں پر پانی پھیر گئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ پیشین گوئی یوں ہوتی ہے۔ جس میں نہ تاویل کی ضرورت ہے نہ شرائط لگائے گئے ہیں اور نہ فریق مخالف کی منظوری یا عدم منظوری کو دخل ہے اور استجابت دعاء کا بھی اصل مصداق یہی ہے کہ جس میں فریق مخالف کی کسی تلون مزاجی کو داخل نہیں سمجھا گیا اور نہ یہ عذر کرنے کا موقعہ پیش آیا تھا کہ چونکہ فریق مخالف اندر سے ڈر گیا تھا۔ اس لئے یہ دعاء معرض التواء میں ڈال دی گئی اور مزید لطف یہ ہے کہ مرزائیوں نے ہر ایک امر پر بحث کی ہے۔ مگر یہ پیشین گوئی ابھی تک ویسی ہی پڑی ہوئی ہے۔ جیسی کہ پیدا ہوئی تھی۔ کسی کو جرات نہیں ہے کہ اس پر ژاژ خائی یا خامہ فرسائی کر کے اپنے ہذیان کا ثبوت دے۔ اس لئے ہم کہیں گے کہ موت مرزا کا فوری سبب یہی پیشین گوئی اور دعاء ہے اور بس۔

ہلاکت عبد الکریم

اس پیشین گوئی کے ضمن میں مولوی عبد الکریم سیالکوٹی کی ہلاکت کا ذکر آ گیا ہے۔ اس میں بھی انہی پیر صاحب نے مرزائیت کا مقابلہ کیا تھا۔ چنانچہ بحوالہ مذکور یوں لکھا ہے کہ مرزا بمعہ

صفحہ ٤١٦

سٹاف کے نومبر ١٩٠٤ء میں سیالکوٹ پہنچا اور شاہ صاحب قبلہ بھی وہاں پہنچ گئے اور تردیدی مجلس قائم کر دی۔ اسے چیلنج دیئے مگر وہ باہر نہ نکلا۔ ایک دن لنگڑے عبدالکریم مرزائی نے اپنی چار دیواری کے اندر معراج نبوی پر لیکچر دیتے ہوئے یوں کہا کہ لوگ کہتے ہیں براق آیا براق آیا۔ لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ جب ایڑیاں اور گھٹنے رگڑتے ہوئے وہ ہی نبی مکہ سے بھاگ کر پہاڑوں اور غاروں میں چھپتا پھرتا تھا تو اس وقت براق کیوں نہ آیا؟ یہ گستاخانہ کلام جب شاہ صاحب کو جلسہ گاہ میں سنائی گئی تو آپ نے دوران وعظ میں جوش کھا کر کہا کہ وہ بیدین شخص جس نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔ بہت جلد اور ذلت کی موت سے مارا جائے گا۔ دوسرے دن ایک غیر جانبدار شخص نے خواب دیکھا کہ عبدالکریم کہتا ہے کہ مجھے حضرت امام زین العابدینؒ نے پنجہ مارا ہے۔ اس وقت یوں دکھائی دیا کہ شانہ سے لے کر کمر تک پٹکہ باندھے ہوئے اور دیوار سے سہارا لیتے ہوئے کھڑا ہے۔ اس خواب کی تعبیر یوں کی گئی کہ پیر صاحب نے اثنائے تقریر میں غصہ میں آ کر میز پر زور سے اپنا ہاتھ مارا تھا۔ جو امام زین العابدینؒ کا پنجہ بن کر رات کو ظاہر ہوا تھا۔ چنانچہ ابھی کچھ عرصہ نہ گزرا تھا کہ سرطان (گدوں دانہ) سے ہلاک ہو گیا۔ سالنامہ جامعہ احمدیہ ١٩٣٠ء میں مذکور ہے کہ یہ مولوی عبدالکریم سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مڈل سکول تک تھی اور اس میں بھی کچی حساب کی وجہ سے فیل ہوگئے۔ پھر عربی فارسی کی پرائیویٹ تیاری کر کے وہیں مشن سکول میں مدرس فارسی لگ گئے۔ ایک روز پادری سے الجھ کر مستعفی ہوگئے۔ اس وقت آپ نیچری خیال رکھتے تھے۔ مگر مولوی نور الدین صاحب کی وساطت سے مرزائی ہوگئے اور خطیب و امام مسجد قادیان بنے رہے اور سب سے پہلے بہشتی مقبرہ میں داخل ہوئے۔ ناظرین حیران ہوں گے کہ پیرومرشد اور مریدان بے صفا حساب میں کمزور تھے۔ مرزا محمود بھی مڈل فیل ہیں۔ ہمہ خانہ آفتاب است۔ مولانا غریب مرحوم کا شعر ہے۔

فیل ہونا شیوۂ احرار ہے
پاس تو ہوتے ہیں آخر خردماغ

مولوی صاحب کے دوست حافظ روشن علی موضع رنمل تحصیل پھالیہ ضلع گجرات پنجاب کے تھے۔ حضرت نوشہ صاحب کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ کچھ قرآن بچپن میں اپنے والد سے یاد کیا اور کچھ غلام رسول وزیر آبادی سے اور انہی سے کچھ کتابیں بھی پڑھیں۔ پھر قادیان چلے آئے اور حکیم نور الدین سے تلمذ اختیار کیا۔

صفحہ ٤١٧

٢٠..... اقتباسات لیکچر سیالکوٹ ٢؍ نومبر ١٩٠٤ء

منقول از ریویو جلد سوم نمبر ٢

دنیا کے مذہب اس لئے غلط ہو گئے کہ ان کی پرورش مجددین سے نہیں ہوئی۔ مگر اسلام کی پرورش ہر صدی کے سر پر ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ ہدایت اور ضلالت کی آخری جنگ آ گئی اور چودھویں صدی کے آخر پر مجدد آ گیا۔ حضورﷺ کے بعد دوسرے مذاہب کی تجدید نہیں ہوئی۔ نفس کے پیرو انسانوں نے ان میں بے جا دخل دے کر صورت بدل ڈالی۔ چنانچہ عیسائیوں نے اپنا خدا الگ بنا لیا اور تورات کے احکام بدل ڈالے کہ اگر مسیح اس وقت آئیں تو شناخت نہ کر سکیں۔ ہندو مذہب میں بھی بت پرستی نہ تھی اور خدا کو اپنے صفات کے اظہار میں مادہ کا محتاج نہیں جانتے تھے۔ مگر یہ بھی عیسائیت کی طرح اسلام سے پہلے بگڑ چکا تھا تو اصلاح عام کے لئے حضورﷺ مجدد اعظم بن کر آئے اور وحشیوں کو ایسا بنا دیا کہ بکریوں کی طرح ذبح ہونے لگے۔ مگر اسلام نہ چھوڑا۔ پس روحانیت قائم کرنے کے لئے آدم ثانی بلکہ حقیقی آدم تھے اور ختم نبوت آپ پر نہ صرف زمانہ کے لحاظ سے ہوا۔ بلکہ اس لئے بھی کہ تمام کمالات آپ پر ختم ہو گئے اور آپ صفات الٰہیہ کے مظہر اتم ٹھہرے اور آپ کا جلالی نام محمد ہوا اور جمالی احمد۔ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے۔ پہلا ہزار ہدایت کے لئے تھا۔ دوسرا گمراہی کے لئے تو بت پرستی آ گئی۔ تیسرے میں توحید آئی تو چوتھا پھر عیسائیت میں گمراہی لے کر آیا۔ پانچویں میں حضورﷺ پیدا ہوئے اور ہجرت کے بعد تین سو سال سے چھٹا ہزار شروع ہوا جو گمراہی کا تھا اور جسے فج اعوج کا زمانہ کہتے ہیں۔ پھر چودھویں صدی پر ہدایت کا ہزارِ ثانی شروع ہوا۔ جس میں امام آخر الزمان موجود ہے۔ اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو ظل کے طور پر (مظہر قدرت ثانیہ ہو) کیونکہ اب دنیا کا خاتمہ ہے۔

یہودی بھی مانتے ہیں کہ یہ ساتواں ہزار سال ہے۔ سورہ عصر کے اعداد بھی ساتواں ہزار ظاہر کرتے ہیں۔ سب انبیاء کا اتفاق ہے کہ مسیح چھٹے ہزار کے اخیر پر ضرور پیدا ہوگا۔ خلق عالم کے چھٹے روز (جمعہ کی آخری ساعت میں) خدا نے آدم کو پیدا کیا اور دن خدا کے نزدیک ہزار سال کا ہوتا ہے۔ اس لئے آخری امام بھی جمعہ کے دن چھٹے ہزار کے آخیر پر پیدا ہوا تا کہ اوّل و آخر یکساں ہو جائے۔ آدم جوڑا پیدا ہوا تھا۔ تو مسیح بھی جوڑا پیدا ہوا تھا۔ پہلے لڑکی پیدا ہوئی تھی تو جمعہ کے روز مسیح پیدا ہوا۔ عیسائی کہتے تھے کہ اسی وقت مسیح نازل ہوگا۔ مگر جب نہ اترا تو کلیسا کو ہی مسیح مان بیٹھے۔ اس دلیل کا رد کرنا تمام نبوتوں کا رد کرنا ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ قیامت کا کسی کو علم نہیں۔

صفحہ ٤١٨

کیونکہ اگرچہ خاص وقت کا علم نہیں مگر آثار اور اعداد سورہ عصر سے اس کا علم یقینی ہوگیا ہے اور ریل گاڑی، اخبارات وغیرہ سب کچھ ظاہر ہو چکا ہے۔ دو تین صدیاں اور بڑھ جائیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ کیونکہ کسر کا اعتبار نہیں ہوتا۔ پس شریعت کا یہ مطلب نہیں کہ قیامت ہر پہلو سے مخفی ہے۔ کیونکہ اخبار الانبیاء اور آیۂ ”قد اقتربت الساعة“ اس پر شاہد ہے۔ حمل کی مدت بھی ٩ ماہ ہے۔ مگر خاص وقت کسی کو معلوم نہیں۔ قرآن شاہد ہے کہ جب نہریں جاری ہوں گی تو انقلاب ہوگا۔ قومیں ایک دوسرے کو دبائیں گی تو آسمان سے سرنا پھونک دی جائے گی۔ یہ سب کچھ یاجوج ماجوج کے ذیل میں لکھا ہے جو آگ سے کارخانہ چلانے والی قوم کی طرف اشارہ ہے تو اس وقت آسمان سے ایک بڑی تبدیلی کا انتظام ہوگا اور صلح و آشتی کے دن ظاہر ہوں گے۔ مخفی خزانے زمین سے نکلیں گے۔ اونٹ بیکار ہوں گے۔ یہ سب علامتیں پوری ہو چکی ہیں۔ سات ہزار کی نص قرآنی ہے۔ سات کا عدد بھی وتر ہے اور خدا بھی وتر ہے۔

حجج الکرامہ میں بھی ساتویں صدی کے سر سے آگے ظہور مسیح کا زمانہ نہیں بتایا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو ہلاک کیا تو حضورﷺ نے ابو جہل کو ہلاک کیا۔ ملت موسوی میں آخری نبی مسیح تھے جو جہاد کے مخالف تھے۔ آخری زمانہ میں بھی مسیح آیا اور جہاد اٹھا دیا۔ جب کہ اسلام کی اندرونی حالت خراب ہو چکی تھی۔ ”لننظر کیف تعملون (یونس)“ میں ہے کہ تم کو خلافت دی جائے گی۔ مگر آخری وقت میں بداعمالی کی وجہ سے یہود کی طرح چھن جائے گی۔ ”لیستخلفنہم (نور)“ میں ہے کہ مسیح نے جہاد ترک کر دیا تھا تو اس مسیح نے بھی ایسا ہی کیا۔ یہودی ”مغضوب علیھم“ تھے۔ تو سورہ فاتحہ دی گئی کہ امت یہودی نہ بنے مگر بن گئے اور مسیح کے بھی مخالف ہوگئے۔ جس کو عیسیٰ کہہ کر پکارا گیا۔ جیسا کہ ابو جہل کو فرعون اور نوح کو آدم ثانی اور یوحنا کو ایلیا کہا گیا اور یہ سنت اللہ ہے کہ ایک نام دوسرے کو دیا جاتا ہے۔ یہودی اپنی حکومت کے بعد روم کے ماتحت ہو چکے تھے تو مسیح آیا۔ مسلمان بھی انگریزوں کے ماتحت ہو گئے تو یہ مسیح آیا۔ مسیح پورے طور پر اسرائیلی نہ تھے۔ صرف ماں کی طرف سے تھے۔ یہ مسیح بھی صرف ماں کی طرف سے سید ہے۔ کیونکہ اس کی بھی دادی سید تھی۔ چونکہ اسرائیلی گنہگار تھے۔ اس لئے خدا نے چاہا کہ تنبیہ کے طور پر یہ نشان دکھائے تو ان میں سے صرف ایک بچہ صرف ماں سے بغیر شرکت باپ کے پیدا کیا۔ (اس مسیح کو توام پیدا کرنے میں) یہ اشارہ تھا کہ اس میں الوہیت کا مادہ بالکل نہ رہے۔ پس سلسلہ مثیل موسیٰ سے شروع ہوا اور مثیل مسیح پر ختم ہوا۔ تاکہ اول و آخر مشابہ رہیں۔ (وفات مسیح کا ذکر ختم کر کے لکھا ہے کہ) جن لوگوں نے اس مقام پر غلطی کھائی ہے ان کو معاف ہے۔ کیونکہ ان کو

صفحہ ٤١٩

کلام الٰہی کے حقیقی معنی نہیں سمجھائے گئے تھے۔ پھر ہم نے تم کو صحیح معنی سمجھا دیئے ہیں۔ اگر میں نہ آیا ہوتا تو رسمی تقلید کا ایک عذر بھی تھا۔ لیکن اب کوئی عذر باقی نہیں۔ زمین و آسمان میرے گواہ اولیائے کرام نے میرا نام بتا دیا۔ کچھ شاہد تیس برس پہلے گذر چکے ہیں۔ بعض نے عالم رؤیا میں حضورﷺ سے میری تصدیق بھی کرائی ہے۔ ہزار ہا نشان ظاہر ہو چکے۔ تمہارے ہاتھ پاؤں میرے لئے گواہ ہیں۔ کیونکہ سب کمزور ہوکر دستگیر کے محتاج ہوچکے ہیں۔ مجھے دجال کہا گیا۔ بدنصیب وہ ہیں جن کی طرف دجال بھیجا گیا۔ مجھے لعنتی بے ایمان کہا گیا۔ مسیح کو بھی یہودی یہی کہتے تھے۔ مگر قیامت کو کہیں گے کہ کیا ہو گیا کہ ہم ان شریروں کو دوزخ میں نہیں پاتے۔ اگر یہ دنیا سے پیار نہ کرتے تو مجھے شناخت کر لیتے ۔ مگر اب وہ شناخت نہیں کر سکتے ۔ (رفع جسمانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ) یہ خیالات نہایت قابل شرم ہیں گویا خدا ڈر گیا تھا کہ کہیں یہود نہ پکڑ لیں ۔اس میں حضورﷺ کی بڑی بے عزتی ہے۔ کیونکہ آسمان پر چڑھنے کے مطالبہ میں آپ نے یوں کہہ دیا تھا کہ : ”هل کنت الا بشراً رسولاً“ اور خدا کا وعدہ ہے کہ تم زمین پر ہی مرو گے۔ یہ خیال غلط ہے کہ مسیح کی بیعت ضروری نہیں۔ یہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کیونکر کر سکتے ہیں ۔ جب کہ وہ اپنے رسول کا حکم نہیں مانتے کہ امام جب ظاہر ہو تو اس کی طرف دوڑو۔ برف چیر کر بھی اس کی طرف پہنچو۔ کیا لا پروائی مسلمانی ہے۔ بلکہ مجھے گالیاں دی جاتی ہیں۔ دجال کہا جاتا ہے۔ در حقیقت بغیر تازہ یقین کے جو انبیاء کے ذریعہ آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ ان کی نمازیں صرف رسم و عادت ہیں اور روزے فاقہ کشی ۔

یہ حقیقت ہے کہ معرفت الٰہی کے سوا گناہ سے حقیقی نجات نہیں ہوتی اور نہ ہی خدا سے محبت پیدا ہوتی ہے اور معرفت دعاء سے حاصل ہوتی ہے اور دعاء سے روح قیام کرتی ہے اور احکام الٰہی مانتی ہے۔ رکوع کرتی ہے تو یک رخ ہو کر خدا کی طرف جھکتی ہے اور سجدہ کرتی ہے تو فنا کا مقام حاصل کرتی ہے۔ جسمانی نماز چونکہ اس کی محرک ہے۔ اس لئے وہ بھی ضروری ہوئی ۔ سنت الٰہی ہے کہ جس پر چاہے روح القدس ڈالتا ہے تو محبت الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ معرفت الٰہی سے یہ تعلق شناخت ہو سکتا ہے۔ گویا پتھر کی آگ کے لئے وہ چقماق ہے۔ پھر ہمدردی بنی نوع انسان کا عشق بھی پیدا ہوتا ہے۔ جس سے دوسروں کو سورج کی طرح اپنی طرف کھینچتا ہے اور یہی انسان، نبی، رسول اور محدث ہے اور وہ مخاطبہ الٰہیہ ، استجابت دعاء اور خوارق پاتا ہے۔ گو بعض لوگ اس سے کچھ حصہ پاتے ہیں۔ مگر کجا جگنو کجا آفتاب۔ ان میں وہ تاثیر ہے کہ جو ان سے رشتہ جوڑے پھل پاتا ہے توڑنے والا خشک ٹہنی بن جاتا ہے۔ اس کے ایمان پر غبار آ جاتا ہے۔ کیا بے تعلق رہنے والا یہ نہیں

صفحہ ٤٢٠

سوچتا کہ جب اس کو جسمانی باپ کی ضرورت ہے تو کیا روحانی باپ کی اسے ضرورت نہیں؟ ”اهدنا الصراط المستقيم“ میں یہی بتایا ہے کہ جو انعام انبیاء کے پاس ہیں تم بھی حاصل کرو۔ میں صرف مسلمانوں کے لئے نہیں آیا۔ بلکہ میں عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے مسیح ہوں اور ہندوؤں کے لئے کرشن اوتار ہوں اور بیس سال کے زائد عرصہ سے اعلان کر رہا ہوں اور اب سب کے سامنے اظہار کرتا ہوں کہ کرشن ہندوؤں میں کامل انسان تھا۔ جس کی نظیر ان کے کسی رشی اور اوتار میں نہیں پائی جاتی۔ وہ فتح مند با اقبال تھا۔ جس نے آریہ ورت کی زمین کو پاپ سے پاک کیا۔ وہ اپنے زمانے کا حقیقی نبی تھا۔ خدا نے بھی کہا ہے کہ وہ اوتار اور نبی تھا۔ اس کا وعدہ تھا کہ آخر زمانہ میں کرشن کا اوتار یعنی بروز ظاہر کرے جو مجھ سے پورا ہوا اور الہام ہوا کہ: ”ہے ردر گوپال تیری مہما گیتا میں بھی لکھی گئی ہے۔“ سو میں کرشن کا محب ہوں۔ کیونکہ میں اس کا مظہر ہوں اور یہ تین صفات (پاپ دور کرنا، دلجوئی، تربیت) مسیح اور کرشن میں ہیں۔ اس لئے وہ روحانیت میں ایک ہی ہیں۔ فرق صرف قومی اصلاح میں ہے۔ سو میں بحیثیت کرشن ہونے کے آریوں سے کہتا ہوں کہ ذرات اور روحوں (پرکرتی اور پرمانو) کو قدیم نہ جانو۔ ورنہ ان کا اتصال بھی خدا کا محتاج مان لو۔ آریوں کا عقیدہ ہے کہ روحیں محدود ہیں۔ اگر مکتی خانہ میں ان کو میعادی نجات کو پہنچا دیا جائے تو کسی دن جونوں کے لئے ایک روح بھی باقی نہ رہے گی اور خدا معطل ہو کر بیٹھ جائے گا۔ اس لئے جو نجات پاتے ہیں۔ ان کا ایک پاپ باقی رکھ کر پھر جونوں میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اگر ذرات انادی ہیں تو وہ اپنے خدا آپ ہی ہیں۔

تناسخ صحیح ہے کہ کیڑوں کی تعداد زیادہ؟ چاہئے تو یہ تھا کہ انسان زیادہ ہوتے۔ کیونکہ کیڑوں میں گیان نہیں جب دوبارہ انسان بنتا ہے تو ممکن ہے کہ اپنی ماں بہن سے شادی کرتا ہوگا۔ نیوگ قابل شرم اور ناقابل برداشت ہے۔ خدا ایسا محتاج نہیں کہ ہماری طرح متصرف نہ ہو۔ ظالم نہیں کہ کئی ارب جون بدلنے کے بعد بھی مکتی نہیں دیتا۔ میں یقیناً کہتا ہوں کہ ایسی تعلیم ویدوں میں نہ ہوگی۔ عیسائی انبیاء کو گالیاں دیتے ہیں۔ صرف خون کھانے سے نجات کیسے ہوگی۔ نجات یوں ہے کہ توبہ کر کے نئی زندگی حاصل کرے۔ پھر دعاء کیا کرے اور نیک صحبت میں رہے۔ کیونکہ ایک چراغ دوسرے سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ گناہ کرنا تو جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ تم دو شربت پیو۔ شربت کافوری کہ غیر کی محبت جاتی رہے اور شربت زنجبیل کہ جس سے خدا کی محبت جوش مارے۔ آریہ انسان پرستی چھوڑ رہے ہیں اور عیسائی اس کی دعوت دیتے ہیں۔ مسیح نے خدائی دعویٰ نہیں کیا۔ جن لفظوں سے اس کی خدائی ثابت کرتے ہیں۔ ان سے بڑھ کر تو میری وحی میں

صفحہ ٤٢١

الفاظ موجود ہیں تو کیا میں بھی خدائی کا حقدار ہوں۔ ہاں شفاعت میں آپ کے کلمات شامل ضرور ہیں ۔ میری شفاعت سے بھی کئی بیمار اچھے ہوئے اور کئی مصائب دور ہوئے۔ اقانیم ثلثہ کی ترکیب غیر معقول ہے اور کفارہ کے بعد گناہ کا وجود کیوں ہے۔ نبی کے نشان دو قسم کے ہیں۔ بشارت وانذار ، خسوف القمرین فی رمضان میرے لئے نشان رحمت ہے۔ جو بروایت خاندان رسالت ثابت ہے۔ مگر لوگوں نے بیعت کی بجائے گالیاں دیں اور طاعون نشان عذاب ہے جو ”معذبوا عذاباً شدیداً“ سے ثابت ہے کہ قیامت سے کچھ دن پہلے مری پڑے گی۔ نبی کی شناخت تین طرح ہے۔

اول ....... عقل سے کہ آیا ضرورت ہے یا نہیں۔ دوم ....... پیشین گوئیوں سے کہ آیا اس کے آنے کی کسی نے خبر دی ہے یا نہیں؟ سوم ....... نصرت الہی سے۔

دانیال نبی کی پیشین گوئی مشہور ہے۔ صحیحین میں بھی ہے کہ اسی امت میں مسیح ہوگا۔ ٢٤ برس سے پہلے کا الہام ہے کہ : ”یاتیک من کل فج عمیق“ مال ہر طرف سے آئے گا۔ لوگ بھی آئیں گے۔ تنگ نہ ہونا۔ براہین سے پہلے سات آٹھ سال کا عرصہ ہوا میں اسی شہر میں گمنام تھا۔ آج میرا استقبال ہوا اور لوگ جوق در جوق بیعت میں داخل ہو رہے ہیں۔ حکیم حسام الدین میرے دوست ہیں۔ یہیں اوائل عمر کا ایک حصہ گزار چکا ہوں۔ اس لئے قادیان کی طرح مجھے اس سے بھی انس ہے۔ براہین بیکسی میں لکھی اب اس عظیم الشان نشان کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ کہتے ہیں کہ آتھم میعاد پر نہیں مرا اور احمد بیگ کا داماد زندہ ہے۔ مگر جب کئی نشان پورے ہو چکے اور دو تین نشان ان کی سمجھ میں نہیں آتے تو مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اصل بات کیا ہے۔ یوں تو تمام انبیاء پر اعتراض ہوں گے۔ یہودی کہتے ہیں کہ مسیح نے کہا تھا کہ بارہ حواری بہشت میں تخت نشین ہوں گے۔ مگر ایک مرتد ہو گیا۔ یہ بھی کہا تھا کہ اس زمانہ کے لوگ نہیں مریں گے۔ جب تک کہ میں دوبارہ واپس نہیں آؤں گا۔ ١٨ صدیاں گذریں واپس نہ آئے۔ بادشاہ بننے کے لئے بھی کہا تھا مگر نہ بنے۔ مجھے خوف ہے کہ ان پر اعتراض کر کے اسلام سے ہی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ بعض دفعہ وحی مجمل اور خبر واحد کی طرح ہوتی ہے اور صلح حدیبیہ کی طرح اس میں اجتہاد کو دخل ہوتا ہے جو کبھی غلط بھی نکلتا ہے وعیدی پیشین گوئیوں کا ایفا ضروری نہیں۔ یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی ٹل گئی تھی اور صدقہ خیرات بھی ٹال دیتا ہے۔ ہمارے دعویٰ کی جڑ وفات مسیح ہے خدا اس کو اپنے ہاتھ سے پانی دیتا ہے۔ خدا کا قول مصدق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے شب معراج کو اسے مردہ

صفحہ ٤٢٢

انبیاء میں دیکھا۔ حضرت ابوبکر نے ”قد خلت“ کہہ کر ثابت کر دیا کہ کوئی نبی بھی زندہ نہ تھا تو صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا۔ گورنمنٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس نے ہم کو آزادی دے رکھی ہے۔ کئی لاکھ کی جاگیر دیتی تو اس کے مقابلہ میں ہیچ تھی۔ اب میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس محسن گورنمنٹ کے تہ دل سے شکر گذار رہیں۔ ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“

تنقیح عقائد قادیانیہ

ایقان میں پیش ہو چکے ہیں کوئی نئی بات پیش نہیں کی۔

کہ بہائیت نے لفظ بھی بدل ڈالے تھے۔ مگر قادیانیت کو یہ قدرت حاصل نہ تھی تو انہوں نے نئے مفاہیم تیار کر کے پہلے مفاہیم کو غلط قرار دے دیا۔

نے بھی وہی کیا جو دوسروں نے کیا اور تجدید اسلام کے پردے میں سب کچھ بدل ڈالا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے مجددین اسلام جو چالیس کے قریب گزر چکے ہیں۔ (دیکھو بابیہ حصہ اوّل آخری باب) کیا وہ بھی اسی قسم کی تجدید کرتے رہے ہیں کہ قرآن کا مفہوم بدل کر پہلے لوگوں کو کج و معوج کہہ کر گمراہ ثابت کیا تھا؟ واقعات بتا رہے ہیں کہ انہوں نے کچھ نہیں بدلا تھا اور ان کی تجدید صرف مذاہب جدیدہ کی تردید پر مبنی تھی۔

حضورﷺ کو بھی مجدد اعظم بتایا ہے اور اسی بناء پر لاہوری پارٹی آپ کو صرف مجدد مان کر وہی مطلب حاصل کر لیتی ہے جو قادیانی نبی مان کر حل کرتے ہیں۔

اور مسیح موعود مثیل مسیح ہوگا۔ ورنہ یہ لازم آتا ہے کہ حضرت موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام اصل نبی ہوں اور حضورﷺ بروزی نبی مانے گئے ہوں۔

حالانکہ حضورﷺ نے کبھی

بہائی اور مرزائی دونوں دوسرے سے کم نہیں۔ کیو مرزا کی ذات سے وابس دکھ پاتا ہے یا مر جاتا ہے کامیابی ذرہ بھر بھی ہو تو نحوست تصور کی جاتی ۔ سے پیوستہ سمجھا جاتا ہے طرف منسوب ہے۔ گو ان کا خدا متصرف ہے باوجود پھر اپنے آپ کو شگاف زمین اور نئے ہے کہ ایک غلام سب کہ مرزائیو! یہی شرکیہ عقا کو خدا ہی بنالیا۔

کا؟ کیا اپنی صداقت ثا دنیا صرف مرزائیوں م باقی چالیس کروڑ مسلم ہدایت جدید کا اعلان ک میں کس ہدایت کی پی جاتا۔ کھڑے کے مینڈ

صفحہ ٤٢٣

حالانکہ حضورﷺ نے کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کیا۔

بہائی اور مرزائی دونوں یکساں طور پر نظر آتے ہیں اور انسان پرستی کی دعوت دینے میں ایک دوسرے سے کم نہیں۔ کیونکہ تجربہ سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ مرزائی دنیا کے تمام انقلابات کو مرزا کی ذات سے وابستہ یقین کرتے ہیں۔ کوئی زلزلہ آئے تو تکذیب مسیح پیش کی جاتی ہے۔ کوئی دکھ پاتا ہے یا مر جاتا ہے تو جھٹ پیشین گوئیوں کا پلندہ کھول کر رکھ دیا جاتا ہے۔ مگر مرزائیوں کی کامیابی ذرہ بھر بھی ہو تو اس کا باعث اطاعت مرزا تصور کی جاتی ہے۔ مصیبت آئے تو دوسروں کو نحوست تصور کی جاتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اپنوں کا سکھ اور غیروں کا دکھ تو مرزا قادیانی کی ذات سے پیوستہ سمجھا جاتا ہے اور تقدیر الٰہی سے خارج کہا جاتا ہے۔ مگر اپنا دکھ اور اغیار کا سکھ خدا کی طرف منسوب ہے۔ گویا ان کے نزدیک خدائی دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ جس کے نصف میں ان کا خدا متصرف ہے اور باقی نصف میں دنیا کا خدا تصرف کر رہا ہے۔ مگر اس شرکیہ عقیدہ کے باوجود پھر اپنے آپ کو مبلغ توحید جانتے ہیں۔ حضورﷺ نے جو کچھ اس زمانہ کے متعلق زلازل، شگاف زمین اور نئے نئے انقلابات بیان کئے ہیں۔ ان کو اپنی ذات سے وابستہ نہیں کیا۔ مگر افسوس ہے کہ ایک غلام سب کچھ اپنے لئے ہی رجسٹری کر چکا ہے۔ اس لئے ہم خلوص قلب سے کہتے ہیں کہ مرزائیو! اس شرکیہ تعلیم سے بچو۔ تم تو حیات مسیح کو شرک بتاتے تھے۔ اب کیا ہو گیا کہ اپنے مرشد کو خدا ہی بنالیا۔

کا؟ کیا اپنی صداقت پیش کرنے کے لئے تو یہ بات نہیں گھڑ لی؟ ذرہ ماحول کی بھی تو خبر لینی تھی۔ کیا دنیا صرف مرزائیوں میں منحصر ہوچکی ہے۔ کیا یہی چندہ دہندہ چار لاکھ آدمی ہدایت کا ثبوت ہیں۔ مگر باقی چالیس کروڑ مسلمان اگر گمراہ ہیں تو ہدایت کا ظہور کہاں ہوا؟ شاید یہ مطلب ہوگا کہ اس میں ہدایت جدید کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس لئے ہدایت کا ہزار سال شروع ہوا۔ مگر آنکھ اٹھا کر دیکھئے دنیا میں کس ہدایت کی پیروی کی جارہی ہے اور کس گمراہی اور حیاسوز تمدن کی طرف قدم اٹھایا نہیں جاتا۔ گڑھے کے مینڈک بن کر قادیانی جماعت کو ہی انسان نہ سمجھو اور بقول مرزا یہ فتویٰ نہ لگاؤ کہ؎

بن کے رہنے والو تم ہرگز نہیں ہو آدمی
کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار
صفحہ ٤٢٤

نہیں نہیں دنیا میں اور بھی انسان رہتے ہیں قادیان سے باہر نکل کر دیکھو تمہیں کم از کم جو چالیس کروڑ مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں آباد ہیں نظر آئیں گے۔ جن میں نسبۃً تمہارے جیسی انسان پرستی بہت کم ہے اور جن میں انسان پرستی کے خلاف آواز اٹھانے والے ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔

میں نبوت جاری رہی اور غیر اقوام محروم ہوگئیں۔ مسیح پیدا ہوا تو امامت کا خاتمہ بھی یوں ہوا کہ اب مرزائی ہی امام بنا کریں گے۔ دوسرے مسلمان حقدار نہیں رہے۔ اگر امامت کے لئے اپنا ہی خاندان مخصوص کرلیا جاتا تو آج احمد نور کابلی تکا قادیان میں اور فضل احمد جنگا بنگیال میں اور صدیق دیندار صوبہ بہار میں مظہر قدرت ثانیہ اور امامت کے دعویدار نہ بنتے۔ پس اگر یہی تجویز ہے تو کسی سالانہ جلسہ میں اس کا تصفیہ کرنا ضروری ہوگا۔ مگر یہ باور رہے کہ اس خودساختہ اصول کو اہل اسلام کا مسلمہ اصول قرار دینے کی تکلیف گوارا نہ کریں۔ کیونکہ ہم اسے تحریف اسلامی اور دجل و فریب میں داخل سمجھتے ہیں۔

ہوئے تھے وہ سچے نہ تھے اور حضرت یحیٰ و حضرت مسیح علیہم السلام کی شخصیت نہایت ہی مخدوش ہوجاتی ہے۔ کیونکہ وہ گمراہی کے ہزار میں تھے۔ نوح علیہ السلام کی آخری تبلیغ بھی گمراہی کے ہزار میں تھی اور باقی پیغمبر بھی سارے کے سارے ہدایت کے ہزاروں میں نہیں ہوئے تو پھر یہ قاعدہ کیسے صحیح ہوا؟ اور یہ بھی قابل غور ہے کہ امت محمدیہ ایک ہزار سال تک گمراہی کے دور میں رہی ہو اور اس کے دس مجدد بھی اس لپیٹ میں آگئے ہوں اور خصوصاً مجدد الف ثانی کا وجود تو بالکل ہی گمراہ کن ثابت ہوا۔ حضرت پیران پیر بھی جو چوتھی صدی میں گزرے ہیں وہ بھی اسی سیلاب میں بہ گئے ہوں۔ براہ کرم اس تکفیری فتویٰ کو قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیجئے اور ہزار سال کے کروڑوں اہل اسلام کو کافر قرار نہ دیں اور انبیاء کرام پر ہاتھ صاف نہ کریں۔ ہاں اگر فج اعوج کا معنی نہیں آتا تو کسی اہل علم سے دریافت کرو۔ کس لئے اپنا بیڑہ غرق کر رہے ہیں؟

دعویداران امامت برساتی کیڑوں کی طرح نمودار ہوئے ہیں کہ جن کی نظیر ازمنہ متوسطہ میں نہیں ملتی۔ (یعنی تمہارے فج اعوج کے زمانہ میں نہیں ملتی) اس وقت تو جو سر اٹھاتا اس کی حجامت ہوجاتی تھی۔ مگر جب دنیا نے مذہب کو خیرباد کہہ دیا اور آئین حکومت کو قواعد مذہب کے خلاف

صفحہ ٤٢٥

اپنے خانہ ساز اصول پر چلانا شروع کر دیا۔ یعنی ملکہ وکٹوریہ کے عہد سے تھوڑا ہی پہلے آزادی نے قدم جمانا شروع کر دیا تھا۔ تو ایران، مصر، ہندوستان اور افریقہ والوں کو بھی امام یا رسول بننے کا شوق پیدا ہو گیا۔ کیونکہ اب حجامت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ رفتہ رفتہ ایک دوسرے کی تکذیب و توہین میں برسر پیکار ہو گئے اور مذہب کی فضا ایسی مکدر کر ڈالی کہ متلاشی حق کے سامنے ایک نہیں دو نہیں گیارہ باب، ایک مظہر الٰہی بہاء اللہ، مسیح قادیانی، مرزا محمود خیر الرسل اور اس پارٹی کے دس مدعی اور یحییٰ بہاری، مہدی سوڈان اور مہدی جونپوری اکٹھے سو دوسو ہر ایک مدعی اپنی اپنی ہانکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کوئی اب فیصلہ کرے تو کس کے حق میں کرے۔ آخر مجبور ہو کر اپنے آقا حضورﷺ کو نہیں چھوڑتا اور آپ کی پیشین گوئی سامنے دیکھتا ہے کہ ایک وہ زمانہ آئے گا کہ دعویدار بہت ہوں گے اور قرآن کی تعلیم کی بجائے اپنا اپنا نیا نصاب تعلیم پیش کریں گے۔ یعنی اسلام قدیم سے دستبردار ہو جائیں گے۔ مگر ایمانداری کا ثبوت بہت مشکل ملے گا۔ چنانچہ آج مذاہب جدیدہ کے بانی جب معرض امتحان میں لائے جاتے ہیں تو ان کی تمام شخصیت مخدوش نظر آنے لگتی ہے اور سوائے شکم پروری کے اور دعوٰی فروشی کے کچھ نظر نہیں آتا۔

مذہب چھوڑ کر خود ساختہ اصول اور تمدن جدید کے موازنے میں جدوجہد شروع کی تو ان کو یہ ضرورت پیش نہ آئی کہ پیغمبر رسول بن کر نئی معاشرت کی بنیاد ڈالیں۔ کیونکہ عیسائی قوم پہلے سے ایسے مذہب کی پیرو تھی جو بقول پولس حواری تمام احکام شرعیہ سے آزاد ہو چکا تھا اور جو کچھ بھی ان میں شرم و حیا تھا ہمسایہ اقوام کے زیر اثر تھا۔ لیکن ایشیاء میں چونکہ مذہب کو تمام اصول پر مقدم سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے یا تو اندرونی طور پر اہل یورپ اشاروں سے اور یا قومی بہبود کو اپنے خیال میں مدنظر رکھ کر اور یا کسی اور غرض سے ناسخان شرع محمدی نے امامت، رسالت اور تجدید کا لباس پہن کر مسلمانوں کو آہستہ آہستہ اصول اسلامی سے دل برداشتہ کر کے مادی ترقی کی خدمت کے انجام دہی میں اپنی سرخروئی حاصل کی اور اپنا نام ان لوگوں کی فہرست میں (اہل یورپ کے ہاں) داخل کرایا۔ جنہوں نے ایک نئی روح پھونک کر مسلمانوں کو اس پلیٹ فارم کے قریب کر دیا جس پر کہ اہل یورپ قائم ہیں اور کم از کم اس قدر کامیاب ضرور ہوئے ہیں کہ اسلام قدیم پر قیام کرنا بقول حضورﷺ ایسا ہی مشکل ہو گیا ہے کہ ہاتھ میں انگاری تھامنا ناممکن ہے۔

(ریل وغیرہ) قرآن میں مذکور ہیں۔ شاید قرآن کے نئے مفہوم میں جو بہائیت کے زیر تعلیم گھڑا

صفحہ ٤٢٦

گیا ہے مذکور ہوں گے۔ مگر اسلام قدیم کے ماننے والوں کے نزدیک ایسے خیالات گوز شتر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے اور یہ نظریہ بھی عجیب ہے کہ یہودیوں کی حکومت اٹھ گئی تھی تو مسیح آئے تھے۔ ایسا ہی مسلمانوں کی حکومت اٹھ گئی تو قادیانی مسیح آیا۔ آنکھ کھول کر دیکھئے مسلمان ابھی تک ایشیاء کے نصف حصہ سے زیادہ پر حکمران ہیں تو پھر یہود سے تمثیل کیسے درست رہی؟ اگر صرف ہندوستان کے مسلمان ہی مراد ہوں تو اس تنگ چشمی اور بوالہوسی کے بعد ریاست بہاولپور اور حیدرآباد دکن کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ جن کی یہودیوں میں مثال نہیں ملتی۔ بہر حال یہ نظریہ اس شخص کے لئے ہے جو آنکھ بند کر کے ہمیشہ کے لئے خادم قدرت ثانیہ قادیانیہ بن چکا ہو۔

اسلام نے حالات کا مطالعہ کر کے پہلے سے ہندوستان میں بے جا قرار دیا ہوا ہے اور ایران میں بابی اور بہائی مذہب نے بھی قادیانیت سے پہلے منسوخ کر دیا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ مسیح قادیانی نے اس پر قلم تنسیخ پھیر دیا تھا۔ مولوی محمد حسین بٹالوی مرزا قادیانی کے ہم درس نے بھی اس مسئلہ پر چار مربے حاصل کر لئے تھے۔ مگر یہ ماننا پڑتا ہے کہ مدعیان مسیحیت نے بڑھ کر یہ کام ضرور کر دیا ہے کہ یہ مسئلہ اسلام سے نکال ہی دیا ہے۔ لیکن پھر بھی اپنے مخالفین سے وہی اسلامی جنگ کا اجراء ضروری سمجھے ہوئے ہیں اور اغیار کو تہ تیغ کرنے سے بھی پیچھے ہٹتے نظر نہیں آتے۔ مگر کیا کریں حکومت درمیان میں حائل ہو جاتی ہے۔

سلطنت پورے طور پر عمل پیرا نہیں۔ اس لئے جس طرح باقی احکام اسلامیہ کے اجراء کے لئے انقلاب زمانہ نے جگہ نہیں چھوڑی اسی طرح جہاد کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ یہ حکم منسوخ ہی ہو چکا ہے ورنہ یہ لازم آئے گا کہ جو احکام عہد رسالت میں جاری تھے۔ سب ہی منسوخ ہو چکے ہیں۔

دیا ہے اور اسلام سے خارج کر دیا ہے۔ اب یہ بہانہ پیش نہیں کیا جا سکتا کہ مرزا قادیانی نے کسی کو کافر نہیں کہا اور لوگ ان کو کافر کہہ کر خود کافر ہو رہے ہیں اور اس سے پہلے ناظرین پڑھ چکے ہیں کہ ایک ہزار سال کے تمام مردہ مسلمانوں کو قرآن سے گمراہ قرار دیا ہے تو گویا سارا جہان قادیانیوں کے نزدیک کافر ہوا اور وہ مٹھی بھر مسلمان ہیں۔ اسے کون مان سکتا ہے اس سے بہتر تو یہ

صفحہ ٤٢٧

ہو گا کہ ان کو اسلام جدید کے پیرو مان کر اسلام قدیم کی رو سے کافر اور بے ایمان سمجھا جائے۔

(عوض معاوضہ گلہ ندارد)

١٦....... حیات مسیح کے ماننے والوں کو فج اعوج میں داخل کر کے پھر ان کو معافی دے کر جناب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ پہلے لوگ اس لئے معذور تھے کہ ان پر قرآن کے اصلی معانی نہیں کھلے تھے۔ لیکن ہم نے حاویہ جلد اوّل میں ثابت کر دیا ہے کہ حیات مسیح کا قول نہ صرف تمام مجددین اسلام اور تمام اہل سنت نے تسلیم کیا ہے۔ بلکہ عہد رسالت اور عہد خلافت سے بھی اسی پر اتفاق چلا آیا ہے۔ لیکن مسیح قادیانی پر اس کا انکشاف نہیں ہوا۔ اس لئے مسلمانوں کو دو جماعتوں میں تقسیم کر کے ایسے افتراق وانشقاق کا باعث ہوئے کہ بھائی بھائی کا دشمن بن گیا ہے اور بیٹا باپ کا نہیں رہا۔ ترک موالات غیر مسلم سے کرنا تھا۔ الٹا مسلمان آپس میں کر رہے ہیں۔ قادیانی تحریک سے پہلے مسلمان گو حنفی وہابی کے جھگڑوں سے چور ہو چکے تھے۔ مگر آخر میں کسی حد تک باہمی مصالحت ہو چکی تھی۔ مگر قادیانی تحریک نے ایسی پھوٹ ڈال دی ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور پھوٹ کی ضرورت نہیں رہی۔ حکومت کے بھاگ جاگے۔ ہندوستان کا میوہ پھوٹ پیدا ہو گیا اور ایسا تقسیم ہوا کہ غیر ممالک میں بھی ٹکے سیر ہو گیا ہے تو گویا یہ مسیح حکومت کے لئے ہی آیا تھا۔ ورنہ مسلمانوں کی اصلاح اسے منظور نہ تھی۔ کیونکہ تعلیمی اصلاح سرسید کر چکا تھا اور راعی و رعیت کے باہمی معاملات کو بھی ایسے طور پر سدھارا تھا کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی بن چکے تھے۔ صنعت و حرفت اور تجارت کی طرف زعمائے قوم توجہ دلا رہے تھے اور مذہبی تعلیم کے لئے مولانا مولوی محمد قاسم دیوبندی نے توجہ دلائی تھی۔ اب صرف پھوٹ رہ گئی تھی جو مسیح قادیانی نے کھلانی شروع کر دی۔ ورنہ کوئی بتائے کہ اس کی شخصیت سے مسلمانوں کو کون سا معراج ترقی حاصل ہوا۔

١٧....... مثیل مسیح بنتے ہوئے ضمناً توہین مسیح کا بھی ارتکاب کر لیا ہے کہ مسیح کی والدہ گنہگار قوم کا فرد تھی اور اپنی ایک دادی سید تھی۔ جس کی وجہ سے آپ کی والدہ اس دور کے تعلق سے بیگناہ قوم کی فرد بن چکی تھی۔ پھر یہ بھی کہا ہے کہ مسیح میں صرف انوثیت کا مادہ تھا اور مجھ سے تمام انوثیت کا مادہ نکال دیا گیا تھا۔ کیونکہ کچھ دن پہلے ایک لڑکی پیدا ہو کر مر گئی تھی۔

(گویا مسیح ناصری مرد ہی نہ تھے)

١٨....... آپ پیر دستگیر بن کر یہ افسوس کرتے ہیں کہ مجھے دجال کہا۔ کیا پھر خوش بھی ہوتے ہیں کہ مسیح کو بھی یہودیوں نے برا کہا تھا۔ آج کل تبلیغی رسائل میں تکفیر مرزا کو صداقت مرزا

صفحہ ٤٢٨

کا نشان بتایا جاتا ہے اور یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ فتویٰ دینے والے علمائے اسلام سب یہودی ہیں اور بدترین مخلوقات ہیں۔ کیونکہ ان سے فج اعوج کے علمائے اسلام بھی نالاں تھے۔ کون سا پارسا تھا کہ جس پر انہوں نے فتوائے تکفیر جاری نہ کیا ہو اور کون سا امام تھا جس پر ان کا تکفیری قلم نہ چلا ہو۔ مزید برآں آپس میں بھی ایک دوسرے کو کافر کہتے رہتے ہیں۔ اس لئے ان کی تکفیر مضر نہیں بلکہ صداقت کا نشان ہے۔ انبیائے سابقین کے وقت بھی یہی لوگ تھے جنہوں نے انبیاء کی مخالفت کی تھی۔ دیکھئے بہائی بابی اور مرزائی تینوں ایک ہی راگ گاتے ہیں۔ ایقان میں بہاء اللہ نے علمائے اسلام کا نام ہمج رعاع رکھا ہے اور قادیانی تعلیم میں ان کا نام سب سے بڑھ کر شرارتی، یہودی، دجال اور فج اعوج رکھا گیا۔ گو ان کے پیغمبر نے فج اعوج کا زمانہ چودھویں صدی سے پہلے گذار دیا تھا۔ مگر یہ لوگ اس کو بھی اجتہادی غلطی بتا کر اب بھی فج اعوج کا ہی زمانہ بتا رہے ہیں تو جو جوابات مرزائی مذہب بہائی مذہب کے مقابلہ پر پیش کر سکتے ہیں ہماری طرف سے بھی مرزائیوں کے مقابلہ پر وہی وار دسکہ استعمال ہو سکتا ہے۔ اگر حقیقی فیصلہ یوں ہے کہ فتوائے تکفیر دو قسم کا ہوتا ہے۔

ایک اصلاحی جو مسلمان اور اہل علم ایک شریعت کو مان کر آپس میں لگایا کرتے ہیں اور اس کی اصلی غرض اس غلطی کی اصلاح مقصود ہوتی ہے جو فریق مخالف سے سرزد ہوتی ہے تو پھر جب اصل واقعات کھل جاتے ہیں اور فریقین کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اصل میں وجہ مخالفت صرف نا فہمی معاملات تھی تو فتویٰ منعدم ہو جاتا ہے اور فریقین آپس میں ویسے ہی موالات اور اتحاد سے معاشرت کرنے لگ جاتے ہیں جیسے پہلے تھے بلکہ بعض دفعہ ایسے تکفیری فتویٰ کی موجودگی میں بھی باہمی رشتہ ناتہ کے تعلقات پوری موالات کے ساتھ قائم رکھتے ہیں۔ دیوبندی، بریلوی، حنفی، وہابی وغیرہ کا جھگڑا اسی قسم میں داخل ہے اور مرزائی تعلیم میں اس کی نظیر پیش کرنے میں پیغامی اور محمودی تکفیر و تفسیق اور تجہیل و توہین بہترین نمونہ ہیں۔ فتویٰ کی دوسری قسم تکفیر بیزاری ہے اور یہ فتویٰ عہد رسالت سے لے کر آج تک ان مدعیان امامت و رسالت پر جاری کیا گیا ہے کہ جنہوں نے نئی رسالت نئی وحی نیا اسلام یا انوکھی ترمیم مجددانہ اسلام پیش کر کے اپنے آپ کو پھر بھی مسلمان ہی کہلایا ہے۔ اس کی غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو دھوکہ نہ دینے پائیں۔ بلکہ یہ ظاہر کر دیں کہ جس اسلام کو ہم سمجھتے ہیں وہ اسلام قدیم سے الگ ہے۔ تاکہ نئے پرانے اسلام میں امتیاز قائم ہو جائے اور اس قسم کا فتویٰ مرزائیت میں بہائیت کے خلاف خود موجود ہے۔ ایسے فتوے کا اثر اولین یہ ہوتا ہے کہ فریقین میں ترک موالات اور باہمی متارکت شروع ہو کر تنافر اور مخاصمت تک پہنچ جاتی ہے۔ اب ناظرین بتائیں کہ اگر مسلمانوں نے قادیانی

صفحہ ٤٢٩

مسیح پر تکفیری فتویٰ از قسم دوم جاری کیا تو کون سا گناہ کیا۔ یا وہ کس طرح یہودی اور کافر بن گئے اور اگر بلا تحقیق ہی بنانا ہے تو بہائیوں کے مقابلہ پر مرزائی خود یہودی، شرالناس اور فجّ اعوج وغیرہ ثابت ہوں گے۔ اگر قسم دوم کے فتویٰ سے مرزا قادیانی کی صداقت پیدا ہوتی ہے تو سب سے پہلے بہاء اللہ اور باب کی صداقت بھی تسلیم کرنی پڑے گی۔ اس لئے مرزائیوں کا یہ کہنا غلط ہو گیا کہ تکفیر مرزا صداقت مرزا کی دلیل ہے۔

ہیں۔ کیونکہ بقول مسیح قادیانی فجّ اعوج کا زمانہ چودھویں صدی کے آغاز پر ختم ہو چکا ہے اور اب ہدایت کا ہزار شروع ہے اور اگر یوں کہا جائے کہ غیر احمدیوں میں فجّ اعوج اب بھی جاری ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ فجّ اعوج میں پہلے بھی دو قسم کے علمائے اسلام چلے آئے ہیں۔

بیدریغ ہو کر اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور جن کے متعلق وارد ہے کہ وہ حزب اللہ بن کر اہل باطل کے مقابلہ پر مظفر و منصور رہیں گے اور یہ جماعت وہ ہے کہ جنہوں نے آج تک تمام مذاہب جدیدہ کی تردید اور مدعیان نبوت کی (خواہ بروزی ہوں یا ظلی) تکفیر کی ہے اور جن کے متعلق لکھا ہے کہ یہ جماعت اصلی مسیح کے ساتھ شامل ہو کر دجال مدعی الوہیت و رسالت بروزی کو جان سے مار ڈالے گی۔

جدیدہ کی طرف دعوت دے کر اسلام کا مفہوم ہی بگاڑ ڈالتے ہیں اور لفظی مباحث کے آسرے پر بروز الوہیت و رسالت یا بروز کرشن و رام چندر و جے سنگھ بہادر اور مظہر جنیوا وغیرہ بن کر اپنی شخصیت کو بھول بھلیاں کا نمونہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور یہی فجّ اعوج کا مصداق ہیں۔ پس احادیث نبویہ دو قسم کے علمائے اسلام بتا رہی ہیں۔ اس لئے یہ حد بندی کرنا کہ فجّ اعوج کے وقت علمائے ربانی کا وجود نہیں ہوتا کمال خوش فہمی ہو گی۔

بننے کا طریق سکھلایا ہے۔ مگر اپنی شخصیت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نبوت کو خدا کے سپرد کر دیا ہے کہ جسے چاہے فنا فی اللہ محبت الٰہی اور کثرت مکالمہ و مخاطبہ سے نبی بنا دیتا ہے اور وہی محدث اور مجدد بھی کہلاتا ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ١٩٠٢ء میں آپ کو مستقل طور پر نبی بنا دیا گیا تھا اور اصل میں تزکیۂ نفس کو اس کا بہترین سبب قرار دیا ہے اور ضمناً کہہ دیا ہے کہ نبوت کسب و اجتہاد سے

صفحہ ٤٣٠

بھی حاصل ہو سکتی ہے اور وہ صرف وہبی امر نہیں ہے۔ گویا فلاسفہ کا مذہب آپ کے نزدیک حق ہے اور قرآن کا حکم قابل تاویل ہے کہ بغیر استعداد تامہ کے نبوت کا فیضان نہیں ہوتا۔ اگر اس طریق سے نبوت بروزی مراد ہو تو پھر بھی قرآن کا خلاف ہوگا۔ کیونکہ اس میں کسی طرح کی نبوت بروزی کا ذکر تک نہیں۔

مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی بھی پاپ دور کرنے کے مدعی ہیں اور کفارہ کا مسئلہ جس کو کتاب البریہ میں غلط اور ناممکن قرار دے آئے ہیں۔ اپنے لئے بڑے زور سے ثابت کر رہے ہیں اور یہ دعویٰ نہ صرف شرک ہے۔ بلکہ خدا کو خدائی سے ہی جواب دینے کے برابر ہے اور بعینہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ مسیح سزا و جزاء کا مالک ہے۔ خدا نے یہ کام مسیح کے ہی سپرد کر دیا ہوا ہے۔ ناظرین! غور کریں کہ آیا حیات مسیح کا عقیدہ شرک ہے یا یہ عقیدہ رکھنا کہ مسیح قادیانی ثواب وعقاب پر قابض ہے۔

کسی مذہب میں شمار ہوں بغیر بیعت کے بھی بہائی ہو سکتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی یہ مسلک نہیں جاری کر سکتے۔ کیونکہ ان کے نزدیک شرائط ضروری ہیں۔ اس لئے ان کو نسلاً کامیابی نہیں ہوئی اور نہ آریوں نے آپ کو قبول کیا ہے نہ سکھوں نے اور نہ عیسائیوں نے بلکہ سب نے آپ کو اس تحقیر سے دیکھا ہے کہ کسی دشمن کو بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہاں مسلم قوم پر آپ کا افسوں چل رہا ہے۔ کیونکہ ان میں مذہبی تعلیم سے ناواقف بہت ہیں اور صوفیائے کرام کے زیر اثر ہو کر ضعیف الاعتقاد ہورہے ہیں اور وحدت وجود کی دھن میں یا شطحیات صوفیا کے لپیٹ میں آکر ایسے لاجواب ہو جاتے ہیں کہ مرزائیوں کے سامنے اف نہیں کر سکتے۔ لیکن جنہوں نے ایمان کی قدر کی ہے وہ اس سودے میں جب تک کہ اسے امتحان کی کسوٹی پر بار بار نہ پرکھ لیں۔ اپنا نقد ایمان نہیں کھو بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک اس وقت اندر ہی اندر پچھتا رہے ہیں۔ مگر اب ان کو چھوڑنا مشکل ہو رہا ہے۔

ہے۔ مگر مرزا نبی بن کر اس کشش کے مدعی ہوئے تو ہیں۔ لیکن بہاء اللہ کے مقابلہ پر اپنی طرف لوگوں کو کھینچ نہیں سکے اور جن لوگوں نے آپ سے قطع تعلق کیا ہے۔ ان کے لئے برباد ہونا لازمی امر نہیں ہوا۔ کیونکہ اس وقت پیر جماعت علی شاہ صاحب اور پیر مہر علی شاہ صاحب اور مولوی ثناء اللہ صاحب روز افزوں ترقی کر رہے ہیں۔ کسی قسم کا کھٹکا نہیں اور سختی نرمی جیسی کہ مرزائیوں پر آتی ہے۔ ویسی دوسروں پر بھی آتی ہے۔ ورنہ امتیازی طور پر ہمارے سامنے کوئی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی

صفحہ ٤٣١

اور اگر یہ نظریہ پیش کیا جائے کہ مقربین بارگاہ الہی تکالیف میں بہت مبتلا ہوتے ہیں تو سارا معاملہ ہی بگڑ جاتا ہے۔ ہاں حضرت نوح علیہ السلام کے دشمن آنا فانا تباہ و برباد ہو گئے۔ موسیٰ علیہ السلام کے دشمن فوراً ہلاک ہو گئے۔ ھود ولوط وصالح اور شعیب علیہم السلام کے دشمن نیست و نابود ہو گئے اور حضورﷺ کے دشمن لڑائیوں میں جو عذاب الہی تھیں مارے گئے اور یہ وعدہ سچا نکلا کہ ہم اپنے رسولوں کی امداد کرتے ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آج وہ شخص جو خود خدا اور ابن اللہ بلکہ ابواللہ بنتا ہے۔ (استغفر اللہ) اپنے دشمنوں کو ہلاک نہیں کر سکا۔ بلکہ اپنے دشمنوں کے سامنے ان کی پیشین گوئیوں کے مطابق بغیر اس کے کہ ان میں تاویل کی جائے مر چکا ہے اور دنیا جانتی ہے کہ اس کے دشمن اب تک زندہ ہیں اور پھلتے پھولتے ہیں اور جو مرے بھی تھے وہ امتیازی طور پر نہیں مرتے تھے۔ ورنہ ان کے متعلق حاشیہ آرائیوں کی ضرورت نہ پڑتی کہ بددعاء کبھی اندرونی خوف سے ٹل جاتی ہے یا صدقہ خیرات اسے دفع کر دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ سب کچھ درست ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جس پیشین گوئی یا بددعاء کو اپنی صداقت کا معیار قرار دیا جائے تو کیا اس کا پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر یہی بات تھی تو کیوں اچھل اچھل کر اسے پیش کیا تھا۔ دیکھئے انبیاء علیہم السلام نے بددعائیں دیں اور پیشین گوئیوں سے اپنی اپنی قوم کو متنبہ کیا۔ مگر کبھی بھی وقوع عذاب کو اپنی سچائی کا معیار قرار نہیں دیا اور نہ ہی اپنے اوپر مغلظات اور گالیاں لی ہیں۔ مگر وہ پھر بھی پوری اتریں اور یہاں اگر کوئی بہانہ نہیں چلتا تو کہہ دیتے ہیں کہ فریق مخالف اندر سے تائب تھا یا خوفزدہ ہو گیا تھا یا یوں کہا جاتا ہے کہ اس کا وقوع عہد خلافت میں ہوگا۔ کیونکہ قدرت ثانیہ کا بروز بھی آپ کا ہی عہد ہے۔ مگر تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔

شیر قالی دیگر و شیر نیستاں دیگر است

قادیانی کا بار بار بروز بھی باطل ہے۔ اگر یہ درست تھا تو جس طرح مسیح قادیانی پر انبیاء کا بروز ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح بعد میں دوسرے کے اندر بھی جاری رہنا چاہئے تھا۔ یہ کیا غضب ہے کہ آپ نے باقی انبیاء کا بروز بند کر دیا ہے اور اپنا بروز جاری رکھا ہے تو گویا یہ مطلب ہوا کہ اب حضورﷺ کا اسوۂ حسنہ براہ راست مفید نہیں جب تک کہ مسیح قادیانی کے اسوۂ حسنہ کو درمیان میں واسطہ نہ سمجھا جائے۔ باقی رہے دوسرے انبیاء تو ان کو تو سرے سے بے تعلق ہی کر دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ تقدس کی بیماری نے زور پکڑ کر نخوت کا مادہ بھی پیدا کر دیا تھا اور مجھ سا دیگرے نیست کا مرض ایسا پیدا ہو گیا تھا کہ اپنے آقائے نامدار کی بھی کچھ پرواہ نہیں کی اور کہہ دیا کہ گو ان کے ذریعہ سے ہی ہم نے ترقی حاصل کی

صفحہ ٤٣٢

ہے۔مگر خدا کے ساتھ ہمیں ایسا تعلق ہے جو کسی کو حاصل نہیں۔ اسی وجہ سے تو ایک دفعہ آپ خدا بن گئے تھے اور بہاء اللہ سے بڑھ کر صفات الہیہ، تکوین، تفرید اور توحید بالمادہ وبغیر مادہ اور کن فیکون پر قبضہ کر لیا تھا۔ دوسری دفعہ ابن اللہ بن کر خدا سے یہ لفظ سنے تھے کہ اے میرے بیٹے میری بات سن۔ تیسری دفعہ جب عروج ہوا تو اپنی قدرت ثانیہ مرزا محمود کو خیر الرسل اور خدائے نازل من السماء کہہ کر دنیا کے سامنے پیش کیا تو گویا ”کل یوم ھو فی شان“ آپ کے لئے ہی شایان ہے۔ مگر ایک مسلم جو خدائے قدوس کو ان حیا سوز آلائشوں سے پاک سمجھتا ہے اور ایسے مدعی کو غلط گو یا ماؤف الدماغ یقین کرتا ہے۔ نہ اسے ایسے بروز کی ضرورت ہے اور نہ ایسے مومی خدا کی ضرورت ہے کہ جھٹ بیٹا بن گیا پھر خیال آیا تو باپ یا دادا بن گیا۔ خدا ایسی گمراہ کن شرکیہ تعلیم سے مسلمانوں کو بچائے۔ مرزائیوں کو شکایت ہے کہ عیسائیوں میں انسان پرستی کی تعلیم موجود ہے۔ مگر اپنا گھر سارے کا سارا ہی آتش شرک سے بھسم ہو چکا ہے اور خبر تک نہیں۔

فبای آلاء ربکما تکذبان“ تعجب ہے کہ پہلے تو کسوف وخسوف کا مطلب غلط سمجھے پھر تاویل ایسی کی کہ جس پر طفل مکتب بھی ہنسی اڑاتا ہے۔ پھر اتنی شوخی دکھائی کہ سورۂ رحمان کی ایک آیت کا نمونہ پیش کر دیا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ کا ملہم فصیح اللسان نہ تھا۔ ورنہ کچھ بعید نہ تھا کہ آپ بھی مسیلمہ کے فرقان اوّل و ثانی کا بروز پیش کر دیتے۔ پھر یہ غضب ڈھایا ہے کہ: ”معذبوھا“ سے یہ مطلب لیا ہے کہ ہماری صداقت کے لئے مخالفین کو طاعون سے عذاب دیا جائے گا اور جاہلوں کو ایسا الو بنایا ہے کہ وہ اس تحریف قرآنی کو معارف قرآنی سمجھنے لگ گئے۔ کیا اسی گھمنڈ پر کہہ دیا تھا کہ چودھویں صدی سے پہلے ہزار سال تک قرآن مخفی رہا اور اس کے معارف کھلے ہیں تو صرف چودھویں صدی میں مگر وہ بھی صرف ہم پر۔ جناب اگر ایسے ہی معارف ہیں تو تمام ملاحدہ و زنادقہ آپ سے بڑھے ہوئے ہیں اور وہ لوگ بھی آپ سے نمبر زیادہ لے جاتے ہیں جو قرآن کی آیت ”تنزل علی کل افاک اثیم“ سے آپ پر فتویٰ شیطانی لگا دیتے ہیں۔ قربان جائیں ایسے معارف پر کہ جنہوں نے اسلام ہی بدل ڈالا اور قرآن پاک کو ایسا بازی طفلاں بنا ڈالا ہے کہ آج وہ لوگ بھی معارف بیان کرنے لگ گئے ہیں کہ جن کو ایک حرف بھی پڑھنا نہیں آتا اور معارف بیانی ایسی بدنام ہوگئی ہے کہ جب ہم معارف کا نام سنتے ہیں تو فوراً یہ نقشہ ذہن میں جم جاتا ہے کہ معارف بتانے والا ضرور ماؤف الدماغ ہوگا یا مولانا جناب (جاہل و نادان وابلہ بیوقوف ) ہوں گے۔ ورنہ کسی مسلم کو یہ جرات نہیں پڑتی کہ اسلام کو نئی طرز پر پیش

صفحہ ٤٣٣

کرے۔ کیونکہ اس کا یہ معنی ہوتا ہے کہ ہم نے ایک مذہب تیار کیا ہے اور اس کا عنوان ہم نے بھی اسلام ہی رکھا ہے۔ کیونکہ یہ لفظ بہت مانوس ہو چکا ہے۔

تسلیم کئے جائیں تو جناب کی ذات میں نہیں پائے جاتے۔ کیونکہ عقلی دلیل یہی دی جاتی ہے کہ جب دنیا میں ظلمت آتی ہے تو روشنی کا تقاضا پیدا ہو جاتا ہے۔ ہزار سال سے قرآن مخفی تھا۔ کیونکہ فج اعوج گمراہی کا ہزار تھا۔ اس لئے ظلمت تھی۔ چودھویں صدی کا آغاز ہدایت کے لئے آیا اور روشنی پیدا ہوئی۔ یہ دلیل بہائیت میں بھی موجود ہے اور ہر ایک مدعی نبوت اپنی تصدیق کے لئے ادھر ادھر کی باتوں سے استدلال پیش کر سکتا ہے اور یہ دلیل بھی اصولی طور پر غلط ہے۔ کیونکہ یہ ساتواں ہزار ہے جو ہدایت کا شمار کیا جاتا ہے۔ چھٹا ہزار فج اعوج کے لئے اور گمراہی کا سال تھا۔ پانچویں ہزار میں بھی صرف تین سو سال (قرون ثلثہ) ہدایت کے لئے تھے۔ باقی سات سو سال گمراہی کا دور تھا۔ پھر چوتھے ہزار میں صرف ٣٣ سال ہدایت کے لئے تھے جو مسیح کا زمانہ تھا اور اسی کے قریب قریب حضرت یحییٰ علیہ السلام اور زکریا علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام تک گمراہی کا زمانہ آ جاتا ہے۔ ناظرین غور کریں کہ خیرالانام کے حصہ میں ہدایت کا زمانہ صرف چار سو سال ہے اور ہزار سال امت گمراہی میں رہی ہے۔ خدا بڑا ہی بے رحم ہے کہ رحمۃ للعالمین بھیج کر بھی خیرالام کو دھوکے میں رکھتا ہے۔ پھر باقی پڑتال کی جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ خدا اپنے بندوں سے نیک سلوک نہیں رکھتا۔ کیونکہ ایک ہزار سال تک خبر گیر ہی نہیں ہوتا اور جب ہدایت کے ہزار میں خبر لیتا ہے تو اس میں بھی مٹھی بھر انسان ہدایت پاتے ہیں۔ باقی گمراہی میں پھنسے رہتے ہیں تو گمراہ ثابت ہوا کہ مرزائیوں کے نزدیک سبقت رحمتی غضبی غلط ہوگا اور یہ ماننا پڑے گا کہ خدا اپنی مخلوق کو گمراہ کرنے میں بہت خوش ہوتا ہے اور ”قلیل من عبادی الشکور “ کی مثال مرزا قادیانی سے ہی پوچھ کر قائم کرتا ہے۔ نصرت الٰہی کا مفہوم بہاء اللہ نے اپنی درخواست میں بیان کیا ہے۔ غالباً وہی مفہوم جناب نے بھی مراد لیا ہے کہ تسخیر قلوب مراد ہے۔ ورنہ ظاہری حکومت مراد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ پیر صاحب تو ہمیشہ قید میں ہی رہتے تھے اور مرید صاحبان کو مقدمہ بازی اور دعاء بازی، مباہلہ بازی اور لیاقت بازی یا نبوت بازی سے ہی فرصت نہیں ملتی تھی اور حکومت کا پاس ہر وقت پیش نظر تھا تو اب محکوم کو حاکمانہ نصرت ہو تو کیسے ہو۔ اس لئے یہ بہانہ بنایا کہ ہم دلوں پر حاکم ہیں اور دلوں کی تسخیر ہماری فتح مندی اور نصرت الٰہی ہے۔ مگر اس میں بھی پیر کے نمبر زیادہ ہیں۔

صفحہ ٤٣٤

ہزار سال ہے۔ جن میں سے چھ ہزار سال گذر چکے ہیں۔ ساتویں ہزار میں حضور ﷺ کی امت جارہی ہے۔ یوں بھی وارد ہے کہ: ”الدنيا سبعة آلاف سنة انا فی آخرها الفاً“ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا سات ہزار سال ہے اور میں آخری ہزار سال (ساتویں ہزار سال) میں ہوں۔ ”رواہ الطبرانی والبیہقی فی دلائل النبوۃ“ اس تحقیق کی رو سے مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ غلط ہو گیا کہ میں ساتویں ہزار سال میں بھیجا گیا ہوں اور ثابت ہو گیا کہ غلام نے صریحاً اپنے آقا پر ڈاکہ مارا ہے۔

الالف“ میں لکھا ہے کہ ساتویں ہزار سال پر کچھ صدیاں اس امت کے لئے بڑھائی گئی ہیں۔ اب مرزا قادیانی کا یہ کہنا غلط ہو گیا کہ چودھویں صدی پر دنیا ختم ہو چکی تھی۔ اس کے بعد نئے سرے سے دنیا کا دور جدید شروع ہوا۔ جس کا (دنیا ختم ہونے کے بعد اس کے دور جدید کا) میں آدم ہوں اور خدا نے کہا کہ: ”اسکن انت وزوجک الجنۃ“ (تو اور تیری بیوی جنت میں رہو) یہ خیال دراصل بہائی تعلیم سے اڑایا ہوا ہے۔ ورنہ یہ بلند پروازی جناب کو کہاں سے حاصل تھی؟

مطلب یہ ہے کہ نزول مسیح کے وقت پہلے امام الزمان موجود ہوں گے۔ جو مسلمانوں کو مسیح کے سپرد کر دیں گے۔ ورنہ یہ مطلب نہیں کہ مسیح امت محمدیہ کا ایک فرد ہوگا۔ جیسا کہ حاشیہ جلد اول میں مذکور ہے۔ بہرحال یہ پیشین گوئی بھی دانیال کی پیشین گوئی کی طرح آپ پر چسپاں نہ ہوئی۔ مال کا آنا اور سیالکوٹ میں کامیابی دیکھنا اور براہین کا بیکسی میں لکھنا صداقت کا نشان نہیں ہے۔ کیونکہ نہ تو سرسید کے برابر آپ کو کامیابی ہوئی۔ نہ ہی اس کے برابر بیکسی میں ایسا اعجاز دکھایا کہ اسلامی یونیورسٹی قائم کی ہو۔ آپ سے بڑھ کر تو دیانند اور مہاتما گاندھی کو زیادہ کامیابی حاصل ہو چکی ہے تو پھر یہ کیا معیار ہوا۔ شاید ”یدخلون فی دین اللہ افواجاً“ کو اپنے اوپر چسپاں کرنے کا خیال کر لیا ہوگا۔ مگر شرم دامن گیر ہو گئی ہوگی۔

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

کنعان کے پاس کوہ فاران کے قریب لے آئے اور بنی عناق سے لڑنے کو حکم دیا تو بنی اسرائیل نے انکار کر دیا تو آپ نے داتن اور ابیرام کو بلا بھیجا تو دونوں نے انکار کر دیا۔ دوسری طرف قورح

صفحہ ٤٣٥

نے اڑھائی سو آدمی لے کر بغاوت پھیلادی کہ موسیٰ علیہ السلام ہم پر کیوں ناحق حکومت کرتے ہیں تو موسیٰ علیہ السلام نے ان کو خدا کے حضور کھڑا کر کے بددعاء کی تو وہ آگ میں بھسم ہو گئے۔ پھر داتن اور ابیرام کے گھر آکر کہنے لگے کہ اگر تم پر وہی حوادث آئیں جو لوگوں پر آتے ہیں تو یوں سمجھو کہ تم پر عذاب نہیں آیا اور میری صداقت بھی ظاہر نہ ہوگی۔ ورنہ تمہاری ہلاکت یقینی ہے۔ سو وہ دونوں اپنے گھروں کے دروازوں میں کھڑے ہو گئے تو فوراً پاؤں کے نیچے سے زمین پھٹ گئی اور تمام بال بچے اور مال ومتاع زمین میں چلا گیا اور اوپر سے زمین پھر مل گئی۔ اس واقعہ نے بتا دیا کہ جو پیشین گوئی اظہار صداقت کے لئے ہوتی ہے اس میں انوکھا پن ہوتا ہے اور عام حوادث کے ماتحت نہیں ہوتی۔ اب اگر اس معیار کے ساتھ مرزائیت کی پیشین گوئیوں کو پرکھا جائے تو کوئی بھی صحیح نہیں نکلتی۔ مگر مرزا صاحب کہتے چلے جا رہے ہیں کہ ہماری پیشین گوئیاں سچی ہیں ایک دو اگر سچی نہیں نظر آتیں تو ہم سے پوچھیں تاکہ ہم بتا دیں کہ اس میں بھی اجمال ہوتا ہے۔ کبھی مشروط ہوتی ہے۔ کبھی صدقہ خیرات سے وہ ٹل بھی جاتی ہے۔ کبھی فریق مخالف قوم یونس علیہ السلام کی طرح تائب ہو جاتا ہے اور کبھی اس کی عقبیٰ کا ذخیرہ بنایا جاتا ہے اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اس کا وقوع بعد الموت ہوتا ہے اور ملہم سمجھتا ہے کہ میری زندگی میں ہوگا۔ بہر حال ایسے بہانوں سے کچھ فائدہ نہیں۔ ہم تو سیدھا جانتے ہیں کہ نبی کی بددعاء نہیں ٹلتی اور نہ ہی وہ حاشیہ آرائیوں کی محتاج ہوتی ہے۔ دعائے یونس علیہ السلام کو بھی خواہ مخواہ بدنام کر رکھا ہے۔ کیونکہ زیر بحث وہ دعائیں ہیں جو معیار صداقت ٹھہرائی جائیں۔ لیکن حضرت یونس علیہ السلام نے نہایت سادگی سے ان کو عذاب الٰہی کی خبر دی تھی اور خود وہاں سے چل دیئے تھے۔ تب قوم نے اپنے نبی کی ناراضگی کو موجب ہلاکت سمجھا اور ایمان لاکر ان کی تلاش میں نکلے تو جناب باری میں ٹاٹ پہن کر کمال عاجزی کے ساتھ آہ وزاری کرنے لگے تو خدا نے ان کو معاف کردیا۔ مگر ہمیں یہاں یہ دیکھنا ہے کہ جن کی نسبت توبہ یا خوف الٰہی کو منسوب کیا جاتا ہے کیا انہوں نے کبھی بھول کر بھی مرزا قادیانی کو نبی مانا تھا؟ یا ان کی ہلاکت اگر ہوئی تھی تو کیا عام حالات کے ماتحت نہ ہوئی تھی؟ خدا کا شکر ہے کہ مرزا قادیانی کی اپنی وفات بھی فوری اور غیر معمولی حوادث سے ہوئی تھی۔ ورنہ اگر کسی کی موت ایک دست یا کلی بھر قے سے بھی ہوتی تو یہ لوگ شور مچا دیتے کہ دیکھئے وہ عذابی موت سے مرا ہے۔ مگر اب کیا کریں کوئی پیش نہیں جاتی۔ ادھر ادھر ہاتھ مارتے ہیں۔ کوئی پیشین گوئی بھی عام حالات کے خلاف ثابت نہیں ہوئی۔ اس لئے وہ معیار صداقت نہیں بن سکتیں۔

صفحہ ٤٣٦

بنیادی پتھر ہے۔ جس کی تائید شب معراج سے ہوتی ہے کہ حضورﷺ نے مسیح علیہ السلام کو مردہ انبیاء میں دیکھا تھا اور خطبہ صدیقیہ میں آپ کی وفات صراحۃً مذکور ہے۔ گو اس دلیل کی تردید کا دیہ جلد اوّل میں ہو چکی ہے۔ مگر یہاں پھر بھی اتنا عرض کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ جب مرزائیت میں معراج جسمانی صرف ایک قسم کا زبردست کشف ہی تھا جس کے مدعی خود مرزا قادیانی بھی تھے۔ تو یہ کہاں سے ضروری معلوم ہو گیا کہ کشف میں صرف مردے ہی نظر آئیں یا صرف زندے؟ یہ کیسی بے بنیاد بات کہہ دی۔ اس پر تو بچے بھی ہنسی اڑائیں گے۔ پھر نبی بن کر ایسی لایعنی دلیل دی۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ!

دانیال علیہ السلام کی پیشین گوئی

کوکب دہلی یکم اگست ١٩٢٨ء میں لکھا ہے کہ:

ڈیڑھ مدت پھر کہا کہ ١٢٩٠ دن میں دائمی قربانی موقوف ہو جائے گی۔ پھر کہا کہ مبارک وہ ہے جو ١٣٣٥ تک انتظار کرتا ہے۔ (اور کتاب الاعداد ب ١٤ میں مذکور ہے کہ یوشع اور کالب کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ملک کنعان کا حال دریافت کو بھیجا تھا تو وہ چالیس روز کے بعد واپس آئے تھے۔ مگر بنی اسرائیل نے کہا کہ ہم فاران ہی میں رہیں گے۔ ملک کنعان کو کبھی نہ جائیں گے۔ کیونکہ وہاں کے باشندے ہم کو مار ڈالیں گے۔ اب خدا کا حکم آیا کہ ان چالیس دن کے بدلے چالیس سال تک تم کو ملک کنعان سے محروم کر دیا گیا ہے۔ یہیں مرو گے اور تباہ ہو جاؤ گے۔ چالیس سال کے بعد تمہاری نسلیں وہاں داخل ہوں گی)

مراد ایک سال شمسی ٣٦٠ یوم ہوتے ہیں اور جب اس کے ساتھ ایک اور سال ٣٦٠ یوم اور نصف سال ١٨٠ یوم جمع ہوں تو کل یوم ١٢٦٠ ہوئے۔ جن سے مراد پھر سال ہوں گے اور ١٢٦٠ ہجری کی طرف اشارہ ہوگا۔ جس میں حضرت باب ظاہر ہوئے تھے۔

١٢٦٠ ظہور باب کو سال قمری ٣٥٤ میں ضرب دے کر ٤٤٦٠٤٠ حاصل کرو اور اسے سال شمسی ٣٦٥ پر تقسیم کرو۔ تا کہ ١٢٢٢ کا عدد حاصل ہو اور ٦٢٢ اس میں جمع کرو۔ (کیونکہ اسی ٦٢٢ء میں سنہ ہجری کا آغاز ہوا ہے) تو ١٨٤٤ء، ١٢٦٠ھ حاصل ہوگا۔ تو گویا ١٢٦٠ھ میں ١٨٤٤ء کی طرف بھی

صفحہ ٤٣٧

اشارہ موجود ہے۔ اسی واسطے اس پیشین گوئی میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ راز مخفی ہے۔ دانشمند ہی اسے معلوم کریں گے اور آج اس کا انکشاف باب کے ذریعہ سے ہو چکا ہے۔ پھر چھ سال بعد ١٨٥٠ء کو شیراز میں باب کو بمعہ احباب کے گولی سے اڑایا گیا۔

چہارم ...... یوحنا ب ١٠:٩ میں مسیح علیہ السلام کا قول مذکور ہے کہ میں باب الوصول الی اللہ ہوں۔ اس لئے باب نے بھی ( بروزی رنگ میں ) اپنا نام باب رکھ لیا تھا۔ ملا کی ب ٣، ١ میں ہے کہ مسیح اپنے ظہور سے پہلے اپنا ایک مبشر بھیجے گا۔ ( تو باب بہاء کے مبشر بھی بن گئے ) مکاشفات میں یہ بھی مذکور ہے کہ خدا اور مسیح آخری ایام میں ظاہر ہوں گے اور مسیح خدا کی حکومت قائم کرے گا اور خدا ہیکل انسانی میں ظاہر ہو کر روپ لے گا۔ تو وہ انسان مظہر الٰہی اخوت عامہ اور امن کلی پھیلائے گا۔ ( تو وہ مسیح جناب بہاء ہیں۔ جنہوں نے اتحاد ملی اور وحدت بین الاقوام والادیان کا حکم دیا ہے )

پنجم ........ امریکا میں ”طوانٹ“ فرقہ نے ( جو تشریح مکاشفات بائبل میں مشہور ہے ) لکھا ہے کہ مسیح کا ظہور ١٨٤٤ء میں ہوگا۔ مگر انہوں نے یہ سمجھا کہ مسیح جسمانی طور پر امریکا میں ظاہر ہوگا۔ حالانکہ اس کا ظہور ایران میں مقدر تھا۔ اس لئے وہ ناکام رہے۔

ششم ....... مفاوضات عبدالبہاء مطبوعہ ١٩٠٨ء بریل لیڈن ہالینڈ کے حصہ اوّل میں یوں لکھا ہے کہ:

١ ........ دانیال کی پیشین گوئی میں اڑھائی سال کا ذکر ہے۔ جن کے مہینے ٤٢ ہوتے ہیں اور ایام ١٢٦٠ جو میلاد بہائیہ کی تاریخ ہے اور ١٢٩٠ ( یعنی ١٢٨٠ھ ) میں آپ نے باغ رضوان بغداد میں ١٢ روز اقامت کے بعد اعلان نبوت کیا ( اور کتاب ایقان لکھی ) اور ١٢٩٠ میں سے دس عدد اس لئے کم کئے ہیں کہ حضورﷺ نے چالیس سال بعد دعویٰ نبوت کیا تھا اور اعلان نبوت تین سال بعد (٤٣ سال کی عمر میں) ہوا تھا۔ پھر ہجرت ٥٣ سال میں ہوئی اور وفات ٦٣ میں تو چونکہ اعلان نبوت ہجرت سے پہلے پورے دس سال ہوا تھا۔ اس لئے ١٢٨٠ء میں دس سال ملا کر ١٢٩٠ بتایا گیا تا کہ اعلان نبوت بہائیہ کی تاریخ اعلان نبوت محمدیہ سے شروع کی جائے اور مقابلہ درست ہو۔

٢ ........ دانیال علیہ السلام کی یہ بھی پیشین گوئی ہے کہ دو ہزار تین سو روز ( یعنی سال ) تک بیت المقدس تعمیر ہو جائے گا۔ یعنی ولادت بابؓ تاریخ تجدید عمارت بیت المقدس ٢٣٠٠ سال کو ہوگی۔ کیونکہ ولادت مسیح اور آغاز تجدید کے درمیان ٤٥٦ سال کا عرصہ تھا اور میلاد مسیح و میلاد باب کے درمیان ١٨٤٤ سال کا عرصہ ہوا ہے۔ دونوں کو ملائیں تو وہی ٢٣٠٠ سال کا عرصہ نکلتا ہے۔

صفحہ ٤٣٨

کورش نے تجدید بیت المقدس کا حکم دیا تھا۔ فصل ہفتم میں مذکور ہے کہ شاہ ارتحشستا جب سات سال حکومت کر چکا تو قبل از میلاد ٤٥٧ میں اس نے بیت المقدس کو از سر نو تعمیر کرایا اور نحمیا فصل دوم میں ہے کہ قبل از میلاد مسیح ٤٤٤ میں ارتحشستا نے حکم دیا تھا کہ بیت المقدس کی تجدید کرائی جائے تو خلاصہ یہ ہوا کہ چار دفعہ بیت المقدس مسمار ہوا اور چار دفعہ از سر نو تعمیر ہوا اور ہمارے زیر نظر شاہ ارتحشستا کی تعمیر کی تاریخ ہے اور اسی کو سامنے رکھ کر ولادت باب کا سنہ میلاد اخذ کیا ہے۔

ہے۔ کیونکہ ٧٠×٧ ہفتہ کے دن ٤٩٠ ہوتے ہیں۔ جو ٤٩٠ سال کے برابر ہیں اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ ٤٥٧ میں مسیح کی ولادت ہوئی اور ٣٣ سال میں واقعہ صلیب پیش آیا تو واقعہ صلیب اور تجدید بیت المقدس میں ٤٥٧+٣٣=٤٩٠ سال ہوئے۔

کہ سات ہفتہ یعنی ٤٩ سال تک بیت المقدس زیر تعمیر رہا۔ پھر ٦٢ ہفتہ تک ولادت مسیح ہوئی اور ایک ہفتہ بعد صعود مسیح ہوا تو کل مدت ٧٠ ہفتہ ہوئی۔

اور مسیح کا رجوع مذکور ہے اور اسلام میں مہدی و مسیح کا انتظار ہے۔ یعنی تینوں میں دو دو موعود کا ذکر ہے۔ (جو باب و بہاء سے پورا ہوا) کہ وہ زمین کو خلد بریں بنا کر وحدت بین الادیان والا قوام پیدا کریں گے۔ قادیانی مذہب نے بھی دانیال علیہ السلام کی پیشین گوئی کو اپنے مسیح قادیانی پر چسپاں کیا ہے کہ ١٢٦٠ میں آپ موجود تھے۔ لیکن ادعائے نبوت اور ولادت یا وفات کا صحیح وقت نہیں بتا سکتے۔ آپ کی وفات ١٣٢٦ میں ہوئی ہے۔ اگر اس میں بہائی مذہب کی طرح دس سال اور ملا کر ١٣٣٦ سمجھا جائے تو پھر بھی آپ کا وجود دنیا میں پایا نہیں جاتا۔ ہاں اگر یہ اشارہ ہوتا کہ مسیح ١٣٢٦، ١٣٢٧ میں مر جائے گا تو اس پیشین گوئی کا یہ مطلب نکلتا کہ وفات مسیح قادیانی کے بعد خیر و برکت کا سارا استدلال باطل ہو کر زمانہ فتنہ و فساد کے زمانہ میں داخل ہوگا۔ مگر نئی قادیانیت شروع ہو گی اور اسے نئے لباس میں پیش کریں گے۔ جو ناظر دعوت و تبلیغ قادیان زین الدین ولی اللہ شاہ نے ٥؍ دسمبر ١٩٣١ء کو مرتب کر کے سالانہ جلسہ قادیان دسمبر ١٩٣١ء میں سنا کر خراج تحسین حاصل کیا تھا اور اس کا نام رکھا تھا۔ ”انبیاء کی آسمانی بادشاہت اور اس کی تکمیل مسیح موعود کے ہاتھ سے۔“

صفحہ ٤٣٩

٢١...... بائبل کی پیشین گوئیاں

دسمبر ١٩٣١ء کے سالانہ جلسہ قادیان میں ناظر شعبہ تبلیغ مرزا ایف ایم ولی اللہ نے ایک مطبوعہ مضمون زیر عنوان ”آسمانی بادشاہت اور اس کی تکمیل مسیح موعود کے ہاتھ سے“ پڑھ کر خراج تحسین حاصل کیا تھا۔ جس میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ جو کام پہلے نبی نہیں کر سکے یا جس کو وہ ادھورا چھوڑ گئے ہیں۔ وہ کام مسیح قادیانی پایہ تکمیل تک پہنچا کر دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ ہم ناظرین کے سامنے وہ مضمون پیش کرتے ہیں اور بعد میں اس پر تنقید کریں گے خلاصہ مضمون یہ ہے۔

دانیال علیہ السلام نے کہا کہ مقدس لوگ چھوٹے سینگ کے قبضہ میں دیئے جائیں گے۔ یہاں تک ١٢٦٠ھ کا زمانہ گذر جائے گا۔ یہ بھی کہا کہ جب سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور مکروہ چیز قائم کی جائے گی تو اس کا اخیر ١٣٣٥ھ ہوگا۔ مبارک وہ جو انتظار کرتا ہے اور ١٣٣٥ھ تک آتا ہے۔ ڈبلیو بی لکھتا ہے کہ ١٨٩٨ء میں مسیح آئے گا۔ تمام نبی ایسی بادشاہت کے قائم ہونے کی خبر دیتے آئے ہیں کہ جس میں قیدیوں کی رہائی ہوگی۔ اندھے بینا ہوں گے۔ خدا کا جلال ظاہر ہوگا اور تمام بنی نوع انسان راہ نجات دیکھیں گے۔ یہی وہ جنت ہے کہ جس سے آدم نکالے گئے اور اس کا نام سعادت اور خوشحالی کا جنت ہے۔ تمام نبی اس کو مکمل کرنے میں کوشش کرتے چلے آئے ہیں۔ مگر ان سے مکمل نہ ہو سکا۔ چنانچہ یسعیا علیہ السلام کا قول ہے کہ کوہ سلع کے باشندے ایک نیا گیت گائیں گے۔ یحییٰ علیہ السلام نے کہا کہ آسمانی بادشاہت نزدیک ہے اور یہ وہی ہے جو یسعیا علیہ السلام نے کہا تھا کہ بیابان میں پکارنے والے کی آواز آتی ہے۔ دانیال علیہ السلام کا یہ بھی قول ہے کہ انہی ایام میں خدا ایک سلطنت قائم کرے گا جو تا ابد نیست نہ ہوگی اور دوسروں کے قبضہ میں نہ پڑے گی اور ابد تک قائم رہے گی۔ (ب ٢، ٤٤)

باب ہفتم میں دانیال کا قول درج ہے کہ چار حیوان ہیں۔ یعنی سلطنتیں ہیں۔ چوتھی سلطنت روم جس کے دس بادشاہ آپ کو دس سر نظر آتے تھے اور یہ سلطنت ٤ عیسوی میں تقسیم ہوگئی۔ پھر دیکھا کہ دس سینگوں کے درمیان ایک چھوٹا سینگ ہے۔ جس میں آنکھ اور منہ ہیں۔ خوفناک تھا اور مقدسوں سے لڑتا تھا۔ اس نے خدا کے مخالف باتیں کیں اور شریعت بدلنا چاہتا تھا۔ یہ سینگ دجال ہوگا جو مقدسوں سے سلطنت چھین لے گا۔ یہاں تک کہ ١٢٦٠ھ گذر جائے گا اور مقدس اس سے سلطنت واپس لے کر اسے تباہ کریں گے۔ اب وہ سلطنت عالمگیر ہوگی اور سب اس کے ماتحت ہوں گے۔ (ب ١٤، ٥) میں زکریا علیہ السلام کا قول ہے کہ خدا آ کر ساری دنیا کا

صفحہ ٤٤٠

بادشاہ بنے گا اور ساری زمین عرابا کے میدان کی طرح ہموار ہو جائے گی۔ ملاکی کا قول ہے کہ عہد کا رسول (یعنی خدا کی بادشاہت کی بنیاد رکھنے والا رسول) ناگہان آئے گا۔ متی ب ٤ ، ١٧ میں مسیح کا قول ہے کہ آسمانی بادشاہت نزدیک ہے۔ عہد کے رسول کا انتظار تھا۔ یحییٰ علیہ السلام سے یہود نے پوچھا کہ میں وہ نہیں ہوں۔ قرآن شریف میں ہے کہ: ”ربنا واتنا ماوعدتنا علیٰ رسلک“ یعنی وہ بادشاہت جو نبی قائم کرنا چاہتے تھے۔ ہمیں عنایت کر۔ عیسائی کہتے ہیں کہ یہ بادشاہت دوسری دفعہ مسیح ١٢٦٠ یا ١٢٣٥ یا ١٢٩٠ میں کریں گے۔ ڈمبل پی لکھتا ہے کہ ہم اس زمانہ کے قریب ہیں کہ جس کے متعلق مسیح علیہ السلام نے لوقا ب ٢١ ، ٢٤ میں فرمایا ہے کہ جب تک غیر اقوام کی میعاد پوری نہ ہو۔ یروشلم ان سے پامال رہے گا۔ سورج چاند میں نشان ظاہر ہوں گے۔ دنیا تکلیف میں ہوگی۔ سمندر کی موجیں اور بلائیں ڈرائیں گی اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی۔ اس وقت ابن آدم بڑے جلال کے ساتھ آسمان سے اترے گا۔

نئے زمانہ کا آغاز اور غیر ممالک کا خاتمہ ١٨٩٨ء اور آمد ثانی کی حد ١/٤، ١٨٩٨ء ہے۔ جس کے بعد تیس سال میں آپ نشان ظاہر کریں گے اور یہود یروشلم میں آباد ہوں گے۔ ٹرکی کا خاتمہ ہوگا۔ اس عرصہ میں عالمگیر بادشاہت کی بنیاد ڈالی جائے گی۔ اس کی انتہاء ١/٤، ١٩٢٨ء تک ہے۔ جیسا کہ دانیال کا قول گذر چکا ہے کہ جس وقت سے قربانی ہو گی۔ ١٢٩٠ دن ہوں گے۔ مبارک وہ جو ١٣٣٥ تک آتا ہے اور اس وقت سے ساتواں ہزار شروع ہوگا۔ جسے مبارک کہا گیا ہے۔ ڈمبل پی لکھتا ہے کہ مسیح پہلی دفعہ درمیانی آسمان میں آئے گا اور فرشتہ بھیج کر اپنے مقدسوں کو آسمان پر بلائے گا۔ دوسری دفعہ جب اترے گا تو تمام قدوسیوں کے ساتھ اترے گا اور بوجہ ضلالت کے شناخت نہ کیا جائے گا۔ مگر راست باز اسے ضرور شناخت کرلیں گے۔ پہلی آمد کی آخری حد ١٨٩٨ء ہے۔ دوسری آمد کے وقت اس حیوان (دجال) کو آگ میں ڈالا جائے گا اور سعادت کا ہزاروں سال شروع ہوگا اور ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان پیدا کیا جائے گا۔ یہ سینگ دجالی حکومت ہے اور اس کے ظاہر ہونے کی میعاد بھی وہی ١٢٦٠ ہے اور یہ زمانہ اس وقت شروع ہوتا ہے کہ جب بیت المقدس تباہ کرنے والا (روم) تباہ ہوگا اور سوختنی قربانی بند ہو جائے گی۔ گبن لکھتا ہے کہ بیت المقدس ١/٤، ٦٣٧ء کو فتح ہوا۔ اگر اس میں ١٢٦٠ شامل کئے جائیں گے تو ١/٤، ١٨٩٧ء مدت ہوتی ہے۔ جس کو ڈمبل ١/٤، ١٨٩٨ء لکھتا ہے۔ عیسائی کہتے ہیں کہ دجال رومن کیتھولک ہیں جن کا خاتمہ ١٨٧٨ء میں ہوا۔ ڈمبل اسلامی حکومت کو دجال کہتا ہے۔ جس کا خاتمہ ١/٤، ١٨٩٨ء پر ہوا۔ مگر چونکہ اسلامی حکومت کا قیام ظہور دجال، اسلامی حکومت کی دجال کے ہاتھ

سے تباہی مسیح موعود کی آمد اور مقدر ہیں۔ اس لئے ڈمبل کو کے لئے دانیال نے ١٢٦٠ یا السلام میں یہ علامتیں نہیں ؟ بادشاہت کرے گا اور وہ سیا عجیب طرح اوروں کو تباہ کرے میں بھی چودھویں صدی کا آ مارچ آخری حد تک تھی۔ مگر گذر گئی۔ لیکن آنے والا نہ آ میں مقدس بھی دیئے گئے ا حکومت بھی اٹھادی گئی۔ یہ ساتواں ہزار سال شروع ہو تھا۔ مگر لوگوں نے شناخت نہ عیسائی کہتے ہیں بادشاہت کا بروز یورپ کی دجل وفریب سے پر ہیں۔ دنیا دار کو آسمانی بادشاہت تحت میں حیوانی حکومت کرسکی۔ اس کام کے لئے تک پہنچایا وہی اس بادشاہ جامع جمیع صفات کاملہ ۔ کہا جاتا ہے۔ اس نبی ۔ قرآن شریف میں سرکش ”جنان الجبال“ کـ ہے۔ کیونکہ انہوں نے ا قلوب پر تسلط کرنا چاہا تھا

صفحہ ٤٤١

سے تباہی مسیح موعود کی آمد اور دجال حکومت کے خاتمہ کا آغاز یہ پانچوں امور ایک ہی مدت میں مقدر ہیں۔ اس لئے ڈمبل کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ حکومت اسلام ہی دجال ہے۔ جس کے خاتمہ کے لئے دانیال نے ١٢٦٠ یا ١٢٩٠ سال کی میعاد بتائی ہے اور یہ غلط ہے۔ کیونکہ ہمارے نبی علیہ السلام میں یہ علامتیں نہیں پائی جاتیں کہ دجال روم سے پیدا ہو کر شمال سے نکلے گا اور حیوانی بادشاہت کرے گا اور وہ سیاسی حیوان ہوگا۔ پالیسی سے اپنی تجارت کو فروغ دے گا۔ دھوکے سے عجیب طرح اوروں کو تباہ کرے گا۔ الغرض ایسٹر ١٨٩٨ء میں نزول مسیح قرار پایا تھا۔ حج الکرامہ ١٣٩ میں بھی چودھویں صدی کا آغاز ہی ظہور مسیح کا زمانہ مقرر ہے۔ عیسائیوں کے نزدیک ١٨٩٨ء کی مارچ آخری حد تک تھی۔ مگر تیس سال اور بھی گزر گئے اور آخری میعاد ١٨٩٨ء اور ٢١/ مارچ بھی گزر گئی۔ لیکن آنے والا نہ آیا باوجودیکہ سب نشان پورے ہوچکے تھے۔ چھوٹے سینگ کے قبضہ میں مقدس بھی دیئے گئے اور دجال کے قبضہ میں ١٨٩٨ء سے پہلے ہی دیئے جاچکے تھے۔ ٹرکی حکومت بھی اٹھا دی گئی۔ یہودی بھی آباد ہو گئے۔ ١٩٢٨ء کو تیس سال بھی گزر گئے۔ جس کے بعد ساتواں ہزار سال شروع بھی ہو گیا۔ گو قادیان میں مسیح نے اپنی مسیحیت کا دعویٰ ١٨٩١ء میں کر دیا تھا۔ مگر لوگوں نے شناخت نہ کیا تھا۔

عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح کی آمد روحانی تھی۔ جس کا بروز یورپ کی ترقی میں ہوا اور خدائی بادشاہت کا بروز یورپ کی مالداری میں ہوا۔ مگر یہ غلط ہے کیونکہ یورپ کی حکومتیں شہوانی ہیں اور دجل وفریب سے پر ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ خدائی حکومت کی حقدار نہیں۔ کیونکہ مسیح کا قول ہے کہ دنیا دار کو آسمانی بادشاہت میں داخل نہیں کیا جاتا۔ ”سخر لكم ما في الارض جميعا“ کے تحت میں حیوانی حکومت نے ترقی کرتے کرتے انسانوں کو بھی غلام بنالیا ہے۔ مگر تسخیر قلوب نہیں کر سکی۔ اس کام کے لئے روحانی حکومت انبیاء قائم ہو گئی اور جس نبی نے اس بادشاہت کو تکمیل تک پہنچایا وہی اس بادشاہت کا حقدار ہوا۔ یعنی وہ نبی جس کو امی پکارا جاتا ہے اور امی کا معنی ہے جامع جمیع صفات کاملہ۔ کیونکہ یہ مشہور ہے کہ: ”الام لكل شئ هو المجمع“ جامع اشیاء کو ام کہا جاتا ہے۔ اس نبی نے غلام و آقا کو ایک صف میں کھڑا کر دیا اور غلامی کی قیدیں توڑ ڈالیں۔ قرآن شریف میں سرکش حکام کو جن کہا گیا ہے اور مظلوم رعایا کو انس بتایا ہے۔ شریر اولیوں کو ”جنان الجبال“ کہتے ہیں۔ ”نولی بعض الظالمین بعضھا“ میں محکوم کو بھی ظالم کہا گیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے حق عبودیت قائم نہیں رکھا تھا۔ حکام کو ظالم اس لئے کہا گیا کہ انہوں نے قلوب پر تسلط کرنا چاہا تھا۔ مگر ان پر کامیاب نہ ہوسکے۔ کیونکہ وہ تخت گاہ الٰہی ہیں۔ ”الجن

صفحہ ٤٤٢

والانس فی النار، دخلت امة لعنت اختها، سادتنا وكبراءنا‘‘ میں بھی حاکم ومحکوم ہی مراد ہیں۔ حضور ﷺ کا زمانہ شیطانی حکومت کا خاتمہ تھا۔ ”بلغنا اجلنا الذی اجلت لنا‘‘ میں بھی مذکور ہے کہ ہم مسلمان اس مدت کو پہنچ گئے ہیں جو یا اللہ تو نے مقرر کر رکھی تھی اور اس سے پیشتر شیطان کو ایک خاص مدت تک مہلت دی گئی تھی۔ آپ نے نماز ادا کرنے سے مساوات اور عبودیت کو قائم کیا جو آسمانی بادشاہت کی صحیح تصویر ہے اور آپ نے جس آسمانی بادشاہت کی بنیاد ڈالی وہ دنیا کی تمام حکومتوں سے نرالی ہے۔ پس اس عہد کے رسول نے اس بادشاہت کی بنیاد ڈالی جس پر نماز کو نشان ٹھہرایا۔ نماز سے پہلے اذان ہوتی ہے۔ جس کے بعد دعاء میں کہا جاتا ہے کہ: ”وابعثہ مقاماً محموداً“ یہ وہ مقام محمود ہے کہ جس تک پہنچانے کے لئے وسیلہ کی ضرورت ہے اور یہ وسیلہ وہ سلطان نصیراً من لدن الرب القدیر ہے۔ جو مسیح موعود کے نام سے ظاہر ہوا اور نبی اللہ پکارا تھا۔

”تبت یدا ابی لہب“ میں پیشین گوئی ہے کہ عہد احمدیت میں اللہ کا دشمن آتشی سامانوں سے حکومت کرے گا۔ مگر ناکام رہے گا۔ یہ ابولہب وہی دجال اکبر ہے جو مسیحی کلیساؤں سے نکلا اور سینگ بن کر نمودار ہوا اور ١٨٩٨ء سے پہلے مقدسوں کو منتشر کر دیا اور یہ وہ سینگ ہے جو مقدسوں کا دوسرا گروہ ہے اور جس نے دجال سے حکومت چھین لی ہے یوحنا ب١٢ میں ہے کہ ایک حیوان سمندر سے نکلے گا منہ ببر کا سا ہوگا۔ جس کو اژدھا یعنی شیطان نے اپنا تخت دے دیا ہے۔ اس کے سر پر دس سینگ تھے۔ جن پر کفر کا لفظ لکھا ہوا تھا۔ کفر بکنے کے لئے ایک منہ دیا گیا اور ٤٢ ماہ کام کرنے کا اس کو اختیار ملا تا کہ مقدسوں پر غالب آ جائے۔ ڈمبل اپنی کتاب کے ١٩٤ میں لکھتا ہے کہ یہ حیوان پولیٹکل حکومت ہے اور اسی کو چھوٹا سینگ اور دجال بھی کہتے ہیں۔ بیالیس ماہ ساڑھے تین سال کے مساوی ہیں اور دن سے مراد پیشین گوئیوں میں سال مراد ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ شیطان حضور ﷺ پر آگ کا شعلہ لے کر حملہ آور ہوا تھا۔ تو آپ ﷺ نے پکڑ کر چھوڑ دیا تھا۔ اس میں یہ اشارہ تھا کہ اللہ کا دشمن مغلوب رہے گا۔ محکمہ ہائے احتساب قائم ہیں۔ جن میں جھوٹ ، باطل ، فساد اور شرارت کا رواج موجود ہے۔ شریر نے اپنی حیات سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ قید خانے بھرے پڑے ہیں۔ چور اور ڈاکو بکثرت ہیں۔ کوتوالیاں بھی ہیں مگر پھر زنا اور بدکاری ترقی کر رہی ہے۔ تربیت کے لئے درسگاہیں ہیں مگر صحیح تربیت نہیں تو کیا اس کا نام دجل نہیں۔ ڈمبل لکھ چکا ہے کہ دجال کوئی اوپرا جانور نہیں بلکہ وہ انسان ہے۔ وہ عظیم الشان بدعت اور دہریت ہے جو زمین پر پھیلے گی اور وہ گناہ کا آدمی ہوگا۔ جو شریعت کی پابندی کو لعنت قرار دے گا اور الٹی راہ دکھائے گا۔ وہ

سیاسی حیوان ہوگا۔ جس کی بنیا ہو کر توپ وتفنگ لئے کھڑا ہے اس کی حکومت کو ملیا میٹ کر کے میں آیا ہے اور آسمانی بادشاہت جارہے ہیں۔

تنقید

پیشتر اس کے کہ و ممات کا نقشہ پیش کرتے ہیں:

جناب باب ١٨٥٠ء وفات ١٢٦٨ھ ١٨١٩ء پیدائش ١٢٣٤ھ ٣١ عمر ٣١ ١٨٤٤ء دعوٰی ١٢٦٠ھ

اس نقشہ سے معلـ وابستہ خیال کیا جائے تو ٦٠ ١٢٦٠ھ میں آپ نے مہدوـ ابھی دو تین سال کے بچے تھے جائے گی تو اگر مکروہ چیز ان دانیال علیہ السلام کے نزدیک اگر کوئی اور چیز مراد ہے جو ان ضروری تھا۔ مگر افسوس ہے کـ فیصلہ کریں کہ وہ کیا ہے؟ دو میں مرزا قادیانی مدعی مکالمـ تاویل کر کے دعوائے مسیحـ

صفحہ ٤٤٣

سیاسی حیوان ہوگا۔ جس کی بنیاد مکاری اور فریب کاری پر ہوگی۔ آج وہ آتشی اسلحہ کے ساتھ مسلح ہو کر توپ و تفنگ لئے کھڑا ہے اور صرف احمدی ہیں جو اس کے مقابل اس غرض سے کھڑے ہیں کہ اس کی حکومت کو ملیا میٹ کر کے آسمانی بادشاہت قائم کریں۔ وہ خدا کا دشمن ابولہب ابلیس میدان میں آیا ہے اور آسمانی بادشاہت کو ملیا میٹ کرنے کی فکر میں ہے اور لوگ اس کی غلامی میں جکڑے جارہے ہیں۔

تنقید

پیشتر اس کے کہ ہم اس مضمون پر خامہ فرسائی کریں باب و بہاء اور مرزا کی حیات و ممات کا نقشہ پیش کرتے ہیں تاکہ آئندہ بحث کرنے میں آسانی ہو۔

جناب باب جناب بہاء جناب مرزا ١٨٥٠ء وفات ١٢٦٨ھ ١٨٩٢ء وفات ١٣١٠ھ ١٩٠٨ء وفات ١٣٢٦ھ ١٨١٩ء پیدائش ١٢٣٤ھ ١٨١٧ء پیدائش ١٢٣٥ھ ١٨٣٩ء پیدائش ١٢٥٧ھ ٣١ عمر ٣١ ٧٥ عمر ٧٥ ٦٩ عمر ٦٩ ١٨٤٤ء دعوٰی ١٢٦٠ھ ١٨٥٣ء دعوٰی خفی ١٢٧٠ھ ١٨٨٢ء دعوٰی ١٢٩٠ھ ١٨٦٣ء اعلان دعوٰی ١٢٨١ھ بقولے شخصے

اس نقشہ سے معلوم ہوا کہ دانیال علیہ السلام کی پیشین گوئی کا تعلق اگر سنہ ہجرہ سے وابستہ خیال کیا جائے تو ١٢٦٠ سال کی مدت باب اور مرزا قادیانی دونوں کے لئے ہوگی۔ کیونکہ ١٢٦٠ھ میں آپ نے مہدویت کا دعوٰی کیا تھا۔ جب کہ باب ٢٥ سالہ جوان تھے اور مرزا قادیانی ابھی دو تین سال کے بچہ تھے۔ مگر دانیال علیہ السلام لکھتے ہیں کہ ١٢٦٠ھ کو ایک مکروہ چیز قائم کی جائے گی تو اگر مکروہ چیز ان مدعیان مہدویت کا وجود یا ان کی تعلیم ہو (یقیناً ہے) تو دونوں مذہب دانیال علیہ السلام کے نزدیک قابل اجتناب ہوں گے اور بہتر ہوگا کہ ان سے پرہیز کیا جائے اور اگر کوئی اور چیز مراد ہے جو ان بزرگوں کے وقت مکروہانہ حالت میں پیدا ہوئی تو اس کا بیان کرنا بھی ضروری تھا۔ مگر افسوس ہے کہ نہ مرزائیوں نے کچھ بتایا اور نہ بابیوں نے۔ اس لئے ناظرین خود ہی فیصلہ کریں کہ وہ کیا ہے؟ دوسری مدت جو دانیال علیہ السلام نے بیان کی ہے۔ وہ ١٢٩٠ ہے۔ جس میں مرزا قادیانی مدعی مکالمہ صراحۃً نظر آتے ہیں اور بہاء اللہ نے بھی تقریباً اسی مدت میں کچھ تاویل کر کے دعوائے مسیحیت کیا ہے۔ (دیکھو مفاوضات) بہرحال دونوں مدعی مساوی طاقت

صفحہ ٤٤٤

سے لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس لئے کسی کے حق میں فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔ تیسری مدت ١٣٣٥ھ جس میں دونوں کی کوشش ضائع ہو چکی ہے۔ کیونکہ:

اوّل...... اس میں لکھا ہے کہ مبارک وہ ہے جو ١٣٣٥ روز تک انتظار کرتا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ١٣٣٥ تک تمام مدعیان مہدویت و مسیحیت کا شور و غل ہو جائے گا اور دعوت مذاہب جدیدہ کا زمانہ ختم ہو جائے گا۔

دوم...... وفات مسیح قادیانی ١٣٢٥ھ تھی۔ اب اگر سنہ اعلان نبوت سے یہ مدت شروع کی جائے تو بیشک بابیوں کی تاویل سے ١٣٣٥، ١٣٢٥ھ بن جاتا ہے اور اگر سنہ بعثت سے یہ شروع کیا جائے تو تیرہ سال کرنے پڑیں گے۔ کیونکہ ہجرت سے تیرہ سال پہلے آپ نے دعویٰ رسالت کیا تھا اور اعلان تین سال بعد کیا تھا۔ مگر بابی مذہب اس مقام پر خاموش نظر آتا ہے۔ کیونکہ ان کے کسی عہد پر بھی یہ مدت چسپاں نہیں ہوتی۔ چوتھی مدت ٢٣٠٠ ہے۔ جس میں بابیوں نے یہ پیش کیا ہے کہ دانیال علیہ السلام نے یہ مدت تعمیر بیت المقدس سے شروع کی تو ولادت مسیح سے پہلے ٤٥٦ سال گزر چکے تھے اور میلاد مسیح کے بعد ١٨٤٤ میں باب کی ولادت ہوئی ہے۔ اس لئے آپ کی ولادت ٢٣٠٠ مقدسی میں واقع ہوئی تھی۔ مگر مرزائی یہاں خاموش ہیں تو تیسری مدت کا گلہ نہ رہا۔ مگر غیر جانبدار کے نزدیک اس طرح سے اپنی صداقت پر بائبل کو پیش کرنا سراسر حماقت ہے۔ کیونکہ وہاں روز یا صبح و شام کے لفظ ہیں اور یہاں سال مراد اس لئے لئے جاتے ہیں کہ ایک دفعہ دن کا مقابلہ سال سے کیا گیا تھا۔ ناظرین خود سوچیں کہ یہ کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال تو ہوئی کہ کسی نے کہا تھا کہ قرآن مجید میں وارد ہے کہ خدا کے ہاں ایک روز کی مقدار ہزار سال ہوگی تو دنیا کی پیدائش چھ ہزار سال میں ہوئی ہوگی اور ایک ہزار سال خدا نے تھکاوٹ اتاری ہوگی۔ رمضان کے روزے تیس ہزار سال کے روزے ہوں گے اور کفارہ کے ساٹھ ہزار سال کے اور سال کی گنتی بارہ ہزار سال تک پہنچ جائے گی۔ کیونکہ قرآن مجید میں مہینوں کی گنتی بارہ بتائی گئی ہے۔ اس کے بعد دوسری قباحت یہ ہے کہ ایک جگہ تو یہ کہا جاتا ہے کہ دانیال علیہ السلام نے اپنا حساب سنہ مقدسی سے شروع کیا تھا اور دوسری جگہ سنہ ہجری اور سنہ بعثت پیش کیا جاتا ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دونوں مذہب ایک دوسرے کو کاٹنا چاہتے ہیں ورنہ خود بھی جانتے ہیں کہ ہماری یہ چال صحیح راستہ پر نہیں۔ تیسری قباحت یہ ہے کہ سنہ مقدسی میں سال مذکور ہیں تو اگر دنوں سے مراد ہر جگہ سال مراد ہوں تو سالوں سے مراد صدیاں لینی پڑیں گی۔ ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ دانیال کی پیشین گوئی میں دونوں مذہب کامیاب نہیں ہو سکتے۔ چوتھی قباحت یہ ہے کہ

صفحہ ٤٤٥

عیسائیوں کی طرح دونوں نے اس پیشین گوئی کے مقام کو تبدیل کر ڈالا ہے۔ جیسا کہ مقابلہ سے معلوم ہو سکتا ہے۔ پانچویں قباحت یہ ہے کہ جب ہلاکت مرزا کا سوال پیش آتا ہے تو خاص تاریخ پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ پیش ہونے والی پیشین گوئیاں سچی نہ تھیں۔ مگر جب اپنی باری آتی ہے تو دس سال تک بھی چکمہ دیا جاتا ہے۔ کیا یہی انصاف اور اسلام ہے جس کو بانس پر چڑھایا جا رہا ہے؟

کے متعلق آخری سطروں میں لکھا ہے کہ یہ راز آخری دنوں تک سر بمہر رہیں گے۔ اب ان دونوں کو دیکھئے خواہ مخواہ مہر شکن بنتے ہیں اور یہ ظاہر نہیں کرتے کہ ان ایام کے واقعات سے ہماری مہر شکنی موافق بھی ہے یا ہم تحریف و دجل سے کام لے رہے ہیں۔ پس ان حرکات ناشائستہ سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں مذہب دھوکا دینے میں ایک دوسرے سے کم نہیں۔ خدا ان سے محفوظ رکھے۔

خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے
خصوصاً آج کل کے انبیاء سے

ڈمبل کے کسی قول سے ثابت کیا گیا ہے کہ ایک نقلی مسیح قادیان میں ظاہر ہوگا۔ اب اگر اس کا قول معتبر ہے تو اس کے باقی خیالات بھی پیش کئے جائیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ وہ کس جگہ ظہور مسیح کا منتظر تھا۔

نکالا گیا تھا تو مرزائی تعلیم کسی محسوس جنت کی معتقد نہیں اور پھر دعویٰ ہے کہ اہل سنت والجماعت ہیں۔ (ہمیں تو اہل سنت والجماعت کے کسی عقیدہ کی جھلک مرزا قادیانی یا ان کے کسی حواری میں دکھائی نہیں دیتی۔ لیکن یہ مرزائی دیدہ دلیری کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ ناظرین کو متحیر نہیں ہونا چاہئے) اتنا بڑا دھوکا کچھ تو شرم کرو۔ بابی مذہب نے پہلے ہی بتا دیا ہوا ہے کہ عہد مسیح آزادی، عیاشی اور کمال امن وامان اور مساوات کا زمانہ ہوگا۔ جس کا بہترین نمونہ کسی زمانہ میں یونان کے اندر دیوجانس کلبی کے عہد میں ملتا ہے یا آج کل بالشویک کے عہد سے روس میں نمبر اوّل پر اور پیرس یا دیگر حصص یورپ میں دوسرے نمبر پر اور ہندوستان اور ایشیاء میں تیسرے نمبر پر نظر آتا ہے۔ مگر مرزائی ڈگڈگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کبھی تو پوسٹ کارڈ پر دکھاتے ہیں کہ بکری اور شیر دونوں ایک جگہ پانی پیتے نظر آ رہے ہیں اور قیامت خیز زلازل سے دنیا کو آئے دن تباہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کبھی حکومت برطانیہ کو ظلِ الہٰی کا خطاب دے کر تحفہ قیصریہ پیش کرتے ہیں

صفحہ ٤٤٦

اور کبھی اس سلطنت کو چھوٹا سینگ اور سیاسی دجال بناتے ہیں تو گویا اس وقت ہند کا علاقہ بہشت و دوزخ دونوں کا بروز بنا ہوا ہے۔ کیونکہ یہاں کا مسیح بھی نقلی (بروزی) ہی تھا۔ بہر حال ان گورکھ دھندوں سے بابی مذہب پاک ہے۔ اس لئے جو اسلام کو چھوڑ کر کسی جدید مذہب میں جنم لیتا ہے۔ اس کے لئے بہتر ہوگا کہ بابی یا بہائی مذہب اختیار کر کے باعث امن ثابت ہو نہ کہ قادیانی بن کر ہندوستان کا میوہ پھوٹ بیچنے کا ٹھیکہ دار بنتے ہوئے اپنے بھائیوں کا گلہ کاٹے۔ ابھی خدا کا شکر ہے کہ ملہم قادیانی نے ژالہ باری کے متعلق کوئی الہام نہیں کیا اور نہ ہی شدت کی برف اور کڑاکے کی دھوپ پر کچھ لکھا۔ ورنہ معلوم نہیں کہ آپ کی رحمتہ للعالمینی ہندوستانیوں پر کیا کیا غضب ڈھاتی۔

مغلوب ہو جائے گا اور اس سے یہ مراد لی ہے کہ ملہم قادیانی نے دو چار رسالے لکھ کر کسر صلیب کر لیا ہے اور اس تمدن کا خاتمہ کر دیا ہے جو ترک مذہب کا درس دیتا ہے۔ مگر آج اندھے بھی دیکھ رہے ہیں کہ ملہم قادیانی کے بعد یورپ کی آزادی روز افزوں ترقی کر رہی ہے۔ لوگ عملی طور پر ہر ایک مذہب سے دستکش ہو کر اسے لعنت کا طوق سمجھ رہے ہیں۔ زن ومرد میں صورت وسیرت کا امتیاز نہیں رہا! ہر راگ و رنگ میں حیا سوز وہ وہ طریق اختیار کئے جا رہے ہیں کہ ١٢٦٠ھ میں بطور خواب و خیال بھی کسی کو معلوم نہ تھے۔ خود اسی رسالہ میں اس زمانہ کے دجال کا زمانہ لکھا ہے تو پھر آپ ہی بتائیں کہ یہ کہاں تک صحیح ہوا کہ ١٢٦٠ھ کے بعد خدائی بادشاہی قائم ہوگی۔ ہاں اگر یہ مراد ہو کہ قادیانی ملہم دوسروں کو یوں پکارتا تھا۔

بن کے رہنے والو تم نہیں ہو آدمی
کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار

اور اپنی چھ لاکھ فرضی جماعت کو انسان بلکہ قدوسی بتا کر بروز صحابہ بتایا کرتا تھا۔ اس لئے خدائی بادشاہت بالکل چھوٹی حدود کے اندر قائم ہو چکی تھی تو اس پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں۔

شکر رنجی کا باعث یہی جماعت ہوتی ہے اور جھوٹ، دجل وفریب قدوسیت کے پردہ میں خباثت کا منظر دیکھنا ہو تو اسی جماعت میں ملتا ہے۔

مقابلہ نہیں کر سکا۔ بلکہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر محکومانہ اور رعیانہ پہلو اختیار کر کے یہ معاہدہ کر لیا ہے کہ ہمیں ٹرکی کی طرح وجہ معاش کے لئے کچھ حکومت دے دیں۔ تاکہ ہماری شکم پروری

صفحہ ٤٤٧

ہو جائے۔ باقی تم جانو تمہارا کام اور ہم بھی سچے رہیں اور تم بھی۔ عقل کے دشمن بہتیرے ہوں گے جو ہم کو تم پر غالب سمجھیں گے۔ معاذ اللہ! اگر یہی فیصلہ الٰہی ہو چکا ہے تو ایسے اسلام کو صد سلام اور ایسے مسیح پر ہزار پوست کندہ رنج و آلام۔

اس میں اہل جنت کا بیان دوسری دنیا سے تعلق رکھتے ہوئے ظاہر ہوتا ہے۔ ہاں اگر بہائیوں کی طرح آج کی دجالی حکومت بہشت ہے تو یہ معنی ہوگا کہ دجالی حکومت کے ماتحت رہنا مرزائیوں نے دعائیں مانگ مانگ کر حاصل کیا ہے۔ پھر اس کے حاصل ہونے کے بعد اسے مٹانے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ یہ عجیب گورکھ دھندہ ہے۔ ہم سے اس کی عقدہ کشائی نہیں ہو سکتی۔

تسخیر قلوب مراد لی جاتی ہے اور جب اس کے مقابلہ پر دوسری حکومتوں کی تباہی کا تذکرہ آتا ہے تو کہہ دیتے ہیں کہ دیکھو روما تباہ ہو گیا۔ ترکی کا خاتمہ ہو گیا۔ یہودی بیت المقدس کے پاس آباد ہو رہے ہیں۔ مگر اب دنیا ہوشیار ہو چکی ہے۔ اب اس طرح کے چکموں میں دنیا نہیں آ سکتی۔ بلکہ جو لوگ پھنس چکے ہیں وہ بھی بیزار نظر آتے ہیں۔

طرح بیان کیا ہے۔

دانیال علیہ السلام کو کس بات نے مجبور کیا تھا کہ سنہ ہجری کے مطابق اپنا خیال بیان کریں۔ اس کے بعد یہ بھی خیال نہیں کیا کہ جب عیسائیوں نے ١٨٩٨ء کے بعد تیس سال گزر جانے پر ظہور مسیح کا وقت دیا ہے تو ملہم قادیانی کو کب موقعہ مل سکتا ہے کہ وہ مدعی مسیحیت بنے۔ کیونکہ ١٩٢٨ء سے پہلے مرزا کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ علاوہ اس کے جس مسیح ناصری کو عیسائی پیش کر رہے ہیں۔ ملہم قادیانی وہ مسیح نہ تھا اس لئے عیسائی تحریرات سے اپنی مسیحائیت ثابت کرنا دانشمندوں کے نزدیک خوش فہمی ہوگی اور خوش فہموں کے نزدیک ابلہ فریبی۔

ہے۔ اگر مان بھی لی جائے تو اس میں مرزا قادیانی کی صداقت ظاہر نہیں ہوتی۔ کیونکہ ١٣٢٦ھ تک ختم ہو چکے تھے اور دنیا سے چلے گئے تھے۔ اگر کسی تاویل سے ”آتا ہے“ کا مطلب ”زندہ رہتا

صفحہ ٤٤٨

ہے“ کیا جائے تو بابی اور بہائی صداقت پیش کرنے کے حقدار ہوں گے۔ کیونکہ وہ بھی اس مدت سے پہلے زندہ مدعی رکھتے تھے۔

جب کہ اسلامی حکومت اٹھ چکی تھی ) اس لئے اس نے حکومت اسلامیہ کو ہی دجال سمجھ لیا تھا۔ حالانکہ حکومت یورپ ہی دجال تھی جو دنیا کو مذہب سے بیزار کر رہی ہے اور اس کو دور کرنے کے لئے ١٨٩٨ء میں خدائی بادشاہی قائم ہوئی۔ جس کا دارالخلافہ قادیان تھا اور جس کا گورنر ابن مریم خود مریم، مسیح بن اللہ، خود اللہ، ابوالالہ، مظہر انبیاء واولیاء وکرشن اوتار، جئے بھالوئی، جے سنگھ بہادر، حجر اسود، سنگ افتادہ، خالق ارض و سماء، پیدا کنندہ آدم وحوا اور خود آدم وحوا خود کوزہ خود گل کوزہ مالک بہشتی مقبرہ ہے۔ مگر افسوس ہے تو یہ کہ اپنی خیالی بادشاہت پیش کرنے پر اس جرات سے کام لیا جاتا ہے کہ بابی مذہب بھی ایسی ابلہ فریبی سے کنارہ کش نظر آتے ہیں۔

اور دنیا جانتی ہے کہ روحانی اعتبار سے دنیا بربریت اور وحشیت کے وہی پہلے منازل طے کر رہی ہے۔ جو ظہور اسلام سے پہلے زمانہ میں طے کئے جاتے تھے۔

شناخت نہ کیا اور ہم بھی ان پر افسوس کرتے ہیں کہ واقعی یہ ناقدر شناس واقع ہوئے ہیں۔ قادیانی ملہم سے پہلے ایرانی مسیح بھی گزر چکا تھا وہ اسے بھی شناخت نہیں کرسکے تھے۔ مگر جب انہوں نے اسے شناخت نہ کیا۔ حالانکہ علم وفضل اور جاہ وجلال میں قادیانی ملہم سے بڑھ کر تھا تو یہ کمال ابلہ پن ہو گا کہ قادیانی مسیح کی ناقدر شناسی پر افسوس کیا جائے تو فیصلہ کن بات ہو سکتی ہے۔ کیونکہ آج یورپ ہی تمام معاملات کا فیصلہ کرتا ہے اور یہیں کے لوگ آج کل نیک وبد کے امتیاز کرنے میں ثالث مقرر ہوچکے ہیں اور دنیا کے ہر گوشہ سے یہ آواز آرہی ہے کہ؎

بجا کہے جسے یورپ اسے بجا سمجھو
اسی کا فیصلہ نقارۂ خدا سمجھو

خطاب دیا ہے۔ صرف اس لئے کہ مصنف کے خیال میں یورپ نے تسخیر قلوب کا کام نہیں کیا۔ حالانکہ صاف غلط ہے۔ کیونکہ تمدن یورپ اور احکام حکومت کے سامنے سر انقیاد کی خمیدگی نظر آ رہی ہے اور آزادی ونشاط کا تسلط آج دلوں پر اس شدومد سے ہو رہا ہے کہ خود تقدس مآب ہستیاں بھی

یں عیاشی کے سیلاب مدہوش ہو رہی ہیں کہ ان اسی کی خاطر ہزاروں رو عیاشی کے کلورافارم سون حالانکہ مذہبی تسخیر کو رخصت نبوت کا اعلان کیا تھا اور سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اور نہ اس میں تسخیر قلوب

اور ہم سنتے تھے کہ مرزا تراشی میں آپ کے بھی امت کی شاگردی اختیا

١٨٩٨ء سے ہوا۔ مگر اب اس کا آغاز ہوا تھا۔ شاید میں اس کی بنیاد ڈالی گئی شروع ہو گیا تھا۔ اس لئے عہد رسالت کی توہین تو دعویٰ تو یہ تھا کہ مسیح موعود شائق تھے۔ مگر کمل نہ کر قدرت ثانیہ آکر مکمل کر

مسلمان خواہش مند ہو کہ محمود) میں مبعوث فرما حلیم کے پاس جگہ جو متعفن ڈھاب کے کنا

صفحہ ٤٤٩

اس عیاشی کے سیلاب میں بہہ کر اپنا آپ چکنا چور کر چکی ہیں اور شراب تمدن یورپ میں ایسی مدہوش ہو رہی ہیں کہ ان کو یورپ کی ہر ایک حرکت وسکون مذہبی جذبات کا نمونہ دکھائی دیتی ہے اور اسی کی خاطر ہزاروں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ غرضیکہ یورپ نے ایسی تسخیر قلوب کی ہے کہ عیاشی کے کلورافارم سونگھنے سے لوگ یہی سمجھے ہوئے ہیں کہ ہم ابھی مذہب کے دلدادہ ہیں۔ حالانکہ مذہبی تسخیر کو رخصت ہوئے تیس سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ یعنی جب کہ مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا اور تمام دنیا کو اسلام جدید کی دعوت دی تھی جو تمدن یورپ کا پہلا زینہ تھا تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چونکہ مسیح قادیانی حیوانی حکومت کا خود معین و مددگار تھا۔ اس لئے نہ وہ نبی تھا اور نہ اس میں تسخیر قلوب تھی۔

اور ہم سنتے تھے کہ مرزا قادیانی کو ہی نئے معنی کشف ہوتے تھے۔ مگر نہیں آپ کی امت نے معنی تراشی میں آپ کے بھی کان کتر ڈالے ہیں۔ آج اگر وہ زندہ ہوتے تو اس میں شک نہیں کہ اپنی امت کی شاگردی اختیار کرنے میں ان کو فخر حاصل ہوتا۔

١٨٩٨ء سے ہوا۔ مگر اب ص ٤٢ پر لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ نے اس کی بنیاد ڈالی تھی اور عہد رسالت میں اس کا آغاز ہوا تھا۔ شاید یہ خیال گیا ہو گا کہ بنیاد اور آغاز میں فرق ہوتا ہے۔ اس لئے گو عہد رسالت میں اس کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ مگر چونکہ بہت جلد فج اعوج کا زمانہ ہزار ششم (عہد ضلالت) سے شروع ہو گیا تھا۔ اس لئے مسیح موعود نے ہزار ہفتم (عہد سعادت) میں آغاز کر دیا۔ گو اس تاویل سے عہد رسالت کی توہین تو ہوتی ہے۔ مگر ساتھ ہی عہد مسیح کی عزت و توقیر بھی کافور ہو جاتی ہے۔ کیونکہ دعویٰ تو یہ تھا کہ مسیح موعود نے اس بادشاہت کو پایہ تکمیل تک پہنچایا کہ جس کی تکمیل کے لئے تمام انبیاء شائق تھے۔ مگر مکمل نہ کر سکے اور اب کہا جاتا ہے کہ مسیح موعود تکمیل کا بیج بو کر چلے گئے ہیں۔ جن کو کوئی قدرت ثانیہ آکر مکمل کرے گی تو پھر بتائیے مسیح کس مرض کی دوا ٹھہرا؟

مسلمان خواہش مند ہو کر خدا کے سامنے دست بدعا رہے کہ حضور ﷺ کو معاذ اللہ قادیان (مقام محمود) میں مبعوث فرما۔ مگر اس کو تحریف کرتے ہوئے ذرہ شرم دامنگیر نہ ہوئی۔ کجا مقام محمود عرش عظیم کے پاس جگہ جو حضور ﷺ نے مقام شفاعت ٹھہرائی ہے اور کجا مغلوں کی بستی قادیان جو متعفن ڈھاب کے کنارہ پر جو اپنے اندر ہزاروں مصائب لپیٹے ہوئی ہے۔ کیا مرزا قادیانی نے

صفحہ ٤٥٠

تمہیں یہی ہدایت کی تھی کہ ہر ایک لفظ کے مفہوم کو بدل کر اپنی خوش فہمی کا ثبوت دیا کرو۔ مگر ہم تو اس وقت آپ کو شاگرد رشید سمجھیں گے کہ آپ قادیان کے لفظ سے کچھ مہدی ثابت کریں اور قادیان سے کچھ عیار اور مکار کا استنباط کریں یا کم از کم لفظ مرزا سے یہ ثابت کریں کہ ایک دفعہ مر جاؤ۔ پھر زندہ ہو کر قدرت ثانیہ کا ہی ظہور دکھاتے رہو۔

(حکومت یورپ) ہے جس کو مسیح موعود نے تسخیر قلوب کی حکومت سے بے دخل کر دیا ہے۔ مگر مؤلف نے یہاں پر صرف تین جھوٹ بولے ہیں۔

نہیں ہوسکی اور آپ بتاتے ہیں کہ تکمیل ہو چکی ہے۔ بتائیے جھوٹا کون ہوا۔

اور آپ کہتے ہیں کہ ابولہب دجال حکومت یورپ ہے۔ آپ یہ اعلان کریں کہ یہاں ابولہب سے مراد حضور ﷺ کا چچا نہیں ہے تو دنیا خود فیصلہ کرلے گی۔

حالانکہ یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ آج سب سے بڑا مذہب تمدن یورپ کی محبت ہے کہ جس نے بڑی بڑی مقدس ہستیوں کو بھی سیر یورپ کا گرویدہ کرلیا ہے اور تبلیغ کے بہانہ سے ہزاروں روپے اس بیدردی سے خرچ کر ڈالے ہیں کہ جس کے حساب دینے سے بھی ان کو چکر آتے ہیں۔ صرف ہندوستان میں ہی خاص عیسائیوں کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے اور مرزائی مشکل سے پانچ لاکھ بھی ہوں تو بڑی کامیابی سمجھی جائے گی۔ اس کے علاوہ سکھ، ہندو اور مسلمان محبت یورپ میں اپنے اپنے مقدور کے مطابق مستغرق نظر آتے ہیں اور مذہب کو لعنت بتا کر آزاد ہورہے ہیں۔ نہ ہندو ہندو رہا ہے اور نہ مسلمان مسلمان۔ بلکہ یہاں کی نئی نسل کا تو یہ حال ہے کہ ہر ایک بچہ لارڈ کرزن کا بروز بننا چاہتا ہے اور ہر ایک لڑکی مس روفن کے روپ میں عریاں ہو کر ڈانس کی ڈیوٹی دینے کو تیار ہے۔ گو غریب اور جاہل مسلمان اس سیلاب سے بچ کر برکنار دریا نظر آتے ہیں۔ مگر تعلیم یافتہ اور مالدار ہندوستان جن میں مغل قوم زیادہ مبتلا نظر آتی ہے سب کے سب قعر دریائے غوایت و ضلالت میں تہ نشین ہو چکے ہیں اور کسی طرح بھی اس امر کے باور کرنے کی کوئی وجہ پیدا نہیں ہوسکتی کہ قادیانی خلیفہ یا اس کا باپ اسلامی محبت پیدا کرنے میں محبت یورپ کے مقابلہ پر کامیاب ہو چکا ہے۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان کا تمام نظم و نسق اور سب کاروبار اور ہر

صفحہ ٤٥١

طرح کا نشیب وفراز تعلق یورپ کی جھلک دکھا رہا ہے تو اب۔

آنکس کہ گمراہ است کرا رہبری کند؟

ہے اور مؤلف نے ص ٧٢ پر حکومت برطانیہ کے نظم و نسق پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ حکام بھی اس وقت سیاسی دجال بن گئے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے کتاب البریہ میں ثابت کیا تھا کہ مشنری اور مستری دونوں دجال ہیں اور حکام رحمت الٰہی ہیں۔ اب پیر و مرید آپس میں اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ کوئی شخص صحیح الرائے سمجھے تو کسے سمجھے؟ شاید مرید صاحب کہہ دیں گے کہ دیسی حکام دجال ہیں اور انگریزی حکام رحمت الٰہی ہیں۔ مگر ایک کچہری دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا کہ رحمت الٰہی اور دجال جب آپس میں مل کر کام کرتے ہیں تو غلبہ کس کا ہوتا ہے۔ پس اگر دجال کو غلبہ حاصل ہو، تو مسیح مغلوب ہوا اور اگر رحمت الٰہی کو غلبہ حاصل ہو تو ص ٧٢ کا بیان غلط ثابت ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیت میں ایک یہ بھی تاثیر ہے کہ دماغی طاقتیں قائم نہیں رہتیں۔ کیونکہ آخری سطروں میں صاف لکھ دیا ہے کہ قادیانی اور ابولہب (دجال) برسر پیکار ہیں اور بہت جلد اس سے حکومت چھین لیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بانی مذہب قادیانی دجال سے حکومت حاصل کر سکا۔ حالانکہ مؤلف نے اس رسالہ کا اصل مدعا یہ قرار دیا تھا کہ وہ ثابت کرے کہ مرزا قادیانی نے وہ بادشاہت مکمل کر دی ہے کہ جس کی تکمیل کے لئے تمام انبیاء سابقین کوشاں نظر آتے تھے۔ مگر اپنی ہی مخالف بیانی سے مؤلف کی وہ خوش فہمی ظاہر ہو چکی ہے کہ اگر انسان ہو گا تو آئندہ کبھی کوئی تحریر شائع کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کرے گا۔

٢٢...... مکاشفات بائبل

مرزائیوں نے شاید بائبل کو موڑ توڑ کر اپنے مذہب پر چسپاں کیا ہوگا۔ مگر دانیال علیہ السلام کی پیشین گوئی کی بحث میں جب دیکھ چکے ہیں کہ وہ اپنے پیر و مرشد باب و بہاء کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو ہمیں یقین ہو چکا ہے کہ فن تحریف میں مکاشفات بائبل کے متعلق بھی ان سے بڑھ کر ثابت نہیں ہو سکتے۔ ذیل میں مفاوضات عبدالبہاء کے ابتدائی ابواب سے چند کلمات نقل کئے جاتے ہیں۔ تاکہ ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ بائبل کو اپنے اوپر چسپاں کرنے میں بہائی کس قدر چالاک ثابت ہوئے ہیں۔ اب ذیل میں مکاشفہ کی عبارت نقل کی جاتی ہے اور خطوط وحدانیہ میں بہائی مذہب کی تشریح درج ہو گی۔

صفحہ ٤٥٢

جدیدہ) کو دیکھا۔ کیونکہ پہلا زمین و آسمان (شریعت قدیمہ) جاتے رہے تھے اور سمندر (لغزش مذہبی) بھی نہ رہا۔ پھر میں نے نئے بیت المقدس (شریعت بہائیہ) کو خداوند کے پاس سے اترتے دیکھا۔

اوڑھے ہوئی تھی۔ (یعنی سلطنت فارس پر حکمران تھی۔ جس کا قومی نشان سورج تھا) اور چاند (لڑکی جس کا قومی نشان چاند ہے) اس کے پاؤں کے نیچے تھا اور بارہ ستاروں (بارہ اماموں) کا تاج اس کے سر پر تھا اور بچہ (بہاء اللہ) جننے کی تکلیف میں تھی۔ پھر سرخ اژدھا (حکومت بنی امیہ) جس کے سات سر (ہفت اقالیم بنی امیہ مصر، افریقہ، روم، شام، عرب، فارس، اندلس، ترک، ماوراء النہر) تھے اور دس سینگ (بنی امیہ کے دس بادشاہ جو بالآخر بدنام گذرے ہیں جن کا پہلا بادشاہ ابوسفیان اور آخری مروان الحمار ) تھے اور اس کی دم نے آسمان کے تہائی ستارے ( اڑھائی سال جو دانیال علیہ السلام نے بتا کر ١٢٦٠ کی مدت ظہور باب کے لئے مقرر کی تھی ) کھینچ کر زمین پر ڈال دیئے۔ پھر وہ اژدھا اس عورت کے پاس گیا تا کہ اس کے بچے کو نگل لے۔ مگر وہ بچہ جنی جو لوہے کے عصا (قوت قدسیہ ) سے حکومت کرے گا اور بہت جلد خدا کے پاس بھیجا گیا اور وہ عورت (شرع محمدی) بیابان (حجاز) کو بھاگ گیا۔ تا کہ ١٢٦٠ دن (سال) تک اس کی پرورش کی جائے ۔

(مرد کامل ) نے ناپنے کی لکڑی دی اور کہا گیا کہ مقدسوں کو ناپوں (اور ان کا حال دریافت کروں) اور صحن کو نہ ناپوں (کیونکہ اس پر دوسروں کا قبضہ ہے) دوسرے لوگ ٤٢ ماہ (١٢٦٠ سال) تک پامال کریں گے۔ (شریعت روحانی عقائد نہیں بدلتی اور شریعت جسمانی کے عبادات و معاملات وغیرہ بدل جاتے ہیں اور یہی صحن اور مقدس کی حقیقت مبدلہ ہے) اور میں اپنے دو گواہوں (محمد و علی ) کو اختیار دوں گا اور وہ ٹاٹ اوڑھے ہوئے (اور پرانی شریعت کی تصدیق کرتے ہوئے) ١٢٦٠ دن نبوت کریں گے اور یہ وہی دو (محمد و علی) چراغ دان ہیں جو خدا کے حضور کھڑے ہیں۔ جو ان کو ضرر پہنچاتا ہے۔ اسے ان کے منہ (احکام شرعیہ) سے آگ نکل کر کھا جاتی ہے۔ (اور دشمن مغلوب ہو جاتا ہے) ان کو اختیار ہے کہ آسمان کو بند کر دیں تا کہ ان کی نبوت کے زمانہ میں پانی نہ برسے (اور فیض حاصل نہ ہو) اور پانیوں پر اختیار ہے کہ انہیں خون بنا ڈالیں (کیونکہ وہ موسیٰ علیہ السلام و یشوع علیہ السلام کی طرح ہیں) اور جتنی دفعہ چاہیں زمین (عرب) پر ہر طرح کی آفت

صفحہ ٤٥٣

(عربی قوم) لائیں گے۔ جب وہ اپنی گواہی دے چکیں گے تو وہ حیوان (حکومت بنی امیہ) جو ہاویہ سے نکلے گا ان سے لڑ کر غالب آئے گا۔ (اور بنی ہاشم مغلوب ہوں گے) اور ان کو مار ڈالے گا اور ان کی لاشیں (شرع محمدی) اس بڑے شہر (ملک سوریا و بیت المقدس پایہ تخت بنی امیہ) کے بازار میں پڑی رہیں گی۔ جو مصر اور سدوم کہلاتا ہے۔ جہاں ان کا خداوند بھی مصلوب ہوا تھا اور لوگ ان کی لاشوں کو (شریعت محمدی مردہ اور بے فیض کو) ساڑھے تین دن (١٢٦٠ سال) تک دیکھتے رہیں گے اور دفن نہ کرنے دیں گے اور خوشیاں منائیں گے۔ کیونکہ ان دونوں نبیوں نے ان کو بہت ستایا تھا۔ ساڑھے تین دن (١٢٦٠ سال) کے بعد ان میں زندگی کی روح (باب و بہاء کا ظہور) داخل ہوئی اور کھڑے ہو گئے۔ لوگ ڈر گئے اور آسمان سے آواز آئی کہ اوپر آ جاؤ تو بادل پر سوار ہو کر آسمان پر چڑھ گئے۔ (یعنی باب و بہاء شہید ہو گئے) دشمن ان کو (ان کی عظمت) دیکھ رہے تھے پھر اسی وقت ایک زلزلہ آیا (اور قتل باب کے وقت شیراز میں زلزلہ آیا اور وباء پھیل گئی) اور شہر کا دسواں حصہ گر گیا اور ٧٠٠٠ آدمی مرے۔ دوسرا افسوس (باب) ہو چکا۔ تیسرا افسوس (بہاء اللہ) ہونے کو ہے۔ حزقی ایل فصل نمبر ٣٠ میں ہے کہ اے آدم زاد (بہاء اللہ) نبوت کر اور خداوند کہتا ہے کہ افسوس اس روز پر۔ پھر مکاشفہ نمبر ١١ میں ہے کہ ساتویں فرشتہ (مبشر با مسیح) نے نرسنگا پھونکا تو آسمان پر یہ آواز بلند ہو گئی کہ دنیا کی بادشاہت خداوند اور مسیح (بہاء اللہ) کی ہو گئی اور وہ ابدالآباد تک بادشاہی کرے گا اور چوبیس بزرگوں نے جو خدا کے پاس تخت پر بیٹھے تھے سجدہ کر کے کہا کہ شکر ہے کہ اے خدا تو نے بادشاہی کی (ہر ایک دور نبوت میں بارہ اصفیاء گزرے ہیں۔ چنانچہ دور ابراہیمی میں یعقوب کے بارہ بیٹے اصفیاء تھے۔ دور موسوی میں بارہ نقیب اور دور محمدی میں بارہ امام تھے۔ لیکن دور بہاء میں چوبیس اصفیاء ہیں) اور وہ وقت آ گیا ہے کہ مردوں (محبت الہی سے خالی آدمیوں) کا انصاف ہو اور تیرے بندوں اور نبیوں کو جو تجھ سے ڈرتے ہیں اجر دیا جائے۔ (اور اجر پر از فیض جاری کیا جائے) اور خدا کا مقدس (تعلیم بہائی کی فلاح) جو آسمان پر ہے کھولا گیا اور اس کے عہد کا صندوق (کتاب عہد) دکھائی دیا۔ بجلیاں (انوار) پیدا ہوئیں۔ بھونچال آیا اور اولے پڑے (اور غضب الہی منکروں پر نازل ہوا)

یہ امر نا قابل تردید ہے کہ مرزائی مذہب نے بہائیت کا ہر امر میں تتبع کیا ہے۔ مگر اس موقعہ پر مکاشفات کی تحریف میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ جس قدر کہ بہائیوں نے قطع و برید سے کام لے کر مکاشفات کو اپنے بانیان مذہب پر چسپاں کر دکھلایا ہے۔ لیکن حقیقت شناس طبائع خوب سمجھ چکی ہیں کہ ان دونوں کی نکتہ آفرینی صرف ابلہ فریبی کا کام دے سکتی ہے۔ ورنہ اگر

صفحہ ٤٥٤

مکاشفات کا خود مطالعہ کیا جائے تو ساری کتاب میں اوّل سے آخر تک نہ مسیح قادیانی کا وہاں ذکر ہے اور نہ مسیح ایرانی کا۔ کیونکہ یوحنا حواری کے عہد میں عیسائیوں کے صرف سات گرجے تھے۔ جن کی طرف اس نے خط و کتابت کے سلسلہ میں یہ مکاشفات لکھے تھے جن کا ماحصل یہ ہے کہ میں خواب میں مسیح علیہ السلام کے پاس آسمان پر گیا ہوں۔ جب کہ وہ خدا کے سامنے ایک تخت پر بیٹھے ہوئے تھے اور چوبیس فرشتے آس پاس تھے تو آپ نے سات گرجوں کے متعلق سات پیغام الگ الگ روانہ کئے۔ پھر سات فرشتے دکھائی دیئے۔ جنہوں نے مخالفین کے ہلاکت کے سامان دکھائے اور مریم علیہا السلام کو دیکھا کہ لوگوں نے آپ کی مخالفت میں بڑا زور لگایا ہے۔ مگر آپ کا بیٹا مسیح دوسری دفعہ دنیا میں نازل ہوا ہے اور نزول سے پہلے یاجوج ماجوج ہلاک ہو چکے ہیں۔ شیطان کی حکومت جاتی رہی ہے۔ بت پرستی کے شہر بابل وغیرہ تباہ ہو چکے ہیں۔ اس لئے عیسائیوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ آمد مسیح کے منتظر رہیں اور عیسائیت پر ثابت قدم رہیں۔ یہ خواب تھا مگر انہوں نے خواہ مخواہ دخل در معقولات دے کر اصل مقصد بگاڑ دیا اور لوگوں کی آنکھوں میں مٹی ڈال کر اپنی مسیحیت منوانی چاہی تو گو اندھی تقلید کے پتلے ان کے چنگل میں آگئے۔ لیکن دیکھ بھال کرنے والوں کا شکار کرنا مشکل تھا اور ہے۔

٢٣....... اعلان نبوت مسیح قادیانی اور ایک غلطی کا ازالہ

ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ آپ نے آہستہ آہستہ دعاوی کے مراتب طے کئے تھے اور شروع میں دبی زبان سے مدعی نبوت نظر آتے تھے۔ لیکن منتظر تھے کہ جماعت کافی ہو جائے تو گول مول اقوال کو وحی کا رنگ دے کر اعلان نبوت کے عنوان سے پیش کیا جائے تو جناب کی خوش قسمتی نے آپ کو یہ زریں موقعہ دیا کہ آپ سے سوال ہونے لگے کہ حضور نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین مان کر کون مدعی نبوت ہو سکتا ہے تو اس کے جواب میں اسلامی تعلیم کے خلاف یوں کہا کہ میں محمد ثانی ہوں۔ اس لئے میری نبوت کوئی الگ نبوت نہیں اور نہ آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی پیدا ہوا اور جن تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی ہوگا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی شخصیت کو چھوڑ کر کوئی دوسرا نبی نہیں ہو سکتا یا یوں کہہ کہ کوئی ایسا نبی نہیں ہو سکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کر ڈالے۔ لیکن سورہ جمعہ میں لکھا ہوا ہے کہ آخری زمانہ میں آپ روپ بدل کر مسیح موعود کہلائیں گے۔ اس لئے نبوت قادیانی، نبوت محمدی کا ہی بروز ٹھہرا۔ کوئی الگ چیز نہ ہوئی۔ مگر ناظرین غور کریں کہ یہ تاویل آپ نے کہاں سے سیکھی؟ ظاہر ہے کہ جناب بہاء نے یہ سبق پڑھایا

صفحہ ٤٥٥

تھا۔ کیونکہ ایقان میں آپ نے صاف لکھ دیا تھا کہ شمس حقیقت ایک ہے۔ کبھی موسیٰ بن کر نمودار ہوتا ہے کبھی عیسیٰ اور کبھی محمد یا بہاء اللہ۔ تو جو شخص اس کے مظاہر میں سے ایک کا بھی منکر ہے وہ تمام مظاہر نبوت کا منکر ہوگا۔ جیسے کہ اگر کوئی آج سورج سے انکار کرتا ہے تو گذشتہ ایام کے سورج کا بھی اسے انکار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ سورج ایک ہی ہے اور لیل ونہار کے اختلاف سے اس میں جزوی اور رسمی اختلاف پیدا ہو رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے بھی اپنی تصنیف (ایک غلطی کا ازالہ ص٢، خزائن ج١٨ ص٢٠٦، ٢٠٧ ملخص) میں اس حقیقت کو یوں بے نقاب کر دیا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ: ”ایک پر یہ اعتراض ہوا کہ تیرا مرشد نبوت کا مدعی ہے۔ اس کا جواب نفی میں دیا گیا۔ مگر حق یہ ہے کہ جو پاک وحی مجھ پر نازل ہوتی ہے اس میں ایک دفعہ نہیں صدہا دفعہ نبی، رسول اور مرسل کے لفظ موجود ہیں اور اس وقت تو پہلے کی نسبت زیادہ صراحت موجود ہے۔ براہین احمدیہ شائع ہوئے ٢٢ برس ہو چکے ہیں۔ اس میں مکالمہ الہیہ موجود ہے کہ: ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ (الآیہ ص٢٩٨) جری اللہ فی حلل الانبیاء“ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں (کپڑوں) میں ہے۔

”محمد رسول اللہ والذین معہ“ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا۔ اسی طرح براہین میں مجھے متعدد جگہ رسول کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ یہ کہنا کہ خاتم النبیین کے بعد دعوائے نبوت کیسے صحیح ہوا، غلط نکلا۔ کیونکہ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی نیا یا پرانا نبی نہیں آسکتا۔ مگر آپ لوگ چالیس برس مسیح کو اتار کر نبی مانتے ہیں اور سلسلہ وحی کو چالیس برس تک حضور ﷺ سے بھی بڑھ کر جاری رکھتے ہیں۔ بے شک یہ عقیدہ معصیت ہے اور لفظ ”خاتم النبیین“ اور ”لا نبی بعدی“ اس کے خلاف زبردست شاہد ہیں اور کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہیں اور ہمارا یہ عقیدہ نہیں۔ ہاں ”خاتم النبیین“ میں ایک پیشین گوئی ہے جس کا علم مخالفین کو نہیں کہ خدا نے پیشین گوئیاں کرنے والے (نبیوں) کا خاتمہ کر دیا ہے اور قیامت تک پیشین گوئی کے دروازے بند کر دیئے ہیں اور ممکن نہیں کہ کوئی ہندو، عیسائی یا رسمی مسلمان نبی کا لفظ اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ سیرت صدیقی کے سوا تمام کھڑکیاں بند کی گئی ہیں جو اس کھڑکی سے آتا ہے اس پر ظلی طور پر نبوت محمدی کی چادر پہنائی جاتی ہے۔ اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں۔ کیونکہ نبی کے چشمہ سے نبوت لیتا ہے۔ تا کہ اپنے نبی کا جلال ظاہر کرے۔ اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے۔ اس کے یہ معنی ہوئے کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی بروزی طور پر ملی اور آیت کا یہ معنی ہوا کہ: ”وخاتم النبیین ولا سبیل الی فیوض اللہ من غیر

صفحہ ٤٥٦

توسطہ“ تو میری نبوت میرے محمد اور احمد ہونے کی وجہ سے ہے اور یہ نام مجھے فنافی الرسول ہونے سے ملا۔ تو خاتم النبیین کے معنی میں کوئی فرق نہ آیا۔ لیکن عیسیٰ کے اترنے سے ضرور فرق آجاتا ہے۔ سو میں اب ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے منکر نہیں۔ خدا نے مجھے آنحضرت ﷺ ہی کا وجود قرار دیا ہوا ہے۔ اس لئے میرے وجود سے ختم رسالت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ کیونکہ ظل اپنے اثر سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں۔ اس لئے ختم رسالت کی مہر نہیں ٹوٹی اور محمد کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ محمد ہی نبی رہا نہ کوئی اور۔ جب کہ میں بروزی طور پر محمد ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدیہ معہ نبوت محمدیہ میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کون سا انسان ہوا جس نے الگ ہو کر نبوت کا دعویٰ کیا ہو۔ غرضیکہ ”خاتم النبیین“ کا لفظ ایک الٰہی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے۔ ممکن نہیں کہ یہ مہر ٹوٹ جائے۔ مگر ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز ایک قرار یافتہ عہد تھا جو ”وآخرین منھم“ میں مذکور ہے۔ نبیوں کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ انہی کا نقش اور صورت ہوتا ہے۔ لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے۔ پس جو شخص شرارت سے مجھ پر الزام لگاتا ہے کہ میں نے نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا ہے وہ جھوٹا اور ناپاک ہے۔ مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے (اور اسی بناء پر اللہ نے مجھے نبی اللہ اور رسول اللہ کہا ہے) مگر بروزی رنگ میں میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا اور نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ بلکہ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔“

تنقید

مرزا قادیانی کے طرز کلام سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ آپ کو نبوت کا درجہ حاصل ہو چکا تھا۔ باقی رہی یہ بات کہ وہ نبوت ظلی تھی یا اصلی۔ تناسخ یا رجعت اور بروز کے طور پر تھی یا حقیقی یا مجازی طور پر تھی اور یا محدث کو ہی نبی سمجھ بیٹھے تھے۔ اس سے ہمیں کوئی بحث نہیں۔ کیونکہ اخیر دم تک آپ کو یہ معلوم نہ تھا کہ میں ہوں کیا۔ طبیعت مراقی تھی جس طرف خیال جم گیا اپنے ہی خلاف کہتے چلے گئے۔ چنانچہ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ ص ٢٤، خزائن ج ١٧ ص ٦١ حاشیہ، ١٩٠٢ء) پر لکھتے ہیں کہ محدث پر نبی کا اطلاق فصیح استعارہ ہے۔ (استفتا ص ١٦، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٦، مطبوعہ ١٩٠٧ء) پر لکھ دیا کہ میرا نام مجازی طور پر نبی رکھا گیا ہے۔ تقریر واجب الاعلان دہلی میں لکھا تھا کہ منکر ختم نبوت کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ (حمامتہ البشریٰ ص ٨١، خزائن ج ٧ ص ٣٠٠) میں لکھا کہ محدث میں نبوت کے

صفحہ ٤٥٧

اجزاء بالقوہ موجود ہوتے ہیں۔ بالفعل نہیں ہوتے۔ پس محدث بالقوہ نبی ہے۔ اگر نبوت کا دروازہ بند نہ ہوتا تو وہ بھی بالفعل نبی ہوتا۔ شہادۃ القرآن طبع دوم ص ٢٧ میں لکھ دیا کہ حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدث رکھے گئے ہیں۔ ١٩٠٢ء میں جب بمقام لاہور مولوی عبدالحکیم کلانوری مرحوم سے مباحثہ ہوا تو آٹھ گواہوں کے سامنے آپ نے حقیق نبوت سے دستبردار ہوتے ہوئے ایک تحریر دی کہ: ”ابتداء سے میری نبوت یہی ہے کہ میں محدث کو نبی جانتا ہوں۔ جو مکلم کے نام سے مشہور ہے۔ (مسلمان اگر محدث کو نبی کہنا مناسب نہیں سمجھتے) تو اپنے بھائیوں کی دلجوئی کے لئے اس لفظ کو دوسرے پیرایہ میں بیان کرنے سے کیا عذر ہو سکتا ہے۔ سو ہر جگہ میری تصانیف میں نبی کی بجائے محدث کا لفظ سمجھیں اور اس (لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال کریں۔“ یہ اقرار نامہ قول مجید میں مولوی احسن امروہی نے بھی نقل کیا ہے۔ ناظرین کو تعجب ہو گیا ہوگا کہ کوہ کندن اور کاہ بر آوردن کا معاملہ ہوا کہ لو جی سنا تھا کہ مرزا قادیانی نبی ہیں۔ چو دم برداشتم مادہ برآمد۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خون نہ نکلا

دیکھا تو اقرار نامہ میں بالکل ہی مکر گئے اور قول مجید میں اس مقام پر یہ لکھا ہے کہ آپ نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ ایسے مشتبہ الفاظ نہ لکھوں گا۔ مگر یہ وعدہ بھول گئے اور ١٩٠٧ء میں پھر وہی دلازار لفظ لکھ دیا کہ میں نبی ہوں اور ١٩٠٨ء کو مئی کے پرچہ اخبار عام میں شائع کر دیا کہ: ”خدا کے فضل سے ہم نبی اور رسول ہیں۔“ اس حرکت ناشائستہ کا ارتکاب اور وعدہ خلافی کا اختیار کرنا ایسا عیب ہے کہ جو معمولی اخلاق کا مالک انسان بھی گوارا نہیں کر سکتا۔ تو اگر ایک مقدس ہستی اپنے لفظوں سے پھر جائے تو سخت افسوس ہوگا اور یہ کہنے کا موقعہ نہیں رہے گا کہ اس کی زندگی بے لوث تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری مرحوم کو بھی آپ نے چکمہ دے کر پیچھا چھوڑایا تھا کہ میں محدث ہوں نبی نہیں ہوں۔ کیونکہ آپ کے نزدیک محدث کی شخصیت وہ نہیں جو اسلام میں مشہور ہے کہ وہ نور ایمان کی وجہ سے واقعات کا پس و پیش اس طرح عیاں دیکھتا ہے کہ گویا اس کو کسی نے کچھ بتا دیا ہوا ہے۔ اس حالت کا نام فراست ایمانیہ ہے اور یہ صفت اولیاء اللہ میں کبھی کبھی پائی جاتی ہے۔ جس سے کوئی شخص بالقوہ بھی نبی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ حضرت عمرؓ کو حضورﷺ نے محدث تسلیم کیا تھا۔ وہ اس لئے اوّل المحدث کہے گئے مگر باجود اس کے آپ نے کسی طرح کی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نہ بالفعل نہ بالقوہ، نہ مجازی نہ حقیقی، نہ اصلی نہ ظلی اور نہ بروزی نہ

صفحہ ٤٥٨

عکسی اور نہ مستقل اور نہ غیر مستقل۔ یہ تمام اصلاحی الفاظ مدعیان نبوت کے زیر استعمال رہے ہیں اور کبھی صوفیائے کرام نے بھی شطحیات کہہ دئے ہیں۔ لیکن بعد میں یا تو انہوں نے خود انکار کر دیا تھا اور یا اہل حق نے تکفیری ڈنڈے سے اصلاح کروا ڈالی تھی تو فتنہ فرو ہو گیا تھا۔ مگر اب ایسی آزادی ہے کہ تکفیری فتویٰ کو معیار صداقت ٹھہرایا جاتا ہے۔

بدنام بھی ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

ہاں مرزا قادیانی کے نزدیک محدث کی شخصیت اتنی بڑی ہوتی ہے کہ کبھی وہ خدا میں بھی گھس سکتی ہے اور کبھی خدا اس میں گھس جاتا ہے اور تمام انبیاء واولیاء کا مظہر بنتی ہے اور جامع جمیع صفات کمالیہ بن کر اور تمام انبیاء سے مساوات پیدا کر کے کہ؎

آنکہ دادَست ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام

توہین انبیاء میں بھی اتنی جرات دکھاتی ہے کہ؎

عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم

(درثمین فارسی از مرزا ملعون)

پس اس شخصیت کا محدث تمام انبیاء سے افضل ٹھہرا تو اسے نبی یا رسول بننے کی کیا ضرورت تھی۔ اس لئے مولوی صاحب کو چقمہ دے دیا کہ آئندہ میں نبی کا لفظ اپنے لئے استعمال نہ کروں گا۔ مگر پھر جب خیال آیا کہ محدث کی اصلیت سوائے اظہار نبوت کے منکشف نہیں ہوسکتی تو پھر خلاف وعدہ اپنے آپ کو نبی کہنا شروع کر دیا اور یہاں تک بڑھ گئے کہ اربعین نمبر٤ میں نبی تشریعی اور مستقل ناسخ شرع ہونے کا بھی دبی زبان سے دعویٰ کر دیا۔ اب ہم بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی محدثیت میں کیا کیا دھرا پڑا ہے۔ آپ غور سے اعلان نبوت کی عبارت پڑھیں تو آپ کو مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوں گی کہ:

حضور ﷺ کے بعد میں بھی جاری چلی آئی ہے اور قیامت تک چلی جائے گی۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ عہد رسالت سے پہلے ہر ایک مذہب میں جاری تھی اور عہد رسالت کے بعد مذہب اسلام سے خاص ہوگئی اور مسلمانوں میں اس نبوت کو وہ لوگ حاصل کرتے رہے جو فنا فی الرسول ہوکر صدیقی کھڑکی سے داخل ہوتے آئے ہیں اور باقی تمام مسلمانوں کو اس سے محروم کر دیا۔ مگر ہمارے نزدیک یہ افسانہ طرازی صرف اس شخص پر مؤثر ہو سکتی ہے جو اسلامی تعلیم سے ناواقف ہو

صفحہ ٤٥٩

اور یہ بھی سمجھتا ہو کہ علوم مروجہ کے حاصل کرنے سے میں نے اسلام بھی سیکھ لیا ہے۔ ورنہ ٹھوس لیاقت کا انسان اسے بلاثبوت اور بلادلیل ہونے کی وجہ سے صرف مرزا قادیانی کے کہنے پر ماننے کے لئے تیار نہیں۔

جناب محمدﷺ بار بار دنیا میں روپ بدل کر آتے رہے ہیں اور ہزاروں دفعہ قیامت تک روپ بدل کر آتے رہیں گے۔ اس روپ دھارنے کو رجعت تناسخ اور بروز وغیرہ کے الفاظ سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ یہود ونصاریٰ سے حاصل کیا گیا ہے۔ یا ہندوؤں اور سکھوں سے اڑایا ہے۔ کیونکہ آپ کو کرشن اوتار اور جنمیا بننے کی سخت ضرورت تھی۔ مگر نہ آریوں نے مانا اور نہ سکھوں نے۔ مسلمان بھی پھنسے تو وہی جو عقل کے دشمن تھے یا جن کے پیچھے عقل ڈنڈا لئے پھرتی تھی۔

بعثت بعثت محمدی ہی ہے اور خدا نے میرا نام محمد رکھا ہوا ہے۔ کیونکہ خدا اپنے پیاروں کو نبیوں کے نام دیا کرتا ہے۔ مگر یہ دعویٰ ایسا ہے کہ جس پر سوائے اس کے کوئی اور دلیل نہیں کہ ہم نے کہہ دیا ہے اور بس۔ کیونکہ ہم کرشن ہیں اور رجعت و تناسخ کا ثبوت اس نے اپنی کتاب گیتا میں بار بار پیش کیا ہے۔

حاصل ہو گئے ہیں اور خاتم الانبیاء بھی بن گیا ہوں تا کہ یہ ثابت ہو سکے کہ آئندہ رسالت میری اولاد میں ہی جاری رہے اور ان لوگوں میں جو میرے مخلص تابعدار بن کر صدیقی کھڑکی سے داخل ہوں۔ یہاں تک تو آپ نے ثابت کر دیا کہ مجھ میں اور حضورﷺ میں کوئی فرق نہیں رہا۔ سوائے اس کے کہ آپ اصلی محمد ہیں اور میں ظلی، یا وہ اصل ہیں اور میں ان کا سایہ۔ بہرحال اس قسم کی مساوات اہل اسلام کے لئے جانفرسا ہے کہ اس سے بڑھ کر تکفیر کے لئے کوئی مکمل سامان نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ جب حضرت امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ جیسی شخصیت آپ کے مساوی نہ ہوسکی تو دوسرے امتی کی کیا وقعت ہے کہ آپ کے غبار پا کے برابر بھی ہوسکے۔

کر دیا اور جب دوسرے دعوؤں کا خیال کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ اس مساوات کے حاصل کر لینے کے بعد آپ کو وہ مدارج بھی حاصل ہو گئے تھے جو کسی نبی کو حاصل نہیں تھے۔ مثلاً خدا سے متحد ہونا خدا کی صفت بننا۔ خدا کا کار مختار بننا اور تمام انبیاء کا مظہر بننا وغیرہ۔ یہ ایک ایسی حرکت

صفحہ ٤٦٠

ہے جو کسی ایماندار سے سرزد نہیں ہوسکتی۔ سوائے اس کے وہ اسلام چھوڑ کر مستقل نبوت کا مدعی ہو۔

ہے کہ خدا نے لوگوں سے خوب چال چلی کہ براہین میں مجھے نبی بنا کر لوگوں کو اشتباہ میں ڈالے رکھا اور جب یہ مخالفت میں ہلاک ہو چکے تو میری نبوت کا صریح اعلان کروا دیا تو گویا ٢٢ برس تک خدا امت محمدیہ کو دھوکا دیتا رہا ہے اور آپ بھی دھوکا دیتے رہے۔ حق بزبان جاری۔ اصل بات نکل آئی کہ آپ نے شروع سے ہی نبوت کی ٹھان لی تھی۔ مگر اخلاقی کمزوری سے ٢٢ برس ایچ پیچ میں ہی گزار دیئے اور جب اپنی جماعت بن گئی تو اعلان کر دیا کہ میں ایسا محدث نبی ہوں کہ جو کمالات ایک ایک نبی میں تھے۔ وہ سارے ہی مجھ میں پائے گئے ہیں تو بھلا ایسا چالاک نبی کب خدا کا پیارا بن سکا ہے اور تکبر سے بچ کر اپنی پوزیشن اخلاقی کمزوری سے کیسے پاک رکھ سکتا ہے؟

حضورﷺ بھی تین سال تک اعلان نبوت نہ کر سکے تھے۔ (جیسا کہ ١٣٣٥ھ کی تقریر میں بیان ہو چکا ہے) اور بقول شیعہ غیبت صغریٰ میں رہے تھے اور میں بھی بائیس برس تک اسی غیبت میں رہا۔ کیونکہ میری مخالفت ان سے بڑھ کر تھی۔ مگر جب حکومت برطانیہ آپ کے ساتھ تھی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ آپ پہلے دن ہی نبی نہ بن جاتے۔ شاید یہ ڈر ہو گا کہ مج مجھ پر میرا ہی نسخہ نہ برتا جائے کہ مفتری علی اللہ اور مدعی نبوت قطع وتین کے عذاب سے فوری موت کے ساتھ مرتا ہے۔ مگر خدا کی قدرت دیکھئے اعلان نبوت کرنا ہی تھا کہ سات برس کے اندر ہی ہیضہ سے فوری موت نے پیر صاحب کی بددعاء کے زیر اثر آ دبوچا اور یہ ظاہر کر دیا کہ واقعی آپ کی نبوت دھوکے کی ٹٹی تھی۔

ہے کہ جس پر مہر لگ جائے اس میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور حضورﷺ آخری نبی تھے۔ جن کے بعد دوسرا نبی نہیں آسکتا۔ مگر آپ کے مرید اس ضد پر اڑے ہوئے ہیں کہ خاتم النبیین کا معنی آخری نبی نہیں بلکہ کامل نبی مراد ہے۔ جس کے ماتحت اور نبی بھی ہو سکتے ہیں تو گویا جس چال پر آپ چل رہے ہیں اسے چھوڑ کر مریدوں نے دوسری آسان چال نکال لی ہے۔ جس سے ہم حیران ہیں کہ آیا ان کے نبی کو ناقص البیان سمجھیں یا ان لوگوں کو گستاخ جانیں کہ اپنے نبی کی مخالفت کرنے سے بھی شرم نہیں کرتے۔ مگر ؎

نیش عقرب نہ از پے کین ست
مقتضائے طبیعتش این است

اپنے کیمرہ وجودی ہی مجھ میں موجود ہ تھے۔ اس کے بعد ق آپ کی تصویر مرید وہ بول کر آپ کی ط فوراً پھنس جاتے ہ

اختیار کیا ہے وہ محدثیت بنا کر اس کے امتی بنے ر ہے تو جارج پنج ہوں۔ اس لئے میری نسبی یا روحا مسلم بھی نفرت ک

امتحان کرنے ۔ تھا۔ نہ صحت او جاتے۔ نہ شجاع جان کے خطرہ م سپر ہو کر جوابدہ ہمدردی میں جا پیشین گوئی کا ب شیریں گفتاری

صفحہ ٤٦١

اپنے کیمرہ وجودی میں اس کا فوٹو حاصل کر کے دعویٰ کر دیا کہ جو کمالات اس بنڈل میں تھے سب ہی مجھ میں موجود ہوگئے ہیں۔ مگر پہلے تو ہم بلا دلیل کیسے مان لیں کہ آپ فوٹو کا کیمرہ بن چکے تھے۔ اس کے بعد ہم کیسے مانیں کہ کسی چیز کی تصویر میں اس کی خاصیتیں بھی موجود ہو جاتی ہیں۔ خود آپ کی تصویر مریدوں کے پاس موجود رہتی ہے۔ مگر اس میں نہ آپ کی کوئی تاثیر موجود ہے اور نہ وہ بول کر آپ کی طرح کسی کو لپیٹ میں لاسکتی ہے۔ بہرحال یہ ایسا چقمہ دیا گیا ہے کہ سادہ مزاج فوراً پھنس جاتے ہیں۔ مگر حقیقت شناس جانتے ہیں کہ آپ وہی ہیں جو ہیں۔

بہر رنگ کہ خواہی جامہ مے پوش
من انداز قدت را مے شناسم

اختیار کیا ہے وہ وحدت وجودیوں کو بھی نہیں سوجھا۔ آپ نے کمال کر دیا ہے۔ اپنی نبوت کو محدثیت بنا کر اس طرح بانس پر چڑھایا کہ تمام نقلی نبوتوں کے دانت کھٹے کر دیئے اور پھر امتی کے امتی بنے رہے۔ بلی سات چوہے کھا کر پھر حاجن کی حاجن۔ یہ چال اگر عقل سلیم تسلیم کرتی ہے تو جارج پنجم کا ایک مخلص دوست کہہ سکتا ہے کہ میں فنافی الجارج ہو کر جارج ثانی بن گیا ہوں۔ اس لئے انگریزی حکومت کا وارث میں ہی ہوں اور میرے بعد وہ لوگ وارث ہیں جو میری نسبی یا روحانی اولاد ہوں گے۔ بہر حال یہ ایک ایسی مکروہ حرکت ہے کہ جس سے ادنیٰ درجہ کا مسلم بھی نفرت کرتا ہے۔

امتحان کرنے سے بالکل فیل نظر آتے ہیں۔ کیونکہ حضورﷺ کا کوئی کمال بھی آپ میں موجود نہ تھا۔ نہ صحت اور تنومندی تھی۔ نہ فصاحت وبلاغت تھی کہ آپ کے اقوال بھی ضرب المثل بن جاتے۔ نہ شجاعت و شہامت، نہ سلطنت و بادشاہت تھی۔ نہ بیکسی اور یتیمی تھی۔ نہ جود وسخا تھا نہ جان کے خطرہ میں وطن چھوڑنا پڑا۔ نہ حکومت کی مخالفت تھی۔ نہ دشمنوں کے بار بار حملوں سے سینہ سپر ہو کر جوابدہی کے طور پر جنگ آزما ہونے کا موقعہ پیش آیا تھا۔ نہ قومی احساس تھا۔ نہ قومی ہمدردی میں جانثاری تھی۔ نہ یہ موقعہ حاصل تھا کہ ایک پست قوم کو عرش معلیٰ تک پہنچایا ہوتا اور نہ پیشین گوئی کا بغیر تاویل کے پورا ہونا۔ نہ بددعاؤں کی تاثیر کاری طور پر تھی۔ نہ خوش بیانی تھی۔ نہ شیریں گفتاری اور تحمل تھا۔ نہ برائی کے بدلے نیکی تھی۔ نہ عبادت تھی نہ زہد تھا۔ نہ تقویٰ تھا نہ پرہیز

صفحہ ٤٦٢

گاری تھی۔ نہ دنیا سے بے تعلقی تھی۔ نہ سادہ خوراک تھی۔ نہ سادہ لباس تھا۔ نہ قناعت تھی نہ صبر تھا، نہ توکل تھا۔ نہ تبتل الی اللہ تھا۔ غرضیکہ کچھ بھی نہ تھا۔ تو پھر کس شیخی سے کہہ دیا کہ مجھ میں حضورﷺ کے تمام صفات کمالیہ حاصل ہو گئے ہیں۔ کیا یہ دعویٰ موجب تکفیر نہیں ہوسکتا؟

جے سنگھ بہادر کیوں بنے؟ حجر اسود، خدا، خدا کا بیٹا، خود خدا، بلکہ خدا کا باپ، مریم، ابن مریم، معجون مرکب، سنگ قادیان ( قادیانی پتھر ) اپنے آپ کو کیوں بنایا؟ کیا کبھی ہمارے نبیﷺ نے ان دعاوی میں سے کبھی ایک دعویٰ بھی کیا تھا؟ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں۔ کوئی صریح آیت یا حدیث دکھا دیجئے ہم مان لیں گے۔ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر یہ کیوں شیخی بگھاری کہ میں محمد ثانی ہوں۔ پس اگر یہ مرتبہ دیا ہے تو اپنی ہستی خراب کرلی۔ نہیں دیا تو حضورﷺ سے بڑھ کر دعویٰ ہوا تو پھر تکفیر سے کیا ڈر؟

خلاف ہے اور جو امور آپ نے پیش کئے ہیں۔ ان میں کا ایک بھی تو انسان کو خارج از اسلام کر دینے کے لئے کافی ہے تو بھلا جب سارے اکٹھے ہو جائیں تو ایسے شخص کو کیوں ایسا نہ سمجھا جائے کہ اس نے نیا اسلام اور نئی نبوت پیش کی تھی اور جو کچھ بہائی مذہب نے کیا تھا وہی رنگ مرزائیت کو دیا تھا؟ اور کیوں ہم یوں نہ کہیں کہ جب بہائیوں کے نزدیک مرزائیت کفر ہے اور مرزائیت کے نزدیک بہائیت کفر ہے تو ہمارے نزدیک دونوں مذہب کیوں کفر نہ ہوں گے۔ بالخصوص جب کہ ہم کو دونوں مذہب مخالف نبوت بنا کر جہنمی اور کافر قرار دیتے ہیں۔

٢٤....... دشنامۂ قادیانی مسیح

مرزا قادیانی نے اپنا اتحاد حضورﷺ سے پیش کیا ہے۔ مگر ذیل کا دشنامہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جناب کو حضورﷺ سے دور کی بھی نسبت نہ تھی۔ کیونکہ حضورﷺ ”لم یکن فاحشاً“ فحش گو نہ تھے اور آنجناب کی کوئی تحریر بھی فحش گوئی سے خالی نہ تھی۔ چنانچہ کتاب البریہ میں جناب خود مان چکے ہیں کہ مجھے تقریباً چار سو گالیاں دی گئیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم زیادہ نہ سہی تو جناب نے بھی تو لوگوں کو چار سو گالیاں دی ہوں گی۔ جن کا خلاصہ بلا تکرار لفظی کتاب ”تحریک قادیان“ مصنفہ مدیر ”سیاست“ لاہور سید حبیب صاحب سے نقل کیا جاتا ہے۔ جو کہ ردیف وار ہے۔

صفحہ ٤٦٣

کالانعام کو بھی پلایا۔ اندھیرے کے کیڑو۔ ایمان وانصاف سے دور بھاگنے والا اندھے، نیم دھریہ ابولہب، اسلام کے دشمن، اسلام کے عار، اے جنگل کے وحشی، اے نابکار، ایمانی روشنی سے مسلوب، احمق، مخالف، پلید، دجال، اسلام کے بدنام کرنے والے۔ اے بدبخت مفتریو، اُمی، اشرار، اول الکفرین، اوباش، اے بدذات، خبیث دشمن اللہ ورسول، ان بیوقوفوں کو بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور صفائی سے ناک کٹ جائے گی۔

بڑھانا، بددیانت، بے حیا انسان، بدذات، فتنہ انگیز، بدقسمت، مکار، بدچلن، بخیل، بداندیش، بدباطن، بدبخت قوم، بدگفتار، بدعمل، باطنی جذام، بخل کی سرشت والے، بیوقوف، جاہل، بیہودہ، علمائے بے بصر۔

بکلی چھوڑ دینا۔ ترک تقویٰ کی شامت سے ذلت پہنچ گئی۔ تکفیر ولعنت کی جھاگ منہ سے نکالنے کے لئے۔

وصواب سے منحرف، جعلساز، جیتے جی مر جانا۔

پلید۔ خدا کی لعنت انہی کے منہ میں۔ خالی گدھے، خائن، خیانت پیشہ، خاسرین، خالیۃ من نورالرحمان، خام خیال، خفاش۔

گو، دشمن سچائی، دشمن حق، دشمن قرآن، دلی تاریکی۔

منحوس چہروں کو سوروں اور بندروں کی طرح کر دیں گے۔ ذلت سے غرق ہو جاؤ۔

صفحہ ٤٦٤

ڈ....... ڈوموں کی طرح مسخرہ۔

ر....... رئیس الدجال۔ ریش سفید کو منافقانہ سیاہی کے ساتھ قبر میں لے جائیں گے۔ روسیاہ، روباہ، بان، رئیس المنافقین، رئیس المعتدین، راس الغاوین۔

ز....... زہر ناک مارنے والے، زندیق، زور کم، یغشو الی موحی الغرور۔

س....... سچائی چھوڑنے کی لعنت انہی پر برسی، سفلی ملاں، سیاہ دل منکر، سخت بے حیا، سیاہ دل فرقہ کس قدر شیطانی افتراؤں سے کام لے رہا ہے، سادہ لوح ساسی، سفہاء، سفلہ، سلطان المتکبرین، الذی اضاع نفسہ بالکبر والتوہین۔ سگ بچگان۔

ش....... شرم و حیاء سے دور، شرارت خباثت و شیطانی کارروائی والے۔ شریف از سفلہ نمی ترسد، بلکہ از سفلہ گی او میترسد، شریر مکار، شیخی سے بھرا ہوا، شیخ نجدی۔

ض....... ضال، ضررہم اکثر من ابلیس لعین۔

ط....... طالع منحوس، طبتم نفاقا بالغاء الحق والدین۔

ظ....... ظلمانی حالت۔

ع....... علماء السوء، عداوت اسلام، عجب دیندار، عدو العقل، عقارب، عقب الکلب (کتے کی نسل) عدو ہا۔

غ....... غول الاغوال، غدار سرشت، غالی، غافل۔

ف....... ”فمت یا عبد الشیطان“ فریبی فن عربی سے بے بہرہ، فرعونی رنگ۔

ق....... قبر میں پاؤں لٹکائے ہوئے۔ قست قلوبہم، قد سبق الکل فی الکذب۔

ک....... کینہ ور، کمہار زادے، کوتاہ، نطفہ، کھوپری میں کیڑا، کیڑوں کی طرح خود ہی مر جائیں گے، کتے، کمینہ، کج دل قوم۔

گ....... گدھا، گندے اور پلید فتویٰ والے۔ گندی کارروائی والے، گندی عادت، گندے اخلاق، گندہ دہانی، گندی روحوں۔

ل....... لاف وگزاف والے۔ لعنت کی موت۔

م....... مولویت کو بدنام کرنے والو، مولویوں کا منہ کالا کرنے کے لئے منافق، مفتری، مورد غضب، مفسد، مرے ہوئے کیڑے، مخذول، مہجور، مجنون، مغرور، منکر، محجوب، مولوی مگس طینت، مولوی کی بک بک، مردار خوار، مولویو! نجاست نہ کھاؤ۔

صفحہ ٤٦٥

حرام نفسانی، ناپاک نفس، نابکار قوم، نفرتی ناپاک شیوہ، نادان متعصب، نالائق، نفس امارہ کے قبضہ میں نا اہل حریف، نجاست سے بھرے ہوئے نادانی میں ڈوبے ہوئے نجاست خواری کا شوق۔

والمفتری البطال، یہود کے علماء، یہودی صفت

مندرجہ ذیل نظم بھی جناب کی گندہ دہنی کا ثبوت ہے۔

اک سگ دیوانہ لودیانہ میں ہے آج کل وہ خر شتر خانہ میں ہے
بدزبان بدگوہر وبدذات ہے اس کی نظم ونثر واہیات ہے
آدمیت سے نہیں ہے اس کو مس ہے نجاست خوار وہ مثل مگس
سخت بدتہذیب اور منہ زور ہے منہ پر آنکھیں ہیں مگر دل کور ہے
حق تعالیٰ کا وہ نافرمان ہے آدمی کیا ہے گویا شیطان ہے
چیختا ہے بے ہودہ مثل حمار بھونکتا ہے مثل سگ وہ بار بار
مغز لونڈوں نے لیا ہے اس کا کھا بکتے بکتے ہوگیا ہے باؤلا
کچھ نہیں تحقیق پر اس کی نظر اس کا اک استاد ہے سو بد گہر
دوغلا استاد اس کا پیر ہے اس کی صحبت کی یہ سب تاثیر ہے
جہل میں بوجہل کا سردار ہے بولہب کے گھر کا برخوردار ہے
سخت دل نمرود یا شداد ہے جانور ہے یا کہ آدم زاد ہے
ہے وہ نابینا و یا خفاش ہے مسخرہ ہے منہ پھٹا اوباش ہے
وہ مقلد اور مقلد اس کا پیر پھر محدث بنتے ہیں دونوں شریر
اس کو چڑھتا ہے بخاری سے بخار پھیرتا ہے اس سے منہ اب نابکار
شور شیخی ان کی ہر رگ رگ میں ہے جس طرح کہ زہر مار و سگ میں ہے
ہائے صد افسوس اس کے حال پر لاکھ لعنت اس کے قیل و قال پر
آدمی ہے یا کہ ہے بندر ذلیل مل گیا کفار سے وہ بے دلیل
وہ یہودی ہے نصاریٰ کا معین پادری مردود کا ہے خوشہ چین
صفحہ ٤٦٦

ذیل میں وہ فحش گوئی درج کی جاتی ہے جو مخالفوں کو پیش کی ہے۔ مثلاً : ’’كل مسلم يقبلنى ويصدق دعوتي الا ذرية البغايا‘‘

(آئینہ ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ٥٤٧)

جو مسلمان ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اسے ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ہے۔ حرامزادہ کی یہی نشانی ہے کہ وہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔

(انوار الاسلام ص ٣٠)

’’ان العدے صاروا خنازير الفنا ونسائهم من دونهن الاكلب‘‘

(نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

’’اذيتنى خبثاً فلست بصادق ان لم امت بالخزى يا ابن بغاء‘‘

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٦)

’’من ينكرنا فهو كافر‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٦٣، خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)

درثمین اردو میں ہے۔

بن کے رہنے والو تم ہرگز نہیں ہو آدمی
کوئی ہے روباہ کوئی خنزیر اور کوئی ہے مار

ہم اس بحث میں دور نہیں جانا چاہتے۔ کیونکہ آپ کے متعلق یہ مسلم الثبوت نظریہ ہے کہ آریوں، عیسائیوں، ہندوؤں اور مسلمانوں کو اس تحقیرانہ اور ناقابل برداشت الفاظ سے مخاطب کیا ہے کہ جن کے سننے کی ادنیٰ غیرت بھی اجازت نہیں دیتی۔ آپ کی پہلی کتاب براہین سے لے کر آخری کتاب نزول مسیح تک مطالعہ کرنے والا تحقیرانہ پیرایہ کے فقرات اور مقدسانہ گالیاں نوٹ کرنے لگ جائے تو شاید کوئی مقام بھی ایسا دکھائی نہ دے گا کہ جس میں مخاطب کو دشنام میں لپیٹ کر جوتا سے تواضع نہ کی ہو اور اس دل آزار رویہ پر آپ کو پھر ناز بھی ہے کہ قرآنی آیات میں مخالفین کو اسی محقرانہ طرز پر خطاب کیا گیا ہے اور البشریٰ کے ایک مقام پر ایک الہامی شان نزول بھی لکھا ہوا ہے کہ جناب ابوطالب نے حضورﷺ سے کہا تھا کہ تم گالیاں نہ دیا کرو تو آپ نے جواب دیا تھا کہ میں اپنا رویہ نہیں بدل سکتا۔ یہ روایت جس طریق پر بگاڑ کر اپنی تائید میں پیش کی ہے ۔ اس کی ذمہ داری خود مرزا قادیانی پر ہی ہے۔ مگر تاہم اتنا ضرور ماننا پڑتا ہے کہ آپ کو قول اللہ اور قول النبیﷺ میں امتیاز نہ تھا یا عمداً دونوں کو ایک ہی سمجھ رکھا تھا۔ ورنہ یہ ظاہر ہے کہ قول الٰہی میں تندی آمیز الفاظ موجود ہیں۔ مگر قول الرسول میں ایک لفظ بھی ایسا موجود نہیں کہ جو قابل اعتراض ہو۔ لیکن یہاں یہ حالت ہے کہ آپ کی وحی بھی گالیوں اور تحقیر آمیز الفاظ سے پر ہے اور

صفحہ ٤٦٧

آپ کا ذاتی قول بھی حیا سوز فقرات سے موجب اعتراض بنا ہوا ہے۔ خلاصہ یوں ہے کہ حضورﷺ کا ذاتی کلام اشتعال آمیز بالکل نہیں تھا اور مرزا قادیانی کا کلام جا بجا اشتعال آمیز اور نفریں آلود تھا۔ اس لئے یوں کہنا کمال گستاخی ہوگی کہ معاذ اللہ محمدﷺ نے اپنے دوسرے روپ میں فحش گوئی بھی اختیار کر لی تھی۔ ورنہ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی حضورﷺ کا بروز نہ تھے۔

ہم نے جو فہرست یا نظم پیش کی ہے اس کے متعلق اگر یہ اعتراض ہو کہ کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا گیا تو جواب یوں ہوگا کہ جو تحریرات قادیانیہ ہم نے اس کتاب میں پیش کی ہیں۔ ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی کس درجہ پر بیباک تھے۔ ابھی معترض کو ہمارا شکر گزار ہونا چاہئے کہ ہم نے تفصیلی طور پر فحش گوئی پر بحث نہیں کی۔ کیونکہ یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ورنہ اگر انجام آتھم اور براہین کے حواشی کی ہی فہرست پیش کی جائے یا قصیدہ اعجازیہ سے گالیوں کی فہرست مرتب کی جائے تو کم از کم ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہوگی۔ اس لئے اس مختصر فہرست اور نظم پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے اور یقین دلایا جاتا ہے کہ اگر یہ گالیاں اور پایہ نظم مرزا قادیانی کی پیدا کردہ نہ بھی ہوں تو ان کے طرز تحریر کا نمونہ ضرور ہیں۔ جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ فحش گوئی کے عیب سے ایک بزعم خود بڑی مقدس ہستی بے لوث ثابت نہیں ہو سکتی۔

قیاس کن ز گلستان من بہار مرا

٢٥...... مسیح قادیانی کے الہامات، کشف اور خوابیں

قرآن مجید میں مکالمہ الہیہ کے تین طریق مذکور ہیں۔ پس پردہ، بوساطت فرشتہ اور وحی۔ مگر مرزا قادیانی کا خدا سے مکالمہ بحوالہ براہین احمدیہ پانچ طرز پر تھا۔ ژالہ باری، غوطہ زنی، قلبی خیال، رویت تحریر یا فرشتہ بشکل انسان وغیرہ اور بیرونی آواز کی شنوائی، قرآن کی رو سے آپ نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ شیطانی وحی بد معاشوں پر نازل ہوتی ہے اور وحی رحمانی نیک آدمیوں پر نازل ہوتی ہے۔ مگر مکالمہ الہیہ کو مطلب خیز شاہی اقتدار کے ساتھ نازل ہونے والا اور غیب پر بکلی اطلاع دینے والا لکھا ہے۔

وحی رحمانی اور شیطانی میں امتیاز

اور شیطانی مکالمہ کو قلیل المقدار غیر فصیح بد بو دار صرف ایک فقرہ یا دو فقرہ پر مشتمل بتایا ہے۔ کیونکہ شیطان بخیل گنگا، گلا ہوا ہوتا ہے۔ اونچی آواز سے بول ہی نہیں سکتا۔ اس کا کلام رعب اور شوکت سے خالی ہوتا ہے۔ تو ملہم بھی سختی کے وقت اس کا الہام چھوڑ بیٹھتا ہے اور الہام الہی اکثر

صفحہ ٤٦٨

معظمات امور میں ہوتا ہے۔ کبھی غیر زبان میں اور کبھی غیر مستعمل الفاظ میں ہوتا ہے۔ اس وحی سے نہ مجھے کوئی خوشی حاصل ہوتی ہے اور نہ مجھے اس سے کچھ غرض ہے۔ ”اجرد نفسی من ضروب الخیال“ یہ خدا کا فعل ہے۔ میرا اس میں دخل نہیں ہے۔ میں نے براہین میں لکھا تھا کہ مسیح آسمان سے نازل ہوں گے۔ اگر چہ مجھے بتایا گیا کہ تو ہی مسیح ہے اور تیرے ہی آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی ہے۔ مگر میں نے اس وحی کو مشتبہ سمجھ کر تاویل کی اور عقیدہ نہ بدلا۔ مگر جب بارش کی طرح بار بار وحی نازل ہوئی کہ مسیح تم ہی ہو اور صد ہا نشان بھی مل گئے تو مجبوراً مجھے کہنا پڑا کہ آخری زمانہ کا مسیح میں ہی ہوں ۔ پھر اس الہام کو قرآن کی رو سے پیش کیا تو معلوم ہوا کہ مسیح مرچکے ہیں۔ پھر قرآن وحدیث نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے آپ کو مسیح موعود مانوں۔ میں پوشیدگی کے حجرہ میں تھا۔ اس نے مجھے جبراً نکالا اور عزت کے ساتھ شہرت دلانے کا وعدہ کیا۔ میرا یہ بھی عقیدہ تھا کہ میں کجا اور مسیح ابن مریم کجا۔ مگر جب مجھے نبی کا خطاب دیا گیا اور امتی بھی ٹھہرایا گیا تو ٢٣ برس کی وحی نے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔ مجھے اپنی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسا کہ پہلی وحیوں پر ایمان ہے۔ مسیح سلسلۂ موسوی کے آخری خلیفہ تھے اور سلسلۂ محمدی کا میں آخری خلیفہ ہوں۔ اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ میں اس سے کم رہوں۔ میں عالم الغیب نہیں۔ میں وحی کے تابع ہوں۔ اس وقت آسمان پر غیرت الٰہی جوش زن ہے۔ کیونکہ عیسائی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ سو خدا نے دکھا دیا کہ حضور ﷺ کے ادنیٰ غلام، مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں، میری نبوت وہ نہیں جو پہلے زمانہ میں براہ راست ملتی تھی۔ بلکہ مصلحت الٰہیہ نے حضور ﷺ کے افاضۂ روحانیہ کی تکمیل کے لئے مجھے نبوت تک پہنچا دیا ہے۔ اسی وجہ سے میرے الہام اور حدیث میں مجھے امتی بھی کہا گیا ہے اور نبی بھی۔

(حقیقت الوحی ص ١٤٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢ تا ١٥٤ ملخص)

قلیل المقدار الہامات

الہام ہوا: ”ہزّی الیک بجذع النخل“ کھجور کا تنہ ہلاؤ تو تازہ پھل گرے گا۔ پھر آمدنی ہونے لگی۔ چنانچہ الہام ہوا: ”عبداللہ ڈیرہ اسماعیل خان“ تو ڈاکخانہ سے اس کا خط آ گیا۔

بردا“ تو اس کا بخار سرد ہو گیا۔

طلب کی تو علی الصباح مجھے ایک کاغذ دکھایا گیا جس پر دو فقرے لکھے تھے۔ ”آئی ایم کوائرلر۔ ہذا

صفحہ ٤٦٩

شاہد نزاع“ شام کو امرتسر سے سمن آ گیا کہ رجب علی پادری مالک مطبع سفیر ہند کا کسی سے مقدمہ ہے تم گواہی کے لئے آؤ اور نزاع (تباہ کن) بنو۔ تو ثابت ہوا کہ پہلے فقرہ سے مراد رجب علی تھا اور دوسرے سے میں مراد تھا۔ اس سے پہلے دس دن روپیہ پاس نہ تھا۔ تو الہام ہوا کہ دس دن کے بعد موج دکھاتا ہوں۔ ”الا ان نصر اللہ قریب فی شائل مقیاس ، وین ویل یوگوٹو امرتسر“ (یعنی اونٹنی بچے جننے کے لئے کچھ دن تک دم اٹھاتی ہے۔ بس اتنی ہی دیری ہے روپیہ آ جائے گا۔ مگر بتاؤ تم امرتسر کب جاؤ گے) تو گیارھویں روز راولپنڈی سے روپے بھی آ گئے اور امرتسر بھی شہادت کے لئے جانا پڑا۔

آرمی۔ ہی از ودہ یو ٹو کل انمی“ (خدا فوج لے کر آتا ہے وہ تیرے ہمراہ دشمن کو ہلاک کرنے کے لئے ہے) میری فتح ہوئی۔ خدا ان کو جلا دے گا۔ واللہ واللہ سیدھا ہو یا اوندھا۔ خوشیاں منائیں گے۔ بلائے ناگہانی، یا اللہ فتح مسیح کا مہمان، غلام احمد کی جے۔ ان کے لئے بہتر ہے، پوری ہوگئی، طوفان آیا، شرابی تلوار کی تیز دھار، احمد غزنوی، بلائے دمشق، سلطان عبدالقادر، تکلیف کی زندگی، پچیس دن، ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہیں رہے گا، روشن نشان، بادشاہ آیا، مبارک آسمانی بادشاہت، فوق حمید، خدا اس کو پنج بار ہلاکت سے بچائے گا۔ امین الملک جے سنگھ بہادر، پیٹ پھٹ گیا، دشمن اضطراب میں ہے۔ ایک دم میں دم رخصت ہوا۔ رہنا عاج، عالم کباب، شادی خان، کلمتہ اللہ خان، کلیسا کی طاقت کا نسخہ، دشمن کا بھی ایک وار نکلا، زلزلہ آیا، بشیر الدولہ، درد ناک دکھ، درد ناک واقعہ، میری بیوی یکا یک مر گئی، ایک کلام اور دو لڑکیاں، زندگی، ٢٥ فروری کے بعد جانا ہوگا، ایک دانہ کس کس نے کھانا، سلام اخبار شائع ہوگیا۔ کرنسی نوٹ، تین بکرے ذبح کئے جائیں گے، کمبل میں لپیٹ کر صبح قبر میں رکھ دو، دن تھوڑے رہ گئے، سب پر اداسی چھا گئی، رہا گو سپندان عالیجناب، پیشاب کا دورہ تھا، تو صحت کا الہام ہوا، السلام علیکم، دو شہتیر ٹوٹ گئے، رد بلا بامراد، آتش فشاں، مصالح العرب، مسیر العرب، انا اللہ، اس پر آفت پڑی، ان لوگوں کی شرارت جن پر تو نے انعام کیا، میں ان کو سزا دوں گا، میں اس عورت کو سزا دوں گا۔ لنگر اٹھا دو، زمین تہ و بالا کر دی، آہ نادر شاہ کہاں گیا۔ ہماری فتح فتح نمایاں المبارک، اس کے آگے فرشتے پہرہ دے رہے ہیں۔ میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔ (یہ فقرہ کسی کی فریاد تھی) چوہدری رستم علی، روز نقصان، برتو نیاید، غلام قادر صاحب آئے گھر نور و برکت سے بھر گیا، دخت کرام (شریفوں کی لڑکی) ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت، فضل الرحمان نے دروازہ کھول دیا۔ تم سب جانے والے

صفحہ ٤٧٠

ہو۔ خدا کے نزدیک اس کی موت کا واقعہ بڑا بھاری ہے۔ بلا زال یا حادث یا آثار صحت، سلیم حامداً ، مبشراً، مجموعہ فتوحات، اس میں خیر و برکت ہے، تم (مردوں) میں سے کوئی نہیں مرے گا۔ ینادی مناد من السماء (ایک پکارنے والے نے آسمان سے پکارا) اگلی عبارت یاد نہیں رہی، نتیجہ خلاف مراد نکلا، افسوس صد افسوس، راہگرائے عالم جاودانی شد، محموم، رستن الخمر (بخار والا، ناخواندہ مہمان کی خبر) سلطان القلم، فیئر مین (معقول آدمی) خاکسار، پیر منت، مضر صحت، کمترین کا بیڑہ غرق، ٢٥ دن۔

اس قسم کے الہام و کشوف اور بھی ہوں گے۔ جن میں ملہم نے اپنی طرف سے کچھ بیان نہیں کیا کہ یہ کس کے متعلق ہیں۔ یا ان کا کیا مطلب ہے۔ مجذوب کی بڑ یا گونگے کے اشاروں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوئے۔ مگر مریدوں نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ کوئی واقعہ درپیش آجاتا ہے تو فوراً اس پر چسپاں کر لیتے ہیں اور کئی دفعہ چسپاں کرنے میں غلطی بھی کر جاتے ہیں اور کبھی ان میں اختلاف بھی پڑ جاتا ہے۔ بہرحال ان کے اس طرز عمل سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نبی کو جو باتیں معلوم نہ ہو سکیں ان کو معلوم ہو گئی ہیں۔

بے معنی الہام

مال اس کا اچانک)

١١۔ (ج) ١۔٢۔٢٧۔١٤۔١٠۔١۔٢٨۔٢٧۔٤٧۔١٦۔١١۔٣٤۔١٤۔١١۔ (د) ٧۔١۔٥۔٣٤۔ ٢٣۔٣٤۔١١۔١٤۔٧۔٢٣۔١٤۔١۔ا۔ (ہ) ١٤۔٨۔٢٨۔٧۔٣٤۔١۔٧۔٣٤۔١١۔١٦۔١۔١٤۔ ٧۔٢۔١۔٧۔٥۔١٤۔١۔ (و) ١٤۔٢۔٢٨۔١۔٧۔

بے معنی الفاظ مدہوشی کی حالت میں منہ سے نکلتے ہیں۔ چنانچہ ایک صوفی نے بھی شدت دوران سر کے وقت کہا تھا ؎

من غبز غِچَم کريا ريلل يلواه يدغ يا يوصلنا

اور دوسرا الہام مستحصلہ یا علم جفر کے کسی تعویذ کو حل کرتا ہے۔ کیونکہ بقول شخصے جناب نے ایام ملازمت سیالکوٹ میں ایک سید مبارک شاہ صاحب سے علم جفر، رمل اور نجوم، تینوں حاصل کئے تھے۔ اس لئے ممکن ہے کہ کسی مخالف کے متعلق کوئی سیفی تیار کی ہو گی۔ یا حب وعداوت

صفحہ ٤٧١

کی رفتار معلوم کی ہو گی۔ ایک مرید نے ان اعداد سے واقعات مشہورہ کی طرف اشارات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مگر مدعی سست گواہ چست اس کو اپنے نبی کے بیان کی تصدیق حاصل نہیں ہوئی ۔ اس لئے وہ ناکام رہا ہے ۔ کچھ مریدوں نے ایسے الہاموں کو قرآن شریف کے مقطعات کی طرح متشابہات قرار دیا ہے ۔ کیونکہ ان کے نزدیک جب مسیح قادیانی محمد ثانی ہیں تو ان کی وحی بھی وحی ثانی ہو گی اور اس میں مقطعات بھی ہوں گے ۔ مگر انہوں نے یہ جرات نہیں دکھائی کہ اس قرآن ثانی کو نماز میں بھی پڑھتے اور بہائیوں کی طرح ان الہامات کی تلاوت بھی کرتے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ضمیر ایسے الہامات قبول کرنے سے ان کو روکتی ہے ۔ کیونکہ ان کے اپنے اصول کے مطابق یہ ایسے الہام ہیں کہ جن کو شیطانی الہام کہا جاسکتا ہے ۔ یا کم از کم وہ ایسے الہامات سے مشابہت ضرور رکھتے ہیں ۔

الہامات شرکیہ

”انى مع الرحمن اتيك بغتة . انى مع الرسول . ومن يطوعه اللوم . افطر واصوم . انت معى وانا معك . انى بايعتك . بايعنى ربى . يعظمك الملئكة . اصلى واصوم . اسهر وانام . واجعل لك انوار القدوم . واعطيتك ما يدوم “ میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا۔ جاگتا ہوں اور سوتا ہوں ۔ تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطا کروں گا ۔ تجھے وہ چیز دوں گا جو تیرے ساتھ ہمیشہ رہے ۔ ”انى مع الاسباب اتيك بغتة انى مع الرسول اجيب . اخطى واصيب . انى مع الرسول محيط “ میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ خطا کروں گا۔ بھلائی کروں گا۔ میں اپنے رسول کے ساتھ محیط ہوں ۔ ”انى مع الرسول اقوم ولن ابرح الارض الى الوقت المعلوم “ ایک مقرر وقت تک اس زمین سے علیحدہ نہیں ہوں گا۔ ”ساكرمك بعد توهينك “ تیری توہین کے بعد تیرا اکرام ظاہر کروں گا۔ ”سانحرمك اكراماً عجباً “ عنقریب تیرا بہت عجیب طرح سے اکرام کروں گا ۔ ”يسئلونك عن شانك وقل الله “ تیری شان کی نسبت پوچھتے ہیں ۔ انہیں کہہ دے کہ اللہ خوب جانتا ہے۔ ”سلام عليكم طبتم . انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق . انت منى بمنزلة عرشى “ سلام ہو تم پر۔ تیری منزلت میرے نزدیک ایسی ہے جسے لوگ نہیں جانتے ۔ تو مجھ سے بمنزلہ عرش کے ہے۔ ”انى مع الروح معك ومع اهلك “ میں روح کے ساتھ تیرے اور تیرے ساتھ ہوں ۔ ”لا تقوموا ولا تقعد واولا معه . لا تردوا مورداً الا معى “ نہ کھڑے ہو اور نہ بیٹھو۔ مگر اس کے ساتھ نہ کسی کو

صفحہ ٤٧٢

بتاؤ۔ مگر ساتھ اس کے ”انی مع الرسول اقوم وروم ما یروم“ میں رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور بہتان باندھنے والے پر بہتان باندھوں گا۔ ”یا شمس یا قمر انت منی وانا منک“ اے سورج چاند تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ ”انت منی بمنزلۃ بروزی“ تو مجھ سے ایسا ہے کہ میں ہی ظاہر ہو گیا۔ یعنی تیرا ظہور میرا ظہور ہو گیا۔ ”انک انت الا علے“ بے شک تو ہی عالی مرتبہ ہے۔ ”نثنی علیک“ ہم تیری ثناء کرتے ہیں۔ ”ظہورک ظہوری“ تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔ ”واللہ لو لا الاکرام لھلک المقام“ واللہ اگر تمہارا اکرام ہم کو منظور نہ ہوتا تو یہ مقام ہلاک ہو جاتا۔ ”اکرام تسمع بہ الموتی“ تیرا ایسا اکرام کروں گا کہ اس کے ذریعہ تو مردوں کو سنائے گا۔ ”انی مع اللہ فی کل حال“ میں ہر حال میں اللہ کے ساتھ ہوں۔ ”سنکرمک اکراماً عجباً“ ہم تیرا نہایت ہی اکرام کریں گے یا عجیب طور پر ہم بزرگی دیں گے۔ ”اروم ما یروم“ اس بات کا قصد کروں گا۔ جس کا وہ قصد کرے۔ ”احمل اوزارک“ میں تیرے بوجھ اٹھاؤں گا۔ ”یا مسیح اللہ اشفع لنا“ اے اللہ کے مسیح ہماری شفاعت کر۔ ”کذب علیکم الخبیث الخنزیر عنایۃ اللہ حافظک انی معک ، اسمع ولدی ، الیس اللہ بکاف عبد ، فبراه اللہ بما قالوا وکان عند اللہ وجیھاً“ تم پر خبیث نے جھوٹ باندھا۔ تم پر خنزیر نے جھوٹ باندھا۔ اللہ کی عنایت تیری محافظ ہے۔ اے میرے بیٹے سن۔ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں۔ اللہ نے اس بات سے اسے بری کیا جو انہوں نے کہی تھی۔ وہ اللہ کے نزدیک وجیہ تھا۔ ”بشریٰ لک یا احمدی ، انت مرادی ومعی غرست کرامتک بیدی ، وقس علیہ“

ان الہامات میں خدا انسان کے بھیس میں آتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ صوم وصلوٰۃ کا پابند اور عید فطر کی سویاں کھاتا ہوا نظر آتا ہے۔ مگر یہاں خدا کون ہے۔ قرآن شریف میں ”لا تاخذہ سنۃ ولا نوم“ کیوں کہا؟ اور یہاں جاگتا سوتا کیوں دکھائی دیا۔ پھر وہ غلطی بھی کرتا ہے اور بھول بھی جاتا ہے۔ حالانکہ پہلے قرآن میں ”لا ینسی“ کہا ہے کہ وہ نہیں بھولتا اور یہ بھی کہا کہ: ”لم یکن لہ کفواً احد“ لیکن اب کہتا ہے کہ تو میری اولاد اور میرا بچہ ہے۔ کیا ”لم یلد“ کا لفظ یوں ہی کہہ دیا تھا؟ ”الحمد للہ“ کہہ کر بتایا کہ تمام تعریف خدا کا حق ہے اور یہاں پر مسیح کی تعریف و ثنا کرنے لگ گیا۔ پھر ایسا خادم بنا کہ اس کے بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس کی عزت و آبرو کے لئے تعظیم بجا لاتا ہے۔ کبھی اس کو عرش بنا کر اس پر بیٹھ جاتا ہے۔ ہمیں کہتا ہے کہ: ”لیس کمثلہ شئی“ اور قادیانی کو اپنا بروز اور مظہر اتم بناتا اور کبھی خود قادیانی مسیح کا مظہر اتم بن جاتا ہے۔ اگر کتاب البریہ

صفحہ ٤٧٣

کے الہامات اور کشوف محویت اور الوہیت کی وحی بھی ساتھ ملائیں تو خدا اور مسیح ایسے نظر آتے ہیں کہ کبھی مسیح خدا کا اوتار بن جاتا ہے اور کبھی خدا مسیح کا اوتار بن کر ظاہر ہوتا ہے۔ اگر یہ الہامات وحی الہی قرآن ثانی ہیں تو قرآن اوّل کی تعلیم سے اس میں اختلاف کیوں ہوا؟ وہاں تو خدا چھوٹی چھوٹی بات پر شرک کا خوف دلاتا ہے اور یہاں ایسا شیر و شکر ہوا کہ عابد و معبود میں محویت ہو گئی۔ پھر اس پر ہی بس نہیں۔ آپ مسیح میں محو ہو گیا۔ پھر مسیح محمد اوّل میں محو ہوتا ہے۔ کبھی مسیح ناصری اور باقی انبیاء میں۔ کبھی کرشن میں، کبھی جے سنگھ بہادر اور امین میں یا کبھی سکندر ذوالقرنین اور حجر اسود اور سنگ قادیانی میں تو نتیجہ یہ نکلا کہ یہ تمام ہستیاں ایک ہی ہیں۔ چنے کی طرح کبھی دال کا روپ لیتی ہیں۔ کبھی روٹی کا کبھی مٹھائی وغیرہ تو پھر مسیح ایرانی بہاء اللہ پر کیا افسوس ہوا کہ اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا اور سب انبیاء کو حقیقت واحد کا مظاہر ٹھہرایا تھا۔ مگر پھر بھی وہ اچھا رہا کہ اینٹ پتھر اور جمادات کو تو اس امر میں شامل نہیں کیا تھا اور یہاں دیکھو کہ: ”ھو ، ھو الکل“ ہمہ اوست کا نقشہ جمایا جاتا ہے۔ کبھی خدا کی صفات خاصہ توحید و تفرید میں اشتراک ہے۔ کبھی صفت خلق پر قبضہ ہے اور کبھی عاشق کبھی معشوق اور کبھی مخدوم کبھی عاجز کبھی خادم۔ غرضیکہ عجب بھول بھلیاں میں مریدوں کو ڈال دیا ہے۔ وہ بہتیرا ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور وحی ثانی کو وحی اوّل کے ساتھ موافق کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ مگر ان کی کچھ پیش نہیں جاتی۔

رہ رہ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ: ”انت منی“ کا یہ معنی ہے کہ تو میرا تابعدار ہے تو پھر ”انا منك“ سے خدا تابعدار کیوں نہ ہوا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ: ”سلمان منا“ مگر اس پر قیاس نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بنی نوع انسان کچھ نہ کچھ متحد فی الصفات ہوسکتے ہیں۔ لیکن عابد ومعبود نے آج تک نہ کسی سے اتحاد ذاتی کیا ہے۔ نہ صفاتی۔ قادیانی اتحاد کن صفات میں ہے۔ اس کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں کہ یہ متشابہات سے ہے۔ ”اسمع ولدی“ میں مسیح کو ابن اللہ ہونے کا دعویٰ ہے۔ کچھ مرید گھبراتے ہیں کہ ہائے یہ کیا ہو گیا۔ ہم تو انجیل کو غلط بتاتے تھے۔ وہی بلا یہاں آ پڑی کہ انسان خدا کا بیٹا بن گیا۔ مگر جو انسان خدا کا روپ ہوا اسے بیٹا بننے سے کیا ڈر ہے۔ پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ یہ الہام اصل میں ”اسمع وارٰی“ تھا۔ (کہ میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں) کاتب کی ستیاناس اس نے ”ولدی“ لکھ دیا تھا یا شامت اعمال کو سنگساز نے یہ گوہ کھایا تھا۔ تعجب ہے کہ بیس سال بعد آج یہ سوجھی اور خوب سوجھی۔ لیکن یہ تو بتائیں کہ اس فقرہ کا ترجمہ بھی کسی اور نے کیا تھا؟ جس میں صاف لکھا ہے کہ: ”سن اے میرے بیٹے“ کاتب نے یہ ترجمہ کیا تھا تو وہ ضرور بہائی مذہب کا پیرو ہوگا۔ سنگساز نے بگاڑ کر یہ حرکت

صفحہ ٤٧٤

کی تھی تو وہ بابی ہوگا۔ تاکہ مسیح ایرانی وقادیانی کی تعلیم ایک طرح کی نظر آئے۔ بھلا یہ عذرکون مان سکتا ہے۔ سیدھا یوں کیوں نہیں کہہ دیتے کہ قرآن کی رو سے یہ ایک الہام نہیں۔ ایسے سارے الہام ہی غلط ہیں اور جس قوم کو حیات مسیح کا اعتقاد رکھنے سے شرک کا ڈر لگتا ہے۔ اس ملہم نے اس کو شرکیہ بھنور میں ڈال دیا ہے کہ ہر قسم کے شرک کو مدار نجات ٹھہرا دیا ہے۔ بھلا اب کوئی اسلامی توحید کا نام تو لے۔ بیشک قادیانی توحید وتفرید اور قادیانی عابد و معبود اسلامی نکتہ نگاہ سے الگ ہیں اور واقعی یہ لوگ تاویل در تاویل کرتے کرتے درجہ الحاد تک پہنچ چکے ہیں۔ چنانچہ ایک نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ: ”فاذکروا الله كذكركم آباءکم“ قرآن شریف میں بھی ایسی شرکیہ تعلیم موجود ہے کہ اللہ کو اس طرح یاد کرو۔ جیسے کہ تم اپنے باپوں کو یاد کیا کرتے ہو اور خدا کو پکارو تو ابا، ابا باپ باپ یا جد بزرگوار کہہ کر پکارو۔ وائے بر حال قادیان! تو کس منہ سے کہتی ہے کہ میں نے توحید پھیلائی۔ کیا تو نے یہودی اور عیسائی تعلیم کو اسلامی تعلیم سے ملا کر سب کو مشرکانہ لباس نہیں پہنایا۔ ایچ پیچ سے تو بت پرست بھی مشرک نہیں ٹھہرتے۔ تو پھر اس تحریف سے اسلام کو کیا فائدہ ہوا اور تم کو یہ کہنے کی کیسے جرأت ہوئی کہ مسیح ایرانی اسلام سے خارج ہے۔ کیونکہ بار بار یوں بھی کہا جاتا ہے کہ صوفیائے کرام کو بھی ایسے ویسے الہام ہوئے ہیں ۔مگر یوں نہیں سوچتے کہ اہل حق نے ان سے کیا برتاؤ کیا تھا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جب تک وہ ایسے الہامات سے دست بردار نہیں ہوئے۔ تکفیری فتاویٰ کی دستبرد سے نہیں بچ سکے۔ اگر یہ سچ ہے تو آپ کو کون چین لینے دے گا۔ خصوصاً جب کہ یہاں محدث بن کر تمام انبیاء کو بھی پچھاڑ دیا ہوا ہے۔ کون ہے کہ تغلب و استیلاء ہذا سے بچ نہ اٹھے۔

البشریٰ

مسیح قادیانی کی انجیل کا نام کتاب البشریٰ ہے۔ جو حکیم نورالدین صاحب کے عہد میں تالیف کی گئی تھی۔ اس کی دو جلدیں ہیں۔ (انجیل اول، انجیل ثانی) اور ہر ایک جلد کے اخیر ایک ایک تشریحی ضمیمہ درج ہے۔ جس میں آیات الہامیہ کی تشریح اور شان نزول بیان کیا گیا ہے۔ مگر یہ انجیل ہمارے قرآن سے بڑھ کر چند زائد صفات رکھتی ہے۔

درج ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ صرف انگریزی ہیں۔ یا عربی یا اردو یا پنجابی۔ ہم نے ہر قسم کے الہام الگ الگ لکھ دیئے ہیں۔

کچھ اردو ہیں کچھ فار

واقعہ کی صورت میں کا ماقبل و مابعد کسی د کہ ایک ہی وحی کو نزل

نزول ثانی میں ایک بھی واقعہ درپیش ہو

واقعات پیش نظر فقرات یا آوازیں

لئے یہ وحی قابل

بھی کچھ ایسی وح ہے کہ نبوت بہ کے مشہور شاعر ہے۔ زمیندار انگریزی الہام انگریزی کی صورت میں کچھ مکمل نہ ہ کادہرانا

صفحہ ٤٧٥

سوم ...... اس میں اشعار بھی درج ہیں اور اشعار بھی کوئی ایک زبان پر منحصر نہیں۔ کچھ اردو میں کچھ فارسی اور کچھ پنجابی۔

چہارم ...... قرآن مجید کے آیات کو مختلف مقامات سے انتخاب کر کے ایک مسلسل واقعہ کی صورت میں پیش کیا ہے اور یہ پرواہ نہیں کی کہ نزول اوّل میں یہ آیات پس و پیش تھیں یا ان کا ماقبل و مابعد کسی دوسرے طریق پر شروع ہوتا تھا۔ کیونکہ خدا خود مختار ہے اور وہ قدرت رکھتا ہے کہ ایک ہی وحی کو نزول ثانی میں کچھ تبدیلی کے ساتھ نازل کرے۔

پنجم ...... چونکہ مرزا قادیانی ہر ایک نبی کا بروز تھے۔ اس لئے ان کی تاریخی آیات نزول ثانی میں ایک پیشین گوئی کے رنگ میں اتری ہیں۔ مگر ہیں وہ غیر متعین۔ اس لئے جب کوئی بھی واقعہ درپیش ہوتا ہے تو فوراً اس پر چسپاں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ششم ...... الہام کشفی کے آیات یہ منظر پیش کرتی ہیں کہ ملہم کے سامنے آئندہ کے واقعات پیش نظر ہیں۔ جن کے اظہار کی اس کو اجازت نہیں۔ مگر ان واقعات کے متعلق چیدہ فقرات یا آوازیں جو سنائی دی ہیں وہ بیساختہ ملہم کی زبان سے جاری ہوگئی ہیں۔

ہفتم ...... نزول ثانی میں بعض دفعہ الہام کا کچھ حصہ یاد سے نکل بھی جاتا تھا۔ اس لئے یہ وحی قابل اعتبار نہیں اور نہ ہی مکمل ہے۔

ہشتم ...... اس وحی کی عربی عبارت اسلامی قرآن کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ فارسی عبارت بھی کچھ ایسی ویسی ہے۔ کتاب الایقان کا ایک فارسی فقرہ مقابلہ پر رکھا جائے تو فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ نبوت بہائیہ میں نبوت قادیانیہ سے زیادہ طاقت تھی۔ پنجابی عبارتیں پوچ ہیں۔ گو پنجابی کے مشہور شاعر وارث شاہ کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ اردو کا تو خدا ہی حافظ ہے۔ پنجابی نما گلابی اردو ہے۔ زمیندار کا ایک پرچہ سامنے رکھ کر پڑھا جائے تو سارا بہروپ کھل جائے۔ باقی رہے انگریزی الہام سو اس کے متعلق یہ رائے ہے کہ اگر مرزا قادیانی درسی کتابوں کے علاوہ دو چار اور بھی انگریزی کی کتابیں پڑھ لیتے تو آپ کو ایسے سیکڑوں مکمل الہام ہوتے کہ ایک ایک کو کتابی صورت میں شائع کیا جاتا۔ مگر افسوس کہ ملہم کو پرائمری سے زیادہ لیاقت نہ تھی۔ اس لئے یہ سلسلہ کچھ مکمل نہ ہوسکا۔

نہم ...... اس قرآن میں زیادہ تعلیات کا ذکر ہے جو توہین انبیاء تک پہنچ چکی ہیں۔

دہم ...... قرآن اگرچہ قرآن اہل اسلام کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔ مگر نماز میں اس کا دہرانا ابھی تک رائج نہیں ہوا۔ ممکن ہے کہ کسی وقت اس کے چیدہ چیدہ فقرات نماز میں دہرائے

صفحہ ٤٧٦

جانے لگیں ۔ مگر ہمارے خیال میں یہ اس وقت ہوگا کہ جب قادیان کو مکہ معظمہ بنا کر وہاں کی مسجد حرام مسجدالمرزائیہ قرار دی جائے گی۔

یازدہم ....... البشریٰ بمعنی انجیل سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ملہم مسیح ہے اور تابعدار بنی اسرائیل اور یہودی اور جس طرح یہودیوں میں ایک جماعت ایسی ہے جو مسیح کو نبی نہیں مانتی ۔ بلکہ صرف ولی اللہ مانتی ہے۔ اسی طرح قادیانی یہودیوں میں بھی پیغامی جماعت اپنے مسیح کو صرف محدث اور ولی اللہ مانتی ہے اور حقیقی نبی نہیں مانتی ۔

دوازدہم ....... یوز آسف کو مسیح ناصری تصور کر لیا گیا ہے۔ جس پر بشوریٰ کتاب نازل ہوئی تھی۔ اس لئے جب ملہم مسیح کے ضمن میں یوز آسف بنا تو ضروری تھا کہ اس پر بشوریٰ یا بشریٰ بھی نازل ہوتی۔

سیزدہم ....... الہامات میں نصف اوّل سے بشریٰ کی پہلی جلد مراد لی گئی ہے اور نصف ثانی سے دوسری۔ نصف اوّل کے الہامات پر صفحات کے نمبر درج ہیں اور نصف ثانی کے اوپر خود الہامات کے نمبر لکھے گئے ہیں اور الہامات مہملہ والہامات قلیل المقدار بھی صفحات کے نمبر ہیں اور ان کے نیچے ایک یا دو کا ہندسہ لکھ کر جلد اوّل و دوم کا اشارہ کر دیا ہے۔

چہاردہم ....... البشریٰ پیغامی یہودیوں کے نزدیک قابل ترمیم ثابت ہو چکی ہے۔ اس لئے انہوں نے اسے مکاشفات کے عنوان سے شائع کرنا شروع کر دیا ہے۔

الہام مرکب ...... نصف اوّل

بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں بر منارہ بلند تر محکم افتاد، پاک محمد مصطفےٰ نبیوں کا سردار۔ خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے دے گا۔ رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ ( اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ جناب الٰہی کے عنایات کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور اس کی پاک رحمتیں اس طرف متوجہ ہیں ) ”دی ڈیز شل کم وین گاڈ ہیلپ یو گلوری بی ٹو ہز لارڈ گاڈ میکر اوف ارتھ اینڈ ہیون“ وہ دن آتے ہیں کہ خدا تمہاری مدد کرے گا۔ خدائے ذوالجلال آفرینندہ زمین و آسمان میں اپنی چمکار دکھلاؤں گا۔ اپنی قدرت نمائی سے تجھ کو اٹھاؤں گا ۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔ لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ ”الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولوا العزم . يا داؤد عامل بالناس رفقا واحسانا واذا حييتم بتحية فحيوا باحسن منها واما بنعمة ربك فحدث . يو

صفحہ ٤٧٧

مست ذووٹ آئی ٹولڈ یو۔ اشکر نعمتی رایت خدیجتی انك اليوم لذوحظ عظيم۔ انت محدث الله فيك مادة فاروقية۔ فارتدا على اثارهما ووهب له الجنة“ اتنے میں طاقت بالا اس کو کھینچ کر لے گئی۔

نصف ثانی

سچا ارادت مند ”اصلها ثابت وفرعها فى السماء فرزند دلبند گرامی ارجمند مظهر الحق والعلا كان الله نزل من السماء“ غلام احمد قادیانی، مسیح تجدید فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے مطابق تو آیا ہے۔”وكـــان وعـــد الله مفعولا انت معى وانت على الحق المبين انت نستيب ومعين للحق (١٨٩٧ء) ماهذا الا تحديد الحكام قد ابتلى المؤمنون ليعلمن الله المجاهدين منكم وليعلمن الكاذبين (اے فی البيعة)“

صادق آں باشد کہ ایام بلا
میگذارد با محبت باوفا
گر قضا را عاشقے گردد اسیر
بوسہ داں زنجیر را کز آشنا

”ان الذى فرض عليك القرآن لرادك الى معاد..... انى مع الافواج اتيك بغتة تاتيك نصرتى ...... انى انا الرحمان ذوالمجد والعلى“ ”مخالفوں میں پھوٹ۔ ایک مخاصم کی ذلت اور ملامت خلق پھر اخیر حکم براءت وفیصلہ (اے فی البریہ ) فلجت آیاتی ۔ لوائے فتح ۔ انما امرنا..... فیکون۔ یہ الہام مقدمہ اقدام قتل کے متعلق ہے۔ جو کتاب البریہ میں مذکور ہیں۔ (١٨٩٨ء) میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کر دوں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا۔ ”ان الذين يصدون عن سبيل الله سينالهم غضب من ربهم ضرب الله اشد من ضرب الناس انما امرنا اذا اردنا شيئا ان نقول له كن فيكون ، اتعجب لا مری انی مع العشاق ٠ انى انا الرحمان ذوالمجدوالعلى ويعض الظالم على يديه ويطرح بين يدى ٠ جزاء سيئة بمثلها وترهقهم ذلة ٠ مالهم من الله من عاصم ٠ فاصبر حتى ياتى الله بامره ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون“ یہ الہام منشی زلفیٰ اور بٹالوی کے متعلق ہے۔ ان کو کہا گیا تھا کہ تیرہ ماہ (١٥؍ دسمبر ١٨٩٨ء لغایت ١٥؍ جنوری ١٩٠٠ء) کے اندر ان کو ذلت ہوگی۔ چنانچہ بٹالوی نے ایک خفیہ رسالہ

صفحہ ٤٧٨

دربارہ ان کا مہدی خونی لکھ کر گورنمنٹ کو دیا۔ جو مجھے مل گیا اور اسی انکار پر مجھے کافر کہلا چکا تھا۔ اب میں نے بھی استفتاء کے ذریعہ سے اس کی تکفیر کرائی اور وہ ذلیل ہوا اور دوسرے بھی ذلیل ہوئے۔ ایک عزت کا خطاب ایک عزت کا خطاب ”لك خطاب العزة“ ایک بڑا نشان، اس کا ساتھ ہوگا۔ (١٩٠٠ء) آپ کے ساتھ انگریزوں کا نرمی کے ساتھ ہاتھ تھا۔ اسی طرف خدائے تعالیٰ تھا جو آپ تھے۔ آسمان پر دیکھنے والوں کو ایک رائی برابر غم نہیں ہوتا یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے۔ مسلمانوں کے لیڈر سیالکوٹی عبدالکریم کو ”خذوالرفق فان الرفق راس الخيرات“ خدا تیرے سب کام درست کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ رب الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔ اگر مسیح ناصری کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جگہ اس سے برکات کم نہیں۔

پاک محمد مصطفےٰ نبیوں کا سردار
دروشن شد نشا نہائے من

بڑا مبارک وہ دن ہوگا۔

برمقام فلک شدہ یا رب
گرامیدے دہم مدار عجب

بعد ١١، انشاء اللہ تعالیٰ، لاہور میں ہمارے پاک ممبر موجود ہیں۔ ان کو اطلاع دی جائے۔ لطیف مٹی کے ہیں۔ وسوسہ نہیں رہے گا۔ مگر مٹی رہے گی۔ سلسلہ قبول الہامات میں سب سے کچا مولوی تھا۔ سب مولوی ننگے ہو جائیں گے ۔ ”انا الله ذوالمنن انی مع الرسول اقوم“ (شعر کا مطلب یہ ہے کہ میری رفعت ہوگی۔ باقی الہام سمجھ میں نہیں آیا) جس کا تھا اس کے پاس آ گیا۔ ”لنفخنا فيهم من صدقنا“ یہ بات آسمان پر قرار پا چکی ہے۔ تبدیل ہونے والی نہیں۔ ”تعهد وتمكن فى السماء، الم تركيف فعل ربك باصحاب الفيل، تضليل نزول درقادیان انی انا الرحمان حل غضبه على الارض“ تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر ” يسبح له من فى السموات والارض من ذالذى يشفع عنده الا باذنه انك انت المجاز“ یعنی نواب محمد علی خان کا لڑکا عبدالرحیم خان دو ہفتہ تک بخار سے بیمار رہا۔ میں نے تہجد میں دعاء کی تو یہ الہام ہوا۔ تو میرے منہ سے یہ نکلا کہ اگر دعاء کا موقعہ نہیں تو میں شفاعت کرتا ہوں ۔ تو الہام ہوا کہ تمہیں اجازت ہے۔ اب ہر ایک اعتراض کرتا ہے کہ مردہ زندہ ہو گیا۔ ہماری فتح ہمارا غلبہ ”ظفر من الله وفتح مبين ، ظفر وفتح من الله

صفحہ ٤٧٩

رسول اللہ ﷺ ”پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں۔“ والله مخرج ما تكتمون . بلاء وانوار ”بستر عیش، خوش باش کہ عاقبت بخیر خواہد بود۔“ كلكم ذاهب ”ضرور کامیابی۔“ اكمل الله كل مقصدي ، كل امرئ كمل . انى مع الرسول اقوم واقصده واروم . انت معى وانا معك . اريحك ولا اجيبك“ (١٩٠٣ء) اے بسا خانہ دشمن کہ تو ویراں کر دی۔”اجرت من النار “ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ زندگی کے فیشن سے دور جا پڑے ہیں۔”فسحقهم تسحيقا“ (یہ مخالفان اسلام کے متعلق ہے)”انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق انت منى بمنزلة عرشى“، فضل الرحمان نے دروازہ کھول دیا۔

امن ست در مکان محبت سرائے ما، طاعون تو گئی مگر بخار رہ گیا۔

دخت كرام ”انت معى وانا معك . انى معك يا امام رفيع القدر رب اجزه جزاء اوفى“ شوخ و شنگ لڑکا پیدا ہو گا۔”انه فعال لما يريد . انى معك ومع اهلك، ومثلك درلا يضاع انا فتحنالك فتحا مبينا“

معنی دیگر نہ پسندیم ما

”سنلقى فى قلوبهم الرعب“ خدا تیرا دوست ہے۔ اس کی صلاح و مشورہ پر چل۔”عفت الديار محلها ومقامها . انى حافظ كل من فى الدار . انى اعطيتك كل النعيم“ میں تمہیں بھی ایک معجزہ دکھاؤں گا۔”النا لك الحديد انا انزلناه فى ليلة القدر . انا انزلناه للمسيح الموعود“ مبارک سو مبارک۔ آسمانی تائیدیں ہمارے ساتھ ہیں۔”اجرك قائم وذكرك دائم . الفارق وما ادراك ما الفارق“ روز نقصان پر تو نیاید۔ غلام قادر آئے گھر نور و برکت سے بھر گیا۔”رد الله الیّ“ (١٩٠٥ء) تازہ نشان۔ تازہ نشان کا دھکا۔”زلزلة الساعة . قوا انفسكم . ان الله مع الابرار . دنا منك الفضل . جاء الحق وزهق الباطل“ میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔ (ایک روح کی آواز ہے) بخور آنچہ ترا بخورانم۔”لك درجة فى السماء وفى الذين هم يبصرون . نزلت لك . نرى ايات ونهدم ما يعمرون . قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون . كففت وعن بنى اسرائيل ان فرعون ...... خاطئين“ فتح نمایاں ہماری فتح۔”صدقت الرؤيا . انى مع الافواج“ میاں محمود کو خواب آیا کہ مجھے افواج کا الہام ہوا ہے تو میں نے تصدیق کی۔”المبارك بركة زائده على هذا الرجل“ اس کے آگے فرشتے پہرہ دے رہے ہیں۔”ما رميت“ اشتہارات مراد ہیں۔ آہ نادر شاہ کہاں گیا۔ پھر بہار آئی خدا

صفحہ ٤٨٠

کی بات پھر پوری ہوئی۔ ”يستنبئونك احق هو“ زمین تہ و بالا کر دی۔ ”انی مع الافواج“ لشکر اٹھا دو۔ ”شر الذين انعمت عليهم“ میں ان کو سزا دوں گا۔ میں اس عورت کو سزا دوں گا۔ (معلوم نہیں وہ عورت کون ہے) ”ارد اليها روحها وريحانها، انى رددت اليها روحها وريحانها“ پھر درد سر اور کھانسی کی شکایت تھی۔ تو یہ الہام ہوا۔ ”صلوة العرش الى الفرش ان معى ربي سيهدين“ (پھر تکلیف تھی تو شفاء ہوگی) تپ ٹوٹ گیا اور صحت ہوئی۔ الحمدللہ ! ”لعنة الله على الكاذبين“ اس پر بڑی آفت پڑی، روحانی عالم کا دروازہ تیرے پر کھل گیا۔ ”فبصرك اليوم حديد“ آتش فشاں مصالح العرب ميرالعرب۔ بامر اور دہلا۔ ”اما بنعمة ربك فحدث، اني مع الرسول“ آب زندگی۔ ”قل ميعاد ربك“ خدا کی طرف سے سب پر اداسی چھا گئی۔ ”انى معك يا ابن رسول الله“ سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو۔ ”على دين واحد قل ميعاد ربك“ بہت دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ اس دن سب پر اداسی چھا جائے گی۔ ”قرب اجلك المقدر ولا نبقى لك من المخزيات ذكرا“ (١٩٠٦ء) ”قل الله ثم ذر كل شئ ان الله مع الذين هم يتقون“ دہلی گئے ہیں اور خیریت سے واپس آئے ہیں۔ ”الحمد لله الذى اوصلنى صحيحا كتب الله لا غلبن ، سلام قولا“ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں ۔ (یعنی قبل از موت مکی فتح نصیب ہوگی اور مدنی غلبہ اسلام حاصل ہوگا)

پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی

”اماما ينفع الناس فيمكث في الارض“ عورت کی چال۔ ”ایلی ایلی لما سبقتنی ، بريت كففت عن بنى اسرائيل“ شاید کوئی چھپا رستم تکلیف دے گا۔ زلزلہ آنے کو ہے۔ ہمارے لئے عید کا دن ۔ ”رب لا ترنى زلزلة الساعة رب لا ترنى موت احد منهم“ جس سے تو پیار کرتا ہے میں اسے پیار کروں گا اور جس سے تو ناراض ہے میں اس سے ناراض ہوں گا۔ (آفت مراد ہے) ”اينما تولوا فثم وجه الله“ (یعنی میری محبت خدا کی محبت ہے) خدا نے تیری ساری باتیں پوری کردیں۔ (یعنی کرے گا) ”اما نرينك“ بشرط عدم توبہ ان کو سزا ملے گی۔ ”قل ان صلاتي ونسكى، رب ارنى اية من السماء، اكرام مع الانعام انا اعطينك الكوثر، ان احد من المشركين“ مردوں کو جتنے چاہو لے جاؤ۔ مگر عورتیں نہ جاویں۔ ”سواء عليهم ء انذرتهم ، انت سلمان منى يا ذاالبرکات“ (یہ حضور علیہ السلام کا قول ہے) چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشاں کی پنجبار۔

صفحہ ٤٨١
مقام او میں از راہ تحقیر
بدور انش رسولاں ناز کردند

خدا نکلے کو ہے۔ (اور نکل کر زلزلہ لائے گا) ’’انت منی بمنزلة بروزی‘‘ یعنی تیرا ظہور میرا ظہور ہو گیا۔ ’’وعد الله ان وعد الله لا يبدل‘‘ رفیقوں کو کہہ دیں کہ عجیب در عجیب کام دکھلانے کا وقت آ گیا ہے۔ ’’قال ربك انه نازل من السماء ما يرضيك‘‘ زلزلہ آیا زلزلہ آیا۔ ’’انا ارسلنك شاهد اعليكم كما ارسلنا الى فرعون رسولا ، رب لا تصنع عمري وعمرها واحفظنى من كل افة انه نازل من السماء ما يغنيك ، اريك ما يرضيك عندى حسنة هى خير من جهل الم تعلم ان الله على كل شئى قدير‘‘ آسمان سے دودھ اترا ہے۔ محفوظ رکھو۔ ’’انا ارسلنا اليكم رسولا ...... الى فرعون رسولا‘‘ تیری خوش زندگی کا سامان ہو گیا ہے۔ ’’الله خير من كل شئی‘‘ دشمن کا بھی ایک وار نکلا۔ ’’وتلك الايام نداولها بين الناس‘‘ یہ میری کتاب ہے۔ اس کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔ مگر وہی جو خاص میرے خدمت گار ہیں۔ ’’الله يعلينا ولا نعلى‘‘ پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن۔ (ثلج سے مراد اطمینان قلب ہے کہ مترددین بہت نشان دیکھ کر تسلی پائیں گے یا بہت برف پڑے گی۔ جیسا کہ ١٩٠٢ء میں ہوا۔ یا بہت مصائب اور آفات نازل ہوں گی) ’’هل اتسك حديث الزلزلة بل ياتيهم بغتة‘‘ دو چار ماہ ’’اريحك ولا اجيحك واخرج منك قوما‘‘ جیسا کہ میں نے ابراہیم کو قوم بنایا۔

آفتوں اور مصیبتوں کے دن ہیں۔ (ایک دوست کے متعلق ہے) خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ پر تو نے وقت کو نہ پہچانا نہ دیکھا نہ جانا۔ برہمن اتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔ ’’رب فرق بيني وبين صادق وكاذب انت ترى كل مصلح وصادق ، ما ارسل نبى الا اخزى به الله قوما لا يؤمنون، يلقى الروح على من يشاء من عباده‘‘ خدا کی فیلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا۔ بشیر الدولہ، عالم کباب، شادی خان، کلمتہ اللہ خان (یعنی منظور محمد کے گھر محمدی بیگم سے بیٹا پیدا ہوگا۔ جن کے یہ نام ہیں۔ مگر وہ مر گئی اور کوئی لڑکا پیدا نہ ہوا) ’’رب ارنى انوارك الكلية انى انرتك واخترتك وانه نزل من السماء ما يرضيك‘‘ دو نشان ظاہر ہوں گے۔ اللہ اس کو سلامت رکھنا نہیں چاہتا۔ (معلوم نہیں وہ کون ہے) ’’انا اخذناه بعذب الیم‘‘ خدا تمہیں

صفحہ ٤٨٢

سلامت رکھے۔ ''ينصرك رجال نوحى اليهم من السماء ياتون (ياتيك) من كل فج عميق سلام عليكم طبتم ولا تصعر لخلق الله ولا تسأم من الناس . لمن الملك اليوم . لله الواحد القهار'' (یہ الہام ایک زلزلہ دیکھ کر ہوا) مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور ان کی تعظیم ملوک اور ذوی الجبروت کرتے ہیں اور ان پر کوئی غالب نہیں ہو سکتا اور سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ''فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ ''انا اخذناک بعذاب الیم'' پر تو نے وقت کو نہ پہچانا۔ نہ دیکھا نہ جانا۔ دیکھ میں آسمان سے تیرے لئے پانی برساؤں گا اور زمین سے نکالوں گا۔ پر وہ جو تیرے مخالف ہیں پکڑے جائیں گے۔ صحن میں ندیاں چلیں گی اور سخت زلزلے آئیں گے ۔''ويل لكل همزة لمزة ساكرمك اكراما عجبا والقى به الرعب العظيم ياتون من كل فج عميق . واذا بطشتم بطشتم جبارين . نصرت بالرعب وقالوا لات حين مناص'' صبر کر خدا تیرے دشمن کو ہلاک کرے گا۔ لوگ آئے اور دعویٰ کر بیٹھے۔ شیر خدا نے ان کو پکڑا اور شیر خدا نے فتح پائی۔ امین الملک جے سنگھ بہادر ''رب لا تبق لی من المخربات ذكرا'' پیٹ پھٹ گیا۔ ( معلوم نہیں کہ کس کا پیٹ پھٹ گیا) دشمن نہایت اضطراب میں ہے ۔ ''لیبلونکم'' فوق جہد کاذب کا خدا دشمن ہے وہ اس کو جہنم میں پہنچائے گا۔

آسمانی بادشاہت ''لا تخف ان الله معنا'' ( معلوم نہیں کہ کسے تسلی دی گئی) ''ما ننسخ من آية او ننسها ........ قدير . لا تخف ان الله معنا'' اے سیف اپنا رخ پھیر لے۔ (ایک نواب کے متعلق ہے جو مغلوب ہوگا) ''مبارک ما اقمت موقفا اغيظ من هذا ان بطش ربك لشديد ان الله من عليكم واعطاك ما اعطاك ان الذين لا يلتفتون اليك لا يلتفتون الى الله'' اولیاء اللہ سے مخالفت رکھنا اس کا نتیجہ اچھا نہیں۔ '' يكرمك الله اكراما عجبا اليس الله بکاف عبدہ'' مبارکباد پاک محمد مصطفےٰ نبیوں کا سردار۔ خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ اس نشان کا مدعا یہ ہے کہ قرآن شریف خدا کی کتاب اور میرے منہ کی باتیں ہیں۔ امن است در مکان محبت سرائے ما، آسمان سے بہت دودھ اترا ہے۔ محفوظ رکھو۔ بہت سے سلام تیرے پر ہوں در کلام تو چیزے ست کہ شعراء را در وے دخلے نیست۔ اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ۔ وہ کام جو تم نے کیا وہ خدا کی مرضی کے موافق نہیں ہوگا۔ (١٩٠٧ء) ''ساكرمك اكراما عجبا وكان الله على كل شئ مقتدرا'' اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں۔ ''معمر اللہ'' روشن نشان

صفحہ ٤٨٣

نی الیہم من السماء یاتون (یاتيك) من کل صعر لخلق الله ولا تسأم من الناس . لمن پر الہام ایک زلزلہ دیکھ کر ہوا) مقبولوں میں قبولیت کے تک اور ذوی الجبروت کرتے ہیں اور ان پر کوئی غالب ہیں۔ رشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے۔ وقت کو نہ پہچانا۔ نہ دیکھا نہ جانا۔ دیکھ میں آسمان سے نکالوں گا۔ پر وہ جو تیرے مخالف ہیں پکڑے لڑنے آئیں گے ۔ ”ویل لکل همزة المزة سب العظيم ياتون من کل فج عمیق . واذا الرعب وقالو الات حین مناص “ صبر کر خدا دعویٰ کر بیٹھے۔ شیر خدا نے ان کو پکڑا اور شیر خدا نے يق لي من المخزيات ذکرا “ پیٹ پھٹ گیا۔ ت اضطراب میں ہے ۔ ” لتبلونکم “ فوق حمید گا۔

الله معنا “ (معلوم نہیں کہ کسے تسلی دی گئی)”ما لاتخف ان الله معنا“ اے سیف اپنا رخ پھیر ) ”مبارك ما اقمت موقفا اغيظ من هذا عليكم واعطاك ما اعطاك ان الذين لا “ اولیاء اللہ سے مخالفت رکھنا اس کا نتیجہ اچھا نہیں۔ کاف عبده“ مبارکباد پاک محمد مصطفےٰ نبیوں اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ اس نشان کا رے منہ کی باتیں ہیں۔ امن است در مکان محبت حوظ رکھو۔ بہت سے سلام تیرے پر ہوں درکلام تو ے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ۔ وہ کام جو تم ١٩ء) ”ساکرمك اكراما عجبا وكان الله م بیٹھ اور ہم چلتے ہیں۔”معمر اللہ “ روشن نشان

ہماری فتح ہوئی۔ خدا نے تیرے پر رحم کیا ہے ۔ ”رحمك الله انك انت الاعلی“ امید بہاری ہر ایک مکان سے خیر دعاء ہے ۔ ”ان الله مع الابرار وانت من الابرار “ تمام دنیا میں سے ایک” العيد الاخر تنال منه فتحا عظیما “ زندگی بآرام ہو جانا پہلی زندگی ہے۔ ایک اور خوشخبری”تغشی عليك الخير والبركة “ آسمان ٹوٹ پڑا۔ سارا کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے ۔ ”اولئك قوم لا یشقی جليسهم من ذالذي هو اسعد منك “ ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔ ”ویل لکل همزة لمزة انى مع الرسول“ پسپا شدہ ہجوم، افسوس ناک خبر آئی ہے۔ (میری موت مراد ہے) بہتر ہوگا کہ اور شادی کرلیں۔ (یہ کسی کی طرف اشارہ ہے) سخت زلزلہ آیا۔ آج بارش بھی ہوگی ۔خوش آمدی نیک آمدی۔”انـــمــــا يــريــد الله ان يــذهــب ..... تـطهيـرا “ ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کرلو۔ ”يـــا ايهــا الــنــاس اعبـدوا...... خـلقكم . اتقوا ربكم الذی خلقكم “ اے میرے اہل بیت خدا تمہیں شر سے محفوظ رکھے۔ ”انت منى وانا منك“ (یعنی تو مجھ سے ظاہر ہوا اور میں تجھ سے اس زمانہ میں ظاہر ہونے والا ہوں) ”انت الذی طار الى روحه ربنا افتح بيننا وبينم اعجبتم ان تـمـوتـوا “ ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں۔ پچیس دن ( تک) ”مـن الـنـاس والعامة “ لاہور میں ایک بے شرم ہے۔

”ويـل لك ولا هـلك انـى نـعيـت انـي انـا الله لا اله الا انا ان الله مع الصادقین “ ایک امتحان ہے۔ بعض اس میں پکڑے جائیں گے اور بعض چھوڑے جائیں گے۔ ”انما يريد الله ليذهب....... تطهيرا اعجبنی موتكم “ یورپ اور دوسرے عیسائی ملکوں میں ایک قسم کی طاعون پھیلے گی جو بہت ہی سخت ہوگی۔ ریاست کابل میں قریب پچاس ہزار کے آدمی مریں گے ۔ ” واستوت على الجودی “ قدرت کے دروازے کھلے ہیں۔ نیکی یہی ہے کہ خدا کے احکام کو پورا کرنا تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں۔ ”اني امرتك واثرتك “ جو دعائیں آج قبول ہوئیں ان میں قوت اسلام اور شوکت اسلام بھی ہے۔ تیرے لئے ایک خزانہ مخفی تھا۔”کــل لك ولا مـرك “ یا اللہ اب شہر کی بلائیں بھی ٹال دے۔ ایک موسیٰ ہے میں اس کو ظاہر کروں گا اور لوگوں کے سامنے اس کو عزت دوں گا ۔ ”اجـر الاثـيـم واريـه الـجحيم . يلجت ايــاتـی قل الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون“ میں نے خدا کی مرضی کے لئے اپنی مرضی چھوڑ دی۔ اس سے تو تم پر حسن چڑھا ہے۔ ”اردت زمان الزلزلة “ لاکھوں انسانوں کو تہ و بالا کر دوں گا ۔ ”اني مع الرسول اقوم “ میرا دشمن ہلاک ہو گیا۔ میرے دشمن ہلاک ہوگئے ۔ ہن

صفحہ ٤٨٤

اسادا لیکھا خدا نال جا پیائے ۔ ” ان الله مع الابرار “ کوئی درباری میرے حلقہ اطاعت سے گذرنے نہ پاوے۔ کوئی درباری اس جرم پر سزا سے محفوظ نہیں رہے گا۔ سلطان عبدالقادر ”احل له الطيبات قل ما فعلت الا ما امرنی به الله كل مقابر الارض لا تقابل هذه الارض“ اے ازلی ابدی خدا مجھے زندگی کا شربت پلا۔ ”احق الله امرى ولا تنفكا من هذه المرحلة “ دولت اسلام بذریعہ الہام بہشتی کمرہ میں نزول ہوگا۔ ”هل ترى جزاء الاحسان الا الاحسان لو لا الاكرام لهلك المقام لو لا خير الانام هلك المقام “ (آغاز الہام یاد نہیں رہا۔ )لائف آف پین، یا اللہ رحم ” انی مع الله فى كل حال اخترطنا سیفه “ خدا کے سات نیکو کار بندے ہر جگہ بیٹھے ہیں۔ ”حم تلك ايات الكتاب المبين “ راز کھل گیا۔”الذين اعتدوا منكم فى السبت “ (باقی فقرہ بھول گیا) ”مت ايها الخوان تمت كلمة الله ان الله مع الذين اتقوا الذين يذكرون الله قياما وقعودا ، رحم الله ، فضلناك على ماسواك ، والله انى غالب وسيظهر شوكتى وكل هالك الا من قعد فى سفينتى اعزاز “ (لفظ یاد نہیں مگر مفہوم یہ ہے کہ ) اس کو پکڑ لو۔ اسے چھوڑ دو۔ ایک اور قیامت برپا ہوئی۔ بلائے دمشق ”سرك سرى “ ایک اور بلا برپا ہوئی۔ فتح ہے تمہاری تمہارے نام کی۔ ”انا شانئك هو الابتر حدظباة انت منى بمنزلة موسى احمد غزنوى سلام قولا “

خدا دو مسلمان فریق میں سے ایک کا ہوگا۔ پس پھوٹ کا ثمرہ ہے۔ ”انی مع الافواج ....... انی مع الله الكريم “ طوفان آیا وہی طوفان شرآئی۔ ”ساریکم ایاتی فلا تستعجلون “ یہ دو گدھے بھی مر گئے۔ ”اصلح بينى وبين اخوتى خروا على الاذقان سجدا ربنا اغفر لنا انا كنا خاطئين ، تالله لقد اثرك ....... لا تثريب ....... الراحمين ....... سلام قولا من رب رحیم “ پوری ہوگئی۔ ”فليدع الزبانیه “ اے بساخانہ کہ تو ویران کردی۔ ” ان شكرتم لا زيدنكم ، اما نرينك “ زبردست نشانوں کے ساتھ ترقی ہوگی ۔ ”انا انزلنا فى رقيمة من موسى ، انى مهين من اراد اهانتك سنسمه على الخرطوم رب انى مغلوب فانتصر ساريكم آياتى فلا تستعجلوہ “ بدی کا بدلہ بدی ہے۔ اس کو پلیگ ہوگئی۔ اس کا نتیجہ طاعون ہے۔ جو ملک میں پھیلے گی۔ ”ويل يومئذ للمكذبين “ کئی نشان ظاہر ہوں گے۔ کئی بھاری دشمنوں کے گھر ویران ہو جائیں گے ۔ وہ دنیا کو چھوڑ جائیں گے ۔ ان شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا ۔ وہ قیامت کے دن

صفحہ ٤٨٥

ہوں گے۔ زبردست نشانوں کے ساتھ ترقی ہوگی۔ ایک ہولناک نشان میری رحمت تجھ کو لگ جائے گی۔ اللہ رحم کرے گا۔ ”والله خیر حافظا ...... الراحمين اعييناك“ غالباً مصلحت وقت دراں مے بینم ”رب اخرجني من النار، الحمدلله الذي اخرجني من النار انى مع الرسول ...... يلوم واعطيك ...... لن ابرح الارض الى الوقت المعلوم “ غلام احمد کی جے ”انى مع الرسول . يروم رب ارنى حقائق الشياء “ ایسوسی ایشن۔ ہیضہ کی آمدن ہونے والی ہے ”انى مهين ...... معين رب اجعلني غالبا على غيرى “ میری فتح ”انى مع الافواج “ غیرت بخش سزائیں دی گئیں۔ ”انى من الناظرين انى انزلت معك الجنة . تُوكلوا عليه ان كنتم مؤمنين بسلام منا“ تو ہر ایک بلا سے بچایا جائے گا۔ خدا خوش ہو گیا۔ ”یـا عـبـدی انی معك ، انـت منى بمنزلة وحى السلام ، انرتك واخترتك ان الله معى فى كل حال “ بہرحال میں تمہارے ساتھ میں ہوں۔ تیری منشاء کے مطابق ”كـل يـوم هـو فـى شـان احببت ان اعرف انى انا الرحمـان ذوالعز والسلطان انت منى بمنزلة عرشى انت منى بمنزلة هارون الم تركيف فـعـل ربـك بـأصحـب الـفيـل ...... ابابيل لا تخف اوف پين ...... رب ارحمنى ان فضل ورحمتك ينجى من العذاب تعلقت بالاهداب “

خیر اور نصرت اور فتح انشاء اللہ تعالیٰ ”ما منا الاوله مقام معلوم ينصرك رجال

نوحی الیهم وما کنا معذبین ...... رسولا ضيف مسيح . اريك ما اريك ومن عجائب ما يرضيك “ آپ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے۔ ” رد اليها روحها وريحانها وما ترين احداً منهم انا مبشرك بغلام حليم ينزل منزلة المبارك “ ( مبارک احمد جیسا ہوگا) ساقیا آمدن عید مبارک بادت ۔ ”ان الله مع الذين اتقوا . ساهب لك غلاما زكيا . هب لي ذريه طيبة انا نبشرك بغلام اسمه يحيى . الم تر...... الفيل اخـذهـم الله وحده لا شريك معه قل جاء الحق وزهق البطل، موت قريب ان الله يـحـمـل كـل حـمـل مـن خـدمك خدم الناس كلهم ومن اذاك اذى الناس جميعا “ آمدن عید مبارک بادت ۔ عید تو ہے چاہے کرو یا نہ کرو۔ دیکھ میں ایک نہایت چھپی ہوئی بات پیش کرتا ہوں ۔ (آگے بتانے کی اجازت نہیں) بلائے نا گہانی بخری (یعنی تو ان کی چیخیں سنے گا) ” يـا الله فتح انـی مـعـك . اهلك احمل اوزارك “ میں تیرے ساتھ اور تیرے پیاروں کے ساتھ ہوں۔ ”انی معك يـا مـسـرور ووقـع واقـع وهلك هالك وضعنا

صفحہ ٤٨٦

الناس تحت اقدامك وضعنا عنك ...... اجيبت دعوتك ...... سنريهم اياتنا ...... انفسهم ...... اجيبت دعوتكما ان الله على كل شئی قدير ...... يا ابراهيم انى انا ربك الا على اخترت لك ما اخترتك ”بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید ، ٢٧ کو ایک واقعہ، اللہ خیر واقعی خوشیاں منائیں گے ۔“ بعد سنة واحدة صلوتك خير وابقى ان صلوتك سكن لهم دخلتم الجنة وما علمتم بالجنة وما علمتم ما الجنة ذلك اليوم الاخر ”آج ہماری بخت بیداری’ ان شانئك هو الابتر ”خدا نے اسے لیا ۔“ والله والله سدها هو يا اولا وقت رسید“ (ایک تائب کے متعلق ہے ) (١٩٠٨ء) و بد بہ خسر و یم شد بلند۔ زلزلہ در گور نظامی فگند ۔ ”انی معك في الدنيا والآخرة ان الله مع الذين اتقوا ...... به اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلا . لا تقتلوا زينب “ آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا۔”امثال الرحمة اوّل الذكر اخر الذكر حم تلك آيات الكتاب المبين۔ لا تذروه جارية “معدے کے خلل سے بھی ورم ہو جاتی ہے۔ ”احسن الله امرك احسن الله امرئ “ ياتين من كل فج عميق امید سے بڑھ کر ۔ رعایا میں سے ایک شخص کی موت ۔ ”فتح حم تلك آيات الكتاب المبين “بیمار بہت ہی چیخیں مارتا ہے ۔ ماتم کدہ !

”اني احافظ كل من فى الدار من هذه المرض الذي هو ساريه “

امید سے بڑھ کر فائدہ ہوا۔ دوبارہ زندگی ۔ منسوخ شدہ زندگی ”انی براء من ذلك “

(کسی کا قول ہے) ”كتب الله على نفسه الرحمة ، حق علينا نصر المؤمنين . اتانی الرحمة فى اوّل الذكر واخر الذكر “رحمت اور فضل کا مقام شکر کا مقام ۔

تنقید بر الہامات مرکبہ

ان الہامات میں ملہم نے بتایا ہے کہ:

آ جاؤں گا۔

ہی الہام میں درج ہوئے ہیں۔ مگر یہ نہیں سوچا کہ اپنے آقا سے بڑھ کر میں کیوں قدم مار رہا ہوں۔ شاید محمد ثانی بن کر یہ درجہ پایا ہوگا۔

اشارہ کر رہے ہیں۔ میرے مرید بعد میں خود یہ عبارتیں بوجھ لیں گے۔ بہر حال ملہم

صفحہ ٤٨٧

کو علم ماکان وعلم مایکون کا دعویٰ ہے اور نرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ فوقیت کا بھی خیال ہے۔ کیونکہ احادیث نبویہ کے اخبار الغیب کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

عربی الہام...... نصف اول

”يا احمد بارك الله فيك ما رميت اذ رميت لكن الله رمى۔ الرحمان علم القرآن۔ لتنذر قوما ما انذر آباؤهم لتستبين سبيل المجرمين قل انى امرت وانا اوّل المؤمنين۔ قل جاء الحق وزهق الباطل۔ ان الباطل كان زهوقا كل بركة من محمدﷺ۔ فتبارك من علم وتعلم۔ قل ان افتريته فعلى اجرامى هوالذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله۔ لا مبدل لكلمات الله ظلموا وان الله على نصرهم لقدير۔ انا كفيناك المستهزئين يقولون انى لك هذا ان هذا الاقول لبشر واعانه قوم آخرون افتاتون السحر وانتم تبصرون۔ هيهات هيهات لما توعدون۔ من هذا الذى هو مهين ولا يكاد يبين اوجاهل مجنون۔ قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقين۔ هذا من رحمة ربك۔ يتم نعمة عليك ليكون آية للمؤمنين۔ انت على بينة من ربك فبشر۔ ما انت بنعمة ربك بمجنون قل ان كنتم تحبون الله هل أنبئكم على من تنزل الشياطين قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون۔ ان معى ربى سيهدين۔ رب ارنى كيف تحى الموتى رب اغفروارحم من السماء رب لا تذرنى فردا وانت خير الوارثين۔ رب أصلح انت امة محمد۔ ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين۔ قل أعملوا على مكانتكم۔ لا تقولن لشئى انى فاعل غدا۔ وتخفونك من دونه۔ انك باعيننا سميتك المتوكل۔ يحمدك الله من عرشه۔ نحمدك ونصلى يريدون ان يطفئوا نور الله۔ اذا جاء نصر الله وفتح امرالزمان الينا۔ اليس هذا بالحق هذا تاويل رؤياى من قبل قد جعلها ربى قالوا ان هذا الا اختلاق قل الله ثم ذرهم فى خوضهم يلعبون۔ من اظلم ممن افترى على الله كذبا ولن ترضى عنك اليهود ولالنصارى وخرقواله وبنات قل هو الله احد ويمكرون ويمكر الله والله خير الماكرين۔ الفتنة ههنا فأصبر كما صبر أولواالعزم قل رب ادخلنى مدخل صدق وامانرينك بعض الذى نعدهم اونتوفينك۔ ماكان الله ليعذبهم وانت فيهم كن معى انى معك اينما

صفحہ ٤٨٨

كنت. اينما تولوا فثم وجه الله كنتم خير امة اخرجت للناس وافتخار للمؤمنين ولا تيئس من روح الله الا ان روح الله قريب الا ان نصرالله قريب. ياتيك من كل فج عميق ـ ياتون من كل فج عميق ينصرك الله من عنده. ينصرك رجال نوحى اليهم من السماء لا مبدل لكلمات الله انا فتحنا لك فتحا مبينا فتح الولى فتح وقربناه نجيا اشجع الناس لوكان الايمان بالثريا لناله وقربناه نجيا اشجع الناس لوكان الايمان معلقا بالثريا لناله. انار الله برهانه. يا احمد فاضت الرحمة على شفتيك انك باعيننا. رفع الله ذكرك ويتم نعمة عليك فى الدنيا والآخرة ووجدك ضالا فهدى ونظرنا اليك وقلنا يا نار كونى بردا وسلاما على ابراهيم خزائن رحمة ربك يا ايها المدثر قم فانذر وربك فكبر. يا احمد يتم اسمك ولا يتم اسمى كن فى الدنيا كانك غريبا. او عابر سبيل وكن من الصالحين الصديقين وامر بالمعروف وانه عن المنكر وصل على محمد وآل محمد. الصلوة هو المربى. انى رافعك الى والقيت عليك محبة منى فاكتب وليطبع وليرسل فى الارض خذوا التوحيد يا ابناء فارس وبشر الذين امنوا ان لهم قدم صدق عند ربهم واتل عليهم ما اوحى اليك من ربك ولا تصعر لـخـلـق الله ولا تسام من الناس واصحاب الصفة ما اصحاب الصفة ترى اعينهم تفيض من الدمع ـ يصلون عليك. ربنا اننا سمعنا منا ديا ينادى للايمان و داعيا الى وسراجا منيراً. بوركت يا احمد وكان مبارك الله فيك حقا فيك. شانك عجيب واجرك قريب. انى راض منك انى رافعك الى الارض والسماء معك كما هو معى (یہ تعریف درحقیقت حضورﷺ کی ہے اور ہر جگہ یوں ہی سمجھو) انت وجيه فى حضرتى اخترتك لنفسى. انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى فحان ان تعان وتعرف بين الناس هل اتى على الانسان حين من الدهر لم يكن شيئا مذكورا. سبحان الله تبارك وتعالى زاد مجدك ينقطع اباؤك ويبدأ منك (شرف اور مجد کی ابتداء مراد ہے) وقالوا لات حين مناص ما كان الله ليتركك حتى يميز الخبيث من الطيب وامره غالب على امره ولكن اكثر الناس لا يعملون اذا جاء نصر الله وفتح وتمت كلمة ربك هذا الذى كنتم به تستعجلون اردت ان استخلف فخلقت

صفحہ ٤٨٩

آدم انى جاعل في الارض (یہ اختصاری کلمہ ہے۔ آدم سے مراد روحانی پیدائش کا باپ ہے) دنى فتدلى ...... ادنى (بقا باللہ مراد ہے اور تخلق باخلاق اللہ) محى الدين ويقيم الشريعة يا أدم اسكن وزوجك الجنة يا مريم اسكن انت وزوجك الجنة يا احمد اسكن انت وزوجك الجنة نفخت فيك من لدنى روح الصدق۔ نصرت وقالوا لات حين مناص ان الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله رد عليهم رجل من فارس شكر الله سعيه كتاب الولى (براہین احمدیہ) ذو الفقار على۔ يكاد زيته يضيئى ولولم تمسسه نار ام يقولون نحن جميع منتصر۔ سيهزمه الجمع ويولون الدبر وان يروا اية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر واستيقنتها انفسهم وقالوا لات حين مناص فبما رحمة من الله لنت لهم ولو ان قرانا سيرت به الجبال۔ انا انزلناه قريبا من القاديان وبالحق انزلناه وبالحق نزل صدق الله وصدق رسوله وكان امر الله مفعولا۔ هو الذى ارسل رسوله ...... (روحانی طور پر یہ آیت میری خبر دیتی ہے۔ کیونکہ اس وقت طبائع مائل بہدایت ہیں اور تبلیغ کے وسائل کمال تک پہنچ گئے ہیں۔ اب میرے ہی ذریعہ سے اسلام کا غلبہ تمام ادیان پر ہوگا) صل على محمد وال محمد سيد ولد آدم وخاتم النبيين هذا رجل يحب رسول الله انك على صراط مستقيم فاصدع بما تؤمر واعرض عن الجاهلين وقالوا لولا انزل على رجل من القريتين عظيم وقالوا انى لك هذا۔ ان هذا المكر مكرتموه في المدينة۔ ينظرون اليك وهم لا يبصرون۔ تالله لقد ارسلنا الى امم من قبلك فزين لهم الشيطان قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونى يحببكم الله واعلموا ان الله يحى الارض بعد موتها۔ من كان لله كان الله له قل ان افتريته فعلى اجرام شديد۔ انك اليوم لدينا مكين امين وان عليك رحمتى فى الدنيا والدين وانك من المنصورين۔ يحمدك الله ويمشى اليك الا ان نصر الله قريب۔ سبحان الذى اسرى بعبده ليلا (گمراہی کی رات مراد ہے۔ جس کی مسجد اقصیٰ معرفت الٰہی ہے) خلق آدم فاكرمه جرى الله في حلل الانبياء وكنتم على شفا حفرة من النار فانقذكم منها عسى ربكم ان يرحم عليكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم لكفرين حصيرا (یہاں نزول مسیح کی طرف اشارہ ہے۔ پر اس کے بعد مسیح علیہ السلام کمال جلالت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہیں صاف

صفحہ ٤٩٠

کر دیں گے اور یہ زمانہ اس کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے) توبوا واصلحوا والى الله توجهوا وعلى الله وكلوا واستعينوا بالصبر والصلوة بشرى لك يا احمدی انت مرادی ومعى غرست كرامتك بيدى قل للمؤمنين يغضوا من ابصارهم ويحفظ فروجهم ذلك اذكى لهم- واذا سئلك عبادى فاني قريب اجيب دعوة الداع اذدعان وما ارسلناك الا رحمة للعليمن- لم يكن الذين كفروا من اهل الكتاب والمشركين وكان كيدهم عظيما واذا قيل لهم لا تفسدوا فى الارض....... المفسدون قل اعوذ برب الفلق........ وقب انى ناصرك انى حافظك انى جاعلك للناس اماما- أكان للناس عجبا قل الله عجيب قل هو الله عجيب يجتبى من عباده من يشاء لا يسأل عما يفعل وهم يسئلون وتلك الايام نداولها بين الناس (عنایات الٰہیہ بنبوت افراد امت محمدیہ پر وارد ہوتے ہیں) تلطف بالناس وترهم عليهم انت فيهم بمنزلة موسى واصبر على ما يقولون (موسیٰ علیہ السلام بڑے حلیم تھے) واذا قيل لهم امنوا كما امن الناس....... لا يعلمون ويحبون ان تدهنون قل يا ايها الكفرون لا اعبد ما تعبدون قيل ارجعوا الى الله فلا ترجعون وقيل استحوذوا فلا تستحوذون (ای لا تغلبون على النفس) ام تسئلهم من خرج فهم من مغرم مثقلون- بل اتيناهم بالحق فهم للحق كارهون سبحانه وتعالى عما يصفون احسب الناس ان يحمدوا بمالم يفعلوا ولا يخفى على الله خافية ولا يصلح شئی قبل اصلاحه ومن رد من مطيعه فلا مرد له (خدا کا مطیع مراد ہے) لعلك باخع ان لا يكونوا مؤمنين لا تقف ما ليس به علم لا تخاطبني في الذين ظلموا انهم مغرقون يا ابراهيم اعرض عن هذا انه عبد غير صالح (لا اعلم من هو) انما انت مذكر واما انت عليهم بمسيطر واستعينوا بالصبر والصلوة واتخذوا من مقام ابراهيم مصلى يظل ربك عليك ويغيثك ويرحمك وان لم يعصمك الناس فيعصمك الله من عنده وان لم يعصمك الناس واذ يمكر بك الذين كفرو اوقد لی یا ہامان لعلى اطلع الى اله موسى واظنه لمن الكاذبين تبت يدا ابي لهب وتب ما كان له ان يدخل فيها الا خائفا وما اصابك فمن الله (اشارة الى شئی احد) الفتنة ههنا فاصبر كما صبر اولواالعزم الا انها فتنة من الله ليحب حبا

صفحہ ٤٩١

حما من الله العزيز الاكرم عطاء غير مجذوذ شاتان تذبحان وكل من عليها فان ولا تهنوا ولا تحزنوا اليس الله بكاف عبده الم تعلم ان الله على كل شئى قدير وجئنا بك على هؤلاء شهيدا اوفى الله اجرك ويرضى عنك ربك ويتم اسمك عسى ان تحبوا شيئا وهو شر لكم وعسى ان تكرهوا شيئا وهو خير لكم والله يعلم وانتم لا تعلمون كنت كنزا مخفيا فاحببت ان اعرف ان السموات والارض كانتا رتقا ففتقنا هما وان يتخذونك الا هزوا هذا الذى بعث الله قل انما انا بشر مثلكم يوحى الى انما الهكم اله واحد والخير كله فى القرآن لا يمسه الا المطهرون ولقد لبثت فيكم عمرا من قبله افلا تعقلون قل ان هدى الله هوا الهدى وان معى ربى سيهدين رب اغفر وارحم من السماء رب انى مغلوب فانتصر۔ ايلى ايلى لما سبقتنى۔ ايلى آوس (لا اعلم ما هو ايلى آوس) يا عبدالقادر انى معك اسمع وارى غرست لك بيدى وقدرتى ونجينا من الغم وفتناك فتونا لياتينكم منى هدى الا ان حزب الله هم الغالبون وماكان الله ليعذبهم وانت ....... يستغفرون۔ انا مجيبك نفخت فيك من لدنى روح الصدق والقيت عليك محبة منى ولتصنع على عينى كزرع اخرج شطا ...... سوقه (اشارة الى كمالنا) انا فتحنا لك فتحا مبينا ...... تاخر اليس الله بكاف عبده فبراء الله مما قالوا وكان عند الله وجيها فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا والله موهن كيد الكفرين۔ بعد العسر يسرا ولله الامر من قبل ومن بعد اليس الله بكاف عبده ولنجعله اية للناس ورحمة منا وكان امر الله مقضيا قول الحق الذى فيه تمترون۔ محمد رسول الله ...... عن ذكر الله متع الله المسلمين ببركاتهم فانظر الى آثار رحمة الله وانبئونى من مثل هولاء ان كنتم صادقين ومن يتبع غير الاسلام دينا ...... الخاسرون يا احمد فاضت الرحمة على شفتيك۔ انا اعطينك الكوثر فصل لربك وانحر واقم الصلوة لذكرى انت معى وانا معك سرك سرى وضعنا عنك وزرك الذى انقض ظهرك ورفعنا لك ذكرك انك على صراط مستقيم وجيها فى الدنيا والآخرة ومن المقربين حماك الله نصرك الله رفع الله حجة الاسلام۔ جمال هوالذى انشاكم فى كل حال لا تحاط اسرار الاولياء وقالوا انى لك هذا ان هذا الا سحر يؤ ثر لن

صفحہ ٤٩٢

نومن لك حتى نرى الله جهرة لا يصدق السفيه والاسيف الهلاك. عدولى عدولك قل اتى امر الله فلا تستعجلوه اذا جاء نصر الله (يقال) الست بربكم قالوا بلى۔ اني متوفيك ورافعك اليّ۔ وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيمة ولا تهنوا ولا تحزنوا۔ وكان بكم رؤفا رحيما۔ الا ان اولياء الله لا خوف عليهم لا يحزنون تموت وانا راض منك فادخلوا الجنة انشاء الله امنين سلام عليكم طبتم فادخلوها امنين سلام عليك جعلت مباركا سمع الله انه سميع الدعاء انت مبارك في الدنيا والآخرة امراض الدنيا وبركاته ان ربك فعال لما يريد اذكر نعمتى التى انعمت عليك انى فضلتك على العالمين فادخلى فى عبادى وادخلى جنتى (الاحسان) من ربكم عليكم واحسن الى احبابكم وعلمكم مالم تكونوا تعلمون وان تعدوا نعمة الله لا تحصوها رب اجعلنى مباركا حيث ما كنت لا تخف انك انت الاعلى ننجيك من الغم الم تعلم ان الله على كل شى قدير۔ الخير كله فى القرآن كتاب الله الرحمن اليه يصعد الكلم الطيب هوالذى ينزل الغيث من بعد ما قنطوا وينشر رحمة وكذلك مننا على يوسف لنصرف عنه السوء والفحشاء ولتنذر قوما ما انذر اباؤهم فهم غافلون قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون ان معى ربى سيهدين ربنا عاج۔ رب السجن احب الى مما يدعوننى اليه رب نجنى من الغم ايلى ايلى لما سبقتنى (عاجی کے معنی معلوم نہیں ہوئے) يعيسى اني متوفيك ورافعك الىّ وجاعل الذين ...... ثلة من الاولين وثلة من الاخرين فلما تجلى ربه للجبل (المشكلات) جعله دكا قوة الرحمن لعبيد الله الصمد مقام لا يترقى العبد فيه بسعى الاعمال۔ سلام عليك يا ابراهيم انك اليوم لدينا مكين امين ذوعقل متين حب الله خليل الله اسد الله وصل على محمد ما ودعك ربك وما قلى الم نشرح لك صدرك الم نجعل لك سهولة فى كل امر بيت الفكر، بيت الذكر ومن دخله كان امنا (جو خلوص کے ساتھ بیت الفکر میں داخل ہوگا وہ سوء خاتمہ سے امن میں آ جائے گا۔ بیت الفکر وہ چوبارہ ہے جس میں براہین وغیرہ کتابیں تصنیف ہوئیں اور بیت الذکر وہ مسجد ہے جو اس کے پاس واقع ہے) مبارك ومبارك وكل امر مبارك يجعل فيه (اس الہام سے بیت الفکر کی تاریخ نکلتی ہے) رفعت وجعلت

صفحہ ٤٩٣

مباركا۔ والذین امنوا ولم یلبسوا ایمانهم بظلم اولئك لهم الامن وهم مهتدون۔ یریدون ان یطفئوا نور الله قل الله حافظ عنایة الله حافظك نحن نزلنا وانا له لحافظون الله خیر حافظا وهو ارحم الراحمین ویخوفونك من دونه ائمة الكفر لا تخف انك انت الاعلى ینصرك الله فی مواطن ان یوحی لفصل عظیم كتب الله لا غلبن انا ورسلی لا مبدل لكلماته بصائر للناس نصرتك من لدنی انی منجیك من الغم وكان ربك قدیرا انیت معی وانا معك خلقت لك لیلا ونهارا اعمل ماشئت فانی غفرت لك (لانك صرت على حدة من المنكرات) انت منی بمنزلة لا یعلمها الخلق وقالوا ان هو الا افك افترى وما سمعنا بهذا فی ابائنا الاولین ولقد كرمنا بنی ادم وفضلنا بعضهم على بعض اجتبینها لهم واصطفیناهم كذلك لیكون آیة للمؤمنین ام حسبتم ان اصحب الكهف والرقیم كانوا من ایتنا عجبا قل هو الله عجیب كل یوم هو فی شان ففهمناها سلیمان وجحدوا بها واستیقنتها انفسهم ظلما وعلوا سنلقی فی قلوبهم الرعب قل جاءكم نور من الله فلا تكفروا ان كنتم مؤمنین سلام علی ابراهیم صافیناه ونجیناه من الغم تفردنا بذلك فاتخذوا من مقام ابراهیم مصلی (طریق نجات مجھ سے طلب کریں اور اپنے طریق چھوڑ دیں) والسماء والطارق الیس الله بكاف عبده (کا شان نزول سیرة المهدی میں گزر چکا ہے) اماما ینفع الناس فیمكث فی الارض۔ اجیب كل دعائك الا فی شركائك (رشتہ داروں سے جائداد کا تنازع تھا۔ دعاء مقبول نہ ہوئی) جاعل الذین اتبعوك (یہاں کفر سے مراد صرف میرا انکار ہے) فیه (ای فی المسجد) بركات للناس من دخله كان امنا ان یمسسك بضر فلا كاشف له الا هو وان یثرك بخیر فلا راد لفضله الم تعلم ان الله على كل شئی قدیر۔ ان وعد الله لآت۔ قل بفیضك انی متوفیك قل الاخیك انی متوفیك (جو تیرا مورد فیض یا بھائی ہے اسے کہہ کہ میں تیرے پر اتمام نعمت کروں گا یا میں تجھے وفات دوں گا)‘‘

(مکتوبات احمدیہ ج ١ ص ٦٧)

”قل هاتوا برهانكم ان كنتم صدقین یا یحیی خذ الكتاب بقوة خذها ولا تخف سنعیدها سیرتها الاولى یا عبدالرافع انی رافعك الی۔ انی معزك لا مانع لما اعطی۔ یدعون لك ابدال الشام وعباد الله من العرب عجل

صفحہ ٤٩٤

جسد له خوار له نصب وعذاب (یہ لیکھرام کے لئے ہے) ايتها المراة توبى توبى فان البلاء على عقبك ان كيدكن عظيم (سالے نے پٹیالہ سے بہانہ دے کر خط لکھا کہ میرا بیٹا اور آپ کی ساس مرگئی ہے مگر الہام نے بتایا کہ یہ جھوٹ ہے ) انا نبشرك بغلام حسين فارس اعلى اثارهما ووهب له الجنة اجاهد جيشى ساوتيك بركة واجلى انوارها حتى يتبرك من ثيابك الملوك والسلاطين۔ الا الذين آمنوا وعملوا الصلحت بلية مالية“

نصف ثانی

”ثمانين حولا اوقريبا من ذالك اوتزيد عليه سنيناً وترى نسلاً بعيدا “ (تریاق القلوب ص ٣٧) میں لکھا ہے کہ مجھے سولہ دن قولنج خونی تھا اور بار بار خونی پاخانہ آتا رہا۔ رشتہ دار تین بار مجھے سورہ یٰسین سنا چکے تھے۔ انتظار تھا کہ آج رات کو قبر میں چلا جاؤں گا تو خدا نے کہا کہ دریا کا پانی جس میں ریت بھی ہو لے کر اس پر یہ پڑھو۔ ”سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم اللهم صل على محمد وآل محمد“ تو یہ پڑھ پڑھ کر پانی بدن پر لگانا شروع کر دیا۔ ابھی ایک پیالہ ختم نہ ہوا تھا کہ بدن کی گرمی جاتی رہی اور اطمینان ہوگیا اور رات سوتا رہا۔ صبح ہوئی تو الہام ہوا: ”ان كنتم فى ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بشفاء مثله“ میر عباس لدھیانوی اور الٰہی بخش نے دعاء کرائی تو الہام ہوا: ”ننجيهما من الغم رايت هذه المرَّة واثر البكاء على وجهها فقلت ايتها المرَّة توبى فان البلاء على عقبك والبلاء نازلة عليك بموت (احمد بیگ ) ويبقى منه كلاب متعددة كذبوا باياتنا وكانوا بها يستهزءون فسيكفكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاما محموداً (لڑکی کا باپ وغیرہ مجھے کاذب جانتے تھے تو ان کے لئے نشان طلب کیا گیا۔ چنانچہ میری طرف متوجہ ہوا میں نے استخارہ کے ذریعہ درخواست کر دی۔ ١٧؍اپریل ١٨٩٢ء کو دوسری جگہ اس کا نکاح کر دیا گیا۔ ٣٠؍ستمبر ١٨٩٢ء کو احمد بیگ مر گیا تو وہ ڈر گئے۔ اس لئے اس پیشین گوئی کے باقی جزو منسوخ ہوگئے ) انا ارسلناه شاهدا ومبشرا ونذيرا كصيب من السماء فيه ظلمات ورعد وبرق كل شئى تحت قدميه (میری موت کے بعد یہ ظاہر ہوگا ) فاذا عزمت فتوكل على الله واصنع الفلك باعيننا ووحينا۔ الذين يبايعونك انما يبايعون الله...... ايديهم (١٨٨٨ء میں یہ پیغام بیعت آیا ہے)“۔

صفحہ ٤٩٥
الا اننى فى كل حرب غالب
فكدنى بما زورت فالحق يغلب
وبشرنى ربى فقال مبشرا
ستعرف يوم العيد والعيدا قرب

” (یہ لیکھرام کے متعلق ہے) انه من الهالكين بشرنى ربى بموته فى ست سنة۔ قل ما يعبأبكم ربى لولا دعاؤكم۔ قل انى امرت وانا اوّل المؤمنين الحمدللّه الذى اذهب عنى الحزن واتانى مالم يوت احدا من العلمين الذين تابوا واصلحوا اولئك اتوب عليهم وانا التواب الرحيم۔ امم يسرناها الهدى وامم حق عليهم العذاب ويمكرون ويمكراللّه واللّه خير الماكرين۔ ولكيد اللّه اكبر۔ ان يتخذونك الاهزوا اهذا الذى بعث اللّه قل يا ايها الكفار انى من الصادقين فانتظروا ياتى حتى حين سنريهم اياتنا فى الافاق وفى انفسهم حجة قائمة وفتح مبين۔ ان اللّه يفصل بينكم ان اللّه لا يهدى من هو مسرف كذاب۔ يريدون ان يطفئوا....... الكفرون نريد ان نزل عليك اسرارا من السماء ونمزق الاعداء كل ممزق۔ ونرى فرعون وهامان وجنود هماما كانوا يحذرون سلطنا كلابا عليك وغيظنا سباعا من قولك وفتناك فتونا فلا تحزن على الذين قالوا ان ربك لبالمرصاد حكم اللّه الرحمن لخليفة اللّه السلطان يوتى له الملك العظيم ويفتح على يده الخزائن تشرق الارض بنور ربها ذلك فضل اللّه وفى اعينكم عجيب (اس میں کفار سے مراد منکر ہیں) ويسئلونك احق هو قل اى وربى انه الحق وما انتم بمعجزين وزوجناكها لا مبدل لكلماتى وان يروا اية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر۔ كتاب سجلناه من عندنا۔ اخرج منه اليزيديون (قادیان کے باشندے یزیدی الطبع پیدا کئے گئے ہیں) لوكان الامر من عند غير اللّه لوجدتم فيه اختلافا كثيرا۔ قل لواتبع اللّه اهواءكم لفسدت السموات والارض ومن فيهن لبطلت حكمته وكان اللّه عزيزا حكيما۔ قل لوكان البحر مدادا....... قل ان كنتم تحبون فاتبعونى يحببكم اللّه ان اللّه كان غفورا رحيما۔ كم من فئة قليلة غلبت فئة كثيرة باذن اللّه۔ انت اشد مناسبة بعيسى ابن مريم واشبه الناس به خلقا وخلقا

صفحہ ٤٩٦

وزمانا۔ كلب يموت على كلب (ایک مخالف ٥٢ سال کی عمر میں مرے گا اور ١٣٠٠ھ ہوگا) هذا هو الترب الذى لا يعلمون (اى عمل الترب واشعبدة) الحق من ربك فلا تكونن من الممترين. جعلناك المسيح ابن مريم انا زينا السماء الدنياء بمصابيح اردت ان استخلف فخلقت آدم انا خلقنا الانسان في احسن تقويم (١٨٩٢ء) انا الفتاح افتح لك نرى نصرا عجيبا (بعض التائبين ) يخرون على المساجد (ويقولون) ربنا اغفرلنا انا كنا خاطئين. جلابيب الصدق. فاستقم كما امرت. الخوارق تحت منتهى صدق الاقدام كن لله جميعا ومع الله جميعا. انى مهين من اراد اهانتك (لاہور میں مولوی محمد حسین بٹالوی کے لئے الہام ہوا) قل انى امرت وانا اوّل المؤمنين. يتربصون عليك الدوائر عليهم دائرة السوء الله اجرك الله يعطيك جلالك. قل ان كنتم تحبون الله. (فتوائے تکفیر جاری ہوا تو یہ الہام ہوا) طوبى لمن سن وسار. لا تخف اننى معك وماش مع مشيك. انت منى بمنزلة لا يعلمها الخلق. وجدتك ماوجدتك وانی معین من اراد اعانتك انت معى وسرك سرى وانت مرادی ومعى انت وجيه فى حضرتي اخترتك لنفسى. هذا (التعريف) لى وهذا لاصحابى يا على دعهم وانصارهم وذراعتهم ذرونى اقتل موسى نظر الله اليك معطرا قالوا اتجعل فيها من يفسد...... لا تعلمون قالوا کتاب (براهين) ممتلى من الكفر والكذب قل تعالوا ندع ابناء نا الكاذبين يوم يجيى الحق ويكشف الصدق ويخسر الخاسرون انت معى وانا معك ولا يعلمها (هذه الحقيقة) الا المسترشدون نرد اليك الكرة الثانية ونبدلنك بعد الخوف امنا. ياتى قمر الانبياء وامرك يأتى يسرالله وجهك وينير برهانك سيولد لك الولد ويدني منك الفضل وقالوا انى لك هذا قل هو الله عجيب ولا تئيس من روح الله انظر الى يوسف واقباله. وقد جاء وقت الفتح وأفتح اقرب يخرون على المساجد ربنا اغفرلنا انا كنا خاطئين لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو أرحم الراحمين اردت ان استخلف فخلقت آدم نجى الاسرار انا خلقنا الانسان فى يوم موعود (یعنی اس وقت مسیح آئے گا کہ روئے زمین پر دجال یعنی عیسائی حکومت ہوگی اور وہ روحانی حکومت سے ان پر حکمران ہوگا۔ کیونکہ جسمانی حکومت تو صرف قریش کے لئے ہی مخصوص

صفحہ ٤٩٧

ہے اور یضع الحرب کا اشارہ بھی یہی ہے کہ مسیح لڑائی موقوف کر دے گا اور جہاد کا حکم اڑا دے گا) يحق الحق....... الخاسرون ان ربك فعال لما يريد! دعونى استجب لكم "محمد حسین بٹالوی نے مجھے دجال اور جاہل کہا ہے اور میرے دوست حکیم نورالدین اور محمد احسن امروہی کو بھی جاہل کہا۔ تو ہم نے کہا کہ آؤ تم اور تمہارے ہم خیال ملاں اور مولوی نذیر حسین دہلوی میرے مقابلہ پر عربی میں دس جزو کی عربی تفسیر لکھو۔ جس میں بالکل مفہومات جدیدہ ہوں اور کسی کتاب سے اخذ نہ ہوں اور اسلام سے بھی باہر نہ ہوں۔ اسی اسی (٨٠،٨٠) آیات کی سورتیں انتخاب کرلیں۔ ان میں سے جس پر قرعہ نکلے اس کی تفسیر لکھی جائے۔ اس کے بعد انتخاب کر کے قرعہ نکالا جائے۔ جب قرعہ نکلے تو اس پر ایک مدحیہ قصیدہ مشتملہ نعت محمدﷺ عربی میں لکھا جائے۔ مگر محمد حسین بھاگ گیا اور میں نے اپنے غلبہ کے لئے دعاء کی تھی تو بذریعہ الہام مذکور الصدر قبول ہوئی ۔ ”انا نرى تقلب وجهك في السماء ما قلبت فى الارض انا معك نرفعك درجات“

مہر علی کو خواب میں دیکھا کہ اس کے فرش کو آگ لگ رہی ہے تو میں نے بجھائی۔ اس سے کہا گیا کہ بلا آئے گی ۔ استغفار کرو تو چھ ماہ بعد اس پر سنگین مقدمہ چلا۔ چھ ماہ کے بعد وہ رہا ہو گیا۔ درحقیقت وہ دعاء کا اثر تھا۔ مگر وہ انکاری رہا۔ آخر ٢٥؍فروری ١٨٩٣ء کو الہام ہوا کہ اگر وہ ایک ہفتہ تک اقرار نہ کرے تو میرا اور اس کا مقدمہ آسمان پر دائر ہو گا ۔ ” وكان حقا علينا نصر المؤمنين هذا (آئینہ کمالات اسلام) کتاب مبارك فقوموا للاجلال والاكرام “حضورﷺ کو دو دفعہ خواب میں اس پر اظہار مسرت کرتے دیکھا اور ایک فرشتہ نے زور سے یہ الہام پڑھا۔ مسیح انسان تھے ۔ ” كرم الجنة دوحة الجنة “ یعنی میری بیٹی عصمت زندہ رہے گی ۔ پھر قبض رہی تو زیادتی عمر کی دعاء قبول نہ ہو سکی ۔ ”يقضى امره في ميت“ لیکھ رام ٦؍ مارچ ١٨٩٧ء کو زخمی ہو کر چھ بجے دن کے مر گیا۔ ”يا عيسى ساوريك اياتى الكبرى اني معك حيثما كنت اني جاعلك عيسى ابن مريم وكان الله على كل شئى مقتدرا اردت استخلف فخلقت آدم (١٨٩٤ء) انا نبشرك بغلام “ عبدالحق غزنوی نے مباہلہ چاہا مگر میں نے بددعاء نہ دی۔ آتھم کو مہلت ملی تو اس نے استہزاء کیا کہ مجھے دوسری عورت بھی مل گئی ہے۔ ( جو اس کے بھائی متوفی نے چھوڑی تھی) الہام ہوا کہ: ”ان شانئك هو الابتر “ تیس سال تک اس کی اولاد نہ ہوئی۔ مگر میرے ہاں مرزا شریف احمد ١٨٩٥ء کو پیدا ہوا تھا۔ پھر خدا نے کہا کہ جب تک چار بچے نہ ہولیں۔ عبدالحق نہ مرے گا۔ ”ان

صفحہ ٤٩٨

کنتم فی ریب مما انزلنا علٰی عبدنا فاتوا بکتاب من مثلہ “ یعنی نورالحق کتاب لاجواب ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں۔ ”ما ننسخ من آیۃ او ننسھا “ جنگ مقدس کے بعد عیسائیوں پر آفات آئیں اور حکیم نور دین کا لڑکا مر گیا تو سعد اللہ لدھیانوی نے استہزاء کیا تو انوارالاسلام لکھتے لکھتے یہ دیکھا کہ ایک خوبصورت لڑکا حکیم صاحب کو دیا جائے گا۔ جس پر کچھ پھوڑے ہوں گے۔ وہ ہلدی وغیرہ لگانے سے اچھا ہو جائے گا تو ویسا ہی ہوا۔ آتھم خوفزدہ ہوا تو الہام ہوا کہ: ”اطلع اللّٰہ علٰی ھمہ وغمہ ولن تجد لسنۃ اللّٰہ تبدیلا فلا تعجبوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین وبعزتی وجلالی انک انت الاعلٰی ونمزق الاعداء کل ممزق ومکر اولئک ھو یبور۔ انا نکشف السر عن ساقہ یومئذ یفرح المومنون۔ ثلۃ من الاولین ثلۃ من الاخرین وھذہ تذکرۃ فمن شاء اتخذ الی ربہ سبیلا (١٨٩٥ء) وانی انا الرحمٰن ناصر حزبہ (١٨٩٦ء) تری اعینھم تفیض من الدمع یصلون علیک ربنا اننا سمعنا منادیا “ یہ لوگ مصدق ہیں۔ ”اللّٰہ اکبر خربت خیبر (مذاھب باطلہ) ان اللّٰہ معک ان اللّٰہ یقوم اینما قمت (١٨٩٠ء) بینی وبینکم میعاد یوم من الحضرۃ (مبارک احمد کی پیدائش مراد ہے جو ایک یوم یعنی دو سال کے بعد ہوئی) ان اللّٰہ یجعل الثلثۃ اربعۃ (تولید فرزند چہارم مراد ہے) الارض والسماء معک کما ھو معی۔ فستذکرون ما اقول لکم وافوض امری الی اللّٰہ“

عیسائیوں نے رسالہ امہات المؤمنین شائع کیا تو حمایت اسلام لاہور نے اس کی بندش کی درخواست کی۔ مگر گورنمنٹ نے نامنظور کی اور میں نے کہا تھا کہ اس کا جواب لکھنا چاہئے۔ تو یہ الہام ہوا۔ (١٨٩٨ء) ”ان اللّٰہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم انہ اولٰی القریۃ۔ انی مع الرحمٰن اتیک بغتۃ۔ ان اللّٰہ موھن کید الکافرین۔ یا احمد فاضت الرحمۃ علٰی شفتیک۔ یا عیسٰی انی متوفیک...... الٰی یوم القیمۃ “ برکات غیر فانیہ یعنی معارف الٰہیہ اور علوم حکمیہ مجھے عطاء ہوئیں تو میں مہدی بن گیا اور برکات فانیہ جیسے تابعداروں کی بہتری اور مخالفین کی ابتری مجھے عطاء ہوئیں تو میں عیسیٰ ابن مریم بن گیا اور چونکہ برکات غیر فانیہ حضورﷺ کی وساطت سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس لئے میرا نام محمد اور احمد بھی ہوا اور مہدی بھی اس لئے ہوا کہ اصلی طور پر مہدویت حقیقت محمدیہ ہے۔ جو میری مہدویت کا وسیلہ ہے۔ ”غثم غثم غثم دفع الیہ من مالہ دفعۃ السھیل البدری الامراض تشاع

صفحہ ٤٩٩

والنفوس قضاع ان الله لا يغير ما بقوم انه اوى القريه ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون والذين هم محسنون انت معى يا ابرهـ ياتيك نصرى انى انا الرحمان يا ارض ابلعى ماءك وغيض الماء وقضى الامر سلام قولا من رب رحيم وامتازوا اليوم ايها المجرمون انا تجادلنا فانقطع العدوا سبابه ويل لهم انى يوفكون يعض الظالم على يديه ويوثق وان الله مع الابرار وانه على نصرهم لقدير شاهت الوجوه وانه من آيات الله وانه فتح عظيم انت اسمى الاعلى انت منى بمنزلة المحبين اخترتك لنفسى قل انى امرت وانا اول المؤمنين (مراد تریاق القلوب کا قصہ) سیغفر ”جمال الدین منصفی میں فیل ہوا تو اسے جموں میں انسپکٹر مدارس بنایا گیا۔ برق خطفی بشیر۔ اس کی آنکھ دکھی تو ہفتہ بعد اچھی ہوگئی۔‘‘ فورب السماء والارض انه الحق (١٨٩٩ء) يخرون سجدا ربنا اغفرلنا انا كنا خطئين ”مراد توبہ کرنے والے ہیں۔‘‘ ربى الاعلى اصبر مليا ساهب لك غلاما ذكيا انى اسقط من السماء واصيبه رب اصلح زوجنى هذه ”مراد پیدائش مبارک احمد‘‘ يا حى يا قيوم برحمتك استغيث ان ربى رب السموات والارض انا لنعلم الامر وانا عالمون سيبدى الامر و ننسفن نسفاً “ مراد عبدالکریم ”قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون ايضاً مسلمون قل ان كنتم تحبون الله وقل يا ايها الناس انى رسول الله اليكم جميعا اى مرسل من الله ياتيك من كل فج عميق لولا فضل الله عليكم ورحمة على لالقى راسى فى هذا الكنيف (مراد عبدالکریم) انا اخرجنا لك زروعا يا ابراهيم۔ ربنا امنا فاكتبنا مع الشاهدين (١٩٠٠ء) ان الرحى تدور وينزل القضاء ان فضل الله لات وليس لاحد ان يرد ما اتى قل وربى انه الحق لا يتبدل ولا يخفى وينزل ما تعجب منه وحى من رب السموات العلى ان ربى لا يضل ولا ينسى ظفر مبين وانما نوخرهم الى اجل مسمى انت معى وانا معك قل الله ثم ذره فى غيه يتمطى انه معك وانه يعلم السر وما اخفى لا اله الا هو يعلم كل شئ ويرى ان الله مع الذين اتقوا الذين هم محسنون الحسنى انا ارسلنا احمد الى قومه فاعرضوا فقالوا كذاب اشر وجعلوا يشهدون عليه ويميلون اليه كماء منهمر ان حبى قريب انه قريب مستتر (مراد وہ وقت ہے جب کہ مسجد کا کوچہ کچی

صفحہ ٥٠٠

اینٹوں سے بند کیا گیا ہے۔ مجھے حسب معمول درد سر تھا۔ ظہر و عصر ملا کر پڑھ لی تو شام تک یہ الہام ہوئے ) افصحت من لدن رب كريم مبارك (مراد خطبه الهامیہ ) سبحان الله انت وقاره فكيف يتركك انى انا الله وقل رب انى اخترتك على كل شئ ۔ سيقول لك العدولست مرسلا سناخذه من مارن اوخر طوم وانا من الظالمين منتقمون وانى مع الافواج اتيك بغتة ۔ يوم يعض الظالم على يديه ياليتنى اتخذت مع الرسول سبيلا وقالوا سيغلب الامر وماكانوا على الغيب مطلعين انا انزلنك وكان الله قدير انت قابل ياتيك وابل انى حاشر كل قوم ياتونك جنبا (جوق در جوق ) وانى انرت مكانك تنزيل من الله العزيز الرحيم بلجت اياتى انت مدينة العلم طيب مقبول الرحمن وانت اسمى الاعلى۔ بشرى لك فى هذه الايام انت منى يا ابراهيم انت القائم على نفسه مظهر الحى وانت منى سيد الامر انت من مائنا وهم من فشل ام يقولون نحن جمع منتصر سيهزم الجمع ويولون الدبر الحمدلله الذى جعل لكم الصهر والنسب انذر قومك قل انى نذير مبين قالوا لتهلكنك قال لا غلبن ورسلى وانى اموج موج البحر ان فضل الله لات وليس لا حد ان يرد غايتى قل اى وربى انه لحق لا يتبدل ولا يخفى وينزل ما تعجب منه وحى من رب السموات العلى لا اله الا هو يعلم كل شئ ويرى ان الله مع الذين اتقوا الذين هم يحسنون الحسنى تفتح لهم ابواب السماء ولهم بشرى فى الحيوة الدنيا انت تربى فى حجر النبى وانت تسكن تزن الجبال وانى معك فى كل حال ۔ وقالوا ان هذا الا اختلاق۔ ان هذا الرجل يجوج الدين قل جاء الحق وزهق الباطل ۔ قل لوكان الامر من عند غير الله لوجدتم فيه اختلافا كثيرا هوالذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق وتهذيب الاخلاق لتنذر قوما ما انذر اباؤهم ولتدعوا قوما اخرين ۔ عسى الله ان يجعل بينكم وبين الذين عاديتم مودة ۔ انى انا الله فاعبدنى ولا تنسى واجتهد ان تصلنى واسئل ربك وكن سئولا الله ولى حنان علم القرآن فباى حديث بعده تؤمنون نزلنا على عبدنا رحمة ذرنى والمكذبين انى مع الرسول اقوم ان يومى لفصل عظيم وانى رافعك الى وياتيك نصرتى ۔ انى انا الله ذوالسلطان ۔ انا لله (مراد وفات محمد

صفحہ ٥٠١

اکبر بٹالوی) سلمان منا اهل البيت ويضع الحرب ويصالح الناس على مشرب الحسن (یعنی مسیح موعود حسنی المشرب ہوگا۔ حسن کا دودھ پیئے گا اور لڑائی کا خاتمہ کرکے لوگوں میں صلح پیدا کرے گا) يريدون ان يروا طمثك والله يريد ان يريك انعام۔ الانعامات المتواتره۔ انت منى بمنزلة اولادى۔ تالله وليك وربك وقلنا يا نار کونی بردا ان الله مع الذين اتقوا والذين هم يحسنون الحسنى (عصائے موسیٰ کے متعلق ہے کہ اس کا مصنف الہٰی بخش لاہوری میری کمزوریاں دکھانا چاہتا ہے۔ مگر ایسا نہ ہوگا) كونی بردا وسلاما (انگلی میں درد تھی تو آرام ہو گیا) تنزل الرحمة على ثلث (العين ولى الآخرين ، تین اعضاء مراد ہیں) قل ان هدى الله هو الهدى (قطع وتین کا مسئلہ سمجھایا تو الہام ہوا کہ یہی تقریر صحیح ہے) والموت اذا عسعس ”ذیابیطس سے سوسو دفعہ مجھے پیشاب آتا تھا۔ کاربنکل کا بھی خطرہ تھا۔ کیونکہ اس کے آثار دونوں شانوں میں نمودار ہوچکے تھے۔ الہام ہوا تو شفا ہو گئی۔ ہماری زندگی کا ہر ایک لمحہ (سیکنڈ) بھی ایک نشان ہے۔ (١٩٠١ء) ”اصح زوجتی“

میری بیوی کو غشی ہوئی تو یہ الہام ہوا۔ ”منبعه مانع في السماء (تو اعجاز المسیح کا مقابلہ کسی نے نہ کیا) قالوا ان التفسير ليس بشئ“ مراد تفسیر سورۃ فاتحہ مندرجہ اعجاز المسیح ”اني انا الرحمن دافع الاذى انى لا يخاف لدى المرسلون“ پھنسی نکلی ہوئی تھی خیال ہوا کہ ذیابیطس کا اثر نہ ہو تو اس الہام سے تسلی ہوئی۔ ”كفيناك المستهزئين رب زدنی عمرى وفى عمر زوجی زيادة خارق العادة“ سے مراد سلسلہ کے خاص مخلص دوست ہیں۔ ”انى مع الافواج ایتک“ دیوار کے مقدمہ میں ہوئی۔ ”ایام غضب الله غضب غضبا شديد انه ينجى اهل السعادة انى انجى الصادقين هذا علاج الوقت الذريسى“ قاضی یوسف علی ریاست جیند بیمار تھے تو یہ الہام ہوا۔ ”مجموم جاء نظرت الی المحموم رشن الخبر“ ناخواندہ مہمان کی خبر رشن بمعنی نا خواندہ مہمان۔ ”كان من اهل البيت على مشرب الحسن يصالح بين الناس“ مراد مسیح موعود ہے۔ ”لا تنقطع الاعداء الا بموت احد منهم (١٩٠٢ء) قد جرت عادة الله انه لا ينفع الاموات الا الدعا فكلمه من كل باب ولا ينفعه الا هذا الدواء (اى الدعاء) فيتبع القرآن ان القرآن كتاب الله كتاب الصادق“ ایک عربی مرثیہ دل سخت جوش زن تھا۔ اس کے لئے رات یہ دعاء ہوئی۔ دوسرے روز دوران سر میں میں نے عربی زبان میں اپنی صداقت

صفحہ ٥٠٢

کے دلائل پیش کئے تو وہ مرید ہو کر واپس عرب کو مبلغ بن کر چلا گیا اور یہاں بھی ایک تائیدی اشتہار دے گیا۔ ”انی افرمع اھلی اليك“ حکیم نور الدین کے متعلق ہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ جموں میں طاعون ہے میں قادیان آ رہا ہوں۔ ”انت معى وانی معك انى يبايعتك بايعنى ربى۔ اني مع الرسول اقوم ومن يلومه الوم افطر واصوم“ یعنی کبھی طاعون پڑے گا اور کبھی نہیں پڑے گا۔ ”یا مسيح الخلق عدوانا لن ترى من بعد موادنا وفسادنا“ اے مسیح ہماری خبر لے شفاعت سے بچا تو پھر ہمارے خبیث مادے تو نہیں دیکھے گا۔ یعنی ہم سیدھے ہو جائیں گے اور بدزبانی چھوڑ دیں گے۔ ”یا ولی الله كنت لا اعرفك“ زمین کے متعلق ہے کہ معذرت کر رہی ہے۔ نزل بہ جیبز چراغ دین جمونی کے متعلق ہے کہ اس کے الہام حدیث النفس ہیں۔ جو خشک مجاہدات کا نتیجہ ہیں۔ یا تمنا کے وقت شیطان القاء کرتا ہے یا کسی خشکی یا سوداوی مواد سے ایسے خیالات کا القاء ہوتا ہے۔ پس ہماری اصطلاح میں اسے الہام جیبز کہتے ہیں۔ ان کی کثرت سے دیوانگی کا خطرہ ہے۔ ”انی اذيب من يريب“ یہ بھی چراغ الدین کے ہی متعلق ہے کہ اگر وہ اپنی رسالت سے تائب نہ ہوا تو وہ غارت ہو جائے گا۔ ”انی حافظ كل من فى الدار“ دار کی تشریح نہیں ہوئی کہ اس میں کیا کچھ شامل ہے۔ ”لولا الامولهك التمر“ یعنی ائمۃ الکفر کی ہلاکت میں تاخیر نہ ہوتی تو اب بھی درندہ صفت مخالف ہلاک ہو جاتے۔ ”انی احافظ كل من فى الدار الا الذين علوا باستكبار“ علو موسوی جائز ہے اور علو فرعونی ناجائز ہے۔ ”انی ارى الملائكة الشدائد اللهم ان اهلكت هذه العصابة فلن تعبد فى الارض“ یہ الہام شدۃ مرض میں ہوا۔ ”انی انا ربك القدير لا مبدل بكلماتی“ سیف چشتیائی کے متعلق ہے۔ ”مات ضال هائما“ نذیر حسین دہلوی مرا تو میری زبان پر یہ فقرہ جاری ہوا۔ ”انى احافظ كل من فى الدار ولنجعله اية للناس ورحمة منا وكان امرا مقضيا عندى معالجات“ لوگ طاعون کا ٹیکہ کراتے ہیں۔ ہم خدا پر چھوڑ دیتے ہیں۔ میری بیوی نے بھی ایک تصدیقی خواب دیکھا کہ شیخ رحمت اللہ نے لاہور سے ہزار شیشی کا ایک بکس بھیجا ہے۔ میں نے کہا کہ ہم نے بھی دوائیں دس بارہ شیشیاں منگائی تھیں۔ مگر یہ خواب معالجات کی تصدیق کرتا ہے۔ ”احســــب الناس ان يتركوا ان يقولوا امنا وهم لا يفتنون۔ يريد وان يطفئوا نورك ويتخطفوا عرضك انى معك ومع اهلك واما نرينك بعض الذى نعدهم للسلسلة السماوية او نتوفينك جف القلم بما هو كائن قل انما انا بشر مثلكم

صفحہ ٥٠٣

يوحى الى انما الهكم اله واحد والخير كله فى القرآن فاتقوا النار” كفرين حجاره سے وہ انسان مراد ہیں جو اپنے حواس سے کام نہیں لیتے ۔ تسبیح ٣ بار” والله شديد العقاب انهم لا يحسنون “ بھگت مدعی الوہیت کے متعلق دیکھا کہ چند کتابوں پر یہ الہام لکھا ہے۔”خسف القمر والشمس فى رمضان فباى الاء ربكما تكذبان“ سے مراد میں ہوں۔ ”من اعرض عن ذكرى نبتليه بذرية ملحدة يميلون الى الدنيا ولا يعبدوننى شيئًا“ یعنی مخالف کی اولاد ملحد ہو گی اور عبادت نہ کرے گی۔ ”يموت قبل یومی ھذا“ یہ رسل بابا مکذب امرتسر کے متعلق ہے۔ میرے یوم سے مراد جمعہ کا دن ہے جو دراصل خدا کا دن ہے۔ اس دن میں بیمار تھا۔ تو وہ مجھ سے پہلے طاعون سے مر گیا۔ ”رب كل شئ خادمك رب فاحفظنى وانصرنى وارحمنی“ یہ اسم اعظم ہے اور دافع ہر مصیبت ہے۔”سلام عليك يا ابرهيم ينادى مناد من السماء“ ایک نے پکارا اس کے آگے ایک فقرہ تھا یاد نہیں رہا۔ ”انی مع الافواج اتی“ میں اپنی فوجوں کے ہمراہ آیا۔ ”على شكر المصائب اى هذه صلة عليه ياتى عليك زمن كمثل (من موسى انه كريم تمشى امامك وعاد من عاد۔ ای عادی من عاداك) انى صادق صادق وسيشهد الله لى انى انا الصاعقہ“ صاعقہ خدا کا نام ہے۔ ”انى اجهز الجيش ان الله لا يغير ما بقوم انه اوى القرية لولا المقام لهلك المقام (١٩٠٣ء) يبدى لك الرحمن شيئا۔ اتی امر الله فلا تستعجلوه بشارة تلقاها النبيون جاء نى أكل واختار وادار اصبعه واشار يعصمك الله من العدیٰ اوليسطو بكل من سطا ان وعدالله قداتیٰ (وكل على الارض وسطا) فتوبى لمن وجد ورائے قتل (العدو) خيبة وزيد هيبة بقية الطاعون اريك بركات من كل طرف تبارك الله على كل شئ ان معى ربى سيهدين افاتين ايات تفصيل ما صنع الله في هذا الباس بعد ما اشعة فى الناس اصبر سنفرغ يا مرزاً غاسق (عند) الله ساكرمك اكراما عجبا ان الله مع عباده (وهو) يواسيك لا يموت احد من رجالكم (مما لا افهم) سننجيك سنعليك وانى معك واهلك ساكرمك اكراما عجبا انى مع الافواج اتيك بغتة دعاؤك مستجاب انى مع الرسول اقوم واصلى واصوم واعطيك ما يدوم اصلى واصوُم واسهر وانام واجعل لك انوار القدوم واعطيك ما يدوم ان الله مع الذين اتقوا برز ما عندهم من الروح ذلك بما

صفحہ ٥٠٤

عصوا وكانو يعتدون حرب يهجه (آریوں نے گالیاں بھرا اشتہار دیا تھا) انی مع ........ بغتة انى مع الرسول اجيب اخطئ واصيب اني مع الرسول محيط۔ انى مع الرسول اقوم ولن ابرح الارض الى الوقت المعلوم يوم الاثنين وفتح الحنين حجة الله ”یہ نام نواب محمد علی کا ہے۔ کیونکہ وہ اپنی قوم سے الگ ہو کر میرے پاس آیا تھا۔“ دعاؤك مستجاب۔ ساخبر وفي اخر الوقت انك لست على الحق ”محمد حسین بٹالوی کے متعلق ہے۔“ ما كان الله ليعذبهم وانت فيهم رب اني مظلوم فانتصر انا نحن نرث الارض ناكلها من اطرافها قلنا يا ارض ابلعى ماءك يا سماء اقلعی فيه خير وبركة (نسيت اوله) سليم حامدا مستبشرا (نسيت شيئا منه) ان الله مع الذين اتقوا الذين هم محسنون فيه آيات للسائلين ”مقدمہ جہلم میں جس کی فتح ہوئی اس کی طرف اشارہ ہے۔“ الفتنة ههنا والصدقات لعنة الله على الكاذبين يسين والقرآن ........ رحيم لا اله انا فاتخذنى وكيلا ساكرمك بعد توهينك ساكرمك اكراما عجبا ساكرمك اكراما حسنا ان السموات ........ فتقنا هما قل الله ثم ذرهم فى خوضهم يلعبون يسئلونك عن شانك قل الله (اعلم) ثم ذرهم في خوضهم يلعبون ماترى فى خلق الرحمان من تفاوت ”مقدمہ گورداسپور کے متعلق تھا۔“ كتب الله لا غلبن انا ورسلي۔ في حفاظة الله سلام عليكم طبتم ”یا حفیظ یا عزیز یا رفیق طاعون وغیرہ سے بچنے کے لئے بتایا گیا۔ رفیق خدا کا نیا نام ہے۔“ سلام قولا من رب رحيم ”سرالشہادتین لکھ رہا تھا کہ درد گردہ سے بیتاب ہو گیا۔ مقدمہ پر گورداسپور بھی جانا تھا تو شہید عبداللطیف کا تصور کر کے دعاء کی اور گھر والوں نے آمین کہی تو شفا ہو گئی۔“ قتل خيبة وزيدهيبة!

اری ارض مـد قـد اريـد بـتـارهـا
وغـادرهـم ربـی کـغصن مجدر
ولـيـس عـلاج الـوقـت الا اطاعتـی
اطيعون فـالـطـاعـون یـغـنی ويـدحـر
لـقـوم هـدى لا بـارك الله مدهـم
جـهـول فـادي حـق كـذب فـابـشـروا

(غصن اونٹنی ، مد میں طاعون پڑا تو نصف تک آدمی مر گئے) ”فبشـــــــــــــــــــری

صفحہ ٥٠٥

للمؤمنین“ بمقام گورداسپور لیلۃ القدر کو اپنی جماعت کے لئے دعاء کی تو الہام ہوا۔ ”انی همی الرحمن۔ كبر عند الله موت هذا الرجل ان الله لا يضر ان الله مع الذين اتقوا نصرا من عند الله وهم يعمهون (١٩٠٤ء) غلبت الروم (الف) اردت ان تستفتح ان الله عزيز ذوانتقام۔ (ب) اذا جاء نصر الله “ کھانسی شدت سے تھی موت قریب تھی مگر خدا نے کہا کہ لوگ جوق در جوق آئیں گے تو تمہاری موت ہوگی۔ ”لعلی اتيكم منها بقبس اواجد على النار هدى۔ ان شانئك هو الابتر من دخله كان امنا غفور رحيم۔ اعملوا ما شئتم (من المباحات) انى غفرت لكم ان شاء الله امنين انى امرت لكم (اى امرت الملئكة بالدعاء لك) نزاد الله عمرك اذ نعمتی۔ غرست لك بيدى رحمتى وقدرتی۔ عفت الديار محلها ومقامها ستزداد حسناً من حسنك (اى بسبب حسنك) انى انا الرحمن ساجعل لك سهولة في امرك انى انا التواب من جاءك (كانه) جاء نى ولقد نصركم الله ببدر وانتم اذلة سلام عليكم طبتم عفت الديار محلها ومقامها انت منى وانا منك عسى ان تكرهوا شيئا وهو خير لكم۔ انى مع الرسول (١٩٠٥ء) ان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بشفاء مثله“ حکیم نور الدین بیمار ہوگئے تو دعاء کی گئی اور شفاء ہوگئی۔ یہ الہام پہلے بھی ہوا تھا۔ ”بسم الله الكافى بسم الله الشافي بسم الله الغفور الرحيم بسم الله البر الكريم يا حفيظ يا عزيز يا رفيق يا ولى اشفتی“ میری گال سوج گئی تو اس دعاء سے شفاء ہوئی۔ ”انی لاجد ريح يوسف لولا ان تفندون انی مع الروح معك ومع اهلك انما امرك اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون (لم يؤت الملهم) لا تياسوا من روح الله (نسبت مابعده) سلاماً سلاماً محونا نار جهنم (لعل الله يدفع الطاعون عن الديار كلها او عن الدار خاصة) كففت عن بنى اسرائيل“ مرزائی جماعت مراد ہے کہ اس پر جو ظلم ہو رہے ہیں۔ آئندہ نہ ہوں گے۔ ”انى مع الافواج اتيك بغتة جاءك الفتح قل مالك حيلة؟ سلام قولا من رب رحيم صدقنا الرؤيا انا كذلك نجزى المتصدقين “ مراد خواب طاعون ہے جو سچ نکلا۔ ”ارید ما تريدون “ مجھے خطاب ہے۔

ياتون من كل فج عميق
وياتيك من كل فج عميق
صفحہ ٥٠٦

٢٥ برس بعد پھر یہ الہام ہوا۔ ”ینجی الناس من الامراض“ یعنی میرے ذریعہ سے کئی لوگ شفا پائیں گے ۔ ”انی معك ومع اهلك ومع كل من احبك فزع عيسى ومن معه شهت الوجوه“ اس سے معلوم ہوا کہ دشمن مغلوب ہوں گے۔ ”اذا جاء نصر الله“ نماز میں والعصر پڑھتے تھے کہ یہ لفظ زور سے جاری ہو گئے ۔ ”ارنی زلزلة الساعة ما كان لنفس ان تموت الا باذن الله تؤثرون الحيوة الدنيا ان المنايا لا تطيش سہامھا۔ السلام علیکم“ پیشاب کا سخت دورہ تھا۔ اچھا ہو گیا ۔ ”انی انا الرحمن لا يخاف لدى المرسلون قل الله ثم ذرهم فى خوضهم يلعبون طلع البدر علينا من بينات الوداع لا تخف انى لا يخاف وقالوا من ذا الذى يشفع عنده هيهات هيهات لما توعدون قل ان الله عزيز والاقتدار افلا تؤمنون قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون قل ما اريد لكم من امرى والحمد لله رب العالمين انا انزلنا فى ليلة القدر انا كنا منزلين۔ ياتيك نصرتى حسنت مستقرا ومقاما اذ كففت عن بنى اسرائيل اريد الخير يا أيها الناس اعبدوا ربكم الذى خلقكم۔ انى مهين انى مع الرسول اقوم۔ يدوم لا تقوموا ولا تقعدوا الا معه ولا تردوا موردا الا معى انى معك ومع اهلك۔ انى مع الرسول اقوم اما نرينك بعض الذى نعدهم او نتوفينك تموت وانا راض منك لا يقبل عمل مثقال ذرة من غير التقوى انك ء اعيننا سميتك المتوكل انفقوا فى سبيل الله ان كنتم مسلمين۔ رب اجلك المقدر ولا نبقى لك من المخزيات شيئا واخر دعواتنا ان الحمدلله رب العالمین“ یہ فقرہ الہام نمبر ٤٠٥ کے ساتھ دوبارہ نازل ہوا ۔ ”انزل فيها (مقبرہ بہشتی) كل رحمة كبرت فتنة جاء وقتك وينقى لك الايات باهرات قرب وقتك ونبغى لك ايات بينات“ بینات اور باہرات اسم حالیہ ہیں جو دوام وجود پر دال ہیں۔ (خوب بہت خوب) ”قال ربك انه نازل من السماء ما يرضيك رحمة منا وكان امرا مقضيا قرب ما توعدون۔ واما بنعمة ربك فحدث انه من يتق الله ويصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين۔ يا شمس يا قمر انت منى وانا منك (خوب ہے) انا نبشرك بغلام نافلة لك من عندى (مگر لڑکا پیدا نہ ہوا ١٩٠٦ء) انى مع الافواج الخ حرام على قرية ووضعنا عنك وزرك الله غالب على امره ننجيك من كربك قطع دابر القوم الذين لا يؤمنون۔ يوم

تأتى السماء بد وسكينة “ مراد سلسل فى السماء وبركات من كل امر ان رب العذاب ) رب سلط سخت زلزلہ کو تاخیر میں ڈا ارسل رسوله ..... الساعة يريكم الل انه لحق ولا ير الله ان يبعثك مق والنفوس تصـ پنجاب کے متعلق ۔ ”ذ الامرة وبعلها (م کی حالت میں ہوا ۔ ” ا الذين ظلموا انه لئے شفاعت مت کر الزلزلة اذا زلزلـ بغتة اريك زلزل الشباب سیاتی ء ” ان ک تین چار ماہ سے میر خدمت اسلام کے۔ لگتا تھا۔ جسم بالکل آخری وقت آ گیا تھ یہ بشارت آئی۔ ”وا مع الافواج بغـ

صفحہ ٥٠٧

تأتى السماء بدخان مبين وترى الارض يومئذ خامدة مصفرة سفينة وسكينة “ یہ الہام مکہ کی تختی پر ہے۔ ”رب اشف زوجتى هذه واجعل لها بركات فى السماء وبركات فى الارض ها انى اثرتك انى مع الافواج ولنجعل لك سهولة من كل امر ان ربك فعال لما يريد رب اخر وقت هذا (اى الزلزلة بتاويل العذاب) رب سلطنى على النار اى نار العذاب اخره الله الى وقت مسمى “ اس سخت زلزلہ کو تاخیر میں ڈال دیا گیا ۔ ” انا نبشرك بغلام نافلة “ پسر محمود مراد ہے۔ ” هو الذی ارسل رسوله ...... كله ان الله قد من علينا ياتيك الفرح رب ارنى زلزلة الساعة يريكم الله زلزلة الساعة اريك زلزلة يسئلونك احق هو قل ای وربی انه لحق ولا يرد (عذابه) من قوم يعرضون نصر من الله وفتح مبين اراد الله ان يبعثك مقاما محمودا. هو الذى ارسل رسوله. الامراض تشاع والنفوس تضاع “ یہ دوسری دفعہ الہام ہوا ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ قادیان کے متعلق ہے یا پنجاب کے متعلق ۔ ” تالله لقد اثرك الله وان كنا لخطئين انى حفيظك ويل لهذه الامرءة وبعلها (معلوم نہیں کہ یہ کون عورت ہے) اشفنى من لدنك وارحمنى “ بیماری کی حالت میں ہوا۔ ” انى مع الاكرام لولاك لما خلقت الافلاك، لا تكلمني في الذين ظلموا انهم مغرقون وعد علينا حق “ یعنی جو تیری جماعت سے بگڑیں ان کے لئے شفاعت مت کر غیر بھی خیال رکھیں اور جماعت میں داخل ہوں۔ ” هل اتاك حديث الزلزلة اذا زلزلت الارض زلزالها “ یعنی اکثر جگہ یوں ہوگا۔ ” انى مع الافواج اتيك بغتة اريك زلزلة الساعة انى احافظ كل من فى الدار “ ” ترد عليك انوار الشباب سياتى عليك زمن الشباب “

”ان كنتم في ريب ...... بشفاء من مثله روحها وريحانها “

تین چار ماہ سے میری حالت ایسی کمزور ہوگئی تھی کہ ظہر وعصر کے سوا نماز بھی گھر ہی پڑھتا تھا۔ خدمت اسلام کے لئے ایک دوسطر بھی لکھتا تو خطرناک دوران سر شروع ہوجاتا تھا اور دل ڈوبنے لگتا تھا۔ جسم بالکل بیکار ہوگیا تھا۔ جسمانی قوائے بالکل مضمحل ہوچکے تھے کہ مسلوب القویٰ ہوکر آخری وقت آگیا تھا۔ میری بیوی بھی دائم المریض تھی اور امراض رحم وجگر دامنگیر تھے تو دعاء کی اور یہ بشارت آئی۔ ” واذ قيل لهم لا تفسدوا فى الارض ، ادعونی استجب لكم . انى مع الافواج بغتة . انى احافظ كل من فى الدار رب ارنى كيف خلقت

صفحہ ٥٠٨

أدم ان الله على كل شئ قدير ان الله لا يخزى المؤمنين "ایک دفعہ بدن کا اسفل حصہ حرکت سے معطل ہوگیا اور یک قدم اٹھانا مشکل تھا۔ سخت درد تھی۔ خیال تھا کہ فالج ہے۔ تب دعاء سے نجات ہوئی۔ "شفیع الله "یہ میرا نام ہے۔ "انى مع الروح اتيك بغتة بلجت اياتى وبشرالذين امنوا ان لهم الفتح علم الدرمان “۔

ان المنايا لا تطيش سهامها
ان المنايا قد تطيش سهامها

”اما نرينك بعض الذى نعدهم ياتيك من كل فج عميق يأتون من كل فج عميق ياتيك رجالا نوحى اليهم من السماء “ فتوحات مالیہ مراد ہیں۔ ” ينصركم الله فى دينه اتقنط من رحمة الله الذى يربيكم فى الارحام“ لنگر خانہ کا خرچ پندرہ سو سے بھی زیادہ بڑھ گیا۔ قرضہ لیں تو وہ بھی ایک ماہ میں خرچ ہو جائے گا تو یہ الہام ہوا: "رب لا تذر على الارض من الكافرين ديارا ما ننسخ من اية رب احفظنى فان القوم يتخذوننى سخرة يكرمك الله اكراما عجبا اليس الله بكاف عبده (١٩٠٧ء) انى انا الرحمن اصرف عنك سوء الاقدار۔ انما يريد الله بكم اليسر الحق بشيعة موسى ورضى الله به قولا۔ انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت دعنى اقتل كل من اذاك ان العذاب مريع ومدبر۔ كل الفتح بعده مظهر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء مع (خواص) الناس والعامة لولا الاكرام لهلك المقام" یعنی میری جماعت کے لوگ بھی طاعون سے مریں گے اور قادیان کا طاعون سے استیصال نہ ہوگا۔ "يا عيسى انى متوفيك ورافعك الى انت منى وانا منك ظهورك ظهورى انت الذى طار الى روحه انى انا الله ذوالجود و العطاء انزل الرحمة على من اشاء والضحى ...... الاولى والله لولا اكرام لهلك المقام۔ اكرام تسمع به الموتى۔ علمه عند ربى لا يضل ربى ولاينسى لا تطاء قدم العامة قدم النبى بلغت قدم الرسول۔ انى على كل شئ قدير كل واحد منهم فلج۔ انقلب۔ على عقبيه۔ لقد اثرك الله علينا۔ انى مع الرسول اقوم يدوم اجيب دعوة الداع۔ سلام عليك ياتيك تحائف كثيرة سننجيك سنعليك سنكرمك اكراما عجبا عمره الله على خلاف التوقع۔ امرہ الله على خلاف التوقع۔ء انت لا تعرفين القدير۔ مرادك حاصل الله خير

حافظا وهو ارحم الـ باكرام منا۔ سلام انـ (عليه السلام) اقع ان من ربهم يوم تاتى السـ واقع لا تحزن ان الله خفيا۔ انى معك يا ابـ افمن يجيب المضطر اذا فى نصرته۔ لكم البشرى اهلك انى معك يا ابراهـ لا يخزى عبدى ولا يـ خرمن السماء انى مـ وضعنا....... ذكرك قذف ساحر ولا يفلح الساحـ النجم الثاقب۔ جاء والمعتر “ جلسہ پر کچھ بھو ومع اهلك انى معك فى من الله وفتح قريب نعدهم او نتوفينك اهلك هذه ملعونين مسيح الله عدوانا ظفر

الہام عربی پر تنقید

ا...... ان مقابلہ میں اپنے بھی تو دوں درمیان میں نہیں یہ محمد ثانی اہل حق اسے برداشت نہیں اگر مسلمان پھر وہی مشرکانہ

صفحہ ٥٠٩

حافظا وهو ارحم الراحمين۔ خير لهم خير لهم شرفنا بكلام منا شرفنا باكرام منا۔ سلام انی مبشّر۔ ان الله معنا اني مع الله ان خبر رسول الله (عليه السلام) اقع ان الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله سينالهم غضب من ربهم يوم تاتى السماء بدخان مبين ”یعنی قحط پڑے گا ۔“ ان خبر رسول الله واقع لا تحزن ان الله معنا۔ ان ربی کریم قرین انه فضل ربى انه كان بي حفيا۔ انى معك يا ابرهيم لا تخف صدقت قولى۔ سينالهم غضب من ربهم افمن يجيب المضطر اذا دعاه قل الله ثم ذرهم من كان في نصرة الله كان الله في نصرته۔ لكم البشرى فى الحيوة الدنيا، والضحى...... ما قلى انی معك ومع اهلك انی معك يا ابراهيم۔ انی مبارک ما بقی لی هم بعد ذلك انى انا الرحمن لا يخزى عبدى ولا يهان عشقك قائم ووصلك دائم۔ من عاد اولیا لی فكانما خر من السماء انى موجود فانتظر لا يهد بناؤك وتوتى من رب كريم وضعنا....... ذكرك قذف فى قلوبهم الرعب وعد غير مكذوب۔ انما صنعوا كيد ساحر ولا يفلح الساحر حيث اتی۔ انت منى بمنزلة روحی۔ انت منی بمنزلة النجم الثاقب۔ جاء الحق وزهق الباطل۔ يا أيها النبي اطعموا الجائع والمعتر ” جلسہ پر کچھ بھوکے رہ گئے تو آپ نے الہام پا کر ان کو پھر کھانا کھلوایا۔“ انى معك ومع اهلك انى معك في كل حال وعند كل مقال۔ انت معك في كل موطن نصر من الله وفتح قريب وهم من بعد غلبهم سيغلبون واما نرينك بعض الذى نعدهم او نتوفينك نصركم الله نصرا۔ انى معك يا ابراهيم۔ انى معك ومع اهلك هذه ملعونين اينما ثقفوا اخذوا۔ ان الصفا والمروة من شعائر الله يا مسیح الله عدوانا ظفركم الله ظفرا مبينا۔ انا فتحنا لك فتحا مبينا“

الہام عربی پر تنقید

مقابلہ میں اپنے بھی نودونہ نام پیش کرے۔ اگر کوئی تاڑ جائے گا تو کہہ دیں گے کہ میری ہستی درمیان میں نہیں یہ محمد ثانی کے ہی نام ہیں۔ یہ بہانہ وحدت وجودیوں نے خوب نکالا ہوا ہے۔ مگر اہل حق اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ایسے بہانوں کی تردید میں تو سارا قرآن بھرا پڑا ہے۔ اگر مسلمان پھر وہی مشرکانہ تعلیم پھیلانے لگے تو اسلام اور کفر میں کیا فرق رہا اور بت پرستی اور خدا

صفحہ ٥١٠

پرستی میں کس طرح امتیاز ہو سکے گا۔

سے قطع و برید نہیں کی ایسی کمزور یا غلط ہے کہ کوئی عربی تعلیم یافتہ اپنی زبان پر نہیں لاسکتا اور ”کلمو الناس علی قدر عقولهم“ کے مطابق خدا مجبور ہو گیا تھا کہ وہ تھرڈ کلاس عربی میں الہام بھیجے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کو عربی مبین میں نطق کرنے کی ابھی لیاقت حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اگر آپ سوچ سے کام لیتے تو پہلے فصیح عربی کی لیاقت پیدا کر لیتے ۔ تب الہام شروع کرواتے۔ اب کیسی شرم کی بات ہے کہ خدا کو بھی غلط گو یا نا آموز ثابت کر دکھلایا ہے اور اپنی لیاقت کا بخیہ خود ہی ادھیڑ ڈالا ہے۔ کیا بہتر ہوتا کہ یہ سلسلہ شروع ہی نہ کرتے۔

شریف پر بھی وارد ہوتے ہیں۔ مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خیال صرف ان لوگوں کا ہے جو خود عربیت سے پوری واقفیت نہیں رکھتے اور نیم ملا بن کر خطرۂ ایمان ثابت ہورہے ہیں۔ ورنہ یہ عربیت یوں کہنے پر اہل علم کو مجبور نہیں کرتی کہ اگر آپ کو عربی لکھنا نہیں آتا تھا تو کیوں عربی الہام وغیرہ لکھنے بیٹھ گئے؟ سمرقندی بچہ اور عربی الہام؟ پھر لکھتے ہیں یہ سمجھ میں نہیں آیا وہ مشتبہ ہے۔ فلاں کے معنی نہیں آتے۔ سمجھ میں کیا آئے خاک؟ غور کرنے کا مقام ہے کہ سمرقند سے ہند میں آئے۔ آپ کو پشتہا پشت ہوگئیں۔ (دیکھو سلسلہ نسب مرزا) مادری زبان تو اس طرح گئی، عربی میں جو لیاقت ہے وہ ناظرین خوب جانتے ہیں۔ پہلے ان کے خدا نے عربی میں الہام اتارا (عشم عشم عشم) تو آپ بہت پریشان ہوئے تو اب ان کے خدا کو بھی بڑی مشکل درپیش آئی۔ کیونکہ جو زبانیں مرزا قادیانی جانتے ہیں وہ خدا نہیں جانتا۔ (معاذ اللہ ) اور جس زبان میں الہام ہوتا ہے وہ مرزا قادیانی کی سمجھ نہیں آتا وہ بھی آخر خدا تھا۔ اس نے ایک نئی زبان ایجاد کر ڈالی جس کا نام ” قادیانی عربی“ تجویز ہوا۔ بظاہر وہ عربی نما تھی۔ لیکن معانی جو مرزا قادیانی کریں وہی صحیح ہیں اور وہ یقیناً خدا ہی کے سکھائے ہوئے معانی ہوتے تھے۔ اب مرزا قادیانی رہے نہیں دنیا بھر میں کوئی اور شخص یہ زبان جانتا نہیں ہم یہ تعلیم کس سے حاصل کریں؟ صاف ظاہر ہے کہ جس طرح مرزا قادیانی نہیں رہے ان کی زبان نہ رہی۔ اسی طرح ان کا مذہب بھی باقی نہیں رہے گا۔ انشاء اللہ!

اردو الہام

اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیرا پڑ جاتا۔ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور

صفحہ ٥١١

وہ تجھے برکت دے گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ بست و یک روپیہ آنے والے ہیں۔ بست و یک روپیہ آئے ہیں۔ ایک مقدمہ درپیش تھا۔ مجھے الہام ہوا کہ ڈگری ہوگی۔ مگر لوگ نہ مانے۔ مجھے بھی شک ہوا تو خدا نے کہا کہ تو مسلمان ہے؟ تو میں نے یقین کر لیا۔ وید گمراہی سے بھرا ہوا ہے۔ اگر تمام لوگ منہ پھیر لیں تو میں زمین کے نیچے سے یا آسمان کے اوپر سے مدد کر سکتا ہوں۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کی برائیوں کا وبال جلد تر اسے (مرزا نظام الدین کے) درپیش ہے۔ اس سفر (موضع کنجراں ضلع گورداسپور) میں تمہارا یا تمہارے رفیق کا کچھ نقصان ہوگا۔ (تو حامد علی کی چادر اور ہمارا رومال کھویا گیا) پٹیالہ سے واپس آئے تو الہام ہوا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ ہم و غم پیش آئے گا۔ چنانچہ ٹکٹ لینے لگے تو رومال ندارد موضع دوراہہ کے سٹیشن پر پہنچے تو ہمیں لدھیانہ بتایا گیا۔ اتر پڑے تو گاڑی چلی گئی۔ دیکھ میں محمود دیکھ میں تیری دعاؤں کو کیسے جلد قبول کرتا ہوں۔ (پچاس روپے کی ضرورت تھی قادیان سے بٹالہ کی طرف تین میل کے فاصلہ پر نہر کے کنارہ پر جا کر دعاء کی تو الہام ہوا اور دوسرے دن روپے مل گئے) یہودا اسکریوطی ، لوگ آئے اور اس کو پکڑ بیٹھے شیر خدا نے ان کو پکڑا اور شیر خدا نے فتح پائی۔ آریوں کا بادشاہ آیا ہے، کرشن جی رودر گوپال، خدا قادیان میں نازل ہوگا۔ آگ سے ہمیں مت ڈرا۔ آگ ہماری بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ۔ خدا تین کو چار کرے گا۔ ایک امیر نو وارد پنجابی الاصل کی نسبت متوحش خبریں۔

نصف ثانی

ماجھے خان کا بیٹا شمس الدین پٹواری ضلع لاہور سے بھیجنے والے ہیں۔ تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ میں واقع ہوا) میں نے مبارک کر دیا۔ تجھے قربت کا نشان دیا جاتا ہے۔ فتح وظفر کی کلید تجھے دی جاتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام تا کہ اسلام کا شرف ظاہر ہو۔ تجھے بشارت ہو کہ تجھے ایک وجیہ اور ایک پاک لڑکا دیا جائے گا۔ ذکی غلام (بیٹا) تجھے ملے گا۔ وہ تیرے ہی تخم سے ہوگا۔ تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عمانوائیل اور بشیر بھی ہے۔ اسے مقدس روح دی گئی۔ رجس سے پاک ہے نور اللہ ہے مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا۔ مسیح نفس سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کر دے گا۔ کلمتہ اللہ ہے۔ سخت ذہین وفہیم ہوگا۔ دل کا حلیم علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔ تین کو چار کرنے والا ہوگا۔ دوشنبہ ہے۔ مبارک دوشنبہ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاوّل والآخر مظہر الحق والعلاء كأن الله نزل من السماء جس کا نزول مبارک اور موجب ظہور جلال الٰہی ہوگا۔ نور آتا ہے نور۔ جس کو خدا

صفحہ ٥١٢

نے اپنی رضامندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ جلد بڑھے گا۔ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اسے اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔'' وکان امر اللہ مقضیا “ تیرا گھر برکتوں سے بھرے گا۔ خواتین مبارکہ سے تیری نسل بہت ہوگی۔ نسل بہت بڑھاؤں گا۔ کچھ بچپن میں بھی مریں گے۔ تیری نسل ملکوں میں بھی پھیل جائے گی۔ تیرے جدی بھائیوں کی ہر ایک شاخ کاٹی جائے گی۔ توبہ نہ کریں گے تو بہت نابود ہو جائیں گے۔ رجوع کریں گے تو خدا رحم کرے گا۔ تیری ذریت منقطع نہیں ہوگی۔ تیرے نام انقطاع دنیا تک عزت کے ساتھ قائم رکھے گا۔ تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دوں گا۔ تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اٹھائے گا۔ جو تیری ذلت اور تباہی کے خواہاں ہیں وہ خود نامرادی میں مریں گے۔ خدا تجھے بکلی کامیاب کرے گا۔ تجھے ساری مرادیں دے گا۔ میں یہ خالص محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا۔ ان کے مال و جان میں برکت ہوگی۔ منکروں پر غالب رہیں گے تو مجھے ایسا ہے کہ جیسے انبیاء بنی اسرائیل۔ بادشاہوں اور امیروں کے دل میں تیری محبت ڈالے گا اور وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔

اے منکرو! اگر تم میرے بندے کی نسبت شک میں ہو تو اس نشان رحمت کی مانند تم بھی دکھلاؤ۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا، نازل من السماء ونزل من السماء “ (پہلے نو برس کی خبر ملی تھی اب نو ماہ کی خبر ملی ہے مگر جو لڑکا آیۃ اللہ ہو گا وہ معلوم نہیں کہ کب پیدا ہوگا ) اکیس ماہ تک ان پر ( یعنی مرزا امام الدین و نظام الدین ) پر ایک سخت مصیبت پڑے گی ۔ ( تو نظام الدین کی لڑکی پچیس سالہ مرگئی ) ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا ۔ جس کا نام محمود ہے اور وہ اولوالعزم ہوگا۔ پاس ہو جائے گا ( تو میرا بیٹا تحصیلداری میں پاس ہو گیا ) دشمن کا بھی خوب وار نکلا۔ (بشیر کی جگہ لڑکی پیدا ہوئی تو لوگوں نے مخول کیا تھا ) جب کفار کو رجس شرالبریہ ذریۃ الشیطان وغیرہ کہا گیا تو ابوطالب کو دشنام دہی سے روکا۔ مگر حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ اظہار واقعہ ہے۔ دشنام نہیں، تو مدد چھوڑنے کو تھا۔ مگر آب دیدہ ہو کر پھر آمادہ ہو گیا۔ ان علماء نے گھر کو بدل ڈالا ۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں۔ میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں اور چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں۔ ( مراد اس زمانہ کے مولوی ہیں ) نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ بندگان خدا کو زیادہ صاف کر رہا ہے۔ اس سے زیادہ کہ جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو ۔ (١٨٩٢ء) اب اے مولویو! اے بخل کی سرشت

صفحہ ٥١٣

والو اگر طاقت ہے تو خدا تعالیٰ کی ان پیشین گوئیوں کو ٹال کر دکھلاؤ۔ ہر ایک قسم کے فریب کام میں لاؤ اور کوئی فریب باقی نہ رکھو۔ پھر دیکھو کہ خدا کا ہاتھ غالب رہتا ہے یا تمہارا۔ میں تجھے عزت دوں گا اور بڑھاؤں گا۔ تیرے آثار میں برکت رکھ دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا۔ یہاں تک کہ بادشاہ۔

چل رہی ہے نسیم رحمت کی
جو دعا کیجئے قبول ہے آج

سید محمد حسین وزیر پٹیالہ غم میں مبتلا تھے تو میری دعاء سے رہائی ہوئی۔ (١٨٩٣ء) ٢٠ فروری ١٨٩٣ء سے چھ برس تک یہ شخص لیکھرام اپنی بدزبانیوں کی سزا میں جو حضور ﷺ کے حق میں کی ہیں۔ شدید مرض میں مبتلا ہو جائے گا۔ (یہ الہام میرا معیار صداقت ہے) ٧؍مارچ ١٨٩٧ء کو بمقام لاہور وہ قتل ہو گیا۔ اس بحث میں جو فریق عمداً جھوٹ اختیار کر رہا ہے پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور دوسرا فریق عزت پائے گا اور بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔ عبداللہ آتھم پشاور کو جب یہ الہام دس بجے جلسہ گاہ میں سنایا گیا تو ڈر کر کہنے لگا کہ میں حضور ﷺ کو مفتری اور دجال نہیں سمجھتا۔ اس لئے تاخیر سے مستفید ہوا۔ پھر جب عیسائیوں نے برانگیختہ کیا اور اس نے چار ہزار روپے دینے تک بھی اظہار خوف نہ کیا تو ایک سال تک نہ مرا۔ جنگ مقدس سے پہلے ڈاکٹر ہنری مارٹن کو مباہلہ کی دعوت دی اور کہا کہ مسیح انسان تھے مگر سچے مرسل برگزیدہ نبی بھی تھے جو مسیح کو دیا گیا۔ وہ بمتابعت حضور ﷺ مجھے دیا گیا اور تو مسیح موعود ہے اور تیرے پاس ایک نورانی حربہ ہے جو ظلمت کو پاش پاش کرے گا اور صلیب توڑے گا۔ مگر عیسائی مقابلہ پر نہ نکلے۔ (١٨٩٣ء) مسیح موعود کی روحانی لڑائیاں ہیں۔ آتھم نے مہلت پائی تو سعد اللہ نے استہزاء کا اشتہار دے کر دجال کہا تو مجھے الہام ہوا کہ اے عبداللہ تو مجھ سے نہیں خدا سے لڑ رہا ہے۔ خدا نے کہا ہے کہ: ’’ان شانئک ھو الابتر‘‘ تو سعد اللہ جنوری ١٩٠٧ء میں پلیگ سے مرا۔ جب کہ وہ اپنے پندرہ سالہ لڑکے کی شادی میں مصروف تھا اور وہ لڑکا لاولد رہا۔ اگر آتھم اپنے دعویٰ میں سچا ہے کہ اس نے رجوع نہیں کیا تو وہ عمر پائے گا۔ جھوٹا ہے تو جلد مر جائے گا۔ (١٨٩٥ء) ’’یوم یقوم الروح والملئکۃ‘‘ میں روح سے مراد رسول اور محدث ہیں۔ جن پر روح القدس ڈالا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ہم کلام ہوتے ہیں اور بمحاورہ قرآنی روح بمعنی ارواح ہے۔ نور القرآن لکھی تو عمادالدین پادری کے متعلق الہام ہوا تو اس کی مثل پر قادر نہیں ہوگا۔ خدا تجھے عاجز اور رسوا

صفحہ ٥١٤

کرے گا۔ تیری قوم تجھ سے متفق بھی ہو جائے۔ مگر آخر تم مغلوب ہو جاؤ گے ۔ نور الحق کے متعلق الہام ہوا۔ کافر اور مکفر اس پر قادر نہ ہوں گے کہ اس کتاب کی مثل نثر اور نظم معہ التزام معارف و احکام تالیف کر سکیں ۔ کسوف وخسوف کی تشریح بذریعہ الہام ہے ۔ کرامات الصالحین میں سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے ۔ مکفرین کے مقابلہ پر ایک ہفتہ میں لکھی گئی ہے اور ان کو ایک ماہ کی بھی مہلت دی ۔ مگر وہ قاصر رہے ۔ (١٨٩٦ء) جلسہ مذاہب ، لاہور میں ہوا تو الہام ہوا کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا ۔ نیک اور ابرار کے درجات اخروی کی تشریح (١٨٩٧ء) پھر ایک دفعہ ہندو مذہب کا رجوع اسلام کی طرف بڑے زور کے ساتھ ہوگا ۔ خدا کا یہی ارادہ ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا۔ وہ کاٹا جائے گا ۔ بادشاہ ۔ یا غیر بادشاہ ۔ سلطان روم کی حالت اچھی نہیں ارکان کی حالت اچھی نہیں۔ میرے نزدیک انجام نہیں ۔ تم پاس ہو گئے ہو ۔ (مرزا یعقوب بیگ نے آخری امتحان دیا تو یہ الہام ہوا تھا) میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ (١٨٩٨ء) خدا نے ارادہ کیا ہے کہ تیرا نام بڑھائے اور تیرے نام کی چمک آفاق میں دکھائے ۔ آسمان سے کئی تخت اترے ۔ مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا ۔ دشمنوں سے ملاقات کرتے وقت ملائکہ نے تیری مدد کی ۔ قیصر ہند کی طرف سے ایک شکریہ یہ مشابہات میں سے ہے ۔ مبشروں کا زوال نہیں ہوتا ۔ گورنر جنرل کی پیشین گوئیوں کے پورے ہونے کا وقت آ گیا ۔ (١٩٠٠ء) مبارک وہ آدمی جو اس دروازہ کی راہ سے داخل ہو ۔ (مراد ایوب بیگ کی وفات ) ۔

قادر کے کاروبار نمودار ہوگئے
کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہوگئے
کافر جو کہتے تھے وہ نگونسار ہوگئے
جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہوگئے

(مراد اتمام حجت ہے ) اچھا ہو جائے گا ۔ مراد نور محمد مالک ہمدم ۔ (١٩٠٠ء) آج سے یہ شرف دکھائیں گے ہم ۔ اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے۔ (مراد تقویٰ ہے ) سب سے بہتر اور تیز تر وہ تلوار ہے جو تیری تلوار میرے پاس ہے ۔ یعنی سیف یا حربہ قلم ۔ حقیقت میں ہزار سالہ موت کے بعد جو اب احیاء ہوا ہے ۔ اس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہیں ۔ یعنی جیسے مسیح بن باپ پیدا ہوا اور اس کی حیات میں کسی انسان کو دخل نہ تھا۔ ویسے ہی یہاں بدوں کسی استاد یا مرشد کے خدا نے روحانی زندگی عطاء کی ۔ فریمیسن مسلط نہیں کئے جائیں گے کہ اس کو ہلاک کریں۔ پوڑی یعنی روح آسمانی آئی اور آسمان پر ہی جائے گی ۔ عدالت عالیہ سے اسے بری کیا ہے۔ نواب مبارکہ بیگم یعنی

صفحہ ٥١٥

مبارکہ بیگم نواب سے بیاہی گئی۔ اس کتے کا آخری دم ہے۔ افسوس صد افسوس۔ نتیجہ خلاف مراد ہوا یا نکلا۔ آخری لفظ یاد نہیں رہا۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔ (١٩٠٣ء) اے ازلی ابدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ (یعنی میری مدد کر) استقامت میں فرق آ گیا۔ طاعون کا دروازہ کھولا گیا۔ آثار صحت (معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے) مجموعہ فتوحات بلا یا نازل یا حادث یا (معلوم نہیں کہ یا کے بعد کیا تھا) عنقریب ایسا ہو گا کہ شریر لوگ جو رعب داب رکھتے ہیں گم ہوتے جائیں گے۔ عرب کی خبر گیری کرو اور ان کو راہ بتاؤ۔ خدا کی پناہ میں عمر گزارو۔ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آ گیا۔ قریب ہے کہ دنیا میں صرف اسلام ہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ دیکھا جائے گا اور جو اسے معدوم کرنا چاہے گا اس کا نام نہ رہے گا۔ یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا۔ یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی۔ یاد رکھو آسمان سے کوئی نہیں اترے گا۔ تمہاری اولاد در اولاد بھی عیسیٰ کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گی تو لوگ گھبرائیں گے کہ صلیب کا غلبہ بھی گزر گیا مسیح کیوں نہ اترا۔ آج کے دن سے تیسری صدی ابھی پوری نہیں ہوگی کہ لوگ اس جھوٹے عقیدے کو چھوڑ دیں گے۔

دنیا میں ایک ہی مذہب ہوگا اور ایک ہی پیشوا (یعنی میں اور میری تعلیم) میں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں۔ اب وہ تخم بڑھے گا پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ جس مذہب میں خدا کے ساتھ مکالمہ نہیں وہ مذہب مردہ ہے۔ ابھی تم میں سے لاکھوں اور کروڑوں انسان زندہ ہوں گے کہ آریہ مذہب کو نابود ہوتے دیکھ لو گے۔ تم خوشی سے اچھلو خدا تمہارے ساتھ ہے۔ کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔ گالیاں سنو چپ رہو۔ ماریں کھاؤ۔ صبر کرو۔ بدی کے مقابلہ سے حتی المقدور پرہیز کرو۔ کابل کی زمین دیکھ لے گی کہ عبدالطیف کا خون کیسے کیسے پھل لائے گا۔ عبدالرحمان مارا گیا تو خدا چپ رہا۔ مگر اب چپ نہیں رہے گا۔ اس نادان امیر نے کیا کیا کہ ایسے معصوم کو قتل کر کے اپنے آپ کو تباہ کر لیا۔ اے بدقسمت زمین کابل تو خدا کی نظر سے گر گئی۔ آگ سے ہمیں مت ڈرا۔ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام۔ (١٩٠٣ء) ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت۔

خدا تیری ساری مرادیں پوری کرے گا۔ بہت حادثات اور عجیب کاموں کے بعد تیرا حادثہ ہوگا۔ (١٩٠٥ء) خاکسار پیپرمنٹ ماتا موتی لگ رہی ہے۔ وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے۔ چوہدری رستم علی۔ موت دروازہ پر کھڑی ہے۔ ہم نے وہ جہان چھوڑ دیا ہے۔ (یہ روح کی آواز ہے) ہے سر راہ پر تمہارے وہ جو ہے مولا کریم۔ بھونچال آیا اور بڑی شدت سے آیا۔ بادشاہ وقت پر جو تیر چلاوے اسی تیر سے وہ مارا جائے۔ کیا عذاب کا معاملہ درست ہے اگر درست ہے تو کس حد

صفحہ ٥١٦

تک۔ عبدالقادر رضی اللہ عنہ، اللہ اکبر، مضر صحت، خدا نے اس کو اچھا کرنا ہی تھا بے نیازی کے کام ہیں۔ (باغ میں چار بیمار تھے ایک کی موت یقینی تھی مگر وہ بچ گیا تو معلوم ہوا کہ اس کی تقدیر اصلی طور پر مبرم نہ تھی ورنہ توجہ دلی صاحب الحال سے بھی نہ ٹلتی ) محمد ضج تیرے لئے تیرا نام چمکا، پہاڑ گرا تو جانتا ہے میں کون ہوں۔ میں خدا ہوں جس کو چاہتا ہوں عزت دیتا ہوں اور جس کو چاہتا ہوں ذلت دیتا ہوں۔ ٤٧ سال کی عمر انا للہ یہ خدا کا کلام ہے۔ اللہ اکبر زندگیوں کا خاتمہ۔ کمبل میں لپیٹ کر صبح قبر میں رکھ دو۔ میں تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کروں گا اور اس کو اپنے قرب اور وحی سے مخصوص کروں گا اور اس کے ذریعہ سے حق ترقی کرے گا اور بہت سے لوگ سچائی کو قبول کریں گے۔ (١٩٠٦ء) تین بکرے ذبح کئے جائیں گے۔ ٢٥ فروری کے بعد جانا ہوگا۔ اٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں۔ پہلے بنگال کی نسبت جو حکم جاری کیا گیا تھا۔ اب ان کی دلجوئی ہو گئی۔ کرنی نوٹ۔ دیکھو میرے دوستو۔ اخبار شائع ہو گیا۔ (اخبار سے مراد خبر ہے ) بشیر الدولہ، دردناک دکھ اور دردناک واقعہ۔ میری بیوی یکا یک مرگئی۔ زلزلہ آنے کو ہے۔ پچاس یا ساٹھ نشان دکھلاؤں گا۔ کلیسیا کی طاقت کا نسخہ ۔ کشتیاں چلتی ہیں تاہوں کشتیاں۔ اب تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔ زندگی کے آثار ( یہ سیٹھ عبدالرحمان مدراسی کا تار تھا ) زلزلہ آنے کو ہے۔ ایک دم میں دم رخصت ہوا۔ (معلوم نہیں کس کے متعلق ہے۔ باقی الہام بھول گیا آج کل کوئی نشان ظاہر ہوگا۔ خبر موت ١٣ ماہ حال کو ) ( معلوم نہیں کس کے متعلق ہے ) اے عبدالحکیم خدا تجھ کو ہر ایک ضرر سے بچاوے۔ اندھا ہونے مفلوج ہونے اور مجذوم ہونے سے قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بنادے۔ بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے۔ کمترین کا بیڑہ غرق ہو گیا۔ (کسی کی آواز ہے ) تیری دعاء قبول کی گئی۔ (١٩٠٧ء) روشن نشان۔ ہماری فتح ہوئی۔ تحفۃ الملوک۔ ہزاروں آدمی تیرے پیروں کے نیچے ہیں۔ دہلی میں داخل ۔ جہنم واصل خان فوت ہو گیا۔ زلزلہ اس طرف چلا گیا ۔ آج ہمارے گھر میں پیغمبر ﷺ آئے۔ آ گئی عزت اور سلامتی ۔ قبول ہوگئی۔ نو دن کا بخار ٹوٹ گیا۔ (مراد مبارک احمد ) ایک وباء پڑے گی۔

اردو الہام پر تنقید

مطالب کا اظہار فرمایا ہے۔ شاید اس لئے کہ ملہم اہل تسوید میں سے نہ تھا تو بھلا ملہم کو سلطان القلم کا خطاب کیوں دیا جاتا ہے؟ غالباً اس لئے کہ غلط سلط ایسی کتابیں اور سینکڑوں اشتہار لکھ مارے

صفحہ ٥١٧

تھے۔ مگر صرف لکھنے سے سلطان القلم کا خطاب نہیں مل سکتا۔ ورنہ ملاپ و پرتاپ اخبار کا ایڈیٹر بھی اس خطاب کا حقدار ہوگا۔

کچھ اپنی کامیابی پر اظہار افتخار ہے۔ ورنہ ان میں کوئی روح صداقت نہیں ملتی۔ کیونکہ اس قسم کے گول مول الہام اور تعلی آمیز مضامین ان لوگوں کے تبلیغی رسائل میں بھی درج ہیں۔ جو آپ کے بعد نبوت کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں۔

گا کہ شان نبوت یوں ہوا کرتی ہے؟ اخبار بالغیب کس صفائی سے مذکور ہیں۔ علم ماکان وما یکون کا اظہار کس طرح کیا گیا ہے۔ الہامات قادیانیہ اور حضور کی اخبار بالغیب بالمقابل رکھ کر موازنہ کریں تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ؎

شیر بمبئی دیگر و شیر نیستاں دیگر است

دعویٰ تو یہ تھا کہ حضور جب قادیان میں کرشن اوتار بن کر آئے ہیں ؎

تو آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

مگر تجربہ نے ثابت کر دیا کہ یہ دعویٰ غلط تھا۔ زبانی باتیں ہی تھیں اور اس کرشن اوتار نے قلمی اور قولی میدان میں جو ظلم وستم کے گدھے ہانکے ہیں ان سے تو اس شہسوار میدان فصاحت رائض مضمار جوامع الکلم سیدنا ومولانا وامامنا وملجانا صلی اللہ علیہ وسلم ؎

ہزار بار بشویم دہن بمشک وگلاب
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است

کے غبار کا تتبع بھی نہیں ہوسکتا۔ بھلا کہاں ایک پنجابی الفطرۃ مغل بچہ اور کہاں وہ باعث تخلیق عالم، افصح العرب صلوات اللہ علیہ ؎

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

اگر افسوس ہے تو ان مسلمانوں پر کہ جن کو عربی فارسی اور اردو میں ایک سطر بھی لکھنا یا سمجھنا نہیں آتا۔ وہ مفتی اردو بن کر فتویٰ جاری کر دیتے ہیں کہ تعلیم قادیانی اپنی فصاحت وبلاغت میں لاجواب ہے اور اس پر نکتہ چینی کرنا گویا نعوذ باللہ قرآن پر نکتہ چینی کرنے کے برابر ہے۔ یہ قول اگر مسلم الثبوت شخصیت کا ہوتا تو قابل توجہ بھی تھا۔ مگر اندھوں میں کانا راجا۔ اہل بصیرت مانیں تو کیسے مانیں؟ ”فذرہم فی طغیانہم یعمھون“

صفحہ ٥١٨

پنجابی الہام

عشق خدا داد سے مونہہ ولیاں ایہ نشانی (نصف ثانی) میں کوئی نہیں کہہ سکدا کہ ایسی آئی۔ جس نے ایہ مصیبت پائی۔ (مراد مبارکہ بیگم) بیہوشی پھر غشی پھر موت۔ (جمعہ کے دن مہندی لگا کر بیٹھے تھے تو بوڑے خان قصوری کے متعلق خبر مرگ کا الہام ہوا) جے رودھر گوپال تیری استت گیتا میں لکھی ہے۔

ناظرین! چند پنجابی فقرے الہام مرکب میں بھی گذر چکے ہیں۔ جن کو یہاں پر ملانے سے ہم خیال کر سکتے ہیں کہ ہیر وارث شاہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی پنجابی نثر کا لگا کھا سکتے ہیں اور ملہم کو خود بھی اعتراف ہے کہ میری اصلی غرض شعر نہیں بلکہ اصل مقصد اپنی تبلیغی جدوجہد ہے اور یہ جس قدر الہامات کی صورتیں اختیار کی گئی ہیں ان سے صرف یہی غرض ہے کہ سامعین کو دلچسپی پیدا ہو۔ اصل میں ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا والا معاملہ ہے۔ کیونکہ ملہم کا خاندان عموماً شاعر ہے آپ بھی قبل از نبوت اشعار میں فرخ تخلص باندھ کر مجلس مشاعرہ میں حاضر ہوتے رہے۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ آپ کو فن شاعری میں پاسنگ مارکس بھی نہیں ملے تھے۔ لیکن آپ کی جدوجہد میں کوئی شک نہیں۔

فارسی الہام

شخصے پائے من بوسید من گفتم کہ سنگ اسودم۔ بحسن قبولی دعاء بنگر کہ زچہ زود دعاء قبول میکنم۔ از بر خویش محمد احسن را۔ تارک روز گار مے بینم۔ ہمیشہ ستان عشرت را۔ (لدھیانہ کے سفر میں امام بیبی شریک جائیداد کے متعلق الہام ہوا کہ) نصف ترا نصف عمایق را۔ (تو وہ مرگئی اور ہمیں اس کی نصف جائداد مل گئی) عبداللہ سنوری کی منگنی چھوٹی تو الہام ہوا۔

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
طریق زہد و تعبد ندانم اے زاہد خداے من قدمم راندہ بر رہ داؤد۔

نصف ثانی

ہرچہ باشد نوعروسی را ہماں ساماں کنم
آنچہ مطلوب شما باشد عطائے آں کنم

(تو خاندان میر درد میں میری دوسری شادی ہوئی ) (١٩٠١ء)

سال دیگر را کہ مے داند حساب
تا کجا رفت آنکہ باما بود یار

سلامت بر تو اے مرد سلامت۔ السلام علیکم۔ سلطان القلم۔ دلم مے بلرزد چو یاد آورم۔

صفحہ ٥١٩

مناجات شوریدہ اندر حرم ۔ شوریدہ سے مراد دعاء کرنے والا ہے۔ اور حرم سے مراد غالباً قادیان ہے۔ راہگرائے عالم جاودانی شد۔ سرانجام جاہل جہنم بود کہ جاہل نکو عاقبت کم بود۔ (١٩٠٣ء) عود صحت (یہ الہام درد گردہ کے بعد ہوا) خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود۔ (١٩٠٤ء) رسید مژدہ کہ ایام نو بہار آمد۔ (١٩٠٥ء) شکار مرگ۔

امن است در مکان محبت سرائے ما

تو در منزل ما چو بار بار آئی۔ خدا ابر رحمت ببارید یانے رسید مژدہ کہ آں یار دلپسند آمد۔

رسید مژدہ کہ دیوار از میاں برخاست۔ دست تو دعائے تو رحم از خدا۔ (١٩٠٦ء) تزلزل در ایواں کسریٰ فتاد (یعنی شاہ ایران تخت سے اتارا گیا)۔

چو دور خسروی آغاز کردند
مسلمانرا مسلماں باز کردند

خدا قاتل تو باد۔ مرا از دست تو محفوظ دارد۔ (١٩٠٧ء) آید آں روز یکہ متخلص شود۔

ناظرین! ان الہامات کو کتاب ایقان مؤلفہ بہاء اللہ کے سامنے رکھ کر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت بہاء سے بہترین اور فصیح فارسی میں کلام کیا ہے یا مرزا قادیانی کو معمولی ابجد خوانی فارسی میں ٹال دیا ہے۔ کیونکہ آپ کو ذاتی قابلیت نہ تھی اور مسلم الثبوت استاد فن تسلیم نہ ہو چکے تھے۔ غرضیکہ ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملہم کی لیاقت کے مطابق الہام ہوتے ہیں اور الہام کی شان سے ملہم کی شان نظر آتی ہے۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ الہام بازی میں اپنے مرشد (حضرت بہاء) کے مقابلہ پر مرزا قادیانی اعلیٰ نمبر نہیں لے سکے۔ باقی رہی شان رسالت تو اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ ملہم کو خدا تعالیٰ خود تعلیم دیتا ہے۔ وہ کسی مکتب میں الف بے بھی نہیں پڑھتے اور خدائی تعلیم سے اس قابل ہو جاتے ہیں اور ایسے قابل ہو جاتے ہیں کہ اعجازی کلام اور لاثانی الہام ان کے دل پر نازل ہوتا ہے۔ جس کو وہ خود بھی سمجھتے ہیں اور دور حاضر کے فصحائے قوم اس کے سامنے ہتھیار ڈال کر کہہ دیتے ہیں کہ: ”ماھذا قول البشر“ اور کسی کو اس وقت جرأت نہیں ہوتی کہ اس کلام کا ایک حرف بھی بے موقع ثابت کرے یا اس میں ادبی غلطی دکھائے۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ آج کل کے جاہل دشمنان اسلام جو خود عربیت میں فیل ہیں۔ نکتہ چینی کرنے لگ جائیں۔ مگر ایسے لوگوں کو ”فخیر من اجابتہ السکوت“ کہہ کر دفع کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ دھبہ نہیں دیا جاسکتا کہ اگر قادیانی الہام پر نکتہ چینی ہوئی ہے تو مکی اور مدنی الہامات پر بھی نکتہ چینی ہو چکی ہے۔ ”فشتان ما بین العراق ویثرب“

صفحہ ٥٢٠

انگریزی الہام

اوف گاڈ کین ناٹ ایکس چینج ۔ آئی لو یو۔ آئی شیل گو یواے لارج پارٹی اوف اسلام ۔

ٹو گرلز ۔ لائف ۔

نہ کرتا۔ کیونکہ ملہم سمجھنے کی قابلیت نہ رکھتا تھا۔ صرف دو ہی انگریزی کی کتابیں پڑھی تھی اور یہ الہام بھی بعض دفعہ ایسے مشکل نظر آتے تھے کہ ان کا ترجمہ کرانے کو آریہ دوستوں سے مدد لینی پڑتی تھی۔ اسی اصول سے معلوم ہو سکتا ہے کہ پہلے ملہم کو اعلیٰ قابلیت پر قابض ہونا ضروری ہے ورنہ الہامات تھرڈ کلاس ہی نازل ہوں گے اور اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملہم کا ذاتی کلام بھی کس پایہ کا ہوگا۔

قیاس کن زگلستان من بہار مرا

ہو گئے۔ اگر یہ خیال تھا کہ ”لیظہرہ علی الدین کلّہ“ کے ماتحت میں ہر رنگ کے الہام کا نازل ہونا ضروری ہے تو کشمیری، گجراتی، سندھی اور پنجاب کی باقی زبانوں میں الہام کیوں نہ ہوئے۔ کیا یورپ کی زبان صرف انگلش ہی رہ گئی تھی اور وہ بھی صرف بچوں کے فقرے جرمنی، فرانس، اٹلی، روس، چین، جاپان، ترکش وغیرہ کی زبانیں کہاں گئیں؟ کیا ان میں تبلیغ کی ضرورت نہیں تھی؟ شاید ان الہامات کو ام الالسنہ کے الہام تصور کر لیا ہوگا۔ اگر یہی بات ہے تو ان لوگوں کو ہی سلامت رہیں جو عقل کے اندھے اور گانٹھ کے ڈھیلے نظر آتے ہیں۔ ورنہ ارباب دانش و بینش اس جہل مرکب میں پھنس نہیں سکتے۔ یا صفراء یا بیضاء وغیرہ وغیرہ۔

٢٧...... مرزائیت اور اہل اسلام میں فرق

جب تک مسیح قادیانی براہین احمدیہ کی چار جلدیں ختم نہ کر چکے تھے۔ آپ بحیثیت مبلغ اسلام اور خادم دین کے اسے پیش کرتے رہے اور اہل علم نے آپ کو صوفی اور فلاسفر اسلام سمجھ کر اتنا بڑھا دیا کہ آپ کے الہامات مندرجہ براہین کی بھی وہی تاویلیں کرنے لگے جو دوسرے صوفیوں کے الہام اور شطحیات کی کیا کرتے ہیں اور آپ کے متعلق سادہ مزاج صوفیوں نے خوابیں بھی دیکھنی شروع کر دیں۔ صرف اس لئے کہ آپ نے ابھی اپنا وہ راز جس کے لئے یہ

صفحہ ٥٢١

تمام جال بچھایا تھا ظاہر نہیں کیا تھا اور نہ ہی کسی عہدہ کے مدعی تھے۔ چنانچہ اسی لاعلمی میں لوگوں نے ان کو صوفیاء کی صف میں لا کھڑا کر دیا اور ان کی طرف سے مدافعت کرنا کار ثواب سمجھا۔ چالاک قادیانی نے جب اسلامی طبقے کا یہ رنگ دیکھا تو اپنی غیر معمولی عیاری سے کام لے کر لدھیانہ میں بنیادی پتھر رکھ کر اپنی بیعت لینی شروع کر دی۔ جس کا نتیجہ ہوا کہ ہزارہا مسلمان آپ کے مرید ہو گئے اور آپ کی ہر دلعزیزی میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔ جناب یہ سنہری موقعہ کب ہاتھ سے دینے لگے تھے۔ فوراً غنیمت سمجھ کر اپنے دعویٰ کو ایک دوسرے سے وابستہ کر کے غیر متناہی سلسلہ میں پیش کرنا شروع کر دیا۔ مسلمان ان نقلی صوفی صاحب کو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے دیکھ کر نہایت ہی متحیر ہوئے اور زبان حال و قال سے بہتیرا سمجھایا بجھایا۔ لیکن جناب نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے ١٩٠١ء میں محمد ثانی کا دلخراش دعویٰ پیش کر دیا۔ بس پھر کیا تھا ملک بھر سے آپ کا اعتماد اٹھ گیا۔ بیگانے تو رہے بیگانے ان کے اپنے سگے لڑکے سلطان احمد نے وہ وہ ہاتھ دکھائے کہ ساری جماعت کے چھکے چھوٹ گئے۔ ہندوستان بھر میں بہت سے مناظرے کئے۔ لیکن کبھی بھی اپنے آپ کو نبی ثابت نہ کر سکے۔ سینکڑوں پیشین گوئیاں کیں۔ لیکن ایک بھی پوری نہ ہوئی۔ ہزاروں الہام لکھے مگر ایک بھی سچا ثابت نہ کر سکے۔ حتیٰ کہ ١٩٠٨ء میں بمقام لاہور حضرت پیر جماعت علی شاہ مدظلہ العالی کی بددعاء سے مرض ہیضہ سے وفات پائی۔ آپ کی لاش بقول ان کے دجال پر سوار کر کے قادیان پہنچائی گئی۔ یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ نبی جہاں فوت ہوتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے۔ کیا جناب اس اصول کی رو سے کاذب ثابت نہیں ہوتے؟ کیا مرزائیوں کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟

وفات مسیح کے بعد خلافت اوّل کا اثر نمایاں طور پر ظاہر نہ ہوا تھا۔ مگر خلافت ثانیہ میں پیغامی جماعت (لاہوری) الگ ہو گئی اور اپنے مرشد کو اس قدر نہ بڑھایا کہ مستقل نبی بنا کر پیش کریں۔ مگر قادیانی جماعت نے بھی تشدد سے کام لیا اور جس تشدد کو مسیح نے شروع کیا تھا اسے تکمیل تک پہنچا دیا۔

پدر اگر نتواند پسر تمام کند

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا کی تعلیم اسلامی تعلیم سے الگ نظر آنے لگی اور کئی وجوہات سے ایک دوسرے کی تکفیر و تفسیق کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اب معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ مذہب قادیانی نے اپنے خیالات کا نام اسلام جدید رکھ لیا ہے اور اسے اسلام کا روشن پہلو بتانے لگ گئے ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس تعلیم نے گو قرآن و حدیث کو تو قابل عمل لکھ کر اپنے مذہب کا

صفحہ ٥٢٢

نام اسلام ہی رکھا ہوا ہے۔ مگر اہل بروز کی طرح عملی طور پر یہ بتا دیا ہے کہ چودھویں صدی کے اول قرآن وحدیث کا مفہوم کچھ اور تھا اور بعد میں دوسرا ہو گیا اور اس تبدیلی کا حق سوائے امام الزمان کے کسی کو نہیں پہنچتا۔ اس لئے امام الزمان و نبی اللہ ماننا پڑے گا اور چونکہ یہ شریعت ناقابل تنسیخ ہے۔ اس لئے ضرورت محسوس ہوئی کہ مسیح کو ثانی اور حضور انور کا ہی اتار مانا جائے۔ گویا حضرت محمد ﷺ نے ہی قرآن وحدیث کے مفہومات سابقہ کو منسوخ کر کے نئے مفہومات کو واجب التعمیل قرار دیا ہے۔ بنابریں ہمارا فرض ہے کہ ناظرین کے سامنے ان کے چند ایک ایسے عام خیالات پیش کریں جو اہل اسلام کے خلاف قادیانی مذہب میں موجود ہیں۔

وجوہات تفرقہ

حضور ﷺ کی روح بھی باقی نہ رہی تھی۔ اس لئے مسیح کی ضرورت محسوس ہوئی۔“ تعلیمات بہائیہ میں بھی یہی عذر کیا گیا ہے کہ دنیا مرچکی تھی تو بہاء اللہ نے قیامت بپا کر کے از سر نو روحانی زندگی عطاء کی ہے۔ مگر قادیانی تعلیم میں یہ اضافہ کیا ہے کہ حضور ﷺ کو بھی مسیح نے محمد ثانی بنا کر از سر نو زندہ کر دکھلایا ہے اور مریدوں کو صحابہ کا درجہ دے کر خلافت راشدہ قائم کی ہے۔ لیکن اسلام اس نقل وحرکت کو بنظر تحسین نہیں دیکھتا۔

بھی بڑھ کر تھا۔ کیونکہ آپ کو اپنے خیالات کے اظہار کا موقعہ نہیں ملا تھا اور چونکہ یہ ایک جزوی فضیلت ہے۔ اس لئے حضور ﷺ کی توہین نہیں ہوتی۔“ مگر اہل اسلام یہ لفظ سننے کو بھی تیار نہیں اور جن لفظوں سے ان کی اشک شوئی کی ہے وہ بالکل ہی فضول ہیں۔ کیونکہ مسیح قادیانی کی شخصیت کا ارتقاء تجربہ کے بعد خود قادیانیوں کی زبان سے معلوم ہو چکا ہے کہ بالکل ناقص تھا۔ کیونکہ آپ نے کئی جگہ غلطی کی ہے اور کئی عقائد تبدیل کئے ہیں تو پھر اہل اسلام ایسے ناقص التعلیم کو حضور ﷺ کا ثانی یا حضور سے بڑھ کر ماننا تو بجائے خود سننے کے لئے کیسے تیار ہو سکتے ہیں؟

تلوار رکھ کر کہے کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے۔“ اس مقام پر اجرائے نبوت کی توثیق کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کو کاذب لکھ دیا ہے۔ کیونکہ کسی مسلم کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہوگا۔

صفحہ ٥٢٣

وہ اسلام سے خارج ہے۔ اگر چہ اس نے ابھی تک نام بھی نہ سنا ہو۔‘‘ یہ بروزی نبوت اتنی تیز ہوگئی ہے کہ اس نے سب کے سینہ پر مونگ دل دیئے ہیں۔ اس کا جواب تو مخالفین کی طرف سے جو کچھ ہوسکتا ہے ظاہر ہے۔ مگر اس عذر کی اصلیت ضرور معلوم ہوگئی ہے کہ ہم کسی کو کافر نہیں کہتے۔ جس قدر کافر ہوئے ہیں مسیح کو نہ ماننے سے کافر ہوئے ہیں۔

یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ اہل اسلام کی لڑکیاں ان کے گھر ہوں۔

(عرفان الٰہی ص٩٤) اور اس زمانہ کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائے۔ (تقدیر الٰہی ص٢٩) ناظرین غور کریں کہ مخالفین کی طرف سے اس کا کیا جواب ہوسکتا ہے؟

شوق ہے۔ (انوار الاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣١) کیا ایسی ہستی مجدد ثانی بن سکتی ہے؟ نعوذ باللہ!

چاہئے۔ (انوار خلافت ص٩٣) کیا اس سے بھی بڑھ کر تفرقہ اندازی ہوسکتی ہے؟

کو خدا تعالیٰ نے اپنے قرآن میں حکم دیا ہے اور وہ ابھی تک نہیں مرے اور مرنے کے بھی نہیں۔ (نور الحق ص٥٠، خزائن ج٨ ص٢٩) اہل اسلام کے قرآن میں یہ مسئلہ درج نہیں۔ یقیناً مسیح قادیانی نے غلط لکھا ہے اور اسی وجہ سے وہ امام الزمان تسلیم نہیں ہوسکتا۔

کے عالم میں رکھ کر مرہم عیسیٰ سے علاج کیا گیا تھا۔ کیونکہ حالات حاضرہ اس کی تکذیب کر رہے ہیں اور پہلی کوئی معتبر تاریخ اس کی تصدیق نہیں کرتی۔

کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

مسیح کی بروایات صحیحہ عمر ١٢٥ برس گزر چکی ہے۔ یہ بھی غلط لکھا ہے کہ تمام فرقے مانتے ہیں کہ مسیح کی عمر ١٢٥ برس ہے اور یہ کہ زمین کے اکثر حصہ پر آپ نے سیاحت کی تھی اور یہ کہ عیسیٰ خیل کیا تعجب ہے کہ مسیح کی اولاد ہوں اور یہ کہ پرانی تاریخیں بتلاتی ہیں کہ مسیح بنارس اور نیپال وغیرہ میں آیا تھا

صفحہ ٥٢٤

اور یہ کہ بنی اسرائیل نبی کشمیر میں آیا تھا اور یہ کہ اس نے کہا تھا کہ میرے اوپر ایک انجیل نازل ہوئی تھی اور یہ کہ اس کا وقت بھی وہی لکھا ہے جو حضرت مسیح کا وقت تھا۔

”من لم یعرف امام زمانہ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ“ میں حاکم وقت مراد ہے جو ہر زمانہ میں موجود ہوتا ہے۔ ورنہ اس سے مسیح قادیانی مراد نہیں۔ کیونکہ وہ خود محکوم تھا حاکم کیسے ہوسکتا تھا۔

ہوئے دیکھے۔ جس طرح کہ قرآن وحدیث کی تمام پیشین گوئیاں اور حشر ونشر کے تمام واقعات پیش نظر ہیں۔ اس لئے نزول مسیح کے مقام پر سارا اسلام ہی تبدیل کر دینا غلط ہوگا۔

مذہبی مسلسل تعلیم کے خلاف ہے۔ لیکن جب دعاوی مسیح کا معاملہ پیش کیا جاتا ہے تو کوئی مسلسل مذہبی تائید پیش نہیں کی جاتی۔

مگر ساتھ ہی اس کے اپنی شخصیت کو بڑھا کر توہین کرنا اسلام میں ممکن نہیں سمجھا گیا۔

سے تعلیم حاصل کرنا اور قرآن وحدیث کی خود ہی تیاری کرنا۔ پھر اس کے بعد تصنیف کا سلسلہ ۔ کہ کتابوں تک پہنچایا اور تقریروں کا ڈھیر اشتہارات کے ذریعہ لگا دینا۔ نظم ونثر میں اپنا ذاتی کلام فحش طور پر لکھنا اور کچھ مدت تک شاعر بن کر فرخ نام رکھا وغیرہ وغیرہ۔ ایک مولوی یا منشی یا محرر کے اوصاف ہوسکتے ہیں۔ ورنہ کسی نبی میں یہ تمام اوصاف موجود نہیں ہوتے۔ اس لئے اہل اسلام مسیح قادیانی کو نبی تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہیں۔ کیونکہ نبی کا علم لدنی ہوتا ہے اور کسی سے حاصل نہیں ہوتا اور صحیح ہوتا ہے غلط نہیں ہوتا اور اپنی امت سے بلکہ تمام دنیا سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ کم از کم اپنی امت سے کم نہیں ہوتا۔

کی تعلیم ہمارے لئے واجب التعمیل ہو۔ مرزائی وہی تعلیم مانتا ہے جو مسیح قادیانی نے بطور تجدّد فی الاسلام پیش کی ہے۔

ثبوت کسی اسلامی تعلیم سے پیش

قابل تلقین ہے۔

لئے کرشن وغیرہ کو حقیقی طور پر نبـ

مرزا قادیانی نے کرشن بن کر بـ

میں ہوا ہے اور مرزا قادیانی کے

آپ کا قرآن سے باپ ثابت نکاح کی درخواست کی تاکہ اس کو شادی کرنا ممنوع ہے اور ا رشتہ دار (موالی) بھی اسے نـ لائیں۔ اس لئے قرعہ ڈال کر سے کہا تھا کہ میں قابل اولا بخشوں گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ چا لئے یوسف نے شادی کر لی ا مشکل سے پالا۔ پھر اور اولا کو اجازت ہو گئی کہ بغیر ولی رہ سکتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے واقعات کی طرف کسی کو رجو ہی خیالی ہے۔ کوئی مورخ کہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ بـا

صفحہ ٥٢٥

نے کہا تھا کہ میرے اوپر ایک انجیل نازل ہوئی کا وقت تھا۔ کے لئے استعمال نہیں ہوتی۔ ت صرف زنادقہ اور ملاحدہ میں پایا گیا ہے۔ مام مہدی علیہ السلام لئے گئے ہیں اور حدیث جاھلية “ میں حاکم وقت مراد ہے جو ہر زمانہ ۔ کیونکہ وہ خود محکوم تھا حاکم کیسے ہو سکتا تھا۔ تا ہے کہ لفظوں کو اپنی اصلیت پر پورا ہوتے پیشین گوئیاں اور حشر و نشر کے تمام واقعات م ہی تبدیل کر دینا غلط ہوگا۔ اتا ہے کہ کفارہ کا مسئلہ اس لئے غلط ہے کہ وہ سیح کا معاملہ پیش کیا جاتا ہے تو کوئی مسلسل

الزامی صورت میں امکان پذیر ہو سکتا ہے۔ سلام میں ممکن نہیں سمجھا گیا۔ امتحان میں ناکامی، چار قسم کے استادوں ی کرنا۔ پھر اس کے بعد تصنیف کا سلسلہ کے ذریعہ لگا دینا۔ نظم ونثر میں اپنا ذاتی کلام عاد غیرہ وغیرہ۔ ایک مولوی یا منشی یا محرر کے موجود نہیں ہوتے۔ اس لئے اہل اسلام مسیح کا علم لدنی ہوتا ہے اور کسی سے حاصل نہیں تمام دنیا سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ کم از کم اپنی

کہ وہ اپنے زمانہ میں سچا تھا۔ دوم یہ کہ اس لیم مانتا ہے جو مسیح قادیانی نے بطور تجدید فی

ثبوت کسی اسلامی تعلیم سے پیش نہیں کیا۔

قابل تلعین ہے۔

لئے کرشن وغیرہ کو حقیقی طور پر نبی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

مرزا قادیانی نے کرشن بن کر یہ ٹھیکہ بھی حاصل کر لیا ہے۔

میں ہوا ہے اور مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ساتویں ہزار پر ہمارا قبضہ ہے۔

آپ کا قرآن سے باپ ثابت کرتے ہیں کہ ایک فرشتہ خصلت آدمی مریم کو نظر آیا اور اس سے نکاح کی درخواست کی تا کہ اس کی اولاد ہو۔ ورنہ پیشتر مریم کو یہ یقین دلایا جا چکا تھا کہ خدمتگاروں کو شادی کرنا ممنوع ہے اور بغیر اجازت ولی کے عورت کا نکاح جائز نہیں ہوتا اور زکریا کے قریبی رشتہ دار (موالی) بھی اسے غیر سے نکاح نہ کرنے دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ اپنے نکاح میں لائیں۔ اس لئے قرعہ ڈال کر اپنی تحویل میں لانا چاہتے تھے۔ تب مریم نا امید ہو چکی تھی اور اس مرد سے کہا تھا کہ میں قابل اولاد نہیں رہی۔ مگر اس نے کہا کہ میں تمام موانع رفع کر کے تجھے اولاد بخشوں گا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ آئندہ کوئی خادم یا خادمہ بغیر شادی کے نہ رہنے پائے۔ اس لئے یوسف نے شادی کر لی اور اسے مصر لے گیا۔ وہاں بچہ پیدا ہوا جس کو یہود کی دستبرد سے بچا کر مشکل سے پالا۔ پھر اور اولاد بھی ہوئی اور یہ واقعہ اس لئے آیت الہی ثابت ہوا کہ اس میں عورتوں کو اجازت ہو گئی کہ بغیر ولی کے نکاح کر سکتی ہے اور کسی مقدس مقام کا مجاور بھی نکاح سے محروم نہیں رہ سکتا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ واقعات صرف خیال اور نکتہ طرازی سے نہیں گھڑے جا سکتے۔ ورنہ واقعات کی طرف کسی کو رجوع کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ اس لئے یہ نظریہ صرف خیالی ہی خیالی ہے۔ کوئی مورخ کوئی اہل کتاب اور کوئی اہل مذہب اسے تسلیم نہیں کرتا اور یہ کہنا کہ قران سے ایسا معلوم ہوتا ہے۔ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ تیرہ سو سال سے ایسا معلوم نہیں ہوتا۔ اب کیوں

صفحہ ٥٢٦

ہونے لگا؟ یہی جواب ہوگا کہ ہم نے معنی اور مفہوم تبدیل کر کے یہ واقعہ گھڑ لیا ہے تو پھر اس کو ہم تحریف کہتے ہیں۔ خواہ تم اس کا نام اصل رکھو یا اسلام کا روشن پہلو یا اسلام جدید یا کوئی اور۔

بہائی اور مرزائی تعلیم میں یہ ایک اساسی مسئلہ تصور کیا گیا ہے۔

قادیانی کو محمد ثانی تصور کرلیا گیا ہے۔

گیا۔ مگر مرزائی مذہب میں یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی یا آپ کے بعد آپ کی جون قدرت ثانیہ بدل بدل کر ٹھیکیدار ہوچکی ہے۔ کوئی غیر احمدی اس فیضان سے مستفید نہیں ہوسکتا۔

اسلام میں ہرگز جائز نہیں۔ مگر ان کے ہاں صرف جائز ہی نہیں بلکہ ضروری بھی ہے۔

ہے۔ مسیح قادیانی بھی اپنے ذاتی کلام کو وحی قرآنی کا مساوی قرار دے کر توہین کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ گویا اس نے اپنے آپ کو خدا سمجھ رکھا ہے اور اپنے کلام کو وحی الٰہی۔ ورنہ اگر صرف نبوت کا دعویٰ ہوتا تو اپنے کلام کو کلام رسول کے مساوی قرار دے کر ثبوت پیش کرتا۔ مگر اسلام کا دعویٰ ہے کہ حضور ﷺ نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا تو پھر مسیح قادیانی محمد ثانی کیوں کر ہوا؟

انبیاء کے بارے میں آئی ہیں وہ سب مشکوک ہیں۔ کیونکہ انبیاء کی تعلیم روحانی طور پر خدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اس لئے یہ قرار پایا جا چکا ہے کہ ایک نکما مولوی کبھی نبی نہیں ہوسکتا۔ مگر مسیح قادیانی کی تاریخ حیات بتا رہی ہے کہ جناب نے چار استادوں سے علم ظاہری حاصل کیا تھا۔ کیمیا گری اور علم جفر رمل وغیرہ کے لئے بھی کچھ اوقات بسر کئے تھے۔ تصوف سیکھنے کے لئے بھی ایک حنفی اور ایک وہابی صوفی کی صحبت میں حاضر ہوتے رہے تھے۔ لیکن خود داری کو مدنظر رکھ کر نہ قرآن وحدیث کسی سے سبقاً سبقاً پڑھا اور نہ منازل فقر کسی خاص مرشد سے طے کئے۔ بلکہ خود بدولت شب بیداری اور کثرت مطالعہ سے اور کتب بینی کی حرص سے ادھر صوفی بن کر خشک مجاہدے شروع کر کے اپنا ستیا ناس کر لیا اور ادھر خود ساختہ تعلیم سے قرآن وحدیث کی آڑ میں اسلام جدید گھڑنا شروع

صفحہ ٥٢٧

کر دیا۔ حالانکہ یہ دونوں راستے خطرناک تھے۔ استاذ کامل اور مرشد صادق کے سوا کبھی طے نہیں ہو سکتے تھے۔ اس لئے خود بھی ڈوبے اور دوسروں کا بھی بیڑہ غرق کیا:

راہ پر خطر ست و دزداں درکمیں
رہبرے بگزیں نہ مانی برزمیں

اور یہ مقولہ سچ نکلا کہ: ”من لم یا خذالشیخ فشیخه الشيطان“

کی مشکلات میں سے ایک رسالت ایک وحی الہی اور مسیح موعود کا دعویٰ تھا۔ (حاشیہ براہین احمدیہ نمبر ٥ ص ٥٢، خزائن ج ٢١ ص ٦٨ حاشیہ ) یہ دعویٰ آپ کا آخری دعویٰ ہے۔ جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ بروز محدثیت امتی اور مجدد ہونے کے مراحل طے کر کے آپ نے ایک مستقل نبوت کا رتبہ حاصل کر لیا تھا۔ اسلام اس قسم کی ترقی ماننے کو ہرگز تیار نہیں۔ کیونکہ اس کی نظر میں کوئی ایسا نبی نہیں گزرا کہ جس کو پہلے اپنی شخصیت کا ہی علم نہ ہو کہ میں کیا ہوں اور پھر آہستہ آہستہ محدث سے ترقی کرتا ہوا مستقل نبی بن چکا ہو۔ بلکہ جو نبی ہوئے ہیں اپنی عہد رسالت کے پہلے دن ہی نبی تھے اور ترقی پا کر یا بے خبری کے بعد کوئی نبی نہیں بنا۔

جونیں بدلتی رہی ہیں۔ لیکن تشنج قلبی اور امراض دماغی کا دائمی شکار کوئی نبی نہیں تھا۔ اس لئے اہل اسلام حیران ہیں کہ یہ جون کس روح سے حاصل کی گئی؟۔

صاف بتا رہے ہیں کہ آپ کو مالیخولیا مراقی ضرور تھا۔ گاہ بگاہ فوری قے یا دست کا آنا بھی بتا رہا ہے کہ آپ میں مراق خوب جڑ پکڑ چکا تھا۔ نیم خواب آنکھیں اور تشنج اجفان اس امر کی علامات تھیں کہ آپ کے دماغ میں سوداوی اور بلغمی مواد کا کافی ذخیرہ تھا جس کی وجہ سے نخوت، خلوت نشینی، تنفر بیجا اور خیالی خطرات سے خوف اور رنگ دار اشیاء کا خواب میں نظر آنا اور وہمیات میں پڑ کر اپنے تقدس کو بڑھاتے جانا ، طویل خاموشی یا طول کلامی اور بار بار ایک مضمون کو دہرانا ، بے ہوشی ، غشی اور استغراق فی الخیال یہ سب کچھ موجود تھا۔ لیکن کوئی نبی اس قسم کا بیمار نظر نہیں آتا۔ اس لئے آپ کی نبوت نہ صرف مخدوش ہی ہے بلکہ کسی حد تک خلاف واقع مجذوبانہ شطحیات میں داخل ہے۔

صفحہ ٥٢٨

ترانیاں بہت دکھاتی ہیں۔ مگر جب آپ کی ضمیر کو ملامت کرتی ہے تو اعتراف بھی کر جاتے ہیں کہ میری اصلی غرض تفہیم ہے۔ ورنہ میں شاعر نہیں ذرہ اور اضافہ کر دیتے کہ میں عربی فارسی میں بھی ماہر نہیں ہوں تو معاملہ ہی صاف ہو جاتا۔ لیکن کوئی ایسا نبی نہیں گزرا جس زبان میں وہ وحی پاتا ہو اس میں وہ قادر الکلام نہ ہو۔

ہیں جن میں آیات آسمانی کو فتوحات، کثرت مال، کثرت اتباع اور عام مقبولیت کے رنگ میں دکھایا گیا ہے۔ لیکن کوئی نبی ہمیں ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ جس نے اپنے فتوحات مالیہ کو پیش کیا ہو۔ کیونکہ فتوحات مالیہ اور کثرت مریدین کو پیش کرنا صوفیائے کرام کا مایہ ناز ہے۔ انبیاء کا مایہ ناز نہیں۔ اس لئے صوفیانہ ترقی کو صداقت نبوت کا نشان ٹھہرانا سخت غلطی ہوگی۔ ہاں اگر ایسی صداقتوں کو حصول تصوف کا نشان بتایا جائے تو کسی قدر قابل توجہ ہو سکتی ہیں۔ مگر تحصیل نبوت کے لئے ایسی فتوحات اور ایسی مقبولیت نشان صداقت کبھی پیش نہیں ہو سکتے۔ اور یہ ایک زبردست مغالطہ ہے جو خود قادیانیوں کو بھی لگا ہوا ہے اور دوسروں کو بھی اسی مغالطہ میں ڈال رہے ہیں۔ غالباً پیغامی پارٹی (لاہوری) نے اسی وجہ سے فیصلہ کر لیا ہے کہ مرزا قادیانی ایک صوفی آدمی تھے اور مولوی نہ تھے اور نہ رسول۔ مگر اہل اسلام اس کے ساتھ ایک اور یہ بھی اضافہ کرتے ہیں کہ بے مرشد اور بے استاد بھی تھے۔

میں سوائے چند گول مول ظاہری استدلالات کے کچھ نظر نہیں آتا۔ اور وہ بھی اسلام کی مسلسل تعلیم سے مصدقہ نہیں ہیں۔ مگر ایک نبی دوسرے نبی کی تعلیم کے خلاف دکھائی نہیں دیتا۔ اس لئے بھی نبوت قادیانی نہایت مخدوش ثابت ہوتی ہے۔

ہیں یا ان کو استعمال کرتے ہیں تو وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں جو بالکل اہل زبان کے خلاف اور غلط ہوتا ہے۔ جس کے جواب میں یوں عذر کیا جاتا ہے کہ ہم کسی اصول کے پابند نہیں ہیں۔ بلکہ تمہارا فرض ہے کہ ہمارے کلام سے اصول قائم کر کے ایک نئی صرف و نحو شائع کرو اور یہ ایک ایسا چکمہ ہے کہ جاہل تو اس پر لٹو ہو جاتے ہیں۔ مگر اہل علم تاڑ جاتے ہیں کہ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ بھلا آج تک کبھی یہ بھی پڑھا یا سنا ہے کہ اہل عرب نے کلام مرزا کو فصحائے عرب کے دیوانوں میں درج کیا ہے۔ یا اس کو بنظر استحسان دیکھ کر آپ کو افصح العرب کا خطاب دیا ہو۔ سخت افسوس ہے کہ

صفحہ ٥٢٩

حضور علیہ السلام افصح العرب تسلیم کئے گئے ہوں اور محمد ثانی مسیح قادیانی عربی کا ایک فقرہ بھی صحیح نہ لکھ سکتا ہو؟۔

جائے اور اگر کچھ ذرہ اشتباہ ہوتا ہے تو فوراً کافور کر دیا جاتا ہے۔ مگر جناب کی ایک پیشین گوئی بھی ایسی نہیں ہے کہ جس کی عمارت پچر کاری کی محتاج نہ ہو۔

نے اجتہادی غلطیاں کی ہیں اور انہی غلط بیانیوں پر ہی ان کا خاتمہ ہوتا تھا۔ لیکن کوئی نبی ایسا نہیں پایا جاتا کہ جس کی امت علوم نبوت میں اس کی تجہیل کرتی ہو۔

خیالات اختراع کر رہی ہے کہ اس کے مرشد کو بھی نہیں سوجھے تھے۔ تو گویا امت کا علم اپنے نبی کے علم سے بڑھ گیا ہے اور یہ ان کے نزدیک کوئی عیب کی بات نہیں۔ کیونکہ مرشد خود لکھ چکا ہے کہ معاذ اللہ حضور علیہ السلام کی ذہنیت سے اس کی ذہنیت بڑھی ہوئی ہے۔ اب اس کی روح تلملاتی ہو گی کہ میری بھی حجامت ہونے لگ گئی ہے۔ مگر عوض معاوضہ گلہ ندارد۔ اس نے حضور علیہ السلام پر اپنی علمی طاقت کو بڑھایا تھا تو اس کے مریدوں نے اپنی علمی فوقیت اس پر ظاہر کر دی تو کون سا غضب ہو گیا: خود کردہ را علاجے نیست۔ لیکن اسلام اس ملحدانہ ارتکاب کا روادار نہیں۔

قادیانی کو (جو درحقیقت مسیح نہ تھا مہدی) مسیح اور مہدی ایک ہستی مانتی ہے۔

حالات بتائے گئے ہیں مسلمان ان کو محسوس اور واقعی صورت میں دیکھنے کے منتظر ہیں۔ اور دجال مسیح المہدی۔ دابۃ الارض، مقصد خلیفہ مسیح، یاجوج ماجوج، انحصار وقت نزول مسیح کسر صلیب، قتل خنزیر، اور دم مسیح وغیرہ محسوس اور مشاہدہ کے طریق پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ جس قدر آج سے پہلے اسلامی پیشین گوئیاں پوری ہو چکی ہیں جیسے ہلاکت کسریٰ و قیصر، فتح مکہ، اشاعت اسلام، ذلت یہود، عموم حکومت نصاریٰ، مصائب اہل مدینہ، واقعات کربلائے معلّیٰ، اور تنافس فی الاموال معہ حالات حاضرہ، وہ سب بلا تاویل مشاہدہ میں آ چکی ہیں اور آ رہی ہیں۔ لیکن مرزائی تعلیم ان کو خیالی طور پر پیش کرتی ہے اور تاویل کر کے اسلام کو مشکوک حالت میں پیش کر رہی ہے۔

صفحہ ٥٣٠

ہے اور جناب امام کا ظہور مکہ معظمہ میں حج کے موقع پر لکھا ہے۔ اس کے بعد جبل افیق پر یہود و اہل اسلام کے مابین جنگ مذکور ہے۔ مگر مرزائی تعلیم میں اس کا نشان نہیں ملتا۔ باتیں بنا کر سب کچھ قادیان میں بنا لیا ہے جو بچوں کا کھیل سمجھا جا سکتا ہے کہ جس کا جو جی چاہے، بنالیا کرے۔

٤٧...... اہل اسلام کا حج بیت اللہ شریف میں ہوتا ہے اور ان لوگوں کا حج قادیان میں قرار پایا ہے اور مکہ کا حج اس کے بعد چنداں ضروری نہیں سمجھا گیا۔

٤٨...... کوئی نبی پچاس سال تک شرک میں گرفتار نہیں رہا۔ لیکن مرزا قادیانی قرآن وحدیث کی روشنی میں بھی بقول خود حیات مسیح کا قول کرتے ہوئے پچاس سال تک مشرک رہے ہیں۔ اگر کسی نبی کو شرک کے ماحول سے کچھ اشتباہ ہوتا تھا تو بہت جلد اس کا دفعیہ کر دیا جاتا تھا۔

٤٩...... اسلام کہتا ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد بعثت انبیاء نہ ہوگی۔ مگر مرزائی مذہب نے حیلے بہانے کر کے اسے جاری کر رکھا ہے۔ لیکن صرف اپنے لئے اور یہ امور ابھی تک مشتبہ رہا ہے کہ کیا یہ نبوت صرف مرشد کی اولاد صلبی میں جاری رہے گی یا روحانی اولاد (مرید) بھی اس کے حق دار ہیں؟ محمودی پارٹی کا خیال ہے کہ اولاد صلبی ہی قدرت ثانیہ اور نبی بن سکتی ہے اور چند ایسی ہستیاں بھی موجود ہیں کہ قدرت ثانیہ بن کر اعلان کر رہی ہیں کہ مسیح کے تمام مرید ہی نبی وقت بننے کے حق دار ہیں۔ اور اسی کشمکش میں ان کے درمیان رسالہ بازی اور مباہلہ بازی ہوتی رہتی ہے اور ان کے مدعیان زمانہ حال صاف لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ جب تک ہمارے ہاتھ پر بیعت نہ کی جائے خود خلیفہ محمود کی بھی نجات نہیں ہو سکتی۔ مگر خلیفہ صاحب ان کے متعلق یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ صحیح الدماغ نہیں ہیں۔ اہل اسلام مرزا قادیانی کے متعلق یہی لفظ استعمال کرتے ہیں تو یہ لوگ گھبراتے ہیں۔ لیکن اپنے سر پر پڑی تو بے دھڑک جنون کا فتویٰ لگا دیا ہے۔

٥٠...... ١٠؍جولائی ١٩٣٣ء کو معاصر ”زمیندار“ لاہور نے بحوالہ کتاب سیرۃ المصنفین از محمد یحییٰ تنہا ثابت کیا ہے کہ براہین احمدیہ مسیح قادیانی کی تصنیف نہ تھی۔ بلکہ اس میں جتنا مواد تھا وہ دوسرے لوگوں کی منت خوشامد اور چاپلوسی کر کے بمشکل حاصل کیا ہوا تھا۔ چنانچہ مولوی چراغ علی مرحوم کے کاغذات سے ایسی کئی چھٹیاں برآمد ہوئی ہیں جن میں سے تین چھٹیوں کا اقتباس ذیل میں درج ہے:

الف...... ”جب آپ جیسا اولوالعزم صاحب فضیلت دینی ودنیوی تہہ دل سے حامی ہو اور تائید دین حق میں دل گرمی کا اظہار فرمائے تو بلاشائبہ ریب اس کی تائید فی سبیل اللہ خیال کرنی چاہئے۔ ماسوا اس کے اگر کچھ دلائل یا مضامین آپ نے نتائج طبع عالی سے جمع فرمائے ہوں تو وہ بھی مرحمت فرمادیں۔“

صفحہ ٥٣١

یہ ہے مرزائیوں کے آقا ومولا کی لیاقت کے ڈھول کا پول۔ دعویٰ تو یہ ہے کہ تخلیق آدم سے سات ہزار سال تک جتنے رسل اور انبیاء آئے ہیں حقیقت میں میں ہی ایک شخصیت تھا جو مختلف صورتوں میں پیرہن نبوت پہن کر ظاہر ہوتا رہا۔ نجی اللہ، خلیل اللہ، ذبیح اللہ، کلیم اللہ، اور روح اللہ بن کر ایک عرصہ تک اپنے روحانی کرشموں اور معجزنمائیوں سے دنیا کو حیرت زدہ کرتا رہا۔ جتنے آسمانی صحائف اترے ان کا عامل میں ہی تھا۔ حتیٰ کہ سید الرسل فخر انام شافع عالمیان محمد الرسول اللہ کہلا کر میں نے دنیا کو تاریکی کے عمیق گڑھے سے نکال کر بام ثریا تک پہنچایا اور وہ کلام معجز بیان بھی مجھ پر ہی نازل ہوا جس کو دنیا کے کروڑوں انسان باوجود سیزدہ صد سال گزرنے کے آج تک اسے اپنا حرز جان بنائے ہوئے ہیں اور آج تک کسی کو اس میں سرمو تحریف کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ میں محمد ثانی بن کر تجدید دین کے لئے پہلے سے زیادہ آن بان کے ساتھ پھر نازل ہوا۔ حیرت کا مقام ہے کہ وہ دعویدار افضلیت انبیاء آج ایک کتاب ”براہین احمدیہ“ لکھنے سے عاجز آ گیا اور اسے اپنی امت میں سے ایک شخص کا جس سے کہ اس کا علم ہر حیثیت میں زیادہ ہونا چاہئے تھا۔ ہمیں تعجب ہے کہ یہی افضل نبی دست نگر نظر آتا ہے اور اس سے استمداد چاہتا ہے اور اپنی سچائی کے لئے اس سے دلیل مانگتا ہے۔ حیف ہے ایسی افضلیت پر اور تف ہے ایسی نبوت پر۔ کیا نبی کا علم اپنی امت میں سب سے زیادہ نہیں ہوتا؟ کیا مرزائی انبیاء میں اس کی نظیر پیش کر سکتے ہیں؟۔ اب ہم دوسری چٹھی کا اقتباس درج کرتے ہیں جو پہلے سے وضاحت کے ساتھ لکھی گئی ہے:

ب...... ”آپ کے مضمون اثبات نبوت کی ایک مدت تک انتظار میں نے کی۔ کوئی عنایت نامہ نہیں پہنچا۔ مگر تکلیف دیتا ہوں کہ براہ عنایت بزرگانہ بہت جلد مضمون اثبات حقانیت فرقان حمید تیار کر کے میرے پاس بھیج دیں۔“

ناظرین! خوب سمجھ گئے ہوں گے کہ مرزا قادیانی ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلتے رہے ہیں۔ لیکن مسلمانوں میں اب ان کی دال گلتی نظر نہیں آتی۔ کیونکہ انہوں نے ان کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اب تیسری چٹھی ملاحظہ فرمائیں:

ج...... ”آپ کو جو اپنی ذاتی تحقیقات سے ہنود پر اعتراضات معلوم ہوئے ہوں یا وید پر جو اعتراض ہوں ان اعتراضوں کو ہمراہ مضمون اپنے کے ضرور بھیج دیویں۔“

لو اب اور سنئے۔ محمد احسن امروہی جب ١٩١٤ء میں قادیانیت چھوڑ کر لاہوری پارٹی میں

صفحہ ٥٣٢

شامل ہو گیا تھا تو اس نے بھی اپنی کتاب قولِ مجد میں کئی ایک چٹھیاں مرزا قادیانی کی نقل کی ہیں جن میں بتایا ہے کہ مرزا قادیانی کو جب مشکل پڑتی تھی یا کتاب کے حوالہ دینے میں کسی سخت اعتراض کا جواب دینے میں تو مجھ (احسن امروہی) سے ہی امداد طلب کرتے تھے اور کمال لجاجت اور منت سماجت سے خط لکھا کرتے تھے۔ جس میں میری تعریف وتوصیف میں زور دار فقرے موجود ہوتے تھے۔

بہر حال یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بحیثیت ایڈیٹر کے اپنی تصانیف کیا کرتے تھے۔ مضامین عام طور پر لوگوں کے ہوتے تھے اور ایک آدھ اپنا بھی ہو گیا تو خیر مگر نام مرزا قادیانی کا ہی چلتا تھا۔ مگر افسوس یہ ہے کہ لوگوں کے مضامین کو اس طرح بیان کرتے تھے کہ گویا وہ ان کے اپنے ہی مضامین ہیں۔ اور یہ طرز ان کا توہین مسیح میں بھی مسلم الثبوت ہو چکا ہے۔ ثابت ہوتا ہے کہ آپ شہرت طلب بہت تھے اور مضمون چرانے میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے۔ لیکن اسلام میں اس وصف کا کوئی نبی نہیں گزرا کہ لوگوں کے مضامین چرا کر وحی کے رنگ میں ظاہر کرتا ہو۔

کیا ہے۔ کیونکہ کرشن کی کتاب گیتا میں تناسخ اور بروز کا ثبوت کم از کم پندرہ جگہ پر دیا ہے۔ اس لئے جب آپ کرشن تھے تو یہ عقیدہ بھی خلاف اسلام آپ کو بدلنا پڑا۔ اس لئے اہل اسلام زور سے کہتے ہیں کہ کسی نبی نے تناسخ کا قول نہیں کیا۔ اور نہ ہی اپنے روپ بدلنے کو ظاہر کیا ہے اور جن تحریرات سے رجعت اور تناسخ ثابت کیا جاتا ہے وہ اسلام کے نزدیک غیر معتبر ہیں اور یا ان کا مطلب غلط طور پر بتایا جاتا ہے۔ اس لئے اہل اسلام مانتے ہیں کہ نہ مسیح قادیانی نبی تھا اور نہ کرشن۔ ورنہ ان دونوں کی تعلیم اسلام کے خلاف نہ ہوتی۔

عزت کے دعاوی عدالت میں چلتے رہے۔ اخیر میں دونوں سے اقرار نامہ لے کر صلح کرائی گئی۔ مرزائیوں نے مولوی صاحب کا اقرار نامہ شائع کر کے ثابت کیا ہوا ہے کہ ان کو ذلت پہنچی تھی اور مرزا قادیانی بچ نکلے تھے۔ مگر ذیل کی تحریرات ثابت کرتی ہیں کہ مرزا قادیانی میں جرأت نبوی ذرہ بھر بھی نہ تھی اور نہ ان کی زندگی بے لوث تھی۔ بلکہ ہزاروں عیوب سے بھری ہوئی تھی۔ پہلے عدالت کا نوٹس ملاحظہ ہو۔ پھر مرزا قادیانی کا اقرار نامہ:

”جی ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت سے مورخہ ٢٣ اگست ١٨٩٧ء بمقدمہ سرکار بذریعہ ڈاکٹر کلارک بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان

صفحہ ٥٣٣

حسب ذیل ریمارک فیصلہ میں ہوئے جو تحریرات عدالت میں پیش کی گئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ وہ (مرزا) فتنہ انگیز ہے۔ انہوں نے بلا شبہ طبائع کو اشتعال کی طرف مائل کر رکھا ہے۔’’پس مرزا غلام احمد کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ملائم اور مناسب الفاظ میں اپنی تحریرات استعمال کریں۔ ورنہ بحیثیت صاحب مجسٹریٹ ضلع ہم کو مزید کاروائی کرنی پڑی گی۔

’’میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو بحضور خداوند تعالیٰ حاضر جان کر باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ :١...... میں ایسی پیشگوئی جس سے کسی شخص کی تحقیر (ذلت) کی جائے یا مناسب طور سے حقارت (ذلت) سمجھی جائے یا خداوند تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد ہو شائع کرنے سے اجتناب کروں گا۔ ٢...... میں اس سے بھی اجتناب کروں گا شائع کرنے سے کہ خدا کی درگاہ میں دعا کی جائے کہ کسی شخص کو حقیر (ذلیل) کرنے کے واسطے جس سے ایسا نشان ظاہر ہو کہ وہ شخص مورد عتاب الٰہی ہے۔ یہ ظاہر کرے کہ مباحثہ مذہبی میں کون صادق اور کون کاذب ہے۔ ٣...... میں ایسے الہام کی اشاعت سے بھی پرہیز کروں گا کہ جس شخص کا حقیر (ذلیل) ہونا یا مورد عتاب الٰہی ہونا ظاہر ہو یا ایسے اظہار کے وجوہ پائے جائیں۔ ٤...... میں اجتناب کروں گا ایسے مباحثہ میں مولوی ابوسعید محمد حسین یا اس کے کسی دوست یا پیرو کے خلاف گالی گلوچ کا مضمون یا تصویر لکھوں یا شائع کروں جس سے اس کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ اس کے یا اس کے کسی دوست یا پیرو کے برخلاف اس قسم کے الفاظ استعمال کروں جیسا کہ دجال، کافر، کاذب، بطالوی، میں کبھی اس کی آزادانہ زندگی یا خاندانی رشتہ داروں کے برخلاف کچھ شائع نہ کروں گا جس سے اس کو آزار پہنچے۔ ٥...... میں اجتناب کروں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا اس کے دوست یا پیرو کو مباہلہ کے لئے بلاؤں۔ اس امر کے ظاہر کرنے کے لئے مباحثہ میں کون صادق اور کون کاذب ہے نہ میں اس محمد حسین یا اس کے دوست یا پیرو کو اس بات کے لئے بلاؤں گا کہ وہ کسی کے متعلق کوئی پیشین گوئی کریں۔ (دستخط: مرزا غلام احمد قادیانی بقلم خود ٢٤ فروری ١٨٩٩ء)

کسی نبی نے اس قسم کا اقرار نامہ حکومت وقت کے سامنے پیش نہیں کیا اور نہ ہی اپنی کمزوریوں کا ضمناً اقرار کیا ہے۔

٢٨...... عہد قادیانیت میں مدعیان نبوت

مرزا قادیانی نے رسالہ دافع البلاء میں اس کا ذکر کیا ہے کہ وہ میری تائید کے لئے

صفحہ ٥٣٤

مبعوث ہوا تھا۔ مگر میں نے اس کو منظور نہیں کیا۔ کیونکہ خشک مجاہدہ سے اس کا دماغ خراب ہو چکا تھا اور جو الہامات اس پر نازل ہوتے ہیں ان کے متعلق مجھ کو یہ الہام ہوا ہے کہ نزل بہ جبیر اس پر خشک روٹی اتری ہے مراد یہ ہے کہ اس کے الہامات شیطانی ہیں۔ یہ نبی آپ کی زندگی ہی میں تباہ ہو گیا۔

نزیل لاہور (اکاونٹنٹ) وہ مرزا قادیانی کا مرید تھا۔ بگڑ کر موسیٰ بن گیا تھا۔ اور ایک بڑی ضخیم کتاب (عصائے موسیٰ) لکھی جس میں الہامات کے ذریعہ بتایا کہ مرزا میرے ہاتھ سے ہلاک ہو جائے گا۔ مگر وہ طاعون سے پہلے مر گیا۔

بیس سال تک مرزائی رہ کر خود مدعی رسالت بن بیٹھا۔ قرآن شریف کی تفسیر لکھی اور رسالہ الحکیم جاری کیا اور مرشد کی ہلاکت کے متعلق اس نے ایک الہام شائع کیا کہ ٤؍اگست ١٩٠٨ء تک مرزا قادیانی مرجائیں گے۔ مرزا قادیانی نے اس کے مقابلہ پر الہام شائع کیا تھا کہ وہ میری زندگی میں تباہ ہو جائے گا۔ مگر وہ ایسا سخت جان نکلا کہ مرشد کے مرنے کے بعد سات سال تک زندہ رہا۔

نے مسیح ہونے کا اعلان کیا اور چونکہ وہ بہت عمر رسیدہ تھا۔ فالج گرنے سے مر گیا اور مرزا قادیانی نے کہا کہ چونکہ وہ میرے مقابل کھڑا ہوا تھا اس لئے مر گیا۔

مرزا قادیانی نے لکھا تھا کہ میں جون بدل بدل کر آؤں گا اور قدرت ثانیہ کہلاؤں گا۔ تو جناب کی موت کے بعد کئی مدعی کھڑے ہوگئے۔ چنانچہ احمد سعید سنھڑیالی (ضلع سیالکوٹ) اسسٹنٹ مدرس مدعی قدرت ثانیہ ہوا اور اپنا لقب یوسف موعود رکھا۔ اپنے الہامات اپنے رسائل ’’پیراہن یوسفی‘‘ میں جمع کئے۔ جس میں اس نے ظاہر کیا تھا کہ میں نہایت غم کی حالت میں رو رہا تھا کہ مریم علیہا السلام نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ’’بچہ رونہ‘‘ یہی الہام امرتسر چوک فرید میں بیان کیا تو لوگوں نے اسے سنگسار کرنا شروع کیا تو بھاگ گیا اور بچوں نے ’’بچہ رونہ۔ بچہ رونہ‘‘ کہہ کر چھیڑنا شروع کیا۔ وہ اپنی ایک تصنیف میں لکھتا ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ رشتہ داریاں سب ناجائز ہیں اور وہ ولد الزنا ہیں۔ آئندہ کے لیے میں حکم دیتا ہوں کہ ہندوؤں کی طرح غیر قوموں سے رشتہ کریں اسکے گلے میں ایک گلٹی ہے جسے مہر نبوت ظاہر کرتا ہے۔

صفحہ ٥٣٥

اس نے بھی یوسف موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اپنی کتاب ’براہین حقہ‘ میں لکھا تھا کہ مرزا صاحب کی شخصیت کو آج تک کسی نے نہیں سمجھا، وہ حقیقی نبی تھے۔ قادیان میں مسجد الحرام بیت اللہ شریف ہے اور وہی خدا کے نبی کی جائے پیدائش ہے۔ اس لئے اس کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھنا ضروری ہے۔ یہ نبی ناکام رہا اور مرزا محمود کے ہاتھ پر تائب ہو کر مریدوں میں شامل ہو گیا۔

اس کا دعویٰ ہے کہ محمدی بیگم میں ہوں۔ نکاح سے مراد بیعت میں میرا داخلہ ہے اور مرزا صاحب کے بعد گدی کا حقدار میں ہوں۔ کیونکہ مرزا صاحب نے کہا ہے کہ قدرت ثانیہ کا مظہر وہ ہوگا۔ جو میری خو بو پر ہوگا۔ چنانچہ یہ علامت مجھ میں سب سے بڑھ کر پائی جاتی ہے۔ مرزا محمود کے مقابلہ میں تقریباً پچاس رسالے لکھ چکا ہے۔ جس میں وہ خلافت کا مطالبہ کرتا ہے۔ مگر مسند خلافت پر چونکہ محمود صاحب قابض ہیں۔ اس لئے اس کی تبلیغ معرض وجود میں نہیں آئی۔

دعویٰ کیا ہے کہ مرزا صاحب کا ظہور میں ہوں۔ میں اپنی چالیس سال کی عمر گزار چکا ہوں۔ مرزا صاحب کی اصلی عمر پچانوے سال تھی وہ ساٹھ سال کی عمر پا کر مر گئے تو بقیہ عمر مجھے دی گئی۔ اب میں مرزا صاحب ہوں۔ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ فتوحات مکیہ جلد اول باب ٧٢ میں ہے کہ بیت اللہ شریف کے تہ زمین میں ایک خزانہ مدفون ہے۔ حضور علیہ السلام نے کسی مصلحت کی وجہ سے اسکو نہیں نکالا۔ فاروق اعظم نے بھی ارادہ کیا تھا مگر پھر رک گئے اور جب میں (ابن عربی) شہر تونس ٥٩٨ ہجری میں گیا تو مجھے ایک تختی دکھائی گئی۔ جو انگل بھر موٹی اور بالشت بھر چوڑی تھی۔ طول بھی ایک بالشت یا کچھ زیادہ تھا۔ میں نے دعا مانگی کہ یا اللہ یہ تختی واپس اسی خزانہ میں لوٹائی جائے۔ مجھے خوف تھا کہ اگر لوگ دیکھیں گے تو بگڑ جائیں گے کیونکہ یہ امام آخر الزمان کا حق ہے کہ وہ خزانہ نکال کر تقسیم کرے اور یہ خزانہ معارف قرآنی ہیں۔ جو مجھ پر ظاہر ہوئے ہیں۔ ١٥؍ جنوری ١٩٣١ء کو مجھے الہام ہوا کہ مولوی صاحب اخرج من كنوزك المخزونة (ازالہ اوہام ص ١٣٥، خزائن ج ٣ ص ٢٤٢) پر لکھا ہے کہ ”جو شخص کعبہ کی بنیاد کو حکمت الٰہی کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ وہ بڑا عقلمند ہے خدا کا فرشتہ مجھے قرآن پڑھاتا ہے۔“ اصحاب کہف کا قصہ یوں ہے کہ (ترى الشمس) نبوت محمدیہ کے آفتاب کو تم دیکھو گے کہ (اذا طلعت تزاور عن كهفهم ذات اليمين) جب وہ نکلے گا تو کعبہ سے دائیں طرف مشرق کو نکل جائے گا۔ یعنی قادیان

صفحہ ٥٣٦

میں ٣/ مارچ ١٨٨٨ء کو اس کا ظہور ہوگا۔ یعنی مرزا صاحب کا ظہور ہوگا۔ (تقرضهم ذات الشمال ) پھر وہ سورج قادیان سے شمال مشرق کا کانٹا ہوا چلا جائے گا۔ جس سے مراد میں ہوں۔ ١٨/ اگست ١٩٠٧ء کو مسیح قادیانی نے بھی دیکھا تھا کہ شمال مشرق کی جانب سے یعنی میرے مقام رہائش سے ایک ستارہ سیدھا سر تک آکر گم ہو گیا۔ یعنی میں اس تحریک کو کمال تک پہنچا کر مر جاؤں گا۔ جو میری راہ میں نہیں چلے گا وہ ٹوٹ جائے گا۔ تمام رکاوٹیں اٹھادی جائیں گی۔ میں اقوام عالم کے لئے خدا کے ارادوں کا الارم ہوں۔ میں القائم بامر اللہ ہوں۔ میں ہی وہ خزانہ تقسیم کر رہا ہوں۔ جو بیت اللہ میں ہے میں نجم النساء ہوں۔ میری بیعت کرو۔ یہ مدعی نبوت ابلہ مغرور ہے۔ جیسا کہ اس شعروں سے اندازہ ہو سکتا ہے۔

یار غصے میں سخت بھرا ہے پر کے اندر آؤ
جل جائیں گے باہر والے جلدی اندر آؤ
یار کی نظر اب قہر آلود ہے آجاؤ قال مری میں
سپر اب اس نے مجھے بنایا آجاؤ ڈھال مری میں
سامنے اس کے میں کھڑا ہوں آجاؤ ڈھال کے اندر
بیعت میری ڈھال خدا کی آجاؤ بیعت کے اندر
اب نہ رکنا بیعت مری سے بیعت جلدی کرلو
شاہ و گدا سب آؤ ادھر کو بیعت جلدی کرلو
در توبہ کا آخری میں ہوں آجاؤ میرے اندر
بعد مرے دروازہ بند ہو کیونکر آؤ گے اندر
زمانہ میرا بیس سال پانچ اور پانچ ہیں پھر بھی
فضل کے بعد بھی فضل ہی ہوگا بیعت کرنا پھر بھی
اے عزیزو !وہ چمکنے والا ستارہ میں ہوں
سب سے بڑا فرزند مسیح فضل العمر بھی میں ہوں
صدیوں کے غوث مجدد قطب ابدال جہاں کے
پیچھے چھوڑے اڑنے والے کل اولیاء جہاں کے
صفحہ ٥٣٧

......

اے خدا میری سن لے دعا
اے میرے رب عجیب دعا
الہام دلوں پر نازل کر
کلام اب اپنا نازل کر

میری زندگی کی حد خدا تعالیٰ نے یوں بتائی ہے کہ: ”ثمانین حَولاً اور قریباً من ذلك ، ما هو الميزان ، هو فوق سبعين حَولاً“ یا اللہ اس سے آگے یہاں رہنے کی زندگی مرحمت ہو۔ زندگی آگے ملتی ہے۔ یہاں انڈہ ہے ”ان الله جعل الصورة في الشقين“ یعنی آدھی زندگی آسمان پر اور آدھی زمین پر اے خدا عالم آخرت میں میرا کیا عہد ہے؟ تم نجم السماء ہو۔

اپنے مغرب سے طلوع آفتاب اب ہو گیا
باب توبہ بند ہوگا فیصلہ اب ہو گیا

یہی خاکسار ستر سال والا دروازہ ہے۔ جب تک میں دنیا میں ہوں عذاب کمتر ہوگا۔ اس جہاں سے جانے کے بعد بالکل نظارہ قیامت ١٩٥١ء تک قائم رہے گا۔ بیعت کرو تو یہ عذاب رفع ہو جائے گا اور آئندہ بیس سال امن میں گزریں گے۔ خدا نے ١٨٨٨ء کو مجھے کہا کہ تیری عمر ستر سال ہے اور مانگی تو کہا فراخ ہے۔ فراخی کے ساتھ عمر کا طول مانگا تا کہ کام مفوضہ انجام دے سکوں فرمایا زندگی آگے ملتی ہے۔ یہاں انڈہ ہے۔ یعنی انسان یہاں انڈے کی مانند ہے۔ اس دنیا سے نکلنے کے بعد خالص زندگی ملتی ہے۔

مسند آرائے خلافت آپ ہی ہیں۔ آپ میٹرک فیل ہیں مولوی نور الدین خلیفہ دوم سے دینیات کی مشق کی۔ اردو میں ان کی تصانیف ہیں اور لیکچر دیتے ہیں عربی فارسی میں کوئی تحریر نہیں دیکھی گئی۔ پرائیویٹ طور پر انگریزی کی معمولی تعلیم حاصل کر لی ہے۔ اپنے والد بزرگوار سے كان الله نزل من السماء کا خطاب حاصل کیا ہوا ہے۔ عمانویل صاحب امجد داخلی بھی آپ ہی کہلاتے ہیں۔ فخر الرسل بھی آپ ہی کا خطاب ہے۔ ١٩٣٣ء میں سالانہ جلسہ کے موقع پر بیان کیا تھا کہ فرشتوں نے مجھے قرآن شریف کے وہ جدید مفہوم سمجھائے ہیں کہ آج تک کسی کو معلوم نہیں چنانچہ آج کل وہ مفہوم تفسیر کی صورت میں خاص خاص مرزائیوں کے پاس چھپ کر پہنچ رہے

صفحہ ٥٣٨

ہیں ۔ بہر حال آپ قدرت ثانیہ کہلاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو نبوت جدیدہ کے دعویٰ کی ضرورت نہیں ہے۔ جناب کے عہد میں تبلیغ زوروں پر ہے۔ مگر قوت بازو سے تبلیغ میں وہ تمام وسائل استعمال کئے جاتے ہیں جو سر فدائی اور تشدد پسند استعمال کیا کرتے ہیں۔ انہی کے عہد میں محفوظ الحق علمی اینڈ کو بہائی مذہب کے پیرو مدت دراز تک مرزائی رہ کر قادیان سے نکال دیئے گئے ۔ عبد الکریم ایڈیٹر اخبار مباہلہ کا سانحہ جانفرسا بھی آپ کے عہد میں ہی پیش آیا۔ سکھوں کے ایک گروہ نے مرزائی بن کر آپ سے ہی ہزاروں روپے کی تھیلیاں وصول کیں۔ ضرب و قتل کی واردات بھی آپ کے عہد کا امتیازی نشان ہیں اور آپ کا ہی یہ فتویٰ ہے کہ جو لوگ مرزا صاحب کو نہیں مانتے وہ کافر ہیں اور مخالف کتیوں کی اولاد اور یہود سے بدتر ہیں۔ سیر یورپ کو گئے تو دمشق اتر کر منارہ بیضاء کا قرب حاصل کیا اور جناب عرفانی صاحب خلیفہ بہاء نے ہر چند تبادلہ خیالات کی غرض سے ملاقات کرنا چاہی مگر آپ گریزاں رہے

١٠...... عبد اللہ تیما پوری

اسے دائیں بازوں کی طرف سے الہام ہوتا ہے۔ انجیل قدسی اس کی بہترین کتاب ہے قرآن شریف کی تحریف کرتے ہوئے یوں لکھا ہے کہ يسفك الدماء سے مراد یہ ہے کہ معاذ اللہ حکم الٰہی کے خلاف حضرت آدمؑ نے بی بی حوا علیہا السلام سے خلاف وضع فطرت انسانی کا ارتکاب کیا تھا۔ یہ بھی قدرت ثانیہ کا مدعی ہے اور دعویٰ سے کہتا ہے کہ بہت جلد مرزا محمود میری بیعت میں داخل ہو جائیں گے۔ اس کے تابعدار کیمبل پور اور پشاور کے مضافات میں پائے جاتے ہیں۔

١١...... عابد علی شاہ بدوملہی ضلع سیالکوٹ

مرزا محمود کا فتویٰ ہے کہ مرزائیوں کو مسلمانوں سے رشتہ ناتہ قطعاً حرام ہے۔ مگر اس نے اجازت دی ہوئی تھی طاعون سے مرا تھا۔

١٢...... محمد بخش قادیانی

پہلے پہل مخالف رہا پھر بیعت مرزا میں داخل ہو گیا اور بہت جلد ترقی کر کے الہامات شائع کر دیئے جن میں سے ایک الہام یہ بھی ہے کہ ” آئی ایم وٹ وٹ “

١٣...... ڈاکٹر محمد صدیق

(لاہوری پارٹی) علاقہ کٹک (بہار) میں اپنا مذہب پھیلا رہی ہے اپنی کتاب (ظہور

پشاور) میں لکھتا ہے کہ مسیح جن پر بصیر رہوں۔ میرے ثابت ہوا ممکن ہے کہ اس ۔ مر گیا تھا ) اور یہ بھی لکھا ہے کمال انتظار کر رہے تھے نیک

......١

٨٤ سال عمر پائے گا۔

......٢

ابدال ) وغیرہ بھیجے جاتے ہے۔ اس ہتک آمیز عقیدہ

......٣

میری والدہ نے بیوہ ہو کر کو گیا۔ ٨ سال تک پوشیدہ بیل چکر وغیرہ کے نشانات سے چند نشان مثلاً خال

......٤

میرا نام بچپن سے ہی ص فضل سے پیشوا بنایا ہوا ۔

......٥

سال جنگ رہی بعد میں پیدائش ہوئی ہے۔ ٨ میں ) عنقریب آنے و قادیان کی اصلاح کر ایک اور نبی کھڑا کیا جا نبوت مرزا کے انکار پ ہے درآمدۂ زراہ دور

صفحہ ٥٣٩

بشویور) میں لکھتا ہے کہ مسیح قادیانی وشنو اتار تھا۔ خلیفہ محمود ولد مرزا غلام احمد ویر بسنت ہے اور میں چن بشو بسیور ہوں۔ میرے ظہور کے بعد سات سال تک مرزا محمود مر جائے گا۔ (مگر یہ الہام غلط ثابت ہوا ممکن ہے کہ اس سے مراد اخلاقی موت ہو کیونکہ بقول فضل پکٹ بھی اخلاقی موت سے مر گیا تھا) اور یہ بھی لکھا ہے کہ صوبہ بہار کی مذہبی کتابوں میں یہ دو موعود مذکور ہیں اور ان کا ہندو لوگ کمال انتظار کر رہے تھے یہ بھی لکھا ہے کہ:

٨٤ سال عمر پائے گا۔

ابدال) وغیرہ بھیجے جاتے ہیں۔ قادیان سے آواز آئی ہے کہ حضور علیہ السلام کے بعد نبوت جاری ہے۔ اس ہتک آمیز عقیدہ کے دفعیہ کے لئے خدا نے مجھے مبعوث کیا ہے۔

میری والدہ نے بیوہ ہو کر نکاح ثانی کیا تو میں ساتویں نمبر پر پیدا ہوا۔ برہمچاری بن کر علاقہ کرناٹک کو گیا۔ ٨ سال تک پوشیدہ رہ کر ظاہر ہوا۔ پیٹھ پر سانپ کے منہ کا نشان موجود ہے۔ ہاتھ میں سنکھ بیل چکر وغیرہ کے نشانات بھی موجود ہیں۔ کتب حدیث میں چالیس صدیوں کا ذکر ہے۔ جن میں سے چند نشان مثلاً خال وجہ وغیرہ مجھ میں بھی پائے جاتے ہیں۔

میرا نام بچپن سے ہی صدیق دیندار ہے مجھے ایسے دعاوی کی ضرورت نہیں۔ خدا نے مجھے اپنے فضل سے پیشوا بنایا ہوا ہے میرا فرض ہے کہ جو ہتک قادیان سے ظاہر ہوئی ہے اسے دور کروں۔

سال جنگ رہی بعد میں میں پیدا ہوا۔ اس وقت میری عمر چالیس برس تھی اور ١٣٠٣ھ میں میری پیدائش ہوئی ہے۔ ٨ اپریل ١٨٨٦ء میں مرزا صاحب نے لکھا تھا کہ ایک مامور (مدت حمل میں) عنقریب آنے والا ہے۔ اس کا نزول نزول الٰہی ہے وہ میں ہی یوسف موعود ہوں تاکہ اہل قادیان کی اصلاح کروں اسلام میں اس سے بڑھ کر کوئی اور حملہ نہیں کہ حضور علیہ السلام کے بعد ایک اور نبی کھڑا کیا جائے اور امتی کو احمد والی آیات کا مصداق بنایا جائے اور بیس کروڑ مسلمانوں کو نبوت مرزا کے انکار پر خارج از اسلام تصور کیا جائے۔ اہل قادیان باز آ جائیں تو بہتر ہے ورنہ وعید ہے دیر آمدہ ز راہ دور آمدہ کا وعدہ مجھ سے پورا ہوا۔ محمودیوں اور پیغامیوں میں جھگڑا تھا اس لئے

صفحہ ٥٤٠

میں حکم بن کر آیا ہوں (جن بشویسور)

میری خبر دے چکے ہیں۔ میری صداقت سمجھ میں نہیں آتی تو چند دن صبر کرو خود فیصلہ ہو جائے گا۔ زمین آسمان میرے شاہد ہیں میں نے آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا جیسا کہ ان کو بھی معلوم ہے۔ مزید تحقیقات کی ضرورت ہو تو کم از کم پندرہ روز میرے پاس ٹھہرو حق کھل جائے گا۔

اپنے اوپر عائد کیا (جیسا کہ کذکر کم اباء کم میں مذکور ہے) مگر لوگوں نے حقیقی خدا سمجھ لیا، خدا کے دربار میں جب پوچھا گیا تو حضرت عیسیٰ نے اپنی خدائی سے بالکل انکار کر دیا۔ اسی طرح حضور علیہ السلام کے بعد مجدد قادیان نے مجازی طور پر اپنی نبوت ظاہر کی تو مرنے کے بعد محمود نے حقیقی نبوت سمجھ لی۔ ١٣٤٤ء میں مجھے مکاشفہ ہوا کہ میں جناب باری میں کھڑا ہوں۔ مرزا صاحب بھی موجود ہیں خدا نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی جماعت کو تعلیم دی کہ مجھے نبی مانو۔ کہا میں نے کبھی یہ تعلیم نہیں دی۔

جانتا ہوں یا میرا خدا جانتا ہے کہ میں احمدیوں کے لئے یوسف موعود ہو کر آیا ہوں اور ہتک نبوت دور کر دی ہے۔ ہندوؤں میں کلمہ طیبہ موجود تھا میں نے اسے بھی ظاہر کر دیا ہے۔ وہ دھڑا دھڑ مسلمان ہو رہے ہیں۔ میرے نشانات کئی ہزار ہیں۔ صرف اخلاقی نشان ٤٥ ہیں۔ یہ نعمت کیسے ملی! صرف حضور علیہ السلام کی محبت میں فنا ہونے سے ملی اور قادیان کے خلاف کرنے سے ملی۔ غیرت الہی نے مرزا صاحب سے بڑھ کر نشانات میرے لیے ظاہر کئے۔ میرے سوا قادیان کی اصلاح ممکن نہ تھی۔

وہاں سے نکالا گیا اور لگا تار ١٢ سال سے اس عقیدہ کی تردید کر رہا ہوں۔ خدمت رسول علیہ السلام کے طفیل جو مجھے نشان دیئے گئے ہیں۔ ان میں سے بارش کا نشان زیادہ اہم ہے جو میری کتاب خاتم النبیین میں مذکور ہے۔

بیٹھا رہا ہندو مارنے آئے تو ایک اژدھا نے بھگا دیئے۔ ملاڈ کے علاقہ میں بارش دو دو ہفتہ تک برستی ہے میرا وعظ میدان میں مقرر ہوا ہندوؤں نے مجھے جیل میں ڈالنے کی ٹھان لی تھی۔ بعد از

صفحہ ٥٤١

مغرب ابر پھٹ گیا گیارہ ہندوؤں آپڑے میں نے ایک آیت پڑھی سب ڈر گئے باوجود زبان بندی کے ٤٥ وعظ کئے۔ گدگ میں بارش نہ تھی میں نے دعا کی تو بارش آگئی۔ موضع بلہاری میں میرے خلاف میٹنگ ہو رہی تھی۔ تو میز کے نیچے سے ایک سانپ نکل آیا تو سب بھاگ گئے۔ ڈاؤن گڑھ میں بارش نہ تھی میں نے کہا کہ میں وعظ کروں گا تو پندرہ منٹ میں بارش آئے گی۔ تو ایسا ہی ہوا لوگ واپس گھر پہنچے ہی تھے کہ سخت بارش ہوئی۔ پنڈت ہالیا نے کہا کہ بشویسور کی دعا سے بارش کا ہونا لکھا ہے ضلع میسور میں ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس نے وعظ کے وقت مجھ پر گندگی پھنکوادی تو اس کی ذلت ہوئی کہ اس کا داماد میرا مرید ہو گیا۔ مقدمہ چلا ہائی کورٹ میں میرے حق میں فیصلہ ہوا اور وہ دل کی حرکت بند ہونے سے مر گیا اور اس کے معاون ڈگریٹ ہو گئے۔ سیٹھ محمد صاحب نے میسور سے مجھے چارشنبہ کے روز کہا کہ ٹاؤن ہال میں اتوار کو وعظ کرو میں نے کہا کہ خدا نے مجھے روک دیا ہے کہا کہ تم جھوٹے ہو میں ضرور وعظ کراؤں گا۔ اگلے دن ہی ایک ہندو پنڈت نے بحث کی تو میرا مرید ہو گیا غنڈوں نے کہا کہ اتوار کو ہم فساد کریں گے کیونکہ تم ہندو اوتار ہو کر گائے کا گوشت کھاتے ہو۔ اب سیٹھ صاحب گھبرا گئے اور مجھے اتوار سے پہلے ہی میسور سے نکال دیا اور میں نے ان کو خط لکھا کہ دیکھو خدا کا کلام کیسے پورا ہوا تالیگوٹہ میں میرے ہمزلف عبدالقادر کے ہاں میری بیوی اپنی بہن کے پاس آئی میں اندر آنے لگا تو مجھے ڈانٹ پلائی۔ واپس چلا آیا تو چند یوم بعد وہ مر گیا۔ اس کی بیوہ میری مرید بن گئی۔ رات میرے پاس تنہا رہتی اور خدمت کرتی مجھے رامدرگ سے تالیگوٹہ کو جانا پڑا۔ اسٹیشن تک ٣٠ میل کا فاصلہ تھا رات کو میری خوشدامن نے اسکو میرے ساتھ گاڑی میں بٹھا دیا جب پھر ہمزلف مذکور کے مکان پر پہنچے تو کوٹھے پر سوگئے بارش آئی تو نیچے الگ الگ سوئے۔ تھوڑی دیر گزری تو وہ لڑکی اپنی چھاتی میرے پاؤں سے لگا کر سوئی ہوئی دکھائی دی۔ اب میں دعا میں مصروف ہو گیا۔ چند روز بعد میری بیوی مر گئی اور اس لڑکی نے مجھ سے شادی کر لی۔ اسی تالیگوٹہ میں ایک ساہوکار نے مجھے چھپر بند اور پھر شہر بدر کرنا چاہا تو رات کو اسے کان درد نے اتنا ستایا کہ ڈاکٹر بھی عاجز آ گئے آخر دل میں ہی پشیمان ہو کر میرا نام لیا اور راکھ باندھی تو فوراً آرام ہو گیا صبح مجھ سے معافی مانگی۔ گدگ میں میرا ایک مخالف لڑکا مر گیا۔ لنکایت میں ایک لڑکے نے مجھے کہا کہ تم ہندو اوتار ہو؟ میں نے کہا ہاں اس نے مجھے مارنے کی دھمکی دی میں وہاں سے نکل آیا۔ تو وہ مر گیا ١٩٢٥ء میں بتایا گیا کہ ٥ ماہ کے بعد سرکاری دنگہ فساد ہوگا۔ تو ممتاز و باؤلہ کا کیس واقع ہوا۔ مجھے اپنے فوٹو کا بلاک بنوانا تھا قیمت سات روپیہ بذریعہ الہام ہوئی۔ ہوبلی کی مسجد سے مجھے آواز آئی بنکور میں صرف ٥٠٠ آدمی ہیں مطلب یہ تھا کہ اسلام

صفحہ ٥٤٢

کے معاون صرف پانچسو تھے ورنہ دولاکھ کی آبادی تھی۔ راجکوٹ میں بارہ ہزار آدمی بتائے گئے تو سچ نکلا۔ میرے حقیقی بھائی سید محبوب حسین میرے ساتھ تبلیغی دورہ میں مصروف تبلیغ رہے ٢٢ جگہ قیام کیا اور ٢٤ گھنٹے میں بغیر موسم کے بارش ہوتی رہی اور یہی چن بشویسور کی نشانی تھی جو پوری ہوئی۔ ١٩٢٥ء میں قادیان آیا تو وہاں بھی سخت بارش رات کو اس قدر ہوئی کہ کتبخانہ کی کتابیں لت پت ہوگئیں صبح میرے تکیہ کے پاس ہی کتابیں دھوپ میں رکھی گئیں وہ یوں کہتی تھی کہ تم نے غلط تعلیم دیکھ کر ہم پر پانی پھیر دیا ہے۔ میرے مکاشفہ کے مطابق میرے بھائی احمد علی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ خواب آیا کہ تیرتا ہوں اور میری پیٹھ پر میرے بھائی احمد علی کا لڑکا کہ تہنیت علی ہے۔ کنارہ پر گیا تو اس کی جگہ اس کا بھائی مراتب علی پایا۔ معلوم ہوا کہ اسی رات مر گیا تھا۔ موضع ہلیلا رگ میں مجھے الہام ہوا کہ ایک واقعہ ہوگا۔ چنانچہ ایک مسجد میں وعظ کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جس طرح حضور علیہ السلام امام الانبیاء ہیں اسی طرح آپکی امت بھی امام الامم ہے اس لئے چن بشویسور بھی اسی امت میں پیدا ہوا ہے اتنا کہنا ہی تھا کہ مجھے بری طرح نکالا گیا اور مسجد دھوئی گئی۔ دربار شاہی حیدر آباد میں حاضر ہوا۔ تو لوگ مجھے پیشوا ماننے لگے میں نے انکار کر دیا اور کہا کہ خدا نے مجھے پیشوا بنا دیا ہوا ہے ایک مولوی صاحب نے مجھے کافر کہہ کر خوب ڈانٹا مگر میں نے پروا نہ کی بلکہ لکھ کر دیدیا کہ میں پکا احمدی ہوں سلسلہ محمودیہ کا سخت دشمن ہوں اس کی بیخ کنی کرتا ہوں اور کرونگا پھر میں نے دبایا تو وہ دب گئے اور مجھ سے معافی مانگی۔ حکیم سید محمد حسین نے میرے عقائد پوچھے تو میں نے یہ نظم پڑھ کر سنائی۔

نظم

ساری قوموں کے میرے سامنے ہیں اصل اصول
جگ کی ہر قوم کے دنگل کا پہلوان ہوں میں
یعنی عیسائی و موسائی زردشتی ہوں میں
آریہ ہوں لنکائب ہوں وقرآن ہوں میں
چھتری ہوں ویش ہوں شودر ہوں برہمن ہوں میں
سکھ کائستہ ہوں اور حلقہ بھگوان ہوں میں
قادیانی ہوں لاہوری ہوں نجدی ہوں میں
نیچری ہے مرا مذہب اور اس سے فرحان ہوں میں
صفحہ ٥٤٣
قادری چشتی و سہروردی و رفاعی ہوں میں
نقشبندی بروز مہدی دوراں ہوں میں
حنبلی شافعی ہوں مالکی اور حنفی ہوں
عرشی فرشی ہوں بہائی واہل قرآن ہوں میں
خارجی معتزلہ اور ہوں میں اہل حدیث
اور سنی بھی ہوں اور زمرہ شیعیان ہوں میں
الغرض کل یہ مذاہب جو ہیں انسان کے ہیں
مجھ میں سارے ہیں مذاہب کیونکہ انسان ہوں میں
جیسے آدم کا وجود ہے کہ خلاصہ عالم
پس اسی طرح ہے اسلام مسلمان ہوں میں

ہر ایک مذہب اور بالخصوص اسلام اپنے اصول پر قائم نہیں لوگوں نے فالتو باتیں شامل کر رکھی ہیں مرزائی تعلیم کا بھی یہی حال ہے لوگ مرزا کو نبی جانتے ہیں حالانکہ ٦٣ جگہ اس نے لکھا ہے کہ میں نبی نہیں ہوں پھر مولوی صاحب مجھے بزرگ جاننے لگے کیونکہ ایک بجلی میرے ساتھ تھی جس سے وہ میرے مرید بن گئے۔

١٤....... شروع میں موضع میرج سے ایک نے کہا کہ ہندو کہتے ہیں کہ ایک مسلمان گوشت خور بشویسور بنا ہوا ہے کرناٹک علاقہ سے نکال دیں یا اس پر جادو چلائیں تا کہ روگی ہو جائے۔ میں نے کہا کچھ پروا نہیں دو ہزار روپیہ دے کر آٹھ دن تک جادو کرایا۔ مگر کچھ نہ بگڑا کیونکہ یہ کام اللہ کا تھا اور میرا وجود درمیان میں نہ تھا۔

١٥...... ایک نے مجمع میں مجھے مار ڈالنے کی ٹھان لی قریب آیا تو میں نے کہا کہ میں چراغ الٰہی ہوں خدا مجھے بجھنے نہ دے گا۔ موضع چکوڑی میں ایک نے کہا کہ تم بشویسور ہو تو میں داڑھی بڑھا کر رسول اللہ بنتا ہوں۔ میں نے کہا کہ میرا ثبوت تو ١٦ جگہ سے ملتا ہے تمہارا کیا ثبوت ہے وہ خاموش ہو گیا پھر ایک لاٹھی لیکر آیا میں نے اس کو پاس بٹھا لیا تو وہ لاٹھی غائب ہو گئی اور میں بچ گیا۔ پھر میں جاترا میں جا گھسا تو لوگ مجھے سلام کرنے لگے۔ بیل ہونگل میں لوگ مجھ پر دھول اڑانے لگے کسی نے داڑھی نوچی، کوئی دانت دیکھتا، کسی نے دم پوچھی میں نے کہا کہ تم گالیاں دو میں کچھ نہیں کہوں گا تو کہنے لگے ہم آپ کو اوتار مانتے ہیں ہم نے آزمالیا ہے۔

١٦...... میں حیدر آباد آیا وہاں ایک مولوی صاحب تکفیر میں بڑے ماہر تھے مجھے بھی

صفحہ ٥٤٤

مرتد کہا میں نے کہا کہ میں ایسے لفظوں سے نہیں گھبراتا میں تو برہان ہوں میں خود قرآن ہوں ایک ایک آیت پر اٹھارہ اٹھارہ کتابیں لکھ سکتا ہوں سارقہ کا ترجمہ پوچھا تو میں نے سنادیا اور کہا کہ کیا ماہر قرآن کو مرتد کہتے ہو؟ خالی ترجمہ تو غیر مسلم بھی کر سکتے ہیں مگر معارف کس سے سیکھیں گے۔ ایک دن اپنی انجمن بنگلور کے ہال میں وعظ کو نکلا۔ خیال تھا کہ بیت المال قائم ہو خلیل صاحب سے کہا کہ وہ قائم نہ ہوگا کیونکہ ایک اور واقعہ ہونیوالا ہے۔ یہ کہہ کر سورہ توبہ کی آخری آیات پڑھیں جن میں ایثار کا ذکر تھا۔ پھر میں نے کہا کہ اگر تم ایثار نہ کرو گے تو کیا قبر میں مال لے جاؤ گے؟ یہ سنکر جناب ظہیر الدین مکی وزیر زراعت میسور وہیں مر گئے۔ ہلیال ضلع کاروار میں سورہ ابراہیم پر وعظ کیا تو ایک آدمی بیہوش ہو گیا۔ ایک عورت ہبلی میں میرا وعظ سنکر ایسی متاثر ہوئی کہ ہر طرف اسے بسویشور ہی نظر آتا تھا کئی دن تک یہی حالت رہی پھر میری مرید ہو گئی۔ کئی ایک وعظ سنکر مجھے مہدی کہنے لگے۔ میں نے کہا صدیق ہوں اور یہی اعلیٰ رتبہ ہے میں اپنا نام نہیں جانتا۔ نبی کا نام بس ہے میں سب کو مسلمان جانتا ہوں۔

١٧...... ایک نے خواب دیکھا کہ میں چار سورجوں کے درمیان ہوں تو اس نے حلیہ پہچان کر میری بیعت کر لی۔ ١٣٣١ھ میں محبوب شاہ افغانی نے خواب دیکھا کہ ہبلی نور سے پر ہے اور ایک حوض میں کثرت سے تارے گرتے ہیں۔ تو وہ مدراس سے مجھے ملنے آیا اور میرے ہم خیال ہو گیا۔ سید غوث محی الدین تاڑ پتری نے کہا کہ گدگ میں مہدی آئے ہوئے ہیں تو آپ نے میری بیعت کر لی ایک سیاح نے خواب میں کتاب پر پیران پیر کی تصویر دیکھی کہ وہ مجسم بن گئی ہے۔ اسی سے میرا حلیہ لیکر میرا مرید بن گیا۔ ایک راجہ کو دوپہر کے وقت خواب آیا کہ جاؤ پیران پیر صاحب مصیبت میں ہیں حفاظت کرو تو وہ میری حفاظت کو آگئے۔ ڈیڑھ ماہ پیشتر پیر محی الدین نے میسور میں خواب دیکھا کہ ان کے پاس دو خادم لیکر آیا ہوں۔ آواز آئی کہ ان کی مدد کروں میں پہنچا تو پہلے خواب سنا چکے تھے اور میری شناخت کر لی اور معتقد ہو گئے۔ گل محمد نے ٩ ماہ پیشتر شاہ نور میں خواب دیکھا جس میں میرا حلیہ بتایا گیا جب میں پہنچا تو اس نے شناخت کر لیا۔

١٨...... ہبلی میں ایک شادی پر مجھ سے کہا گیا کہ بارش ستاتی ہے میں نے دعا کی تو بند ہو گئی بلہاری میں ایک کو بچھو نے کاٹ کھایا کسی نے میرے نام کی دہائی دیکر دم کیا تو وہ فوراً اچھا ہو گیا۔ رکن الدین مخالف تھا تو اس کا گھر بار فنا ہو گیا آخر ایک بچہ رہ گیا تو اسے میرے قدموں پر رکھ کر معافی کا خواستگار ہو گیا۔ سیٹھ حسن نے اپنی بہن سے میرا نکاح کرا دیا۔ جب مذہبی وعظوں کا شور اٹھا تو گھبرا گئے ایک رات میں باہر تھا تو میرے گھر کو باہر سے تالا ڈال گئے۔ میں نے دیکھ کر کہا

صفحہ ٥٤٥

کہ تالا کھولو مگر آپ نے بہت کچھ کہا کہ کل عقائد کا تصفیہ ہوگا۔ میں ایک دوست کے گھر چلا آیا۔ صبح ہوئی بحث چھڑی میں نے کہا کہ یہ مہینوں کی بات ہے۔ بتاؤ کہ ہمشیرہ کو بھیجتے ہو کہ جاؤں۔ تو وہ خاموش ہو گئے میں نے سوچا کہ وہ مجھے مارینگے مگر وہ نرم ہو گئے اور گھر لے جا کر کھانا کھلایا۔ پھر سارا کنبہ میرا مرید بن گیا۔ ایک روشن ضمیر بچہ ست سالہ بنچن کٹی متصل گدگ میں تھا اسنے ایک سا دھو سے پوچھا کہ تم نے کیا پڑھا ہے کہا کہ ٦ وید ١٨ پران اور چھ شاستر کہا تو پھر چن بشویسور آج کہاں ہیں کہا معلوم نہیں کہا تو پھر تم نے کچھ نہیں پڑھا وہ ڈیڑھ ماہ تک گدگ آئینگے میں گدگ آیا تو میرے پاس آ کر میری تصدیق کی اور سب حاضرین کا حال بتا دیا اور میرے پاؤں دبانے لگا اور مجھے اپنا باپ کہہ کر پکارنے لگا مجھے یقین ہو گیا کہ یہ ولی اللہ لکت والا مہدی ہے جو میری تصدیق کے لئے مبعوث ہوا ہے۔

......١٩

میں یوسف صدیق ہوں۔ یوسف جیسا علم مجھے دیا گیا ہے جس کی شہادت میرے عقارب اور میرے تبلیغی علاقہ کے مخالفین دے سکتے ہیں اور یوسف جیسی پاکدامنی بھی مجھے دی گئی ہے کیونکہ میرے ایک بعید رشتہ میں ایک خوبصورت اور شوخ طبع لڑکی تھی جو چار سالہ عمر میں ہی میری دوست تھی اور اس کے سینہ میں سوائے میری تصویر کے کسی دوسرے کی تصویر نہ تھی۔ ٢٥ سال کی عمر میں فارغ التحصیل ہو کر میں کفن پوش فقیر بن گیا تو اس کا ناتہ دوسری جگہ ہو گیا مگر وہ مجھے چاہتی تھی میرا خط جاتا تو سینہ سے لگا لیتی جب میں نے اصلاح المسلمین، تبلیغ الاسلام ۔ خادم اسلام، صفتہ اسلام وغیرہ انجمنیں قائم کیں تو ان دنوں میں اسی کے گھر رہتا تھا۔ ایک دن جمعرات کو ٥ بجے دیوان خانہ میں بیٹھا تھا کہ اس نے اپنے ماموں کا بسترہ تو دیوان خانہ میں بچھوایا اور میرا بسترہ دالان میں تیار کرایا۔ رات کے دو بجے تھے بنی سجائی میری چادر میں گھسی اور لب پر لب رکھ دیئے میں نے آنکھ کھلتے ہی اسے دھکیل دیا اور تہجد کے لیے کھڑا ہو گیا۔ وضو کرتا تھا مگر ہوش قائم نہ تھی اور گھنٹہ بھر وضو ہی کرتا رہا اور جب تہجد شروع کی تو نیند آ گئی اور خواب دیکھا کہ میں پریشان حال اپنی بیوی کے پاس رام درگ ضلع بلگاؤں گیا ہوں پیراہن پیچھے سے چاک ہے۔ بیدار ہوا تو صبح اور تہجد ملا کر پڑھیں اور لڑکی کو خط لکھا کہ ایسا کام نہ کرو۔ میں تم سے شادی نہ کرونگا اگر موجودہ ناتہ ناپسند ہے تو دوسری جگہ تبدیل کرالو اس نے کہا کہ مجھے لیجاؤ ورنہ زہر کھالوں گی میں نے روکا مگر وہ نہ مانی۔ یہ خطوط اس کی جیب میں تھے کپڑے اتار غسلخانہ میں گئی تو خالہ اس کے کمرہ میں آئی اور وہ خط اٹھا کر پڑھ لئے۔ اس نے فوراً ٹنکچر ایڈین کی شیشی پی لی۔ اب ڈاکٹر آئے کہرام مچ گیا رات کو میں نے دیکھا تو نبض کمزور تھی اور کہہ رہی تھی کہ مردار کی موت مر رہی ہوں۔ میرے چاچا نے کہا

صفحہ ٥٤٦

کہ خون تم نے کیا ہے میں نے کہا کہ وہ خود دو بجے میری گود میں آ گھسی تھی۔ میں کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیادار ہوں۔ میری عصمت پر دھبہ آتا ہے اس واسطے میں نے صاف کہہ دیا ہے اور یہ عصمت حضرت یوسف علیہ السلام سے بڑھ کر تھی۔ کیونکہ میں تیس سالہ تھا اور وہ ١٧سالہ کسی کا خوف بھی نہ تھا وہ منکوحہ تھی اور یہ باکرہ میرا عفو یہاں تک ہے کہ مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں۔ نہ جنت کی خواہش ہے نہ دوزخ کا ڈر ہزار روپے آتے ہیں مگر گھر ایک روپیہ بھی نہیں بھیجتا۔ کیونکہ میں جہاد بالنفس کا پہلوان ہوں۔

استعمال کئے جاتے ہیں ان کو دور کرنا اس کا خاص کام ہوگا۔ دکن میں مشہور ہے کہ پہلے اولوالعزم محمود ویر بسنت آئے گا۔ اس کے خیالات سے دنیا میں ابتری پھیلے گی (کیونکہ وہ ختم رسالت کا انکار کرے گا ) جن کو دور کرنے کے لئے چن بسویسور صدیق اللہ کا بندہ ظاہر ہوگا۔ ویر بسنت کے نشانات یہ ہیں کہ ١٩١٤ء بروز جمعہ گدی نشین ہوگا۔ تاریخ پیدائش ١٨٩١ء سے پہلے ہوگی کشمیر کے نیچے کے علاقہ میں ظاہر ہوگا۔ گردن اور پیشانی کے بال اکٹھے ہوں گے پیشانی پر ہری رگیں ظاہر ہونگی کرشن اوتار کی گدی پر بیٹھے گا اس کے عہد میں جماعت دو ٹکڑے ہوگی اور خون کی ندی بہے گی یعنی گریٹ وار ہوگی۔ اس کے دست دراز ہوں گے قرآن شریف کے غلط معنی کریگا۔ ایشور اوتار حضور علیہ السلام کی ہتک کریگا۔

ساتھ ملکر کام کرو۔ اختلافات چھوڑ دو۔ پنچ اقوام کو سرکش لوگوں کی غلامی سے چھڑاؤ اور مسلمانوں کو کافر کرنے کی بجائے کافروں کو مسلمان کرو۔ اے خلیفہ قادیان، دکن اور قادیان کی جماعتیں ملائیں گی آپ کو شالی دولہا کہا گیا ہے۔ میرے پاس دس بارہ ہزار تک لوگ جمع ہو جاتے ہیں لوگ مسلمان ہورہے ہیں۔ مرزا صاحب نے ٦٣ جگہ مدعی نبوت کو کافر جانا ہے۔ میں یوسف موعود بھی اعلان کرتا ہوں آپ کے بعد مدعی نبوت کافر، کاذب اور دجال ہے ( یہ ہاتھی کے دانت دکھا کر ٧٨ پر لکھا ہے کہ لاہوری پارٹی اور قادیانی پارٹی دونوں نے خط و کتابت سے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم تیرے ساتھ مل کر تبلیغ کا کام کریں گے )

موعود آئے ہیں وہ حضور علیہ السلام کے خادم تھے آپ نے فرمایا کہ ما من نبی الا لہ نظیر من امتی اس لئے آپ کے عہد میں اعزازی اور بروزی موعود موجود تھے۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبر

صفحہ ٥٤٧

مثیل ابراہیم تھے۔ حضرت عمر مثیل نوح۔ حضرت عثمان مثیل ادریس اور حضرت امام مثیل یحییٰ تھے۔ مگر ان کو نبی ماننا سخت گناہ ہے۔ حضرت پیران پیر نے اپنے اندر نبوت دیکھی تو فرمایا کہ اوتی الانبیاء اسم النبوۃ واوتینا اللقب مولائے روم نے شمس تبریزی کو کہا کہ آپ رسول اللہ ہیں اور میں عمر ہوں۔ صرف چھیالیسواں حصہ نبوت کا باقی ہے۔ اس سے کوئی نبی نہیں بن جاتا۔ علم تصوف سے ناواقف غلو کرتے ہیں اور تکفیر میں لگ جاتے ہیں ورنہ مثنوی میں صاف لکھا ہے کہ آں نبی وقت باشد اے مرید اور ابن عربی اسکو ہمیشہ جاری مانتے ہیں۔ اے جماعت قادیان تمہارا غلو کرنا مصلحت خداوندی تھی کہ مماثلت مسیح پوری ہومرزا صاحب کا قول ہے کہ آج ١٨٨٦ء سے چالیس سال بعد تم (قادیانیوں) کا مامور آتا ہے وہ عموائل یوسف صدیق ہے دور سے آتا ہے آپ نے بھی اس کے ملنے کا اشتیاق ظاہر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ

باغ میں ملت کے ہی کوئی گل رعنا کھلا
آئی ہے باد صبا گلزار سے مستانہ وار
آرہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے
گو کہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار

وہی زمانہ ہے۔ بابرکت ہیں وہ لوگ جو اس لیلۃ القدر کی قدر کرتے ہیں۔ قادیانیو! میاں صاحب مامور نہیں ہیں ان کا میرے ساتھ ہونا ضروری ہے اور ہم دونوں کا وجود دکن کے لیے حجت ہے۔ اسلامی کامیابی صوفیانہ رنگ میں ہوتی ہے اور کبھی خشک ملاؤں سے نہیں ہوئی اور یہ کامیابی غیر اقوام کے موعود سے ہوتی ہے چنانچہ حضرت طارق اسپین کے موعود تھے۔ خواجہ معین الدین ہندوستان کے۔ حضرت عمر بیت المقدس کے، محمود غزنوی گجرات کے۔ یوسف عادل شاہ کرناٹک کے۔ دکن مسلمان ہونے کو ہے تم ہی جو اس بوجھ کو اٹھاؤ گے۔ مجھے خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ تم میرے پاس جمع ہو جاؤ کیونکہ میں تمہارا موعود بشیر ہوں، مرزا صاحب کو نبی کہنا چھوڑ دو۔ خدا ایک ہے سب کا رسول بھی ایک ہے۔ سخت بیدینی ہوگی کہ اس مرکز کو چھوڑ کر الگ مرکز قائم کیا جائے۔ پہلے گو مرکز بہت تھے مگر جب شہنشاہ آگیا تو الگ بادشاہت قائم کرنا بغاوت ہوگا۔ اس کتاب سے انشاء اللہ قادیانیوں کو ہدایت ہوگی۔

وجیہ پاک لڑکا تم کو دیا جائے گا۔ وہ غلام زکی ہوگا۔ خوبصورت۔ تمہارا مہمان عیموائل بشیر صاحب

صفحہ ٥٤٨

روح مقدس ۔ نوراللہ ۔ آسمان سے نازل ہونیوالا ۔ مبارک ۔ رفیق فیصل ، صاحب شکوہ و عظمت ودولت ۔ مالک مسیحی نفس ، شافی امراض ۔ کلمۃ اللہ ۔ سخت ذہین فہیم ، حلیم القلب ۔ عالم علوم ظاہری و باطنی ۔ تین کو چار کر نیوالا ۔ فرزند دلبند ۔ گرامی ارجمند ۔ مظہر الاول والآخر ۔ مظہر الحق و العلاء كان الله نزل من السماء نور آتا ہے نور ۔ ممسوح الٰہی قوتیں اس سے برکت پائیں گی۔ ١٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کو الہام ہوا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب پیدا ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کریگا ۔

’’نازل من السماء كذلك مذنا على يوسف ١٨٨٣ء انظر الى يوسف واقباله ٠ انا خلقنا الانسان فى يوم موعود ١٨٩٢ء ياتى قمر الانبياء ١٨٩٣ء كان من اهل البيت على مشرب الحسن يصالح بين الناس ١٩٠١ء انى لا جد ريح يوسف لولا ان تفندون ١٩٠٥ء ‘‘ تیری جماعت کے لئے تیری ہی ذریت سے ایک شخص کو قائم کرونگا اس کو قرب اور اپنی وحی سے مخصوص کرونگا اس سے حق ترقی کریگا ۔ لوگ سچائی کو قبول کریں گے ممکن ہے کہ وہ ابتدا میں بے حقیقت نظر آئے ۔ یادرہے کہ ہر ایک کامل انسان بننے والا بھی نطفہ اور علقہ ہی ہوتا ہے ١٩٠٥ء

اے فخر رسل قرب تو معلوم شد
دیر آمدہ زوداہ دور آمدہ

باغ میں ملت کے ہے کوئی گل رعنا کھلا ۔ ١٩٠٧ء حضرت صاحب کو تین پھل آم کے ملے ۔ ایک سبز رنگ سب سے بڑا تھا ۔ یعنی بشیر اول یوسف موعود ۔

جس کا نام محمود بھی ہے ۔ وہ اپنے کاموں میں اولوالعزم بھی ہوگا ١٨٨٨ء میاں محمود پیٹ میں تھے تو مرزا صاحب کو ان کا نام مسجد کی دیوار پر لکھا ہوا نظر آیا ۔ یہ بھی الہام ہے ایک اولوالعزم پیدا ہوگا ۔ وہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا ۔ وہ تیری ہی نسل سے ہوگا ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند ۔ مظہر الحق والعلاء كان الله نزل من السماء اور وحی فضل عمر ہے ۔ ١٨٨٨ء

اور عنموائیل دونوں کے اعداد ٢٠٨ ہیں ۔ یہ مکان کا بچہ نہیں کیونکہ اس بشارت کے بعد ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے ہیں جو گزر گئے تھے ۔ اس کے بعد دو سال ٩ ماہ ٤ دن تک کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا ۔ اس کے بعد میاں محمود پیدا ہوئے ۔ اس کے بعد دو فرزند پیدا ہوئے ہیں ۔

اخیر میں مبارک احمد پیدا ہوا

١٩٠٧ء کے اشتہار

تاریخ ظہور بحساب

لکھا ہے ۔

کے لحاظ سے بھی

بھی چوتھی ہے ۔

مثلاً یہ کہ :

کربلا ، کام کرنا چھوڑ دیں ۔ ہوگئی ، ٣٥ کو سرکاری ڈنکا ہو ہے ، آگے کام بڑھے گا ، بنگلور اور میسور کربلا کے مید دیکھیں گے ، سکندر آباد ہاں ج چور میں بارہ ہزار آدمی مل ج ہاتھ میں ہے ، بنگلور جائے گئے ہیں ، جماعت والوں کو

صفحہ ٥٤٩

اخیر میں مبارک احمد پیدا ہوا۔ اب میری صداقت یہ ہے کہ:

١٨٩٧ء کے اشتہار باغ ٹٹ کی نظم میں اسی مضمون کو دہرایا ہے۔

تاریخ ظہور بحساب قمری میں قرار دیا ہے۔

لکھا ہے۔

کے لحاظ سے بھی چوتھا ہوں۔

بھی چوتھی ہے۔ سال بھی چوتھا ہے (٤؍ رمضان پیر کا دن ١٣٠٣ھ )

مثلاً یہ کہ:

کربلا، کام کرنا چھوڑ دیں گے، ڈھوروں کے حملہ سے کتا آیا اور میرے انگوٹھے کو آ پکڑا، مفارقت ہوگئی، ٣٥ کو سرکاری ڈنگا ہوگا، جاتا ہے مار کھاتا ہے، یہ آگ نہیں بجھتی، یہ پانی کڑوا ہے، آج بازار ہے، آگے کام بڑھے گا، جو مانگے گا سو دوں گا، اب بھی بہت ہے چلو، ایک لاکھ چوبیس ہزار، بنگلور اور میسور کربلا کے میدان ہیں، چور ہے، سر پر سبز پگڑیاں باندھے ہوئے ہیں، لوگ تماشہ دیکھیں گے، سکندر! وہاں جاؤ کام ہو جائے گا، شاید ہی ایسی سیر نصیب ہو، یہ گر جاتے ہیں، رائے چور میں بارہ ہزار آدمی مل جائیں گے، میں یہاں سے نکال دیتا ہوں، حیدرآباد کی ناک آپ کے ہاتھ میں ہے، بنگلور جائے، تکلیف یا نقل پائے، کشتی ہوگی، معذرت نامہ ذرا کمزور ہے، ہندو الٹ گئے ہیں، جماعت والوں کو تمہارا بھی یقین ہو گیا، گیارہ کوس تک تمہارا اثر ہے۔

صفحہ ٥٥٠

زمانہ میں آدمی بیچ سے چیرا جائے گا، بتیس خزانہ ملتے ہیں، مکین والا مکان تیرا، زمین آسمان تیرا، دانت توڑ ڈالیں گے، آپ کی جان میرے ہاتھ میں ہے، تیری عزت کروانا میرا کام ہے، کمال پاشا کی مردہ زمین کو جگائے گا، ہم تعمیر کرنے والے ہیں، ١٥٣٥ء کو تختہ الٹ جاتا ہے، چھ باب ہیں، تو سب کو گھیرے گا، تمہیں اور جارج تیرا نام دنیا میں جگاؤں گا، تین سال گزر جانے دو، اب اس علاقہ میں اسلام نہیں پھیلے گا، انگورہ گورنمنٹ کے تیرے لئے سامان تیار کیا ہے، گدک مسلمانوں کا ہے، حیدرآباد ڈیڑھ سوسال کے بعد روحانیت کے کمال کو پہنچ جائے گا، جو مجھے مان کر آگے بڑھا وہ شہید ہوا، اے مسیحا مصیبت کے دن میں، انگلینڈ کے لئے بھی تلوار چلے گی، قادیانی پارٹی مجھے مل جائیں گی، تلوار لیکر کام کریں گے، آٹھ سو سال میں کھڑا ہوتا ہوں، ایک اور لڑائی ہوگی ،سب سے بڑا واقعہ حسن نظامی کی بیعت ہے، ایک بچی آئی ہے آپ کے پاس تا کہ نکاح کرے، ایک سالہ لڑکی دعا کرتی ہے کہ یا اللہ کہ میں کسی (صدیق) سے قرآن شریف پڑھوں اور اس کی مرید ہو جاؤں، گاندھی جی مجھ کو دیکھ کر ایک اندھیرے حجرے میں جا کر چھپ گئے۔

نظم

راز دانوں کے لئے نقطۂ عرفاں ہوں میں اس کا اظہار کروں کس طرح حیراں ہوں میں
یہ وہ شے ہے جس کی تقسیم نہیں ہوسکتی گنتی میں ہوں میں احد سب میں نمایاں ہوں میں
کوئی شے ایسی نہیں جو نہ ہو مجھ میں ظاہر مظہر عالمیاں مکتب یزداں ہوں میں
کوئی سیارہ فلک کا نہیں مجھ سے باہر ہر فلک مجھ میں ہے افلاک میں دوراں ہوں میں
میرے مائدہ پر دھری رہتی ہے دنیا کی فضا عالم ہر جنس کا ہے سب کا حکمراں ہوں
جتنے دنیا کے مزے ہیں وہ ہیں مجھ میں موجود گندمی رنگ ہے میرا مجموعہ الوان ہوں میں
میں ہوں قرآن جہاں میری قرات سب میں گو لحن ایک ہے پر مجموعہ الحان ہوں میں
فعل مخصوص ہر اک جان کا ہے عام میرا مظہر نور خدا پر تو یزداں ہوں میں
اب تو انسان ہی کو خلق لکم کہتا ہے ہوں میں لولاک کے شایاں اگر انسان ہوں میں
جب عناصر کے یہ پردے کو اٹھا کر دیکھا قرب اللہ میں خود جنت و ریحاں ہوں میں
کچھ جدائی نہیں کہنے کو ہے اندر باہر پھر قریب اور بعید ہونے میں یکساں ہوں میں
کوئی شے غیر نہیں غیر کا سایہ بھی نہیں احدیت میں جو کبھی تھا وہی الآں ہوں میں
قاب قوسین کے منزل میں اتر کر دیکھا انسیت خالق ومخلوق سے انسان ہوں میں
صفحہ ٥٥١
دل ہے آئینہ میرا اور میں آئینہ میں ہوں ہے مخالف یہ خلقت ورنہ رحماں ہوں میں
دیکھی تبدیلی اشیا میرے ہاتھوں میں عکس رب ہوں یا کہ قدرت یزداں ہوں میں
رب کی مرضی سے میری مرضی ہے ملتی جلتی کیونکہ راضی برضا ہونے سے یک جاں ہوں میں
مالک الملک ہوا ہے پاسباں میرا پھر تو ڈر کیا ہے اگر بے سر و ساماں ہوں میں
بندہ رب ہی رہا قادر کن فیکوں چار میں چوتھا وہی بندہ رحماں ہوں میں
میں وہی نور ہوں جس نور سے افلاک بنے ان میں ظاہر ہوں کبھی اور کبھی پنہاں ہوں میں
آنا فآنا ہے جانا بھی دکھتا ہی نہیں فرط رحمت میں برستی ہوئی باراں ہوں میں
ہفت افلاک انگوٹھی میں نگینہ ہوں میں یعنی اس دور کا خورشید درخشاں ہوں میں
میری آمد نے ملائک کی زباں بند کر دی سب کو تابع بھی کیا تابع فرماں ہوں میں
میرے ہی قلب میں اللہ ہی سما سکتا ہے کیونکہ سب ہستیوں سے اشرف جاناں ہوں میں
دونو ہاتھوں سے بنایا ہے میرے رب نے مجھے چونکہ ذوالفضل ہے وہ اس لئے ذوشاں ہوں میں
ظل مولےٰ کے نتیجہ میں تو مولےٰ نکلا جو زمانہ میں عیاں وہی پنہاں ہوں میں
یہ جہاں عرش خدا ہے لوح محفوظ ہوں میں دائرہ نون یہ ہے نقطۂ عرفاں ہوں میں
پائی ہے رفعت سماوات نے رفعت مجھ سے زیں سبب عرش معلیٰ پہ حکمراں ہوں میں
آگئے ارض و سما میرے قدم کے نیچے کیونکہ ہر شان سے توحید میں عریاں ہوں میں
مات کر دیا میری پرواز نے پروازوں کو یعنی احمد کے عقب دست بداماں ہوں میں
میری پرواز ہے اس طرح کہ الاں یاں ہوں دوسری آن میں بر عرش حکمراں ہوں میں
ہو کا حاکم ہوں میں اللہ کا شاہد ہوں میں اور در رنگ الہ گنبد دوراں ہوں میں
کوئی مکنون جہاں مجھ سے نہیں چھپ سکتا میں ہوں قرآن میں سر نفس قرآن ہوں میں
کل پیمبراں کھڑے ہو گئے میرے ہی لیے میری خادم ہے ہر اک چیز حکمراں ہوں میں
میں نہ ہوتا تو خدا کو یہ ضرورت کیا تھی میں ارادہ ہوں خدا کا یعنی انساں ہوں میں
عقل کل تھا میں کبھی نفس میں آ کر ٹھیرا صورت جسم لئے سب میں نمایاں ہوں میں
اے دلا دیکھ لے ہیں تینوں زمانے مجھ میں روپ لاکھوں میں ہر اک شان کا شایاں ہوں میں
دست احمد میں چھلکتا ہوں مثیل خورشید حوض کوثر کا وہی پیالہ عرفاں ہوں میں
مجھ سے بڑھ کر نہیں اس وقت کسی کی قسمت جام کوثر ہوں صراط ہوں اور میزاں ہوں میں
احدیت سے اتر کر خاک میں آ کر ٹھیرا عالم غیب شہادت میں نمایاں ہوں میں
صفحہ ٥٥٢
شان و قرآن وعمل میں میں ہی شاہد بن کر ماہ و خورشید کواکب میں درخشاں ہوں میں
خشک زاہد تو لکیروں سے جسے ڈھونڈتا ہے وہ میرے قلب میں ہے اسمیں ہی عیاں ہوں میں
دائرہ نون میں نکتہ کا ٹھکانہ ہوں میں لوح محفوظ میں لکھا ہوا قرآن ہوں میں
ہفت افلاک سدا میری عبادت میں ہیں اور مسجود ملائک وحور و غلماں ہوں میں
یہ زمیں آسماں جو ہے وہ میری کرسی ہے سب میں موجود ہوں مگر سب سے جداگاں ہوں میں
مجھ سے نکلا ہوا مجھ میں ہی فنا ہوتا ہے کیونکہ ارواح واجسام کی بنیاں ہوں میں
درد وآلام کا احساس مجھے کچھ بھی نہیں اور خوشحالی وتنگ حالی میں یکساں ہوں میں
نہ کبھی نیند ہے نہ اونگھ نہ غفلت کا اثر چرخ گرداں کے اثر سے بھی دراماں ہوں میں
میں نہ محصور ہوں نہ موت مجھے آئے گی مالک الملک ہوں اور عرش پر حکمراں ہوں میں
ہر زمانہ کو سنبھالا ہے میری طاقت نے منبع رحمت حق قدرت یزداں ہوں میں
رات دن عالم ملکوت میں ہے ذکر میرا روح ارواح ہوں اور شکل میں عرفاں ہوں میں
غیر موصوف ہوں موصوف نظر آتا ہے اس کی اک خاص وجہ یہ کہ مہرباں ہوں میں
عقل انساں کی رسائی سے بہت دور ہوں میں اہل دل دیکھتے ہیں غیروں سے پنہاں ہوں میں
یہ مقامات ہیں غیروں کو دکھانے کے لئے ورنہ کیا جانے کوئی کون ہوں اور کہاں ہوں میں

”تنقید“...... ناظرین آپ نے دیکھ لیا ہوگا کہ اس مدعی قدرت ثانیہ نے اپنے دعاوی میں کیا کیا رنگ دکھلائے ہیں ایک طرف تو مدعی نبوت کو کافر کہہ کر اپنی ہستی کو مہدویت ومسیحیت سے الگ رکھا ہے اور دوسری طرف یوسف علیہ السلام سے بڑھ کر اپنی فوقیت دکھائی ہے اور صاحب وحی ۔ مظہر الہی اور نجات دہندہ عالم و عالمیان بن کر وحدت وجود کا بھی دم بھرا ہے اور بعینہ یہی اس کے مرشد کی بھی حالت تھی۔ مریدوں میں بیٹھ کر خدائی تک پہنچتے تھے اور غیروں کے سامنے نبوت اور مہدویت سے بھی انکار تھا۔

١٤...... احمد نور کابلی قادیان

مدعی رسالت قادیان میں ہی مدت سے مسیح قادیانی کا زلہ ربا ہے۔ ناک پر پھوڑا ہوا تھا۔ تو کاٹی گئی اور نبوت کا رتبہ پایا ، تہجد گزار ۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا ۔ سرمہ فروش خانہ بدوش افغان ہے۔ ہم ذیل میں اس کی افغانی اردو میں اس کے دعاوی بیان کرتے ہیں۔ اس نے ایک ٹریکٹ شائع کیا ہے جس کا عنوان لکل امۃ اجل نیچے لکھا ہے کہ :

صفحہ ٥٥٣

ماننا اللہ کے دین سے اخراج ہے۔ روحانی سورج ہوں میرا زمانہ لیلۃ القدر ہے۔ رحمۃ اللعٰلمین ہوں۔ میرا نام محمد رسول ہے۔ میں منارِ سپید سے نازل ہوا۔ مظہر جملہ انبیاء ہوں اور قرآن کو ستاروں سے لایا ہوں۔ عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً میں خدا نے مجھے ہی کہا تھا کہ خلیفہ محمود کے عہد میں قادیان کے اندر تجھے مبعوث کیا جائے گا اور و ابعثہ مقاما محمودا میں بھی یہی حکم ہے۔ ھو الذی بعث فی الامیین میں ہے کہ افغانوں میں خدا نے ایک رسول بھیجا ہے و آخرین اور احمدیوں میں جو مسیح قادیانی کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس میں دو قوم کا ذکر ہے۔ ایک قوم مسیح موعود کی جو امت محمدیہ سے ملتی ہے دوم میری قوم جو مسیح کے بعد پیدا ہوئی اور غیر ملحق ہے اور اسی غیر ملحق قوم میں رسول کا مبعوث ہونا لکھا ہے سو میں شرعی رسول ہوں میری شریعت قرآن ہے اور یہ قرآن اب اللہ نے مجھ پر نازل کیا ہے مجھے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ احمد نور رسول اللہ دیا ہے۔ سورہ فاتحہ بھی دی ہے قریباً دس ہزار کے وحی ہے اور کثرت کے ساتھ کلام کیا ہے۔ میری وحی رحمٰن کی طرف سے ہے اس پر ایمان واجب ہے۔ میرا ساتھ دینا جنت ہے۔ الگ رہنا دوزخ ہے، میرے انکار پر مرنا لعنت ہے۔

......٢...... الہامات یہ ہیں کہ تم جملہ انبیاء کے مظہر ہو۔ واتبعو النور الذی معہ کما اوحینا الی نوح ولقد اوحی الیک۔ارسلنک شاهدا۔احمد نور کابلی اللہ کا رسول۔الا رحمته العلمین۔ماانت بنعمة ربک بکاھن ولا مجنون۔ تم خاتم النبیین ہو اور قرآن مجھکو دیا ہے مسیح موعود نے کلمہ کا دعویٰ کیوں نہیں کیا (اگر چہ بعد میں مرزا کی یوں کہتے ہیں (لا الہ الا اللہ احمد جری اللہ ) اس کا جواب یہ ہے کہ: ”ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء“

......٣...... فلسفہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہر ایک رسول کا وقت مقرر ہے دوسرا وقت اس کی امت کا ہے اور اسی کو لیلۃ القدر کہا گیا ہے پھر اور رسول کا وقت آ جاتا ہے جو مسیح ثانی اور شمس روحانی کے نام سے مشہور ہے۔ موسیٰ کے بعد یہودی شھداء علی الناس بن کر حاکم بنے رہے شمس روحانی عیسیٰ آیا تو یوم لظیٰ تھا اور وہی لیلۃ القدر تھا عیسیٰ کے بعد شھداء ہوئے اور مطلع الفجر تک حاکم رہے تب محمد علیہ السلام ایہ للناس آیا اور فجر آیا۔ کہ رات تمہاری اسی سے ختم ہو گیا۔ اللہ نے اپنی تبلیغ اپنے رسول کے سپرد کیا۔ جب آپ فوت ہو گئے۔ تو امت کے سپرد دین کی خدمت کیا اور اس کو شھداء بنایا۔ مسیح موعود آیا اب امت محمدیہ کا وقت گزر گیا۔ مسیح موعود مر گیا تو رات ہو گئی اور مرزائیوں نے سمجھا کہ ہمارا وقت قیامت تک ہے۔ اب کوئی نبی نہ آئے گا۔ یہ نہ سمجھا

صفحہ ٥٥٤

کہ یہ لیلۃ القدر ہر نبی کا وقت ہے یہ حتی مطلع الفجر تک ہے۔ اب امت کا وقت گزر گیا۔ احمد مسیح موعود کی امت میں محمد ثانی کے سپرد ہے اب حکم ہے کہ: ”ما اتكم الرسول فخذوه اطيعوا الرسول“ اگر تم امم انبیاء ما قبل مانو اور مجھے نہ مانو تو تم مومنین میں نہیں ہو۔ میں قادیان میں سورج چڑھا ہوں میرا انکار کفر ہے۔ میں صبح ہوں ”والصبح اذا تنفس . اليس الصبح بقریب“ اگر لوگ میرا انکار کریں۔ تو وہ مجرم ہیں اور سورج کی روشنائی سے دور ہیں۔ اب موسیٰ عیسیٰ محمد اور احمد پر ایمان لانا کام نہیں دیتا۔ میں اپنے مقام پر بیٹھ کر تبلیغ کروں گا کیونکہ تبلیغ کے وسائل ڈاک وغیرہ موجود ہیں اپنی جان خطرہ میں کیوں ڈالوں ”فلا تكونن من الجاهلين“ تم رسول کو ڈھونڈو گے ورنہ دوزخ میں جاؤ گے پڑھو۔ ”لا اله الا الله احمد نور رسول الله اشهد ان لا اله الا الله واشهدان احمد نور رسول الله“

دوسرے دائرہ کے آنے تک منشی کام کرتے ہیں۔ دوسرا آجائے تو پھر بھی وہ کام کرنے لگ جائیں تو ان کو توپ سے اڑا دے گا۔ ہائے افسوس ان لوگوں نے (یعنی مرزائیوں نے) رسول کو نہ مانا خدا کی لعنت ان پر برسی اور دین سے خارج ہوگئے ”كمثل الحمار يحمل اسفارا“ بن گئے، رسول کے وقت لوگ تین قسم کا ہوتا ہے ایک منعم علیہم رسول کو ماننے والے دوم مغضوب علیہم اس کے منکر سوم، ضالین جو خاموش ہیں ”جعلوا اصابعهم في اذانهم“ یہ تین قسم کے لوگ قیامت تک رہے گا۔ جو لوگ مجھے مانتے ہیں وہ کامیاب ہیں اب یہ کلام الہی مانو: ”الحمدالله رب العالمين.ولا الضالين.الم ذلك الكتاب ...... هم يوقنون ...... ارسلنك للناس رسولا وكفى بالله شهيدا.فكيف اذا جئنا ...... شهيدا لكل امة اجل يايها الرسول بلغ ...... الذين يبايعونك ...... والذين امنو به وعزروه ...... يايها الذين امنو اطيعوالله واطيعو الرسول.مالكم لا تؤ منو ن بالله والرسول يدعوكم لتؤ منو ابر بكم وقد اخذ ميثاقكم.فتوكل على الله.انك على الحق المبين من يطع الله ...... فوزا عظيما.ومن يشاقق الله ...... شديد العقاب فجعلهم كعصف ماكول.ما واهم جهنم الا انهم هم الخاسرون.كتب الله لاغلبن انا ...... عزيز.اعد الله لهم عذا با شديدا.قل فانتظرو انى معكم ...... فبا بغضب على غضب وللكفرين عذاب مهين.بئس مثل القوم الذين كذبوا با يات الله انك لمن المرسلين.امنو بالله ورسوله والنور الذي انزلنا

صفحہ ٥٥٥

يحسرة على العباد ...... المؤمنون يؤمنون بما انزل اليك وما انزل من قبلك وأخرين منهم لما يلحقوا بهم “ اس میں یہ ہے کہ میں محمد رسول کلمہ والا سفید منارہ سے نازل ہو کر عیسیٰ بن مریم کے بعد قرآن لایا اور زمانہ محمود اور مقام محمود پر قائم ہوا۔” مثل الذین حملوا التوراة انا فتحنا لك فتحا مبينا هوالذي بعث في الاميين “ یعنی افغانوں میں نبی بھیجا۔ اس افغان قوم کو دین کا وارث بنایا ہے۔ احمد نور کی وفات کے بعد یہ قوم شھداء علی الناس ہوگی۔ پھر ایک اور رسول آئے گا اور یہ تین قسم بن جائے گی۔” منعم عليهم مغضوب عليهم اور الضالین “ افغان قوم بالتخصیص اور باقی لوگوں کو بالعموم بشارت ہے کہ بابرکت ہے وہ جس نے میری آواز پر لبیک کہا اور کہا کہ: ” ربنا أمنا بما انزلت واتبعنا الرسول۔ کذبت قبلهم قوم نوح ...... وعيد بل كذبو ابالحق لما جاء هم۔ ما ارسلنك الا رحمة اللعالمین هو الذي ارسل رسوله “ وہ مشرک ہے جو میری مقابل کی آواز پر لبیک کہا اور میری آواز کو چھوڑ دیا ” انا لما طغا الماء ...... واعيه۔ كذبت ثمود ...... ابشر اواحد انتبعه۔ ما اغنى عنی مالیه ...... فما بكت عليهم السماء يا ايها الذين أمنو استجيبو الله ...... يحييكم قل تمتعوا فان مصيركم الى النار۔ عالم کباب “ معنی یہی ہے اس آیت میں بتایا ہے کہ احمد نور عالم کباب ہے کہ مسیح نے اس کے آنے کی خبر دی ہے ” وقالو اکنا نسمع ...... كان نكير، وذرني والمكذبين ...... عذابا اليما، قل ان كنتم تحبون الله فاتبعو نی یحببكم الله “ اب اللہ کے دین کی باگ صرف احمد نور کے ہاتھ میں ہے۔ افغانو ! میرے ساتھ ہو جاؤ عرب کی طرح عزت پاؤ گے۔ ” والله عليم بذات الصدور۔ قل يا ايها الناس قد جاء کم برھان یوم تبيض وجوه وتسود۔ يوم يدعون الى جهنم دعا۔ يا ايها المدثر ...... فكبر۔ اليس بقادر على ان يحيی الموتی “ کیا میں قادر نہیں کہ احمد نور اور افغانو جیسے مردوں کو زندہ کروں ” انه لقول رسول کریم ...... تذهبون “ احمد نور کا کلام رسول کا کلام ہے اور کریم رسول ہے اور عاقب اول رسول ہے۔ اللہ کے پاس کے عرش والا اللہ ہے، عزت دیا گیا امین ہے یہ تمہارا صاحب مجنوں نہیں یہ مجنون کا حال نہیں کہ ایسا کلام اس پر نازل ہوا اور اللہ تعالیٰ مجھے اپنے ساتھ آسمان پر لے گیا ہے۔ ” انه لقول فصل ما يتجنبها الا الاشقى الذى يصلی النار الكبرى فهل وجدتم ما وعد ربكم حقا وجئى يومئذ بجهنم لقد جاء کم موسی بالبينات ثم اتخذ تم العجل من بعده وانتم ظلمون “ احمد نور موسیٰ

صفحہ ٥٥٦

ہے اس کا کلام بینات ہے میری تابعداری چھوڑ کر دوسرے کی تابعداری کرنا عجل ہے اور یہ ظلم ہے یہ شرک فی الاواز ہے ایک طرف اللہ کی آواز ہے اور ایک طرف غیر اللہ کی۔ ایسے بچھڑے کی تابعداری ہر قوم نے کی ہے۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ “ مشرک وہ ہے جو اللہ کی رسالت کو ناپسند کرتا ہے اور برخلاف آواز پر لبیک کرتا ہے۔ اللہ رحم کرے۔

تنقید...... اس رسول نے اپنے عقائد کی بنا پر مرزا صاحب کو حقیقی رسول مانا ہے اور اپنے آپ کو مرزائیت کا ناسخ نبی قرار دے کر وہی چال چلا ہے جو اس کا مرشد چلا تھا۔ مگر اس کا قرآن چھوٹا ہے او اس کا بڑا۔ شرک فی الآواز کا محاورہ مرشد کی تابعداری سے حاصل کیا ہے اب ہمیں کچھ ضرورت نہیں رہی کہ مرزائیوں کو خارج از اسلام کہیں۔ کیونکہ خود ان میں دو شخص (صدیق اور احمد نور )خصوصاً اور باقی مدعیان نبوت عموماً ان کی تکفیر کر رہے ہیں۔ ایران کی طرف نگاہ کی جائے تو وہاں سے بھی ان پر تکفیری گولہ برستا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ آپس میں نپٹ کے ہماری طرف متوجہ ہوں مجھکو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑوں۔

ورنہ کیا جانے کوئی کون ہوں اور کہاں ہوں میں یہ مسلم ہائی سکول لاہور میں انٹرنس پاس کر کے دفتر پیغام صلح لاہور میں ملازم ہو گیا پھر وہیں ترقی پا کر ذمہ دار اراکین مجلس تک پہنچ گیا اور جب اس نے دیکھا کہ اس کے خلاف مرضی کام ہوتا ہے تو وہی طریق حصول نبوت اختیار کیا جسے ان کے ہاں نبی بنا کرتے ہیں اور الہام ہونے شروع ہو گئے پیشین گوئیاں ہونے لگیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی۔ کہ خواجہ کمال الدین بہت جلد مر جائے گا۔ ملازمت سے برخاست کیا گیا اور زیر علاج رہ کر پھر بحال ہو گیا اور اس نے اپنے اشتہارات کے ذریعہ انجمن کی خیانتیں لکھنی شروع کر دیں کیونکہ راز دار تھا۔ اس لئے انجمن نے یہی مناسب سمجھا کہ گو اس کا دماغ درست نہیں مگر فتنہ سے بچنے کے لئے یہی بہتر ہے کہ اس کو کچھ دلا سا دے کر اپنے ساتھ ہی شامل کر لیا جائے۔ یقیناً اگر الگ ہو جاتا تو ضرور اپنی کتاب مائدہ شروع کر دیتا۔ جس کا کہ وہ وعدہ کر چکا تھا۔ مگر اب اس کی آتش فتنہ فرو ہو چکی ہے۔ تاہم اپنے دعویٰ سے دستبردار نہیں ہوا ہمارے خیال میں وہ کسی موقعہ کی تلاش میں ہے اور وہ دن دور نہیں جبکہ وہ اپنی لن ترانیاں اہل ہند کے گوش گزار کرے گا۔

مہدی آخرالزمان مجدد وقت نبی اور رسول۔ ساکن موضع گناچور ضلع جالندھر

صفحہ ٥٥٧

پنجاب ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ایک دفعہ ١٩٠٤ء میں بروز جمعہ قبل از نماز مغرب مجھے یہ الہام ہوا کہ: ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ“ جس میں مجھکو قطعی طور پر نبی اور رسول بتایا گیا۔ اس دعویٰ کے ثبوت میں اس نے ایک کتاب چشمہ نبوت شائع کی ہے۔ جس کا پہلا حصہ پانچ سو صفحہ تک پہنچتا ہے۔ اس میں لکھتا ہے کہ

گئے ۔ اسی طرح میں بھی مرزا صاحب پر ایمان لایا تھا مگر ان کی وفات کے بعد مہدی آخر الزمان اور نبی امتی اور رسول بن گیا ہے۔

زور سے آنے لگی تو ہوش سنبھالا کہ اوہو میں تو نبی ہوں اور مسیح ناصری سے بڑھ کر ہوں۔ تعجب ہے کہ اس طرز نبوت کی تصدیق حضور علیہ السلام کی نبوت سے حاصل کی جاتی ہے کہ (حضور علیہ السلام کو بھی تین سال تک یا بروایت دیگر چند ماہ تک یقین نہ تھا۔ کہ میں نبی ہوں یا ماؤف الدماغ؟ جبریل علیہ السلام ہر چند آ کر عرض کرتے رہے کہ : ”انک رسول اللہ “ مگر آپ اسے آسیب شیطانی سمجھے جنابہ خدیجۃ الکبریٰ اور ورقہ بن نوفل نے ہر چند حضور کو سمجھایا مگر آپ کو اطمینان حاصل نہ ہوا۔ اور اسی تذبذب میں آپ نے کئی دفعہ یہ ارادہ بھی کر لیا تھا کہ کسی پہاڑ کے اوپر سے گر کر جاں بحق ہو جائیں۔ مگر تائید ایزدی نے آپ کو بچا لیا تھا ) لیکن یہ نظریہ بالکل غلط ہے کہ حضور علیہ السلام کو پہلی وحی میں نبوت حاصل نہ ہوئی تھی اور نہ ہی آپ کو یقین ہوا تھا۔ کہ آپ نبی ہیں اور مرزا صاحب نے اپنی نبوت ثابت کرنے کے لئے حضور علیہ السلام کا جو یہ لفظ نقل کیا ہے۔ کہ آپ فرماتے تھے کہ: ”خشیت علی نفسی“ مجھے اپنی جان کا خوف پڑ گیا تھا کہ جن بھوت مجھے ہلاک نہ کر ڈالیں۔ یہ بھی غلط ہے کہ کیونکہ حضور علیہ السلام کو وحی اول سے پہلے ہی یقین ہو چکا تھا۔ کہ مجھے نبوت عطا ہو گی قبل از نبوت کے تاریخی واقعات ارہاصات اور معجزات نہ صرف آپ کو یقین دلا چکے تھے۔ بلکہ یہود و نصاریٰ کو بھی چشم براہ اور آمادہ کر چکے تھے کہ کب آپ سے یہ دعویٰ معرض ظہور میں آئے اگر ان واقعات کو نظر انداز کیا جائے تو یہ لازم آئے گا کہ وحی اول کے بعد متصل جو لوگ مسلمان ہوئے تھے ان کا اسلام معتبر نہ ہوتا۔ بچوں میں حضرت علی علیہ السلام اول المؤمنین نہ ہوتے عورتوں میں جنابہ خدیجۃ الکبریٰ اور مردوں میں جناب صدیق اکبر کو صدیق کا خطاب نہ ملتا کیونکہ حضور کو جب پہلی وحی ہوئی تھی تو آپ سفر میں تھے۔ کوئی آدمی مکہ سے واپس جاتا ہوا ملا۔ تو اس نے کہا کہ حضور علیہ السلام نے وحی اول کے ساتھ ہی نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے تو

صفحہ ٥٥٨

جناب ابوبکرؓ نے اسی وقت آپ کی تصدیق کی اور صدیق کا لقب پایا۔ اگر ان واقعات کو بھی ناقابل توجہ نہ سمجھا جائے تو اس کی وجہ ہمیں ضرور سمجھا دی جائے کہ وحی اول (سورۂ اقراء) آج قرآن شریف میں کیوں داخل ہے۔ کیونکہ جب حضور علیہ السلام کو اپنی نبوت کا (بقول مرزا) یقین نہ تھا تو یہ وحی اول وحی نبوت نہ ٹھہری بلکہ ولایت ثابت ہوگی جو وحی نبوت میں شامل نہیں ہوسکتی ورنہ اولیاء عظام کے الہامات بھی داخل قرآن سمجھے جائیں۔ بہرحال اس مقام پر مرزا صاحب نے سخت غلطی کھائی ہے اور آپ کے بعد جناب خلیفہ محمود بھی لکیر کے فقیر بن کر سخت ٹھوکر کھا رہے ہیں اور خشیت علی نفسی کا مفہوم بھی صحیح طور پر نہیں سمجھا کیونکہ اس کا اصل مطلب یہ تھا کہ حضور علیہ السلام کو اپنا ماحول دیکھ کر خطرہ پڑ گیا تھا کہ میں اس بار امانت کو کس طرح سنبھال سکوں گا اس لئے لعلک باخع نفسک کی طرح آپ مشکلات میں پڑ کر جاں بحق ہونا چاہتے تھے۔ علاوہ بریں یہ امر پایۂ یقین تک پہنچ چکا ہے۔ کہ بیرونی شہادت سے حضور علیہ السلام کو اپنی نبوت کا فوراً یقین ہو چکا تھا۔ تذبذب کی حالت صرف چند ساعت تھی۔ گو آپ نے فترۃ وحی کی وجہ سے یا اپنی دنیاوی کمزوری سے تین سال تک اعلان نبوت کی تبلیغ شروع نہیں کی تھی۔ مگر خاموشی سے اپنا کام اول یوم سے شروع کردیا تھا۔ لیکن مرزا صاحب کو نہ تو ١٨ سال تک اپنی شخصیت معلوم ہوسکی اور نہ ہی اعلان نبوت سے پہلے بیعت نبوت شروع کی۔ لدھیانہ میں بھی ١٨٨٩ء کو جو پہلی بیعت شروع کی تھی وہ بھی مہدویت کی بیعت تھی نبوت کی تصریح پر قادر نہ ہوسکے۔ ١٩٠١ء میں بھی گو اعلان نبوت کردیا تھا۔ مگر بیعت میں پھر بھی نبوت کا اقرار نہیں لیا جاتا تھا۔ بہر حال اگر ہم مان بھی لیں کہ بقول مرزا حضور علیہ السلام کو کچھ دیر کے لئے اپنی نبوت میں شک رہا تھا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتا کہ مرزا صاحب کو پورے اٹھارہ سال تک اپنی نبوت کا یقین نہ ہو اس کج فہمی کی بناء پر مخالفین مرزا صاحب کی اس طرز نبوت پر ہنسی اڑایا کرتے ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے عجیب ڈھنگ کھیلا تھا۔

٣...... نبی کو سب سے پہلے اپنی نبوت پر یقین ہونا ضروری ہے اور جس کو یقین نہیں وہ اس وقت تک نبی نہیں۔ نبی کو خدا تعالیٰ اپنا خاص غیب بتلاتا ہے کہ جسمیں حواس ظاہری اور باطنی تجربہ اور قواعد حکمیہ کو مطلق دخل نہیں ہوتا اور نہ یہ وہ غیب ہے کہ بعض کو معلوم ہو اور بعض سے پوشیدہ جیسے برقیات کا تجربہ کہ پہلے اہل ہند نہیں جانتے تھے اور اب جاننے لگ گئے اور جیسے مسمریزم وغیرہ کہ قواعد حکمیہ کے استعمال کرنے سے حواس کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ پس یہی غیب الٰہی پر اطلاع پانا نبی کا معجزہ ہوتا ہے اور یہی وہ علم غیب خدا کا

صفحہ ٥٥٩

خاص علم غیب ہے جو دوسرے میں ذاتی طور پر پایا نہیں جاتا۔

مرزا صاحب کہہ چکے ہیں کہ مجھ سے پہلے بھی مہدی آچکے ہیں اور بعد میں بھی آئیں گے۔ ہاں ان کے زمانہ میں کوئی مہدی نہ تھا۔ کیونکہ وہ خود ہی ایسے مہدی تھے جن کو خدا تعالیٰ نے مسیح بن مریم کا خطاب عطا کیا تھا۔ اس لئے میں آخر الزمان مہدی ہوں۔ میرا زمانہ شروع ہے اور مسیح کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔

کا نام مسیح بن مریم رکھا گیا۔ علیٰ ہذا القیاس میرا اصلی نام عبد اللطیف ہے مگر خدا نے آسمانوں میں میرا نام مہدی موعود محمد بن عبداللہ رکھا ہے اور جس طرح آپ روحانی اولاد بن کر سید ہاشمی بن گئے تھے اسی طرح میں بھی آل رسول میں داخل ہوں۔

نکلے ہیں۔ خوابیں اور پیشینگوئیاں الگ ہیں جن کی تعداد بھی سینکڑے کے اوپر ہے اور مرزا صاحب سے بڑھ کر سچی نکلی ہیں۔ چنانچہ ہندوستان میں زلزلے۔ وبائیں اور سیاسی انقلاب میری پیشینگوئیوں کے مطابق آئے اور مرزا صاحب کی پیشینگوئیاں وہاں درست نہ نکلیں۔ رہا اب یہ سوال کہ ایک مدعی نبوت کو کس قدر معجزوں کی ضرورت ہے تو اس کا حل یوں ہے کہ مرزا صاحب کو اگر بقول بعض مرزائیان مدعی نبوت ١٨٨٢ء میں مانا جائے تو صرف ٣٧ معجزوں سے کام چل سکتا ہے کیونکہ آپ نے سراج منیر ١٨٩٧ء میں اپنے صرف اتنے ہی معجزے گنے ہیں اگر آپ کو ٧٨ء یا ٨٨ء میں مدعی نبوت تسلیم کیا جائے تو سو معجزوں سے زیادہ کی ضرورت نہ ہوگی۔ جیسا کہ تریاق القلوب ١٨٩٩ء میں مذکور ہے۔ نزول المسیح ١٩٠١ء میں ١٥٠ تک مکمل کرنے کا ارادہ کیا تھا مگر بیماری کی وجہ سے صرف ١٤٥ تک لکھ سکے۔ اخیر میں (حقیقت الوحی ١٩٠٧ء ص ٣٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٠) پر یوں لکھا کہ میرا ارادہ تھا کہ تین سو تک نشان لکھوں مگر تین روز سے بیمار ہوں اور ٢٩ ستمبر ١٩٠٦ء کو اس قدر بیمار تھا کہ غلبہ مرض اور ضعف اور نقاہت سے لکھنے سے اب مجبور ہو گیا ہوں۔ براہین حصہ پنجم میں انشاء اللہ تین سو پورے کردوں گا۔ بہر حال حقیقۃ الوحی میں بھی ٢٠٨ سے زیادہ نہیں لکھ سکے اور ٩٢ معجزوں کا ادھار ان کے سر رہا۔ اب اگر ابتدائے نبوت کا خیال رکھا جائے تو میں نے معجزوں کا کورس ختم کر لیا ہوا ہے۔ میں ابھی زندہ ہوں میری نبوت کا آخری زمانہ امید ہے کہ مرزا صاحب سے بہت زیادہ معجزے حاصل کرسکے گا کیونکہ اس وقت بھی اگر رؤیا۔ کشوف اور اخبار بالغیب

صفحہ ٥٦٠

شامل کئے جائیں تو ان کی تعداد ٢٠٨ سے نہ صرف بڑھ کر ہوگی بلکہ کئی گنا زیادہ نکلے گی۔ جو قلمبند ہو چکے ہیں اور قلمبند کرنے میں روزنامچہ پٹواریوں کی طرح تاریخ دن اور وقت تک درج ہے۔ باقی رہے وہ نشانات جو ابھی تک تحریر میں نہیں آئے تو وہ بھی مرزا صاحب سے زیادہ ہیں کیونکہ ان کے نشان تین لاکھ سے زیادہ نہیں اور میرے نشان بارہ لاکھ سے زیادہ ہیں۔

ہے۔ حدیث الکسوف میں میرا ہی تذکرہ ہے۔ دانیال نے میرا ہی زمانہ ١٣٣٥ھ سے ١٤٣٠ھ تک بتایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو صداقتیں اپنے لئے مرزا صاحب نے پیش کی ہیں۔ وہ ساری مجھ پر بہت چسپاں ہوتی ہیں۔ غرضیکہ پونے چار سو تک میرے دلائل صداقت موجود ہیں۔

سے جائز مطالبہ میں شریک کار ہونا ہمارے نزدیک گناہ نہیں اور نہ ہی ہم کسی مسلمان کو صرف اس وجہ سے کافر کہتے ہیں کہ اس نے ہماری بیعت اختیار کیوں نہیں کی کیونکہ ایسے امور فروعات میں داخل ہیں اور اصل نجات خدا اور رسول اور قرآن شریف کے مان لینے سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بس باقی امور صرف تجدید ایمان کے لئے پیش کئے جاتے ہیں (اس لئے مرزا صاحب کا اپنی تعلیم کو مدار نجات ٹھہرانا غلط ہوگا)

لکھا تھا کہ پیغامی پارٹی بہت جلد فنا ہو جائے گی۔ کیونکہ ان کو الہام ہوا تھا کہ: ”یمزقهم الله“ خدا ان کو پارہ پارہ کردے گا۔ مگر ابھی تک وہ الہام پورا نہیں ہوا

نشان والا مہدی وہی تھے اور مرزا محمود بھی پہلے تو ان کو مہدی مانتے تھے۔ مگر جب تخت نشین ہو گئے تو لا مهدی الا عیسیٰ کی بناء پر منکر ہو بیٹھے

کہ خدا تعالیٰ نے حضور علیہ السلام کو صرف ہزار سال کے لئے خاتم النبیین قرار دیا تھا تا کہ فیضان نبوت کے بند ہونے سے اہل اسلام کمزور ہو جائیں اور نصاریٰ جاعل الذین اتبعوك فوق الذین کفروا کے تحت میں طاقتور ہو جائیں اور غلبہ نصاریٰ کے وقت ظہور مسیح موعود کا وعدہ بھی پورا ہو جائے گا۔

صفحہ ٥٦١

تنقید رسالت

اہل اسلام کے نزدیک نہ مرزا صاحب رسول تھے اور نہ ان کے مظاہر قدرت ثانیہ جو مہدی اور رسول بنے ہوئے ہیں کیونکہ وحی رسالت جبرائیل علیہ السلام کی وساطت سے شروع ہوتی ہے اور یا ایسے مخاطبہ ومکالمہ الٰہیہ سے ہوتی ہے کہ جس کو اور لوگ بھی محسوس کرتے ہیں اور اس مقام وحی کو خاص طور پر ممتاز بنایا جاتا ہے مگر یہ پیرومرشد بتائیں کہ ان کو کس مقام مقدس پر شرف مکالمہ حاصل ہوا تھا۔ یا کس فرشتہ کی وساطت سے یہ مقام حاصل ہوا تھا۔ بالخصوص جب یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کو محمد کی رسالت حاصل ہوئی ہے تو گھر بیٹھے بٹھائے یا غنودگی اور خواب میں کیوں حاصل ہوئی جبرائیل کیوں نہ آیا۔ دعویٰ تو اتنا زبردست کیا جاتا ہے کہ محمد اول کو بھی معاذ اللہ وہ وسعت علمی اور وسائل تبلیغ حاصل نہیں ہوئی جو ان کو حاصل ہیں مگر جب پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ صرف ہمارے دل میں ڈالا گیا تھا کہ ہم نبی وقت بن گئے ہیں۔ جناب اس قسم کے الہاموں نے نو آموز اور خام خیال صوفیاء کا بیڑہ غرق کر دیا تھا۔ تو بھلا آپ کون ہیں۔ تمہارا تو مرشد ہی کوئی نہیں، مرشد کامل کے ہوتے ہوئے جب صوفیائے کرام کا یہ ابتلائی مقام اہل اسلام کے لئے اور خود ان کے لئے فتنہ ثابت ہوا۔ تو ایک بے مرشد رہبر وولایت کو معلم الملکوت نے آڑے ہاتھوں کیوں نہ لیا ہوگا۔ تعجب تو یہ ہے کہ ان کے پیر صاحب فخریہ طور پر لکھتے ہیں کہ جس طرح حضرت مسیح کا باپ نہ تھا اسی طرح میرا بھی روحانی باپ اور مرشد کوئی نہ تھا۔ اس لئے مجھے مسیح کا خطاب دیا گیا اور کبھی خیال نہیں کیا کہ شاید شیطان ہمارا مرشد بن چکا ہو اور نہ ہی اس وسوسہ کو دور کرنے کے لئے کسی مرد کامل سے استصواب یا استفسار کیا تھا اور نہ ہی (جیسا کہ تاریخ گواہ ہے) پیرومریدوں میں سے کسی نے استعاذہ اور ابتلائے شیطانی سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ زور دیا جاتا ہے تو صرف شب بیداری اور تہجد گزاری پر مگر ہم کہتے ہیں کہ شیطان ایسے لوگوں کو ہی تو آسانی کے ساتھ شکار کرلیا کرتا ہے کیا تم نے صوفیائے کرام کے حالات نہیں پڑھے۔ یا تم نے جناب غوث اعظم کا مشہور واقعہ نہیں سنا کہ روشن ستونوں میں تہجد کے وقت آپ کے سامنے جناب شیطان علیہ اللعنۃ تشریف لے آئے تھے اور قسم قسم کی بشارتیں دے کر فاصنع ماشئت کا درجہ پیش کیا تھا مگر آپ اس کے چقمہ سے بچ نکلے تھے اور شیطان ہاتھ ملتا ہوا واپس چلا گیا کہتا تھا کہ تمہاری قسمت یاور تھی بچ گئے ورنہ میں نے تو کئی تہجد گزاروں کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ مرزائی نبی بھی اگر کسی کامل کی صحبت میں تزکیہ قلوب حاصل کریں یا کچھ دنوں کے لئے تہجد کی بجائے اپنے تقدس کو جواب دے کر روزانہ

صفحہ ٥٦٢

سجدہ میں گر کر ہزار دفعہ استغفار اور استعاذہ کو دہرائیں یا جو ان میں ماؤف الدماغ ہیں اپنی صحت جسمانی کے حاصل کرنے میں کوشش کریں۔ تو ہمیں امید کامل ہے کہ اس نبوت بازی اور اشتہاری تقدس کی بلا سے ان کو نجات حاصل ہو جائے گی۔ اگر یہ عمل ناقابل برداشت ہے تو ذرہ اتنا سوچئے کہ جس نبی میں فنافی الرسول کا جھوٹا اور بلا ثبوت دم بھرتے ہو اس کو تو تینوں طرح کی وحی حاصل ہو چکی تھی اول وحی فرشتہ کی وساطت سے اظہار عطائے نبوت کے وقت دوسری وحی بالمشافہ یا من وراء الحجاب لیلۃ القدر لیلۃ المعراج میں اور تیسری وحی الہامات وکشوف کے ضمن میں کہ جس کو وحی غیر متلو کہا جاتا ہے مگر تمہارے پلے کیا ہے۔ یہی خوابیں حدیث النفس غیر معقول طبیعت کے اثرات اور سوداوی خیالات سمجھ بیٹھے ہو۔ اگر یہ سب صحیح بھی ہوں تو اس سے وحی رسالت کا درجہ حاصل نہیں ہو سکتا اور صوفیائے کرام کا دعویٰ رسالت اور دعوائے الوہیت بھی اس لئے مسترد کر دیا گیا تھا۔ کہ ان کو وحی رسالت حاصل نہ تھی۔ مگر اپنے تقدس کے عشق میں، اپنے الہام اور اپنی وحی ولایت کو گو عرش بریں تک پہنچا دیا تھا۔ مگر خدا تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے انہوں نے اس وحی کو وحی رسالت کا رنگ دیکر نہ اپنی تعلیم کو حقیقی طور پر موجب نجات ٹھہرایا تھا اور نہ اپنے غیر مبایعین کو اسلام سے خارج تصور کیا تھا مگر یہ آپ ہی ہیں کہ گندم نما جو فروش ہو کر اصل اسلام سے لوگوں کو بے خبر کر رہے ہیں اور نبوت کو ایسا مضحکہ خیز بنا دیا ہے کہ آئے دن ایک نہ ایک انہیں سے محمد کا روپ لیکر دنیا کے سامنے آ دمکتا ہے پوچھو تو پیش ملاں حکیم ملاں و پیش ہر دو ہیچ۔ لکھے نہ پڑھے نام محمد فاضل ۔ کچھ شرم کرو غیر مسلم اقوام کے سامنے اہل اسلام کی کیوں تضحیک کرا رہے ہیں۔ کیونکہ جب وہ ماؤف الدماغ نیم تعلیم یافتہ مظاہر محمدیہ کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ العود احمد کے طریق پر ہم کو معاذ اللہ محمد اول پر علمی اور عملی طور پر فوقیت حاصل ہے تو فوراً اسلام سے برگشتہ ہو جائیں گے اور کہیں گے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔

١٧...... نبی وقت نبی بخش معراجکے

ضلع سیالکوٹ کا باشندہ ہے اسکا دعویٰ ہے کہ مرزا صاحب کے طریق پر میں بھی اس وقت کا نبی ہوں ۔ کسی ظریف نے اس کے جواب میں لکھ بھیجا تھا کہ ہم نے تو تمہیں نبی بنا کر نہیں بھیجا تم خواہ مخواہ کیوں نبی بن گئے؟

١٨...... غلام حیدر جہلمی

محکم الدین پٹیالوی اور محمد زمان سندھی وغیرہ بھی مدعی نبوت ہیں۔ مگر ان کی شہرت نہیں ہوئی۔

صفحہ ٥٦٣

19.......حکیم نور الدین بھیروی

حکیم الامۃ اور مہدی وقت سات نشان والے مدعی مسیح قادیانی بقول عبداللطیف گنا چوری آپ قریشی النسب ذو شجۃ (پیشانی کے زخم والے) تھے۔ بنی عباس میں آپ کا نسب ملتا ہے مسیح نے انہی کی اقتداء میں نماز پڑھنی تھی۔ سو مدت تک پڑھتے رہے۔ یہی معاون مسیح بن کر نصاریٰ سے لڑتے رہے۔ اکثر مسلمان ان کی بدولت ہی مرزائیت میں داخل ہوئے اور یہی خلیفہ مسیح قرار پائے ابتدائی تعلیم اپنے اصلی مولد بھیرہ ضلع شاہ پور میں جناب مولانا احمد الدین صاحب مرحوم بگوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاصل کی تھی۔ مروجہ تعلیم سے فارغ ہو کر لکھنو جا کر طب پڑھی۔ پھر حرمین شریفین میں اکتساب علوم کیا مولانا مرحوم بگوی فرمایا کرتے تھے کہ اے نور الدین تم سے مجھے بدبو آتی ہے۔ مجھے خیال ہے کہ تم اہل اسلام کے لیے فتنہ بنو گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب مدینہ نبویہ میں قیام کیا تو حضرت مولانا عبدالغنی مرحوم کی وساطت سے شیخ الاسلام عارف آفندی کے کتب خانہ سے علامہ طحاوی مرحوم کی تالیف شدہ ایک نایاب کتاب اٹھا لائے کیونکہ وہ اسی لائق تھی کہ در کعبہ بد زاد گر بیابی جناب مولانا عبدالغنی مرحوم نے ہر چند مطالبہ کیا خطوط لکھے مگر مہدی وقت ایسی پی گئے کہ ڈکار تک نہ لیا کیونکہ کتاب کے کیڑے تھے اور نئی تحریک کے دلدادہ تھے۔ ہندوستان واپس آئے تو ترک تقلید پر وعظ کہنے شروع کر دیئے اور رسائل شائع کئے تو علمائے عصر نے تحت قیادت جناب مولانا عبدالعزیز صاحب بگوی سجادہ نشین جناب مولانا غلام مرتضیٰ صاحب سجادہ نشین بیربل اور جناب مولانا غلام نبی صاحب سجادہ نشین للہ شریف، حکیم صاحب کو ایک فیصلہ کن مناظرہ میں شکست دے کر فتوائے تکفیر تیار کیا جس کی وجہ سے آپ کو بھیرہ چھوڑنا پڑا اور جموں تشریف لے گئے اور کسی کی سفارش سے مہاراجہ کے پاس طبیب رہے طبیعت جدت پسند تھی اور سرسید مرحوم کا آغاز تھا۔ تو آپ نے سید صاحب سے خط و کتابت کے ذریعہ رشتہ اتحاد پیدا کر لیا۔ مرزا صاحب بھی ان دنوں تصانیف سرسید کے شائق تھے انہوں نے بھی نیچریت کی اشاعت میں مالی اور قولی بہت حصہ لیا۔ بقول وکیل جموں آپ نے ایک ایسا رسالہ مرتب کیا کہ جس میں ترک مذاہب کی تعلیم تھی۔ مگر یہ حوصلہ نہ ہوا کہ اسے شائع کریں۔ ان کی خوش قسمتی سے لاہور میں عبداللہ چکڑالوی نے تعلیم قرآنی کا اعلان کر دیا تو آپ فوراً اس کے طرفدار بن کر منکر احادیث بن گئے۔ ابھی اسی خیال میں منہمک تھے کہ براہین احمدیہ زیر مطالعہ آگئی تو لٹو ہو گئے اور قادیان کی راہ لی۔ اس وقت مرزا صاحب کی خوش قسمتی سے حکیم صاحب کے تعلقات ریاست جموں سے منقطع ہو چکے تھے اور بھیرہ واپس آکر اپنے جدی مکانات کی تیاری میں عمارتی

صفحہ ٥٦٤

ضروریات بہم پہنچانے کو لاہور آئے تو اشتیاق نے قادیان آنے پر مجبور کر دیا۔ پھر مرزا صاحب نے نہ جانے دیا۔ آخر قادیان میں ہی ہجرت کر آئے اور مرزا صاحب کے آخری دم تک تبلیغ کے کام پر متعین رہے۔ ١٩٠٨ء میں جب مرزا صاحب کا انتقال ہوا تو جناب ہی خلیفہ اول منتخب ہوئے اور چھ سال تک امن و امان سے گدی سنبھالے رہے اور مرزا محمود خلیفہ دوم کو اپنی زیر تعلیم اس قابل بنا گئے ۔ کہ وہ مسائل متنازعہ کا مطالعہ خوب کر سکے اور مضمون نویسی میں کہیں خم نہ کھائے۔ بہر حال یہ شخص الہام وانکشاف کا مدعی تھا۔ مہدویت کا دعویٰ گو اپنی زبان سے نہیں کیا تھا لیکن مریدوں کے دل میں یقیناً یہ بات جم چکی تھی ۔ کہ سات نشان والے مہدی یہی تھے۔ وعظ میں ایک خاص لطف آتا تھا۔ منکرین اسلام کے اعتراضات کا جواب ایسے طرز پر بیان کر جاتے تھے کہ ان کو برا معلوم نہ ہوتا تھا۔ مرزائیت چونکہ نیچریت کا ہی دوآتشہ عرق ہے اس لئے نظریہ سازی میں جناب یدطولیٰ رکھتے تھے۔ دھرمپال کے مقابلہ پر اپنے نام سے کتاب نورالدین لکھی جس میں مذہب سے آزاد ہو کر جواب دیئے اور صداقت مرزا پر ایک دو مقام میں اس قدر زور دیا کہ ناظرین حیران رہ گئے ۔ قرآن شریف کے تفسیری نوٹ لکھواتے تھے مگر کتابی صورت میں شائع نہ کر سکے (مرزا محمود جو تفسیر آجکل شائع کر رہے ہیں شاید وہی ہو ) اور کتاب فصل الخطاب میں باریک مسائل پر بحث کی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ احسن امروہی اور یہ شخص اگر مرزا صاحب کی تائید میں کھڑے ہو کر تصانیف اپنے نام پر یا مرزا صاحب کے نام پر شائع نہ کراتے تو اس مذہب کو کبھی یہ فروغ حاصل نہ ہوتا۔ مگر تاہم ادبیات میں طبیعت کے بلید واقع ہوئے تھے۔ عربی میں نظم ونثر کی کوئی کتاب نہیں لکھی احسن امروہی بھی اسی قماش کے مالک تھے۔ سیرۃ المہدی میں گزر چکا ہے کہ مرزا صاحب اپنی فوقیت حاصل کرنے کے لئے اپنی عربیت کی تحریریں ان دونوں کے ہی پیش کرتے تھے اور یہ دونوں بزرگ سر دھن کر اور خراج تحسین گزار کر مریدوں کے سامنے چار چاند لگا دیتے تھے۔ اگر کچھ اصلاح دی بھی ہوتی تو مرزا صاحب اسکو مسترد کر دیتے بہر حال علوم نقلیہ میں مرزا صاحب سے یہ دونوں بزرگ فائق تھے جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے اور مرزا صاحب کا قول ہے کہ مسیح کے دو فرشتے یہی دونوں ہیں کہ جن کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ اترا ہے۔ حکیم صاحب کے خصوصیات یہ تھے کہ قبر کشمیر کا نظریہ آپ نے ہی قائم کرایا تھا۔ ہر مذہب وملت کی کتب بینی کے شوق نے آپ کو مجبور کر دیا ہوا تھا کہ بہائی مذہب کی کتابوں کی ایک بڑی تعداد بھی آپ کے کتب خانہ میں موجود تھی۔ گردن کا مسح چھوڑ کر رکھا تھا۔ نکسیر قے اور قہقہ سے آپ کا وضو نہیں ٹوٹتا تھا مذہب آزادی تھا۔ نہ حنفی تھے نہ وہابی ۔ سو کے قریب عمر پا کر قادیان میں ١٩١٤ء کو وفات پائی اور

بہشتی مقبرہ میں دفن ہو ۔ تاریخی حالات قلمبند کر ۔ ہم نے درج کر دیئے ہیں۔ ٢٢...... حیدرآباد دکن میں ہے عـ الارض خليفة اللـ پہلی وحی یہ ہے کہ ”یہ کتاب (محاکمہ آسمانی مـ سال جا رہا ہے اور اسے منظور ہے تو مباہلہ کـ ١٣٣٢ھ میں زیادہ ز وجودی سے خالی تھے مـ مظہر ہوں میرے مـ ”كان الله نزل مـ اور مرزا صاحب دونو حضور علیہ السلام کی نبـ رجولیت حاصل ہوئـ میں اعلان کیا کہ میـ ہیں۔ سود کی ممانعت اجازت دیتا ہوں۔ محمد ہوں اس لئے ”طوفان كفـ آسمانی، ارشـ ارشاد، فرمان آسمانی، شاد کنٹریکٹر ۔ موٹر سـ

صفحہ ٥٦٥

بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے (دیکھو رسالہ شمس الاسلام بھیرہ فروری ١٩٢٣ء) مرزائیوں نے آپ کی تاریخی حالات قلمبند کرنے میں بہت کچھ غلو کیا ہے مگر اہلیان بھیرہ کے مصدقہ حالات وہی ہیں جو ہم نے درج کر دیئے ہیں۔

٢٢...... عبداللہ تیماپوری نبی کے متعلق رسالہ مذکور لکھتا ہے کہ تیما پوری ریاست حیدرآباد دکن میں ہے عبداللہ نے اپنا نام رکھا ہے۔ ”یمین السلطنة حكم عدل في الارض خليفة الله وفى السماء محمد عبدالله مامور من الله مهدی موعود“ پہلی وحی یہ ہے کہ: ”یاایها النبیی“ تیماپور میں رہو۔ ١٣٢٤ھ میں مدعی نبوت ہوا ہے اپنی کتاب (محاکمہ آسمانی ص ٣١) پر لکھتا ہے کہ مجھے ١٣٣٤ھ میں دعوائے نبوت کرتے ہوئے دسواں سال جارہا ہے اور اپنے عروج کے لئے ١٥ سال کا الہام موجود ہے اگر کسی دشمن خلافت کو مقابلہ منظور ہے تو مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔ اس کتاب سے پہلے ٤٠ سال سے الہام شروع ہیں مگر ١٣٣٤ھ میں زیادہ زور دار الہام شروع ہوگئے ہیں۔ مرزا صاحب کو مقام شہودی حاصل تھا مقام وجودی سے خالی تھے مگر مجھے دونوں مقام حاصل ہیں اس لئے میں ظل محمد، ظل احمد ہوں اور دونوں کا مظہر ہوں میرے مذہب کا نام طریقہ محمدیہ ہے مرزا صاحب نے خود میرے متعلق لکھا ہے کہ: ”كان الله نزل من السماء وجاء ك النور وهو افضل منك “ درجہ رسالت میں، میں اور مرزا صاحب دونوں مساوی اور بھائی ہیں۔ جو فرق کرے کافر ہے اسی طرح مرزا صاحب اور حضور علیہ السلام کی نبوت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مامور من الله کو ٣٠ یا ٤٠ آدمی کی قوت رجولیت حاصل ہوتی ہے اور بلا اجازت فراغت نہیں ہوتی۔ ١٣٣٩ھ میں اپنی کتاب قدسی فیصلہ میں اعلان کیا کہ میں نے خدا کے دربار حاضر ہو کر درخواست کی تھی کہ یا اللہ مسلمان مفلس ہو رہے ہیں۔ سود کی ممانعت منسوخ ہونی چاہئے ۔ تو جواب آیا کہ فی سینکڑہ ساڑھے بارہ روپے سود تک کی اجازت دیتا ہوں۔ رمضان کے تین روزے بھی کافی ہیں۔ عورتیں بے پردہ رہ سکتی ہیں۔ میں بروز محمد ہوں اس لئے احکام شریعت بدل سکتا ہوں۔ اس سلسلہ کی تصانیف یہ ہیں۔ تفسیر فاتحہ۔ ”طوفان كفر۔ اسلامی گیت۔ام العرفان۔قصه ادم۔قدرت ثانیه۔رحمت آسمانی۔ارشادات۔توحید آسمانی۔شناخت آسمانی۔مکار مرشد کا ارشاد۔فرمان محمدی۔کسرصلیب۔رسمی شادی۔مبشرات آسمانی۔صحیفه آسمانی۔شان تعالیٰ۔حقیقت وحی اله “ ان کی اشاعت کے لئے میر حسن میرزائی میل کنٹریکٹر۔ موٹر سروس ٹمکور صوبہ دکن وقف ہو چکا ہے۔

صفحہ ٥٦٦

کمالات اسلام ،خزائن ج ٥ ص ٥٤ ملخص) میں ثابت کیا ہے کہ وہ شخص مفتری جو مدعی مکالمہ الہیہ ہو۔ بارہ سال کی مہلت پاسکتا ہے؟ (انجام آتھم، خزائن ج ١١ ص ٥٠) میں لکھا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مفتری خدا پر بیس سال افتراء کرتا رہے اور وہ اسے نہ پکڑے۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٢) میں لکھا ہے کہ براہین احمدیہ کو شائع ہوئے تئیس سال ہو رہے ہیں تو اگر یہ مدت میری صداقت کے لیے کافی نہیں تو معاذ اللہ نبوت محمدیہ بھی مشکوک ہوگی (کیونکہ اس کی مدت بھی ٢٣ سال ہی تھی) (ایام صلح، خزائن ج ١٤ ص ٢٦٨ مفہوم) میں لکھا ہے کہ کوئی مفتری علی اللہ ایسا نہیں پایا گیا کہ جس نے پچیس سال یا اٹھارہ برس مہلت پائی ہو۔ (حقیقت الوحی، خزائن ج ٢٢ ص ٢١٥، ٢١٦) میں لکھا ہے کہ میری دعوت پر تیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ جو نبوت محمدیہ کے زمانہ سے بھی زیادہ ہے۔ اگر کہا جائے کہ ہلاکت مفتری کیلئے چار شرطیں ہیں۔

(نیم پاگل) کا کچھ اعتبار نہیں۔

جس مفتری میں یہ چار شرط موجود نہ ہوں وہ اس ہلاکت کے تحت میں داخل نہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حسب تحقیق مرزا صاحب مفتری بارہ سال کے اندر ہلاک ہو جاتا ہے اور اگر زیادہ مہلت پائے تو تیس سال کے اندر ضرور مر جائے گا۔ پس اگر معیار اول پر فیصلہ کیا جائے تو مرزا صاحب مفتری ثابت ہوتے ہیں کیونکہ اعلان نبوت کے بعد صرف آٹھ سال زندہ رہے تھے اور آپ کے مرید مظہر قدرت ثانیہ دیندار فضل بنگا مولوی عبداللطیف ۔ پتا پوری اور احمد نور وغیرہ جو اس وقت مرزا صاحب کو کافر کہہ رہے ہیں اور ایک دوسرے کو بھی جہنمی قرار دے رہے ہیں۔ بارہ سال گزار چکے ہیں تو کیا وہ سب معیار اول کے مطابق سچے ہیں؟ تو پھر ان کی اطاعت کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر یہ عذر ہے کہ وہ معتوہ اور نیم پاگل ہیں یا مجنون اور مراقی تو یہ الزام مرزا صاحب پر بھی قائم ہوسکتا ہے۔ خصوصاً جبکہ وہ خود اقراری ہیں کہ مجھے مراق ہے اور یہ مدعی اقرار نہیں کرتے کہ ہمیں بھی کسی وقت مراق ہوا تھا اور اگر مراقی یا مجنون کو خدا کی طرف سے مہلت ملتی ہے کیونکہ وہ خود اس قابل نہیں ہوتا کہ اس کو دعوائے رسالت میں سچا تسلیم کیا جائے تو اس لئے بھی مرزا صاحب کی نبوت مخدوش نظر آتی ہے۔ اگر یہ عذر ہو کہ یہ لوگ خدائی دعویٰ کرتے

ہیں تو اس لپیٹ میں خدا بن گئے تھے اور صفا معیار صداقت ١٢ سال شریف میں کوئی خاص مفتری بارہ سال یا تیئیس ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مفت مفتری کہا گیا ہے اور مسائل حکم الہی کے م مرے اور نہ ہی عہد ر ایک اصول قائم کرتا رہے تھے۔ اس لئے ٢٣ برس تھی۔ اس ہم انبیائے سابقین ہے کیونکہ اعلان ن گو مرزائیوں کے ن میں زندگی بسر کر گئے ہیں کہ ان کو بالکل غلط ہوگا۔

تھی۔ جس سے ہیں۔ مثلاً یہ کہ گئے تھے یا آپ یہ اصول قائم ک غار میں چھپے تو اصول قائم نہیں ترتیلا "

صفحہ ٥٦٧

ہیں، تو اس لپیٹ میں مرزا صاحب بھی سب سے پہلے آسکتے ہیں۔ کیونکہ تھوڑی دیر کے لئے یہ بھی خدا بن گئے تھے اور صفات الٰہیہ کا درجہ ہمیشہ کے لئے ان کو عنایت کیا گیا تھا۔ بہرحال اس موقعہ پر معیار صداقت ١٢ سال یا ٣٠ سال مقرر کرنا صداقت مسیح کی مخصوص دلیل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی قرآن شریف میں کوئی خاص مدت مقرر کی گئی ہے۔ نکتہ بعد الوقوع کے طور پر یہ سب کچھ گھڑ لیا گیا ہے کہ مفتری بارہ سال یا تیس سال کے اندر ہلاک ہو جاتا ہے۔ بلکہ یہ نظریہ قرآن شریف کے خلاف بھی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مفتری کی رسی دراز کرتا ہے اور اہل مکہ کو شرکیہ مسائل کے اختراع کرنے میں مفتری کہا گیا ہے اور وہ خدا کو بھی مانتے تھے اور مجنون بھی نہ تھے اور دعویٰ بھی کرتے تھے کہ ان کے مسائل حکم الٰہی کے مطابق ہیں۔ مگر نہ عہد رسالت سے پہلے زمانہ فترت میں بارہ سال کے اندر مرے اور نہ ہی عہد رسالت کے بعد بارہ سال کے اندر برباد ہوئے۔ اس لئے آیت قطع وتین سے ایک اصول قائم کرنا بالکل غلط ہو گا کہ چونکہ نزول آیت کے بعد حضور علیہ السلام تیرہ سال زندہ رہے تھے۔ اس لئے ہلاکت مفتری کی کم از کم مدت بارہ سال ہوگی اور چونکہ آپ کی رسالت ٢٣ برس تھی۔ اس لئے جو شخص ٣٠ سال تک مدعی نبوت رہے وہ بدرجہ اول سچا رسول ہوگا۔ اب اگر ہم انبیائے سابقین پر نظر دوڑائیں تو سب سے پہلے حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت مخدوش ہو جاتی ہے کیونکہ اعلان نبوت کے بعد صرف اڑھائی سال تبلیغ کر سکے تھے اور واقعہ صلیب کے بعد گو مرزائیوں کے نزدیک کشمیر چلے گئے تھے۔ مگر اعلان نبوت سے دستبردار ہو کر روپوشی کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے اور اگر قطع وتین سے مراد قتل مفتری ہو۔ تو کئی ایک ایسے نبی بھی پائے گئے ہیں کہ ان کو ناحق قتل کیا گیا تھا۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ آیت قطع وتین سے ایک اصول کلیہ قائم کرنا بالکل غلط ہوگا۔

٢٤...... حقیقت یہ ہے کہ قطع وتین کی تہدید صرف حضور علیہ السلام کے لئے ہی تھی۔ جس سے آپ بچ نکلے تھے۔ اس کے نظائر خصوصی قرآن شریف سے اور بھی بہت مل سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ یتیم تھے تو خدا تعالیٰ نے اپنی کفالت سے پرورش کیا تھا، یا آپ غار میں چھپ گئے تھے یا آپ تنگدست تھے بعد میں مالدار ہو گئے تھے وغیرہ وغیرہ تو ان مخصوص واقعات سے اگر یہ اصول قائم کیا جائے کہ نبی کے لئے یتیم ہونا ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مفلس ہو اور غار میں چھپے تو تینوں اصول سے مرزا صاحب کی نبوت کافور ہو جاتی ہے اور امر ونواہی میں بھی کوئی اصول قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ آپ کو حکم ہوتا ہے کہ: ”قم اللیل الا قلیلا ورتل القرآن ترتیلا“ اکثر رات کو خدا کی یاد میں قیام کرو اور قرآن شریف خوش الحانی سے پڑھو تو پھر بھی مرزا

صفحہ ٥٦٨

صاف فیل ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ دائم المریض ہونے کی وجہ سے نہ خوش الحان تھے اور نہ قائم اللیل بلکہ صرف تقدس کے زور میں محمد ثانی بننے کا شوق تھا اور بس۔

١٥...... خواجہ کمال الدین وکیل

ولد خواجہ عزیز الدین۔ ان کے بھائی جمال الدین نے کشمیر اور جموں میں تعلیم کی نشر و اشاعت کی اور ان کے جدا مجد خواجہ رشید الدین ایک مشہور شاعر اور لاہور کے قاضی تھے۔ خواجہ نے فارمن کرسچین کالج لاہور میں تعلیم پا کر ١٨٩٣ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اکنامس میں تمغہ حاصل کیا اور ان کو بائبل میں خاص شغف تھا۔ ١٨٩٨ء میں وکالت پاس کر کے لاہور اور پشاور میں پریکٹس کرتے رہے اور اسلام پر لیکچر دیتے رہے اور علیگڑھ یونیورسٹی کے ممبر بھی منتخب ہوئے۔ ١٩١٢ء میں تبلیغ کے لئے یورپ گئے اور ووکنگ مشن کی بنیاد ڈالی اور ووکنگ مسجد کے امام بن کر رسالہ اسلامک شائع کیا۔ اردو میں رسالہ اشاعت اسلام بھی اپنے ہی خرچ سے نکالا اور رسائل بھی تصنیف کئے۔ کلرجی من پادریوں میں خصوصیت کے ساتھ تبادلہ خیالات کیا۔ جن سے متاثر ہو کر لارڈ ہیڈلے قادیانی ہوئے جو آجکل لندن میں مسجد نظامیہ کی تحریک کر رہے ہیں۔ خواجہ صاحب نے افریقہ، یورپ اور ایشیا کا بھی سفر کیا تھا۔ حج کے موقعہ پر مرزا محمود کے ہمراہ جب مسیح قادیانی کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے یوں کہہ کر ٹال دیا کہ میں اسے صرف اپنا مرشد سمجھتا ہوں (جس کا یہ مطلب تھا کہ نبی اور مسیح نہیں مانتا) بہرحال سلامتی کے ساتھ حج کر سکے آپ کی مشہور کتاب ینابیع المسیحیۃ ہے جو ینابیع الاسلام کے مقابلہ پر لکھی تھی اسلام کے لئے اپنی جائداد وقف کر چکے تھے اور ١٩٣٢ء میں ٢٨؍دسمبر کو وفات پائی۔ جب کہ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر زیر تالیف تھی۔ مولوی کرم الدین صاحب جہلمی کے مقدمہ میں مرزا صاحب کی طرف سے مفت وکالت کرتے تھے اور مولوی فضل الدین صاحب بھیروی نے بھی اس مقدمہ میں بہت حصہ لیا تھا۔ مرض الموت میں فالج گر گیا تھا اور لاہور میں دفن ہوئے تھے۔ گو عام عقائد کی بناء پر مسلمانوں کو مسلمان ہی جانتے تھے۔ مگر ترک موالات میں سخت کوشاں تھے۔ لاہوری پارٹی سے تقریباً الگ ہو کر تبلیغ اسلام میں سرگرم تھے۔ کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ مرزا صاحب کو بحیثیت مسیح ہونے کے پنجاب سے باہر اور یورپ میں کوئی نہیں جانتا۔ چنانچہ لارڈ ہیڈلے جب پنجاب میں آئے تھے تو قادیان نہیں گئے تھے

.......٢٦....... قادیان کی بہ نسبت لاہوری ذرہ وسیع الخیال معلوم ہوتے ہیں۔ مگر خواجہ ان دونوں سے الگ تھے اور مرزائی اس وجہ سے تھے کہ انہوں نے مرزا صاحب سے بیعت کی تھی

صفحہ ٥٦٩

اور ان کو مجدد وقت اور صوفی یا فلاسفر اسلام سمجھتے تھے۔ مگر غور سے دیکھا جائے۔ تو دونوں کا اصل مقصد ایک ہی ہے کیونکہ قادیانی کہتے ہیں۔ مرزا صاحب نے امتی مجدد مثیل مسیح اور مہدی موعود کے مدارج طے کر کے بروز کے طریق محمد ثانی کا درجہ حاصل کیا تھا اور اخیر میں کمال رسالت کو پہنچ کر بغیر کسی حاشیہ آرائی کے کہہ دیا تھا۔ کہ خدا کے فضل وکرم سے ہم نبی اور رسول ہیں۔ اس لئے جو شخص ان کا منکر ہے۔ ایمان بالرسل نہیں رکھتا وہ اسلام سے خارج ہے۔ لاہوری اس منزل پر دوسرے راستہ سے پہنچتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان کو نبی نہیں مانتے بلکہ صرف مجدد وقت مانتے ہیں اور مسلمانوں کو اس لئے کافر نہیں سمجھتے کہ انہوں نے مرزا صاحب کو نہیں مانا کیونکہ خود مرزا صاحب نے ایک دفعہ کہہ دیا تھا کہ میرے انکار کی وجہ سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہو سکتا اور لاہور کے مناظرہ میں مرزا صاحب نے تحریراً چند گواہوں کے سامنے مان لیا تھا کہ میں نبی نہیں ہوں اور یہ بھی کہا تھا کہ حضور علیہ السلام کے بعد مدعی نبوت کو کافر سمجھتا ہوں اس لئے آپ کے بعد نہ کوئی پرانا نبی آسکتا ہے اور نہ نیا۔ مگر چونکہ مرزا صاحب مجدد اعظم اور اعزازی طور پر بروزی نبی اور مسیح موعود تھے اور ایسے مقام پر پہنچ چکے تھے کہ جہاں تک گذشتہ مجددین میں سے کوئی نہیں پہنچا اس لئے جو مسلمان مرزا صاحب کو خارج از اسلام سمجھتا ہے۔ ہم بھی بطور معاوضہ اس کو کافر جانتے ہیں اور اس اصول میں خواجہ صاحب بھی شریک کار تھے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ اہل اسلام قادیانیوں کے نزدیک اس لئے کافر ہیں کہ انہوں نے مرزا صاحب کو نبی نہیں مانا اور مدعی نبوت کا الزام دے کر کافر قرار دیا ہے اور لاہوریوں کے خیال میں اس لئے کافر ہیں کہ انہوں نے ایک مجدد اعظم کو کہ جس کو خدا تعالیٰ نے اعزازی طور پر نبی کا بھی خطاب دیا تھا کافر کہا ہے اور خواجہ صاحب کے خیال میں مسلمان اس لئے کافر تھے۔ کہ ان کے مرشد کو مسلمان نہ مانتے تھے لو اب مطلع صاف ہو گیا کہ اہل اسلام کو مرزائیوں کا کوئی فرقہ بھی مسلمان نہیں جانتا۔ گو بظاہر چندہ وصول کرنے کی خاطر یوں کہہ دیں کہ ہم اہل اسلام کو اپنا بھائی جانتے ہیں اور اہل اسلام ان کے تمام فرقوں کو اسلام سے خارج جانتے ہیں اور جو ان کے کفر میں سر مو شک کرے اسے بھی ایسا ہی یقین کرتے ہیں۔ کیونکہ قادیانیوں نے اس شخص کو محمد ثانی قرار دیا ہے کہ جس نے قرآن وحدیث کو بدل ڈالا تھا اور بروزی نبوت کا دعویٰ کر کے ان سابقہ بروزی نبیوں میں شامل ہو گیا تھا۔ جو ملاحدہ اور زنادقہ میں پیدا ہوئے تھے اور اسلامی تلوار سے مارے گئے اور جس کے مظاہر قدرت ثانیہ آجکل برساتی کیڑوں کی طرح جا بجا سر نکال رہے ہیں اور اپنی اپنی نبوت کے رو سے خود مرزائیوں کو بھی کافر ثابت کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ اور لاہوریوں نے اس شخص کو مجدد تسلیم کیا ہے کہ جس نے تجدید اسلام کا مطلب یہ لیا ہے کہ

صفحہ ٥٧٠

اسلام قدیم کو چھوڑ کر اسلام جدید پیش کیا جائے گو ان کا دعویٰ ہے کہ مرزا صاحب با شریعت نبی نہ تھے مگر جو کام ناسخ شریعت نے کرنا تھا وہ جب مجدد نے سرانجام دے دیا ہے تو صاحب شریعت ماننے کی ضرورت ہی کیا رہی اور مظاہر قدرت ثانیہ نے مرزا صاحب کو مستقل نبی مانا ہے اور اپنی نبوت کی دعوت دی ہے۔ بہر حال اس نبوت بازی سے مسلمانوں کا شیرازہ جمعیت کچھ پہلے ہی بکھرا ہوا تھا۔ اور بھی بکھر گیا اور دن بدن بکھر رہا ہے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھ کر ایک شاعر نے کہا ہے۔

چہ خوش بودے اگر مرزا نہ بودے اگر بودے فتن افزا نہ بو دے
بدیں تجدید دین چوں بہائی ازاں شد چوں بہائی میرزائی
مسلماناں بدند در قعر پستی زاو دیگر تباہ کردند ہستی
برادر با برادر نیست یک دل پدر را با پسر بینی مجادل
چرا گشتی مسیح اے قادیانی چوں دانستی کہ آں ہستی کہ آنی
مسیح دجل را مایاں خریدار کرشن فضل را ز دور بیزار

٢٧....... خواجہ صاحب اگر چہ کسی عہدہ کے مدعی نہ تھے مگر یہ بات ضرور تھی کہ اپنے مرشد کی اصولی اصلاح ان کے بائیں ہاتھ کا کرتب تھا۔ مسیح بن باپ کا مسئلہ آپ نے ہی ترمیم کیا تھا اور ینابیع المسیحیۃ میں ثابت کیا ہے کہ یہ مسئلہ بت پرستوں سے لیا گیا ہے حالانکہ مرزا صاحب کو اپنے بے مرشد رہنے پر اس لئے ناز تھا کہ مسیح بن باپ پیدا ہوئے تھے۔ مگر خواجہ نے یہ خیال منسوخ کر دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ میں بھی کچھ الہامی گدگدیاں موجود تھیں جو تصانیف میں ظاہر ہوتی تھیں۔ آخری تفسیر اور ترجمہ شائع ہو جاتا تو سارا بخیہ ادھڑ جاتا کہ آپ کو باوجود تفسیر مولوی محمد علی کے کیا ضرورت پیش آئی تھی کہ وہ خامہ فرسائی کریں۔

مولوی محمد علی صاحب کو یہ ناز ہے جس تفسیر کو مرزا قادیانی اپنی حین حیات میں شائع نہ کر سکے وہ میرے لئے مقدر تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ جو جماعت اس کام کو سرانجام دے گی وہ حق پر ہوگی اور چونکہ ایک الہام میں مرزا صاحب نے کہا ہے کہ قادیان میں یزیدی پیدا ہوں گے۔ اس لئے ضروری ہوا کہ ہم مدینۃ المسیح دار الھجرۃ لاہور میں اس قلم کی رو سے تبلیغ مذہب کریں۔ کہ جس کی نسبت مرزا صاحب نے کہا ہے کہ جو قلم علوم لدنیہ کے ظاہر کرنے کو مجھے دی گئی تھی میرے بعد خدا تعالیٰ نے وہی قلم محمد علی کو دیدی ہے۔ یہ خیالات صحیح ہوں یا غلط ہمیں اس سے بحث نہیں مگر ان سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ کلام محمد علی کلام مسیح ہے اور کلام مسیح وحی الہی تھا

صفحہ ٥٧١

اور وحی الہی خدا کا کلام تھا۔ پس وحی کا دعویٰ سات پردوں میں ضرور مضمر ہوا۔

سے نبیوں نے خبر دی ہے۔ میں فخر رسل ہوں

مقام او بیں ازراہ تحقیر
بدورانش رسولاں ناز کردند

پس میرا انکار مرزا صاحب کا انکار ہے اور مرزا صاحب کا انکار تمام انبیاء کا انکار ہے اس لئے جو مجھے نہ مانے وہ کافر ہوا۔ بہرحال لاہوریوں نے قادیانیوں کو یزیدی قرار دے کر اپنے اسلام سے خارج کیا تھا۔ تو قادیانیوں نے ان کو خارجی اور باغی بنا کر بدلہ لے لیا۔ عوض معاوضہ گلہ نہ دارد۔ ناظرین یہ ہے نئی روشنی اور باہمی تکفیر تلعین۔ کیا اب بھی آپ شکایت کریں گے کہ قادیانی مسلمان جھوٹ کا فریب دیتے ہیں؟

اس کی ادبی لیاقت بالکل محدود ہے۔ مرزائیوں میں جس قدر جہالت کمال پر پہنچتی ہے۔ اسی قدر نبوت کے دروازے ان پر کھل جاتے ہیں۔ آنجناب اپنی کتاب ہدایۃ اللعلمین میں فرماتے ہیں کہ شناخت مسیح کے متعلق در منام وحی کا مفہوم یہ تھا کہ ساتھ منادی عیسیٰ کے اپنا رسول ہونا بھی ظاہر کر۔ الرسول یدعوکم اور اطیعوا الرسول میں میری طرف اشارہ ہے۔ ایک خواب میں میں نے اپنی والدہ مرحومہ سے کہا کہ میرا جامہ مسیح کا۔ وہ حیران رہ گئی کہ کل تو یہ کہتا تھا کہ مسیح آئے گا اور آج خود بن بیٹھا ہے۔ بیدار ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ روح بد نے مجھ سے مسیح ہونے کا دعویٰ کرایا تھا اور اسی طرح یہی روح خبیث مرزا غلام احمد قادیانی پر ڈالی گئی تھی اور خود مسیح بن گیا تھا۔ حالانکہ خود لکھ چکا تھا کہ مسیح آسمان سے نازل ہوگا۔

(حقیقت الوحی ص ١٤٩)

براہین میں نے مسیح کا آسمان سے آنا لکھا ہے۔ (حقیقت الوحی حاشیہ ص ٣٢٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٣) میرا نام خدا کے نزدیک مدت تک مریم رہا تو اس نے مجھ میں سچائی کی روح پھونک دی اور میں حاملہ ہوا۔ فنفخنا فیہا من روحنا میں میرا ہی ذکر ہے پھر میرا ہی نام مسیح بن مریم رکھا (حقیقت الوحی ایضاً ١٥٥) مجھے الہام ہوا کہ مرزا بن مریم کیسے بن سکتا ہے اس کی آمد کا کوئی حکم نہیں تو جیسا فرضی مریم بنا۔ ویسا ہی ابن مریم بنا۔ جو ماں ہے وہ بیٹا نہیں بن سکتی اور جو بیٹا ہے وہ ماں نہیں بن سکتی یہ کیسے ابن مریم بن سکتا ہے حالانکہ نہ یہ اللہ کا بندہ بنا نہ اس کے پاس کتاب ہے نہ الصلوٰۃ الوسطیٰ قائم کی نہ صلوۃ دلوک الشمس نہ صلوۃ زلف من اللیل نہ زکوٰۃ

صفحہ ٥٧٢

دی نہ بغیر باپ کے پیدا ہوا نہ کلام فی المہد کیا نہ اس کو کتاب وحکمت سکھائی گئی نہ تورات وانجیل نہ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوا نہ پرندے پیدا کئے نہ کھانے پینے کی خبر دی نہ تورات کی تصدیق کی نہ کچھ حرام کیا نہ حلال کیا۔ نہ حواری (یعنی صوفیائے کرام) اس پر ایمان لائے وحی سے۔ نہ تائید روح القدس پائی۔ نہ ہند کے اسرائیل اس سے۔ نہ مائدہ اترا اور نہ پاک ہوا۔ نہ وجیہ اور نہ بلند۔ نہ اس کے تابعداروں کو مخالفین پر فوقیت حاصل ہوئی۔ نہ کل اہل کتاب اسپر ایمان لائے۔ نہ اس نے احمد رسول کی تصدیق کی نہ سولی کی نہ قتل کی۔ حق الیقین کے ص ١٣٨ پر لکھتا ہے کہ غلام احمد معنوی طور پر ابن احمد ہے اور اپنے باپ احمد کی طفیل وصفی طور پر بلکہ اسم علم نہ ہونے کے طور پر بھی احمد ہے۔ وہ خود کہتا ہے کہ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے اور محمود لکھتا ہے کہ احمد رسول یہ خود ہی ہے۔ عیسائیوں کو ستانے کے لئے خدا نے ان کو استعارہ کے طور پر اپنا بیٹا کہا۔ اس دعوٰی کرنے میں محمد سے بھی بڑھ گیا یہ بھی دعویٰ کیا کہ میں خدا کی صفت توحید اور صفت تفرید ہوں۔ (حقیقت الوحی ص ٩٥، خزائن ج ٢٢ ص ٩٩) میں ہے کہ یہ تمام برکت محمد سے حاصل ہے۔ انه جمع فی نفسی کل شان النبین انه خاتم الانبیاء وانا خاتم الاولیاء لا ولی بعدی الا الذی هو منی و علی عهدی سیقول لغد ولست مرسلا انك لمن المرسلین (حقیقت الوحی ٩٩) جائداد کا دسواں حصہ دیکر اس کا مرید بہشت حاصل کرتا ہے جنت چندہ اور دفن مقبرہ بہشتی میں نہیں ملتی جس کے متعلق اس کا شیطانی الہام ہے کہ : ” انزل فیها كل رحمة “ مجھے الہام ہوا ہے کہ کل بہشتی مقبرہ حرام اور پیسے ملنے پر منہدم کیا جائے گا۔ تمام اس نے اپنے خدا کو دیکھا پاس شکل محمد کی بھی تھی تو کاغذات پیش کر کے فیصلہ کرا لیا کہ اے احمد تیرا نام آج رنگ دیا ہے قلم کا چھینٹا عبداللہ سنوری کے کرتہ پر بھی پڑا مگر خدا سامنے کلام نہیں کرتا جس پر آیت ما كان لبشر الا یہ گواہ ہے اور ولا هم منا يصحبون قلم دوات کی ضرورت نہیں کن فیکون کا طریق جاری ہے نہ کوئی اس کے حکم میں شریک ہے الہام ہوا کہ غلام احمد مخالف مسیح انجیل کا اس میں روح اور تکذیب کی ہے ابن مریم کا نزول ہوگا منارہ قادیان پر ابن اللہ ہونے پر اس کو نہ مانوں گا۔ اگر چہ کل صفات الٰہیہ کا مصداق بن جائے گا مگر قادیانی مسیح کو مار چکا ہے اور توفیتنی کا سوال قیامت کو ہوگا اور وہ کہتا ہے کہ ہو چکا ہے توفی کا معنے پورا ہونا ہے خواہ کسی طرح ہو موت میں ہو یا منام میں خواہ احسن تقویم میں تفصیل کے لیے دیکھو ہدایت اللعلمین اس میں ثابت کیا ہے کہ عیسے کی توفی فی المنام تھی اور خدا نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا تھا پس حیات مسیح کے تین دلائل ہیں کہ وہ

صفحہ ٥٧٣

ادھیڑ عمر میں نازل ہوگا کل اہل کتاب اس کے مرنے سے پہلے اس پر ایمان لائینگے اور قیامت کے روز سب پر گواہی دیگا اس لئے میرا دعویٰ مسیح کا نہیں ہے حقیقت الوحی میں لکھا ہے کہ ہر ایک اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے محمد پر ایمان لے آتا ہے اور یہ غلط ہے کیونکہ قرآن میں اس قسم کے ایما ن سے فرعون کو مومن نہیں کہا اور نزع کے وقت کا ایمان معتبر نہیں ہوتا الہام ہوا کہ کل اہل کتاب بطو ر تناسخ کے وفات عیسیٰ سے پہلے موجود ہوں گے۔

نجناب کے الہام یوں ہیں بھونچال زلزلہ دکھائی دیا کہ ظالم ہلاک ہوں زلزلہ دس دن ایک گھنٹہ رہے گا زلزلہ تین دن سات راتیں آتا رہے گا لوگوں نے کہا آفت آئی میں نے کہا یہ وہی زلزلہ ہے زلزلہ عظیم دیکھا قیامت برپا تھی آسمان صاف تھا۔ ترجف الارض وہ دعویٰ کر دیں زلزلہ نمونہ قیامت ہوگا پہاڑ اڑتے ہیں۔ ١٩٣٤ء میں مرزائیوں کا اشتہار دکھائی دیا کہ مرزا کی صداقت کے لیے فلاں جگہ طغیانی آئی میں نے کہا کہ یہ میری صداقت ہے اس کو تو مرے ہوئے اٹھارہ سال گزر چکے ہیں چند شکلوں نے کہا کہ تیری کوئی بات پوری نہیں ہوئی ہریشچند کی شکل نے کہا جاپان یورپ اور بمبئی میں عذاب آیا ہے میں نے کہا جب یہ سرکش مانتے ہیں تو خواجہ حسن نظامی کیوں نہ مانتا ہوگا اچھا اس سے پوچھیں گے رعد و برق دنیا کا کل نقشہ دکھایا گیا موضع شاہ حسین جھیل تھی بیڑی چلتی تھی جنوبی ہند گول برہما راس کماری نہ تھی صاعقہ دو بار مثل صاعقة عاد و ثمود جن علماء نے اس الہام سے انکار کیا۔ ان کی شکلیں شیطان کی تھیں اکبر پور ضلع ٹکور کو عذاب سے ڈرا گیا خواب میں اس کی تصدیق ہو گئی ایک ہندو نے کہا کہ ایسا عذاب کسی کتاب میں درج نہیں میں نے کہا کہ خدا نے کہا ہے کہ تو اس عذاب سے ڈرا اس قوم کو کہ جس کے ہاں نذیر نہیں آئے یعنی اہل ہند کو ڈرا رام کرشن اور گوتم کے عہد میں کوئی عذاب نہیں آیا اس لیے وہ نذیر نہ ٹھہرے ایک ہندو نے کہا کہ بابو صاحب کو بلایا میں نے کہا کہ میرا اختیار نہیں تینوں منظور کیجا جھڑی بدلیوں والی آئے گی میری ہمشیر ہ مردہ نے مجھے سے ایک کارڈ پڑھایا جسپر میرا ہی دعویٰ لکھا تھا خواب میں دیکھا کہ قوم لوط جیسی باد صر صر اٹھی ہے عذاب صبح سے کیوں نہیں ڈرتے میری بستی کے باشندے رجل یسعی کے ہیں وہ خاندان کے ہیں قرية الظالم اھلھا سے مراد ٹکور ہے انطاکیہ کے ہیں المغضوب بھی ٹکو ر ہی ہے محمود احمد قادیانی ٹکور ہے دو رسولوں کا پہلا ایک ہے انطاکیہ تا حال ہلاک نہیں ہوا بلکہ وہ تا بعثت امام مہدی آخر الزمان ١٩٦١ء تک باقی رہے گا بعد موسیٰ کے قرون اولیٰ ہلاک نہیں ہوئے اب میرے وقت ہلاک ہو رہے ہیں عقوبتیں مماثل محکمہ حال کے ملازم تبدیل ہوئے تو میں نے کہا

صفحہ ٥٧٤

کالریم اول لوہا تارنا ہے پھر تجھ کو ٹکسال کا مالک بنانا ہے پچاس ہزار برس جنت اس میں سے دس ہزار برس زمین کا جنت ہے اور چالیس ہزار برس آسمان پر اور اسی قدر عذاب ہے نہ لائیں گے ایمان جب تک نہ دیکھ لیں عذاب واللہ محیط بالکفرین میں اشارہ ہے قادیانی فرقہ کی طرف اور ان کی طرف جو مجھے دیوانہ اور جھوٹا کہتے ہیں اٹھا لیا ہم نے تم کو کشتی میں ہم نہیں بھیجتے جب تک کہ نہیں بھیجتے رسول کو جڑ کافروں کی کاٹی جائے گی بمبئی میں بارش شدید دکھائی دی گھوڑے پر سوار ہوں عذاب کیوں نہ آوے گا سلطنت روم مٹ گئی خلافت علیٰ منہاج النبوۃ وعدہ عذاب کا اٹل ہے ٹلنا اس کا ناممکنات سے ہے وہ عذاب ماہ جون میں آویگا بخدا تم پر ضرور عذاب آوے گا میں مامور من اللہ ہوں جنہوں نے نکالا ہم ہلاک کریں گے ان کو شاہد دلہ اور محمود معہ اولاد کے ہلاک ہوں گے بہار لعل ابو جہل ہے ارے کہاں تک پہنچ گیا وہ ملازم اول تبدیل ہوگا پھر ہلاک عہدہ دار کوئی نہیں بچے گا اچانک ہلاک ہوگا بروئے تناسخ علمائے امت اب یہود ونصاریٰ ہیں اور زہریلے سانپ ہیں ان کا مار ڈالنا ضرور ہے ہم تھوڑا سا عذاب دیں گے جس میں پھوڑے پھنسی اور درد سر وغیرہ بھی شامل ہے جو رات کو عبادت نہیں کرتا وہ ایسا ایماندار نہیں سکھو دیکھ لو اپنی کتاب میں میرا آنا ضرور ہے ممالک یورپ میں عذاب آئے گا۔ انذر الناس لتنذر ام القریٰ ومن حولها أتى امر الله فلا تستعجلوه ڈوگر مامور ہو گیا بنایا ہم نے تم کو رسول۔

٣١...... قبروں کے متعلق یوں دیکھا کہ ایک قبر پر بیٹھنے والے کو خوب مار رہا ہوں چیچہ وطنی میں ایک قبر سپید پتھر کی تھی دیکھا تو اس میں کچھ بھی نہ تھا بانی نے کہا کہ اس پر میرا تین سو روپیہ خرچ ہوا ہے میں نے کہا بے سود مسجد میں ایک قبر تھی زبان سے نکلا کہ صرف پتھر ہی ہیں بوسیدہ قبر دیکھی جو کسی وقت بتکدہ تھی محبوب الہٰی کی قبر دیکھی بیچ میں کچھ نہیں پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور خواجہ حسن نظامی چلہ کشی کرتے تھے میں نے کہا کہ فضول ہے علی ہجویری کے مزار پر آیا دیکھا تو اس میں کچھ بھی نہیں کیونکہ داتا صاحب مانگھی نمبردار چیچہ وطنی میں روپ لے چکے تھے ملتان کے قبرستان میں نماز کے لیے جگہ تلاش نہ کی کیونکہ اس جگہ نماز حرام ہے بت سے مراد انصاب ہیں فاجتنبوه رجس من عمل الشيطان دیوان چاولی محمد خان چوہدری میں آیا ہے مزار میں کچھ نہیں رہا۔ بیعت حرام ہے۔ پاکپتن گیا پیاس لگی۔ مزار کے پاس پانی سے سؤر کے برابر نفرت تھی۔ کل بہشتی مقبرہ حرام عیسیٰ منار پر جا کر اس کو گرادوں گا۔ یہ الہام قادیانی کے بہشتی مقبرہ کی طرف تھا۔ جو دریا کو مانے یا کتاب یا مرشد یا مزار کو سجدہ کرے من الضالین ہے شہیدوں پر چراغ جلاتے ہیں یہ مزار پرستی ہے مڑھی کے پاس ہندو مرد و زن دیکھے میں نے کہا کہ نہ مڑھی میں طاقت ہے کہ مرادیں

صفحہ ٥٧٥

دے سکے اور نہ مجھ میں اس وقت میرا جامہ ہندو کا تھا سامنے شکل کرشن کی تھی عمر ٥٥ سال ڈاڑھی منڈی ہوئی سفید بروئے تناسخ میں کرشن ہو گیا اور ان کو کہنے لگا کہ میں نے تو نہیں کہا کہ میری مورتی پوجو اور میری مڑھی بنا کر پوجو انہوں نے خود ہی یہ کام شروع کر رکھا ہے اس زمانہ کے بت محی الدین بغدادی اور اجمیر اور انبیاء و رسول ہیں پیر مہر علی شاہ گولڑوی جس جس جگہ پر بیٹھے۔ اس جگہ کی پرستش ہوتی ہے۔ یہ بھی گمراہی ہے۔ پیر مہر علی شاہ گولڑوی کے ہاتھ سے کاغذات گر پڑے ہزاروں اٹھانے کے لیے آئے میں نے کہا کہ یہ بت ہے خواجہ حسن نظامی سے میں نے پوچھا کہ کیا میرے رسالے پہنچے ہیں کہا ہاں پھر میں نے کہا کہ خواجہ محبوب الہی بت ہے خواجہ ناراض ہو کر چلا گیا خواجہ کی شکل کبھی نورانی نظر آئی اور کبھی سیاہ بال کترے ہوئے داڑھی نصف بالشت میں نے کہا شیطان ہے میں نے کہا یہ وعظ کی کہ: ” واتخذو ا من دون الله آلهته يا علی “ کہنا مردود ہے جن کو تم پکارتے ہو عباد امثالكم مثلا محمد رسول پیدا ہو کر زین العابدین کہلایا موسے پاک شہید شاہ شمس تبریز اور سرمد یا حسن پھلواری کہلایا شیعہ یا علی پکارتا تھا میں نے کہا نہ عبادت کر اس کی جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے تابوت دیکھا جیسا کہ دسہرہ ہے میں نے کہا جب تناسخ مانا جائے گا۔ یہ نہ رہے گا مراسی اندر دیوتا کا بھجن گا تا تھا تو میں نے کہا کہ اسی طرح مسلمان نعت خوانی کرتے ہیں مردہ رسول یا استاد یا مرشد سے فیض حاصل کرتے ہیں مگر وہ آگاہ نہیں ہندو کو سورج پوجتے دیکھا تو کہا کہ وہ بھی آگاہ نہیں رسولوں کو ہمیشہ رہنے والا اور ایسا جسم جانتے ہیں جو کھاتا پیتا ہے اور نذر و نیاز دیتے ہیں کریم بخش نمبردار نے کہا کہ پاکپتن کب جاؤ گے تو میں نے کہا میلوں پر جانا حرام ہے اور ان کے نام کا کھانا بھی سور کے برابر ہے مردہ کی دعوت دیکھی میں نے کہا فضول رسم ہے مردہ کو ثواب نہیں پہنچتا تو میں نے نہ کھانا کھایا اور نہ کلام بخشی یہ تو مردہ کے بھائیوال ہیں کفن سے صافہ لیتے ہیں۔ ساتویں دن کپڑے جمعرات کو روٹی چالیسویں دسواں ششماہی اور سالانہ وغیرہ قبر پر تین روز قرآن پڑھتے ہیں اور اسقاط کراتے ہیں گیارھویں اور دودھ ایک نے کہا کہ تین ماہ ہوئے میرا لڑکا مر گیا ہے دعائے مغفرت کرو میں نے کہا کہ کیا فائدہ وہ تو دو سرے جسم میں آ بھی گیا ہوگا۔

کے لئے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں حالانکہ اس کی کوئی سند نہیں من ذالذى يشفع عنده اور تناسخ کے ثبوت میں کئی آیات پیش کی ہیں اور خواب دیکھا ہے کہ خدا نے میری زبان سے یہ کہلایا کہ میرا دعویٰ ہے مڑ کے پیدا ہونا خدا کی قسم یہ قرآن کا بھاری معجزہ ہے شمس الدین پٹواری نے پیر مہر علی شاہ

صفحہ ٥٧٦

سے کہا کہ اس نے نرالا دعوے کیا ہے کہ انسان بار بار پیدا ہوتا ہے پیر نے کہا کہ فلاں بزرگ نے بھی لکھا ہے میں نے کہا کہ خدا نے یوں ہی لکھا ہے من نفس واحدة خلقاً بعد خلق فی هذه الدنيا حسنة۔ عذاب شديد فى الدنيا والآخرة وہ گن گن کر کے جواب دینے لگا پیر نے کہا کوئی پختہ دلیل دو۔ میں نے کہا میں دلیل دیتا ہوں کہ اندھا ، کانا ، لنگڑا، بدصورت وغیرہ بچہ پیدا ہوتا ہے۔ تو اگر اس جہاں میں بدلہ نہیں ملتا تو سارے بچے یکساں پیدا ہوتے مجھے بتایا گیا تم ہابیل ہو۔ میں نے سمجھا کہ میں ہی پہلے نوح، لوط، اسحٰق، ہارون، الیاس، لقمان، سلیمان، عمران، یحییٰ، محمد، ابن عربی وغیرہ تھا۔ جارج پنجم اور فرعون بھی رہا ہوں۔ قادیانی اندھیرے میں سورہا ہے۔ میں نوح جاگتا ہوں۔ پوچھا گیا موسیٰ کون ہے۔ نوح کون ہے۔ جواب آیا کہ یہ نذیر ( یعنی میں ) خیال آیا کہ دیکھوں قادیانی کی دعوت قبول کرتے ہیں اور میری سچی دعوت قبول نہیں کرتے۔ کفی باللہ شہیدا میں حزقیل اور یونس ہوں۔ اے اسرائیل میں آیا تمہارے پاس جیسے آیا تھا۔ پہلے (یعنی شیث ہوں ) تیری جورو آگ میں جلی تو لوط تھا۔ شعیب کا نام دیکھ کر میں نے کہا یہ محمد رسول اللہ تھا۔ بلقیس آئی تو میں سلیمان تھا اور بلقیس میری بیوی جھنڈی بی تھی۔ وہ ام المومنین ہے۔ میری روح صالح نبی میں تھی کسی نے کہا محمد عبیداللہ نے اصحاب الرس سے خوب کی۔ ایلیا نبی کی روح مجھ میں ہے۔ روح عمران یحییٰ میں میرے پاس دو آدمی آئے تیسرا ڈر گیا نہ آیا۔ وہ بھی جانے لگے کہ مرزائی نہ دیکھ لیں۔ میں نے کہا نہ ڈرو میں یحییٰ زندہ ہو کر بیٹھا ہوں۔ وحی میں خدا نے کہا اے یحییٰ تیری روح ہر سہ امام میں یعنی امام مہدی۔ امام زین العابدین اور امام غائب میں ہے ان اليك يسعى واليك المصير. انتم الخلفاء یعنی تو ہی ہارون الرشید تھا۔ امام بخاری اور ابن عربی اور تو ہی امام آخر الزمان ہوگا۔ ملتان گیا تو کسی نے کہا کہ موسیٰ پاک شہید رسول اللہ ہیں۔ شاہ شمس تبریز میں ہوں۔ نعمت ولی بھی میں ہی ہوں۔ خدا نے کہا کہ حافظ شیرازی تو ہے۔ میں نے کہا کہ روح میری سرمد میں ہے۔ میں میاں میر میں ۔ لوگوں نے مجھے فردالاولیاء حسن پھلواری کہا۔ اخیر میں ہی رجل يسعى ہوا میں بہادر شاہ تھا کسی نے مجھے کہا تم نے محمد سمرنا بننا ہے۔ کسی ہندو نے کرشن کے جامے (روپ) دریافت کئے جامہ محمد پر خاموش رہا اور جامہ گوبند سنگھ پر تصدیق کی۔ میں نے کہا کہ اب وہ کرشن کی روح مجھ میں ہے۔ کشن سنگھ دکھیہ میں نے کہا کہ اگر میں اسے کہوں کہ میں ہی گوبند سنگھ اور کرشن ہوں تو برا منائے گا نہ کہنا ہی مناسب ہے۔ گورو گو بند سنگھ محمد ہے دسویں گرنتھ میں دیکھو۔ کہا تو سا کی منی ہے اور تو بدھ ہے۔ محمد رسول اللہ کی نورانی شکل دکھائی گئی ۔ اخیر پر ظاہر ہوا کہ وہ میں ہی تھا۔ زبان سے جاری ہوا میں ہی محمد ہوں۔ میں نے

صفحہ ٥٧٧

ایک مجمع میں بار بار پیدا ہونے کا ثبوت دیا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کر کے کہا کہ تصدیق ہو چکا کہ یہی محمد ہے۔ ثبوت تناسخ میں آیات بتائی گئی ۔ الا نسان من سلالة من طين لا زب يميتكم ويحييكم من ماء مهين ہدایت دیئے بغیر کوئی مجرم نہیں بن سکتا تو بتاؤ ہند میں کون نذیر آیا امریکہ یورپ اور چین میں کون تھا لمبی عمریں دے کر ادھر کی روحیں ادھر دل بدل کر اشیاء کے نبی سب کے لئے نذیر بنے بار بار اشیاء اور یورپ کی تبدیل خلق ہی تطاول عمر ہے اور اسی پر گرفت ہو گی اب پہلے قرن پیدا کئے گئے خلقكم ثم يتوفاكم احسن تقویم میں تم کو مکمل کرتا ہے ارذل العمر سے مراد دوسری ادنے مخلوق ہے جس میں انسان جا کر پہلے کام بھول جاتا ہے۔ اس سے مراد فتوخت نہیں ہو سکتی کیونکہ کبرسنی میں ابراہیم اور یعقوب زکریا وغیرہ ہوئے ان کے حواس تو ٹھکانے تھے تو لكی لا يعلمه بعد علمه شياء کیسے صح ہوا لبثت فیكم عمرا یہاں عمر جمع ہے عمر کی تقلبك فی الساجدین میں بار بار پیدائش مراد ہے اسی طرح لراوک الی معاد ہابیل کی موت پر کہا من آجل ذلك هذا نذير من النذر الاولی سورہ نوح میں الم تر سے تناسخ ثابت ہے سخر لكم ما فی السموات وما فی الارض تسخیر سماوی بغیر تناسخ کے مشکل ہے عبد انعمنا عليه انه علم للساعته سے مراد قادیانی اور میں ہوں اهلكناهم بذنوبهم ثم انشانا بعدهم قرنا آخرین سے دنیاوی بدلہ مراد ہے الم يروكم اهلكنا من قبلهم من قرن ہلاکت قرون کے وقت اہل مکہ مشاہدہ کر رہے تھے ارایت میں بھی یہی اشارہ ہے ان الله قادر ان يخلق مثلهم انكم مبعوثون يوم الدين میرا عہد ہے منكم من يتوفی من قبل کیا اب بھی تناسخ میں شک ہے کما بدانا اول خلق نعيده انکم مخرجون يحييكم ثم يميتكم ثم يجمعكم كنتم امواتا فاحياكم ثم يميتكم ثم يحيكم ثم اليه ترجعون یعنی حیات کی طرف لوٹائے جاتے ہو يبد الخلق ثم يعيده وهوا هون عليه كما بداكم تعودون یات بخلق جدید بدلنا امثالهم تبديلا اوليس الذی خلق السموات والارض بقادر علی ان يخلق مثلهم بلی اذاشاء النشره لم يكن شياء مذكورا فی اسی صورة ما شاء رکبک جون سابق کی طرف اشارہ ہے انسان کی پیدائش مٹی ہڈی علقہ نباتات کیچڑ جونک وغیرہ سے بنا کر جونیں ثابت کی ہیں ینقلب الى اهله مسرور انه كان فی اهله مسرورا پڑپوتا مڑ کے پیدا ہوتا ہے كل نفس بما كسبت رهين فجعله نسبا وصهر مختلف جونوں میں نسب وصہر ہو سکتا ہے ما اصابکم من مصيبة فبما كسبت ايديكم يوبقهن

صفحہ ٥٧٨

بما کسبو بچوں پر اعمال بد سے مصائب آتے ہیں من کان یرید الحیاۃ الدنیا وزینتہا نوف الیہم اعمالہم فیہا مراغماً کثیرۃ بار بار کی پیدائش مراد ہے لترکبن طبقاً عن طبق بعث ما فی القبور ١٧؍نومبر ١٩١٧ء میں میرا والد فوت ہوا۔ ١٨؍جولائی ١٩١٧ء میں والدہ فوت ہوئی میری تاریخ پیدائش مارچ ١٨٩٩ء میں ہے رویا میں والدہ آئی تو اسکو بخشوایا گیا میرا والد سری سقطی کے ساتھ رہتا ہے۔ دہلی سے کئی مردے اٹھ کے مجھ میں روح محمد کی ہے۔ علاؤ الدین میرٹھی میں روح عثمان کی۔ نورصدیق عبداللہ چکڑالوی ہے۔ میرا بیٹا نورصدیق اکبر ہے اور علی ذوالفقار کی حضرت علی ہے یا نبی لا تشرک باللہ میں لقمان تھا میرا نام اسماعیل بھی ہے یعقوب ہی ایوب ہے سموئیل پیغمبر علی بنت محمد مزہ ہے نیکیوں کے نصف برابر بدیاں ہوں تو کانا پیدا ہوتا ہے برابر ہوں تو اندھا اندھے سادھو کو سؤر پر سوار دیکھا معلوم ہوا کہ سؤر ظالم تھا ظالم باپ بھی بنتا ہے میرے دونوں بھائی ظالم ہیں۔ فقیر اور ماچھی ظالم ہیں۔ چوڑھے کنجر ظالم ہیں۔ ایک ننگی عورت دیکھی وہ ظالم تھی۔ چپڑاسی ظالم ہیں۔ نور صدیق نے کہا ابا جی جو حد سے گزرے وہ ظالم ہے ساتوں جنت آسمان پر نہیں کچھ زمین پر بھی ہیں۔ لا تفتح لہم ابواب السماء سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جنت آسمان پر بھی ہے

٣٣...... آریہ جزوی تناسخ مانتے ہیں درختوں میں روح نہیں مانتے مگر بدعملی سے روح درخت بھی بنجاتی ہے کہ کیونکہ وہ بھی نرومادہ ہوتے ہیں وحی سے معلوم ہوا کہ مرزائی فرقہ بھی درختوں میں روح نہیں مانتا تو پھر وہ تسبیح کیسے کرتے ہیں اور انسان نباتات سے کیسے نکلا آریہ قوم شو د ہیں یا جبال اوبی معہ سے ثابت ہے کہ پتھروں میں بھی جان ہے علمائے زماں سانپ ہیں۔ دھارو لعل کو مگر مچھ دیکھا نذیر احمد کو دیکھا کہ وہ چوہڑا منڈا اموں کا ہے فقیر سائل گھوڑے پر سوار تھا معلوم ہوا کہ وہ شیطان ہے سابقہ جنم اس نے کچھ اچھے عمل کیے تھے۔ اس لئے اسے سواری ملی ہے ایک ہندو عورت مریدوں میں بیٹھی تھی آواز آئی کہ کہ سورنی ہوگی مراسن چوہیا بنتی ہے ایک بلونگڑہ نے میرے ہاتھ سے ٹکڑہ جھپٹ لیا وحی آئی کہ یہ مولا سنگھ ہے۔ چوہدری عبدالرحیم راجپوت میں نانک کی روح بولی وہ بلال کا درجہ بھی حاصل کرے گا غلام محمد امام مسجد چیچاوطنی کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ وہ دیانند تھا اور اس کا بیٹا شروہانند ہے۔ انتہی اقول رجل یسعیٰ!

تنقید

٤٣...... محمد ثانی کا مصداق ہر ایک مدعی نبوت بن رہا ہے غالباً یہ مسئلہ انہوں نے آریوں سے حاصل کیا ہے کہ چار رشی چاروید کی تعلیم ایک دفعہ دے چکے ہیں اور جب زمانہ کی رفتار

صفحہ ٥٧٩

بدل جاتی ہے تو وہی کسی ایک میں روپ دھار کر پھر ان ویدوں کی تجدید کر دیتے ہیں چنانچہ دیانند ان کا ہی بروز تھا جس نے ویدوں کی اصلی تعلیم کو بگاڑ کر ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالی تھی اور ہند وؤں میں تفرقہ ڈال دیا تھا مرزا صاحب اور ان کے تابعدار و غیر تابعدار نبیوں نے بھی وہی چال چلی ہے اور حضور علیہ السلام کا بروز بن کر محمد ثانی کا دعویٰ کیا ہے اور قرآن مجید کی تعلیم کو ازسرنو قائم کیا ہے مگر بدقسمتی سے یہ بہروپی نبی جس قدر بھی ہیں خود اپنے مرشد مسیح قادیانی کو باطل ٹھیراتے ہیں اور اگر اس کی تعلیم کو منسوخ قرار نہ دیں تو آپس میں ایک دوسرے کی تکفیر و تلعین کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ سلسلہ آج نہیں شروع سے چلا آ رہا ہے ایرانی مدعیان نبوت نے آپس میں لڑ کر مسیح ازل کو کافر ٹھیرایا تھا اس کے بعد جب معاملہ سلجھا تو ہزار سال تک اعلان کر دیا کہ اب محمد ثانی بننے کی ضر ورت نہیں رہی اور فتویٰ لگا دیا تھا کہ جو مدعی نبوت اس ہزار سال کے عرصہ میں پیدا ہو گا وہ دجال اور کافر و ملعون ہوگا لیکن مرزا صاحب نے جرات کر لی اور محمد ثانی بن کر ان ایرانی گیارہ نبیوں کو خارج از اسلام قرار دیا اور کہہ دیا کہ اب نبوت میرے خاندان سے مخصوص ہو چکی ہے لیکن آپ کی وفات کے بعد آپ کے مریدوں نے روحانی ذریت بن کر محمد ثانی بننا شروع کر دیا اور جو داؤ پیچ آپ نے پیدا کئے تھے انہی کے ذریعہ یہ بھی نبی بن بیٹھے غالباً ان پنجابی نبیوں کی تعداد بھی گیارہ تک پہنچ چکی ہے اور ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں اور قرآن شریف کا نیا نیا مفہوم تراشنے میں استاد ثابت ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جو شخص ایسے تمام مدعیان نبوت کی تعلیم پر ایک سرسری نظر بھی دوڑاتا ہے تو یوں کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ:

تصور کیا جاتا ہے اپنا بنیادی اصول قرار دیکر وحدت ادیان کا اعلان کیا ہے جس کا مطلب یا تو یوں لیا جاتا ہے اصول مذہبی تمام مذاہب میں ایک ہی تھے مگر بعد میں لوگوں نے مخصوص الوقت امتیازات سے تفرقہ ڈال رکھا ہے اس لئے قرآن وید گیتا اور گرنتھ وغیرہ کو ایسے مفہوم پر لا کھڑا کر دینا چاہیے کہ ان کی تعلیم ایک ہی نظر آئے اور یا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ ان تمام کتابوں کو منسوخ قرار دے کر ایک نئی آسمانی کتاب پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ جس میں ہر ایک مذہب و ملت کے تابعدار داخل ہوسکیں بہر حال دونوں خیالات کا واحد مقصد اخیر میں یہ نکلتا ہے کہ دنیا مذہب کو لعنت سمجھ کر چھوڑ دے اور ایک نئی شریعت قائم کرے جو تمدن یورپ سے حاصل ہو رہی ہے۔

کہ ان کو آریوں کی طرح کامیابی حاصل ہو جاتی اور لوگ اسلام کو خیر باد کہہ کر نئی شریعت کو قبول

صفحہ ٥٨٠

کر لیتے مگر بدقسمتی سے ایسی آواز ایک نہیں اور وحدت ادیان پیش کرتے ہوئے اپنی اڑھائی اینٹ کی مسجد کی الگ الگ دعوت دے رہے ہیں تو اس کا نتیجہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ یہ وحدت پھر کثرت اور اختلاف کا باعث بن جائے اور جس اسلامی اختلاف مذہبی سے بچ کر یہ چال چلے تھے وہی پھر آپس میں پیش آگیا اس لیے یہ ضروری ہے کہ ایک عام مجلس میں حکومت برطانیہ کے زیر صدارت تمام نو موجودہ انبیاء کی تعلیم پیش کی جائے اور مدبران تمدن یورپ کچھ عرصہ کمال خوض وفکر کے بعد فیصلہ کریں کہ اسلام چھوڑنے کے بعد کس نبی کی تعلیم تمدن یورپ کے لئے از بس مفید ہو سکتی ہے اس کے بعد انتخاب بائبل کی طرح ان کی تعلیم سے ایک نیا کورس تیار کرایا جائے جو سلطان معظم جارج خامس کے شاہی دربار میں نظر ثانی کر کے شاہی حکم سے واجب التعمیل قرار دیا جائے تاکہ رعایا آرام کی نیند سوئے اور تکفیری مشینیں توڑ کر یورپ کے عجائب خانہ میں رکھی جائیں۔ قدیم اسلام میں صرف دو سیاسی فرقے چلے آتے تھے سنی اور شیعہ مگر ان میں سے کسی قسم کا سنی یا شیعہ کوئی بھی ایسا نہیں پایا گیا تھا کہ سرے سے قرآن کو ہی دوبارہ نازل کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہو اور عہد حاضر میں تجدید اسلام کے بانیوں نے آپس میں اصول تجدید کی بناء پر ایسا اختلاف اور ایسی دھڑا بندی پیدا کر دی ہے کہ ہر ایک کا طریق اسلام الگ ہی نظر آتا ہے اور اصولی اختلاف کی وجہ سے ایک دوسرے کو کافر اور خارج از اسلام یقین کرتے ہیں ہر ایک دوسرے کا جانی دشمن نظر آتا ہے اس لئے لوگ اگر چہ کہنے کو تو کہہ دیتے ہیں کہ آج سے پہلے مسلمانوں کو مذہبی اختلافات نے قعر مذلت میں گرا دیا ہے لیکن اگر غور کریں تو ان کو یقین ہو جائے گا کہ قدیمی اختلافات صرف فروعی تھے جو صرف تھوڑی دور تک چل کر رہ جاتے تھے اور باوجود اختلافات کے تمام فروعی مذاہب عام طور پر اخوت اسلامی پر قائم تھے لیکن دور حاضر کے نبوتی اختلاف ایسے پیدا ہو رہے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے ممکن نہیں کہ مسلمان آپس میں بحیثیت مسلمان ہونے کے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو سکیں۔

....... حالات حاضرہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے دل سے یہ آواز بے بس ہو کر نکلتی ہے مسلم ان تمام مذاہب جدیدہ کو اور ان تمام جدید اسلامیات کو دور سے سلام کرے۔ اگر مسلمان رہنا ہے تو اپنے اسلام قدیم پر ہی قدم جمائے جائیں اور جس قدر نئے نئے شکوک اور نئی نئی تحقیقات پیش کی جائیں ان سب کو ایک ہی لاحول پڑھ کر دور ہٹایا جائے۔ کیونکہ ان میں سے گو ہر ایک محمد ثانی کا دعویدار ہے لیکن صرف لفظ ہی لفظ ہیں ورنہ سب بے معنی دعاوی ہیں کیونکہ ان میں سے ایک بھی اس قابل نہیں ہے کہ کم از کم ادبی لیاقت میں حضور علیہ الصلوۃ والتسلیمات تو کجا آپ کے

صفحہ ٥٨١

کسی ادنیٰ غلام کا پاسنگ بھی ثابت ہو آؤ ان سب کے تالیف شدہ قرآن اور الہام ناظرین کے پیش خدمت ہیں قرآن وحدیث سے مقابلہ کر کے دیکھ لیں ایک لفظ بھی نہ قول رسول سے لگاؤ کھاتا ہے نہ قرآن سے بھلا جس بانی اسلام کے مقابلہ میں مسیلمہ کذاب جیسے فرقان بنانے میں ناکام رہے اور ابوالعلاء معری جیسے مقابلہ کر تھکے اور لبید جیسے شاعروں نے شاعری چھوڑ دی اس کا مقابلہ ایرانی اور پنجابی کریں جن کو فعل فاعل پہچاننے کی بھی تمیز نہیں اور عربی فارسی ترکیب میں امتیاز نہیں لکھنے بیٹھتے ہیں تو فصاحت و بلاغت کا نام نہیں شعر بولتے ہیں تو عروض ہی ندارد کیا پدی کیا پدی کا شوربا مفت میں انہوں نے محمد اول کو بھی بدنام کر رکھا ہے کیا مخالفین اسلام ان کو دیکھ کر یوں نہ کہتے ہونگے کہ جب مسلمانوں کے محمد ثانی غلط گو۔ غلط نویس اصول کے کچے بات بات پر بدلنے والے بدگو بد نویس اور بداخلاق ہیں تو ان کا محمد اول بھی شاید ایسا ہی ہوگا۔ (معاذ اللہ)

ہ.......... ابتداء میں مسلمانوں کو اگر چہ بہت تکفیر کرنے کے بعد مرزائیوں کا مقابلہ کرنا پڑا تھا مگر اب خدا کا فضل ہو گیا ہے کہ یہ لوگ خود ہی ایک دوسرے کو کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں اور ایسا مطلع صاف ہو گیا ہے کہ ان میں اگر ایک کی صداقت پیش کی جائے تو دوسرے کی صداقت اس کا قلع قمع کر دیتی ہے گو ان اسلام کے دشمنوں نے اسلام منسوخ کر ڈالا ہے اور ہمارے سینے پر مونگ دلے ہیں لیکن بخدا شرے برانگیزد کہ درو خیر ما باشد اس نبوت بازی میں اب ہمیں ہاتھ ہلانے کی ضرورت نہیں رہی ان کی پتنگیں خود بخود ہی آپس میں پیچا لگا کر کٹ رہی ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ یہ تمام مذاہب جدیدہ کٹ کٹا کر کسی وقت ایک افسانہ رہ جائیں جس طرح کہ ازمنہ متوسط میں قرامطہ اور ملاحده کی بروزی نبوتیں اور خدائی دعوے آج صرف کتابوں میں ملتے ہیں ورنہ ان کا نام لیوا آج ایک بھی نظر نہیں آتا۔

و.......... رجل یسعیٰ نے اپنی صداقت سورہ یٰسین سے پیش کی ہے مرزا صاحب نے سورہ فاتحہ سے پیش کی تھی۔ بہر حال قرآن سے ہی ہر ایک ناسخ شریعت قرآن کے مٹ جانے کا ثبوت دیتا ہے مگر تعجب یہ ہے کہ اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہلاتے ہیں تاکہ وحی جدید عالمگیری ثابت ہو۔ شاید ان کی ضمیر ہی خود ملامت کرتی ہوگی کہ پلے ہاتھ تو کچھ بھی نہیں۔ صرف چند ابلہ مغرور نا تعلیم یافتوں کو پھنسانے کی کوشش کی ہے ورنہ من آنم کہ من دانم ۔ اس لئے شرم آتی ہوگی ۔ کہ اسلام کا عنوان چھوڑیں تو کس منہ سے، اور کس بل بوتے پر ۔ ان گھر کے بھیدی دشمنوں نے اندر ہی اندر اسلام کو کھا لیا ہے اور گھن بن کر اسے کھوکھلا کر دیا ہے ہر کمالے را زوالے ۔ شاید یہی تفرقہ خود ان کی نبوت فروشی کی دکان کو پھیکا کر دے۔ توقع زوالا اذ قیل تم

صفحہ ٥٨٢

ز ....... رجل یسعیٰ کے دعاوی مرزا صاحب کی نسبت وزنی اور شمار میں زیادہ ہیں اس نے کوئی دعویٰ ایسا نہیں کیا کہ جس کا بار ثبوت اس کے ذمہ پڑے اور اس سے عہدہ برآ نہ سکے۔ تمثیلی طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے صرف یہ کہہ کر جان چھڑائی ہے کہ خواب میں مجھے نانک بنایا گیا۔ مگر مرزا صاحب نے اپنی صداقت ایک تحریری ثبوت میں پیش کیا ہے کہ ایک جنم ساکھی میں یوں مذکور ہے کہ مردانہ نے گورو نانک سے پوچھا تھا کہ بھگت کبیر کے بعد بھی ویسا کوئی ہوگا تو نانک نے کہا تھا کہ ہاں سو سال بعد بٹالہ کے پاس ایک جٹیا پیدا ہوگا مرزا صاحب نے دعویٰ کیا کہ یہ جٹیا میں ہوں ناواقفوں نے تو جھٹ تسلیم کر لیا۔ مگر جب تاریخی واقعات کی دیکھ بھال ہوئی۔ تو نانک کا عہد بابر کے عہد حکومت میں پایا گیا اور مرزا صاحب کا عہد نبوت برطانیہ میں حساب لگایا گیا تو صرف چار سو برس کا فرق نکلا۔ اب لگے حاشیہ آرائی کرنے مگر کیا پیش جا سکتی ہے غرضیکہ ان کے باقی نظریات بھی کچھ ایسے ہی ہیں کہ اگر تاریخی معیار سے جانچے جائیں تو نظریہ قبر کشمیر اور ہند میں سفر مسیح ناصری کی طرح تاریخی جہالت کا پورا ثبوت دے سکتے ہیں۔ لو اب ہم ایک اور نبی کا ذکر کرتے ہیں جو غالباً انبیائے ایران کا بروز ہے۔

سید محبوب عالم شاہ

٣٥ ....... بنی اسرائیل مناد خداوندی اہل اللہ پنجاب گوجرانوالہ موضع باغبانپورہ برلب سڑک حافظ آباد رہتے ہیں۔ انہوں نے ایک الہامی کتاب مسمیٰ بہ امام حقیقی لکھی ہے جس کے چار حصہ ہیں پہلے حصہ عقدہ کشاء میں لکھتے ہیں کہ پنجاب میں پنجابی نبی ہی آسکتا ہے جو اردو یا پنجابی میں تبلیغ کرے نبوت کو کس نے بند کیا؟ آدم کو کہا کہ شجر یعنی جھگڑے کے نزدیک نہ جاہ ورنہ ظالم ہو جائے گا۔ کلوا جھگڑے والوں کی باتیں اس کے دل میں سما گئیں۔ ورق الجنتہ نجاتی ورق یعنی دعا کی طرف متوجہ ہوا۔ شیطان جھگڑالو آدمیوں نے اسے بہکایا تھا اور حکم دیا ہم نے کہ اس سر سبز زمین سے نکل جا اور محنتی زمین میں جا کر رہ۔ جھگڑے سے تباہی آتی ہے اس لئے نماز روزہ حج زکوۃ سے جتنا ہو سکے کرو اور آپس میں نہ جھگڑو۔ ناری شریعت والے رسول سے ہم نے کہا کہ تم سے دنیا تنگ آگئی ہے۔ اس لئے ہم خاکی خلیفہ پیدا کریں گے اس نے کہا کہ یہ بھی تو شرارت کرے گا۔ ہم نے کہا کہ نہیں یہ اور کام بھی کریگا۔ پھر اسکو ناری خاکی شریعت دی اور ناری سے کہا کہ آدم کی شریعت پڑھ کر سنا تو وہ نہ سنا سکا اس لئے ہم نے کہا کہ اسے سجدہ کرو اور جھگڑا چھوڑو۔ تو ناری رسول نے انکار کیا اور تباہ ہوا۔ پس خدا نے فرشتوں سے مشورہ نہیں لیا تھا۔ بلکہ ناری رسول کو بتایا تھا کہ دنیا تجھ سے تنگ آگئی ہے مگر آدم نے بھی جھگڑا کیا اس لئے جنت جیسی زمین سے نکالا گیا

اور اسے کہا کہ تیری نسل پر شریعت آ تباہ ہو گئے۔ پھر ابراہیم کا اپنے باپ رسول بھیجتا رہو۔ پس موسیٰ، عیسیٰ اور ایاماً میں میم کی تنوین جمع کی ہے۔ تمہاری کوئی ضمانت دیتا تھا اور نہ چھوٹا کر دیا تو تم پار اتر گئے۔ موسیٰ دیدار مانگا تو تباہ ہونے لگے اور اس مہربانی سے ہم نے نرم گوشت کھلایا پیاس بجھدی۔ پھر ہم نے بانسعـ گھاٹ ہر ایک کو بنا دیا۔ تاکہ ویر بات کے متلاشی ہوئے تو ہم نے ا الطور پہاڑی لوگوں نے کہـ مانیں گے۔ مریم کی ماں نے دعا نے اس کا نام رکھا مریم (عزرا) بغاوت سے بچ اور اہل بیت کو بـ فضیلت دی ہے۔ ابراہیم نے ا کہنا مان۔ مگر ابراہیم نے بیٹے کا تو نے خواب کو سچ ہی مان لیا تھا ا ہوتا ہے؟ آواز سے یا قاصد سے نے پہلے قربانی دی تھی اور بیت ا اور یہ حکم نہیں کہ قربانی کی ہڈیاں ہے۔ گھر کی قربانی کچھ نہیں لا تـ بے عزتی مت کرو۔ پس اگر گھر کرو۔ لا تحلقوا رئوسکم مقدمہ وغیرہ سر پر بن جائے تو کرو۔ پاس کچھ نہ رہ جائے تو

صفحہ ٥٨٣

اور اسے کہا کہ تیری نسل پر شریعت آتی رہے گی اور نوح کے زمانہ میں بھی لوگ جھگڑا کرنے لگے تو تباہ ہو گئے۔ پھر ابراہیم کا اپنے باپ سے جھگڑا ہوا تو اس نے دعا مانگی۔ خواہ کچھ ہو یا اللہ تو ان میں رسول بھیجتا رہو۔ پس موسیٰ، عیسیٰ اور محمد اس کی نسل سے آگئے اور آئندہ بھی آتے رہیں گے واتقو ایوماً میں میم کی تنوین جمع کی ہے۔ یعنی اے بنی اسرائیل تم ایسے دنوں سے ڈرو کہ جب مصر میں نہ تمہاری کوئی ضمانت دیتا تھا اور نہ تمہارا جرمانہ منظور ہوتا تھا۔ پھر ہم نے تمہارے لئے دریا کا پانی چھوٹا کر دیا تو تم پار اتر گئے۔ موسیٰ طور پر گیا۔ تو تم فوٹوگراف کے صندوق کو پوجنے لگ گئے۔ خدا کا دیدار مانگا تو تباہ ہونے لگے اور اس موت سے بجلی کے ساتھ ہم نے پھر زندہ کیا من وسلوا یعنی مہربانی سے ہم نے نرم گوشت کھلایا۔ شہر میں نماز پڑھ کر داخل نہ ہوئے تو ہم نے رجز یعنی بھوک پیاس بھیجدی۔ پھر ہم نے بانٹ دیا بارہ عقلمند سرداروں کو (عینا) پس موسیٰ نے شکار کھیلنے کا گھاٹ ہر ایک کو بنا دیا۔ تاکہ وہیں پانی بھی پئیں اب مچھلیاں کھاتے کھاتے تنگ آگئے اور ساگ پات کے متلاشی ہوئے تو ہم نے ان کو پھر مصر میں بھیج دیا اور پھر ذلیل ہوگئے۔ رفعنا فوقکم الطور پہاڑی لوگوں نے کہنا مانا تو فائق ہوگئے۔ اے محمد جب تک یہ جھگڑا کریں گے تم کو نہیں مانیں گے۔ مریم کی ماں نے دعا مانگی تو ہم نے کہا کہ تیری لڑکی کی مانند اب کوئی مرد نہیں ہے۔ ہم نے اس کا نام رکھا مریم (عذرا) شیطانوں سے ہم نے اسے پناہ دی ان یطھرکم پس اے نبی بغاوت سے بچا اور اہل بیت کو بچا۔ اہل بیت نسل رسول اور اس کے آباواجداد میں جن کو خدا نے فضیلت دی ہے۔ ابراہیم نے اپنے بیٹے کو خواب سنایا تو اس نے کہا اے بابا خواب کیا ہے خدا کا کہنا مان۔ مگر ابراہیم نے بیٹے کا کہنا نہ مانا (لما اسلما) اور زمین پر اسے گرا دیا تو خدا نے کہا تونے خواب کو سچ ہی مان لیا تھا لما حرف نفی ہے جیسے لما یعلم اللہ میں خدا کا کلام تین طرح سے ہوتا ہے؟ آواز سے یا قاصد سے یا الہام قلبی سے پس خواب ان تینوں میں نہیں بلکہ آدم کے بیٹوں نے پہلے قربانی دی تھی اور بیت اللہ کی قربانی کا حکم ابراہیم کو ہوا تھا۔ الھدی سے مراد قیمت بھی ہے اور یہ حکم نہیں کہ قربانی کی ہڈیاں سکھا کر کھاتے رہو۔ بالغ الکعبۃ قربانی کعبہ میں ہی ہوتی ہے۔ گھر کی قربانی کچھ نہیں لا تحلوا شعائر اللہ میں حکم ہے کہ راستہ میں کعبہ کی قربانیوں کی بے عزتی مت کرو۔ پس اگر گھر ہی کعبہ کی طرف منہ کر کے قربانی ہوسکتی ہے تو گھر بیٹھے حج بھی کر لیا کرو۔ لا تحلقوا رئوسکم جب تک قربانی اپنی جگہ پر پہنچ جائے تم اپنے سر پیچھے کو نہ موڑو۔ اذی مقدمہ وغیرہ سر پر بن جائے تو قربانی بھیجو۔ تو جب امن ہوجائے تو عمرہ سے حج کا فائدہ حاصل کرو۔ پس کچھ نہ بن پڑے تو روزے رکھو تین کعبہ میں اور سات گھر میں واپس آکر اور یہ قربانی

صفحہ ٥٨٤

ہوگئی اور یہ روزے مسافروں کے لئے ہیں کیونکہ وہ جانور نہیں لے جاسکتے۔ پس گھر قربانیاں نہ کرو نوح کا کوئی بیٹا کنعان نافرمان نہ تھا جیسا کہ بائیبل سے ثابت ہوتا ہے۔ من سبق جو کشتی چلنے سے پہلے آئیں ان کو بھی سوار کر لے اس نے اپنے بیٹے کو بلایا یعنی اپنی قوم کو مگر اس نے نہ مانا غرق ہوگئی دیکھ کر پھر دعا مانگی تو خدا نے کہا لیس من اھلک کہ یہ قوم تیری تابعدار نہیں ہے۔ ابن آدم سے مراد بنی نوع انسان ہیں۔ اسی طرح ابن نوح اور ابن لقمان سے مراد ان کی قوم ہے کیونکہ جزو سے کل مراد ہو سکتی ہے اور کل سے جزو جیسے لا اله الا الله میں نفی کل (نماز) کی ہے اور مراد ثبوت ایک کا ہے عامین یعنی ماں نے بچہ کو پیٹ اور گود میں اٹھایا۔ کیا صرف لقمان کے بیٹے کو ہی اٹھایا تھا؟ اعظکم بواحدة وحدانیت کی عبادت کو کہتا ہوں ان تقوموا مثنیٰ وفرادیٰ ایک دو دفعہ تو ضرور حاضر ہوا کرو اور سوچو کہ ان جنوں سے ہمارا کوئی مددگار نہیں اہل علم یخرون وہ سجدہ کرتے تھے یزید ھم وہ زیادہ عاجزی کرتے تھے۔ پس سجدہ ایک ہو یا دو ہوں۔ یادو سے بھی زیادہ مگر انکار نہ کرو۔ یا ایھا المزمل اے تکلیف اٹھانیوالے رات کو کھڑا ہو۔ خواہ آدھی رات کو یا نصف رات کو یا (زد ) چھوتھے پہر میں دن کے کام سے فارغ ہو کر تیرا رب مشرق و مغرب دونوں میں ہے ہر طرف سجدہ کر لیا کرو۔ ان ربک یعلم تیرا رب جانتا ہے کہ نصف رات کے بعد کھڑا ہوتا ہے تو اخیر رات کسی وقت عبادت کر لیا کرو۔ اسی طرح دن کے نصف اخیر میں شام ہونے تک کسی وقت نماز پڑھا کرو۔ کیونکہ تکلیف دینا نہیں چاہتا علم تم جانتے ہو کہ تم لیل ونہار کو نہیں روک سکتے اس لئے تم ہر روز نماز پڑھو علم تم یہ بھی جانتے ہو کہ تم کو سفر کرنا اور روزی کمانا بھی ہے پس جتنا ہو سکے تم ان تینوں وقتوں میں نماز پڑھ لیا کرو پس تحصوہ کا معنی ہے بند کرنا اور حصر سے نکلا ہے ثاب بار بار آنا۔ فاذا فرغت جب کام سے فارغ ہو جاؤ تو پھر عبادت کرو خواہ دن میں ہو یا رات میں یسر یعنی کام حاصل کرنے کے بعد جتنا میسر ہو۔ ادبار النجوم یعنی سورج ڈھلنے کے وقت یا پچھلی رات جب کہ ستارے ڈوب جائیں۔ نجوم سے مراد یہاں سورج ہوا کیونکہ سارے ستارے اسی سے روشنی لیتے ہیں دلوک سورج ڈھلنے سے دن کی نماز کے تین وقت مراد ہیں۔ خیط ابیض سورج ہے کیونکہ والشمس وضحھا میں بتایا کہ سورج وہ ہے جو روشن کرتا ہے۔ قمر پیچھے جاتا ہے اسی طرح نفس وہ ہے جو کسی شکل میں ہوتا ہے الہام وہ ہے کہ جس کو نیکی بدی کی شناخت ہوتی ہے قبل طلوع الشمس سے مراد مطلع الفجر ہے۔ جس میں نبی پر فرشتے اترتے تھے اور روح یعنی کتاب لاتے تھے چونکہ انسان بندہ اور آدمی ایک ہے اس لئے فجر اور سورج بھی ایک ہی ہیں وان جو بھی نبی گذرا ہے اس کو مخالف دور لے جاکر چھوڑنا

صفحہ ٥٨٥

چاہتے تھے۔ یہ طریق چلا آتا ہے۔ مگر ہم حفاظت کرتے ہیں اس لئے حکم ہوا کہ نماز پڑھو مشہود یعنی فجر تک اور بہ یعنی اس سے تم کو انعام ملے گا۔ فجر لفظ جر سے نکلا ہے جس کا معنی ہے ایک رنگ سے دوسرا رنگ ظاہر ہونا۔ یا اس سے مراد رات کا ہٹنا اور دن آنا ہے یا اس کا معنی چیرنا جیسے فجرنا العیون سے ظاہر ہے۔ پس دن کو بھی تین وقت ہیں اور رات کو بھی تین وقت ہیں (اور رات دن کے پہلے نصف میں چھٹی ہے) تو چھ وقتوں میں کسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ اے نبی بشیر تو پیدائشی اور نسلی رسول ہے تجھکو بلا اعمال رسالت ملی ہے نجات بھی بلا اعمال ہوگی۔ مگر تم عمل کرو اور شریعتی رسول کا کہنا مانو۔ ورنہ یوں نہ کہنا کہ ہمارے پاس ہماری زبان کے رسول نہیں آئے تھے۔ روزے تین سے دس تک رکھو کیونکہ ایام حج میں یہی دس روزے مذکور ہیں۔

روزہ ...... مگر روزہ دار کو عاکف رہنا ضرور ہوگا۔ یعنی تیرا دل دماغ ہماری طرف ہونا چاہئے۔ احکام حج میں یومین اور یہاں آخر ہے دونو ملا کر تین ہوئے الفجر ولیال عشر دس فجریں اور دس راتیں روزہ کی ہیں۔ شفع وتر دو دو رکھو یا ایک ایک یسر تم کو آسانی دی ہے۔ سارے سال میں رکھو یا اکٹھے رکھو۔ وتر سے مراد ایک روزہ بھی ہے اس لئے اے مخاطب دس رکھ یا ایک۔ ال سے فجر کی تعداد دس مراد ہے۔ بعاد کیا تم کو معلوم نہیں کہ ہمارے رب کے حکم سے پھرنے والی قوم سے ہم نے کیا کیا تھا فجر برزخ ہے رات دن کے درمیان اور اعتکاف گھر میں ہی کر سکتے ہو۔ عورت ایک کرو یہ اجازت دے تو اس کے کنبہ سے دوسری بھی کر سکتے ہو مگر وہ اس کی غلام ہوگی۔ آقا اپنے غلام کی خلوت نہ روکے ورنہ ایک ماہ دس روز تک وہ غلام بن جائے گی۔

نکاح و طلاق ...... اور یہ آقا ہوگا۔ مگر صلح ہو جائے تو معاف ہوگا۔ خدا کی نظر میں نرناری برابر ہیں۔ اس لئے تم ناری کی عزت کرو۔ ورنہ عذاب ہوگا ناری بھی اپنے نر کی خدمت کرے ورنہ اس کو عذاب ہوگا۔ اب یہ احکام منسوخ ہیں تین یا چار عورتیں کرنا۔ نماز کی قضا دینا۔ جہاد کرنا۔ زانی کو سزا دینا اور عرضی گناہ کے بدلے قدرتی اعضاء کاٹنا۔ حواء آدم سے پیدا نہیں ہوئی ( بلکہ یہ دونوں اپنے والد سے پیدا ہوئے تھے ) محمد کے زمانہ میں جہاد تھا اور یتیم لڑکیاں اور بیوہ عورتیں آتی تھیں۔ تو اس وقت یہ حکم ہوا کہ ان پر جبر نہ کرو۔ بلکہ دو سے چار تک نکاح کرو اور ان سے انصاف کرو ورنہ ایک ہی کافی ہے۔ مگر اب نہ جہاد ہے نہ غنیمت تو یہ حکم کیسے جاری رہا۔ خدا کا وجود قدیم ہے تو اس کے اوصاف بھی قدیم ہیں۔ اس لئے خلق کی صفت بھی قدیم ہوئی اور آدم سے حوا پیدا نہ ہوئی۔ کنتم امواتا سے مراد قبل اسلام نہیں ورنہ ثم یمیتکم کا یہ معنی ہوگا کہ خدا تم کو کافر بنادیگا۔ بلکہ اس سے مراد وہ اٹھارہ تبدیلیاں ہیں جو پیدا ہونے سے پہلے والدین کی پیٹھ اور پیٹ

صفحہ ٥٨٦

میں یا اس کے پہلے ہوتی ہیں اور اسی طرف اشارہ ہے کہ لم یکن شیئا مذکور اور یہی انسان کی لطیف صورت ہے۔ مادامت السموات میں بتایا ہے کہ نیک و بد، لطیف صورت میں کئی دفعہ اتنی مدت رہا ہے۔ کہ جتنے میں زمین و آسمان کو فنا کیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد کثیف صورت میں آیا۔ یعنی کئی دفعہ دنیا تباہ ہوئی اور کئی دفعہ تباہ ہو گی۔ لڑکی کا وارث اپنے کنبہ کے معتبروں کے سامنے کہے کہ میں نے اپنی لڑکی اس لڑکے کو دینی و دنیاوی خدمت کے لئے بخش دی۔ پھر لڑکی سامنے آکر کہے کہ مجھے منظور ہے لڑکا بھی کہے کہ مجھے منظور ہے۔ مہر اور دیگر اشیاء یہ سب احکام پر لکھ کر لڑکی کی جائیداد بنائی جائیں اور اسی وقت دی جائیں مہر کی کمی بیشی میں کوئی حد مقرر نہیں، موسیٰ نے بھی پہلے مہر دیا تھا اور لڑکی کے والد نے وہ وصول کر لیا تھا۔ محمد نے لے پالک زید کی بیوی سے نکاح کر لیا جبکہ اس نے طلاق دیدی مخالفوں نے کہا کہ یہ اخلاقی جرم ہے مگر لے پالک تکلیف دیتے تھے۔ کہ چند روز بیٹا بن کر مال کا حصہ لیتے اور اصلی والدین سے جاملتے۔ اس لئے حکم ہوا کہ ہمارا پرانا حکم جاری کرو کہ یہ اصلی بیٹے بن کر وارث نہیں بنتے طعنین سے مراد پرانے احکام رسالت ہیں جو لوگوں نے چھوڑ دیئے تھے اس لئے آپ کو خاتم النبیین کہا گیا کہ انہوں نے پرانی رسالت کو کامل طور پر جاری کر دیا تھا اور جمع کا صیغہ کئی مقام پر واحد کے لئے خدا نے اپنے واسطے استعمال کیا اس لئے یہاں پر بھی ایک رسالت کو جمع بنایا گیا۔ تاکہ عظمت معلوم ہو ورنہ یہ مطلب نہیں کہ رسول آنے بند ہو گئے تھے۔ کیونکہ آپ وسط زمانہ میں آئے ہیں اور آپ کی امت (وسط ) درمیانی امت کہلاتی ہے اس لئے ضروری ہوا کہ جتنے نبی آپ سے پہلے آئے تھے اتنے ہی آپ کے بعد بھی آئیں اور امتیں بھی اتنی ہی ہوں جتنی کہ پہلے تھیں۔ یوسف مر گئے تو لوگوں نے کہا کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسی طرح موسیٰ عیسیٰ کے بعد بھی ہوا اور محمدیوں نے بھی وہیں سے سیکھ لیا اور گالیاں بھی ان سے ہی سیکھی ہیں کہ نبیوں کو دیوانہ جانتے تھے مجھے بھی کہتے ہیں کہ تو دیوانہ ہے مگر تم مجھ سے ملو تا کہ تم سے یہ سوال نہ ہو کہ کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے؟ تو تم سے کوئی جواب بن نہ پڑیگا اور عذاب میں پڑوگے۔ طلاق اور نکالنا جائز نہیں۔ عورت نکل جائے تو اس کا مہر باطل ہو جائے گا۔ واپس آئے تو مہر کی حقدار نہ ہوگی۔ کیونکہ ایسے احکام سے عداوت پھیلتی ہے۔ اگر بد چلن ہو تو تم کو کیا وہ خود اپنی سزا بھگتے گی اور جب تک مذہبی عداوت سے نہ بچو گے تو سات سو سال تک تباہ ہوتے جاؤگے۔

عام احکام...... قبروں اور قبوں کا گرانا حرام ہے۔ نبی رشی مناد حقیقی خدا کا کلمہ روح اور حکم ہوتے ہیں اور تم میں ہر وقت ان میں سے کوئی نہ کوئی موجود رہتا ہے ورنہ گواہ نہیں رہ

سکتے اور سب کا مادہ ایک ہی ہے ہیں۔ اس لئے ان کو زندہ ماننا مر چکے ہیں۔ البتہ ان کا نام زند الموت کا معنی ہے کہ ہر ایک شریعت پر تنخواہ لینا حرام ہے کیو لئے اہل اللہ کو نذر و نیاز دینا ضر المال میں جمع رہے۔ مالدار ا آئے۔ غریب آدمیوں پر دودھ کہ روزانہ تین سے پانچ روپیہ یعنی شراب کو خدا نے اپنا انعام ضروریات سے زائد مال سے کیونکہ اس سے دوسروں کو فائد قرآن میں ہے کہ ربا یعنی رو ہے اور زکوۃ سے بڑھ جاتا ہے اپنے رشتہ داروں کو اور شریعہ ہے کمائی کرنیوالا فی روپیہ پیسہ بھی فی روپیہ ایک پیسہ کے ح صاف کرنے سے حلال ہوتا۔ تھا اور اب بھی حلال ہے۔ ورنہ لے جائے تو دانت کی جگہ پچھا اللہ اکبر کہہ کر کھا جاؤ۔ کیونکہ وہ اکبر کہہ کر یہ بھی کھاؤ جس کا ا درندہ پھاڑ گیا ہو۔ قبر یا بت و مر گیا ہو۔ تم شکاری کتا یا باز و تثلیث کا نہ لو۔ بغیر سود کے رو ذی روح کو تکلیف نہ دے جھ

صفحہ ٥٨٧

سکتے اور سب کا مادہ ایک ہی ہے۔ اسی پودے سے محمد، موسیٰ، عیسیٰ، رام چندر اور نانک پیدا ہوئے ہیں۔ اس لئے ان کو زندہ ماننا فرض ہے۔ ہاں جسمانی موت سے سب مرچکے ہیں۔ عیسیٰ بھی مرچکے ہیں۔ البتہ ان کا نام زندہ اور باقی ہے کیونکہ ان کو خلد نہیں حاصل ہوا۔ کل نفس ذائقۃ الموت کا معنی ہے کہ ہر ایک نبی مرچکا ہے کیونکہ اگر کل شئی مراد ہو تو معنی صحیح نہیں رہتا۔ تعلیم شریعت پر تنخواہ لینا حرام ہے کیونکہ کسی نبی نے معاوضہ نہیں لیا اور زکوۃ نہ دینا بھی حرام ہے۔ اس لئے اہل اللہ کو نذر و نیاز دینا ضروری ہوا اور قربانی کا خمس بھی ضرور دیا جائے اور جو بچ رہے وہ بیت المال میں جمع رہے۔ مالدار اتنی شراب پئیں۔ کہ ان کی روٹی ہضم ہوسکے اور ہوش میں فرق نہ آئے۔ غریب آدمیوں پر دودھ اور گوشت اور روغن حرام ہے اور شراب بھی حرام ہے۔ جب تک کہ روزانہ تین سے پانچ روپیہ تک نہ کمائیں اور اپنا مکان نہ بنالیں اور قرضہ نہ اتار دیں۔ سکر یعنی شراب کو خدا نے اپنا انعام بتایا ہے۔ تو پھر کیسے حرام ہوا۔ ہاں ہمارے حکم کیخلاف حرام ہے اپنی ضروریات سے زائد مال سے صدقہ خیرات کرو اور یہی نیکی ہے خواہ چٹانک آٹا ہو اور یہی نیکی ہے۔ کیونکہ اس سے دوسروں کو فائدہ ہے۔ ورنہ تمہاری نماز اور روزہ سے دوسروں کو کیا حاصل ہوتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ ربا یعنی روپیہ کے کرایہ سے خدا کے ہاں مال نہیں بڑھتا اگر چہ دنیا میں بڑھ جاتا ہے اور زکوۃ سے بڑھ جاتا ہے اس لئے سود خور گیارہ ماہ سود کھائے اور بارھویں ماہ کا زکوۃ میں دے اپنے رشتہ داروں کو اور شریعت بتانے والے کو اڑھائی روپے فی سینکڑے کا حساب منسوخ ہوگیا ہے کمائی کرنیوالا فی روپیہ پیسہ دیا کرے اور محنتی فی روپیہ ایک ادھیلہ زمین اور چار پاؤں کی زکوۃ بھی فی روپیہ ایک پیسہ کے حساب سے ہے۔ چھری سے حرام جانور صاف حلال نہیں ہوسکتا۔ بلکہ صاف کرنے سے حلال ہوتا ہے۔ پس جو مردہ جانور صاف کیا جائے۔ وہ اگر اپنی حیاتی میں حلال تھا اور اب بھی حلال ہے۔ ورنہ حرام ہے۔ ہاں کھانے کے وقت سب پر خدا کا نام لیا کرو۔ کتا روٹی لے جائے تو دانت کی جگہ پھینک دو۔ باقی صاف کر کے کھاؤ۔ نذر و نیاز خواہ کافر اور مشرک کی ہو اللہ اکبر کہہ کر کھا جاؤ۔ کیونکہ وہ اصل میں حلال ہے مگر غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز دینا حرام ہے اللہ اکبر کہہ کر یہ بھی کھاؤ جس کا گلا گھونٹا ہوا ہو جس کے لاٹھی لگی ہو۔ گر کر مرا ہو۔ سینگ سے مرا ہو یا درندہ پھاڑ گیا ہو۔ قبر یا بت وغیرہ کی نیاز ہو یا تیر وغیرہ سے مرگیا ہو۔ یا باز ، کتے اور بندوق سے مرگیا ہو۔ تم شکاری کتا یا باز وغیرہ چھوڑو۔ تو حق تیری ذات کہہ کر چھوڑو۔ اہل توحید کا رستہ لو، اہل تثلیث کا نہ لو۔ بغیر سود کے روپیہ قرض نہ دو بیوپار کی سند سرکاری ہو۔ لنگر جاری کر کہ بڑا ہو جائے۔ ذی روح کو تکلیف نہ دے جھوٹ نہ بول۔ معافی لے اور دے۔ غریب کی پرورش کر میرے نام کا

صفحہ ٥٨٨

تصور کرتا کہ تو گورو بن جائے اور عالم محبوب کی حیاتی میں مل۔ مفت روپیہ نہ دو محنت کرو امیر بن جاؤ گے۔ چھوٹے سے بحث نہ کر کیونکہ وہ کچا پھل ہے۔ برابر یا بڑے سے دین کی بات کر۔ بدبودار اور بری چیز کو مکروہ کہتے ہیں۔ نیک و بد کی تمیز الہام قرآن وید نبوت اور رسالت سے ہے۔ یہی الہام چرندوں پرندوں میں بھی ہے حالات بدلنے سے خدا کا علم بدلتا ہے۔ پس اختلاف کی وجہ سے امام حقیقی کو نہ چھوڑو دکھ سکھ میں خدائی ہے اور نیک و بد تمہاری ایجاد ہے اور اس پر جزو سزا شریعت الہام بوقت ضرورت ہوتا ہے۔

٣٦....... امام حقیقی مسمی بہ مظہر الاسرار میں لکھتے ہیں کہ خدا اپنی ذات اور رسالت صفات میں قدیم ہے اور ہم اپنی ذات سات صفات عناصر اربعہ روح۔ خلاء اور تغیر میں حادث ہیں۔ مصنوع اپنے صانع کو نہیں پاسکتا خدا کی چار صفات (قدیم ہونا۔ ناقابل تغیر ہونا۔ بلا اسباب پیدا کرنا اور قائم بالذات ہونا) ذاتی ہیں اور ہماری سات صفات خدا کی صفاتی صفات ہیں اور ان گیارہ صفات میں وہ لاثانی ہے باقی اوصاف عارضی اور جدید ہیں اور یہی صفات صفاتیہ کی صفت عارضی ہوتا ہے اور زمانہ جدید میں ہو کر جدید ہی چلا جاتا ہے۔ سات صفاتی صفات میں انسان بھی عارضی طور پر شریک ہیں اور چار ذاتی صفات میں ہرگز شریک نہیں ہو سکتے۔ انسان کے صفات لاشریک ہیں اور وہ بھی اپنی ذات میں لاشریک ہے تو خدا کیوں لاشریک نہ ہوا؟ خدا خالق حقیقی ہے اور رسالت عناصر خالق عارضی ہیں اور خالق ذاتی کی مخلوق ہیں اور اپنے خالق کی طرح نہیں ہو سکتے جس طرح تمہارے فعل تم میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح خدا مخلوق اس میں داخل نہیں ہو سکتی۔ جس شریعت میں نفع کم اور نقصان بہت ہو وہ قابل تنسیخ ہو گی تو پھر تم کیوں قدرت کا اضافہ (کہ ایک دانہ سات سو دانہ بنتا ہے) کھاتے ہو اور روپے کا اضافہ (سود) نہیں کھاتے؟ کمہار برتن بناتا ہے تو جس طرح چاہے انگور پکاتا یا توڑتا ہے نہ وہ برتن کمہار میں داخل ہو سکتے ہیں اور نہ کمہار برتنوں میں داخل ہوتا ہے۔ پس خدا اور مخلوق آپس میں ایک نہیں ہو سکتے۔ جو لوگ پتے کی سبزی سے صفت موصوف ایک بناتے ہیں وہ دیکھ لیں کہ سبزی اڑ جاتی ہے اور پتا قائم رہتا ہے۔ تو پھر کس طرح وہ ایک دوسرے میں داخل ہوئے اور خدا جب تم میں داخل ہوگا۔ تو تم ہی خدا بن جاؤ گے تو بڑا کون ہوگا؟ خدا نے سات صفات کو بغیر مادہ کے پیدا کیا اور ان کو خلق بالا سباب کا وسیلہ بنایا۔ چنانچہ پہلے خلا یعنی آسمان پیدا کیا اس کی حرکت سے ہوا پیدا ہوئی۔ پھر ان دونوں سے آگ پھر ان تینوں سے پانی پھر ان چار سے مٹی اور ان پانچ سے حیوان پھر ان کے بدلنے سے تغیر اور اس سے ہمارا نام خالق ہوا۔ پس یہ خالق عارضی اور :

صفحہ ٥٨٩

نتائج...... ان سے مخلوق ہدایت وحی اور پرورش وغیرہ چلی۔ پس ہر چیز جہاں سے پیدا ہوتی ہے وہیں ملیامیٹ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تم بھی ملیامیٹ ہو جاؤ گے۔ اگر اس بات کو سمجھنا چاہتے ہو کہ دنیا کہ کہاں سے آئی ہے اور کہاں جائے گی تو گرو سے ملو۔ مخلوقات جتنی قسم ہے اتنی قسم ہی اس کے عناصر ہیں۔ کڑوے کے کڑوے اور شیریں کے شیریں گو بعض صفات میں مل جاتے ہیں۔ مگر مادہ میں نہیں ملتے اور ہر ایک کا تخم اسی مادہ میں رکھا ہے۔ اس لئے ایک جنس سے دوسری پیدا نہیں ہوتی اور ان میں اتحاد نہیں بلکہ عداوت چلی آتی ہے جو عنصر جس میں زیادہ ہے۔ وہی مخلوق اس کی ہے تم میں مٹی زیادہ ہے اس لئے تم مٹی ہو جاؤ گے اور مچھلی میں پانی زیادہ ہے تو مرکر پانی ہو جاتی ہے۔ ایک روحانی مخلوقات بھی ہے جو نر و مادہ کے سوا پیدا ہوتی ہے۔ جیسے کھیتی وغیرہ کے کیڑے اور پتنگ اور ہر وقت کمی بیشی ہوتی ہے اس لئے تم ہر وقت مرتے بھی ہو اور جیتے بھی ،عناصر کی بیرونی سطح نیچے اور درمیان میں ان کی اپنی اپنی پیدائش چھوٹی بڑی موجود رہتی ہے اور ہر ایک عنصر اپنے ان تینوں حصوں میں ختم ہو جاتا ہے اور ہر ایک عنصر کی اپنی پیدائش دوسرے عنصر میں اتنا ہی زندہ رہ سکتی ہے کہ جتنا حصہ اس عنصر کا اس میں موجود ہوتا ہے۔ پھر فنا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اپنے حصہ کے مطابق دوسرے عنصر کی پیدائش کو سنوارتا یا بگاڑتا بھی ہے۔ تم نے سنا ہوگا کہ جنس کو جنس کاٹتی ہے اور لوہے کو لوہا، اس سے ثابت ہوا کہ انسانی اصلاح انسان سے ہی ہو سکتی ہے غیر سے نہیں ہوتی اور تمہارے عناصر کو بھی تمہاری طرح بھوک پیاس دکھ سکھ خوراک کی موافقت اور مخالفت ہوتی ہے اور تمہارے تخم (روح و مادہ) کے ذرات کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بھی آپس میں دوست دشمن نیک و بد ہوتے ہیں اور تمہاری طرح ان کی بھی عبادت ہے اور ان کو بھی موت و حیات آتی ہے اور یہی سات عناصر سات روز پیدائش کے ہیں۔ پس یہی نظام عالم قانون قدرت ہوا۔ ان میں اتفاق و افتراق ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے تھا پھر ہوگا اور یہی اتفاق کر کے کئی شکلیں بدلتے رہتے ہیں۔ جیسے واؤ، الف ایک ہے مگر بدل بدل کر یا تک تیس حروف بن گئے ہیں۔ یہ سات عناصر سات دنیا ہیں تم ان میں حرکت کرتے آئے ہو اور پہلے جہاں سے فنا ہو کر دوسرے میں پیدا ہوتے رہے ہو جتنے جنم تم بھوگ آئے ہو۔ ان کی خبر سوائے نبی کے کسی کو نہیں ہوتی تم رحم سے نکل کر پینتالیس یوم ماں کے جسم میں پھیل جاتے ہو پھر تین ماشہ کی بوٹی بن کر پینتالیس یوم میں انسان بن جاتے ہو۔ پس یہی تمہارے پینتالیس یوم پہلے پینتالیس سال ہیں جس میں تم عقل کامل تک پہنچتے ہو پھر پینتالیس سال تک ختم ہو جاتے ہو جتنے سانس تم نے ماں کے پیٹ میں لیے ہیں اتنی صدیاں کل جگ کی عمر ہے اور جتنے سانس والد کی پشت میں لیے ہیں اتنے سال کل جگ

صفحہ ٥٩٠

اور دو اپر کی عمر ہے اور جتنے سانس تم نے خوراک خلا اور ماں کے جسم میں مل کر لیے ہیں اتنی صدی روز شب کی آبادی ہے جتنے مسام تیرے جسم پر ہیں اتنی قسم کے انسان ہیں اور اتنے ہی تیرے معد ے میں کانٹے ہیں دو پہر تک ست جگ کی عمر کا اندازہ ہے اور تیسرے پہر سے کلجگ کا اندازہ لگا تے ہیں جب تم نوے دن رحم میں رہتے ہو تو والدین کو چاہئے خوراک اچھی کھائیں ورنہ تیری حقیقی عمر نوے سال سے دس سال کم ہو جائے گی اس وقت بوٹی میں سب طاقتیں موجود ہیں مگر ابھی روح مادہ نہیں آیا اس لیے ان کا اظہار ناممکن ہے والد کی پشت میں بھی تم بیمار ہو سکتے ہو اور رحم میں بھی اور اس میں ماہوار ساڑھے تین چھٹانک تم بڑھتے ہو جس کو خون کی بیماری ہو اس کا بچہ دس روز بعد پیدا ہوتا ہے اور چالیس سال تک بچہ بیمار رہ کر مر جاتا ہے والدین پیدا ہوتے ہیں تو تم بھی ان کے ساتھ پیدا ہوتے ہو اور پندرہ سال تک منی بن جاتے ہو۔ جتنے بیمار سانس تم نے پشت اور پیٹ میں لیے ہیں اتنے ہی دنیا میں لو گے کیونکہ تم اس جہاں کا فوٹو ہو جس طرح تم کو دوائی کی ضر ورت یہاں ہے وہاں بھی ہے اسلیے جس کا بچہ پیدا نہ ہو یا مر جائے تو سات سال دوسرے ملک میں رہے اور خوراک بدل کر کھائے جو یہاں عبادت کرتا ہے موت کے بعد بھی وہ اس میں مصروف رہتا ہے غرض جو کچھ تم اس دنیا میں ہو وہی تم اگلے جہاں میں بنو گے اگر یہاں ہم سے ملو گے تو وہاں بھی ہمارے ہی طالب رہو گے جتنے روز و شب یہاں ہیں اتنے ہی جنت اور جہنم کی عمر ہے اور پھر وہ دونوں برباد ہو جائیں گے اور دوبارہ زمانہ از سر نو شروع ہوگا۔ کیونکہ تم محدود ہو تمہاری جزا سزا بھی محدود ہوگی۔ سات حالت عناصر کی لطیف زندگی ہے پھر پانچ حالتیں خوراک منی رحم مو جود اور قبر کثیف زندگی کی ہیں کل بارہ حالتیں اور جونیں ہیں اگر تم ہم میں سرتی لگا کر محو اور حلو ل ہونے کی عادت پکاؤ تب تم کو نجات حاصل ہو گی ورنہ تم کو پھر یہی بارہ جونیں بھگتنی پڑیں گی اور جتنا چکر تمہارے آنے جانے کا ہے اتنا ہی چکر تمام حیوانات کا ہے وضو میں تین تین دفعہ پا نی لینے کی ضرورت نہیں صرف صفائی کی ضرورت ہے خواہ مٹی سے ہو یا پانی سے کہنی اور ٹخنہ کی بھی ضرورت نہیں۔ خون ہوا اور پاخانہ پیشاب سے وضو نہیں ٹوٹتا جنابت سے غسل فرض نہیں صرف قدرتی اصول ہے کہ انسان صاف رہے پرندے بھی اس وقت پر جھاڑ لیتے ہیں قدر و قضا کا حکم منسوخ ہے محدود اشیا نصف عمر تک بڑھتی ہیں پھر گھٹتی گھٹتی فنا ہو جاتی ہیں مگر غیر محدود کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ انتہا اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ امت وسط تک دنیا کمال تک پہنچ چکی تھی تو اب نبوت بند ہو چکی ہے کیونکہ دنیا انادی اور غیر محدود ہے اس کا قیاس محدود پودے وغیرہ نہیں کرنا چاہیے پس امت محمدیہ وسط اور درمیان ہے جتنے نبی اس سے پہلے آئے تھے اتنے ہی بعد میں

صفحہ ٥٩١

آئینگے اور جب کبھی ضرورت پڑتی ہے تو خدا تعالے اپنا آلہ قدرت کھڑا کر دیتا ہے یعنی نبی بھیجد یتا ہے تاکہ لوگوں کو از سر نو خبر دار کرے۔

احکام ...... اور خواب کی شریعت معتبر نہیں جیسا کہ مرزائی تعلیم میں ہے کیونکہ ابراہیم کی خواب کو خدا نے باطل ٹھہرایا تھا اور یوسف علیہ السلام کو بتایا کہ تم افضل ہو اور جنگ بدر میں تھوڑے دکھائے گئے تاکہ جو کام کرنا تھا ہو جائے ورنہ اس کی اصلیت کچھ نہیں صرف دیکھنے والے تک ہی محدود رہتی ہے اور بس قدرتی حلال وہ ہے جو دکھ نہ دے اور نہ اس کے کھانے سے تکلیف ہو اور نہ اس کے لباس سے کراہت ہو ورنہ پلید اور حرام ہوگی روٹی بد بو دار ہو کر مکروہ ہو جاتی ہے تم بھی گناہ سے پلید ہو جاتے ہو تم کو پاک کرنے کی ضرورت ہے پانی اور ہمارے نام سے کوئی حرام حلال نہیں ہوتا گناہ سے تمہاری روح بد بودار ہو جاتی ہے تو ہم کو پکار اور جنم کو سدھار نیک وید کے لئے تمہاری ضمیر ہی تمہارا امام ہے دکھ میں صبر کرو اور خدا کی یاد میں جو سانس گزارو گے اس میں عذاب نہ ہوگا۔ ورنہ غیر جنس میں جنم لینا ہوگا جو یہاں پر ہی نجات کا طالب ہے کہ زندگی دور باری کو ملے جس کی شناخت یہ ہے کہ ہر مذہب سے آزاد ہوتا ہے اور پیدائشی عالم ہوتا ہے۔ کسی سے کچھ نہیں پڑھتا۔ مصلح ہو کر شرارت دور کرتا ہے۔ شریعت کا مادہ ہوتا ہے۔ وہ سب کو ایک جانتا اور محبت سکھلاتا ہے اور کوئی بھی اس کے کلام کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس کے اصحاب بننے سے یا اس کا تصور جما نے سے نجات حاصل ہوتی ہے اس کے مرنے کے بعد اس کے کلام کا تصور جمانا بھی موجب نجا ت ہے۔ جن کو درشن پراپت ہے ان کو ہو گا مکت جن کو مکت نہ ہو وہی ان کو دیگا نجات یعنی حقیقی گرو کے دیکھنے والے وہاں بھی اسے دیکھیں گے اور عارضی گرو یعنی مولوی وغیرہ کا ملنے والا اسی کے سا تھ ہوں گے اور ان کی مکتی اتنے بھگتنے کے بعد ہو گی کہ جتنے سانس اس نے اپنی ماں کے پیٹ میں لیے ہیں الہام قدیم اور جدید ایک ہی ہیں مگر ضرورت کے مطابق تبدیل ہو جاتے ہیں پس قربانی مکہ میں جائے سود جائز ہوا جتنے وقت چاہو عبادت کرو روزہ ایک رکھو یا دس جب چاہو حج کرو۔ جہا ں نبی ہے وہی جگہ خدا کا مکان ہے۔ اسی مکان کی زیارت ہی حج ہے حقیقی منادی کی علامت یہ ہے کہ ایک اکیلا ہو کر سب پر غالب آتا ہے اور لوگوں کی غلطیاں ٹھیک کرتا ہے کہ کسی کو کافر مت کہو ورنہ تم کافر ہو جاؤ گے کافر وہ ہے جو خدا کو نہیں مانتا جس کو خدا خود پکڑے گا فتوے حکم آسمانی ہوتا ہے خدا نے اب تمام فتووں کو عالم مجذوب کی زبانی توڑ دیا ہے جو اپنی بیوی کو ماں کہے یا جو اپنے خاوند کو باپ کہے وہ حسب طاقت جرمانہ بھرے مفلس ہوں تو رشتہ دار پانچ پانچ جوتے ان کے سر پر ماریں یہ معاف بھی کر سکتے ہیں مگر ان کو بری عادت پڑ جائے گی ہر فیصلہ مالی یا بدنی امام وقت یا سلطان وقت

صفحہ ٥٩٢

کرے اور یا قوم کا سردار برا کہنے والے کو ملامت کرو چوری یاری ڈاکہ خون لوٹ مار اور جبر کا فیصلہ سرکار کرے گی۔ ورنہ یوں فیصلہ ہوگا کہ وہ نقصان پورا کرے۔ جرمانہ اور قید بھی ہو۔ زانی اور زانیہ کو جرمانہ اور قید۔ چور سے مال لے کر جرمانہ اور قید۔ خون کا جرمانہ مقتول کے وارث کو ملے باقی جرمانہ حاکم کو۔ جو بدکاری کا بن دیکھے الزام لگائے اس کے منہ پر تھوکنا اور ملامت۔ درود سے مراد نبی کی عزت و آبرو ہے نہ کہ منہ کی آواز۔ ایمان بالغیب ضروری ہے دیکھ کر نہیں جو ایک کا بھی انکاری ہے وہ سب کا انکاری ہے جیسے ایک آیت کا انکار سب آیت کا انکار ہے وسیلہ بغیر نجات نہیں اس لئے تم میرے پاس آؤ میں تمہارے بوجھ اتار دونگا اور راستہ صاف کرونگا۔ کیونکہ تم نے اختلاف مذہبی کیا ہے۔ غریب چوہڑے چمار کے ہاتھ کا کھانا نہیں کھاتے اور ان سے عورت نہیں لیتے ہر ایک نبی بنایا نہیں جاتا جن چیزوں سے انسان یا اور مخلوق پیدا ہوتی ہے۔ وہی پاک اور معصوم ہیں ایک جزو ہوا کا نبی اور بادشاہ ہوتا ہے ایک پانی کا ایک مٹی کا اور ایک آگ کا اسیطرح خلاء وغیرہ میں بھی خیال کرو اور انہی اجزاء سے حقیقی مناد کی پیدائش ہوتی ہے اور اس کا ماننا ہی حقیقی کلمہ اور اسلام ہے اور نہ ماننا کفر ہے اور عارضی کلمہ اسلام نہیں نبی کا حکم کا پابند ولی شیدائی مصدق اور گواہ ہے اور یہ نبی کے زمانہ میں ہوتے ہیں خواب نشہ ہے اور نشہ والے کا کلام معتبر نہیں اس لئے نیند کی شریعت معتبر نہیں۔ نبی پیدائشی پاک ہوتا ہے۔ گیارہویں پارہ تیسری سطر میں نبی کو استغفار کا حکم نہیں ہوا بلکہ یہودیوں کو۔ سورہ فتح میں بتایا کہ مال خرچ کر کے جو تم نے لڑنا تھا۔ لڑ چکے آئندہ لڑائی کا بوجھ تم سے اتار لیا ہے اب محبت سے اسلام چلے گا۔ ذنبک بمعنی تکلیف جنگ ہے۔ پس محمد نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ ناپاک کا کلام ناپاک ہوتا ہے۔ تو اس سے نجات کیسی؟ نماز میں جس طرح چاہو ہاتھ باندھو۔ بچہ روکر کہتا ہے ماں موت لیتی ہے اسی طرح تم اختلافی موت روکر خدا سے لیتے ہو اور برباد ہورہے ہو۔ میری بیعت میں داخلہ ضروری ہے جس طرح کہ محمد کی بیعت میں داخلہ ضروری تھا بربط ستار باجہ اور راگ سے بھی خدا کی عبادت کر سکتے ہو مگر اس میں غیر کا نام نہ ہو۔ عبادت میں بھجن اور نغمہ و سر راگ سے ہو سکتی ہے کیونکہ راگ ایک آواز ہے جس کا انکار نہیں ہو سکتا۔ بھجن کا نمونہ یہ ہے۔

یا مولا تو واحد ہے خالق ہر جز و کل ہر اک برکت ذات وچ لیا کچھ نہ مل
پیدا جسوں کریں تو دیویں روزی آپ نہ تیری کوئی نسل کل ناں مائی ماں باپ
رحم محبت پرورش وصف تیری وچ ذات بنا تساڈی ذات دے ساری ذات کذات
جو در تیرا چھوڑ کے تکے پرائی آس جنم جنم اس گھاٹا ہرگز ودھے نہ راس
صفحہ ٥٩٣
تو مالک ملکاں کریں حفاظت آپ اوہ بھی وچ نگاہ دے جو وچ پشت باپ
تے ہور خوراکاں اندر جنہڑے رحمیں آئے تے اوہ بھی پرورش تیری اندر جو پانی نہیں جائے
یا مولا ہر حالت اندر توں مالک ہیں کل جوشی پرورش واسطے کدیں نہ ڈٹھیں مل
یا مولا صلوۃ تمامی تیری خاطر ہے تو قائم بالذات ہے دائم تیری ہے

داہڑی منڈاؤ یا رکھو یہ نجاتی فعل نہیں ہے۔ ہاں نبی ضرور رکھے اور لب کے بال بھی نہ کاٹے وہ بال کاٹیں جو تکلیف نہ دیں ختنہ بھی اختیاری ہے یہ رسم ابراہیم سے پہلے کی ہے حنیف کا معنی مختون نہیں بلکہ وحدانیت والا ہے۔ غسل میت صرف صفائی کے لئے ہے۔ ورنہ نجاتی نہیں۔ بیوی میاں کو اور میاں بیوی کو غسل دے اسی طرح ماں باپ وغیرہ ساتواں چالیسواں کوئی چیز نہیں سامنے رکھ کر مردہ کے لئے دعا نہ مانگو بعد دفن مانگو کوئی تعزیت کے لئے نہ آئے۔ کیونکہ اس میں مالی نقصان ہے۔ فراغت پا کر عام قبروں میں جاؤ تا کہ تم کو موت یاد آ جائے۔ مصیبت کا نام معجزہ ہے۔ ١٩١٠ء میں میں نے کہا تھا۔ کہ رنگ بدلنے والا ہے لوگوں نے مجھے جرمنی جاسوس سمجھ کر تین روزہ گرفتار کرایا۔ مگر حاکم نے کہا کہ تو راست باز پادری ہے باغی نہیں اور بعد میں خود شکایتی باغی ہو گئے۔ ہر طرف پاؤں دراز کر سکتے ہو۔ آواز آئی کہ نبی کی بھینس ہی رسالت ہے اندر رہ کر سناؤ باہر جانے کی ضرورت نہیں۔ جو مذہبی لڑائی کرتے ہیں وہ کتے ہیں اور یہ مثال بری نہیں کیونکہ پہلی تعلیم میں اس سے بھی بڑھ کر مخالفوں کو کہا گیا تھا۔ موسیٰ نے جب کتاب (عصا) سنائی تو فرعون کو (حیۃ) سانپ ڈس گیا اور ید بیضا یعنی سپید آنکھیں نکالیں اور ناراض ہوئے۔ عصا سے مراد کتاب ہے غنم سے مراد قوم اور بتوں سے مسائل ہیں۔ مسیح نے مردہ دل زندہ کئے تھے نہ کہ حقیقی مردے زندہ کئے ورنہ ان کی نسل دکھاؤ اور وہ پرندے بھی کھاؤ جو آپ نے بنائے تھے کیف یحیی الموت ابراہیم نے کہا کہ میری قوم مردہ کیسے زندہ ہو سکتی ہے تو خدا نے پرندوں کی مثال سے سمجھایا کہ ان کی پرورش کرو پھر بلاؤ آجائیں گے۔ میرا مددگار نبی ابھی پوشیدہ ہے جب اس کا نام مجھے بتایا جائے گا تو میں اعلان کرونگا۔ پانچ گواہ تو ہو چکے ہیں۔ جو میری طرف سے تبلیغ کرتے ہیں۔ انشق القمر انسان کا وجود پھٹ گیا اور جسم فنا ہو گیا سراجا منیرا نبی کی حیاتی ہے۔ خدا کی طرف دھیان کرو ہم میں محو ہو جاؤ اور یا وھاب کی آواز ہو مگر نبی سے یا کسی نسل نبی سے اجازت حاصل کرو تو دیدار الٰہی (صابرہ) ہو جائے گا۔ جو حساب سے عبادت کرتے ہیں وہ اپنی جان کا دام ادا کریں پھر خوراک پھر پرورش کا ورنہ غریبی کا اظہار کریں۔ میری بیوی صابرہ تیس سال سے میری محبت میں رہی اور خدا کا اسم اعظم اپنے دل پر لکھا اور خیال میں ہی خدا کو پکارتی رہی

صفحہ ٥٩٤

کہ یا اللہ کرامت کیا چیز ہے تو خدا نے کہا کہ کرامت تو تیرا ہی وجود ہے پھر کہا تو کہاں رہتا ہے ؟ تیرا جسم کیسا ہے تو خدا آگ پانی وغیرہ سے مرکب ہو کر محدود شکل دھار کر چار پائی پر نظر آیا اور نقشہ قدرت اس کو دکھایا۔ ایسا دیدار سات دفعہ ہوا اور نبی کی نظر میں محدود ہو کر آتے ہیں اور وہ غیر محدود بن کر ہمارے وجود میں نہیں آسکتا۔ کیونکہ ہم ہر ایک چیز پر قادر ہیں اور شاہ رگ سے بھی نزدیک ہیں۔ ایک دفعہ ہم صابرہ کو یوں نظر آئے کہ ہم آسمان پر اس کو چار چاند لگا کر شاہی شکل میں نظر آئے اور بال بال سنہری تار تھا تا کہ اس کو معلوم ہو کہ خدا ہی تمام روشنی کا منبع ہے۔ جب اسے شک ہوا کہ خدا آسمان پر ہے۔ تو خدا نے اسے زمین کی پاتال بھی دکھائی اور زمین و آسمان کے دفتر بھی دکھائے اور ایک تار لطیف روحی بھی دکھائی تا کہ گواہ رہے کہ زناری کا یہاں فرق نہیں۔ یہ مرتبہ میری وجہ سے اس کو حاصل ہوا اور گو میں نبوت کا طالب ہوں مگر وہ خدا کی طالب ہے میری طرح وہ فطرتی اور بلا اعمال پاک ہے اس نے پوچھا کہ یا اللہ توں کہاں رہتا ہے اور کیا کرتا ہے؟ تو خدا ایک کمہار کی شکل میں بت بناتا ہوا دکھائی دیا۔ کہا کہ یا اللہ بت کی پرستش منع ہے۔ کہا کہ میں بناتا ہوں پرستش نہیں کرتا۔ پس بت بنانا جائز ہوا اور پوجنا حرام۔

جنوری ١٩٠٧ء میں یوں ہوا تھا کہ دوپہر کے بعد خدا کی ہستی میں غور کرتے ہوئے باغ کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ پانچ آدمی آ کر کہنے لگے چلو تم کو ام الکتاب کا حقیقی راز دکھائیں جب میں تھوڑی دور چلا تو ایک طاق تہ زمین کی طرف دیکھا جس میں اتر کر میں نے ایک دوسری دنیا دیکھی جس میں نظام شمسی قائم تھا تو تین آگے چلنے لگے اور دو پیچھے اور یہ دنیا مجھے بھول گئی کیونکہ کہ دنیا صاف ستھری شورو غل سے پاک تھی آگے بڑھا تو ایک وسیع میدان میں سٹیج پر ایک کرسی خوشنما نظر آئی جس پر محمد ﷺ جلوہ افروز تھے اور پیر دستگیر چوری کر رہے تھے اور دائیں طرف رام چندر اور کرشن کھڑے درخواست کر رہے تھے اور بائیں طرف نانک اور دیانند اپنی درخواست پیش کر رہے تھے اور میر ے تابعدار اس بہشت میں جمع ہورہے تھے میں نے کہا یہی اصل اسلام ہے کہ تمام مذہب جمع ہیں آگے بڑھا تو عورتوں کی مجلس نظر پڑی جس میں حضرت مریم اور موسیٰ کی والدہ یوخابذ کرسی نشین تھیں اور حضرت فاطمہ اور سیتا سامنے درخواست گزار تھیں پھر آگے بڑھا تو ایک پردہ نظر آیا اس کے اندر گیا تو ایک بڑا میدان آیا جس کے درخت ہاتھ سے محسوس نہیں ہوتے تھے کیونکہ میں ابھی کثیف حالت میں تھا پھر ایک اور مجلس دیکھی جسمیں راون تخت نشین تھا اور پیچھے آدم برہما اور روشن کھڑے تھے دائیں طرف ابراہیم موسیٰ، عیسیٰ کھڑے تھے اور بائیں طرف رنجیت سنگھ اور اور نگزیب

صفحہ ٥٩٥

یہ لوگ دنیا میں لڑتے رہے مگر وہ با اعمال تھے کیونکہ اصلاح عالم کے لیے لڑتے تھے آگے بڑھا تو لوگوں نے کہا آؤ خاص دربار میں حاضری بھرو آگے چلا تو لوگ کچھ پڑھتے نظر آئے معلوم ہوا کہ دو اسم ذات اوم یا وہاب پڑھ رہے تھے اور آج تیسرا اسم حق تیری ذات ان کو پڑھایا گیا تھا یہ تینوں اسم میری شریعت میں داخل ہیں اور یہی تینوں اسم ہر ایک نبی اور رشی کا تکیہ کلام ہوتے ہیں آگے بڑھا تو شیشے کے رنگا رنگ مکان نظر آئے جن کے وسط میں ایک بڑا سائبان دیکھا جس میں ایک کرسی پر انسان کی شکل نظر آئی جس کے ارد گرد تمام ستارے اور چاند گھوم رہے تھے اور وہ حرکت کرتا تھا تو ان لوگوں نے سجدہ کرتے ہوئے کہا حق تیری ذات پاک تیری ذات پھر آواز آئی کہ سید سر دار عالم تو ہے میں حقیقی امام ہوا اور شریعت اتفاقی اس کو عطا ہوئی کہ سید سردار عالم تو ہے میں حقیقی اما م ہوا اور شریعت اتفاقی اس کو عطا ہوئی پھر محمد نے نانک کے ہاتھ کپڑے منگوائے تو دستار حسنؓ نے رکھی چولہ حسین نے پہنایا چادر محمد نے اور شلوار میں نے خود ہی پہن لی پھر محمد نے کہا ارے نانک تیرے بعد میرا بیٹا خلیفہ کیا گیا ہے یزید نے میرا گھر ویران کر دیا تھا اب پھر آباد ہو گیا ہے پھر نانک نے مجھے اور نان کھلائے پھر راگ شروع ہوا جسمیں یہ شعر پڑھتے تھے۔

تو پورب پچھم سائیاں تیریاں سب تے جایاں تیرا احمد تے حامد تیرے تیرایاں وڈیایاں
تیرا علم علیم بھی تیرے تیرا کھیل کھلایاں تو دانو کا دانا سائیاں تیریاں سب دانایاں
تو حاکم محکوم اسی ہاں تیری سب بھلایاں اول آخر ظاہر باطن تیریاں یہ سب طلسماں
تو اونچے تو نیچے سائیاں ہر جا سمایا سورج چند ستارے سارے نظر تیری وچ آیا
رنگ برنگ عجائب خانے قدرت رنگ دکھایا ہر اک بوٹے ڈالی پتر راگ تیرے تھیں پایا
تو وحدت تے وحدت تیری ہر اک وچ سمائی نبی رشی سب اکٹھے تیرے دین گواہی

- محمد کہا راگ جائز ہے اور یہاں صرف نبی اور رشی ہم پایہ ہیں کہ جن کو اتفاقی شریعت ملی ہے۔ باقی لوگ بہشت کے ساتویں پردہ میں رہتے ہیں جن کو اختلافی شریعت ملی تھی تم اتحادی شریعت سکھاؤ آپ کے دائیں طرف ایک مکان میں پنجتن پاک اور خدیجتہ الکبرےؓ دیکھیں پھر محمد نے کہا کہ میں نے حکم دیا تھا کہ شریعت بنی اسرائیل کا حق ہے مرتے وقت پھر حکم ہوا تو میں نے قلم دوات منگائی کہ خلافت حضرت علیؓ اور اس کی اولاد کا حق لکھوں مگر عارضی عالموں نے جھگڑا کیا اور کہا کہ یہ بیہوشی کا کلام ہے حالانکہ نبی کبھی بے ہوش نہیں ہوتا قرآن میں بھی ہم نے یہی لکھا تھا مگر عارضی عالموں نے سب حکم توڑ دیئے اس لئے تم کو نبی بنایا کہ لوگوں کو دھوکہ سے بچائے پھر مشرق و مغرب کی طرف دروازے کھلے جس میں انسانی پیدائش نظر آئی ایک ہوائی تھا دوسرا ناری مگر ان

صفحہ ٥٩٦

دونوں میں بھی تخت خداوندی نظر آیا۔ پھر اور پردہ کھلا جس میں تمام جانوروں کی پیدائش نظر آئی انڈے سے پرند نکلتا ہوا معلوم ہوا اور پرند سے انڈہ دکھائی دیا۔ پھر ایک اور پردہ کھلا جس میں تمام قسم کے ہتھیار جنگی موجود تھے۔ پھر شاہی مسجد لاہور کے گنبدوں کے برابر سات انڈے نظر آئے مگر وہ بھی مکان ہی تھے۔ پھر دوزخ کا پردہ کھلا جسمیں نہ روشنی تھی اور نہ گرد۔ تالاب خون اور پیپ سے پر تھے ریچھ اور بندروں کی آواز سنائی دیتی تھی۔ پھر ایک اور پردہ کھلا جسمیں سور الٹے ٹانگے ہوئے تھے۔ جن کے زمانہ میں کوئی نبی نہ آیا تھا۔ پھر ایک دروازہ سے باہر نکلا تو ساتھ والوں نے کہا کہ پورے دس سال آپ کو معراج ہوا ہے۔ صابرہ نے کہا کہ تم کو گئے ہوئے تو ایک ہی منٹ گزرا ہے۔ محمد نے بھی ایسا ہی معراج کیا تھا۔ ابراہیم کو ایک آدمی راستہ میں ملا جو قبرستان سے عبور کرتا تھا کہا کہ یہ قبرستان کیسے زندہ ہو سکتا ہے تو اس کو نیند آگئی جس میں سو سال تک سویا رہا جاگا تو ابراہیم نے پوچھا کتنی مدت سوئے ہو کہا کہ ابھی ایک دن بھی نہیں گزرا ابراہیم نے کہا کہ تم تو سو سال مرے رہے یعنی سوئے رہے ہو مگر اس نے نہ مانا اور کہا کہ میری خوراک اور میری سواری سلامت ہے لیکن اے ابراہیم تیرا کہنا مانتا ہوں کیونکہ تو نبی ہے اور خدا ہر شے پر قادر ہے۔ میرا معراج بھی دس سال کا اسی طرح گزرا ہے ماننے والے مان لیں گے میں ابھی چار سال کا تھا۔ میرا باپ مکھن شاہ نماز پڑھ رہا تھا تو جب سجدہ میں پڑا تو میں اس کے سر پر بیٹھ گیا اور زور سے دباتا رہا آخر وہ ہنس کر مجھے اتارنے لگا تو میری دادی نے کہا کہ اس بچہ نے تیری نماز معاف کرا دی ہے ایک ہی سجدہ منظور ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ولی اللہ ہو گا کیونکہ جب دیکھتی ہوں قرآن پھاڑتا ہے اور کاغذ دھوتا ہے اور اس کے جانور بناتا ہے تو ابتداء سے ہی تبدیلی مجھ میں موجود تھی۔ جس نے جو کام کرنے ہیں۔ بچپن میں ہی اس کو ان کا خیال ہوتا ہے۔ مثلاً عالم وعاقل بچپن میں ہی بعد پیدائش پچاس دن کی آواز کو غور سے سنے گا اور جب وہ پشت اور رحم میں ہو گا تو اس کے والدین عقل کی باتیں سنیں گے۔ حاکم بچپن میں کسی کا کلام نہ سنے گا اور متحمل مزاج ہو گا۔ کنجوس عورت کا حمل سخی ہو تو وہ بھی سخاوت کرنے لگ جاتی ہے صدقہ بیماری کی شفاء کے لئے کیا جاتا ہے۔ سوالی کو دینا خیرات ہے اور آمدنی سے کچھ دینا زکوٰۃ ہے۔ مگر صدقہ ۔ عقیقہ ۔ ولیمہ (چھٹی) منانا۔ چالیسواں وغیرہ سب حرام ہیں کیونکہ ان میں انسان کا نام آجاتا ہے خدا کا نام لیکر نذر نیاز ہو تو جائز ہے، سال میں تین دفعہ ہمارے ہاں حاضری بھرنا۔ اول یکم جیٹھ کو جبکہ میں پیدا ہوا دوم یکم جنوری کو جبکہ مجھے معراج ہوا سوم میرے موت کے دن جبکہ شریعت پوری ہو جائے گی۔ میرے بعد خلیفہ وہ ہو گا جو میری ہدایت پر چلے اپنا بیو پار یا کام کر کے پیٹ پالے ورنہ بیت المال سے اسکو کچھ تعلق نہ ہو گا اور نہ ہی

صفحہ ٥٩٧

ہماری جائیداد مکسوبہ فروخت کر سکے گا۔ ایک ماہ میں ایک دفعہ جمعہ کیا کرو اور اس میں اپنی جماعت کے لئے بہتری کے کام سوچو اور خلیفہ سے منظوری حاصل کرو اور جاتے ہوئے ہر طرف ایک ایک سجدہ کرو اور خلیفہ بھی مغرب کی طرف پاؤں پھیلائے ورنہ وہ طرف پرست ہوگا۔ جمعہ پر آنیوالے کم از کم ہمارے لئے فی روپیہ ایک پیسہ لائیں تاکہ یتیموں کی تعلیم پر خرچ ہو۔ نذر نیاز قربانی زکوٰۃ خشک یا تر مال سب یہاں پر حاضر کرنا ہوگا۔ تمہاری ہڈی کی تجارت بھی روا ہے۔ تعلیم دینے والا بیت المال سے کھائے اور تنخواہ لینا اسکو حرام ہے۔ لڑکی کی شادی پر ایک روپیہ اور پیدائش پر آٹھ آنہ بیت المال میں جمع کراؤ اور لڑکے کی پیدائش پر ایک روپیہ ادا کرو اور شادی پر دو روپے ہر ایک دنیاوی کام پر بھی ہماری فیس دینی ہوگی۔ مبلغین اور ان کی اولاد بیت المال سے کھائیں کسی اہل اللہ کو ضرورت ہو تو بیت المال سے قرضہ سود پر لے سکتا ہے۔ بشرطیکہ خلیفہ نگرانی کرے۔ متعہ ناجائز ہے اور نکاح وقتی جائز ہے اور مدت گزرنے پر خود بخود طلاق ہو جائے گی۔ ورنہ طلاق منسوخ ہو چکی ہے لاوارث عورت تن بخشی کرے تو گواہوں کے سامنے کرے ورنہ وہ دونوں زانی ہوں گے اور ان کو دس آدمیوں کے درمیان شرمایا جائے۔ ہماری عبادت گاہ کے دروازے ہر طرف ہوں۔ گنبد چنداں ضروری نہیں عبادت کے وقت راگ میں میرا نام بھی خدا کے ساتھ ملا کر جپو۔ ورنہ تم مشرک بن جاؤ گے۔ نبی اور اللہ کو دو حاکم ماننا شرک ہے۔ اس لئے تمام مولوی مشرک ہیں ان کو عذاب ہوگا۔ چھپ کر یار رکھنے والی عورت چار تک مردوں سے نکاح کر سکتی ہے۔ مگر ایسی خونخوار عورت سے بچو۔ زانی کا نکاح زانیہ سے کرائیں تاکہ جنس کو جنس مل جائے غیروں سے پردہ کرو۔ امیر پر غریب کی پرورش فرض ہے۔ خاوند چھ ماہ تک غائب رہے تو اس کے بھائیوں سے خرچ بھی اور دنیاوی خواہش بھی پوری کرائے اور لوگوں کو سناوے وہ نہ مانیں تو کسی سردار ہم خیال سے اپنی خواہش پوری کرے۔ پھر اس کے گھر رہے یا وہ سردار سے کسی کے سپرد کرے اس کا بھی اظہار کر دے ورنہ چوری مدد دینے والا زانی ہوگا۔ اور چھ صدی آگ میں عذاب پائیگا۔ مالک واپس آ جائے تو عارضی مالک انکار نہ کریں ورنہ سرداری سے توڑا جائے اور مالک کا بھائی غدار ثابت ہوگا۔ اس اثناء میں جو اولاد ہو اس کی وارث صرف ماں ہے جسے چاہے دے دے سات رشتہ والدین کے اور سات رشتہ اپنے چھوڑ کر باہر شادی کرو۔ ورنہ تم کافر بن جاؤ گے آدم کے پہلے سات آدم تھے تو اس کی اولاد نے ان کی اولاد سے نکاح کیا اور جب ناری تنگ کرتے ہیں تو خاکی کو پیدا کیا جاتا ہے اسی طرح کئی دفعہ ہوا اور ہوتا رہے گا اور جب نبی نہیں آتا تو اس وقت گناہ کوئی چیز نہیں ہوتی اس لئے نبی بعد نبی کے اور کتاب بعد کتاب کے بھیجنا ضرور ہوا۔ ورنہ پیر اور مولوی دین تباہ

صفحہ ٥٩٨

کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ محمد کے بعد انہوں نے حجر اسود اور منازل شیطان (جمرات) کو پوجنا شروع کر دیا ہے۔ تم اس سے بچو خواجہ خضر پانی پرستوں نے پانی کا نام رکھا ہوا ہے اور زمزم کی بھی عبادت کرتے ہیں ورنہ قرآن کا حکم نہیں حلال چیز حرام کے ملنے سے حرام نہیں ہوتی اس لئے چوری کے مال سے زکوۃ جائز ہے۔ شیر دار کو ایذا نہ دو۔ ورنہ بارش کم ہو جائے گی۔ بادشاہ اور نبی کے بچاؤ کے لئے قربانی دیا کرو۔ میزان نظام شمسی کا نام ہے۔ وزن اعمال کا نام نہیں کیونکہ معراج میں دکھایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے ہی جزا و سزا شروع ہے۔ کم نہ تولو اور پردہ دری نہ کرو۔ نبی اور بادشاہ پر زکوۃ واجب نہیں۔ کوا بلبل کے بچے پکڑ رہا تھا کہ میں نے ان کو چھڑایا۔ تو بلبل کہنے لگی کہ اب حفاظت میں میرے بچے آگئے ہیں۔ یہ ابھی آزاد کر دیگا۔ کبھی کبھی ہر ایک کے عبادتخانہ میں جاکر ان کی طرح عبادت کرو۔ عناصر پاک ہیں۔ مگر جب تجھ سے ملتے ہیں۔ تو ناپاک ہو جاتے ہیں۔ میں کرشن ہوں۔ محمد ۔ موسیٰ مسیح اور رانجھا کا عملی نمونہ ہوں گاندھی نہ رشی ہے نہ اتار ہے۔ کیونکہ وہ ایک مذہب کا پابند ہے اور چوہڑے چمار۔ سکھ عیسائی اور ہندو مسلمان سب کو ملاتا ہوں۔ خدا کا حکم ہے کہ میری خشکی بحر سمندر میرے گرجے مسجد مندر۔ میرے ازل ابد دے بندے۔ میں مالک مختاریدا میں ہر اک بچے وچوچ آواں۔ اپنی وچ تحریر لکھاداں۔ نحن اقرب حکم سناواں۔ کم کراں ولداریدا میں خود نبی رشی ہو آواں اپنا حکم میں آپ بتاواں پیر عالم تھیں برا سداواں دیواں سبق غفاریدا۔

ہر ایک نبی کو غریبوں اور مسکینوں نے مانا ہے اس لئے صدقہ خیرات حق ان کا ہے محمدی لوگ نماز میں ہی شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔ پہلے کہتے ہیں کہ یا اللہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ پھر نبی کا درود پڑھتے ہو۔ اس کی عبادت شروع کر دیتے ہیں۔ میں سولہ سال کا تھا کہ خدا شیر کی صورت میں آیا اور اس نے پکڑ کر مجھے چاروں طرف گھمایا تو میں نے کہا کہ حق تیری ذات سچ تیری ذات۔ شریعت رو رہی تھی کہ میرا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔ خدا نے کہا کہ تیرے مخالفوں کو آگ میں ڈالوں گا۔ اے راستی تیرے بیٹوں میں سے سب سے بڑا بیٹا سید محبوب عالم بنی اسرائیل اب تیری حفاظت کے لیے نبی بنایا ہے۔ آل رسول کے دشمن یزیدی اور فرعونی ہیں۔ انہوں نے ہی کہا تھا کہ حسین کو جلد قتل کرو نماز قضاء نہ ہونے پائے۔ شریعت کے بعد جو مصدق شریعت آتی ہے وہ تبدیل ہو کر پہلی ہی شریعت ہوتی ہے اور پہلا ہی نبی رشی منادی ہوتا ہے۔ (یعنی محمد ثانی ہوں ) مگر لوگ نہیں سمجھتے۔ نبی کے بعد خلیفوں نے نماز کو یعنی شریعت کو بگاڑ دیا۔ اس لئے تم ان سے بچو۔ خدا بے مثل ہوں اور میرا کلام

بھی بے مثل ہے علیون س فلا اقتحم میں تحم سے خیال کو تکلیف میں دیکھ سکتی نہ ہے سبع سمٰوات آسمان اور وات ا سات عناصر جن کا ذکر پہلے کر چ جو ایک دفعہ کر دیا اس دفعہ تین یا جانتے ہیں۔ میں راتوں ہول دیتا ہے اور دوسری کو ذلیل کرتا ابراہیم نے جب تین جھوٹ ب برکت ہے اور ہر ایک نبی کا نا سرد ہو جائے گا اس سے مراد یہ گا۔ مسیح اور محمد کے حواری بھی جنہوں نے تیری گواہی دی منسوخ کیا اور رحم فرمایا تا کہ میں پھانسی پوری ہو اس کو ق ہے کہ بھلائی گم ہو جائے گی گے دوسری تبدیلی جب ہوگی گے پھر سب چیز پانی ہو جا بھی فنا ہو جائے گا اور صرف برتن کی تاثیر خوراک میں ، یعنی زہر ہے۔ جانور سے ا ١ ...... ٣٩ سے بچنا چاہتے ہو۔ تو میر پیدا ہوتے رہو گے اور آ دوزخ برباد ہو کر دوسری سات بجے تک کوئی شرار

صفحہ ٥٩٩

بھی بے مثل ہے علیون سجین بہشت کے دو علاقہ ہیں جن میں میرے لوگ رہیں گے۔ فلا اقتحم میں تحم سے مراد سستی ہے اور عقبہ سے مراد غلام ہیں مطلب یہ ہے کہ تم اپنے ہم خیال کو تکلیف میں دیکھ سستی نہ کر اور دو فقیر کی خدمت سے باز آو۔ سموات دو لفظوں سے مرکب ہے سما یعنی آسمان اور وات یعنی پیدائش یا یوں کہو کہ اصل میں تھا سما معہ سات یعنی آسمان اور سات عناصر جن کا ذکر پہلے کر چکا ہوں۔ قیام سے لیکر سجدہ تک جو تم کرتے ہو۔ وہ نماز اور صلوٰۃ ہے جو ایک دفعہ کرو یا دس دفعہ تین یا پانچ کی شرط نہیں۔ قرآن کی ماہیت خدا جانتا ہے۔ یا راسخون جانتے ہیں۔ میں راسخون ہوں اور قرآنی معما میں ہی حل کرونگا۔ عارضی بادشاہ ایک قوم کو عزت دیتا ہے اور دوسری کو ذلیل کرتا ہے اور حقیقی بادشاہت کو عزت دیتا ہے۔ پس نبی ہی حقیقی بادشاہ ہوا۔ ابراہیم نے جب تین جھوٹ بولے تھے تو اس وقت وہ نبی نہ تھا ورنہ وہ جھوٹ نہ بولتا۔ اس کا نام برکت ہے اور ہر ایک نبی کا نام بھی برکت ہوتا ہے مشہور ہے کہ خدا پنڈلی دوزخ میں ڈالے گا تو وہ سرد ہو جائے گا اس سے مراد یہ ہے کہ مردے کی پنڈلی کھولی جائے گی اور قیامت میں کھڑا کیا جائے گا۔ مسیح اور محمد کے حواری بھی اسرائیل ہی ہیں۔ سردار ولی۔ غلام علی۔ سردار صحابہ اسی نسل سے ہیں جنہوں نے تیری گواہی دی۔ بدلہ کا معنی برابر کرنا ہے سو آج تیرے سبب اس کرخت شریعت کو منسوخ کیا اور رحم فرمایا تاکہ اتفاق پیدا ہو پس جو قاتل ہو وہی مارا جائے۔ یہ نہیں کہ جس کے گلے میں پھانسی پڑی ہو اس کو قتل کیا جائے۔ شکم پرور حرامیوں نے شریعت بگاڑ دی ہے۔ اخیر کا نشان یہ ہے کہ بھلائی کم ہو جائے گی اور برائی تیزی پر ہوگی۔ یہ نشان تیسری پتی کل جگ کے جانے پر ہوں گے دوسری تبدیلی تب ہوگی کہ زمین و آسمان بدلیں گے اور اس تبدیلی کو سات سو سال گزر جائیں گے پھر سب چیز پانی ہو جائے گی اور سوسال تک پانی چڑھتا رہے گا اور اصلی اخیر تب ہوگی کہ گھڑا وٹا بھی فنا ہو جائے گا اور صرف خدا ہی رہ جائے گا شیریں اور تلخ کو زیادہ نہ کھاؤ۔ اندر بیٹھ آرام کر برتن کی تاثیر خوراک میں ہوتی ہے اس لئے تو مٹی ہے اور مٹی کے برتنوں میں ہی کھا۔ امیر کو خیرات لینی زہر ہے۔ جانور سے اس کی طاقت کے موافق کام لو مخالفت کو توڑنا خارق ہے۔

.......٣٩...... امام حقیقی نمبر ٤ مکی بہ گیان گنج میں لکھا ہے کہ اگر تم آنے والے عذاب سے بچنا چاہتے ہو۔ تو میری تابعداری کرو ورنہ پچھتاؤ گے اور چار صدی نو ماہ نو دن کے بعد بار بار پیدا ہوتے رہو گے اور اگر تابعداری کرو گے تو حشر تک آرام سے سوتے رہو گے۔ جب بہشت دوزخ برباد ہو کر دوسری دفعہ دنیا آباد ہوگی تو اس کا ابتدائی زمانہ ست جگ ہوگا۔ جیسا کہ صبح سے سات بجے تک کوئی شرارت نہیں ہوتی۔ ست جگ میں نہ نکاح منڈہ ہوتا ہے۔ نہ چوری یاری اور

صفحہ ٦٠٠

نہ شریعت صرف جنگل کی گزران ہوتی ہے۔ جب جنگلی تمدن چھوڑ کر انسان اپنا تمدن اختیار کریگا اور شریعت آئے گی یہ زمانہ دواپر کا ہوتا ہے جو سات بجے سے ایک بجے تک کی مثال ہے اور اس میں کام کاج ہوتے ہیں اور تریتے میں یعنی تین بجے سے پانچ تک بھوک پیاس ڈگریاں وغیرہ ہوتی ہیں اور اسی حصہ میں ظلم ہوتا ہے اور نبی آکر کہتا ہے کہ کسی کو نہ ستاؤ۔ عصر کے بعد کا وقت آخری زمانہ کل جگ ہے۔ جس میں ہر کوئی آرام کی طرف مائل ہوتا ہے اور مطلب کی عبادت کرتا ہے۔ مگر اہل اللہ راستی کی آواز سناتے ہیں۔ قیامت اسی زمین پر قائم ہوگی اور یہیں نیک بندے اپنے اعمال کی جزا پائیں گے یاجوج ماجوج یعنی انکاری لوگ جب قبروں سے نکل کر ادھر ادھر بیہوشی میں پھریں گے تو ہماری اطاعت نہ کرنے پر افسوس کریں گے۔ نبی رشی اور سات ہستی حقیقی فرشتے ہیں ہر ایک بھلا کرنے والا بھی فرشتہ ہے اور برا کرنیوالا شیطان اس کی شناخت یہ ہے کہ انسان کو چھیڑتا رہتا ہے۔ زمانہ کے دوسرے حصہ میں آٹھ مذہب ہیں۔ ایک اہل اللہ باقی سات مٹی آگ ہوا خول پانی روح اور تغیر کو ہی مانتے ہیں مگر وہ فساد نہیں کرتے اس لئے ان کو عذاب نہ ہوگا ان تذبحوا بقرة بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ جس سانڈھ کی تم عزت کرتے ہو اس سے کام لو اور اسے خدا کا اوتار نہ سمجھو اور فاقتلوا انفسكم تم اپنے آپ کو گناہ کی وجہ سے ذلیل سمجھو اس مقام پر نذر و نیاز کا جانور یا قتل نفس مراد نہیں اس لئے خدا کی راہ نہ کچھ جلایا جائے اور نہ جانور مارا جائے اور اپنے نبی کی مورتی کے سوا کسی اور کی مورتی کی پرستش نہ کرو ورنہ تیس جنم کی سزا ملے گی اور نبی کی مورتی کی تعظیم سال بسال کی جائے۔ ورنہ تم برباد ہو جاؤ گے۔ جتنی عمر تم زندہ رہتے ہو اگر تم انکاری ہو گے تو اس سے تیس گناہ زیادہ سزا پاؤ گے۔ (مثلاً جو ٢٠ سال کا ہے اس کو ٦٠٠ سال زیادہ ہوگی ) انسان چرند و پرند وغیرہ میں جنم نہیں لیتا۔ بلکہ چوراسی اجزا میں اس کی خوراک موجود ہوتی ہے۔ ٤٥ برس میں وہ اپنے چوراسی جنم کھا لیتا ہے اور نوے سال تک گھٹتا جاتا ہے۔ نیک ہوگا۔ تو جنت میں جائے گا ورنہ پھر ان چوراسی اجزا میں واپس آئے گا اور پھر پیدا ہوگا۔ پس یہی چوراسی جنم ہیں جو اپنی حیاتی میں کھا کر مرتا ہے چالیس سال کے بعد جو نر ناری شادی کریں اور بے عیب ہوں تو ان کی اولاد ایک سو چالیس سال تک زندہ رہے گی تیس سال میں شادی کریں تو ایک سو بیس سال، بیس سال میں شادی کریں تو اسی نوے تک ان کی اولاد زندہ رہے گی۔ زمین و آسمان ایک برتن ہے جس میں چرند پرند اور سامنے انسان چوہڑے چمار بادشاہ اور کمین سانس لیتے ہیں اور اپنے اندر سے خوراک نکالتے ہیں اور وہی مشترکہ اجزاء لطیف ہو کر اور ہماری کثیف غذا بن کر ہمارے جسم میں آتے ہیں۔ تو پھر اونچ نیچ کا خیال کرنا غلط ہوگا۔ اس لئے

صفحہ ٦٠١

گرو سے ملو۔ تاکہ تمہارا یہ بھرم گنوا دے ورنہ ایک لاکھ چوراسی جنم لینا ہوگا۔ سوچو کہ غیب اور لطیف حالت میں تم سب ایک ہی ہو۔ جیسا کہ ثابت ہوا مگر اب کثیف حالت میں تم الگ الگ کیوں ہوگئے اس لئے میں مذہبی اختلافات کو مٹانے آیا ہوں اور خدا بھی مٹانا چاہتا ہے۔

پڑھ عالم تم چڑیاں سارے مذہب باز بن آیا
ایک ایک کر کھائے سبھناں اپنا جشن منایا
ہے شیطان فسادی ظالم رسول بہن تھیں موڑے
ست چت آنند سروپوں سانوں توڑ وچھوڑے
اکو ازل ابد بھی اکو اکو ماپیاں جائے
تے ہندو مسلم چوہڑے لنگڑے کیونکه نام سدائے
جاہے ملاں پنڈت دیدی ملن تہاں نہ دیندے
اک کلمہ نوں پڑھے جے دوجا اسنوں کافر کہندے
لالہ دے آکھن کارن وسوکی ہریائی
تے رام رام دے آکھن کارن کیوں نہ ملے رہائی

جب تک تم مذہب کی گرفت میں ہو تم ترقی نہیں کر سکتے اسے چھوڑو ورنہ تمہارے لئے بیڑیاں ہتھکڑیاں اور پھانسی تیار ہے تو جب اس عذاب میں پھنسو گے تو کہو گے ہائے مذہب تیرا ستیاناس۔ ہر ایک عنصری پیدائش کی جنسیں حقیقت میں ایک ہی ہیں۔ تمام انسان ایک ہیں۔ صرف اوقات اور موسم سے مختلف ہیں۔ ورنہ مٹی میں انسان ہوتا ہے اور انسان میں مٹی۔ اپنے گھر آپ ہی پیدا ہوتا ہے اور اپنا ہی بیٹا کہلاتا ہے۔ اسی طرح رشی نبی کا مادہ قرآن وید پران اور گرنتھ ہیں۔ یہی مٹی ان میں خرچ ہوتی ہے اس لئے ان کی بھی تعظیم واجب ہے۔ صفا اور مروہ پہاڑیاں ہیں ان کی تعظیم بھی جاری ہے مگر یہ تعظیم خدا کے جلوہ سے ہے ورنہ لکڑی پتھر وغیرہ کی پرستش ناجائز ہے۔ اسی طرح گرو کو پرماتما ہی مانو جو انسانی صورت میں نمودار ہوا ہے ورنہ بت پرستی ہوگی اور نرے۔ انجام...... سال میلا اور پیپ کھانا پڑیگا بس نبی صورت تبدیل کر کے انسان بنا ہوا ہے ورنہ وہ پرماتما ہی ہے۔ انہ لقول رسول کریم قرآن رسول کا ہی کلام ہے اور وہی کلام خدا کا بھی ہے پس ثابت ہوا کہ خدا رسول اور قرآن رسالت سب ایک مادہ ہیں جو شخص الگ الگ خیال کرے وہ کافر ہوگا ایک سو سال تک کوڑھی رہے گا اور جو لوگ نبی کو نبی جانکر مٹی کو مٹی جانکر اور

صفحہ ٦٠٢

پتھر کو پتھر وغیرہ جانکر پوجتے ہیں وہ بت پرست ہیں۔ سانس لطیف خوراک ہے۔ تم جب نطفہ تھے اس وقت بھی تمہاری خوراک لطیف تھی۔ تو بہشت میں بھی تمہاری خوراک لطیف ہوگی۔ نبی اپنے فائدہ کی دعا نہ مانگے اٹھو دانہ تلاش کرو۔ سورج آگ ہے اور چاند پانی اور چاند سورج کے اوپر ہے اور اس سے بڑا ہے تاکہ سردار ہے۔ ایک سیر پانی تول کے رکھو تو جتنا وہ ہر روز کم ہوتا ہے اتنا ہی تم روزانہ مرجاتے ہو اور تین گنا زندہ ہوتے ہو۔ نصف عمر کے بعد دو گنا موت اور ایک گنا خوراک ہوگی۔ نیک بدوں کی صحبت میں نہ بیٹھے اس لئے گرو سے ملو تاکہ تمہارے دل کا زنگ صاف ہو۔ مذہب کا تفرقہ اصلاح کے لئے ہوا ہے۔ مگر تم نے عداوت کا ذریعہ بنالیا ہے۔ اس سے بچو۔ بچہ پیدا ہو تو اس کے منہ میں پہلے پہل گیانی کا تھوک ڈالو اور اس کے کان میں روزانہ سات دفعہ رام رام کرو اور سات دفعہ اللہ اللہ تا کہ مذہب سے دور رہے اور بچے کو لوری اس طرح دیا کرو۔

اے بچہ تیرے رب تدہ عدموں کیا موجود باہجوں اس اکال روپ کریں نہ کتے سجود
اندر ہر ہر حال دے ہے تیرا نگہبان ست چت آنند نند تے رکھیں دلوں ایمان
پرورش کردا تدہ دی باہجوں دام دعا منگے عوض نہ ایسدا کردا ہے دیا
تیرے وانگر اوس تے بچہ ہر دی آس جو منگے سو پائیگا نہ کوئی رہے نراس

حاملہ عورت سے نہ ملو ورنہ وہ بھی بیمار ہوگی اور تم کو بھی سستی وغیرہ ہو جائے گی اور حمل گرتا رہتا ہے اور سات جنم میں اوتر (بے اولاد) رہتا ہے۔ نبی کا فیض بعد از موت بھی ہے ورنہ وہ نبی ہی کیسا ہے مگر واقفیت ضروری ہے اس لئے بدیشی نبی سے تم کو نجات نہیں ملتی۔ کیونکہ وہ تمہارا واقف ہی نہیں۔ پس میں ہی موجودہ زمانہ کے لئے آیا ہوں مجھ سے ملو اور جو میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا وہ بھی کسی مذہب کا طرفدار نہ ہوگا میں حقیقی انسان شکل پر ماتما کے ہوں تمام تفرقے مٹانے آیا ہوں کیا خدا انسان کا جامہ نہیں پہنتا۔ تو پھر قرآن گرنتھ وغیرہ خدا کا کلام کیسے ہوئے۔ حالانکہ یہ نبی کا کلام ہے خدا نے تو ان کو جلد بنوا کر نہیں دی۔ پس رسول رسالت اور خدا ایک ہیں۔

پڑھ ہم مندر ہم مسجد گرجے ہم ہی ٹھا کر دوارے ہیں
ہم ہی رام محمد نانک ہم ہی کرشن پیارے ہیں
ہم ہی وایو اندر اگنی ہم عالم درباری ہیں
ہم ہی موسیٰ عیسیٰ برہما وشن مہیش سہارے ہیں
ہم ہی گنگا جمنا لنکا تے ہند سندھ پیارے ہیں
ہم ہی یروشلم تے مکے اکے دے بلہارے ہیں
صفحہ ٦٠٣
کہو عالم جو کل ہے میرا باغ تمام
پھل پھول اسدے جان توں نوع بنی انسان

جب دنیا پھر پیدا ہوگی تو جو عورتیں اس وقت حاملہ ہو کر مری ہیں وہ اس وقت بغیر مرد کے بچے جنیں گی اور آدم حوا پیدا ہوں گے اگر چہ وہ اس وقت مٹی ہو گئی ہیں مگر ان میں انسان کا بیج موجود رہے گا۔ جیسا درخت میں بیج ہے اور بیج میں درخت۔ آدم کا باپ بھی اس سے پہلی مخلوق سے تھا اور عیسیٰ کا باپ ایک رسول تھا کہ جس نے کہا تھا کہ لا ھب لك غلاما زكیا میں تجھے لڑکا دیتا ہوں۔ بہشت کی خوراک لطیف ہوگی اور کھانے والے بھی لطیف ہوں گے اور ان لطیف جوڑوں سے حور و غلمان پیدا ہوں گے۔ خلیل کعبت خانہ خدا کا مکان تھا ویسے محمد۔ موسیٰ، عیسیٰ، کرشن اور نانک کا آستان بھی خدا کا ہی آستان ہے۔ ویسے ہی عارضی مسجد مندر، گرجا اور گوردوارہ بھی اس کا آستان ہے اسی طرح میرا مکان بھی درہ نجات ہوا۔ ایک دن میں نے جنگل میں کچھ کورے برتن دیکھے جو پانی سے خالی تھے اور کچھ پرانے جن میں پانی تھا۔ مجھے پیاس لگی میں نے پیاس بجھائی تو خدا نے مجھے کہا کہ رسمی مولوی اور پنڈت کورے برتن ہیں۔ ان میں نجات کا پانی نہیں اور جن کو لوگ نفرت سے دیکھتے ہیں ان میں نجات کا پانی موجود ہے انسان مچھلی مار کر کھاتا ہے پیاس کا اپنا عمل ہے جو ظاہر ہوا تم کسی کو کچھ نہ کہو برے اپنی برائی خود پالیں گے۔ تین ماہ جس کا بچہ گرتا ہے اس کے پاس تین ماہ کی حاملہ نہ جائے۔ ورنہ اس کا بھی حمل گر جائے گا۔ جس کے بچے مرتے ہوں۔ تو زچہ کے پاس نہ جائے۔ بلکہ پچاس روز تک زچہ کے پاس خوبصورت نیک خصلت جائیں بری مورتی پاس نہ ہو۔ وہاں لڑائی نہ ہو بلکہ راگ لطیف ہو اور محبت کی باتیں ہوں اور وہ پچاس روز تک باہر نہ نکلے ورنہ بیمار ہو جائے گی۔ روح کا حلیہ نہیں تو خدا کا حلیہ بھی نہیں بھائی اور والدین سے خوراک کا مول نہ لے کیونکہ بعد موت کے تم وارث ہو بھائی کی بیوہ تم سے اولاد حاصل کرے۔ بشرطیکہ وہ کہہ دے کہ میں اب دیور سے اولاد لے لوں گی۔ اگر دیور نہیں تو سسر سے اولاد پیدا کرے بشرطیکہ غیر کنبہ کی ہو۔ لے پالک لڑکی بھی تم پر جائز ہے۔ بشرطیکہ غیر کی ہو۔ دودھ شریک بہن بھائی کا نکاح جائز ہے بشرطیکہ غیر کنبہ کے ہوں۔ جبرائیل عزرائیل میکائیل اسرافیل چار فرشتے یعنی چار رشی تھے۔ پھر لطیف ہوئے تو دید شنید وچار اور ذائقہ کے چار اصول بن گئے۔ اسی طرح نبی رشی رسول اوتار اور کتاب ایک ہی ہیں۔ جاہل اعتراض کرتے ہیں۔ موسیٰ بحری آدمی کی بیعت ہوا تو اس نے کہا کہ میرا کہنا مان میرے کام پر اعتراض نہ کرنا۔ اس لئے میرے شیدائی سردار ولی۔ ولی غلام اور بھاگ تولہ اور صابرہ ایسے ہوئے کہ موسیٰ بھی ایسا نہ ہوا اور نہ مسیح ومحمد کے

صفحہ ٦٠٤

حواری ایسے ہوئے کیونکہ وہ سب منافق تھے یعتذرون عذر کرتے تھے مگر نبی کو خدا نے ان کا حال بتا دیا تھا اس لئے ان میں ملکر گزارہ کرتا رہا اصلی تابعدار تو حسین کے ساتھ شہید ہو گئے تھے۔ باقی سب یزیدیے تھے اب بھی جو لوگ ہم سے عداوت رکھتے ہیں وہ سب یزیدیے ہیں اور چار آدمی میرے ساتھ اصلی تابعدار ہیں۔ ہاروت ماروت رشی تھے جو سلیمان سے مل کر کام کرتے تھے۔ بلقیس تخت بھی وہی لائے تھے۔ میرے ساتھی بھی ہاروت ماروت جیسے ہیں۔ تنخواہی مولویوں نے باتیں بنائی ہیں کہ وہ فرشتے تھے اور انہوں نے اپنی طرف سے ایک کتاب بنا کر محمد کی پیش کی کہ یہ سلیمان کی تعلیم تھی۔ مگر خدا نے کہا کہ سلیمان کافر نہ تھا اور اس میں کفر ہے۔ تو وہ جھوٹے ہوئے۔ وہ دونوں رشی بابل میں تھے۔ ان پر شریعت اتری جس میں تفرقہ کی بات کوئی نہ تھی جب محمد نے یہ سنایا تو نبذ فریق ایک گروہ نے نہ مانا اور وہ پیر و مولوی تھے وراء ظهورهم بعد کی کتاب کو بھی نہیں مانتے حالانکہ اس میں قرآن کی عقیدہ کشائی ہے یاکلون بالباطل پیر مولوی حرام کھاتے ہیں۔ مہدی سے مراد ہدایت اور شریعت جدید ہے ورنہ اس سے مراد کوئی آدمی نہیں۔ مردہ پرست چاہتے ہیں کہ نیا مہدی پیدا ہو مگر کہاں سے؟ پس حقیقی مہدی وہ ہے کہ جس کو شریعت جدید ملتی ہے۔ رشی کا وجود کلام الہی کا صندوق ہے۔

جیون جیون پین ضرورتاں تینوں تینوں ہون اوپا
اہل ہمارے ہون جو دیون ترت سنا
تن مسیت وچ من مصلے سرت امام پہچان
اداء صلوۃ خواہش تسبیحاں ہوئی ہار ایمان
وضو حق تے بانگ محبت پرورش پڑھن پڑھان
بھرم تمامی دور کر ہوویں مسلمان

تین قسم کے صوفی ہیں۔ اول لباس بھورا پوش دوم سفید پوش اور ہاتھ منہ صاف رکھنے والے سوم جو ہمارے نام سے صفائی حاصل کرتے ہیں اور کسی مذہب کے پابند نہیں۔ حج کے دنوں میں سردار مال جمع کیا ہوا بانٹتے تھے اور ان میں صلح ہوتی تھی تین دن بعد میں جلسہ کرتے تھے اور اپنی اپنی ترقی کے وسائل سوچتے تھے محمد نے کہا تم یوں تباہ ہو جاؤ گے۔ صرف ایک کا حصہ ضروری ہے یعنی جو بت نہیں پوجتا اور جمعہ بھی ماہ بماہ قائم کرتے تھے جسمیں مشورہ کرتے تھے ورنہ اس قسم کا حج بیکار ہے کہ جا کر پیسہ خرچ کر آئے اور خالی ہاتھ گھر آ بیٹھے اس لئے اسراف سے بچو۔ پس وہ مال اہل اللہ کو دو اور اختلاف مٹانے پر خرچ کرو۔ نر کا ورثہ یکساں برابر ہے۔ نر نہ ہو تو ناری کا حصہ

صفحہ ٦٠٥

یکساں برابر ہے۔ نر کے ہوتے ہوئے ناری کا وہی حصہ ہے جو اس نے شادی پر حاصل کر لیا ہے یا کرے گی۔ کیونکہ اب وہ خاوند کی وارث ہو گی۔ لاولد آدمی کا وارث اس کا رحم شریک ہے لاولد عورت کا وارث بھی رحم شریک ہے جو صرف اس کے مہر سے حصہ حاصل کریگا۔ اگر کل مال مہر سے کم ہو تو بعد ادائے قرضہ تین حصہ آدمی کے وارث لیں اور ایک حصہ عورت کے وارث جس کا قرضہ اور لاولد ہو وصیت نہ کرے اور جیتے جی جتنا ہو سکے اہل اللہ کو دے کیونکہ دان سے ہی راجہ اور گرو جنم ملتا ہے۔ ہم سے تصور لگاؤ تو موت کے بعد تم ہم میں حلول ہو جائے گا اور آرام کا بہشت پاؤ گے۔ ورنہ جس کی محبت میں مرو گے اسی میں جاؤ گے اور عذاب ہوگا۔ لڑکیوں سے جبر ازنا نہ کرو۔ خرچی دے کر جائز ہے بازارن کے پیٹ سے جو اولاد ہو وہ صاحب نطفہ کی ہو گی اے انسان تو نور ہے۔ مگر دشمن کے کہنے سے نار ہو گیا ہے۔ اب نجات کی خواہش ہے تو عالم محبوب کا دامن پکڑ کیونکہ نبی رشی کی وید شنید اور کلام خود خدا ہوتا ہے اور دونوں کا جسم ایک ہے پس ہمارے جسم میں عالم محبوب ہے۔ معافی مانگ ورنہ اندھیرا جنم لے گا۔

تنقید

کہ ہمارے خیال میں تمام نبی اور ذات باری ایک ہی تھے۔ تب ہی تو اس کا کلام ان کا کلام ہوا اور یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ جو پہلے زمانہ میں رجعت اور بروز کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا اور اس کی تشریح کرنے میں تناسخ کا مفہوم الگ کیا تھا اور پھر بھی کسی زبردست دلیل سے یہ امتیاز حاصل نہ ہوا تھا۔ وہ آج وحی کے ذریعہ معلوم ہو چکا ہے کہ یہ سب لفظ ایک ہی معنی رکھتے ہیں اور جنم بھوگنا یا جون بدلنا ان کا آسان ترجمہ ہے مگر حیرت یہ ہے کہ اسلام تناسخ کا قائل نہیں۔ البتہ جولوگ کرشن یا نانک کے اوتار بنے ہیں ان کا یہ اصولی مسئلہ ٹھیرتا ہے ورنہ وحدت ادیان کا ادعا پیش نہیں کر سکتے۔

رشیوں نے تناسخ پر ہی اپنی نبوت کی بنیاد رکھی ہے۔ تو اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ:

تشخیص گزشتہ حالات سے کیوں نہیں کی جاتی اور کیوں خواہ مخواہ ڈاکٹری اور یونانی اصول حکمیہ کے استعمال میں پیسہ اور خون ایک کیا جا رہا ہے؟ ان لوگوں کا فرض تھا کہ ایک مکمل فہرست پیش کرتے کہ ان بداعمالیوں سے دوسرے جنم میں یہ بیماریاں پیش آتی ہیں تا کہ اس قسم کا اوپا کیا جاتا۔ اگر وہ غلطی نا قابل تلافی ہے تو ڈاکٹر اور حکیم کو کیوں خواہ مخواہ مجرم بنا دیا جا رہا ہے کہ خدا تو اسکو یہ سزا دے

صفحہ ٦٠٦

کر اسے صاف کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ کسی بہترین جنم میں اوتار بنے مگر معالج خواہ مخواہ اس فعل خداوندی میں رکاوٹ پیش کرتا ہے اور والدین بھی چاہتے ہیں کہ اس کی یہ سزا دور ہو جائے۔ تو پھر کیا معالج یا وارث اس طرح رکاوٹ ڈالنے سے مجرم نہ ٹھیرینگے؟ اور کیا اس بیمار کے حق میں یہ خیر خواہی کمال عداوت نہ ہوگی کہ اس کو پوری سزا نہیں بھگتنے دیتے۔

ب....... قصص الانبیاء (بائبل) کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس قدر اصلی نبی یا تابع نبی ہوئے وہ ایک دوسرے کے مصدق تھے اور ایک دوسرے کی مخالفت میں اپنی زبان کو کبھی حرکت نہ دی تھی۔ مگر ان چودھویں صدی کے مدعیان نبوت کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کو کھا جانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایرانی مسیح اپنے بعد کے مدعیوں کا کافر و دجال کہتے ہیں اور قادیانی مسیح ان کو کفر تو کجا اس سے بھی اوپر لے جاتا ہے۔ اس کے بعد جب قادیانی نبوت نے قدرت ثانیہ کا بیج بویا۔ تو جنگلی دھتوروں نے پیدا ہوتے ہی ایک دوسرے کی آنکھ پھوڑنی شروع کر دی اور اعلان کر دیا کہ بجز مادیگرے نیست آج میری بیعت ہی باعث نجات ہے اور جو مجھے نہیں مانتا وہ ناری اور صحیح طور پر کافر دین الہی ہے ان لوگوں کو شکایت تھی کہ اہلسنت آپس میں ہمیشہ تکفیری الفاظ میں مستغرق رہتے ہیں۔ مگر ان چالیس نبیوں کی باری آئی تو آپس میں تکفیری مشینیں اس طرح چلائیں کہ اتحاد کرتے کرتے انشقاق و افتراق کا پختہ اور غیر متزلزل ستون بن گئے اور اس بات کو نہ سمجھے کہ اتفاق صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ دعوت اتحاد دنیا میں صرف ایک ہو مگر ایسی دعوتیں ٣٥ یا ٤٠ تک پہنچ جائیں تو یہ تمام اتحادات ان افتراقات سے بھی برا نتیجہ پیدا کرتے ہیں جو ان سے پہلے تھے اور جن کے متعلق دنیا شاکی تھی کہ انہوں نے شیرازہ اسلام بکھیر دیا ہوا ہے بہرحال جب عہد حاضر کے مسیح آپس میں ہی ایک دوسرے کے مصدق نہیں تو ہم سے کیا امید رکھ سکتے ہیں کہ ہم ان کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے جائیں۔

ج....... خدا ایک ہے اور اس کے افعال اور اقوال اپنی اپنی جگہ پر قائم ہیں اور سب گواہ ہیں کہ اس کا کوئی فعل کسی قسم کے عیب سے ملوث نہیں مگر جب عہد حاضر کے کرشنوں کے حالات پیش نظر آتے ہیں۔ تو تمام حالات پڑھنے کے بعد خدا کے متعلق بھی ایک بدظنی پیدا ہو جاتی ہے کہ ہر ایک کو وہ بیٹا ہی دیتا ہے کسی کو بیٹی نہیں دیتا یعنی وہ بھی زمانہ ساز ہے۔ جو سامنے آیا اس کو امام الزمان وغیرہ بنا دیا اور غیر حاضر کی امامت سلب کر کے اس کو دیدی تو گویا خدا تعالیٰ بھی (عیاذا باللہ) ان چالیس کرشنوں کے بھیجنے میں صادق القول نہیں رہ سکا اور دھوکا دے کر سب کو نبوت عطا کرتا رہا ہے اور ساتھ ہی تکفیر کی تعلیم بھی کرتا رہا ہے۔ کہ جو تمہیں نہیں مانتا وہ کافر ہے۔

صفحہ ٦٠٧

ادھر کچھ ادھر کچھ ایک کو امام الزمان بنایا پھر اسی کو دوسرے کی زبان سے شیطان یا دجال بتایا کیا یہ ایسا فعل شنیع نہیں ہے کہ جس سے انسانی اخلاق بھی تنفر کرتے ہیں تو بھلا خدائی صفات اس سے کیوں تنفر نہ کریں گے۔ رنجیت سنگھ صبح دربار میں بیٹھا ہوا تھا تو مراسی سائلانہ طریق پر دعا دینے لگا تو رنجیت سنگھ نے اپنے نوکر سے کہا میرے والد نے آج مجھے خواب میں حکم دیا ہے کہ جب یہ مراسی صبح آئے تو اس کے سر پر سو جوتے لگانا۔ مراسی نے عرض کیا کہ جناب آپ کا والد بڑا ہی دوغلا ہے کہ مجھے تو خواب میں یوں کہہ گیا تھا کہ گنپت سنگھ سے صبح سنہری کنگن کی جوڑی وصول کرو۔ دیکھو وہ بڑا ہی شاطر ہے کہ مجھے کچھ کہہ گیا اور بیٹے سے کچھ۔ تو ایسے والد کی اولاد کیسی ہوگی۔

...... وحدت ادیان کا ولولہ ایسے تمام تعلیمیافتہ اشخاص کی ذہنیت پر قابض ہو کر دکھائی دے رہا ہے کہ جن کے نزدیک تجدید یورپ کے سامنے قدامت مذہب نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ تو اب جب تک مذہب کو موڑ توڑ کر اس کے موافق نہ کر لیا جائے مذہب قائم نہیں رہ سکتا۔ ورنہ مجبوراً مذہب کو خیر باد کہنا پڑیگا۔ اس لئے ان خیر خواہان مذاہب نے دو طرح پر اصلاح شروع کر دی ہے جن میں سے ایک وہ گروہ ہے جو صاف تمدن یورپ میں جذب ہو کر اسلام کو محض ابن الوقت مذہب قرار دیتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ اگر بانی اسلام اس وقت ہوتے تو آج وہی تمدن اور معاشرت اختیار کرتے جو محققین یورپ نے عملاً اور تحقیقاً پیش کی ہے اور اپنے عقائد بھی وہی ٹھان لئے ہوتے جو موجودہ فلسفہ سے پیدا ہو چکے ہیں دوسرا گروہ ایک وہ پیدا ہوا جنہوں نے مسیح کرشن اور دنیا کے قریب تر بانی مذہب نانک وغیرہ بن کر اپنا اپنا نصاب تعلیم پیش کیا اور اپنی اپنی یونیورسٹی کے اخراجات کے لئے ایک بیت المال قائم کرنے کی دعوت دی۔ جواز سود، ترک صلوٰۃ اور قطع ارکان حج اور روزہ اور دیگر مروجہ عبادات کے بعد اپنے فروعی اختلافات میں ایک دوسرے کو کاذب، دجال اور کافر بتانے لگا اور اسلام قدیم کو موجب لعنت قرار دے کر ایک نیا اسلام دنیا کے سامنے پیش کیا جس میں تمدن یورپ کی جھلک موجود ہے اور ہندو مسلم اور عیسائی اور یہودی تعلیم کو سامنے رکھ کر ایک نیا مذہب تجویز کیا جو اس وقت مسلم ہستی کے لئے موجب نجات تصور کیا جا رہا ہے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ ہر ایک کا نصاب نبوت اور کورس شریعت آپس میں ٹکرا رہا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ تمام مذاہب جدیدہ اور نبوات حاضرہ کے تابعدار ایک کانفرنس قائم کر کے اس امر کا فیصلہ کریں کہ دنیائے اسلام کے لئے کونسا کورس جاری کیا جائے پھر جاری کرنے میں ان کو دو طریق پر چلنا ہوگا ایک یہ کہ ایک ایک یا دو سال کے لئے پہلے مرزائی تعلیم یا ایرانی تعلیم پاس کی جائے کیونکہ یہ پہلے کورس ہیں۔ ان کے بعد دوسرے کرشنوں کی تعلیم کو بھی ترویج کا موقعہ دیا

PDF 608

جائے۔ دوم یہ کہ محققین یورپ ان چالیس کرشنوں کی تعلیمات کو یکجائی طور پر غوروفکر کے بعد ایک مشترکہ تعلیم پیش کریں جس میں تمام کو فیصدی کے حساب سے حقوق دیئے جائیں اور حصہ رسدی ہر ایک کے بیت المال کو پہنچتا رہے۔

راست تمدن یورپ اور معاشرت مغربی کو اختیار کر کے ان کرشنوں کو ایک قلم چھوڑ کر دور سے ہی سلام کریں۔ کیونکہ یہی ان کا آخری مقصد ہے۔ جہاں تک پہنچنے کے لئے خواہ مخواہ کرشن بننے کی زحمت گوارا کر رہے ہیں۔ علاوہ بریں بیت المال کی فیس اور بہشتی مقبرہ کا جزیہ وغیرہ بھی ادا کرنے سے رہائی ہوگی۔ مگر جولوگ اصلی اسلام پر قائم رہنا چاہتے ہیں وہ یہ سمجھ لیں کہ سچ ایک ہوتا ہے اور جھوٹ متعدد ہوتے ہیں۔ پس اگر اسلام کو تجدید اور تنسیخ کی ضرورت پیش آئی تھی تو خدا تعالیٰ ضرور ایک قسم کی ہی تجدید پنجاب اور ایران میں پیش کرتا اور نبوت کے لئے وہ اشخاص منتخب کرتا جو خود غرضی، کبر ونخوت اور جہالت مرکبہ سے خالی ہو کر صرف خدائی تعلیم کا جلوہ پیش کرتے اور محمد ثانی بن کر اسلام کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ نہ بنتے۔

اور تھا اور بعد میں تفسیر ۔ حدیث اور فقہ وتصوف سے اس کی اصلی تعلیم کو ستر ہزار پردوں کے نیچے دبا دیا گیا ہے اور اس اظہار سے ان کا یہ مطلب تھا کہ عیسائیت سے یہ اعتراض رفع ہو جائے کہ اصلی انجیل تو دنیا سے معدوم ہو چکی ہے تو اب عیسائیت کس حقانیت پر قائم ہے اور جواب یوں دیا گیا کہ اگر اصل عیسائیت دنیا میں نہیں رہی تو اسلام بھی اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہا۔ اب اس اشکال کو جو لوگ بیدار مغز مشہور تھے تو انہوں نے عیسائیت کے ہم نوا ہو کر مان لیا کہ واقعی اسلام ایک معما بن چکا ہے جس کو آج تک کسی نے حل نہیں کیا۔ آؤ ہم اپنی فہم وفراست سے یا اپنے الہامات جدیدہ سے حل کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے جو حل ان لوگوں نے پیش کئے ہیں وہ آپس میں ایک مرکز پر قائم نہیں۔ باوجودیکہ ہر ایک کا یہی دعویٰ ہے کہ قرآن شریف کی اصلی ماہیت میں ہی جانتا ہوں اور آج تک اسکو کسی نے حل نہیں کیا اس لئے ایک غیر جانبدار ان تمام کرشنوں کو پیش نظر رکھ کر اس نتیجہ تک پہنچ جاتا ہے کہ اسلام میں اتحاد کی بجائے اختلافات قدیم سے بڑھ کر اختلافات جدیدہ نے مسلمانوں کو ایسی مشکلات میں ڈال دیا ہے کہ ان کی عقل کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی کہ کس کرشن کو قبول کیا جائے اور کس کو مسترد کر کے جھوٹ کا پتلا سمجھیں۔ شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیر ہا۔ اس لئے آخری فیصلہ یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیت کی اس چال کو ایک پختہ سمجھ کر

اعلان کر دیں۔ کہ اسلام کی ہمارے پاس صاف صاف کے مخمصوں میں پڑے ان قرآن وحدیث کی عربی ملاؤں کے تنازعات اس

آجکل کی تحقیق اور آج کل اسلام کی اسلامی تعلیم باق لیاقت کو دبانے کے لئے خدائی تعلیم حاصل ہے لیک ہے۔ اغلاط سے پر ہے محاورات کا پاس نہیں رکھ نبوت نے جو کچھ الہامی لوگ تمام اہل اسلام کو ا گر نہیں ابھی اسلام میں جو تحریرات احمدیہ اس ک ہی ادبیت اسلامیہ سے آنکس کہ گمراہ ست کرا

بیماری کہ جو کچھ ہم کہیں ان کی تصدیق و تکذیب میں اپنے آپ کو موعود اتنے ہی یا اس تعداد کا ایمان بھی ضائع کر صبر نہیں خدا کا مظہر او کیا جائے تو پانچ فیصد

صفحہ ٦٠٩

اعلان کر دیں۔ کہ اسلام کی اصل کتاب قرآن مجید اور اسلام کی اصل تشریحات حدیث وتفسیر جب ہمارے پاس صاف صاف اپنی اصلیت سے موجود ہیں تو مسلم بجائے اس کے کہ تعلیمات جدیدہ کے مخمصوں میں پڑے ان کو پائے استحقار سے ٹھکرا کر سلف صالحین کی اصلی تعلیم کو حاصل کرے اور قرآن وحدیث کی عربیت اور علوم توابع کی با قاعدہ سند حاصل کرنے کی کوشش کرے تا کہ نیم ملاؤں کے تنازعات اس کے راستہ سے رفع ہو کر کافور ہو جائیں۔

آجکل کی تحقیق اور آج کل کی نبوت صرف بچوں کا کھیل نظر آتا ہے۔ کیونکہ عموماً آجکل کے محققین کو اسلام کی اسلامی تعلیم باقاعدہ نہیں ہے اور مدعیان نبوت نے تو اور بھی کمال کر دیا ہے کہ اپنی جاہلانہ لیاقت کو دبانے کے لئے اپنی جہالت علمی کا نشان صداقت ٹھہرایا ہے اور اعلان کر دیا ہے۔ کہ ہم کو خدائی تعلیم حاصل ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ تعلیم ادبی لحاظ سے انسانی تعلیم سے بھی گری ہوئی ہے۔ اغلاط سے پر ہے۔ محاورات سے خالی ہے۔ فصاحت و بلاغت کا نام تک نہیں اصول محاورات کا پاس نہیں رکھا گیا۔ پھر دعویٰ ہے کہ ہم محمد ثانی ہیں اور محمد اول سے افضل ہیں تو کیا شمس نبوت نے جو کچھ الہامی عبارات میں پہلے ادبی کمال دکھایا تھا۔ آج وہ سب کچھ بھول گیا؟ اور یا یہ لوگ تمام اہل اسلام کو اپنے مریدوں کی طرح ہی علوم اسلامیہ سے کورے سمجھے ہوئے ہیں۔ نہیں ہر گز نہیں ابھی اسلام میں اہل حق موجود ہیں جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دکھانے کو تیار ہیں اور جو تحریرات کرشنیہ اس کتاب میں جمع کی ہیں۔ ان سے بخوبی ثابت کرنے کو تیار ہیں۔ کہ یہ مدعی خود ہی ادبیت اسلامیہ سے خالی ہیں دوسرے کو، کب راہ راست پر لانے کے حقدار ہو سکتے ہیں۔

آنکس کہ گمراہ ست کرا رہبری کند؟

بیماری کہ جو کچھ ہم کہیں خواہ صحیح ہو یا غلط وہی وحی الٰہی ہے اور جو کچھ دنیا میں انقلاب آ رہے ہیں۔ وہ ان کی تصدیق و تکذیب کا ہی نتیجہ ہیں۔ دوم وحدت وجود کی بیماری جس کی تعلیم اٹھا کر دیکھیں سب میں اپنے آپ کو موعود الکل ہونے کا دعویٰ ہے اور گن گن کر جتنے بروز ایک کرشن نے سنبھالے ہیں اتنے ہی یا اس تعداد سے بڑھ کر دوسرے نے بھی پیش کئے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں بیماریاں انسان کا ایمان بھی ضائع کر دیتی ہیں۔ اتنا بڑا دعویٰ کہ ایک نہیں دو نہیں تمام انبیاء کا مظہر بنیں پھر اسپر بھی صبر نہیں خدا کا مظہر اور خدا کی صفات کا مظہر بننے کا شوق بھی دامنگیر ہو۔ مگر ذاتی قابلیت کا امتحان کیا جائے تو پانچ فیصدی نمبر بھی حاصل نہ حاصل نہ سکیں۔

صفحہ ٦١٠

٤٥...... اب ہم لگے ہاتھ جناب کمترین کا مذہب پیش کرتے ہیں کہ جس نے خود پیدا کردہ لیاقت علمی سے قرآن مجید کا ایک نیا مفہوم قائم کیا ہے جو ان مدعیان نبوت سے بھی نرالا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ امت محمدیہ نے اس کی اصلی تعلیم کو مدت سے چھوڑ کر پیروں اور مولویوں کی تعلیمات کو اسلام سمجھ رکھا ہے اور آج تک قرآن کی اصلی تعلیم پر ان کی بدولت ستر ہزار پردے پڑ چکے ہیں مگر خدا کے فضل و کرم نے مجھے قرآن فہمی کا ایسا کامل مادہ عطا فرمایا ہے کہ جس سے تمام تفاسیر و احادیث کا امتحان ہو سکتا ہے اور چونکہ یہ نعمت الٰہی بلاعمل حاصل ہوئی اس لئے اس کا اظہار ضروری ہے۔ جو اس وقت متعدد تصانیف اور رسالہ ”البلاغ“ امرتسر کی اشاعتوں میں ناظرین کی خدمت میں پیش ہو رہا ہے اور ایک تفسیر تبیان للناس اردو میں شائع کی جا رہی ہے جس میں تمام مخالفین (آریہ، ہندو، سکھ، عیسائی، اہل سنت اور شیعہ) کی کمزوریوں پر بحث کی جاتی ہے اور ثابت کیا جاتا ہے کہ جو قرآنی مفہوم چودھویں صدی میں قرار پایا ہے وہی دستور العمل بننے کا حقدار ہے۔ پچھلے دنوں میں ان کے رسالہ البلاغ کے مضامین پر اہل اسلام نے تنقید کرتے ہوئے ثابت کیا تھا کہ یہ فرقہ ضروریات اسلام کا منکر ہے اور اہل قرآن کی پارٹیوں میں سے یہاں تک غلو کر چکا ہے کہ قرآن وحدیث کی تردید قرآن سے ہی کرتا ہے اور عبادات اسلامیہ سے روکش ہونے کا درس دیتا ہے اس لئے اس پارٹی نے ان دنوں ایک آٹھ ورقہ ٹریکٹ شائع کیا ہے۔ جس میں وہ اپنی پوزیشن الزامات مذکورہ الصدر سے صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جو چال اسمیں چلی گئی ہے وہ بہت گہری ہے جو نہ امام حقیقی کو سوجھی ہے اور نہ مہدیان پنجاب و ایران کے فہم میں آئی ہے۔ چنانچہ جناب لکھتے ہیں کہ:

اول...... ہمارے عقائد میں اس قدر کشش ہے کہ تمام نو تعلیم یافتہ خود بخود ان کی طرف کھنچے آ رہے ہیں۔ قوم کو گمراہ کر نیوالے مولوی چاہتے تھے کہ کوئی مسلمان ان کی اجازت کے سوا قرآن پر حاوی نہ ہو۔ مگر اس امت مسلمہ نے یہ بت توڑ کر ذہنی آزادی کا علم کھڑا کر دیا ہے۔ ایسی جماعت کا شخصی نام امۃ مسلمہ ہے اور افراد امت ہٰذا کا نام مسلم قرار پایا ہے۔ کیونکہ یہ نام جناب ابراہیم نے اپنی ذریت کو دیا تھا جس کو نبی اکرم نے اپنے لیے اور اپنے تابعداروں کے لئے قبول کیا ہے اور ہم بھی قبول کرتے ہیں یہ امت ہر ایک مسئلہ میں قرآن کو ہی کافی سمجھتی ہے اور ان مولویوں کا ذریعہ شکم پروری بند کرتی ہے۔ جو اس وقت ارباباً من دون اللّٰہ بنے ہوئے ہیں اور ہم کو بدنام کر رہے ہیں۔

جواب...... جو عقائد کرشن قادیانی اور مسیح ایرانی نے پیش کئے ہیں۔ ان پر بھی تو

صفحہ ٦١١

تعلیم یافتہ لٹو ہو جاتے ہیں۔ تو پھر یہ صداقت کا نشان کیسے ٹھہرا؟ رب کی تعریف آجکل یہ ہے کہ یہ وہ ایک شخص ہے کہ اپنے ہم عقائد بہم پہنچائے تو اس تعریف میں کمترین کا نمبر کسی سے کم نہیں بلکہ سب کے اول ہے کیونکہ غیر کے ذریعہ معاش پر بھی چھاپہ مارنے کی ٹھان لی ہے کہ کیا یہ وہ حرکت نہیں جو اہل مکہ نے آغاز اسلام میں مسلمانوں کے خلاف کی تھی؟

دوم ...... خدا ہی حقیقتاً واجب الاطاعۃ اور مستحق عبادت ہے اس کے احکام جاری ہوں جس کے سب محتاج ہیں۔

جواب ...... یہ اصول اگرچہ بظاہر درست معلوم ہوتا ہے۔ مگر عملی حالت میں آپ اس کے خلاف ایک معمولی چوہدری محلہ کے احکام بھی مانتے ہیں اور اگر یہ مطلب ہے کہ خدا نے ہی ان کے احکام ماننے کو کہا ہے تو اطاعت رسول بھی کسی جان بل کی اطاعت سے کم نہ ہوگی۔

سوم ...... یہ ماننا شرک ہے کہ خدا نے اپنے احکام میں کسی کو شریک کار بنا رکھا ہے لا يشرك حكمه احدا

جواب ...... لفظ حکم اور حکومت انتظامی معاملات پر حاوی ہے۔ عبادتی اوامر و نواہی سے مخصوص نہیں اس لئے آیت پیش کردہ کا صحیح مفہوم یوں ہوگا کہ خدا تعالیٰ اپنی تدبیر و قضا و قدر میں کسی کو شریک نہیں سمجھتا مگر پھر کمترین کا مطلب حاصل نہ ہوگا۔

چہارم ...... رسول کی ذاتی شخصیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی اطاعت اطاعت الٰہی سمجھنا کفر ہے اور رسول کا اسوۂ حسنہ مصدقہ بالقرآن واجب الاطاعۃ ہے اور اس کی عقلی و انتظامی اطاعت عند الضرورۃ واجب ہوتی ہے۔

جواب ...... اس عقیدہ نے لا يشرك في حكمه احدا کے مستثنیات کی فہرست پیش کر دی ہے اور رسول کو بلحاظ انتظام اور اسوہ کے شریک فی الحکم بنا دیا ہے۔

پنجم ...... قرآن مجید اپنے اندر ایک ایسا دستور العمل رکھتا ہے کہ جس سے سرفرازی حاصل ہو سکتی ہے اور وہ دنیا و آخرت مالا مال کر دیتا ہے اور وہ اپنی تفسیر آپ ہے۔

جواب ...... دستور العمل کی تشریح نہیں کی کہ آیا وہ ان فروعات پر بھی حاوی ہے جو موجب ہدایت ہیں یا اس میں وہ تخیلات بھی جمائے جاسکتے ہیں کہ جن سے عہد حاضر کے کرشنوں نے اپنی نبوت ثابت کی ہے اور قصہ طرازی میں یہاں تک جوہر دکھائے ہیں کہ کفر و اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیا ہے اور تناسخ کا اعتراف کرتے ہوئے امور آخرت کا صفایا کر دیا ہے یہ کس کا قول ہے کہ قرآن اپنی تفسیر آپ کرتا ہے؟ اگر کسی انسان کا قول ہے تو اسے کیوں تسلیم کیا جاتا ہے

صفحہ ٦١٢

؟ ہمارے نزدیک یہ قول اگرچہ بعض جگہ قابل عمل ہوتا ہے۔ مگر قرآن فہمی کے لئے اس کے علاوہ زباندانی اور محاورات شناسی کی بھی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ اصول انسان کو ایسی تحقیقات کی طرف لے جائے گا کہ شجر جر سے نکلا ہوا ہے اور زنجبیل زنا اور جبل سے مرکب ہے۔

ششم....... فرقہ بندی اور مذہبی نام فتنہ عظیم ہے هو سمکم المسلمین کا ارشاد ہے اس لئے ہم مسلمان کا عنوان اپنے لئے پسند کرتے ہیں

جواب....... کیا تمام اہل اسلام کو اس سے انکار ہے آپ نے آنکھ بند کر کے یہ کیسی خصوصیت پیدا کر لی ہے۔ کیا یہ مطلب ہے کہ اس امت کے سوا تمام غیر مسلم ہیں؟ تو پھر کرشن ایرانی قادیانی پر کیا افسوس ہے کہ وہ دونوں اور ان کے تابعدار غیر بہائی وقادیانی کو مسلم نہیں جانتے۔ جناب ایسی خودغرضیوں نے ہی مدعیان تقدس کو تباہی کا شکار کیا ہوا ہے۔ کوئی اہل اللہ بنتا ہے۔ کوئی آخرین میں داخل ہو سکتا ہے اور باب رحمت میں داخل ہوتا ہے۔ مگر ان نام نہاد عنوانوں سے کچھ نہیں بنتا اور نہ ہی ایسے نام اپنے اندر کچھ اصلیت رکھتے ہیں اور ہمارے خیال میں امت مسلمہ کا امتیازی نام ”امت کترینہ“ زیادہ موزون ہے تاکہ پبلک کو معلوم ہو جائے کہ یہ امت صرف ان تفہیمات کی پیرو ہے جو بیان للناس میں کترین نے شائع کئے ہیں اور حنفی شافعی وغیرہ کا بھی وہی مطلب ہے کہ ایک جماعت ان خیالات کو صحیح تر سمجھتی ہے جو امام اعظم یا امام شافعی نے بہم پہنچائے ہیں اس لئے یہ کہنا غلط ہو گا کہ یہ مذہبی نام فتنہ عظیم ہے اور امت مسلمہ کا خطاب مخصوص طور پر امتیازی نام بنانا فتنہ عظیم نہیں بلکہ واقعات شاہد ہیں کہ اس نام کے تحت میں کئی دفعہ فتنہ بر پا ہوا اور برپا ہو گا۔

ہفتم....... صرف احسن اور اھدے حدیث قابل تسلیم ہے اور وہ حدیث مردود ہے۔ جو عقل کے خلاف ہو یا جس سے قرآن ۔ رسول اور خدا پر کوئی الزام قائم ہوتا ہو

جواب....... اگر اس نمبر میں ایک اور اضافہ کر دیتے کہ عقل سے مراد کترینی فرقہ کی عقل ہے اور قرآن سے مراد وہ مفہوم ہے جو بیان للناس میں پیش کیا گیا ہے اور الزام سے مراد بھی وہ نکتہ چینی ہے کہ جس کو یہ فرقہ عیب قرار دیتا ہے تو اہل اسلام پر بڑا احسان ہوتا اور لوگ گندم نمائی کے جال میں پھنس کر جو فروشی کے خسارہ سے بچ جاتے۔ کیونکہ یہ فرقہ باقی تمام مسلمانوں کی حدیث فہمی میں بیوقوف اور دشمن اسلام سمجھتا ہے جیسا کہ ظاہر ہے

ہشتم....... حدیث قرآن پر حاکم اور قاضی نہیں کیونکہ عہد رسالت میں قرآن جمع کرنیکا حکم تو تھا۔ مگر احادیث جمع کرنا تو کجا بلکہ ممانعت کی جاتی تھی۔ اس کی بنیاد دوسری صدی میں

صفحہ ٦١٣

پڑی ہے تو اگر اسے وحی غیر متلو کا درجہ حاصل ہوتا تو عہد خلافت راشدہ تک بھی اسے کتابی صورت میں کیوں جمع نہ کیا گیا تھا۔

جواب ...... یہ وہم دلانا غلط ہے کہ حدیث ناسخ قرآن ہے اور یہ کوئی مسلم بھی ماننے کو تیار نہیں کہ نبی ، اللہ کے حکم کے برخلاف حکم دیتا ہے۔ یہ آپ لوگوں کی خوش فہمی ہے کہ اہل سنت کے عمل بالحدیث سے حدیث کی حکومت قرآن پر مان لی گئی ہے اور خواہ مخواہ افتراء پردازی سے کام لیا گیا ہے۔ کیونکہ عمل بالحدیث اور نسخ بالحدیث الگ الگ دو مفہوم ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ ابتدائے اسلام میں تدوین علوم کا سلسلہ نہ تھا خود ان کے اشعار بھی مدون نہ ہوئے تھے۔ زیادہ سے زیادہ قراطیس استعمال کرتے تھے قرآن کریم بھی عہد خلافت میں ہی کتابی صورت میں جمع کیا گیا تھا اور یہ بھی بڑی مشکل سے سرانجام پایا تھا۔ اسی طرح عہد رسالت کے فیصلہ جات ۔ اخبار بالغیب اور حکم ومصالح یا تزکیہ نفس کے متعلق حضور علیہ السلام کے ارشادات اور تعلیمات عبادات چونکہ عملی نمونہ قائم رکھنے اور زبانی تعلیم دینے سے رات دن کا طرز عمل وعلم بن چکے تھے اس لئے کتابی صورت میں لانے کی طرف توجہ معطوف نہ کی گئی مگر جب خیر القرون کا پہلا حصہ دنیا سے رخصت ہوا اور عہد رسالت کے چشم دید واقعات دیکھنے والے نہ رہے تو روایات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اختلاف رونما ہونے سے ائمہ ہدیٰ کو خیال پیدا ہوا کہ اپنی اپنی سعی کوشش سے اسلام کے اس حصہ کو بھی قلمبند کریں۔ تب قراطیس اور زبانی روایات کو جمع کیا گیا اور علم حدیث ایک مستقل معرکہ آراء علم بن گیا۔ غرضیکہ مصلحت وقت نے تدوین قرآن وحدیث پر ان کو مجبور کیا تھا۔ ورنہ وہ یہ سمجھے ہوئے تھے کہ یہ سلسلہ یوں ہی زبانی قائم رہے گا۔ جس طرح کہ ان کے علوم وفنون اور اشعار جاہلیت کا ذخیرہ سینوں میں جمع تھا۔ لیکن چونکہ اسلام کا تعلق تمام دنیا سے تھا اس لئے عجم کا داخلہ بھی تدوین اصول کلام اور تدوین حدیث کا سبب بنا اور زیادہ عجمیوں نے ہی اپنی سہولیت کے لئے اس امر میں قدم بڑھایا۔ عہد رسالت کی مثال یوں سمجھو کہ جو لوگ نماز کے پابند ہیں اولاد کی تربیت بھی اپنی طرح کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بچے بچپن میں ہی نماز روزہ والدہ کی گود میں سیکھ جاتے ہیں اور قرآن شریف پر ان کی لب کشائی ہوتی ہے مگر جنہیں صرف شنیدنی اسلام ہے ان کا بچہ اگر نماز روزہ سیکھنا چاہے تو اس کو ایک مستقل علم سیکھنے کا سامنا پڑتا ہے اسی طرح اگر اسلام صرف جزیرہ عرب میں رہتا تو ان کو نہ تدوین قرآن کی ضرورت تھی اور نہ تدوین حدیث کی۔ مگر جب عاقبت اندیش مومنین نے یہ سوچا کہ یہ مذہب عجم کے لئے بھی ہے تو ان کی تعلیم وتربیت کے لئے تدوین حدیث وعلوم توابع کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس لئے آج یوں کہنا کہ قرآنی تعلیم کے لئے زباندانی کی بھی

صفحہ ٦١٤

ضرورت نہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے آدمی کو اسلام کی ضرورت نہیں آپ کے سامنے متعدد کرشنوں کے حالات موجود ہیں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تعلیمی کمزوری کی وجہ سے انہوں نے کس کس طرح قرآن میں تحریف کی ہے اور کیسے کیسے خیالات گھڑے ہیں کہ خود لفظ قرآنی بھی ان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ باقی رہا احادیث کو وحی غیر متلو کا درجہ دینا سو اس کے متعلق یوں گزارش ہے کہ جب جناب کے تفسیری مضامین کو تفہیمات الہیہ کا درجہ دیا جاتا ہے جو تقریبا الہام کے مساوی ہے تو اگر مسلمانوں نے مقالات نبویہ کو ماینطق عن الهوی کے ماتحت الہام یا وحی کہہ دیا تو آپ کو کیوں ناگوار گزرتا ہے۔

نہم ....... میں آیات میں نماز کا حکم ہے کہ دو دو پڑھا کرو کسی جگہ تیسری نماز کا بھی بطور نفل حکم دیا گیا ہے۔ شاہ عبدالقادر دہلوی بھی فہی تملی علیہ کے حاشیہ پر دو ہی نمازیں صبح و شام کے وقت لکھتے ہیں اور چند احادیث سے بھی دو نمازوں کا حکم ثابت ہوتا ہے ایک حدیث نے صرف ایک نماز بھی بتائی ہے اس لئے ہم کہتے ہیں کہ پانچ نماز کا پابند بہت مبارک ہے سات والا اس سے بھی زیادہ مبارک ہے مگر یہ ضروری ہے کہ کم از کم دو نمازیں تو پڑھی جائیں۔

جواب ....... احادیث کی روشنی میں اگر قرآن کی تشریح کرتے تو پانچ نمازوں کی فرضیت ظاہر ہو جاتی اور خواہ مخواہ عبادات سے روگردانی کا سبق دینے پر مجبور نہ ہوتے ، مانا کہ آغاز اسلام میں پانچ نمازیں نہ ہوں مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تکمیل اسلام کے وقت بھی پانچ کی فرضیت قائم نہ ہوتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ہاں نماز بھی صرف زبانی دو چار دعائیہ لفظ پڑھنے کا نام ہے جیسا کہ بعض روایات سے ثابت ہوا ہے کہ اس امت کا ایک بہترین فرد حقہ پیتے ہوئے کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ رہا تھا۔ اگر یہ واقعہ آج صحیح نہیں تو بہت جلد اس امت کے معروف العمل افراد عملی نمونہ قائم کر دینگے کیونکہ یہ تعلیم ہی ایسی ہے کہ جس سے ایک طرف سکھ جپ جی پڑھتا ہوا نظر آئے اور دوسری طرف ایک کمترین دو چار تحریف لفظوں میں نماز ادا کر لے گا۔ بابی مذہب نے بھی نمازوں کے متعلق کچھ ایسا ہی حکم دیا ہے جس کا ثبوت اقتباس ایقان میں ملتا ہے۔ بہر حال ہمارے خیال میں آج کل نبی کی ڈیوٹی یہ تسلیم کی گئی ہے کہ مسلمانوں کو احکام جدید کی دعوت دے کر قدیم اسلام کی پابندیوں سے آزاد کرے اور یہ صفت کمترین میں پائی جاتی ہے اس لئے امت کا فرض ہے کہ اپنے مرشد کو نبی خفی کا خطاب دیکر ان کرشنوں کی صف میں کھڑا کر دے جن کی تفصیل اوپر ہو چکی ہے تاکہ چالیس دجالوں کی فہرست مکمل ہو جائے اور احادیث نبویہ سے دو نمازوں کا ثبوت دینے میں جناب نے اسی ایک بیوقوف کا طریق اختیار کیا ہے کہ جس نے آٹھ کی

صفحہ ٦١٥

نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا کہ ایک جمعہ کی نماز دوسرے جمعہ تک کفارہ ہوتی ہے۔ آٹھ کی نماز پڑھنے والے نے کہا نماز جنازہ پڑھی جائے تو دوزخ سے نجات ہو جاتی ہے۔ اخیر میں تین سو ساٹھ کی نماز کا پابند کہنے لگا کہ صرف عیدین کی نماز موجب نجات ہے۔ جیسا کہ روایات سے ثابت ہے۔ ایک حضرت بالکل ہی ملنگ تھے انہوں نے ارشاد فرمایا کہ: ”من اسلم وجهه لله“ قرآن کا حکم ہے خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور حدیث میں ہے کہ: ”من قال لااله الاالله دخل الجنة“ جو خدا کی وحدانیت کا اقرار کرے وہ داخل جنت ہوگا اس لئے سرے سے اقرار بالرسالت کی ضرورت نہیں تو نماز اور دیگر عبادات کی کیا ضرورت ہے دیکھا اہل قرآن نے اخیر میں کیسا عمدہ فیصلہ کیا ہے امید ہے کہ امت کترینہ بھی اس کی اشاعت میں مونچھوں پر تاؤ دے کے دو ہاتھ دکھائے گی۔ جناب قرآن فہمی چیزے دیگر ست اور نکتہ آرائی امرے دیگر است اس لئے آپ کا وجود اشد فتنہ عظیم ہے اور آپ جو عوام کو اس راستہ پر لے جانا چاہتے ہیں جس میں قرآن یوں پڑھایا جاتا ہے کہ: ”کلوا واشربوا“ کھاؤ پیو ولا تسرفوا اور صرفہ نہ کرو کہ ایں راہ کہ تو میروی بترکستان است۔

دہم...... اصل مطاع اور واجب الاطاعۃ صرف خدا ہی ہے جس کی اطاعت خود نبی پر بھی عائد ہے

جواب...... اگر اس سے جناب کا یہ مطلب ہے کہ اہل سنت اپنے نبی کو خدا سمجھتے ہیں تو یہ بالکل افترا ہے اور اگر یہ مطلب ہے کہ رسول خدا کا حکم حسب تفہیم الہی واجب الاطاعۃ نہیں تو جناب کا خیال غلط ہے کیونکہ ماتحت ملازم کے لئے اپنے افسر کا حکم واجب الاطاعۃ اور غیر مسئول عنہ ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کی امت کو جناب پر سوال کرنے کا حق نہیں ہے ورنہ چتون بدل جاتے ہیں تو امت محمدیہ کی کیا شامت آئی ہے کہ رسول کا حکم زیر بحث لاکر اپنی تحقیقات کے درپے ہو۔ آج تک قرون ثلثہ سے لیکر کوئی ایک موقعہ بھی نہیں ہے جس میں کسی مسلم نے حضور کے سامنے تنقیح و تنقید شروع کی ہو۔ ہاں منافق بحث و تمحیص میں پڑ جاتے تھے مگر وہ مسلمان نہ تھے۔ ہاں حاکم ماتحت اور حاکم بالا کا باہمی معاملہ اور ہے حاکم بالا خواہ اپنے ماتحت حاکم پر سوال کرے یا نہ کرے ہمیں اس میں دخل دینا خلاف ادب ہے۔

یاز دہم...... قبلہ مقصود حقیقی نہیں اینما تولوا فثم وجه الله، ليس البران تولوا وجوهكم قبل المشرق والمغرب

جواب...... بہتر تھا کہ سرے سے یوں ہی کہہ دیتے کہ لیس البران سے ثابت ہوتا ہے

صفحہ ٦١٦

کہ قبلہ رو کھڑے ہو کر نماز پڑھنا جائز ہی نہیں کیونکہ امر وہ نہیں وہ ضرور شر میں داخل ہو گا۔ تا کہ جو نتائج اس جماعت کو دوسرے سٹیج میں پیدا ہونیوالے ہیں ابھی ان کا ایک نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ ذرہ اور ترقی کر کے امام حقیقی کے زیر ہدایت نماز میں ہر طرف جھکنے کا حکم دینا مناسب تھا۔ مگر معلوم نہیں کہ جناب کو انتظار کس کا ہے ورنہ جب تحویل قبلہ کا واقعہ ثابت ہوا اور آج تک غیر کعبہ کی طرف ادنیٰ فریضہ صلوٰۃ میں رخ بھی نہ کیا ہو اور قرآن شریف میں بھی شطر المسجد الحرام کی طرف رخ کرنیکا حکم ہو تو جناب کا یوں کہنا کہ رو بقبلہ ہونا نمازی کے لئے ضروری نہیں تو اس کا مطلب یوں ہوا کہ انسان گھر بیٹھے حقہ بدہن اور چوب بدست رو بصحت خانہ دو چار کلمات کہہ دے تو ادائے فریضہ سے سبکدوش ہو سکتا ہے۔

دوازدہم ...... ہم سورج کو قبلہ معین نہیں کرتے۔

جواب ...... ہاں ہمیں معلوم ہے کہ تعین قبلہ آپ کے ہاں خلاف قرآن ہے تو سورج کو قبلہ کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ مگر جن کو یہ وہم پیدا ہوا ہے کہ امت کمترین سورج پرست ہے کیا ان کو اس امر سے تو مغالطہ نہیں لگا کہ آپ کے رسالہ بلاغ میں یہ مسئلہ شائع ہو چکا ہے کیونکہ جس طرح تفسیر میں شائع کرنا مذہبی رنگ ظاہر کرتا ہے اسی طرح رسالہ میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ”مخفی نبی“ کا بھی یہی حکم ہے۔

سیزدہم ...... جو دین مولویوں نے بنایا ہم اس کے دشمن ہیں اس لئے بقول شخصے ہم دہریہ مشہور ہو گئے ہیں۔ مگر یہ فیصلہ خدا کے سپرد ہے۔

جواب ...... اگر دہریہ کا مفہوم یہ ہو کہ خدا کی ہستی سے انکار کیا جائے تو آپ بیشک دہریہ نہیں ہیں اور اگر یہ مفہوم لیا جائے کہ دہریہ صفت ہو کر آج نیا مذہب دنیا کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ تو جناب کو اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ آپ نے فلسفہ جدید اور خیالات مغربیہ کی روشنی میں جو دہریت کا ماویٰ وملجا ہے تفسیر لکھی ہے اور جو اسلامی لٹریچر واقعات اسلامیہ احادیث نبویہ اور اقوال سلف یا تحقیقات کی روشنی میں بہم پہنچا ہے اسے مولویوں کا بنا ہوا دین قرار دیا ہے اور دبی زبان سے کرشن قادیانی کی طرح یہ ظاہر کر دیا ہے کہ عہد رسالت کے ختم ہوتے ہی علمائے امت نے یہ اسلام گھڑنا شروع کر دیا تھا اور اس پر پردے ڈالنے شروع کر دیئے اور یہودیوں کی طرح وحی الٰہی کو ستر ہزار پردوں میں ڈھانپ دیا ہے۔ اس لئے نہ وہ صرف کافر ہی ہیں بلکہ اشد ترین دشمنان اسلام ہیں خداوند تعالیٰ کو ایک ہزار تین سو برس بعد رحم آیا تو مخفی نبی امرت سر میں بھیج کر وہ ستر ہزار پردے اڑا دیئے اور تفہیمات الہامیہ کے ذریعہ اسلام کی نئی بنیاد پڑی جس

صفحہ ٦١٧

کے ماننے والے ابھی چند آدمی آٹے میں نمک پیدا ہوئے ہیں خدا کی ساری دنیا تباہ ہو جائے لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا اور ہم دنیا میں یوں زندگی بسر کریں کہ

اس کی بجائے ایک بارہ دری یا کھلا میدان ہو جس میں انسان ہر طرف سجدہ کر سکے امام حقیقی کی ہدایت پر عمل کرنا ہو تو ہر طرف ایک ایک سجدہ ہونا چاہئے۔

ہو ادا کی جائے یا کم از کم دو اور وہ بھی ضروری نہیں کہ روزانہ ادائیگی سے وبال جان بنے۔ بلکہ فاذا فرغت فانصب فراغت کے بعد جب کبھی فرصت ہو نماز ادا کی جائے اور اس میں کوئی خاص دعا مقرر نہیں تسبیح و تہلیل کی آیات کو دہرا کر فرشتہ صفت نماز پیدا کی جائے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ فریضہ نماز شخصی ہو کر ہر ایک کو ادا کرنا پڑے کیونکہ ممکن ہے کہ حج اور جہاد کی طرح فرض کفایہ اور قومی ڈیوٹی ہو جو برگزیدہ اشخاص کی ادائیگی سے ساری امت کے لئے کفایت کرے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ نماز میں عربی لفظ ہوں بلکہ رام رام اور اللہ اللہ کہنا ہی کافی ہوگا۔ چھوٹی ہوئی بوتل ہو۔ ٹوٹا ہوا پیمانہ۔

یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ رسم ایک بار ہی منائی جاتی تھی۔ بلکہ اگر پارہ ذرا اور اوپر ہو جائے تو یوں حکم دیا جائے کہ بوقت ندا لوگ دوڑ کر ذکر اللہ کی طرف آئیں اور نماز پڑھیں بلکہ نماز کا وقت نکل کر نماز قضاء ہو جائے (قضيت الصلوٰۃ) تو وہاں سے چلے جائیں زیادہ تشریح یوں کی جائے کہ یہ ماہواری جلسہ ہوگا۔ جس میں امت محمدیہ اپنی بہبودی کے وسائل سوچ سکے گی کیونکہ اسلام قدیم میں حج کا اجتماعی اور باجماعت پانچ وقت نماز کا اجتماع صرف باہمی تبادلہ خیالات اور تعارف اسلامی کے لیئے تھا۔ جس کو آج اصلی طور پر ادا نہیں کیا جاتا اس لئے آج اس کی ضرورت نہیں مگر جب کوئی صحیح خیال سے ایسا کرے تو اسے اجازت بھی ہے۔

پہلے زمانہ میں خصوصاً عرب روزانہ غسل نہ کرتے تھے اس لئے نماز باجماعت کے لئے ان کے ہاتھ پاؤں صاف کرنے کو کہا گیا تھا ورنہ اگر یہ زمانہ ہوتا تو صبح کا غسل ہی کافی تھا۔

امام حقیقی نے یا بہاء اللہ نے جو احکام جاری کئے ہیں ان کی روشنی میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسلام

صفحہ ٦١٨

عبادات سے وابستہ نہیں۔ سیاست ۔ تمدن اور باہمی الفت واتحاد کا نام اسلام ہے۔

ج........ غالباً ہم نے آپ کے دلی خیالات کا صحیح فوٹو کھینچ دیا ہے اور اگر کچھ غلطی معلوم ہو۔ تو ترمیم کے لئے ہدایت نامہ بھیج دیں مگر ہمارا مشورہ یہ ہے کہ حتٰی یاتیک الیقین کو ملحوظ رکھ کر تمام عبادات کا خاتمہ کر دینا چاہئے۔ کیونکہ اس وقت بڑے بڑے فلاسفر بھی خدا کی ہستی کے قائل ہو چکے ہیں۔

س........ پانچ وقتی نمازیوں سے کہہ دیا جائے کہ قرآن میں صرف پانچ نمازوں کے اشارے موجود ہیں۔ جن سے تم نے روزانہ حاضری سمجھ رکھی ہے۔ مگر قرآن میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ تم ہر روز بھی نماز پڑھاؤ اور ہر ایک پڑھے۔ بلکہ یہ دو امر مولویوں نے اپنی شکم پروری کے لئے گھڑ لئے ہیں۔ بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ روزانہ حاضری ہر ایک کی ضروری ہے۔ تو پھر یہ نہیں بتایا گیا کہ اس روزانہ سے مراد ہفتہ میں سے کس دن حاضری ہوگی صرف یوم جمعہ کی حاضری لکھی ہے مگر ادائیگی نماز کا وہاں بھی حکم نہیں بلکہ یوں کہا گیا ہے کہ نماز قضا ہوجائے تو نکل جاؤ۔ دو نمازیوں سے بھی گزارش کی جائے طلوع وغروب شمس کو مذکوره ہے مگر یہ مذکور نہیں کہ ہر روز یا فلاں روز نماز کی حاضری ہوگی کیونکہ یوں آیت نہیں اتری کہ: ”كلما طلعت وكلما غربت الشمس“ ایچ پیچ چھوڑ کر ہماری مہمات الہیہ پر ایمان لاؤ یہ حصہ صرف کمترین کو دیا گیا ہے ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء مگر دیکھنا چاہئے کہ یہودی اور عیسائی کس طرح عبادت کرتے ہیں اور ہندو کس طرح بھجن گاتے ہیں۔ پس اسی ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ باجے گاجے کیساتھ خدا کے بھجن گائے جائیں کیونکہ حکم ہوا ہے کہ: ”فبھدھم اقتدہ“ انبیائے سابقین کی پیروی کرو اور اگر تجدید دین میں کمی رہ گئی ہو تو امام حقیقی اور مسیح ایران کی تعلیم پیش نظر رکھ کر عمل کی جائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس عقیدہ کے ضمن میں مرزا صاحب کا راگ الاپا ہے کہ عہد رسالت و خلافت کے بعد تین سو سال سے ہزار تک فیج اعوج اور گمراہی رہی ہے اور چودھویں صدی میں محمد ثانی مسیح قادیانی نے اپنے کرشنی ظہور سے اسلام کی دعوت شروع کردی ہے۔ پس اتنی مدت میں یا تو اس کے تابعدار مسلمان ہیں اور یا ہزار سال سے پہلے تین سو سال میں باقی ہزار سال میں سب کفر ہی کفر تھا اور ابھی جو ہمارے منکر ہیں وہ بھی کافر ہیں۔ مرزائیوں نے تو اس کی تصریح کردی ہے امت کمتریہ بھی اس کی تصریح کردے تا کہ آئندہ کے لئے میدان صاف ہوجائے اور مسلمان یوں کہہ سکیں کہ اگر ہمارا اسلام مولویوں کی ساخت ہے تو امت کمتریہ کا اسلام بھی کمترین کا ساختہ پرداختہ ہے کیونکہ اسلام کی مسلسل تعلیم اس کی تائید سے خاموش ہے اور اس طرح مذہب طرازی کی متعدد دکانیں نکل

صفحہ ٦١٩

چکی ہیں۔ جن میں قرآن ہی کو تحریف کر کے کئی لوگ نبی بن چکے ہیں۔ امام اور کئی کرشن۔ نبی خفی نے بھی اگر دماغ سوزی سے اسلام کا ایک نیا ڈھانچہ کھڑا کر دیا ہے تو کوئی بات نہیں۔ کیونکہ ان سے بڑھ کر استاد کار پیدا ہو چکے ہیں اور غالباً اسی امت کمترینہ کا کوئی اور دور جدید ایسا بھی پیدا ہوگا کہ جو مخفی نبی کی شریعت کو ترمیم کر دیگا۔ کیونکہ تاریخ واقعات کو دہراتی ہے عبداللہ چکڑالوی نے اس مذہب کی بنیاد ڈالی تھی اور اہل قرآن کہلایا تھا اور تفسیر لکھ کر نیا اسلام پیش کیا تھا۔ مگر اس کے ہم خیالوں نے نہ اس کی تعلیم کو بحال رکھا اور نہ ہی اس کے عنوان مذہبی کو قائم رہنے دیا۔ بلکہ کوئی امام حقیقی بنا کوئی اہل اللہ اور کوئی امت مسلمہ جس سے فرقہ شنی الگ ہو گیا ہے اور آئندہ اس کی بھی خیر نہیں لوگ اس سے بڑھ کر مذاہب تراش لیں گے۔

چہار دہم ...... کوئی تہذیب ان مسائل کے کہنے سے اور سننے سے انکار نہیں کرتی کہ نمازیں دو ہیں۔ سورج قبلہ ہے۔ حدیث کے ہم منکر ہیں۔ مگر اہل سنت کی کتابوں میں ایسی حیاسوز باتیں موجود ہیں کہ پیشانی پر بل ڈالے سوا کوئی شخص نہیں سن سکتا۔ جو ہمیں برا جانتے ہیں وہ ذرا یہ حوالجات بھی مطالعہ کریں۔ بخاری تفسیر نساؤکم حرث لکم باب الحیض باب الغسل وغیرہ ۔ ہدایہ شرح وقایہ قاضیخاں کنز در مختار ردالمختار

جواب ...... اس نمبر میں معلوم ہو گیا کہ شنی فرقہ بھی آپ کے نزدیک صراط مستقیم پر ہے اور جو کچھ پہلے لکھا جا چکا وہ خالی رعب ہی تھا۔ مگر اہل سنت آپ کے خیال میں دین ساز مردود ہیں کہ انہوں نے نہ صرف اسلام کو ہی چھپایا ہے بلکہ حیاسوز باتیں بھی اس میں درج کر دی ہیں۔ جو دشمنوں کا کام ہے جو حوالہ جات آپ نے پیش کئے ہیں ان کے جوابات بارہا شائع ہو چکے اس لئے ان پر یہاں بحث کرنا بے محل ہوگا۔ مگر تاہم اتنا ضرور کہہ دیتے ہیں کہ شیعوں نے مطعونات المسلمین لکھ کر پیش کیا تھا کہ زیر بحث مسائل کتب حدیث سے نکالدیئے جائیں اور اہلحدیث نے کئی ایک رسالوں میں فقہی مسائل پیش کر کے ہدایت کی تھی۔ کہ یہ قابل اعتراض ہیں اور شیعہ صاحبان نے بھی اس کی تائید کی تھی۔ لیکن بہارستان رفض نے شیعوں کے گھناؤنے مسائل پیش کر کے کہا تھا کہ یہ مسائل مذہب سے نکالے جائیں۔ ایک دفعہ دھرم پال نے بھی ترک اسلام لکھ کر پیش کیا تھا۔ کہ قرآن مجید نے خلاف توحید اور برعکس تحقیقات جدیدہ تعلیم دی ہے اس لئے اس میں ترمیم ہونی چاہیئے اور اہل قرآن نے بھی آج مختصر فہرست پیش کی ہے کہ مسائل پیش کردہ حیا سوز ہیں اور اس سے پیشتر اہل سنت نے البلاغ اور بیان للناس سے متعدد مسائل پیش کئے تھے اور ظاہر کیا تھا کہ یہ حیاسوز ہیں بہرحال یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہر ایک مذہب دوسرے پر نکتہ چینی کر رہا

صفحہ ٦٢٠

ہے اور کہتا ہے کہ اگر یہ مسائل نہ ہوتے تو مخالفین اسلام کے اعتراضات پیدا نہ ہوتے مگر اہل سنت والجماعت نے ایسے اعتراضات کے جواب میں یہ ثابت کیا ہے کہ یہ اعتراضات لاعلمی اور جہالت اسلامیہ کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ ورنہ معاملہ صاف تھا۔ مگر جدت پسند طبائع نے ان اعتراضات کو قبول کرلیا اور معترض کے مشورہ سے ان مسائل سے انکار کر کے ایک جدید مذہبی نصاب شریعت تیار کیا ہے جو غور کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ حرکت ان مسائل سے زیادہ حیا سوز واقع ہوئی ہے جو مذکورہ صدر مسائل سے پیش کرتے ہیں۔ کیونکہ مسلمانوں کو آج اتحاد کی سخت ضرورت ہے مگر الٹی کھوپڑی والے وہ اتحاد اسی میں سمجھتے ہیں کہ آئے دن ایک نیا فرقہ اور نیا مذہب نکالا جائے۔ حالانکہ جس فرقہ بندی سے نفرت کرتے ہیں اسی کو پیدا کر رہے ہیں غالباً یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا اور ہر ایک نو پیدا مذہب پہلے کی خبر لیتا رہے گا۔ اس لئے امت کمتریدیہ کو غرہ نہ ہونا چاہئے کہ ان کی تعلیم نکتہ چینی سے خالی رہے گی یا اس امر کی تردید کرنیوالے پیدا نہ ہوں گے۔ تمثیلاً بیان کیا جاتا ہے کہ آج کل کے مذہب طراز اور اہل سنت میں سے قدامت پسند فٹ بال کی دو ٹیمیں ہیں اور مذہب فٹ بال ہے اہل سنت کی ٹیم اصحاب الیمین ہے۔ کیونکہ انہوں نے اسلام سیکھنے میں وہ تعلیم پائی ہے۔ جو دائیں ہاتھ سے داہنی طرف سے لکھی جاتی ہے دوسری ٹیم اصحاب الشمال ہیں۔ کیونکہ انہوں نے پہلے وہ تعلیم حاصل کی ہے جو بائیں طرف سے لکھی جاتی ہے پھر تصانیف محققین یورپ کو پیش نظر رکھ کر اسلام کا مطالعہ کیا ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کو ان تمام مسائل سے پاک کر دینا چاہئے۔ جن سے آج کل کا تمدن متنفر ہے یا جن کو آج کل کا فلسفہ تسلیم نہیں کرتا۔ بہرحال مذہبی فٹ بال اصحاب الشمال میں رگیدا جا رہا ہے اصحاب الیمین اسے اصحاب الشمال کی زد سے بچانا چاہتے ہیں مگر وہ زور پکڑ گئے ہیں اور اسے گول کے قریب لے جا رہے ہیں ہر ایک کھلاڑی ایسی کک لگاتا ہے کہ باوجود اصحاب الیمین کے روکنے کے وہ گیند گول کے قریب ہوا جاتا ہے اور اصحاب الشمال اپنی اپنی ذاتی قابلیت کے جوہر دکھا کر ایک دوسرے سے بڑھ کر نمبر لے رہے ہیں۔ مگر ابھی تک ایک گول کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے میچ بڑا زبردست ہے۔ امت محمدیہ اور کرشنوں کا مقابلہ ہے دیکھئے نتیجہ کیا نکلتا ہے کہ آیا اصحاب الشمال خود آپس میں لڑ لڑ کے فنا ہو جاتے ہیں یا آپس میں اتحاد پیدا کر کے اصحاب الیمین کے سر گول کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن واقعات بتا رہے ہیں کہ یہ میچ نصف صدی سے جاری ہے ایران کی ٹیم نے شروع کیا تھا۔ قادیانی ٹیم نے اس کا ہاتھ بٹایا تھا۔ مگر پھر بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ آخر الامر مظاہر قدرت ثانیہ اور مجددین اہل قرآن نے بھی اپنی ساری طاقت خرچ کر ڈالی۔ لیکن ابھی تک

صفحہ ٦٢١

کامیابی نہیں ہوئی۔ بہر حال اصحاب الیمین کو اپنی کامیابی پر کامل وثوق ہے کیونکہ ایسے برساتی مذہب ہزاروں دفعہ نکلے اور چار دن کے بعد خود بخود مٹ گئے ابھی کل کی بات ہے کہ چیت رامی فرقہ نکلا تھا اور آج اس کے پیرو نظر نہیں آتے۔ عبداللہ چکڑالوی نے ایک جماعت پیدا کی تھی۔ جو اسی سے وابستہ تھی خود اس مسلک کے اتحادیوں نے اس کی تعلیم کو غلط قرار دیا۔ قادیانی تعلیم میں بھی افتراق نمودار ہو چکا ہے اور اپنے پیر کی تحریرات کو بعض دفعہ صاف لفظوں میں کہہ دیتے ہیں کہ غلط ہیں چیچہ وطنی نبی مر چکا ہے اور اپنا مذہب ساتھ لے گیا ہے۔ ازمنہ متوسطہ میں حسن بن صباح کے مذہب نے بڑا زور پکڑا تھا۔ مگر اڑھائی سو سال بعد اس کا نام ونشان نہ رہا۔ قادیانی مذہب کے متعلق خود کرشن کی پیشینگوئی ہے کہ خدا کہتا ہے کہ میرا نام ختم نہیں ہوگا اور تیرا نام ختم ہو جائے گا اس لئے ان کا خاتمہ بھی ضروری ہے ورنہ کرشن قادیانی اپنے دعاوی اور الہامات میں سچا ثابت نہ ہوگا اور امت کتریہ بھی یہ سمجھ رکھے کہ العلوم تتزاید یوما فیوما اس لئے ممکن ہے کہ جن تحقیقات کی بناء پر بیان للناس لکھی جا رہی ہے چند سال بعد غلط ثابت ہوں اور یہ مذہب بھی مٹ جائے۔

پانزدہم....... ما اوتیتم من العلم الا قلیلا اور رب زدنی علما سے ثابت ہے کہ رسول کا علم قابل اضافہ ہے اور وہ علم الہی نہیں کہ جس میں اضافہ نہ ہو سکے اور قرآن کے عجائب غیر محدود ہیں تو اگر آپ نے سارے عجائب بیان کر دیئے تھے تو ان کا پیش کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ماننا پڑے گا کہ آپ نے اپنے زمانہ کے متعلق جو کچھ بتایا تھا وہ کافی تھا۔ مگر مستقبل زمانہ میں جن تشریحات کی ضرورت محسوس ہونی ہے ان کے متعلق آپ کا علم کافی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خود اہل سنت نے بھی اپنی تفاسیر میں نئے علوم بھر دیئے ہیں۔

جواب....... آپ بیشک دقائق و معارف بیان کیجئے مگر آپ کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں کہ جو پہلے حقائق منکشف ہو چکے ہیں ان کو پاؤں سے ٹھکرا کر رکھ دیں پہلے معارف بیان کنندوں نے عمارت پر عمارت کھڑی کی ہے۔ پہلی عمارت گرا کر از سر نو قائم کرنا آجکل کے مجددین اسلام کا شیوہ ہو رہا ہے اور جدت پسندی ایسی زور پکڑ گئی ہے کہ اپنے ہمعصر مجدد کی تنقید بھی آنکھوں کا شہتیر بن جاتی ہے علم نبی میں اضافہ خدا کی طرف سے تو ممکن ہے۔ مگر یہ اضافہ ناممکن ہے جو آپ جیسے کر رہے ہیں جس میں مفہومات قرآنیہ قدیم کو باطل قرار دے کر نئے مفہوم قائم کیے جائیں۔ یہ تو وہی شان ہے جو بہاء اللہ نے دکھائی ہے یا امام حقیقی دکھا رہا ہے اور کچھ کچھ مرزائے قادیانی نے بھی دکھائی تھی مگر آپکا ڈھنگ کچھ نرالا ہے۔ آپ تو مار آستین ہو کر ڈنگ چلاتے رہتے ہیں حدیث مانتے بھی ہیں اس کی تردید پر کمر بستہ بھی ہیں۔ حضور کی فضیلت کا اقرار بھی ہے لیکن گھٹاتے گھٹاتے علمی

صفحہ ٦٢٢

استعداد میں اپنے آپ سے بھی کم ظاہر کر دیا ہے۔ دنیا شاہد ہے کہ آپ سے تیس روزے اور پانچ نمازیں بلا کم و کاست دستور العمل بن کر منقول ہیں مگر جناب ہیں کہ اپنی رائے سے ارکان اسلام کو اتنی وقعت بھی نہیں دیتے کہ جتنی سکول میں پاجامہ کو ہے یا کالج میں ہیٹ کو۔ اسی طرح ہمارے نبی کی ثابت شدہ تعلیمات کو ہر جگہ رگید کر اپنی رائے الگ قائم کر لی ہے۔ پھر نزاکت یہ ہے کہ احکام شرعیہ کو وجوب سے اباحت تک یا اباحت سے حرمت تک پہنچا کر اور شریعت جدید قائم کر کے بھی کمترین کا خطاب نہیں چھوڑا ہے برعکس نہند نام زنگی کافور۔ ہم نے تو آپ کو انبیاء کی صف میں کھڑا کر دیا ہے کیونکہ ایسے حالات کا مالک رسول ہی ہوتا ہے یا زندیق؟ غالباً آپ زندیق بننا تو پسند نہ کریں گے اس لئے آپ اپنی نبوت کا اعلان کر دیں۔

مرزا نے بھی کہا تھا۔ کہ میری استعداد علمی حضور علیہ السلام سے بڑھ گئی ہے اس لئے اب میں نبی ہوں آپ بھی کہہ دیں کہ میں بظاہر کمترین مولوی ہوں مگر اندر سے نبی ہوں کیونکہ خدا نے مجھے وہ باتیں سمجھائی ہیں جو احکام شرعیہ کی تفصیل میں معاذ اللہ محمد عربی کو بھی نہیں سوجھی تھیں لیکن مشکل یہ ہے کہ آپ کی شریعت امام حقیقی اور کرشن قادیانی اور مسیح ایرانی کی شریعت سے ذرہ مختلف ہے بہتر ہوتا کہ آپ ان کی شریعت کو مطالعہ فرما کر ان سے اتفاق رائے کر لیتے۔ مگر چونکہ آپ کی ذہنیت سب سے برتر تھی۔ اس لئے آپ کی غیرت نے یہ گوارہ نہ کیا کہ ان کا تتبع کریں۔ بہر حال کمترین بن کر جس طریق سے آپ نے علمی ذہنیت کا حملہ کیا ہے وہ ہم برداشت نہیں کر سکتے ہم اس کے معاوضہ میں جس قدر بھی آپ کو برا کہیں حق بجانب ہوں گے دل آزرده را سخت باشد سخن آپ کا سوال ہے کہ تشریحات نبویہ کہاں ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ احکام قرآنی کا عملی نمونہ اور اس کی مکمل تشریح کتب احادیث میں موجود ہے جن کو اگر کوئی وقعت شرعی نہ بھی دی جائے تو کم از کم بائبل کی حیثیت میں تاریخی طور پر تو معتبر ہو سکتی ہے۔ باقی رہے کہ سوالات جدیدہ کے جوابات اور تحقیقات فلسفیہ پر تنقید۔ سو یہ سب کچھ بعد کی چیزیں ہیں جن کے سمجھنے میں بھی انوار نبوت کی روشنی میں ہی ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔ شاید آپ کو خیال ہو گا کہ مخالفین کی تردید میں آپ کو یدطولیٰ حاصل ہے مگر آپ جہل مرکب سے نکل کر ذرا دنیا کی ہوا لیں۔ اسلام میں اب بھی ایسی زبردست ہستیاں موجود ہیں جو آپ کے طرز تعلیم کو بازیچہ طفلاں سمجھکر صدائے بیاباں سمجھ رہی ہیں۔ ہائے تقدس تیرا ستیاناس! تو نے کمترین کو بھی نہ چھوڑا۔ وہ بھی چند حاشیہ نشینوں کے خوشامدی فقروں کا شکار ہو گیا۔ ارے نخوت تیرا خانہ تباہ تو نے اس کے چھوٹے سے دماغ پر تسلط جمالیا اور اس پر آمادہ کر دیا کہ تعلیمات نبویہ کو قرآن کے خلاف ثابت کر کے اپنی تعلیمات کو اس کے

صفحہ ٦٢٣

موافق کرنے میں ہمارے نبی سے بڑھ جائے۔ مردے خوب بود چہ شد کہ: ”بفحوائے من يضلل الله فلا هادى له كا مصداق على ابصارهم غشاوة پيدا شد وبحكم لا يسمع الصم الدعاء گوش بروالرسول يدعوكم لما يحييكم ندارد“

تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو
چنیں کس فہمند نکو ہش برو

شانزدہم...... صحیح بخاری نہ وحی متلو ہے نہ غیر متلو۔ ورنہ کئی احادیث کو اسمیں کیوں درج نہ کیا۔ مسلم نے دیباجہ میں لکھا ہے کہ جو شخص قرآن کے سوا کسی اور وحی کا قائل ہے وہ بد مذہب ہے اور تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ امام بخاری منتحل الحدیث مخطی خلاف مذہب علماء ساقط الاعتبار اور فاسد القول تھے تیسری صدی میں تصنیف ہوئی اور اسپر تنقیدیں ہوتی رہیں۔ آخر چھٹی صدی کے اخیر ابن صلاح نے کہہ دیا کہ: ”اصح الکتاب بعد کتاب الله صحیح البخاری حالانکہ یہ فقرہ دوسری کتب احادیث کے متعلق بھی کہا گیا ہے۔ درحقیقت محدثین نے اقوال منسوبہ بطرف نبی کو تسلیم کیا مگر ان کو یہ معلوم نہ ہوسکا۔ کہ فلاں قول واقعی رسول کی طرف منسوب ہونے کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟ صدیوں کی کہی ہوئی باتیں کیسے پرکھ سکتے تھے۔ اگر امت مسلمہ کی قسمت یاور ہوتی تو ان اقوال کو قرآن کے اوپر پیش کرتے اور عقل سے جانچتے، مطابق کو لے لیتے اور مخالف کو چھوڑ دیتے

جواب...... یہ مانا کہ قسمت نے کمترین کے وجود سے یہ سعادت عظمیٰ حاصل کی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آیا تیسری یا چھٹی صدی میں آپ جیسی ہستی کا پایا جانا ممکن تھا؟ جبکہ نہ تمدن یورپ کی بنیاد پڑی تھی اور نہ علوم فنون جدیدہ نے اپنے عالمگیر اثرات سے دنیا کو مذہب سے روکش کیا تھا۔ اس لئے مجبوراً یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ آپ ہی کا حصہ تھا اور آپ کی ہی ہستی سے اسلام کی یہ سعادت وابستہ تھی۔ جناب بخاری سے پہلے اراکین اسلام بنائے اسلام کی ادائیگی ویسی تھی جیسی کہ بعد میں چلی آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ چھ سو سال تک اسلام بغیر بخاری کے جاری تھا۔ اس لئے اس کے وجود سے اسلام میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی تھی۔ مگر چونکہ اس کتاب میں حضور علیہ السلام اور عہد رسالت کے اقوال اور حالات بیان ہوئے تھے جو اس وقت کے علمائے اسلام کے نزدیک خلاف قرآن نہ تھے کیونکہ ابھی بقول آنجناب قرآن شریف ستر ہزار پردوں میں پوشیدہ تھا اس لئے قرآن وحدیث کا تطابق اظہر من الشمس تھا۔ تو صحیح بخاری کو وہ وقعت پیدا ہوئی جو دوسری کتابوں کو

صفحہ ٦٢٤

حاصل نہ ہوسکی۔ کیونکہ اس میں علاوہ احکام کے اخبار بالغیب اور سیرت نبوی بھی درج تھی اور امام موصوف نے حتی المقدور وہ روایات درج کی تھیں۔ جو بلاشبہ قابل قبول تھیں اور جو تنقیدات بعد میں کی گئی تھیں۔ وہ جزوی طور پر تھیں۔ جنہوں نے اس کی عام مقبولیت کو نقصان نہیں پہنچایا تھا اور اغلاط کا ہونا ناممکن نہ تھا۔ وہ خدانخواستہ تفسیر بیان للناس تھوڑی تھی۔ کہ اس کا ایک ایک حرف تفہیم الٰہی سے ناقابل تنقید ہوتا اور امام بخاری کو وہ درجہ حاصل نہ ہوا تھا جو آپ کو عنایت ہوا ہے ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء لیکن آنجناب اگر بنی نوع انسان کے فرد ہیں اور آپ سے بھی غلطی کا امکان ہوسکتا ہے۔ تو یہ بات بخوبی ذہن نشین کرلیں کہ وہ چیزیں آپس میں اسی وقت ملتی ہیں کہ ایک ہی خط مستقیم پر واقع ہوں ورنہ ان میں تطابق محال ہوگا۔ عہد تجدید یعنی چودھویں صدی کے مجددین اور انبیاء سے پہلے قرآن وحدیث کو لوگ ایک ہی خط مستقیم پر (کہ وہ دونوں مافوق البشریت ہیں) سمجھتے رہے اور جن اقوال کو انہوں نے موضوع پایا ان کی کانٹ چھانٹ کر کے الگ کر دیا تھا جو کتب موضوعات میں اب تک درج ہیں اور آج تک ان کے باہمی تطابق پر کسی کو شبہ تک بھی پیدا نہیں ہوا۔ مگر بدقسمتی سے اصحاب الشمال تعلیم یافتہ اصحاب نے تصانیف غیر مسلم کو زیر مطالعہ کر کے اور ان کے اثرات اولیہ کو اپنے سادہ اور صاف دماغ پر جگہ دے کر بعد میں جب اسلامی لٹریچر کا از خود مطالعہ کیا تو انہوں نے پہلے قرآن کو مذکور الصدر خط مستقیم سے نیچے اتار کر سطح کروی کے ایک نقطہ پر رکھ دیا۔ جو چاروں طرف جھکنے لگا شمال کو جھکا تو ایرانی مجددوں نے اس کی کھال کا بال بال نوچ ڈالا۔ مشرق کو مائل ہوا تو قادیانی مغل نے لوٹ کر اپنے اندر ڈال لیا مغرب کو متوجہ ہوا، تو محققین یورپ نے اس کی ہستی کو مٹا دیا کہ یہ قول بشر ہے اور صحف متقدمہ کا منتخب کورس ہے سیدھا پنجاب کا رخ کیا تو مظاہر قدرت ثانیہ اور امام حقیقی اور دیگر امام الزمانوں نے اس کی خوب خاطر کی۔ امت مسلمہ کے ہاتھ پڑا تو اس نے اس کا سارا مفہوم ہی بدل ڈالا اور صاف کہہ دیا کہ آج تک جتنے مذاہب ہیں سب قرآن تحریف شدہ کے خلاف ہیں اور شان رسالت کو ایک معمولی چٹھی رسان کی حیثیت میں لا کر کھڑا کر دیا کبھی رسول کو کاٹھ کی پتلی بنایا کبھی خطا کار اور کبھی غلط گو۔ الغرض یہاں تک غلو کیا کہ جو کچھ نبی نے بحکم قرآن شریف دستور العمل قائم کیا تھا اس پر صاف ہاتھ پھیر دیا۔ کہ نمازیں پانچ نہیں دو ہیں۔ روزے تیس نہیں دس ہیں اور نماز ارکان مخصوصہ کا نام نہیں صرف خدا کی طرف رجوع ہونے سے رام رام کرنے سے بھی ادا ہوسکتی ہے۔ قبلہ ضروری نہیں وضو فرض نہیں ہاتھ پاؤں صاف ہوں تو کرسی پر بیٹھ کر منہ میں حقہ کا دو دو کش لئے

صفحہ ٦٢٥

ہوئے بھی صبح وشام کی تسبیح ادا ہوسکتی ہے غرضیکہ ساری ہی شریعت بدل ڈالی اور جب قرآن کو نیچے قدموں پر گرالیا۔

تو احادیث کو اس کے پاس لاکر رکھنے کی کوشش کی مگر ان میں تحریف اور تبدیل معانی کا حربہ نہ چل سکا اس لئے جو ناقابل تحریف ثابت ہوئیں ان کو نکالنا شروع کردیا اور جو تحریف شدہ مفاہیم قرآنیہ سے مناسب معلوم ہوئیں ان کو قرآن کے ساتھ کھڑا کردیا۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ ایک نکتہ پر دوجسم قائم نہیں ہوسکتے اس لئے قرآن ہی قرآن رہ گیا اور احادیث نبویہ کی ضرورت باقی نہ رہی۔ یہ اسلامی خیرخواہی پہلے فرقہ ہائے اہل قرآن کے پہلے مجدد عبداللہ چکڑالوی نے ظاہر کی تھی۔ کہ جبکہ وہ لاہور مسجد چینیاں میں پیش امام اور مدرس تھا۔ مدت تک صحاح ستہ کا درس دیتے ہوئے آخر اس نتیجہ پر پہنچا۔ کہ صحیحین (مسلم بخاری) ہی صحیح ہیں کہ کچھ عرصہ بعد صرف صحیح بخاری کو صحیح بناکر قرآن مجید کے ترجمہ خود ساختہ کے ساتھ مطابق کرنے لگا۔ آخر کہہ دیا کہ یہ ترجمہ اور صحیح بخاری ایک ہیں۔ تو صرف قرآن ہی قابل عمل ہے۔ بہرحال اس کا ترجمہ اور تشریح قرآنی کچھ نہ کچھ احادیث کے مطابق تھی۔ لیکن بعد جو اس کے ناخلف پیدا ہوئے انہوں نے اپنے مرشد کو بھی غلط گو اور خطا کار ٹھہرایا اور آج وہ دن ہے کہ اس کے مذہب اہل قرآن کو بھی بدعت سمجھا جاتا ہے ممکن ہے کہ امت مسلمہ کے ناخلف کچھ عرصہ بعد اس کو بھی امت مسلمہ ہی کہنے لگ جائیں۔

مقدمہ......ہمارے مخالف قرآن نہیں سمجھتے اور نہ ہی صاحب قرآن کی حقیقت کو جانتے ہیں تو پھر ہمارے عقائد پر کیسے حاوی ہوسکتے ہیں؟

جواب......قرآن مجید کا جو پہلو آپ نے نکالا ہے۔ واقعی ابھی تک مشتبہ ہے جب تک آپ کی ساری تفسیر شائع ہوکر عام نہ ہوجائے کسی کو کیا معلوم کہ آپ صاحب قرآن ہیں یا کوئی اور؟ مگر یہ تقدس کی خود آرائی نرالی شان رکھتی ہے۔ کہ ہمارے سوا کسی نے قرآن نہ سمجھا اور نہ سمجھتا ہے مرزا بھی یہی کہتا تھا اس لئے ہم آپ کو اس کے ساتھ ہی کھڑا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ:

٤٦......خواجہ احمد الدین ناظم امت مسلمہ امرتسر: اس وقت تجدید قرآن میں منہمک ہیں۔ چند رسائل لکھ چکے ہیں اور ایک تفسیر بیان للناس شائع کررہے ہیں۔ ماہواری رسالہ البلاغ آپ کی ہی زیرادارت شائع ہوتا ہے۔ جس میں جدت طرازی کے خاص خاص نمونے شائع کئے جاتے ہیں۔ بارہا مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری سے مناظرہ ہوا کہ رسول کی حیثیت کیا ہے اور وحی کس کا نام ہے اور احادیث قابل عمل ہیں یا نہیں جس میں آپ نے کہہ دیا کہ اصل مطاع غیر مسئول خدا کے سوا کوئی نہیں اور نبی ہماری طرح کے غلط کار اور غلط گو ہوتے ہیں اور جو شخص حدیث

صفحہ ٦٢٦

کو وحی غیر متلو کہتا ہے یا جو رسول کو مطاع غیر مسئول سمجھتے ہیں وہ مرتکب شرک فی الالوہیتہ ہیں۔ آپ انڈر گریجواٹ عمر رسیدہ مولوی مشہور ہیں ابتدائی تعلیم امرت سر کے مایہ ناز مولوی غلام علی صاحب سے پائی تھی پھر خود دینیات کا مطالعہ شروع کر دیا اور کئی کروٹ بدل بدل کر اس نتیجہ پر آپہنچے ہیں کہ قرآن مجید آج تک کسی نے نہیں سمجھا قرآن مفصل کتاب ہے اور جو تفصیلات مسلمانوں نے قرآن کے لئے مقرر کی ہیں وہ مولویوں کی خود ساختہ ہیں اس لئے قرآن کی تفصیل وہی معتبر ہوگی جو خود قرآن میں موجود ہے اس لئے ضرورت پیش آئی کہ قرآن اور قرآن کی تفصیل میں ایک تفسیر لکھی جائے جس کا حجم کم از کم ڈیڑھ ہزار صفحہ ہو۔ یہ ارادہ دیر سے کر رہے تھے۔ مگر چونکہ پہلے پہل انجمن اسلامیہ امرتسر کے ملازم تھے اور سکول میں مختلف مضامین پڑھاتے رہے تھے اور لوگ آپ کے متعلق نیک ظن رکھتے تھے اس لئے یہ بھی دبے رہے اور جب ریٹائر ہو کر امام مسجد بن گئے تو آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار شروع کر دیا۔ آخر الامر یہاں تک اپنی جماعت تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کہ عقائد لکھ کر اپنا مذہب قائم کر لیا۔ جس کی تفصیل پچھلے نمبروں میں آ چکی ہے۔ یہ حضرت اگر چہ کمترین کا خطاب اپنے لئے تجویز کرتے ہیں۔ مگر اس تجدید اسلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے جو انہوں نے اپنے عقائد نامہ میں ظاہر کئے ہیں۔ ہم ان کو نبی مخفی کا خطاب پیش کرتے ہیں امید ہے کہ منظور فرما کر چودھویں صدی کے انبیاء میں شامل ہو جائیں گے۔ اگر یہ خطاب منظور نہیں تو کم از کم مجدد وقت اور امام الزمان کا خطاب تو ضرور لینا پڑے گا ورنہ امت مسلمہ بغیر نبی کے کس طرح معنون ہو سکتی ہے شاید یہ خیال ہو گا کہ آپ بروز ابراہیمی ہیں کیونکہ آنحضرت ؐ نے ہی کہا تھا کہ یا اللہ میری ذریت سے امت مسلمہ ہو گو یہ امت ابراہیمی خاندان سے تعلق نہیں رکھتی۔ مگر روحانی تعلق کی وجہ سے اس میں داخل ہو سکتی ہے۔

٤٧...... یحییٰ بہاری

کا یہ حصہ اول میں یحییٰ بہاری کا نام چودھویں صدی کے نبیوں میں درج ہو چکا ہے اب ہم اس کی کتاب فرمان سے ایک نظم درج کرتے ہیں جس میں اس نے اپنے تمام دعاوی درج کئے ہیں۔ نظم کی بندش دیکھ کر اندازہ لگ سکتا ہے کہ آدمی بڑا معقول ہے۔ مسیح قادیانی کی نظم اس کے سامنے پانی بھرتی ہے اور اس کے مظاہر قدرت تو سرے سے اس کی گاڑی کے تیل ہی نہیں بلکہ ان کا ذکر ہی فضول ہے البتہ مسیح ایرانی فارسی نثر لکھنے میں اس سے بڑھا ہوا ہے کیونکہ فارسی اس کی مادری زبان تھی اور اردو یحییٰ کی مادری زبان تھی۔ لیکن قادیانی مسیح کی مادری زبان نہ فارسی تھی نہ اردو اس لئے پنجابی نما نظم و نثر لکھنے پر قادر تھا اور چونکہ ان مدعیان مسیحیت و مہدویت میں سے کوئی

صفحہ ٦٢٧

بھی عربی الاصل نہ تھا اس لئے عربی نظم ونثر لکھنے میں ان تینوں میں کوئی بھی ایسا نہ نکلا کہ اس مردہ زبان کو زندہ کرے یا اس کے اندھے،لولہے الفاظ کو درست کر کے صحیح طور پر شفا بخشی سے کام لے اور مخفی نبی نے بھی کوئی خاص ادبی لیاقت آج تک اپنی خاص نظم یا نثر میں پیش نہیں کی۔ صرف آپ کو ناز ہے تو اس تقدس یا اس لیاقت پر جو ان کو ثنا گو شاگردوں اور اصحاب الشمال تابعداروں کی واہ واہ سے حاصل ہو چکی ہے۔ بہر حال یحییٰ کی نظم ذیل میں درج ہے۔

نظم

راما ہم ہیں مریم ہم ہیں رستم ہم ہیں ہم ہی جم
گویا کہ بس ہم ہی ہم ہیں ہم ہی ہم ہیں ہم ہی ہم
یاد رہے تم سب کو اتنا جب تک ہے اس دم میں دم
بولینگے ہم بیشک حق حق لاکھ کرو تم ذم پر ذم
یــــا امــــی یــــا امــــی امــــی امــــی امــــی امیم
مہدی مہدی مہدی مہدی مہدی مہدی ام
ہم ہی صفیّ مہدی ہیں گہوارہ میں جو بولے تھے
احمد ہم ہیں موسیٰ ہم ہیں عیسیٰ ہم ہیں یحییٰ ہم
پہلے جو کچھ لائے تھے ہم دے دلا کے تم سب کھو گئے
تمنے اس کو ایک نہ مانا سیدھے بن کے ہوگئے خم
اب ہم جو کچھ لائے ہیں سولیو بھلے مُسائی سے
چھوڑو اپنا دھوم دھڑکا چھوڑو اپنا سارا بم
دیکھو کیا ہے شان ہماری سارے احمد حامد ہیں
قال رسول اللہ تعالیٰ صلی اللہ علیہ آلم
ایلی ایلی ایلی ایلی ولما سبقتنی
ان اللہ معنا پھر کیا ہے ہم کو اس کا غم
سبحنک لا علم لنا الا ما علمتنا
انک انــــت الــــعــــلیــــم میں ہوں تیرا خالی فم
قدرت تیری رنگ برنگی تو قدرت کا مالی ہے
میں ہی تیرا فوٹو ہوں بس مجھ سے ہی عالم الم
صفحہ ٦٢٨
ابجد، ہوز، حطی، کلمن، سعفص، قرشت، ثخذ، ضظغ
سارے علم اسی میں بھرے ہیں ضاء ظہور العالم کم
دیکھو بھاگو بچتے جاؤ چلتی ہے تلوار مری
چھم چھم چھم چھم چھم چھم چھم چھم چھم چھم چھم چھم چھم
خون بہے گا دنیا میں پڑ جائیں گے کہرام بڑے
سوکھی ساکھی دھرتی سب ہو جائیں گی اکدم سے یم
لاتبديل لخلق الله سمع الله لمن حمده
نینی تل کے مانس کی ہے دیکھو دونو نینا نم
سبحان الله تعالى من يخش الله يتقه
جعل لكل شىء سبباً وہ وہ وہ وہ وہ وہ وہ ہم
هو المهدي هوالهادى ليس الهادي الا هو
نازل ہوگا کس جا پر؟ امریکہ میں جوہی اک تھم
خشعاً ابصارهم يخرجون من الاجداث
ليس لهم من دون الله كاشفة من هم الغم
ہادی مہدی ززرائن دولہا دولہن ایک ہیں
سب کے سب کنگالی ہیں اور اتم جوکھم خالی ہم

....................................................................

خود بقا اور خود فنا ہوں خود نبی اور خود خدا ہوں میں
واہ کیا خوب دلربا ہوں میں اپنے ہی آپ پر فدا ہوں میں
اختر ومہر وماہ برج و فلک جنت ودوزخ وخلا ہوں میں
ابرو باد سحاب وقوس وقزح بارش وبرق وطورو طاء ہوں میں
بحر و بر سبزہ مکین ومکاں روح وارواح وبازیا ہوں میں
الغرض جملہ کائن وماکان میں ہی میں ہوں بتاؤ کیا ہوں میں
اور ناممکن القیاس جو ہو وہ بھی میں ہوں بس اب خدا ہوں میں
خود سے چھپتا ہوں شرم کے مارے حى يحيا وباحيا ہوں میں
بس خدا ہی کا نام یحییٰ ہے میں نہ کچھ حاء دیاء ہوں میں
صفحہ ٦٢٩

احکام ...... دل نہ دکھاؤ۔ اپنی صفات کو قدسیہ بناؤ میرا چال چلن اختیار کرو۔ ورنہ افلاس اموات و امراض اور تناسخ و مصائب میں گرفتار ہو کر عذاب پاؤ گے۔ زانی کو کتے سے کٹوا کر مار ڈالو۔ کوئی پیشہ امتحان پاس کرنے کے بغیر نہ کرو۔ محبت عامہ کو مقدم رکھو۔ بغیر پسند کے شادی نہ کرو۔ جو مزاحم ہو اس پر کھولتا ہوا پانی ڈالو۔ طلاق نہ دو۔ کوئی کسی کا منہ چڑائے تو ہونٹ کاٹ ڈالو۔ ابرو سے اشارہ کرے تو موچنہ سے بال نوچ دو۔ بہتان باندھنے والے کو چونہ کی بھٹی میں بٹھا کر پانی ڈال دو۔ رہن اجارہ نہ کرو۔ قرض نہ لو۔ قاتل کو کرسی پر بٹھا کر بجلی سے قتل کرو۔ زیادہ گوشت نہ کھاؤ۔ جس سے تکلیف ہو وہ نہ کھاؤ۔ کسی کو دجال اور حرامی نہ کہو۔ صحت درست رکھو۔ جو باغ میں پیشاب کرے اس کے منہ میں پیشاب کرو۔ نطفہ ضائع کرنے والے کا آلہ تناسل کاٹ ڈالو اور جو عورت گاجر وغیرہ سے فرجہ کرے۔ نمک نوشادر اور مرچ سے اس کو فرجہ کرو۔ جانور سے مجامعت کرے تو عضو تناسل کاٹ دو۔ جو زنا بالجبر کرے اس کی جورو یا بیٹی سے بازار عام میں زنا کراؤ۔ کتے سے اس کی سفرہ کوبی کرائی جائے۔ پھر تہ خانہ میں برف کے نیچے دباؤ۔ زانیہ حاملہ ہو تو اسے محاصرہ میں رکھو کہ حمل نہ گرائے ورنہ قتل عمد کی سزا پائے فاعل کو الٹا لٹکا دو کہ سوکھ کر مر جائے یا درندے نوچیں اور مفعول کو سولی دو۔ جو عقیم ہونے کی دوا دے یا مخنث بنائے اسے لاکھ کی دیوار میں چنوا دو۔ آگ لگا نیوالے کو توپ سے اڑاؤ۔ باغی کو بچھو کی خندق میں ڈالو۔ زبان کاٹ ڈالو۔ اس کی جو غلط خواب یا خبر پھیلائے یا پُر افسانہ لکھے یا غیبت اور غمازی کرے یا جھوٹی گواہی یا جھوٹی جاسوسی کرے۔ جو کسی کو بنظر حقیر دیکھے اس کی آنکھ میں چونہ بھر دو انگلی سے بکر نہ توڑو زفاف کا خون نہ دکھاؤ عقیقہ اور تسمیہ وغیرہ پر خرچ کرنے والے کو حبس دوام کرو۔ زخم پہنچانے والے کو قتل کرو۔ مفلسی دور کرو۔ کیونکہ وہ تم کو گرجا میں بھی یکسوئی پیدا نہیں کرنے دیتی۔ سب کے ساتھ ملکر موحد الکل بنو۔ یہی اصل عبادت ہے جو سب کو موحد الکل بنائے اس کو عبادت کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نے صبر کیا خوش کیا۔ برائی نہیں کی نیکی کو راہ دی۔ بروں کو نکالا یا اس لئے وہ عقل وحسن وصورت حکمت حکم حکومت عزت واقبال اور نبوت و رسالت کا مستحق ہے۔ ید اللہ اور خلیفہ اللہ بنا ہے اور عرش بریں پر بیٹھنے کے قابل ہے اور خلیفہ الشیطان فی نار جہنم۔ سب اردو بولو اسی میں تعلیم ہو۔ ایک فرمانروائے کل کو قبول کرو جس کے ماتحت فرمانروائے جزو ہوں جو اس سے ملکر کام کریں اور خمس ١/٥ جمع کر کے بیت المال میں جمع کرائیں۔ جو فرمانروائے کل کے زیر تصرف ہو اور جب تک ساری دنیا غنی نہ ہو جائے۔ بیت المال سے خرچ نہ کرو۔ سکہ اسٹامپ بیرق ٹکٹ خطبہ کلمہ سب فرمانروائے کل کے نام پر ہو۔ جو اتحاد کے مزاحم ہو اسے تیزاب میں ڈالو۔ کھال اتر کر صحت ہو تو

صفحہ ٦٣٠

پھر تیزاب میں ڈالتے رہو۔ ان کے ہاتھ کاٹو۔ راشی مرتشی چور۔ بغاوت کا اشتہار شائع کرنیوالا خط کھولنے والا۔ برہنہ فوٹو بنانے والا۔ ریڈیو کا آدمی یا عورت بنانے والا۔ بے جا طور پر مال کھانیوالے پر وہی مال پگھلا کر ڈالو۔ کفر و سرکشی کی سزا چار مہینہ ہے۔ جس پر اس کی کھال کھینچی جائے۔ پھوٹ ڈالنے والے کو سنگسار کرو۔ فرمان کے خلاف چلنے والے کو بھی سنگسار کرو۔ ملاح گاڑی بان اور سواری والا تازہ سامان رکھے ورنہ جرمانہ اور تازیانہ لگاؤ اور نقصان بھر لو۔ جس عضو سے جو برائی ہو وہی کاٹ ڈالو۔ جو جرم کسی جرم کے مشابہ ہو اسے اس کی مشابہ سزا دو۔ عورتوں کو پردہ میں حبس نہ کرو۔ پردہ دری عندالامن حرام ہے اور پردہ داری عندالخوف حرام ہے۔ قابل اطمینان حالت پیدا کرو۔ پھر حرام کو بند کرو۔ توحید فی العمل کی ضرورت ہے۔ ایسا نہ کرو گے تو جبراً کرایا جائے گا۔ یہ فرمان سب کے لئے ہے۔ ایک ابدالآباد عہد کردہ شدہ زندہ سردار سید محمد یحییٰ تمہاری سرکوبی کے لئے کافی ہے۔ زمانہ کے ساتھ تم بھی رنگ بدلو۔ آیات کی حفاظت کرو۔ اور اس کو اپنے بٹوے سے اعتدال کے ساتھ خرچ کرو یحییٰ مسیح کا یہی لیکچر ہے جو گر جاؤں میں دہرایا جائے اور یہی کافی عبادت ہے نیچے کی نظم میں سب برائیاں درج ہیں ان سے پرہیز کرو۔

نظم

بخیلی وطمع وبزدلی وکاہلی سرقہ میخواری وکبر وجاہلی
قہر وبے صبری وبہتان ونفاق کفر و شرک وبغض اسراف وطلاق
کینہ و غمازی ودجل و احتقار غیبت وقتل وقمار وافتخار
فتنہ وجملہ فسادات وشرور مسکرات عجب واغواء و غرور
بے وفائی وریاؤ حقد وجنگ جلق واغلام وزنا وکسر ننگ
چاپلوسی ودل آزاری وزور غبن وبد خلقی وگمراہی وجور
ہر بغاوت ہر خیانت ہر حسد ہر بدی ملعون گشتہ تا ابد
ہر چہ فرمودست یحییٰ گوش کن زشت را بگذار حالا ہوش کن
نیز ترک مذہب اقوام غرب گفت آسی بد تریں عصیان رب

گرجا کو صاف رکھو۔ اتوار کو منبر کے پاس بخور جلاؤ دائیں بائیں مسیح ثانی (میری) دو تصویریں ہوں۔ اس طرف لوگ سینہ پر ہاتھ رکھ کر سر جھکائیں۔ بینچ کے سامنے لمبا ٹیبل ہو۔ حکام کے لئے اوپر برآمدہ ہو۔ منبر کے پاس سٹیج پر خوش آواز باجا ہو۔ جب فرمان پڑھتے پڑھتے کوئی مقام

سردار فوراً آجائے تو باجے کیساتھ خو خدا سے دعائیں مانگیں۔ سب ہمنو ڈالو ورنہ حلقہ سموات کے پار سے ڈ ہٹاؤ۔ ممکن ہو تو ارمنی کو وہاں جا کر زیادہ نہ ہو۔ بیچ میں دفن کی چھٹی ہم برخواست ہونے کے وقت خطیب یحییٰ عین اللہ کہہ کر سینہ پر نزدیک والے دروازے سے نکل بازو پر رکھو۔ مردہ کو گاڑی پر لے ڈالو دریا گڑھے میں غرق کر دو۔ مرجائے۔ ہسپتال پل سڑکیں مساوی الدرجہ جائداد تقسیم نہ کر وائسرائے کے پاس جائے اور درم خرچ کرنا زکوٰۃ اور قدم بڑ وکالت، عندالضرورۃ اخبار نکالن مینار پر کسی بڑے شہر میں رکھو۔ لڑکوں کی تصویریں منگوا کر کہ دو روپے ہوگی۔ جولڑکی کام نکلے تو فوراً خلع کرائے اور م آتشی مواد کی دکان باہر ہو تیل پر رحم کرو۔ تعلیم لازمی ہے م قصداً خود کو فاقہ کشی اور روز پھٹکار ہے جو فرمانروا کی پی

صداقت یحییٰ

سور کے بچو تم اختیار کیا ہے۔ کنواری لڑ

صفحہ ٦٣١

سرور افزا آ جائے تو باجے کیساتھ خوش گلو گائیں اور بہت خوشی سے گرجا گھر میں فرمان پڑھ پڑھ کے خدا سے دعائیں مانگیں۔ سب ہمنوا ہو کر قسطنطنیہ کو اپنا دارالخلافہ بناؤ اور وہاں کے خنزیروں کو مار ڈالو ورنہ حلقہ سموات کے پار سے ڈائینامٹ رکھ کر دنیا اڑا دی جائے گی۔ بیت المقدس کو سیدالمعابد بناؤ۔ ممکن ہو تو ١١ بجے دن وہاں جاکر اس طرز جدید پر نماز ادا کرو۔ فرمان کی تلاوت ڈیڑھ گھنٹہ سے زیادہ نہ ہو۔ بیچ میں لنچ کی چھٹی بھی ہو۔ دلچسپی نہ بھی ہو تو پھر بھی ایک گھنٹہ عبادۃ ضرور پڑھو۔ جلسہ برخاست ہونے کے وقت خطیب ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے۔ دعا ختم کرنے کے بعد لا الہ الا اللہ یحییٰ عین اللہ کہہ کر سینہ پر ہاتھ رکھ کر سر جھکائے اور لوگ انجیل پر ہاتھ رکھ کر سر جھکائیں۔ پھر نزدیک والے دروازے سے نکل جائیں۔ ٹیکہ لگواؤ۔ مردہ کے غم میں ماتمی نشان چالیس روز تک بازو پر رکھو۔ مردہ کو گاڑی پر لے جاکر مشین کے ذریعہ آگ میں پھونک دو۔ اور راکھ کسی خندق میں ڈالدو یا گڑھے میں غرق کردو۔ بے اجازت گاڑی کے پیچھے بیٹھنے والے کو خوب مارو۔ اگرچہ مرجائے۔ ہسپتال پل سڑکیں اور کنوئیں بناؤ۔ حاجت روائی کرو تاکہ کوئی مفلس نہ رہے۔ مگر مساوی الدرجہ جائداد تقسیم نہ کرو۔ مجلس قائم کرکے ضلع کے ماتحت رپورٹ دیا کرو۔ وہاں سے وائسرائے کے پاس جائے اور وہ فرمانروائے کل کے پاس بھیجے۔ اصلاح عالم جہاد ہے اس میں درم خرچ کرنا زکوۃ اور قدم بڑھانا خدمت ہے۔ قلم کی حاضری ملازمت ہے اور قلم کی حاضری وکالت، عندالضرورۃ اخبار نکال سکتے ہو اور سفارش بھی کر سکتے ہو۔ مشہور خادم خلق اللہ کا سٹیچو اونچے مینار پر کسی بڑے شہر میں رکھو۔ ریلوے اور چنگی کے سوا اتوار کو چھٹی کرو۔ لڑکی اپنی تصویریں بھیج کر لڑکوں کی تصویریں منگوا کر کسی ایک کو قرعہ ڈال کر منتخب کرے۔ خواہ وہ کیسا ہی ہو۔ فیس داخلہ فوٹو دو روپے ہوگی۔ جو لڑکی کا مہر معجل ہوگا۔ پھر دونو گرجائیں جاکر شکریہ ادا کریں اگر خاوند میں نقص نکلے تو فوراً خلع کرائے اور دوسری جگہ شادی نہ کرے تو اچھا ہے۔ بچوں کو تصویروں سے بہلاؤ۔ آتشی مواد کی دکان باہر ہو ٹیلیفون اور تار کے ستونوں پر چلیپا معہ پنج تارہ کی شکل ہو۔ جان داروں پر رحم کرو۔ تعلیم لازمی ہے صبح غسل کرکے جمناسٹک یا کبڈی وغیرہ کھیلو۔ بچہ کو قیمتی کپڑا نہ پہناؤ۔ جو قصداً خود کو فاقہ کشی اور روزہ میں مبتلا کرے وہ حرامزادہ کفران نعمت کرتا ہے اور ایسے حرامزادوں پر پھٹکار ہے جو فرمانروا کی پیروی نہیں کرتے۔ اے نمک حرام!

صداقت یحییٰ

سور کے بچو تمہیں اب بھی یقین نہ ہوگا۔ حالانکہ تمہارے لئے مالک نے انسانی لباس اختیار کیا ہے۔ کنواری لڑکی سے خود کو پیدا کر دکھلایا مردہ زندہ کیا۔ تیہ میں پھرا۔ امی بن کر اہل

صفحہ ٦٣٢

فصاحت کو متلجلج کرایا۔ قبل از وقت پیدا ہوکر ٤٥ روز بغیر دودھ کے رہا، بچپن میں نکتہ چینی کی۔ چنے اور چائے پر گزارہ کیا اور مہینوں لگا تار فاقہ کشی کی۔ مسمرائزم نام دہرایا۔ عبدالمجید نے میرے حجرے میں دیکھا تو اس کی آنکھ کو صدمہ پہنچا۔ چنو کو حیدرآباد میں خاک کر دیا۔ اشارہ کیا تو چھ ستارے ٹوٹے خواب میں خدائی لباس میں، پیغمبروں کو دیدار دیا۔ دشمن کو حکم دیا کہ جوانی موت میں مرے یا مریض ہو یا کوڑھی یا بے اولاد۔ پیشینگویاں پوری ہوئیں۔ غیب سے آکر کسی نے کہا کہ یہ خدا کا فوٹو ہے۔ فوٹو گرافر نے ہمارے فوٹو لینے میں ایک درجن شیشے استعمال کیے۔ مگر فوٹو نہ آیا۔ غیب سے میری تصدیق کے لئے آواز آئی کہ درست ہے فضائے آسمانی سے یہ آواز آئی کہ: ”حضرت مولانا سید محمد یحییٰ التحیات علیکم وخیرلک من الاولیٰ “ تکیہ سے ان الله مع الصابرین کی آواز آئی۔ ٢٨ روز بڑودہ میں فاقہ کش ہوکر لیکچر دیا۔ لوگ مارنے آئے تو ہم نے تلوار دکھائی اور سب بھاگ گئے مکہ میں لیکچر دیا۔ مدینہ پہنچا تو روضہ اقدس کانپا اور یا ھو کی آواز آئی۔ اژدھا، بچھو مجھ میں سما گیا۔ دیکھا تو آئینہ ٹوٹ گیا۔ زنجبار اور بمبئی میں انتقال کیا اور چار گھنٹہ بعد پھر جی اٹھا تم نے کئی بار سنکھیا دیا مگر کچھ نہ ہوا۔ بمقام لنڈن انڈیا آفس میں خوبصورت تصویر نے جھک کر سلام کیا۔ ایک ہی وقت کئی جگہ تمکو نظر آیا۔ اصل کو پکڑ لو اور اہل اللہ یا حقانی کہلاؤ، گوپی بن۔ مرلی جوگی اور سنیاسی نہ بنو۔ شادی کا حکم قطعی ہے کوئی عورت برقعہ نہ ڈالے پاجامہ نہ پہنے۔ بلکہ گاؤن اور بوٹ اور ساڑھی پہنے۔ ہاتھ اور چہرہ کے سوا بدن ننگا نہ ہو۔ جھوٹا خواب نہ بناؤ۔ مہندی نہ لگاؤ۔ سلام کرنے میں ٹوپی اتارو اور سینے پر ہاتھ رکھو۔ فرمانروا کے سامنے جھکو، السلام علیک ہرگز نہ کہو۔ بلکہ کہو کورنش یا کہو التحیات علیکم پیغمبر اسلام نے السلام علیکم کہہ کر یہ بتایا تھا۔ کہ بابا تم کو سلام ہے گویا یہ لعنۃ الله علیکم کا ہم معنی ہے۔ تم کو کوئی کافر کہے تو تم خوش ہو جاؤ۔ کیونکہ تم مردودوں کو کافر کہنیوالے ہو یا حق کی کھیتی کر نیوالے اور باطل کو چھپانے والے ولی صلوۃ اور اسلام اور مسلم کا لفظ بھی آج نجس معنی میں استعمال ہورہا ہے۔ جسے ہم محمود کہیں وہ محمود ہے اور جسے مردود کہیں وہ مردود ہوگا۔ کیونکہ تمام الفاظ پر ہمارا قبضہ ہے۔ عورت ڈاکٹری کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے اسے وہی سکھاؤ۔ شریعت قدیم ختم ہوگئی۔ اب شرع جدید پر عمل کرو۔ اس کے خلاف کرنا جرم ہے۔ ورنہ تم واجب التعزیر ہو مال و متاع چھین لیا جائے گا۔ جورو بیٹی خواص بنائی جائے گی۔ ختنہ منع کیا جائے گا۔ رومی ایرانی ۔ حیدرآبادی اور انگریزی ٹوپی پہنو۔ پگڑ ی شملہ ابلیس کا لباس ہے عورتیں ٹیڑھی مانگ نہ نکالیں چلیپا نما موباف ہو نقاب جالیدار۔ حجامت نہ خربزہ نما، نہ محراب نما، نہ نالی نما، نہ تالاب نما (بلکہ بیضہ نما ہو ) یا منڈواؤ یا مسیحائی وضع کی رکھو۔

مونچھ مجھے خوبصور دو۔ گندہ دہن فوقا زبان استعمال نہ کر پاجی سر ہی ہو جائے حرام سمجھو۔ فرستادۂ اور بدمعاش کے ر کرو۔ وہ قوم حرام کیا ہے موسیقی بہتر ہیں۔ بچہ کو بھلاب. پہناؤ ھو الحق ک ھو الحق ھوا ا پھر دائیں کان میں زمین پر ناک رگڑو سارے شیاطین کا ہیں اور ظنوا ہیں وہ حرام کے ۔ قوم یہود کی باتیں، چھت پر چلیپا نما وریحان ہوں وغی ٤٨.. ہیں۔ شروع میں ا یحییٰ خان دو گنہگار ولی ا ١٩٠٣ء لکھا ہوا۔ خوب زور دار لکھی کے بھائی ہیں۔ آ

صفحہ ٦٣٣

روز بغیر دودھ کے رہا، بچپن میں نکتہ چینی کی۔ ۔ مسمرائز نام دہرایا۔ عبدالمجید نے میرے حیدرآباد میں خاک کر دیا۔ اشارہ کیا تو چھ دیدار دیا۔ دشمن کو حکم دیا کہ جوانی موت میں ری ہوئیں۔ غیب سے آکر کسی نے کہا کہ یہ یک درجن شیشے استعمال کیے۔ مگر فوٹو نہ آیا۔ ت ہے فضائے آسمانی سے یہ آواز آئی کہ: د علیکم وخير لك من الاولى “ تکیہ وہ میں فاقہ کش ہو کر لیکچر دیا۔ لوگ مارنے پکچر دیا۔ مدینہ پہنچا تو روضہ اقدس کانپا اور یا کینہ ٹوٹ گیا۔ زنجبار اور بمبئی میں انتقال کیا کچھ نہ ہوا۔ بمقام لنڈن انڈیا آفس میں ئی جگہ مجھکو نظر آیا۔ اصل کو پکڑ لو اور اہل اللہ یا دی کا حکم قطعی ہے کوئی عورت برقعہ نہ ڈالے ہاتھ اور چہرہ کے سوا بدن ننگا نہ ہو۔ جھوٹا رو اور سینے پر ہاتھ رکھو۔ فرمانروا کے سامنے لیکم پیغمبر اسلام نے السلام علیکم کہہ کر یہ بتایا کا ہم معنی ہے۔ تم کو کوئی کافر کہے تو تم خوش کھیتی کرنیوالے اور باطل کو چھپانے والے ں استعمال ہو رہا ہے۔ جسے ہم محمود کہیں وہ لفاظ پر ہمارا قبضہ ہے۔ عورت ڈاکٹری کی یم ختم ہوگئی۔ اب شرع جدید پر عمل کرو۔ مال و متاع چھین لیا جائے گا۔ جو رو بیٹی نِ حیدرآبادی اور انگریزی ٹوپی پہنو۔ پگڑ ل پہنا ماسو باف ہو نقاب جالیدار۔ حجامت منڈا ہو) یا منڈواؤ یا مسیحائی وضع کی رکھو۔

مونچھ مجھے خوبصورتی ہوتی ہے۔ کان میں عطر کا پھاہا نہ رکھو۔ سرمہ نہ لگاؤ۔ ناک میں بال نہونے دو۔ گندہ دہن فوقانی دہن کا تحتانی بناتا ہے۔ منہ کا لعاب نہ پیو۔ بہ مجبور طبع کسی کو نہ بناؤ۔ اردو بغیر کوئی زبان استعمال نہ کرو۔ ابن الوقت بنو۔ محض کمینہ اور حرامزادہ کہیں ملے۔ تو تم اس پر درشتی کرو۔ اگر وہ پاجی سرکش ہو جائے۔ تو اس کی پوری خبر لو ورنہ تم ساکت رہو ولد الحرام نہیں۔ تمباکو و دیگر مسکرات اشیاء حرام سمجھو۔ فرستادہ خدا کے سامنے دلائل پیش نہ کرو۔ متکبر سے تکبر کرو۔ دجال کے سامنے دجال بنو اور بدمعاش کے سامنے بدمعاش اور مسیحا میں مسیحا بن کر جذب ہو جاؤ۔ شعر گوئی میں وقت ضائع نہ کرو۔ وہ قوم حرامزادی بڑی مردود ہے جس نے کتابوں کا حرف حرف نقطہ نقطہ اعراب وغیرہ شمار کیا ہے۔ موسیقی بہترین چیز ہے مگر سور کے بچے حرامزادے ہیں۔ جو ساری نعمت الٰہی کا کفران کرتے ہیں۔ بچہ کو محلّاب سے دودھ پلاؤ۔ جانگیہ پہناؤ ٹھیل گاڑی میں باہر لے جاؤ۔ ختنہ نہ کرو۔ زیور نہ پہناؤ ھو الحق کہہ کر بہلاؤ لوری یوں دو ھو الهادی ، ھو المهدی لیس الهادی الا ھو۔ ھو الحق ھو الله ھو یحییٰ قل یا ھو بچہ کے بائیں کان میں کہو ان الله علی العظیم پھر دائیں کان میں یہی فقرہ کہو۔ جاہلہ بیہودہ قیام و قعود اور حرکت بے جا کو عبادت نہ سمجھے مثلاً بار بار زمین پر ناک رگڑنا یا دو پہاڑ کے درمیان دوڑ دھوپ کرنا۔ گھوم گھوم کر روسیاہ پتھر کو چومنا۔ سارے شیاطین کا ایک مجمع تصور کر کے اینٹ پھینکنا وہ حرامزادے ہیں جو عورتوں کو حبس بیجا کرتے ہیں اور ظنو المومنین خیراً کا دم بھرتے ہیں۔ بہت سے مردود لوگ تصویر رکھنا حرام سمجھتے ہیں وہ حرام کے بچے یہ نہیں سمجھتے کہ کوئی چیز تصویر سے خالی نہیں۔ لہٰذا ایسی مادربخطا مردود حرامزادی قوم یہود کی باتیں نہ سنو۔ جوٹھا پانی نہ پیو۔ گلاس بائیں ہاتھ سے پکڑو۔ انگلی اور برتن نہ چاٹو۔ اوپر کی چھت پر چلیپا نما انجم و ہلال ہو۔ مکان کشادہ ہو۔ دو دو کے لئے سات سات گز کا کمرہ ہو، گل و ریحان ہوں وغیرہ وغیرہ۔

٤٨....... فرمان یحییٰ بہاری کا قرآن ایک ضخیم کتاب ہے جس کے صفحات ٨٢٤ تک ہیں۔ شروع میں اپنا نام یوں لکھا ہے۔ اعلحضرت احدیت مآب فرمانروا سید محمد یحییٰ خان دوران نائب اللہ علی العالمین۔ ذی لینڈ لارڈ آف موضع یحییٰ پر گنہ ارولی ضلع گیا صوبہ بہار اور سنہ تالیف و طباعت مذکورہ نہیں مگر ص نمبر ٧٠٨ پر ١٩٠٣ء لکھا ہوا ہے جس میں ان کو تین صحیفے ملے ہیں۔ جن کی بناء پر اپنا دعویٰ کھڑا کیا ہے اردو نثر خوب زوردار لکھی ہے فارسی اور اردو اشعار میں بھی خوب زور دیا ہے مگر عربی میں مرزائے قادیانی کے بھائی ہیں۔ لکھنے سے نہیں چوکتے مگر سب بے ہنگم غلط سلط جو منہ میں آیا لکھ مارا اخیر میں کہہ دیا

صفحہ ٦٣٤

کہ تمام الفاظ پر ہمارا قبضہ ہے اس مقام پر ان کے احکام کا خلاصہ لکھ دیا گیا ہے۔ ورنہ ان کے صحف آسمانی کی تشریح۔ عقائد اور مسئلہ تناسخ کا ثبوت اور علم کلام دوسرے مسائل اتنے ہیں کہ یہاں ان کی گنجائش نہیں مگر جو اسلام کے خلاف حکم تھے وہ یہاں ضرور پیش کیے گئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام چھوڑ دو اور جو کچھ تمدن یورپ پیش کرتا ہے اسی کو اپنا مذہب بنا کر اہل اللہ کہلاؤ تو خلاصہ یہ ہے کہ:

بہائیہ اور مرزائیہ میں تھا یحییٰ نے اس کا صحیح مطلب بتا دیا ہے کہ گویا یہ لوگ کچھ نہ کچھ اسلام کا نام لیتے ہیں مگر مطلب سعدی ہمیں ست کہ ما گفتیم۔

پہنچا کر اسے عریاں ہو کر کہہ دیا ہے کہ عیسائی ہو جاؤ اور اسلام سے دست کش ہو کر دنیاوی ترقی حاصل کرو۔

مامور من اللہ نہیں ہوتے بلکہ مامور من النصاریٰ ہوتے ہیں۔ جو عیسیٰ اور مہدی بن کر اس طرز پر اسلام سے بہکاتے ہیں تاکہ ان کا مرید آسانی کے ساتھ عیسائی ہو سکے۔ یا کم از کم اس سے برسرپیکار نہ رہے۔

لبریز ہوتی اور ایک دوسرے کو کافر کہنے کی بجائے مصدق ہوتے جیسا کہ انبیائے سابقین کا دستور تھا۔ مگر ان کا یہ طرز عمل ظاہر کرتا ہے کہ یہ کار خاص پر مامور ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو بھی کاٹ کھاتے ہیں۔ تاکہ اپنے بہروپ میں فرق نہ آنے پائے۔

یہ لوگ بائبل کے انبیاء کی طرح کاہن بن کر تعویزات جفر رمل اور نجوم یا مسمریزم کے کمالات سے کچھ کرامات اور پیشینگوئیاں جمع کر لیتے ہیں اور چونکہ بد ارواح سے ان کو تعلیم حاصل ہوتی ہے اس لئے اسلام سے بہکانا ان کا فرض اولین ہو جاتا ہے اور جو کچھ اپنی وحی کے ذریعہ سے پیش کرتے ہیں وہ خبیث ارواح کی تعلیم ہوتی ہے۔ بائبل کا سلاطین اول باب ٢٢ مطالعہ کریں جس میں آپ کو صاف نظر آئے گا کہ اخی اب بادشاہ نے اپنے وقت کے چار سو نبیوں کو جمع کر کے پوچھا تھا کہ بتاؤ کیا مجھے جلعاد کی لڑائی میں فتح ہوگی؟ سب نے کہا کہ ہاں ضرور فتح ہوگی۔ یہوسفط نے کہا

صفحہ ٦٣٥

کہ میکایاہ نبی کو بھی بلاؤ اسے حاضر کیا گیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ خدا کے دربار میں پاک روحیں حاضر تھیں تو ایک خبیث روح آکر کہنے لگی کہ مجھے اجازت ہو کہ اخی اب کو جلعاد کی لڑائی میں بہکاؤں تاکہ وہ وہاں جاکر مر جائے تو اسے اجازت دی گئی اور اس نے چارسونیوں کو (جو اصل میں فال گیر اور رمال (راول) یا کاہن تھے) سکھا دیا کہ اپنی غیبی آواز کی شنوائی کی بنیاد پر جاکر کہہ دیں کہ اخی اب فتحیاب ہو گا صدقیا نے یہ بات سنکر میکایاہ کے گال پر تھپڑ رسید کیا۔ مگر اس نے کہا کہ وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے کہ تم اندر کی کوٹھری میں جا چھپو گے اخی اب مارا جائے گا اور بنی اسر ائیل بغیر راعی کے آوارہ بھیڑیں ہونگی چنانچہ چارسو نبی جھوٹے نکلے اور ایک سچا ثابت ہوا۔۔

ز...... غالباً وہ خواب سچا ہو گا جو ایک حق پرست بزرگ نے ١٩١٤ء میں دیکھا تھا کہ میں ایک سرسبز جنگل میں پھر رہا تھا کہ ظہر کا وقت ہو گیا چھوٹی سی سجدہ گاہ نظر آئی وہاں وضو کر کے نماز میں مصروف ہو گیا جب آخری نفل بیٹھ کر پڑھ رہا تھا تو کسی نے پیچھے سے آکر سر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا جلدی سے فارغ ہو کر دیکھا تو مرزائے قادیانی نظر آئے کہ برقعہ پہنے ہوئے ہاتھ پھیر پھیر کر کچھ پڑھتے ہیں اور دم بھی کرتے جاتے ہیں میں نے پوچھا کہ جناب یہ کیا، فرمایا کہ تم کو اپنا مطیع کر رہا ہوں میں نے کہا کہ آپ سارا زور خرچ کر ڈالیں پتھر کو کیڑا نہیں چاٹ سکتے تو وہ اپنے کا م میں مصروف رہے اور میں خاموش بیٹھا رہا چند منٹ کے بعد میں نے نیچے دیکھا تو مرزا صاحب کے بائیں ہاتھ میں ایک ڈرائنگ کاپی نظر پڑی جس کو میں نے چپکے سے چھین لیا تو فوراً آپ نے اپنا عمل بند کر دیا اور کاپی واپس دینے کو کہا مگر میں نے کہا کہ تم اپنا کام کرتے جاؤ میں اپنا کام کروں گا۔۔ اسی کشمکش میں کاپی الٹ کر جو دیکھی تو تین تصویریں نظر آئیں پوچھا تو کہا پہلی تصویر یہ میرے ہمزاد کی ہے دوسری شیطان کی اور تیسری ملک الموت کی پھر پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے تینوں کا عمل یاد ہے ہمزاد کے اثر سے پاس آنیوالے کو مطیع کر لیتا ہوں دور والے شیطان اور اروح خبیثہ کے زیر اثر ہو کر چلے آتے ہیں اور جو دشمنی کرے اس کو عزرائیل کے سپرد کر کے ہاتھ چلاتا ہوں تو وہ تباہ یا ہلاک ہو جاتا ہے میں نے کہا کہ بس آپ کی ساری نبوت معلوم ہو چکی جائیے میں یہ کاپی نہیں دونگا میرا قبضہ آپ کی نبوت پر ہو چکا ہے آپ منتیں بھی کرتے رہے مگر میں نے کاپی نہ دی اس کے بعد جاگ کھل گئی ۔

ز...... حق اور سچی بات ایک ہوتی ہے جھوٹ اور باطل متعدد ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہیں آپ اس معیار سے جانچ سکتے ہیں کہ چودھویں صدی کے مدعیان نبوت اور دعویداران تجدید کہاں تک اپنے اندر صداقت رکھتے ہیں ان سب کی تعلیمات کو مطالعہ کرو

صفحہ ٦٣٦

تو ضرور اس نتیجہ تک آسانی کے ساتھ پہنچ جاؤ گے کہ ان میں کچھ مامور من النصرانیت ہیں کچھ پاگل ہیں اور کچھ کاہن اور فال گیر اسلام کے دشمن دنیا کو عیسائی بنا رہے ہیں اور اسلام کو اسلام کے ہاتھوں ہی تباہ کرنے کی ٹھان چکے ہیں۔ جہاں تک ہماری رائے کا تعلق ہے ہم ببانگ دہل بلا خوف لومۃ لائم عیسائی مشنریوں کی اس گہری چال کا بھانڈا پھوڑنے میں حق بجانب ہونگے جو انہوں نے چند سال سے عیسائیت کی علی الاعلان تبلیغ کو قطعاً بند کر کے ایک نیا راستہ تجویز کیا ہے یعنی مذہب و سیاست کے علمبردار گروہ اور اپنے حریف ازلی سے تلوار کی شکست کھانے کے بعد آج پھر سر اٹھانے کی جرأت کی اور چند خود غرض اور مست و سرشار اسلام سے روکش کا خطاب لینے و الوں پر دولت کے ڈورے ڈال کر ایک زبردست سیاسی جنگ کا آغاز کر دیا۔ جس کے نتیجہ کے طور پر مرزائے آنجہانی اور یحییٰ بہاری کی تعلیم ہمارے سامنے موجود ہے مثلاً جیسا کہ اسی کتاب کے ص ٦٠١ پر کتاب فرمان یعنی یحییٰ بہاری کے قرآن کے ٤٦٠ کا اقتباس درج کیا گیا ہے کہ گرجا کو صا ف رکھو اتوار کو منبر کے پاس بخور جلاؤ دائیں بائیں مسیح ثانی (یحییٰ) کی دو تصویریں ہوں۔ اس طرف لوگ سینہ پر ہاتھ رکھ کر سر جھکائیں وغیرہ وغیرہ یہ اس مسیح کی شرکیہ تعلیم ہے جو مسلمانوں کے لئے باعث نجات بنائے پھرتا ہے حقیقت میں نجات نہیں بلکہ نجاست ہے جو شیرازہ اسلام میں بدبو پھیلا رہا ہے عیسائیوں کو ان نبیوں کی تعلیم سے کیا فائدہ ہوا؟ ہم اس نبی کے ایک فقرہ سے بوضاحت بیان کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب عیسائی مبلغ ہیں۔۔

مسلمان جس کے پہلو میں دل اور دل میں اسلام کا درد ایک ذرہ بھر موجود ہے اور جو شخص اپنے آپ کو محمد مصطفےٰ احمد مجتبےٰ کا سر فدا و شیدائی بتاتا ہے کیا ان مندرجہ بالا باتوں پر بحضور قلب ایمان لا سکتا ہے؟ کیا شہنشاہ دو جہاں کی غلامی پر عیسائی مبلغ کی غلامی کو ترجیح دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ بہاری تعلیم اور اسلامی تعلیم دو متضاد باتیں ہیں۔ بالآخر دوبارہ میں پھر قوم سے پر زور اپیل کرونگا کہ وہ زمانہ کی نزاکت کا خیال کرتے ہوئے ایسے دھوکہ باز، جھوٹے اور دجل و فریب کے پتلوں سے ہمیشہ اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھیں اور ان کی روباہ بازیوں سے بچکر اپنا مال و دولت مفت میں ضائع نہ کریں۔ اگرچہ ہمیں امید کامل ہے کہ جس طرح ازمنہ متوسطہ میں ملاحدہ وزنادقہ کے ہاتھ سے اسلام تنگ آ چکا تھا اور اخیر میں وہ خود بخود تباہ ہو چکے تھے اسی طرح یہ لوگ

صفحہ ٦٣٧

بہت جلد تباہ ہو جائیں گے اور اسلام پھر اپنی جگہ سرسبز و شاداب نظر آئے گا۔ واللہ المستعان!

حق پہ رہ ثابت قدم باطل کا شیدائی نہ ہو
گر تجھے اسلام پیارا ہے تو ہر جائی نہ ہو

٤٩......علامہ عنایت اللہ مشرقی امرتسر

ان کا مولد امرتسر ہے ابتدائی تعلیم پنجاب میں پائی ہے اور انتہائی تعلیم یورپ میں پا کر بی۔ اے ہوئے ہیں۔ سررشتہ تعلیم میں وزارت کا عہدہ سنبھالا۔ طبیعت تند تھی ڈی گریڈ ہو کر پرنسپل بنے پھر ہیڈ ماسٹر ہوئے مگر تنخواہ وہی بارہ سو ملتی رہی۔ دس سال ہو رہے ہیں کہ انہوں نے ایک کتاب ( تذکرہ مطبوعہ وکیل پریس امرت سر ١٩٢٤ء ) لکھی تھی جس کے متعلق یہ اعلان تھا کہ دس جلدوں میں ختم ہو گی۔ مگر ان کی بدقسمتی سے ایک جلد میں ختم ہو کر رہ گئی۔ جس میں اسلام کی طرف سے قرآن کی آیات لے کر مسلمانوں کو منحرف کرنیکی ٹھان لی تھی اور اسلام حقیقی کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام جدید کی بنیاد ڈالکر مسلمانوں کو پریشان کیا تھا۔ سات سال کے بعد جب آپ کو مایوسی ہوئی تو یحییٰ بہاری کی طرح انہوں نے بھی ایک محرک غیبی مقرر کیا۔ جس کی زبانی یہ اطمینان دلایا کہ تذکرہ اندر ہی اندر تاثیر کر رہا ہے اور وہ وقت قریب ہے کہ اس کی قدر افزائی ہو۔ تو آپ نے اس مضمون کو دوسری تصنیف اشارات میں قلمبند کیا اور ایک دستور العمل پیش کیا کہ جس پر عمل پیرا ہونے سے مسلمان ترقی پا سکتے ہیں۔ ان کی تعلیم کا خلاصہ ذیل میں درج ہے کہ پانچ بنائے اسلام ( کلمہ، صوم، صلوٰۃ، حج اور زکوٰۃ ) اس وقت فروعات میں داخل ہیں آج اصل اسلام کے یہ دس اصول مقرر کئے جاتے ہیں۔ ملکر کام کرنا۔ اتحاد بین الاقوام۔ حکومت کی تابعداری۔ مخالفین سے جہاد بالمال۔ جہاد بالنفس۔ جہاد بالسیف۔ غیر ممالک کو سفر کرنا۔ سعی و عمل کی رکاوٹیں دور کرنا۔ استقلال مکارم اخلاق تعلیم اور ایمان بالآخرۃ خدا نے بھی کہا تھا۔ مگر علمائے امت نے لوگوں کو بہکا کر نماز روزہ میں لگا دیا۔ پس جو شخص ان اصول کا پابند ہو گا وہی مسلمان ورنہ کافر ہے۔ یا اللہ تو نے مجھے خبر دی ہے کہ مسلمان بہت جلد تباہ ہو جائیں گے۔ اس لئے میں نے ان کو تنبیہ کر دی ہے۔ تمہاری موضوع احادیث میں مہدی کا ذکر ہے۔ مگر قرآن میں نہیں ہے اس لئے تمہارے آج وہی شخص مہدی ہو سکتا ہے جو تمہیں صحیح راستہ کی تعلیم دے قرآن الفاظ کا نام نہیں جو تم رٹتے رہتے ہو بلکہ اصول عشرہ پر عمل پیرا ہونے کا نام ہے اور اس قانون الٰہی کا نام ہے جو ہر ایک کتاب سماوی میں مذکور ہے اور فطرت انسانی کا نام ہے جس کی خبر ہر ایک نبی نے دی ہے۔ اسلام یہ ہے کہ تم خدا کے سامنے جھک جاؤ اس میں یہودی عیسائی اور مجوسی ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ صرف امتیازی

صفحہ ٦٣٨

علامات ہیں۔ میں نہ نبی ہوں نہ عالم نہ فقیر لیکن خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ تم مسلمان پانچ سال کے اندر تباہ ہو جاؤ گے۔ اگر بچنا ہے تو صراط مستقیم یعنی اصول عشرہ کی پیروی کرو۔ تو میں نے قرآن مجید سے دس اصول قائم کر کے تمہارے سامنے پیش کر دئیے ہیں، عبادات اسلامیہ فطرۃً نہیں ہیں اور نہ ہی اسلام کی بنیاد ہیں بلکہ کسی وقت وہ امتیازی نشان تھے جبکہ یہود و نصاریٰ سے ممتاز ہونے کی ضرورت تھی۔

پیشینگوئیوں کی بناء پر اپنی تعلیم کو مدار نجات سمجھا ہے اس کے علاوہ مسلمانوں کو منہ بھر کر گالیاں دی ہیں علمائے اسلام کو بدتر سے بدتر ثابت کیا ہے احادیث وفقہ پر وہ گالیاں کسی ہیں کہ غیر مسلم بھی جرأت نہیں کر سکتا۔ مشائخ اور پیروں کو بھی بری طرح گالیاں دی ہیں۔ بہرحال جتنے اس کے ہم خیال پہلے گزر چکے ہیں۔ ان سب کی طرف سے گالیوں اور بکواس کی ڈیوٹی اس نے پوری کر دی ہے اور اپنی کتاب اشارات میں اپنی اس کتاب کی تعریف کی ہے اور اپنے تابعداروں کی تعریف میں پل باندھ دیئے ہیں اور اخیر فصلوں میں بیت المال قائم کرنے کے لئے ایک سکیم پیش کی ہے کہ لاہور نئی آبادی میں ایک ہوسٹل ہے اس میں نوجوان بھرتی ہو کر کچھ عرصہ کے لئے داخل ہوں۔ ان کا خرچ ان کے اپنے ذمہ ہوگا۔ صبح غسل کے بعد بیلچے سے ڈرل ہوگی۔ پھر چار گھنٹہ کے لئے ان کو بیلچے لے کر باہر جانا ہوگا کہ اس کے ذریعہ عمارتی کاموں میں مزدوری کریں۔ جسمیں سے کچھ بیت المال میں بطور کرایہ ہوسٹل جمع ہوگا اور باقی ان کی ملکیت ہوگی اور پچھلے پہر ایک مانیٹر کے تحت شہر کے گلی کوچوں میں چکر لگا کر غریب اور یتیموں کا مفت میں کام کرنا ہوگا پانڈی مزدور کی اور نوکری مزدور کی اعانت کرنی ہوگی۔ انگریزوں کی کوٹھیوں میں فوجی سلام کر کے لید اٹھانا ہوگا اور صاحب بہادر کے گھوڑوں کے لئے گھاس لانا ہوگا اور جب ہمارے دارلخلافہ سے سند حاصل ہو جائے تو اپنے اپنے علاقہ میں اسی طرح فوج تیار کرنا ہوگا۔ تاکہ تمام مسلمان خدمت خلق اللہ میں مستغرق ہو جائیں۔ علامہ نے یہ تعلیم پھیلائی لاہور امرتسر اور پشاور میں اپنی فوج تیار کر لی اور ہزاروں کی تعداد میں بیلچہ بردار ڈرل کرتے ہوئے نظر آنے لگے اور افسروں کو اپنے ذاتی تیار کردہ نوٹوں سے تنخواہ دی جانے لگی اور کہا گیا کہ جب ہمارا بیت المال قائم ہوگا تو یہ نوٹ نقدی سے تبدیل کئے جائیں گے۔ مگر لوگوں نے جب غور کیا کہ تذکرہ کی تعلیم میں کچھ اور بتایا تھا اور اشارات میں کچھ اور رنگ بدلا ہے جس میں وہ مسلمانوں کو صرف گھسیارے بنانا چاہتا ہے۔ تاکہ ذلیل ہو کر ہمیشہ کے لئے صاحب بہادر کے خانساماں بنے رہیں یا گوبر اٹھانے کی ڈیوٹی سنبھالیں نہ ان کو کسی صنعت

صفحہ ٦٣٩

حرفت میں دخل ہو نہ علم وفضل کی راہ چلیں اور نہ تجارت اور سیاست سے آگاہ ہوں اس لئے غیر متمدن مسلمان تاڑ گئے کہ یہاں ضرور دال میں کچھ کالا کالا ہے وہ یہ ہے کہ وہ غالباً مامور من النصاریٰ ہو کر سیاسی رو کو دبانا چاہتا ہے اور مسلمانوں کے بلند ارادوں کو پست کر کے ہمیشہ کے لئے دست نگر فقیر کر دیگا اس لئے بقیہ پارٹیاں ٹوٹ گئیں سوائے ان چند پارٹیوں کے جن کو دست غیب سے تنخواہ ملتی ہے اور انجام کو نہیں سوچتے کہ علامہ صاحب اس وقت کیوں مستعفی ہو گئے ہیں اور کیوں گورنمنٹ سے جنگ زرگری شروع کر دی ہے حالانکہ یہی پہلے تذکرہ پر نوبل پرائز صرف اس لئے حاصل کر چکے تھے کہ انہوں نے تبدیل خیالات میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی اور مسلمانوں کو اسلام چھڑانے میں بڑی کوشش کی تھی اور انگریزی لباس میں جلوہ گر ہو کر نظر آتے تھے مگر اب دیسی صورت اور دیسی سیرت میں مستغرق ہیں۔ معلوم نہیں اس کے تحت میں کیا راز مضمر ہے۔ بہر حال مسلمانوں کو ایسے چھپے رستموں سے پرہیز کرنا چاہئے کہ کہیں عیسائی نہ بنا ڈالیں۔

بہت بگاڑ دیا ہے اور احادیث کا طومار بنا کر اصل تعلیم سے غافل کر دیا ہوا ہے اس لئے احادیث اور فقہ قابل عمل نہیں ہیں بلکہ یہ ستر ہزار پردے ہیں جو اسلام کے منہ پر پڑے ہوئے ہیں اس لئے یہ تمام پردے اٹھا کر اصل اسلام ٹٹولنا چاہئے کہ کہاں گیا۔ رات اندھیری تھی۔ سب مجدد ٹٹولنے لگے کسی کو عیسائی تعلیم ہاتھ لگی کہا بس یہی اسلام ہے کسی کو مغربی تمدن نے لٹو کر دیا۔ فرمانے لگے ہاں یہی اسلام ہے اور بعض کار خاص پر تھے انہوں نے توہین الاسلام والمسلمین کو ہی اسلام سمجھ لیا۔ بہر حال اپنے اپنے مطلب کا اسلام انہوں نے گھڑ لیا اور پھر وہی پہلی دقت پیش آئی۔ کہ اسلام کس کے حصہ میں ہے یا کہ سارے خالی ہیں اس لئے اگر اسلام قدیم کے علمائے اسلام پر یہ حرف آتا ہے کہ ان کو یہود و نصاریٰ نے احادیث سازی میں دھوکا دیا تھا۔ تو آج کون گارنٹی دے سکتا ہے کہ یہ مجددین عیسائیوں کا آلہ کار بن کر اسلام کو برباد نہیں کرتے؟

بہائی اور بقیہ تمام مذہب سے بیزار ہیں کیونکہ یہ بدعات ہیں اس لئے ہم کو ان سے الگ رہنا ضروری ہے۔ مگر یہ جب پوچھا جاتا ہے کہ تم ملکی حیثیت سے کون ہو؟ تو آپ صرف یہ کہہ کر جواب نہیں دیتے کہ ہم ایشیائی ہیں بلکہ ملکی تقسیم کرتے ہوئے کسی شہر سے تعلق پیدا کرتے ہیں پھر اس میں بھی کسی محلہ اور بازار یا گلی کوچہ کی تخصیص کرنی پڑتی ہے اس کے بعد خاص سکونتی مکان بتایا جاتا ہے اور باوجود ان تمام بے اندازہ خصوصیتوں کے پھر آپ کے ایشیائی یا ہندوستانی ہونے میں فرق

صفحہ ٦٤٠

نہیں آتا اور نہ ہی تمہارے صرف ہندوستانی ہونے سے یہ سمجھ آتا ہے کہ تمہاری سکونت ملک کے کسی خاص حصہ شہر محلہ اور مکان میں نہیں ہے۔ علیٰ ہٰذا القیاس اگر کوئی شخص چشتی صابری ہو تو اس کا یہ مطلب نہ ہوگا کہ وہ مسلم نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہوگا کہ اسلام کی وسعت میں اس نے اپنے خاص مسلک کو الگ کر لیا ہے اور خصوصیات مشربی پیدا کرتے کرتے صابری چشتی بن گیا ہے۔ اس لئے جو شخص ملکی خصوصیات کو بدعتوں میں شمار کرنے کی بجائے ازحد ضروری سمجھتا ہے وہ یہ بھی یقین کرے کہ مذہبی خصوصیات بھی انقلاب زمانہ سے ایسی ضروری سمجھی جاتی ہیں کہ اپنی مذہبی خاص سکونت کو اظہار کرنے میں مسلم کو دقت نہ رہے اور جس طرح قدرت نے ایشیا کے صوبے قصبے اضلاع تحصیلیں شہر کوچہ گلی اور محلہ پیدا کئے۔ اسی طرح اسلامی مذہب میں قدرت نے بھی مذہبی تقسیم پیدا کر کے سنی، شیعہ پھر تقسیم در تقسیم کرتی ہوئی مسلم ہستی کو صابری چشتی تک پہنچا کر امتیاز کلی بخشی ہے۔ پس اگر ہندوستانی کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اس کو کسی خاص آبادی یا ملک اور شہر وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وحشی خانہ بدوش آزاد منش ہے تو مسلم کہنے کا بھی یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ مذہبی دنیا میں ایک جنگلی جانور ہے جس کو اسلام کے کسی خاص قدرتی حصہ سے بھی کچھ تعلق نہیں رہا، یا یوں کہو کہ وہ اسلام سے ہی بیزار ہے۔ اس لئے بار بار مجددین عہد حاضر کا یہ کہنا بالکل غلط ہوگا کہ ہم صرف مسلم ہیں ورنہ وہ صرف ہندوستانی بن کر دکھائیں اور موجودہ تعلقات کو خیر باد کہہ کر جنگلی اور افریقہ کے بن مانس بن کر وحشیانہ زندگی بسر کریں۔

میڈیم محمد یوحنا رام

تینوں کے اجزاء کو کوٹ کر ایک مذہب جدید کی معجون مقوی تہذیب مغربی تیار کی ہے۔ اس نے اپنی شریعت کا نام کتابی صورت میں لوح کتاب پر یوں لکھا ہے۔ ٹھگ کا جنازہ۔ کرشنا کرائسٹ مصطفیٰے مذہب (ایک اوم برہم دیوتاستی ایک اونکار کرتا پرکھ۔ زبھو زرویہ۔ مسجدیں گوردوارے اور گرجے سفید پوش بدمعاشوں کے اڈے بنے ہوئے ہیں) اس کے بعد کتاب شروع ہوتی ہے جس کو ہم بہ ترتیب ابواب مختصر الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

کئے جو پختہ نہ تھے اب وہی کھاؤ جہنمی بن جاؤ گے مردہ جلانے سے تین زہریلی گیسیں (کاربن ڈائی اکسائیڈ۔ کاربن مونو اکسائڈ اور کورین گیس) تیار ہوتی ہیں جو ہوا میں ملکر انسان کو ترقی نہیں کرنے دیتیں۔ اسی سے ہندوستان میں انگریزوں کے دماغ بھی نکمے

ہو گئے ہیں۔ مردہ جلانا

برہما بشن۔ مہیش۔ روح بخارات بچھاؤ۔ قوتوں میں

ہو جائے گا اور کنیش شو بھگو شیر گاؤ شراب طہور (کام ہر کشن بھگوان کی تصویر والی

موسیٰ بھی مہتری تھے۔ بھن بیٹھیں بھنگی منشیات خون ہیں۔ کیونکہ نمک سے و کر کے بیٹی کو محروم الارث بھیک مانگنے والے کو مار ڈا

جسمانی راحت ہے۔ فا مواد فاسد نکالتا ہے۔۔ کی بادشاہت میں داخل ہوگی۔ گن، کرم اور سم فیٹ ، سلوبل واٹر اور س ہے۔ کچی زمین پر نماز مواد فاسد خارج ہوتے

صرف سکھ بنا سکتا ہے۔ تھا۔ حدیث (گورو یلا کر بیل ہے۔ اس کے بال

صفحہ ٦٤١

ہوگئے ہیں۔ مردہ جلانا بند کرو تا کہ سوراج کی پہلی قسط طلاوے۔

برہما بشن۔ مہیش۔ روح نفسانی حیوانی اور طبعی ہیں۔ آلہ تناسل پر دھار مار کر بورک ایسڈ کے بخارات بجھاؤ۔ فوطوں میں انگلی ڈال کر صاف کرو تو ہاتھی کی مانند عقل آجائے گی۔

ہو جائے گا اور کنیش شو بھگوان کا تر سول مارا جائے گا اور تم چوہے کی مانند چست و چالاک ہو جاؤ گے شیر گاؤ شراب طہور ( کام دہن ) ہے۔ گائے ہمارے ماتا نہیں۔ شو آسن اور پیر آسن التحیات ہے۔ ہر کشن بھگوان کی تصویر داڑھی مونچھ کے بغیر بناتے ہیں۔

موچی بھی مہتری تھے۔ بھنگی سرحد کی ایک بہادر قوم ہے خدا دجالوں کا خاتمہ کرے تا کہ ہم امن سے بیٹھیں بھنگ منشیات خون کا دورہ بند کر دیتی ہیں۔ لوگ نمک کھاتے ہیں۔ تو سانپ سے مرجاتے ہیں۔ کیونکہ نمک سے وٹ مائیں تباہ ہو جاتی ہے منونے کرشن سرتی کی بجائے منوسمرتی جاری کر کے بیٹی کو محروم الارث بنایا ہے۔ ورن آشرم شاردا ایکٹ کا مخالف ہے۔ حضرت علی نے ایک بھیک مانگنے والے کو مارا تھا۔

جسمانی راحت ہے۔ ناک میں پانی ڈالنا (استنشاق ) جل کریا کرم ہے۔ گدا چکر وضو ہی جو مواد فاسد نکالتا ہے۔ بچے کی پیدائش پیدا ہونے سے پہلے بیس سال ہوتی ہے۔ سرمایہ دار خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتے۔ دیویاں ست جگ پیدا کر دیں گی۔ شادی سوئمبر کی رسم ہوگی۔ گن، کرم اور سبھا کے دیوتوں کی عبادت کرو۔ وٹ مائیں تین قسم کے اوجھ (سلو بل فیٹ، سوبل واٹر اور سلوبل شوگر ) ہیں۔ پانچ نمازیں پانچ بانیاں ہیں اور جپ صاحب تہجد ہے۔ کچی زمین پر نماز پڑھنے سے جسم میں زمین کی بجلی دوڑتی ہے اور گدا، لنگ اور ناک سے مواد فاسد خارج ہوتے ہیں۔

صرف سکھ بنا سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے معجزہ دکھلانے سے انکار کیا۔ کیونکہ وہ مداری کا کھیل تھا۔ حدیث (گورو بلاس ) بہت عمدہ چیز ہے۔ خلقِ عالم سات دنوں میں ہوئی ہے۔ عورت اکاس بیل ہے۔ اس کے بال اس کی جڑ ہیں۔ راہب ٹھگ تھے جن کو عرب کے سانوریا نے ختم کر دیا۔

صفحہ ٦٤٢

بغل کے بال شو جٹا ہیں اور مقوی روح طبعی ہیں۔ زن و مرد بال نہ کٹائیں اور زیور نہ پہنیں۔ پیغمبروں کا خاندان عرب لارڈ کملی والے گردھاری کے ساتھ ختم ہو گیا ہے۔ روٹی توے پر نہ پکاؤ۔ ماش کی دال میں زیری ڈالو اور مونگ کی دال میں تیز پات، مہابیر کی غذا دلیہ ہے۔ رفع حاجت گڑ کر سواری ہے۔ ہشت انگ ڈنڈوت نماز جمعہ ہے۔ امریکہ میں خشک زمین پر تیرتے ہیں۔

ہے کہ لیڈر قید کو فخر جانتے ہیں۔ لارڈ کملی والے نے کہا کہ ماتم صرف تین دن ہے۔ کرائسٹ نے کہا تھا کہ میں بھی صرف تین دن قبر میں رہوں گا۔۔ ہندوؤں نے نفس ناطقہ کو آسمان پر جانے نہیں دیا۔ زمین بھوکی ہے۔ معلوم نہیں آنے والے عذاب کے لئے قدرت کو کیا کچھ کرنا پڑے گا۔ کرشی کسان موجود نظام کو بدل دیں۔ ہمارا مذہب ست جگ لے آئے گا۔ کرائسٹ تبت میں لامہ گوروں کے پاس رہ کر ٹینس کا کھیل لے گیا تھا۔ جو گوری قوم میں بلا تبدیلی ہے۔ زو پر سکھوں کو حکم تھا۔ مگر انہوں نے جھٹکا شروع کر دیا۔ لارڈ کملی والے نے کہا تھا کہ مسجد حرام کے پاس شکار حرام ہے۔ خدا جب ہر جگہ ہے تو مسجد حرام بھی ہر جگہ ہوئی۔ مگر مسلمانوں نے عرب کی مسجد کو حرام (عزت والا) بنایا اور باقی مسجدوں کو بوچڑ خانہ۔ سرتاج رشی نے فرمایا تھا کہ اے محمد خدا کی عبادت اور اپنے نفس کی قربانی کر۔ کیونکہ یہی بے نسل دشمن ہے۔ تو لارڈ کملی والا جانوروں سے اتنا پیار کرتا تھا کہ حسنین کے پاس اک ہرنی اپنے بچے کھیلنے کو چھوڑ جاتی تھی۔ مولا دھارا چکر میں صحت ہے۔ شو اور پارپتی عزرائیل اور جبرائیل ہیں۔ جن کی پوجا سے صحت حاصل ہوتی ہے۔ ٹینس راون کے دس سر ظاہر کرتا ہے۔ گدھے کا سر ظاہر کرتا ہے کہ جب دماغ روشن نہ ہو تو انسان گدھا ہے۔ گردش کواکب سے مراد ٹانگوں کے تین چکر اور جسم کے چار چکر ہیں۔ ان کے رنگ بھی سات ہی ہیں اور یہی چودہ طبق ہیں۔ پہلی سروس روح حیوانی کی ہے۔ پانچ اندر یا پانچ چکر ہیں۔ ٹخنہ، گھٹنہ اور موضع انگشت پا بوقت التحیات دوسری سروس روح طبعی کی ہے اور تیسری روح نفسانی کی۔

مونڈھوں سے گھٹنوں تک پہنو اور یہی برقعہ ہے۔ جو پھل پک کر خود نہ گرے وہ من سلویٰ نہیں۔ تم بھی پھول ہو۔ مگر تم کو پکنا نہیں آتا۔ تم بہار حسن میں خزاں نہ آنے دو۔ دو ہم جنس پول ایک دوسرے کو پھینک دیتے ہیں اور متضاد پول کھینچتے ہیں۔ زن و مرد بھی متضاد پول ہیں۔ ایک پول میں شراب طہور اور کوثر کی کرنٹ ہے۔ دوسرے میں گاؤ کا دودھ اور سرستی کا پھوارہ ہے۔ کرشن، کرائسٹ اور محمد ایک ہیں۔ جیسے واٹر میلن تربوز اور ہندوانہ ایک ہیں۔ شو بھگوان بائیں کا مالک

صفحہ ٦٤٣

ہے۔ بھارت کے ممبرو، معابد کو مالگدام کا کمرہ بناؤ۔ مساوات اور حریت کی حوریں آئیں گی تو ست جگ آ جائے گا۔ رامائن اور مہا بھارت صرف دو ناول ہیں۔ سکندر نامہ اور شاہنامہ بھی ناول ہی ہیں۔ یہ جھوٹ ہے کہ راون کے ایک لاکھ پوت تھے اور سوا لاکھ ناتی، دروپدی سات بھائیوں کی ناری تھی۔

اس کا کپڑا لے کر اس کا باپ نماز پڑھتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے پاس ایک دن وہ دیر سے آیا تو آپ نے کچھ تحفے اور ایک اونٹ کھجور سے لاد کر بھیج دیا۔ مگر ہماری بہن نے واپس کر دیا کہ ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ایسی دیویوں نے اسلام یورپ تک پہنچایا تھا۔ وقت کی پابندی آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے۔ پراٹک فلاٹنی میں نصف چکر کی بجلی ہے جو زمین سے لے جاتی ہے۔ عمرؓ نے اسی کو استعمال کر کے تین سو میل تک پہنچایا تھا کہ پہاڑ کی آڑ لو۔ محبت کا دیوتا خدا ہے۔ شملہ میں مساوات ہے کہ ریت کی رقم (حق مہر) لے کر محبت کی دیوی شادی کراتی ہے۔ چاہتی ہے تو نال ورتن (طلاق) دے کر دوسرے سے ملتی ہے۔ شملہ میں سر پر رومال باندھتی ہیں اور یورپ میں ٹوپی۔ چوغہ دونوں کا ایک ہے۔ تم کھدر کی ہیٹ مصطفائی استعمال کرو۔ پاؤں گرم رکھو، محبت کا دیوتا چوتھے آسمان پر ہے۔ جس پر لہو کی لالی ہے۔ آنکھ متوالی، ناگن لٹک رہے ہیں، کمر پتلی، صراحی دار گردن، لکڑی کی کنگھی مقوی شعر، انگلیاں پستان محفوظ رکھتا ہے۔

سائنس کا پروفیسر تھا۔ وہ بنارس کو چھوڑ کر عربستان میں جا بسا۔ اس کے بیٹے کا پوتا محمد ایک بڑا بھاری جوگی ہوا ہے۔ خدا نے اس کو پیغمبر آخرالزمان کا خطاب دیا۔ اس نے عربی میں قرآن لکھ کر کرشن سمرتی کو ترمیم کر کے محمد سمرتی بنائی۔ چاند کا نشان چندر بنسیوں کا ہے اور ہم نے محمد سمرتی کو ترمیم کر کے مساوات حریت اور انسانیت پر قائم کر دیا ہے۔ چونکہ شکنتلا کو انگوٹھی کھونے پر تکلیف ہوئی تھی۔ اس لئے ہم نے حق مہر قائم کر دیا ہے۔ دو گواہ ضروری ہیں تاکہ اگر شادی کی انگوٹھی گم ہو جائے تو وہ گواہی دے سکیں۔ (سین) آنحضرت ﷺ بیٹھے ہوئے ہیں۔ یوگی اور پیغمبر پاس ہیں جن میں کرائسٹ اور نانک بھی ہیں۔ حورو غلماں سریلی آواز سے اس دنیا کے جلنے کی پرارتھنا کر رہے ہیں۔ گنیش جی (ہاتھی دیوتا) سرستی دیوی (حوروں کی سرتاج) معہ اپنی بہن لکشمی کے ست جگ کے پاس دائیں طرف ہیں۔ مگر ست جگ جی مہاراج دونوں بہنوں سے پوچھ رہے ہیں کہ تم نے کل جگ کو کیوں آنے دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ہم شرافت کی چال چل کر پھنس گئی ہیں۔ لوگوں نے حوروں کو

صفحہ ٦٤٤

زندہ جلایا اور برقعہ اور ستر کی آگ میں راکھ کر دیا۔ کلجگ کے سنتوں نے سنت محمدی کی خبر تک نہیں لینے دی۔ چین میں پاؤں چھوٹے کرا دیئے۔ منو نے عورتوں کے حق تلف کئے۔ جب تک گاؤ پرستی، برہمن پرستی اور مردہ جلانے کی رسم ہے۔ کیونکر امن اور صلح کے فرشتے ہندوستان میں نہیں آ سکتے۔ صنعت و حرفت کا عروج غربا کے لئے چیزیں مہنگی کرتا ہے۔ اس لئے جھونپڑی میں رہو اور جھونپڑی ہی میں دستکاری کرو۔

١١....... آنے والی جنگ سے پہلے ہمارے مذہب میں داخل ہو کر امن پاؤ۔ جانور وقت مقررہ پر جوڑہ سے ملتا ہے۔ اپنی خوراک کے سوا دوسری نہیں کھاتا۔ مگر تم کیوں بہت نکاح کرتے ہو۔ جانور تین قسم کے ہیں۔ دو پائے، چار پائے اور بے پائے۔ کرائسٹ نے صرف مچھلی سے معجزے دکھائے۔ عیسائیوں نے سارے جانور کھائے۔ سکھوں نے جھٹکا کر لیا۔ مسلمان حلال کا لفظ لے کر جانور کھانے لگے۔ ہمارے نزدیک صرف پانی کا شکار جائز ہے۔ کیونکہ مقوی دماغ ہے۔ یہ جل توری ہے۔ خشکی کے جانوروں کا گوشت اندرونی دیوتاؤں کو خشک کر دیتا ہے اور وحشی بنا دیتا ہے۔ نشہ سے نباتات بھی بیہوش ہو جاتی ہیں۔ آنحضرت ﷺ صراط مستقیم بتاتے آئے تھے۔ مگر ابراہیمی مولویوں نے خبر نہ لی۔ آخر گوروؤں کے خاندان کو بتانا پڑا۔ جنہوں نے کہ بادہ سبز رنگ کی تعریف کی تھی کہ مارا بوقت جنگ بکار آید سکھوں نے اسے بھنگ سمجھا۔ نشہ والے کی شفاعت نہ ہو گی۔ بائیں ہاتھ سے گنیش کریا آسان ہے۔ جس میں انگلیاں ڈال کر پاخانہ نکال لیا جاتا ہے۔ انیما بھی کچھ نہیں۔ سٹز باتھ سے ڈرائی سٹز باتھ اور ڈرائی فرکشن اچھے ہیں کہ ایک چھٹانک کی پچکاری لے کر قولن میں داخل کر کے قولن صاف کرو۔ کرشن بھگوان کے وقت اس کو ایک چھٹانک کی بستی کہتے تھے۔ اس سے دل و دماغ صاف ہوتے ہیں۔ لوئی کوہنی کا علاج مسلمان نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مختون ہیں اس لئے سنت محمد ہی بہتر ہے۔ قرآن میں ہے کہ سور اور مردہ جانور اور جو جانور غیر کے نام پر ذبح ہو حرام ہیں۔ گرو کے خاندان نے قبر پرستی کو معدوم کر دیا ہے۔ مچھلی کے سوا کوئی جانور نہ کھاؤ۔ پانی کی مردہ مچھلی بھی نہ کھاؤ۔

١٢....... قوت رجولیت دماغ میں ہے۔ خدا میں بھی یہی طاقت ہے۔ تب ہی تو وہ تھکتا نہیں۔ دماغ اکال پرکھ کا ہیڈ آفس ہے۔ دجالوں نے اپنے کملی والے کو قلم دوات نہ دی تو اس نے کہا چلے جاؤ۔ اکال پرکھ کے پیغام سنانے والا وحی کے حکم سے کہتا ہے۔ یہی وشنو بھگوان کی مہما ہے اور یہی جبریل ہے۔ اے میری بھولی بھالی بہنو جو کچھ مجھے ملا ہے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا ہے۔ جو قبر پرستی سے پیٹ پالتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ اب محنت سے پیٹ پالنا ہوگا۔ چودہ سو

سال تک تمہارا بڑا لحاظ کیا ہے۔ اب ہے۔ بدھ اچھا تھا مگر بعد میں بدمو ہے اور یہاں لڑتے ہیں۔ مگر یہ وا شادی ہو گی تو خود بخود محبت ہو جا۔ شو کے ہمراہ رہتی تھیں۔ جب شوجہ

١٣....... شوبنتا کی نہ آئے گی۔ یورپ میں نرناری ای دیکھا گیا تو ٢٣ ہزار حصے نظر آئے داخل ہوں۔ گنیش کی پوجا اس لئے بھی کنول کے نیچے دکھائی دے گا ہے اور عقل قائم ہوتی ہے۔ کرشن ہم حیران ہیں اس وقت تو گن کر نے یہ سارے راز کھول دیئے ہیں بچی ، انجکشن سے بدن کی طاقت

١٤....... کوئی آنحضرت ﷺ نے وعظ کے ۔ روزہ سے خدا خوش نہیں ہوتا۔ شیطان بھی بناتا ہے۔ مگر اس بی نے بھیجا ہے۔ اس لئے اس کا ق پجاریوں کو مسلمان بنا کر گوشہ گوشت جائز ہوتا ہے۔ جب کب مولویوں، پنڈتوں اور پا آئے گا۔ ہمارے مذہب کا و سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔

١٥....... بیمار تو اپنے اخراجات کم کر دو۔ مر

صفحہ ٦٤٥

سال تک تمہارا لحاظ کیا ہے۔ اب ہم کو ”اینما تولوا فثم وجہ اللہ“ کی فلاسفی سمجھ آگئی ہے۔ بدھ اچھا تھا مگر بعد میں بدمعاشوں نے بت پرستی شروع کرا دی۔ یورپ کا بچہ بچہ محبت کرتا ہے اور یہاں لڑتے ہیں۔ مگر یہ والدین کا قصور ہے کہ سوئمبر کی عمر میں شادی نہیں کرتے۔ ایسی شادی ہوگی تو خود بخود محبت ہو جائے گی۔ شولنگ جسم کا اعلیٰ جزو ہے۔ کیونکہ لکشمی اور سورستی دیوی شو کے ہمراہ رہتی تھیں۔ جب شولنگ نہ ہو تو حوریں بھی دنیا میں نہیں مل سکتیں۔

١٣...... شولنگ کی تصویر سکول میں لٹکاتے تھے کہ عبادت کرنے سے غم کی گنگا پاس نہ آئے گی۔ یورپ میں زناری ایسا ہی کرتے ہیں۔ روس کے نجات دہندہ لینن کا دماغ برلن میں دیکھا گیا تو ٢٣ ہزار حصے نظر آئے۔ اگر وہ رگ بید کی باتیں سیکھنا چاہیں تو ہمارے مذہب میں داخل ہوں۔ گنیش کی پوجا اس لئے زبردست ہے کہ جس سمندر میں گنیش سونڈ نکالے گا وہیں سورستی بھی کنول کے نیچے دکھائی دے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گنیش کریا کرم سے کولن صاف ہو جاتی ہے اور عقل قائم ہوتی ہے۔ کرشن کو دکھاتے ہیں کہ عورت کے کپڑے لے کر درخت پر چڑھ گیا تھا۔ ہم حیران ہیں اس وقت تو نیچر اور سبھاؤ کی پوجا تھی۔ انسان پرستی کہاں سے آگئی۔ اب عورتوں نے یہ سارے راز کھول دیئے ہیں۔ بیضہ رحم کو دائیں طرف لگایا جائے تو بچہ پیدا ہوگا۔ بائیں ہو تو بچی، انجیکشن سے بدن کی طاقت ماری جاتی ہے۔ لمبے بال بوجھ بڑھاتے ہیں۔

١٤...... کوئی شکار نہ مارو۔ کیونکہ قرآن میں اس کا تاوان لکھا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے وعظ کے لئے حج جاری کیا تھا۔ مگر اب ریل آگئی ہے اس لئے حج نہ کرو۔ روزہ سے خدا خوش نہیں ہوتا۔ زکوٰۃ ٹیکس میں ادا ہو جاتی ہے۔ مولویوں نے نواب بنائے ہیں۔ شیطان بھی بناتا ہے۔ مگر اس میں طاقت ہی کیا ہے جو حکومت برطانیہ کو ہماری اصلاح کے لئے خدا نے بھیجا ہے۔ اس لئے اس کا فرض ہے کہ ہمیں حکومت خوداختیار دے دے۔ اوّل مسلمان آئے تو پوجاریوں کو مسلمان بنا کر گوشت کھلانا شروع کر دیا۔ مگر ان کو قرآن نظر نہ آیا کہ بوقت ضرورت گوشت جائز ہوتا ہے۔ جب کہ اس کے سوا جان نہ بچے، سرمد اور منصور کی روح پوچھتی ہے کہ تم کب مولویوں، پنڈتوں اور پادریوں کا خاتمہ کرو گے۔ جب تک یہ دجال ہیں صراط مستقیم نظر نہیں آئے گا۔ ہمارے مذہب کا پیرو ہی سچا مسلمان اور کالی کملی والے کا تابعدار ہے۔ استری ہٹ کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ جب سوئمبر کی رسم جاری ہو گی تو انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگے گا۔

١٥...... یہاں کی کنواریوں کو کھیلنے نہیں دیتے تو عمل کیسے ہوں۔ دولت مند بننا ہے تو اپنے اخراجات کم کر دو۔ مسٹر گلیڈ سٹون درجہ سوم میں سفر کرتا تھا۔ ہون میں خوشبو اور گھی جلایا جاتا

صفحہ ٦٤٦

ہے ۔ جس سے پلاسم کے جرمز طاقت پکڑتے ہیں ۔ مگر مردہ جلانے سے مردہ دلی پھیلتی ہے ۔ جس کا تدارک ہو ہی نہیں سکتا اور نباتی گھی نے خون کو اور بھی کمزور کر دیا ہے ۔ ہندوستانی انگریزی حروف لیں تا کہ اتحاد ہو اگر مردہ کی ہڈیوں کی کھاد بنتی تو معلوم نہیں کس کس قسم کی نباتات پیدا ہوتی ۔ مگر وہ تو سب گنگا کے سپرد ہوتی ہیں ۔ غسل اور وضو سے گندے مواد نکل جاتے ہیں ۔ پانی کی نسوار بھی مفید ہے ۔ گردن کا مسح بھی مفید ہے ۔ اب حوروں کے پیچھے اٹھو تب نجات ہوگی اور یہی راستہ صاف کر دیں گی ۔ چنانچہ مصطفی کمال پاشا نے نجات پائی ۔ امان اللہ بھی نجات پاتا ، اگر مولوی نہ ہوتے ۔”انتھی ما قالته نبية امرتسر“

٥٤...... تنقید

اس عورت نے تمام وہ مقاصد بیان کر دیئے ہیں کہ جن کی طرف آج کل مجددین وقت قدم بڑھاتے ہوئے اسلام کا انکار کرتے رہتے ہیں ۔ کیونکہ اس نے تحریف کلام الہی میں وہ کام کیا ہے جو اس سے پہلے کسی محرف کو نہیں سوجھا اور اسلام چھوڑنے میں وہ جرات دکھائی ہے جو نہ امام حقیقی دکھا سکا ہے نہ کوئی کمترین اور نہ بہائی کا کوئی گرو یا ان کا مرید مرزائی ۔ مگر اس تعلیم کے دو مقام زیر بحث ہیں ۔

جائز سمجھتا ہے ۔ مگر انہوں نے یہ خیال نہیں کیا کہ اسلام ان کے لئے بھی ہے کہ جن میں رجولیت کی طاقت مافوق الاعتدال ہوتی ہے ۔ عرب میں جائیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بیوی کے سوا ان کا گزارہ مشکل ہوتا ہے ۔ طبعی نکتہ نگاہ سے بھی تعدد ازواج ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب جوان آدمی ایک دفعہ فراغت پالے تو مدت حمل تک وہ مل نہیں سکتا ۔ پھر بچہ پیدا ہوا تو والدہ کا دودھ چونکہ از بس ضروری ہے ۔ اس لئے ڈیڑھ دو سال تک اور بھی اسے جواب مل گیا ۔ ورنہ خلاف ورزی کی صورت میں نہ بیوی تندرست رہ سکتی ہے اور نہ بچہ صحت سے اپنی عمر حاصل کر سکتا ہے ۔ انہی غلطیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہی بچے بیمار ہو جاتے ہیں اور بہانہ بن جاتا ہے کہ لو جی پچھلے جنم میں اس نے گناہ کمائے تھے ۔ یہ معلوم نہیں کہ اس کے والدین اس سے دشمنی کرتے رہتے ہیں ۔ اب بتاؤ اس اصول کے مطابق جوان آدمی تین سال تک کیا کرے ۔ جلق بالعمیرہ کرے تو جان جاتی ہے ۔ رنڈی بازی کرے تو تباہی کا سامنا ہے ۔ بند رہے تو دماغ خراب ہو جاتا ہے اور جسم میں امتلا کی وجہ سے بیمار ہو جاتا ہے ۔ اس لئے حسب مقدور اس کو اجازت ہے کہ دوسری بیوی حاصل کرے ۔ اس پر بھی اگر گزارہ نہیں ہو سکتا تو تیسری اور چوتھی بھی کرے ۔ مگر زیادہ نہیں کیونکہ چار انتہاء ہے ۔ اس

سے زیادہ انسان نہیں بڑھ سکتا ۔ اب کمزور واقع ہوئے ہیں کہ ایک دفعہ س خلاف وضع فطرت انسانی اور رنڈی باز غور نہیں کیا اور یا وہ تمام دنیا کو اپنے جیسا

اس عورت نے خوب عقلی طور پر مقابلہ اس عورت نے ان کو چاروں شانے چ پھیل کر زمین تنگ کر دیں گے تو یہ قبرستان پھر استعمال کئے جا رہے ہی لکڑی تیل پر بھی بہت خرچ ہوتا ہے کے سپرد کر دیا کریں یا جنگل میں چھوڑ ا خود قیمہ بنا کر کھا لیا کریں تا کہ آبا و ام گنگا کی مچھلیوں کو مردوں سے کیوں نوا اور مردوں کے بال بچے محروم رہیں ۔

٥٥...... امام الدین

ہم ذیل میں استاد امام مقابلہ میں اپنے دیوان کا نام ”بانگ میونسپلٹی کے ملازم ہیں ۔ ہم پیشہ اصحا اجلاس کامل میں یہ ڈگریاں دے رک یعنی اور لاثانی ڈگری یافتہ ) ایم ۔ ا ناواقف ہیں اور قادیانی علوم ادب پیرو مرشد مسیح قادیانی پنجاب میں غلط کار گذار میونسپلٹی گجرات پنجاب میں کسی کو گالیاں دینے لگ جاتے بگھارتے ہیں ۔ غرضیکہ ان کا دیوا لطف آتا ہے اسی قدر اس بانگ دا

صفحہ ٦٤٧

سے زیادہ انسان نہیں بڑھ سکتا۔ اب جو لوگ صرف ایک ہی نکاح کے خواہاں ہیں وہ یا تو خود ہی کمزور واقع ہوئے ہیں کہ ایک دفعہ کے بعد کو ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ یا ان کے ہاں استعمال خلاف وضع فطرت انسانی اور رنڈی بازی یا اغلام وغیرہ حرام نہیں یا انہوں نے طبی خیال سے اس پر غور نہیں کیا اور یا وہ تمام دنیا کو اپنے جیسا ہی کمزور خیال کرتے ہیں۔

دوم ...... ”مردہ جلانا“ کمترین اور امام حقیقی کی رائے ہے کہ مردہ جلایا جائے۔ لیکن اس عورت نے خوب عقلی طور پر مقابلہ کر دکھایا ہے۔ اس لئے جلانے کی حمایت والے سمجھ لیں کہ اس عورت نے ان کو چاروں شانے چت گرا دیا ہے۔ کیونکہ اگر یہ خیال ہے کہ مردوں سے قبرستان پھیل کر زمین تنگ کر دیں گے تو یہ خیالی بات واقع کے خلاف ہے۔ دنیا دیکھتی ہے کہ پرانے قبرستان پھر استعمال کئے جا رہے ہیں اور کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ اگر اخراجات کا خیال ہے تو لکڑی تیل پر بھی بہت خرچ ہوتا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ یہ لوگ دو پیسے کا دہی مل کر مردہ کو کتوں کے سپرد کر دیا کریں یا جنگل میں چھوڑ کر چلے آیا کریں تاکہ جنگلی درند پرند کھا کر ان کو دعائیں دیں یا خود قیمہ بنا کر کھا لیا کریں تاکہ آبا واجداد کا اثر جسم میں باقی رہے۔ بہرحال یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ گنگا کی مچھلیوں کو مردوں سے کیوں نوازا جاتا ہے کہ وہ تو کچا گوشت کھائیں، یا ہڈیوں کا رس چوسیں اور مردوں کے بال بچے محروم رہیں۔

٥٥...... امام الدین

ہم ذیل میں استاذ امام الدین مرزائی کی نظم لکھتے ہیں۔ جس نے علامہ اقبال کے مقابلہ میں اپنے دیوان کا نام ”بانگ دہل بمقابلہ بانگ درا“ رکھا ہے۔ آپ گجرات شہر پنجاب میں میونسپلٹی کے ملازم ہیں۔ ہم پیشہ اصحاب کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہی ان کو اپنے ایک اجلاس کامل میں یہ ڈگریاں دے رکھی ہیں۔ بی۔ اے (بانی اور موجد ادب ) ایل۔ ایل۔ ڈی (للہ یعنی اور لاثانی ڈگری یافتہ ) ایم۔ اے ( موجد علم ادب ) مطلب یہ ہے کہ وہ ملکی علم ادب سے ناواقف ہیں اور قادیانی علوم ادبیہ میں بڑے مشاق ثابت ہوئے ہیں اور جس طرح ان کا پیرو مرشد مسیح قادیانی پنجاب نما غلط سلط اردو لکھتا تھا۔ اسی کا بروز آپ بھی ہیں۔ بقول شخصے معمولی کارگزار میونسپلٹی گجرات پنجاب میں مگر ظریف کانگرس نے ان کو ایسا آسمان پر چڑھایا ہے کہ کبھی کسی کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ کبھی کسی شاعر کا مقابلہ کرتے ہیں اور کبھی اپنی شیخیاں بگھارتے ہیں۔ غرضیکہ ان کا دیوان بانگ درا سے حجم میں کم نہیں۔ مگر جس طرح بانگ درا سے لطف آتا ہے اسی قدر اس بانگ دہل کے مطالعہ سے تفریح طبع کا سامان پیدا ہوتا ہے۔ ناظرین کی

صفحہ ٦٤٨

تفریح طبع کے لئے ہم یہاں پر ان کی وہ نظم درج کرتے ہیں جس میں وہ اپنے مشرب کے مطابق کسی وقت رسول رہ چکے ہیں۔ مگر وہ دوسری جون میں کلارک کا جنم لئے ہوئے ہیں۔ اس لئے جو شخص ان کو نبی یا رسول نہیں مانتا اسے ڈانٹ دکھلاتے ہیں اور پھر ہمہ اوست کا دورہ پڑتا ہے تو صدیق دیندار اور امام حقیقی کی طرح اپنا وجود ہر ایک چیز میں دکھاتے ہیں۔ نظم پڑھتے ہی بے ساختہ ہنسی آجاتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے چارلی چپلن اور ہیرولڈ لائڈ ومسٹر کیٹن ظریفوں کے نبی ہیں۔ ورنہ کوئی سلیم الطبع انسان ان کو صحیح الدماغ بھی تسلیم نہیں کر سکتا۔

نظم

عالم نہیں رہا کہ میں فاضل نہیں رہا دانا نہیں رہا کہ میں عاقل نہیں رہا
تاجر نہیں رہا کہ میں شاغل نہیں رہا جدا نہیں رہا کہ میں واصل نہیں رہا
تو نگر نہیں رہا کہ میں سائل نہیں رہا محقق نہیں رہا کہ میں ناقل نہیں رہا
مجنوں نہیں رہا کہ میں لیلیٰ نہیں رہا ناقہ نہیں رہا کہ میں محمل نہیں رہا
ہرقِل نہیں رہا کہ میں ہیکل نہیں رہا ہے شکر کی جگہ کہ میں بزدل نہیں رہا
کاغذ نہیں رہا کہ میں پنسل نہیں رہا حاکم نہیں رہا کہ میں عامل نہیں رہا
بیرسٹر نہیں رہا کہ میں موکل نہیں رہا منصف نہیں رہا کہ میں عادل نہیں رہا
ڈپٹی نہیں رہا کہ میں جنرل نہیں رہا عہدہ وہ کون سا ہے جو حاصل نہیں رہا
بی اے نہیں رہا میں ایل ایل نہیں رہا ممبر نہیں رہا کہ میں کونسل نہیں رہا
جرنل نہیں رہا کہ میں کرنل نہیں رہا تمغہ نہیں رہا کہ میں میڈل نہیں رہا
مقتل نہیں رہا کہ میں قاتل نہیں رہا زخمی نہیں رہا کہ میں بسمل نہیں رہا
متنزل نہیں رہا کہ معطل نہیں رہا عرصہ ملازمت میں مسلسل نہیں رہا
ارسطو نہیں رہا کہ میں اجمل نہیں رہا دارو نہیں رہا کہ میں درمل نہیں رہا
کیوڑہ نہیں رہا کہ میں صندل نہیں رہا روغن نہیں رہا کہ میں پھلیل نہیں رہا
زیرہ نہیں رہا کہ میں فلفل نہیں رہا گودہ نہیں رہا کہ میں نریل نہیں رہا
واٹر نہیں رہا کہ میں بوتل نہیں رہا وسکی نہیں رہا کہ میں لیبل نہیں رہا
انجن نہیں رہا کہ میں آئل نہیں رہا خشکی نہیں رہا کہ میں جل تھل نہیں رہا
پن گھٹ نہیں رہا کہ میں ہل جل نہیں رہا سمندر نہیں رہا کہ میں ساحل نہیں رہا
صفحہ ٦٤٩
بجلی نہیں رہا کہ میں بادل نہیں رہا صادق نہیں رہا کہ میں باطل نہیں رہا
پیمبر نہیں رہا کہ میں مرسل نہیں رہا نمازی نہیں رہا کہ نوافل نہیں رہا
پڑھتا نہیں رہا کہ میں غافل نہیں رہا قرآن نہیں رہا کہ حمائل نہیں رہا
کتب نہیں رہا کہ رسائل نہیں رہا میداں نہیں رہا کہ میں دنگل نہیں رہا
گرتا نہیں رہا کہ میں سنبھل نہیں رہا قصیدہ نہیں رہا کہ میں غزل نہیں رہا
امام دین نہیں رہا کہ میں فضل نہیں رہا

......٥٦

ناظرین آپ دیکھیں گے کہ اس نظم میں کئی لفظوں کا ستیاناس کیا ہوا ہے اور عروضی اصول کو پامال کیا گیا ہے۔ مگر چونکہ استاذ امام الدین بروز مرزا ہیں۔ اس لئے ان کے لئے تشدید لفظ پر تشدد کرنا جائز ہے اور قطع وبرید سے اپنی قطع وبرید کا نشان دیا ہے۔ اس لئے اگر وہ صحیح اور صاف شستہ اردو لکھیں تو ان کو مرزائیت سے خارج ہونے کا اندیشہ ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو مرزائی اس وقت نبی ہیں یا دوسرے مجدد جو اس وقت وحی پارہے ہیں۔ ان کا فرض اولین ہے کہ وہ امام الدین کی بیعت کریں۔ خاکسار اور کمترین بھی اس سے فیض اٹھائیں۔ کیونکہ وہ نبوت بازی اور تشیخ بازی کے تمام کھیل کھیل چکا ہے۔ اس لئے ان کا فرض ہے کہ اس سے پوچھ کر مذہب جاری کریں۔ کیونکہ تجربہ کار غلطی نہیں کرتا۔ مشہور ہے کہ : ”سل المجرب ولا تسال الحکیم“ فلاسفر سے مشورہ نہ لو۔ لینا ہے تو کسی تجربہ کار سے لو۔ آیئے ہم آپ کو ایک گذشتہ امام الزمان کے کارہائے نمایاں سناتے ہیں کہ جس نے اسلامی حکومت کے چھکے چھڑا دیئے تھے اور جس کی امامت پورے اڑھائی سو سال تک چلتی رہی تھی۔ بہائی اور مرزائی مذہب کی مدت العمر ابھی اتنی لمبی نہیں ہوئی۔ اس لئے ابھی یہ امر مشتبہ ہے کہ آیا وہ سچے ہیں یا مرزائی۔ کیونکہ جس طرح آیت تقول سے معیار صداقت ٢٣ سال پیدا کیا گیا ہے۔ اسی طرح معیار بطالت ذیل کے سانحہ جانگزا سے اڑھائی سو سال تک قائم کیا جا سکتا ہے۔

٢٩...... حسن بن صباح اور اس کا سبق آموز

و بر سنت قادیان مصنوعی بہشت.

صفحہ ٦٥٠

الدین پانچویں صدی کے آغاز میں سرزمین فارس میں مرکز علم تھے۔ آپ کے شاگردوں میں سے تین نامور ہوئے ہیں۔ اوّل حسن بن صباح، دوم نظام الملک، سوم عمر خیام۔ عمر خیام فلاسفر شاعر اور مہندس ہوا۔ جس کی یادگار میں آج یورپ کی ایک کلب ”عمر خیام کلب“ کے نام سے موسوم ہے۔ نظام الملک کا نام حسن تھا۔ اس نے دربار سلجوقی میں نظام الملک طوسی کا خطاب پایا تھا۔ اس کا قول تھا کہ حسن بن صباح ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کے لئے فتنہ ثابت ہوگا۔ ان تینوں نے ایام طالب علمی میں باہم عہد کیا تھا کہ تحصیل علم کے بعد جو بھی برسر روزگار ہو۔ دوسرے کی امداد کرے۔ ان دنوں فرامش خانہ مذہب اسماعیلی کے پیروؤں نے شہر قیروان افریقہ میں قائم کیا ہوا تھا۔ گو اس کی بنیاد حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد سلطنت سے بیان کی جاتی ہے۔ مگر اس کا اجرا خلفائے فاطمیین کے ماتحت مصر میں شروع ہوا تھا۔ جب دارالخلافہ قاہرہ میں تبدیل ہوا تو فرامش خانہ بھی وہیں قائم کیا گیا۔ اس میں پہلے سات تعلیمیں تھیں۔ مگر اب دو اور بڑھا کر نو تعلیمیں کر دی گئیں۔ پہلی تعلیم یہ تھی کہ اگر اسلام کے متعلق وساوس پیدا کئے جائیں اور اپنے مذہب کی اشاعت کے متعلق جو دشواریاں پیش آئیں ان کو حسب ہدایت دور کیا جائے۔ دوسری تعلیم یہ تھی کہ امام الزمان اس وقت کون ہے؟ تیسری تعلیم میں عقائد اسماعیلیہ بتائے جاتے تھے۔ مثلاً یہ کہ امام صرف سات تھے۔ جن میں سے افضل امام اسماعیل بن جعفر صادق تھے۔ چوتھی تعلیم یہ تھی کہ آج تک صرف سات نبی صاحب شریعت ہوئے ہیں جو اپنی نبوت کا اظہار کرتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک خاموش نبی ہوتا تھا جو ان کی تائید و تصدیق کے لئے کمر بستہ رہتا تھا۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ حضرت شیث علیہ السلام تھے۔ نوح علیہ السلام کے ساتھ سام علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اسماعیل بن ابراہیم علیہ السلام۔ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام۔ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ شمعون (پطرس) اور محمدﷺ کے ساتھ حضرت علیؓ اور اسماعیل بن جعفر کے ساتھ محمد بن اسماعیل بن جعفر الصادق۔ پانچویں تعلیم یہ تھی کہ ہر ایک نبی کے لئے بارہ داعی اور نقیب ہوتے ہیں۔ جن میں سے ایک داعی الدعاة (مبلغین کا افسر) ہوتا ہے۔ گو یہ بارہ فضیلت میں ان سے کم ہیں۔ مگر ان کی اطاعت سخت ضروری ہے۔ چھٹی تعلیم یہ تھی کہ شریعت ہمیشہ فلسفہ کے تابع ہوتی ہے۔ ساتویں تعلیم میں علم جعفر سکھایا جاتا تھا۔ جس میں حروف کی تاثیر اور اشارات اور باہمی طریق مکالمہ سکھایا جاتا تھا۔ آٹھویں میں انسانی حرکات و سکنات کا علم سکھایا جاتا تھا اور علم قیافہ سے بات معلوم کرنے کا طریق معلوم کرایا جاتا تھا اور علم جفر و قیافہ کو علم انبیاء میں بنیادی اصول بتایا جاتا تھا کہ انہی کے ذریعہ سے وہ نبوت کرتے تھے۔ نویں تعلیم میں یہ تھا کہ کسی پر

صفحہ ٦٥١

یقین نہ کرو۔ جرات سے کام لو۔ بہرحال ان نقیبوں اور داعیوں نے مصر میں ایک بڑا لاج (فرامش خانہ) قائم کیا ہوا تھا اور کئی ایک اس میں تعلیم پا کر چپکے چپکے حکومت عباسیہ کے خلاف اپنے امام بنی اسماعیل کا حق خلافت ذہن نشین کر رہے تھے۔ حسن بن صباح بھی ان ہی ایام میں یعنی چوتھی صدی کے ابتداء میں پیدا ہو چکا تھا اور مضافات خراسان میں شہر طوس اس کی جائے پیدائش تھی۔ باپ غریب آدمی شیعہ مذہب تھا اور صباح حمیری عربی النسل کی طرف خود بھی منسوب تھا اور اپنے بیٹے حسن کو بھی منسوب کیا تھا۔

مذہبی کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ بقول شخصے والد اہل سنت تھا اور استاد امام موفق الدین بھی اہل سنت ہی تھے۔ مگر یہ شیعہ ہی رہا اور جب روزگار کی تلاش میں نکلا تو اپنے کلاس فیلو حسن نظام الملک کو وزیر سلطنت پایا تو اس کے پاس جا کر وہ بھی وزیر بن گیا اور دل میں ٹھان لیا کہ اپنے محسن کو وزارت سے برطرف کرا دے گا۔ اتفاقاً ایک روز سلطان ملک شاہ (شاہ روم و مصر و خراسان) نے نظام الملک کو حکم دیا کہ تمام ملک کی مردم شماری معہ آمد و خرچ کے تیار کرے تو اس نے کہا کہ کم از کم دو سال میں تیار ہوگی۔ حسن بن صباح حسد کے مارے آگے بڑھ کر کہنے لگا کہ میں صرف چالیس یوم میں تیار کر سکتا ہوں۔ مگر جب اس نے رپورٹ تیار کی اور سلطان نے تفصیلات پوچھیں تو لاجواب ہو گیا تو اسی وقت حسن نظام الملک نے آگے بڑھ کر عرض کیا کہ میں نے اسی وجہ سے دو سال طلب کئے تھے تو سلطان نے اسی وقت حسن بن صباح کو دربار سے نکال دیا۔

تھے۔ تب سے ہی بنی فاطمہ اور بنی عباس ملک کے اندر ہی اندر رعایا سے اپنی بیعت لیتے تھے۔ یہاں تک کہ جب سب رعایا بگڑ گئی تو بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان الحمار کے عہد میں خراسان سے لے کر شام تک یکدم بغاوت ہو گئی اور بنی عباس نے اپنا پہلا خلیفہ سفاح قائم کر لیا۔ اب چونکہ بنی فاطمہ کو اپنی کوشش کا کچھ حصہ نہ ملا تو انہوں بدستور سابق اب بنی عباس کے خلاف پوشیدہ بیعت لینی شروع کر دی۔ مگر غلطی یہ ہوئی کہ بنی فاطمہ کی الگ الگ پارٹیاں اپنے اپنے امام کے لئے بیعت لیتی تھیں۔ جس کی وجہ سے بنی عباس کو موقعہ بموقعہ یہ گنجائش ملتی رہی کہ بنی فاطمہ کے فتنہ کو تیغ آبدار سے فرو کرتے رہیں۔ مگر تاہم جا بجا بنی العباس کے خلاف محبان اہل بیت کی پوشیدہ پارٹیاں کام کر رہی تھیں۔ جن میں سے اسماعیلی پارٹی کی تبلیغ سب سے بڑھ کر باقاعدہ اور کامل تنظیم کے ساتھ شروع تھی اور مصر میں بنی فاطمہ کی ایک پارٹی کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور حسن بن صباح چونکہ

صفحہ ٦٥٢

سلطان سے ناراض ہو چکا تھا۔ اس لئے جب شام سے چل کر اصفہان پہنچا اور ابو الفضل مجسٹریٹ کے ہاں مہمان ہوا تو وقتاً فوقتاً یوں کہنے لگا کہ سچے دوست دو تین ہی مل جاویں تو سلجوقی سلطان کا تہس نہس کر دوں۔ مگر ابوالفضل اسے دیوانہ ہی سمجھتا تھا۔ کیونکہ شام سے کاشغر تک کی حکومت کا اکھاڑ دینا کوئی معمولی کام نہ تھا۔ مگر اس نے وظیفہ بدستور جاری رکھا۔ جس سے ابوالفضل کو خیال پیدا ہوا کہ شاید یہ دیوانہ ہے۔ اس لئے اس کا باقاعدہ علاج دماغی شروع کرا دیا۔ اس پر وہ تنگ آکر وہاں سے چل دیا۔ آوارہ گردی کرتے ہوئے ایک اسماعیلی نقیب سے آشنائی ہو گئی۔ جس کے ساتھ تبادلہ خیالات کر کے اندر ہی اندر بہت متاثر ہو گیا۔ مگر بظاہر اس کی ایک نہ مانی۔ اس کے بعد کسی جگہ جاکر ایسا بیمار ہوا کہ خدا سے باتیں کرنے لگا۔ لیکن دل میں یہ حسرت رہی کہ اگر کوئی نقیب مل جاتا تو مذہب اسماعیلی میں داخل ہو کر مسلمان تو مرتا۔ لیکن خدا کی قدرت کچھ دن بعد تندرست ہو گیا اور نقباء کی تلاش میں پھرنے لگا۔ آخر اسے ایک نقیب ابو نجم سراج ملا۔ جس سے اس نے از سر نو تبادلہ خیالات کیا اور مذہب اسماعیلیہ کا معتقد ہو گیا۔ اس کے بعد مؤمن داعی سے ملا۔ جس کو داعی عراق عبدالملک بن عطاء نے باقاعدہ سند دعوت اور اجازت دعوت بخشی تھی اور اس سے متاثر ہو کر داخل مذہب اسماعیلیہ ہو گیا تو اس نے خلیفہ مصر المستنصر باللہ کے پاس شرف یابی کے لئے بھیج دیا۔ جب وہاں پہنچا۔ چونکہ اس کی شہرت پہلے ہی ہو چکی تھی تو خلیفہ نے کمال احترام کے ساتھ داخل دربار کیا۔ جس پر اراکین سلطنت کو حسد پیدا ہوا اور اس کے نکالنے کے درپے ہو گئے۔

چنانچہ بدر رحمانی سرعسکر نے ایک دن موقعہ پا کر اسے زبردستی سے ایک جہاز پر سوار کر دیا جو افریقہ جا رہا تھا اور جس میں فرنگی سوار تھے۔ راستہ میں طوفان آگیا مسافر پریشان ہو گئے۔ تو یہ کمال تقدس کے ساتھ کہنے لگا کہ خدا نے مجھے کہا ہے کہ یہ جہاز سلامت رہے گا۔ (غالباً اس خیال سے کہ مر گئے تو کون پوچھے گا بچ گئے تو مفت کی قدوسیت حاصل ہو گی ) اتفاقاً طوفان ہٹ گیا اور مسافر اس کے معتقد ہو کر اسماعیلی بن گئے اور جب ایک عیسائی ملک میں جہاز آلگا تو وہاں کے حاکم عیسائی نے ان کو راہب تصور کر کے تواضع کی۔ پھر جہاز ساحل شام پر آلگا۔ تو حسن اترتے ہی ایران کو روانہ ہو گیا۔ راستہ میں حلب، اصفہان، خراسان، یزد، کرمان اور ایشیائے کوچک کے تمام مشہور شہروں میں ہوتا ہوا اور مذہب اسماعیلی کی نشر واشاعت کرتا ہوا پھر واپس اصفہان آ پہنچا اور وہاں چار ماہ ٹھہر کر خوزستان میں تین ماہ ٹھہرا۔ پھر وہاں سے نکل کر دامغان آ کر تین سال ٹھہرا اور وہاں سے نکل کر اپنے ہم خیال پیدا کرتا ہوا قلعہ الموت میں آ پہنچا اور وہیں ٹھہر گیا۔

صفحہ ٦٥٣

جہاں بعد میں قلعہ الموت بنایا گیا تھا۔ اسی سلسلہ کے نشیب میں شکار کھیلتے ہوئے اپنا باز چھوڑا تو اس نے شکار مار کر اپنی فرودگاہ بعینہ وہ میدان بنایا جس میں کہ بعد میں قلعہ الموت تھا۔ بادشاہ اسے تلاش کرتے کرتے جب اپنے باز کے پاس آیا تو دیکھا کہ ایک بڑا لمبا چوڑا میدان خوشنما منظر کے ساتھ واقع ہے۔ اسے بہت ہی پسند خاطر آیا۔ یہاں تک کہ اس نے چند روز بعد اپنی سیرگاہ کے لئے ایک شاہی عمارت بصورت قلعہ کھڑی کر دی اور اس کا نام ”آلہ موت“ رکھا۔ کیونکہ ان کی زبان میں باز کو بلانے کی آواز یہی لفظ تھا۔ جس سے اس نے اپنے باز کو واپس بلایا تھا۔ مگر بعد میں بگڑ کر الموت بن گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد اس کا نام قلعہ طالقان پڑ گیا تھا۔ جو شہر قزوین کے صوبہ رودبار میں واقع تھا اور ایک اسماعیلی حاکم مہدی نامی اس میں رہتا تھا۔ جس سے ایک دن حسن نے کہا کہ ہم گوشہ نشینوں کے لئے یہ جگہ بہت مناسب ہے۔ اگر آپ تین ہزار روپیہ لے کر مجھے اتنی جگہ دے دیں کہ جس پر ایک چرمہ آسکتا ہو تو آپ کی کمال مہربانی ہوگی۔ مہدی نے مان لیا اور بیع ہو گئی۔ مگر جب جگہ کا قبضہ ہونے لگا تو حسن نے چرمہ یعنی گائے کی پوری ایک کھال کی مہین مہین دھجیاں نکال کر ایک دوسرے سے جوڑ کر ان کو اتنا لمبا کیا کہ قلعہ کے تمام احاطہ کو محیط ہو گئیں۔ جس کا یہ مطلب نکلا کہ اس نے تین ہزار روپیہ دے کر سارا قلعہ خرید کر لیا ہے۔ اب مہدی مجبور تھا حسن کے مریدوں سے ڈر کر وہاں سے چلا گیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حسن پہلے پہل وہاں مسافرانہ زندگی بسر کرتے ہوئے شیخ اسماعیلیہ مشہور ہو چکا تھا اور اپنے تقدس کا زور یہاں تک بڑھایا تھا کہ مہدی بھی مرید ہو گیا تھا۔ آخر الامر اندرون پردہ مریدوں سے مل کر قلعہ لینے کی یوں ٹھانی کہ ایک دن صبح کو مہدی سے کہنے لگا کہ قلعہ ہمارے قبضہ میں کر دو۔ اس نے نہ مانا تو حسن نے اپنے مریدوں سے حملہ کرا دیا۔ چنانچہ انہوں نے اسے زبردستی پکڑ کر معہ سامان کے دامغان پہنچا دیا۔ بہرکیف اب حسن نے فراش خانہ اپنے قبضہ میں کر لیا اور خلیفہ مصر سے بھی برائے نام ہی متفق تھا۔ ورنہ وہ خود امام بن گیا اور اصول مذہب نو کی بجائے پھر سات ہی رکھے اور مریدوں کی کثرت سے آس پاس کے بادشاہ ڈر کھا گئے۔ کیونکہ اس کے مریدوں نے جا بجا اپنے قلعے بنا لئے تھے اور حسن نے شدت سے کام لینا شروع کر دیا تھا اور قلعہ کے گرد باغات اور عمدہ عمدہ خوشنما عمارات، تالاب اور کوٹھیاں تیار کرالی تھیں۔

......٥...... ٤٨٥ھ میں جب ملک شاہ اور نظام الملک دونوں نہاوند میں تھے اور بغداد جانے کو تھے اور قلعہ طالقان پر محاصرہ کے لئے کافی فوجیں بھیج چکے تھے۔ جن کی وجہ سے قلعہ میں قحط پڑ گیا تھا اور لوگ تنگ آگئے تھے تو حسن نے اپنے ایک نوخیز سرفدائی کو نظام الملک کے

صفحہ ٦٥٤

مار ڈالنے کے لئے بھیج دیا۔ چنانچہ وہ فوراً مستغیث کی صورت میں روتا چلاتا ہوا نظام الملک کے پاس آ حاضر ہوا۔ جب کہ وہ رمضان شریف کا روزہ افطار کر کے حرم سرا کو جارہا تھا لڑکے نے دامن پکڑ کر لمبی کہانی شروع کر دی اور جب نظام الملک کو ہمہ تن متوجہ پایا تو اس کے پیٹ میں چھری گھونپ دی۔ جس سے وہ وہیں مر گیا۔ سلطان کو بڑا غم ہوا، مگر اتفاقا ایک ماہ بعد وہ بھی اپنی موت سے یا بقول راوی کسی سرفدائی کے زہر پلانے سے مر گیا۔ اس لئے فوجیں واپس آگئیں اور حسن آزادی سے ایسے سرفدائی تیار کرنے لگا۔ جس کا نمونہ قائم ہو چکا تھا۔ جس سے تمام حکمران تھرا گئے اور یہ سلسلہ اس کے جانشینوں میں قائم رہا۔

٦....... قصر الموت میں وہ تیس سال حکمران رہا۔ مگر اپنا تقدس یہاں تک جمایا کہ اس قصر سے تیس سال کے عرصہ میں صرف دو دفعہ نیچے اترا تھا۔ ورنہ وہ تھا یا چلہ کشی اور تقدس کے مواعظ پر تاثیر یا سلسلہ تصانیف تھا۔ جن کے ذریعہ اپنے مذہب کی نشر و اشاعت میں استدلال قائم کیا کرتا تھا۔ (غالباً مسیح قادیانی نے بھی یہ دو سبق اسی سے حاصل کئے تھے) تقدس جمانے کی خاطر یہ بھی حکم دے دیا تھا کہ شریعت کی حکم عدولی کی سزا صرف قتل ہوگی۔ چنانچہ اس نے اپنے دو بیٹوں پر یہی حکم نافذ کر دیا تھا۔ وہ یوں کہ اس نے بیٹے حسن حرام کو اس لئے قتل کیا تھا کہ اس نے شراب پی لی تھی اور دوسرے بیٹے حسین کو اس لئے قصاص میں مار ڈالا تھا کہ اس نے کسی کو قتل کیا تھا۔ ایک نے بانسری بجائی تو اسے قلعہ سے نکال دیا گیا۔ اب تمام لوگ سہم گئے کسی کو حکم عدولی کی جرأت نہ پڑتی تھی۔

٧....... اپنے قلعہ کے ارد گرد باغات میں ملک کی خوبصورت عورتیں اور چھوٹے لڑکے جمع کر لئے تھے۔ جو ہجرت کر کے وہیں رہا کرتے تھے اور تمام آرائشی سامان نہریں شہد اور دودھ کی نشست گاہیں محلات البسہ فاخرہ زیورات اشجار و اثمار اور پرفضا میدان جسے دیکھ کر ہر شخص حیران و ششدر رہ جاتا تھا، بڑے حسن انتظام سے تیار کئے تھے۔ اس کام سے فارغ ہونے کے بعد اپنے مرید تین گروہوں میں تقسیم کئے۔ داعی پوشیدہ تبلیغ کر کے اپنا ہم خیال پیدا کرنے والے رفیق مجتہد مذہب جو مناسب موقعہ پر مسائل گھڑ لیا کرتے تھے۔ فدائی جو مخالفین کو قتل کرنے میں تبدیل مذہب دھوکا فریب اور تمام بے ایمانی کے وسائل اختیار کرنے میں دریغ نہ کرتے تھے تاکہ ان کو یہ جنت حاصل ہو اور حشیش ( بھنگ) کے پودے اس جنت میں لگائے گئے تھے جن کو اس علاقہ میں پہلے پہل حسن نے ہی استعمال کرانا شروع کیا تھا۔ علاقہ رودبار طالقان کے نوجوان سرفدائی یوں بنائے جاتے تھے کہ حسن ان کو اپنے پاس کچھ عرصہ رکھ کر اس صفائی سے بھنگ پلا دیتا

صفحہ ٦٥٥

کہ ان کو معلوم بھی نہ ہوتا تھا۔ جب بیہوش ہو جاتے تو باغات میں پہنچا کر ”حور وغلماں“ کے سپرد کئے جاتے جو ان کو اپنی گود میں لے کر بلائیں لیتیں۔ جب ہوش آتا تو نئی دنیا دیکھ کر محو حیرت ہو جاتے اور حور وغلماں کو اپنے زیر تصرف پاتے اور جو چاہتے کرتے۔ بلکہ وہ اپنی دلربائی کے کرشموں سے وہ سین پیدا کرتیں جن کی نظیر کسی چکلہ میں بھی نہیں ملتی تھی۔ چھ سات روز میں باغات کے چھ ساتوں طبقات کی سیر کے بعد وہ بھی بھنگ سے بیہوش کر کے پھر حسن کی خدمت میں واپس بھیج دیتی تھیں۔ اب جو ہوش آیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ پیر کی صحبت میں شرف قدمبوسی حاصل کر رہے ہیں اور جو کچھ وہ دیکھ چکے ہیں۔ سب خواب و خیال ہو گیا ہے تو پیر کا حکم ہوتا ہے کہ جس جنت کی سیر کر چکے ہو۔ اگر اس کی خواہش ہے تو جب تک کوئی سرفدایانہ کام نہ کرو گے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اب یہ نوجوان بڑھ چڑھ کر قتل مخالفین کی ڈیوٹی اپنے ذمہ لے کر وہ کام کر گزرتے جو مافوق الوسعت تصور ہوتے تھے۔ چنانچہ جب سلطان سنجر حملہ آور ہوا تو رات کو کسی فدائی کی وساطت سے سنجر کے سرہانے ایک خنجر رکھوا دیا۔ صبح اٹھتے ہی سلطان سنجر خنجر دیکھ کر ڈر گیا کہ یہ کہاں سے آ گیا۔ اسی وقت حسن کا خط بھی پہنچ گیا کہ اگر میں چاہتا تو اسی خنجر سے تمہارا سر کٹوا دیتا۔ مگر میں نے مصلحت نہ سمجھی کہ پہلے ہی یہ کام شروع کیا جائے۔ سلطان سنجر نے اس سے متاثر ہو کر صلح کر لی اور واپس چلا گیا۔ لیکن شرائط صلح میں ایک یہ شرط بھی تھی کہ حسن اپنی ترقی نہ کرے۔ نہ باغ بنائے اور نہ قلعے تیار کرائے اور نہ ہی سرفدائی بھرتی کرے اور نہ منجنیق واسلحہ کی طاقت بڑھائے۔ اس کے معاوضہ میں شہر قم کی آمدنی شیخ الجبار (حسن بن صباح) کو دی گئی اور اس نے بڑی خوشی سے یہ شرط منظور کر لی۔ کیونکہ یہ لوگ پہلے ہی اپنی تبلیغ باطن اور اندرون پردہ کے حاکم ہو چکے تھے اور اسی وجہ سے ان کا مذہبی نام مسلمانوں کے ہاں باطنی قرار پا چکا تھا۔ کبھی ان کو حشیشی اسماعیلی یا قرامطی بھی کہتے تھے۔ مصر اور ہندوستان تک کے شیعہ اسماعیلی تھے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ حق خلافت جعفر صادق کے بعد حضرت اسماعیل کا تھا۔ پھر آپ کی نسل میں مخفی طور پر امام مہدی تک پہنچ گئی اور جب دعوت فاطمین عہد عباسیہ میں الگ ہو کر شروع ہوئی تھی تو سب سے پہلے ایک داعی نے جس کا لقب قرامطی تھا۔ شیخ الجبار کی طرح الگ مذہب گھڑ لیا تھا۔ جس میں محرمات کی اجازت تھی۔ اس نے بغاوت کر کے عمان میں اپنا دارالخلافہ مقرر کر لیا تھا۔ جو خلفائے مصر فاطمین اور خلفائے بغداد عباسین کے زیر اثر نہ تھا۔ اس کے تابعدار قرامطی کہلاتے تھے اور انہوں نے یہاں تک زور پکڑا تھا کہ شرک و بدعت مٹانے کی خاطر بیت اللہ شریف تک کو گرانے کے لئے تیار ہو گئے تھے جو ان سے نہ ہو سکا۔ مگر حجر اسود اٹھا کر عمان کو لے گئے تھے۔ جس کو مسلمانوں نے بیس سال بعد پھر حاصل کیا تھا۔ شیخ الجبار

صفحہ ٦٥٦

نے دیکھا کہ ظاہری بغاوت میں آخر مغلوب ہونا پڑتا ہے۔ اس لئے اس نے در پردہ بغاوت شروع کر دی۔ جو حشیش کے ذریعہ سے پھیلی تھی۔ اس لئے اس فرقے کا نام حشیشی اور باطنی بھی مشہور ہو گیا۔ ملک شاہ نے ایک دفعہ سفارت بھیجی جس نے تمام حالات دریافت کر کے پیش کیا تھا کہ یہ قلعہ سلطان کے قبضہ میں کر دیا جائے۔ مگر اس نے اپنا رعب یوں دکھایا کہ ایک مرید کو حکم کیا تو اس نے فوراً خود کشی کر لی۔ دوسرا برج پر تھا اسے حکم دیا تو فوراً نیچے گر کر مر گیا۔ کیونکہ وہ منتظر رہتے تھے کہ حکم ہو تو مر کر جنت حاصل کیا جائے۔ اب سفارت خوفزدہ ہو کر واپس چلی گئی اور اس نے انتظام کرنا شروع کر دیا۔ ترکستان سے مصر تک اپنے تمام داعی بھیج کر سر فدائی پیدا کر لئے اور مسلمانوں نے فتوائے تکفیر جاری کر کے سرفدائیوں کا قتل ضروری سمجھا۔ مگر وہ بھی تیز ہو گئے اور شام میں بھی جم گئے۔ ان دنوں صلیبی لڑائیاں وہیں ہوتی تھیں۔ داعی حلب رضوان نامی اسماعیلی تھا۔ اس نے عیسائیوں سے مل کر مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ مگر جب وہ مر گیا تو پھر مسلمانوں نے اسماعیلیوں کو بیدریغ قتل کیا اور انہوں نے بغداد میں عین دربار کے روبرو داعی خراسان کو یہ سمجھ کر مار ڈالا کہ وہ اتابک والی دمشق ہے۔ اب تمام والیان ملک پر ہیبت بیٹھ گئی اور اپنے سنگین قلعے خود ہی مسمار کر دیئے کہ کہیں شیخ الجبال کو نہ دینے پڑیں۔ آخر ٢٥ / جمادی الثانی ٥٦٨ھ میں شیخ الجبال مر گیا اور وصیت کی کہ کیا بزرگ داعی الدعاۃ (گرینڈ ماسٹر ) ہو کر سب پر حاکم ہو۔ دیوان اعلیٰ نظام الملک ہو اور قہستانی سپہ سالار ہو۔ مگر سلطان سنجر کے بیٹے محمود نے قلعہ پر قبضہ کر لیا اور اسماعیلیوں کو سخت اذیت پہنچائی۔ لیکن جب محمود مر گیا تو پھر کیا بزرگ نے قلعہ واپس لے لیا اور قزوین تک حکومت حشیشی کا احاطہ وسیع ہو گیا۔

پہلے اس نے سرفدائی بھیج کر ابو ہاشم گیلانی کو گیلان سے گرفتار کر کے مروا ڈالا۔ کیونکہ اس نے اپنی امامت کا دعویٰ کیا تھا اور جب اسے روکا گیا تو سختی سے جواب دیا تھا۔

مارے گئے اور ایک بچ نکلا۔ جب اس کی والدہ نے پہلے سنا تھا کہ وہ شہید ہو گیا ہے۔ اس لئے بہت خوش تھی اور کپڑے بدل کر آراستہ ہوئی تھی۔ بعد میں جب سنا کہ وہ بچ گیا ہے تو سخت غمزدہ ہو کر کپڑے پھاڑ ڈالے کہ ہائے اسے جنت نصیب نہ ہوئی۔

نزار کا حق تھا۔ جس سے فاطمیوں نے حکومت چھین لی تھی۔

صفحہ ٦٥٧

چہارم....... آٹھ سال کے بعد خلیفہ مسترشد باللہ عباسی کو بغداد میں سر بازار بری طرح مار ڈالا اور کان کاٹ کر لاش باہر پھینک دی۔ پنجم....... دولت شاہ والی اصفہان کو مار ڈالا۔ ششم....... آقسنقر احمدیلی حاکم مراغہ کو بھی شہید کر ڈالا۔ ہفتم....... ابوالقاسم حسن مفتی قزوین کو بھی نہ چھوڑا۔ غرضیکہ ہر طبقہ کے لوگوں میں یہ خوف پیدا ہو گیا تھا کہ آج نہیں تو کل ضرور مارے جائیں گے اور سرفدائیوں نے بھیس بدل بدل کر تمام ایشیاء کو چھان مارا۔ بلکہ یورپ میں بھی داخل ہو گئے تھے اور حکومت کی طرف سے ان کے پسماندگان کو جاگیریں دی جاتی تھیں۔ غلام ہوتے تو آزاد کئے جاتے اور مر جاتے تو سیدھی جنت نما دوزخ کی راہ مل جاتی۔

......٩....... کیا بزرگ کے بعد اس کا بیٹا محمد خلیفہ ہوا۔ جس کے عہد میں الراشد باللہ خلیفہ بغداد اپنے باپ مسترشد باللہ کا انتقام لینے کو فوج لے کر روانہ ہوا تو راستہ میں ہی اس کو خوابگاہ میں سرفدائیوں نے مار ڈالا۔ جب محمد کو یہ خبر پہنچی تو ایک ہفتہ تک چراغاں کیا اور خوشیاں منائیں۔ مگر چونکہ وہ علمی قابلیت نہ رکھتا تھا اس لئے سرفدائی اس کے گرویدہ نہ ہوئے۔ بلکہ اس کے بیٹے حسن کی طرف راغب ہو گئے اور جب اسے اس اندرونی سازش کا سراغ ملا تو اس نے تمام ایسے ٢٥ سرفدائیوں کے سر کٹوا دیئے۔ بیٹے نے ڈر کر صاف کہہ دیا کہ میرا ان سے کوئی سروکار نہ تھا یہ خود دہریہ تھے۔ مگر در پردہ اس نے پھر اپنے ہم خیال پیدا کر لئے۔ کیونکہ اس کے باپ سے قلعوں کا انتظام نہ ہو سکتا تھا۔ جو خراسان سے بحر خزر اور آذربیجان تک پھر وہاں سے جنوب کو عراق اور بجستان تک اور وہاں سے سواحل روم تک پہاڑی سلسلوں میں سینکڑوں کی تعداد میں تھے اور ابھی ان کوششوں میں مصروف ہی تھا کہ اس کا باپ مر گیا۔

......١٠....... اب حسن خلیفہ سوم نے تخت نشین ہوتے ہی اعلان کر دیا کہ مجھے امام غائب نے خط لکھا ہے کہ سرفدائی آکر سن جائیں۔ ٢٧؍ رمضان کو سب فدائی جمع ہو گئے تو اس نے منبر پر کھڑے ہو کر وہ خط سنایا کہ امام مہدی (امام غائب) کہتے ہیں کہ حسن ہمارا داعی اور نقیب ہے۔ اس لئے اس کی اطاعت واجب ہے اور جس امر کا حکم دے اسے مانو اور جس سے روکے اس سے رک جاؤ۔ کیونکہ اس کا کلام وحی الہی ہے اور وہ ملہم بالغیب ہے۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ جو میری اطاعت کریں وہ مبارک اور قدوسی ہیں اور ان سے قیود شرعی اٹھا دیئے گئے ہیں۔ چنانچہ اسی وقت روزے تڑوائے گئے اور بڑی دعوت قائم کی گئی۔ جس میں شراب بھی پی گئی اور اسی آزادی کے

صفحہ ٦٥٨

جلسے کے بعد مسلمانوں میں اس فرقہ باطنیہ کا نام فرقہ ملاحدہ (بے دین) قرار پایا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ حسن بن صباح جب خلیفہ فاطمی مصر کو ملا تھا تو اس خلیفہ نے کہا تھا کہ میرے بعد میرا بیٹا نزار خلیفہ ہوگا۔ مگر نزار کو خلافت نصیب نہ ہوئی۔ لیکن اس کا ایک چھوٹا بیٹا قلعہ الموت میں لایا گیا اور در پردہ پرورش پا کر جوان ہو گیا۔ شادی ہوئی تو اس کے ہاں ایک بیٹا حسن نامی پیدا ہوا اور اسی دن محمد بن کیا کے ہاں بھی ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جو حسن سے تبدیل کیا گیا تھا۔ اب میں وہی حسن ہوں جو محمد کے گھر نزار کی اولاد سے پرورش پا کر خلیفہ وقت بنا ہوں۔ اس طرح اس نے مصر کی خلافت کا بھی نام مٹا دیا تھا اور چار سال بعد اپنے سالہ کے ہاتھ سے مارا بھی گیا اور سید بننا کام نہ آیا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا محمد ثانی تخت سلطنت پر متمکن ہوا۔

١١...... محمد ثانی اپنے باپ سے بھی بڑھ کر فلاسفر اور عالم شریعت تھا۔ اس نے تخت نشین ہوتے ہی اپنے باپ کے قاتل مروا ڈالے اور اسی کے عہد میں امام فخر الدین رازیؒ شہر رے میں وعظ کرتے تھے اور بدنام ہو گئے تھے کہ وہ بھی اسماعیلی ہیں۔ اس اشتباہ کو دور کرنے کے لئے آپ نے ایک دفعہ وعظ میں ملاحدہ کے خلاف سخت لفظ کہہ دیئے۔ مگر جب محمد ثانی کو خبر ملی تو اس نے اپنا ایک سرفدائی بھیجا کہ آپ کو سیدھا کرے۔ وہ سات ماہ تک شاگرد بن کر زانوے ادب خم کر کے معتقد بنا رہا۔ آخر ایک دن موقعہ پا کر آپ کے حجرہ میں سینہ پر بیٹھ گیا اور خنجر سینہ پر رکھ دیا۔ آپ نے کہا آخر تمہارا مطلب کیا ہے؟ کہا کہ تم ہمیں برا کہنا چھوڑ دو تو آپ نے وعدہ کیا کہ آئندہ میں ملاحدہ کے متعلق کوئی لفظ نہ کہوں گا تو وہ سینہ پر سے اتر کر کہنے لگا کہ یہ نہ سمجھنا کہ میں نے تم پر رحم کھایا ہے۔ بلکہ مجھے قتل کا حکم نہ تھا ورنہ آپ ضرور مارے جاتے۔ یہ کہہ کر اس نے تین قیمتی تھان اور تین سو اشرفیاں نذر کیں اور واپس چلا گیا اور کہہ گیا کہ یہ تنخواہ آپ کو سالانہ ملتی رہے گی۔ زبان بندی کے متعلق امام سے لوگوں نے پوچھا تو کہا کہ میں ملاحدہ کے متعلق کچھ نہیں کہوں گا۔ کیونکہ ان کے ارادے بہت تیز ہیں۔ کہتے ہیں کہ محمد ثانی نے آپ کو قلعہ میں رہنے کے لئے بلا بھیجا تھا مگر آپ نے معذرت پیش کر کے جان چھڑائی تھی۔ اس وقت سلطان صلاح الدین نے خلافت فاطمیہ کا خاتمہ کر کے حلب میں تھا کہ چار فدائی اس پر آ پڑے۔ مگر وہ بچ نکلا اور شہر مصیات کا محاصرہ چھوڑ کر شام سے روانہ ہو گیا تو انہوں نے اپنا سردار رشید الدین سنان بنالیا۔ جن نے پہلے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور ایک کتاب پیش کر کے کہنے لگا کہ میں بروزی خدا ہوں۔ پھر اس نے اپنا ایک سفیر بیت المقدس بھیجا۔ مگر عیسائیوں نے اسے مار ڈالا اور قاتل بھی نہ دیا۔ اس لئے سرفدائیوں نے عیسائیوں کو بھی قتل کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ کنفراؤ شہر طائر میں مارا گیا۔ فریڈرک شہر میلان کا

صفحہ ٦٥٩

محاصرہ کر رہا تھا تو وہ بھی وہیں قتل کیا گیا۔ کنٹراؤ کے قتل کے بعد دو سال جب شامپین فلسطین کا سفر کرتا ہوا شہر مسبات میں پہنچا تو سنان کے ہاں مہمان ہوا۔ اس نے مرعوب کرنے کے لئے ایک برج دکھایا۔ جس کے ہر زینہ پر دو دو سپاہی کھڑے تھے۔ دو کو اشارہ کیا فوراً گر کر مر گئے۔ سنان نے کہا آیا ایسی فرمانبردار سپاہ آپ کے پاس ہے۔ کہا میں کیا؟ کسی کے پاس نہیں۔ پھر سنان نے کہا حکم دوں تو سب گر کر مر جائیں۔ بتاؤ کوئی دشمن ہے تو اسے مروا ڈالوں۔

١٢...... محمد ثانی کے بیٹے حسن ثالث نے اس کو زہر دلوا دیا اور خود تخت نشین ہو گیا۔ مگر یہ مسلمانوں کا ہم عقیدہ تھا۔ حسن بن صباح کی تعلیم کی کتابیں جلا دیں۔ مسجدیں آباد کیں اور حج کو گیا اور مسلمانوں نے غنیمت سمجھ کر اس کی بڑی عزت کی۔ مگر اس سے ڈرتے بھی تھے۔ ڈیڑھ سال تک اسلامی ممالک میں پھرتا رہا اور مسلمانوں سے اتفاق پیدا کیا۔ مگر سر فدائی بر خلاف ہو گئے اور زہر سے مار ڈالا گیا۔

١٣...... حسن ثالث کا بیٹا محمد ثالث علاؤ الدین ابھی نو برس ہی کا تھا کہ تخت نشین ہوا اور اپنے باپ کے قاتلوں کو مار ڈالا اور باطنی مذہب پھر زور پکڑ گیا۔ کیونکہ وہ آغاز حکومت میں ہی بیمار ہو گیا تھا۔ فصد لیا گیا تو اس کا دماغ اور کمزور ہو گیا کہ کسی کی بات برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لئے اراکین سلطنت خود ہی چپکے چپکے انتظام کرتے تھے۔ اسی کے عہد میں سلطان خوارزم نے آرخان کو نیشا پور معہ مضافات کے بخش دیئے مگر وہ کسی مہم پر تھا۔ اس کے قائم مقام نے اسی گھمنڈ میں باطنیوں کے چند شہر لوٹ لئے۔ شیخ الجبال نے سر فدائی بھیج کر آرخان کو قتل کرا دیا اور شہر میں علاؤ الدین کے نعرے لگاتے ہوئے وزیر پر حملہ آور ہوئے۔ مگر وہ بچ نکلا اور لوگوں نے ان کو ڈھیلے مار مار کر مار ڈالا۔ اسی وقت بدرالدین احمد شیخ الجبال کی طرف سے سفیر ہو کر آیا اور وزیر کا مہمان ہوا اور اس شرط پر صلح ہوئی کہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے اور قلعہ وامغان باطنی خرید کر لیں۔ وہ سفیر ایک دن وزیر کے دستر خوان پر بیٹھا تھا کہ کہنے لگا ہمارے دوست ہر جگہ ہیں۔ وزیر نے کہا اس جگہ پر کتنے ہیں۔ کہا کہ پانچ، وزیر نے اس کی طرف رومال پھینک کر ان کو امان دی کہ سامنے آئیں تو اس کے خاص ملازم پانچ سامنے حاضر ہو گئے۔ وزیر سہم گیا اور منت سماجت کرنے لگا کہ آپ مجھے اپنا نوکر سمجھیں۔ مگر میری جان بخشی ہو۔ سفیر واپس چلا گیا۔ مگر بادشاہ نے وزیر کو حکم دیا کہ ان پانچ باطنیوں کو آگ میں ڈال دے۔ مجبوراً جلا دیئے گئے۔ مگر وہ بڑے خوش تھے۔ شیخ الجبال نے جب سنا تو پچاس ہزار اشرفی تاوان میں طلب کی اس وزیر نے غنیمت سمجھ کر قلعہ وامغان کی قیمت بھی واپس کر دی۔ انہی ایام میں محمد ثالث اپنے ایک نوکر کے ہاتھ سے قتل ہوا۔

صفحہ ٦٦٠

کے عہد میں منقو خان تاتاریوں کا بادشاہ مشرق میں تھا۔ اس کے بھائی ہلاکو خان سپہ سالار نے مغرب کی طرف دریائے جیحون سے نیل تک سلطنت مغلیہ قائم کرنے کی خاطر حملہ کر دیا۔ کیونکہ باطنی مغلوں پر حملہ آور ہوتے تھے اور خود خلیفہ بغداد بھی ملتجی ہوا تھا کہ باطنی ڈیڑھ سو سال سے تنگ کر رہے ہیں۔ ان کا استیصال تمہارے سوا ممکن نہیں۔ اب وہ تورہ چنگیز خانیہ کی زیر ہدایت مخالفین کے اہل وعیال کو تہ تیغ کرتا ہوا بڑھا۔ بدقسمتی سے شیخ نصیر الدین طوسی نے ایک کتاب لکھ کر خلیفہ بغداد مستعصم باللہ کی خدمت میں پیش کی۔ جس میں اس نے بہت خوشامد کی۔ مگر اس کے وزیر ابن علقمی نے اپنی عداوت کی بناء پر کہہ دیا کہ اس نے آپ کو خلیفۃ اللہ فی ارضہ کا خطاب نہیں دیا تو خلیفہ نے ناراض ہو کر وہ کتاب دجلہ میں ڈلوادی اور شیخ نصیر الدین شیخ الجبال کے پاس چلا گیا۔ مگر چونکہ وہاں بھی اس کو خاطر خواہ جگہ نہ ملی۔ اس لئے ہلاکو خان سے مل کر حکومت بغداد اور حکومت باطنیہ کا خاتمہ کروا دیا اور شام میں سلطان بیبرس نے شام کی باطنی حکومت کا استیصال کر دیا۔ اب عراق، شام اور ایران میں باطنی برائے نام رہ گئے۔ تیمور لنگ جب مازندران میں داخل ہوا تو اس نے وہاں پر بھی ان کا خاتمہ کر دیا۔ ترکی سلاطین نے بھی یمن، حضرموت، بحرین میں ان کا خاتمہ کر دیا۔ مگر جو بچے سندھ میں آ بسے اور یہاں ملتان اور ناصرہ (جو اس وقت معدوم ہے ) کو اپنا مرکز بنالیا اور چونکہ بغداد کی حکومت نگرانی نہ کر سکتی تھی۔ اس لئے ملتان اور ناصرہ کی حکومت نے مسلمانوں کو باطنی بنانا شروع کر دیا۔ جب سلطان محمود غزنوی آیا تو اس نے ابوالفتح باطنی سے جو سومرہ خاندان سے تھا ملتان واگزار کرایا اور ابوالفتح سراندیپ کو بھاگ گیا اور انگریزی حکومت تک ایران اور ترکی وہاں حکمران رہے۔ ابوالفتح مذکور کی اولاد دکن گجرات میں پھیلی جو بعد میں بھورے مشہور ہو گئے۔ ان دنوں حضرموت اور یمن کے باطنی بھی گجرات میں تجارت کرتے تھے۔ ان کی اولاد بھی بھورے مشہور ہوئی۔ اب وہ آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔ مگر ایرانی باطنیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا امام شاہ خلیل ہے۔ شہر خج متصل شہر قم میں رہتا ہے۔ جو اسماعیل بن جعفر کی نسل سے صاحب کرامات ہے۔ جس کی زیارت کو بھورے بھی جاتے ہیں۔

٣٠.......اسماعیلی فرقے جو شام میں رہتے ہیں

صباح کے معتقد نہیں ہیں۔ مگر ان کا طریق معاشرت وہی ہے جو اس نے مقرر کیا تھا۔ چنانچہ

صفحہ ٦٦١

دروزی شام کے پہاڑوں کی درزوں میں رہتے ہیں۔ ان کی وجہ تسمیہ میں لوگ حیران ہیں۔ کسی نے کہا کہ درز کپڑے کو کہتے ہیں۔ درزی کمینہ قوم ہے جو کپڑے کی درز کی مانند کسمپرسی کے عالم میں پڑی رہتی ہے۔ کسی نے کہا کہ درز خوش آدمی کو کہتے ہیں اور وہ آزاد ہیں۔ اس لئے دروزی ہوئے۔ انگریزی محققین نے کہا کہ کونٹ اوف درس کے تابعدار اور عیسائی ہیں اور کسی نے کہا کہ نارمن کی نسل سے جرمنی النسل ہیں۔ بہر حال اب یہ ثابت ہوا ہے کہ حکومت ترکی کے ماتحت خراج گزار مسلمانوں کی ایک جماعت ثابت ہوئے ہیں جو اپنے آپ کو موحد کہلاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ توحید کی اصلی ماہیت ہم پر ہی منکشف ہوئی ہے۔

داعی نے اعلان کیا کہ الحاکم بامر اللہ مظہر الٰہی یا بروز خداوندی اور خدا کا روپ دیوتا ہے۔ حاکم نے بھی اپنے قوت بازو سے اپنی خدائی کا اعتراف کرایا۔ مگر جو زیادہ تر معتقد ہوئے وہ دروزی ہی تھے۔ حمزہ بن علی نے کتاب الدروز لکھی جو اس وقت یورپ میں چھپ چکی ہے۔ اس میں اس نے ایک لوح خداوندی کے اندر ظاہر کیا ہے کہ محمد (علیہ السلام) کو قرآن شریف کا اصلی مفہوم معلوم نہ تھا۔ صرف ظاہری اور لغوی معانی سمجھے تھے۔ اس لئے خدا نے انسانی روپ لیا اور اصلی معانی سمجھائے جو الحاکم بامر اللہ نے اپنے تبلیغی خط مسمے بہ عقائد میں بیان کئے ہیں اور ہم ہی ایک واحد جماعت ہیں جس کو پیغمبر اسلام کے بعد ایمان کے لئے خدا نے مخصوص کیا ہے۔ (قادیانی اور کٹر بابی نوٹ کر لیں)

کیا جاتا ہے اور والدہ کی طرف سے بھی جناب فاطمہ علیہا السلام کے سلسلہ سے ملا دیا ہے۔ وہ ایک پہاڑ پر وحی لینے جایا کرتا تھا۔ ٣٦ سال اور چھ ماہ حکومت کی اور اپنی کرخت شریعت منوانے میں لوگوں کو تباہ کیا۔ آخر لوگ تنگ آگئے تو اس کی ہمشیرہ ست الملک کی سازش سے جب کہ وہ وحی لینے پہاڑ پر گیا تھا مار ڈالا گیا اور اس کی لاش بھی کہیں پھینک دی گئی۔ مگر مریدوں نے یہ سمجھ لیا کہ وہ غائب ہو کر جنت میں زندہ ہی چلا گیا ہے۔ اگر چاہے تو ابھی واپس آ کر مخالفین کا ناک میں دم کر دے گا۔ اب نہیں تو پھر جب کبھی بھی واپس آیا قیامت تک ہماری ہی حکومت ہوگی اور مخالفین کو یہاں تک ذلیل کیا جائے گا کہ وہ اپنے لباس میں خاص نشان رکھیں گے جس سے وہ شناخت ہو سکیں۔

صفحہ ٦٦٢

کو پیغمبر اسلام بھی نہیں پاسکے۔ اس لئے آپ کے متعلق ان کو نیک ظن نہیں کیونکہ جب ان کا نبی مرا تھا تو دوسرے روز ایک مسجد کے دروازے پر اس کی طرف سے ایک فرمان (عقائد نامہ ) نظر آیا۔ جس میں اس نے افسوس ظاہر کیا تھا کہ ہر چند مصریوں کو سمجھایا گیا مگر وہ نہ سمجھے۔ آخر وہ لوگ اس کام کے لئے منتخب کئے گئے جو خدا کے ہاں نہایت ہی مقدس (دروزی) ہیں۔ اس لئے موحدین اس فرمان کی قدر قرآن سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ مگر ان کی عملی حالت یہ ہے کہ ان کی مسجدیں غیر آباد ہیں۔ کوئی اذان دے تو کہہ دیتے ہیں کہ گدھے خاموش رہو چارہ مل جائے گا۔ ہر ایک مسجد کے اندر ایک مورتی کپڑوں میں لپیٹی ہوئی موجود رہتی ہے۔ جس کی زیارت کے حقدار خاص خاص موحدین کے سوا دوسرے نہیں ہوتے۔ یہ مورتی بچھڑے کی شکل کی ہوتی ہے جو امام غائب کی نشانی بتائی جاتی ہے۔ مسجدیں پہاڑ کی چوٹی پر ہوتی ہیں۔ مگر وہ نماز روزہ سے آزاد ہیں۔ شراب آزادی سے پیتے ہیں۔ لحم خنزیر شوق سے کھاتے ہیں۔ نکاح و طلاق میں بھی آزاد ہیں۔ مگر طلاق شوہر کے ہاتھ میں ہے۔ اگر شوہر کہہ دے کہ جاؤ اور جب تک اس لفظ کے ساتھ واپس آؤ کا فقرہ نہ ہو اسے تین طلاق سمجھا جاتا ہے۔ جو حلالہ کے سوا رفع نہیں ہوسکتیں۔ کتاب الدروز کا صندوق بہت پوشیدہ رکھا جاتا ہے اور جہاں پر پڑا ہے وہاں سے اٹھانے کا حکم نہیں۔ کیونکہ وہ جگہ بھی بہت مقدس ہوچکی ہے۔ حکومت عثمانی کے ماتحت یہ باجگزار خود مختار ہو کر رہے ہیں۔ برائے نام رعایا تھے ورنہ بات بات پر بغاوت کرتے تھے۔ ان کی تعلیم عملی طور پر ہوتی ہے۔ بچوں کو بڑوں کی صحبت میں بٹھا کر ایسا ہوشیار کر دیا جاتا ہے کہ بڑی بڑی کونسلوں میں دندان شکن جواب دینے لگ جاتے ہیں۔ مگر ان کا ہر ایک کام پراسرار ہے۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں ان میں مشترکہ جلسے ہوتے ہیں۔ جن میں خیال کیا جاتا ہے کہ فحش اور حیا سوز امور کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ ان میں ایک پیشین گوئی مشہور تھی کہ انگریز ان کو مسخر کریں گے۔ اس لئے یہ ان کے دشمن رہے اور بددعا بھی دیتے تھے تو یوں کہ جاؤ خدا تیرے سر پر ہیٹ رکھے۔ انگریزوں کو بھی خیال تھا کہ وہ عیسائی بگڑے ہوئے ہیں۔ مگر بعد میں ابھی سو سال نہیں ہوا کہ ان کو ثابت ہو گیا کہ یہ تو مسلمان بگڑے ہوئے ہیں۔ (مگر خدا کی قدرت ہے کہ وہ پیشین گوئی پوری ہوگئی اور فرانس نے وہ علاقہ فتح کر لیا ہے )

ہیں اور شہر فزارہ (سویدانیوں کا مرکز ) بھی ان کے ہی ماتحت ہے۔ مگر یہ تینوں فرقے آپس میں بگڑے رہتے ہیں۔ ١٨٠٩ء کی ابتداء میں خضریوں اور سوایدانیوں نے نصیریوں کو مار مار کر قلعہ مسباقۃ سے نکال دیا اور شیخ مصطفےٰ ادریس کو اپنا سلطان بنایا۔ بعد میں نصیریوں نے ہر چند کوشش کی

مگر قلعہ پر قابض نہ ہو سکے۔ آ گئے۔ یہاں تک کہ شیخ مصطفےٰ کی فوجوں میں بھی کافی تعداد پیٹ میں چھریاں بھونک کر اس پر قابض ہو گئے اور آج تک خـ

الٰہی اور خدا کا اوتار تھے اور بنجـ چھوڑ کر بھی جاتے ہیں اور کعـ زیارت کرنے کو جاتے ہیں۔ لـ

زید بن زین العابدین بن حسـ ہے اور اماموں کی تعداد بار شریف پر حکمرانی کرنے کا حـ

باقر کو امام جانتے ہیں۔ مگر ا

ہیں۔ جناب اسماعیل جناب پاچکے تھے۔ جس کو ختم امامـ میں جاکر انہوں نے اـ ہے۔ چنانچہ جناب اسماعیل اپنے باپ کی ڈیوٹی دینے حکمران رہے۔ اول منشور ہے۔ بہرحال جب یہ دور امام عبید اللہ مہدی ہے۔ جـ بامر اللہ )، سوم اسماعیل ( مـ الحاکم بامر اللہ ، ہفتم علی الظا

صفحہ ٦٦٣

مگر قلعہ پر قابض نہ ہو سکے۔ آخر اپنی پرانی چال چلے کہ خضری بن کر شہر مسیاب میں تمام جگہ میں پھیل گئے۔ یہاں تک کہ شیخ مصطفےٰ اور لیس کے خاص مصاحبوں میں اپنی کافی جمعیت پیدا کر لی اور قلعہ کی فوجوں میں بھی کافی تعداد میں موجود ہوگئے۔ ایک دن موقعہ پا کر سلطان شیخ مصطفےٰ اور لیس کے پیٹ میں چھریاں بھونک کر اس کو ہلاک کر دیا اور سارے نصیری اپنے لباس اصلی میں جمع ہو کر قلعہ پر قابض ہو گئے اور آج تک خضری اور سویدی سر نہ اٹھا سکے۔

الٰہی اور خدا کا اوتار تھے اور نجف میں بغداد سے دو چار منزل کے فاصلہ پر حضرت امام کے مزار پر حج چھوڑ کر بھی جاتے ہیں اور کعبہ مکرمہ کے نزدیک ایک غیر معلوم جگہ پر بھی پوشیدہ پوشیدہ کسی مزار کی زیارت کرنے کو جاتے ہیں۔ مگر ابھی تک معلوم نہیں ہوا کہ وہ کس کا مزار ہے۔

زید بن زین العابدین بن حسین بن علی علیہم السلام کے پیرو ہیں۔ ان کے نزدیک خلافت شیخین صحیح ہے اور اماموں کی تعداد بارہ تک محدود نہیں بلکہ ایک وقت میں مختلف امام ہو سکتے ہیں اور وضیع شریف پر حکمرانی کرنے کا حقدار ہو سکتا ہے۔

باقر کو امام جانتے ہیں۔ پھر ان کے بیٹے امام جعفر صادق کو امام مان کر ختم کر دیتے ہیں۔

ہیں۔ جناب اسماعیل جناب امام جعفر صادق کے عین حیات میں ہی ایک بیٹا محمد نامی چھوڑ کر وفات پا چکے تھے۔ جس کو ختم المدۃ سمجھ کر یوں بتایا گیا کہ یہ لڑکا گویا خود اپنا باپ اسماعیل ہی ہے۔ مغرب میں جا کر انہوں نے اپنی حکومت قائم کر لی۔ ان کے نزدیک امامت سات سات کا دورہ ختم کرتی ہے۔ چنانچہ جناب اسماعیل تک سات امام ختم ہوئے اور محمد بن اسماعیل سابع تمام ہیں۔ کیونکہ اپنے باپ کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ ان کے بعد تین امام مخفی تھے۔ جن کی بجائے ان کے نقیب حکمران رہے۔ اول مستور بن محمد مکتوم، دوم جعفر مصدق اور سوم حبیب۔ نقباء کی تعداد بارہ رہتی ہے۔ بہرحال جب یہ دور ختم ہوا تو پھر سات ظاہری اماموں کا دور شروع ہوا۔ جن میں سے پہلا امام عبید اللہ مہدی ہے۔ جس نے مصر میں خلافت فاطمی شروع کی تھی۔ دوم ابوالقاسم محمد (قائم بامر اللہ)، سوم اسماعیل (منصور)، چہارم معد (المعز الدین اللہ)، پنجم نزار (عزیز بامر اللہ)، ششم الحاکم بامر اللہ، ہفتم علی الظاہر لدین اللہ اس کے عہد میں چار سال اس کی پھوپھی ست الملک حاکم

صفحہ ٦٦٤

رہی۔ اس لئے اس کے بعد ابوتمیم معد المستنصر باللہ حاکم ہوا۔ جس سے حسن بن صباح کی ملاقات ہوئی تھی۔ غرضیکہ جب نیابت ظاہر ہوتی ہے تو امامت مخفی ہوجاتی ہے اور جب امامت ظاہر ہوتی ہے تو نیابت مخفی ہو جاتی ہے اور قرآن کے ہر حکم قطعی کے لئے ایک تاویل بھی ضرور ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسلام ترمیم ہوسکتا ہے۔

عن المادہ اور مجرد عن الصفات ہے۔ ورنہ مخلوق کے ساتھ تشبیہ حاصل ہو جاتی ہے اور جو صفات اس کی طرف منسوب ہیں وہ عارضی ہیں۔ جو مخلوق کی فیض یابی سے خود بخود پیدا ہو گئے ہیں۔ مثلاً جب اس نے کسی کو طاقتور بنایا تو قدرت کو خدا کی طرف منسوب کر کے اسے قادر کہا جاتا ہے۔ وجود سے بھی وہ خالی ہے۔ کیونکہ یہ صفت بھی مخلوقات کو موجود کرنے سے ہی اس کو حاصل ہوتی ہے۔ یعنی تمام صفات اضافیہ ہیں، حقیقیہ نہیں۔

٣١...... خلاصۂ کتاب ہذا

دولت قاچاریہ ایران میں چپکے چپکے پرورش پاتی رہی اور ان کے طریق پر ہی اپنے تقدس کے لپیٹ میں سر فدائی تیار کرتی رہی ہے۔ جس نے اخیر میں حکومت کو مجبور کر دیا تھا کہ وہ یہ حکم دے کہ بابی باطنی جہاں پاؤ مار ڈالو۔ مگر تعلیم بہائیہ نے اس کے اصول بدل ڈالے اور خاموش مقابلہ کے ساتھ تمام مذاہب کا مقابلہ شروع کر دیا اور ایسے ثابت قدم ثابت ہوئے کہ آج بھی جس قدر ان کو برا کہو برا نہیں مناتے اور اپنے اصول سے جو در پردہ رکھا جاتا ہے ہمیشہ اس پر قائم رہتے ہیں۔

در تاویل ترمیم و تنسیخ ، خاموش مقابلہ بلکہ دستی مقابلہ بھی عند الضرورت جائز رکھا گیا ہے۔ بلکہ اگر ذرا غور کیا جائے تو قادیانیت بہائیت اور صباحی تعلیم میں سرمو فرق نہیں ہے۔ مؤخر الذکر دونوں تعلیمات جیسا کہ ظاہر ہے کہ اوّل الذکر تعلیم میں بحیثیت مجموعی موجود ہیں۔ چشم بینا اور عقل رسا چاہئے جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ قادیانیت نے ملاحدہ قدیم سے کس قدر فائدہ اٹھایا ہے۔

کئی قسم کے اور بھی دعویدار کچھ اندرونی کچھ بیرونی پیدا ہو گئے ہیں۔ جنہوں نے وحدت وجود اور تناسخ کی بناء پر سب کچھ بننا اور ترمیم اسلام بچوں کا کھیل بنا دیا ہے۔ جن پر سرسری نظر ڈالنے سے

صفحہ ٦٦٥

معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک کو مستقل مذہب پیدا کرنے کی دھن لگی ہوئی ہے۔

زنادقہ بھی مدعیان نبوت تھے۔ مگر ان کا منشاء اندرونی یہ معلوم ہوتا تھا کہ اسلامی پابندی اور حکومت اسلامیہ سے تنگ آ کر آزادی کی راہ نکال کر آزاد ہو جائیں۔ اس لئے وہ بیدین قرار دیئے گئے تھے۔ مگر چودھویں صدی میں یہ تحریک کچھ ایسی مشتبہ ہے کہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ آیا وہ اسلامی احکام سے تنگ آ کر نئی شریعت پیدا کرتے ہیں یا عیسائیوں کی طرف سے مامور ہو کر اسلام کو قابل نفرت ثابت کر رہے ہیں اور یا خود خوشامد کے طور پر حکومت ہند یا عیسائی مشنریوں کو خوش کرنے کے لئے یہ چالیں چلی جاتی ہیں تاکہ ان کو نوبل پرائز یا بطور دست غیب اندرونی طور پر سرکار کی خیر خواہی میں کچھ دستیاب ہو سکے یا شاید ان کا دماغ چکر کھا گیا ہے یا اس کو چکر دلایا گیا ہے اور نبوت فروشی کی دکان علیحدہ اور الگ کھولنا چاہتے ہیں۔ بظاہر کچھ بھی ہو ایسے لوگ اسلام کے پکے دشمن اور مسلمانوں کے لئے درحقیقت مار آستین ثابت ہوئے ہیں۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو ان گندم نما جو فروشوں سے بچنا چاہئے۔

مشکل پیش آئی تھی۔ بلکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ ان کو ان کے پرانے دو مذہب سنی و شیعہ پر چھوڑ کر ان کا مستقبل ٹھیک کیا جاتا۔ چونکہ یہ ہمسایہ اقوام سے پیچھے رہ چکے ہیں۔ ایسے وسائل سوچے جاتے کہ جن سے ان کے دوش بدوش چلنے کے قابل ہو جاتے۔ نہ یہ کہ جن خانہ جنگیوں سے پہلے تباہ ہو چکے تھے نئی تعلیمات پیش کر کے ان کی رہی سہی دماغی طاقت کو اختلافات جدیدہ کی نذر کیا جاتا۔ اب ہمیں یہ تمام مصلحین اسلام بتائیں کہ بہشتی مقبرہ کے لئے جدو جہد کرنے میں اسلام اور اہل اسلام کو کیا فائدہ پہنچتا ہے یا کسی ناسخ شریعت کا خصوصی بیت المال پر کر دینے سے مسلم قوم کا کیا بھلا ہو سکتا ہے۔ یا وہ بتائیں کہ احکام شریعت چھوڑ کر عیسائی مذہب کے اصول پر عمل پیرا ہونے سے ان کی کون سی ترقی ہو سکتی ہے؟

یہ سب پیٹ کے دھندے ہیں
جو سب پیٹ کے بندے ہیں
نفسی نفسی کرتے ہیں
ٹکے ٹکے پہ مرتے ہیں
صفحہ ٦٦٦

نشر و اشاعت میں توجہ مبذول کی جاتی۔ ایک بڑی بھاری مذہبی یونیورسٹی قائم کی جاتی۔ علوم قدیمہ اور فنون جدیدہ سے اسے مکمل کر کے علوم قرآنیہ پھیلائے جاتے۔ اس کے بعد علوم جدیدہ کی تکمیل کے لئے کمر بستہ ہو کر کھڑا ہونے کی از حد ضرورت تھی۔ جس کو سرسید نے محسوس کیا تھا۔ مگر افسوس کہ جس طریق پر اس نے مسلم قوم کو چلانا چاہا تھا وہ راستہ بھول گئے ہیں۔ ورنہ مسلمانوں کو آج اسلام اور اسلامی زبان سے تنفر نہ ہوتا۔ جو اس وقت محسوس ہو رہا ہے۔ مگر تا ہم اس کمی کو مسلمانوں نے کسی حد تک پورا کیا۔ اس کے بعد تیسرے درجہ پر صنعت و حرفت اور تجارت یا کاشت کی تکمیل تھی۔ جس طرف کوئی مسلمان آج تک متوجہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی ایسی تحریک ہوئی ہے جو مسلمانوں میں اس کمی کا احساس پیدا کرے۔ گو فرداً فرداً مسلمانوں نے اس طرف توجہ کی ہے۔ مگر متحدہ حیثیت سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا گیا جس سے مسلمانوں کو عالمگیر فائدہ ہو سکے۔ ہندو قوم کو دیکھئے، تجارت کی چوٹی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انگریزوں کے بعد وہ کون سی تجارت ہے کہ جس پر ان کا قبضہ نہیں۔ اب مسلمان جس قدر بھی تجارت کر رہے ہیں وہ ان کے ہی دست نگر ہیں اور بہت سی ایسی تجارتیں ہیں کہ مسلمانوں کو ان کا پتہ ہی نہیں کہ وہ کس کام کی چیز ہے اور بہت سے ایسے کام ہیں کہ جن میں باوجود معلوم ہونے کے کوئی مسلمان آدمی نظر نہیں آتا۔ یہی باطل دعویداران نبوت اگر مسلم قوم کو بام ترقی پر پہنچانے کے لئے ایسے وسائل سوچتے کہ جن سے مسلمان ہر شعبہ تجارت پر قابض ہو جاتے تو نبی بننے کی بجائے ان کا رہنما بننا بہتر تھا اور یہ ایک بہانہ ہے کہ اسلام جب تک نہ چھوڑا جائے تجارت نہیں ہو سکتی۔ ورنہ کوئی ہمیں بتائے کہ جن لوگوں نے اسلام چھوڑ کر نئی نبوت کا جامہ پہن رکھا ہے ان کو کون سا سرخاب کا پر لگ گیا ہے اور صنعت و حرفت اگرچہ بہت ضروری ہے۔ مگر چونکہ یورپ نے تمام مشینیں اپنے ملک کے لئے ہی مخصوص کر رکھی ہیں۔ اس لئے ایسے فنون کا حاصل کرنا چنداں مفید نہیں۔ کیونکہ جب کوئی ہنر ور یورپ سے ہنر سیکھ کر آتا ہے تو چونکہ ہندوستان کو انقلاب زمانہ نے ایسی صنعتوں سے خالی کر رکھا ہے۔ ان کو پیٹ پالنے کی بھی جگہ نہیں ملتی۔ اس لئے پھر وہ واپس یورپ چلے جاتے ہیں۔ بہر حال اس نازک حالت میں زیر بحث مدعیان نبوت کا وجود بہت مضر واقع ہوا ہے۔ سوائے شکم پروری یا غیر کی خوشامد کے اس کے تحت میں کچھ بھی نہیں ہے۔

نبی بنے ہو مجدد یا ناسخ اسلام
یہ غیر کی ہے خوشامد یا گوش بتاں کے لئے
صفحہ ٦٦٧
نہ اس میں قوم کی رفعت کا راز مضمر ہے
نہ اس جہاں کے لئے ہو نہ اس جہاں کے لئے

تھے۔ جن کا انجیل نے موقعہ ہی نہیں رہنے دیا کہ جن کا اجراء ہو سکے۔ کیونکہ اس میں صرف یہی تعلیم ہے کہ مکارم اخلاق حاصل کرو اور برائیوں سے رک جاؤ اور خدا کی یاد کرو۔ مگر یہ حصہ چھوڑ دیا ہے کہ ان احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کون سی تعزیر عائد ہوتی ہے اور یہ تعزیر خدا کے سپرد کر دی ہے یا حکومت وقت کو اس میں مختار کر دیا ہے اور یا الٰہی کا طریق بھی انجیل میں کوئی مخصوص نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد اعمال الرسل کا مطالعہ کرو تو اس میں صاف لکھا ہوا بار بار تم کو نظر آئے گا کہ مقدس لوگوں کی پرورش کرو اور شریعت کی پابندی چھوڑ دو۔ ہم اسی لئے مبعوث ہوئے ہیں کہ شرعی تعزیرات کا ایک ہی کفارہ (صلیب مسیح) سے دنیا کو آزاد کر دیں۔ اس کتاب میں ایشائی مجددین کی تعلیمات کا خلاصہ بھی ہو بہو یہی ہے تو ناظرین خود انصاف کریں کہ یہ لوگ مبلغین اسلام ہیں یا عیسائیوں کے کرایہ دار یا خوشامدی مفت کے تبلیغ کرنے والے ہیں؟ اس نکتہ کو سمجھ کر خوب امتحان کرو اور ان لوگوں سے الگ ہو کر اپنے اسلام پر قائم رکھو اور دینی و دنیاوی ترقی کرتے جاؤ۔

شہوت رانی اور تعیش یا آزادی کے اسباب بہت کم موجود ہیں۔ مگر حیرت ہے کہ یہ مجددین نہ یہود کو برا کہتے ہیں نہ عیسائیوں کو غلط کار ثابت کرتے ہیں اور نہ ہندو سکھ اور آریوں کو گمراہ جانتے ہیں۔ شامت آئی ہے تو بیچارے مسلمانوں کی کہ صرف آج کل کے ہی مسلمانوں کو کافر نہیں کہتے بلکہ صاف کہتے ہیں کہ آج تک اسلام ستر ہزار پردوں میں رہا۔

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

یوں تو عہد رسالت کے متصل ہی لوگوں نے اسلام سے عداوت شروع کر دی تھی اور اس کی بجائے اپنی اپنی تعلیم کے احکام جاری کر رکھے تھے۔ لیکن آج کل کے مجدد مسلمانوں کو تو وہ گالیاں سناتے ہیں کہ الامان، کسی بازاری عورت کو بھی یہ جرأت نہیں ہو سکتی کہ ایک بازاری آشنا کی یوں خاطر کرے۔ پھر باوجود اس بدگمانی اور بدزبانی کے ہمارے نبی بنتے ہیں۔ بہت خوب! صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ اسلام چھوڑ کر عیسائی بن جاؤ۔ کیوں سادہ لوح انسانوں کی دنیا و عقبیٰ خراب کر رہے ہو۔ اسلام کو چھوڑتے بھی نہیں اور اسلام کے

صفحہ ٦٦٨

پیچھے سے بھی نہیں ملتے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے قطع تعلق کر کے ان جدید اختلافات سے نجات پائیں اور اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھیں۔

٩...... ہر نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ آج ڈاکٹر یا بیرسٹر وہ بن سکتا ہے جو باقاعدہ تعلیم پا کر اس زبان کا پورا ماہر ہو۔ جس میں ڈاکٹری یا بیرسٹری نے نشو و نما پایا ہے۔ شروع میں بیرسٹری صرف چند اصول کا نام تھا۔ مگر انقلاب زمانہ نے ایسے واقعات پیش کر دیئے کہ اب ان چند اصولوں کو پورے طور پر سمجھنے کے لئے بڑے بڑے کورس ختم کر کے جب تک حکومت کی طرف سے سند حاصل نہ کی جائے یا اگر کوئی دعویدار عدالت میں یا کسی بیرسٹر کے سامنے دخل در معقول دے کر کوئی قانونی بحث چھیڑ کر اپنی رائے قائم کرنے لگ جائے یا کسی قاعدہ کو ترمیم و تنسیخ میں لا کر اپنے خیال پیش کردہ کو مقدم سمجھے، تو ضرور ہے کہ عدالت یا وہ بیرسٹر کان سے پکڑ کر باہر نکال دے گا یا یہ رائے قائم کرے گا کہ اس میں شئی لطیف بہت کم ہے۔ علیٰ ہذا القیاس قرآن عربی میں ہے۔ جب تک اسلام صرف عرب میں رہا ان کو قرآن فہمی میں کوئی دقت نہ تھی۔ معاملات سادہ تھے۔ تمدن سادہ تھا۔ غیر کی مداخلت نہ تھی۔ قرآن کی زبان عربی تھی۔ سمجھنے والے عرب تھے۔ ان کی اولاد عرب تھی اور معلم بھی عرب تھے۔ مگر جب اسلام نے عرب سے باہر پاؤں پھیلا کر فارس میں ڈیرہ جمایا اور عجم کے فلسفہ نے اور یونان کی حکمت نے مذہبی مقابلہ شروع کر دیا اور ادھر عہد رسالت دور چلا گیا اور عجمی مسلمان قرآنی زبان سے نابلد تھے۔ اس لئے صرف، نحو، تاریخی حالات، احادیث اور فتاوائے نبویہ اور فیصلہ جات خلافت راشدہ کو قلم بند کرنا ضروری سمجھا گیا۔ ورنہ سارا اسلام عرب میں ہی بند رہتا۔ رفتہ رفتہ ازمنہ متوسطہ میں قرامطہ و ملاحده اور زنادقہ و دجاجلہ نے اور بھی اودھم مچا رکھا تھا اور موجودہ چالیس استاد کاروں سے بڑھ کر اسلام میں تحریف کرنی شروع کر دی تھی۔ اس لئے اہل اسلام کو اور بھی علوم وفنون ایجاد کرنے پڑے۔ اس کے علاوہ حکومت کا نظم ونسق بھی اندرون عرب اور بیرون عرب میں اسلامی قواعد پر ہی قرار پایا۔ اس لئے نت نئے نئے واقعات پیش آنے لگے اور ایسے حوادث پیش آئے جو صدر اسلام میں ناممکن الوقوع خیال کئے جاتے تھے۔ مگر ان کو حل کرنے کے لئے مجتہدین اسلام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں سب کا جواب دریافت کر کے نظام اسلامی کو قائم رکھا۔ اب جب کہ وہ نظام ہی باقی نہیں رہا اور اسلام کے ملکی اور سیاسی قانون چھوڑ دیئے گئے اور اسلامی علوم وفنون کی تحصیل کا انتظام بھی باقاعدہ طور پر قائم نہیں رہا تو آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ قرآن کا حقیقی طور پر سمجھنا جیسا کہ پہلے زمانہ میں سمجھتے تھے کیسا مشکل

صفحہ ٦٦٩

ہوگا۔ کیونکہ جب تک راستہ کی مشکلات کو حل نہ کیا جائے قرآن فہمی کا دعویٰ مشکل ہوگا۔ اس لئے جس قدر علوم اسلامیہ کی تحصیل آج کل قرآن فہمی کے لئے ضروری ہے۔ پہلے اس کا عشر عشیر بھی نہ تھا۔ مگر آج نیم ملا جن کو عربی زبان میں صحیح طور پر ایک فقرہ بھی لکھنا نہیں آتا وہ اندھوں میں کانا راجہ بنا ہوا ہے اور یوں واقعات کو نظر انداز کر کے یوں ہی کہہ دیتے ہیں کہ قرآن آسان ہے۔ بھلا اگر آسان ہے تو تم میں سے کوئی بڑا تعلیم یافتہ ایک لفظ بھی کیوں نہیں پڑھ سکتا۔ ابھی حرکات وسکنات موجود ہیں۔ پھر ان دعویداروں کو پڑھنا نہیں آتا اور اکڑ کر کہتے ہیں کہ طوطے کی طرح رٹ لگانے سے کیا فائدہ؟ مانا کہ کوئی فائدہ نہیں مگر آپ کو کیا معلوم کہ کس لفظ کا ترجمہ فلاں لفظ ہے۔ انگریزوں نے انگریزی ترجمے کئے۔ جن کو پڑھ کر قرآن فہمی کے دعویدار بن گئے۔ صرف تراجم کی بناء پر تم نے بی۔ اے کی ڈگری کیوں نہ حاصل کر لی۔ ساری عمر اصحاب الشمال میں گذری اب قرآن کے حاوی بن بیٹھے۔ نہ باقاعدہ تعلیم پائی نہ علوم وفنون اسلامیہ کی خبر ، نہ خود میں اتنی لیاقت کہ اسلامی زبان میں دو چار سطریں لکھ سکیں اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم اس وقت کے نبی ہیں، ہم مجدد ہیں، کاشف اسرار قرآنی ہیں۔ کمترین اور خاکسار بن کر سب کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ بات کہ ہم کو براہ راست قرآن کے وہ معانی سمجھائے گئے ہیں کہ خود اس نبی کو بھی معلوم نہ تھے جس پر یہ قرآن نازل ہوا تھا۔ اس کا یہ جواب نہیں ہو سکتا کہ تمہارے خرد حواس اپنی جگہ پر قائم نہیں رہے۔ علاوہ بریں تمہیں تو اتنا بھی معلوم نہیں کہ اس کتاب میں تمہارے اور تمہارے ہم خیال محرفین کے عربی اقوال یا عربی تحقیقات لکھی ہیں۔ ان میں کیا کیا سقم ہیں؟ ضرورت ہو تو کسی اہل علم کے بغیر خود اپنی کمزوریاں معلوم کریں۔ کتاب ہذا میں ان پر تنقید اس لئے نہیں کی گئی کہ ہم کو موضوع سے باہر نکلنا پڑتا تھا اور خواہ مخواہ تطویل مضمون کا بھی اندیشہ تھا۔

عربی اخبار کا اقتباس (جس کا عنوان سخافۃ القادیانیۃ ہے) درج کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی کس لیاقت کے مالک تھے۔ چنانچہ (اخبار الفتح مصر نمبر ٢٥٢ مورخہ ٩ صفر ١٣٥٠ھ) رقمطراز ہے۔

"ولو اطلعت علی ھذا الوحی السخیف فی مؤلفات القادیانی العربیۃ (لجۃ النور وغیرھا) لعلمت ان ای صبی من صبیان مدارسنا الابتدائیۃ یشمئز ان تنسب الیہ ھذہ الثرثرۃ، خصوصاً شعرہ العربی.

صفحہ ٦٧٠

اجارنا الله واياك من العى والضعف، فان قرأته تورث مرض السل حتما، ومن الواجب على مصلحة الصحة ان تحرق هذه السخافات شفقة على صحة من تتالم اعصابه من مثل هذا العبث بلغة العرب“

اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ مرزا کی نظم ونثر ایسی واہیات ہے کہ اگر عربی کے ابتدائی طالب علم کو بھی کہا جائے کہ اسے تم قبول کر کے اپنے نام پر شائع کرو تو وہ بھی بے چین نظر آئے گا۔ لہٰذا اعلان کیا جاتا ہے کہ تم اس کی عربی تعلیم سے بچو ورنہ تم کو (مذہبی) سل ودق کا مرض ضرور ہو جائے گا اور اسلامی ہیلتھ آفیسر کا فرض ہے کہ اس کی تمام کتابوں کے گندہ مواد کو نذر آتش کر دے تاکہ آئندہ امراض مہلکہ کے پھیلنے کا اندیشہ نہ رہے۔

11....... ان لوگوں سے تو نانک ہی اچھا تھا کہ کسی کو کافر نہیں کہتا تھا۔ بلکہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر خدا کی یاد میں مصروف رہتا تھا اور مسلمانوں کی یادگاریں اس کے پاس موجود تھیں اور اس نے اپنے چولے پر بھی اسلامی تعلیمات لکھوائی تھیں۔ چنانچہ دائیں بازو پر ”ان الدين عند الله الاسلام“ لکھی تھی اور بائیں بازو پر کلمہ شہادت تھا۔ گردن سے ناف تک سورہ فاتحہ اور کچھ اسمائے الٰہی لکھے تھے اور ”لا اله الا انت سبحنك انی کنت من الظلمين، ان الذين يبايعونك“ یہ پیٹ کے دائیں طرف آیت الکرسی اور سورہ نصر۔ پھر کچھ رموزی اعداد اور اسماء حسنیٰ، اسی وجہ سے قادیانیوں نے اس کو مسلمان سمجھ رکھا ہے اور مرزا قادیانی کا الہام ہے کہ میں نے اس کو مسلمان پایا اور جنم ساکھی میں مذکور ہے کہ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ کلمہ طیبہ سے نجات حاصل ہوتی ہے اور خدا کا دیدار اس کو ہوگا جو تیس روزے اور پانچ نمازوں پر قائم رہے گا۔ انجیل، تورات اور وید کچھ نہیں صرف قرآن ہی باعث نجات ہے۔ تناسخ کا قائل دوزخی ہے اور آج کل رادھا سوامی مت بھی ہر ایک کو اپنے اپنے مذہب پر رہنے کی تلقین کرتا ہے اور مسلمانوں سے بڑی محبت سے پیش آتا ہے اور ان کو ان کے مذہب میں ہی اپنا مرید کرتا ہے۔ مگر یہ خیال غلط ہے کہ ایسے صلح کل ہونے سے انسان پکا مسلمان بن جاتا ہے۔ کیونکہ ہندو فقیر اگر کبھی صلح کل ہو کر نماز روزہ کر بھی لے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان بھی ہو گیا تھا۔ کیونکہ اس کی کوئی یادگار ایسی نہیں ملتی کہ جس میں کوئی مسجد ہو یا اسلامی تعلیم کو جاری رکھ کر اپنا مسلم ہونا ثابت کیا ہو۔ محمد یعقوب لاہوری مرزائی ٹریکٹ نمبر 1 میں لکھتا ہے کہ گرو نانک اپنے خیالات کے رو سے پکا ہندو تھا اور مصلح قوم اور ہندو قوم کی مذہبی دیواروں کا معمار تھا۔ دیکھئے مرزائی خود اپنے آقا کو جھوٹا ثابت کر

صفحہ ٦٧١

رہے ہیں۔ بالفرض اگر اسے مسلمان بھی مان لیں تو ہم کو کیوں کافر کہا جاتا ہے۔ جب کہ ہم میں ساری اسلامی تعلیم موجود بھی ہے اور ہم اسلام پر عمل پیرا بھی ہیں۔ افسوس ؎

با دوستان عداوت بادشمنان مدار

١٢....... پنجاب مرزا قادیانی کے طفیل سے نبوت خیز علاقہ بن گیا ہے۔ مرزائی کہا کرتے ہیں کہ خربوزہ کا موسم آتا ہے تو اس وقت پہلے پیچھے کڑوے خربوزوں کی بیلیں بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس لئے یہ بناوٹی نبی ہیں اور مرزا قادیانی سچے ہیں۔ مگر جب ذرہ اوپر نظر اٹھائی جائے تو مسیح ایرانی کی صداقت اسی مقولہ سے ظاہر ہوسکتی ہے۔ کیونکہ وہ اپنے خیال میں کابل کا سردہ تھا اور مرزائی ماتھے کی پھوٹ ہیں۔ غالباً چیت رام فرقہ بھی سکھوں کی طرح آپ کے نزدیک پکا مسلمان ہوگا۔ جس کی تشریح یوں ہے کہ چک نمبر ٣ ڈاک خانہ خاص تحصیل ننکانہ ضلع شیخوپورہ میں ایک ہندو عورت ہے جو مسلمانوں سے بھی (مرزائیوں سے بڑھ کر) نیک سلوک کرتی ہے۔ ٢٥ یا ٣٠ سال کا عرصہ ہوا اسی جگہ ایک پیر صاحب محبوب شاہ رہتے تھے اور ان کی زمین بھی ایک مربعہ بطور جاگیر تھی۔ ایک ہندو (چیت رام اروڑہ) بھی ان کا مرید ہوا جو اسی علاقہ میں رہتا تھا۔ مگر لوگ کہتے تھے کہ وہ مراقی اور پاگل ہے۔ پیر صاحب مر گئے تو لکڑی کے تابوت میں ان کی لاش اسی گاؤں میں دفن کی گئی۔ چیت رام کی لڑکی مسماۃ بدھاں بھی سادھن تھی۔ لاہور چونی منڈی میں اس نے اپنے ہم خیالوں کے ساتھ ایک تکیہ بنایا ہوا تھا۔ چونکہ مسماۃ مذکور خوبصورت جواں تھی تو کسی پیر بھائی کے ساتھ مٹر گشت لگانے چلی گئی۔ جب کچھ عرصہ بعد فارغ ہو کر واپس آئی تو اس کا باپ چیت رام مر چکا تھا اور اس کی لاش بھی پیر صاحب مذکور کے پاس ہی صندوق میں دفن کی گئی تھی۔ اب سنتے ہی یہ وہاں چلی گئی اور دونوں صندوق باہر نکال کر شہر بشہر پھرانے شروع کر دیئے۔ آخر حکومت نے مجبور کیا تو چک مذکور میں واپس لے گئی اور قبر کے مقام پر رکھ دیا جو جائیداد اس کے پیر یا باپ کی تھی سب پر قابض ہوگئی۔ ہندو مسلمان اس کے پاس جمع رہتے ہیں اور اس کی عمر اب ٣٥ سال ہوگی۔ سال میں تین دفعہ میلہ لگاتی ہے۔ ایک پیر محبوب شاہ کا دوسرا اپنے والد چیت رام کا اور تیسرا اپنی والدہ کا۔ صبح سویرے حقہ کی نے پیر صاحب کے صندوق پر رکھ دیتے ہیں۔ کیونکہ اس کے خیال میں وہ اب بھی حقہ پیتے ہیں۔ کبھی یوں بھی کرتی ہے کہ اس نے کے نیچے قرآن شریف بھی رکھ دیتی ہے۔ میلہ کے دن دائیں بائیں قرآن وانجیل رکھتی ہے اور درمیان میں حقہ کی نے۔ مسجد پاس ہے اذان کی اجازت نہیں دیتی ورنہ اس کے مرید زدوکوب سے خوب تواضع کرتے

صفحہ ٦٧٢

ہیں۔ مگر نماز کی اجازت دے سکتی ہے۔ (انقلاب ٢٨ اگست ١٩٣٠ء) امرتسر میں ابھی تک اس کے دیکھنے والے موجود ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ چیت رام دراز قد ہندو تھا۔ گلے میں کفنی تھی۔ جس کے کان میں کچھ پھونکتا تھا۔ وہی اس کے ساتھ ہو جاتا تھا۔ اسی طرح اس کے مرید اس کے پیچھے پیچھے پھرتے تھے۔ حلال حرام اس کے ہاں سب ایک تھا۔ مورتیوں کا پانی بھی پی جاتا تھا۔ جابجا اس کے مریدوں نے تکئے ابھی تک بنائے ہوئے ہیں اور باقاعدہ خلافت جاری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا چیت رام بھی مسلمان تھا؟ اور اگر وہ مسلمان تھا تو ہم کو کیوں کافر کہا جاتا ہے۔ کیا اس نے مرزا قادیانی کا اقرار کر لیا تھا کہ ہم پیچھے رہ گئے تھے؟

يا خطة البنجاب ، انت فى جميع الامصار والنواحى كالقمر الطالع فى سماء المعالى فى كل حال مع الاداب“ میں الوداع ہوتا ہوں۔ تجھ سے اے خطہ پنجاب اور میں تجھ کو اس بات کا سرٹیفکیٹ دیتا ہوں کہ تو جمیع خطوں سے مبارک ہے۔ بلکہ مصر عرب اور استنبول سے بھی ہمدردی میں فوقیت رکھتا ہے۔ تو نے مجھ کو آٹھ ماہ تک (فرمان کتاب چھپوانے کے لئے) اپنی آغوش میں رکھا۔ اے اللہ میں تجھ سے دعاء کرتا ہوں کہ بوقت معلوم اس خطہ کی زیادہ رعایت کرنا۔ یہاں کے لوگ اہل دل ہیں۔ مجھ کو عزیز گرامی رکھا۔ میری امتحان آمیز جباریت وقہاریت برداشت کی۔ ”السید محمد یحییٰ خلدہ اللہ فی عینہ“ آخری صفحہ پر لکھا ہے کہ: ”لا الہ یحییٰ الا اللہ“ یعنی حبیب اللہ۔

ہے کہ آج کل امام الزمان اور نبی بننا بالکل آسان ہے۔ وہ یوں کہ سب سے پہلے قیامت کا انکار یوں کرو کہ وہ ایک روحانی حالت کا نام ہے۔ اس کے بعد جو آیات اور احادیث قیامت کے متعلق ہیں۔ ان کو یا تو موجودہ حالات پر چسپاں کرنے کی کوشش کرو یا ان کا سرے سے انکار ہی کر دو۔ اس کے بعد گذشتہ انبیاء کے معجزات کو اس طریق پر تبدیل کر ڈالو کہ اس طریق پر تم بھی نبی بن سکو اور تمام انبیاء کی شخصیت کو یہاں تک کمزور کر کے نیچے گرا دو کہ جس قدر بھی تم میں کمزوریاں ہوں وہ قابل اعتراض نہ رہیں۔ پھر قرآن وحدیث سے اپنے آنے کی پیشین گوئی ثابت کرنے میں لفظوں کو اپنی جگہ پر نہ رہنے دو اور کہہ دو کہ خدا تمہاری لغوی تحقیقات اور قواعد کا پابند نہیں رہا۔ تاکہ اب وہ غلط فقرے استعمال نہ کر سکے۔ بلکہ خدا ہمیشہ بولتا ہے اور رنگ برنگ کی مخالف بیانی سے

صفحہ ٦٧٣

ملوث ہوتا رہتا ہے۔ قانون قدرت کو نہیں بدلتا مگر اس کی وحی ضرور بدلتی رہتی ہے اور یہ تمام مراحل طے کر کے اپنے مریدوں میں تقدس جما کر یوں بھی کہہ دو کہ مسلمانوں نے اگرچہ کئی دفعہ قرآن کے معارف بیان کئے ہیں۔ مگر جو معارف اور نکات ہم نے بتائے ہیں ان کے ملک کو بھی یاد نہ تھے۔ یہ حصہ ہمارا ہی تھا جو خدا کی وحی سے ہمیں عنایت ہوا ہے۔ پھر تجہیل و تکفیر کی مشین چلا کر تمام مخالفین کو بہرار ڈ کر ڈالو۔

ہم الموت قال رب ارجعون ، لعلی اعمل صالحاً فيما تركت كلا انها كلمة هو قائلها ومن ورائهم برزخ الى يوم يبعثون “ روز مرگ میں بدکار کافر کہیں گے کہ ہمیں ایک دفعہ پھر دنیا میں واپس بھیجا جائے تا کہ ہم نیک عمل کر کے رہائی پاسکیں۔ مگر جواب دیا جائے گا کہ اب تمہارا لوٹنا کسی طرح قیامت تک ممکن نہیں رہا۔ اس آیت کی رو سے جون بھگتنے کا خیال غلط ہوگا اور یہ بھی غلط ہوگا کہ پاک روحیں آج کل کے نبیوں میں جلوہ گر ہوتی ہیں یا حلول کرتی ہیں۔ کیونکہ قرآن میں بار بار یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ احیاء واموات کے مابین عالم برزخ موجود ہے۔ جس کی وجہ سے کوئی روح دنیا میں اپنا مسکن کسی وجود میں نہیں بناسکتی اور یہ تو عقل بھی نہیں مانتی کہ ایک جسم میں تمام انبیاء کی روحیں جمع ہو جائیں۔ ورنہ وہ جسم بالکل بیکار ہو جائے گا۔ کیونکہ جس ملک میں دو عملی پیدا ہو وہ ہمیشہ ویران ہو جاتا ہے۔ اس لئے اکٹھا بروز انبیاء اور بروز کرشن بننا صحیح نہ ہوگا۔ پھر مظہر الہی کا مطلب بھی اگر تناسخ ہو تو قرآن کے رو سے مردود ہوگا۔ اگر صرف تجلی مراد ہو تو سب سے پہلے اپنے اندر وہ صفات پیدا کرنے ہوں گے جو پہلے انبیاء میں موجود تھے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سب مدعی کورے ہیں۔ اس لئے ان کے دعاوی غالباً کچھ اور مضمون رکھتے ہیں جو ہمیں معلوم نہیں ہو سکتے۔

میان عاشق و معشوق رمزیست
کراماً کاتبین راہم خبر نیست

الاميين رسولا “ خدا نے مکہ والوں کے پاس رسول بھیجا اور ان لوگوں میں جو ابھی ان سے آ نہیں ملے۔

اب ظاہر ہے کہ جب تک حضور ﷺ خود زندہ رہے دنیا میں خود بدولت مبعوث تھے اور

صفحہ ٦٧٤

جب دنیا سے تشریف لے گئے تو بطور قدرت ثانیہ کے پچھلی قوموں کے لئے مبعوث ہوتے رہے۔ چنانچہ مسیح قادیانی حضورﷺ کا مظہر قدرت ثانیہ بن کر محمد ثانی بن گئے ہیں اور آپ کی امت و آخرین منهم بن کر حضورﷺ کے صحابہ سے ہم مرتبہ ہوگئی ہے۔ لیکن یہ استدلال بالکل واہیات ہے۔ کیونکہ اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ حضورﷺ کی بعثت عامہ ہے اور قیامت تک تمام آئندہ بنی نوع انسان کے لئے ہے۔ کیونکہ آپ پہلے پہل مکہ کی طرف مبعوث تھے تاکہ ان کو اول المومنین کا درجہ حاصل ہو۔ پھر اس کے بعد عرب کے دوسرے حصوں کی طرف مبعوث تھے جو ابھی تک اہل مکہ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت آپ عرب کے سوا تمام اہل عجم کی طرف بھی مبعوث تھے تاکہ غیر ملک کے لوگ بھی اسلام میں داخل ہوسکیں۔ چنانچہ سلمان فارسی اور شاہ حبش بھی آپ کی حین حیات میں ہی حلقہ بگوش ہو گئے تھے اور ان کے اسلام نے ثابت کر دیا تھا کہ اسلام تمام دنیا کے لئے ہے۔ کسی خاص ملک یا خاص قوم کے لئے نہیں ہے اور قیامت تک حضورﷺ کی بعثت آئندہ نسلوں کے لئے بھی ہے جو اس وقت تک پیدا نہ ہوئی تھیں۔ چنانچہ تیرہ سو سال تک دنیائے اسلام نے اس کو اسی طرح تسلیم کیا اور کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہ سمجھی اور اکملت لکم دینکم اور خاتم النبیین سے بھی اسی مضمون کی تائید ہوتی رہی اور نہ یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ حضورﷺ بار بار جلوہ گر ہو کر محمد ثانی کہلائیں اور نہ یہ مجبوری پیش آئی کہ دوسرا نبی ناسخ قرآن پیدا ہو۔ کیونکہ گذشتہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرا نبی اس وقت مبعوث ہوتا تھا جب کہ پہلے نبی کی تعلیم مٹ جاتی تھی۔ چنانچہ تورات جب مٹ گئی اور باطل کی دستبرد نے اسے خاک میں ملا دیا اور بعد میں یہودیوں کے ہاں اس کا صرف افسانہ رہ گیا تو انجیل نازل ہوئی اور عیسیٰ علیہ السلام نے مبعوث ہو کر وحی الہی کی تبلیغ کی۔ اس کے بعد جب انجیل دنیا سے اٹھ گئی اور یہودیوں نے اس کا ایک ایک ورق تلف کر دیا اور عیسائیوں کے پاس صرف تاریخی کہانیوں (بائبل) کے سوا کچھ نہ رہا تو قرآن مجید نازل ہوا اور چونکہ قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لی ہے۔ ”انا لہ لحافظون“ تو یہ ممکن نہیں کہ یہ تعلیم دنیا سے مٹ جائے اور کسی دوسری تعلیم کی ضرورت محسوس ہو۔ پس ختم رسالت اور تکمیل دین اور حفاظت قرآن تینوں الگ الگ زبردست دلائل ہیں۔ اس امر پر کہ بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے حضورﷺ کے بعد نہ کسی اور نبی کا امکان ہے اور نہ یہ ضرورت ہے کہ بار بار آپ روپ بدل کر دنیا میں تشریف فرما ہوں۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ اسلام پر عمل پیرا لوگ سستی کا اظہار کریں۔ یا اس کی تعلیم کو (عہد حاضر کے مدعیان

صفحہ ٦٧٥

نبوت کی طرح) بدلنا چاہیں تو اس وقت مجددین اسلام اور علمائے امت کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ فتنہ کافور ہو جاتا ہے اور لوگ ایسی غلط فہمیوں سے نجات پاتے ہیں۔ مگر یہ نبی نہیں ہوتے اور نہ ہی انبیاء کا بروز ہوتے ہیں۔ جیسا کہ آج تک کے واقعات اس پر گواہ ہیں۔ پس ظاہر ہو گیا کہ تعلیمات شرعیہ کا مٹ جانا اور چیز ہے اور اس میں دست اندازی کر کے منہ کی کھانا اور بات ہے۔

اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ آپ صرف امیّین اہل مکہ ہی کی طرف سے مبعوث تھے نہ کہ اہل عجم کے لئے بھی اور جو مبلغین آس پاس اور دور و نزدیک ملکوں میں پہنچے۔ ماننا پڑے گا کہ وہ مظاہر قدرت ثانیہ تھے۔ حالانکہ یہ بالکل باطل ہے۔ کیونکہ قدرت ثانیہ کا ظہور نبی کی حیات میں تجویز نہیں کیا گیا۔ بلکہ وفات کے بعد تسلیم کیا گیا ہے۔ دوسرا اعتراض یہ پیدا ہوتا ہے کہ عہد رسالت کے بعد جو مسلمان لما یلحقوا کے مصداق ٹھہرے ہیں۔ ان کی طرف آپ کی بعثت نہ ہو بلکہ کسی مظہر قدرت ثانیہ اور محمد ثانی کی بعثت سے اسلامی تبلیغ پھیلی ہو۔ حالانکہ عہد صحابہؓ میں کوئی مدعی نبوت محمد ثانی بن کر ثابت نہیں ہوا تھا۔ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ نبی کی بعثت صرف اس کی حیات تک محدود ہو اور اس کی وفات کے بعد اس کے تمام خلفاء اور مبلغین سارے ہی مظہر قدرت ثانیہ مانے جائیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ کے حواری سب عیسیٰ ثانی ہوں گے اور موسیٰ علیہ السلام کے بعد تورات پر حکم کرنے والے تمام سلاطین اور انبیاء بھی موسیٰ ثانی ہوں گے۔ علیٰ ہذا القیاس حضورﷺ کے بعد تمام مبلغین بھی محمد ثانی ہوں گے۔ بلکہ ہر ایک فرد امت بھی ثانی ہوگا۔ کیونکہ "کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنہون عن المنکر" سے ثابت ہوتا ہے کہ ساری امت عہدۂ تبلیغ پر مامور ہے تو ہر ایک امتی محمد ثانی ہوا تو پھر مسیح قادیانی کی کیا تخصیص رہی؟ چوتھا اعتراض یہ ہے کہ کسی آیت یا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح موعود ظاہر ہوگا تو وہ محمد ثانی بھی ہوگا۔ اس لئے ان اعتراضات کی روشنی میں یہ امر پایۂ یقین تک پہنچ جاتا ہے کہ مسیح قادیانی نے جب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو یہ مشکل پیش آئی تھی کہ احادیث میں تو مسیح موعود کو نبی تسلیم نہیں کیا گیا ہے تو ہماری صداقت کیسے ظاہر ہوگی۔ اس لئے نبوت عکسی کا نظریہ گھڑ لیا۔ مگر جب پھر یہ مشکل آپڑی کہ حضورﷺ کی نبوت کا دور قیامت تک ہے تو پھر ہماری بعثت کیسے صحیح ہوگی۔ اب ذرہ اور کروٹ لی اور کہہ دیا کہ میری عکسی نبوت بروزی ہے اور میں محمد ثانی ہوں اور چونکہ نبوت محمدیہ کوئی غیر نبوت نہیں ہے۔ اس لئے نہ ختم رسالت پر حرف آیا اور نہ نبوت قادیانیہ قابل اعتراض رہی۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ تمام تعلیم ایرانی مدعیان نبوت سے نقل کی گئی ہے۔

صفحہ ٦٧٦

علی کرم اللہ وجہہ سے اپنا انتقام لے۔ کیونکہ آپ کے ہاتھ سے خیبر کے یہودی تباہ ہوئے تھے اور عبداللہ بن سبا کا خاندان خصوصاً تباہ ہوا تھا۔ اب اس نے مسلمان بن کر حضرت علیؓ کے طرفداروں میں یوں کہنا شروع کر دیا کہ جب مسیح ابن مریم آسمان سے اتریں گے تو کیا وجہ ہے کہ افضل المرسلین محمد علیہ السلام دنیا میں دوبارہ تشریف نہ لائیں۔ مگر چونکہ آپ کی وفات ہو چکی ہے۔ اس لئے آپ کا ظہور بروزی طور پر ہوگا اور اس وقت حضرت علیؓ بروز محمدی ہیں۔ اس لئے ان کی مخالفت ناجائز ہوگی اور حق خلافت آپ کا ہی ہے۔ اسی بناء پر حدیث میں آیا ہے کہ: ”من کنت مولاہ فعلی مولاہ“ اور یہ ظاہر ہے کہ آپ کے طرف داروں میں اس عقیدہ کے پھیلانے سے بہت بڑا جوش پیدا ہو گیا تھا اور دوسری طرف بنی امیہ کے طرفدار قتل عثمانؓ کا مرتکب حضرت علیؓ کو قرار دیتے تھے اور دنیائے اسلام سے مطالبہ کرتے تھے کہ جب تک آپ سے حضرت عثمانؓ کا قصاص نہ لیا جائے خلافت قائم نہ ہو سکے گی اور عبداللہ مذکور نے اس پارٹی کو بھی بڑے زور سے اندر ہی اندر جوش دلایا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ امیر معاویہؓ جمعہ کے روز حضرت عثمانؓ مقتول کا خون آلود کرتہ عین خطبہ کے وقت پیش کر کے ماتم کیا کرتے تھے جس سے لوگوں میں بڑا جوش پیدا ہو گیا تھا اور میدان جمل و صفین میں ہزاروں مسلمان آپس میں لڑ کر تباہ ہو گئے۔ واقعہ نہروان میں بھی بڑی تباہی ہوئی اور رفتہ رفتہ ان وجوہ مخاصمت سے واقعہ کربلا اور بعد میں واقعہ مختار ثقفی بھی پیش آ گیا اور اسی کشمکش میں خاندان علوی تقریباً مٹ گیا اور عبداللہ بن سبا کے دلی ارمان پورے ہو گئے۔ بہر حال یہ عقیدہ رفتہ رفتہ قرامطہ و ملاحدہ شام و مصر میں ہوتا ہوا مدعیان نبوت ایران تک پہنچ گیا تو انہوں نے بھی اپنے آپ کو مظہر الٰہی اور بروز محمدی ثابت کیا اور اس پر رجعت کا رنگ چڑھا کر تمام شریعت محمدی کو ہی بدل ڈالا اور کہہ دیا کہ محمد کی ہی شریعت تھی وہ آپ ہی واپس آ کر اس کو بدل رہے ہیں۔ کسی کا کیا دخل ہے۔ ایرانی مدعی رخصت ہوئے تو قادیان میں یہ رجعت بروزی رنگ میں ظاہر ہو گئی اور جو کچھ اس نے کرنا تھا کر دکھلایا اور مرنے سے پہلے مسیح قادیانی نے کہہ دیا کہ میں قدرت ثانیہ بن کر پھر دنیا میں آؤں گا تو مرزائیوں میں بیسیوں مدعی کھڑے ہو گئے اور جب دوسرے آزاد منش لیڈروں نے دیکھا کہ اسلام میں ختم رسالت کی مہر ٹوٹ کر اجزائے رسالت کی رو جاری ہو چکی ہے تو انہوں نے بھی اپنی نبوت چمکائی اور جا بجا نبوت بازی کا کھیل شروع ہو گیا اور عبداللہ بن سبا کی روح خوش ہو گئی۔ مگر اس موقعہ پر یہ ماننا پڑتا ہے کہ شیعہ قدیم میں

رجعت کا مسئلہ اس لئے قائم اور جماعت یزید دونوں کا برو لیا جائے گا اور یہ مطلب ہرگز لیکن آج کل بروزیوں نے کیا ہے کہ عبداللہ بن سبا کی باپ نکلے۔ بڑے میاں تو بڑ

ہو چکی تھی اور آئندہ اس میں ہوا تھا اور ہم پر نازل نہ ہوا تھا نزول علیہ اور نزول الیہ میں قرآن در حقیقت ہم پر نازل قرآنیہ کی ڈیوٹی خود سنبھال ہیں جو یقینی طور پر عہد حاضر اسلام کہ جن کی بدولت ہمیں تو نادان اور جاہل جو بظاہر مسلمان تھے اور نے ثابت کر دیا ہے سادگی کی حالت لئے موجودہ طرز ادائی بھی نہیں ہے۔ لیکن بائیبل ہے کہ گناہ بخشوانے کے راکھ ڈالو اور الگ بیٹھ کر ا آنجناب اس طرز عبادت ک کی روشنی میں کیوں نہیں کے تضحیک کر رہے ہیں۔

صفحہ ٦٧٧

رجعت کا مسئلہ اس لئے قائم کیا گیا تھا کہ امام الزمان جناب امام مہدی کے وقت خاندان رسالت اور جماعت یزید دونوں کا بروز ہوگا اور پھر واقعہ کربلا پھر پیش آئے گا۔ جس میں یزیدیوں سے بدلہ لیا جائے گا اور یہ مطلب ہرگز نہ تھا کہ اس رجعت کے وقت اسلام ہی تبدیل یا منسوخ ہو جائے گا۔ لیکن آج کل بروزیوں نے ساری کایا ہی پلٹ ڈالی ہے اور رجعت کو ایسے برے طریق پر استعمال کیا ہے کہ عبداللہ بن سبا کی روح بھی پھڑک اٹھی ہوگی اور بیساختہ کہتی ہوگی کہ لو یہ تو ہمارے بھی باپ نکلے۔ بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ!

ہو چکی تھی اور آئندہ اس میں ترمیم و تنسیخ کا حق کسی کو حاصل نہ تھا۔ کیونکہ حضور ﷺ پر قرآن نازل ہوا تھا اور ہم پر نازل نہ ہوا تھا بلکہ حضور ﷺ کے ذریعہ سے ہماری طرف نازل کیا گیا تھا۔ (کیونکہ نزول علیہ اور نزول الیہ میں بڑا فرق ہے ) مگر اس قدر اہل قرآن کا دعویٰ حد سے بڑھ گیا ہے کہ قرآن در حقیقت ہم پر نازل ہوا تھا۔ رسول تو صرف قاصد تھا۔ اس لئے انہوں نے تعلیم احکام قرآنیہ کی ڈیوٹی خود سنبھال لی ہے اور عملی طور پر نبی بن کر اس تعلیم نبوی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں جو یقینی طور پر عہد حاضر تک دستور العمل بن کر چلی آ رہی ہے۔ پہلے تو کہتے ہیں کہ حاملین اسلام کہ جن کی بدولت ہمیں اسلام نصیب ہوا ہے۔ معاذ اللہ سب جھوٹے تھے۔ اگر جھوٹے نہ تھے تو نادان اور جاہل ضرور تھے۔ کیونکہ انہوں نے علم فقہ وحدیث ان یہود و نصاریٰ سے حاصل کیا تھا۔ جو بظاہر مسلمان تھے اور باطن میں اسلام کے سخت ترین دشمن تھے۔ جیسا کہ آج کل محققین یورپ نے ثابت کر دیا ہے۔ بہرحال ان مقلدین تعلیمات یورپ نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ قرآن کو اس سادگی کی حالت میں دستور العمل بنانا چاہئے جو اسلام سے پہلے صحف قدیمہ کے وقت تھی۔ اس لئے موجودہ طرز ادائیگی صوم وصلوٰۃ جو بعد میں گھڑ لی گئی ہے۔ گو بری نہیں ہے۔ مگر چنداں ضروری بھی نہیں ہے۔ لیکن بائبل جو ان کے نزدیک معتبر کتاب ہے۔ اس میں تو طریق عبادت یوں مذکور ہے کہ گناہ بخشوانے کے لئے ہیکل پر قربانیاں چڑھائی جائیں اور یاد الہی کرنا ہو تو ٹاٹ پہن کر سر پر راکھ ڈالو اور الگ بیٹھ کر اللہ کی یاد کرو۔ نیل ڈاؤن ہوئے رہو یا صرف سجدہ میں گرے رہو تو کیا آنجناب اس طرز عبادت کو جاری کریں گے؟ ”فبھدھم اقتدہ“ اگر نہیں تو قرآن کو احادیث کی روشنی میں کیوں نہیں سمجھنا پسند کرتے اور کیوں اہل علم کے نزدیک اپنا مبلغ علم خواہ مخواہ ظاہر کر کے تضحیک کرا رہے ہیں۔ تمثیلی طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ آنجناب کے نزدیک نماز تسبیحات سے ادا

صفحہ ٦٧٨

ہو سکتی ہے۔ حالانکہ سورہ نور میں صاف مذکور ہے کہ : ” يسبحون له بالغدو والاصال رجال لا تلهيهم تجارة ولا بيع عن ذكر الله واقام الصلوة وايتاء الزكوة “ مساجد اسلام میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو صبح وشام یاد الٰہی میں مصروف رہتے ہیں اور ان کو تجارت یا سودا سلف کی پابندی اور ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کرتی۔ اس آیت میں ادائے تسبیح اور اقام الصلوٰۃ الگ دو امر بتائے گئے ہیں اور اسلام میں ان دونوں پر عمل درآمد یوں ہو رہا ہے کہ تسبیحات الگ ادا کی جاتی ہیں اور ذکر الٰہی میں خدا کے بندے ہر وقت مصروف رہتے ہیں اور ان کے علاوہ نماز کی پابندی الگ کرتے ہیں۔ اگر جناب اب بھی نہیں مانتے تو ذرا یہ بتلائیے کہ اگر پہلا ہی طریق عبادت منظور تھا تو تکمیل دین کس مرض کی دوا تھی؟

استدلالی طور پر پیش کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بت بنائے تھے۔ کنیسہ میں تصویریں تھیں۔ جناب عائشہؓ کی تصویر جبریل علیہ السلام لائے تھے۔ فارسیوں کے با تصویر سکے عہد رسالت میں مروج تھے۔ ایک صحابیؓ کے نگینہ میں تصویر تھی۔ حضورﷺ کے گھروں کے پردوں پر تصویریں تھیں۔ گدیلے با تصویر تھے۔ شیشہ میں تصویر آ جاتی ہے۔ بت پرستی کے خوف سے تصویر بند کی گئی تھی اور اب وہ خوف نہیں رہا۔ تصویر صرف تفہیم اور شناخت کے لئے بنائی جاتی ہے اور تصویر وعکس میں فرق ہے۔ کیونکہ فوٹو گرافر کو عکاس کہتے ہیں اور تصویر بنانے والے کو مصور۔ مگر ہماری طرف سے یہ جواب ہے کہ ان تمام دلائل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسلمانوں نے تصویر سازی کا کام عہد رسالت، عہد خلافت یا بعد میں خلافت بنی امیہ یا عباسیہ میں کبھی بھی کیا ہو اور کیا ہو تو علمائے اسلام نے قرآن وحدیث یا فقہ سے اسے جائز قرار دیا ہو۔ حالانکہ بت پرستی کا وہم جاتا رہا تھا اور علوم وفنون کی تفہیم بھی در پیش آ چکی تھی اور انبیاء واولیاء یا خلفاء وسلاطین کو اپنی شناخت کی سخت ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ مگر یہ آواز آتی تھی کہ؎

کس لئے تصویر جاناں تم نے کھنچوائی نہیں
بت پرستی دین احمدؐ میں کہیں آئی نہیں

ہاں استعمال کرنا ایسی حد تک پایا جاتا ہے کہ تصویر یا مجسمہ کو کچھ وقعت نہ دی جائے۔ ورنہ آج کل کی طرح تصویر کا استعمال بھی نہیں پایا جاتا اور یہ عذر بے بنیاد ہے کہ مسلمان اس فن سے بے بہرہ رہیں گے تو ان کی ترقی رک جائے گی۔ کیونکہ گائے کے گوشت کی بڑی تجارت ہے

مگر ہندو نہیں کرتے تو کیا ان سے تصویر سازی بند کی گئی تھی صوفیوں میں مروج ہو چکی ہے

سکھائی جاتی ہے کہ جانور؟ حضورﷺ کے خلاف فتویٰ و ہم نے آپ دلا دی ہے۔ آئندہ آپ کو ا

تنقید ثنائی

یہی فیصلہ مرزائی مشن کے الفاظ ملحوظ ہوں۔ کیونکہ مد چنانچہ وہ یہ ہیں کہ مولوی ثنا انه لحق “ بخدمت مولو کے پرچہ اہل حدیث میں وکذاب دجال اور مفسد ۔ چونکہ میں حق کے پھیلانے اور مجھے ان الفاظ سے یاد کذاب ومفتری ہوں تو ان الفاظ ۔

مرجاؤں

صفحہ ٦٧٩

مگر ہندو نہیں کرتے تو کیا ان کی ترقی بند ہوگئی ہے اور یہ نظریہ خود گھڑ لیا ہے کہ بت پرستی کے خوف سے تصویر سازی بند کی گئی تھی اور یہ غلط ہے۔ کیونکہ اس وقت پھر تصویر پرستی مرزائیوں اور بعض صوفیوں میں مروج ہو چکی ہے اور اس کی ترویج میں دو بھاری نقص پیدا ہو گئے ہیں۔

سکھائی جاتی ہے کہ جانور بھی اس کے مرتکب نہیں ہوتے تو کیا اندریں حالات کوئی مسلمان حضور ﷺ کے خلاف فتویٰ دے سکتا ہے کہ مسلمان تصویر بنائیں یا ان کو بنظر تحسین استعمال کریں۔

ہم نے آپ کے سامنے پیغمبر اسلام کی دور اندیشی اور روحانی تربیت کی طرف توجہ دلادی ہے۔ آئندہ آپ کو اختیار ہے مانیں یا نہ مانیں۔ ”وما علینا الا البلاغ“

تنقید ثانی

یہی فیصلہ مرزائی مشن کے لئے حقیقی فیصلہ ہے۔ سب سے اوّل چاہئے کہ مرزا قادیانی کے اصل الفاظ ملحوظ ہوں۔ کیونکہ مدعی کے دعویٰ پر جیسی وہ روشنی ڈالتے ہیں۔ دوسرا کوئی نہیں ڈال سکتا۔ چنانچہ وہ یہ ہیں کہ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ يستنبئونك احق هو قل ای وربی انه لحق“ ”بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علی من اتبع الہدیٰ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے پرچہ میں مردود و کذاب دجال اور مفسد کے نام سے منسوب کیا کرتے ہیں۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا مگر چونکہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ لوگوں کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی سخت لفظ نہیں ہو سکتا تو اگر میں ایسا ہی کذاب و مفتری ہوں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔“

ان الفاظ سے چار باتیں ثابت ہوتی ہیں۔

مر جاؤں گا۔

صفحہ ٦٨٠

مباہلہ نہیں لکھا۔

لیکن میں نے مرقع قادیانی میں اس اعلان کو دعاء لکھا ہے اور مباہلہ بھی مگر مباہلہ کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے دام فتادہ اس کو مباہلہ کہتے ہیں۔ رہا میرا انکار یا اقرار سو اس کو خدائی تصرف میں کیا دخل؟ جب کہ مرزا قادیانی اخیر اعلان میں لکھ چکے ہیں کہ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ مضمون صاف کہ مولوی ثناء اللہ کی ہاں یا ناں کو دخل نہیں۔

کتاب ہذا میں مرقوم ہے کہ پیر جماعت علی شاہ صاحب نے ٢٥؍مئی ١٩٠٨ء کو کہا تھا کہ مرزا چوبیس گھنٹوں کے اندر مر جائے گا۔ مگر اس واقعہ کو اہل فقہ امرتسر نے یوں لکھا تھا کہ پیر صاحب نے مرزا قادیانی کی نسبت ان الفاظ میں پیش گوئی فرمائی تھی کہ مرزا قادیانی بہت جلد عذاب کی موت مرے گا۔

(اہل فقہ ٢٩؍مئی ١٩٠٨ء)

ناظرین کو یاد رہنا چاہئے کہ پیر صاحب کے معاملہ میں اخبار اہل فقہ کی روایت سب سے زیادہ معتبر ہے۔ کیونکہ یہ اخبار پیر صاحب کا آرگن تھا۔ اگر چوبیس گھنٹوں کی پیش گوئی ہوتی تو اہل فقہ میں ضرور درج ہوتی۔ والسلام !

(ابوالوفاء ثناء اللہ)

تقریظ ثنائی

کتاب چودھویں صدی ہجری کے مدعیان نبوت مصنفہ جامع المعقول والمنقول جناب مولانا محمد عالم صاحب آسی میں نے دیکھی۔ کتاب اپنے مضمون میں جامع ہے۔ اسلامی دنیا میں بہاء اللہ ایرانی اور مرزائے قادیانی نے جو تہلکہ مچا رکھا ہے آج اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان کے حالات اور مقالات کی جامع کتاب چاہے تھی۔ مصنف علام نے اس ضرورت کو پورا کر دیا ہے۔ جزاہ اللہ ! (شیر پنجاب فاتح قادیان) مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ (امرتسر ) ١٧؍ستمبر ١٩٣٤ء

تقریظ حبیب

میں نے اس کتاب کا کچھ حصہ دیکھا ہے۔ ماشاء اللہ تردید مرزائیت میں یہ ایک لاجواب کتاب ہے اور بہت مفید ہے۔

حافظ مرزائی لٹریچر بابو حبیب اللہ کلرک دفتر نہر امرتسر ١٤؍ستمبر ١٩٣٤ء

تمت بالخیر !

صفحہ ٦٨١

حلف باللہ سے مؤکد کرنا گو مرزا نے اس کو

ان کو دعاء لکھا ہے اور مباہلہ بھی مگر مباہلہ کے کو مباہلہ کہتے ہیں۔ رہا میرا انکار یا اقرار سو اس خیر اعلان میں لکھ چکے ہیں کہ اب فیصلہ خدا کے یاناں کو دخل نہیں۔

علی شاہ صاحب نے ٢٥ مئی ١٩٠٨ء کو کہا تھا ں واقعہ کو اہل فقہ امرتسر نے یوں لکھا تھا کہ پیش گوئی فرمائی تھی کہ مرزا قادیانی بہت جلد

(اہل فقہ ٢٩ مئی ١٩٠٨ء)

کے معاملہ میں اخبار اہل فقہ کی روایت سب ن تھا۔ اگر چوبیس گھنٹوں کی پیش گوئی ہوتی تو

(ابوالوفاء ثناء اللہ )

یان نبوت مصنفہ جامع المعقول والمنقول کتاب اپنے مضمون میں جامع ہے۔ اسلامی ہلکہ مچا رکھا ہے آج اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان مصنف علام نے اس ضرورت کو پورا کر دیا ابوالوفاء ثناء اللہ (امرتسر ) ١٧ ستمبر ١٩٣٤ء

ہے۔ ماشاء اللہ تردید مرزائیت میں یہ ایک

حافظ مرزائی لٹریچر بابو حبیب اللہ کلرک دفتر نہر امرتسر ١٤ ستمبر ١٩٣٤ء نیر!

بسم الله الرحمن الرحیم!

فہرست ...... ”الكاویۃ علی الغاویۃ“ حصہ دوم

عرض مرتب ٣ معروضات آسی ٦ سوانح حیات جناب مسیح ابن مریم ٧ (اقتباسات انجیل برنباس) ٧ انجیل سیاح روسی ١٥ اکمال الدین واتمام النعمۃ للعمٰی اور یوز آصف ١٧ مورخ طبری اور مسیح ابن مریم ١٨ علامہ ابن جریر اور مسیح ابن مریم ٢٠ حضرت مسیح کے متعلق قادیانی خیالات ٢٤ ہجرت مسیح بطرف کشمیر پر ایک لمحہ فکریہ ٣٥ لغات قادیانیہ ٤٤ سوانح باب اور اقتباسات نقطۃ الکاف ٥٧ ظہور ابواب اربعہ ٥٧ باب اول، باب دوم ٥٨ باب ثالث ...... (باب اعظم) ٥٩ باب اعظم کے ابتدائی حالات ٦٠ باب کی تبلیغی جدوجہد ٦١ باب کی گرفتاری ٦١ باب کی ہجرت اور قیام اصفہان ٦٢ سفر طہران ٦٤ سفر طہران اور ظہور خوارق ٦٥ ورود تبریز وسفر ماکو ٦٧ ماکو میں تین سال کی نظر بندی ٦٧ مناظرہ تبریز ٦٨ باب کی سزایابی ٧٠ اخوند باب، بابویہ محمد حسین بشروی ٧٠ بروز فاطمہ قرۃ العین طاہرہ ٧١ قتل ملا تقی ٧٢ بیعت بدشت اور بروز رسالت ٧٣

صفحہ ٦٨٢

باب چہارم....... ٧٨ مسئلہ مراق بارفروش میں چپقلش ٧٩ جنرل بغداد کی خسرو کی لڑائی۔ طبرسی کی لڑائی ٨٠ اڈریا نوپل کا سلطانی لشکر سے قدوسیوں کی پہلی لڑائی اور تیاری ٨١ مرزا محمد یحییٰ ا جناب قدوس سے خط و کتابت ٨١ حکومت ایران مسئلہ رجعت ٨٣ اقتباسات د قدوسیوں کی دوسری لڑائی ٨٦ الواح جناب خاندان بشروی ٨٦ حکومت کانہ باب پنجم و ششم ٨٧ رباعیات مکتو بھو کے قدوسیوں کے حیرت ناک حالات ٨٧ بہائی مذہب قتل قدوس ٨٩ شوقی آفندی دعویٰ مسیحیت ٩١ بہاء اللہ اسیران قدوس ٩٢ عبد البہاء کی آ باب ہفتم ٩٢ قرۃ العین طا باب ہشتم ٩٣ قصیدہ اوّل واقعہ زنجان ٩٣ مختصر تاریخ باب نہم...... صبح ازل ٩٦ تعلیمات بہا قتل جناب ذکر ٩٧ صداقت باب باب دہم...... ذبیح ٩٨ اقتباسات آ باب یاز دہم...... بصیر ٩٩ نزول مسیح کی انتخاب مقالہ شخصے سیاح کہ در تفصیل قضیہ باب نوشته شد ١٠١ شمس و قمر و ت پہلا مقابلہ شیراز میں ١٠٢ تبدیل ارض تبریز اور ماکو میں قیام ع ١٠٣ طی الارض دلائل مہدویت ١٠٤ ظہور عیسیٰ کا انقلاب عظیم، فتنہ قتل بشروی ١٠٦ عیسیٰ علیہ الس قتل باب و واقعہ زنجان ١٠٧ تحریف (ز سلطان پر گولی چلانا، تعلیمات باب ١٠٩ شمس حقیقت من یظہرہ اللہ بہاء اللہ شاب مجسمے ظہور اعظم، حقیقت خالصہ ١١٠ قیام سلطنت راز داری ١١٠ رجوع و بدع خاموش مقابلہ ١١١ بروز محمدی، ظ تعلیمات بہائیہ ١١٢ علم و جہالت شکایت از اہل زمان ١١٣ نصائح بہاء

صفحہ ٦٨٣

٧٨ مسئلہ عراق ١١٥ ٧٩ جنرل بغداد کی ناکامی ١١٦ ٨٠ اڈریا نوپل کو روانگی ١١٧ ٨١ مرزا محمد یحییٰ کی علیحدگی ١١٨ ٨١ حکومت ایران کی خدمت میں درخواست ١١٩ ٨٤ اقتباسات درخواست ہذا ١٢٠ ٨٦ الواح جناب بہاء اللہ درخواست اہل بغداد ١٢٨ ٨٦ حکومت کا رویہ اور قتل حسنین ١٢٩ ٨٧ رباعیات نقطہ الکاف ١٣٠ ٨٧ بہائی مذہب کے مزید حالات، عباس آفندی ١٣٢ ٨٩ شوقی آفندی ١٣٣ ٩١ بہاء اللہ ١٣٤ ٩٢ عبدالبہاء کی شخصیت ١٣٦ ٩٢ قرۃ العین طاہرہ ١٣٧ ٩٣ قصیدہ اوّل طاہرہ در شان باب قصیدہ دوم و سوم طاہرہ ١٣٨ ٩٤ مختصر تواریخ بابیہ ١٤٠ ٩٦ تعلیمات بہائیہ ١٤١ ٩٧ صداقت بابیت و بہائیت ١٥٠ ٩٨ اقتباسات کتاب ایقان ١٥٤ ٩٩ نزول مسیح کی پیشین گوئی اور تحریف بہائیہ ١٥٦ ١٠١ شمس و قمر و نجوم کا ایک اور معنی ١٥٧ ١٠٢ تبدیل ارض کا مفہوم ١٥٨ ١٠٣ طی الارض ١٥٩ ١٠٤ ظہور عیسیٰ کا مفہوم ١٦٠ ١٠٦ عیسیٰ علیہ السلام کا ابر سے اترنا ١٦١ ١٠٧ تحریف (رجم) ١٦٣ ١٠٩ عکس حقیقت (نبوت) ١٦٤ ١١٠ قیام سلطنت (امام) ١٦٦ ١١٠ رجوع و بروز انبیاء و اولیاء ١٧٣ ١١١ بروز محمدی، ختم نبوت ١٧٤ ١١٢ علم و جہالت ١٧٩ ١١٣ نصائح بہائیہ ١٨٠

صفحہ ٦٨٤

مدینہ روحانی ١٨١ میں مہدی کیسے ہوا ادنی لیاقت (بہاء اللہ) ١٨٣ اشتہار برائے توجہ سرکار مخالفین پر فتوائے کفر پیشتر از نزول آیات سے انکار ١٨٤ کتاب البریہ کیوں لکھی چار سو علمائے عصر کی شہادت ١٨٥ کارروائی مقدمہ قتل تنسیخ شریعت ١٨٧ پیشین گوئیاں (قادیانی ہجرت ابتلا و امتحان ١٩٠ مسیح ناصری سے مسیح قا بہائی مذہب کے متعلق اہل اسلام کے خیالات ١٩١ رسائل ثلاثہ اطمینان قل اقتباسات کتاب اقدس (وحی بہاء) الصوم والصلوٰۃ ٢٠١ آتھم اور قسم کھانا المواریث ٢٠٢ عیسائیت پر اعتراضات بیت العدل (کا قیام) مدعی نبوت کی تکفیر (جو ہزار سال سے پہلے ہو) ٢٠٣ الہامات محویت (مسیح تعزیرات (اور سیاسی احکام) نکاح و طلاق (کے احکام) ٢٠٥ مکاشفات محویت ( ندائے تبلیغ، معاملات ٢٠٦ خدائی میں مقابلہ وقائع الاحوال اور حالات پیش آمدہ ٢٠٩ اظہار مظلومیت تکفیر اہل البیان (بابیوں کی تکفیر) ٢١٠ گندی کتابوں کی فہر المتکبر ھوا کافر (بہاء کا منکر کافر) ٢١٢ کتاب البریہ پر ایک الحکمۃ القدیمۃ (فلسفہ قدیم) ٢١٢ مسیح ابن مریم اور وا ورقۃ بیضاء (خوبصورت عورت) ٢١٣ واقعہ صلیب اور قرآ الثواب والعقاب ٢١٣ مصلوب اور اس کی انجمن و نزول تعالٰی (خفیہ نامہ میں خدا) ٢١٥ نوابی فیصلہ پر جرح الہیکل (وجود بہاء اللہ) ٢١٦ اقتباسات سیرت المـ اقتباسات کتاب البریہ ٢١٦ عہد طفولیت اور تعلـ مرزا گل محمد اور ریاست ٢١٧ مزاج و عادات ( پیدائش مسیح قادیانی تعلیم اور باپ کی ناراضگی ٢١٨ بود و باش (مسیح قا ایک خواب ٢١٩ عہد شباب (مسیح مجاہدہ اور ابتدائی حالات الہام اور مسیحیت ٢٢٠ ادبیات (مسیح قا فتح المواج کے تنازعات ٢٢١ کرامات (مسیح دلیل صداقت (مسیح قادیانی) وفات مسیح ناصری ٢٢٢ زہد اتقائے (قـ رفع جسمانی ٢٢٥ سوانح مفصلہ (قـ دجال و دجال ٢٢٦ عہد وفات (قـ اثبات مسیحیت (قادیانیہ) ٢٢٨ خاص خاص حا ابدی لعنت سے رہائی ٢٢٩ مسیح قادیانی کی میں کب اور کیوں مجدد بنا؟ ٢٣١ مسیح قادیانی کی

صفحہ ٦٨٥

684 ١٨١ میں مہدی کیسے ہوا ٢٣٢ ١٨٣ اشتہار برائے توجہ سرکار ٢٣٣ اسے انکار ١٨٤ کتاب البریہ کیوں لکھی؟ ٢٣٧ ١٨٥ کارروائی مقدمہ قتل ٢٣٨ ١٨٧ پیشین گوئیاں (قادیانی) ٢٣٩ ١٩٠ مسیح ناصری سے مسیح قادیانی کی مشابہت ٢٤٠ خیالات ١٩١ رسائل ثلاثہ اطمینان قلبی بحیثیت مسیح ناصری ٢٤١ الصوم والصلوٰۃ ٢٠١ آتھم اور قسم کھانا ٢٤١ ٢٠٢ عیسائیت پر اعتراضات ٢٤٣ غیر (جو ہزار سال سے پہلے ہو) ٢٠٣ الہامات محویت (مسیح قادیانی) ٢٤٩ ٢٠٥ مکاشفات محویت (مسیح قادیانی) ٢٥١ طلاق (کے احکام) ٢٠٦ خدائی میں مقابلہ ٢٥٢ ٢٠٩ اظہار مظلومیت ٢٥٥ ٢١٠ گندی کتابوں کی فہرست ٢٥٦ ٢١٢ کتاب البریہ پر ایک سرسری نظر ٢٥٧ ٢١٢ مسیح ابن مریم اور واقعہ صلیب ٢٨٣ ٢١٣ واقعہ صلیب اور قرآن شریف ٢٨٤ ٢١٤ مصلوب اور اس کی زندگی ٢٨٥ ٢١٥ نوابی فیصلہ پر جرح ٢٨٦ ٢١٦ اقتباسات سیرۃ المہدی قادیانی مرزا صاحب کے اسلاف واقارب ٢٨٨ ٢١٦ عہد طفولیت اور تعلیم قادیانی ٢٩٦ ٢١٧ مزاج وعادات (مسیح قادیانی) ٢٩٩ اقامتی ٢١٨ بودوباش (مسیح قادیانی) ٣٠٠ ٢١٩ عہد شباب (مسیح قادیانی) ٣٠٦ بیعت ٢٢٠ ادبیات (مسیح قادیانی) ٣٠٩ ٢٢١ کرامات (مسیح قادیانی) ٣١١ مسیح ناصری ٢٢٢ زہد اتقائے (مسیح قادیانی) ٣٢٥ ٢٢٥ سوانح مختلفہ (مسیح قادیانی) ٣٣٠ ٢٢٦ عہد وفات (مسیح قادیانی) ٣٥٣ ٢٢٨ خاص خاص حالات (مسیح قادیانی) ٣٥٨ ٢٢٩ مسیح قادیانی کی بیماریاں اور دوائیں ٣٥٨ ٢٣١ مسیح قادیانی کا تمدن رئیسانہ ٣٦١

صفحہ ٦٨٦

مسیح قادیانی کی دعائیں ٣٦٣ مشہور واقعات جماعت مرزائیہ ٣٦٥ تاریخ ہائے تصانیف مسیح قادیانی ٣٧٠ اشتہارات مسیح قادیانی ٣٧٣ ووگنگ مسجد ٣٨٠ تعبیر خواب از مسیح قادیانی ٣٨١ عقائد و ملفوظات مسیح قادیانی ٣٨٣ نسخہ جات قادیانی ٣٨٥ مبلغین قادیانیت ٣٨٦ دس شرائط بیعت قادیانی ٣٨٦ انجام مکذبین ٣٨٨ اقتباسات الوصیۃ قادیانی ٣٨٨ قدرت ثانیہ ٣٩٠ حصول نبوت ٣٩٠ وفات مسیح نشان صداقت اور زلزلے ٣٩٢ بہشتی مقبرہ (قادیانی) ٣٩٣ تنقیدات ٣٩٥ نقشہ قادیان ٤٠٠ مسیح قادیانی کی وفات ٤٠٣ ڈاکٹر عبدالحکیم کی پیشین گوئی معہ ہلاکت ٤٠٤ ہلاکت مولوی ثناء اللہ ٤٠٦ تنقید بر وفات مسیح قادیانی ٤٠٨ ہلاکت مرزا و سید جماعت علی شاہ صاحب کی کرامت ٤١٤ ہلاکت مولوی عبدالکریم قادیانی ٤١٥ لیکچر سیالکوٹ ٤١٦ تنقیح عقائد قادیانی ٤٢٢ دانیال کی پیشین گوئی ٤٣٦ بائبل کی پیشین گوئیاں ٤٣٩ مکاشفات بائبل ٤٥١ اعلان نبوت قادیانی ٤٥٤ تنقید (براعلان نبوت) ٤٥٦ دشنام نامہ قادیانی ٤٦٢

صفحہ ٦٨٧

امت ٣٦٣ ٣٦٥ ٣٧٠ ٣٧٣ ٣٨٠ ٣٨١ ٣٨٣ ٣٨٥ ٣٨٦ ٣٨٦ ٣٨٨ ٣٨٨ ٣٩٠ ٣٩٠ ٣٩٢ ٣٩٣ ٣٩٥ ٤٠٠ ٤٠٣ ٤٠٤ ٤٠٦ ٤٠٨ ٤١٤ ٤١٥ ٤١٦ ٤٢٢ ٤٣٦ ٤٣٩ ٤٥١ ٤٥٣ ٤٥٦ ٤٦٢

الہام کشف اور خوابہائے مسیح قادیانی ٤٦٧ وحی رحمانی و شیطانی میں امتیاز ٤٦٧ قلیل المقدار الہامات ٤٦٨ بے معنی الہام ٤٧٠ الہامات شرکیہ ٤٧١ البشریٰ (قرآن قادیانی) ٤٧٤ الہامات مرکبہ (فارسی عربی وغیرہ) ٤٧٦ تنقیدات الہامات مرکبہ ٤٨٦ عربی الہامات (بشریٰ نصف اوّل) ٤٨٧ عربی الہامات (بشریٰ نصف ثانی) ٤٩٤ الہام عربی پر تنقید ٥٠٩ الہامات اردو (بشریٰ نصف اوّل) ٥١٠ الہامات اردو (بشریٰ نصف ثانی) ٥١١ اردو الہام پر تنقید ٥١٦ پنجابی الہام ٥١٨ فارسی الہام ٥١٨ انگریزی الہام ٥٢٠ مرزائیت اور اہل اسلام میں فرق ٥٢٠ اسلام و قادیانیت میں وجوہات تفرقہ ٥٢٢ عہد قادیانیت میں مدعیان نبوت ٥٣٣ چراغدین، الٰہی بخش، ڈاکٹر عبدالحکیم ٥٣٣ ڈاکٹر ڈوئی، احمد سعید سمھویانی ٥٣٤ ظہیرالدین، یار محمد، فضل احمد ٥٣٥ مرزا محمود قادیانی ٥٣٧ عبداللہ تیمارپوری، عابد علی شاہ ٥٣٨ محمد بخش، ڈاکٹر محمد صدیق ٥٣٨ نظم صدیق ٥٤٢ محمد صدیق پر تنقید، احمد نور کابلی ٥٥٢ احمد نور کابلی پر تنقید ٥٥٦ غلام محمد لاہوری، عبداللطیف گناچوری ٥٥٦ تنقید رسالت عبداللطیف ٥٦١ نبی بخش، غلام حیدر، محکم الدین محمد زمان ٥٦٢

صفحہ ٦٨٨

حکیم نور الدین بھیروی ٥٦٣ خواجہ کمال الدین ٥٦٨ تنقید ٥٦٨ رجل مسمی چوچاوٹنی ٥٧١ رجل مسمی پر تنقید ٥٧٨ محبوب عالم شاہ گوجرانوالہ ٥٨٢ نماز امام حقیقی ٥٨٣ روزہ نکاح و طلاق امام حقیقی ٥٨٥ عام احکام حقیقی نمبر ١ ٥٨٦ تناسخ ٥٨٩ احکام امام حقیقی نمبر ٢ ٥٩١ احکام امام حقیقی نمبر ٣ ٥٩٢ احکام امام حقیقی نمبر ٤ ٥٩٩ تنقید بر احکام امام حقیقی ٦٠٥ خواجہ احمد الدین کترین ٦٢٥ یحییٰ بہاری ٦٢٦ نظم یحییٰ ٦٢٧ احکام یحییٰ ٦٢٩ نظم معائب ٦٣٠ صداقت یحییٰ بہاری ٦٣١ یحییٰ پر تنقید ٦٣٣ عنایت اللہ مشرقی ٦٣٧ عنایت اللہ پر تنقید ٦٣٨ میڈیم محمد بوٹارام ٦٤٠ میڈیم پر تنقید ٦٤٦ امام الدین گجراتی مؤلف بانگ دہل ٦٤٧ نظم امام الدین مذکورہ معہ تنقید ٦٤٨ حسن بن صباح اور اس کا مصنوعی بہشت ٦٤٩ شام میں اسماعیلی فرقے ٦٦٠ خلاصہ کتاب ہذا ٦٦٤ تنقید ثنائی ٦٧٩ تقریظ ثنائی، تقریظ حبیب ٦٨٠