رَدّ قادیانیت پر مجموعہ رسائل
مُناظرِ اسلام مَولانَا
لال حُسین اختر رحمۃ اللہ علیہ
احتساب قادیانیت
جلد اوّل
عَالَمی مَجلِس تَحَفُّظِ خَتمِ نُبُوَّة
ردّ قادیانیت پر مجموعہ رسائل
مناظر اسلام مولانا
لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ
احتساب قادیانیت
جلد اوّل
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 514122
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نگاہ اولین ٤ مناظرہ نہ کیا جائے ٩ میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی؟ ١٣ قادیانی اور مولانا لال حسین اخترؒ ٣٣ ترک مرزائیت ٣٥ ختم نبوت اور بزرگان امت ١٣٥ حضرت مسیح علیہ السلام مرزا کی نظر میں ١٦٣ حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور مرزا قادیانی ٢٠٩ مرکز اسلام مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں ٢٢٧ سیرت مرزا قادیانی ٢٣٥ عجائبات مرزا قادیانی ٢٤٩ حمل مرزا قادیانی ٢٦١ آخری فیصلہ ٢٦٥ بکر و ثیب ٢٧٣ وفاقی وزیر قانون کی خدمت میں عرضداشت ٢٨١ حمود الرحمن کمیشن میں بیان ٢٩٥ مسلمانوں کی نسبت قادیانی عقیدہ ٣٠١ انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابی ٣٠٥
بسم اللہ الرحمن الرحیم O
نگاہ اولین
مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ کا وجود قادیانیت کے لیے تازیانہ خداوندی تھا۔ آپ نے نصف صدی خدمت اسلام اور تحفظ ناموس رسالتؐ کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔ اندرون و بیرون ملک آپ کی خدمات جلیلہ کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان گرانقدر خدمات میں حکیم الامت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ، شیخ الاسلام مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ، قطب الارشاد عبدالقادرؒ رائے پوری کی دعائیں، سرپرستی اور حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی رفاقت کا بہت بڑا دخل ہے۔ ان خدمات کو اس سے بڑھ کر اور کیا خراج پیش کیا جا سکتا ہے کہ ایک دفعہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ نے ایک مناظرہ میں مولانا لال حسین اخترؒ کو نہ صرف اپنا نمائندہ بنایا، بلکہ ان کی فتح و شکست کو اپنی فتح و شکست قرار دیا۔
مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے گرامی قدر رفقاء مرحومین کا صدقہ جاریہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہے جب تک اس جماعت کے خدام و رضاکار دنیا کے کسی بھی حصہ میں منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کریں گے ان حضرات کی مقدس ارواح کو برابر ثواب و تسکین حاصل ہوتی رہے گی۔
مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد عنوانوں پر قلم اٹھایا۔ تقریر کی طرح تحریر میں بھی غضب کی گرفت اور مناظرانہ استدلال سے دشمن کو لاجواب کر دینے کی شان نمایاں ہے۔
رد قادیانیت پر آپ کے ”چودہ“ رسائل و مضامین ہیں۔ جن میں سے بعض تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے لاکھوں کی تعداد میں اندرون و بیرون ملک تقسیم کیا اور بعض ایسے رسائل ہیں جو ایک آدھی دفعہ وقتی ضرورت کے تحت شائع ہوئے اور آج وہ نایاب ہیں۔ اس لیے ضرورت تھی کہ ان تمام رسائل کو یکجا کتابی شکل میں شائع کر دیں تاکہ ہمیشہ کے لیے لائبریریوں میں محفوظ ہو جائیں۔
ترتیب و تعارف
مولانا ظفر علی خان مرحوم نے ایک بار جیل میں اپنے گرامی قدر ساتھی مولانا لال حسین اختر کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ سب سے اول میں وہ شامل اشاعت ہے۔
١۔ ترک مرزائیت
اس کتاب میں مولانا مرحوم نے مرزائیت چھوڑنے کے اسباب بیان کیے ہیں۔ اس کتاب کو قدرت نے اس قدر شرف قبولیت سے نوازا کہ مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی تصنیف ”خاتم النبیین“ میں اس کے حوالے نقل کیے ہیں۔
٢۔ ختم نبوت اور بزرگان امت
قادیانیوں نے امت محمدیہؐ کے جلیل القدر اکابرین پر اپنے دجل و تلبیس سے الزامات لگائے کہ وہ ”اجرائے نبوت“ کے قائل تھے۔ قادیانیوں کے اس دجل و فریب کا مولانا نے اس رسالہ میں جواب دیا ہے اور ایسا کافی و شافی کہ اس کے بعد قادیانیوں کے ہمیشہ کے لیے منہ بند ہو گئے۔
٣۔ حضرت مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں
مرزا غلام احمد قادیانی کے گستاخ و بے باک قلم سے انبیاء کرام کی ذات تک محفوظ نہیں رہی۔ حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی توہین و تنقیص میں تو اس نے
یہودیوں کے بھی کان کتر لیے اور ظلم یہ کہ قادیانی امت آج بھی ان غلیظ تحریروں کو پڑھ کر توبہ کرنے کی بجائے تاویل باطل کا انداز اپناتی ہے۔ مولانا مرحوم نے مرزا قادیانی کے ”اس کفر کو“ واضح کیا ہے اور مرزائیوں کی تاویلوں کا دندان شکن جواب دیا ہے۔
اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کا انگریزی ایڈیشن بھی شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔
٤ - حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور مرزا غلام احمد قادیانی
خواجہ غلام فرید مرحوم بہاولپور کے مشہور و معروف بزرگ اور صوفی تھے۔ ریاست بہاولپور کے ”والیان“ کو ان سے بہت بڑی عقیدت تھی۔ مشہور زمانہ ”مقدمہ بہاولپور“ میں مرزائیوں نے مشہور کر دیا کہ خواجہ غلام فرید مرزا قادیانی کے ہمنوا تھے۔ ان کی یہ شرارت محض بہاولپور ریاست کے عوام کو دھوکہ دینے کی غرض سے تھی۔ مولانا لال حسین اخترؒ نے اس رسالہ میں ثابت کیا ہے کہ مرزائیوں کا پروپیگنڈہ مرزا قادیانی کی نبوت کی طرح جھوٹا ہے۔ حضرت خواجہؒ تمام مسلمانوں کی طرح مرزا قادیانی کو کافر سمجھتے تھے۔
٥ - مرکز اسلام مکہ مکرمہ میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیاں
نام و عنوان سے مضمون واضح ہے۔
٦ - سیرت مرزا ٧ - عجائبات مرزا ٨ - حمل مرزا
ان تینوں مضامین میں مرزا قادیانی کے کریکٹر و کردار کو اس کے اوٹ پٹانگ حوالہ جات سے ثابت کیا ہے کہ نبوت تو بہت دور کی چیز ہے‘ مرزا قادیانی میں شرافت نام کی بھی کوئی چیز نہ تھی۔
٩ - آخری فیصلہ
اس رسالہ میں مرزا قادیانی کی مولانا ثناء اللہ مرحوم کے ساتھ دعا و مباہلہ کی
کہانی لکھی گئی ہے۔
١٠- بکر و ثیب
بکر و ثیب مرزا کی پیشین گوئی تھی اس کا حشر بھی مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت جیسا ہوا۔ اس کی تفصیل لکھی گئی ہے۔
١١- وفاقی وزیر قانون کی خدمت میں عرضداشت
جناب محمود علی قصوری مرحوم، ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے زمانہ اقتدار میں وفاقی وزیر قانون تھے۔ مولانا لال حسین اختر ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر تھے۔ آپ نے قصوری صاحب سے ملاقات کی اور قادیانیوں کے متعلق قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے گفتگو کے تمام نکات کو تحریری طور پر پیش کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ آپ نے انہی نکات کو رسالہ کی شکل میں لکھ کر ان کو بھجوا دیا۔
١٢- سقوط مشرقی پاکستان پر حمود الرحمن کمیشن میں تحریری بیان
سقوط مشرقی پاکستان پر تحقیقات کے لیے حمود الرحمن کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم ہوا۔ مولانا لال حسین اختر نے تحریری طور پر اس کمیشن میں بیان داخل کرایا کہ سقوط مشرقی پاکستان میں رسوائے زمانہ ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی اور دوسرے مرزائیوں کا بھی ہاتھ ہے۔
١٣- مسلمانوں کی نسبت قادیانیوں کا عقیدہ
نام سے مضمون واضح ہے۔ بلا تبصرہ قادیانیوں کے حوالہ جات ہیں۔
١٤- انگلستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی کامیابی
مولانا لال حسین اختر مرحوم کی ان خدمات کی تھوڑی سی جھلک ہے، جو
ووگنگ کی ”مسجد شاہجہاں“ کو قادیانیوں سے واگزار کرانے کے سلسلہ میں آپ نے سرانجام دی تھیں۔ یہ رپورٹ کسی اور بزرگ کی لکھی ہوئی ہے۔ تاہم موضوع کی مناسبت سے اسے ہم مجموعہ میں شامل کر رہے ہیں۔
اس طرح یہ کتاب چودہ مختلف رسائل و مضامین کا حسین گلدستہ ہے جو گلہائے رنگا رنگ سے مزین کر کے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی ہم سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ بے حد و حساب حمد و ثناء اس ذات باری تعالیٰ کی جس کی عنایت کردہ توفیق سے اس کتاب کو شائع کر رہے ہیں۔ کروڑوں درود و سلام اس ذات بابرکات صلی اللہ علیہ وسلم پر جن کی وصف خاص ”ختم نبوت“ کے پھریرے کو چار دانگ عالم میں لہرانے کا شرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو حاصل ہے۔
خاکپائے مناظر اسلام طالب دعا عزیز الرحمٰن جالندھری خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان ۔ پاکستان ٢٩ - ١ - ١٩٨٨
مناظر اسلام مولانا لال حسین اخترؒ
سے مناظرہ نہ کیا جائے
قادیانیوں کا سرکاری سطح پر اعلان
فقیر جن دنوں چناب نگر ریلوے اسٹیشن پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام قائم شدہ پہلی مسجد، مسجد محمدیہ کا خطبہ دیتا تھا۔ ان دنوں کتابیں، حوالہ جات، اخبارات و رسائل ہاتھ میں لے کر قادیانیوں کو خطاب کرنے کا طریقہ اختیار کیا تھا، ان دنوں قادیانی اخبار الفضل کے دو پرچے مناظر اسلام مولانا عبد الرحیم اشعر دامت برکاتہم نے عنایت کئے۔ جن میں قادیانیوں کا اعتراف شکست تھا۔ قادیانی جماعت نے اپنے اخبار الفضل میں جماعتی طور پر باضابطہ اعلان کیا تھا کہ مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر سے کوئی قادیانی مناظرہ نہ کرے۔ بلکہ ان کی مجلس میں نہ جائے۔ ان کی گفتگو نہ سنے۔ یہ دونوں حوالہ جات چناب نگر (ربوہ) اسٹیشن جامع مسجد محمدیہ میں فقیر نے پڑھ کر سنائے قادیانی سٹ پٹائے۔ اخبار پرانے تھے ان پر کور چڑھانے کے لئے ایک ”مخلص“ نے لے لئے اور وہ نہ ملنے تھے نہ ملے۔ فقیر کے لئے یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ بس کچھ نہ پوچھیئے جب یاد آتا دل مسوس کر رہ جاتا۔ اخبار سے زیادہ صدمہ اس بات کا تھا کہ ان کی تاریخ کہیں درج نہ کی تھی۔ ورنہ اخبار تو کہیں سے بھی حاصل کیا جاسکتا تھا۔ ہمارے حضرت مولانا عبد الرحیم اشعر مدظلہ کو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی بہتر جزا دیں ان کی نوٹ بکوں میں کہیں وہ تاریخیں مل گئیں۔ فقیر نے وہ ڈائری کے ٹائیٹل پر نقل کرلیں۔ آج مورخہ ٥ جولائی ١٩٩٩ء کو فرصت نکال کر مجلس کے مرکزی دفتر کی لائبریری سے الفضل کی متعلقہ فائل نکالی، تو بحمدہ تعالیٰ وہ پرچے مل گئے۔ لیجئے اس خوشی میں فقیر آپ کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے۔
مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر رحمۃ اللہ علیہ امت مسلمہ میں سے وہ فرد واحد ہیں جن کے متعلق قادیانی جماعت کے ناظر دعوت و تبلیغ (یعنی مناظروں کے انچارج اعلیٰ) زین العابدین ولی اللہ شاہ نے اخبار الفضل مورخہ یکم جولائی ١٩٥٠ء میں باضابطہ اعلان کیا۔ یہ اعلان الفضل (الدجل) کے ڈیڑھ صفحہ پر محیط ہے۔ ”مبلغین سلسلہ و دیگر احباب محتاط رہیں“ عنوان قائم کر کے اس نے تحریر کیا۔
”مولوی لال حسین اختر اور اس قماش کے دوسرے مبلغین جگہ بہ جگہ ہمارے خلاف اکھاڑے قائم کئے ہوئے ہیں۔ جماعت احمدیہ اور اس کے مقدس امام (مرزا قادیانی) کو بازاری قسم کی گندی گالیاں دیتے اور ہمارے عقائد اور اقوال............کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اپنی طرف سے من گھڑت باتیں ہماری طرف منسوب کر کے لوگوں کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں اور مبلغین سلسلہ (قادیانیت) کو چیلنج دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ مناظرہ کر لیں........چنانچہ ساہیوال کے جلسہ میں لال حسین اختر نے مبلغین سلسلہ (قادیانیوں) کو خطاب کرتے ہوئے بار بار کہا آؤ مناظرہ کرو۔ تم مذہبی جماعت نہیں۔ بلکہ سیاسی جماعت ہو۔ عنوان ہو کہ قادیانی کافر تھا۔ انگریز کا جاسوس تھا۔ دجال تھا۔ کذاب تھا۔ گونگا شیطان تھا۔ اگر نہ آؤ تو لعنتہ اللہ علی الکاذبین ۔ فرشتوں کی لعنت۔ آسمان کی لعنت ۔ زمین کے بسنے والوں کی لعنت۔ میں اللہ پاک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر مرزائی مقابلہ پر آئے تو دن کے تارے نہ دکھائے تو لال حسین اختر میرا نام نہیں۔ کوئی مرزائی میرے سامنے بول نہیں سکتا۔ کوئی میرے سامنے آیا تو ناطقہ بند ہو جائے گا...... اس لئے میں (زین العابدین قادیانی ناظر دعوۃ وارشاد) مبلغین سلسلہ (قادیانیوں) کو کھلے الفاظ میں واضح کر دینا چاہتا ہوں۔ کہ مناظروں کے لئے ان کے چیلنجوں پر قطعاً توجہ نہ کی جائے۔ بلکہ ان کے کسی ایسے جلسوں میں کسی احمدی کو شریک نہ ہونا چاہئے“
(الفضل یکم جولائی ١٩٥٠ء ص ٤)
اس طرح ٥ جولائی ١٩٥٠ء کے اخبار میں لکھا کہ
”ناظر دعوۃ تبلیغ سلسلہ عالیہ احمدیہ ( قادیانیہ ) ربوہ نے ایک مضمون مورخہ یکم جولائی ٥٠ء الفضل میں شائع فرما کر مبلغین سلسلہ عالیہ احمدیہ (قادیانیہ ) اور احباب جماعت کو ہدایت فرمائی ہے کہ بد سے بدزبان مولوی لال حسین اختر سے کلام کرنے میں احتراز کریں۔“
اس لحاظ سے امت مسلمہ میں سے مولانا لال حسین وہ مرد حق ہیں جن کے نام سے دنیائے قادیانیت کانپتی و ہانپتی تھی۔ مولانا کی للکار احرار نے قادیانی مبلغین و مناظرین کی بولتی بند کر دی تھی۔ ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا جو قادیانی جغادری ان کے سامنے آتا منہ کی کھاتا ۔ منہ کے بل گرتا اور سسکتا سسکتا رہ جاتا ۔ مولانا کے سامنے کسی قادیانی کا چراغ نہ جلتا تھا۔ اس لئے خود قادیانی اپنی حسرت و یاس میں جل بھن کر اعلان کرنے پر مجبور ہوئے کہ ان سے مناظرہ نہ کیا جائے ۔ کلام نہ کیا جائے گفتگو نہ کی جائے ۔ بلکہ ان کی گفتگو ہی نہ سنی جائے ۔ کیوں جناب؟ یہ سب کچھ قادیانی جماعت اعلان کر رہی ہے۔ یا قدرت حق مولانا لال حسین اختر رحمتہ اللہ علیہ کے اس قول کو سچا ثابت کر رہی ہے جو وہ اکثر مناظروں میں فرمایا کرتے تھے کہ
”ماں نے وہ بچہ نہیں جنا جو لال حسین اختر سے آکر مناظرہ کرے ۔ قادیانی زہر کا پیالہ پی سکتے ہیں۔ لال حسین کے سامنے مرزا غلام احمد (اپنے چیف گرو ولاٹ پادری) کو شریف انسان ثابت نہیں کر سکتے ۔“
باقی رہا قادیانیوں کا یہ عذر کہ مولانا لال حسین اختر گالیاں دیتے ہیں یہ صرف مولانا کی گرفت سے بچنے کی قادیانی چال ہے۔ یہ ان کا بدترین الزام تھا۔ دھوکہ تھا۔ مولانا
لال حسین اختر مناظرہ‘ جلسہ تو درکنار کسی مجلس میں بھی آپ نے کبھی کوئی گالی نہیں دی۔ یہ محض مولانا سے جان چھڑانے کے لئے اپنی جہالت و عجز پر پردہ ڈالنے کے لئے قادیانی مناظر بہانہ بنایا کرتے تھے۔ ورنہ اگر مولانا گالیاں دیتے تھے تو اس لحاظ سے تو ہر روز قادیانیوں کو مولانا سے مناظرہ کرنا چاہئے تھا قادیانی دلائل دیتے۔ مولانا گالیاں دیتے تو لوگ قادیانیوں کے ساتھ ہو جاتے ان کو پتہ چل جاتا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے ۔ معلوم ہوا کہ مناظروں کے فرار کے لئے قادیان کی جھوٹ ساز مل نے قادیانی کذابوں کے لئے دجل و فریب کا یہ نیا چولہ تیار کر کے دیا تھا کہ وہ یوں بہانہ بنا کر مولانا لال حسین اختر کی مناظرانہ للکار سے کنارہ عافیت تلاش کر سکیں۔ قدرت حق مولانا لال حسین اختر پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے۔
حسن اتفاق :۔ آج ٥ جولائی ١٩٩٩ء ہے جس اخبار الفضل کا حوالہ دیا ہے ان میں ایک اخبار بھی ٥ جولائی ١٩٥٠ء کا ہے ٹھیک انچاس سال بعد اسی ہی تاریخ کو قادیانی دجل پارہ پارہ اور مولانا لال حسین اختر کی مناظرانہ جرأت کو آشکارا کرنے کا قدرت نے موقع عنایت فرمایا ہے۔
(فقیر اللہ وسایا)
میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے قادیانیت چھوڑنے کے اسباب بیان کرنے کی غرض سے ایک کتاب ”ترک مرزائیت“ مرتب فرمائی تھی۔ اسکو قدرت نے اس قدر قبولیت سے نوازا کہ شیخ الاسلام مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنی آخری تصنیف ”خاتم النبیین“ میں اس کے حوالہ جات درج فرمائے۔ فالحمد للہ، مولانا لال حسین اخترؒ کے زمانہ حیات میں ”ترک مرزائیت“ کے چار ایڈیشن شائع ہو گئے۔ آپ نے کتاب میں قادیانیوں کو چیلنج کیا تھا کہ وہ اس کا جواب شائع کر کے انعام حاصل کریں۔ قادیانیوں کو جواب دینے کی جرات نہ ہوسکی۔ اس کے پانچویں ایڈیشن کے لئے حضرت مولانا لال حسین اخترؒ نے مقدمہ تحریر فرمایا تھا لیکن پانچواں ایڈیشن آپ کی زندگی میں شائع نہ ہوسکا۔ حضرت مرحوم کے تمام رسائل کا مجموعہ ”احتساب قادیانیت“ کے نام سے شائع کیا تو پانچویں ایڈیشن کا یہ مقدمہ ہمارے علم میں نہ تھا۔ بعد میں حضرت مرحوم کے غیر مطبوعہ مسودہ جات کو ترتیب دی تو یہ مسودہ مل گیا۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حضرت مرحوم نے قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق کچھ خواب دیکھے تھے۔ جو آپ کے قلم سے کسی کتاب یا رسالہ میں موجود نہیں، روایت بالمعنی کے طور پر آپ کے شاگرد مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر مدظلہ کی روایت سے ”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ میں شائع کئے گئے ۔ اس مسودہ میں وہ خواب حضرت مولانا لال حسین اخترؒ کے قلم سے لکھے ہوئے مل گئے ہیں۔ یہ مسودہ آج تک کہیں شائع نہیں ہوا۔ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں آپ اس کا مطالعہ فرمائیں۔ ترک مرزائیت کے اسباب۔ خواب اور حضرت کی سوانح اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی اس میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ
حضرت مرحوم کے فیض کو قیامت تک جاری رکھیں آمین (ناظم نشر و اشاعت)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ
اما بعد! اللہ رب العزت کا ارشاد ہے۔
هل انبئکم علیٰ من تنزل الشیطین تنزل علیٰ کل افاک اثیم (پ١٩ الشعراء ٢٦، ٢٢١، ٢٢٢)
کیا میں تم کو بتلاؤں کس پر شیاطین اترا کرتے ہیں۔ ایسے شخصوں پر اترا کرتے ہیں جو جھوٹ بولنے والے بدکردار ہوں
ز مرزا توبہ کردندے بچشم زار و خوں بارے
خدائے واحد وقدوس کے فضل وکرم سے ’’ترک مرزائیت‘‘ کو وہ مقبولیت حاصل ہوئی جو میرے وہم وگمان میں نہ تھی۔ عامتہ المسلمین نے عموماً اور حضرات علمائے کرام نے خصوصاً اسے نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھا۔ حتیٰ کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہؒ سابق صدر مدرس دارالعلوم دیوبند نے اپنی مشہور ومعروف اور لاجواب کتاب ’’خاتم النبیین‘‘ میں متعدد مقامات پر ’’ترک مرزائیت‘‘ سے حوالہ جات درج فرمائے ہیں۔ ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
طبع اول، دوم، سوم اور چہارم میں اعلان کیا گیا تھا کہ اگر کوئی لاہوری مرزائی ’’ترک مرزائیت‘‘ کا جواب لکھے گا تو اسے بعد فیصلہ منصف ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ چالیس سال کا طویل عرصہ گذر گیا کسی مرزائی کو ہمت نہیں ہوئی کہ ’’ترک مرزائیت‘‘ کا جواب لکھتا، مجھ سے جواب الجواب، منصف کے تقرر اور انعام کا مطالبہ کرتا۔ مرزائی
مناظرین و مبلغین کی ہمتیں پست ہو گئیں ان کے قلم ٹوٹ گئے اور ان کے مناظرانہ دلائل غتر بود ہو گئے۔
میرا چالیس سالہ تجربہ شاہد ہے کہ میری زندگی میں مرزائیوں کو جرات نہیں ہوگی کہ ”ترک مرزائیت“ کے جواب میں قلم اٹھا سکیں (ایسے ہی ہوا)
اپنی جگہ تو سب کو ہے دعوٰی مردی
انشاء اللہ تعالیٰ
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
اب مزید اضافہ کے ساتھ پانچواں ایڈیشن شائع کیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے مزید شرف قبولیت عطا فرما کر گم کردہ راہ اشخاص کی ہدایت کا ذریعہ بنائے اور میرے لئے زاد آخرت آمین (لال حسین اختر)
میری انتہائے نگارش یہی ہے
بے شمار حمد و ثناء خالق حقیقی کے لئے جس نے تمام جہانوں کو نیست سے ہست کیا لاکھ لاکھ ستائش ذات باری تعالیٰ کے لئے جس نے جنس خاکی کو اشرف المخلوقات بنایا اسے احسن تقویم اور خلافت ارضی کے شرف سے نوازا گیا۔ ہزار بار درود و سلام اُس مقدس وجود کے لئے جسے اللہ تعالیٰ نے سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور ان کی ذات گرامی پر نبوت و رسالت ختم کر دی گئی۔ ان کی متبرک بعثت نے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک کفر و شرک کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو توحید کی رم جھم سے ٹھنڈا کیا اور ساری دنیا
میں نور کا عالم پیدا کر دیا۔
تیرے مہر کرم نے بخشی ہر ذرے کو تابانی
ان کی پاک و مقدس نظر نے جہالت و وحشت اور فسق و فجور کی ان تمام آلائشوں کو جو عوارض کی صورت اختیار کئے ہوئے اشرف المخلوقات کو چمٹی ہوئی تھیں۔ نہ صرف دور کیا بلکہ ہمیشہ کے لئے ان کا قلع قمع کر دیا۔ یہ ہادی کامل یہ رہبر حقیقی یہ ناصح اکبر یہ شافع محشر وہ ہستی ہے جن پر ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا قول اطلاق پذیر ہوتا ہے۔ ان کا اسم گرامی حضرت سیدنا مولانا محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ ہے۔ شتر بانوں اور گڈریوں کو جہانبانی کی راہ و رسم سکھانے والے گمراہان عالم کو راہ راست دکھانے والے گنہگار انسانوں کو پاک کر کے خدائے واحد و قدوس کی بارگاہ معلیٰ تک پہنچانے والے قانون الہی اور نبوت و رسالت کو ختم کرنے والے حضور اقدس ﷺ ہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کے ارشادات عالیہ کے طفیل ایک راہ راست سے بھٹکا ہوا عاصی بندہ ایک گنہگار انسان جو آٹھ سال تک تاریکی کے گڑھے اور کفر و ضلالت کے اندھیرے غار میں حیران و سرگرداں رہا اسلام کے پر نور عالم اور روشنی کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔
قل اننی ہدانی ربی الی صراط مستقیم دیناً قیماً ملۃ ابراہیم حنیفاً وما کان من المشرکین
(پ ٨ انعام ٦ نمبر ١٦١)
کہو کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتلا دیا ہے وہ دین ہے مستحکم جو طریقہ ہے ابراہیم علیہ السلام کا جس میں ذرہ بھر کجی نہیں اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔
تبلیغی زندگی کا آغاز:۔
میری تبلیغی زندگی کا آغاز تحریک خلافت کا مرہون منت ہے۔ ١٩١٤ء میں برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کی جرمنی سے پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس جنگ میں ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا اور برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ عراق۔ عرب۔ فلسطین۔ شام اور مصر سلطنت ترکی کے زیرنگیں تھے۔ ان تمام ممالک میں اتحادیوں اور ترکوں میں خوفناک جنگ شروع ہوئی۔ اس جنگ کے ابتداء ہی میں برطانوی حکومت نے اپنی اور اپنے اتحادیوں کی طرف سے اعلان کیا تھا اور مسلمانان عالم کو یقین دلایا تھا کہ جنگ میں ہمیں فتح ہوئی تو ہم مسلمانوں کے مقامات مقدسہ پر قبضہ نہیں کریں گے۔ جنگ کے ابتداء میں جرمنوں اور ترکوں کا پلہ بھاری تھا۔ ہر محاذ پر انہیں عظیم فتوحات حاصل ہورہی تھیں۔
برطانیہ اور اس کے ساتھیوں کو شکست فاش کا سامنا ہورہا تھا۔ اپنی بگڑتی ہوئی حالت کے پیش نظر برطانیہ اور اس کے حلیفوں نے روس اور امریکہ سے مدد مانگی۔ ان دونوں ملکوں کی حکومتوں نے برطانوی عرضداشت کو منظور کرکے جرمنی اور ترکی کے خلاف اعلان جنگ کردیا نتیجہ یہ ہوا کہ ١٩١٨ء میں جرمنی اور ترکی کو شکست ہوگئی۔
انگریزوں نے عراق وفلسطین کے مقامات مقدسہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ ترکی حکومت کی طرف سے عرب کے گورنر شریف حسین نے ترکی سلطنت سے غداری کرکے اپنی خودمختار بادشاہت کا اعلان کردیا۔ یہاں تک کہ بیت اللہ شریف میں سینکڑوں ترکوں کو شہید کردیا گیا۔
ملت اسلامیہ کی خلافت کا اعزاز سلطنت ترکی کو حاصل تھا۔ خلیفۃ المسلمین مسلمانوں کی عظمت ووقار کے علمبردار تھے۔ سلطنت ترکی کی شکست اور مقامات مقدسہ پر
انگریزوں کے قبضہ سے مسلمانان عالم میں کہرام برپا ہو گیا۔
تحریک خلافت :-
ہندوستان میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ، حضرت مولانا ابو الکلام آزادؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہؒ، حضرت مولانا محمد علی جوہرؒ، حضرت حکیم محمد اجمل خانؒ، حضرت مولانا ظفر علی خانؒ، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ، حضرت مولانا سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا شوکت علیؒ، مولانا مظہر علی اظہرؒ، مولانا حسرت موہانی کی قیادت میں خلافت اسلامیہ کی بقاء کے لئے تحریک خلافت شروع ہوئی۔
مارچ ١٩٢٠ء میں حضرت مولانا محمد علی جوہرؒ، حضرت مولانا سید سلیمان ندوی اور سید حسن امام صاحب بیرسٹر پر مشتمل ایک وفد لندن گیا اور وزیر اعظم برطانیہ مسٹر لائیڈ جارج سے ملا۔ مقامات مقدسہ کے بارے میں برطانوی حکومت کا وعدہ یاد دلایا اور خلافت کے متعلق مسلمانان ہندوستان کے دینی احساسات سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اپنے وعدہ کا ایفاء کیجئے اور مقامات مقدسہ سے برطانوی قبضہ اٹھا لیجئے برطانوی وزیر اعظم نے وفد کے مطالبے کو مسترد کر دیا وفد ناکام واپس آ گیا مقامات مقدسہ کے سقوط اور انگریزوں کی وعدہ خلافی کے باعث مسلمانان ہندوستان بے حد پریشان و مضطرب تھے۔ آل انڈیا خلافت کمیٹی نے عدم تشدد اور انگریزوں سے ترک موالات کی مقدس تحریک شروع کی تحریک کا مقصد ترکی سلطنت اور خلافت کے وقار کا بحال کرنا اور مقامات مقدسہ اور ممالک اسلامیہ کا انگریزوں سے واگزار کرانا تھا۔ پروگرام یہ تجویز ہوا تھا۔
- 1۔ انگریزی فوج اور پولیس کی نوکری چھوڑ دی جائے۔
- 2۔ انگریزی حکومت کے لئے ہوئے خطابات واپس کئے جائیں۔
- 3- انگریزی درسگاہوں سے طلباء اٹھالئے جائیں۔
- 4- ولایتی مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔
- 5- ہاتھ کا بنا ہوا کھدر پہنا جائے۔
- 6- انگریزی حکومت سے عدم تعاون کیا جائے اس کے خلاف نفرت پیدا کی جائے
اور ہندوستان کی جیلیں بھر دی جائیں۔
تحریک خلافت میں شمولیت:-
میں اورنٹیل کالج لاہور میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تحریک خلافت شروع ہوئی علماء کرام نے شریعت مطہرہ کے احکامات کے تحت حکومت کی درسگاہوں کے بائیکاٹ کے فتویٰ کی تعمیل کرتے ہوئے کالج چھوڑ دیا۔ اپنے وطن مالوف دھرم کوٹ رندھاوا اور بارہ منگا ضلع گورداسپور چلا گیا۔ لیکن ایک خواہش تھی جو دل میں چٹکیاں لے رہی تھی۔ ایک آرزو تھی جو نچلا نہ بیٹھنے دیتی تھی۔ ایک ارمان تھا کہ جس نے معمورۂ دل کو زیروزبر کر رکھا تھا حسرت تھی تو یہی، تمنا تھی، تو یہی کہ جس طرح ہوا اپنے دین ہاں پیارے اسلام کی خدمت کروں۔
کچھ اچھے کام کر لو چار دن کی زندگانی میں
عقل نے لاکھ سمجھایا دوستوں اور رشتہ داروں نے قیدوبند کا خوف دلایا تو میرے جذبہ ایمان نے کہا
مجھے تو راہبروں کی ٹھوکریں کھانا مگر جانا
میں نے کسی کی ایک نہ مانی اور مشہور و معروف شعر
توکلت علی اللہ تعالیٰ
کا ورد کرتے ہوئے خلافت کمیٹی میں شمولیت کی۔ آٹھ نو ماہ ضلع گورداسپور میں خلافت کمیٹی بٹالہ کے زیر ہدایت آنریری تبلیغ و تنظیم کا فریضہ ادا کرتا رہا۔ مولانا مظہر علی اظہر ایڈووکیٹ کی معیت میں مختلف مقامات کا دورہ کیا اور پورے زور سے خلافت کے اغراض و مقاصد کی تبلیغ کی۔ میری سرگرمی اور جمہور کی بیداری نے حکام کی طبع انتقام گیر کو مشتعل کر دیا۔ آخر کار مجھ پر گورداسپور جنگل کنجروڑ اور ڈیرہ بابا نانک کی تین تقریروں کی بناء پر حکومت کے خلاف منافرت اور بغاوت پھیلانے کا الزام عائد کر کے گورداسپور میں مقدمہ قائم کر دیا گیا۔ پولیس نے مجھے عید کے دن گرفتار کیا اور فرسٹ کلاس فرنگی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا، مجسٹریٹ نے مجھے کہا کہ آپ پر بغاوت کا مقدمہ ہے جس کی سزا چودہ سال قید سخت ہو سکتی ہے میں نے کہا
نئی بات کیا آپ فرما رہے ہیں
مجسٹریٹ نے کہا اگر آپ اپنی تقریروں کے متعلق تحریری معذرت کر دیں تو مقدمہ واپس لے کر آپ کو رہا کر دیا جاتا ہے میں نے جواب دیا
صداقت چھپ نہیں سکتی ہے جب تک جان باقی ہے
مجسٹریٹ نے پولیس کے چند ٹاؤٹ گواہوں کی سرسری شہادت کے بعد مجھے ایک سال قید سخت کا حکم سنایا۔ ایک سال کی طویل مدت گورداسپور جیل میں گزاری۔ رہائی سے کچھ عرصہ پہلے جیل میں ہی مجھے اخبارات سے معلوم ہوا کہ مشہور آریہ سماجی لیڈر سوامی
شردھانند اور آریہ سماج نے صوبہ یو۔ پی میں ملکانوں اور علم دین سے بے بہرہ مسلمانوں کی مرتد کرنے کی تحریک زور شور سے جاری کی ہے۔ اس تحریک سے مسلمانان ہندوستان میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی ۔ چنانچہ ارتداد روکنے کے لئے جمیعتہ العلماء ہند ۔ خلافت کمیٹی ۔ مدرسہ عالیہ دیوبند ۔ حنفی، اہل حدیث اور شیعہ جملہ مکاتب فکر کے مسلمان علماء وزعماء آریہ سماج کے مقابلہ میں میدان تبلیغ میں نکل آئے۔
مرزائیت میں داخلہ :۔
جیل سے رہا ہوتے ہی گردو پیش کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے آریہ سماج اور شدھی و ارتداد کے مقابلہ پر حفاظت و اشاعت اسلام کا کام کرنا چاہیئے آریوں نے پنجاب کو مناظروں کا اکھاڑا بنا رکھا تھا میں نے آریہ سماج کے متعلق لٹریچر مہیا کیا اس کا مطالعہ کرنے کے بعد ضلع گورداسپور کے مختلف مقامات پر صداقت اسلام اور آریہ سماج کی تردید پر متعدد تقریریں کیں، فروری ١٩٢٤ء میں تحصیل شکر گڑھ کے ایک جلسہ میں لاہوری مرزائیوں کے چند مبلغین سے میری ملاقات ہوئی ۔ آریہ سماج کی تردید کے بارے میں انہوں نے مجھے کہا کہ اگر آپ احمدیہ انجمن لاہور میں تشریف لائیں تو ہم آپ کو اسلام پر آریہ سماج کے تمام اعتراضات کے جوابات سکھا دیں گے انہوں نے اپنی جماعت کے تبلیغی کارناموں کو نہایت ہی مبالغہ سے بیان کیا اور مرزا صاحب آنجہانی کی خدمات اسلامی کے بڑھ چڑھ کر افسانے سنائے میں نے کہا کہ ہمارا اور آپ کا مذہب کا بنیادی اختلاف ہے ہم حضور سرور کائنات ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں اور حضور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کے مدعی ہیں انہوں نے کہا کہ مرزا صاحب مدعی نبوت نہ تھے قادیانیوں نے مرزا صاحب کی طرف دعویٰ نبوت منسوب کر کے ان پر افتراء کیا ہے اور بہتان طرازی سے کام لیا ہے ۔ اپنے اس بیان کو درست ثابت کرنے کے لئے
مرزا غلام احمد قادیانی کی ابتدائی کتابوں سے چند حوالہ جات پڑھ کر سنائے‘ جن میں اس نے حضور خاتم النبیین ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر دجال اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ میں مدعی نبوت نہیں‘ بلکہ مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں میرا مجددیت اور محدثیت کا دعویٰ ہے۔ ہمارے وہی عقائد ہیں جو اہلسنت والجماعت کے عقائد ہیں‘ میرا مرزائی مذہب کے متعلق معمولی مطالعہ تھا اس لئے میں نے تبلیغ اسلام کے نام پر ان کے دامِ تزویر میں پھنس گیا اور مسٹر محمد علی امیر جماعت مرزائیہ لاہوریہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے مرزا غلام احمد قادیانی کی مجددیت ومہدویت کا پھندا اپنے گلے میں ڈال لیا ان کے تبلیغی کالج میں داخل ہوا۔ تین سال میں ایک اور مرزائی طالب علم اور میری تعلیم پر پچاس ہزار روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی۔
قرآن مجید کی تفسیر‘ حدیث‘ بائبل‘ عیسائیت‘ ہندی‘ سنسکرت‘ ویدوں‘ آریہ سماج اور علم مناظرہ کی تعلیم حاصل کی۔
مدت معینہ میں نصاب تعلیم ختم ہونے کے بعد مجھے مستقل مبلغ مقرر کر دیا گیا۔ میں نہ صرف مبلغ و مناظر اور محصل ہی کے فرائض ادا کرتا رہا بلکہ سیکرٹری احمدیہ ایسوسی ایشن‘ ایڈیٹر اخبار پیغام صلح کے ذمہ دارانہ عہدوں پر بھی فائز رہا اور پوری جانفشانی وسرگرمی کے ساتھ مرزائی عقائد کی تبلیغ واشاعت اور آریوں اور دہریوں‘ عیسائیوں سے کامیاب مناظرے کرتا رہا۔
ترک مرزائیت:-
١٩٣١ء کے وسط میں میں نے یکے بعد دیگرے متعدد خواب دیکھے جن میں مرزا غلام احمد قادیانی کی نہایت گھناؤنی شکل دکھائی دی اور اسے بری حالت میں دیکھا۔ میں یہ خواب مرزائیوں سے بیان نہ کر سکتا تھا کیونکہ اگر انہیں خواب سنائے جاتے تو
وہ مجھے کہتے کہ یہ شیطانی خواب ہیں نہ ہی کسی مسلمان کو یہ خواب بتا سکتا تھا کیونکہ اگر انہیں یہ خواب سنائے جاتے تو وہ کہتے کہ مرزا غلام احمد اپنے تمام دعاوی میں جھوٹا ہے مرزائیت سے توبہ کر لیجئے میری حالت یہ تھی۔
بلائے فرقت لیلیٰ و صحبت لیلیٰ
اگر چہ پہلے بھی مرزاغلام احمد کے بعض الہامات اور اس کی چند پیشگوئیاں میرے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھیں۔ لیکن حسن عقیدت اور غلو محبت کی طاقتیں ان خیالات کو فوراً دبا دیتی تھیں اور دل کو تسلی دے دیتا تھا کہ مرزا نبی تو نہیں کہ جس کے تمام ارشادات صحیح ہوں، ان خوابوں کی کثرت سے متاثر ہو کر میں نے غور و فکر کیا گو کہ ہمارے خوابوں پر دین کا مدار نہیں اور نہ ہی یہ حجت شرعی ہیں لیکن ان سے صداقت کی طرف راہنمائی تو ہو سکتی ہے آخر میں نے فیصلہ کیا کہ مرزاغلام احمد قادیانی کی محبت اور عداوت دونوں کو بالائے طاق رکھ کر اور ان سے صرف نظر کرتے ہوئے مرزائیت کے صدق و کذب کو تحقیقات کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیئے، خدائے واحد و قدوس کو حاضر و ناظر سمجھتے ہوئے یہ اعلان کر دینا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں نے مرزاغلام احمد کی محبت اور عداوت کو چھوڑ کر اور خالی الذہن ہو کر مرزا کی اپنی مشہور تصنیفات اور قادیانی ولاہوری ہر دو فریق کی چیدہ چیدہ کتابوں کو جو مرزا کے دعاوی کی تائید میں لکھی گئی تھیں چھ ماہ کے عرصہ میں نظر غائر سے بطور محقق کے پڑھا اور علماء اسلام کی تردید مرزائیت کے سلسلہ میں چند کتابیں مطالعہ کیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جتنا زیادہ میں نے مطالعہ کیا اتنا ہی مرزائیت کا کذب مجھ پر واضح ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ مجھے یقین کامل ہو گیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ الہام۔ مجددیت۔ مسیحیت۔ نبوت وغیرہ میں مفتری تھا۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ حضور
رسالت مآب ﷺ آخری نبی ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں وہ قیامت سے پہلے اس دنیا میں واپس تشریف لائیں گے۔
ہوا علم الیقین عین الیقین حق الیقین ساقی
اب میرے لئے ایک نہایت مشکل کا سامنا تھا ایک طرف ملازمت تھی جماعت مرزائیہ کے ارکان اور افراد جماعت سے آٹھ سال کے دیرینہ اور خوشگوار تعلقات تھے۔ بحیثیت ایک کامیاب مبلغ و مناظر جماعت میں رسوخ حاصل تھا۔ لیکن جب دوسری طرف مرزا غلام احمد کے عقائد قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے بالکل الٹ دیکھتا تھا۔ ان کے الہامات اور پیشگوئیوں کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اڑتی ہوئی نظر آتی تھیں اور قیامت کے دن ان عقائد باطلہ کی باز پرس کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا تو میں لرزہ براندام ہو جاتا تھا کہ ایک طرف حق تھا اور دوسری طرف باطل ایک طرف تاریکی تھی اور دوسری طرف مشعل نور۔ ایک طرف معقول تنخواہ کی ملازمت اور آٹھ سال کے دوستانہ تعلقات تھے اور دوسری طرف دولت ایمان لیکن ساتھ دنیوی مشکلات اور مصائب کا سامنا۔ آخر میں نے قطعی فیصلہ کر لیا کہ چاہے ہزار ہا تکالیف اٹھانی پڑیں انہیں بخوشی برداشت کروں گا کیونکہ حق کے اختیار کرنے والوں کو ہمیشہ تکالیف و مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ہے۔
مصیبت پر مصیبت سر پہ آتی ہے تو آنے دو
چنانچہ میں اشکبار آنکھوں اور کفر و ارتداد سے پشیمان اور لرزتے ہوئے دل سے اپنے رحیم و کریم خداوند قدوس کے حضور کفر مرزائیت سے تائب ہو گیا توبہ کے بعد دل کی دنیا ہی بدل چکی تھی۔
ایں را نہایت است نہ آں را نہایت
میرے غفور و رحیم مالک۔
پر تو نے دل آزردہ ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر
لیکن تری رحمت نے گوارا نہ کیا
الحمد لله الذی هدانا لهذا و ما كنا لنهتدی لولا ان هدانا الله
(پ ٨ الاعراف نمبر ٤٣)
اللہ تعالیٰ کا لا انتہا احسان و شکر ہے جس نے ہم کو یہاں تک پہنچایا اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نہ کرتا تو ہم ہرگز راہ راست پانے والے نہ تھے۔ ذالک فضل الله یوتیه من یشاء
صد شکر کہ ہستیم میان دو کریم
میں نے یکم جنوری ١٩٣٢ء کو احمدیہ انجمن لاہور کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا جو ٢٤ جنوری کو منظور کر لیا گیا۔
ترک مرزائیت کا اعلان :-
١٩٣٢ء کی ابتداء میں انگریز اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف تحریک کشمیر انتہائی عروج تک پہنچ چکی تھی مجلس احرار اسلام کے ایک درجن سے زائد مجاہدین شہید ہو چکے تھے۔ مجلس کے تمام رہنما اور چالیس ہزار سرفروش رضا کار جیل خانوں میں محبوس
تھے۔ برطانوی حکومت نے عام اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ حالات کچھ ساز گار ہوئے پابندیاں ختم ہوئیں تو احباب کی طرف سے ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا قد آدم اشتہار شائع کئے گئے کہ ٧؍ مئی ١٩٣٢ء بعد نماز عشاء باغ بیرون موچی دروازہ لاہور جلسہ عام منعقد ہو گا جس میں مولانا لال حسین اختر جن کی تعلیم پر مرزائیوں نے پچاس ہزار سے زائد روپیہ خرچ کیا تھا۔ اور وہ جماعت مرزائیہ لاہوریہ کے مشہور مبلغ و مناظر تھے ترک مرزائیت کا اعلان کریں گے اور ترک مرزائیت کے وجوہ اور ناقابل تردید دلائل بیان کریں گے۔ ان کی تقریر کے بعد مرزائیوں کے نمائندہ کو سوال و جواب کے لئے وقت دیا جائے گا۔ اندرون شہر اور بیرون شہر منادی کی گئی بعد نماز عشاء کم از کم تیس ہزار کے مجمع میں میں نے ترک مرزائیت کے موضوع پر تین گھنٹے تقریر کی۔ سٹیج کے بالمقابل مرزائی مبلغین و مناظرین کے لئے میز اور کرسیاں رکھی گئی تھیں۔ میری تقریر کے بعد صاحب صدر نے اعلان کیا کہ حسب وعدہ مرزائی صاحبان کو مولانا لال حسین اختر کی تقریر پر سوال و جواب کے لئے وقت دیا جاتا ہے تاکہ حاضرین مرزائیت کے صدق و کذب کا اندازہ لگا سکیں۔ لاہوری اور قادیانی مرزائیوں کے مبلغ و مناظر موجود تھے لیکن کسی کو ہمت و جرات نہ ہوئی کہ وہ میرے مقابلہ میں آ سکیں۔ صاحب صدر کی دعا کے بعد اجلاس برخاست ہوا۔
لالچ اور قاتلانہ حملے :-
اس عظیم الشان جلسے اور مرزائیت کی شکست کی روداد اخبارات میں شائع ہوئی تو ملک کے طول و عرض سے مجھے تقریر کے لئے دعوتوں کا لگا تار سلسلہ شروع ہو گیا مختلف شہروں اور قصبات میں میری بیسیوں تقریریں اور مرزائیوں سے پانچ چھ نہایت کامیاب مناظرے ہوئے ان ایام میں اونچی مسجد اندرون بھاٹی دروازہ لاہور کے بالمقابل میرا قیام تھا۔ میری تقریروں اور مناظروں کی کامیابی سے متاثر ہو کر مرزائیوں کے ایک وفد نے مجھ سے
ملاقات کی اور مجھے کہا کہ آپ نے اپنی تحقیق کی بناء پر احمدیت ترک کر دی ہے آپ کے موجودہ عقائد کے متعلق ہم آپ سے کچھ نہیں کہتے ہم یہ کہنے آئے ہیں کہ آپ کی تقریریں اور مناظرے ہمارے لئے ناقابل برداشت ہیں ۔ ہمیں علم ہے کہ سوائے تقریروں اور مناظروں کے آپ کی مالی آمد کا اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ جماعت احمدیہ آپ کو پندرہ ہزار روپے کی پیشکش کرتی ہے ۔
آپ ہم سے یہ رقم لے لیں اور اس سے جنرل مرچنٹ یا کپڑے کا کاروبار شروع کرلیں ۔ اور ہمیں سٹام لکھ دیں کہ میں پندرہ سال تک احمدیت کے خلاف نہ کوئی تقریر کرونگا اور نہ مناظرہ اور نہ ہی کوئی تحریری بیان شائع کرونگا اگر اس معاہدہ کی خلاف ورزی کروں تو جماعت احمدیہ کو تیس ہزار روپیہ ہرجانہ ادا کرونگا ۔ یہ بھی کہا کہ احمدیت کی تردید کوئی ایسا فرض نہیں جس کے بغیر آپ مسلمان نہیں رہ سکتے ۔ حنفیوں اہل حدیثوں اور شیعوں میں ہزاروں علماء ایسے ہیں جو احمدیت کی تردید نہیں کرتے اگر وہ تردید احمدیت کے بغیر مسلمان رہ سکتے ہیں تو آپ بھی مسلمان رہ سکتے ہیں ۔ میں نے جواباً کہا آپ صاحبان کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ مجھے لالچ کے فتنے میں پھانسنے کی جرات کریں میں ان علماء کرام کے طریق کار کا ذمہ دار نہیں جو تردید مرزائیت سے اجتناب کرتے ہیں میرے لئے تو استیصال مرزائیت کی جدوجہد فرض عین ہے کیونکہ میں نے مدت مدید تک اس کی نشر و اشاعت کی ہے ۔ مجھے تو اس کا کفارہ ادا کرنا ہے دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا لالچ مجھے تردید مرزائیت سے منحرف نہیں کرسکتا ۔ قریباً ایک گھنٹے کی گفتگو کے بعد مجھ سے مایوس ہوکر اٹھ کھڑے ہوئے اور جاتے ہوئے کہہ گئے کہ آپ نے ہمارے متعلق نہایت خطرناک طرز عمل اختیار کر رکھا ہے آپ کے لئے اس کا نتیجہ تباہ کن ہوگا میں نے انہیں کہا
خبر شمشیر زنی پر سرزنش
میں نے ان کے اس جارحانہ چیلنج کی پرواہ نہ کی حسب سابق اپنے تبلیغی سفروں تقریروں اور مناظروں میں منہمک رہا مرزائیوں نے اپنی سوچی سمجھی سکیم کے مطابق یکے بعد دیگرے ڈیرہ بابا نانک ضلع گورداسپور کے مناظرہ اور بیلوں ڈلہوزی کے جلسہ کے ایام میں مجھ پر دو بار قاتلانہ حملے کئے۔ ڈیرہ بابا نانک کے حملہ میں مجھے زخم آیا۔ ایک مرزائی نے صاف الفاظ میں مجھے کہا کہ یاد رکھو ہم تمہیں قتل کرا دیں گے خواہ ہمارا پچاس ہزار روپیہ خرچ ہو میں نے اسے جواب دیا کہ میرا عقیدہ ہے کہ شہادت سے بہتر کوئی موت نہیں۔ قبر کی رات کبھی گھر میں نہیں آسکتی۔ ایک دفعہ بعد نماز عشاء بیلوں ڈلہوزی کی مسجد میں تردید مرزائیت پر میری تقریر ہو رہی تھی۔ ایک مرزائی جس نے کمبل اوڑھا ہوا تھا میز کے نزدیک آیا ایک مسلمان نے پکڑ لیا مرزائی نے کمبل میں چھرا چھپا رکھا تھا۔ سب انسپکٹر پولیس جلسہ میں موجود تھا۔ اس نے اسی وقت مرزائی کو گرفتار کر کے چھرا اپنے قبضہ میں لے لیا اور اسے تھانے کے حوالات میں بند کر دیا دوسرے دن علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر دیا۔
مجسٹریٹ نے ملزم سے چھ ماہ کے لئے نیک چلنی کی ضمانت لے لی لاہور کے اخبارات میں مجھ پر ڈیرہ بابا نانک کے حملہ کی خبر شائع ہوئی تھی حضرت مولانا ظفر علی خان نے زمیندار میں ایک شذرہ سپرد قلم فرمایا تھا۔
مجلس احرار اسلام کے زعماؤں کو مجھ پر مرزائیوں کے حملوں کا علم ہوا تو قائد احرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانویؒ نے ناظم دفتر سے فرمایا کہ مرزائیوں کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے جلسہ کا انتظام کیجئے۔ چنانچہ کثیر التعداد پوسٹر چسپاں کئے گئے اخبارات میں اعلان ہوا شہر کے ہر حصے میں منادی ہوئی کہ باغ بیرون دہلی دروازہ بعد نماز عشاء زیر صدارت چوہدری افضل حقؒ عظیم الشان جلسہ منعقد ہو گا جس میں حضرت مولانا
حبیب الرحمن لدھیانویؒ مرزائیوں کی جارحیت کے چیلنج کا جواب دیں گے۔ بعد نماز عشاء چالیس ہزار سے زائد کے مجمع میں حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ نے مجھے سٹیج پر کھڑا کر کے میرا تعارف کرایا انہوں نے فرمایا کہ ہمارے اس نوجوان نو مسلم عالم نے مناظروں میں مرزائیوں کو ذلیل ترین شکستیں دی ہیں مرزائی ان کے دلائل کا جواب نہ دے سکے تو ڈیرہ بابا نانک اور ڈلہوزی میں ان پر قاتلانہ حملے کئے گئے۔
میں مرزائیوں سے نہیں ان کے خلیفہ مرزا محمود سے کہتا ہوں کہ اگر تم یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہو تو میں تمہیں چیلنج دیتا ہوں کہ مرد میدان بنو۔ اب لال حسین اختر پر حملہ کراؤ پھر احرار کے فدا کاروں کی یورش اور قربانیوں کا اندازہ لگانا ایک کی جگہ ایک ہزار سے انتقام لیا جائے گا۔ ہم خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ہماری تاریخ تمہارے سامنے ہے ہم محلاتی سازشوں کے قائل نہیں ہم میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے ہیں۔ ہمیں جو عمل کرنا ہوتا ہے اس کا واشگاف الفاظ میں اعلان کر دیتے ہیں۔ حضرت مولانا کی تقریر کیا تھی شجاعت و ایثار اور حقائق کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ بار بار نعرہ ہائے تکبیر بلند ہوتے تھے ۔ فرمایا ہم وہی احرار ہیں جن کے ٣١ رضا کار اسلام اور مسلمانوں کی عزت بچانے کے لئے سینوں پر ڈوگرہ حکومت کی گولیاں کھا کر شہید ہوئے ہیں اور چالیس ہزار نے قید و بند کی مصیبتیں بخوشی برداشت کیں۔ اس کے بعد مرزائیوں کو سانپ سونگھ گیا مرزا بشیر کی عقل ٹھکانے آ گئی میں حضرت امیر شریعتؒ اور ان کے گرامی قدر رفقاء کی معیت میں ترویج و اشاعت اسلام اور احقاق حق و ابطال باطل کے لئے وقف ہو گیا۔ اوپر میں نے جن خوابوں کا ذکر کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے۔
خوابیں :۔
ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک چٹیل میدان میں ہزاروں لوگ حیران و
پریشان کھڑے ہیں میں بھی ان میں موجود ہوں۔ ان کے چاروں طرف لوہے کے بلند و بالا ستون ہیں اور ان پر زمین سے لے کر قد آدم تک خاردار تار لپٹا ہوا ہے۔ تار کے اس حلقے سے باہر نکلنے کا کوئی دروازہ یا راستہ نہیں۔ ہزاروں اشخاص کو اس میں قید کر دیا گیا ہے۔ ان میں چند میری شناسا صورتیں بھی ہیں میں نے ان سے دریافت کیا کہ ہمیں اس مصیبت میں گرفتار کیوں کیا گیا ہے انہوں نے مجھے جواباً کہا کہ ہمیں احمدیت کی وجہ سے مخالفین نے یہاں بند کر دیا ہے یہاں سے کچھ فاصلہ پر مسیح موعود پلنگ پر سوئے ہوئے ہیں انہیں ہماری خبر نہیں کہ وہ ہماری رہائی کے لئے کوشش کر سکیں۔ ہم میں سے کسی کے پاس کوئی اوزار نہیں جس سے خاردار تار کو کاٹ کر باہر نکلنے کا راستہ بنایا جا سکے۔ میں نے خاردار تار کے چاروں طرف گھومنا شروع کیا میں نے دیکھا کہ ایک جگہ سے زمین کی سطح کے قریب کا تار ڈھیلا ہے میں زمین پر بیٹھا اور اس تار کو اپنے دائیں پاؤں سے نیچے دبایا تو وہ تار زمین کے ساتھ جا لگا سر کے قریبی تار کو ہاتھ سے ذرا اوپر کیا تو دونوں تاروں میں اس قدر فاصلہ ہو گیا کہ میں تار سے باہر نکل آیا۔
مجھے کافی فاصلہ پر پلنگ نظر آیا جس پر مرزا غلام احمد قادیانی چادر اوڑھے لیٹا ہوا تھا۔ میں نہایت ادب واحترام سے پلنگ کے قریب پہنچ گیا کیا دیکھتا ہوں کہ اس نے اپنے چہرے سے چادر سرکائی تو اس کا منہ قریباً دو فٹ لمبا تھا شکل نا قابل بیان تھی (خنزیر جیسی) ایک آنکھ بالکل بے نور اور بند تھی دوسری آنکھ ماش کے دانے کے برابر تھی اس نے کہا میری بہت بری حالت ہے اس کی آواز کے ساتھ شدید قسم کی بدبو پیدا ہوئی اس کی شکل اور بدبو سے میں کانپ گیا میری نیند اچاٹ ہو گئی میری نیند جاتی رہی۔ اور میری آنکھ کھل گئی۔
دوسرا خواب :۔
ایک رات خواب دیکھا کہ ایک شخص مجھ سے قریباً دو سو گز آگے جا رہا ہے میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہوں تانت (جس سے روئی دھنی جاتی ہے) کا ایک سرا اس کی کمر میں بندھا ہوا ہے اور دوسرا سرا میری گردن میں، ہمارا سفر مغرب سے مشرق کی طرف ہے ۔ دوران سفر راستہ پر دائیں طرف ایک نہایت وجیہہ شخص نظر آئے۔ سفید رنگ درمیانہ قد روشن آنکھیں سفید پگڑی سفید لمبا کرتہ سفید شلوار۔ مسکراتے ہوئے مجھے فرمایا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ جہاں میرے آگے جانے والے مجھے لے جا رہے ہیں۔ کہنے لگے جانتے ہو یہ کون ہے؟ اور تمہیں کہاں لے جا رہا ہے؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں کہ یہ کون ہیں؟ اور مجھے کہاں لے جا رہے ہیں؟ فرمانے لگے یہ غلام احمد قادیانی ہے خود جہنم کو جا رہا ہے اور تمہیں بھی وہیں لئے جا رہا ہے۔ میں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو جان بوجھ کر جہنم میں جائے اور دوسروں کو بھی جہنم میں لے جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر کے عمداً جہنم کا راستہ اختیار نہ کیا تھا؟ میں نے اس کی دلیل کا جواب نہ دے سکا تو فرمانے لگے غور سے سامنے دیکھو میں نے سامنے نگاہ کی تو مجھے بہت دور حد نگاہ پر زمین سے آسمان تک سرخی دکھائی دی انہوں نے پوچھا جانتے ہو یہ سرخ رنگ کیا ہے؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا کہنے لگے یہی تو جہنم کے شعلے ہیں میں حسب سابق چل رہا تھا وہ بھی میرے ساتھ ساتھ قدم اٹھاتے جا رہے تھے۔ وہ غائب ہو گئے میں بدستور اس شخص (غلام احمد قادیانی) کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ ہم سرخی (جہنم کے شعلوں) کے قریب ہو رہے تھے۔ اب تو مجھے حرارت بھی محسوس ہونے لگی۔ وہ وجیہہ شخصیت پھر نمودار ہوئی انہوں نے تانت پر ضرب لگائی تانت ٹوٹ گئی اور میں نیند سے بیدار ہو گیا۔
ماہنامہ لولاک ملتان
- ★ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ”ماہنامہ لولاک“ جو دفتر مرکزیہ ملتان
سے ہر ماہ باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔
- ★ عقیدہ ختم نبوت کی ترجمانی ★ حالات حاضرہ کا جاندار تجزیہ
- ★ عالمی مجلس کی سرگرمیاں ★ فتنہ قادیانیت کے رد میں عمدہ علمی مضامین
- ★ اصلاحی مقالہ جات ★ امت مسلمہ کی رہنمائی
- ★ مجاہدین ختم نبوت کے تذکرے
- ★ قادیانیت چھوڑنے والے نومسلموں کے ایمان پرور حالات واقعات
- ★ جہاد آفرین حقائق افروز معلومات کا حسین گلدستہ ★ 64 صفحات
- ★ رنگین آرٹ پیپر کا ٹائٹل ★ کمپیوٹر کتابت
- ★ عمدہ طباعت ★ سفید کاغذ
ان تمام تر خوبیوں کے باوجود، سالانہ چندہ صرف 100 روپے ہے۔ ایجنسی 5 پرچوں سے کم جاری نہیں ہوتی۔ ایجنسی ہولڈر حضرات کو 33 فیصد کمیشن دیا جاتا ہے۔ پرچہ وی پی نہیں کیا جاتا۔ پیشگی 100 روپے سالانہ خریداری کا منی آرڈر بھیج کر ہر ماہ گھر بیٹھے ڈاک سے پرچہ منگوایا جاسکتا ہے۔
رقوم بھیجنے کے لیے پتہ:
ناظم ماہنامہ لولاک دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان فون: 514122
قادیانی
اور
مولانا اختر
(حضرت مولانا ظفر علی خانؒ
کی
ایک تاریخی نظم)
فروری ١٩٣٤ء کی بات ہے۔ جب قادیانیوں نے اسلامیہ کالج لاہور کے طلباء کو مرتد کرنے کی مردود کوشش کی‘ تو اکابر ملت نے اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے مسجد مبارک میں تقریریں کیں۔ جس پر حکومت نے حضرت مولانا ظفر علی خاں صاحب‘ حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر‘ حضرت مولانا عبدالمنان صاحب اور احمد یار خاں صاحب سیکرٹری مجلس احرار اسلام کو مقید و محبوس کر دیا۔ ایک دن مولانا ظفر علی خان سے ایک قیدی نے شکایت کی کہ جیل والے اسے اتنے دانے دیتے ہیں کہ پیسے نہیں جاتے۔ حضرت مولانا نے اپنے رفقاء کو بلا لیا اور سب حضرات نے باری باری چکی پیس کر وہ باقی دانے ختم کر دیئے۔ اس دوران میں مولانا اختر نے حضرت مولانا سے ارشاد کی درخواست کی‘ تو ارتجالاً حضرت مولانا کی زبان پر یہ شعر آگئے جو تاحال کسی کتاب میں شائع نہیں ہوسکے۔ حضرت مولانا اختر کے شکریہ کے ساتھ ہدیہ قارئین کرام ہیں۔ (مدیر)
رموز علم الاسما چہ داند ذوق ابلیسی
ادھر توحید کی باتیں ادھر تثلیث کی گھاتیں
مری فطرت حجازی ہے سرشت اس کی ہے انگلیسی
یہ کہہ کر حق جتا دوں گا محمدؐ کی شفاعت پر
کہ آقا تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی
مقابل قادیانی ہو نہیں سکتے ہیں اختر کے
پڑے گا ایک ہی تھپڑ تو جھڑ جائے گی بتیسی
ہوا جب علم کا چرچا دیا فتویٰ یہ مرزا نے
ہمارا علم ہے دریا کہ نام اس کا ہے سائیسی
ہے امرتسر سے مغرب کی طرف قادیاں(١) مرزا
یہ نکتہ حل کریں مرقد سے اٹھ کر آج ادریسی(٢)
- ١ - "قادیان جو ضلع گورداسپور پنجاب میں ہے۔ جو لاہور سے گوشہ مغرب اور جنوب میں واقع
ہے۔" ("تبلیغ رسالت" جلد ٩‘ صفحہ ٤٠‘ "مجموعہ اشتہارات" ج ٣‘ ص ٢٨٨)
- ٢ - مشہور جغرافیہ دان۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
أنا خاتم النبيين لا نبي بعدي
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تاسیس ١٩٤٩ء
ترکِ مرزائیت
اگر کوئی لاہوری جماعت کا مرزائی چھ ماہ کے اندر اس کتاب کا جواب لکھے گا تو بعد فیصلہ منصف اسے ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ کتاب کا پہلا ایڈیشن مئی ١٩٣٤ء میں اور دوسرا ایڈیشن نومبر ١٩٣٤ء میں شائع ہوا۔ باوجود دو سال گزر جانے کے کسی لاہوری مرزائی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ اس کے جواب میں قلم اٹھا سکے۔ ہم آج کی تاریخ سے پھر اعلان کیے دیتے ہیں کہ اگر شرائط مندرجہ کے ماتحت مزید ایک سال کے عرصہ میں ہماری کتاب کا جواب لکھا گیا تو ہم انعام دینے کو تیار ہیں۔
لال حسین اختر مبلغ اسلام ٢٠ اپریل ١٩٣٦ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
ترک مرزائیت کے وجوہ لکھنے کا میرا ارادہ نہیں تھا مگر میرے چند احباب نے مجبور کیا کہ میں مرزائیت کے متعلق اپنی معلومات معرض تحریر میں لاؤں تاکہ عامۃ المسلمین اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔
میرے محترم چچا جان خان سلطان احمد خان صاحب نے جو تردید مرزائیت میں ید طولیٰ رکھتے تھے اس کتاب کے متعلق مفید مشورے اور حوالہ جات سے میری مدد کی۔
مرزا صاحب کے عقائد باطلہ
اسلام اور مرزا صاحب قادیانی کے عقائد میں بعد المشرقین ہے۔ مرزا صاحب نے اپنے معجون مرکب عقائد کی تائید کے لیے خواہشات نفسانی سے ایسے خلاف شریعت الہام گھڑ لیے تھے جنہیں اسلام سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ انہیں خلاف قرآن و حدیث الہامات کے صدقے میں محدثیت ' مجددیت ' مہدویت ' مسیحیت ' محمدیت ' کرشنیت ' جے سنگھیت ' ظلیت ' بروزیت ' نبوت وغیرہ کے دعاوی کر بیٹھے۔ اس پر بھی بس نہ کی اور صبر نہ آیا تو غضب یہ ڈھا دیا کہ خدا کا بیٹا بنے۔ مسئلہ ارتقاء کے ماتحت ترقی کی تو خود خدا ہونے کا اعلان کر کے نئے زمین و آسمان پیدا کرنے کے بعد تخلیق بنی نوع انسان کا دعویٰ کر دیا۔ آخری میدان یہ مارا کہ اپنے پیدا ہونے والے بیٹے کی مثال اللہ تعالیٰ سے دی اور لکھ دیا۔
فرزند دلبند گرامی و ارجمند مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء (یعنی میرا پیدا ہونے والا بیٹا دلبند گرامی ارجمند ہوگا، اور وہ حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترے گا۔)
٣
("البشریٰ" جلد دوم ص ٢١-١٤٢) "ازالہ اوہام" ص ١٥٥‘ "روحانی خزائن" ص ١٨٠‘ ج ٣
مرزا صاحب کے اسی قسم کے عقائد باطلہ تھے جن کی بنا پر علمائے اسلام نے مرزا پر کفر کا فتویٰ لگایا۔ اس وقت ہم اپنی طرف سے ان اقوال پر زیادہ جرح اور تنقید نہیں کرنا چاہتے بلکہ مرزا صاحب کے دعاوی اور عقائد انہیں کے الفاظ میں ناظرین تک پہنچا دیتے ہیں۔ مرزا صاحب اپنی نسبت لکھتے ہیں:
- (١) "میں محدث ہوں"۔ ("حمامۃ البشریٰ" ص ٧٩‘ "روحانی خزائن" ص ٢٩٢‘
ج ٧
- (٢) ان الفاظ میں مجددیت کا دعویٰ کیا ہے۔
کہ او مجدد ایں دین و راہنما باشد
(ترجمہ) "مجھے غیب سے خوشخبری ملی کہ میں وہ مرد ہوں کہ اس دین کا مجدد اور راہنما ہوں"۔
"در ثمین" فارسی‘ ص ١٣٦‘ "تریاق القلوب" ص ٤‘ "روحانی خزائن" ص ١٣٢‘ ج ١٥ اپنی مہدویت کا اعلان کرتے ہیں:
- (٣) "میں مہدی ہوں"۔ ("معیار الاخبار" ص ١١‘ "مجموعہ اشتہارات"
ص ٢٧٨‘ ج ٣)
آیت مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
- (٤) ”اور اس آنے والے کا نام جو احمد رکھا گیا ہے‘ وہ بھی اس کے مثیل ہونے
کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمدؐ جلالی نام ہے اور احمد جمالی۔ اور احمدؐ اور عیسیٰؑ اپنے جمالی معنوں کی رو سے ایک ہی ہیں۔ اسی کی طرف اشارہ ہے ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمدؐ بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ لیکن آخری زمانہ میں بر طبق پیشگوئی
٤
مجرد احمد‘ جو اپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے‘ بھیجا گیا“۔
(”ازالہ اوہام“ ص ٦٧٣‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٦٣‘ ج ٣)
اگرچہ اس عبارت میں مرزا صاحب نے لکھ دیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فقط احمد ہی نہیں بلکہ محمد‘ بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔ ان الفاظ کے لکھنے سے صرف یہ مقصد نظر آتا ہے کہ اگر ابتداء میں ہی صاف طور پر لکھ دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احمد نہیں تو عامتہ المسلمین متنفر ہو جائیں گے۔ لیکن آیت کا مصداق اپنے آپ کو قرار دیا ہے‘ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی مندرجہ سورۂ صف حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہ تھی بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے لیے تھی۔
”تریاق القلوب“ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں:
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(ترجمہ) ”میں مسیح زمان ہوں۔ میں کلیم خدا یعنی موسیٰ ہوں۔ میں محمد‘ ہوں۔ میں احمد مجتبیٰ ہوں“۔
(”تریاق القلوب“ ص ٣‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٣٤‘ ج ١٥)
دوسری جگہ اس کی مزید تشریح کرتے ہیں:
- (٦) ”خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں
کے نام میری طرف منسوب کیے ہیں۔ میں آدم ہوں۔ میں شیث ہوں۔ میں نوح ہوں۔ میں ابراہیم ہوں۔ میں اسحاق ہوں۔ میں اسماعیل ہوں۔ میں یعقوب ہوں۔ میں یوسف ہوں۔ میں موسیٰ ہوں۔ میں داؤد ہوں۔ میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد‘ اور احمد ہوں“۔
(حاشیہ ”حقیقت الوحی“ ص ٧٢‘ ”روحانی خزائن“ ص ٧٦‘ ج ٢٢)
اپنی اسی کتاب میں پھر لکھا ہے:
- (٧) ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ ”براہین
٥٠
احمدیہ” میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں‘ میں نوح ہوں‘ میں ابراہیم ہوں‘ میں اسحاق ہوں‘ میں یعقوب ہوں‘ میں اسماعیل ہوں‘ میں موسیٰ ہوں‘ میں داؤد ہوں‘ میں عیسیٰ بن مریم ہوں‘ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں‘ یعنی بروزی طور پر‘ جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جائے۔ اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو“۔
(تتمہ ”حقیقۃ الوحی“ ص ٨٤ و ٨٥‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٢١‘ ج ٢٢)
اپنی مجددیت اور مہدویت کی شان کو دوبالا کرنے کے لیے یوں گویا ہوئے ہیں:
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم ص ١٠٣‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٣٣‘ ج ٢١‘ ”درثمین“
ص ٧٤)
ناظرین کرام! حوالہ جات بالا سے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو گیا ہے کہ مرزا صاحب نے کس دیدہ دلیری سے تمام انبیاء علیہم السلام کے نام اپنی طرف منسوب کیے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ ہر نبی کی شان مجھ میں پائی جاتی ہے۔ گویا تمام انبیاء کے مقابل پر اپنے آپ کو پیش کیا ہے کہ فرداً فرداً ہر نبی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو جو کمال عطا کیے گئے تھے‘ مجموعی طور پر وہ سارے کے سارے کمالات مجھ (مرزا) کو دیئے گئے ہیں۔ مرزا صاحب کھلے الفاظ میں اعلان کرتے ہیں:
در برم جامہ ہمہ ابرار
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
(”درثمین“ فارسی ص ١٧١‘ ”نزول المسیح“ ص ٩٩‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٧٧‘ ج ١٨)
٦
(ترجمہ) "میں آدم ہوں‘ نیز احمد مختار ہوں۔ میں تمام نبیوں کے لباس میں ہوں۔ خدا نے جو پیالے ہر نبی کو دیئے ہیں‘ ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دے دیا ہے"۔
لاہوری احمدیو! خدا کے لیے انصاف سے جواب دو کہ کیا مرزا صاحب کے ان اشعار کا یہ مفہوم نہیں کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو تمام انبیاء علیہم السلام کے کمالات کا مجموعہ کہہ رہے ہیں؟ اور اپنے آپ کو کسی نبی سے درجہ میں کم نہیں سمجھتے۔ اسی ادعا ناروا کو اس شعر میں دہرایا ہے۔
من بعرفان نہ کمترم ز کسے
("درثمین" فارسی‘ ص ١٧٢‘ "نزول المسیح" ص ١٠٠‘ "روحانی خزائن" ص ٤٧٨‘
ج ١٨)
(ترجمہ) "اگرچہ دنیا میں بہت سے نبی ہوئے ہیں‘ میں عرفان میں ان نبیوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں"۔
حیرت ہے کہ مرزا صاحب نے صرف اتنا ہی نہیں کہا کہ میں نبوت کی ایسی معجون ہوں جو تمام نبیوں کے کمالات سے مرکب ہوں بلکہ اس سے اوپر بھی ایک اور چھلانگ لگا کر دنیا کو اطلاع دی ہے کہ میں وہ تھیلا ہوں کہ جس میں تمام نبی بھرے پڑے ہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
ہر رسولے نہاں بہ پیراہنم
("درثمین" فارسی‘ ص ١٧٣‘ "نزول المسیح" ص ١٠٠‘ "روحانی خزائن" ص ٤٧٨‘
ج ١٨)
(ترجمہ) "میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا۔ ہر رسول میرے پیراہن میں چھپا ہوا ہے"۔ معاذ اللہ من ھذا الھفوات (اختر)
ایک جگہ اپنی بڑائی کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:
- (١٢) "اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راست باز مقدس نبی گزر
٧
چکے ہیں، ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کیے جائیں۔ سو وہ میں ہوں"۔
("براہین احمدیہ" حصہ پنجم، ص ٩٠، "روحانی خزائن" ص ١١٨-١١٧ ج ٢١)
لاہوری مرزائیو! جب مرزا صاحب اپنے آپ کو تمام راست باز اور مقدس نبیوں کے کمالات کا مجموعہ یا عطر قرار دے رہے ہیں تو بتاؤ کہ تمام انبیاء علیہم السلام پر فضیلت کلی کا مدعی ہونے میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے؟ جواب دیتے وقت سوچ لینا کہ تمہارے سامنے کون ہے۔
آئینہ دیکھئے گا ذرا دیکھ بھال کر
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
میرے آنے سے ہوا کامل جملہ برگ و بار
("در ثمین" اردو، ص ٨٤، "براہین احمدیہ" حصہ پنجم ص ١١٣، "روحانی خزائن"
ص ١٣٤، ج ٢١)
معزز ناظرین! اس شعر میں مرزا صاحب کس بلند آہنگی سے اعلان کر رہے ہیں کہ تہذیب، شرافت، تمدن اور معاشرت انسانی کا جو باغ حضرت آدم علیہ السلام نے لگایا تھا، وہ اب تلک ادھورا اور نامکمل تھا۔ اب میرے آنے کی وجہ سے وہ انسانیت کا باغ پھولوں اور پھلوں سے بھر گیا ہے۔ یعنی میرے آنے سے دنیا کا کارخانہ مکمل ہوا ہے اور جب تک میں نہیں آیا تھا، دنیا نامکمل تھی۔ اگر میں پیدا نہ ہوتا تو یہ تمام جہان بھی عالم وجود میں نہ آتا۔ نہ چاند، سورج اور سیارے ہوتے، نہ زمین بنتی، نہ نسل انسانی کا نام و نشان ہوتا۔ نہ انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوتے، نہ قرآن مجید نازل ہوتا۔ غرضیکہ زمین و آسمان کا ہر ذرہ غلام احمد قادیانی کی وجہ سے ہی پیدا کیا گیا۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے اپنا الہام بیان کیا ہے:
(١٤) لولاک لما خلقت الافلاک۔
٨
(الہام مندرجہ ”البشریٰ“ جلد دوم، ص ١١٢، ”تذکرہ“ ص ٦١٢، طبع ٣، ”حقیقۃ الوحی“
ص ٩٨، ”روحانی خزائن“ ص ١٠٢، ج ٢٢
(ترجمہ) اے مرزا! ”اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا“۔
دوسرا الہام ان الفاظ میں ہوتا ہے:
- (١٥) کل لک ولامرک۔
(الہام مندرجہ ”البشریٰ“ جلد دوم، ص ١٢٧، ”تذکرہ“ ص ٧٠٦، طبع ٣)
(ترجمہ) ”سب تیرے لیے اور تیرے حکم کے لیے ہے“۔
مرزا صاحب تحریر کرتے ہیں:
- (١٦) فجعلنی اللہ آدم واعطانی کل ما اعطا لابی
البشر وجعلنی بروز الخاتم النبیین وسید المرسلین۔
(”خطبہ الہامیہ“ ص ١٦٧، ”روحانی خزائن“ ص ٢٥٤، ج ١٦)
(ترجمہ) ”خدا نے مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں جو ابو البشر آدم کو دی تھیں اور مجھ کو خاتم النبین اور سید المرسلین کا بروز بنایا“۔
اسی کی مزید تشریح کرتے ہیں:
- (١٧) ”اور چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حسب آیت وآخرین
منھم دوبارہ تشریف لانا بجز صورت بروز غیر ممکن تھا، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت نے ایک ایسے شخص کو اپنے لیے منتخب کیا جو خلق اور خو اور ہمت اور ہمدردی خلائق میں اس کے مشابہ تھا۔ اور مجازی طور پر اپنا نام احمد اور محمد اس کو عطا کیا تاکہ یہ سمجھا جائے کہ گویا اس کا (یعنی مرزا کا) ظہور بعینہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور تھا“۔
(”تحفہ گولڑویہ“ ص ١٠١، ”روحانی خزائن“ ص ٢٦٣، ج ١٧)
اسی مفہوم کو دوسری جگہ دہرایا ہے:
- (١٨) وانزل اللہ علی فیض ھذا الرسول (محمد) فاتمہ
واکملہ وجذب الی لطفہ وجودہ حتی صار وجودی وجودہ
فمن دخل فی جماعتی دخل فی صحابہ سیدی خیر المرسلین وھذا ہو معنی وآخرین منہم (ترجمہ) اور خدا نے مجھ (مرزا) پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جود کو میری (مرزا) طرف کھینچا یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہو گیا پس وہ جو میری جماعت (قادیانیت) میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی آخرین منہم کے بھی ہیں۔
("خطبہ الہامیہ" ص ١٧١، "روحانی خزائن" ص ٢٥٩، ج ١٦)
- (١٩) مرزا صاحب کو "الہام" ہوتا ہے۔ - محمد مفلح۔
اس کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے:
"حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا کہ آج اللہ تعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھا ہے جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں۔ تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا"
("البشریٰ" جلد دوم، ص ٩٩، "تذکرہ" ص ٥٥٧، طبع ٣)
مندرجہ بالا حوالہ جات صاف بتا رہے ہیں کہ مرزا صاحب کا الہامی نام محمد مفلح ہے اور مرزا صاحب ہمدردی خلائق، ہمت اور اخلاق حسنہ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہیں اور مرزا صاحب کا ظہور بعینہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہے اور جو شخص جماعت مرزائیہ میں داخل ہوا، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں داخل ہو گیا۔
لاہوری احمدیو! تمہارا بھی ان باتوں پر ایمان ہے یا نہیں؟
مرزا صاحب صاف فرماتے ہیں:
- (٢٠) "میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ
حضرت ابوبکرؓ کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابوبکرؓ کیا، وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے؟"
("معیار الاخیار" ص ١١، "مجموعہ اشتہارات" ص ٢٧٨، ج ٣)
مرزا صاحب کو ایک شعر الہام ہوتا ہے:
١٠
بدو رانش رسولاں ناز کردند
(الہامی شعر مندرجہ ”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ١٠٩، ”تذکرہ“ ص ٦٠٤‘ طبع ٣)
(ترجمہ) ”اس کے یعنی مرزا کے مقام کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو۔ مرزا کے زمانے کے لیے رسول بھی فخر اور ناز کرتے تھے“۔
مرزا صاحب کے بیٹے اور قادیان کے موجودہ گدی نشیں مرزا محمود احمد کی پیدائش کے بعد اسی نوزائیدہ بچے کے متعلق مرزا صاحب پر ایک الہام ان الفاظ میں برستا ہے:
دیر آمدہ ز راہ دور آمدہ
(ترجمہ) ”اے فخر رسل‘ تیرا قرب ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔ تو دیر سے آیا ہے اور دور کے راستہ سے آیا ہے“۔
(”تریاق القلوب“ ص ٤٢، ”روحانی خزائن“ ص ٢١٩‘ ج ١٥)
لاہوری جماعت کے ممبرو! بہت ہی جلدی اور دو ٹوک جواب دو کہ مرزا محمود احمد موجودہ گدی نشین قادیان فخر رسل ہے یا نہیں؟ اور وہ کون کون سے نبی تھے جو مرزا صاحب کے زمانہ پر ناز کیا کرتے تھے؟ اور تمہارے ایمان کے مطابق مرزا صاحب کس کس نبی سے افضل ہیں؟
مرزا صاحب رقمطراز ہیں:
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(”دافع البلا“ ص ٢٠، ”روحانی خزائن“ ص ٢٤٠‘ ج ١٨)
اسی کتاب میں لکھا ہے:
- (٢٤) ”اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم
میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے“۔
١١
بدو رانش رسولاں ناز کردند
(الہامی شعر مندرجہ ”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ١٠٩، ”تذکرہ“ ص ٦٠٤‘ طبع ٣)
(ترجمہ) ”اس کے یعنی مرزا کے مقام کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو۔ مرزا کے زمانے کے لیے رسول بھی فخر اور ناز کرتے تھے“۔
مرزا صاحب کے بیٹے اور قادیان کے موجودہ گدی نشیں مرزا محمود احمد کی پیدائش کے بعد اسی نوزائیدہ بچے کے متعلق مرزا صاحب پر ایک الہام ان الفاظ میں برستا ہے:
دیر آمدہ ز راہ دور آمدہ
(ترجمہ) ”اے فخر رسل‘ تیرا قرب ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔ تو دیر سے آیا ہے اور دور کے راستہ سے آیا ہے“۔
(”تریاق القلوب“ ص ٤٢، ”روحانی خزائن“ ص ٢١٩‘ ج ١٥)
لاہوری جماعت کے ممبرو! بہت ہی جلدی اور دو ٹوک جواب دو کہ مرزا محمود احمد موجودہ گدی نشین قادیان فخر رسل ہے یا نہیں؟ اور وہ کون کون سے نبی تھے جو مرزا صاحب کے زمانہ پر ناز کیا کرتے تھے؟ اور تمہارے ایمان کے مطابق مرزا صاحب کس کس نبی سے افضل ہیں؟
مرزا صاحب رقمطراز ہیں:
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(”دافع البلا“ ص ٢٠، ”روحانی خزائن“ ص ٢٤٠‘ ج ١٨)
اسی کتاب میں لکھا ہے:
- (٢٤) ”اے عیسائی مشنریو! اب ربنا المسیح مت کہو اور دیکھو کہ آج تم
میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے“۔
١١
("دافع البلا" ص ١٣، "روحانی خزائن" ص ٢٣٢، ج ١٨)
"ازالہ اوہام" میں اپنے عقیدے کا اظہار اس شعر میں کرتے ہیں:
- (٢٥) ایں منم کہ حسب بشارات آمدم!
(ترجمہ) "میں وہ ہوں کہ جو حسب بشارات آیا ہوں۔ عیسیٰ کہاں ہے کہ میرے منبر پر پاؤں رکھے۔"
("ازالہ اوہام" ص ١٥٨، "روحانی خزائن" ص ١٨٠، ج ٣)
اپنے اسی اعتقاد کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
- (٢٦) "خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا ہے جو اس پہلے مسیح سے اپنی
تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔"
(حقیقت الوحی" ص ١٤٨، "روحانی خزائن" ص ١٥٢، ج ٢٢)
اسی کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں:
- (٢٧) "مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح
ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام، جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا اور وہ نشان، جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں، وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا"۔
(حقیقت الوحی" ص ١٤٨، "روحانی خزائن" ص ١٥٢، ج ٢٢)
ایک جگہ یوں لکھا ہے:
- (٢٨) "مسیح محمدی، مسیح موسوی سے افضل ہے۔"
("کشتی نوح" ص ١٦، "روحانی خزائن" ص ١٧، ج ١٩)
اسی کتاب میں دوبارہ ارشاد ہوتا ہے:
- (٢٩) "مثیل موسیٰ'، 'موسیٰ' سے بڑھ کر اور مثیل ابن مریم، ابن مریم سے بڑھ
کر"۔
("کشتی نوح" ص ١٣، "روحانی خزائن" ص ١٤، ج ١٩)
١٢
مرزا صاحب غیظ و غضب کی حالت میں لکھتے ہیں:
- (٣٠) ”پھر جبکہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری زمانہ
کے مسیح کو اس کے کارناموں کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو“۔
(حقیقت الوحی ص ١٥٥‘ روحانی خزائن ص ١٥٩ ج ٢٢)
مرزا صاحب کے ان حوالہ جات سے صاف ثابت ہو رہا ہے کہ مرزا صاحب اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے افضل و اعلیٰ قرار دے رہے اور اعلان کر رہے ہیں کہ ”میں پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہوں“۔ اور یہ جزوی فضیلت نہیں بلکہ کلی فضیلت ہے اور غیر نبی کو نبی پر فضیلت کلی ہو نہیں سکتی۔
لاہوری احمدیو! بے جا تاویلات کو چھوڑ کر ایمان سے بتانا تمہارا اس کے متعلق کیا جواب ہے؟ مرزا صاحب تو صراحت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کلی فضیلت کا اقرار کر رہے ہیں اور تمہیں ساتھ ہی یہ بھی نصیحت کر رہے ہیں کہ ع
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر چھوڑ دو لیکن تمہارے لیے مشکل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کا ذکر تو قرآن مجید میں بھی کئی دفعہ آیا ہے۔ ایمان سے سچ سچ بتانا کہ تم نے اپنے ”حضرت مرزا صاحب کے اس ارشاد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے یا ان آیات کو پڑھا اور سنا نہیں کرتے جن میں ابن مریم علیہ السلام کا ذکر ہے؟ سوچ سمجھ کر جواب دینا۔ ہاں لگے ہاتھ یہ بھی بتا دینا کہ تمہارے مجدد اور گورو سے وہ کون کون سے ایسے نشانات ظاہر ہوئے تھے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ظاہر نہ ہو سکے؟ ذرا تفصیل سے بیان کرنا لیکن کہیں اپنے کرشن جی مہاراج کی پیشگوئیاں پیش نہ کر دینا۔ کیونکہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنی لاجواب کتاب ”الہامات مرزا“ میں مرزا صاحب کی تمام متحدیانہ پیشگوئیوں کے ٹانکے کھول دیئے ہوئے ہیں۔
مرزا صاحب فخریہ لکھتے ہیں:
- ١٣
- (٣١) "اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسینؓ تمہارا منجی ہے کیونکہ میں
سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ حسینؓ سے بڑھ کر ہے"۔
("دافع البلا" ص ١٣، "روحانی خزائن" ص ٢٣٣، ج ١٨)
اپنی شان کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
صد حسین است در گریبانم
("در ثمین" فارسی، ص ١٧١، "نزول المسیح" ص ٩٩، "روحانی خزائن" ص ٤٧٧،
ج ١٨)
(ترجمہ) "میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ سو (١٠٠) حسینؓ ہر وقت میری جیب میں ہیں"۔
"اعجاز احمدی" میں مرزا صاحب رقم طراز ہیں: ۔
فانی اوید کل ان و انصر
واما حسین فاذکروا دشت کربلا
الی ہذہ الایام تبکون فانظروا
("اعجاز احمدی" ص ٦٩، "روحانی خزائن" ص ١٨١، ج ١٩)
(ترجمہ) "مجھ میں اور تمہارے حسینؓ میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے مگر حسینؓ ! پس تم دشت کربلا کو یاد کر لو۔ اب تک تم روتے ہو، پس سوچ لو"۔
قتیل العدی فالفرق اجلے واظہر
(ترجمہ) "میں محبت کا کشتہ ہوں لیکن تمہارا حسینؓ دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا اور ظاہر ہے"۔
("اعجاز احمدی" ص ٨١، "روحانی خزائن" ص ١٩٣، ج ١٩)
١٤
ناظرین! مرزا کی ان بے جا حملوں کو دیکھئے کہ کن مکروہ الفاظ اور کس متکبرانہ لہجہ میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے افضلیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ کے کردار، عظیم الشان قربانی اور شہادت عظمیٰ کی تعریف میں دنیا کی تمام غیر مسلم اقوام تک رطب اللسان ہیں۔ کربلا کے معرکہ حق و باطل میں حضرت امام حسینؓ نے جس عزم، جرات، صبر، استقلال اور بہادری کا اعلیٰ ترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا، وہ آپ ہی اپنی نظیر ہے۔ اس عظیم الشان شہادت کے سامنے مرزا قادیانی کو پیش کرنا آفتاب کے سامنے چمگادڑ کو لانا ہے۔ ع
کہاں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا ایثار، صبر اور استقامت حق اور کہاں مرزا کی بزدلی کہ ایک معمولی مجسٹریٹ کی چشم نمائی پر فوراً لکھ دیا کہ میں کسی مخالف کے متعلق موت و عذاب وغیرہ کی انذاری پیش گوئی بغیر اس کی اجازت کے شائع نہ کروں گا۔ اتنا ڈرپوک اور بزدل ہونے کے باوجود یہ دعویٰ کرنا کہ سو (١٠٠) حسینؓ میری جیب میں ہیں، انتہائی کذب آفرینی نہیں تو اور کیا ہے؟
مرزائیو! تمہارے مرزا صاحب نے جو کہا ”انی قتیل الحب“ تم بتاؤ کہ مرزا صاحب کس کی محبت کے کشتہ تھے؟ جواب دیتے وقت اتنا یاد رکھنا کہ کہیں محمدی بیگم کا نام نہ لے لینا۔
مرزا صاحب فرماتے ہیں: ما انا الا کالقران وسیظھر علی یدی ما ظھر من الفرقان۔
(ترجمہ) ”میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو گا جو کچھ کہ فرقان سے ظاہر ہوا“۔
(”البشریٰ“ جلد دوم، ص ١١٩، ”تذکرہ“ ص ٦٧٤، طبع ٣)
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
(٣٥)
١٥
ہمچو قرآن منزہ اش دانم از خطا ہا ہمیں است ایمانم
آں یقین کہ بود عیسٰی را بر کلامے کہ شد بر او القا
واں یقین کلیم بر تورات واں یقین ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقین ہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(”در ثمین“ ص ١٧٢، ”نزول المسیح“ ص ٩٩-١٠٠، ”روحانی خزائن“
ص ٤٧٨-٤٧٧ ج ١٨)
(ترجمہ) ”جو کچھ میں خدا کی وحی سے سنتا ہوں، خدا کی قسم اسے خطا سے پاک سمجھتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ میری وحی قرآن کی طرح تمام غلطیوں سے مبرا ہے۔ وہ یقین جو حضرت عیسٰی کو اس کلام پر تھا، جو ان پر نازل ہوا، وہ یقین جو حضرت موسٰی کو تورات پر تھا، وہ یقین جو سید المرسلین حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن پاک پر تھا، وہی یقین مجھے اپنی وحی پر ہے اور اس یقین میں، میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں۔ جو جھوٹ کہتا ہے وہ لعین ہے“۔
اسی باطل عقیدے کا دوسری جگہ یوں مظاہرہ کرتے ہیں:
(٣٦) ”یہ مکالمہ الہیہ، جو مجھ سے ہوتا ہے، یقینی ہے۔ اگر میں ایک دم کے لیے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا، یقینی اور قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے، ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر“۔
(”تجلیات الہیہ“ ص ٢٥-٢٦، ”روحانی خزائن“ ص ٤١٢، ج ٢٠)
مرزا صاحب کے مخلص چیلو! جب مرزا صاحب قرآن ہی کی طرح ہیں، تو تم کیوں قرآن مجید کے درس اور قرآن پاک کے اردو، انگریزی اور جرمنی ترجموں کی رٹ لگایا کرتے ہو۔ تم مرزا صاحب کی اصل تعلیم کو بھول گئے ہو۔ جب مرزا صاحب کا
دعویٰ ہے کہ میں قرآن ہی کی طرح ہوں اور وہ اپنا فوٹو بھی کھنچوا کر تمہیں دے گئے ہیں، پس تمہیں جہاں قرآن حکیم یا کسی زبان میں اس کی تفسیر کی ضرورت محسوس ہو‘ فوراً مرزا صاحب کا فوٹو وہاں بھیج دیا کرو۔ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آئے۔
مرزا صاحب لکھتے ہیں:
(٣٧) ”شخصے پائے من بوسید۔ من گفتم کہ سنگ اسود منم“۔
(”البشریٰ“ جلد اول‘ ص٤٨‘ ”تذکرہ“‘ ص٣٦‘ طبع ٣‘ ”اربعین نمبر٤“ ص١٥‘
”روحانی خزائن“‘ ص٤٢٥‘ ج١٧)
(ترجمہ) ”ایک شخص نے میرے پاؤں کو بوسہ دیا تو میں نے کہا کہ سنگ اسود میں ہوں“۔
ہاں صاحب! آپ کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ سنگ اسود بننے سے مریدوں کے لیے راستہ کھل جائے گا اور ”وہ آؤ دیکھیں گے نہ تاؤ“ چٹاخ پٹاخ بوسے تو لے لیا کریں گے۔
لاہوری مرزائیو! تمہارے ”قادیانی دوست“ تو اب بھی مرزا صاحب کے مزار کی بوسہ بازی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اور تم زبان حال سے یہ شعر پڑھ رہے ہو۔۔
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
ہجوم خلق سے ارضِ حرم ہے
(”درثمین“ اردو‘ ص٥٠)
احمدیو! یہاں تو آپ کے حضرت نے کمال ہی کر دیا۔ یہی وہ مرزا صاحب کا ایجاد کردہ علم کلام ہے جس پر ناز کیا کرتے ہو؟ ذرا کان کھول کر سنو‘ فرماتے ہیں کہ قادیاں
١٧
کی زمین قابل عزت ہے اور لوگوں کا زیادہ ہجوم ہونے کی وجہ سے ”ارض حرم“ بن گئی ہے۔ اب تو تمہیں حج کرنے کے لیے کعبہ اللہ جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ قادیان کی زمین ”ارض حرم“ بن گئی ہے، مرزا صاحب سنگ اسود ہیں، انا اعطیناک الکوثر مرزا صاحب کا الہام پہلے سے موجود ہے۔ (”البشریٰ“ جلد دوم، ص ١٠٩ ”تذکرہ“، ص ٦٠٢، طبع ٣) قادیان کی گندی اور متعفن ڈھاب کو آب زمزم سمجھ لو۔ تمہارے ”مسیح موعود“ کے مزار کے قریب ہی خر دجال کا طویلہ (٢) موجود ہے۔ اس دجال کے گدھے کے ذریعے ہندوستان کے جس حصہ سے تم چاہو، بہت جلد قادیاں پہنچ جایا کرو گے۔ ہاں یہ ساتھ ہی یاد رکھنا کہ قادیاں وہی جگہ ہے جس کے متعلق تمہارے مجدد، ظلی اور بروزی نبی کا الہام ہے:
(ترجمہ) ”قادیان میں یزیدی لوگ پیدا کیے گئے ہیں“۔
(”ازالہ اوہام“ حاشیہ ص ٧٢ ”البشریٰ“ جلد دوم، ص ١٩ ”روحانی خزائن“، ص ٣٨،
ج ٣)
ہاں جناب ہمیں اس سے کیا مطلب۔ قادیاں ”ارض حرم“ ہو یا ”یزیدیوں کے رہنے کی جگہ“۔۔۔ تم جانو اور تمہارا کام۔ اگر تمہیں جرات اور حوصلہ ہو تو ہمارے ایک سوال کا جواب ضرور دینا۔ اور وہ یہ کہ تمہارے حضرت فرما گئے ہیں کہ لوگوں کا زیادہ ہجوم ہو جانے کی وجہ سے قادیاں ارض حرم ہو گیا ہے۔ کیوں صاحب، اگر انسانوں کی دھماچوکڑی اور جمگھٹا ہو جانے سے ہی کوئی جگہ ”ارض حرم“ بن جاتی ہے تو تم نیویارک، لندن اور برلن کو کب کعبہ بناؤ گے؟
مرزا صاحب پر چند الہام ان الفاظ میں برستے ہیں:
- (٣٩) وما ارسلناک الا رحمۃ للعلمین۔ (”انجام آتھم“
ص ٥٨، ”روحانی خزائن“، ص ٥٨، ج ١١)
(ترجمہ) ”(اے مرزا!) ہم نے تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ تمام جہانوں کے لیے تجھے رحمت بنائیں“۔
١٨
- (٤٠) ”داعی الی الله“ اور ”سراج منیر“ یہ دو نام اور دو خطاب
خاص آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو قرآن شریف میں دیئے گئے ہیں‘ پھر وہی دونوں خطاب الہام میں مجھے دیئے گئے ہیں“۔
(”اربعین نمبر ٢“ ص ٥‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٥١-٣٥٠‘ ج ١٧)
- (٤١) ”اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود (مرزا) ہے“۔
(”چشمہ معرفت“ ص ٧٦‘ ”روحانی خزائن“ ص ٨٥‘ ج ٢٣)
- (٤٢) ”میں ہندوؤں کے لیے کرشن ہوں“۔ (”لیکچر سیالکوٹ“ ص ٣٣‘
”روحانی خزائن“ ص ٢٢٨‘ ج ٢٠)
- (٤٣) ”ہے کرشن جی رودر گوپال“۔ (”البشریٰ“ جلد اول‘ ص ٥٦‘ ”روحانی
خزائن“ ص ٢٢٩‘ ج ٢٠‘ ”تذکرہ“ ص ٣٨٠‘ طبع ٣)
- (٤٤) ”برہمن اوتار (یعنی مرزا صاحب) سے مقابلہ اچھا نہیں“۔
(”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ١١٦‘ ”تذکرہ“ ص ٦٢٠‘ طبع ٣)
- (٤٥) ”آریوں کا بادشاہ“۔ (”البشریٰ“ جلد اول‘ ص ٥٦‘ ”تذکرہ“
ص ٣٨١‘ طبع ٣‘ ”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ٨٥‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٢٢‘ ج ٢٢)
- (٤٦) ”امین الملک جے سنگھ بہادر“۔ (”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ١١٨‘ ”تذکرہ“
ص ٦٧٢‘ طبع ٣)
- (٤٧) ان قدمی علی منارۃ ختم علیہ کل رفعہ۔
(”خطبہ الہامیہ“ ص ٣٥‘ ”روحانی خزائن“ ص ٧٠‘ ج ١٦)
(ترجمہ) ”میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے“۔
- (٤٨) ”آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا“۔
(”البشریٰ“ ص ٥٦‘ ”تذکرہ“ ص ٢٣٩‘ طبع ٣‘ ”حقیقت الوحی“ ص ٨٩‘ ”روحانی
خزائن“ ص ٩٢‘ ج ٢٢)
- (٤٩) آتانی ما لم یؤت احد ١٩ من العالمین۔
(”حقیقت الوحی“ ص ١٠٧، ”روحانی خزائن“ ص ١١٠‘ ج ٢٢)
(ترجمہ) ”خدا نے مجھے وہ چیز دی جو جہان کے لوگوں میں سے کسی کو نہ دی“۔
ناظرین! ان الہامات میں عجیب و غریب دعاوی اور نام مرزا صاحب کی طرف منسوب کیے گئے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ فرد واحد اتنے ناموں اور متبائن عہدوں کا مصداق کس طرح ہو سکتا ہے۔ کیا کوئی مرزائی ہے جو اپنے گرو کی ان بھول بھلیوں کو حل کرے؟ مرزا صاحب نے کئی جگہ لکھا ہے اور مرزائی بھی اب تک اسی لکیر کو پیٹ رہے ہیں کہ حدیث میں مسیح ناصری اور مسیح موعود کے دو علیحدہ علیحدہ حلیے موجود ہیں۔ اس لیے مسیح ناصری ان دو حلیوں کا مصداق نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ خود مرزا صاحب کے ڈھانچے میں محمد‘ احمد‘ عیسیٰ‘ موسیٰ‘ ابراہیم‘ کرشن‘ برہمن اوتار‘ جے سنگھ بہادر وغیرہ وغیرہ مختلف ہستیاں کس طرح جمع ہو سکتی ہیں؟
مرزا صاحب اپنا الہام بیان کرتے ہیں:
- (٥٠) يحمدك الله من عرشه يحمدك الله ويمشى
اليک۔
(”انجام آتھم“ ص ٥٥، ”روحانی خزائن“ ص ٥٥‘ ج ١١)
(ترجمہ) ”خدا عرش پر سے تیری تعریف کرتا ہے۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے“۔
مرزا صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ خدا تعالیٰ مرزا صاحب کے پاس پہنچا بھی تھا یا نہیں۔
مرزا صاحب کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ان الفاظ سے مخاطب کیا ہے:
- (٥١) انت اسمی الاعلے ۔
(ترجمہ) ”اے مرزا تو میرا سب سے بڑا نام ہے“۔ (”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ١١٦، ”تذکرہ“ ص ٣٩٢‘ طبع ٣)
واہ جی کرشن قادیانی یہاں تو غضب ہی کر دیا۔ یہ الہام شائع کرتے وقت اتنا نہ سوچا کہ عیسائی اور آریہ سماجی کیا کہیں گے کہ مرزا صاحب کے جنم سے پہلے مسلمانوں کو
٢٠
خدا کا اصلی نام تک معلوم نہ تھا اور قرآن و حدیث خداوند کریم کے اصلی اور ذاتی نام سے بالکل خالی تھے۔ مرزا صاحب کے اس نئے اور اچھوتے انکشاف سے پتہ چلا کہ خداوند کا بڑا نام ”غلام احمد“ ہے۔
مرزا صاحب کا ایک الہام ہے:
- (٥٢) انت مدینہ العلم۔ (”البشریٰ“ جلد دوم، ص ١١، ”تذکرہ“
ص ٤٩٢، طبع ٣) (ترجمہ) ”(اے مرزا) تو علم کا شہر ہے“۔
ہمارے آقائے نامدار حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: انا مدینہ العلم وعلی بابہا۔ ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے“۔ مگر قادیانی کرشن کہتا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں۔
مرزائیو! سچ سچ کہنا تم حدیث کو سچا جانتے ہو یا اپنے کرشن کے الہام کو؟
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
- (٥٢) انی حمی (٣) الرحمن۔ (”البشریٰ“ جلد دوم، ص ٨٩
”تذکرہ“، ص ٥٠٠، طبع ٣) (ترجمہ) ”میں خدا کی باڑ ہوں“۔
ناظرین! مرزا صاحب کہتے ہیں کہ میں خدا کی باڑ ہوں۔ زمیندار کھیت کے گرد جو باڑ لگایا کرتے ہیں، اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ کھیت کی حفاظت کی جاوے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کا الہام کنندہ اتنا کمزور ہے کہ اسے اپنی حفاظت کے لیے مرزا سے حفاظت کرانے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ یہ ملہم مرزا صاحب کی طرح ڈرپوک اور کمزور دل ہوگا، ہمارا رحمن و رحیم خدا تو قادر مطلق ہے۔
مرزا صاحب کا الہام ہے:
- (٥٣) انی مع الاسباب اتیک بغتہ انی مع الرسول
اجیب اخطی واصیب۔ (ترجمہ) ”میں اسباب کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔ خطا کروں گا اور بھلائی کروں گا“۔
٢١
(”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ٧٩)
احمدی دوستو! تمہارے گورو کا الہام کنندہ کہہ رہا ہے کہ میں خطا کروں گا۔ کیا خدائے واحد و قدوس بھی خطا کیا کرتا ہے؟ اس الہام سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب جو خطاؤں اور ”اجتہادی غلطیوں کے جال میں“ ساری عمر پھنسے رہے، یہ در اصل ان کا اپنا قصور نہیں بلکہ ان کے الہام کنندہ کا چلن ہی ایسا تھا کہ وہ خود بھی خطا و نسیاں کے چکر سے باہر نہ تھا، اسی لیے مرزا صاحب کو تمام عمر اس گورکھ دھندے میں پھانسے رکھا۔ سچ ہے:۔
رخ بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما
مرزا صاحب کو الہام ہوا ہے:
- (٥٣) اصلی واصوم اسھر وانام۔ (”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ٧٩)
(ترجمہ) ”میں نماز پڑھوں گا اور روزہ رکھوں گا‘ جاگتا ہوں اور سوتا ہوں“۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے متعلق ارشاد ہے: لا تاخذہ سنہ ولا نوم ”نہ اللہ تعالیٰ پر اونگھ غالب آتی ہے اور نہ نیند“۔۔۔ لیکن مرزا صاحب کو الہام ہو رہا ہے کہ ”میں جاگتا ہوں اور سوتا ہوں“۔ اب یہ مرزائیوں کا فرض ہے کہ وہ دنیا کے سامنے اعلان کریں کہ ان دونوں میں سے کس نظریے کو صحیح سمجھتے ہیں۔ میرے پرانے دوستو!
مصلحت بین و کار آساں کن
مرزا صاحب اپنی مایہ ناز کتاب ”حقیقت الوحی“ میں لکھتے ہیں:
- (٥٥) ”ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے
ہاتھ سے کئی پیشگوئیاں لکھیں، جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں۔ تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لیے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر
٢٢
کسی تامل کے سرخی کے قلم (٣) سے اس پر دستخط کیے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا۔ اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا‘ بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا ایک ہی وقت تھا‘ ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک غیر آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کرے گا کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا۔ مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو‘ وہ اس میں شک نہیں کر سکتا۔ اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے‘ غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ عبداللہ‘ جو ایک رویت کا گواہ ہے‘ اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا‘ جو اب تک اس کے پاس موجود ہے"۔ ("حقیقت الوحی" ص ٢٥٥‘ "روحانی خزائن" ص ٢٦٧‘ ج٢٢)
مرزائیو! قرآن مجید میں ارشاد ہے لیس کمثلہ شئی کہ اللہ تعالیٰ کی مانند کوئی چیز نہیں۔ خدائے واحد کی ذات تشبیہات سے منزہ ہے لیکن تمہارے "حضرت مرزا صاحب" قرآن حکیم کے اس محکم اصول کے خلاف لکھ گئے ہیں کہ "ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خداوند تعالیٰ کی زیارت ہوئی"۔ خوف خدا کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تم ہی بتا دو کہ بے مثل کا تمثل کس طرح ہو سکتا ہے؟ اور غیر محدود کا تمثل محدود ہو سکتا ہے یا نہیں؟ جواب دیتے وقت بے پر کی مت اڑانا‘ اگر ہمت ہے تو قرآن کریم کی کوئی آیت نقل کرنا جس سے "تمثیلی طور پر خدا تعالیٰ کی زیارت" کا ثبوت مل سکے۔
مرزا صاحب کے اسی کشف کے متعلق ہمارا دوسرا سوال یہ ہے کہ اپنی پیش ٢٣
گوئیوں کی تصدیق کے لیے جو کاغذات مرزا صاحب نے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیے اور اللہ تعالیٰ نے سرخی کے قلم سے ان پر دستخط کر دیئے، جب سرخ رنگ مادی اور حقیقی تھا تو اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ کاغذات بھی مادی ہوں گے۔ پس مرزائی بتائیں کہ وہ کاغذ کہاں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کس زبان کے حروف میں دستخط کیے تھے؟ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی دریافت کرنے کا حق ہے کہ پیش گوئیاں کس کس کے متعلق تھیں؟ اور باوجود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے تصدیق ہو جانے کے، وہ پوری بھی ہوئیں یا نہیں؟ نیز یہ بھی بتایا جائے کہ ارادہ الٰہی سے قلم پر زیادہ رنگ آ گیا تھا یا خدا کے ارادے کے بغیر ہی قلم نے زیادہ رنگ اٹھا لیا؟
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
- (٥٦) ”میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں۔ میں منتظر
ہوں کہ میرا مقدمہ بھی ہے۔ اتنے میں جواب ملا: اصبر سنفرغ یا مرزا۔ کہ ”اے مرزا! صبر کر، ہم عنقریب فارغ ہوتے ہیں“۔ پھر میں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور ایک طرف ایک سررشتہ دار ہے کہ ہاتھ میں ایک مسل لیے ہوئے پیش کر رہا ہے۔ حاکم نے مسل اٹھا کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کرسی اس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم ہوئی۔ اس نے مجھے کہا کہ اس پر بیٹھو اور اس نے مسل ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔ اتنے میں، میں بیدار ہو گیا“۔
(”البدر“ جلد دوم‘ نمبر ٦ / ١٩٠٣ء و ”مکاشفات“ ص ٤٨‘ ٤٩)
مرزا صاحب کے اس خواب سے کئی باتیں ظاہر ہوتی ہیں......
- (i) اللہ تعالیٰ مجسم ہے جو میز کرسی لگائے کچہری کا کام کر رہا ہے۔
- (ii) خداوند کریم کو معمولی مجسٹریٹوں کی طرح ایک منشی یا کلرک کی بھی ضرورت
ہے۔
- (iii) خدا لوگوں کے مقدمات کے جھمیلے میں اس قدر پھنسا ہوا ہے کہ اسے بصد
مشکل کسی سے بات کرنے کی فرصت ملتی ہے۔
٢٤
- (iv) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: سنفرغ لکم ایہ الثقلن۔
"یعنی اے جنوں اور انسانوں کے دونوں گروہو‘ ہم تمہاری طرف جلد متوجہ ہوں گے"۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہوریہ ”بیان القرآن“ میں لکھتے ہیں:
”اور یہاں متوجہ ہونے سے مراد سزا دینے کے لیے متوجہ ہونا ہے اور معمولی معنے لے کر بھی مراد وہی ہوگی۔ یعنی سخت سزا دینا کیونکہ کسی چیز کے لیے فارغ ہونا اکثر تہدید کے موقع پر بولا جاتا ہے"۔
پس سنفرغ یا مرزا سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب کو سخت ڈانٹ دی ہے کہ ”اے مرزا! ہم عنقریب تجھ کو سخت اور دردناک سزا دیں گے"۔
لاہوری مرزائیو! خدا کے لیے جلدی بتانا کہ تمہارے کرشن جی مہاراج کو اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت سزا مل چکی ہے یا قیامت کے دن ملے گی؟
مرزا صاحب کا الہام ہے:
- (٥٧) انت منی بمنزله توحیدی و تفریدی۔ (”حقیقت
الوحی“ ص ٨٦ ‘ ”روحانی خزائن“ ص ٨٩‘ ج ٢٢)
(ترجمہ) ”اے مرزا! تو میرے نزدیک بمنزلہ میری توحید و تفرید کے ہے"۔
احمدی دوستو! جب خدائے واحد و قدوس بے مثل ہے تو اس کی توحید و تفرید بھی بے مثل ہوگی یا نہیں؟ اپنے گورو کو خداوند عالم کی توحید و تفرید کی مانند تسلیم کر لینے کے بعد بھی تم کہہ سکتے ہو کہ خدا کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں؟ تم غور نہیں کرتے کہ جب مرزا صاحب آنجہانی خدا کی توحید و تفرید کی مانند ہو گئے تو پھر توحید کہاں رہی۔
مرزا صاحب اپنے الہامات بیان کرتے ہیں:
انت منی بمنزله ولدی۔ (”حقیقت الوحی“ ص ٨٦ ‘ ”روحانی خزائن“ ص ٨٩‘ ج ٢٢)
(ترجمہ) ”اے مرزا تو میرے نزدیک بمنزلہ میرے فرزند کے ہے"۔
٢٥
(٥٨) انت منی بمنزلہ اولادی۔ (”البشریٰ“ جلد دوم، ص ٦٥) (ترجمہ) ”تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے“۔ ”مسیح اور اس عاجز کا مقام ایسا ہے کہ اس کو استعارہ کے طور پر ابنیت کے لفظ سے تعبیر کر سکتے ہیں“۔
(”توضیح مرام“ ص ٢٧، ”روحانی خزائن“، ص ٦٤، ج ٣)
مرزائیو! تمہارے حضرت نے تو کہا تھا کہ میں بالکل قرآن ہی کی طرح ہوں اور مجھ سے وہی ظاہر ہو گا جو قرآن سے ظاہر ہوا۔ لیکن یہاں تو اصول قرآنی کے صریحاً خلاف الہامات کے چھینٹے برس رہے ہیں۔ قرآن کریم نے نہایت ہی زبردست الفاظ میں تردید کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا۔ جیسا کہ فرمایا ہے: وقالوا اتخذ الرحمن ولدا O لقد جئتم شيئا ادا O تكاد السموت يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا O ان دعوا للرحمن ولدا O وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولدا O (سورۃ مریم)۔۔۔(ترجمہ) ”(مرزا قادیانی اور اس کے چیلے) کہتے ہیں کہ رحمٰن نے (مرزا کو) بیٹا بنایا (مرزائیو) یقیناً تم ایک خطرناک بات کر گزرے۔ قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر گر جائیں کہ وہ (مرزائی) رحمٰن کے لیے بیٹے کا دعویٰ کرتے ہیں اور رحمٰن کو شایاں نہیں کہ وہ بیٹا بنائے“۔
ان آیات میں کن زوردار اور ہیبت ناک الفاظ میں تردید کی گئی ہے کہ خدائے رحمٰن نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے شایان شان ہے کہ وہ بیٹا بنائے۔
مرزا صاحب کے مریدو! جواب دو کہ اپنے گرو کے دونوں الہاموں میں سے کس کو سچا سمجھتے ہو اور کس کو غلط۔ اگر اس الہام کو صحیح مانتے ہو کہ میں بالکل قرآن ہی کی طرح ہوں اور مجھ سے وہی ظاہر ہو گا جو قرآن سے ظاہر ہوا تو دوسرے الہام ’کہ اے مرزا تو میرے نزدیک بمنزلہ میرے بیٹے کے ہے‘ کے متعلق کیا کہو گے؟ قرآن پاک عقیدہ ابنیت کی بیخ کنی کر رہا ہے اور مرزا کا الہام انہیں خدا کا بیٹا بنا رہا ہے۔
٢٦
مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
سر ك سرى۔ ("البشریٰ" جلد دوم‘ ص ١٢٩‘ "تذکرہ"‘ ص ٧١٤‘ طبع ٣) (ترجمہ) "اے مرزا تیرا بھید میرا بھید ہے۔"
- (٥٩) ظهورك ظهورى۔ ("البشریٰ" جلد دوم‘ ص ١٢٦‘ "تذکرہ"‘
ص ٧٠٤‘ طبع ٣) (ترجمہ) "اے مرزا تیرا ظہور میرا ظہور ہے۔"
ان دونوں حوالہ جات سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ خدا نے مرزا کو فرمایا کہ اے مرزا‘ میں اور تو دونوں ایک ہی ہیں۔ ہم میں کوئی فرق نہیں۔ عیسائیوں کے ہاں باپ بیٹا اور روح القدس تینوں مل کر ایک خدا بنتا ہے لیکن مرزا صاحب نے تیسرے کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ ایک خدا تو عالم بالا میں ہے‘ دوسرا مرزا صاحب کی شکل میں زمین پر نازل ہوا‘ جیسا کہ مرزا صاحب کا الہام ہے "خدا قادیاں میں نازل ہوگا"۔ ("البشریٰ" جلد اول‘ ص ٥٦‘ "تذکرہ"‘ ص ٤٣٧‘ طبع ٣) لیکن پھر بھی دو خدا نہیں‘ ایک ہی خدا ہے۔ کیونکہ مرزا صاحب کا ظہور خدا کا ظہور ہے۔ مرزا صاحب کے اسی عقیدے کی مزید وضاحت اس عبارت سے ہو رہی ہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
- (٦٠) رايتنى فى المنام عين الله وتيقنت اننى هو ولم
يبق لى ارادة ولا خطرة ..... وبين ما انا فى هذه الحاله كنت اقول انا نريد نظاما جديدا سماء جديدة وارضا جديدة فخلقت السموت والارض اولا بصورة اجماليه لا تفريق فيها ولا ترتيب ثم فرقتها ورتبتها ..... وكنت اجد نفسى على خلقها كالقادرين ثم خلقت السماء الدنيا وقلت انا زينا السماء الدنيا بمصابيح ثم قلت الان نخلق الانسان من سلاله من طين..... فخلقت آدم انا خلقنا الانسان فى احسن تقويم وكنا كذالك الخالقين۔
(ترجمہ) "میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا
٢٧
کہ میں وہی ہوں اور نہ میرا ارادہ باقی رہا اور نہ خطرہ ...... اسی حال میں (جبکہ میں بعینہ خدا تھا) میں نے کہا کہ ہم ایک نیا نظام‘ نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے، جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی۔ پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور ترتیب دی ...... اور میں اپنے آپ کو اس وقت ایسا پاتا تھا کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہوں۔ پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا انا زينا السماء الدنيا بمصابيح ۔ پھر میں نے کہا ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے‘ پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح سے میں خالق ہو گیا"۔
("آئینہ کمالات اسلام" ص ٥٦٤-٥٦٥، "روحانی خزائن" ص ٥٦٤-٥٦٥، ج ٥)
احمدی دوستو! بتاؤ اور سچ بتاؤ کہ مرزا صاحب نے خدا ہونے میں کونسی کسر باقی چھوڑی ہے؟ مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے یقین کر لیا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ فرعون نے بھی تو یہی کہا تھا کہ "انا ربکم الاعلیٰ" ۔ بتاؤ کہ مرزا صاحب کے ان الفاظ اور فرعون کے مقولہ میں کیا فرق ہے؟
ناظرین! صرف یہی نہیں کہ مرزا نے اتنا ہی کہا ہو کہ میں خدا ہوں اور میں نے زمین آسمان پیدا کیے بلکہ مرزا صاحب اس سے بھی بڑھ کر فرماتے ہیں:
واعطيت صفه الافناء والاحيا۔ ("خطبہ الہامیہ" ص ٢٣‘
”روحانی خزائن“ ص ٥٦-٥٥‘ ج ١٦)
(ترجمہ) ”مجھ کو فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے“۔
مرزا صاحب اپنا الہام بیان کرتے ہیں:
انما امرک اذا اردت شيئا ان تقول له کن فيکون۔
("البشریٰ" جلد دوم‘ ص ٧٩، "تذکرہ"‘ ص ٥٢٧، طبع ٣)
(ترجمہ) ”اے مرزا! تحقیق تیرا ہی حکم ہے جب تو کسی شے کا ارادہ کرے تو اس سے کہہ دیتا ہے۔ پس وہ ہو جاتی ہے“۔
اس سے ثابت ہوا کہ مرزا صاحب کو کن فیکون کے اختیارات حاصل
٢٨
ہیں ۔ زندہ کرنے اور فنا کرنے کی بھی صفت مرزا صاحب میں موجود ہے ۔ مرزا صاحب نے نئے آسمان اور زمین بھی بنائے، آدم کو بھی پیدا کیا ۔ اب یہ احمدی دوست بتائیں کہ خدائی کا دعویٰ کرنے میں کون سی کسر باقی رہ گئی ہے؟
ناظرین کرام! میں نے نہایت اختصار کے ساتھ مرزا صاحب کے خلاف اسلام عقائد اور دعاوی انہیں کے اپنے الفاظ میں آپ کے سامنے پیش کر دیئے ہیں۔ ان کے ان معجون مرکب اقوال و الہامات کو دیکھ کر آپ متعجب نہ ہوں کہ مرزا صاحب نے کس ستم ظریفی سے خلاف شریعت عقائد گھڑ لیے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا نے مرزا صاحب کو کھلی چھٹی دے دی تھی کہ اے مرزا ناجائز اور ممنوع افعال بھی تمہارے لیے حلال کر دیئے گئے ہیں، جو کچھ تمہارا دل چاہتا ہے، کر لو... جیسا کہ مرزا صاحب نے اپنا الہام بیان کیا ہے:
اعملوا ما شئتم انی غفرت لکم۔
(”البدر“ جلد نمبر ٢، نمبر ١٦-١٧، ص ٨)
(ترجمہ) ”اے مرزا! جو تو چاہے کر، ہم نے تجھے بخش دیا“۔
پس جب خدا نے ہی مرزا صاحب سے پابندی شریعت کی تمام قیود اٹھا لیں تو اس حالت میں مرزا صاحب جو کچھ بھی کر لیتے، ان کے لیے جائز تھا اور انہیں ضرورت نہ تھی کہ وہ اپنے عقائد اور اقوال کو قرآن کریم اور حدیث شریف کی کسوٹی پر پرکھنے کی تکلیف گوارہ کرتے ۔ سچ ہے ع سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا۔
احمدی دوستو! مرزا صاحب کے مندرجہ بالا خلاف قرآن و حدیث اقوال نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں ان عقائد باطلہ کو ترک کر کے اہل سنت والجماعت کی مستقیم شاہراہ پر گامزن ہو جاؤں۔
مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت
مرزا صاحب کے مریدوں کے دو فریق ہیں: ایک کا مرکز لاہور ہے، دوسرے کا قادیاں۔ قادیانی جماعت مرزا صاحب کو نبی مانتی ہے لیکن لاہوری جماعت مرزا صاحب کی تعلیم کے خلاف انہیں نبی نہیں کہتی۔ مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کی تحقیقات کرنے کے لیے مرزا صاحب کی کتابوں کو نہایت غور و خوض سے مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مرزا صاحب دعویٰ مسیحیت کے ابتدائی ایام میں اپنے آپ کو محدث کہتے تھے اور اپنی محدثیت کی تعریف ایسی کیا کرتے تھے، جس کا مفہوم نبوت ہوتا تھا۔ لیکن بعدہ، کھلے اور غیر مبہم الفاظ میں نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ مرزا صاحب نے اپنی ابتدائی تحریروں میں یہاں تک لکھا ہے کہ ”میں سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں اور مدعی نبوت پر لعنت بھیجتا ہوں“ لیکن اس کے بعد وہ زمانہ بھی آیا جب مرزا صاحب نے صاف الفاظ میں اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ اس لیے لاہوری جماعت مرزا صاحب کی ابتدائی تحریروں سے انکار نبوت کے جو حوالہ جات پیش کرتی ہے، وہ قابل قبول نہیں کیونکہ مرزا صاحب نے خود فیصلہ کر دیا ہے۔
”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے، صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں۔ مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتداء سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لیے اس کا نام پا کر، اس کے واسطے سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے، رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعت کے۔ اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کہیں انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہیں معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے، سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا“۔
(مرزا صاحب کا اشتہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ٦، ”روحانی خزائن“ ص ٢١٠، ٢١١،
ج ١٨)
٣٠
اس عبارت میں مرزا صاحب نے تسلیم کر لیا ہے کہ ”میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے اور آپ کے واسطے سے غیر تشریعی نبی بنتا ہوں اور اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا‘ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا“ جہاں اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ مرزا صاحب غیر تشریعی نبی ہونے کے مدعی تھے‘ ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی ہو گیا کہ جس جس جگہ مرزا صاحب نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے‘ وہاں انکار نبوت سے مرزا صاحب کی یہ مراد تھی کہ میں شریعت لانے والا نبی نہیں ہوں اور نہ مستقل طور پر نبی ہوں۔ اب ہمیں یہ بتانا ہے کہ مرزا صاحب نے مستقل نبی یا مستقل نبوت کی کیا تعریف کی ہے۔ مرزا صاحب ارشاد فرماتے ہیں:
”بنی اسرائیل میں اگر چہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوتیں براہ راست خدا کی ایک موہبت تھیں۔ حضرت موسیٰ کی پیروی کا اس میں ایک ذرہ کچھ دخل نہ تھا۔ اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔ بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہ راست ان کو منصب نبوت ملا“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ٩٧ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٠٠‘ ج ٢٢)
مرزا صاحب کی اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ نبی دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو براہ راست نبی ہوتے ہیں‘ انہیں کسی نبی کی پیروی سے نبوت نہیں ملتی‘ وہ مستقل نبی کہلاتے ہیں۔ دوسرے وہ‘ جو کسی دوسرے نبی کی اتباع اور پیروی سے نبی بنتے ہیں‘ انہیں امتی نبی کہا جاتا ہے اور میں دوسری قسم کا نبی ہوں یعنی امتی نبی۔ دوسری جگہ اس کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”جب تک اس کو امتی بھی نہ کہا جائے جس کے معنے ہیں کہ ہر ایک انعام اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے پایا ہے‘ نہ براہ راست“۔
(”تجلیات الٰہیہ“ ص ٩ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٠١‘ ج ٢٠)
٣١
ان حوالہ جات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مرزا صاحب مدعی نبوت تو ہیں، لیکن کوئی نئی شریعت نہیں لائے اور نہ انہیں نبوت بلاواسطہ ملی ہے۔ بلکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور وساطت سے نبی بن گئے ہیں اور مرزا صاحب کی اصطلاح میں یہی ظلی یا بروزی نبوت ہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے:
”یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لیے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پا چکے ہیں۔ پس منجملہ ان انعامات کے‘ وہ نبوتیں اور پیش گوئیاں ہیں، جن کی رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول سے ظاہر ہے، پس معنی غیب پانے کے لیے نبی ہونا ضروری ہوا اور آیت انعمت عليهم گواہی دیتی ہے کہ اس معنی غیب سے یہ امت محروم نہیں اور معنی غیب حسب منطوق آیت نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے اور وہ طریق براہ راست بند ہے۔ اس لیے ماننا پڑتا ہے کہ اس موہبت کے لیے محض بروز اور ظلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے“۔
(”ایک غلطی کا ازالہ“ حاشیہ، ص٥، ”روحانی خزائن“، ص٢٠٩، ج١٨)
”ظلی نبوت جس کے معنے ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پانا“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ٢٨ ”روحانی خزائن“، ص ٣٠، ج٢٢)
مرزا صاحب کے ان حوالہ جات سے ثابت ہو گیا کہ امتی نبی ظلی یا بروزی نبی سے مرزا صاحب کی یہ مراد تھی کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے نبی بن جانا۔ لاہوری جماعت کہا کرتی ہے کہ جس طرح ظل اصل نہیں ہوتا، اسی طرح ظلی نبی نبی نہیں ہوتا۔ لیکن مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”سچے پیرو اس کے (قرآن مجید کے) ظلی طور پر الہام پاتے ہیں“۔
(”تبلیغ رسالت“ جلد اول، ص٩٦، ”مجموعہ اشتہارات“، ص ١٤٨، ج١)
لاہوری احمدیو! سینے پر ہاتھ رکھ کر بتانا کہ اگر ظلی نبوت‘ نبوت نہیں تو ظلی الہام، الہام کس طرح ہو سکتا ہے؟ تمہارا عقیدہ خود ساختہ اور مرزا صاحب کے خلاف
٣٢
ہے کہ ظلی نبوت' نبوت نہیں ہوتی جیسا کہ تمہاری جماعت کے امیر مولوی محمد علی صاحب لکھتے ہیں:
”پھر اس کو ظلی نبوت کہہ کر یہ بھی بتا دیا کہ نبوت نہیں۔ کیونکہ ظل کا لفظ ساتھ لگانے سے اصلیت کا انکار مقصود ہوتا ہے“۔
(”مسیح موعود اور ختم نبوت“ ص ٢)
میرے پرانے دوستو! جب ظل کا لفظ ساتھ لگانے سے اصلیت کا انکار مقصود ہوتا ہے' تو تمہارے ”حضرت مرزا صاحب“ کہہ گئے ہیں کہ میں قرآن مجید کا سچا پیرو ہوں اور قرآن پاک کے سچے پیرو ظلی طور پر الہام پاتے ہیں۔ اب تمہارا فرض ہے کہ تم دنیا کے سامنے اعلان کرو کہ مرزا صاحب کے الہام کے ساتھ لفظ ظلی موجود ہے' اس لیے مرزا صاحب کا الہام' الہام نہیں کیونکہ ظل کا لفظ ساتھ لگانے سے اصلیت کا انکار مقصود ہوتا ہے۔ پس مرزا صاحب کے الہامات اضغاث احلام میں سے ہیں۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”یاد رہے کہ بہت سے لوگ میرے دعویٰ میں نبی کا نام سن کر دھوکا کھاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے اس نبوت کا دعویٰ کیا ہے جو پہلے زمانوں میں براہ راست نبیوں کو ملی ہے لیکن وہ اس خیال میں غلطی پر ہیں۔ میرا ایسا دعویٰ نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لیے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ١٥٠ حاشیہ' ”روحانی خزائن“ ص ١٥٤' ج ٢٢)
اس حوالہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کو پہلے نبیوں کی طرح براہ راست نبوت نہیں ملی بلکہ نبوت کا مقام مرزا صاحب نے بواسطہ فیضان محمدی پایا ہے ورنہ نبوت کے لحاظ سے کوئی فرق تسلیم نہیں کرتے' جیسا کہ لکھا ہے:
”منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیش گوئیاں ہیں' جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے“۔
٣٣
(”ایک غلطی کا ازالہ“ حاشیہ‘ ص ٥‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٢٠٩‘ ج ١٨)
غرض اس تحریر سے مرزا صاحب کی یہی مراد ہے کہ پہلے غیر تشریعی انبیاء علیہم السلام کی نبوت اور میری نبوت میں کوئی فرق نہیں‘ صرف طریق حصول نبوت میں فرق ہے کیونکہ نبوت کے متعلق تو لکھتے ہیں کہ کثرت اطلاع بر امور غیبیہ ہی کی وجہ سے پہلے لوگ نبی کہلائے۔
اب ہم مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کے اثبات کے لیے چند حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں:
- (١) ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں“۔ (”بدر“ ٥ مارچ ١٩٠٨ء)
- (٢) ”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح موعود
ہونے کا دعویٰ تھا“۔
(”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص ٥٣ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ ص ٦٨‘ ج ٢١)
لاہوری جماعت کہا کرتی ہے کہ کہیں دکھا دو کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہو کہ میرا دعویٰ ہے کہ میں رسول اور نبی ہوں۔ ان دونوں حوالہ جات میں‘ جو میں نے اوپر نقل کر دیئے ہیں‘ جناب مرزا صاحب نے صراحت سے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
لاہوری مرزائیو! کیا اب بھی کہو گے کہ ”ہمارے حضرت مرزا صاحب“ نے نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا؟ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
- (٣) ”غرض اس حصہ کثیرہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں
ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں‘ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لیے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔ کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ٣٩١‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٤٠٦-٤٠٧‘ ج ٢٢)
٣٤
لاہوری جماعت کے ممبرو! خدا کے واسطے مرزا صاحب کی اس عبارت پر غور کرو اور بتاؤ کہ کیا یہ نبوت محض محدثیت اور مجددیت ہے جس کا اس حوالہ میں بیان ہو رہا ہے؟ اب اس جگہ نبی کی بجائے لفظ محدث رکھ کر پڑھو۔ اگر عبارت درست ہو تو تم سچے ورنہ جھوٹے۔ اگر یہ محدثیت اور مجددیت ہی ہے تو پھر تیرہ سو سال میں ایک شخص کو ملنے کے کیا معنی؟ اور اس سے ایک شخص کے مخصوص ہونے کا کیا مطلب کیونکہ محدث تو تیرہ سو سال میں سینکڑوں گزرے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ مرزا صاحب کثرت مکالمہ و مخاطبہ اور کثرت امور غیبیہ کو نبوت قرار دیتے تھے جیسا کہ ذیل کے حوالہ جات سے ظاہر ہے۔
- (الف) ”جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جاوے اور بکثرت
امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں‘ وہ نبی کہلاتا ہے“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ٣٩٠، ”روحانی خزائن“ ص ٤٠٦‘ ج ٢٢)
- (ب) ”خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت
رکھا ہے“۔ (”چشمہ معرفت“ ص ٣٢٥، ”روحانی خزائن“ ص ٣٤١‘ ج ٢٣)
- (ج) ”جبکہ وہ مکالمہ و مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ
جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے“۔ (”الوصیت“ ص ١١، ”روحانی خزائن“ ص ٣١١‘ ج ٢٠)
- (د) ”میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی، قطعی، بکثرت
نازل ہو‘ جو غیب پر مشتمل ہو‘ اس لیے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے“۔
(”تجلیات الٰہیہ“ ص ٢٦، ”روحانی خزائن“ ص ٤١٢‘ ج ٢٠)
- (ھ) ”ہم خدا کے ان کلمات کو‘ جو نبوت یعنی پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں‘ نبوت
کے اسم سے موسوم کرتے ہیں اور ایسا شخص جس کو بکثرت ایسی پیشگوئیاں بذریعہ وحی دی جائیں.... اس کا نام نبی رکھتے ہیں“۔
(”چشمہ معرفت“ ص ١٨٠، ”روحانی خزائن“ ص ١٨٩‘ ج ٢٣)
٣٥
(و) "اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہیے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہے"۔
("ایک غلطی کا ازالہ ' ص ٥' "روحانی خزائن" ' ص ٢٠٩' ج ١٨)
حوالہ جات بالا سے ثابت ہو رہا ہے کہ مرزا صاحب کثرت مکالمہ و مخاطبہ اور کثرت اطلاع بر امور غیبیہ کو نبوت سمجھتے تھے اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا تھا:
"یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں' تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔ اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے"۔
("حقیقت الوحی" ص ٣٩١' "روحانی خزائن" ص ٤٠٦' ج ٢٢)
اس عبارت سے ثابت ہوا کہ تیرہ سو سال میں جتنا مکالمہ مخاطبہ مرزا صاحب سے ہوا ہے اتنا اور کسی سے نہیں ہوا اور کثرت مکالمہ مخاطبہ نبوت ہوتی ہے' اس لیے مرزا صاحب نبی ہیں۔
لاہوری مرزائی کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہر نبی کے لیے ضروری ہے کہ وہ شریعت اور کتاب لائے نیز دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔ لیکن ان کا یہ کہہ دینا اپنے گرو کی تصریحات کے صریحاً خلاف ہے۔ جیسا کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے:
(الف) "یہ تمام بدقسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔ نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔ شریعت کا لانا اس کے لیے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو"۔
(ضمیمہ "براہین احمدیہ" حصہ پنجم' ص ١٣٨' "روحانی خزائن" ' ص ٣٠٦' ج ٢١)
(ب) "بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان
٣٦
کے موجودہ زمانے میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں، پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں“۔
(”شہادۃ القرآن“ ص ٢٧، ”روحانی خزائن“ ص ٣٤٠، ج ٦)
- (ج) ”نبی کے لیے شارع ہونا شرط نہیں، یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ
سے امور غیبیہ کھلتے ہیں“۔ (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ٦، ”روحانی خزائن“ ص ٢١٠، ج ١٨)
یہ تینوں حوالہ جات پکار پکار کر اعلان کر رہے ہیں کہ مرزا صاحب کا عقیدہ تھا کہ بغیر نئی کتاب و شریعت کے بھی نبی ہو سکتا ہے اور نبی ہونے کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔
مرزا صاحب لکھتے ہیں:
- (٤) ”اس امت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی برکت سے ہزارہا
اولیا ہوئے ہیں اور ایک وہ بھی ہوا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ٢٨، ”روحانی خزائن“ ص ٣٠، ج ٢٢)
لاہوری احمدیو! ہمیشہ کے لیے اس دنیا میں نہیں رہنا، آخر ایک دن خدائے واحد و قدوس کی بارگاہ معلی میں اپنے عقائد و اعمال کا جوابدہ ہونا ہے۔ اس خدائے قدوس کو، جو دلوں کے مخفی حالات سے واقف ہے، حاضر و ناظر سمجھ کر سوچو اور غور کرو کہ کیا مرزا صاحب اپنے آپ کو اولیائے امت کے زمرہ میں شمار کرتے ہیں؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ وہ تو ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کر رہے ہیں کہ اس امت میں ہزارہا اولیا ہوئے ہیں اور میں امتی نبی ہوں اگر تمہارے خیال کے مطابق امتی نبی، نبی نہیں ہوتا تو تمام اولیاء اللہ سے اس خصوصیت کے کیا معنی؟
مرزا صاحب فرماتے ہیں:
- (٥) ”ہمارے نبی ہونے کے وہی نشانات ہیں جو تورات میں مذکور ہیں۔ میں کوئی
نیا نبی نہیں ہوں، پہلے بھی کئی نبی گزرے ہیں، جنہیں تم لوگ سچے مانتے ہو“۔
(”بدر“ ١٩ اپریل ١٩٠٨ء، ”ملخص ملفوظات“ ص ٢٧١، ج ١٠، ربوہ)
٣٧
- (٦) "ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو۔ دیکھو جو امور
سماوی ہوتے ہیں‘ ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں۔ صحابہ کرام کے طرزِ عمل پر نظر کرو‘ وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا‘ وہ صاف صاف کہہ دیا اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے۔ یہی ولا یخافون لومة لائم کے مصداق ہوئے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں‘ دراصل یہ نزاع لفظی ہے۔ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے‘ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں‘ اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں‘ جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی‘ صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے‘ جن سے موسوی دین کی شوکت و صداقت کا اظہار ہو۔ پس وہ نبی کہلائے۔ یہی حال اس سلسلہ میں ہے‘ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لیے اور کون سا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے...... ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں‘ عیسائیوں‘ ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں‘ تو اسی لیے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے‘ کس لیے اس کو دوسرے دعووں سے بڑھ کر کہتے ہیں...... ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں‘ اسی لیے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہیے"۔
(ڈائری مرزا صاحب مندرجہ اخبار ”بدر“ ٥ مارچ ١٩٠٨ء ج ٧‘ نمبر ٩‘ ص ٦‘ ”حقیقت
النبوۃ“ ص ٢٧٢‘ از مرزا محمود)
- (٧) "میں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو
میرا گناہ ہو گا اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے‘ تو میں کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔ اس پر قائم ہوں اس وقت تک کہ اس دنیا سے گزر جاؤں"۔
٣٨
(مرزا صاحب کا آخری مکتوب مندرجہ اخبار ”عام“ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء، ”حقیقت النبوۃ“
از محمود‘ ص ٢٧٠-٢٧١)
- (٨) ”تب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا۔ یعنی مسیح موعود کے
ذریعے سے جو اس کی قرنا ہے۔۔۔ اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے۔ کیونکہ خدا کے نبی اس کی صور ہوتے ہیں“۔
(”چشمہ معرفت“ ص ٧٦-٧٧، ”روحانی خزائن“، ص ٨٥-٨٤‘ ج ٢٣)
- (٩) ”میں مسیح موعود ہوں اور وہی ہوں جس کا نام سرور انبیاء نے نبی اللہ رکھا
ہے“۔ (”نزول المسیح“ ص ٤٨‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٤٢٧‘ ج ١٨)
- (١٠) ”خدا تعالیٰ کی مصلحت اور حکمت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے
افاضہ روحانیہ کا کمال ثابت کرنے کے لیے یہ مرتبہ بخشا ہے کہ آپ کے فیض کی برکت سے مجھے نبوت کے مقام تک پہنچایا“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ١٥٠ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٥٤‘ ج ٢٢)
- (١١) ”پس خدا تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ایک نبی کے مبعوث ہونے تک وہ
عذاب ملتوی رکھا اور جب وہ نبی مبعوث ہو گیا اور اس قوم کو ہزار ہا اشتہاروں اور رسالوں سے دعوت کی گئی تب وہ وقت آگیا کہ ان کو اپنے جرائم کی سزا دی جاوے“۔
(تتمہ ”حقیقت الوحی“ ص ٥٢‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٤٨٢‘ ج ٢٢)
- (١٢) ”تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی ہے‘ وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال
جب تک طاعون دنیا میں رہے‘ گو ستر برس تک رہے‘ قادیاں کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے “۔ (”دافع البلا“ ص ١٠‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٢٣٠‘ ج ١٨)
- (١٣) ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیاں میں اپنا رسول بھیجا“۔ (”دافع
البلا“ ص ١١‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٢٣١‘ ج ١٨)
- (١٤) ”سخت عذاب بغیر نبی قائم ہونے کے آتا ہی نہیں۔ جیسا کہ قرآن شریف
میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا۔ پھر یہ کیا
٣٩
بات ہے کہ ایک طرف تو طاعون ملک کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف ہیبت ناک زلزلے پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اے غافلو! تلاش تو کرو شاید تم میں خدا کی طرف سے کوئی نبی قائم ہو گیا ہے‘ جس کی تم تکذیب کر رہے ہو“۔
(”تجلیات الہیہ“ ص٨-٩‘ ”روحانی خزائن“ ص٤٠١، ٤٠٠، ج٢٠)
- (١٥) ”ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے
تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے“۔
(”ایک غلطی کا ازالہ“ ص٢‘ ”روحانی خزائن“ ص٢٠٦‘ ج١٨)
- (١٦) قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا
(ترجمہ) ”کہہ اے تمام لوگو میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آیا ہوں“۔
(”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص٥٦‘ ”تذکرہ“‘ ص٣٥٢‘ طبع ٣)
- (١٧) ”انک لمن المرسلین“۔
(الہام مندرجہ ”حقیقت الوحی“ ص١٠٧‘ ”روحانی خزائن“‘ ص١١٠‘ ج٢٢) (ترجمہ) ”اے مرزا! تو بیشک رسولوں میں سے ہے“۔
- (١٨) ”ہمارا نبی اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور
عیسیٰ کہلا سکتا ہے حالانکہ وہ امتی ہے“۔ (”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص١٨٤ ”روحانی خزائن“‘ ص٣٥٥‘ ج٢١) ”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی“۔
(”حقیقت الوحی“ ص١٤٩-١٥٠‘ ”روحانی خزائن“‘ ص١٥٢-١٥٣‘ ج٢٢)
٤٠
- (١٩) ”وآخرین منہم لما یلحقوا بہم۔ یہ آیت آخری زمانہ میں
ایک نبی کے ظاہر ہونے کی نسبت ایک پیش گوئی ہے۔
(تتمہ ”حقیقت الوحی“ ص ٦٧‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٥٠٢‘ ج ٢٢)
- (٢٠) ”جس آنے والے مسیح موعود کا حدیثوں سے پتہ لگتا ہے اس کا انہیں
حدیثوں میں یہ نشان دیا گیا ہے کہ وہ نبی بھی ہو گا اور امتی بھی“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ٢٩‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٣١ ج ٢٢)
لاہوری احمدیو! میں نے مرزا صاحب کی کتابوں‘ اشتہاروں اور ڈائریوں سے چند حوالہ جات نقل کر دیئے ہیں‘ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے دھڑلے سے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے آپ کو نبی لکھا۔ اگر اس رسالہ کی طوالت مانع نہ ہوتی تو میں مرزا صاحب کی کتابوں سے سینکڑوں حوالہ جات پیش کر سکتا تھا کہ جن میں مرزا صاحب نے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے بطور نبی کے پیش کیا ہے۔ تم خوفِ خدا کرو‘ کب تک مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرو گے۔ اتنا تو سوچو کہ لوگ مرزا صاحب کے یہ حوالہ جات پڑھ کر کیا نتیجہ نکالیں گے۔
دیکھو مرزا صاحب نے یہاں تک فرمایا ہے:
- (٢١) ”خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے
ہوں‘ اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔
(”چشمہ معرفت“ ص ٣١٧‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٣٣٢‘ ج ٢٣)
یہاں تو مرزا صاحب نے فیصلہ کن بات لکھ دی کہ میرے نشانات معمولی نہیں ہیں‘ بلکہ اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر وہ نشان ہزار نبی پر بھی تقسیم کر دیئے جائیں تو ان کی بھی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لاہوری مرزائی جواب دیں کہ جب مرزا صاحب کے نشانوں سے ہزار نبی کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے تو مرزا صاحب نبی کیوں نہ ہوئے؟
میرے پرانے دوستو! کیا تمہیں جرأت ہے کہ تم دنیا کے سامنے اعلان کر سکو کہ مرزا صاحب نے اپنے آپ کو نبی نہیں کہا؟ جواب دیتے وقت اتنا یاد رکھنا کہ ایک وہ
٤١
وقت بھی تھا جب تم نے اپنے اخبار ”پیغام صلح“ میں مندرجہ ذیل اعلان کیے تھے۔
اعلان اول : ”ہم خدا کو شاہد کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے اور اس زمانہ کی ہدایت کے لیے دنیا میں نازل ہوئے۔ آج آپ کی متابعت میں ہی دنیا کی نجات ہے۔ ہم اس امر کا اظہار ہر میدان میں کرتے ہیں اور کسی کی خاطر ان عقائد کو بفضلہ تعالیٰ چھوڑ نہیں سکتے“۔
(اخبار ”پیغام صلح“ جلد ١‘ نمبر ٣٥‘ مورخہ ٧-٩-١٩١٣)
اعلان دوم : ”معلوم ہوا ہے کہ بعض احباب کو غلط فہمی میں ڈالا گیا ہے کہ اخبار ہٰذا کے ساتھ تعلق رکھنے والے احباب یا ان میں سے کوئی ایک سیدنا و ہادینا حضور حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود کے مدارج عالیہ کو اصلیت سے کم یا استخفاف کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ہم تمام احمدی‘ جن کا کسی نہ کسی صورت میں اخبار ”پیغام صلح“ سے تعلق ہے‘ خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہماری نسبت اس قسم کی غلط فہمی محض بہتان ہے۔ ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس زمانہ کا نبی‘ رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔ جو درجہ حضرت مسیح موعود نے اپنا بیان فرمایا ہے‘ اس سے کم و بیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں“۔ (اخبار ”پیغام صلح“ جلد ١‘ نمبر ٤٢‘ ١٦ اکتوبر ١٩١٣)
ناظرین کرام ! یہ وہ اعلان ہیں جو اخبار ”پیغام صلح“ سے تعلق رکھنے والوں نے اس وقت شائع کیے تھے‘ جب مولوی نور الدین صاحب کی زندگی میں ان لوگوں کے متعلق مشہور ہوا تھا کہ یہ لوگ مرزا صاحب کی نبوت سے منکر ہو گئے ہیں۔ ان اعلانات میں لاہوری جماعت کے موجودہ ممبروں نے کس دھڑلے سے مرزا صاحب کی نبوت کا ڈھنڈورا پیٹا تھا‘ لیکن اب یہی لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے مرزا صاحب کو کبھی نبی تسلیم نہیں کیا۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مولوی نور الدین صاحب کی زندگی تک لاہوری پارٹی کے تمام ممبر مرزا صاحب کو نبی مانتے تھے۔ اگر ضرورت ہوئی تو ہم ان کے تمام بڑے بڑے ممبروں کی تحریریں شائع کر دیں گے‘ جن میں انہوں نے مرزا صاحب کو نبی تسلیم کیا ہے۔ اس جگہ مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور کی چند مصدقہ تحریریں
٤٤
بطور نمونہ درج کی جاتی ہیں۔
- (الف) "آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ جس شخص (جناب مرزا صاحب)
کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لیے مامور و نبی کر کے بھیجا ہے‘ وہ بھی شہرت پسند نہیں"۔ ("ریویو" اردو‘ جلد ٥‘ نمبر ٤‘ ص ١٣٢)
- (ب) "اس لیے یہی وہ آخری زمانہ ہے جس میں موعود نبی کا نزول مقدر تھا"۔
("ریویو" اردو‘ جلد ٦‘ نمبر ٣‘ ص ٨٣)
- (ج) "آیت کریمہ میں جن لوگوں کے درمیان اس فارسی الاصل نبی کی بعثت
لکھی ہے‘ انہیں آخرین کہا گیا ہے"۔ ("ریویو" جلد ٦‘ نمبر ٣‘ ص ٩٦)
- (د) "پیشگوئی کے بیان میں اوپر یہ ذکر آچکا ہے کہ نبی آخر زمان کا ایک نام
رجل من ابناء فارس بھی ہے"۔ ("ریویو" جلد ٦‘ نمبر ٣‘ ص ٩٨)
- (ہ) "ایک شخص (مرزا صاحب) جو اسلام کا حامی ہو کر مدعی رسالت ہو"۔
("ریویو" جلد ٥‘ نمبر ٥‘ ص ١٦٦)
کس صراحت سے یہ عبارات پکار پکار کر اعلان کر رہی ہیں کہ "ریویو آف ریلیجنز" کی ایڈیٹری کے زمانہ میں مولوی محمد علی صاحب ایم۔ اے موجودہ امیر جماعت مرزائیہ لاہور مرزا صاحب کی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے مرزا صاحب کی نبوت کے رنگ سے رنگے ہوئے مضامین کس قدر شد و مد سے شائع کیا کرتے تھے۔ اب یہی مولوی محمد علی صاحب ہیں‘ جو نہایت ہی معصومانہ انداز میں فرمایا کرتے ہیں کہ ہم کبھی مرزا صاحب کی نبوت پر ایمان نہیں لائے اور نہ ہی جناب مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ مرزا صاحب حلفیہ شہادت دے رہے ہیں۔
"اور میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے اور اسی نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اسی نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے"۔ (تتمہ "حقیقت الوحی" ص ٦٨‘ "روحانی خزائن"‘ ص ٥٠٣‘ ج ٢٢)
مرزا صاحب اپنی نبوت کا ثبوت دینے کے لیے خدا تعالیٰ کی قسم "کھا" رہے ہیں۔ لیکن لاہوری مرزائی ہیں کہ ایک طرف تو مرزا صاحب کو مسیح موعود‘ محدث‘ مجدد‘
٤٣
کرشن وغیرہ‘ دعاوی میں سچا اور راست باز بھی مانتے ہیں اور دوسری طرف مرزا صاحب کی قسم پر بھی اعتبار نہیں کرتے۔ اگر قسم پر اعتبار کرتے تو ان کی نبوت سے منکر کیوں ہوتے۔ میرے دوستو! یہ مت کہہ دینا کہ ”حضرت مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ میرا نام نبی رکھا گیا ہے اور کسی کا نام نبی رکھ دینے سے وہ نبی نہیں بن جاتا“۔ یاد رکھو کہ اگر خدا کے نبی نام رکھ دینے سے نبی نہیں ہو جاتا تو مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ ”اسی خدا نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے“۔ پس تمہاری تصریحات کے مطابق مرزا صاحب کا نام مسیح موعود رکھ دینے سے مرزا صاحب مسیح موعود بھی نہیں بن سکتے۔ تم بتاؤ کہ تم انہیں مسیح موعود کیوں مانتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب نے بڑے زور سے نبوت کا دعویٰ کیا تھا جیسا کہ ان کی کتابوں اور ڈائریوں کے مندرجہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہو رہا ہے لیکن مرزا صاحب کے لاہوری مرید ان کی نبوت کو نہیں مانتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کذاب دجال ہے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
(الف) ”سيكون فى امتى كذابون ثلثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى“۔ (مسلم‘ ترمذی‘ دارمی‘ ابن ماجہ‘ ابوداؤد‘ مشکوۃ)۔۔۔ (ترجمہ) ”میری امت میں تیس بڑے جھوٹے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا‘ باوجودیکہ میں خاتم النبین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔
(ب) ”لا تقوم الساعه حتى يخرج ثلثون كذابا كلهم يزعم انه نبى“۔ (طبرانی)۔۔۔ (ترجمہ) ”فرمایا قیامت نہ ہوگی یہاں تک کہ تیس بڑے جھوٹے ظاہر نہ ہولیں۔ ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا“۔
(و) ایک روایت میں ”سيكون فى امتى كذابون دجالون“۔ کہ ”میری امت میں کذاب دجال ہوں گے‘ جو دعویٰ نبوت کریں گے“۔ ”وانى خاتم النبيين لا نبى بعدى“۔ ”حالانکہ میں ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا‘
٤٤
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ ان احادیث میں دجال کذاب ہونے کی یہ علت ٹھہرائی گئی ہے کہ وہ باوجود میری امت میں ہونے کے دعویٰ نبوت کریں گے اور کہیں گے کہ ہم امتی نبی ہیں یعنی ایک پہلو سے نبی ہیں اور ایک پہلو سے امتی۔ یاد رہے کہ مسیلمہ کذاب نے بھی امتی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ کیونکہ وہ بھی مرزا صاحب کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ یہاں تک کہ اس کی اذان میں اشہد ان محمدا رسول اللہ پکارا جاتا تھا اور وہ خود بھی بوقت اذان اس کی شہادت دیتا تھا۔ (دیکھو ”تاریخ طبری“ جلد دوم، ص
٢٤٤)
معزز ناظرین! جب میں نے ایک طرف ان احادیث کو دیکھا اور دوسری طرف مرزا صاحب کے دعویٰ نبوت کو تو میرے ضمیر نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں مرزائی مذہب کو ترک کر دوں۔
مرزا صاحب کا اپنے مخالفین پر جہنمی ہونے کا فتویٰ
مرزا صاحب کے ابتدائے دعویٰ سے لے کر ان کی وفات تک کی کل تحریروں کو جن لوگوں نے غور سے مطالعہ کیا ہے، ہماری طرح ان پر یہ حقیقت منکشف ہو گئی ہوگی کہ ابتداء میں مرزا صاحب اپنے منکرین اور مخالفین کو کافر، دائرہ اسلام سے خارج اور جہنمی نہ کہتے تھے۔ ان کی تحریرات سے بخوبی پتہ چل سکتا ہے کہ ابتدائے دعویٰ میں انہوں نے تمام عالم اسلام کو کافر اور جہنمی کہنے میں مصلحت وقت نہیں سمجھی، اندازہ کر لیا ہوگا کہ اگر شروع میں اپنے تمام منکرین پر کافر اور جہنمی ہونے کا فتویٰ لگا دیا، تو ہمارے نزدیک کوئی پھٹکنے نہ پائے گا۔ دکانداری چلانے کے لیے ابتداء میں نرمی اور رواداری کا برتاؤ مناسب سمجھا۔ بعدہ، جوں جوں چیلے چانٹے گرد جمع ہوتے گئے، مرزا جی کا پارہ حرارت بھی تیز ہوتا گیا۔ پہلے تمام دنیا کے مسلمانوں کو فاسق کا خطاب دیا اور اپنے انکار کرنے والوں کو رب العزت کی بارگاہ میں قابل مواخذہ ٹھہرایا۔ جب اس پر بھی دل کا جوش ٹھنڈا نہ ہوا تو دنیا کے تمام مسلمانوں کو، جو ان کی نہ سمجھنے والی بھول
٤٥
جعلیوں ' انٹ شنٹ الہامات ' خلاف اسلام عقائد اور گمراہ کن دعاوی پر ایمان نہ لائیں ' جہنمی قرار دے دیا جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے:
"جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا' وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے"۔
("معیار الاخیار" ص ٨ ' "مجموعہ اشتہارات" ' ص ٢٧٥ ' ج ٣)
دوسری جگہ لکھا ہے:
"اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ ' خدا کا مامور ' خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے اور جو کچھ کہتا ہے ' اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے"۔
("انجام آتھم" ص ٦٢ ' "روحانی خزائن" ' ص ٦٢ ' ج ١١)
ان صاف اور صریح حوالوں کے نقل کر دینے کے بعد میں مزید تشریح اور حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ مرزا صاحب کس ڈھٹائی اور غیظ و غضب سے بھرے ہوئے الفاظ میں تمام مسلمانان عالم کو ' جو ان کی زٹل ' بکواس ' وحی اور الہامی پوتھیوں پر ایمان نہیں لاتے ' جہنمی کہہ رہے ہیں لیکن مرزا صاحب کے مریدوں کی لاہوری جماعت ' جس کا میں آٹھ سال تک ممبر اور مبلغ رہا ہوں ' نہایت ہی معصومانہ انداز میں اپنا یہ عقیدہ ظاہر کرتی ہے کہ ہم ہر ایک کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے ہیں اور ساتھ ہی اپنے گورو کی محولہ بالا تحریرات پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔
جماعت احمدیہ لاہور کے ممبرو ! میں تمہیں نہایت ہی درد دل سے خدائے واحد و قدوس کے جلال اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عظمت کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم اکیلے بیٹھ کر مرزا صاحب کی محبت سے خالی الذہن ہو کر ' خوف خدا کو مدنظر رکھتے ہوئے محولہ بالا حوالہ جات کو غور کی نظر سے دوبارہ اور سہ بارہ دیکھ لو ' تو تم بھی اس نتیجہ پر پہنچ جاؤ گے کہ ہمارا عقیدہ اپنے مجدد اور گورو کے بالکل الٹ اور خلاف ہے اور ہم پر یہ مثل صادق آتی ہے کہ من چہ می سرائم و تنبورہ من چہ می سراید۔
٤٦
میرے پرانے دوستو! دو کشتیوں پر پاؤں رکھ کر تم ساحل مراد تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔ اگر صدق دل سے تم ہر ایک کلمہ گو کو مسلمان سمجھتے ہو تو ہماری طرح بانگ دہل مرزا سے بیزاری کا اعلان کر دو کیونکہ وہ تمام جہان کے کلمہ گو مسلمانوں کو‘ جنہوں نے ان کی بیعت نہیں کی اور ان کے مخالف ہیں، جہنمی قرار دے رہے ہیں اور اگر تم مرزا صاحب کے اس خطرناک عقیدہ سے بیزاری کا اعلان کرنے کے لیے تیار نہیں تو اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ تم محض مسلمانوں سے چندہ وصول کرنے کی خاطر انہیں مسلمان کہتے ہو‘ ورنہ دل سے مرزا صاحب کے عقیدہ پر تمہیں پختہ ایمان ہے۔ میں منتظر ہوں کہ احمدیہ بلڈنگس لاہور کی چار دیواری سے کیا جواب ملتا ہے؟
مرزا صاحب کی بیعت ہی مدار نجات ہے
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے کہ قرآن پاک‘ سنت نبویؐ اور حدیث شریف پر ایمان لانا اور ان پر عمل کرنا ہی نجات کے لیے ضروری ہے‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: اطیعوا الله والرسول لعلکم ترحمون۔ ”اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول برحق محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے“۔ ساڑھے تیرہ سو سال سے تمام مسلمان اللہ تعالیٰ اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ہی مدار نجات مانتے چلے آئے ہیں۔ لیکن مرزا صاحب قادیانی قرآن اور حدیث کے خلاف یوں رقمطراز ہیں:
”اب دیکھو کہ خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی آنکھیں ہوں‘ دیکھے اور جس کے کان ہوں‘ سنے“۔
(حاشیہ ”اربعین“ نمبر ٤‘ ص ٦‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٤٣٥‘ ج ١٧)
٧٤
کہاں ہیں لاہوری جماعت کے علماء و ممبر؟
اپنی آنکھوں سے مرزا صاحب کی محبت کی پٹی اتار کر اس عبارت کو پڑھیں اور للہ غور کریں کہ کیا مرزا صاحب نے اسلامی مسائل کی تجدید کی ہے یا سرے سے ہی انہوں نے اسلامی اصولوں کو بدل ڈالا ہے۔ مرزا صاحب سے پیشتر ایک پکا کافر اور مشرک کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر قرآن اور سنت نبویؐ پر عمل کر کے نجات کا مستحق ہو جاتا تھا، مگر اب کوئی لاکھ دفعہ بھی کلمہ شریعت پڑھے اور ساری عمر قرآن و سنت پر بھی عمل کرتا رہے لیکن مرزا صاحب کی بیعت نہ کرے اور ان کی تعلیم پر عمل نہ کرے تو اس کی نجات نہیں ہو سکتی۔ کیا مرزا صاحب نے اسلامی اصولوں کو منسوخ کرنے میں کوئی کسر باقی چھوڑی ہے؟ پہلے تو نجات کے لیے قرآن و سنت کی پیروی کی ضرورت تھی لیکن اب مرزا صاحب کی بیعت کرنے اور ان کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے کے بغیر کسی کی نجات ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ مرزا صاحب کا ایک اٹل فیصلہ ہے۔ لاہوری جماعت مرزا صاحب کے اس الہام کو تاویلات کے شکنجے میں جکڑ نہیں سکتی۔
مرزا صاحب نے دوسری جگہ لکھا ہے:
"واللہ انی غالب وسیظھر شوکتی و کل ھالک الا من قعد فی سفینتی"۔ (ترجمہ) بخدا میں غالب ہوں اور عنقریب میری شوکت ظاہر ہو جائے گی اور ہر ایک مرے گا مگر وہی بچے گا جو میری کشتی میں بیٹھ گیا"۔
("البشریٰ" جلد دوم‘ ص ١٤٩، "تذکرہ"‘ ص ٧١٣‘ ص ٣)
اس جگہ بھی مرزا صاحب نے صاف الفاظ میں پیش گوئی کی ہے کہ جو شخص میری کشتی میں نہیں بیٹھتا‘ وہ ہلاک ہو جائے گا۔
ناظرین! مرزا صاحب نے جو کشتی بنائی ہے‘ اس کا نام "کشتی نوح" رکھا ہے اور وہ کاغذ کی کشتی ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ جو شخص کاغذ کی کشتی میں بیٹھے گا‘ وہ مع اس کشتی کے غرق ہو جائے گا۔
٤٨
مرزائیو! اگر ہمارے کہنے پر اعتبار نہ ہو تو آنے والے ساون بھادوں میں جب تمہاری جائے رہائش کے نزدیک ترین دریا میں طغیانی آئے تو مرزا صاحب کی بنائی ہوئی کاغذ کی کشتی نوح کو دریا میں ڈال کر اس پر بیٹھ جاؤ اور پھر دیکھو کہ تمہارے مجدد مسیح موعود اور ظلی بروزی نبی کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے یا ہمارا مشاہدہ درست ثابت ہوتا ہے۔ مرزا صاحب کو ٹیچی جی مہاراج کی وساطت سے ایک الہام ان الفاظ میں ہوتا ہے: ”قطع دابر القوم الذین لا یومنون“۔ (”البشریٰ“ جلد دوم، ص ١٠٥) (ترجمہ) ”اس قوم کی جڑ کاٹی گئی جو ایمان نہیں لاتے“۔
یہ معاملہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ لاہوری اور قادیانی مرزائیوں کے مجدد اور نبی کو تو یہ الہام ہو رہا ہے کہ جو قوم مجھ پر ایمان نہیں لاتی، اس قوم کی جڑ کاٹی گئی، یعنی وہ قوم نیست و نابود ہو جائے گی۔ مرزا صاحب تو اپنے منکرین کو تباہ و برباد کرنے کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، لیکن ان کے مرید ہیں کہ آئے دن اپنی تقریروں اور تحریروں میں عامۃ المسلمین کی بہتری اور ہمدردی کے راگ الاپتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گورو اور چیلوں کی اس متضاد روش سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ یا تو مرزا صاحب کے قادیانی اور لاہوری مریدوں کو مرزا صاحب کے الہامات پر یقین نہیں اور اگر الہامات پر یقین ہے تو محض زبان سے دکھاوے اور نمائش کے لیے مسلمانوں کی ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے تاکہ اس ہمدردی کی آڑ لے کر مسلمانوں کی جیبوں سے ان کی سنہری اور روپہلی اغراض پوری ہو سکیں اور مسلمانوں کے روپے سے ان کے خزانہ کی رونق بڑھتی رہے۔ اسی مضمون کو مرزا صاحب نے دوسری جگہ واضح کیا ہے:
”خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ“۔
(اشتہار ”حسین کامی سفیر روم“ مندرجہ ”البشریٰ“ ص ٤٥، ”تذکرہ“ ص ٢٠٢، طبع
سوم)
اس عبارت میں بھی مرزا صاحب نے کھلے الفاظ میں اشتہار دے دیا ہے کہ مسلمانوں میں سے جو میری بیعت نہ کرے گا، وہ کاٹا جائے گا۔ یعنی تباہ و برباد اور نیست و
٤٩
نابود ہو جائے گا۔
لاہوری احمدیو! تم بلاخوف لومۃ لائم دو ٹوک جواب دو کہ تمہارا بھی اس پر ایمان ہے یا نہیں؟
مرزا صاحب کا اپنا منکرین پر فتوئی کفر!
مرزا صاحب کا عقیدہ، جس کی رو سے تمام اہل قبلہ، سوائے مرزائیوں کے، کافر قرار دیئے گئے ہیں، ایک مشہور اور مسلم امر ہے۔ تاہم بطور نمونہ چند حوالہ جات پیش کرتا ہوں، جن میں مرزا صاحب آنجہانی نے اپنے منکرین کو کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
- (١) ”خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت
پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے، وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے، تو یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے، جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلا ہے، خدا کے حکم کو چھوڑ دوں۔ اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا جائے اس لیے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں۔ ہاں اگر کسی وقت صریح الفاظ سے آپ اپنی توبہ شائع کریں اور اس خبیث عقیدہ سے باز آ جائیں تو رحمت الٰہی کا دروازہ کھلا ہے۔ وہ لوگ جو میری دعوت کے رد کرنے کے وقت قرآن شریف کی نصوص صریحہ کو چھوڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کھلے کھلے نشانوں سے منہ پھیرتے ہیں، ان کو راست باز قرار دینا صرف اس شخص کا کام ہے، جس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔
(مرزا صاحب کا خط ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب کے نام بحوالہ الذکر الحکیم، نمبر ٤،
ص ٢٣، ٢٤)
جناب مرزا صاحب نے صاف اور غیر مبہم الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ دنیا کے وہ تمام مسلمان، جن کو میری دعوت پہنچ گئی ہے اور انہوں نے میری بیعت نہیں کی، وہ
٥٠
مسلمان نہیں ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے مواخذہ کرے گا کہ تم نے مرزا صاحب کی مسیحیت اور نبوت کے سامنے اپنا سر کیوں نہیں جھکایا تھا؟ اپنے مریدوں کو عامۃ المسلمین سے متنفر کرنے کے لیے ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ جو مسلمان خدا کے کھلے کھلے نشانوں یعنی خود بدولت کے ”معجزات“ کا انکار کرتے ہیں ان کو راستباز قرار دینا صرف اس شخص کا کام ہے، جس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے۔
لاہوری احمدیو! دنیا کے ان چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے، جو مرزا صاحب کے معجزات اور نشانوں کو نہیں مانتے، تم کسی کو راستباز سمجھتے ہو؟ جواب دینے سے پہلے اپنے ظلی نبی کے فتوے کو دوبارہ پڑھ لینا۔
ایک شخص مرزا صاحب سے سوال کرتا ہے: ”حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ ان مومنوں کے، جو آپ کی تکفیر کر کے کافر بن جائیں، صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبدالحکیم خاں کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص، جس کو میری دعوت پہنچتی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے۔ اس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔
یعنی پہلے آپ ”تریاق القلوب“ وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے“۔
(”حقیقت الوحی“ ص ١٦٣، ”روحانی خزائن“ ص ١٦٧، ج ٢٢)
اس سوال کا جواب مرزا صاحب نے ان الفاظ میں دیا ہے: (٢) ”یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا، وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مفتری قرار دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افتراء کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے۔ جیسا کہ فرماتا ہے: ” فمن
٥١
اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ"۔ یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں: ایک خدا پر افتراء کرنے والا‘ دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جب کہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افتراء کیا ہے‘ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا اور اگر میں مفتری نہیں تو بلاشبہ وہ کفر اس پر پڑے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمایا ہے‘ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیش گوئی موجود ہے۔"۔
("حقیقۃ الوحی" ص ١٦٣-١٦٤‘ "روحانی خزائن" ص ١٦٨-١٦٧‘ ج ٢٢)
حاشیہ پر لکھا ہے: "جو شخص مجھے نہیں مانتا‘ وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے‘ اس لیے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے"۔
مرزا صاحب کی اس عبارت سے ذیل کے نتائج نکلتے ہیں:
- (الف) مرزا صاحب کو کافر کہنے والے اور ان کے دعاوی کو نہ ماننے والے ایک
ہی قسم کے لوگ ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
- (ب) جو شخص مرزا صاحب کے دعاوی کو نہیں مانتا‘ وہ اسی وجہ سے نہیں مانتا کہ
وہ ان کو مفتری قرار دیتا ہے۔
- (ج) جو شخص مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔
- (د) جو شخص مرزا صاحب کو نہیں مانتا وہ کافر ہے۔
میاں شمس الدین صاحب سیکرٹری انجمن حمایت اسلام لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے مرزا صاحب لکھتے ہیں:
- (٣) "اور اگر میاں شمس الدین کہیں کہ پھر ان کے مناسب حال کون سی آیت
ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت مناسب حال ہے کہ "مادعاء الکافرین الا فی ضلال" ("دافع البلاء" ص ١١‘ "روحانی خزائن" ص ٢٣٢‘ ج ١٨)
٥٢
اس عبارت میں مرزا صاحب نے صریح الفاظ میں اپنے منکر مسلمانوں کو کافر کہا ہے۔ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
- (٤) "کفر دو قسم پر ہے: ایک یہ کفر کہ ایک شخص اسلام سے ہی انکار کرتا ہے اور
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا رسول نہیں مانتا۔ دوسرے یہ کفر کہ مثلاً وہ مسیح موعود کو نہیں مانتا اور اس کو باوجود اتمام حجت کے جھوٹا مانتا ہے، جس کے ماننے اور سچا جاننے کے بارے میں خدا اور رسول نے تاکید کی ہے اور پہلے نبیوں کی کتابوں میں بھی تاکید پائی جاتی ہے۔ پس اس لیے کہ وہ خدا اور رسول کے فرمان کا منکر ہے، کافر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں"۔
("حقیقت الوحی" ص١٧٩، "روحانی خزائن" ص١٨٥، ج٢٢)
اس عبارت کا مفہوم صاف ہے کہ مرزا صاحب کے منکر اسی قسم کے کافر ہیں، جس قسم کے کافر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں قسم کے کفر ایک ہی قسم میں داخل ہیں۔
لاہوری مرزائیو! یہ مت کہہ دینا کہ "یہاں حضرت مرزا صاحب نے اپنے مکذب کا ذکر کیا ہے" کیونکہ مرزا صاحب پہلے لکھ چکے ہیں کہ "جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے" اور یہ بات ہے بھی صحیح کہ جو مرزا صاحب کے دعویٰ مسیحیت وغیرہ کا منکر ہو گا اور اسی وجہ سے انکار کرے گا کہ وہ ان کو جھوٹا سمجھتا ہے۔ مرزا صاحب پر الہام نازل ہوتا ہے:
- (٥) "قالوا ان التفسیر لیس بشیئ"۔ ("البشریٰ" جلد دوم، ص
٦٧)
(ترجمہ) "انہوں نے کہا کہ تفسیر (مراد تفسیر سورہ فاتحہ مندرجہ "اعجاز المسیح") کچھ چیز نہیں (تشریح) اس الہام میں خدا تعالیٰ نے کفار مولویوں کا مقولہ بیان فرمایا ہے"۔ مرزا صاحب کے اس الہام سے معلوم ہوا کہ جن علماء نے کہہ دیا کہ مرزا صاحب کی سورہ فاتحہ کی تفسیر کچھ چیز نہیں، وہ کفار مولوی ہیں۔ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
٥٣
(٦) ”اور خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں‘ اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی تمام ذریت کے آخری حملہ تھا‘ اس لیے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لیے ہزار ہا نشان ایک جگہ جمع کر دیئے۔ لیکن پھر بھی جو لوگ انسانوں میں سے شیطان ہیں وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر ناحق کے اعتراض پیش کر دیتے ہیں“۔
(”چشمہ معرفت“ ص ٣١٧‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٢‘ ج ٢٣)
کرشن قادیانی کے چیلو! سن لیا؟ تمہارے رودر گوپال کیا اچرتے ہیں؟ پہلے تو اپنے منکر مسلمانوں کو کافر کہنے پر ہی اکتفاء کیا تھا‘ لیکن اس عبارت میں فرما دیا کہ خدا نے مجھے ہزار ہا نشان یا معجزات عطا کیے ہیں اور جو لوگ ان معجزات کو نہیں مانتے وہ شیطان ہیں۔
ان حوالہ جات سے ظاہر ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب اپنے منکر مسلمانوں کو کافر اور شیطان کہتے تھے۔ ”لاہوری مرزائیوں کے خلیفہ اول“ مولوی نور الدین فرماتے ہیں:
آں غلام احمد ؒ است و میرزائے قادیاں
گر کسے آرد شک در شان او آں کافر است
جائے او باشد جہنم بیشک و ریب و گماں
(”الحکم“ ٧ اگست ١٩٠٨ء“)
لاہوری مرزائیو! ٧ اگست ١٩٠٨ء کو جب یہ نظم اخبار ”الحکم“ میں شائع ہوئی تھی‘ اس وقت تم نے اس کے خلاف آواز کیوں نہ بلند کی؟ ہاں جناب کرتے بھی کس طرح‘ مولوی نور الدین کا آہنی پنجہ سر پر موجود تھا اور تم اس وقت خود بھی اسی عقیدے پر ایمان رکھتے تھے۔
مرزا صاحب کا مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ
مرزا صاحب آنجہانی اپنے نہ ماننے والے اور مخالف مسلمانوں کو کافر اور جہنم،
سمجھتے تھے‘ اس لیے اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ وہ مسلمان کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتویٰ بھی دے دیتے۔ چنانچہ مرزا صاحب نے ایسا ہی کیا‘ جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:
- (١) ”اس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار
کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے‘ اس لیے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے۔ کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے۔ پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے‘ تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔ اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ امامکم منکم یعنی جب مسیح نازل ہو گا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو‘ جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں‘ بہ کلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہو گا۔ پس تم ایسا ہی کرو۔ کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔ جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے‘ وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حکم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا فیصلہ مجھ سے چاہتا ہے۔ مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا‘ اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پاؤ گے۔ پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں۔ کیونکہ وہ میری باتوں کو‘ جو مجھے خدا سے ملی ہیں‘ عزت سے نہیں دیکھتا۔ اس لیے آسمان پر اس کی عزت نہیں“۔
(”اربعین نمبر ٣“ ص ٢٨ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٤١٧‘ ج ١٧)
مرزا صاحب کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں:
- (الف) مرزا صاحب کا جو مرید کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے‘ وہ ایسے فعل کا
مرتکب ہوتا ہے جو قطعی حرام ہے۔
- (ب) مرزائیوں کے لیے لازمی ہے کہ وہ مسلمانوں سے قطعی طور سے الگ
رہیں۔
- (ج) جو مرزائی ایسا نہیں کرتا‘ اس پر خدا کا الزام ہے اور اس کے عمل حبط ہو
جائیں گے۔
- (د) جو شخص مرزا صاحب کا دل سے معتقد ہے‘ وہ ان کے اس فیصلے اور دوسرے
تمام فیصلوں کو مانتا ہے اور ہر تنازع میں مرزا صاحب کو حکم ٹھہراتا ہے۔
- (ھ) جو شخص مرزا صاحب کا مرید ہونے کے باوجود ان کے کسی فیصلہ کو نہیں مانتا‘
اس کی آسمان پر عزت نہیں۔
ایک دفعہ مرزا صاحب نے اپنی مفتیانہ شان کا ان الفاظ میں مظاہرہ کیا تھا:
- (٢) ”حج میں بھی آدمی یہ التزام کر سکتا ہے کہ اپنے جائے قیام پر نماز پڑھ لیوے
اور کسی کے پیچھے نماز نہ پڑھے۔ بعض ائمہ دین سالہا سال مکہ میں رہے لیکن چونکہ وہاں کے لوگوں کی حالت تقویٰ سے گری ہوئی تھی‘ اس لیے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا گوارہ نہ کیا اور گھر میں پڑھتے رہے۔“
(”فقہ احمدیہ“ ص ٣٠‘ ”فتاویٰ مسیح موعود“ ص ٢٨)
مرزا صاحب نے صرف اتنا ہی نہیں لکھا کہ میرے مریدوں پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ وہ کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھیں‘ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ میرا جو مرید کسی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے‘ کوئی مرزائی اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے‘ جیسا کہ ایک شخص کے سوال پر مرزا صاحب نے جواب دیا:
- (٣) ”جو احمدی ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے‘ جب تک توبہ نہ کرے‘ ان کے پیچھے
نماز نہ پڑھو“۔ (”فقہ احمدیہ“ ص ٣٠)
لاہوری احمدیو! مرزا صاحب کے ان احکامات پر عمل کرنا تمہارے لیے فرض ہے یا نہیں؟ ”اربعین“ کی مندرجہ بالا عبارت پڑھ کر جواب دینا۔
٥٦
مرزا صاحب کی پیشگوئیاں
مرزا صاحب کے دعاوی کو پرکھنے کے لیے کسی علمی بحث کی ضرورت نہیں۔ مرزا صاحب نے اپنی صداقت جانچنے کے لیے علمی باریکیوں، منطقی الجھنوں، فلسفیانہ دلائل اور صرفی و نحوی نکات سے ہمیں بے نیاز کر دیا ہے، جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:
- (الف) ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی
محک امتحان نہیں ہو سکتا“۔
(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٢٨٨، ”روحانی خزائن“، ص ٢٨٨، ج ٥)
- (ب) ”سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں، کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے
اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے“۔
(”شہادۃ القرآن“ ص ٦٥، ”روحانی خزائن“، ص ٣٧٦-٣٧٥، ج ٦)
- (ج) ”و من ایں (پیشگوئی) را برائے صدق خود یا کذب خود معیارے
گردانم“۔
(”انجام آتھم“ ص ٢٢٣، ”روحانی خزائن“، ص ٢٢٣، ج ١١)
مرزا صاحب کی ان تحریرات نے فیصلہ کر دیا کہ ان کی صداقت و بطالت کی شناخت کا سب سے بڑا معیار ان کی پیشگوئیاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب ہر تصنیف میں اپنے نشانات، کرامات اور معجزات کے بے سرے راگ ہمیشہ ہی الاپتے رہے اور یہاں تک لکھ دیا کہ میرے نشانات اور معجزات سے ہزار نبیوں کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر مرزا صاحب کی تمام تصنیفات ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک پڑھ لی جائیں تو سوائے فٹ بال کی طرح گول مول اور انٹ شنٹ پیشگوئیوں کے اور کوئی نشان، کرامت یا معجزہ نظر نہیں آتا اور ان پیشگوئیوں کے الفاظ بھی موم کی ناک کی طرح ہیں، جدھر چاہو الٹ پھیر کر دو اور جب تک انہیں تاویلات کے شکنجہ میں نہ جکڑ دیا جائے، وہ کسی واقعہ پر چسپاں نہیں ہو سکتے۔ ہماری تحقیقات۔
٥٧
ہے کہ مرزا صاحب کی کوئی متحدیانہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ جتنی تحدی سے کوئی پیشگوئی کی گئی‘ اتنی ہی صراحت سے وہ غلط نکلی۔ بالفرض اگر مرزا صاحب کے بیان کردہ ہزاروں ”الہامات“ میں سے چند پیشگوئیاں اپنی تاویلات باطلہ کی رو سے لوگوں کی نظروں میں صحیح کر دکھائیں تو بھی وہ مرزا صاحب کی صداقت کی دلیل نہیں ہو سکتیں کیونکہ مرزا صاحب نے خود تحریر فرمایا ہے:
”بعض فاسقوں اور بغایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آجاتی ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آچکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت‘ جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے‘ جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے‘ کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جب وہ بادہ بہ سر و آشنا بہ نر کا مصداق ہوتی ہے‘ کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے“۔
(”توضیح مرام“ ص ٨٤‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٩٥-٩٤‘ ج ٣)
جب پرلے درجے کے بدمعاشوں‘ بدکاروں اور رنڈیوں تک کی چند پیشگوئیاں اور خواب سچے نکل آتے ہیں تو اگر بالفرض مرزا صاحب کی ایک آدھ گول مول‘ پیشگوئی سچی ثابت ہو جائے تو ان کے لیے باعث فخر نہیں لیکن مرزا صاحب کو اپنی پیشگوئیوں کے سچا ہونے پر بڑا ناز ہے۔
مرزا صاحب نے اپنی پیشگوئیوں کی تعداد ہزاروں بلکہ لاکھوں (٧) تک لکھی ہے۔ ان سب کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر اس مختصر رسالہ میں زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں‘ اس لیے میں ناظرین کے سامنے چند معرکۃ الآراء اور متحدیانہ پیشگوئیاں پیش کرتا ہوں جنہیں مرزا صاحب نے بڑے طمطراق سے شائع کیا اور انہیں خاص طور پر اپنے صدق و کذب کا معیار قرار دیا۔
پہلی پیش گوئی متعلقہ منکوحہ آسمانی
- (الف) مرزا صاحب کی آسمانی منکوحہ (محمدی بیگم) مرزا صاحب کی حقیقی چچازاد
بہن کی دختر تھی۔
- (ب) مرزا صاحب کے ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔
- (ج) مرزا صاحب کی زوجہ اول کے چچازاد بھائی کی بیٹی تھی۔
- (د) مرزا صاحب کے بیٹے فضل احمد کی بیوی کی ماموں زاد بہن تھی۔
ان نسبی تعلقات سے پتہ چلتا ہے کہ محمدی بیگم مرزا صاحب کے قریبی رشتہ میں سے تھی۔ پیغام نکاح کے وقت ان کی عمریں حسب ذیل تھیں۔ مرزا صاحب خود تحریر فرماتے ہیں:
هذه المخطوبه جاريه حدثيه السن عذرا و كنت حينئذ جاوزت الخمسين۔
(ترجمہ) ”یہ لڑکی ابھی چھوکری ہے اور میری عمر اس وقت پچاس سال سے زیادہ ہے“۔ (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٥٧٤‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٧٤‘ ج ٥)
”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٥٦٩ تا ٥٧٤ کے مطالعہ سے مرزا صاحب کے دل میں تحریک نکاح پیدا ہونے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ مسمی احمد بیگ والد محمدی بیگم نے چاہا کہ اپنی ہمشیرہ کی زمین کا بذریعہ ہبہ مالک بن جائے‘ جس کا خاوند کئی سال سے مفقود الخبر تھا۔ چونکہ اس اراضی کے ہبہ کرانے میں مرزا صاحب کی رضامندی کی بھی ضرورت تھی‘ اس لیے احمد بیگ کی بیوی نے مرزا صاحب کے پاس جا کر کہا کہ آپ اس ہبہ پر رضامند ہو جائیں۔ مرزا صاحب نے بات کو استخارہ کرنے کے بہانہ سے ٹال دیا۔ پھر خود احمد بیگ مرزا صاحب کے پاس آیا اور اس نے نہایت عاجزی سے التجا کی۔ بقول مرزا صاحب‘ وہ زار زار روتا تھا‘ کانپتا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ اس کا یہ غم اسے ہلاک کر دے گا۔ مرزا صاحب نے اسے کہا کہ میں استخارہ کرنے کے بعد تمہاری مدد کروں گا۔ چنانچہ مرزا صاحب استخارہ کرنے کے لیے اپنے حجرہ میں گئے تو مرزا صاحب کو الہام ہوا:
- (١) فاوحی اللہ الی ان اخطب صبیہ الکبیرہ لنفسک
وقل له لیصاهرك اولاً ثم لیقتبس من قبسك وقل انی امرت لا هبك ما طلبت من الارض وارضا اخری معها واحسن اليك باحسانات اخری علی ان تنكحنی احدی بناتك التی هی كبیرتها وذٰلك بینی وبینك فان قبلت فستجدنی من المتقبلین وان لم تقبل فاعلم ان الله قد اخبرنی ان انكحها رجلاً آخر لا یبارك لها ولا لك فان لم تزوجوا فیصب عليك مصائب واخر المصائب موتک فتموت بعد النکاح الی ثلث سنین بل موتک قریب ویرد علیک وانت من الغفلین وکذٰلک یموت بعلها الذی یصیر زوجها الی حولین وسته اشهر قضاء من الله فاصنع ما انت صانعه وانی لک من الناصحین فعبس وتولی وکان من المعرضین"۔
(ترجمہ) ”یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی نازل کی کہ اس شخص (احمد بیگ) کی بڑی لڑکی کے نکاح کے لیے درخواست کر اور اس سے کہہ دے کہ پہلے وہ تمہیں دامادی میں قبول کرے اور پھر تمہارے نور سے روشنی حاصل کرے اور کہہ دے کہ مجھے اس زمین کے ہبہ کرنے کا حکم مل گیا ہے جس کے تم خواہش مند ہو بلکہ اس کے علاوہ اور زمین بھی دی جائے گی اور دیگر مزید احسانات تم پر کیے جائیں گے‘ بشرطیکہ تم اپنی بڑی لڑکی کا مجھ سے نکاح کر دو۔ میرے اور تمہارے درمیان یہی عہد ہے‘ تم مان لو گے تو میں بھی تسلیم کرلوں گا۔ اگر تم قبول نہ کرو گے تو خبردار رہو‘ مجھے خدا نے یہ بتلادیا ہے کہ اگر کسی اور شخص سے اس لڑکی کا نکاح ہوگا تو نہ اس لڑکی کے لیے یہ نکاح مبارک ہوگا اور نہ تمہارے لیے۔ اس صورت میں تم پر مصائب نازل ہوں گے جن کا نتیجہ تمہاری موت ہوگا۔ پس تم نکاح کے بعد تین سال کے اندر مرجاؤ گے بلکہ تمہاری موت قریب ہے اور ایسا ہی اس لڑکی کا شوہر بھی اڑھائی سال کے اندر مرجائے گا۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ پس جو کرنا ہے کر لو‘ میں نے تم کو نصیحت کر دی ہے۔ پس وہ تیوری چڑھا کر چلا گیا“۔
٦٠
(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٥٧٢ و ٥٧٣، ”روحانی خزائن“ ص ٥٧٣-٥٧٤، ج ٥) اس کے چلے جانے کے بعد مرزا صاحب نے بقول ان کے اسے ایک خط خدا کے حکم سے لکھا جس میں منت سماجت بھی کی گئی اور انواع و اقسام کے لالچ بھی دیئے گئے مگر مرزا احمد بیگ پر اس خط کا بھی کوئی اثر نہ ہوا بلکہ اس نے اس خط کو عیسائی اخبار ”نور افشاں“ میں شائع کرا دیا۔ اس پر ”کرشن قادیانی“ نے ایک اشتہار شائع کیا جس کے خاص خاص فقرات درج ذیل ہیں:
- (٢) ”اس خدائے قادر حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص (احمد بیگ) کی دختر
کلاں کے نکاح کے لیے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی شرط پر کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لیے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی، وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لیے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔
پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لیے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو، جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی، ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لاوے گا۔ اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں ہے: كذبوا بايتنا وكانوا بها يستهزون فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد۔ انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا- (ترجمہ) ”انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے
٦١
تدارک کے لئے، جو اس کام کو روک رہے ہیں، تمہارا مددگار ہو گا اور انجام کار اس کی لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی"۔ یعنی گو اول میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بد ظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر کار خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کھلنے سے چاروں طرف تعریف ہوگی"۔
(”اشتہار“ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء، مندرجہ مجموعہ اشتہارات، ص ١٥٧ تا ١٥٩ ج ١)
اس اشتہار کا مضمون واضح اور صاف ہے۔ مزید تشریح یا حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں۔ مرزا صاحب نے بغیر کسی شرط کے کھلے اور غیر مبہم الفاظ میں اعلان کر دیا ہے کہ محمدی بیگم کا نکاح میرے سوا اور کسی سے کر دیا گیا تو احمد بیگ والد محمدی بیگم اور اس کا داماد دونوں تاریخ نکاح سے تین اور اڑھائی سال تک فوت ہو جائیں گے اور خدا تعالیٰ ہر ایک مانع دور کرنے کے بعد محمدی بیگم کو میرے نکاح میں لائے گا۔
اس کے بعد مرزا صاحب نے اپنے اس آسمانی نکاح کے متعلق جو الہامات یا تحریریں شائع کیں، ان کے ضروری اقتباسات درج ذیل ہیں:
- (٣) ”عرصہ قریباً تین برس کا ہوا ہے کہ بعض تحریکات کی وجہ سے، جن کا مفصل
ذکر اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے، خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا ہے کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہو گا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ چنانچہ اس پیشگوئی کا مفصل بیان مع اس کی میعاد خاص اور اس کے اوقات مقرر شدہ کے اور مع اس کے ان تمام لوازم کے جنہوں نے انسان کی
٦٢
طاقت سے اس کو باہر کر دیا ہے ۔ اشتہار دہم جولائی ١٨٨٨ء میں مندرج ہے اور وہ اشتہار عام طبع ہو کر شائع ہو چکا ہے، جس کی نسبت آریوں کے بعض منصف مزاج لوگوں نے بھی شہادت دی کہ اگر یہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو بلاشبہ یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے اور یہ پیشگوئی ایک سخت مخالف قوم کے مقابل پر ہے، جنہوں نے گویا دشمنی اور عناد کی تلواریں کھینچی ہوئی ہیں اور ہر ایک کو، جو ان کے حال سے خبر ہو گی، وہ اس پیش گوئی کی عظمت خوب سمجھتا ہو گا۔ ہم نے اس پیشگوئی کو اس جگہ مفصل نہیں لکھا تا بار بار کسی متعلق پیشگوئی کی دل شکنی نہ ہو لیکن جو شخص اشتہار پڑھے گا، وہ گو کیسا ہی متعصب ہو گا، اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ مضمون اس پیشگوئی کا انسان کی قدرت سے بالا تر ہے اور اس بات کا جواب بھی کامل اور مسکت طور پر اسی اشتہار پر سے ملے گا کہ خداوند تعالیٰ نے کیوں یہ پیش گوئی بیان فرمائی اور اس میں کیا مصالح ہیں اور کیوں اور کس دلیل سے یہ انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے ۔ اب اس جگہ مطلب یہ ہے کہ جب یہ پیش گوئی معلوم ہوئی اور ابھی پوری نہیں ہوئی تھی (جیسا کہ اب تک بھی جو ١٦؍ اپریل ١٨٩١ء ہے پوری نہیں ہوئی) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔ یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی ۔ بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی ۔ اس وقت گویا پیش گوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے ۔ تب میں نے اس پیش گوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا ۔ تب اسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الحق من ربک فلا تکونن من الممترین یعنی بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے، تو کیوں شک کرتا ہے“۔
(”ازالہ اوہام“ ص ٣٩٦ تا ٣٩٨، ”روحانی خزائن“ ص ٣٠٦ تا ٣٠٥ ج ٣)
- (٤) ”اس عاجز نے ایک دینی خصومت پیش آ جانے کی وجہ سے اپنے ایک قریبی
مرزا احمد بیگ ولد گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں کی نسبت بحکم و الہام الٰہی یہ اشتہار دیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی مقدر اور قرار یافتہ ہے کہ وہ لڑکی اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔ خواہ پہلے ہی باکرہ ہونے کی حالت میں آ جائے یا خدا تعالیٰ بیوہ کر
٢٣
کے اس کو میری طرف لے آوے"۔ (انتہی ملخصاً)
(”اشتہار ٢ مئی ١٨٩١ء‘ مجموعہ اشتہارات‘ ص ٢١٩‘ ج١)
- (٥) ”میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعویٰ ہیں۔ اول نکاح کے وقت تک
میرا زندہ رہنا‘ دوم نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا‘ سوم پھر نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا‘ جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مرجانا۔ پنجم اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔
اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار میں ہیں اور ذرا اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی سچے ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے"۔
(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٣٢٥ ”روحانی خزائن“‘ ص ٣٢٥‘ ج٥)
- (٦) ”وہ پیش گوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے
کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں:
- (١) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔
- (٢) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے‘ اڑھائی سال کے اندر
فوت ہو۔
- (٣) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔
- (٤) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت
نہ ہو۔
- (٥) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ
ہو۔
- (٦) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات
انسان کے اختیار میں نہیں"۔
٦٤
(”شہادت القرآن“ ص ٦٥، ”روحانی خزائن“، ص ٣٧٦، ج ٦)
- (٧) میں بالآخر دعا کرتا ہوں کہ اے خدائے قادر و علیم اگر آتھم کا عذاب مہلک
میں گرفتار ہونا اور احمد بیگ کی دختر کلاں کا آخر اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ پیش گوئیاں تیری طرف سے ..... نہیں ہیں تو مجھے نامرادی اور ذلت کے ساتھ ہلاک کر“۔
(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ، مجموعہ اشتہارات، ص ١١٦-١١٥، ج ٢)
- (٨) ”نفس پیش گوئی اس عورت (محمدی بیگم) کا اس عاجز کے نکاح میں آنا یہ
تقدیر مبرم ہے، جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی کیونکہ اس کے لیے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے“۔
(اشتہار ١٦ اکتوبر ١٨٩٤ء، مندرجہ ”تبلیغ رسالت“، ص ١١٥، ج ٣، ”مجموعہ اشتہارات“،
ص ٢٣، ج ٢)
- (٩) ”دعوت ربی بالتضرع والابتهال ومددت الیه ایدی
السوال فالھمنی ربی و قال سااریهم ايه من انفسهم و اخبرنی و قال اننی ساجعل بنتا من بناتهم ايه لهم فسماها و قال انها سيجعل ثیبه و یموت بعلها و ابوها الی ثلث سنه من یوم النکاح ثم نردها الیک بعد موتهما ولا يكون احدهما من العاصمين وقال انا رادوها الیک لا تبديل لكلمات الله ان ربک فعال لما یرید“۔
(”کرامات الصادقین“ سرورق صفحہ اخیر، ”روحانی خزائن“، ص ١٦٢، ج ٧)
(ترجمہ) ”میں (مرزا) نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے) لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی اور اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے، پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔ اور فرمایا میں اسے تیری طرف
٦٥
واپس لاؤں گا۔ خدا کے کلام میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور تیرا خدا جو چاہتا ہے کر دیتا ہے۔“۔
- (١٠) "كذبوا بآياتى و كانوا بها يستهزون
فسيكفيكهم الله و يردها الیک امر من لدنا انا كنا فاعلين زوجنا کھا الحق من ربک فلا تكونن من الممترين لا تبديل لكلمات الله ان ربک فعال لما يريد انا رادوها الیک"۔
(ترجمہ) ”انہوں نے میرے نشانوں کی تکذیب کی اور ٹھٹھا کیا۔ سو خدا ان کے لیے تجھے کفایت کرے گا اور اس عورت کو تیری طرف واپس لائے گا۔ یہ امر ہماری طرف سے ہے اور ہم ہی کرنے والے ہیں۔ بعد واپسی کے ہم نے نکاح کر دیا۔ تیرے رب کی طرف سے سچ ہے، پس تو شک کرنے والوں سے مت ہو۔ خدا کے کلمے بدلا نہیں کرتے۔ تیرا رب جس بات کو چاہتا ہے، وہ بالضرور اس کو کر دیتا ہے۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔ ہم اس کو واپس لانے والے ہیں۔
(”انجام آتھم“ ص ٦٠ - ٦١، ”روحانی خزائن“ ص ٦٠ - ٦١‘ ج ١١)
- (١١) ”گفت کہ ایں مردم مکذب آیات من ہستند و بدانہا استہزا می کنند پس من
ایشانرا نشانے خواہم نمود و برائے تو ایں ہمہ را کفایت خواہم شد و آں زن را کہ زن احمد بیگ را دختر است باز بسوئے تو واپس خواہم آورد یعنی چونکہ او از قبیلہ باعث نکاح اجنبی بیروں شدہ باز بتقریب نکاح تو بسوئے قبیلہ رو کردہ خواہد شد و در کلمات خدا و وعدہ ہائے او ہیچ کس تبدیل نتواند کرد و خدائے تو ہرچہ خواہد آں امر بہر حالت شدنی است ممکن نیست کہ در معرض التوا بماند۔ پس خدا تعالیٰ بلفظ فسیکفیکہم الله سوئے ایں امر اشارہ کرد کہ او دختر احمد بیگ را بعد میرانیدن مانعان بسوئے من واپس خواہد کرد۔ و اصل مقصود میرانیدن بود و تو میدانی کہ ملاک ایں امر میرانیدن است و بس“۔
(”انجام آتھم“ ص ٢١٦، ”روحانی خزائن“ ص ٢١٦-٢١٧‘ ج ١١)
٦٦
(ترجمہ) ”خدا نے فرمایا کہ یہ لوگ میری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور ان سے ٹھٹھا کرتے ہیں۔ پس میں ان کو ایک نشان دوں گا اور تیرے لیے ان سب کو کافی ہوں گا اور اس عورت کو‘ جو احمد بیگ کی عورت کی بیٹی ہے‘ پھر تیری طرف واپس لاؤں گا یعنی چونکہ وہ ایک اجنبی کے ساتھ نکاح ہو جانے کے سبب سے قبیلہ سے باہر نکل گئی ہے‘ پھر تیرے نکاح کے ذریعہ سے قبیلہ میں داخل کی جائے گی۔ خدا کی باتوں اور اس کے وعدوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ اور تیرا خدا جو کچھ چاہتا ہے وہ کام ہر حالت میں ہو جاتا ہے‘ ممکن نہیں کہ معرض التوا میں رہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے لفظ فسیکفیکھم اللہ کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ وہ احمد بیگ کی لڑکی کو روکنے والوں کو جان سے مار ڈالنے کے بعد میری طرف واپس لائے گا۔ دراصل مقصود جان سے مار ڈالنا تھا اور تو جانتا ہے کہ ہلاک اس امر کا جان سے مار ڈالنا ہے اور بس“۔
(١٢) ”براہین احمدیہ“ میں بھی اس وقت سے سترہ (١٧) برس پہلے اس پیشگوئی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس وقت میرے پر کھولا گیا ہے اور وہ یہ الہام ہے جو براہین کے ص ٤٩٦ میں مذکور ہے: یا آدم اسكن انت و زوجک الجنہ...... اس جگہ تین جگہ زوج کا لفظ آیا اور تین نام اس عاجز کے رکھے گئے۔ پہلا نام آدم۔ یہ وہ ابتدائی نام ہے جب کہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس عاجز کو روحانی وجود بخشا۔ اس وقت پہلی زوجہ کا ذکر فرمایا‘ پھر دوسری زوجہ کے وقت میں مریم نام رکھا کیونکہ اس وقت مبارک اولاد دی گئی‘ جس کو مسیح سے مشابہت ملی اور نیز اس وقت مریم کی طرح کئی ابتلا پیش آئے‘ جیسا کہ مریم کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت یہودیوں کی بدظنیوں کا ابتلا پیش آیا اور تیسری زوجہ جس کی انتظار (٩) ہے‘ اس کے ساتھ احمد کا لفظ شامل کیا گیا اور یہ لفظ احمد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس وقت (١٠) حمد اور تعریف ہو گی۔ یہ ایک چھپی ہوئی پیش گوئی ہے جس کا سر اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھ پر کھول دیا۔ غرض یہ تین مرتبہ زوج کا لفظ تین مختلف نام کے ساتھ جو بیان کیا گیا ہے‘ وہ اسی پیش گوئی کی طرف اشارہ تھا“۔
٦٧
(ضمیمہ ”انجام آتھم“ ص ٥٤، ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٨، ج ١١)
- (١٣) ”اس پیشگوئی کی تصدیق کے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
بھی پہلے سے ایک پیش گوئی فرمائی ہے کہ یتزوج و یولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان (١١) ہو گا۔ اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے، جس کی نسبت اس عاجز کی پیش گوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(حاشیہ ضمیمہ ”انجام آتھم“ ص ٥٣، ”روحانی خزائن“ ص ٢٧٢، ج ١١)
- (١٤) ”احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیش گوئی ہے، وہ اشتہار میں درج ہے اور
ایک مشہور امر ہے۔ وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ مطبوعہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر ”میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہو گا“ جیسا کہ پیش گوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی.... میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں، ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیش گوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہی پیش گوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جائے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیش گوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی، اس لیے وہ بیاہ کے بعد چند مہینوں کے اندر مر گیا اور پیش گوئی کی دوسری جز پوری ہو گئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیش گوئی کا ایک جز تھا۔ انہوں (١٢) نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔ اس لیے خدا تعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی امید کیسی
٦٨
یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں، ہو کر رہیں گی"۔
(اخبار "الحکم" ١٠ اگست ١٩٠١ء، مرزا صاحب کا حلفیہ بیان عدالت ضلع گورداسپور میں
کتاب منظور الٰہی، ص ٢٤٥-٢٤٤)
ناظرین! مندرجہ بالا حوالہ جات خود ہی اپنی تشریح کر رہے ہیں، کسی مزید وضاحت اور حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں۔ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء کے اشتہار میں مرزا صاحب نے الہامی اعلان کر دیا تھا کہ محمدی بیگم کا باکرہ ہونے کی حالت میں میرے ساتھ نکاح ہوگا اور اگر اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کر دیا گیا تو اس کا خاوند روز نکاح سے اڑھائی سال تک فوت ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ ہر ایک مانع کو دور کرنے کے بعد اسے میرے نکاح میں لائے گا۔ "ازالہ اوہام"۔ "اشتہار مئی ١٨٩١ء"۔ "شہادت القرآن"۔ "آئینہ کمالات اسلام"۔ "کرامات الصادقین" کے جو حوالہ جات میں نے نقل کیے ہیں، ان میں بھی یہی ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے کہ محمدی بیگم کا خاوند اڑھائی سال کے اندر فوت ہو جائے گا اور محمدی بیگم مرزا صاحب کے نکاح میں آجائے گی۔ اب ہمیں یہ بتانا ہے کہ مرزا سلطان محمد صاحب ساکن پٹی سے نکاح کب ہوا اور مرزا صاحب کے الہامی قول کے مطابق اس کی زندگی کی آخری تاریخ کون سی تھی۔ اس کے لیے ہمیں بیرونی شہادت کی ضرورت نہیں۔ مرزا صاحب خود تحریر فرماتے ہیں:
"٧ اپریل ١٨٩٢ء کو اس لڑکی (محمدی بیگم) کا دوسری جگہ نکاح ہو گیا"۔
("آئینہ کمالات اسلام" ص ٢٨٠، "روحانی خزائن" ص ٢٨٠، ج ٥)
نکاح کی تاریخ معلوم ہو گئی، اب وفات کے متعلق لکھتے ہیں:
"پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیش گوئی، جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے، جس کی میعاد آج کی تاریخ سے، جو ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء ہے، قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے"۔
("شہادت القرآن" ص ٧١، "روحانی خزائن" ص ٣٧٥، ج ٥)
مرزا صاحب کے ان دونوں بیانات سے صاف پتہ چل گیا کہ ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء مرزا سلطان محمد صاحب کی زندگی کا آخری دن تھا مگر وہ آج ٢١ اپریل ١٩٣٢ء تک بقید
٦٩
حیات موجود (١٣) ہے۔ جب مرزا صاحب کی بیان کردہ اڑھائی سالہ میعاد گزر جانے کے بعد مرزا سلطان محمد زندہ رہے اور ہر طرف سے مرزا صاحب قادیانی پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی تو مرزا صاحب نے اپنی ذلت و رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک نیا ڈھکوسلہ گھڑ لیا۔ جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے:
”غرض احمد بیگ میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور اس کا فوت ہونا اس کے داماد اور تمام عزیزوں کے لیے سخت ہم و غم کا موجب ہوا۔ چنانچہ ان لوگوں کی طرف سے توبہ اور رجوع کے خط اور پیغام بھی آئے۔ جیسا کہ ہم نے اشتہار ٦ اکتوبر ١٨٩٣ء میں‘ جو غلطی سے ٦ ستمبر ١٨٩٣ء لکھا گیا ہے‘ مفصل ذکر کر دیا ہے۔ پس اس دوسرے حصہ یعنی احمد بیگ کے داماد کی وفات کے بارے میں سنت اللہ کے موافق تاخیر ڈال دی گئی“۔
(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ‘ مجموعہ اشتہارات حاشیہ‘ ص ٩٥-٩٤‘ ج ٢)
اس عبارت اور اسی طرح کے دوسرے حوالوں میں مرزا صاحب نے حق کو چھپانے اور اپنی رسوائی پر پردہ ڈالنے کی انتہائی کوشش کی اور غلط بیانی سے کام لیا۔ جیسا کہ لکھا ہے:
”رہا داماد اس کا (احمد بیگ) سو وہ اپنے رفیق اور خسر کی موت کے حادثہ سے اس قدر خوف سے بھر گیا تھا گویا کہ قبل از موت مر گیا“۔
(”انجام آتھم“ ص ٢٩ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٢٩‘ ج ١١)
مرزا صاحب نے سیاہ جھوٹ لکھا ہے کہ مرزا سلطان محمد ڈر گیا تھا۔ اگر مرزا صاحب یا مرزائیوں میں ہمت ہوتی تو مرزا سلطان محمد کی کوئی تحریر پیش کرتے۔ ہم ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں کہ مرزا سلطان محمد صاحب نے مرزا صاحب کی پیش گوئی سے ذرہ بھر خوف نہیں کیا۔ اتنی دلیری اور اولوالعزمی دکھائی کہ مرزا صاحب کو بھی مجبور ہو کر لکھنا پڑا:
”احمد بیگ کے داماد کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے‘ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا‘ کسی نے اس طرف ذرا التفات نہ کی اور احمد بیگ سے ترک تعلق نہ چاہا۔ بلکہ وہ سب گستاخی
٧٠
اور استہزاء میں شریک ہوئے‘ سو یہی قصور تھا کہ پیش گوئی کو سن کر پھر توبہ کرنے پر راضی ہوئے"۔
(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ‘ "مجموعہ اشتہارات" حاشیہ‘ ص ٩٥‘ ج ٢)
مرزا صاحب کی اس عبارت نے دو باتوں کا قطعی فیصلہ کر دیا۔ ایک یہ کہ مرزا سلطان محمد ہرگز نہیں ڈرا اور دوسری یہ کہ مرزا سلطان محمد کا اصل قصور یہ تھا کہ وہ مرزا صاحب کی پیش گوئی کو سن کر بھی محمدی بیگم کے ساتھ ناتہ کرنے پر راضی ہو گیا۔ پس مرزا سلطان محمد کی توبہ اور رجوع اسی صورت میں ہو سکتے تھے کہ وہ مرزا صاحب کی پیش گوئی کو پورا کرنے میں ان کا ممد و معاون ہو جاتا لیکن بقول مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری‘ وہ مرزا صاحب کے سینہ پر مونگ دلتا رہا اور مرزا صاحب کی پیش گوئی کی وجہ سے نہ ڈرا‘ نہ توبہ کی جیسا کہ اس نے خود لکھا ہے:
"جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جو میری موت کی پیش گوئی فرمائی تھی‘ میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی۔ نہ میں اس پیش گوئی سے کبھی ڈرا۔ میں ہمیشہ سے اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں"۔
(٣ مارچ ١٩٢٤ء (دستخط مرزا سلطان محمد‘ پٹی‘ از اخبار ”اہل حدیث“ ١٤ مارچ ١٩٢٤ء)
مرزا صاحب کے بیان اور مرزا سلطان محمد کی اپنی تحریر سے ثابت ہو گیا کہ سلطان محمد ہرگز نہیں ڈرا اور نہ اس نے مرزا صاحب کی تصدیق کی ۔ ان حقائق کی موجودگی میں مرزا صاحب کا یہ لکھنا کہ سلطان محمد ڈر گیا‘ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔
اب ہم مرزا صاحب کی تحریرات پیش کرتے ہیں کہ اگر سلطان احمد ڈرتا بھی تو اس کو مفید نہ ہوتا کیونکہ اس کی موت تقدیر مبرم تھی۔ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
- (الف) ”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیش گوئی داماد احمد بیگ کی تقدیر مبرم ہے۔
اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوگی اور میری موت آجائے گی اور اگر میں سچا ہوں تو خدا تعالیٰ ضرور اس کو بھی پورا پورا کر دے گا"۔
(”انجام آتھم" ص ٢١‘ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ حاشیہ‘ ص ٣١‘ ج ١١)
- (ب) ”شاتان تذبحان وكل من عليها فان ولا تهنوا ولا
٧١
تحزنوا الم تعلم ان الله على كل شئی قدیر ۔۔۔۔۔ دو بکریاں ذبح کی جائیں گی۔ پہلی بکری سے مراد (مرزا احمد بیگ) ہوشیار پوری ہے اور دوسری بکری سے مراد اس کا داماد (سلطان محمد) ہے اور پھر فرمایا کہ تم سست مت ہو اور غم مت کرو۔ کیونکہ ایسا ہی ظہور میں آئے گا۔ کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر ایک چیز پر قادر ہے“۔
(ضمیمہ ”انجام آتھم“ ص ٥٦-٥٧، ”روحانی خزائن“ حاشیہ، ص ٣٤٠-٣٤١، ج ١١)
- (ج) ”یاد رکھو کہ اس پیش گوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر
ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا“۔ اے احمقو! یہ انسان کا افترا نہیں، یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں، وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا، اس لیے تمہیں یہ ابتلا پیش آیا“۔
(ضمیمہ ”انجام آتھم“ ص ٥٤، ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٨، ج ١١)
- (د) ”اس پیش گوئی کا دوسرا حصہ، جو اس کے داماد کی موت ہے، وہ الہامی شرط
کی وجہ سے دوسرے وقت پر جا پڑا اور داماد اس کا الہامی شرط سے اسی طرح متمتع ہوا جیسا کہ آتھم ہوا۔ کیونکہ احمد بیگ کی موت کے بعد اس کے وارثوں میں سخت مصیبت برپا ہوئی۔ سو ضرور تھا کہ وہ الہامی شرط سے فائدہ اٹھاتے اور اگر کوئی بھی شرط نہ ہوتی تاہم وعید سنت اللہ یہی تھی، جیسا کہ یونس کے دنوں میں ہوا۔ پس اس کا داماد تمام کنبہ کے خوف کی وجہ سے اور ان کے توبہ اور رجوع کے باعث سے اس وقت فوت نہ ہوا۔ مگر یاد رکھو کہ خدا کے فرمودہ میں تخلف نہیں اور انجام وہی ہے جو ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں، خدا کا وعدہ ہرگز ٹل نہیں سکتا“۔
(ضمیمہ ”انجام آتھم“ ص ١٤، ”روحانی خزائن“ ص ٢٩٧، ج ١١)
† ناظرین! عبارت بالا میں مرزا صاحب نے کس بلند آہنگی اور شدومد سے مرزا سلطان محمد کی موت کا اعلان کیا۔ اس کی موت کو تقدیر مبرم اور اٹل قرار دیا اور اقرار کیا کہ اگر یہ پیش گوئی پوری نہ ہوئی تو میں جھوٹا اور ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا۔ نتیجہ صاف ہے۔ مرزا صاحب ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اگلے جہان کی طرف لڑھک گئے اور مرزا
٧٢
سلطان محمد اپریل ١٩٣٢ء تک زندہ ہیں۔ (١٧)
ناظرین! مرزا صاحب نے ١٨٨٨ء میں بقول خود خدا تعالیٰ سے خبر پا کر اور اس کی اجازت سے محمدی بیگم کے نکاح کا اشتہار دیا۔ اس کے بعد اس آسمانی نکاح کے متعلق بارش کی طرح مرزا صاحب پر تابڑ توڑ الہامات برستے رہے، جن کا تھوڑا سا نمونہ ہم گزشتہ صفحات میں درج کر چکے ہیں۔ ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مرزا صاحب کے دل میں یقین کامل تھا کہ محمدی بیگم ان کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ یہاں تک کہ جون ١٩٠٥ء تک مرزا صاحب اس نکاح سے مایوس نہ ہوئے تھے، جیسا کہ انہوں نے فرمایا:
"اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہوگا"۔ (اخبار "الحکم" ٣٠ جون ١٩٠٥ء، ص ٢، کالم ٢)
حوالہ جات سابقہ کے علاوہ ہم مرزا صاحب کا ایک فیصلہ کن حوالہ نقل کرتے ہیں، جہاں مرزا صاحب نے اس پیش گوئی کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں:
"باز شما را ایں نگفتہ ام کہ ایں مقدمہ برہمیں قدر باتمام رسید و نتیجہ آخری ہماں است کہ بظہور آمد و حقیقت پیش گوئی برہماں ختم شد بلکہ اصل امر بر حال خود قائم است و ہیچکس با حیلہ خود او را رد نتواند کرد و ایں تقدیر از خدائے بزرگ تقدیر مبرم (١٨) است و عنقریب وقت آں خواہد آمد پس قسم آں خدائے کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم را برائے ما مبعوث فرمود او را بہترین مخلوقات گردانید کہ ایں حق است و عنقریب ہم خواہی دید و من ایں را برائے صدق خود یا کذب خود معیار میگردانم۔ و من نگفتم الا بعد زانکہ از رب خود خبر دادہ شدم"۔
("انجام آتھم" ص ٢٢٣، "روحانی خزائن" ص ٢٢٣، ج ١١)
(ترجمہ) "پھر میں نے تم سے یہ نہیں کہا کہ یہ جھگڑا یہیں ختم ہو گیا اور نتیجہ یہی تھا جو ظاہر ہو گیا اور پیشگوئی کی حقیقت اس پر ختم ہو گئی بلکہ یہ امر اپنے حال پر قائم ہے اور کوئی شخص حیلہ کے ساتھ خود اس کو رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر خدائے بزرگ کی جانب سے تقدیر مبرم ہے، عنقریب اس کا وقت آئے گا۔ پس اس خدا کی قسم جس نے
٧٣
حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے لیے مبعوث فرمایا اور آپ کو تمام مخلوقات سے بہتر بنایا کہ یہ سچ ہے کہ تو عنقریب دیکھے گا اور میں اس کو اپنے صدق و کذب کے لیے معیار قرار دیتا ہوں اور یہ میں نے اپنے رب سے خبر پا کر کہا"۔
عبارت بالا میں مرزا صاحب نے کس صراحت سے محمدی بیگم کے خاوند کے مرنے اور اس کے ساتھ اپنا نکاح ہونے کو تقدیر مبرم قرار دیا ہے اور اس کی صداقت پر خدائے واحد و قدوس کی قسم اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر یقین دلانے کی کوشش کی ہے اور اس کو اپنے صدق و کذب کا معیار بھی قرار دیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ یہ جو کچھ میں نے کہا ہے، اللہ تعالیٰ کے الہام اور وحی سے کہا ہے۔ مرزا صاحب کا یہ بیان اتنا واضح اور مشرح ہے کہ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔
مرزائی دوستو! بتاؤ کہ مرزا صاحب کی بیان کردہ تقدیر مبرم کے بخیے کیوں ادھڑ گئے؟ اور جو صدق و کذب کا معیار بحوالہ وحی الہی قرار دیا گیا تھا، اس کی رو سے مرزا صاحب کاذب ثابت ہوئے یا نہیں؟ تعجیل کی ضرورت نہیں، سوچ سمجھ کر جواب دینا۔
سخت ناانصافی ہوگی اگر میں نکاح آسمانی کے متعلق مرزا صاحب کی مستقل مزاجی کی تعریف نہ کروں۔ اللہ اللہ ١٨٨٨ء سے لے کر ١٩٠٧ء تک کا طویل عرصہ جس صبر، امید اور یقین کامل کے ساتھ گزارا، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خدا پے در پے الہامات نازل کر رہا تھا کہ نکاح ہو گا اور ضرور ہو گا۔ خدا کا وعدہ سچا ہے، خدا کی باتیں ٹلا نہیں کرتیں۔ تیرا خدا تمام موانعات دور کرے گا۔ یعنی مرزا سلطان محمد ضرور مرجائے گا اور محمدی بیگم بیوہ ہو کر تیرے نکاح میں آئے گی لیکن صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ آخر ١٩٠٧ء میں مرزا صاحب اس نکاح سے کچھ مایوس سے ہو گئے۔ کیونکہ دن بدن ان کی جسمانی حالت انحطاط کی طرف جا رہی تھی اور قوت باہ کا وہ نسخہ جو فرشتے نے انہیں بتایا تھا اور جس کے کھانے سے پچاس مردوں کی قوت ان میں پیدا ہو گئی تھی۔ ("تریاق القلوب" ص ٧٦، "روحانی خزائن" ص ٢٠٢، ج ١٥) (١٩) غالباً اس کا اثر بھی زائل ہو چکا تھا۔ ادھر دیکھا کہ رقیب خوش نصیب کی زندگی ختم ہونے میں نہیں آتی۔
٧٢
ان سب قرائن سے اندازہ کر کے یہ اعلان کر دیا:
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لیے جو آسمان پر پڑھا گیا‘ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ یا ایتھا المراة توبی توبی فان البلاء علی عقبک پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔
(”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ١٣٢-١٣٣ ’ ”روحانی خزائن“ ص ٥٧٠‘ ج ٢٢)
مرزا صاحب نے اس دورنگی چال کے اختیار کرنے میں اس دل جلے عاشق کی اتباع کی ہے جس نے اپنے معشوق سے التجا کی تھی کہ ؎
بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں
یہ عبارت بھی باآواز بلند اعلان کر رہی ہے کہ جناب مرزا صاحب محمدی بیگم کے نکاح سے کلیتہً مایوس نہیں ہوئے تھے۔ ایک طرف تو ظاہری قرائن کو دیکھتے ہوئے تمام امیدیں مبدل بہ یاس ہو چکی تھیں اور دوسری طرف دل کی تڑپ ڈھارس بندھائے جاتی تھی کہ شاید اگر عمر نے وفا کی تو گوہر مقصود ہاتھ لگ ہی جائے۔ اس لیے دو دلی میں یہ الفاظ لکھ دے کہ نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔
غرضیکہ مرزا صاحب کو اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک محمدی بیگم کے نکاح کی جھلک نظر آتی رہی۔ کیا مرزا صاحب کی یہ دیرینہ اور الہامی تمنا پوری ہو گئی؟ آہ اس کا جواب بڑی حسرت اور افسوس سے نفی میں دیا جاتا ہے کہ تاحیات مرزا صاحب کا نکاح نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کے دن اس نکاح اور بستر عیش (٢٠) کی حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ اب ان کی قبر سے گویا یہ آواز آ رہی ہے ؎
حیف ہے ان سے ملاقات نہ ہونے پائی
اب ہم مرزا صاحب کا آخری فتویٰ ان کے مریدوں کو سناتے ہیں۔ جیسا کہ
٧٥
انہوں نے تحریر فرمایا ہے:
”سو چاہیے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں (٢١) اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔
(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٥٢، ”روحانی خزائن“، ص ٣٣٧، ج ١١)
مرزائیو ! سن لیا مرزا جی نے کیا کہا ہے؟ فرماتے ہیں کہ اس پیش گوئی کے خاتمہ پر ان بے وقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہ رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے لیکن ایسا کن کے حق میں ہو گا۔ فیصلہ جن کے خلاف ہو گا۔ پھر کیا ہوا مجھ سے نہیں مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور سے سن لو۔ فرماتے ہیں ”یہ سچ ہے کہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ نکاح ہو گا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا“۔
(اخبار ”پیغام صلح“ لاہور، ١٦ جنوری ١٩٢١ء)
سچ ہے ۔
زلیخا نے کیا خود پاک دامن ماہ کنعاں کا
میرے پرانے دوستو! خدارا عالم الغیب کو حاضر و ناظر سمجھتے ہوئے سچ سچ بتانا کہ مرزا صاحب کا بیان کردہ فتویٰ خود ان (٢٢) پر اور ساتھ ہی تم پر الٹ کر پڑا یا نہیں؟ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔
چنداں اماں نداد کہ شب را سحر کند
٧٦
دوسری پیش گوئی ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب کے متعلق
ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ بیس سال تک مرزا صاحب کے ارادت مند مرید رہے۔ بعدہ مرزا صاحب کی بطالت ان پر واضح ہوگئی تو انہوں نے مرزائیت سے توبہ کر کے مرزا صاحب کی تردید میں چند رسالے لکھے۔ مرزا صاحب بھی ان کے سخت خلاف ہو گئے۔ بالآخر دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف موت کی الہامی پیش گوئیاں شائع کیں۔ اس کے متعلق مرزا صاحب کے اشتہار کا اقتباس نقل کیا جاتا ہے۔ لکھتے ہیں:
خدا سچے کا حامی ہو
”میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ نے میری نسبت یہ پیش گوئی کی ہے....اس کے الفاظ یہ ہیں:
”مرزا کے خلاف ١٢ جولائی ١٩٠٦ء کو یہ الہامات ہوئے ہیں: ”مرزا مسرف کذاب اور عیار ہے۔ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا اور اس کی میعاد تین سال بتائی گئی ہے“۔
”اس کے مقابل پر وہ پیش گوئی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میاں عبدالحکیم خاں صاحب اسسٹنٹ پٹیالہ کی نسبت मुझे معلوم ہوئی جس کے الفاظ یہ ہیں: خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے (٢٣) کہلاتے ہیں۔ ان پر کوئی غالب نہیں آ سکتا“۔
فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار: تیرے آگے (٢٤) ہے پر تو نے وقت کو نہ پہچانا‘ نہ دیکھا‘ نہ جانا (٢٥) (رب (٢٦) فرق بین صادق و کاذب انت ترے کل مصلح وصادق“ ”مجموعہ اشتہارات“ ص ٥٦٠‘٥٥٩‘ ج ٣)
اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب نے ایک اور الہام شائع کیا کہ جولائی
٧٧
١٩٠٧ء سے ١٤ ماہ تک مرزا مر جائے گا۔ اس کے جواب میں مرزا صاحب نے ایک اشتہار بعنوان تبصرہ ٥ نومبر ١٩٠٧ء کو شائع کیا۔ اس کی پیشانی پر یہ عبارت درج کی: ”ہماری جماعت کو لازم ہے کہ اس پیش گوئی کو خوب شائع کریں اور اپنی طرف سے چھاپ کر مشتہر کریں اور یادداشت کے لیے اشتہار کے طور پر اپنے گھر کی نظر گاہ میں چسپاں کریں“۔ (”مجموعہ اشتہارات“ ص ٥٨٥‘ ج ٣)
یہ اشتہار جو سراسر لاف و گزاف سے پر تھا‘ اس کو اپنے تمام اخباروں میں شائع کرایا۔ مختلف شہروں میں مرزائیوں نے علیحدہ چھپوا کر بھی بکثرت شائع کیا۔ اس کے چند فقرات حسب ذیل ہیں:
”اپنے دشمن کو کہہ دے کہ خدا تجھ سے مواخذہ لے گا..... میں تیری عمر کو بڑھا دوں گا یعنی دشمن جو کہتا ہے کہ جولائی ١٩٠٧ء سے چودہ مہینے تک تیری عمر کے دن رہ گئے ہیں یا ایسا ہی جو دوسرے دشمن پیش گوئی کرتے ہیں‘ ان سب کو میں جھوٹا کروں گا اور تیری عمر کو میں بڑھا دوں گا۔ تاکہ معلوم ہو کہ میں خدا ہوں اور ہر ایک امر میرے اختیار میں ہے“۔ یہ عظیم الشان پیش گوئی ہے جس میں میری فتح اور دشمن کی شکست اور میری عزت اور دشمن کی ذلت اور میرا اقبال اور دشمن کا ادبار بیان فرمایا ہے اور دشمن پر غضب اور عقوبت کا وعدہ کیا ہے مگر میری نسبت لکھا ہے کہ دنیا میں تیرا نام بلند کیا جائے گا اور نصرت اور فتح تیرے شامل حال ہوگی اور دشمن جو میری موت چاہتا ہے وہ خود میری آنکھوں کے روبرو (٢٧) اصحاب الفیل کی طرح نابود اور تباہ ہو گا“۔ (”مجموعہ اشتہارات“ ص ٥٩١‘ ج ٣)
اس کے بعد ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب نے اپنا اور الہام شائع کیا کہ مرزا مورخہ ٤ اگست ١٩٠٨ء تک مر جائے گا۔ (دیکھو ”چشمہ معرفت“ مصنفہ مرزا صاحب‘ ص ٣٢٢-٣٢١‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٢٧‘ ج ٢٣) نتیجہ یہ ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی پیش گوئیوں کے مطابق مرزا صاحب نے ٢٦ مئی کو اگلے جہان کی طرف کوچ کر دیا اور ان کے الہام کنندہ کے سب وعدے فتح و نصرت کے غلط نکلے۔
٧٨
تیسری پیش گوئی مولانا ثناء اللہ صاحب کے متعلق
مرزا صاحب آنجہانی نے مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے متعلق ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار ان الفاظ میں شائع کیا:
مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے ساتھ آخری فیصلہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسوله الکریم۔ یستنبونک احق ھو قل ای و ربی انہ الحق۔
بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب السلام علی من اتبع الھدی
مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب و تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے پرچہ میں مردود‘ کذاب‘ دجال‘ مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری و کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی (٢٨) ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تاکہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ آپ سنت اللہ کے موافق مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون‘ ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی
٧٩
میں ہی وارد نہ ہوئیں‘ تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشین گوئی نہیں۔ بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے‘ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے‘ تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک (٢٩) کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے‘ حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین
میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی۔ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بدتر جانتے ہیں‘ جن کا وجود دنیا کے لیے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بد زبانیوں میں آیت لا تقف ما لیس لک بہ علم پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے‘ جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لیے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں
٨٠
در حقیقت مفسد اور کذاب ہے‘ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر‘ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین آمین بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
(”الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود‘ عافاہ اللہ و ایدہ)
(مرقوم یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء‘ ”مجموعہ اشتہارات“ ص٥٧٩۔
٥٧٨‘ ج٣)
اس اشتہار کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ پیش گوئی بطریق دعا شائع کی بلکہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما لیا ہے۔ مرزا صاحب کے الفاظ ہیں:
”دنیا کے عجائبات ہیں رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی۔ اور رات کو الہام ہوا اجیب دعوۃ الداع صوفیا کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہے‘ باقی سب اس کی شاخیں“۔
(اخبار ”بدر“ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء‘ ”ملفوظات“ ص٢٦٨‘ ج٩)
مرزا صاحب نے اپنے اشتہار میں محض دعا کے ذریعہ سے فیصلہ چاہا ہے۔ چنانچہ آپ کے الفاظ ہیں:
”محض دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے“۔
اخیر اشتہار میں آپ تحریر فرماتے ہیں ”اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے“۔
پس مرزا صاحب نے اپنی اس دعا اور پیش گوئی کے مطابق ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو
٨١
بمرض ہیضہ ہلاک ہو کر حسب اقرار خود اپنا مفسد، کذاب اور مفتری ہونا دنیا پر ثابت کر دیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا
چوتھی پیش گوئی عالم کباب کے متعلق
مرزا صاحب نے اپنا الہام بیان کیا ہے:
(١) بشیر الدولہ (٢) عالم کباب (٣) شادی خاں (٤) کلمتہ اللہ خاں (نوٹ از مرزا صاحب) بذریعہ الہام الہی معلوم ہوا کہ میاں منظور محمد صاحب کے گھر میں یعنی محمدی بیگم کا ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کے یہ نام ہوں گے۔ یہ نام بذریعہ الہام الہی معلوم ہوئے۔
("البشریٰ" جلد دوم، ص ١١٦) نیز مرزا صاحب نے کہا کہ میاں منظور محمد صاحب کے اس بیٹے کا نام جو بطور نشان ہو گا بذریعہ الہام الہی مفصلہ ذیل معلوم ہوئے۔ (١) کلمتہ العزیز (٢) کلمتہ اللہ خان ۔ (٣) وارث ۔ (٤) بشیر الدین ۔ (٥) شادی خان ۔ (٦) عالم کباب ۔ (٧) ناصر الدین ۔ (٨) فاتح الدین ۔ (٩) ہذا یوم مبارک ("تذکرہ"، ص ٦٢٦، ٦٢٧، طبع ٣)
مرزا صاحب کی اس پیش گوئی کے شائع ہو جانے کے بعد میاں منظور محمد کی بیوی محمدی بیگم فوت ہو گئی حالانکہ مرزا نے کہا تھا۔ ضرور ہے کہ خدا اس لڑکے کی والدہ کو زندہ رکھے جب تک یہ پیشگوئی پوری ہو ("تذکرہ"، ص ٦٢٢، طبع ٤) "عالم کباب صاحب" دنیا میں تشریف فرما نہ ہوئے لہٰذا مرزا صاحب کی یہ الہامی پیش گوئی سرے سے غلط اور جھوٹ ثابت ہوئی۔
مرزائیو! کہہ دو کہ محمدی بیگم کے نقلی، بروزی اور روحانی بیٹا پیدا ہو گیا تھا۔ اصلی بیٹا قیامت کے دن تشریف لائے گا۔ اس لیے ہمارے مجدد اور نقلی، بروزی نبی کی بیان کردہ پیش گوئی سچی نکلی۔
٨٢
پانچویں پیشگوئی اپنے مقام موت کے متعلق
مرزا صاحب نے اپنا الہام شائع کیا تھا۔ ”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں“۔
(”البشریٰ“ جلد دوم، ص ١٠٥ ”تذکرہ“ ص ٥٩١، طبع ٣)
یہ الہام بھی سراسر غلط ثابت ہوا۔ مرزا صاحب لاہور میں مرے مریدوں نے ان کی لاش کو دجال کے گدھے پر لاد کر قادیاں پہنچا دیا۔
ناظرین! میں نے بطور نمونہ مشتے از خروارے مرزا صاحب کی پانچ پیشگوئیاں آپ کے سامنے رکھ دی ہیں اور نتیجہ بھی آپ کے گوش گزار کر دیا ہے۔ اس مختصر رسالہ میں گنجائش نہیں، ورنہ مرزا صاحب کی ایک ایک پیشگوئی لے کر ان کے پرخچے اڑا دیئے جاتے۔ مرزا صاحب کی پیشگوئیوں کی متحدیانہ عبارات جب مرزائیوں کے سامنے پیش کی جاتی ہیں، تو مرزائی ان کے جوابات سے تنگ آکر کہہ دیا کرتے ہیں کہ پیشگوئیوں کی تفہیم میں مرزا صاحب سے غلطی ہو سکتی ہے لیکن ان کا یہ کہنا محض دفع الوقتی اور مرزا صاحب کی تصریحات کے خلاف ہے کیونکہ مرزا صاحب نے اپنا الہام بیان کیا ہے۔
”وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی“
(”اربعین“ نمبر ٤، ص ٣٦، ”روحانی خزائن“، ص ٤٢٦، ج ١٧)
(ترجمہ) اور یہ اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو، یہ خدا کی وحی ہے“۔ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ میں خاص طور پر خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاء پردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں۔ کیونکہ جب میں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں۔ تو میں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم
٨٣
دے رہا ہے۔"
("نزول المسیح" ص ٥٦، "روحانی خزائن" ص ٤٣٤، ج ١٨)
"ایسا ہی عربی فقرات کا حال ہے۔ عربی تحریروں کے وقت میں صدہا بنے بنائے فقرات وحی متلو کی طرح دل پر وارد ہوتے ہیں اور یا یہ کہ کوئی فرشتہ ایک کاغذ پر لکھے ہوئے وہ فقرات دکھا دیتا ہے۔"
("نزول المسیح" ص ٥٧، "روحانی خزائن" ص ٤٣٥، ج ١٨)
ان حوالہ جات سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتے تھے بلکہ وحی الہی سے بولتے تھے اور اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتے تھے بلکہ اندرونی تعلیم سے تحریر فرماتے تھے یا فرشتے کی لکھی ہوئی عبارات کو اپنی کتابوں میں نقل کر لیتے تھے۔ اسی کی مزید تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے۔ مرزا صاحب کو الہام ہوا:
"استقامت میں فرق آگیا"۔
ایک صاحب نے کہا کہ وہ کون شخص ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ معلوم تو ہے مگر جب تک خدا کا اذن نہ ہو میں بتلایا نہیں کرتا، میرا کام دعا کرنا ہے۔"
("البدر" جلد دوم، نمبر ١٠، ١٩٠٣ء از "مکاشفات" ص ٣٠، "تذکرہ" ص ٤٦٦،
طبع ٣)
اس واقعہ نے تصدیق کر دی کہ مرزا صاحب بغیر وحی اور خدا تعالیٰ کے اذن کے کچھ نہیں کہا کرتے تھے۔ اندریں حالات مرزا صاحب کے کلام یا تحریر میں غلطی نہیں ہو سکتی۔
لاہوری مرزائیو! مرزا صاحب کے متذکرہ بالا الہام اور تحریرات کو غور سے پڑھنے کے بعد بتاؤ کہ مرزا صاحب اپنی تحریر یا تقریر میں "اجتہادی غلطیوں" کے قائل تھے یا نہیں؟ سوچ سمجھ کر جواب لکھنا۔
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
٨٤
مرزا صاحب کے انٹ شنٹ الہامات
مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میری وحی و الہامات یقینی اور قرآن پاک کی طرح ہیں‘ لیکن جب ہم مرزا صاحب کے الہامات کو سرسری نظر سے دیکھتے ہیں‘ تو ہمیں کثرت سے ایسے الہامات نظر آتے ہیں جنہیں خود مرزا صاحب بھی نہ سمجھ سکے تھے۔ چنانچہ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں۔
”زیادہ تر تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض الہامات مجھے ان زبانوں میں بھی ہوتے ہیں جن سے مجھے کچھ بھی واقفیت نہیں جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ“
(”نزول المسیح“ ص ٥٧‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٤٣٥‘ ج ١٨)
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه يبين لهم اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی تاکہ انہیں کھول کر بتا دے لیکن قرآن پاک کے اس صریح اصول کے خلاف مرزا صاحب کو ان زبانوں میں بھی الہامات ہوئے ہیں جن کو وہ خود نہیں سمجھ سکے‘ دوسروں کو خاک سمجھانا تھا۔ ہم بطور نمونہ مرزا صاحب کے چند الہام درج ذیل کرتے ہیں:
- ١۔ ایلی ایلی لما سبقتنی۔ ایلی اوس ”اے میرے خدا‘ اے
میرے خدا‘ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا آخری فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس بباعث سرعت ورود مشتبہ رہا اور نہ اس کے کچھ معنے کھلے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب“
(”البشریٰ“ جلد اول‘ ص ٣٦‘ ”تذکرہ“‘ ص ٩١‘ طبع ٣)
- ٢۔ ”پھر بعد اُس کے (خدا نے) فرمایا ھوشعنا نعسا یہ دونوں فقرے شاید
عبرانی ہیں اور ان کے معنے ابھی تک اس عاجز پر نہیں کھلے۔“
(”براہین احمدیہ“ ص ٥٥٦‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٦٦٣‘ ج ١)
- ٣۔ ”پریشن۔ عمر براطوس۔ یا پلاطوس۔ (نوٹ) آخری لفظ ”پزطوس“ ہے یا
”پلاطوس“ ہے۔ بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور ”عمر“ عربی لفظ ہے اس
٨٥
جگہ "براطوس" اور "پریشن" کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔"
(از "مکتوبات احمدیہ" جلد ١‘ ص ٦٨‘ و "البشریٰ" جلد اول‘ ص ٥١‘ "تذکرہ"‘ ص ١١٥‘
طبع ٣)
احمدی دوستو! مرزا صاحب کو جس زبان میں الہام ہوتا ہے مرزا صاحب اس زبان کو نہیں جانتے۔ بتاؤ کہ مرزا صاحب پر یہ مثال صادق آتی ہے یا نہیں؟
معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے مندرجہ بالا اور ہمچو قسم الہامات اس خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھے‘ جس نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ کہ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں ہی۔ لیکن مرزا صاحب کو ان زبانوں میں "الہامات" ہوئے۔ جو مرزا صاحب کی قومی زبان نہیں تھی۔ خود مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
"یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ (٣٠) امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو‘ جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ اس میں تکلیف مالایطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے"
("چشمہ معرفت" ص ٢٠٩‘ "روحانی خزائن"‘ ص ٢١٨‘ ج ٢٣)
یہاں تک ہی نہیں کہ مرزا صاحب غیر زبانوں کے "الہامات" نہ سمجھ سکے ہوں۔ بلکہ بہت سے اردو اور عربی "الہامات" بھی مرزا صاحب کی سمجھ سے بالاتر رہے اور ان کے متعلق انہیں معلوم نہ ہوا کہ وہ کس کے متعلق ہیں۔ مرزائی (٣١) دوستوں کی خاطر نمونہ درج کئے دیتا ہوں۔
- ١۔ "پیٹ پھٹ گیا" دن کے وقت کا الہام ہے معلوم نہیں کہ یہ کس کے متعلق
ہے۔" ("البشریٰ" جلد دوم‘ ص ١١٩‘ "تذکرہ"‘ ص ٦٧٢‘ طبع ٣)
- ٢۔ "خدا اس کو بیچارہ ہلاکت سے بچائے گا"۔ نامعلوم کس کے حق میں یہ الہام
٨٦
ہے ۔ ("البشریٰ" جلد دوئم 'ص ١١٩' "تذکرہ" 'ص ٧٤٧' طبع ٣)
- ٣- "٢٤ ستمبر ١٩٠٦ء مطابق ٥ شعبان ١٣٢٤ھ بروز پیر .... موت تیرہ ماہ حائل کو"
(نوٹ) قطعی طور پر معلوم نہیں کہ کس کے متعلق ہے۔
("البشریٰ" جلد دوئم 'ص ١١٩ ، ١٢٠' "تذکرہ" 'ص ٧٧٥' طبع ٣)
- ٤- "بہتر ہو گا کہ اور شادی کر لیں" ۔ معلوم نہیں کہ کس کی نسبت یہ الہام ہے۔
("البشریٰ" جلد دوم 'ص ١٢٤' "تذکرہ" 'ص ٦٩٧' طبع ٣)
- ٥- "بعد - ١١ - انشاء اللہ" اس کی تفہیم نہیں ہوئی کہ ١١ سے کیا مراد ہے گیارہ دن یا
گیارہ ہفتے یا کیا یہی ہندسہ ١١ کا دکھایا گیا ہے۔
("البشریٰ" جلد دوم 'ص ٦٥ - ٦٦' "تذکرہ" 'ص ٤٠١' طبع ٣)
- ٦- (غشم ۔ غشم ۔ غشم ۔ (٣٢)
("البشریٰ" جلد دوم 'ص ٥٠' "تذکرہ" 'ص ٣١٩' طبع ٣)
- ٧- "ایک دم میں دم رخصت ہوا" (نوٹ از حضرت مسیح موعود) فرمایا کہ آج
رات مجھے ایک مندرجہ بالا الہام ہوا۔ اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے لیکن خطرناک ہے‘ یہ الہام ایک موزوں عبارت میں ہے مگر ایک لفظ در میان میں سے بھول گیا۔
("البشریٰ" جلد دوم 'ص ١١٧' "تذکرہ" 'ص ٦٦٦' طبع ٣)
- ٨- "ایک عربی الہام تھا الفاظ مجھے یاد نہیں رہے ۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ
مکذبون کو نشان دکھایا جائے گا" ۔ ("البشریٰ" جلد دوم 'ص ٩٤)
- ٩- ایک "دانہ کس کس نے کھانا"۔
("البشریٰ" جلد دوم 'ص ١٠٧' "تذکرہ" 'ص ٥٩٥' طبع ٣)
- ١٠- "لاہور میں ایک بے شرم (٣٣) ہے"۔
("البشریٰ" جلد دوم 'ص ١٣٦' "تذکرہ" 'ص ٧٠٤' طبع ٣)
- ١١- "ربنا عاج" ہمارا رب عاجی ہے‘ عاجی کے معنے ابھی تک معلوم نہیں
(٣٤) ہوئے۔ ("البشریٰ" جلد اول 'ص ٤٤' "تذکرہ" 'ص ١٠٢' طبع ٣)
٩٧
- ١٢- "آسمان ایک مٹھی بھر رہ گیا"۔
("البشریٰ" جلد دوم' ص ١٣٩' "تذکرہ" ' ص ٧٥١' طبع ٣)
مرزا صاحب کے اختلافات
قرآن مجید کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا یعنی یہ کلام' اللہ کے سوا اور کسی کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سے اختلافات پائے جاتے۔ اس آیت کریمہ نے فیصلہ کر دیا کہ اگر کسی مدعی الہام کے اقوال میں اختلاف ہو تو وہ اپنے دعوٰی الہام میں سچا نہیں بلکہ جھوٹا ہے۔ مرزا صاحب نے بھی اس کی تائید کی ہے چنانچہ تحریر فرماتے ہیں: ہر ایک کو سوچنا چاہیے کہ اس شخص کی حالت ایک مخبوط الحواس انسان کی حالت ہے کہ ایک کھلا کھلا تناقض اپنے کلام میں رکھتا ہے۔
("حقیقۃ الوحی" ص ١٨٤' "روحانی خزائن"' ص ١٩١' ج ٢٢)
مرزا صاحب نے اپنی کتاب "ست بچن" کے ص ٣٢ "روحانی خزائن" ص ١٣٣' ج ١٠ پر بھی لکھا ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نہیں نکل سکتیں کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق"۔ مگر باوجود مرزا صاحب کے ان زبردست اقراروں کے ہمیں ان کی تصنیفات میں کثرت سے اختلافات اور تناقض نظر آتے ہیں۔ ناظرین کے تفنن طبع کے لئے عدم گنجائش کی وجہ سے صرف پانچ ہی اختلاف درج ذیل ہیں۔
پہلا اختلاف
"یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جاکر فوت ہو گیا"۔
("ازالہ اوہام" ص ٤٧٣' "روحانی خزائن"' ص ٣٥٣' ج ٣)
"بعد اس کے مسیح اس زمین سے پوشیدہ طور پر بھاگ کر کشمیر کی طرف آگیا اور وہیں فوت ہوا"۔ - ("کشتی نوح" ص ٥٣' "روحانی خزائن"' ص ٥٨۔٥٧' ج ١٩)
٨٨
دوسرا اختلاف
”اور اس شخص کا مجھ کو وہابی کہنا غلط نہ تھا کیونکہ قرآن شریف کے بعد صحیح احادیث پر عمل کرنا ہی ضروری سمجھتا ہوں“۔ (”کلام مرزا“ از ”بدر“ ٤ جولائی ١٩٠٧ء)
”ہمارا مذہب وہابیوں کے برخلاف ہے“۔ (”کلام مرزا“ از ڈائری ١٩٠١ء‘ ص ٤٦)
تیسرا اختلاف
”لوگوں نے جو اپنے نام حنفی‘ شافعی وغیرہ رکھے ہیں‘ یہ سب بدعت ہیں۔“
(”کلام مرزا“ از ڈائری ١٩٠١ء‘ ص ٤)
”ہمارے ہاں جو آتا ہے اسے پہلے ایک حنفیت کا رنگ چڑھانا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں یہ چاروں مذہب اللہ تعالیٰ کا فضل ہیں اور اسلام کے واسطے ایک چاردیواری“ (”کلام مرزا“ از ڈائری‘ ص ٤٧)
چوتھا اختلاف
”حضرت مسیح کی چڑیاں باوجودیکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھی“۔
(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٦٨‘ ”روحانی خزائن“‘ ص ٦٨‘ ج ٥)
”اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا“۔
(”ازالہ اوہام“ ص ٣٠٧‘ ”روحانی خزائن“ حاشیہ‘ ص ٢٠٦۔٢٠٧‘ ج ٣)
پانچواں اختلاف
”آیت فلما توفیتنی سے پہلے یہ آیت ہے: واذ قال اللہ یا عیسیٰ انت قلت للناس ۔ الخ ۔۔ اور ظاہر ہے کہ ”قال“ کا صیغہ ماضی کا
٨٩
ہے اور اس کے اول ”اذ“ موجود ہے‘ جو خاص واسطے ماضی کے آتا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ قصہ وقت نزول آیت زمانہ ماضی کا ایک قصہ تھا‘ نہ زمانہ استقبال کا“۔ (”ازالہ اوہام“ ص ٦٠٢‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٢٥‘ ج ٣)
جس شخص نے ”کافیہ“ یا ”ہدایت النحو“ بھی پڑھی ہوگی‘ وہ خوب جانتا ہے کہ ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات ہیں جبکہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقین الوقوع ہو۔ مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ونفخ فی الصور فاذا ھم من الاجداث الی ربھم ینسلون اور جیسا کہ فرمایا واذ قال اللّٰہ یعیسیٰ ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللّٰہ قال اللّٰہ ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم۔
(”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص ٦‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٥٩‘ ج ٢١)
مرزا صاحب کے جھوٹ
جھوٹ بدترین برائیوں میں سے ہے بلکہ تمام برائیوں کی جڑ ہے‘ اسی لیے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: لعنت اللّٰہ علی الکاذبین جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے‘ جھوٹا انسان مقرب بارگاہ الٰہی کبھی نہیں ہو سکتا۔ مرزا صاحب نے بھی جھوٹ کی مذمت کی ہے جیسا کہ انہوں نے لکھا ہے:
- (الف) ”جھوٹ بولنا مرتد ہونے سے کم نہیں۔“
(ضمیمہ ”تحفہ گولڑویہ“ حاشیہ‘ ص ١٩‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٦‘ ج ١٧)
- (ب) ”جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں کوئی کام نہیں“۔
(”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ٢٦‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٥٩‘ ج ٢٢)
- (ج) ”تکلف سے جھوٹ بولنا گوہ کھانا ہے“۔
(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٥٨‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٤٣‘ ج ١١)
- (د) ”غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور
بد ذات آدمیوں کا کام ہے"۔ ("آریہ دھرم" ص ١١' "روحانی خزائن" ص ٧٣' ج ١٠)
ان اقوال میں مرزا صاحب نے جھوٹ کی بہت مذمت کی ہے لیکن جب ہم ان کے عمل کو دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ مرزا صاحب نے اپنی تصنیفات میں نہایت ہی بے تکلفی سے جھوٹوں کے انبار لگا دیئے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز عنقریب ہم کذبات مرزا پر ایک رسالہ لکھیں گے اور اس میں مرزا صاحب کے وہ تمام جھوٹ درج کر دیں گے جو ہماری نظر سے گزر چکے ہیں۔ بطور نمونہ مرزا صاحب کے پانچ جھوٹ یہاں تحریر کر دیتے ہیں۔
پہلا جھوٹ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
”بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجدد صاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس امت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کیے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے"۔
("حقیقت الوحی" ص ٣٩٠' "روحانی خزائن" ص ٤٠٦' ج ٢٢)
مرزا صاحب نے حضرت مجدد صاحب سرہندی رحمۃ اللہ کی کتاب سے حوالہ نقل کرتے ہوئے عمداً لوگوں کو دھوکہ دینے اور اپنی نبوت باطلہ کو ثابت کرنے کے لیے صریح تحریف کی ہے۔ عبارت بالا میں مرزا صاحب نے جس مکتوب کا حوالہ دیا ہے‘ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں:
"واذا كثر هذا القسم من الكلام مع واحد منهم سمی محدثا۔ ("مکتوبات جلد ثانی" ص ٩٩)
یعنی جب اس قسم کا کلام ان میں سے ایک کے ساتھ کثرت سے ہو تو اس کا نام محدث رکھا جاتا ہے۔ اسی مکتوب کو مرزا صاحب نے اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ کے ص ٩١٥ ("روحانی خزائن" ص ٦٠١' ج ٣) پر اور کتاب "تحفہ بغداد" حاشیہ ص ٢٠، ٢١' ("روحانی خزائن" ص ٢٨' ج ٧) پر بھی نقل کیا ہے اور ان دونوں کتابوں میں لفظ
٩١
محدث لکھا ہے لیکن ”حقیقۃ الوحی“ کی محولہ بالا عبارت میں اپنا مطلب نکالنے کے لئے محدث کی جگہ نبی لکھ کر صریح خیانت کی اور جھوٹ بولا یہ کارستانی کرتے وقت مرزا صاحب کو اپنا ”الہام“ شاید یاد نہ رہا ہو گا، جس کے الفاظ ہیں: ”مت ايها الخوان“ مرے بڑے خیانت کرنے والے۔ (”تذکرہ“ ص ٧١٣، طبع ٣)
دوسرا جھوٹ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
”اے عزیزو! تم نے وہ وقت پایا ہے جس کی بشارت تمام نبیوں نے دی ہے اور اس شخص کو یعنی مسیح موعود کو تم نے دیکھ لیا ہے جس کے دیکھنے کے لئے بہت سے پیغمبروں نے بھی خواہش کی تھی۔“ (”اربعین“ نمبر ٤، ص ١٢-١٣، ”روحانی خزائن“
ص ٤٤٢، ج ١٧)
مرزائی بتائیں کہ جن پیغمبروں نے مرزا صاحب کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تھی وہ کون کون سے نبی تھے؟ انہوں نے مرزا صاحب کے درشن کرنے کا اظہار کس کے سامنے کیا تھا؟ اور ان کے اس اشتیاق کا کس کتاب میں ذکر ہے؟ ہم علی وجہ البصیرت کہتے ہیں کہ یہ مرزا صاحب کی ”الہامی گپ“ اور صریح جھوٹ ہے۔
تیسرا جھوٹ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔“
(”کشتی نوح“ ص ٥، ”روحانی خزائن“ ص ٥، ج ١٩)
ہم بلا خوف تردید کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ”الحمد“ کے ”الف“ سے لے کر ”والناس“ کے ”س“ تک کوئی ایسی آیت نہیں جس کا ترجمہ ہو کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ یہ مرزا صاحب کی غلط بیانی اور قرآن اقدس کے متعلق بہتان طرازی ہے۔ مرزائیو! اگر ہمت ہے تو قرآن مجید میں سے کوئی آیت ایسی بتاؤ جس کا یہ ترجمہ ہو کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی اور اگر نہ بتا سکو تو زبان سے اتنا ہی کہہ دینا کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین
چوتھا جھوٹ مرزا صاحب رقم طراز ہیں:
٩٢
"اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں"۔
(”تحفۃ الندوہ“ ص ٥، ”روحانی خزائن“ ص ٩٨، ج ١٩)
ایھا الناظرین! کیا اب بھی آپ کو مرزا صاحب کے کاذب ہونے میں شک ہے! اتنا بڑا جھوٹ اتنی مکروہ کذب بیانی، پنجابی مدعی نبوت کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ ہم علی وجہ البصیرت ڈنکے کی چوٹ پر اعلان کرتے ہیں کہ کرشن قادیانی کا کوئی چیلہ قرآن مجید کی ایسی کوئی آیت ہمیں نہیں بتا سکتا جس میں ان کے کرشن روڈر گوپال مرزا غلام احمد کا نام ابن مریم رکھا گیا ہو۔ ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا مرزا صاحب کے مخلص مریدو! اگر تم مرزا صاحب کا نام قرآن کریم میں ابن مریم لکھا ہوا نہ بتا سکو اور یقینا نہ بتا سکو گے تو خوف خدا اور اپنے ضمیر کی آواز کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرزا صاحب کو جھوٹا سمجھنے میں ہمارے ہمنوا ہو جاؤ، کیونکہ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں ”کہ اگر قرآن نے میرا نام ابن مریم نہیں رکھا تو میں جھوٹا ہوں"۔ یاد رکھو کہ قرآن حکیم میں ایسی کوئی آیت نہیں جس کا کوئی ترجمہ یہ ہو کہ مرزا غلام احمد ابن مریم ہے۔
پانچواں جھوٹ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
”اور میں نے کہا کہ تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے مکہ اور مدینہ اور قادیان۔
(”ازالہ اوہام“ ص ٧٧، ”روحانی خزائن“ ص ١٤٠، ج ٣) و ”البشریٰ“ جلد اول،
حصہ دوم، ص ١٩، ”تذکرہ“ ص ٧٦، طبع ٣)
احمدی دوستو! مرزا صاحب کا یہ حوالہ اگر تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یا کسی سے سنا ہے تو بتاؤ کہ تم نے قرآن مجید میں قادیاں کا نام تلاش کیا؟ اگر تمہیں باوجود تلاش کرنے کے بھی قرآن مجید میں قادیاں کا نام نہیں ملا اور یقینا کبھی نہیں مل سکتا، تو کیا اب بھی مرزا صاحب کو راست گو ہی سمجھتے ہو؟ اگر اتنی بڑی کذب پروری کرنے کے بعد کوئی شخص محدث، مجدد، مسیح، موعود اور ظلی، بروزی نبی ہو سکتا ہے تو کیا کذابوں کے سر پر سینگ ہوا کرتے ہیں؟
٩٣
مرزا صاحب کی گالیاں
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے قل لعبادي يقول التي هي احسن ان الشيطن ينزغ بينهم ان الشيطن كان لانسان عدوا مبينا۔ ”یعنی اے رسول (علیہ السلام) میرے بندوں کو فرماویں کہ بات بہت ہی اچھی کہا کریں، سخت کلامی سے شیطان ان میں عداوت ڈلوا دے گا، بے شک شیطان انسان کا صریح دشمن ہے“۔ اخلاقی صورت میں ہر ایک مصلح یہی تعلیم دیتا رہا ہے کہ سخت کلامی اور بد زبانی سے عداوت بڑھتی ہے، اس لیے بد زبانی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ خصوصاً ان لوگوں کو بہت محتاط رہنا چاہیے جنہیں اصلاح خلق کے لیے خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے۔ مرزا صاحب قادیانی لکھتے ہیں:
”چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں اور سفلوں اور بد زبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، اس لیے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تا ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں۔ یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرہ بھی متحمل نہ ہو سکے“۔
(”ضرورة الامام“ ص ٨، ”روحانی خزائن“ ص ٤٧٨، ج ١٣)
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
”اور کسی کو گالی مت دو گو وہ گالی دیتا ہو ۔“
(”کشتی نوح“ ص ١١، ”روحانی خزائن“ ص ١١، ج ١٩)
ناظرین کرام! مرزا صاحب کا ناصحانہ انداز آپ نے دیکھ لیا۔ اب دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا صاحب تحریر فرماتے ہیں:
- ١۔ ”اے بد ذات فرقہ مولویوں! تم کب تک حق کو چھپاؤ گے۔ کب وہ وقت
آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے اے ظالم مولویو! تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا۔ وہی عوام کالانعام کو بھی پلا دیا ۔“
٩٤
(”انجام آتھم“ ص ٢١، ”روحانی خزائن“ ص ٢١‘ ج ١١)
- ٢۔ ”بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ“۔
(”حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم“ ص ١٨، ”روحانی خزائن“ ص ٣٠٢‘ ج ١١)
- ٣۔ ”مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے۔ ہرگز نہیں کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں
کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں“۔
(”حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٢٥، ”روحانی خزائن“ ص ٣٠٩‘ ج ١١)
- ٤۔ ہمارے دعویٰ پر آسمان نے گواہی دی مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے
بھی منکر ہیں، خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ علیہم نعال لعن اللہ الف الف (٣٥) مرۃ
(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٤٦، ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٠‘ ج ١١)
- ٥۔ ”اے بدذات، خبیث“۔
(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٥٠، ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٤‘ ج ١١)
- ٦۔ ”اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی ہے اور ہامان سے مراد نو
مسلم سعد اللہ ہے“۔ (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٥٦، ”روحانی خزائن“ ص ٣٤٠‘ ج ١١)
- ٧۔ ”نہ معلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم اور حیا سے کام
نہیں لیتا..... مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا“
(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٥٨، ”روحانی خزائن“ ص ٣٤٢)
- ٨۔ تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبہ
والمودۃ وینتفع من معارفھا ویقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا الذین ختم اللہ علی قلوبھم فھم لا یقبلون“۔
(”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٥٤٧-٥٤٨، ”روحانی خزائن“ ص ٥٤٨-٥٤٧‘ ج ٥)
(ترجمہ) ”ان میری کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے
٩٥
معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (زناکاروں) کی اولاد جن کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کرتے“۔
- ٩۔ ان العدی صاروا خنازیر لفلا‘ نسائهم من دونهن
الاکلب۔ (”نجم الہدیٰ“ ص ١٠‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٣‘ ج ١٤)
(ترجمہ) دشمن ہمارے بیابانوں (جنگل) کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیاؤں سے بڑھ گئی ہیں“۔
- ١٠۔ (جو شخص) اپنی شرارت سے بار بار کہے گا (کہ پادری آتھم کے زندہ رہنے
سے مرزا صاحب کی پیش گوئی غلط) کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم و حیا کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے‘ انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا‘ تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“
(”انوار الاسلام“ ص ٣٠‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣١‘ ج ٩)
- ١١۔ ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے‘ اس کا سبب تو یہ
تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے“۔ (”کشتی نوح“ ص ٦٥ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ ص ٧١‘ ج ١٩)
- ١٢۔ ”مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو‘ شرابی‘ نہ زاہد‘ نہ عابد‘ نہ حق کا
پرستار‘ متکبر‘ خود بین‘ خدائی کا دعویٰ کرنے والا“۔ (”مکتوبات احمدیہ“ ص ٢٣-٢٤‘ ج ٣)
(برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے یہ اس شخص کی اخلاقی حالت کا نقشہ ہے جس نے دنیا میں اعلان کیا تھا۔
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے
(”در ثمین“ ص ١٢‘ ”قادیان کے آریہ اور ہم و روحانی خزائن“ ص ٤٥٨‘ ج ٢٠)
٩٦
انہی مدعی اخلاق محمدی نے ناصحانہ انداز میں لکھا ہے:
کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار
(”در ثمین“ ص ١١٣، ”روحانی خزائن“ ص ٤١٤، ج ٢١)
ناظرین کرام! ایک طرف مرزا صاحب کے اس ناصحانہ انداز کو ملاحظہ فرمائیں اور دوسری طرف ان کی مندرجہ بالا گالیوں کو۔ سچ ہے ۔
چوں خلوت می روند آں کار دیگر می کنند
☆=====O=====☆
حواشی
- (١) ہم مرزا صاحب کے مریدوں کو طنزاً مرزائی نہیں کہتے بلکہ ان کے لیے مرزائی عزت کا نام
ہے۔ ہمارے پاس اس کی ایک نہایت ہی مستند سند ہے اور وہ یہ کہ مرزا صاحب آنجہانی کی زندگی میں سالانہ جلسہ کے موقع پر سینکڑوں کے مجمعے میں ایک قصیدہ پڑھا گیا، جس میں مرزا صاحب کے مریدوں کی مبالغہ آمیز تعریفیں کی گئیں۔ جب مولوی محمد علی صاحب ایم اے، حال امیر جماعت احمدیہ لاہور، کی تعریف کا وقت آیا تو ان کی تعریف میں یہ شعر تھا:
یہی وہ ہیں، یہی وہ ہیں، یہی ہیں پکے مرزائی
(اخبار ”بدر“ ١٧ جنوری ١٩٠٧ء)
یہ قصیدہ میر قاسم علی ایڈیٹر ”فاروق“ نے مجمع عام میں پڑھا، جس کو ہم اجماع امت مرزائیہ کہیں تو بجا ہے۔ لطف یہ ہے کہ خود مرزا صاحب نے بھی اس پر اظہار ناراضگی نہیں کیا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کے مرید اس نام کو پسند کرتے ہیں اس لئے قادیانی اور لاہوری دونوں مرزائی ہیں۔ (اختر)
٩٧
- (٢) یعنی ریلوے سٹیشن۔
- (٣) میں اس طرز انشاء کا ذمہ دار نہیں ١٢ (اختر)
- (٤) سلطان القلم کی اردو ملاحظہ ہو مذکر کو مونث بنا دیا۔ کیوں نہ ہو مجدد جو ہوئے۔ (اختر)
- (٥) سلطان القلم کی فصیح و بلیغ اردو ملاحظہ ہو۔ (اختر)
- (٦) لاہوری مرزائی یہی کہا کرتے ہیں۔ (اختر)
- (٧) میرے نشان تین لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ (”حقیقتہ الوحی“ ص ٦٨’ ”روحانی خزائن“
ص ٧٠’ ج ٢٢) میرے تقریباً دس لاکھ نشان ہیں۔ (”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم’ ص ٦١ ”روحانی خزائن“ ص ٢٧٢’ ج ٢١)
- (٨) مرزا صاحب نے دوسری جگہ بھی تقدیر مبرم کے یہی معنے کیے ہیں کہ جو تبدیل نہ ہو سکے
جیسا کہ فرماتے ہیں: ”گویا اس کا یہ مطلب ہے کہ اب یہ تقدیر مبرم ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوگی۔“ (”البشریٰ“ جلد دوم، ص ٨١)
- (٩) سچ ہے شب وعدہ کسی کی انتظاری کیا قیامت ہے!
- (١٠) اگر محمدی بیگم کا نکاح مرزا صاحب سے ہو جاتا تو مرزا صاحب کی حمد اور تعریف ہوتی۔
احمدی دوستو! نکاح نہ ہونے سے مرزا صاحب کی رسوائی و ذلت ہوئی یا نہیں؟ (اختر)
- (١١) مرزا صاحب محمدی بیگم کے ساتھ نکاح ہو جانے کو اپنے مسیح موعود ہونے کا نشان قرار
دے رہے ہیں۔ چونکہ مرزا صاحب کا یہ نکاح نہیں ہوا اس لئے مرزا صاحب بقول خود مسیح موعود نہ ہوئے۔
- (١٢) یہی ہے ”ماروں گھٹنا اور پھوٹے آنکھ“ توبہ کی رشتہ داروں نے اور مہلت دی گئی
سلطان محمد کو۔ (اختر)
- (١٣) بلکہ ٢٠ اپریل ١٩٣٢ء تک۔
- (١٤) دوسری بکری سے مراد سلطان محمد شوہر محمدی بیگم کی وفات ہے۔ (اختر)
- (١٥) مرزائیو جواب دو کہ دوسری جز کے پورا نہ ہونے سے مرزا صاحب آنجہانی بقول خود کیا
ہوئے؟ ع اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی (اختر)
- (١٦) مرزا صاحب نے ”انجام آتھم“ ص ٦١ و ”ضمیمہ“ ص ٥٤’ میں بھی اسے وعدہ الٰہی قرار
دیا ہے۔ (اختر)
- (١٧) بلکہ اپریل ١٩٣٢ء تک۔
٩٨
- (١٨) مبرم ابرام سے اسم مفعول کا صیغہ ہے جس کے معنے ہیں: نہ ٹلنے والا۔ حکم الٰہی مرزا
صاحب نے بھی اس کے یہی معنے کئے۔ (احقر)
- (٢٠) "بستر میش" مرزاجی کا الہام ہے۔ ("البشریٰ" جلد دوم‘ ص ٨٨)
- (٢١) مہاراج اتنی ٹھگی (احقر)
- (٢٢) مرزا صاحب کا الہام ہے "فزع عیسیٰ ومن معہ" عیسیٰ اور اس کے ساتھی گھبرا
گئے۔ ("البشریٰ" جلد دوم‘ ص ٩٩)
ممکن ہے یہ گھبراہٹ اسی فتوے کے الٹ کر پڑنے کی وجہ سے ہو مرزائیو! کیا کہتے ہو؟ (احقر)
- (٢٣) خدا تعالیٰ کا یہ فقرہ کہ وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے
عبدالحکیم خاں کے اس فقرہ کا رد ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ گویا میں کاذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور میں شریر اور خدا تعالیٰ اس کے رد میں فرماتا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ ذلت کی موت اور ذلت کا عذاب ان کو نصیب نہیں ہو گا۔ اگر ایسا ہو تو دنیا تباہ ہو جائے اور صادق اور کاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے۔ ("مجموعہ اشتہارات"‘ ص ٥٥٩‘ ج ٣)
- (٢٤) اس فقرہ میں عبدالحکیم خاں مخاطب ہے اور فرشتوں کی کھینچی ہوئی تلوار سے آسمانی عذاب مراد ہے
کہ جو بغیر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے ظاہر ہو گا۔ ("مجموعہ اشتہارات"‘ ص ٥٦٠‘ ج ٣)
- (٢٥) یعنی تو نے یہ غور نہ کی کہ کیا اس زمانہ میں اور اس نازک وقت میں امت محمدیہ کے
لیے کسی دجال کی ضرورت ہے یا کسی مصلح اور مجدد کی۔ ("روحانی خزائن"‘ ص ٥٦٠‘ ج ٣)
- (٢٦) یعنی اے میرے خدا صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھلا۔ تو جانتا ہے کہ صادق اور
مصلح کون ہے‘ اس فقرہ الہامیہ میں عبدالحکیم خاں کے اس قول کا رد ہے‘ جو وہ کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہو جائے گا۔ پس چونکہ وہ اپنے تئیں صادق ٹھہراتا ہے۔ خدا فرماتا ہے‘ کہ تو صادق نہیں ہے۔ میں صادق اور کاذب میں فرق کر کے دکھاؤں گا۔ المشتہر مرزا غلام احمد مسیح موعود قادیانی‘ ١٦ اگست ١٩٠٦ء ("مجموعہ اشتہارات"‘ ص ٥٦٠‘ ج ٣)
- (٢٧) مرزائیو! اصحاب الفیل کی طرح کون نابود ہوا (احقر)
- (٢٨) مرزائیو! ایمان سے بتانا مرزا صاحب ابھی ہلاک ہوئے ہیں یا نہیں؟ (احقر)
- (٢٩) مرزا صاحب کے مریدو! مرزا صاحب کی یہ دعا منظور ہوئی یا نہیں؟ (احقر)
- (٣٠) احمدی دوستو! مرزا صاحب کے یہ الہام غیر معقول اور بیہودہ ہیں یا نہیں؟ (احقر)
- (٣١) لاہوری مرزائیو! ہم تمہارے "ظلی بروزی نبی" کے الہامات شائع کر رہے ہیں‘ اس
لئے ہمارا شکریہ ادا کرو (احقر)
- (٣٢) مطلب ندارد
٩٩
- (٣٣) لاہوری مرزائیو! یہ کون ہے؟
- (٣٤) احمدی دوستو! تمہارے مجدد کو باوجود دعویٰ الہام کے عاج کے معنے معلوم نہ ہوئے۔
پرانے تعلقات کی وجہ سے ہمیں تمہاری خاطر منظور ہے‘ اس لئے ہم اس کے معنے بتا دیتے ہیں۔ سنو! عاج کے معنے ہیں استخوانِ فیل (ہاتھی دانت‘ سرگین و گوبر) منتخب اللغات۔ پس ربنا عاج کے معنے ہوئے ہمارا رب ہاتھی دانت یا گوبر ہے۔ بتاؤ اب تو سمجھ گئے (اختر)
- (٣٥) مرزا صاحب نے ”ازالہ اوہام“ ٦٦٠، ”روحانی خزائن“ ص ٤٥٦، ج ٣) میں لکھا
ہے ”لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں‘ مومن لعان نہیں ہوتا“ لیکن یہاں ہزار ہزار لعنت برسا رہے ہیں۔ مرزائیو! پہلے ”ازالہ اوہام“ کے اس حوالہ کو دیکھو اور پھر اپنے حضرت مرزا صاحب کی ان لعنتوں کا مطالعہ کر کے بتاؤ کہ کیا مرزا صاحب حسب اقرارِ خود مومن تھے؟ (اختر)
تحفظ ختم نبوت اور شفاعت محمدی ﷺ
اگر آپ قیامت کے دن محمد عربی ﷺ کی شفاعت چاہتے ہیں اور آپ ﷺ کے جھنڈے کے نیچے جگہ چاہتے ہیں تو آپ کو ختم نبوت کا کام کرنا پڑے گا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی امت اور جماعت کے مقابلے میں آنا پڑے گا۔ کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں؟۔ (حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)
١٠٠
مقالات ختم نبوت
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
ختم نبوّت
اور
بزرگان امّت
مرزائیوں نے ایک پمفلٹ ”ختم نبوت اور بزرگان امت“ پاکستان اور ہندوستان میں بہ تعداد کثیر تقسیم کیا ہے۔ پمفلٹ کیا ہے، دجل و فریب اور عبارات سلف کی قطع و برید کا ایک شاطرانہ مجموعہ ہے۔ انہوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ نہ ملک کی اکثریت علوم دین اور عربی زبان سے واقف ہے، نہ عوام کو تمام کتابیں میسر ہیں، نہ کتابیں تلاش کر کے مطالعہ کی فرصت ہے، نہ ہی وہ تمام مسلمان جن کے ہاتھوں میں کذب و افتراء کا یہ پلندہ پہنچے گا، علمائے اسلام سے ان عبارات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ ممکن ہے کہ بعض اشخاص اس سے متاثر ہو کر قادیانی نبوت کے گرویدہ ہو جائیں اور اس طرح چند مسلمانوں کو قادیانی نبوت کا حلقہ بگوش بنایا جا سکے۔ دراصل یہ پمفلٹ مودودی صاحب کے کتابچہ ختم نبوت کا ردعمل ہے۔ اس میں قادیانیوں کا روئے سخن مودودی صاحب کی طرف ہے۔ مرزائیوں نے مودودی صاحب کو متعدد بار چیلنج دیا ہے کہ ہمارے اس پمفلٹ کا جواب لکھئے۔ قادیانی پمفلٹ کو شائع ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے، مودودی صاحب نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شاید وہ بزرگان امت پر قادیانیوں کے عائد کردہ افتراؤں کا جواب لکھنا اپنے لیے تضیع اوقات سمجھتے ہوں گے۔ متعدد دینی حلقوں نے عموماً اور جناب سردار محمد خاں صاحب لغاری رئیس اعظم چوٹی ضلع ڈیرہ غازی خاں نے خصوصاً ارشاد فرمایا کہ آپ اکابرین امت پر لگائے گئے بہتانات کا جواب شائع کریں تاکہ عامۃ المسلمین پر قادیانی تحریفات کی حقیقت واضح ہو جائے۔ ان مختصر اوراق میں اجمالی تبصرہ کیا جاتا ہے۔
ناقابل اعتبار روایت
مرزائی : سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم آیت خاتم النبیین کے نزول کے پانچ سال بعد اپنے فرزند ارجمند حضرت ابراہیمؓ کی وفات پر فرماتے ہیں۔ لو عاش لکان صدیقا نبیا (”ابن ماجہ“ جلد١‘ ص٢٣٧‘ کتاب ”الجنائز“) اگر میرا بیٹا (ابراہیمؓ) زندہ رہتا تو ضرور صدیق نبی بنتا۔ گویا آیت خاتم النبیین صاحب زادہ ابراہیمؓ کے نبی بننے میں روک نہ تھی۔ محض ان کا وفات پا جانا ان کے نبی بننے میں روک تھا۔ (پمفلٹ ٣
مذکور ص ٣)
جواب : مرزائیوں نے ابن ماجہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ اسی کتاب میں اسی روایت کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ
- (١) بعض محدثین نے اس کی صحت میں کلام کیا ہے۔
- (٢) لو عاش ابراہیم لکان نبیا قال النووی فی تہذیبہ ہذا الحدیث باطل
(”موضوعات کبیر“ ص ٥٨) امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ ”اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا“ یہ باطل حدیث ہے۔
- (٣) قال ابن عبدالبر فی تمہیدہ لا ادری ما ہذا
(”موضوعات کبیر“ ص ٥٨)
محدث اعظم حضرت علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ تمہید میں فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ یہ روایت کیا ہے؟
- (٤) شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ”مدارج النبوت“ جلد
دوم‘ ص ٢٧٦ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان ہے‘ جو ضعیف ہے۔ اس راوی کے متعلق بلند پایہ محدثین کرام کے ارشادات ہیں۔
- (٥) ثقہ نہیں ہے۔ (حضرت امام احمد بن حنبلؒ‘ حضرت امام یحییٰؒ‘
حضرت امام داؤد)
- (٦) منکر حدیث ہے۔ (حضرت امام ترمذیؒ)
- (٧) متروک الحدیث ہے۔ (حضرت امام نسائیؒ)
- (٨) اس کا اعتبار نہیں۔ (حضرت امام جوزجانیؒ)
- (٩) ضعیف الحدیث ہے۔ حضرت امام ابو حاتم
- (١٠) ضعیف ہے۔ اس کی حدیث نہ لکھی جائے۔ اس نے حکم سے منکر حدیثیں
روایت کی ہیں۔
(”تہذیب التہذیب“ جلد اول‘ ص ١٤٤-١٤٥)
(مرزائیوں کی مندرجہ بالا نقل کردہ حدیث بھی حکم ہی سے روایت ہے) یہ حال ہے اس روایت کی صحت کا‘ جس کو مرزائیوں نے اپنے باطل عقیدہ ”اجرائے نبوت“ کی توثیق کے لیے پیش کیا ہے۔
٤
اس روایت میں حرف لو ہے‘ جو امتناع اور ناممکنات کے لیے استعمال ہوتا ہے جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا (انبیا نمبر ٢٢) اگر (زمین و آسمان) دونوں میں اللہ تعالیٰ کے سوا معبود ہوتا تو دونوں بگڑ جاتے۔ جیسے دو خدا نہیں ہو سکتے۔ اسی طرح حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ زندہ نہ رہ سکتے تھے اور نہ نبی ہو سکتے تھے۔
بہتان عظیم
مرزائیوں نے اس پمفلٹ میں بارہ اکابرین امت پر عظیم بہتان لگایا ہے کہ یہ حضرات معاذ اللہ مرزائیوں کی طرح امت محمدیہؐ میں غیر تشریعی نبوت کے اجراء کے قائل تھے۔ اپنے باطل عقیدہ کے اثبات کے لیے انہوں نے بزرگان دین کے چند اقوال نقل کیے ہیں کہ ”کوئی نبی شرع ناسخ لے کر نہیں آئے گا“ ”اب کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا‘ جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے شریعت دے کر مامور کرے۔ یعنی نئی شریعت لانے والا نبی نہ ہوگا“ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں‘ بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے“۔
جن حضرات نے ایسی عبارات لکھی ہیں‘ ان کے پیش نظر تین امور تھے۔
اول : حضرت مسیح علیہ السلام کا تشریف لانا‘ بظاہر آیت خاتم النبیین اور حدیث لانبی بعدی کے منافی معلوم ہوتا ہے۔
دوئم : حدیث لم یبق من النبوت الا المبشرات (نبوت سے سوائے مبشرات کے کچھ باقی نہیں) میں نبوت کے ایک جز کو باقی کہا گیا ہے۔ یہ حدیث سطحی طور پر حدیث لانبی بعدی کے مخالف نظر آتی ہے۔
سوئم : بعض علماء صوفیاء کو وحی و الہام سے نوازا جاتا ہے‘ جس سے بادی النظر میں ختم نبوت سے تعارض معلوم ہوتا ہے۔
ان تینوں امور کے متعلق حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے تجزیہ فرمایا ہے۔ امر اول کے متعلق فرماتے ہیں۔
وان عیسی علیہ السلام اذا نزل ما یحکم الا بشریعہ محمد صلی
٥
اللہ علیہ وسلم ("فتوحات مکیہ" ج١‘ باب ١٤‘ ص ١٥٠)
"اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ صرف حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے"۔
امر دوم کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے۔
قالت عائشة اول ما بدئ بہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الوحی الرؤیا فکان لا یری رؤیا الا خرجت مثل فلق الصبح وھی التی ابقی اللہ علی المسلمین وھی من اجزاء النبوۃ فما ارتفعت النبوۃ بالکلیہ ولھذا قلنا انما ارتفعت نبوہ التشریع فھذا معنی لا نبی بعدہ
("فتوحات مکیہ" ج٢‘ باب ٧٣‘ سوال ٢٥)
"ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے پہلے سچے خواب نظر آتے تھے۔ جو چیز حضور رات کو دیکھتے تھے‘ وہ خارج میں صبح روشن کی طرح آپ کو نظر آتی تھی اور یہ وہ چیز ہے‘ جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر باقی رکھی ہے۔ اور یہ خواب نبوت کے اجزاء میں سے ہے۔ پس اس اعتبار سے کلی طور پر نبوت ختم نہیں ہوئی اور اسی وجہ سے ہم نے کہا ہے۔ لا نبی بعدی کا معنی یہ ہے کہ حضورؐ کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں کیونکہ رویاء صالحہ اور مبشرات باقی ہیں"۔
اس ارشاد سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ سچا خواب نبوت کا ایک جز ہے اور رویا صالحہ ہی غیر تشریعی نبوت ہے‘ جو امت محمدیہ میں جاری ہے اور حدیث لا نبی بعدی کا یہ معنی ہے کہ حضورؐ کے بعد نبوت تشریعی باقی نہیں اور غیر تشریعی نبوت یعنی رویا صالحہ اور مبشرات باقی ہیں اور یہ نبوت کا ایک جز ہے‘ نبوت نہیں۔
امر سوم کے متعلق تحریر فرماتے ہیں۔
فلاولیاء والانبیاء الخبر خاصہ ولانبیاء الشرائع والرسل
٦
الخبر والحكم (”فتوحات مکیہ“ ج ٢‘ باب ١٥٨‘ ص ٢٥٧) ”انبیاء و اولیاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام (خبر خاصہ) کے ذریعہ خصوصی خبر دی جاتی ہے اور انبیاء کے لیے تشریعی احکام نازل ہوتے ہیں اور رسول کے لیے خبر بھی ہوتی ہے اور دوسروں کو حکم کرنا بھی ہوتا ہے“۔
حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے اس عبارت میں اولیاء اور انبیاء کو خبر اور وحی میں ظاہراً مشترک قرار دے کر شریعت کا اختصاص صرف انبیاء علیہم السلام کے لیے کیا ہے اور رسالت کا مقام اس سے بھی بلند بتایا ہے۔ ان پر تشریعی احکام بھی نازل ہوتے ہیں اور ان کا فرض منصبی دوسروں کو حکم کرنا بھی ہوتا ہے۔
حضرت شیخ اکبرؒ نے تو حیوانات کی فطرتی ہدایت کو بھی نبوت کا نام دیا ہے۔ وهذه النبوة ساريه فى الحيوان مثل قوله تعالى واوحى ربك الى النحل (”فتوحات مکیہ“ ج ٢‘ باب ١٥٥‘ ص ٢٥٤)
”اور یہ نبوت حیوانات میں بھی جاری ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کو وحی کی“۔
حضرت ابن عربیؒ گھوڑے‘ گدھے‘ بلی‘ چھپکلی‘ چوہے‘ چمگادڑ‘ الو اور شہد کی مکھی وغیرہ حیوانات میں بھی نبوت جاری تسلیم کرتے ہیں۔ کیا مرزائی ”قادیانی نبوت“ کو اسی قبیل سے سمجھتے ہیں؟
مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ حقیقت صاف واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت شیخ اکبرؒ تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کا جو فرق بیان فرماتے ہیں‘ ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت و رسالت مل سکتی ہے لیکن تشریعی نہیں ہو سکتی بلکہ وہ تو یہ فرماتے ہیں کہ جو وحی نبی و رسول پر نازل ہوتی ہے وہ تشریعی ہی ہوتی ہے اس میں اوامر و نواہی ہوتے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر وحی تشریعی نازل نہ ہوگی‘ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ البتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی اللہ
٧
نازل ہوں گے اور وہ بھی شریعت محمدیہ پر عمل کریں گے۔ نیز نبوت کا ایک جز مبشرات قیامت تک باقی ہے اور بعض خواص کو الہام اور وحی ولایت ہو سکتی ہے لیکن کسی پر نبی اور رسول کا لفظ ہرگز نہیں بولا جا سکتا۔ فرماتے ہیں:
کذالک اسم النبی زال بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فانہ زال التشریع المنزل من عند اللہ بالوحی بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم
(”فتوحات مکیہ“ ج٢‘ ص٥٨‘ باب٧٣‘ سوال٢٥)
”اسی طرح سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی کا لفظ کسی پر نہیں بولا جا سکتا کیونکہ آپؐ کے بعد وحی جو تشریعی صورت میں صرف نبی پر ہی آتی ہے۔ ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکی ہے“۔
مطلب واضح ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو تشریعی احکام لاتا ہے۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد احکام شرعیہ (اوامر و نواہی) کا نازل ہونا ممتنع اور محال ہے۔ اس لیے کسی پر لفظ نبی کا اطلاق نہیں ہو سکتا۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان عظیم
قادیانی اعتراض : ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتی ہیں۔ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ
(”در منثور“ ج٥‘ ص٢٠٤‘ ”تکملہ مجمع البحار“ ص٨٥)
کہ اے لوگو! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء تو ضرور کہو۔ مگر یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہ آئے گا۔ کس لطیف انداز میں فرماتی ہیں کہ اے مسلمانو! کبھی لانبی بعدی کے الفاظ سے ٹھوکر نہ کھانا۔ خاتم النبیین کی طرف نگاہ رکھنا مگر یہ نہ کہنا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ (پمفلٹ مذکور‘ ص٢ و ٣)
جواب : کتنا صریح جھوٹ اور بہتان عظیم ہے ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر کہ وہ ”فرماتی ہیں اے مسلمانو! کبھی لانبی بعدی کے الفاظ سے ٹھوکر نہ کھانا۔ اگر امت مرزائیہ حضرت ام المومنین کے یہ الفاظ دنیا کی کسی کتاب سے دکھا دے تو ہم اسے ایک ہزار روپیہ نقد انعام دیں گے۔ اگر نہ دکھا سکے اور یقیناً
٨
کبھی نہ دکھا سکے گی تو یہ سمجھ لے کہ جھوٹے بہتان باندھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ لعنت اللہ علی الکاذبین۔
جملہ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ کی حضرت ام المومنین کی طرف نسبت یہ ایسا قول ہے کہ دنیا کی کسی مستند کتاب میں اس کی سند نہیں۔ میں نے بیسیوں مناظروں میں قادیانی مبلغین کو انعامی چیلنج دیا کہ اگر حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک اس قول کی سند دکھا دو تو دس ہزار روپیہ انعام لو۔ کسی مرزائی مناظر کو ہمت نہیں ہوئی کہ میرے اس چیلنج کو منظور کر سکے۔
اگر بالفرض اس بے سند قول کو صحیح تسلیم کیا جائے تو اس سے مراد یہ ہوگی کہ نصوص قطعیہ کے پیش نظر حضرت مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے۔ اس لیے یہ نہ کہو کہ کوئی نبی آئے گا نہیں۔ ہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیا کہو، جس کے معنی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا یا کوئی نیا نبی مبعوث نہ ہوگا۔
ختم نبوت کے متعلق حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وہی عقیدہ ہے جو قرآن مجید، احادیث نبوی، اجماع صحابہ اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہے۔ آپ نے فرمایا۔
عن عائشة ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا یبقی بعدی من النبوة شئ الا المبشرات قالوا یا رسول اللہ ما المبشرات قال الرویا الصالحة یرھا الرجل او تری لہ (”مسند احمد“ ج٦، ص١٢٩، ”کنز العمال“)
”حضرت صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد نبوت سے کچھ بھی باقی نہیں۔ ہاں صرف مبشرات باقی رہ گئے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ مبشرات کیا چیز ہے؟ حضورؐ نے فرمایا کہ اچھے خواب ہیں۔ آدمی خود ان کو دیکھتا ہے یا اس کے حق میں کوئی دوسرا آدمی دیکھتا ہے۔“
حضرت امام محمد طاہر رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق فریب
مرزائی اعتراض : حضرت امام صاحب مصنف ”مجمع البحار“ لکھتے ہیں یعنی حضرت عائشہ نے جو یہ فرمایا کہ اے مسلمانو! تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خاتم النبیین کے الفاظ تو بے شک استعمال کیا کرو لیکن لا نبی بعدہ کے الفاظ استعمال نہ کیا کرو۔ یہ بات لا نبی بعدی کے مخالف نہیں کیونکہ لا نبی بعدی فرمانے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آ سکتا، جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔ (”تکملہ مجمع البحار“ ص٨٥)
جواب : دنیا میں سب سے بڑا دھوکا باز وہ شخص ہے، جو دین و مذہب کے متعلق فریب دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے۔ شاید موجودہ دور میں مذہبی دھوکا دہی مرزائیوں کے لیے الاٹ ہو چکی ہے۔ اس لیے انہوں نے مکمل عبارت درج نہیں کی، بلکہ ماقبل اور مابعد کو چھوڑ کر ایک جملہ، جسے انہوں نے اپنے لیے مفید سمجھا، نقل کر دیا۔ ہم پوری عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ عامتہ المسلمین پر قادیانیوں کی خیانت واضح ہو جائے۔
. وفی حدیث عیسی انہ یقتل الخنزیر و یکسر الصلیب و یزید فی الحلال ای یزید فی حلال نفسہ بان یتزوج و یولدلہ و کان لم یتزوج قبل رفعہ الی السماء فزاد بعد الھبوط فی الحلال فحینئذ یومن کل احد من اھل الکتب بتیقن بانہ بشر و عن عائشۃؓ قولوا انہ خاتم الانبیاء ولا تقولوا لا نبی بعدہ وھذا ناظرا الی نزول عیسی و ھذا ایضا لا ینافی حدیث لا نبی بعدی لانہ اراد لا نبی ینسخ شرعہ۔ (”تکملہ مجمع البحار“ ص٨٥)
”اور حدیث میں ہے کہ نزول کے بعد عیسیٰ علیہ السلام خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور حلال چیزوں میں زیادتی کریں گے یعنی نکاح کریں گے اور ان کی اولاد ہوگی۔ آسمان پر جانے سے پہلے انہوں نے نکاح نہ کیا تھا۔ ان کے آسمان سے اترنے کے بعد حلال میں اضافہ
١٠
ہوگا۔ (اولاد ہوگی) اس زمانہ میں ہر ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا کہ یقیناً یہ سچے رسول ہیں اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کہو اور یہ نہ کہو کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں۔ یہ صدیقہؓ کا فرمان لا تقولوا لا نبی بعدہ اس بات کے مدنظر ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول حدیث لا نبی بعدی کے مخالف نہیں اس لیے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آئے گا جو حضور کے دین کا ناسخ ہو"۔
واضح بیان ہے کہ اگر لا تقولوا لا نبی بعدہ حضرت ام المومنینؓ کا مقولہ ثابت ہو جائے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا۔ ان کا تشریف لانا حدیث لا نبی بعدی کے خلاف نہیں۔ اس لیے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا، جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو منسوخ کر دے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کے لیے تشریف لائیں گے نہ کہ اسلامی تعلیمات کو منسوخ کرنے کے لیے۔
حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ پر افتراء
مرزائی اعتراض: تصوف کے امام حضرت ابن عربی لکھتے ہیں (ترجمہ) وہ نبوت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے ختم ہوئی ہے، وہ صرف شریعت والی نبوت ہے نہ کہ مقام نبوت پس اب ایسی شریعت نہیں آسکتی، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ قرار دے یا آپ کی شریعت میں کوئی حکم زائد کرے۔ یہی معنی اس حدیث کے ہیں کہ ان الرسالۃ والنبوۃ قد انقطعت کہ اب رسالت اور نبوت منقطع ہو گئی ہے۔ میرے بعد نہ رسول ہے، نہ نبی۔ یعنی کوئی ایسا نبی نہیں ہوگا، جو ایسی شریعت پر ہو، جو میری شریعت کے خلاف ہو، بلکہ جب کبھی نبی آئے گا تو وہ میری شریعت کے تابع ہوگا۔" (فتوحات مکیہ، ج ٢، ص ٣) مرزائی ٹریکٹ، ص ٣)
١١
جواب : ہم اوپر اسی کتاب ”فتوحات مکیہ“ سے چند عبارات نقل کر چکے ہیں کہ جن سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق اور عقیدہ یہ تھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جو شریعت لاتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شریعت نہیں لائے گا اور نہ کسی کے متعلق لفظ نبی استعمال کیا جائے گا۔ وہ ولایت، الہام اور مبشرات کو امت میں جاری مانتے ہیں اور اسی کو غیر تشریعی نبوت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان سے نزول کے قائل ہیں۔ آمد ثانی کے بعد حضرت مسیح پر کسی نئے اوامر و نواہی کا نزول نہیں مانتے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے۔ وہ شریعت محمدیہ کو منسوخ نہ کریں گے بلکہ اسی شریعت کی متابعت کریں گے۔
حیرت اور ہزار حیرت ہے امت مرزائیہ پر کہ ان کے قادیانی نبی نے حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ اور وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والوں پر کافر ملحد اور زندیق کا فتویٰ لگایا ہے۔ (وحدت وجود پر مرزا قادیانی کا ایک خط بنام میر عباس علی) لیکن مرزائی ہیں کہ اپنے نبی کی نبوت ثابت کرنے کے لیے معاذ اللہ اسی ملحد اور زندیق کی پناہ لے رہے ہیں۔ ان کے اس طرز استدلال پر ارسطو کی روح بھی پھڑک اٹھی ہوگی۔
حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت دھوکا
مرزائی اعتراض : مثنوی میں مولانا روم فرماتے ہیں۔
کہ نیکی کی راہ میں خدمت کی ایسی تدبیر کر کہ تجھے امت کے اندر نبوت مل جائے (مثنوی مولانا روم، دفتر اول، ص ٥٣)
جواب : مثنوی شریف کے اس شعر کے کسی لفظ کا معنی نہیں کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالیٰ کسی کو نبی مبعوث کرے گا۔ اس شعر کا
١٢
مفہوم یہ ہے کہ نیک اعمال کے لیے کوشش کرنے سے مومن کو فیضان نبوت سے نوازا جاتا ہے۔ کیونکہ نبوت کسبی نہیں، بلکہ وہبی ہے۔ حضرت مولانا تو ہر متبع سنت پیر و مرشد کو مجازاً نبی کہتے ہیں۔
آں نبی وقت باشد اے مرید تا از او نور نبی آید پدید
در حقیقت علیم و خبیر اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ پیر کو مجازاً علیم و خبیر فرمایا ہے کیونکہ پیر مرید کے احوال و مقامات سے باخبر ہوتا ہے۔ دوسرے شعر کا مفہوم ہے کہ پیر اپنے مرید کے لیے بمنزلہ نبی ہوتا ہے کیونکہ مرید کو پیر کی وساطت سے فیض نبوت حاصل ہوتا ہے۔
حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ نے بیسیوں مقامات پر ختم نبوت کا اعلان کیا ہے۔ مرزائیوں کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھی ہے۔ اس لیے انہیں مثنوی شریف میں ختم نبوت کے اشعار نظر نہیں آتے۔ مشتے نمونہ از خروارے مختلف مقامات کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔
سکہ شاہاں ہمی گردد دگر سکہ احمد ببیں تا مستقر
یا رسول اللہ رسالت را بتمام تو نمودی ہم چو شمس بے غمام
ایں ہمہ انکار کفراں زاد شاں چوں در آمد سید آخر الزمان
مرزائی پمفلٹ میں مثنوی شریف کے اور تین شعر نقل کئے ہیں، جن کا اجرائے نبوت کے باطل عقیدہ سے اتنا تعلق بھی نہیں، جتنا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا محمدی بیگم کے آسمانی نکاح سے تھا۔ مثلاً:
مثل او نے بود نے خواہند بود
مرزائی ترجمہ : یعنی آپ خاتم اس لیے ہوئے کہ آپ بے مثل ہیں۔ فیض روحانی کی بخشش ہیں۔ آپ جیسا نہ کوئی پہلے ہوا اور نہ آئندہ آپ جیسے ہوں
١٣
گئے۔ (ٹریکٹ ص ٣)
جواب: اس شعر کو ”اجرائے نبوت“ سے کیا تعلق؟ اس میں تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فضائل و کمالات اور روحانی فیوض کا تذکرہ ہے۔ یہ قادیانیوں کا محض افتراء ہے کہ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ”اجرائے نبوت“ کے قائل تھے، جس کا کوئی ثبوت وہ پیش نہیں کر سکے۔
حضرت امام عبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ پر افتراء
مرزائی اعتراض: امام شعرانی فرماتے ہیں۔ (ترجمہ) کہ یاد رکھو کہ مطلق نبوت نہیں اٹھی اور صرف شریعت والی نبوت بند ہوئی ہے۔ (”الیواقیت و الجواہر“ ج ٢، ص ٢)
جواب: حضرت امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ پر افتراء ہے کہ وہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرزائیوں کی طرح غیر تشریعی نبوت کے اجراء کے قائل تھے۔ امام شعرانیؒ نے تشریعی اور غیر تشریعی نبوت کی تقسیم انہیں تین امور کے پیش نظر کی ہے۔ جن کا ذکر ہم نے حضرت شیخ اکبرؒ کے حوالہ جات سے کر دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
وكذالك عیسیٰ علیہ السلام اذا نزل الی الارض لا یحكم فینا الا بشریعۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم (”الیواقیت و الجواہر“ ج ٢، ص ٣٨)
”اسی طرح جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر نازل ہوں گے تو ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے۔“
صاف الفاظ ہیں کہ آسمان سے نازل ہونے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام جدید شریعت نہیں لائیں گے بلکہ شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر عمل پیرا ہوں گے۔ حضرت امام شعرانی حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کا قول نقل فرماتے ہیں:
١٤
وهذا باب اغلق بعد موت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فلا يفتح الا حدا الى يوم القيامة ولكن بقى للاولياء وحى الالهام الذى لا تشريع فيه ("اليواقيت والجواہر" ج٢، ص٣٧)
"اور یہ (نزول وحی نبوت کا) دروازہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بند ہوچکا ہے اور قیامت تک کسی کے لیے نہیں کھل سکتا۔ لیکن اولیاء کے لیے وحی الہام ہوتی رہے گی، جس میں شرعی احکام نہ ہوں گے"۔
اس عبارت نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ حضرت محی الدین ابن عربی اور امام شعرانی دونوں حضرات کا عقیدہ ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی نبوت بند ہو چکی ہے ہاں اولیاء اللہ کو الہام ہوتے ہیں، جن میں شرعی احکام یعنی اوامر و نواہی نہیں ہوتے، ان الہامات کو مبشرات کہا گیا ہے ان پر نبوت کا اطلاق نہیں ہوتا۔
امام شعرانی نے عقیدہ ختم نبوت کا اظہار فرمایا ہے اعلم ان الا جماع قد انعقد على انه صلی اللہ علیہ وسلم خاتم المرسلين كما انه خاتم النبيين ("اليواقيت والجواہر" ج٢، ص٣٧) "جان لے کہ اس عقیدہ پر امت کا اجماع منعقد ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں اسی طرح نبیوں کے بھی خاتم ہیں"۔
حضرت مولانا عبد الکریم جیلانی رحمتہ اللہ علیہ پر اتہام
قادیانی اعتراض : حضرت امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں (ترجمہ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت تشریعی بند ہو گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین قرار پا گئے کیونکہ آپ ایسی کامل شریعت لائے جو اور کوئی نبی نہ لایا۔ ("الانسان کامل" ج١، ص٩٨، مطبوعہ مصر)
جواب : حضرت محی الدین ابن عربی اور حضرت امام شعرانی کی طرح حضرت عبدالکریم جیلانی کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ نبی وہ ہوتا ہے جس پر وحی تشریعی نازل ہو
١٥
اور وحی تشریعی حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی پر نازل نہ ہوگی۔ انہوں نے کہیں نہیں لکھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد امت میں نئے نبی مبعوث ہوں گے۔ مرزائیوں میں ہمت ہے تو ان کی کوئی عبارت پیش کریں لیکن تمام امت مرزائیہ دم واپسیں تک ایسی کوئی عبارت پیش نہ کر سکے گی۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ پر بہتان
مرزائیوں نے حضرت شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ پر بھی یہ بہتان تراشا ہے کہ آپ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اجرائے نبوت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ اس افتراء کا حقیقی جواب تو لعنت اللہ علی الکاذبین ہی ہے۔ تفہیمات کے الفاظ میں کس لفظ کا معنی ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں نبی مبعوث ہوں گے؟ حضرت کے الفاظ ”اب کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے شریعت دے کر مامور کرے“ تشریعی اور غیر تشریعی کا فرق انہیں تین وجوہ کی بنا پر ہے‘ جو ہم تحریر کر چکے ہیں۔ ختم نبوت کے متعلق حضرت شاہ صاحب نے تحریر فرمایا ہے:
- (١) نیست محمد پدر ہیچ کس از مردمان شما و لیکن پیغمبر خدا است و مہر پیغمبران یعنی
بعد از وے ہیچ پیغمبر نباشد۔“ (فتح الرحمان زیر آیت خاتم النبیین) ترجمہ : حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے پیغمبر ہیں اور پیغمبروں پر مہر یعنی حضور کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔
- (٢) اقول ان النبوة انقضت بوفاة النبی صلی اللہ علیہ وسلم
(حجۃ اللہ البالغہ“ ج ٢‘ ص ٥٠٦)
”میں کہتا ہوں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔
- (٣) واعلم ان الدجاجلہ دون الدجال الاکبر کثرۃ ویجمعہم
امر واحد وھو انہم یذکرون اسم اللہ و یدعون الناس الیہ الی ان
١٦
قال فہم من یدعی النبوة ("تفہیمات الٰہیہ" ج ٢، ص ١٩) "جان لو کہ دجال اکبر سے پہلے بہت سے دجال آئیں گے اور سب میں یہ امر مشترک ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر لوگوں کو اس کی طرف دعوت دیں گے۔ ان دجالوں میں سے وہ دجال بھی ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے"۔
مرزائیوں کے قلوب میں اگر ذرہ بھر بھی خوف خدا اور انصاف ہو تو انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ (جنہیں مرزائی بارہویں صدی کا مجدد مانتے ہیں) حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اجرائے نبوت کے قائل تھے یا تمام مدعیان نبوت کو دجالوں کا گروہ قرار دیتے تھے؟
حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ پر بہتان
مرزائی اعتراض :حضرت مجدد الف ثانی فرماتے ہیں۔ (ترجمہ) خاتم الرسل علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مبعوث ہونے کے بعد خاص متبعین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور وراثت کمالات نبوت کا حاصل ہونا آپؐ کے خاتم الرسل ہونے کے منافی نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے اس میں شک مت کرو۔ (مکتوب نمبر ٣٠١، ص ٤٣٢، جلد اول، "مکتوبات امام ربانی رحمتہ اللہ علیہ)
جواب : کہاں مرزائیوں کا "اجرائے نبوت" جیسا باطل عقیدہ اور کہاں حضرت مجدد کے حقائق و معارف۔ حضرت کی مندرجہ بالا عبارت کے کن الفاظ کا مفہوم ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت مل سکتی ہے؟ عبارت کا مطلب تو یہ ہے کہ حضورؐ کی کامل اطاعت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کمالات نبوت عطا کئے جاتے ہیں نہ کہ انہیں نبی بنا دیا جاتا ہے۔ امت کے ذی شان افراد کو کون سے کمالات سے نوازا جاتا ہے؟ حضرت مجددؒ تحریر فرماتے ہیں۔
"مثل قلت حساب و کفارت زلات بشریت و ارتفاع درجات و مراعات صحبت فرشتہ مرسل کہ از اکل و شرب پاک است و کثرت ظہور خوارق کہ مناسب مقام
١٧
نبوت اند و امثال آں باید دانست کہ حصول ایں موہبت در حق انبیاء علیہم الصلوۃ والتسلیمات بے توسط است۔ در حق اصحاب انبیاء علیہم الصلوۃ و التحیات کہ بہ تبعیت و وراثت بایں دولت مشرف گشتہ اند بتوسط انبیاء است علیہم الصلوۃ والبرکات۔" (مکتوب نمبر ٢٠٤‘ حصہ پنجم‘ ص ١٤٢‘ ١٤٣)
مرزائیوں کو کون سمجھائے کہ حضرت مجدد رحمتہ اللہ علیہ کے ارشاد کے پیش نظر حساب میں آسانی‘ معمولی لغزشوں کی معافی‘ درجات کی بلندی‘ ملائکہ سے ملاقات اور کثرت ظہور خوارق ایسے کمالات نبوت حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے وسیلہ سے امت محمدیہ کے برگزیدہ افراد کو عطا کئے جاتے ہیں۔ یہ چند فضائل و کمالات اجزائے نبوت ہیں اور چند کمالات نبوت کے حصول سے نبوت نہیں مل جاتی۔ شجاعت‘ سخاوت وغیرہ صفات حسنہ بھی کمالات نبوت ہیں۔ کیا ہر شجاع اور ہر سخی مسلمان نبی بن جاتا ہے؟
حضرت والا اپنے عقیدہ کا اظہار ان الفاظ مبارکہ میں فرماتے ہیں:
حضرت عیسیٰ وعلیٰ نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود علیہ وعلیہم الصلوۃ والتسلیمات" (مکتوب نمبر ٦٧‘ دفتر سوم‘ ج ثالث‘ ص ٣٥)
ترجمہ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے تو آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی متابعت کا شرف حاصل کریں گے۔
”اول انبیاء حضرت آدم است‘ علیٰ نبینا وعلیہ و علیہم الصلوۃ والتسلیمات و التحیات و آخر شان و خاتم نبوت شان حضرت محمد رسول اللہ است علیہ و علیہم الصلوۃ والتسلیمات۔ (مکتوبات دفتر سوم‘ مکتوب نمبر ٦٧‘ ص ٣٥)
ترجمہ۔ سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور نبیوں میں سب سے آخر اور ان کی نبوت کو ختم کرنے والے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
صاف الفاظ ہیں کہ سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام نبی مبعوث ہوئے اور سب نبیوں کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ پس طے
١٨
حضور آخری نبی ہیں۔
حضرت نواب صدیق حسن خاں رحمتہ اللہ علیہ پر افتراء
مرزائی اعتراض : حضرت نواب صاحب فرماتے ہیں لا نبی بعدی آیا ہے جس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ (یعنی پہلی شریعت منسوخ کر کے نئی شریعت) لے کر نہیں آئے گا۔" ("اقتراب الساعۃ" ص ٢٤)
جواب : حضرت نواب صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے متعلق اتہام ہے کہ وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد "اجرائے نبوت" کا عقیدہ رکھتے تھے۔ ان کی کسی کتاب میں اس خلاف اسلام نظریہ کا شائبہ تک نہیں۔ لا نبی بعدی کے مفہوم میں "کوئی نبی شرع ناسخ لے کر نہیں آئے گا۔" اس لیے کہا گیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد از نزول نئی شریعت لا کر شریعت اسلامیہ کو منسوخ نہ کریں گے بلکہ خود اسی شریعت کی متابعت کریں گے۔
ان کا اپنا عقیدہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے۔
ہمارے حضرت خاتم النبیینؐ ہیں اور ناسخ جملہ شرائع ماقبل۔ آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول اور صفی ہیں۔ اول انبیاء آدم علیہ السلام ہیں اور آخر انبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم"۔ ("عقیدۃ السنی" مصنفہ حضرت نواب صدیق حسن خاں، ص ٢٧١)
حضرت مولانا عبدالحی صاحب لکھنوی رحمتہ اللہ علیہ پر بہتان
مرزائی اعتراض : "مولانا عبدالحی صاحب فرماتے ہیں۔ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یا زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے۔" (دافع الوسواس فی اثر ابن عباس نیا ایڈیشن، ص ١٦)
جواب : حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ایک حدیث
١٦
مروی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات زمینیں پیدا کی ہیں اور ہر زمین میں انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے۔ ایک گروہ اس حدیث کو قابل اعتبار نہیں سمجھتا دوسرا گروہ اسے صحیح و معتبر مانتا ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا عبدالحئی صاحب لکھنوی اس دوسرے گروہ میں شامل ہیں اس حدیث کی تحقیق و تشریح کے سلسلہ میں حضرت نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ نے تحذیر الناس” اور حضرت مولانا عبدالحئی صاحب لکھنوی رحمتہ اللہ علیہ نے آیات بینات علی وجود الانبیاء فی الطبقات” اور دافع الوسواس فی اثر ابن عباسؓ” اردو زبان میں اور زجر الناس علی انکار اثر ابن عباسؓ” عربی میں تحریر فرمائی ہیں۔ اختصار کے پیش نظر ہم حضرت مولانا عبدالحئی صاحب کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں۔
”پس اس امر کا اعتقاد کرنا چاہئے کہ خواتم طبقات باقیہ بعد عصر نبویہ نہیں ہوئے یا قبل ہوئے یا ہم عصر اور بر تقدیر اتحاد عصر وہ متبع شریعت محمدیہ ہوں گے اور ختم ان کا بہ نسبت اپنے حلقہ کے اضافی ہوگا اور ختم ہمارے حضرت کا عام ہوگا۔“ (فتویٰ مولانا عبدالحئی صاحب لکھنوی ملحقہ ”تحذیر الناس“ ص ٤٤)
حدیث کا مفہوم یہ ہے۔ کہ سات زمینیں ہیں اور ہر زمین میں ایک آخری نبی ہوگا۔ لیکن باقی چھ زمینوں میں سے ہر زمین کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں ہو سکتے۔ ”اگر حضورؐ کے زمانہ کے قبل ہوں تو جائے اعتراض نہیں اور اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر ہوں تو ان تمام کی خاتمیت اپنی زمین اور اپنے طبقہ کے لحاظ سے اضافی ہوگی اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت ان سب کے بعد اور حقیقی ہوگی اور وہ حضورؐ ہی کی شریعت کے متبع ہوں گے۔ رہا یہ ارشاد کہ ”بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یا زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مجرد کسی نبی کا آنا محال نہیں بلکہ نئی شریعت والا البتہ ممتنع ہے“ یہ نزول حضرت مسیح علیہ السلام کے پیش نظر فرمایا ہے۔ حضرت مسیح حضورؐ
٢٠
علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد نازل ہوں گے کوئی نئی شریعت نہ لائیں گے بلکہ حضور ہی کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے۔
حضرت مولانا عبدالحی صاحب عقیدہ ختم نبوت کے متعلق اپنے ایک فتویٰ میں حضرت علامہ ابو شکور سالمی کی مندرجہ ذیل عبارت نقل فرماتے ہیں۔
اعلم ان الواجب علی کل عاقل ان یعتقد ان محمدا کان رسول اللہ والان ھو رسول اللہ وکان خاتم الانبیاء ولا یجوز بعدہ ان یکون احد انبیاء ومن ادعی النبوۃ فی زماننا یکون کافرا۔ ("فتاویٰ مولانا
عبدالحی لکھنوی" جلد اوّل' ص٩٩)
جاننا چاہئے کہ ہر عاقل پر واجب ہے کہ یہ اعتقاد رکھے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول تھے اور اب بھی رسول ہیں اور آپ تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں آپ کے بعد کسی کا نبی بننا جائز نہیں اور جو آج ہمارے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرے وہ کافر ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ پر افتراء
مرزائی اعتراض۔ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند فرماتے ہیں۔
(الف) ”سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔“ (”تحذیر الناس“ ص ٣)
(ب) ”اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ (”تحذیر الناس“ ص ٢٨)
جواب : قادیانیوں کا حضرت نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ پر بہت بڑا اتہام ہے کہ وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اجرائے نبوت کے مقر تھے۔ حضرت والا
٢٦
نے کتاب تحذیر الناس ختم نبوت کے اثبات کے لیے لکھی اور اس میں ختم نبوت کے ناقابل تردید دلائل پیش کئے۔ اس کا موضوع ہی خاتمیت ذاتی و زمانی و مکانی کی حمایت و حفاظت ہے۔ تحذیر الناس کی صفحہ ٣ کی عبارت کو ہم عام فہم الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔
خاتمیت کی تین اقسام ہیں (١) خاتمیت مرتبی (٢) خاتمیت مکانی (٣) خاتمیت زمانی‘ حضرت نانوتوی نے لکھا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتمیت کے تینوں مرتبوں کے ساتھ متصف ہیں۔ لیکن قابل غور یہ امر ہے کہ خاتمیت کے ان تینوں مراتب میں دلائل و براہین کے لحاظ سے اعلیٰ اور افضل یا بالفاظ دیگر بالذات و بالاصالت کون سا مرتبہ ہے؟ عوام تو یہ خیال کرتے ہیں کہ چونکہ حضورؐ کا زمانہ سب انبیاء سے آخر تھا‘ صرف اس وجہ سے آپؐ خاتم الانبیا ہیں۔ مگر یہی ایک وجہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف و مجد زمانہ اور مکان کی وجہ سے ہوا حضورؐ کی وجہ سے زمان و مکان کو شرف نہ ہوا حالانکہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین فرمانا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے؟ اس لحاظ سے ثابت ہو گا کہ حضور کی جلالت شان اور رفیع منزلت ذات کے مناسب حال بالذات خاتمیت مرتبی ہے اور اس اعلیٰ و افضل مرتبہ کے ساتھ خاتمیت زمانی بھی آپؐ کے لیے ثابت ہے اور خاتمیت مکانی بھی آپؐ پر ختم ہے۔
مرزائی محرفین نے اپنی روایتی چالبازی سے دھوکہ اور فریب دینے کے لیے ”تحذیر الناس“ کے صفحہ ٢٨ سے محولہ بالا ادھورا حوالہ نقل کر دیا۔ اگر وہ پوری عبارت نقل کر دیتے تو ان کی فریب دہی کا پردہ چاک ہو جاتا اور ان کے ٹریکٹ کے قارئین کو علم ہو جاتا کہ حضرت نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ کا ارشاد کیا ہے۔ پوری عبارت یہ ہے۔
”ہاں اگر خاتمیت بمعنی اتصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول اللہ صلعم اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل
٢٢
نبوی صلعم نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیا کے افراد خارجی پر آپ کی فضیلت ثابت نہ ہوگی افراد مقدرہ پر بھی آپ کی افضیلت ثابت ہو جائے گی بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا چہ جائے کہ آپ کے معاصر کسی اور زمین میں یا فرض کیجئے اسی زمین میں کوئی اور نبی تجویز کیا جائے بالجملہ ثبوت اثر مذکور دونا مثبت خاتمیت ہے۔ معارض و مخالف خاتم النبیین نہیں۔"
("تحذیر الناس" ص٢٨)
اس سے ظاہر ہے کہ یہاں خاتمیت ذاتی کا ذکر ہے خاتمیت زمانی کا نہیں۔ حضرت فرماتے ہیں اگر بالفرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یا آپؐ کے بعد اور کوئی نبی ہو تب بھی آپ کی اس خاتمیت ذاتی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔ رہی خاتمیت زمانی اس کا یہاں کوئی ذکر نہیں اگر کوئی بدفہم اسکا مطلب یہ سمجھے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد اور نبی ہو سکتے ہیں تو حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ کافر ہوگا اسی تحذیر الناس میں حضرت تحریر فرماتے ہیں "سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو ثبوت خاتمیت زمانی ظاہر ہے۔ ورنہ بتسلیم لزوم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصریحات نبوی مثل انت منی بمنزلہ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی او کما قال جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔ اس باب میں کافی ہے کیونکہ یہ مضمون درجہ تواتر کو پہنچ گیا ہے پھر اس پر اجماع بھی منعقد ہوگیا گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہوں۔ سو یہ عدم تواتر الفاظ باوجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تواتر اعداد رکعات فرائض و وتر وغیرہ باوجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں جیسا اس کا منکر کافر ہے۔ ایسا ہی اس کا منکر بھی (ختم نبوت زمانی) کافر ہوگا۔"
(تحذیر الناس ص١٠)
کس قدر واضح الفاظ ہیں کہ خاتمیت زمانی کا منکر ایسا ہی کافر ہے جیسا کہ دوسری ضروریات دین اور قطعیات دین کا منکر کافر ہے۔
اس عبارت میں حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے فرضی اور تقدیری طور پر اگر کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور اس مفروضہ کے لیے لفظ اگر پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ لفظ
٢٣
بالفرض ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ تاکہ کسی مفسد کو دھوکا دینے کا موقع نہ مل سکے۔ اگر کوئی جاہل کہے کہ ایسے مفروضہ کی کیا ضرورت تھی تو اسے باری تعالیٰ کا ارشاد سنا دینا چاہئے۔ قل ان کان للرحمن ولد فانا اول العابدین (زخرف نمبر ٨١) اے نبی آپ کہہ دیجئے اگر بالفرض خدا تعالیٰ کا بیٹا ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والوں میں ہوں گا۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کا فارسی ترجمہ کرتے ہیں۔ "بگو اگر بالفرض باشد خدا را فرزندے پس من نخستین عبادت کنندگان باشم"
مرزائی منطق کی رو سے اس آیت سے ثابت ہوگا کہ خدا تعالیٰ کا بیٹا ہونا ممکن ہے اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا تعالیٰ کے اس مفروض بیٹے کی عبادت کرنا بھی ممکن ہوگا (معاذ اللہ) کیا اس آیت کا یہی مفہوم ہے؟ ایک معمولی عقل والا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ فرضی اور تقدیری بات ہے نہ یہ کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا بیٹا تسلیم کیا جائے یا اسکے امکان پر اس آیت کو دلیل بنا کر لوگوں کو مغالطہ دیا جائے۔
حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے ختم نبوت کے متعلق اپنے عقیدہ کا اظہار فرمایا ہے۔
- ١۔ خاتمیت زمانی اپنا دین و ایمان ہے۔ ناحق کی تہمت کا البتہ کچھ
علاج نہیں" ("مناظرہ عجیبہ" مصنفہ حضرت نانوتویؒ ص ٣٩)
- ٢۔ "اپنا دین و ایمان ہے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور
نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس میں تامل کرے اس کو کافر سمجھتا ہوں۔" ("مناظرہ عجیبہ" ص ١٠٠)
حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ پر اتہام
مرزائی اعتراض۔ جلیل القدر امام حضرت ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں۔ یعنی اگر صاحب زادہ ابراہیمؑ زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے اور اسی طرح حضرت عمرؓ نبی بن
٢٤
جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع یا امتی نبی ہوتے جیسے عیسیٰ، خضر، الیاس علیہم السلام ہیں اور یہ صورت خاتم النبیین کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ خاتم النبیین کے تو یہ معنی ہیں کہ اب حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اور آپ کا امتی نہ ہو۔"
(”موضوعات کبیر“ ص٥٩)
جواب۔ اس حدیث کے ضعف کے متعلق ہم بلند پایہ محدثین کے اقوال نقل کرچکے ہیں۔ اس مجروح روایت میں حرف لو آیا ہے جو زبان عرب میں ناممکنات اور محالات کے لیے آتا ہے۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ پیغمبروں کا نام لے کر اور باقی انبیاء علیہم السلام کا اجمالاً ذکر کر کے فرمایا۔
ولو اشركو لحبط عنهم ما كانو يعملون
(”سوره انعام“ آیت ٨٨)
اگر یہ پیغمبر بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے تمام اعمال برباد ہو جاتے۔
اس آیت میں تعلیق بالمحال ہے یعنی حرف لو سے یہ مسئلہ فرضی طور پر بیان کیا گیا ہے کہ بالفرض اگر نبی بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراتے تو ان کے تمام اعمال اکارت اور ضائع ہو جاتے۔ کیا مرزائیوں کے مذہب میں اس سے یہ استدلال صحیح ہو گا کہ نبیوں سے بھی شرک ہو سکتا ہے؟ نعوذ باللہ منہ۔
حضرت ملا علی قاریؒ مندرجہ بالا عبارت کی تشریح کرتے ہیں۔
لا يحدث بعده نبی لا نه خاتم النبيين السابقين وفيه ايما الی انه لو كان بعده نبی لكان عليا وهو لا ينا في ماورد فی حق عمرؓ صريحا لان الحكم فرضی فكانه قال لو تصور بعدى لكان جماعته من اصحابى انبياء ولكن لا نبي بعدي و هذا معنى قوله صلی اللہ علیہ وسلم لو عاش ابراهيم لكان نبيا
(”مرقات“ مصنفه ملا علی قاریؒ ج پنجم، ص٥٧٣)
ترجمہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی کیونکہ آپ پہلے نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ اگر آپ کے بعد کوئی نبی ہو سکتا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی ہوتے اور یہ حدیث اور اسی طرح
٢٥
وہ حدیث جو صراحت کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں آئی ہے۔ خاتم النبیین کی آیت کے منافی نہیں کیونکہ یہ حکم فرضی اور تقدیری طور پر ہے۔ گویا یہ کہا گیا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی تصور کیا جا سکتا تو میرے فلاں اور فلاں صحابی نبی ہوتے، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں بن سکتا اور یہی معنی اس حدیث کا کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو نبی ہوتا۔
توضیح فرمادی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں وہ تمام فرضی طور پر اور تقدیری طور پر بیان ہوئی ہیں۔ اگر بالفرض حضورؐ کے بعد اور کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ حضرت علیؓ اور حضرت ابراہیم ہوتے لیکن آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ اس لیے یہ حضرات بھی نبی نہ ہو سکے۔ حضرت ملا علی قاری نے اپنے عقیدہ کے متعلق لکھا ہے۔
دعوى النبوة بعد نبينا صلى الله عليه وسلم كفر بالاجماع (”شرح فقہ اکبر“ ص ٢٠٢)
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع امت کفر ہے۔
مرزائی اعتراض۔ ”مودودی صاحب کے پیش کردہ اقوال کے قائلین میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امتی نبی کا آنا بند ہے۔ اگر ایسا ایک قول بھی مودودی صاحب پیش کر سکتے ہوں تو ہماری طرف سے انہیں چیلنج ہے مگر وہ ایسا ہرگز نہیں کر سکتے۔ (پمفلٹ‘ ص٥)
جواب۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدعیان نبوت کاذبہ ”امتی نبی“ ہی کہلائیں گے۔ جیسا کہ مخبر صادق حضرت نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے۔
سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى هذا حديث صحيح۔ (مشکوٰۃ کتاب الفتن)
٢٦
یقیناً میری امت میں تیس کذاب ہوں گے جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔
مودودی صاحب آپ کے اس چیلنج کا جواب نہیں دیتے تو یہ ان کا اور آپ معاملہ ہے ہمیں اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ محتسب را درون خانہ چہ کار۔
اگر آپ کو ہمت ہے تو ہمیں چیلنج دیجئے دنیا دیکھے گی کہ ہم آپ کے مقابلہ کے پرخچے اڑا کر روز روشن میں آپ کو کیسے تارے دکھاتے ہیں۔
جلا کے خاک نہ کر دوں تو داغ نام نہیں
بزرگان امت کی نسبت مرزائی عقیدہ
مرزائی عامتہ المسلمین کو فریب دینے کی غرض سے بزرگان دین کا نام لیتے ہیں۔ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور۔ اکابرین امت کی نسبت ان کا عقیدہ یہ ہے۔
- (١) ”بعض نادان صحابی جن کو درایت سے کچھ حصہ نہ تھا وہ ابھی اس عقیدہ
سے بے خبر تھے کہ کل انبیاء فوت ہو چکے ہیں (”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، ص ٦٠، مرزا غلام احمد، ”روحانی خزائن“ ص ٢٨٤، ج ٢١)
- (٢) اس لیے یاد رکھو کہ پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت لو ایک زندہ
علی تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی کی تلاش کرتے ہو۔“ (”ملفوظات احمدیہ“ ص ١٣١، ج ١، مطبوعہ لاہور، ملفوظ مرزا غلام احمد)۔۔۔ ”ملفوظات احمدیہ“ ربوہ و لندن، ص ١٤٢، ج ٢)
- (٣) ”اقوال سلف وخلف کوئی مستقل حجت نہیں“ (”ازالہ اوہام“ مصنفہ مرزا
غلام احمد، ص ٥٢٨، ”روحانی خزائن“ ص ٣٨٩، ج ٣)
- (٤) ”امت کا کورانہ اتفاق یا اجماع کیا چیز ہے؟“ (”ازالہ اوہام“ ص ١٣،
”روحانی خزائن“ ص ١٧١، ج ٣)
٢٧
- (٥) ”ہمارے مخالف سخت شرمندہ اور لاجواب ہو کر آخر کو یہ عذر پیش کر دیتے
ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھالی۔“ (”ضمیمہ براہین احمدیہ“ حصہ پنجم، مصنفہ مرزا غلام احمد، ص ١٤٢، ”روحانی خزائن“ ص ٢٩٠، ج ٢١)
یہ ہے صحابہؓ، ائمہ اور اولیائے امت کی نسبت مرزائیوں کا عقیدہ کہ (نعوذ باللہ من ذلک) انہیں یہود سے مشابہت دی گئی اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ قادیانی نبوت کی حفاظت کے لیے (معاذ اللہ) انہیں مثیل یہود کے اقوال کو پناہ گاہ بنایا گیا ہے۔ تلک اذا قسمۃ ضیزیٰ۔
عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام کی اہمیت
عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانا فرض ہے۔ اس کا انکار کفر ہے۔ اور اس میں تاویل کرنا زیغ و ضلال اور کفر و الحاد ہے۔
(فقیہ العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)
٢٨
سالانہ رد قادیانیت کورس
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ہر سال ٥ شعبان سے ٢٨ شعبان تک مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ میں ”رد قادیانیت وعیسائیت کورس“ ہوتا ہے۔ جس میں ملک بھر کے نامور علماء کرام و مناظرین لیکچرز دیتے ہیں۔ علماء ‘ خطباء اور تمام طبقہ حیات سے تعلق رکھنے والے اس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ تعلیم کم از کم درجہ رابعہ یا میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔ ......... رہائش‘ خوراک ‘ کتب و دیگر ضروریات کا اہتمام مجلس کرتی ہے۔
رابطہ کے لئے
(مولانا) عزیز الرحمن جالندھری
ناظم اعلیٰ: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضرت مسیح علیہ السلام
مرزا قادیانی کے نظریہ میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
توہین انبیاء کفر ہے
حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی جماعت اس کائنات میں سب سے افضل و اکمل اور مقدس ترین جماعت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے منصب رسالت و نبوت کے لیے منتخب کیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کی تحقیر و تنقیص چونکہ اس منصب رفیع کی توہین ہے، اس لیے باجماع امت یہ بدترین کفر و ارتداد ہے۔ جیسا کہ قاضی عیاض مالکیؒ اپنی بے نظیر کتاب ”الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم“ میں حافظ ابن تیمیہ الحنبلی نے ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ وسلم“ میں، شیخ تقی الدین السبکی الشافعیؒ نے ”السیف المسلول علی من سب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم“ میں، شیخ ابن عابدینؒ الحنفی نے ”تنبیہ الولاۃ و الحکام“ میں اور ان سب سے پہلے الامام المجتہد قاضی ابو یوسفؒ نے ”کتاب الخراج“ میں اس کی تصریح کی ہے کہ ایسا شخص مرتد اور واجب القتل ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر و ارتداد کے وجوہ بے شمار ہیں۔ ان میں سے ایک خبیث ترین سبب یہ ہے کہ مرزا نے قریب قریب تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی مختلف عنوانات سے تنقیص کی ہے۔ خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں تو مرزا نے ایسی گستاخیاں کی ہیں، جن سے پہاڑوں کے جگر شق ہو جائیں۔ قادیانی امت مرزا کی ان مغلظات پر تاویلات کا پردہ ڈالنا چاہتی ہے لیکن تاویلات کے ذریعہ سیاہ کو سفید کر دکھانا، رات کو دن ثابت کرنا اور کفر و ارتداد کو عین اسلام بنانا ناممکن ہے۔
مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب رحمتہ اللہ کو حق تعالیٰ شانہ جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اس رسالہ میں ایک طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس مقام و مرتبہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے، جو قرآن کریم کی آیات بینات سے ثابت ہے اور دوسری طرف مرزا غلام احمد قادیانی کی ان دل خراش اور ایمان سوز عبارتوں کو جمع کر کے ان تمام تاویلات اور معذرتوں کا جائزہ لیا ہے، جو اس سلسلہ میں خود مرزا صاحب یا ان کے مریدوں کی طرف سے پیش کی جاتی ہیں۔ جن لوگوں کی قسمت میں ایمان نہیں یا جنہوں نے مرزا صاحب کی محبت میں عقل و
شعور کے سارے دریچے بند کر دیئے ہیں۔ (ختم اللہ علی قلوبھم و علی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ) ان کے حق میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔ لیکن جن کے دل میں حق و انصاف کی کوئی رمق یا عقل و شعور کی ادنیٰ حس بھی موجود ہے‘ اگر وہ اس رسالہ کا ٹھنڈے دل سے مطالعہ کریں گے تو ان پر انشاء اللہ یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تحقیر و تنقیص کر کے اپنے لیے کون سا مقام منتخب کیا ہے؟
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ رسالہ اس سے پہلے دو بار شائع ہو چکا ہے اور یہ تیسری اشاعت آپ کے ہاتھوں میں ہے لیکن قادیانی صاحبان اس کا آج تک کوئی جواب نہیں دے سکے اور نہ انشاء اللہ قیامت تک اس کا کوئی معقول جواب دیا جا سکتا ہے۔
بہر حال یہ رسالہ جہاں قادیانیوں کے لیے دعوت غور و فکر ہے‘ وہاں ہمارے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی تازیانہ عبرت ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے باپ دادا یا ماں بہنوں کے حق میں وہ الفاظ استعمال کرے‘ جو مرزا صاحب نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حق میں استعمال کیے ہیں تو ہمارا رد عمل کیا ہوگا؟
اسی سے وہ یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ مرزا صاحب کے بارے میں ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا کیا ہے؟ حق تعالیٰ شانہ اس رسالہ کو قبول فرما کر حضرت مولفؒ کے لیے صدقہ جاریہ بنائیں اور آپ اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنائیں۔ (وللہ الحمد اولا و اخرا)
محمد یوسف لدھیانوی ٢٨-٤-١٤٠٤ھ‘ مطابق ٢٣-٢-١٩٨٤ء
٣
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله وحده والسلام على من لا نبي بعده
امت مرزائیہ کی الجھن
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے فضائل و معجزات اور ان کی حیات جسمانی کا ذکر فرمایا ہے۔ انگریز کے قانون اور اس کی پولیس کی حفاظت میں مرزا غلام احمد قادیانی نے قرآن و حدیث اور اجماع امت کے خلاف نیا عقیدہ گھڑ لیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے تھے اور آنے والا مسیح میں ہوں۔ دعویٰ مسیحیت کی رقابت کے باعث مرزا غلام قادیانی نے اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین و تذلیل کے لیے بہتان طرازی اور افتراء پردازی کا ایسا ریکارڈ قائم کیا کہ جس نے یہودیوں کے بہتان عظیم کو بھی مات کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے ایک محبوب نبی کی توہین سے مرزا قادیانی کا یہ مقصد معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی تنقیص سے میری مسیحیت کی شان ظاہر ہوگی۔ مرزا نے لکھا ہے:
”ایسے جاہلوں کا ہمیشہ سے یہی اصول ہوتا ہے کہ وہ اپنی بزرگی کی پنسڑی جمنا اسی میں دیکھتے ہیں کہ ایسے بزرگوں کی خواہ مخواہ تحقیر کریں۔“ (”ست بچن“ ص٨٧‘ ”روحانی خزائن“ ص١٢٠ ج١٠)
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی خود ساختہ نبوت و مسیحیت کی ”پنسڑی جمانے“ کے لیے حقیقی مسیح علیہ السلام کی ذات گرامی کے متعلق وہ سوقیانہ اور مغلظ گالیاں تحریر کی ہیں کہ جنہیں کوئی شریف انسان سننا گوارا نہیں کر سکتا۔ امت مرزائیہ عجیب الجھن میں گرفتار ہے۔ نہ اپنے ”مسیح موعود“ کی متعفن عبارات کا انکار کر سکتی ہے‘ نہ ہی حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین سے ”قادیانی جعلی مسیح“ کی برات کر سکتی ہے‘
٤
نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔
قادیانی پمفلٹ
کبھی کبھار کوئی پمفلٹ یا مضمون شائع کر کے اپنے دام افتادوں کو تسلی دی جاتی ہے کہ ہم ”انڈین مسیح موعود“ کا حق نمک ادا کر رہے ہیں۔ چنانچہ ایک پمفلٹ ”نمبر ٦ حضرت مریم صدیقہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مقام“ کلکتہ (ہندوستان) کی قادیانی جماعت نے شائع کیا۔ اسے پاکستان میں بھی تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں فریب کاری اور افتراء پردازی سے اپنے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات‘ متعلقہ توہین حضرت مسیح علیہ السلام پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ قادیانی مصنف نے لکھا ہے کہ مسیح موعود نے حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین نہیں کی اور حضرت مریم کے حمل کو ناجائز حمل نہیں کہا۔ دیدہ دلیری کی انتہا یہ ہے کہ ”کشتی نوح“ ص ١٦ کا ادھورا حوالہ نقل کر دیا۔ اگر پوری عبارت نقل کر دیتا تو حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی اور مرزا قادیانی کے عقیدہ کا عامۃ الناس کو علم ہو جاتا۔ پمفلٹ نویس نے ”کشتی نوح“ سے مندرجہ ذیل عبارت نقل کی ہے۔
”اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا‘ پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔“ (”کشتی نوح“ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی‘ ص ١٦‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٨‘ ج ١٩)
قادیانی ایڈوکیٹ نے ادھورا حوالہ نقل کر کے سمجھ لیا کہ ہم ”قادیانی مینارۃ المسیح“ کے گنبد میں مستور و محفوظ ہو گئے۔ اصل کتاب کون دیکھے گا‘ بات بن جائے گی یا کم از کم لوگوں کو شک تو ضرور پڑ جائے گا کہ مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ناجائز حمل سے پیدا ہونے والا نہیں لکھا۔ ہم مرزا غلام احمد کی پوری عبارت نقل کرتے ہیں۔ اس سے حق کے متلاشیوں کو اصل حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔
بوجہ حمل مریم کا ناجائز نکاح
٥
مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:
- (١) "میں مسیح ابن مریم کی بہت عزت کرتا ہوں، کیونکہ میں روحانیت کی رو
سے اسلام میں خاتم الخلفا ہوں۔ جیسا کہ مسیح ابن مریم اسرائیلی سلسلہ کے لیے خاتم الخلفا تھا۔ موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں، میں مسیح موعود ہوں، سو میں اس کی عزت کرتا ہوں۔ جس کا ہم نام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے، وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا، بلکہ مسیح تو مسیح، میں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں۔ کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں۔ نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے، جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا، پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا، گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیوں کر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی بنیاد کیوں ڈالی گئی۔ یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں، جو پیش آگئیں۔ اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔" ("کشتی نوح" ص ١٦، "روحانی خزائن" ص ١٨، ١٩ ج ١٩)
مسیح علیہ السلام کا باپ حقیقی بھائی اور بہنیں
مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- (٢) حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت
تک نجاری (بڑھئی ناقل) کا کام بھی کرتے رہے ہیں"۔ ("ازالہ اوہام" ص ٤٧١، "روحانی خزائن" ص ٢٥٤، حاشیہ، ج ٣)
- (٣) یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی
اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔" ("کشتی نوح"
ص ٤١ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٨‘ ج ١٩)
- (٤) آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض
رہتے تھے۔ (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٦‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٩٠‘ ج ١١)
نکاح سے پہلے حمل
- (٥) حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا
اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے مگر خواتین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے، جس کو برا نہیں مانتے۔ بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں۔ کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناتے کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں، جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔ (”ایام الصلح“ اردو‘ حاشیہ ص ٧٢‘ ”روحانی
خزائن“ ص ٣٠٠‘ ج ١٤)
- (٦) رسوم و عادات است بایں معنی کہ افاغنہ مثل یہود فرقے میان نسبت و
نکاح نہ کردہ دختران از ملاقات و مخالطت با منسوب مضایقت نہ گزیند‘ مثلاً اختلاط مریم صدیقہ با منسوب خودش یوسف و بمعیت وے خارج بیت گردش نمودن شہادۃ حقہ بر ایں رسم است در بعضے از قبائل خواتین جبال مخالطت دختران بمنسوبان بہ نحوے جاری و ساری است کہ غالب اوقات را دخترے قبل از اجرائے مراسم نکاح آبستنی شدہ و عادتاً محل عار و شنار قوم نگردیدہ اغماض و اعراض ازاں مے شود، چہ ایں مردم از تشبہ یہود نسبت را در رنگ نکاح داشتہ تعیین کابین، ہم دراں مے کنند“ (”ایام
الصلح“ فارسی‘ ص ٦٥‘ حاشیہ‘ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس‘ قادیان ١٨٩٨ء اگست)
مرزائیو : محولہ بالا حوالہ جات عربی نہیں متوفیک و رافعک کی علمی بحث نہیں، اردو اور فارسی کی صاف صاف عبارتیں ہیں۔ پاک و ہند میں لاکھوں غیر مسلم اردو اور فارسی جاننے والے موجود ہیں۔ ان کو ہی دکھالو اور ان سے فیصلہ کرالو کہ ان عبارات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام یوسف نجار کے بیٹے ثابت ہوتے ہیں یا نہیں؟
مندرجہ بالا حوالہ جات کے پیش نظر ان سوالوں کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟
- ١۔ کیا یوسف نجار نامی کوئی شخص (نعوذ باللہ) حضرت مسیح علیہ السلام کا باپ
تھا؟
- ٢۔ کیا حضرت مسیح علیہ السلام کے حقیقی بھائی اور بہنیں تھیں؟
- ٣۔ حقیقی بھائی بہن کی تعریف کیا ہے؟ جن کے ماں باپ ایک ہوں یا اور کوئی
لغت قادیاں اور موڈی نگر (ربوہ) میں نئی ایجاد ہوئی ہے؟
- ٤۔ کیا قرآن مجید کی کوئی آیت یا کوئی صحیح حدیث پیش کر سکتے ہو کہ حضرت
مریم صدیقہ کا نکاح یوسف نجار سے ہوا تھا اور اس سے حضرت مریم کی اولاد ہوئی!
- ٥۔ حضرت مریم نے اللہ تعالیٰ سے بتول (کنواری) رہنے کا جو عہد کیا تھا، اس
عہد کی خلاف ورزی کر کے مریم کامل مومنہ رہیں؟
- ٦۔ کیا حضرت مریمؑ کو حمل پہلے ہوا اور نکاح بعد؟ کس مستند اور غیر محرف
کتاب میں یہ واقعہ لکھا ہے؟
- ٧۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے باپ کا ذکر کر کے مرزا غلام احمد نے یہودیوں
کی ہمنوائی کی ہے یا نہیں؟
- ٨۔ حضرت مریمؑ کی مجبوریوں کا ذکر کس آیت یا کس حدیث میں ہے؟
- ٩۔ کس کتاب میں لکھا ہے کہ بعض سرحدی پٹھان قبیلوں کی لڑکیاں نکاح سے
پہلے اپنے منسوبوں سے حاملہ ہو جاتی ہیں؟ اس کتاب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
- ١٠۔ حضرت مریم کا نکاح سے پہلے اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ اختلاط کا
کیا مفہوم ہے؟ قبل از نکاح اپنے منسوبوں سے حاملہ ہونے والی لڑکیوں کے ساتھ حضرت مریم کو تشبیہ دینے سے کیا تمہارے ”نبی“ کی غرض یہ نہ تھی کہ انہیں لڑکیوں کی طرح (معاذ اللہ) مریمؑ حاملہ ہوئیں؟
مرزا غلام احمد کی عبارت کا صاف مفہوم یہ ہے:
- ١۔ حضرت مریم اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل از نکاح اختلاط کرتی
٨
تھی اور اس کے ساتھ گھر سے باہر چکر لگایا کرتی تھیں اور پٹھانوں کے بعض قبائل کی لڑکیوں کی طرح نکاح سے پہلے حاملہ ہو گئی تھی۔
- ٢- مریم کامل ایماندار نہ تھی، کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ سے کنواری رہنے کا
عہد کیا تھا، لیکن نکاح کر کے اپنے عہد کی خلاف ورزی کی اور نکاح بھی ایام حمل میں کیا جو ناجائز تھا۔
- ٣- موسوی شریعت کی رو سے یہودیوں میں ایک بیوی کی موجودگی میں دوسری
بیوی ناجائز تھی۔ اس لیے حضرت مریم کی یوسف نجار سے نسبت اور نکاح ناجائز ہوئے۔ لہٰذا (معاذ اللہ) حسب تصریح مرزا غلام احمد حضرت مریم کے چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کی پیدائش بھی ناجائز تھی۔
- ٤- حضرت مریم کا ناجائز نکاح بزرگان قوم نے اس مجبوری کی وجہ سے کیا کہ
وہ حاملہ ہو گئی تھی۔
- ٥- نکاح سے پہلے کا حمل یوسف نجار ہی کا تھا۔ کیونکہ یوسف نجار سے حضرت
مریم کی جو اولاد پیدا ہوئی، مرزا غلام احمد انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں قرار دیتا ہے۔ حقیقی بھائی بہن وہ ہوتے ہیں، جو ایک ماں باپ سے ہوں، اگر ماں ایک اور باپ مختلف ہوں تو ایسے بہن بھائی اخیافی کہلاتے ہیں۔ اگر باپ ایک اور مائیں الگ الگ ہوں تو انہیں علاقی کہا جاتا ہے۔
حضرت مسیح کا خاندان
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
- ٦- ”آپ (یسوع مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں
اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٧، حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٢٩١، ج ١١)
- ٧- ہاں مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے، اس کا جواب بھی
کبھی آپ نے سوچا ہوگا، ہم تو سوچ کر تھک گئے۔ اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا، کیا ہی خوب خدا ہے، جس کی دادیاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں۔“ (”نور
٩
(”الحکم“ نمبر٤٢‘ ص١٢ ”روحانی خزائن“ ص٤٩٤‘ ج٩)
مسیح علیہ السلام کا چال چلن
مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ٨۔ ”مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ‘ پیو‘ شرابی۔ نہ زاہد‘ نہ عابد‘ نہ حق کا پرستار‘ متکبر‘ خودبین‘ خدائی کا دعویٰ کرنے والا“ (”مکتوبات احمدیہ“ جلد نمبر٣‘ ص٢٣-٢٤)
- ٩۔ یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا‘ اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔“ (”کشتی نوح“ ص٦٥‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٧١‘ ج١٩)
- ١٠۔ ”میرے نزدیک مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا۔ (”ریویو آف ریلیجنز“ جلد١‘ ص١٤٤‘ ١٩٠٢ء)
- ١١۔ ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے۔ پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی‘ لیکن اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“ (”نسیم دعوت“ طبع دوم‘ ص٦٩‘ ”روحانی خزائن“ ص٤٣٤‘ ج١٩)
- ١٢۔ یسوع اس لیے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے‘ چنانچہ خدائی کا دعویٰ شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔“ (”ست بچن“ ص١٢٩‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٢٩٦‘ ج١٠)
- ١٣۔ آپ (یسوع مسیح) کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زناکاری کی کمائی کا
پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔" ("ضمیمہ انجام آتھم" ص ٧، حاشیہ، "روحانی خزائن" ص ٢٩١، ج ١١)
- ١٤۔ ایک کنجری خوبصورت ایسی قریب بیٹھی ہے، گویا بغل(١) میں ہے۔ کبھی
ہاتھ لمبا کر کے سر پر عطر مل رہی ہے کبھی پیروں کو پکڑتی ہے اور کبھی اپنے خوشنما اور سیاہ بالوں کو پیروں پر رکھ دیتی ہے اور مرد تماشہ دیکھ رہا ہے۔ یسوع صاحب اس حالت میں وجد میں بیٹھے ہیں اور کوئی اعتراض کرنے لگے تو اس کو جھڑک دیتے ہیں اور طرفہ یہ کہ عمر جوان اور شراب پینے کی عادت اور پھر مجرد اور ایک خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے۔ جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے، کیا یہ نیک آدمیوں کا کام ہے اور اس پر کیا دلیل ہے کہ اس کسبی کے چھونے سے یسوع کی شہوت نے جنبش نہیں کی تھی۔ افسوس کہ یسوع کو یہ بھی میسر نہیں تھا کہ اس فاسقہ پر نظر ڈالنے کے بعد اپنی کسی بیوی سے صحبت کرلیتا۔ کم بخت زانیہ کے چھونے سے اور ناز و ادا کرنے سے کیا کچھ نفسانی جذبات پیدا ہوئے ہوں گے اور شہوت کے جوش نے پورے طور پر کام کیا ہوگا۔ اسی وجہ سے یسوع کے منہ سے یہ بھی نہ نکلا کہ اے حرام کار عورت مجھ سے دور رہ اور یہ بات انجیل سے ثابت ہوتی ہے کہ وہ عورت طوائف میں سے تھی اور زناکاری میں سارے شہر میں مشہور تھی۔" ("نور القرآن" نمبر ٢، ص ٣٧٧، ٣٧٨، "روحانی خزائن" ص ٤٣٩، ج ٩)
برتن سے وہی ٹپکتا ہے، جو اس میں ہوتا ہے۔ محولہ بالا عبارت میں مرزائی تہذیب نے برہنہ رقص کیا ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اس عبارت کے مکروہ الفاظ انجیل میں نہیں ہیں۔ مرزا نے یسوع اور انجیل کا نام لے کر دل کی بھڑاس نکالی ہے اور اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ ہم انجیل کی اصل عبارت نقل کرتے ہیں تاکہ عامتہ الناس اندازہ لگا سکیں کہ مرزا قادیانی نے کس قدر کذب بیانی اور افتراء پردازی اور بہتان طرازی کا مظاہرہ کیا ہے۔
"پھر کسی فریسی نے اس یسوع مسیح سے درخواست کی کہ میرے ساتھ کھانا
١١
کہا‘ پس وہ اس فریسی کے گھر جا کر کھانا کھانے بیٹھا تو دیکھو ایک بدچلن عورت جو اس شہر کی تھی۔ یہ جان کر کہ وہ اس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے۔ سنگ مرمر کی عطردانی میں عطر لائی اور اس کے پاؤں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہو کر اس کے پاؤں آنسوؤں سے بھگونے لگی اور اپنے سر کے بالوں سے پونچھے اور اس کے پاؤں بہت چومے اور ان پر عطر ڈالا۔ اس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اسے چھوتی ہے‘ وہ کون ہے؟ اور کیسی عورت ہے‘ کیونکہ بدچلن ہے۔ یسوع نے جواب میں اس سے کہا۔ اے شمعون! مجھے تجھ سے کچھ کہنا ہے‘ وہ بولا اے استاد کہہ کسی ساہوکار کے دو قرض دار تھے‘ ایک پانچ سو دینار کا‘ دوسرا پچاس کا‘ جب ان کے پاس ادا کرنے کو کچھ نہ رہا تو اس نے دونوں کو بخش دیا۔ پس ان میں سے کون اس سے زیادہ محبت رکھے گا؟ شمعون نے جواب میں کہا میری دانست میں وہ جسے اس نے زیادہ بخشا۔ اس نے اس سے کہا تو نے ٹھیک فیصلہ کیا اور اس عورت کی طرف پھر کر اس نے شمعون سے کہا۔ کیا تو اس عورت کو دیکھتا ہے؟ میں تیرے گھر میں آیا‘ تو نے میرے پاؤں دھونے کو پانی نہ دیا‘ مگر اس نے میرے پاؤں آنسوؤں سے بھگو دیئے اور اپنے بالوں سے پونچھے‘ تو نے مجھ کو بوسہ نہ دیا‘ مگر اس نے جب سے میں آیا ہوں۔ میرے پاؤں کا چومنا نہ چھوڑا۔ تو نے میرے سر میں تیل نہ ڈالا‘ مگر اس نے میرے پاؤں پر عطر ڈالا۔ اسی لیے میں تجھ سے کہتا ہوں کہ اس کے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے‘ کیونکہ اس نے بہت محبت کی‘ مگر جس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے اور اس عورت سے کہا‘ تیرے گناہ معاف ہوئے‘ اس پر وہ جو اس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے‘ اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کون ہے جو گناہوں کو بھی معاف کر دیتا ہے؟ مگر اس نے عورت سے کہا کہ تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے‘ سلامت چلی جا۔"
("انجیل لوقا" باب ٧‘ درس ٣٦ تا ٥٠)
پھر مریم نے جٹاماسی کا آدھ سیر خالص اور بیش قیمت عطر لے کر یسوع کے پاؤں پر ڈالا اور اپنے بالوں سے اس کے پاؤں پونچھے اور گھر عطر کی خوشبو سے مہک
١٢
گیا۔ مگر اس کے شاگردوں میں سے ایک شخص یہوداہ اسکریوطی‘ جو اسے پکڑوانے کو تھا‘ کہنے لگا یہ عطر تین سو دینار میں بیچ کر غریبوں کو کیوں نہ دیا گیا؟ اس نے یہ اس لیے نہ کہا‘ کہ اس کو غریبوں کا فکر تھا بلکہ اس لیے کہ چور تھا اور چونکہ اس کے پاس ان کی تھیلی رہتی تھی۔ اس میں جو کچھ پڑتا‘ وہ نکال لیتا تھا۔ پس یسوع نے کہا کہ اسے یہ عطر میرے دفن کے دن کے لیے رکھنے دے کیونکہ غریب غرباء تو ہمیشہ تمہارے پاس ہیں‘ لیکن میں ہمیشہ تمہارے پاس نہ رہوں گا۔" (”انجیل یوحنا“ باب ١٢‘ درس ٤ تا ٨)
”اور جب یسوع بیت عنیاہ میں شمعون کوڑھی کے“ گھر میں تھا تو ایک عورت سنگ مرمر کی عطردانی میں قیمتی عطر لے کر اس کے پاس آئی اور جب وہ کھانا کھانے بیٹھا تو اس کے سر پر ڈال دیا۔ شاگرد یہ دیکھ کر خفا ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ کس لیے ضائع کیا گیا۔ وہ تو بڑے داموں کو بک کر غریبوں کو دیا جا سکتا تھا۔ یسوع نے یہ جان کر ان سے کہا کہ اس عورت کو کیوں دق کرتے ہو؟ اس نے تو میرے ساتھ بھلائی کی ہے‘ کیونکہ غریب غرباء تو ہمیشہ تمہارے پاس ہیں‘ لیکن میں تمہارے پاس ہمیشہ نہ رہوں گا اور اس نے جو عطر میرے بدن پر ڈالا یہ میرے دفن کی تیاری کے واسطے کیا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمام دنیا میں جہاں کہیں اس خوشخبری کی منادی کی جائے گی‘ یہ بھی جو اس نے کیا۔ اس کی یادگاری میں کہا جائے گا (”انجیل متی“ باب ٢٦‘ درس ٦-١٣)
ہم نے اناجیل سے اصل واقعہ نقل کر دیا ہے۔ وہ بدچلن عورت‘ جس کا نام مریم تھا۔ اپنے گناہوں کی معافی کے لیے روتی ہوئی یسوع مسیح کے پاس آئی۔ چنانچہ اسے کہا گیا کہ تیرے گناہ معاف ہوئے۔“
مرزا غلام احمد قادیانی کے توہین آمیز الفاظ جنہیں اس نے جلی حروف میں لکھا ہے ”گویا بغل میں ہے“ ”گود میں تماشہ کر رہی ہے“ ”یسوع صاحب حالت وجد میں بیٹھے ہیں“ خوبصورت کسبی عورت سامنے پڑی ہے جسم کے ساتھ جسم لگا رہی ہے۔ یسوع کی شہوت وغیرہ حیا سوز الفاظ اناجیل میں ہرگز نہیں۔
١٣
مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:
- ١٥ - لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے
بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔ اسی وجہ سے خدا نے قرآن میں یحییٰ کا نام حصور رکھا۔ مگر مسیح کا یہ نام نہ رکھا۔ کیونکہ ایسے قصے اس نام کے رکھنے سے مانع تھے“ (”دافع البلاء“ ٹائیٹل، پیج آخری، ”روحانی خزائن“ ص٢٢٠،
ج١٨)
اس عبارت میں مرزائیوں کے ”مسیح موعود“ نے صاف الفاظ میں اپنے عقیدہ کا اظہار کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کو حصور اس لیے نہیں فرمایا، کیونکہ۔
- (١) مسیح شراب پیتا تھا۔
- (٢) فاحشہ عورت نے اپنی بدکاری کی کمائی کے روپے کا خریدا ہوا عطر مسیح کے
سر پر ملا۔
- (٣) ۔ فاحشہ عورت نے ہاتھوں اور سر کے بالوں سے مسیح کے بدن کو چھوا
تھا۔
- (٤) ۔ غیر محرم جوان عورت مسیح کی خدمت کرتی تھی۔
بقول مرزا حضرت مسیح علیہ السلام معاذ اللہ ان گناہوں میں ملوث تھے، اسی لیے قرآن حکیم میں انہیں حصور نہ کہا گیا۔ ثابت ہوا کہ یہ کوئی فرضی وجود یا انجیلی یسوع نہ تھا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت مسیح علیہ السلام تھے۔
ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ تمہارے مرشد کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کے محولہ بالا ”گناہوں“ کی وجہ سے انہیں قرآن مجید میں ”حصور“ نہ کہا گیا۔ قرآن حکیم میں تو حضرت آدم علیہ السلام، حضرت نوح علیہ السلام، حضرت
١٤
ابراہیم علیہ السلام‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضور سرور کائنات سید الاولین والآخرین خاتم النبیین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی و امی کو بھی ”حصور“ نہیں کہا گیا‘ اپنے ”قادیانی نبی“ کے رسالہ‘ کتاب یا کسی مقالہ سے بتاؤ کہ نعوذ باللہ من ذالک ان انبیاء علیہم السلام کے کون کون سے ”گناہ“ تھے جن کی وجہ سے ان حضرات کو قرآن مجید میں ”حصور“ نہیں فرمایا گیا؟
قادیانی مرزا لکھتا ہے:
- ١٦- ”ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی“ (ضمیمہ انجام
آتھم“ ص ٥‘ حاشیہ‘ ”روحانی خزائن“ ص ٢٨٩‘ ج ١١)
- ١٧- ہاں آپ (یسوع مسیح) کو گالیاں دینے اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔“
(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٥‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٢٨٩‘ ج ١١)
- ١٨- یہ بھی یاد رہے کہ آپ (یسوع مسیح) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی
عادت تھی۔ (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٥‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٢٨٩‘ ج ١١)
- ١٩- نہایت شرم کی بات یہ ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے پہاڑی تعلیم کو جو
انجیل کا مغز کہلاتی ہے‘ یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی‘ عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔“ (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٦‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٢٩٠‘ ج ١١)
- ٢٠- اور آپ (یسوع مسیح) کے ہاتھ میں سوا مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا
(”ضمیمہ انجام آتھم“ ص ٧‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٢٩١‘ ج ١١)
- ٢١- پھر تعجب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں
کیا۔“ (”چشمہ مسیحی“ ص ٩‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٦‘ ج ٢٠)
معجزات مسیح علیہ السلام کا انکار
مرزا قادیانی نے لکھا ہے:
- ٢٢- اور بموجب بیان یہودیوں کے اس (یسوع مسیح) سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔
محض فریب اور مکر تھا۔“ (”چشمہ مسیحی“ نمبر ٨‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٤‘ ج ٢٠)
١٥
- ٢٣۔ عیسائیوں نے بہت سے آپ کے معجزات لکھے ہیں مگر حق بات یہ ہے کہ
آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص٦‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“
ص٢٩٠‘ ج١١)
- ٢٤۔ مسیح کے معجزات اور پیشگوئیوں پر جس قدر اعتراض اور شکوک پیدا
ہوتے ہیں‘ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیش خبروں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟
(”ازالہ اوہام“ ص٥‘ ”روحانی خزائن“ ص١٠٦‘ ج٣)
- ٢٥۔ ”ممکن ہے کہ آپ (یسوع مسیح) نے معمولی تدبیر کے ساتھ کسی شب کور
وغیرہ کو اچھا کیا ہو یا کسی اور ایسی بیماری کا علاج کیا ہو مگر آپ کی بدقسمتی سے اسی زمانہ میں ایک تالاب بھی موجود تھا‘ جس سے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ خیال ہو سکتا ہے کہ اس تالاب کی مٹی آپ بھی استعمال کرتے ہوں گے۔ اسی تالاب سے آپ کے معجزات کی پوری پوری حقیقت کھلتی ہے اور اسی تالاب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں‘ بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔
(ضمیمہ ”انجام آتھم“ ص٧‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٢٩١‘ ج١١)
- ٢٦۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے‘ جو
مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا‘ جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے۔ (”ازالہ اوہام“ ص٣٠٤‘
حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٢٥٣‘ ج٣)
- ٢٧۔ ”یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لیے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا۔
جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی‘ بہرحال یہ معجزہ (پرندے بنا کر اڑانے کا ناقل) صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا۔“ (”ازالہ اوہام“ ص٣٠٥‘ حاشیہ ”روحانی
خزائن“ ص٢٥٤‘ ج٣)
کیا کہنے ہیں قادیانی منطق کے‘ روح القدس کی تاثیر تالاب میں ہو تو عین
١٦
توحید ہے‘ اس سے شرک کا واہمہ تک نہیں ہو سکتا‘ لیکن اگر وہی خارق عادت فعل بطریق معجزہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صادر ہو تو شرک ہو جاتا ہے۔ بئس للظالمین بدلا۔ معجزہ کو کھیل سمجھنا کسی بگڑے ہوئے دل و دماغ ہی کا کام ہو سکتا ہے۔
٢٨۔ اب جاننا چاہیے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ ان دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کو فریفتہ کرنے والے تھے۔" (”ازالہ اوہام“ ص٣١٧‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٢٥٤‘ ج٣)
٢٩۔ ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل الترب یعنی مسمریزی طریق سے بطور لہو و لعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں‘ کیونکہ عمل الترب میں جس کو زمانہ حال میں مسمریزم کہتے ہیں۔ ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنے روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کر دکھاتے ہیں۔" (”ازالہ اوہام“ ص٣١٨‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٢٥٥-٢٥٦‘ ج٣)
٣٠۔ ”مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ عمل (عمل الترب ناقل) ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔" (”ازالہ اوہام“ ص٣١٩‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ٢٥٧-٢٥٨‘ ج٣)
٣١۔ ”یہی وجہ ہے کہ گو حضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے۔ مگر ہدایت اور توحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں ان کی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کا رہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے۔" (”ازالہ اوہام“ ص٣٢٠‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٢٥٨‘ ج٣)
١٧
- ٣٢ - اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات (٢) سے بھرا ہوا ہے اس لیے ،
ان آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ امی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰؑ نے اپنا رفیق بنایا ۔ گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا۔ پھر ہدایت کی روح ان میں پھونک دی، جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔“ (”ازالہ اوہام“ ص ٣٢٧ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٢٥٥ ج ٣)
- ٣٣ - سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے
ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو، جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے سے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے، یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو، کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے، جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے۔“ (”ازالہ اوہام“ ص ٣٢٧ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٢٥٣-٢٥٥ ج ٣)
مرزا قادیانی کی متذکرہ بالا عبارات میں کس قدر تضاد ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے مٹی سے بنائے ہوئے پرندوں کی پرواز کے متعلق ان عبارات کا واضح مفہوم یہ ہے:
- ١- تالاب کی مٹی میں روح القدس کی تاثیر تھی۔ اس تالاب کی مٹی سے بنائے
ہوئے پرندے پرواز کرتے تھے۔
- ٢- حضرت مسیح علیہ السلام کا پرندوں کو بنا کر اڑانا ساحرانہ شعبدہ بازی تھی۔
- ٣- عمل ترب یعنی مسمریزم کی وجہ سے مٹی سے بنائے ہوئے پرند پرواز
کرتے تھے۔
- ٤- مسیح علیہ السلام کا مٹی سے پرند بنا کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو اڑانا یہ
قرآن مجید میں استعارہ ہے۔ مٹی کی چڑیوں سے مراد امی اور نادان لوگ ہیں۔ جن میں حضرت مسیح علیہ السلام نے ہدایت کی روح پھونک دی۔ جس سے وہ پرواز کرنے
١٨
لگے
- ٥- حضرت مسیح علیہ السلام نے یوسف نجار کے ساتھ بائیس برس بڑھئی کا کام کیا، جس کے باعث اس قدر ماہر فن ہو گئے تھے کہ مٹی کے ایسے کھلونے بنائے، جو کل دبانے سے پرواز کرتے تھے۔ یہ ہیں مرزا قادیانی کے بیان کردہ حقائق و معارف جن پر امت مرزائیہ کو ناز ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کے کلام مجید کی تحریف معنوی اور تفسیر بالرائے کی جائے۔ تب اختلافات ناگزیر ہو جاتے ہیں، چونکہ تمام توجیہات باطلہ تھیں۔ اس لیے یقین اور وثوق کسی ایک پر نہ تھا بلکہ متذکرہ بالا تمام تحریفات مالھا من قرار کا مصداق ہیں۔
جن مہتم بالشان معجزات کا قرآن مجید نے حضرت مسیح علیہ السلام کی طرف انتساب کیا ہے، مرزا قادیانی نے ان معجزات کو استعارہ کا لباس پہنا کر اور ان کا انکار کر کے یہود کی ہمنوائی کی ہے۔ معجزات کے انکار کی وجہ یہ ہوئی کہ مخالفین نے مرزا سے مطالبہ کیا کہ اگر تم مثیل مسیح ہو تو حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح معجزات کیوں نہیں دکھاتے؟ چونکہ دعویٰ مسیحیت کی بنیاد ہی کذب و افتراء پر تھی اور ”قادیانی مسیحیت ماب“ کا کرامت یا معجزہ سے دور کا تعلق بھی نہ تھا۔ لوگوں کے مطالبے سے چھٹکارا پانے کے لیے یہ طریق مناسب سمجھا کہ معجزات مسیح علیہ السلام کو استعارہ، تالاب کی مٹی کی تاثیر، عمل الترب، مسمریزم سحر، مکروہ، قابل نفرت، شعبدہ کہہ کر ان کی عظمت کو مشکوک کر کے ان کا انکار کر دیا، جیسا کہ لکھا ہے:
- حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔ (ضمیمہ انجام آتھم“ ص٦، حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٢٩٠، ج١١)
مسیح علیہ السلام کی جھوٹی پیش گوئیاں
مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:
- ٣٢- ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیشگوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں۔“ (اعجاز احمدی، ص١٤، روحانی خزائن، ص١٤١، ج١٩)
١٩
- ٣٥۔ یہود تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملہ میں ان کی پیش گوئیوں کے
بارے میں ایسے قوی اعتراض رکھتے ہیں کہ ہم بھی ان کا جواب دینے میں حیران ہیں‘ بغیر اس کے کہ کہہ دیں کہ ضرور عیسیٰ نبی ہے‘ کیونکہ قرآن نے اس کو نبی قرار دیا ہے۔ (اعجاز احمدی‘ ص١٣‘ ”روحانی خزائن“ ص١٢٠‘ ج١٩)
- ٣٦۔ کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟ اور پیش گوئیوں
کا حال اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیش گوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے‘ مری پڑے گی‘ لڑائیاں ہوں گی‘ قحط پڑیں گے اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں‘ اس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔ (”ازالہ اوہام“ ص٥‘ ”روحانی خزائن“ ص٤٠٦‘ ج٣)
- ٣٧۔ اس درماندہ انسان کی پیش گوئیاں کیا تھیں صرف یہی کہ زلزلے آئیں
گے‘ قحط پڑیں گے‘ لڑائیاں ہوں گی۔۔۔۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔ (”ضمیمہ انجام آتھم“ ص٤‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٢٨٨‘ ج١١)
- ٣٨۔ جو اس یہودی فاضل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں پر
اعتراض کیے ہیں‘ وہ نہایت سخت اعتراض ہیں‘ بلکہ وہ ایسے سخت ہیں کہ ان کا تو ہمیں بھی جواب نہیں آتا۔“ (اعجاز احمدی‘ ص٥ ”روحانی خزائن“ ص١١٤‘ ج١٩)
کس قدر ظلم عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئیوں کی تکذیب کر کے خود ہی مجلس ماتم برپا کی (؟) حالانکہ اسی قادیانی مدعی نبوت نے لکھا ہے:
”قرآن شریف میں ہے‘ بلکہ تورات کے بعض صحیفوں میں بھی یہ خبر ہے کہ مسیح موعود کے وقت (؟) طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں یہ خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں۔“ (”کشتی نوح“ ص٥‘ ”روحانی خزائن“ ص١٥‘ ج١٩)
نتیجہ صاف اور واضح ہے کہ نبی کی پیش گوئی نہیں ٹلتی۔ حضرت مسیح علیہ
٢٠
السلام کی پیش گوئیاں جھوٹی ثابت ہوئیں اور ٹل گئیں۔ اس لیے حضرت مسیح علیہ السلام نبی نہ تھے۔ یہ ہیں قادیانی عقائد کے عجائبات۔ جب مرزا کے اپنے بعض نظریات و عقائد یہودیوں والے ہیں‘ تو اسے یہودیوں کے اعتراضات کا جواب کیسے آتا؟
فضیلت مرزا
- ٣٩ - خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا‘ جو اس پہلے مسیح سے اپنی
تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے اور اس نے اس دوسرے مسیح کا نام غلام احمد رکھا۔
(”دافع البلاء“ ص ١٣‘ ”روحانی خزائن“ ص ٢٣٣‘ ج ١٨)
- ٤٠ - خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا‘ جو اس پہلے مسیح سے اپنی
تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔ مجھے قسم ہے اس ذات کی‘ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں‘ وہ ہرگز نہ کر سکتا‘ اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں‘ وہ ہرگز دکھلا نہ سکتا۔
(”حقیقۃ الوحی“ ص ١٤٨‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٥٢‘ ج ٢٢)
- ٤١ - پھر جب کہ خدا نے اور اس کے رسول نے اور تمام نبیوں نے آخری
زمانے کے مسیح کو اس کے کارناموں (٥) کی وجہ سے افضل قرار دیا ہے تو پھر یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔ (”حقیقۃ الوحی“ ص ١٥٥‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٥٩‘ ج ٢٢)
- ٤٢ - ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے (”دافع البلاء“
ص ٢٠‘ ”روحانی خزائن“ ص ٢٤٠‘ ج ١٨) اس عظیم الشان نبی سے افضلیت کا دعویٰ ہے‘ جو صاحب شریعت اور صاحب معجزات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جن کے فضائل و کمالات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان فرمائے ہیں۔
”قادیان کے الہامی“ نے رعونت و خود پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہودی عقیدہ اپنا کر اپنی فضیلت کا بے سرا راگ الاپا ہے۔ جیسا کہ اس نے لکھا ہے: ”یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ دو مسیح ظاہر ہوں گے اور آخری مسیح‘ جس سے
٢١
اس زمانہ کا مسیح مراد ہے‘ پہلے مسیح سے افضل ہوگا۔" (”حقیقۃ الوحی“ ص ١٥٤‘
”روحانی خزائن“ ص ١٥٨‘ ج ٢٢)
عجیب تماشہ ہے کہ دعویٰ مسیحیت کا اور عقیدہ یہود کا الکفر ملۃ واحدۃ شعبدہ بازی کا کمال ہے ”غیر تشریعی“ (بے شریعت) صاحب شریعت نبی سے افضل ہو۔
تباہ کن فتنہ
مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ٤٣۔ وہ (مسیح) ایک خاص قوم کے لیے آیا اور افسوس کہ اس کی ذات سے
دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ ایک ایسی نبوت کا نمونہ دنیا میں چھوڑ گیا۔ جس کا ضرر اس کے فائدے سے زیادہ ثابت ہوا۔ اس کے آنے سے ابتلاء اور فتنہ بڑھ گیا۔ (”اتمام الحجۃ“ لاہوری ایڈیشن، ص ٣٦‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٠٨‘ ج ٨)
”قادیانی مدعی مسیحیت نے ایک ہی سانس میں متضاد باتیں کہہ دیں۔ پہلے جملہ میں اپدیش دیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات گرامی سے دنیا کو کوئی بھی روحانی فائدہ نہ پہنچ سکا۔“ دوسرے جملہ میں انکشاف کیا جس کا ضرر اس کے فائدے سے زیادہ ثابت ہوا۔ پہلے جملے میں حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود مقدس اور ان کی نبوت سے فائدہ کا کلیتاً انکار ہے۔ دوسرے جملہ میں کسی قدر فائدہ کا اقرار سچ ہے۔
”ظاہر ہے کہ ایک دل سے دو متناقض باتیں نکل نہیں سکتیں، کیونکہ ایسے طریق سے یا انسان پاگل کہلاتا ہے یا منافق۔“ (”ست بچن“ مرزا غلام احمد‘ ص ٣١‘
”روحانی خزائن“ ص ١٣٤‘ ج ١٠)
مرزائی بتائیں کہ مندرجہ بالا عبارت کے پیش نظر ان کا کیا عقیدہ ہے؟
- ١۔ کیا حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات اقدس نے دنیا کو کوئی روحانی فائدہ نہیں
پہنچا؟
- ٢۔ کیا حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوا؟
٢٢
- ٣ - نقل کفر، کفر نہ باشد کیا اللہ تعالیٰ کو نبوت کے لیے کوئی موزوں شخص نہ
مل سکا، جو ایسی ہستی کو نبی بنا دیا کہ جس کی نبوت نے نقصان زیادہ کیا اور نفع کم دیا؟
- ٤ - نبوت باری تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہے یا تباہ کن فتنہ؟
غلام احمد نے لکھا ہے:
- ٤٤ - جو شخص کشمیر، سری نگر، محلہ خان یار میں مدفون ہے۔ اس کو ناحق آسمان
پر بٹھایا گیا۔ کس قدر ظلم ہے۔ خدا تو بہ پابندی اپنے وعدوں کے ہر چیز پر قادر ہے۔ لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا۔ جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا۔ ("دافع البلاء" مصنفہ غلام احمد، ص ١٥ "روحانی خزائن" ص ٢٣٥،
(ج ١٨)
قادیانیو: سر جوڑ کر بیٹھو اور سو بار سوچ کر بتاؤ کہ اوپر کی عبارت میں ”تمہارے نبی نے کیسی متضاد بات لکھ دی کہ ”خدا تو بہ پابندی اپنے وعدے کے ہر چیز پر قادر ہے“ کیا اس جملہ کا یہ مفہوم نہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کو زمین پر بھیج سکتا ہے۔ جملے کے دوسرے حصے میں گوہر افشانی کی ”لیکن ایسے شخص کو کسی طرح دوبارہ دنیا میں نہیں لا سکتا جس کے پہلے فتنے نے ہی دنیا کو تباہ کر دیا ہے“ دیکھئے آپ کے ”قادیانی پیغمبر“ نے کس بھونڈے طریق سے حضرت مسیح علیہ السلام کے دوبارہ نزول کا ایک ہی جملہ میں اقرار اور انکار کر دیا، کیا تمہارے عقیدہ کے مطابق تجسم خدا، تثلیث اور ابنیت کا فتنہ حضرت مسیح علیہ السلام کا برپا کیا ہوا ہے، کیا پولوسی مذہب کی ذمہ داری حضرت مسیح علیہ السلام پر عائد ہوتی ہے۔
شرمناک توہین
مرزا قادیانی لکھتا ہے:
- ٤٥ - ”وہ (مسیح ابن مریم) ہر طرح عاجز ہی عاجز تھا۔ مخرج معلوم کی راہ سے جو
پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے، تولد پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا
٢٣
دکھ اٹھاتا رہا۔ (”براہین احمدیہ“ ص ٣٢٩‘ چہار حصص‘ طبع لاہور‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٤١۔٤٤٢‘ ج ١)
٤٦ - ”اور اسلام نہ عیسائی مذہب کی طرح یہ سکھاتا ہے کہ خدا نے انسان کی طرح ایک عورت کے پیٹ سے جنم لیا اور نہ صرف نو مہینہ تک خون حیض کھا کر ایک گنہ گار جسم سے جو بنت سبع اور تمر اور راحاب جیسی حرام کار عورتوں کے خمیر سے اپنی فطرت میں انوثت کا حصہ رکھتا تھا۔ خون اور ہڈی اور گوشت کو حاصل کیا بلکہ بچپن کے زمانہ میں جو جو بیماریوں کی صعوبتیں ہیں۔ جیسے خسرہ‘ چیچک‘ دانتوں کی تکلیف وغیرہ۔ تکلیفیں وہ سب اٹھائیں اور بہت سا حصہ عمر کا معمولی انسانوں کی طرح کھو کر آخر موت کے قریب پہنچ کر خدائی یاد آگئی۔ وجہ یہ ہے کہ وہ (خدا تعالیٰ) پہلے ہی اپنے فعل اور قول میں ظاہر کر چکا ہے کہ وہ ازلی ابدی اور غیر فانی ہے اور موت اس پر جائز نہیں۔ ایسا ہی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی عورت کے رحم میں داخل ہوتا اور خون حیض کھاتا اور قریباً نو ماہ پورے کر کے سیر ڈیڑھ سیر کے وزن پر عورتوں کی پیشاب گاہ سے روتا چلاتا پیدا ہو جاتا ہے اور پھر روٹی کھاتا اور پاخانہ جاتا اور پیشاب کرتا اور تمام دکھ اس فانی زندگی کے اٹھاتا اور آخر چند ساعت جان کندنی کا عذاب اٹھا کر اس جہان فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔“ (”ست بچن“ ص ١٧٣۔١٧٤‘ ”روحانی خزائن“ ص ٢٩٧۔٢٩٨‘ ج ١٠)
٤٧ - ”مردمی اور رجولیت انسان کی صفات محمودہ میں سے ہیں‘ ہیجڑا ہونا کوئی اچھی صفت نہیں۔ جیسے بہرہ اور گونگا ہونا کسی خوبی میں داخل نہیں۔ ہاں یہ اعتراض بہت بڑا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام مردانہ صفات کی اعلیٰ ترین صفت سے بے نصیب محض ہونے کے باعث ازواج سے تہی اور کامل حسن معاشرت کا کوئی عملی نمونہ نہ دے سکے۔“ (”نور القرآن“ نمبر ٢‘ ص ١١‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٩٢۔٣٩٣‘ ج ٩)
٤٨ - ”مریم کا بیٹا کوشلیا کے بیٹے (رام چندر ناقل) سے کچھ زیادت نہیں رکھتا“ (”انجام آتھم“ ص ٤١‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤١‘ ج ١١)
٢٤
ہم نے مشتے نمونہ از خروارے مرزا غلام احمد قادیانی کی چند دلآزار اور توہین آمیز عبارات نقل کی ہیں کہ جن میں آنجہانی نے کھلے بندوں اللہ تعالیٰ کے سچے رسول حضرت مسیح علیہ السلام فداہ ابی و امی کی انتہائی تذلیل کی اور ان کی ذات گرامی کے متعلق بہتانات و افتراء کی اشاعت کی گئی ہے۔ رقابت کی وجہ سے مرزا قادیانی کا دل اور دماغ حضرت مسیح علیہ السلام کے بغض سے لبریز تھا۔ اس لیے اس نے ان کی مقدس و مطہر ہستی کی طرف شراب پینے اور خنزیر کھانے تک کی نسبت کر دی۔ معاذ اللہ استغفر اللہ۔
متنبی قادیان نے لکھا ہے:
- ٤٩۔ یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی
ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لیے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسا کی طرف بھاگے گا اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔" ("حقیقۃ الوحی" ص٤٩' "روحانی خزائن" ص٤٩' ج٢٢)
کس قدر جھوٹ و افتراء کا مجموعہ ہے یہ عبارت۔ سچ ہے برتن سے وہی ٹپکتا ہے، جو اس میں ہوتا ہے۔ اس خبیث عبارت کا ایک ایک لفظ کذب بیانی کا مرقع ہے۔ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ آسمان سے تشریف لانے کے بعد سیدنا حضرت مسیح علیہ السلام شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام پر عمل پیرا ہوں گے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حوالہ جات سے ثابت ہے۔
- ١۔ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے:
وان عیسی علیہ السلام اذا نزل ما یحکم الا بشریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم (”فتوحات مکیہ“ ج١' باب نمبر ١٤' ص١٥٠) "اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب نازل ہوں گے تو وہ صرف حضرت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں گے"۔
- ٢۔ حضرت امام عبدالوہاب شعرانیؒ فرماتے ہیں:
وکذالک عیسی علیہ السلام اذا نزل الی الارض لا یحکم فینا الا بشریعۃ نبینا صلی اللہ علیہ وسلم
("الیواقیت والجواہر" ج٢ ص٣٨)
"اسی طرح جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر نازل ہوں گے تو ہمارے نبی محمدؐ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق فیصلے کریں گے"۔
- ٣۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمایا ہے:
حضرت عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کہ از آسمان نزول خواہد فرمود متابعت شریعت خاتم الرسل خواہد نمود علیہ و علیہم الصلوۃ والتسلیم۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آسمان سے نازل ہوں گے تو آخری رسول حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل فرمائیں گے۔
("مکتوبات شریف" ج ثالث، مکتوب
ہفتاد نہم، ص٢٧)
پس مرزا غلام احمد کی محولہ بالا عبارت کذب و افتراء کا مجموعہ اور حضرت مسیح علیہ السلام سے بغض و عداوت کی آئینہ دار ہے۔ کیونکہ مرزا اس عبارت کے لکھنے سے بہت پہلے تحریر کر چکا تھا لیکن "دروغ گو را حافظہ نباشد۔"
مرزا نے لکھا تھا:
"یہ ظاہر ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم اس امت کے شمار ہی میں آ گئے ہیں۔"
("ازالہ اوہام" ص٤٢، "روحانی خزائن" ص٤٣٤، ج٣)
اسی مرزا نے "حقیقۃ الوحی" کی مندرجہ بالا عبارت لکھنے سے قریباً ایک سال پہلے لکھا تھا ۔
"پولوس نے اور پھر ایک اور گند (عیسائی) اس مذہب میں ڈال دیا کہ ان کے لیے سور کھانا حلال کر دیا ۔ حالانکہ حضرت مسیح، انجیل میں سور کو ناپاک قرار دیتے ہیں۔ تبھی تو انجیل میں ان کا قول ہے کہ اپنے موتی سوروں کے آگے مت پھینکو۔"
٢٦
(”چشمہ مسیحی“ ص٣٤‘ ”روحانی خزائن“ ص٣٧٥ ج ٢٠) سور تورات کی رو سے ابدی حرام تھا۔ ”کشتی نوح“ ص٦٠‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص٦٥‘ ج١٩)
جب مرزا خود تسلیم کرتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام سور کو ناپاک سمجھتے تھے اور وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے شمار میں ہیں‘ تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آ جاتی ہے کہ ان کی ”حقیقتہ الوحی“ کے مندرجہ بالا خبیث اور لعنتی الفاظ محض ان کی توہین و تذلیل ہی کے لیے لکھے ہیں۔
ہم نے چند عبارات نقل کی ہیں ورنہ مرزا قادیانی کے متعدد حوالہ جات ہیں‘ جن میں اس نے نبی معصوم حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کی ہے۔ حالانکہ اسی مرزا نے لکھا ہے۔
- ١
آسماں را مے سزد گر سنگ بارد بر زمیں
(”فتح اسلام“ ص٧٥‘ ”روحانی خزائن“ ص٤٥‘ ج٣)
- ٢
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلاء یہی ہے!
(”درثمین“ اردو‘ قادیان ص١٢‘ ”قادیان کے آریہ اور ہم“ ص٦١‘ ”روحانی خزائن“
ص٤٥٨‘ ج٢٠)
- ٣۔ ”ہم مختلف فرقوں کے بزرگ ہادیوں کو بدی اور بے ادبی سے یاد کرنا
پرلے درجہ کی خباثت اور شرارت سمجھتے ہیں۔“ (”براہین احمدیہ“ حصہ دوم‘ ص١٠٣
”روحانی خزائن“ ص٩٢‘ ج١)
- ٤۔ ”وہ بڑا ہی خبیث اور ملعون اور بد ذات ہے‘ جو خدا کے برگزیدہ و مقدس
لوگوں کو گالیاں دیتا ہے۔“ (”البلاغ المبین“ ص١٩‘ مرزا غلام احمد کا آخری لیکچر‘
لاہور)
- ٥۔ ”اسلام میں کسی نبی کی بھی تحقیر کفر ہے“۔ (”ضمیمہ چشمہ معرفت“ ص١٨
”روحانی خزائن“ ص٣٩٠‘ ج٢٣)
٢٧
- ٥ ۔ "اسلام میں کسی نبی کی بھی تحقیر کفر ہے۔"
مرزائی فریب
مرزا غلام احمد کی تحریرات و اقوال سے توہین حضرت مسیح علیہ السلام کی عبارات پیش کی جاتی ہیں تو امت مرزائیہ اپنے قادیانی "مسیح موعود" کو توہین مسیح علیہ السلام کی زد سے بچانے کے لیے مندرجہ ذیل فریب دیتی ہے:
پہلا فریب : "مسیح موعود" (مرزا غلام احمد قادیانی) نے عیسائیوں کے بالمقابل انجیلی یسوع کے متعلق قدرے سخت الفاظ تحریر کیے ہیں، اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت مسیح علیہ السلام کی شان میں سخت الفاظ استعمال نہیں کیا۔
جواب : یسوع، مسیح ایک ہی برگزیدہ ہستی کا اسم گرامی ہے۔ عیسائی انہیں خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور ہم مسلمان انہیں اللہ تعالیٰ کا نبی و رسول مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
قالت النصریٰ المسیح ابن اللہ (پ ١٠، التوبہ ٩، نمبر ٣٠)
"عیسائی کہتے ہیں، مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ کیا انہی مسیح علیہ السلام کو جو اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، عیسائی خدا کا بیٹا نہیں کہتے؟ کیا انہی مسیح علیہ السلام کو ثالث ثلثہ نہیں مانتے؟"
یہ قادیانیوں کا فریب کارانہ پراپیگنڈا ہے کہ ان کے مرزا نے عیسائیوں کے یسوع کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے ہیں، حضرت مسیح علیہ السلام کی تو وہ عزت کرتا تھا۔ یسوع اور مسیح ایک ہی تھے، جیسا کہ مرزا نے لکھا ہے:
- ١ ۔ "جن نبیوں کا اس وجود عنصری کے ساتھ آسماں پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں، ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔" ("توضیح مرام" ص ٣ "روحانی خزائن" ص ٥٢، ج ٣)
- ٢ ۔ "لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہوگیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر
٢٨
جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“ (”چشمہ مسیحی“ ص ٤٦، ”روحانی خزائن“ ص ٣٥٥-٣٥٦، ج ٢٠)
- ٣۔ ”ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام، جس کو عبرانی میں یسوع کہتے ہیں، تیس برس
تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا اور مرتبہ نبوت پایا“۔ (”چشمہ مسیحی“ ص ٤٠، حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٣٨٧، ج ٢٠)
- ٤۔ ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو یسوع اور جیزس یا یوز آسف کے نام سے
بھی مشہور ہیں۔ (”راز حقیقت“ ص ١٩، ”روحانی خزائن“ ص ١٧٧، ج ١٤)
- ٥۔ ”حضرت یسوع مسیح ..... کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ
جائیداد کی طرح ہے“۔ (”تحفہ قیصریہ“ ص ١٨، ”روحانی خزائن“ ص ٢٧٥، ج ١٢)
- ٦۔ ”اس خدا کے دائمی پیارے (؟) اور دائمی محبوب اور دائمی مقبول کی نسبت
جس کا نام یسوع ہے، یہودیوں نے تو اپنی شرارت اور بے ایمانی سے لعنت کے برے سے برے مفہوم کو جائز رکھا۔“ (”تحفہ قیصریہ“ ص ١٧، ”روحانی خزائن“ ص ٢٧٤، ج ١٢)
- ٧۔ ”مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے“۔ (”کشتی نوح“ ص ٥،
”روحانی خزائن“ ص ٥، ج ١٩)
اللہ تعالیٰ نے مرزا کے قلم پر تصرف فرما کر اس سے حق کا اظہار کروا دیا کہ انجیلی یسوع اور حضرت مسیح علیہ السلام ایک ہی برگزیدہ نبی کا نام ہے۔ مرزا نے لکھا ہے:
- ٨۔ ”یہ تو مجھ کو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ عیسائی مذہب اسی دن سے تاریکی
میں پڑا ہوا ہے، جب سے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کی جگہ دی گئی ہے“ (”حجۃ الاسلام“ لاہوری ایڈیشن، ص ١٤، ”روحانی خزائن“ ص ٥٦، ج ٦)
- ٩۔ اور ان (یہود) کی حجت یہ ہے کہ یسوع یعنی عیسیٰ علیہ السلام صلیب دیئے
گئے۔ (”ایام الصلح“ طبع اول، ص ١١٧، ”روحانی خزائن“ ص ٣٥٣، ج ١٤)
- ١٠۔ ”(مباہلہ میں) عیسائی یہ کہے کہ وہ عیسیٰ مسیح ناصری، جس پر میں ایمان لایا
٢٩
ہوں‘ وہی خدا ہے۔ ایسا ہی یہ عاجز (غلام احمد قادیانی) دعا کرے گا کہ اے کامل اور بزرگ خدا میں جانتا ہوں کہ درحقیقت عیسیٰ مسیح ناصری تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے‘ خدا ہرگز نہیں۔” (”حجۃ الاسلام“ ص٢٣‘ ”روحانی خزائن“ ص٧٠‘ ج٦)
- - ١۔ ”ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں ایک عاجز بندہ مگر نبی مانتا ہوں۔“
(”ریویو آف ریلیجنز“ ستمبر ١٩٠٢ء‘ ص٣٤٤)
ان عبارات میں مرزا قادیانی نے غیر مبہم الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ یسوع اور مسیح ایک ہی عظیم الشان نبی کے نام ہیں۔ پس عیسیٰ‘ یسوع‘ مسیح کسی نام سے گالیاں دی جائیں‘ اللہ تعالیٰ کے محبوب نبی کی توہین ہوگی۔
دوسرا فریب: مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے اس یسوع کے متعلق سخت الفاظ لکھے ہیں‘ جس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔
جواب: جناب یسوع مسیح کی نسبت کذب بیانی کی انتہا ہے کہ انہوں نے الوہیت یا ابنیت کا دعویٰ کیا تھا۔ مرزا نے لکھا ہے: ”حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیث اور ابنیت ہے‘ ایسے تنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء‘ جو ان پر کیا گیا‘ وہ یہی ہے۔“ (”تحفہ قیصریہ“ ص١٦‘ ”روحانی خزائن“ ص٢٧٢‘ ج١٢)
تیسرا فریب: مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے یسوع کی خیالی تصویر یا فرضی یسوع کی مذمت کی ہے۔
جواب: فرضی یسوع کی اصطلاح قادیانیوں کی فریب کاری کی بین دلیل ہے۔ خیالی‘ فرضی اور موہوم وجود کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جیسا کہ مرزا نے لکھا ہے کہ ”مستور الحال مفقود الخبر فرضی اور خیالی نام کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا“۔ ملخصاً (”نور القرآن“ حصہ دوم‘ ص١٥‘ ”روحانی خزائن“ ص٣٩٨-٣٩٩‘ ج٩)
مرزائی بتائیں کہ خیالی تصویر یا فرضی یسوع کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن
٣٠
مجید میں یا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں کچھ کیوں نہ فرمایا؟ کیا اللہ تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرضی یسوع کا علم نہ تھا؟
مرزائی کیوں نہیں سوچتے کہ ان کے نبی نے اگر فرضی اور خیالی یسوع کی پردہ دری کی ہے تو یہ عیسائیوں کے لیے حجت اور قابل تسلیم کیسے ہوگی؟ ان پر حجت تب ہوتی، جب حقیقی یسوع مسیح کے متعلق لکھا جاتا ہے۔
چوتھا فریب: ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) نے بائبل کے حوالوں سے یسوع کی پوزیشن واضح کی ہے۔
جواب: قادیانی ایک بات پر قائم نہیں رہتے، بات بات پر پینترا بدلتے ہیں کبھی لکھتے ہیں کہ مرزا نے خیالی اور فرضی یسوع کے متعلق لکھا ہے کہ کبھی کہتے ہیں کہ اس نے بائبل کے حوالہ جات سے یسوع کی حقیقت بیان کی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ یہودیوں کے الفاظ نقل کئے ہیں، کبھی بتاتے ہیں کہ الزامی جواب دیا گیا۔ انہیں کسی ایک جواب پر اطمینان نہیں۔ سچ ہے کہ حق سے روگردانی کرنے والوں کو ہر قدم پر ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ بائبل کا نام لے کر اللہ تعالیٰ کے نبی کی توہین ”قادیانی نبوت“ کا شاہکار ہے۔ بائبل کے متعلق قادیانی مرزا نے لکھا ہے۔
- ١۔ سچ بات تو یہ ہے کہ وہ کتابیں (تورات و انجیل) آنحضرت صلی اللہ
علیہ وسلم کے زمانہ تک ردی کی طرح ہو چکی تھیں اور بہت جھوٹ ان میں ملائے گئے تھے۔ جیسا کہ کئی جگہ قرآن شریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ کتابیں محرف مبدل ہیں اور اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہیں۔ چنانچہ اس واقعہ پر اس زمانہ میں بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے۔ پس جب کہ بائبل محرف مبدل ہو چکی۔“ (”چشمہ معرفت“ دوسرا حصہ، ص ٢٥٥، ”روحانی خزائن“ ص ٢٦٦، ج ٢٣)
- ٢۔ قرآن نے انجیل اور تورات کو محرف و مبدل اور ناقص اور ناتمام قرار
دیا۔“ (”دافع البلاء“ ص ١٩، ”روحانی خزائن“ ج ١٨، ص ٢٣٩، ج ١٨)
- ٣۔ غرض یہ چاروں انجیلیں جو یونانی سے ترجمہ ہو کر اس ملک میں پھیلائی جاتی
٣١
ہیں‘ ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں‘ یہی وجہ ہے کہ ان کی پیروی میں کچھ بھی برکت نہیں‘ خدا کا جلال اس شخص کو ہرگز نہیں ملتا‘ جو ان انجیلوں کی پیروی کرتا ہے‘ بلکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کو بدنام کر رہی ہیں۔“ (”تریاق القلوب“ ص١٣‘ ”روحانی خزائن“ ص١٤٢‘ ج١٥)
ثابت ہوا کہ بقول مرزا قادیانی بائبل محرف و مبدل اور حضرت مسیح کو بدنام کرنے والی ہے‘ اس لیے اسے حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات گرامی کے لیے حجت قرار دینا محض دھوکا اور فریب ہے۔
پانچواں فریب : ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) نے یہودیوں کے اعتراض نقل کئے ہیں جیسا کہ لکھا ہے ”جو اس فاضل یہودی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیوں پر اعتراض کئے ہیں‘ وہ نہایت سخت اعتراض ہیں۔ بلکہ وہ ایسے اعتراض ہیں کہ ان کا ہمیں بھی جواب نہیں آتا“۔ (”اعجاز احمدی“ ص٥‘ ”روحانی خزائن“ ص١١٤‘ ج١٩)
جواب : یہ مرزائیوں کا عذر گناہ بد تر از گناہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مقدس نبی کے متعلق یہودیوں کے اعتراضات نقل کرنے سے مرزا کا مقصد حضرت مسیح علیہ السلام کی تنقیص و اہانت تھی جیسا کہ قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے لکھا:
- ١۔ ”کسی کو گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گالی
منسوب کر کے اس کا ذکر کیا جائے۔ جیسے کوئی شخص کسی کو اپنے منہ سے تو حرامزادہ نہ کہے مگر یہ کہہ دے کہ فلاں شخص آپ کو حرامزادہ کہتا تھا۔ یہ بھی گالی ہوگی‘ جو اس نے دوسرے کو دی۔ گو دوسرے کی زبان سے دلائی“ (”احرار کو مباہلہ کا چیلنج“ ص١٠)
- ٢۔ مرزا غلام احمد لکھتا ہے: ”جو بات دشمن کے منہ سے نکلے‘ وہ قابل اعتبار
نہیں“۔ (”اعجاز احمدی“ ص٢٥‘ ”روحانی خزائن“ ص١٣٤‘ ج١٣)
چھٹا فریب : مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے حضرت مریم صدیقہ کی والدہ کے بارے میں ہرگز نہیں بلکہ اس خاندان کی دور کی تین عورتیں تمر‘ راحاب اور بنت سبع کا ناگفتہ بہ ذکر فرمایا ہے‘ مگر نہ از خود بلکہ بائبل کے حوالے سے۔
٣٢
جواب : کس قدر دجل و فریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی کی تذلیل کرنے کے لیے بائبل کی پناہ لی جا رہی ہے کہ جس کتاب میں یہودیوں نے تغیر و تبدل کیا ہے۔
قادیانی بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید یا اللہ تعالیٰ کے آخری مقدس رسول حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں فرمایا ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک حضرت مسیح علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں زناکار اور کنجریاں تھیں؟ کیا ایک نبی کی تذلیل کی غرض سے محرف و مبدل کتاب کے توہین آمیز حوالے کی تصدیق و توثیق کفر بواح نہیں؟ مرزا غلام احمد قادیانی نے انبیاء علیہم السلام کے حسب و نسب کے متعلق لکھا ہے۔
”اور خدا نے اماموں کے لیے چاہا کہ وہ ذو نسب ہوں تاکہ لوگوں کو ان کی کمی نسب کا تصور کر کے نفرت پیدا نہ ہو۔۔۔۔۔ اسی طرح خدا کی سنت اس کے نبیوں میں ہے‘ جو قدیم زمانہ سے جاری ہے۔ پس ڈرو اور دیکھو۔“
(”اعجاز احمدی“ ص٧١‘ اردو ترجمہ ”روحانی خزائن“ ص١٨٣-١٨٤‘ ج١٩)
جب مرزا قادیانی کے قول کے پیش نظر تمام انبیاء علیہم السلام کا نسب اعلیٰ اور بے داغ ہوتا ہے اور اس کی تحریر کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین دادیاں اور نانیاں زناکار اور کنجریاں تھیں تو نتیجہ صاف ہے کہ بقول مرزا حضرت مسیح علیہ السلام نبی نہ تھے۔ اگر مرزا غلام احمد حضرت مسیح علیہ السلام کی تین دادیوں اور نانیوں کو زانیہ عورتیں سمجھتا تھا تو معاذ اللہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوت ثابت نہیں ہوتی اور اگر یہ بائبل کا اتہام و بہتان تھا تو مرزا نے اس کی تردید کیوں نہ کی؟ بلکہ توثیق کی ہے جیسا کہ اس نے لکھا ہے۔
”اس سے عجیب تر یہ کہ کفارہ یسوع کی دادیوں اور نانیوں کو بھی بدکاری سے نہ بچا سکا حالانکہ ان کی بدکاریوں سے یسوع کے گوہر فطرت پر داغ لگتا تھا۔“ (”ست بچن“ ص١٤٨-١٥٦‘ ”روحانی خزائن“ ص٢٩٢‘ ج١٠)
٣٣
ساتواں فریب: ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) نے جو یسوع مسیح کی دو حقیقی بہنوں کا ذکر کیا ہے، یہاں حقیقی مجازی یا محض روحانی (انما المومنون اخوۃ) کے بالمقابل ہے، نہ کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سب کا ایک ہی باپ اور ایک ہی ماں تھی۔
جواب : یہ مرزائیوں کا بہت بڑا دجل و فریب ہے۔ مرزا قادیانی کی عبارت میں حقیقی بہنیں، مجازی یا محض روحانی کے مقابل نہیں، بلکہ جسمانی اور ایک ماں باپ کی اولاد مراد ہے۔ مرزا نے خود تصریح کی ہے۔
”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔“ (”کشتی نوح“ ص١٦، حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص١٨، ج١٩)
ثابت ہوا کہ مرزا نے حقیقی بہن بھائیوں کی اصطلاح اخیافی اور علاتی کے مقابلہ پر استعمال کی ہے، نہ کہ مجازی یا روحانی کے مقابلہ پر۔
آٹھواں فریب: مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے یسوع مسیح کے متعلق چند سخت الفاظ تحریر کیے ہیں تو ان سے پہلے مولانا رحمت اللہ صاحب اور مولانا آل حسن صاحب نے بھی عیسائیوں کو الزامی جواب دیتے ہوئے یسوع مسیح کے متعلق بعض ایسے ہی سخت الفاظ لکھے ہیں۔
جواب : اگر بالفرض ان حضرات کے ایسے ہی الفاظ ہوں، تو بھی وہ مرزا قادیانی کے لیے وجہ جواز نہیں ہو سکتے، کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اکابرین امت کے متعلق تحریر کیا ہے۔ ”ہمارے مخالف سخت شرمندہ اور لاجواب ہو کر آخر کو یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے، بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی، ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھائی۔“ (”ضمیمہ براہین احمدیہ“ ، ج٥، ص١٢٤ ”روحانی خزائن“، ص٢٩٠، ج٢١)
مرزا نے تسلیم کیا ہے کہ بزرگان امت معصوم نہ تھے اور انہوں نے یہودیوں کی طرح ٹھوکر کھائی لیکن مرزائی تو ”قادیانی نبی“ کو معصوم سمجھتے ہوں گے۔ پس
٣٤
مرزائی بتائیں کہ ان کے نبی نے یہود کی پناہ کیوں لی؟ یہود کے نقش قدم پر کیوں چلا؟ اچھا مسیح موعود ہے جو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تبلیغ چھوڑ کر بقول خود یہودیوں کی پیروی کرتا ہے۔ کیا حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کو الزامی جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق درشت الفاظ فرمائے تھے؟
نواں فریب: جب ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) اپنے آپ کو مثیل مسیح فرماتے ہیں تو حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کیسے کر سکتے تھے۔
جواب: مرزائی کس قدر سادہ لوح ہیں۔ یہ ابھی تک امکان کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں اور مرزا غلام احمد سے توہین حضرت مسیح علیہ السلام کا وقوع ثابت ہو چکا ہے‘ توہین کیسے کر سکتے ہیں؟ جواب یہ ہے کہ جذبہ رقابت کے تحت انسان کیا کچھ نہیں کرتا۔ واضح حقیقت ہے کہ مسیحیت مرزا کی تکمیل تب تک نہ ہو سکتی تھی‘ جب تک حضرت مسیح علیہ السلام کی تنقیص کر کے ان پر اپنی برتری ثابت نہ کی جاتی۔
دسواں فریب: ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) نے اپنی متعدد کتب و تحریرات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف کی ہے اور انہیں نبی تسلیم کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کی تعریف کی جائے‘ اس کی توہین نہیں کی جا سکتی۔
جواب: قادیانیوں کے ”مسیح موعود“ کی بے شمار متضاد تحریرات ہیں۔ توحید‘ رسالت‘ ولادت‘ حضرت مسیح علیہ السلام بلا باپ‘ حیات حضرت مسیح علیہ السلام‘ تعریف نبوت‘ ختم نبوت‘ دعویٰ نبوت‘ تعریف محدثیت‘ دعویٰ محدثیت‘ دعویٰ مسیحیت‘ معجزات‘ صداقت بائبل‘ صداقت وید‘ کون سا مسئلہ ہے‘ جس میں مرزا نے دورنگی چال نہیں چلی‘ ہیرا پھیری اور تضاد سے اس کی کتابیں پٹی پڑی ہیں۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین اس کے بائیں ہاتھ کا کرتب ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس نے اپنی کتب میں حضرت مسیح علیہ السلام کو نبی بتایا ہے اور ان کی تعریف بھی کی ہے‘ ہمارا تاثر یہ ہے کہ مرزا نے تین وجوہ کے باعث حضرت کی تعریف کی ہے۔ اول مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے‘ دوم ”ملکہ وکٹوریہ قیصرہ ہند“ اور برطانوی حکومت کو
٢٥
خوش کرنے کے لیے، جیسا کہ ”ستارہ قیصرہ“ اور ”تحفہ قیصریہ“ سے ظاہر ہے۔ سوم اپنے آپ کو منصف مزاج ثابت کرنے کے لیے جیسا کہ اس نے لکھا ہے۔ ”شریر انسانوں کا طریق ہے کہ ہجو (کسی کی برائی نقل) کرنے کے وقت پہلے ایک تعریف کا لفظ لے آتے ہیں۔ گویا وہ منصف مزاج ہیں۔“ (”ست بچن“ ص ١٣، حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ١٢٥، ج ١٠)
مرزا نے خود بتا دیا کہ کسی کی برائی بیان کرنے سے پہلے اس کی تعریف کر لی جائے تاکہ لوگ سمجھیں کہ یہ شخص منصف مزاج ہے۔ اس نے اپنے مخالف کی خوبیاں اور برائیاں دونوں بیان کر دی ہیں۔ اگر صرف برائیاں ہوں، تو لوگ دشمنی پر محمول کریں گے۔“ مرزا نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق اپنے اسی نظریہ پر عمل کیا ہے۔“
گیارھواں فریب: ”میں نے اس قصیدے میں جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے۔ یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان، جو اپنے نفس سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔“ (”اعجاز احمدی“ ص ٣٨ ”روحانی خزائن“ ص ١٤٩، ج ١٩)
جواب: بعض چالاک انسان گناہ خود کرتے ہیں اور اپنے آپ کو قانون کی زد سے بچانے کے لیے اپنا جرم کسی دوسرے ناکردہ گناہ کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی نے کسی ایسے ہی عیار سے سبق پڑھا کہ توہین خود کرو، ذمہ کسی اور کے لگا دو۔ اوپر کی عبارت میں واشگاف الفاظ میں لکھ دیا کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جو زبان درازی اور توہین کی گئی ہے یہ میری طرف سے نہیں۔ ہاں جناب تو بتا دیجئے کہ یہ توہین کس کی طرف سے ہے؟ خدائے رحمٰن کی طرف سے ہو نہیں سکتی۔ کیونکہ رحمٰن نے قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے فضائل و کمالات بیان فرماتے ہیں۔ امت مرزائیہ ”اپنے نبی“ کی کسی تحریر سے بتائے کہ مرزا کا یہ اعجاز اور الہام کس کی طرف سے تھا؟
٣٦
بارہواں فریب: عیسائی پادریوں نے اپنی تصانیف میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت توہین کی تھی ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) کو حضور کے لیے غیرت تھی، اس لیے انہوں نے عیسائیوں کو جواب دیتے ہوئے الزاماً ان کے یسوع کے متعلق قدرے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں۔
جواب : ہم گزشتہ صفحات میں مرزا کی تحریرات سے ثابت کر چکے ہیں کہ جناب یسوع اور حضرت مسیح علیہ السلام دو جداگانہ شخصیتیں نہ تھیں، ایک ہی مقدس ہستی کے دو نام تھے۔ یہ بھی صریح جھوٹ ہے کہ مرزا غلام احمد کو حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لیے غیرت تھی۔ مرزا قادیانی اور غیرت، دو متضاد حقیقتیں تھیں۔ مرزا نے آریوں، پادریوں کے متعلق لکھا ہے ”اور بہتوں نے اپنی بدذاتی اور مادری بدگوہری سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگائے۔ یہاں تک کہ کمال خباثت اور اس پلیدی سے جو ان کے اصل میں تھی، اس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی راہ سے زنا کی تہمت لگائی۔ اگر غیرت مند مسلمانوں (؟) کو اپنی محسن گورنمنٹ کا پاس نہ ہوتا تو ایسے شریروں کو جن کے افتراء میں یہاں تک نوبت پہنچی، وہ جواب دیتے، جو ان کی بداصلی کے مناسب حال ہوتا مگر شریف انسانوں کو گورنمنٹ کی پاسداریاں ہر وقت روکتی رہتی ہیں۔ وہ طمانچہ جو ایک گال کے بعد دوسری گال پر عیسائیوں کو کھانا چاہئے تھا، ہم لوگ گورنمنٹ کی اطاعت میں محو ہو کر پادریوں اور ان کے ہاتھ کے اکسائے ہوئے آریوں سے کھا رہے ہیں۔ یہ سب بردباریاں ہم اپنے محسن گورنمنٹ کے لحاظ سے کرتے ہیں اور کریں گے
(”آریہ دھرم“ ص ٥٨- ٥٩، ”روحانی خزائن“ ص٨١-٨٠، ج ١٠)
قادیانیو! بتاؤ کہ :
- ١- تمہارے ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) کو برطانوی عیسائی حکومت کی
پاسداری اور بردباریاں مقدم تھیں یا حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا انتقام تھا؟
٣٧
- ٢۔ مرزا نے بقول خود ایسے "شریروں اور خبیثوں" کو ان کی "بداصلی" کے
مناسب جواب کیوں نہ دیا۔
- ٣۔ کیا حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فداہ ابی و امی کی انتہائی توہین کو
مرزا نے اپنی محسن گورنمنٹ کی خاطر برداشت کر کے حضور کے لیے غیرت و حمیت کا ثبوت دیا۔ اگر ایسی "پاسداریوں اور بردباریوں" کا نام غیرت ہے تو بے غیرتی کس بلا کا نام ہے؟
مسلمانوں کا وحشیانہ جوش
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ عیسائیوں کے خلاف رسائل و مضامین شائع کرنے سے مرزا قادیانی کی غرض و غایت پادریوں کے جاہلانہ حملوں سے اسلام کی مدافعت اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و وقار کی حفاظت نہ تھی بلکہ اس کا مقصد "برطانوی حکومت کی خدمت" اور وحشی مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنا تھا۔" اس نے لکھا ہے:
”میں اس بات کا بھی اقراری ہوں کہ جب کہ بعض پادریوں اور عیسائی مشنریوں کی تحریر نہایت سخت ہو گئی اور حد اعتدال سے بڑھ گئی اور بالخصوص پرچہ ”نور افشاں“ میں‘ جو ایک عیسائی اخبار لدھیانہ سے نکلتا ہے‘ نہایت گندی تحریریں شائع ہوئیں اور ان مؤلفین نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت نعوذ باللہ ایسے الفاظ استعمال کیے کہ یہ شخص ڈاکو تھا‘ چور تھا..... اور بایں ہمہ جھوٹا تھا اور لوٹ مار اور خون کرنا اس کا کام تھا۔ تو مجھے ایسی کتابوں اور اخباروں کے پڑھنے سے یہ اندیشہ دل میں پیدا ہوا کہ مبادا مسلمانوں کے دلوں پر جو ایک جوش رکھنے والی قوم ہے‘ ان کلمات کا کوئی سخت اشتعال دینے والا اثر پیدا ہو‘ تب میں نے ان کے جوشوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اپنی صحیح اور پاک نیت سے یہی مناسب سمجھا کہ اس عام جوش کے دبانے کے لیے حکمت عملی یہی ہے کہ ان تحریرات کا کسی قدر سختی سے جواب دیا جائے تاکہ سریع الغضب انسانوں کے جوش فرو ہو جائیں اور ملک میں کوئی بے امنی
٣٨
پیدا نہ ہو (حاشیہ ان مباحثات کی کتابوں سے ایک یہ بھی مطلب تھا کہ برٹش انڈیا اور دوسرے ملکوں پر بھی اس بات کو واضح کیا جائے کہ ہماری گورنمنٹ نے ہر ایک قوم کو مباحثات کے لیے آزادی دے رکھی ہے کوئی خصوصیت پادریوں کی نہیں) تب میں نے بالمقابل ایسی کتابوں کے‘ جن میں کمال سختی سے‘ بد زبانی کی گئی تھی۔ چند ایسی کتابیں لکھیں‘ جن میں کسی قدر بالمقابل سختی تھی کیونکہ میرے کانسس (ضمیر ناقل) نے قطعی طور پر مجھے فتویٰ دیا کہ اسلام میں جو بہت سے وحشیانہ جوش والے آدمی موجود ہیں‘ ان کے غیظ و غضب کی آگ بجھانے کے لیے یہ طریق کافی ہوگا کیونکہ عوض معاوضہ کے بعد کوئی گلہ باقی نہیں رہتا‘ سو مجھ سے پادریوں کے مقابل پر جو کچھ وقوع میں آیا‘ یہی ہے کہ حکمت عملی سے بعض وحشی مسلمانوں کو خوش کیا گیا۔“
(حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست مندرجہ ”تریاق القلوب“
ص٣٠٨-٣٠٩‘ ”روحانی خزائن“ ص٤٨٩-٤٩٠‘ ج١٥)
مرزا غلام احمد کی اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق ناشائستہ اور توہین آمیز عبارات لکھنے سے اس کا مقصد برطانوی حکومت کی خدمت تھی۔ اسے اندیشہ ہوا کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے متعلق عیسائیوں کی بد زبانی سے غیرت مند مسلمان (٧) مشتعل ہو کر امن عامہ میں خلل انداز ہوں گے تو ہندوستان میں برطانوی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔ مرزا کے عندیہ کے مطابق حضور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے تحفظ کے لیے جو مسلمان بے قرار ہو کر ایجی ٹیشن کریں گے‘ وہ سب سریع الغضب اور وحشی ہوں گے۔ ان وحشی مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کرنے کے لیے آسان تدبیر یہ ہے کہ عیسائیوں کے منجی یسوع مسیح کے متعلق سخت تحریریں شائع کی جائیں تاکہ عوض معاوضہ گلہ ندارد کے مقولہ کے مطابق ”وحشی مسلمان“ یہ سمجھیں کہ مرزا غلام احمد نے عیسائیوں سے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا بدلہ لے لیا ہے۔ اس طرح عاشقان رسول کریمؐ اور بقول مرزا ”وحشی مسلمانوں“ کے جوش کو ٹھنڈا کیا جائے تاکہ برطانوی حکومت کے لیے کوئی الجھن اور
مشکل پیدا نہ ہو۔
تیرہواں فریب : عیسائی پادریوں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سخت توہین آمیز مضامین اور کتب شائع کیں تو ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) نے ان کو جواب دیتے ہوئے الزامی طور پر یسوع کے متعلق سخت الفاظ لکھے۔
جواب : مرزا غلام احمد کا الزاماً بدزبانی اور گالیاں دینے کا طریق قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ قرآن مجید شاہد ہے کہ یہود و نصاریٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر اور کاذب کہا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں الزاماً حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کوئی سخت الفاظ استعمال نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:
- ١۔ ”مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی پادری ہمارے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم کو گالی دے تو ایک مسلمان اس کے عوض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں دودھ کے ساتھ ہی یہ اثر پہنچایا گیا ہے کہ وہ جیسا کہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہیں‘ ویسا ہی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔“ (”تریاق القلوب“ ص ٣٠٩‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٩٤‘ ج ١٥)
- ٢۔ ”بعض جاہل مسلمان کسی عیسائی کی بدزبانی کے مقابل پر‘ جو آنحضرت صلی
اللہ علیہ وسلم کی شان میں کرتا ہے‘ حضرت عیسیٰ کی نسبت کچھ سخت الفاظ کہہ دیتے ہیں۔“ (”فتاویٰ مسیح موعود“ ص ٢٣٦‘ ”مجموعہ اشتہارات“ ص ٥٤٤‘ ج ٣)
قادیانیو : تمہارے ”مسیح موعود“ نے عیسائیوں کے مقابل حضرت مسیح علیہ السلام کی شان اقدس کے متعلق بدزبانی کر کے اپنی جہالت پر مہر تصدیق ثبت کی ہے یا نہیں؟ یہ بھی بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پادریوں اور عیسائیوں کے مقابل الزاماً مرزا غلام احمد جیسا طرز کیوں اختیار نہ کیا؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ عیسائی پادری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق انتہائی بدزبانی‘ افتراء پردازی اور کذب بیانی کا مظاہرہ کریں گے۔
٤٠
چودہواں فریب : مرزا غلام احمد نے لکھا ہے: ”ہماری قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے‘ وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔“ (”چشمہ مسیحی“ ص ب‘ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٦‘ ج ٢٠)
جواب : ”مرزا کے ان الفاظ سے یہ نتائج ظاہر ہوئے“۔
- ١۔ ”یسوع کے نام سے مرزا نے جتنی گالیاں دیں اور بد زبانی کی وہ سب حضرت
مسیح علیہ السلام کی ذات مقدس سے متعلق تھیں۔
- ٢۔ ”دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے“۔ یہی تو ہمارا دعویٰ ہے
جس کی تصدیق خود مرزا نے کر دی کہ وہ یہودیوں کے نقش قدم پر چلتا رہا۔ جس طرح ملعون یہودیوں نے حضرت مریم اور مسیح علیہ السلام پر بہتان عظیم لگا کر ان کی توہین کی‘ اسی طرح مرزا قادیانی نے بھی اسی طریق پر عمل کیا۔
قادیانیو! جس طرح تمہارے ”نبی“ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق بقول خود یہودیوں کے الفاظ نقل کئے ہیں‘ اسی طرح ہم مرزا کے متعلق مسلمانوں‘ عیسائیوں اور آریہ سماجوں کے الفاظ نقل کریں تو تمہیں ناگوار تو نہ ہوگا؟ جواب لکھنے سے پہلے اپنے ”نبی“ کی کتاب ”تتمہ حقیقت الوحی“ کا ص ١٥٢‘ اور ١٥٣ ”روحانی خزائن“ ص ٥٩٠۔ ٥٨٩‘ ج ٢٢‘ مطالعہ کر لینا)
پندرھواں فریب : ”مسیح موعود“ (مرزا غلام احمد) نے حضرت مریم کی تعریف کی ہے اور انہیں صدیقہ لکھا ہے۔“
جواب : حضرت مریم کی توہین کے حوالہ جات ہم گذشتہ صفحات میں نقل کر چکے ہیں‘ لفظ صدیقہ کے متعلق مرزا کا بیان ہے۔ ”مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا۔ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ کی اللہ تعالیٰ نے صدیقہ کے لفظ سے تعریف فرمائی ہے۔ اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے اس
٤١
جگہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت توڑنے کے لئے ماں کا ذکر کیا ہے اور صدیقہ کا لفظ اس جگہ اس طرح آیا ہے، جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں۔ ”بھرجائی کانے سلام آکھنا واں“ جس سے مقصود ”کانا“ ثابت کرنا ہوتا ہے نہ کہ سلام کہنا۔ اسی طرح اس آیت میں اصل مقصود حضرت مسیح کی والدہ ثابت کرنا ہے۔ جو منافی الوہیت ہے نہ کہ مریم کی صدیقیت کا اظہار۔“ (”سیرت المہدی“ حصہ سوم‘ ص ٢٢٠‘ مرتبہ بشیر احمد ایم اے‘ پسر مرزا غلام احمد قادیانی)
استغفراللہ ۔ حضرت مریم کی نسبت کس قدر بغض و عداوت کا اظہار اور ان کی صدیقیت کا انکار ہے۔
حضرت مسیح علیہ السلام کے فضائل : اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعدد فضائل و کمالات بیان فرمائے ہیں۔ ان میں سے چند یہاں تحریر کئے جاتے ہیں تاکہ عامتہ المسلمین اندازہ لگا سکیں کہ قرآن حکیم کے بیان کردہ حقائق اور مرزا قادیانی کے بیان کردہ ہفوات میں کس قدر بعد ہے۔
حضرت مریم کی فضیلت :
- (١) ومریم ابنت عمران التی احصنت فرجها فنفخنا فیہ من روحنا
وصدقت بکلمت ربها و کتبہ و کانت من القنتین (پ ٢٨‘ التحریم (٦٦) نمبر ١٢)
(ترجمہ) اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی، پھر ہم نے اس میں (اپنی مخلوق) روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلمات کی اور ان کتابوں کی تصدیق کرتی تھی اور وہ طاعت گزاروں میں سے تھی۔
- (٢) واذ قالت الملئکہ یمریم ان اللہ اصطفک و طہرک
واصطفک علی نساء العلمین (پ ٣‘ ”آل عمران“ ٣‘ نمبر ٤٢)
(ترجمہ) اور جس وقت ملائکہ نے کہا کہ اے مریم یقیناً اللہ تعالیٰ نے
تم کو چن لیا اور تم کو یقیناً پاک قرار دیا اور تم کو زمانے بھر کی عورتوں سے برگزیدہ کیا۔
پیدائش بغیر باپ
- ٣۔ ان مثل عیسی عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ
کن فیکون (پ ٣، ”آل عمران ٣“ نمبر ٥٩)
(ترجمہ) بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم (علیہ السلام) کی سی مثال ہے۔ اس کو مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہو جا‘ پس وہ ہو گیا۔
حضرت مسیحؑ کی رسالت اور چند فضائل
- ١۔ انما المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الی
مریم و روح منہ (پ ٦، ”النساء“ ٤‘ نمبر ١٧١)
(ترجمہ) مسیح عیسیٰ ابن مریم اللہ تعالیٰ کا ایک رسول ہی ہے اور اس کا کلمہ جس کو اس نے مریم تک پہنچایا تھا اور اس کی طرف سے ایک (پیدا کی ہوئی) روح ہے۔
- ٢۔ اذ قالت الملئکہ یمریم ان اللہ یبشرک بکلمہ منہ اسمہ
المسیح عیسی ابن مریم وجیھا فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین۔
(پ ٣، ”آل عمران“ ٣‘ نمبر ٤٥)
(ترجمہ) جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھ کو اپنے ایک کلمہ کی جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے‘ بشارت دیتا ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں بلند مرتبہ والا اور اللہ تعالیٰ کے مقربین میں ہے۔
- ٣۔ ولنجعلہ ایہ للناس ورحمۃ منا وکان امرا مقضیا (پارہ نمبر ١٦‘
”مریم“ ١٩‘ نمبر ٢١)
(ترجمہ) اور تاکہ ہم اسے (مسیح) کو لوگوں کے لیے نشان اور اپنی
٤٣
طرف سے رحمت بنائیں اور یہ امر فیصلہ شدہ ہے۔
- ٤- وجعلنها وابنها ایۃ للعلمین (پ ١٧ ”الانبیاء“ ٢١‘ نمبر ٩١)
(ترجمہ) اور ہم نے مریم اور اس کے بیٹے مسیح کو تمام جہانوں کے لیے ایک معجزہ بنایا۔
- ٥- ان ھو الا عبد انعمنا علیہ و جعلنہ مثلا لبنی اسرائیل (پارہ
نمبر ٢٥‘ ”زخرف“ ٤٣‘ نمبر ٥٩) (ترجمہ) وہ مسیح نہیں ہے مگر برگزیدہ بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے مثال بنایا۔
- ٦- ویعلمہ الکتب والحکمہ والتورہ والانجیل۔ (پ ٣‘ ”آل
عمران“ ٣‘ نمبر ٤٨) (ترجمہ) اور اللہ تعالیٰ مسیح کو الکتاب (قرآن) الحکمت (حدیث) اور توراۃ اور انجیل سکھائے گا۔
معجزات مسیح علیہ السلام
- ١- واتینا عیسی ابن مریم البینت وایدنہ بروح القدس (پ ٣‘
”البقرہ“ ٢‘ نمبر ٢٥٣) (ترجمہ) اور مریم کے بیٹے عیسیٰ کو ہم نے کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی مدد کی۔
- ٢- ویکلم الناس فی المھد و کہلا و من الصلحین (پ ٣‘ ”آل
عمران“ ٣‘ نمبر ٤٦) (ترجمہ) اور وہ (مسیح) پیدا ہوتے ہی اور کہولت میں (معجزانہ) لوگوں سے باتیں کرے گا اور وہ صالحین سے ہوگا۔
- ٣- انی قد جئتکم بایہ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئہ
الطیر فانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللہ وابری الا کمہ والا برص
٤٤
واحی الموتی باذن اللہ وانبئکم بما تاکلون وما تدخرون فی بیوتکم ان فی ذالك لایۃ لکم ان کنتم مومنین (پ ٣، ”آل عمران“ ٣، نمبر ٤٩)
(ترجمہ) میں تمہارے لیے مٹی کے پرندے کی صورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اڑتا ہوا جانور ہو جاتا ہے اور میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتا ہوں اور مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جو کچھ تم اپنے گھروں میں ذخیرہ کرتے ہو اس کی تمہیں خبر دیتا ہوں، اگر تم مومن ہو تو یقیناً اس میں تمہارے لیے نشانی موجود ہے۔
انتباہ : اگر مرزائیوں نے ہمارے بیان کردہ حقائق کو اپنی روایتی دھوکہ دہی سے جھٹلانے کی کوشش کی تو انشاء اللہ ان کے فریب کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے محبوب نبیؐ کی ذات اقدس پر لگائے گئے الزامات کا جواب دینا مسلمان کا فرض اولین ہے۔
نہ کھلواؤ زباں میری نہ اٹھواؤ قلم میرا
٤٥
حواشی
- (١) یہ الفاظ مرزا نے جلی قلم سے لکھے ہیں۔ (اختر)
- (٢) ”دین بہائی“ میں بھی نفخ صور، قیامت، وزن اعمال جنت و جہنم وغیرہ کو استعارہ قرار
دے کر ان کی حقیقت سے انکار کیا گیا ہے (دیکھو کتاب ”قیامت“ از محفوظ الحق علمی بہائی)
- (٣) مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک استاذ مولوی گل علی شاہ شیعہ تھے۔ (”سیرت المہدی“
حصہ اول، طبع دوم، مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم۔ اے، پسر مرزا غلام احمد) شاید ماتم انہیں کے اثر صحبت کا نتیجہ ہے۔ (اختر)
- (٤) یہ ڈبل جھوٹ ہے اور قرآن مجید پر افترا۔ (اختر)
- (٥) ہمارے چیلنج کے جواب میں مرزائی مناظر ہمارے سامنے مناظروں میں سوائے اٹ
شنٹ اور موم کی ناک کی طرح گول مول پیش گوئیوں کے مرزا کا کوئی معجزہ، نشان یا کارنامہ نہیں بتا سکتے۔ (اختر)
- (٦) مرزا غلام احمد نے ہندوستان اور انگلستان کی فرماں روا ملکہ وکٹوریہ کو عاجزانہ اور
خادمانہ انداز میں عرض داشت بھیجی ہے، جسے ”تحفہ قیصریہ“ کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس میں جناب یسوع کو باغی، بٹمار، وغیرہ القاب سے یاد کیا۔ یہ ہے ایک متنبی کی چاپلوسی اور خوشامد۔
- (٧) مسلمانوں سے مرزا کی مراد مرزائی گروہ ہے۔ کیونکہ وہ اپنے مریدوں کے سوا کسی کو
مسلمان نہیں سمجھتا۔ (اختر)
٤٦
مولانا اللہ وسایا
خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضرت خواجہ غلام فریدؒ
اور
مرزا قادیانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انتساب
ہم اپنی اس ناچیز تالیف کو حضرت الحاج نواب سر صادق محمد صاحب مرحوم و مغفور‘ سابق والی ریاست بہاولپور‘ کی ذات گرامی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ جن کے عہد معدلت گستر میں ایک مقدمہ تنسیخ نکاح کے سلسلہ میں مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو اپنی رحمتوں سے نوازے اور ان کے جانشینوں کو عظمت دین کے لیے کام کی توفیق دے۔ آمین
لال حسین اختر ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
٢
اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا اور سرور کائنات سید الاولین و الاخرین شفیع المذنبین‘ رحمۃ اللعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر ختم کر دیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
- (الف) کنت اول النبیین فی الخلق واخرہم فی البعث!
”میں پیدائش میں سب سے پہلے ہوں اور بعثت میں سب سے آخری ہوں“ (”کنز العمال“ جلد٦‘ ص١١٢‘ ”الدر المنثور“ ج٥‘ ص٨٤‘ ”ابن کثیر“ ج٨‘ ص٨٩)
- (ب) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘ یا اباذر اول الانبیا
ادم و اخرہم محمد! (”کنز العمال“ ج٦‘ ص١٣٠) ”حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! سب سے پہلے نبی آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں“۔
- (ج) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘ سیکون فی امتی
کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی‘ ھذا حدیث صحیح! ”حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! یقیناً میری امت میں تیس بڑے کذاب پیدا ہوں گے‘ جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی‘ نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث صحیح ہے“۔ (ترمذی‘ ج ثانی‘ ص٤٥‘ ”مشکوۃ کتاب الفتن“‘ ”الدر المنثور“ ج٥‘ ص٢٠٥‘ ”مسند احمد“ ج٥‘ ص٢٧٨)
”بخاری شریف“‘ ”کتاب الفتن“ میں دجالون کذابون قریب من ثلثین کے الفاظ ہیں۔ حضور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عظیم پیش گوئی کے مطابق جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ مسیلمہ کذاب سے شروع ہوا۔ غلام احمد قادیانی اسی
٣
سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد مدعیان نبوت کو ”دجال و کذاب“ (بہت بڑے دھوکہ باز و فریب کار اور عظیم افترا پرداز) قرار دیا ہے۔ ہم نے بارہا اعلان کیا ہے اور بے شمار مناظروں میں مرزائیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ تم ”وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام“ ”اجرائے نبوت“ اور ”صدق مرزا“ کے سلسلہ میں غلام احمد قادیانی کی کوئی ایک عبارت یا کوئی ایک دلیل ایسی پیش کرو کہ جس میں دھوکہ دہی اور کذب بیانی نہ ہو۔ آج تک کوئی مرزائی ہمارے اس مطالبہ کا جواب نہیں دے سکا اور انشاء اللہ العزیز نہ آئندہ دے سکے گا۔ ولو كان بعضهم لبعض ظهیرا ہمارا نا قابل تردید دعویٰ ہے کہ قادیانی کے عقائد و دعاوی کی متعلقہ ہر عبارت ہر دلیل اور ہر مقالہ دجل و فریب اور کذب و افترا کا مرقع ہوتا ہے۔
مرزائیوں کی فریب کاری : مرزائیوں نے اپنی روایتی فریب کاری سے گذشتہ ایام میں حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت جھوٹ و افترا کا ایک پلندہ ”شہادات فریدی“ سابق ریاست بہاولپور میں بہ تعداد کثیر تقسیم کیا ہے، جس میں حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور غلام احمد قادیانی کے جعلی ملفوظات اور خط و کتابت شائع کر کے عامۃ المسلمین کو یہ تاثر دینے کی ناکام اور ناروا کوشش کی ہے کہ حضرت خواجہ صاحب‘ غلام احمد قادیانی کے دعوئی مجددیت‘ مہدویت اور نبوت کے مصدق اور پیرو تھے۔ مرزائی نبوت کا یہ نیا مکارانہ شاہکار نہیں بلکہ پرانا بدبودار جھوٹ ہے جو آج سے ٣٥ سال پہلے جناب محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج ضلع بہاولنگر ریاست بہاولپور کی عدالت میں مقدمہ فسخ نکاح عبدالرزاق مرزائی پیش کیا گیا تھا، جس کا جواب اسی وقت حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلفائے کرام نے شائع کر کے قادیانی کذب بیانی کی دھجیاں بکھیر دی تھیں اور مرزائی فریب کاری کا پردہ تار تار کر دیا تھا۔ ہم اسے نقل کیے دیتے ہیں۔
اشارات فریدی اور مرزائے قادیانی : از مرشدی و آقائی حضرت مولانا خواجہ نور احمد صاحب فریدی نازکی مدظلہ العالی سجادہ نشین فرید آباد شریف ریاست بہاولپور۔
٤
”فقیر کا یہ مضمون ایک واقعہ سے تعلق رکھتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ مولوی الٰہی بخش صاحب سکنہ ہند ریاست بہاولپور نے اپنی صغیر سن دختر کا نکاح ایک قریبی رشتہ دار سے کر دیا۔ اس وقت‘ ناکح مسلمان اور متبع اہل سنت و الجماعت تھا۔ کچھ عرصہ اسی طرح گزر گیا۔ مولانا صاحب کا ہونے والا داماد ایک قادیانی کے ساتھ ملتان وغیرہ کے نواح چکر لگاتا رہا۔ مولانا صاحب متقی، متشرع اور غیور مسلمان تھے انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح داماد قادیانی کی صحبت چھوڑ دے۔ کچھ نتیجہ نہ نکلا بلکہ اس نے کھلم کھلا اپنی تبدیلی مذہب کا اعلان کر دیا اور سب عقائد قبول کر لیے‘ جو فرقہ مرزائیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مولانا صاحب نے برہم ہو کر تمام خاندانی علائق اس سے قطع کر لیے۔
اب مولانا صاحب کی لخت جگر بالغ ہو چکی تھی۔ مرزائی داماد نے استدعا کی کہ شادی کر کے رخصتی کر دی جائے لیکن مولانا صاحب نے دھتکار دیا اور کہا ”تم اب مرتد ہو کر مرزائی بن چکے ہو اس لیے تمہارا نکاح نہیں رہا۔“ مگر ناکح نے دعوٰی دائر کر دیا کہ ”فرقہ قادیانی مسلمان ہے اس لیے نکاح فسخ نہیں ہو سکتا۔“
بہاولپور اسلامی ریاست ہے۔ یہ معاملہ علمائے امت کے سپرد ہوا۔ مباحثہ کی تفصیل میں فرقہ باطلہ کی طرف سے مولوی غلام احمد اختر قادیانی وغیرہم اور علمائے اہل سنت و الجماعت کی جانب سے مولانا غلام محمد صاحب مرحوم گھوٹوی شیخ الجامعہ جامعہ عباسیہ مولانا فاروق احمد صاحب شیخ الحدیث مقرر ہوئے۔ مباحثہ طے ہو گیا اور قادیانیوں کو شکست فاش ہوئی۔ ابھی احمدیوں کا یہ جھگڑا بدستور جاری تھا اور وہ علمائے اسلام کے خلاف ژاژخائی میں مصروف تھے کہ اطراف و اکناف عالم سے فتاوٰی آ پہنچے کہ ”مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبع کافر ہیں۔“
عدالت نے مباحثہ اور فتاوٰی کے بعد قادیانیوں سے سوال کیا کہ اگر
د
کوئی اور ثبوت ان کے پاس اپنے مسلمان ہونے کا ہو تو وہ پیش کریں، جس پر یہ سند پیش ہوئی۔
”اشارات فریدی جس کو مولوی رکن دین نے جمع کیا ہے اس کے ایک عربی خط میں حضرت صاحب غریب نواز نے مرزا کو من عباد اللہ الصالحین لکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب موصوف نے مرزا قادیانی کو برحق تسلیم کیا ہے۔ ایسی قوی سند کے آگے تمہارے فتاوے کیا چیز ہیں۔ تم قادیانیوں کو کافر کہتے ہو۔ غور تو کرو حضرت صاحب غریب نواز جن کے کرامات اور زہد اور تقویٰ کی ایک دنیا معترف ہے‘ کے حق میں تم کیا فتویٰ صادر کرو گے؟“
اس پر ریاست بہاولپور و دیگر اسلامی حلقوں میں ایک تہلکہ مچ گیا اور ہر جگہ ملفوظ خط عربی کی کیفیت دریافت ہونے لگی۔ فقیر ابھی سفر میں ہی تھا کہ مولانا فاروق احمد صاحب شیخ الحدیث بہاولپور کی طرف سے ذیل کا مکتوب گرامی موصول ہوا۔
”مکرم بندہ جناب مولانا مولوی نور احمد صاحب خلیفہ خاص مخدوم العالم جناب حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ‘ السلام علیکم ورحمۃ اللہ باعث تصدیعہ یہ ہے کہ مرزائے قادیانی نے جو شریعت کی تحریف کی‘ ضروریات دین سے انکار کیا‘ انبیاء کی توہین کی‘ جناب سے مخفی نہیں‘ جس پر ہندوستان کے تمام مختلف الخیال مسلمانوں نے اس کی تکفیر کی اور علماء نے یہ بھی بیان کیا کہ مرزا کی کفریات معلوم ہونے کے بعد بھی جو شخص مرزا کے کفر میں تردد کرے‘ وہ بھی کافر ہے۔
مرزائیوں نے ایک اعلان شائع کیا ہے کہ ملفوظات حضرت خواجہ صاحب مرحوم میں جس کو رکن دین نے جمع کیا ہے‘ مرزا کو اچھا مانا گیا ہے۔ ضمیمہ ”انجام آتھم“ کے آخر میں بھی اس قسم کا حضرتؒ کا عربی مکتوب درج ہے۔ مسلمانان بہاولپور میں اس اعلان سے سخت اضطراب پھیل گیا ہے۔ بعض سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرتؒ صاحب موصوف نے مرزا کے عقائد کفریہ پر کفر کا فتویٰ صادر فرمایا تھا اور ”اشارات“ کی یہ عبارت الحاقی ہے۔ اس لیے جناب کو تکلیف دی جاتی ہے کہ جناب کو اس بارے میں جس قدر بھی علم ہو بذریعہ تحریر مطلع فرمائیں تاکہ مسلمانان
٦
بہاولپور کا یہ اضطراب رفع ہو کر مرزائیہ مرتدین کا منہ بند ہو۔ جناب کی تحریر طبع کرا کر مشتہر کی جائے گی۔ ٥؍ جمادی الاولیٰ ١٣٥٧ھ‘ فاروق احمد شیخ الحدیث بہاولپور۔ یہ پڑھ کر فقیر کو بہت افسوس ہوا۔ فوراً گھر کو روانہ ہوا تاکہ پیر بھائیوں سے مشورہ لے کر جواب ارقام کرے۔ یہاں پہنچا تو حضرت مولانا غلام محمد صاحب مرحوم گھوٹوی شیخ الجامعہ بہاولپور کا یہ مکتوب صادر ہوا۔
”بخدمت جناب معالی اکتساب مولانا نور احمد صاحب دام مجدہم السلام علیکم! مزاج گرامی! جناب والا کو معلوم ہوگا کہ احمدی مرزائی لوگوں نے عدالت بہاولپور میں حضرت قبلہ غریب نواز خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کو مرزائی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے اثبات میں ”اشارات فریدی“ نامی کتاب کو پیش کیا ہے۔ الحمد للہ! ہمارے علماء نے اس کا دندان شکن جواب دیا مگر مرزائی لوگ ابھی تک وہی راگ الاپ رہے ہیں کہ حضرت غریب نواز مرزائی تھے۔ پس ضرورت ہے کہ حضرت غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کے تمام مرید اور معتقد اس تہمت سے حضرتؒ کے دامن کی طہارت ثابت کریں تاکہ مخلوق اس گمراہی سے نجات پائے۔ حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ نے بھی اپنے بیانات لکھوائے ہیں چونکہ جناب کو بھی سلسلہ فریدیہ میں ایک خاص مرتبہ حاصل ہے۔ جواب بدست حامل لکھ کر ارسال فرمائیں۔
- ١۔ حضرت خواجہ غریب نوازؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کو برا کہا تھا؟
- ٢۔ ”اشارات فریدی“ کے مصنف رکن دین صاحب کو حضرت خلیفہ
اعظم خواجہ محمد بخش صاحب نازک نے برا سمجھا تھا؟
- ٣۔ مرزا کے متعلق جو باتیں ”اشارات فریدی“ میں درج ہیں‘ ان
کو نکال دینے کا امر فرمایا تھا؟
والسلام غلام محمد
٧
جواب میں فقیر نے یہ عریضہ ارسال کیا۔ بخدمت شریف مولانا صاحبان ابحار العلوم اعظم الشان مولانا غلام محمد صاحب و مولانا فاروق احمد صاحب دام اشفاقہم! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘ جواباً مرقوم ایں کہ۔
- ١۔ حضرت شیخ المشائخ قطب الاقطاب خواجہ غلام فرید صاحب قدس سرہ نے غلام
احمد قادیانی کو جب کہ اس کے عقائد و اعمال درست تھے من عباد اللہ الصالحین لکھا تھا۔ لیکن مابعد جب اس کی کیفیت کھل گئی‘ مرزا کو برا کہا اور انکار کیا۔
- ٢۔ ”اشارات فریدی“ کے مصنف مولوی رکن دین صاحب کو حضرت خلیفہ
العالم شیخ الشیوخ خواجہ محمد بخش صاحب نازک قطب مدار قدس سرہ نے بوجہ غلط تائید مرزا کے اچھا نہیں سمجھا۔
- ٣۔ مرزا کے متعلق جو باتیں اشارات فریدی میں درج ہیں ان کو نکال دینے کا
امر فرمایا اور نکال دینی چاہئیں۔
- ٤۔ ہمارے تمام پیران عظام اور جماعت فریدیہ کا مذہب پاک اہل سنت و
الجماعت ہے۔ مرزا اور مرزائیت کے بلاشک منکر ہیں۔ والسلام‘ ١٧ جمادی الاخر ١٣٥١ھ‘ فقیر نور محمد فریدی نازکی بقلم خود۔
حضرت سجادہ نشین صاحب قبلہ کی خدمت میں شیخ الجامعہ خود تشریف لے گئے اور اقتباسات ”اشارات فریدی“ کے متعلق استفسار فرمایا۔ حضرت خواجہ صاحب قبلہ نے فرمایا کہ:
”میرے سامنے مولوی امام بخش صاحب فریدی جام پوری‘ مولوی محمد یار صاحب سکنہ گڑھی اختیار خاں‘ مولوی سراج احمد ساکن مکھن بیلہ اور میاں اللہ بخش صاحب خلیفہ ساکن چاچڑاں شریف نے بطور شہادت بیان کیا کہ حضرت غریب نواز خواجہ محمد بخش صاحب نازک نے ارشاد فرمایا تھا کہ میاں رکن دین نے ملفوظ شریف (اشارات فریدی) جمع کر کے اپنی نجات کا اچھا سامان کیا تھا مگر مرزا غلام احمد قادیانی کے متعلق افتراء درج
٨
کئے ہیں۔ اپنی محنت رائیگاں کی ہے اور آخرت بھی خراب کی ہے۔
حضرت خواجہ ہوت محمد صاحب سجادہ نشین شیدانی مدظلہ‘ کی خدمت میں مولانا نور الحسن صاحب و مولوی غوث بخش صاحب نے جواب طلب مکتوب ارسال کیا جس کے جواب میں خواجہ صاحب موصوف نے ذیل کا گرامی نامہ تحریر فرمایا۔
”زبدۃ العلماء عمدۃ الفضلاء فضائل کمالات مرتب فصاحت بلاغت منزلت مولوی نور الحسن صاحب مولوی غوث بخش صاحب بعد از تحیۃ السلام مسنون الاسلام مکشوف خاطر باد۔ مہربانی نامہ آپ کا پہنچا۔ جواباً مرقوم ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد اولاً صاف طور پر مسلمانوں کے سے تھے اور جو تصانیف اس کی تھیں‘ وہ بھی عقائد اسلام سے باہر نہ تھیں۔ مرزا صاحب موصوف نے جو خط حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کی جناب میں لکھا۔ اس کے جواب میں حضرت صاحب موصوف نے اس کو ”عباد الصالحین“ لکھا۔ مگر بعد میں جب اس کے عقائد طشت از بام ہوئے تو اعلانیہ صاحب موصوف فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے غلطی سے لکھا ہے یہ تو کافر ہے حضرت مولوی جندوڈہ صاحب سیت پوری و حضرت مولوی حامد صاحب شیدانی جو اکابر علماء سے تھے‘ وہ اس کو کافر فرمایا کرتے تھے۔ میں نے بارہا حضرت خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے سنا کہ ”یہ تو کافر ہے۔ میں بھی اس کافر کو جانتا ہوں۔“ مجھے علمائے اہلسنت و الجماعت سے اتفاق ہے۔ اگر شیخ الجامعہ بذات خاص تشریف لے آئیں تو جس قدر مجھے معلومات حاصل ہیں‘ حرف بحرف مفصل بیان کروں گا۔“ (١٢۔ جمادی الثانی‘ ١٣٥١ھ‘ ہوت محمد کوریجہ شیدانی)
حضرت خواجہ عبدالقادر صاحب خلف حضرت عارف کامل خواجہ فضل حق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین منکیران شریف نے اسی سلسلہ میں حسب ذیل بیان دیا۔
”نیاز مند کے والد ماجد حضرت خواجہ فضل حق صاحب رحمۃ اللہ علیہ
٩
حاجی الحرمین الشریفین کے خاص غلامان سے تھے اور حضرت ممدوح الشان کی نظر کرم میں سب سے زیادہ ممتاز تھے اور اپنی عمر کا بیشتر حصہ حضرت کی جناب میں گزارا ہے نیاز مند نے ان کی زبان مبارک سے متعدد دفعہ سنا ہے کہ یہ خط جو ”اشارات فریدی“ ملفوظ شریف میں درج ہے محض الحاقی اور افترا ہے جو منشی رکن دین نے کیا ہے۔ منشی رکن دین جس نے ملفوظ شریف کی کتاب کا کام سر انجام دیا ہے وہ اپنے آپ کو حضرت کا معتقد ظاہر کرتا تھا مگر دراصل مرزائی تھا اور ان کی طرف سے اسی کام کے لیے مامور ہوا تھا کہ جس طرح ہو سکے حضرت اقدس کی طرف سے مرزا صاحب کی تائید کرائے لیکن جب کوشش کے باوجود کسی طرح کامیاب نہ ہو سکا تو ملفوظ شریف کی طباعت کے وقت اس خط کا الحاق کر دیا جو بالکل غلط افتراء ہے۔ حضرت کی جناب سے کوئی خط و کتابت مرزا جی سے نہیں ہوئی بلکہ نیاز مند کے والد ماجد فرماتے تھے کہ منشی رکن دین نے ملفوظ شریف کی کتابت سے جو سعادت یا ثواب حاصل کیا تھا وہ سب حضرت کی نسبت اس افتراء باندھنے سے ضائع کر دیا ہے۔ خداوند کریم کی جناب میں کیا جواب دے گا۔“
یہ بالکل صحیح ہے کہ مولوی رکن دین مصنف ”اشارات فریدی“ اور مولوی غلام احمد صاحب اختر مرزائی آپس میں گہرے دوست تھے اور چاچڑاں شریف میں بزمانہ حضور حضرت صاحب قبلہ عالم خواجہ فرید الملت والدین قدس سرہ یک جا رہتے تھے۔ مولوی غلام احمد باطنی طور پر مرزائی تھا۔ موقع تاک کر عبداللہ ابن سبا یہودی کی طرح مصنف ملفوظ کے ساتھ مل گیا۔ اس کو معقول وظیفہ دے کر اپنا مرہون منت بنایا اور جب مرزائے قادیانی کے خطوط حضور انور کے نام آئے تو حضور کی طرف سے یہی غلام احمد جواب ارسال کرتا رہا اور حسب مدعا ملفوظ مقدس میں عبارتیں درج کراتا رہا۔ اس وقت مرزا کے عقائد بھی اسلام کے خلاف نہ تھے اور ابھی آغاز تھا۔ جب اس کے حالات میں تبدیلی رونما ہوئی تو حضور نے برملا انکار کر دیا اور فرمایا
١٠
”اندک در کشف و اجتہاد خطا کردہ است“ اگر حضور انور مرزا کو برحق نبی مانتے تو نسبت خطا کی اس پر نہ لگاتے۔ کیونکہ ہر ایک نبی صغیرہ کبیرہ خطا سے پاک ہوتا ہے۔ آپ ہندوستان کے طول و عرض میں بغرض سیر و تفریح و زیارت بزرگانِ عظام تشریف لے جاتے رہے۔ لاہور میں کئی بار جانے کا اتفاق ہوا مگر کبھی بھی مرزا کو ملنے کی خواہش ظاہر نہ کی۔ ملفوظ مقدس حضور انور کے وصال کے بعد طبع کئے گئے۔ مولوی غلام احمد اختر نے جو بعد وصال حضور عالیٰ برملا مرزائی ہو گیا تھا۔ حسب منشائے خود عبارت زائدہ کو الحاق کر کے دل کی بھڑاس نکالی اور ملفوظ کی اصلی حالت اس بارہ میں نہ رہی۔ حضور انور حاشا و کلا بالکل مرزائی نہ تھے مگر اس مطبوعہ ملفوظ سے بعض کو دھوکا ہونے لگا اور اکثر غلطی میں مبتلا ہو کر مرزائی بن گئے اور اسلام کو ضعف پہنچا۔ جب ملفوظ طبع ہو کر حضرت خواجہ محمد بخش صاحب نائب قطب مدار قدس سرہٗ کے مطالعہ سے گزرے تو حضور نے فرمایا۔
”رکن دین نے مرزا کی تائید کر کے بہت برا کام کیا ہے اور اسلام پاک کو بہت دھوکا دیا ہے۔ ملفوظ میں ایسی جس قدر عبارتیں ہیں نکال دی جائیں تاکہ اسلام کو ضعف نہ پہنچے کیونکہ حضور حضرت اقدس عالی خواجہ فرید الملۃ والدین قدس سرہ مرزائی نہیں تھے اور نہ ہم، نہ ہماری اولاد، نہ ہمارے متعلقین مرزائی ہیں بلکہ مرزا اور مرزا کے باطل مذہب کے منکر ہیں۔“
ملفوظ پاک کی اصلاح کا ارادہ تھا کہ حضور نازک کریم قدس سرہٗ کا وصال ہو گیا۔ اب بھی لازم ہے کہ ملفوظ پاک کی اصلاح کی جائے تاکہ مخلوق الٰہی گمراہ نہ ہو۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔ ٢٧ جمادی الاخریٰ ١٣٥١ھ فقیر نور احمد فریدی نازکی عفی عنہ فرید آباد شریف (ماہنامہ ”الفرید“ جنوری ١٩٣٣ء، ص ١٤ تا ١٩)
محولہ بالا شہادت سے صاف ظاہر ہے کہ غلام احمد اختر ساکن اوچ مرزائی تھا۔ حضرت خواجہ صاحب کی زندگی میں منافقانہ طرز عمل اختیار کر کے اپنے مرزائی عقائد چھپا کر ان کی خدمت میں حاضر رہا اور غلام احمد قادیانی کو حضرت کے نام سے
١١
جعلی خط لکھتا رہا۔ حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی وفات کے بعد کھلے بندوں مرزائیت کا اعلان کر دیا۔ چنانچہ مرزائیوں کے خلیفہ محمود احمد نے ١٩٢٤ء میں اپنی کتاب ”حقیقۃ النبوۃ“ میں لکھا ہے:
”مکرم مولوی غلام احمد صاحب اختر نے اوچ سے حضرت محی الدین ابن عربی کا ایک حوالہ فتوحات سے نقل کر کے بھیجا ہے۔“ (”حقیقۃ النبوۃ“ ص٢٤٧)
حضرت خواجہ صاحب کی وفات ٨ ربیع الثانی ١٣١٩ھ مطابق ٢٤ جولائی ١٩٠١ء کو ہوئی۔ ان کے وصال کے بعد غلام احمد اختر مرزائی نے رکن الدین سے ساز باز کر کے ”اشارات فریدی“ میں حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے اسم گرامی سے منسوب کردہ جعلی خطوط و ملفوظات درج کرا دیئے۔ جب کتاب طبع ہو کر حضرت مرحوم کے گرامی قدر فرزند اور خلیفہ حضرت خواجہ محمد بخش صاحب نازک کی نظر سے گزری تو آپ نے فرمایا۔
”رکن الدین نے مرزا کی تائید کر کے برا کام کیا ہے اور اسلام پاک کو بہت دھوکا دیا ہے۔ ملفوظ میں ایسی جس قدر عبارتیں ہیں‘ نکال دی جائیں۔“
ان حضرات کے بیانات سے یہ بھی ثابت ہے کہ ابتدا حضرت خواجہ صاحب مرحوم غلام احمد قادیانی کو خادم اسلام سمجھتے تھے لیکن اس کے خلافِ اسلام عقائد و دعاوی پر مطلع ہونے کے بعد اسے کافر فرمایا کرتے تھے۔ نعوذ باللہ اگر قادیانی کو مجدد‘ مہدی‘ مسیح موعود اور نبی سمجھتے‘ تو اس سے ملاقات کے لیے قادیان تشریف لے جاتے اور اس کی بیعت کر کے مرزائیت کے حلقہ بگوش ہو جاتے لیکن آپ نے متعدد بار فرمایا کہ مرزا قادیانی کافر ہے۔
حضرت خواجہ صاحب کے عقائد ختم نبوت: ختم المرسلین و سید النبیین‘ محبوب اللہ تعالیٰ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلوٰۃ اللہ سلامہ علیہ کہ افضل از تمام انبیاء است۔
ختم المرسلین و سید النبیین محبوب اللہ تعالیٰ حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفیٰ صلوٰۃ اللہ و سلامہ علیہ تمام انبیاء سے افضل ہیں۔ وسبب ایجاد اوشاں و تمام عالم است و حضرت علیہ الصلوۃ والسلام در وجود و ظہور بعد تمام انبیاء است کہ پس ایشاں حکم رسالت محو گشت و حکم ولایت صادر!“ اور جمیع انبیاء و تمام دنیا کے ظہور کا باعث ہیں۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام وجود اور ظہور میں تمام انبیاء کے بعد ہیں۔ کیونکہ آپؐ کے بعد رسالت کا حکم مٹ چکا ہے اور ولایت کا باقی! ("فوائد فریدیہ" تصنیف حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رحمتہ اللہ علیہ‘ ص ١٣)
حضرت خواجہ صاحب نے واضح الفاظ میں اعلان فرمایا ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ حضورؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام میں صرف ولایت باقی ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ ختم نبوت کے اعلان کے بعد حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ منکر ختم نبوت اور مدعی نبوت غلام احمد قادیانی کو مسلمان سمجھتے۔ متذکرہ شھادات سے ثابت ہے کہ آپ مرزا قادیانی کو کافر فرمایا کرتے تھے۔
ظہور حضرت مہدی : بدانکہ علامات قیامت کہ آمدن او از وجوبات است و منکر آں کافر است۔ بسیار اند کہ بحدیث شریف ثبوت یافتہ اند اول ظہور مہدی کہ امام اولیاء خواہد شد قدر ہفت سال بر سلطنت حکمرانی میباشد و اکثر خلق را مطیع الاسلام گرداند!
جاننا چاہئے کہ علامات قیامت جس کا آنا ضروری ہے اور جس کا منکر کافر ہے بہت ہیں‘ جن کا ثبوت حدیث شریف میں ہے۔ اول ظہور حضرت مہدی جو کہ امام اولیا ہوگا تقریباً سات سال بادشاہی کرے گا اور کثیر خلقت کو اسلام کا مطیع بنائے گا!
("فوائد فریدیہ" ص ٣٣)
واضح ارشاد ہے کہ:
- (الف) حضرت مہدی اپنے زمانہ کے اولیاء کرام کے امام ہوں گے۔ غلام احمد
١٣
قادیانی نے تمام مسلمانان عالم کو جن میں ہزاروں اولیاء اللہ ہیں اور جو دعویٰ نبوت کے پیش نظر غلام احمد کو مفتری اور کذاب سمجھتے ہیں‘ کافر اور جہنمی لکھا ہے۔
- (ب) حضرت مہدی سات سال حکمرانی کریں گے۔ غلام احمد قادیانی غلام ابن
غلام تھا۔ انگریز کا غلام مہدی کیسے ہو سکتا ہے؟
- (ج) حضرت مہدی کثیر انسانوں کو مطیع اسلام بنائیں گے۔ مرزا غلام احمد نے
مسلمانان عالم پر کفر کا فتویٰ دیا‘ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا‘ جہاد کو منسوخ کیا‘ عمر بھر انگریزی حکومت کے استحکام کے لیے کوشش کرتا رہا۔
شریعت قادیاں کی ہے رضا جوئی نصاریٰ کی
ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام: بدانکہ درزمان دجال پلید ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام خواہد شد و آں پلید را خواہد کشت و بر سلطنت حضرت عیسیٰ علیہ السلام خواہد نشست و تابع دین حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواہد شد!
دجال کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ظاہر ہوں گے دجال پلید کو قتل کر کے خود تخت سلطنت پر بیٹھیں گے اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے تابع ہو کر رہیں گے!
(”فوائد فریدیہ“ ص ٤٤)
حضرت خواجہ صاحب کے اس ارشاد گرامی سے ثابت ہے:
- (الف) دجال کے زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔ اب تک نہ
دجال کا زمانہ آیا ہے نہ حضرت مسیح علیہ السلام تشریف لائے ہیں۔
- (ب) حضرت مسیح علیہ السلام دجال کو قتل کرنے کے بعد تخت سلطنت پر فائز
ہوں گے۔ بقول غلام احمد قادیانی اگر پادری دجال ہیں تو یہ دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کے بعد انیس سو سال سے موجود ہے۔ مرزائی بتائیں کہ ان کا ”قادیانی جعلی مسیح“ انیس سو سال کا طویل عرصہ کیوں روپوش رہا؟ ”خانہ ساز مسیح موعود“ پیدا ہوا اور مرگیا۔ لیکن ان کے دجال (پادری) ابھی تک تمام دنیا میں دندنا رہے ہیں۔
حضرت خواجہ صاحب حضور شفیع المذنبین ، خاتم النبیین ، رحمتہ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث حکماً عدلاً (بخاری ، مسلم ، مشکوۃ باب نزول عیسیٰ علیہ السلام کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے کے بعد عدل کرنے والے حاکم ہوں گے) کے پیش نظر اپنے عقیدے کا اظہار فرما رہے ہیں کہ دجال کو قتل کرنے کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام تخت سلطنت پر متمکن ہوں گے۔ غلام احمد قادیانی اور اس کے باپ نے اپنی عمر انگریز کی غلامی میں بسر کی اور عیسائی حکمرانوں کی غلامی میں بسر کی اور عیسائی حکمرانوں کی غلامی پر فخر کرتے رہے۔ ایسے متنبی کو حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ خادم اسلام کیسے فرما سکتے تھے۔
حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف "فوائد فریدیہ" میں ختم نبوت، ظہور مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا عقیدہ شائع فرما کر مرزائیت کے بخیے ادھیڑ دیے ہیں اور اپنی اسی تصنیف میں "احمدی فرقہ" کو ناری (جہنمی) لکھا ہے۔ ("فوائد فریدیہ" ص٢٩، ٣٠)
حضرت خواجہ صاحب کی تصنیف کے مقابل رکن الدین مولف "اشارات فریدی" اور غلام احمد مرزائی ساکن اوچ کے دجل و فریب اور جعلی شائع کردہ خطوط و ملفوظات کی کوئی حقیقت نہیں۔
اگر بالفرض مرزائیوں کے اس عظیم فریب کو ایک منٹ کے لیے تسلیم بھی کر لیا جائے کہ حضرت خواجہ صاحب غلام احمد قادیانی کو "نیک انسان" سمجھتے تھے تو بھی ان کی ذات گرامی کے متعلق مرزائیوں کا یہ عقیدہ ہے۔
حضرت خواجہ صاحب کی نسبت مرزائیوں کا عقیدہ
غلام احمد قادیانی نے اپنا "الہام" لکھا ہے:
"جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔" (اشتہار معیار الاخیار، ص٨، "مجموعہ اشتہارات" ص٢٧٥، ج٢، تذکرہ طبع اول، ص ٣٢٧-٣٢٨، طبع سوم، ص٣٤٦)
١٥
اس قادیانی ”الہام“ نے مندرجہ ذیل امور کا اظہار کیا ہے۔
- (الف) جو شخص غلام احمد کی پیروی نہ کرے گا، وہ جہنمی ہے!
- (ب) جو شخص غلام احمد کی بیعت نہ کرے گا، وہ جہنمی ہے!
- (ج) جو شخص غلام احمد کا مخالف ہے، وہ جہنمی ہے!
صاف ظاہر ہے کہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے نہ غلام احمد قادیانی کی پیروی کی نہ اس کی بیعت کی، بلکہ اسے کافر سمجھتے تھے۔
اب مرزائیوں کا موجودہ خلیفہ بتائے کہ حضرت صاحب ”حقیقی مسلمان، ولی اللہ اور جنتی تھے یا نعوذ باللہ تمہارے دادا غلام احمد قادیانی کے مندرجہ بالا ”الہام“ کے پیش نظر اس کے برعکس؟
مرزائیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود احمد کا عقیدہ
”ایک دوست نے خلیفہ ثانی کی خدمت میں لکھا کہ جو شخص مسیح موعود کے سب دعاوی کا مصدق ہو مگر بیعت نہ کی ہو اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔ جواب میں حضور نے لکھوایا۔ غیر احمدی کے پیچھے، جس نے اب تک سلسلہ میں باقاعدہ بیعت نہ کی ہو خواہ حضرت صاحب کے سب دعاوی کو مانتا بھی ہو، نماز جائز نہیں اور ایسا شخص سب دعاوی کو مان بھی کس طرح سکتا ہے، جو حضرت صاحب بلکہ خدا کا صریح حکم ہوتے ہوئے آپ کی بیعت نہیں کرتا۔“ (اخبار ”الفضل“ قادیان، ١٥ اگست
١٩١٥ء)
مرزائیوں کے آنجہانی خلیفہ مرزا محمود احمد نے غیر مبہم الفاظ میں اپنا عقیدہ بیان کیا ہے کہ:
- (الف) جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کی بیعت نہ کرے خواہ وہ اس کے جملہ
دعاوی کو مانتا ہو، اس کی اقتداء میں نماز ناجائز ہے۔
- (ب) خدا تعالیٰ کا صریح حکم ہوتے ہوئے جو شخص غلام احمد قادیانی کی بیعت
نہیں کرتا، وہ اس کے تمام دعاوی کو تسلیم نہیں کر سکتا اور وہ خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی مخالفت کرتا ہے۔
١٦
مرزائیوں کے خلیفہ سے ایک سوال؟
ہم کسی ایرے غیرے نتھو خیرے مرزائی سے نہیں بلکہ ان کے موجودہ خلیفہ مرزا ناصر احمد سے پوچھتے ہیں کہ ”تمہارے باپ کے مندرجہ بالا فتوے کے پیش نظر حضرت خواجہ غلام فرید صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تمہارے دادا کی بیعت نہ کر کے خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی خلاف ورزی کی تھی یا نہیں؟
خدا تعالیٰ کے صریح حکم کی مخالفت کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے کہ وہ قادیانی شریعت کی رو سے حقیقی مسلمان ہے یا نہیں؟ ایسا شخص جنتی ہے یا جہنمی؟“
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف 250/= روپے
رابطہ کے لئے:
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
١٧
احتساب قادیانیت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اکابرین کے رد قادیانیت پر رسائل کے مجموعہ جات کو شائع کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ چنانچہ ”احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اخترؒ “ ”احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ “ احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہیں۔
احتساب قادیانیت جلد چہارم
مندرجہ ذیل اکابرین کے رسائل کے مجموعہ پر مشتمل ہو گی۔
مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ : ”دعوت حفظ ایمان حصہ اول و دوم“
مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ”الخطاب الملیح فی تحقیق المہدی والمسیح، رسالہ قائد قادیان“
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ : ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب، صدائے ایمان“
مولانا بدر عالم میرٹھیؒ : ختم نبوت، حیات عیسیٰ علیہ السلام، امام مہدی، دجال، نور ایمان، الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح“
ان تمام اکابرین امت کے فتنہ قادیانیت کے خلاف رشحات قلم کا مطالعہ آپ کے ایمان کو جلا بخشے گا۔
رابطہ کے لئے:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
مقالات ختم نبوت
الامانة العامة لرابطة العالم الاسلامي
رابطة العالم الاسلامي
مكة المكرمة
تأسست سنة ١٣٨١ هـ
مرکزِ اسلام مکہ مکرمہ میں؟
قادیانیوں کی
ریشہ دوانیاں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
١٩٦٧ء امسال چند مرزائی ظفر اللہ خان کی قیادت میں حج بیت اللہ کے موقع پر حجاز مقدس پہنچے۔ حج تو محض بہانہ تھا۔ اصل غرض مرکز اسلام میں مرزائی لٹریچر کی تقسیم و اشاعت اور مسلمانان عالم میں ارتداد پھیلانا تھا۔ حجاز مقدس سے آمدہ اطلاع سے معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ نے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں لٹریچر تقسیم کیا۔ قادیانیوں کی اس نازیبا حرکت سے مسلمانان مرکز اسلام اس قدر مشتعل ہوئے کہ مکہ مکرمہ کے مشہور روزنامہ ”الندوہ“ نے اپنی اشاعت مورخہ ٨ ذالحجہ ١٣٨٦ھ مطابق ١٨ اپریل ١٩٦٧ء میں ”ماہی القادیانیہ“ کے زیر عنوان چھ کالمی سرخی جمائی اور کفر مرزا غلام احمد قادیانی اور تردید عقائد مرزائیہ پر طویل مقالہ شائع کیا، جس میں قادیانی نبوت کا پول کھول کر رکھ دیا اور لکھا کہ قرآن و حدیث اور علماء کرام کے فتویٰ کے پیش نظر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
یا ایها الذین امنوا انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا (پ١٠، توبہ)
”اے ایمان والو! یقینا مشرک ناپاک ہیں اپنے اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آئیں“۔
حضور خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدعیان نبوت کاذبہ اور ان کے معتقدین بوجہ ارتداد مشرکین سے زیادہ نجس ہیں۔ لہٰذا انہیں حرمین شریفین میں داخلہ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قبل ازیں خود سعودی حکومت نے مرزائیوں کو برداشت نہیں کیا تھا لیکن امسال شاہ فیصل نے ظفر اللہ خان اور ان کے ساتھیوں کو حجاز مقدس میں داخلہ کی اجازت دے کر عالم اسلام کے مسلمانوں کے قلوب کو مجروح کیا ہے۔
مدت مدید سے قادیانی حجاز مقدس میں فتنہ ارتداد پھیلانے کی سازش کر رہے تھے۔ چنانچہ آج سے چھیالیس سال پیشتر ان کے خلیفہ محمود احمد نے اعلان کیا تھا:
”بچپن سے میرا خیال ہے، جس کا میں نے دوستوں سے بارہا ذکر بھی
٢
کیا ہے کہ میرے نزدیک احمدیت کے پھیلنے کے لیے اگر کوئی مضبوط قلعہ ہے تو مکہ مکرمہ ہے۔ دوسرے درجہ پر پورٹ سعید۔ اگر کوئی شخص وہاں چلا جائے تو ساری دنیا میں احمدیت کو پہنچا سکتا ہے۔ وہاں سے ہر ایک ملک کو جہاز گزرتا ہے۔ ٹریکٹ تقسیم کیے جائیں۔ اس طرح ایسے ایسے علاقوں میں حضرت صاحب (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام پہنچ جائے‘ جہاں ہم مدتوں نہیں پہنچ سکتے۔ مگر مکہ مکرمہ سب سے بڑا مقام ہے۔ وہاں کے لوگ ہمارے بہت کام آ سکتے ہیں (خطبہ جمعہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیانی مندرجہ
اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مجریہ ٣؍ جولائی ١٩٣١ء‘ ج١٩‘ نمبر ٤‘ ص ٨)
مکہ مکرمہ ”مشن“
”مکہ میں (قادیانی) مشن کی تجویز ہے۔ ایک دوست نے وعدہ کیا ہے کہ اگر مکہ میں مکان لیا جائے تو وہ پچیس ہزار روپیہ مکان کے لیے دیں گے۔ پس شیطان کے مقابلہ میں پوری طاقت سے کام لیں اور میری اس نصیحت کو خوب یاد رکھیں۔“
(تقریر خلیفہ قادیان جلسہ سالانہ مندرجہ ”الفضل“ ٨؍ جنوری ١٩٣٠ء‘ ج١٧‘ نمبر ٥٠)
قادیانی حج کا مقصد
مولانا میر محمد سعید صاحب ساکن حیدر آباد دکن نے (مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان سے) ملاقات کی۔ مولانا کا عزم امسال حج بیت اللہ کا ہے اور اس سفر پر جانے سے پہلے آپ یہاں آئے ہیں۔ سفر حج کے ذکر پر مولوی (محمد سعید) صاحب نے کہا کہ ”عرب کی سرزمین اب تک احمدیت سے خالی ہے۔ شاید خدا تعالیٰ یہ کام مجھ سے کرائے۔“ اس پر حضرت خلیفہ المسیح نے فرمایا ”میرا مدت سے خیال ہے کہ اگر عرب میں احمدیت پھیل جائے تو تمام اسلامی دنیا میں پھیل جائے گی“ مولانا نے عرض کیا کہ ”عرب میں تبلیغ کا کیا طریقہ ہونا چاہیے“ (مرزا محمود احمد نے) فرمایا‘ ان سے بحث کا طریقہ مضر ہے۔ کیونکہ وہ لوگ حکومت کے زیادہ زیر اثر نہیں۔ جلد اشتعال میں آ جاتے ہیں اور جو جی چاہے‘ کر گزرتے ہیں۔ مولانا نے عرض کیا ”میرا خود بھی
٣
خیال ہے کہ ان کا استاد بن کر نہیں بلکہ شاگرد بن کر ان کو تبلیغ کی جائے۔" (مرزا محمود احمد نے) فرمایا "میں نے وہاں تبلیغ شروع کی اور خدا نے اپنے فضل خاص سے میری حفاظت کی۔ اس وقت حکومت ترکی کا وہاں چنداں اثر نہ تھا۔ اب تو شاہ حجاز کے گورنمنٹ انگریزی کے زیر اثر ہونے کے باعث ہندوستان سے بدسلوکی نہیں ہو سکتی۔ مگر اس وقت یہ حالت نہ تھی اس وقت تو وہ جس کو چاہتے‘ گرفتار کر سکتے تھے مگر میں نے تبلیغ کی اور کھلے طور پر کی لیکن جب ہم وہ مکان چھوڑ کر واپس ہوئے تو دوسرے دن اس مکان پر چھاپہ مارا گیا اور مالک مکان کو پکڑ لیا گیا کہ اس قسم کا کوئی شخص یہاں تھا۔ (مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ کی ڈائری مندرجہ اخبار "الفضل قادیان" ج٨‘ نمبر ٥٧‘ مورخہ ٧ مارچ ١٩٢١ء)
- (٢) "حضرت مولانا محمد سعید قادری امیر جماعت ہائے احمدیہ حیدر آباد دکن بعد
حصول اجازت حضرت اقدس خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تبلیغ کا مبارک مقصد لے کر ٣٠؍ اپریل ١٩٢١ء کو بمبئی سے ہمایوں نامی جہاز میں مدینہ شریف روانہ ہوگئے۔ آپ کا خیال ایک دراز مدت تک مدینہ شریف کو مرکز تبلیغ بنا کر ملک عرب میں تبلیغ کرنے کا ہے۔ انشاء اللہ اس مبارک دور خلافت ثانیہ میں بطفیل حضرت اولوالعزم فضل عمر (مرزا محمود احمد) یورپ و امریکہ میں جب کہ اسلام کا بول بالا ہو رہا ہے‘ ضرور تھا کہ وہ مقدس سرزمین عرب کہ جس کے انوار نورانی سے سارا جہان منور ہوگیا تھا‘ دوبارہ اس سرزمین کی منور چوٹیوں سے وہ نور چمک اٹھے تاکہ سیدنا مسیح موعود کا یہ الہام پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہو جائے کہ "مسلماں را مسلماں باز کردند" (اخبار "الفضل" قادیان ٣؍ مئی ١٩٢١ء ج٨‘ نمبر ٨٥)
قادیان ارض حرم ہے
- ١۔ امت قادیانیہ قادیان کو ارض حرم سمجھتی ہے۔ جیسا کہ ان کے نبی مرزا
غلام احمد نے لکھا ہے: ؎
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
٤
- ٢ ۔ ”جو احباب واقعی مجبوریوں کے سبب اس موقع (جلسہ سالانہ قادیان) پر
قادیان نہیں آسکے‘ وہ تو خیر معذور ہیں لیکن جنہوں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کے عہد واثق کا پاس کیا ہے اور ارض حرم (قادیان) کے انوار و برکات سے بہرہ اندوز ہوئے‘ امام محترم کی زیارت کرنے کے شوق میں دارالامان مہدی ٹھیک وقت پر آن ہی پہنچے۔ ان کی للھیت‘ ان کا اخلاص فی الواقعہ قابل تحسین ہے۔ اقامت نماز کے وقت جب ہجوم خلائق مسجد مبارک میں نہیں سما سکتا‘ گلیوں‘ دکانوں اور راستوں تک میں نمازی ہی نمازی نظر آتے ہیں اور ارض حرم کے چار مصلوں کی حقیقت ظاہر کرنے والا یہ نظارہ بھی ہر سال دیکھنے میں آتا ہے۔“ (اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ٤؍ دسمبر ١٩١٥ء)
قادیان میں ظلی حج
قادیانی بیت اللہ اور حج کا نام برائے وزن بیت لیتے ہیں‘ ان کی حجاز مقدس جانے کی غرض و غایت صرف قادیانی نبوت کا پرچار ہے۔ ان کا مقام حج تو قادیان ہے‘ جیسا کہ ان کے واجب الاطاعت خلیفہ مرزا محمود احمد کا عقیدہ ہے۔
- ١ ۔ ”چونکہ حج پر وہی لوگ جا سکتے ہیں جو مقدرت رکھتے ہیں اور امیر ہوں
حالانکہ الٰہی تحریکات پہلے غرباء میں ہی پھیلتی اور پنپتی ہیں اور غرباء کو حج سے شریعت نے معذور کر رکھا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک اور ظلی حج مقرر کیا تاکہ وہ قوم‘ جس سے وہ اسلام کی ترقی کا کام لینا چاہتا ہے اور تا وہ غریب یعنی ہندوستان کے مسلمان اس میں شامل ہو سکیں۔“ (خطبہ جمعہ مرزا محمود احمد‘ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ یکم دسمبر ١٩٣٢ء)
مرزائیوں کے نبی مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:
- ٢ ۔ ”لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس
جگہ (قادیان میں) نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے۔ غافل رہنے میں نقصان اور خطرہ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔“ (”آئینہ کمالات اسلام“
٥
ص ٣٥٤، ”روحانی خزائن“ ص ٣٥٢‘ ج ٥)
مرزائیوں کے خلیفہ محمود احمد نے اعلان کیا:
- ٣ - ”شیخ یعقوب علی صاحب بھی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح
موعود (مرزا) نے یہاں (قادیان) آنے کو حج قرار دیا ہے۔ ایک واقعہ مجھے بھی یاد ہے۔ صاحب زادہ عبداللطیف صاحب مرحوم شہید حج کے ارادہ سے کابل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ جب یہاں حضرت مسیح موعود (مرزا) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے حج کرنے کے متعلق اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس پر حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا اس وقت اسلام کی خدمت کی بے حد ضرورت ہے اور یہی حج ہے۔ چنانچہ پھر صاحب زادہ صاحب حج کے لیے نہ گئے اور یہیں (قادیان) رہے کیونکہ اگر وہ حج کے لیے چلے جاتے تو احمدیت نہ سیکھ سکتے۔“ (تقریر جلسہ سالانہ مرزا محمود احمد مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ١٥ جنوری ١٩٣٣ء)
- ٤ - ”میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ
قادیان کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“ (تقریر مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ج ٢٠‘ نمبر ٧٨‘ ١١ دسمبر ١٩٣٢ء‘ ص ١)
حرمین شریفین کی توہین
انبیاء علیہم السلام اور شعائر اللہ کی توہین قادیانیوں کا دل پسند مشغلہ ہے۔ چنانچہ ان کے خلیفہ نے اعلان کیا ہے کہ:
”یہاں (قادیان میں) آنا نہایت ضروری ہے۔ حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا‘ وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی
٦
چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔" ("حقیقۃ الرؤیا" مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان‘ طبع اول‘ ص ٤٦‘ ٢٧؍ اپریل ١٩٤٧ء)
راقم لال حسین اختر
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان کا سرکلر ماتحت جماعتوں کے نام
ظفر اللہ خاں کے داخلہ حجاز پر
شدید احتجاج
مکرمی و محترمی............................... زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘ مزاج گرامی
قادیانی باتفاق امت دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ مرزائیوں کے نزدیک مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کی تقدیس ختم ہو چکی ہیں اور اب یہ سب برکتیں قادیان کی ملعون زمین سے متعلق ہیں (نعوذ باللہ)
مرزائی جب حجاز مقدس کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں اہل اسلام کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش کارفرما ہوتی ہے۔ چنانچہ آج تک کسی بھی سابقہ حکومت حجاز نے قادیانیوں کو داخلہ حجاز کی اجازت نہیں دی۔ افسوس ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے اس سال ظفر اللہ خاں قادیانی کو عین حج کے دنوں میں داخلہ حجاز کی اجازت دے کر عالم اسلام کے قلب کو مجروح کیا ہے۔
جماعت ختم نبوت پاکستان کی طرف سے ١٥ صفر ١٣٨٧ھ دن جمعتہ المبارک کو یوم احتجاج منایا جا رہا ہے۔ آپ مذکورہ ذیل ”تجویز“ اپنے ہاں جمعہ کے اجتماعات سے پاس کرا کے شاہ فیصل کے نام معرفت سعودی سفارت خانہ کراچی روانہ کریں اور ملتان دفتر مرکزیہ کو بھی اطلاع دیں۔
تجویز ”آپ کی حکومت نے ظفر اللہ قادیانی کو حج کے دنوں میں دیار مقدس میں داخلہ کی اجازت دے کر امت کے اجتماعی فیصلہ سے انحراف کیا ہے، جس پر ہم شدید احتجاج کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ کسی قادیانی کو داخلہ حرمین شریفین کی اجازت نہ دی جائے۔ قادیانی باجماع امت دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
مجوز موید مقام مسجد (مولانا) محمد علی جالندھری امیر مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان، ملتان۔
(چنانچہ پورے ملک میں یہ احتجاج منایا گیا جس پر لاکھوں خطوط اور ہزاروں تاریں سفارت خانہ سعودی عرب کے ذریعہ شاہ فیصل تک پہنچائی گئیں، جس کی نقول دفتر مرکزیہ میں موصول ہوئیں۔)
ماہنامہ لولاک
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64، کمپیوٹر کتابت، عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل، ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے:
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
٨
مولانا اللہ وسایا
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
سیرت
مرزا قادیانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ بجا ہے کہ مرزا قادیانی نے دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کو اور اولیاء و علماء امت کو ولد الحرام ذریہ البغایا' کنجریوں کی اولاد' حرامزادے' خنزیر' کتے' بندر' شیطان' گدھے' کافر' مشرک' یہودی' مردود' ملعون اور بے شرم و بے حیا وغیرہ کہا۔ مانا کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں یہ ایک ایک لفظ لکھا اور مانے بغیر چارہ نہیں۔ کیونکہ یہ آج بھی مرزا کی پچاس الماریوں والی کتابوں میں موجود ہے اور اسے اب چاٹا نہیں جا سکتا۔ یہ سب بجا اور درست۔ یہ سب آج بھی کتابوں میں مسطور و مذکور اور موجود ہے لیکن بایں ہمہ مرزا کا دہن مبارک بد زبانی سے کبھی آلود نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ تو خود فرماتے ہیں۔
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے
گو ہیں بہت درندے انسان کے پوستیں میں
پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے
(”درثمین اردو“ ص١٧١، ”روحانی خزائن“ ص٤٥٩-٤٥٨، ج٢٠)
تو وہ خود کب بدکلامی فرما سکتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے کسی کو بھی گالی نہیں دی۔ نبوت کی زبان سے بھلا گالی کب نکل سکتی ہے جبکہ ”نبی“ خود کہتا ہے کہ ”گالیاں دینا سفلیوں اور کمینوں کا کام ہے“ (”ست بچن“ ص١٦١، ”روحانی خزائن“ ص٣٣، ج١٠)
- ◯ ”خدا تعالیٰ نے اس (حضرت مولانا سعد اللہ صاحب لدھیانوی) کی بیوی کے رحم
پر مہر لگا دی“ (”تتمہ حقیقۃ الوحی“ ص١٤، ”روحانی خزائن“ ص٤٤٤، ج٢٢)
- ◯ ”جہاں سے نکلے تھے‘ وہیں داخل ہو جاتے“ (”حیات احمد“ ج اول‘ نمبر٣‘
ص٢٥)
- ◯ ”آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔“ (”چشمہ
معرفت“ ص٨٦‘ ”روحانی خزائن“ ص٣٦٤، ج٢٣)
- (١) مسلمان حرامزادے ہیں‘ زناکار کنجریوں کی اولاد ہیں
- (١) جو شخص اس صاف فیصلہ کے خلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس
کرے گا اور کچھ شرم اور حیا کو کام نہیں لائے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں۔ حرامزادہ کی یہی نشانی ہے کہ وہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے ("انوار السلام" ص ٣٠‘
"روحانی خزائن" ص ٣١-٣٢‘ ج٩)
- (ب) کل مسلم ۔ یقبلنی و یصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا ۔ (ترجمہ) ہر
مسلمان مجھے قبول کرتا ہے اور میرے دعویٰ پر ایمان لاتا ہے مگر زناکار کنجریوں کی اولاد۔ ("آئینہ کمالات" ص ٥٤٧‘ "روحانی خزائن" ص ٥٤٧‘ ج٥)
(٢) اکابر امت اور مشائخ ملت‘ شیطان‘ شتر مرغ‘ ملعون‘ یاوہ گو اور
ژاژ خا ہیں
سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ۔ یہ سب شیاطین الانس ہیں اور میں اعلان سے کہتا ہوں کہ جس قدر فقرا میں سے اس عاجز کے مکفر یا مکذب ہیں۔ وہ تمام اس کامل نعمت مکالمہ الہیہ سے بے نصیب ہیں اور محض یاوہ گو اور ژاژ خا ہیں۔ کذابین کے دلوں پر خدا کی لعنت ہے۔ ("ضمیمہ انجام آتھم" حاشیہ‘ ص ٤
تا ٢٣‘ ملخصاً "روحانی خزائن" ص ٣٠٢- ٣٠٤‘ ج ١١)
(٣) علمائے امت کی ایسی تیسی
- (ا) اے بدذات فرقہ مولویاں! کب وہ وقت آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو
چھوڑو گے۔ ("انجام آتھم" حاشیہ‘ ص ٢١‘ "روحانی خزائن" ص ٢١‘ ج١١)
- (ب) اے بے ایمانو! نیم عیسائیو! دجال کے ہمراہیو! اسلام کے دشمنو......
تمہاری ایسی تیسی ہے۔ (اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ‘ ص ٥‘ "مجموعہ اشتہارات"
ص ٧٠- ٦٩‘ ج٢)
(٤) جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں
٣
جھوٹے آدمی کی یہ نشانی ہے کہ جاہلوں کے روبرو تو بہت لاف و گزاف مارتے ہیں مگر جب کوئی دامن پکڑ کر پوچھے کہ ذرا ثبوت دے کر جاؤ تو جہاں سے نکلے تھے وہیں داخل ہو جاتے ہیں۔ (”حیات احمد“ ج اول، نمبر ٣، ص ٢٥)
ان عمومی ”ارشادات نبویہ“ اور ”الہامات ربانیہ“ کے بعد اب ذرا بطور نمونہ نام بہ نام نوازشات ملاحظہ ہوں۔
(٥) امام المحدثین حضرت مولانا سید نذیر حسین محدث دہلویؒ
قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ وغیرہم آئمہ وقت کے حق میں ”نبوی“ گوہر افشانی اور شیریں بیان دیکھئے۔
ایہا الشیخ الضال والدجال البطال.... لعین شیخک الضال الکاذب نذیر المیشومین ثم الدهلوی عبدالحق رئیس المتصلفین ثم سلطان المتکبرین.... واخرہم الشیطان الاعمی والغول الاغوی یقال لہ رشید الجنجوہی و ھو شقی کالا مروہی والملعونین۔ (”انجام آتھم“ ص ٢٥٢، ”روحانی خزائن“ ص ٢٥١، ج ١١)
(٦) مرشد وقت پیر مہر علی شاہؒ کے حق میں ”مشک افشانی“ ہوتی ہے
- (ا) مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب بچھو کی
طرح نیش زن ہے۔ اے گولڑہ کی سرزمین تجھ پر لعنت تو ملعون کے سبب ملعون ہو گئی۔ (”اعجاز احمدی“ ص ٧٥، ”روحانی خزائن“ ص ١٨٨، ج ١٩)
کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے
کھل گئی ساری حقیقت سیف کی
کم کرو اب ناز اس مردار سے
(”نزول المسیح“ ص ٢٢٤، ”روحانی خزائن“ ص ٦٠٤، ج ١٨)
- (ج) مہر علی نے ایک مردہ کا مضمون چرا کر کفن دزدوں کی طرح قابل شرم
چوری کی ہے۔ نہ صرف چور بلکہ کذاب بھی لعنت اللہ علی الکاذبین، رہا محمد حسن
٤
اس نے جھوٹ کی نجاست کھا کر وہی نجاست پیر صاحب کے منہ پر رکھ دی۔ اس کے مردار کو چرا کر پیر مہر علی نے اپنی کتاب میں کھایا۔ ("نزول المسیح" حاشیہ' ص ٧٠-٧١ ' ”روحانی خزائن“ ص ٤٤٩-٤٤٨' ج ١٨)
(٧) غزنویوں کی جماعت پر لعنت
حضرت مولانا عبدالحق صاحب غزنوی کا نطفہ اور ان کی اہلیہ محترمہ کے پیٹ سے چوہا۔
- (١) عبدالحق کو ضرور پوچھنا چاہئے کہ اس کا وہ مباہلہ کی برکت کا لڑکا کہاں گیا۔
کیا اندر ہی اندر پیٹ میں تحلیل پا گیا یا پھر رجعت قہقہری کر کے نطفہ بن گیا (ضمیمہ انجام آتھم' ص ٣٧ حاشیہ ”روحانی خزائن“ ص ٣١' ج ١١) اب تک اس کی عورت کے پیٹ سے ایک چوہا بھی پیدا نہ ہوا۔ (ضمیمہ انجام آتھم' ص ٣٣' ”روحانی خزائن“ ص ٣١' ج ١١)
- (ب) عبدالحق اور عبدالجبار غزنویوں وغیرہ مخالف مولویوں نے بھی نجاست
کھائی۔ (ضمیمہ انجام آتھم' ص ٤٥' ”روحانی خزائن“ ص ٣٢٩' ج ١١)
- (ج) کیا اب تک عبدالحق کا منہ کالا نہیں ہوا۔ کیا اب تک غزنویوں کی جماعت
پر لعنت نہیں پڑی۔ (ضمیمہ انجام آتھم' ص ٥٨-٥٩' ”روحانی خزائن“ ص ٣٣٣-٣٣٢' ج ١١)
گل افشانیوں کے یہ نمونے ایک ”نبوی“ تصنیف لطیف (ضمیمہ انجام آتھم' ص ٢٧' وغیرہ پر ہیں۔ ص ٥٨ تک ”یہ زعفران زار“ کھلا ہے اور حجتہ اللہ (عربی) وغیرہ دوسری کتابوں میں بھی غزنوی خاندان کے متعلق یہ ”عطر بیزیاں“ موجود ہیں۔
(٨) حضرت مولانا شیخ سعد اللہ صاحبؒ لدھیانوی کی بیوی کے رحم پر
مہر
اس کی نسبت خدائے تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ان شانئک ھو الابتر گویا اسی دم سے خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگا دی اور اس کو یہ الہام کھلے کھلے معنے
٥
لفظوں میں سنایا گیا کہ اب موت کے دن تک تیرے گھر اولاد نہ ہوگی اور نہ آگے سلسلہ اولاد کا چلے گا (”تتمہ حقیقتہ الوحی“ ص ١٣، ”روحانی خزائن“، ص ٤٤٤، ج ٢٢) سبحان اللہ! کیا خوب ”نبوی“ اخلاق اور ”الہامی“ تہذیب ہے۔ جب بیویوں کے رحم پر مہر لگانے والے ”خدا اور رسول“ کی طرف دنیا کو دعوت دی جائے گی تو انگلستان، امریکہ، جرمنی اور فرانس وغیرہ کا ہر دل پھینک زندہ دل جنٹلمین ایمان لانے میں سبقت کرے گا اور ضبط تولید کی دلدادہ ہر لیڈی بصمیم قلب ”امنا وصدقنا“ پکار اٹھے گی۔
مرا اے کاش کہ مادرنہ زادے
(اقبال)
پھر یہ بھی دیکھا کہ مرزا کا ”خدا“ کسی کی بیوی کے رحم پر مہر لگائے تو یہ مہر توڑ کر نو دس ماہ کا بچہ بھی باہر نہ آسکے اور نہ اولاد کا سلسلہ چل سکے۔ مگر جب محمد رسول اللہ کا خدا نبوت پر مہر لگا دے تو پچاس ساٹھ سالہ بوڑھا ”نبی“ یہ مہر توڑ کر کسی نہ کسی طرح باہر آجائے اور نبوت کا سلسلہ برابر جاری رہے۔
لطیفہ۔ مناظرہ بھدروانہ میں جب میں نے بوقت مناظرہ یہ الہام ”ربانی“ اور اس کی یہ مندرجہ بالا ”نبوی“ تفسیر پیش کی تو قادیانی مناظر مولوی عبدالغفور صاحب فرمانے لگے۔ ”یہ کیا گندی باتیں ہیں۔“ اس پر میں نے برجستہ کہا کہ جناب! گندی باتیں کہاں؟ یہ تو الہامات ”ربانیہ“ اور ارشادات ”نبویہ“ ہیں۔ اس پر وہ ایسے چپ ہوئے کہ گویا سانپ سونگھ گیا ہو۔
(٩) حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب عورتوں کی عار ہیں!
- (١) مولوی ثناء اللہ صاحب پر لعنت لعنت دس بار لعنت (”اعجاز احمدی“ ص ٤٥،
”روحانی خزائن“ ص ١٣٩، ج ١٩) ایک بھیڑیئے (”اعجاز احمدی“ ص ٨٧، ”روحانی خزائن“ ص ١٩١، ج ١٩)
- (ب) اے عورتوں کی عار ثناء اللہ (”اعجاز احمدی“ ص ٩٢، ”روحانی خزائن“ ص
٦
١٩٦‘ ج١٩) اے جنگلوں کے غول تجھ پر ویل۔ (”اعجاز احمدی“ ص٨٩‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٩٣‘ ج ١٩)
یہ عقدہ نہ کھلا کہ مرزا نے کس شکایت کی بنا پر مولانا کو عورتوں کی عار فرمایا۔ حالانکہ مولانا رحمتہ اللہ علیہ تو مرزا کی دعوت پر فوراً قادیان پہنچ گئے تھے اور الٹا مرزا ہی گھر میں چھپ کر بیٹھ رہے تھے اور مقابلہ و مناظرہ سے صاف فرار اختیار کر گئے تھے۔
پھر یہ ”نبوی کرم فرمائی“ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں۔ اس بارش الطاف و عنایات سے غیر مسلمین کو بھی حصہ وافر ملا ہے۔ صرف نمونہ بطور قطرے از بحر ذخار ملاحظہ ہو۔
(١٠) لعنت۔ لعنت۔ لعنت۔ لعنت
نور الحق صفحہ ١١٨ سے ١٢٢ تک عیسائیوں کو لعنت۔ لعنت۔ لعنت۔ لعنت حتیٰ کہ پوری ہزار لعنتیں لکھ کر قادیانی ”نبوی“ تہذیب و شرافت کو عریاں کیا ہے۔ (”روحانی خزائن“ ص ١٥٨ سے ص ١٦٢‘ ج ٨) تک لعنت کی گردان۔
(١١) دس سے کروا چکی زنا لیکن
آریوں کے متعلق صرف نیوگ پر ایک طویل نظم کے چند اشعار آبدار ملاحظہ ہوں۔
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بیقراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی زنا لیکن پاک دامن ابھی بیچاری ہے
لالہ صاحب بھی کیسے احمق ہیں ان کی لالی نے عقل ماری ہے
گھر میں لاتے ہیں اس کے یاروں کو ایسی جورو کی پاسداری ہے
٧
ہے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورو کی حق گزاری ہے
کیا کریں وید کا یہی ہے حکم ترک کرنا گناہ گاری ہے
(”آریہ دھرم“ حاشیہ، ص ٧، ”روحانی خزائن“ ص ٧٢ تا ٧٥، ج ١٠)
(١٢) آریوں کا پرمیشر
آریوں کا پرمیشر ناف سے دس انگل نیچے ہے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں۔ (”چشمہ معرفت“ ص ٢٦١، ”روحانی خزائن“ ص ٢٨٣، ج ٢٣) (معلوم ہوتا ہے کہ مرزا ”الجبرا“ بھی نہ صرف پڑھا ہوا، بلکہ پریکٹیکل میں بھی ماہر تھا)
تاریخ عالم کو الٹ پلٹو! دنیا میں کوئی ایسا ”خوش کلام“ اور ”شیریں گفتار“ انسان پیش کر سکتے ہو تو کرو۔ نہیں کر سکتے! ابتدائے آفرینش سے آج تک کیفیت میں اس قسم کی فحش کلامی و عریانی اور کمیت میں اس قدر بدزبانی اور زہر افشانی کا عشر عشیر بھی نہیں دکھلا سکو گے۔
یہاں ہم نے بادل ناخواستہ بطور نمونہ مشتے از خروارے صرف چند ”خوش کلامیاں“ پیش کی ہیں۔ اگر اس سے زیادہ تفصیل مطلوب ہو تو مولانا نور محمد صاحب سابق مبلغ و مناظر مظاہر العلوم سہارن پور کا رسالہ ”مغلظات مرزا“ ملاحظہ ہو۔ گو مرزا کے ان کارناموں کا استیعاب تو ان سے بھی نہیں ہو سکا۔ تاہم انہوں نے بڑے سائز کے ٧٢ صفحات کے اس رسالہ میں ٦ اور ٧ سو کے درمیان ایسی سوقیانہ گالیاں ردیف وار معہ حوالہ جمع کر دی ہیں۔
بد زبانی کے متعلق مرزا کا فیصلہ
آخر میں بد زبانی کے متعلق خود مرزا کا فیصلہ اور فتویٰ پیش کر دینا جہاں آپ لوگوں کی دلچسپی کا موجب ہو گا۔ وہاں اس سے غیر جانبدارانہ اور خالی الذہن مبصر و ناقد کو مرزا صاحب کا حقیقی مقام اور صحیح منصب متعین کرنے میں مدد ملے گی۔
- (١) گالیاں دینا سفلیوں اور کمینوں کا کام ہے۔ (”ست بچن“ ص ٢٠، ”روحانی
٨
خزائن‘‘ ص ٤٦٣‘ ج ١١)
جس دل میں یہ نجاست بیت الخلا یہی ہے
گو ہیں بہت درندے انساں کی پوستیں میں
پاکوں کا خوں جو پیوے وہ بھیڑیا یہی ہے!
(’’در ثمین اردو‘‘ ص ١٧‘ ’’روحانی خزائن‘‘ ص ٤٥٨‘ ج ٢٠)
افسوس کہ بد زبانی کی مذمت اور تقبیح کرتے ہوئے بھی مرزا کی زبان بد زبانی سے ملوث ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔
بد زبانی کے جواب میں فریب کاری
کہا جاتا ہے کہ مرزا کی یہ گل افشانیاں مخالفین کی زبان درازیوں کا جواب اور ردعمل ہیں۔ لہٰذا عوض معاوضہ گلہ ندارد! لیکن یہ سراپا مغالطہ اور سراسر فریب کاری اور سولہ آنے دھوکہ بازی ہے۔ کیونکہ اول تو مرزا خود فرماتے ہیں۔
- (١) بدی کا جواب بدی سے مت دو نہ قول سے نہ فعل سے۔ (’’نسیم دعوت‘‘
ص ٣‘ ’’روحانی خزائن‘‘ ص ٣٦٥‘ ج ١٩)
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے
(’’آئینہ کمالات اسلام‘‘ ص ٢٢٥‘ ’’روحانی خزائن‘‘ ص ٢٢٥‘ ج ٥)
- (٣) خبردار! نفسانیت تم پر غالب نہ آوے۔ ہر ایک سختی کو برداشت کرو۔ ہر
ایک گالی کا نرمی سے جواب دو۔ (’’نسیم دعوت‘‘ ص ٣‘ ’’روحانی خزائن‘‘ ص ٣٦٥‘ ج ١٩)
- (٤) ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا (اس کی) چھوٹی لڑکی بولی‘ آپ نے کیوں نہ
کاٹ کھایا؟ اس نے جواب دیا‘ بیٹی! انسان سے ’’کت پن‘‘ نہیں ہوتا۔ اس طرح جب کوئی شریر گالی دے‘ تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے۔ نہیں تو وہی ’’کت پن‘‘ کی مثال لازم آئے گی۔ (تقریر مرزا جلسہ قادیان‘ ١٨٩٧ء رپورٹ ٩٩)
٩
دوسرے ہم چیلنج کرتے ہیں کہ جس طرح مرزا کی سینکڑوں بدزبانیاں ہم نے پیش کر دی ہیں۔ اسی طرح علمائے کرام خصوصاً مجدد وقت قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ، امام المحدثین حضرت سید نذیر حسین دہلویؒ، پیر کامل مرشد اعظم حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ کی زبان اور قلم سے ایک ناشائستہ کلمہ کی نشان دہی کی جائے اور بتلایا جائے کہ مرزا نے تمام دنیا کے اربوں آدمیوں، کروڑوں مسلمانوں اور خصوصاً مولوی سعد اللہ صاحب لدھیانوی کو کم از کم پچاس دفعہ ذریہ البغایہ‘ ولد الحرام‘ حرامزادہ‘ حرامی لڑکا‘ ہندو زادہ کہا ہے اور یہ مرزا کی مرغوب اور مخصوص گالی ہے اور ان کی زبان ہمیشہ اس حرام‘ حرام سے آلودہ رہتی ہے۔ کیا دنیا کے ایک آدمی نے ایک دفعہ بھی مرزا صاحب کو یا مرزا کی اولاد کو زناکار‘ کنجری کی اولاد‘ ولد الحرام‘ حرامزادہ‘ حرامی لڑکا اور ہندو زادہ کہا۔ اگر کہا تو پیش کرو۔
حالانکہ دنیا آپ کو نہیں تو آپ کی اولاد کو حسب ذیل اقوال کی روشنی میں اگر ان خطابات سے مخاطب کرتی تو وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہوتی۔ ملاحظہ ہو:
بھجے دی ماں
مرزا بشیر احمد گھر کے بھیدی لنکا ڈھاتے ہیں۔
- (١) بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل ہی
سے مرزا فضل احمد کی والدہ سے‘ جن کو لوگ عام طور پر ”بھجے کی ماں“ کہا کرتے تھے‘ بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھی‘ اس لیے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔
(”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص٤٦‘ طبع دوم‘ ص٣٣)
مرزا قادیانی گویا بچے ہی تھے!
- (٢) خاکسار (مرزا بشیر احمد صاحب) عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے حضرت مسیح
موعود کے دو لڑکے پیدا ہوئے۔ یعنی مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد
١٠
حضرت صاحب ابھی گویا بچے ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد پیدا ہو گئے۔ ("سیرۃ المہدی" حصہ اول‘ ص ٤٠‘ طبع دوم‘ ص ٥٣)
ایک بچے کا بچے پیدا کرنا یقیناً ایک معجزہ ہے۔ لیجئے مرزا کی نبوت کا ایک اور ثبوت مل گیا۔ تعجب ہے کہ امت مرزائیہ نے اس سے مرزا کی نبوت کا استدلال کیوں نہ کیا۔
(٣) ١١؍ ستمبر ١٩٠١ء اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مجھے کبھی اولاد کی خواہش نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ خدا تعالیٰ نے پندرہ یا سولہ برس کی عمر کے درمیان ہی اولاد دے دی تھی۔ یہ سلطان احمد اور فضل احمد قریباً اسی عمر میں پیدا ہو گئے تھے۔ ("اخبار الحکم" قادیان‘ ج ٥‘ نمبر ٣٥)
اب غور فرمائیے! "پندرہ برس کی عمر کے درمیان" جب کہ آدمی پورا بالغ بھی نہیں ہوتا۔ مرزا سلطان احمد صاحب پیدا ہو گئے تو مرزا فضل احمد صاحب زیادہ سے زیادہ تیرہ برس کی عمر میں جب کہ انسان ابھی گویا بچہ نہیں حقیقی بچہ ہوتا ہے۔ اولاد پیدا کرنے کے قابل ہو گئے۔ حالانکہ حضرت مسیح موعود کو اوائل سے ہی "پھجے دی ماں" سے بے تعلقی بھی تھی۔ کیونکہ اس کا میلان مرزا کے "بے دین" رشتہ داروں کی طرف تھا اور وہ انہی کے رنگ میں رنگین تھی۔ اس لیے حضرت مسیح موعود نے اوائل سے ہی ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ مگر بایں ہمہ اعجازی طور پر پیاپے دو لڑکے پیدا ہو ہی گئے۔
کیا دنیا بے زبان ہے۔ مانا کہ دنیا اس فن شریف میں مجدد کی حیثیت نہیں رکھتی۔ لیکن کیا وہ مرزا ہی کے اگلے ہوئے نوالے بھی ان کے منہ میں نہیں دے سکتی؟ اگر ہم مرزا ہی کے عطا فرمودہ یہ تمام خطابات مرزا کے حق میں استعمال کریں‘ تو دنیا کا کوئی ضابطہ عدل و انصاف مانع ہونے کا حق رکھتا ہے؟ یا ہمارے منہ میں زبان اور ہاتھ میں قلم نہیں ہے؟ یہ سب کچھ ہے‘ مگر ہم بتقاضائے انسانی شرافت اور بمطالبہ اخلاق و آدمیت صرف "عطائے تو بہ لقائے تو" کہہ کر اس مکروہ باب کو ختم کرتے ہیں۔
١١
پر تیری طرح عشق کو رسوا نہیں کرتے
چیلنج: اگر ان شواہد دلائل کے باوجود بھی کسی قادیانی یا لاہوری دوست کو حضرت کی بد زبانی میں تامل ہو‘ تو جیسا کہ بارہا پریس سے چیلنج دیا جا چکا ہے۔ ہم انہیں آج ایک دفعہ بھر پوری قوت کے ساتھ چیلنج کرتے ہیں کہ وہ کسی وقت کسی جگہ اس عنوان پر ہم سے مناظرہ و بحث کر لیں۔ شرائط وغیرہ کا اڑنگا لگا کر نکل جانے کی راہ ہم نہیں دیں گے۔ ہم امن کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں‘ اور غیر مشروط مناظرہ کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم صرف مرزا کے ”اقوال و ارشادات“ ہی سے آفتاب نصف النہار کی طرح دکھلا دیں گے‘ کہ عظیم الشان ”نبی“ یا اس صدی کا ”مجدد اعظم“‘ ”سباب اعظم“ اور ”مجدد سب و شتم“ ہے۔ نہ صرف مجدد بلکہ اس فن شریف میں موجد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس نے ایسی ایسی ”لطیف و نفیس“ گالیاں ایجاد کی ہیں‘ جو لکھنؤ کی بھٹیاریوں تک کے وہم و گمان میں بھی نہ آئی ہوں گی۔ اس کے جواب میں آپ کلیتہً آزاد ہیں۔ مرزا کی پوزیشن صاف کرنے کے لیے جو چاہیں کہیں۔ کوئی ہے جو ہمارا یہ غیر مشروط چیلنج قبول کرے۔
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
بڑے میاں بڑے میاں‘ چھوٹے میاں سبحان اللہ!
اگر برا نہ مانا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ مرزا کا مقابلہ ”خوش کلامی“ اور ”شیریں زبانی“ میں اگر کیا‘ تو میاں محمود نے ”نبی“ کا ریکارڈ اگر توڑا تو ”خلیفہ“ نے۔ باپ کی جگہ اگر لی تو بیٹے نے۔ آپ کی خوش بیانی کے ڈنکے دنیا بھر میں بجائے جاتے ہیں۔ آپ ایک خطبہ نکاح میں یوں اپنے دہن مبارک سے گل افشانی فرماتے ہیں۔
”حضرت مسیح موعود (مرزا) کے قریباً ہم عمر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی تھے۔ ان کے والد کا جس وقت نکاح ہوا‘ ان کو اگر حضرت اقدس مسیح موعود
١٢
مرزا) کی حیثیت معلوم ہوتی اور وہ جانتے کہ میرا ہونے والا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظل اور بروز کے مقابلہ میں وہی کام کرے گا جو آنحضرتؐ کے مقابلہ میں ابو جہل نے کیا تھا، تو وہ اپنے آلہ تناسل کو کاٹ دیتا، اور اپنی بیوی کے پاس نہ جاتا۔“ (”الفضل قادیان“ ٤؍ نومبر ١٩٢٢ء)
انا للہ!
خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئے
پھولوں کی اس جھڑی اور موتیوں کی اس لڑی پر اتنا تعجب و تحیر نہیں جتنی حیرت اس بات کی ہے کہ ان اقوال و ارشادات بلکہ ان الہامات کے صدور و نزول اور آج تک ان کے باوجود باپ کو عظیم الشان نبی اور سب رسولوں سے افضل و برتر رسول یا بدرجہ اقل مجدد اعظم اور مسیح موعود مانا جاتا ہے، تو بیٹے کو خلیفۃ المسیح اور مصلح موعود حالانکہ باپ کی زبان ”وحی ترجمان“ سے حضرت مولانا غزنویؒ کی باعصمت بیوی کا پیٹ اور حضرت مولانا سعد اللہ صاحب لدھیانوی کی عفت مآب بیوی کا رحم محفوظ نہ رہا، تو بیٹے کی لسان ”الہام نشان“ سے حضرت مولانا محمد حسین بٹالوی کے باپ کا آلہ تناسل نہ بچ سکا۔
اگر مرزا قادیانی کا ہم عمر تھا، تو مولوی محمد حسین! ”حضرت مسیح موعود کے مقابلہ میں اگر کوئی کام کیا تھا“ تو مولوی محمد حسین نے، لیکن آلہ تناسل کاٹا جاتا ہے، ان کے والد کا، اس بیچارے کا کیا قصور؟ اس نے کون سا ایسا اقدام کیا تھا؟
اس انتہائی گراوٹ اور زبان کے بدترین تلوث کے باوجود بھی کہ جسے نقل کرتے ہوئے بھی دم گھٹتا جاتا ہے، اور ضمیر مرا چاہتا ہے۔ مرزا قادیانی اگر ”نبی“ ہیں اور میاں خلیفہ! تو یہ اس مرزائی علم کلام کی برکت ہے۔ جو زبان و قلم کی ان گل افشانیوں اور جولانیوں کے بعد بھی مرزا کو ”سلطان القلم“ اور خلیفہ کو ”غالب علیٰ کل“ قرار دیتا ہے، اور مذکورہ بالا حوالوں کو من و عن لفظاً لفظاً نہیں۔ بلکہ حرفاً حرفاً تسلیم کرنے کے بعد یہ کہتا ہے کہ ان حضرات کے منہ سے کبھی ناجائز و ناروا بات نکلی
١٣
اور نہ نکل سکتی ہے۔
پھر ہم سے یہ کہتے ہیں کہ ہم پردہ نشیں ہیں
امت مسلمہ کا فرض
امت مسلمہ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے باغیوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائے اور جھوٹے مدعیان نبوت کے طلسم سامری کو پاش پاش کر ڈالے۔ اس فریضہ کا نام تحفظ ختم نبوت ہے اور تاریخ شہادت دے گی کہ امت مسلمہ نے کسی دور میں بھی اس فریضہ سے تغافل نہیں کیا۔
(حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)
١٤
مولانا لال حسین اختر
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
عالمگیر مجلس تحفظ ختم نبوت
مرکزی دفتر حضوری باغ روڈ ملتان
عجائبات
مرزا قادیانی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مرغ، بلی اور چوہا
مرزا غلام احمد قادیانی تحریر فرماتے ہیں۔ رویا دیکھا، چند آدمی سامنے ہیں، ایک چادر میں کوئی شے ہے۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ آپ لے لیں۔ دیکھا تو اس میں چند مرغ ہیں، اور ایک بکرا (چادر میں بکرا سبحان اللہ، عجائبات در عجائبات۔ مدیر) ہے، میں ان مرغوں کو اٹھا کر اور سر سے اونچا کر کے لے چلا، تاکہ کوئی بلی وغیرہ نہ پڑے۔ راستہ میں ایک بلی ملی، جس کے منہ میں کوئی شے مثل چوہا ہے مگر اس بلی نے اس طرف توجہ نہیں کی، اور میں ان مرغوں کو محفوظ لے کر گھر پہنچ گیا۔ (وہ تو خیر گزری کہ بلی نے توجہ نہ فرمائی۔ ورنہ مرزا صاحب بہادر مرغوں کو گھر تک سلامت کب لے جاسکتے؟ اور بکرے بیچارے کی تو بلی ٹکا بوٹی کر دیتی۔ مدیر) (”البدر“ نمبر١، جلد٢٠، ١٩٠٥ء، ”مکاشفات“ ص٤٢، ”تذکرہ“ ص٥٥٨، طبع٣)
مرزا صاحب کے الہام کنندہ نے ”بلی کو چوہے کی خواب“ کی ضرب المثل سچ کر دکھائی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی بہادر اور خوفناک قسم کی بلی تھی کہ جس سے مرزا جی کے بکرے تک کو خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ خلیفہ قادیان اور امت مرزائیہ کو چاہیے کہ آئندہ ربوہ کے سالانہ جلسہ میں اس بلی کے لیے ہدیہ تشکر کی قرارداد منظور کریں، کہ اس بلی نے مرغوں، بکرے اور خود مرزا صاحب کی طرف توجہ نہ کی، اگر وہ حملہ آور ہوتی تو مرغوں بکرے اور خود جناب نبوت مآب کی خیر نہ تھی۔
مرغی کا الہام
مرزا غلام احمد صاحب ارشاد فرماتے ہیں۔
”رویا، دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مرغی ہے، وہ کچھ بولتی ہے، سب فقرات یاد نہیں رہے، مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا۔ ان کنتم مسلمین اس کے بعد بیداری
٢
ہوئی۔ یہ خیال تھا کہ مرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔ پھر الہام ہوا۔ "انفقوا فی سبیل اللہ ان کنتم مسلمین" ("بدر" جلد ٦، نمبر ٦، ١٩٠٦ء "مکاشفات" ص ٤٧، تذکرہ
ص ٥٨٠، طبع ٣)
مرزائیو! شکر کرو کہ تمہارے "مسیح موعود" کی روایتی بلی کو اس الہام کرنے والی مرغی کا علم نہیں ہوا، اگر اسے پتہ چل جاتا تو وہ اس مرغی کو معہ الہام بغیر ڈکار لیے ہضم کر جاتی۔ لگے ہاتھ اتنا تو بتاؤ کہ جب مرزا جی کے سب فقرات یاد نہ رہے تو فرشتے کے لائے ہوئے الہام کس طرح یاد رہتے ہوں گے؟
سور کو الہام
میر محمد اسماعیل صاحب قادیانی لکھتے ہیں۔
"ایک جاہل شخص مسیح موعود (مرزا) کا نوکر تھا۔ اس پر ایک دن الہام کا چھینٹا بہ برکت حضرت مسیح موعود (مرزا) پڑ گیا۔ وہ سو رہا تھا۔ اسے الہام ہوا کہ اٹھ او سور! نماز پڑھ!"
(اخبار "الفضل قادیان" ٣؍ اکتوبر ١٩٣١ء ص ٧)
سچ ہے جیسی روح ویسے فرشتے۔ جیسے قادیانیوں کے مسیح ویسا نوکر۔ ویسی برکت ویسا فرشتہ اور ویسا الہام۔
کذاب فرشتہ
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں۔
"رؤیا کوئی شخص ہے۔ اس سے میں کہتا ہوں کہ تم حساب کر لو، مگر وہ نہیں کرتا، اتنے میں ایک شخص آیا، اور اس نے ایک مٹھی بھر کر روپے مجھے دیئے ہیں۔ اس کے بعد ایک اور شخص آیا، جو الہی بخش کی طرح ہے، مگر انسان نہیں فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس نے دونوں ہاتھ روپوں کے بھر کر میری جھولی میں ڈال دیئے، تو وہ اس قدر ہوگئے کہ میں اُن کو گن نہیں سکتا۔ پھر میں نے اس کا نام پوچھا۔ تو اس نے کہا، میرا کوئی نام نہیں۔ دوبارہ دریافت کرنے پر کہا، کہ میرا نام ہے، 'ٹیچی'۔
("مکاشفات"
ص ٣٨، ”تذکرہ“ ص ٥٢٩۔ ٥٢٨، طبع ٣)
مرزا جی کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں روپے عطا کرنے والا ٹیچی فرشتہ کذاب اعظم تھا۔ کسی عام انسان کے سامنے جھوٹ بولنا گناہ عظیم ہے۔ مرزائیوں کے ”ظلی و بروزی نبی“ کی خدمت میں کذب بیانی کذاب اکبر کا ہی حوصلہ ہو سکتا ہے۔ مرزا صاحب نے پہلی دفعہ اپنے محسن اعظم فرشتہ سے دریافت کیا، کہ تمہارا نام کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ میرا کوئی نام نہیں۔ مگر دوبارہ نام پوچھا تو اس نے کہا، میرا نام ہے ٹیچی۔ مرزا جی کے فرشتے نے یا پہلی دفعہ جھوٹ بولا یا دوسری دفعہ!
مرزائیو! جس نبی کے فرشتے جھوٹے اور کذاب ہوں۔ اس نبی کی نبوت کا کیا اعتبار؟ سچ ہے، جیسی روح ویسے فرشتے!
کیا جانے کیا کرے جو خدا اختیار دے
یہ تو خیر سے پرائمری فیل ہے۔ اگر مڈل پاس ہو جاتے تو جانے کامیابی کا معیار کیا ٹھہراتے اور کیا سے کیا بن جاتے۔ ذہنی افلاس اور دماغی قلاشی کا یہ حال کہ پرائمری تک پاس نہیں کر سکے، اور تعلی یہ کہ حبیب کبریاؐ سے نیچے کوئی درجہ نظر ہی نہیں آیا۔
اب تو یارب ترے بندوں کی طبیعت بدلے
اور پھر یہ پرائمری فیل ہو کر محمد مصطفیٰؐ سے بڑھ جانے کے امکانات صرف بیٹے تک محدود نہیں، باپ کا بھی یہی حال ہے۔ وہ خیر سے امتحان تو مختاری کا پاس نہ کر سکے مگر نقل کفر کفر نباشد، بڑھ گئے حبیب خدا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
ایک مردود مرید قاضی اکمل کی ملعون زبان بکتی ہے۔
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
٤
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(”البدر“ ص ١٣‘ ٢٥؍ اکتوبر ١٩٠٦ء ”قادیان“ ج ٢‘ نمبر ٤٣)
”الفضل“ اس بے ایمانی و بے غیرتی پر چلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کی بجائے قریباً چالیس سال بعد اس بے حیائی پر فخر و ناز کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ
”یہ شعر اس نظم کا حصہ ہے جو حضرت مسیح موعود کے حضور میں پڑھی گئی اور خوش خط لکھے ہوئے قطعے کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور“۔۔۔ (جزاکم اللہ تعالیٰ کہہ کر) اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ حضرت کا شرف سماعت حاصل کرنے اور ”جزاکم اللہ تعالیٰ“ کا صلہ پانے اور اس قطعے کو اندر خود لے جانے کے بعد کسی کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ اس پر اعتراض کر کے اپنی کمزوری ایمان و قلت عرفان کا ثبوت دے۔“ (”الفضل“ ٢٢؍ اگست ١٩٤٤ء جلد ٣٢‘ نمبر ١٩٤ ص ٤)
تف ہے اس ایمان اور لعنت ہے اس عرفان پر۔
مختاری فیل ”مسیح موعود“
پھر یہ بھی تو دیکھئے کہ فخر رسل سید الانبیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ”سے بڑھ کر شان“ والے منشی غلام احمد خیر سے کھوٹا رام جتنی قابلیت بھی نہیں رکھتے اور مختاری کا جو امتحان ہزاروں ہندو سکھ پاس کر لیتے تھے وہ ”حضرت صاحب“ پاس نہ کر سکے۔
صاحب زادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے لکھتے ہیں۔
”ڈاکٹر امیر شاہ صاحب استاد مقرر ہوئے مرزا صاحب نے انگریزی شروع کی اور ایک دو کتابیں انگریزی کی پڑھیں۔۔۔۔۔ آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی‘ اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے‘ اور کیونکر ہوتے وہ دنیوی اشغال کے لیے بنائے نہیں گئے تھے“۔ (”سیرۃ المہدی“ حصہ اول‘ ص ١٣٧-١٣٨‘ ص ١٥٥-١٥٦‘ طبع دوم)
٥
چہ خوب! گویا امتحان میں کامیاب ہونا تو دعویٰ اشغال کا پیش خیمہ تھا، مگر فیل اور ناکام ہونا، مدارج نبوت کا ایک درجہ اور قصر مسیحیت کا ایک ضروری زینہ
”چھوٹے میاں“ (بشیر احمد صاحب) کا یہ آخری فقرہ ”انگور کھٹے ہیں“ کے مصداق بہت دلچسپ ہے، مگر اس سے زیادہ دلچسپ ”بڑے میاں“ (محمود احمد صاحب) کا ارشاد ملاحظہ ہو فرماتے ہیں۔
افیمی استاد کا افیمی شاگرد
حضرت مسیح موعود کو بھی یہ دعویٰ نہ تھا کہ آپ نے ظاہری علوم کہیں پڑھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے، میرا ایک استاد تھا جو افیم کھایا کرتا تھا، وہ حقہ لے کر بیٹھ رہتا تھا، کئی دفعہ پینک میں اس سے اس کے حقہ کی چلم لوٹ جاتی۔ ایسے استاد نے پڑھانا کیا تھا۔ (”الفضل“ ٥؍ فروری ١٩٢٩ء)
گویا ”حضرت صاحب“ اس استاد سے پڑھتے پڑھاتے نہیں تھے بلکہ اس سے جس فن میں وہ ماہر تھا، اسی کا استفادہ کرتے تھے۔ چنانچہ ذیل کی روایات سے اس بات کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔
- (١) میاں محمود احمد صاحب لکھتے ہیں۔
حضرت مسیح موعودؒ نے تریاق الٰہی دوا، خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت بنائی اور اس کا بڑا جز افیون تھا، اور یہ دوا کسی قدر اور افیون کی زیادتی کے بعد حضرت خلیفہ اول (حکیم نور الدین صاحب) کو حضور (مرزا صاحب) چھ ماہ سے زائد تک دیتے رہے اور خود بھی وقتاً فوقتاً مختلف امراض کے دوروں کے وقت استعمال کرتے رہے۔ (”الفضل“ ١٩؍ جولائی ١٩٢٩ء، افیون ”تذکرہ“ ص ١٩١ ج ٣، افیون کا استعمال ”تذکرہ“ ص ٧٦، طبع ٣، ”سیرت المہدی“ ص ٢٨٤، ج ٣)
- (٢) آپ کی عادت تھی کہ روٹی توڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے
جاتے، پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کے منہ میں ڈال لیتے، اور باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود ایسا کیوں کرتے تھے، مگر کئی دوست کہا کرتے
٦
تے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں۔
("الفضل" ٣؍ مارچ ١٩٣٥ء)
- (٣) صاحب زادہ بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں۔
"خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے‘ جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے‘ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا‘ اس لیے ریشمی ازار بند رکھتے تھے۔ تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھلنے میں دقت نہ ہو۔ سوتی ازار بند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی"۔
("سیرۃ المہدی" حصہ اول‘ ص٤٢‘ ص٥٥‘ طبع ٢)
- (٤) بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی
پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی‘ اور بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوتا تھا‘ اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی جوتا ہدیہ لاتا تو آپ بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں۔ چنانچہ اسی تکلیف کی وجہ سے آپ دیسی جوتہ پہنتے تھے۔ اسی طرح کھانا کھانے کا یہ حال تھا کہ خود فرمایا کرتے تھے‘ کہ ہمیں تو اس وقت پتہ لگتا ہے کہ کیا کھا رہے ہیں کہ جب کھانا کھاتے کھاتے کوئی کنکر وغیرہ کا ریزہ دانت کے نیچے آ جاتا ہے۔
("سیرۃ المہدی" حصہ دوم‘ ص٥٨)
- (٥) بعض اوقات زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر تلے چڑھا لیتے مگر بارہا
جراب اس طرح پہن لیتے‘ کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتی کبھی تو سرا آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آ جاتی‘ کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی۔
("سیرۃ المہدی" حصہ دوم‘ نمبر١٤٢‘ ص٤٧‘ طبع دوم)
- (٦) کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ‘ صدری ٹوپی‘ عمامہ‘ رات کو اتار کر
تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے ۔۔۔ بستر پر‘ سر اور جسم کے نیچے ملے جاتے۔
("سیرۃ المہدی" حصہ دوم‘ ص٤٨)
٧
اس سلسلہ میں چند ایک مریدان باصفا کی روایت بھی سن لیجئے۔
- (٧) آپ کو (یعنی مرزا صاحب کو) شیرینی سے بہت پیار ہے، اور مرض بول
بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے۔ (”مسیح موعود کے مختصر حالات“ ”ملحقہ براہین“ طبع اول، ص٦٧، ”مرتبہ معراج الدین قادیانی“)
- (٨) ایک دفعہ ایک شخص نے بوٹ تحفہ میں پیش کیا۔ آپ (مرزا صاحب)
نے اس کی خاطر سے پہن لیا۔ مگر اس کے دائیں بائیں کی شناخت نہیں کر سکتے تھے۔ دایاں پاؤں بائیں طرف کے بوٹ میں اور بایاں پاؤں دائیں طرف کے بوٹ میں پہن لیتے تھے۔ آخر اس غلطی سے بچنے کے لیے ایک طرف بوٹ پر سیاہی سے نشان لگانا پڑا۔ (”منکرین خلافت کا انجام“ ص٩٦، مصنفہ جلال الدین شمس صاحب)
- (٩) نئی جوتی جب پاؤں کاٹتی تو جھٹ ایڑی بٹھا لیا کرتے تھے اور اسی سبب
سے سیر کے وقت گرد اڑ اڑ کر پنڈلیوں پر پڑ جایا کرتی تھی۔ حضور کبھی تیل سر مبارک پر لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا جس سے قیمتی کوٹ پر دھبے پڑ جاتے۔ (اخبار ”الحکم“ قادیان، ٢٢؍ فروری ١٩٣٥ء)
گو اس سلسلہ میں تفصیلات کا دامن زلف یار سے بھی دراز تر ہے تاہم اہل فکر و نظر کے لیے اتنا کافی ہے۔
دو اشک بھی بہت ہیں اگر کچھ اثر کریں
یہ منہ اور مسور کی دال
آہ! انسانیت کی بدقسمتی اور دین کی مظلومی! کہ جس ذات شریف کو دستر خوان پر بیٹھ کر روٹی کھانے، چابیاں سنبھالنے، اپنی شلوار کا ازاربند کھولنے جراب اور جوتا پہننے۔ کاج میں بٹن دینے۔ استنجے کے ڈھیلے اور کھانے کے گڑ کو جدا جدا رکھنے، حتیٰ کہ
٨
سیر کے وقت چلنے اور ڈاڑھی مبارک کو تیل لگانے کی بھی تمیز نہیں وہ دعوے کرتے ہیں تو صرف نبوت اور مسیحیت کے نہیں بلکہ افضل الانبیاءؐ سے تخت نبوت و رسالت اور سید المرسلینؐ سے تاج رشد و ہدایت چھیننے کے۔
پھر بھی دعویٰ ہے کہ اصلاح دو عالم ہم سے
ہے!
قادیانی نبوت کے تابوت میں آخری کیل
”الفضل“ اور اللہ دتہ اپنا لکھا پڑھا چاٹ سکتے ہیں اور رائے عامہ کے دباؤ اور پریس کی گرفت سے گھبرا کر اپنی بات سے مکر سکتے ہیں، اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی مرزائی اس قسم کی بات نہیں کہہ سکتا، لیکن کیا اس بات کا بھی انکار ممکن ہے کہ ان مرزائیوں کے پیشوا خود مرزا جی ”عشق رسول“ کے مختلف مدارج تقابل و ہمسری، تفوق و برتری اور وحدت و عینیت طے کرنے کے بعد اب آخری منزل میں قدم رکھتے اور مقام مقصود پر آتے ہیں۔ یعنی نعوذ باللہ سید المرسلین کو مسند رسالت اور کرسی نبوت سے اٹھاتے اور خود ہدایت عالم کا تاج زیب سر کر کے تخت خلافت پر براجمان ہوتے ہیں سنئے اور جگر تھام کر سنئے مرزا جی کہتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر کہتے ہیں۔
کہ اب اسم محمدؐ کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔ (”اربعین“ نمبر٤، ص١٧، ”روحانی خزائن“ ص٤٣٦، ٤٤٧، ج١٧)
فرمائیے! کیا اب بھی اس قسم کی بات میں کوئی کسر رہ گئی! کیا اس تصریح کی بھی کوئی تاویل کی جائے گی؟ کیا مقام محمدؐ پر اس بے حیائی سے ڈاکہ زنی کے بعد بھی غلام احمد کی ”نبوت“ کو محمد رسول اللہ کی اتباع کامل کا ثمرہ قرار دیا جائے گا؟
٩
ارباب اقتدار سے!
ہم ارباب اقتدار سے بھی دریافت کرتے ہیں کہ سرور کائنات کے دشمنوں کی تحقیر و اہانت اور تنقیص و مفضولیت کی خرافات اور بکواس سے گزر کر نعوذ باللہ سید المرسلین کو مسند رسالت سے اٹھا کر ہدایت عالم کے مقام محمود پر خود قبضہ کرنے کی نا بکار سعی کے باوجود اس کذاب اکبر اور دجال اعظم کو انسان اور اس کی مردود و ملعون لاہوری اور قادیانی امت کو مسلمان سمجھا جائے گا۔
ایں ہمہ ما گفتن و دین پیمبر داشتن
مسلم لیگ اور اسلام
میاں افتخار الدین اور سردار شوکت حیات خان اگر اپنی تقریروں سے مسلم لیگ میں انتشار کا موجب ہوں تو انہیں مسلم لیگ سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
مجلس عاملہ پاکستان مسلم لیگ نے ٨ اپریل کو کراچی میں میاں صاحب اور سردار صاحب کو پارٹی سے پانچ پانچ سال کے لیے خارج کرتے ہوئے ان کے خلاف حسب ذیل فرد جرم مرتب کی ہے۔
میاں صاحب اور سردار صاحب نے جماعتی نظم و ضبط کا خیال کیے بغیر مجلس دستور ساز میں پارٹی کے فیصلوں کے خلاف تقریریں کر کے مسلم لیگ کے مفاد کو نقصان پہنچایا، بلکہ انہوں نے پارلیمنٹ میں پاکستان پارلیمنٹ کی حیثیت کو چیلنج کیا۔ انہوں نے پارٹی میں انتشار و بد نظمی پھیلانے کے لیے تخریبی کارروائیاں کیں اور مسلم لیگ کو رسوا کرنے کی کوشش کی۔"
مگر آہ مرزا غلام احمد میاں محمود احمد اور دوسرے مرزائیوں کی اس قسم کی تقریروں سے نہ ملی نظم و ضبط کو صدمہ پہنچتا ہے نہ اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہے نہ دین کی حیثیت کو چیلنج ہوتا ہے، نہ اس کی رسوائی ہوتی ہے، اور نہ ملت میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔
اس سلسلہ میں معزز معاصر ڈان (اردو) بعنوان ”پارٹی سے بغاوت کی سزا“
١٠
لکھتا ہے۔
”گورنمنٹ، اس کے ارکان اور اس کی عام پالیسی پر انہوں نے سخت حملے کیے ہیں، انہوں نے اس پر بھی اکتفا نہیں کیا، بلکہ دستور پاکستان اور پارلیمنٹ کی نیابتی حیثیت پر بھی اعتراض کیا پاکستان کا کون سا نظام اور ادارہ باقی رہ گیا جس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ ان کی نظر میں اس کا احترام ہے۔ ان کے اور مسلم لیگ پارٹی کے درمیان کون سی چیز مشترک رہ گئی تھی، جو انہیں پارٹی کارکن باقی رکھا جاتا۔“
بالکل انہیں الفاظ میں ہم یہ عرض کرنے کی اجازت چاہتے ہیں کہ ان کے کرتوت کو بغور دیکھ کر ہمیں بتلایا جائے کہ مرزائیت اور اسلام کے درمیان کون سی چیز مشترک رہ جاتی ہے کہ مرزائیوں کو ملت اسلامیہ کا رکن باقی رکھا جائے۔ جب وہ اسلام کے ارکان اور اس کی عام پالیسی پر شدید حملے نہ کرے، بلکہ خود سید الانبیاء رحمۃ العالمین کی شان رسالت کو ختم کر کے مرزا غلام احمد تخت و تاج نبوت پر قابض ہونے کی ملعون کوشش کرے، تو پھر اسلام کا باقی کیا رہ گیا جس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ مرزائیت کی نظر میں اس کا احترام ہے؟
الحاصل مرزا غلام احمد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حریف و مقابل اور بدترین مخالف و معاند ہے اور امت مرزائیہ امت محمدیہ سے بالکل جدا اور مغائر! اسے محمد رسول اللہ کے پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ شامل رکھنا اسلام کی مظلومی کا درد انگیز مظاہرہ ہے اور ملت کی مجبوری کا الم ناک نظارہ جسے دیکھ کر حساس و دین دار فرزندان توحید کا دل گھٹتا اور جگر پھٹتا ہے۔
بے دست و پا کو دیدہ بینا نہ چاہیے!
فہرست کتب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان
- 1 الخليفة المهدی مولانا سید حسین احمد مدنیؒ 20
- 2 خاتم النبیین مولانا سید انور شاہ صاحبؒ 100
- 3 تحفہ قادیانیت جلد سوم مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ 200
- 4 عقیدۂ ختم نبوت اکابرین کی نظر میں مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ 50
- 5 گفٹ فار قادیانیت ﴿انگلش﴾ مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ 150
- 6 احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ 150
- 7 احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ ڈیرویؒ 150
- 8 رفع و نزول عیسیٰ علیہ السلام مولانا عبد اللطیف مسعود 120
- 9 تحریف بائبل بزبان بائبل مولانا عبد اللطیف مسعود 100
- 10 قلمی جہاد کی سرگزشت مولانا اللہ وسایا صاحب 50
- 11 سوانح حضرت قاضی صاحبؒ مولانا محمد اسماعیل شجاعبادی 200
- 12 خطبات ختم نبوت جلد دوم مولانا محمد اسماعیل شجاعبادی 150
- 13 خطبات ختم نبوت جلد سوم مولانا محمد اسماعیل شجاعبادی 150
- 14 قادیانی شبہات کے جوابات مولانا اللہ وسایا صاحب 80
- 15 رئیس قادیان مولانا محمد رفیق دلاوریؒ 150
- 16 22 جھوٹے نبی نثار احمد نجمی صاحب 60
- 17 قادیانیت کا سیاسی تجزیہ صاحبزادہ طارق محمود 200
- 18 اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلے جناب ملک محمد فیاض 200
- 19 سوانح حضرت تاج محمود صاحبؒ جناب صاحبزادہ طارق محمود 150
ملنے کا پتہ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان فون : 514122
رسائل التحقیق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
مرکزی دفتر ملتان
حملے مرزا قادیانی پر
بسم الله الرحمن الرحيم مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف شریعت ”الہامات“ عقائد اقوال اور دعاوی میں حد درجہ کی نیرنگیاں پائی جاتی ہیں۔ جب علماء اسلام کی طرف سے مرزا کے اٹ شنٹ الہامات اور مکاشفات پر اعتراضات کیے جاتے ہیں‘ تو مرزا کے مرید اپنے ”ظلی و بروزی نبی“ کے الہامات مکاشفات اور تحریرات کو متشابہات‘ تاویلات اور مجاز و استعارہ کے شکنجے میں جکڑ دیتے ہیں۔ ہم اپنے آٹھ سالہ مرزائیت کے مطالعہ کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ مرزائی مذہب کی بنیاد جھوٹ و افترا کے بعد تاویلات اور استعارات پر ہے۔ مرزا بھی اپنے خلاف شریعت الہامات اور مکاشفات پر استعارات اور تاویلات کا پالش کر دیا کرتے تھے۔ ہم ان اوراق میں بطور نمونہ مشتے از خروارے بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا نے مجاز و استعارہ کے پردہ میں کس قسم کے حقائق و معارف کا انکشاف کیا
مرزا کا حیض اور بچہ
مرزا اپنے الہام ”یریدون ان یروطمثک“ کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے‘ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھائے گا۔ جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں‘ بلکہ وہ بچہ ہوگیا ہے۔۔۔۔ جو بمنزلہ اطفال اللہ کے ہے۔ (”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ١٤٣‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٨١‘ ج ٢٢)
طاقت رجولیت کا اظہار
مرزا کے ایک مخلص مرید قاضی یار محمد صاحب بی او ایل پلیڈر نور پور ضلع کانگڑہ اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ (ج) موسومہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر کے صفحہ ١٢ میں لکھتے ہیں: ”جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں‘ اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا تھا۔ سمجھنے والے کے لیے اشارہ کافی ہے۔“
استقرار حمل
مرزا نے لکھا: ”مریم کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا“۔ (”کشتی نوح“ ص ٤٧‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٠‘ ج ١٩)
درد زہ
مرزا رقم طراز ہے: ”پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے۔ درد زہ تا کھجور کی طرف لے آئی“۔ (”کشتی نوح“ ص ٤٧‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٠‘ ج ١٩)
مرزا کے بیٹے کی تعریف (مرزا کو اپنے بیٹے کے متعلق الہام ہوتا ہے)
”فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الاول والاخر مظہر الحق والعلاء کان اللہ نزل من السماء یعنی میرا بیٹا گرامی و ارجمند ہوگا۔ اول و آخر کا حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔ گویا خدا آسمان سے اترے گا۔ (”البشریٰ“ جلد دوم‘ ص ٤٤‘ ”تذکرہ“ ص ١٣٩‘ طبع ٣)
مرزا جی کے مخلص مریدو!
”بتاؤ اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے سچ بتاؤ کہ موجودہ زمانے میں اسلام کی تبلیغ کے لیے انہیں حقائق و معارف کی ضرورت تھی۔ جس کو پورا کرنے کے لیے مرزا صاحب تشریف لائے؟ کیا مرزا صاحب کے اسی ایجاد کردہ فلسفہ کو یورپ کے سامنے پیش کرتے ہو؟ کیا مرزا صاحب کی ظلی اور بروزی نبوت اس وقت تک ثابت نہ ہو سکتی تھی جب تک انہیں اس قسم کے خلاف قرآن و حدیث الہامات اور مکاشفات نہ ہوتے؟ اور ان کو استعارہ اور مجاز کہو تو ہم دریافت کرتے ہیں‘ کیا الہامی اور کشفی طریق پر ایسے نسائیت کے رنگ میں رنگین اور گندے استعاروں کی ضرورت ہی کیا تھی؟“
بندہ پرور منصفی کیجئے خدا کو دیکھ کر
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے !
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان ان کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان رستوران جو لاہور، راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان رستوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام !
آج فیصلہ کر لو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیؤ گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔۔
سلسلہ اشاعت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
آخری فیصلہ
مرزا قادیانی کی
ہیضہ کی حالت میں
منہ مانگی موت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قادیانی لنکا میں چھوٹے بڑے کی کوئی تمیز نہیں۔ دجل و فریب اور کذب و افتراء کے لحاظ سے ہر مرزائی باون گز کا ہی ہے لیکن خلافت ماب کی بارگاہ میں عزت و توقیر اس مرزائی کی ہوتی ہے، اور تنخواہ میں اضافہ بھی اسی کا ہوتا ہے۔ جو مغالطہ دہی اور کذب بیانی میں یدطولیٰ رکھتا ہے۔ اس دوڑ میں ہر قادیانی مبلغ، ہر مدرس، ہر مفتی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپا، قبر میں لے جانے والی بیماری، قیامت کی بازپرس اور جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کے شعلوں کا خیال بھی ان کے سدراہ نہیں ہوتے۔ مرزائیوں کا ستر بہتر سالہ مفتی محمد صادق (برعکس نام نہند زنگی کافور) قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے لیکن مرزا محمود کو خوش کرنے کے لیے اپنے نامہ اعمال کو افتراء و کذب بیانی کے باعث تاریک سے تاریک تر کرتا چلا جا رہا ہے۔ چنانچہ قادیانی نبوت کے سرکاری آرگن ”الفضل“ میں ”مفتی کاذب“ نے ”مخالفین احمدیت کی غلط بیانی“ کے عنوان سے ایک مضمون دھڑ گھسیٹا۔ آپ رقم طراز ہیں۔
”آج کل مخالفین سلسلہ حقہ نے جو دروغ گوئی کے ساتھ ہمارے خلاف باتیں پھیلانی شروع کی ہیں۔ ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ حضرت مرزا صاحب مرض ”ہیضہ“ سے فوت ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا) کی وفات لاہور میں ہوئی تھی، اور میں اور دیگر احباب اس وقت حضور کے پاس موجود تھے۔ حضور جب کبھی دماغی محنت کیا کرتے تھے، تو عموماً آپ کو دوران سر اور اسہال کا مرض ہو جاتا تھا۔ چنانچہ لاہور جب حضور آپ لیکچر کا مضمون تیار کر رہے تھے تو کثرت دماغی محنت کے سبب آپ کی طبیعت خراب ہوگئی اور دوران سر اور اسہال کا مرض ہوگیا اور اس مرض کے علاج کے لیے جو ڈاکٹر بلایا گیا تھا، وہ انگریز لاہور کا سول سرجن تھا اور چونکہ بعض مخالفین نے اس وقت بھی یہ شور مچایا تھا کہ آپ کو ”ہیضہ“ ہوگیا ہے۔ اس لیے صاحب سول سرجن نے یہ لکھ دیا کہ آپ کو ہیضہ نہیں ہوا، اور وفات کے
٢
بعد آپ کی نعش مبارک ریل میں بٹالہ تک پہنچائی گئی‘ اگر ہیضہ ہوتا تو ریل والے نعش مبارک کو بک نہ کرتے۔ پس مخالفین کا یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ حضور ”ہیضہ“ سے فوت ہوئے۔“ (مفتی محمد صادق ربوہ‘ ٢٤ جنوری ٥١ء ”الفضل“ ٨ فروری ٥١ء‘ ص ٥)
قادیانی مفتی نے کس قدر جسارت اور دیدہ دلیری سے ایک مسلمہ حقیقت پر خاک ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے‘ وہ مرزائی ہی کیا ہوا جو حق کو کذب بیانی کے پردہ میں چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ خود جھوٹ کا مرتکب ہونا اور الزام دوسروں پر لگانا قادیانیوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ان کی یہ چالبازیاں ان کے دجل و فریب اور کذب و افتراء کی غمازی کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ انگریزی نبوت کے گنبد میں بیٹھ کر قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مستور ہیں۔ ہمیں کوئی نہیں دیکھتا۔ جائز و ناجائز جو چاہیں کرتے چلے جائیں۔ انہیں کیا معلوم کہ مجلس احرار اسلام کے خدام مرزائیوں کے راز ہائے دروں پردہ کو مرزائیوں سے زیادہ جانتے ہیں۔
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کہاں کے ہیں
مرزا کی مرض موت ”ہیضہ“ کو چھپانے کے لیے مفتی کاذب نے دوران سر اور اسہال کا لبادہ اوڑھا دیا‘ اور یہ نہ سمجھا کہ ”ان کے حضرت“ کے ”اسہال“ ہی ”ہیضہ“ کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب نے اسہال کا ذکر تو کر دیا لیکن ظلی و بروزی مصلحت کے پیش نظر اپنے ”مسیح موعود“ کی ”قے“ کو ہضم کر گئے۔ حالانکہ مرتے وقت مرزا صاحب کے گرد قے اور دست دونوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ جیسا کہ خود مرزا جی کی اہلیہ اور مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی والدہ مکرمہ نے فرمایا۔ مرزا بشیر احمد ایم۔ اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:
”حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا‘ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے‘ اور میں بھی
سوگئی، لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔۔۔۔ اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا، تم اب سو جاؤ۔ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا، مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا، اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی، مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہو گئی۔"
(”سیرت المہدی“ مرتبہ مرزا بشیر احمد ایم۔ اے، طبع دوم، ص ١١،
جلد اول)
مرزائیو!
بتاؤ کہ دست اور قے دونوں تھے یا نہیں؟ اگر آپ اس ”قادیانی معجون مرکب“ کو ہیضہ کے نام سے موسوم نہیں کرتے، تو فرمائیے، کہ ”مرزائی نبوت“ کی اصطلاح میں دست و قے کی اس مہلک بیماری کا کیا نام ہے؟ رہا قادیانی مفتی صاحب کا فرمان کہ
- (الف) انگریز ڈاکٹر نے لکھ دیا کہ ہیضہ نہیں ہوا۔
- (ب) اگر ہیضہ سے موت ہوتی تو ریل والے نعش کو بک نہ کرتے۔
یہ دونوں عذر لنگ ہے۔ نہ معلوم قادیانی مفتی نے بہتر سالہ عمر کس جنت الحمقاء میں بسر فرمائی ہے۔ ازراہ کرم تکلیف فرما کر اپنے ”امیر المومنین خلیفہ المسیح“ ہی سے دریافت فرما لیتے کہ سفارشات اور رشوت سے کیسے کیسے کٹھن اور مشکل کام فوراً سرانجام پذیر ہو سکتے ہیں۔ معمولی قادیانیوں کا کیا ذکر، جب ان کے ”بڑے حضرت“ نے محترمہ محمدی بیگم کے ساتھ (!) نکاح کروانے کے لیے محمدی بیگم کے حقیقی ماموں کو رشوت یا انعام کا لالچ دے کر نکاح کرانے سے دریغ نہ کیا، تو
٤
چھوٹے ”حضرتوں“ نے انگریز ڈاکٹر اور انگریز سٹیشن ماسٹر کو رشوت یا انعام دے کر مرزا جی کی نعش کو ”دجال(٢) کے گدھے“ پر لدوا دیا تو کون سے تعجب کی بات ہے؟ اگر ایسی ہی شہادتوں سے آپ اپنے ”مسیح موعود“ کی صداقت پیش کرنا چاہیں تو آپ کو دنیا میں ہزاروں فرنگی ایسے مل جائیں گے۔ جو انعام یا رشوت لے کر لاؤڈ سپیکروں کے ذریعہ قادیانی مسیحیت کا ڈھنڈورا پیٹ دیں۔
مفتی جی! آپ اپنے ”مسیح موعود“ ”ام المومنین“ اور ”قادیانی خاندان نبوت“ کو چھوڑ کر فرنگی گواہوں کی پناہ کیوں لے رہے ہیں؟ عیسائیوں سے ساز باز تو نہیں کر رکھا؟ جب مرزا غلام احمد صاحب کی اہلیہ صاحبہ فرماتی ہیں اور صاحبزادہ بشیر احمد مشتہر کرتے ہیں کہ مرزا صاحب آنجہانی کی موت دست و قے سے ہوئی تو کیا ہیضہ کے سر سینگ ہوا کرتے ہیں؟ اگر لفظ ہیضہ کے بغیر آپ کی تسلی و تشفی نہیں ہو سکتی تو لیجئے مرزا غلام احمد کے خسر مرزا محمود احمد کے نانا میر ناصر نواب کے واسطہ سے خود مرزا غلام احمد صاحب نے اپنی مرض موت کا نام ”ہیضہ“ تجویز فرمایا۔
قادیانی غلو کی عینک اتار کر مندرجہ ذیل عبارت پڑھئے اور سو بار سوچ کر بتائیے کہ مرزا غلام احمد کی موت ہیضہ سے ہوئی یا نہیں؟
مرزا غلام احمد کے خسر میر ناصر نواب خود نوشت سوانح حیات میں تحریر فرماتے ہیں:
”حضرت صاحب جس رات کو بیمار ہوئے‘ اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا۔ جب آپ کو بہت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا تھا۔ جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو آپ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا‘ ”میر صاحب مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے“ اس کے بعد آپ نے کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں نہیں فرمائی۔ یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہو گیا۔ ایک طرف تو ہم پر آپ کے انتقال کی مصیبت پڑی تھی‘ دوسری طرف لاہور کے شورہ پشت اور بدمعاش لوگوں نے بڑا غل غپاڑہ اور شور و شر برپا کیا تھا اور ہمارے گھر کو گھیر رکھا تھا کہ ناگہاں سرکاری پولیس ہماری حفاظت کے لیے رحمت الٰہی
٩
سے آن پہنچی" ("حیات ناصر" ص ١٥-١٦ تاریخ اشاعت دسمبر ١٩٢٧ء) کیا مرزائی' ان کا کاذب مفتی' ان کا خلیفہ اور ان کا اخبار "الفضل" اب بھی پرانی رٹ لگاتے رہیں گے کہ قادیانی "مسیح موعود" کی موت ہیضہ سے نہیں ہوئی۔ اب تو جادو سر چڑھ کر بول اٹھا ہے۔
آخری فیصلہ
لطف یہ ہے کہ مرزا غلام احمد نے ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار بعنوان "مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ" شائع کیا تھا۔ اس اشتہار میں مولانا ثناء اللہ صاحب امرت سری کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے:
"اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں' جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں' تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں' جو مجھ پر لگاتا ہے' حق پر نہیں' تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے' بلکہ طاعون (٣) و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے"
("مجموعہ اشتہارات" ص ٥٧٩- ٥٧٨' ج ٣)
مرزا جی کے مندرجہ بالا الفاظ اعلان کر رہے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری کے لیے طاعون اور ہیضہ کی دعا کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے قبولیت دعا کا رخ مولانا ثناء اللہ صاحب کی بجائے خود متنبی قادیان کی طرف پھیر دیا۔ ہیضہ نے مرزا جی کو آ دبوچا اور وہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہیضہ سمیت اگلے جہان کی طرف کوچ کر گئے۔ کسی زندہ دل شاعر نے مرزا صاحب آنجہانی کی تاریخ وفات لکھی ہے
اور تو زندہ ہیں خود ہی مر گیا
اب بیماروں کا ہوگا کیا علاج
کالرا (٤) ۔ خود مسیحا مر گیا
٦
حواشی
- (١) مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم۔ اے لکھتے ہیں:
"بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کرا دینے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔ محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکے میں آیا جایا کرتا تھا اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا‘ اس لیے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔" ("سیرت المہدی" حصہ اول‘ طبع دوم‘ ص ١٩٢۔١٩٣)
یہ گھر کی شہادت بآواز بلند اعلان کر رہی ہے کہ محمدی بیگم کے ساتھ نکاح کرانے کے لیے مرزا غلام احمد صاحب محمدی بیگم کے ماموں کو انعام یا رشوت دینے کے لیے تیار تھے۔
مرزائیو! اللہ کے لیے غور کرو کہ پہلے اللہ تعالیٰ کے نام سے محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی شائع کرنا‘ بعدہ انعام‘ رشوت اور روپے کے لالچ سے نکاح کی کوشش کرنا کسی راست باز انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں جیسا کہ خود مرزا غلام احمد نے لکھا ہے:
"ہم ایسے مرشد کو اور ساتھ ہی ایسے مرید کو کتوں سے بدتر اور نہایت ناپاک زندگی والا خیال کرتے ہیں کہ جو اپنے گھر سے پیش گوئیاں بنا کر پھر اپنے ہاتھ سے‘ اپنے مکر سے‘ اپنے فریب سے ان کے پوری ہونے کے لیے کوشش کرے اور کراوے۔ ("سراج منیر" مصنفہ مرزا غلام احمد‘ طبع سوم‘ ص ٢٣‘ "روحانی خزائن" ص ٢٧‘ ج ١٢)
- (٢) مرزائی ریل گاڑی کو دجال کا گدھا کہتے ہیں۔ مگر گدھا دجال کا اور اس پر نقش مرزا
٧
غلام احمد کی" کیا ہی صحیح مقولہ ہے۔ حق بحقدار رسید (اختر)
- (٣) طاعون نے بھی مرزا غلام احمد قادیانی سے دست پنجہ لیا تھا۔ جیسا کہ انہوں نے
سیٹھ عبدالرحمٰن مدراسی کو لکھا: ”اس طرف طاعون کا بہت زور ہے۔ سنا ہے ایک دو مشتبہ وارداتیں امرتسر میں بھی ہوئی ہیں۔ چند روز ہوئے ہیں‘ میرے بدن پر بھی ایک گلٹی نکلی تھی۔ پہلے کچھ خوفناک آثار معلوم ہوئے‘ مگر پھر خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کا زور جاتا رہا۔ یہ ایک جگہ ہاتھ میں غدود پھول گئے تھے اور یہ طاعون جوڑوں میں ہوتی ہے۔“ ("مکتوبات احمدیہ" جلد پنجم‘ حصہ اول‘ ص ١٥)
- (٤) انگریزی میں ”کالرا“ (Cholera) ہیضہ کو کہتے ہیں۔
شریعت میں زندیق کی سزا
قادیانی زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کہتے ہیں اور شریعت کے مطابق زندیق واجب القتل ہوتا ہے۔ (حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)
٨
مولانا اللہ وسایا
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
بکر و ثیب
مرزا قادیانی کی ایک پیش گوئی
مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ کو پرکھنے کے لیے کسی عملی بحث کی ضرورت نہیں۔ مرزا غلام احمد نے اپنی صداقت جانچنے کے لیے علمی حقائق فلسفیانہ دلائل، منطقی الجھنوں اور صرفی و نحوی بحثوں سے ہمیں بے نیاز کر دیا ہے جیسا کہ وہ لکھتے ہیں:
- (الف) ”تورات اور قرآن نے بڑا ثبوت نبوت کا صرف پیشگوئی کو قرار دیا
ہے۔“ (”رسالہ استفتا“ ص ٣، ”روحانی خزائن“ ص ١١٧ ج ١٢)
- (ب) ”سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے
اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔“ (”شہادۃ القرآن“ ص ١٥، ”روحانی خزائن“ ص ٣٧٥-٣٧٦ ج ٢)
- (ج) ”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر اور کوئی
محک امتحان نہیں ہو سکتا۔ (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٢٨٨، ”روحانی خزائن“ ص ٢٨٨، ج ٥)
- (د) ”ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں“۔ (”کشتی نوح“ ص ٥،
”روحانی خزائن“ ص ٥، ج ١٩)
- (ہ) ”کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر
رسوائی ہے۔“ (”تریاق القلوب“ ص ٢١٧، ”روحانی خزائن“ ص ٣٨٢، ج ١٥)
مرزا جی کی ان تحریرات نے فیصلہ کر دیا کہ ان کے صدق و کذب کی شناخت کا سب سے بڑا معیار ان کی پیشگوئیاں ہیں۔ حالانکہ صرف پیشگوئیاں نبوت کا معیار نہیں ہو سکتیں۔ علماء اسلام کے اعتراضات سے مجبور ہو کر مرزا غلام احمد نے تسلیم کیا ہے کہ بسا اوقات بدمعاشوں، بدکاروں، کنجروں اور کافروں کے الہام اور خواب صحیح نکلتے ہیں اور ان کی پیشگوئیاں سچی ثابت ہوتی ہیں۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
- (الف) ”بعض فاسقوں اور غایت درجہ کے بدکاروں کو بھی سچی خوابیں آ جاتی
ہیں اور بعض پرلے درجہ کے بدمعاش اور شریر آدمی اپنے ایسے مکاشفات بیان کیا کرتے ہیں کہ آخر وہ سچے نکلتے ہیں— بلکہ میں یہاں تک مانتا ہوں کہ تجربہ میں آ
٢
چکا ہے کہ بعض اوقات ایک نہایت درجہ کی فاسقہ عورت جو کنجریوں کے گروہ میں سے ہے، جس کی تمام جوانی بدکاری میں ہی گزری ہے۔ کبھی سچی خواب دیکھ لیتی ہے اور زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ ایسی عورت کبھی ایسی رات میں بھی کہ جو وہ بادہ بہ سر و آشنا بہ بر کا مصداق ہوتی ہے کوئی خواب دیکھ لیتی ہے اور وہ سچی نکلتی ہے"۔ ("توضیح مرام" ص ٨٣-٨٤، "روحانی خزائن" ص ٩٤-٩٥، ج ٣)
- (ب) "ممکن ہے کہ ایک خواب سچی بھی ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے
ہو اور ممکن ہے کہ ایک الہام سچا ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔ کیونکہ اگرچہ شیطان بڑا جھوٹا ہے لیکن کبھی سچی بات بتلا کر دھوکہ دیتا ہے۔ تا ایمان چھین لے۔" ("حقیقت الوحی" ص ٦، "روحانی خزائن" ص ٣، ج ٢٢)
- (ج) "اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن
تھیں، جن کا پیشہ مردار کھانا اور ارتکاب جرائم کام تھا، انہوں نے ہمارے روبرو بعض خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا دن رات زناکاری کام تھا۔ ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہو گئیں اور بعض ایسے ہندوؤں کو بھی دیکھا کہ جو نجاست شرک سے ملوث اور اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ بعض خوابیں ان کی جیسا کہ دیکھا تھا ظہور میں آ گئیں۔" ("حقیقت الوحی" ص ٣، "روحانی خزائن" ص ٥، ج ٢٢)
مرزا جی کی ان عبارات کے مطابق بدمعاشوں، بدکاروں، کنجریوں اور کافروں کی خوابیں، الہام اور پیشگوئیاں تو سچی نکلتی ہیں لیکن علی وجہ البصیرت ہمارا دعویٰ ہے، جس کی تردید قیامت تک امت مرزائیہ نہیں کر سکتی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کوئی متحدیانہ پیش گوئی سچی ثابت نہیں ہوئی۔ جتنی تحدی سے کوئی پیش گوئی کی گئی، اتنی ہی صراحت سے وہ غلط نکلی۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب اپنی ہر تصنیف میں اپنے نشانات، کرامات اور معجزات کے بے سرے راگ ہمیشہ الاپتے رہے اور یہاں تک لکھ دیا کہ:
"خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی نبوت بھی ان سے ثابت ہو سکتی ہے۔" ("چشمہ معرفت" ص٣١٧، "روحانی خزائن" ص٣٣٢، ج٢٣)
مرزا کی تمام تصنیفات پڑھ لی جائیں تو سوائے فٹ بال کی طرح گول مول اور اٹ شنٹ پیشگوئیوں کے کسی "نشان" کسی "کرامت" اور کسی "معجزے" کا پتہ نہیں چلتا۔ لطف یہ ہے کہ قادیانی پیشگوئیوں کے الفاظ بھی موم کی ناک کی طرح ہیں۔ جدھر چاہو الٹ پھیر کر دو اور جب تک انہیں تاویلات باطلہ کے شکنجہ میں نہ جکڑ دیا جائے، وہ کسی موقع پر چسپاں نہیں ہو سکتے۔ ساتھ ہی دجل و فریب اور کذب و افتراء بھی ہر پیش گوئی کا لازمی جزو ہے۔ ہم اس ٹریکٹ میں مشتے نمونہ از خروارے مرزا جی کی ایک عظیم الشان اور متحدیانہ پیش گوئی مکر و فریب کے چہرہ سے اس لیے نقاب اٹھاتے ہیں کہ علمائے اہل سنت و الجماعت آج تک اسے منظر عام پر نہیں لائے۔ مرزا غلام احمد نے لکھا ہے کہ:
"تخمیناً اٹھارہ برس کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ مجھے کسی تقریب سے مولوی محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر رسالہ "اشاعۃ السنہ" کے مکان پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل کوئی الہام ہوا ہے؟ میں نے اس کو یہ الہام سنایا، جس کو میں کئی دفعہ اپنے مخلصوں کو سنا چکا تھا اور وہ یہ ہے کہ "بکر و ثیب" جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا ایک بکر ہوگی اور دوسری بیوہ۔ چنانچہ یہ الہام جو بکر کے متعلق تھا، پورا ہو گیا اور اس وقت بفضلہ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار ہے۔" ("تریاق القلوب"، ص٣٤، "روحانی خزائن" ص٢٠٦، ج١٥)
بقول مرزا غلام احمد، یہ "الہام" ١٨٨١ء کا ہے، جس میں مرزا جی کو بشارت دی گئی اور ان سے وعدہ کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ دو عورتیں تیرے نکاح میں لائے گا۔ "ایک
٢٠
کنواری اور دوسری بیوہ" بقول مرزا کنواری کا الہام پورا ہو گیا۔ بیوہ کے نکاح کا انتظار ہے لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا کسی بیوہ سے نکاح نہ ہوا اور وہ اس انتظار و حسرت کو اپنے ساتھ قبر میں لے گئے۔ کسی بیوہ کے ساتھ نکاح کی ناکامی نے قطعی فیصلہ کر دیا کہ مرزا قادیانی کا بیوہ کے نکاح کا "الہام" شیخ چلی کی گپ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔
مرزائی اس جھوٹی پیشگوئی کی الٹی سیدھی تاویل کرنے کے لیے کسی شرط کا بہانہ بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ مرزا کا "الہام" اور اس کی تشریح صاف بتا رہی ہے کہ بیوہ کے نکاح کی پیشگوئی بلا شرط ہے، نہ ہی بیوہ کے نکاح کے "الہام" کو محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی پر چسپاں کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ١٨٨٨ء کا "الہام" ہے۔ اس وقت مرزا غلام احمد اور محمدی بیگم صاحبہ کے نکاح کا قصہ ہی شروع نہ ہوا تھا۔ جیسا کہ خود مرزا نے لکھا ہے۔
"اسی طرح شیخ محمد حسین بٹالوی کو حلفاً پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ قصہ صحیح نہیں کہ یہ عاجز اس شادی سے پہلے جو دہلی میں ہوئی، اتفاقاً اس کے مکان پر موجود تھا۔ اس نے سوال کیا کہ کوئی الہام مجھ کو سناؤ۔ میں نے ایک تازہ الہام، جو انہیں دنوں میں ہوا تھا اور اس شادی اور اس کی دوسری جز پر دلالت کرتا تھا اس کو سنایا اور وہ یہ تھا کہ بکر و ثیب یعنی مقدر یوں ہے کہ ایک بکر سے شادی ہوگی اور پھر بعدہ ایک بیوہ سے۔ میں اس الہام کو یاد رکھتا ہوں۔ مجھے امید نہیں کہ محمد حسین نے بھلا دیا ہو۔ مجھے اس کا وہ مکان یاد ہے کہ جہاں کرسی پر بیٹھ کر میں نے اس کو الہام سنایا تھا اور احمد بیگ (مرزا جی کی آسمانی منکوحہ محترمہ محمدی بیگم کا والد۔ ناقل) کے قصہ کا ابھی نام و نشان نہ تھا— پس اگر وہ سمجھے تو سمجھ سکتا ہے کہ یہ خدا کا نشان تھا، جس کا ایک حصہ اس نے دیکھ لیا اور دوسرا حصہ جو ثیب یعنی بیوہ کے متعلق ہے دوسرے وقت میں دیکھ لے گا۔" ("ضمیمہ انجام آتھم" ص ١٤، "روحانی خزائن" ص ٢٩٨، ج١١)
مرزا غلام احمد "نکاح بیوہ کے الہام" اس کی امید اور حسرت سمیت ٢٦ مئی ١٩٠٨ء بروز منگل ہیضہ کی مرض سے اگلے جہان کی طرف کوچ کر گئے۔ بیوہ کا "الہام"
٥
جھوٹ اور بھنگڑ خانے کی گپ ثابت ہوا تو امت مرزائیہ نے ثیب (نکاح بیوہ) کے "الہام" کو تاویلات نہیں بلکہ دجل و فریب کے شکنجہ میں جکڑ کر اس کی صورت کو مسخ کر دیا۔ نظارت تالیف و تصنیف قادیان نے (جس کے ناظر مرزا صاحب آنجہانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم۔ اے ہیں) تذکرہ میں ”تریاق القلوب“ سے یہ پیش گوئی (جو ہم کتاب مذکور کے ص٣٤ سے نقل کر چکے ہیں) درج کر کے حاشیہ میں لکھا ہے: "یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت ام المومنین کی ذات میں ہی پورا ہوا ہے، جو بکر یعنی کنواری آئیں اور ثیب یعنی بیوہ رہ گئیں، خاکسار مرتب۔"
(تذکرہ ص٣٨ حاشیہ طبع ٣)
قارئین کرام! پھر ایک دفعہ مرزا غلام احمد کے "الہام" اور اس کی تشریح توضیح کو پڑھ لیجئے اور ساتھ ہی ”تذکرہ“ کے مرتب کی دجل آمیز عبارت پر غور کیجئے کہ کس قدر دھوکا اور فریب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ واللہ میں تو مرزائی مبلغین کی ایسی مکروہ چالبازیاں دیکھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ان کے قلوب میں نہ اللہ تعالٰی کا خوف ہے، نہ ہی انہیں لوگوں سے شرم و حیا آتی ہے۔
مرزا جی تو لکھتے ہیں: ”خدا تعالٰی کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔“
مرزا جی کی اس تصریح کے خلاف مرزا کے چیلے لکھتے ہیں کہ ایک ہی نکاح سے "الہام" پورا ہو گیا۔ یعنی نصرت جہاں بیگم صاحبہ (مرزا محمود احمد کی والدہ) کا کنواری ہونے کی حالت میں مرزا غلام احمد سے نکاح ہوا اور مرزا کی وفات کے بعد نصرت جہاں بیگم صاحبہ بیوہ رہ گئیں۔
مرزائیو! ”تریاق القلوب“ ص٣٤ اور ”ضمیمہ انجام آتھم“ ص٥٣ کی ہماری درج کردہ اپنے ”مسیح موعود“ کی عبارت پڑھو تو تم پر روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا کہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی یہ نہیں لکھتے کہ میرے نکاح میں آنے والی کنواری بیوی بیوہ رہ جائے گی بلکہ وہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی دو عورتیں میرے نکاح میں
٦
لائے گا۔ ایک کنواری ہوگی اور دوسری بیوہ۔ پس تم بتاؤ کہ کس بیوہ عورت سے مرزا جی کا نکاح ہوا؟ جب کسی بیوہ سے مرزا غلام احمد کا نکاح نہیں ہوا اور یقیناً نہیں ہوا تو تمہیں مرزا کو کاذب اور مفتری علی اللہ ماننے میں کون سا امر مانع ہے؟ کسی بیوہ عورت سے نکاح نہ ہونے کے باعث مرزا کا ثیب (نکاح بیوہ) کا ”الہام“ صریح جھوٹ اور کھلا ہوا افتراء ہوا۔ پس مرزا جی کاذب ثابت ہوئے۔ کیونکہ: ”خدا تعالیٰ صاف فرماتا ہے کہ ان الله لا یھدی من ھو مسرف کذاب سوچ کر دیکھو کہ اس کے یہی معنی ہیں۔ جو شخص اپنے دعویٰ میں کاذب ہو‘ اس کی پیش گوئی ہرگز پوری نہیں ہوتی۔“ (”آئینہ کمالات اسلام“ ص ٣٢٢-٣٢٣ ‘ ”روحانی خزائن“ ص ٣٢٢-٣٢٣‘ ج ٥)
مرزا نے خود تحریر کیا ہے: ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“ (”چشمہ معرفت“ ص ٢٨١‘ ”روحانی خزائن“ ص ٢٨١‘ ج ٢٣)
حواشی
- (١) یہ بھی جھوٹ ہے کہ بکر (کنواری) کے نکاح کا الہام پورا ہوگیا۔ کیونکہ خود مرزا
صاحب نے لکھا ہے ”دو جزوں میں سے جب ایک جز باطل ہو جائے تو وہ اس بات کی مستلزم ہوتی کہ دوسرا جز بھی باطل ہے“۔ (”اعجاز احمدی“ ص ٣٧ ”روحانی خزائن“ ص ١٤٧‘ ج ١٩) جب بیوہ کے نکاح کا الہام صریح جھوٹ نکلا تو بقول مرزا غلام احمد کنواری کے نکاح کا الہام بھی غلط ثابت ہوا کیونکہ پیشگوئی کا ایک جز (بیوہ سے نکاح) باطل ہونے سے دوسرا جز (کنواری سے نکاح) خود بخود باطل ہوگیا۔ (ناقل)
٧
- (٢)
کھٹکتی خار بن کر ہے مہک پھولوں کے بستر کی
- (٣) تذکرہ مرزائیوں کی الہامی کتاب کا نام ہے، جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے بیان
کردہ ”رویا“، ”مکاشفات“، ”الہامات“ اور ”وحی مقدس“ کو مرزائیوں کی تلاوت کے لیے جمع کیا گیا ہے۔ مرزائی اس مجموعہ کو درجہ اور شان کے لحاظ سے قرآن مجید کے ہم رتبہ اور برابر سمجھتے ہیں۔
(اختر)
قادیانیوں سے تعلقات
قادیانیوں کی حیثیت ذمیوں کی نہیں بلکہ محارب کافروں کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں۔
(حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ)
٨
سلسلہ اشاعت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
وفاقی وزیر قانون کی خدمت میں
عرضداشت
بسم اللہ الرحمن الرحیم 〇
بخدمت جناب عزت مآب میاں محمود علی قصوری
بار ایٹ لاء وزیر قانون حکومت پاکستان
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا ایک نمائندہ وفد' جس میں راقم الحروف اور مولانا عبدالحکیم ایم۔ اے۔ اے شامل تھے' آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور آپ سے عقیدہ ختم نبوت اور قادیانی مسئلہ کے متعلق گفتگو کی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اس سلسلہ کی اہم اور ضروری باتیں' مجھے تحریری طور پر بھجوا دی جائیں۔ زیر نظر عرض داشت' ان اہم نکات پر مبنی ہے' جو اس مسئلہ سے متعلق ہیں۔
مطالبات و نکات!
ختم نبوت اور قادیانی مسئلہ کے متعلق' مجلس تحفظ ختم نبوت تین مطالبات پیش کرتی رہی ہے۔ یہ وہ متفقہ مطالبات ہیں' جنہیں مختلف مسلمہ اسلامی فرقوں اور تمام مسلمانوں کی تائید حاصل ہے۔
- (١) حضور سرور کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر نوع کا دعویٰ نبوت
قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔
- (٢) مرزا غلام احمد قادیانی کے جملہ متبعین کو دیگر اقلیتوں کی طرح غیر مسلم
اقلیت قرار دیا جائے۔
- (٣) قادیانیوں کو کلیدی اسامی پر متعین نہ کیا جائے۔
دلائل اور شواہد!
حضور نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر نوع کا دعوائے نبوت قابل
٢
تعزیر جرم قرار دیا جائے۔ چونکہ عقیدہ ختم نبوت‘ دین کا بنیادی عقیدہ ہے‘ قرآن مقدس‘ احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے یہ عقیدہ ثابت ہے۔ قرآن مقدس کی ایک سو سے زائد آیات اس موضوع پر روشنی ڈالتی ہیں‘ جن میں سے دو آیتیں درج ذیل ہیں:
- (الف) ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبین۔
(الاحزاب) (ترجمہ) حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں‘ بلکہ خدا کے رسول اور نبیوں کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔
- (ب) الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام
دینا (المائدۃ) (ترجمہ) آج ہم نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا ہے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کر لیا ہے۔ دین کامل ہونے کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کی ضرورت نہ رہی۔
احادیث شریفہ !
اسی طرح دو سو سے زائد احادیث پاک میں ختم نبوت کا ثبوت موجود ہے۔ صرف دو حدیثیں درج کی جاتی ہیں۔
- (الف) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
یا اباذر اول الانبیاء ادم و اخرھم محمد" ("کنز العمال" ج ٦‘ ص ١٢٠‘ مطبوعہ حیدر آباد‘ دکن) (ترجمہ) اے ابوذر ! سب سے پہلے نبی آدم اور سب سے آخر میں محمد ہیں۔
- (ب) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
کنت اوّل النبین فی الخلق واخرھم فی البعث ("کنز العمال" ج ٦‘ ص ١١٣) (ترجمہ) میں خلق میں سب سے اول اور بعثت میں سب سے آخر ہوں۔
اجماع امت
صحابہ کرام اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنا کفر ہے۔ چودہ سو سال کے دوران اس مسئلہ کے متعلق کبھی اختلاف نہیں ہوا اور نہ مسلمانوں نے کبھی کسی مدعی نبوت کو برداشت کیا۔ اگر کسی نے بقائمی ہوش و حواس دعوائے نبوت کیا تو اسے ارباب اقتدار نے قتل کروا دیا، ورنہ پاگل سمجھ کر قید کر دیا۔
دعویٰ النبوۃ بعد نبینا صلی اللہ علیہ وسلم کفر بالاجماع۔ (”شرح فقہ اکبر“ ملا علی قاریؒ ص ٢٠٢) (ترجمہ) ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کا نبوت کا دعویٰ کرنا اجماع امت کی رو سے کفر ہے۔
- (٢) مرزا غلام احمد قادیانی کے جملہ متبعین کو دیگر اقلیتوں کی طرح غیر مسلم
اقلیت قرار دیا جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے انحراف کرتے ہوئے اپنی نبوت اور رسالت کا دعویٰ کیا اور اس طرح وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا۔
اس کی اپنی کتابوں کے بیسیوں حوالہ جات میں سے چند حوالے ملاحظہ ہوں، جن میں اس نے اپنی نبوت کا صراحتاً دعویٰ کیا۔
- (الف) قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔
(ترجمہ) کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا تعالیٰ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ (الہام مرزا غلام احمد قادیانی، تذکرہ طبع سوم، ص ٣٥٢)
- (ب) انک لمن المرسلین (اے مرزا) تو خدا کا رسول ہے۔ (”الہام“ مرزا غلام
احمد، مندرجہ ”حقیقت الوحی“ ص ١٠٧، ”روحانی خزائن“ ص ١١٠، ج ٢٢)
- (ج) ”سچا خدا وہی خدا ہے، جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“۔ (”دافع
البلا“ ص ١١، ”روحانی خزائن“ ص ٢٣١، ج ١٨)
- (د) ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں ۔“ (”اخبار بدر قادیاں“ ٥ مارچ
١٩٠٨ء، ”حقیقت النبوۃ“ مرزا محمود، ص ٢٧٢)
- (ہ) ”میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الٰہی اور مسیح
موعود کا ہونے کا دعویٰ تھا۔" (”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم ص ٥٥، ”روحانی خزائن“ ص ٦٨‘ ج ٢١)
مرزا غلام احمد قادیانی کے اس کھلم کھلا دعویٰ نبوت کے باعث امت مسلمہ کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ شخص کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
سیکون فی امتی کذابون ثلثون کلہم یزعم انہ نبی (ہذا حدیث ”صحیح ترمذی“ ص ٤٥‘ ج ٢)
وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی (ایضاً مشکوۃ ”کتاب الفتن“ مسند احمد‘ ج ٥‘ ص ٢٧٨)
بخاری شریف کی کتاب ”الفتن“ میں اسی حدیث میں ”دجالون کذابون“ کے الفاظ وارد ہیں۔
(ترجمہ) ”یقیناً میری امت میں تیس کذاب پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا“۔ (ترمذی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے)
اس بنا پر مشہور محدث اور فقیہ امام ابن تیمیہؒ نے اس متفقہ عقیدہ کی وضاحت ان لفظوں میں فرمائی ہے۔
ومن اثبت نبیا بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم فہو شبیہ باتباع مسیلمتہ الکذاب و امثالہ من المتنبین- (ترجمہ) ”اور جو کوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی تسلیم کرے تو وہ مسیلمہ کذاب اور اس کی مانند دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کی پیروی کرنے والوں کی طرح ہے“۔ (”منہاج السنۃ“ ج ٣‘ ص ١٧٤)
چونکہ دعوائے نبوت کرنا اور یہ کہنا کہ مجھے وحی الٰہی ہوتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے بعد افتراء علی اللہ ہے اس لیے یہ علانیہ کفر ہے‘ جیسا کہ قرآن مقدس میں ہے۔ ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا
٥
او قال اوحی الی ولم یوح الیہ شئی ومن قال سانزل مثل ما انزل اللہ (الانعام) (ترجمہ) ”اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر بہتان باندھے یا یوں کہے کہ میری طرف وحی آتی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہیں آتی“۔
قرآن مقدس میں ایک جگہ کفر کو ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ والکافرون ھم الظلمون کافر ہی ظالم ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت اور وحی الہی کے نزول کے دعوے کے ساتھ ساتھ اور سینکڑوں جھوٹی باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیں‘ چند حوالے ملاحظہ ہوں۔
- (الف) آیت محمد رسول اللہ والذین معہ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا
گیا اور رسول بھی۔“ (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ٣ ”روحانی خزائن“ ص ٢٠٦‘ ج ١٨)
- (ب) ”میں نے تیرا نکاح محمدی بیگم سے پڑھا دیا“۔ لا تبدیل لکلمات اللہ!
(”انجام آتھم“ ص ٦٠۔٦٠ ”روحانی خزائن“ ص ٦٠۔٦٠‘ ج ١١)
اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ (”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ١٤٢‘ ”روحانی خزائن“ ص ٥٧٠‘ ج ٢٢)
- (ج) ”مولانا ثناء اللہ مرحوم کے بارے میں مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ وہ
میری زندگی ہی میں مر جائے گا۔“ (”اشتہار مرزا صاحب“ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء و ”اخبار بدر“ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء‘ ”مجموعہ اشتہارات“ ص ٥٧٨‘ ج ٣)
حالانکہ مولانا ثناء اللہ مرحوم کا انتقال مرزا صاحب کی موت کے چالیس برس بعد ہوا اور محمدی بیگم سے شادی کی حسرت بھی مرزا صاحب کے دل میں رہ گئی۔
توہین انبیاءؑ
توہین انبیاء علیہم السلام کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے توہین انبیاء کے حسب ذیل حوالہ جات ملاحظہ ہوں:
- (الف) ”مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے
٦
روکا پھر بزرگان قوم کے نہایت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم تورات عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں یہ سب مجبوریاں تھیں، جو پیش آگئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابل اعتراض۔" (”کشتی نوح“ ص ١٦، ”روحانی خزائن“ ص١٨، ج١٩)
(ب) ”آپ (مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے! تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“ (”ضمیمہ انجام آتھم“ حاشیہ، ص ٧، ”روحانی خزائن“ ص٢٩١، ج١١)
(ج) ”ایک دفعہ مجھے ایک دوست نے یہ صلاح دی کہ ذیابیطس کے لیے افیون مفید ہوتی ہے، پس علاج کی غرض سے مضائقہ نہیں کہ افیون شروع کر دی جائے۔ میں نے جواب دیا کہ یہ آپ نے بڑی مہربانی کی کہ ہمدردی فرمائی لیکن اگر میں ذیابیطس کے لیے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“ (”نسیم دعوت“ طبع دوم، ص ٦٩-٧٠، ”روحانی خزائن“ ص٤٣٥، ج١٩)
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین
(الف) ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے، حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔“ (مکتوب مرزا غلام احمد اخبار ”الفضل“ قادیان، ٢٢؍ فروری ١٩٢٤ء ج١١، نمبر٦٦)
(ب) مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب آپ پر فرشتہ جبرئیل ظاہر ہوا تو آپؐ نے فی الفور یقین نہ کیا کہ یہ خدا کی طرف سے ہے بلکہ حضرت خدیجہؓ کے پاس
٧
ڈرتے ڈرتے آئے اور فرمایا کہ ”خشیت علی نفسی“ یعنی مجھے اپنے نفس کی نسبت بڑا اندیشہ ہوا ہے کہ کوئی شیطانی مکر نہ ہو۔“ (”تتمہ حقیقت الوحی“ ص ١٣٠، ”روحانی خزائن“ ص ٥٧٨‘ ج ٢٢)
- (ج) ”آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں۔“ (”تحفہ
گولڑویہ“ ص ٦٧‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٥٣‘ ج ١٧)
اپنے متعلق لکھا ہے کہ ”میرے نشان کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے“۔ (”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص ٥٧‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٥٣‘ ج ٢١‘ ”تذکرۃ الشہادتین“ ص ٤١‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٣‘ ج ٢٠)
نشان اور معجزہ ایک چیز ہے۔ ”براہین احمدیہ“ ج پنجم‘ ص ٥٠‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٣٢‘ ج ٢١)
- (و) ”من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رائی“ (الہام مرزا مندرجہ
”خطبہ الہامیہ“ ص ١٧١‘ ”روحانی خزائن“ ص ٢٥٩‘ ج ١٦)
(ترجمہ) ”جس نے میرے اور حضرت محمد مصطفیٰ کے درمیان فرق کیا نہ اس نے مجھے پہچانا نہ مجھے دیکھا۔“
تکفیر مسلمین
دعواۓ نبوت کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ اپنے دعوٰی کے منکرین کو کافر کہا جائے چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا۔
- (الف) (خدا تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا ہے) کہ ہر ایک شخص جس کو میری
دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا‘ وہ مسلمان نہیں ہے۔“ (”حقیقت الوحی“ ص ١٦٣‘ ”روحانی خزائن“ ص ١٦٧‘ ج ٢٢)
- (ب) مرزا صاحب (غلام احمد قادیانی) نے حضرت مولانا نذیر حسین صاحبؒ
محدث دہلوی کے متعلق لکھا ہے۔
”جب میں دہلی گیا اور میاں نذیر حسین غیر مقلد کو دعوت دین اسلام کی گئی
٨
تھی۔" (اربعین نمبر ٤‘ حاشیہ‘ ص ١١‘ ”روحانی خزائن“ ص ٤٣٤‘ ج ١٧)
(حالانکہ حضرت مولانا سید نذیر حسین صاحب کوئی غیر مسلم نہ تھے بلکہ پکے اور سچے مسلمان اور ایک نامور عالم دین تھے۔)
- (ج) مرزائیوں کے خلیفہ اول حکیم نور دین نے لکھا تھا۔
آں غلام احمد است و میرزائے قادیاں
گر کسے آرد شکے در شان او آں کافر است
جائے او باشد جہنم بیشک و ریب و گماں
(اخبار ”الحکم“ قادیان‘ ٧/ اگست ١٩٠٨ء)
- (د) مرزائیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود نے کہا ہے:
”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا‘ وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں‘ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں“۔ (”آئینہ صداقت“ مصنفہ مرزا محمود ص ٣٥)
- (ہ) مرزا غلام احمد قادیانی کے دوسرے لڑکے اور ایم ایم احمد کے والد مرزا بشیر
احمد ایم اے نے لکھا ہے۔ ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا‘ یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔ (”کلمتہ الفصل“
ص ١١٠‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم۔ اے)
- (و) ایم ایم احمد کے والد ہی کی ایک اور عبارت ملاحظہ ہو۔
”غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں‘ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناتہ ہے۔ سو یہ دونوں
٩
ہمارے لیے حرام قرار دیئے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت
ہے۔" ("کلمتہ الفصل" ص ١٦٩' مصنفہ مرزا بشیر احمد)
- (ز) آخر میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک عربی شعر سن لیں جن میں انہوں نے
اپنے مخالفوں کے بارے میں یہ گوہر افشانی کی ہے کہ۔
(ترجمہ) دشمن ہمارے بیابانوں (جنگل) کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں
کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔ ("نجم الہدیٰ" ص ١٥' "روحانی خزائن" ص ٥٣' ج ١٤)
(٣) قادیانیوں کو کسی کلیدی اسامی پر متعین نہ کیا جائے
مندرجہ ذیل چند ایک حوالہ جات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشینوں اور پیروکاروں کی ہمدردیاں اور وفاداریاں کسی صورت مملکت پاکستان سے نہیں ہو سکتیں۔ ان کی وفاداری کا مرکز قادیانی خلیفہ اور قادیانیت کا مرکز بھارتی شہر قادیاں ہے۔
سیاسی اور مذہبی وجوہ کی بنا پر پاکستان کی سالمیت اور بقاء کے نقطۂ نگاہ سے کسی قادیانی کو کسی کلیدی اسامی پر متعین کرنا قومی اور ملکی مفاد کے سراسر خلاف اور بالکل غلط ہوگا۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریک دراصل برطانوی سامراج کی اسلام دشمنی حکمت عملی کی پیداوار ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد صاحب کی بے شمار تحریریں اس کے ثبوت میں پیش کی جا سکتی ہیں۔ صرف ایک حوالہ ملاحظہ ہو۔
- (الف) مرزا غلام احمد قادیانی۔ لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کے نام اپنی ایک چٹھی
میں لکھتے ہیں:
"سردار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار جان نثار خاندان ثابت کر چکی ہے۔۔۔۔۔ اس
١٠
خودکاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق سے کام لے اور اپنے ماتحت حکام کو ارشاد فرمائے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں۔" ("تبلیغ رسالت" ص ١٩‘ ج ٧‘ "مجموعہ اشتہارات" ص ٢١‘ ج ٣‘ "روحانی خزائن" ص ٣٥٠‘ ج ١٤)
- (ب) علامہ اقبال مرحوم نے اپنے مشہور مضمون "قادیانی اور جمہور مسلمین"
میں قادیانی گروہ کے متعلق لکھا ہے۔
"گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف رجوع ہے۔ روح مسیح کا تسلسل یہودی باطنیت کا جز ہے۔" ("حرف اقبال" مرتبہ لطیف احمد خاں شیروانی‘ ص ٣٣)
علامہ اقبال کے اس تجزیہ کی روشنی میں تحریک احمدیت اور تحریک صہیونیت دونوں میں اسلام دشمنی قدر مشترک کے طور پر موجود ہے۔ چنانچہ یہ امر قابل غور ہے کہ پاکستان کی تمام گزشتہ حکومتوں نے اپنی حکمت عملی کے اختلاف کے باوجود آج تک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اور اس میں سب سے بڑا عامل (Factor) اسلام دوستی اور عربوں سے دینی اخوت کا رابطہ ہے لیکن قادیانیوں نے مملکت پاکستان میں رہتے ہوئے حکومت پاکستان کی اس حکمت عملی کو مسترد کیا ہوا ہے اور تل ابیب میں اپنا مشن قائم کیا ہوا ہے۔ جس کا ثبوت قادیانیوں کی ایک کتاب (Missions Our Foreign) میں موجود ہے۔
- (ج) جہاد‘ اسلام کا ایک مقدس دینی شعار ہے اور مسلمان قوم کی بقاء و ترقی کا
راز اسی میں مضمر ہے جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
الجهاد ماض منذ بعثنی الله الی یوم القيامة
(ترجمہ) "میری بعثت سے لے کر قیامت تک جہاد کا سلسلہ جاری رہے گا"۔
لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ دو حوالے ملاحظہ ہوں:
١١
دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال
اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے
دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے
اب آسماں سے نور خدا کا نزول ہے
اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے
دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد"
(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ، ص٤١، ”روحانی خزائن“ ص٧٧-٧٨، ج١٧)
- (٤) مسلمانوں کے فرقوں میں سے یہ فرقہ جس کا خدا نے مجھے امام اور پیشوا
اور رہبر مقرر فرمایا ہے بڑا امتیازی نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس فرقہ میں تلوار کا جہاد بالکل نہیں اور نہ اس کی انتظار ہے بلکہ یہ مبارک فرقہ نہ ظاہر طور پر اور نہ پوشیدہ طور پر جہاد کی تعلیم کو ہرگز جائز نہیں سمجھتا اور قطعاً اس بات کو حرام جانتا ہے کہ دین کی اشاعت کے لیے لڑائیاں کی جائیں۔" (”تریاق القلوب“ ص٣٣٢، ضمیمہ اشتہار واجب الاظہار، ”روحانی خزائن“ ص٥١٨، ج١٥)
- (٥) قادیانی فرقہ شروع ہی سے تقسیم ملک کے خلاف تھا اور اکھنڈ بھارت کے
برہمنی نظریہ کا زبردست حامی تھا جبکہ مرزا محمود خلیفہ قادیان نے اپنے ایک بیان میں اس کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا۔
"میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت، ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے یہ اور بات ہے ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔" (بیان مرزا محمود خلیفہ ربوہ ”الفضل“ ٧ مئی ١٩٤٧ء)
- (٦) قادیان کی بستی جو اب بھارتی علاقہ ہے، تمام قادیانیوں کے لیے متبرک اور
١٢
مقدس مقام ہے۔ قادیانیوں کو اس شہر سے وہی عقیدت و محبت ہے جو مسلمانوں کو مکہ اور مدینہ منورہ سے ہے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد صاحب لکھتے ہیں۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے“
(”در ثمین“ اردو ص ٥٠)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں:
”پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔ تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔ کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“ (بروایت مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ‘ مندرجہ ”حقیقت الرؤیا“ ص ٤٦)
مرزا محمود خلیفہ قادیاں نے اپنی ایک تقریر میں کہا:
”میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیاں کی زمین بابرکت ہے۔ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔“ (تقریر مرزا محمود مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ ١١ دسمبر ١٩٣٢ء)
ہر قادیانی کے لیے اطاعت امیر فرض ہے اگر کسی ایسے احمدی کو جو سرکاری ملازم ہو۔ بیک وقت دو متضاد احکام موصول ہوں ایک حکومت پاکستان کی طرف سے دوسرا جماعت احمدیہ کے امیر کی جانب سے تو وہ امیر جماعت احمدیہ کے حکم کی اطاعت کا پابند ہے اور حکومت پاکستان کے حکم کو نظر انداز کر دے گا۔ جہانگیر پارک کراچی میں ہونے والے احمدیوں کے جلسہ میں یہی صورت چوہدری سر ظفر اللہ خاں سابق وزیر خارجہ کو پیش آئی تھی جب خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم کی طرف سے جلسہ میں شرکت نہ کرنے کے حکم کو انہوں نے مسترد کر دیا اور خواجہ ناظم الدین صاحب سے صاف صاف کہہ دیا کہ میں اپنی جماعت احمدیہ کے جلسہ کی شرکت سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتا۔ حکومت پاکستان کی وزارت خارجہ سے میرا استعفا منظور کر لیں۔ امیر جماعت کے حکم کے مطابق وہ اس جلسہ میں شریک ہوئے اگرچہ ان کی شرکت کی وجہ
١٤٠
سے جلسہ گاہ میں اور پورے شہر میں عظیم فساد برپا ہوا اور حکومت کی پوزیشن بے حد خراب ہوئی۔
اس پورے واقعہ کا تذکرہ منیر انکوائری رپورٹ ١٩٥٣ء (اردو) کے صفحہ ٧٧-٧٦ پر تفصیل سے موجود ہے۔ ان تینوں مطالبات کے حق میں جو کچھ اوپر کہا گیا اس میں بہت زیادہ اختصار سے کام لیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع کردہ کتابچہ ”قادیانی مذہب و سیاست“ کا مطالعہ بھی فرمایا جائے۔ اس کے علاوہ اگر کسی مطالبہ کے دلائل میں کوئی شبہ ہو یا مزید معلومات اور دلائل کی ضرورت ہو تو بے شمار چیزیں مستند کتابوں میں موجود ہیں۔
آپ کے قیمتی وقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے مختصراً یہ معروضات پیش کی گئی ہیں۔ آپ کی ذہنی صلاحیتوں اور قدرت کی ودیعت کی ہوئی فہم و فراست سے توقع ہے کہ آپ ان چند حوالہ جات ہی سے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانی مسئلہ کے حل کی ضرورت کو پوری طرح سمجھ لیں گے اور اپنی اسلام دوستی حب الوطنی اور ملک و ملت کی خیر خواہی کے پیش نظر اور اپنے اعلیٰ منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے پاکستان کے مستقل دستور میں اس مسئلہ کے حل کے لیے مناسب اقدامات کی سعی فرمائیں گے۔
المخلص لال حسین اختر صدر مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت پاکستان‘ ملتان ٧ جولائی ١٩٧٤ء
١٤
مولانا لال حسین اختر
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان
سقوطِ مشرقی پاکستان پر
حمودالرحمن کمیشن میں
تحریری بیان
بسم الله الرحمن الرحيم
منجانب مولانا لال حسین صاحب اختر امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔
واجب الاحترام جناب عالی مقام جسٹس محمود الرحمن صاحب صدر تحقیقاتی کمیشن برائے سقوط مشرقی پاکستان۔
جناب عالی!
سقوط مشرقی پاکستان صرف پاکستان ہی کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیائے اسلام کے لیے عظیم المیہ ہے۔ اس سلسلہ میں چند گزارشات پیش خدمت کرتا ہوں۔
- (١) صدر یحییٰ، ریٹائرڈ جنرلوں کے علاوہ صدر کے مشیر جناب ایم ایم احمد بھی سقوط مشرقی پاکستان کے ذمہ دار ہیں۔ خصوصاً اس لیے کہ جناب ایم ایم احمد ایسے فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کے نزدیک
- (الف) مرزا غلام احمد کو نبی نہ ماننے والے سب لوگ کافر ہیں (جناب ایم ایم احمد نے اپنے فوجی عدالت کے بیان میں اس کی تصدیق کی ہے)۔
لہٰذا ان کے نزدیک پاکستان اسلامی ملک نہیں۔
- (ب) ان کے فرقہ کے خلیفہ دوم اور جناب ایم ایم احمد کے تایا جان نے فرمایا تھا۔ اگر ملک تقسیم ہو گیا تو ہم پھر سے اسے ملانے کی کوشش کریں گے۔
- (ج) ان کے فرقہ نے تقسیم ملک کے وقت باؤنڈری کمیشن میں مسلمانوں کے مطالبہ سے علیحدہ میمورنڈم پیش کر کے بقول جسٹس محمد منیر سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔
- (د) ان امور کو جناب جسٹس محمد منیر نے تسلیم کیا ہے۔
- (٣) جناب ایم ایم احمد یحییٰ مجیب مذاکرات میں ان کے ہمراہ رہے۔ مشرقی پاکستان کے رہنماؤں نے ان کے چلن کے باعث ان کی علیحدگی کا مطالبہ کیا۔
- (٤) صدر یحییٰ کے افواج بحریہ پاکستان کے لیے منظور کردہ دس کروڑ روپے ادا نہ کر کے جناب ایم ایم احمد نے پاکستان کی بحری قوت کو کمزور رکھا۔
٢
- (٥) جناب ایم ایم احمد جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کی قادیان (بھارت)
کی شاخ نے بنگلہ دیش کی حمایت کی اور بھارت سرکار کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ جب کہ قادیاں میں مقیم ان کے ممبران کو خلیفہ ربوہ ہی مقرر کرتے ہیں اور ان کے مصارف ادا کرتے ہیں۔ "جناب والا شان" بحریہ کے بجٹ کے متعلق شہادت کے لیے جناب مظفر وائس ایڈمرل کو طلب فرمایا جاوے۔ دیگر تمام امور کے متعلق تحریری شہادت موجود ہے جو عندالطلب پیش کی جاسکتی ہے۔ لال حسین اختر فیض باغ لاہور۔ امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان تغلق روڈ ملتان۔ دلائل متعلقہ جزو (١)
سقوط مشرقی پاکستان یحییٰ خان اینڈ کو کی حرکات قبیحہ‘ فرض ناشناسی‘ ملک و ملت سے غداری کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ یحییٰ خان کے ساتھ شریک کار تھے ان میں سب سے زیادہ یحییٰ خاں کو ایم ایم احمد پر ہی اعتماد تھا اور مسٹر احمد نے ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا پلان تیار کیا۔
یحییٰ خان کا سب سے زیادہ معتمد ایم ایم احمد تھا۔ "جس پر محمد اسلم قریشی ایک شخص نے حملہ کیا۔ یہ حملہ اس پر اس وقت کیا گیا جبکہ قوم جناب صدر مملکت آغا محمد یحییٰ خان صاحب ملک سے باہر دو روز کے لیے ایران تشریف لے گئے تھے اور محترم صاحب زادہ ایم۔ ایم۔ احمد بطور قائم مقام صدر کام کر رہے تھے"۔ (ماہنامہ "الفرقان" ربوہ‘ ستمبر ٧١ء‘ ص٢)
- (٢) مشرقی پاکستان سے علیحدگی۔
قومی اسمبلی کی بساط لپیٹ دینے کے ساتھ مشرقی پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ذہنی طور پر کر لیا گیا تھا۔ یہ بات عام طور پر کہی جاتی ہے کہ جناب ایم ایم احمد نے ایک مضبوط رپورٹ تیار کی جس میں اعداد و شمار سے ثابت کیا گیا کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہو جانے سے مغربی پاکستان کی حیثیت قائم رہے گی اور اس میں استحکام پیدا
ہوگا۔ ("اردو ڈائجسٹ" ص ٣‘ فروری ٧٢ء)
دلائل متعلقہ جزو نمبر٢
ذیلی دفعہ (١) ایم ایم احمد نے اپنے مبینہ حملہ آور محمد اسلم قریشی کے مقدمے میں فوجی عدالت کو بیان دیتے ہوئے کہا۔ میرا دادا نبی تھا اور جو شخص اسے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ مندرجہ ماہنامہ "الحق" اکوڑہ خٹک رمضان ٩١ھ ایم ایم احمد کے والد مرزا بشیر احمد ایم اے نے اپنی کتاب (کلمتہ الفصل، صفحہ ١١٠) پر لکھا ہے کہ ہر ایک ایسا شخص، جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
"ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔ (از بشیر الدین محمود خلیفہ دوم "انوار خلافت" صفحہ ٩٠) مسٹر ظفر اللہ نے بے باکی اور جرات سے کہا، بے شک میں نے قائد اعظم کا جنازہ عمداً نہیں پڑھا۔ مولانا نے پوچھا کیوں؟ مسٹر ظفر اللہ نے جواب دیا کہ میں اس کو سیاسی لیڈر سمجھتا تھا۔ حضرت مولانا نے دریافت فرمایا کیا تم مرزائے قادیانی کو پیغمبر نہ ماننے والے سارے مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہو؟ حالانکہ تم اسی حکومت کے وزیر بھی ہو۔ سر ظفر اللہ نے کہا کہ آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان ملازم سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر۔ تم کو بھی ایسا سمجھنے کا حق ہے۔ سر ظفر اللہ بجواب مولانا محمد اسحاق صاحب خطیب جامع مسجد ایبٹ آباد۔ (زمیندار مورخہ ٨ فروری ١٩٥٠ء بحوالہ "الفلاح" پشاور ٢٨ اگست ١٩٤٩ء)
جب پاکستان کے تمام اسلامی فرقے مرزائیوں کی نظر میں مسلمان ہی نہیں تو پاکستان اسلامی حکومت بھی نہیں۔
ذیلی دفعہ (ب)
ان کی بعض تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تقسیم کے مخالف تھے اور کہتے
٤
تھے کہ اگر ملک تقسیم بھی ہو گیا تو وہ اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت، مرتبہ جسٹس محمد منیر، صفحہ ٢٠٩)
قادیان جماعت احمدیہ کا مرکز ہے، جس کی شاخیں ساری دنیا پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ١٩٤٧ء کے فسادات کی وجہ سے متعدد احمدیوں کو مجبوراً قادیاں چھوڑنا پڑا تھا اور وہ واپس آکر یہاں بسنے کے لیے بے قرار ہیں۔ (کاروائی، قادیاں میں جماعت احمدیہ کا ٥٩ واں اجلاس، مندرجہ ”الفضل“ لاہور، ٣١ دسمبر ١٩٤٩ء)
ذیلی دفعہ (ج)
”اس ضمن میں ایک بہت ناگوار واقعہ کا ذکر کرنے پر مجبور ہوں۔ میرے لیے یہ بات ہمیشہ ناقابل فہم رہی ہے کہ احمدیوں نے علیحدہ نمائندگی کا کیوں اہتمام کیا۔ اگر احمدیوں کو مسلم لیگ کے موقف سے اتفاق نہ ہوتا تو ان کی طرف سے علیحدہ نمائندگی کی ضرورت ایک افسوسناک امکان کے طور پر سمجھ میں آ سکتی تھی۔ شاید وہ علیحدہ ترجمانی سے مسلم لیگ کے موقف کو تقویت پہنچانا چاہتے تھے لیکن اس سلسلہ میں انہوں نے شکر گڑھ کے مختلف حصوں کے لیے حقائق اور اعداد و شمار پیش کیے۔ اس طرح احمدیوں نے یہ پہلو اہم بنا دیا کہ نالہ بھیں کے درمیانی علاقہ میں غیر مسلم اکثریت ہے اور اس دعویٰ کے لیے دلیل میسر کر دی کہ نالہ اجھ اور نالہ بھیں کا درمیانی علاقہ از خود بھارت کے حصہ میں آجائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ علاقہ ہمارے (پاکستان) کے حصہ میں آگیا ہے لیکن گورداسپور کے متعلق احمدیوں نے اس وقت ہمارے لیے سخت مخمصہ پیدا کر دیا۔ (بیان جسٹس محمد منیر ”اخبار نوائے وقت“ لاہور ١٦ جولائی ١٩٧٣ء)
دلائل متعلقہ جزو نمبر ٣
یحیٰی۔ مجیب مذاکرات ٧١ء میں ایم ایم احمد کی حرکات کے باعث مشرقی پاکستان کے انتہائی ذمہ دار حلقوں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ ٢٤ مارچ کو ڈھاکہ میں ایم ایم احمد کی موجودگی پر انتہائی ذمہ دار حلقوں نے شکوک کا اظہار کیا کہ انہوں نے اقتصادی امور کے سیکرٹری منصوبہ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین، صدر کے اقتصادی امور کے
٥
مشیر اور مشرقی پاکستان میں طوفان زدہ افراد کی آبادکاری کی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہمیشہ مشرقی پاکستان کو اقتصادی طور پر محروم کر دیا۔ (بحوالہ ”جنگ“ کراچی‘ ٢٦ مارچ ١٩٧١ء) صفحہ ٨ کالم نمبر ٥
مولانا شاہ احمد نورانی ایم۔ این۔ اے نے عوام پر زور دیا کہ وہ ملک کے اتحاد اور سالمیت کی خاطر مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار رہیں اور ملک کو تقسیم کرنے کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیں۔
انہوں نے بتایا کہ مشرقی پاکستان کے اخبارات صدر کے اقتصادی مشیر مسٹر ایم ایم احمد کی ڈھاکہ میں موجودگی پر نکتہ چینی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر احمد اقتصادی ماہر ہیں‘ سیاسی امور کے ماہر نہیں۔ اس کے باوجود وہ مذاکرات میں صدر کے مشیر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ (روزنامہ ”مشرق“ لاہور‘ ٢٥ مارچ ٧١ء‘ صفحہ آخر کالم نمبر ٢)
دلائل متعلقہ جزو نمبر ٤
”سازش کا پانچواں حصہ“ ہماری بحریہ کو جس طرح نظر انداز کیا گیا‘ وہ بڑا ہی تکلیف دہ المیہ ہے۔ یحییٰ خان نے وائس ایڈمرل مظفر کو اختیار دیا تھا کہ وہ ہر سال دس کروڑ روپے اپنی مرضی سے خرچ کر سکتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ اس کے متعلق پلان تیار کیا گیا تھا‘ مگر آخری وقت پر جناب ایم ایم احمد نے جواب دے دیا کہ ہم یہ رقم نہیں دے سکتے۔ (”اردو ڈائجسٹ“‘ جنوری ٧٢ء‘ ص ٥٥)
دلائل بابت جزو نمبر ٥
جناب ایم ایم احمد جس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں‘ ان کی قادیاں (بھارت) شاخ نے بنگلہ دیش کی حمایت کی اور بھارت سرکار کو مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اور بھارتی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کی حمایت کے علاوہ مالی امداد دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ (ایڈیٹر کا مضمون روزنامہ ”جسارت“ کراچی‘ مورخہ ٣ ستمبر ١٩٧١ء)
قادیاں‘ بھارت میں مرزائی جماعت کو مالی امداد پاکستانی مرزائیوں کی طرف سے دیے جانے کا اعتراف ایم ایم احمد نے فوجی عدالت کے بیان میں کیا ہے اور نیز یہ کہ قادیاں کا نظم و نسق نظامت ربوہ ہی کے ماتحت ہے۔
مولانا لعل حسین اختر
مرکزی مجلس تحفظ ختم نبوت
پاکستان
ملتان
مسلمانوں کی نسبت
قادیانیوں کا عقیدہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
- (١) ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز
نہ پڑھیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔ ("انوار خلافت" از مرزا محمود احمد قادیانی خلیفہ، ص٩٠)
- (٢) کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ
انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔ ("آئینہ صداقت" از مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان، ص٣٥)
- (٣) ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا
ہے مگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ("کلمتہ الفصل" مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا غلام احمد، ص١١٠)
- (٤) خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت
پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ (مرزا غلام احمد قادیانی کا خط بنام ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب پٹیالوی، تذکرہ طبع ٣، ص٦٠٧)
- (٥) "اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ
خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے" ("انجام آتھم" ص ٦٢ "روحانی خزائن"، ص ٦٢، ج ١١)
- (٦) (مجھے خدا کا الہام ہے کہ) جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت
میں داخل نہ ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔ ("اشتہار معیار الاخیار" از مرزا غلام احمد قادیانی، ص٨ "مجموعہ اشتہارات"، ص٢٧٥، ج٣)
- (٧) پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام ہے
٢
اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو۔" ("اربعین" نمبر ٣، ص ٢٨، حاشیہ، "روحانی خزائن" ص ٤١٧، ج ١٧)
- (٨) سوال : "کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں داخل نہ ہو، یہ کہنا
جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے اور مغفرت کرے۔"
جواب۔ "غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں" ("الفضل" قادیان ٧ فروری ١٩٢١ء، جلد ٨، نمبر ٥٩)
- (٩) ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیر مبائع (لاہوری پارٹی کے مرزائی) کہتے ہیں
غیر احمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں وہ بچہ جوان ہو کر احمدی ہوتا۔ اس کے متعلق (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے) فرمایا : جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا، اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے، اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا۔" (ڈائری مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان ج ١٠، نمبر ٢٦، ص ٦، ٢٣ اکتوبر ١٩٢٢ء)
- (١٠) "غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اس لیے ان کا جنازہ نہیں
پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا بھی جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں، جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں" ("انوار خلافت" مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان، ص ٩٣)
- (١١) حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو
اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے۔" ("برکات خلافت" از مرزا محمود احمد، ص ٧٥)
- (١٢) "غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ
نکاح جائز ہی نہیں۔"
("برکات خلافت" از مرزا محمود احمد، ص ٧٣)
- (٣) جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے، وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں
سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا ہے کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین، جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو۔
("ملائکۃ اللہ" مصنفہ مرزا محمود احمد، ص ٤٦)
- (٤) غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار
دیا گیا، ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے، جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔
("کلمتہ الفصل" مصنفہ مرزا بشیر احمد پسر مرزا غلام احمد، ص ١٦٩)
٤
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
أنا خاتم النبيين لا نبي بعدي
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
تاسیس ١٩٤٩ء
انگلستان میں
مجلس تحفظ ختم نبوت
کی کامیابی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم !
- * ناظرین کرام جماعتی احباب بخوبی جانتے ہیں کہ مناظر اسلام حضرت مولانا لال
حسین صاحب اختر مدظلہ‘ ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان گزشتہ جولائی (٧٦ء) سے انگلستان میں مرزائیت کے خلاف مصروف جہاد ہیں۔ حضرت موصوف دام مجدہم کی مساعی جمیلہ سے انگلستان کے آٹھ مرکزی شہروں میں تحفظ ختم نبوت کی جماعتیں قائم ہوچکی ہیں اور سینکڑوں مسلمان ممبر بن چکے ہیں۔ حضرت اقدس جہاں بھی تشریف لے گئے‘ بفضلہ تعالیٰ کامیابی نے قدم چومے اور تائید و نصرت ایزدی شامل حال رہی۔
آپ گزشتہ دنوں پاکستان مسلم ایسوسی ایشن ووکنگ کی دعوت پر ووکنگ تشریف لے گئے اور وہاں کی عظیم الشان مسجد ”مسجد شاہجہاں“ (جو گزشتہ نصف صدی سے مرزائیت کے مضبوط ترین قلعے کی حیثیت رکھتی تھی) میں مسئلہ ختم نبوت اور تردید دعاوی مرزا غلام احمد قادیانی پر معرکۃ الاراء تقریر فرمائی۔ آپ کی تقریر کے اختتام کے بعد مولانا بشیر احمد صاحب مصری (جو کہ مسجد مذکور کے خطیب ہیں) نے آپ کی تقریر کی تائید کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں کذاب مانتا ہوں۔ اس عظیم الشان کامیابی پر دفتر مرکزیہ ختم نبوت ملتان میں ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت ٣٢۔ اپر جارج سٹریٹ ہڈر سفیلڈ یو۔کے انگلستان کی طرف سے مفصل روئیداد موصول ہوئی ہے۔ ہم اسے من و عن ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔
(محمد عبداللہ لدھیانوی ناظم نشر و اشاعت ٧-١١-٨٨ء)
مکتوب
شیخ العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحب کشمیریؒ ، حضرت مولانا شاہ عبدالقادر صاحب رائے پوریؒ اور شیخ التفسیر حضرت لاہوریؒ (رحمہم اللہ تعالیٰ) اور دیگر اکابرین کی دعاؤں اور برکات سے امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری قدس سرہ نے مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ذریعہ تردید مرزائیت کا محاذ قائم کر کے مسلمانان عالم پر احسان عظیم فرمایا ہے۔ اللہ
٢
تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کتنے مرزائی مشرف باسلام ہوئے اور کتنے مسلمانوں کو مرزائیت کے مہلک اثرات سے بچایا گیا۔ حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد کے پیش نظر مجلس تحفظ ختم نبوت کا مدت سے عزم تھا کہ انگلستان میں (جو کہ مرزائیت کا حقیقی گہوارہ ہے) تردید مرزائیت کا محاذ قائم کیا جائے۔ بفضل ایزدی گزشتہ سال مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین صاحب اختر مدظلہ‘ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ ان ہی ایام میں قادیانی خلیفہ مرزا ناصر احمد بھی انگلستان آئے ہوئے تھے۔ مسلمانان انگلستان نے احقاق حق کے لیے موقع غنیمت جانتے ہوئے مناظرہ کا چیلنج دے دیا‘ جو درج ذیل ہے۔
”بخدمت جناب مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ جماعت احمدیہ قادیانیہ حال وارد انگلینڈ۔۔۔ معلوم ہوا ہے کہ آپ یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ ان ہی ایام میں ہند و پاکستان کے مشہور مبلغ و مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر‘ ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بسلسلہ تبلیغ یہاں تشریف فرما ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حق کے لیے بہترین موقعہ عطا فرمایا ہے۔ حضور سرور کائنات سید الاولین و الاخرین شفیع المذنبین‘ خاتم النبیین رحمۃ اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد نجران سے مناظرہ کیا تھا اور آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی زندگی میں آریوں‘ عیسائیوں اور مسلمانوں سے مناظرے کئے تھے۔ مناظرہ تبلیغ دین کا ایک اہم شعبہ ہے۔ لہٰذا ہم آپ سے التماس کرتے ہیں کہ آپ خود یا آپ کا نمائندہ جناب مرزا غلام احمد کے صدق و کذب‘ کے موضوع پر مولانا لال حسین صاحب اختر سے مناظرہ کر کے مسلمانان انگلستان کو احمدیت کی حقیقت سے روشناس کرائیں شرائط مندرجہ ذیل ہیں۔ از راہ کرم جواب سے مطلع فرمائیں۔“
(حاجی محمد اشرف گوندل امیر انٹرنیشنل تبلیغی مشن‘ ٢٥۔ کلوفرڈ روڈ ھنسلو ویسٹ میڈیکس یو۔ کے انگلینڈ)
لیکن مرزائیوں کے خلیفہ کو ہمت نہ ہوئی کہ مسلمانوں کا چیلنج قبول کرتا۔ اس نے مولانا لال حسین صاحب اختر مدظلہ کے اس مشہور مقولہ کی تصدیق کر دی کہ
٣
”مرزائی مبلغین کے لیے زہر کا پیالہ پی لینا آسان ہے‘ میرے آمنے سامنے ہو کر مناظرہ کرنا مشکل ہے۔“ اس فیصلہ کن چیلنج نے مرزائیوں کے حوصلے پست کر دیے۔ ان کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں اور وہ آج تک اپنے خلیفہ کے فرار ہونے کا جواز پیش نہیں کر سکے۔ ان پر مایوسی طاری ہو گئی اور ان کی نام نہاد تبلیغ کا بھرم کھل گیا ہے۔ انگلستان کے مشہور شہروں میں مناظر اسلام مولانا لال حسین صاحب اختر مدظلہٗ کی معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘ ختم نبوت‘ حیات مسیح علیہ السلام‘ تردید مرزائیت صداقت اسلام‘ تردید تثلیث کفارہ و تردید الوہیت و ابنیت مسیح علیہ السلام پر ڈیڑھ سو سے زائد تقاریر ہو چکی ہیں ایک پادری سے کامیاب مناظرہ بھی ہوا ہے۔
ووگنگ مسجد میں تردید مرزائیت
ووگنگ انگلستان کا مشہور شہر ہے اور لندن سے پچیس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ یہاں بیگم صاحبہ بھوپال نے شاہجہاں مسجد کے نام سے وسیع اور خوبصورت مسجد بنوائی تھی۔ (مرزائی دعویٰ کرتے رہے کہ یہ مسجد ہماری تعمیر کردہ ہے) انگلستان میں یہ پہلی مسجد تھی۔ تقریباً پچپن برس سے یہ مسجد مرزائیت کے پروپیگنڈہ کا مرکز رہی ہے اس میں دن رات مرزا غلام احمد کی محدثیت‘ مجددیت‘ مسیحیت‘ مہدویت اور ظلی بروزی نبوت پر خواجہ کمال الدین مسٹر صدر الدین (موجودہ امیر جماعت احمدیہ لاہور) اور مسٹر یعقوب ایڈیٹر الاء کے لیکچر ہوتے رہے ہیں اور مسجد کو مرزائیت کا عظیم قلعہ سمجھا جاتا تھا۔ آج کل اس مسجد کے امام جناب حافظ بشیر احمد صاحب مصری ہیں۔ جناب نور محمد صاحب لودھی کی تحریک پر جناب ظہیر احمد صاحب سیکرٹری پاکستان مسلم ایسوسی ایشن ووگنگ نے مولانا حافظ بشیر احمد صاحب مصری سے ملاقات کر کے بتایا کہ ہم مولانا لال حسین صاحب اختر کی ختم نبوت اور تردید مرزائیت پر تقریر کرانا چاہتے ہیں۔ مولانا بشیر احمد صاحب مصری نے تقریر کے لیے ”شاہ جہاں مسجد“ کا انتخاب فرمایا۔ چنانچہ ١١ فروری ١٩٦٨ء بروز اتوار تین بجے تقریر کا اعلان کر دیا گیا۔ وقت مقررہ پر مقامی حضرات کے علاوہ لندن ساؤتھ ہال اور ھنسلو سے اہل اسلام کا ایک
٤
سیلاب امڈ آیا اور مسجد سامعین سے کھچا کھچ بھر گئی۔ مولانا بشیر احمد صاحب نے مولانا لال حسین صاحب کا پر تپاک خیر مقدم کیا۔ جلسہ کی صدارت جناب ظہیر احمد صاحب سیکرٹری پاکستان مسلم ایسوسی ایشن نے فرمائی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد مناظر اسلام مدظلہ نے مسئلہ ختم نبوت اور تردید دعاوی مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان افروز تقریر فرمائی۔ آپ نے وضاحت سے بیان فرمایا کہ مسلمانوں اور مرزائیوں میں کفر و اسلام کا اختلاف ہے اور پونے چودہ سو سال سے مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر مدعی نبوت دجال و کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے دنیا کے ستر کروڑ مسلمانوں کو کافر اور جہنمی قرار دیا ہے۔ مرزائیت اسلام کا فرقہ نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ایک علیحدہ مذہب ہے۔ آپ نے مرزا قادیانی کے خلاف اسلام دعاوی اور توہین انبیاء علیہم السلام و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مفصل روشنی ڈالی۔
تقریر کے بعد مولانا بشیر احمد صاحب مصری نے تقریر کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ میں مرزائی یا احمدی نہیں ہوں بلکہ میں مسلمان ہوں اور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدعی نبوت کو کذاب اور کافر سمجھتا ہوں اور آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخر الزماں پیغمبر مانتا ہوں۔ مولانا لال حسین مدظلہ نے سوال کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کے متعلق تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ مولانا بشیر احمد صاحب نے جواب دیا کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو اس کے تمام دعاوی میں جھوٹا مانتا ہوں۔ اس پر حاضرین نے جذبہ مسرت سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کیے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی کہ پچپن سال کے بعد محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس مسجد میں کلمہ حق بلند ہوا اور مرزا غلام احمد کی تردید ہوئی۔ نماز عصر اور مغرب کی امامت کے فرائض مناظر اسلام مدظلہ العالی نے انجام دیئے۔ مولانا بشیر احمد صاحب نے اعلان فرمایا کہ جب تک میں اس مسجد کا امام ہوں یہ مسجد مرزائیوں کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی ہے۔ عامتہ المسلمین نے جناب مناظر اسلام مدظلہ کو مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عظیم کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔
٥
اجلاس کے اختتام پر مولانا لال حسین صاحب اختر نے آیت قل جاء الحق و زهق الباطل تلاوت کرتے ہوئے نہایت سوز و گداز کے ساتھ طویل دعا فرمائی اور اجلاس بخیر و خوبی انجام پذیر ہوا۔
مولانا بشیر احمد صاحب مصری نے چائے سے مہمانوں کی تواضع فرمائی اور مولانا صاحب دام مجدہم سے استدعا کی کہ ووکنگ مسجد کے لیے بہت جلد کسی آئندہ اتوار کی تاریخ مقرر کی جائے جسے مولانا لال حسین صاحب نے بخوشی قبول فرما لیا۔ مولانا موصوف عید کے بعد انشاء اللہ کسی اتوار کا تعین فرما دیں گے۔
منجانب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت ٣٢۔ اپر جارج سٹریٹ ہڈر سفیلڈ یو۔کے‘ انگلینڈ
٦
ایک درخواست
آخر میں ایک درخواست ہے کہ کیا تم باپ کے قاتل کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے ہو؟ (غیر مہذب الفاظ کہنے کی گستاخی کی معافی چاہتا ہوں۔)
اگر کوئی کسی کی بہن بیٹی کو اغواء کر کے لے جائے کیا اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے ہیں؟ اور ایسے شخص کے ساتھ آپ کی دوستی اور یارانہ رہا کرتا ہے؟ اگر ہمیں اپنے باپ کے قاتل کے بارے میں غیرت ہے اور ہمیں اپنی بہو بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کے بارے میں غیرت ہے کہ ہماری اس کے ساتھ کبھی صلح نہیں ہو سکتی، کبھی دوستی نہیں ہو سکتی، کبھی اس کے ساتھ ملنا بیٹھنا نہیں ہو سکتا تو میں پوچھتا ہوں کہ جن موذیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس نبوت پر ہاتھ ڈالا (معاذ اللہ) جنہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ بنا ڈالا جنہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھنے والے تمام مسلمانوں کو کافر، حرامزادے، سور اور ان کی عورتوں کو
کتیوں کا خطاب دیا۔ ان موذیوں کے بارے میں آپ کی غیرت کیوں مر گئی ہے............!!
آپ ان کے ساتھ کیوں لین دین کرتے ہیں ؟ ان کے ساتھ کیوں میل جول رکھتے ہیں ؟ مسلمانوں کے معاشرہ میں ان کے وجود کو کیوں برداشت کرتے ہیں ؟ کیا حضرت محمد مصطفیٰ سرور کائنات آقائے دو جہان حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس نبوت کسی کے باپ اور کسی کی بہو بیٹی کے برابر بھی نہیں ؟
کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ ان موذیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھیں گے اور ان سے کوئی لین دین نہیں کریں گے۔ حق تعالیٰ شانہ ہمیں ایمانی غیرت نصیب فرمائیں اور ہم سب کو قیامت کے دن حضور نبی کریم رحمت اللعالمین خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خدام میں اٹھائیں اور ہم سب کو آنحضرت ﷺ کی شفاعت نصیب فرما کر ہماری بخشش فرمائیں۔ آمین!
محمد یوسف لدھیانویؒ ١٣ جنوری ١٩٨٩ء