قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے
(علامہ محمد اقبالؒ)
ملت اسلامیہ
کے خلاف
قادیانی سازشیں
از
سفیر ختم نبوت
مولانا منظور احمد چنیوٹی
۱۱
انٹرویو
بریگیڈیر (ر) گلزار احمد
ناشر
ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ (پنجاب) پاکستان
فون 332820-0466 - فیکس 331330-0466
E.Mail: chinioti@fsd.comsats.net.pk
Irshad Printing Press & J.S.Computers Chiniot Punjab Pakistan
Ph.334420,332820 Mob.0320-4890351
جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ ہیں
نام کتاب : ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں مصنف : سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی بریگیڈیئر (ر) گلزار احمد تعداد : 1100 گیارہ سو طبع : 23 اگست 2000ء ناشر : ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ (پنجاب) پاکستان فون: 0466-332820 فیکس نمبر 0466-331330 کمپوزنگ : جے ایس کمپیوٹرز کمپوزنگ سنٹر چنیوٹ فون نمبر Mob:03204890351-0466-334420-332820 مطبع : ارشاد پرنٹنگ پریس چنیوٹ قیمت : 25 روپے
ملنے کا پتہ
ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ
قادیانیت
یہودیت کا چربہ ہے (علامہ اقبال)
ملتِ اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں
از سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی برگیڈیئر (ر) گلزار احمد،
ناشر، ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ، پاکستان ۔ فون : ۳۲۲۸۲۰ - ۰۴۶۶ ۔ فیکس : ۲۲۱۲۲۰ - ۰۴۶۶ E.mail: Chinioti@fsd.comsats.net.pk
پیش لفظ
قادیانی امت دور حاضر کے ان گروہوں میں سے ہے جنہیں استعمار نے ملت اسلامیہ کو فکری انتشار سے دوچار کرنے کے لئے پروان چڑھایا ہے اور جو استعمار کے فکری و سیاسی مقاصد کے لئے بدستور استعمال ہورہے ہیں۔
قادیانی مذہب کا خمیر فریب کاری اور طمع سازی کی مٹی سے گوندھا گیا ہے اس لئے دام ہمرنگ زمیں کے طور پر سادہ لوح مسلمانوں کو ورغلانے کیلئے نت نئے ہتھکنڈے اس گروہ کی طرف سے سامنے آتے رہتے ہیں اور قانون فطرت کے مطابق ان سازشوں اور ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرنے کیلئے بھی اہل حق کے افراد ہر دور میں مصروف عمل رہتے ہیں۔
مولانا منظور احمد چنیوٹی کو اللہ رب العزت نے قادیانی گروہ کے مکر و فریب کا پوسٹ مارٹم کرنے کا خصوصی ذوق عطا فرمایا ہے اور اس محاذ پر ان کی جدوجہد کا دائرہ کم و بیش نصف صدی اور چار براعظموں کو محیط ہے۔ صوبائی اسمبلی ہو یا مسند تدریس، خطابت کا سٹیج ہو یا منبر و محراب، سرکاری کانفرنسیں ہوں یا علماء کی محافل، ان کی انگلیاں ہر وقت قادیانیت کی نبض پر ہوتی ہیں اور وہ اس مریض کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت سے دنیا کو مسلسل آگاہ کرتے رہتے ہیں۔
زیر نظر پمفلٹ میں آپ مولانا منظور احمد چنیوٹی کے دو انٹرویو اور پاک فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیر جناب گلزار احمد کا ایک انٹرویو ملاحظہ فرمائیں گے جن میں انہوں نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے قادیانی منصوبوں اور اس گروہ کے طریق واردات سے پردہ اٹھایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان انٹرویوز کی جس قدر ہوسکے ،اشاعت کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس گمراہ گروہ کی اصلیت سے آگاہ کر کے ان کے ایمان کے تحفظ کا سامان کیا جاسکے۔ ابو عمار زاہد الراشدی، خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ
عالم اسلام کے خلاف قادیانی سازشیں
نگراں وزیر اعظم جناب معین قریشی اس لحاظ سے باعث عزت و احترام ہیں کہ ان کا تعلق ایک ایسے بلند پایہ علمی اور تاریخی خاندان سے ہے جس نے برصغیر پاک و ہند کی آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے دادا مولانا عبد القادر نے جب سے سیاست کی خار دار وادی میں قدم رکھا ، انگریزی حکومت نے اذیت ناک سزاؤں اور المناک پابندیوں میں انہیں جکڑے رکھا۔ کئی دفعہ مولانا موصوف کے ہمراہ ان کے بیٹے مولانا محی الدین ، مولوی محمد علی بھی پابند سلاسل رہے لیکن انگریزوں کی وحشتناک بربریت سے آپ کے پایہ استقلال میں جنبش آئی نہ مشن کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی۔ بندہ نے ہفت روزہ الاسلام کی ایڈیٹری کے زمانہ میں مولانا محمد علی کے مجاہدانہ شب و روز پندرہ قسطوں میں ضبط تحریر کیے تھے۔ مولانا عبد القادر موصوف کو یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ دینی اور سیاسی محاذ پر جماعتوں کے سفر میں مالی اخراجات (نہ صرف اپنے بلکہ دوستوں کے بھی) اپنی گرہ سے خرچ کرتے۔ انگریز کا انتقام آمیز رویہ بھی ان کے پایہ استقلال میں جنبش پیدا نہ کر سکا۔
نگراں وزیر اعظم اور ایم ایم احمد کی دوستی
جس شخص کا دادا فرنگی حکومت کو اسلام اور ملک و ملت کا ازلی دشمن سمجھتا ہو اور پوری زندگی اس قولی و عملی جنگ جاری رکھی ہو، حتی کہ انگریز کے منحوس وجود کو بر صغیر سے نکال باہر کیا ہو ، اس وزیر اعظم کا تجویز کنندہ وہ شخص ہو جس کا دادا انگریزوں کا گماشتہ ، ان کی پا بوسی کرنے والا ، انگریزی حکومت کو ظل اللہ کہنے والا اور انگریز دشمنوں کو گالیاں دینے والا اور خود کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا کہنے والا اس کا پوتا ایم ایم احمد قادیانی جو عالم اسلام میں سخت ناپسندیدہ ، ناقابل برداشت ، جو خاندان سمیت ملت و ملک کا ازلی دشمن ہو ، سامراجیوں کے
لئے عالم اسلام کی جاسوسی کرنا جس کا خاندانی پیشہ ہو، کس قدر افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ بارہ کروڑ پاکستانیوں میں ایک بھی مسلمان ایسا نہ مل سکا جو ملک کا بہی خواہ اور محب وطن ہو، جو وزیر اعظم کے لئے کسی پاکستانی کا نام پیش کرتا۔ ایم ایم احمد ہی وہ متنازعہ کردار ہے جس کی وجہ سے معین قریشی کی شخصیت متنازعہ بنی ہوئی ہے اور وطن عزیز کے کچھ حلقے انہیں اچھی نظروں سے نہیں دیکھ رہے۔ جناب معین قریشی صاحب! آپ کے بزرگوں کی خدمات و مقام اپنی جگہ مگر کیا آپ جواب دینا پسند کریں گے کہ ایم ایم احمد سے آپ کی رفاقت اور دوستی کو کن معنوں میں لیا جائے؟ آپ نے جس طرح اس اسلام دشمن کو عالمی بینک میں ملازمت دلوائی اور سعودی حکومت کے احتجاج کو بھی یکسر نظر انداز کیا، اس سے کیا مراد لی جائے؟ یہ بھی منظر عام پر آچکا ہے کہ آپ کا پریس سیکرٹری ریٹائرڈ کرنل اکرام اللہ مرزائی ہے اور آپ کی بیوی بھی غیر مسلم۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ قادیانیوں کو اسلام اور عالم اسلام کے ازلی دشمن سمجھا ہی نہیں جاتا بلکہ ان کی صد سالہ تاریخ شاہد ہے کہ مرزا غلام احمد نے اسلام اور عالم اسلام کو جو نقصان پہنچایا، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ مرزائیوں سے دوستی رکھنے والا کبھی پاکستان کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسلام اور عالم اسلام کا۔
١٩٥٣ء میں اینٹی قادیانی تحریک مسلمانان پاکستان کا مرزائیوں کے خلاف متفقہ رد عمل کا نتیجہ تھی، جس کی وجہ سے لاہور میں مارشل لاء لگانا پڑا جس میں ایک لاکھ مسلمان گرفتار ہوئے اور دس ہزار نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے مرزائیوں کی ریشہ دوانیوں اور ملک و ملت کے خلاف ان کی وحشتناک کاروائیوں کو طشت از بام کر دیا۔
قادیانیوں کی خلافت عثمانیہ کے خلاف سازشیں اور
یہودی حکومت کی حمایت
مرزائیت نے صرف پاکستان اور مسلمانوں کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ انگریز کے اس کاشتہ پودے نے عالم اسلام کی مخالفت اور انگریز کی حمایت میں ہرگز کوتاہی نہ کی، حتی کہ یہودی اسٹیٹ کے بانی تھیوڈر ہرزل نے جب درخواست کی کہ فلسطین میں یہودی وطن بنایا جائے تو خلافت عثمانیہ کے خلیفہ عبدالحمید ثانی نے اسے مسترد کر دیا تو یہود نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف عالمی سطح پر پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔ ادھر اشارہ فرنگ پر مرزا محمود مرزائی پوپ نے بھی ترکوں کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا۔ ترکی کے سفیر حسین کو اپنا کشف بیان کیا کہ ترک کے سلطان کا انجام اچھا نہیں ہو گا اور بیرون ملک مرزا نے تاثر دینا شروع کیا کہ ہندوستان کے مسلمان ترکوں کے سخت مخالف اور ان سے بیزار ہیں۔ مرزا محمود نے ۹ نومبر ۱۹۱۴ء کو بیان دیا جس میں ترکوں کو مجرم گردانا گیا۔
۱۹۱۹ء میں ترک دشمنی اور خلافت عثمانیہ کے خلاف تباہی کا پراپیگنڈا کیا گیا نیز میگلیگن لیفٹیننٹ گورنر پنجاب کو ۵۱ مرزائیوں نے ایک ایڈریس پیش کیا کہ ہمارا ترکوں سے مذہباً کوئی تعلق نہیں، ہمارے دنیاوی سلطان بادشاہ حضور معظم جارج پنجم ہی ہیں۔ اس بیان کو چھپوا کر انگلستان میں عام تقسیم کیا گیا اور اسرائیلی حکومت کے قیام کو قرآن کی پیشگوئی کے مصداق ٹھہرایا گیا۔
انگلینڈ کے مرزائی مبلغ فرزند علی نے یہودیوں کے حق اور ترک مخالفت میں زبردست بیان دیئے ۔ مرزا محمود خدائی الہام یہودیوں کے حق میں بیان کرتا، ان بیانات و الہامات کو انگلستان میں چھپوا کر تقسیم کیا گیا جس کا شاہ انگلستان نے شکریہ ادا کیا۔
(الفضل ۱۹ مارچ ۱۹۱۶ء)
مرزا غلام احمد کی نبوت کی دلیل میں جہاں اس سے ان گنت دوسری پیش گوئیاں منسوب ہیں وہاں یہ پیش گوئی بھی کی گئی کہ ترک تباہ ہوں گے اس کے علاوہ یہودیوں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے گئے۔
۱۹۲۴ء میں مرزا محمود مرزائیوں کا پوپ فلسطین پہنچا، یہودیوں نے اس کا بڑا شاندار استقبال کیا۔ سپریم کونسل کے یہودی صدر نے اس کے اعزاز میں پارٹی دی۔ مرزا محمود مرزائیوں کے پوپ کا سالا زین العابدین مرزائی عراق میں اپنی سازشی کاروائیاں کرتا رہا، اس بنا پر حکومت عراق نے اسے فوراً نکل جانے کا حکم دیا، حالانکہ بھارتی حکومت اسے نکالنے کی مخالفت کرتی رہی۔ زین العابدین قادیان میں ناظم امور عامہ رہا تھا۔
مرزا محمود کے دوسرے سالے کا نام میجر عنایت اللہ تھا ،جب انگریزی فوجوں نے عراق پر قبضہ کیا تو اسے چند یوم کے لئے بغداد کا گورنر بنایا گیا کیونکہ عراقی مسلمانوں کے خلاف انگریز کی حمایت میں اس کا کارنامہ نمایاں تھا۔
سقوطِ بغداد پر قادیان میں جشن مسرت
پہلی جنگ عظیم جس میں ترکوں کو شکست ہو گئی تھی، بغداد پر ۱۹۱۸ میں انگریزوں کا قبضہ ہو گیا، تو قادیان میں اس فتح پر جشن مسرت منایا گیا، جس پر مسلمانوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی، اور احمدی انگریزوں کے پٹھو سمجھے جانے لگے۔ (۵۴ء کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ، جسٹس منیر اور جسٹس کیانی اردو ص ۲۰۲)
حکومت سعودی اور شام کے خلاف سازشیں
سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان اور شریف مکہ میں مخاصمت پیدا کرنے اور تنازع کو ہوا دینے کے لئے مرزائی میر محمد سعید حیدرآبادی کو مکہ معظمہ بھیجا گیا جس نے شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمان یعنی شاہ فہد کے والد کو سخت پریشان کیے رکھا۔
شام کی حکومت میں خلفشار پیدا کرنے کیلئے مرزائیوں کے پوپ بشیر الدین محمود نے جمال دین شمس کو شام بھیجا تاکہ وہاں بغاوت کے جراثیم پیدا کیے جائیں، حکومت اندرونی مسائل میں الجھ کر رہ جائے اور یہودی اسٹیٹ کے لئے خطرات کم ہو جائیں۔ وہاں کے حریت پسندوں نے اس کا تعاقب کیا اور جمال دین شمس وہاں سے نکل کر تل ابیب پہنچ گیا۔
ترک عرب لڑائی میں مرزائیوں کا بہت عمل دخل رہا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ کے اعلان بالفور ۱۹۱۷ء کے بعد یہودی وطن کی تکمیل کے لئے ترکوں اور عربوں کو لڑانے کا جو خطرناک منصوبہ بنایا گیا تھا، اس کی تکمیل کے لئے مرزا محمود کا سالار زین العابدین جسے انگریزوں نے جمال پاشا کی معرفت سلطنت عثمانیہ کی یونیورسٹی میں لیکچرر مقرر کرایا تھا اور جو مخبر کے فرائض بھی انجام دیتا رہا، انگریزی فوج میں شامل ہو کر ترک عرب لڑائی کی مہم کا سر غنہ رہا۔ راز فاش ہونے پر چھپ کر قادیان پہنچا جہاں سے ناظم امور عامہ بنا دیا گیا۔
افغانستان کے خلاف سازش
افغانستان میں بغاوت و ارتداد پھیلانے کیلئے اس ملک کے نعمت اللہ کو تیار کیا گیا جس نے ۱۹۲۴ء میں وہاں سازشی سرگرمیاں شروع کیں تو اس جرم میں اسے حکومت نے سنگسار کر دیا۔ پھر ۱۹۲۵ء میں اسی مشن پر مرزا محمود نے عبدالحلیم اور نور علی کو بھیجا، وہ بھی سزا کے مستحق ٹھہرے۔ پاکستان بننے کے بعد ظفر اللہ مرزائی وزیر خارجہ جب لندن میں افغانستان کے سفیر مقیم لندن کو ملا تو ظفر اللہ نے سفیر کو کہا، ہمارے تین (مرزائی) تمہاری حکومت افغانستان نے قتل کیے ہیں، ان کی وجہ سے تم پر عذاب خداوندی آنے والا ہے۔ ہمارے پوپ نے اس حکومت کیلئے بدعا کی ہے۔ قبل ازیں عبدالرحمان اور عبداللطیف کو بھی مرزائی یعنی مرتد ہونے کی بنا پر سنگسار کیا گیا تھا۔ تذکرۃ الشہادتین کے مصنف (مرزا) ظفر اللہ نے افغانستان کے سفیر کو مرنے کی بد دعاؤں اور عذاب خداوندی کا سنا کر افغانستان کو
پاکستان کے خلاف کھڑا کر دیا۔ یہاں تک کہ افغان ریڈیو پاکستان سے بغض تک کا اظہار کرتا رہا حتی کہ ۱۹۷۹ء میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا اور مرحوم ضیاء الحق صدر پاکستان نے مومنانہ فراست سے بے لاگ ان کی ہر طرح عسکری معاونت کی تو ظفر اللہ کا اثر زائل ہوا۔
تقسیم ملک کی مخالفت اور پاکستان کے خلاف سازش
مرزائی تقسیم (پاکستان) کے مخالف تھے، وہ انگریزوں کا جانشین بننا چاہتے تھے۔ جب پاکستان کا دھندلا سا خواب مستقبل میں حقیقت کا روپ دھارتا نظر آیا تو وہ گومگو کی پالیسی میں تھے۔۔۔۔۔ کہنے لگے اگر ملک تقسیم ہو گیا تو اسے دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے
(تحقیقاتی رپورٹ ص ۲۰۹)
مرزائی صوبہ بلوچستان کو قادیانی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کیلئے مرزائی صوبہ بنانا چاہتے تھے۔ (ایضاً ص ۲۱۳)
مرزائیوں کو مرزا محمود (مرزائی پوپ) نے حکم دیا کہ وہ صرف ایک محکمے فوج میں ہی جمع نہ ہوں بلکہ دوسرے محکموں میں بھی پھیل جائیں۔ (ایضاً)
۱۹۶۵ء کی جنگ سے قبل اگست میں ظفر اللہ نے لندن میں مرزائی دانشوروں کی ایک میٹنگ بلائی جس میں سوچا گیا کہ ہماری حکومت ہو گی تو ہم محکموں کو کیسے ترتیب دیں گے۔ میں ان دنوں مجلس احرار اسلام مغربی پاکستان کا صدر تھا۔ صدر پاکستان مجلس احرار اسلام شیخ حسام الدین نے بذریعہ فون مجھے لاہور بلایا۔ ہم دونوں اور ماسٹر تاج الدین انصاری نے غور کیا کہ مرزائیوں کی حکومت کہاں بننے والی ہے جس کے محکموں پر سوچا جارہا ہے۔ بہر حال ہم نے یہ ضرور سمجھا کہ پاکستان پر کوئی آفت ضرور آنے والی ہے۔ اس سلسلہ میں ہم تینوں نے صدر ایوب خان سے ملاقات کی اور اس تشویش کا ذکر کیا، لیکن ۶ ستمبر کو جب مغربی پاکستان پر بھارت نے حملہ کر دیا اور امریکہ نے اعلان کیا کہ ایک بجے بھارتی فوجیں لاہور کے
ہوٹلوں میں فاتحانہ حیثیت سے چائے پئیں گی تو مرزائی سازش کھل کر سامنے آگئی۔
حقیقت یہ تھی کہ ظفر اللہ مرزائی امریکی اور بھارتی ساز باز سے ہی صدر ایوب کو مجبور کرتا رہا کہ کشمیر میں گوریلے بھیجے جائیں، لیکن ایوب خان فوجی معاملے کو سمجھتا تھا۔ ایوب خان نے کہا کہ ”مغربی پاکستان کی اتنی لمبی سرحد ہے کہ اگر بھارت حملہ کر دے گا تو یہاں فورس کی بہت کمی ہے لہٰذا اس سرحد کی حفاظت مشکل ہو گی۔ ظفر اللہ نے یہ کمزوری بھی امریکہ بھارت کو اگل دی۔ ادھر ڈاکٹر ابراہیم مرزائی جو یوگنڈا میں مبلغ تھا، پاکستان آیا ہوا تھا۔ اس نے فیصل آباد کی پریس کانفرنس میں کہہ دیا کہ ہماری عنقریب حکومت بننے والی ہے۔ اس کے چند روز بعد ۶ ستمبر کو لاہور کی سرحد پر بھارت نے حملہ کر دیا۔ امریکی ریڈیو کہنے لگا، آج تک ایک بجے بھارتی فوجیں فاتحانہ حیثیت سے لاہور کے ہوٹلوں میں چائے پئیں گی۔ صدر ایوب نے بعد ازاں ایک ملاقات میں ہم تینوں یعنی شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج دین اور بندہ کو فرمایا کہ میں آپکی اگست کی ملاقات میں بات سمجھ گیا تھا مگر مصلحتاً بات گول کر گیا تھا، ورنہ ظفر اللہ کا بھارتی کشمیر میں گوریلے بھیجنے کا مشورہ میرے تحت الشعور میں کسی خطرناک آزمائش میں دھکیلنے کی نشاندہی تو کرتا تھا لیکن اس کا افشاء امور سلطنت کے منافی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ بہر حال پاکستان میں مرزائی سازشوں کی المناک داستان بڑی طویل اور سخت اذیت ناک ہے۔ مرزائی پاکستان کے سخت خلاف تھے۔
اکھنڈ بھارت کی کوشش
مرزا محمود کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہندوستان کو اکھنڈ رکھنا چاہتی ہے تاکہ ساری قومیں شیر و شکر ہو کر رہیں۔۔۔۔۔۔۔ مرزا غلام احمد (دجال قادیان تینوں قوموں کے لئے مبعوث ہوا ہے۔ مسلمانوں کے لئے مہدی، ہندوؤں کیلئے کرشن، عیسائیوں کیلئے مسیح بن کر آیا ہے۔ اگر کسی وجہ سے ملک تقسیم ہو بھی گیا تو ہم اسے اکٹھا کرنے کی کوشش کریں گے
(گویا اگر پاکستان بن بھی گیا تو ہم اکھنڈ ہندوستان بنانے کی کوشش کریں گے) اس لئے کہ ہم تقسیم (پاکستان) پر راضی ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
(ملاحظہ ہو الفضل ۱۵، اپریل۔ ۱۶، مئی ۴۷ء)
پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے پہلے فوجی تصادم کی کوشش کی مگر حکومت نے اس پر قابو پالیا۔ ریڈ کلف میں پاکستان کا کیس پیش کرنے کیلئے ظفر اللہ کو ذمہ داری دی گئی جس کا مذہبی عقیدہ اکھنڈ ہندوستان تھا پھر ظفر اللہ تو مرزائی تھا لیکن مرزائیوں نے علیحدہ میمورنڈم پیش کر کے فوراً اقرار کیا کہ ہم مسلمانوں سے علیحدہ ہیں۔ لہٰذا جب مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ کر دیا گیا تو ریڈ کلف کو ایک بہانہ مل گیا اور گورداسپور کی تقسیم کر دی گئی۔ مرزا محمود نے ۱۳ نومبر ۱۹۴۶ء کے الفضل میں مرزائیوں کا مسلمانوں سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔
قادیانیوں کے کارہائے نمایاں
- ☆ وزیر اعظم لیاقت علی خاں کے قتل میں بھی مرزائی ملوث تھے۔ بندہ جب
ہفت روزہ اہلحدیث کا ایڈیٹر تھا تو اس نے ۲۴ جنوری ۱۹۵۶ء شمارہ میں قتل کی مکمل کہانی شائع کر دی تھی۔
اس کے علاوہ قادیانیوں کے چند اور کارہائے نمایاں درج ذیل ہیں۔
- ☆ ایئر مارشل ظفر چوہدری پاکستانی جہاز استعمال کرتا ہوا آیا اور اس جہاز نے ربوہ کے
سالانہ جلسہ میں مرزا پوپ کو سلامی دی۔
- ☆ ۶۵ء کی جنگ میں مرزائی بلیک آؤٹ کے زمانہ میں روشنی کر کے رات کو بھارت
کے جہازوں کی رہنمائی کرتے رہے۔
- ☆ ۷۰ء میں ملک کو دولخت کرنے کیلئے ایم ایم احمد یحییٰ خان سے ساز باز کرتا رہا۔
- ☆ ۷۴ء میں ذوالفقار علی بھٹو سے مل کر سازشیں کرتا اور اس کے خلاف
الزامات بھی بیان کرتا رہا۔
- ☆ شناختی کارڈوں میں مذہب کے خانے کے اضافہ پر قوم کے متفقہ مطالبہ کو جب
حکومت پاکستان نے قبول کر لیا تو ایم ایم احمد کے ذریعہ امریکہ نے عیسائیوں سے اجتماعی تحریک شروع کرا کر حکومت پاکستان کے متفقہ فیصلہ پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈلوادی۔
- ☆ ۹۳ء میں انتخابات کا کوئی جواز تھا نہ کوئی بحران تھا۔ لیکن امریکہ پاکستان میں
حکومت کے فلاحی منصوبوں کو تباہ کرنے، انتخاب کے ذریعہ اپنے ایجنٹوں کو آگے لانے، نیز اربوں روپے کا معیشت پر بوجھ ڈالنے کے لئے کہ پاکستانی معیشت پس کر رہ جائے، اپنے ایجنٹوں کو استعمال کرنے لگے، لہٰذا بے نظیر بھٹو بربادی کی کل ہدایت امریکہ سے ایک لاٹ بھر کر لائی۔ یہ زہر جہاں جہاں گرتا لوٹوں کے انبار لگ جاتے رہے۔ صدر اسحاق نے جن وزیروں کو نااہل قرار دے کر ایوان سے نکالا ان کے خلاف ریفرنس دائر کیے۔ ۲۵ کروڑ ۴۹ لاکھ ۴۲ ہزار ۲۳۹ روپے جن مقدمات پر پاکستان کے خزانہ سے خرچ ہوئے، ان مقدمات میں ملوث تمام مجرموں کے گناہ معاف کر کے جیلوں سے نکال کر وزیر بنادیا۔
سابق وزیر اعلیٰ منظور وٹو کو مرزا طاہر مرزائی نے دو کروڑ روپے ملک میں افراتفری پیدا کرنے اور ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کیلئے دیے۔ ایم ایم احمد مرزائی جس نے صدر یحییٰ سے ملاقات کر کے ملک کو دو لخت کرایا تھا، اسی طرح صدر اسحاق سے ملاقاتیں کر کے ملک کو امریکہ کے زیر دست کرنے کی مذموم کوشش کی اور ایک آئینی حکومت کو تڑوا کر امریکی مفادات کی حکمرانی میں ملک کو دھکیل دیا۔ جس طرح ذوالفقار علی بھٹو کا دور سیاہ دور شمار ہوتا ہے، اس طرح صدر یحییٰ اور صدر اسحاق بھی ملک کی تاریخ میں اپنی نحوست کے سائے چھوڑ گئے۔ امریکہ جانتا ہے کہ دین اسلام کے مطابق عورت کی حکمرانی ملک کی بد بختی کی دلیل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کی بربادی کی خاطر یہاں
بے نظیر بھٹو کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتا ہے۔ قوم کے لئے ملک و اسلام سے وفاداری اسی میں ہے کہ چھوٹی برائی کو اپنا کر ”قومی بربادی کی علامت“ کو شکست فاش دیں۔ میاں طفیل محمد سابق امیر جماعت اسلامی کا بیان اور کونسل اہل حدیث کا فیصلہ کہ ملک و اسلام کی حقیقی خدمت یہ ہے کہ ملک کی بربادی کی علامت کے خلاف مجتمع ہو کر اسے شکست دی جائے، خوش آئند ہیں۔ یہ حضرات مبارک باد کے مستحق ہیں اور یہی اسلام و ملک کی بہترین خدمت ہے۔ عورت کو ووٹ دے کر اسے مسند اقتدار تک پہنچانا مزید عذاب خداوندی کو دعوت دینا ہے۔
فاروقی عادل (ہفت روزہ تکبیر) انٹرویو مولانا منظور احمد چنیوٹی
قادیانی اکھنڈ بھارت کیلئے کام کر رہے ہیں
اسلام دشمنوں کی مالی مدد سے سیٹلائیٹ چینل قائم کر دیا گیا۔ عالمی سطح پر قادیانی پروپیگنڈہ باطل کرنے اور ختم نبوت کی تبلیغ کیلئے سیٹلائیٹ چینل قائم کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
”یہ بہر فرعونے را موسیٰ کی سنت الٰہی ہی ہے کہ جب قادیانیت کے ناسور نے قادیان (بھارت) سے اجڑنے کے بعد ربوہ (پاکستان) میں اپنے پنجے گاڑے تو اس کے پڑوس میں ہی واقع قدیم ترین تاریخی شہر چنیوٹ میں ایک بندے کو ان کے تعاقب پر لگا دیا۔ اللہ کا یہ بندہ مولانا منظور احمد چنیوٹی ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں سے قادیانیوں کے فریب کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں رد قادیانیت کے لئے وقف کر دی ہیں۔ اس جہاد میں کئی بار ان کی جان لینے کی کوشش بھی کی گئی مگر اللہ کو یہ منظور نہ ہوا اور وہ مسلسل اس محاذ پر سرگرم عمل رہے۔ انہوں نے چنیوٹ میں اپنے دینی مدرسہ جامعہ عربیہ کے ساتھ ہی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد قائم کر رکھا ہے۔ جہاں سے عالمی سطح پر قادیانیت کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کا کام اس قدر موثر ہے کہ لندن میں بیٹھا ہوا قادیانیوں کا چوتھا خلیفہ اپنی ہر تقریر میں مولانا کا ذکر کئے بغیر نہیں رہتا۔ حال ہی میں انہوں نے چنیوٹ میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی قائم کی ہے۔ جس میں دنیا بھر کے مسلمان طلبہ کو ختم نبوت پر تخصص کرایا جائیگا۔ تاکہ وہ جگہ جگہ پھیلے ہوئے قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کا توڑ کر سکیں۔ مولانا نے جب ختم نبوت کے محاذ پر اپنا جہاد شروع کیا تو ان کی مسیں بھیگ رہی تھیں۔ اب ان کی داڑھی سفید ہو چکی ہے اور سہارے کیلئے چھڑی استعمال کرتے ہیں۔ مگر ختم نبوت کے
اس مجاہد کا لب لہجہ آج بھی اسی طرح دبنگ ہے۔ اسی رعایت سے انہیں فاتح قادیانیت بھی کہا جاتا ہے۔
تکبیر : قادیانیوں کے تازہ عزائم اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں لوگ جاننا چاہتے ہیں، اس بارے میں کچھ بتائیے۔
مولانا چنیوٹی : جنرل ضیاء الحق نے جب ۱۹۸۴ء میں آرڈنینس کے ذریعے ان پر پابندی عائد کر دی کہ وہ اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے تو اس کے بعد پاکستان میں ان کی سرگرمیاں ختم ہو گئیں۔ اب نہ وہ یہاں اپنی سالانہ کانفرنس کر سکتے ہیں اور نہ خود کو اسلام کے نام پر متعارف کرا سکتے ہیں۔ یہاں سے مایوس ہو کر وہ باہر منتقل ہو گئے ہیں۔ اب بہت سے اسلامی ممالک میں ان کا کسی قسم کا اثر و رسوخ نہیں ہے۔ جیسے مرزا طاہر احمد نے اپنی اسی سال کی تقریر میں کہا ہے کہ ایک ملک بھی ایسا نظر نہیں آئے گا جہاں احمدیت مٹ گئی ہو۔ میں نے اپنے جواب میں اسے لکھا ہے کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ کتنے اسلامی ملک ہیں جن میں مرزائیت مکمل طور پر مٹ گئی ہے۔ سعودی عرب میں ان کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ یہ احمدیت کے نام پر وہاں داخل تک نہیں ہو سکتے ، میں نے خود وہاں سے سینکڑوں قادیانی نکلوائے ہیں۔ شام میں دفتر سیل کر کے انہیں وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ مصر میں بھی ان کے ساتھ یہی سلوک ہوا ہے۔ عراق اور عرب امارات کی صورت حال بھی یہی ہے۔ ہاں بعض غیر مسلم ممالک ہیں ، جن کے یہ آلہ کار ہیں ، ان کی پذیرائی ہے اور یہی ان کی قوت کا سبب بھی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ قادیانی امریکہ اور اسرائیل کے آلہ کار ہیں۔ بھارت کے لئے تو یہ مستقل طور پر کام کر رہے ہیں۔
اس وقت امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ قادیانیوں پر مظالم کیے جا رہے ہیں
انہیں مدد کیا جائے۔ امریکہ جن شرائط پر پاکستان کی امداد کرتا ہے ان میں سے ایک مستقل شرط یہ بھی ہے کہ قادیانیوں کے خلاف ضیاء الحق کے آرڈیننس کو ختم کر دو۔ امریکہ کو پاکستان میں قادیانیوں پر ہونے والے نام نہاد ظلم پر بڑی تکلیف ہے مگر اسے کشمیر اور بوسنیا میں مسلمانوں پر ہونے والا ظلم و ستم نظر نہیں آتا اور نہ اس کے خیال میں وہاں انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ مرزا طاہر نے مغرب میں یہ تاثر دے رکھا ہے کہ ہم پر وہاں ظلم ہو رہا ہے۔ میں نے اسے چیلنج دیا ہے کہ کسی فورم پر آ کے بحث کرو کہ آپ ظالم ہو یا مظلوم ۔ میں چیلنج کرتا ہوں کہ تم ظالم ہو۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ پاکستان کے آئین نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے مگر یہ اب تک خود کو مسلمان کہتے ہیں۔ مردم شماری میں بھی انہوں نے خود کو مسلمان کی حیثیت سے درج کرانے کی کوشش کی تھی۔ مگر جب ہماری کوششوں کے سبب وہ ایسا کرنے میں ناکام ہو گئے تو انہوں نے مردم شماری کا بائیکاٹ کر دیا۔ قادیانیوں کو ان کے بڑوں نے پہلے باقاعدہ ہدایت کی تھی کہ وہ خود کو مردم شماری میں مسلمان کی حیثیت سے رجسٹرڈ کرائیں۔ آئین کی خلاف ورزی کا دوسرا مظہر انتخابی فہرستیں ہیں۔ آئین کی رو سے ملک میں جداگانہ انتخاب ہوتے ہیں مگر انہوں نے آج تک غیر مسلم کی حیثیت سے اپنے ووٹ نہیں بنوائے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ان کی سیٹیں رکھی جاتی ہیں۔ مگر قادیانیوں نے بحیثیت جماعت ان انتخابات میں شرکت نہیں کی۔ اس طرح وہ پاکستان میں رہ کر بھی پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اب آپ دیکھیں کہ وہ خود کو غیر مسلم بھی تسلیم نہ کریں، آئین کو بھی نہ مانیں کلیدی عہدوں پر بھی فائز رہیں۔ سارے فائدے بھی اٹھا تے رہیں مگر اس کے باوجود وہ مظلوم بنے ہوئے ہیں یہ کس قسم کے مظلوم ہیں۔
ایف آئی اے نے اس سال ۱۱ جون کو اسلام آباد سے کمپیوٹر سائنس کے ایک ماہر قادیانی ڈاکٹر مبشر احمد کو گرفتار کیا ہے جو پاکستان کے ایٹمی اور دیگر حساس راز بھارت کو فراہم کرتا تھا۔ ڈاکٹر مبشر احمد کو آسٹریلیا کی شہریت حاصل ہے اور اس نے اپنے ایک بھتیجے قاسم محمود
کے ساتھ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں کمپیوٹر لنک کے نام سے ایک فرم قائم کر رکھی تھی۔ ڈاکٹر مبشر احمد نے اٹامک انرجی کمیشن اور دیگر حساس اداروں میں کمپیوٹروں کی تنصیب کی آڑ میں وہاں سے غیر معمولی اہمیت کی معلومات حاصل کی تھیں۔ جنہیں وہ پاکستان کے دشمن ممالک کو فراہم کر رہا تھا۔ اس کام میں اس کی آسٹریلوی بیوی سارندا احمد بھی معاونت کیا کرتی تھی۔ سارندا نے اسلام آباد میں میوزک اکیڈمی قائم کر رکھی تھی، جس میں بعض ایسے لوگوں کی آمدورفت تھی جن کی حساس اداروں تک رسائی تھی۔ اس گرفتاری سے قبل اس کے تین قادیانی ملازم بھی گرفتار ہوئے تھے۔ اب وہ خود پکڑا گیا، مگر ہوا کیا، اس مقدمہ کی ایف آئی آر سیل کر دی گئی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کی یہ سرگرمیاں ہی اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ پاکستان کو نہیں مانتے۔ پاکستان بننے سے پہلے بھی ہمارے کئی علماء پاکستان کے مخالف تھے۔ مگر جب پاکستان بن گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ملک ہمارے لئے اب مسجد کی حیثیت رکھتا ہے۔ عطاء اللہ شاہ بخاری کا کہنا تھا کہ ہمارا اختلاف مسجد بننے کی جگہ پر تھا اب بن گئی ہے تو اب وہ مسجد ہے اس سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی جماعت مجلس احرار ختم کر دی۔ پاکستان کی سالمیت اور حفاظت کیلئے کسی قربانی سے گریز نہیں کیا۔
قادیانی ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھے۔ مگر جب ان کی مرضی کے خلاف تقسیم ہو گئی تو ان کی مہربانی سے گورداسپور پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا جس کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ پیدا ہوا۔
تکبیر : گورداسپور کے سلسلے میں انہوں نے کیا سازش کی؟
مولانا منظور احمد چنیوٹی : ریڈکلف ایوارڈ کیلئے جب ضلع گورداسپور کی مسلم اور غیر مسلم کی بنیاد پر مردم شماری ہوئی تو انہوں نے خود کو احمدی لکھوانے پر اصرار کیا جبکہ
مذہب کے کالموں میں صرف مسلم اور غیر مسلم درج تھا۔ مگر انہوں نے احمدی لکھوانے پر ہی اصرار کیا جس کی وجہ سے قادیانیوں کو غیر مسلموں میں شمار کیا گیا۔ اگر وہ مسلمان ہوتے تو اس وقت ہی خود کو مسلمان لکھوا کر مسلمانوں میں نہ صرف شامل ہو جاتے بلکہ پاکستان کی شہ رگ کشمیر کا مسئلہ ہی کھڑا نہ ہوتا۔ یہ بات باور رکھنے کی ہے کہ گورداسپور شروع ہی سے پاکستان کے نقشے میں شامل تھا۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی دلچسپی پہلے نہ پاکستان کیساتھ رہی ہے اور نہ اب ہے۔ آپ کبھی میرے پاس چنیوٹ آئیں تو میں آپ کو ربوہ میں ان کا بہشتی مقبرہ دکھاؤں جہاں ان کے بزرگوں مرزا محمود اس کی ماں کی قبروں پر ایک تختی لگی ہوئی ہے جس پر ان کی وصیت تحریر ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ میں اپنی جماعت کو اس بات کی وصیت کرتا ہوں کہ ہماری لاشوں کو یہاں سے بہشتی مقبرہ قادیان میں اس وقت منتقل کرادیں، جب آپ موقع پائیں۔ قادیانیوں کو قادیان سے اس قدر محبت کیوں ہے اور اس کو مکہ اور مدینہ سے بھی محترم کیو سمجھتے ہیں؟ اس کی وجہ مرزا قادیانی کے ان اشعار سے معلوم ہوتا ہے۔ مرزا کہتا ہے۔
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
مرزا کا کہنا ہے کہ یہ اشعار مجھ پر رب نے وحی کی صورت میں اتارے، یعنی اس کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے قادیان کی زمین کو دار الامان بنادیا ہے۔ مرزا نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے، جبکہ امام مہدی کی علامات میں ہے کہ ان کے آجانے کے بعد دنیا میں امن قائم ہو جائے گا۔ جنگیں ختم ہو جائیں گی۔ یہ حدیثوں میں آیا ہے۔ اب آپ دیکھ لیں کہ مرزائی مہدیت کے دعوے کے بعد سے اس دنیا میں کتنا امن ہوا ہے۔ خود اپنی ایک طویل نظم میں بھی ان حدیثوں کو تسلیم کیا ہے۔
اب آپ مرزا کے دعوے مہدیت کو دیکھیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ساری باتیں چھوڑ
دیں، یہی دیکھ لیں کہ اس کے آنے کے بعد دنیا میں کتنا امن قائم ہوا۔ اس کے آنے کے بعد دو عالمگیر جنگیں ہوئیں۔ اور آج بھی دنیا کے امن کا جو حال ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ یہ لوگ قادیان کو دارالامان کہتے ہیں۔ وہی قادیان جہاں سے ان کو قیام پاکستان کے وقت بھاگنا پڑا۔ اگر وہ مہدی تھا تو مرزا محمود اور اس کی ماں وہاں سے بھاگ کر ہمارے پاس کیوں آئے۔ اور کسی کو امن ملتا یا نہ ملتا انہیں تو ملتا۔ یہاں آکر انہوں نے ربوہ بنا لیا۔ ۱۹۸۴ء میں یہ ربوہ سے بھاگے۔ ان کا چوتھا خلیفہ مرزا طاہر انگلینڈ میں ہے۔ مگر وہاں بھی وہ پہرے داروں کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتا۔ انہیں امن تو دنیا بھر میں کسی جگہ نہیں مل سکتا۔
تکبیر : ان کی قوت کے مراکز کہاں واقع ہیں۔ جہاں سے ان کا دعویٰ ہے کہ وہ دنیا بھر میں احمدیت کی تبلیغ کرتے ہیں؟
مولانا چنیوٹی : ان کے بیشتر مراکز تو اکثر یورپی اور افریقی ممالک میں واقع ہیں۔ خاص طور پر مغربی افریقہ، نائجیریا، گھانا، سیرالیون، زیمبیا، آسٹریلیا وغیرہ میں ہیں۔ میں نے ان تمام ممالک کا دو مرتبہ دورہ کیا ہے۔ میری نظر میں سب سے اہم مرکز گھانا، اور دوسرے نمبر پر نائجیریا اور تیسرے نمبر پر سیرالیون میں ہیں جہاں ان کی عبادت گاہیں، اسکول، کالج، ہسپتال اور دیگر ادارے ہیں۔ نائجیریا میں انہوں نے بہت بڑا پریس قائم کر رکھا ہے۔ اسلام کے نام پر چھپنے والا ان کا تمام گمراہ کن لٹریچر وہیں سے شائع ہوتا ہے۔ ان ممالک کی حکومتوں میں قادیانی بڑے بڑے مناصب پر فائز ہیں۔ کئی جگہ گورنر اور وزیر قادیانی ہیں۔ ان ممالک میں قادیانی ۱۹۲۰ء اور اس سے بھی پہلے سے کام کر رہے ہیں جبکہ تحریک ختم نبوت کی سرگرمیاں ان ممالک میں ۱۹۷۶ء اور اس کے بعد شروع ہوئیں۔ ہمارے دورے وہاں شروع ہوئے تو لوگوں کو ان کی حقیقت معلوم ہوئی۔ ورنہ پہلے انہیں لوگ مالکی، حنبلی وغیر
کی طرح مسلمانوں کا ایک فرقہ ہی تصور کرتے تھے ، ان ممالک میں زیادہ تر یہ نبوت والی بات کرتے بھی نہیں، صرف یہ کہتے ہیں کہ مہدی اور مسیح آنا تھا وہ آگیا اور کہتے ہیں ہم ”الفرقۃ الاحمدیہ الاسلامیہ“ ہیں۔
اس کے علاوہ عرب ملکوں میں ان کا کوئی کام نہیں ہے۔ دیگر اسلامی ممالک میں ۷۴ء کی تحریک کے بعد ان کی جڑیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد کے آنے کے بعد اسلامی ممالک ان سے خبردار ہوچکے ہیں، باقی رہ گئے یورپ کے ممالک، جن میں جرمنی، ہالینڈ اور برطانیہ شامل ہیں، ان میں بھی ان کے بڑے مضبوط مراکز ہیں۔ اسی طرح ناروے میں بھی یہ بہت مضبوط ہیں۔ یورپ کے علاوہ امریکہ میں بھی یہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جزائر فجی میں بھی ایک زمانے میں ان کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ جن کی وجہ سے وہاں کی حکومت نے صدر ضیاء الحق سے مطالبہ کیا تھا کہ یہاں سے ایسے لوگ بھیجے جائیں جو ہمیں ان کی اصلیت بتاسکیں چنانچہ ضیاء الحق کے کہنے پر میں اور دیگر لوگ وہاں گئے اور ان کے فریب کا پردہ چاک کیا۔
امریکہ میں ان کے بڑے غیر معمولی اثرات ہیں، ان کی یہاں نکسیر بھی پھوٹ جائے تو امریکہ کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ امریکہ کی سرپرستی میں برطانیہ اسرائیل اور بھارت ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ جواب میں یہ انہیں پاکستان کے قومی راز فراہم کرتے ہیں۔
تکبیر : آجکل قادیانیوں کے سیٹلائیٹ چینل کا بڑا شہرہ ہے۔ یہ چینل قادیانیوں نے کس طرح قائم کیا اور اس پر کتنے اخراجات آئے؟
مولانا منظور احمد چنیوٹی : حسن محمود عودہ نامی ایک فلسطینی نوجوان جو پہلے قادیانی تھا اور مرزا طاہر احمد کے انتہائی اعتماد کا آدمی تھا بلکہ مرزا طاہر نے عودہ کو اپنا سیکرٹری
بھی بنالیا تھا، اللہ کے فضل سے وہ بعد میں اسلام کی حقانیت پر ایمان لا کر مسلمان بھی ہو گیا۔ اس نے اپنے پرچہ التقویٰ میں سوال اٹھایا ہے کہ سیٹلائیٹ چینل پر اتنے اخراجات ہوتے ہیں، کیا صرف ایک جماعت اس کے اخراجات برداشت کر سکتی ہے؟
تکبیر : قادیانیت کے فروغ کیلئے ان دنوں قادیانی کیا حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں؟
مولانا چنیوٹی : بعض غیر ممالک سے یہ نوجوان لڑکوں کو جدید تعلیم دینے کا جھانسہ دے کر لڑکے لے آتے ہیں جنہیں یہ اپنے پاس رکھ کر تربیت دیتے ہیں۔ اس کے بعد یہ نوجوان اپنے ممالک میں جا کر قادیانیت پھیلاتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہمارے وسائل بہت کم ہیں، مگر ہم نے بھی اس کے رد کے لئے ایک ادارہ قائم کیا ہے۔ ان کا ایک ادارہ ہے نظارت اصلاح و ارشاد، اس ادارے کے ذریعے ہی دنیا بھر میں ان کا تبلیغی کام چل رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں نے دعوت و ارشاد قائم کیا ہے جس کے تحت ہم افریقی ممالک اور دیگر اسلامی ممالک سے طلبہ کو لے کر آتے ہیں اور انہیں خاص طور پر ختم نبوت کے بارے میں تعلیم دے کر انہیں ختم نبوت کا مبلغ بنا دیتے ہیں اور یہ مبلغین بھی اپنے اپنے ممالک میں جاکر ان کی ارتدا دی سرگرمیوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اب اس میدان میں بھی انہیں بڑی حد تک ناکامی ہوئی ہے اور وہ بھاگ چکے ہیں۔ انہوں نے ربوہ میں ایک کالج بھی قائم کیا تھا، جس میں ایم اے تک تعلیم دی جاتی تھی۔ مگر بھٹو دور میں وہ قومیا لیا گیا، اس کے بعد اب وہاں مسلمان اساتذہ بھی بڑی تعداد میں ہیں اور ہماری کوششوں کے نتیجہ میں اب وہاں کا پرنسپل ہمیشہ مسلمان ہوتا ہے۔ قادیانی پرنسپل نہیں ہو سکتا۔ ہم نے رد قادیانیت کے کام کو مزید فروغ دینے کیلئے چنیوٹ میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی کے قیام کے لئے کام شروع کر دیا ہے۔ یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھا جا چکا ہے۔ اور تعمیر جاری ہے، یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رابطہ عالم اسلامی کے سابق سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے رکھا ہے۔
میں نے دینی اداروں کے طلبہ کے لئے رد قادیانیت کا ایک شارٹ کورس بھی تیار کیا ہے۔ جس کے مطابق تقریباً ملک بھر کے دینی اداروں میں طلبہ کو تیار کیا جارہا ہے۔ اب حال ہی میں دیوبند نے بھی اسے اختیار کر لیا ہے اور اس کورس کو کتابی شکل میں بھی شائع کر دیا گیا ہے۔ یہ کورس خود میں نے بنگلہ دیش اور دیوبند میں پڑھایا بھی ہے، مدینہ یونیورسٹی نے مجھے سرکاری طور پر مدعو کیا۔ وہاں میں نے تمام طلبہ کو یہ کورس کرایا۔ اب میں نے اپنے حالیہ دورہ برطانیہ اور ناروے میں بھی دو تین جگہ پر علماء کو یہ کورس پڑھایا ہے۔
تکبیر : اس وقت بھارت میں قادیانیوں کی سرگرمیاں کیا ہیں ؟
مولانا چنیوٹی : پاکستان میں قادیانیوں پر پابندی لگنے کے بعد قادیانیوں نے بھارت میں سرگرمیاں بہت تیز کر دیں اور دیہاتوں کے دیہات قادیانی ہو گئے۔ بھارت میں قادیانیت کے فروغ کی ایک وجہ غربت بھی ہے۔ تین تین ہزار روپے دے کر پورے پورے دیہات کو قادیانی بنالیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں وہاں کے علمائے کرام بہت پریشان ہوئے۔ اس پر مولانا اسعد مدنی نے مجھے کہا کہ جب قادیانی قیام پاکستان کے بعد چلے گئے تھے تو ہم تو مطمئن ہو گئے تھے، اب یہاں یہ فتنہ نہیں رہا اور آہستہ آہستہ مناظرین ختم نبوت اللہ کو پیارے ہو گئے، تو ہمارے پاس ختم نبوت پر تخصص رکھنے والے لوگوں کی تعداد بہت کم ہو گئی جس کیوجہ سے قادیانیوں کا مقابلہ کرنے میں ہمیں بہت دشواری پیش آنے لگی۔ چنانچہ انہوں نے مجھے مدعو کیا اور بھارتی وزیر خارجہ اندر کمار گجرال سے سفارش کرا کے مجھے بھارت کا ویزہ دلوایا۔ ویسے تو بھارت مجھے ویزہ ہی نہیں دیتا تھا۔ اب الحمد للہ میرے دورہ بھارت کے بعد صورت حال بدل گئی ہے کیونکہ میں نے علماء کو رد قادیانیت کے کورس کروا دیے ہیں۔ اور
انہوں نے یہ محاذ سنبھال لیا ہے۔
تکبیر : بنگلہ دیش کی صورت حال کیسی ہے؟
مولانا چنیوٹی : بنگلہ دیش میں بھی ان کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، پچھلے سال علماء نے ان کے خلاف وہاں تحریک چلائی اور ایک کانفرنس منعقد کی ، جس میں امام کعبہ کو بھی مدعو کیا لیکن بنگلہ دیش حکومت نے امام کعبہ کو عین وقت پر روک دیا۔ اس پر علماء میں احتجاج پیدا ہوا اور انہوں نے سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کیا۔ اس صورت حال میں کانفرنس بہت کامیاب ہوئی جس میں دس پندرہ لاکھ مسلمان شریک ہوئے۔ بنگلہ دیش میں مشکل یہ ہے کہ وہاں وزیر اعظم خاتون ہے جسے قادیانی ڈرا دھمکا لیتے ہیں۔ انہوں نے خالدہ ضیاء کو یہ کہہ کر ڈرا دیا کہ دیکھو پاکستان میں بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تو اس کا کیا حشر ہوا۔ اس کے بعد ضیا ء الحق نے آرڈیننس نافذ کر کے ان پر پابندیاں نافذ کیں تو اس کی لاش کے ٹکڑے اڑ گئے، یہ سب قادیانی خلیفہ کی پیش گوئیوں کے نتیجہ میں ہوا۔ ان ہی ہتھکنڈوں سے قادیانی بنگلہ دیش میں اپنی اہمیت بنائے ہوئے ہیں۔
تکبیر : آپ قادیانیوں کے سیٹلائیٹ چینل کے بارے میں بتا رہے تھے ؟
مولانا چنیوٹی : اس چینل پر چودہ زبانوں میں نشریات ہو رہی ہیں اور ایک گھنٹہ کے پروگرام پر پانچ لاکھ روپیہ کے اخراجات ہو جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ حکومتیں جن کے یہ آلہ کار ہیں۔ اس پروگرام کے لئے ان کی مدد کر رہی ہوں۔
تکبیر : قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ سیٹلائیٹ چینل پر آجانے کے بعد قادیانیوں کو
بہت تقویت ملی ہے۔ اس سلسلہ میں کیا کوئی جوابی اقدامات آپ کے زیر غور ہیں؟
مولانا چنیوٹی : ہمیں امید ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے تعاون سے ایک سیٹلائیٹ چینل قائم کرلیں گے۔ ہم نے اس چینل کی زد میں آنے والے مسلمانوں کے تقاضے پر ہی یہ عزم کیا ہے کہ ہم موثر پروگرام تیار کر کے سیٹلائیٹ چینل پر پیش کریں، تاکہ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کی روک تھام کی جاسکے۔ اس سلسلہ میں ہم نے ایک عارضی ڈھانچہ تشکیل دے دیا ہے۔ اور اب پاکستان، برطانیہ یا سعودی عرب میں چند اہم شخصیات کی ایک اہم میٹنگ بلانے والے ہیں۔ جس میں اس کا باضابطہ لائحہ عمل تیار کریں گے۔ امید ہے کہ ان تیاریوں کے بعد اگلے سال کسی وقت سیٹلائیٹ چینل شروع ہو جائے گا۔ اس مقصد کیلئے ہم انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ کے نام سے ایک تنظیم قائم کر چکے ہیں۔ اس کے مرکز کیلئے ۲۵ ہزار پاؤنڈ کا بیعانہ دے کر جگہ حاصل کی ہے اور اس کی بقیہ قیمت کی ادائیگی رمضان المبارک تک کر کے جگہ حاصل کرنا ہے۔ اس مرکز کے قیام پر تقریباً سوا لاکھ پاؤنڈ خرچ آئے گا۔ جبکہ سیٹلائیٹ چینل شروع کرنے پر دس لاکھ پاؤنڈ کا خرچہ آئیگا۔ اس مقصد کے لئے تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں اور ساؤتھال لندن کے ایک صاحب کو اس سلسلہ میں ابتدائی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔
تکبیر : علمائے کرام قادیانیوں کی پاکستان دشمن سرگرمیوں کا بھی بڑا تذکرہ کرتے ہیں۔
مولانا چنیوٹی : جو قوتیں بھی اسلام اور پاکستان دشمن ہیں یہ ان کے آلہ کار ہیں، یہ اکھنڈ بھارت کے پرچارک ہیں، اور اسی کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے ایک خلیفہ مرزا محمود کا ایک الہام ہے اکھنڈ بھارت اس حوالے سے انہوں نے ایک خواب شائع کیا ہے جو مرزا محمود نے دیکھا تھا جس میں اس نے دیکھا کہ وہ اور گاندھی ایک چارپائی پر سو رہے تھے۔
مرزا طاہر کے والد بشیر الدین محمود نے اکھنڈ بھارت کی پیش گوئی بھی کر رکھی ہے۔ اس نے لکھا تھا کہ یہ عارضی تقسیم ہے اور یہ عارضی تقسیم ختم ہو کر ہندوستان اور پاکستان پھر ایک ملک بن جائیں گے ، اسی طرح وہ ایک ہی چارپائی والے خواب کی یہی تعبیر کرتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان ایک ملک بن جائیں گے اس لئے ہماری جماعت کو کوشش کرنی چاہئے کہ یہ اکھنڈ بھارت جلد سے جلد معرض وجود میں آجائے۔ پاکستان پر ۶۵ء میں جو جنگ مسلط کی تھی اس سلسلہ میں سر ظفر اللہ خان نے نواب آف کالا باغ کو یہ پیغام بھیجا تھا۔ اس حوالہ سے نواب آف کالا باغ نے انکشاف کیا تھا کہ اکھنڈ بھارت کیلئے قادیانیوں نے پاکستان پر ۶۵ء کی جنگ مسلط کی تھی۔ ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ وہ اپنے اس سربراہ کے الہام کو اور پیش گوئی کو پورا کریں۔ تاکہ وہ پھر بھارت جائیں اور اپنے مقدس شہر قادیان تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ بوجہ قادیان ان کی تمام تر ہمدردیاں اور عقیدتیں بھارت کے ساتھ ہیں اور اسی مقصد کے لئے وہ بھارت، اسرائیل اور امریکہ کو پاکستان کے خفیہ راز فراہم کر رہے ہیں۔
اب مرزا طاہر نے اعلان کر رکھا ہے، کہ جب تک پاکستان میں ۸۴ء کا آرڈیننس ہے اس کے پاکستان میں رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چنانچہ اب جب بے نظیر اقتدار میں آئی تو اس سے امریکہ نے وعدہ لیا کہ وہ ۸۴ء کا امتناع قادیانیت کا آرڈیننس ختم کر دے گی۔ مگر اس بے چاری میں یہ طاقت نہیں کہ وہ یہ قانون ختم کر سکے اور وہ یہ کر نہیں سکے گی۔ ختم نبوت کے محاذ پر جو قدم آگے بڑھ چکا ہے وہ انشاء اللہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ بے نظیر امریکی دباؤ میں کوئی حماقت کر بیٹھے اگر ایسا ہو گیا تو ایسی تحریک چلے گی کہ رہی سہی کسر نکل جائے گی۔
مرزا طاہر احمد مباہلہ سے فرار ہو گئے
انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستانیوں کو اللہ کی پکڑ آجانے کی وعید سنائی
تھی
جماعت احمدیہ ۱۹۸۴ء کے بعد سے ہر سال لندن میں اپنا سالانہ اجتماع منعقد کر رہی ہے۔ اس برس یہ اجتماع ۲۸ اور ۳۱ جولائی تک لندن میں منعقد ہوا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے اپنی جماعت کے مخالفین کا خصوصیت سے تذکرہ کیا اور کہا کہ ان میں سے بیشتر خدا تعالیٰ کی پکڑ میں آچکے ہیں انہوں نے اپنے ۱۰ جون ۱۹۸۸ء کے مباہلہ کے چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کئی دشمنان مباہلہ کا شکار ہو چکے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق سابق صدر پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے انجام سے کون واقف نہیں۔ میں نے جنرل ضیاء الحق کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”خدا کی قسم جب ہمارا مولیٰ ہماری مدد کو آئے گا تو کوئی تمہاری مدد نہیں کرسکے گا، خدا کی تقدیر تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی تمہارے نام و نشان مٹا دیے جائیں گے اور تمہیں دنیا ذلت و رسوائی سے یاد کرے گی“ افسوس اس نے اس وارننگ کا کوئی نوٹس نہ لیا اور اپنی ظالمانہ پالیسی نہ بدلی۔ اب جو حادثہ ہوا اس میں ضیاء الحق کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہوا میں بکھر گئے اور صرف مصنوعی دانتوں کا ایک ڈھانچہ دستیاب ہوا جو دفن کیا گیا اس طرح ایک شان کے ساتھ یہ پیش گوئی پوری ہوئی، میں کسی تعلی کے طور پر یہ باتیں بیان نہیں کر رہا۔ حق تو یہ ہے کہ ہمیں تو دشمن کی موت پر بھی ایک دکھ ہوتا ہے اس لئے آپ کو دعا کرنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ اس قوم کی آنکھیں اب کھول دے اور وہ خدا تعالیٰ کی مزید ناراضگی مول نہ لیں کیونکہ اگر انہوں نے ظلم سے ہاتھ نہ اٹھایا تو عنقریب مزید عذاب ان کا مقدر ہوگا اور میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی ایک بڑی پکڑ آنے والی ہے اس لئے درد دل سے دعائیں مانگیں کہ اللہ تعالیٰ
ہماری قوم کو اس عذاب الیم سے بچائے اور کہا کہ اس قوم پر چند شر انگیز مولوی مسلط ہیں جو برابر جھوٹ اور ظلم کا سہارا لے کر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں اس لئے یہ دعا بھی کرنی چاہئیے کہ خدا تعالیٰ قوم کو ان شر پسند فتنہ انگیز مولویوں سے نجات دے۔ اس سلسلہ میں مولوی منظور احمد چنیوٹی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”پہلے تو یہ مولوی مختلف حیلے بہانے تلاش کرتے ہوئے مباہلہ سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا آخر کار پکڑا گیا“ روزنامہ جنگ لاہور ۱۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء کے مطابق اس نے مباہلہ کا چیلنج قبول کرتے ہوئے مسلم کالونی ربوہ میں ختم نبوت کانفرنس کے اختتام پر اعلان کیا کہ ”میں ۱۵ ستمبر ۸۸ء کو مرزا طاہر کے مباہلے کا چیلنج قبول کیا ہے، میں اس اسٹیج سے اعلان کرتا ہوں کہ میں تو ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء تک زندہ رہوں گا تاہم قادیانی جماعت اس وقت تک زندہ نہیں رہے گی“ مرزا طاہر نے کہا کہ اس کی اس تعلّی کے جواب میں، میں ۱۵ نومبر ۱۹۸۸ء کو اپنے خطبہ میں کہا کہ ”انشاء اللہ ستمبر آئے گا اور ہم دیکھیں گے کہ احمدیت نہ صرف زندہ ہے بلکہ زندہ تر ہے اور زندگی کے ہر میدان میں پہلے سے بڑھ کر زندہ ہو چکی ہے۔ منظور احمد چنیوٹی اگر زندہ رہا تو اس کو ایک ملک بھی ایسا دکھائی نہیں دے گا جس میں احمدیت مر گئی ہو۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا چاہے ادھر سے ادھر ہو جائے خدا کی خدائی میں یہ بات ممکن نہیں کہ منظور احمد چنیوٹی سچا ثابت ہو اور میں جھوٹا نکلوں۔ “ اس پر اس ”جھوٹے مولوی“ نے پھر ایک پینترا بدلا اور یہ اعلان کیا منظور احمد چنیوٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء تک صرف مرزا طاہر احمد کے ختم ہونے کی بات کی تھی، ساری قادیانی جماعت کی نہیں۔
(جنگ لاہور ۳۰ جنوری ۱۹۸۹ء)
مرزا طاہر احمد نے کہا دیکھیں اس مولوی کے دعویٰ کے مطابق تو میں ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء تک مر چکا ہوں اس طرح اس کا دوسرا اعلان بھی جھوٹا نکلا اور آپ سب لوگ گواہ ہیں، یہ مولوی جھوٹا ہے اور قیامت تک جھوٹا رہے گا اور ہر دن جو اس پر چڑھتا ہے ذلتوں کی مار لے کر آتا ہے اس کے بالمقابل خدا تعالیٰ کس قدر پیار کا سلوک ہم سے کرتا ہے کہ مسیح موعود کے اس غلام
کے ہاتھ پر آج آٹھ لاکھ افراد نے بیعت کی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔
جن دنوں جماعت احمدیہ کا اجتماع ہو رہا تھا، کئی پاکستانی علمائے دین، جن میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور مولانا ضیاء القاسمی بھی شامل ہیں، لندن میں تھے۔ انہوں نے مرزا طاہر کے اس بیان کو کہ پاکستان کی قوم پر اللہ کی طرف سے پکڑ آنے والی ہے، پاکستان کے خلاف کسی سازش کا نکتہ ابتداء قرار دیتے ہوئے انہیں مباہلہ کی دعوت دی۔ اس سلسلے میں مولانا منظور احمد چنیوٹی نے اپنے جوابی بیان میں مرزا طاہر احمد کو دعوت دی کہ وہ حق و باطل کے تصفیہ کیلئے قرآنی شرائط کے مطابق ایک میدان میں اپنے ساتھیوں اور خاندان کے ہمراہ آئیں اور میرے ساتھ مباہلہ کریں، میں نے جنوری ۱۹۵۶ء میں اس کے باپ مرزا بشیر الدین محمود کو مباہلہ کی دعوت دی تھی، کافی مراسلت اور ردوکد کے بعد انہوں نے مجھ سے سند نمائندگی طلب کی تھی۔ میں صرف ایک نہیں بلکہ ملک کے چار مشہور جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، جمعیت اشاعت التوحید والسنہ، تنظیم اہل سنت اور مجلس تحفظ ختم نبوت کل پاکستان کے سربراہوں کی طرف سے چار عدد سندات نمائندگی پیش کر دیں۔ پھر دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان جگہ چکی (وادی عزیز) مقرر کی اور عید کا دن مقرر کیا گیا لیکن پھر دنیا نے یہ نظارہ دیکھا کہ راقم اپنے رفقاء کے ہمراہ مقررہ جگہ پر وقت مقررہ پر پہنچ گیا اور عصر کی نماز تک وہاں انتظار کرتا رہا لیکن مرزا بشیر الدین محمود یا کوئی نمائندہ میدان میں بیٹھنے کی جرات نہ کر سکا۔ مسلمانوں نے ہزاروں کی تعداد میں اس فتح عظیم پر دریا سے لے کر شہر چنیوٹ تک شاہی مسجد تک جلوس کی شکل میں مجھے پہنچایا اور شکرانے کے نفل ادا کیے۔ اس کے بعد جب تک وہ زندہ رہے میں ہر سال اپنی دعوت مباہلہ کو دہراتا رہا لیکن وہ ذلت و رسوائی کی موت سے دوچار ہو کر اس دنیا سے گزر گئے اور مباہلہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ اس کے مرنے کے بعد جب ان کا بیٹا مرزا ناصر احمد جانشین ہوا، تو اسے بھی اسی طرح مباہلہ کی دعوت دی۔ وہ بھی مرتے دم تک سامنے آکر مباہلہ کرنے کی جرات نہ کر سکا۔ پھر قادیانی جماعت کا موجودہ سربراہ مرزا طاہر
احمد جانشین مقرر ہوا تو اسے بھی مباہلہ کی دعوت دی مگر اسے بھی دعوت مباہلہ قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی، جب وہ ضیاء الحق شہید کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے بعد ۱۹۸۴ء میں اپنی جماعت کو بے یار و مددگار چھوڑ کر انگلستان منتقل ہو گئے تو راقم نے یہاں بھی آکر تعاقب کیا اور ۱۹۸۵ء میں ویمبلے ہال لندن میں ہزاروں سامعین کی موجودگی میں اسے مباہلہ کی دعوت دی لیکن اسے قبول کرنے کی جرات نہ ہوئی لیکن جب عالمی سازش کے تحت ضیاء الحق مرحوم کے خلاف ایک پلان تیار کر لیا تو جون ۱۹۸۸ء میں ایک پمفلٹ کے ذریعے ضیاء الحق مرحوم اور دیگر کئی علماء کو مباہلہ کا چیلنج کر دیا۔ ہم نے اسی وقت کہا کہ یہ مباہلہ نہیں بلکہ مباہلہ کی آڑ میں ضیاء الحق وغیرہ کو ہلاک کرنے کا ایک خطرہ کا الارم ہے۔ کیونکہ مباہلہ تو شرعاً اس کا نام ہے کہ دونوں فریق ایک میدان میں اکٹھے ہوں اور پھر اللہ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کریں کہ اے اللہ ہم میں سے تیری نگاہ میں جو جھوٹا اور کذاب ہے اسے دوسرے کی زندگی میں یا ایک سال کی مدت میں ہلاک کر، گھر بیٹھ کر یک طرفہ دعا کا نام مباہلہ نہیں۔ ضیاء الحق مرحوم نے تو مرزا طاہر کے مضمون کو کوئی اہمیت ہی نہ دی لیکن دیگر علماء جنہیں اس نے پمفلٹ مباہلہ بھیجا تھا، ان میں سے کئی ایک نے اسے راقم کے نام بھی خصوصیت سے وہ پمفلٹ بھجوا دیا۔ میں نے فوراً اس کا رجسٹری لیٹر کے ذریعہ جواب دیا کہ مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ آپ نے میری دعوت مباہلہ کو اتنی مدت کے بعد قبول کر لیا، اب جگہ اور وقت کا بھی آپ تعین کر دیں۔ اگر آپ پاکستان نہیں آسکتے تو میں انگلینڈ آنے کو تیار ہوں۔ ربوہ ختم نبوت کانفرنس پر میں نے اپنے خط کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر مرزا طاہر میرے ساتھ باقاعدہ ایک میدان میں آکر شرعی مباہلہ کرے تو قدرت خدا کا تماشہ دیکھے کہ ایک سال کے اندر اس پر خدا کا کیسا عذاب نازل ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ راقم زندہ رہے گا ، اور مرزا طاہر خدا کی گرفت میں آجائے گا لیکن ربوہ کے جھوٹے نامہ نگار نے اپنے پاس سے خبر لگا دی کہ مولانا چنیوٹی نے کہا ہے کہ احمدیت کا نام و نشان ایک سال میں مٹ جائے گا، چنانچہ جب ٹیپ ریکارڈر سے اصل تقریر سنی گئی تو
ادارہ جنگ نے اس پر معذرت شائع کی، راقم اب بھی اپنے اس بیان پر قائم ہے اور مرزا طاہر کو چیلنج کرتا ہے کہ وہ ریجنٹ پارک کے مرکز اسلامی میں آکر میرے ساتھ مباہلہ کرے اور قدرت کا تماشہ دیکھے۔
مرزا طاہر احمد کو دعوت مباہلہ دینے کے بعد مولانا منظور احمد چنیوٹی سمیت متعدد علمائے کرام جن میں مولانا ضیاء القاسمی، مولانا عبد الحفیظ مکی، حافظ طاہر محمود اشرفی، علامہ خالد محمود، مولانا امداد الحسن نعمانی اور قاری طیب عباسی وغیرہ شامل تھے، ۱۵ اگست کو دو بجے ہائیڈ پارک میں مرزا طاہر کا انتظار کرتے رہے۔ مگر وہ نہ پہنچے۔ اس موقع پر مولانا چنیوٹی نے کہا کہ مرزا طاہر نے ہائیڈ پارک میں نہ آکر قادیانیت کے جھوٹ پر مہر ثبت کر دی ہے، جبکہ جماعت احمدیہ کے ترجمان رشید احمد چوہدری نے اسی روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ علماء سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے اخباری بیان کے ذریعہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مرزا طاہر احمد ان کے روبرو آکر مباہلہ کریں۔ جہاں تک ایک میدان میں اکٹھے ہو کر مباہلہ کرنے کا تعلق ہے ہم بارہا اعلان کر چکے ہیں کہ مباہلہ دعا کے ذریعہ اللہ سے فیصلہ طلبی کا نام ہے۔ اس کے لئے کسی مخصوص مقام پر اجتماع ضروری نہیں۔
مباہلہ کے اسلامی طریقہ کے بارے میں تکبیر کے ایک سوال کے جواب میں مولانا منظور احمد چنیوٹی نے بتایا کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ دونوں فریق ایک جگہ جمع ہو کر جھوٹ کے لئے بد دعا کرتے ہیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ہم اسی سنت طریقہ کے مطابق قادیانیوں کو مباہلے کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر انہوں نے ہمیشہ راہ فرار حاصل کی۔
(ہفت روزہ تکبیر ۱۴ ستمبر ۱۹۹۵ء)
فوجی افسروں پر انقلاب بپا کرنے کا الزام ناقابل یقین ہے
فوج کے اندر ہونے والی تمام سازشوں کے پیچھے
قادیانیوں کا ہاتھ تھا
قادیانی سربراہ کو امیر المومنین بنانے کی سازش
انٹرویو بریگیڈئر گلزار احمد کے چونکا دینے والے انکشافات
از عرفان صدیقی (ہفت روزہ تکبیر ۳۰ نومبر ۱۹۹۵ء کراچی)
بریگیڈئر (ر) گلزار احمد کا شمار صف اول کے عسکری دانشوروں میں ہوتا ہے جو صاحب سیف بھی ہیں اور صاحب قلم بھی۔ ان کی ولادت یکم جنوری ۱۹۰۹ء کو ضلع چکوال کے ایک گاؤں بھجوالا میں ہوئی۔ والد کی فوجی ملازمت کے باعث ابتدائی تعلیم کراچی میں پائی مڈل کا امتحان سندھ مدرسۃ الاسلام سے پاس کیا۔ گاؤں کے اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد ایف اے تک گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔ ۱۹۲۹ء میں علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی، کچھ عرصہ کچہری میں کلرک کی حیثیت کام کرتے رہے۔ ۱۹۳۱ء میں فوج میں سپاہی بھرتی ہو گئے۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باعث ۱۹۳۲ء میں کمیشن مل گیا۔ اسی سال ڈیرہ دون میں ملٹری اکیڈمی قائم ہوئی، گلزار احمد اس کے اولین کیڈٹس میں سے تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران مشرقی وسطیٰ اور برما کے محاذوں پر رہے۔ قیام پاکستان کے وقت آپ لیفٹیننٹ کرنل تھے، ان کی پلٹن کو کراچی میں قیام پاکستان کی اولین تقریب پرچم کشائی میں سلامی دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ۱۹۴۸ء میں جنگ کشمیر میں ایک بریگیڈ کی کمان کی، ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر رہے۔ سوشل ویلفیئر، امور خارجہ اور اطلاعات کی وزارتوں میں
جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر خدمات سرانجام دیں، تینتیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں اس پیرانہ سالی میں بھی کوہستانی نمک کا پروردہ یہ مرد رعنا ہر لمحہ مصروف کار رہتا ہے۔ پوٹھو ہار کی تہذیبی و سماجی زندگی دیر تک بریگیڈئر گلزار احمد کی خوشبو محسوس کرتی رہے گی۔
س : بریگیڈئر صاحب! آپ عسکری دانشور کی حیثیت سے منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ ملٹری انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں، کچھ بتائیں گے کہ ہمارے ہاں آئے دن فوج کے اندر سے بغاوتیں کیوں پھوٹتی رہتی ہیں؟
ج : یہ واقعی بڑا اہم مسئلہ ہے اس پر ضرور سوچا جانا چاہیے۔ میں حالیہ معاملے کی تفصیل سے واقف نہیں ہوں، لیکن ضیاء الحق مرحوم کے دور تک فوج کے اندر ہونے والی سازشوں یا ناکام بغاوتوں کے پیچھے قادیانیوں کا ہاتھ تھا۔ یہ بات میں اپنے تجربے، مشاہدے، مطالعے اور براہ راست معلومات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ آپ خود غور کریں، ہندوستان اور پاکستانی فوج کا پس منظر ایک ہی ہے، دونوں انگریز کی تربیت یافتہ ہیں اور دونوں کو کڑے نظم و ضبط کی ایک جیسی روایات ورثے میں ملی ہیں۔ آج تک دونوں فوجوں کی ٹریننگ کا عمومی انداز وہی ہے جو انگریز نے دیا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ بھارتی فوج میں اس طرح کی سازشیں نہیں ہوتیں، لیکن ہمارے ہاں آئے دن یہ مسئلہ پیدا ہوتا رہتا ہے؟ اس کا ایک بڑا سبب قادیانی فیکٹر ہی ہے۔ قادیانی افسران یا قادیانیت کے زیر اثر افسران نے ہمیشہ سازشوں کے جال پھیلائے اور اس ملک پر قبضہ کر کے ایک قادیانی ریاست بنانے کا منصوبہ بنایا، جو اللہ کے فضل و کرم سے آج تک کامیاب نہ ہو سکا۔
س : آپ کچھ وضاحت کریں گے کہ ضیاء الحق دور تک کی فوجی سازشوں میں قادیانی ملوث تھے؟
ج : جناب، اب تو بہت سی باتیں واضح ہو چکی ہیں۔ راولپنڈی سازش کیس ۱۹۵۱ء
میں سامنے آیا، لیکن اس سے تقریباً دو سال قبل ۱۹۴۹ء کے اوائل میں جنرل نذیر احمد اور اس وقت کے لیفٹیننٹ کرنل عبد اللطیف (جو بعد ازاں بریگیڈئر کی حیثیت میں پنڈی سازش میں ملوث ہوئے) ایبٹ آباد میں میری رہائش گاہ پر آئے۔ میں بریگیڈئر تھا، گویا جنرل نذیر میرا باس تھا اور کرنل لطیف میرا جونیئر تھا، انہوں نے رات کا کھانا میرے ساتھ کھایا اور تین گھنٹے تک وہاں ٹھہرے رہے۔ یہ دونوں مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ خان لیاقت علی خان کی حکومت ٹھیک کام نہیں کر رہی اس لئے اسکا تختہ الٹ دینا چاہیے۔ وہ فوجی انقلاب برپا کرنا چاہتے تھے، میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ سیاست کرنا چاہتے ہیں تو وردی اتار دیں۔ یہ حلف سے غداری ہے، نظم و ضبط کے خلاف ہے۔ اسپر جنرل نذیر نے کہا ”ڈسپلن کے بارے میں تمہارے خیالات بہت فرسودہ ہیں“ اور یہی جملہ میری سالانہ خفیہ رپورٹ میں بھی لکھ دیا اس سے قبل میں تحریری طور پر جنرل نذیر احمد کو یہ اطلاع دے چکا تھا کہ میرے پڑوس میں بریگیڈئر اکبر کے بریگیڈ کے اندر فوجی انقلاب کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں، لیکن نہ صرف میری اس اطلاع کو نظر انداز کر دیا گیا بلکہ جنرل نذیر خود سازشوں کی سرپرستی فرمانے لگے اور دوسروں کو بھی اس میں شرکت پر آمادہ کرنے لگے۔ جنرل نذیر کی اہلیہ قادیانی تھیں۔ اس سازش کا پہلا اجلاس اٹک قلعے میں نذیر احمد کی صدارت ہی میں ہوا تھا۔ دستیاب ہونے والے ریکارڈ کے مطابق نذیر احمد نے ملک کا صدر اور اکبر خان نے کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالنا تھا، دراصل نذیر احمد کا پروگرام یہ تھا کہ صدارت پر قبضہ مستحکم کرنے کے بعد اکبر خان کو چھٹی دے دی جائے گی اور اس کی جگہ اپنے ہم زلف جنرل حمید کو کمانڈر انچیف بنا دیا جائے گا، یوں فوج کو قادیانیت کے شکنجے میں جکڑنے کے بعد خلیفہ قادیان کو ”امیر المومنین“ بنا کر وہ خود وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس کے بعد آپ ۱۹۷۳ء کی سازش کو دیکھ لیجئے۔ اس میں شامل دو تین افسروں کو چھوڑ کر سب کے سب قادیانی تھے، اس سازش کے سرغنہ بریگیڈئر شاہ کا تعلق لاہوری گروپ سے تھا، میجر راجہ نادر پرویز اور میجر فاروق
کے سوا کم و بیش سب کے سب لوگ قادیانی تھے۔ ان میں جنرل اختر ملک کا بیٹا شامل تھا۔ جس نے فوجی عدالت کے سامنے کہا کہ ”میں نے جو کچھ کیا اس پر مجھے فخر ہے اور اگر آئندہ موقع ملا تو بھی یہی کچھ کروں گا“ ان سازشوں میں جنرل اکرم خان کے دو بیٹے شامل تھے۔ آدم خان خود قادیانیت سے انکار کرتا تھا، لیکن اس کی بیوی کٹر قادیانی تھی جس کا باپ سکہ بند قادیانیوں میں شمار ہوتا تھا۔ ۱۹۸۱ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں تیسری سازش سامنے آئی جس کا سر غنہ جنرل تجمل حسین تھا، تجمل حسین کی بیوی بھی قادیانی تھی اور خود تجمل نے بھی نکاح کے وقت قادیانیت قبول کر لی تھی۔ ۱۹۷۳ء ہی کے لگ بھگ قادیانی ”خلیفہ“ نے اعلان کیا تھا کہ ”جب میرے ہاتھ میں عمر کا کوڑا آگیا تو پورے ملک کو راہ راست پر لے آؤں گا“ ۱۹۵۱ء، ۱۹۷۳ء اور ۱۹۸۱ء کی تینوں سازشیں قادیانی ذہن کی تراشی ہوئی تھیں جن کا اصل مقصد اپنے ”خلیفہ“ کے ہاتھ میں طاقت کا کوڑا تھمانا تھا۔
س : کہا جاتا ہے کہ آپ نے خود ایک فوجی انقلاب یا سازش کا پلان قائد اعظم محمد علی جناح کو پیش کیا تھا؟
ج : یہ معروف معنوں میں نہ فوجی انقلاب تھا نہ بغاوت اور نہ سازش، سازشوں کے نقشے یوں باضابطہ انداز میں پیش نہیں کیے جاتے۔ یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب پاکستان ابھی قائم نہیں ہوا تھا۔ لیکن ہمارے دلوں میں ایک آزاد اسلامی ملک کی تڑپ نے آگ سی بھر دی تھی، میں اس وقت لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھا اور اپنی پوسٹنگ کے سلسلہ میں جی ایچ کیو (دلی) آیا ہوا تھا، میں نے کئی روز پہلے ایک پلان بنایا تھا کہ کس طرح پاکستانی فوجی ایک ہی دن میں ہندوستان بھر کی چھاؤنیوں پر قبضہ کر سکتے ہیں اور یوں پورا ہندوستان ایک بار پھر مسلمانوں کے زیر حکومت آسکتا ہے۔ میں نے اپنا یہ پلان سردار عبد الرب نشتر تک پہنچایا۔ نشتر صاحب نے اپنے ریمارکس کے ساتھ یہ پلان نوابزادہ لیاقت علی خان تک پہنچا دیا۔ نوابزادہ صاحب اسے قائد اعظم تک لے گئے، ایک دن میں اور کچھ ساتھی سردار عبد الرب نشتر
کے ہاں کھانا کھا رہے تھے کہ پیغام ملا ”کرنل گلزار کو قائد اعظم بلا رہے ہیں“ میری تو ٹانگیں کانپنے لگیں، میں نے ائر کموڈور جنجوعہ کو ساتھ لیا جو اس وقت غالباً ونگ کمانڈر تھے۔ ہم دونوں قائد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے، قائد کے کہنے پر میں نے اپنی اسکیم کی وضاحت کی۔ اس پر انہوں نے سوال کیا؟
”WHAT WILL BE OUR JOB“ ہمارا کام کیا ہو گا؟
میں نے کہا، سر آپ مسلم لیگ کے سر براہ ہیں، آپ ہی ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں کہ کون کون سے مسلمان افسر ہماری مدد کر سکتے ہیں ”قائد اعظم بولے“
“WILL IT BE ABOVE BOAR OF UNDER HAND ”
کیا یہ پلان واضح اور کھلا ہو گا یا خفیہ ؟
میں نے کہا، سر اسے تو بہر حال خفیہ ہی ہونا ہے۔ اس پر قائد اعظم اپنی گونج دار آواز میں بولے۔ نوجوان ! کیا تم جانتے ہو کہ خفیہ اور پس پردہ کی کاروائیاں آبرومندانہ نہیں ہوتیں اور جو کام آبرومندانہ نہیں ہوتے وہ اسلامی نہیں ہو سکتے، میں اپنی مسلم قوم کے لئے کسی ایسی بات کو پسند نہیں کر سکتا جو غیر آبرومندانہ اور غیر اسلامی ہو ”میں گھبرا گیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ قائد اعظم گرجے ”sit down“ میں بیٹھ گیا۔ وہ کہنے لگے کیا تم جانتے ہو اسلام کیا ہے ؟ میں حیران پریشان، گم صم ان کا منہ دیکھنے لگا۔ وہ بولے ، دیکھو نوجوان! اسلام میں مقاصد اور انہیں حاصل کرنے کے ذرائع دونوں اہم ہیں۔ عیسائیت میں صرف مقاصد پر نظر رکھی جاتی ہے۔ قائد اعظم کے یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ یہ اتنا بڑا سبق تھا کہ زندگی کے ہر موڑ پر مجھے یاد رہا۔ میں نے ہمیشہ کیلئے یہ بات پلے باندھ لی کہ اسلام میں منافقت نہیں چلتی۔
س : فوج میں ہونے والی حالیہ سازش کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ج : جب معاملہ کھلی عدالت میں آئے گا تو سب کچھ واضح ہو جائے گا، لیکن میری ذاتی
رائے یہ ہے کہ جو کچھ ہوا برا ہوا، مجبوری کیسی ہی کیوں نہ ہو، ڈسپلن کو توڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، حکومت نے جو کہانی بیان کی ہے وہ عام آدمی کے لئے بھی ناقابل یقین ہے اور فوجی معاملات سے آگاہی رکھنے والا کوئی شخص تو اسے مان ہی نہیں سکتا۔ یہ کہانی تو محض ایک مذاق ہے، جب تک فوج کا مقامی کمانڈر ساتھ نہ ہو اس طرح کی کوئی سازش تیار ہی نہیں کی جا سکتی، عملی جامہ پہنانا تو بہت دور کی بات ہے۔ ممکن ہے آپ کور کمانڈرز کانفرنس کو بھی اڑا دیں لیکن اس کے بعد کیا ہو گا ؟ کون آپ کو ”امیر المومنین“ تسلیم کرے گا؟ حکومت یا جی ایچ کیو کو پتہ تھا کہ اسلحہ لایا جا رہا ہے، اس اسلحہ کو چیک پوسٹ پر پکڑنے اور ہمیشہ کے لئے فوجی گاڑیوں کو مشکوک بنا دینے کے بجائے بہتر ہوتا کہ ان فوجی افسروں کو سمجھا دیا جاتا کہ برخوردار یہ طریقہ ٹھیک نہیں، انہیں ایسا کرتے رہنے کی اجازت کیوں دی گئی؟
س : لیکن حکومت کا کہنا یہ ہے کہ اس معاملے کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں یہ بیرکوں کے اندر گھری ہوئی فوج ہے جس کے پاس کوئی نظریاتی کھونٹا نہیں۔ یہ فوج اسلام جیسے لازوال نظریے کی بنیاد پر متحد و منظم فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اسی لئے زمینی فوج کی چار گنا، فضائیہ کی چھ گنا اور بحریہ کی آٹھ گنا برتری کے باوجود بھارت پاکستان کو سر نہیں کر سکا۔ جس دن آپ بنیاد پرستی کی روح نکال لیں گے پاکستان ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ جائے گا۔
س : بریگیڈئر صاحب ! ۱۹۴۸ء میں آپ کشمیر میں خدمت سرانجام دے رہے تھے پاک فوج کے بڑھتے ہوئے قدموں میں زنجیریں کس نے ڈالی تھیں؟
ج : یہ ایک افسوس ناک کہانی ہے۔ کشمیر میں میرے بریگیڈ کے علاوہ دو اور بریگیڈ بھی تھے ، ایک بریگیڈئر آدم خان کی کمان میں اور دوسرا بریگیڈئر اکبر خان کی کمان میں، بلاشبہ ہماری پوزیشن نہایت ہی اچھی تھی، میں نے بھارت کی کم از کم بارہ پلٹنوں پر گھیرا ڈالنے کا پلان بنا رکھا تھا۔ ان کے پیچھے پہاڑ تھے اور ان کا سپلائی نظام بھی بہت ناقص تھا، وہ گھیرے میں
آجاتے تو سارا قصہ ہی پاک ہو جاتا، لیکن فیصلہ میں نے یا دوسرے کمانڈروں نے نہیں، سیاست دانوں نے کرنا تھا، سیاسی افراد کو فوج کے عزائم و حکمت عملی کی شاید پرواہ نہ تھی، ادھر پورا جی ایچ کیو انگریزوں سے بھرا ہوا تھا، یہاں تک کہ کمانڈر انچیف بھی انگریز تھا، ہمارے ستر فیصد سینئر افسران نے جنگ دیکھی ہی نہیں تھی، انہوں نے سارا عرصہ ہندوستان میں بیٹھ کر گزار دیا تھا، محاذ کا کوئی تجربہ نہ تھا، لیکن وہ نوکری میں سینئر تھے اور پروموشن لیتے رہے۔ ہمارے ہاں فوج کے اندر بھی احتساب کی روایت نہ بن سکی۔ اعظم خان کو میجر بناتے وقت یہ کہا گیا کہ ”ناٹ فار کمانڈ“ (Not for command) لیکن وہ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک پہنچ گیا۔ اس شخص نے بریگیڈئر کی حیثیت سے ایک گولی چلائے بغیر پوری مندر ویلی ہندوستان کے حوالے کر دی۔ اس وقت ایک انگریز جرنیل نے کہا تھا، اعظم، ”اگر میں پاکستانی ہوتا تو تمہیں گولیوں سے بھون ڈالتا“ ۱۹۴۸ء میں جن لوگوں کو فیصلے کرنے کا اختیار تھا، انہوں نے درست فیصلہ نہ کیا، ملکی مفاد کے خلاف فیصلے ہوئے۔ ان میں سیاست دان اور فوجی پھنسے ہیں نا، آخر وہ کس بل بوتے پر انقلاب لانے چلے تھے۔ یہ بے ربط اور طفلانہ باتیں ہیں۔ میں بہت سے دلائل دے سکتا ہوں، لیکن ”انکوائری“ پر اثر انداز نہیں ہونا چاہتا۔
س : یہ ”بنیاد پرستی“ کا شاخسانہ تو نہیں؟ ج : میں باہر بیٹھا ہوں اور بڑی حد تک گوشہ نشین ہوں، لیکن ”فنڈا منٹلسٹ“ کے طور پر مشہور ہوں۔ ہو سکتا ہے مجھے بھی اس سازش میں ملوث کر کے قید کر دیا جائے، تاہم حسن اتفاق سے میرا ان زیر حراست افسروں میں سے کسی ایک سے بھی رابطہ یا میل ملاقات نہ تھی، میں اپنی ”بنیاد پرستی“ کا کھلا اور واضح اعتراف کرتا ہوں مجھے اپنے فنڈا منٹلسٹ ہونے پر فخر ہے، میں ایک سہ ماہی پرچہ نکال رہا ہوں، جس کا نام ہی ”فنڈا منٹلسٹ“ ہے لیکن فنڈا منٹلزم کو غلط معنی پہنائے جا رہے ہیں۔ اسلام تو امن اور سلامتی کا دین ہے، محبت،
صلح و آشتی کا دین ہے مگر لوگ اسلام کی بنیاد پرستی کو سمجھ لیں تو ساری دنیا اس کی طرف کھنچی چلی آئے۔
س : حالیہ واقعے کو جو رنگ دیا جارہا ہے اس سے فوج کے اندر نظریاتی کشمکش کا کس قدر اندیشہ ہے ؟
ج : جی نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔ پاکستان کی فوج بنیاد پرست ہے اور بنیاد پرست رہے گی۔
بنیاد پرستی ہی اس فوج کی اصل قوت ہے
جس روز آپ نے کسی پریشر میں آکر فوج سے بنیاد پرستی کا اثاثہ چھیننے کی کوشش کی اس دن آپ کی فوج لڑنے کے قابل نہیں رہے گی، پاکستانی فوج کے ہر سپاہی کا اصل ہتھیار جہاد کی روح ہے جو اسلام دیتا ہے۔ یہ روح چھین لینا۔ سپاہی کو غیر مسلح کر دینا ہے۔ آپ کا دشمن آپ سے کئی گنا بڑا ہے ہندوستان آج تک ہمیں مٹا نہیں سکا تو اس کی کیا وجہ ہے؟ صرف یہ کہ اس کی فوج مختلف مذہبوں، صوبوں، قبیلوں، ذاتوں اور لوگ تو صدر، وزیر اعظم اور آرمی کی قیادت کو قتل کر کے ”خود ساختہ شریعت“ لانا چاہتے تھے ؟
بنیاد پرستی ہی پاکستانی فوج کی اصل طاقت ہے
دشمن آپ سے کئی گنا بڑا ہے لیکن آج تک آپ کو نہیں مٹا سکا تو اس کی وجہ کیا ہے؟ صرف یہ کہ بھارتی فوج مذہبوں، صوبوں، قبیلوں، ذاتوں اور نسلوں
میں بٹی ہوئی ہے اس کے پاس کوئی نظریاتی کھونٹا نہیں یہ فوج اسلام جیسے لازوال نظریے کی بنیاد پر متحد و منظم فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی اس لئے زمینی فوج کی چار گنا فضائیہ کی چھ گنا اور بحریہ کی آٹھ گنا برتری کے باوجود بھارت پاکستان کو سر نہیں کر سکا
ج : یہ تو انتہائی مضحکہ خیز بات ہے، فوجی جوانوں کو حکومت کے اعلیٰ عہدے داروں یا کسی کو اڑانے کے لئے اسلحہ کی کھیپ کہیں اور سے لانے کی کیا ضرورت تھی، اتنا اسلحہ تو ہر فوجی کی دسترس میں ہوتا ہے۔ کیا وہ اپنے ہتھیار استعمال کر سکتے تھے، اگر یہ اسٹاف افسر تھے تو کس کے سر پر اتنا بڑا معرکہ مارنے چلے تھے۔ اسٹاف افسروں کی کین کے نیچے بھی تو کوئی چار سپاہی نہیں ہوتے۔ کیا دونوں ہی ملوث تھے۔ ہمارا خیال ہے کہ جنگ بندی کا مشورہ جنرل گریسی نے دیا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے یہ مشورہ قبول کر لیا۔
س : کشمیر میں لڑنے والے کمانڈروں سے تو بات ہوئی ہو گی ؟
ج : جی نہیں، کسی سے کوئی بات نہیں ہوئی، جیسا کہ میں نے بتایا، تین بریگیڈئر وہاں موجود تھے۔ دائیں طرف بریگیڈئر آدم خان کا بریگیڈ تھا، وہ زبردست لڑاکا افسر تھا جس کے پاس ملٹری کراس کا اعزاز بھی تھا۔ درمیان میں مرکزی سڑک، چکوٹھی روڈ پر بریگیڈئر اکبر خان کا بریگیڈ تھا، میں بائیں طرف تھا، میں دونوں سے جونیئر تھا لیکن آدم خان اور اکبر خان کو بھی جنگ بندی کی کوئی بھنک نہ پڑنے دی گئی اور فیصلہ سنا دیا گیا۔ آپ آزاد کشمیر کے موجودہ
وزیر اعظم سردار عبد القیوم خان سے پوچھ لیجئے کہ ان تینوں بریگیڈروں کا جذبہ کیا تھا۔ وہ لڑنے کے لئے تیار تھے یا نہیں؟ ہمارے تو پلان تھے کہ سردیوں میں فیصلہ کن کاروائی کریں گے لیکن یکم جنوری ۱۹۴۹ء کو اچانک پیغام ملا کہ جنگ بند کر دو۔ ہمارے کمانڈر جنرل نذیر کو حکم ملا کہ بڑی سڑک پر جاکر ہندوستانی کمانڈر سے ملاقات کرو، ہمیں کہا گیا کہ اپنے اپنے سامنے کے بھارتی بریگیڈ کمانڈر سے گلے ملو، آج آدھی صدی گزر جانے کو ہے اور پوری قوم ایک غلط فیصلے کی سزا بھگت رہی ہے۔
س : آپ نے ۱۹۶۵ء کی جنگ کی تاریخ بھی قلمبند کی ہے کیا یہ جنگ بندی بھی اسی نوعیت کی تھی؟
ج : جی نہیں، اگر ۱۹۴۸ء میں جنگ بند کرنا ایک سازش تھی تو ۱۹۶۵ء کی جنگ بھڑکانا بھی ایک سازش ہی تھی۔ آپ ذرا تاریخ پر نظر ڈالیے نہرو نے دسمبر ۱۹۶۲ء میں چین پر چڑھائی کر دی، اور منہ کی کھائی۔ ایک ہفتے کے اندر اندر بارہ امریکی جرنیل دہلی آبیٹھے فروری، ۱۹۶۳ء میں ہمیں امریکہ سے ملنے والی امداد بند کر دی گئی، امریکیوں کے مشورے پر ہی بھارت نے رن آف کچھ میں ٹرائل میچ کیا۔ اس میچ کے بعد امریکیوں نے بھارت کو پاکستان پر چڑھ دوڑنے کیلئے گرین سگنل دے دیا، تب اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا، کہ ”ہم اپنی پسند کا محاذ کھولیں گے“ جس شخص نے کشمیر کے اندر غیر تربیت یافتہ افراد بھیج کر وزیر اعظم کو اپنی مرضی کا محاذ کھولنے کا موقع دیا وہ یقیناً بھارتی وزیر اعظم سے ملا ہوا تھا“ معاملہ دو جمع دو چار کی طرح واضح ہے۔ اس وقت ایک کشمیر کونسل بھی قائم تھی۔ اس اہم ترین کمیٹی کے ارکان میں سے چھ ارکان کٹر قادیانی تھے، اس کی تصدیق جنرل موسیٰ خان نے اپنی کتاب ”My version“ میں بھی کی ہے۔ انہی کے مشورے پر آپریشن جبرالٹر تیار کیا گیا تاکہ پاکستان بھارت سے شکست کھا کر اپنا وجود کھو بیٹھے، تمام قادیانی ”قادیان“ جا سکیں اور یوں مرزا بشیر الدین محمود کی پیش گوئی پوری ہو جائے۔ جب میں ۱۹۶۵ء کی تاریخ لکھ رہا تھا
تو کمانڈر انچیف موسیٰ خان نے مجھے ایک انتہائی اہم فائل دکھائی جس میں معروف قادیانی جنرل اختر ملک نے ”آپریشن جبرالٹر“ کا خاکہ پیش کیا تھا۔ اس پر جنرل موسیٰ خان نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے لکھا کہ ”اگر ہم پانچ ہزار آدمی کشمیر بھیجتے ہیں تو بھارت واہگہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرے گا۔ اور پاکستان کے دفاع کیلئے مجھے مزید دو انفنٹری ڈویژن کھڑے کرنے پڑیں گے“ یہ فائل وزیر خزانہ شعیب کے پاس گئی تو اس نے لکھا ”No fund“ اس کے ساتھ ہی لکھ دیا ”مزید کارروائی نہ کی جائے ۔ (No further action) یہ فائل ان ریمارکس کے ساتھ کمانڈر انچیف کے پاس آگئی۔ ادھر سازشی اپنا کام کیے جا رہے تھے۔ ایک رات امریکی سفیر، جنرل اختر ملک اور ذوالفقار علی بھٹو تینوں مری میں اکٹھے ہوئے وہاں تینوں پیتے پلاتے رہے اسی وقت امریکی سفیر نے کہا: ”دنیا آپ کی مدد کو صرف اسی وقت آسکتی ہے جب کشمیر کے اندر کوئی ہلچل ہوگی“ یہ جملہ سازش کا پہلا زینہ تھا بھٹو اور قادیانی عناصر اس کھیل کو آگے بڑھاتے رہے۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خان آپریشن کی مخالفت کر رہا ہے تو یہ براہ راست صدر ایوب خان کے پاس پہنچے اور اسے قائل کرنے لگے۔ قادیانی کشمیر سیل، قادیانی جنرل اختر ملک اور بھٹو نے ایوب خان کو قائل کر لیا۔ ایوب نے وہ فائل موسیٰ خان سے منگوائی اور آپریشن کی اجازت دیتے ہوئے لکھا (Go Ahead) ان لوگوں نے وہ صورت حال پیدا کر دی جو بھارت اور امریکہ چاہتے تھے، پانچ ہزار غیر تربیت یافتہ مقبوضہ کشمیر کے اندر دھکیل دیئے گئے۔ وہ جس انجام سے دوچار ہوئے یہ الگ کہانی ہے، لیکن بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کا جواز ضرور مل گیا۔
گلزار احمد کے انکشافات
۵۱ء، ۷۳ء اور ۱۹۸۱ء کی تینوں فوجی سازشیں قادیانیوں کی تیار کردہ تھیں
س : موسیٰ خان نے کوئی احتجاج نہیں کیا؟ ج : موسیٰ خان تو روتا رہا۔ ایوب خان بھی اس پر آمادہ نہ تھا، لیکن سازشی عناصر
کامیاب ہو گئے۔ میرے خیال میں جنرل موسیٰ کو استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔ جب بھی کوئی شخص کسی ادارے کے بلند ترین منصب تک پہنچ جاتا ہے اور حکومت سے اسے پالیسی اختلاف ہو جائے تو اسے مستعفی ہو جانا چاہئے۔ عزت دار طریقہ یہی ہے ، یہی اصول بننا چاہئے ۔ کہ ایسے فرد کی پنشن نہ کاٹی جائے اور اسے تمام مراعات دی جائیں ۔ اصول پرست آدمی کی تو زیادہ عزت افزائی ہونی چاہئے۔ ایسے نہ ہو جیسے آج کل بعض ججوں کی پنشن روک لی گئی ہے۔ ایسی کمینگی کی باتیں حکومت کی سطح پر نہیں ہونی چاہئیں نہ موسیٰ خان نے اپنا استعفیٰ دیا نہ کسی اور نے الٹا یہ روایت چل نکلی کہ اگر حکومت سے اختلاف ہوا تو ٹیک اوور کر لیا حکومت کو گھر بھیج دیا اور اس کی جگہ کسی اور کو بٹھا دیا۔ آج کے حالات میں اگر ہمارا چیف آف آرمی اسٹاف مطمئن ہے کہ حکومت کی پالیسیاں ٹھیک ہیں اور وہ صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر وہ حکومتی پالیسیوں سے متفق نہیں تو اسے باعزت طریقے سے مستعفی ہو جانا چاہئے
س : موجودہ حالات میں کشمیر کی صورت حال کسی نئی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے ؟
ج : نہیں اس لئے کہ اس وقت کشمیر کے لئے جو منصوبے بنائے جا رہے ہیں اور جن پر بھارت پاکستان کو آمادہ کر رہا ہے وہ کسی فیصلہ کن موڑ تک نہیں پہنچے۔ دونوں ملکوں کی حکومتیں اپنے عوام سے بالا بالا بات چیت کر رہی ہیں۔ یو این او یا یو ایس اے جو رول کشمیر کو دینا چاہتا ہے وہ نہ بھارت قبول کر رہا ہے نہ پاکستان کر سکتا ہے۔ کشمیریوں کے پاس لٹانے کیلئے صرف زندگیاں ہی رہ گئی ہیں۔ جو وہ نچھاور کر رہے ہیں۔ کشمیری جوانوں کو صرف جہاد ہی میں اپنی بقاء نظر آتی ہے۔ پانچ سالوں کی بے مثال قربانیوں کے بعد کشمیریوں کی آزادی نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔ پاکستان جہاد کا واحد راستہ اپنانے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پہلے جو راستے بھارت نے بند کر رکھے تھے۔ اب خود پاکستان نے بند کر رکھے ہیں۔ آمد و رفت معطل ہے، اتنی سختی سے ناکہ بندی کی گئی ہے کہ ایک گولی تک کشمیری مجاہدین کو نہیں پہنچ رہی، لیکن جہاد پھر بھی جاری ہے۔ مجاہدین بھارتی فوجیوں سے اسلحہ خرید کر یا چھین کر لڑ رہے ہیں۔
س : بریگیڈیئر صاحب! آج کے پاکستان کا چہرہ وہی ہے جس کے خدوخال آپ نے قیام پاکستان سے قبل اپنی چشم تصور دیکھے تھے؟
ج : ہرگز نہیں۔ یہ چہرہ اس تصویر سے بہت مختلف ہے۔ شاید ہم سے بنیادی غلطی یہ ہوئی ہے کہ ہم نے بلا سوچے سمجھے مغرب کے جمہوری نظام کو اپنا لیا ہے۔ اس نظام پر نظر رکھنے والا اور اسے اپنی مخصوص ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت والا صرف ایک ہی شخص تھا اور وہ تھے قائد اعظم۔ ان کے بعد ہم اس نام نہاد جمہوری نظام کے عشق میں بہت کچھ گنوا بیٹھے اور مسلسل اپنی اصل سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اسلام حق گوئی اور صداقت کا درس دیتا ہے۔ ہمارے ہاں، چالیس پچاس کے لگ بھگ سیاسی جماعتیں ایک جیسے منشور رکھتی ہیں۔ اختلاف صرف شخصیات کی بنیاد پر ہے۔ اس شخصیت پرستی نے ہمارے نظام کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اصول پرستی ختم ہو گئی۔ اسمبلیوں کے ارکان کھلے بندوں بکتے اور خریدے جا تے ہیں۔ عالم اسلام مجموعی طور پر زوال اور پستی کا شکار ہے۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے سامراج تلے غلامی کی زندگی گزارنے والے ممالک آزاد تو ہو گئے لیکن آج تک ان ممالک کے حکمران وہی لوگ ہیں جنہیں سامراج کی معنوی اولاد کہا جا سکتا ہے۔ آج بھی اپنی چھٹیاں یورپ میں گزارتے اور جمع پونجی وہاں کے بینکوں میں رکھتے ہیں۔ آپ مراکش سے انڈونیشیا تک نظر ڈال لیجئے۔ قریب قریب یہی صورت حال نظر آئے گی۔ پاکستان تو ابھی تک مکمل آزادی کو ترس رہا ہے۔ ہماری معیشت کی شہ رگ بھی مغرب کے پنجے میں ہے۔ ورلڈ بینک کچھ کہتا ہے، آئی ایم ایف کچھ کہتا ہے، ایشیا بینک کچھ کہتا ہے۔ جب تک ہمارے اندر اتنی جرات اور ہمت پیدا نہیں ہو جاتی کہ ہم ان زنجیروں کو کاٹ سکیں اس وقت تک ہم مرضی کا نظام نہیں لا سکتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دل سے مسلمان ہو جائیں۔ ہمارے رہنما اسلام کو ایک متحرک اور قابل عمل نظام کے طور پر قبول کر لیں اور مغربی جمہوریت کے طلسم سے آزاد ہو جائیں۔
س : لیکن ہماری دینی جماعتوں نے بھی تو اسلامی نظام کا کوئی واضح اور جامع خاکہ پیش نہیں کیا؟
ج : ہمارے ہاں دینی نہیں فقہی، اور مسلکی جماعتیں ہیں، کوئی اہل حدیث ہے کوئی بریلوی ہے، کوئی دیوبندی ہے، کوئی جعفری ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے مدرسے چلے جائیے، آپ کو دین اسلام کی نہیں، مخصوص مسلک اور مخصوص فقہ کی تعلیم ملے گی۔ یہ لوگ رسول ﷺ کے بعد آنے والی شخصیات سے چمٹے ہوئے ہیں، اور اپنے پیشواؤں سے دائیں، بائیں ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔
س : ملک کے موجودہ ابتر حالات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج : حکمرانوں کو میرا مشورہ یہی ہے کہ اگر وہ اس ڈگر پر چلتے رہے تو ان کی سیاست کا باب ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گا۔ اگر اس وقت حکومت نئے انتخابات کرنے پر تیار ہو جاتی ہے تو شاید ۵ سال بعد اس کی پھر باری آجائے، لیکن اگر دو سال مزید حالات کو خراب کرتے رہے، اسی طرح غیر دانشمندانہ فیصلے کرتے رہے، اسی طرح نواز شریف کے کاموں میں کیڑے نکالتے اور پھر انہی کو جاری کرتے رہے اسی طرح کرپشن کو فروغ دیتے رہے تو عوام ان کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے مسترد کر دیں گے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مایوس نہیں ہوں۔ پاکستان یقیناً مشکلات سے نکل آئے گا، ایسا کب ہو گا؟ کس طرح ہو گا؟ کون کرے گا؟ میں کچھ نہیں جانتا، لیکن ایسا ہو کر رہے گا۔
حکومت سے مسلمانوں کے
مطالبات
- (۱) مرتد کی شرعی سزا نافذ کرو۔
- (۲) قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دو۔
- (۳) چناب نگر کے قابض رہائشیوں کو مالکانہ حقوق دو۔
- (۴) شناختی کارڈ میں بھی مذہب کے خانہ کا اضافہ کرو۔
- (۵) قادیانی جماعت کی جائداد اور فنڈ بحق سرکار ضبط کرو۔
- (۶) جہاد کے خلاف تمام لٹریچر پر پابندی لگاؤ۔
- (۷) قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کے حساب سے ملازمتیں دو۔
- (۸) قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے فی الفور برطرف کرو۔
- (۹) ملک میں فی الفور اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔
منجانب خادم ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد
چنیوٹ پاکستان
کے لٹریچر کا مطالعہ کرنا ہر
مسلمان کا فرض اولین ہے!
ارشاد پرنٹنگ پریس اینڈ جے ایس کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر
اندرون جامعہ عربیہ چنیوٹ
فون نمبر 332820 - 0466-333732 موبائل 0320-4890351
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات
نمبر شمار کتاب زبان تصنیف وتالیف قیمت ۲۰ چودہ میزائل اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۷۰ ۲۱ مباہلہ کا چیلنج منظور ہے اردو " " ۲۰ ۲۲ معرکہ حق وباطل اردو " " ۷۰ ۲۳ فتوی حیات مسیح اردو " " ۱۳۰ ۲۴ پنجابی نبی اردو " " ۳۰ ۲۵ مناظرہ ناروے اردو " " ۴۰ ۲۶ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا اردو " " ۴۰ ۲۷ معرکہ حق وباطل قادیانیت کے خلاف اردو " " ۴۰ ۲۸ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اردو " " ۷۰ ۲۹ حرف ناقدانہ جواب اک حرف ناصحانہ اردو " " ۲۰ ۳۰ ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں اردو " " ۲۵ ۳۱ نبوت کے نام پر شرمناک تحریف اردو عبدالرحیم منہاج سابق ڈیوڈ منھاس ۳۰ ۳۲ میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی ؟ اردو قاضی خلیل احمد ۳۰ ۳۳ قرآن مجید اور عقیدہ ختم نبوت اردو عبدالرحیم منہاج سابق ڈیوڈ منھاس ۳۵ ۳۴ الحق الصریح مما تواتر فی حیاۃ المسیح اردو مولانا محمد ابراہیم ۳۵ ۳۵ ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم اردو مولانا محمد ابراہیم ۲۵ ۳۶ خاتم الانبیاء اور بزرگان دین اردو استاد گل محمد توحیدی ۳۰ ۳۷ تاریخ ساز تقریب اردو استاد اشفاق ناصر و ماسٹر محمد نواز ۵۰ ۳۸ تقریب سنگ بنیاد اردو و عربی استاد اشفاق ناصر و ملک مختار احمد ۵۰ ۳۹ خسوف و کسوف اردو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات
نمبر شمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت
۱ القادیانی ومعتقداتہ عربی مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰ ۲ قادیانی اور ان کے عقائد اردو ” ” ۳۰ ۳ انگریزی نبی اردو ” ” ۲۵ ۴ عبرتناک انجام اردو ” ” ۳۵ ۵ علماء کنونشن اردو ” ” ۲۰ ۶ لوردہ اس کو مال نہ بنا سکے اردو ” ” ۲۵ ۷ دورۂ افریقہ اردو ” ” ۶۰ ۸ مناظرہ نائیجیریا اردو ” ” ۶۰ ۹ The Double Dealer انگلش ” ” ۶۰ ۱۰ Al-Qadiani & His Faith انگلش ” ” ۳۰ ۱۱ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد کا تعارف اردو ” ” ۳۰ ۱۲ مرزا طاہر کی بوکھلاہٹ اردو ” ” ۳۰ ۱۳ حصول الامانی فی الرد علی خسیس القادیانی اردو ” ” ۲۴۰ ۱۴ Africa Speakes The Truth انگلش ” ” ۵۰ ۱۵ دورۂ یورپ وافریقہ اردو ” ” ۵۰ ۱۶ تصویر کے دو رُخ اردو ” ” ۲۵ ۱۷ برطانیہ میں مرزائیت مباہلہ اردو ” ” ۳۰ ۱۸ زندہ کا نام تبدیل کرو اردو ” ” ۲۰ ۱۹ الحقائق الاصلیہ فی جواب اللجۃ العمریہ اردو ” ” ۴۰
بقیہ تفصیل اندر والے صفحہ پر
مصنف ایک نظر میں
مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۱ دسمبر ۱۹۳۱ء کو چنیوٹ کے راجپوت گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چنیوٹ سے حاصل کی۔ ۱۹۵۱ء میں مزید تعلیم کیلئے جامعہ اسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ سے دورہ حدیث اور دیگر مدارس سے تفسیر، رد رفض اور رد قادیانیت کے خصوصی کورس کئے۔ ۱۹۵۲ء سے تدریسی سلسلہ شروع کیا۔ ۱۹۵۴ء میں جامعہ عربیہ، ۱۹۷۰ء میں ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ، ۱۹۹۰ء میں ادارہ دعوت وارشاد امریکہ اور ۱۹۹۱ء میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی چنیوٹ میں قائم کی۔ اور ۱۹۹۵ء میں مدرسہ عائشۃ للبنات کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے پہلی بار ۲۲ سال کی عمر میں چھ ماہ کیلئے گرفتار ہوئے۔ اب تک گیارہ مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ رد قادیانیت کیلئے آپکی خدمات کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ کو ۲۰ مرتبہ حج اور بیسیوں مرتبہ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ ہزاروں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی۔ رابطہ عالم اسلامی نے آپکی دینی خدمات کے اعتراف میں آپکو اپنے اخراجات پر کئی بار حج کرنے کی دعوت دی۔ عالم اسلام کے مقتدر مفتیان عظام سے فتویٰ حیات مسیح حاصل کیا۔ مختلف موضوعات پر متعدد ضخیم کتابیں اور ان گنت پمفلٹ شائع کئے۔ ۳۳ غیر ملکی دوروں کے علاوہ لا تعداد ملکی و غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت کی اور مقالہ جات پڑھے۔ اعلیٰ علمی قابلیت اور اُمت کے مسائل سے گہری دلچسپی کی بناء پر انجمن تبلیغ اسلام، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت، جمیعت علماء اسلام، مجاہدین احرار، حرکۃ الانصار ، متحدہ علماء کونسل کے قابل قدر عہدوں پر بیک وقت فائز رہے تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بلدیہ چنیوٹ کے چیئرمین منتخب ہو کر اپنی دینی، انتظامی و سماجی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوا چکے ہیں۔ اس وقت آپ پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر فائز ہیں۔
ابو عمار زاہد الراشدی