رَدِّ قادیانیّت
رسائل
جناب آغا شورشؔ کاشمیری
جناب مولانا عبدالکریم مباہلہ
جناب ماسٹر غلام حیدر شیخ
احتساب قادیانیّت
جلد ٢٧
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 4514122
بسم الله الرحمن الرحیم !
نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد ستائیس (٢٧) نام مصنفین : آغا شورش کاشمیریؒ عبدالکریم مباہلہؒ ماسٹر غلام حیدر شیخؒ صفحات : ٥١٠ قیمت : ١٥٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : مارچ ٢٠٠٩ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122
بسم الله الرحمن الر
فہرست رسائل مشمولہ...... احتسا
عرض مرتب
- ١...... مرزائیل
- ٢...... اسلام کے غدار
- ٣...... عجمی اسرائیل
- ٤...... قادیانیت (قادیانی اسلام کے غدار)
- ٥...... مباہلہ پاکٹ بک
- ٦...... خودکاشتہ پودا
- ٧...... حقیقت مرزائیت
- ٨...... عشرہ کاملہ
- ٩...... کشف الاسرار
- ١٠...... کشف الحقائق
بسم الله الرحمن الرحيم!
: احتساب قادیانیت جلد ستائیس (٢٧) : آغا شورش کاشمیریؒ عبدالکریم مباہلہؒ ماسٹر غلام حیدر شیخؒ : ٥١٠ : ١٥٠ روپے : ناصر آرٹ پریس لاہور : مارچ ٢٠٠٩ء : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4514122
بسم الله الرحمن الرحيم!
فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٢٧
عرض مرتب ٤
- ١ ...... مرزائیل آغا شورش کاشمیریؒ ١١
- ٢ ...... اسلام کے غدار 〃 〃 ٩٩
- ٣ ...... عجمی اسرائیل 〃 〃 ١١٥
- ٤ ...... قادیانیت (قادیانی اسلام کے غدار) 〃 〃 ١٤١
- ٥ ...... مباہلہ پاکٹ بک عبدالکریم مباہلہؒ ١٥٣
- ٦ ...... خودکاشتہ پودا 〃 〃 ٢٥٣
- ٧ ...... حقیقت مرزائیت 〃 〃 ٢٥٧
- ٨ ...... عشرہ کاملہ شیخ ماسٹر غلام حیدرؒ ٣٣١
- ٩ ...... کشف الاسرار 〃 〃 ٣٥٣
- ١٠ ...... کشف الحقائق 〃 〃 ٤٥٥
بسم الله الرحمن الرحيم
عرض مرتب
احتساب قادیانیت کی اس جلد ستائیسویں (٢٧) میں آغا شورش کاشمیری کے چار، مولانا عبدالکریم مباہلہ کے تین اور شیخ ماسٹر غلام حیدر کے تین رسائل، کل دس رسائل جمع کئے ہیں۔
آغا شورش کاشمیری برصغیر میں تحفظ ختم نبوت کے بہت بڑے رہنماء تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریر، مولانا ظفر علی خان کی شاعری اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی خطابت کے گلدستہ کو آغا شورش کاشمیری کہا جاتا ہے۔ آغا صاحب نے مختلف تحریکات میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔ انگریز اور انگریز کے لے پالکوں نے ان کو قید و بند میں سالہا سال تک بند رکھا۔ لیکن وہ جری انسان تھے۔ متذکرہ دونوں طبقوں کے خلاف عمر بھر نبرد آزما رہے۔ تحریر و تقریر کے اپنے دور کے بے تاج بادشاہ تھے۔ خوب طبیعت کے انسان تھے۔ دوستی اور دشمنی میں ان کی طبیعت بہت فیاض واقع ہوئی تھی۔ جس سے دوستی ہو گئی اسے سر پر بٹھانے میں خوشی محسوس کرتے اور اگر پھر اسی سے کسی بات پر اختلاف ہوا تو پاؤں تلے روندنے میں بھی دیر نہ لگاتے تھے۔
البتہ سو فیصد یقین کے ساتھ گواہی دی جاسکتی ہے کہ عمر بھر وہ عقیدہ ختم نبوت کے علمبردار اور قادیان کی جھوٹی نبوت کے لئے تیغ براں رہے اور یہ سب کچھ ان کو عشق رسالت مآب ﷺ کے طفیل حاصل ہوا تھا۔ ان کی ذیل کے کتب و رسائل رد قادیانیت پر ہماری دسترس میں آئے۔
- ١...... تحریک ختم نبوت۔
- ٢...... مرزائیل۔
- ٣...... اسلام کے غدار۔
- ٤...... عجمی اسرائیل۔
- ٥...... قادیانیت (قادیانی اسلام کے غدار ہیں ) ( فیضانِ اقبال سے اقتباس )
اول الذکر کتاب تحریک ختم نبوت عام طور پر آج بھی بازار سے مل جاتی ہے۔ اس لئے اس جلد میں شامل نہیں کیا۔ باقی چار رسائل کو شریک اشاعت کیا ہے۔
بسم الله الرحمن الرحيم!
عرض مرتب
اب قادیانیت کی اس جلد ستائیسویں (٢٧) میں آغا شورش کاشمیری کے چار، مباہلہ کے تین اور شیخ ماسٹر غلام حیدر کے تین رسائل، کل دس رسائل جمع کئے ہیں۔
شورش کاشمیری برصغیر میں تحفظ ختم نبوت کے بہت بڑے رہنماء تھے۔ مولانا اریہ، مولانا ظفر علی خان کی شاعری اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی خطابت کے ش کاشمیری کہا جاتا ہے۔ آغا صاحب نے مختلف تحریکات میں بڑی سرگرمی سے ور انگریز کے لے پالکوں نے ان کو قید و بند میں سالہا سال تک بند رکھا۔ لیکن وہ تندخو، دونوں طبقوں کے خلاف عمر بھر نبرد آزما رہے۔ تحریر و تقریر کے اپنے دور شاہ تھے۔ خوب طبیعت کے انسان تھے۔ دوستی اور دشمنی میں ان کی طبیعت بہت ھی۔ جس سے دوستی ہوگئی اسے سر پر بٹھانے میں خوشی محسوس کرنے اور اگر پھر اسی تلاف ہوا تو پاؤں تلے روندنے میں بھی دیر نہ لگاتے تھے۔
سو فیصد یقین کے ساتھ گواہی دی جاسکتی ہے کہ عمر بھر وہ عقیدہ ختم نبوت کے ن کی جھوٹی نبوت کے لئے تیغ برآں رہے اور یہ سب کچھ ان کو عشق رسالت ل حاصل ہوا تھا۔ ان کی ذیل کے کتب و رسائل رد قادیانیت پر ہماری دسترس
تحریک ختم نبوت۔ مرزائیل۔ اسلام کے غدار۔ عجمی اسرائیل۔ قادیانیت (قادیانی اسلام کے غدار ہیں) (فیضان اقبال سے اقتباس)
الذکر کتاب تحریک ختم نبوت عام طور پر آج بھی بازار سے مل جاتی ہے۔ اس لئے نہیں کیا۔ باقی چار رسائل کو شریک اشاعت کیا ہے۔
- ......١ مرزائیل: ہمارے ممدوح جناب آغا شورش کاشمیری نے ٣٠؍ اپریل
١٩٧ء کو مجلس طلبائے اسلام چنیوٹ کی دعوت پر ایک تقریر کی۔ مدیر معاون ہفت روزہ چٹان لاہور جناب صادق کشمیری نے وہ تقریر چٹان میں ٨ مئی ١٩٧ء کو شائع کی۔ تقریر کیا تھی۔ اس سے قادیانی ایوانوں میں کہرام برپا ہو گیا۔ اس پر قادیانی پریس پنجے جھاڑ کر آغا شورش مرحوم کے خلاف مرزا قادیانی کی طرح بازاری دشنام بازی پر اتر آیا۔
آغا شورش کاشمیری کے قلم نے بھی کروٹ لی اور قادیانیوں کو نتھ ڈالنے کا فریضہ انجام دینے لگا۔ اس زمانہ (١٩٧٦ء) میں شورش کاشمیری کے قلم سے ہفت روزہ چٹان میں جو شائع ہوا وہ جمع کر کے تقریر سمیت ”مرزائیل“ نامی کتاب میں جناب مختار احمد پرویز شیخ نے شائع کر دیا۔
جناب مختار احمد پرویز شیخ اس زمانہ میں زیر تعلیم تھے۔ بلاء کے ذہین اور زرخیز دماغ کے انسان ہیں۔ انہوں نے مجلس طلبائے اسلام چنیوٹ قائم کی تھی اور انہوں نے ہی آغا شورش مرحوم کو چنیوٹ میں بلوا کر تقریر کرائی تھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ اسلامیہ کالج چنیوٹ کے ابتداء میں پروفیسر اور پھر پرنسپل لگ گئے۔ آغا شورش کاشمیری اور مولانا تاج محمود کے مخلص فدائی ہیں۔ آج سے چند سال قبل تک وہ پرنسپل تھے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی مرحوم کے وصال پر ان سے ملاقات ہوئی تھی۔ پھر ملاقات نہیں ہوئی۔ نہ معلوم وہ ڈیوٹی پر ہیں یا ریٹائرڈ ہوگئے ہیں۔ اللہ رب العزت ان کو ہر حال میں خوش رکھے۔ انہوں نے یہ کتاب ”مرزائیل“ مرتب کی تھی۔ اس کا دیباچہ جناب صادق کشمیری نے اور ”سر آغاز“ آغا شورش کاشمیری مرحوم نے تحریر کیا۔ اس کتاب میں آغا مرحوم کی تقریر سمیت چٹان کے اداریے، مضامین اور شذرے جمع کئے گئے۔ ان کی تعداد چوبیس (٢٤) ہے۔ جن کی فہرست یہ ہے۔
- ......١ مرزائیت کی تاریخ سیاسی دینیات کی تاریخ ہے۔
- ......٢ قادیانی ایک سیاسی امت ہیں۔
- ......٣ انگریز کی شخصی یادگار۔
- ......٤ اقبال سے بغض کی بناء پر نہرو کا استقبال۔
- ......٥ عجمی اسرائیل۔
- ......٦ مسیلمہ کے جانشین۔
- ٧....... الفضل کا لاہوری متنبی۔
- ٨....... انگریزوں کے خاندانی ایجنٹ۔
- ٩....... مرزائی ہمارا اعتراض ان کے پاکستان میں رہنے پر نہیں مسلمانوں میں رہنے پر ہے۔
- ١٠....... سلطان القلم کے جانشین۔
- ١١....... کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں۔
- ١٢....... قادیانیوں کا تعاقب اشد ضروری۔
- ١٣....... اسرائیل میں مرزائی مشن۔
- ١٤....... کبابیر میں جشن مسرت۔
- ١٥....... انگلستان میں مرزائی مشن۔
- ١٦....... خلیفہ ثالث کا عزم یورپ۔
- ١٧....... یہ راگنی بند کرو۔
- ١٨....... مرزائی اور چٹان۔
- ١٩....... قادیانی ڈھولک۔
- ٢٠....... اقبال کے بگلہ بھگت۔
- ٢١....... نقل کفر کفر نہ باشد۔
- ٢٢....... چکنی داڑھی کے مخفی چہرے۔
- ٢٣....... سکاٹ لینڈ یارڈ کے گماشتے۔
- ٢٤....... عجمی اسرائیل (نظم)
راقم نے متذکرہ بالا مضامین کی تخریج کے لئے ہفت روزہ چٹان لاہور کی فائل کی ورق گردانی کی، تو سرسری نظر سے ١٩٦٧ء کی جلد سے چند اور مضامین بھی مل گئے۔ وہ بھی شامل کر دیئے جن کی فہرست یہ ہے۔
- ٢٥....... ظفر علی خان اکیڈمی کا قیام۔
- ٢٦....... سات نکات۔
- ٢٧....... ٣١٣ قادیانی۔
- ٢٨...... غلط آدمی کی یادگار کا خاتمہ۔
- ٢٩...... وحی کا نزول ۔
- ٣٠...... ربوہ والوں کا خفیہ نظام ۔
- ٣١...... قادیانی امت اور فاطمہ جناح ۔
- ٣٢...... عجمی اسرائیل اور پاکستان کی اقتصادیات ۔
- ٣٣...... قادیانیت (ہندوستان کی پاکستانی سرحد پر کسی مسلمان کو بھارتی شہری بن کر رہنے کی
اجازت ہے؟)
- ٣٤...... قادیانی اور اسرائیل ۔
- ٣٥...... ظفر اللہ خان کو منہ نہ لگایا جائے ۔
- ٣٦...... مرزائیوں کی تاریخ نگاری ۔
- ٣٧...... قادیانی تعاقب جاری رہے ۔
- ٣٨...... مرزائیوں سے قطع تعلق ہے میرا دیں ۔
- ٣٩...... علامہ اقبال کے ملفوظات ۔
جماعتی مصروفیات اور ذاتی عوارض کے باعث فقیر کے لئے ممکن نہیں۔ ورنہ لازم وضروری ہے کہ چٹان کی تمام فائلوں سے آغا شورش کاشمیری کے رد قادیانیت پر رشحات قلم کو جمع کر کے علیحدہ کتابی شکل میں شائع کیا جائے۔
چنیوٹ کے ایک اور میرے مخلص دوست حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹی مدظلہ نے ایک بار دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان میں تشریف لا کر چٹان سے آغا شورش کاشمیری کے مضامین کا فوٹو کرایا تھا۔ ملتان کے ایک کرم فرما (جو لکھنو کی بھٹیارن ٹکسالی لغت سے میرے دماغ کا لیول درست رکھنے میں سرتا پا سرگرم عمل اور موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یاد آنے پر ان کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے کہ وہ اس عمل خیر کے ذریعہ اپنے نامہ اعمال سے نیکیوں کا فقیر کو ہدیہ ارسال کرنے میں بہت سخی واقع ہوئے ہیں) ان کے متعلق سنا تھا کہ وہ ان مضامین کو شائع کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ہوا معلوم نہیں۔ اگر وہ چھپ گئے ہیں تو اپنی لاعلمی کا اعتراف کرتا ہوں۔ نہیں چھپے
تو چھپنا چاہئے۔ ان سطور پر پہنچ طبیعت میں شدید تقاضا ہو رہا ہے کہ یہ کام ہونا چاہئے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ احتساب قادیانیت میں رسائل و کتب کو شامل کرنے کی داغ بیل ڈالی ہے۔ مضامین کو شائع کرنا اس کے اصول وضعیہ میں شامل نہیں۔
اللہ تعالیٰ جسے توفیق دیں وہ یہ کام کریں۔ آغا شورش کاشمیری کا یہ قرض اس عنوان پر کام کرنے والوں کے ذمہ ہے۔ اس سے سبکدوش ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشیں۔ امین!
- ......٢ اسلام کے غدار: اس کا مکمل نام ”مرزا غلام احمد قادیانی سے مرزا ناصر
احمد تک قادیانی امت کے استعماری خدوخال، اسلام کے غدار“ یہ بتیس صفحات پر مشتمل رسالہ تھا۔ ١٩٧٣ء میں اولاً شائع ہوا۔ تقریباً چھتیس سال بعد اسے شائع کرنے پر اللہ رب العزت کی عنایت کردہ توفیق پر بارگاہ الہی میں شکر بجالاتے ہیں۔
- ......٣ عجمی اسرائیل: یہ چالیس صفحات کا رسالہ تھا۔ یہ بھی ١٩٧٣ء کے اواخر
میں شائع ہوا۔ مکمل نام جو ٹائٹل پر درج تھا وہ ہے۔ ”قادیانی پاکستان میں استعماری گماشتے ہیں۔ عجمی اسرائیل، ایک انڈر گراؤنڈ خطرے کا تجزیہ“ اور یہی اس کا مکمل تعارف ہے۔ آغا صاحب کا قلم اس کتابچہ میں جولانی پر ہے اور ان کا دماغ صفحات پر معلومات منتقل کرنے میں موجزن دریا کی طرح رواں ہے۔
- ......٤ قادیانیت: قادیانیت اسلام کے غدار ہیں۔ جناب آغا شورش کاشمیریؒ
نے فیضان اقبال کی سرخی قائم کر کے عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیت کی اسلام دشمنی سے متعلق علامہ اقبال کے تمام ارشادات، مقالات، ملفوظات، خطوط کا باحوالہ انتخاب کیا۔ جو اس فیضان اقبال کے ص٤١٩ سے ص ٤٥٢ تک کے صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اس جلد میں اس کو بھی ساتھ شامل کر دیا گیا ہے۔
اس جلد میں عبدالکریم مباہلہ کے تین رسائل بھی شامل ہیں۔ عبدالکریم مباہلہ پہلے صرف عقیدہ قادیانی نہ تھے بلکہ قادیان کے باسی بھی تھے۔ مدت العمر قادیانی نبوت کی چکی پر بیل کی طرح جتے رہے۔ ایک دفعہ اپنی آنکھوں سے مرزا محمود قادیانی کو زنا میں مرتکب دیکھا تو عقیدت کی تمام عمارت دھڑام سے نیچے آ رہی۔ جری انسان تھے۔ ابتداء میں مرزا محمود قادیانی کو
لکارا تو مرزا محمود نے انہیں زیر کرنے کے انہوں نے اسے پچھاڑا تو مرزا محمود انتقام پر قادیانیوں کو مرزا محمود کی کمینگی سے باخبر کیا۔ عبدالکریم مباہلہ کے مکان کو آگ لگوا دی۔ کے لئے مباہلہ کا چیلنج دیا تو عبدالکریم مباہلہ ن مرزا محمود کے لئے قادیان کی و کرا دیا۔ اس سازش سے عبدالکریم مباہلہ پ سویا ہوا دوسرا شخص قتل ہو گیا۔ معاملہ عدالت سے قادیان سے ہی اخبار جاری کر دیا۔ اس مقدمہ قتل کی کارروائی بھی اس اخبار میں شا محمود کے گماشتے قادیانی قاتل کو بھی سزا معرکہ کو سر کرنے کے بعد قادیان کو چھوڑ کر آپ نے قادیانیت کے خلاف رسائل لکھے
- ١/٥....... مباہلہ پاکٹ بک
انہوں نے خود تعارف یہ لکھا: ” اس پاکٹ ہمارا مقصد اس کی اشاعت سے صرف اتبا حقیقت سے واقف بلکہ دندان شکن جواب مقصد کے لئے کم از کم حجم میں زیادہ سے زیا کیا گیا ہے۔“
- ٢/٦....... خودکاشتہ پودا: یہ
- ٣/٧....... حقیقت مرزائیہ
انگریزی نبوت کی طرف سے انگریز حکومت ک ساتھ بکجا کیا گیا۔
طور پر میری طبیعت میں شدید تقاضا ہو رہا ہے کہ یہ کام ہونا چاہئے۔ لیکن کیا کیا دیانیت میں رسائل و کتب کو شامل کرنے کی داغ بیل ڈالی ہے۔ مضامین کو ول وضعیہ میں شامل نہیں۔ جسے توفیق دیں وہ یہ کام کریں۔ آغا شورش کاشمیری کا یہ قرض اس عنوان پر ذمہ ہے۔ اس سے سبکدوش ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق بخشیں۔ آمین! اسلام کے غدار: اس کا مکمل نام ”مرزا غلام احمد قادیانی سے مرزا ناصر کے استعماری خدوخال، اسلام کے غدار“ یہ بتیس صفحات پر مشتمل رسالہ تھا۔ ع ہوا، تقریباً چھتیس سال بعد اسے شائع کرنے پر اللہ رب العزت کی عنایت تی میں شکر بجا لاتے ہیں۔ عجمی اسرائیل: یہ چالیس صفحات کا رسالہ تھا۔ یہ بھی ١٩٧٣ء کے اواخر م جو ٹائٹل پر درج تھا وہ ہے۔ ”قادیانی پاکستان میں استعماری گماشتے ہیں۔ رگراؤنڈ خطرے کا تجزیہ“ اور یہی اس کا مکمل تعارف ہے۔ آغا صاحب کا قلم پر ہے اور ان کا دماغ صفحات پر معلومات منتقل کرنے میں موجزن دریا کی
قادیانیت: قادیانیت اسلام کے غدار ہیں۔ جناب آغا شورش کاشمیری رخی قائم کر کے عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیت کی اسلام دشمنی سے متعلق علامہ ت، مقالات، ملفوظات، خطوط کا باحوالہ انتخاب کیا۔ جو اس فیضان اقبال ٤١٤ تک کے صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اس جلد میں اس کو بھی ساتھ شامل
ں عبدالکریم مباہلہ کے تین رسائل بھی شامل ہیں۔ عبدالکریم مباہلہ پہلے تھے بلکہ قادیان کے باسی بھی تھے۔ مدت العمر قادیانی نبوت کی چکی پر بیل ایک دفعہ اپنی آنکھوں سے مرزا محمود قادیانی کو زنا میں مرتکب دیکھا تو دھڑام سے نیچے آ رہی۔ جری انسان تھے۔ ابتداء میں مرزا محمود قادیانی کو
للکارا تو مرزا محمود نے انہیں زیر کرنے کے لئے غرانا شروع کیا تو مولانا عبدالکریم شیر ہو گئے۔ انہوں نے اسے پچھاڑا تو مرزا محمود انتقام پر اتر آیا۔ ان کی پٹائی کرا دی۔ انہوں نے قادیان کے قادیانیوں کو مرزا محمود کی کمینگی سے باخبر کیا۔ اصل صورتحال سامنے آنے پر مرزا محمود ننگے ہو گئے۔ تو عبدالکریم مباہلہ کے مکان کو آگ لگوا دی۔ مولانا عبدالکریم نے مرزا محمود کو پاکدامن ثابت کرنے کے لئے مباہلہ کا چیلنج دیا تو عبدالکریم مباہلہ کے نام سے یاد کئے جانے لگے۔
مرزا محمود کے لئے قادیان کی دھرتی گرم توے کا کام کرنے لگی۔ تو ان پر قاتلانہ حملہ کرا دیا۔ اس سازش سے عبدالکریم مباہلہ پہلے خبر پا کر ادھر ادھر ہو گئے تو عبدالکریم کے مکان میں سویا ہوا دوسرا شخص قتل ہو گیا۔ معاملہ عدالت چلا گیا۔ مولانا عبدالکریم مباہلہ نے ”مباہلہ“ کے نام سے قادیان سے ہی اخبار جاری کر دیا۔ اس کی مکمل فائل مرزا محمود کی بدکاریوں کا سنگین مرقع ہے۔ مقدمہ قتل کی کارروائی بھی اس اخبار میں شائع ہونے لگی تو مرزا محمود کے اوسان خطاء ہو گئے۔ مرزا محمود کے گماشتے قادیانی قاتل کو بھی سزائے موت ہو گئی۔ اب مولانا عبدالکریم مباہلہ نے اس معرکہ کو سر کرنے کے بعد قادیان کو چھوڑ کر امرتسر میں رہائش رکھ لی۔ تقسیم کے بعد لاہور آ گئے۔ آپ نے قادیانیت کے خلاف رسائل لکھے۔ ان میں سے فقیر کو تین دستیاب ہوئے۔
- ١/٥ ...... مباہلہ پاکٹ بک: یہ مباہلہ بک ڈپو امرتسر سے شائع ہوئی۔ اس کا
انہوں نے خود تعارف یہ لکھا: ”اس پاکٹ بک کے مطالعہ سے آپ پر بخوبی واضح ہو جائے گا کہ ہمارا مقصد اس کی اشاعت سے صرف اتنا ہے کہ ہر مسلمان تھوڑے وقت میں نہ صرف قادیانیت کی حقیقت سے واقف بلکہ دندان شکن جواب دینے کے قابل ہو کر ایک کامیاب مبلغ بن جائے۔ اس مقصد کے لئے کم از کم حجم میں زیادہ سے زیادہ معلومات بہم پہنچا کر بفضلہ تعالیٰ دریا کو کوزہ میں بند کیا گیا ہے۔“
- ٢/٦ ...... خودکاشتہ پودا: یہ چار صفحاتی پمفلٹ ہے۔ نام ہی سے مضمون واضح ہے۔
- ٣/٧ ...... حقیقت مرزائیت: اس میں زیادہ تر صرف قادیانیوں کے کفر اور
انگریزی نبوت کی طرف سے انگریز حکومت کی خوشامدی و چاپلوسی قادیانی لٹریچر سے حوالہ جات کے ساتھ یکجا کیا گیا۔
اس جلد میں شیخ ماسٹر غلام حیدر صاحب کے تین رسائل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ شیخ ماسٹر غلام حیدر سرگودھا، جہلم میں انگریز حکومت کے دور میں مختلف سکولوں میں ماسٹر و ہیڈ ماسٹر رہے۔ ان کے رد قادیانیت پر تین رسائل ہمیں میسر آئے۔
- ١/٨...... عشرہ کاملہ: اس رسالہ کے ابتدائی حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف
پہلے قادیانی عقائد رکھتے تھے۔ اس رسالے میں انہوں نے مرزا قادیانی کی تکفیر سے پہلو تہی اختیار کی۔ مگر بعد کے ان کے رسائل سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو کافر نہیں بلکہ کافر گر گرداننے لگ گئے۔ اس رسالہ میں دس اصول مقرر کر کے انہوں نے مرزا قادیانی کی بولتی بند کر دی ہے۔
- ٢/٩...... کشف الاسرار: یہ رسالہ بھی شیخ ماسٹر غلام حیدر صاحب کا ہے۔ اس کا
پورا نام ہے ”کشف الاسرار یعنی ریویو متعلق انگریزی قرآن، مولوی محمد علی ایم اے ایل ایل بی امیر احمدی جماعت لاہور“ اس میں لاہوری مرزائی محمد علی کے انگریزی ترجمہ قرآن پر جا بجا گرفت کی ہے۔ اس رسالہ کی وجہ تصنیف پانچ صفحات پر انہوں نے خود لکھی ہے۔ اس لئے زیادہ وضاحت کی ضرورت نہیں۔ اس میں دیکھ لیا جائے۔
- ٣/١٠...... کشف الحقائق: یہ رسالہ بھی شیخ ماسٹر غلام حیدر کا ہے۔ اس میں
لاہوری جماعت کے محمد علی لاہوری کے بخاری شریف کے ترجمہ پر انہوں نے نقد کیا۔ جس میں مولانا اصغر علی روحی جیسے فاضل و یگانہ روزگار شخصیت سے بھی وہ راہنمائی لیتے رہے۔ ابتداء میں یہ مضمون اخبار اہل حدیث امرتسر ١٩٢٦ء کی فائلوں میں چھپتا رہا۔ بعد میں انہوں نے اسے مستقل رسالہ کی شکل میں اس نام سے شائع کر دیا۔
افسوس کہ عبدالکریم مباہلہ، شیخ ماسٹر غلام حیدر کے تفصیلی حالات اس سے زیادہ ہمیں نہ مل سکے۔ جس کا قلق ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ اس جلد میں دو عبدالکریم حضرات کے رسائل یکجا ہو گئے۔ عبدالکریم آغا شورش کاشمیریؒ اور عبدالکریم مباہلہ۔ اسی پر اکتفاء کرتا ہوں۔
فقیر: اللہ وسایا ١٣؍ فروری ٢٠٠٩ء
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قادیانیت کا سیاسی محاسبہ
مرزائیل
آغا شورش کاشمیریؒ
مرزائیل
پیش لفظ
قادیانیت کے ناسور کی چیر پھاڑ اور عامتہ المسلمین کو اس کے خطرات سے آگاہ رکھنا ہمارے دور کی ایک اہم ضرورت کی حیثیت رکھتے ہیں تاکہ اس دام ہمرنگ زمین کی گرہیں کھولی اور اس کے پیچ وخم کے بخیے ادھیڑے جاسکیں۔ اس لحاظ سے وہ افراد اور ادارے لائق تبریک ہیں جو اس مبارک دینی فریضہ کی انجام دہی کے لئے کوشاں ہیں اور قادیانیت کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے جہد کناں ہیں۔
مجلس طلبائے اسلام پاکستان بھی ان تنظیموں میں سے ایک ہے۔ جو اس مقدس مشن کے لئے سر بکف ہے۔ بے شک یہ بنیادی طور پر طلباء کی ایک جماعت ہے۔ لیکن ناموس رسول عربیؐ کا تحفظ مسلمانوں کا بچہ بچہ اپنا پہلا فرض گردانتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس تنظیم کی طرف سے ’’مرزائیل‘‘ نامی کتاب کی اشاعت پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ اس کتاب کے ناشر ایک مقامی کالج کے نوجوان اور پرجوش طالب علم شیخ پرویز احمد ہیں۔ وہ اس تاریخی قصبہ چنیوٹ کے رہنے والے ہیں۔ جہاں دریائے چناب کے ایک جانب تحفظ ختم نبوت کے نام لیواؤں کی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں اور دوسری طرف ظلی و بروزی نبی کی ہاہا کار مچتی ہے۔ شیخ پرویز احمد نے اس ماحول میں آنکھ کھولی اور سن شعور کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ ختم المرسلین سے بے پایاں عقیدت ومحبت کے احساسات سے سرشار ہوتے گئے۔ اپنے ان ہی جذبات کے تحت انہوں نے چنیوٹ میں اس مسئلہ پر کئی ایک کامیاب کانفرنسیں منعقد کرائیں اور ربوہ کے مقابل تحفظ ختم نبوت کے سالانہ اجتماعات کی داغ بیل ڈالی۔ ناموس محمدؐ کی حفاظت کے لئے ان کے جوش وخروش نے اسی پر بس نہیں کی۔ بلکہ راہ شوق میں ان کے قدم آگے ہی آگے بڑھتے گئے۔ اب وہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے اس کتاب کا تحفہ لائے ہیں۔ جس میں قادیانیت کا مکمل و جامع پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ اس تصنیف میں انہوں نے وہ تمام مضامین یکجا کردیئے ہیں جو ١٩٦٧ء کے دوران ہفت روزہ چٹان میں آغا شورش کاشمیری کے قلم سے نکلتے رہے۔ پھر اس میں آغا صاحب کی وہ معرکۃ الآراء تقریر بھی شامل ہے جو گذشتہ سال انہوں نے چنیوٹ کے ایک عام اجتماع میں کی تھی اور جس میں قادیانیت کے مکروہ خدوخال کی بہ کمال و تمام نقاب کشائی کی گئی تھی۔ اس تقریر میں اسلامیان پاکستان کو واشگاف الفاظ میں اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا تھا کہ قادیانی پاکستان میں ایک نئے
اسرائیل کی بنیادیں رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آغا صاحب نے سر ظفر اللہ خان کے ناپاک عزائم سے بھی ملت اسلامیہ کو خبردار کیا تھا۔
مختلف دوسرے مضامین کے ساتھ اس تقریر کے اضافہ نے اس تصنیف کی افادیت کو اور بڑھا دیا ہے۔ اس میں مشمولہ مضامین کی اثر آفرینی کا اندازہ اسی ایک امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چٹان میں ان کی اشاعت پر مرزائی حلقے بوکھلا اٹھے اور اپنے خصوصی ہتھکنڈوں کو بروئے کار لا کر ”چٹان“ پر سنسر شپ نافذ کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن ؎
کے مصداق اب وہی مضامین مجموعہ کی صورت میں یکجا آپ کے سامنے ہیں۔ بلاشبہ آغا صاحب کی اس تقریر اور مضامین کی کتابی صورت میں اشاعت وقت کی ایک اہم ضرورت تھی۔ جس کی تکمیل کی سعادت ملت کے ہونہار طلباء کے حصہ میں آئی۔ اپنی اس ایمان افروز کوشش کے لئے یہ نوجوان مبارک باد کے مستحق ہیں۔ جنہوں نے اپنی تعلیمی مصروفیتوں کے باوجود اس بیڑہ کو اٹھایا اور ”مرزائیل“ کو منظر عام پر لا کر رہے۔ ہمیں امید ہے کہ ان کی اس کاوش کا دینی و علمی حلقوں میں گرم جوشی سے خیر مقدم کیا جائے گا۔ اس تصنیف کی اہمیت کے پیش نظر آخر میں ہم ایک تجویز پیش کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ ان افکار و خیالات کو انگریزی دان اور غیر ملکی افراد تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ بھی شائع کیا جائے تا کہ حق و صداقت کی یہ آواز اقصائے عالم میں پھیل جائے۔
صادق کاشمیری ١٠؍ جنوری ١٩٦٨ء
سر آغاز
پاکستان میں قادیانیت بہر حال ایک قومی خطرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاریخ اسلام میں اس نوعیت اور اس انداز کا خطرہ، اس سے پہلے کبھی پیدا نہیں ہوا۔ جہاں تک دینی حلقوں کا تعلق ہے۔ ہمیں اعتراف کرنا چاہئے کہ قادیانی امت کے بارے میں ان کا نقطۂ نگاہ واضح ہے اور وہ اس فرقۂ ضالہ کو کسی لحاظ سے بھی اسلام کا جزو نہیں سمجھتے۔ ان کا عقیدہ راسخ ہے کہ قادیانی امت دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ عوام میں بھی علماء کی بدولت یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ مرزائی محمد عربی ﷺ کی امت کا حصہ نہیں۔ لیکن جو چیز ساری قوم اور سارے ملک کے لئے بجائے خود ایک خطرہ بن گئی ہے وہ ہمارے تعلیم یافتہ طبقے کی اکثریت کا طرز عمل ہے۔ یہ لوگ خود تو دین اور اس کی
نزاکتوں سے آگاہ نہیں اور نہ انہیں ختم نبوت کے مسئلہ کی حقیقت معلوم ہے۔ لیکن انہیں اصرار ہے کہ قادیانی امت کے تعاقب میں علماء کی روش گویا اس فرقہ واریت کا ایک حصہ ہے جو مسلمانوں کے مذہبی فرقوں میں صدیوں سے عام ہوچکی ہے۔ اس گروہ کو جو ملک میں ارباب بست و کشاد کی حیثیت رکھتا ہے یہ بتانا اور سمجھانا دشوار ہورہا ہے کہ وہ غلطی پر ہے اور اس کے خیال کی بنیاد ہی سرے سے غلط ہے۔ اس کے کچھ وجوہ ہیں۔ مثلاً :
- ١۔ جو لوگ قادیانی امت کے تعاقب میں سرگرم ہیں وہ مسلمانوں کے ان
خواص میں نامقبول ہیں اور اس کی وجہ ان خواص کی دین سے دوری بھی ہے یا پھر علماء کا اپنا وجود جو علم دین کی بہ نسبت علم کے افلاس کا مظہر ہے۔
- ٢۔ مغربی دانش و علم کے پیرووں میں یہ تصور ایک حد تک جاگزین ہے کہ
عقیدہ یا مذہب انسان کا پرائیویٹ معاملہ ہے۔ گو اس خیال کو تقویت پہنچانے کا باعث علماء کا عصری روح سے بے خبر ہونا بھی ہے۔ لیکن بڑی وجہ اس طائفے کی اپنی بے مائیگی ہے جو ایک سو سال کی مغربی تعلیم نے ان میں پیدا کی ہے۔
- ٣۔ یہ گروہ حکومت کے دوائر میں تو اپنی اس روش پر اڑا ہوا ہے۔ لیکن
مسلمانوں میں ایک دوسرا طرز عمل اختیار کرتا ہے۔ اس طرز عمل کا نام اس کے ذہن و تصور میں رواداری ہے۔ علامہ اقبال نے رواداری کے مسئلہ پر احمدیت کے مسئلہ میں خاصی بحث کی ہے۔ ایک یورپی مصنف کے حوالے سے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ایک ملت دینی اساس کے معاملہ میں رواداری اختیار کرنے کی مجاز نہیں اور نہ رواداری کے لفظ یا مفہوم کا اس پر اطلاق ہوتا ہے۔ اس قسم کی رواداری، خودکشی کے مترادف ہے۔
- ٤۔ تعجب کی بات ہے جو حکومت یا افراد اپنے وجود اور اپنی سیاست کے
بارے میں رواداری گوارا نہیں کرتے۔ حالانکہ ایک سیاسی نظام کے جمہوری سانچے میں جو چیز ڈھلتی ہے اس کے لئے رواداری لازم ہے۔ لیکن دین و شریعت کے متعلق رواداری کی تلقین کرتے ہیں یا تو ان کے دین میں رواداری کا صحیح مفہوم نہیں یا پھر وہ دین و شریعت کی حقیقی روح سے نا آشنا ہیں۔ غداری اور رواداری ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ ایک جماعت جو غداری کی مرتکب ہو اور دل آزاری کا باعث بنی ہو۔ اس سے رواداری کا سلوک ایک ایسا سخرہ پن ہے جو اپنے عقائد کے ساتھ اپاہج قومیں ہی روا رکھ سکتی ہیں۔
ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے اجداد، اولاد اور اموال کے متعلق اس وقت رواداری کو
جائز قرار دیتے ہیں۔ جب ان کی عزت و آبرو اور وجود و استحکام کو اس رواداری سے خطرہ لاحق ہو، ظاہر ہے کہ ایک شخص بھی برضا و رغبت اس رواداری کی تلقین نہیں کرے گا اور نہ اس کا خواہاں ہوگا۔ تو پھر اسلام جس پر ہماری ملی زندگی کا انحصار ہے اور محمد ﷺ (فداہ ابی وامی) جن سے ہماری ہمہ نوعی وحدت قائم ہے۔ ان کے لئے یہ رواداری کس بنیاد پر جائز ہے؟ اس لئے کہ تعلیم یافتہ جماعت کا زیر بحث گروہ اپنی ذات سے باہر ہر معاملہ میں فراخ دل ہو چکا ہے اور اس کو اپنے وجود کے سوا کوئی شے بھی عقیدہ یا شخصیت عزیز نہیں رہا ہے۔
جہاں تک ختم نبوت کا مسئلہ کا تعلق ہے آج سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ اس گروہ کو یہ بتایا جائے کہ مسلمانوں کی دینی وحدت کس طرح قائم رہتی ہے۔ مسئلہ ختم نبوت ایک شرعی مسئلہ ہی نہیں بلکہ اس کے اثبات پر مسلمانوں کے دینی وجود کا انحصار ہے اور اس کی نفی سے مسلمانوں کی وحدت پارہ پارہ ہو جاتی ہے۔ علامہ اقبال نور اللہ مرقدہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں اس مسئلہ ہی کی نشاندہی کی اور فرمایا تھا کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ احمدیت کے ان اداکاروں کا پس منظر تلاش کریں جو ١٨٥٧ء میں مسلمانوں کی تاراجی کے بعد نمودار ہوئے اور انگریزوں کی غلامی کا جواز پیدا کیا۔ افسوس کہ یہ کام آج تک کسی طاقتور قلم کا منتظر ہے۔
اقبال اکادمی نے ...... علامہ اقبال کے نام پر خزانہ حکومت سے بڑی بڑی رقمیں حاصل کی ہیں۔ لیکن جن مباحث و مضامین کے متعلق علامہ اقبالؒ نے تحقیقی اشارے کئے۔ ان کے متعلق ان اکادمیوں کی علمی بے بضاعتی اور ذہنی بے مائیگی کی پیشانی پر ابھی تک ”یک حرف کاٹھے“ لکھا ہوا ہے۔ حقیقت بھی یہ ہے کہ اقبال کے نام پر جو ادارے سرکاری توشہ خانہ سے پرورش پارہے ہیں وہ اوّلاً فکر و نظر کے معاملے میں ساقط الاعتبار ہیں۔ ثانیاً ان کی مخفی مصلحتیں یہی ہیں کہ جو اقبال چاہتا تھا اس کو روپوش رکھیں یا گم کر دیں اور جو یہ چاہتے ہیں اس کو اجاگر کریں۔ ان لوگوں میں سے بیشتر بزرجمہروں کو اقبال دل سے نہیں پیٹ سے عزیز ہے۔
اسلام کی بنیاد قرآن پر ہے جو کتاب اللہ ہے اور ملت کی بنیاد سیرت پر ہے جس کا مظہر کامل محمد عربی ﷺ ہیں۔ ان دو کے بعد کوئی شخص یا جماعت اپنی بنیاد الہام پر رکھتی ہے اور شرط یہ قرار دیتی ہے کہ وہ مامور ہے یا عجمی اصطلاحوں کی رو سے اس کا وجود بروزی یا ظلی ہے تو اس کا وجود ایک مسلمان مملکت میں نہ صرف ایک قومی حادثہ ہے۔ بلکہ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اس جماعت کا سختی سے محاسبہ کرے اور اس کے اعوان و انصار کو قرار واقعی سزا دے۔ اگر ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لئے قومی غداروں کو عبرتناک سزائیں دی جاسکتی ہیں تو دینی سرحدوں کی حفاظت کے
لئے بھی اسلامی غداروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ رواداری کا لفظ ارباب حل و عقد کے نزدیک اصل الاصول ہے اور غالباً اسی لئے وہ اس فرقہ ضالہ کے خفیہ عزائم سے بے خبر ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ مرزائیت ایک عجمی اسرائیل کی طرح پرورش پارہی ہے اور اس کا وجود مسلمانوں کے لہو میں سرطان بنتا جارہا ہے۔
یہ مجموعہ میری ایک تقریر اور چند مختصر اخباری مضامین پر مشتمل ہے جو مجلس طلبائے اسلام کے نوجوانوں نے اپنے طور پر مرتب کیا ہے۔ کاش اس کے اشارات کسی جامع اور مانع تصنیف میں کام آسکیں۔ ١٩ فروری ١٩٦٨ء، شورش کاشمیری
قادیانیت
١......مرزائیت کی تاریخ ....... سیاسی دینیات کی تاریخ ہے
آغا شورش کاشمیری نے ہندوستانی نبوت کی پاکستانی پناہ گاہ ربوہ کے دامن اور شاہجہان فرمانروائے ہندوستان کے وزیر اعظم سعد اللہ خان کے مولد چنیوٹ میں سٹوڈنٹس اسلامک سالیڈیرٹی آرگنائزیشن (مجلس طلبائے اسلام پاکستان۔ چنیوٹ) کے زیر اہتمام ایک اجتماع عام کو خطاب کرتے ہوئے ڈھائی گھنٹہ تک ایک معلومات افروز تقریر میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ عنقریب ایک کتابچہ کی شکل میں شائع کئے جارہے ہیں۔ ذیل میں اس جامع تقریر کی ایک تلخیص پیش کی جارہی ہے جس سے اقبال اور قادیانیت کے ان پہلوؤں کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔ جس کی اساس پر آغا صاحب نے اپنے خیالات قادیانی امت کے تجزیہ و تحلیل کی صورت میں پیش کئے۔ یہ اجتماع ٢٩ اپریل ١٩٦٧ء کی شام کو ہو رہا تھا۔ لیکن بارش کی وجہ سے اگلے روز صبح ٩ بجے ملتوی کر دیا گیا۔ اس اجتماع میں دینیات و اقبالیات اور سیاسیات و عمرانیات سے شغف رکھنے والے لوگ ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔ تقریر کا یہ عالم تھا کہ لوگ شامیانوں سے باہر دھوپ کی تیزی میں بھی گوش بر آواز ہو کر کھڑے رہے اور آغا صاحب نے قادیانی جماعت کے بارے میں افکار اقبال کی روشنی میں جو نکات پیش کئے۔ اس پر شروع سے آخر تک سر دھنتے رہے۔
جلسہ سے پہلے آغا صاحب نے شہریوں کی دعوت کے جواب میں ایک مختصر سی ادبی تقریر کی جس میں ان الفاظ تہنیت پر اظہار تشکر کیا جو ان کے بارے میں سپاسنامہ میں استعمال کئے گئے تھے۔ شام کو آغا صاحب نے تنظیم طلبہ کے دفتر میں پرچم کشائی کی اس موقع پر ”جاگ اٹھا ہے سارا وطن“ کی دھنیں بجائی گئیں۔ طلبہ نے گولے چھوڑے نوجوانوں کے ایک زبردست ہجوم نے
اخلاص و ارادت کا اظہار کیا۔ آغا صاحب نے استعمال میں محتاط رہنا چاہئے۔ اردو زبان چونکہ میں ابھی تک عقیدت کی افسانوی بے بصری پائی اصلاً یہ ایک قسم کا ذہنی انحطاط ہے الفاظ اور درباروں میں کورنش بجالانے والے مزاج میں حفظ نفس کی روح پیدا نہیں ہوگی۔ آ شکوہ اور پر جمال الفاظ میں اخلاص کا اظہار کیا مستحق نہیں۔ میں ایک انسان ہوں بقول اقبال
اس میں شک نہیں کہ میں نے سید سے سالہا سال فیض اٹھایا اور فکر اقبال کے علا ان میں سے کسی کا ظل یا بروز نہیں۔ آپ نے پہلو میں ظلی و بروزی نبوت کا کارخانہ چل رہا کے معاملہ میں احتیاط برتا کریں۔ بسا اوقات ٣٠ اپریل ١٩٦٧ء چنیوٹ کے میں قادیانیت اور اسلام کے موضوع پر جو نظریہ سب سے پہلے آپ نے تنظیم چنیوٹ میں مسلسل دعوتوں کے باوجود نہ آسکے بوقلمونی اور مشغولیوں کی بے پناہی مانع رہی۔ لیکن جیل خانے سے دعوت آگئی اور وہاں میں شمولیت کی ہے۔
تین اہم پہلو
آغا صاحب نے کہا: موضوع گزارشیں ہیں۔ اولاً ...... میں جو کچھ عرض ک گزارش ہے کہ میرے ان خیالات کو میرے۔
روں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ رواداری کا لفظ ارباب حل ل الاصول ہے اور غالباً اسی لئے وہ اس فرقہ ضالہ کے خفیہ عزائم سے بے خبر ہا ہے کہ مرزائیت ایک عجمی اسرائیل کی طرح پرورش پارہی ہے اور اس کا وجود سرطان بنتا جارہا ہے۔
ری ایک تقریر اور چند مختصر اخباری مضامین پر مشتمل ہے جو مجلس طلبائے اسلام پنے طور پر مرتب کیا ہے۔ کاش اس کے اشارات کسی جامع اور مانع تصنیف فروری ١٩٦٨ء، شورش کاشمیری
قادیانیت
یت کی تاریخ ...... سیاسی دینیات کی تاریخ ہے
کاشمیری نے ہندوستانی نبوت کی پاکستانی پناہ گاہ ربوہ کے دامن اور ہندوستان کے وزیراعظم سعد اللہ خان کے مولد چنیوٹ میں سٹوڈنٹس رگنائزیشن (مجلس طلبائے اسلام پاکستان۔ چنیوٹ) کے زیر اہتمام ایک رتے ہوئے ڈھائی گھنٹہ تک ایک معلومات افروز تقریر میں جن خیالات کا یک کتابچہ کی شکل میں شائع کئے جارہے ہیں۔ ذیل میں اس جامع تقریر کی رہی ہے جس سے اقبال اور قادیانیت کے ان پہلوؤں کی نشاندہی ہو جاتی ر آغا صاحب نے اپنے خیالات قادیانی امت کے تجزیہ و تحلیل کی صورت م ٢٩؍ اپریل ١٩٦٧ء کی شام کو ہو رہا تھا۔ لیکن بارش کی وجہ سے اگلے روز صبح ۔ اس اجتماع میں دینیات و اقبالیات اور سیاسیات و عمرانیات سے شغف وں کی تعداد میں موجود تھے۔ تقریر کا یہ عالم تھا کہ لوگ شامیانوں سے باہر گوش بر آواز ہوکر کھڑے رہے اور آغا صاحب نے قادیانی جماعت کے یار روشنی میں جو نکات پیش کئے۔ اس پر شروع سے آخر تک سر دھنتے رہے۔
پہلے آغا صاحب نے شہریوں کی دعوت کے جواب میں ایک مختصر سی ادبی فاظ تہنیت پر اظہار تشکر کیا جو ان کے بارے میں سپاسنامہ میں استعمال کئے احب نے تنظیم طلبہ کے دفتر میں پرچم کشائی کی اس موقع پر ”جاگ اٹھا ہے آئی گئیں۔ طلبہ نے گولے چھوڑے نوجوانوں کے ایک زبردست ہجوم نے
اخلاص و ارادت کا اظہار کیا۔ آغا صاحب نے سپاسنامہ کے جواب میں فرمایا۔ ہمیں الفاظ کے استعمال میں محتاط رہنا چاہئے۔ اردو زبان چونکہ درباروں میں پلی ہے۔ اس لئے اس کے مزاج میں ابھی تک عقیدت کی افسانوی بے بصری پائی جاتی ہے۔
اصلاً یہ ایک قسم کا ذہنی انحطاط ہے۔ جب تک اردو زبان میں سے عقیدت کے فالتو الفاظ اور درباروں میں کورنش بجالانے والے تصورات خارج نہیں کئے جائیں گے ہمارے لسانی مزاج میں حفظِ نفس کی روح پیدا نہیں ہوگی۔ آغا صاحب نے کہا سپاسنامہ میں میرے متعلق جن پر شکوہ اور پر جمال الفاظ میں اخلاص کا اظہار کیا گیا ہے میں ممنون ہوں لیکن واقعہ میں ان الفاظ کا مستحق نہیں۔ میں ایک انسان ہوں بقول اقبال؎
اس میں شک نہیں کہ میں نے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا ظفر علی خانؒ کی صحبت سے سالہا سال فیض اٹھایا اور فکر اقبال کے علاوہ نظر ابو الکلامؒ سے ذہنی بالیدگی حاصل کی۔ لیکن میں ان میں سے کسی کا ظل یا بروز نہیں۔ آپ نے غالباً اس لئے مجھے ان کا عکس قرار دیا ہے کہ آپ کے پہلو میں ظلی و بروزی نبوت کا کارخانہ چل رہا ہے۔ بہر حال میری خواہش یہی ہے کہ آپ الفاظ کے معاملہ میں احتیاط برتا کریں۔ بسا اوقات آج کے الفاظ کل کا روگ بن جاتے ہیں۔
٣٠؍ اپریل ١٩٦٧ء چنیوٹ کے جلسہ عام میں آغا صاحب نے یوم اقبال کی تقریب میں قادیانیت اور اسلام کے موضوع پر جو نظریات اور تصورات پیش کئے ان کا خلاصہ یہ تھا۔
سب سے پہلے آپ نے منتظمین کی محبت کا شکریہ ادا کیا اور معذرت پیش کی کہ وہ چنیوٹ میں مسلسل دعوتوں کے باوجود نہ آسکے۔ تو اس کی خاص وجہ کوئی نہ تھی۔ صرف مصروفیتوں کی بوقلمونی اور مشغولیتوں کی بے پناہی مانع رہی۔ پارسال حاضر ہونے کا ارادہ تھا۔ وعدہ بھی کر لیا تھا۔ لیکن جیل خانے سے دعوت آگئی اور وہاں جانا پڑا۔ اب فرصت پیدا کر کے آج کی اس تقریب میں شمولیت کی ہے۔
تین اہم پہلو
آغا صاحب نے کہا: موضوع ہے ’’اقبال اور قادیانیت‘‘ اس ضمن میں تین گزارشیں ہیں۔
اوّلاً...... میں جو کچھ عرض کروں گا پوری ذمہ داری سے عرض کروں گا۔ میری گزارش ہے کہ میرے ان خیالات کو میرے ہی الفاظ میں سی آئی ڈی کے ذمہ دار بھائی کاملاً نوٹ
فرمائیں اور ان کو مغربی پاکستان کے گورنر اور ان کی وساطت سے صدر مملکت کی خدمت میں پہنچادیں۔
ثانیاً...... اگر ان میں سے کوئی سی چیز غلط ہو یا میں اس کا ثبوت نہ دے سکوں تو میں اس کے لئے تیار ہوں کہ مجھے ہمیشہ کے لئے قید کر دیا جائے۔ ورنہ قادیانی امت کے اعمال وافکار پر کڑی نگاہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ ان کے نہاں خانہ دماغ میں اپنے مسیح موعود اور مصلح موعود کی پیش گوئیوں کے باعث ایک ریاست کی خواہش مدۃ العمر سے مخفی چلی آتی ہے۔
ثالثاً...... اگر قادیانی امت میں سے کوئی فاضل تیار ہو تو میں ان مباحث پر کسی بھی اجتماع میں گفتگو کرنے کے لئے تیار ہوں جو نکات کہ اس تقریر میں پیش کر رہا ہوں۔ فیصلہ سامعین کر لیں۔ کوئی سا منصف تسلیم کر لیا جائے یا پھر خود ان کا ضمیر اس امر کی توثیق وتردید کرے کہ جن حوالوں سے میں خطاب کر رہا ہوں وہ غلط ہیں یا صحیح؟ نتائج کے اعتبار سے آیا ان کے معنی وہی ہیں جو میرے ذہن میں آئے ہیں یا اس سے مختلف تعبیر و تاویل بھی ہو سکتی ہے۔ قول کی تائید یا تردید ہمیشہ عمل کرتا ہے۔
بحث ہی غلط ہے
آغا صاحب نے فرمایا: یہ بحث ہی غلط ہے کہ مرزا قادیانی نبی تھے کہ نہیں؟ جو لوگ مرزا قادیانی کی نبوت کا مفروضہ قائم کر کے نبوت کے مفہوم ومقصد پر بحث کرتے اور مناظرہ رچاتے ہیں۔ میرا خیال ہے وہ غلطی پر ہیں۔ سرور کائنات ﷺ کے مقابلہ میں پہلے کسی آدمی کو کھڑا کرنا پھر اس کی تغلیط کرنا ایک ایسا فعل ہے جس سے سوء ادب کا پہلو نکلتا ہے۔ رہا ظلی و بروزی کا سوال تو قرآن وحدیث میں کہیں اس اصطلاح یا اس سے ہم معنی لفظ کا تصور تو ایک طرف رہا قیاس تک نہیں ملتا۔ نہ عربی لغت میں اس غرض سے کوئی لفظ ہے اور نہ قرن اوّل کے دین وادب میں اس کا وجود یا اس کی پرچھائیں کا نشان ملتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں مرزائیوں سے خاتم النبیین کے لغوی، اصطلاحی یا قرآنی مفہوم پر بحث کرنا بھی بنیادی طور پر غلط ہے۔ مذہب کی بنیادی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ عقائد واعمال کی جو دنیا پیش کرتا ہے اس میں ابہام واجمال وغیرہ کا گزر تک نہیں ہوتا۔ وہ ہر بات کھل کے کہتا اور اس کی دعوت وتذکیر واشگاف الفاظ میں ہوتی ہے۔ اگر ظلی یا بروزی کسی نبی کے لئے اسلام میں کوئی نظریہ ہوتا یا اللہ کی رضا یہی ہوتی تو قرآن بول اٹھتا۔ احادیث نبوی میں بات آ جاتی۔ جس پیغمبر (فداہ ابی وامی) نے زندگی کی ہر ضرورت واحکام وقواعد مرتب کر دیئے ہوں اور امت کے پورے نظم
کو مغربی پاکستان کے گورنر اور ان کی وساطت سے صدر مملکت کی خدمت میں ...... اگر ان میں سے کوئی سی چیز غلط ہو یا میں اس کا ثبوت نہ دے سکوں تو میں ہوں کہ مجھے ہمیشہ کے لئے قید کر دیا جائے۔ ورنہ قادیانی امت کے اعمال وافکار کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ ان کے نہاں خانہ دماغ میں اپنے مسیح موعود اور مصلح وں کے باعث ایک ریاست کی خواہش مدۃ العمر سے مخفی چلی آتی ہے۔ ...... اگر قادیانی امت میں سے کوئی فاضل تیار ہو تو میں ان مباحث پر کسی بھی رنے کے لئے تیار ہوں جو نکات کہ اس تقریر میں پیش کر رہا ہوں۔ فیصلہ سامعین نصف تسلیم کر لیا جائے یا پھر خود ان کا ضمیر اس امر کی توثیق و تردید کرے کہ جن طالب کر رہا ہوں وہ غلط ہیں یا صحیح؟ نتائج کے اعتبار سے آیا ان کے معنی وہی ہیں م آئے ہیں یا اس سے مختلف تعبیر و تاویل بھی ہو سکتی ہے۔ قول کی تائید یا تردید
حسب نے فرمایا: یہ بحث ہی غلط ہے کہ مرزا قادیانی نبی تھے کہ نہیں؟ جو لوگ ت کا مفروضہ قائم کر کے نبوت کے مفہوم و مقصد پر بحث کرتے اور مناظرہ خیال ہے وہ غلطی پر ہیں۔ سرور کائنات ﷺ کے مقابلہ میں پہلے کسی آدمی کو کھڑا کرنا ایک ایسا فعل ہے جس سے سوء ادب کا پہلو نکلتا ہے۔ رہا ظلی و بروزی کا حث میں کہیں اس اصطلاح یا اس سے ہم معنی لفظ کا تصور تو ایک طرف رہا قیاس لغت میں اس غرض سے کوئی لفظ ہے اور نہ قرنِ اوّل کے دین وادب میں اس کا کہیں نشان ملتا ہے۔
ہوں مرزائیوں سے خاتم النبیین کے لغوی، اصطلاحی یا قرآنی مفہوم پر بحث ہ غلط ہے۔ مذہب کی بنیادی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ عقائد واعمال کی جو دنیا ابہام واجمال وغیرہ کا گزر تک نہیں ہوتا۔ وہ ہر بات کھل کے کہتا اور اس کی الفاظ میں ہوتی ہے۔ اگر ظلی یا بروزی کسی نبی کے لئے اسلام میں کوئی نظریہ ہوتی تو قرآن بول اٹھتا۔ احادیث نبوی میں بات آ جاتی۔ جس پیغمبر (فداہ ظاہر ضرورت و احکام وقواعد مرتب کر دیئے ہوں اور امت کے پورے نظم
وثوق کی بنیادیں حشر تک استوار کر دی ہوں۔ کیا وہ نبی ہم سے یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ میری تعلیم کے احیاء کو وقتاً فوقتاً ظلی یا بروزی قسم کے نبی آتے رہیں گے۔ ظاہر ہے کہ قرآن وحدیث میں ایسا کوئی اشارہ یا کنایہ بھی موجود نہیں؟ رہ گیا خاتم النبیین کے معانی کا تصور تو اس پر اجماع امت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ قطعی ہے۔ صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء اور صلحاء سب کے سب حضور کی ختم المرسلینی پر ایمان رکھتے تھے اور ان کے بعد کسی طرز کے نبی کی آمد کے قائل نہ تھے۔ نہ انہوں نے کبھی اس باب میں کوئی خفی سے خفی کلمہ کہا یا اشارہ کیا۔ یہ تو ہوتا رہا کہ نبوت کے مدعیوں کو سزا ملتی رہی اور وہ مارے گئے۔ لیکن یہ کبھی نہ ہوا کہ ان کے لئے کسی حلقہ سے کوئی تائید کی آواز اٹھی؟ یا کوئی حدیث سامنے آئی؟ یا قرآن کی کسی آیت کو تاویل کا بازیچہ بنایا گیا۔ کسی نے کبھی اس کے جواز پر سوچا تک نہیں اور نہ ان مصنوعی نبیوں کی اولاد نے خلافت کا سوانگ رچایا۔ یہ تنہا مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات ہے کہ برطانوی عہد میں ان کی نبوت قائم ہوئی۔ پروان چڑھی، اس کو آب ودانہ مہیا کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک باقاعدہ جماعت بن کر خلافت ہوگئی اور اب اس کے دماغ میں ایک سلطنت قائم کرنے کا خواب نقش ہو چکا ہے۔
اصل بنیاد
- ......١ مرزائیت کی اصل بنیاد دین نہیں سیاست ہے۔ اس کا مطالعہ دینی اعتبار
سے نہیں بلکہ سیاسی اعتبار سے کرنا چاہئے۔ ان سے مذہبی بحث چھیڑنا ہی غلط ہے۔ ان کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہئے۔ جیسا کہ علامہ اقبال کا خیال تھا۔
- ......٢ اگر ہم سلطان ٹیپو کی شہادت ١٧٩٩ء سے لے کر بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری
١٨٥٧ء تک کے احوال ووقائع پر نظر رکھیں تو ہمیں مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور ان کے جانشینوں کی خلافت کے احوال وظروف کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس کی نیو رکھنے میں بالواسطہ اور بلاواسطہ کون سے عوامل ومحرکات کا ہاتھ شامل رہا ہے۔
- ......٣ انگریزوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کے ہاتھ سے سلطنت لے کر
محسوس کیا۔ جیسا کہ سرولیم میور لیفٹیننٹ گورنر یوپی نے کہا تھا کہ: برطانوی عملداری کی راہ میں دو رکاوٹیں ہیں۔ ایک محمد کی تلوار، دوسرا محمد کا قرآن، محمد کی تلوار کو تنسیخ جہاد کے نظریہ سے توڑنا چاہا۔ بعض مذہبی فرقے اور ان کے فتاویٰ ممد ہوئے۔ لیکن انگریزوں کو مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات سے اندازہ ہوا کہ مسلمان بہ الفاظ اقبال ایک ہی چیز سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ ربانی سند ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے یہ فرض بکمال انجام دیا۔ جہاد منسوخ کیا۔ گویا اس طرح محمد کی تلوار کے
لئے نیام بننا چاہا۔ خود کو محمد کی مثل (خاکم بدہن) کہا اور طرح قرآن سے جہاد کی آیات ساقط کرنی چاہیں۔ نتیجتاً سرحد سے ملحق پنجاب کے قلب میں بیٹھ کر برطانوی شہنشاہیت کی غلامی کے لئے الہامی بنیاد قائم کی۔ فی الجملہ مرزائیت سیاسی دینیات کا درجہ رکھتی ہے۔
- ٤....... مرزا قادیانی نے یہی نہیں کیا بلکہ اس عمارت کی نیو اٹھانے کے لئے انہوں
نے مسلمانوں کی ذہنی زمین کو ہموار کرنا چاہا۔ آب و ہوا کا رخ بدلا۔ غرض وہ مسلمان جو سلطان ٹیپو کے جہاد میں شعلہ جوالہ ثابت ہوئے تھے۔ جنہوں نے سراج الدولہ کے وجود میں تلوار کی آبرو رکھی تھی جو بہادر شاہ ظفر کے عہد میں جنگ آزادی کا مواد لے کر اٹھے تھے۔ ان کے باقیات، سید احمد شہید کی تحریک اور اس کے برگ و بار جنگ امبیلہ کے نتائج واثرات، انبالہ، پٹنہ، راج محل، مالوہ اور پٹنہ میں علماء کے پانچ مقدمات، علماء کا شوق جہاد وشہادت، سرحدی علاقے میں جہاد وغزا کی فراوانی، ان تمام واقعات نے مرزا غلام احمد قادیانی کے وجود کو برطانوی مصالح و مقاصد کی خاک سے اٹھایا اور وہ مسلمانوں کے مزاج کا رخ بدلنے میں منہمک ہو گئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی خصوصیات
انہوں نے مسلمانوں کو فضول مذہبی مباحث میں الجھا دیا۔ مثلاً :
- الف....... برطانوی فاتحوں سے ہٹا کر برطانوی پادریوں سے الجھا دیا۔ جس سے
تلوار کی جگہ زبان نے لے لی اور جہاد کی امنگ سرد پڑ گئی۔ ذہنی زاویے بدل گئے۔
- ب....... آریہ سماجیوں سے اس طرز کے مناظروں کی نیو رکھی کہ دشنام کے جواب
میں دشنام کا جھگڑا تھا اور مرزا قادیانی کے جواب میں ستیارتھ پرکاش کے اس باب کا اضافہ ہوا۔ جس میں قرآن ورسالت پر سب وشتم کیا گیا۔
- ج....... خلافت کے تصور پر بحثیں ہونے لگیں کہ یہ ایک مذہبی ادارے کو مستلزم ہے
یا کسی اسلامی ریاست کا فرمانروا، ان مسلمانوں کا بھی خلیفہ ہو سکتا ہے جو اس کی فرمانروائی کے علاقہ میں آباد نہ ہوں، حکومت غیر مسلموں کے ہاتھ میں ہو اور وہ اس کی رعایا ہوں۔
- د....... ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالاسلام۔
- ہ....... اولی الامر منکم کی شرحیں۔
- و....... احادیث میں مہدی کے ورود کی پیش گوئی کا مطلوب اور نوعیت۔
اس فضاء کے پیدا ہوتے ہی انگریزوں کو استحکام سلطنت کا موقع مل گیا۔ مسلمانوں کے فکر وعمل کا میدان بدل گیا اور یہ ایک ایسی خدمت تھی جس کے نتائج واثرات ایک پراسرار
وحیرت انگیز تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتے ہیں۔ جس سے برطانوی عہد میں مسلمانوں کی ذہنی ویرانی اور قومی بربادی کا پورا نقشہ معلوم ہو سکتا ہے۔
ارشاد اقبال
علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کی سیاسی وحدت کو اس وقت نقصان پہنچتا ہے جب مسلمان سلطنتیں آپس میں ایک دوسرے سے لڑتی ہیں اور مذہبی وحدت اس وقت ٹوٹتی ہے جب خود مسلمانوں میں سے کوئی جماعت ارکان و اوضاع شریعت سے بغاوت کرتی ہے۔ مرزا قادیانی کا یہی جرم خطرناک ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی مذہبی وحدت کو شکست کیا۔ علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ جب سیاسی وحدت منتشر ہو تو مذہبی وحدت ہی ملت کے وجود کو باقی رکھتی ہے۔ اب اگر مسلمانوں کا کوئی طبقہ یہ کہتا ہے کہ دینی وحدت کے باغیوں سے رواداری برتی جائے اور صرف اس حیثیت سے کہ وہ اقلیت میں ہیں۔ انہیں اجازت دی جائے کہ وہ ایک دینی وحدت کی ہر مقدس اینٹ کو اکھاڑتے چلے جائیں تو وہ اقبال ہی کے الفاظ میں دینی حیات سے نہ صرف عاری ہے بلکہ پست فطرت بھی ہے۔ کیونکہ اس کو اس امر کا احساس نہیں کہ اس صورتحال میں الحاد غداری، اور رواداری خود کشی کا درجہ رکھتی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک ایک یورپی دانشور کے الفاظ میں رواداری مختلف المعنی احساس و تاثر رکھتی ہے۔ مثلاً فلسفی کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر صحیح ہیں۔ مؤرخ کے نزدیک غلط، مدبر کے نزدیک مفید، ہر نوعی فکر وعمل کے انسان کے نزدیک کہ وہ ہر فکر وعمل سے خالی ہوتا ہے۔ اس رواداری کی ہر شکل گوارا ہے۔ اسی طرح ایک کمزور آدمی کی رواداری ہے جو اپنے محبوب اشیاء اور بنیادی عقائد کی ذلت و رسوائی چپ چاپ سہے جاتا ہے۔
مرزائیوں کا وظیفہ حیات
اپنے معرض وجود میں آنے سے لے کر اب تک مرزائیوں نے بتدریج جو نقشہ قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ:
- الف ...... مسلمانوں کے تعلیم یافتہ طبقے (بالخصوص وہ لوگ جو انگریزی تعلیم یافتہ ہیں
اور بوجوہ دین میں اخلاص نہیں رکھتے یا اس کو انسان کا ذاتی فعل سمجھتے ہیں) کو اس غلط دین پر لاکھڑا کیا کہ قادیانی بھی گویا مسلمانوں کے فرقوں ہی میں سے ایک فرقہ ہیں اور ان کی مخالفت بھی ملا ازم ہی کے برگ و بار میں سے ہے۔
- ب ...... مرزائی من حیث الجماعت مسلمانوں کا ہر دینی و معاشرتی میدان میں
مقاطعہ کرتے اور انہیں کافر تک سمجھتے ہیں۔ مثلاً مسلمانوں کے ساتھ نماز تک نہیں پڑھتے۔ ان کے
جنازوں میں شریک نہیں ہوتے۔ جیسا کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے منیر انکوائری کمیشن کے روبرو قائد اعظم کا جنازہ نہ پڑھنے کا اعتراف کیا۔ لیکن سیاسی طور پر مسلمانوں سے الگ نہیں ہوتے۔ صرف اس لئے کہ اس طرح سیاسی فوائد حاصل کرنے اور ملکی اقتدار حاصل کرنے کے مدۃ العمر سے آرزومند ہیں۔
پاکستان کے بعد
پاکستان بن جانے سے پہلے جب تک برعظیم آزاد نہیں ہوا۔ ان کا اجتماعی وظیفہ انگریزوں کی تائید واعانت کرتا رہا۔ پھر جب قومی تحریکیں مضبوط ومستحکم ہو گئیں تو یہ سیاسی پینترے بدلتے رہے۔ لیکن اپنی اس حیثیت کو لمحہ بھر کے لئے بھی ترک نہ کیا کہ ان کا وجود برطانوی حکومت کے آلہ کار کا ہے۔ ایک مرحلہ میں انہوں نے لاہور ریلوے اسٹیشن پر پنڈت جواہر لال نہرو کا بھی استقبال کیا۔ مقصود بہ قول اقبال یہ تھا کہ بشیر الدین محمود اس انداز میں حکومت کے ہاں ویٹو داخل کر رہا تھا۔ میں ناراض ہوں مجھے راضی کرو۔ اسی زمانہ میں ایک ہندو کانگرسی نے اس مطلب کا مضمون لکھا کہ قادیانی جماعت عام مسلمانوں کی بہ نسبت ہندستان کی زیادہ وفادار ہے کہ وہ پیغمبر عرب کی بجائے ایک ہندوستانی پیغمبر کی پیروکار ہے۔ غرض ان احوال وافکار اور واقعات وحالات نے مرزا بشیر الدین محمود میں برطانوی حکومت کی گرتی ہوئی دیوار کے ملبہ سے اپنے سیاسی اقتدار کا قصر اٹھانے کی خواہش پیدا کی۔ مرزا غلام احمد نے ایک امت تیار کی۔ مرزا بشیر الدین محمود نے جو خلیفہ سے زیادہ، شاطر تھے اس امت میں عصبیت پیدا کر کے حصول اقتدار کا ایک طویل منصوبہ تیار کیا۔ جس کی پشت پناہی کے لئے اپنے والد کے الہام اور اپنے القاء اور خواب وضع کئے۔
ہوا کیا
غور کیجئے کہ قادیانی جماعت جس نے کبھی تحریک استخلاص وطن کا ساتھ نہیں دیا۔ خلافت عثمانیہ کی تاراجی پر چراغاں کیا اور انگریزی حکومت کی اطاعت وجاسوسی اپنا جزو ایمان سمجھا۔ ایکا ایکی اور اپنی زندگی میں پہلی دفعہ ١٩٣١ء میں کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی علمبردار ہو گئی۔ برٹش میوزیم سے کبھی اس زمانہ کی سیاسی دستاویز ہاتھ آئیں تو یہ عقدہ کھلے گا کہ مرزا بشیر الدین محمود نے کن اغراض ومقاصد کے تحت یہ قدم اٹھایا تھا۔ ان کی پشت پر کون تھا اور یہ سارا ناٹک کس لئے رچایا گیا۔ کشمیر کی سرحد پر روس کی نگاہیں کیا دیکھ رہی تھیں اور مسلمانوں کا ذہن کس طرف جا رہا تھا۔ مرزا بشیر الدین محمود کس مخفی اشارے پر مہرہ بن کر آگے آئے تھے؟ یہ ساری کہانی ایک طاقتور قلم کے انکشاف کی منتظر ہے۔
مرزا قادیانی کی زبانی
تاریخ احمدیت جلد ششم مؤلفہ دوست محمد شاہد کے ص ٣٤٥ اور ٤٧٩ پر بروایت مرزا بشیر الدین محمود مرقوم ہے کہ جماعت احمدی کو کشمیر سے دلچسپی کیوں ہے۔
- اولاً ...... کشمیر اس لئے پیارا ہے کہ وہاں تقریباً اسی ہزار احمدی ہیں۔
- ثانیاً ...... وہاں مسیح اوّل دفن ہیں اور مسیح ثانی (مرزا غلام احمد قادیانی ناقل) کی بڑی
بھاری جماعت اس میں موجود ہے۔
- ثالثاً ...... جس ملک میں دو مسیحوں کا دخل ہے وہ بہرحال مسلمانوں کا ہے اور
مرزا قادیانی کے نزدیک مسلمان ان کے پیروکار ہیں۔
(ص ٦٧٩)
- رابعاً ...... نواب امام الدین جنہیں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے گورنر بنا کر کشمیر بھجوایا تھا وہ
اپنے ساتھ بطور مددگار ان کے دادا (مرزا بشیر الدین محمود کے الفاظ میں) یعنی مرزا غلام مرتضیٰ کو بہ اجازت مہاراجہ رنجیت سنگھ ساتھ لے گئے تھے۔
- خامساً ...... ان کے استاد جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ اور ان کے خسر حضرت مولوی
حکیم نور الدین کشمیر میں بطور شاہی حکیم کے ملازم رہے تھے۔
(ص ٣٤٥)
جادو وہ جو سر چڑھ بولے
چنانچہ مرزا بشیر الدین نے ٢٨ دسمبر ١٩٥٦ء کے سالانہ جلسہ میں بروایت تاریخ احمدیت خدائی تصرف والقا کے تحت عظیم الشان آسمانی انکشاف کرتے ہوئے فرمایا: ”مایوس نہ ہو اور خدا تعالیٰ پر توکل کرو۔ اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ کے اندر ایسے سامان پیدا کر دے گا۔ آخر دیکھو یہودیوں نے تیرہ سو سال انتظار کیا اور پھر فلسطین میں آگئے۔ مگر آپ لوگوں کو تیرہ سو سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ ممکن ہے تیرہ بھی نہ کرنا پڑے۔ ممکن ہے دس بھی نہ کرنا پڑے اور اللہ تعالیٰ اپنی برکتوں کے نمونے تمہیں دکھائے گا۔“
(ص ٧٨، ماخوذ الفضل، مورخہ ١٥ مارچ ١٩٥٧ء)
آغا صاحب نے نہایت شرح وبسط سے اس کا تجزیہ کیا کہ قادیانی خلیفہ اس طرح گویا ریاست اسرائیل کے قیام کو انعام خداوندی سے تعبیر کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو ان سے نسبت پیدا کر کے امید خوش دلاتا ہے۔ آغا صاحب نے علامہ اقبال کی اس دوراندیشی کا بھی ذکر کیا کہ آج سے تیس برس پہلے انہوں نے فرمایا تھا کہ: ”احمدیت یہودیت سے قریب تر ہے۔“
آغا صاحب نے اس ضمن میں مرزائیوں کے مختلف الہاموں اور بشارتوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور اس ضمن میں بتایا کہ تاریخ احمدیت کی اسی جلد کے ص ٣٩٥ پر خلیفہ اوّل کا
انکشاف درج ہے کہ ریاست کشمیر اور ہمالیہ کے دامن میں آباد مسلم آبادی کا اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ کوہ ہمالیہ سے شروع کرتے ہوئے بلوچستان اور ڈیرہ غازیخان کے سب پہاڑی سلسلے گئے۔
آغا صاحب نے اس حوالہ کے ساتھ اس امر کی وضاحت کی کہ کشمیر میں مسیح ”ربوہ کا انتخاب‘ بلوچستان میں اراضی کی وسیع خریداری اور بشیر الدین محمود کے اس ضمن میں ایک اسٹیٹ قائم کرنے سے متعلق خطبات کو باہم دگر ملا کر پڑھیں اور سوچیں تو بہت سی پہیلیاں خود بخود کھلتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔
ہمارے امراء و فضلاء
آغا صاحب نے افسوس ظاہر کیا کہ جس ”نبوت“ کو اقبال نے سٹہ بازی سے تعبیر کی تھا۔ ہمارے امراء و فضلاء اس کے نتائج و عواقب پر غور نہیں کرتے۔ بلکہ بلاواسطہ اس کی معاونت کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس ”نبوت“ کی بدولت نہ صرف آخرت کی متاع ضائع ہو رہی ہے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی دینی وحدت میں پاکستان اس لحاظ سے مشتبہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا انحصار احمدیت کی سیاسی پشت و پناہ کے نتائج پر ہے۔
آغا صاحب نے اس ضمن میں ایک خاص نکتہ پر زور دیا کہ عرب دنیا کو قادیانیت کا پورا پتہ چل جائے تو پاکستان کی دینی آبرو کو گزند پہنچے گا اور اگر احمدیت سیاسی اقتدار حاصل کرلے تو عرب یہ سوچنے میں حق بجانب ہوں گے کہ اس نبوت، اس امت اور ان کی وساطت سے اس مملکت کو اسلام سے کیا نسبت ہے؟ جن عربوں نے عجمی فقہا کو تسلیم نہیں کیا وہ ایک ہندوستانی یا پاکستانی نبی پر کیسے راضی ہو سکتے ہیں۔ جس سے اسلام کے تصور حیات اسلام کے تصور سیاست اور اسلام کے تصور وحدت کا پورا کارخانہ درہم برہم ہو جاتا ہے۔
آغا صاحب نے کہا کہ قادیانی غیر عرب مسلمان ریاستوں کے مابین اپنے وجود سے ایک دوسری اسرائیلی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے حکومت کی اہم کلیدی اسامیوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ملک کی صنعتی ترقی پر اپنے تناسب سے بڑھ کر قابض ہیں۔ اکثر مالیاتی اداروں پر ان کا تصرف ہے اور ان شعبوں میں کثرت سے داخل ہو چکے اور ہو رہے ہیں جن کے ہاتھ میں ملک کی حفاظت اور مدافعت ہوتی ہے۔
صدر ایوب سے گزارش
آغا صاحب نے فرمایا: میں صدر مملکت سے گزارش کرتا ہوں کہ اس جماعت کی کڑی
ہے کہ ریاست کشمیر اور ہمالیہ کے دامن میں آباد مسلم آبادی کا اسلام کی نشاۃ گہرا تعلق ہے۔ کوہ ہمالیہ سے شروع کرتے ہوئے بلوچستان اور ڈیرہ غازیخان تک پھیلتے گئے۔
صاحب نے اس حوالہ کے ساتھ اس امر کی وضاحت کی کہ کشمیر میں مسیح ”ربوہ کا ن میں اراضی کی وسیع خریداری اور بشیر الدین محمود کے اس ضمن میں ایک اسٹیٹ متعلق خطبات کو باہم دگر ملا کر پڑھیں اور سوچیں تو بہت سی پہیلیاں خود بخود کھلتی ہیں۔
وفضلاء
صاحب نے افسوس ظاہر کیا کہ جس ”نبوت“ کو اقبال نے سٹہ بازی سے تعبیر کی و فضلاء اس کے نتائج وعواقب پر غور نہیں کرتے۔ بلکہ بلاواسطہ اس کی معاونت ا کہ اس ”نبوت“ کی بدولت نہ صرف آخرت کی متاع ضائع ہورہی ہے بلکہ دنیا می وملی وحدت میں پاکستان اس لحاظ سے مشتبہ ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کا انحصار تک و تاز کے نتائج پر ہے۔
حب نے اس ضمن میں ایک خاص نکتہ پر زور دیا کہ عرب دنیا کو قادیانیت کا پورا ستان کی دینی آبرو کو گزند پہنچے گا اور اگر احمدیت سیاسی اقتدار حاصل کر لے تو حق بجانب ہوں گے کہ اس نبوت، اس امت اور ان کی وساطت سے اس کیا نسبت ہے؟ جن عربوں نے عجمی فقہا کو تسلیم نہیں کیا وہ ایک ہندوستانی یا می ہو سکتے ہیں۔ جس سے اسلام کے تصور حیات، اسلام کے تصور سیاست اور ت کا پورا کارخانہ درہم برہم ہو جاتا ہے۔
ب نے کہا کہ قادیانی غیر عرب مسلمان ریاستوں کے مابین اپنے وجود سے ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انہوں نے حکومت کی اہم کلیدی ا ہے۔ ملک کی صنعتی ترقی پر اپنے تناسب سے بڑھ کر قابض ہیں۔ اکثر تصرف ہے اور ان شعبوں میں کثرت سے داخل ہو چکے اور ہورہے ہیں جن اقت اور مدافعت ہوتی ہے۔
ارش
نے فرمایا: میں صدر مملکت سے گزارش کرتا ہوں کہ اس جماعت کی کڑی
نگرانی رکھیں اور اس امر کی تحقیق کرائیں کہ:
- ١...... کیا مرزائی اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
- ٢...... کیا یہ دوسرا اسرائیل اپنے وجود سے قائم کرنے کے متمنی ہیں۔
- ٣...... ان کا تعلق مغرب کی استعماری طاقتوں کے ساتھ تو نہیں؟ ان کے مشن
مختلف ملکوں میں تبلیغ کرتے ہیں یا کچھ اور فرائض و احکام بجالاتے ہیں؟
- ٤...... ان صراحتوں اور وضاحتوں کی موجودگی میں کیا یہ بات غور طلب نہیں کہ
کشمیر سے ان کی دلچسپی اپنی ریاست قائم کرنے کے مفروضہ پر ہے۔
- ٥...... جنرل گریسی نے کشمیر کے جہاد میں اوّلاً، پس و پیش کیا۔ ثانیاً، قائد اعظمؒ
کے احکام سے اختلاف کیا۔ ثالثاً، لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو مطلع کیا۔ لیکن تعجب ہے کہ کمانڈر انچیف افواج پاکستان کی حیثیت میں قادیانیوں کی فرقان بٹالین کو خوشنودی اور سپاس کا خط لکھا۔ یہ خط اس تاریخ احمدیت کے ص٢٧٢ پر درج ہے۔ کیا پاکستان میں مسلمانوں کی کسی بھی دوسری جماعت کی رضا کارانہ تنظیم کو آج تک یہ خصوصیت حاصل ہوئی ہے؟
- ٦...... کیا یہ صحیح ہے کہ جولائی اگست ١٩٤٨ء میں قادیانی جماعت کی طرف سے
اس مفہوم کا پمفلٹ تقسیم کیا گیا کہ مسیح موعود کے پیروکار ہی کشمیر فتح کریں گے۔ یہ ان کے الہام اور مرزا بشیر الدین محمود کی پیش گوئی کو سچا کرنے کی ایک جسارت تھی؟
- ٧...... کیا شاستری کی موت بھی مرزا غلام احمد کے الہامات کا حصہ قرار دی گئی
اور اس ضمن میں پمفلٹ شائع کیا گیا۔ اس پمفلٹ کو خود میں نے دیکھا اور پڑھا ہے۔
- ٨...... کیا یہ صحیح ہے کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان نے اپنی پیش گوئیوں کی اصل پر
ڈاکٹر جاوید اقبال کی معرفت بیرون پاکستان سے ایک پیغام بھیجا تھا۔
آغا صاحب نے ان اشارات کو بیان کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ جن لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں ان کی طرف سے پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اور سبھی کچھ ہوسکتا ہے۔ لیکن مرزائی اپنی حکومت کسی علاقے پر قائم نہیں کر سکتے اور نہ ہم ان کی عیاریوں کو پنپنے کا موقع دے سکتے ہیں۔ البتہ صدر مملکت سے یہ التماس ضرور ہے کہ وہ اس فرقہ ضالہ کے سیاسی ہتھکنڈوں سے باخبر رہیں۔ جس جماعت کے پیروکار محمد عربی ﷺ کے مقابلہ میں ایک فرضی نبوت کے داعی ہو سکتے ہیں اور انہیں مسلمانوں کی قومی وحدت یا دینی عمارت کو نقب لگاتے ہوئے عار محسوس نہیں ہوتی۔ وہ ان شواہد و نظائر کی موجودگی میں حکومت پاکستان اور صدر مملکت کے کب اور
کہاں وفادار رہ سکتے ہیں۔ ان کا موجودہ شعار صدر مملکت کو جمہور المسلمین سے برگشتہ کرنا اور ان کے فعال عنصر کے خلاف تہمتیں جڑ کے مخبریاں گھڑنا ہے۔ انہیں جو تحفظات اس وقت حاصل ہیں وہ ایک ایسا حصار ہے جس میں وہ محفوظ ہیں۔ لیکن مسلمانوں پر اپنے ترکش کے زہر میں بجھے ہوئے تیر چھوڑتے رہتے ہیں۔ تاکہ کسی دن منزل مقصود تک پہنچ سکیں۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ١٩، مورخہ ٨؍ مئی ١٩٦٧ء)
٢...... قادیانی ایک سیاسی امت ہیں، ہم ان سے غافل نہیں رہ سکتے ہیں
ہم قادیانی امت کی عزت و آبرو کے دشمن نہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے پاکستان کی اس اقلیت کی حفاظت ہمارا اسلامی فرض ہے اور اس فرض سے ہم کسی حالت میں بھی روگردانی نہیں کر سکتے۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ:
- ١...... قادیانی امت جب مسلمانوں سے مذہباً علیحدہ ہو چکی ہے اور اس نے
اس کا فیصلہ خود کیا ہے تو پھر وہ سیاستاً مسلمانوں میں کیوں رہ رہی ہے۔ سیدھا سادا سوال ہے۔ قادیانی خلیفہ ثالث اس کا جواب مرحمت فرمائیں کہ جو مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے اور نہ اس کی ضرورت کے قائل ہیں کیا وہ ان کے نزدیک مسلمان ہیں اور مرزا قادیانی کے انکار سے وہ کافر نہیں ہو جاتے۔ اگر وہ کافر ہو جاتے ہیں تو پھر سواد اعظم میں قادیانی امت کس اصل کی بناء پر شامل رہنا چاہتی ہے۔ کیا یہ ایک سیاسی ہتھکنڈہ نہیں؟ ہم اسی سیاسی فریب کا طلسم توڑنا چاہتے ہیں۔
- ٢...... دوسری گذارش یہ ہے کہ اس جماعت کے پیروکار مسلمانوں کی ان مقدس
اصطلاحوں کو اپنے رہنماؤں اور اپنی جماعت سے منسوب نہ کریں۔ جو لفظ و معنی کے اعتبار سے حضور سرور کائنات ﷺ، ان کے صحابہؓ اور ان کے اہل بیتؓ کے لئے تاریخ دینیات میں مخصوص ہوچکے ہیں۔ اس سے جمہور المسلمین کی دلآزاری ہوتی ہے۔ مثلاً مرزا غلام احمد کی بیویوں کو امہات المؤمنین کہنا، کسی صاحبزادی کو سیدۃ النساء کا لقب دینا اور مرزا بشیر الدین محمود کی والدہ کو ”ملکہ دو جہاں“ لکھنا ہمارے نزدیک سخت قابل اعتراض ہے۔ اسی طرح خاندان کے افراد میں سے کسی کو قمر الانبیاء کہنا۔ کسی کو خلیفہ راشد لکھنا پھر اس کو خلفائے راشدین میں کسی ایک ”خصوصیت“ کی بناء پر افضل قرار دینا اس قسم کی گستاخیاں ہیں کہ طبیعت کو طیش آتا ہے۔ جب مرزا قادیانی کے پیروکار اپنی انفرادیت کو نمایاں کرنے کے لئے اپنا کیلنڈر بھی علیحدہ کر چکے ہیں تو انہیں خاندان
نبوت ہی کے اثاثہ پر ڈاکہ ڈالنے کی ضرورت کیوں لاحق ہوئی ہے۔ کیا اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور بھی ہے کہ قادیانی اقلیت میں ہیں اور وہ سواد اعظم مسلمانوں میں رہ کر اپنے اقتدار کے لئے بال و پر پیدا کر رہے ہیں۔
- ٣...... تیسری بات جس کا محاسبہ نہایت ضروری ہے وہ قادیانی امت کے اعمال
وافكار کی سیاسی نگرانی ہے۔ کیونکہ ہم یقین سے اس امت کو عجمی مسلمانوں کے مابین ایک عجمی اسرائیل خیال کرتے ہیں۔ جس کا احساس اس وقت مسلمانوں کے سواد اعظم کی سیاسی قیادت کو نہیں ہے۔
ان تین چیزوں کے علاوہ ہمیں مرزائی امت کے تعاقب سے کوئی سروکار نہیں۔ مائی ڈیر شاہ سلامت، ہمارے صفحات گواہ ہیں کہ ہم نے ان پر کبھی ذاتی حملہ نہیں کیا۔ حالانکہ تاریخ محمودیت موجود ہے اور اس کے مصنف ومؤلف بھی زندہ ہیں۔ ہم نے کبھی کسی فرد کا نام لے کر اس کے ذاتی چال چلن پر بحث نہیں کی۔ ہم بد زبانی کو گناہ سمجھتے ہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ جب کبھی چٹان میں اس جماعت کا سیاسی محاسبہ ہوا ہے قادیانی امت کے بعض نفوس پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑ گئے ہیں۔ وہ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیتے اور نہ اس سوال کا جواب مرحمت فرماتے ہیں جو ان سے واضح الفاظ میں دریافت کیا جاتا ہے۔
ایڈیٹر چٹان کو گالیاں دینا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو برا بھلا کہنا یہ کسی سوال کا جواب نہیں۔ اس ضمن میں ہمارا قادیانی دوستوں کو صحیح مشورہ یہی ہے کہ وہ ادب کو ملحوظ رکھیں۔ اگر انہیں یہ غلط فہمی ہے کہ اس طرح وہ مرعوب کر لیں گے یا گالی دے کر ان کی بات دلیل ہو جائے گی تو بہتر ہے کہ تصحیح فرمالیں۔ اس طرح کوئی شخص بھی قائل معقول نہیں ہو سکتا ہے۔
سوال ان کے دین پر کیا جاتا ہے۔ جواب وہ سیاست سے دیتے ہیں۔ بجائے خود یہی دلیل بس کرتی ہے کہ مرزائی امت اصلاً ایک سیاسی جماعت ہے جو سیاسی اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایک مدت سے مسلمانوں کی وحدت میں سرنگ لگا رہی ہے۔ غور کیجئے مسئلہ یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی نبوت اور ان کے پیروؤں کی امت مسلمانوں کی سیزدہ صد سالہ وحدت کو تاراج کر رہی ہے۔ سوال علامہ اقبالؒ نے اٹھایا تھا۔ لیکن جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تحریک پاکستان کے مخالف تھے۔ ایڈیٹر چٹان نے مسلم لیگ کی سیاسی بیعت نہیں کی تھی۔ جواب اس سطح پر بھی ہو سکتے ہیں اور یہ سطح کوئی بلند نہیں۔ لیکن ان جوابات میں جو دراصل الزامات ہیں ان سوالات کا جواب کہاں ہے۔ جن کا اطلاق مرزا قادیانی کی نبوت اور ان کے جانشینوں کی سیاست پر ہوتا ہے۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری تحریک پاکستان میں نہیں تھے۔ ایڈیٹر چٹان کو بھی اعتراف ہے کہ اس نے مسلم لیگ میں کبھی شمولیت نہیں کی۔ لیکن یہ کوئی دینی بغاوت نہیں؟ اور نہ اس پر کسی فرد سے عفوخواہ ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ دو ذہنوں کے سیاسی رجحان کا مسئلہ تھا۔ جو پاکستان بن جانے کے بعد ختم ہو گیا۔ اب جو پاکستان میں ہے وہ پاکستان کا وفادار اور جانثار نہیں تو گردن زدنی ہے۔ لیکن عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ایڈیٹر چٹان کا سیاسی جرم اس جرم کے مقابلہ میں کوئی جرم ہی نہیں۔ قادیانی امت نے اسلام سے بغاوت کر کے جس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ مسلم لیگ میں شامل نہ ہونے یا قائد اعظمؒ کی سیاسی قیادت کو اس مرحلے میں تسلیم نہ کرنے کی اسلامی تعزیرات میں کوئی سزا نہیں اور نہ قرآن کے تصور توحید و رسالت کو ضعف پہنچتا ہے۔ لیکن جن تصورات پر قادیانی امت کی بنیاد ہے۔ پاکستانی تعزیرات میں اس کی سزا بے شک نہ ہو۔ جیسا کہ نہیں ہے ہم پاکستان کی حکومت سے اس تعزیر کا مطالبہ نہیں کرتے۔ لیکن اس خواہش کا اظہار ضرور کرتے ہیں کہ وہ مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ جماعت تسلیم کرتے ہوئے انہیں ایک اقلیت قرار دے۔
بتائیے اس میں خوفزدہ کرنے کی کیا بات ہے۔ اپنے حدود کی حفاظت کرنا جرم ہے؟ پاکستان کی سرحدوں پر فوج رہتی ہے کس لئے صرف اس لئے کہ ان کی حفاظت ہوتی رہے اور کوئی بدبخت انہیں پامال کرنے کی جسارت نہ کرے؟ کیا اسلام کی سرحدوں کا محافظ ہونا جرم ہے۔ کس ضابطہ کی رو سے؟ اور وہ کون سی رواداری ہے جو ان سرحدوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت دیتی ہے؟
قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ سب سے پہلے علامہ اقبالؒ نے کیا تھا۔ وہ احراری نہیں تھے۔ سر مرزا ظفر علیؒ جج لاہور ہائی کورٹ نے یہی آواز اٹھائی۔ انہیں بھی کوئی شخص احراری نہیں کہہ سکتا۔ مولانا ظفر علی خانؒ مسلم لیگ میں تھے۔ عمر بھر مرزائی امت کا تعاقب کرتے رہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے کلمۃ الحق بلند کیا۔ انہیں احرار سے کبھی واسطہ نہیں رہا۔ الیاس برنیؒ احراری نہیں، مولانا ابوالحسن علی ندوی احراری نہیں لیکن ان کا متفقہ محاسبہ موجود ہے۔
مرزائی کب تک اپنے مسئلہ کو احرار کے سیاسی ماضی کی آڑ میں ملت اسلامیہ کے احتساب سے بچاسکیں گے؟ یہ بات انہیں بھی معلوم ہے کہ مسئلہ اسلام کا ہے۔ احرار کا نہیں۔ مسئلہ مسلمانوں کا ہے کسی گروہ کا نہیں؟
مرزائیوں کو غلط فہمی ہے کہ مسلمانوں کا محاسبہ کمزور پڑ جانے سے وہ پھر ایک طاقت بن
رتے ہیں کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تحریک پاکستان میں نہیں تھے۔ ایڈیٹر ہے کہ اس نے مسلم لیگ میں کبھی شمولیت نہیں کی۔ لیکن یہ کوئی دینی بغاوت ا فرد سے عفو خواہ ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ دو ذہنوں کے سیاسی رجحان کا ن جانے کے بعد ختم ہو گیا۔ اب جو پاکستان میں ہے وہ پاکستان کا وفادار اور تی ہے۔ لیکن عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ایڈیٹر چٹان کا سیاسی جرم اس جرم کے نہیں۔ قادیانی امت نے اسلام سے بغاوت کر کے جس جرم کا ارتکاب کیا ل نہ ہونے یا قائد اعظمؒ کی سیاسی قیادت کو اس مرحلے میں تسلیم نہ کرنے کی ئی سزا نہیں اور نہ قرآن کے تصور توحید و رسالت کو ضعف پہنچتا ہے۔ لیکن مت کی بنیاد ہے۔ پاکستانی تعزیرات میں اس کی سزا بے شک نہ ہو۔ جیسا ی حکومت سے اس تعزیر کا مطالبہ نہیں کرتے۔ لیکن اس خواہش کا اظہار مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ جماعت تسلیم کرتے ہوئے انہیں ایک
میں خوفزدہ کرنے کی کیا بات ہے۔ اپنے حدود کی حفاظت کرنا جرم وں پر فوج رہتی ہے کس لئے صرف اس لئے کہ ان کی حفاظت ہوتی میں پامال کرنے کی جسارت نہ کرے؟ کیا اسلام کی سرحدوں کا محافظ کی رو سے؟ اور وہ کون سی رواداری ہے جو ان سرحدوں کو خطرے یتی ہے؟
اقلیت قرار دینے کا مطالبہ سب سے پہلے علامہ اقبالؒ نے کیا تھا۔ وہ ظفر علیؒ جج لاہور ہائی کورٹ نے یہی آواز اٹھائی۔ انہیں بھی کوئی شخص نا ظفر علی خاںؒ مسلم لیگ میں تھے۔ عمر بھر مرزائی امت کا تعاقب کرتے ا نے کلمۃ الحق بلند کیا۔ انہیں احرار سے کبھی واسطہ نہیں رہا۔ الیاس برنیؒ علی ندویؒ احراری نہیں لیکن ان کا متفقہ محاسبہ موجود ہے۔
گ اپنے مسئلہ کو احرار کے سیاسی ماضی کی آڑ میں ملت اسلامیہ کے یہ بات انہیں بھی معلوم ہے کہ مسئلہ اسلام کا ہے۔ احرار کا نہیں۔ مسئلہ نہیں؟
ہتی ہے کہ مسلمانوں کا محاسبہ کمزور پڑ جانے سے وہ پھر ایک طاقت بن
گئے ہیں یا بن رہے ہیں۔ بیشک انہیں اس وقت حکومت کے مختلف دوائر میں اپنی تعداد میں سے بہت زیادہ نمائندگی حاصل ہے۔ پاکستان میں ان کے پاس کلیدی آسامیاں ہیں اور ان کی متعاقب جماعتیں اس لحاظ سے طاقتور نہیں۔ یہی غرہ تھا کہ چوہدری ظفر اللہ خان نے اس دفعہ ربوہ کے سالانہ اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ کہاں ہے عطاء اللہ شاہ، کہاں ہیں ظفر علی خاں؟ غالباً انہیں اپنی موت یاد نہیں؟...... خداوند تعالیٰ کی رحمت ان دو بزرگوں کے لئے بہشت کے دروازے کھول چکی ہے اور یہ کہنا ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ مرزا بشیر الدین محمود کہاں ہیں۔ علامہ انور شاہ نور اللہ مرقدہ نے بہاولپور کے تاریخی مقدمہ میں قادیانی جماعت کے ابوالعطاء جالندھری سے جو کہا تھا کیا چوہدری ظفر اللہ خان اس نظارہ کی تاب لا سکتے ہیں؟ ہم اس تکرار میں الجھنا نہیں چاہتے۔ ورنہ اللہ کی رضا اور حضورﷺ کے عشق دو ایسی نعمتیں ہیں کہ ہر خوف اور ہر طاقت سے بے نیاز کر دیتی ہیں۔
ہمیں معلوم ہے کہ ہماری گرفتاری میں مرزائیوں کا بھی ہاتھ تھا۔ بلا واسطہ نہ سہی بالواسطہ۔ ہمیں اس حقیقت کا بھی اندازہ ہے کہ مرزائی افسر ہمارے خلاف پخت و پز کرتے ہی رہتے ہیں۔ ہمارے کانوں تک یہ خبر بھی پہنچ چکی ہے کہ گذشتہ ایک ماہ سے مرزائی ہمارے بارے میں کیا صلاح مشورے کر رہے ہیں اور ان کے نہاں خانہ دماغ میں کیا کچھ ہے۔ ہم سازشیوں کے چہروں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ لیکن ہم ان میں کسی کو لائق مخاطبت نہیں سمجھتے؟ بے شک کوئی ہفتہ وار سب و شتم کرتا رہے یا کوئی گروہ اپنے بغض کی بناء پر ڈانڈ خانی پر اتر آئے۔ ہم یہ فرض ہر حال میں انجام دیتے رہیں گے کہ صدر مملکت کو اس جماعت کے سیاسی عزائم سے مطلع کریں؟ اور مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کو بتاتے رہیں کہ نقاب پوش جماعت کا باطنی لائحہ عمل کیا ہے؟ اس کا انحصار خود اس جماعت کے قادیانی و غیر قادیانی گماشتوں پر ہے کہ وہ کس لہجہ میں گفتگو پسند کرتے ہیں۔ جو زبان اور انداز وہ اختیار کریں گے ٹھیک اسی کے مطابق انہیں جواب ملے گا۔ البتہ ہم قانون و اخلاق کی حدوں سے کسی مرحلہ میں بھی دستبردار نہیں ہونا چاہتے۔ مولانا ظفر علی خاںؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی رحلت کے بعد ان کا مشن ختم نہیں ہو گیا۔ ان کے جانشین ابھی بفضل تعالیٰ زندہ ہیں۔ پھر یہ مولانا ظفر علی خاںؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ہی کا مشن نہیں یہ مشن سرور کائناتﷺ کے ننگ و ناموس کا مشن ہے۔ مولانا ظفر علی خاں اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اس مشن کے خدمت گار تھے۔ اللہ تعالیٰ کو ابد تک ناموس رسالتﷺ (فداہ ابی وامی) کی حفاظت مطلوب ہے۔ وہ اس کے لئے ہر دور میں خدمت گار پیدا کرتے رہے اور آئندہ بھی کرتے
رہیں گے۔ یہ ان کے محبوب کی ختم المرسلینی کا سوال ہے اور سوال اتنا ہے کہ یہ تمغہ خدمت کس کس کے حصہ میں آتا ہے؟
علامہ اقبال نے جس رخ اور پہلو سے اس جماعت کا محاسبہ کیا پھر جس فراست و دانائی سے ان کے احوال و آثار اور مقاصد و عوامل کا تجزیہ فرمایا وہ قادیانی امت کی صحیح نشاندہی ہے۔
ہمارا خیال ہے کہ علامہ اقبالؒ کے خطوط پر قادیانی امت کا محاسبہ جاری رکھا جائے اور چند اصحاب علم و نظر کی ایک جماعت ایسی ہو جو قادیانی مذہب کے سیاسی مضمرات سے حکومت اور عوام دونوں کو آگاہ کرتی رہے۔ جن خطرات کو ہم دیکھ رہے ہیں ان کے پیش نظر فی زماننا سب سے بڑی تبلیغ یہی ہے۔ اس غرض سے ایڈیٹر چٹان مختلف مکاتیب فکر کے رہنماؤں کو مدعو کر رہے ہیں۔ باہمی گفتگو کے بعد ہی بتایا جاسکتا ہے کہ حاصل گفتگو کیا رہا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٣، مورخہ ٥؍ جون ١٩٦٧ء)
٣...... انگریزوں کی شخصی یادگار، سر ظفر اللہ خاں
اپ پ اور رائٹر کے حوالے سے ٣؍ نومبر ١٩٦٧ء کی خبر ٤؍ نومبر کے پاکستانی اخبارات میں اس کا ترجمہ اپنے قلم سے نہیں بلکہ خاص سرکاری اخبار، روزنامہ مشرق سے اس کے صفحہ اوّل پر تین کالمی شہ سرخی کے ساتھ ”کیپ ٹاؤن کے پینتیس ہزار مسلمانوں نے سر ظفر اللہ کا بائیکاٹ کر دیا“ متن ہے۔
پریٹوریا ٣؍ نومبر (اپ پ۔ رائٹر) عالمی عدالت کے جج سر محمد ظفر اللہ جنوبی افریقہ کے مختصر دورے پر آج جب کیپ ٹاؤن پہنچے تو یہاں کے ٣٥ ہزار مسلمانوں نے ان کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ سر ظفر اللہ کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ گزشتہ دنوں مقامی مسلمانوں کی مختلف جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں کیا گیا۔ مقامی مسلمانوں نے جو سر ظفر کے احمدیہ فرقہ کو مسلمان تسلیم نہیں کرتے اس بات پر بھی نفرت کا اظہار کیا ہے کہ سر ظفر اللہ نے جنوبی افریقہ کا دورہ کیا۔ حالانکہ پاکستان نے آج تک اس ملک سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے ہیں۔ وہ (پاکستان) جنوبی افریقہ سے بائیکاٹ کے فیصلہ میں ابتدا ہی سے شامل ہے۔ سر ظفر اللہ کیپ ٹاؤن پہنچے تو مسلمانوں نے اپنے فیصلہ کے مطابق ان کا بائیکاٹ کیا۔ سر ظفر اللہ یہاں جس ہوٹل میں ٹھہرے وہ صرف گورے لوگوں کے لئے مخصوص ہے۔ انہوں نے آج جنوبی افریقہ کی عدالت عالیہ کے چیف جج سر کلائن کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ جس میں کہا کہ جنوبی افریقہ کی
حکومت نے ان کے ساتھ جو دوستانہ سلوک کیا وہ اس سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور وہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لئے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کریں گے۔
ظفر اللہ خان اس سے قبل جوہانسبرگ قیام کر چکے ہیں۔ جہاں شہر کے گورے میئر نے ان کے اعزاز میں دعوت دی تھی۔ کیپ ٹاؤن میں احمدیہ فرقہ کے ایک سرکردہ رہنما شیخ ابوبکر نجار نے ظفر اللہ خان کے اعزاز میں ایک دعوت کا اہتمام کیا ہے جس میں ممتاز گورے شہریوں کے علاوہ بعض سیاہ فام باشندوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
اس پر کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟ خبر خود بول رہی ہے کہ اس کے مضمرات کیا ہیں؟
- ١...... اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ظفر اللہ خان جس جماعت کے سفیر ہو کر
بیرونی ملکوں میں پھر رہے ہیں اس کی حقیقت دنیا بھر کے مسلمانوں پر آشکار ہو رہی ہے۔ کیپ ٹاؤن کے مسلمانوں نے اپنے جس عقیدہ کا اعلان کیا پھر اس ضمن مقاطعہ کا جو فیصلہ کیا وہ نہ صرف اسلام کے لئے دل کی آواز ہے بلکہ ہم پاکستانی مسلمان بھی اجتماعی طور پر ان کے شکر گزار ہیں کہ جس آواز کا یہاں آغاز ہوا تھا وہ ہر اس مقام تک جا پہنچی ہے۔ جہاں کوئی سا مسلمان رہ رہا ہے۔ بحمد اللہ کہ بیرونی ممالک کے مسلمانوں نے بھی پاکستانی مسلمانوں کے اس دینی ابتلاء کو محسوس کیا ہے۔
- ٢...... جس زمانہ میں خلیفہ ناصر یورپی ملکوں کے دورہ پر روانہ ہوا ہم نے انہی
دنوں لکھا تھا کہ عربوں کی پسپائی کے فوراً بعد خلیفہ ناصر کا یورپ اور امریکہ جانا خالی از مصلحت نہیں۔ ہماری آواز غالباً صدر مملکت تک نہیں پہنچی اور نہ ان لوگوں نے توجہ دی جو اس وقت اقتدار کی مسند پر فروکش ہیں۔ الٹا ہمیں روک دیا گیا کہ ہم تین ماہ تک لادینی کے اس پودے کو نہ چھیڑیں۔ ہمارا تعاقب جاری رہتا تو خود حکومت پاکستان کے لئے مفید ہوتا۔ ہم اس کو بتا سکتے کہ اس سفر کا مقصد کیا ہے اور جہاں جہاں ناصر قدم رکھتا ہے وہاں وہاں کیا ہوتا ہے۔
عربوں کی شکست کے زمانہ میں ناصر قادیانی کا یورپ جانا ہمارے لئے مفید ثابت نہیں ہوا۔ لگے بندھوں نے ناصر کو پاکستان میں مسلمانوں کے دینی پیشوا کی حیثیت سے پیش کیا۔ ناصر قادیانی سے سوال کیا گیا کہ عربوں اور اسرائیل کی حالیہ جنگ کے متعلق اس کا ردعمل کیا ہے؟ تو وہ طرح دے گیا۔
ہمارا دعویٰ ہے کہ ناصر خود نہیں گیا۔ بلکہ اس کو بلوایا گیا تھا کہ وہ یہ تاثر قائم کرے کہ
عربوں کا مسئلہ محض عربوں کا مسئلہ ہے۔ اسلام کا مسئلہ نہیں۔ ناصر کو دلیل ٹھہرایا گیا کہ سارے مسلمان اس سانحہ سے مضطرب نہیں ہیں۔
- ٣...... اب ظفر اللہ خان نے جنوبی افریقہ کا دورہ فرما کر سیاسی طور پر پاکستان کی
پوزیشن خراب کی ہے، حالانکہ کسی لحاظ سے بھی وہ مجاز نہیں تھے۔ نہ انہیں پاکستان کی نمائندگی حاصل ہے۔ نہ پاکستان کی حکومت نے انہیں ترجمان مقرر کیا۔ نہ ان سے اس امر کی خواہش کی کہ وہ جنوبی افریقہ جائیں۔ کیا وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے مسلمانوں کا اسلام باقی ممالک کے اسلام سے مختلف ہے؟ انہوں نے کس بوتے پر یہ کہا کہ وہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے تعلقات بہتر بنانے کے لئے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کریں گے۔ پاکستان کی جنوبی افریقہ سے کشیدگی کیا ہے؟ اپنی بنیادوں پر کوئی نہیں بلکہ نسلی امتیاز ہے جو جنوبی افریقہ کے گوروں کے رگ و ریشہ میں دوڑ رہا ہے۔ جس کی بار ہا مذمت کی گئی۔ تمام افریقہ اور تمام ایشاء بلکہ یورپ کے بیشتر ممالک بھی جس کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن جنوبی افریقہ کے گوروں کی جوں تک نہیں رینگی۔ پھر یہ بھی ایک واقعی امر ہے کہ افریقی ممالک کی نشاۃ ثانیہ جس سرعت سے ہورہی ہے۔ اس کے خلاف جنوبی افریقہ مرحوم نو آبادی نظام کا ایک استعماری اڈہ ہے۔
ظفر اللہ خان کا وہاں جانا اور چوہدری بننا اس کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ استعمار کی حسب منشاء اب تک کھیل رہے ہیں۔ انہیں پاکستان اور ہندوستان سے انگریزوں کے آنجہانی ہو جانے کی خلش ہے اور وہ مرحوم دنوں کو یاد کر کے اب خاص فرائض ملک سے باہر سر انجام دینے میں مشغول ہیں؟ ان کی جماعت کیونکہ فراموش کر سکتی ہے کہ انگریز ان کے مربی ومحسن تھے۔ وہ اسے پیدا کر کے حالات کے حوالے کر گئے ہیں۔ اس حقیقت کو چھپایا نہیں جاسکتا کہ قادیانی جہاں تہاں ہے برطانوی ملوکیت کا ایجنٹ ہے اور یہ چیز اس کے خون سے خارج نہیں ہوسکتی ہے۔
آخر ظفر اللہ خان نے جسارت کیسے کی ایک واضح اور معلوم فیصلے کے ہوتے ہوئے جنوبی افریقہ کی حکومت کا مہمان ہو؟
- ٤...... خبر میں کہا گیا ہے کہ ظفر اللہ خان جس ہوٹل میں ٹھہرے وہ صرف گوروں
کے لئے مخصوص ہے۔ تعجب ہے کہ جنوبی افریقہ کے گوروں کی اتنی سرعت سے ماہیت قلب ہوگئی اور وہ بھی اس دور کے شہزادہ گلفام سر ظفر اللہ خان کے لئے جس کی صورت میں گورے پن کی کوئی سی جھلک ہی نہیں ہے۔
پھر چیف جسٹس نے کھانے پر مدعو کیا۔ ظفر اللہ خان حکومت کے حسن سلوک سے متاثر
س عربوں کا مسئلہ ہے۔ اسلام کا مسئلہ نہیں۔ ناصر کو ذلیل ٹھہرایا گیا کہ سارے سے مضطرب نہیں ہیں۔
اب ظفر اللہ خان نے جنوبی افریقہ کا دورہ فرما کر سیاسی طور پر پاکستان کی ہے حالانکہ کسی لحاظ سے بھی وہ مجاز نہیں تھے۔ نہ انہیں پاکستان کی نمائندگی ستان کی حکومت نے انہیں ترجمان مقرر کیا۔ نہ ان سے اس امر کی خواہش کی کہ میں۔ کیا وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے مسلمانوں کا اسلام باقی سے مختلف ہے؟ انہوں نے کس بوتے پر یہ کہا کہ وہ پاکستان اور جنوبی افریقہ انے کے لئے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کریں گے۔ پاکستان کی جنوبی افریقہ ؟ اپنی بنیادوں پر کوئی نہیں بلکہ نسلی امتیاز ہے جو جنوبی افریقہ کے گوروں کے رگ ہے۔ جس کی بار ہا مذمت کی گئی۔ تمام افریقہ اور تمام ایشاء بلکہ یورپ کے بیشتر کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ لیکن جنوبی افریقہ کے گوروں کی جڑوں تک بھی ایک واقعی امر ہے کہ افریقی ممالک کی نشاۃ ثانیہ جس سرعت سے ہو رہی ے جنوبی افریقہ مرحوم نو آبادی نظام کا ایک استعماری اڈہ ہے۔ خان کا وہاں جانا اور چوہدری بننا اس کے سوا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ وہ استعمال تک کھیل رہے ہیں۔ انہیں پاکستان اور ہندوستان سے انگریزوں کے آنجہانی ہے اور وہ مرحوم دنوں کو یاد کر کے اب خاص فرائض ملک سے باہر سرانجام دینے ن کی جماعت کیونکہ فراموش کر سکتی ہے کہ انگریز ان کے مربی و محسن تھے۔ وہ ات کے حوالے کر گئے ہیں۔ اس حقیقت کو چھپایا نہیں جاسکتا کہ قادیانی جہاں ملوکیت کا ایجنٹ ہے اور یہ چیز اس کے خون سے خارج نہیں ہو سکتی ہے۔ اللہ خان نے جسارت کیسے کی ایک واضح اور معلوم فیصلے کے ہوتے ہوئے ت کا مہمان ہو؟
خبر میں کہا گیا ہے کہ ظفر اللہ خان جس ہوٹل میں ٹھہرے وہ صرف گوروں ۔ تعجب ہے کہ جنوبی افریقہ کے گوروں کی اتنی سرعت سے ماہیت قلب ہوگئی ے شہزادہ گلفام سر ظفر اللہ خان کے لئے جس کی صورت میں گورے پن کی کوئی
جس نے کھانے پر مدعو کیا۔ ظفر اللہ خان حکومت کے حسن سلوک سے متاثر
بھی ہوئے۔ آخر۔
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ ہم بڑے ادب کے ساتھ یہ بات پہلے بھی لکھ چکے ہیں اور جب تک ہمیں دوبارہ روکا نہیں جاتا۔ یہ کہنا ہم اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ پاکستان گورنمنٹ، صدر مملکت اور صوبہ کے حاکم اعلیٰ قادیانی جماعت کے ارادوں سے مطلع رہیں۔ یہ لوگ ایک خاص دن کے لئے کام کر رہے ہیں۔ وہ دن اور اس کا تصور ان کے نہاں خانہ دماغ میں بسا ہوا ہے۔ اگر ہم نے ان سے اغماض کیا تو نتائج نکلنے پر ہمیں پچھتانا ہوگا۔ اسلام اور پاکستان کی تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ظفر اللہ خان بیرون ملک اپنے آقایان ولی نعمت سے پخت و پز کر کے پاکستان میں اپنی جماعت کے لئے سپر بنا ہوا ہے اور اس کی جماعت ملک میں ایک عجمی اسرائیل پیدا کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣٦، مورخہ ١٣ اکتوبر ١٩٦٧ء)
٤....... اقبال سے بغض کی بناء پر نہرو کا استقبال
قادیانیت کا ایک لاہوری متنبی آج کل ہمارے خلاف، خانہ ساز نبوت کی ٹکسالی زبان مظاہرہ کر رہا ہے۔ بزعم خویش اس نے ہمیں نہرو کا پیشہ ور ایجنٹ لکھ کر مصلح موعود کی قبر پر فاتحہ پڑھی ہے۔
حقیقت حال کیا ہے؟ روزنامہ الفضل کا اقتباس ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ علامہ سے عناد انہیں کہاں کہاں نہیں لے گیا؟ اور ان کے شوق جبہ سائی پر کس آستانہ کی خاک نہیں ہے۔ اگر یہ حوالہ غلط ثابت ہو تو ہم ہر سزا و صعوبت کے حقدار ہیں۔ بلکہ جناب ابوالعطاء جالندھری کو دس ہزار نقد ہرجانہ پیش کرنے کے لئے تیار۔ (ادارہ)
”لاہور ٢٩ راپریل۔ آج حسب پروگرام پنڈت جواہر لال صاحب نہرو لاہور تشریف لائے۔ پنجاب پراونشل کانگریس کمیٹی کی خواہش پر (قادیانی جماعت کی) آل انڈیا نیشنل لیگ کورز کی طرف سے آپ کے استقبال کا انتظام کیا گیا تھا۔ چونکہ کانگریس نے صرف پانسد والنٹریوں کی خواہش کی تھی۔ اس لئے قادیان سے تین صد اور سیالکوٹ سے دوصد کے قریب والنٹر ٢٨ مئی کو لاہور پہنچ گئے۔ قادیان کی کور دس بجے پہنچی۔ گاڑی کے آنے پر جناب صدر آل انڈیا نیشنل لیگ اور قائد اعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کورز موجود تھے۔ پولیس کا بھی زبردست مظاہرہ تھا۔ کانسٹیبلوں کی بہت بڑی تعداد کے علاوہ پولیس کے بڑے بڑے افسر بھی موجود تھے۔ قادیان سے کارخاص کے سپاہی ساتھ آئے اور عصر تک ساتھ رہے۔ احمدیہ ہوسٹل میں جہاں قیام کا انتظام
تھا۔ جناب شیخ بشیر احمد قادیانی ایڈووکیٹ لاہور صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے مختصر مگر بر محل اور برجستہ تقریر کی جس میں بتایا کہ آج ہم اپنے عمل سے ثابت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ آزادی وطن کی خواہش میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور ہم نے نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام دنیا سے ظلم و ناانصافی کو مٹانا ہے اور صحیح سیاسیات کی بنیاد رکھنی ہے۔ آپ لوگ اس موقعہ پر کسی صورت میں کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو سلسلہ کے لئے کسی طرح کی بدنامی کا موجب ہو۔ علی الصباح چھ بجے تمام باوردی والنٹیر باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے سٹیشن پر پہنچ گئے۔ یہ نظارہ حد درجہ جاذب توجہ اور روح پرور تھا۔ ہر شخص کی آنکھیں اس طرف اٹھ رہی تھیں۔ استقبال کا تقریباً تمام انتظام کور ہی کر رہی تھی اور کوئی آرگنائزیشن اس موقعہ پر نہ تھی۔ سوائے کانگریس کے ڈیڑھ دو درجن والنٹریوں کے۔ اسٹیشن سے لے کر جلسہ گاہ تک اور پلیٹ فارم پر انتظام کے لئے ہمارے والنٹیرز موجود رہے ۔ پلیٹ فارم پر جناب چوہدری اسد اللہ خان صاحب (قادیانی) بیرسٹر ایم ۔ ایل ۔ سی قائد اعظم آل انڈیا نیشنل لیگ کورز بہ نفس نفیس موجود تھے اور باہر جہاں آکر پنڈت جی نے کھڑا ہونا تھا۔ شیخ صاحب موجود تھے۔ ہجوم بہت زیادہ تھا۔ بالخصوص پنڈت جی کی آمد کے وقت مجمع میں بے حد اضافہ ہو گیا اور لوگوں نے صفوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ مگر ہمارے والنٹریوں نے قابل تعریف ضبط و نظم سے کام لیا اور حلقہ کو قائم رکھا۔ پنڈت جی کے اسٹیشن سے باہر آنے پر جناب شیخ احمد صاحب (قادیانی) ایڈووکیٹ صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے لیگ کی طرف سے آپ کے گلے میں ہار ڈالا۔ کور کی طرف سے حسب ذیل موٹو جھنڈیوں پر خوبصورتی سے آویزاں تھے۔
- 1- BELOVED OF THE NATION
WELCOME YOU.
- ☆...... محبوب قوم خوش آمدید۔
- 2- WE JOIN IN CIVIL LIBERTIES UNION.
- ☆...... ہم شہری آزادیوں کی انجمن میں شامل ہوتے ہیں۔
- 3- LONG LIVE JAWAHER LAL.
- ☆...... جواہر لال نہرو زندہ باد۔
کور کا مظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ ایسا شاندار نظارہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا ہے۔ کانگریسی لیڈر کور کے ضبط و ڈسپلن سے حد درجہ متاثر تھے اور بار بار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ ایک لیڈر نے جناب شیخ صاحب سے کہا کہ اگر آپ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو جا گاہ کی طرف تشریف لے جانے پر کورز باقاعدہ وہاں جناب شیخ صاحب نے پھر ایک تقریر کی جس متوجہ کیا اور بتایا کہ آپ لوگ ہمیشہ اس بات کو پیش و ناانصافی کو مٹانے کے لئے ہر قربانی کرنا آپ کا احمدیہ ہوسٹل میں کھانے کا بہت اچ تھے۔ ماسٹر نذیر احمد صاحب سپرنٹنڈنٹ احمدیہ ہ کوشش کی۔ قادیان کی کورز ٢٩ کو نو بجے کی گاڑی
(اخبار ا
استقبال کی وجہ
"اگر پنڈت جواہر لال نہرو اعلان کر خرچ کر دیں گے۔ جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب ۔ صاحب کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں جانے کے لئے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالک ہے تو ایسے شخص کا جب کہ وہ صوبے میں مہمان سے استقبال بہت اچھی بات ہے۔" (ہفت ر
(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار
......عجب......٥
مدیر چٹان نے چنیوٹ میں جو تقر امت حد درجہ پریشان ہے۔ سب سے پہلے عبدالسلام خورشید کی شہ پر سامنے آیا۔ اس گریز کیا اور ٹاپنے لگا۔ چونکہ اس سے ہمکلا پہلے دن ہی سے اس کو مخاطب کرنا یا اس کی ڈا
خ بشیر احمد قادیانی ایڈووکیٹ لاہور صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے مختصر مگر پرمحل اور جس میں بتایا کہ آج ہم اپنے عمل سے ثابت کرنے کے لئے آئے ہیں کہ آزادی میں ہم کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور ہم نے نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام دنیا سے ظلم ٹانا ہے اور صحیح سیاسیات کی بنیاد رکھنی ہے۔ آپ لوگ اس موقعہ پر کسی صورت میں کوئی ریں جو سلسلہ کے لئے کسی طرح کی بدنامی کا موجب ہو۔ علی الصباح چھ بجے تمام باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے سٹیشن پر پہنچ گئے۔ یہ نظارہ حد درجہ جاذب توجہ اور روح کی آنکھیں اس طرف اٹھ رہی تھیں۔ استقبال کا تقریباً تمام انتظام کور ہی کر رہی تھی ٹیشن اس موقعہ پر نہ تھی۔ سوائے کانگریس کے ڈیڑھ دو درجن والنٹریوں کے۔ کر جلسہ گاہ تک اور پلیٹ فارم پر انتظام کے لئے ہمارے والنٹیرز موجود رہے۔ ب چوہدری اسد اللہ خان صاحب ( قادیانی ) بیرسٹر ایٹ لاء۔ ایل۔ سی قائد اعظم آل کورز بنفس نفیس موجود تھے اور باہر جہاں آکر پنڈت جی نے کھڑا ہونا تھا۔ شیخ تھے۔ ہجوم بہت زیادہ تھا۔ بالخصوص پنڈت جی کی آمد کے وقت مجمع میں بے حد گوں نے صفوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ مگر ہمارے والنٹریوں نے قابل تعریف لیا اور حلقہ کو قائم رکھا۔ پنڈت جی کے اسٹیشن سے باہر آنے پر جناب شیخ احمد ) ایڈووکیٹ صدر آل انڈیا نیشنل لیگ نے لیگ کی طرف سے آپ کے گلے طرف سے حسب ذیل موٹو جھنڈیوں پر خوبصورتی سے آویزاں تھے۔
1- BELOVED OF THE N. WELCOME YOU.
محبوب قوم خوش آمدید۔
2- WE JOIN IN CIVIL LIBERTIES UNI
ہم شہری آزادیوں کی انجمن میں شامل ہوتے ہیں۔
3- LONG LIVE JAWAHAR LAL.
جواہر لال نہرو زندہ باد۔
ظاہرہ ایسا شاندار تھا کہ ہر شخص اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا اور لوگ کہہ ہدار نظارہ لاہور میں کم دیکھنے میں آیا ہے۔ کانگریسی لیڈر کور کے ضبط و ڈسپلن اور بار بار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ ایک لیڈر نے جناب شیخ صاحب
سے کہا کہ اگر آپ لوگ ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں تو یقیناً ہماری فتح ہوگی۔ پنڈت جی کے قیام گاہ کی طرف تشریف لے جانے پر کورز باقاعدہ مارچ کرتے ہوئے احمدیہ ہوسٹل میں آئیں اور وہاں جناب شیخ صاحب نے پھر ایک تقریر کی جس میں کور والوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا اور بتایا کہ آپ لوگ ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ دنیا میں انصاف قائم کرنے اور ظلم و ناانصافی کو مٹانے کے لئے ہر قربانی کرنا آپ کا فرض ہے۔
احمدیہ ہوسٹل میں کھانے کا بہت اچھا انتظام تھا۔ جس کے مہتمم بابو غلام محمد صاحب تھے۔ ماسٹر نذیر احمد صاحب سپرنٹنڈنٹ احمدیہ ہوسٹل میں بھی مہمانوں کی آسائش کے لئے بہت کوشش کی۔ قادیان کی کورز ٢٩ مئی کو نو بجے کی گاڑی سے واپس پہنچ گئیں۔‘‘
(اخبار الفضل قادیان ج ٢٣ شمارہ ٢٧٨، مورخہ ٣١ مئی ١٩٣٦ء)
استقبال کی وجہ
’’اگر پنڈت جواہر لال نہرو اعلان کر دیتے کہ احمدیت کو مٹانے کے وہ اپنی تمام طاقت خرچ کر دیں گے۔ جیسا کہ احرار نے کیا ہوا ہے تو اس قسم کا استقبال بے غیرتی ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کے برخلاف یہ مثال موجود ہو کہ قریب کے زمانہ میں ہی پنڈت صاحب نے ڈاکٹر اقبال صاحب کے ان مضامین کا رد لکھا ہے جو انہوں نے احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ قرار دیئے جانے کے لئے لکھے تھے اور نہایت عمدگی سے ثابت کیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے احمدیت پر اعتراض اور احمدیوں کو علیحدہ کرنے کا سوال بالکل نامعقول اور خود ان کے گذشتہ رویہ کے خلاف ہے تو ایسے شخص کا جب کہ وہ صوبے میں مہمان کی حیثیت سے آ رہا ہو ایک سیاسی انجمن کی طرف سے استقبال بہت اچھی بات ہے۔‘‘
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠ ش ٢٦، مورخہ ٢٦؍ جون ١٩٦٧ء)
(میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان ج ٢٣ شمارہ ٢٨٧، مورخہ ١١؍ جون ١٩٣٦ء)
٥......عجمی اسرائیل
مدیر چٹان نے چنیوٹ میں جو تقریر کی ہے معلوم ہوا ہے اس سے مرزا قادیانی کی امت حد درجہ پریشان ہے۔ سب سے پہلے لاہور کا ایک ہفتہ وار قادیانی، مسلم ٹاؤن کے عبدالسلام خورشید کی شہ پر سامنے آیا۔ اس نے مغلظات بکنا شروع کیں۔ اصل بحث سے گریز کیا اور ٹاپنے لگا۔ چونکہ اس سے ہمکلامی ہمارے منصب سے فروتر ہے۔ لہٰذا ہم نے پہلے دن ہی سے اس کو مخاطب کرنا یا اس کی ژاژ خائی کا جواب دینا اپنی توہین سمجھا۔ الفضل نے
دیکھا کہ اس کا لاہوری پٹھا لائق اعتنا ہی نہیں تو عجمی اسرائیل کا یہ ٹینک فوراً میدان میں آ گیا۔ اس نے اپنے ایشکول مرزا ناصر کے خوان استدلال کی خوشہ چینی کرتے ہوئے چار دن تک اپنی نبوت کے حق میں وہی کھڑاک رچایا جو استعماری طاقتوں نے اسرائیل کے حق میں رچا رکھا ہے۔ اس کی ہمنوائی کو تل ابیب یعنی ربوہ کا الفرقان دیان بن کر نکلا ہے۔ جناب ابوالعطاء جالندھری نے آٹھ صفحات میں زہر فشانی کی ہے۔
مدیر چٹان نے جو کچھ کہا۔ اس کی اساس علامہ اقبالؒ کے افکار پر تھی۔ بلکہ جن حوالوں کو ان تینوں نے اپنی جوابی حملے کی اساس بنایا ہے وہ تمام تر علامہ اقبالؒ کی تحریروں سے ماخوذ ہیں۔ لیکن خانہ ساز نبوت کے ان خوشہ چینوں کی بددیانتی کا شاہکار ہے کہ علامہ اقبالؒ کا نام نہیں لیتے۔ اس لئے کہ مسلمانوں کے احتساب سے ڈرتے ہیں۔ لیکن ان کی بنیاد پر شورش کاشمیری پر گالی گفتار کرتے ہیں؟ کیا اس کا نام دیانت ہے۔ شورش کاشمیری نے جو کچھ کہا وہ تمام علامہ اقبالؒ کے ارشادات ہیں۔ مثلاً:
- ١...... قادیانی برطانیہ کے جاسوس اور اسلام کے غدار ہیں۔
- ٢...... ان کی تحریک اسلام کے خلاف بغاوت ہی نہیں بلکہ ان کا وجود
یہودیت کا تثنیہ ہے۔
- ٣...... مسلمانوں میں سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے شریک ہوتے ۔ لیکن
مذہباً ان سے الگ رہتے اور تمام دنیائے اسلام کو مرزا غلام احمد قادیانی کے افکار کی بنیاد پر کافر سمجھتے ہیں۔
- ٤...... حکومت کا فرض ہے کہ انہیں مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دے۔
شورش کاشمیری نے علامہ اقبالؒ کے ان نکات کی وضاحت میں تقریر کی، کوئی ایسا لفظ نہیں کہا جو محض الزام یا دشنام ہو۔ لیکن سارا قادیانی پریس اس پر چلّا اٹھا اور لگا تار چلّا رہا ہے کہ : ”ان دنوں گزرے ہوئے احرار کی نمائندگی ہفت روزہ چٹان کے ایڈیٹر شورش کاشمیری کر رہے ہیں۔“
ابوالفضل نے ایڈیٹر چٹان کو پسماندگان احرار کا سرخیل لکھا ہے۔ لاہوری ہفتہ وار کے توشہ خانے میں بھی بول و براز ہے۔
سوال گندم جواب ریسماں۔ ایڈیٹر چٹان کو پسماندگان احرار ہونے پر فخر ہے۔ سوال یہ ہے کہ مرزائی پسماندگان انگریز میں سے ہیں یا نہیں؟ مرزا غلام احمد کی تحریریں اس پر شاہد ہیں۔ پھر مرزائی اس کا اعتراف کیوں نہیں کرتے؟
ہوری پٹھو لائق اعتنا ہی نہیں تو بھی اسرائیل کا یہ ٹینک فوراً میدان میں آ گیا۔ بقول مرزا ناصر کے خوان استدلال کی خوشہ چینی کرتے ہوئے چار دن تک میں وہی کھڑاک رچایا جو استعماری طاقتوں نے اسرائیل کے حق میں رچا ہمنوائی کو تل ابیب یعنی ربوہ کا الفرقان دیان بن کر نکلا ہے۔ جناب ی نے اٹھ صفحات میں زہرفشانی کی ہے۔ ان نے جو کچھ کہا۔ اس کی اساس علامہ اقبالؒ کے افکار پر تھی۔ بلکہ جن حوالوں کو جوابی حملے کی اساس بنایا ہے وہ تمام تر علامہ اقبالؒ کی تحریروں سے ماخوذ ہیں۔ کے ان خوشہ چینوں کی بددیانتی کا شاہکار ہے کہ علامہ اقبالؒ کا نام نہیں لیتے۔ کے احتساب سے ڈرتے ہیں۔ لیکن ان کی بنیاد پر شورش کاشمیری پر گالی گفتار ل کا نام دیانت ہے۔ شورش کاشمیری نے جو کچھ کہا وہ تمام علامہ اقبالؒ کے :
قادیانی برطانیہ کے جاسوس اور اسلام کے غدار ہیں۔ ان کی تحریک اسلام کے خلاف بغاوت ہی نہیں بلکہ ان کا وجود مسلمانوں میں سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے شریک ہوتے۔ لیکن رہتے اور تمام دنیائے اسلام کو مرزا غلام احمد قادیانی کے انکار کی بنیاد پر حکومت کا فرض ہے کہ انہیں مسلمانوں سے الگ اقلیت قرار دے۔
شمیری نے علامہ اقبالؒ کے ان نکات کی وضاحت میں تقریر کی، کوئی ایسا لفظ دشنام ہو۔ لیکن سارا قادیانی پریس اس پر چیخ اٹھا اور لگا تار چلا رہا ہے کہ: ”ان حرار کی نمائندگی ہفت روزہ چٹان کے ایڈیٹر شورش کاشمیری کر رہے ہیں۔“ نے ایڈیٹر چٹان کو پسماندگان احرار کا سرخیل لکھا ہے۔ لاہوری ہفتہ وار کے کا ہیرو ہے۔
جواب ریسماں۔ ایڈیٹر چٹان کو پسماندگان احرار ہونے پر فخر ہے۔ سوال گان انگریز میں سے ہیں یا نہیں؟ مرزا غلام احمد کی تحریریں اس پر شاہد ہیں؟ کیوں نہیں کرتے؟
پہلے اپنے ”پیغمبر“ کے فرمودات کی تردید کریں پھر احرار پر تعریضاً قلم اٹھائیں۔ اپنے عیب کو چھپانے کی انوکھی منطق ہے کہ دوسروں کو گالی دی جائے۔ کیا اس نبوت اور اس خلافت پر مرزائی امت کا دارومدار ہے؟
علامہ اقبالؒ کے بارے میں فرمائیے کہ ان کے ارشادات پر آپ کے جوابات کیا ہیں؟ شورش کاشمیری اس وقت احرار کی نہیں اقبالؒ کی نمائندگی کر رہا ہے۔ جواب مرحمت فرمائیے! جواب میں گالی دینا شیوہ شرفاء نہیں۔ ذرا تاریخ محمودیت پر بھی ایک نگاہ ڈال لیجئے۔ پھر سوچئے کہ آپ میں کسی شخص کو گالی دینے کا حوصلہ ہے؟
ابوالعطاء صاحب نے جو کچھ لکھا ہے۔ ہم اس کا مکمل جواب تو شمارہ آئندہ پر اٹھا رکھتے ہیں۔ کیونکہ اس شمارے میں عربوں پر فتنہ اسرائیل کی یلغار کا تذکرہ تفصیل سے ہو گیا ہے۔ لیکن دوچار باتیں زیر قلم تحریر میں عرض کرنی ضرور ہیں۔
اولاً ...... مرزائی قلمکار جو سلطان القلم کے تلامذہ ارشد ہیں۔ تحریر میں شرافت پیدا کریں۔ ورنہ جس لہجہ میں انہوں نے گفتگو شروع کی ہے اس کا جواب دیا گیا تو بہشتی مقبرے کی ہڈیاں چیخنی شروع ہو جائیں گی اور چوہدری ظفر اللہ خان کی سیرت سے گلستان کا باب پنجم نکال کر شیزان ہوٹل کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔
ثانیاً ...... عاجزی ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جن میں انکسار ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کی دینی بصیرت ایک خود ساختہ عمارت ہے جس میں نہ فہم قرآن کی گہرائی ہے اور نہ ادب و انشاء کی گہرائی۔ ان کا مجموعہ شعر درثمین شاعرانہ عیوب کا مرقع ہے۔ جو شخص شاعرانہ محاسن نہیں رکھتا اس میں ”پیغمبرانہ محاسن“ کیونکر پیدا ہو سکتے ہیں؟
آج تک ایک مرزائی بھی ایسا نہیں جس کو قدرت نے شاعری کا صحیح ذوق دیا ہو یا جس کو انشاء پر قدرت ہو یا جو اردو، عربی، فارسی کی چند سطریں صحیح لکھ سکتا ہو۔ بفضل تعالیٰ ایڈیٹر چٹان ہر مرزائی مصنف، شاعر اور مبلغ کی تحریر و تقریر میں زبان و بیان کے اعتبار سے کئی پشتوں تک اصلاح دے سکتا ہے۔
ثالثاً ...... ہمیں معلوم ہے کہ مرزائی افسروں کی لادین کھیپ سے رابطہ پیدا کر کے خفی و جلی بنیادوں پر جھوٹی رپورٹیں اور بے اصل تبصرے کرانے کے عادی ہیں۔ منیر انکوائری رپورٹ میں سی آئی ڈی کے مراسلے اس امر کا بین ثبوت ہیں۔ ہماری گرفتاری میں بھی بروایت ان مرزائی افسروں کی ذریت کا ہاتھ تھا۔ اب بھی ان کی تگ و دو کا سارا انحصار اس پر ہے کہ اپنے مذہبی
پاکھنڈ کو سیاسی ہتھکنڈوں سے جاری رکھیں اور ان عناصر کے خلاف پراپیگنڈا کر کے پہلو بچاتے رہیں جو ان کی طرح برطانوی سرکار کے گماشتے نہیں تھے۔ جنہوں نے سامراج سے ٹکر لی اور آزادی کی جدوجہد میں قربانی اور استقامت کی شمعیں جلاتے رہے۔ مرزائیوں کا شعار ان شمعوں کو گل کرنا اور برطانوی سامراج کی خدمت بجالانا تھا۔ انہیں اب یہ ہتھکنڈے جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ !
رابعاً ....... مرزائی اصل سے انحراف کر کے نقل پر اتر آتے ہیں۔ انہیں کذب وافتراء سے عار نہیں۔ احرار کے معاملہ میں لاہوری لے پالک اور اس کے چمچے وغیرہ نہایت بڑی ڈھٹائی سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔ جھوٹ کا جواب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت بھیجی ہے اور فی زمانہ اس کا صحیح اطلاق غلام احمد کی امت پر ہوتا ہے۔
خامساً ....... ابوالعطاء صاحب نے اپنے ٹریکٹ کے آخر میں ہمیں تحریری مناظرہ کا چیلنج دیا ہے۔ اوّل تو یہ تحریری مناظرہ خوب ہے۔ آمنے سامنے آکر کیوں نہیں؟ کھل کے آئیے۔ مسلمانوں کے شہروں میں نہیں تو ہم ربوہ میں آنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن شرط یہ ہوگی کہ عام مسلمانوں کو بھی اس میں شریک ہونے کی اجازت ہو۔ اس کے باوجود ہم تحریری مناظرہ کے لئے بھی تیار ہیں اور جو کچھ ہم نے لکھا ہے۔ اس کی صحت پر اصرار کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ چند نکات کا نہیں پوری مرزائیت اور اس کے خدوخال کا ہے۔ بحث اس پر ہونی چاہئے کہ:
- ...... ١ مرزا غلام احمد برطانوی حکومت کے خود کاشتہ تھے یا نہیں؟
- ...... ٢ انہوں نے برطانوی حکومت کی وفاداری پر مذہبًا صاد کیا اور چاپلوسی کی حد تک چلے گئے۔
- ...... ٣ مرزائیت کے مشن صرف ان علاقوں میں قائم ہیں جہاں برطانوی نو آبادیاں رہی ہیں
یا برطانوی اثرات موجود ہیں۔
- ...... ٤ مرزائیت نے اصل اسلام سے بغاوت کر کے مسلمانوں کی دینی وحدت کو تاراج کیا۔
- ...... ٥ مرزائی ایک مدت سے اپنی الگ ریاست قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔
- ...... ٦ مرزائیت مسلمانوں کے سواد اعظم سے خارج ہے۔ اب ایک اور بات بھی سن لیجئے۔
یہ دو چار سوال ہیں۔ فرمائیے کیا جواب ہے؟
- ...... ١ اسرائیل کی عربوں سے جنگ میں آپ کا کردار کیا رہا؟
- ...... ٢ آپ کا جو مشن اسرائیل میں تھا۔ اسلام کی اس مصیبت عظمیٰ پر اس کا رول کیا تھا؟
- ٣....... کیا یہ صحیح ہے کہ آپ کے مشن نے اسرائیل کی فتح پر اسرائیل کے صدر کو مبارک باد دی؟
- ٤....... کیا آپ اس سے انکار کرتے ہیں کہ بیت المقدس میں اسرائیل کے داخلہ پر اس مشن
نے عربوں کی اذیت میں اضافہ کیا اور انہیں گمراہ کرنا چاہا؟
- ٥....... کیا سبب ہے کہ صرف آپ کے مشن کو اسرائیل میں رہنے کی اجازت ہے؟ یہ
مسلمانوں سے انقطاع کا باعث ہے یا مغلوب مسلمانوں میں برطانوی مقاصد اور اسرائیلی اغراض کی آبیاری کا حیلہ ہے؟
- ٦....... اس سے آپ انکار کر سکتے ہیں کہ آپ مسلمانوں کی شکلیں بنا کر مسلمان ملکوں میں
استعماری قوتوں کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٥، ١٩ / جون ١٩٦٧ء)
٦....... مسیلمہ کے جانشین
ہمارا مخاطب لاہور کا لے پالک ہفتہ وار جریدہ نہیں۔ وہ شوق سے ہمیں گالیاں دیتا رہے ہم نہ تو اس کو منہ لگائیں گے اور نہ اس کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اس کی مغلظات پر قلم اٹھائیں۔ ہمیں مرزائیوں سے بحیثیت انسان کوئی غرض نہیں۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے ہم ان کے وجود، ناموس اور آبرو کی حفاظت ملکی حکومت کے فرائض کا جزو غیر منفک سمجھتے ہیں۔ لیکن جس دن سے ہم نے اس جماعت کے سیاسی عزائم کا محاسبہ کیا اور حکومت سے درخواست کی ہے کہ ان پر کڑی نگاہ رکھے اس دن سے ربوہ کی خلافت کے تمام سرکاری بزرجمہر اپنے رسوخ واقتدار کے نیزے لے کر ہمارے جسم کو چھید کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ہمارے خلاف اندر کھاتے محاذ باندھا جا رہا اور ہمیں صرف اس جرم میں سزا دلوانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہم نے صدر ایوب کو ان کی فطرت اور سرشت کے احوال و آثار سے آگاہ کیا ہے۔
پھر سن لیجئے ہماری خواہش صرف اتنی ہے کہ:
- ١....... مرزائیوں کو علامہ اقبالؒ کے فکرونظر کی بنیاد پر مسلمانوں سے علیحدہ ایک
اقلیت قرار دیا جائے۔
- ٢....... انہیں روکا جائے کہ سرور کونین ﷺ، صحابہؓ اور اہل بیتؓ کی مقدس
اصطلاحات، القابات، خطابات اور فضائل و مناقب کو اپنے نام کے ساتھ استعمال نہ کریں۔ کیونکہ
یہ سرمایہ مسلمانوں کی محبوب ترین متاع ہے۔ جب قادیانی روزنامہ الفضل اس سرمایہ کا استعمال اپنے حلقہ بگوشوں کے لئے کرتا ہے تو مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بیوی کو ام المؤمنین لکھنا اور کسی لڑکی کو سیدۃ النساء کہنا ہمارے نزدیک ہولناک جسارت ہے۔ ایک طرف دلجوئی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خلافت راشدہ کا تذکرہ تاریخ کے تعلیمی نصاب سے حذف کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف مٹھی بھر مرزائیوں کے ناقوس الفضل کو اذنِ عام ہے کہ وہ مسلمانوں کے مسلمات کا استخفاف کرے اور اس سرمایہ اسلام کو ہتھیا تا رہے۔ جس پر محمد عربی ﷺ (فداہ امی وابی) کے اسلام کی اساس ہے۔ دلجوئی کے مقابلہ میں اس دل آزاری کا جواز کیا ہے؟
- ......٣ مرزائی ایک سیاسی تنظیم ہیں۔ ہم اپنی حکومت سے مؤدبانہ التماس کرتے
ہیں کہ ان کے حرکات واعمال سے باخبر رہے۔ فرمائیے ان گذارشات میں کوئی ایسی بات ہے جس سے قانون اور اس کی منشاء پر آنچ آتی ہو یا پاکستان کی اقلیت اور اکثریت کے مابین نفرت پیدا ہونے کا شائبہ ہو۔ ہماری گذارش کا مدعا یہ ہے کہ مرزائی نبوت کا کھڑاک رچا کر جس نفرت کو پیدا کر چکے ہیں۔ ان کے ایک علیحدہ اقلیت ہو جانے سے اس نفرت کا خاتمہ ہوجائے۔
علامہ اقبالؒ کی اس بارے میں قطعی رائے دیکھنی ہو تو اقبال اکادمی پاکستان کراچی کی تازہ کتاب ”انوار اقبال“ مرتبہ بشیر احمد ڈار اور پیش لفظ جناب ممتاز حسن کا ص ٤٤ ملاحظہ فرما لیجئے۔ اصل خط چھاپ دیا گیا ہے۔ اس کا دوسرا پیرا کتابت میں غائب کر دیا گیا ہے۔ لیکن متن میں من وعن چھپا ہوا ہے۔ مسیلمہ کذاب اور سزا کے جواز پر واضح اشارہ موجود ہے۔
یہ جرم ہے جس کی بناء پر مرزائی اپنے اقتدار و رسوخ کو استعمال کر کے چٹان اور ایڈیٹر چٹان کو سزا دلوانا چاہتے اور حکومت کے سربراہوں کو بدگمان کر رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور کے ہفتہ وار چیتھڑے کو اسی غرض سے تیار کیا ہے۔ لیکن ہمارا اس سے کوئی مقابلہ نہیں۔ نہ ہمیں اس سے کوئی شکایت ہے نہ ہم نے اسے لائق مخاطبت سمجھا۔ ہمارے صفحات میں اس کے خلاف کچھ نہیں لکھا گیا۔ ہمارا حریف بلکہ مسلمانوں کا حریف الفضل ربوہ ہے۔ اس نے ہمارے خلاف سب و شتم کا انبار لگایا۔ اپنی پیدائش سے لے کر اب تک وہ مسلمانوں کے لئے دل آزاری کا باعث بنا ہوا ہے۔ اگر اس کو محفوظ رکھنے کے لئے کسی مرزائی گوشہ سے یہ فتنہ اٹھا کر چٹان زیر عتاب ہو، اور لاہور کا لے پالک برائے وزن بیت نتھی کیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ مرزائی چٹان کو اس لئے مٹانا چاہتے ہیں کہ ان کے نزدیک اقبالؒ، ظفر علی خانؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تو موت کی آغوش
مانوں کی محبوب ترین متاع ہے۔ جب قادیانی روزنامہ الفضل اس سرمایہ کا استعمال شتوں کے لئے کرتا ہے تو مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی کسی بیوی کو ام المؤمنین لکھنا اور کسی لڑکی کو سیدۃ النساء کہنا ب ہولناک جسارت ہے۔ ایک طرف دلجوئی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ خلافت راشدہ ریخ کے تعلیمی نصاب سے حذف کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف مٹھی بھر مرزائیوں کے کو اذن عام ہے کہ وہ مسلمانوں کے مسلمات کا استخفاف کرے اور اس سرمایہ اسلام کو جس پر محمد عربی ﷺ (فداہ ابی وامی) کے اسلام کی اساس ہے۔ دلجوئی کے مقابلہ زاری کا جواز کیا ہے؟
...... مرزائی ایک سیاسی تنظیم ہیں۔ ہم اپنی حکومت سے مؤدبانہ التماس کرتے حرکات واعمال سے باخبر رہے۔ فرمائیے ان گذارشات میں کوئی ایسی بات ہے جس اس کی منشاء پر آنچ آتی ہو یا پاکستان کی اقلیت اور اکثریت کے مابین نفرت پیدا ہو۔ ہماری گذارش کا مدعا یہ ہے کہ مرزائی نبوت کا کھڑاک رچا کر جس نفرت کو پیدا ان کے ایک علیحدہ اقلیت ہو جانے سے اس نفرت کا خاتمہ ہو جائے۔
مہ اقبالؒ کی اس بارے میں قطعی رائے دیکھنی ہو تو اقبال اکادمی پاکستان کراچی کی ار اقبال" مرتبہ بشیر احمد ڈار اور پیش لفظ جناب ممتاز حسن کا ص ٢٤ ملاحظہ فرما لیجئے۔ دیا گیا ہے۔ اس کا دوسرا پیرا کتابت میں غائب کر دیا گیا ہے۔ لیکن متن میں من مسیلمہ کذاب اور سزا کے جواز پر واضح اشارہ موجود ہے۔
م ہے جس کی بناء پر مرزائی اپنے اقتدار و رسوخ کو استعمال کر کے چٹان اور ایڈیٹر چاہتے اور حکومت کے سربراہوں کو بدگمان کر رہے ہیں۔ انہوں نے لاہور کے اسی غرض سے تیار کیا ہے۔ لیکن ہمارا اس سے کوئی مقابلہ نہیں۔ نہ ہمیں اس سے یہ نہ ہم نے اسے لائق مخاطبت سمجھا۔ ہمارے صفحات میں اس کے خلاف کچھ نہیں یف بلکہ مسلمانوں کا حریف الفضل رہا ہے۔ اس نے ہمارے خلاف سب وشتم پیدائش سے لے کر اب تک وہ مسلمانوں کے لئے دل آزاری کا باعث بنا ہوا ظا رکھنے کے لئے کسی مرزائی گوشہ سے یہ فتنہ اٹھا کر چٹان زیر عتاب ہو، اور لاہور بے وزن تہمت نتھی کیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ مرزائی چٹان کو اس لئے مٹانا کے نزدیک اقبال، ظفر علی خان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری تو موت کی آغوش
میں جاچکے ہیں۔ باقی ان کے خدنگ ناز کی چوٹ سے سہم گئے ہیں۔ صرف ایک چٹان ہے جس نے ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے۔ اس کو مٹا کر پھر ان کے لئے سب اچھا ہو جائے گا۔ کیا یہ ممکن ہے؟ اور قانون مطابع یہ نہیں سوچے گا کہ وہ ایک خانہ ساز نبوت کی حفاظت کے لئے نافذ نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے حدود میں مملکت کا استحکام اور اس کے لوازمات ہیں۔
ہم اس سے غافل نہیں کہ مرزائی ہمارے خلاف ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ لیکن الفضل صحیفہ اقدس نہیں کہ اس کو عصمت مریم کا درجہ دے کر محفوظ رکھا جائے؟ اور مرزائی بزعم خویش مطمئن ہو جائیں کہ انہوں نے جیسا کہ وہ لکھ رہے ہیں علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ترکش کا آخری تیر بھی توڑ ڈالا ہے۔ معاف کیجئے قانون کا مقصد مرزائیوں کی حفاظت نہیں۔ اس ملک میں اس دین اور قوم کی حفاظت ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٨، مورخہ ١٠ جولائی ١٩٦٧ء)
٧...... الفضل کا لاہوری متنبی
ہم کہتے ہیں کہ:
- ١...... مرزائی غلام احمد نبی نہیں تھے۔ بلکہ متنبی تھے۔ یہ ہماری رائے نہیں تمام دنیائے اسلام
کے علمائے حق اس بارے میں فتویٰ دے چکے ہیں۔
- ٢...... ہم کہتے ہیں مرزائی جب مسلمانوں سے معاشرتی مذہبی طور پر الگ ہیں۔ یعنی وہ
مسلمانوں کو مرزا غلام احمد کے بغیر مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ نہ ان کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ نہ ان کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں۔ نہ ان سے اپنی بیٹیوں کے نکاح کرتے ہیں تو پھر وہ سیاسی طور پر مسلمانوں میں کیوں شامل ہیں؟
- ٣...... اسی بنیاد پر علامہ اقبال نے انہیں ایک علیحدہ اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ
مطالبہ ہم مملکت پاکستان کے گوشگزار کرتے ہیں۔
- ٤...... ہم کہتے ہیں کہ مرزائی ان اکابر امت کو برا بھلا نہ کہیں جو ان کی نبوت کا تعاقب کرتے
رہے ہیں اور جنہوں نے اس مسئلہ میں علم ودین کی اساس پر انہیں فاش شکستیں دی ہیں۔
- ٥...... ہم کہتے ہیں کہ مرزائی خاندان رسالت کی مقدس اصطلاحیں مرزا غلام احمد کے
خاندان پر چسپاں نہ کریں۔ کیونکہ جب وہ اپنی عورتوں کو ام المؤمنین لکھتے اور پیروؤں کو صحابہؓ کہتے تو ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
- .....٦ ہم کہتے ہیں کہ مرزائی امت ایک سیاسی جماعت ہے۔ جس کو عجمی اسرائیل کا نام
دینے سے مضمر خدشات واضح ہوجاتے ہیں۔
- .....٧ ہم کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد اپنے ہی الفاظ میں انگریزوں کا خود کاشتہ پودا تھا۔
- .....٨ ہم کہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی اور ان کے جانشین مرزا بشیر الدین محمود آنجہانی کے ۔
رشحات قلم کا بہت بڑا حصہ اہانت رسول ﷺ اور مسلمانوں کی دل آزاری کے باعث ضبط کر لینے کے قابل ہے۔
- .....٩ ہم کہتے ہیں مرزائیوں کو ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق سرکاری ملازمتوں اور
اقتصادی دوائر میں حصہ دیا جائے۔ عام مسلمانوں کے حصہ میں سے نہیں۔
- .....١٠ ہم کہتے ہیں مرزائیوں کی نگرانی کی جائے۔ کیونکہ ایک مدت سے ان کے دفاع میں
قادیانی ریاست قائم کرنے کا خواب پرورش پارہا ہے۔
- .....١١ ہم کہتے ہیں غیر ممالک میں ان کے جو مشن کام کررہے ہیں انہیں روپیہ کہاں سے ملتا
ہے اور کس اصل کی بنیاد پر ملتا ہے۔ اسلام کی تبلیغ کا اعتماد نامہ انہیں کس کی سفارش یا ہدایت پر دیا گیا ہے۔
- .....١٢ ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل میں ان کا مشن کیسے قائم ہوا۔ اس کو روپیہ کون دے رہا ہے۔
اب جنگ کے زمانہ میں اس کی پوزیشن کیا ہے۔
- .....١٣ ہم کہتے ہیں مشرقی پنجاب سے تمام مسلمانوں کا انخلا ہوگیا۔ لیکن مرزائی قادیان میں
کس بنیاد پر رہ رہے ہیں۔ بھارت اور پاکستان میں جو جنگ ہوئی کیا اس وقت بھی یہ مرزائی وہاں موجود تھے اور ان کا مرکز ہدایت ربوہ اس کا خلیفہ ہی تھا۔ یا کسی اور مقام سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں؟
- .....١٤ ہم کہتے ہیں کہ دو متحارب ملکوں میں ایک مذہبی جماعت کا بٹا ہوا وجود اور ربوہ پر
قادیان کی فوقیت اپنا ایک خاص باطنی ضمیر رکھتی ہے۔ جس کا محاسبہ اشد ضروری ہے۔
- .....١٥ ہم کہتے ہیں مرزائی حکام اپنی جماعت کے پیروؤں کو ملک کے نظم و نسق میں مراعات
ہی نہیں دیتے۔ بلکہ اپنے مذہب کی سہایتا بھی کرتے ہیں۔
- .....١٦ ہم کہتے ہیں کہ چوہدری ظفراللہ خان استعمار کی شطرنج کا خاص مہرہ ہے۔
فرمائیے اس میں کوئی بات ایسی ہے جس کی تائید خود مرزائی کے لٹریچر سے نہ ہوتی ہو۔
اگر ہمارا دعویٰ غلط ہے تو ہم گردن زدنی اور اگر صحیح ہے تو اس پر جزبز ہونا اور سب و شتم کرنا کس
کہتے ہیں کہ مرزائی امت ایک سیاسی جماعت ہے۔ جس کو عجمی اسرائیل کا نام دینے سے مضمر خدشات واضح ہو جاتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد اپنے ہی الفاظ میں انگریزوں کا خود کاشتہ پودا تھا۔
کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے جانشین مرزا بشیر الدین محمود آنجہانی کے۔ قلم کا بہت بڑا حصہ اہانت رسول ﷺ اور مسلمانوں کی دل آزاری کے باعث ضبط ہونے کے قابل ہے۔
کہتے ہیں مرزائیوں کو ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق سرکاری ملازمتوں اور قومی دوائر میں حصہ دیا جائے۔ عام مسلمانوں کے حصہ میں سے نہیں۔
کہتے ہیں مرزائیوں کی نگرانی کی جائے۔ کیونکہ ایک مدت سے ان کے دماغ میں یہاں ریاست قائم کرنے کا خواب پرورش پا رہا ہے۔
کہتے ہیں غیر ممالک میں ان کے جو مشن کام کر رہے ہیں انہیں روپیہ کہاں سے ملتا ہے؟ اس اصول کی بنیاد پر ملتا ہے۔ اسلام کی تبلیغ کا اعتماد نامہ انہیں کس کی سفارش یا اثر پر دیا گیا ہے۔
کہتے ہیں کہ اسرائیل میں ان کا مشن کیسے قائم ہوا۔ اس کو روپیہ کون دے رہا ہے۔ جبکہ عرب تنازعہ میں اس کی پوزیشن کیا ہے۔
کہتے ہیں مشرقی پنجاب سے تمام مسلمانوں کا انخلا ہو گیا۔ لیکن مرزائی قادیان میں کیسے ڈیرہ ڈالے ہیں۔ بھارت اور پاکستان میں جو جنگ ہوئی کیا اس وقت بھی کوئی مشن وہاں موجود تھے اور ان کا مرکز ہدایت ربوہ اس کا خلیفہ ہی تھا۔ یا کسی اور مقام سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں؟
کہتے ہیں کہ دو متحارب ملکوں میں ایک مذہبی جماعت کا بٹا ہوا وجود اور ربوہ پر مرکزیت کی فوقیت اپنا ایک خاص باطنی ضمیر رکھتی ہے۔ جس کا محاسبہ اشد ضروری ہے۔
کہتے ہیں مرزائی حکام اپنی جماعت کے پیروؤں کو ملک کے نظم و نسق میں مراعات ہی نہیں دیتے۔ بلکہ اپنے مذہب کی سہائتا بھی کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خان استعمار کی شطرنج کا خاص مہرہ ہے۔
ان باتوں میں کوئی بات ایسی ہے جس کی تائید خود مرزائی کے لٹریچر سے نہ ہوتی ہو۔
اگر غلط ہے تو ہم گردن زدنی اور اگر صحیح ہے تو اس پر جزبز ہونا اور سب و شتم کرنا کس
ضابطہ اخلاق کی رو سے جائز ہے۔ ہم گالی نہیں دے رہے۔ بلکہ گالی دینے والے کو کمینہ سمجھتے ہیں۔
ہماری کسی تحریر سے کوئی ایسا لفظ نکال کر دکھائیے جس پر دشنام کا اطلاق ہوتا ہو ہم نے جو حوالے دیئے ہیں ان کی تغلیط فرمائیے۔ پھر جو سزا بھی آپ تجویز کریں ہمیں عذر نہیں ہوگا۔ لیکن ہماری ان تحریروں اور تقریروں سے تلملا کر لاہور کے نمک خوار نے جو لب ولہجہ اختیار کیا اور اپنے مرشد موعود کے انداز میں سب و شتم کی جو برکھا شروع کی ہے۔ وہ اس کی تعلیم وتربیت کا شاہکار ہے۔ ہمیں اس کے خلاف شکایت نہیں۔ کیونکہ اس کا وجود ہی اس ٹکسال میں ڈھلا ہوا ہے۔ الفضل کے اس لے پالک کا نام چٹان میں لکھنا اس کی عزت بڑھانا ہے۔ لیکن ہماری توہین ہوگی۔ لہٰذا ہم ربوہ کے خلیفہ ثالث سے یہ دریافت کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ اپنے بارے میں یہی لب ولہجہ پسند کرتے ہیں۔ انہیں گوارا ہے کہ ہم تاریخ محمودیت کے حقائق شائع کریں۔ ہم سے کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ خلیفہ صاحب اپنے اس یک رخے کو لگام دیں۔ بصورت دیگر
اس ہفتگی میں پردہ زنگاری کے معشوق نے جو حوالے گھڑے ہیں اور متنبیٰ کے الہامی لہجہ میں جو گالیاں تصنیف فرمائی ہیں توبہ نہ کی گئی تو ان کا جواب ربوہ کے قصر خلافت کی غزلہائے رواں کو دیا جائے گا۔
ہمیں ہفتگی کے نقاب پوش اور عبدالسلام خورشید سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیونکہ ہم انہیں مرفوع القلم سمجھتے ہیں۔ خود چٹان بھی اس بحث میں نہیں آئے گا۔ البتہ منبر ومحراب اور کوچہ و بازار اس طلسم ہوشرباء کے افسانوں سے گونجیں گے۔ جس کی تسوید وترتیب قدرت نے اس احقر کو سونپ دی ہے۔
مرزائی اگر یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے قلم کا ہدف نہ بنیں تو انہیں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا ظفر علی خان اور علامہ اقبالؒ کے معاملہ میں اپنی زبانوں کو قابو میں رکھنا چاہئے۔ ربوہ کے اخلاقی ویرانے میں بیٹھ کر بڑ ہانکنا آسان ہے کہ ظفر علی خان کہاں ہے اور عطاء اللہ شاہ کدھر ہے؟ یہ سوال لاہور میں یا پاکستان کے کسی بھی شہر میں دریافت کیا ہوتا تو جواب کما حقہ عرض کیا جاسکتا تھا۔ بہرحال عرض مختصر یہ ہے کہ الفضل کا لاہوری ”شگوفہ“ اپنی حیثیت عرفی پر غور کرے اور خلیفہ ثالث اس کو ہدایت کردیں۔
اگر اس خانوادہ کو اپنے موجودہ لب ولہجہ پر اصرار ہے اور اس کے ساتھ یقین بھی ہے کہ سیاسی شطرنج پر انہی کے مہرے جیت رہے ہیں تو شیش محل میں بیٹھ کر پتھر پھینکنا دانشمندی نہیں احمقانہ جسارت ہے۔
بیاس اور چناب کے رنگارنگ قافیوں کا دفتر کھلا تو کیا کچھ سامنے نہیں آجائے گا۔ اب یہ فیصلہ کرنا خلیفہ ثالث کا کام ہے کہ وہ جواب آں غزل چاہتے ہیں یا فی الواقعہ لاہوری متنبّی کو روک دیتے ہیں۔
(ہفت روزہ ، چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٤، مورخہ ١٢/ جون ١٩٦٧ء)
٨......انگریزوں کے خاندانی ایجنٹ
ایڈیٹر چٹان نے مرزائی امت کا جائزہ لیتے ہوئے گذارش کی تھی کہ:
- ١...... قادیانی جماعت کوئی دینی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت ہے۔
جب تک ملک غلام رہا اس جماعت کے پیروکار انگریزوں کے خانہ زاد رہے۔ ملک آزاد ہو گیا تو اس جماعت نے بوجوہ اپنی حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھنا شروع کیا۔ اس امر کے دلائل وشواہد موجود ہیں کہ قادیانی غیر عرب اسلامی مملکتوں کے قلب میں ایک عجمی اسرائیل قائم کرنا چاہتے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے اسرائیلی ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اس غرض سے ان کی نگاہ عموماً کشمیر پر رہی ہے۔ ان کے نزدیک کشمیر مسیح ناصری کا مدفن ہے اور مسیح موعود کی پیش گوئی کا محور۔
- ٢...... سیاسی زندگی کا فقدان جس نہج پر چل رہا ہے اس کے پیش نظر ہمارا قطعی
خیال ہے کہ مرزائی اپنے پرانے خواب کی تعبیر کا راستہ بنانے میں بڑی ہوشیاری سے مشغول ہیں۔ لہٰذا ان کا احتساب ضروری ہو گیا ہے کہ ملک کے اہم محکموں میں بہ لحاظ تناسب ان کی تعداد کیا ہے؟ اگر یہ تناسب سے زیادہ ہیں اور بعض کلیدی آسامیاں ان کے قبضہ میں ہیں تو آئندہ ان کی بھرتی روک دی جائے اور ان کے اعمال وافعال کی کڑی نگرانی کی جائے۔
- ٣...... ہم نے صدر مملکت سے گذارش کی تھی کہ وہ اپنے ذرائع سے ان پر نگاہ
رکھیں اور معلوم کریں کہ ربوہ کی اندرونی زندگی کیا ہے؟ جب سے ربوہ بنا ہے اس وقت سے لے کر آج تک انٹیلی جنس بیورو نے جو مواد مہیا کیا ہے اس مواد کی ابتدائی رپورٹوں سے لے کر فوقانی تجزیہ تک ہر ورق مطالعہ فرمائیں۔ انشاء اللہ بہت کچھ آشکار ہوگا۔
اگر قادیانی امت محسوس کرتی ہے کہ ہم نے جو کچھ لکھا محض افتراء ہے تو اس کا فرض ہے کہ سامنے آئے حکومت کو دعوت دے کہ وہ ان امور کی تحقیق کرے۔ ہم غلط ثابت ہوں تو ہر سزا
کے لئے تیار ہیں۔ ورنہ مرزائی امہ زندگی بسر کرنے کے لئے آمادہ ہے مرزائی کج بحثی کے ا پچھلے دنوں ظفر علی خانؒ اکادمی کا ا احرار کی خانقاہ پر عرس رچا کر قوالوں پنجاب کے احرار ...... بڑے دور کی سوجھی۔ خبر الفضل تک نہیں پہنچ کا جو اجلاس منعقد ہوا اس میں بڑ علی خانؒ ) سے وہ رنگ بندھا۔ فضا سجیلی رسیلی فتاویٰ رنگیلی چھبیلی نشیلی ہم کئی بار دہرا چکے ہیں پاس کیا جواب ہے؟ لیکن ٢٥/ جو حسین احمد مدنی ، آزاد کے حاشیہ کا حق کس نے دیا ہے۔ یہ گویا اصل سوال کا جو ہیں۔ کنی کترانے سے فائدہ؟ جوا ایڈیٹر چٹان کو اس پر فخر ہے اور اس رچایا۔ نبوت کی حفاظت کی ہے۔ قادیانی احرار کا نام ا
کے لئے تیار ہیں۔ ورنہ مرزائی امت کو اعلان کرنا چاہئے کہ وہ مسلمانوں سے الگ ایک اقلیت کی زندگی بسر کرنے کے لئے آمادہ ہے؟
مرزائی کج بحثی کے استاد ہیں۔ اس طرف آتے نہیں ستیزگی پر اترے ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں ظفر علی خان اکیڈمی کا اعلان ہوا تو قادیانی ناقوس ”الفضل“ نے لکھا کہ اس اکادمی کو احرار کی خانقاہ پر عرس رچا کر قوالوں سے مولانا ظفر علی خان کا کلام گوانا چاہئے۔ پنجاب کے احرار ...... اسلام کے غدار ۔ دیکھا آپ نے؟ اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی ۔
خبر الفضل تک نہیں پہنچی ورنہ پچھلے دنوں بہشتی مقبرے میں ہریانہ پرانت کی سنگیت سبھا، کا جو اجلاس منعقد ہوا اس میں بڑے بڑے گنی شریک ہوئے ۔ ارمغاں قادیان (مؤلفہ مولانا ظفر علی خان) سے وہ رنگ بندھا۔ فضا گوش بر آواز ہو گئی۔ ٹیپ کا بند تھا۔
رچتی ہے نبوت قادیاں کی
فتاویٰ دے چکے ہیں جان عالم
رنگیلی ہے نبوت قادیاں کی
کہا اک مغنیہ نے تخلیہ میں
نشیلی ہے نبوت قادیاں کی
ہم کئی بار دہرا چکے ہیں کہ علامہ اقبال نے جو کچھ آپ کے متعلق کہا اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟ لیکن ٢٥ / جون کے شمارے میں حقائق و نکات کے تحت ارشاد ہوتا ہے۔ مولوی حسین احمد مدنی ، آزاد کے حاشیہ بردار (اور یکے از) پسماندگان احرار کو علامہ اقبالؒ کی نمائندگی کا حق کس نے دیا ہے۔
یہ گویا اصل سوال کا جواب ہے؟ کیا اس سے علامہ اقبال کے ارشادات ختم ہوجاتے ہیں۔ کنی کترانے سے فائدہ؟ جواب عنایت فرمائیے ۔ رہا پسماندگان احرار میں ہونے کا سوال تو ایڈیٹر چٹان کو اس پر فخر ہے اور اس کا اعتراف بار بار کیا جاچکا ہے۔ احرار نے نبوت کھڑاگ نہیں رچایا۔ نبوت کی حفاظت کی ہے۔
قادیانی احرار کا نام ادب سے لیں انہیں احرار سے کوئی نسبت نہیں۔ وہ (قادیانی)
عمر بھر برطانیہ کے ذلہ خوار رہے ہیں۔ انہیں استقامت وایثار کے مجسموں سے کیا نسبت ہوسکتی ہے؟ رہ گئے مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا آزاد، تو ان کا حاشیہ بردار ہونا عیب نہیں اعزاز ہے۔ آپ اس ذلت کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو ٹکے ٹکے کے انگریز افسروں کی حاشیہ برداری کے باعث آپ کا توشۂ آخرت ہوچکی ہے؟ پاکستان کے سیاسی مزاج کی آڑ لے کر آپ مولانا آزادؒ کو گالی دیتے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں آپ ان کے دروازہ پر قادیانی درویشوں کے لئے بھیک مانگنے گئے تھے؟
الفضل نے اسی شمارے میں زبان و بیان کے تحت ہمارے اس دعویٰ پر اپنے روایتی لہجہ میں نکتہ چینی کی ہے کہ: ’’ایڈیٹر چٹان ہر مرزائی مصنف، شاعر اور مبلغ کی تحریر وتقریر میں زبان و بیان کے اعتبار سے کئی پشتوں تک اصلاح دے سکتا ہے۔‘‘
ہم اپنے اس دعویٰ پر اصرار کرتے ہیں ارشاد ہو تو درثمین کی غلطیاں پیش کریں؟ سلطان القلم کی عبارتوں کے امراض انشاء کا علاج بھی ہمارے پاس ہے۔ لیکن جب آپ نے جہالت میں پختہ ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے تو شوق سے اسی حال میں رہئے۔
جس کا دین صحیح نہ ہو اس کا ادب کب صحیح ہوسکتا ہے۔ ہم نے لاہوری ہفتہ وار کی مغلقات کو بول وبراز لکھا تھا۔ الفضل نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ فرمائیے اور کیا لکھتے گالی کو گندگی کہنا جرم ہے؟ آپ کے سلطان القلم نے مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد تک لکھا ہے۔ اس کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ہم چھاپنا نہیں چاہتے۔ ہمارے اوراق متحمل ہی نہیں ہو سکتے۔ ورنہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے مخاطبین کو جس زبان میں خطاب کیا ہے اس کا بیشتر حصہ صرف دشنام ہے۔
مرزا قادیانی کی کتابوں سے اس وقت سات سو تیرہ گالیاں نکال کے علیحدہ کاغذ پر لکھی پڑی ہیں۔ ضرورت پڑی تو انہیں مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ کے روبرو رکھا جائے گا کہ استعماری ٹکسال میں جو نبوت مضروب ہوئی تھی اس کا معیار، قیمت اور مذاق کتنا پست تھا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٧، مورخہ ٣؍ جولائی ١٩٦٧ء)
٩...... مرزائی! ہمارا اعتراض ان کے پاکستان میں رہنے پر نہیں
مسلمانوں میں رہنے پر ہے!
قادیانی تمام مسلمانوں کو جو ان کی جماعت میں شامل نہیں یا مرزا غلام احمد کو مسیح موعود
کے ذلہ خوار رہے ہیں۔ انہیں استقامت و ایثار کے مجسموں سے کیا نسبت ہو سکتی لانا حسین احمد مدنی اور مولانا آزاد، تو ان کا حاشیہ بردار ہونا عیب نہیں اعزاز ہے۔ کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو مکے مدینے کے انگریز افسروں کی حاشیہ برداری کے شۂ آخرت ہو چکی ہے؟ پاکستان کے سیاسی مزاج کی آڑ لے کر آپ مولانا آزاد ۔ لیکن ہندوستان میں آپ ان کے دروازہ پر قادیانی درویشوں کے لئے بھیک
ضل نے اسی شمارے میں زبان و بیان کے تحت ہمارے اس دعوٰی پر اپنے روایتی لہجہ ہے کہ: ”ایڈیٹر چٹان ہر مرزائی مصنف، شاعر اور مبلغ کی تحریر و تقریر میں زبان سے کئی پشتوں تک اصلاح دے سکتا ہے۔“
اپنے اس دعوٰی پر اصرار کرتے ہیں ارشاد ہو تو درجنوں کی غلطیاں پیش کریں؟ بارتوں کے امراض انشاء کا علاج بھی ہمارے پاس ہے۔ لیکن جب آپ نے مونے کا فیصلہ کر لیا ہے تو شوق سے اسی حال میں رہئے۔
کا دین صحیح نہ ہو اس کا ادب کب صحیح ہو سکتا ہے۔ ہم نے لاہوری ہفتہ وار کی بکواس لکھا تھا۔ الفضل نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ فرمائیے اور کیا لکھتے گالی کو ہے؟ آپ کے سلطان القلم نے مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد تک لکھا ہے۔ اس یا رائے ہے؟ ہم چھاپنا نہیں چاہتے۔ ہمارے اوراق متحمل ہی نہیں ہو سکتے۔ ر قادیانی نے اپنے مخاطبین کو جس زبان میں خطاب کیا ہے اس کا بیشتر حصہ
ادیانی کی کتابوں سے اس وقت سات سو تیرہ گالیاں نکال کے علیحدہ کاغذ پر لکھی ہ پڑی تو انہیں مقننہ انتظامیہ اور عدلیہ کے روبرو رکھا جائے گا کہ استعماری ٹکسال ب ہوئی تھی اس کا معیار، قیمت اور مذاق کتنا پست تھا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج٢٠، ش٢٧، مورخہ ١٣جولائی ١٩٦٧ء)
بھئی! ہمارا اعتراض ان کے پاکستان میں رہنے پر نہیں
- ٭ مسلمانوں میں رہنے پر ہے!
تمام مسلمانوں کو جو ان کی جماعت میں شامل نہیں یا مرزا غلام احمد کو مسیح موعود
وغیرہ نہیں مانتے، اپنے عقیدہ کی رو سے کافر سمجھتے ہیں۔ ایسا مسلمان اگر مر جائے تو اس کا جنازہ نہیں پڑھتے۔ مثلاً قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا۔ قائد ملت کا جنازہ نہیں پڑھا۔ مادر ملت کا جنازہ نہیں پڑھا۔ حتیٰ کہ ایک قادیانی اپنے غیر قادیانی باپ، بھائی، ماں اور بیٹے کا جنازہ بھی نہیں پڑھتا ہے۔
قادیانی من حیث الجماعت مسلمانوں سے دین کے علاوہ عام معاشرت میں بھی الگ ہی رہتے ہیں۔ وہ کسی مسلمان سے اپنی لڑکی نہیں بیاہتے۔ ان کے نزدیک ایسی شادی ارتداد ہے۔ وہ اپنے دین، اپنے پیغمبر، اپنی خلافت، اپنے اہل بیت، اپنے صحابہ، غرض زندگی کے ہر عمرانی پہلو میں مسلمانوں سے علیحدہ ہیں۔
جب زندگی کے ہر میدان میں ان کی طرف سے علیحدگی ہی علیحدگی ہے اور وہ اپنے آپ کو علیحدہ مشخص کر چکے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں سے اس مغائرت کے باوجود انہیں مسلمانوں میں رہنے پر اصرار ہے؟ کیا اس لئے نہیں کہ وہ ملک کی حقیر سی اقلیت ہیں۔ انہیں اگر جمہوری اصول کے مطابق ملک کی سرکاری اور اقتصادی زندگی میں حصہ دیا جائے تو عددی اعتبار سے ان کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہوگا اور وہ ان تمام استحصالی مفادات سے محروم ہو جائینگے۔ جن سے اس وقت ان کی جماعت متمتع ہو رہی ہے۔
ہماری گذارش پر ایک دفعہ پھر غور کر لیجئے۔ عرض ہے کہ جس جماعت سے مسلمانوں کی اپنی وحدت میں خلل آتا ہے۔ اس جماعت کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسلمانوں کی معاشرتی وحدت میں گھس کر ان کی دولت اور حکومت میں انہی کے نام پر حصہ دار ہو۔ جو کچھ اس کو لینا ہے۔ اپنی تعداد اور حصہ کے مطابق لے، کسی مسلمان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔
اسی بنیاد پر ہم بار بار یہ گزارش کر رہے ہیں کہ انہیں اقلیت قرار دیا جائے۔ جب یہ اساسات و ایمانیات میں مسلمانوں سے الگ ہیں تو انہیں الگ ہونے اور حکومت کو الگ کرنے میں کیا عذر ہے؟
مرزائی اپنے مسئلہ کو صاف نہیں ہونے دیتے۔ انہوں نے شیعہ اکابر کو یہ تاثر دے رکھا ہے کہ مسئلہ سنیوں کا ہے۔ ہم پٹ گئے تو اس کے بعد سنی شیعوں پر چڑھ دوڑیں گے۔ چونکہ شیعہ اکابر اصل حقیقت سے بے خبر ہیں۔ اس لئے وہ ان کے داؤں میں آ جاتے اور کچھ لوگ اس تاثر کی چھاپ قبول کر لیتے ہیں۔ حالانکہ شیعہ مسلمانوں کا دوسرا بڑا فرقہ اور صدیوں سے اسلام کی شاخ ہیں۔ شیعہ سنی اختلاف بنیادوں میں نہیں شاخوں میں ہے۔ مرزائیوں نے تو نبوت سے لے کر خلافت تک الگ قائم کر رکھی ہے۔ جو شیعہ وسنی فروعات پر نہیں بلکہ اسلام سے بغاوت کی بنیاد پر ہے۔
ہمارے پاس شواہد ونظائر بلکہ دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ قادیانی خلافت کے انٹیلی جنس بیورو نے شیعہ سنی اختلاف کو نہ صرف آب ودانہ مہیا کیا۔ بلکہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں بھی ذہنی طور پر جو تصادم وٹکراؤ پایا جاتا ہے۔ اس کی بالواسطہ نشوونما بھی قادیانی کر رہے ہیں۔
اس اختلاف وتصادم کو نظیر بنا کر قادیانی حکومت کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں کہ یہ گویا مسلمان علماء کی فطرت کا خاصہ ہے اور قادیانی امت کا مسئلہ مسلمانوں ہی کے ایک فرقہ کا مسئلہ ہے۔ چونکہ ارباب بست و کشاد دین کی نزاکتوں سے آگاہ نہیں۔ اس لئے وہ اس کو مذہبی تنازعات کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے سوادِ اعظم کی بدقسمتی ہے کہ سیاسی مسلمان ان کے دینی موقف سے بوجوہ آگاہ نہیں یا اس سے دلچسپی نہیں رکھتے یا رواداری کے مفروضہ کا شکار ہیں یا بعض کے نزدیک خود اسلام ہی متروکات سخن میں سے ہے۔ نتیجتاً مرزائی حکام نے حکومت کے اجتماعی ذہن کو قادیانی نبوت کے عوارض پر غور کرنے سے روک رکھا ہے۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اپنے مسئلہ کو ملاّ کا مسئلہ بنادیں۔ علماء کو حکومت کے ہاں معتوب ٹھہرا کر خود ملک میں ریڑھ کی ہڈی بن جائیں۔ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ عوام وحکومت میں جو دیوار کھینچی ہوئی ہے اس کی اینٹیں قادیانی بھٹوں سے بھی آئی ہیں اور جانبین میں سے کسی کو بھی اس کا احساس نہیں ہے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ مرزائی پاکستان میں نہ رہیں۔ ضرور رہیں۔ لیکن اقلیت کے طور پر ہم ان سے حقوق شہریت نہیں چھیننا چاہتے۔ جیسا کہ وہ بعض سیاسی عناصر کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ جو لوگ ان کے محاسب ہیں وہ ان سے حق شہریت سلب کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ پاکستانی رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس سے تعرض نہیں۔ ہمارا اعتراض ان کے مسلمانوں میں رہنے پر ہے۔ پاکستان میں رہنے پر نہیں۔
ہمارا ان کے خلاف الزام یہ ہے اور ہم اس کی صحت پر اصرار کرتے ہیں کہ مرزائی امت ایک مدت سے اپنی ریاست قائم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اس غرض سے اس نے مسلمانوں میں اپنے آپ کو سیاسۃً شامل کر رکھا ہے۔ جن فعال اجزاء پر حکومت کا انحصار ہوتا ہے۔ ان فعال اجزاء میں مرزائی خفی وجلی شریک ہیں۔ ان کا خفیہ نظام ہے۔ اس خفیہ نظام میں حکومت سے متعلق ضروری معلومات ہیں۔ رعایت مقصود ہو تو ہمارا عرض کرنا بیکار ہے۔ ورنہ اچانک چھاپہ مار کر ربوہ کے مرکز سے حیرت انگیز دستاویز قبضہ میں لی جاسکتی ہیں۔
رے پاس شواہد و نظائر بلکہ دستاویزی ثبوت موجود ہیں کہ قادیانی خلافت کے انٹیلی جنس شیعہ سنی اختلاف کو نہ صرف آب و دانہ مہیا کیا۔ بلکہ مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں جو تصادم و تکرار پایا جاتا ہے۔ اس کی بالواسطہ نشوونما بھی قادیانی کر رہے ہیں۔ اختلاف و تصادم کو نظیر بنا کر قادیانی حکومت کو یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو جاتے سلمان علماء کی فطرت کا خاصہ ہے اور قادیانی امت کا مسئلہ مسلمانوں ہی کے ایک ۔ چونکہ ارباب بست و کشاد دین کی نزاکتوں سے آگاہ نہیں۔ اس لئے وہ اس کو کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے سوادِ اعظم کی بدقسمتی ہے کہ سیاسی دینی موقف سے بوجوہ آگاہ نہیں یا اس سے دلچسپی نہیں رکھتے یا رواداری کے یا بعض کے نزدیک خود اسلام ہی متروکات سخن میں سے ہے۔ نتیجتاً مرزائی حکام اجتماعی ذہن کو قادیانی نبوت کے عوارض پر غور کرنے سے روک رکھا ہے۔ ان کی میابی یہ ہے کہ اپنے مسئلہ کو ملا کا مسئلہ بنادیں۔ علماء کو حکومت کے ہاں معتوب کہ ریڑھ کی ہڈی بن جائیں۔ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ عوام و حکومت ہوئی ہے اس کی اینٹیں قادیانی بھٹوں سے بھی آئی ہیں اور جانشین میں سے کسی کو نہیں ہے۔
یں کہتے کہ مرزائی پاکستان میں نہ رہیں۔ ضرور رہیں۔ لیکن اقلیت کے طور پر ہم ت نہیں چھیننا چاہتے۔ جیسا کہ وہ بعض سیاسی عناصر کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سب ہیں وہ ان سے حق شہریت سلب کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ پاکستانی رہنا اس سے تعرض نہیں۔ ہمارا اعتراض ان کے مسلمانوں میں رہنے پر ہے۔ نہیں۔
کے خلاف الزام یہ ہے اور ہم اس کی صحت پر اصرار کرتے ہیں کہ مرزائی سے اپنی ریاست قائم کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔ اس غرض سے اس نے پ کو سیاسۃً شامل کر رکھا ہے۔ جن فعال اجزاء پر حکومت کا انحصار ہوتا ہے۔ زائی خفی و جلی شریک ہیں۔ ان کا خفیہ نظام ہے۔ اس خفیہ نظام میں حکومت ومات ہیں۔ رعایت مقصود ہو تو ہمارا عرض کرنا بیکار ہے۔ ورنہ اچانک چھاپہ حیرت انگیز دستاویز قبضہ میں لی جاسکتی ہیں۔
خلیفہ ناصر احمد کا اس مرحلہ میں جب کہ یورپی اور امریکی استعمار عربوں کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یورپ جانا اور وہاں عیسائی دنیا سے ایک مذہبی پیشوا کے طور پر متعارف ہونا خالی از علت نہیں۔ وہ مرحوم آغا خاں کی طرح پیشوائی کے طور پر اپنا ایک نقش جمانا چاہتا ہے۔ برطانوی رسوخ لازماً اس کی معاونت کر رہا ہے۔ قادیانی اسرائیل خدانخواستہ قائم ہوا تو یہ سفر تعارفی اعتبار سے اس کا مقدمہ ثابت ہوگا۔ یہ ایک پلان ہے جو بڑی چابکدستی سے تیار کیا گیا ہے۔ مسلمانوں میں سے مرزائی امت کی توسیع ان حالات میں ناممکن ہے۔ علامہ اقبالؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دوسرے علماء کی مساعی مشکور سے ان کا یہ راستہ بند ہو گیا ہے۔ اب قادیانی یہودیوں کی طرح ملک کی اقتصادیات پر قابض ہو کر اٹھنا چاہتے ہیں۔ جہاں تہاں مرزائی حکام ہیں۔ اپنی اسرائیلیت کو پروان چڑھانا ان کا فرض ہو گیا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ نبوت طاقت کے بغیر ادھوری رہ جاتی ہے اور طاقت مملکت کے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ لہٰذا ریاست بناؤ۔ طاقت حاصل کرو۔ نبوت منواؤ، پاکستان کے عوام طاقت کے آگے آگے اور دولت کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں۔ طاقت اور دولت ہاتھ میں ہو تو نبوت کے سامنے گردنیں بہ آسانی جھکائی جا سکتی ہیں۔ تمام قادیانی اپنے شاطر کی ہدایت کے مطابق انہی خطوط پر کام کر رہے ہیں۔
مطالبہ کہہ لیجئے یا التماس اس امر کا پتہ لگایا جائے کہ:
- ١...... قادیانی حکومت کے فعال شعبوں میں کس نسبت سے شریک ہیں؟
- ٢...... انہیں ربوہ سے دہری ہدایات تو نہیں ملتی ہیں؟ ان کے سرکاری فرائض کی
معلومات ربوہ میں پہنچتی ہیں کہ نہیں؟
- ٣...... ملک کی موجودہ اور آئندہ صنعتی زندگی میں حکومت کے پلانوں سے انہیں
کیا ملا۔ کس طرح ملا، کیوں کر ملا، اب اس کی رفتار کیا ہے؟
- ٤...... ان کے بیرونی مشن کس اساس پر قائم ہیں؟ ان کے پس منظر، پیش منظر
اور تہ منظر کا جائزہ لیا جائے تو اسرار و رموز کا ایک کارخانہ کھل جائے گا۔
اس ضمن میں چند واقعات بھی سن لیجئے۔
- اوّلاً...... مرزائی بعض قومی بنکوں میں اپنی جماعتی رقمیں مرزائی نوجوانوں کی ایک
خاص تعداد کو ملازم رکھنے کی شرط پر جمع کراتے ہیں۔
- ثانیاً...... منیر انکوائری رپورٹ کی واضح سرزنش کے باوجود مرزائی حکام اپنے
ہتھکنڈوں سے رکتے نہیں۔ مثلاً:
- ١...... پبلک کے لاہور آفس میں جب تک چوہدری بشیر احمد رہے انہوں نے
ادنیٰ واعلیٰ اہل کاروں میں زیادہ تر اپنے ہم عقیدہ افراد ہی کو بھرتی کیا۔ جتنا قرضہ جاری کیا اس کا ننانوے فیصد مرزائیوں کو ملا۔ چوہدری بشیر احمد میں ہمت ہے تو اس کی تردید کریں یا پھر حکومت تحقیق کر لے غلط ثابت ہو تو ہم سزاوار۔
- ٢...... حکومت سے باہر مثلاً برما شیل لاہور زون کے انچارج مرزا منور احمد
تھے۔ جب تک یہاں رہے۔ انہوں نے برما شیل کے پٹرول پمپ نوے فیصد مرزائیوں کو الاٹ کئے۔ یا پھر جس کی سفارش کسی متقی چہرے اور چٹی داڑھی نے کی اس کو مل گیا۔
- ٣...... عبدالحمید واپڈا کے جنرل مینجر ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ ان کے اختیارات
کہاں تک قادیانی امت کے کام آئے ہیں۔ صرف اتنی سی بات پر غور کر لیجئے کہ ہمبرگ میں ایک مسلمان واپڈا کی سپلائی کے شپنگ ایجنٹ ہیں وہ اپنے طور پر ایک مسجد بنانا چاہتے تھے۔ عبدالحمید صاحب نے ان کو زور دیا کہ قادیانی مشن کی زیر تعمیر مسجد میں روپیہ دیں اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خلیفہ ثالث بظاہر جس مسجد کا افتتاح کرنے گیا ہے وہ مسجد مختلف گوشوں پر اس طرز کے دباؤ ہی کے روپیہ سے بنی ہے۔
- ٤...... جن برطانوی کمپنیوں کے اندر خانہ سیاسی روح کام کر رہی ہے۔ اس کے
بعض عہدوں پر مرزائی مامور ہیں۔
بتائیے اس میں کوئی لفظ یا معنی ایسا ہے جس پر دشنام کا شائبہ ہو۔ لیکن جب ہم یہ لکھتے ہیں تو مرزائی اہل قلم اپنے اخباروں میں ہمیں ماں بہن کی گالیاں دینے پر اتر آتے ہیں۔ گویا ان کے نبی اور ان کے خلیفہ میں سے کسی کی ماں بہن نہیں ہے۔
ہماری گزارشات کا جواب دیجئے خلاصہ یہ ہے کہ : ”مرزائی مسلمانوں سے الگ ملت ہیں۔ انہیں الگ ہو جانا چاہئے اور حکومت کو الگ کر دینا چاہئے۔ وہ مسلمانوں میں رہ کر ان کے سیاسی و اقتصادی حقوق سے متمتع ہوتے اور اس طرح غلبہ واقتدار حاصل کرنے کے متمنی ہیں۔ ان کے مختلف افراد نے کلیدی اسامیوں پر بیٹھ کر مرزائی امت کے افراد کو ان کے تناسب سے بہت زیادہ بلکہ کئی ہزار فی صد جگہیں دے رکھی ہیں۔ اس کے مضمرات انتہائی خطرناک ہیں۔ انہیں پاکستان میں رہنا ہے تو پاکستانی بن کر رہیں۔ مسلمان کہلا کر نہیں۔“
فرمائیے اس میں کون سی بات ایسی ہے کہ مرزائی امت کا پریس صرف اس شبہ پر بوکھلا
ہو کر بازار میں آ گیا ہے۔ کہ مرزائی حکام نے اس کی پشت پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اور قادیانی صنعت کار اس کو نان و نفقہ مہیا کر رہے ہیں۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣١، مورخہ ٣١؍ جولائی ١٩٦٧ء)
١٠...... سلطان القلم کے جانشین
پچھلے پانچ چھ ہفتوں میں قادیانی دانشوروں کے بحث ونظر کا اندازہ ومعیار معلوم ہوا ہے۔ سنا کرتے تھے بلکہ تجربہ بھی ہو چکا تھا کہ اس جماعت کے مبلغ ومدیر ڈھٹائی میں لاجواب ہیں۔ لیکن چنیوٹ میں مدیر چٹان کی تقریر کے بعد یا پھر چٹان نے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کی گرفت سے عاجز آکر قادیانی امت کے اہل قلم نے جو استدلال اختیار کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سوال گندم جواب ریسماں کی بدترین خصوصیتیں ان کے دماغ میں جمع ہو گئی ہیں۔ قادیانی اہل قلم کا طرز استدلال ہی انہیں جھٹلانے کے لئے کافی ہے۔
ہم پوچھتے ہیں فرمائیے! علامہ اقبالؒ نے جو کچھ آپ کے بارے میں تسلسل وتواتر سے کہا وہ درست ہے کہ غلط؟ غلط ہے تو آپ کے پاس اس کا جواب کیا ہے؟ الفضل ربوہ لکھتا ہے کہ: ”شورش صاحب کو خدا جانے کس نے علامہ اقبال کا نمائندہ بنا دیا ہے۔“
یہ جواب ہے علامہ اقبالؒ کے ان مقالات وخیالات کا جو قادیانی تابوت میں میخ کا کام دے گئے ہیں۔ کیا علامہ اقبالؒ نے اپنے ان خیالات پر خط تنسیخ کھینچ دیا تھا۔ کیا ان کی موت کے بعد یہ حصہ منسوخ ہو گیا؟ منسوخ ہوا تو کس نے کیا؟ اور اس کا مجاز کون ہے؟ پھر یہ ممکن ہے کہ صاحب تصنیف کی رحلت کے بعد ورثاء اس کی تصنیف کو منسوخ یا متروک کریں اور ان کا یہ فعل صاحب تصنیف کا فعل سمجھا جائے۔ یہ تو صحیح ہے کہ جائیداد کی وارث اولاد ہوتی ہے۔ لیکن اس کا جواز آج تک نہیں قائم ہوا کہ اولاد میں سے کوئی فرد والد کے ان فرمودات پر قلم تنسیخ کھینچ دے جو علم کی میراث ہو کر قرطاس وقلم کو منتقل ہو چکے ہیں۔ صرف دو تحریفیں ساری تاریخ تحریر میں پائی جاتی ہیں۔
ایک عیسائی علماء کی تحریف جس سے بائبل مجروح ہوئی ہے۔ دوسری مرزا بشیر الدین محمود کی تحریف کہ اپنے والد کی تحریروں کے عیب چھپانے کے لئے انہوں نے عجیب وغریب جسارتیں کی ہیں۔
علامہ اقبالؒ نے قادیانی نبوت اور قادیانی امت کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ ان کے اسلامی فکر اور دینی شغف کی معراج ہے اور اسے رُوبہ انکار کیسے کیا جاسکتا ہے کہ یہ ان کی زندگی کے آخری چند برسوں کا حاصل تھا۔
علامہ اقبالؒ نے عمر بھر کے غور فکر اور مطالعہ و مشاہدہ کے بعد قادیانی نبوت کا جس کمال علم سے محاسبہ کیا اسی کا نتیجہ ہے کہ اس امت کو انہوں نے نہ صرف ہندوستان کا غدار کہا۔ بلکہ اسلام کا غدار بھی لکھا اور اس کو اپنی بصیرت کا حاصل قرار دیا۔ (ملاحظہ ہو پنڈت جواہر لال نہرو کے نام علامہ اقبالؒ کا خط) جواب علامہ اقبالؒ کے ارشاد کا مرحمت فرمائیے۔ کوس آپ ایڈیٹر چٹان کو رہے ہیں۔ کیا موت کے بعد کسی شخص کی تحریریں ساقط ہوجاتی ہیں۔ ان کا حوالہ دینا اور اس بحث و نظر کی عمارت قائم کرنا غلط ہے؟ اگر یہ معیار ہے تو پھر آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریریں کیوں منسوخ نہیں کی ہیں؟ آج تک کیوں نقل ہو رہی ہیں یا چھاپی جا رہی ہیں؟ سیدھا سادا سوال ہے کہ علامہ اقبال نے جو کچھ فرمایا اس کا جواب کیا ہے؟ آپ چونکہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے اقبال کا جواب نہیں دیتے۔ لیکن ایڈیٹر چٹان کے خلاف غرّا رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ:
- ١....... علامہ اقبال نے آپ کو مسلمانوں میں سے خارج کر دینے کا مطالبہ کیا یا نہیں؟
- ٢....... انہوں نے آپ کو یہودیت کا مثنیٰ قرار دیا۔
- ٣....... انہوں نے آپ کو اسلام اور ہندوستان کا غدار لکھا اور اس کی صحت پر اصرار کیا۔
- ٤....... انہوں نے آپ کو ایک سیاسی جماعت قرار دے کر مسلمانوں کی دینی وحدت میں
نقب لگانے کا مجرم گردانا۔
- ٥....... انہوں نے آپ کو شاتم رسول قرار دیا۔
ان کا جواب دیجئے! یا فرمائیے کہ علامہ اقبالؒ نے ان مطالبات کو واپس لے لیا تھا۔ اس سے مراجعت کر لی تھی۔ کسی خط، کسی تحریر، کسی بیان میں اپنے ان خیالات پر نظر ثانی فرمائی تھی۔ اگر یہ نہیں ہے اور بلا شبہ نہیں ہے تو پھر ان کے خیالات پر ایڈیٹر چٹان کے خلاف سب و شتم کے معنی کیا ہیں؟
حد ہو گئی کہ ان سوالات کے جواب میں علامہ اقبالؒ کی ١٩١٠ء کی ایک تقریر کا حوالہ دیا جا رہا ہے جب کبھی مرزائی علامہ اقبالؒ کے ارشادات سے عاجز اور محصور ہوتے ہیں اسی تحریر کو پیش کرتے ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ نے اسٹریچی ہال علی گڑھ میں جو خطبہ دیا تھا۔ اس
اقبال نے قادیانی نبوت اور قادیانی امت کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ ان کے شغف کی معراج ہے اور اس سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے کہ یہ ان کی زندگی کے کا حاصل تھا۔
اقبال نے عمر بھر کے غور و فکر اور مطالعہ و مشاہدہ کے بعد قادیانی نبوت کا جس کمال کا نتیجہ ہے کہ اس امت کو انہوں نے نہ صرف ہندوستان کا غدار کہا۔ بلکہ اسلام س کو اپنی بصیرت کا حاصل قرار دیا۔ (ملاحظہ ہو پنڈت جواہر لال نہرو کے نام جواب علامہ اقبالؒ کے ارشاد کا مرحمت فرمائیے۔ کوس آپ ایڈیٹر چٹان کو رہے بعد کسی شخص کی تحریریں ساقط ہو جاتی ہیں۔ ان کا حوالہ دینا اور اس بحث و نظر کی ہے؟ اگر یہ معیار ہے تو پھر آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریریں کیوں ؟ آج تک کیوں نقل ہو رہی ہیں یا چھاپی جا رہی ہیں؟ سیدھا سادا سوال ہے جو کچھ فرمایا اس کا جواب کیا ہے؟ آپ چونکہ مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس یں دیتے۔ لیکن ایڈیٹر چٹان کے خلاف غرا رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ:
بالؒ نے آپ کو مسلمانوں میں سے خارج کر دینے کا مطالبہ کیا یا نہیں؟
نے آپ کو یہودیت کا مثنیٰ قرار دیا۔
نے آپ کو اسلام اور ہندوستان کا غدار لکھا اور اس کی صحت پر اصرار کیا۔
نے آپ کو ایک سیاسی جماعت قرار دے کر مسلمانوں کی دینی وحدت میں نے کا مجرم گردانا۔
نے آپ کو شاتم رسول قرار دیا۔
ب دیجئے! یا فرمائیے کہ علامہ اقبالؒ نے ان مطالبات کو واپس لے لیا تھا۔ تھی۔ کسی خط، کسی تحریر، کسی بیان میں اپنے ان خیالات پر نظر ثانی فرمائی تھی۔ نہیں ہے تو پھر ان کے خیالات پر ایڈیٹر چٹان کے خلاف سب و شتم کے معنی
ان سوالات کے جواب میں علامہ اقبالؒ کی ١٩١٠ء کی ایک تقریر کا حوالہ دیا ئی علامہ اقبالؒ کے ارشادات سے عاجز اور محصور ہوتے ہیں اسی تقریر کو پیش رتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ نے اسٹریچی ہال علی گڑھ میں جو خطبہ دیا تھا۔ اس
میں یہ الفاظ موجود تھے کہ : ”پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں۔“
اوّل تو اس میں مرزا قادیانی کی نبوت اور ان کے جانشینوں کی خلافت کا جواز نہیں۔
دوم یہ اس زمانے کی بات ہے جب مرزا غلام احمد قادیانی نے مناظر اسلام کی حیثیت سے جماعت سازی کی تھی اور ان کے باطنی دعاوی سامنے نہیں آ گئے تھے۔
اس زمانہ میں بہت سے لوگ ظاہری وجوہ سے ان کے معترف تھے۔ جب ان کی حقیقت کھلی اور مرزا بشیر الدین محمود نے خلافت کو ایک سیاسی کاروبار کی شکل دی تو ایک ایک ورق کھل گیا۔ نتیجتاً جو لوگ ایک عام شہرت کے باعث مرزا قادیانی کو مناظر و مبلغ خیال کرتے تھے۔ ظلی اور بروزی نبی کی اصطلاحوں سے چوکنا ہو گئے اور ان پر وقت کے ساتھ ساتھ تمام حقیقتیں منکشف ہو گئیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے خلافتی جانشینوں کا مقام و منشاء کیا ہے اور وہ مسلمانوں میں دینی ارتداد کی ایک سیاسی تحریک ہیں۔
یہ ایک شوخ چشمانہ استدلال ہے کہ ١٩١٠ء کی تحریر کو جواز بنا لیا جائے اور ١٩٣٣ء سے ١٩٣٧ء تک کی تحریریں منسوخ قرار دی جائیں۔ آخری بات پہلی ہوتی ہے یا آخری؟ قرآن مجید میں کئی آیتیں ہیں۔ جنہیں بعد کی آیتوں نے منسوخ کیا۔ مثلاً حرمت شراب، حکم ہوا کہ نشہ کی حالت میں نماز پڑھو۔ پھر شراب حرام ہو گئی اور ہر حالت میں حرام ہو گئی۔ اب اگر یہ اصرار کیا جائے کہ شراب صرف نماز میں حرام ہے اور قرآن پاک میں لکھا ہے تو اس کو صرف قادیانی منطق ہی کہا جا سکتا ہے۔ ایک ہی چیز کے بارے میں کسی شخص کی آخری رائے ہی قطعی رائے ہوتی ہے۔
اسی طرح کا ایک اور اقتباس ٢٩ ستمبر ١٩٠٠ء کی تحریر سے لیا گیا ہے۔ یہ علامہ اقبالؒ کے ایک مضمون صوفی حضرت عبدالکریم جیلانی سے ماخوذ ہے۔ ہمارے سامنے وہ مضمون نہیں ہمیں یقین ہے کہ قادیانی حوالوں میں تلبیس کر جاتے ہیں۔ تا ہم ایک لحظہ کے لئے ہم یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ ہی کے الفاظ ہیں یعنی انہوں نے اس بحث میں ”مرزا غلام احمد کو جدید ہندی مسلمانوں کا اغلباً سب سے بڑا دینی مفکر لکھا ہے۔“
تو اس سے بھی یہ نتیجہ مرتب نہیں ہوتا کہ وہ مرزا غلام احمد کو مسیح موعود یا ظلی و بروزی نبی مانتے تھے۔ یہ تو ایک عمومی تاثر تھا جو اس وقت کے مباحث سے پیدا ہو گیا تھا۔ جب مرزا قادیانی مار آستیں نکلے یا اس وقت کی صورتحال سے ان کا دماغ خراب ہو گیا تو معترفین نے اپنی راہیں تبدیل کر لیں۔
لطف کی بات یہ ہے کہ جس زمانہ کی یہ تحریریں پیش کی جارہی ہیں اولاً تو ان تحریروں کو علامہ اقبالؒ نے اپنے فکری ونظری ارتقاء کے بعد لائق اعتنا ہی نہیں سمجھا۔ یہ ان کی ابتدائی تحریری مشقیں تھیں۔ جب ان کا اسلامی شعور اور دینی تبحر پختہ ہو گیا تو ان کے خیالات روشن ہو کر قوم کے لئے سنگ میل ہو گئے اور یہی افکار ونظریات ہیں جن کی صداقت پر انہیں حکیم الامت، شاعر مشرق اور ترجمان اسلام کہا جاتا ہے اور جس کی اساس پر ان کے حکیمانہ وجود کا شہرہ ہے۔
١٨٩٩ء میں حضرت علامہ نے ایم اے کیا۔ ١٩٠٠ء میں ان کی عمر صرف ٢٣ برس کی تھی۔ ١٨٩٦ء تک وہ صرف ایک شاعر تھے اور ان کی فکر کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس عہد کی تحریروں کے اقتباس تو قادیانی امت اپنی روایتی سچائی کے لئے بطور سند استعمال کرتی ہے۔ لیکن جس عمر میں وہ پختہ ہو کر مسلمانوں کی محبوب فکری متاع بن چکے اس عمر کی متاع فکر سے فرار غایت درجہ کی بوالعجبی ہے۔ کوئی سا طرز استدلال بھی اس کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے؟
اقبال کبھی طالب علم بھی تھے تو کیا اس عمر کے اقوال کو حجت قرار دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مشق سخن کے ابتدائی دور میں بہت سے اشعار لکھے۔ جنہیں خیالات کی تبدیلی اور نظریات کی صحت کے بعد حذف کر دیا تو کیا اس کلام کو بھی ان کے مستند کلام پر فوقیت دے سکتے ہیں۔
مرزائیوں کی منطق عجیب و غریب ہے کہ ایک طرف تو انہیں اپنے ربانی مشن ہونے پر اصرار ہے۔ دوسری طرف وہ اپنی نبوت و خلافت کے جواز میں انہی لوگوں کی ابتدائی تحریریں لاتے ہیں۔ جو ان کے سب سے بڑے محاسب ہیں اور جن کے سن و شعور کی تحریروں نے ان کی عمارت کو بیخ و بن سے ہلا دیا ہے۔
اگر قادیانی نبوت اور اُس کی خلافت کے سچا ہونے پر اصرار ہے تو اقبال کی انگلی تھام کر کھڑا ہونے کی کوشش بے معنی ہے۔ اس انگوٹھے کے متعلق فرمائیے جو اقبال نے آپ کی شہ رگ پر رکھا ہے۔
الفضل نے مولانا عبدالمجید سالک کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کی مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین سے والہانہ محبت کا ذکر کیا اور لکھا ہے کہ حضرت علامہ نے طلاق کی شرعی حیثیت دریافت کرنے کے لئے مرزا جلال الدین (بار ایٹ لا) کو مولوی حکیم نور الدین کے پاس قادیان بھیجا تھا۔
سالک صاحب نے یاران کہن میں ایک شوشہ مولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق بھی چھوڑا تھا۔ مولانا نے سختی سے ڈانٹا تو سالک صاحب کو تردید و تصحیح کرنی پڑی۔ علامہ صاحب زندہ ہوتے تو
کی بات یہ ہے کہ جس زمانہ کی یہ تحریریں پیش کی جارہی ہیں اوّلاً تو ان تحریروں کو پنے فکری و نظری ارتقاء کے بعد لائقِ اعتنا ہی نہیں سمجھا۔ یہ ان کی ابتدائی تحریری ب ان کا اسلامی شعور اور دینی تبحر پختہ ہو گیا تو ان کے خیالات روشن ہو کر قوم کے گئے اور یہی افکار و نظریات ہیں جن کی صداقت پر انہیں حکیم الامت، شاعر مشرق کہا جاتا ہے اور جس کی اساس پر ان کے حکیمانہ وجود کا شہرہ ہے۔ ء میں حضرت علامہ نے ایم اے کیا۔ ١٩٠٠ء میں ان کی عمر صرف ٢٣ برس کی وہ صرف ایک شاعر تھے اور ان کی فکر کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس عہد کی تحریروں نی امت اپنی روایتی سچائی کے لئے بطور سند استعمال کرتی ہے۔ لیکن جس عمر میں س کی محبوب فکری متاع بن چکے اس عمر کی متاعِ فکر سے فرار غایت درجہ کی بوالعجبی ستدلال بھی اس کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے؟ ئی طالب علم بھی تھے تو کیا اس عمر کے اقوال کو حجت قرار دیا جاسکتا ہے۔ انہوں رانی دور میں بہت سے اشعار لکھے۔ جنہیں خیالات کی تبدیلی اور نظریات کی کر دیا تو کیا اس کلام کو بھی ان کے مستند کلام پر فوقیت دے سکتے ہیں۔ ا کی منطق عجیب و غریب ہے کہ ایک طرف تو انہیں اپنے ربانی مشن ہونے پر رف وہ اپنی نبوت و خلافت کے جواز میں انہی لوگوں کی ابتدائی تحریریں لاتے ا سے بڑے محاسب ہیں اور جن کے سن و شعور کی تحریروں نے ان کی عمارت کو ۔ ا نبوت اور اس کی خلافت کے سچا ہونے پر اصرار ہے تو اقبال کی انگلی تھام کر بے معنی ہے۔ اس انگوٹھے کے متعلق فرمائیے جو اقبال نے آپ کی شہ رگ
مولانا عبدالمجید سالک کے حوالے سے علامہ اقبالؒ کی مرزا غلام احمد اور حکیم عت کا ذکر کیا اور لکھا ہے کہ حضرت علامہ نے طلاق کی شرعی حیثیت دریافت ال الدین (بار ایٹ لا) کو مولوی حکیم نورالدین کے پاس قادیان بھیجا تھا۔ ب نے یارانِ کہن میں ایک شوشہ مولا نا ابوالکلام آزاد کے متعلق بھی چھوڑا اٹھا تو سالک صاحب کو تردید و تصحیح کرنی پڑی۔ علامہ صاحب زندہ ہوتے تو
سالک صاحب علامہ اقبال کے واضح خیالات جانتے ہوئے اوّلاً کبھی یہ حوصلہ نہ کرتے۔ ثانیاً حوصلہ کرتے تو تردید کرنی پڑتی، ثالثاً حضرت علامہ کی زندگی میں انہوں نے کبھی یہ نہیں لکھا اور نہ کسی سے ذکر کیا۔ سالک صاحب کا یہ رویہ اکثر معمہ رہا کہ مختلف اکابر کے تذکرے میں مرزا قادیانی کو ضرور لاتے رہے۔ جس سے مرزا قادیانی کی صفائی یا بڑائی مقصود ہو۔ حالانکہ ان کے سوانح و افکار میں مرزا قادیانی کا ذکر بالکل بے جوڑ ہے۔ ایک وجہ تو اس کی یہ ہے کہ مولانا سالک کے والد قادیانی تھے اور مسلمانوں نے انہیں اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سالک صاحب کے چھوٹے بھائی آج تک قادیانی ہیں۔ تیسرا سبب یہ ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود کے ساتھ مولانا عبدالمجید سالک کے تعلقات کا ایک خاص سانچہ تھا۔ خلیفہ صاحب اپنی تاریخ کا سرو سامان بنانے کے لئے قلم سالک سے اس قسم کی روایتیں وضع کرا لیتے تھے۔ اس کے باوجود قادیانی امت کی سنگدلی ملاحظہ ہو کہ مولانا سالک کے انتقال پر ان کے سگے چھوٹے بھائی نے ان کا جنازہ نہیں پڑھا تھا اور یہ تماشہ مسلم ٹاؤن کے قبرستان میں راقم الحروف نے اپنی آنکھوں دیکھا ہے۔ نبوت کی روایتیں ہمیشہ ثقہ راویوں سے چلتی ہیں۔ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو سالک صاحب کو ثقہ راوی سمجھتے ہیں؟ اس حد تک کہ جس حد تک ان کے متعلق تصدیقی پہلو نکلتا ہو۔ یا اس کے علاوہ دوسرے افکار و عقائد میں بھی آدمی کے ثقہ ہونے کا معیار ہمیشہ اس کی ساری زندگی کے اعمال و اقوال ہوتے ہیں نہ کہ ان اعمال و اقوال کا کوئی ایسا جزو جو حسب حال ہو۔
الفضل نے ٢٤/ جون کے زیر بحث اداریہ میں علامہ اقبالؒ کے متذکرہ حوالوں سے اپنی نبوت کا جواز پیدا کرنے کی احمقانہ جسارت کے بعد لکھا ہے۔ ہم علامہ اقبالؒ مرحوم کا بڑا احترام کرتے ہیں۔ اس لئے صرف اشارہ پر اکتفاء کیا جاتا ہے۔ ورنہ ؎
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
اور وہ اشارہ کیا ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان ایک خاص عہدہ پر نہ لئے جاتے تو یہ تحریریں بھی ہرگز وجود میں نہ آتیں۔
(الفضل ص ٢، مورخہ ٢٤/ جون ١٩٦٧ء)
انا للّٰہ وانا الیہ راجعون ! بغض سامنے آ گیا۔ اس سے بڑھ کر خود ساختہ نبوت کی مداہنت اور خود کاشتہ خلافت کی خیانت اور کیا ہو سکتی ہے؟ بہر حال الفضل نے اعتراف کرلیا کہ اس کے دل میں کھوٹ ہے اور اس کا نام اس نے احترام رکھا ہے۔
ہم بھی جانتے ہیں کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ذرا کھل کے بولئے۔ ربانی مشن ہونے کا دعویٰ اور مصلحتوں کی مینا کاری؟ اعتراف کیجئے کہ آپ کی جماعت اسرائیل کا عجمی پودا ہے اور آپ ربوہ کے تل ابیب میں بیٹھ کر مسلمانوں کی معنوی قوت پر اپنی حکومت قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کے فرمودات کو آپ ذاتیات میں نہیں لاسکتے کہ انہیں چوہدری ظفر اللہ خان کے عہدہ خاص ہونے کا صدمہ تھا۔ سوال تو وہ ہیں جو حضرت علامہ نے اپنے مقالات میں اٹھائے ہیں۔ جوابات یہ نہیں جو آپ کے نہاں خانہء دماغ سے نکلے ہیں؟
سوال یہ ہے کہ آپ کا مذہب برطانوی حکومت کے استعماری مقاصد کی پیداوار ہے یا نہیں؟ آپ فرماتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ کو چوہدری ظفر اللہ خان کے خاص عہدے پر مقرر ہونے کا صدمہ تھا؟ آخر فہم و فراست کی کون سی شکل ہے جو اس جواب کو صحیح قرار دے سکتی ہے؟ ٹامک ٹوئیاں مارنا چھوڑیئے اور اس کا جواب عنایت فرمائیے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٧، مورخہ ٣؍ جولائی ١٩٦٧ء)
١١...... کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
تاریخ احمدیت جلد دوم مؤلفہ دوست محمد شاہد۔ (ادارۃ المصنفین ربوہ) کا صفحہ ٥٣ تا ٦٤ ملاحظہ ہو۔ اس کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہمارے پاس ہیں۔ مزید جلدیں چھپی ہیں تو ہمارے پاس نہیں، محولہ بالا مضمون میں مرزا غلام احمد کی دوسری شادی کے حالات درج ہیں۔ یہ قادیانی امت کی سرکاری تاریخ ہے۔ اس کے بارے میں چوہدری ظفر اللہ خان نے لکھا ہے کہ: ”دوسری جلد ختم کرنے پر میری طبیعت اس قدر متاثر تھی اور میرے دل پر اس قدر شدید احساس تھا کہ گویا میں حضرت مسیح موعود کی صحبت اقدس میں کئی گھنٹے متواتر گزار کر اٹھا ہوں۔“
مؤلف نے مرزا قادیانی کی شادی کے زیر عنوان لکھا ہے ۔
- ١....... دنیا میں اسلام کے عالمگیر نظام روحانی کے قیام اور امام عصر حاضر کے
لائے ہوئے آسمانی انوار و برکات کو جہاں بھر میں پھیلا دینے کے لئے ازل سے ۔ یہ مقدر تھا کہ ہندوستان کے صوفی مرتاض اور ولی کامل حضرت خواجہ محمد ناصر کی نسل سے ایک پاک خاتون مہدی موعود کی زوجیت میں آئے گی۔ جس کے نتیجہ میں ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد رکھی جائے گی۔
ہم بھی جانتے ہیں کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ذرا کھل کے بولئے۔ ربانی مشن اور مصلحتوں کی مینا کاری؟ اعتراف کیجئے کہ آپ کی جماعت اسرائیل کا عجمی پودا ہے کہ تل ابیب میں بیٹھ کر مسلمانوں کی معنوی قوت پر اپنی حکومت قائم کرنے کے پے ہیں۔ علامہ اقبال کے فرمودات کو آپ ذاتیات میں نہیں لاسکتے کہ انہیں چوہدری کے عہدہ خاص ہونے کا صدمہ تھا۔ سوال تو وہ ہیں جو حضرت علامہ نے اپنے اٹھائے ہیں۔ جوابات یہ نہیں جو آپ کے نہاں خانہ دماغ سے نکلے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ آپ کا مذہب برطانوی حکومت کے استعماری مقاصد کی پیداوار ہے یا فرماتے ہیں کہ علامہ اقبال کو چوہدری ظفر اللہ خان کے خاص عہدے پر مقرر ہونے کا فہم و فراست کی کون سی شکل ہے جو اس جواب کو صحیح قرار دے سکتی ہے؟ ٹامک نہ ماریئے اور اس کا جواب عنایت فرمائیے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٧، مورخہ ٣/ جولائی ١٩٦٧ء)
١١...... کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
تاریخ احمدیت جلد دوم مؤلفہ دوست محمد شاہد ۔ ( ادارہ المصنفین ربوہ ) کا صفحہ ٢٥٣ تا ٢٦٤ کتاب کی چھ ضخیم جلدیں ہمارے پاس ہیں۔ مزید جلدیں چھپی ہیں تو ہمارے پاس ان میں مرزا غلام احمد کی دوسری شادی کے حالات درج ہیں۔ یہ قادیانی امت ہے۔ اس کے بارے میں چوہدری ظفر اللہ خان نے لکھا ہے کہ : ” دوسری جلد ختم طبیعت اس قدر متاثر تھی اور میرے دل پر اس قدر شدید احساس تھا کہ گویا میں صحبت اقدس میں کئی گھنٹے متواتر گزار کر اٹھا ہوں ۔“
نے مرزا قادیانی کی شادی کے زیر عنوان لکھا ہے ۔
دنیا میں اسلام کے عالمگیر نظام روحانی کے قیام اور امام عصر حاضر کے انوار و برکات کو جہاں بھر میں پھیلا دینے کے لئے ازل سے ۔ یہ مقدر تھا کہ مرتاض اور ولی کامل حضرت خواجہ محمد ناصر کی نسل سے ایک پاک خاتون مہدی آئے گی۔ جس کے نتیجہ میں ایک نہایت مبارک اور مقدس خاندان کی بنیاد
- ......٢ حضرت مرزا ( غلام احمد ) ایک عرصہ سے عملاً تجرد کی زندگی بسر کر رہے تھے
اور مسلسل علمی مشاغل، شب بیداری کے باعث ضعف قلب، ذیابیطس اور دوران سر وغیرہ امراض سے طبیعت انتہاء درجہ کمزور ہو چکی تھی۔ عمر پچاس سال تک پہنچ رہی تھی۔ جو ملک کی اوسط عمر کے مطابق پیرانہ سالی میں شمار ہوتی ہے اور اقتصادی مشکلات اور اہل خاندان کی مخالفت الگ ایک مستقل مصیبت تھی۔
- ......٣ چونکہ خدائی منشاء میں نکاح ثانی کا ہونا ضروری تھا۔ اس لئے خود اللہ تعالیٰ
نے غالباً ١٨٨١ء میں آپ کو نئی شادی کی تحریک فرمائی ۔
- ......٤ اس خدائی بشارت کے تین سال بعد نومبر ١٨٨٤ء میں حضرت میر ناصر
نواب دہلوی کے ہاں آپ کی دوسری شادی ہوئی اور ان کی دختر نیک اختر نصرت جہاں بیگم ”خدیجہ“ بن کر آپ کے حرم میں داخل ہوئیں اور لاکھوں ”مومنوں“ کی روحانی ماں ہونے کی وجہ سے ”ام المؤمنین“ کا خطاب پایا۔
- ......٥ ان کی عمر سترہ اٹھارہ سال کی تھی اور حضرت کی عمر پچاس سال کے لگ
بھگ ...... تاریخ طے پاگئی تو آسمانی دولہا یعنی حضرت مسیح موعود دلی جانے کے لئے حافظ حامد علی اور لالہ ملاوا مل کی معیت میں لدھیانہ سٹیشن پر وارد ہوئے...... حضرت میر صاحب نے رشتہ کا معاملہ اپنے خاندان بلکہ اپنی والدہ ماجدہ سے بھی مخفی رکھا۔ حضرت پہنچے تو انہیں بھی خبر ہوگئی اور وہ بھڑک اٹھے کہ ایک بوڑھے شخص اور پھر ایک پنجابی کو رشتہ دے دیا تھا۔
- ......٦ حضور دوسرے دن حضرت سیدۃ النساء ام المؤمنین نصرت جہاں بیگم کو
ساتھ لے کر دہلی سے روانہ ہوئے اور قادیان تشریف لے آئے۔ حضرت مسیح موعود کی پہلی خوشدامن محترمہ چراغ بی بی کے سوا سب رشتہ دار شدید مخالف اور بالخصوص اس دوسری شادی پر طیش میں آئے ہوئے تھے ۔ کنبہ سخت مخالف تھا۔
- ......٧ ( بروایت اہلیہ محترمہ ) ” جب ہم پہنچے، تنہائی کا عالم، بیگانہ وطن، دل کی
عجیب حالت، روتے روتے میرا برا حال ہو گیا تھا۔ نہ کوئی اپنا تسلی دینے والا ، نہ منہ دھلانے والا ، نہ کھلانے پلانے والا ، کنبہ نہ ناتہ، اکیلی حیرانی پریشانی میں آن کر اتری ۔ کمرے میں ایک کھری چارپائی پڑی تھی ۔ جس کی پائینتی پر ایک کپڑا پڑا تھا۔ اس پر تھکی ہاری جو پڑی تو صبح ہوگئی ۔ مؤلف مرزا قادیانی کی اہلیہ کے ان الفاظ کو نقل کر کے لکھتا ہے۔
- ٨....... یہ اس زمانے کی ملکہ دو جہاں کا بستر عروسی تھا اور سسرال کے گھر میں پہلی
رات تھی۔ خدا کی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ اے کھری چارپائی پر سونے والی پہلے دن کی دلہن، دیکھ تو سہی دو جہان کی نعمتیں ہوں گی اور تو ہوگی، بلکہ ایک دن تاج شاہی تیرے خادموں سے لگے ہوں گے۔
- ٩....... حضرت ام المومنین کے ذریعہ سے ایک مبارک نسل کا آغاز ہوا اور آپ
کے بطن مبارک سے پانچ صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔
- ١٠....... حضرت ام المومنین کا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل ہی سے پہلی
بیوی سے بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضور کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی۔ نکاح ثانی کے بعد حضرت اقدس نے انہیں کہلا بھیجا۔ اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اس لئے اب دو باتیں ہیں۔ یا تم مجھ سے طلاق لے لو، یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ انہوں نے کہلا بھیجا۔ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔
مؤلف نے اسی ضمن میں صفحہ ٥٩ پر لکھا ہے کہ: ”حضرت کے بعض قدیم اور مخلص رفقاء نے بھی آپ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پر اظہار افسوس کیا۔ چنانچہ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی نے خط بھیجا کہ مجھے حکیم محمد شریف صاحب کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ بباعث سخت کمزوری کے اس لائق نہ تھے۔ اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو میں اعتراض نہیں کر سکتا۔ ورنہ ایک بڑے فکر کی بات ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلاء پیش آوے۔“
یہ سب کچھ مؤلف کے اپنے الفاظ میں جوں کا توں نقل کیا گیا ہے۔ ہمیں اس سے کوئی تعرض نہیں کہ شادی کا کھڑاک کیونکر رچایا گیا اور کہاں ختم ہو گیا۔ مرزائی جانیں ان کا نبی جانے، یا ان کے مؤلف جانیں۔ ہمارا اعتراض ام المومنین کے الفاظ پر ہے کہ اس کا اطلاق صرف حضور سرور کائنات فداہ امی وابی کی ازواج پر ہوتا ہے۔ سیدۃ النساء کا لقب حضرت فاطمہ علیہا السلام کے لئے ہے۔ نصرت جہاں بیگم کو ان کے پاؤں کی خاک سے بھی نسبت نہیں۔ ہمارے نزدیک یہ شرمناک گستاخی ہے کہ مرزا قادیانی کی بیوی کو سیدۃ النساء کہا جائے یا خدیجہ۔
ملکہ دو جہاں کا لقب
ظالمانہ جسارت ہے۔ یہ لقب تو حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے بھی استعمال
یہ اس زمانے کی ملکہ دو جہاں کا بستر عروسی تھا اور سسرال کے گھر میں پہلی رحمت کے فرشتے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ اے کھری چارپائی پر سونے والی دیکھ تو سہی دو جہان کی نعمتیں ہوں گی اور تو ہوگی، بلکہ ایک دن تاج شاہی تیرے ہوں گے۔
حضرت ام المومنین کے ذریعہ سے ایک مبارک نسل کا آغاز ہوا اور آپ پانچ صاحبزادے اور پانچ صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔
حضرت ام المومنین کا بیان ہے کہ حضرت مسیح موعود کو اوائل ہی سے پہلی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضور کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی۔ حضرت اقدس نے انہیں کہلا بھیجا۔ اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے۔ اس ب۔ یا تم مجھ سے طلاق لے لو، یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو۔ انہوں نے کہلا پے میں کیا طلاق لوں گی۔ بس مجھے خرچ ملتا رہے۔ میں اپنے باقی حقوق
نے اسی ضمن میں صفحہ ٥٩ پر لکھا ہے کہ: ”حضرت کے بعض قدیم اور مخلص رفقاء مدنظر رکھتے ہوئے اس پر اظہار افسوس کیا۔ چنانچہ مولوی ابوسعید محمد حسین بھیجا کہ مجھے حکیم محمد شریف صاحب کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ باعث لائق نہ تھے۔ اگر یہ امر آپ کی روحانی قوت سے تعلق رکھتا ہے تو میں نہ ایک بڑے فکر کی بات ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ابتلاء پیش آوے۔“
مؤلف کے اپنے الفاظ میں جوں کا توں نقل کیا گیا ہے۔ ہمیں اس سے کوئی رامہ کیونکر رچایا گیا اور کہاں ختم ہو گیا۔ مرزائی جانیں ان کا نبی جانے، یا ہمارا اعتراض ام المومنین کے الفاظ پر ہے کہ اس کا اطلاق صرف حضور کی ازواج پر ہوتا ہے۔ سیدۃ النساء کا لقب حضرت فاطمہ علیہا السلام کے بیگم کو ان کے پاؤں کی خاک سے بھی نسبت نہیں۔ ہمارے نزدیک یہ احمد قادیانی کی بیوی کو سیدۃ النساء کہا جائے یا خدیجہ۔
ت ہے۔ یہ لقب تو حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے لئے بھی استعمال
نہیں ہوا ہے۔ چہ جائیکہ مرزا غلام احمد کی اہلیہ، حکومت نے کبھی غور کیا؟ کیا سرکار کے محاسب محکمے صرف سیاسی اپوزیشن ہی پر نگاہ رکھنے کے لئے رہ گئے ہیں۔ ان کے نزدیک ذوالفقار علی بھٹو کا تعاقب، چوہدری محمد علی کا محاسبہ اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی نگرانی ہی فرائض ریاست کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ ریاست، مملکت، صدر سب کا احترام درست لیکن اسلام، محمدؐ اور قرآن کل کائنات سے بڑے ہیں۔ ان کے لئے تعاقب، محاسبہ اور نگرانی میں غفلت کا جواز کیا ہے؟ پریس برانچ ان ہفوات کا بھی جائزہ لیا کرے؟ آخر وہ کون سی طاقت ہے جس نے اس دینی اپوزیشن کو بگٹٹ چھوڑ رکھا ہے۔
کسی عورت کو ملکہ دو جہاں کہنے کا مطلب ہے کہ وہ دارین کی ملکہ ہے۔ یعنی اس جہاں کی ملکہ اور اگلے جہاں کی بھی ملکہ۔ اس دنیا کی ملکہ جو عرش کی دنیا ہے۔ جہاں انبیاء ہیں، صدیقین ہیں، شہداء ہیں، صلحاء ہیں اور ان کی ملکہ کون؟ مرزا غلام احمد قادیانی کی اہلیہ؟ انا للہ وانا الیہ راجعون!
آخر اس دل آزاری کا جواز کیا ہے؟ اس کا نام دلجوئی ہے؟ کس کی دلجوئی قادیانی امت کی، حضور کی ازواج مطہرہ کا مقابلہ، فاطمہ علیہا السلام کا سامنا اور نام دلجوئی۔ یہ صریحاً دل آزاری ہے۔ جس کی جسارت دین، قانون اور اخلاق کے نزدیک جرم ہے۔ منیر انکوائری رپورٹ میں ان مقدس القابوں اور ان مقدس اصطلاحوں کے استعمال پر ممانعت کی نشاندہی موجود ہے۔ لیکن مرزائی دیدہ دلیری، شوخ چشمی، کور باطنی اور ہٹ دھرمی سے ان کے استعمال پر تلے ہوئے ہیں اور انہیں صرف اس لئے ٹوکا یا روکا نہیں جاتا کہ انہیں حکومت کے نزدیک قرب حاصل ہے اور جو لوگ انہیں ٹوکتے یا روکتے ہیں وہ سیاسی وجوہ کے باعث ارباب بست و کشاد کے عتاب کا شکار ہیں۔ جن کی ذمہ داری ہے۔ انہیں مشیت ایزدی کے اس اعلان کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ جس اعلان کو علامہ اقبالؒ نے ان لفظوں میں سمو دیا ہے؎
مطالبہ نہیں استدعا ہے کہ ارباب اقتدار ان اصطلاحوں اور القابوں کی تقدیس کے لئے قانون نافذ کریں۔ جو سرور کائنات اور آپ کے خاندان کی میراث و متاع ہیں۔ ان کا سرقہ ہر حال میں قابل مواخذہ ہے اور تاریخ احمدیت اپنے مندرجات کے لحاظ سے ضبط کئے جانے کے قابل ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٩، مورخہ ١٧ جولائی ٦٧ء)
١٢...... قادیانیوں کا تعاقب اشد ضروری ہے
جہاں تک دینی محاذ کا تعلق ہے اس میں شبہ نہیں کہ ان کا محاسبہ ہر لحاظ سے ہورہا ہے۔ لیکن ان سے سیاسی طور پر نمٹنے کے لئے ملک میں ایسی کوئی جماعت نہیں جو ان کے چہروں سے نقاب اٹھاتی رہے۔ مولانا ظفر علی خان کے بعد کوئی طاقتور مدیر نہیں رہا کہ انہیں کھونٹے پر باندھ سکے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی وفات کے بعد کوئی خطیب نہیں رہا۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کی خانہ ساز نبوت اور ان کے جانشینوں کی خود ساختہ خلافت کا تعاقب کرسکے۔ اس صورتحال سے مرزائیوں نے خاصا فائدہ اٹھایا ہے۔ کوئی روزنامہ نہیں جو مرزائیوں کے فتنے کو سمجھتا ہو۔ تمام روزنامے اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مرزائی غالباً مسلمانوں ہی کی ایک شاخ ہیں۔ لہٰذا ان کے معاملہ میں رواداری برت رہے ہیں۔
صحیح الخیال مسلمانوں کی ہر تنظیم میں مرزائیت کے خلاف جذبہ موجود ہے۔ یعنی اس کے سیاسی شعبدوں کی مذہبی روح کا احتساب جاری ہے۔ اس ضمن میں بہت سا لٹریچر نکل چکا ہے۔ الیاس برنی کی کتاب قادیانی مذہب نے اس تابوت میں میخ کا کام کیا ہے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی کی تالیف قادیانیت بھی عربی وانگریزی میں منتقل ہو کر ان کے کفن میں ٹانکہ ثابت ہوئی ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی فاضلانہ تصنیف نے بھی ان کی قلعی کھولی ہے۔ مولانا تاج محمود اپنے ہفتہ وار لولاک میں اس فرقہ ضالہ کے لئے سوہان روح بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جیسا کہ چاہئے اس جماعت کے سیاسی عوارض پر گرفت کررکھی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں قادیانی جماعت کے عقائد وافکار پر تابڑ توڑ تنقید جاری ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ قادیانی فرقہ میں کوئی سا مسلمان بھی شامل نہیں ہورہا؟ یعنی تبلیغی حیثیت سے قادیانی مذہب مفلوج ہوچکا ہے۔ اصل خطرہ ان کی سیاسی تگ ودو یا پھر عیاری ومکاری سے ہے۔ ایڈیٹر چٹان نے چنیوٹ کی تقریر میں اسی خطرہ سے علماء اور عوام کو آگاہ کیا تھا۔ مرزائیت سے خوفزدہ ہونے کی نہیں، مرزائیت کو خوفزدہ کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی ہم اس کے پیروؤں کو محسوس کرادیں کہ وہ ایک اسلامی مملکت میں (جو رسول اللہ ﷺ کے صدقہ میں قائم ہوئی ہے) نہ تو اپنی جعلی نبوت کا کاروبار چلا سکتے ہیں اور نہ انہیں خواب میں بھی حکومت قائم کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کا سیاسی وجود ہمارے نزدیک سخت مشتبہ ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ چوہدری صاحب کی حرکات اعمال پر کڑی نگاہ رکھے۔ اسی قسم کے لوگ ”مجسم سی آئی اے“ ہوتے ہیں۔ انہیں پاکستان کی وجہ سے
١٢...... قادیانیوں کا تعاقب اشد ضروری ہے
تک دینی محاذ کا تعلق ہے اس میں شک نہیں کہ ان کا محاسبہ ہر لحاظ سے ہو رہا ہے۔ سی طور پر نپٹنے کے لئے ملک میں ایسی کوئی جماعت نہیں جو ان کے چہروں سے ے۔ مولانا ظفر علی خان کے بعد کوئی طاقتور مدیر نہیں رہا کہ انہیں کھونٹے پر باندھ ہ شاہ بخاری کی وفات کے بعد کوئی خطیب نہیں رہا۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کی ر ان کے جانشینوں کی خود ساختہ خلافت کا تعاقب کر سکے۔ اس صورتحال سے صا فائدہ اٹھایا ہے۔ کوئی روز نامہ نہیں جو مرزائیوں کے فتنے کو سمجھتا ہو۔ تمام فہمی کا شکار ہیں کہ مرزائی غالباً مسلمانوں ہی کی ایک شاخ ہیں۔ لہذا ان کے موش رہتے ہیں۔
خیال مسلمانوں کی ہر تنظیم میں مرزائیت کے خلاف جذبہ موجود ہے۔ یعنی اس کی مذہبی روح کا احتساب جاری ہے۔ اس ضمن میں بہت سا لٹریچر نکل چکا کی کتاب قادیانی مذہب نے اس تابوت میں میخ کا کام کیا ہے۔ مولانا ابوالحسن قادیانیت بھی عربی وانگریزی میں منتقل ہو کر ان کے کفن میں ٹانکہ ثابت ہوئی ا مودودی کی فاضلانہ تصنیف نے بھی ان کی قلعی کھولی ہے۔ مولانا تاج محمود میں اس فرقہ ضالہ کے لئے سوہانِ روح بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے جیسا کہ کے سیاسی عوارض پر گرفت کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں قادیانی و افکار پر تابڑ توڑ تنقید جاری ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ قادیانی فرقہ میں، کوئی نہیں ہو رہی؟ یعنی تبلیغی حیثیت سے قادیانی مذہب مفلوج ہو چکا ہے۔ اصل کا روپ یا پھر عیاری ومکاری سے ہے۔ ایڈیٹر چٹان نے چنیوٹ کی تقریر میں عوام کو آگاہ کیا تھا۔ مرزائیت سے خوفزدہ ہونے کی نہیں، مرزائیت کو خوفزدہ ہے۔ یعنی ہم اس کے پیروؤں کو محسوس کرا دیں کہ وہ ایک اسلامی مملکت میں کے صدقہ میں قائم ہوئی ہے ) نہ تو اپنی جعلی نبوت کا کاروبار چلا سکتے ہیں اور نہ حکومت قائم کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کا سیاسی سخت مشتبہ ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ چوہدری صاحب کی حرکات و اعمال پر سی قسم کے لوگ ”مجسم سی آئی اے“ ہوتے ہیں۔ انہیں پاکستان کی وجہ سے
عالمی جج کا جو اعزاز ملا ہے۔ وہ اس لئے نہیں کہ ظفر اللہ خان قادیانی امت کے اکابر میں سے ہیں۔ ان کے متعلق یہ بات کاملاً وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ ملک سے باہر پاکستان کے نہیں قادیانیت کے وفادار ہیں اور اس کے آثار و نتائج ہمارے لئے رسوائی کا باعث ہیں۔
جس خبر نے ہمیں چونکا دیا ہے وہ امسال قادیانی جماعت کا چوہدری ظفر اللہ خان کی قیادت میں حج ہے۔ اوّل تو قادیانی جماعت کی یہ جسارت معنی خیز ہے؟ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت سے لے کر مرزا بشیر الدین محمود کی رحلت تک ان لوگوں نے حج بیت اللہ کو اپنے وظائف سے خارج رکھا اور نہ انہیں جرأت ہی ہوئی۔ اب ایکا ایکی یہ فیصلہ تعجب خیز ہے۔ یہ ”حج“ کس غیر ملکی طاقت کے ایما پر ہوا ہے؟ یا ان کی مہماتِ سیاسیہ کا حصہ ہے؟ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کو حجاز میں جو رسوخ حاصل ہے۔ اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ جلالتہ الملک اور ان کی حکومت کو اس فتنہ سے مطلع کریں۔ ادھر علماء کا فرض ہے کہ وہ شاہ فیصل کو قادیانی نبوت اور قادیانی خلافت کے ارتداد سے آگاہ کریں۔ اس ”عجمی اسرائیل“ کے پیروؤں کا حجاز میں جانا خالی از خطرہ نہیں ہے۔ معاصر عزیز ”لولاک“ (١٢ مئی ١٩٦٧ء) کے اداریہ سے معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ کے مشہور روزنامہ الندوہ نے ٨؍اپریل ١٩٦٧ء کے شمارے میں اس وفد حج کی سرگرمیوں کا نوٹس لیا ہے۔ الندوہ کی اطلاع کے مطابق اس وفد کے دو رکن جماعت کا لٹریچر تقسیم کرتے ہوئے گرفتار کر لئے گئے۔ دونوں اس وقت جیل میں ہیں اور چوہدری ظفر اللہ کی مساعی کے باوجود رہا نہیں ہوئے ہیں۔
کیا یہ گنبد خضریٰ کی توہین نہیں کہ نصاریٰ کے ایک مسیلمہ کی دعوت لے کر قادیانی خانہ کعبہ اور مدینتہ النبی تک پہنچیں۔ اس وقت ابو بکرؓ ہوتے تو کیا کرتے؟ ان کی روح پر کیا گزری ہوگی۔
شاہ فیصل کی خدمت اقدس میں استدعاء ہے کہ ان مجرموں سے رعایت نہ کریں۔ انہیں قرار واقعی سزا دیں اور وہی سزا دیں جو رسول اللہ کے مقابلہ میں نبوت قائم کرنے والوں کو ہو سکتی ہے۔ ہماری حکومت کا فرض ہے کہ آئندہ قادیانی جماعت کے افراد کو حج پر جانے کے لئے پاسپورٹ نہ دے۔ اس باب میں بھی مسلمان متفق ہیں۔ حتیٰ کہ غلام احمد پرویز بھی اس ایک مسئلہ میں علامہ اقبال کی متابعت کرتے ہوئے جمہور المسلمین کے ہمنوا ہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ قادیانی جماعت کے سیاسی افکار و اعمال کی بوقلمونیوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک جماعت بننی چاہئے جس میں ہر عقیدہ و خیال کے مسلمان شریک ہوں اور وہ اس امر کا
سراغ لگاتے رہیں کہ قادیانی فتنہ اپنے مقاصدِ مشومہ کے لئے کہاں کہاں نقب لگا رہا ہے؟
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢١، مورخہ ٢٢ مئی ١٩٦٨ء)
١٣......اسرائیل میں مرزائی مشن
جس سال انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کا اجلاس اسرائیل میں ہوا تھا۔ پاکستان کے ارکان نے صدر مملکت سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اس اجلاس میں معمول کے مطابق شریک ہونا چاہتے ہیں۔ صدر نے جواباً کہا کہ ہمارے تو اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہی نہیں ہیں۔ ایک ایڈیٹر نے کہا کہ اسرائیل کی مقامی کمیٹی کے ارکان سے ٹوکیو میں بات ہوئی تھی۔ انہوں نے استدعا کی کہ آپ لوگ بیت المقدس پہنچ جائیں۔ ہم وہاں سے اپنے طیاروں پر لے جائیں گے۔ صدر ایوب نے اتفاق نہ کیا۔ ایڈیٹر نے کہا کہ ہم لوگ عرب ملکوں کے پابند نہیں۔ جب کہ ان میں سے بعض ہندوستان کے معاملہ میں ہمارے ساتھ بھی نہیں ہیں۔ کیا ہمارا ہی فرض ہے کہ ہم ان کی خواہشوں کو ملحوظ رکھیں۔
صدر نے جواب دیا معاملہ یہی ہوتا تو مجھے عذر نہیں تھا۔ عرب ملکوں کی اس روش سے قطع نظر اصل مسئلہ دینی غیرت کا ہے۔ آپ لوگوں کو نہیں جانا چاہئے۔ چنانچہ صدر کی اس خواہش پر مقامی ارکان رہ گئے۔ بلکہ اس وقت انٹرنیشنل پریس ٹرسٹ کے تمام پاکستانی ارکان نے صدر مملکت کی اس غیرت مندانہ خواہش کو حاضر و غائب میں سراہا اور اپنے طور پر تسلیم کیا کہ انہیں یہ ارادہ ہی نہیں کرنا چاہئے تھا۔
مقام تعجب ہے کہ اسرائیل میں قادیانی جماعت کا مشن ہے اور وہاں کی حکومت نے اسے تمام سہولتیں مہیا کر رکھی ہیں۔ وہیں سے اس مشن کا لٹریچر عربی میں مطبوع ہو کر مختلف عرب ملکوں میں تقسیم ہوتا ہے۔
پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ ربوہ کی خلافت سے دریافت کرے کہ یہ مشن وہاں کیونکر قائم ہوا۔ اس کو روپیہ کہاں سے ملتا ہے؟ اور کیا ان کے نزدیک عرب ممالک کے مسلمان واقعی مسلمان ہیں؟ اگر مسلمان ہیں تو تبلیغ کن لوگوں میں ہو رہی ہے اور اس تبلیغ کا مفہوم کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسرائیل کی حکومت یہودیوں کو مسلمان بنانے کے لئے تو مشن کو کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ لازماً اس مشن کے مقاصد سیاسی ہوں گے؟ قادیانی جماعت غیر عرب ملکوں کے لئے بھی اسرائیل کی حیثیت رکھتی ہے۔
کیا فرماتے ہیں خلیفہ ثالث کہ ا ملکوں کی اسلامی حمیت کا ساتھ دے گا۔ یا اپ اسرائیل کے حکمرانوں کو لازماً اندازہ ہو گا کہ ا کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ قادیانی اسرائیل عظیم میں کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک از اسلام ہے۔ اصل خرابی یہ ہے کہ قادیانی ہیں۔ لیکن عقیدۃً انہیں نامسلمان سمجھ کر جا جماعت سے باہر کے مسلمانوں کی بربادی کا اس وقت کہ اسرائیل سے عرب قادیانی مشن ختم کیا جائے اور وہ تمام افراد وا ہے کہ یہ فرض حکومت انجام دے گی یا قاد ہوتی ہے کہ حکومت پاکستان نے تو اسرائ خلافت کا تبلیغی مشن اسرائیل میں برابر کام کر کیا ہے۔ ارباب اختیار کو کم از کم اس بات میں اسلام کا نام لے کر کرنل لارنس کے فرائ
١٤......کیا
ایک خبر آئی ہے کہ حیفہ کے نز ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ یہ گاؤں ابتداء باشندوں نے اسرائیل کی فتح اور عربوں کی کیا۔ کیا یہ خبر ارباب حکومت کے کانوں حکومت پاکستان نے اس خبر کے مالہ وماعل اس خبر کی تصدیق کی جائے اور اگر یہ خبر سچ
کیا فرماتے ہیں خلیفہ ثالث کہ اسرائیل سے تصادم کی صورت میں ان کا مشن عرب ملکوں کی اسلامی حمیت کا ساتھ دے گا۔ یا اپنے پیدائشی عقیدے کے مطابق اسرائیل کا وفادار ہوگا۔ اسرائیل کے حکمرانوں کو لازماً اندازہ ہوگا کہ اس مشن سے کیا کام لیا جاسکتا ہے۔ ہم اپنے صوابدید کی بناء پر کہہ سکتے ہیں کہ قادیانی اسرائیل کے لئے وہی کریں گے جو برطانیہ کے لئے پہلی جنگ عظیم میں کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک ہر مسلمان جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا۔ خارج از اسلام ہے۔ اصل خرابی یہ ہے کہ قادیانی تمام اسلامی ملکوں میں بحیثیت مسلمان داخل ہوتے ہیں۔ لیکن عقیدۃً انہیں نامسلمان سمجھ کر جاسوسی کرتے اور ہر وہ کام کر گزرتے ہیں جو ان کی جماعت سے باہر کے مسلمانوں کی بربادی کا باعث ہو۔
اس وقت کہ اسرائیل سے عرب ملکوں کی ٹھن چکی ہے۔ لازماً یہی ہے کہ اسرائیل سے قادیانی مشن ختم کیا جائے اور وہ تمام افراد واپس بلا لئے جائیں جو وہاں کام کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ فرض حکومت انجام دے گی یا قادیانی جماعت خود اپنے مشن کو واپس بلا لے گی۔ حیرت ہوتی ہے کہ حکومت پاکستان نے تو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے۔ لیکن قادیانی خلافت کا تبلیغی مشن اسرائیل میں برابر کام کر رہا ہے اور یہ اجازت نامہ اس کو نہ جانے کس نے عطاء کیا ہے۔
ارباب اختیار کو کم از کم اس بات کا جائزہ لیتے رہنا چاہئے کہ قادیانی مشن مختلف ممالک میں اسلام کا نام لے کر کرنل لارنس کے فرائض تو انجام نہیں دے رہے ہیں؟
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٢، مورخہ ٢٩ مئی ١٩٦٧ء)
١٤...... کبابیر میں جشن مسرت
ایک خبر آئی ہے کہ حیفہ کے نزدیک قادیانیوں کا ایک گاؤں کبابیر نامی جبل الکرمل کی ایک پہاڑی پر واقع ہے۔ یہ گاؤں ابتداء سے ہی اسرائیلی علاقے میں ہے۔ اس گاؤں کے قادیانی باشندوں نے اسرائیل کی فتح اور عربوں کی عارضی شکست پر کبابیر میں جشن مسرت منایا اور چراغاں کیا۔ کیا یہ خبر ارباب حکومت کے کانوں تک پہنچی ہے اور کیا دنیائے اسلام کی سب سے بڑی حکومت پاکستان نے اس خبر کے مالہ وما علیہ پر غور کیا اور اس کی تصدیق کی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس خبر کی تصدیق کی جائے اور اگر یہ خبر سچ ہو تو اس کا ردعمل کیا ہوگا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣١، مورخہ ٣١ جولائی ١٩٦٧ء)
١٥...... انگلستان میں مرزائی مشن
ہم خدا اور رسول کے نام پر صدر مملکت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دل و دماغ کے مسلمان آفیسر کو جو صحیح العقیدہ ہونے کے علاوہ ان کا معتمد ہو۔ اس امر کی تحقیق کے لئے مقرر کریں کہ:
- ١...... قادیانی جماعت کا جو مشن انگلستان میں کام کر رہا ہے وہ مسلمانوں کو
مرزائی بنا رہا ہے یا انگریزوں میں تبلیغ اسلام کے نام پر اپنے اغراض مشؤمہ کا کھڑاگ رچا کے بیٹھا ہے۔
- ٢...... ہماری مصدقہ معلومات کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ
خان اپنے تبلیغی دستہ کی بہ نفس نفیس قیادت کر رہے ہیں اور تین سے چار لاکھ تک جو مسلمان انگلستان میں مقیم ہیں ان میں مرزائیت پھیلانے کے لئے شب و روز ایک کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہاں ایک مرکز اور اقامتی ہوٹل قائم کیا گیا ہے۔ جہاں نو واردوں بیکسوں اور کم آمدنی کے مسلمانوں کو رہائشی سہولت کے علاوہ سستی روٹی دی جاتی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان ان لوگوں میں بسترا مار کر بیٹھ جاتے اور تبلیغ مرزائیت کرتے ہیں۔ اکثر لوگ محدود، دینی واقفیت کے باعث ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ اس مشن کا مقصد مسلمانوں کو مرزائی بنانا ہے یا عیسائیوں کو مسلمان؟ اس مشن پر آج تک کتنا سرمایہ خرچ ہوا اور اس کی بدولت کتنے انگریز مسلمان یا مرزائی ہوئے ہیں۔ صحیح اعداد سے حقیقت کھل جائے گی۔
- ٣...... مرزائی مشن کی اس جارحیت سے تنگ آ کر انگلستان میں مقیم مسلمانوں
نے انٹر نیشنل تبلیغی اسلامی مشن قائم کیا ہے۔ ایک برطانوی نژاد مسلمان کرنل کا وہاں کے اخباروں میں بیان چھپا تھا کہ قادیانی مشن کی دعوت اسلام دوغلہ ہے اور یہ دوغلہ اسلام ہمیں اس لئے منظور نہیں کہ برٹش میوزیم سے جو سیاسی ریکارڈ ہم نے دیکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں برطانوی حکمرانوں نے مسئلہ جہاد کی تنسیخ اور مسلمانوں کی وحدت میں تفریق کے لئے مرزا غلام احمد اور اس کی سیاسی امت کو پیدا کیا تھا۔ ہم انگلستان کے باشندے اپنے ہی خود ساختہ سیاسی نبی پر کیونکر ایمان لا سکتے ہیں۔ جب کہ پاکستان اور ہندوستان سے ہماری حکومت کا دور لد چکا ہے۔ اس کے بعد تو اس نبی کو بھی لد جانا چاہئے تھا۔
١٥....... انگلستان میں مرزائی مشن
خدا اور رسول کے نام پر صدر مملکت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ دل و دماغ کے لو جو صحیح العقیدہ ہونے کے علاوہ ان کا معتمد ہو۔ اس امر کی تحقیق کے لئے مقرر کریں
قادیانی جماعت کا جو مشن انگلستان میں کام کر رہا ہے وہ مسلمانوں کو یا انگریزوں میں تبلیغ اسلام کے نام پر اپنے اغراضِ مذمومہ کا کھڑاک رچا کے بیٹھا ہے۔
ہماری مصدقہ معلومات کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ چوہدری ظفر اللہ دستہ کی بہ نفس نفیس قیادت کر رہے ہیں اور تین سے چار لاکھ تک جو مسلمان ہیں ان میں مرزائیت پھیلانے کے لئے شب و روز ایک کر رہے ہیں۔ اس ہاں ایک مرکز اور اقامتی ہوٹل قائم کیا گیا ہے۔ جہاں نو واردوں بے کسوں اور کم ں کو رہائشی سہولت کے علاوہ سستی روٹی دی جاتی ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان ان ار کر بیٹھ جاتے اور تبلیغ مرزائیت کرتے ہیں۔ اکثر لوگ محدود، دینی واقفیت کے ں میں پھنس جاتے ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ اس مشن کا مقصد مسلمانوں کو عیسائیوں کو مسلمان؟ اس مشن پر آج تک کتنا سرمایہ خرچ ہوا اور اس کی بدولت یا مرزائی ہوئے ہیں۔ صحیح اعداد سے حقیقت کھل جائے گی۔
مرزائی مشن کی اس جارحیت سے تنگ آ کر انگلستان میں مقیم مسلمانوں سلامی مشن قائم کیا ہے۔ ایک برطانوی نژاد مسلمان کرنل کا وہاں کے اخباروں قادیانی مشن کی دعوت اسلام دوغلہ ہے اور یہ دوغلہ اسلام ہمیں اس لئے منظور م سے جو سیاسی ریکارڈ ہم نے دیکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان زوں نے مسئلہ جہاد کی تنسیخ اور مسلمانوں کی وحدت میں تفریق کے لئے کی سیاسی امت کو پیدا کیا تھا۔ ہم انگلستان کے باشندے اپنے ہی خود ساختہ ن لا سکتے ہیں۔ جب کہ پاکستان اور ہندوستان سے ہماری حکومت کا دور لد تو اس نبی کو بھی لد جانا چاہئے تھا۔
- ٤...... مرزائیوں کے اس مشن نے مسلمانوں کے درمیان فتنے کی شکل اختیار کر لی
ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کو ارتداد کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ایک مشن پاکستان کے زرمبادلہ سے انگلستان میں تبلیغ اسلام کا مدعی ہو اور وہاں مسلمانوں کو مرزائی بنانے میں مشغول ہو۔ ایک ایسا شرمناک بلکہ ہولناک فعل ہے کہ اس کا تدارک نہ کرنا بھی خسرانِ عظیم کا باعث ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٧، مورخہ ٣ جولائی ١٩٦٧ء)
١٦...... خلیفہ ثالث کا عزم یورپ
مرزائی امت کے تیسرے خلیفہ مرزا ناصر احمد ٦ جولائی ١٩٦٧ء کو اپنے راج بھون سے یورپ کے لئے روانہ ہو گئے۔ حسن ظن بڑی اچھی چیز ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں اور ان کے ساتھ افراد کی ایک جماعت کو اس نازک مرحلہ میں سفر یورپ کی اجازت دی گئی ہے تو اس کے ساتھ یہ بھی غور کیا گیا ہے کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان بھی لندن میں ہیں۔ ادھر پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین مسٹر ایم ایم احمد بھی چار ہفتے کے لئے سرکاری دورے پر چلے گئے ہیں۔ مسٹر ایم ایم احمد بھی اس نبوت ہی کے فرزند ہیں۔ ہماری گذارش اتنی ہے کہ اس امر کا ضرور خیال رکھا جائے کہ خلیفہ ثالث کی ملاقاتیں کس رخ پر چلتی ہیں۔ وہ کن کن لوگوں سے ملتے، ان کے لئے کیا انتظام کئے جاتے اور ان کے سفر کی غایت کیا ہے۔ آواز حقیر سہی، لیکن دردمندانہ ہے اور ملک و قوم کے مفاد کو ملحوظ رکھ کر عرض کیا گیا ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٨، مورخہ ١٠ جولائی ١٩٦٧ء)
١٧...... یہ راگنی بند کرو
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں مرزائیل (اسرائیل کے شرعی و سیاسی ہم زلف) نے چھٹی مسجد ضرار تعمیر کی ہے۔ اس سے پہلے پانچ مسجدیں ایک لندن میں ایک ہالینڈ میں، دو مغربی جرمنی میں اور ایک سوئٹزرلینڈ میں چل رہی ہیں۔ ان کے نام خانوادہ مرزائیل سے باہر کسی اور کے نام پر نہیں۔ صرف انہی کے نام پر ہیں۔ ڈنمارک کی مسجد کا نام مرزا غلام احمد کی بیوی نصرت جہاں کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مرزا ناصر احمد جو آج کل سیاسی مشن پر یورپ کا دورہ کر رہے ہیں، اس کا افتتاح فرمایا ہے۔ (الفضل ٢ جولائی ج ٦١ ص ٥٦ نمبر ١٦٣) میں اس کی روداد شائع ہوئی ہے۔ ہمیں اس روداد سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ کوئی اعتراض ہے۔ البتہ ان الفاظ سے ہمارے دل و دماغ کوفت محسوس کرتے ہیں کہ: ”اس مسجد کا نام حضرت ام المؤمنین کے نام نامی پر مسجد نصرت جہاں رکھا گیا ہے۔“ نصرت جہاں ام المؤمنین کیونکر ہو گئیں؟ پاکستان کے نو کروڑ
مسلمان بلکہ تمام دنیا کے مسلمان اس سے آگاہ نہیں بلکہ اس عورت کا نام بھی نہیں جانتے۔ امہات المؤمنین تو صرف رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں۔ نصرت جہاں کو تو امہات المؤمنین کی لونڈیوں کے غلاموں کی غلام زادیوں سے بھی دور کی نسبت نہیں ہے۔ جب ہم مانتے ہی نہیں تو الفضل خواہ مخواہ نصرت جہاں کو ہماری ماں کیوں بنا رہا ہے؟ خدا کے لئے اس گستاخی کو بند کیجئے اور خدا کے غضب سے ڈریئے۔ افسوس ! روکنا اور ٹوکنا بھی خطا ہو گیا ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣١، مورخہ ٣١؍ جولائی ١٩٦٧ء)
١٨...... مرزائی اور چٹان
مرزائیوں کی عادت مستمرہ ہے کہ مسلمانوں کے تعاقب سے بھاگتے وقت حکومت کی آڑ میں چلے جاتے اور ترپ کے پتوں کو لگا کر خود بی جمالو کی حیثیت سے تماشائی بن جاتے ہیں۔
آج کل ہمارے معاملے میں ان کا یہی شعار نمایاں ہورہا ہے۔ ان کے تمام سرکاری ملازمین اپنی اپنی جگہ شست باندھ رہے ہیں۔ ہم ان سے غافل، حکومت کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ہم نے گویا فرقہ واریت کے ساز سے کوئی نغمہ اٹھایا ہے۔ اپنی جماعت سے یہ کہا جارہا ہے کہ چٹان ہی واحد آواز رہ گئی ہے۔ جس سے ہمیں گزند پہنچ سکتا ہے۔ لہٰذا جس طرح بھی ممکن ہو اس کو ختم کرانے کے لئے اعضائے حکومت کو آمادہ کیا جائے۔ چنانچہ ان کے مختلف چہرے مختلف دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق چٹان کی شہ رگ پر چھری رکھوانے کے لئے الفضل نے اپنے اژدہوں کو متحرک کر دیا ہے۔
فرض کیجئے مرزائیت کی خوشنودی کے لئے چٹان کسی احتساب کا شکار ہو جاتا ہے اور الفضل کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے تو کیا یہ ملک وقوم کی خدمت ہوگی؟ قلم نہ رہا زبان سہی۔ مرزائیت نے یہ کیوں کر باور کر لیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دینی احتساب سے محفوظ رہ سکتی ہے اور اس طرح اس کے سیاسی عزائم کو آب و دانہ مل سکتا ہے۔ ناممکن !
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٨، مورخہ ١٠؍ جولائی ١٩٦٧ء)
١٩...... قادیانی ڈھولک اور......؟
قادیانی پریس، بالخصوص اس کا لاہوری لے پالک جس ننگے لہجے میں ایڈیٹر چٹان کو گالیاں دے رہا ہے۔ ہمیں اس پر حیرت نہیں یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی خلقی سنت ہے۔ گزارش یہ ہے کہ مغربی پاکستان کی پریس برانچ ضرور پڑھا کرے۔
ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جس وزیر کے پاس یہ محکمہ ہے وہ ہمارے بارے میں خوش رائے نہیں اور ہمیں بھی اس کے بارے میں حسن ظن نہیں۔ لیکن ہم اس محکمہ کے دوسرے تمام افسروں سے حسن ظن رکھتے ہوئے یہ عرض کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ لب ولہجہ کو نوٹ کرتے جائیں اور مذاق سلیم سے فیصلہ کریں کہ اس نبوت کی تحریر میں متانت ہے یا ہم ایسے حلقہ بگوشان ختم المرسلین کا لب ولہجہ شریفانہ ہے۔
ہم نے ہمیشہ محسوس کیا کہ جب ہمارا قلم ترکی بہ ترکی چلا ہے تو پھر خفتگان خاک نے کروٹ لی ہے۔ یہ اصول غلط ہے کہ ہم مرزائیت کا علمی اور دینی محاسبہ کریں اور یہ لوگ ننگی گالیاں دیں اور جب ہم انہیں باغی ثابت کرنے کے لئے تیار ہوں تو حکومت میں مرزائی اثرات ہمارے خلاف استعمال ہوں۔
مرزائیوں سے ہمارا کوئی شخصی یا جماعتی تنازعہ نہیں۔ ہماری گذارش یہ ہے کہ:
- ......١ مرزائی اپنی مصنوعی نبوت کے کاروبار کو بند کریں۔ ورنہ مسلمانوں سے الگ ہو جائیں۔
- ......٢ مرزائی اسلام کی مقدس اصطلاحات کو استعمال نہ کریں۔ مثلاً اپنی عورتوں کو امہات
المؤمنین یا سیدۃ النساء نہ لکھیں۔ اس سے ہمارا خون کھولتا ہے۔
- ......٣ مرزا غلام احمد کی دشنام آلود کتابیں ضبط کی جائیں۔
- ......٤ مرزائیوں کو تبلیغ اسلام کے نام پر کوئی زر مبادلہ نہ دیا جائے۔
- ......٥ ٢٥؍ جون الفضل کے شمارے میں کسی قاضی محمد عبداللہ کے بیمار پڑنے کی خبر چھپی
ہے۔ کہا ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ٣١٣ صحابہ میں سے تھے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! کیا یہ اسلام کی مقدس روایتوں اور اصطلاحوں پر ڈاکہ نہیں۔
- ......٦ ہمارا دعویٰ ہے کہ قادیانی امت ایک سیاسی جماعت ہے جو مقتدر اعلیٰ کی رائے کو سواد
اعظم کے خلاف زہر آلود کرنا اپنا دھرم سمجھتی ہے۔
ہم ہر جگہ ثبوت دینے کو تیار ہیں۔ لیکن ہمیں طرح طرح کی گالیاں دی جا رہی ہیں اور انہیں کوئی ٹوکتا نہیں۔ ہمیں قادیانی حکام کی لیپا پوتی معلوم ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے چٹان مٹ جائے، شورش کاشمیری فنا ہو جائے۔ اس کی اولاد کو ختم کر دیا جائے۔ لیکن ہم رسول، اہل بیت اور صحابہ کے بارے میں ان کی بھونڈی نقلیں ایک لحظہ کے لئے بھی سہہ نہیں سکتے۔ نزع تک یہی ہوگا۔ مرزائیوں کے تعاقب میں ظفر علی خاںؒ، علامہ اقبالؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی روحیں زندہ جاوید ہیں۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٨، مورخہ ١٠؍ جولائی ١٩٦٧ء)
٢٠...... اقبال کے بگلا بھگت
علامہ اقبال نے عمر بھر شاہینوں کی آرزو کی اور نوجوانوں کو مردِ کامل کے اوصاف پیدا کرنے کی دعوت دیتے رہے۔ انہیں عقاب اس لئے عزیز رہا کہ آزاد فضا میں اڑتا بلند پرواز ہوتا، مردہ شکار نہیں کھاتا، آشیاں نہیں بناتا اور پرندوں میں سب سے زیادہ غیرت مند ہے۔ لیکن اقبال کے نام پر جن لوگوں نے اکیڈمیاں بنالی ہیں ان میں بگلا بھگت زیادہ ہیں۔ بلکہ یوں کہئے کہ اقبال ان بگلا بھگتوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ ہمارے سامنے کراچی کی مجلسِ اقبال کا وہ مطبوعہ کتابچہ ہے جس میں تین چوتھائی اشتہارات باقی رطب و یابس ہے، یا پھر خاص دوستوں کا چرچا کرنے کے لئے اقبال کے ملفوظات دو تین پرانے خطوط اور ایک کتاب سے اقتباس اس میں ہے کیا؟ علامہ اقبال کھاتے کیا تھے؟ پہنتے کیا تھے؟ انہوں نے ساری زندگی میں تین دفعہ کوٹ پہنا۔ علی بخش ان کے لئے موٹا جھوٹا خرید لاتا تھا وغیرہ۔ علامہ اقبالؒ کے حقیقی دوستوں کا بیان ہے کہ اس کا نوے فیصد حصہ غلط ہے اور جن صاحب نے علامہ اقبالؒ کے کوٹ کی روایت بیان کی ہے وہ علامہ اقبالؒ کے ہاں جا ہی نہیں سکتے تھے۔ کبھی ایک آدھ پھیرا ڈالا ہو تو الگ بات ہے اور اگر یہ درست بھی ہو تو رطب و یابس پر روپیہ ضائع کرنے سے فائدہ۔ آرٹ پیپر کا بے ڈھنگا مصرف ہے۔ صحیح مصرف تو اقبال کے افکار کی ترویج و اشاعت ہے۔ جس سے بگلا بھگت بھاگتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو علم ہے کہ مرزائی امت کی دونوں شاخیں علامہ اقبالؒ کے خلاف، یاوہ گوئی میں منہمک ہیں اور بگلا بھگت اپنے گریز و فرار سے ان کی تقویت کا باعث ہو رہے ہیں۔
لاہوری پارٹی کے ایک ماہنامہ ”روحِ اسلام“ نے مئی کے شمارے میں مرزا غلام احمد قادیانی کے دفاع میں علامہ اقبال کے زمانہ طالب علمی کی ایک نظم شائع کی ہے۔ یہ نظم خود ساختہ ہی نہیں بلکہ پھس پھسی ہونے کے علاوہ لغو بھی ہے۔ اس قسم کے شوشے چھوڑنا مرزائیوں نے اپنا وظیفہ حیات بنالیا ہے۔ لیکن بگلا بھگت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کوئی صاحب دل اس پر روشنی ڈالیں گے کہ گریز و فرار اور اغماض اجتناب کی وجہ کیا ہے؟
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٢، مورخہ ٢٩؍مئی ١٩٦٧ء)
٢١...... نقل کفر، کفر نباشد
احتساب محو خواب ہے۔ لہٰذا مرزائیل بگٹٹ ہے۔ مجلس خدام الاحمدیہ کے ترجمان ماہ نامہ خالد ربوہ کے شمارہ جولائی ١٩٦٦ء میں مرزا غلام احمد کے ”چشم و چراغ“ اور خدام الاحمدیہ کے
صدر مرزا رفیع احمد کی ایک تقریر شائع ہو ”ہمارا مقصد یہ ہے کہ بہت س دنیا کی نجات محمدیت میں ہ قائدین اضلاع سے محترم صاحبزادہ نعوذ باللہ! اس گستاخی کے بحث پر آج تک علمائے بریلی نے جمعیت ال تلوار کھینچ رکھی ہے۔ حالانکہ واقعہ صرف مولانا قاسم نانوتوی سے ح حاصل ہے۔“ فرمایا: ”بے شک ۔“ پو جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ دوس اب وہ دوسرا محمد پیدا نہیں کریں گے۔ سلسلۂ انبیاء کی آخری حجت ہے۔“ پس، اس جواب پر آج ت وغضب کا نشانہ بنا رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کیوں؟ چونکہ دیوبند اور اس کے ا ان کے خلاف سیاسی قہر پیدا کیا گیا۔ آزاد ہیں۔ حوصلہ ملاحظہ ہو کہ مرزا غ اس خوفناک جسارت کا جواز اور اس پ کیا مسئولین کو معلوم نہی کی محمد ۔ مرزا رفیع احمد نے اس مقام عطاء ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ محمد کے بعد محمد پیدا کرے گی۔ تفو بر تو اے چرخ گر
٢٠...... اقبال کے بگلا بھگت
علامہ اقبالؒ نے عمر بھر شاہینوں کی آرزو کی اور نوجوانوں کو مرد کامل کے اوصاف پیدا وت دیتے رہے۔ انہیں عقاب اس لئے عزیز رہا کہ آزاد فضا میں اڑتا بلند پرواز ہوتا، کھاتا، آشیاں نہیں بناتا اور پرندوں میں سب سے زیادہ غیرت مند ہے۔ لیکن اقبال لوگوں نے اکیڈمیاں بنالی ہیں ان میں بگلا بھگت زیادہ ہیں۔ بلکہ یوں کہئے کہ اقبال ما کے ہاتھ میں آگیا ہے۔ ہمارے سامنے کراچی کی مجلس اقبال کا وہ مطبوعہ کتابچہ ہے چوتھائی اشتہارات باقی رطب و یابس ہے، یا پھر خاص دوستوں کا چرچا کرنے کے ، ملفوظات دو تین پرانے خطوط اور ایک کتاب سے اقتباس اس میں ہے کیا؟ علامہ اتے؟ پہنتے کیا تھے؟ انہوں نے ساری زندگی میں تین دفعہ کوٹ پہنا۔ علی بخش ان سودا خرید لاتا تھا وغیرہ۔ علامہ اقبالؒ کے حقیقی دوستوں کا بیان ہے کہ اس کا نوے ہے اور جن صاحب نے علامہ اقبالؒ کے کوٹ کی روایت بیان کی ہے وہ علامہ اقبالؒ میں سکتے تھے۔ کبھی ایک آدھ پھیرا ڈالا ہو تو الگ بات ہے اور اگر یہ درست بھی ہو تو روپیہ ضائع کرنے سے فائدہ۔ آرٹ پیپر کا بے ڈھنگا مصرف ہے۔ صحیح مصرف تو کی ترویج واشاعت ہے۔ جس سے بگلا بھگت بھاگتے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو علم ہے کی دونوں شاخیں علامہ اقبالؒ کے خلاف، یاوہ گوئی میں منہمک ہیں اور بگلا بھگت سے ان کی تقویت کا باعث ہورہے ہیں۔
ری پارٹی کے ایک ماہنامہ ”روحِ اسلام“ مئی کے شمارے میں مرزا غلام احمد میں علامہ اقبال کے زمانہ طالب علمی کی ایک نظم شائع کی ہے۔ یہ نظم خود ساختہ ہی ی ہونے کے علاوہ لغو بھی ہے۔ اس قسم کے شوشے چھوڑنا مرزائیوں نے اپنا وظیفہ لیکن بگلا بھگت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ کوئی صاحب دل اس پر روشنی و فرار اور اعراض اجتناب کی وجہ کیا ہے؟
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٢، مورخہ ٢٩ مئی ١٩٦٧ء)
٢١...... نقل کفر، کفر نباشد
ب محو خواب ہے۔ لہٰذا مرزا خیل بگٹٹ ہے۔ مجلس خدام الاحمدیہ کے ترجمان ماہ شمارہ جولائی ١٩٦٦ء میں مرزا غلام احمد کے ”چشم و چراغ“ اور خدام الاحمدیہ کے
صدر مرزا رفیع احمد کی ایک تقریر شائع ہوئی ہے۔ خبر یہ ہے۔ خالد ربوہ ١٣؍ جولائی ١٩٦٦ء
”ہمارا مقصد یہ ہے کہ بہت سے چھوٹے چھوٹے محمد پیدا کریں دنیا کی نجات محمدیت میں ہی ہے۔ قائدین اضلاع سے محترم صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ کا خطاب“
نعوذ باللہ! اس گستاخی کے بعد کوئی حد گستاخی کی رہ جاتی ہے؟ صرف امتناع نظیر کی بحث پر آج تک علمائے بریلی نے حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی پر اپنی نیام خطابت سے تکفیر کی تلوار کھینچ رکھی ہے۔ حالانکہ واقعہ صرف اتنا تھا۔
مولانا قاسم نانوتوی سے دریافت کیا گیا کہ: ”اللہ تعالیٰ کو ہر باب میں قدرت کاملہ حاصل ہے۔“ فرمایا: ”بے شک۔“ پوچھا گیا: ”تو کیا اللہ تعالیٰ دوسرا محمد پیدا کر سکتے ہیں؟“ جواب دیا: ”اللہ تعالیٰ دوسرا محمد پیدا کر سکتے ہیں۔ انہیں قدرت کاملہ حاصل ہے۔ لیکن اب وہ دوسرا محمدؐ پیدا نہیں کریں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر نبوت ختم کر دی اور ان کی ذات سلسلۂ انبیاء کی آخری حجت ہے۔“
بس، اس جواب پر آج تک، دیوبند کے اس عظیم وجود کو بریلی کے مکتب فکر نے قہر وغضب کا نشانہ بنا رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد کی نظیر ہی پیدا نہیں کر سکتے۔ مولانا قاسم نانوتویؒ نے یہ کہا کیوں؟
چونکہ دیوبند اور اس کے بانی یہاں اجنبی ہیں۔ انہیں کوئی طاقت حاصل نہیں۔ اس لئے ان کے خلاف سیاسی قہر پیدا کیا گیا۔ مرزا خیل طاقتور ہے۔ لہٰذا اس کے ترجمان ہر دینی قدغن سے آزاد ہیں۔ حوصلہ ملاحظہ ہو کہ مرزا خیل نے چھوٹے چھوٹے محمد پیدا کرنا اپنا مقصد قرار دیا ہے۔ اس خوفناک جسارت کا جواز اور اس خطرناک گستاخی کی حد؟ انا للہ وانا الیہ راجعون!
کیا مسئولین کو معلوم نہیں بقول اقبال ؎
مرزا رفیع احمد نے اس تقریر میں اپنے دادا ابا مرزا غلام احمد کے متعلق کہا ہے۔ آپ کو وہ مقام عطاء ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد سب انبیاء میں آپ کا بلند تر مقام ٹھہرا۔ دیکھا آپ نے؟
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ محمد کے بعد اب دوسرا محمد نہیں ہو سکتا۔ لیکن قادیانی جماعت چھوٹے چھوٹے محمد پیدا کرے گی۔
تفو بر تو اے چرخ گرداں تفو ..... اور مرزا غلام احمد قادیانی سب انبیاء میں بلند تر؟ انا
لله وانا الیه راجعون ! باغیوں سے رواداری کا سبق دینے والے اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ وہ کس منہ سے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوں گے؟
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣١، مورخہ ٣١ جولائی ١٩٦٧ء)
٢٢...... چکنی داڑھی منفی چہرے
الفضل کا لاہوری فرزند بے قابو ہو گیا ہے۔ ہر ہفتہ درثمین کے انداز میں گالیاں بکے جا رہا ہے۔ کوشش اس کی یہ ہے کہ ہم اسے منہ لگائیں اور وہ اپنی قیمت بڑھائے۔ قیمت لگ چکی ہے۔ سرکاری اشتہار، مرزائی اداروں کی سرپرستی، پھر جہاں تہاں قادیانی بیٹھے ہیں اپنا صدقہ اور زکوٰۃ اس کو دے رہے ہیں۔ پرچہ مفت تقسیم ہو رہا ہے۔ افسروں، ججوں اور دوستوں کے ہاں حقے کی نے بنا ہوا ہے۔
غرض بوبک حجام کو جو چاہئیے تھا مل گیا۔ سکت کہاں؟ کہ بتاشوں کی طرح بٹتا رہے۔ خواہش یہ ہوگی کہ روٹیاں توڑتا رہے۔ سو قسمت جاگ اٹھی ہے۔ ہم اس کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اسے کچھ نہیں کہیں گے۔ آموختہ دہراتا رہے۔ جواب اس کو دیا جاتا ہے۔ جس کی عزت یا حیثیت ہو۔ برأت پر سہرا پڑھنے سے کوئی شخص معزز نہیں ہو جاتا۔ ہماری طرف سے کھلی اجازت ہے۔ شوق سے بکتے رہئیے۔ بلکہ ہنہنائیے۔ ذرا زور سے ہنہنائیے۔ آپ کے متنبی کی سنت ہے۔
جس شخص کی آنکھ کا پانی مر چکا ہو اس سے مختلف زبان کی توقع ہی عبث ہے۔ اس طائفہ کا انحصار ہی دشنام ہے۔ جس کی دم اٹھائی مادہ، جسے پایا ٹھگ، کھال اوڑی بال روکھے، کہے کون؟ کہ آج کے تھپے آج ہی نہیں جلا کرتے۔ پیچوان کا دھواں ہے اڑنے دو۔ اتر ستر کھول رکھا ہے۔ پیچکا عبدالسلام خورشید کے ہاتھ میں ہے۔ ڈور کی چرخی مرزا بنو کے ہاتھ میں۔ مرزا کمال پشت پر ہیں۔ مرزا چڑیا کھونٹیوں میں پانی اتار رہے ہیں۔ مرزا جھر جھری کی شہ پر دوتاری اور سہ تاری شکلیں بڑھا رکھی ہیں۔ غرض ہر چکنی داڑھی ان کے ساتھ ہے۔
جی ہاں گڈی اڑانا مشکل نہیں۔ مرزائی الفن ہمیشہ ہی کٹتی ہے۔ ہم نے پیچ لڑایا تو اس کٹکوے سے نہیں۔ مرزا رنگیلے اور مرزا رسیلے سے دو دو ہاتھ ہوں گے۔ یہ بیچارہ تو لنڈوری بن چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس کو کیمبل روڈ کا ادھا کہہ لیجئے۔ ادھر پیچا چھوڑا، ادھر ڈوریں زمین تک لٹک آئیں گی۔ بھلا کانے پتنگ میں بوتا کہاں کہ جھونک سنبھال سکے۔ ہم طرح دے رہے ہیں ۔ لیکن یہ پرنالے کی طرح دھائیں دھائیں بہہ رہا ہے۔
نا الیہ راجعون! باغیوں سے رواداری کا سبق دینے والے اپنے گریبانوں میں کس منہ سے رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوں گے؟
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣١، مورخہ ٣١/جولائی ١٩٦٧ء)
٢٢...... چکنی داڑھی منفی چہرے
فضل کا لاہوری فرزند بے قابو ہو گیا ہے۔ ہر ہفتہ درشین کے انداز میں گالیاں بکے ش اس کی یہ ہے کہ ہم اسے منہ لگائیں اور وہ اپنی قیمت بڑھالے۔ قیمت لگ چکی اشتہار، مرزائی اداروں کی سرپرستی، پھر جہاں تہاں قادیانی بیٹھے ہیں اپنا صدقہ اور دے رہے ہیں۔ پرچہ مفت تقسیم ہو رہا ہے۔ افسروں، ججوں اور دوستوں کے ہاں مفت ہے۔
ں بوبک حجام کو جو چاہئے تھا مل گیا۔ سکت کہاں؟ کہ بتاشوں کی طرح بٹتا رہے۔ کہ روٹیاں توڑتا رہے۔ سو قسمت جاگ اٹھی ہے۔ ہم اس کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم لیں گے۔ آموختہ دہراتا رہے۔ جواب اس کو دیا جاتا ہے۔ جس کی عزت یا حیثیت ہرا پڑھنے سے کوئی شخص معزز نہیں ہو جاتا۔ ہماری طرف سے کھلی اجازت ہے۔ پہنچے۔ بلکہ پہنائیے۔ ذرا زور سے پہنائیے۔ آپ کے متبنیٰ کی سنت ہے۔ شخص کی آنکھ کا پانی مر چکا ہو اس سے مختلف زبان کی توقع ہی عبث ہے۔ اس نا دشنام ہے۔ جس کی دم اٹھائی مادہ، جسے پایا ٹھگ، کھال اوڑی بال روکھے، کہے کے تھے آج ہی نہیں جلا کرتے۔ پیچوان کا دھواں ہے اڑنے دو۔ اختر بحر کھول رکھا سلام خورشید کے ہاتھ میں ہے۔ ڈور کی چڑخی مرزا بنو کے ہاتھ میں۔ مرزا کدال زا چڑیا کھونٹیوں میں پانی اتار رہے ہیں۔ مرزا جھرجھری کی شہ پر دتادی اور سہ رکھی ہیں۔ غرض ہر چکنی داڑھی ان کے ساتھ ہے۔
ں گڈی اڑانا مشکل نہیں۔ مرزائی الفن ہمیشہ ہی کٹتی ہے۔ ہم نے پیچ لڑایا تو اس ا۔ مرزارنگیلے اور مرزا رسیلے سے دو دو ہاتھ ہوں گے۔ یہ بیچارہ تو لنڈوری بن سے زیادہ اس کو ٹمپل روڈ کا ادھا کہہ لیجئے۔ ادھر پیٹھا چھوڑا، ادھر ڈوریں زمین ا۔ بھلا کانے پتنگ میں بوتا کہاں کہ جھونک سنبھال سکے۔ ہم طرح دے رہے لے کی طرح دھائیں دھائیں بہہ رہا ہے۔
ہذیان اس بری طرح اس کو چمٹا ہے کہ زبان لگا تار مغلظات اگلتی جارہی ہے۔ مثلاً بلکہ اس نے گالیوں کی بوچھاڑ لگا دی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمام محاورے، اشارے، کنایئے تھیں اور رمزیں اڑائی ہیں۔ جن کے بارے میں ایک ثقہ راوی کا خیال ہے کہ میر ناصر نواب دہلوی نے عقد کی شرینی میں ساتھ کر دی تھیں۔ اس بازار کا غلیان عموماً اس بے سرے کو رہا ہے۔ حالانکہ جس ٹہنی کا یہ پتہ ہے اس کی جڑیں چاوڑی سے پھل پھول لائی تھیں۔ گالی دینا شیوہ شرفاء نہیں ۔ نہ ہفوات بکنا ہی ادب وانشاء ہے۔ سوالات بنیادی تھے۔ جوابات استادی ہیں۔ چٹان نے آپ کی عزت و آبرو پر حملہ نہیں کیا۔ کوئی ایسی بات نہیں کہی جو محض گالی ہو۔ لیکن آپ کو دشنام کے سوا سوجھتا ہی نہیں۔ آپ نے لکھا ہے ۔ ”کوئی چندی داس یا پر بودھ آپ کو چار چھ ماہ کی خرچی دے کر ششکار دیتا تھا۔“
مسیح موعود کے اس انداز میں بھی جواب دیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ صحافت نہیں سخافت ہوگی۔ خرچی ہی کا شوق ہے تو ربوہ سے رجوع کیجئے اور مبشر اولاد سے پوچھ کر فرمائیے کہ مہدی موعود جب دوسری شادی کے لئے دہلی تشریف لے گئے تھے تو بحوالہ تاریخ احمدیت صفحہ ٥٦ سطر ١٥ حافظ حامد علی اور لالہ ملاوامل کو ساتھ رکھا تھا۔ ان لالہ ملاوامل کا ایک نبی کی شادی سے کیا تعلق تھا؟ ملاوامل کے نام پر بھی غور کیجئے۔ معانی کی بہت سی گرہیں کھلتی جائیں گی۔ ہم سے نہ کہلوائیے ہم وہ زبان استعمال نہیں کر سکتے جو آپ کے سلطان القلم کی زبان ہے؟ البتہ یہ بات ضرور ذہن میں رکھئے کہ؎
چنیوٹ میں ایڈیٹر چٹان کی تاریخی تقریر سے آپ کو قراقر اٹھا۔ آپ نے گالیاں دیں۔ ہم نے اغماض کیا۔ آپ نے ہمارے اغماض کو اپنے لئے حیاتین سمجھا اور غرّانے لگے۔ ہم نے پھر بھی منہ نہ لگایا۔ آپ نے ننگی گالیاں بکیں ہم نے معذور سمجھا کچھ نہ کہا۔
محسوس ہوتا ہے آپ شرفاء کی زبان ہی نہیں سمجھتے۔ اچھا صاحب! اور گالیاں دے لیجئے۔ جی بھر کر دیجئے۔ بہشتی مقبرے پر فاتحہ پڑھ کر الاپئے۔ چشم ما روشن چشم ما شاد، لیکن ہم نے دہلی کے میر ٹوٹرو کا تانا بانا کھولا تو نہ صرف خرچی کا مفہوم آپ کے ذہن پر اچھی طرح نقش ہو جائے گا۔ بلکہ ربوہ کی اقلیدی شکلیں بھی دانت نکوس دیں گی۔ خدا جانے آپ کس کھونٹے پر ناچ رہے ہیں؟ ضرور ناچیئے اس کھونٹے پر! یہ کھونٹا آپ ہی کے لئے ہے۔ دہلی مرحوم کا محاورہ ہے۔
لیکن جس نبوت یا خلافت کو آپ جیسے قلمکار (بروزن اداکار ) مل جائیں اس کی ہڈیاں بھی چیخنے لگتی ہیں۔ عزتیں برابر کی چیز ہیں۔ اپنی زبان، اپنے قلم، اپنے الفاظ، اپنی نگارش غرض ایک ایک چیز پر غور کر لیجئے۔ انسانوں کی طرح گفتگو کیجئے۔ ہم نے چھیڑا تو آقایان ولی نعمت سے شکایت نہ کیجئے گا۔ اس وقت تو آپ بے نوا کا سوٹا بنے پھرتے ہیں۔ نہ بڑوں کا ادب نہ چھوٹوں کی لاج۔ ہم نے قلم اٹھایا تو پھر لچھی اور ملائی کی طرح نرم زبان نہیں چلے گی۔ اصطبل میں بندھے رہئیے آپ کی کون سی چیز چھپی ہوئی ہے کہ آپ مور پنکھی تاج پر اترائے ہیں۔
احرار کا نام وضو کر کے لیا کیجئے۔ آپ کو سالک صاحب کا درد بھی اٹھا ہے اور آپ نے ایک فرضی خط میں تسلی فرمائی ہے۔ خورشید سلمہ کو بھی ہم مشورہ دے چکے ہیں۔ آپ سے بھی گذارش ہے کہ سالک صاحب کی نمائندگی نہ کیجئے۔ انہیں قبر میں آرام کرنے دیجئے۔ ہم نے سالک صاحب کا ذکر کیا تو اس لئے کہ شائد بیٹے کو غیرت ہو اور بات کے احترام میں ان کے دوستوں کا ذکر کرتے وقت ادب کو ملحوظ رکھے۔ بکنا ہے تو ہمارے خلاف بکئے۔ خوب بکئے، کھل کے بکئے۔ غصہ ایڈیٹر چٹان پر ہے گالیاں مولانا آزاد کو دے رہے ہو۔ مولانا حسین احمد پر زبان کھولنے سے توبہ کیجئے توبہ! ان مرحومین کا اس بحث سے کیا تعلق؟ مولانا آزاد وہی ہیں جن کے آستانہ پر آپ قادیان کے بہشتی مقبرے کی حفاظتی بھیک مانگنے دہلی گئے تھے۔ مولانا حسین احمد کی ہتک کر کے آپ کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک پاکستان کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیے۔ آپ کا اس سے کیا تعلق؟ کسی قادیانی کا نام لیجئے جو تحریک پاکستان میں شامل تھا۔ صف اول، صف ثانی یا صف ثالث کے لیڈروں میں تھا؟ زعیم تھا؟ کارکن تھا۔ لیگ کے ٹکٹ پر کسی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا؟ قادیانی لیگ کا نام لیں تو یوں محسوس ہوتا ہے ابولہب مسلمان ہو گیا ہے۔
الفضل کے لاہوری فرزند نے ابکے پر بودھ کا بھی ذکر کیا ہے۔ جناب والا منہ نہ کھلوائے۔ بودھ گورداسپور کے حلقہ سے جس میں قادیان بھی ہے شروع سے صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ آپ انہیں مسلسل ووٹ دیتے اور ان کی وزارتوں سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ آپ کا بہشتی مقبرہ ان کی طفیل بچا تھا۔ تفصیلات درکار ہیں؟
آپ کا یہی لہجہ رہا تو سب کچھ حاضر کر دیا جائے گا۔ اصل مطالبہ ہمارا آپ سے یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں کے نام ادب سے لیجئے۔ ورنہ اس حقیقت سے آپ انکار نہیں کر سکتے کہ خود کاشتہ پودے کا ایک ایک فرد چھلنی ہے یا چھاج !
لیکن جس نبوت یا خلافت کو آپ جیسے قلمکار (بروزن اداکار) مل جائیں اس کی ہڈیاں ہی ہیں ۔ عزتیں برابر کی چیز ہیں۔ اپنی زبان ، اپنے قلم ، اپنے الفاظ ، اپنی نگارش غرض پر غور کر لیجئے ۔ انسانوں کی طرح گفتگو کیجئے ۔ ہم نے چھیڑا تو قادیان ولی نعمت سے دھواں اُٹھے گا۔ اس وقت تو آپ بے تکا سوٹا بنے پھرتے ہیں۔ نہ بڑوں کا ادب نہ چھوٹوں کا لحاظ ہم نے قلم اٹھایا تو پھر مکھن اور ملائی کی طرح نرم زبان نہیں چلے گی۔ اصطبل میں بندھے گھوڑوں کی طرح چڑ چڑھی ہوئی ہے کہ آپ مور پنکھی تاج پر اترا رہے ہیں۔ اپنے مزار کا نام وضو کر کے لیا کیجئے۔ آپ کو سالک صاحب کا درد بھی اٹھا ہے اور آپ نے اس میں پیشین گوئی فرمائی ہے۔ خورشید سلمہ کو بھی ہم مشورہ دے چکے ہیں۔ آپ سے بھی گزارش ہے کہ سالک صاحب کی نمائندگی نہ کیجئے۔ انہیں قبر میں آرام کرنے دیجئے۔ ہم نے سالک کو یاد کیا تو اس لئے کہ شائد بیٹے کو غیرت ہو اور باپ کے احترام میں ان کے دوستوں کا لحاظ کرتے تھے اور ادب کو ملحوظ رکھے۔ بکنا ہے تو ہمارے خلاف بکئے۔ خوب بکئے ، کھل کے بکئے۔ دل کرتا ہے گالیاں مولانا آزاد کو دے رہے ہو۔ مولانا حسین احمد پر زبان کھولنے سے پہلے ان مرحومین کا اس بحث سے کیا تعلق؟ مولانا آزاد وہی ہیں جن کے آستانہ پر آپ کے ابا کے مقبرے کی حفاظتی بھیک مانگنے دہلی گئے تھے۔ مولانا حسین احمد کی ہتک کر کے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک پاکستان کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیے۔ آپ کا اس سے کیا تعلق؟ کسی قادیانی کا نام لیجئے جو تحریک پاکستان میں شامل تھا۔ صفِ اوّل ، صفِ ثانی یا صفِ سوم والوں میں تھا؟ زعیم تھا؟ کارکن تھا؟ لیگ کے ٹکٹ پر کسی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوا؟ اگر نہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے ابو لہب مسلمان ہو گیا ہے۔
ربوہ کے لاہوری فرزند نے اپنے پرکھوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ جناب والا منہ نہ کھلوائیے۔ گورداسپور کے حلقہ سے جس میں قادیان بھی ہے شروع سے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں کانگرس کو ووٹ دیتے اور ان کی وزارتوں سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔ آپ کا ایک طفیل بچا تھا۔ تفصیلات درکار ہیں؟ اگر یہی
بنیا لہجہ رہا تو سب کچھ حاضر کر دیا جائے گا۔ اصل مطالبہ ہمارا آپ سے یہ ہے کہ بڑوں کے نام ادب سے لیجئے۔ ورنہ اس حقیقت سے آپ انکار نہیں کر سکتے کہ خود قادیان کا ایک فرد چھلنی ہے یا چھان!
ربوہ والو! علامہ اقبالؒ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور مولانا ظفر علی خانؒ کا نام ادب سے لو، ورنہ بے پیندے کے بدھو، تمہارے ٹھیکرے بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ حد ہے کہ جب کبھی ان سے سیدھا سادا سوال کیا جائے اس امت کا سارا کنبہ بدگوئی پر اتر آتا ہے؟ انہیں اپنی آبرو زیادہ عزیز ہے؟ اور کوئی شخص آبرو نہیں رکھتا؟ ہر ایک قلمکار کے خط وخال ہمیں معلوم ہیں۔ عبدالسلام خورشید آج اس شمیڈیکل کمپنی کا پلے بیک سنگر ہے۔ لحاظ اس وقت تک ہو سکتا ہے جب تک اس کلال کی زبان حدود میں ہو۔ اب اگر زبان بدرنگ ہو گئی ہے تو اس کی گراریاں درست کرنا ہمارا فرض ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٩، مورخہ ١٧ جولائی ١٩٦٧ء)
٢٣....... سکاٹ لینڈ یارڈ کے گماشتے
کیا ہندوستان کی پاکستانی سرحد پر کسی مسلمان کو بھارتی شہری بن کر رہنے کی اجازت ہے؟ بالکل نہیں اور کبھی نہیں۔ سترہ روزہ جنگ میں بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی فضائیہ نے جن ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ان میں پٹھان کوٹ کا ہوائی اڈہ بھی تھا۔ جو قادیان سے ہم آغوش ہے۔ پھر وہاں قادیانی امت کے ٣١٣ درویش کس طرح رہے؟ اور انہیں وہاں رہنے کی اجازت کیونکر ملی؟
آج تک ربوہ کی خلافت نے اس کی صراحت نہیں کی۔ اگر حکومت پاکستان کو مرزائی امت نے یہ تاثر دے رکھا ہے کہ ان کا وہاں رہنا پاکستان کے لئے مفید ہے تو معاف کیجئے ہندوستان کی حکومت اناڑی نہیں اور اگر ہندوستان کی حکومت انہیں اپنے لئے مفید سمجھتی ہے تو ربوہ کا دوغلہ نظام سیاسی نگرانی کا مستحق ہے۔
مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ لیکن قادیان میں ٣١٣ مرزائیوں کا مستقل قیام اور ربوہ سے ان کا رابطہ جانبین میں سے کس کے لئے مفید ہے؟ اندریں حالات یہ بات اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے کہ بھارت پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے۔ ایک دشمن ملک میں ایک سیاسی خلافت کے پیروؤں کا قیام یا تو سیاسی کہہ مکرنی ہے یا پھر سیاسی معمہ جس کو اندریں حالات حل کرنا از بس ضروری ہو گیا ہے۔
غور فرمائیے ! بھارت ہماری کتا چھنی اور شدید کتا چھنی لیکن مرزائی مشن کو ہندوستان
میں قیام کی اجازت دولت مشترکہ کا فیضان ہے یا مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمات کا صلہ اور چوہدری ظفر اللہ خان کے رسوخ کا شعبدہ؟
عربوں کا اس وقت خونخوار دشمن کون سا ہے؟ اسرائیل۔ کسی اسلامی ملک نے دینی غیرت کے پیش نظر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ اسرائیل میں کوئی مسلمان رہ سکتا ہے۔ جن عربو ں کی یہ سرزمین ہے۔ انہیں چن چن کر اس مقدس سرزمین سے نکالا جارہا ہے۔ جرم ان کا یہ ہے کہ محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ لیکن قادیانی مشن ہے کہ اسرائیل میں قائم ہے کس غرض سے؟ جب پاکستان نے اسرائیل سے تعلق قائم نہیں کئے اس کا سفارتی مشن وہاں نہیں تو قادیانی مشن کس کی اجازت سے وہاں قائم ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ کن لوگوں میں تبلیغ کر رہا ہے؟ کیا ان یہودیوں کو دعوت دینے گیا ہے جو اپنی مملکت کو مستحکم کرنے کے لئے تمام عصبیتوں کے تحت وہاں اکھٹے ہیں۔
ایک دفعہ نہیں بار بار غور کیجئے قادیانی مشن کو ہندوستان میں کھلی چھٹی ہے۔ وہاں پاکستان کی شہ رگ پر بیٹھا ہے۔ ادھر اسرائیل میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے خلقی دشمن بھارت اور اسلام کے خلقی دشمن اسرائیل سے۔ قادیانی مشن کا عقد کس نے باندھا؟ ہماری معلومات کے مطابق اسرائیل میں قادیانی مشن صہیونیت کی دماغی تربیت حاصل کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ اور کون سی غایت ہوسکتی ہے۔ کیا یہودی مرزا غلام احمد کو نبی مان لیں گے۔ جنہوں نے مسیح علیہ السلام کو پھانسی پر کھنچوایا اور جس قوم کی فطرت میں اللہ کے حقیقی نبیوں کی نافرمانی لکھی گئی ہے۔ جس قوم کو نبیوں کا قاتل کہا گیا کیا وہ قوم مسیح کی برطانوی امت کے ایک ساختہ پرداختہ نبی کی پیرو ہوگی۔ ناممکن!
تو پھر ان عربوں کو مسلمان بنانے کے لئے یہ مشن قائم کیا گیا ہے جو محمد ﷺ کے حلقہ بگوش ہیں۔ عرب محمد ﷺ کو چھوڑ کر غلام احمد کے متبع بن جائیں گے۔ ناممکن!
ظاہر ہے کہ قادیانی امت اور اس کے مختلف مشن یا تو سکاٹ لینڈ یارڈ کے گماشتوں کی حیثیت سے مختلف ملکوں میں کام کر رہے ہیں یا پھر ”مصلح موعود“ کی تحریک پر ان کے دماغ میں اپنی ریاست قائم کرنے کا جو منصوبہ نامرادی کے مرحلے طے کر رہا ہے یہ مشن اس کے تحت اپنا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک قادیانی سول جج نے اپنے حلقہ احباب میں بیان کیا کہ نبوت کو طاقت بننے کے لئے مملکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ فی الحال ہم یہ چاہتے ہیں کہ ویٹیکن
ت دولت مشترکہ کا فیضان ہے یا مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمات کا صلہ اور ان کے رسوخ کا شعبدہ؟
کا اس وقت خونخوار دشمن کون سا ہے؟ اسرائیل ۔ کسی اسلامی ملک نے دینی ر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ اسرائیل میں کوئی مسلمان رہ سکتا ہے۔ جن عربو ۔ انہیں چن چن کر اس مقدس سرزمین سے نکالا جا رہا ہے۔ جرم ان کا یہ ہے کلمہ پڑھتے ہیں۔ لیکن قادیانی مشن ہے کہ اسرائیل میں قائم ہے کس غرض نے اسرائیل سے تعلق قائم نہیں کئے اس کا سفارتی مشن وہاں نہیں تو قادیانی سے وہاں قائم ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ کن لوگوں میں تبلیغ کر رہا ہے؟ کیا ت دینے گیا ہے جو اپنی مملکت کو مستحکم کرنے کے لئے تمام عصبیتوں کے تحت نہیں بار بار غور کیجئے قادیانی مشن کو ہندوستان میں کھلی چھٹی ہے۔ وہاں بیٹھا ہے۔ ادھر اسرائیل میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بھارت اور اسلام کے خلقی دشمن اسرائیل سے۔ قادیانی مشن کا عقد کس نے ت کے مطابق اسرائیل میں قادیانی مشن صہیونیت کی دماغی تربیت حاصل کیا گیا ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ اور کون سی غایت ہو سکتی ہے۔ کیا یہودی لیں گے۔ جنہوں نے مسیح علیہ السلام کو پھانسی پر کھنچوایا اور جس قوم کی فطرت کی نافرمانی لکھی گئی ہے۔ جس قوم کو نبیوں کا قاتل کہا گیا کیا وہ قوم مسیح کی ساختہ پرداختہ نبی کی پیرو ہو گی۔ ناممکن ! بوں کو مسلمان بنانے کے لئے یہ مشن قائم کیا گیا ہے جو محمد ﷺ کے حلقہ ند کو چھوڑ کر غلام احمد کے متبع بن جائیں گے۔ ناممکن !
قادیانی امت اور اس کے مختلف مشن یا تو سکاٹ لینڈ یارڈ کے گماشتوں کی میں کام کر رہے ہیں یا پھر ”مصلح موعود“ کی تحریک پر ان کے دماغ میں کا جو منصوبہ نامرادی کے مرحلے طے کر رہا ہے یہ مشن اس کے تحت اپنا ۔ حال ہی میں ایک قادیانی سول جج نے اپنے حلقہ احباب میں بیان کیا کے لئے مملکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ فی الحال ہم یہ چاہتے ہیں کہ ویٹیکن
کی طرح ربوہ قادیان کی خصوصیت قائم ہو جائے۔ خلیفہ ثالث کی وہی حیثیت ہو جو ہز ہولی نس پوپ کی ہے۔ پوپ کے سفراء مختلف ملکوں میں ہیں۔ ہم اپنے مختلف الملکی مشنریوں کی یہی حیثیت چاہتے ہیں۔
ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ افسوس ہے کہ حکومت ابھی تک اس جماعت کے سیاسی ارادوں کا جائزہ نہیں لے رہی۔ ہمیں اس کے وجوہ معلوم ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس امت کے افراد، حکومت کو ان لوگوں سے کس طرح بدظن کرتے ہیں۔ جن کے ہاتھ ان کی شہ رگ پر ہیں اور جو اس سیاسی امت کے خدوخال کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔
ٹائن بی نے لکھا ہے کہ اسرائیلی اس وقت فتح کے نشہ میں ہیں۔ لیکن ان کا یہ نشہ جلد اتر جائے گا۔ پھر انہیں خمار ٹوٹتے ہی ابکائیاں آنی شروع ہو جائیں گی۔ تب وہ عربوں کے محاسبہ سے بچ نہیں سکتے ہیں۔
یہی حالت قادیانیوں کی ہے۔ بے شک انہیں اس وقت رسوخ حاصل ہے۔ انہوں نے ملک کی سیاسی فضاء سے فائدہ اٹھا کر اپنے بال و پر پھیلا رکھے اور شرلک ہومز کے جاسوسی کرداروں کی طرح کام کرتے ہیں۔ تاہم ان کا خمار دیر پا نہیں۔ پاکستان کو نہ ان کے متنبی کی ضرورت ہے نہ ان کے مصلح موعود کی سحر بیانی پر ایمان لا سکتے ہیں اور نہ خلیفہ ناصر کی آرائیں مطلوب ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ مرزائی اپنے خدا سے معافی مانگیں۔ بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں جھک جائیں اور توبہ کریں کہ انہوں نے حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم المرسلین کے دامن پر مقراض رکھ کر خوفناک جسارت کی ہے۔ ورنہ یہ حقیقت نوٹ کر لیں کہ ان کی ریاست دوزخ کے سوا اور کہیں قائم نہیں ہو سکتی ہے۔
صدر مملکت نے عربوں کے لئے جو ریلیف فنڈ قائم کیا ہے۔ اس میں مرزائی امت نے بھی ١٥ ہزار روپیہ بھیجا تھا۔ اس روپیہ کی رسید کے ساتھ صدر کی طرف سے ڈپٹی سیکرٹری مسٹر اے وحید نے جو خط لکھا ہے الفضل ١٨ جولائی ١٩٦٧ء کے صفحہ اول پر شہ سرخی کے ساتھ چھپا ہے۔ اس خط کا اصل متن انگریزی میں ہے۔ اردو ترجمہ مرزائیوں نے کیا ہے۔ تیسرے پیرا کا ترجمہ ہے۔
- ١....... صدر کو یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنی
جماعت کے تمام اراکین کو تحریک فرمائی ہے کہ وہ اس فنڈ میں دل کھول کر حصہ لیں اور دعاؤں پر بھی زور دیں۔
ہمارا خیال ہے کہ یہ ترجمہ غلط ہے یا اس میں تحریف کی گئی ہے۔ صدر مملکت کبھی اس جماعت کے سرخیل کو حضرت امام لکھنا پسند نہیں کریں گے اور نہ انگریزی خطوط میں اس طرح حضرت لکھا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سٹینو سے غلطی ہو گئی ہو یا کسی قادیانی نے قلم سے فائدہ اٹھالیا ہو۔ (چٹان)
٢٤......عجمی اسرائیل
میرا یہی لکھنا کہ ربوہ کی خلافت ہے فراڈ خواجہ کونینؐ کے ارشاد کی تعمیل ہے
دم بریدہ مشتکی ، یک چشم کل اس کا مدیر مصلح موعود کے الہام کی تکمیل ہے
اہلیہ مرزا غلام احمد کی ام المومنین ہے کہاں قہر خدا؟ قہر خدا میں ڈھیل ہے
کیا تماشا پیمبر بن گیا عرضی نویس گفتنی اجمال ہے نا گفتنی تفصیل ہے
کاسہ لیسی کا حصار ، مخبری کا زہر ناب ان سیاسی غنچوں کے خون میں تحلیل ہے
قادیاں والو قیامت ہوں تمہارے واسطے میرے رشحات قلم میں صور اسرافیل ہے
اپنی تحریر میں اسلام کے عنوان سے شاعر مشرق نے جو لکھا ہے سنگ میل ہے
میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے قادیان کے باب میں
پارۂ الہام ہے آوازۂ جبریل ہے
(شورش کاشمیری)
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠ ش ٣١، مورخہ ٣١/جولائی ١٩٦٧ء)
(نوٹ) یہاں پر ”مرزائیل“ نامی کتاب ختم ہو گئی ہے۔ اس کے حوالہ جات کی تخریج - کے لئے چٹان کی فائل ١٩٦٧ء سے آغا شورش کاشمیریؒ کے جو رشحات قلم سے ملے وہ بھی شامل کر دیئے گئے ہیں۔ ملاحظہ ہوں۔ (مرتب)
٢٥......ظفر علی خان اکادمی کا قیام
پاکستان میں اس امر کا نوٹس کبھی نہیں لیا گیا کہ ایوان حکومت سے امداد حاصل کر کے لئے یہاں معمولی افراد کو بھی ، قومی ہیرو، ادبی راہنما ، علمی شہ دماغ اور فکری پیشوا بنایا جا رہا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے ملک وقوم کی واقعی خدمات سرانجام دی ہیں۔ جن سے دین و ادب او ونظر کو فائدہ پہنچا ہے وہ التزاماً ملک وقوم کے ذہن سے خارج کئے جا رہے ہیں۔ ان کا تذکرہ
س ہے کہ یہ ترجمہ غلط ہے یا اس میں تحریف کی گئی ہے۔ صدر مملکت کبھی اس لو حضرت امام لکھنا پسند نہیں کریں گے اور نہ انگریزی خطوط میں اس طرح ۔ یہ الگ بات ہے کہ سٹینو سے غلطی ہو گئی ہو یا کسی قادیانی نے قلم سے فائدہ
٢٤....... عجمی اسرائیل
وہ کی خلافت ہے فراڈ خواجہ کونین کے ارشاد کی تعمیل ہے
بہ چشمِ گل اس کا مدیر مصلح موعود کے الہام کی تکمیل ہے
مد کی ام المومنین ہے کہاں قہرِ خدا؟ قہرِ خدا میں ڈھیل ہے
ن گیا عرشی نویس گفتنی اجمال ہے ناگفتنی تفصیل ہے
ہ، مخبروں کا زہر ناب ان سیاسی منچوں کے خون میں تحلیل ہے
ہوں تمہارے واسطے میرے رشحاتِ قلم میں صورِ اسرافیل ہے
ام کے عنوان سے شاعر مشرق نے جو لکھا ہے سنگ میل ہے
میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے قادیان کے باب میں
پارہ الہام ہے آوازۂ جبریل ہے
(شورش کاشمیری)
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣١، مورخہ ٣١ جولائی ١٩٦٧ء)
ہاں پر ”مرزائیل“ نامی کتاب ختم ہو گئی ہے۔ اس کے حوالہ جات کی تخریج - ١٩٦٧ء سے آغا شورش کاشمیری کے جو رشحات قلم سے ملے وہ بھی شامل کر یئے ہیں۔ (مرتب)
٢٥..... ظفر علی خان اکادمی کا قیام
اس امر کا نوٹس کبھی نہیں لیا گیا کہ ایوانِ حکومت سے امداد حاصل کرے۔ کو بھی، قومی ہیرو، ادبی راہنما، علمی شہ دماغ اور فکری پیشوا بنایا جا رہا ملک و قوم کی واقعی خدمات سر انجام دی ہیں۔ جن سے دین وادب اور اُس ابناء ملک و قوم کے ذہن سے خارج کئے جا رہے ہیں۔ ان کا تذکرہ پڑ
ایسے لوگوں نے زبان و قلم کے نرغے میں لے لیا ہے۔ جن کا اپنا وجود مشتبہ ہے اور جو روایات و سیاسیات میں بلا خوف تردید، کرنل لارنس کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہاں سب سے زیادہ مظلوم وہ شخصیتیں ہیں جن کی عمریں برطانوی سامراج کے خلاف جدوجہد میں گزریں۔ جن کے قلم سے حق کی اشاعت ہوئی۔ جن کا جہاد افراد وافکار باطلہ کے خلاف رہا۔ جنہوں نے دین حقہ کے چراغ روشن رکھے۔ ان کی جگہ کون لوگ آگے آتے؟ وہی لوگ جو اس جدوجہد کے زمانے میں پیدا ہی نہیں ہوتے تھے۔ جن کا قلم بازار میں فروخت ہوتا رہا۔ جن کی خدمات حکومت انگریزی کے حوالے تھیں۔ جنہوں نے تلبیس کے فرائض انجام دیئے جو کیڑوں کی حیثیت سے سرکاری نگارخانوں میں کورنش بجالاتے رہے۔ یہ ایک قومی المیہ اور ملی سانحہ ہے یہ ایک ادبی حادثہ اور فکری استہزاء ہے۔
علامہ اقبال کا تذکرہ کیا جا رہا ہے تو ان کا معاملہ دوسرا ہے۔ انہیں تسلیم کئے بغیر ان کوتاہ کاروں کی ویرانی ختم ہی نہیں ہوتی۔ تاہم اقبال کو بھی نقب لگائی جا رہی ہے۔ جو روپیہ سرکاری خزانے سے اقبال کے نام پر قائم شدہ اداروں کو ملتا ہے۔ اس کا مصرف صحیح نہیں ہو رہا۔ کراچی کی مجلس اقبال میں ایک آدھ سے قطع نظر سرے سے کوئی عالم ہی نہیں۔ وہاں کسی شخص کی بصیرت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور کی بزم اقبال نے اقبال پر جو کچھ شائع کیا ہے وہ نانوے فیصد ناقص ادھورا بدمزہ اور روح اقبال کے منافی ہے۔ مجلس اقبال کراچی، کے شائع کردہ لٹریچر کا بیشتر حصہ افسوسناک ہے۔ کسی مصنف مؤلف یا مرتب نے موضوع ومقصد کے علاوہ غور و فکر سے کام نہیں لیا۔ اقبال عمر بھر شاہینوں کو سبق دیتے رہے۔ لیکن ان کے افکار پر بگلا بھگت قابض ہو گئے ہیں۔ جو اقبال کے نام پر خود نمایاں ہونا چاہتے۔ یعنی اقبال کی آڑ میں اپنے آپ کو چمکانا چاہتے ہیں۔ ان کا محاسبہ کرنے والا کوئی نہیں۔ حکمران علمی محاسبہ کر نہیں سکتے۔ وہ ان کے کشکول میں روپیہ ڈال سکتے ہیں۔ محاسبہ صرف اہل علم کر سکتے ہیں اور وہ مدت سے علم کے اس مذبح میں خاموش ہیں۔
جو افسر بھی ریٹائرمنٹ کے قریب آتا اور اس کی توسیعی ملازمت کے دن پورے ہونے لگتے ہیں۔ وہ اس قسم کا کھڑاک رچا کر بزعمِ خویش دانشور مفکر بن بیٹھتا ہے۔ پھر انجمن ہائے ستائش باہمی کے ارکان اس کی شخصیت کو مقتضی تعریف وثناء کے سانچے میں ڈھالنے لگتے ہیں۔ علامہ اقبال کی اصل تعلیمات کے خلاف ایک زبردست تحریک باطنی طور پر شروع ہو چکی ہے۔ اس کا ایک مرکز تو کراچی کی مجلس اقبال ہے جس نے اقبال کے مصنوعی روح شناس پیدا کر کے بعض عجیب الخلقت لوگوں کے لئے رزق و معیشت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ
مرزائیت اقبال کے دینی کارناموں کو پس پشت ڈالوا کر ان کے ذاتی پہلوؤں یا صرف شعری کارناموں کو باقی رکھنا چاہتی ہے اور وہ بھی بہ امر مجبوری۔ کیونکہ اس کے بغیر چارہ ہی نہیں۔ اقبال کے فکری آثار دین سے لگاؤ اور قادیانی عقائد کے تعاقب کو بالکل ہی سبوتاژ کیا جارہا ہے۔
اقبال، علی بخش نہیں کہ ہر سال اس کی نمائش کی جائے یا اقبال کے نام پر چند مسلمہ جمع کر لئے جائیں اور کہا جائے کہ انہیں اقبال سے دوستانہ قرابت رہی ہے۔ اقبال کے نام پر سب سے بڑا حادثہ یہ ہے کہ ان کا بھتیجا اعجاز احمد مرزائی ہے۔ وہ اپنے چچا کا نہیں مرزا غلام احمد کا متبع ہے۔ ذرا اس سے گفتگو کر لیجئے۔ آپ محسوس کریں گے کہ وہ اقبال کے افکار کو کس حد تک تسلیم کرتا ہے۔ یہ گویا روح اقبال سے ایک زبردست انتقام لیا جارہا ہے۔
اقبال کے علاوہ اور کسی بھی ہم عصر فکری راہنما اور ادبی شخصیت کے افکار ونظریات اور اس کی خدمات یا کارناموں کا تذکرہ نہیں ہورہا۔ بلکہ مرزائی اثر ورسوخ اس راستے میں سختی سے مزاحم ہے۔
ظفر علی خان اور زمیندار نے دین، ادب، صحافت، انشاء، سیاست اور قومی بیداری میں زبردست کام کیا ہے۔ اگر پنجاب مرحوم میں قدرت انہیں یہ فرض نہ سونپتی تو ممکن تھا کہ مغربی پاکستان کا بیشتر علاقہ سیاسی طور پر غیر متحرک رہتا اور قومی زبان سے وہ لگن پیدا نہ ہوتی جو آج اردو کو پنجاب میں حاصل ہے۔ لیکن مرزائی اثر ورسوخ نے پاکستان کی مختلف حکومتوں کو ادب ودین کی تاریخ سے ان کی ناواقفیت کے باعث ظفر علی خان کی طرف آنے ہی نہیں دیا اور نہ کوئی ادارہ یا مجلس قائم ہونے دی جو مولانا ظفر علی خان کے نام سے منسوب ہو۔ پچھلے دنوں مطالبہ کیا گیا کہ وزیر آباد میں جو کالج قائم ہورہا ہے مولانا ظفر علی خان کے نام سے منسوب کیا جائے تو اس شہر کے ایک قادیانی نے ایک مؤقر روزنامہ میں اعتراض کیا کہ ان کی خدمات کیا ہیں؟ حالانکہ ان کی ان گنت خدمات کا یہ پہلو ہی عظیم ہے کہ وہ عمر بھر ایک خانہ ساز نبوت کا تعاقب کرتے رہے اور اس کی دینی مضرتوں کا سدباب کیا۔ مولانا اس پنجاب میں نہ ہوتے تو یہ ایک سیاسی ویرانہ، دینی مرگھٹ اور ادبی عزاخانہ ہوتا۔
ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مرزائیوں نے مولانا ظفر علی خان کی مہتمم بالشان خدمات کو سبوتاژ کرنے اور ان کی ذات میں مین میخ نکالنے کے لئے اپنے دو مہرے چھوڑ رکھے ہیں۔
پاکستان بن جانے کے بعد قلم کے ان دو کیڑوں نے مولانا ظفر علی خان کی سیرت کو داغدار کرنے اور ان کی صورت کو
عبدالسلام خورشید جو مرزائی امت کا سے نہیں نکلا کہ مولانا ظفر علی خان مرزائی ہونے کے باعث مسلمانوں خورشید ہر اس شخص کے ہے۔ ثانیاً، شیخ محمد اسماعیل پانی پتی ج مختلف مقالوں کی تسوید میں قادیانی اس کے مغربی اسلوب تحریر سے مطل چوہدری ظفر اللہ خان ک کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ یہ تھے و اجلاس سے کیا۔ انہوں نے مرزائ تقریر کے مختلف پہلو بہ صراحت ب قائم کر چکے ہیں۔ چنانچہ تمام احبا خدمات جلیلہ کو نئی پود کے ذہن نشی علی خان اکادمی قائم کی جائے۔ ج اولاً، مولانا کے افکار شدید تعاقب، ظفر علی خان اکادم تک چھ کتابیں شائع کرنے کا اہت انتخاب کیا گیا۔
صدر ........
جنرل سیکرٹری ......
ارکان اکادمی
- ١...... چوہدری
- ٢...... ملک ام
- ٣...... سید انو
- ٤...... مولانا
داغدار کرنے اور ان کی صورت کو برص آلود بنانے میں بڑی چابکدستی سے کام لیا ہے۔ اولاً عبدالسلام خورشید جو مرزائی امت کا گماشہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کا یہ احساس ابھی تک اس کے ذہن سے نہیں نکلا کہ مولانا ظفر علی خاں کی قادیان شکن تحریک ہی کا بالواسطہ اثر تھا کہ اس کے دادا کو مرزائی ہونے کے باعث مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا تھا۔
خورشید ہر اس شخص کے خلاف جلی و خفی زہر چھوڑتا ہے جو مرزائی امت کا محاسب رہا ہے۔ ثانیاً شیخ محمد اسماعیل پانی پتی جو مختلف دینی کتابوں کے تراجم مختلف ادبی کتابوں کی ترتیب اور مختلف مقالوں کی تسوید میں قادیانی عقرب کی حیثیت سے ڈنک مار جاتا ہے۔ مسلمان ناشروں کو اس کے عقربی اسلوب تحریر سے مطلع رہنا چاہئے۔ یہ ایک قلمی فتنہ ہے جو آئندہ مہلک ثابت ہوگا۔
چوہدری ظفر اللہ خان کا یہ سوال کہ ظفر علی خان کہاں ہے؟ یہ اجلاس اس کا جواب دینے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔ یہ تھے وہ خیالات جن کا اظہار ٢؍ جون ١٩٦٧ء کو مدیر چٹان نے شرکاء اجلاس سے کیا۔ انہوں نے مرزائیت کے جدید حوصلوں کا پس منظر بیان کرتے ہوئے چنیوٹ کی تقریر کے مختلف پہلو بہ صراحت بیان کئے اور مرزائیوں کے ان محاذوں کا ذکر کیا جو اس وقت وہ قائم کر چکے ہیں۔ چنانچہ تمام احباب، جوش واعتقاد کے ساتھ اس امر پر متفق ہو گئے کہ مولانا کی خدمات جلیلہ کو نئی پود کے ذہن نشین کرانے اور ظفر اللہ خان کے سوال کا جواب دینے کے لئے ظفر علی خان اکادمی قائم کی جائے۔ جس کے مقاصد میں دو اہم پہلو یہ ہوں۔
اولاً، مولانا کے افکار و سوانح اور خدمات ومہمات کا تذکرہ واشاعت، ثانیاً، مرزائیت کا شدید تعاقب، ظفر علی خان اکادمی اس سلسلہ میں لٹریچر شائع کرے گی۔ چنانچہ اس سال کے آخر تک چھ کتابیں شائع کرنے کا اہتمام ہو چکا ہے۔ سالِ رواں کے لئے مندرجہ ذیل عہدیداروں کا انتخاب کیا گیا۔
صدر ........ ملک اسلم حیات ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری ...... آغا شورش کاشمیری
ارکان اکادمی
- ١....... چوہدری عبدالحمید ایم، اے۔
- ٢....... ملک امجد حسین ایڈووکیٹ۔
- ٣....... سید انور حسین نفیس رقم۔
- ٤....... مولانا تاج محمود مدیر لولاک۔
- ٥...... خواجہ محمد صادق کشمیری۔
- ٦...... مولانا منظور احمد مہتمم جامعہ عربیہ چنیوٹ۔
- ٧...... مولانا ضیاء قاسمی۔
- ٨...... مولانا عبدالرحمن جامعہ اشرفیہ لاہور۔
- ٩...... ماسٹر تاج الدین انصاری۔
- ١٠...... خطیب اسلام مولانا مجاہد الحسینی۔
- ١١...... شیخ محمد بشیر لائل پور۔
- ١٢...... مولانا حبیب اللہ مہتمم جامعہ رشیدیہ ساہیوال۔
- ١٣...... مسٹر مختار احمد ایم اے۔
مزید ارکان کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اجلاس میں پچاس کے قریب ممتاز شخصیتیں شریک ہوئیں۔ جنہوں نے فتنہ مرزائیت کے مخفی ارادوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠ ش ٢٤، ١٢ جون ١٩٦٧ء)
٢٦.......سات نکات
کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے کہ:
- ١...... مرزائی کا چہرہ ختم نبوت سے بغاوت کے باعث مسخ ہو جاتا اور اس کی رونق مر جاتی ہے۔
- ٢...... مرزائیوں میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کے زہد و ورع کی شہرت ہو اور عامۃ الناس میں
اس کی نیکی، دیانت، اخلاص، تقویٰ اور علم دین کے باعث رغبت اور کشش ہو۔
- ٣...... ان میں کوئی شخص محدث، مفسر، فقیہہ اور عالم نہیں اور نہ دین و ادب کی تاریخ میں ان
کے فکر و نظر کا کوئی سرمایہ ہے۔
- ٤...... ان میں کوئی اچھا شاعر، کوئی اچھا ادیب کوئی اچھا مؤرخ اور کوئی اچھا صحافی آج تک
پیدا ہی نہیں ہوا اور نہ آئندہ پیدا ہو سکتا ہے۔
- ٥...... مرزائی جس قومی مقدمہ میں وکیل ہو وہ ہمیشہ ہار جاتا ہے۔ مثلاً چوہدری ظفر اللہ خاں
ہی کو لیجئے۔ باؤنڈری کمیشن کے سامنے ہار گیا۔ یو، این، او میں لمبی لمبی تقریریں کیں۔ نتیجہ ڈھاک کے تین پات، غرض قدرت نے اس سے استدلال کی تاثیر سلب کر رکھی ہے۔ ان کے جھرمٹ میں برکت ہی نہیں ہے۔
خواجہ محمد صادق کاشمیری۔ مولانا منظور احمد مہتمم جامعہ عربیہ چنیوٹ۔ مولانا ضیاء قاسمی۔ مولانا عبدالرحمن جامعہ اشرفیہ لاہور۔ ماسٹر تاج الدین انصاری۔ خطیب اسلام مولانا مجاہد الحسینی۔ شیخ محمد بشیر لائل پور۔ مولانا حبیب اللہ مہتمم جامعہ رشیدیہ ساہیوال۔ مسٹر مختار احمد ایم اے۔
کان کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ اجلاس میں پچاس کے قریب ممتاز شخصیتیں وں نے فتنہ مرزائیت کے مخفی ارادوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠ ش ٢٤، ١٢/جون ١٩٦٧ء)
٢٦......سات نکات
پ نے اس پر غور کیا ہے کہ:
کا چہرہ ختم نبوت سے بغاوت کے باعث منفی ہو جاتا اور اس کی رونق مر جاتی ہے۔
س میں کوئی شخص ایسا نہیں جس کے زہد و ورع کی شہرت ہو اور عامۃ الناس میں نیکی، دیانت، اخلاص، تقویٰ اور علم دین کے باعث رغبت اور کشش ہو۔
کوئی شخص محدث، مفسر، فقیہ اور عالم نہیں اور نہ دین و ادب کی تاریخ میں ان لٹریچر کا کوئی سرمایہ ہے۔
کوئی اچھا شاعر، کوئی اچھا ادیب کوئی اچھا مؤرخ اور کوئی اچھا صحافی آج تک یں ہوا اور نہ آئندہ پیدا ہو سکتا ہے۔
س قومی مقدمہ میں وکیل ہو وہ ہمیشہ مر جاتا ہے۔ مثلاً چوہدری ظفر اللہ خان ۔ باؤنڈری کمیشن کے سامنے رہ گیا۔ یو، این، او میں لمبی لمبی تقریریں کیں۔
ک کے تین پات، غرض قدرت نے اس سے استدلال کی تاثیر سلب کر رکھی کے جھرمٹ میں برکت ہی نہیں ہے۔
- ٦...... مرزائی سیاسی سازش ضرور کر سکتے ہیں۔ لیکن سیاسی علم سے خلقۃً محروم ہیں۔
- ٧...... کوئی مرزائی حافظ قرآن نہیں ہو سکتا۔ جس حافظ قرآن نے مرزائیت قبول کی اس کو
نسیان ہو گیا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠ ش ٣٠، مورخہ ٢٤/جولائی ١٩٦٧ء)
٢٧......٣١٣ قادیانی
مشرقی پنجاب میں کوئی شہر، کوئی قصبہ، کوئی علاقہ ایسا ہے؟ جہاں مسلمانوں کو ٣١٣ کی تعداد میں رہنے کی اجازت ہو۔ کیا وجہ ہے کہ مرزائی امت کو قادیان میں ٣١٣ کی تعداد میں اپنے اہل و عیال سمیت رہنے کی اجازت ہے؟
ایک طرف تو بھارتی سرکار کسی مسلمان کو پاکستان کی سرحد کے نزدیک رہنے کی اجازت نہیں دیتی۔ دوسری طرف مرزائی مسلمان کہلا کر مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے ”وفائی“ راستہ میں مقیم ہیں۔ یہ رعایت انہیں کس بنیاد پر حاصل ہوئی ہے ۔؟ ظاہر ہے کہ بھارتی حکومت ہی انہیں یہ رعایت دے سکتی ہے۔ اس کی قیمت کیا ہے؟ معمولی سوال نہیں؟ کسی مرحلہ میں اہم دستاویز پاکستانی حکومت کے ہاتھ میں آئیں اور انشاء اللہ ضرور آئیں گی۔ تب یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ اس مار آستین جماعت نے برطانوی آغوش میں پرورش پا کر ایک مہیب کردار ادا کیا ہے۔ الفضل کو شرم نہیں آتی کہ احرار کو نہرو کا ایجنٹ لکھتا ہے۔ لیکن اس کے نبی کی قبر صرف نہرو کی وجہ سے بچی رہی اور آج بھی نہرو کی بیٹی اس کی محافظ ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠ ش ٣٠، مورخہ ٢٤/جولائی ١٩٦٧ء)
٢٨......غلط آدمی کی یادگار کا خاتمہ
سنٹو کے توڑ دینے کی خبر استنبول کے جریدہ ”جمہوریت“ کے حوالے سے پاکستان کے اخباروں میں شائع ہوئی ہے۔ ہم اس خبر کا خوش دلی کے ساتھ خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس تنظیم میں پاکستان کا شمول ہی غلط تھا۔ اس کی نقاب کشائی صدر مملکت نے بھی اپنی سوانح عمری میں کی ہے۔ پاکستان کو معلوم ہی نہیں تھا اور چوہدری ظفر اللہ خان دستخط کر آئے تھے۔ بہر حال اس کا خاتمہ ہو گیا۔ عملاً ہو چکا تھا، لفظاً ہو رہا ہے۔ الحمد للہ !
صحیح تاریخ ہمیشہ برسوں کی مسافت کے بعد لکھی جاتی ہے۔ وقت آئے گا جب مؤرخ لازماً اس کا فیصلہ کرے گا اور پاکستان کو احساس ہوگا کہ اس کی کارفرمائی کے نظام میں دو آدمیوں کا انتخاب اور شرکت غلط تھی۔ اوّلاً، چوہدری ظفر اللہ خان، ثانیاً، سکندر مرزا، چوہدری ظفر اللہ خان
عقیدہ اور طبعاً استعماری نظام کے مہرے رہے ہیں۔ وہ سامراج کو نفی کر کے سوچ ہی نہیں سکتے۔ وہ انگریزوں کے صحابی اور امریکیوں کے تابعی ہیں۔ جب تک ظفر اللہ خان وزیر خارجہ رہے۔ انہوں نے روس و چین سے دور رکھا۔ کچھ اور ملکوں کے معاملہ میں بھی ان کی خصوصیت آشکار ہو چکی ہے۔ پاکستان کا جمہوری نظام ان کی بدولت کچلا گیا۔ لوگوں کو مارشل لاء تک پہنچنا پڑا۔ ملک غلام محمد کا راستہ کھلا، پھر یہ دروازہ بند نہ ہوا۔ دوسرا شخص سکندر مرزا ہے جس نے پاکستان کی روح آزادی کو کچلا اور اس بری طرح کچلا کہ تمام ملک گویا ایک قبائلی علاقہ تھا اور وہ اس کا پولیٹکل ایجنٹ ۔
چوہدری ظفر اللہ ایسے کسی کارنامہ کو پیش نہیں کر سکتے جس پر پاکستان فخر کر سکتا ہو۔ خدا نے ان کے کام و وجود میں برکت ہی نہیں رکھی۔ جس مقدمہ میں پیش ہوئے ہار گئے ۔ جس بحث کو لے کر اٹھے بے ثمر ثابت ہوئی۔ بحمد اللہ کہ ان کے عہد کا ایک ”شہ پارہ“ یعنی سفو عنقریب داعی اجل کو لبیک کہہ رہا ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٤٠، مورخہ ١٢/ اکتوبر ١٩٦٧ء)
٢٩...... وحی کا نزول
حکومت نے منع کر رکھا ہے۔ ممانعت سر آنکھوں پر۔ مسئلہ دین کا ہے۔ لہٰذا حکومت کو توجہ دلانا ضروری ہو گیا ہے۔ اغماض اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ رسول اللہ ﷺ کی آبرو دامن گیر ہوتی ہے۔ مرزا ناصر احمد نے یورپ سے مراجعت کے بعد کہا ہے کہ : ”مجھے اس دورہ کے لئے خدا کی طرف سے وحی ہوئی تھی ۔“
ہم کسی بحث میں پڑنا نہیں چاہتے ۔ وحی کا مرجع نبی ہوتے ہیں اور اگر اس وحی سے کچھ اور مراد ہے۔ جیسا کہ ان کے ہاں تعبیرات کا طلسم خانہ ہے تو اس مختلف مفہوم سے ہم آگاہ نہیں ۔ ہمارا روئے سخن اس خاص اصطلاح سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے لئے مخصوص کی اور جس کا سلسلہ حضور ﷺ کی ختم المرسلینی کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ ان لوگوں کا شیوہ ہو چکا ہے۔ اصطلاحیں وہی استعمال کرتے ہیں جو حضور ﷺ کے منصب نبوت کے متاع اقدس ہیں ۔لیکن ٹوکا جائے تو پھر تعبیرات کی عصا اٹھا کر پائے استدلال کو سہارا دیتے ہیں ۔
اور اگر وحی نبوت کے علاوہ کسی اور شکل میں بھی عام آدمی پر نازل ہوتی ہے تو اس طرز کی ایک وحی راقم پر بھی نازل ہوئی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت سے گذارش کی جائے کہ وہ ان تمام اصطلاحوں، القابوں، خطابوں اور وارداتوں کے تقدس کی محافظت کے لئے ایک قانون
بعینہ استعماری نظام کے مہرے رہے ہیں۔ وہ سامراج کو نفی کر کے سوچ ہی نہیں ریزوں کے صحابی اور امریکنوں کے تابعی ہیں۔ جب تک ظفر اللہ خان وزیر خارجہ س نے روس و چین سے دور رکھا۔ کچھ اور ملکوں کے معاملہ میں بھی ان کی خصوصیت ا ہے۔ پاکستان کا جمہوری نظام ان کی بدولت کچلا گیا۔ لوگوں کو مارشل لاء تک پہنچنا ام محمد کا راستہ کھلا، پھر یہ دروازہ بند نہ ہوا۔ دوسرا شخص سکندر مرزا ہے جس نے وح آزادی کو کچلا اور اس بری طرح کچلا کہ تمام ملک گویا ایک قبائلی علاقہ تھا اور وہ ایجنٹ۔
ہدری ظفر اللہ ایسے کسی کارنامہ کو پیش نہیں کر سکتے جس پر پاکستان فخر کر سکتا ہو۔ خدا م وجود میں برکت ہی نہیں رکھی۔ جس مقدمہ میں پیش ہوئے ہار گئے۔ جس بحث کو ہ ثمر ثابت ہوئی۔ بحمد اللہ کہ ان کے عہد کا ایک ”شہ پارہ“ یعنی شیخو عنقریب داعی رہا ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٤٠، مورخہ ٢/اکتوبر ١٩٦٧ء)
٢٩...... وحی کا نزول
مت نے منع کر رکھا ہے۔ ممانعت سر آنکھوں پر ۔ مسئلہ دین کا ہے۔ لہذا حکومت کو ق ہو گیا ہے۔ اغماض اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ رسول اللہ ﷺ کی آبرو دامن گیر ناصر احمد نے یورپ سے مراجعت کے بعد کہا ہے کہ : ”مجھے اس دورہ کے لئے خدا ئی ہوئی تھی ۔“
ی بحث میں پڑنا نہیں چاہتے۔ وحی کا مرجع نبی ہوتے ہیں اور اگر اس وحی سے کچھ یسا کہ ان کے ہاں تعبیرات کا طلسم خانہ ہے، تو اس مختلف مفہوم سے ہم آگاہ نہیں۔ س خاص اصطلاح سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے لئے مخصوص کی اور ﷺ کی ختم المرسلینی کے بعد منقطع ہو چکا ہے۔ ان لوگوں کا شیوہ ہو چکا ہے۔ ستعمال کرتے ہیں جو حضور ﷺ کے منصب نبوت کے متاع اقدس ہیں۔ لیکن ٹو کا ت کی عصا اٹھا کر پائے استدلال کو سہارا دیتے ہیں۔
وحی نبوت کے علاوہ کسی اور شکل میں بھی عام آدمی پر نازل ہوتی ہے تو اس طرز بھی نازل ہوئی ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت سے گزارش کی جائے کہ وہ ، القابوں، خطابوں اور وارداتوں کے تقدس کی محافظت کے لئے ایک قانون
نافذ کرے۔ جن کی آبرو حضور سرور کائنات ﷺ کے ننگ و ناموس کی میراث عظیم ہے۔ ومــــــا علینا الا البلاغ !
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٤٠، مورخہ ٢/اکتوبر ١٩٦٧ء)
٣٠....... ربوہ والوں کا خفیہ نظام
بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ:
- ١....... ربوہ کی خلافت نے اپنی امت کو اس امر کی ہدایت کی ہے کہ کوئی مرزائی
گریجویٹ مرد ہو یا خاتون۔ اس کی منشاء کے بغیر خود کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے میں ملازمت کے لئے درخواست نہیں دے سکتا۔ پہلے خلافت کا مقررہ بورڈ نوجوان یا خاتون مذکور کے مزاج و طبیعت کا جائزہ لے گا۔ پھر اس کے لئے ملازمت خود تجویز کرے گا۔
- ٢....... قادیانی خلافت کے خفیہ نظام نے اہل قلم کو اپنا رنگ دینے کے لئے
بروایت کئی لاکھ کا بجٹ منظور کیا ہے۔ چنانچہ اس محاذ پر ان کی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ مثلاً :
- الف....... ایک ایک قادیانی روزانہ اخباروں کے ادارہ تحریر میں شامل کیا جا رہا ہے۔ جن کا یہ کام ہوگا کہ:
- ☆....... اس اخبار کے جملہ امور بالخصوص مالیات پر نگاہ رکھے اور ربوہ کو مخبری کرے۔
- ☆....... قادیانی امت کے مخالفوں کی خبروں کو حتی الامکان سبوتاژ کرتا رہے۔
- ☆....... جن لوگوں کا ان سے اختلاف ہے یا ان کے محاسب ہیں۔ ان کے خلاف غیر قادیانی
قلمکاروں سے مضمون لکھوائے اور ان مضامین کو نمایاں کرے۔
- ☆....... قادیانی جماعت بالخصوص خلیفہ ثالث کا پراپیگنڈا ہوتا رہے۔
ہماری مصدقہ اطلاع کے مطابق تقریباً سبھی روز ناموں میں قادیانی داخل ہوگئے ہیں۔ اسی طرح اخباروں کے شعبہ نسواں میں بھی ان کی امت نے شمولیت اختیار کی ہے اور اخباری ملازمت کے بوتے پر تبلیغ کی جارہی ہے۔
- ب....... لاہور میں شیخ محمد اسماعیل پانی پتی، جناب ثاقب زیروی ، محترمہ وحیدہ نسیم اور مسٹر
عبدالسلام خورشید اخباروں، رسالوں، کتابوں اور مشاعروں میں حسب ہدایت کام کر رہے ہیں۔
ایک روایت کے مطابق لاہور کا ادبی اور کتابی محاذ شیخ محمد اسماعیل پانی پتی کے سپرد ہے۔ صحافتی محاذ عبدالسلام خورشید اور ثاقب زیروی کے، مشاعروں میں محترمہ وحیدہ نسیم شرکت فرماتی ہیں۔
- ٣...... ہمارے مشاہدے میں بھی یہ بات آ چکی ہے کہ قادیانی عموماً شیزان کا
مشروب پیتے ہیں۔ ہمارے ایک سرکاری دوست نے پچھلے دنوں اس کا تجربہ بھی کیا ہے۔ ان کے ایک قادیانی دوست ان سے ملنے آئے تو انہوں نے ملازم سے کہا، بیئرز لاؤ۔ قادیانی دوست نے روک دیا میں بیئر ز نہیں پیوں گا۔ اس میں جراثیم ہوتے ہیں۔ پلانا ہے تو شیزان منگوا لیجئے۔ ہمارے دوست کا بیان ہے کہ تقریباً ہر قادیانی شیزان کے مشروب پر اصرار کرتا اور اپنے ملاقاتیوں کو پلاتا ہے۔ ذرا اسی سے اندازہ کر لیجئے کہ ان کا معاشرتی ذہن کیا ہے۔
- ٤...... جہاں تہاں قادیانی افسر مامور ہوتا ہے تمام عملہ کو قادیانی اہل کاروں سے
بھر دیتا ہے۔ مثلاً ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ لاہور کے پک آفس میں چوہدری بشیر احمد نے دو کام کئے۔ عملہ میں قادیانی بھر دیئے یا پھر قادیانی اداروں کو بے شمار قرض دیئے۔ ان دونوں باتوں کا احساس پک کے بانی جنرل منیجر کو جو ایک ڈچ تھا۔ آخر وقت تک رہا۔ تحقیق فرما لیجئے غلط ہو تو ہم سزاوار، مقصود یہ ہے۔ اس خفیہ نظام سے تمام مسلمان اور ہماری حکومت بے خبر نہ رہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٩، مورخہ ١٧ جولائی ١٩٦٧ء)
٣١...... قادیانی امت اور فاطمہ جناح
روزنامہ الفضل ربوہ نے مادر ملت کی خبر رحلت آخری صفحہ پر دی ہے۔ پہلے صفحہ پر خلیفہ ناصر کے فرینکفورٹ پہنچنے پر نمایاں کیا گیا۔ حالانکہ یہ کوئی خاص خبر نہیں اور مادر ملت سے خلیفہ ناصر کو حقیر سی نسبت بھی نہیں ہے۔ ١٢/ جولائی کے شمارے میں افتتاحیہ لکھا۔ لیکن ان کے لئے دعائے مغفرت کی تحریک نہیں کی؟ اور نہ کسی قادیانی نے ان کا جنازہ پڑھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مرزائی امت نے اپنی کسی مسجد یا مقام پر مادر ملت کے لئے اجتماع کیا؟ سب کا جواب نفی میں ہے؟ اس کے برعکس ٹکے ٹکے کے مرزائی کی موت پر الفضل مغفرت کی دعاؤں کا جھالا بنا ہوتا ہے۔ افسوس!
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٩، مورخہ ١٧ جولائی ١٩٦٧ء)
٣٢...... عجمی اسرائیل اور پاکستان کی اقتصادیات
قادیانی امت نے بالکل اسرائیل کے سے انداز اختیار کر لئے ہیں۔ خواندگان محترم کو معلوم ہے کہ:
- ١...... امریکہ اور برطانیہ کی اقتصادیات و مالیات پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ ان کے بعض
بڑے جرائد بھی ان کے تصرف میں ہیں۔
ہمارے مشاہدے میں بھی یہ بات آ چکی ہے کہ قادیانی عموماً شیزان کا ہیں ۔ ہمارے ایک سرکاری دوست نے پچھلے دنوں اس کا تجربہ بھی کیا ہے۔ ان کے ست ان سے ملنے آئے تو انہوں نے ملازم سے کہا، بیئر لاؤ۔ قادیانی دوست نے کہا، نہیں پیوں گا۔ اس میں جراثیم ہوتے ہیں۔ پلانا ہے تو شیزان منگوا لیجئے۔ ہمارے ہے کہ تقریباً ہر قادیانی شیزان کے مشروب پر اصرار کرتا اور اپنے ملاقاتیوں کو پلاتا سے اندازہ کر لیجئے کہ ان کا معاشرتی ذہن کیا ہے۔
جہاں جہاں قادیانی افسر مامور ہوتا ہے تمام عملہ کو قادیانی اہل کاروں سے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ لاہور کے پیک آفس میں چوہدری بشیر احمد عملہ میں قادیانی بھر دیئے یا پھر قادیانی اداروں کو بے شمار قرض دیئے۔ ان دونوں پیک کے بانی جنرل منیجر کو جو ایک قادیانی تھا۔ آخر وقت تک رکھا۔ تحقیق فرمالیجئے غلط سود یہ ہے۔ اس خفیہ نظام سے تمام مسلمان اور ہماری حکومت بے خبر نہ رہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٩، مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٦٧ء)
٣١...... قادیانی امت اور فاطمہ جناح
الفضل ربوہ نے مادر ملت کی خبر رحلت آخری صفحہ پر دی ہے۔ پہلے صفحہ پر خلیفہ پہنچنے پر نمایاں کیا گیا۔ حالانکہ یہ کوئی خاص خبر نہیں اور مادر ملت سے خلیفہ ناصر کو نہیں ہے۔ ١٢؍جولائی کے شمارے میں افتتاحیہ لکھا۔ لیکن ان کے لئے دعائے نہیں کی؟ اور نہ کسی قادیانی نے ان کا جنازہ پڑھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مرزائی مسجد یا مقام پر مادر ملت کے لئے اجتماع کیا؟ سب کا جواب نفی میں ہے؟ اس کسی مرزائی کی موت پر الفضل مغفرت کی دعاؤں کا جھالا بنا ہوتا ہے۔ افسوس!
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٩، مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٦٧ء)
...... عجمی اسرائیل اور پاکستان کی اقتصادیات
امت نے بالکل اسرائیل کے سے انداز اختیار کر لئے ہیں۔ خواندگان محترم کو
اور برطانیہ کی اقتصادیات و مالیات پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ ان کے بعض زائد بھی ان کے تصرف میں ہیں۔
- ٢...... جانسن نے اسرائیل کی مدد کی ہے تو اس کی وجہ امریکہ کا اسرائیلی سرمایہ اور اسی سرمائے
کا امریکی عوام پر رسوخ ہے۔ ورنہ جانسن یا ولسن کو اپنے پیغمبر مسیح علیہ السلام کے قاتلوں سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے؟
- ٣...... جانسن نے جو کچھ کیا آئندہ صدارتی انتخاب میں اپنی کامیابی کے لئے امریکہ کی
دولت مند صیہونیت کی خوشنودی کے لئے کیا ہے۔
پاکستان میں مرزائیت نے صیہونیت ہی کے راستہ پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے دل پر یہ بات نقش کالحجر ہو چکی ہے کہ مسلمان عوام ان کے مذہبی دھوکے میں نہیں پھنسیں گے۔ کیونکہ علامہ اقبالؒ، مولانا ظفر علی خاںؒ، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور دوسرے اکابر نے ان کا یہ دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا ہے۔ امریکی اور برطانوی یہودیوں کی طرح اب ان کے سامنے ملک کی اقتصادی زندگی پر قبضہ کرنے کا خفیہ پلان ہے۔ صدر مملکت اور گورنر صوبہ تحقیق فرمائیں کہ:
- ١...... ملک کے اقتصادی پلان میں کتنے پراجیکٹ (ملیں اور کارخانے) ان کے لئے منظور
ہوئے ہیں۔
- ٢...... ہمارا دعویٰ ہے کہ جب تک چوہدری بشیر احمد پیک کے کرتا دھرتا رہے۔ انہوں نے
دفتر میں تمام قادیانی بھرتی کئے اور ان کے عہد میں جتنے پراجیکٹ منظور ہوئے یا سفارش کئے گئے وہ تمام تر (شاید ہی کوئی دوسرا ہو) قادیانی امت کے فرزندوں کو ملے ہیں۔ یہ غلط ثابت ہو تو ہم گردن زدنی، ورنہ جائزہ لیا جائے کہ کروڑوں روپے کا سرمایہ اور کتنے پراجیکٹ ایک خاص امت کو کس طرح عطاء ہوئے ہیں۔ کیا پاکستان کی قومی دولت اس عجمی صیہونیت کی جاگیر ہے؟
- ٣...... اس امر کی بھی تحقیق کر لیجئے کہ قادیانی خلافت اپنا سرمایہ ان بنکوں میں جمع کراتی ہے
جس کی انتظامیہ ان کے پیروؤں کی مقررہ تعداد کو ملازم رکھے۔ چنانچہ جن بنکوں نے ان سے سرمایہ محفوظ (Fixed Deposit) لے رکھا ہے۔ وہاں مقررہ تعداد کے مطابق قادیانی موجود ہیں۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٢٩، مورخہ ١٧؍جولائی ١٩٦٧ء)
٣٣...... قادیانیت
کیا ہندوستان کی پاکستانی سرحد پر کسی مسلمان کو بھارتی شہری بن کر رہنے کی اجازت ہے؟
بالکل نہیں اور کبھی نہیں۔ سترہ روزہ جنگ میں بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی فضائیہ نے بھارت کے جن ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا ان میں پٹھان کوٹ کا ہوائی اڈہ بھی تھا۔ جو قادیان سے ہم آغوش ہے۔ پھر وہاں قادیانی امت کے ٣١٣ درویش کس طرح رہے؟ اور انہیں وہاں رہنے کی اجازت کیوں کر ملی؟
آج تک ربوہ کی خلافت نے اس کی صراحت نہیں کی۔ اگر حکومت پاکستان کو مرزائی امت نے یہ تاثر دے رکھا ہے کہ ان کا وہاں رہنا پاکستان کے لئے مفید ہے تو معاف کیجئے ہندوستان کی حکومت اناڑی نہیں اور اگر ہندوستان کی حکومت انہیں اپنے لئے مفید سمجھتی ہے تو ربوہ کا دوغلہ نظام سیاسی نگرانی کا مستحق ہے۔
مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ لیکن قادیان میں ٣١٣ مرزائیوں کا مستقل قیام اور ربوہ سے ان کا رابطہ جانبین میں سے کس کے لئے مفید ہے؟ اندریں حالات یہ بات اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے کہ بھارت پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے۔ ایک دشمن ملک میں ایک سیاسی خلافت کے پیروؤں کا قیام یا سیاسی کعبہ مکرمہ ہے یا پھر سیاسی معمہ جس کو اندریں حالات حل کرنا از بس ضروری ہو گیا ہے۔
غور فرمائیے! بھارت سے ہماری کٹا چھنی اور شدید کٹا چھنی لیکن مرزائی مشن کو ہندوستان میں قیام کی اجازت دولت مشترکہ کا فیضان ہے یا مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمات کا صلہ اور چوہدری ظفر اللہ خاں کے رسوخ کا شعبدہ؟
عربوں کا اس وقت خونخوار دشمن کون سا ہے؟
اسرائیل! کسی اسلامی ملک نے دینی غیرت کے پیش نظر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور نہ اسرائیل میں کوئی مسلمان رہ سکتا ہے۔ جن عربوں کی یہ سرزمین ہے انہیں چن چن کر اس مقدس سرزمین سے نکالا جا رہا ہے۔ جرم ان کا یہ ہے کہ محمد عربی کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ لیکن قادیانی مشن ہے کہ اسرائیل میں قائم ہے۔ کس غرض سے؟ جب پاکستان نے اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کئے اس کا سفارتی مشن وہاں نہیں تو قادیانی مشن کس کی اجازت سے وہاں قائم ہے؟ اس کا مقصد کیا ہے؟ کن لوگوں میں تبلیغ کر رہا ہے؟ کیا ان یہودیوں کو دعوت دینے گیا ہے جو اپنی مملکت کو مستحکم کرنے کے لئے تمام عصبیتوں کے تحت وہاں اکٹھے ہیں۔
ایک دفعہ نہیں بار بار غور کیجئے قادیانی مشن کو ہندوستان میں کھلی چھٹی ہے۔ وہاں
پاکستان کی شہ رگ پر بیٹھا ہے۔ ادھر اسرائیل میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کے خلقی دشمن بھارت اور اسلام کے خلقی دشمن اسرائیل سے قادیانی مشن کا عقد کس نے باندھا؟ ہماری معلومات کے مطابق اسرائیل میں قادیانی مشن صیہونیت کی دماغی تربیت حاصل کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ اور کون سی غایت ہو سکتی ہے۔ کیا یہودی مرزا غلام احمد کو نبی مان لیں گے۔ جنہوں نے مسیح علیہ السلام کو پھانسی پر کھنچوانا چاہا اور جس قوم کی فطرت میں اللہ کے حقیقی نبیوں کی نافرمانی لکھی گئی ہے۔ جس قوم کو نبیوں کا قاتل کہا گیا۔ کیا وہ قوم مسیح کی برطانوی امت کے ایک ساختہ پرداختہ نبی کی پیرو ہو گی۔ ناممکن!
تو پھر ان عربوں کو مسلمان بنانے کے لئے یہ مشن قائم کیا گیا ہے جو محمدﷺ کے حلقہ بگوش ہیں۔ عرب محمد کو چھوڑ کر غلام احمد کے متبع بن جائیں گے۔ ناممکن!
ظاہر ہے کہ قادیانی امت اور اس کے مختلف مشن یا تو سکاٹ لینڈ یارڈ کے گماشتوں کی حیثیت سے مختلف ملکوں میں کام کر رہے ہیں یا پھر ”مصلح موعود“ کی تحریک پر ان کے دماغ میں اپنی ریاست قائم کرنے کا جو منصوبہ نامرادی کے مرحلے طے کر رہا ہے۔ یہ مشن اس کے تحت اپنا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک قادیانی سول جج نے اپنے حلقہ احباب میں بیان کیا کہ نبوت کو طاقت بننے کے لئے مملکت کی ضرورت ہوتی ہے۔ فی الحال ہم یہ چاہتے ہیں کہ ویٹیکن کی طرح ربوہ یا قادیان کی خصوصیت قائم ہو جائے۔ خلیفہ ثالث کی وہی حیثیت ہو جو ہز ہولی نس پوپ کی ہے۔ پوپ کے سفراء مختلف ملکوں میں ہیں۔ ہم اپنے مختلف الملکی مشنریوں کی یہی حیثیت چاہتے ہیں۔
ملاحظہ فرمایا آپ نے؟ افسوس ہے کہ حکومت ابھی تک اس جماعت کے سیاسی ارادوں کا جائزہ نہیں لے رہی۔ ہمیں اس کے وجوہ معلوم ہیں اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس امت کے افراد حکومت کو ان لوگوں سے کس طرح بدظن کرتے ہیں۔ جن کے ہاتھ ان کی شہ رگ پر ہیں اور جو اس سیاسی امت کے خدوخال کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔
ٹائن بی نے لکھا ہے کہ اسرائیلی اس وقت فتح کے نشہ میں ہیں۔ لیکن ان کا یہ نشہ جلد اتر جائے گا۔ پھر انہیں خمار ٹوٹتے ہی ابکائیاں آنی شروع ہو جائیں گی۔ تب وہ عربوں کے محاسبہ سے بچ نہیں سکتے ہیں۔
یہی حالت قادیانیوں کی ہے بے شک انہیں اس وقت رسوخ حاصل ہے۔ انہوں نے
ملک کی سیاسی فضا سے فائدہ اٹھا کر اپنے بال و پر پھیلا رکھے اور شرلک ہومز کے جاسوسی کرداروں کی طرح کام کرتے ہیں۔ تاہم ان کا خمار دیر پا نہیں۔ پاکستان کو نہ ان کے متنبّیٰ کی ضرورت ہے نہ ان کی خلافت درکار ہے نہ ان کے مصلح موعود کی مسخرگی پر ایمان لا سکتے ہیں اور نہ خلیفہ ناصر کی اڑانیں مطلوب ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ مرزائی اپنے خدا سے معافی مانگیں۔ بارگاہ رسالت مآبﷺ میں جھک جائیں اور توبہ کریں کہ انہوں نے حضور سرور کائناتﷺ کی ختم المرسلینی کے دامن پر مقراض رکھ کر خوفناک جسارت کی ہے؟ ورنہ یہ حقیقت نوٹ کر لیں کہ ان کی ریاست دوزخ کے سوا اور کہیں قائم نہیں ہو سکتی ہے۔
صدر مملکت نے عربوں کے لئے جو ریلیف فنڈ قائم کیا ہے اس میں مرزائی امت نے بھی ١٥ ہزار روپیہ بھیجا تھا۔ اس روپے کی رسید کے ساتھ صدر کی طرف سے ڈپٹی سیکرٹری مسٹر اے وحید نے جو خط لکھا ہے وہ الفضل ١٨؍ جولائی کے صفحہ اوّل پر شہ سرخی کے ساتھ چھپا ہے۔ اس خط کا اصل متن انگریزی میں ہے۔ اردو ترجمہ مرزائیوں نے کیا ہے۔ تیسرے پیرا کا ترجمہ ہے۔
”صدر کو یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنی جماعت کے تمام اراکین کو تحریک فرمائی ہے کہ وہ اس فنڈ میں دل کھول کر حصہ لیں اور دعاؤں پر بھی زور دیں۔“
ہمارا خیال ہے کہ یہ ترجمہ غلط ہے۔ یا اس میں تحریف کی گئی ہے۔ صدر مملکت کبھی اس جماعت کے سرخیل کو حضرت امام لکھنا پسند نہیں کریں گے اور نہ انگریزی خطوط میں اس طرح حضرت لکھا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے سٹینو سے غلطی ہو گئی ہو یا کسی قادیانی نے قلم سے فائدہ اٹھا لیا ہو۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣٠، مورخہ ٢٤؍ جولائی ١٩٦٧ء)
٤٤...... قادیانی اور اسرائیل
ہمیں اچھی طرح یاد ہے اور ہم یہ بات پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ایک زمانہ میں جب انٹرنیشنل پریس انسٹیٹیوٹ کا سالانہ اجلاس اسرائیل میں ہو رہا تھا۔ پاکستان کے صحافی ارکان نے شمولیت کے لئے صدر ایوب سے درخواست کی تو انہوں نے کہا: ”ہمارے ان کے ساتھ سفارتی تعلقات ہی نہیں ہیں۔“ ارکان میں سے ایک نے کہا: ”ہم صرف اس لئے جانا چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ اسرائیل کیا ہے؟ اور اس نے اب تک اپنے پاؤں کیونکر جمائے ہیں۔“
صدر نے کہا: ”لیکن آپ لوگ کس طرح جائیں گے؟ اسرائیل کے اخبار نویسوں نے کہا ہے کہ آپ لوگ چلے آئیں۔ آپ کے لئے کوئی بندش نہیں ہو گی۔“
فضا سے فائدہ اٹھا کر اپنے بال و پر پھیلا رکھے اور شرک ہرمز کے جاسوسی کرداروں کرتے ہیں۔ تاہم ان کا شمار وفادار نہیں۔ پاکستان کو نہ ان کے طبقے کی ضرورت ہے نہ درکار ہے نہ ان کے مصلح موعود کی مسخرگی پر ایمان لاسکتے ہیں اور نہ خلیفہ ناصر کی ب ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ مرزائی اپنے خدا سے معافی مانگیں۔ بارگاہ رسالت ا جھک جائیں اور توبہ کریں کہ انہوں نے حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم المرسلینی تراض رکھ کر خوفناک جسارت کی ہے؟ ورنہ یہ حقیقت نوٹ کر لیں کہ ان کی ریاست ور کہیں قائم نہیں ہو سکتی ہے۔
ر مملکت نے عربوں کے لئے جو ریلیف فنڈ قائم کیا ہے اس میں مرزائی امت نے پیہ بھیجا تھا۔ اس ٥٠ روپے کی رسید کے ساتھ صدر کی طرف سے ڈپٹی سیکرٹری مسٹر اے لکھا ہے وہ الفضل ١٨؍ جولائی کے صفحہ اوّل پر شہ سرخی کے ساتھ چھپا ہے۔ اس خط کا ی میں ہے۔ اردو ترجمہ مرزائیوں نے کیا ہے۔ تیسرے پیرا کا ترجمہ ہے۔
صدر کو یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنی جماعت کے یک فرمائی ہے کہ وہ اس فنڈ میں دل کھول کر حصہ لیں اور دعاؤں پر بھی زور دیں۔‘‘
یہ ترجمہ غلط ہے۔ یا اس میں تحریف کی گئی ہے۔ صدر مملکت کبھی اس جماعت کے امام لکھنا پسند نہیں کریں گے اور نہ انگریزی خطوط میں اس طرح حضرت لکھا جاتا ی ہے سٹینو سے غلطی ہو گئی ہو یا کسی قادیانی نے قلم سے فائدہ اٹھا لیا ہو۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٣٠، مورخہ ٢٣ جولائی ١٩٦٧ء)
٣٤...... قادیانی اور اسرائیل
اچھی طرح یاد ہے اور ہم یہ بات پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ ایک زمانہ میں جب سٹیٹیوٹ کا سالانہ اجلاس اسرائیل میں ہورہا تھا۔ پاکستان کے صحافی ارکان نے در ایوب سے درخواست کی تو انہوں نے کہا: ”ہمارے ان کے ساتھ سفارتی ہیں ۔“ ارکان میں سے ایک نے کہا: ”ہم صرف اس لئے جانا چاہتے ہیں تا کہ ا کیا ہے؟ اور اس نے اب تک اپنے پاؤں کیونکر جمائے ہیں ۔“ نے کہا: ”لیکن آپ لوگ کس طرح جائیں گے؟ اسرائیل کے اخبار نویسوں نے ۔ چلے آئیں۔ آپ کے لئے کوئی بندش نہیں ہوگی ۔“
صدر ایوب نے بلا توقف فرمایا : ” نہیں یہ کوئی اچھی بات نہیں ۔ جس ملک کے ساتھ ہمارے روابط نہیں اس کے حدود میں جانا غلط ہے۔ ہمیں اپنے عرب بھائیوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔ اگر کوئی پاکستانی وہاں گیا تو غلط فہمی پیدا ہوگی ۔“
یہ تھا صدر مملکت کا جواب جو آج تک ہمارے دل پر نقش ہے۔ سوال یہ ہے کہ قادیانی فرقے کے لوگ اسرائیل میں اپنا مشن کس طرح قائم کر کے بیٹھے ہیں۔ انہیں تبلیغ کے لئے روپیہ کہاں سے ملتا ہے؟ جس سرزمین کے لئے محمد عربی ﷺ کے ہم وطنوں یعنی عربوں کی وسعتیں تنگ ہو چکی ہیں۔ اس سرزمین میں غلام احمد کے پیروؤں کا مشن قائم کرنا اور ان کی آمد و رفت رہنا کس اصل اور کس بنیاد پر روا ہے۔
گورنمنٹ ہماری آواز کو حقیر سمجھتی ہے؟ تو ہمیں اس کا اعتراف ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جو مسئلہ زیر قلم ہے وہ حقیر ہے یا اہم؟ ہمارے نزدیک پاکستان کے لئے اہم ترین مسئلہ ہے۔ مرکزی حکومت کو قادیانی افسروں اور نام نہاد رواداری کے جھانسے میں نہ آنا چاہئے۔ اس بات کا کھوج لگانا چاہئے کہ :
- ١...... مرزائیل اور اسرائیل کے باہمی تعلقات کیا ہیں۔
- ٢...... مؤخر الذکر نے اول الذکر کو کس بنیاد پر اپنا مشن قائم کرنے کی اجازت دے رکھی
ہے ۔ جب کہ مسجد اقصیٰ تک اسرائیل کے ہاتھوں مجروح ہورہی ہے؟
- ٣...... اس مشن کے لئے روپیہ کہاں سے آتا اور زر مبادلہ کیسے منتقل ہوتا ہے۔
- ٤...... کیا یہ صحیح ہے کہ پاکستان کے قادیانی لندن جا کر وہاں سے اسرائیل کا ویزا حاصل
کرتے ہیں؟
خدا کے لئے اس کی تحقیق کیجئے ورنہ یہ فتنہ پاکستان کے لئے کئی عذابوں اور ابتلاؤں کا باعث ہوگا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٤٧، مورخہ ٢٠ نومبر ١٩٦٧ء)
٣٥...... ظفر اللہ خان کو منہ نہ لگایا جائے
ظفر اللہ خان پھر پاکستان میں تشریف لائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عادت کے مطابق مختلف کالجوں اور مختلف اداروں سے ملی بھگت کر کے اپنے ویاکھیانوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے مسلمانوں نے جس طرح ان کا استقبال کیا۔ پاکستان کے مسلمانوں میں، اجتماعی طور پر ان کے لئے جو نفرت ہے، وہ ڈھکی چھپی نہیں۔ افسوس ہے کہ بعض لوگ جو یورپی فکر
کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں۔ ظفر اللہ خان کی اس شہرت سے کہ وہ عالمی عدالت کے جج ہیں۔ ان کے خیالات سے مستفید ہونے کے لئے مختلف تقریبوں کا اہتمام کرتے اور ان کے لئے ذہنی میدان ہموار کرتے ہیں۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی ختم المرسلینی کی قادیانی توجیہہ پر مرزا غلام احمد کو نبی مانتا ہو اور جس کے متعلق یہ بات ثابت ہو چکی ہو کہ وہ عام مسلمانوں کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوتا اور روزمرہ کی زندگی میں قادیانی عناصر کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اس کے لئے مسلمانوں کے دل و دماغ میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش کرنا اور اس کی مساعی سے صرف نظر کرنا ہمارے نزدیک ہر لحاظ سے قابل افسوس ہے اور ہم یہی عرض کر سکتے ہیں کہ ایسے شخص کو مطلقاً منہ نہ لگایا جائے۔ کیا اس کے لئے قادیانی امت کا اپنا اجتماع ہی کافی نہیں ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٥١، مورخہ ١٨ نومبر ١٩٦٧ء)
٣٦...... مرزائیوں کی تاریخ نگاری
تاریخ احمدیت کے نام سے جماعت احمدیہ نے اپنی سرگرمیوں کو جو تاریخ لکھی ہے یہ اس سلسلے کی چھٹی جلد ہے اور اس کا تعلق تحریک حریت کشمیر میں اس جماعت کے رول سے ہے۔ تحریک کشمیر کے ابتدائی ایام میں کشمیر کمیٹی کے صدر کی حیثیت میں جماعت احمدیہ کے سابق امیر مرزا بشیر الدین محمود اور ان کے زیر اثر ان کی جماعت کے دیگر لوگوں نے خاصی دلچسپی لی ہے۔ چنانچہ ٢٥ جولائی ١٩٣١ء کو برصغیر کے مسلم رہنماؤں نے شملہ اجلاس میں کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی میں مدد دینے کے لئے ”آل انڈیا کشمیر کمیٹی“ کے نام سے ایک کمیٹی قائم کی۔ انگریزوں سے احمدیوں کے خصوصی روابط کے پیش نظر مرزا محمود قادیانی کو اس کمیٹی کا صدر مقرر کیا گیا۔ چنانچہ اس کتاب کے صفحہ ٤٦٣ میں لکھا ہے کہ علامہ اقبالؒ کا خیال تھا کہ مرزا محمود ولایت میں پروپیگنڈہ کرنے کے علاوہ وائسرائے اور اس کے سیکرٹریوں سے ملاقات کر سکیں گے۔ ”تحریک کشمیر سے قادیانی جماعت کی یہ دلچسپی ١٩٣٣ء تک جاری رہی۔ جب کشمیر کمیٹی کے اکثر ارکان کے مطالبہ پر مرزا محمود کو اس کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ کشمیر کمیٹی اور اس کے فنڈز کو کشمیر میں اپنے مذہبی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ تحریک پاکستان میں احمدیہ جماعت کا رول خاصا الجھا ہوا ہے۔ مشہور کشمیری مؤرخ پنڈت پریم ناتھ بزاز نے اپنی کتاب ”دی سٹرگل فار فریڈم ان کشمیر“ میں لکھا ہے کہ قادیانی کشمیر کمیٹی کو اپنے مذہبی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔“
ملے ہوئے ہیں۔ ظفر اللہ خان کی اس شہرت سے کہ وہ عالمی عدالت کے جج ہیں۔ مستفید ہونے کے لئے مختلف تقریبوں کا اہتمام کرتے اور ان کے لئے ذہنی ہیں۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی ختم المرسلینی کی قادیانی توجیہہ پر مرزا غلام احمد کے متعلق یہ بات ثابت ہوچکی ہو کہ وہ عام مسلمانوں کے جنازے میں بھی روزمرہ کی زندگی میں قادیانی عناصر کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اس کے لئے دماغ میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش کرنا اور اس کی مساعی سے صرف نظر کرنا سے قابل افسوس ہے اور ہم یہی عرض کر سکتے ہیں کہ ایسے شخص کو مطلقا منہ نہ کے لئے قادیانی امت کا اپنا اجتماع ہی کافی نہیں ہے۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢٠، ش ٥١، مورخہ ١٨ نومبر ١٩٦٧ء)
٣٦.......مرزائیوں کی تاریخ نگاری
جماعت کے نام سے جماعت احمدیہ نے اپنی سرگرمیوں کی جو تاریخ لکھی ہے یہ ہے اور اس کا تعلق تحریک حریت کشمیر میں اس جماعت کے رول سے ہے۔ ایام میں کشمیر کمیٹی کے صدر کی حیثیت میں جماعت احمدیہ کے سابق امیر ان کے زیر اثر ان کی جماعت کے دیگر لوگوں نے خاصی دلچسپی لی ہے۔ کو برصغیر کے مسلم رہنماؤں نے شملہ اجلاس میں کشمیری مسلمانوں کی دینے کے لئے ”آل انڈیا کشمیر کمیٹی“ کے نام سے ایک کمیٹی قائم کی۔ - سے احمدیوں کے خصوصی روابط کے پیش نظر مرزا محمود قادیانی کو اس کمیٹی کا اس کتاب کے صفحہ ٤٦٤ میں لکھا ہے کہ علامہ اقبال کا خیال تھا کہ مرزا محمود کرنے کے لئے علاوہ وائسرائے اور اس کے سیکرٹریوں سے ملاقات کر سے قادیانی جماعت کی یہ دلچسپی ١٩٣٤ء تک جاری رہی۔ جب کشمیر کمیٹی پر مرزا محمود کو اس کمیٹی کی صدارت سے مستعفی ہونا پڑا۔ ان پر الزام لگایا کے فنڈز کو کشمیر میں اپنے مذہبی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ یہ جماعت کا رول خاصا الجھا ہوا ہے۔ مشہور کشمیری مؤرخ پنڈت پریم دی سٹرگل فار فریڈم ان کشمیر“ میں لکھا ہے کہ قادیانی کشمیر کمیٹی کو اپنے ال کر رہے تھے۔“
بعض لوگوں کی رائے ہے کہ احمدی جماعت نے انگریزوں کے ایماء پر تحریک کشمیر میں حصہ لیا ہے۔ اس کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ہمیں میر پور کے بعض پرانے سیاسی کارکنوں نے بتایا کہ میر پور کی تحریک عدم ادائیگی مالیہ کو دبانے کے لئے جب ڈوگرہ حکومت کی درخواست پر انگریز فوج آئی تو انگریز فوجی آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے دیہاتیوں کو کہتے تھے کہ ”مالیہ مت ڈو“ (مالیہ مت دو) اس تحریک کو دبانے میں مدد دینے کے عوض انگریزوں نے ڈوگرہ حکمران سے گلگت کی عملداری حاصل کی۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ انگریزوں کو گلگت ملتے ہی احمدی جماعت کی تحریک کشمیر میں دلچسپی ختم ہو کر رہ گئی۔ کشمیر میں سیاسی حلقوں کو مدت سے اس امر کا خدشہ تھا کہ احمدی اپنے مخصوص طریق کار کے مطابق تحریک حریت کشمیر کو بھی اپنے طور پر پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کتاب کی صورت میں یہی خدشہ حقیقت کے روپ میں سامنے آیا ہے۔ اس کتاب میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور خودنمائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ممتاز کشمیری رہنماؤں کی توہین کی گئی ہے۔ مثلاً کتاب کے صفحہ ٤٨٩ پر مرزا محمود نے دعویٰ کیا ہے کہ: ”میں نے کہا شیخ محمد عبداللہ صاحب میں تو آپ کو کشمیر کی تحریک آزادی کا لیڈر مقرر کرتا ہوں۔“
اس طرح ممتاز کشمیری لیڈروں خاص کر شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے دور کے خطوط اور رسیدوں کی فوٹوگراف بھی شائع کئے گئے جو وہ کشمیر کمیٹی کے صدر کی حیثیت میں مرزا محمود کو لکھتے رہے۔ یہ اس مالی امداد کی رسیدیں ہیں۔ جو کشمیر کمیٹی کے فنڈز سے تحریک کشمیر کے کارکنوں کو ملتی رہی ہیں۔ لیکن قادیانی حضرات کی درپردہ دیانتداری ملاحظہ ہو کہ اس امداد کو جماعت احمدیہ کی امداد ظاہر کر کے عام مسلمانوں کے دلوں میں کشمیر کی منظم لیڈر شپ کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور جہاں کشمیری لیڈروں کے رسمی خطوط کی فوٹوگراف کتاب میں موجود ہیں۔ وہاں شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ، رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس اور میر واعظ مولوی یوسف شاہ کے ان بیانات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جن میں ان لیڈروں نے قادیانی جماعت کی سرگرمیوں سے لاتعلقی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ جن کا اعتراف خود مرزا محمود نے کشمیر میں اپنی جماعت کے آرگن ہفت روزہ ”اصلاح“ ٤؍ جولائی ١٩٤٦ء میں ان الفاظ میں کیا تھا۔ ”خود کشمیری لیڈروں نے میرے متعلق یہ مشہور کر دیا تھا کہ ان کی (مرزا محمود) کی وجہ سے ہمیں اور کشمیریوں کو نقصان پہنچا ہے۔“ کتاب میں اس اہم تاریخی فیصلہ کا بھی کوئی ذکر نہیں
ہے ۔ جب شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی موجودگی میں اور قائد کشمیر چوہدری غلام عباس کی صدارت میں مسلم کانفرنس نے قادیانیوں کو جماعت سے خارج کیا اور ١٩٤٧ء تک اس پر عمل ہوتا رہا۔ حتیٰ کہ نیشنل کانفرنس ایسی سیکولر جماعت میں بھی شیر کشمیر نے کسی قادیانی کو گھسنے نہیں دیا۔
کتاب میں امیر جماعت احمدیہ کے اہم ، غیر اہم بیانات خطوط حتیٰ کہ نجی گفتگو کا بھی مکمل ریکارڈ موجود ہے۔ لیکن مرزا محمود کے اس طویل بیان کا ذکر سرسری ہے جو انہوں نے شیر کشمیر تحریک ”کشمیر چھوڑ دو“ کے خلاف اور ہری سنگھ کے حق میں جاری کیا تھا۔ جو ان کے آرگن ”اصلاح“ ٤ جولائی ١٩٤٦ء میں پورے دو صفحات پر شائع ہوا تھا۔ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ میری تمام ہمدردیاں مہاراجہ بہادر کے ساتھ ہیں۔
کتاب میں یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد ٢٤ اکتوبر ١٩٤٧ء کو مرزا محمود نے رکھی ہے۔ کتاب میں واقعاتی طور پر بے شمار غلط بیانیاں کی گئی ہیں۔ جنکی تردید کے لئے اتنی بڑی کتاب کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر اس کے صفحہ ٦٠٣ پر لکھا ہے کہ مسلم کانفرنس کا چوتھا سالانہ اجلاس اکتوبر ١٩٣٥ء میں بمقام سرینگر چوہدری غلام عباس خان صاحب کی صدارت میں ہوا تو اس کی مجلس استقبالیہ کے صدر احمدیہ جماعت کے ایک رکن خواجہ غلام نبی گلکار تھے۔
حالانکہ یہ تاریخی اجلاس اکتوبر میں نہیں ستمبر ١٩٣٥ء میں ہوا ہے اور اس استقبالیہ کمیٹی کے صدر میر واعظ مولانا غلام نبی ہمدانی تھے۔ (ان کا چھپا ہوا خطبہ استقبالیہ ہمارے پاس موجود ہے) جو منشی غلام محمد سیکرٹری مجلس استقبالیہ کے زیر اہتمام سرینگر سے شائع ہوا ہے۔
کتاب میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ١٩٣٨ء میں مسلم کانفرنس کے خلاف جو جماعت انجمن مہاجرین کشمیر کے نام سے بنائی گئی تھی اس کے تمام اخراجات مرزا محمود برداشت کرتے رہے۔ حالانکہ مرزا محمود ان دنوں ایک اخباری بیان میں اس انجمن سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔ لیکن کتاب میں فخر کے ساتھ درج ہے کہ: ”اس انجمن کے جملہ اخراجات کے کفیل حضور تھے۔“
کتاب کے آخر میں یہ دعویٰ درج ہے کہ کشمیر میں مسیح اوّل دفن ہیں اور وہاں ٨٠ ہزار احمدی آباد ہیں۔ قبر عیسیٰ کی داستان ان حضرات کی خود ساختہ ہے۔ جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور ریاست میں احمدیوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں۔ جب تحریک حریت کے
ابتدائی دور میں تحریک کی وجہ سے مسلمانوں کو ملازمتیں ملیں تو احمدیوں نے اپنے مخصوص طور طریقوں سے کام لے کر ان ملازمین میں سے بعض کو احمدی بنایا۔
کتاب میں کشمیر کی تاریخ اور بالخصوص تحریک حریت کشمیر کی تاریخ کو بے دردی کے ساتھ مسخ کیا گیا ہے اور کشمیری رہنماؤں خاص طور پر شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے روشن کردار کو عام مسلمانوں کی نظروں میں مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک حریت کا کوئی اہل قلم کارکن اس کا جواب لکھے۔ خاص طور پر شیر کشمیر کے خطوط اور رسیدوں کی فوٹو گراف شائع کر کے مسلمانوں میں بدگمانیاں پیدا کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے اس کا ازالہ ضروری ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ آج قادیانی حضرات اپنے مخصوص مقاصد کے پیش نظر شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے ’ہمدرد‘ اور ’یار و مددگار‘ بنے ہوئے ہیں۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢١، ش ٧ ، مورخہ ١٢؍ فروری ١٩٦٨ء)
٣...... قادیانی تعاقب جاری رہے
اصلاً تو ہم حکومت سے عرض کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہاں شنوائی نہیں۔ اس لئے اس سے کہنا عبث ہے۔ لیکن ملک کے تمام علماء اور جملہ وابستگان ختم نبوت سے یہ عرض کرنا ہمارا فرض ہے کہ خدا کے لئے قادیانی امت کی سرگرمیوں سے غافل نہ رہیں۔ یہ عجمی اسرائیل قائم کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ ان کا حکومت کے دوائر میں بڑا رسوخ ہے۔ ان کے قبضہ میں بڑی بڑی ملازمتیں ہیں۔ ان کے ہاتھ دور دور تک پہنچتے ہیں۔ خدا کرے ہمارا گمان غلط ہو۔ لیکن بعض افسروں کی ایک جماعت اندر خانہ مرزائی ہو چکی اور تقیہ کر رہی ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ یہ لوگ کسی نازک مرحلے میں گل بھی کھلا سکتے ہیں۔ خود کاشتہ پودے کی حیثیت سے ان کا بعض ایسے ملکوں سے ناتہ بندھا ہوا ہے جو استعمار کی یادگاریں ہیں اور جن کی معرفت پر انہیں یقین ہے کہ ان کا محافظ دستہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مرزائیوں کو معلوم ہو چکا ہے کہ اب ان کے لئے عوام میں کوئی جگہ نہیں۔ ان کا عندیہ یہ ہے کہ لوگ طاقت کے سامنے جھکتے ہیں۔ مرزائی افسروں نے مسلمان حاکموں کو عوام الناس سے برگشتہ کر رکھا ہے۔ ملک کی اقتصادی زندگی پر قابض ہو کر وہ حکومت میں ایسا ہی رسوخ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جیسا رسوخ کہ یہودیوں کو امریکہ کے صدارتی انتخاب اور برطانیہ کی قومی معیشت میں حاصل ہے۔
کاش ہم حکومت کو بتا سکتے کہ جس فتنہ پر علامہ اقبالؒ کی نگاہیں پہنچ گئی تھیں۔ اس کے
خدوخال پر ان لوگوں کی نگاہیں کیوں نہیں اٹھتیں۔ جو علامہ اقبالؒ کی اس نظریاتی مملکت کے پشتیبان کہلا رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جب بھی ہم نے قادیانی فتنہ کی نشاندہی کی ہے ان کے ہاتھوں ہمیں سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہر قادیانی افسر ہمارے خون کا پیاسا ہے اور اس کا ہمارے پاس ثبوت بھی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس شذرہ کے بعد قادیانی اپنے روایتی اسلوب میں ہم پر سب و شتم شروع کر دیں گے۔ لیکن سب و شتم سے یہ حقیقت نہیں بدل سکتی کہ قادیانی ہر لحاظ سے قومی محاسبہ کے مستحق ہیں۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢١، ش ١٢، مورخہ ١٨؍ مارچ ١٩٦٨ء)
٣٨...... مرزائیوں سے قطع تعلق ہے میرا دیں
ہم اس کے خلاف نہیں کہ مرزائی پاکستان کے شہری نہ رہیں۔ ایک اقلیت کے طور پر وہ پاکستان میں رہ سکتے اور اس سے متمتع ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم اس سے متفق نہیں کہ وہ مسلمانوں میں رہیں۔ ان کا حال یہ ہو کہ دین میں مسلمانوں سے کوئی تعلق نہ رکھیں۔ لیکن سیاسی طور پر ان میں رہنے پر مصر ہوں اور اس کا پس منظر یہ ہو کہ ایک اسلامی مملکت میں مسلمانوں کے حقوق حاصل کر کے اس کے نظم و نسق پر قابض ہوتے رہیں۔ حتیٰ کہ ان شعبوں میں اپنی تعداد مجرمانہ ذہنیت کے ساتھ بڑھاتے رہیں۔ جن پر کسی حکومت اور کسی مملکت کی بنیاد کا انحصار ہوتا ہے۔ ہم ان سے جو خطرہ محسوس کرتے ہیں وہ احساس ہمارے ایمان کا جزو ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مرزائی رسوخ ہمارے خلاف اعلیٰ سے ادنیٰ تک استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن یہ بات ہم اس لئے کہنے سے رک نہیں سکتے کہ ہمارے جسم و جاں یا مال و اولاد پر کیا گزرتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ موت ہے ہم ہر لحظہ ایک مسلمان کی طرح اس کا خیر مقدم کرنے کو تیار ہیں۔ مرزائی پریس ہمیں گالیاں دے لے۔ مرزائی افسر ہمیں نقصان پہنچاتے رہیں اور وہ لوگ جو ان کے سیاسی ہمنوا ہیں ہماری زندگی اجیرن کرنے کے لئے جو چاہیں کریں۔ لیکن جب ہم حضور ﷺ کے نام پر ماں باپ قربان کرنے کا زبان سے اعلان کرتے ہیں تو جان سے تصدیق کرنے میں کیا عذر ہے۔ ہماری ایک ہی خواہش ہے کہ اس جماعت کی نگرانی تیز کرو۔ اس کے ارادے ہمارے نزدیک اچھے نہیں۔ مرزائی پلان میں ہے کہ ملک کے اہم محکموں میں دخیل ہو کر اس سب سے بڑی اسلامی ریاست میں ایک ایسا اقتدار حاصل کریں۔ جیسا اقتدار یہودیوں کو امریکہ کے صدارتی انتخاب میں اور بینک آف انگلینڈ کے قومی سرمایہ میں حاصل ہے۔ آج نہیں سنو گے تو کل تجربہ ہمارے خطرے کی تصدیق کر دے گا۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢١، ش ١٣، مورخہ ٢٥؍ مارچ ١٩٦٨ء)
لوگوں کی نگاہیں کیوں نہیں اٹھتیں۔ جو علامہ اقبالؒ کی اس نظریاتی مملکت کے رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جب بھی ہم نے قادیانی فتنہ کی نشاندہی کی ہے ان سخت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ہر قادیانی افسر ہمارے خون کا پیاسا ہے اور اس کا ت بھی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس شذرہ کے بعد قادیانی اپنے روایتی اسلوب میں شروع کر دیں گے۔ لیکن سب وشتم سے یہ حقیقت نہیں بدل سکتی کہ قادیانی ہر لحاظ کے مستحق ہیں۔
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج٢١، ش١٢، مورخہ ١٨؍ مارچ ١٩٦٨ء)
٣٨...... مرزائیوں سے قطع تعلق ہے میرا دیں
اس کے خلاف نہیں کہ مرزائی پاکستان کے شہری نہ رہیں۔ ایک اقلیت کے طور پر وہ سکتے اور اس سے متمتع ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم اس سے متفق نہیں کہ وہ مسلمانوں میں سایہ ہو کہ دین میں مسلمانوں سے کوئی تعلق نہ رکھیں۔ لیکن سیاسی طور پر ان میں اور اس کا پس منظر یہ ہو کہ ایک اسلامی مملکت میں مسلمانوں کے حقوق حاصل نسق پر قابض ہوتے رہیں۔ حتیٰ کہ ان شعبوں میں اپنی تعداد مجرمانہ ذہنیت کے ہیں۔ جن پر کسی حکومت اور کسی مملکت کی بنیاد کا انحصار ہوتا ہے۔ ہم ان سے جو ہیں وہ احساس ہمارے ایمان کا جزو ہے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مرزائی رسوخ ا سے ادنیٰ تک استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن یہ بات ہم اس لئے کہنے سے رک نہیں جان یا مال واولاد پر کیا گزرتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ موت ہے ہم ہر لحظہ ایک س کا خیر مقدم کرنے کو تیار ہیں۔ مرزائی پریس ہمیں گالیاں دے لے۔ مرزائی پہنچاتے رہیں اور وہ لوگ جو ان کے سیاسی ہمزلف ہیں۔ ہماری زندگی اجیرن تو چاہیں کریں۔ لیکن جب ہم حضور ﷺ کے نام پر ماں باپ قربان کرنے کا کرتے ہیں تو جان سے تصدیق کرنے میں کیا عذر ہے۔ ہماری ایک ہی خواہش کی نگرانی تیز کرو۔ اس کے ارادے ہمارے نزدیک اچھے نہیں۔ مرزائی پلان ، اہم محکموں میں دخیل ہو کر اس سب سے بڑی اسلامی ریاست میں ایک ایسا ا۔ جیسا اقتدار یہودیوں کو امریکہ کے صدارتی انتخاب میں اور بینک آف یہ میں حاصل ہے۔ آج نہیں سنو گے تو کل تجربہ ہمارے خطرے کی تصدیق
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج٢١، ش١٣، مورخہ ٢٥؍ مارچ ١٩٦٨ء)
٣٩...... علامہ اقبالؒ کے ملفوظات
خطرۂ عظیم
”قادیانی تحریک نے مسلمانوں کے ملی استحکام کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ اگر استیصال نہ کیا گیا تو آئندہ شدید نقصان پہنچے گا۔“
(روایت عبدالرشید طارق، مندرجہ ملفوظات)
سیاسی چال
”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویے کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل رہنے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟“
(حرف اقبال)
الہام کی بنیاد
”مسلمانوں کے مذہبی تفکر کی تاریخ میں احمدیت کا وظیفہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی غلامی کی تائید میں الہامی بنیاد فراہم کرنا تھا۔“
(حرف اقبال)
شہنشائیت کا جواز
”برطانوی شہنشائیت کے جواز میں احمدیت نے الہامی جواز پیدا کیا ہے۔“
(سٹیٹسمین کے نام خط)
ہندوستانی پیغمبر
”قادیانی جماعت کا مقصد پیغمبر عرب کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی امت تیار کرنا ہے۔“
(حرف اقبال)
مسیح موعود
”مسیح موعود کی اصطلاح اسلامی نہیں اجنبی ہے۔“
(حرف اقبال)
”قادیانی فرقہ کا وجود عالم اسلامی عقائد اسلام شرافت انبیاء خاتمیت محمد اور کاملیت قرآن کے لئے قطعاً مضر اور منافی ہے۔ تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا۔ مرزائی اسلام کے غدار ہیں۔“
اسرائیلی عناصر
”قادیانی تحریک کے ضمیر میں یہودیت کے عناصر ہیں۔“
(قادیانیت اور اسلام)
سیاسی فوائد
”قادیانی جماعت کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہوتا کہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“ (قادیانیت اور اسلام)
قادیانی فرقہ
”قادیانی فرقہ کا وجود عالمِ اسلامی، عقائد اسلام، شرافت انبیاء، خاتمیت محمدؐ اور کاملیت قرآن کے لئے قطعاً مضر اور منافی ہے۔“ (ملفوظات)
رواداری
”اس ضمن میں رواداری ایک مہمل اصطلاح ہے۔ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ خواہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔ (اصولاً غلط ہے)“ (تلخیص)
حکومت کے نام
”اگر حکومت کے لئے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ لیکن اس جماعت کے لئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جس کا اجتماعی وجود اس کے باعث خطرہ میں ہے۔“ (حرف اقبال)
مذہب سے بغاوت
”اس قماش کے مذہبی مدعیوں کی حوصلہ افزائی کا ردّعمل یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب سے بیزار ہونے لگتے اور بالآخر مذہب کے اہم عنصر کو اپنی زندگی سے خارج کر دیتے ہیں۔“ (حرف اقبال)
تعلیم یافتہ مسلمان
”نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا۔ مغربیت کی ہوا نے حفظ نفس کے جذبے سے انہیں عاری کر دیا ہے۔ لیکن عام مسلمان جو ان کے نزدیک ملا زدہ ہے۔ اس تحریک کے مقابلے میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔“ (حرف اقبال)
قادیانی تحریک
”قادیانیت اسلام کی تیرہ سو سال کی علمی اور دینی ترقی کے منافی ہے۔“ (ملفوظات)
غدار
”مرزائی اسلام کے غدار ہیں۔“ (نہرو کے نام خط)
(ہفت روزہ چٹان لاہور ج ٢١، ش ١٤، مورخہ یکم اپریل ١٩٦٨ء)
نی جماعت کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ا کر پہنچ سکیں۔"
( قادیانیت اور اسلام)
نی فرقہ کا وجود عالم اسلامی، عقائد اسلام، شرافت انبیاء، خاتمیت محمدؐ اور لئے قطعاً مضر اور منافی ہے۔"
(ملفوظات)
ن میں رواداری ایک مہمل اصطلاح ہے۔ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین روہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ خواہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔
تلخیص)
مت کے لئے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح جماعت کے لئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جس کا اجتماعی وجود اس کے ۔"
(حرف اقبال)
ش کے مذہبی مدعیوں کی حوصلہ افزائی کا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب سے آکر مذہب کے اہم عنصر کو اپنی زندگی سے خارج کر دیتے ہیں۔"
(حرف اقبال)
تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا۔ مغربیت کے جذبے سے انہیں عاری کر دیا ہے۔ لیکن عام مسلمان جوان کے نزدیک ب کے مقابلے میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔"
(حرف اقبال)
یت اسلام کی تیرہ سو سال کی علمی اور دینی ترقی کے منافی ہے۔"
(ملفوظات)
اسلام کے غدار ہیں۔"
(نہرو کے نام خط)
(ہفت روزہ چٹان لاہور ٢١ ش ١٤، مورخہ یکم اپریل ١٩٦٨ء)
فہرست ...... مرزائیل
- .......١ مرزائیت کی تاریخ سیاسی دینیات کی تاریخ ہے۔ ١٦
- .......٢ قادیانی ایک سیاسی امت ہیں۔ ٢٦
- .......٣ انگریز کی شخصی یادگار۔ ٣٠
- .......٤ اقبال سے بغض کی بناء پر نہرو کا استقبال۔ ٣٣
- .......٥ عجمی اسرائیل۔ ٣٥
- .......٦ مسیلمہ کے جانشین۔ ٣٩
- .......٧ الفضل کا لاہوری متنبّی۔ ٤١
- .......٨ انگریزوں کے خاندانی ایجنٹ۔ ٤٤
- .......٩ مرزائی ہمارا اعتراض ان کے پاکستان میں رہنے پر نہیں
مسلمانوں میں رہنے پر ہے۔ ٤٦
- .......١٠ سلطان القلم کے جانشین۔ ٥١
- .......١١ کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں۔ ٥٦
- .......١٢ قادیانیوں کا تعاقب اشد ضروری۔ ٦٠
- .......١٣ اسرائیل میں مرزائی مشن۔ ٦٢
- .......١٤ کبابیر میں جشن مسرت۔ ٦٣
- .......١٥ انگلستان میں مرزائی مشن۔ ٦٤
- .......١٦ خلیفہ ثالث کا عزم یورپ۔ ٦٥
- .......١٧ یہ راگنی بند کرو۔ ٦٥
- .......١٨ مرزائی اور چٹان۔ ٦٦
قادیانی ڈھولک۔ ٦٦ اقبال کے بگلہ بھگت۔ ٦٨ نقل کفر کفر نہ باشد۔ ٦٨ چکنی داڑھی کے منفی چہرے۔ ٧٠ سکاٹ لینڈ یارڈ کے گماشتے۔ ٧٣ عجمی اسرائیل (نظم) ٧٦ فرعلی خان اکیڈمی کا قیام۔ ٧٦ سات نکات۔ ٨٠ ٣١٣ قادیانی۔ ٨١ نو آدمی کی یادگار کا خاتمہ۔ ٨١ کا نزول۔ ٨٢ وہ والوں کا خفیہ نظام۔ ٨٣ یانی امت اور فاطمہ جناح۔ ٨٤ اسرائیل اور پاکستان کی اقتصادیات۔ ٨٤ یانیت (ہندوستان کی پاکستانی سرحد پر کسی مسلمان کو قی شہری بن کر رہنے کی اجازت ہے؟) ٨٥ یانی اور اسرائیل۔ ٨٨ اللہ خان کو منہ نہ لگایا جائے۔ ٨٩ نیوں کی تاریخ نگاری۔ ٩٠ نی تعاقب جاری رہے۔ ٩٣ نیوں سے قطع تعلق ہے میرا دیں۔ ٩٤ اقبال کے ملفوظات۔ ٩٥
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ
مرزا غلام احمد سے مرزا ناصر احمد تک
قادیانی امت کے استعماری خدوخال
اسلام کے غدار
آغا شورش کاشمیری
اسلام کے غدار
بسم اللہ الرحمن الرحیم
علامہ اقبالؒ بیسویں صدی میں برعظیم پاک و ہند کے ایک عظیم فلسفی تھے۔ انہوں نے اس برعظیم کو دو چیزیں دی ہیں۔
- ١...... مشترکہ ہندوستان کو برطانوی غلامی کے خلاف انقلابی نوا، کہ ان کی
شاعری میں غیرملکی غلامی کے خلاف احتجاج بھی تھا اور اجتماعی جدوجہد کی ایک دعوت بھی۔ اردو شاعری نے ان کے رشحات قلم سے نئے بال و پر حاصل کئے۔
- ٢...... وہ ہندوستان میں اسلامی فکر کے اثباتی شاعر تھے۔ ان کا فلسفہ قرآن کی
دعوت اور پیغمبرﷺ کی سیرت پر تھا۔ وہ ملت اسلامیہ کی عظمت رفتہ کو لوٹانے کے متمنی اور عصر حاضر کے مادی معاشرے میں اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے داعی تھے۔
پاکستان انہیں اپنے وجود کا مصور کہتا اور اپنی قومی زندگی کا سب سے بڑا ذہن تسلیم کرتا ہے۔ ادھر ہندوستان انہیں اپنی ذہنی عظمتوں میں شمار کرتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں شدید سیاسی فاصلہ کے باوجود دونوں مملکتوں نے پورا سال علامہ اقبالؒ کی پیدائش کے صد سالہ جشن کا اعلان کیا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی کے بعد ہندوستان کے سب سے بڑے راہنما تھے۔ ہندوستان آزاد ہوا تو وہ پہلے وزیراعظم منتخب کئے گئے اور اپنی موت تک اسی عہدہ پر متمکن رہے۔ انہوں نے اپنے بعض خطوط کے علاوہ اپنی کتاب ”تلاش ہند“ (DISCOVERY OF INDIA) میں اقبالؒ کی فکری سیادت کو زبردست خراج ادا کیا ہے۔ اقبالؒ نے احمدیت (قادیانیت) کا محاسبہ کیا تو جواہر لال نے ان سے بحث چھیڑ دی اور احمدیت کو ملت اسلامیہ کا جزو قرار دے کر بالواسطہ اس کا دفاع کیا۔
١ مرزا غلام احمد کے پیروکار اپنے تئیں احمدی کہتے اور اپنے طائفہ کو جماعت احمدیہ کا نام دیتے ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی کا مولد، مسکن اور مدفن قادیان ہے۔ اس لئے مسلمان انہیں قادیانی کہتے یا مرزا غلام احمد کی حلقہ بگوشی کے باعث مرزائی لکھتے ہیں۔ اس کتابچہ میں مرزائی اور قادیانی کے بجائے جہاں تہاں احمدی لکھا گیا ہے۔ وہ پاکستان سے باہر کے ملکوں کو بتانے کے لئے، جہاں اسی نام سے وہ مشخص کئے جاتے ہیں۔
١
اسلام کے غدار
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
اقبال بیسویں صدی میں براعظم پاک و ہند کے ایک عظیم فلسفی تھے۔ انہوں نے نہیں دی ہیں۔
مشترکہ ہندوستان کو برطانوی غلامی کے خلاف انقلابی نوا، کہ ان کی غلامی کے خلاف احتجاج بھی تھا اور اجتماعی جہدوجہد کی ایک دعوت بھی۔ اردو ے شحات قلم سے نئے بال و پر حاصل کئے۔
وہ ہندوستان میں اسلامی فکر کے اثباتی شاعر تھے۔ ان کا فلسفہ قرآن کی کی سیرت پر تھا۔ وہ ملت اسلامیہ کی عظمت رفتہ کو لوٹانے کے متمنی اور عصر حاضر میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے داعی تھے۔
انہیں اپنے وجود کا مصور کہتا اور اپنی قومی زندگی کا سب سے بڑا ذہن تسلیم کرتا انہیں اپنی ذہنی عظمتوں میں شمار کرتا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان میں شدید وجود دونوں مملکتوں نے پورا سال علامہ اقبال کی پیدائش کے صد سالہ جشن کا ت جواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی کے بعد ہندوستان کے سب سے بڑے راہنما رو ہوا تو وہ پہلے وزیراعظم منتخب کئے گئے اور اپنی موت تک اسی عہدہ پر متمکن پنے بعض خطوط کے علاوہ اپنی کتاب ”تلاش ہند“ ( DISCOVERY اقبال کی فکری سیادت کو زبردست خراج ادا کیا ہے۔ اقبال نے احمدیت کیا تو جواہر لال نے ان سے بحث چھیڑ دی اور احمدیت کو ملت اسلامیہ کا جزو س کا دفاع کیا۔
م احمد کے پیروکار اپنے تئیں احمدی کہتے اور اپنے طائفہ کو جماعت احمدیہ کا رزا قادیانی کا مولد، مسکن اور مدفن قادیان ہے۔ اس لئے مسلمان انہیں م احمد کی حلقہ بگوشی کے باعث مرزائی لکھتے ہیں۔ اس کتابچہ میں مرزائی اور یہاں احمدی لکھا گیا ہے۔ وہ پاکستان سے باہر کے ملکوں کو بتانے کے شخص کئے جاتے ہیں۔
١
علامہ اقبالؒ نے اس کا مسکت جواب دیا۔ جواہر لال سپر انداز ہو گئے۔ علامہ اقبالؒ نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ احمدیت کی مفید خدمات کا صلہ دینے کی مجاز ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لئے احمدیت کو نظر انداز کرنا خطرہ کا باعث ہے۔ اس طرح نہ صرف ملت اسلامیہ کی وحدت ختم ہوتی۔ بلکہ محمد عربی ﷺ کی امت کا بٹوارہ ہو کر تشتت و افتراق کی راہیں کھلتی ہیں اور ان کے بنیادی معتقدات کی عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔
علامہ اقبالؒ اور پنڈت جواہر لال نہرو میں قلم کے تعلقات تھے۔ پنڈت جی نے حضرت علامہ سے احمدیت کے متعلق استفسار کیا تو اس کے جواب اور ان مضامین کے سلسلہ میں علامہ اقبالؒ نے پنڈت جی کو لکھا: ”اس سے متعلق میرے ذہن میں کوئی شک نہیں کہ احمدی، اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔“
(پنڈت جواہر لال نہرو کے نام خط، بحوالہ فیضانِ اقبال ص ٢٥١)
پنڈت جی نے اپنے نام، بڑے آدمیوں کے خطوط کا ایک مجموعہ ( A Bunch of Old Letters ) شائع کیا ہے۔ اس میں علامہ اقبال کا محولہ بالا خط موجود ہے۔
احمدیت کیا ہے؟
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار احمدی کہلاتے اور ان کے مسلک و مشرب کا عرف احمدیت ہے۔ مرزا کا خاندان سکھوں کے عہد اقتدار میں ان کی فوج میں ملازم تھا۔ (ملاحظہ ہو، سر لیپل گرفن کی تالیف ...... ”رئیسانِ پنجاب“) ان کے دادا عطاء محمد اور عطاء محمد کا والد گل محمد، سکھوں کی طرف سے لڑتے رہے۔ عطاء محمد سردار فتح سنگھ اہلووالیہ کی چاکری میں بارہ سال بیگوال رہا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے عطاء محمد کی رحلت کے بعد، اس کے بیٹے غلام مرتضیٰ (والد مرزا غلام احمد) کو واپس بلا لیا۔ جدی جاگیر کا ایک حصہ عطاء کیا۔ غلام مرتضیٰ مہاراجہ کی فوج میں داخل ہو گیا اور کشمیر کی سرحدوں کے علاوہ بعض دوسرے مقامات میں مسلمانوں کی سرکوبی پر مامور ہوا۔ غلام مرتضیٰ نے سکھوں کی فوج میں بھرتی ہو کر ہری سنگھ نلوہ کے زیر قیادت پٹھانوں پر طورخم تک چڑھائی کی۔ وہ حضرت سید احمدؒ اور ان کی جماعت کو بالاکوٹ میں شہید کرنے والی سکھ فوج میں شامل تھا۔ انگریزوں نے پنجاب فتح کیا تو وہ اور اس کے بھائی ان کے ہو گئے اور سات سو روپے پنشن حاصل کی۔ مرزا غلام احمد کا بھائی مرزا غلام قادر ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کو مٹانے کے لئے جنرل نکلسن کی فوج میں تھا۔ اس نے ٤٦ نیو انفنٹری (سیالکوٹ) کے باغی نوجوانوں کو جنرل نکلسن کے ساتھ دردناک اذیتیں دے کر ہلاک کیا۔ جنرل نکلسن نے
٢
علامہ اقبالؒ نے اس کا مسکت جواب دیا۔ جواہر لال سپر انداز ہو گئے۔ علامہ اقبالؒ نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ احمدیت کی مفید خدمات کا صلہ دینے کی مجاز ہے۔ لیکن مسلمانوں کے لئے احمدیت کو نظر انداز کرنا خطرہ کا باعث ہے۔ اس طرح نہ صرف ملت اسلامیہ کی وحدت ختم ہوتی۔ بلکہ محمد عربی ﷺ کی امت کا بٹوارہ ہو کر تشتت وافتراق کی راہیں کھلتی ہیں اور ان کے بنیادی معتقدات کی عمارت منہدم ہو جاتی ہے۔
علامہ اقبالؒ اور پنڈت جواہر لال نہرو میں قریبی تعلقات تھے۔ پنڈت جی نے حضرت علامہ سے احمدیت کے متعلق استفسار کیا تو اس کے جواب اور ان مضامین کے سلسلہ میں علامہ اقبالؒ نے پنڈت جی کو لکھا: ”اس سے متعلق میرے ذہن میں کوئی شک نہیں کہ احمدی، اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔“
(پنڈت جواہر لال نہرو کے نام خط، بحوالہ فیضان اقبال ص ٤٥١)
پنڈت جی نے اپنے نام، بڑے آدمیوں کے خطوط کا ایک مجموعہ (A Bunch of Old Letters) شائع کیا ہے۔ اس میں علامہ اقبالؒ کا محولہ بالا خط موجود ہے۔
احمدیت کیا ہے؟
مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار احمدی کہلاتے اور ان کے مسلک ومشرب کا عرف احمدیت ہے۔ مرزا کا خاندان سکھوں کے عہد اقتدار میں ان کی فوج میں ملازم تھا۔ (ملاحظہ ہو، سر لیپل گرفن کی تالیف...... ”رئیسان پنجاب“) ان کے دادا عطاء محمد اور عطاء محمد کا والد گل محمد، سکھوں کی طرف سے لڑتے رہے۔ عطاء محمد سردار فتح سنگھ اہلوالیہ کی چاکری میں بارہ سال بیگوال رہا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے عطاء محمد کی رحلت کے بعد، اس کے بیٹے غلام مرتضیٰ (والد مرزا غلام احمد) کو واپس بلا لیا۔ جدی جاگیر کا ایک حصہ عطاء کیا۔ غلام مرتضیٰ مہاراجہ کی فوج میں داخل ہو گیا اور کشمیر کی سرحدوں کے علاوہ بعض دوسرے مقامات میں مسلمانوں کی سرکوبی پر مامور ہوا۔ غلام مرتضیٰ نے سکھوں کی فوج میں بھرتی ہو کر ہری سنگھ نلوہ کے زیر قیادت پٹھانوں پر طورخم تک چڑھائی کی۔ وہ حضرت سید احمدؒ اور ان کی جماعت کو بالاکوٹ میں شہید کرنے والی سکھ فوج میں شامل تھا۔ انگریزوں نے پنجاب فتح کیا تو وہ اور اس کے بھائی ان کے ہو گئے اور سات سو روپے پنشن حاصل کی۔ مرزا غلام احمد کا بھائی مرزا غلام قادر ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کو مٹانے کے لئے جنرل نکلسن کی فوج میں تھا۔ اس نے ٤٦ نیو انفنٹری (سیالکوٹ) کے باغی نوجوانوں کو جنرل نکلسن کے ساتھ درد ناک اذیتیں دے کر ہلاک کیا۔ جنرل نکلسن نے
٢
لکھا کہ قادیان کے تمام دوسرے خاندانوں سے یہ خاندان نمک حلال رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی ان گنت کتابوں میں انگریزوں سے اپنی غیر متزلزل وفاداری کا اعتراف کیا اور اس پر فخر و ناز کیا ہے اور خلاصہ اس کا خود مرزا قادیانی کے الفاظ میں یہ ہے کہ وفاداری کی ان کتابوں سے پچاس الماریاں بھرتی ہیں۔
احمدیت کا آغاز
مرزا غلام احمد ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے۔ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے وقت ان کی عمر سولہ یا سترہ برس کی تھی۔ ابتداءً ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفتر میں قلیل تنخواہ پر محرری کی اور ١٨٦٦ء سے ١٨٦٨ء تک ملازم رہے۔ ١٨٦٩ء کے شروع میں برطانوی ایڈیٹروں اور مسیحی راہنماؤں کا ایک وفد اس غرض سے ہندستان آیا کہ ہندوستانی عوام میں وفاداری کیونکر پیدا کی جاسکتی اور مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو سلب کر کے انہیں کیونکر رام کیا جاسکتا ہے۔ اس وفد نے ١٨٧٠ء میں واپس جا کر دو رپورٹیں مرتب کیں۔ ان میں برطانوی سلطنت کا ہندوستان میں ورود (The Arrival of the British Empire ain India) کے مرتبین نے لکھا کہ: ”ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی راہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں ایسا کوئی آدمی مل جائے جو پاسٹالک پرافٹ ”حواری نبی“ ہونے کا دعویٰ کرے تو اس شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں پروان چڑھا کر برطانوی مفادات کے لئے کام لیا جاسکتا ہے۔“ (تلخیصات)
مرزا قادیانی اس غرض سے نامزد کئے گئے۔ انہوں نے پہلے تو ایک مناظر کا روپ دھارا کہ پادریوں کے تابڑ توڑ حملوں سے مسلمان ناخوش تھے۔ گویا مرزا قادیانی مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ابتداءً اس طرح نمودار ہوئے پھر ایک جماعت پیدا کر کے ١٨٨٠ء میں ملہم من اللہ ہونے کا اعلان کیا۔ پھر اپنے مجدد ہونے کا ناد پھونکا۔ دسمبر ١٨٨٨ء میں اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بیعت لینے کا حکم فرمایا ہے۔ ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا اور اپنے ظلی نبی ہونے کا اصطلاح ایجاد فرمائی۔ نومبر ١٩٠٤ء میں اپنے کرشن ہونے کا بیان داغا۔ اس دوران میں یہ کارنامہ بھی سرانجام دیا کہ آریہ سماج سے ٹکراؤ پیدا کیا۔ ہندوؤں سے متعلق عریاں باتیں لکھیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ سوامی دیانند کی ستیارتھ پرکاش کا آخری باب حضور سرور کائنات ﷺ کے خلاف دریدہ دہنی سے لکھا گیا اور یہ برصغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں کو ایک دوسرے سے لڑانے بھڑانے اور کٹانے کا برطانوی حربہ تھا۔
٣
حرمت جہاد اور اطاعت برطانیہ
مرزا قادیانی نے اپنی نبوت کا آغاز ان دعاوی سے کیا کہ:
- ......١ ”میرے پانچ اصول ہیں۔ جن میں دو، حرمت جہاد اور اطاعت برطانیہ
ہیں۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
- ......٢ ”میں نے مخالفت جہاد کو پھیلانے کے لئے عربی و فارسی کتابیں تالیف
کیں اور وہ تمام عرب، شام، مصر، بغداد اور افغانستان میں شائع کی گئیں۔ میں یقین کرتا ہوں کہ کسی نہ کسی وقت ان کا اثر ہوگا۔“
(تلخیص از تبلیغ رسالت ج ٨ ص ٦٢، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٤٠)
- ......٣ ”میں نے ٢٢ برس سے اپنے ذمہ یہ فرض لے رکھا ہے کہ وہ تمام کتابیں
جن میں جہاد کی مخالفت ہو۔ اسلامی ملکوں میں ضرور بھیج دیا کروں گا۔“
(تبلیغ رسالت ج ١٠ ص ٢٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٢٤)
- ......٤ ”میں سولہ برس سے متواتر ان تالیفات میں اس بات پر زور دے رہا ہوں
کہ مسلمانان ہند پر اطاعت گورنمنٹ برطانیہ فرض اور جہاد حرام ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٩٧، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٢٨)
- ......٥ ”مجھے مسیح و مہدی جان لینا ہی حکم جہاد کا انکار ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩)
یہ تھا باپ کا کلام۔ بیٹے کا ارشاد ہے کہ:
- ......٦ ”حضرت مسیح موعود نے اپنی پاک تعلیم میں گورنمنٹ عالیہ کی اطاعت
و وفاداری کو جزو مذہب قرار دے کر ان منافق مسلمانوں سے ہمیں علیحدہ کر دیا جو خونی مہدی کے انتظار میں ہیں کہ وہ عیسائی سلطنتوں کو مٹا کر ان نام کے مسلمانوں کو حکمران بنا دے گا۔“
(الفضل ج ٤ نمبر ٨٦، یکم مئی ١٩١٧ء)
- ......٧ ”ہمارے سر پر سلطنت برطانیہ کے بہت احسان ہیں۔ وہ مسلمان سخت
جاہل سخت نادان اور سخت نالائق ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے۔ اس گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں تو ہم خدا کے بھی ناشکر گزار ہوں گے۔ خدا کا مسیح تو کہتا ہے کہ ہر مسلمان کو انگریزوں کی کامیابی کے لئے دعاء کرنی چاہئے۔ لیکن (جاہل، نادان اور نالائق مسلمان) کہتا ہے کہ انگریزوں کو شکست ہو تو زیادہ بہتر ہے۔“
(الفضل ٥؍ جون ١٩٣٠ء، خطبہ مرزا بشیر الدین محمود)
٤
- ٨...... "بعض احمق سوال کرتے ہیں۔ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا
نہیں؟ یہ گورنمنٹ ہماری محسن ہے۔ اس کا شکر ادا کرنا فرض اور واجب ہے۔ محسن کی بدخواہی ایک بدکار اور حرامی کا کام ہے۔"
(الفضل ج ٧ نمبر ٢٠٩ ص ١٢، ١١؍ ستمبر ١٩١٩ء)
- ٩...... "مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں، میں مہدی ہوں،
برطانوی حکومت میری تلوار ہے۔ ہمیں بغداد کی فتح سے کیوں خوشی نہ ہو؟ عراق، عرب، شام، ہم ہر جگہ اپنی تلوار کی چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔"
(الفضل ج ٦ نمبر ٤٣، مورخہ ٧؍دسمبر ١٩١٨ء)
- ١٠...... "ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان
دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔"
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
پس منظر پیش منظر
- ١...... سارا ملک برطانوی اقتدار کے شکنجہ میں آچکا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے دل
و دماغ میں جہاد کا جو عقیدہ راسخ تھا انگریز اس کی ناقابل تسخیر سپرٹ سے پریشان تھے۔ مسٹر ڈبلیو، ڈبلیو ہنٹر کی تصنیف ”ہمارے ہندوستانی مسلمان“ ظاہر کرتی ہے کہ انگریز جہاد کی اس روح سے کیونکر ہراساں تھے۔ اس کے علاوہ وہ بہت سی برطانوی یادداشتیں، مسلمانوں کے جذبۂ جہاد سے انگریزوں کی سراسیمگی ظاہر کرتی ہیں۔
- ٢...... انگریز سب سے پہلے بنگال پر قابض ہوئے۔ وہ ١٨٥٧ء سے کہیں پہلے
بنگال کے مسلمانوں کو ان کی طویل مزاحمت کے بعد زیر کر چکے تھے۔ ان کے یمین و یسار کے علاقوں میں انگریزوں کے لئے کوئی خطرہ نہ تھا۔ وہاں بعض علماء کی طرف سے اس قسم کے فتوے چل رہے تھے اور محمڈن سوسائٹی کلکتہ نے بھی مکہ معظمہ کے بعض علماء سے اسی قسم کا فتویٰ حاصل کر کے شائع کیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب نہیں۔ دارالاسلام ہے۔
- ٣...... برعظیم کے جن صوبوں میں مسلمان اقلیت میں تھے اور یہ صوبے بنگال
سے ادھر صوبہ بہار سے شروع ہو کر دہلی تک تھے اور دہلی سے آگے پنجاب تھا۔ ان کی حد بندی اس طرح کی گئی کہ مسلمان وسط ہند کے تمام صوبوں میں عدداً اقلیت تھے۔ سلطنت اودھ کے مسلمانوں کو مغلوب کر لیا گیا اور دہلی کے مسلمان ملیا میٹ ہو چکے تھے۔ حتیٰ کہ آخری فرمانروا بہادر شاہ ظفر کو
٥
- ......٨ ’’بعض احمق سوال کرتے ہیں۔ اس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا
گورنمنٹ ہماری محسن ہے۔ اس کا شکر ادا کرنا فرض اور واجب ہے۔ محسن کی بدخواہی ایک حرامی کا کام ہے۔‘‘
(الفضل ج ٢٧ نمبر ٢٠٩ ص ١، ١٢ ستمبر ١٩٣٩ء)
- ......٩ ’’مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں، میں مہدی ہوں،
حکومت میری تلوار ہے۔ ہمیں بغداد کی فتح سے کیوں خوشی نہ ہو؟ عراق، عرب، شام، ہم ہماری چمک دیکھنا چاہتے ہیں۔‘‘
(الفضل ج ٦ نمبر ٤٢، مورخہ ١٧؍دسمبر ١٩١٨ء)
- ......١٠ ’’ہمارے خاندان نے سرکار انگریزی کی راہ میں اپنا خون بہانے اور جان
دینے میں دریغ نہیں کیا۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٢٠، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
پس منظر
مرزا قادیانی ان دعاوی کو لے کر میدان میں آئے تو برعظیم میں برطانوی مصالح کا تقاضا یہ تھا کہ:
- ......١ سارا ملک برطانوی اقتدار کے شکنجہ میں آچکا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے دل
میں جہاد کا جو عقیدہ راسخ تھا انگریز اس کی ناقابل تسخیر سپرٹ سے پریشان تھے۔ مسٹر ڈبلیو، ڈبلیو ہنٹر مصنف ’’ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ انگریز جہاد کی اس روح سے خوف کھاتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ بہت سی برطانوی یادداشتیں، مسلمانوں کے جذبۂ جہاد سے خوف و ہراسگی ظاہر کرتی ہیں۔
- ......٢ انگریز سب سے پہلے بنگال پر قابض ہوئے۔ وہ ١٨٥٧ء سے کہیں پہلے
مسلمانوں کو ان کی طویل مزاحمت کے بعد زیر کر چکے تھے۔ ان کے یمین و یسار کے انگریزوں کے لئے کوئی خطرہ نہ تھا۔ وہاں بعض علماء کی طرف سے اس قسم کے فتوے ہنود اور محمدن سوسائٹی کلکتہ نے بھی مکہ معظمہ کے بعض علماء سے اسی قسم کا فتویٰ حاصل کر لیا کہ ہندوستان دارالحرب نہیں۔ دارالاسلام ہے۔
- ......٣ برعظیم کے جن صوبوں میں مسلمان اقلیت میں تھے اور یہ صوبے بنگال
کے سرے سے شروع ہو کر دہلی تک تھے اور دہلی سے آگے پنجاب تھا۔ ان کی حد بندی اس طرح تھی۔ وسط ہند کے تمام صوبوں میں عدداً اقلیت تھے۔ سلطنت اودھ کے مسلمانوں کی تباہی اور دہلی کے مسلمان ملیا میٹ ہو چکے تھے۔ حتیٰ کہ آخری فرمانروا بہادر شاہ ظفر کو ٥
قید کر کے رنگون میں جلاوطن کیا گیا اور قید رکھا گیا۔ اب مسئلہ شمال مغربی سرحدی علاقوں کے مسلمان اکثریت کا تھا۔ اس کے تمام علاقے افغانستان سے ملحق تھے اور ان میں جذبۂ جہاد غیر مختتم تھا۔ سرحد، بلوچستان اور سندھ میں انگریز حکمران ہو چکے تھے۔ لیکن مسلمانوں کے جہاد اور انگریزوں کے استعمار میں جھڑپیں جاری تھیں۔
- ......٤ جنگ امبیلہ (صوبہ سرحد) ١٨٦٣ء میں ہوئی۔ اس کے مجاہدین و معاونین
جو ہندوستان کو دارالحرب کہتے اور جہاد غزا کو فرض قرار دیتے تھے۔ انگریزوں کے لئے داخلی طور پر خطرہ تھے۔
- ......٥ انگریزوں نے ١٨٦٣ء، ١٨٦٥ء، ١٨٧٠ء اور ١٨٧١ء میں پٹنہ، راج محل،
مالوہ اور انبالہ میں ان علماء اور ان کے معاونین پر پانچ مقدمات قائم کئے جو ہندوستان میں برطانوی اقتدار کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے جہاد کا مشن قائم کئے ہوئے تھے۔ انہیں موت، عمر قید اور ضبطی جائیداد کی سخت سے سخت سزائیں دے کر پامال کیا گیا۔
- ......٦ افغانستان میں برطانوی اقتدار کی بیل منڈھے نہ چڑھی تو ١٨٩٢ء میں
سر مارٹیمر ڈیورنڈ نے افغانستان اور ہندوستان کے مابین طورخم کے ساتھ سرحدی لائن قائم کی۔ جو ڈیورنڈ لائن کہلاتی رہی اور اب بھی سرکاری کاغذوں میں اسی کا یہی نام چلا آ رہا ہے۔
- ......٧ پنجاب مسلمانوں کی اکثریت کا وسیع تر علاقہ تھا۔ انگریزوں نے
١٨٥٧ء کی جدوجہد آزادی کو اس صوبہ ہی کے بل پر ختم کیا اور تجربہ سے اندازہ ہو گیا کہ اس کے لئے پنجاب کا سپاہی ایک عظیم فوجی متاع ہے۔ ہندوستان بھر میں پنجاب برطانوی عملداری کے لئے ریڑھ کی ہڈی تھا۔ یہاں کے مسلمان رؤساء نے انگریزوں کی توقعات سے کہیں زیادہ برطانوی عملداری کے لئے جاں سپاری اور وفاداری بشرط استواری کا ثبوت دیا تھا۔ پنجاب کی سرحدوں سے منسلک صوبوں میں روحِ جہاد قائم تھی اور وہ تمام تر پاکستان کے علاقے تھے۔ ان علاقوں سے ملحق افغانستان و ایران تھے۔ ان سے آگے دور دور تک اسلامی مملکتوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ ادھر ان علاقوں کے شانوں پر روس تھا اور برطانوی عملداری روس کو اپنے لئے خطرہ سمجھتی تھی۔ پنجاب کو اپنے قبضہ میں رکھنے اور ان علاقوں سے روحِ جہاد ختم کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کو برطانوی سرکار نے مبعوث کیا۔ برطانوی سرکار کو بزعم خویش یقین تھا کہ پنجاب ایک ملہم کی معرفت اپنے سانچہ میں ڈھالا جا سکتا اور گردوپیش کے مسلمان اس طرح ٦
زیر کئے جاسکتے ہیں۔ اگر ان علاقوں کے مسلمان زیر نہ ہوں تو اس ملہم کو پیدا کر کے علماء کا محاذ اس کی طرف پھیرا جاسکتا ہے اور اس طرح مسئلہ جہاد ٹل سکتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اس ضرورت ہی کی پیداوار تھے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمان عوام کو پادریوں کے خلاف بھڑکایا اور مسیحی عقائد پر رکیک حملے کئے تو پادریوں نے برطانوی سرکار سے شکایت کی کہ مرزا توہین مسیحیت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مرزا نے ملکہ وکٹوریہ کو خط لکھا کہ: ”مشنریوں سے مناظرہ کرتا ہوں تو مسلمانوں میں تنسیخ جہاد کا اعتبار بڑھتا ہے۔“
ایک دوسری جگہ لکھا کہ: ”میں نے عیسائی رسالہ نور افشاں کے جواب میں سختی کی تو اس کا مقصد یہ تھا کہ سریع الغضب مسلمانوں کے وحشیانہ جوش کو ٹھنڈا کیا جائے اور میں نے حکمت عملی سے وحشی مسلمانوں کے جوش کو ٹھنڈا کیا ۔“
(تریاق القلوب ص ب ، ج، خزائن ج ١٥ ص ٤٩٠)
گویا مرزا قادیانی ، پادریوں سے عیسائیت اور اسلام کے زیر عنوان جو مناظرے کرتے تھے وہ صرف اس غرض سے تھے کہ مسلمانوں کا ان پر اعتماد قائم ہو کہ وہ انگریزوں کے فرستادہ نہیں ۔ بلکہ جہاد کی منسوخی کا اعلان ایک ملہم کی حیثیت سے خدا کی رضا پر کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے اپنے تئیں نبی منوانے کے لئے بے تحاشا گالی گلوچ کی۔ اس وقت تمام ہندوستان میں پنجاب ہی شاید سب سے ان پڑھ صوبہ تھا۔ اس کے باشندوں کو اس طرح مرعوب کیا کہ:
- ١...... ”تمام مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا ہے۔ صرف کنجریوں اور بدکار عورتوں
کی اولاد نے مجھے نہیں مانا ۔“
(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ٢...... ”جو شخص میرا مخالف ہے وہ مشرک اور جہنمی ہے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٢٧، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٥)
- ٣...... ”جو شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد
الحرام بننے کا شوق ہے اور حرامزادوں کی یہی نشانی ہے۔“
(انوار اسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١، ٣٢)
- ٤...... ”ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیر ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ
گئیں۔“
(درثمین عربی ص ٢٩٤، نجم الہدیٰ ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو وفات پاگئے۔ ان کے جانشینوں حکیم نور الدین خلیفۂ اوّل (مئی ١٩٠٨ء تا مارچ ١٩١٤ء) اور ثانیاً مرزا بشیر الدین خلیفہ ثانی (مارچ ١٩١٤ء تا ١٩٦٥ء) نے احمدیت کو استعمار کی ایجنسی بنایا۔ اس ایجنسی نے پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کی بے نظیر
خدمات انجام دیں۔ عرب ریاستوں کو مسلمانوں کی وضع قطع اور مسلک و مشرب کا فریب دے کر ان کی قطع و برید کا برطانوی مشن پورا کیا اور جاسوسی کرتے رہے۔ ادھر ہندوستان میں جاسوسی کے مرکزی وصوبائی محکموں سے متعلق رہے۔ مسلمانوں کو برطانیہ سے وفاداری کا سبق اس طرح پڑھایا کہ ان کے روحانی رشتے کی عالمی روح مفقود ہو جائے۔ پہلی جنگ عظیم میں بغداد کے سقوط پر چراغاں کیا۔ مدینہ و مکہ کے متعلق (حقیقت الرؤیا ص ٤٦ مصنفہ بشیر الدین محمود) میں لکھا کہ ان کی چھاتیوں سے دودھ خشک ہو گیا ہے۔
قادیان کے متعلق (الفضل ج ١٢ نمبر ٧١ ص ١٠، مورخہ ٣ جنوری ١٩٢٥ء) میں لکھا کہ وہ تمام جہان کے لئے ام ہے۔ اس مقام مقدس سے دنیا کو ہر ایک فیض حاصل ہو سکتا ہے۔
(الفضل ١٢ ستمبر ١٩٢٥ء) میں مرقوم ہے کہ: ”ہم ان لوگوں سے متفق نہیں جو کہتے ہیں کہ کسی صورت میں بھی حرمین پر حملہ نہیں کیا جا سکتا۔ مدینہ پر بھی چڑھائی ہو سکتی ہے۔“
اس سے پہلے ١١ ستمبر ١٩٣٢ء کے (الفضل) میں مرقوم تھا کہ : ” قادیان میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات نازل ہوتی ہیں۔ قادیان کا سالانہ جلسہ ظلی حج ہے اور یہ ظل اب فرض بن گیا ہے۔“
قادیانی جاسوس
مرزا غلام احمد قادیانی نے ملک سے باہر جہاد کی تنسیخ اور برطانیہ کی اطاعت سے متعلق بقول خود بے پناہ لٹریچر بھجوایا اور مسلمان ملکوں میں تقسیم کرایا۔ ان کا بیٹا بشیر الدین محمود خلیفہ ثانی ایک شاطر انسان تھا۔ اس نے اپنے معتقدین کو انگریزوں کی جاسوسی کے لئے مقرر کیا۔ بعض جگہ مشن قائم کئے۔ بعض جگہ ملازمتیں دلوائیں اور بعض جگہ پہلی جنگ عظیم میں عرب ریاستوں کے احوال و آثار چوری کرنے کے لئے اپنے معتقدین بھیجے۔ مثلاً:
- ١....... پہلی جنگ عظیم میں اپنے سالے ولی اللہ زین العابدین کو سلطنت عثمانیہ
میں بھیجا۔ اس نے ترکوں کی پانچویں ڈویژن کے انچارج جمال پاشا کی معرفت ١٩١٧ء میں قدس یونیورسٹی دمشق میں دینیات کی لیکچرر شپ حاصل کی۔ لیکن اس کا کام انگریزی فوجوں کے لئے جاسوسی کرنا تھا کہ وہ دمشق میں کیونکر داخل ہو سکتی ہیں۔ جونہی انگریزی فوجیں دمشق میں داخل ہوئیں وہ انگریزی کمانڈر کے حسب ہدایت مامور ہو گیا اور عربوں کو ترکوں سے بھڑانے کے فرائض انجام دیتا رہا۔ لیکن جب عراقی اس کے جاسوسی خدوخال سے آگاہ ہو گئے تو بھاگ کر قادیان آ گیا
٨
اور ناظر امور عامہ ہو گیا۔
- ٢...... پہلی جنگ عظیم کے فوراً بعد مکہ مکرمہ میں احمدیہ مشن قائم کیا گیا۔ میر محمد سعید
حیدرآبادی اس کا انچارج تھا اور کرنل ٹی۔ ڈبلیو، لارنس (برطانوی محکمہء جاسوسی کا اہم عہدیدار) کی ہدایت پر کام کرتا تھا۔ اس مشن کے ارکان نے مکہ مکرمہ اور ترکی میں برطانوی مصالح کے مطابق تخریب کاری کا جال بچھایا۔ (الفضل ٣ ستمبر ١٩٢٥ء ملاحظہ ہو) آخر ابن سعود اور مصطفیٰ کمال کے مستحکم ہونے پر مرزائی سب کچھ چھوڑ کر حجاز و ترکی سے فرار کر گئے۔ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ گرفتار کئے جارہے ہیں اور ان کے جرم کی سزا موت ہے۔
- ٣...... ترکی میں مصطفیٰ کمال کو قتل کرنے کے لئے مصطفیٰ صغیر نام کے جس
نوجوان کو مامور کیا گیا اور مرزا معراج دین (سپرنٹنڈنٹ سی۔آئی۔ڈی) ایک تاجر کی حیثیت سے اس کے ساتھ منسلک کئے گئے۔ اس نوجوان (مصطفیٰ صغیر) کو مرزا بشیر الدین محمود نے ایک معتمد جاں نثار کی حیثیت سے مقرر و منتخب کیا اور برطانوی حکومت کے حوالے کیا تھا۔
- ٤...... پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فوج کامیاب ہو کر عراق میں داخل ہوئی تو
اس کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کے روپ میں بہت سے احمدی تھے۔ ولی اللہ زین العابدین کا چھوٹا بھائی اور مرزا بشیر الدین محمود کا سالا میجر حبیب اللہ شاہ، جو انگریزی فوج میں ایک ڈاکٹر تھا۔ بغداد فتح ہونے پر برطانوی گورنر مقرر کیا گیا اور فوج کی لوٹ مچائی گئی۔ پھر وہ سبکدوش ہو کر واپس آ گیا۔ آخر ١٩٢٤ء میں عراقی حکومت نے مرزائی عناصر کو ان کی غدارانہ سرگرمیوں کے باعث نکال دیا۔
- ٥...... شام میں جلال الدین شمس کو بھیجا گیا۔ اس کے سپرد فلسطین و شام کا مشن
تھا۔ لیکن دسمبر ١٩٢٧ء میں اس کی پراسرار سرگرمیوں کے باعث اس پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ وہ بچ گیا۔ لیکن بہت دیر تک زیر علاج رہا۔ شام میں استعماری گرفت ڈھیلی پڑ گئی تو جلال الدین شمس کو نکال دیا گیا اور وہ ١٧؍ مارچ ١٩٢٨ء کو حیفا آ گیا۔ اب برطانوی مصالح کا مرکز فلسطین تھا اور اس کو یہودی ریاست بنانے کے لئے، عربوں کی وحدت میں نقب لگانے والے ایسے ہی نام نہاد مسلمان درکار تھے جو مرزا بشیر الدین محمود نے مہیا کئے۔ فلسطین میں برطانیہ کی جاسوسی کا افسر اعلیٰ ایک یہودی تھا۔ احمدی مشن اس کے ماتحت تھا اور اس طرح یہودیت اور احمدیت کے گٹھ جوڑ کا آغاز ہوا۔
٩
صہ ہو گیا۔
پہلی جنگ عظیم کے فورا بعد مکہ مکرمہ میں احمدیہ مشن قائم کیا گیا۔ میر محمد سعید کا انچارج تھا اور کرنل ٹی ۔ ڈبلیو، اے۔ نیس (برطانوی محکمہ جاسوسی کا اہم عہدیدار ) کرتا تھا۔ اس مشن کے ارکان نے مکہ مکرمہ اور ترکی میں برطانوی مصالح کے جاسوسی کا جال بچھایا۔ (الفضل ٣ ستمبر ١٩٢٥ء ملاحظہ ہو) آخر ابن سعود اور مصطفیٰ کمال کے رزائی سب کچھ چھوڑ کر حجاز و ترکی سے فرار کر گئے۔ انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ وہ چکے ہیں اور ان کے جرم کی سزا موت ہے۔
ترکی میں مصطفیٰ کمال کو قتل کرنے کے لئے مصطفیٰ صغیر نام کے جس کیا گیا اور مرزا معراج دین (سپرنٹنڈنٹ سی ۔ آئی ۔ ڈی) ایک تاجر کی حیثیت سے ب کئے گئے۔ اس نوجوان (مصطفیٰ صغیر) کو مرزا بشیر الدین محمود نے ایک معتمد سے مقرر و منتخب کیا اور برطانوی حکومت کے حوالے کیا تھا۔
پہلی جنگ عظیم میں برطانوی فوج کا میاب ہو کر عراق میں داخل ہوئی تو وستانی مسلمانوں کے روپ میں بہت سے احمدی تھے۔ ولی اللہ زین طائی اور مرزا بشیر الدین محمود کا سالا۔ میجر حبیب اللہ شاہ ، جو انگریزی فوج میں د فتح ہونے پر برطانوی گورنر مقرر کیا گیا اور فوج کی لوٹ مچائی گئی۔ پھر وہ آگیا۔ آخر ١٩٢٤ء میں عراقی حکومت نے مرزائی عناصر کو ان کی غدارانہ سے نکال دیا۔
شام میں جلال الدین شمس کو بھیجا گیا۔ اس کے سپرد فلسطین و شام کا مشن میں اس کی پراسرار سرگرمیوں کے باعث اس پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ وہ بچ زیر علاج رہا۔ شام میں استعماری گرفت ڈھیلی پڑ گئی تو جلال الدین شمس ١٧ مارچ ١٩٢٨ء کو حیفا آگیا۔ اب برطانوی مصالح کا مرکز فلسطین تھا مت بنانے کے لئے ، عربوں کی وحدت میں نقب لگانے والے ایسے ہی تھے جو مرزا بشیر الدین محمود نے مہیا کئے۔ فلسطین میں برطانیہ کی جاسوسی کا ا۔ احمدی مشن اس کے ماتحت تھا اور اس طرح یہودیت اور احمدیت کے
٩
اس آغاز ہی نے اسرائیل قائم کرنے کی استعماری کوششوں کو پروان چڑھایا۔ آج احمدی ان بے نظیر خدمات ہی کے صلہ میں اسرائیل کی حکومت سے متمتع ہو رہے اور آج کل عرب ریاستوں کی بیخ کنی اور مخبری کر رہے ہیں۔ لارڈ جارج (وزیر اعظم انگلستان) نے فلسطین میں احمدیوں کی خدمات کا اعتراف کیا اور وہ ان سے غایت درجہ مطمئن تھا۔ ١٩٢٣ء میں مرزا بشیر الدین محمود فلسطین گیا اور اس نے اعلان کیا کہ یہودی اسی خطہ کے مالک ہو جائیں گے۔ (تاریخ احمدیت ج٦ ص ٣١٠) مرزا محمود نے فلسطین کے ہائی کمشنر سے ملاقات کی اور آئندہ خدمات کا نقشہ طے پایا۔ جلال الدین شمس کے ساتھ محمد المغربی الطرابلسی اور عبدالقادر عودہ صالح نام کے دو عربوں کو منسلک کیا گیا۔ اصلاً دونوں یہودی تھے اور استعماری مقاصد کے لئے انہیں مسلمان کیا گیا تھا۔
- ٦...... ہندوستان میں برطانوی حکومت نے روس سے ہمیشہ خطرہ محسوس کیا اور
وسط ایشیاء میں اسلامی علاقوں کی معرفت اس خطرہ کے مفروضوں یا حقیقتوں کی نوعیت معلوم کرنے کے لئے مختلف وقتوں میں کئی جاسوسی وفد بھیجے۔ جو مختلف واسطوں سے روس جاتے رہے۔ ایک احمدی محمد امین خاں کو ١٩٢١ء میں مبلغ کے روپ میں روانہ کیا گیا۔ وہ ایران کے راستہ معلومات حاصل کرتا ہوا روس میں داخل ہوا۔ لیکن روسی حکومت نے پکڑ کے جیل میں ڈال دیا۔ آخر برطانوی مداخلت سے رہا ہوا۔ اس نے قادیان واپس آکر مرزا بشیر الدین محمود سے مزید ہدایات لیں اور ایک دوسرے شخص ظہور حسین کو ساتھ لے کر لوٹ گیا۔
ظہور حسین بھی روسی پولیس کے ہاتھ آ گیا اور انگریزوں کے لئے جاسوسی کے الزام میں ماسکو وغیرہ کے قید خانہ میں دو سال رہا۔ بالآخر برطانوی سفیر مقیم ماسکو کی تگ و دو سے رہا ہوا۔ شہزادہ ویلز ہندوستان آیا تو مرزا بشیر الدین محمود نے وفاداریوں سے متعلق سپاسنامہ پیش کیا۔ اس میں بڑ ہانکی کہ حضرت مرزا غلام احمد کی پیش گوئی کے مطابق روس کی حکومت بالآخر احمدیوں کے ہاتھ میں ہوگی اور اللہ تعالیٰ احمدیت کو بخارا میں عنقریب پھیلا دے گا۔
- ٧...... پہلی جنگ عظیم کے بعد ١٩١٩ء میں انگریزوں اور افغانستان کے درمیان
جنگ چھڑ گئی تو قادیانی ایک کمپنی کی شکل میں افغانستان کو انگریزوں کے زیر نگین لانے کے لئے مصروف ہو گئے۔ مرزا محمود کا چھوٹا بھائی جو اس وقت ٹرانسپورٹ کور میں آنریری افسر کا کام کرتا رہا۔
برطانوی حکومت اوّل تو افغانستان کو اپنے قبضہ میں لانا چاہتی تھی۔ جب افغانستان اس کی نو آبادی نہ بن سکا تو اپنی ریشہ دوانیوں کے لئے چن لیا، تاکہ افغانستان کمزور ہو۔ اس کام
١٠
کے لئے جو مہرے جاسوسی کے تخریبی فرائض انجام دے رہے تھے ان میں ایک شخص نعمت اللہ قادیانی بھی تھا۔ اس کو جولائی ١٩٢٤ء میں گرفتار کر کے سنگسار کیا گیا۔ فروری ١٩٢٥ء میں دو اور قادیانی ملا عبدالحلیم اور ملا نور علی اسی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارے گئے۔
قادیانی امت کی برطانیہ سے اندھا دھند وفاداری اور مسلمان ملکوں میں انگریزوں کی خاطر جاسوسی کا ریکارڈ اتنا ضخیم ہے کہ اور کسی سرکاری جماعت کا ریکارڈ اس قدر شرمناک نہیں۔ اس سے فی الحقیقت کئی سو کتابوں کی ایک لائبریری قائم ہوسکتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی امت کے دو شعار رہے ہیں:
- .......١ ہندوستان میں مسلمانوں کی سلطنت چھن جانے پر مرزا غلام احمد قادیانی
جہاد کی منسوخی کے لئے ایک نبی بن کر سامنے آیا اور اس نے خدائی الہام کا جامہ پہنا کر اطاعت برطانیہ کو فرض قرار دیا۔ اس کی امت نے اس کی موت کے بعد ایک ایسے طائفہ کی حیثیت اختیار کر لی جو ہندوستان میں برطانوی استعمار کے انجن کی بھاپ تھا اور جس کے وجود سے مسلمانوں کی وحدت دولخت ہو کر کمزور پڑتی اور ختم ہوتی تھی۔
- .......٢ قادیانی امت نے اپنے پیغمبر کی سند لے کر تمام اسلامی ملکوں میں برطانوی
استعمار کی خدمت گذاری اپنے اوپر فرض کر لی۔ وہ مسلمانوں کے روپ میں ان ممالک میں جاتے اور رہتے۔ لیکن عقیدۃً انہیں کافر سمجھ کر انہیں سبوتاژ کرتے۔ تمام اسلامی ملکوں کے مسلمان ان کے ظواہر سے دھوکا کھاتے۔ المختصر قادیانی امت کے افراد اسلامی مملکتوں میں برطانیہ کا ففتھ کالم تھے۔
علامہ اقبالؒ نے قادیانی امت کے عمیق مطالعہ کے فوراً ہی بعد ہندوستان کی برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ کر دیا جائے۔ وہ محمد عربی کی امت میں نقب لگا کر ایک علیحدہ امت پیدا کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد خود کوئی امت پیدا نہ کر سکتے تھے۔ اگر وہ الگ امت پیدا کرتے تو اسلامی ملکوں میں انگریزی استعمار کے لئے مفید نہ ہوتے۔ انہوں نے اپنے پیروؤں کی جمعیت کو اس طرح ڈھالا کہ وہ اپنے سوا تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے۔ لیکن کام ان سے اس طرح لیا۔ گویا وہ مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ اور جماعت ہیں۔
علامہ اقبالؒ قادیانی امت کے الگ تھلگ عقائد، ان کی اسلام سے غداری اور برطانوی استعمار کی خدمت گذاری سے اس قدر بدظن ہو گئے کہ انہوں نے نہ صرف احمدیوں کو مسلمانوں سے الگ کر دینے کا مطالبہ انتہائی شدت سے کیا۔ بلکہ مسلمان اداروں سے انہیں
١١
رے جاسوسی کے تخریبی فرائض انجام دے رہے تھے ان میں ایک شخص نعمت اللہ ۔ اس کو جولائی ١٩٢٤ء میں گرفتار کر کے سنگسار کیا گیا۔ فروری ١٩٢٥ء میں دو اور حلیم اور ملا نور علی اسی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ یانی امت کی برطانیہ سے اندھا دھند وفاداری اور مسلمان ملکوں میں انگریزوں کی ریکا رڈ اتنا ضخیم ہے کہ اور کسی سرکاری جماعت کا ریکارڈ اس قدر شرمناک نہیں۔ اس کی سو کتابوں کی ایک لائبریری قائم ہوسکتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی ار رہے ہیں:
ہندوستان میں مسلمانوں کی سلطنت چھن جانے پر مرزا غلام احمد قادیانی کے لئے ایک نبی بن کر سامنے آیا اور اس نے خدائی الہام کا جامہ پہنا کر اطاعت اردیا۔ اس کی امت نے اس کی موت کے بعد ایک ایسے طائفہ کی حیثیت اختیار ان میں برطانوی استعمار کے انجن کی بھاپ تھا اور جس کے وجود سے مسلمانوں کی و کر کمزور پڑتی اور ختم ہوتی تھی۔
قادیانی امت نے اپنے پیغمبر کی سند لے کر تمام اسلامی ملکوں میں برطانوی غداری اپنے اوپر فرض کر لی۔ وہ مسلمانوں کے روپ میں ان ممالک میں جاتے عقیدہ انہیں کافر سمجھ کر انہیں سبوتاژ کرتے۔ تمام اسلامی ملکوں کے مسلمان ان کے ماتے۔ المختصر قادیانی امت کے افراد اسلامی مملکتوں میں برطانیہ کا ففتھ کالم تھے۔
اقبالؒ نے قادیانی امت کے عمیق مطالعہ کے فوراً ہی بعد ہندوستان کی برطانوی لبہ کیا کہ مرزائیوں کو مسلمانوں سے الگ کردیا جائے۔ وہ محمد عربی کی امت میں نحدہ امت پیدا کرتے ہیں۔ مرزا غلام احمد خود کوئی امت پیدا نہ کر سکتے تھے۔ اگر ا کرتے تو اسلامی ملکوں میں انگریزی استعمار کے لئے مفید نہ ہوتے۔ انہوں نے جمعیت کو اس طرح ڈھالا کہ وہ اپنے سوا تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے۔ لیکن کام ان گویا وہ مسلمانوں ہی کا ایک فرقہ اور جماعت ہیں۔
اقبالؒ قادیانی امت کے الگ تھلگ عقائد، ان کی اسلام سے غداری اور نا خدمت گذاری سے اس قدر بدظن ہو گئے کہ انہوں نے نہ صرف احمدیوں کو لگ کر دینے کا مطالبہ انتہائی شدت سے کیا۔ بلکہ مسلمان اداروں سے انہیں
١١
نکلوا دیا۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج مرزا ظفر علی بھی حضرت علامہ کے مؤید ہو گئے اور اس طرح انگریزی خواندہ جماعت کی ایک بڑی تعداد میں بھی ان کی علیحدگی کا مطالبہ قائم ہو گیا۔
علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ:
- ١....... قادیانی مسلمانوں میں صرف سیاسی فوائد کے حصول کی خاطر شامل ہیں۔ ورنہ وہ تمام
عالم اسلام کو اپنے عقائد کی رو سے کافر قرار دیتے ہیں۔
- ٢....... وہ اسلام کی باغی جماعت ہے اور مسلمانوں کو اس مطالبہ کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ
قادیانیوں کو ان سے الگ کر دیا جائے۔
- ٣....... وہ مسلمانوں میں یہودیت کا مثنیٰ ہیں۔
برعظیم کی آزادی تک قادیانی امت کی تاریخ میں ایک شوشہ یا ایک نقطہ بھی ایسا نہیں جس سے معلوم ہو کہ وہ اس برعظیم کی جدوجہد کی آزادی سے موافق تھے یا کبھی انہوں نے برطانیہ سے ہندوستان چھوڑ دینے کا مطالبہ کیا ہو۔ ان کی غیر مختتم کاسہ لیسی کے باوجود بر اعظم آزاد ہو گیا۔ ہندوستان آزاد ہوا۔ پاکستان قائم ہوا تو برطانیہ سے ان کی وابستگی کے لئے ہندوستان میں کوئی جگہ نہ تھی اور نہ وہاں رہ کر وہ مختلف محاذوں پر برطانیہ کے لئے ففتھ کالم ہو سکتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کا رخ کیا۔ پنجاب میں آزادی سے کچھ عرصہ بعد تک سرفرانسس موڈی انگریز گورنر تھا۔ اس کے سامنے برطانوی استعمار کے مختلف پلان تھے۔ چنانچہ اسی کی معرفت ربوہ قادیانی امت کو ملا۔ یہ ان کے لئے اس طرح کا ایک بفر تھا۔ جس طرح امریکیوں نے پشاور سے کوہاٹ کی طرف بڈبیر کے مقام پر اپنا ایک عسکری مرکز قائم کیا تھا اور وہاں کسی پاکستانی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔
جن لوگوں نے مرزائیت کے تعاقب کی تحریک چلائی۔ ان میں زعمائے احرار مسلم لیگ میں شامل نہ تھے اور نہ پاکستان کو ہندوستان کے مسلمانوں کا سیاسی حل سمجھتے تھے۔ علامہ اقبالؒ پاکستان سے پہلے وفات پا گئے۔ مولانا ظفر علی خان گورکنارے تھے۔ مرزا بشیر الدین محمود کو خیال ہوا کہ ان کے مخالف جو متحرک اور اشجع ہیں۔ مسلم لیگ میں عدم شمول کے باعث اب پاکستان میں سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔ مسلمانوں نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ اس مفروضہ پر اس نے پاکستان کو اپنی ریاست بنانے کی اندرونی مہم کا آغاز کیا۔ اس نے جنرل سر ڈگلس گریسی کے ایماء پر ”جہاد کشمیر“ کے نام پر ”فرقان بٹالین“ قائم کی۔ یہ اس شخص کا اقدام تھا۔ جس کے باپ مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو الہاماً منسوخ کیا تھا اور جو برطانوی عہد میں خود بھی منسوخی جہاد کا داعی تھا۔
١٢
مشرقی پاکستان کے پاکستان سے کٹ جانے کے بعد آج مغربی پاکستان میں بلوچستان عالمی طاقتوں کی بدولت ایک سیاسی مسئلہ ہے اور وہاں بیرونی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ انگریزوں نے برعظیم چھوڑنے سے پہلے بلوچستان کے موجودہ گورنر نواب آف قلات کو اپنے ڈھب پر لانا چاہا۔ کہ وہ بلوچستان کو نیپال کی طرح آزاد حیثیت دینا چاہتے ہیں۔ مسٹر ڈی۔ وائی فل (پولیٹیکل ایجنٹ کوئٹہ) نے نواب قلات کو ترغیب دی کہ انگریز برما اور لنکا کی طرح بلوچستان کو آزاد ریاست کا درجہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ ان دنوں بلوچستان کا ایجنٹ جنرل جیفرے تھا۔ وہ خود قلات گیا اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا پیغام دیا کہ وہ بلوچستان کو آزاد ریاست بنانے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن قائد اعظم مطلع ہو گئے اور بیل منڈھے نہ چڑھی۔ آخر برطانوی حکومت کے ان سیاستدانوں نے مرزا محمود سے طویل ملاقات کر کے بلوچستان کا پلان ان کے حوالے کیا اور خود چلے گئے۔ مرزا محمود نے جولائی ١٩٤٨ء میں کوئٹہ کا دورہ کیا اور بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔ ان کا یہ خطبہ ١٤/ اگست ١٩٤٨ء کے ”الفضل“ میں درج ہے۔
اگر ١٩٥٣ء میں قادیانیت کے خلاف مجلس عمل کی تحریک نہ چلتی تو مرزائی پاکستان میں استعماری سیاست کے حسب ہدایت اپنے قدم جما رہے تھے۔ اس تحریک نے تمام ملک کو چوکنا کر دیا۔ قادیانی تبلیغ ہمیشہ کے لئے رک گئی اور تمام مسلمان ان سے باخبر ہو گئے۔ لیکن سر ظفر اللہ خان نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے بیرون پاکستان اپنی ساکھ قائم کر لی اور عالمی استعمار سے اس کی ضرورتوں کے تابع ناطہ قائم کر لیا۔ ادھر ملک استعماری اور نظریاتی طاقتوں کے محور میں چلا گیا۔ ادھر قادیانی استعماری طاقت کے مہرے ہو گئے۔
چین......امریکہ اور روس دونوں کے لئے خطرہ یا پرابلم ہو چکا تھا۔ دونوں محسوس کرتے تھے کہ ہندوستان سوشلسٹ ہو گیا تو پھر ایشیاء اور افریقہ میں انہیں کوئی سا مقام یا رسوخ حاصل نہ ہوگا۔ کیونکہ اس طرح ایک ارب اور بیس کروڑ انسان سوشلسٹ ہو جاتے تھے۔ ان عالمی طاقتوں نے ہندوستان کو ساتھ ملا کر چین کے خلاف محاذ بنانا چاہا۔ ہندوستان کا جواب یہ تھا کہ اس کے دو طرف مشرقی و مغربی پاکستان دشمن کی حیثیت سے موجود ہیں۔ جب تک وہ ہیں ہندوستان کا ایسے کسی محاذ میں شامل ہونا مشکل ہے۔ امریکہ اور روس نے صدر ایوب سے کہا کہ وہ ہندوستان سے مشترکہ دفاع کرلے۔ صدر ایوب نے مشکلات پیش کیں اور عذر کیا۔ اس پر دونوں طاقتیں ١٤
پاکستان کے پاکستان سے کٹ جانے کے بعد آج مغربی پاکستان میں خون کی بدولت ایک سیاسی مسئلہ ہے اور وہاں بیرونی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ ہم چھوڑنے سے پہلے بلوچستان کے موجودہ گورنر نواب آف قلات کو اپنے کہ وہ بلوچستان کو نیپال کی طرح آزاد حیثیت دینا چاہتے ہیں۔ مسٹر ڈی۔ وائی کوئٹہ) نے نواب قلات کو ترغیب دی کہ انگریز برما اور لنکا کی طرح بلوچستان کو دینے کے لئے تیار ہیں۔ ان دنوں بلوچستان کا ایجنٹ جنرل جیفرے تھا۔ وہ ماؤنٹ بیٹن کا پیغام دیا کہ وہ بلوچستان کو آزاد ریاست بنانے کے لئے تیار مطلع ہو گئے اور بیل منڈھے نہ چڑھی۔ آخر برطانوی حکومت کے ان المحمود سے طویل ملاقات کر کے بلوچستان کا پلان ان کے حوالے کیا اور خود نے جولائی ١٩٤٨ء میں کوئٹہ کا دورہ کیا اور بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کا ١٤ اگست ١٩٤٨ء کے ”الفضل“ میں درج ہے۔
ء میں قادیانیت کے خلاف مجلس عمل کی تحریک نہ چلتی تو مرزائی پاکستان میں حسب ہدایت اپنے قدم جما رہے تھے۔ اس تحریک نے تمام ملک کو چوکنا میشہ کے لئے رک گئی اور تمام مسلمان ان سے باخبر ہو گئے۔ لیکن سر ظفر اللہ حیثیت سے بیرون پاکستان اپنی ساکھ قائم کر لی اور عالمی استعمار سے اس کی قائم کر لیا۔ ادھر ملک استعماری اور نظریاتی طاقتوں کے محور میں چلا گیا۔ ادھر ن کے مہرے ہو گئے۔
امریکہ اور روس دونوں کے لئے خطرہ یا پرابلم ہو چکا تھا۔ دونوں محسوس کرتے سٹ ہو گیا تو پھر ایشیاء اور افریقہ میں انہیں کوئی سا مقام یا رسوخ حاصل نہ یک ارب اور بیس کروڑ انسان سوشلسٹ ہو جاتے تھے۔ ان عالمی طاقتوں کر چین کے خلاف محاذ بنانا چاہا۔ ہندوستان کا جواب یہ تھا کہ اس کے دو تان دشمن کی حیثیت سے موجود ہیں۔ جب تک وہ ہیں ہندوستان کا ایسے مشکل ہے۔ امریکہ اور روس نے صدر ایوب سے کہا کہ وہ ہندوستان سے صدر ایوب نے مشکلات پیش کیں اور عذر کیا۔ اس پر دونوں طاقتیں ١٣
پاکستان اور ایوب خان کے خلاف ہوگئیں۔ اس ناراضی کا نتیجہ ١٩٦٥ء کی جنگ تھی۔ جو استعماری طاقتوں کے پاکستانی گماشتوں کی پخت و پز سے معرض وجود میں آئی۔ خدا نے پاکستانی فوج کے بازوؤں کو توانائی دے کر پاکستان کو بچا لیا۔ ورنہ نقشہ مختلف ہوتا اور جانے کیا ظہور میں آتا۔
عالمی طاقتیں سمجھتی تھیں کہ مغربی پاکستان کے اعضاء فلج ہو گئے اور اس کی شکل بدل گئی تو مشرقی پاکستان کسی تردد کے بغیر خود بخود الگ ہو جائے گا۔ لیکن قدرت کو منظور نہ تھا۔ پاکستان محفوظ ہو گیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عالمی طاقتوں کے ماتھے چڑھ گیا۔ مشرقی پاکستان کبھی الگ نہ ہوتا۔ لیکن عالمی طاقتوں کے جو ایجنٹ مغربی پاکستان میں حکومت کی مشینری کے بڑے بڑے عہدوں پر کام کر رہے تھے انہوں نے مشرقی پاکستان کو کاٹ دیا اور قادیانی اس منصوبہ کے سرخیل تھے۔ مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے خلاف معاشی استحصال کا جو غصہ تھا اس کو ہوا کرنے والا مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا، مرزا بشیر الدین کا بھتیجا اور داماد ایم ۔ ایم احمد تھا۔ جو ایوب خان کے زمانہ میں بیرونی پشت پناہی سے مالیات کا انچارج تھا اور آج ان استعماری خدمات کے صلہ میں عالمی بینک کا اہم عہدیدار ہے۔ لطف یا ستم یہ کہ پاکستان میں ایٹمی توانائی کا سربراہ عبدالسلام بھی قادیانی ہے۔
ظفر اللہ خان، ایم۔ایم۔احمد اور عبدالسلام تینوں ہی پاکستان سے باہر لندن کی جلوہ گاہ میں رہتے اور واشنگٹن کے اشارۂ ابرو پر رقص کرتے ہیں۔ قادیانی ہائی کمانڈ نے ١٩٧١ء کے انتخابات میں پاکستان کے اسلامی ذہن کو اسرائیل کے روپے کی طاقت پر سبوتاژ کیا اور اس کے بعد سے ملک کے غیر اسلامی ذہن کی معرفت، پاکستان کی معاشی و عسکری زندگی پر قابض ہو رہے ہیں۔ یورپ کی نظریاتی واستعماری طاقتیں نہ تو اسلام کو بطور طاقت زندہ رکھنے کے حق میں ہیں اور نہ اس کی نشاۃ ثانیہ چاہتی ہیں۔ ہندوستان کی خوشنودی کے لئے پاکستان ان کی بندر بانٹ کے منصوبہ میں ہے۔ وہ اس کو بلقان اور عرب ریاستوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے سامنے مغربی پاکستان کا بٹوارہ ہے۔ وہ پختونستان، بلوچستان، سندھو دیش اور پنجاب کو الگ الگ ریاستیں بنانا چاہتی ہیں۔ ان کے ذہن میں بعض سیاسی روایتوں کے مطابق کراچی کا مستقبل سنگاپور اور ہانگ کانگ کی طرح ایک خود مختار ریاست کا ہے۔ خدانخواستہ اس طرح تقسیم ہو گئی تو پنجاب ایک محصور SANDWITCH صوبہ ہو جائے گا۔ جس طرح مشرقی ١٤
پاکستان کا غصہ مغربی پاکستان میں صرف پنجاب کے خلاف تھا۔ اسی طرح پختونستان، بلوچستان اور سندھو دیش کو بھی پنجاب سے ناراضگی ہوگی۔ پنجاب تنہا رہ جائے گا تو عالمی طاقتیں سکھوں کو بھڑکا اور بڑھا کر مطالبہ کرا دیں گی کہ مغربی پنجاب ان کے گوروؤں کا مولد، مسکن اور مرگھٹ ہے۔ لہٰذا ان کا اس علاقہ پر وہی حق ہے جو یہودیوں کا فلسطین و اسرائیل پر تھا اور انہیں وطن مل گیا۔ عالمی طاقتوں کے اشارے پر سکھ حملہ آور ہوں گے۔ اس کا نام شاید پولیس ایکشن ہو۔ جانبین میں لڑائی ہوگی۔ لیکن عالمی طاقتیں پلان کے مطابق مداخلت کر کے اس طرح لڑائی بند کرا دیں گی کہ پاکستانی پنجاب، بھارتی پنجاب سے پیوست ہو کر سکھ، احمدی ریاست بن جائے گا۔ جس کا نقشہ اس طرح ہوگا کہ صوبہ کا صدر سکھ ہوگا، تو وزیر اعلیٰ قادیانی، اگر وزیر اعلیٰ سکھ ہوگا تو صدر قادیانی۔ اسی غرض سے استعماری طاقتیں قادیانی امت کی کھلم کھلا سر پرستی کر رہی ہیں۔
بعض مستند خبروں کے مطابق سر ظفر اللہ خان لندن میں بھارتی نمائندوں سے پخت و پز ہو کر چکے ہیں۔ قادیانی اس طرح اپنے نبی کا مدینہ (قادیان) حاصل کر پائیں گے۔ جو ان کا شروع دن سے مطمح نظر ہے اور سکھ اپنے بانی گورو نانک کے مولد میں آجائیں گے۔ یہی دونوں کے اشتراک کا باعث ہوگا۔ قادیانی عالمی استعمار سے اپنی اس ریاست کا وعدہ لے چکے ہیں اور اس کے عوض عالمی استعمار کے گماشتہ کی حیثیت سے اسرائیل کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے وہ مسلمانوں کی صف میں رہ کر عرب ریاستوں کی بیخ کنی اور مخبری کے لئے افریقہ کی بعض ریاستوں میں مشن رچا کے بیٹھے ہیں اور حیفا (اسرائیل) میں حکومت یہود کے مشیر برائے اسلامی ممالک ہیں۔ وہ پاکستان میں حکمران جماعت کے ہاتھوں، سرحد و بلوچستان کی نمائندہ جماعت کو پٹوا کر پنجاب و سندھ میں اسلامی ذہن کے قتل عمد سے موعودہ استعماری صوبہ کی آبیاری کر رہے ہیں اور اس وقت استعماری طاقتوں کی معرفت اسرائیل اور ہندوستان کے آلہ کار ہیں اور یہ ہے ان کا سیاسی چہرہ جس سے ان کا داخلی وجود ظاہر ہوتا ہے۔
☆............☆
١٥
مغربی پاکستان میں صرف پنجاب کے خلاف تھا۔ اسی طرح پختونستان، بلوچستان بھی پنجاب سے ناراضگی ہوگی۔ پنجاب تنہا رہ جائے گا تو عالمی طاقتیں سکھوں کو مطالبہ کرا دیں گی کہ مغربی پنجاب ان کے گوروؤں کا مولد، مسکن اور مرگھٹ ہے۔ قہ پر وہی حق ہے جو یہودیوں کا فلسطین و اسرائیل پر تھا اور انہیں وطن مل گیا۔ عالمی ے پر سکھ حملہ آور ہوں گے۔ اس کا نام شاید پولیس ایکشن ہو۔ جانبین میں لڑائی طاقتیں پلان کے مطابق مداخلت کر کے اس طرح لڑائی بند کرا دیں گی کہ بھارتی پنجاب سے پیوست ہو کر سکھ، احمدی ریاست بن جائے گی۔ جس کا نقشہ صوبہ کا صدر سکھ ہوگا۔ تو وزیر اعلیٰ قادیانی، اگر وزیر اعلیٰ سکھ ہوگا تو صدر قادیانی۔ ماری طاقتیں قادیانی امت کی کھلم کھلا سر پرستی کر رہی ہیں۔ مستند خبروں کے مطابق سر ظفر اللہ خان لندن میں بھارتی نمائندوں سے پخت و پز ادیانی اس طرح اپنے نبی کا مدینہ (قادیان) حاصل کر پائیں گے۔ جو ان کا قر ہے اور سکھ اپنے بانی گورونانک کے مولد میں آجائیں گے۔ یہی دونوں ث ہوگا۔ قادیانی عالمی استعمار سے اپنی اس ریاست کا وعدہ لے چکے ہیں اور اس تعمال کے گماشتے کی حیثیت سے اسرائیل کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے وہ میں رہ کر عرب ریاستوں کی بیخ کنی اور مخبری کے لئے افریقہ کی بعض ریاستوں بیٹھے ہیں اور حیفا (اسرائیل) میں حکومت یہود کے مشیر برائے اسلامی ممالک ل حکمران جماعت کے ہاتھوں، سرحد و بلوچستان کی نمائندہ جماعت کو لڑوا کر اسلامی ذہن کے قتل عمد سے موعودہ استعماری صوبہ کی آبیاری کر رہے ہیں اور طاقتوں کی معرفت اسرائیل اور ہندوستان کے آلہ کار ہیں اور یہ ہے ان کا ن کا داخلی وجود ظاہر ہوتا ہے۔
☆............☆
١٥
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
قادیانی، پاکستان میں استعماری گماشتے ہیں
عجمی اسرائیل
ایک انڈر گراؤنڈ خطرے کا تجزیہ
آغا شورش کاشمیریؒ
عجمی اسرائیل
پاکستان خطرے میں ہے۔ داخلی اعتبار سے بھی اور خارجی اعتبار سے بھی۔ یہ اس تاثر کا خلاصہ ہے جو پاکستان میں ہر کہ ومہ کی زبان پر ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف بہ اختلاف الفاظ دونوں ہی اس کی نشاندہی کرتی ہیں۔ خود صدر مملکت (ذوالفقار علی بھٹو) نے بعض غیر ملکی جرائد کے وقائع نگاروں کو معنی خیز اشارات میں ان خطرات کا ذکر کیا اور ملک میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں اپوزیشن سے منسوب ہیں۔ وہ کھلم کھلا ان خطرات کو بیان کرتی ہیں۔ ان میں اختلاف ہے تو خطرے کی نوعیت اور اس کے تعین کا، لیکن خطرے کے وجود اور امکان پر سب کا اتفاق ہے اور سبھی اس کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔
بظاہر داخلی اور خارجی دونوں خطرات ایک دوسرے سے الگ الگ اور آپس میں کٹے پھٹے ہوئے ہیں۔ لیکن صورتحال کی اندرونی فضا خارجی اثرات کے تحت اتنی مربوط ہے کہ الگ الگ مہرے بھی ایک ہی شطرنج کے مہرے نظر آ رہے ہیں۔
خطرات کا یہ احساس جو اب عوام کے دلوں میں اتر چکا ہے۔ اولاً معاہدہ تاشقند (١٩٦٥ء) کے فوراً بعد ملک کے خواص کو طوطیان راز کی معرفت معلوم ہوا تھا اور لوگ محسوس کرنے لگے تھے کہ پاکستان عالمی طاقتوں کی سیاسی خواہشوں کے نرغہ میں ہے۔ آخر مشرقی پاکستان کے (١٩٧١ء) الگ ہو کر بنگلہ دیش بن جانے سے سارا ملک بلکہ ساری دنیا باخبر ہوگئی کہ پاکستان عالمی طاقتوں کی سیاسی خواہشوں کا محور ہو چکا ہے اور اب پاکستان میں اضطراب و تشویش اور تشتت و انتشار کی جو لہریں دوڑ رہی ہیں وہ تمام تر عالمی طاقتوں کے اسی طرز عمل اور پاکستان کی اندرونی سیاست کے اسی اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہے۔
داخلی طور پر خطرہ کی نوعیت یہ ہے کہ برسر اقتدار پارٹی (پیپلز پارٹی) جو سرحد و بلوچستان میں صوبائی نمائندگی سے محروم ہے۔ اپنی مدمقابل سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کو پاکستان کی مزید تقسیم کے عالمی پس منظر میں آلہ کار ٹھہراتی اور اس کی طاقت کو سبوتاژ کر کے سیاسی تصادم کے پہلو دار امکانات پیدا کر رہی ہے۔ ادھر اس الزام کی نیپ کے حلقے تردید کرتے ہیں۔ لیکن پروپیگنڈا مشینری (ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبارات وغیرہ) پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لئے سندھ ایک حد تک اور پنجاب بڑی حد تک نیپ کو پیپلز پارٹی کے الفاظ میں پاکستان دشمن کہتے ہوئے جھجکتا نہیں۔ بلکہ ایسا کہنا اپنی حب الوطنی کا جزو ایمان خیال کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شہ
١
عجمی اسرائیل
ان خطرے میں ہے۔ داخلی اعتبار سے بھی اور خارجی اعتبار سے بھی۔ یہ اس تاثر کستان میں ہر کہ و مہ کی زبان پر ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف یہ اختلاف س کی نشاندہی کرتی ہیں۔ خود صدر مملکت (ذوالفقار علی بھٹو) نے بعض غیر ملکی اروں کو معنی خیز اشارات میں ان خطرات کا ذکر کیا اور ملک میں جتنی بھی سیاسی سے منسوب ہیں۔ وہ کھلم کھلا ان خطرات کو بیان کرتی ہیں۔ ان میں اختلاف عیت اور اس کے تعین کا، لیکن خطرے کے وجود اور امکان پر سب کا اتفاق ہے سے محسوس کرتے ہیں۔
خلی اور خارجی دونوں خطرات ایک دوسرے سے الگ الگ اور آپس میں کٹے ن صورتحال کی اندرونی فضا خارجی اثرات کے تحت اتنی مربوط ہے کہ الگ عی شطرنج کے مہرے نظر آ رہے ہیں۔
کا یہ احساس جو اب عوام کے دلوں میں اتر چکا ہے۔ اولاً معاہدہ تاشقند رملک کے خواص کو خلوتیان راز کی معرفت معلوم ہوا تھا اور لوگ محسوس کرنے المی طاقتوں کی سیاسی خواہشوں کے نرغہ میں ہے۔ آخر مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے سے سارا ملک بلکہ ساری دنیا باخبر ہوگئی کہ پاکستان عالمی شوں کا محور ہو چکا ہے اور اب پاکستان میں اضطراب و تشویش اور تشتت رہی ہیں وہ تمام تر عالمی طاقتوں کے اسی طرزعمل اور پاکستان کی اندرونی محاذ کا نتیجہ ہے۔
طرے کی نوعیت یہ ہے کہ برسر اقتدار پارٹی (پیپلز پارٹی) جو سرحد و بلوچستان محروم ہے۔ اپنی مدمقابل سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کو عالمی پس منظر میں آلہ کار ٹھہراتی اور اس کی طاقت کو سبوتاژ کر کے سیاسی ت پیدا کر رہی ہے۔ ادھر اس الزام کی نیپ کے حلقے تردید کرتے ہیں۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبارات وغیرہ) پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں ہیں۔ اس پنجاب بڑی حد تک نیپ کو پیپلز پارٹی کے الفاظ میں پاکستان دشمن کہتے با کہنا اپنی حب الوطنی کا روز مرہ خیال کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے شہ ١
دماغوں کا اصل نزلہ خان عبدالولی خان پر گرتا ہے۔ جن کا جرم تو یہ ہے کہ وہ صدر بھٹو کی مخالفت میں شروع دن سے ثابت قدم ہیں۔ لیکن ان کے خلاف فرد جرم یہ ہے کہ وہ خان عبدالغفار خان کے فرزند ہیں اور خان عبدالغفار خان سرحدی گاندھی ہیں اور آزادی کے آخری لمحہ تک انڈین نیشنل کانگریس کے زعماء میں سے تھے، وغیرہ۔
پاکستان پیپلز پارٹی اور نیشنل عوامی پارٹی کی مخاصمت کا نقطہ عروج یہ ہے کہ اول الذکر نے مرکزی اقتدار کے بل پر مؤخر الذکر کی سرحد و بلوچستان میں وزارتیں برخاست کر کے سرحد کو طالع آزماؤں کے سپرد کر دیا اور بلوچستان جو اس وقت عالمی سیاست کے نزدیک اپنے معدنی خزائن اور جغرافیائی سواحل کی وجہ سے غایت درجہ اہمیت کا علاقہ ہے۔ نواب محمد اکبر بگٹی کی گورنری کو سونپ دیا ہے۔ بگٹی پنجاب سے اس حد تک بیزار تھے کہ ان کے نزدیک بھارت کے ہاتھوں پنجاب کی شکست ہی میں مغربی پاکستان یا موجودہ پاکستان کی آزادی کا انحصار تھا اور وہ اپنے ان خیالات کو کبھی چھپاتے نہیں تھے۔
پنجاب و سرحد میں ہمہ وجوہ پیپلز پارٹی کی عوامی طاقت میں حیرت انگیز کمی ہوگئی ہے۔ اب اس کی طاقت کا نام صرف حکومت ہے۔ ایک دوسری حقیقت جو اس بحث میں قابل ذکر ہے وہ پڑھے لکھے طبقے بالخصوص اسلامی ذہن پر پیپلز پارٹی کے مخالف عناصر کا رسوخ ہے اور یہ رسوخ شروع دن سے ہے۔ صدر بھٹو کسی وجہ سے بھی اس ذہن اور اس طبقے کو کبھی متاثر نہیں کر سکے۔ یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ پیپلز پارٹی اقتدار کے بعد اپنے سیاسی تلون اور واضح غلطیوں کے باعث مقبولیت عامہ کے اعتبار سے روز بروز ماند پڑ رہی ہے۔
ملک کی عمومی فطرت کے مطابق بعض خاص عناصر جو صرف اقتدار کے لئے جیتے اور اقتدار ہی کے رہتے ہیں۔ صدر بھٹو کو مختلف واسطوں سے شکست دینے کے خواہاں ہیں۔ ان کے سامنے حصول اقتدار کے لئے ہر نظریہ صحیح ہے۔ ویسے وہ کبھی کسی نظریہ کے نہیں رہے۔ ان کا نظریہ ان کی اپنی ذات ہے۔ اس بوقلمونی نے ملک میں عجیب و غریب صورت حالات پیدا کر دی ہے۔ ایک لحاظ سے ہم اس صورتحال کو ذہنی خانہ جنگی کا نام دے سکتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اس صورتحال کو ہم ان الفاظ میں مختصر کر سکتے ہیں کہ جانبین اپنے اپنے دوائر میں ملک کے تشتت و انتشار کی پروا کئے بغیر (غیر ارادی طور پر ہی سہی) پاکستان کو ایک ایسے موڑ پر لے آئے ہیں جہاں پاکستان کی نظریاتی بنیادیں ٹوٹ رہیں اور اس کا سیاسی استحکام روز بروز کمزور پڑ رہا ہے۔ جس سے عالمی طاقتوں کی سیاسی خواہشوں کو آب و دانہ مل رہا ہے۔ ٢
خارجی خطرہ عوام محسوس کر رہی ہے اور خواص کو معلوم ہو چکا ہے۔ اس کا پس منظر مختصراً یہ ہے کہ:
- ١...... بھارت نے برطانوی اقتدار کی رخصتی کے وقت پاکستان کو سیاستاً قبول کیا
تھا۔ لیکن ذہناً کبھی قبول نہیں کیا۔
- ٢...... پاکستان کو مٹانے اور جھکانے کا خیال بھارت نے شروع دن سے ترک
نہیں کیا۔ ابتداً پاکستان کے روپے کی روک، مہاجرین کا بے تحاشہ بوجھ، حیدرآباد کا سقوط، کشمیر پر قبضہ، لیاقت نہرو معاہدے سے انحراف، لیاقت علی کا قتل، ناظم الدین کی سبکدوشی، محمد علی بوگرہ کی درآمد، سکندر مرزا کی آئین کشی، ایوب خان کا مارشل لاء، ١٩٦٥ء کی جنگ، ایوب خان کے اقتدار کا خاتمہ، مشرقی پاکستان کی بدامنی، یحییٰ خان کا اقتدار اور ڈھاکہ کا سقوط۔
ان سب چیزوں میں بھارت برابر کا شریک رہا۔ کسی میں بلواسطہ اور کسی میں بلاواسطہ۔ مثلاً لیاقت علی کے سانحہ قتل میں ہندوستان شریک نہیں تھا مگر عالمی طاقتیں پاکستان کو جس نہج پر لانا چاہتی تھیں فی الجملہ ہندوستان کسی نہ کسی طرح ان منفی خواہشوں میں شریک تھا۔ بالفاظ دیگر پاکستان کے معاملہ میں عالمی طاقتوں کے سیاسی نقشے ہندوستان کی مشاورت سے تیار ہوتے رہے اور اب بھی ہندوستان ان نقشوں کے خاکے تیار کرنے میں جزواً یا سالماً حصہ دار ہے۔
- ٣...... عالم اشتراکیت میں روس اور چین کی آویزش سے امریکہ اور روس میں خود
بخود ایک ذہنی سمجھوتہ (گو اس کی بنیاد میں دوستانہ خیر خواہی نہ تھی) ہو گیا۔ امریکہ کے لئے اطمینان کا پہلو یہ تھا کہ روس اور چین میں ٹھن جانے سے اشتراکیت مغرب سے عملاً دستکش ہو جاتی اور اپنی ایک ہم عقیدہ ریاست (چین) سے متصادم ہو کر نہ صرف متحدہ طاقت کی حیثیت سے تقسیم ہو جائے گی۔ بلکہ عالمی سیاست کا نقشہ ہی پلٹ جائے گا۔ روس نے غنیمت سمجھا کہ اس طرح وہ ایشیاء اور افریقہ میں اپنا اثر بڑھا سکے گا۔ عرب دنیا اس کی مٹھی میں ہوگی اور گرم پانی کے جن سمندروں اور کناروں کی اس کو تلاش ہے ان کا راستہ مل جائے گا۔ مرو (روس کی حد) سے لے کر بلوچستان میں جیوانی تک ایران و افغانستان کی سرحدوں کے بیچوں بیچ زمین کی ایک پٹی اس کے ہاتھ آجائے گی جو اقتصادی اعتبار سے ایک عالمی طاقت بننے کے لئے اشد ضروری ہے۔
چین اور ہندوستان کی آویزش جو اس عالمی تصادم ہی کا ایک پارٹ ہے روس اور امریکہ کی ان خواہشوں کے عین مطابق ہے۔ ہندوستان اشتراکی ہو جائے تو ٥٥ کروڑ چینیوں کے بعد ٥٠ کروڑ کا ملک سوشلزم کی گود میں چلا جاتا ہے۔ پھر سامراج کے لئے ایشیا میں کوئی جگہ نہیں
٣
رہتی۔ چین کا طوفان اسی طرح روکا جا سکتا ہے کہ ہندوستان ...... اشتراکی نہ ہو اور چین سے ان کی ٹھنی رہے۔ تا کہ محاذ سیدھا عالمی طاقتوں کی طرف منتقل نہ ہو۔ ہندوستان نے روس اور امریکہ سے ہمیشہ یہی کہا کہ مضبوط ہندوستان چین کا مقابلہ اسی صورت میں کر سکتا ہے جب اس کے دو شانوں پر موجود پاکستان اس کے لئے خطرہ نہ ہو یا نہ رہے۔
یہ تھا پاکستان سے امریکہ کی دغا اور روس کی دخل اندازی کا نقطۂ آغاز۔ امریکہ نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو مشترکہ دفاع پر زور دیا۔ لیکن تب عوام کی ذہنی فضاء اور بھارت سے مسلسل آویزش کے باعث ممکن نہ تھا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس پر راضی (اس کی بعض دوسری تفصیلات بھی ہیں ) نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ:
- الف ...... امریکہ کے رسوائے عالم ادارہ سی آئی اے نے پاکستان میں قدم جمانے
شروع کئے۔ (اس کی محیر العقول تفصیلات ہیں۔ افسوس کہ اس مقالہ کا موضوع نہیں اور یوں بھی وہ تفصیلات ایک جامع کتاب کا مضمون ہیں )
- ب ...... سی آئی اے کے ایک سفارتی اہلکار نے سب سے پہلے فوج میں نقب لگانی
چاہی۔ لیکن ایک بریگیڈیر سے جو اس اہلکار کا جگری دوست تھا جب ٹکا سا جواب پایا (راقم کی مصدقہ معلومات کے مطابق اس نے پینٹ کھول کر جواب عرض کیا ) تو سی آئی اے نے سی ایس پی کے افسروں کو اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے تلاش کیا۔
- ج ...... مرکزی انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کو سی آئی اے کے اس اہلکار
سے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ مغربی پاکستان کے تمام تھانوں کی عوامی طاقت بندوقوں کی تعداد اور ان کے ساختہ سنین سے واقف تھا اور اسے ایک عوامی انقلاب کی شکل میں ان کی اجتماعی کارکردگی کا اندازہ تھا۔
- د ...... مرکزی انٹیلی جنس بیورو نے صدر ایوب کو پشاور میں ہاشم کی فائرنگ سے
قبل از وقت آگاہ کر دیا تھا کہ صورتحال اس طرح بنائی جا رہی ہے۔ (ضروری نہیں کہ ہاشم بھی اس سے آگاہ ہو۔ راقم )
- ر ...... اس فائرنگ کے بعد راولپنڈی چھاؤنی سے دس پندرہ میل آگے (قصبہ کا
نام یاد نہیں آ رہا سرکاری رپورٹوں میں محفوظ ہو گا ) پشاور تک مختلف دیہات کے لوگ بغاوت کے انداز میں سڑکوں پر آ گئے۔ لیکن مسٹر الطاف گوہر یا مسٹر این اے رضوی کی کار روکنے کے سوا کوئی اجتماعی مظاہرہ کسی نتیجہ کے ساتھ نہ ہو سکا۔ خبر نہ راہیاب ہوئی۔
٤
- ٣...... ١٩٦٥ء کی جنگ میں بھارت کی محرومی نے عالمی طاقتوں کو پاکستان سے
متعلق ایک دوسری سوچ اور اس کے عمل میں ڈال دیا۔ وہ سوچ اور عمل تھا۔
- الف...... اگرتلہ سازش۔
- ب...... چھ نکات۔
- ج...... مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کا منصوبہ اور تحریک۔
- ٤...... ١٩٦٩ء کی عوامی تحریک صدر ایوب کی گول میز کانفرنس پر ختم ہو گئی اور ملک
اس انقلاب کے ہاتھوں نکل گیا۔ جو عالمی طاقتوں کی اسکیم کے مطابق تھا۔ لیکن یحییٰ خان نے جو اس وقت کمانڈر انچیف تھا اپنے سیاسی رفقاء کی معرفت اس کانفرنس کے نتائج کا بھرکس نکال دیا۔ نتیجتاً مارشل لاء آگیا۔
- ٥...... یحییٰ خان کیا تھا؟ یہ راز ابھی تک سربستہ ہے۔ لیکن اس کے برسراقتدار
آنے سے سی آئی اے سرگرم ہوگئی۔ مشرقی پاکستان کی سیاست تین حصوں میں بٹ گئی اور تین طاقتوں نے اپنی سیاست کی بساط وہاں بچھا دی۔ روس، امریکہ، چین۔ مولانا بھاشانی چین کے لئے مفید نہ ہو سکے۔ مجیب ابتداً امریکہ کے بال و پر لے کر چلا تھا۔ اب روس کی سیاست بھی اس کے ساتھ ہوگئی کہ وہ چین کا حریف تھا۔
مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستان سے کٹ کے بنگلہ دیش ہونا محض شیخ مجیب الرحمان کے چھ نکات کا نتیجہ نہ تھا بلکہ مغربی پاکستان کے حکمران اور ان کے دست پناہ سیاستدان اس نتیجہ کے لئے خود زمین تیار کر رہے تھے اور وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہی سے اپنے مقتدر اعلیٰ ہونے کے خواب کی تعبیر پاسکتے تھے اور وہی ہوا۔
جس نقاب پوش جماعت نے اس مہم میں عالمی استعمار کے بلاواسطہ مہرے کی حیثیت سے حصہ لیا اس کی تفصیلات ذرا طویل ہیں اور آگے چل کر ان کا بڑا حصہ بیان ہوگا۔ یاد رکھنے کی چیز یہ ہے کہ مشرقی پاکستان صرف اس لئے پاکستان سے الگ کرایا گیا اور علیحدہ کیا گیا کہ عالمی طاقتیں ہندوستان کی خواہش کو پروان چڑھا کر اپنا راستہ بنا رہی تھیں اور مغربی پاکستان کے حکمران و سیاست دان (جو بھی تھے یا ہیں) اپنے اقتدار کا راستہ صاف کر رہے تھے۔
- ٧...... سی آئی اے کسی ملک یا قوم میں اپنے مقاصد کے لئے کسی ایک کو آلہ کار یا
گماشتہ نہیں بناتی۔ وہ بیک وقت کئی افراد سے کام لیتی اور وہ افراد ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں۔ انہیں بسا اوقات یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ایک ہی ایجنسی کے فرستادہ ہیں۔
٥
- ٨...... مغربی پاکستان، صرف پاکستان ہو کر رہ گیا۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں ایک
جماعت یا ایک فرد کا مالک و مختار ہونا مشکل ہے۔ کئی چہرے اور بھی ہیں۔ اس بوقلمونی کا نتیجہ ہے کہ:
- الف....... مغربی پاکستان عالمی طاقتوں کی متحارب خواہشوں کے نرغہ میں ہے۔
- ب....... پختونستان، بلوچستان اور کسی پیمانہ پر سندھو دیش کا تصور آب و دانہ حاصل
کرنے کی فکر میں ہیں۔
یہ وہ چیزیں ہیں جو حکمرانوں سے لے کر سیاست دانوں کے حلقے میں ہر روز گفتگو کے پیچ وخم میں زیر بحث آتی ہیں۔ ”ایسا ہو سکتا ہے یا ایسا کبھی ہوگا“ کی بحث سے قطع نظر جو چیز بھی ہے وہی خارجی خطرہ ہے اور اس کے بال و پر ملک کی سیاسی فضاء میں توانائی حاصل کر رہے ہیں۔
اس داخلی وخارجی خطرے نے پاکستان کے لئے موت وحیات کا سوال پیدا کر دیا ہے۔ حزب اقتدار، حزب اختلاف کے پیچھے پڑی ہوئی ہے کہ وہ اس کی طاقت چھیننا یا بانٹنا چاہتی ہے۔ ادھر حزب اختلاف نے حزب اقتدار کو پچھاڑنا یا بچھاڑنا اپنا مطمع نظر بنالیا ہے۔ لیکن اصل خطرہ اور اس کے پس منظر پر کسی کی نگاہ نہیں اور اگر کسی کی نگاہ اس طرف جاتی ہے تو محاسبہ نہیں ہو رہا اور نہ کوئی اس خطرہ کے تعاقب کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔
اس معلوم حقیقت کے بعد کہ عالمی استعمار باقی ماندہ پاکستان کے حصے بخرے کرنے پر تلا ہوا ہے۔ سوال ہے وہ کون سی جماعت ہے جو اس سطح پر عالمی استعمار کی آلہ کار ہے۔ ظاہر ہے وہ کوئی ایسی جماعت ہو سکتی ہے جس کی تاریخی خصوصیت پر عالمی استعمار کو بھروسہ ہو اور وہ ہیں احمدی ..... قادیانی۔
جب کبھی قادیانی امت کا احتساب کیا گیا گو اس احتساب کی عمر بہت تھوڑی ہے۔ لیکن خود قادیانی مذہب کی عمر بھی زیادہ نہیں۔ مرزا قادیانی نے ١٨٩١ء میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر ١٩٠١ء میں اپنے نبی ہونے کا اعلان فرمایا۔ گویا ١٩٧٤ء میں ان کی نبوت کے ٨٣ سال ہوتے ہیں تو اس امت نے اپنے اقلیت ہونے کی پناہ لی اور واویلا کیا کہ اسے سواد اعظم ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ ہندوستان میں برطانوی عملداری تک تو قادیانی اپنے لئے کوئی خطرہ محسوس نہ کرتے تھے۔ انھیں مرزا قادیانی کے الہام کی رو سے اپنے خودکاشتہ پودا ہونے کا احساس تھا اور وہ جانتے تھے کہ جس استعمار نے انھیں پیدا کیا وہی ان کا محافظ و پشتیبان ہے۔ پاکستان بنا تو وہ کوئی اہم اقلیت نہ تھے۔ اہم عنصر ضرور تھے۔ انہوں نے اولاً ہندوستان میں رہنے کی بہترین کوشش کی۔ ریڈکلف کو اپنا
٢
الگ میمورنڈم دیا۔ سرظفر اللہ خان نے پاکستان کی سرحدی ترجمانی کے علاوہ اس یادداشت کی ترجمانی کی۔ جب اس طرح بات نہ بنی تو وہ قادیان میں تین سو تیرہ درویشوں کو چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ پاکستان میں سر ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ ان کے لئے ایک سہارا ہو گئی۔ جن لوگوں کو سیاسی اقتدار منتقل ہوا تھا وہ قادیانیت کے مذہبی پہلو سے ناواقف تھے۔ ان کا خیال تھا کہ قادیانی ان کے لئے کسی خطرے کا باعث نہیں ہو سکتے۔ بلکہ حکومت سے وفاداری ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ جب پاکستان کی سیاست خواجہ ناظم الدین جیسے بزرگوں کے ہاتھ میں آگئی اور ان کی کابینہ میں وہ لوگ شامل ہو گئے جو سیاسی نہ تھے۔ بلکہ برطانوی عملداری کے دنوں سے ملازم چلے آ رہے تھے تو قادیانیت اور محفوظ ہو گئی۔ ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا نے اس کو مزید تحفظ دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ قادیانی پاکستان جیسے مذہبی ملک میں ایک ایسی اقلیت ہیں کہ ان کے خلاف کسی سازش یا منصوبہ میں شریک نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ان پر مفید ترین کے شخصی و حزبی تحفظ کا بار ڈالا جا سکتا اور سیاسۃً اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس عام مسلمانوں کا اجتماعی مزاج یہ تھا کہ وہ کسی حالت میں بھی مرزائیت کے ساتھ مصالحت کے لئے تیار نہ تھے۔ غرض پانچ سال کے اندر اندر ١٩٥٣ء کی تحریک نے قادیانیت کو معنوی اعتبار سے تلپٹ کر دیا۔ مرزائی تبلیغ کے دروازے بند ہو گئے۔ وہ نقاب اتر گئی جو ان کے سیاسی منصوبوں پر مذہب کا پردہ بنی ہوئی تھی۔ بظاہر مرزا ناصر احمد نے ابھی (الفضل ١٣ مئی ١٩٧٤ء) دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا میں ایک کروڑ ہیں اور پاکستان میں چالیس لاکھ۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مرزائی نہ ایک کروڑ ہیں نہ ٤٠ لاکھ۔ اگر وہ پاکستان میں اس قدر ہیں تو حکومت سے اپنی گنتی کرا لینے کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ اور مردم شماری سے گریزاں کیوں ہیں؟
قادیانی امت کا تعاقب پہلی جنگ ١٩١٤-١٨ء کے اختتام تک مذہبی محاذ پر حد درجہ محدود تھا۔ پھر ١٩٣٢ء تک محاسبہ مذہبی حدود میں پھیلتا گیا۔ چودھری افضل حق علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے ان کی سیاسی روح کا جائزہ لیا۔ علامہ اقبالؒ نے (١٩٣٥ء) پنڈت جواہر لال نہرو کے جواب میں مضمون لکھ کر مرزائیت کو اس طرح بے نقاب کیا کہ مسلمانوں میں سیاسی طور پر یہ ذہنی فضا پیدا ہو گئی کہ مرزائیوں سے دوستانہ ہاتھ بڑھانے والا اونچا طبقہ جس کی ذہنیت مغربی افکار کی آزادی سے مرعوب تھی۔ مرزائیت سے چوکنا ہو گیا اور مسلمانوں کے عمرانی، سیاسی، تہذیبی، تعلیمی ادارے بڑی حد تک ان کے لئے بند ہو گئے۔ اس کے بعد وہ مسلمانوں سے مخاطبت کا حوصلہ نہ رکھتے تھے۔ سر ظفر اللہ خان نے پاکستان بن جانے کے بعد خواجہ ناظم الدین
کی مرضی کے خلاف کراچی میں ا۔ لاکر ایک دم بھاگ گئے۔
قادیانی بحیثیت جماعت لیکن مرزا بشیر الدین محمود (خلیفہ ثا تھے چونکہ ان کی جماعت تحریک پاکس ہو چکے ہیں۔ اب اگر قادیانی اقتدا والا کوئی نہیں ہوگا۔ بلوچستان کو احم لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کا مشترکہ مرزائی چاروں شانے چت ہو کر الاقوامی بساط پر استعماری مہرہ سامراجی مقاصد کی آبیاری کرتا
قادیانی ہمیشہ سے، واسطے سے مارنا چاہتے اور ان کی عام دنیا بالخصوص مغربی دنیا میں کر رہے اور ان کے خطرہ کی گھنٹ ان ممالک میں ان کے تبلیغی مش ظفر اللہ خان جیسی کوئی استعمار سمجھانے کا سوچا ہے۔
پاکستان میں مسل نہ ہو جائے وہ اس کا نوٹس لیں ہے خود اسلام کے حریف کو ا الٹا یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر ہے۔ مرزائی امت کے شا ایک مذہبی امت بن کر اپنے امت کے افراد کو اپنے محا
کی مرضی کے خلاف کراچی میں اپنے جلسہ عام کو خطاب کرنا چاہا۔ لیکن عوامی احتجاج کی تاب نہ لاکر ایک دم بھاگ گئے۔
قادیانی بحیثیت جماعت پاکستان آ کر اپنے مستقبل کے بارے میں متذبذب تھے۔ لیکن مرزا بشیر الدین محمود (خلیفہ ثانی) اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ جو عناصر قادیانیت کے مخالف تھے چونکہ ان کی جماعت تحریک پاکستان میں شامل نہیں ہوئی۔ لہٰذا وہ پاکستان کے عوام میں متروک ہو چکے ہیں۔ اب اگر قادیانی اقتدار کی طرف قدم اٹھائیں یا تبلیغ کے لئے بڑھیں تو انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا اعلان مرزا محمود کی اس غلط فہمی ہی کا نتیجہ تھا۔ لیکن مجلس تحفظ ختم نبوت کا مشترکہ محاذ کہہ لیجئے یا احرار ہی کے ذمہ لگا دیجئے۔ بہر حال ١٩٥٣ء میں مرزائی چاروں شانے چت ہو کر رہ گئے۔ تب سے ان کی حیثیت ایک ایسے طائفہ کی ہے جو بین الاقوامی بساط پر استعماری مہرے کی حیثیت سے کام کرتا اور پاکستان میں عالمی طاقتوں کے سامراجی مقاصد کی آبیاری کرتا ہے۔
قادیانی ہمیشہ سے یہ تاثر دیتے چلے آ رہے ہیں کہ انہیں ملاّ قسم کے لوگ مذہب کے واسطے سے مارنا چاہتے اور ان کی مٹھی بھر اقلیت کی جان، مال اور آبرو کے دشمن ہیں۔ اس تاثر کے عام دنیا بالخصوص مغربی دنیا میں پھیل جانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جو لوگ ان کا محاسبہ کر رہے اور ان کے خطرہ کی گھنٹی بجاتے ہیں وہ اکثر و بیشتر نہ تو یورپ کی زبانوں سے واقف ہیں نہ ان ممالک میں ان کے تبلیغی مشن ہیں اور نہ ان کے پاس مغربی دنیا سے بات چیت کرنے کے لئے ظفر اللہ خان جیسی کوئی استعماری شخصیت ہے اور نہ انہوں نے کبھی مغرب کے لوگوں کو قادیانی مسئلہ سمجھانے کا سوچا ہے۔
پاکستان میں مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ جب تک کوئی خطرہ ان کے سر پر آ کر مسلط نہ ہو جائے وہ اس کا نوٹس نہیں لیتے۔ پھر اسلام کے نام پر جتنی عریاں گالی سیاسی حریف کو دی جاتی ہے خود اسلام کے حریف کو اس طرح چتھاڑا نہیں جاتا۔ بلکہ سرے سے باز پرس ہی نہیں کی جاتی۔ المیہ یہ ہے کہ خاموشی اختیار کر لی جاتی اور خاموشی اختیار کرنے پر زور دیا جاتا ہے کہ فرقہ وارانہ مسئلہ ہے۔ مرزائی امت کے شاطرین حد درجہ عیار ہیں۔ کوئی شخص اس پر غور نہیں کرتا کہ جب قادیانی ایک مذہبی امت بن کر اپنے سیاسی اقتدار کے لئے سعی و سازش کرتے ہیں تو وہ انہی بنیادوں پر اس امت کے افراد کو اپنے محاسبہ کا حق کیوں نہیں دیتے؟ جس امت میں نقب لگا کر انہوں نے اپنی
٨
جماعت بنائی ہے۔ عجیب بات ہے کہ قادیانی امت کا مذہبی محاسبہ کیا جائے تو وہ سیاسی پناہ تلاش کرتے ہیں۔ سیاسی محاسبہ کریں تو وہ مذہبی اقلیت ہونے کا تحفظ چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ مذاق ناروا ہے کہ ایک ایسی جماعت جو اس کے وجود کو قطع کر کے تیار ہوئی ہے وہ اصل وجود کو اپنے اعضاء و جوارح کی حفاظت کا حق دینا نہیں چاہتی اور جو عارضہ ان کو قادیانی سرطان کی شکل میں مار دینا چاہتا ہے اس کے علاج سے روکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں سے اپنے الگ ہونے کا اعلان سب سے پہلے خود قادیانیوں نے کیا۔ مرزا غلام احمد کو نہ ماننے والے کافر قرار دیئے گئے۔ ان کے بچوں، عورتوں، معصوموں اور بوڑھوں کا جنازہ پڑھنے سے روک دیا گیا۔ انہیں زانیہ عورتوں کی اولاد، کتوں کے بچے اور ولد الزنا تک کہا گیا۔ مسلمانوں نے تو اس سے بہت دیر بعد محاسبہ شروع کیا اور انہیں اپنے سے خارج قرار دیا۔ جب مرزائی خود مسلمانوں سے الگ امت کہلاتے ہیں تو پھر انہیں مسلمانوں میں شامل رہنے پر اس وقت اصرار کیوں ہوتا ہے۔ جب مسلمان ان کے الگ کر دینے کا مطالبہ کرتے اور انہیں اقلیت قرار دیتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ قادیانی مذہبی اور معاشرتی طور پر عقیدۃً مسلمانوں سے الگ رہتے۔ لیکن سیاستاً ان کا پنڈ نہیں چھوڑتے۔ اس کی واحد وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس طرح وہ مسلمانوں کے حقوق و مناصب پر ہاتھ صاف کرتے اور ان کی ریاست پر حکمران ہونا چاہتے ہیں یا پھر انہیں مٹا کر اپنا سیاسی نقشہ مرتب کرنے کی جدوجہد میں ہیں۔
ایک خطرناک صورتحال جو ہمارے ہاں پیدا ہو چکی ہے یہ ہے کہ ہمارے مغرب زدہ طبقے نے جس کے متعلق علامہ اقبالؒ نے سید سلیمان ندوی کو لکھا تھا کہ میں ڈکٹیٹر بن جاؤں تو سب سے پہلے اس طبقہ کو ہلاک کردوں۔ ابھی تک نہ قادیانی مذہب کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ وہ خود مذہب سے بیگانہ ہو رہا ہے اور نہ وہ قادیانی امت کے سیاسی عزائم کی مضرتوں سے آگاہ ہے۔ وہ یہی سمجھتا ہے کہ ایک چھوٹی سی اقلیت کو مسلمانوں کے کٹ ملاّ تنگ کر رہے ہیں۔ وہ ان کی بڑھی داڑھی دیکھ کر اور ان کے تبلیغی اداروں کی روداد سن کر انہیں مسلمان سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کے اپنے ظاہری و باطنی وجود سے اسلام خارج ہو چکا ہے۔
ان لوگوں سے بجا طور پر سوال کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان ایک وحدت کا نام ہیں اور یہ وحدت ختم نبوت کے تصور سے استوار ہوئی ہے۔ اگر کوئی اس وحدت کو توڑتا ہے اور ختم نبوت کی مرکزیت کو ظلی و بروزی کی آڑ میں اپنی طرف منتقل کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کا وجود خطرناک نہیں۔
٩
ہے۔ عجیب بات ہے کہ قادیانی امت کا مذہبی محاسبہ کیا جائے تو وہ سیاسی پناہ تلاش ہی محاسبہ کریں تو وہ مذہبی اقلیت ہونے کا تحفظ چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ کہ ایک ایسی جماعت جو اس کے وجود کو قطع کر کے تیار ہوئی ہے وہ اصل وجود کو رح کی حفاظت کا حق دینا نہیں چاہتی اور جو عارضہ ان کو قادیانی سرطان کی شکل ہے اس کے علاج سے روکتی ہے۔
ت یہ ہے کہ مسلمانوں سے اپنے الگ ہونے کا اعلان سب سے پہلے خود ۔ مرزا غلام احمد کو نہ ماننے والے کافر قرار دیئے گئے۔ ان کے بچوں، عورتوں، عوں کا جنازہ پڑھنے سے روک دیا گیا۔ انہیں زانیہ عورتوں کی اولاد، کتیوں کے ب کہا گیا۔ مسلمانوں نے تو اس سے بہت دیر بعد محاسبہ شروع کیا اور انہیں اپنے ۔ جب مرزائی خود مسلمانوں سے الگ امت کہلاتے ہیں تو پھر انہیں مسلمانوں اس وقت اصرار کیوں ہوتا ہے۔ جب مسلمان ان کے الگ کر دینے کا مطالبہ قلیت قرار دیتے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ قادیانی مذہبی اور معاشرتی طور پر عقیدۂ رہتے۔ لیکن سیاسۃً ان کا پنڈ نہیں چھوڑتے۔ اس کی واحد وجہ اس کے سوا کچھ ہ مسلمانوں کے حقوق و مناصب پر ہاتھ صاف کرتے اور ان کی ریاست پر ہیں یا پھر انہیں مٹا کر اپنا سیاسی نقشہ مرتب کرنے کی جدوجہد میں ہیں۔
مناک صورتحال جو ہمارے ہاں پیدا ہو چکی ہے یہ ہے کہ ہمارے مغرب زدہ لق علامہ اقبالؒ نے سید سلیمان ندوی کو لکھا تھا کہ میں ڈکٹیٹر بن جاؤں تو سب اک کر دوں۔ ابھی تک نہ قادیانی مذہب کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ وہ ہو رہا ہے اور نہ وہ قادیانی امت کے سیاسی عزائم کی مضرتوں سے آگاہ ہے۔ ب چھوٹی سی اقلیت کو مسلمانوں کے کٹ ملا تنگ کر رہے ہیں۔ وہ ان کی چنگی کے تبلیغی اداروں کی روداد سن کر انہیں مسلمان سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کے اپنے سے اسلام خارج ہو چکا ہے۔
اسے بجاطور پر سوال کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان ایک وحدت کا نام ہیں اور یہ شعور سے استوار ہوئی ہے۔ اگر کوئی اس وحدت کو توڑتا ہے اور ختم نبوت کی ت کی آڑ میں اپنی طرف منتقل کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کا وجود خطرناک نہیں۔
٩
باغی کون ہے؟ وہ یا محاسب؟ کیا اپنی قومی سرحدوں کی حفاظت کرنا جرم ہے یا مذہبی جارحیت؟ بعض لوگ رواداری کا سبق دیتے ہیں۔ لیکن وہ رواداری کے معنی نہیں جانتے اگر رواداری کے معنی غیرت، حمیت، عقیدے، مسلک اور اپنے شخصی یا اجتماعی وجود سے دستبردار ہو جانے کے ہیں تو یہ معنی کہاں ہیں؟ اور کس تحریک داعی، پیغمبر اور نظام نے بتلائے ہیں۔ قادیانیوں کے باب میں مسلمانوں کا معاملہ ذاتی نہیں اجتماعی ہے اور اس کے عناصر اربعہ میں غیرت وحمیت، عقیدہ ومسلک شامل ہیں۔
مسلمانوں کا مطالبہ کیا ہے؟ صرف اتنا کہ قادیانی جب مسلمانوں سے الگ ہیں تو وہ مسلمانوں میں رہتے کیوں ہیں؟ ہمارا اعتراض ان کے پاکستان میں رہنے پر نہیں۔ مسلمانوں میں رہنے پر ہے۔ وہ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں تو شوق سے رہیں۔ پھر اس کا فیصلہ وہ خود ہی کرلیں کہ مسلمانوں کے مسلمات کا استعمال ان کی ظلی نبوت اور علیحدہ اقلیت کے حسب حال ہوگا یا نہیں؟ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری تو نہیں ہوتی؟ یہ کہنا کہ پاکستان میں کوئی جماعت یا شخصیت ان کی جان، مال اور آبرو کی دشمن ہے اور انہیں معدوم کرنے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ جیسا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی اس سفارش پر کہ مرزائی خارج از اسلام اور علیحدہ اقلیت ہیں۔ مرزا ناصر نے واویلا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سر ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں اور وقت آنے پر دنیا دیکھ لے گی کہ جان کیونکر دی جاتی ہے۔ یہ محض ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ قسم کی اڑان گھاٹی ہے۔ پاکستان میں کوئی شخص نہ ان کی جان کا دشمن ہے نہ مال اور نہ آبرو کا۔ اس قسم کی باتیں صرف کمینہ لوگ کرتے اور کمینہ لوگ اچھالتے ہیں۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ قادیانی امت ہمارے مطالبہ سے قطع نظر خود اپنے پیغمبر اور خلیفہ کی ہدایت وروایت کے مطابق مسلمانوں سے الگ امت ہے تو پھر وہ سرکاری طور پر الگ کیوں نہیں ہو جاتی؟ اس طرح وہ محمد عربی ﷺ کی امت میں سے غلام احمد کی امت تیار کرنا چاہتی اور عالمی استعمار کے مہرے کی حیثیت سے مسلمانوں کی وحدت کو پاش پاش کر کے اپنے لئے ایک عجمی اسرائیل پیدا کرنے کی متمنی ہے۔
یہ غلط ہے کہ قادیانی مسئلہ (Sectarian) ہے۔ جیسا کہ پاکستان کی حکومتیں اس غلط فہمی کا شکار رہی ہیں اور اب تک یہی سمجھتی ہیں۔ قادیانی مسئلہ اپنی پیدائش سے اب تک (Political) ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں نے اس کا نوٹس بہت دیر میں لیا اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی سیادت جس مغرب زدہ اور اقتضائے اسلام سے معریٰ طبقے کے ہاتھ میں رہی
١٠
ہے اس نے استعمار کی ہر ضرورت کا ساتھ دیا اور دین سے ہر بغاوت کو نظر انداز کیا ہے اور اس کے ذہن کا پورا کارخانہ ابھی تک اسی نہج پر قائم ہے۔ اگر قادیانی مسئلہ صرف مذہب کا ہوتا تو علماء کا تعاقب کافی تھا۔ قادیانی مسئلہ سیاسی مسئلہ ہے۔ جس نے بتدریج ایک ایسی شکل اختیار کر لی ہے کہ وہ باطنیت، اخوان الصفا اور بہائیوں کی طرح اپنی زمین پیدا کرنے میں منہمک ہے۔ اس کے سامنے معتزلہ کی تاریخ ہے۔ قادیانی جانتے ہیں کس طرح معتزلہ نے اقتدار حاصل کیا اور کیونکر باطنیہ نے فاطمیہ سلطنت قائم کی۔ وہ ان سب کے تاریخی تجربوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جدید سیاسی نہج پر اقتدار حاصل کرنا چاہتے اور اس زمانہ میں جب کہ انسان عالمی ہو گیا اور سیاست بین الاقوامی ہو گئی ہے۔ ایک دوسرے پر انحصار کے تحت مغربی استعمار کی بدولت پاکستان کو عجمی اسرائیل میں منتقل کرنا چاہتے اور افریقہ میں جزیرۃ العرب کے خلاف قادیانی اسلام کا استعماری سیل (Cell) بنانا چاہتے ہیں۔ قادیانیوں کا سیاسی روپ اسی صورت میں معلوم ہو سکتا اور سمجھ میں آسکتا ہے۔ جس صورت میں کہ ہم اس کے تاریخی ماخذ اور اس کی عمومی رفتار سے واقف ہوں۔
مرزا غلام احمد نے انگریزوں کی حمایت میں بہ قول خود پچاس الماریاں لکھیں اور ان کی وفاداری میں نہ صرف قرآن سے جہاد کو منسوخ کیا۔ بلکہ برطانیہ کے ہاتھوں اسلامی حکومتوں کی شکست و ریخت پر چراغاں کیا اور یہی قادیانی امت کی تخلیقی غایت تھی۔ اس غرض ہی سے قادیانی فرقہ وجود میں لایا گیا اور برطانوی استعمار نے گود میں لے کر جوان کیا۔
اس وقت میرے سامنے وہ کتاب نہیں، مصنف اور کتاب کا نام بھی یاد نہیں آ رہا۔ پاکستان کے ایک بڑے افسر عاریتاً لے گئے۔ پھر اپنی نظر بندی کے باعث میں ان سے کتاب واپس نہ لے سکا۔ اس کتاب میں احمدیت کی افریقہ میں تگ و دو کا جائزہ لیا گیا اور اس کے خط وخال بیان کئے گئے ہیں۔ یہ کتاب میری یاداشت کے مطابق کیمبرج کے ایک پروفیسر نے لکھی اور اس میں بعض عجیب و غریب باتیں تحریر کی ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ پادریوں کی ایک نمائندہ جماعت نے برطانوی وزراء خارجہ سے شکایت کی کہ افریقہ میں مسیحیت کی تبلیغ کے راستہ میں قادیانی مزاحم ہوتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ان قادیانیوں کے تمام مشن برطانوی مقبوضات ہی میں ہیں اور وزارت خارجہ ان کی محافظت کرتی ہے۔ وزارت خارجہ نے جواب دیا سلطنت کے مقاصد تبلیغ کے مقاصد سے مختلف ہیں۔ آپ ان کا مذہب کی صداقت سے مقابلہ کیجئے۔ سلطنت کی طاقت سے نہیں۔ امور سلطنت کے مضمرات مختلف ہیں۔ اس راز کی گرہ ایک برطانوی دستاویز ”دی
١١
مارکی ہر ضرورت کا ساتھ دیا اور دین سے ہر بغاوت کو نظر انداز کیا ہے اور اس کے اندر بھی تک اسی نہج پر قائم ہے۔ اگر قادیانی مسئلہ صرف مذہب کا ہوتا تو علماء کا قادیانی مسئلہ سیاسی مسئلہ ہے۔ جس نے بتدریج ایک ایسی شکل اختیار کر لی ہے کہ ن الصفا اور بھائیوں کی طرح اپنی زمین پیدا کرنے میں منہمک ہے۔ اس کے تاریخ ہے۔ قادیانی جانتے ہیں کس طرح معتزلہ نے اقتدار حاصل کیا اور کیونکر سلطنت قائم کی۔ وہ ان سب کے تاریخی تجربوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جدید سیاسی سا کرنا چاہتے اور اس زمانہ میں جب تک انسان عالمی ہو گیا اور سیاست بین ایک دوسرے پر انحصار کے تحت مغربی استعمار کی بدولت پاکستان کو عجمی اسرائیل ہتے اور افریقہ میں جزیرۃ العرب کے خلاف قادیانی اسلام کا استعماری سیل تے ہیں۔ قادیانیوں کا سیاسی روپ اسی صورت میں معلوم ہو سکتا اور سمجھ میں آسکتا میں کہ ہم اس کے تاریخی ماخذ اور اس کی عمومی رفتار سے واقف ہوں۔ ام احمد نے انگریزوں کی حمایت میں بہ قول خود پچاس الماریاں لکھیں اور ان کی ف قرآن سے جہاد کو منسوخ کیا۔ بلکہ برطانیہ کے ہاتھوں اسلامی حکومتوں کی بچاؤ میں کیا اور یہی قادیانی امت کی تخلیقی غایت تھی۔ اس غرض ہی سے قادیانی یا اور برطانوی استعمار نے گود میں لے کر جوان کیا۔ ت میرے سامنے وہ کتاب نہیں، مصنف اور کتاب کا نام بھی یاد نہیں آ رہا۔ ء سے افسر عاریتاً لے گئے۔ پھر اپنی نظر بندی کے باعث میں ان سے کتاب س کتاب میں احمدیت کی افریقہ میں تگ و دو کا جائزہ لیا گیا اور اس کے خط ہیں۔ یہ کتاب میری یاداشت کے مطابق کیمبرج کے ایک پروفیسر نے لکھی پ و فریب باتیں تحریر کی ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ پادریوں کی ایک نمائندہ جماعت خارجہ سے شکایت کی کہ افریقہ میں مسیحیت کی تبلیغ کے راستہ میں قادیانی مزاحم ہے کہ ان قادیانیوں کے تمام مشن برطانوی مقبوضات ہی میں ہیں اور محافظت کرتی ہے۔ وزارت خارجہ نے جواب دیا سلطنت کے مقاصد تبلیغ ہیں ۔ آپ ان کا مذہب کی صداقت سے مقابلہ کیجئے۔ سلطنت کی طاقت ت کے مضمرات مختلف ہیں۔ اس راز کی گرہ ایک برطانوی دستاویز ”دی ١١
ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ (برطانوی سلطنت کا ہندوستان میں ورود) سے کھلتی ہے۔ ١٨٦٩ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدیروں اور مسیحی راہنماؤں کا ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے کے لئے ہندوستان پہنچا کہ ہندوستانی باشندوں میں برطانوی سلطنت سے وفاداری کا بیج کیونکر بویا جاسکتا اور مسلمانوں کو رام کرنے کی صحیح ترکیب کیا ہو سکتی ہے؟ اس زمانہ میں جہاد کی رو مسلمانوں میں خون کی طرح دوڑ رہی تھی اور یہی انگریزوں کے لئے پریشانی کا سبب تھا۔ اس وفد نے ١٨٧٠ء میں دو رپورٹیں پیش کیں۔ ایک سیاست دانوں نے ایک پادریوں نے جو محولہ نام کے ساتھ یکجا شائع کی گئیں۔ اس مشترکہ رپورٹ میں درج ہے کہ: ”ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی راہنماؤں کی اندھا دھند پیروکار ہے۔ اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اپاسٹالک پرافٹ (حواری نبی) ہونے کا دعویٰ کرے تو بہت سے لوگ اس کے گرد اکھٹے ہو جائیں گے۔ لیکن مسلمانوں میں سے ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے۔ یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بہ طریق احسن پروان چڑھایا جا سکتا اور کام لیا جا سکتا ہے۔ اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اسی قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔“
مرزا غلام احمد اس برطانوی ضرورت ہی کی استعماری پیداوار تھے۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ناظم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ اس استعماری پیداوار کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی نے درحقیقت اسلام کے علمی و دینی ذخیرہ میں کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا۔ جس کے لئے اصلاح و تجدید کی تاریخ ان کی معترف اور مسلمانوں کی نسل جدید ان کی شکر گزار ہو۔ انہوں نے نہ کوئی دینی خدمت انجام دی۔ جس کا نفع دنیا کے سارے مسلمانوں کو پہنچے۔ نہ وقت کے جدید مسائل میں سے کسی مسئلہ کو حل کیا۔ نہ ان کی تحریک موجودہ انسانی تہذیب کے لئے سخت مشکلات اور موت وحیات کی کشمکش سے دوچار ہے۔ کوئی پیغام رکھتی نہ اس نے یورپ اور ہندوستان کے اندر تبلیغ و اشاعت کا کوئی کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس کی جدوجہد کا تمام تر میدان مسلمانوں کے اندر ہے اور اس کا نتیجہ ذہنی انتشار اور غیر ضروری کشمکش ہے۔ جو اس نے اسلامی معاشرے میں پیدا کر دی ہے۔ اسلام کی صحیح تعلیمات سے انحراف اور ان مخلصین و مجاہدین کی (جو ماضی قریب میں اس ملک میں پیدا ہوئے اور اسلام کے عروج اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لئے اپنا سب کچھ لٹا کر چلے گئے) ناقدری کی سزا خدا نے یہ دی۔ مسلمانوں پر ایک ذہنی طاعون کو مسلط ١٢
کردیا اور ایک ایسے شخص کو ان کے درمیان کھڑا کر دیا جو امت میں فساد کا مستقل بیج بو گیا ہے۔“
(قادیانیت از ابوالحسن علی ندوی ص ٢٢٤،٢٢٣)
مرزا غلام احمد قادیانی کی خصوصیت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ اس نے:
- ١....... مسلمانوں میں اپنی نبوت و مسیحیت کا ڈھونگ رچا کر انتشار، تقسیم، فساد پیدا کیا۔
- ٢....... جہاد کی قرآنی تعلیم کو منسوخ کیا۔
- ٣....... ہندوستانی اقوام میں باہمی فساد کی نیو اٹھائی۔
- ٤....... دینی لٹریچر میں سب و شتم کی بنیاد رکھی۔
- ٥....... برطانوی حکومت کی نسلاً بعد نسل وفاداری کو مذہبی عقیدہ کی الہامی سند مہیا کی۔
- ٦....... محمد عربی ﷺ کی امت میں سے اپنی امت پیدا کی۔ جس نے اپنے نہ
ماننے والوں کو کافر جان کر مسلمانان عالم کے ابتلاء و مصائب سے لا تعلقی اختیار کی۔ حتیٰ کہ ان کی شکست و ریخت پر خوشیاں منائیں اور برطانوی فتح و نصرت کو انعامات ایزدی قرار دیا۔
ان کے فرزند مرزا محمود احمد (خلیفہ ثانی) نے قادیانی امت کو برطانوی خواہشوں کے محور ومرکز پر منظم کیا اور اسے ایک ایسی سیاسی تحریک بنا دیا جو برطانوی استعمار کی خدمت گزار اور اپنے حزبی اقتدار کی طلب گار ہو گئی۔ خلیفہ محمود رحلت کر گئے تو ان کے بیٹے خلیفہ ثالث مرزا ناصر دادا کے مشن اور آپ کے منصوبے کو ایسی شکل دی کہ آج وہ سب کچھ پاکستان کے لئے ایک سیاسی خطرہ بن چکا ہے۔
خوف طوالت کے پیش نظر ان تفصیلات کا ذکر بے سود ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ١٨٥٧ء میں مسلمانان پنجاب کے خون سے ہولی کھیل کر انگریزی سرکار کی خوشنودی اور اعتماد حاصل کیا۔ ان کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر نے مشہور سفاک جنرل نکلسن کی فوج میں شامل ہو کر ٤٦ نیو انفنٹری کے باغیوں کو تریموں گھاٹ پر بھون ڈالا۔ ان باغیوں کو صرف گولی ہی سے نہیں اڑایا بلکہ ان کا مثلہ کیا۔ انہیں درختوں سے باندھ کر اعضاء قطع کئے۔ انہیں چتاؤں میں ڈالا۔ ان پر ہاتھی پھرائے۔ ان کی ٹانگیں چیر کر رقص بسمل کا تماشا دیکھا۔ پس منظر کے طور پر یہ جان لینا ضروری ہے کہ مرزائی امت کا اصل کردار کیا رہا اور اس نے تبلیغ کی آڑ میں برطانوی ملوکیت کے لئے کہاں کہاں جاسوسی کے فرائض انجام دیئے۔ بالخصوص مسلمان ملکوں میں ان کے وفود کا مقصد کیا تھا؟ کیا وہ مسلمانوں کو مسلمان بنانے کے لئے جزیرۃ العرب، افغانستان اور ترکی میں گئے تھے اور اب تک اسی لئے افریقہ و اسرائیل میں موجود ہیں۔
١٣
شخص کو ان کے درمیان کھڑا کر دیا جو امت میں فساد کا مستقل بیج بو گیا ہے۔“
(قادیانیت از ابوالحسن علی ندوی ص٢٢٣، ٢٢٤)
م احمد قادیانی کی خصوصیت اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ اس نے:
مسلمانوں میں اپنی نبوت ومسیحیت کا ڈھونگ رچا کر انتشار، تقسیم، فساد پیدا کیا۔
جہاد کی قرآنی تعلیم کو منسوخ کیا۔
ہندوستانی اقوام میں باہمی فساد کی نیو اٹھائی۔
دینی لٹریچر میں سب وشتم کی بنیاد رکھی۔
برطانوی حکومت کی نسلاً بعد نسل وفاداری کو مذہبی عقیدہ کی الہامی سند مہیا کی۔
محمد عربی ﷺ کی امت میں سے اپنی امت پیدا کی۔ جس نے اپنے نہ ن مسلمانان عالم کے ابتلاء ومصائب سے لاتعلقی اختیار کی۔حتیٰ کہ ان کی یاں منائیں اور برطانوی فتح ونصرت کو انعامات ایزدی قرار دیا۔
ند مرزا محمود احمد (خلیفہ ثانی) نے قادیانی امت کو برطانوی خواہشوں کے محور ایک ایسی سیاسی تحریک بنا دیا جو برطانوی استعمار کی خدمت گزار اور اپنے ہو گئی۔ خلیفہ محمود رحلت کر گئے تو ان کے بیٹے خلیفہ ثالث مرزا ناصر دادا کے بے کو ایسی شکل دی کہ آج وہ سب کچھ پاکستان کے لئے ایک سیاسی خطرہ
د کے پیش نظر ان تفصیلات کا ذکر بے سود ہوگا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ١٨٥٧ء میں مسلمانان پنجاب کے خون سے ہولی کھیل کر انگریزی سرکار صل کیا۔ ان کے بڑے بھائی مرزا غلام احمد نے مشہور سفاک جنرل نکلسن ٤٧ نیو انفنٹری کے باغیوں کو تریمو گھاٹ پر بھون ڈالا۔ ان باغیوں کو ڑایا بلکہ ان کا مثلہ کیا۔ انہیں درختوں سے باندھ کر اعضاء قطع کئے۔ ہا پر ہاتھی پھرائے۔ ان کی ٹانگیں چیر کر رقص بسمل کا تماشا دیکھا۔ پس منظر ری ہے کہ مرزائی امت کا اصل کردار کیا رہا اور اس نے تبلیغ کی آڑ میں ہاں کہاں جاسوسی کے فرائض انجام دیئے۔ بالخصوص مسلمان ملکوں میں کیا وہ مسلمانوں کو مسلمان بنانے کے لئے جزیرۃ العرب، افغانستان تک اس لئے افریقہ واسرائیل میں موجود ہیں۔
١٣
اسرائیل عربوں کے قلب میں ناسور ہے۔ تقریباً تمام مسلمان ریاستوں نے اس کا مقاطعہ کر رکھا ہے۔ پاکستانی مشن وہاں نہیں۔ لیکن قادیانی مشن وہاں ہے۔ سوال ہے وہ کس پر تبلیغ کرتا ہے۔ مسلمانوں پر یا یہودیوں پر۔ آج جو چند مسلمان اسرائیل میں رہ گئے ہیں وہ قادیانی مشن کے استحصال کی زد میں ہیں۔ غور کیجئے جس اسرائیل میں عیسائی مشن قائم نہیں ہو سکتا وہاں اسلام کے لئے قادیانی مشن لطیفہ نہیں تو کیا ہے؟ اس مشن سے جو کام لئے جا رہے ہیں وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ تمام عالم عربی میں اس کے خلاف احتجاج ہو چکا اور ہو رہا ہے۔ لیکن مشن جوں کا توں قائم ہے۔
- ١....... اس مشن کی معرفت عرب ریاستوں کی جاسوسی ہوتی ہے۔ اس مشن کی
وساطت سے حجاز واردن کی فضائیہ کے پاکستانی افسروں سے جو بعض دفعہ قادیانی بھی ہوتے ہیں۔ وہاں کے راز حاصل کئے جاتے اور اسرائیل کو پہنچائے جاتے ہیں۔
- ٢....... اس مشن کی معرفت اسرائیل کے بچے کھچے مسلمان عربوں کو عرب
ریاستوں کی جاسوسی کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔
- ٣....... اس مشن کی معرفت پاکستان کی اندرونی سیاست کے راز لئے جاتے اور
اسلام دوستوں سے متعلق مطلوبہ خبریں حاصل کی جاتی ہیں۔
- ٤....... اس مشن کی معرفت پاکستان میں عالمی استعمار اور یہودی استحصال کی
راہیں قائم کی جاتیں اور سیاسی نقشے درآمد ہوتے ہیں۔ خود صدر بھٹو پاکستان میں تل ابیب کی سیاسی مداخلت اور صہیونی سرمایہ کی زمانہ انتخاب میں آمد کا انکشاف کر چکے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تل ابیب کا سرمایہ پاکستان کے عام انتخابات میں مقامی مرزائیوں کی معرفت اسی مشن کی وساطت سے آیا تھا اور یحییٰ کے زمانہ میں اکثر وزراء نے خود راقم الحروف سے اس کی روایت کی تھی۔
- ٥....... پاکستان کو اس وقت جو خطرہ درپیش ہے اس میں قادیانی امت اور تل
ابیب کا گٹھ جوڑ عالمی استعمار کی مخفی خواہشوں کو معرض وجود میں لانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔
پاکستان میں اسلام کے خلاف ١٩٧٠ء کے جنرل الیکشن میں جو سب سے بڑی ذہنی بغاوت ہوئی اس کے منتظم قادیانی تھے۔ جو اسرائیل کے حسب ہدایت کام کر رہے تھے۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں کھلی حقیقت ہے اور پیش آمدہ واقعات کا تسلسل اس کی تصدیق کرتا ہے۔ پھر یہ کوئی نئی چیز نہیں قادیانی امت شروع ہی سے اس قسم کے مشن قائم کرنے کی عادی ہے۔ مثلاً مرزا محمود نے
١٤
شاہ سعود اور شریف مکہ کی آویزش کے زمانہ (١٩٢١ء) میں اپنے ایک مرید میر محمد سعید حیدرآبادی کو مکہ بھیجا۔ وہاں اس نے اونے پونے راز اڑائے اور آ گیا۔ اسی طرح ترکی میں دو قادیانی مصطفیٰ صغیر کی ٹیم کا رکن ہو کر گئے۔ ایک ثقہ روایت کے مطابق مصطفیٰ صغیر خود قادیانی تھا اور مصطفیٰ کمال کو قتل کرنے پر مامور ہوا تھا۔ لیکن قبل از اقدام پکڑا گیا اور موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
مرزا محمود احمد کے سالے میجر حبیب اللہ شاہ فوج میں ڈاکٹر تھے۔ وہ پہلی جنگ عظیم میں بھرتی ہو کر عراق گئے۔ انگریزوں نے بغداد فتح کیا تو انہیں ابتدائً گورنر نامزد کیا۔ ان کے بڑے بھائی ولی اللہ زین العابدین جو قادیان میں امور عامہ کے ناظر رہے۔ عراق میں قادیانی مشن کے انچارج تھے۔ لیکن فیصل نے ان کی سرگرمیوں سے آگاہ ہوتے ہی نکال دیا۔ گورنمنٹ آف انڈیا نے وہاں ان کے لئے رہنے پر زور دیا۔ لیکن عراق گورنمنٹ نے ایک نہ مانی۔
غالباً ١٩٢٦ء میں مولوی جلال الدین شمس کو شام بھیجا گیا۔ وہاں کے حریت پسندوں کو پتہ چلا تو قاتلانہ حملہ کیا۔ آخر تاج الدین الحسنی کابینہ نے شام بدر کر دیا۔ جلال الدین شمس فلسطین چلا گیا اور ١٩٣١ء تک برطانوی انتداب کی حفاظت میں عرب ملکوں میں عالمی استعمار کی خدمت بجالاتا رہا۔ جب تک برطانیہ ہندوستان میں حکمران رہا اس نے روس کو اپنے لئے خطرہ سمجھا۔ اس غرض سے مختلف لبادوں میں مختلف مشن، روس (وسط ایشیاء کے اسلامی ممالک) میں بھجوائے۔ بالخصوص ان علاقوں میں جو ہندوستان کی سرحد کے ساتھ آباد تھے اور روس کو وہاں اقتدار حاصل تھا۔ اس غرض سے پنڈت موہن لال، پنڈت من پھول، مولوی فیض محمد، بھائی دیوان سنگھ اور مولوی غلام ربانی کے سفرنامہ کی بعض جھلکیاں عام ہوچکی ہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد کے نواسے آغا محمد باقر نے اپنے نانا کے سفر کو اسی نوعیت کی جاسوسی قرار دیا ہے۔ ادھر ١٩٢١ء میں مولوی محمد امین قادیانی ایران کے راستہ روس گئے۔ انہیں روس میں داخل ہوتے ہی پکڑ لیا گیا اور دو سال جیل میں رہے۔ لیکن واپس آنے کے کچھ عرصہ بعد مرزا محمود نے ایک اور نوجوان مولوی ظہور حسین کے ساتھ انہیں واپس بھجوا دیا۔ چونکہ پاسپورٹ نہیں تھے۔ اس لئے ایران کے راستہ داخل ہوئے۔ لیکن پکڑ لئے گئے۔ پہلے مولوی محمد امین لوٹے پھر مولوی ظہور حسین، قید و بند کے مرحلے گزار کر برطانوی سفیر کی مداخلت سے رہا ہوئے اور واپس آگئے۔
افغانستان میں نعمت اللہ قادیانی کو جولائی ١٩٢٤ء میں پکڑا گیا۔ اس پر جاسوسی اور ارتداد ثابت ہوگیا تو سنگسار کردیا گیا۔ فروری ١٩٢٥ء میں دو اور قادیانی ملا عبدالحلیم اور ملا نور علی کو
١٥
اسی جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ افغانستان اور پاکستان میں تعلقات کی کشیدگی کا ایک سبب ابتدا سر ظفر اللہ خان تھے جو ان تین قادیانیوں کے قتل پر افغانی سفیر مقیم برطانیہ کو عذاب خداوندی کی وعید دے چکے اور تب سے افغانستان کے خلاف تھے۔ دوسری وجہ مرزا محمود خود تھے کہ وہ افغانستان کے لئے اور افغانستان ان کے لئے ناقابل قبول تھا۔ افغانستان کا ہر ابتلاء ان کے نزدیک ان کی بددعا کا مظہر تھا۔
برطانوی ہندوستان میں بھی مرزائی امت کا شعار تھا کہ ان کے جو افراد پولیس میں بھرتی ہوتے۔ وہ عموماً سی آئی ڈی میں چلے جاتے یا انگریز انہیں چن چن کر سی آئی ڈی میں لے لیتا۔ جہاں انہیں ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں پر کوئی سا ظلم توڑتے ہوئے رتی بھر حیا محسوس نہ ہوتی۔ بلکہ ہر ظلم کو اپنے فرائض کا حصہ سمجھتے۔
پنجاب میں سی آئی ڈی کا محکمہ برطانوی حکومت کے لئے ریڑھ کی ہڈی رہا۔ اس محکمہ کے کئی میرزائی افسروں نے برطانوی استعمار کی جو خدمات انجام دیں وہ کوئی انگریز افسر بھی انجام نہ دے سکتا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ تقریباً ہر اسلامی ملک میں قادیانیوں کے خلاف حکومت اور عوام دونوں سطح پر ذہنی احتساب موجود ہے۔ لیکن جہاں قومی آزادی طاقت ور ہے اور ان کی آزادی عالمی استعمار کے رخنوں سے محفوظ ہے۔ وہاں قادیانی مشن نہ کبھی تھے نہ اب ہیں۔ مثلاً مصر، ترکی، افغانستان، شام، حجاز، عراق، شرق اردن وغیرہ میں قادیانی مشن نہیں۔ ایران ہمارا عزیز ہمسایہ ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے روابط یکجائی کے ہیں۔ لیکن قادیانی ادھر کا رخ نہیں کرتے۔ کیا وہاں انجام نظر آتا ہے یا عالمی استعمار کو ضرورت نہیں؟
١٩٥٣ء کی پاکستانی مزاحمت کے بعد بالعموم اور پچھلے تین سالوں میں بالخصوص قادیانی امت نے اپنے سیاسی ہتھکنڈے تبدیل کر لئے ہیں اور اب عالمی استعمار کی جاسوس امت کے طور پر افریشیائی ممالک سے خفیہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ تل ابیب (حیفا) میں ان کا مشن گرد و پیش کی عرب دنیا کے خلاف جاسوسی کا مرکز ہے۔ اس باب میں دمشق کے ایک مطبوعہ رسالہ القادیانیہ سے ان کے سیاسی خط و خال اور استعماری فرائض و مناصب کی نشاندہی ہوتی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ : ”کسی بھی عرب مسلمان ریاست میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں بلکہ ان کے وجود کی بدولت پاکستان کو عربوں میں ہدف بنایا جاتا ہے۔“
١٦
ذیل کا واقعہ رسالہ میں مذکور ہے کہ : ”پہلی جنگ عظیم کے وقت انگریزوں نے ولی اللہ زین العابدین (مرزا محمود احمد کے سالے) کو سلطنت عثمانیہ میں بھیجا۔ وہاں پانچویں ڈویژن کے کمانڈر جمال پاشا کی معرفت قدس یونیورسٹی (١٩١٧ء) میں دینیات کا لیکچرار ہو گیا۔ لیکن جب انگریزی فوجیں دمشق میں داخل ہوئیں تو یہی ولی اللہ اپنا جامہ اتار کر انگریزی لشکر میں آ گیا اور عربوں کو ترکوں سے لڑانے بھڑانے کی مہم کا انچارج رہا۔ عراقی اس سے واقف ہو گئے تو بھاگ کر قادیان آ گیا اور ناظر امور عامہ بنایا گیا ۔“
اب قادیانی امت کی استعماری تکنیک (Strategy) یہ ہے کہ وہ استعمار کے حسب منشاء پاکستان کی ضرب تقسیم میں حصہ لے کر سکھوں کے ساتھ پنجاب کو ایک علیحدہ قادیانی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ اس غرض سے عالمی استعمار اس کی پشت پناہی کر رہا اور وہ اس کے لئے مختلف ملکوں میں جاسوسی کے فرائض انجام دے رہی ہے۔ اس کی جاسوسی کا جال وسیع ہو گیا ہے۔ اس غرض سے اس نے اسرائیل کے گرد و پیش حجاز و اردن میں فضائیہ وغیرہ کی تربیت کے لئے نہ صرف قادیانی پائلٹ بھجوائے ہیں۔ بلکہ ان ملکوں میں استعماری کاروبار جاری رکھنے کے لئے ہر سال ڈاکٹروں ، انجینئروں اور نرسوں کی ایک بڑی کھیپ جا رہی ہے۔ پاکستان میں کوشش کر کے ان بڑے ہسپتالوں میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ قادیانی لگوائے جا رہے ہیں۔ جہاں ہر سال نرس لڑکیاں بھرتی کی جاتی ہیں۔ چنانچہ لاہور کے میو ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جی این جنجوعہ قادیانی مقرر ہوا ہے۔ واضح رہے کہ میو ہسپتال لاہور ، پشاور سے لے کر حیدرآباد تک نرسوں کا سب سے بڑا تربیتی مرکز ہے۔ اس پس منظر میں جنجوعہ کے لئے پوری قادیانی مشینری نے زور دے کر یہ جگہ حاصل کی ہے۔
ادھر یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ مرزائی پاکستان بننے پر خوش نہ تھے اور نہ پاکستان بننے کے حق میں تھے۔ مرزا محمود نے پاکستان بننے سے تین ماہ پہلے خطبہ دیا تھا۔ ملاحظہ ہو۔
(الفضل ١٦ مئی ١٩٤٧ء)
”ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائے۔“
١٥ اگست ١٩٤٧ء کے الفضل میں خلیفہ ثانی کی ایک دوسری تقریر درج ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔“
١٧
مرزا محمود نے قادیان میں رہنے کے بہتیرے جتن کئے۔ کوشش کی کہ پاپائے روم کے مقدس شہر ویٹیکن کا مقام قادیان کو مل جائے۔ لیکن جب کوئی سی بیل منڈھے نہ چڑھی تو ایک انگریز کرنل کی رپورٹ پر حواس باختہ ہو کر کیپٹن عطاء اللہ کی معیت میں بھاگ کر لاہور آگئے۔ میجر جنرل نذیر احمد آپ کے ہمزلف تھے۔ ان کے ساتھ جیپ میں سوار ہو کر نکلنے کا پروگرام تھا۔ لیکن سکھوں کی مار دھاڑ کے خوف سے قبل از وقت نکل آئے اور چوری چھپے جان بچائی۔ یہاں پہنچ کر مرزا محمود نے قادیان میں مراجعت کے رویاء اور خواب بیان کرنا شروع کئے اور یہ پروگرام بنایا کہ:
- ١...... تقسیم کی مخالف قوتوں سے گٹھ جوڑ کر کے قادیان کسی نہ کسی طرح حاصل کیا جائے۔
- ٢...... کشمیر کے کسی حصے پر اقتدار حاصل کیا جائے۔
- ٣...... پاکستان کے کسی علاقے کو قادیانی صوبہ میں تبدیل کیا جائے۔
بظاہر یہ تین مختلف اور شاید ایک نازک حد تک متخالف ”محاذ“ تھے۔ لیکن اصلاً حصول اقتدار کا ایک مربوط سلسلہ تھا جو مرزا محمود کے نہاں خانہ دماغ میں پرورش پا رہا تھا۔
جسٹس منیر نے ١٩٥٣ء کے واقعات سے متعلق مسلمانوں سے مرزائیوں کی نزاع پر جو رپورٹ لکھی ہے اس کے ص ١٩٦ پر درج ہے کہ: ”١٩٤٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریروں سے منکشف ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ تو ایک ہندو دنیاوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔“
ملاحظہ ہو، خلیفہ صاحب فرماتے ہیں کہ: ”ملکی سیاست میں
(الفضل ٢٥؍ دسمبر ١٩٣٣ء)
خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی راہنمائی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔“
٤؍ جون ١٩٤٠ء کے الفضل میں ہے کہ: ”نہیں معلوم کب خدا کی طرف سے ہمیں دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔“
یہ اس وقت مرزائی امت کے خیالات تھے جب ہٹلر نے برطانیہ کو ہلا ڈالا تھا اور مرزائی و سکھ دونوں پنجاب پر قبضہ کرنے کی تیاری میں تھے۔ اس ضمن میں ماسٹر تارا سنگھ کا مضمون ہفتہ وار اکالی سے مختلف جرائد میں نقل ہو چکا ہے۔ ماسٹر جی نے لکھا تھا کہ برطانیہ نے ہندوستان چھوڑا تو سکھ ریاستوں بالخصوص مہاراجہ پٹیالہ کی مدد سے پنجاب میں ہم نے اتنی تیاری کر لی ہے کہ اس کے جانشین ہو سکیں اور سکھوں کا یہ صوبہ سکھوں کی عملداری میں ہو۔
١٨
اس سے پہلے ١٤ فروری ١٩٢٢ء کے الفضل میں خلیفہ صاحب کی تقریر ہے۔ ”ہم احمدی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“
مزید ملاحظہ ہو۔ ”اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“
(الفضل ٨ جولائی ١٩٣٥ء)
مرزائیوں نے اپنی جماعت کے ٨٣ برس میں مسلمانوں کے کسی ابتلاء، کسی تحریک، کسی افتاد اور کسی مصیبت میں کبھی حصہ نہیں لیا۔ ہمیشہ مسلمانوں سے الگ تھلگ اور انگریزوں کی مرضی کے تابع رہے۔ لیکن ریاست کشمیر کے مسلمانوں کی ہمدردی کے نام پر انہوں نے جولائی ١٩٣١ء میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا کھڑاگ رچایا اور آج تک صرف کشمیر ہی کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ کیا مسلمانوں کے مصائب کشمیر کے سوا اور کسی خطہ میں نہ تھے۔ کیا صرف کشمیر کے مسلمان ہی مسلمانان عالم میں ہمدردی کے مستحق تھے اور کیا ریاست کشمیر کی آزادی ہی عالم اسلام کی ویرانیوں کا مسئلہ اوّل ہے؟ اگر قادیانی کشمیر کے معاملہ میں اسلام اور مسلمانوں کی خاطر مخلص ہوتے تو اس کا اعتراف نہ کرنا بخل ہوتا۔ بلکہ شقاوت کے مصداق۔ لیکن معاملہ دوسرا تھا۔ مرزائی کشمیری مسلمانوں کی سادہ فطرت سے واقف تھے کہ وہ مذہبی سٹہ بازوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ادھر قادیان اور جموں متصل علاقے تھے۔ ادھر مرزائی جس قادیانی ریاست کا خواب دیکھتے تھے اس کی تعبیر کے لئے جموں و کشمیر حسب حال تھے۔
پاکستان نے اپنی آزادی کے تیسرے مہینے اکتوبر ١٩٤٧ء میں کشمیر کا مطالبہ کیا تو اس جنگ میں قادیانی امت فی الفور کود پڑی۔ اس نے فرقان بٹالین کے نام سے ایک پلاٹون تیار کی جو سیالکوٹ کے نزدیک جموں کے محاذ پر واقع گاؤں معراجکے میں متعین کی گئی۔ اس نے وہاں کیا خدمات انجام دیں؟ اس کے تذکرہ و افشاء کا محل نہیں۔ لیکن اس وقت پاکستان کے کمانڈر انچیف جنرل سر ڈگلس گریسی تھے۔ جن کے متعلق معلوم ہو چکا ہے کہ وہ پاکستان کی فوج کو کشمیر میں استعمال کرنے کے خلاف تھے اور نہ شخصی طور پر کشمیر کی لڑائی کے حق میں تھے۔ بلکہ ان کی معرفت بعض معلومات ہندوستان کے کمانڈر انچیف جنرل سراکن لیک تک پہنچتی گئیں۔ قائد اعظم اس وقت سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ جب انہیں یہ معلوم ہوا تو ان کا مرض شدید ہو گیا۔
کسی کمانڈر انچیف نے کسی ”آزاد ادارے“ کی ایسی بٹالین پر کبھی صاد نہیں کیا جیسا کہ فرقان بٹالین تھی، فرقان بٹالین کو یہ شرف بخشا گیا کہ جنرل گریسی نے بطور کمانڈر انچیف تحسین و ستائش کا خط و پیغام لکھا جو تاریخ احمدیت جلد ششم مولفہ دوست محمد شاہد کے ص ٢٧٤ پر موجود ہے۔
١٥
بات معمولی ہے لیکن عجیب ہے کہ کشمیر کے محاذوں کی جنگ میں قادیان سے ملحق سرحدات کی کمان ہمیشہ مرزائی جرنیلوں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ چونکہ یہ ایک فوجی عمل ہے۔ لہٰذا اس کا ذکر مناسب نہیں۔ لیکن سوال ہے کہ فرقان بٹالین ہو یا اس کے بعد ١٩٦٥ء کی جنگ جو کشمیر سے شروع کی گئی کہ وہاں چھمب اور جوڑیاں کا محاذ پٹھانکوٹ اور قادیان کی طرف تھا۔ ابتداءً ان محاذوں کی کمان جنرل اختر ملک اور بریگیڈیئر عبدالعلی ملک کے ہاتھ میں تھی جو سگے بھائی ہونے کے علاوہ قادیانی العقیدہ تھے۔ جنرل اختر ملک ترکی میں وفات پاگئے۔ ان کی نعش وہاں سے ربوہ لائی گئی۔ جہاں بہشتی مقبرے سے باہر ہمیشہ کی نیند سو رہے ہیں۔ پنجاب میں پانچویں اور چھٹی جماعت کی تاریخ و جغرافیہ کے نصاب میں ١٩٦٥ء کی جنگ کا ہیرو جنرل اختر ملک اور بریگیڈیئر عبدالعلی کو بتایا گیا اور اول الذکر کی سہ رنگی تصویر شامل کی گئی ہے۔
ایک دوسری تصویر جنرل ابرار حسین کی بھی ہے۔ لیکن ١٩٦٥ء کی جنگ کو اس طرح محدود کرنا اور صرف جنرل اختر حسین ملک یا بریگیڈیئر عبدالعلی کا ذکر کرنا مرزائی امت کا پنجاب میں نئی پود کو ذہنًا اپنی طرف منتقل کرنے کا ہتھکنڈا ہے۔ عزیز بھٹی وغیرہ کو نظر انداز کرکے اور اس وقت کے آتش بجانوں کے سر سے گزر کے جنرل اختر ملک کو قومی ہیرو بنانا اور بڑھانا قادیانی سیاست کی شوخی ہے۔ جو حصولِ اقتدار کی آئندہ کوششوں میں رنگ و روغن کا کام دے گی۔
بات سے بات نکلتی ہے۔ جنرل اختر ملک کے تذکرے کی رعایت سے اس ضمن کی دو باتیں حافظہ میں اور تازہ ہوگئیں۔
- ١....... نواب کالا باغ نے ١٩٦٥ء کی جنگ کے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے
راقم سے بیان کیا کہ ١٩٦٥ء کی جنگ میں اللہ تعالیٰ نے ہماری محافظت کی ورنہ صورتحال کے پامال ہونے کا احتمال تھا۔
نواب صاحب نے فرمایا: مرزائی پاکستان میں حصول اقتدار سے مایوس ہوکر قادیان پہنچنے کے لئے مضطرب ہیں۔ وہ بھارت سے مل کر یا بھارت سے لڑ کر ہر صورت میں قادیان چاہتے ہیں اور اس غرض سے پاکستان کو بازی پر لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ ایک دن میرے ہاں جنرل اختر حسین ملک آئے اور میرے ملٹری سیکرٹری کرنل محمد شریف سے کہا کہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے پس و پیش کی اور اپنے سیکرٹری سے کہا کہ میں نے جنرل ملک سے اگر ملاقات کی تو صدر ایوب جو مجھ سے پہلے ہی بدظن ہو چکے ہیں اور بدظن ہوں گے اور یہ حسن اتفاق ہے کہ میں بھی اعوان ہوا ۔ جنرل ملک بھی اعوان ہے اور تم (ملٹری سیکرٹری) بھی اعوان ہو۔ صدر ایوب کے کان
٢٠
میں الطاف حسین (ڈان) نے بات ڈال رکھی ہے کہ اس سے کسی امریکن نے کہا ہے کہ نواب کالا باغ ایوب خان کے خلاف اندر خانہ خود صدر بننے کی سازش کر رہا ہے۔
اس وقت تو جنرل ملک لوٹ گئے۔ لیکن چند دن بعد نتھیا گلی میں ملاقات کا موقع پیدا کر لیا۔ کہنے لگے: ”میں صدر ایوب کو آمادہ کروں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کرنے کے لئے بہترین ہے۔ یقین ہے کہ ہم کشمیر حاصل کر پائیں گے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ بیٹھے بٹھائے جنرل کو یہ کیا سوجھی؟ بہر حال میں نے عذر کر دیا کہ میں نہ تو فوجی ایکسپرٹ ہوں نہ مجھے جنگ کے مبادیات کا علم ہے۔ آپ خود ان سے تذکرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صدر نہیں مانتا۔ وہ کہتا ہے کہ اس لڑائی کے جلد بعد بھارت براہ راست پاکستان کی بین الاقوامی سرحدوں پر حملہ کر دے گا۔“
میں نے کہا: صدر مجھ سے پہلے ہی بدگمان ہے۔ وہ لازماً خیال کرے گا کہ اعوان اس کے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں۔ جنرل اختر ملک مجھ سے جواب پا کر چلے گئے۔ اس اثناء میں سی آئی ڈی کی معرفت مجھے ایک دستی اشتہار ملا جو آزاد کشمیر میں کثرت سے تقسیم کیا گیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ: ”ریاست جموں و کشمیر انشاء اللہ آزاد ہوگی اور اس کی فتح و نصرت احمدیت کے ہاتھوں ہوگی۔“
(پیش گوئی مصلح موعود)
اور میرے لئے یہ نا قابل فہم نہ تھا کہ جنرل اختر ملک اس پیش گوئی کو سچا بنانے کے لئے دوڑ دھوپ کر رہے تھے۔ راقم نے نواب کالا باغ کی یہ گفتگو محترم مجید نظامی ایڈیٹر نوائے وقت کو بیان کی تو انہوں نے تائید کی کہ ان سے بھی نواب صاحب یہی روایت کر چکے ہیں۔
- ٢...... ڈاکٹر جاوید اقبال سے ذکر آیا تو حیران ہوئے۔ فرمایا کہ: اس جولائی میں
سر ظفر اللہ خان نے مجھے امریکہ میں کہا تھا کہ میں صدر ایوب کو پیغام دوں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کے لئے موزوں ہے۔ پاکستانی فوج ضرور کامیاب ہوگی۔ جہاں تک ہندوستان کے ہاتھوں بین الاقوامی سرحد کے آلودہ ہونے کا تعلق ہے۔ ایسی کوئی چیز نہ ہوگی۔ میں نے صدر ایوب سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا مجھ سے کہہ دیا ہے اور کسی سے نہ کہنا۔
صدر ایوب کو سر ظفر اللہ خان نے پیغام دے کر اور جنرل اختر ملک کو خود حاضر ہو کر علاوہ دوسرے زعماء کے یقین دلایا تھا کہ کشمیر پر حملہ کرنے سے بھارت اور پاکستان میں براہ راست جنگ نہ ہوگی۔ لیکن پاکستانی فوجیں جب کشمیر کی طرف بڑھنے لگیں تو پاکستان کی بین الاقوامی سرحدیں ایکا ایکی بھارتی فوج کے حملہ کا شکار ہو گئیں۔ واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے تابع
٢١
(ن) نے بات ڈال رکھی ہے کہ اس سے کسی امریکن نے کہا ہے کہ نواب کالا اف اندر خانہ خود صدر بننے کی سازش کر رہا ہے۔
و جنرل ملک لوٹ گئے۔ لیکن چند دن بعد نتھیا گلی میں ملاقات کا موقع پیدا کر صدر ایوب کو آمادہ کروں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کرنے کے لئے بہترین شمیر حاصل کر پائیں گے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ بیٹھے بٹھائے جنرل کو یہ کیا نے عذر کر دیا کہ میں نہ تو فوجی ایکسپرٹ ہوں نہ مجھے جنگ کے مبادیات کا سے تذکرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صدر نہیں مانتا۔ وہ کہتا ہے کہ اس لڑائی ہ راست پاکستان کی بین الاقوامی سرحدوں پر حملہ کر دے گا۔‘‘
: صدر مجھ سے پہلے ہی بدگمان ہے۔ وہ لازماً خیال کرے گا کہ اعوان اس ر رہے ہیں۔ جنرل اختر ملک مجھ سے جواب پا کر چلے گئے۔ اس اثناء میں مجھے ایک دستی اشتہار ملا جو آزاد کشمیر میں کثرت سے تقسیم کیا گیا تھا۔ اس ت جموں و کشمیر انشاء اللہ آزاد ہو گی اور اس کی فتح و نصرت احمدیت کے
(پیش گوئی مصلح موعود)
لئے یہ نا قابل فہم نہ تھا کہ جنرل اختر ملک اس پیش گوئی کو سچا بنانے کے لئے
راقم نے نواب کالا باغ کی یہ گفتگو محترم مجید نظامی ایڈیٹر نوائے وقت کو ی کہ ان سے بھی نواب صاحب یہی روایت کر چکے ہیں۔
اکٹر جاوید اقبال سے ذکر آیا تو حیران ہوئے۔ فرمایا کہ: اس جولائی میں ریکہ میں کہا تھا کہ میں صدر ایوب کو پیغام دوں کہ یہ وقت کشمیر پر چڑھائی کستانی فوج ضرور کامیاب ہوگی۔ جہاں تک ہندوستان کے ہاتھوں بین نے کا تعلق ہے۔ ایسی کوئی چیز نہ ہوگی۔ میں نے صدر ایوب سے ذکر کیا کہہ دیا ہے اور کسی سے نہ کہنا۔
ظفر اللہ خان نے پیغام دے کر اور جنرل اختر ملک کو خود حاضر ہو کر علاوہ لایا تھا کہ کشمیر پر حملہ کرنے سے بھارت اور پاکستان میں براہ راست نی فوجیں جب کشمیر کی طرف بڑھنے لگیں تو پاکستان کی بین الاقوامی ج کے حملہ کا شکار ہو گئیں۔ واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کے تابع
٢١
کرنے اور اس کی جغرافیائی ہئیت کو نئی صورت دینے کے لئے عالمی استعمار کا جو منصوبہ تھا اس کو پروان چڑھانے کے لئے پاکستان کے بعض پراسرار لیکن مخفی و معلوم ہاتھ بھی تھے۔ قدرت نے استعماری منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ مغربی پاکستان میں پنجاب کو بالواسطہ یا بلاواسطہ شکست ہو تو پاکستان کا عسکری بازو ٹوٹ جائے گا اور مشرقی پاکستان نتیجتاً الگ ہو جائے گا۔ پنجاب کی پسپائی کے بعد سرحد، بلوچستان اور سندھ بلقان ریاستوں یا عرب ریاستوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جائیں گی۔
کشمیر اور احمدیت کے بارے میں اس سے پہلے یہ بات سطور بالا میں رہ گئی ہے کہ قادیانی امت نے تحریک کشمیر قبل از آزادی اور جنگ کشمیر (بعد از آزادی) میں صرف اس لئے حصہ لیا کہ مرزا بشیر الدین محمود جس قادیانی ریاست کا خواب دیکھتے تھے ان کی نگاہ میں کشمیر ہر لحاظ سے موزوں تھا۔ جماعت احمدیہ کی کشمیر سے دلچسپی کا سبب دوست محمد شاہد نے (تاریخ احمدیت ج ٦ ص ٤٣٥ تا ٤٧٨) میں مرزا محمود کی روایت سے لکھا ہے کہ:
- ١....... وہاں تقریباً اسی (٨٠) ہزار احمدی ہیں۔
- ٢....... وہاں مسیح اوّل دفن ہیں اور مسیح ثانی (غلام احمد) کے پیروؤں کی بڑی جماعت آباد ہے۔
- ٣....... جس ملک میں دو مسیحوں کا دخل ہو اس ملک کی فرمانروائی کا حق احمدیوں کو پہنچتا ہے۔
- ٤....... مہاراجہ رنجیت سنگھ نے نواب امام الدین کو گورنر بنا کر کشمیر بھیجا تھا تو ان کے ساتھ
مرزا غلام احمد کے والد بطور مددگار گئے تھے۔
- ٥....... حکیم نور الدین خلیفہ اوّل مرزا محمود کے استاد اور خسر شاہی حکیم کے طور پر کشمیر میں
ملازم رہے تھے۔
ان نکات ہی کو ملحوظ رکھا جائے تو ظاہر ہے کہ قادیانی امت کی کشمیر سے ہمدردی کسی عام انسانی مسئلہ یا عام مسلمانوں کی ہمدردی کے جذبہ سے نہیں تھی، نہ ہے۔ بلکہ وہ اپنے شخصی تعلق اور حزبی مفاد کے لئے پورے پاکستان اور تمام مسلمانوں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔
بلوچستان کو احمدی ریاست بنانے کا خواب پراگندہ ہو گیا۔ (اس کے لئے ہم شاہ ایران کے بھی شکر گزار ہیں) ادھر کشمیر سے متعلق ١٩٤٨ء، ١٩٦٥ء کی دونوں مہمیں بے نتیجہ رہیں۔ ادھر ١٩٦٥ء کے بعد برصغیر سے متعلق عالمی استعمار نے پینترا بدلا۔ قادیانی امت کا اس کے ساتھ بدلنا ایسا ہی تھا جیسے انجن مڑتے ہی گاڑی مڑ جاتی ہے۔ اب پاکستان کو ملیا میٹ کرنے کی استعماری کوششوں میں سے ایک کوشش یہ تھی کہ:
٢٢
- ١....... مشرقی پاکستان کو الگ کیا جائے۔ قادیانی عقلاء نے وہ سب کچھ کیا جو اس
کے لئے ضروری تھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان کے لئے شکایات کو جنم دیا۔ پھر پروان چڑھایا۔ ایم ایم احمد نے حکومت پاکستان کے فنانس سیکرٹری مالی مشیر اور منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے بنگالیوں کو اتنا بے بس اور بیزار کر دیا کہ وہ علیحدگی کی تحریک میں ڈھل گئی۔ مشرقی پاکستان کے مصیبت زدگان کو سرکاری امداد سے محروم رکھا گیا اور اس کے مسئول ایم ایم احمد تھے۔
- ٢....... جب تک مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہو۔ قادیانیوں کے لئے پاکستان میں
اقتدار کا سوال خارج از بحث تھا۔ کیونکہ اکثریت مشرقی پاکستان کی تھی اور شیخ مجیب الرحمان، قادیانی امت کی ان حرکات کو بھانپ کر ان سے باخبر ہو گئے تھے۔ وہ ایم ایم احمد کی حرکات پر پبلک میں بیان دے چکے اور ان کی فوری علیحدگی کے خواہاں تھے۔ اس بیان کے فوراً بعد چوہدری ظفر اللہ خان ان سے ملنے ڈھاکہ گئے۔ دوسرے یا تیسرے دن تخلیہ میں ملاقات ہوئی اور آخر وہی ہوا جو مرزائی امت کے ظفر اللہ خان یا ایم ایم احمد سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہو سکتا تھا کہ ایم ایم احمد کو علیحدہ کرنے سے پہلے مجیب الرحمان پاکستان سے ہمیشہ کے لئے علیحدہ ہو گئے۔
- ٣....... اب مرزائی تمام تجربوں کو حسب مراد نہ پا کر پاکستان میں عالمی استعمار کا
آخری ناٹک کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے یہودیوں کی طرح ملک کی مالیات (بینکنگ، انشورنس اور انڈسٹری) میں اس قسم کا اقتدار حاصل کر لیا ہے کہ انہیں ان کے پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ اب ان کے اقتدار کی راہ میں یہ چیزیں معاون ہو سکتی ہیں اور یہ کہنا جرم نہ ہوگا کہ پاکستان کی فضائیہ اپنے چیف سے لے کر آئندہ جانشینوں کی ایک کڑی تک ان کے ہاتھ میں ہے۔ اسی طرح بری فوج کے دونوں کور کمانڈز (جنرل عبدالعلی اور جنرل عبدالحمید) ان کے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ڈار بندھی ہوئی ہے۔
- ٤....... ملک کی بعض اہم آسامیاں قادیانی لے رہے ہیں۔ مثلاً پنجاب میں
ٹیکسٹ بک بورڈ کا چیئرمین غالب احمد قادیانی ہے۔ پنجاب اور بہاولپور کے علاقہ کی انشورنس کارپوریشن کا جنرل منیجر جنجوعہ قادیانی ہے۔ لاہور میو ہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ قادیانی ہے۔ غرض ایسے کئی ادارے قادیانی امت کے ہاتھ میں ہیں۔ جہاں اس کے افراد کی بڑی سے بڑی اکثریت معاشی طور پر پرورش پاسکتی اور سیاسی طور پر اقتدار کی راہیں ہموار کرتی ہے۔
٢٤
مشرقی پاکستان کو الگ کیا جائے۔ قادیانی عقلاء نے وہ سب کچھ کیا جو اس انہوں نے مشرقی پاکستان کے لئے شکایات کو جنم دیا۔ پھر پروان چڑھایا۔ ست پاکستان کے فنانس سیکرٹری مالی مشیر اور منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی سے بنگالیوں کو اتنا بے بس اور بیزار کر دیا کہ وہ علیحدگی کی تحریک میں ڈھل گئی۔ مصیبت زدگان کو سرکاری امداد سے محروم رکھا گیا اور اس کے مسئول ایم ایم احمد
جب تک مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہو۔ قادیانیوں کے لئے پاکستان میں ا از بحث تھا۔ کیونکہ اکثریت مشرقی پاکستان کی تھی اور شیخ مجیب الرحمان، حرکات کو بھانپ کر ان سے باخبر ہو گئے تھے۔ وہ ایم ایم احمد کی حرکات پر چکے اور ان کی فوری علیحدگی کے خواہاں تھے۔ اس بیان کے فوراً بعد چوہدری ملنے ڈھاکہ گئے۔ دوسرے یا تیسرے دن تخلیہ میں ملاقات ہوئی اور آخر وہی ی ظفر اللہ خان یا ایم ایم احمد سے ٹکراؤ کا نتیجہ ہو سکتا تھا کہ ایم ایم احمد کو علیحدہ الرحمان پاکستان سے ہمیشہ کے لئے علیحدہ ہو گئے۔
اب مرزائی تمام تجربوں کو حسب مراد نہ پاکر پاکستان میں عالمی استعمار کا رہے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کے یہودیوں کی طرح ملک کی مالیات نڈسٹری) میں اس قسم کا اقتدار حاصل کر لیا ہے کہ انہیں ان کے پس منظر، خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اب ان کے اقتدار کی راہ میں یہ چیزیں معاون نہ ہوگا کہ پاکستان کی فضائیہ اپنے چیف سے لے کر آئندہ جانشینوں کی د میں ہے۔ اسی طرح بری فوج کے دونوں کور کمانڈز (جنرل عبدالعلی اور ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ڈار بندھی ہوئی ہے۔
ب کی بعض اہم آسامیاں قادیانی لے رہے ہیں۔ مثلاً پنجاب میں نا غالب احمد قادیانی ہے۔ پنجاب اور بہاولپور کے علاقہ کی انشورنس ہ قادیانی ہے۔ لاہور میوہسپتال کا میڈیکل سپرنٹنڈنٹ قادیانی ہے۔ نی امت کے ہاتھ میں ہیں۔ جہاں اس کے افراد کی بڑی سے بڑی پاسکتی اور سیاسی طور پر اقتدار کی راہیں ہموار کرتی ہے۔
٢٣٣
- ٥...... ابھی تک پریس قادیانی امت کے ہاتھ میں نہیں آسکا۔ لیکن وزارت
اطلاعات ونشریات کی معرفت پریس کو مہر بلب کر دیا گیا ہے اور ملک کے بیشتر ورکنگ جرنلسٹوں میں کرپشن کی نیورکھ دی گئی ہے۔ جس کی بدولت قادیانیت کے پیچ و خم کا مسئلہ خارج از احتساب ہو چکا ہے۔
- ٦...... ملک کے بعض اہل قلم اور اہل صحافت کو بالواسطہ و بلا واسطہ مختلف شکلوں
میں معاوضہ دے کر اس قسم کے مضمون لکھوائے جارہے ہیں۔ جس سے قادیانی امت کے مخالفین ضعیف ہوتے جائیں اور اس انتشار و افتراق کو ہوا ملتی رہے جو ان کے آئندہ اقتدار کی ضروری اساس ہے۔
- ٧...... سرحد و بلوچستان کی علیحدگی سے متعلق بالکل انہی خطوط پر قادیانی امت
اقدام وکلام کا انبار لگا رہی ہے۔ جن خطوط پر شیخ مجیب الرحمان کو رگیدا جا رہا تھا۔ مرزائی امت بظاہر پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ لیکن اس کے مختلف نوجوان مختلف پارٹیوں میں حسب ہدایت شامل ہیں۔ پنجاب نیشنل عوامی پارٹی میں ایک ایسا احمدی نوجوان شریک ہے جس کا بھائی بڑے دنوں سے کراچی کا ڈپٹی کمشنر ہے اور باپ مرزا غلام احمد کا صحابی ایک زمانہ میں پبلک کا قانونی مشیر تھا۔
قادیانی امت کا طرز عمل یہ ہے کہ مذمت کے روپ میں سرحد و بلوچستان کی سیاسی فضا کو اتنا مسموم کر دیا جائے کہ علیحدگی کا مطالبہ حقیقت بن جائے۔ جب عالمی استعمار کی خواہش کے مطابق پاکستان جو کبھی مغربی پاکستان تھا کئی ریاستوں مثلاً پختونستان ، بلوچستان اور سندھو دیش وغیرہ میں تقسیم ہو تو پنجاب میں حکمران طاقت، یا سکھوں کے ساتھ مشترکہ طاقت کی سربراہی ان کے ہاتھ میں ہو۔
مرزائی سیاست کا نقشہ یہ ہے کہ عالمی استعمار اس پاکستان کو ضرب و تقسیم سے تین چار ریاستوں میں بانٹنے کا ارادہ کر چکا ہے۔ پختونستان بنے گا، بلوچستان بنے گا۔ سندھو دیش بنے گا۔ ان کے اضلاع میں تھوڑا بہت ردو بدل ہوگا۔ ہو سکتا ہے سندھ کا کچھ علاقہ بھارتی راجستھان کو چلا جائے۔ پختونستان میں پنجاب کے ایک دو اضلاع آجائیں۔ بلوچستان سندھ کے ایک دو اضلاع لے جائے اور پنجاب میں ڈیرہ غازیخان کے ضلع پر اس کی نگاہ ہو۔ لیکن جتنی جلدی یہ ہو قادیانی اپنے لئے اتنا ہی مفید سمجھتے تھے۔ قادیانی امت کی اس مہرہ بازی کا حاصل کلام یہ ہے کہ اپنے اس بلقانی مقدر کے بعد پاکستان ختم ہو جائے گا تو سکھ استعماری شہ اور بھارتی تعاون سے
٢٤
پنجاب پر اپنے اس استحقاق کا دعویٰ کریں گے کہ وہ ان کے گوروں کی نگری ہونے کے باعث ان کا ہے۔ جس طرح یہود نے فلسطین کو اپنے پیغمبروں کے مولد و مسکن و مرقد ہونے کی بناء پر حاصل کیا اور اسرائیل بنا ڈالا۔ اسی طرح پنجاب سکھوں کے لئے ہوگا۔ بعض معلوم وجوہ کے باعث پنجاب اس وقت پختونستان، سندھو دیش اور بلوچستان کی ناراضی میں گھرا ہوگا۔ مرزائی امت گوروں کی نگری کے طالبین سے معانقہ کر کے اپنے ”مدینۃ النبی“ قادیان کی مراجعت پر خوش ہوگی۔ تب عالمی استعمار کی مداخلت سے ایک نیا پنجاب پیدا ہوگا۔ جو سکھ احمدی ریاست ہوگا اور جس کا پاکستانی وجود ختم ہو جائے گا۔
پاکستان کا اصل خطرہ یہ ہے اور پنجاب اس خوفناک سانحہ کی زد میں ہے۔ نہ جانے حزب اقتدار اور حزب اختلاف اس بارے میں کیوں غور نہیں کرتیں۔ اس سیاسی مسئلہ کا اس وقت تعاقب نہ کیا گیا اور ایک پولیٹکل خطرہ کے طور پر اس کا محاسبہ نہ کیا گیا تو کیا پاکستان کی آنکھ اس وقت کھلے گی جب طوفان سر سے گذر چکا ہوگا اور پاکستان کی تاریخ استعماری انقلاب کے ہاتھوں الٹ چکی ہوگی۔ تب مؤرخ یہ لکھیں گے کہ ان علاقوں میں ایک ایسی قوم رہتی تھی جس نے اپنے مسلمان ہونے کی بنیاد پر برعظیم ہندوستان سے کٹ کے ایک علیحدہ ملک پاکستان بنوایا تھا۔ لیکن اس پر تیسری یا چوتھی دہائی بھی نہ گذری تھی کہ اپنی مجرمانہ غفلتوں اور احمقانہ سرکشیوں سے اس ملک کو خود مٹا ڈالا اور اب وہ ملک و قوم ماضی کی ایک طربناک یاد کا المناک تتمہ ہیں۔
- اگر حکومت کے لئے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح
مجاز ہے۔ لیکن اس جماعت کے لئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جس کا اجتماعی وجود اس کے باعث خطرہ میں ہے۔
- مسیح موعود کی اصطلاح اسلامی نہیں اجنبی ہے۔ دورِ اوّل کے تاریخی اور مذہبی ادب
میں یہ اصطلاح کہیں نہیں ملتی۔
- بروز، حلول، ظل وغیرہ کی اصطلاحیں اسلامی ایران میں موبدانہ اثر کے تحت ملحدانہ
تحریکوں کی پیداوار ہیں۔ ان کے واضعین نے اپنے ملحدانہ خیالات کو چھپانے کے لئے انہیں وضع کیا تھا۔
- مرزا غلام احمد قادیانی اپنے عقائد کی اساس پر کوئی علیحدہ امت تیار نہیں کر سکتے تھے۔
انہوں نے محمدؐ عربی کی امت میں نقب لگا کر قادیانی امت پیدا کی جو کھلم کھلا الحاد کی اساس پر قائم ہے۔
(اقبالؒ)
٢٥
اق کا دعویٰ کریں گے کہ وہ ان کے گوروں کی نگری ہونے کے باعث ان کا فلسطین کو اپنے پیغمبروں کے مولد و مسکن و مرقد ہونے کی بناء پر حاصل کیا طرح پنجاب سکھوں کے لئے ہوگا۔ بعض معلوم وجوہ کے باعث پنجاب سندھ، ویش اور بلوچستان کی ناراضی میں گھرا ہوگا۔ مرزائی امت گروں کی طائفہ کر کے اپنے ’’مدینۃ النبی‘‘ قادیان کی مراجعت پر خوش ہوگی۔ تب سے ایک نیا پنجاب پیدا ہوگا۔ جو سکھ احمدی ریاست ہوگا اور جس کا پاکستانی
ل خطرہ یہ ہے اور پنجاب اس خوفناک سانحہ کی زد میں ہے۔ نہ جانے لاف اس بارے میں کیوں غور نہیں کرتیں۔ اس سیاسی مسئلہ کا اس وقت پولیٹکل خطرہ کے طور پر اس کا محاسبہ نہ کیا گیا تو کیا پاکستان کی آنکھ اس سِرے سے گزر چکا ہوگا اور پاکستان کی تاریخ استعماری انقلاب کے ہاتھوں یخ یہ لکھیں گے کہ ان علاقوں میں ایک ایسی قوم رہتی تھی جس نے اپنے عظیم ہندوستان سے کٹ کے ایک علیحدہ ملک پاکستان بنوایا تھا۔ لیکن ہی نہ گزری تھی کہ اپنی مجرمانہ غفلتوں اور احمقانہ سرکشیوں سے اس ملک کو قوم ماضی کی ایک طربناک یاد کا المناک تتمہ ہیں۔ کے لئے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح ہی اس جماعت کے لئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جس کا اجتماعی اعث خطرہ میں ہے۔
اصطلاح اسلامی نہیں اجنبی ہے۔ دورِ اوّل کے تاریخی اور مذہبی ادب کہیں نہیں ملتی۔
ں وغیرہ کی اصطلاحیں اسلامی ایران میں مؤبدانہ اثر کے تحت ملحدانہ داوار ہیں۔ ان کے واضعین نے اپنے ملحدانہ خیالات کو چھپانے کے کیا تھا۔ قادیانی اپنے عقائد کی اساس پر کوئی علیحدہ امت تیار نہیں کر سکتے تھے۔ عربی کی امت میں نقب لگا کر قادیانی امت پیدا کی جو کھلم کھلا الحاد کی ہے۔
(اقبالؒ)
٢٥
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
قادیانیت
قادیانی اسلام کے غدار ہیں
آغا شورش کاشمیری
قادیانیت از فیضانِ اقبال
بسم الله الرحمن الرحیم!
ختم نبوت
’’ختم نبوت اسلام کا ایک نہایت اہم اور بنیادی تصور ہے۔ اسلام میں نبوت چونکہ اپنے معراج کمال کو پہنچ گئی۔ لہٰذا اس کا خاتمہ ضروری ہو گیا۔ اسلام نے خوب سمجھ لیا تھا کہ انسان سہاروں پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ اس کے شعور ذات کی تکمیل ہوگی تو یونہی کہ وہ خود اپنے وسائل سے کام لینا سیکھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اگر دینی پیشوائی کو تسلیم نہیں کیا یا موروثی بادشاہت کو جائز نہیں رکھا یا بار بار عقل اور تجربے پر زور دیا یا عالم فطرت اور عالم تاریخ کو علم انسانی کا سرچشمہ ٹھہرایا تو اس لئے کہ ان سب کے اندر یہی نکتہ مضمر ہے۔ یہ سب تصورات خاتمیت ہی کے مختلف پہلو ہیں.......ہم نے ختم نبوت کو مان لیا تو گویا یہ عقیدہ بھی مان لیا کہ اب کسی شخص کو اس دعویٰ کا حق نہیں پہنچتا کہ اس کے علم کا تعلق چونکہ کسی مافوق سرچشمہ سے ہے۔ لہٰذا ہمیں اس کی اطاعت لازم آتی ہے۔ خاتمیت کا تصور ایک طرح کی نفسیاتی قوت ہے۔ جس سے اس قسم کے دعوؤں کا قلع قمع ہو جاتا ہے۔‘‘
(پانچواں خطبہ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ص ١٩٣ تا ١٩٥)
ختم نبوت
’’اور باتوں کے علاوہ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ روحانی زندگی میں جس کے انکار کی سزا جہنم ہے۔ ذاتی سند ختم ہو چکی ہے۔‘‘
(لائٹ کے جواب میں)
ختم نبوت کا تخیل
’’انسانیت کی تمدنی تاریخ میں غالباً ختم نبوت کا تخیل سب سے انوکھا ہے۔ اس کا صحیح اندازہ مغرب اور ایشیاء کے مؤبدانہ تمدن کی تاریخ کے مطالعہ سے ہو سکتا ہے۔ مؤبدانہ تمدن میں زرتشتی یہودی، نصرانی اور صابی تمام مذاہب شامل ہیں۔‘‘
(قادیانیت اور اسلام بجواب نہرو)
اسلام کا غدار
’’دینیاتی نقطہ نظر سے اس نظریہ کو یوں بیان کر سکتے ہیں کہ اسلام کی اجتماعی اور سیاسی
٢
تنظیم میں محمد ﷺ کے بعد کسی ایسے الہام کا امکان ہی نہیں جس سے انکار کفر کو مستلزم ہو۔ جو شخص ایسے الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ اسلام سے غداری کرتا ہے۔“
(ایضاً)
قادیانیت کا مقابلہ
”علمائے ہند نے قادیانیت کو ایک دینی تحریک تصور کیا اور دینیاتی حربوں سے اس کا مقابلہ کرنے نکل آئے۔ میرا خیال ہے کہ اس تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ طریقہ موزوں نہیں۔ ١٧٩٩ء سے ہندوستان میں اسلامی دینیات کی جو تاریخ رہی ہے اس کی روشنی میں احمدیت کے اصل محرکات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ دنیائے اسلام کی تاریخ میں ١٧٩٩ء کا سال بے حد اہم ہے۔ اسی سال ٹیپو کو شکست ہوئی۔ اسی سال جنگ نورینو ہوئی۔ جس میں ترکی کا بیڑا تباہ ہو گیا اور ایشیاء میں اسلام کا انحطاط انتہاء کو پہنچ گیا۔“
(بجواب نہرو)
شہنشاہیت کے پیدا کردہ مسائل
”اسلام میں خلافت کا تصور ایک مذہبی ادارے کو مستلزم ہے۔ ہندوستانی مسلمان اور وہ مسلمان جو ترکی سلطنت سے باہر ہیں۔ ترکی خلافت سے کیا تعلق رکھتے ہیں؟ ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالاسلام؟ اسلام میں نظریہ جہاد کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ اولی الامر سے مراد کیا ہے؟ مہدی کی آمد سے متعلقہ احادیث کی معنوی نوعیت کیا ہے؟ یہ اور اس قبیل کے دوسرے سوالات جو بعد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق بداہتہً مسلمانان ہندوستان سے تھا۔ مغربی شہنشاہیت کو جو اس وقت اسلامی دنیا پر تسلط حاصل کر رہی تھی۔ ان سوالات سے گہری دلچسپی تھی۔ ان سوالات سے جو مناقشات پیدا ہوئے وہ اسلامی ہند کی تاریخ کا ایک باب ہیں۔ یہ حکایت دراز ہے اور ایک طاقتور قلم کی منتظر۔“
(قادیانیت اور اسلام)
قادیانیت
”مسلمان عوام کو صرف ایک چیز قطعی طور پر متاثر کر سکتی ہے اور وہ ربانی سند ہے۔ احمدیت نے اس الہامی بنیاد کو فراہم کیا اور اس طرح جیسا کہ اس کا دعویٰ ہے۔ برطانوی شہنشاہیت کی سب سے بڑی خدمت ہے۔ جو اس نے سرانجام دی ہے۔“
(ایضاً)
٣
استدلال اور سند
”جو ممالک تمدن کی ابتدائی منزلوں میں ہوں وہاں استدلال سے زیادہ سند کا اثر ہوتا ہے ۔ پنجاب میں مبہم و خیالی عقائد کا فرسودہ جال اس سادہ لوح دہقان کو آسانی سے مسخر کر لیتا ہے ۔ جو صدیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں ۔ مسلمانوں کے مذہبی تفکر کی تاریخ میں احمدیت کا وظیفہ ہندوستان کی موجودہ سیاسی غلامی کی تائید میں الہامی بنیاد فراہم کرنا ہے ۔“
(جواب نہرو)
قادیانی
فرمایا: ” قادیانی تحریک نے مسلمانوں کے ملی استحکام کو بے حد نقصان پہنچایا ہے ۔ اگر استیصال نہ کیا گیا تو آئندہ شدید نقصان پہنچے گا ۔“
(عبدالرشید طارق ملفوظات)
احمدیت کے اداکار
”تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامے میں حصہ لیا ہے وہ زوال اور انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ لوح کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے ۔“
(جواب نہرو)
سیاسی چال
”ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام سے متعلق ان کے رویہ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔ جب قادیانی مذہبی اور معاشرتی معاملات میں علیحدگی کی پالیسی اختیار کرتے ہیں تو پھر سیاسی طور پر مسلمانوں میں شامل ہونے کے لئے کیوں مضطرب ہیں؟“
علیحدگی کا مطالبہ
”ملت اسلامیہ کو اس مطالبہ کا پورا حق حاصل ہے کہ قادیانیوں کو علیحدہ کر دیا جائے ۔ اگر حکومت نے یہ مطالبہ تسلیم نہ کیا تو مسلمانوں کو شک گزرے گا کہ حکومت اس نئے مذہب کی علیحدگی میں دیر کر رہی ہے ۔ کیونکہ ابھی وہ (قادیانی) اس قابل نہیں کہ چوتھی جماعت کی حیثیت سے مسلمانوں کی برائے نام اکثریت کو ضرب پہنچا سکے ۔“
(سٹیٹسمین کے نام خط، مورخہ ١٠؍ جون ١٩٣٥ء)
٤
یکرنگی
”پنڈت نہرو اور قادیانی دونوں مختلف وجوہ کی بناء پر مسلمانان ہند کے مذہبی اور سیاسی استحکام کو پسند نہیں کرتے ہیں۔“
(پنڈت جواہر لعل کے مضامین مطبوعہ ماڈرن ریویو کا جواب)
ہندوستانی پیغمبر
”قادیانی جماعت کا مقصد پیغمبر عرب کی امت سے ہندوستانی پیغمبر کی امت تیار کرنا ہے۔“
(پنڈت جواہر لعل کے مضامین مطبوعہ ماڈرن ریویو کا جواب)
رواداری
”الحاد کمزوری اور رواداری بسا اوقات خودکشی کے مترادف ہو جاتے ہیں۔ بہ قول گبن رواداری ایک فلسفی کی ہوتی ہے۔ جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر صحیح ہیں۔ ایک رواداری مؤرخ کی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر غلط ہیں۔ ایک رواداری مدبر کی ہے جس کے نزدیک تمام مذاہب یکساں طور پر مفید ہیں۔ ایک رواداری ایسے شخص کی ہے جو ہر قسم کے فکر وعمل سے بے تعلق ہوتا ہے۔ ایک رواداری کمزور آدمی کی ہے جو محض کمزوری کی وجہ سے ہر قسم کی ذلت اپنی محبوب اشیاء واشخاص کے متعلق سہتا ہے۔“
(پنڈت جواہر لعل کے مضامین مطبوعہ ماڈرن ریویو کا جواب)
عجمی اصطلاحیں
”اسلامی ایران میں مؤبدانہ اثر کے تحت ملحدانہ تحریکیں اٹھیں۔ انہوں نے بروز، حلول، ظل وغیرہ اصطلاحات وضع کیں تاکہ نتائج کے تصور کو چھپا سکیں۔ ان اصطلاحات کا وضع کرنا اس لئے بھی لازم تھا کہ مسلمانوں کے قلوب کو ناگوار نہ ہو۔“
”مسیح موعود کی اصطلاح بھی اسلامی نہیں، اجنبی ہے۔ یہ اصطلاح ہمیں دورِ اوّل کے تاریخی اور مذہبی ادب میں نہیں ملتی۔“
(ایضاً)
٥
قادیانیت اور بہائیت
”بہائیت، قادیانیت سے کہیں زیادہ مخلص ہے۔ کیونکہ وہ کھلے طور پر اسلام سے باغی ہے۔ لیکن مؤخر الذکر (قادیانیت) اسلام کی چند نہایت اہم صورتوں کو ظاہری طور پر قائم رکھتی ہے۔ لیکن باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے مہلک ہے۔“
”اس کے ضمیر میں یہودیت کے عناصر ہیں۔ گویا یہ تحریک ہی یہودیت کی طرف راجع ہے۔“
(قادیانیت اور اسلام)
قادیانیت
”قادیانیوں کے لئے صرف دو ہی راہیں ہیں۔ یا وہ بہائیوں کی تقلید کریں اور الگ ہو جائیں یا ختم نبوت کی تاویلوں کو چھوڑ کر اصل اصول کو اس کے پورے مفہوم کے ساتھ قبول کر لیں۔ ان کی جدید تاویلیں محض اس غرض سے ہیں کہ ان کا شمار حلقہ اسلام میں ہو تاکہ انہیں سیاسی فوائد پہنچ سکیں۔“
(ایضاً)
مرزا غلام احمد قادیانی
آخر عمر میں قریباً ہر صحبت میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ذکر آ جاتا تھا۔ ایک دفعہ فرمایا: ”سلطان ٹیپو کے جہاد حریت سے انگریزوں نے اندازہ کیا کہ مسئلہ جہاد ان کی حکومت کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے۔ جب تک شریعت اسلام سے اس مسئلہ کو خارج نہ کیا جائے۔ ان کا مستقبل محفوظ نہیں۔ چنانچہ مختلف ممالک کے علماء کو آلہ کار بنانا شروع کیا۔ اسی طرح ہندوستانی علماء سے بھی فتاویٰ حاصل کئے۔ لیکن تنسیخ جہاد کے لئے ان علماء کو ناکافی سمجھ کر ایک جدید نبوت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ جس کا بنیادی مؤقف ہی یہ ہو کہ اقوام اسلامیہ میں تنسیخ جہاد کی تبلیغ کی جائے۔ احمدیت کا حقیقی سبب اسی ضرورت کا احساس تھا۔“ ایک روز فرمایا: ”ایسے فتاویٰ کی نقول تلاش کرو، ممکن ہے مولوی ثناء اللہ امرتسری سے ان کا سراغ مل جائے۔“ مولوی صاحب سے ذکر آیا تو انہوں نے سرسید کے کتب خانہ علی گڑھ کی طرف راہنمائی کی۔ حضرت علامہ نے سید ریاست علی ندوی کو لکھا اور اس کام کے لئے آمادہ کیا۔ فرمایا: ”قرآن کے بعد نبوت و وحی کا دعویٰ تمام انبیائے کرام کی توہین ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ختمیت کی دیوار میں سوراخ
کرنا تمام نظام دینیات کو درہم برہم کر دینے کے مترادف ہے۔ قادیانی فرقہ کا وجود عالم اسلامی، عقائد اسلام، شرافت انبیاء، خاتمیت محمدﷺ اور کاملیت قرآن کے لئے قطعاً مضر و منافی ہے۔“
(عرشی ملفوظات)
فتنے باز
”ہندوستان میں کوئی مذہبی فتنے باز اپنی اغراض کی خاطر ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے۔“
(بجواب نہرو)
غلط رواداری
”کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔ (اس ضمن میں رواداری ایک مہمل اصطلاح ہے) اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ خواہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو؟“
(قادیانیت اور اسلام بجواب نہرو)
اجتماعی خطرہ
”اگر حکومت کے لئے یہ گروہ مفید ہے تو وہ اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ لیکن اس جماعت کے لئے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ جس کا اجتماعی وجود اس کے باعث خطرہ میں ہے۔“
(ایضاً)
دوسرے فرقے
”مسلمانوں کے دوسرے فرقے کوئی الگ بنیاد قائم نہیں کرتے۔ وہ بنیادی مسئلوں میں متفق ہیں۔ ایک دوسرے پر الحاد کا فتویٰ جڑنے کے باوجود وہ اساسات پر ایک رائے ہیں۔“
(ایضاً)
مذہب سے بیزاری
”(اس قماش کے) مذہبی مدعیوں کی حوصلہ افزائی کا ردعمل یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب سے بیزار ہونے لگتے اور بالآخر مذہب کے اہم عنصر کو اپنی زندگی سے خارج کر دیتے ہیں۔“
(ایضاً)
٧
علیحدہ جماعت
”حکومت کے لئے بہترین طریق کار یہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کو ایک الگ جماعت تسلیم کرے۔ یہ قادیانیوں کی پالیسی کے بھی عین مطابق ہوگا۔ مسلمان ان سے ویسی ہی رواداری برتیں گے۔ جیسا کہ باقی مذاہب کے معاملہ میں اختیار کرتے ہیں۔“
(ایضاً)
نام نہاد تعلیم یافتہ
”نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں کیا۔ مغربیت کی ہوا نے انہیں حفظ نفس کے جذبہ سے عاری کر دیا ہے۔ لیکن عام مسلمان جو ان کے نزدیک ملا زدہ ہے۔ اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔“
(ایضاً)
قادیانی
”یہ تحریک (قادیانی) اسلام کے ضوابط کو برقرار رکھتی ہے۔ لیکن اس قوت ارادی کو فنا کر دیتی ہے۔ جس کو اسلام مضبوط کرنا چاہتا ہے۔“
(بجواب نہرو)
مذہبی سرحدوں کی حفاظت
”رواداری کی تلقین کرنے والے اس شخص پر عدم رواداری کا الزام لگانے میں غلطی کرتے ہیں۔ جو اپنے مذہب کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔“
(ایضاً)
افتراق
”اسلام ایسی کسی تحریک کے ساتھ ہمدردی نہیں رکھتا جو اس کی موجودہ وحدت کے لئے خطرہ اور مستقبل میں انسانی سوسائٹی کے لئے مزید افتراق کا باعث ہو۔“
(ایضاً)
خطرہ
”مسلمان ان تحریکوں کے معاملہ میں زیادہ حساس ہیں جو ان کی وحدت کے لئے خطرناک ہوں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی جماعت جو تاریخی طور پر اسلام سے وابستہ ہو۔ لیکن اپنی بنا نئی نبوت پر رکھے اور اس کے الہامات پر اعتقاد نہ رکھنے والے تمام مسلمانوں کو بزعم خود کافر قرار دے۔ مسلمان اسے اسلام کی وحدت کے لئے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ اسلامی وحدت ختم نبوت ہی سے استوار ہوتی ہے۔“
(ایضاً)
٨
رواداری
’’کمزور آدمی کی رواداری اخلاقی قدروں سے معرا ہوتی ہے۔‘‘
(پنڈت نہرو کے جواب میں)
اسلامی ریاست کا فرض
’’جب کوئی شخص ایسے ملحدانہ نظریوں کو رواج دیتا ہے جس سے نظام اجتماعی خطرہ میں پڑ جاتا ہے تو ایک آزاد اسلامی ریاست پر اس کا انسداد لازم ہو جاتا ہے۔‘‘
(پنڈت نہرو کے جواب میں)
لفظ کفر کا استعمال
’’لفظ کفر کے غیر محتاط استعمال کو آج کل کے مسلمان جو مسلمانوں کے دینیاتی مناقشات کی تاریخ سے بالکل ناواقف ہیں۔ ملت اسلامیہ کے اجتماعی وسیاسی انتشار کی علامت تصور کرتے ہیں۔ یہ ایک بالکل غلط تصور ہے۔ اسلامی دنیا کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروعی مسائل کے اختلاف میں ایک دوسرے پر الحاد کا الزام لگانا انتشار کا باعث ہونے کی بجائے دینیاتی تفکر کو متحد کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔‘‘
(پنڈت نہرو کے جواب میں)
محی الدین ابن عربی
’’اگر شیخ محی الدین ابن عربی کو اپنے کشف میں نظر آ جاتا کہ صوفیانہ نفسیات کی آڑ میں کوئی ہندوستانی ختم نبوت سے انکار کر دے گا تو یقیناً وہ علمائے ہند سے پہلے مسلمانان عالم کو ایسے غدار اسلام سے متنبہ کر دیتے۔‘‘
(بجواب نہرو)
کٹھ پتلیاں
’’ان لوگوں کی قوت ارادی پر ذرا غور کرو، جنہیں الہام کی بنیاد پر تلقین کی جاتی ہے کہ اپنے سیاسی ماحول کو اٹل سمجھو۔ پس میرے خیال میں وہ تمام ایکٹر جنہوں نے احمدیت کے ڈرامہ میں حصہ لیا ہے۔ زوال اور انحطاط کے ہاتھوں میں محض سادہ لوح کٹھ پتلی بنے ہوئے تھے۔ ایران میں بھی اس قسم کا ایک ڈرامہ کھیلا گیا تھا۔ لیکن اس سے نہ تو وہ سیاسی اور مذہبی الجھاؤ پیدا ہوئے جو احمدیت نے اسلام کے لئے ہندوستان میں پیدا کئے ہیں اور نہ ان کا امکان تھا۔‘‘
(بجواب نہرو)
بروز کا مسئلہ
’’جہاں تک مجھے معلوم ہے۔ بروز کا مسئلہ عجمی مسلمانوں کی ایجاد ہے اور اصل اس کی
٩
آفرین ہے۔ میری رائے میں اس مسئلہ کی تاریخی تحقیق قادیانیت کا خاتمہ کرنے کے لئے کافی ہے۔“
(پروفیسر الیاس برنی کے نام)
قادیانی
”علامہ موسیٰ جاراللہ نے اس مصرع کی وضاحت چاہی۔
فرمایا: ”بہاء اللہ ایرانی اور غلام احمد قادیانی۔“ مرزا غلام احمد قادیانی کے مخترع مذہب، اس کے اسباب وعلل اور نتائج بد کی تفصیل بیان کی۔ اسی سال قادیانیت کے متعلق پہلا بیان دیا۔ پیر کا دن تھا اور مئی کی چھ تاریخ۔“
(عبدالرشید طارق ملفوظات)
ختم نبوت
”ختم نبوت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص بعد اسلام اگر یہ دعویٰ کرے کہ مجھ میں ہر دو اجزاء نبوت کے موجود ہیں۔ یعنی یہ کہ مجھے الہام وغیرہ ہوتا ہے اور میری جماعت میں داخل نہ ہونے والا کافر ہے تو وہ شخص کاذب ہے اور واجب القتل۔ مسیلمہ کذاب کو اسی بناء پر قتل کیا گیا تھا۔ علامہ اقبال کا خط بنام نذیر نیازی۔“
(مطبوعہ طلوع اسلام اکتوبر ١٩٣٥ء، ماخوذ از انوار اقبال، مرتبہ بشیر احمد ڈار، ص ٤٥، ٤٦، اصل عکس)
قادیانی
”خضر تیمی اور غلام مصطفیٰ تبسم حاضر ہوئے۔ علامہ نے آں ز ایران بود و ایں ہندی نژاد...... کی شرح کرتے ہوئے غلام احمد قادیانی کا ذکر کیا اور فرمایا: اس کی شخصیت نفسیاتی مطالعہ کے لئے بہت موزوں ہے۔ عرض کیا آپ سے بڑھ کر کون تجزیہ نفسی کر سکتا ہے۔ فرمایا: خرابی صحت مانع ہے۔ کوئی نوجوان آمادہ ہو تو میں راہنمائی کر سکتا ہوں۔ پھر ان نقصانات کو گنوایا جو قادیانیت کو صحیح تسلیم کرنے کی صورت میں برداشت کرنے پڑے۔ فرمایا: قادیانیت اسلام کی تیرہ سو سال کی علمی اور دینی ترقی کے منافی ہے۔“
(ملفوظات)
ختم نبوت
”فرمایا: ”الیوم اکملت لکم دینکم“ کے بعد اجرائے نبوت کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ قادیانی اسلاف کی تحریروں کو محرف کر دیتے ہیں۔“
(خضر تیمی ملفوظات)
١٠
قادیانیت
”قادیانی نظریہ ایک جدید نبوت کے اختراع سے قادیانی افکار کو ایک ایسی راہ پر ڈال دیتا ہے کہ اس سے نبوت محمدیہ کے کامل واکمل ہونے کے انکار کی راہ کھلتی ہے۔“ (مولانا مدنی کے جواب میں)
وطنیت وقادیانیت
”بظاہر نظریہ وطنیت سیاسی نظریہ ہے اور انکار خاتمیت النبوات کا مسئلہ ہے۔ لیکن ان دونوں میں ایک گہرا معنوی تعلق ہے۔ جس کی توضیح اس وقت ہوگی جب کوئی دقیق النظر مسلمان مؤرخ، ہندی مسلمانوں بالخصوص ان کے بعض، بہ ظاہر مستعد فرقوں کے دینی افکار کی تاریخ مرتب کرے گا۔“
(مولانا حسین احمد مدنی کے جواب میں، ٩/مارچ ١٩٣٨ء)
قادیانیت
”قادیانیوں کی تفریق کی پالیسی کے پیش نظر جو انہوں نے مذہبی اور معاشرتی معاملات میں ایک نئی نبوت کا اعلان کر کے اختیار کی ہے۔ خود حکومت کا فرض ہے کہ قادیانیوں اور مسلمانوں کے بنیادی اختلافات کا لحاظ رکھتے ہوئے آئینی قدم اٹھائے۔ (یعنی مسلمانوں سے انہیں الگ کردے) اور اس کا انتظار نہ کرے کہ مسلمان کب مطالبہ کرتے ہیں۔“
(اسٹیٹس مین کے نام خط، مطبوعہ ١٠/جون ١٩٣٥ء)
اسلام کے غدار
لاہور ٢١/جون ١٩٣٥ء
میرے محترم پنڈت جواہر لعل
آپ کے خط کا جو مجھے کل ملا۔ بہت بہت شکریہ! جب میں نے آپ کے مقالات کا جواب لکھا تب مجھے اس بات کا یقین تھا کہ احمدیوں کی سیاسی روش کا آپ کو کوئی اندازہ نہیں ہے۔ در اصل جس خیال نے خاص طور پر مجھے آپ کے مقالات کا جواب لکھنے پر آمادہ کیا وہ یہ تھا کہ میں
١١
دکھاؤں، علی الخصوص آپ کو کہ مسلمانوں کی یہ وفاداری کیونکر پیدا ہوئی اور بالآخر کیونکر اس نے اپنے لئے احمدیت میں ایک الہامی بنیاد پائی۔ جب میرا مقالہ شائع ہو چکا تب بڑی حیرت و استعجاب کے ساتھ مجھے یہ معلوم ہوا کہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کو بھی ان تاریخی اسباب کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جنہوں نے احمدیت کی تعلیمات کو ایک خاص قالب میں ڈھالا۔ مزید برآں پنجاب اور دوسری جگہوں میں آپ کے مقالات پڑھ کر آپ کے مسلمان عقیدت مند خاصے پریشان ہوئے۔ ان کو یہ خیال گزرا کہ احمدی تحریک سے آپ کو ہمدردی ہے اور یہ اس سبب سے ہوا کہ آپ کے مقالات نے احمدیوں میں مسرت و انبساط کی ایک لہر سی دوڑا دی۔ آپ کی نسبت اس غلط فہمی کے پھیلانے کا ذمہ دار بڑی حد تک احمدی پریس تھا۔ بہر حال مجھے خوشی ہے کہ میرا تاثر غلط ثابت ہوا۔ مجھ کو خود ”دینیات“ سے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ مگر احمدیوں سے خود انہی کے دائرہ فکر میں نمٹنے کی غرض سے مجھے بھی ”دینیات“ سے کسی قدر جی بہلانا پڑا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے یہ مقالہ اسلام اور ہندوستان کے ساتھ بہترین نیتوں اور نیک ترین ارادوں میں ڈوب کر لکھا۔ میں اس باب میں کوئی شک و شبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا کہ یہ احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں۔
لاہور میں آپ سے ملنے کا جو موقعہ میں نے کھویا، اس کا سخت افسوس ہے۔ میں ان دنوں بہت بیمار تھا اور اپنے کمرے سے باہر نہیں جاسکتا تھا۔ مسلسل اور پیہم علالت کے سبب میں عملاً عزلت گزیں ہوں اور تنہائی کی زندگی بسر کر رہا ہوں۔ آپ مجھے ضرور مطلع فرمائیں کہ آپ پھر کب پنجاب تشریف لا رہے ہیں۔ شہری آزادیوں کی انجمن کے بارے میں آپ کی جو تجویز ہے۔ اس سے متعلق میرا خط آپ کو ملا یا نہیں؟ چونکہ آپ اپنے خط میں اس خط کی رسید نہیں لکھتے۔ اس لئے مجھے اندیشہ ہو رہا ہے کہ یہ خط آپ کو ملا ہی نہیں۔
آپ کا مخلص! محمد اقبال
(مندرجہ بالا خط مکتبہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی کی کتاب ”کچھ پرانے خط“ حصہ اوّل، مرتبہ
جواہر لعل نہرو، مترجمہ عبدالمجید الحریری ایم۔اے، ایل ایل بی ص ٢٩٣ سے نقل کیا گیا)
١٢
حضورؐ خاتم النبیین کا صدقہ
ایک بار ملک شام میں زبردست قحط پڑا، لوگ سیدنا بلالؓ کے پاس آئے، اور عرض کیا کہ آپ حضورؐ کے مؤذن ہیں، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ وہ ہمیں بارش عطا فرمائے۔ آپؓ نے فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں اور تم سب آمین کہو۔ آپؓ نے دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ ’’اے اللہ! ہم گناہ گار ہیں، ہم اس لائق نہیں ہیں کہ تیری بارگاہ میں اپنے لئے کسی چیز کا سوال کریں لیکن تیرے محبوب اور تیرے آخری نبیﷺ ہمارے شفیع ہیں، ہم ان کا صدقہ تجھ سے بارش مانگتے ہیں، تو ہمیں بارش عطا فرما‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت بارانِ رحمت نازل فرمائی اور قحط دور ہو گیا۔
(البدایہ والنہایہ جلد ٥ ص ١٦٧)
قحط سالی اور وسیلہ
عہدِ فاروقی میں ایک مرتبہ شدید قحط پڑا تو حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت عباسؓ کے وسیلہ سے دعا فرمائی اور عرض کیا:
اے اللہ! پہلے ہم تیرے نبیﷺ کے وسیلے سے تجھ سے دعا کرتے تھے تو، تو ہمیں سیراب کر دیتا تھا۔ اب ہم اپنے نبیﷺ کے چچا کو تیری بارگاہ میں وسیلہ بناتے ہیں، تو ہمیں سیراب فرما، چنانچہ بارش ہو گئی۔
(بخاری جلد اول ص ١٣٧، مشکوٰۃ ص ١٣٢)
صحابہؓ کا عقیدہ
حضرت عمر فاروقؓ کا حضرت عباسؓ کو وسیلہ بنانا اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرامؓ حضورﷺ کی حیاتِ ظاہری کے بعد بھی آپﷺ کے وسیلہ اور آپﷺ کی ذات مبارکہ سے استمداد کے قائل تھے۔ اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضورﷺ کی ذات مبارکہ اور آپﷺ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز باعثِ برکت ہے۔
روضۂ اطہر کا وسیلہ
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ سخت قحط پڑا۔ لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے قحط کی شکایت کی تو آپؓ نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ کی قبرِ انور کو دیکھو! اور قبر مبارک کی چھت میں ایک روشن دان آسمان کی طرف اس طرح کھولو کہ قبرِ اطہر اور آسمان کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ رہے۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا تو اتنی زوردار بارش ہوئی کہ خوب سبزہ اگ آیا، اور اونٹ اتنے موٹے ہو گئے کہ معلوم ہوتا تھا کہ چربی سے پھٹ پڑیں گے۔ اس لئے اس سال کا نام ہی ’’عام الفتق‘‘ (پھٹنے کا سال) رکھ دیا گیا۔
(دارمی، مشکوٰۃ ص ٥٣٥)
مباہلہ پاکٹ بک
قادیانیت کی تردید کے لئے حتمی حربہ
(مولانا عبدالکریم صاحب مولوی فاضل آف مباہلہ )
خصوصیت
اس پاکٹ بک کے مطالعہ سے آپ پر بخوبی واضح ہو جائے گا کہ ہمارا مقصد اس کی اشاعت سے صرف یہ ہے کہ ہر مسلمان تھوڑے وقت میں نہ صرف قادیانیت کی حقیقت سے واقف بلکہ دندان شکن جواب دینے کے قابل ہو کر ایک کامیاب مبلغ بن جائے اس مقصد کے لئے کم از کم حجم میں زیادہ سے زیادہ معلومات بہم پہنچا کر بفضلہ تعالیٰ دریا کو کوزہ میں بند کیا گیا ہے۔ انشاء اللہ یہ پاکٹ بک آپ کو بے شمار کتابوں کے مطالعہ سے بے نیاز کر دے گی مباہلہ بک ڈپو کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کوئی تجارتی صیغہ نہیں بلکہ اس کی کتابوں کی تمام آمدنی دینی مقاصد پر ہی صرف کی جاتی ہے۔ اس لئے ہماری کتب کی اشاعت اسلام کی حقیقی خدمت ہے۔
(منیجر مباہلہ بک ڈپو امرتسر )
بسم الله الرحمن الرحيم!
دیباچہ
بفضلہ تعالیٰ ”مباہلہ“ عرصہ پانچ سال سے قادیانیت کی تردید اور حفاظت دین کا فرض بخوبی سر انجام دے رہا ہے اس عرصہ میں ہمدردان ملت کی طرف سے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا گیا کہ ہم ایک ایسی عام فہم اور مختصر پاکٹ بک تیار کریں جس کے مطالعہ کے بعد ایک معمولی اردو پڑھا لکھا شخص بھی ایک قادیانی کو لا جواب کر سکے اور اس پاکٹ بک کی موجودگی اسے مختلف بے شمار کتابوں کی ورق گردانی سے بے نیاز کر دے۔ ہمدردان قوم کی اس ضروری فرمائش کے پورا کرنے کا ہمیں ہمیشہ خیال رہا۔ مگر کل امر مرهون باوقاته ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ آج سے پہلے ہم اس خدمت سے عہدہ برآ نہ ہو سکے جس کی وجہ وہ واقعات ہیں۔ جو ہمیں قادیانی خلیفہ کے ہاتھوں پیش آئے جتنا عرصہ قادیان میں رہے ہر روز ایک نئی مصیبت کا سامنا ہوتا تھا بالآخر خلیفہ قادیان نے ہمیں قادیان سے نکال دیا۔ صرف قادیان سے ہمیں نکالنے پر اکتفاء نہ کی گئی بلکہ اس
مباہلہ پاکٹ بک
قادیانیت کی تردید کے لئے علمی حربہ
( مولانا عبدالکریم صاحب مولوی فاضل آف مباہلہ )
خصوصیت
ٹ بک کے مطالعہ سے آپ پر بخوبی واضح ہو جائے گا کہ ہمارا مقصد اس کی یہ ہے کہ ہر مسلمان تھوڑے وقت میں نہ صرف قادیانیت کی حقیقت سے ، جواب دینے کے قابل ہو کر ایک کامیاب مبلغ بن جائے اس مقصد کے لئے سے زیادہ معلومات بہم پہنچا کر بفضلہ تعالیٰ دریا کو کوزہ میں بند کیا گیا ہے۔ ، آپ کو بے شمار کتابوں کے مطالعہ سے بے نیاز کر دے گی مباہلہ بک ڈپو کی کوئی تجارتی صیغہ نہیں بلکہ اس کی کتابوں کی تمام آمدنی دینی مقاصد پر ہی ں لئے ہماری کتب کی اشاعت اسلام کی حقیقی خدمت ہے۔
( منیجر مباہلہ بک ڈپو امرت سر )
بسم الله الرحمن الرحیم!
دیباچہ
”مباہلہ“ عرصہ پانچ سال سے قادیانیت کی تردید اور حفاظت دین کا فرض ہے اس عرصہ میں ہمدردان ملت کی طرف سے ہمیشہ یہ مطالبہ کیا گیا کہ ہم پاکٹ بک تیار کریں جس کے مطالعہ کے بعد ایک معمولی اردو و پڑھا لکھا ا جاز کر سکے۔ اور اس پاکٹ بک کی موجودگی اسے مختلف بے شمار کتابوں نیاز کر دے۔ ہمدردان قوم کی اس ضروری فرمائش کے پورا کرنے کا ہمیں ، مرھون باوقاتہ ہر کام کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ آج سے دہ برآمد ہو سکے جس کی وجہ وہ واقعات ہیں۔ جو ہمیں قادیانی خلیفہ کے بہ قادیان میں رہے۔ ہر روز ایک نئی مصیبت کا سامنا ہوتا تھا بالآخر خلیفہ سے نکال دیا۔ صرف قادیان سے ہمیں نکالنے پر اکتفاء نہ کی گئی بلکہ اس ١
نے ہمیں نیست و نابود کرنے کے لئے اپنی تمام قوت صرف کر دی چنانچہ بٹالہ کا حادثہ قتل، قادیان میں ہمارے مکانات کا نذر آتش کیا جانا اور مقدمہ مباہلہ وغیرہ جملہ واقعات سے تمام اسلامی دنیا واقف ہے۔ بہر کیف ہم اپنی مجبوریوں کی وجہ سے احباب کرام کے مطالبہ کو پورا نہ کر سکے۔
خداوند ذوالجلال والاکرام کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے دشمن کے بد ارادوں سے ہم کو محفوظ رکھا اور آج ہم اس کے فضل واحسان سے برادران اسلام کی خدمت میں یہ تحفہ پیش کرنے کی توفیق پارہے ہیں۔
پاکٹ بک کے ہدیہ ناظرین کرنے سے پہلے اپنے چند ایک خیالات کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں تاکہ ناظرین اس مختصر کتاب سے کما حقہ فائدہ اٹھا سکیں میرے خیالات قیاس پر مبنی نہیں بلکہ تجربہ کی بناء پر ہیں۔ کیونکہ راقم الحروف خود عرصہ ١٦ ؍ ١٧ برس قادیانیت کا شکار رہ چکا ہے معمولی قادیانی نہیں بلکہ آنریری (بلا تنخواہ) مبلغ ہوتے ہوئے میں قادیانیت کی تبلیغ کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا مگر خداوند کریم کے فضل و احسان نے قادیانیت کی حقیقت کو مجھ پر آشکارا کر دیا اور اس گروہ کے اندرونی حالات نے مجھے اس نتیجہ پر پہنچایا کہ یہ کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ تجارتی کمپنی ہے۔ اس لحاظ سے مجھے یہ حق پہنچتا ہے کہ میں اپنے خیالات کا اظہار کروں اور ناظرین سے درخواست کروں کہ وہ میرے تجربہ سے فائدہ اٹھائیں۔
- ١....... قادیانی کمپنی نے وفات مسیح علیہ السلام اور امکان نبوت کے مسئلہ کو صرف
اور صرف اس لئے اپنے معتقدات میں شامل کر رکھا ہے تاکہ دنیا انہیں ایک مذہبی گروہ خیال کرے۔ قادیانی کمپنی کو خوب معلوم ہے کہ اس اختلاف کے موجد وہ خود نہیں بلکہ بہاء اللہ ایرانی یا ہمارے زمانہ کے چند نئی روشنی کے پروردہ لوگ ہیں۔ یہی وہ اشخاص ہیں جن کے خیالات کی روشنی میں قادیانی کمپنی نے اپنا مذہب یا بالفاظ دیگر کاروبار شروع کیا۔ ان مسائل پر قادیانی کمپنی نے اس لئے حد سے زیادہ زور دیا تاکہ دنیا یہی سمجھے کہ ان خیالات کی موجد یہی کمپنی ہے اور اہل اسلام اور قادیانیوں کا اختلاف ایک مذہبی اختلاف ہے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ پبلک یہ اندازہ ہی نہ کرسکے گی کہ یہ گروہ کوئی تجارتی گروہ ہے۔
قادیانی کمپنی کو اپنا کاروبار شروع کرنے کی جرات اس بات سے ہوئی کہ انہوں نے ہندوستان کی حالت کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس ملک کے باشندوں کی یہ ذہنیت ہے کہ وہ ایک اشتہاری عامل کے گرویدہ ہوجاتے ہیں اور متعدد جھوٹے پیران کے مال و متاع پر ڈاکہ ٢
ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو کیا یہ کوئی مشکل کام ہے کہ ایک دو باتوں کو بناء اختلاف قرار قرار دے کر مذہب کے پردہ میں کاروبار شروع کر دیا جائے۔
قادیانی کمپنی نے اپنی جگہ یہ سمجھ لیا کہ جھگڑے میں ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے ان مسائل پر کچھ من گھڑت دلیلیں ہم دیں گے۔ مقابل اہل اسلام کے علماء ان کا رد کریں گے عوام الناس میں سے بعض ہماری بات کو تسلیم کر لیں گے بعض علماء اہل اسلام کی اس مخالفت سے آہستہ آہستہ ہماری پیری مریدی بھی چل نکلے گی۔
- ٢....... قادیانی کمپنی نے ایک یہ چیز بھی اپنے لئے مفید خیال کی کہ ان ہر دو مسائل
پر جب کبھی گفتگو ہو گی تو اس میں صرفی نحوی لغوی منطقیانہ فلسفیانہ غرضیکہ ہر قسم کی علمی بحث ہو گی عوام الناس جو اس بحث کو سنیں گے وہ ان علوم سے بے بہرہ ہوں گے وہ کیا اندازہ کریں گے کہ درست بات کون کہہ رہا ہے بس جھگڑا ہو گا جو تیز و طرار چالاک و ہوشیار ہو گا پبلک اس سے متاثر ہو گی پبلک کیا سمجھے کہ از روئے علوم اسلامیہ کون صحیح بات کہہ رہا ہے۔ اس جھگڑے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ حاضرین میں سے کوئی ایک آدھ ہماری طرف ہو جائے گا اور باقی ہمارے مخالف رہیں گے بہر کیف سودا مہنگا نہ ہوگا اگر اس زمانہ میں دہریت پھیل سکتی ہے اور لوگ خدا کے بھی منکر ہو سکتے ہیں تو کیا قادیانیت کا پرچار نہیں ہو سکتا۔
- ٣....... مذکورہ بالا امر کی وضاحت اس مثال سے ہو سکتی ہے کہ وفات مسیح علیہ
السلام یا امکان نبوت پر ایک قادیانی اور مسلمان عالم میں مناظرہ ہو۔ مناظرہ میں قرآن کریم اور احادیث کی رو سے بحث ہو گی۔ صرفی نحوی باتیں بھی ہوں گی۔ دونوں طرف کے مناظر اپنے اپنے دلائل پیش کریں گے۔ سامعین کون ہوں گے وہ لوگ جو عربی علوم سے تہی دست ہیں۔ اب معزز ناظرین خیال فرمائیں کہ مناظرہ اس لئے کیا جاتا ہے لوگ فیصلہ کر سکیں کہ حق وصداقت کس طرف ہے۔ لیکن غور فرمائیے کہ دونوں مناظروں کا مباحثہ وہ لوگ سن رہے ہیں۔ جو خود ان علوم کے ناموں سے بھی نا آشنا ہیں۔ جن کی رو سے بحث کی جارہی ہے۔ چاہئے تو یہ کہ مناظرہ سننے والے وہ لوگ ہوں ۔ جو دونوں مناظروں سے بھی زیادہ علم رکھتے ہوں ۔ جو یہ فیصلہ دے سکیں کہ کون درست کہہ رہا ہے۔ مگر تعجب ہے کہ مناظرہ کی منصف وہ پبلک بن جاتی ہے جو خود ان علوم سے قطعی ناواقف ہے۔
کیا اس امر سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ مروجہ سکولوں کی دسویں جماعت کا امتحان وہی
٣
لے سکتا ہے۔ جو خود انٹرنس پاس ہو۔ اسی طرح ایف۔ اے کا امتحان وہ لے سکتا ہے جو خود بی اے ہو، بی اے کا امتحان وہ لے سکتا ہے جو خود ایم اے ہو، جب دنیاوی معاملات میں دنیا کا طرزِ عمل یہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم دینی معاملات میں خود منصف بن بیٹھیں اور یہ خیال کر لیں کہ دینی مباحث کا فیصلہ ہم کر سکتے ہیں۔
- ٤...... میرا یہ مطلب نہیں کہ ہر جگہ کے لوگ اس بات کا خیال نہیں کرتے اور
مناظرہ کروا کر خود منصف بن جاتے ہیں۔ کیونکہ بہت سے مقامات میں جہاں قادیانیوں نے اپنا داؤ چلانا چاہا۔ مگر وہاں کے لوگوں نے یہ کہا کہ ہم مناظرہ کا فیصلہ نہیں کر سکتے یہ مشکل ہے کہ ہم پہلے ان علوم کو حاصل کریں جن کی رو سے مناظرہ ہو گا اور پھر تمہارا مناظرہ سنیں ۔ یہ وہ زمانہ نہیں کہ ہر شخص علوم دینیہ سے واقفیت حاصل کرنا ضروری خیال کرتا ہے اس لئے بہتر صورت یہ ہے کہ ایک ثالث مقرر کرو۔ جو غیر جانبدار ہو اور اس قابل ہو کہ تم دونوں کے بیانات کا موازنہ کر کے فیصلہ صادر کر سکے۔ چنانچہ اس جواب پر قادیانی بھاگ اٹھے۔ کیونکہ ان کا مقصود طلب حق تو ہوتا نہیں۔ اگر یہ ہو تو وہ فوراً ثالث مان لیا کریں۔ مگر ان کو اپنے دلائل کی حقیقت معلوم ہے اس لئے ثالث کبھی نہ مانیں گے بلکہ وہ تو جھگڑا چاہتے ہیں۔ تاکہ جھگڑے میں اپنے فائدہ کی کوئی راہ اختیار کر سکیں۔
- ٥...... اگر کسی جگہ ثالث مقرر کرنے کے لئے قادیانیوں سے کہا جائے۔ تو ان
کے مناظر تقدس آمیز لہجہ میں کہا کرتے ہیں کہ اگر ان مسائل میں کسی عالم کو ثالث بنانے کی ضرورت ہے۔ تو معاذ اللہ یہ اسلام پر ایک خطرناک حملہ ہے۔ گویا قرآن وحدیث کے علوم اس قدر مشکل ہیں کہ تم لوگ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے اور دو مناظروں کی گفتگو سن کر فیصلہ نہیں کر سکتے۔ خداوند کریم نے قرآن کریم کو نہایت آسان بنایا ہے تا کہ ہر شخص بآسانی سمجھ سکے پس کسی ثالث کی ضرورت نہیں۔ اگر تم ثالث کا مطالبہ کرو گے تو بالفاظ دیگر قرآن پاک پر ایک حملہ کرو گے۔ گویا یہ ایسی کتاب ہے کہ اسے سمجھا ہی نہیں جا سکتا۔
اس سوال کا جواب اس مناظر کو یہ دینا چاہئے:-
- ١...... جناب من! اگر آپ کا قول درست تسلیم کیا جائے تو آپ کو کیا ضرورت تھی
کہ دس سال کے لمبے عرصہ میں مولوی فاضل بنتے۔ مناظرہ کرنے کی مشق کے لئے دو تین سال صرف کرتے آخر آپ اتنے سال قادیان میں ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد مناظرہ کے لئے تشریف لائے ہیں۔ تو کیا یہ قرآن پاک یا اسلام پر خطرناک حملہ نہیں کہ آپ نے اپنے عمل سے یہ
٤
ثابت کیا کہ ان علوم کو سمجھنے یا ان مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ آپ کو تیاری میں گزارنا پڑا۔ لطف تب تھا جب آں جناب بھی ہماری طرح ان باتوں سے بے بہرہ ہوتے اور پھر گفتگو کرتے۔ آپ کے عمل نے ہی ثابت کر دیا کہ ان مسائل پر گفتگو کرنے کے لئے قابلیت کی ضرورت ہے۔ اگر آپ کو بحث کرنے کے لئے ان علوم کی ضرورت ہے۔ تو ہمیں فیصلہ کرنے کے لئے ان چیزوں کی ضرورت کیوں نہیں۔
- ٢...... آپ کے تقدس آمیز وعظ کے چکر میں ہم نہیں آسکتے۔ اگر کسی مریض کے
علاج کے لئے ڈاکٹر بننے کی ضرورت ہے اور باقاعدہ تعلیم حاصل کرنی ضروری ہے۔ اگر مصنف بننے کے لئے علم ادب کی ضرورت ہے۔ اگر انسان کو اپنی روزی پیدا کرنے کے لئے کسی صنعت و حرفت کا سیکھنا ضروری ہے۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ علوم دینیہ میں دخل دینے کے لئے کسی علم کی احتیاج کا اظہار کیا جائے۔ اگر ہم ان علوم سے ناواقف ہیں تو فیصلہ کا آسان طریقہ یہ ہے ایک ثالث کا تقرر ہو جو خود عالم ہو اور بہترین فیصلہ دے سکے۔
- ٣...... اگر تم بغیر ثالث گفتگو کرنا چاہتے ہو تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں۔
بشرطیکہ تم ایسے موضوع پر بحث کرو جس میں کسی علم کی ضرورت لاحق نہ ہو اور صرف اردو کا جاننا کافی ہو۔ مثلاً مسئلہ صداقت مرزا کا موضوع ہے۔ مرزا قادیانی کی اکثر کتب اردو میں ہیں ہم میں سے ہرشخص اس زبان کو سمجھتا ہے۔ اس موضوع پر مناظرہ کرو اور فیصلہ بالکل آسان ہوگا۔ آخر تم خود بھی تو یہی کہتے ہو کہ وفات مسیح علیہ السلام اور امکان نبوت کے مسائل مرزا قادیانی نے پیش کر کے اہل اسلام کو ایک خطرناک جہالت سے نکالنا چاہا ہے پس مرزا کی صداقت پر بحث کرلو۔ اگر وہ سچا ثابت ہو گیا تو اس میں یہ بات بھی آگئی کہ وہ ان مسائل میں بھی سچا ہے یا نہیں آپ کے پیغمبر یعنی مرزا قادیانی کا یہ فتویٰ موجود ہے۔
- ١...... ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری
باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
اس فتوے کی رو سے ہماری بات تم کو تسلیم کرنی پڑے گی کہ صداقت مرزا پر بحث کافی ہے۔
- ٤...... وفات مسیح علیہ السلام یا امکان نبوت کے مسائل پر تم کو بحث کرنے کی
ضرورت صرف اس وجہ سے ہے کہ تم مرزا کی صداقت کو واضح کرو۔ وفات مسیح علیہ السلام ثابت کرتے ہو اس لئے کہ مرزا مثیل مسیح علیہ السلام بن سکے۔ امکان نبوت ثابت کرتے ہو اس لئے
٥
کہ مرزا نبی یا پیغمبر بن سکے۔ آخر یہ ساری تکلیف صداقت مرزا کو منوانے کے لئے تو ہے۔ پس جو چیز تم نے ان مسائل کے بعد پیش کرنی ہے کیوں پہلے ہی اس امر پر بحث نہیں کرتے۔ جو تمہارا اصل مقصود ہے۔ ناک کو ہاتھ لگانا ہے تو سیدھے لگاؤ۔ چکر ڈال کر ہاتھ لگانے سے کیا فائدہ؟ اگر تم صداقت مرزا ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے تو تمہاری ہر بات سچی۔ ورنہ سب جھوٹ۔
- ......٥ اگر تم یہ کہو کہ صداقت مرزا کے سلسلہ میں بھی بعض معیار پیش ہوں گے جن
میں پھر علوم کی واقفیت ضروری ہوگی۔ تو ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ مناظرہ میں صرف اردو اقوال پیش ہوں گے۔ اگر کوئی مرزا کی عربی عبارت ہوگی تو خود مرزا کا اردو ترجمہ پیش کریں گے ہمیں عربی الفاظ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ ہمارا مقصود تو صرف یہ ہے کہ ایسے طریق سے بحث ہو کہ حاضرین اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اردو عبارت میں کیا جھگڑا۔ ہر شخص اردو عبارت کو دیکھ کر فیصلہ صادر کر سکے گا اور ہمیں کسی ثالث کی ضرورت نہ ہوگی اور نہ کسی علم سے واقفیت کی احتیاج۔
پس یہ وہ طریق ہے جس سے ہر شخص قادیانیوں سے گفتگو کر سکے گا۔ مگر آپ دیکھیں گے کہ قادیانی اس بات سے کیونکر بھاگتے ہیں۔
- ......٦ اس پاکٹ بک کی تیاری میں اس امر کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ اس میں وہی
باتیں درج ہوں جو عام فہم ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ کتب مرزا تردید مرزا کے لئے کافی ہیں۔ پس اس تجارتی کمپنی کے جال سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کی جیب میں یہ پاکٹ بک ہر وقت موجود رہے اور جب کبھی کوئی قادیانی اپنا جال بچھانے کا ارادہ کرے تو یہ پاکٹ بک مسلمانوں کے لئے ایک مفید حربہ ثابت ہو۔
- ......٧ اس پاکٹ بک میں مضمون نویسی کو دخل نہیں دیا گیا۔ صرف حوالہ جات
ہیں جس مدعا کے لئے کوئی حوالہ درج کیا گیا ہے۔ اس کا اختصاراً ذکر کر دیا گیا ہے۔
- ......٨ حوالہ جات پوری احتیاط سے درج کئے گئے ہیں۔ تاکہ کسی قسم کی دقت نہ
ہو کیونکہ میں اس مشکل سے واقف ہوں کہ پبلک ایک مصنف کے حوالہ پر اعتماد کرتی ہے اور بعض اوقات وہ حوالہ اس جگہ نہیں ملتا جہاں بتایا جاتا ہے اس لئے یہ امر باعث دقت ہوتا ہے۔ اس لئے میں نے اس بارہ میں پوری احتیاط کی ہے اور ہر حوالہ خود دیکھ لیا ہے۔ مگر تاہم احتیاطاً عرض کرتا ہوں کہ میری یا کاتب کی غلطی سے اگر کسی وقت کسی دوست کو کوئی حوالہ نہ ملے تو وہ مایوس نہ ہوں۔
١ اگر کسی جگہ ضرورۃً مرزا کی کوئی عربی عبارت نقل کی گئی ہے تو اس صورت میں یا تو اسی کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے یا ترجمہ ایسا ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
٦
بلکہ پہلے دیکھیں کہ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ہے یا دوسرا بعض اوقات صرف ایڈیشنوں کی وجہ سے حوالہ نہیں ملتا۔ ایسی صورت میں دونوں ایڈیشنوں کے صفحات دیکھنے چاہئیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مثلاً ص ٣١٢ دیا گیا ہے۔ پریس یا کتابت کی وجہ سے بجائے ٣ کے ٢ بن جائے اور ٢١٢ پڑھا جائے تو ایسی صورت میں ٣١٢۔٣١٣ گویا اس صفحہ کے نمبر کی طرز کے صفحات دیکھنے چاہئیں اس سلسلہ میں ایک ضروری گزارش یہ ہے کہ اگر کسی دوست کو کوئی ایسی غلطی نظر آئے تو مجھے ضرور مطلع کریں تاکہ تیسرے ایڈیشن میں وہ غلطی نہ رہے۔
- ٩...... قادیانیوں سے گفتگو کرتے وقت ہمیشہ یہ خیال رہے کہ قادیانی کبھی ایک
بات پر نہ ٹھہرے گا۔ ہمیشہ ایک بات کو چھوڑ کر دوسری طرف رخ کرے گا اور بحث کو اس جگہ لے جائے گا جہاں جھگڑا ہو، اور گفتگو بغیر نتیجہ رہ جائے۔ پس ہمیشہ گفتگو کرتے وقت یہ مدنظر رکھئے کہ جو چیز آپ پیش کریں آخر وقت تک اس بات کو دہراتے جائیں۔ اس سے جواب کا مطالبہ کیجئے اور ہر وقت یہ پیش نظر رہنا چاہئے کہ گفتگو مختصر ہو اور ایک وقت میں ایک ہی بات ہو۔
- ١٠...... میری دعا ہے کہ مسلمان میری اس حقیر خدمت سے فائدہ اٹھائیں اور
خاکسار کے حق میں دعا فرمائیں کہ میرا مولا مجھے اہل اسلام کی اس خدمت کی توفیق عطا فرمائے کہ میں مسلمانوں کو قادیانی کمپنی سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا رہوں کہ یہی چیز میرے گناہ کی تلافی ہو جائے۔ ناظرین سے میری یہ استدعا ہے کہ وہ اس پاکٹ بک سے کما حقہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ میری معروضات کو اگر پیش نظر رکھا گیا تو انشاء اللہ العزیز ہر مسلمان قادیانیوں پر غالب رہے گا۔
جہاں مجھے یہ امید ہے کہ یہ پاکٹ بک میرے بھائیوں کے لئے نہایت مفید ہوگی وہاں یہ بھی خیال ہے کہ قادیانی ہوشیار و چالاک پارٹی ہے موقعہ کے مناسب حال چال چلنا ان کا دستور العمل ہے جونہی ان کو معلوم ہوگا کہ ہمارا مد مقابل مسلمان ہمیں دندان شکن جواب دے گا وہاں فوراً بحث سے گریز کریں گے اور یہ تقریر شروع کردیں گے کہ اسلام مصائب میں گھرا ہوا ہے۔ مناظروں کو چھوڑ دو آپس میں متحد ہوکر اسلام کی ترقی کی کوشش کرو ہمارے خلیفہ نے اسلام کے درد سے متاثر ہو کر یہ حکم دے رکھا ہے۔
- ٢...... ”میں ان کو نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ اب تک ہماری جماعت سے ایک
غلطی ہوئی ہے۔ میں نے بارہا اس سے روکا بھی ہے مگر اس جماعت نے جو اخلاص میں بے نظیر ٧
ہے۔ تاحال اس پر عمل نہیں کیا اور وہ یہ کہ مباحث کو ترک کرو۔ میرے نزدیک وہ شکست ہزار درجہ بہتر ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہو بہ نسبت اس فتح کے جو لوگوں کو حق سے دور کرے۔ پس ایک دفعہ پھر جب کہ ہمارے مبلغ تبلیغ کے لئے جا رہے ہیں۔ انہیں اور دوسروں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ مباحثات کو چھوڑ دیں اور ایسا طرز اختیار کریں۔ جس سے دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور خدا تعالیٰ سے خشیت ظاہر ہو۔“
(الفضل ١١ جولائی ١٩٤٥ء ص ٤)
اس حکم کی رو سے ہم مناظرہ یا بحث نہیں چاہتے پس قادیانیوں کے ہر ہتھکنڈ ا کو سمجھئے اور اسے کہئے کہ اگر اسلام کا فی الواقع درد ہے تو دیہات میں تمہارے آدمی روزانہ بحث و مناظرہ کیوں کرتے ہیں۔ اس لئے کہ وہاں لاعلمی ہے اور وہاں کے لوگ تمہیں اپنا شکار نظر آتے ہیں تمہاری یہ چال صرف ”صداقت مرزا“ کی بحث سے فرار اختیار کرنے کے لئے ہے۔ رہا تمہارے خلیفہ کا حکم سو تمہاری دورنگیاں ہم خوب جانتے ہیں خلیفہ قادیان کا مذکورہ بالا حکم تم نے پیش کیا مگر اسی اخبار کے ص ٥ پر اس کا یہ قول بھی موجود ہے جس سے صاف عیاں ہے کہ اس کا اصل مقصود کیا ہے؟
٣....... ”مگر ساتھ ہی یہ خیال رکھنا چاہئے کہ وہ مبلغ کی حیثیت سے نہیں جا رہے ہیں بلکہ مدبر کی حیثیت سے جا رہے ہیں ان کا کام یہ دیکھنا ہے کہ اس ملک میں کس طرح تبلیغ کرنی چاہئے ۔“
اگر اسلام کا درد ہے تو آؤ سیدھی طرح مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے سے تحریری توبہ نامہ لکھ دو۔ بہر کیف میں برادران اسلام سے یہ کہوں گا کہ وہ بھی کسی امر پر بحث کرنے سے پہلے دشمن کی چال سمجھا کریں اگر قادیانی خود مناظرہ کا میدان گرم کرنے کی کوشش کرے تو آپ یہی حوالہ پیش کر کے دریافت کیا کریں کہ تمہارے خلیفہ کا تو حکم ہے کہ مناظرہ نہ کرو تم کیوں ایسا کرتے ہو اگر وہ خود ہی یہ معلوم کر کے کہ میرا مد مقابل دندان شکن جواب دے گا مناظرہ سے فرار اختیار کرے اور اسلام کے درد کا اظہار کرنا شروع کرے۔ تو آپ ان کے ساتھیوں کا حال بیان کریں جو عموماً قادیانی اخبار میں درج ہوتا ہے کہ فلاں جگہ مناظرہ ہوا فلاں جگہ بحث ہوئی اور دریافت کریں کہ وہاں مناظرے کیوں ہوتے ہیں صاف بات کیوں نہیں کہتے کہ تم مرزا کی کتابوں کے حوالہ جات سے گھبراتے ہو۔ ہاں اگر کوئی نا واقف حال مل جائے تو مناظرہ کی ڈینگ مارتے ہو۔ اسی مقصد کے لئے اس پاکٹ بک میں ان کی دورنگیوں کا علیحدہ باب لکھا گیا ہے۔ ایسے موقع پر اس موضوع پر گفتگو ہوا کرے کہ حضرت ہم آپ کی چالوں سے واقف ہیں۔ وقت وقت کی چال چلنا آپ کا شیوہ ہے۔
٨
من انداز قدت را می شناسم
تم کوئی گفتگو کرو تمہارا آخری نقطہ مرزا کی تبلیغ ہوگی۔ پس آؤ اسی موضوع پر گفتگو کر کے قصہ ختم کریں۔ بعض اوقات قادیانی مناظرہ سے انکار کیا کرتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد پھر ان کی رگ جوش مارا کرتی ہے اور مناظرہ کے لئے گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ ایسے موقعہ پر جب سوال کیا جائے کہ اب کیوں بحث کرتے ہو تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ بحث نہیں تبادلہ خیالات ہے۔ غرضیکہ یہ لوگ منٹ منٹ کے بعد اپنا رنگ بدلا کرتے ہیں۔ پس پوری ہوشیاری سے پہلے ان کی چال دیکھا کریں اور پھر گفتگو شروع کیا کریں۔ مناظرہ سے روکنے کا جو حوالہ اوپر درج کیا گیا ہے۔ اس میں بھی ایک داؤ موجود ہے مناظرہ سے روکا ہے تو ساتھ ہی ایسا طرز اختیار کرنے کے الفاظ کہہ کر اصل معاملہ سمجھا دیا ہے۔
بالآخر ہر مسلمان سے میری درخواست ہے کہ راقم الحروف کے حق میں بارگاہ ایزدی میں دعا فرمائیے کہ وہ ذات پاک میری اس ناچیز خدمت کو میرے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنائے اور مسلمانوں کے لئے اس تحفہ کو مفید بنائے۔ خادم اسلام!...... عبدالکریم آف مبہلہ
ضروری نوٹ
- .......١ اس پاکٹ بک میں جن کتب کے حوالہ جات ہیں وہ تمام قادیانی کمپنی کی ہیں۔
- .......٢ جو کتب مرزا غلام احمد کی تصنیف کردہ ہیں وہاں کتاب کے نیچے علامت
’م‘ دی گئی ہے۔
- .......٣ جو کتب مرزا محمود خلیفہ قادیان کی ہیں وہاں علامت خ دی گئی ہے۔
- .......٤ ”الحکم“ قادیانیوں کا اخبار ہے۔ جو مرزا غلام احمد کے وقت شائع ہوتا تھا۔
اس میں مرزا کے اعلانات و تقاریر شائع ہوا کرتی تھیں۔
- .......٥ الفضل خلیفہ قادیان نے جاری کر رکھا ہے جس میں اس کے خطبات تقاریر
اور دیگر مضامین شائع ہوتے ہیں۔
- .......٦ ہم نے تمامتر حوالہ جات مرزا قادیانی یا خلیفہ کی کتب و اخبارات سے لئے
ہیں تاکہ ہر حوالہ قادیانیوں پر حجت ہو۔ اگر شاذ و نادر کوئی حوالہ مرزا کے کسی مرید کی کتاب یا اخبار کے ایڈیٹر یا مضمون نگار کا ہو تو یاد رکھنا چاہئے کہ کسی مرید کا قول بھی خود مرزا قادیانی یا خلیفہ کی طرف منسوب ہوگا کیونکہ مرید، ان کو واجب الاطاعت امام مانتے ہیں جب مرید کے مضمون کی مرزا یا
٩
خلیفہ (جس کے وقت کا مضمون ہو)
- .......٧ ہر حوالہ
ضرورت ہو تو سارا حوالہ نقل نہ کرنا
- .......٨ بعض کتب
تصنیف کردہ تو نہیں ہیں مگر ان میں کے نیچے علامت واس صورت میں خلیفہ قادیان۔
مذہب کے پردہ میں تجارت
میرے ذاتی تجربہ اور بلکہ ایک تجارتی کمپنی ہے جس نے ان کے کلام و وعظ اور تحریروں سے لہجہ میں پیش کرنے کے عادی ہیں ظاہر کریں مگر ایک محقق بنظر غور جائے گا کہ اس کمپنی نے مذہب رکھا ہے۔ پبلک پر اپنا اثر ڈا تاویلات سے اپنے پیغمبر کی سرور کائنات ﷺ کی سیرت پ دینداری کی پوری نمائش ہوتی حسین نظر آتا ہے۔ اس پاکٹ یہ گروہ ایک مقدس جماعت میں ان کے عقائد کا ذکر ہوگا کی رٹ لگانی شروع کرے نے ان عقائد کو پیش کر کے محض گرگٹ کی طرح رنگ اسی طرح تم اپنے عقائد کی کوشش صرف کرنے پر ز
خلیفہ (جس کے وقت کا مضمون ہو) تردید نہ کرے تو وہ مضمون مصدقہ سمجھا جائے گا۔
- ٧....... ہر حوالہ پر ترتیب وار نمبر دیا گیا ہے تاکہ اگر اسی حوالہ کی دوسری جگہ
ضرورت ہو تو سارا حوالہ نقل نہ کرنا پڑے بلکہ صرف نمبر دینا کافی ہو۔
- ٨....... بعض کتب یا اخبارات ایسی ہیں جو مرزا قادیانی یا خلیفہ قادیانی کی
تصنیف کردہ تو نہیں ہیں مگر ان میں اقوال ان کے درج ہیں ایسی کتب یا اخبارات کے ناموں کے نیچے علامت م اس صورت میں دی گئی جب کہ وہ قول مرزا کا ہو اور علامت خ بصورت قول خلیفہ قادیان۔
مذہب کے پردہ میں تجارت
میرے ذاتی تجربہ اور تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی گروہ کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک تجارتی کمپنی ہے جس نے مذہب اور روحانیت کو اپنا سرمایہ تجارت بنا رکھا ہے۔ بعض لوگ ان کے کلام و وعظ اور تحریروں سے یہ چیز با آسانی معلوم کر سکتا ہے کہ وہ اپنی ہر بات کو تقدس آمیز لہجہ میں پیش کرنے کے عادی ہیں اور اس امر کی پوری کوشش کی جاتی ہے کہ وہ خود کو ایک باخدا گروہ ظاہر کریں مگر ایک محقق بنظر غور حالات و واقعات پر غور کرے گا تو اس پر اس حقیقت کا انکشاف ہو جائے گا کہ اس کمپنی نے مذہب کی اوڑھنی اوڑھ کر تقدس و روحانیت کے پردہ میں ایک جال بچھا رکھا ہے۔ پبلک پر اپنا اثر ڈالنے کے لئے قرآن کریم کا درس بھی ہے (جس کا مقصود من گھڑت تاویلات سے اپنے پیغمبر کی صداقت بیان کرنا ہوتی ہے) بعض اوقات بوقت ضرورت سرور کائنات ﷺ کی سیرت بھی بیان کی جاتی ہے تقدس سے بھر پور وعظ بھی ہوتے ہیں غرضیکہ دینداری کی پوری نمائش ہوتی ہے لیکن اندرونی حالات و خیالات کی پڑتال کی جائے تو ایک اور ہی سین نظر آتا ہے۔ اس پاکٹ بک کے جملہ مضامین و حوالہ جات آپ اس نقطہ نگاہ سے دیکھئے کہ کیا یہ گروہ ایک مقدس جماعت ہے۔ یا یہ تمام کاروبار تجارتی اغراض پر مبنی ہے۔ مثلاً اس پاکٹ بک میں ان کے عقائد کا ذکر ہو گا ان عقائد کی موجودگی میں اگر کوئی قادیانی آپ کے سامنے اتحاد اتحاد کی رٹ لگانی شروع کرے اور دردمندانہ الفاظ سے آپ کو متاثر کرنے کی کوشش کرے تو آپ نے ان عقائد کو پیش کر کے مطالبہ کرنا ہو گا کہ تمہارے فتنہ انگیز عقائد کی موجودگی میں تمہارا یہ وعظ محض گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا ہے جس طرح دوکاندار ہر گاہک کے مناسب حال گفتگو کرتا ہے اسی طرح تم اپنے عقائد کی رو سے اپنی جماعت کو تو مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے انتہائی کوشش صرف کرنے پر زور دیتے ہو اور دن رات انہیں تلقین کرتے ہو کہ ہمارا فرض ہے کہ
١٠
مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتاریں اور یہ ثابت کر دیں کہ پہلا مسیح تو خود سولی پر چڑھنے کے لئے آیا تھا مگر یہ مسیح مخالفین کو سولی پر چڑھانے کیلئے آیا ہے مگر مسلمانوں سے جب کلام کرتے ہو تو اتحاد اتحاد کی رٹ لگانا شروع کر دیتے ہو۔ اگر یہ دوکاندارانہ اصول نہیں تو اور کیا ہے؟ اسی طرح مثلاً اس پاکٹ بک میں وہ تمام گالیاں درج کی گئی ہیں۔ جو مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں دیں قادیانی کہیں گے کہ یہ عیسائیوں کے یسوع مسیح کے متعلق ہیں اس کے جواب میں آپ مرزا قادیانی کا وہ قول پیش کریں گے جس میں وہ ملکہ معظمہ کو ایک درخواست بھیجتا ہوا خود کو یسوع کی روح بتاتا ہے۔ ہر دو امور کا مقابلہ کر کے آپ ثابت کریں گے کہ قادیانیوں کا مقصود صرف مطلب براری ہے مسلمانوں کو خوش کرنا ہوا تو کہہ دیا کہ ہم عیسائیوں کے مخالف ہیں۔ ان کو ساکت کرنے کے لئے اور اسلام کی حفاظت کے لئے ان کے یسوع مسیح کو گالیاں دی گئی ہیں۔ تم جانتے ہو کہ یہ لوگ کس بے باکی سے اسلام پر اعتراض کرتے ہیں ان کا علاج ہی یہی ہے۔ اگر عیسائیوں سے واسطہ پڑے ان سے کوئی مطلب ہو تو مرزا قادیانی یسوع مسیح کی تعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں حتیٰ کہ اپنی نسبت یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ یسوع کی روح مجھ میں موجود ہے اور میں یسوع کے نام پر دنیا میں آیا ہوں اگر یہ وقت وقت کی باتیں نہیں تو اور کیا ہیں؟
غرضیکہ اس پاکٹ بک کے ہر حصہ کو مطالعہ فرمانے کے بعد آپ یہ ثابت کرنے کے قابل ہوں گے کہ قادیانی کمپنی کوئی مذہبی جماعت نہیں۔ ان کے کوئی خاص عقائد نہیں بلکہ مقصد تجارت ہے۔ اپنے فائدہ کے لئے جس چیز کو مفید سمجھا جاتا ہے اس کو بیان کر دیا جاتا ہے خواہ وہ پہلی باتوں کے صریح مخالف و متناقض ہی کیوں نہ ہو۔ قادیانی کمپنی کے اس طرز عمل کی تائید خود ان کے الفاظ میں سنئے۔
خلیفہ قادیان ”نصائح مبلغین“ کے ص ٢٠ پر اپنے مبلغوں کو ہدایات دیتا ہوا لکھتا ہے۔
- ٤......... ”مبلغ کا فرض ہے کہ ایسا طریق اختیار نہ کرے کہ کوئی قوم اسے اپنا دشمن
سمجھے۔ اگر یہ کسی ہندوؤں کے شہر میں جاتا ہے تو یہ نہ ہو کہ وہ سمجھیں کہ ہمارا کوئی دشمن آیا ہے بلکہ وہ یہ سمجھیں کہ ہمارا پنڈت ہے۔ اگر عیسائیوں کے ہاں جائے تو سمجھیں کہ ہمارا پادری ہے وہ اس (مبلغ) کے جانے پر ناراض نہ ہوں بلکہ خوش ہوں اگر یہ اپنے اندر ایسا رنگ پیدا کرے تو پھر غیر احمدی کبھی تمہارے شہر میں جانے پر کسی مولوی کو نہ بلائیں گے نہ ہندو کسی پنڈت کو اور نہ عیسائی کسی پادری کو۔ بلکہ وہ تمہارے ساتھ محبت سے پیش آئیں گے۔“
(نصائح مبلغین ص٢٠)
١١
ان الفاظ سے قادیانی خلیفہ کا مطلب صاف اور واضح ہے۔ صریح الفاظ میں وقت وقت کی راگنی الاپنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عجیب تر یہ کہ ایک طرف اس درجہ نرمی اور ملاطفت کی تعلیم اور دوسری طرف ہندو اور عیسائیوں کو بے نقط گالیاں دی گئی ہیں وجہ صرف یہ کہ ان گالیوں سے مقصود مسلمانوں کو اپنی کارگزاری دکھا کر ان کی جیبوں کو خالی کرنا ہے۔ غرضیکہ اس کمپنی کا مذہب ”با مسلمان الله الله، با برہمن رام رام“ کا مصداق ہے۔ جس کا انہوں نے خود بھی اقرار کیا ہے۔
باب اوّل
قادیانی عقائد ...... اتحاد و اتفاق کا وعظ
قادیانی جب کبھی نو تعلیم یافتہ یا ان اشخاص سے جو قادیانیوں کے عقائد سے ناواقف ہوتے ہیں ملتے ہیں تو انہی کے مذاق کے مطابق گفتگو شروع کرتے ہیں ان کے وعظ کا ملخص یہ ہوتا ہے کہ اسلام چاروں طرف سے مصائب میں گھرا ہوا ہے۔ مسلمانوں پر تنزل و ادبار کا دور دورہ ہے۔ ان حالات میں جو لوگ باہمی تکفیر بازی کا مشغلہ اختیار کرتے ہیں۔ دراصل وہی اسلام کے جانی دشمن ہیں آج وقت یہ ہے کہ آپس کے اختلاف کو بالائے طاق رکھا جائے۔ آپس میں کوئی جھگڑا نہ کیا جائے۔ ہر شخص جو لا اله الا الله محمد رسول الله کا قائل ہے۔ خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتا ہو ایک دوسرے سے متحد ہو کر غیروں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو جائے تنگ خیالی کو دور کر دیا جائے غرضیکہ ایسی تقریر کریں گے جو ایک ناواقف حال پر یہی اثر ڈالے کہ یہ قادیانی اسلام اور مسلمانوں کے مصائب سے پوری پوری ہمدردی رکھتے ہیں اور انہیں ان کی تکالیف کا اس قدر احساس ہے کہ شاید رات کی نیند بھی ان پر حرام ہو چکی ہے۔
چونکہ قادیانیوں کا یہ ہتھکنڈہ آج کل عام ہے کیونکہ ان کے خیال میں کالجوں کے تعلیم یافتہ لوگ مذہب سے ناواقف ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ہی مذہب سے واقف نہیں تو ان کو قادیانیوں کے عقائد کا کیا علم ہوگا۔ اس لئے قادیانی ان کی مجالس میں اور مسائل کو چھوڑتے ہوئے یہی حربہ اختیار کرتے ہیں جس سے ان کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ مسلمان طالب علموں یا دوسرے ناواقف حال اصحاب کو متاثر کر کے علماء اسلام سے متنفر کیا جائے اور ان کے ذہن نشین کیا جائے کہ فساد کے بانی یہی ”مولوی“ ہیں جن کا مشغلہ باہمی تکفیر بازی ہے جب اس نفرت دلانے میں کامیابی ہو گی اور یہ ١٢
لوگ اپنے علماء کے مواعظ حسنہ سے مستفید ہی نہ ہوں گے تو ان کو آہستہ آہستہ اپنے رنگ پر لایا جائے گا اور قادیانیت کے پرچار میں بہت زیادہ آسانیاں ہو جائیں گی۔ چونکہ قادیانی آج کل زیادہ تر اس حربہ کو استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ان کے عقائد کو نقل کر کے دکھایا جائے کہ اصل حقیقت کیا ہے خنجر بازی کس کا مشغلہ ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والوں کو کون دائرہ اسلام سے خارج بناتا ہے۔ مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنا کون حرام سمجھتا ہے۔ مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ ناجائز اور ان کے معصوم بچوں کا جنازہ تک پڑھنا کون حرام بتاتا ہے۔ ان کے ان عقائد کی روشنی میں ہر شخص سمجھ سکے گا کہ ان کا اتحاد کا وعظ کیا حقیقت رکھتا ہے۔ ان کا ہمدردانہ لیکچر دراصل شاطرانہ چال ہوتی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آج اتحاد کا کوئی دشمن ہے تو قادیانی، مسلمانوں کی مصائب پر خوشی منانے والا کوئی ہے تو قادیانی، مسلمانوں کو آپس میں لڑائی کرانے کی کوشش کرنے والا اگر کوئی ہے تو قادیانی مسلمانوں کے خلاف اگر ایک کینہ توز جماعت پیدا کر رہا ہے تو قادیانی۔
ان عقائد کو قادیانیوں کے سامنے رکھیئے اور مطالبہ کیجئے کہ کیا یہی آپ کے عقائد ہیں؟ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور اگر مگر کے صاف الفاظ میں بتاؤ کیا یہ تمہارے عقائد نہیں؟ اور کیا تم اس وقت تک ان پر قائم نہیں اگر یہی درست ہے تو تمہیں مسلمانوں سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے اور تم اتحاد کے حامی کیونکر ہو سکتے ہو، تمہاری لفظی ہمدردی اگر محض مکر و فریب نہیں تو اور کیا ہے؟
مسلمانوں سے قطع تعلق
- ......٥ "تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے
گا۔"
(حاشیہ اربعین ص ٢٨ نمبر ٣، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
- ......٦ "غیر احمدیوں سے دینی امور میں الگ رہو۔"
(نہج المصلی ص ٣٨٢)
تمام اہل اسلام کافر اور دائرہ اسلام سے خارج
- ......٧ "سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے
خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔"
(آئینہ صداقت باب اوّل ص ٣٥)
مسلمانوں کی اقتداء میں نماز حرام
- ......٨ "خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے پھر جان بوجھ کر ان
لوگوں میں گھسنا جس سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے منشاء الٰہی کی مخالفت ہے۔ میں تم کو بتاکید منع کرتا ١٣
ہوں کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(الحکم ٧ فروری ١٩٠٣ء ملفوظات ج ٥ ص ٣٨، ٣٩)
- ٩...... ”یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام اور قطعی حرام
ہے کہ کسی مکفر و مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔“
(حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ ، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں
- ١٠...... ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے
نماز نہ پڑھیں کیونکہ وہ خدائے تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد) کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
جائز نہیں! جائز نہیں!! جائز نہیں !!!
- ١١...... ”باہر سے لوگ بار بار پوچھتے ہیں میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو
گے۔ اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں! جائز نہیں !! جائز نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٨٩)
مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ حرام
خلیفہ قادیان لکھتا ہے کہ میرے باپ سے۔
- ١٢...... ”ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ
نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی بٹھائے رکھو۔ لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دیدی۔ تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی باوجودیکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا۔“
(انوار خلافت ص ٩٤)
مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ جائز نہیں
- ١٣...... ”غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے کہ
وہ نکاح جائز ہی نہیں۔ لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ جس گھر میں بیاہی جاتی ہیں اس کے خیالات واعتقادات کو اختیار کر لیتی ہیں اور اس اپنے دین کو تباہ کر لیتی ہیں۔“
(برکات خلافت ص ٧٣)
- ١٤...... ”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو
١٤
لڑکی نہ دے۔“
(برکات خلافت ص ٧٥)
١٥...... ”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے۔ جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔“
(ملائکۃ اللہ ص ٤٦)
مسلمانوں کی نماز جنازہ ناجائز مرزا قادیان کا اپنے فوت شدہ بیٹے سے سلوک خلیفہ قادیان اپنے باپ کے متعلق روایت کرتا ہے۔
١٦...... ”آپ کا ایک بیٹا فوت ہو گیا۔ جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق کرتا تھا جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہیں کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا۔ ایک دفعہ میں بیمار ہوا اور شدت مرض میں مجھے غش آ گیا جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا ہے اور یہ بھی فرماتے کہ یہ میری بڑی عزت کرتا تھا لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ حضرت صاحب نے ان کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اسی طرح کریں باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔“
(انوار خلافت ص ٩١)
فرمانبردار بیٹے سے جس گروہ کے بانی کا یہ سلوک ہو۔ ایسے گروہ کی مسلمانوں سے جیسی ہمدردی ہو سکتی ہے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے یہی خلیفہ قادیان از خود ایک سوال پیدا کر کے اس کا جواب دیتا ہے۔
١٧...... ”غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا) کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود علیہ السلام (مرزا ملعون) کا منکر نہیں میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟
(انوار خلافت ص ٩٣)
کسی مسلمان کا جنازہ مت پڑھو
١٨...... ”قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا
١٥
ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا بھی جنازہ جائز نہیں (نہ معلوم یہ حکم کہاں ہے ) پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔"
(انوار خلافت ص٩٢)
شعائر اللہ کی ہتک
تیرہ سو سال گزر چکے مگر اس قدر عرصہ میں شعائر اسلامی کی ہتک اور انتہائی توہین کی کوئی شخص جرات نہیں کر سکا۔ مکہ و مدینہ کی فضیلت مسلمہ چیز ہے۔ قرآن پاک نے صاف الفاظ میں ان مقامات کی عزت و حرمت بیان فرمائی۔ مسلمانوں کی ان مقامات سے انتہائی محبت کا آج بھی یہ حال ہے کہ اطراف و اکناف عالم سے سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں فرزندان توحید، ان شعائر اسلامی کی زیارت اور فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے جاتے ہیں۔ کیونکہ خداوند کریم نے حج کو ایک صاحب توفیق پر فرض قرار دیا ہے اور صاف ارشاد فرمایا ہے کہ حج میں بے شمار برکتیں ہیں۔ مگر قادیانی کمپنی کا سرگروہ اپنے خیالات کا ان الفاظ میں اظہار کرتا ہے۔
- ١٩....... "قادیان تمام دنیا کی بستیوں کی ام (ماں) ہے پس جو قادیان سے تعلق
نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں ۔"
(حقیقت الرؤیا ص ٤٦)
سالانہ جلسہ دراصل قادیانیوں کا حج ہے
خلیفہ قادیان لکھتا ہے کہ:
- ٢٠....... "ہمارا سالانہ جلسہ ایک قسم کا ظلی حج ہے۔"
(الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٦٦ ص ٥ یکم دسمبر ١٩٣٢ء)
اب حج کا مقام صرف قادیان ہے
- ٢١....... "ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام (حج)
کے لئے مقرر کیا ہے۔"
(ملخص از برکات خلافت ص ٥)
مسلمانوں سے انتہائی دشمنی کے ثبوت میں حسب ذیل حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے۔
مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنا
- ٢٢....... "انتقام لینے کا زمانہ ...... اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا
اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا، مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ
١٦
اتارے...... حضرت مسیح موعود نے مجھے یوسف قرار دیا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے یہ نام دینے کی کیا ضرورت تھی یہی کہ پہلے یوسف کی جو ہتک کی گئی ہے اس کا میرے ذریعہ ازالہ کر دیا جائے۔ پس وہ تو ایسا یوسف تھا جسے بھائیوں نے گھر سے نکالا تھا۔ مگر اس یوسف نے اپنے دشمن بھائیوں کو گھر سے نکال دے گا...... پس میرا مقابلہ آسان نہیں۔“
(عرفان الٰہی ص ٩٢، ٩٣)
مخالفین کو سولی پر لٹکانا
- ٢٣...... ”خدا تعالیٰ نے آپ (مرزا غلام احمد) کا نام عیسیٰ رکھا ہے۔ تاکہ پہلے
عیسیٰ کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکایا تھا مگر آپ زمانہ کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں۔“
(تقدیر الٰہی ص ٢٩)
وہ تو تعلیم یافتہ اور قادیانیت کی حقیقت سے ناواقف مسلمان جو قادیانیوں کے پراپیگنڈا سے متاثر ہو کر ان کے مصنوعی کارناموں کو بنظر استحسان دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یا وہ مسلمان اخبارات جو اپنی مخصوص اغراض کے لئے قادیانیوں کا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ ان کے متعلق خلیفہ قادیان کا حسب ذیل ارشاد سنئے اور اندازہ کیجئے کہ جس گروہ کا یہ خیال ہو کہ جب تک ایک شخص بھی قادیانی نہ ہو جائے اس کا اعتبار نہ کیا جائے بلکہ ساری دنیا کو اپنا دشمن یقین کرنے کی تاکید کرے۔ ایسے گروہ کی مسلمان سے ہمدردی کی کیونکر توقع کی جاسکتی ہے۔
- ٢٤...... ”ساری دنیا ہماری دشمن ہے بعض لوگ (مسلمان) جب ان کو ہم سے
مطلب ہوتا ہے تو ہمیں شاباش کہتے ہیں جس سے بعض احمدی یہ خیال کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں حالانکہ جب تک ایک شخص خواہ وہ ہم سے کتنی ہمدردی کرنے والا ہو پورے طور پر احمدی نہیں ہو جاتا وہ ہمارا دشمن ہے ہماری بھلائی کی صرف ایک صورت ہے۔ وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔ تاکہ ان پر غالب آنے کی کوشش کریں۔ شکاری (قادیانی) کو کبھی غافل نہ ہونا چاہئے اور اس امر کا برابر خیال رکھنا چاہئے کہ شکار (مسلمان) بھاگ نہ جائے یا ہم پر ہی حملہ نہ کر دے۔“
(تقریر خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢٥؍ اپریل ١٩٣٠ء)
- ٢٥...... ”تم اس وقت تک امن میں نہیں رہ سکتے ۔ جب تک تمہاری اپنی
بادشاہت نہ ہو۔ ہمارے لئے امن کی ایک ہی صورت ہے دنیا پر غالب آ جائیں۔“
(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢٥؍ اپریل ١٩٣٠ء)
ان عقائد کی موجودگی میں قادیانیوں کو کیا حق ہے کہ وہ اتحاد و اتفاق
١٧
کا ڈھونگ رچا کر اپنی مخصوص اغراض اور اپنی تبلیغ کا راستہ صاف کرنے کی کوشش کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی سعی کریں۔ اس چیز کو اور زیادہ صاف واضح کرنے کے لئے ہم خلیفہ قادیان کے دو اقوال نقل کرتے ہیں۔
...... ٢٦ ”میں نفاق کی صلح ہرگز پسند نہیں کرتا۔ ہاں جو صاف دل ہو کر اور اپنی غلطی چھوڑ کر صلح کے لئے آگے بڑھے میں اس سے زیادہ اس کی طرف بڑھونگا“
(برکات خلافت ٢٧)
...... ٢٧ ”صلح اس وقت ہو سکتی ہے جب کہ یا تو جو لینا ہو لے لیا جائے اور جو دینا ہو دے دیا جائے۔ کیونکہ یہ مخالف کی مخالف سے صلح ہے۔ بھائی بھائی کی صلح نہیں۔ اور یا پھر وہ زہر جو پھیلایا گیا ہو اس کا ازالہ کر دیا جائے۔“
(عرفان الہی ٨٤)
ہر دو حوالہ جات اس امر کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ خود خلیفہ قادیان کے نزدیک صلح کا بہترین اصول کیا ہے۔ ان اقوال کی وضاحت کے لئے اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ صلح کے یہ اصول خلیفہ قادیان نے کیوں بیان کئے۔ مرزائی جماعت دو پارٹیوں میں منقسم ہے (پارٹیاں تو بہت ہیں اور ان میں کئی انبیاء بھی پیدا ہو چکے ہیں ۔ مگر قابل ذکر یہی دو ہیں) ایک قادیانی ایک لاہوری۔ لاہوری جماعت نے ایک مرتبہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ معمولی اختلاف سے قطع نظر کرتے ہوئے ہمیں آپس میں متحد ہونا چاہئے۔ یہ بات تھی بھی معقول۔ کیونکہ لاہوری جماعت مرزا کی تمام کتب پر ایمان رکھتی ہے۔ اس کے تمام دعاوی کو تسلیم کرتی ہے اسے مسیح موعود اور مہدی موعود قرار دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ صرف مسئلہ نبوت کو چھوڑ کر باقی تمام امور میں ایک جماعت کا متحد ہونا صلح کے راستہ کو کس قدر قریب کرنے کا موجب ہو سکتا ہے مگر خلیفہ قادیان ان لوگوں کی صلح کو مخالف کی مخالف سے صلح بتاتا ہوا یہ شرط عائد کرتا ہے کہ صلح تبھی ہو سکتی ہے۔ جبکہ جو لینا ہو لے لیا جائے اور جو دینا ہو دے دیا جائے۔ یعنی وہ زہر جو پھیلایا گیا ہو اسے دور کیا جائے۔ پھر کیا یہ امر موجب حیرت نہیں کہ جب قادیانی اس جماعت سے جو مرزا کو مسیح موعود مانتی ہے صلح کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے پھیلائے ہوئے زہر کو دور نہ کرے۔ تو کیا مسلمان ہی ایسے سادے رہ گئے ہیں جو قادیانی کمپنی سے یہ مطالبہ نہ کریں کہ ہماری تم سے صلح اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ تم اس زہر کو دور کرو جو تم اپنے اقوال و اعمال سے پھیلا چکے ہو۔ ایک طرف تم مسلمانوں سے بائیکاٹ کی تلقین کرتے جاؤ۔ انہیں دائرہ اسلام سے خارج بتاؤ ان کا یا ان
١٨
کے معصوم بچہ تک کا جنازہ حرام سمجھو لیکن ساتھ ساتھ اتحاد کی بھی دعوت دئے جاؤ۔ ہم تمہارے ہی اقوال کو دہراتے ہوئے تمہیں یہ جواب دینے کا حق رکھتے ہیں کہ ہمارا تمہارا اتحاد خواہ وہ کسی معاملہ میں ہو اس وقت تک ناممکن ہے۔ جب تک تم علانیہ اپنے ان شائع کردہ اعتقادات کو واپس لینے کا اعلان نہ کر دو۔ ورنہ ہمیں یہ کہنے کا حق ہے کہ اتحاد واتفاق کا وعظ محض ایک چال ہے جو مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے چلی جا رہی ہے۔
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
بعض ناواقف لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہمیں قادیانیوں کے عقائد سے کوئی واسطہ نہیں ۔ ان کے خیالات سے ہمیں کوئی تعلق نہیں۔ ہمارا یہ اخلاقی فرض ہے کہ ہم اچھی بات کو اچھی کہیں۔ اگر قادیانی ایک اچھا کام کرتے ہیں۔ تو ہم اسے اچھا کہیں اگر وہ ایک نیک کام کی دعوت دیں تو ہمیں اس میں شریک ہونا چاہئے۔ مثلاً قادیانی سیرۃ النبی ﷺ کا جلسہ کرتے ہیں تو ہمیں اس نیک کام میں شامل ہونا چاہئے۔ اس خیال کی تردید میں ہم اپنی طرف سے نہیں بلکہ خود خلیفہ قادیان کا وہ جواب نقل کرتے ہیں۔ جو اس نے اس موقعہ پر جب کہ اس کے سامنے لاہوری جماعت سے صلح کے سوال پر اس کے ایک مرید کے اسی قسم کے شبہ کے جواب میں دیا۔ اور یہ جواب اس شبہ کے ازالہ کے لئے اس قدر کافی شافی ہے کہ اس کی موجودگی میں کسی اور جواب کی ضرورت نہیں۔ سنئے خلیفہ قادیان ارشاد فرماتے ہیں۔
- ٢٨....... ”یہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہؓ کی صبح کی نماز رہ گئی
۔ اس پر وہ اٹھ کر اتنا روئے کہ روتے روتے شام ہوگئی۔ اور اس گریہ وزاری کی حالت میں سو گئے۔ صبح ابھی اذان بھی نہ ہوئی تھی کہ انہوں نے رؤیا میں دیکھا ایک آدمی کہہ رہا ہے اٹھو نماز پڑھو۔ آپ نے دریافت کیا۔ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں ابلیس ہوں ۔ آپ نے کہا تم اور نماز کے لئے جگاؤ۔ ابلیس نے جواب دیا۔ کل مجھ سے غلطی ہوگئی۔ جو میں نے تم کو سلائے رکھا۔ جس پر تم اس قدر روئے کہ خدا نے کہا کہ اسے ستر نمازوں کا ثواب دو آج میں اسی لئے جگانے آیا ہوں کہ تمہیں ایک نماز کا ثواب ملے ستر کا نہ ملے تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ چیز اچھی نظر آتی ہے۔ وہ حقیقت اپنے اندر برائی کا بیج رکھتی ہے۔“
(عرفان الٰہی ج ص ٨٣)
دیکھئے! خلیفہ قادیان کس صفائی سے اس امر کا اظہار کر رہا ہے کہ نماز جیسے نیک کام کے لئے شیطان کا حضرت معاویہؓ کو جگانا نیک عمل شمار نہیں ہو سکتا۔
١٩
اس جواز کی موجودگی میں ہر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قادیانیوں سے ان کی منافقانہ دعوت اتحاد کا یہ قطعی جواب دے سکے کہ تمہارا یہ اتحاد کا وعظ اور سیرت جلسوں وغیرہ میں شرکت کی دعوت اپنی اغراض مخصوصہ کے لئے ہے۔ ورنہ مسلمانوں سے تمہیں قطعاً کوئی ہمدردی نہیں۔ اور نہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ تمہارے عقائد تمہیں مجبور کرتے ہیں کہ تمام مسلمانوں سے دشمنی رکھو۔ اگر تمہارے قلب میں صفائی ہے تو آؤ اپنی نیک نیتی کا ثبوت یوں دو کہ اپنے ان تمام تفرقہ انگیز اور اتحاد شکن عقائد سے بیزاری کا اعلان کر دو۔
باب دوم
آنحضرت ﷺ کی توہین
چونکہ قادیانی کمپنی کو معلوم ہے کہ مسلمان اپنے پیارے رسول اکرم ﷺ کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ اور ان کی کوئی تبلیغ قطعاً مؤثر نہیں ہو سکتی۔ جب تک وہ مسلمانوں کو یہ یقین نہ دلائیں کہ انہیں سردار دو جہاں ﷺ پر ایمان ہے۔ اس لئے قادیانی کمپنی اپنی غیر معمولی لفاظی سے مسلمانوں پر یہ اثر ڈالنے کی کوشش کرتی رہتی ہے کہ انہیں بھی سرور کائنات ﷺ پر ایمان ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے سیرت النبی کے جلسوں کا بھی ڈھونگ رچایا تھا۔ مگر مسلمان بھی حقیقت الامر سے واقف ہیں۔ قادیانی کمپنی کی تحریرات ان کے سامنے ہیں۔ جن کی موجودگی میں اس امر کو باور کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی کہ قادیانی کمپنی کو آقائے دو جہاں پر ذرہ بھر بھی ایمان ہے۔ ہمارا یہ دعوے ہے کہ قادیانی کمپنی کا مقصد مذہب کے پردہ میں تجارت کرنا ہے۔ جس کے حصول کے لئے وہ ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈال رہے ہیں۔ لیکن یہ جانتے ہوئے کہ مسلمانوں سے اپنے نئے معتقدات کا یکدم منوانا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔ وہ نہایت گہری چالوں سے اپنے دلی اعتقادات کی اشاعت کر رہے ہیں۔ ذیل کے حوالہ جات اس بات کا بین ثبوت ہوں گے کہ قادیانی کمپنی کا مقصد وحید مسلمانوں کے دلوں سے آقائے نامدار کی عزت کو کم کرنا اور اپنے مرزا کی نبوت کا پرچار کرنا ہے۔ اور ان کی دلی خواہش ہے کہ (معاذ اللہ) مسلمان اپنے پیارے رسول سے منہ موڑ کر قادیانی نبوت کا رخ کریں۔ اور اس چیز کو اپنے لئے سرمایہ نجات سمجھیں۔ قبل اس کے کہ ہم قادیان کمپنی کے دلی معتقدات کو خود ان کے الفاظ میں نقل کریں ہم ایک شبہ کا ازالہ
٢٠
بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ قادیانی اپنے مرزا کے بعض ان اقوال کو پیش کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کیا کرتے ہیں جن میں مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی بعض کتب میں سردار دو جہاں ﷺ سے عشق ومحبت کا اظہار کیا ہے۔ مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ اسے فی الواقعہ کوئی محبت ہے کوئی ذرہ بھر بھی تعلق ہے۔ بلکہ اس کا سبب صرف اور صرف یہ ہے کہ ناواقف حال مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں لانے کا ذریعہ ہی یہ سمجھا گیا ہے کہ آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عشق کا اظہار کیا جائے۔ احباب کرام کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ جب کبھی قادیانی مرزا کا کوئی قول ایسا پیش کریں ۔ جس میں آنحضرت ﷺ سے محبت کا اظہار کیا گیا ہو تو فوراً ذیل کے اقوال پیش کر کے یہ مطالبہ کرنا چاہئے کہ ان اقوال کی کیا تشریح ہے جن میں آنحضرت ﷺ کی توہین کی گئی ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم بھی کرلیں کہ جو اقوال مرزا تم پیش کر رہے ہو ان میں فی الواقعہ آنحضور ﷺ سے محبت کا اظہار ہے تب بھی اس کے بالمقابل حسب ذیل اقوال کی موجودگی میں تمہیں اس چیز کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ اور کچھ نہیں تو دورنگی ضرور ہے۔ بیانات میں تضاد ہے پھر تم ہی بتاؤ کہ ہم اس شخص کے کسی قول کو قابل اعتنا کیوں سمجھیں جس کے بیانات میں زمین و آسمان کا فرق موجود ہو۔ یہ جواب اس صورت میں ہے جبکہ ہم مرزا کے ان اقوال کو صحیح فرض کرلیں جن میں آقائے نامدار سے محبت کا اظہار کیا گیا ہے۔ ورنہ ہمارا اصل مقصود یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مرزا قادیانی کا مقصد وحید آہستہ آہستہ ترتیب وار اپنے نئے مذہب کی اشاعت کے لئے اپنے معتقدات کی اشاعت ہے۔ مرزا نے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ تسلیم کیا۔ اور ١٢ سال تک اسی عقیدہ پر قائم رہا۔ جب اس نے مریدوں کی ایک معمولی تعداد پیدا کر لی۔ تو وفات مسیح کا پرچار شروع کردیا۔ مگر اس خوف سے کہ مسلمان بدک نہ جائیں آنحضرت ﷺ سے انتہائی عشق کا اظہار شروع کر دیا۔ (قادیانی جو اقوال مرزا، آنحضرت ﷺ کے عشق ومحبت کے ثبوت میں پیش کیا کرتے ہیں وہ عموماً اسی زمانہ کے ہیں ) اور صاف الفاظ میں کہا گیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت بند ہے۔ نبوت کا دعویٰ آنحضرت ﷺ سے دشمنی کا مترادف ہے۔ آنحضور کے بعد مدعی نبوت کافر ہے۔ چند سال اسی چیز کا اعلان ہوتا رہا۔ اور آخر کار ١٩٠١ء میں نبوت کا دعویٰ کردیا۔ اس مضمون پر ایک علیحدہ باب میں آئندہ مستقل بحث ہوگی۔ غرضیکہ حسب ذیل اقوال سے ہم واقعات کی روشنی میں یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ مرزا کے وہ اقوال جن میں آنحضرت ﷺ سے محبت کا اظہار کیا گیا کچھ وقعت نہیں رکھتے ٢١
کیونکہ جس کے دل میں سردار دو جہاں ﷺ کی ذرہ بھر بھی محبت موجود ہو۔ وہ اپنی زبان یا قلم سے ان خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا۔ جو ہمارے پیش کردہ حوالہ جات میں بیان کئے گئے ہیں۔ اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے ہم پہلے موجودہ قادیانی خلیفہ (جو مرزا قادیانی کا بیٹا ہے) کے اقوال درج کرتے ہیں۔ جو اپنے باپ کے دلی خیالات کی ترجمانی کما حقہ کر رہا ہے۔ کیونکہ باپ تو اپنی تبلیغ کے لئے زمین کو ہموار کرنے کا ہی فرض سرانجام دیتا رہا۔ قادیانی خلیفہ کے نزدیک اب وہ کام ہو چکا ہے اس لئے وہ جن خیالات کی اشاعت کر رہا ہے وہی اب قابل توجہ چیز ہے۔
رسول عربی ﷺ کی (نعوذ باللہ) روح موجود نہیں
- ٢٩...... ”دنیا میں نماز تھی مگر نماز کی روح نہ تھی۔ دنیا میں روزہ تھا مگر روزہ کی روح
نہیں تھی۔ دنیا میں زکوٰۃ تھی مگر زکوٰۃ کی روح نہ تھی دنیا میں حج تھا مگر حج کی روح نہ تھی دنیا میں اسلام تھا مگر اسلام کی روح نہ تھی۔ دنیا میں قرآن تھا مگر قرآن کی روح نہ تھی اور اگر حقیقت پر غور کرو محمد ﷺ بھی موجود تھے مگر محمد ﷺ کی روح موجود نہ تھی۔“
(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ج ١٧ نمبر ٨٠ ص ٩ کالم ١، ١١/ مارچ ١٩٣٠ء)
مرزا قادیانی (معاذ اللہ) سردار دو جہاں سے افضل ہے
- ٣٠...... ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا
اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔“ (قادیانی ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٩ء) مذکورہ بالا ہر دو حوالہ جات کسی تشریح و توضیح کے محتاج نہیں، جس طریق سے آنحضرت ﷺ کی ذہنی استعداد کی کمی اور مرزا کی فضیلت کا اظہار کیا گیا وہ آپ حضرات کے سامنے ہے۔ آنحضور ﷺ کی روح کی عدم موجودگی بیان کر کے جس توہین کا ارتکاب کیا گیا ہے وہ بھی اس کمپنی کا حصہ ہے۔
اب ذیل کے دو حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے اور اندازہ کیجئے کہ اس کمپنی کے دلوں میں آنحضور ﷺ کی کس درجہ محبت موجود ہے۔
- ٣١...... ”آپ کی طاقت کا یہ حال تھا کہ آپ نے باوجود عمر کے انحطاط کے سن
کہولت میں متعدد شادیاں کیں حتیٰ کہ آخری عمر میں آپ کے ازواج مطہرات کی تعداد نو تک پہنچ گئی۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر حیران کن یہ بات ہے کہ حدیثوں میں آتا ہے بعض مرتبہ آپ ایک ہی
٢٢
رات میں اپنی ساری بیویوں کے پاس سے ہو آتے تھے پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ آپ مشک وعنبر یا مقویات ومحرکات کا استعمال نہیں کرتے تھے۔“
(الفضل خاتم النبیین نمبر ج ١٨ نمبر ٤٠ ص ٤٦ مورخہ ٢٥؍اکتوبر ١٩٣٠ء)
اس حوالہ کے الفاظ پر غور فرمائیے۔ آہ! قادیانی کمپنی اپنے اخبار کا خاتم النبیین نمبر شائع کرتی ہے اور مسلمانوں کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتی ہے کہ انہیں آنحضرت ﷺ سے محبت ہے۔ اس نمبر کا نام ایسا رکھا گیا ہے جو مسلمان بآسانی دھوکہ کھا سکیں۔ مگر اس میں آنحضور ﷺ کے فضائل بیان کرنے کے بہانہ وہ ناپاک حملہ کیا جاتا ہے۔ جو ایک ہندو یا عیسائی بھی نہیں کرسکتا۔ آنحضور علیہ السلام کی جسمانی قوت بیان کرنے کے بہانہ کیا بات کہی گئی ہے۔ اس پر غور فرمائیے۔ دوستی کے پردہ میں انتہائی دشمنی اسی چیز کا نام ہے مسلمان تو اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کا ہر لمحہ حیات مخلوق خدا کے لئے اسوہ حسنہ ہے اور آپ نے مخلوق خدا کے سب حقوق باحسن وجوہ پورے کئے۔ آپ نے اپنی ازواج کے حقوق ادا کئے مگر قادیانی کمپنی اس کی پورے زور سے تردید کرتی ہوئی یہ کہتی ہے کہ آنحضور ﷺ نے (معاذ اللہ) یہ غلط فرمایا ہے کہ انہوں نے اپنی ازواج کے حقوق برابر ادا کئے اور حضور کا سلوک اپنی ہر بیوی سے یکساں تھا اور حضور باری باری ہر بیوی کے ہاں رہتے تھے۔
ان واقعات کو بیان کرنے کا اصل منشاء کیا ہے اور قادیانی کمپنی کن گمراہ کن خیالات کو پھیلانا چاہتی ہے اور اپنے کن ناپاک افعال پر پردہ ڈالنے کے لئے ان باتوں کی اشاعت کرتی ہے۔ یہ ایک علیحدہ طویل باب ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ بہرکیف اس قول میں جس توہین کا ارتکاب کیا گیا ہے اسے ملاحظہ فرمائیے۔ دوسرا حوالہ ملاحظہ فرمائیے:
٢٣...... ”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(ڈائری خلیفہ قادیان مطبوعہ اخبار الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٤٥ ص ٥ کالم ٣، ٧؍ جولائی ١٩٢٢ء)
اس حوالہ میں جس خیال کا اظہار کیا گیا ہے وہ بالکل عیاں ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ یہ خیال پیدا کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ سے بھی کوئی شخص بڑھ سکتا ہے۔ جب یہ خیال پیدا ہو جائے گا۔ تو یہ عقیدہ بآسانی منوایا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی (معاذ اللہ) آنحضرت سے بڑھ کر ہے اور اس کا درجہ ومرتبہ آنحضور سے زیادہ ہے اور سنیئے کہ کن الفاظ میں مرزا کو آنحضرت ﷺ کے برابر بتایا گیا ہے۔
٢٣
بیویوں کے پاس سے ہو آتے تھے پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ آپ معجزات کا استعمال نہیں کرتے تھے۔"
(الفضل خاتم النبیین نمبر ج ١٨ نمبر ٥٠ ص ٣٦ مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٣٠ء)
کے الفاظ پر غور فرمائیے۔ آہ ! قادیانی کمپنی اپنے اخبار کا خاتم النبیین نمبر شائع کر کے یہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتی ہے کہ انہیں آنحضرت ﷺ سے محبت ہے۔ جاتا ہے جو مسلمان بآسانی دھوکہ کھا سکیں۔ مگر اس میں آنحضرت ﷺ کے کے بہانہ وہ ناپاک حملہ کیا جاتا ہے۔ جو ایک ہندو یا عیسائی بھی نہیں کر سکتا۔ جسمانی قوت بیان کرنے کے بہانہ کیا بات کہی گئی ہے۔ اس پر غور فرمائیے۔ پردہ میں انتہائی دشمنی اسی چیز کا نام ہے مسلمان تو اس بات پر ایمان رکھتے ت مخلوق خدا کے لئے اسوہ حسنہ ہے اور آپ نے مخلوق خدا کے سب حقوق ہے۔ آپ نے اپنی ازواج کے حقوق ادا کئے مگر قادیانی کمپنی اس کی پورے کیا یہ کہتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے (معاذ اللہ) یہ غلط فرمایا ہے کہ انہوں نے ابر ادا کئے اور حضور کا سلوک اپنی ہر بیوی سے یکساں تھا اور حضور باری باری تھے۔
کو بیان کرنے کا اصل منشاء کیا ہے اور قادیانی کمپنی کن گمراہ کن خیالات کو اپنے کن ناپاک افعال پر پردہ ڈالنے کے لئے ان باتوں کی اشاعت کرتی باب ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں۔ بہر کیف اس قول میں جس توہین کا ملاحظہ فرمائیے۔ دوسرا حوالہ ملاحظہ فرمائیے:
یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سے بھی بڑھ سکتا ہے۔"
خلیفہ قادیان مطبوعہ اخبار الفضل قادیان ج ١٠ نمبر ٨٥ ص ٥ کالم ٣ ، ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
جس خیال کا اظہار کیا گیا ہے وہ بالکل عیاں ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے بھی کوئی شخص بڑھ سکتا ہے۔ جب یہ خیال پیدا ہو بھی منوایا جا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی (معاذ اللہ) آنحضرت سے بڑھ کر حضور سے زیادہ ہے اور سنیئے کہ کن الفاظ میں مرزا کو آنحضرت ﷺ کے ٢٣
- ٢٣....... "ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور
اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا ۔"
(کلمۃ الفصل ص ١١٣)
کیا ان حوالہ جات کی موجودگی میں کوئی قادیانی یہ کہہ سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں آنحضرت ﷺ کی ذرہ بھر بھی محبت موجود ہے، اور سنیئے۔
- ٢٤....... "میرا ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود اس قدر رسول کریم کے نقش قدم پر
چلے کہ وہی ہو گئے لیکن کیا شاگرد اور استاد کا ایک مرتبہ ہو سکتا ہے گو شاگرد علم کے لحاظ سے استاد کے برابر بھی ہو جائے۔ ...... ہاں یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کچھ رسول کریم کے ذریعہ سے ظاہر ہوا وہی مسیح موعود نے بھی دکھایا۔ اس لحاظ سے برابر بھی کہا جا سکتا ہے۔"
(ذکر الٰہی ص ١٩)
آپ نے دیکھا کہ کس طریق سے برابری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور اپنی جھوٹی محبت کے اظہار کے لئے "شاگردی" کا لفظ استعمال کر کے ایک گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ مگر معا بعد برابری کا دعویٰ بھی موجود ہے۔ "شاگردی" کا لفظ استعمال کر کے گمراہ کن خیالات کی اشاعت کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیے۔
- ٢٥....... "آنحضرت ﷺ کے شاگردوں میں سے علاوہ بہت سے محدثوں کے
ایک نے نبوت کا درجہ پایا اور نہ صرف یہ کہ نبی بنا بلکہ مطاع کے کمالات کو ظلی طور پر حاصل کر کے بعض اولوالعزم نبیوں سے بھی آگے نکل گیا ۔"
(حقیقت النبوۃ ص ٢٥٧)
دیکھئے! "شاگردی" کے لفظ سے "بعض اولوالعزم نبیوں" سے بھی آگے نکل جانے کے خیال کو کس رنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے محبت کے اظہار کے پردہ میں کیونکر انبیاء علیہم السلام کی توہین کی گئی ہے۔
کیا ان حوالہ جات کی موجودگی میں کوئی عقل مند یہ باور کر سکتا ہے کہ قادیانی گروہ کے دلوں میں آنحضرت ﷺ کی محبت کا کوئی ذرہ موجود ہے۔ کیا اس کمپنی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ مسلمانوں کو سیرت جلسوں میں شمولیت کی دعوت دیں اور اپنے اخبار کا خاتم النبیین نمبر شائع کریں۔
قادیانی خلیفہ کے اقوال کے بعد اب ہم ذیل میں مرزا قادیانی کا ایک میموریل درج کرتے ہیں جس کا ایک ایک لفظ بغور ملاحظہ فرمائیے۔
بحضور نواب لیفٹیننٹ گورنر صاحب بہادر بالقابہ
"یہ میموریل اس غرض سے بھیجا جا رہا ہے کہ ایک کتاب امہات المومنین نام ڈاکٹر احمد
شاہ صاحب عیسائی کی طرف سے مطبع آر پی مشن پریس گوجرانوالہ میں چھپ کر ماہ اپریل ١٨٩٨ء میں شائع ہوئی تھی...... چونکہ اس کتاب میں ہمارے نبی کریم ﷺ کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو کوئی مسلمان سن کر رنج سے بچ نہیں سکتا اس لئے لاہور کی انجمن حمایت اسلام نے اس بارہ میں حضور گورنمنٹ میں میموریل روانہ کیا۔ تا گورنمنٹ ایسی تحریر کی نسبت جس طرح مناسب چاہے کارروائی کرلے یا اور جس طرح چاہے کوئی تدبیر امن عمل میں لائے۔ مگر میں بمعہ اپنی جماعت کثیر اور معہ دیگر معزز مسلمانوں کے اس میموریل کا سخت مخالف ہوں۔ اور ہم سب لوگ اس بات کا افسوس کرتے ہیں کہ کیوں اس انجمن کے ممبروں نے محض شتاب کاری سے یہ کارروائی کی۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ کتاب امہات المومنین کے مؤلف نے نہایت دل دکھانے والے الفاظ سے کام لیا ہے اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ باوجود ایسی سختی اور بدگوئی کے اپنے اعتراضات میں اسلام کی معتبر کتابوں کا حوالہ بھی نہیں دے سکا۔ مگر ہمیں ہرگز نہیں چاہئے کہ بجائے اس کے کہ ایک خطا کار کو نرمی اور آہستگی سے سمجھا دیں اور معقولیت کے ساتھ اس کتاب کا جواب لکھیں یہ حیلہ سوچیں کہ گورنمنٹ اس کتاب کو شائع ہونے سے روک لے۔ تا اس طرح پر ہم فتح پالیں۔ کیونکہ یہ فتح واقعی فتح نہیں ہے بلکہ ایسے حیلوں کی طرف دوڑنا ہمارے عجز و درماندگی کی نشانی ہوگی اور ایک طور سے ہم جبر سے منہ بند کرنے والے ٹھہریں گے اور گو گورنمنٹ اس کتاب کو جلادے تلف کرے کچھ کرے مگر ہم ہمیشہ کے لئے اس الزام کے نیچے آجائیں گے کہ عاجز آکر گورنمنٹ کی حکومت سے چارہ جوئی چاہی اور وہ کام لیا جو مغلوب الغضب اور جواب سے عاجز آجانے والے لوگ کیا کرتے ہیں...... مذہبی آزادی کا دروازہ کسی حد تک کھلا رہنا ضروری ہے تا مذہبی علوم اور معارف میں لوگ ترقی کریں اور چونکہ اس عالم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے جس کے لئے ابھی سے سامان چاہئے ہر ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے اور اس طرح اپنے تئیں اور نیز بنی نوع کو نجات اخروی کے متعلق جہاں تک سمجھ سکتا ہے اپنی عقل کے مطابق فائدہ پہنچائے لہذا گورنمنٹ عالیہ میں اس وقت ہماری یہ التماس ہے کہ جو انجمن حمایت اسلام لاہور نے میموریل گورنمنٹ میں اس بارہ میں روانہ کیا ہے وہ ہمارے مشورہ اور اجازت سے نہیں لکھا گیا۔ بلکہ چند شتاب کاروں نے جلدی سے یہ جرأت کی ہے۔ جو درحقیقت قابل اعتراض ہے۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہم تو جواب نہ دیں اور گورنمنٹ ہمارے لئے عیسائی صاحبوں سے کوئی باز پرس کرے یا ان کتابوں کو تلف کرے جب ہماری طرف سے آہستگی اور نرمی کے ساتھ اس کتاب کا رد
٢٥
شائع ہوگا تو خود وہ کتاب اپنی قبولیت اور وقعت سے گر جائے گی اور اس طرح پر وہ خود تلف ہو جائے گی۔ اس لئے ہم باادب ملتمس ہیں کہ اس میموریل کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائے۔ کیونکہ اگر ہم گورنمنٹ عالیہ سے یہ فائدہ اٹھاویں کہ وہ کتابیں تلف کی جائیں یا اور کوئی انتظام ہو۔ تو اس کے ساتھ ایک نقصان بھی ہمیں اٹھانا پڑتا ہے کہ ہم اس صورت میں دین اسلام کو ایک عاجز اور فروماندہ دین قرار دیں گے کہ جو معقولیت سے حملہ کرنے والوں کا جواب نہیں دے سکتا اور نیز یہ ایک بڑا نقصان ہوگا کہ اکثر لوگوں کے نزدیک یہ امر مکروہ اور نامناسب سمجھا جائے گا کہ ہم گورنمنٹ کے ذریعہ سے اپنے انصاف کو پہنچ کر پھر بھی اس کتاب کا رد لکھنا بھی شروع کر دیں اور درحالت نہ لکھنے جواب کے اس کے فضول اعتراض ناواقفوں کی نظر میں فیصلہ ناطق کی طرح سمجھے جائیں گے اور خیال کیا جائے گا کہ ہماری طاقت میں یہی تھا جو ہم نے کر لیا سو اس سے ہماری دینی عزت کو اس سے بھی زیادہ ضرر پہنچتا ہے جو مخالف نے گالیوں سے پہنچانا چاہا ہے اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کو ہم نے عمداً تلف کرایا یا کیا پھر اسی کو مخاطب ٹھہرا کر اپنی کتاب کے ذریعہ سے پھر شائع کرنا نہایت نا معقول اور بے ہودہ طریق ہوگا اور ہم گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم درد ناک دل سے ان تمام گندے اور سخت الفاظ پر صبر کرتے ہیں جو مصنف امہات المومنین نے استعمال کئے ہیں اور ہم اس مولف اور اس کے گروہ کو ہرگز کسی قانونی مواخذہ کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے کہ یہ امر ان لوگوں سے بہت ہی بعید ہے کہ جو واقعی نوع انسان کی ہمدردی اور اصلاح کے جوش کا دعویٰ رکھتے ہیں....... یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے یا نعوذ باللہ خود اشتعال ظاہر کریں۔ ہرگز ہمارے اصل مقصد کو مفید نہیں ہے۔ یہ دنیاوی جنگ وجدل کے نمونے ہیں اور سچے مسلمان اسلامی طریقوں کے عارف ہرگز اس کو پسند نہیں کرتے کیونکہ ان سے وہ نتائج جو ہدایت بنی نوع کے لئے مفید ہیں پیدا نہیں ہو سکتے....... اور دوسرے پیرایہ میں اپنے مذہب کی کمزوری کا اعتراف ہے۔‘‘ (الراقم مرزا غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور مورخہ ٤؍ مئی ١٨٩٨ء، تبلیغ رسالت ص ٣٦‘ ٣٧‘ ٣٨‘ ٣٩، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٤٠ تا ٤٣)
اس میموریل کا ملخص یہ ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے ایک کتاب امہات المومنین شائع ہوئی یہ کتاب کیسی تھی اس میں آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات پر کیسے حملے تھے۔ اس کا صحیح اندازہ تو انہیں اصحاب کو ہو سکتا ہے جن کو اس کتاب کے مطالعہ کا موقعہ ملا ہے مگر اس کا کسی قدر اندازہ کرنے کے لئے صرف اس کا نام ہی کافی ہے۔ بہرکیف اس کتاب کو مسلمانوں نے اس درجہ
٢٦
قابل اعتراض سمجھا کہ انہوں نے حکومت سے اس کتاب کی ضبطی کا مطالبہ کیا مسلمانوں کے اس فیصلہ کے خلاف مرزا قادیانی پروٹسٹ کرتا ہے اور یہی نہیں کہ اس احتجاج کو اپنے تک محدود رکھتا ہے۔ بلکہ گورنر پنجاب کو میموریل بھیجتا ہے اور مسلمانوں کے اس مطالبہ کو شتاب کاری قرار دیتا ہے۔ الفاظ دہرانے کی ضرورت نہیں مرزا قادیانی کے منشاء کو صاف ظاہر کرتے ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ اور آنحضور ﷺ کی ازواج مطہراتؓ پر انتہائی ناپاک حملوں سے بھر پور کتاب کی ضبطی کی بجائے اس کی اشاعت پر مصر ہے۔
اندازہ فرمائیے کہ آج تک کسی مذہب کے پیرو نے اپنے رہنما مقتداء اور رہبر کی محبت کا یہ ثبوت دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف گندی گالیوں کی اس طریق سے تائید کرے اور اپنے پیارے رہنما کو ناپاک گالیوں سے بچانے کیلئے جائز ذرائع اختیار نہ کرے۔ ہم اس جگہ اس بحث کو چھوڑتے ہیں کہ قادیانی کمپنی کا اصل کام ہی غیر مسلموں کو گالیاں دیکر اسلام اور مسلمانوں کو گالیاں دلانا اور پھر مسلمانوں کو اشتعال دلا کر ان کی جیبوں کو خالی کرنا ہے کیونکہ اس بحث کا تعلق ہمارے اس موضوع سے نہیں۔ ہمارا منشا تو اس جگہ آنحضرت ﷺ سے قادیانی کمپنی کے دعوئی عشق کو پرکھنا ہے۔ کتاب امہات المومنین کی ضبطی کے میموریل کے خلاف مرزا قادیانی کا میموریل آپ نے ملاحظہ فرمالیا اب بیٹے کا وعظ سنئے خلیفہ قادیان قتل راجپال کے واقعہ پر اظہار خیال فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں۔
٣٧...... ”قتل راجپال محض مذہبی دیوانگی کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں وہ بھی مجرم ہیں اور جو ان کی پیٹھ ٹھونکتا ہے وہ بھی قانون کا دشمن ہے۔ جو لیڈر ان کی پیٹھ ٹھونکتے ہیں وہ خود مجرم ہیں۔ قاتل و ڈاکو ہیں جو لوگ توہین انبیاء کی وجہ سے قتل کریں ایسے لوگوں سے برأت کا اظہار کرنا چاہئے اور ان کو دبانا چاہئے یہ کہنا کہ محمد رسول اللہ کی عزت کے لئے قتل کرنا جائز ہے۔ نادانی ہے انبیاء کی عزت کی حفاظت قانون شکنی سے نہیں ہو سکتی۔“
(خطبہ جمعہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل قادیان ج ١٦ نمبر ٨٢ ص ٧، ٨، ١٩ اپریل ١٩٢٩ء)
اسی پرچہ میں آپ اپنے انتہائی تقدس کا اظہار کرتے ہوئے علم الدین کو دوزخی بتاتے ہیں۔ (اس چیز کو یاد رکھئے آئندہ حوالہ جات سے مقابلہ میں کام آئے گی)
٣٨...... ”اس (علم الدین) کا سب سے بڑا خیر خواہ وہی ہو سکتا ہے جو اس کے پاس جائے اور اسے سمجھائے کہ دنیاوی سزا تو تمہیں ملے گی ہی لیکن قبل اس کے کہ وہ ملے تمہیں
٢٧
چاہئے خدا سے صلح کر لو...... توبہ کرو گریہ زاری کرو خدا کے حضور گڑ گڑاؤ یہ احساس ہے جو اگر اس کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدا کی سزا سے بچ سکتا ہے اور اصل سزا وہی ہے۔“
(الفضل قادیان ج ١٦ نمبر ٨٢ ص ٨ کالم ٣، ١٩؍ اپریل ١٩٢٩ء)
ہماری اس وقت بحث نفس فعل پر نہیں، بلکہ ہمیں قادیانی کمپنی کی دورنگی بتانا ہے۔ اس جگہ یہ وعظ یہ تقدس، مگر اس کے بعد کے حوالہ جات بتائیں گے کہ خلیفہ قادیان اپنی عزت کی حفاظت کے لئے کیا کرتا ہے اور ایک قاتل کو بہشتی بناتا ہے بہر کیف باپ نے مسلمانوں کے میموریل کی مخالفت کی اور اس کتاب کی ضبطی کے مطالبہ کو شتاب کاری بتایا بیٹے نے میاں علم الدین کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا۔ آپ نے ملاحظہ فرما لیا۔ یہ تو تصویر کا ایک رخ ہوا اب دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے۔
خلیفہ قادیان اور...... مباہلہ
اخبار ”مباہلہ“ دسمبر ١٩٢٨ء میں قادیان سے شائع ہوا۔ قادیانی کمپنی اور اسکے لیڈر کے اندرونی رازوں کو طشت از بام کرنا شروع کیا اور قادیانیوں کے مسلمہ اصول ”مباہلہ“ (خداوند کریم کے حضور دو فریقوں کا بالمقابل بددعا کرنا) کے مطابق خلیفہ قادیان سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر مباہلہ کے بیان کردہ حقائق درست نہیں تو آؤ میدان مباہلہ میں نکلو اور اپنی روحانیت کا ثبوت دینے کے لئے خداوند کریم سے فیصلہ کی دعا کرو۔
قادیانی کمپنی نے مباہلہ کے مضامین کو خلیفہ قادیانی کی توہین بتایا جب ماہ جون ١٩٢٩ء کا پرچہ شائع ہوا تو قادیانی خلیفہ اور اس کے حواریوں نے اشتعال ظاہر کر کے مباہلہ پر دفعہ ١٤٤ کا نفاذ کروایا۔ اس کے بعد جب جنوری فروری ١٩٣٠ء کا پرچہ شائع ہوا۔ تو خلیفہ قادیان کی خوش قسمتی سے قادیان میں تھانہ قائم ہو چکا تھا اور خلیفہ قادیان کو اپنے دلی ارمان پورے کرنے کا موقعہ مل گیا۔ دن دہاڑی انہیں نہایت بے دردی سے پیٹا گیا کارکنان مباہلہ کے قتل کی سازش ہوئی بروقت اطلاع ہونے پر انہوں نے اپنا مکان چھوڑ دیا۔ مگر قادیان سے نہ نکلے آخر کار انسپکٹر پولیس نے دھوکہ دیا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے انہیں گورداسپور بلایا ہے جب یہ لوگ گورداسپور گئے تو انہیں بتایا گیا کہ اب تم قادیان نہیں جا سکتے اگر تم جاؤ گے تو پولیس تمہاری جانوں کی حفاظت کا ذمہ نہیں لے سکتی۔
جب قادیانیوں کو یہ علم ہوا کہ اب یہ لوگ قادیان نہیں آ سکتے تو انہوں نے کارکنان مباہلہ کے مکانات نذر آتش کر دیئے۔ پولیس نے کارکنان مباہلہ پر مقدمہ دائر کر دیا جو دو سال زیر
٢٨
سماعت رہا۔ انہی دنوں قتل کی واردات بھی ہوئی ایک کرایہ دار قاتل مہیا کر کے حاجی محمد حسین صاحب شہید کو قتل کروایا گیا۔ مجھ پر قاتلانہ وار ہوا۔ قصہ مختصر یہ کہ قادیانی کمپنی نے مباہلہ کے مضامین کو خلیفہ قادیان کی ہتک اور توہین قرار دیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس توہین پر قادیانی خلیفہ نے خاموشی اختیار کی؟ اس کے لئے ہم ذیل میں خلیفہ قادیان کے وہ اقوال جو اس نے خود اپنی زبان مبارک سے ارشاد فرمائے۔ یا اپنے آرگن الفضل سے لکھوائے درج کرتے ہیں۔ ان اقوال کو ملاحظہ فرمائیے اور اندازہ کیجئے کہ قادیانیوں کے نزدیک آنحضرت ﷺ کا مرتبہ زیادہ ہے یا خلیفہ قادیان کا، عشق رسول کے دعویٰ کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے یہی چیز کافی ہوگی۔
٣٥...... ”یہ سوال (مباہلہ والوں کا خاتمہ ۔ ناقل) ایک فرد (خلیفہ) کا سوال نہیں بلکہ جماعت کی عزت اور خلافت کے درجے کے وقار کا سوال ہے۔ پس یا تو جماعت اپنے اس حق کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے اس تذلیل پر خوش ہو جائے۔ یا پھر تیار ہو جائے کہ خواہ کوئی قربانی (قتل وغیرہ) کرنی پڑے۔ اس حق کو لے کر رہے گی۔ اگر گورنمنٹ اس موقعہ پر خاموش رہے گی۔ تو ہم مجبور ہوں گے کہ یہ سمجھ لیں کہ چونکہ ایسے موقعہ پر لوگ تلوار بھی اٹھا لیتے ہیں۔ آغا خانیوں سے بعض لوگ باغی ہوگئے ۔ تو سخت خونریزی ہوئی باغیوں کو جان سے مار دیا جاتا اور ہر مرنے والے کے سینے سے ایک خط ملتا جس میں لکھا ہوتا کہ یہ ہے بغاوت کا نتیجہ اسی طرح بوہروں میں بھی فسادات ہوئے ۔“ یہ الفاظ خلیفہ قادیان کے ہیں۔
(الفضل ج ١٧ نمبر ٧٩ ص ٧ کالم ١ ، ١١؍ اپریل ١٩٣٠ء)
”اگر ضرورت محسوس کی تو ہمارا چھوٹا بڑا جوان مرد عورت جو کر سکیں گے اس سے دریغ نہ کریں گے۔ اگر جماعت سوسائٹی میں باوقار رہنا چاہتی ہے تو اس سوال (مباہلہ کی سرکوبی ناقل) کو ہر ایک جماعت کو خود اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے۔ ہماری جماعت ہر قربانی کر کے اپنا حق (عزت خلیفہ ناقل) لے کر رہے گی۔ میری ہتک جماعت کی ہتک ہے۔ اس لئے اس کا حق تھا کہ وہ بولتی ایک مرتبہ جوشیلے احمدیوں نے ایک کانسٹیبل کا مقابلہ کیا میں نے اس وقت کہا کہ بہت ٹھیک کیا۔ بلکہ اس کو اتنا مارنا چاہئے تھا کہ وہ معافی مانگتا۔“
(ملخص الفضل قادیان ج ١٧ نمبر ٧٩ ص ٣‘ ٧‘ ٨، ١١؍ اپریل ١٩٣٠ء)
”دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ خدا اور اس کے فرستادوں پر صدق دل سے ایمان لانے والوں نے ان کے اور ان کے جانشینوں اور متعلقین کے پسینہ کی جگہ خون بہانا اور ان کی عزت و حرمت کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینا سعادت دارین نہ سمجھا ہو۔“
(الفضل قادیان ج ١٧ نمبر ٨٠ ص ٢ کالم ٢، ١٥؍ اپریل ١٩٣٠ء)
٢٩
”جماعت احمدیہ کا ہر فرد جہاں یہ اقرار کرتا ہے کہ آپ کی تعلیم کے مقابلہ میں ساری دنیا کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا۔ وہاں یہ بھی عہد کرتا ہے کہ آپ کی حرمت اور تقدس کے لئے اپنی جان بھی دینا پڑے گی تو دریغ نہیں کرے گا...... اگر دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی ظالم اور جفا جو طاقت بھی اس کے عہد کا امتحان لینا چاہے گی تو احمدی کہلانے والا کوئی انسان بھی اس سے منہ نہ موڑے گا اور مردانہ وار خوف وخطر کے سمندر کو عبور کر جائے گا خواہ اسے اپنے خون میں سے تیر کر جانا پڑے خواہ غازی بن کر سلامتی کے کنارے پہنچنے کی سعادت حاصل ہو۔ ہمارے اندر غیرت کا وہ مادہ موجود ہے جو ذلت کے مقابلہ میں موت کو ترجیح دیتا ہے۔ اب معاملہ (مباہلہ ) آب از سر گزشت والا ہو گیا ۔“
(الفضل قادیان ج ١٧ نمبر ٨٠ ص ٣، ١١ کالم ٣، ١٥ اپریل ١٩٣٠ء)
٤٠....... ”احمدی جماعت اپنے اندر پوری پوری غیرت رکھتی ہے۔ اب نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ ہم اپنی حفاظت خود کریں گے۔ ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔“
(الفضل قادیان ج ١٧ ش ٨٠، مورخہ ١٥ اپریل ١٩٣٠ء ص ٧ )
”ہم ایسے قانون کی روح کو کچل دیں گے جو ہماری عزت کی حفاظت نہیں کرتا (ایضاً ) ۔“
”ہم ناپاک اور گندی آوازیں زیادہ دیر تک نہیں سن سکتے۔ ہم اپنی حفاظت آپ کریں گے۔ جو شخص اپنی حفاظت آپ نہیں کر سکتا۔ وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ تم اپنے دلوں سے خوف دور کرو اور اگر قانون ہماری حفاظت نہ کر سکا تو ہم خود کریں گے اور اس ہاتھ اور زبان کو روک دیں گے۔ جو ہماری عزت پر حملہ کرتا ہے۔“
(الفضل ج ١٧ نمبر ٨١ ص ١٣،١٤ مورخہ ١٨ اپریل ١٩٣٠ء)
٤١....... ”جو قوم سید عبداللطیف نعمت اللہ خاں جیسے بہادر شہید پیدا کر سکتی ہے۔ وہ کبھی اپنی بے عزتی برداشت نہ کرے گی اور اپنے مقدس امام کی خفیف سے خفیف ہتک برداشت نہ کرے گی اور جان و مال تک قربان کر دے گی ۔ بدامنی خونریزی کی ذمہ دار حکومت ہو گی .. اگر کوئی ناگوار حادثہ رونما ہوا۔ اس کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہو گی ۔“
(الفضل ج ١٧ نمبر ٨١ ص ٢ مورخہ ١٨ اپریل ١٩٣٠ء)
ان تحریروں میں کس درجہ اشتعال ہے اور اپنے مریدوں کو غیرت دلانے کے لئے کیا کچھ کہا گیا ہے۔ اس کے ثبوت میں بغیر کسی حاشیہ آرائی کے ان کی یہ تحریریں ہی کافی ہیں۔ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اس اشتعال انگیزی کا کیا نتیجہ ہوا اور اس اشتعال انگیزی پر حکومت نے خلیفہ
قادیان سے کوئی نوٹس نہ لیا۔ ہمارا مقصود صرف یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اور حضور کی ازواج مطہرات پر ناپاک حملوں سے بھر پور کتاب شائع ہوتی ہے تو مسلمانوں کے میموریل کی بھی مخالفت ہوتی ہے مگر خلیفہ قادیان کی بقول قادیانی کمپنی ہتک ہوتی ہے تو خونریزی کا حکم اور قتل کی واردات بھی کروائی جاتی ہے۔
دوسری چیز قابل غور یہ ہے کہ قتل راجپال پر میاں علم الدین کو صلواتیں سنائی جاتی ہیں۔ مگر جب قادیانی قاتل مجھے قتل کرنے کیلئے آتا ہے اور دھوکہ دیکر قاتلانہ وار کرتا ہے اور حاجی محمد حسین شہید کو خنجر سے شہید کر دیتا ہے تو خلیفہ قادیان کیا کرتا ہے۔ اس کے لئے حسب ذیل قول ملاحظہ فرمائیے۔
- ٤٢....... ”ہر ایک احمدی جسے موجودہ فتنہ (مباہلہ) کا احساس ہو ٢٨؍اپریل سے ہر
پیر کے دن چالیس روز تک روزہ رکھے اس سارے عرصہ میں خصوصیت سے دعائیں کی جائیں اور خدائے قادر کے حضور ایسے تضرع و خشوع سے ناصیہ فرسائی کرنی چاہئے کہ اس کا فضل و کرم جوش میں آ جائے روحانی جماعتوں کی کامیابی کی اصل بنیاد مجاہدوں پر ہی ہوتی ہے اور یہ پہلا مجاہدہ ہے۔“
(الفضل ٢٥؍اپریل ١٩٣٠ء)
نیز قاتل کا فوٹو شائع کر کے تعداد کثیر مریدوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ خلیفہ قادیان کے آرگن الفضل ٥ جولائی ١٩٣٠ء میں بطور ضمیمہ بھی شائع ہوا قاتل کو مجاہد کا خطاب دیا جاتا ہے اور اسکے جیل سے آئے ہوئے پیغام شائع ہوتے ہیں۔
(الفضل ٩؍مئی ١٩٣٠ء)
دعاؤں کی تاکید آپ نے ملاحظہ فرمالی۔ قادیانی قاتل کو بچانے کیلئے ہزارہا روپیہ خرچ کرنے کے باوجود جب اسے پھانسی ہوئی تو اس کی لاش کو بہشتی مقبرہ میں دفن کر کے اسے بہشتی ثابت کیا گیا۔ اس کے جنازہ کا اہتمام ہوا ہر زن و مرد کو اس کے چہرہ کی زیارت کروائی گئی۔ خلیفہ قادیان نے اسے کندھا دیا ہمیں اس سے بحث نہیں کہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہونا اس کے بہشتی ہونے کا ثبوت ہے یا نہیں یا یہ کہ بہشتی مقبرہ کیا بلا ہے اور قاتل کا پھانسی چڑھنا خلیفہ قادیان کی دعاؤں مریدوں کے روزوں قادیانی خلیفہ کی روحانیت اور قبولیت دعا کا درخشاں ثبوت ہیں۔ ہمارا مقصود صرف یہ ہے کہ ہم یہ بتائیں کہ قادیانی کمپنی مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں لانے کے لئے عشق رسول کا دعویٰ کیا کرتی ہے۔ اپنے اخبار کے خاتم النبیین نمبر شائع کر کے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتی ہے اس لئے ہم نے مسلمانوں کو ان کے فریب سے بچانے کے لئے اور اپنے دین کی
٣١
حفاظت کے لئے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ کمپنی دعوئی عشق رسول ﷺ میں جھوٹی ہے۔ ان کا قول وفعل متضاد ہے آپ نے دیکھ لیا کہ قادیانی خلیفہ کی ہتک پر تو اس درجہ اشتعال انگیزی، پولیس سے اخبار پر مقدمہ چلانا۔ مگر آنحضرت ﷺ کی توہین ہو تو کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب ضبط نہ ہونی چاہئے اور ایسا مطالبہ کرنے والے شتاب کار ہیں۔ میاں غازی علم الدین اپنے جذبات پر قابو نہ پاتا ہوا ایک فعل کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے گالیاں دی جاتی ہیں مگر اپنی عزت کے لئے ایک کرایہ دار قاتل مل جاتا ہے تو اس کے لئے دعائیں روزے اور بالآخر بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جاتا ہے۔
اس قدر حوالہ جات اس امر کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ قادیانی کمپنی کو سردار دو جہاں ﷺ سے کس قدر محبت ہے۔ اب ہم مرزا قادیانی کے وہ اقوال درج کرتے ہیں جن میں اس نے آنحضرت ﷺ کی برابری یا اپنی شان کی بلندی ظاہر کر کے حضور ﷺ کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔
- ٤٣....... منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
(تریاق القلوب ص ١٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
- ٤٤....... آدمم نیز احمد مختار
آنچہ داد است ہر نبی را جام
داد آں جام را مرا بتمام
(درثمین فارسی ص ١٧١، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
ترجمہ ...... میں آدم ہوں نیز احمد مختار ہوں، میں تمام نبیوں کے لباس میں ہوں۔ خدا نے جو پیالے ہر نبی کو دیئے ہیں۔ ان تمام پیالوں کا مجموعہ مجھے دیدیا ہے۔
- ٤٥....... انبیاء گرچہ بودہ اند بسے
(درثمین فارسی ص ١٧٢، نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
- ٤٦....... زندہ شد ہر نبی بامدنم
(درثمین فارسی ص ١٧٣، نزول المسیح ص ١٠٠، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٨)
٣٢
- ٤٧...... روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک
(درثمین اردو ص٨٤،براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١١٣،خزائن ج٢١ص١٤٤)
- ٤٨...... خسف القمر المنیر وان لی غسا
(اعجاز احمدی ص٧١،خزائن ١٩ص١٨٣)
اس (آنحضرتﷺ) کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔
- ٤٩...... تمام دنیا پڑ گئی تحت الثرے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔
(حقیقت الوحی ص٨٩،خزائن ج٢٢ص٩٢)
- ٥٠...... ”ان قدمی ھذہ علی منارۃ ختم علیھا کل رفعۃ“
(خطبہ الہامیہ ص٧٠،خزائن ج١٦ص٧٠)
ترجمہ...... میرا قدم اس منارے پر ہے جہاں تمام بلندیاں ختم ہیں۔
- ٥١...... ”لولاک لما خلقت الا فلاک“
(حقیقت الوحی ص٩٩،خزائن ج٢٢ص١٠٢)
ترجمہ...... اگر تو (مرزا) نہ ہوتا تو زمین و آسمان کو پیدا نہ کرتا۔
- ٥٢...... ”وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین“
(انجام آتھم ص٧٨،خزائن ج١١ص٧٨)
(اے مرزا) ہم نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تجھے تمام انبیاء کے لئے رحمت بنائیں۔
- ٥٣...... ”دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین
احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے میں آدم ہوں میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں میں اسحاق ہوں میں یعقوب ہوں میں اسماعیل ہوں میں موسیٰ ہوں داؤد ہوں میں عیسیٰ ابن مریم ہوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اس کتاب میں سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت جری اللہ فی حلل الانبیاء فرمایا۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔“
(حقیقت الوحی ص٨٤،٨٥،خزائن ج٢٢ص٥٢١)
٣٣
میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار
(درثمین اردو ص٨٤، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١١٣، خزائن ج٢١ ص١٣٤)
القمران المشرقان اتنکر
(اعجاز احمدی ص٧١، خزائن ج١٩ ص١٨٣)
حضرت ﷺ کے لئے چاند کا خسوف ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج انکار کرے گا۔
تمام دنیا پر کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔
(حقیقت الوحی ص٨٩، خزائن ج٢٢ ص٩٢)
"ان قدمی ھذہ علی منارۃ ختم علیھا کل رفعۃ"
(خطبہ الہامیہ ص٧٠، خزائن ج١٦ ص٧٠)
میرا قدم اس منارے پر ہے جہاں تمام بلندیاں ختم ہیں۔
"لولاک لما خلقت الافلاک"
(حقیقت الوحی ص٩٩، خزائن ج٢٢ ص١٠٢)
اگر تو (مرزا) نہ ہوتا تو زمین و آسمان کو پیدا نہ کرتا۔
"وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین"
(انجام آتھم ص٧٨، خزائن ج١١ ص٧٨)
ہم نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تجھے تمام انبیاء کے لئے رحمت بنائیں۔
"دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں آدم ہوں میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں میں اسحاق ہوں میں اسماعیل ہوں میں موسیٰ ہوں داؤد ہوں میں عیسیٰ ابن مریم ہوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں پر جیسا کہ خدا نے اس کتاب میں سب نام مجھے دیئے اور میری نسبت فرمایا۔ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔"
(حقیقت الوحی ص٨٤، ٨٥، خزائن ج٢٢ ص٥٢١)
٣٣
- ٥٤....... مرزا کا الہام ہے۔ "محمد مفلح" جس کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے۔
حضرت مسیح موعود (مرزا) نے فرمایا کہ آج اللہ تعالیٰ نے میرا ایک اور نام رکھا ہے جو پہلے کبھی سنا بھی نہیں تھوڑی سی غنودگی ہوئی اور یہ الہام ہوا۔"
(البشریٰ ج٢ ص٩٩، تذکرہ ص ٥٧)
حضرت امام حسینؓ کی توہین
اب ذیل کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے اور اندازہ کیجئے کہ جسے آنحضرت ﷺ سے محبت ہو وہ حضور علیہ السلام کے نواسوں کی توہین کا ارتکاب کر سکتا ہے؟
- ٥٥....... شتان مابینی و بین حسینکم
وما حسین فاذکروا دشت کربلا
الی ھذہ الایام تبکون فانظروا
(اعجاز احمدی ص٢٩، خزائن ج١٩ ص١٨١)
ترجمہ....... مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے کیونکہ مجھے ہر وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ مگر حسین تم دشت کربلا یاد کرلو۔ اب تک روتے ہو۔ پس سوچ لو۔
- ٥٦....... انی قتیل الحب لکن حسینکم
(اعجاز احمدی ص٨١، خزائن ج١٩ ص١٩٣)
ترجمہ....... میں محبت کا کشتہ ہوں۔ مگر تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق بین اور ظاہر ہے۔
- ٥٧....... "اے قوم شیعہ اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ
سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں سے ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔"
(دافع البلاء ص١٣، خزائن ج١٨ ص٢٣٣)
- ٥٨....... کربلائے است سیر ھر آنم
(درثمین فارسی ص١٧١، نزول المسیح ص٩٩، خزائن ج١٨ ص٤٧٧)
فارسی شعر کی تاویل قادیانی یہ کیا کرتے ہیں کہ مرزا کی مراد یہ ہے کہ اسے اتنی تکالیف ہیں کہ گویا وہ حسینؓ کی تکالیف کے برابر ہیں۔ اس سے مقصود توہین نہیں۔ مگر اس تاویل کی کوئی
٣٤
حقیقت نہیں رہتی جب اس سے پہلے حوالہ جات کو پیش کیا جائے۔ اگر ان حوالہ جات سے صریح توہین ثابت ہے تو اس حوالہ سے بھی مرزا کا یہی مقصود ہے۔ کیونکہ ان تمام اقوال کا وہی قائل ہے۔ رہا تکالیف کا معاملہ سو وہ ہمیشہ حکومت کو ظل اللہ سمجھتا لہٰذا اس امر کا اقراری رہا کہ حکومت برطانیہ کے زیر سایہ اسے کوئی تکلیف نہیں ملاحظہ ہو حوالہ نمبر ٢٠٠ (ہمیں اس وقت اس امر پر بحث نہیں کہ حکومت کے متعلق یہ باتیں محض منافقانہ تھیں اور مقصود اپنا کام نکالنا تھا یہ ایک الگ باب ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں)
حضرت ابوبکرؓ کی توہین کے لئے بھی ایک حوالہ درج کرتے ہیں تا کہ معلوم ہو کہ جو شخص آنحضرت ﷺ کے صحابہ کرامؓ کی اس درجہ توہین کا ارتکاب کرے اسے آنحضور ﷺ سے کیا محبت ہو سکتی ہے۔
- ٥٩ ...... ”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا
وہ حضرت ابو بکر صدیق کے درجہ پر ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکر کیا وہ تو بعض انبیاء سے بھی بہتر ہے۔“
(اشتہار معیار الاخیار ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)
باب سوم
حضرت مسیح کی توہین
بقول مرزا کسی نبی کی توہین کفر ہے۔
- ٦٠ ...... ”اسلام میں کسی نبی کی بھی تحقیر کرنا کفر ہے اور سب پر ایمان لانا فرض
ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ١٨ خزائن ج ٢٣ ص ٣٩٠)
توہین حضرت مسیح علیہ السلام کے ثبوت میں جب کبھی مرزا قادیانی کے اقوال نقل کئے جاتے ہیں تو قادیانی اس بات کی آڑ لیا کرتے ہیں کہ یہ تمام گالیاں یسوع کو دی گئی ہیں جس کا قرآن پاک میں کوئی ذکر نہیں مرزا نے بھی اس اعتراض پر کہ اس نے حضرت عیسیٰ کی توہین کی ہے یہ عذر کیا ہے۔
- ٦١ ...... ”خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن کریم میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٩ خزائن ج ١١ ص ٢٩٣)
٢٥
اس کے جواب میں مندرجہ ذیل حوالہ جات اس امر کا کافی و وافی ثبوت ہیں کہ یہ عذر محض مسلمانوں کے اعتراض سے بچنے کے لئے ہے ورنہ درحقیقت مرزا قادیانی کے نزدیک یسوع جیسس یوز آسف اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی وجود کے مختلف نام ہیں۔
- ٦٢....... ”جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ
دو نبی ہیں۔ ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ اور یسوع بھی کہتے ہیں۔“
(توضیح مرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢)
- ٦٣....... ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام، یسوع اور جیسس یا یوز آسف کے نام سے بھی
مشہور ہیں۔“
(راز حقیقت ص ١٩، خزائن ج ١٤ ص ١٧١)
”آج تک انہی خیالات سے وہ لوگ (شریر یہودی) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام کو جو یسوع ہے یسو بولتے ہیں۔ یعنی بغیر عین کے اور یہ ایک ایسا گندہ لفظ ہے جس کا ترجمہ کرنا ادب سے دور ہے (کیا کہنے آپ کے ادب کے) اور میرے دل میں گزرتا ہے کہ قران شریف نے جو حضرت مسیح علیہ السلام کا نام عیسیٰ رکھا وہ اسی مصلحت سے ہے کہ یسوع کے نام کو یہودیوں نے بگاڑ دیا تھا۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ ص ١٦، کالم ٣، ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء)
- ٦٤....... ”لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہوگیا۔ تب حمل کی حالت میں ہی
قوم کے بزرگوں نے مریم کا نکاح یوسف نام ایک نجار سے کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔“
(چشمہ مسیحی ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣٥٥، ٣٥٦)
- ٦٥....... ”یہ اعتقاد رکھنا پڑتا ہے کہ جیسا کہ ایک بندہ خدا کا عیسیٰ نام جس کو عبرانی
میں یسوع کہتے ہیں تیس برس تک موسیٰ رسول اللہ کی شریعت کی پیروی کر کے خدا کا مقرب بنا۔“
(چشمہ مسیحی ص ٤٩، ٥٠، خزائن ج ٢٠ ص ٣٨١، ٣٨٢)
- ٦٦....... ”اب دوسرا مذہب یعنی عیسائی باقی ہے جس کے حامی نہایت زور و شور
سے اپنے خدا کو جس کا نام انہوں نے یسوع مسیح رکھا ہوا ہے بڑے مبالغہ سے سچا خدا سمجھتے ہیں اور عیسائیوں کے خدا کا حلیہ یہ ہے کہ وہ ایک اسرائیلی آدمی مریم بنت یعقوب کا بیٹا ہے۔“
(ست بچن ص ١٥٩، خزائن ج ١٠ ص ٢٨٣)
- ٦٧....... ”بزرگوں نے بہت اصرار کر کے بسرعت تمام مریم کا اس (یوسف نجار)
٣٦
سے نکاح کر دیا اور مریم کو ہیکل سے رخصت کر دیا تا خدا کے مقدس گھر پر نکتہ چینیاں نہ ہوں۔ کچھ تھوڑے دنوں کے بعد ہی وہ لڑکا پیدا ہو گیا۔ جس کا نام یسوع رکھا گیا ۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ کالم ٣، ٢٤؍ جولائی ١٩٠٢ء)
- ٦٨ ...... ”یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی
اور حقیقی بہنیں تھیں۔ یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
(کشتی نوح ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٨ کا حاشیہ)
اس جگہ ناظرین کے تفنن طبع کے لئے جناب مرزا کے خود یسوع بننے کا ذکر بھی ضروری ہے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یسوع کو ہی گالیاں دی ہیں اور یسوع سے مراد حضرت عیسیٰ نہیں۔ تب بھی حسب ذیل حوالہ جات کی موجودگی میں ماننا پڑے گا کہ خود مرزا یسوع بنا اب قادیانی بتائیں گے کہ اگر گالیاں یسوع کو دی گئی ہیں تو ان کا مصداق بقول مرزا کون ہوا مرزا کی کتاب تحفہ قیصریہ کی عبارتیں ملاحظہ فرمائیے۔
- ٦٩ ...... ”یہ عریضہ مبارکبادی اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر
طرح طرح کی بدعتوں سے دنیا کو چھڑانے کے لئے آیا ہے ۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٣)
”چونکہ اس نے مجھے یسوع کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توارد طبع کے لحاظ سے یسوع کی روح میرے اندر رکھی تھی اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ مشابہت ہوتی۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)
”اس نے مجھے اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ درحقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے اور نیک بندوں میں سے ہیں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)
”حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفارہ اور تثلیث اور ابنیت ہے ایسے تنفر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری افتراء جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣)
”میں وہ شخص ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)
”حضرت یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)
٣٧
ہیکل سے رخصت کر دیا تا خدا کے مقدس گھر پر نکتہ چینیاں نہ ہوں۔ کچھ وہ لڑکا پیدا ہو گیا۔ جس کا نام یسوع رکھا گیا۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ ص ٦ کالم ٣، ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء)
یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھی۔“
(کشتی نوح ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٨ کا حاشیہ)
ان کے تفنن طبع کے لئے جناب مرزا کے خود یسوع بننے کا ذکر بھی ضروری کہ یسوع کو ہی گالیاں دی ہیں اور یسوع سے مراد حضرت عیسیٰ نہیں۔ حوالہ جات کی موجودگی میں ماننا پڑے گا کہ خود مرزا یسوع بنا اب قادیانی یسوع کو دی گئی ہیں تو ان کا مصداق بقول مرزا کون ہوا مرزا کی کتاب تحفہ فرمائیے۔
یہ عریضہ مبارکبادی اس شخص کی طرف سے ہے جو یسوع مسیح کے نام پر دنیا کو چھڑانے کے لئے آیا ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ١، خزائن ج ١٢ ص ٢٥٣)
اس نے مجھے یسوع کے رنگ میں پیدا کیا تھا اور توار د طبع کے لحاظ سے یسوع کی اس لئے ضرور تھا کہ گم گشتہ ریاست میں بھی مجھے یسوع مسیح کے ساتھ
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)
اس بات پر بھی اطلاع دی ہے کہ در حقیقت یسوع مسیح خدا کے نہایت پیارے ہیں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٠، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٢)
یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفار اور تثلیث اور انانیت ہے ایسے متنفر پائے یہ افتراء جو ان پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٣)
میں وہ ہوں جس کی روح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی روح سکونت رکھتی
(تحفہ قیصریہ ص ٢١، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)
یسوع مسیح کی طرف سے ایک سچے سفیر کی حیثیت میں کھڑا ہوں۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)
٣٧
”جس قدر عیسائیوں کو حضرت یسوع مسیح سے محبت کرنے کا دعویٰ ہے وہی دعویٰ مسلمانوں کو بھی ہے۔ گویا آنجناب کا وجود عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک مشترکہ جائیداد کی طرح ہے۔“
(تحفہ قیصریہ ص ٢٣، خزائن ج ١٢ ص ٢٧٤)
آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ ملکہ معظمہ کی منافقانہ خوشامد میں آنجناب کیونکر خود یسوع بن گئے اور یہ قطعاً بھول گئے کہ میں مسلمانوں سے یہ کہہ چکا ہوں کہ یسوع کا قرآن شریف میں کوئی ذکر نہیں گویا اس کو گالیاں دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں۔ اب اس سے زیادہ پر لطف حوالہ سنئے۔
- ٧٠...... ”ہماری قلم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان
کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں افسوس اگر پادری صاحبان تہذیب اور خدا ترسی سے کام لیں اور ہمارے نبی ﷺ کو گالیاں نہ دیں۔ تو دوسری طرف مسلمانوں کی طرف سے بھی ان سے بیس حصے زیادہ ادب کا خیال رہے۔“ (مقدمہ چشمہ مسیحی ص ج کا حاشیہ، خزائن ج ٢٠ ص ٣٣٦) آپ اس جگہ تسلیم کرتے ہیں کہ تمام گالیاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہی دی گئی ہیں مگر وہ ہیں الزامی رنگ میں لیکن آپ کو ہنسی آئے گی جب آپ ذیل کا حوالہ ملاحظہ فرمائیں گے۔
- ٧١...... ”مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی پادری ہمارے نبی ﷺ کو گالی
دے تو ایک مسلمان اس کے عوض میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دے“۔ (رسالہ حضور گورنمنٹ عالیہ میں ایک عاجزانہ درخواست تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٤٩١) آپ نے دیکھا کہ کس درجہ نیکی و پارسائی کا اظہار ہے آپ فرما رہے ہیں کہ الزامی رنگ میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین جائز نہیں۔ اب اگر ہم خود مرزا کے اقوال سے حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین ثابت کر دیں۔ تو مرزا کے اپنے قول (مسلمان سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا) کے مطابق مرزا مسلمان ثابت ہو گا یا کیا؟۔ اب وہ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے جن میں حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کی گئی ہے۔
شرابی ہونے کا الزام
- ٧٢...... ”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو
یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے۔
(کشتی نوح ص ٦٦، خزائن ج ١٩ ص ٧١ حاشیہ و اخبار الحکم ج ٦ نمبر ٣٧، مورخہ ١٧ اکتوبر ١٩٠٢ء ص ٣ حاشیہ)
٣٨
٧٣....... ”اگر میں ذیابیطیس کے لئے افیون کھانے کی عادت کر لوں تو میں ڈرتا ہوں کہ لوگ ٹھٹھا کر کے یہ نہ کہیں کہ پہلا مسیح علیہ السلام تو شرابی تھا اور دوسرا افیونی۔“
(نسیم دعوت ص ٦٩، خزائن ج ١٩ص ٤٣٥)
بدزبانی و بداخلاقی کا الزام
٧٤....... ”انجیر کے درخت کو بغیر پھل کے دیکھ کر اس پر بددعا کی اور دوسروں کو دعا کرنا سکھلایا اور دوسروں کو یہ بھی حکم دیا کہ تم کسی کو احمق مت کہو مگر خود اس قدر بد زبانی میں بڑھ گئے۔ یہ یہودی بزرگوں کو ولد الحرام تک کہہ دیا اور ہر ایک وعظ میں یہودی علماء کو سخت سخت گالیاں دیں اور برے برے نام رکھے اخلاقی معلم کا فرض یہ ہے کہ پہلے آپ اخلاق کریمہ دکھاتے پس کیا ایسی تعلیم ناقص جس پر انہوں نے آپ بھی عمل نہ کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟“
(چشمہ مسیحی ص ١١، خزائن ج ٢١ ص ٣٤٦)
کیرکٹر پر خطرناک حملہ
٧٥....... ”جس شخص کے نمونہ کو دیکھ کر پرہیز گاری میں لوگوں نے ترقی کرنا تھا جبکہ وہی (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) شراب کا مرتکب ہوا پھر ان بے جا حرکات میں اوروں کا کیا گناہ ہے اور جس حالت میں مسیحی لوگ یقیناً جانتے ہیں کہ ہمارا رہبر اور ہادی شراب پینے کا شائق تھا۔ بلکہ عشاء ربانی سے اس (مسیح) نے شراب خواری کو دین کی جڑ ٹھہرا دیا۔ تو اس صورت میں کسی دوسرے کی تقریر سے ان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔“
(الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ ص ١٢ کالم ١، ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء)
٧٦....... ”میرے نزدیک اس شخص سے بڑھ کر کوئی خطرناک حالت میں نہیں ہے جو ایک طرف تو شراب پیتا ہے جو شہوتوں کو ابھارتی اور جوش دیتی ہے اور دوسری طرف اس کی کوئی بیوی نہیں ہے جس سے وہ ان متحرک شدہ شہوتوں کو محل پر استعمال کر سکے۔“
(الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ ص ١٢، ١٣ کالم ٣، ٢٤ جولائی ١٩٠٢ء)
معصوم کامل ماننے سے انکار
”میں نے خوب غور کر کے دیکھا ہے اور جہاں تک فکر کام کر سکتی ہے خوب سوچا ہے میرے نزدیک جبکہ مسیح شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا اور کوئی اس کی بیوی بھی نہیں تھی تو گو میں جانتا ہوں کہ خدا نے اس کو بھی برے کام سے بچایا لیکن میں کیا کروں میرا تجربہ اس بات کو نہیں مانتا کہ وہ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) عصمت میں ایسا کامل ہو سکے جیسا کہ وہ دوسرا شخص کہ جو نہ
٣٩
شراب پیتا ہے یا ورنہ حلال وجہ کی عورتوں سے اس کو کچھ کمی ہے۔‘‘
(الحکم ج ٦ نمبر ٢٦ ص ٣ کالم ١، ٢٤؍جولائی ١٩٠٢ء)
٧٧....... ’’جس مذہب کی بناء شراب پر ہو اس میں تقویٰ کیونکر ہو؟ عشاء ربانی جو عیسائی مذہب کی ایک بڑی اصل ہے۔ اس میں شراب کا ہونا لازمی امر ہے پھر اس کے جاننے والے کہاں اجتناب کر سکتے ہیں پھر جبکہ خداوند یسوع کا نمونہ یہی ہو شراب چھوڑنے کی ایک صورت ہے کہ جیل خانوں کے ذریعہ اصلاح کی جائے ایک اور تعجب کی بات ہے کہ مسیح کا مرشد یحییٰ شراب نہیں پیتا تھا پھر انہوں نے (حضرت مسیح) نے کیوں شروع کی۔‘‘
(الحکم ج ٦ نمبر ٣٩ ص ١٢ کالم ٢، ٣، ٣١؍اکتوبر ١٩٠٢ء)
عیسائیوں کی بدکاریوں کا منبع حضرت مسیح ہیں
٧٨....... ’’اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ عیسائی قوم میں شراب نے بڑی بڑی خرابیاں پیدا کی ہیں اور بڑی بڑی مجرمانہ حرکات ظہور میں آئی ہیں لیکن ان تمام گناہوں کا منبع اور مبداء مسیح کی تعلیم اور اس کے اپنے حالات ہیں۔‘‘ (الحکم ج ٦ نمبر ٢٥ ص ١٦ کالم ٣، ١٧؍جولائی ١٩٠٢ء) اب (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، ٥، ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ تا ٢٩١) کی عبارتیں ملاحظہ ہوں۔
شرارت، مکاری اور جھوٹ کا الزام
٧٩....... ’’پس اس نادان اسرائیلی (یعنی حضرت یسوع مسیح) نے ان معمولی باتوں کا پیش گوئی کیوں نام رکھا۔ محض یہودیوں کے تنگ کرنے سے اور جب معجزہ مانگا گیا تو یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ حرام کار اور بدکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں۔ ان کو کوئی معجزہ دکھایا نہیں جائے گا۔ دیکھو یسوع کو کیسی سوجھی اور کیسی پیش بندی کی اب کوئی حرام کار اور بدکار بنے تو اس سے معجزہ مانگے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسا کہ ایک شریر مکار نے جس میں سراسر یسوع کی روح تھی لوگوں میں یہ مشہور کیا کہ میں ایک ایسا ورد بتا سکتا ہوں جس کے پڑھنے سے پہلی رات میں خدا نظر آ جائے گا۔ بشرطیکہ پڑھنے والا حرام کی اولاد نہ ہو اب بھلا کون حرام کی اولاد بنے اور کہے کہ مجھے وظیفہ پڑھنے سے خدا نظر نہیں آیا۔ آخر ہر ایک مدعی کو یہی کہنا پڑتا تھا کہ ہاں صاحب نظر آ گیا سو یسوع کی بندشوں اور تدبیروں پر قربان ہی جائیں اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے کیسا داؤ کھیلا۔ یہی آپ کا طریق تھا ایک مرتبہ کسی یہودی نے آپ کی قوت شجاعت آزمانے کے لئے سوال کیا کہ اے استاد قیصر کو خراج دینا روا ہے یا نہیں؟ آپ کو یہ سوال سنتے ہی اپنی جان کی پڑ گئی کہ کہیں باغی کہلا کر پکڑا نہ جاؤں۔‘‘
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٤، ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨، ٢٨٩)
٤٠
اسی کتاب میں چند سطروں کے بعد مرزا قادیانی کس شان معصومیت سے لکھتے ہیں۔
٨٠....... ”ہاں آپ کو گالیاں دینی اور بد زبانی کی اکثر عادت تھی۔ ادنیٰ ادنیٰ بات میں غصہ آ جاتا تھا اپنے نفس کو جذبات سے روک نہیں سکتے تھے۔ مگر میرے نزدیک آپ کی یہ حرکات جائے افسوس نہیں کیونکہ آپ تو گالیاں دیتے تھے اور یہودی ہاتھ سے کسر نکال لیا کرتے تھے۔ یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو کس قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩)
چوری اور دماغی خلل کا الزام
٨١....... ”نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا ہے کہ گویا میری تعلیم ہے لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں آپ نے یہ حرکت اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں لیکن آپ کی اس بے جا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا تھا اور یا استاد کی شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علمی و عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے چلے گئے آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی آپ سے سخت ناراض رہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو۔ شاید خدا تعالیٰ شفاء بخشے عیسائیوں نے آپ کے بہت سے معجزات لکھے ہیں۔ مگر حق بات یہ ہے کہ آپ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠)
اس (کتاب ص ٧ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پر لکھتے ہیں۔
٨٢....... ”آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر وفریب کے اور کچھ نہیں تھا پھر افسوس کہ نالائق عیسائی ایسے شخص کو خدا بنا رہے ہیں۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں۔ جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا مگر شاید یہ بھی خدائی کے لئے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں
٢١
دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے یا زناء کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے ۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے ۔“
(حاشیہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ ، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)
اب چند حوالہ جات وہ بھی ملاحظہ ہوں جن میں آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح علیہ السلام کے مقابلہ کے بہانہ گالیاں دی گئی ہیں ۔
مسیح علیہ السلام کو ”نامراد“ قرار دینا
٨٣...... ”ہم جو کچھ کر رہے ہیں آنحضرت ﷺ کی عزت کے لئے کر رہے ہیں ۔ (دریں چہ شک؟) ہم تو اسلام کے مزدور ہیں میرا نام جو غلام احمد رکھا میرے والدین کو کیا خبر تھی کہ اس میں کیا راز ہے اور یہ جو خدا تعالیٰ فرمایا کہ مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہے ۔ اس میں یہی سر تھا کہ آنحضرت ﷺ کی شان بزرگ دکھائی جائے وہ مسیح ، موسیٰ کا مسیح ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مسیح تھا اور یہ (مرزا) حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا مسیح وہ عیسیٰ بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے اور ایک محدود وقت کے لئے یہ مسیح (مرزا) اس عظیم الشان نبی ﷺ کا ہے ۔ جو انی رسول اللہ الیکم جمیعا کا مصداق ہے ۔ پہلا مسیح واقعات اور عیسائیوں کے مسلمات کے لحاظ سے نامراد گیا ۔ اس لئے ان کو ماننا پڑا کہ مسیح کا دوسرا نزول جلالی ہوگا ۔“
(اخبار الحکم ج ٦ نمبر ١٦ ص ٨ کالم ٢ ، ٣٠؍ اپریل ١٩٠٢ء)
حضرت مسیح کو ناکام بدقسمت اور اخلاق سے عاری قرار دینا
٨٤...... ”انصاف اور ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں مسیح کو بالکل ناکامیاب ماننا پڑتا ہے ۔ کیونکہ اصل بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جس قسم کا موقعہ ملا ہے مسیح کو نہیں ملا ہے اور یہ ان (حضرت مسیح علیہ السلام) کی بدقسمتی ہے یہی وجہ ہے کہ مسیح کو کامل نمونہ ہم کہہ نہیں سکتے انسان کے ایمان کی تکمیل کے دو پہلو ہوتے ہیں اوّل یہ دیکھنا چاہئے کہ جب وہ مصائب کا تختہ مشق ہو اس وقت خدا تعالیٰ سے وہ کیسا تعلق رکھتا ہے کیا وہ صدق، اخلاص، استقلال اور سچی وفاداری کے ساتھ ان مصائب پر بھی انشراح صدر سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو تسلیم کرتا اور اس کی حمد و ستائش کرتا ہے یا شکوہ و شکایت کرتا ہے اور دوسرے جب اس کو عروج حاصل ہو اور اقبال و فروغ ملے کیا اس اقتدار اور اقبال کی حالت میں وہ خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے اور اس کی حالت میں کوئی قابل اعتراض تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے یا اسی طرح خدا سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی حمد و ستائش کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو عفو کرتا ہے اور ان پر احسان کر کے اپنی عالی ظرفی اور بلند حوصلگی کا
ثبوت دیتا ہے مثلاً ایک شخص کو کسی نے سخت مارا ہے۔ اگر وہ اس پر قادر ہی نہیں ہوا کہ اس کو سزا دے سکے اور اپنا انتقام لے پھر بھی وہ کہے کہ میں نے اس کو کچھ بھی نہیں کہا تو یہ بات اخلاق میں داخل نہیں ہوسکتی اور اس کا نام بردباری اور تحمل نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ اسے قدرت ہی حاصل نہیں ہوئی۔ بلکہ ایسی حالت ہے کہ گالی کے صدمہ سے بھی رو پڑے۔ یہ تو ستر بی بی از بے چاری کا معاملہ ہے اس کو اخلاق اور بردباری سے کیا تعلق ہے۔ مسیح کے اخلاق کا نمونہ اسی قسم کا ہے اگر انہیں کوئی اقتداری قوت ملتی اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی توفیق نہیں ہوئی (ھٰکذا فی الاصل) پھر اگر وہ اپنے دشمنوں سے پیار کرتے اور ان کی خطائیں بخش دیتے تو بے شک ہم تسلیم کر لیتے کہ ہاں انہوں نے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھایا لیکن جب یہ موقع ہی ان کو نہیں ملا تو پھر انہیں اخلاق کا نمونہ ٹھہرانا صریح بے حیائی ہے۔‘‘
(الحکم ج ٦ مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٢ء ص ٣؍٤)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین میں مرزا کے حسب ذیل اشعار بھی ملاحظہ فرمائیے۔
- ٨٥....... ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو....... اس سے بہتر غلام احمد
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- ٨٦....... اينك منم کہ حسب بشارات آمدم
(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
باب چہارم
کذبات مرزا
ہم لکھ چکے ہیں کہ قادیانی کمپنی ایک تجارتی کمپنی ہے۔ جس کا سرمایہ پروپیگنڈا ہے ابتداء سے قادیانی کمپنی اپنی تعداد کے متعلق بالکل غلط پراپیگنڈا میں منہمک رہی ہے۔ ان دنوں بھی ان کا یہی پراپیگنڈا ہوتا ہے کہ ہماری تعداد لاکھوں کی ہے لیکن اگر سوال کیا جائے کہ لاکھوں مرید کہاں آباد ہیں؟ تو حقیقت صرف یہ نظر آئے گی کہ بمبئی و مدراس کے علاقہ میں کہا جائے گا کہ لاکھوں کی تعداد پنجاب میں ہے اور پنجاب میں کہا جائے گا کہ لاکھوں کی تعداد بمبئی و مدراس میں ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تمام پروپیگنڈا فرضی ہوتا ہے جس سے مقصود حکومت اور پبلک پر رعب ڈالنا ہے۔ اپنی جماعت کی تعداد کے متعلق مرزا قادیانی کا پروپیگنڈا ملاحظہ فرمائیے۔ ذیل کی ٤٣
مثلاً ایک شخص کو کسی نے سخت مارا ہے۔ اگر وہ اس پر قادر ہی نہیں ہوا کہ اس کو سزا انتقام لے پھر بھی وہ کہے کہ میں نے اس کو کچھ بھی نہیں کہا تو یہ بات اخلاق میں اور اس کا نام بردباری اور تحمل نہیں رکھ سکتے۔ کیونکہ اسے قدرت ہی حاصل نہیں حالت ہے کہ گالی کے صدمہ سے بھی رو پڑے۔ یہ تو ستی بی بی از بے چاری کا خلاق اور بردباری سے کیا تعلق ہے۔ مسیح کے اخلاق کا نمونہ اسی قسم کا ہے اگر انہیں ت ملتی اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے کی توفیق نہیں ہوئی (ھکٰذا فی الاصل) پھر ں سے پیار کرتے اور اس کی خطا میں بخش دیتے تو بے شک ہم تسلیم کر لیتے کہ لاق فاضلہ کا نمونہ دکھایا لیکن جب یہ موقع ہی ان کو نہیں ملا تو پھر انہیں اخلاق کا بے حیائی ہے۔“
(الحکم ج ٦ مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٠٢ء ص ٣، ٤)
ہ عیسیٰ علیہ السلام کی توہین میں مرزا کے حسب ذیل اشعار بھی ملاحظہ فرمائیے۔
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
عیسیٰ کجاست تابہ نہد پابمنبرم
(ازالۃ اوہام ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
باب چہارم
کذبات مرزا
کہتے ہیں کہ قادیانی کمپنی ایک تجارتی کمپنی ہے۔ جس کا سرمایہ پروپیگنڈا ہے ا اپنی تعداد کے متعلق بالکل غلط پراپیگنڈا میں منہمک رہی ہے۔ ان دنوں بھی تا ہے کہ ہماری تعداد لاکھوں کی ہے لیکن اگر سوال کیا جائے کہ لاکھوں مرید حقیقت صرف یہ نظر آئے گی کہ بمبئی و مدراس کے علاقہ میں کہا جائے گا کہ ں میں ہے اور پنجاب میں کہا جائے گا کہ لاکھوں کی تعداد بمبئی و مدراس میں ۔ یہ تمام پروپیگنڈا فرضی ہوتا ہے جس سے مقصود حکومت اور پبلک پر رعب ت کی تعداد کے متعلق مرزا قادیانی کا پروپیگنڈا ملاحظہ فرمائیے۔ ذیل کی ٤٤
عبارتیں غور سے دیکھئے۔ ١٨٩٥ء میں مریدوں کی تعداد ٤ ہزار لکھی جاتی ہے اور وہ بھی ایسی پختہ کہ مریدوں کے دستخط موجود ہیں۔
- ٨٧...... ”اور یہ بھی سراسر جھوٹ کہ ہماری جماعت کے صرف ١٥ آدمی ہیں بلکہ کئی
ہزار آدمی اہل علم اور عقل آدمی ہیں..... اگر ہم پندرہ سے سو گنا زیادہ پیش کر دیں تو کیا آتھم صاحب سے قسم دلا دیں گے یا نہیں..... کیا ہزار یا دو ہزار یا تین ہزار یا چار ہزار آدمی کے دستخط پر ان کا پندرہ کا دعویٰ باطل جائے گا۔“
(تبلیغ رسالت ج ٢ ص ٦٨، ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٠٣)
اب سنئے۔ ١٨٩٦ء میں مریدوں کی تعداد ٨ ہزار ہو جاتی ہے گویا ایک سال میں ٤ ہزار مریدوں کا اضافہ ہوتا ہے۔
- ٨٨...... ”تیسرا وہ امر جو مباہلہ کے بعد میری عزت کا موجب ہوا وہ قبولیت ہے جو
مباہلہ کے بعد دنیا میں کھل گئی۔ مباہلہ سے پہلے میرے ساتھ تین چار سو آدمی ہوں گے اب آٹھ ہزار سے کچھ زیادہ وہ لوگ ہیں جو اس راہ میں جاں فشاں ہیں اور جس طرح اچھی زمین کی کھیتی جلد از جلد نشوونما پکڑتی ہے اور بڑھتی ہے ایسا ہی فوق العادت طور پر اس جماعت کی ترقی ہو رہی ہے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٦، خزائن ج ١١ ص ٣١٠)
آپ نے ملاحظہ فرما لیا کہ ١٨٩٥ء میں ٤ ہزار اور ١٨٩٦ء میں ٨ ہزار کی تعداد بیان کی جاتی ہے۔ اب خدا کی قدرت دیکھئے کہ ١٨٩٨ء میں انکم ٹیکس کا معاملہ پیش آ گیا یعنی مرزا قادیانی کو انکم ٹیکس معاف کرانے کی فکر ہوئی چنانچہ معاملہ کی تفتیش کرنے والے تحصیلدار کے سامنے مریدوں کی فہرست بھی پیش کرنی پڑی اس سارے قصہ کا ذکر مرزا قادیانی اپنی کتاب ضرورت الامام میں کرتا ہے۔ ذیل کا حوالہ اسی کتاب کا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ ١٨٩٨ء میں مریدوں کی کل تعداد ٣١٨ ثابت ہوتی ہے۔
چنانچہ اس کل کارروائی کا یہ نتیجہ ہوا کہ کچھ عرصہ سے ایک متعدد اشخاص کا گروہ جن کی فہرست بحروف انگریزی منسلک ہٰذا ہے اس کو اپنا سرگروہ ماننے لگ گیا ہے اور بطور ایک فرقہ کے قائم ہو گیا ہے اس فرقہ میں حسب فہرست منسلکہ ہٰذا ٣١٨ آدمی ہیں جس میں بلا شبہ بعض اشخاص جن کی تعداد زیادہ نہیں معزز اور صاحب علم ہیں مرزا غلام احمد کا گروہ جب کچھ بڑھ نکلا تو اس نے اپنی کتب فتح اسلام توضیح مرام میں اپنے اغراض کے پورا کرنے کے لئے اپنے پیروؤں سے چندہ کی درخواست کی اور ان میں پانچ مدات کا ذکر کیا جن کے لئے چندہ کی ضرورت ہے چونکہ مرزا غلام احمد پر اس کے مریدوں کا اعتقاد ہو گیا رفتہ رفتہ انہوں نے چندہ بھیجنا شروع کیا اور اپنے خطوں ٤٤
میں بعض دفعہ تو تخصیص کر دی کہ ان کا چندہ ان پانچ مدوں میں سے فلاں مد پر لگایا جائے اور بعض دفعہ مرزا غلام احمد کی رائے پر چھوڑ دیا کہ جس مد میں وہ ضروری خیال کریں صرف کریں۔ چنانچہ حسب بیان مرزا غلام احمد عذردار اور بروئے شہادت گواہان چندہ کے روپیہ کا حال اس طرح ہوتا ہے۔“
(ضرورت امام ص ٤٣، ٤٤، ستمبر ١٨٩٨ء، خزائن ج ١٣ ص ٥١٤، ٥١٥)
اب فیصلہ ناظرین پر ہے کہ ٣١٨ اور ٨ ہزار میں کچھ فرق ہے یا نہیں ایک نبی کے لئے تو یہ نادر موقعہ تھا کہ سرکاری افسر تحقیقات کے لئے آتا ہے۔ ٨ ہزار کی فہرست پیش کر کے اس سے تصدیق کرواتا تا کہ اس کو پروپیگنڈا کا موقعہ ملتا کہ دیکھو میرے مرید ٨ ہزار سے بھی زیادہ ہیں۔ کیونکہ ٨ ہزار تو ١٨٩٦ء میں تھے اور ١٨٩٨ء میں ١٦ ہزار کی تعداد ہونی چاہئے تھی۔ مگر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تعداد صرف ٣١٨ ثابت ہوتی ہے۔ یہ ہے قادیانی پراپیگنڈا کا نمونہ یہ تو ١٨٩٨ء کی بات ہے ١٩٣٢ء ١٩٣٣ء میں ہم بارہا چیلنج کر چکے ہیں کہ قادیانی کمپنی اپنی تعداد دس لاکھ بلکہ اس سے زیادہ بتاتی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ صرف ایک لاکھ ہی ثابت کر دیں مگر ہمیشہ ہی صدائے برخواست والا معاملہ ہوا ہے۔
کذب نمبر ٢
مرزا قادیانی لکھتا ہے کہ اس کو ٥ مدات میں خرچ کرنے کے لئے سالانہ اوسطاً ٤ ہزار روپیہ مریدوں سے وصول ہوتا ہے۔ یہ خیال رہے کہ مرزا نے یہ بات ١٨٩٨ء میں ارشاد فرمائی ہے:
- ٩٠...... مرزا غلام احمد نے اپنے حلفی بیان میں لکھا ہے کہ ”اس کو تعلقہ داری زمین و
باغ کی آمدنی ہے تعلقہ داری کو سالانہ تخمیناً بیاسی روپے دس آنے زمین کی تخمیناً تین سو روپیہ سالانہ باغ کی دو سو روپیہ چار سو روپیہ اور حد پانچ صد روپیہ کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کو کسی قسم کی اور آمدنی نہیں ہے اور مرزا غلام احمد نے یہ بھی بیان کیا کہ اس کو تخمیناً پانچ ہزار دو سو روپیہ سالانہ مریدوں سے اس سال پہنچا ہے۔ ورنہ اوسط آمدنی قریباً چار ہزار روپیہ کی ہوتی ہے وہ پانچ مدوں میں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ خرچ ہوتی ہے اور اس کے ذاتی خرچہ میں نہیں آتی۔ خرچہ اور آمدنی کا حساب باضابطہ کوئی نہیں ہے۔“
(ضرورت امام ص ٤٥، خزائن ج ١٣ ص ٥١٦)
- ٩١...... ”اوّل مہمان خانہ۔ دوم مسافر۔ یتیم۔ بیوہ۔ سوم مدرسہ چہارم سالانہ اور
دیگر جلسہ جات پنجم خط و کتابت مذہبی۔“
(ضرورت الامام ص ٤٤، خزائن ج ١٣ ص ٥١٥)
یہ قصہ تو ١٨٩٨ء کا ہوا۔ مگر آپ ١٨٩٦ء میں کیا ارشاد فرماتے ہیں وہ بھی سنئے۔
٤٥
٩٢...... ”اور جسمانی نعمتیں جو مباہلہ کے بعد میرے پر وارد ہوئیں وہ مالی فتوحات ہیں جو اس درویش خانہ کے لئے خدا تعالیٰ نے کھول دیں مباہلہ کے روز سے آج تک ١٥ ہزار روپیہ کے قریب فتوح غیب کا روپیہ آیا۔ جو اس سلسلہ کے ربانی مصارف میں خرچ ہوا جس کو شک ہو وہ ڈاک خانہ کی کتابوں کو دیکھ لے اور دوسرے ثبوت ہم سے لے لے اور رجوع خلائق کا اس قدر مجمع بڑھ گیا کہ بجائے اس کے کہ ہمارے لنگر میں ساٹھ یا ستر روپیہ ماہوار کا خرچہ ہوتا اب اوسط خرچہ کبھی پانچ سو کبھی چھ سو روپیہ ماہوار تک ہو گیا ۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٨، خزائن ج ١١ ص ٣١٢)
آپ نے سن لیا کہ صرف لنگر خانہ جو پانچ مدوں میں سے صرف ایک مد ہے اس پر ٥٠٠ یا ٦٠٠ روپیہ کا ماہوار خرچ بتاتے ہیں۔ اگر ٥٠٠ روپیہ ہی مانا جائے اور ٦٠٠ کے الفاظ کو نظر انداز کر دیا جائے تو سالانہ خرچ صرف لنگر خانہ کا ٦ ہزار روپیہ ہوا اگر ١٨٩٦ء میں ٦ ہزار سالانہ کا خرچ ہوتا ہے تو ١٨٩٨ء میں تو یقیناً ١٢ ہزار کا خرچ ہو گیا ہو گا کیونکہ مذکورہ بالا حوالہ جات کی رو سے ہر سال ٤ ہزار زیادہ ہو جاتے ہیں جب مریدوں کی تعداد بڑھی تو لنگر خانہ کا خرچ لازماً زیادہ ہوا۔ اگر اس بات کو بھی نظر انداز کر دیا جائے تو بہر کیف بقول مرزا ٦ ہزار سالانہ کا خرچ ہے۔ اب قادیانیوں سے سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی تحصیلدار کے سامنے جہاں مریدوں کی تعداد ٣١٨ سے زیادہ پیش نہیں کر سکتا۔ وہاں کل آمدنی سالانہ ٤ ہزار بتاتا ہے جو ٥ مدات پر خرچ ہوتی ہے جن مدات میں خط و کتابت کی مد بھی ہے جس میں سب سے زیادہ روپیہ صرف ہوتا تھا کیونکہ مرزا کا دن رات کا کام ہی یہی تھا باقی مدات مدرسہ وغیرہ میں بھی ضرور کچھ نہ کچھ خرچ ہوتا ہو گا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف لنگر خانہ کا خرچ چھ ہزار کم از کم ہوتا ہے آمدنی چار ہزار سالانہ کی ہے باقی خرچ لنگر خانہ کا کہاں سے آیا اور باقی مدات کا خرچ کس جگہ سے۔ اگر کہو کہ مرزا قادیانی اپنی آمدنی سے خرچ کرتا تھا تو حوالہ نمبر ٩٠ میں مرزا اپنی کل آمدنی زیادہ سے زیادہ ٨ سو روپیہ سالانہ بتاتا ہے۔ اگر ٨ سو بھی لنگر خانہ میں جانا مان لو تو تسلیم کرو کہ خود مرزا اور اس کا خاندان بھوکا رہتا تھا بہر حال اس صورت میں بھی ٤ ہزار ٨ صد روپیہ ہوا اور پھر وہی سوال پیدا ہوا کہ لنگر خانہ کا ٦ ہزار پورا نہیں ہوتا۔ چہ جائیکہ باقی مدات کے مصارف کا ذکر کیا جائے قادیانیوں کے لئے دو ہی راہیں ہیں یا تو یہ کہہ دیں کہ انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے یہ حیلے کئے گئے تھے ورنہ آمدنی بہت زیادہ تھی یا یہ کہہ دیں کہ یہ سفید جھوٹ ہیں اور قادیانی پراپیگنڈے اسی قسم کے ہوتے ہیں۔
تیسرا جھوٹ
مرزا قادیانی حوالہ نمبر ٩٠ میں جو ستمبر ١٨٩٨ء کا ہے یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کی زیادہ سے
٤٦
زیادہ آمدنی ٨ سو روپیہ سالانہ ہے مگر ذیل کی رجسٹری جو جون ١٨٩٨ء میں کروائی گئی اور اپنی تمام زمین اپنی زوجہ کے پاس رہن رکھ کر ٤ ہزار روپیہ کا زیور اور ایک ہزار نقد وصول کیا اور معیاد رہن ٣٠ سال رکھی تھی اور صاف الفاظ میں لکھا گیا کہ اب تمام آمدنی میری زوجہ کی ہوگی اگر یہ رجسٹری کوئی حیلہ نہ تھا تو بتایا جائے کہ اس رجسٹری کے بعد مرزا کو کیا حق تھا کہ وہ اپنی اس رہن کردہ زمینوں کی آمدنی کو اپنی آمدنی بتائے۔
رجسٹری ملاحظہ فرمانے سے پہلے اس تحصیلدار کی گواہی کا مطالعہ ضروری ہے جو مرزا کے انکم ٹیکس کے معاملہ کی تفتیش کے لئے قادیان گیا۔ اس پر اس نبی کے بیانات کا جو اثر پڑا وہ خود مرزا کے الفاظ میں سنیئے اور دیکھئے کہ ایک سرکاری افسر مرزا قادیانی کی ان حرکات ( جائیداد وغیرہ رہن رکھوانے ) کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔
٩٣...... ”کمترین کی رائے ناقص میں اگر مرزا غلام احمد کی ذاتی آمدنی صرف تعلقہ داری باغ کی قرار دی جائے جیسا کہ شہادت سے عیاں ہوا ہے اور جس قدر آمدنی مرزا قادیانی کو مریدوں سے ہوتی ہے اس کو خیرات کا روپیہ قرار دیا جائے جیسا کہ گواہان نے بالعموم بیان کیا ہے تو مرزا غلام احمد پر موجودہ انکم ٹیکس بحال نہیں رہ سکتا لیکن جب دوسری طرف یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد ایک معزز اور بھاری خاندان سے ہے اور اس کے آباؤ اجداد رئیس ہیں اور ان کی آمدنی معقول رہی ہے اور مرزا غلام احمد خود ملازم رہا ہے اور آسودہ حال رہا ہے تو ضرور گمان گزرتا ہے کہ مرزا غلام احمد ایک مالدار شخص ہے اور قابل ٹیکس ہے مرزا قادیانی کے اپنے بیان کے مطابق حال ہی میں اس نے اپنا باغ اپنی زوجہ کے پاس گروی رکھ کر اس سے ٤ ہزار کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد وصول پایا ہے۔“
(ضرورۃ الامام، خزائن ج ١٣ ص ٥١٧)
نقل رجسٹری
٩٤....... ”منکہ مرزا غلام احمد خلف غلام مرتضیٰ مرحوم قوم مغل ساکن رئیس قادیان تحصیل بٹالہ کا ہوں موازی ١٤٤ کنال اراضی نمبری خسرہ ٧٠٣، ٢١٢٢/٢١٧١ قصبہ کا کھاتہ نمبر ١٧٠ معاملہ مثل جمعبندی ٩٦، ١٨٩٧ء واقعہ قصبہ قادیان مذکور موجود ہے۔ ٦٤ کنال منظورہ میں سے موازی ٥٢ کنال اراضی نمبری خسرہ نمبری ٧٠٣، ٢١٢٢/٢١٧١ مذکورہ میں باغ لگایا ہوا ہے اور درختان آم و کھٹے و مٹھا و شہتوت وغیرہ اس میں لگے ہوئے پھلتے ہوئے ہیں اور موازی ١٢ کنال اراضی منظورہ چاہی ہے اور بلا شراکت الغیر مالک و قابض ہوں سواب مظہر نے برضا و رغبت بدرستی ہوش و حواس خمسہ اپنی کل موازی ٦٤ کنال اراضی مذکورہ کو معہ درختان ثمرہ وغیرہ موجودہ باغ
٤٧
اراضی زرعی ونصف حصہ کھوہل و سکہ رائج الوقت جن کے ٢٥٠٠ ہ دی ہے اور روپیہ میں بہ تفصیل ذ قیمتی ٧٥٠ روپیہ کڑے خورد طلا گھنگرو والی طلائی ٢ عدد کل قیمت طلائی قیمتی ٢١٥ روپیہ جھمیاں ج روپیہ جوشن اور مونگے چار عد ٥٠ روپیہ بالیاں جڑاؤ دار سات قیمتی ٢٥ روپیہ پونچیاں خورد طلا نوٹ نمبری ١٥٩٠٠ی ٢٩ لاہور الر ہن مرہونہ نہیں کراؤں گا بعد فک الرہن کرالوں ورنہ بعد انق بالوفا ہو جائے گا اور مجھے دعویٰ م دوں گا اور منافع مرہونہ بالا کی مرتہنہ دیگی اور پیداوار لیگی جو ثم ظہور تنازعہ کے میں ذمہ دار ہو کر کے ٥٠٠ لکھا ہے جو صحیح ہے خشک شدہ کو واسطے ہر ضرورت ہے کہ سند رہے۔ المرقوم ٢٥ جو مقبلا ولد حکیم کرم الدین صاح حسب درخواست جناب مرزا شنبہ وقت ٧ بجے بمقام قادیا بغرض رجسٹری پیش کی۔ العبد احمد بخش رجسٹرار جناب مرزا گورداسپور جس کو میں بذات روپے کے مجملہ ١٠٠٠ روپیہ کانو
اراضی زرعی ونصف حصہ کھوہ معہ دیگر حقوق داخلی وخارجی متعلقہ اس کے بعوض مبلغ پانچ ہزار روپیہ سکہ رائج الوقت جن کے ٢٥٠٠ ہوتے ہیں بدست مسمات نصرت جہاں بیگم زوجہ خود رہن وگروی کر دی ہے اور روپیہ میں بہ تفصیل ذیل زیورات ونوٹ کرنسی نقد مرتہنہ سے لیا ہے کڑے کلاں طلائی قیمتی ٥٠ روپیہ کڑے خورد طلائی قیمتی ٢٥٠ ڈنڈیاں ٤ عدد بالیاں ٢ عدد نسی بل طلائی ٢ عدد بالی گھنگرو والی طلائی ٢ عدد کل قیمت ٦٠٠ روپیہ نگن طلائی قیمتی ٢٢٠ روپیہ بند طلائی قیمتی ٥٠٠ روپیہ کنٹھ طلائی قیمتی ٢١٥ روپیہ چھلیاں جوڑ طلائی قیمتی ٣٠٠ روپیہ پونچیاں طلائی بڑی قیمتی چار عدد ١٥٠ روپیہ جوگس اور مونگے چار عدد قیمتی ١٥٠ روپیہ چنپا کلاں ٣ عدد طلائی قیمتی ٤٠ روپیہ چاند طلائی قیمتی ٥٠ روپیہ بالیاں جڑاؤ دار سات ہیں قیمت ١٥٠ نتھ طلائی قیمتی ٤٠ ٹکہ طلائی خورد قیمتی ٢٠ روپیہ حمائل قیمتی ٢٥ روپیہ پونچیاں خورد طلائی ٢٢ روپیہ کڑی طلا قیمتی ٤٠ ٹپ جڑاؤ طلائی قیمتی ٧٠ روپیہ کرنسی نوٹ نمبری ١٥٩٠٠ی ١٢٩ جو کہ کلیتہ قیمتی ١٠٠٠ اقرار یہ کہ عرصہ ٣٠ سال (میعاد ملاحظہ ہو) تک فک الرہن مرہونہ نہیں کراؤں گا بعد ٣٠ سال مذکور کے ایک سال میں جب چاہوں زر رہن دوں تب فک الرہن کرالوں ورنہ بعد انقضائے معیاد بالا یعنی ٣١ سال میں مرہونہ بالا ان ہی روپوں پر بیع بالوفا ہو جائے گا اور مجھے دعویٰ ملکیت نہیں رہے گا قبضہ اس کا آج سے کرا دیا ہے۔ داخل خارج کرا دوں گا اور منافع مرہونہ بالا کی قائمی رہن تک مرتہنہ مستحق ہے اور معاملہ فصل خریف ١٩٥٥ء سے مرتہنہ رہے گی اور پیداوار لیگی جو ثمرہ اس وقت باغ میں ہے۔ اس کی بھی مرتہنہ مستحق ہے اور بصورت ظہور تنازعہ کے میں ذمہ دار ہوں اور سطر ٣ میں نصف ومبلغ ورقم ٢٠٠ کے آگے رقم ٢٠٠ کو قلم زن کر کے ٥٠٠ لکھا ہے جو صحیح ہے اور جو درخت خشک ہوں وہ بھی مرتہنہ کا حق ہوگا اور درختان غیر ثمرہ خشک شدہ کو واسطے ہر ضرورت آلات کشاورزی کے استعمال کرسکتی ہے۔ بنابراں رہن نامہ لکھ دیا ہے کہ سند رہے۔ المرقوم ٢٥ جون ١٨٩٨ء بقلم قاضی فیض احمد محرر العبد :۔ مرزا غلام احمد بقلم خود مقبلا ولد حکیم کرم الدین صاحب بقلم خود ۔ گواہ شد نبی بخش نمبردار بقلم خود بٹالہ حال قادیان ۔
حسب درخواست جناب مرزا غلام احمد خلف مرزا غلام مرتضیٰ مرحوم آج واقعہ ٢٥ جون ١٨٩٨ء یوم شنبہ وقت ١ بجے بمقام قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور آیا اور یہ دستاویز صاحب موصوف نے بغرض رجسٹری پیش کی۔ العبد مرزا غلام احمد راہن ۔ مرزا غلام احمد بقلم خود ٢٥ جون ١٨٩٨ء دستخط احمد بخش رجسٹرار جناب مرزا غلام احمد خلف مرزا غلام مرتضیٰ رئیس ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور جس کو میں بذات خود جانتا ہوں تکمیل دستاویز کا اقبال کیا وصول پائے مبلغ ٥٠٠٠ روپے کے منجملہ ١٠٠٠ روپیہ کا نوٹ اور زیورات مندرجہ ہذا روبرو معرفت میر ناصر نواب والد مرتہنہ ٤٨
لیا۔ سطر ٩ میں مبلغ ٢٥٠ کی قلم زن کر کے بجائے اس کے پانچ صد لکھا ہے از جانب مرتہنہ ناصر نواب حاضر ہے۔ العبد مرزا غلام احمد براہن مرزا غلام احمد بقلم خود ٢٥ جون ١٨٩٨ء دستخط احمد بخش سب رجسٹرار دستاویز نمبر ١٢٧٨ میں نمبر ایک بعد ٣٦ بیغہ نمبر ٢٦٧، ٢٦٨۔ آج تاریخ ٢٧ جون ١٨٩٨ یوم دوشنبہ رجسٹری ہوئی۔ دستخط احمد بخش سب رجسٹرار۔ کلمہ (فضل رحمانی ١٣٢ تا ١٣٤) اس رجسٹری کو اس جگہ جس مقصد کے لئے درج کیا گیا ہے وہ آپ کے سامنے ہیں اس کے علاوہ بھی اس رجسٹری میں لا انتہاء معارف و حقائق ہیں جو بعد میں کسی جگہ درج ہوں گے۔ ایک لطیفہ قابل غور یہ ہے کہ تعجب ہے ان لوگوں پر جو مرزا قادیانی کا اعتبار کر کے اپنی نجات کا انحصار اس پر سمجھتے ہیں مگر اس کی اپنے خاندان میں یہ عزت ہے کہ اس کی بیوی (جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا) صرف ٥ ہزار روپیہ کے لئے اعتبار نہیں کرتی اور باقاعدہ رجسٹری کرواتی ہے۔ فیا للعجب! ان مریدوں پر جو بلاوجہ اپنے ایمانوں کو ضائع کرتے ہیں۔
چوتھا جھوٹ
مرزا قادیانی ارشاد فرماتے ہیں:
- ٩٥...... ”خدا تعالیٰ نے ہزاروں آدمیوں کو اس طرف رجوع دے دیا چنانچہ وہ
لوگ ہزار ہا روپے کے ساتھ مدد کرتے ہیں۔ اگر پچاس ہزار روپیہ کی بھی ضرورت ہو تو بلا توقف حاضر ہو جائیں مالوں اور جانوں کو فدا کر رہے ہیں صد ہا لوگ آتے جاتے اور ایک جماعت کثیر جمع رہتی ہے۔ چنانچہ بعض وقت سو سے زیادہ آدمی بعض اوقات دو دو سو جمع ہوتے ہیں“۔
(انوار الاسلام ص ٤٠، خزائن ج ٩ ص ٤٠)
کس قدر صاف الفاظ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ ٥٠ ہزار کی ضرورت پڑے تو فوراً مل سکتا ہے۔ مگر ٥ ہزار روپیہ تمام جائیداد رہن رکھ کر وصول کیا اور سنیئے رہن کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ روپیہ ایک دینی ضرورت کے لئے لیا تھا۔
- ٩٦...... ”(الف) حضرت والدہ صاحبہ نے خاکسار سے بیان کیا کہ اس تقسیم کے
کچھ عرصہ بعد حضرت صاحب کو دینی غرض کے لئے کچھ روپے کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ تم مجھے اپنا زیور دے دو میں تم کو اپنا باغ رہن دیدیتا ہوں۔ چنانچہ آپ نے سب رجسٹرار کو قادیان میں بلوا کر باقاعدہ رہن نامہ میرے نام کرا دیا اور پھر اندر آ کر مجھ سے فرمایا میں نے رہن کے لئے تیس سال کی میعاد لکھ دی ہے کہ اس عرصہ کے اندر یہ رہن فک نہ کروایا جائیگا۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ٢٨١، روایت نمبر ٢٩٤)
٤٩
جائیداد پر غور فرمائیے رہا مرزا کا زیور فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کرنا یہ کسی تحریر سے ثابت نہیں۔ بلکہ نبی بخش صاحب گواہ رجسٹری اب تک زندہ ہیں ان کا بیان ہے کہ رجسٹری کی قانونی رسم ادا کرنے کے بعد خود انہوں نے سارا زیور مرزا کی اہلیہ کو واپس دے دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ٥٠ ہزار فوراً مل سکتا تھا تو ٥ ہزار قرض لینے کی کیا ضرورت تھی۔ اگر کہا جائے کہ بعض اوقات فوری ضرورت پڑ جاتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ ٣٠ سال کی میعاد رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ اللہ اللہ کیا شان نبوت ہے طرفہ تو یہ ہے کہ آپ کا یہ ارشاد ١٨٩٣ء کا ہے اور آپ زمین رہن رکھتے ہیں ١٨٩٨ء میں اگر ١٨٩٣ء میں فتوحات مالی کی یہ حالت تھی کہ پچاس ہزار فی الفور مل سکتا تھا تو ١٨٩٨ء میں تو مریدوں کی تعداد اتنی ہوگئی ہوگی کہ ایک لاکھ روپیہ فی الفور مل سکے بتائیے ان تحریات کی موجودگی میں کوئی عقلمند تسلیم کر سکتا ہے کہ مرزا کو ٥ ہزار کے لئے ساری زمین رہن رکھنی پڑی۔
قادیانیوں سے سوال کرو کہ کیا تمہارے پراپیگنڈے کی یہی حقیقت ہے کہ تمہارے سلطان القلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ٥٠ ہزار فوراً مل سکتا ہے مگر درپردہ حالت یہ ہے کہ ٥ ہزار نہیں مل سکتا جب تک کہ ساری جائیداد رہن نہ رکھ دی جائے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
پانچواں جھوٹ
مرزا قادیانی حوالہ نمبر ٩٠ میں تسلیم کرتا ہے کہ اس کو زیادہ سے زیادہ ٨ سو روپیہ سالانہ کی آمدنی ہے اول تو وہ آمدنی جون ١٨٩٨ء میں اس کی زوجہ کی ہوگئی۔ لیکن اگر اس رجسٹری کو صرف ایک حیلہ تسلیم کر لیا جائے جس کی تشریح آئندہ کسی جگہ آئے گی اور یہ بھی مان لیا جائے کہ اس آٹھ سو میں سے ایک پائی بھی کسی دینی کام میں نہ جاتی تھی تو بھی ماہوار آمدنی ٦٦ روپیہ ٨ آنے ہوئی۔ مرزا کہتا ہے کہ مریدوں کے روپیہ سے ایک پائی وہ اپنی ذات پر صرف نہیں کرتا۔ اب ہر عقل مند اندازہ کرے کہ اس قدر ماہوار رقم میں دو بیویوں والے شخص (اگر کہا جائے کہ ایک کو طلاق دی تھی تو یاد رکھا جائے کہ طلاق کا واقعہ بعد کا ہے اس وقت طلاق نہ تھی کیونکہ طلاق اس رجسٹری کے بعد دی جانی تھی۔ تبھی تو رجسٹری کروائی تھی جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا ) اور کئی بال بچوں کے والد کا گزارہ کیونکر ہو سکتا ہے اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ گزارہ ہو سکتا ہے تو آئندہ باب میں جو حوالہ جات درج ہیں ان کو زیر نظر رکھتے ہوئے کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ اس قدر روپیہ ماہواری اخراجات اور مشک وغیرہ اور ریشمی پارچات اور ایک دائم المریض کے علاج معالجہ کے لئے کافی ہو سکتا ہے۔ دائم المریض ہونے کا اقرار ملاحظہ فرمائیے:
- ٩٦....... ہمیشہ سر درد و دوران سر کمی خواب تشنج ۔ دل کی بیماری دورے کے ساتھ آتی
٥٠
ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ پیشاب آتا ہے اور اس کثرت سے پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔ (ضمیمہ اربعین ص ٤، خزائن ج ١٧ ص ٤٧٠، ٤٧١) اب قادیانیوں سے سوال کیا جائے کہ خدا لگتی کہنا ٢٦ روپیہ ٨ آنے ماہوار میں اس قدر اخراجات پورے ہو سکتے ہیں؟ اگر یہ نہ مانو تو تسلیم کرو کہ مرزا نے یہ غلط کہا کہ مریدوں کا روپیہ اس کے مصرف میں نہیں آیا۔
چھٹا جھوٹ
ذیل کے ہر دو حوالہ جات ملاحظہ فرما کر یہ جھوٹ معلوم کیجئے کہ مرزا قادیانی ایک طرف تو مانتا ہے کہ اس نے قرآن شریف ونحو وغیرہ علوم استاد سے سیکھے مگر دوسری طرف کہتا ہے کہ سب علوم خدا کی طرف سے ہیں۔
٩٧....... بچپن کے زمانے میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سال کا تھا۔ تو ایک فارسی معلم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا اور جب میری عمر قریباً دس برس کی ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لئے مقرر کئے گئے۔ جن کا نام فضل احمد تھا۔ مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے۔ وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے اور میں نے صرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد خوان سے پڑھے اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہوا تو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا ان کا نام گل علی شاہ تھا ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لئے مقرر کیا تھا اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالیٰ نے چاہا حاصل کیا اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں"۔ (حاشیہ کتاب البریہ ص ١٦١ تا ١٦٣ خزائن ج ١٣ ص ١٧٩ تا ١٨١) علم کسی استاد سے نہیں پڑھا تھا۔ مگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ مکتبوں میں بیٹھے تھے اور حضرت عیسیٰ نے ایک یہودی سے تمام توریت پڑھی تھی۔ غرض اس لحاظ سے کہ ہمارے نبی ﷺ نے کسی استاد سے نہیں پڑھا خدا آپ ہی استاد ہوا اور پہلے پہل خدا نے ہی آپ کو اقراء کہا یعنی پڑھ اور کسی نے نہیں کہا اس لئے آپ نے خاص خدا کے زیر تربیت تمام دینی ہدایت پائی اور دوسرے نبیوں کے دینی معلومات انسانوں کے ذریعہ سے بھی حاصل ہوئے سو آنے والے کا نام جو مہدی رکھا گیا سو اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ آنے والا علم دین خدا سے ہی حاصل کریگا اور قرآن اور حدیث میں کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوگا۔ سو میں حلفاً کہہ سکتا
٥١
ہوں کہ میرا حال یہی ہے۔ کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ میں نے کسی انسان سے قرآن یا حدیث یا تفسیر کا ایک سبق بھی پڑھا ہے۔“
(ایام الصلح ص ١٤٧، خزائن ج١٤ ص٣٩٣، ٣٩٤)
کثرتِ مطالعہ کے متعلق ذیل کا حوالہ ملاحظہ فرمائیے ۔
- ٩٩...... ”آپ (مرزا قادیانی) کو خدا تعالیٰ نے کتابوں کے دیکھنے کا اس قدر شوق
اور شغل دیا ہوا تھا کہ مطالعہ کے وقت گویا دنیا میں ہی نہ ہوتے تھے۔ آپ کی عادت شروع سے ایسی ہی تھی کہ اکثر مطالعہ ٹہل کر کرتے تھے۔ اور ایسے محو ہو کر کثرت سے ٹہلتے تھے کہ جس زمین پر ٹہلتے تھے دب دب کر باقی زمین سے متمیز اور بہت نیچی ہو جاتی“ (سوانح عمری مرزا مؤلفہ مرزا محمود احمد ص٦٣)
اب فیصلہ کیجئے کہ جو شخص فضل الٰہی، فضل احمد، گل علی شاہ، تین اساتذہ سے تعلیم حاصل کرے پھر مطالعہ کا یہ عالم ہو کہ زمین ٹہلتے ٹہلتے دب جائے پھر دعویٰ یہ کیا جائے۔
- ١٠٠...... ”اس لئے ظاہر ہے کہ ظاہر ہونے والا آدم کی طرح ظاہر ہو جس کا استاد
اور مرشد صرف خدا ہو ۔“
(اربعین ج ٢ ص١٣، خزائن ج١٧ ص٣٥٩، ٣٦٠)
- ١٠١...... ”مہدی کے لئے ضروری ہے کہ آدم وقت ہو اور اس کے وقت میں دنیا
بالکل بگڑ گئی ہو اور نوع انسان میں سے اس کا دین کے علوم میں کوئی استاد اور مرشد نہ ہو بلکہ اس لیاقت کا آدمی کوئی موجود ہی نہ ہو۔“
(اربعین ج ٢ ص١٣، خزائن ج١٧ ص٣٦٠)
- ١٠٢...... ”مہدی کے مفہوم میں یہ معنی ماخوذ ہیں کہ وہ کسی انسان کا علم دین میں
شاگرد یا مرید نہ ہو۔“
(اربعین ج ٢ ص١٢، خزائن ج١٧ ص٣٥٩)
- ١٠٣...... ”حالت فاسدہ زمانہ کی یہی چاہتی ہے کہ ایسے گندہ زمانہ میں جو امام آخر
الزمان آئے وہ خدا سے مہدی ہو اور دینی امور میں کسی کا شاگرد نہ ہو اور نہ کسی کا مرید ہو اور عام علوم و معارف خدا سے پانے والا ہو نہ علم دین میں کسی کا شاگرد ہو اور نہ امور فقہ میں کسی کا مرید۔“
(اربعین نمبر ٢ ص١٢، خزائن ج١٧ ص٣٥٩)
ساتواں جھوٹ
مرزا قادیانی حکومت کو خوش کرنے اور احسان جتانے کے لئے لکھتا ہے۔
- ١٠٤...... ”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا
ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں۔“
(کتاب تریاق القلوب ص١٥، خزائن ج١٥ ص١٥٥)
٥٢
اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کا مقصد یہ ہے کہ جس قدر کتب اور اشتہارات شائع کئے ہیں ان کی ایک ایک کاپی جمع کی جائے تو پچاس الماریاں بھر جائیں کیونکہ الفاظ یہ ہیں اس قدر لکھی ہیں کتابیں لکھنے کا مفہوم یہی ہو سکتا ہے کہ جس قدر کتابیں تصنیف کی ہیں یہ نہیں کہ جس قدر مطبع سے تیار ہو کر آئی ہوں لیکن اگر یہی خیال کیا جائے کہ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام تعداد جمع کی جائے جو ساری کتابیں تیار ہونے کے بعد ہوتی ہے تب بھی یہ غلط ہے کہ ساری کتابو ں کا مجموعہ ٥٠ الماریاں ہو سکتی ہیں مرزا کی ہر کتاب ٥٠٠ زیادہ سے زیادہ ١٠٠٠ شائع ہوئی ہے جن میں سے کثیر حصہ ان کتابوں کا ہے جن کا حجم بالکل تھوڑا ہے جو صرف تعداد بڑھانے کیلئے شائع کی گئیں۔ بقول قادیانیوں کے مرزا کی کل تصنیفات ٨٠ کے قریب ہیں ظاہر ہے کہ اگر تمام تصانیف، جملہ اشتہارات بھی مجموعی رنگ میں جمع کئے جائیں تب بھی پچاس الماریاں تو کجا دس الماریاں بھی نہیں بھر سکتیں۔ اگر یہ صریح غلط بیانی نہیں تو اور کیا ہے؟
آٹھواں جھوٹ
مرزا قادیانی اپنے دعویٰ مسیحیت کے لئے راستہ صاف کرنے کی غرض سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر تلاش کرنے میں بہت مصروف ہے۔ ذیل کا حوالہ ملاحظہ فرمائیے کہ کس قدر زور سے لکھا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر بلاد شام میں ہے۔
......١٠٥...... ”اور لطف تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی بھی بلاد شام میں قبر موجود ہے اور ہم نے زیادہ صفائی کے لئے اس جگہ حاشیہ میں اخویم حمصی فی اللہ سید مولوی السید طرابلسی کی شہادت درج کرتے ہیں اور وہ طرابلس بلاد شام کے رہنے والے ہیں اور انہی کی حدود میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے۔ اگر کہو کہ وہ قبر جعلی ہے تو اس جعل کا ثبوت دینا چاہئے اور ثابت کرنا چاہئے کہ کس وقت یہ جعل بنایا گیا اور اس صورت میں دوسرے انبیاء کی قبروں کی نسبت بھی تسلی نہ رہے گی اور ایمان اٹھ جائے گا اور کہنا پڑے گا کہ وہ تمام قبریں جعلی ہوں گی۔“
(اتمام الحجۃ ص ١٨، ١٩، خزائن ج ٨ ص ٢٩٦، ٢٩٧)
یہ تو شام میں قبر کی موجودگی کا دعویٰ ہوا اب دوسرا حوالہ سنئے۔
......١٠٦...... ”آپ نے سرینگر میں وفات پائی اور آپ کا مزار مقدس سری نگر محلہ خان یار میں موجود ہے۔“ (کشف الغطاء ص ١٤، خزائن ج ١٤ ص ١٩٥) اختلاف بیان کی داد دیجئے۔
نواں جھوٹ
مرزا قادیانی نے اپنے کاروبار کی بنیاد براہین احمدیہ سے اٹھائی، پہلی جلد انعامی اشتہار
٥٣
ہے ۔ دوسری جلد میں اس کے فوائد کا ذکر ہے چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں۔
- ........١٠٧ ”یہ کتاب تین سو محکم اور قوی دلائل حقیقت اسلام اور اصول اسلام پر
مشتمل ہے۔ دیکھنے سے صداقت اس دین متین کی ہر ایک طالب حق پر ظاہر ہوگی ۔ بجز اس شخص کے کہ بالکل اندھا اور تعصب کی سخت تاریکی میں مبتلا ہو ۔“ (براہین احمدیہ مقدمہ ص ١٣٦، خزائن ج ١ ص ١٢٩) غرض ضروری بحالت مجبوری کے عنوان سے جو کچھ جلد دوم کے اوّل دو ورقوں میں لکھا گیا ہے اس میں مصنف کا یہ مقولہ درج ہے کہ۔
- ........١٠٨ ”ہم نے صد ہا طرح کا فتور اور فساد دیکھ کر کتاب براہین احمدیہ کو تالیف کیا
تھا اور کتاب موصوف میں تین سو مضبوط اور علمی عقلی دلیل سے صداقت اسلام کو فی الحقیقت آفتاب سے بھی زیادہ تر روشن دکھلایا گیا ۔“
(براہین احمدیہ جلد دوم ص ب، خزائن ج ١ ص ٦٢ )
حوالہ مذکور صفحہ د میں لکھا ہے کہ:
- ........١٠٩ اسی مطلب کو کامل طور پر پورا کرنے کے لئے پہلے کتاب براہین احمدیہ کو
تالیف کیا ہے اور اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دیا ہے کہ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جائے گا ...... اگر ہم ان صد ہا دقائق اور حقائق کو نہ لکھتے کہ جو کتاب کا حجم بڑھ جانے کا موجب ہیں ۔ تو پھر خود کتاب کی تالیف غیر مفید ہوتی ۔
(براہین ص ١ ص د، خزائن ج ١ ص ٦٩، ٧٠ )
یہ حوالہ جات ہی اس امر کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ کتاب براہین احمدیہ کا مسودہ تیار ہو گیا تھا اگر کسر تھی تو نو ہزار روپیہ کی جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔
- ........١١٠ کتاب براہین احمدیہ کی تیاری پر نو ہزار روپیہ خرچ آتا ہے۔
(براہین احمدیہ ج ٢ ص ١٧، خزائن ج ١ص ٦٣ )
شاید کوئی کہے کہ مسودہ تیار کرنے کا ارادہ تھا، تیار نہ تھا۔ تو ذیل کا حوالہ ملاحظہ فرمائیے۔
- ........١١١ ”مسودہ اس کتاب کا خدا کے فضل اور کرم سے تھوڑے ہی دنوں میں اور
ایک قلیل بلکہ اقل مدت میں جو عادت سے باہر تھی تیار ہو گیا ۔“
(ج ٢ ص ٩٣ براہین احمد، خزائن، ج ١ ص ٨٣ )
اب کوئی وجہ نہیں کہ یہ کہا جاسکے کہ مسودہ تیار نہ تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی تسلیم کرتا ہے کہ اس کو ایسے مرید ہاتھ لگ گئے جو دینی اغراض کے لئے اگر ٥٠ ہزار کی ضرورت پڑے تو فی الفور مہیا ہوجاتے۔ ملاحظہ ہو حوالہ نمبر ٩٥ روپیہ بھی موجود ہے مسودہ بھی تیار ہے اور چھپا بھی
٥٤
ایسے دلائل پر مشتمل کہ ہمیشہ کے جنگ وجدال کا خاتمہ ہو جائے پھر وہ مسودہ کیوں شائع نہ ہوا؟ اور براہین کی ٢٥ جلدیں ان لوگوں کو کیوں نہ دی گئیں جن سے اس کی پیشگی قیمت وصول کر لی گئی تھی۔ ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ یہ جھوٹ ہے کہ تین سو دلائل پر مشتمل مسودہ تیار تھا اگر یہ صحیح ہے کہ مسودہ موجود تھا تو آج بھی اس کی گدی کے وارثوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی مقام کے دس یا بیس انصاف پسند لوگوں کے سامنے وہ غیر مطبوعہ مسودہ جو تین سو دلائل پر مشتمل ہے جس سے ہمیشہ کے جھگڑوں کا خاتمہ ہو جانا تھا پیش کر کے اعلان کروا دیں کہ مسودہ فی الواقعہ تیار تھا۔ صرف روپیہ نہ ہونے سے شائع نہ ہوا یا کوئی اور وجہ لاحق ہو گئی مگر شرط یہ ہے کہ مسودہ مرزا قادیانی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہو اگر ایسا کوئی غیر مطبوعہ مسودہ پیش نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ آج تک نہیں کیا جا سکا۔ تو بتاؤ کہ یہ جھوٹ اور غلط بیانی نہیں کہ یہ مسودہ تیار ہو چکا ہے کیا انبیاء کی یہی شان ہوتی ہے؟
دسواں جھوٹ
مرزا قادیانی نے ایک اقرار نامہ ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کی عدالت میں لکھا۔ جس کی رو سے اسے عذابی پیشگوئیوں کے شائع کرنے سے روکا گیا۔ جب پبلک نے اس قادیانی نبی کی اس حرکت پر یہ اعتراض کیا کہ اچھا نبی ہے جو خدا کے الہام کو ایک ڈپٹی کمشنر کے حکم پر مقدم نہیں سمجھتا۔ تو آپ نے فوراً ارشاد فرمایا۔
١١٢...... ”بعض ہمارے مخالف جن کو افتراء اور جھوٹ بولنے کی عادت ہے۔ لوگوں کے پاس کہتے ہیں کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے آئندہ پیشین گوئیاں کرنے سے منع کر دیا ہے۔ خاص کر ڈرانے والی پیشین گوئیوں سے سخت ممانعت کی ہے سو واضح رہے کہ یہ باتیں سراسر جھوٹی ہیں۔ ہم کو کوئی ممانعت نہیں ہوئی اور عذابی پیشین گوئیوں میں جس طریق کو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی رضا مندی لینے کے بعد پیشینگوئی کرنا اس طریق پر عدالت اور قانون کا کوئی اعتراض نہیں“۔ (کتاب البریہ ص ١٠ حاشیہ خزائن ج ١٣ ص ١٠) کس قدر صاف الفاظ میں فرماتے ہیں ہم کو کوئی ممانعت نہیں ہوئی اور یہ باتیں سراسر جھوٹی ہیں۔ مگر اصل مقدمہ زیر دفعہ ١٠٧ کے فیصلہ کو ملاحظہ فرمائیے:
١١٣...... نقل فیصلہ مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب بہادر آئی سی ایس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور بمقدمہ غلام احمد سکن قادیان۔ نمبر مقدمہ ٣١١ سرکار قیصر ہند مستغیث بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور .......... ملزم!
(ملزم الزام زیر دفعہ ١٠٧ ضابطہ فوجداری تاریخ مرجوعہ ١٥؍ دسمبر ١٨٩٩ء)
٥٥
حکم
ہم نے دو اقرار نامہ جات کا مسودہ مشتمل بر چھ دفعات تیار کیا ہے۔ جس کو مرزا غلام احمد قادیانی اور مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی نے خوشی سے منظور کر لیا ہے۔ ان اقرار نامات کی نظر سے یہ مناسب ہے کہ کارروائی حال مسدود کی جائے۔ لہٰذا ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو رہا کرتے ہیں (قادیانی اپنی خوش فہمی سے مرزا قادیانی کی اس رہائی کو بھی معجزہ قرار دیا کرتے ہیں۔ مگر ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ رہائی کی شرائط سزایابی سے بھی بدتر ہیں جس کیلئے قادیانی نبوت مستحق مبارک باد ہے) کہ مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی کے برخلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ دستخط جے ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ٢٤ فروری ١٨٩٩ء۔
نقل اقرار نامہ مرزا غلام احمد قادیانی بمقدمہ فوجداری ۔ اجلاس مسٹر جے ایم ڈوئی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر و ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور مرجوعہ ٥ جنوری ١٨٩٩ء فیصلہ ٢٥ فروری ١٨٩٩ء نمبر بستہ قادیان نمبر مقدمہ ٣/١ سرکار دولت مند بنام مرزا غلام احمد ساکن قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور ملزم ۔ الزام زیر دفعہ ١٠٧ مجموعہ ضابطہ فوجداری۔
اقرار نامہ
میں مرزا غلام احمد قادیانی بحضور خداوند تعالیٰ باقرار صالح اقرار کرتا ہوں کہ آئندہ:
- ١...... میں ایسی پیشین گوئی شائع کرنے سے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنے
ہوں۔ یا ایسے معنی خیال کئے جاسکیں کہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی۔ یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- ٢...... میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد درخواست) کرنے سے بھی
اجتناب کروں گا کہ وہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔
- ٣...... میں کسی چیز کو الہام بتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا جس کا یہ منشاء ہو یا
ایسا نشان رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی) ذلت اُٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- ٤...... میں اس امر سے بھی باز رہوں گا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین یا ان کے کسی
دوست یا پیرو کے ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دلآزار لفظ استعمال کروں یا کوئی
٥٦
ایسی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں۔ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کسی دوست اور پیرو کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال ۔ کافر کاذب ۔ بطالوی نہیں لکھوں گا (بطالوی کے ہجے بٹالوی کئے جانے چاہئیں جب یہ لفظ بطالوی کر کے لکھا جاتا ہے تو اس کا اطلاق باطل پر ہوتا ہے ) میں ان کی پرائیویٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا۔ جس سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔
- ٥...... میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابوسعید محمد حسین یا ان کے
کسی دوست یا پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں۔ تا کہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ نہ میں ۔ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیشین گوئی کرنے کے لئے بلاؤں گا۔
- ٦...... جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے۔ میں تمام اشخاص کو جن پر میرا
کچھ اثر یا اختیار ہے۔ ترغیب دونگا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے دفعہ نمبر ١ ونمبر ٢ ونمبر ٣ ونمبر ٤ ونمبر ٥ ونمبر ٦ میں اقرار کیا ہے۔
العبد گواہ شد !
مرزا غلام احمد بقلم خود خواجہ کمال الدین بی اے ایل ایل بی دستخط جے ایم ڈوئی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ۔ ٢٤؍فروری ١٨٩٩ء یہ ہے عدالت کا فیصلہ اور مرزا قادیانی کا اپنا اقرار نامہ جس پر وہ عدالت میں دستخط کرتا ہے۔ اس فیصلہ اور بیان کی موجودگی میں یہ اعلان کرنا کہ اسے کوئی ممانعت نہیں ہوئی۔ کیا یہ مخالفین کا افتراء اور جھوٹ ہے؟ اس پر لطف یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی لکھتا ہے۔
- ١١٤...... ’’اور ہر ایک پیشین گوئی سے اجتناب ہوگا۔ جو امن عامہ اور اغراض
گورنمنٹ کے مخالف ہو۔ یا کسی شخص کی ذلت یا موت پر مشتمل ہو‘‘۔ (اربعین نمبر ١ ص ١ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٣٤٣) اب ملاحظہ فرمائیے کہ ڈپٹی کمشنر کا فیصلہ خود مرزا یوں درج کرتا ہے۔
- ١١٥...... ’’لیکن ہم اس موقع پر مرزا غلام احمد کو بذریعہ تحریری نوٹس کے جس کو انہوں
نے خود پڑھ لیا ہے اور اس پر دستخط کر دئے ہیں۔ باضابطہ طور سے متنبہ کرتے ہیں کہ ان مطبوعہ دستاویزات سے جو شہادت پیش ہوئی ہے۔ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے اشتعال اور غصہ دلانے والے رسالے شائع کئے ہیں۔ جن سے ان لوگوں کی ایذا متصور ہے جن کے مذہبی خیالات اس کے مذہبی خیالات سے مختلف ہیں ۔‘‘ (کتاب البریہ ص ٢٦١، خزائن ج ١٣ ص ٣٠١) اور سنئے اسی کتاب میں
٥٧
جس میں ممانعت سے انکار ہے۔ مرزا لکھتا ہے۔ ١١٢...... ”اور جیسا کہ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے مقدمہ کے فیصلے پر مجھے ہدایت کی ہے کہ آئندہ اشتعال کو روکنے کے لئے مباحثات میں نرم اور مناسب الفاظ کو استعمال کیا جائے۔ میں اس پر کار بند رہنا چاہتا ہوں اور اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنے مریدوں کو جو پنجاب اور ہندوستان کے مختلف مقامات پر سکونت رکھتے ہوں نہایت تاکید سے سمجھاتا ہوں کہ وہ بھی اپنے مباحثات میں اس طرز کے کار بند رہیں اور ہر ایک سخت اور فتنہ انگیز لفظ سے پر ہیز کریں اور جیسا کہ میں نے پہلے اس سے شرائط بیعت کی دفعہ چہارم میں بتایا ہے کہ سرکار انگریزی کی سچی خیر خواہی اور بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی کریں اور اشتعال دینے والے طریقوں سے اجتناب رکھیں اور پرہیز گار اور صالح اور بے شر انسان بن کر پاک زندگی کا نمونہ دکھائیں اور اگر کوئی ان میں سے ان وصیتوں پر کار بند نہ ہو۔ یا بے جا جوش اور وحشیانہ حرکت اور بدزبانی سے کام لے تو اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ان صورتوں میں ہماری جماعت کے سلسلہ سے باہر متصور ہوگا اور مجھ سے اس کا کوئی تعلق باقی نہ رہے گا۔“
( کتاب البریہ ص ١٣، خزائن ج ١٣ ص ١٣)
یہ فیصلہ ناظرین کریں کہ ڈرانے والی پیش گوئیوں کے شائع کرنے کی ممانعت ہوئی تھی یا نہیں۔ ان حوالہ جات کے مطالعہ کے بعد ناظرین بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ یہ سراسر جھوٹی باتیں ہیں یا سچی باتیں ۔ یہ ہیں بطور نمونہ مرزا قادیانی کے دس جھوٹ جو ہم نے اس پاکٹ بک میں درج کئے ہیں یہ مضمون تو اس قدر طویل ہے کہ اس کے لئے اس کتاب کے صفحات کافی نہیں ہو سکتے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی کسی تصنیف کا بھی مطالعہ کیا جائے۔ تو وہی تصنیف اس بات کی رہبری کے لئے کافی ہوگی کہ اس میں ضرورت سے زیادہ غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے۔
اب ان دس جھوٹوں کے بعد مرزا جی کا فیصلہ سن لیجئے ١١٧...... ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
قادیانی نبی کی درویشانہ زندگی
مرزا قادیانی نے جس طریق اور جس ترتیب سے اپنے دعاوی کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ وہ آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ۔ اب اس باب کا مطالعہ آپ کی معلومات میں مزید اضافہ کا موجب ہوگا۔ مرزا قادیانی نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں جو کام سر انجام دیا وہ اس امر کا بین ثبوت ہوگا کہ مرزا قادیانی کا اپنے تمام کاروبار سے اصل مقصد کیا تھا۔
٥٨
مرزا نے اپنی وفات سے اڑھائی سال قبل ٢٠ دسمبر ١٩٠٥ء کو ایک ٹریکٹ ”الوصیۃ“ نامی شائع کیا جس میں بہشتی مقبرہ کی بنیاد رکھی اور مریدوں کے ڈرانے اور خوف دلانے والے بہت سے الہامات درج کردئے بطور نمونہ ایک الہام ملاحظہ فرمائیے:۔
- ١١٨...... ”اور آئندہ زلزلہ کی نسبت جو ایک سخت زلزلہ ہوگا مجھے خبر دی اور فرمایا پھر
بہار آئی۔ خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ اس لئے ایک شدید زلزلہ کا آنا ضروری ہے۔ لیکن راست باز اس سے امن میں ہیں۔ سو راستباز بنو! اور تقویٰ اختیار کرو آج خدا سے ڈرو تا کہ اس دن کے ڈر سے امن میں رہو۔ ضرور ہے کہ آسمان کچھ دکھاوے اور زمین کچھ ظاہر کرے۔ لیکن خدا سے ڈرنے والے بچائے جائیں گے۔“
(الوصیت ص ٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠٣)
ہمیں اس وقت اس سے تو بحث نہیں کہ ہمیں نبی بھی وہ ملا جو بجائے خوشخبری دینے کے ساری عمر آفتوں اور مصیبتوں کی خبر دیتا رہا۔ کیونکہ اس باب میں ایک دوسری بحث مطلوب ہے چونکہ مرزا کا ہر کام الہام پر مبنی ہوتا تھا۔ اس لئے بہشتی مقبرہ کی بنیاد بھی الہام پر ہونی ضروری تھی۔ چنانچہ آپ ارشاد فرماتے ہیں ۔
- ١١٩...... ”ایک فرشتہ میں نے دیکھا کہ وہ زمین کو ناپ رہا ہے تب ایک مقام پر
اس نے پہنچ کر مجھے کہا کہ یہ تیری قبر کی جگہ ہے پھر مجھے ایک جگہ ایک قبر دکھلائی گئی کہ وہ چاندی سے زیادہ چمکتی تھی اور اس کی تمام مٹی چاندی کی تھی تب مجھے کہا گیا کہ یہ تیری قبر ہے اور ایک جگہ مجھے دکھلائی گئی اور اس کا نام بہشتی مقبرہ رکھا گیا اور ظاہر کیا گیا کہ وہ ان برگزیدہ لوگوں کی قبریں ہیں جو بہشتی ہیں“۔
(الوصیت ص ١٧، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦)
مرزا قادیانی کی یہ رؤیا بھی نہایت عمدہ ہے غور فرمائیں کہ پہلی قبر کی جگہ اور ہے اور چاندی کی قبر اور ہے اور بہشتی مقبرہ ایک تیسری جگہ ہے۔ اگر فرشتہ سچ کہتا ہے تو پہلی قبر کو بھی مرزا کی بتاتا ہے اور جلدی ہی دوسری قبر کو اور معاً بعد بہشتی مقبرہ کی جگہ دکھاتا ہے غرضیکہ تینوں جگہیں مختلف ہیں چونکہ ہمیں رؤیا پر بحث نہیں کرنا اس لئے ہم اس چیز کو بھی چھوڑتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو رؤیا میں بھی چاندی ہی دکھائی دی۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ذہن میں بہشتی مقبرہ بناتے وقت کیا چیز تھی۔ بہر کیف آپ بہشتی مقبرہ کی بنیاد رکھتے ہیں اور مریدوں کو مزید اطمینان کے لئے فرماتے ہیں:۔
- ١٢٠...... ”اور چونکہ اس قبرستان کے لئے بڑی بھاری بشارتیں مجھے ملی ہیں اور نہ
صرف خدا نے یہ فرمایا کہ یہ بہشتی مقبرہ ہے بلکہ یہ بھی فرمایا کہ انزل فیھا کل رحمۃ یعنی ہر ایک
٥٩
قسم کی رحمت اس قبرستان میں اتاری گئی ہے۔‘‘
(الوصیت ص ١٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٨)
بہشتی مقبرہ کے متعلق آپ نے الہامات سن لئے۔ اب اس کام کی ابتداء ملاحظہ فرمائیے۔
- ١٢١...... ’’اس لئے میں نے اپنی ملکیت کی زمین جو ہمارے باغ کے قریب ہے
جس کی قیمت ہزار روپیہ سے کم نہیں اس کام کے لئے تجویز کی۔‘‘
(الوصیت ص ١٦، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٦)
- ١٢٢...... ’’اس قبرستان کی زمین موجود بطرز چندہ میں نے اپنی طرف سے دی
ہے۔ لیکن اس احاطہ کی تکمیل کے لئے کسی قدر اور زمین خریدی جائے گی۔ جس کی قیمت اندازاً ہزار روپیہ ہوگا اور اس کے خوشنما کرنے کے لئے کچھ درخت لگائے جائیں گے اور ایک کنواں لگایا جائیگا اور اس قبرستان کے شمالی طرف بہت پانی ٹھہرا رہتا ہے جو گزرگاہ ہے اس لئے وہاں ایک پل تیار کیا جائیگا اور ان متفرق مصارف کے لئے دو ہزار روپیہ درکار ہوگا سو کل یہ تین ہزار روپیہ ہوا جو اس تمام کام کی تکمیل کے لئے خرچ ہوگا۔ سو پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے۔
(الوصیت ص ١٧، ١٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٨)
اس حوالہ سے ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ بہشتی مقبرہ کے کاروبار میں بطور سرمایہ مرزا قادیانی نے ایک ہزار روپیہ دیا۔ یہ بحث ہم نہیں کرتے کہ یہ زمین تو بیوی کے پاس رہن کر دی تھی جس کی میعاد ٣٠ سال تھی۔ جو مرزا کی وفات تک ختم نہ ہوئی اس لئے اپنی ملکیت سے زمین دینا کیا معنے رکھتا ہے نہ ہی ہمیں اس بحث کی ضرورت ہے کہ مرزا قادیانی کو اپنے یا اپنی بیوی کے باغ کی طرف جانے کے لئے پل کی ضرورت تھی۔ اس حوالہ کو تو ہم نے اس جگہ صرف اس لئے پیش کیا ہے کہ اس کاروبار میں ایک ہزار روپیہ کی زمین دی اب دوسری شرط کا خلاصہ سنئے۔
- ١٢٣...... ’’دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اس قبرستان میں وہی مدفون
ہوگا جو اپنی جائیداد کے دسویں حصہ یا اس سے زیادہ کی وصیت کردے۔‘‘
(الوصیت ص ١٨، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٩)
ابتدائی تین ہزار روپیہ کے مصارف بھی بہشتی ادا کریں اور دسویں حصہ کی وصیت بھی کریں۔ اب مندرجہ ذیل حوالہ جات ملاحظہ فرماتے جائیے اور آخری نتیجہ قادیانی نبی کی درویشانہ زندگی بھی ذہن میں رکھئے۔
٦٠
١٢٤...... ”تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات سے پرہیز کرتا اور کوئی شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔“
(الوصیت ص١٩، خزائن ج٢٠ ص٣٢٠)
اس کتاب کے (ص٢٠، خزائن ج٢٠ ص٣٢٠) پر زیر عنوان ہدایت یہ درج ہے کہ ”وصیت موت سے پہلے لکھ کر قادیان بھیجی جائے۔ اگر کوئی شخص دور دراز جگہ فوت ہو جائے ۔ تو اس کی میت صندوق میں رکھ کر قادیان پہنچائی جائے۔“ اس ہدایت کے یہ معنی ہیں کہ یہ بہشتی مقبرہ کا کام قادیان میں محدود نہ رہے۔ بلکہ تمام علاقوں میں شروع ہو جائے اس کتاب کے آخر پر ایک ضمیمہ ملحقہ رسالہ الوصیۃ میں مختلف شرطیں درج ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:۔
١٢٥...... ”وصیت کے اقرار نامہ پر دو گواہوں کے دستخط ہوں دو اخبار میں اس کا اعلان ہو۔ قانونی اور شرعی لحاظ سے وصیت درست ہو ۔ بچے اس میں دفن نہ ہوں گے ۔ اگر کوئی مرید طاعون سے مر جائے تو دو برس تک میت امانت رہے اور ٢ برس کے بعد ایسے موسم میں میت قادیان لائی جائے۔ جبکہ اس جگہ اور قادیان میں بھی طاعون نہ ہو۔ اگر کوئی مرید سمندر میں غرق ہو جائے تو بہشتی مقبرہ میں اس کے نام کا کتبہ لگا دیا جائے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہوگا کہ گویا وہ اسی قبرستان میں دفن ہوئے ہیں۔“
(الوصیت ص٢٥، ٢٦، خزائن ج٢٠ ص٣٢٣، ٣٢٤)
الفاظ ملاحظہ فرمائیے۔ طاعون سے خوف اور غرق ہونے والے کا روپیہ ہاتھ سے نہ جائے۔ بلکہ قادیان ہی آئے اور سنئے:۔
١٢٦...... ”یہ ضروری ہوگا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے۔“ (الوصیت ص٢٨، خزائن ج٢٠ ص٣٢٦) ایک اور لطیف بات سنئے:
١٢٧...... ”اگر کوئی وصیت کرنے والا مجذوم ہو تو ایسا شخص اس قبرستان میں دفن نہ ہوگا۔ لیکن اگر وہ وصیت پر قائم ہے یعنی روپیہ ادا کرتا ہے تو اس کو وہی درجہ ملے گا جو دفن ہونے والے کو۔“
(الوصیت ص٢٨، خزائن ج٢٠ ص٣٢٦)
معزز ناظرین! دیکھا کیا عمدہ شرط ہے خدا کے نزدیک تو مجذوم ہو یا طاعون زدہ سب ایک درجہ رکھتے ہیں بشرطیکہ وہ نیک ہوں لیکن یہ بہشتی مقبرہ مجذوموں سے نفرت کرتا ہے مگر باوجود اس کے روپیہ کے بھی وصول کرنے کی کوشش قابل دید ہے۔
یہ شرائط تو آپ نے سن لیں خلاصہ یہ ہے کہ اپنی جائیداد کا ایک حصہ جو دسویں حصہ سے کم نہ ہو زیادہ بیشک ہو قادیان کی نذر کیا جائے وصیت کرنے والا نیک متقی پرہیزگار ہو مرزا قادیانی نے اس کاروبار پر چند ہزار روپیہ کی زمین خرید لی جس کی قیمت مرزا نے لاکھ روپیہ بتائی جو کہ
٦١
معلوم تھی کتنے کی مرزا نے کتاب میں درج شدہ آخری
١٢٨...... ” استثناء رکھا ہے باقی ہر ایک۔ والا منافق ہوگا۔“
١...... یہ ١/١٠ حصہ کی بھی وصیت کرتا و عیال کا استثناء رکھ لیا ہے اور اس خاندان کے تمام افـ ان کی ساری جائیداد قادیـ چھوڑے اور بعد الموت بھی
٢...... ا استثناء صرف اس شرط سے آچکا ہے جن میں ایک شر نیک ہونا کیوں شرط نہیں۔ کیوں نہیں؟ کیا خدا کے نـ کے لئے دنیا کی سب براـ
٣...... دئے گئے کیا کسی نبی نے
٤...... شرط نیکی رکھی گئی ہے۔ کیـ وہ انسان کی نیت کا علم رـ
٥...... ہے اب بہشتی مقبرہ کو اور رہے گا اس امر کی کیا گارـ
٦......
”تیسری شرط یہ ہے کہ اس قبرستان میں دفن ہونے والا متقی ہو اور محرمات شرک اور بدعت کا کام نہ کرتا ہو۔“
(الوصیت ص١٩، خزائن ج ٢٠ص٣٢٠)
اس کے (ص٢٠، خزائن ج٢٠ ص٣٢٠) پر زیر عنوان ہدایت یہ درج ہے کہ ”وصیت کی جائیداد قادیان بھیجی جائے۔ اگر کوئی شخص دور دراز جگہ فوت ہو جائے۔ تو اس کی میت قادیان پہنچائی جائے۔“ اس ہدایت کے یہ معنی ہیں کہ یہ بہشتی مقبرہ کا کام نہیں ہے۔ بلکہ تمام علاقوں میں شروع ہو جائے اس کتاب کے صفحہ زیر عنوان ضمیمہ میں مختلف شرطیں درج ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:۔
”وصیت کے اقرار نامہ پر دو گواہوں کے دستخط ہوں دو اخبار میں اس کا اعلان ہو، شرعی لحاظ سے وصیت درست ہو۔ بچے اس میں دفن نہ ہوں گے۔ اگر کوئی بچہ فوت ہو جائے تو دو برس تک میت امانت رہے اور ٢ برس کے بعد ایسے موسم میں میت قادیان پہنچائی جائے کہ اس جگہ اور قادیان میں بھی طاعون نہ ہو۔ اگر کوئی مرید سمندر میں غرق ہو جائے تو وہاں اس کے نام کا کتبہ لگا دیا جائے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسا ہی ہوگا کہ گویا وہ قادیان میں دفن ہوئے ہیں۔“
(الوصیت ص٢٥،٢٦، خزائن ج ٢٠ص٣٢٣،٣٢٤)
ملاحظہ فرمائیے۔ طاعون سے خوف اور غرق ہونے والے کا روپیہ ہاتھ سے نہ نکل جائے اور سنئے:۔
”یہ ضروری ہوگا کہ مقام اس انجمن کا ہمیشہ قادیان رہے۔“
(الوصیت
ایک اور لطیف بات سنئے:
ص٢٦)
”اگر کوئی وصیت کرنے والا مجذوم ہو تو ایسا شخص اس قبرستان میں دفن نہ کیا جائے گو وہ قائم ہے یعنی روپیہ ادا کرتا ہے تو اس کو وہی درجہ ملے گا جو دفن ہونے والوں کا ہے۔“
(الوصیت ص٢٨، خزائن ج ٢٠ص٣٢٦)
دیکھا کیا عمدہ شرط ہے خدا کے نزدیک تو مجذوم ہو یا طاعون زدہ سب اپنے اعمال سے نیک ہوں لیکن یہ بہشتی مقبرہ مجذوموں سے نفرت کرتا ہے مگر باوجود اس کے روپیہ ہڑپ کرنے کی کوشش قابل دید ہے۔
سن لیں خلاصہ یہ ہے کہ اپنی جائیداد کا ایک حصہ جو دسویں حصہ سے لے کر سارے مال تک کی نذر کیا جائے وصیت کرنے والا نیک متقی پرہیزگار ہو مرزا قادیانی نے ان کو کوڑی کی زمین بھی دیدی جس کی قیمت مرزا نے ہزار روپیہ بتائی جنہیں ٦١
معلوم تھی کتنے کی مرزا نے یہ سرمایہ لگایا اور اس سے فائدہ کیا تھا۔ ہمارے لفظوں میں نہیں اسی کتاب میں درج شدہ آخری شرط ملاحظہ فرمائیں جو ہمیشہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔
- ١٢٨...... ”(بیسویں شرط) میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے
استثناء رکھا ہے باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ان کو ان شرائط کی پابندی لازمی ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔“
(الوصیت ص٢٦، خزائن ج٢٠ ص٣٢٧)
- ١...... یہ استثناء کیوں رکھا؟ سنئے اگر مرزا کا خاندان مریدوں کی طرح کم از کم
١/١٠ حصہ کی بھی وصیت کرتا تو بہت ساری جائیداد ختم ہو جاتی اس لئے مرزا قادیانی نے اپنا اور اہل و عیال کا استثناء رکھ لیا رہے مرید سو حساب لگا لیجئے کہ ایک خاندان اگر دس ہزار کی جائیداد رکھتا ہے اور اس خاندان کے تمام افراد بیس نفوس ہوں ہر ایک اگر اپنی اپنی وصیت کر دے تو کتنے عرصہ میں ان کی ساری جائیداد قادیان کی نذر ہو جائے گی آہ! ہمیں نبی بھی ملا تو وہ کہ زندگی میں بھی نہ چھوڑے اور بعد الموت بھی ہماری اس سے نجات نہ ہو۔
- ٢...... اس بیسویں شرط میں ان شرائط کے الفاظ ہیں یعنی اپنا اور اہل و عیال کا
استثناء صرف اس شرط سے نہیں کہ وہ مال و جائیداد نہ دیں بلکہ ان تمام شرائط سے ہے جن کا ذکر اوپر آچکا ہے جن میں ایک شرط یہ ہے کہ متوفی متقی پرہیزگار ہو۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ اولاد کے لئے نیک ہونا کیوں شرط نہیں مریدوں کے لئے تو نیکی شرط ہے مگر مرزا اور اس کی اولاد کے لئے یہ شرط کیوں نہیں؟ کیا خدا کے ہاں صرف اس کی یہی نیکی کافی ہے کہ وہ مرزا کے خاندان سے ہے اور اس کے لئے دنیا کی سب برائیاں سب گناہ معاف ہیں۔
- ٣...... مرزا کا دعویٰ ہے کہ وہ تمام نبیوں کا مظہر ہے اور تمام انبیاء کے نام اسے
دئے گئے کیا کسی نبی نے اس درجہ علم غیب کا دعویٰ کیا کہ وہ اس قسم کا بہشتی مقبرہ کھول دے۔
- ٤...... نیکی و عبادت کا علم تو ظاہری افعال سے نہیں ہو سکتا بہشتی مقبرہ کے لئے
شرط نیکی رکھی گئی ہے۔ کیا ثبوت ہے اس امر کا کہ مرزا یا اس کے کارکنوں کو اس درجہ علم غیب ہے کہ وہ انسان کی نیت کا علم رکھتے ہیں اور اس کی نیکی کا فتویٰ دے سکتے ہیں۔
- ٥...... جو زمین مرزا قادیانی نے بہشتی مقبرہ کے لئے مقرر کی تھی وہ تو ختم ہو چکی
ہے اب بہشتی مقبرہ کو اور وسیع کیا گیا ہے اور آئندہ بھی اور ملحقہ زمین خرید کر بہشتی مقبرہ وسیع کیا جاتا رہے گا اس امر کی کیا گارنٹی ہے کہ اب جو زمین خریدی جا رہی ہے وہ بھی مریدوں کو جنتی بنائے گی۔
- ٦...... اس امر کی کیا گارنٹی ہے کہ مرزا کے بعد جو لوگ جنت کے سرٹیفکیٹ جاری
٦٢
کریں گے۔ ان کو بھی علم غیب کا وہ درجہ حاصل ہے جو مرزا کو حاصل تھا اس امر کی کوئی حد بندی تو ہے نہیں کہ اتنے سالوں تک اس کمپنی میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو جنت کا سرٹیفکیٹ جاری کر سکتے ہیں۔
- ......٧ بہشتی مقبرہ سے متصل ایک مسلمان ( جو مرزا کا مخالف تھا ) کی زمین تھی
اس نے اپنے وارثوں کو کہہ دیا کہ وہ اس کی قبر اس زمین میں عین اس جگہ بنائیں جہاں بہشتی مقبرہ کی حد ملتی ہے جب وہ فوت ہوا تو اس کی ہدایت کے مطابق قبر وہاں بنائی گئی کچھ عرصہ بعد اس کی زمین بہشتی مقبرہ کو وسیع کرنے کے لئے خریدی گئی اور اس کی قبر بھی بہشتی مقبرہ میں آ گئی کیا قادیانی بتا سکتے ہیں کہ وہ شخص جنتی ہے یا دوزخی کیونکہ وہ تو مرزائی نہ تھا مگر مدفون ہے بہشتی مقبرہ میں؟۔
- ......٨ راقم الحروف بھی ١٨ سال قادیانی رہا اور بہشتی مقبرہ کا سرٹیفکیٹ (جو مقدمہ
مباہلہ میں شامل مسل کر دیا گیا تھا ) حاصل کیا تھا اب مجھے قادیانی جنت میں جگہ تو نہ ملے گی مگر یہ بتاؤ کہ تمہارے علم غیب کا یہی حال ہے کہ تمہیں سرٹیفکیٹ جاری کرتے وقت اس بات کا بھی علم نہ تھا۔ میں قادیانیت کو چھوڑ کر مسلمان ہو جاؤں گا۔ اگر علم غیب کا یہی حال ہے تو تمہارے سرٹیفکیٹوں پر کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟
- ......٩ اگر بہشتی مقبرہ جنتیوں کا مجموعہ ہے۔ تو بچوں کو شامل کیوں نہیں کیا جاتا۔ کیا
اس کا باعث صرف یہ نہیں کہ تم سمجھتے یہ ہو کہ چند گز زمین بچوں کو بلا قیمت دینے سے خسارہ پڑتا ہے۔
- ......١٠ اگر یہ بہشتی مقبرہ محض تجارتی کاروبار نہیں۔ تو کیا وجہ ہے کہ مریدوں کے
لئے تو یہاں تک سختی ہے کہ ایک مرید کا روپیہ اگر قادیان والوں کو وصول ہو چکا ہے اور وہ سمندر میں غرق ہو جاتا ہے تو اس روپیہ میں اس کا بھائی بہشتی مقبرہ میں دفن نہیں ہو سکتا۔ لیکن اپنے گھر کے لئے یہ حال ہے کہ مرزا اپنا ایک ہزار دے کر تو بہشت کا وارث ہو گیا اگر اس کی اولاد کے لئے بھی یہی روپیہ کفارہ ہو گیا کیا کوئی مثال ایسی ملتی ہے کہ گزشتہ انبیاء علیہم السلام نے اپنی امت کو وہ حکم دیا ہو جس کے لئے وہ خود یا ان کا خاندان تیار نہ ہو حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی عذاب سے بچنے کی شرائط سے مستثنے نہ رہ سکا تو مرزا میں کونسی خصوصیت تھی کہ اس کی اولاد مستثنیٰ رکھی گئی؟۔
صاحبان ! آپ نے دیکھا ایک ہزار کے سرمایہ سے کیسا کام ایجاد کیا کہ اولاد مالا مال ہو گئی اب لوگوں کی جائیدادیں ہیں اور مرزا کی اولاد، مرزا کی جائیداد کا اندازہ تو حوالہ نمبر ٩ سے ہو چکا ہے ماہوار آمدنی کا ذکر بھی اسی حوالہ میں آ چکا ہے اگر اس بات کو چھوڑ بھی دیا جائے کہ مرزا نے یہ ساری جائیداد گروی رکھ دی تھی جو فک نہیں کروائی گئی اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ ساری چیزیں انکم
٦٣
ٹیکس سے بچنے کے لئے تھیں تب بھی یہ ثابت ہے کہ کل جائیداد کتنی تھی اور ماہوار آمدنی کس قدر لیکن موجودہ جائیداد کتنی ہے۔ اس کے لئے ذیل کا ایک نوٹس شاہد ہے کہ ١-٣/١ لاکھ کی زمین مرزا کے لڑکوں نے ١٩٢٠ء میں خریدی (١٩٢٠ء کے بعد کی پیدا کردہ جائیدادیں علیحدہ ہیں)
نقل نوٹس
١٢٩...... ”مورخہ ١٤ اکتوبر ١٩٢٩ء بخدمت جناب مرزا محمود احمد صاحب قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور۔ جناب من! بمقدمہ مرزا اعظم بیگ بنام مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب و مرزا بشیر احمد صاحب و مرزا شریف احمد صاحب حسب ہدایت مرزا اعظم بیگ ولد مرزا اکرم بیگ معرفت مرزا عبدالعزیز کوچہ حسین شاہ لاہور میں آپ کو مفصلہ ذیل نوٹس دیتا ہوں۔
- ١...... بروئے بیعنامہ مورخہ ٢١/جون ١٩٢٠ء رجسٹری شدہ مورخہ ٥/جولائی
١٩٢٠ء مرزا اکرم بیگ ولد مرزا فضل بیگ و خاتون سردار بیگم صاحبہ بیوہ مرزا فضل بیگ ساکنان قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور نے کل جائیداد غیر منقولہ از قسم سکنی و اراضیات زرعی و غیر زرعی ہر قسم اندرون و بیرون سرخ لکیر واقعہ موضع قادیان معہ حصہ شاملات دیہہ و حقوق داخلی و خارجی متعلقہ جائیداد مذکور آپ کے و جناب مرزا بشیر احمد و مرزا شریف احمد صاحبان کے حق میں بیع کر دی اور زر قیمت مبلغ ایک لاکھ اڑتالیس ہزار روپیہ بیعنامہ میں درج کیا گیا ہے۔
- ٢...... کہ مرزا اعظم بیگ پسر مرزا اکرم بیگ ہے۔ اور بوقت بیع یعنی ٢١/جون
١٩٢٠ء کو نابالغ تھا۔ اور وہ یکم جولائی ١٩١٠ء کو پیدا ہوا تھا۔ اور یکم جولائی ١٩٢٨ء کو بالغ ہوا تھا۔ اور اپنے ماموں مرزا عبدالعزیز صاحب کے ہاں پرورش اور تعلیم پاتا رہا۔
- ٣...... کہ جائیداد مبیعہ مندرجہ فقرہ (نمبر ١) جدی جائیداد مذکور ہے اور خاتون
سردار بیگم صاحبہ کو کوئی حق نسبت جائیداد مذکور حاصل نہ تھا۔ جو قابل بیع ہوتا۔
- ٤...... اور مرزا اکرم بیگ کو بلا ضرورت جائز جائیداد مبیعہ مذکورہ کو بیع کرنے کا
حق حاصل نہ تھا۔
- ٥...... جائیداد مذکورہ بلا ضرورت جائز فروخت ہوئی۔
- ٦...... کہ ادائیگی زر بدل کے بارے میں سردست مرزا اعظم بیگ کو کوئی ثبوت
حاصل نہیں ہوا۔
- ٧...... مرزا اعظم بیگ جائیداد مبیعہ مذکورہ واپس لینے کا مستحق ہے۔ اور اس غرض
کے لئے آپ کو نوٹس دیا جاتا ہے کہ آپ جائیداد مبیعہ مذکور مرزا اعظم بیگ کو واپس کردیں۔
٦٤
- ٨....... اگر آپ نے جائیداد مذکورہ واپس نہ کی تو بعد از انقضائے ایک ماہ قانونی
چارہ جوئی کی جائے گی۔ اور آپ خرچہ مقدمہ کے ذمہ دار ہوں گے۔
- ٩....... میں نے نوٹس ہٰذا کی ایک ایک نقل جناب مرزا بشیر شریف صاحبان کو
بذریعہ رجسٹری بھیج دی ہے۔
- ١٠....... یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ آئندہ تعمیرات وانتقالات نسبت جائیداد
مذکورہ بند کر دیئے جائیں۔ چنانچہ نوٹس دہندہ کی طرف سے ضلع گورداسپور کی ایک عدالت میں مقدمہ بھی دائر ہوا۔
یہ نوٹس آپ نے دیکھا اب سنئے اس جائیداد کے علاوہ قادیان میں مرزا کا ہر ایک لڑکا جو جائیداد بنا رہا ہے۔ جتنی کوٹھیاں بنا رہا ہے وہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔ رہا نقد روپیہ اس سے ہمیں بحث نہیں۔ ہم صرف موجودہ جائیداد کو لیتے ہیں۔ تو صاف نظر آتا ہے کہ ایک ہزار کے سرمایہ سے لاکھوں پیدا کرنے والی تجارت صرف یہی بہشتی مقبرہ ہے۔ بتائیے کہ قادیانی نبی کی درویشانہ زندگی آپ نے کیسی ملاحظہ فرمائی۔
دوسرا نمونہ
مرزا کی ایک شادی بچپن میں ہوئی۔
- ١٣٠....... ”بسم اللہ الرحمن الرحیم ! خاکسار عرض کرتا ہے کہ بڑی بیوی سے
حضرت مسیح موعود کے ٢ لڑکے پیدا ہوئے۔ ان میں مرزا سلطان احمد صاحب اور مرزا فضل احمد۔ حضرت صاحب ابھی گویا بچے ہی تھے کہ مرزا سلطان احمد ہو گئے تھے۔“
(سیرت المہدی ص ٥٣ حصہ ١)
اس پہلی بیوی کے بعد آپ نے دوسری شادی کی اور پہلی بیوی سے جو سلوک کیا وہ سنیئے۔
- ١٣٦....... ”بسم اللہ الرحمن الرحیم ! بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ
نے حضرت مسیح موعود کی اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو عام طور پر لوگ پھجے دی ماں کہا کرتے تھے (شاہی خاندانوں میں ایسے ہی نام ہوا کرتے ہیں) بے تعلقی سی تھی۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور اس کا ان کی طرف میلان تھا۔ اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھی (خدا کی قدرت پنجابی نبی اپنی بیوی کو بھی اپنے رنگ میں رنگین نہ کر سکا) اس لئے حضرت مسیح موعود نے ان سے مباشرت ترک کر دی تھی۔ ہاں آپ اخراجات باقاعدہ دیا کرتے تھے (دیکھئے محض ١٥ روپیہ تنخواہ سے ) والدہ صاحبہ (مرزا کی دوسری
٦٠
بیوی) نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد (پہلے اس لئے کچھ نرمی تھی کہ بدنامی نہ ہو اور دوسرا رشتہ ملنے میں رکاوٹ نہ ہو اب دیکھئے کیا ہوتا ہے) حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے انہیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا سو ہوتا رہا (ماہوار تنخواہ بخشی جاتی رہی) اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لئے اب دونوں بیویوں میں برابر نہیں رکھوں گا۔ تو گناہ گار ہونگا (اب گناہ کا خیال آ گیا ماشاء اللہ ) اس میں اب دو باتیں ہیں۔ یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو میں تمہیں خرچ دئے جاؤں گا۔ (خرچ کون دیگا۔ یہ تو ایک چال ہے۔ آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے) انہوں نے کہلا بھیجا (کرتی بھی بیچاری کیا دو بچوں کی ماں اب طلاق لیکر کیا کرے گی) میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں (بیچاری کی شرافت ملاحظہ ہو۔ مگر نبی کا حال دیکھئے اب طلاق دینے کے بہانے کی تلاش ہوگی اور بہانہ بھی وہی ہوگا جس کو مذہبی رنگ دیا جائیگا) والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا حتیٰ کہ پھر محمدی بیگم کا سوال اٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے (رشتہ دار تو نبی کی نبوت سے واقف تھے ورنہ مخالفت کیوں کرتے) محمدی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کرا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہی (اس کا قصور کیا جب مرزا اس سے قطع تعلق کر چکا تھا مباشرت ترک کر چکا تھا اب اس پر شکوہ کیسا) تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دیدی۔ خاکسار عرض کرتا ہے (اب بیٹا اپنا حق ادا کرتا ہے اور اس دھبہ کو یوں دور کرتا ہے) کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا۔ جو آپ نے ٢ مئی ١٨٩١ء کو شائع کیا اور جس کی سرخی تھی اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین۔ اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطان احمد اور ان کی والدہ اس امر میں (محمدی بیگم کے نکاح میں ایک نہ شد دو شد نہ صرف بیوی اس معاملہ میں مخالف تھی۔ بلکہ بیٹا بھی باپ کا مخالف تھا۔ اللہ اللہ نبی کی شان ہو تو ایسی ہو۔ بیٹا بھی باپ کا معتقد نہیں) مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہو گئے تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہو گیا اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہو گی والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچالیا (مرتا کیا نہ کرتا نبی کے عذاب سے بچنے کے لئے بیچارے نے کوئی ہتھکنڈا کھیلا ہوگا مگر بالآخر وہ بھی عاق کر دیا گیا تھا) (سیرت المہدی ص ٣٣، ٣٤ اب حوالہ نمبر ٩٢ و نمبر ٩٣) پھر ملاحظہ فرمائیے اور نتیجہ نکالئے کہ جائیداد کا گروی کرنا اپنی پہلی بیوی کو جائیداد سے محروم کرنے کے لئے تھا یا نہیں۔ کیا انبیاء انہی اخلاق کے مالک ہوتے ہیں؟
تیسرا نمونہ
حوالہ نمبر ٩٤ پھر ملاحظہ فرمائیے اور دیکھئے کہ انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے جائیداد کو گروی دکھانا قادیانی نبی کا کیسا کمال ہے ایک تیر سے دو شکار اس کے ساتھ ہی ذیل کے دو حوالہ جات بھی دیکھئے کہ اب مرید کیونکر اس نبی کی سادگی کا اظہار کرتے ہیں۔
- ١٤٢...... ”ایک دفعہ کوئی شخص آپ (مرزا) کے لئے گرگابی لے آیا آپ نے پہن
لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے۔ ان (انگریزوں) کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں (مگر دوسری طرف دعوے ہے کہ میں نے پچاس الماریاں ان کی تعریف میں بھر دی ہیں اور ان کے احسانات بے شمار ہیں دورنگی ہو تو ایسی ہو) والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے لئے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لئے نشان لگائے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدا پہن لیتے تھے۔“
(روایت مرزا بشیر فرزند مرزا مندرجہ سیرت المہدی ص ٦٧ حصہ اوّل)
- ١٤٣...... ”بسم الله الرحمن الرحیم !بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب
سنوری نے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب (مرزا) کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دیا۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ رکھ ہندسے گنتے جاتے تھے۔ (تا کہ بھول نہ جائیں) گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ آپ کا جیب سے گھڑی نکال کر اس طرح شمار کرنا مجھے بہت ہی پیارا معلوم ہوتا تھا۔“
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٨٠)
ان حوالہ جات کا خلاصہ یہ ہے کہ جوتی پہنی نہیں آتی گھڑی دیکھنی نہیں آتی مقصود اظہار کمال سادگی ہے مگر دوسری طرف انکم ٹیکس سے بچنے اور پہلی بیوی اور اس کے بچوں کو جائیداد سے محروم کرنے کے لئے جائیداد ٣٠ سال کے لئے گروی رکھی جاتی ہے اور ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ ایک دینی ضرورت سے یہ زمین رہن رکھی گئی ملاحظہ ہو حوالہ نمبر ٩٦ نیز ایک طرف کہا جاتا ہے ایسے مرید ہاتھ لگ گئے ہیں کہ ٥٠ ہزار کی ضرورت ہو تو فوراً پوری ہو جائے کیا یہ کام ہوشیار آدمی کے ہیں یا اس شخص کے کہ جسے گھڑی بھی دیکھنی نہ آتی ہو۔
چوتھا نمونہ
گھڑی دیکھنی نہیں آتی جوتا پہننا نہیں آتا مگر دعا کروانے کوئی آئے تو ایک لاکھ کا مطالبہ
٦٧
کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے ۔
١٣٤....... ”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ پٹیالہ میں خلیفہ محمد حسین صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملاقاتیوں میں ایک مولوی عبدالعزیز صاحب ہوتے تھے ان کا ایک دوست تھا۔ جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائیداد اور لاکھوں روپیہ کا مالک تھا مگر اس کے کوئی لڑکا نہ تھا۔ جو اس کا وارث ہوتا اس نے مولوی عبداللہ صاحب سے کہا کہ مرزا قادیانی سے میرے لئے دعا کراؤ کہ میرے لڑکا ہو جائے مولوی عبدالعزیز صاحب نے مجھے بلا کر کہا کہ ہم تمہیں کرایہ دیتے ہیں تم قادیان جاؤ اور مرزا قادیانی سے اس بارہ میں خاص طور پر دعا کے لئے کہو۔ چنانچہ میں قادیان آیا اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دعا کے لئے کہا۔ آپ نے اس کے جواب میں ایک تقریر فرمائی جس میں دعاء کا فلسفہ بیان فرمایا اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعاء کے لئے ہاتھ اٹھا دینے سے دعاء نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے جب آدمی کسی کے لئے دعاء کرتا ہے۔ تو اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اس کی خاطر دل میں ایک خاص درد پیدا ہو جائے۔ جو دعاء کے لئے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل سے اس کے لئے دعاء نکلے۔ مگر یہاں نہ تو وہ اس شخص کو جانتے ہیں اور نہ اس نے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لئے ہمارا دل پگھلے پس آپ جا کر اسے یہ کہیں وہ اسلام کی خدمت کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے پھر ہم اس کے لئے دعاء کریں گے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دیگا۔ میاں عبداللہ کہتے ہیں میں نے جا کر یہی جواب دیدیا مگر وہ خاموش ہو گئے اور آخر وہ لا ولد ہی مر گیا اور اس کی جائیداد اس کے دور نزدیک رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اور مقدموں کے بعد تقسیم ہوئی۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ١٨٠)
جوتا پہننا نہیں آتا گھڑی دیکھنی نہیں۔ مگر ذیل کا پر لطف حوالہ ملاحظہ فرمائیے۔
١٣٥....... ”بسم الله الرحمن الرحیم ! بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ مدت کی بات ہے جب میاں ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی پہلی بیوی فوت ہو گئی اور ان کو دوسری بیوی کی تلاش ہوئی۔ تو ایک دفعہ حضرت نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر میں دو لڑکیاں رہتی ہیں ان کو میں لاتا ہوں آپ ان کو دیکھ لیں پھر ان سے جو آپ کو پسند ہو اس سے آپ کی شادی کر دی جائے چنانچہ حضرت صاحب گئے اور دونوں لڑکیوں کو بلا کر کمرے کے باہر کھڑا کر دیا اور پھر اندر آ کر کہا کہ وہ باہر کھڑی ہیں۔ آپ چک کے اندر سے دیکھ لیں۔ چنانچہ میاں ظفر احمد
٦٨
صاحب نے ان کو دیکھ لیا اور پھر حضرت صاحب نے ان کو رخصت کر دیا اور اس کے بعد میاں ظفر احمد صاحب سے پوچھنے لگے کہ اب بتاؤ تمہیں کونسی لڑکی پسند ہے وہ نام تو کسی کا جانتے نہ تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ جس کا منہ لمبا ہے وہ اچھی ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے میری رائے لی میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو دیکھا نہیں پھر آپ خود فرمانے لگے کہ میرے خیال میں تو دوسری لڑکی بہتر ہے جس کا منہ گول ہے۔ پھر فرمایا جس شخص کا چہرہ لمبا ہوتا ہے وہ بیماری وغیرہ کے بعد عموماً بد نما ہو جاتا ہے لیکن گول چہرہ کی خوبصورتی قائم رہتی ہے میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ اس وقت حضرت صاحب اور میاں ظفر احمد صاحب اور میرے سوا اور کوئی شخص وہاں نہ تھا اور نیز یہ کہ حضرت صاحب ان لڑکیوں کو کسی احسن طریق سے وہاں لائے تھے اور پھر ان کو مناسب طریق پر رخصت کر دیا جس سے ان کو کچھ معلوم نہ ہوا مگر ان میں کسی کے ساتھ میاں ظفر احمد کا رشتہ نہ ہوا۔ یہ مدت کی بات ہے۔"
(سیرت المہدی ص ٢٥٩ حصہ ١)
کیا ان حوالہ جات سے یہ ثابت نہیں کہ سادگی کے قصے جعلی ہیں ورنہ مرزا کی ہوشیاری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اجی جو شخص بہشتی مقبرہ کا کام چلا جائے۔ اس کی ہوشیاری سے کون انکاری ہو سکتا ہے۔
پانچواں نمونہ
یوں تو مرزا کو انبیاء سے افضل بتایا جاتا ہے آنحضرت ﷺ سے برابری کا دعویٰ ہے مگر واقعات کی روشنی میں حقیقت کو معلوم کیجئے۔ مرزا کی جائیداد اور سالانہ آمدنی کا حال تو آپ حوالہ نمبر ٩٠ میں معلوم کر چکے ہیں۔ مگر اب آپ کے اخراجات کا حال سنئے مرزا کے ایک مرید نے ایک ٹریکٹ بعنوان ”خطوط امام بنام غلام“ شائع کیا۔ اس میں مرزا کے چند خطوط اس نے درج کئے ہیں تا کہ مریدوں کو معلوم ہو کہ مشک و عنبر وغیرہ اشیاء کے لئے مرزا قادیانی صرف اسی پر اعتبار کرتے تھے۔ اس قادیانی کا مقصود تو اپنی تجارت ہے۔ مگر آپ حضرات ان حوالہ جات کو اس نظر سے دیکھئے کہ کہاں وہ سالانہ آمدنی جو آپ نے حوالہ نمبر ٩٠ میں ملاحظہ فرمائی اور کہاں یہ اخراجات ۔ کیا ان اخراجات کو ماہواری آمدنی پورا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسی حوالہ نمبر ٩٠ کے یہ الفاظ کہ مریدوں کا روپیہ اس کے ذاتی مصرف میں نہیں آتا یا دیکھیئے اگر یہ درست ہے تو روپیہ آتا کہاں سے تھا؟
١٣٦ ...... الف ...... پہلی مشک ختم ہو چکی ہے اس لئے پچاس روپے بذریعہ منی آرڈر آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ آپ دو تولہ مشک خالص دوشیشیوں میں علیحدہ علیحدہ یعنی ٦٩
تولہ تولہ ارسال فرمائیں۔
(خطوط امام بنام غلام ص ٣٥٢)
- ب ....... آپ بیشک ایک تولہ مشک قیمت ٣٦ روپے خرید کر کے بذریعہ وی پی بھیج
دیں ضرور بھیج دیں۔
(ص ٣)
- ج ....... ایک تولہ مشک عمدہ جس میں چھچھڑا نہ ہو اور اوّل درجہ کی خوشبو دار ہو اگر
شرطی ہو تو بہتر ورنہ اپنی ذمہ داری پر بھیج دیں۔
(ص ٥)
- ح ....... آپ براہ مہربانی ایک تولہ مشک خالص جس میں ریشہ اور جھلی اور صوف
نہ ہوں اور تازہ وخوشبودار ہو بذریعہ ویلو پے ایبل پارسل ارسال فرمائیں کیونکہ پہلی مشک ختم ہو چکی ہے۔
(ص ٦)
- خ ....... پہلی مشک جو لاہور سے آپ نے بھیجی تھی ۔ وہ اب نہیں رہی آپ جاتے
ہی ایک تولہ مشک خالص جس میں چھچھڑا نہ ہو اور بخوبی جیسا کہ چاہئے خوشبودار ہو ضرور ویلو پے ایبل کرا کر بھیج دیں۔ جس قدر قیمت ہو مضائقہ نہیں (مال مفت دل بے رحم) مگر مشک اعلیٰ درجہ کی ہو چھچھڑا نہ ہو اور جیسا کہ عمدہ اور تازہ مشک میں تیز خوشبو ہوتی ہے وہ اس میں ہو۔
(ص ٦)
- د ....... مشک خالص عمدہ جس میں چھچھڑا نہ ہو ایک تولہ ٢٧ روپے کی ..... آپ
ساتھ لائیں۔
(ص ٦)
مفرح عنبری
اور سنئے ! میں اپنے مولا کریم کے فضل سے اس کو بھی اپنے لئے بے اندازہ خیر و برکت کا موجب سمجھتا ہوں کہ حضور (مرزا آنجہانی) اس ناچیز کی تیار کردہ مفرح عنبری کا بھی استعمال فرماتے تھے۔
شاندار خیمے
”وحی الٰہی کی بنا پر مکان ہمارا خطرناک ہے۔ اس لئے آج ٢٦٠ روپے خیمہ خریدنے کے لئے بھیجتا ہوں ۔ چاہئے کہ آپ اور دوسرے چند دوستداروں کے ساتھ جو تجربہ کار ہوں بہت عمدہ خیمہ معہ قناتوں اور دوسرے سامانوں کے بہت جلد روانہ فرمائیں اور کسی کو بیچنے والوں میں سے یہ خیال پیدا نہ ہو کہ کسی نواب صاحب نے یہ خیمہ خریدنا ہے کیونکہ یہ لوگ نوابوں سے دو چند سہ چند مول لیتے ہیں۔
(خطوط امام ص ٤)
یہ ہے قادیانی نبی کی درویشانہ زندگی کے چند نمونے جو درج کئے گئے ہیں یہی اس نبی کی زندگی کا درخشاں پہلو عیاں کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اب غور فرمائیے کہ یہی شخص
٧٠
آنحضرت ﷺ کی برابری میں کھڑا کیا جاتا ہے آنحضرت ﷺ کی زندگی ہم پیش کریں تو شائد قادیانی اعتبار نہ کریں اس لئے ان کے ہی الفاظ درج کرتا ہوں جو انہوں نے مسلمانوں کو یہ بتانے کے لئے لکھ دیئے کہ مسلمان یہ خیال کریں کہ انہیں بھی آنحضرت ﷺ سے کوئی تعلق ہے۔ گو اپنی سیاسی اغراض کو پورا کرنے کے لئے اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ الفاظ لکھے گئے ہیں۔ مگر ہم الزامی رنگ میں قادیانیوں کے یہی الفاظ نقل کر کے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی برابری کرنے والو ہمارے پیغمبر ﷺ اور اپنے نبی کا مقابلہ کر کے عبرت پکڑو۔
١٣٧....... آنحضرت ﷺ کے پاس ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے آپ حجرے میں تشریف رکھتے تھے۔ حضرت عمرؓ اجازت لے کر اندر گئے۔ تو دیکھا کہ ایک کھجور کی چٹائی بچھی ہوئی ہے جس پر لیٹنے سے پہلوؤں مبارک پر ان پتوں کے نشان ہو گئے ہیں حضرت عمرؓ نے گھر کی جائیداد کی طرف نگاہ کی تو صرف ایک تلوار ایک گوشہ میں لٹکتی ہوئی نظر آئی یہ دیکھ کر ان کے آنسو جاری ہو گئے۔ آنحضرت ﷺ نے رونے کی وجہ پوچھی تو عرض کیا کہ خیال آیا ہے قیصر و کسریٰ جو کافر ہیں ان کے لئے کس قدر تنعم ہے اور آپ کے لئے کچھ بھی نہیں فرمایا میرے لئے دنیا کا اسی قدر حصہ کافی ہے کہ جس سے میں حرکت و سکون کر سکوں۔
(منقول از اخبار الفضل قادیان خاتم النبیین نمبر مورخہ ٦ نومبر ١٩٣٢ء ص ٤٧ کالم ٣)
حضور علیہ السلام کے اہل بیت کی حالت
١٣٨....... الف....... آپ چاہتے تو اپنی بیویوں کو سونے چاندی کے زیورات سے لاد دیتے اور اپنے رہنے کے لئے اعلیٰ درجہ کے محلات (قادیان کی طرح) بنوا لیتے۔ اپنے گھروں کو قیمتی اسباب سے آراستہ رکھتے لیکن آپؐ نے باوجود استطاعت اور باوجود عرب کے سب سے بڑے بادشاہ اور سردار ہونے کے فقیری کو امیری پر ترجیح دی۔ دنیا کا مال و دولت جمع کرنا اور اپنے گھروں میں رکھنا اپنے درجہ اور مقام کی ہتک خیال فرمایا۔
(اخبار مذکور ص ٤٠ کالم ١، ٦ نومبر ١٩٣٢ء)
ب....... حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آل محمد ﷺ (یعنی رسول کریم کی بیویوں اور بیٹی) کے گھر میں اس وقت تک کہ آپؐ نے اس جہان سے انتقال فرمایا کسی نے متواتر تین دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا۔
(اخبار مذکور ص ٤٠ کالم ٢، ٦ نومبر ١٩٣٢ء)
فحش کلامی
یوں تو مرزا قادیانی کی کوئی تصنیف بھی آپ لے لیں۔ اس میں اخلاق فاضلہ کے وہ
٧١
نمونے آپ کو ملیں گے۔ جو کسی اور شخص کی تصنیف میں آپ کو ملنے مشکل ہونگے تاہم بطور نمونہ آنجناب کے مقدس کلام سے چند حوالہ جات نقل کرنے ضروری ہیں۔ تا کہ ناظرین اس نبی (مرزا قادیانی) کے اخلاق فاضلہ کا اندازہ فرما سکیں۔
قادیانیوں کو یہ شوق تو ہر وقت دامنگیر رہتا ہے کہ وہ اپنے نبی کو تمام انبیاء کا مظہر ثابت کریں۔ مگر اس طرف کبھی توجہ نہیں دیتے کہ مرزا کے اخلاق بھی اس امر کا ثبوت بہم پہنچاتے ہیں کہ وہ تمام انبیاء کا مظہر ہے؟۔
کیا اس فحش کلامی کا ارتکاب دنیا کے کسی معمولی سے معمولی ریفارمر کی طرف منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اگر نہیں تو مرزا کو انبیاء کا مظہر بتانا قادیانیوں کی خوش فہمی نہیں تو کیا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی توہین کے باب میں مرزا کی جو خوش بیانی ناظرین ملاحظہ فرماچکے ہیں اس باب میں ہم اس کا اعادہ نہ کریں گے بلکہ اس کے علاوہ بطور نمونہ آنجناب کے ارشادات عالیہ پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے اور خوش کلامی کی داد دیجئے۔
- ١٣٩...... "کل مسلم ...... یقبلنی ویصدق دعوتی الا ذریۃ البغایا "
یعنی تمام مسلم لوگ مجھ کو مانتے ہیں مگر زنا کار عورتوں کی ذریت (اولاد) نہیں مانتی
(آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- ١٤٠...... "ان العدا صارو اخنازیر الفلا ونساء ہم من دو نہن
الاکلب" یعنی ہمارے دشمن جنگلوں کے سور ہو گئے ہیں اور ان کی عورتیں کتوں سے بدتر ہیں۔
(نجم الہدی ص ١٠، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)
لدھیانہ کے ایک واجب العزت بزرگ موحد دیندار پرہیزگار مولوی سعد اللہ نو مسلم جو اسلام کی خاطر اپنی قوم اور قومی تعلقات سب چھوڑ کر اسلام میں آئے۔ اتفاقِ حسنہ یا شومئی قسمت سے مرزا کے مصدق نہ تھے اتنے جرم پر مرزا نے ان کو مخاطب کر کے یوں لکھا۔
- ١٤١...... "اذیتنی خبثا فلست بصادق ان لم تمت بالخزی یا ابن
بغاء" تو نے (اے سعد اللہ) مجھے تکلیف دی ہے اے زانیہ کے بیٹے اگر تو ذلت سے نہ مرے تو میں جھوٹا۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٥، خزائن ج ٢٢ ص ٤٤٦)
اور سنئے ! مرزا اپنی پیش گوئی پر ایمان نہ لانے والے تمام مسلمانوں کو ولد الحرام اور حرام زادے قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے۔
- ١٤٢...... "اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے
٧٢
بکواس کریگا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا (کہ پادری آتھم کے زندہ رہنے سے مرزا قادیانی) پیش گوئی غلط اور عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم اور حیا کو کام میں نہیں لائیگا اور بغیر اس کے کہ ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئیگا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ پس حلال زادہ بننے کے لئے واجب یہ تھا کہ اگر وہ مجھے جھوٹا جانتا ہے اور عیسائیوں کو غالب اور فتح یاب قرار دیتا ہے تو میری اس حجت کو واقعی طور پر رفع کرے جو میں نے پیش کی ہے ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے۔“
(انوارالاسلام ص٣٠، خزائن ج٩ ص٣٢،٣١)
- ١٤٣...... ”اے بدذات فرقہ مولویان تم کب تک حق کو چھپاؤ گے کب وہ وقت
آئے گا کہ تم یہودیانہ خصلت کو چھوڑو گے اے ظالم مولویو تم پر افسوس کہ تم نے جس بے ایمانی کا پیالہ پیا وہی عوام کالانعام کو بھی پلا دیا۔“
(انجام آتھم ص٢١، خزائن ج١١ ص٢١)
- ١٤٤...... بعض جاہل سجادہ نشین اور فقیری اور مولویت کے شتر مرغ۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص١٨، خزائن ج١١ ص٣٠٢ حاشیہ)
- ١٤٥...... مگر کیا یہ لوگ قسم کھالیں گے؟ ہرگز نہیں کیونکہ یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی
طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص٢٥، خزائن ١١ ص٣٠٩)
- ١٤٦...... ہمارے دعویٰ پر آسمان نے گواہی دی مگر اس زمانہ کے ظالم مولوی اس سے
ہی منکر ہیں خاص کر رئیس الدجالین عبدالحق غزنوی اور اس کا تمام گروہ ”عليهم نعال لعن ه الف، الف مرّة“
(ضمیمہ انجام آتھم ص٤٦، خزائن ج١١ ص٣٣٠)
- ١٤٧...... اے بدذات خبیث دشمن۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٠، خزائن ج١١ ص٣٣٤)
اس جگہ فرعون سے مراد شیخ محمد حسین بٹالوی اور ہامان سے مراد نو مسلم سعد اللہ ہے۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص٥٦، خزائن ج١١ ص٣٤٠)
- ١٤٨...... نہ معلوم کہ یہ جاہل اور وحشی فرقہ اب تک کیوں شرم اور حیا سے کام نہیں
لیتا“ مخالف مولویوں کا منہ کالا کیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ٥٨، خزائن ج١١ ص٣٤٢)
آپ نے مرزا کے اخلاق کا نمونہ تو ملاحظہ فرمالیا۔ اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھئے کہ آپ اس امر کی تصدیق کر سکیں کہ یہ فرقہ کوئی مذہبی گروہ نہیں بلکہ تجارتی کمپنی ہے جس کا کام ہر وقت کا راگ الاپنا ہے۔ مرزا لکھتا ہے۔
٧٣
١٤٩...... لعنت بازی صدیقوں کا کام نہیں مومن لعان نہیں ہوتا۔
(ازالہ اوہام ص ٦٦٠، خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)
اس ارشاد عالی کو ذرا حوالہ نمبر ١٤٠ کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھئے اور سنئے:۔
١٥٠...... کس کو گالی مت دو گو وہ گالیاں دیتا ہوں۔
(کشتی نوح ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١)
١٥١...... چونکہ اماموں کو طرح طرح کے اوباشوں سفلوں اور بدزبان لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لئے ان میں اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قوت کا ہونا ضروری ہے تاکہ ان میں طیش نفس اور مجنونانہ جوش پیدا نہ ہو اور لوگ ان کے فیض سے محروم نہ رہیں یہ نہایت قابل شرم بات ہے کہ ایک شخص خدا کا دوست کہلا کر پھر اخلاق رذیلہ میں گرفتار ہو اور درشت بات کا ذرا بھی متحمل نہ ہو سکے۔“
(ضرورۃ الامام ص ٨، خزائن ج ١٣ ص ٤٧٨)
الہامات اور خوابیں
ذیل میں مرزا قادیانی کے چند الہامات بطور نمونہ درج کرتے ہیں۔ جو اپنی خوبیوں اور معارف وحقائق کے لحاظ سے اپنی نظیر آپ ہیں قادیانی ان خوابوں کی تاویلات بیان کیا کرتے ہیں۔ اس لئے یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ان تمام الہامات رؤیا اور خوابوں پر ہمارا اعتراض یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی آمد کے مقاصد یہ بیان کرتے ہیں۔
١٥٢...... میرے آنے کے دو مقصد ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ کہ اصل تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو جائیں...... اور عیسائیوں کے لئے کسر صلیب ہو اور ان کا مصنوعی خدا (مسیح) نظر نہ آوے دنیا اس کو بالکل بھول جائے۔ خدائے واحد کی عبادت ہو۔
(ملفوظات ج ٨ ص ١٤٨، الحکم ١٧/جولائی ١٩٠٥ء)
سوال یہ ہے کہ اس قسم کے الہامات رؤیا اور خوابوں سے مرزا کی تصانیف بھر پور ہیں یہ بتاؤ کہ مذکورہ بالا دو مقاصد کو کیا فائدہ ہوا اور نیز مرزا لکھتا ہے:۔
١٥٣...... عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے مگر ان پڑھے لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہ دے گا۔
(ازالہ اوہام ص ٣٢، خزائن ج ٣ ص ١١٩)
کتنے ہندو ہیں جنہوں نے ان الہامات وغیرہ سے فائدہ اٹھا کر قادیانیت کو قبول کیا اور اگر کوئی فائدہ نہیں ہوا تو یہ تسلیم کرو کہ تمہارے نبی نے جس قدر صفحات اس کام کے لئے صرف کئے
٧٢
وہ ایک فضول کام تھا کیا نبیوں کی شان یہی ہے کہ اپنا وقت یوں ضائع کریں۔
دلچسپ خوابیں...... ٹیچی ٹیچی کا ورود
- ١٥٤....... ”ایک دفعہ مارچ ١٩٠٥ء کے مہینے میں بوجہ قلت آمدنی لنگر خانہ کے
مصارف میں بہت دقت ہوئی۔ کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابلہ پر روپیہ کی آمدنی کم اس لئے دعا کی گئی ٥ مارچ ١٩٠٥ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا میں نے اس کا نام پوچھا اس نے کہا نام کچھ نہیں میں نے کہا آخر کچھ نام تو ہوگا اس نے کہا میرا نام ٹیچی ٹیچی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت کام آنے والا۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٣٢، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤٥، ٣٤٦)
الفاظ قابل غور ہیں کہ مرزا باوجود ہر روز الہام ہونے کے فرشتہ بھی نہیں پہچان سکتا اور فرشتہ نے جھوٹ بھی بولا۔
٥٠ مردوں کی طاقت
- ١٥٥....... ایک ابتلاء مجھ کو اس شادی کے وقت یہ پیش آیا کہ بباعث اس کے کہ میرا
دل اور دماغ سخت کمزور تھا اور میں بہت سی امراض کا نشانہ رہ چکا تھا اس لئے میری حالت مردی کالعدم تھی اور پیرانہ سالی کے رنگ میں میری زندگی تھی۔ اس لئے میری اس شادی (مرزا اپنی نئی شادی کا ذکر کر رہا ہے ) پر میرے بعض دوستوں نے افسوس کیا غرض اس ابتلا کے وقت میں نے جناب الٰہی میں دعا کی اور مجھے اس نے رفع مرض کے لئے اپنے الہام کے ذریعہ دوائیں بتلائیں اور میں نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک فرشتہ وہ دوائیں میرے منہ میں ڈال رہا ہے (خیال رہے کہ دوا فرشتہ نے کشف میں ہی کھلا دی ) چنانچہ وہ دوائیں میں نے تیار کی میں اس زمانہ میں اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک بچہ کی طرح تھا اور پھر اپنے تئیں (بعد کھانے دوا کے ) خداداد طاقت میں پچاس مرد کے قائم مقام دیکھا۔“
(تریاق القلوب ص ٣٥، ٣٦، خزائن ج ١٥ ص ٢٠٣، ٢٠٤)
عمر بڑھانے کیلئے کشتی
- ١٥٦....... ایک روز کشفی حالت میں ایک بزرگ صاحب کی قبر پر دعا مانگ رہا تھا وہ
بزرگ ہر ایک دعا پر آمین کہتے جاتے تھے اس وقت خیال ہوا کہ اپنی عمر بھی بڑھالوں تب میں نے دعا کی کہ میری عمر ١٥ سال اور بڑھ جائے اس پر بزرگ نے آمین نہ کہی تب اس صاحب بزرگ سے کشتم کشتا ہوا تب اس مردے نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں آمین کہتا ہوں اس پر میں نے اس کو
٧٥
چھوڑ دیا اور دعا مانگی کہ میری عمر ١٥ سال اور بڑھ جائے تب اس بزرگ نے آمین کہی۔
(تذکرہ ص ٤٩٧، الحکم ج ٧، نمبر ٣٦، ٤٧ ص ١٥، ١٧۔ ٢٤ ستمبر ١٩٠٣ء)
کالی کالی چیز
١٥٧...... ”فرمایا (مرزا نے) کہ میری طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی۔ لیکن اب افاقہ ہے میں نماز پڑھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اٹھی اور آسمان تک چلی گئی پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی۔
(سیرت المہدی حصہ اوّل ص ١٧، روایت نمبر ١٩)
خدا بننا
١٥٨...... (ترجمہ عربی عبارت) میں نے خواب میں دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی ہوں اور نہ میرا ارادہ باقی رہا اور نہ خیال ...... اسی حال میں (جبکہ میں بعینہ خدا تھا) میں نے کہا کہ ایک نیا نظام نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی اور میں اپنے آپ کو ا س وقت ایسا پاتا تھا کہ میں ایسا کرنے پر قادر ہوں پھر میں نے آسمان دنیا کو پیدا کیا اور کہا ”انــــا زينا السماء الدنيا بمصابيح“ پھر میں نے کہا اب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے پس میں نے آدم کو بنایا اور ہم نے انسان کو بہترین صورت پر پیدا کیا اور اس طرح سے میں خالق ہو گیا۔
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤، ٥٦٥، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
خدا سے دستخط کروانا
١٥٩...... ایک دفعہ تمثیلی طور پر مجھے خدا تعالیٰ کی زیارت ہوئی اور میں نے اپنے ہاتھ سے کئی پیش گوئیاں لکھیں جن کا یہ مطلب تھا کہ ایسے واقعات ہونے چاہئیں تب میں نے وہ کاغذ دستخط کرانے کے لئے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تامل کے سرخی کی قلم سے اس پر دستخط کئے اور دستخط کرنے کے وقت قلم کو چھڑکا جیسا کہ جب قلم پر زیادہ سیاہی آجاتی ہے تو اسی طرح پر جھاڑ دیتے ہیں اور پھر دستخط کر دیئے اور میرے پر اس وقت نہایت رقت کا عالم تھا اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالیٰ کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا بلا توقف اللہ تعالیٰ نے اس پر دستخط کر دیئے اور اسی وقت میری آنکھ کھل گئی اور اس وقت میاں عبداللہ سنوری مسجد کے حجرے میں میرے پیر دبا رہا تھا کہ اس کے روبرو غیب سے سرخی کے قطرے میرے کرتے اور اس کی ٹوپی پر بھی گرے اور عجیب بات یہ ہے کہ اس سرخی کے قطرے گرنے اور قلم کے جھاڑنے کا
٧٩
ایک ہی وقت تھا ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہ تھا۔ ایک آدمی اس راز کو نہیں سمجھے گا اور شک کریگا کیونکہ اس کو صرف ایک خواب کا معاملہ محسوس ہوگا مگر جس کو روحانی امور کا علم ہو وہ اس میں شک نہیں کر سکتا اسی طرح خدا نیست سے ہست کر سکتا ہے غرض میں نے یہ سارا قصہ میاں عبداللہ کو سنایا اور اس وقت میری آنکھوں سے آنسو جاری تھے عبداللہ جو ایک روایت کا گواہ ہے اس پر بہت اثر ہوا اور اس نے میرا کرتہ بطور تبرک اپنے پاس رکھ لیا جو اب تک اس کے پاس موجود ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
خدا کی عدالت میں پیشی
- ١٦٠....... میں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں میں منتظر
ہوں کہ میرا مقدمہ بھی ہے اتنے میں جواب ملا ”اصبر سنفرغ لک یا مرزا“ کہ اے مرزا صبر کر ہم عنقریب فارغ ہوتے ہیں پھر میں ایک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ میں کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر کرسی پر بیٹھا ہوا ہے اور ایک طرف ایک سرشتہ دار ہے کہ ہاتھ میں ایک مسل لئے ہوئے پیش کر رہا ہے حاکم نے مسل اٹھا کر کہا کہ مرزا حاضر ہے تو میں نے باریک نظر سے دیکھا کہ ایک کرسی اس کے ایک طرف خالی پڑی ہوئی معلوم ہوئی اس نے مجھے کہا کہ اس پر بیٹھو اور اس نے مسل ہاتھ میں لی ہوئی ہے اتنے میں بیدار ہو گیا۔
(تذکرہ ص ١٢٩، البدر ج ٢ نمبر ٢٦ ١٩٠٣ء، مکاشفات ص ٢٨، ٢٩)
خدا کا بیٹا ہونا
- ١٦١....... ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ اے مرزا تو میرے نزدیک بمنزلہ میرے
بیٹے کے ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
”انت منی بمنزلۃ اولادی“ تو مجھ سے بمنزلہ میری اولاد کے ہے۔
(البشریٰ ج ٢ ص ٦٥، تذکرہ ص ٣٩٩)
بمرتبہ توحید
- ١٦٢....... ”انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی“ میرے نزدیک بمنزلہ
میری توحید وتفرید ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٨٦، خزائن ج ٢٢ ص ٨٩)
مشتبہ اور نامکمل الہامات
- ١٦٣....... ”ایلی ایلی لما سبقتانی ایلی اوس“ (تشریح از مرزا) آخری
<<
فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس ہ ہیں۔ ”واللہ اعلم بالصواب
- .......٢ ” پرد
آخری لفظ براطوس ہے یا پلاطوس براطوس اور پریشن کے معنی دریاف
نتیجہ خلاف مراد ہوا یا نکلا
- .......٣ حضرت
پختہ پتہ نہیں کہ یہ الہام کس کے م
- .......٤ ” ین
کے ساتھ ایک اور عجیب اور مش
- .......٥ ویہ
(مرزا) نے فرمایا کہ ١٨ فرور ہوگئے اسی حالت میں ایک ال جیسے بجلی کوندتی ہے اس لئے با
- .......٦ یہ با
جب میں نماز کے بعد ذرا لی عربی کا فقرہ تھا اور اس کے ب سے مشابہ تھا تعھد وتمک ئے الٰہی ہوتا ہے۔
بلا نازل یا حادث
”فرمایا کہ یہ ال کہ یا کے آگے کیا تھا۔
- .......٨
اس الہام کا یاد نہیں رہا۔
- .......٩ ا
فقرہ اس الہام کا یعنی ایلی اوس باعث سرعت ورود (نزول) مشتبہ رہا اور نہ اس کے کچھ معنی کھلے ہیں ۔ "والله اعلم بالصواب“
(تذکرہ ص ٩١، البشریٰ ج ١ص ٣٦)
- ٢...... ”پریشن عمر براطوس یا پلا طوس“ (تشریح از مرزا)
آخری لفظ براطوس ہے یا پلاطوس باعث سرعت الہام دریافت نہیں اور عربی لفظ ہے اس جگہ براطوس اور پریشن کے معنی دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں اور کس زبان کے یہ لفظ ہیں۔
(تذکرہ ص ١١٥، البشریٰ ج ١ ص ٥١)
نتیجہ خلاف مراد ہوا یا نکلا
- ٣...... حضرت صاحب خود فرماتے ہیں کہ آخر کا لفظ ٹھیک یاد نہیں رہا اور یہ بھی
پختہ پتہ نہیں کہ یہ الہام کس کے حق میں ہے۔
(تذکرہ ص ٤٣٧، البشریٰ ج ٢ ص ٧٤، ٧٥)
- ٤...... ”ینادی مناد من السماء“ حضرت اقدس (مرزا) نے فرمایا کہ اس
کے ساتھ ایک اور عجیب اور مبشر فقرہ تھا وہ یاد نہیں رہا۔
(تذکرہ ص ٤٤٦، البشریٰ ج ٢ ص ٧٦)
- ٥...... ویبقیک (ترجمہ الہامی ) تا بدیر تر خواهد داشت حضرت اقدس مرزا
(مرزا) نے فرمایا کہ ١٨ فروری ١٩٠٣ء کو یکا یک ایک مرض کا دورہ ہو گیا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے اسی حالت میں ایک الہام ہوا جس کا صرف ایک حصہ یاد رہا چونکہ بہت تیزی کے ساتھ ہوا جیسے بجلی کوندتی ہے اس لئے باقی حصہ محفوظ نہ رہا۔
(تذکرہ ص ٤٦٣ البشریٰ ج ٢ ص ٨٠)
- ٦...... یہ بات آسمان پر قرار پا چکی ہے تبدیل ہونے والی نہیں (فرمایا کہ آج صبح
جب میں نماز کے بعد ذرا لیٹ گیا تو الہام ہوا مگر افسوس ہے کہ ایک حصہ اس کا یاد نہ رہا ایک پہلے عربی کا فقرہ تھا اور اس کے بعد اس کا ترجمہ اردو میں تھا وہ اردو فقرہ یاد ہے اور عربی فقرہ کچھ اسے سے مشابہ تھا تعهد وتمكن في السماء مگر وہ اصل فقرہ بھول گیا اور اس نسیان میں بھی کچھ منشا ئے الٰہی ہوتا ہے۔
(تذکرہ ص ٤٦٩، البشریٰ ج ٢ ص ٨١)
بلا نازل یا حادث
”فرمایا کہ یہ الفاظ الہام ہوئے ہیں مگر معلوم نہیں کس کی طرف اشارہ ہے یاد نہیں رہا کہ یا کے آگے کیا تھا۔
(تذکرہ ص ٤٧٢، البشریٰ ج ٢ ص ٨٢)
- ٨...... سلیم حامد استبشر سلامتی والا حمد کرنے والا بشارت دیا گیا۔ تشریح کچھ حصہ
اس الہام کا یاد نہیں رہا۔
(تذکرہ ص ٤٧٤، البشریٰ ج ٢ ص ٨٢)
- ٩...... ایک عربی الہام تھا الفاظ مجھے یاد نہیں تھے حاصل مطلب یہی کہ مکذبوں کو
٧٨
نشان دکھایا جائے گا۔
(تذکرہ ص ٥٣٠، البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)
- ١٠....... ایک دم میں دم رخصت ہوا فرمایا آج رات مجھے ایک مندرجہ بالا الہام ہوا
اس کے پورے الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے لیکن خطرناک ہے الہام ایک موزوں عبارت میں ہے مگر ایک لفظ درمیان میں بھول گیا ہے۔
(تذکرہ ص ٦٦٦، البشریٰ ج ٢ ص ١١٧)
تین بکرے ذبح کئے جائیں گے
- ١١....... فرمایا کہ ہم نے ظاہر پر عمل کر کے آج تین بکرے ذبح کرا دئے ہیں۔
(تذکرہ ص ٥٨٩، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥)
- ١٢....... عورت کی چال ”ایلی ایلی لما سبقتانی بریت“ یہ خیال گزرتا ہے
کہ کوئی شخص زنانہ طور سے چھپا کر کوئی مکر کرے مگر یہ صرف اجتہادی رائے ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں۔
(تذکرہ ص ٥٩٧، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)
- ١٣....... ”انا نبشرک بغلام حلیم نافلۃ لک“ تجھے ایک لڑکے کی بشارت
دیتے ہیں جو تیرے لئے نافلہ ہوگا فرمایا کہ چند روز ہوئے یہ الہام ہوا ممکن ہے کہ اس کی یہ تعبیر ہو کہ محمود کے ہاں لڑکا ہو کیونکہ نافلہ پوتے کو بھی کہتے ہیں یا بشارت کسی اور وقت تک موقوف ہو۔
(تذکرہ ص ٦٠٧، البشریٰ ج ٢ ص ١١٠)
راز کھل گیا
- ١٤....... ”الذین اعتد وانکم فی السبت“ نوٹ از مرزا ساتھ کا فقرہ بھول
گیا ہے۔ واللہ اعلم!
(تذکرہ ص ٧١٣، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)
- ١٥....... الہام کے الفاظ یاد نہیں رہے اور معنی یہ ہیں کہ فلاں کو پکڑو اور فلاں کو چھوڑ
دے یہ فرشتوں کو حکم الٰہی ہے۔
(تذکرہ ص ٧١٣، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)
- ١٦....... آثار صحت (تذکرہ ص ٤٧١، البشریٰ ج ٢ ص ٨٢) تشریح از مرزا۔ تصریح بالکل
نہیں کہ یہ الہام کس کے متعلق ہے۔
گول مول الہامات
- ١٦....... ”فرمین“ معقول آدمی۔
(تذکرہ ص ٤٨٤، البشریٰ ج ٢ ص ٨٤)
- ١٧....... ہماری قسمت....... ایت وار.......
(تذکرہ ص ٥٢٠، البشریٰ ج ٢ ص ٩٢)
- ١٨....... چودھری رستم علی.......
(تذکرہ ص ٥٣٢، البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)
٧٩
گا۔
(تذکرہ ص ٥٣٠، البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)
ایک دم میں دم رخصت ہوا فرمایا آج رات مجھے ایک مندرجہ بالا الہام ہوا الفاظ یاد نہیں رہے اور جس قدر یاد رہا وہ یقینی ہے مگر معلوم نہیں کہ کس کے حق میں ہے الہام ایک موزوں عبارت میں ہے مگر ایک لفظ درمیان میں بھول گیا ہے۔
(تذکرہ ص ٦٦٦، البشریٰ ج ٢ ص ١١٧)
ذبح کئے جائیں گے
فرمایا کہ ہم نے ظاہر پر عمل کر کے آج تین بکرے ذبح کرا دئے ہیں۔
(تذکرہ ص ٥٨٩، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٥)
عورت کی چال ' ایلی ایلی لما سبقتانی بریت ”یہ خیال گزرتا ہے کہ عورت سے چھپا کر کوئی مکر کرے مگر یہ صرف اجتہادی رائے ہے اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہیں۔
(تذکرہ ص ٥٩٧، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)
” انا نبشرک بغلام حلیم نافلة لک“ تجھے ایک لڑکے کی بشارت لئے نافلہ ہو گا فرمایا کہ چند روز ہوئے یہ الہام ہوا ممکن ہے کہ اس کی یہ تعبیر کا ہو کیونکہ نافلہ پوتے کو بھی کہتے ہیں یا بشارت کسی اور وقت تک موقوف ہو۔
(تذکرہ ص ٦٠٧، البشریٰ ج ٢ ص ١١٠)
”الذین اعتد وانکم فی السبت“ نوٹ از مرزا ساتھ کا فقرہ بھول مسلم !
(تذکرہ ص ١٢٧، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)
الہام کے الفاظ یاد نہیں رہے اور معنی یہ ہیں کہ فلاں کو پکڑو اور فلاں کو چھوڑ دیا ہے۔
(تذکرہ ص ٧١٣، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٩)
آثار صحت (تذکرہ ص ٧٤١، البشریٰ ج ٢ ص ٨٢) تشریح از مرزا۔ تصریح بالکل کے متعلق ہے۔
ات
” فرمین “ معقول آدمی۔
(تذکرہ ص ٤٨٤، البشریٰ ج ٢ ص ٨٤)
ہماری قسمت ...... ایت وار ......
(تذکرہ ص ٥٢٠، البشریٰ ج ٢ ص ٩٢)
چودھری رستم علی ......
(تذکرہ ص ٥٣٢، البشریٰ ج ٢ ص ٩٤)
٧٩
- ١٩...... قل مالک حیلۃ ......
(تذکرہ ص ٥٤٣، البشریٰ ج ٢ ص ٩٦)
- ٢٠...... مضر صحت ......
(تذکرہ ص ٥٥٢، البشریٰ ج ٢ ص ٩٩)
- ٢١...... دوشیزہ ٹوٹ گئے ......
(تذکرہ ص ٥٦٦، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٠)
- ٢٢...... رہا گوسفندان عالی جناب ......
(تذکرہ ص ٥٧٠، البشریٰ ج ٢ ص ١٠١)
- ٢٣...... آب زندگی ......
(تذکرہ ص ٥٧٣، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٢)
- ٢٤...... زندگیوں کا خاتمہ ......
(تذکرہ ص ٥٧٧، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٣)
- ٢٥...... لائف (ترجمہ) زندگی ......
(تذکرہ ص ٥٩٣، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٦)
- ٢٦...... ٢٥ فروری کے بعد جانا ہوگا ......
(تذکرہ ص ٥٩٣، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٦)
- ٢٧...... بشیر الدولہ ......
(تذکرہ ص ٥٩٨، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)
- ٢٨...... ایک دانہ کس کس نے کھانا ......
(تذکرہ ص ٥٩٥، البشریٰ ج ٢ ص ١٠٧)
- ٢٩...... دو چار ماہ ......
(تذکرہ ص ٦١٩، البشریٰ ج ٢ ص ١١٥)
- ٣٠...... خیر ......
(تذکرہ ص ٦٧٤، البشریٰ ج ٢ ص ١١٩)
- ٣١...... مبارک ......
(تذکرہ ص ٦٨٣، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٢)
- ٣٢...... بادشاہ آیا ......
(تذکرہ ص ٦٩١، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٣)
- ٣٣...... روشن نشان ......
(تذکرہ ص ٦٩٢، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٣)
- ٣٤...... ایک اور خوشخبری ......
(تذکرہ ص ٦٩٥، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٣)
- ٣٥...... ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہ رہے گا ......
(تذکرہ ص ٦٩٦، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٤)
- ٣٦...... تحفۃ الملوک ......
(تذکرہ ص ٦٩٩، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٥)
- ٣٧...... لاہور میں ایک بے شرم ہے ......
(تذکرہ ص ٧٠٤، البشریٰ ج ٢ ص ١٢٦)
خلیفہ قادیان کی دلچسپ خوابیں
مرزا قادیان کی خوابیں اور الہامات تو آپ نے سن لئے اب بیٹے کی خوابیں بھی ملاحظہ فرمائیے:
- ١٦٥...... میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص خلافت پر اعتراض کرتا ہے میں
اسے کہتا ہوں اگر تم سچے اعتراض تلاش کر کے بھی میری ذات پر کرو گے تو خدا کی تم پر لعنت ہوگی اور تم تباہ ہو جاؤ گے (ارشاد خلیفہ قادیان منقول از اخبار الفضل مورخہ ٢٩ مئی ١٩٢٨ء و تفسیر سورہ نور ص ٧٣) اس خواب کی تائید میں حسب ذیل حوالہ بھی یاد رکھنا چاہئے جس میں آپ ٨٠
فرماتے ہیں کہ غلطی کو غلطی کہنا بھی جرم ہے۔
- ١٦٦...... خدا کا رسول غلطی کر سکتا ہے اور ہزار فیصلوں میں سے ایک فیصلہ اس کا نا
درست ہو سکتا ہے تو میرے لئے ہزار میں سو کا غلط ہونا ممکن ہے لیکن باوجود اس کے اگر کوئی یہ کہتا پھرے کہ اس نے (خلیفہ قادیان) فلاں فیصلہ غلط کیا یا فلاں غلطی کی، چاہے وہ غلطی ہو پھر بھی اسے خدا تعالیٰ پکڑیگا۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ خلیفہ قادیان منقول از الفضل ج ١٥ نمبر ٤٧ ص ٦ ، مورخہ ٤ نومبر ١٩٢٧ء)
(فیصلہ کی غلطی تو ہوئی مگر غلطی کو غلطی قرار دینے پر مواخذہ کیونکر ہوگا) یہ ذکر کر دینا ضروری ہے کہ خلیفہ قادیان نے یہ وعظ اس وقت کیا جب خلیفہ کی ذات پر بھیانک الزامات عائد کئے گئے۔
کمانڈر انچیف بننا
قریباً تین سال کا عرصہ ہوا۔ جو میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میں اور حافظ روشن علی صاحب ایک جگہ بیٹھے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجھے گورنمنٹ برطانیہ نے افواج کا کمانڈر انچیف مقرر فرمایا ہے اور میں سر اومورکرے سابق کمانڈرانچیف افواج ہند کے بعد مقرر ہوا ہوں اور ان کی طرف سے حافظ صاحب مجھے عہدہ کا چارج دے رہے ہیں۔
(برکات خلافت ص ٤٥)
خدا عورت کی شکل میں
- ١٦٧...... ” کچھ دن ہوئے مجھے ایک ایسی بات پیش آئی کہ جس کا کوئی علاج میری
سمجھ میں نہ آتا تھا اس وقت میں نے کہا کہ ہر چیز کا علاج خدا تعالیٰ ہی ہے اسی سے اسکا علاج پوچھنا چاہئے۔ اس وقت میں نے دعا کی اور وہ ایسی حالت تھی کہ میں نفل پڑھ کے زمین پر لیٹ گیا اور جیسے بچہ ماں باپ سے ناز کرتا ہے اسی طرح میں نے کہا اے خدا میں چار پائی پر نہیں زمین پر ہی سوؤں گا اس وقت مجھے یہ بھی خیال آیا کہ حضرت خلیفہ اوّل نے مجھے کہا ہوا ہے کہ تمہارا معدہ خراب ہے اور زمین پر سونے سے معدہ اور زیادہ خراب ہو جائے گا لیکن میں نے کہا آج تو میں زمین پر ہی سوؤں گا یہ بات ہر ایک انسان نہیں کہہ سکتا بلکہ خاص ہی حالت ہوتی ہے کوئی چھ سات دن ہی کی بات ہے جب میں زمین پر سو گیا تو دیکھا کہ خدا کی نصرت اور مدد کی صفت جوش میں آئی اور عورت کی شکل میں متمثل ہو کر زمین پر اتری ایک عورت تھی اسکو اس نے سوٹی دی اور کہا اسے مار اور کہو کہ چار پائی پر سو ، میں نے اس عورت سے سوٹی چھین لی اس پر اس نے سوٹی خود پکڑ لی۔ مگر جب اس نے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو زور سے سوٹی گھٹنے تک لا کر چھوڑ دیا اور کہا دیکھ محمود میں تجھے مارتی
٨١
نہیں جا اٹھکر سو رہو یا نماز پڑھ میں اسی وقت کود کر چار پائی پر چلا گیا اور جا کر سو رہا۔“
(ملائکۃ اللہ ص ٦٩، ٧٠، مصنفہ خلیفہ قادیان)
قادیانی مذہب کی تعمیر
الٰہی مذہب اور مصنوعی کاروبار میں فرق یہ ہوتا ہے کہ جو مذہب اللہ پاک کی طرف سے ہوتا ہے اس میں کسی دنیاوی چال کا دخل نہیں ہوتا۔ اگر آنحضرتﷺ دنیا میں تشریف لائے تو آپ نے مشرکین سے یہ نہیں کہا کہ ہم تمہارے بتوں کی تعریف کرتے ہیں اور ان کی پوجا میں شریک ہوتے ہیں۔ پھر چند سال بعد یہ نہیں فرمایا کہ اب میں تمہارے بڑے بتوں کو تو پوجونگا مگر باقی سب بتوں کو چھوڑتا ہوں اور بالآخر فرمایا ہو کہ سب بتوں کو ترک کرو اور صرف ایک خدا کی عبادت کرو غرضیکہ آنحضورﷺ نے مشرکین سے کسی قسم کے تصنع سے کام نہیں لیا۔ نہ ہی ان کو ساتھ ملانے کے لئے ان کے خیالات سے اتفاق کا اظہار فرمایا بلکہ جو خدا کا حکم تھا صاف صاف الفاظ میں مخالفین کو سنا دیا آپ نے فرمایا: ”لا اله الا الله محمد رسول الله “ کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں یہ نہیں کہ آپ نے خیال فرمایا ہو کہ مشرکین اس اعلان اور صداقت سے یکدم بدک جائیں گے اس لئے آہستہ آہستہ ان کے خیالات کی تردید کرنی چاہئے بلکہ آپ نے خداوند کریم کی امداد پر بھروسہ رکھتے ہوئے جو مولا پاک کا حکم تھا من و عن سنا دیا۔
مصنوعی مذہب کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ اس میں پبلک کے جذبات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ حالات کے مطابق کام کیا جاتا ہے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے قسم قسم کی چالیں اختیار کرنی پڑتی ہیں۔ اب ذیل میں قادیانی مذہب کی تعمیر کا حال خود قادیانی الفاظ میں سنئے اور فیصلے کیجئے کہ یہ انسانی کاروبار ہے یا خدا تعالیٰ کی طرف سے۔
سرکاری ملازمت
مرزا قادیانی نے شہر سیالکوٹ کی کچہری میں ایک قلیل تنخواہ پر ملازمت کی۔
١٦٨....... بسم الله الرحمن الرحیم! بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ جوانی کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمہارے دادا کی پنشن وصول کرنے گئے تو پیچھے پیچھے مرزا امام الدین بھی چلا گیا جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو وہ آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دیکر بجائے قادیان لانے کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب اس نے سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا حضرت مسیح موعود اس شرم سے گھر واپس نہیں آئے اور چونکہ تمہارے دادا کا منشاء رہتا تھا کہ آپ کہیں ملازم ہو جائیں اس لئے آپ سیالکوٹ شہر
٨٢
میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہو گئے اور کچھ عرصہ تک وہاں ملازمت پر رہے۔
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٤٣ روایت نمبر ٤٩)
اس حوالہ سے صاف معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی نے کچہری میں ملازمت کی اور یہ بات ظاہر ہے کہ مرزا کے والدین یہ خواہش رکھتے تھے کہ ان کا فرزند ملازمت کرے ان دنوں اس عہدہ کی (جو مرزا قادیانی کو ملا) تنخواہ بھی پندرہ روپے ہوتی تھی۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جس گھر میں کام ہو۔ جو خود رئیس ہو اسے پندرہ بیس روپیہ کی ملازمت کی کیا ضرورت ہوتی ہے بہرکیف مرزا نے ملازمت کی اور وہاں مختاری کا امتحان دیا مگر فیل ہو گئے اس طرف سے بددل ہو کر آپ نے کیا کیا براہین احمدیہ کی تصنیف کا خیال پیدا ہوا چنانچہ مرزا لکھتا ہے۔
- ١٦٩...... جب میری عمر تیس سال کی ہوئی تو میرے دل میں نصرت اسلام کی محبت
اور عیسائیوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی رغبت ڈالی گئی۔ (آئینہ کمالات ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)
اس مذہبی شوق کے اظہار کے بعد براہین احمدیہ کا کام شروع ہوا اور مخالفین کو سخت الفاظ میں خطاب کیا۔
- ١٧٠...... ”اور سخت اور الفاظ استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل
اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں ایک تحریک ہو جاتی ہے مثلاً ہندوؤں کی قوم ایک ایسی قوم ہے کہ اکثر ان میں سے ایسی عادت رکھتے ہیں کہ اگر ان کو اپنی طرف سے چھیڑا نہ جائے تو وہ مداہنہ کے طور پر تمام عمر دوست بن کر دینی امور میں ہاں سے ہاں ملاتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو ہمارے نبی کریمﷺ کی تعریف و توصیف اور اس دین کے اولیاء کی مدح ثنا کرنے لگتے ہیں لیکن دل ان کے نہایت درجہ کے سیاہ اور سچائی سے دور ہوتے ہیں اور ان کے روبرو سچائی کو اس کی پوری حرارت اور تلخی کے ساتھ ظاہر کرنا اس نتیجہ خیر کا منتج ہوتا ہے کہ اسی وقت ان کا مداہنہ دور ہو جاتا ہے اور بالجہر یعنی واشگاف اور اعلانیہ اپنے کفر اور کینہ کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں گویا ان کی دق کی بیماری محرقہ کی طرف انتقال کر جاتی ہے سو یہ تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیدا کر دیتی ہے۔ اگرچہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے۔“ (ازالہ اوہام ص ٢٩، ٣٠، خزائن ج ٣ ص ١١٧، ١١٨)
جب خود سخت کلامی کی تو لامحالہ بالمقابل بھی یہی طرز کلام اختیار کیا گیا۔ اس حوالہ سے یہ بات صاف طور پر ثابت ہے کہ اسلام کے خلاف جس قدر گندی کتابیں شائع ہوئی ہیں ان کا محرک یہی مسیح موعود (مرزا قادیانی) تھا جب مخالفین گالیاں دیتے تو آپ انہی گالیوں کو نقل کر کے
٨٣
مسلمانوں کو اشتعال دلا کر چندہ طا کتاب کے مجیب کو جلی حروف میں قرآن کریم کے معارف بیان کر کس قدر دسترس ہوگی ؟ مرزا کے ا
- ١٧١...... ”ان س
رائے ظاہر کردیں کہ ایفائے شر عذرے دیتے اپنی جائیداد قیمتی دا
یہ حوالہ اس امر کے ث شرط لگاتا ہے قرآنی معارف کے
- ١٧٢...... ”مجھے
کے لئے وہ فہم عطا کیا ہے کہ میں (کشف الغطاء ص ٢٣، خزائن ج ١٤ چیلنج والی کتاب شائع ہی نہیں ک اصل چیز شائع ہی نہ کر سکا بہر ک بتانا مقصود ہے اب سنئے قرآن ک اس کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ
- ١٧٣...... ”جس
کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع ا
- ١٧٤...... ”حض
خس و خاشاک سے صاف کر چہارم ص ٥٠٥، ٥٠٦ حاشیہ، خز السلام کے متعلق مرزا قادیانی
- ١٧٥...... ”پھ
اور غافل رہا (یا عمداً غافل رہا
مسلمانوں کو اشتعال دلا کر چندہ طلب فرماتے ۔ براہین احمدیہ لکھی تو اس میں ابتدائی صفحات پر اس کتاب کے مجیب کو جلی حروف میں دس ہزار روپیہ کے انعام دینے کا وعدہ دیا ظاہر ہے کہ جو شخص قرآن کریم کے معارف بیان کرنے کا وعدہ دیکر دس ہزار کا چیلنج دیتا ہے اس کو قرآنی معارف میں کس قدر دسترس ہوگی؟ مرزا کے زوردار الفاظ سنئے۔
- ١٧١...... ”ان سب صورتوں میں بشرطیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالاتفاق یہ
رائے ظاہر کردیں کہ ایفائے شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آگیا میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے وحیلتے اپنی جائیداد قیمتی دس ہزار روپیہ پر قبض و دخل دیدوں گا ۔“
(براہین حصہ اول ص ٢٤، ٢٥، ٢٦ ، خزائن ج ١ص ٢٧، ٢٨)
یہ حوالہ اس امر کے ثبوت کے لئے بھی یاد رکھئے کہ مناظرہ یا مقابلہ میں مرزا منصف کی شرط لگاتا ہے قرآنی معارف کے دعوے کا ایک اور حوالہ سنئے۔
- ١٧٢...... ”مجھے خدا نے قرآن کا علم دیا ہے اور زبان عرب کے محاورات کے سمجھنے
کے لئے وہ فہم عطا کیا ہے کہ میں بلا فخر کہتا ہوں کہ اس ملک میں کسی دوسرے کو وہ فہم عطا نہیں ہوا
( کشف الغطاء ص ٢٣، خزائن ج ١٤ص ٢٠٨) یہ بحث کسی دوسری جگہ آچکی ہے کہ مرزا نے یہ دس ہزاری چیلنج والی کتاب شائع ہی نہیں کی اور ابتدائی امور پر ہی چار جلدیں لکھ کر اس کھیل کو ختم کر دیا اور اصل چیز شائع ہی نہ کر سکا بہر کیف اس جگہ ہمیں صرف مرزا کا معارف قرآنی بیان کرنے کا دعویٰ بتانا مقصود ہے اب سنئے قرآن کریم کی تفسیر اور حقانیت اسلام کے پر زور دعاوی کرنے والا شخص اپنی اس کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ تسلیم کرتا ہوا لکھتا ہے۔
- ١٧٣...... ”جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان
کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع اقطار اور آفاق میں پھیل جائے گا۔“
( حاشیہ براہین احمدیہ ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ١ص ٥٩٣)
- ١٧٤...... ”حضرت مسیح جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے تمام راہوں اور سڑکوں کو
خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج و نادرست کا نام ونشان نہ رہے گا۔“ ( براہین احمدیہ حصہ چہارم ص ٥٠٥، ٥٠٦ حاشیہ، خزائن ج ١ ص ٦٠١ ، ٦٠٢) اپنی ایک دوسری کتاب میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق مرزا قادیانی لکھتا ہے۔
- ١٧٥...... ”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر
اور غافل رہا (یا عمداً غافل رہا) کہ خدا نے مجھے بڑی شدّ و مد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے
٨٤
اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر قائم رہا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣)
غرضیکہ مرزا اس امر کا قائل تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں کس لئے؟ صرف اس لئے کہ ابتداء میں ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا اظہار مسلمانوں کو متنفر کر دے گا دس بارہ سال کے عرصہ میں اشتہاری پراپیگنڈا سے جب چند لوگ مرزا کے ہم خیال ہو گئے تو فوراً اپنا راستہ صاف دیکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا وعظ شروع ہو گیا مگر ساتھ ہی خیال ہوا کہ جو لوگ اس کی خدمت اسلامی کے قائل ہو گئے ہیں وہ یہ تبدیلی دیکھ کر بدک نہ جائیں اس لئے ایک طرف اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا اظہار کیا گیا تو ساتھ ہی پورے زور سے آنحضرت ﷺ کی محبت کا اظہار شروع ہو گیا اور صاف الفاظ میں کہا گیا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت بند ہے آپ خاتم الانبیاء ہیں آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا کافر ہے چنانچہ مرزا نے کہا۔
- ١٧٦....... ”میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا
ہوں۔“
(آسمانی فیصلہ ص ٣، خزائن ج ٤ ص ٣١٣)
- ١٧٧....... ”آنحضرت کے خاتم النبیین ہونے کا قائل اور یقینِ کامل سے جانتا ہوں
اور اس بات پر محکم ایمان رکھتا ہوں کہ ہمارے نبی خاتم الانبیاء ہیں اور آنجناب کے بعد اس امت کے لئے اور کوئی نبی نہیں آئیگا نیا ہو یا پرانا۔“
(نشان آسمانی ص ٢٠، خزائن ج ٤ ص ٣٩٠)
- ١٧٨....... میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے
منکر، بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں اور جیسا کہ اہل سنت جماعت کا عقیدہ ہے ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں اور سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفےٰ احمد مجتبیٰ ختم المرسلین ﷺ کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کافر و کاذب جانتا ہوں۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٠، اشتہار مورخہ ٢ اکتوبر ١٨٩١ء)
- ١٧٩....... ”خاتم الانبیاء کی عظمت دکھانے کے لئے اگر کوئی نبی آتا تو خاتم الانبیاء کی
شانِ عظیم میں رخنہ پڑتا۔“
(٭ازالہ اوہام ص ٤٢٧، ٤٢٨، خزائن ج ٣ ص ٣٤٩، ٣٥٠)
- ١٨٠....... محی الدین ابن عربی نے لکھا ہے کہ نبوت تشریعی جائز نہیں دوسری جائز
ہے مگر میرا اپنا یہ مذہب ہے کہ ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند ہے۔
(الحکم ١٧ اپریل ١٩٠٣ء، ملفوظات ج ٥ حاشیہ ص ٣٥١، ٣٥٢)
٨٥
(سراج منیر ص ٩٣، خزائن ج ١٢ ص ٩٥)
- ١٨١...... ”میں نبی نہیں ہوں بلکہ اللہ کی طرف سے محدث اور اللہ کا کلیم ہوں تا کہ
دین مصطفیٰ کی تجدید کروں اور اس نے مجھے صدی کے سر پر بھیجا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ٣٨٣)
بطور نمونہ ان چند حوالہ جات پر اکتفا کی جاتی ہے یہ تحریریں اس امر کا ثبوت ہیں کہ مرزا نے اپنا بچاؤ اسی میں سمجھا کہ مدعی نبوت کو کافر و دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے چنانچہ اُس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ کی مدح میں نظم و نثر پر زور دیا کس لئے تا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے عقیدہ سے لوگ بدک نہ جائیں بلکہ ان کے دماغ کو اس طرف لگا دیا جائے کہ یہ شخص آنحضرت ﷺ کا ایک ادنیٰ خادم ہے اسے نبی بننے کا قطعاً خیال نہیں یہ تو آنحضرت ﷺ کے بعد مدعی نبوت کو کافر سمجھتا ہے چنانچہ یہ تدبیر کارگر ہوئی جو چند مرید ہاتھ لگ گئے تھے وہ مرزا قادیانی کو آنحضرت کا عاشق جان کر کے اس کا ساتھ دیتے رہے مرزا قادیانی نے یہ تدبیر صرف اس لئے کی کہ وہ جانتا تھا کہ جو مسلمان اس کے حلقہ میں شامل ہو گئے ہیں ان کے دلوں سے آنحضرت ﷺ کی محبت نکالنا آسان نہیں بہتر یہی ہے کہ ان کے خیال کو آہستہ آہستہ نکالا جائے چند سال یہی حال رہا آخر ١٩٠١ء میں نبوت کا دعوے کر دیا دعویٰ نبوت کا اعلان کرتے ہوئے جو توجیہ کی گئی ہے وہ قابل دید ہے سنئے۔
- ١٨٢...... ”جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان
معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدا سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اُس کا نام پا کر اس کے واسطہ خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے۔ رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کہہ کر پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٦، ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢١٠، ٢١١)
یہ تو ہمیں بحث نہیں کہ پیشتر ازیں کن معنوں میں انکار تھا کیونکہ گزشتہ حوالہ جات بالکل صاف ہیں اور کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کس عجیب و غریب طریق
٨٦
سے نبوت کے دعویٰ کی ابتداء کی گئی ہے۔ مگر ابھی ساتھ ساتھ آنحضرت ﷺ سے باطنی فیوض کا ذکر موجود ہے۔
پیشتر اس کے کہ ہم دعویٰ نبوت کے اور حوالہ جات پیش کریں اس حوالہ مذکور کے متعلق ایک اور حوالہ درج کرتے ہیں۔ جس میں مرزا اقراری ہے کہ پہلے نبوت کا انکار تھا۔ اور واقعی عقیدۃً انکار تھا۔ مگر خدا کی وحی نے اس عقیدہ سے ہٹایا۔ مگر مذکورہ بالا حوالہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ فلاں معنی سے انکار تھا اور ان معنوں سے اقرار تھا گویا تبدیلی عقیدہ نہیں ہوئی۔
- ١٨٣...... ”اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا
نسبت ہے وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔ اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔“
(حقیقت الوحی ص ١٤٩، ١٥٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٥٢، ١٥٣)
یہ حوالہ اس امر کا ثبوت ہے کہ عقیدہ میں تبدیلی ہوئی۔ مگر سابقہ حوالہ میں مرزا نے یہ ظاہر کیا ہے کہ نبوت کا انکار فلاں معنی سے تھا۔ اور اقرار فلاں معنی سے گویا تبدیلی عقیدہ ہوئی ہی نہیں۔ اب دعویٰ نبوت کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے۔
- ١٨٤...... ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ
اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس نے مجھے مسیح موعود کے نام سے پکارا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ١٨٥...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“
(دافع البلا ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
دیکھئے! اب آہستہ آہستہ آنحضرت ﷺ سے فیض کے الفاظ کا استعمال بھی کم ہوتا جائے گا۔ کیونکہ یہ باتیں تو صرف مریدوں کو قابو میں رکھنے کے لئے ہیں ورنہ اصل مقصود تو یہی ہے کہ کچھ عرصہ بعد برابری اور پھر برتری کا دعویٰ ہوگا، سنئے۔
- ١٨٦...... ”غرض اس حصہ وحی الٰہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی
ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے
٨٧
گزر چکے ہیں۔ ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦، ٤٠٧) :
- ١٨٧....... ”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔“
(بدر ٥/مارچ ١٩٠٨ء، ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
- ١٨٨....... ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ
اس نے مجھے بھیجا ہے اور اس نے میرا نام نبی رکھا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
- ١٨٩....... ”اگر غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو بتاؤ کس نام سے اسے
پکارا جائے۔ اگر کہو کہ اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت میں اظہار غیب کے نہیں ہیں۔“
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٥، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٩)
اس حوالہ کے مقابلہ میں حوالہ نمبر ١٨١ پھر دیکھئے:
- ١٩٠....... ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وحی کے
ذریعہ سے چند امر و نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہ ہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی اور اگر یہ کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: ”ان ھٰذا لفی الصحف الاولیٰ صحف ابراھیم و موسیٰ“ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہو تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہیں رہتی۔“
(اربعین ج ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥، ٤٣٦)
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ باشریعت نبی ہونے کا بھی دعویٰ ہے۔ غرضیکہ ایک مجوزہ اسکیم کے مطابق مرید پیدا کئے گئے یا یہ کہ جوں جوں کام ترقی کرتا گیا آپ جناب بھی قدم بڑھاتے گئے یہ تمام کام ایک اسکیم کے مطابق کیا گیا۔ اس کا اقرار مرزا قادیان کا بیٹا خلیفہ قادیان نہایت لطیف پیرایہ میں یوں کرتا ہے۔
- ١٩١....... ”اگر آپ کو یک لخت مسیح کی وفات اور اپنی نبوت کا اعلان کرنے کا حکم
٨٨
ہوتا تو آپ کی جماعت کیلئے سخت مشکلات کا سامنا ہوتا ، پس اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ سے براہین احمدیہ لکھوائی اور گو اس میں آپ کو مسیح قرار دیا لیکن انکشاف تامہ نہ کیا تا کہ آپ کو عظیم الشان کام کے لئے تیار فرمائے جس پر آپ کو مقرر فرمانا تھا اور مسیح (ایک نبی کا احترام ملاحظہ ہو ) کی وفات پر پردہ اس لئے ڈالے رکھا کہ اگر حضرت مسیح موعود کو اس وقت اعلان کر دیتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنی سنت قدیم کے ماتحت چاہتا تھا کہ سب کام ترتیب وار ہوں (اللہ تعالیٰ چاہتا تھا یا مرزا ) پس اپنی مسیح موعود کو بھی اصلی بات سے ناواقف رکھا۔ اس طرح آپ کو براہین کے زمانہ میں ہی نبی قرار دیا لیکن اس پر بھی ایک پردہ خفا ڈالے رکھا دونوں باتیں براہین احمدیہ کے زمانہ میں ظاہر تو اس لئے کیں تا کہ یہ نہ ثابت ہو کہ کوئی منصوبہ ہے اور پوشیدہ اس لئے رکھی کہ متلاشیان صداقت پر حد سے زیادہ بوجھ نہ پڑ جائے پھر دس سال بعد وفات مسیح کے مسئلہ پر سے پردہ اٹھا دیا لیکن مسئلہ نبوت پر ایک پردہ پڑا رہا تا کہ جماعت اپنے اندر ایک مضبوطی پیدا کر لے حتیٰ کہ ١٩٠١ء میں اس پردہ کو بھی اٹھا دیا اور حقیقت کھل گئی اور صداقت ظاہر ہو گئی ۔'' یا منصوبہ ظاہر ہو گیا یہ فیصلہ ناظرین کریں گے۔
(حقیقت النبوۃ ص١٤٤، ١٤٥)
خلیفہ قادیان ان چیزوں کو خدا کی حکمت بتاتا ہے کیونکہ خود اس کے دل میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ حالات پر غور و فکر کرنے والا انسان اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ یہ تمام کاروبار ایک اسکیم کے مطابق چلایا گیا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ قرآن کریم کے معارف کا حامل حقانیت اسلام پر دس ہزار چیلنج دینے والا انسان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا مسئلہ نہ سمجھ سکا حالانکہ بقول قادیانی کمپنی قرآن کریم کی تیس آیات سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہے قرآن کریم کے معارف سمجھنے والا ١٣٠٠ سال کے بعد صرف ایک شخص پیدا ہونے والا قرآن کریم سے یہ نہ سمجھ سکا کہ نبوت جاری ہے اور اس کا دروازہ بند کرنا اسلام کی ہتک ہے غرضیکہ ان حقائق کو زیر نظر رکھتے ہوئے خلیفہ قادیان اس سوال کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہمارے نزدیک وہ اس اسکیم کی تائید کرتا ہے۔ جو ہم نے واقعات سے اخذ کی ہے۔ بہر کیف یہ بات خدا تعالیٰ کی حکمت تھی یا ایک مجوزہ اسکیم دونوں باتوں کا فیصلہ واقعات سے ہو سکتا ہے، واقعات ہم نے صاف الفاظ میں بیان کر دئیے ہیں جس سے نتیجہ اخذ کرنا ہر عقل مند کے لئے نہایت آسان ہے۔
اس اسکیم کی تائید اس امر سے بھی ہو سکتی ہے کہ اس اسکیم پر کار بند ہونے کے بعد اور یہ محسوس کرنے کے بعد کہ اب مرید اسلام اور مسلمانوں سے دور ہو چکے ہیں ان کے دلوں میں مرزا کی محبت پیدا ہو گئی ہے ۔ ان عقائد کا اظہار کیا گیا جو ہم پہلے باب میں بیان کر چکے ہیں یعنی
٨٩
آنحضرت ﷺ سے افضلیت یا برابری کا دعویٰ ۔ مسلمانوں کو کافر دائرہ اسلام سے خارج قرار دینا مسلمانوں سے رشتے ناطے ناجائز مسلمانوں اور ان کے معصوم بچوں کا جنازہ حرام مسلمانوں کے پیچھے نماز ناجائز وغیرہ ذالک۔
یہ عقائد اس وقت پھیلائے گئے جب دیکھا کہ مرید اس درجہ قابو آگئے ہیں کہ وہ اب بھاگ نہیں سکتے ۔ اب ان واقعات سے فیصلہ کیجئے کہ یہ مذہب خدا کی طرف سے ہے یا ایک انسانی کاروبار ۔
سیاسی چالیں
قادیانی کمپنی نے اپنے ابتدائی ایام میں خصوصاً خود کو خالص مذہبی گروہ ظاہر کیا ۔ یہ حکومت کی نظروں سے بچنے کے لئے تھا یا دنیا پر تقدس کے اظہار کے لئے ہمیں اس سے بحث نہیں ہمارا مقصود اس جگہ اس کمپنی کی دورنگی بتانا ہے اس باب کے مطالعہ سے یہ چیز عیاں ہو جائے گی کہ اس کمپنی کی دورنگی اس امر کی بین دلیل ہے کہ یہ کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک تجارتی کمپنی ہے جس کا کام وقت وقت کا راگ الاپنا ہے ۔
ذیل کے حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے اور دیکھئے کہ قادیانی جماعت کا لیڈر اپنی جماعت کو سیاست سے علیحدہ رہنے کی تاکید کرتا ہوا کس قدر تقدس، دینداری اور پرہیز گاری کا اظہار کرتا ہے خلیفہ قادیان اپنی جماعت کے ایک اعتراض کو یوں بیان کرتا ہے۔
- ١٩٢...... ”ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ سٹرائکوں سے نفع حاصل ہوتا ہے اور حقوق مل
جاتے ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جائز ایجی ٹیشن کو گورنمنٹ بھی ناپسند نہیں کرتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو سیاست سے روکا جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود نے کیوں روکا ہے ۔“
(برکات خلافت ص ٥٢)
اس سوال کا جواب خلیفہ قادیان نے ١٨ صفحات پر دیا ہے اور پورے زور سے اپنے مریدوں کو سیاست میں دخل دینے سے روکا ہے ہم اس طویل جواب کے چند اقتباسات اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں ۔ جن سے یہ ظاہر ہوگا کہ قادیانی خلیفہ کے نزدیک سیاست میں دخل ایک زہر ہے اور اس میں قادیانی جماعت کی ہلاکت ہے حتیٰ کہ جائز حقوق کے مطالبہ کو بھی ناجائز بتایا ہے مذکورہ بالا کتاب برکات خلافت کے حسب ذیل اقتباسات ملاحظہ فرمائیے ۔
- ١٩٣...... ”حضرت مسیح موعود (مراد مرزا قادیانی) فرماتے ہیں کہ گورنمنٹ ایک حد
٩٠
تک سیاسی امور کی طرف توجہ رکھنے کی اجازت دیتی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس کام کا انجام خراب ہوگا اس لئے میں اپنی جماعت کو اس کی اجازت نہیں دیتا۔“
(برکات خلافت ص ٥٦)
١٩٤...... ”غرضیکہ گو صوبہ کے ایک بڑے اور ذمہ دار حاکم نے اس بات پر زور بھی دیا کہ مسلم لیگ سے نقصان نہیں ہوگا لیکن حضرت صاحب (مرزا قادیانی) نے یہی جواب دیا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔“
(برکات خلافت ص ٥٧)
١٩٥...... ”اسی طرح سیاست کا خون جس کسی کے منہ کو لگ جاتا ہے پھر وہ اسے نہیں چھوڑ سکتا اور وہ اس کے اندر ہی گھستا جاتا ہے۔“
(برکات خلافت ص ٥٩)
١٩٦...... ”آج کل اسلام پر جو نازک وقت آیا ہوا ہے اس سے پہلے اس پر کبھی نہیں آیا اس لئے اس وقت اسلام کو جتنے بھی ہاتھ کام کے لئے مل جائیں اور جس قدر بھی سپاہی اسلام کی حفاظت کے لئے مل جائیں اتنے ہی کم ہیں اس لئے آج مسلمانوں کے لئے سیاست کی طرف متوجہ ہونا ایک زہر ہے جسے کھا کر ان کا بچنا محال بلکہ ناممکن ہے۔“
(برکات خلافت ص ٥٩)
١٩٧...... ”حضرت مسیح موعود نے یہ پسند نہ کیا کہ جو تھوڑے سے آدمی ان کے ساتھ شامل ہیں ان کو بھی آپ سیاست میں دخل دینے کی اجازت دے کر اپنے ہاتھ سے کھو دیں۔“
(برکات خلافت ص ٦١)
١٩٨...... ”سیاست میں پڑ کر چھوٹی قوم بڑی میں جذب ہو جاتی ہیں۔“
(برکات خلافت ص ٦٢)
١٩٩...... ”سیاست کا کوئی مذہب نہیں۔“
(برکات خلافت ص ٦٣)
خلیفہ قادیان سیاست سے علیحدہ رہنے کی ایک وجہ یہ بھی فرماتے ہیں:
٢٠٠...... ”احسان کا بدلہ ہونا چاہئے۔ احسان بھی تو دنیا میں کوئی چیز ہے۔ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ سختی اور مرارت جو سکھوں کے عہد میں ہم نے اٹھائی تھی گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ آکر ہم سب بھول گئے۔“
(برکات خلافت ص ٦٤)
گویا اصل وجہ کا یوں اظہار کیا ہے کہ حکومت نے ہم کو آرام پہنچایا ہے اس لئے ہم خوش ہیں اور اپنے حقوق طلب کرنا بھی گناہ سمجھتے ہیں یا یوں سمجھئے کہ حکومت کی ذرہ بھر ناراضگی لیکر اپنی کمپنی کا خاتمہ ہونے کا خوف دامنگیر ہے۔ بہر حال سیاست سے بچنے کا وعظ سنتے جائیے۔
٢٠١...... ”نادان ہے وہ انسان جو اس وقت سیاست کی کش مکش کو دیکھ کر اور پھر اسلام کی حالت کو معلوم کر کے سیاست کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔“
(برکات خلافت ص ٦٠، ٦١)
٩١
- ٢٠٢....... ”اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں سیاست کے چھوڑنے کی وجہ سے نقصان اٹھانا
پڑتا ہے ہم تحصیلدار ڈپٹی اور دیگر سرکاری عہدے حاصل نہیں کر سکتے تو وہ سمجھ لے کہ اس کے چھوڑنے سے خدا ملتا ہے اور نہ چھوڑنے سے دنیا پس اگر تمہیں خدا پیارا ہے تو سیاست کو چھوڑ دو۔“
(برکات خلافت ص ٦١)
- ٢٠٣....... ”ہماری اپنی تو یہ حالت ہے کہ کوئی دشمن ہمیں تنگ کرتا ہے تکلیفیں دیتا ہے
دکھ پہنچاتا ہے تو ہم کو گورنمنٹ کے سپاہی ہی اس سے بچاتے ہیں تو سیاست کی وجہ سے ہمیشہ وہی قوم کامیاب ہوتی ہے جس کا جتھا ہو۔“
(برکات خلافت ص ٦١)
وطنی خیالات کا بھی اظہار ہو گیا اسلام کا درد و دکھ محض بہانہ ہے اصل چیز یہی ہے اور سنئے۔
”اگر ہم یہ تھوڑے سے آدمی بھی سیاست میں لگ جائیں تو اور کون ہوگا جو اسلام کی خدمت کرے گا ان لوگوں کو جانے دو جو سیاست میں پڑتے ہیں اور تم دین اسلام کی خدمت میں لگے رہو۔“
(برکات خلافت ص ٦٩)
”اسلام کی موجودہ ضروریات چاہتی ہیں کہ ہماری جماعت سیاسی معاملات سے ایسی الگ رہے کہ جس حد تک گورنمنٹ اپنی رعایا کو سیاسی معاملات میں دلچسپی رکھنے کی اجازت بھی دیتی ہے وہ سیاست میں اس قدر بھی دخل نہ دے۔“
(برکات خلافت ص ٧١)
حضرات ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اسلام کی خدمت کا رونا روتے ہوئے قادیانی خلیفہ (جس نے اپنے باپ کے اقوال بھی نقل کئے ہیں) نے کیونکہ جماعت کو سیاست میں کسی قسم کا دخل دینے سے منع کیا ہے اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیے اور یہ بات ذہن میں رکھئے کہ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ سیاست اچھی چیز ہے یا بُری اس میں دخل دینا تباہی و بربادی ہے یا فائدہ بخش بلکہ ہمارا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ یہ جماعت قطعاً قطعاً مذہبی جماعت نہیں اس گروہ کی بنیاد تجارتی اغراض پر ہے جن کے حصول کے لئے مذہب کو آڑ بنایا گیا ہے ان کی دورنگی اس امر کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔
جس کتاب سے یہ اقتباسات سب نقل کئے ہیں وہ ١٩١٤ء کی ہے اس وقت ضرورت تھی کہ اس قسم کا وعظ کر کے اپنے تقدس کا اظہار کیا جائے مگر اس کے چند ہی سال بعد کیا ہوتا ہے اس کا اندازہ واقعات سے فرمائیے۔
دنیا کا کوئی معاملہ ہو جاپان سے متعلق ہو یا چین سے امریکہ کا معاملہ ہو یا افریقہ کا ٩٢
افغانستان کا ہو یا ترکستان کا یہ گروہ اس میں دخل دینا ضروری سمجھتا ہے۔ ہمارا سوال صرف یہ ہے کہ کیا اب اسلام کو سپاہیوں کی ضرورت نہیں رہی کیا اسلام کی خدمت کا کام ختم ہو گیا آخر آج کونسے وجوہ ہیں جن کی بنا پر تم سیاسیات میں دخل دے رہے ہو کیا اس کا باعث صرف یہ نہیں کہ تم ہر جگہ تفرقہ انگیزی کے ذریعہ اپنا فرض سرانجام دے رہے ہو مثلاً افغانستان کا معاملہ لیجئے امان اللہ خاں سابق شاہ افغانستان کے خلاف اس کے ملک میں بغاوت ہوئی بغاوت کرانے میں قادیانیوں کا دخل تھا یا نہیں اسے رہنے دیجئے صرف یہ دیکھئے کہ آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں۔
جب شاہ کابل برسر اقتدار تھے
- ٢٠٦...... ”جس بات کا خطرہ تھا وہ ہو کر رہی یعنی کابل کے ملاں فتنہ و فساد پھیلانے
سے باز نہ آئے اور انہوں نے ایک حصہ ملک میں بدامنی و بغاوت کرا ہی دی ...... سمجھ میں نہیں آتا وہ لوگ جو دینی علوم کے ماہر اور مسلمانوں کے مذہبی رہنما ہونے کے مدعی بنتے ہیں وہ اپنی ملکی حکومت کے خلاف بغاوت پھیلانا کیونکر جائز قرار دے لیتے ہیں ...... ان کی یہ حرکت کسی بھی عقلمند آدمی کے نزدیک قابل معافی نہیں ہو سکتی اور حکومت کابل نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس میں کوئی انہیں قابل ہمدردی نہیں قرار دے سکتا۔“
(الفضل ج ١٦ نمبر ٣٦ ص ٣ کالم ١، ٢، ٣، ١١ دسمبر ١٩٢٨ء)
- ٢٠٧...... ہزمیجسٹی شاہ کابل کو اپنے ملک میں اصلاحات جاری کرنے پر سب سے
بڑی مشکلات اور رکاوٹیں ان لوگوں کی طرف سے پیش آرہی ہیں جو پیر و ملاں کہلاتے اور بلاوجہ و بلا استحقاق عوام کو اپنے پھندے میں پھنسائے ہوئے ہیں ...... خدا تعالیٰ شاہ کابل کو جھوٹے اور بناوٹی پیروں کے رسوخ کو پورے طور پر مٹانے کی توفیق دے ...... ہمیں نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوستان کے علماء کا وہ طبقہ جن کے دماغوں میں بوسیدہ خیالات بھرے ہوئے ہیں شاہ کابل کی اصلی تجاویز کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتا رہتا ہے۔
(الفضل ج ١٦ نمبر ٣٧ ص ٣، ٢٦ نومبر ١٩٢٨ء)
آپ نے امان اللہ خان کی تائید میں زور دار الفاظ سن لئے اب بچہ سقہ کی تعریف بھی سنئے جوں ہی اس گروہ نے دیکھا کہ بچہ سقہ غالب رہتا نظر آتا ہے تو یہ ارشاد ہوا:۔
جب باغی کامیاب ہوتے نظر آئے
- ٢٠٨...... ”سابق شاہ کابل امان اللہ خاں یورپ کی سیاحت سے کچھ ایسے متاثر
٩٣
ہوئے کہ انہوں نے نہ صرف خود یورپ کی ہر بات میں تقلید کرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھا بلکہ اپنی ملکہ کو بھی مغربی رنگ میں رنگ دیا ملکہ نے نقاب تو جہاز پر سوار ہوتے ہی اتار دیا تھا۔ لیکن یورپ پہنچ کر وہاں ایسے ایسے زنانہ فیشن اختیار کئے جو مغربی شرفاء کی خواتین میں سے بھی شاید ہی کوئی پسند کرتی ہوں آخر امان اللہ خاں جب سیاحت ختم کر کے اپنے ملک میں پہنچے تو مغربی تہذیب و تمدن سے اس درجہ مسحور ہو چکے تھے کہ انہوں نے اپنے ملک میں مغربی معاشرت جاری کرنے کے لئے جبر سے کام لینا شروع کر دیا ۔“
(الفضل ٢٥؍ جولائی ١٩٣٠ء)
یہی وہ مغربی تہذیب تھی جس کو چند روز پہلے آسمانی گڑت اصلی تجاویز قرار دے کر علماء کوکوس رہا تھا۔
- ٢٠٩........ ”ہمارے حضرت امام ایدہ اللہ تعالیٰ (موسیو بشیر) نے پہلے ہی (بطور پیش
گوئی) بتا دیا تھا کہ افغانستان کا اختیار کردہ راستہ ترقی کا نہیں بلکہ ترقی کے لئے اسلام کی ضرورت ہے۔“
(الفضل ٢٥؍ جولائی ١٩٢٨ء)
- ٢١٠........ ”اب جبکہ دست قدرت نے امان اللہ خان کو ہر لحاظ سے تہی دست کر دیا
مناسب یہی ہے کہ ان کا ذکر اگر عبرت کے طور پر کرنا پڑے تو انہی الفاظ میں کیا جائے جو ان کی حالت کے مطابق ہوں ورنہ ایک بچہ سقہ کے خوف سے بھاگ آنے والے کو اگر غازی اور شہریار غازی کہا جائے تو یہ اس کی توقیر نہیں ہوگی بلکہ اس کے ساتھ تمسخر ہوگا۔ لیکن سر زمین ہند جہاں لوگ بیٹھے بٹھائے غازی بن جاتے ہیں وہاں جنگ سے بھاگا ہوا کیوں غازی نہ کہلائے۔
غازی امان اللہ خان کا وجود جس قدر افغانستان کے لئے مفید سمجھا گیا تھا۔ خدا کی شان اتنا ہی نقصان رساں اور تباہی خیز ثابت ہوا ہے۔“
(الفضل ٥؍ جولائی ١٩٢٩ء)
ہر دو قسم کے اقوال آپ نے ملاحظہ فرمائے اب غور فرمائیے کہ اسلام کی خدمت کی اب ضرورت ختم ہو گئی تھی جو انہوں نے سیاست میں دخل دیا اور سنئے کانگرس کا زور ہوا تو خلیفہ قادیان اس حکومت کے خلاف جس کے بے شمار احسانات بقول خلیفہ قادیان مرزا کے خاندان پر ہیں یوں ارشاد فرماتے ہیں۔
”حضرت مرزا قادیانی نے وہ کام تو کر دیا ہے جو آنے والے مسیح کے لئے مقرر تھا اب آنے والے کے لئے کوئی اور باقی نہیں اور اس لئے کسی اور کے آنے کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی یہ بات بالکل عقل کے خلاف ہے کہ کسی کے لئے خدا تعالیٰ نے کوئی کام مقرر کیا ہو اور اسے دوسرا
٩٤
اگر کہا جائے عیسائیت میں بھی تنزل کے آثار شروع ہو چکے ہیں اور عیسائیوں کا غلبہ مٹ رہا ہے آج سے پچاس سال قبل کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ انگریز کبھی ہندوستان کو حقوق دیں گے لیکن اب وہ آہستہ آہستہ دے رہے ہیں۔ پھر ان کی تجارتی طاقت بھی ٹوٹ رہی ہے کوئی زمانہ تھا کہ انگریز کہتے تھے ہم یورپ کی دو بڑی سے بڑی طاقتوں سے دو گنا بحری بیڑا رکھیں گے۔ اس زمانہ میں حضرت مرزا قادیانی نے پیش گوئی فرمائی۔
و بعد ازاں آثار ضعف واختلال
اس کے کچھ عرصہ بعد ملکہ وکٹوریہ فوت ہوئیں تو اس سلطنت میں آثار ضعف شروع ہو گئے ہندوستان میں جو رو آج نظر آرہی ہے یہ دراصل جنگ ٹرانسوال کے زمانہ میں ہی شروع ہو گئی تھی اس وقت ہندوستانیوں نے خیال کیا کہ اگر یہ تیس لاکھ انسان انگریزوں کو تنگ کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں کر سکتے چنانچہ اسی وقت سے یہ کشمکش شروع ہوئی اور پھر روز بروز ضعف زیادہ ہی ہوتا چلا گیا اب عیسائیت کھڑی رہ نہیں سکتی۔ حضرت مرزا قادیانی نے مسیح کو مار دیا اور اس طرح اسلام کو عیسائیت کے غلبہ سے بچالیا بلکہ اناجیل سے وفات مسیح ثابت کر کے باقی دنیا کو بھی عیسائیت کے غلبہ سے محفوظ کر دیا ہے۔
(الفضل ج ١٧، ١٧ مارچ ١٩٣٠ء ص ١٤)
اور سنئے:
- ٢١٢...... ہندوستانی غیر محدود زمانہ تک غیر ملکی حکومت گوارا نہیں کر سکتا اب
ہندوستان خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔
(الفضل ٢٦، ٢٩ جون ١٩٣٠ء)
”سائمن کمیشن اس غرض کے لئے مقرر کیا گیا تھا کہ دیکھا جائے مزید اختیارات کس حد تک دیئے جاسکتے ہیں ادھر ہندوستان میں اس حد تک بیداری تعلیم آزادی کا احساس پیدا ہو چکا ہے اور دوسرے ممالک اس طرح آزاد ہو رہے ہیں کہ اب ہندوستانی خاموش نہیں بیٹھ سکتے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ دنیا کی آبادی کا ١/٥ حصہ غیر محدود اور غیر معین عرصہ تک ایک غیر ملکی حکومت کی اطاعت گوارا کر سکے اگر یہ مطالبہ منظور نہ کیا گیا تو آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ملک عقلمندی مصلحت اور دور اندیشی کے تمام قوانین توڑنے کے لئے کھڑا ہو جائیگا اور خواہ اسے خودکشی کہا جائے اور خواہ اس کا نام تباہی و بربادی رکھا جائے ملک اس کے لئے آمادہ ہو جائیگا۔“
(الفضل ٥ مئی ١٩٣٠ء)
٩٥
- ٢١٤....... ”میں نے پہلے ہی لکھا تھا کہ جس وقت سے ملک میں حکومت خود اختیاری
کا سوال پیدا ہوا ہے حکومت ہمیشہ زبردست کا ساتھ دینے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ کوئی خواہ کتنا بھی دیانت دار ہو اگر اس میں دیانتداری اور روحانیت نہیں تو وہ قومی مفاد کے مقابلہ میں دیانت کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتا جس کے اخلاق کیسے بھی ہوں وہ جہاں بھی قومی سوال پیدا ہوگا انہیں خیر باد کہہ دیگا اسی لئے میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ جوں جوں ہندوستان میں حکومت خوداختیاری کا سوال زور پکڑتا جائیگا انگریز زبردست کی طرف جھکتے جائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں زبردست کی حمایت کے بغیر ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔ آئرلینڈ میں دیکھ لو کیا ہوا جن لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر حکومت کا ساتھ دیا حکومت نے جب دیکھا کہ ملک میں مخالفت بڑھ گئی ہے تو اس نے ان جانبازوں کا ساتھ چھوڑ دیا اور ایسے ایسے قوانین پاس کر دیئے جنہیں ان بہادروں نے اپنی حق تلفی سمجھا وہ لوگ ان کے ہم مذہب ہم قوم اور وفادار تھے لیکن ان تعلقات کے ہوتے ہوئے جب زبردست کے مقابلہ میں ان کی پرواہ نہ کی گئی تو صرف وفاداروں کو جو نہ ان کے ہم مذہب ہیں اور نہ ہم قوم ساتھ چھوڑ دینا کونسی اچنبھے کی بات ہے۔“ (خطبہ میاں محمود)
(الفضل ج ١٧ نمبر ٣٠ ص ٦ ، ١١ اکتوبر ١٩٢٩ء)
مذکورہ بالا اقوال تو اس وقت کے ہیں جب کانگرس زوروں پر تھی مگر جونہی چند دن بعد کانگرس قادیانیوں کے خیال میں ناکام دکھائی دی تو خلیفہ قادیان ارشاد فرماتے ہیں۔
- ٢١٥....... ”ہندوستان کے سے غریب ملک میں یہ اور اسی قسم کی دوسری تحریکیں جو
لاکھوں آدمیوں کو قوت لایموت مہیا کرنے سے باز رکھ رہی ہیں جس قدر تباہی اور بدامنی پیدا کر سکتی ہیں وہ ظاہر ہے اور حالات جس حد تک نازک ہو چکے ہیں وہ خود کانگرسیوں سے بھی پوشیدہ نہیں لیکن باوجود اس کے وہ اصلاح حال کی طرف متوجہ ہوتے نظر نہیں آتے غرض وہ وقت آئیگا اور ضرور آئے گا جب کہ کانگرسیوں کو اپنی غلط روی کا احساس پورے طور پر ہوگا اور وہ اپنے کئے پر پچھتا نے کے لئے مجبور ہوں گے لیکن اگر سوائے نقصان کے اور کچھ نظر نہ آتا تو ہوشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ قدم روک لئے جائیں اور وہ روش اختیار کی جائے جس پر چلنے سے منزل مقصود پہنچنے کی توقع کی جاسکے۔“
(الفضل ص ٣ ، ٦ ؍ ستمبر ١٩٣٠ء)
اور سنئے کانگرس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے آپ ارشاد فرماتے ہیں۔
- ٢١٦....... ”پس میں جماعت کو پورے زور سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان تحریکات جو خلاف امن
٩٦
تحریکات کی خبر گیری کریں اور وقتاً فوقتاً مجھے اطلاعات بھیجتے رہیں (تاکہ یہی اطلاعات حکومت کو بھیج کر اپنا احسان جتایا جائے کہ دیکھو ہم سی آئی ڈی کا کام سرانجام دیتے ہیں)۔“
(الفضل ٧ جولائی ١٩٣٢ء)
آگے لکھتے ہیں کہ:
- ٢١٧...... ”میں نے ایک اسکیم میں تجویز کی ہے جس کے ماتحت پچیس سال تک
کے تمام نوجوانوں کو منظم کیا جائے گا لیکن علاوہ اس تنظیم کے ہماری جماعت کے ہر فرد کو حکومت کی اس معاملہ میں مدد کرنی چاہئے۔ اگر حکومت کی مدد کرو گے تو حکومت مضبوط ہوگی (مگر یہ بتاؤ کہ تمہارے مرزا کی پیش گوئی جو حکومت کی تباہی کے لئے کی گئی ہے کیونکر پوری ہوگی کیا یہ باتیں تم دل سے کہہ رہے ہو ۔ ) (خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٧ جولائی ١٩٣٢ء)
سوال یہ ہے کہ اب اپنی جماعت کے نوجوانوں کو حکومت کی امداد کے لئے تیار کرنا کیا معنی رکھتا ہے کیا ہندوستان مسلمان ہو گیا خاص قادیان کی کہو کہ وہاں ہندو سکھ عیسائی باقی نہیں رہے کیا اسلام کو آج سپاہیوں کی ضرورت نہیں رہی اسلام کا وہ درد جو ١٩١٤ء میں پیدا ہوا تھا کہاں گیا کیا اسلام کی خدمت کا کام ختم ہو چکا جو اس سے فارغ ہو کر خدا کو ملنے کی بجائے اب دنیا یعنی سیاست کے پیچھے پڑے ہو۔
ہمیں اس وقت اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ قادیانی فوج تیار ہو کر کیا کرے گی جو لوگ قادیان میں مذہب کو نہ بچا سکے وہ کیا کریں گے ۔ یہ صرف لفظی طور پر حکومت کے خوش کرنے کے لئے فوج کی تیاری کا اعلان کیا ہے سمجھا یہ کہ حکومت کو امداد کی ضرورت تو ہوگی نہیں لفظی ہمدردی میں کیا حرج ہے کیونکہ ہمارا مقصود تو اس وقت خود قادیانی خلیفہ کے اقوال سے ان کی دورنگی ظاہر کرنے سے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ کمپنی کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک تجارتی کمپنی ہے جس نے مذہب کی اوڑھنی اوڑھ رکھی ہے۔
قادیانی کمپنی کا موجودہ طرز عمل ملاحظہ فرمائیے کشمیر میں فتنہ انگیزی معاملات کشمیر میں دخل در معقولات کشمیر کمیٹی کا ڈھونگ مسلم لیگ کی صدارت ایک قادیانی کا گول میز کانفرنس میں جانے کے لئے انتہائی کوشش کر کے کونسلوں میں جانا۔ قادیانی ان معاملات میں کیوں منہمک ہیں یا مسلمانوں کے معاملات میں دخل دے کر قادیانیوں کا کیا حشر ہوتا ہے اس وقت اس چیز پر ہماری بحث نہیں ہمارا سوال تو صرف یہ ہے کہ کیا اسلام کی خدمت کا کام سرانجام پا چکا جو اب سیاسیات میں دخل دے رہے ہو اور تمہارا یہ اعلان کہاں گیا۔ ٩٧
”اگر ہم تھوڑے سے آدمی بھی سیاست میں لگ جائیں تو کون ہو گا جو اسلام کی خدمت کرے گا۔ اگر تمہیں خدا پیارا ہے تو سیاست کو چھوڑ دو۔“ پس یا تو مانو کہ اب تمہیں خدا پیارا نہیں یا اس بات کا اقرار کرو کہ بقول خود سیاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا تم دراصل ہو ہی سیاسی گروہ جس کا کوئی مذہب نہیں۔
دعوت مباہلہ
خلیفہ قادیانی خود کو خدا کا مقرب ظاہر کرتا ہوا پبلک کو اپنی مریدی کی دعوت دیتا رہتا ہے ۔ جس کی بناء پر ہر شخص کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کی لائف، اخلاق چال چلن کو پرکھے بدیں وجہ میں نے اور ان تمام اشخاص نے جن پر خلیفہ قادیان کے اندرونی حالات کا راز طشت از بام ہو گیا۔ خلیفہ مذکور کو ماہ اکتوبر ١٩٢٧ء میں چیلنج دیا کہ وہ اپنی ذات پر عائد ہونے والے الزامات کے خلاف میدان مباہلہ میں آئے ۔ ( مباہلہ نام ہے دو افراد یا جماعتوں کا ایک دوسرے کے خلاف یہ بددعا کرنا کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو ) اب بھی یہ چیلنج بدستور قائم ہے ( اسی چیز کی یادگار کے طور اس پاکٹ بک کا نام مباہلہ پاکٹ بک رکھا گیا ہے ) خلیفہ قادیان نے اس دعوت مباہلہ سے بدیں الفاظ انکار کر دیا۔
٢١٨...... ”مجھے کامل یقین ہے اور ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ ایسے امور کے متعلق مباہلہ کا مطالبہ کرنا یا ایسے مطالبہ کو منظور کرنا ہرگز درست نہیں بلکہ شریعت کی ہتک ہے۔ پس الفاظ قرآن کریم، فتویٰ رسول، عمل خلفائے رسول، اجماع امت کے بعد جو شخص ایک نیا طریق اختیار کرتا ہے اس کی نفسانیت اور شریعت کی بے حرمتی کی وجہ سے میں اس کا تابع نہیں ہو سکتا“۔ (مکتوب خلیفہ قادیان مندرجہ جواب مباہلہ نمبر ١ ص ٢) خلیفہ قادیان کے ارشاد گرامی کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کا فتوے سنئے اور خیال فرمائیے کہ نفسانیت اور شریعت کی بے حرمتی کا الزام کس پر عائد ہوتا ہے اور الفاظ قرآن کریم، فتویٰ رسول، اجماع امت سے خلیفہ قادیان زیادہ واقف ہے یا مرزا غلام احمد؟۔
٢١٩...... ”سو واضح رہے کہ صرف دو صورت میں مباہلہ جائز ہے۔ ١...... اوّل اس کافر کے ساتھ جو یہ دعویٰ رکھتا ہو جو مجھے یقیناً معلوم ہے کہ اسلام حق پر نہیں اور جو کچھ غیر اللہ کی نسبت خدائی کی صفتیں میں مانتا ہوں وہ یقینی امر ہے یہ تمام امر تحقیقات طلب ہے۔ ٢...... دوم اس ظالم کے ساتھ جو ایک بیجا تہمت کسی پر لگا کر اس کو ذلیل کرنا چاہتا ہے مثلاً ایک مستورہ (عورت) کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے کیونکہ بچشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے یا
٩٨
مثلاً ایک شخص کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شراب خوار ہے کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو شراب پیتے دیکھا ہے سو اس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں بلکہ ایک شخص اپنے یقین اور رویت پر بناء رکھ کر ایک مومن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے جیسے مولوی اسماعیل صاحب نے کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ میرے ایک دوست کی چشم دید بات ہے کہ مرزا غلام احمد یعنی یہ عاجز پوشیدہ طور پر آلات نجوم اپنے پاس رکھتا ہے اور انہی کے ذریعہ سے کچھ کچھ آئندہ کی خبریں معلوم کر کے لوگوں کو کہہ دیتا ہے کہ الہام ہوا ہے سو مولوی اسماعیل صاحب نے کسی اجتہادی مسئلہ میں اختلاف نہیں کیا تھا بلکہ اس عاجز کی دیانت اور صدق پر ایک تہمت لگائی تھی جس کی اپنے ایک دوست کی رویت پر بناء رکھی تھی لیکن اگر بناء صرف اجتہاد پر ہو اور اجتہادی طور پر کوئی شخص کسی مومن کو کافر کہے یا ملحد نام رکھے تو یہ کوئی تہمت نہیں۔ بلکہ جہاں تک اس کی سمجھ اور علم تھا اس کے موافق اس نے فتویٰ دیا ہے غرض مباہلہ صرف ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بناء رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“
(مکتوبات احمدیہ ج ٦ حصہ اول ص ١٠٩، ١١٠ حاشیہ، الحکم ٦ نمبر ١١ ص ٧، ٢٤/ مارچ ١٩٠٢ء)
مرزا غلام احمد نے ایک دوسری جگہ اسی عبارت کی ان الفاظ میں توضیح کی ہے اور اس جگہ استدلال بھی قرآن کریم کی آیت مباہلہ سے کیا ہے۔
- ٢٤٠...... ”اس کے جواب میں میاں عبدالحق صاحب اپنے دوسرے اشتہار میں
اس عاجز کو یہ لکھتے ہیں کہ اگر مباہلہ مسلمانوں سے بوجہ اختلافات جزویہ جائز نہیں تو پھر تم نے مولوی اسماعیل سے فتح اسلام میں کیوں مباہلہ کی درخواست کی سو انہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ درخواست کسی جزئی اختلاف کی بناء پر نہیں بلکہ اس افتراء کا جواب ہے جو انہوں نے عمداً کیا اور کہا کہ میرا ایک دوست جس کی بات پر مجھے بکلی اعتماد ہے۔ دو مہینے تک قادیان میں مرزا غلام احمد کے مکان پر رہ کر بچشم خود دیکھ آیا ہے کہ ان کے پاس آلات نجوم ہیں اور انہیں کے ذریعہ سے وہ آئندہ کی خبریں بتاتے ہیں اور ان کا نام الہام رکھ لیتے ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اس صورت کی جزئی اختلاف سے کیا تعلق ہے۔ بلکہ یہ تو اس قسم کی بات ہے جیسے کوئی کسی کی نسبت یہ کہے کہ میں نے اس کو بچشم خود زنا کرتے دیکھا ہے یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا ہے۔ اگر میں اس بے بنیاد اختراع کیلئے مباہلہ کی درخواست نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔“
(تبلیغ رسالت ج ٤ ص ٤٣، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٣)
اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
٩٩
خوار ہے کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو ہے کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف ومن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے جیسے یک دوست کی چشم دید بات ہے کہ مرزا سکتا ہے اور انہی کے ذریعہ سے کچھ کچھ وا ہے سو مولوی اسماعیل صاحب نے کسی ت اور صدق پر ایک تہمت لگائی تھی جس رف اجتہاد پر ہو اور اجتہادی طور پر کوئی ں۔ بلکہ جہاں تک اس کی سمجھ اور علم تھا لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع ۔“
(حاشیہ، الحکم ٦ نمبر ١١ ص ٧، ٢٤؍ مارچ ١٩٠٢ء)
کی ان الفاظ میں توثیق کی ہے اور اس
ق صاحب اپنے دوسرے اشتہار میں تلافات جزویہ جائز نہیں تو پھر تم نے ست کی سو انہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ خواب ہے جو انہوں نے عمداً کیا اور کہا دو مہینے تک قادیان میں مرزا غلام احمد نجوم ہیں اور انہیں کے ذریعہ سے وہ ۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اس صورت کی جیسے کوئی کسی کی نسبت یہ کہے کہ میں ہتے دیکھا ہے۔ اگر میں اس بے بنیاد
ج ٢ ص ٣٣، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢١٣)
فرمائے۔ (آمین)
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
خاتم النبیین
لا نبی بعدی
خود کاشتہ
پودا
عبدالکریم مباہلہ
بسم الله الرحمن الرحیم!
خود کاشتہ پودا
مولانا عبد الکریم مباہلہ
ختم نبوت اسلام کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ سردار دو عالم ﷺ کی بعثت مبارکہ سے قبل ہر قوم اور ہر علاقہ کے لئے علیحدہ علیحدہ انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ تا آنکہ اللہ عزوجل نے مخلوق کو ایک مرکز پر جمع کرنے کے لئے آخری کتاب اور آخری نبی کا ظہور فرمایا۔ کتاب وہ نازل فرمائی جس کے بعد تا قیامت کسی قانون کسی ہدایت کی ضرورت نہ رہے۔ نبی وہ مبعوث فرمایا۔ جس کا نور ہمیشہ انسانی قلوب کو منور کرتا رہے۔
خداوند کریم کی اس نعمت کی بدولت مذہب اسلام کو مرکزیت جیسی دولت نصیب ہوئی جو اور کہیں موجود نہیں۔ اسلام کی اس مرکزیت کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر کلمہ گو مسلمان خواہ دنیا کے کسی خطہ میں آباد ہو۔ ایک مرکز پر جمع ہے۔
دشمنان اسلام وقتاً فوقتاً اسلام کی اس مرکزیت کو توڑنے کی موہوم کوشش کرتے رہے۔ مگر اسلام جیسی پاک رحمت کو بھیجنے والے مولا نے ہمیشہ اسلام کی حفاظت فرمائی۔ اس زمانہ میں بھی اسلام کے شیرازہ کو بکھیرنے اور مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج اور کافر قرار دینے والا ایک گروہ پیدا ہوا ہے۔ جو دراصل مذہب کے پردہ میں ایک تجارتی کمپنی ہے۔ یہ گروہ بھی یہ موہوم امید رکھتا ہے کہ خدانخواستہ اسلام کی مرکزیت کو برباد کر دے اور مرزا غلام احمد قادیانی یا دوسرے قادیانی انبیاء کی نبوت کا پرچار کر کے مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیر دے۔
لاکھ لاکھ درود و سلام ہو۔ دنیا کے اس محسن اعظم پر جس نے تیرہ سو سال قبل ہی اس قسم کے فتنوں کی خبر دے دی تھی۔ تاکہ امت اس قسم کے دجالوں کا شکار نہ ہو۔
فی زمانہ حضور سرکار دو عالم ﷺ کی سیرت بیان کرنے حضور ﷺ کا یوم میلاد منانے کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ ہم حضور ﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور اس فتنہ کا انسداد کر کے خداوند کریم کی رضاء کے طالب ہوں۔ ہمیں تو تعجب ہے کہ قادیانی کس منہ سے
دنیا کے سامنے قادیانی نبوت کو پیش کر سکتے ہیں۔ جبکہ خود قادیانی نبوت کی تحریرات اس کے بطلان پر شاہد ہیں۔ اس سارے جھگڑے کے فیصلہ کے لئے صرف یہ دیکھنا کافی ہے کہ قادیانی مذہب کس کا تیار کردہ یا پیدا کردہ ہے اور اس پودا کا کاشتکار کون ہے؟۔ اس بات کا فیصلہ ہمارے قلم سے نہیں۔ بلکہ خود مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات سے کیجئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کا خاندان ہمیشہ حکومت برطانیہ کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتا رہا۔ اس وفاداری کا یقین دلانے کے لئے ذمہ دار حکام کو وقتاً فوقتاً چٹھیاں بھی لکھی جاتی رہیں۔ جن کے جواب میں حکام وقت نے جس قدر خطوط لکھے۔ وہ مرزا قادیانی نے اپنی مختلف کتابوں میں درج کئے ہیں۔ اس جگہ ہم بطور نمونہ صوبہ پنجاب کے ایک حاکم اعلیٰ مسٹر ولسن کا ایک خط درج ذیل کرتے ہیں۔
خدمات فراموش نہ ہوں گی، مناسب موقعوں پر غور ہوگا
"آپ بہر نہج تسلی رکھیں کہ سرکار انگریزی آپ کے حقوق اور آپ کی خاندانی خدمات کو ہرگز فراموش نہیں کرے گی اور مناسب موقعوں پر آپ کے حقوق اور خدمات پر غور اور توجہ کی جائے گی۔"
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٠)
مرزا قادیانی اور اس کا خاندان ہمیشہ اپنی خاندانی خدمات کی یاد دہانی میں مصروف رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور اس کے خاندان سے ایک سرکاری حاکم اعلیٰ کا وعدہ کیسے پورا ہوا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی ریاست علاقہ یا جاگیر بخشی گئی؟۔ آخر وعدہ پورا ہوا تو کیونکر؟۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی وفاداری بغیر ایفائے وعدہ قائم نہ رہ سکتی تھی۔ اس کی وفاداری اور اسلام دشمنی کا حال خود اس کی زبانی سنئے۔
راز کا مشورہ پولیٹکل خیر خواہی
"چونکہ قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں۔ جو درپردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنی محسن گورنمنٹ کی پولیٹکل خیر خواہی کی نیت سے اس مبارک
٢
لوگوں کے نام ضبط (محفوظ) کئے جائیں اور ہم امید ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں
(تبلیغ رسالت ج ٥ ص ١١، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
یوں قائم رہا۔ وعدہ کا ایفاء کیونکر ہوا؟۔ اس کا فیصلہ
ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس برس کے تجربہ ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سرکار انگریزی کے یہ پودا کی نسبت نہایت حزم واحتیاط اور تحقیق اور توجہ ئے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور ب خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٧ ص ١٩، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١)
یہ کام لیا ہے۔ ناظرین ان حوالہ جات سے فیصلہ کر یہ الہی سلسلہ ہے۔ یا دنیاوی خودکاشتہ پودا؟۔ سرکار جاگیر یہی نبوت تو نہیں؟۔ ں کہ مرزا قادیانی اور اس کے گروہ کی حکومت سے وہ اپنی محسن حکومت کو بھی آنکھیں دکھا رہا ہے اور نے والا ہے۔ کیونکہ اس ٹریکٹ میں ہمارا مقصود اشتہ پودا ثابت کرنا ہے۔ اہل انصاف کے لئے یہ کے لئے کافی ہیں۔ ٣
خاتم النبیین لا نبی بعدی
محمد است روضہ نشین خلوت صومعہ سر کن تماشا بود
حقیقت
مرزائیت
عبدالکریم مباہلہ
بسم الله الرحمن الرحیم!
حقیقت مرزائیت
مولانا عبدالکریم مباہلہ
عام فہم لٹریچر
دوستوں کے مشورہ سے یہ ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تردید مرزائیت کے لئے عام فہم لٹریچر درکار ہے۔ جس میں کسی علمی بحث کی الجھن نہ ہو، تاکہ نو تعلیم یافتہ اور معمولی پڑھے لکھے دوست بھی ہماری کتب سے کماحقہ فائدہ اٹھاسکیں۔
ہمارے زمانہ میں مذہبی واقفیت بہت کم ہے۔ اسی بل بوتے پر بعض اشخاص کو دنیا کی اصلاح کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی جرأت پیدا ہو جاتی ہے۔ اندریں حالات ضروری ہے کہ اس زمانہ کے خطرناک فتنہ کے حالات خود ان کے لٹریچر سے پبلک تک پہنچائے جائیں۔
میری دلی دعا ہے اور برادران اسلام سے بھی دعا کی درخواست ہے کہ اللہ کریم اس کتاب کو مفید ثابت فرمائے۔ اس کتاب کا خود مطالعہ فرمائیے اور دوسروں تک پہنچائیے۔ اللہ کریم اس کا اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔ (مصنف)
تمہید
برادران اسلام سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ کچھ عرصہ سے ہمارے صوبہ پنجاب میں ایک گروہ پیدا ہوا ہے جو مذہبی رنگ میں رنگین ہو کر پبلک کو اپنے بلند آہنگ دعاوی سے مرعوب کرتا ہوا اپنی مریدی کی دعوت دے رہا ہے۔ جس کو عرف عام میں ”قادیانی“ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
اسلام میں یہ کوئی نیا فتنہ نہیں بلکہ تاریخ اسلام اس امر پر شاہد ہے کہ اس قسم کے فتنے وقتاً فوقتاً پیدا ہوتے رہے۔ مگر ہمیشہ ہی اسلام تمام فتنوں پر غالب رہا۔ زمانہ مذہبی آزادی کا ہے قوانین مروجہ چوری، ڈاکہ، قتل وغیرہ جرائم پر تو گرفت کرتے ہیں۔ مگر ایسا کوئی قانون نہیں جس کی پناہ لے کر اس قسم کے مدعیان نبوت سے پبلک اپنی اخروی دولت (ایمان) کے ساتھ ساتھ اپنے گاڑھے پسینہ کی کمائی کو بھی محفوظ رکھ سکے۔
ایک پیسہ کی شیشی چرانے والا مجرم عدالت سے سزا پاسکتا ہے ایک حقیر چیز کی چوری پر پولیس مجرم کا چالان کرسکتی ہے مگر اس چیز کی کھلی اجازت ہے کہ کوئی شخص ”مذہبی لباس“ پہن کر نہ
صرف پبلک کے متاع ایمان کو چھین لے بلکہ مخلوق خدا کی دولت بھی سمیٹ لے۔
ایک تانگہ ڈرائیور موٹر ڈرائیور کے لئے لائسنس حاصل کرنا ضروری ہے اور حکومت کا فرض ہے کہ ڈرائیوروں پر اپنا کنٹرول رکھے۔ کیونکہ اس طرف سے غفلت ممکن ہے کہ پبلک کے نقصان کا باعث ہو، مبادا کوئی اناڑی موٹر چلاتا ہوا کسی غریب کی جان لے لے۔ سنکھیا اور تمام قسموں کی زہروں کا لائسنس ضروری ہے تا کہ ان زہریلی اشیاء کا استعمال غیر محل پر نہ ہو اور کوئی سادہ لوح غلطی سے یا کوئی مغلوب الغضب اپنے جوش غضب میں اپنی خودکشی کا سامان بہم نہ پہنچا لے۔ رعایا کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے اور پولیس کے چالانوں پر قانونی کارروائی کرنے کا اہم فرض جن افراد کے سپرد کیا جاتا ہے ان کے لئے ایک ”امتحان“ مقرر ہے جس کا پاس کرنا ضروری ہے۔ حکومت اس معاملہ میں اس قدر محتاط ہے کہ سخت سزاؤں کا اختیار ہر کس و ناکس کو نہیں دیتی بلکہ اس کے لئے ”خاص لیاقت“ کا معیار پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ فی زمانہ آپریشن ایک نازک کام ہے بعض آپریشن تو نہایت خطرناک ہوتے ہیں گویا ایک مریض کی زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے۔ حکومت کا قانون یقیناً اس شخص پر گرفت کرتا ہے جو اس کام سے قطعی ناواقف ہو اور کسی مریض کی موت کا باعث بن جائے۔ میڈیکل سکولوں میں طلباء کو علاوہ تعلیم کے ٹریننگ دی جاتی ہے۔ لائق ڈاکٹروں کی موجودگی میں وہ آپریشن کرتے ہیں اور ایک مجوزہ کورس کے ختم کرنے پر ان کو آپریشن کی اجازت دی جاتی ہے۔
وکلاء کے لئے بھی ایک امتحان مقرر ہے جس میں کامیاب ہونے کے بعد وکالت کا لائسنس دیا جاتا ہے تا کہ ہر شخص عدالت کا وقت ضائع نہ کرے۔ غرضیکہ حکومت کے ہر شعبہ میں رعایا کی جان و مال کی حفاظت کے لئے ایک قانون موجود ہے جس پر نظام حکومت قائم ہے البتہ اگر لائسنس نہیں اگر کوئی رکاوٹ نہیں اگر کوئی قانون نہیں تو اس شخص کے لئے نہیں جو ”مذہب کے پردہ میں تجارت“ کرنا چاہے ہر شخص کے لئے آزادی ہے کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرے، الہام کا دعویٰ کرے، خدا سے ملاقات کے قصے بیان کرے، تمام مخالفین کی ہلاکت اور موت کی پیشگوئیاں کرے، طاعون کے لئے دن رات دعائیں کرے، خلافت کا دعویٰ کرتا ہوا قاتل مہیا کرے، ان کو بہشتی مقبرہ میں جگہ دے، مخالفین کے مکانات مسمار کرے، تمام دنیا کو للکارے۔ اشتعال انگیزی دشنام دہی غرضیکہ ہر قسم کی ایذارسانی اور ملک میں بدامنی پھیلانا اس کا روزمرہ کا شغل ہو۔ تمام دنیا کی بادشاہت کے وعدے دلا دلا کر مریدوں کی جیبوں کو خالی کر دے۔ غیر ممالک میں تبلیغ کے پردہ میں مریدوں کے علاوہ مسلمانوں کے مال و دولت سے اپنے خزانہ کو بھرنے کی فکر اسے دامنگیر
٢
ہو۔ مریدوں کو حکم دے کہ ایک وقت کا کھانا نہ کھاؤ بجائے گوشت کے دال کھاؤ اعلیٰ لباس مت پہنو لیکن اس کے اپنے تنعم اور اسراف کی نظیریں بھی پیش کرنے سے قاصر ہو۔
اس قسم کے فتنوں کے مقابلہ میں اگر رعایا اور پبلک کے لئے کوئی حق ہے تو صرف یہ کہ ان کی تردید کر کے مخلوق خدا کو ان کے دام تزویر سے بچایا جائے۔
یہ امر واقعہ ہے کہ ”قادیانی فتنہ“ نے تدریجاً اپنے عقائد کی اشاعت کی ہے۔ ابتداء حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر زندہ تسلیم کیا گیا اور مدعی نبوت کو کافر و کاذب بتایا گیا۔ چند سال کے بعد اجراء نبوت کے دلائل پیش ہونے لگے۔ اور نبوت کا دعویٰ ہو گیا لیکن احتیاطاً کہا یہ گیا کہ غیر تشریعی نبوت جاری ہے مگر ابھی زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ شریعت کا یہ مفہوم بیان ہونے لگا کہ شریعت نام ہے چند اوامر و نواہی کا جو قادیانی نبی کے الہامات میں موجود ہیں۔ ابتداً کہا گیا کہ یہ گروہ حکومت کا سچا وفادار ہے۔ سیاسیات سے اسے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس گروہ کے نزدیک سیاست ایک زہر ہے مگر ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اب یہ گروہ خالص سیاسی گروہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ غرضیکہ ٥٠ سال کے اندر اندر اس فرقہ نے گرگٹ کی طرح مختلف رنگ تبدیل کئے ہیں۔ چونکہ یہ گروہ اپنی کامیابی مذہبی لباس میں سمجھتا ہے اور اس کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اس لئے اس پراپیگنڈا پر انتہائی زور دیا جاتا ہے کہ یہ ”آسمانی سلسلہ“ ہے۔ جو آسمانی بادشاہت لے کر آیا ہے اس کا مقصد روحانیت اور تقدس، تقویٰ اور طہارت پیدا کرنا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ واقعات کی روشنی میں اس حقیقت کا انکشاف کیا جائے کہ یہ گروہ ایک تجارتی کمپنی ہے۔ جس نے مذہب کی اوڑھنی اوڑھ کر تقدس آمیز تحریر و تقریر کو اپنی دکان کا سرمایہ بنا رکھا ہے۔
چونکہ نئے زمانہ کے نو تعلیم یافتہ اصحاب دینی تعلیم کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔ اور ان کو اپنے مذہب سے واقفیت نہیں ہوتی اس لئے قادیانی کمپنی نے اپنا زیادہ تر رخ اس طبقہ کی طرف رکھا ہے۔ اور مختلف طریقوں سے اپنے دام تزویر میں لانے کے لئے کوشاں ہے۔
پہلا قدم : ان کا پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ اس طبقہ میں تبلیغ کرتے وقت یہ گروہ اپنی رونی صورت بنا کر اتحاد، اتحاد کی رٹ لگانی شروع کر دیتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی حالت پر آنسو بہائیگا۔ جونہی اسے معلوم ہوگا کہ میرا حربہ کارگر ہورہا ہے تو فوراً اپنے درد و اضطراب کا حال یوں بیان کریگا کہ گویا اسے اسلام کی مصیبت میں رات کی نیند بھی حرام ہوچکی ہے قادیانیوں کا یہ وعظ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک ناواقف حال پر تو یہی اثر پڑتا ہے کہ یہی سچے مسلمان ہیں جو دین کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہیں۔
٣
٢ بجائے گوشت کے دال کھاؤ اعلیٰ لباس مت پہنو پیش کرنے سے قاصر ہو۔ لایا اور پبلک کے لئے کوئی حق ہے تو صرف یہ کہ پہچانا جائے۔
۔ ابتداً اپنے عقائد کی اشاعت کی ہے۔ ابتداء رمدعی نبوت کو کافر و کاذب بتایا گیا۔ چند سال نبوت کا دعویٰ ہو گیا لیکن احتیاطاً کہا یہ گیا کہ را تھا کہ شریعت کا یہ مفہوم بیان ہونے لگا کہ ء الہامات میں موجود ہیں۔ ابتداً کہا گیا کہ یہ سے کوئی تعلق ہے بلکہ اس گروہ کے نزدیک کہ اب یہ گروہ خالص سیاسی گروہ بنتا دکھائی رنگ کی طرح مختلف رنگ تبدیل کئے ہیں۔ اور اس کو برقرار رکھنا چاہتا ہے اس لئے اس ہے ۔ جو آسمانی بادشاہت لے کر آیا ہے اس رنا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ واقعات کی ایک تجارتی کمپنی ہے۔ جس نے مذہب کی یہ بنا رکھا ہے۔
کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔ اور ان کو مپنی نے اپنا زیادہ تر رخ اس طبقہ کی طرف مانے کے لئے کوشاں ہے۔
اس طبقہ میں تبلیغ کرتے وقت یہ گروہ اپنی دیتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی حالت پر دیتا ہے تو فوراً اپنے درد و اضطراب کا حال کی نیند بھی حرام ہو چکی ہے قادیانیوں کا یہ ذہبی اثر پڑتا ہے کہ یہی سچے مسلمان ہیں
دوسرا قدم: اس قدر اثر ڈالنے کے بعد دوسرا قدم یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی حالت نہایت خستہ ہو رہی ہے۔ ہر فرقہ دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگا رہا ہے اور اس طریق سے افتراق و تشتت پیدا کر کے اسلام کو کمزور کیا جاتا ہے یہ تو وقت ہے کہ تمام قوتیں جمع کر کے کفر کا مقابلہ کیا جائے خدا ان مولویوں کو سمجھے جنہوں نے باہمی تکفیر بازی سے اسلام کو تباہ کر دیا ہے۔
تیسرا قدم: یہ ہوگا کہ عیسائیوں اور آریوں کے خلاف مرزا غلام احمد کا شائع کردہ لٹریچر پیش کر کے اپنی اسلام دوستی کا ثبوت بہم پہنچایا جائے گا۔
چوتھا قدم: یہ ہوگا کہ مرزا کے تمام دعاویٰ کو نہایت نرم لباس میں ایک ناواقف کے سامنے پیش کیا جائے گا تا کہ وہ بدک نہ جائے۔
اسلام دوستی کا شکار
وہ بیچارا اس چیز میں کچھ حرج نہیں سمجھتا کہ اسلام کے ایک سچے خادم کے نرم دعاویٰ پر مہر تصدیق ثبت کر دے۔ کیونکہ اس سے کہا یہ جاتا ہے کہ مرزا جیسے ہزاروں اشخاص اسلام میں پیدا ہو چکے ہیں جن کو اپنے اپنے وقت کا مجدد کہا جاسکتا ہے۔ وہ شکار خیال کرتا ہے کہ مرزا کا کوئی دعویٰ انوکھا نہیں یہ بھی گذشتہ اولیاء کی طرح ایک ولی ہے۔
پانچواں قدم: علماء کرام اور مسلمانوں کے خلاف پوری طرح نفرت بٹھانے کے بعد یہ ہوتا ہے کہ نبوت، مسیحیت۔ مہدویت کے دعاویٰ کو بھی سچائی اور مختلف تاویلوں کے ساتھ ایسے نرم طریق سے بیان کیا جاتا ہے کہ نیا شکار اس پر بھی چنداں اظہار تعجب نہیں کرتا۔
چھٹا قدم: بیعت کا ہوتا ہے اور اس چیز کو اس رنگ میں پیش کیا جاتا ہے کہ یہ بیعت ایک عہد ہے جو خدمت اسلام کے لئے کیا جاتا ہے۔ خدا کی مدد ”جماعت“ کے ساتھ ہوتی ہے وہ غریب بیعت میں بھی کچھ حرج نہیں سمجھتا۔ اور چند ہی دن میں اس کو اس چیز کے لئے بھی تیار کر لیا جاتا ہے۔
ساتواں قدم: جونہی قادیانی گزٹ میں اس غریب کا اعلان شائع ہوتا ہے اس کے شہر کے وہ تمام افراد جو مرزائیت کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں قادیانیت کی مخالفت کرتے ہیں کوئی ہمدردی سے کوئی طبعی جذبہ سے قادیانی اپنے شکار کو یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام کی جماعتوں کے لئے مخالفت کے سمندر کو عبور کرنا مقدر ہے۔ غرضیکہ اس کو مسلمانوں سے اتنی نفرت دلائی جاتی ہے کہ وہ پختہ قادیانی بن جاتا ہے۔
آٹھواں قدم: جب اس کے اندر ضد پیدا ہو جاتی ہے تو اس کو قادیانی دلائل
م
سکھائے جاتے ہیں۔ اب وہ نیا شکار خود کو ایک نبی کا روحانی فرزند سمجھتا ہوا ہر ایک سے جھگڑا کرتا نظر آتا ہے۔
نواں قدم: جھگڑا کرتے کرتے اس کی طبیعت میں ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر کبھی اس کو مرزائیت میں کچھ خامیاں نظر بھی آتی ہیں تو اس کی تاویل سوچتا ہے ادھر قادیانی اس کو روحانیت کا سبق دیتے ہوئے اس کو اس وہم میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ وہ عنقریب ملہم بن جائے گا نیز اس کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے قادیانی گزٹ میں اس کی تعریف کے پل باندھ دیئے جاتے ہیں اور وہ غریب اسلام دوستی کے عقیدہ میں پھنسنے والا ہمیشہ کے لئے قادیانیوں کے ہاتھ بک جاتا ہے۔
دسواں قدم: اس عرصہ میں اس کی طبیعت میں کافی ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ حسن اتفاق سے کبھی اس کے رشتہ داروں میں کسی کی وفات بھی ہو جاتی ہے بس قادیانی اسے اس وقت بتائیں گے کہ ان کافر مسلمانوں کا جنازہ حرام ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا جبکہ اس کے تمام رشتے منقطع ہو جائیں گے اور وہ اپنے باپ بیٹوں کو بھی (اگر وہ مسلمان ہیں) دائرہ اسلام سے خارج کافر گردانے گا۔ اگر اس کی طبیعت میں کسی وقت کچھ پشیمانی محسوس بھی ہو تو وہ صرف اس شرم سے خاموش رہے گا کہ میں پڑھا لکھا شخص مرزائیت کا شکار ہوا۔ اب میں دوبارہ توبہ کا اعلان کروں تو بے علم طبقہ مجھ پر ہنسی اڑائیگا بہتر ہے جہاں ہوں وہیں رہوں غرضیکہ وہ بالآخر اس روحانی جماعت کا ممبر بنے رہنے میں ہی سعادت دارین سمجھتا ہے۔
اس کتاب کی ضرورت
اس قسم کا شکار ہونے والے اصحاب میں سے بعض خدا ترس اپنی غلطی کا اعتراف کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے بلکہ وہ توبہ کو ہی اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ایسے دوستوں کے تائب ہونے پر ہمیں بار ہا ان بیماریوں کا علم ہوا ہے جن کا شکار ہو کر نو تعلیم یافتہ طبقہ قادیانیت کا شکار ہو جاتا ہے پس میرے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ میں قادیانی فتنہ کے ہتھکنڈوں سے پبلک کو آگاہ کروں اور بتاؤں کہ اسلام اور مرزائیت دو متضاد چیزیں ہیں اور کہ تکفیر بازی کا الزام مسلمانوں پر نہیں بلکہ خود قادیانی جماعت اس کی بانی مبانی ہے اور یہ بھی بتاؤں کہ یہ تجارتی کمپنی اسلام کی خدمت نہیں بلکہ ایک نئے مذہب کی بنیاد کھڑی کر کے ایک جتھہ پیدا کر رہی ہے اور بادشاہت کے خواب دیکھتی ہوئی۔ ہندو، مسلمان، عیسائیوں کے لئے وبال جان بن کر ہر قوم خصوصاً مسلمانوں کو کمزور کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
٥
بارگاہ رب العزت میں میری یہ دعا ہے کہ وہ ذات پاک میری اس ناچیز تصنیف کو جہاں مسلمانوں کے لئے مفید بنائے وہاں قادیانیت کا شکار ہو جانے والے بھائیوں کی رہبری کا سامان پیدا کرے کہ ہدایت دینا اس ذات قدوس کے قبضہ میں ہے۔
اسلام کا ادنیٰ خادم! عبدالکریم مباہلہ
قادیانی حکمت عملی کے نمونے اور انکے تبلیغی طریقے
یہ حقیقت ہے کہ قادیانی لٹریچر کا کما حقہ مطالعہ کرنے والا کبھی قادیانیت کا شکار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس لٹریچر میں تردید قادیانیت کے لئے کافی و وافی مواد موجود ہے اور کوئی عقلمند انسان ان تحریروں میں صریح اختلاف و تضاد دیکھنے کے بعد قادیانی مذہب قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا۔ ہم تمہیداً یہ ذکر کر چکے ہیں کہ قادیانی کمپنی نو تعلیم یافتہ طبقہ کو عموماً اپنا شکار بنانے میں کوشاں رہتی ہے جس سے مقصود عوام الناس پر یہ اثر ڈالنا ہوتا ہے کہ تعلیم یافتہ اشخاص اگر قادیانیت کو قبول کرتے ہیں تو قادیانی ازم میں ضرور کچھ سچائی ہوگی چنانچہ ناظرین نے بار ہا قادیانیوں کو یہ دلیل پیش کرتے دیکھا ہوگا کہ اگر قادیانیت ایک باطل چیز ہے تو کیا جن بی اے اور ایم اے گریجویٹوں نے قادیانیت کو قبول کیا ہے وہ تمام کے تمام بے وقوف ہیں؟ نہیں نہیں وہ نہایت روشن دماغ اور اعلیٰ ڈگری یافتہ ہیں۔ ان کا ”قادیانی“ ہو جانا اس امر کی زبردست دلیل ہے کہ یہ مذہب سچا ہے۔
اس دلیل کی حقیقت
قادیانیوں کی اس دلیل کی مثال اس اشتہاری حکیم کی ہے جو اپنے لمبے چوڑے اشتہارات میں بی اے اور ایم اے یا عہدیداراں کے سرٹیفکیٹ پیش کرکے اپنی دوائی کی شہرت چاہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میری دوائی مفید نہیں مگر وہ پروپیگنڈا کے زور سے اس کے زود اثر ہونے کا یقین دلاتا ہے سرٹیفکیٹ اس کو کیوں میسر آجاتے ہیں۔ سنئے ! مریض کی حالت ایک مجنون کی ہوتی ہے۔ وہ ہر حکیم ڈاکٹر کے دروازہ پر سرگردان پھرتا ہے چند دن کسی کا علاج کیا پھر دوسری جگہ چند دن بعد تیسری جگہ غرضیکہ ہر روز وہ دوائی تبدیل کرتا ہے اتفاقاً اس کی نظر اشتہار پر پڑ جاتی ہے وہ دوائی کا وی۔ پی طلب کرتا ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گذشتہ دوائی اپنا اثر کر کے مرض کو دور کر چکی ہوتی ہے اور وہ مریض اشتہاری دوا کو استعمال کرنے کے بعد صحت کو محسوس کرتا ہوا یہی یقین کرتا ہے کہ اشتہاری دوا نے ہی اثر کیا ہے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مرض اپنی مدت
پوری کر چکی ہوتی ہے لیکن مریض یہی سمجھتا ہے کہ اشتہاری دوا نے فوراً اثر دکھایا ہے۔ وہ اس خوشی میں ایک سرٹیفکیٹ ارسال کر دیتا ہے اور اشتہاری حکیم صاحب ایک دن میں ”مرض غائب“ کا عنوان دے کر اشتہار شائع کر دیتے ہیں۔
بعینہ یہی حال بعض تعلیم یافتہ اصحاب کا ہوتا ہے۔ ان کی نیک نیتی حق جوئی میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا مگر اسلام کی خدمت کی سچی تڑپ کے راستہ میں ایک غلط طریق پر گامزن ہو جاتے ہیں اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ ٹھوکر کھانے والا انسان شاذ و نادر ہی اپنی غلطی کو محسوس کرنے کی توفیق پایا کرتا ہے۔
غلطی کی ابتداء صرف اس امر سے ہوتی ہے کہ نو تعلیم یافتہ دوست یہ نہیں سوچتے کہ وہ مذہبی تحقیقات میں مذہبی معلومات کے یقیناً محتاج ہیں۔ اگر انہیں کالج کا پروفیسر بننے یا کوئی اور عہدہ حاصل کرنے کے لئے اپنی عمر کا بیشتر حصہ صرف کرنا پڑتا ہے تو کیا مذہب ہی وہ چیز ہے جس پر چند منٹوں میں عبور کیا جاسکے۔
تعلیم یافتہ اصحاب کی کالج لائف نے اس قدر فرصت نہیں دی ہوتی کہ وہ مذہبی معلومات حاصل کریں مگر چونکہ فطرتاً اسلام کی خدمت کا جذبہ ہوتا ہے اس لئے وہ خواہش یہ رکھتے ہیں کہ چند دن کے مطالعہ سے ہی وہ فیصلہ کرسکیں کہ انہیں کیا راہ اختیار کرنی چاہئے۔
علماء کرام کی درویشانہ زندگی
مذہبی معلومات کا ایک ذریعہ علماء کرام کی مجالس میں شرکت ہو سکتا ہے۔ مگر ہمارے تعلیم یافتہ دوست اس سے بھی محروم رہتے ہیں۔ کیونکہ ان کی خواہش تو یہ ہے کہ جس طرح انہوں نے لباس۔ رہائش۔ تعلیم میں ترقی کی ہے ویسے ہی علماء کرام کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں، ہیٹ پہنیں، انگریزی تہذیب سیکھیں، انگریزی میں گفتگو کرسکیں۔ ان کے دفاتر ہوں جو میز کرسیوں سے سجے ہوئے ہوں۔ ہمارے دوستوں کو یہ بھول گیا ہے کہ اسلام اسی قسم کے درویشوں نے ہی ہم تک پہنچایا اور یہ ضروری نہیں کہ وہ بھی نئی تہذیب کی ہی تقلید کریں اور ایک وقت آنے والا ہے کہ خود ہمارے نو تعلیم یافتہ دوست سادگی میں ہی راحت سمجھیں گے ہمیں یہ بھی کہنے کا حق حاصل ہے کہ اگر ہمارے نو تعلیم یافتہ دوستوں کے نزدیک علماء کی یہ طرز دقیانوسی ہے اور انہیں یہ پسند نہیں تو کیا اسلام نام ہے ان علماء کا؟ اسلام تو نام ہے اس دین کا جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس دنیا میں لائے جو ہمارے پاس قرآن پاک کی شکل میں محفوظ ہے جس کا یہ عظیم الشان معجزہ رہتی دنیا تک عقل مندوں کو مشعل ہدایت کا کام دے گا کہ اس کے ایک ایک حرف زیر و
٧
زبر کی خداوند قدوس نے حفاظت کی ہے کیونکہ یہ کامل واکمل کتاب آخری کتاب اور آخری ہدایت تھی۔ اگر ہمارے دلوں میں اسلام کی خدمت کی سچی تڑپ ہے تو اس کے یہ معنی تو نہیں کہ ادھر ادھر بھٹکتے پھریں اور کسی کے جال میں پھنس جائیں بلکہ ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم خود اسلام کی خدمت کریں اور قرآن پاک کے کامل واکمل ہونے پر دلی یقین رکھتے ہوئے اس کو اپنی ہدایت کے لئے کافی سمجھیں۔ میں عرض یہ کر رہا تھا کہ جس طرح ایک مریض شفایاب تو قدرت کے ہاتھوں ہوتا ہے مگر غلطی سے سمجھتا یہ ہے کہ اشتہاری حکیم کی زود اثر دوائی نے صحت بخشی ہے اسی طرح ایک ناواقف حال مرزائیت کا شکار ہو نیوالے کے دل میں اسلام کی خدمت کا سچا جذبہ تو فطرتی ہوتا ہے مگر وہ سمجھتا یہ ہے کہ قادیانی مذہب نے اس کے دل میں یہ جذبہ پیدا کیا ہے آخر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی اسلامی خدمت صرف یہ رہ جاتی ہے کہ وہ اپنی جان و مال پیر پرستی اور انسان پرستی کی نذر کر دے۔ اور آہستہ آہستہ حقیقی اسلام کی جگہ اسلام سے متصادم مذہب کا پیرو ہو جاتا ہے۔ مزید براں دیکھنا یہ ہے کہ ایک گریجویٹ کا فتوی مذہبی امور میں کیونکر اثر انداز اور قطعی ہو سکتا ہے کیا ہندو اور عیسائی اقوام میں گریجویٹ موجود نہیں؟۔ اگر وہ گریجویٹ اعلی ڈگری یافتہ نئی روشنی سے منور ہوتے ہوئے ہندو یا عیسائی رہتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہونے چاہئیں کہ ہندو اور عیسائی بمقابلہ اسلام سچے ہیں۔ کیونکہ فیصلہ جو اب ہم نے نئی روشنی کے اختیار میں سمجھ لیا۔
یہاں تک تو ہم نے اس معاملہ میں اصولی رنگ میں بحث کی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی قطعا غلط ہے کہ گریجویٹ قادیانیت کو بکثرت قبول کر رہے ہیں۔ ہاں یہ درست ہے کہ قادیانی پروپیگنڈا کے زور سے یہ اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا ہزاروں نوجوان قادیانیت کو قبول کر رہے ہیں۔ جس طرح وہ اشتہاری حکیم ایک بی اے کے سرٹیفکیٹ کو تمام دنیا کے اخباروں میں شائع کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کو ہزاروں گریجویٹوں کے سرٹیفکیٹ موصول ہو چکے ہیں بعینہ اسی طرح قادیانی کسی ایک آدھ کے قادیانیت کا شکار ہو جانے پر آسمان کو سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے (معاذ اللہ) کہ اس قسم کے لوگوں کی تعداد انگلیوں پر شمار کی جا سکتی ہے۔ جو غلطی سے قادیانیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ اور بفضل خدا تعالی ہمارا گریجوایٹ طبقہ بھی مذہبی ناواقفیت کے باوجود قادیانی کمپنی کے جال سے محفوظ رہا ہے اور یہ کرشمہ ہے۔ سرور کونین فخر موجودات سید الاولین والآخرین کی روحانی طاقت کا جو آج تک بندگان خدا کی رہبری کر رہی ہے اور رہتی دنیا تک کرے گی۔ اس میں ہماری کسی ذاتی لیاقت کو دخل نہیں۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ گزشتہ ١٣٠٠ سال میں مختلف فتنوں نے اسلام کے نونہالوں کو اپنے دام تزویر میں لانے کے لئے
٨
قسم قسم کے جال پھینکے اور ضلالت و گمراہی کے گڑھے کھودے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ہماری حقیقی رہنما وہ ذات پاک ہے جس نے ہماری ہدایت کے لئے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم النبیین کر کے بھیجا جن کی قوت قدسی سے ہر سچا طالب حق مستفید ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ جس سورج کی کرنوں سے ہم روشنی پا رہے ہیں اور پائیں گے۔
ختم نبوت
یہ وہ اسلام کا مایہ ناز مسئلہ ہے جس پر اسلام اور مسلمانوں کا انحصار ہے۔ ابتداء آفرینش سے ہر قوم اور ہر زمانہ کے لئے علیحدہ علیحدہ انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ مختلف اوقات میں مختلف صحائف نازل ہوئے۔ تا آنکہ خالق حقیقی نے دنیا کو ایک مرکز پر جمع کرنے کیلئے حضور خاتم النبیین کو مبعوث فرمایا اور کتاب وہ نازل کی جو رہتی دنیا تک کامل و اکمل قرار دی۔ ایسی کامل کہ اس کے بعد تا قیامت کسی کتاب کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہ مالک حقیقی کی اپنی مخلوق پر انتہائی شفقت و رحمت تھی جو انہیں آئندہ مزید پریشانی سے نجات دلاتی اور انہیں وہ روشنی عطا کی جس کے بعد کسی اور نور کی ضرورت نہ رہے اور اس کے بندوں کو روزمرہ کی تحقیقات سے مخلصی نصیب ہوئی۔
تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ قرآن پاک کے نزول مبارک کے بعد دنیا کی تمام سلطنتیں تمام حکومتیں اس الٰہی قانون کے آگے جھکنے پر مجبور ہوئیں۔ اگر کسی حکومت نے اس الٰہی قانون کو پس پشت ڈالتے ہوئے نہایت محنت و کاوش سے اپنی سلطنت کے لئے قوانین مرتب کئے تو حالات اور تجربہ نے جلد ہی ان کو مجبور کردیا کہ وہ اس قانون الٰہی کی پناہ لیں خداوند قدوس کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس ذات رحیم و کریم نے ہم پر رحم و کرم فرماتے ہوئے ایسی کامل و اکمل کتاب عطا فرمائی جس کے بعد کسی اور کتاب کی ضرورت پیش نہ آئے گی۔
اس عظیم الشان کتاب کے نزول کے لئے ذات باری نے سردار دو جہان ﷺ کی ذات مبارک کو چنا اور اپنی وحی برحق کے ذریعے اپنے مخلوق کو یہ پیغام دیا کہ میرا یہ نبی، آخری نبی ہے جس کے بعد کسی نبوت کی ضرورت نہ ہوگی اور ایسا ہونا ضروری تھا کیونکہ جب ذات باری نے اپنی کامل و اکمل کتاب اس لئے عطا فرمائی کہ اس کے بندوں کو آئندہ الٰہی راستہ کی تلاش میں سرگردان نہ پھرنا پڑے۔ اسی طرح ہماری ہدایت اور رہبری کے لئے نبی بھی وہ مبعوث فرمایا جو حقیقی معنوں میں آخری نبی ہو اگر یہ صورت نہ ہوتی اور مخلوق خدا کے لئے قرآن پاک کامل و اکمل کتاب ثابت نہ ہوتی اور نبوت کا دروازہ بھی کھلا رہتا تو ہر نبی کو قرآن کریم میں لفظی تغیر و تبدل کی جرات تو نہ کرتا مگر اپنی نبوت کے بل بوتے پر اپنی من گھڑت تاویلات کا جال ضرور بچھا سکتا اور اس کے جو
٩
نتائج ممکن ہو سکتے ہیں وہ محتاج بیان نہیں اختلاف کا وہ دروازہ کھل جاتا ہے جس کی نظیر فی زمانہ قادیانی نبوت ہے۔ حالانکہ آسمانی رحمت کا منشاء تو مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع کرنا ہے اس نکتہ کو سمجھنے کے لئے ذرا ١٣٠٠ سال کے بعد ہمارے زمانہ میں پیدا ہونے والی نبوت پر غور فرمائیے۔
قادیانی مذہب نے اجراء نبوت کو جائز قرار دیا دن رات کے پروپیگنڈا نے جن چند افراد کو اس جال کا شکار بنا دیا ہے ان کا حال ملاحظہ ہو ابھی اس نبوت کو جاری ہوئے صرف پینتیس ٣٥ برس ہوئے ہیں (کیونکہ مرزا نے دعویٰ نبوت ١٩٠١ء میں کیا تھا) مگر اس مہر نبوت کے توڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج قادیانیوں میں متعدد انبیاء پیدا ہو چکے ہیں۔ دو نبی تو خاص قادیان میں دعویٰ کر چکے ہیں۔ پیرو نبیوں کی تعداد تو بہت زیادہ بڑھ رہی ہے۔ نتیجہ کیا ہو گا کہ قادیانی نبوت کا جوش فیضان مختلف شہروں میں ایک ایک نبی پیدا کرے گا اور ہر نبی کچھ نہ کچھ نئے اختیارات لیکر آئے گا۔ لازماً اختلاف و افتراق کا وہ منظر جو اجراء نبوت ماننے کے نتیجہ میں ضروری ہے سامنے آئے گا جس کا تصور کرنا بھی امت کے لئے وبال ہوگا۔ اس صورت میں کیا یہ سوال نہ ہوگا کہ کیا آخری کتاب اور آخری نبی کا یہی مقصود تھا کہ امت کو ہزاروں فرقوں میں منقسم کر کے تباہ و برباد کر دیا جائے؟
ہم علمی مباحث میں کیوں جائیں جبکہ ادنیٰ غور و فکر سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اگر اب بھی ہزاروں نبی پیدا ہو سکتے ہیں اور امت نے اسی طریق پر منقسم ہو جانا ہے تو پھر اسلام کی فضیلت باقی ادیان پر کیا ہوئی کہ یہ سلسلہ تو پہلے بھی قائم تھا۔ ممکن ہے قادیانی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہوئے یہ کہیں کہ اجراء نبوت سے افتراق و تشتت لازم نہیں آئے گا کیونکہ امت کے تمام انبیاء حضرت نبی کریم ﷺ کی غلامی میں رہتے ہوئے ایک ہی مرکز پر جمع رہیں گے۔ اس لئے ہم یہ واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ نبوت کا اجراء مانتے ہوئے جب ہم نے اس دروازہ کو کھول دیا تو اس امر کی گارنٹی کون دے سکتا ہے کہ وہ نبی ضرور حضور ﷺ کی غلامی کا دم بھرتا رہے گا کیا اس سیلاب کا یہ نتیجہ نہ ہوگا کہ کچھ عرصہ بعد پیدا ہونے والے نبی اس غلامی سے بھی آزاد ہو جائیں گے۔
جب نبوت کی اجازت مل گئی تو انبیاء مختار ہوں گے کہ جو راہ چاہیں اختیار کریں۔
آئندہ کا حال تو چھوڑیئے ہم اپنے زمانہ کی اس قادیانی نبوت کو دیکھتے ہیں کہ ابتداءً حضور خاتم النبیین ﷺ کی غلامی کا ڈھونگ رچتے رچتے چند ہی سال بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اپنی فضیلت کا اظہار شروع ہو گیا جس کا مفصل ذکر آئندہ کسی باب میں آئے گا۔ اگر ہمارے زمانہ کی نبوت نے کچھ شمہ دکھایا تو آئندہ نبوتوں سے خدا کی پناہ۔
١٠
ایک شبہ اور اس کا ازالہ
قادیانی کہا کرتے ہیں کہ اجراء نبوت کا نہ ماننا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی توہین ہے۔ وہ بی اے یا ایم اے بھی لائق کہا جا سکتا ہے؟۔ جس کی شاگردی سے اور کوئی بی اے یا ایم اے نہ بن سکے۔ اس دلیل کو وہ مختلف طریقوں سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے انتہائی محبت کا اظہار کرتے ہوئے بیان کیا کرتے مگر یہ دلیل ایک ملمع سازی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ حضور سے ان کی محبت کی حقیقت تو آئندہ کسی باب میں واضح ہو جائے گی مگر اس جگہ صرف یہ جواب دینا کافی ہے کہ اگر فضیلت کا یہی معیار ہے تو تم یہ بتاؤ کہ کیا قرآن کریم کی فضیلت اس دلیل پر منحصر نہیں وہ کتاب کامل واکمل کیسے ہو سکتی ہے جس کی پیروی جس کی اتباع سے انسان اس درجہ کو حاصل نہ کر سکے کہ اس جیسی اور کتاب اس پر نازل ہو کیا اس صورت تم قرآن کریم کی اکملیت سے بھی انکاری ہو جاؤ گے۔ ہمارا خیال ہے کہ قادیانی کمپنی ابھی خود کو اتنی کامیاب خیال نہیں کرتی کہ یہ مسئلہ بھی ایجاد کر دے کہ قرآن کریم کی فضیلت کا معیار بھی یہی ہے کہ اس کی پیروی سے اور قرآن نازل ہو سکیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس عقیدہ کی اشاعت تمام مسلمانوں کو یکدم متنفر کر دے گی اور ان کے مرید بھی ابھی اس درجہ راسخ نہیں ہوئے کہ قرآن کریم سے انحراف کا مسئلہ ان سے منوایا جا سکے قادیانی کمپنی تو تدریجاً اپنے عقائد کا اظہار کر رہی ہے اور حقیقی منشاء یہ ہے کہ اپنا نیا مذہب قائم کیا جائے اگر قادیانی دلیل کو مانا جائے تو لازماً یہ بھی معاذ اللہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خدا کی خدائی اس میں ہے کہ اس کے احکام کی بجا آوری سے ایک انسان خدا بن جائے ورنہ وہ خدا ہی کیا لائق ٹھہرا جس کی اتباع سے انسان خدا بھی بن سکے۔
مجھے ناظرین کرام کو بتانا یہ ہے کہ مسئلہ ختم نبوت سے انکار حقیقتاً اسلام سے انکار ہے اور ذات باری کی اس نعمت کی ناشکری ہے جو اس نے حضور ﷺ کی بعثت کے ساتھ اپنی مخلوق پر فرمائی۔ حج بیت اللہ ، نماز با جماعت کے احکام اس نعمت کی تشریح ہیں کہ حضور کی بعثت کا مقصد امت کو ایک مرکز پر جمع کرنا ہے واللہ اگر نبوت کا اجراء جائز ہوتا تو آج قادیانی نبوت کی مثال سے ہی دیکھ لیا جائے کہ اس ایک نبوت نے ہی جن افراد پر اپنا جادو چلایا وہ مسلمانوں سے کس قدر دور جا پڑے؟۔ مرکز اسلام سے ان کی دوری ملاحظہ ہو کہ وہ مسلمانوں کے کسی کام میں شریک ہو ہی نہیں سکتے وہ مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہوئے ان پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں اس فتویٰ میں یہاں تک ترقی کر گئے ہیں کہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جس نے مرزا کا نام بھی نہیں سنا وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج، مسلمان بچہ کا جنازہ حرام، مسلمان امام کی اقتداء میں نماز حرام۔ بتائیے یہ افتراق
١١
یہ تشتت کس چیز کا نتیجہ ہے؟۔ اللہ اللہ ع اسلام کا ، دعویٰ آسمانی سلسلہ ہونے کا، و جو اپنی نجات کا انحصار لا الہ الا اللہ ممالک میں اسلامی مشن کے قیام کا پروپ جو حضور ﷺ کے غلام موجود ہیں ان کو بغ کی نظر میں ذلیل کرنے کی ناپاک کوشش اس فضیلت کا ذکر کریں کہ اس کے کامل دروازہ کھول دیا کہ غیروں کو اس مذہب اسلام سے خارج قرار دیا جاتا ہے۔
میرے پیارے نو تعلیم یاف پاک ﷺ کے طفیل ہمیں اس قسم کے فت جانے کا امکان ہے اس لئے مجھے یہ خ کرتا ہوا حقیقت کو آشکارا کروں۔ ان کتاب کو پہنچا کر خدمت اسلام میں حص تو ہمیں سچائی کی اشاعت میں غفلت ہمارا فرض ہے جن قادیانیوں کے متعلق لانے کی کوشش کرنا بھی کار ثواب ہے
قادیانی کمپنی کا مقصد تو م ہے کہ وہ مسلمانوں سے مکمل بائیکاٹ کہ مخالفین کی کتابوں کے مطالعہ کی م متاثر ہو کر مریدی سے بھاگ نہ جائیں
’’ہر شخص اس بات کا اہل کوئی شخص اپنی کتب سے واقف نہیں پڑے۔‘‘
اب قادیانی کمپنی کے ا عقائد کا مطالعہ فرمانے کے بعد نتیج
یہ تشتت کس چیز کا نتیجہ ہے؟۔ اللہ اللہ دعویٰ نبوت کا، دعویٰ اسلام سے ہمدردی کا، دعویٰ اشاعت اسلام کا، دعویٰ آسمانی سلسلہ ہونے کا، دعویٰ حضور کی غلامی کا اور فتویٰ کفر لگایا جائے۔ اس امت پر جو اپنی نجات کا انحصار لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر رکھے غیروں میں تبلیغ اسلام غیر ممالک میں اسلامی مشن کے قیام کا پروپیگنڈہ لیکن حال یہ کہ غیروں کو اسلام میں داخل کرنا تو کجا؟ جو حضور ﷺ کے غلام موجود ہیں ان کو ہی کافر دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر اسلام کو غیروں کی نظر میں ذلیل کرنے کی ناپاک کوشش کی جاتی ہے۔ کیا ان حالات میں ہم غیروں پر اسلام کی اس فضیلت کا ذکر کریں کہ اس کے کامل واکمل مذہب ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس نے نبوت کا ایسا دروازہ کھول دیا کہ غیروں کو اس مذہب میں شامل کرنا تو درکنار خود اسلام کے عاشقوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جاتا ہے۔
میرے پیارے نو تعلیم یافتہ بھائیو! بے شک یہ فضل ایزدی ہے کہ اس نے حبیب پاک ﷺ کے طفیل ہمیں اس قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھا ہے مگر چونکہ کسی بھائی کے غلطی کا شکار ہو جانے کا امکان ہے اس لئے مجھے یہ خیال پیدا ہوا کہ میں اس قادیانی فتنہ کے تبلیغی طریقوں کا ذکر کرتا ہوا حقیقت کو آشکارا کروں۔ ان ہتھکنڈوں سے خود واقفیت پیدا کریں اور دوسروں تک اس کتاب کو پہنچا کر خدمت اسلام میں حصہ لیں اگر قادیانی باطل کی اشاعت کو ثواب خیال کرتے ہیں تو ہمیں سچائی کی اشاعت میں غفلت کا ارتکاب نہ کرنا چاہئے۔ غلطی خوردہ قادیانیوں کو بھی تبلیغ کرنا ہمارا فرض ہے جن قادیانیوں کے متعلق آپ کو علم ہو کہ ان میں ضد و تعصب نہیں ان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرنا بھی کار ثواب ہے۔
قادیانی کمپنی کا مقصد تو مریدوں کو اپنے قابو میں رکھنے سے جلب زر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے مکمل بائیکاٹ کرنے والے عقائد کو مریدوں کے ذہن نشین کراتے ہیں حتیٰ کہ مخالفین کی کتابوں کے مطالعہ کی ممانعت کر رکھی ہے کہ مبادا مرید مسلمانوں کے پختہ دلائل سے متاثر ہو کر مریدی سے بھاگ نہ جائیں۔ ملاحظہ ہو مرزا محمود کا حسب ذیل اعلان ۔
”ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ وہ مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنی کتب سے واقف نہیں اگر مخالف کی کتب کا مطالعہ کرے گا تو خطرہ ہے کہ ابتلاء میں پڑے۔“
(حقیقۃ الامر ص ٥)
اب قادیانی کمپنی کے ایجاد کردہ تبلیغی طریقے اور اس کی حکمت عملیاں سنیے پھر ان کے عقائد کا مطالعہ فرمانے کے بعد نتیجہ معلوم کیجئے کہ قادیانی فتنہ نے کس مقصد کے لئے جنم لیا ہے اور
١٢
کہ قادیانیت اور اسلام دو متضاد چیزیں ہیں جو ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتیں اور کہ یہ کمپنی محض ایک تجارتی کمپنی ہے جس نے اپنا کاروبار مذہبی لباس میں شروع کر رکھا ہے۔
باب اوّل
الزام تکفیر بازی
قادیانی کمپنی جب نو تعلیم یافتہ طبقہ یا دوسرے ناواقف حال اشخاص کو اپنا شکار بنانے کا ارادہ کرتی ہے تو ان کا سب سے بڑا ہتھیار الزام تکفیر بازی ہوتا ہے رونی صورت بنا کر درد بھری آواز میں اسلام اور مسلمانوں کی حالت زار کا نقشہ کھینچا جائے گا۔ اور اس تمام تر حالت کا ذمہ دار علماء کی تکفیر بازی قرار دی جائے گی۔ ناواقف حال یہ سمجھتا ہے کہ فی الواقعہ اسلام کے سچے ہمدرد یہی ہیں۔ جو مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں اور کسی پر کفر کا فتویٰ لگا کر اسلام کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے۔ حالانکہ صورت حال بالکل الٹ ہے۔ ان کی اسلام دوستی کا مشاہدہ کرنے کے لئے اس باب کا بغور مطالعہ فرمائیے اور پھر اندازہ کیجئے کہ تکفیر بازی، مسلمانوں کا استخفاف، مسلمانوں سے قطع تعلق ، شعائر اسلامی کی ہتک کا مرتکب کون ہے؟۔ اس باب کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہو گا کہ آج اتحاد کا کوئی دشمن ہے تو قادیانی، مسلمانوں کی مصیبت پر خوشی منانے والا ہے تو قادیانی مسلمانوں کو غیروں کی نظروں میں ذلیل کرانے کی موہوم کوشش کرنے والا ہے تو قادیانی، مسلمانوں کے خلاف اگر کوئی کینہ توز جماعت ہے تو قادیانی۔
کیا ان عقائد کی موجودگی میں قادیانی تکفیر بازی کا الزام مسلمانوں کو دے سکتے ہیں؟ کیا ان عقائد کی روشنی میں یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ قادیانی کسی معاملہ میں بھی مسلمانوں سے اتحاد کر سکتے ہیں؟ قبل اس کے ہم ان عقائد کو نقل کریں ہم قادیانی کمپنی کا اصل الاصول پیش کرتے ہیں۔ جس سے قادیانی ذہنیت کا بآسانی اندازہ کیا جاسکے گا۔
ہمیں تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھنا چاہئے
’’ساری دنیا ہماری دشمن ہے۔ بعض لوگ (مسلمان) جب ان کو ہم سے مطلب ہوتا ہے تو ہمیں شاباش کہتے ہیں۔ جس سے بعض احمدی یہ خیال کر لیتے ہیں کہ وہ ہمارے دوست ہیں۔ حالانکہ جب تک ایک شخص خواہ وہ ہم سے کتنی ہمدردی کرنے والا ہو۔ پورے طور پر احمدی نہیں ہو جاتا وہ ہمارا دشمن ہے۔ ہماری بھلائی کی صرف ایک صورت ہے۔ وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا
١٣
دشمن سمجھیں تا کہ ان پر غالب آنے کی کوشش کریں۔ شکاری (قادیانی) کو کبھی غافل نہ ہونا چاہئے اور اس امر کا برابر خیال رکھنا چاہئے کہ شکار (مسلمان) بھاگ نہ جائے۔ یا ہم پر ہی حملہ نہ کر دے۔‘‘
(تقریر خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢٥ اپریل ١٩٣٠ء)
’’تم اس وقت تک امن میں نہیں ہو سکتے۔ جب تک تمہاری اپنی بادشاہت نہ ہو۔ ہمارے لئے امن کی ایک ہی صورت ہے کہ دنیا پر غالب آجائیں۔‘‘
(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ٢٥ اپریل ١٩٣٠ء)
مسلمانوں سے قطع تعلق
’’یہ جو ہم نے دوسرے مدعیان اسلام سے قطع تعلق کیا ہے اوّل تو خدا تعالیٰ کے حکم سے تھا نہ اپنی طرف سے اور دوسرے وہ لوگ ریا پرستی اور طرح طرح کی خرابیوں میں حد سے بڑھ گئے ہیں اور ان لوگوں کو ان کی ایسی حالت کے ساتھ اپنی جماعت کے ساتھ ملانا یا ان سے تعلق رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ عمدہ اور تازہ دودھ میں بگڑا ہوا دودھ ڈال دیں جو سڑ گیا ہے اور اس میں کیڑے پڑ گئے ہیں۔‘‘
(قول مرزا غلام احمد مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ٦ نمبر ٨ ص ١١ بابت ماہ اگست ١٩١١ء)
بعض قادیانی یہ معلوم کر کے ہمارا مخاطب ہمارے عقائد سے خوب واقف ہے یہ چال اختیار کیا کرتے ہیں کہ اگر وطنی معاملات میں ہندؤں اور عیسائیوں سے اتحاد ہو سکتا ہے تو کیا ہم سے اتحاد نہیں ہو سکتا جبکہ ہمارا آپ کا اختلاف بالکل معمولی ہے کم از کم سیاسی یا تعلیمی معاملات میں تو ہم متحد ہو سکتے ہیں زمانہ متقاضی ہے کہ ہمیں اسلام کی خدمت کے لئے ضرور متحد ہو جانا چاہئے۔ اوّل تو مذکورہ بالا حوالہ جات کی روشنی میں ہماری طرف سے یہ جواب کافی ہے کہ جب آپ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور جب تک کوئی شخص پورے طور پر قادیانی نہیں ہو جاتا آپ اس سے غافل نہیں ہو سکتے اور اصل مقصد اپنی بادشاہت قائم کرنا ہے تو پھر دعوت اتحاد صرف نمائش ہے لیکن ہم اس معاملہ پر مزید روشنی ڈالنے کے لئے ایک پر لطف حوالہ پیش کرتے ہیں۔
علی گڑھ یونیورسٹی کیلئے مرزا کا ایک روپیہ دینے سے انکار
’’کیا غیر احمدیوں کے ساتھ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عمل درآمد کسی پر مخفی ہے۔ آپ اپنی ساری زندگی میں نہ غیروں کی کسی انجمن کے ممبر ہو سکے اور نہ ان میں سے کسی کو اپنی انجمن کا ممبر بنایا اور نہ کبھی ان کو چندہ دیا اور نہ کبھی ان سے چندہ مانگا۔ (چندہ لینا تو ہم ثابت کریں گے کہ مسلمانوں سے ایک لاکھ روپیہ چندہ لینے کی اسکیم تیار ہوئی ہاں یہ درست ہے کہ دیا کبھی کسی کو ایک کوڑی نہیں) حتیٰ کہ ایک دفعہ علی گڑھ میں قرآن مجید کی اشاعت کی غرض سے ایک
١٤
انجمن بنائی گئی اور وہاں کے جناب سیکرٹری صاحب نے ایک خاص خط بھیجا کہ چونکہ آپ لوگ خادم اور ماہر قرآن مجید ہیں لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اس انجمن میں آپ صاحبان میں سے بھی شریک ہوں مگر باوجود جناب مولانا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی کوشش کے حضور (مرزا) نے انکار ہی فرمایا۔ پھر سرسید صاحب کے چندہ مدرسہ مانگنے کا واقعہ تو مشہور ہی ہے یہاں تک کہ وہ ایک روپیہ بھی مانگتے رہے لیکن حضور نے شرکت سے انکار ہی فرمایا حالانکہ خود مدرسہ انگریزی جاری کیا ہوا تھا۔"
(کشف الاختلاف مصنفہ مشہور قادیانی سرور شاہ ص ٤٢)
معزز ناظرین! آپ نے قادیانی ”دعوت اتحاد“ کا منظر ملاحظہ فرمالیا۔ قادیانیوں کے مخالف نہیں بلکہ ان کو خادم دین خادم قرآن کریم خیال کرنے والے مسلمان سیکرٹری کی التماس پر مرزا غلام احمد نے قرآن مجید کی خدمت کرنے والی انجمن کی ممبری سے انکار کر دیا۔
سرسید مرحوم جنہوں نے کوئی تبلیغی مدرسہ قائم کرنے کے لئے نہیں مسلمانوں کے مناظر یا مبلغ تیار کرنے کیلئے نہیں بلکہ ایک تعلیمی درسگاہ کیلئے صرف ایک روپیہ کی حقیر رقم مرزا سے طلب کی لطف یہ کہ مدرسہ بھی انگریزی تعلیم کا، کون انگریزی جس کی تائید میں پچاس الماریاں رکھنے کا ڈنکا بجایا جاتا ہے لیکن حقیقت کیا ہے کہ انگریزی جاری کردہ تعلیم کو رائج کرنے والے مدرسہ کے لئے ایک روپیہ نہیں دیا جاتا۔
اس حوالہ کا آخری فقرہ مکرر ملاحظہ فرمائیے۔ ”حالانکہ خود مدرسہ انگریزی جاری کیا ہوا تھا“ یعنی اس روایت کا راوی مزید ثابت یہ کر رہا ہے کہ انگریزی مدرسہ کے آپ مخالف نہ تھے کیونکہ خود بھی انگریزی مدرسہ جاری کیا ہوا تھا۔ لیکن اس کے باوجود جو ایک روپیہ چندہ دینے سے انکار کیا تھا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ کسی مسلمان یا کسی اسلامی انسٹیٹیوٹ سے کسی قسم کا اتحاد حتیٰ کہ ایک روپیہ کی امداد دینا گوارا نہ کرتے تھے۔
مسلم لیگ جیسی جماعت میں شمولیت سے انکار
”ایک دفعہ صوبہ کے ایک بڑے افسر سے حضرت صاحب (مرزا غلام احمد) ملنے کے تشریف لے گئے ان دنوں گورنمنٹ کا یہ خیال تھا کہ مسلم لیگ سے گورنمنٹ کو فائدہ پہنچے گا۔ صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب! مسلم لیگ کوئی بری چیز نہیں بلکہ بہت مفید ہے۔ آپ نے فرمایا بری کیوں نہیں ایک دن یہ بھی بڑھتے بڑھتے بڑھ جائے گی۔ صاحب بہادر نے کہا مرزا صاحب شاید آپ نے کانگریس کا خیال کیا ہوگا۔ لیگ کا حال کانگریس کی طرح نہیں کیونکہ کسی کام کی جیسی بنیاد رکھی جاتی ہے ویسا اس کا نتیجہ نکلتا ہے کانگرس کی بنیاد چونکہ خراب رکھی گئی تھی اس لئے وہ مضر
١٥
ثابت ہوئی لیکن مسلم لیگ کے تو ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس میں باغیانہ عنصر پیدا ہی نہیں ہو سکتا...... (اس کے بعد مرزا محمود کہتا ہے) چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ اب مسلم لیگ بھی سیلف گورنمنٹ کے حصول کی طرف جھک رہی ہے۔..... گو دکھاوے کے لئے لفظوں میں کچھ فرق ہے۔ غرضیکہ گو صوبہ کے ایک بڑے اور ذمہ دار حاکم نے اس بات پر زور بھی دیا کہ مسلم لیگ سے نقصان نہیں ہو گا لیکن حضرت صاحب (مرزا) نے یہی جواب دیا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔"
(برکات خلافت مصنفہ مرزا محمود صفحہ ٥٦ و ٥٧)
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مسلم لیگ جیسی جماعت (دورِ حاضرہ میں جس کی قادیانیت نوازی نے تمام مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کر رکھا ہے) میں شمولیت سے مرزا قادیانی انکاری ہے حتی کہ کسی مرید کو اس کا ممبر بننے کی اجازت دینا پسند نہیں۔ اس جگہ شاید کسی دوست کو یہ خیال ہو کہ مسلم لیگ تو قادیانیوں یا قادیانیت نوازوں کی جماعت ہے اس میں شرکت سے ممانعت کیا معنی؟ سو واضح رہے کہ یہ قصہ قادیانی مذہب کے ابتدائی ایام کا ہے اور مرزا محمود کا یہ وعظ بھی ١٩١٤ء کا ہے۔ ان دنوں اس کمپنی کی حکمت عملی سیاست سے علیحدگی کا اعلان تھی۔
جس طرح انہوں نے اپنے اعتقادات کا اظہار تدریجاً کیا ہے ابتداً صرف آریوں اور عیسائیوں کی تردید میں لٹریچر شائع کیا جب کچھ لوگ قابو میں آ گئے تو پھر دعویٰ مجددیت، چند دن بعد دعویٰ محدثیت ذرا اور کامیابی ہوئی تو دعویٰ مسیحیت انتہا یہ کہ نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اسی طرح سیاسی معاملات میں یہ ایک چال تھی حکومت کی نظروں سے بچنے کے لئے وفاداری وفاداری کی رٹ لگائی سیاست سے کلیۃً علیحدگی اختیار کی۔ خالص مذہبی جماعت بن کر دکھایا اور آج سیاست میں بھی دخل ہے۔ حکومت کو بھی آنکھیں دکھائی جا رہی ہیں کہیں کشمیر کی صدارت ہے کہیں مسلم لیگ میں شمولیت کا شوق چونکہ یہ مضمون ایک مستقل مضمون ہے اس لئے ہم اس قصہ کو یہیں ختم کرتے ہیں اس جگہ صرف ایک شبہ کا ازالہ کرنا تھا جو مذکور بالا حوالہ کے مطالبہ کے بعد پیدا ہوتا تھا۔
اس جگہ اتنا اور ذکر کر دینا خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ ابتداً مسلمانوں سے اس قدر بائیکاٹ حتی کہ ان کی ایک درس گاہ کے لئے ایک روپیہ چندہ نہ دینا۔ قرآن کریم کی اشاعت کرنے والی انجمن میں شرکت سے انکار اور آج یہ قصہ کہ اتحاد اتحاد کی رٹ لگاتے ہوئے قادیانیوں کے گلے خشک ہو رہے ہیں آخر اس کا سبب کیا ہے؟ سنئے! قادیانی کمپنی کو یہ خیال تھا کہ ابتداً ضروری ہے کہ مریدوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت و کینہ پیدا کیا جائے اس لئے مسلمانوں سے قطع تعلق کی تلقین کرتے ہوئے ایسے عقائد کی اشاعت کی گئی جن سے ان کے دلوں میں یہ چیز
١٦
ثابت ہوئی لیکن مسلم لیگ کے تو ایسے قواعد بنائے گئے ہیں کہ اس میں باغیانہ عنصر پیدا ہی نہیں ہو سکتا..... (اس کے بعد مرزا محمود کہتا ہے) چنانچہ واقعات نے ثابت کر دیا کہ اب مسلم لیگ بھی سیلف گورنمنٹ کے حصول کی طرف جھک رہی ہے...... گو دکھاوے کے لئے لفظوں میں کچھ فرق ہے۔ غرضیکہ گو صوبہ کے ایک بڑے اور ذمہ دار حاکم نے اس بات پر زور بھی دیا کہ مسلم لیگ سے نقصان نہیں ہو گا لیکن حضرت صاحب (مرزا) نے یہی جواب دیا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔"
(برکات خلافت مصنفہ مرزا محمود صفحہ ٥١ و ٥٧)
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مسلم لیگ جیسی جماعت ( دور حاضرہ میں جس کی قادیانیت نوازی نے تمام مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کر رکھا ہے) میں شمولیت سے مرزا قادیانی انکاری ہے حتیٰ کہ کسی مرید کو اس کا ممبر بننے کی اجازت دینا پسند نہیں۔ اس جگہ شاید کسی دوست کو یہ خیال ہو کہ مسلم لیگ تو قادیانیوں یا قادیانیت نوازوں کی جماعت ہے اس میں شرکت سے ممانعت کیا معنی؟ سو واضح رہے کہ یہ قصہ قادیانی مذہب کے ابتدائی ایام کا ہے اور مرزا محمود کا یہ وعظ بھی ١٩١٤ء کا ہے۔ ان دنوں اس کمپنی کی حکمت عملی سیاست سے علیحدگی کا اعلان تھی۔
جس طرح انہوں نے اپنے اعتقادات کا اظہار تدریجاً کیا ہے ابتداً صرف آریوں اور عیسائیوں کی تردید میں لٹریچر شائع کیا جب کچھ لوگ قابو میں آگئے تو پھر دعویٰ مجددیت، چند دن بعد دعویٰ محدثیت ذرا اور کامیابی ہوئی تو دعویٰ مسیحیت انتہا یہ کہ نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ اسی طرح سیاسی معاملات میں یہ ایک چال تھی حکومت کی نظروں سے بچنے کے لئے وفاداری وفاداری کی رٹ لگائی، سیاست سے کلیۃً علیحدگی اختیار کی۔ خالص مذہبی جماعت بن کر دکھایا اور آج سیاست میں بھی دخل ہے۔ حکومت کو بھی آنکھیں دکھائی جا رہی ہیں کہیں کشمیر کی صدارت ہے کہیں مسلم لیگ میں شمولیت کا شوق چونکہ یہ مضمون ایک مستقل مضمون ہے اس لئے ہم اس قصہ کو یہیں ختم کرتے ہیں اس جگہ صرف ایک شبہ کا ازالہ کرنا تھا جو مذکور بالا حوالہ کے مطالعہ کے بعد پیدا ہوتا تھا۔
اس جگہ اتنا اور ذکر کر دینا خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ ابتداً مسلمانوں سے اس قدر بائیکاٹ حتیٰ کہ ان کی ایک درس گاہ کے لئے ایک روپیہ چندہ نہ دینا۔ قرآن کریم کی اشاعت کرنے والی انجمن میں شرکت سے انکار اور آج یہ قصہ کہ اتحاد اتحاد کی رٹ لگاتے ہوئے قادیانیوں کے گلے خشک ہو رہے ہیں آخر اس کا سبب کیا ہے؟ سنئے! قادیانی کمپنی کو یہ خیال تھا کہ ابتداً ضروری ہے کہ مریدوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت و کینہ پیدا کیا جائے اس لئے مسلمانوں سے قطع تعلق کی تلقین کرتے ہوئے ایسے عقائد کی اشاعت کی گئی جن سے ان کے دلوں میں یہ چیز
١٦
راسخ ہو جائے کہ مسلمانوں سے کسی بھی معاملہ میں موالات ایک کبیرہ گناہ ہے۔ وجہ صرف یہ تھی کہ قادیانی کمپنی نے یہ سمجھا کہ اگر یہ چند ایک مرید بھی دوسرے مسلمانوں سے اتحاد کریں گے ان کے نیک کاموں میں دلچسپی لیں گے تو ضروری ہے کہ خیرات و چندہ کی کوئی پائی مسلمانوں کی کسی انجمن میں بھی چلی جائے اور اس طرح قادیانی بیت المال کو خسارہ ہو گا بدیں وجہ قادیانی کمپنی نے مریدوں کو مسلمانوں سے متنفر کیا۔
اب ایک عرصہ دراز کے بعد قادیانی کمپنی یہ سمجھتی ہے کہ ہمارے مرید پختہ ہو چکے ہیں۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں سے نفرت دلانے والے عقائد راسخ ہو چکے ہیں۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف کافی کینہ پیدا ہو چکا ہے اب اگر ان کو یہ سمجھا کر کہ مسلمانوں سے محبت کر کے روپیہ وصول کر لاؤ مسلمانوں سے ملنے کی اجازت دی جائے گی۔ تو کوئی خسارہ نہیں، ہمارا کوئی پیسہ مسلمانوں کی کسی انجمن کو نہیں جائے گا۔ بلکہ ان کی جیبیں ہی خالی کی جائیں گی۔ اگر کسی ضرورت کی وجہ سے کسی انجمن کو یا کسی شخص کو مرزا محمود کوئی رقم دے گا بھی تو اس سے سینکڑوں گنا زیادہ رقم وصول کرنے کی اسکیم تیار کرنے کے بعد اور اس عطیہ کا مقصد صرف ایک مثال قائم کر کے مسلمانوں کا دل لبھانا ہوتا ہے و بس۔ ورنہ کہاں کی ہمدردی کہاں کی اسلام دوستی۔ چنانچہ کشمیر کمیٹی کے سلسلہ میں یہی ہوا کہ قادیان سے چند وظائف بعض کشمیریوں کے لئے مقرر ہوئے ادھر ان کشمیریوں کو وظیفہ کے احسان سے قادیانیت کا شکار کیا گیا ادھر مسلمانوں سے یہ کہہ کر کہ قادیانی جماعت نے چندہ مانگنا شروع کیا کہ ہم غریب کشمیریوں کی امداد کر رہے ہیں۔ آخر چند ہی دنوں میں حقیقت کا انکشاف ہوا تو قادیانیت نواز لوگوں نے بھی کانوں پر ہاتھ دھرے اور مرزا محمود کو صدارت سے علیحدہ کر دیا۔ آنجناب کی جگہ علامہ سر محمد اقبال صدر تجویز ہوئے تو فوراً قادیانیوں نے کام سے ہی انکار کر دیا اور اس طرح ان کی اسلام دوستی کا راز طشت از بام ہو گیا۔ میں ذکر یہ کر رہا تھا کہ جب قادیانیوں کو یہ علم ہو کہ ہمارا مخاطب ہمارے عقائد سے واقف ہے تو وہ یہ رنگ اختیار کیا کرتے ہیں کہ اگر بعض معاملات میں ہندو عیسائیوں سے تعاون ہو سکتا ہے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ ہمارے نیک کاموں میں ہمارا ساتھ دیں۔
مذکورہ بالا حوالہ جات کی روشنی میں آپ کو علم ہو گیا ہو گا کہ قادیانی مسلمانوں کی خالص تعلیمی درسگاہ کے لئے ایک روپیہ چندہ دینا بھی گوارا نہیں کرتے۔ قرآن کریم کی اشاعت کرنے والی انجمن کی ممبری قبول نہیں کرتے۔ باوجود انگریز افسر کی ہدایت کے مسلم لیگ کی شرکت سے انکار ہے۔ اتحاد کی دعوت دینے والے قادیانیوں سے کہنا یہ چاہئے کہ مذکورہ بالا امور میں عدم
١٧
شرکت کی جو وجہ تمہارے دلوں میں ہے
ایک اور دلچسپ قصہ سنئے
مرزائی جماعت دو حصوں لاہور دوسری کا قادیان ہے دونوں ہی مشورہ دیا کہ ہمیں آپس میں اشاعت مسلمانوں کے اختلاف کی نسبت سے مگر مرزا محمود کے ساتھ پر لطف جواب ”یہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ کر اتنا روئے کہ شام تک روتے رہ ہوئی تھی کہ انہوں نے رویا میں دیکھا ہے۔ اس نے کہا میں ابلیس ہوں۔ ا غلطی ہو گئی۔ سلائے رکھا جس پر تم ا آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں ہوتا ہے کہ جو چیز اچھی نظر آتی ہے وہ
اس کے بعد صلح کے لئے ”میں نفاق کی صلح ہر گز کے لئے آگے بڑھے اس سے زیاد ”صلح اس وقت ہو سکتی جائے کیونکہ یہ مخالف کی مخالف ۔ اس کا ازالہ کر دیا جائے۔“
اب ہمارا سوال قاد مرزائیوں سے صلح نہیں کر سکتے ، ا دیتے ، ہو تو کیا مسلمان ہی اتنے یہ سوال نہ کریں کہ بھئی تمہارے
شرکت کی جو وجہ تمہارے دلوں میں ہے وہی چیز ہمیں آپ سے اتحاد میں روک رہی ہے۔
ایک اور دلچسپ قصہ سنئے
مرزائی جماعت دو حصوں میں منقسم ہے دونوں میں معمولی اختلاف ہے ایک کا مرکز لاہور دوسری کا قادیان ہے دونوں ہی مرزا کو مسیح موعود مانتی ہیں لاہوری جماعت نے مرزا محمود کو مشورہ دیا کہ ہمیں آپس میں اشاعت مرزائیت کے لئے ایک دوسرے سے اتحاد کرنا چاہئے۔ مسلمانوں کے اختلاف کی نسبت سے ہمارا تمہارا اختلاف بالکل معمولی ہے۔ بات بھی معقول تھی مگر مرزا محمود کیسا پر لطف جواب دیتا ہے۔
”یہ ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت معاویہؓ کی صبح کی نماز رہ گئی۔ اس پر وہ اٹھ کر اتنا روئے کہ شام تک روتے رہے اور اس حالت میں رات کو سوگئے۔ صبح ابھی اذان بھی نہ ہوئی تھی کہ انہوں نے رویا میں دیکھا کہ ایک آدمی کہہ رہا ہے اٹھ نماز پڑھ انہوں نے پوچھا تو کون ہے۔ اس نے کہا میں ابلیس ہوں۔ انہوں نے کہا تو کیوں جگانے آیا ہے۔ اس نے کہا کل مجھ سے غلطی ہوگئی۔ سلائے رکھا جس پر تم اس قدر روئے کہ خدا نے کہا کہ اسے ستر نمازوں کا ثواب دو۔ آج میں اس لئے جگانے آیا ہوں کہ تمہیں ایک ہی نماز کا ثواب ملے ستر کا نہ ملے تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو چیز اچھی نظر آتی ہے وہ درحقیقت اپنے اندر برائی کا بیج رکھتی ہے۔“
(عرفان الٰہی ص ٨٣)
اس کے بعد صلح کے لئے شرط کیا پیش کرتا ہے۔ وہ بھی سنئے۔
”میں نفاق کی صلح ہرگز پسند نہیں کرتا۔ ہاں جو صاف دل ہو کر اور اپنی غلطی چھوڑ کر صلح کے لئے آگے بڑھے اس سے زیادہ اس کی طرف بڑھوں گا۔“
(برکات خلافت ص ٢٧)
”صلح اس وقت ہو سکتی ہے جب کہ یا تو جو لینا ہو لے لیا جائے اور جو دینا ہو دے دیا جائے کیونکہ یہ مخالف کی مخالف سے صلح ہے بھائی بھائی کی صلح نہیں اور یا پھر وہ زہر جو پھیلایا گیا ہو اس کا ازالہ کر دیا جائے۔“
(عرفان الٰہی ص ٨٤)
اب ہمارا سوال قادیانیوں سے یہ ہے کہ اگر تم اپنے بھائیوں سے یعنی لاہوری مرزائیوں سے صلح نہیں کر سکتے، اتحاد نہیں کر سکتے ، ان کے افعال کو شیطان کے افعال سے نسبت دیتے ہو تو کیا مسلمان ہی اتنے سادہ لوح رہ گئے ہیں کہ وہ تمہارے جال میں آجائیں؟ اور تم سے یہ سوال نہ کریں کہ بھئی تمہارے بعض کام اپنی ظاہری شکل میں اچھے تو نظر آتے ہیں مگر تم خود ہی
١٨
تسلیم کرتے ہو کہ مذکورہ بالا حوالہ میں جناب مرزا محمود کا ارشاد یہ ہے کہ حضرت معاویہؓ کو نماز کے لئے جگانے والا ابلیس تھا۔ نماز ایک نیک کام ہے اس کی تحریک کرنا بھی کارِ ثواب ہے مگر تم کہتے ہو کہ یہ شیطانی فعل تھا کیا ہم تمہارے مشورہ پر بھی عمل نہ کریں۔
قادیانی اتحاد کا امتحان لینے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ناظرین قادیانیوں سے یہ مطالبہ کریں کہ اگر تمہاری دعوتِ اتحاد سچائی پر مبنی ہے تو کیا تم اتنی جرأت اور اسلام دوستی کا ثبوت دے سکتے ہو کہ اپنے تفرقہ انگیز عقائد سے توبہ کا اعلان کر دو۔ اب قادیانی عقائد کا مطالعہ کیجئے اور اندازہ فرمائیے کہ کیا ان عقائد کی معتقد جماعت اتحاد کی دعوت دینے میں سچی ہو سکتی ہے؟
مسلمانوں سے قطع تعلق
”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
”غیر احمدیوں سے دینی امور میں الگ رہو۔“
(نہج المصلی ص ٣٨٢)
تمام اہلِ اسلام کافر اور دائرہ اسلام سے خارج
”سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں۔“
(آئینہ صداقت ص ٣٥)
مسلمانوں کی اقتداء میں نماز حرام
”خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے پھر جان بوجھ کر ان لوگوں میں گھسنا جس سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے۔ منشاء الٰہی کی مخالفت ہے میں تم کو تاکیداً منع کرتا ہوں کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔“
(الحکم فروری ١٩٠٣ء ملفوظات ج ٥ ص ٣٨٦)
”یاد رکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر و مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو۔“
(حاشیہ اربعین نمبر ٣ ص ٢٨ حاشیہ خزائن ج ١٧ ص ٤١٧)
کسی مسلمان کے پیچھے نماز جائز نہیں
”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ وہ خدائے تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد) کے منکر ہیں یہ دین کا معاملہ ہے اس میں کسی اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“
(انوار خلافت ص ٩٠)
١٩
جائز نہیں! جائز نہیں!! جائز نہیں !!!
”باہر سے لوگ بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تم جتنی دفعہ بھی پوچھو گے۔ اتنی دفعہ میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں ۔ جائز نہیں، جائز نہیں۔“
(انوار خلافت ص ٨٩)
مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ حرام
خلیفہ قادیان لکھتا ہے کہ میرے باپ سے ۔ ” ایک شخص نے بار بار پوچھا اور کئی قسم کی مجبوریوں کو پیش کیا لیکن آپ نے اس کو یہی فرمایا کہ لڑکی بٹھائے رکھو لیکن غیر احمدیوں میں نہ دو۔ آپ کی وفات کے بعد اس نے غیر احمدیوں کو لڑکی دیدی ۔ تو حضرت خلیفہ اوّل نے اس کو احمدیوں کی امامت سے ہٹا دیا۔ اور جماعت سے خارج کر دیا اور اپنی خلافت کے چھ سالوں میں اس کی توبہ قبول نہ کی۔ باوجود یکہ وہ بار بار توبہ کرتا رہا ۔“
(انوار خلافت ص٩٤)
مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ جائز نہیں
” غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ اور علاوہ اس کے کہ وہ نکاح جائز ہی نہیں ۔ لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ جس گھر میں بیاہی جاتی ہیں اس کے خیالات واعتقادات کو اختیار کرلیتی ہیں اور اس طرح اپنے دین کو تباہ کرلیتی ہیں ۔“
(برکات خلافت ص ٧٣)
”حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی غیر احمدی کو لڑکی نہ دے ۔“
(برکات خلافت ص ٧٥)
” جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے۔ جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو ۔ مگر اس معاملہ میں تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے ۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو ۔“
(ملائکۃ اللہ ص٢٦)
مسلمانوں کی نماز جنازہ ناجائز
مرزا بشیر قادیانی اپنے باپ کے متعلق روایت کرتا ہے ۔ آپ کا ایک بیٹا فوت ہوگیا۔ جو آپ کی زبانی طور پر تصدیق کرتا تھا۔ جب وہ مرا تو مجھے یاد ہے آپ ٹہلتے جاتے اور فرماتے کہ اس نے کبھی شرارت نہیں کی تھی بلکہ میرا فرمانبردار ہی رہا۔ ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا۔ اور شدت
٢٠
مرض میں مجھے غش آ گیا جب مجھے ہوش آیا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس کھڑا نہایت درد سے رو رہا ہے اور یہ بھی فرماتے کہ یہ میری بڑی عزت کیا کرتا تھا لیکن آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا حالانکہ وہ اتنا فرمانبردار تھا کہ بعض احمدی بھی اتنے نہ ہوں گے محمدی بیگم کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو اس کی بیوی اور اس کے رشتہ دار بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے حضرت صاحب نے ان کو فرمایا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کو بھیج دی کہ آپ کی جس طرح مرضی ہے اسی طرح کریں باوجود اس کے جب وہ مرا تو آپ نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ (انوار خلافت ص ٩١) ”غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منکر ہوئے اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود علیہ السلام کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔“ (حوالہ مذکور)
کسی مسلمان کا جنازہ مت پڑھو
”قرآن شریف سے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسا شخص جو بظاہر اسلام لے آیا ہے لیکن یقینی طور پر اس کے دل کا کفر معلوم ہو گیا ہے تو اس کا بھی جنازہ جائز نہیں (نہ معلوم یہ حکم کہاں ہے) پھر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔“
(انوار خلافت ص ٩٢)
شعائر اللہ کی ہتک
”قادیان تمام دنیا کی بستیوں کی ام (ماں) قرار دیا پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے۔ پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں۔“
(حقیقت الرؤیا ص ٤٦ ایڈیشن اوّل)
سالانہ جلسہ دراصل قادیانیوں کا حج ہے
خلیفہ قادیان لکھتا ہے۔ ”ہمارا سالانہ جلسہ ایک قسم کا ظلی حج ہے۔“
(الفضل قادیان ج ٢٠ نمبر ٦٦ ص ٥، یکم دسمبر ١٩٣٢ء)
اب حج کا مقام صرف قادیان ہے
”ہمارا جلسہ بھی حج کی طرح ہے۔ خدا تعالیٰ نے قادیان کو اس کام (حج) کے لئے مقرر کیا ہے۔“
(ملخص از برکات خلافت ص ٥)
٢١
مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارنا
”انتقام لینے کا زمانہ اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا۔ مگر اب مسیح اس لئے آیا کہ اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارے ...... حضرت مسیح موعود نے مجھے یوسف قرار دیا ہے۔ میں کہتا ہوں مجھے کام دینے کی کیا ضرورت تھی۔ یہی کہ پہلے یوسف کی جو ہتک کی گئی ہے۔ اس کا میرے ذریعہ ازالہ کرایا جائے۔ پس وہ تو ایسا یوسف تھا جسے بھائیوں نے گھر سے نکالا تھا، مگر یہ ایسا یوسف ہے جو اپنے دشمن بھائیوں کو گھر سے نکال دے گیا ...... پس میرا مقابلہ آسان نہیں ۔“
(عرفان الٰہی ص ٩٤)
مخالفین کو سولی پر لٹکانا
”خدا تعالیٰ نے آپ (مرزا غلام احمد) کا نام عیسیٰ رکھا ہے تاکہ پہلے عیسیٰ کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکایا تھا مگر آپ اس زمانہ کے یہودی صفت لوگوں کو سولی پر لٹکائیں ۔“
(تقدیر الٰہی ص ٢٩)
باب دوم
اسلامی خدمات
نو تعلیم یافتہ اور ناواقف حال احباب کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے قادیانی اپنی اسلامی خدمات کی فہرست بھی پیش کرتے ہیں جن میں اوّل نمبر غیر ممالک میں تبلیغی مشن کے قیام کا ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں قادیانیوں کا لکچر نہایت عجیب ہوتا ہے بس ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ گویا عنقریب سارا انگلستان، مسلمان ہو جائے گا۔ (مریدوں میں یہ بیان ہوگا کہ قادیانی ہو جائے گا) مسلمانوں میں بیٹھ کر مسلمان ہو جائے گا کے الفاظ ہی استعمال کیا کرتے ہیں ایک ناواقف حال مسلمان اس اسلامی خدمت سے بے حد متاثر ہوتا ہوا خیال کرتا ہے کہ بھئی اگر کوئی جماعت اسلام کی سچی خادم ہے تو یہ اللہ اللہ لندن میں مسجد تعمیر کر دی وہاں انگریزوں کو مسلمان کیا جا رہا ہے۔ خواہ کچھ ہی ہو ان کو اس کام میں مدد دینا کارثواب ہے لیکن حقیقت کیا ہے مختصر الفاظ میں یہ کہ دور کے ڈھول سہانے جس طرح قادیانی اپنی تعداد لاکھوں کی بتایا کرتے ہیں اور اگر مدارس میں لیکچر دے رہے ہوں تو یہ لاکھوں کی تعداد پنجاب میں بیان کی جاتی ہے اور اگر پنجاب میں لیکچر دیں تو یہ تعداد یوپی اور سی پی میں بتائی جاتی ہے اسی طرح جلب زر کے لئے یہ مشن قائم کر رکھے ہیں۔ غیر ممالک
٢٢
میں ہوتا کیا ہے ہماری زبان سے نہیں خود قادیانیوں کی زبان سنئے ۔ لندن میں پچیس سال سے مشن قائم ہے اور پچیس سال کے بعد کام کی جو رپورٹ پیش کی گئی ہے خواہ وہ چندہ کی اپیل کی ضرورت کی بناء پر ہی کی گئی ہے ۔ مگر مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے ہی کافی ہے۔
ہمارا کام کم و بیش سطحی ہے
”میری ناقص رائے میں مغرب میں رسوخ حاصل کرنے کے لئے لٹریری پہلو پر زور دینا اشد ضروری ہے۔ یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ ہیں برطانوی پریس نہ صرف دنیا میں سب سے زیادہ بااثر بلکہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ پریس ہے۔ اس کا معیار غیر معمولی طور پر بلند ہے اور برطانوی لوگوں کو ایسی سہولتیں میسر ہیں جن کا ہم خیال تک نہیں کر سکتے....... یہاں ہر مضمون کے ماہرین موجود ہیں جنہوں نے کسی خاص مسئلہ کی چھان بین میں اپنی عمریں صرف کر دی ہیں اور یہاں پبلک میں جو مسائل زیر بحث ہوں ان کے متعلق تمام ماہرین کے علم اور تجربہ کی رو سے ان پر فوراً روشنی پڑسکتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے لئے یہ قریباً ناممکن ہے کہ تحریراً یا تقریراً یہاں کے لوگوں کے لئے کوئی قابل غور چیز پیش کر سکیں ہماری یہاں کوئی لائبریری نہیں ہے اور کسی لائبریری میں کسی بات کی تحقیق کے لئے جانے پر دو تین گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ پھر ہمارے پاس کوئی چیز شائع کرنے کے لئے قطعاً کوئی فنڈ نہیں مناسب اور موزوں لٹریچر پیدا کئے بغیر اور عصر حاضر کے اہم مسائل کا گہرا مطالعہ کئے بغیر میری ناقص رائے میں اس جگہ ہمارا کام کم و بیش سطحی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ دوسری مصروفیتیں جو وقتی ضروریات کے لحاظ سے کم اہمیت نہیں رکھتیں کسی لٹریری کام کرنے یا مطالعہ کرنے کے لئے فرصت نہیں ہونے دیتیں چہ جائیکہ کوئی ایسا کام کیا جائے جو مغربی دنیا کو اپیل کر سکے۔ رپورٹ لندن مشن الفضل ۔“
(قادیان ج ٢١ ص ٥ نمبر ١٤٠ کالم نمبر ٢، ٢٤؍ مئی ١٩٣٤ء)
دوسری مصروفیات کے الفاظ خاص طور پر قابل غور ہیں۔ یہ اہم مصروفیتیں کیا ہیں؟ قادیانی خلیفہ مرزا محمود کی ہدایات کے مطابق ارکان حکومت سے ملاقاتیں ۔ عرضداشتیں اپنی منافقانہ خدمات کا رونا مقصود کیا؟ صرف یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو قادیانیت کے مقابلہ میں نیچا دکھایا جائے کسی سرکاری دفتر سے کسی چٹھی کا رسمی جواب آ گیا بس پھر کیا ہے پانچوں گھی میں قادیانی مبلغ مقیم لندن کا یہی سب سے بڑا کارنامہ ہوگا کہ وزیر ہند کے دفتر سے چٹھی کا جواب آ گیا ہے تا کہ اس پروپیگنڈا سے کئی لوگوں کو مرعوب کریں۔ قادیانی فوراً یہ شور ڈالتے نظر آئیں گے کہ وزیر ہند ہمارا مداح ہے۔ وزیر ہند نے ہمیں خط لکھا وزیر ہند ہمیں خندہ پیشانی سے ملے۔ حالانکہ
٢٣
دنیا جانتی ہے کہ انگریزی حکومت میں ہر شخص ہر افسر کو بے تکلف درخواست بھیج سکتا ہے۔ ملاقات کر سکتا ہے مگر یہ قادیانی ہیں کہ آسمان سر پر اٹھائیں گے، اور سنئے۔
ووکنگ مشن کی حقیقت
”مجھے معلوم نہیں یہ غلط خیال ہندوستان میں کس طرح پھیل گیا کہ ووکنگ کی مسجد لاہور میں احمدیوں کی تعمیر کردہ ہے۔ یہ مسجد سرکار بھوپال کے روپیہ سے تعمیر ہوئی تھی اور مسجد کے ساتھ رہائشی مکان سر سالار جنگ (حیدر آباد) کی یادگار ہے اور دونوں کی تعمیر ڈاکٹر لائٹر کے اہتمام میں ہوئی تھی ڈاکٹر لائٹر ایک جرمن عالم تھے۔ جن کو اسلام سے بہت انس تھا اور بعض کا خیال ہے کہ وہ دل سے مسلمان تھے ہندوستان میں سررشتہ تعلیم میں کام کرتے تھے۔ پہلے انسپکٹر آف سکولز اور پھر کچھ عرصہ کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار رہے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ولایت میں ہندوستان کا ایک نشان بھی قائم کر دیا جائے چنانچہ انہوں نے ایک اورینٹل انسٹی ٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ ایک طرف مسجد تھی اور اس کے ساتھ ہندوؤں کے لئے ایک مندر بنوا دیا گیا ڈاکٹر صاحب کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے مندر کا حصہ فروخت کر دیا لیکن مسجد کا حصہ سید امیر علی مرحوم کے طفیل محفوظ رہ گیا اور سید امیر علی نے ہی خواجہ کمال الدین صاحب کو مسجد میں آباد کیا ۔“ (فضل کریم خان صاحب درانی بی اے لاہوری مشنری کا مضمون مغرب میں تبلیغ اسلام مندرجہ رسالہ حقیقت اسلام بابت جنوری ١٩٢٢ء)
اخلاقی موت‘ خلاف بیانی اور چالاکی
”انہیں ایام میں خواجہ ( کمال الدین ) صاحب کو ایک پرانے مسلمان لارڈ ہیڈلے مل گئے۔ وہ قریباً چالیس سال سے مسلمان تھے مگر بوجہ مسلمانوں کی مجلس نہ ملنے کے اظہار اسلام کے طریق سے ناواقف تھے۔ خواجہ صاحب کے ملنے پر انہوں نے اسلام کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ چالیس سال سے مسلمان ہیں۔ خواجہ صاحب نے فوراً تمام دنیا میں شور مچا دیا کہ ان کی کوششوں سے ایک لارڈ مسلمان ہو گیا ہے۔ اس خبر کا شائع ہونا تھا کہ خواجہ صاحب ایک بت بن گئے اور چاروں طرف سے ان کی خدمات کا اعتراف ہونے لگا۔ مگر وہ لوگ جن کو معلوم تھا کہ لارڈ ہیڈلے چالیس سال سے مسلمان ہے اس خبر پر نہایت حیران تھے کہ خواجہ صاحب صداقت کو اس حد تک کیوں چھوڑ بیٹھے ہیں مگر خواجہ صاحب کے مدنظر صرف اپنے مشن کی کامیابی تھی۔ جائز یا ناجائز ذرائع سے وہ اپنے مشن کو کامیاب بنانے کی فکر میں تھے۔ ..... بعض لوگ ان کی ان خیالی کامیابیوں کو دیکھ کر یقین
کرنے لگے تھے کہ یہ الٰہی تائید بتا رہی ہے کہ خواجہ صاحب حق پر ہیں حالانکہ یہ تائید الٰہی نہ تھی بلکہ خواجہ صاحب کی اخلاقی موت تھی اور جب تک سلسلہ احمدیہ باقی رہے گا......خواجہ صاحب کی یہ خلاف بیانی اور چالاکی بھی دنیا کو یاد رہے گی اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر انگشت بدنداں ہوتے رہیں گے۔‘‘
(آئینہ صداقت ص ١٥٨ مصنفہ مرزا محمود)
اول الذکر حوالہ خود لاہوری جماعت کے مشنری کا ہے دوسری گواہی مرزا محمود خلیفہ قادیان کی ہے۔ خواجہ کمال الدین خاص قادیان سے بھیجے گئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین اوّل کے زمانہ میں گئے۔ ان کے لندن جانے پر قادیان سے بھی آواز آرہی تھی کہ خواجہ صاحب خاص تبلیغ اسلام کے لئے گئے ہیں، ان کے کارنامے بھی بیان کئے جاتے تھے۔ چند سال بعد مرزا محمود اور خواجہ کمال الدین کا اختلاف ہو گیا۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں مسلمانوں کو یہ فائدہ ہوا کہ غیر ممالک میں تبلیغی مشنوں کی حقیقت طشت از بام ہو گئی۔ بالفرض اگر یہ اختلاف رونما نہ ہوتا تو یہی خلیفہ قادیان خواجہ کمال الدین کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان نظر آتے اور اسلام کی عظیم الشان فتح کے عنوان سے قادیانی اخبارات کے کالم سیاہ نظر آتے بہرکیف ہمارا مدعا ثابت ہے۔ مرزائی مشن کی حقیقت خود مرزا محمود نے بیان کر دی۔
لندن مشن کے سربستہ راز
حقیقت یہ ہے کہ ووکنگ مشن میں سوائے کھانے پینے اور کھیلنے کودنے کے کام ہی کچھ نہ تھا بڑے اہم افکار تھے حسابات کے دو پونڈ تفریح پر خرچ کر آئے ہیں۔ ان کو کس مد میں ڈالیں چلو ڈال دو ڈاک کے خرچ میں بارہ پونڈ کا سوٹ بنوا لیا ہے اس کو کس مد میں ڈالیں چلو ڈال دو خاطر تواضع میں یہ مباحث روزمرہ کے معمول تھے۔
’’ٹرینڈاڈ کا ایک مسلمان سوداگر سیر کے لئے انگلستان گیا اور ووکنگ مسجد میں قیام کیا۔ کوئی دو ہفتے وہاں ٹھہرے ہوں گے۔ واپسی پر میں نے ان سے حالات پوچھے۔ کہنے لگے ووکنگ مشن بے حد دولت مند معلوم ہوتا ہے کھانا بے حد ضائع ہوتا ہے جو کھانا میرے کنبے کے لئے (بہت دولت مند تاجر تھے اور کنبہ بڑا تھا) دو وقت کے لئے کافی ہو۔ وہ ایک وقت زائد بچتا ہے اور پھینک دیا جاتا ہے۔ میں ایک اتوار کے دن وہاں (ووکنگ) بھی جا نکلا تا کہ دیکھوں کہ اب مشن کی کیا حالت ہے ووکنگ مشن ١٩٢٥ء سے مسٹر عبدالمجید کے چارج میں ہے۔ اور وہ اب بھی مسجد کے امام ہیں۔ میں پہنچا تو مسٹر عبدالمجید کا لیکچر جاری تھا پہلے تو ان کی صورت دیکھ کر تعجب ہوا۔
٢٥
مجھ سے کوئی تین چار برس چھوٹے ہیں اب جو دیکھا تو ایک معمر بزرگ نظر آئے۔ ایسے نحیف کہ نقاہت کے باعث جھکے جاتے تھے۔ میں حیران تھا کہ انگلستان کی آب و ہوا میں جہاں سوکھے بھی ہرے ہو جاتے ہیں ان کو کیا بنی۔ آپ مجرد ہیں اس وقت ان کی عمر چالیس برس کے قریب پہنچ رہی ہو گی لیکن شادی ابھی تک نہیں کی۔ میں بھی ان کا لیکچر سننے بیٹھ گیا۔ حاضرین کا شمار کیا۔ حضرت واعظ اور میرے سمیت سولہ آدمی تھے۔ دو انگریز مرد اور دو انگریز عورتیں تھیں۔ باقی سب ہمارے ہندوستانی یا ہندوستان سے گئے ہوئے جنوبی افریقہ کے رہنے والے تھے۔ انگریز نہایت رذیل طبقہ کے تھے۔ ان میں سے ایک ان کا نوکر تھا عورتیں کمترین طبقہ کی معلوم ہوتی تھیں۔ بہت بوڑھی تھیں اور لیکچر کے دوران میں بڑے آرام سے سو رہی تھیں۔ چوتھا انگریز اپنے ایک ہندوستانی دوست کے ساتھ اخبار بینی میں مصروف تھا امام صاحب سچ مچ بولنے والے آدمی ہیں۔ ایک ایک منٹ کے بعد ایک ایک لفظ ان کے منہ سے نکلتا تھا اور آواز ایسی تھی گویا کسی عمیق لحد سے آ رہی ہے۔“
(فضل کریم خان صاحب درانی بی۔اے کا مضمون مغرب میں تبلیغ اسلام مندرجہ رسالہ حقیقت اسلام لاہور
بابت جنوری ١٩٣٣ء)
جرمن قادیانی اداروں کی حالت
معزز ناظرین! یہ ہے غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کی حقیقت اس سلسلہ میں نامناسب نہ ہو گا اگر ان کے جرمن مشن کے متعلق وہاں کے اخبارات کی چند ایک آراء بطور نمونہ ہدیہ ناظرین کی جائیں۔
جرمینا: جماعت اسلامیہ برلن کے علاوہ برلن میں مسلمانوں (قادیانیوں) کی ایک اور انجمن ہے جو اپنے خاص سیاسی وجوہ سے آج تک یہاں قطعی ترقی نہیں کر سکی۔ اس کو اتنا بھی نصیب نہیں ہوا کہ وہ معمولی تعداد بھی جرمنوں کی مسلمان کر سکے۔ حالانکہ پروپیگنڈہ ہوتا ہے کہ سو سے اوپر مسلمان ہو چکے ہیں۔
ڈر ٹاک: ہر (قادیانی) مسجد کو لیکچر کے بعد مشرقی قہوہ خانہ بنا دیا جاتا ہے۔ چائے نوشی ہوتی ہے اور دل لگی مذاق پر خاتمہ بس یہ ہے تبلیغ اسلام۔
سنٹر السنڈر ٹیکبلاٹ سنٹر السنڈ : عبداللہ (قادیانی) انتہائی مبالغہ سے کام لیتے ہیں اور مشن کی کامیابی کو بہت بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ البتہ مسجد کا مکان ضرور ایک ہرجائی کی عشرت گاہ کی طرح سجا ہے مسجد بھی ایک نمائش گاہ یا عجائب گھر ہے جس کو ہر آدمی ٣٠ فینش تقریباً ٦ (آنہ) فی کس دے کر دیکھ سکتا ہے اور بس۔
٢٦
لیپزگر نیوسٹے پوسٹ لیپزگ : احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے گنتی کے وہی لوگ ہیں جو اس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور چند اس کے علاوہ بھی ہیں جو چائے پانی کی کشش سے پہنچ جاتے ہیں نہ کہ سو نو مسلم صرف چند مسلمان ہوئے ہیں۔ جن میں خاص طور پر عورتیں ہیں۔
مارکیشر ایڈلر برلن : مسجد قہوہ خانہ بنی ہوئی ہے۔ ایک بڑا سیلون کا کام دیتی ہے جس میں قہوہ اڑتا ہے۔ اور ہندوستان کے متعلق گفتگو کا موقعہ ملتا ہے۔
برسیشے مارکیٹے زیٹنگ ایلمر فیلڈے : عبداللہ دستار نہیں باندھتے اکثر اعلیٰ درجہ کے ایوننگ ڈرس میں تشریف لاتے ہیں۔ سال نو رو پر دل خوش کرتے ہیں اور اپنے ساتھ ایک عجیب و غریب بلکہ عجوبہ روزگار دم چھلا لگا رکھا ہے جو اکثر مذہب تبدیل کرتا رہتا ہے۔ یہ صاحب ڈاکٹر حمید مارکس ہیں کچھ کمیونسٹ ہندوستانیوں کی بھی در پردہ آمد و رفت ہے۔ اسی وجہ سے ساری کشش فوت ہو جاتی ہے۔ برلن کی مسجد اور مشن تبلیغ کا مرکز نہیں بلکہ ہندوستانی سرمایہ سے ایک پر منفعت تجارت ہے؟
ایک پر منفعت تجارت
مذکورہ بالا آراء میں سے آخری رائے میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ وہاں کے اخبارات بھی اس نتیجہ تک پہنچ چکے ہیں کہ یہ غیر ممالک کے مشن ایک پر منفعت تجارت ہے۔
کیا ہندوستان میں انگریزوں کو تبلیغ نہیں ہو سکتی؟ یہ ایک سوال ہے جو غیر ممالک میں قادیانی مشن کے راز کو آشکارا کرنے کے لئے کافی ہے۔ کسی دور دراز سفر کی ضرورت نہیں خود انگریز ہندوستان میں موجود ہیں سارے شہروں کا چکر لگانے کی ضرورت نہیں ایام گرما میں سرد مقامات پر قادیانی اپنے مبلغ بھیج دیں تمام اعلیٰ افسران کو بآسانی تبلیغ ہو سکتی ہے پھر ہم دیکھیں گے کہ کتنے ان کی تبلیغ سے متاثر ہوتے ہیں اور کتنی کامیابی ہوتی ہے۔ مگر قادیانی ہیں کہ یہ صورت اختیار ہی نہ کریں گے کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اپنی تبلیغ کی حقیقت اور اس کے نتیجہ سے واقف ہیں۔
غیر ممالک کی تبلیغ میں تو یہ راز پوشیدہ رکھا جا سکتا ہے کہ وہاں کیا کامیابی ہو رہی ہے جو جھوٹی سچی رپورٹ دل میں آئی شائع کر دی کون صورت حالات کی تحقیقات کے لئے دور دراز کا سفر کر کے جائے ادھر ہندوستان میں ان رپورٹوں کی اشاعت کے ساتھ ہی چندہ کی اپیل ہو جاتی ہے جو سادہ لوح قابو آ جاتے ہیں وہ بیچارے یہ سمجھ کر اپنے گاڑھے پسینہ کی کمائی ان کے سپرد کر دیتے ہیں کہ غیر ممالک میں تبلیغ کے اخراجات بہت ہیں۔
٢٧
دوسرا سوال قادیانیوں سے یہ ہونا چاہئے کہ کیا ہندوستان میں ہندوستانیوں کو تبلیغ کا کام ختم ہو گیا۔ کیا اس زمانہ کے قادیانی ریفارمر کے تمام فرائض جو اس ملک سے متعلق تھے ختم ہو گئے۔ کیا تمام قومیں ایک مرکز پر جمع ہوگئیں۔ کیا عیسیٰ پرستی کے ستون ٹوٹ گئے ( قادیانی مرزا کا دعویٰ ہے کہ تمام قومیں اس کے ہاتھ پر جمع ہوں گی ملاحظہ ہو۔ (چشمہ معرفت خزائن ج ٢٣ ص ٩٠ ص ٨٢) عیسیٰ پرستی کے ستون کو گرانا آپ کا فرض منصبی ہوگا۔ (ملاحظہ ہو، اخبار الحکم ٦ جولائی ١٩٠٦ء مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ١٦٢) دوسرے شہروں کا قصہ تو چھوڑو خاص قادیان کی کہو وہاں کے ہندو، عیسائی، سکھ مسلمان اب تک تم سے زیر نہیں ہوسکے۔ باوجودیکہ ان پر تمہاری طرف سے انتہائی تشدد کیا جاتا ہے مگر باوجود اس مظالم کے ابھی تک انہوں نے تمہاری مریدی کو اپنے گلے کا ہار نہیں بنایا۔
سچی اور مصنوعی نبوت میں فرق
معزز ناظرین! حقیقت یہ ہے کہ سچی اور مصنوعی نبوت میں یہی فرق ہے کہ مصنوعی نبوت کی اشاعت کے لئے حیلوں سے کام لیا جاتا ہے اور سچی نبوت خود بخود پھیلتی ہے۔ سچی نبوت کو پھیلانے کے لئے سفر کی ضرورت نہیں پڑتی وہ ایک نور ہوتا ہے جو خود بخود منور کئے جاتا ہے۔ اپنے اور بیگانے بھی اس نور سے روشنی پاتے ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ اس نبی کے قصبہ یا شہر کے لوگ اس سے محروم رہیں بلکہ حقیقی نبوت کی سچائی کی یہی بڑی دلیل ہوتی ہے کہ خود اس کے جاننے پہچانے والے اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس نبی کے بچپن تک کے حالات سے واقفیت رکھنے والے اس کی گواہی دیتے ہیں مگر مصنوعی نبوت کا حال الٹا ہوتا ہے وہ اپنے قرب و جوار کو متاثر نہیں کر سکتی وہ اپنے عزیزوں رشتہ داروں اور اپنے شہر کے باشندوں میں نہیں پھیلائی جا سکتی۔ اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ دور دور جگہوں پر اس نبوت کے قصے بیان کر کے لوگوں کو اپنے قابو میں لانے کی کوشش کی جائے۔
اس کی مثال یوں سمجھئے کہ لائق اور تجربہ کار حکیم کو ضرورت نہیں ہوتی کہ اپنے شہر کو چھوڑ کر دوسری جگہ اپنی پریکٹس کرے وہ اپنے شہر میں ہی معزز ہوتا ہے اس کا خاندان اس کے رشتہ دار اس شہر کے باشندے بھی اس کی لیاقت کے قائل ہوتے ہیں۔ ضرورت مند دور دراز کا سفر کر کے فوراً اس کے در دولت پر حاضر ہوتے ہیں مگر نا تجربہ کار حکیموں کا حال آپ نے دیکھا ہی ہوگا۔ وہ دوسرے شہروں میں جا کر بڑے بڑے سائن بورڈ لگا کر اشتہار بازی کر کے غرضیکہ ہزاروں جتن کر کے اپنی حکمت کا چرچا کرتے ہیں اور اپنے کاروبار کے لئے وہ جگہ تجویز کرتے ہیں جہاں اس
٢٨
کے اپنے شہر کے لوگوں کی آمد و رفت ہی نہ ہو، تاکہ کوئی واقف حال ان کی حکمت کے راز کو طشت از بام نہ کر دے۔
غیر ممالک میں قادیانی مشن کی حقیقت بھی یہی ہے۔ اس کا مقصود سوائے جلب زر کے اور کچھ نہیں یہ ہندوستانی مسلمانوں سے روپیہ کھینچنے کا مجرب نسخہ ہے جو قادیانی کمپنی نے بڑے غور و خوض کے بعد تجویز کیا ہے۔ ان تبلیغی مشنوں کا ایک اور راز بھی معلوم کیجئے۔
قادیانی نبوت کے خاندان اور قادیانی کمپنی کے حصہ داروں نے سوچا یہ کہ انہیں آئندہ اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے غیر ممالک میں بھیجنے کی بھی ضرورت ہو گی۔ وہاں کے ہوٹلوں کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں بہتر یہ ہے کہ وہاں مذہب کے نام پر اپنا ہیڈ کوارٹر ہو اس طریق سے خرچ میں بے حد کفایت ہو گی اور اس سلسلہ میں یہ بھی گنجائش ہو گی کہ بعض قادیانیوں کو جنہوں نے اپنی ضرورت کے لئے ان ممالک میں پہنچنا ہی ہے وہ قوم کے سر پر سوار ہو کر کیوں نہ جائیں۔ وہاں وہ اپنی تعلیم حاصل کریں یا کاروبار کریں۔ اخراجات قومی چندہ سے وصول کریں اور تکلیف صرف یہ کریں کہ ایک پندرہ روزہ یا ماہواری رپورٹ ارسال کر دیں جس کا آسان طریق یہ ہے کہ وہاں ایک ٹی (دعوت چائے) پارٹی دے کر چند لوگوں کو جمع کیا جائے خوب خاطر مدارت کی جائے اور اس اجتماع کا فوٹو لے کر قادیان بھیج دیا جائے۔ قادیانی خلیفہ فوراً اس کا بلاک تیار کر کے شائع کر دے اور یہ کہتے ہوئے چندہ کی اپیل بھی کر دے کہ امریکہ میں ہمارے مشن کی کامیابی کا منظر ملاحظہ ہو کتنے لوگ ہیں جو ہماری تبلیغ سننے کے لئے تشریف لائے ہیں۔ وہاں کے ایک اجتماع کا فوٹو ملاحظہ ہو۔ اب اس قسم کی رپورٹ مسلمانوں میں پہنچتی ہے اوّل تو کہاں امریکہ کہاں ہندوستان واقعات کی تحقیق ہی نہیں ہو سکتی خصوصاً جبکہ اس معاملہ میں احتیاط یہ ہے کہ ہدوستان میں شائع کردہ اپیلیں رپورٹیں دوسرے ممالک میں نہ پہنچیں لیکن اگر کبھی حسن اتفاق سے واقف حال مسلمان امریکہ میں رہتا ہوا قادیانیوں کے ہندوستان میں جاری کردہ پروپیگنڈہ کو سن پائے تو وہ اس وجہ سے خاموش رہتا ہے کہ ان کا راز طشت از بام کرنے میں اسلام کی ہتک ہے۔ دنیا یہ خیال کرے گی کہ اسلام کی تبلیغ کرنے والے اسی قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور وہ بیچارا یہ خیال ہی نہیں کرتا کہ اس کی اس خاموشی سے ہندوستان میں کتنے مسلمانوں کی جیبیں خالی ہو رہی ہیں۔
غیر ممالک میں قادیانی تبلیغی جلسوں کی رپورٹ کی حقیقت معلوم کرنے کے لئے قادیانیوں سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ جلسہ میں شرکت کرنے والے کون لوگ تھے؟ ان کی پوزیشن ٢٩
معلوم ہوتے ہی آپ کو جلسہ کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔ قادیانی کارکنوں کی رپورٹیں کیسی ہوتی ہیں اس کے لئے لاہوری جماعت کی گواہی ملاحظہ فرمائیے۔ جو ایک قادیانی مبلغ کی غلط رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لاہوری جماعت کے اخبار پیغام صلح نے حسب ذیل الفاظ میں دی ہے۔ ”یہ تو مجھے تسلیم ہے کہ (قادیانی مبلغ) مولوی صاحب کو حق ہے کہ جو اناپ شناپ چاہیں الفضل میں خلیفہ المسیح کی اطلاع کے لئے بطور رپورٹ درج کراتے رہیں آخر سرکار سے تنخواہ پاتے ہیں کچھ تو حق نمک ادا کرنا چاہئے لیکن اس قدر بھی ضمیر کو مردہ نہیں کر دینا چاہئے جس سے کبھی بھی حق بات کا اظہار نہ ہو سکے ...... جب میں مولوی صاحب کا یہ بیان پڑھتا ہوں تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہتی اور ایسا محسوس کرتا ہوں کہ صداقت و دیانت کا وجود دنیا سے اٹھ گیا ہے جب یہ بزعم خود صداقت و دیانت کے علمبردار اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے صداقت و دیانت کا خون کر دیتے ہیں تو بڑی بڑی باتوں کے لئے کچھ بھی کر گزریں تھوڑا ہے۔“
(پیغام صلح ج ٢٢ نمبر ٢٠ ص ٢ کالم نمبر ٣۔ ١٥ مئی ١٩٣٤ء)
میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ بالا سطور قادیانیوں کے لندن مشن، جرمن مشن، امریکہ مشن کی حقیقت آشکارا کرنے کے لئے کافی ہوں گی۔ البتہ اس سلسلہ میں اس سوال کا جواب دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آخر جن لوگوں کے مرزائیت قبول کرنے کا اعلان قادیانی اخبار کیا کرتے ہیں ان کی کیا حقیقت ہے؟ اس سوال کا کسی قدر جواب تو مذکورہ بالا حوالہ جات میں ہو چکا ہے کہ کسی انگریز نے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کر کے اسلام قبول کیا۔ ادھر قادیانیوں نے ان سے راہ ربط پیدا کر لیا اور ہندوستان میں یہ شور برپا ہو گیا کہ ہماری تبلیغ سے ایک انگریز مسلمان ہو گیا ہے۔
ناظرین کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کسی معزز شخص کے قبول اسلام کے مواقع بھی کسی ملک میں روز مرہ نہیں ہوتے بلکہ شاذ نادر لیکن قادیانی اس قسم کے ایک واقعہ ...... کو بھی دس سال تک اپنے پروپیگنڈا کے لئے کافی سمجھتے ہیں ہماری بیان کردہ حقیقت کی صداقت معلوم کرنے کے لئے قادیانیوں سے دریافت کرنا چاہئے کہ عرصہ پچیس سال سے تمہارا مشن انگلستان میں قائم ہے۔ اس عرصہ دراز میں جس قدر انگریزوں نے تمہاری مریدی میں آنا قبول کیا ہے ان کی فہرست معہ مفصل پتہ پیش کرو۔ اس کا جو جواب آپ کو ملے گا وہ حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ اس سلسلہ گفتگو میں اس بات پر زور دیجئے کہ ہم فہرست معہ مکمل پتہ چاہتے ہیں اس قسم کی فہرست نہیں جیسی الفضل، نومبائعین (قادیانی گدی کے نئے مریدین) کا عنوان دے کر شائع کیا کرتا ہے جس کا طرز یہ ہوتا ہے۔
٣٠
غلام محمد صاحب ضلع سیالکوٹ نواب دین صاحب ضلع سیالکوٹ غلام قادر صاحب ضلع سیالکوٹ رحمت بی بی ضلع لاہور کرم بی بی ضلع لاہور
کیونکہ اس قسم کی فہرست کا کیا ہے ہر ماہ سینکڑوں اشخاص پر مشتمل فہرست شائع کی جا سکتی ہے۔ مثلاً ضلع سیالکوٹ ایک وسیع علاقہ ہے کیا معلوم کس گاؤں کس قصبہ اس کے کس محلہ کا یہ شخص باشندہ ہے۔ کیا عمر ہے کیا پیشہ غرضیکہ کچھ معلوم نہیں کون ہے کون نہیں۔
پس آپ فہرست کا مطالبہ کریں گے اور ساتھ ہی پچیس سال کے اخراجات کی میزان دریافت کریں گے تو غیر ممالک میں قادیانی مشن کی اصلیت واضح ہو جائے گی کہ کتنے خرچ سے کیا کام ہوا ہے اور آئندہ کس قدر کام کی توقع ہے۔
ایک دلچسپ حقیقت
در اصل قصہ یہ ہے کہ خواہ کوئی ملک کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو اس میں مفلس و نادار ضرور ہوتے ہیں۔ انگلستان ہو یا امریکہ وہاں ہمارے ملک کی نسبت بہت زیادہ خوشحالی ہے۔ گداگری قانوناً ممنوع ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہاں کوئی بھی مفلس نہیں کیا وہاں چوری اور ڈاکہ کی وارداتیں نہیں ہوتیں؟۔ ہاں یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ وہاں جرائم کا ارتکاب اعلیٰ طریق اور اعلیٰ پیمانہ پر ہوتا ہے بہت زیادہ ہوشیاری سے کام کیا جاتا ہے۔ اگر ان ممالک میں محنتی اور باکار لوگوں کی کثرت ہے اور وہ اس قدر منہمک ہیں انہیں کسی سے بات کرنے کی بھی فرصت نہیں چہ جائیکہ وہ کسی قادیانی کی تبلیغ ( جو اگر مگر اور مختلف اقسام کی تاویلات پر مبنی ہوتی ہے ) کو سن سکیں۔ ان کے اخراجات ہی اس قدر زیادہ ہیں جو وہ بغیر انتہائی جدوجہد کے پورے نہیں کر سکتے جہاں کے اخلاق یہ ہیں کہ بغیر ضرورت گفتگو کرنا ناپسند کیا جاتا ہے تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہاں کوئی بھی سست کاہل مفلس موجود نہیں۔ یقیناً وہاں یہ دوسری قسم کا گروہ موجود ہے پس یہ وہ طبقہ ہے جو ادھر ادھر اس قسم کے اداروں کی تلاش میں پھرتا رہتا ہے۔ لندن کی گلیوں اور بازاروں کا چکر لگاتے لگاتے انہوں نے قادیانی مشن کا بورڈ دیکھا اور مہذبانہ انداز میں قادیانی دفتر میں تشریف لے گئے۔ چند دن قیام کیا۔ خاطر و مدارت ہوئی۔ آخر قادیانی مبلغ صاحب اپنا مدعا یہ بھی عرض کر دیتے ہیں کہ حضرت! ہم تو ایک جماعت کے مبلغ ہیں۔ ہر ماہ ہماری رپورٹ جانی ضروری ہے۔
٣١
اگر آپ کو علم نہ ہو تو یہ بیعت کا فارم ہے آپ اس پر دستخط کر دیجئے۔ یہ ہماری کارگزاری شمار ہوگی وہ معزز مہمان اس درخواست کے قبول کرنے میں کچھ حرج نہیں سمجھتا جبکہ اس کے لئے یہ دائیں ہاتھ کا کرتب ہے کہ وہ ہر ہفتہ اپنا نام تبدیل کرلے وہ بیعت کے فارم پر دستخط کرتا ہے۔ قادیانی مبلغ اس کا نام درج رجسٹر کر لیتا ہے اور ہندوستان میں لندن سے آنے والی ڈاک میں یہ رپورٹ پہنچ جاتی ہے کہ فلاں معزز انگریز سلسلہ عالیہ میں داخل ہو گیا ہے۔ اب ہندوستان میں کون جانے کہ کون انگریز مسلمان ہوا ہے اور کون نہیں؟ سال بھر میں کبھی ٹی پارٹی کی دعوت دے کر اس قسم کے لوگوں کو جمع کر لیا جاتا ہے۔ کسی ایک آدھ معزز شخص کی بھی دعوت میں شرکت کے لئے خوشامد کی جاتی ہے۔ چند غیر ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں سے وطنی محبت کا واسطہ دے کر تشریف لانے کی استدعا کی جاتی ہے اور اس طرح پندرہ بیس اشخاص کا اجتماع ہو جاتا ہے فوٹو لیا جاتا ہے جو ہندوستان میں حاشیہ آرائی اور مبالغہ آمیزی کے ساتھ شائع کر کے اپنی کامیابی کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے معزز ناظرین! حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ عرصہ میں اگر کسی معزز یورپین نے اسلام قبول کیا ہے تو اپنے مطالعہ اور فطرتی جذبہ سے جو خدائے تعالیٰ نے ان کو ودیعت کیا ورنہ قادیانیوں کی تبلیغ اور نمونہ ان کے لئے ہرگز جاذب نہ ہوا نہ ہوگا۔ ہاں پروپیگنڈا ضرور ایسی چیز ہے جس سے بسا اوقات بعض ناواقف حال متاثر ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اس بیان کی تائید ناظرین کو اس امر سے بھی ہوگی کہ جن انگریزوں کے متعلق قادیانی یہ مشہور کیا کرتے تھے کہ وہ ان کے مرید ہیں اگر انہیں کبھی ہندوستان آنے کا اتفاق ہوا تو مسلمانوں کے استفسار پر فوراً انہوں نے اعلان کر دیا کہ انہیں مرزائیت سے کوئی تعلق نہیں۔
قادیانیوں کی اسلامی خدمات کی حقیقت
قادیانی اپنی جن اسلامی خدمات کا پروپیگنڈہ کیا کرتے ہیں ان کی اصلیت تو آپ نے معلوم کر لی اس ضمن میں ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ان کی بعض اسلامی خدمات کی فہرست پیش کریں تاکہ ناظرین کو معلوم ہو کہ یہ کمپنی اسلام کے پردہ میں اپنے مقاصد کے پیش نظر کن خدمات کو سرانجام دے رہی ہے۔
اسلامی حکومتوں اور امت مسلمہ کا استخفاف
قادیانیوں کی سب سے بڑی خدمت اسلامی حکومتوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرنا اور مسلمانوں کی تحقیر اور استخفاف ہے۔ جس کا مقصد سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ اسلام اور ٣٢
مسلمانوں کو غیروں کی نظروں میں ذلیل کیا جائے۔ یوں تو ان کا تمام لٹریچر اس قسم کی تحریروں سے بھر پور ہے لیکن اس جگہ ہم بطور نمونہ مرزا محمود کی تحفۃ الملوک سے چند سطور نقل کرتے ہیں۔
’’مگر اس کے مقابلہ میں آج اسلام کی کیا حالت ہے ملک پر ملک مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے نہیں بلکہ سب ملک وہ اپنے ہاتھوں سے دے چکے ہیں اور ایک ایک کر کے سب ممالک ان کے ہاتھ سے چھینے جا چکے ہیں۔‘‘ (صفحہ ١٠) اگر پچھلی صدی کی اسلامی جنگوں کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو بجائے ظاہری باعث کے زیادہ تر پوشیدہ باعث ہی نکلیں گے ( کہیں وہ پوشیدہ باعث آپ ہی کا وجود تو نہیں؟) کہ جو اسلامی حکومتوں کی شکستوں کا باعث ہوئے بہت کثرت سے ایسے معرکے ہوئے ہیں کہ ہر طرح اسلامی لشکر کامیاب و مظفر رہا لیکن انجام کار کوئی ایسی بات پیش آ گئی ( آپ کی دعا یا حکمت عملی یا اسلامی حکومتوں سے آپ کی غداری کے سوا اور کیا چیز پیش آ سکتی ہے؟) کہ آخری میدان دشمن کے ہاتھ رہا ..... اس وقت اول تو کوئی ایسی اسلامی سلطنت رہی ہی نہیں ( رہتی کیونکر قادیانی نبی کا ظہور جو ہو چکا ہے جس کی آمد کے ساتھ اسلام کی شوکت وابستہ تھی ) کہ جسے حقیقی معنوں میں سلطنت کہا جا سکے۔ اگر کوئی ہے تو وہ بجائے مسلمانوں کے سکھ کے باعث ہونے کے ان کے لئے دکھ کا باعث ہو رہی ہے عام طور پر حکومتیں لوگوں کے سکھ کا باعث ہوتی ہیں اور بادشاہ کے ہم مذہب اس حکومت کو اپنے مذہب کے لئے ایک پشت پناہ سمجھتے ہیں لیکن اسلامی حکومتیں بجائے مسلمانوں کے آرام کا ذریعہ ہونے کے ان کے لئے دکھ کا باعث ہو گئی ہیں اور آئے دن ایسے مصائب میں مبتلا رہتی ہیں کہ ان کے ساتھ کل دنیا کے مسلمان بھی انگاروں پر لوٹتے ہیں۔ پس (اسلامی) حکومتیں سکھ تو کیا پہنچا سکتی ہیں ان کے ذریعہ مسلمانوں کا ہمیشہ کے لئے غم و الم سے پالا پڑ گیا ہے۔‘‘
(تحفۃ الملوک ص١٤، ١٥)
’’وہ (مسلمان) روز بروز گرتے ہی چلے جاتے ہیں اور اس بات کے ثبوت کے لئے حکومت کے جیل خانے کافی شہادت دیتے ہیں ( بے شک آپ کی طرف سے بھیجے ہوئے قاتل بھی جیل خانوں کی زینت بن چکے ہیں بلکہ پھانسی پا چکے ہیں ) کس قدر دل کو دکھ پہنچانے والا بلکہ دل کو خون کر دینے والا وہ نظارہ ہوتا ہے جب کوئی مسلمان جیل خانوں کی سیر کرتا ہے (پھانسی چڑھنے والے مرزائی نے تو دل کو خون نہ کیا ہو گا کیونکہ وہ بیچارا آپ کے خاندان سے نہ تھا پھانسی لٹکا تو وہ غریب آپ کا کیا گیا) کیونکہ سب جیل خانے مسلمانوں سے بھرے پڑے ہیں ( ان میں تبلیغ کا کوئی انتظام نہیں اور تبلیغ ہو رہی ہے لندن و امریکہ میں ) اور ان کی اخلاقی حالت بجائے دوسری قوموں سے اعلیٰ ہونے کے بہت ادنیٰ ہے اور وہ اسلامی آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ
٣٣
ذلیل کیا جائے ۔ یوں تو ان کا تمام لٹریچر اس قسم کی تحریروں سے نہ مرزا محمود کی تحفۃ الملوک سے چند سطور نقل کرتے ہیں۔ میں آج اسلام کی کیا حالت ہے ملک پر ملک مسلمانوں کے سب ملک وہ اپنے ہاتھوں سے دے چکے ہیں اور ایک ایک سے چھینے جا چکے ہیں ۔“ (صفحہ ١٠) اگر پچھلی صدی کی اسلامی بجائے ظاہری بواعث کے زیادہ تر پوشیدہ بواعث ہی نکلیں گے کا وجود تو نہیں؟) کہ جو اسلامی حکومتوں کی شکستوں کا باعث کے ہوئے ہیں کہ ہر طرح اسلامی لشکر کامیاب ومظفر رہا لیکن (آپ کی دعایا حکمت عملی یا اسلامی حکومتوں سے آپ کی غداری ) کہ آخری میدان دشمن کے ہاتھ رہا...... اس وقت اول تو کوئی رہتی کیونکہ قادیانی نبی کا ظہور جو ہو چکا ہے جس کی آمد کے ساتھ حقیقی معنوں میں سلطنت کہا جاسکے۔ اُلو کوئی ہے تو وہ بجائے نے کے ان کے لئے دکھ کا باعث ہو رہی ہے عام طور پر حکومتیں ر بادشاہ کے ہم مذہب اس حکومت کو اپنے مذہب کے لئے ایک میں بجائے مسلمانوں کے آرام کا ذریعہ ہونے کے ان کے لئے ایسے مصائب میں مبتلا رہتی ہیں کہ ان کے ساتھ کل دنیا کے پس (اسلامی) حکومتیں سکھ تو کیا پہنچاسکتی ہیں ان کے ذریعہ سے پالا پڑ گیا ہے۔“
(تحفۃ الملوک ص ١٥١،١٥٧)
روز گرتے ہی چلے جاتے ہیں اور اس بات کے ثبوت کے لئے ت دیتے ہیں (بے شک آپ کی طرف سے بھیجے ہوئے قاتل ہیں بلکہ پھانسی پاچکے ہیں ) کس قدر دل کو دکھ پہنچانے والا بلکہ تا ہے جب کوئی مسلمان جیل خانوں کی سیر کرتا ہے (پھانسی ن نہ کیا ہوگا کیونکہ وہ بیچارا آپ کے خاندان سے نہ تھا پھانسی لہ سب جیل خانے مسلمانوں سے بھرے پڑے ہیں (ان میں ہی ہے لندن و امریکہ میں ) اور ان کی اخلاقی حالت بجائے بہت ادنی ہے اور وہ اسلامی آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ
٣٣
قید خانوں میں نظر آتے ہیں۔ ان کے گناہ بھی کوئی معمول نہیں ہوتے گندے سے گندے اور بد سے بد اعمال کے بدلہ وہ سزائیں بھگت رہے ہیں۔ چوریاں، ڈاکے زناء بالجبر، آوارگی، قتل، غداری خیانت مجرمانہ، دھوکہ دہی، جعل، استحصال بالجبر، جعلسازی وہ کونسا گناہ ہے جس کے مسلمان مرتکب نہیں۔ (اللہ اللہ کس قدر جسارت وجرأت ہے کہ مسلمانوں کے جرائم کی فہرست شائع کی جا رہی ہے لیکن اگر کوئی مسلمان قادیان کے جرائم کی سچی فہرست سنائے تو الفضل کے کالم کے کالم سیاہ ہونے شروع ہو جائیں اور حکومت سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ اس شخص پر مقدمہ چلنا چاہئے۔ اس پر دفعہ ١٥٣ عائد ہوتی ہے ) اور یہ تو وہ جرائم ہیں جن پر گورنمنٹ کی طرف سے مواخذہ ہوتا ہے ورنہ اور ایسے بہت سے گناہ ہیں کہ جن کے ذکر سے بھی بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن مسلمان ان کے مرتکب ہو رہے ہیں حتی کہ بعض موقعہ پر محرمات کی حرمت کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا (سبحان اللہ مسلمانوں پر یہ ریمارک قادیان سے دیا جا رہا ہے ) دین سے وہ بے پروائی ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں امراء عیاشی (غالباً مسلمانوں کے مشک وغیرہ کے زیادہ استعمال سے یہ الزام دیا گیا ہے ) اور دنیا طلبی (جس کا قادیان میں نام ونشان نہیں ) میں مشغول ہیں۔ صوفیاء گانے اور قوالی سننے میں مصروف ہیں علماء جھوٹے فتوے دیتے ہیں۔“ (غالباً قادیانیوں کے نزدیک یہ الفاظ تو ملک معظم کی رعایا کی دو جماعتوں میں نفرت پیدا نہیں کرتے )
(تحفۃ الملوک ص ١٧٧، ١٧٨)
”جس قدر فاحشہ عورتیں مسلمانوں میں ہیں جو عصمت فروشی پر فخر محسوس کرتی ہیں غیر قوموں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ (نظیر نہیں ملتی؟ آپ کے نبی صاحب عیسائیوں کے متعلق حسب ذیل ریمارک دیتے ہیں۔ ”گندی سیاہ بدکاری اور ملک کا ملک رنڈیوں کا چکلہ بن جاتا ، ہائیڈ پارکوں میں ہزاروں ہزار کی روشنی میں کتوں اور کتیوں کی طرح اوپر تلے ہوتا...... یہ کس بات کا نتیجہ ہے۔ (مکتوبات احمدیہ جلد ٣ ص ٢٨) (اور آریوں کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ ان کی کتاب آریہ دھرم میں ملاحظہ فرمائیے ہم تو نقل بھی نہیں کر سکتے۔ باری باری سب قوموں کے متعلق قادیان کا یہی فتویٰ ہے ۔ ) پس یہ حالت ایسی نہیں جسے دیکھ کر ایک دردمند دل بے اختیار نہ ہو جائے ۔ نام ہی اسلام کا رہ گیا ہے ورنہ کام کے لحاظ سے تو اسلام کا کچھ باقی نہیں رہا۔ (یہ سب قادیانی جماعت کی برکت ہے ۔ اس مقدس مذہب کو آئے ہوئے۔ ٥٠ سال ہو گئے مگر حالت وہی ہے ۔ رہی تبلیغ سو وہ امریکہ میں ہو رہی ہے ۔ بیماری پنجاب میں اور علاج امریکہ میں ہو رہا ہے درد کا نتیجہ ہزاروں میلوں پر پیدا ہو رہا ہے۔ حالانکہ دوسری قوموں میں بقول مرزا محمود یہ بیماریاں کم ہیں۔ فاعتبروا یا
٣٤
اولی الابصار غور کرو کہیں یہ رونا مسلمانوں کو غیروں میں ذلیل کرنے کے لئے تو نہیں؟)
(تحفۃ الملوک ص ١٩١٨)
سلطان روم پر نظر عنایت
”ہمیں اس گورنمنٹ کے آنے سے وہ دینی فائدہ پہنچا کہ سلطان روم کے کارناموں میں اس کی تلاش عبث ہے۔“
(اشتہار مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ٦ ص ٢٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
ناظرین نے ملاحظہ فرمایا کہ حکومت برطانیہ کی منافقانہ وفاداری کی آڑ میں ایک اسلامی حکومت کی کیونکر تخفیف کی گئی ہے؟۔
مکہ و مدینہ و دیگر اسلامی مقامات پر شفقت
”میں اپنے کام کو نہ مکہ میں اچھی طرح چلا سکتا ہوں نہ مدینہ میں نہ روم میں نہ شام میں نہ ایران میں نہ کابل میں مگر اس گورنمنٹ میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں لہٰذا وہ اس الہام میں اشارہ فرماتا ہے کہ اس گورنمنٹ کے اقبال و شوکت میں تیرے وجود اور تیری دعا کا اثر ہے اور اس کی فتوحات تیرے سبب ہیں۔ کیونکہ جدھر تیرا منہ ادھر خدا کا منہ ہے۔“
(اشتہار مرزا قادیانی مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ٦ ص ٦٩، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٧٠)
سقوط بغداد کے موقعہ پر قادیان میں چراغان کیا جانا اور فاتح کو مبارک باد کے تار دینا اس گروہ کی خدمات اسلامی کا ایک منظر تھا۔ بہادر ترکوں کو سور اور بندر کا خطاب بھی اسی گروہ نے عطا فرمایا تھا۔ مذکورہ بالا حوالہ میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ قادیانی نبی حکومت برطانیہ کی فتوحات کے لئے دعائیں کرتا ہے جس کے نتیجہ میں الہام بھی ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ فتوحات کے لئے دعا کا منشاء یہی تھا کہ یہ تمام ممالک مسلمانوں کے قبضہ میں نہ رہیں۔ یہ ہے اس گروہ کی حقیقی خدمت اسلام۔
میرے نو تعلیم یافتہ دوستو: دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ انسان جس گھر میں پیدا ہوتا ہے اس کی تعظیم و تکریم اس کا انسانی فرض ہوتا ہے مگر یہ گروہ جس کا نام لے لے کر لوگوں کو اپنے دام تزویر میں لانے کے لئے دن رات کوشاں رہتا ہے۔ اسی مبارک وجود کی امت کی تباہی کے لئے دعائیں اور ان کے خلاف ہی نفرت و حقارت پیدا کر رہا ہے۔ یہ ایک علیحدہ مستقل مضمون ہے کہ مرزا قادیانی یا اس کا گروہ حکومت برطانیہ کا وفادار ہے یا نہیں اور کہ اس منافقانہ وفاداری کا منشاء صرف حکومت کو غافل کرنا تھا ورنہ اس گروہ کا مقصد صرف اور صرف مذہب کے پردہ میں اپنا
٣٥
کاروبار چلانا ہے اس مضمون پر آپ ہماری کسی دوسری کتاب کو ملاحظہ فرمائیں گے جس میں بدلائل ثابت کیا جائے گا کہ یہ گروہ جہاں تمام دنیا کا دشمن ہے وہاں حکومت برطانیہ بھی اس کے عتاب اور نظر شفقت سے محفوظ نہیں رہی اس حکومت کے خلاف بھی ان کے دلوں میں یہ کینہ ہے کہ اس نے ان کے کچھ دیہات چھین لئے تھے اور ان کو نان و نفقہ تک کا محتاج کر دیا تھا آخر مقابلہ کی طاقت نہ پاتے ہوئے حکومت سے بدلہ لینے کے لئے مذہب کے پردہ میں ایک جتھہ کی تیاری شروع ہو گئی اس گروہ کی حکومت برطانیہ سے لفظی وفاداری صرف یہ معنی رکھتی ہے کہ حکومت اس گروہ کی خفیہ کارروائیوں پر کوئی توجہ نہ دے اور یہ لوگ اس وفاداری وفاداری کی رٹ سے اپنا کام کئے جائیں وفاداری کا اندازہ اس امر سے کیجئے کہ مرزا قادیانی نے حکومت برطانیہ کے متعلق حسب ذیل پیشین گوئی کر رکھی ہے جو اس کے بیٹے مرزا محمود نے بیان کی ہے۔
زان بعد ضعف و فساد و اختلال
(تذکرہ ص ٧٦٦)
دوسری اسلامی خدمت
قادیانی گروہ کی دوسری اسلامی خدمت ملک میں فتنہ و فساد پیدا کرنا ہے۔ مذہبی مناظروں کی طرح ڈال کر میدان کارزار گرم کرنے کی ہر دم فکر دامنگیر رہتی ہے۔ کہیں آریوں کو مناظرہ کا چیلنج ہے تو کہیں عیسائیوں کو ان مناظروں کا مقصود دوسری اقوام کو مشتعل کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا چنانچہ آریوں اور عیسائیوں میں سے جن چند اشخاص نے اسلام کے متعلق دریدہ دہنی کی جسارت کی ہے وہ حقیقتاً اسی گروہ کی مہربانی کا نتیجہ ہے۔
معزز ناظرین! آج سے پچاس سال پہلے یعنی قادیانی فتنہ کے ظہور سے پہلے ہندوستان کی مختلف اقوام میں جو محبت و پیار تھا اس کا آج نام و نشان بھی موجود نہیں۔ مسلمانوں پر قادیانی کمپنی کی خاص نظر عنایت ہے ان کو مناظرہ یا مجادلہ کی دلدل میں کھینچنے کے لئے ہر وقت کوشش کی جاتی ہے ان مناظروں اور جھگڑوں کا کیا نتیجہ ہوتا ہے وہ ہر مقام کے انصاف پسند اصحاب کے سامنے ہے۔ بسا اوقات فساد کی نوبت پہنچتی ہے جس کے بانی مبانی یہی قادیانی ہوتے ہیں جو اپنے مذہب سے اعتراض دور کرنے کے لئے فوراً ہر قوم کے پیشوا پر اعتراض جڑ دیا کرتے ہیں اور دشنام دہی تو ان کا خاصہ ہے ہی۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا دین کامل، کلام الہی خاتم الکتب اور آخری صحیفہ آسمانی،
ہمارا نبی کامل و اکمل ۔ کیا معاذ اللہ اس دین میں ہمیں کوئی شک و شبہ ہے؟ جو کسی سے مناظرہ کریں ۔ مناظرہ (اگر وہ اپنی صحیح شکل میں ہو ) کے معنی تو تحقیق حق ہو سکتا ہے جب ہمیں اپنے مذہب کی سچائی پر حق الیقین ہے تو تحقیقات کے کیا معنی؟
کیا ہم مناظرہ اس گروہ سے کریں جس کے مذہب کا یہ حال ہے کہ ہر دس سال کے بعد اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے کبھی حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر زندہ موجود ہونے کا اقرار ہے ایک دو سال نہیں بارہ سال یہی عقیدہ رہا (ملاحظہ ہو اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣) پھر وفات مسیح کے دلائل شروع ہوئے اور اپنے متعلق یہ اشتہار کہ صرف مجدد ہونے کا دعویٰ ہے ذرا اور عرصہ گزرا تو مسیحیت کا دعویٰ مگر نبوت سے انکار، چند سال اور گزرے تو نبوت کا دعویٰ جس مذہب پر اس کے بانی کے اعتقاد کا یہ حال ہو اس کے متعلق تحقیق کرنا اگر تضیع اوقات نہیں تو اور کیا ہے؟
قادیانیوں نے تو قادیان میں اپنے طلباء کو شاطرانہ چالیں طراری چالاکی ہوشیاری کی تعلیم دینے کا خاص اہتمام کر رکھا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ یوں تو ہماری بات کوئی سنتا نہیں عوام الناس کو مشتعل کرو کہ لاؤ اپنے مولوی کو ہم سے مناظرہ کر لو سچ جھوٹ سامنے آ جائے گا ۔ عوام الناس بھی اس چکر میں آ جاتے ہیں اور یہ سوچتے نہیں کہ دو مولوی تو صرفی ۔ نحوی لغوی بحث کریں گے ۔ ہماری سمجھ میں کیا آئے گا ۔ اس مناظرہ کا فائدہ تو ان کو ہو سکتا ہے جو ان دونوں مولویوں سے بھی زیادہ علم رکھتا ہو۔ قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ جھگڑا ہو گا شاید کوئی کم سمجھ ہمارے مبلغ کے تیز بولنے سے ہی متاثر ہو جائے۔ طبیعتیں مختلف ہیں اذہان مختلف ہمارا کوئی نہ کوئی شکار پیدا ہی ہو جائے گا ۔
اگر ہندوستان میں یہ حالت موجود ہے کہ بازاروں میں لکچر دے کر ادویات فروخت ہو سکتی ہیں اور کئی سادہ لوح اس جال کا شکار ہو جاتے ہیں تو کیا یہ کاروبار فیل ہو جائے گا جس پر بظاہر مذہبی رنگ بھی موجود ہے (ہماری کتاب مباہلہ پاکٹ بک میں اس امر پر مفصل بحث موجود ہے کہ قادیانیوں کا مناظرہ سے کیا مقصود ہوتا ہے اور اگر ان سے مناظرہ کیا جائے تو کس طریق سے شرائط طے ہونی چاہئے ) میں یہ عرض کر رہا تھا کہ قادیانی گروہ نے مناظرہ کو اپنی تشہیر اور فتنہ و فساد پیدا کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا ہوا ہے ۔ ادھر بعض تو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے اور بعض مفید پیشہ سمجھ کر میدان مناظرہ میں آ جاتے ہیں اور نتیجہ جو ہوا یا ہو رہا ہے اور ہو گا وہ دنیا کے سامنے ہے ۔
فتنہ و فساد پیدا کرنا قادیانی گروہ کا اولین فرض دکھائی دے رہا ہے ۔ دوسرے کو گالی دیں گے اور امن امن کا شور برپا کر دیں گے تا کہ امن پسندی کا شور گالی پر غالب آ جائے جس سے بعض اوقات سادہ لوح یہی خیال کرنے لگتے ہیں کہ یہ امن پسند ہیں اور ان کے ذہن اس گالی اور دشنام
٣٧
دہی کو بھلا دیتے ہیں قصہ مختصر یہ ہوتا ہے جس کسی قصبہ یا شہر میں موقعہ کی تلاش میں رہیں گے کہ مخالف لوگوں کی بالمقابل پارٹی قادیانی کرتے ہیں) نہیں سمجھت کمزور کرنا ہے مسلمانوں کی ۔ اختلاف ہوا نہیں اور قادیانیو خدمت جو قادیانی گروہ کی طرف
تیسری اسلامی خدمت
یہ ہے کہ حکومت کوئی ایجی ٹیشن شروع ہوئی ا فکر کی نہیں اس شہر میں جو بھی انہیں کسی نہ کسی مصیبت میں شروع کر دیا ۔ ” جتنے تھے سب بعض حکام مرزا چند افراد کی غلط خبر رسانی کی مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک
باغیوں کی فہرست
” قرین مصلحت نام بھی نقشہ جات میں درج دیتے ہیں ہم امید رکھتے ہیں اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے
اس سلسلہ میں سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ
اللہ اس دین میں ہمیں کوئی شک و شبہ ہے؟ جو کسی سے مناظرہ شکل میں ہو) کے معنی تو تحقیق حق ہو سکتا ہے جب ہمیں اپنے تحقیقات کے کیا معنی؟ ردے سے کریں جس کے مذہب کا یہ حال ہے کہ ہر دس سال کے عی حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر زندہ موجود ہونے کا اقرار ی عقیدہ رہا (ملاحظہ ہو اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) پھر وفات اپنے متعلق یہ اشتہار کہ صرف مجدد ہونے کا دعویٰ ہے ذرا اور عرصہ سے انکار، چند سال اور گزرے تو نبوت کا دعویٰ جس مذہب پر واس کے متعلق تحقیق کرنا اگر تضیع اوقات نہیں تو اور کیا ہے؟ نہ طلباء کو شاطرانہ چالیں‘ طراری‘ چالاکی‘ ہوشیاری کی تعلیم دینے کا سا کہ یوں تو ہماری بات کوئی سنتا نہیں عوام الناس کو مشتعل کرو کہ کہ سچ جھوٹ سامنے آجائے گا۔ عوام الناس بھی اس چکر میں آ و مولوی تو صرفی ۔ نحوی‘ لغوی بحث کریں گے۔ ہماری سمجھ میں کیا ی کو ہو سکتا ہے جو ان دونوں مولویوں سے بھی زیادہ علم رکھتا ہو۔ یہ کوئی کم سمجھ ہمارے مبلغ کے تیز بولنے سے ہی متاثر ہو جائے۔ را کوئی نہ کوئی شکار پیدا ہی ہو جائے گا۔ حالت موجود ملے کہ بازاروں میں لکچر دے کر ادویات فروخت ل کا شکار ہو جاتے ہیں تو کیا یہ کاروبار فیل ہو جائے گا جس پر دیانی کتاب مباہلہ پاکٹ بک میں اس امر پر مفصل بحث موجود مقصود ہوتا ہے اور اگر ان سے مناظرہ کیا جائے تو کس طریق رض کر رہا تھا کہ قادیانی گروہ نے مناظرہ کو اپنی تشہیر اور فتنہ و فساد ۔ ادھر بعض تو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے اور بعض مفید پیشہ سمجھ کر نتیجہ جو ہوا یا ہو رہا ہے اور ہو گا وہ دنیا کے سامنے ہے۔ نی گروہ کا اولین فرض دکھائی دے رہا ہے۔ دوسرے کو گالی دیں گے تا کہ امن پسندی کا شور گالی پر غالب آجائے جس سے بعض لگتے ہیں کہ یہ امن پسند ہیں اور ان کے ذہن اس گالی اور دشنام ٣٧
دہی کو بھلا دیتے ہیں قصہ مختصر یہ ہے کہ قادیانی گروہ کا بڑا ہتھیار دیا سلائی دکھا کر خود خاموش ہو جانا ہوتا ہے جس کسی قصبہ یا شہر میں چار پانچ قادیانی بھی موجود ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ ہمیشہ اس موقعہ کی تلاش میں رہیں گے کہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں کوئی اختلاف ہو تو وہ مرزائیت کے مخالف لوگوں کی بالمقابل پارٹی کا ساتھ دینا شروع کر دیں اور بسا اوقات وہ پارٹی (جس کی امداد قادیانی کرتے ہیں) نہیں سمجھتی کہ یہ کسی کے بھی غم خوار نہیں ان کا مقصود تو مسلمانوں کی جماعت کو کمزور کرنا ہے مسلمانوں کی سیاسی جماعتوں میں اختلاف ایک معمولی چیز ہے کبھی کسی جگہ کوئی اختلاف ہوا نہیں اور قادیانیوں نے ٹانگ اڑانے کی کوشش کی نہیں۔ یہ ہے وہ دوسری اسلامی خدمت جو قادیانی گروہ کی طرف سے سر انجام دی جا رہی ہے۔
تیسری اسلامی خدمت
یہ ہے کہ حکومت برطانیہ کو مسلمانوں سے بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کسی جگہ کوئی ایجی ٹیشن شروع ہوئی اور اس گروہ نے حکام کی امداد کی آڑ میں مسلمانوں سے بدلہ لینے کی فکر کی نہیں اس شہر میں جو بھی مرزائیت کے مخالف ہوں گے ان کے خلاف بغاوت کا الزام لگا کر انہیں کسی نہ کسی مصیبت میں گرفتار کرا دیا اور پھر پبلک میں مرزا قادیانی کا یہ الہامی مصرعہ پڑھنا شروع کر دیا۔
(درثمین ص٩٢، تذکرہ ص٣٥٣)
بعض حکام مرزائیوں کی اس چال میں آ جایا کرتے ہیں اور انہیں یہ خیال نہیں رہتا کہ چند افراد کی غلط خبر رسانی کی خدمت کی بناء پر وہ کیا قدم اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے بیان کی تائید میں مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک کارنامہ ملاحظہ ہو۔
باغیوں کی فہرست
”قرین مصلحت ہے کہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے لئے ایسے نافہم مسلمانوں کے نام بھی نقشہ جات میں درج کئے جائیں جو در پردہ اپنے دلوں میں برٹش انڈیا کو دارالحرب قرار دیتے ہیں ہم امید رکھتے ہیں کہ ہماری گورنمنٹ حکیم مزاج بھی ان نقشوں کو ایک ملکی راز کی طرح اپنے کسی دفتر میں محفوظ رکھے گی ..... ایسے لوگوں کے نام معہ پتہ نشان یہ ہے۔“
(تبلیغ رسالت جلد ٥ ص ١١ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٢٧)
اس سلسلہ میں مرزا محمود کی سرگرمی بھی ملاحظہ فرمائیے۔ ”پس میں جماعت کو پورے زور سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خلاف امن تحریکات کی خبر گیری کریں اور وقتاً فوقتاً مجھے اطلاعات بھیجتے
٣٨
رہیں ۔“ (تاکہ وہی اطلاعات حکومت کو پہنچا کر مخالفین کو زیر کرنے کی سبیل پیدا کی جائے)
(الفضل ٧ جولائی ١٩٣٣ء)
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مذہبی ریفارمروں کا قیمتی وقت کن خدمات کی انجام دہی میں صرف ہوتا ہے؟ ۔ اس قسم کی خدمات کے سلسلہ میں ذیل کے دوحوالے بھی ملاحظہ فرمائیے۔
پچاس الماریاں
”میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے۔ میری یہ ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہاد کے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥، خزائن ج ١٥ ص ١٥٥)
رنگروٹ بھرتی ہو جانا
”گورنمنٹ کی جس قدر بھی فرمانبرداری کی جائے تھوڑی ہے ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر مجھ پر خلافت کا بوجھ نہ ہوتا تو والنٹیر ہو کر جنگ میں چلا جاتا۔“
(انوار خلافت ص ٩٦)
ہمیں نفس وفاداری پر اعتراض نہیں سوال یہ ہے کہ جب ایک مذہبی ریفارمر کا دن رات کا شغل یہی ہے تو گویا اس نے اپنی عمر میں عظیم الشان کام ہی یہ سرانجام دیا وہ بھی جو امت کو تیرہ سو سال کے بعد میسر آیا۔ اس نے اپنا سارا وقت تو ٥٠ الماریاں شائع کرنے میں صرف کر دیا۔ باغیوں کی فہرستیں تیار کرنے میں لگا دیا۔ بتائیے اس کو کسی اور کام کے لئے فرصت میسر آئی ہوگی؟ کیا اس خدمت کا ہی نام کسر صلیب عیسیٰ پرستی کے ستون توڑنا ہے جس کے لئے بقول خود مرزا قادیانی تشریف فرما ہوئے۔ اگر ان کاموں کا نام اسلامی خدمت رکھا جاسکتا ہے تو یہ تیسری اسلامی خدمت ہے جو اس گروہ نے انجام دیدی۔
چوتھی اسلامی خدمت
قادیانی گروہ نے اپنی انتہائی فحش نویسی کے ذریعہ انجام دی ہے۔ مذہبی ریفارمر کہلاتے ہوئے وہ زبان رائج کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو اپنی نظیر آپ ہے۔ ہم نے اپنی کتاب
٣٩
قادیانی تہذیب میں قادیانیوں کی حوالہ جات بطور نمونہ درج کرنے پر میں یہ پرلطف بات بھی ملاحظہ فرما۔ اقوال کی آڑ لینے کی جرات کی جاتی
”آنحضرتﷺ نے اپنے علماء کی طرف جائیں گے اور علماء نہیں ہے بلکہ ان کو تو آپ جیسے آپ جیسے علماء ہی ہیں جنہیں بوجہ ا دیا ہے اور آنحضرتﷺ نے سچ سوچ لو کہ سور کون ہیں۔“
قادیانی پھول
”اب جو شخص اس م اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گ اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا ت حلال زادہ نہیں۔ ...... ورنہ حرام زاد کی راہوں سے پیار کرتا ہے۔“
”سوچنا چاہئے تھا کہ ہ گوہر ہی ظاہر نہ کرتے ۔ بھلا ج مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان ۔
”یہ جھوٹے ہیں اور
ایک زبردست گواہی
قادیانی گروہ نے
قادیانی تہذیب میں قادیانیوں کی میٹھی زبان کا مفصل حال درج کر دیا ہے اس جگہ صرف دو تین حوالہ جات بطور نمونہ درج کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ حسب ذیل حوالہ جات میں سے پہلے حوالہ میں یہ پر لطف بات بھی ملاحظہ فرمائیے کہ دوسرے کو گالی دیتے وقت بھی کیونکر رسول اکرم ﷺ کے اقوال کی آڑ لینے کی جرات کی جاتی ہے۔
”آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں ایک بڑا فتنہ ہوگا اور لوگ اس وقت اپنے علماء کی طرف جائیں گے اور علماء اس وقت بندر اور سور ہوں گے۔ احمدی جماعت لوگوں کے علماء نہیں ہے بلکہ ان کو تو آپ جیسے بے علم لوگ بھی عالم نہیں مانتے اس لئے صاف ظاہر ہے کہ یہی آپ جیسے علماء ہی ہیں جنہیں بوجہ ان کے کارناموں کے آنحضرت ﷺ نے بندر اور سور کا خطاب دیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے مسیح موعود کا کام کسر صلیب کے ساتھ قتل خنزیر بتایا ہے۔ پس اب خود سوچ لو کہ سور کون ہیں۔“
(اخبار پیغام صلح ج ٢٢ نمبر ٢١ ص ١٥ کالم نمبر ٣ ۔ ٧ اپریل ١٩٣٤ء)
قادیانی پھول
”اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے خلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم و حیاء کو کام نہیں لائے گا....... اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں...... ورنہ حرام زادہ کی یہی نشانی ہے کہ سیدھی راہ اختیار نہ کرے اور ظلم اور نا انصافی کی راہوں سے پیار کرتا رہے۔“
(انوار الاسلام ص ٣٠، خزائن ج ٩ ص ٣١،٣٢)
”سوچنا چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
”یہ جھوٹے ہیں اور کتوں کی طرح جھوٹ کا مردار کھا رہے ہیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٢٥، خزائن ج ١١ ص ٣٠٩)۔
ایک زبردست گواہی
قادیانی گروہ نے جس زبان کو ملک میں رائج کرنے کی کوشش کی ہے، ہم یہاں
٤٠
عیسائیوں مسلمانوں کے خلاف جس قدر دریدہ دہنی سے کام لیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، دیکھنا یہ ہے کہ ایک مذہبی ریفارمر کی جماعت اور خود اس ریفارمر کا یہی کام ہے کہ ملک کے اخلاق کو اس طرح تباہ کرنے کی کوشش کرے کیا اسلام کی آڑ لیتے ہوئے مخالفین اسلام کو یہ کہنے کا موقعہ بہم نہیں پہنچایا گیا کہ خدانخواستہ اسلامی اخلاق یہی ہیں جو اسلام کے یہ مبلغ دنیا کو دکھا رہے ہیں۔ قادیانیوں کی تہذیب کے متعلق لاہوری مرزائیوں کی شہادت ملاحظہ فرمائیے۔
قادیانی تہذیب
"قادیانی جماعت کا ہمارے ساتھ یعنی لاہوری جماعت کے ساتھ جو طرز عمل ہے وہ ساری دنیا جانتی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ آج کل پشاور کے قادیانی اس غیر شریفانہ روش میں تمام ملت محمودیہ سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ہماری جماعت پشاور کے جلسہ سالانہ پر ان لوگوں نے جو اخلاق سوز اور سوقیانہ حرکتیں کیں احباب کو ان کا کسی قدر علم جلسہ کی روئیداد سے ہو گیا ہوگا ..... اس پر ڈھٹائی ملاحظہ ہو۔ الفضل اور فاروق میں بالکل جھوٹی رپورٹ شائع کرائی۔ ان کے مراسلوں کی طرز تحریر اس قدر گھناؤنی اور غیر شریفانہ ہے کہ کوئی شریف آدمی اس پر اظہار نفرت کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ہم جانتے ہیں اس قسم کی بے ہودہ حرکات تمام قادیانی حلقوں میں پسند کی جاتی ہیں اور ان کی داد دی جاتی ہے اور یقین ہے کہ جناب خلیفہ (میاں محمود احمد ) صاحب بھی ان پر اظہار خوشنودی فرماتے ہوں گے لیکن اسلامی اخلاق و شرافت ان پر ہمیشہ ماتم ہی کرتے رہیں گے۔"
(اخبار پیغام صلح ج ٢٢ نمبر ٣٥ ص ٣ کالم نمبر ٢ / جون ١٩٣٤ء)
"ایک غیر از جماعت بزرگ نے جو قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں ہم سے دریافت کیا ہے کہ قادیانی اخبارات الفضل و فاروق وغیرہ اس قدر پست اخلاق کیوں واقع ہوئے ہیں؟ کہ دوسرے کو گالی دے دینا اپنے مخالف کے متعلق کذب بیانی یا بہتان طرازی کر دینا ان کے نزدیک معمولی بات ہے اور وہ ان باتوں کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اس پست اخلاقی کا احساس تک بھی ان کو نہیں ہوتا ..... مناسب تھا یہ سوال جناب میاں محمود احمد صاحب یا دیگر قادیانی اکابر سے کیا جاتا ہمارے نزدیک تو قادیانی اخبارات اور قادیانی مبلغین کی اس اخلاقی پستی کی وجہ پیر پرستی اور اندھی عقیدت ہے۔ پیر پرست اشخاص و اقوام بغیر سوچے سمجھے غلط سے غلط عقائد و اعمال اختیار کر لیتی ہیں اور اپنی عقل فروشی کی وجہ سے ان کو اس حد تک صحیح سمجھنے لگتی ہیں کہ ان کے خلاف معقول سے معقول بات سننا بھی گوارا نہیں کرتیں۔ جب کوئی ان سے اظہار اختلاف کرتا
٤١
ہے تو وہ بے محابا اخلاقی پستی کا حال قادیانی جماعت اور اس سازی اور دشنام طرازی کو اچھ رہتے ہیں۔
پانچویں اسلامی خدمت
موت، زلزلے، قح حسب ذیل الفاظ میں بار بار ا "حوادث کے باو موت اپنا دامن پھیلائے گی، ہوائیں گے اور زمین کو تہ و بالا کر زلزلے لڑائیاں سکتی خود مرزا قادیانی کا ارشاد "یسوع کی تمام گوئی بھی اس پیشین گوئی کے اس درماندہ انسان کی پیشین ہوں گی پس ان دلوں پر خد ٹھہرائیں۔ اور ایک مردہ کو ا کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع کیوں نام رکھا۔" صرف پیشین گو طاعون جیسی لعنت غیر مترقبہ آپ نے کتنا وقت صرف کی
طاعون کی دعا
"حملۃ البشر ک
ہے تو وہ بے محابا اخلاقی پستی کا مظاہرہ شروع کر دیتی ہیں اور اس کو ایک کار ثواب سمجھتی ہیں۔ یہی حال قادیانی جماعت اور اس کے اخبارات کا ہے یہ لوگ کم از کم اپنے مخالف کے حق میں بہتان سازی اور دشنام طرازی کو اچھا فعل سمجھتے ہیں ان کے اکابر اس چیز کی حوصلہ افزائی اور قدر کرتے رہتے ہیں۔“
(اخبار پیغام صلح ج ٢٢ نمبر ٣٩ ص ٣ کالم نمبر ٣۔ ١٥/ جون ١٩٣٤ء)
پانچویں اسلامی خدمت
موت، زلزلے قیامت برپا ہو جانے کی پیشین گوئیاں کرنا ہے۔ مرزا قادیانی نے حسب ذیل الفاظ میں بار بار اپنی متعدد کتابوں میں اس قسم کی پیشین گوئیاں کی ہیں۔
”حوادث کے بارے میں جو مجھے علم دیا گیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ ہر ایک طرف دنیا میں موت اپنا دامن پھیلائے گی۔ اور زلزلے آئیں گے اور شدت سے آئیں گے اور قیامت کا نمونہ ہوں گے اور زمین کو تہ و بالا کریں گے اور بہتوں کی زندگی تلخ ہو جائے گی۔“
(الوصیۃ ص ٣، خزائن ج ٢٠ ص ٣٠٢)
زلزلے لڑائیاں قحط یہ چیزیں اس دنیا میں عام ہیں جس کی خبر دینا پیشین گوئی نہیں کہلا سکتی خود مرزا قادیانی کا ارشاد سنئے۔
”یسوع کی تمام پیشین گوئیوں میں سے جو عیسائیوں کا مردہ خدا ہے اگر ایک پیشین گوئی بھی اس پیشین گوئی کے ہم پلہ اور ہم وزن ثابت ہو جائے تو ہم ہر ایک تاوان دینے کو تیار ہیں اس درماندہ انسان کی پیشین گوئیاں کیا تھیں۔ صرف یہی کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑے گا لڑائیاں ہوں گی پس ان دلوں پر خدا کی لعنت جنہوں نے ایسی ایسی پیشین گوئیاں اُس کی خدائی پر دلیل ٹھہرائیں۔ اور ایک مردہ کو اپنا خدا بنا لیا کیا ہمیشہ زلزلے نہیں آتے ہمیشہ قحط نہیں پڑتے۔ کیا کہیں کہیں لڑائی کا سلسلہ شروع نہیں رہتا۔ پس اس نادان اسرائیلی نے ان معمولی باتوں کا پیشین گوئی کیوں نام رکھا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٤ حاشیہ، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨)
صرف پیشین گوئیاں کرنا اسلامی خدمت نہ سمجھئے بلکہ مرزا قادیانی مخلوق خدا کے لئے طاعون جیسی لعنت غیر مترقبہ کے لئے دعائیں مانگتے تھے۔ اور نہیں معلوم کہ اس مبارک کام کے لئے آپ نے کتنا وقت صرف کیا ہو گا خود آپ کا ارشاد ملاحظہ فرمائیے۔
طاعون کی دعا
”حمامۃ البشریٰ میں جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی میں نے یہ
٤٢
لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کیلئے دعا کی ہے۔ سو وہ دعا قبول ہو کر ملک میں طاعون پھیل گیا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٢٢ خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥)
امید ہے کہ ناظرین اس خدمت اسلامی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔
چھٹی اسلامی خدمت
تحقیر انبیاء وصلحاء ہے جو قادیانی گروہ کی طرف سے انجام دی گئی ہے۔ یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ہر قوم کی زندگی اپنے بزرگوں کی روایات سے وابستہ ہوتی ہے وہ اس چیز کو برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی فرد یا جماعت ان کے بزرگوں کے القاب جن سے وہ امت ان کو یاد کرتی ہو، کو اپنی طرف منسوب کرے چہ جائیکہ کوئی ان کی برابری یا افضلیت کا دعویٰ کر کے اس قوم کے قلوب کو مجروح کرے۔ اس موضوع پر مفصل بحث تو ناظرین کو ہماری کتاب ”مرزائی لٹریچر میں توہین انبیاء وصلحاء“ میں ملے گی اس جگہ اختصاراً ہم صرف یہ ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانی گروہ ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھ چکا ہے۔ گو ابھی تک اسلام اور آنحضرت ﷺ کا مبارک نام دکھاوے کے لئے لیا جا رہا ہے لیکن وقت آئے گا کہ اس سے بھی کلیتہً انکار ہو گا چونکہ ہماری ہر تصنیف کا یہ اصل الاصول ہے کہ اپنی طرف سے کچھ نہ لکھا جائے بلکہ ہر بات قادیانی لٹریچر سے پیش کی جائے اس لئے ہم دکھاوے کی عادت کے ثبوت میں خود مرزا محمود کی گواہی پیش کرتے ہیں۔
دکھاوے کی نماز
”١٩١٢ء میں میں مع سید عبدالحی صاحب عرب مصر سے ہوتے ہوئے حج کو گیا۔ قادیان سے میرے نانا صاحب میر ناصر نواب بھی براہ راست حج کو گئے۔ جدہ میں ہم مل گئے مکہ مکرمہ اکٹھے گئے پہلے ہی دن طواف کے وقت مغرب کی نماز کا وقت آ گیا میں ہٹنے لگا مگر راستے رک گئے تھے نماز شروع ہو گئی تھی نانا صاحب جناب میر صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح (حکیم نور الدین صاحب) کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے اس پر میں نے نماز شروع کر دی پھر اسی جگہ ہمیں عشاء کا وقت آ گیا وہ نماز بھی ادا کی گھر جا کر میں نے عبدالحی صاحب عرب سے کہا کہ وہ نماز تو حضرت خلیفۃ المسیح کے حکم کی تھی اب آؤ خدا تعالیٰ کی نماز پڑھ لیں (جو غیر احمدیوں کے پیچھے نہیں ہوتی) اور ہم نے وہ دونوں نمازیں دہرا لیں۔ چونکہ جناب نانا صاحب کو خیال تھا کہ اُن کے اس فعل سے (یعنی مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے) کوئی فتنہ ہو گا۔ انہوں نے قادیان آ کر حضرت خلیفۃ المسیح کے سامنے یہ سوال پیش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا......
٤٤
ایک صاحب حکیم محمد عمر نے یہ ذکر خلیفہ المسیح کے پاس شروع کر دیا آپ نے فرمایا۔ ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلاء کا ڈر ہے وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گھر گئے ہوں تو غیر احمدیوں کے پیچھے نمازیں پڑھ لیں اور پھر آ کر دہرا لیں سو الحمدللہ کہ میرا فعل جس طرح حضرت مسیح موعود کے فتویٰ کے مطابق ہوا اسی طرح خلیفہ وقت کے منشاء کے ماتحت ہوا۔‘‘
(آئینہ صداقت ص ٩١‘ ٩٢ مصنفہ خلیفہ قادیان)
میں ذکر یہ کر رہا تھا کہ قادیانی گروہ سب سے بڑی اسلامی خدمت یہ انجام دے رہا ہے کہ ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی جائے ۔ انبیاء کی توہین اس گروہ کا مشغلہ ہے جو گروہ سردار دو جہاںﷺ کی توہین سے نہ چوکے اس کی اسلام دوستی میں کیونکر شبہ کیا جاسکتا ہے؟
مسلمان حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود بھیجنا اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں حتیٰ کہ حضور کے اسم مبارک کے ساتھ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے الفاظ ضروری ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ازواج مطہرات کو امہات المومنین کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مکہ ومدینہ کی عزت، باعث فخر سمجھتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کی طرف سے منقول اقوال کو حدیث کے نام سے موسوم کرتے ہوئے ان احادیث مبارکہ کی تعمیل ضروری یقین کرتے ہیں۔ حضور علیہ السلام کے ہمراہیوں کو صحابہ کرام کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
قادیانی کمپنی نے کیا کیا؟ ہر لقب کو اپنے لئے مخصوص کرنا شروع کر دیا۔
- ١....... مرزا قادیانی کے نام کے ساتھ علیہ الصلوٰۃ والسلام لکھا جاتا ہے۔ لیٹر
پیڈوں پر ایک طرف بسم اللہ شریف اور دوسری جانب مرزا پر درود۔
- ٢....... مرزا کی زبانی باتوں کو بطور حدیث شریف شائع کرنا شروع کر دیا ہے۔
چنانچہ سیرت المہدی حصہ اوّل ودوئم اور سوم شائع ہو چکی ہے۔
- ٣....... مرزا کے ساتھیوں کو رضی اللہ عنہم لکھا اور صحابہ کے نام سے موسوم کیا
جاتا ہے۔
- ٤....... مرزا کی زوجہ کو ام المومنین لکھا جاتا ہے۔
- ٥....... مکہ و مدینہ کے مقابلہ میں قادیان کو پیش کیا جاتا ہے۔ اسلامی مقامات
مقدسہ کی تحقیر میں جن خیالات کا اظہار قادیانی گروہ کر چکا ہے وہ ہم پہلے نقل کر آئے ہیں۔ اس جگہ صرف ان کا ایک شعر نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
٤٤
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(درثمین ص ٥٠)
آنحضرت ﷺ کی عزت اس گروہ کے دل میں کس قدر ہے؟ اس کا اندازہ مرزا محمود کے حسب ذیل ارشادات سے فرمائیے۔
”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔“
(ڈائری خلیفہ قادیان مطبوعہ اخبار الفضل ج ١٠ نمبر ١٠٥ کالم ٣، ١٧ جولائی ١٩٢٢ء)
”ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا۔ بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“
(کلمۃ الفصل ص ١١٣)
”دنیا میں نماز تھی مگر نماز کی روح نہ تھی۔ دنیا میں روزہ تھا مگر روزہ کی روح نہ تھی۔ دنیا میں زکوٰۃ تھی مگر زکوٰۃ کی روح نہ تھی۔ دنیا میں حج تھا مگر حج کی روح نہ تھی۔ دنیا میں اسلام تھا مگر اسلام کی روح نہ تھی۔ دنیا میں قرآن تھا مگر قرآن کی روح نہ تھی اور اگر حقیقت پر غور کرو محمد ﷺ بھی موجود تھے مگر محمد ﷺ کی روح موجود نہ تھی۔“
(خطبہ خلیفہ قادیان مندرجہ الفضل ١١ مارچ ١٩٣٠ء)
مرزا محمود کے مریدوں کا خیال سنئے۔ مگر یہ واضح رہے کہ مریدوں کے یہ خیالات قادیان کے سرکاری گزٹوں میں مندرج ہیں جو قابل سند ہیں اور درحقیقت مرزا محمود کی ترجمانی ہے۔
”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔ اس زمانہ میں تمدنی ترقی زیادہ ہوئی ہے اور یہ جزوی فضیلت ہے۔ جو حضرت مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ پر حاصل ہے۔“
(قادیانی ریویو بابت ماہ مئی ١٩٢٩ء)
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(بدر ج ٢ نمبر ٤٣ ص ١٤۔ ٢٥ اکتوبر ١٩٠٦ء)
قادیانی گروہ کی دن رات کی کوشش یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی صفات مبارکہ کو مرزا پر چسپاں کیا جائے اس معاملہ میں لاہوری مرزائیوں کی شہادت سنئے۔
٤٥
کم از کم یا مد مقابل
”بے شک حضرت مرزا (غلام احمد) صاحب کی نبوت قرآن کی ایک ایک آیت سے نکالو خواہ وہ کیسے ہی بھونڈے اور لچر طریق سے نکالی جائے اور خواہ وہ خود حضرت مرزا صاحب کی تفاسیر سے کتنی ہی مختلف کیوں نہ ہو۔ یہ قوم خوشی سے بغلیں بجاتی رہے گی۔ نعرہ تحسین و آفرین بلند کرتی رہے گی۔ ان تمام پیش گوئیوں کو جن کے مصداق حضرت محمدﷺ ہیں آپ بے شک حضرت مرزا صاحب پر چسپاں کرتے جائیں۔ یہ غالی قوم خوشی سے تالیاں بجاتی اور ناچتی رہے گی۔ لیکن آپ کسی پیش گوئی کے متعلق یہ کہہ دیں کہ حضرت محمدﷺ کے لئے ہے اور حضرت مرزا صاحب اس کے مصداق حقیقی نہیں۔ بلکہ بوجہ امتی اور خلیفہ ہونے کے صرف ظلی یا بروزی رنگ میں اس کے ماتحت آتے ہیں تو ان کے سینہ میں یوں لگے گا جیسے تیر لگتا ہے۔ محمد رسول اللہﷺ کی چیزیں چھین چھین کر حضرت مرزا صاحب کو دیتے جاؤ یہ خوشی سے پھولے نہ سمائیں گے۔ کیونکہ اس میں درپردہ ان کے نفس کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ ہمارا نبی مسیح موعود محمد رسول اللہﷺ سے بھی بڑھ کر یا کم سے کم مد مقابل تو ضرور ہے۔ لیکن اگر کوئی چیز جو انہوں نے محمد رسول اللہﷺ سے چھین کر حضرت مرزا صاحب کو دی ہوئی ہے۔ آپ واپس محمد رسول اللہﷺ کو دیں تو یہ بلبلا بلبلا کر اور چلا چلا کر ایک حشر برپا کر دیں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان لوگوں نے محمد رسول اللہﷺ اور حضرت مرزا صاحب میں ایک قسم کا باہمی شرکت اور رقابت کا رنگ پیدا کر دیا ہے۔ مثلاً جب تک مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد کا مصداق حضرت مرزا صاحب کو کہتے رہو بہت خوش رہیں گے لیکن جہاں اس کا مصداق حقیقی محمد رسول اللہﷺ کو بتایا اور تمام محمودی ٹولے سے صدائے واویلا بلند ہوئی کہ ہائے ہائے حضرت مسیح موعود کی توہین کی گئی اور آپ سے اختلاف کیا گیا۔ حالانکہ اختلاف خود ان کے عقائد سے ہوتا ہے نہ کہ حضرت مسیح موعود سے۔“
(اخبار پیغام صلح ٢١ مئی ١٩٣٢ء)
اگر ہم اس موضوع پر بالتفصیل مرزائی تحریرات کو پیش کریں تو یہ باب بہت طویل ہو جائے گا۔ انبیاء اور صلحاء کی مرزائی لٹریچر میں جس قدر توہین کی گئی ہے اس کے لئے تو ایک دفتر درکار ہے یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر علیحدہ کتاب لکھی گئی ہے اس جگہ تو ہمیں مختصراً یہ بتانا ہے کہ یہ وہ اسلامی خدمات ہیں جو قادیانی انجام دے رہے ہیں۔ کوئی ناواقف حال ان کے ظاہری الفاظ سے دھوکہ میں آ جائے تو آ جائے ورنہ ان حقائق سے واقفیت کے بعد اس حال کا شکار ہونا ناممکن ہے۔
٤٦
ایک ضروری گزارش
قادیانی گروہ نے اپنی بعض کتب میں اپنی اسلام دوستی کا ثبوت دینے کیلئے بزرگوں کی تعریف بھی کر دی ہے ناواقف حال لوگوں کے سامنے ان حوالہ جات کو پیش کر کے دھوکہ دیا جایا کرتا ہے۔ احباب کرام کو ایسے موقعہ پر صرف یہ جواب دینا چاہئے کہ ہمارے پیش کردہ حوالہ جات کو غلط ثابت کرو۔ ورنہ دو صورتوں میں سے کوئی ایک صورت تسلیم کرنی پڑے گی۔
- ١...... دورنگی اختیار کی گئی ہے۔
- ٢...... یا یہ کہ ناواقف حال لوگوں کو ابتداً بزرگوں کے متعلق تعریفی کلمات سنا کر
پھانسا جائے۔ جب وہ ذرا پختہ قادیانی ہو جائیں تو ان میں ضد پیدا ہو جائے گی اور تحقیر انبیاء و صلحاء پر مشتمل تحریروں پر بھی ایمان لے آئیں گے۔ ( یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک فیصدی مرزائی آپ کو ایسا ملے گا جس نے شاید ہی تمام مرزائی لٹریچر کا مطالعہ کیا ہو ورنہ قادیانی گروہ کا حربہ ہی یہ ہے کہ وہ دو چار کتابیں (کشتی نوح وغیرہ ) مقدس کلام پر مشتمل تیار کر لی ہیں جو ہر ناواقف حال کو مطالعہ کے لئے دی جاتی ہے۔ جب وہ نوگرفتار ان کتابوں کو دیکھتا ہے تو بیچارا اس مقدس کلام کا شکار ہو جاتا ہے اور باقی کتابوں کا مطالعہ کا اس کو ساری عمر میں موقعہ ہی نہیں ملتا۔
باب سوم
قبولیت دعا کا ڈھونگ
اشاعت مرزائیت کے لئے ایک حربہ قبولیت دعا کا پروپیگنڈا ہے۔ قادیانی ایجنٹ جہاں کوئی صورت کامیاب ہوتی نہیں دیکھتے وہاں یہ پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمارے امام کی دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ کلکتہ میں ایک شخص بیمار ہو گیا اس نے تمام ڈاکٹروں سے مایوس ہو کر آپ کی خدمت میں تار دیا اور خلیفۃ المسیح کی دعا سے وہ صحت یاب ہو گیا۔ بعض اوقات قبولیت دعا کے عجیب و غریب قصے بیان کیا کرتے ہیں۔ مثلاً ایک قادیانی نے ایک مرتبہ ذکر کیا کہ ایک مریض نے قادیان تار روانہ کیا تار ابھی قادیان پہنچا نہیں تار گھر میں تار بک کرانے کے بعد مریض صحت یاب ہو گیا۔
غرض مند دیوانہ ہوتا ہے
مریض یا حاجت مند کی مثال دیوانہ کی ہوتی ہے وہ ہر دروازہ پر دستک دیتا ہے اور اپنی
٤٧
مرض کی دوا کے لئے پریشان پھرتا ہے قادیانی ایسے اشخاص کی تلاش میں رہتے ہیں اور ان کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ وعظ شروع کر دیتے ہیں۔
جناب آپ کا حرج ہی کیا ہے میں آپ کی طرف سے خط لکھ دیتا ہوں۔ میری جیب میں پوسٹ کارڈ موجود ہے بہتر تو یہ ہے کہ آپ ہی تکلیف فرما کر لکھ دیجئے۔
اگر مریض خط لکھنے پر آمادہ نہ ہو تو اس کی موجودگی میں ہی خط لکھ دیا جاتا ہے۔ یہ علیحدہ قصہ ہے کہ قادیان میں خلیفۃ المسیح کو دعا تو درکنار خط پڑھنے کی بھی فرصت نہیں ملتی بلکہ قاعدہ یہ ہے کہ سرسری نظر سے خطوط پر نظر ڈال کر کار آمد خطوط کے علاوہ باقی خط دفتر ڈاک کے سپرد کر دیئے جاتے ہیں جہاں سے ہر شخص کے نام اس مضمون کا خط روانہ کر دیا جاتا ہے۔
"حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور آپ کا خط پہنچا۔ حضور نے آپ کے لئے دعا فرمائی۔"
الخ۔ بہر کیف قادیانی ایجنٹ دعا کے لئے خطوط بھجواتے رہتے ہیں اس کام میں حقیقی راز کیا ہے۔ وہ سنئے قادیانیوں نے غور و خوض کے بعد خیال یہ کر رکھا ہے کہ دعا کرنے والے کی مثال ایک حکیم یا ڈاکٹر کی مثال ہے ایک مریض ڈاکٹر یا حکیم سے علاج کرواتا ہے اس امید پر کہ اسے شفاء ہو جائے گی۔ شفاء اور صحت تو شافی مطلق کے ہاتھ میں ہے مگر دنیا کا دستور یہ ہے کہ اگر مریض شفایاب ہو گیا تو ڈاکٹر اور حکیم کی شہرت شروع ہو جاتی ہے اور صحت پانے والا مجسم پروپیگنڈا کا کام دیتا ہے اگر مریض راہی عدم ہو گیا تو کہا یہ جاتا ہے کہ موت و حیات خدا کے قبضہ میں ہے حکیم بیچارے نے کوشش سے علاج کیا مگر خدا کے ہاں اس کے دن پورے ہو چکے تھے۔ یہی حال دعا کا ہے قادیانی سمجھتے ہیں کہ قبولیت دعا کا پروپیگنڈا بہر حال فائدہ مند رہے گا۔ اگر بیس اشخاص میں کسی ایک کا بھی کام ہو گیا تو اس سے ہم یہی کہیں گے کہ یہ ہمارے خلیفۃ المسیح کی دعا کا نتیجہ ہے۔ اگر اس سادہ لوح کے دل پر اس چیز کا اثر ہو گیا تو وہ مرزائیت کا پروپیگنڈا بن جائے گا۔ پچھلے دن ہوئے مجھے ایک دوست نے ایک پرلطف واقعہ سنایا کہ ایک گریجوایٹ عرصہ سے ملازمت کی تلاش میں سرگرداں پھر رہا تھا ملازمتوں کا برا حال ہے۔ اسے کسی جگہ کامیابی نہ ہوئی آخر اس نے آخری کوشش کے طور پر ایک محکمہ میں ملازمت کی درخواست دی کسی قادیانی کو اس کا حال معلوم ہوا تو جناب فی الفور اس کے پاس پہنچے اور یوں مخاطب ہوئے۔
"جناب اگر میرا مشورہ قبول کریں تو خلیفۃ المسیح کی خدمت میں دعا کی درخواست کیجئے میں نے بارہا تجربہ کیا ہے حضور کی دعاؤں سے ناممکن کام ممکن ہو جاتے ہیں۔ البتہ آپ کو یہ وعدہ
٤٨
دینا پڑے گا کہ اگر آپ خلیفۃ المسیح کی دعا سے کامیاب ہو گئے تو آپ احمدیت (مرزائیت) کو قبول کر لیں گے کیونکہ اس ثبوت کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں اور آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہمارے امام کا خدا سے کامل تعلق ہے اور خدا آپ کی دعائیں فی الفور قبول کرتا ہے؟۔‘‘
وہ بیچارا تھا ضرورت مند اس نے کہا بہت بہتر تعلق باللہ کا اس سے زیادہ ثبوت کیا ہو سکتا ہے نہ اس غریب کو کوئی مذہبی واقفیت، نہ قادیانی عقائد کا علم، بس اس چکر میں آ گیا خط لکھ دیا اور اپنے کئی دوستوں سے بھی ذکر کر دیا ہے کہ بھئی ہم نے مرزائیت کا امتحان لینے کا یہ طریق اختیار کیا ہے۔
ادھر قادیانی ایجنٹ نے مختلف ذرائع سے یہ کوشش کی کہ اس کی درخواست منظور ہو جائے اور اسے ملازمت مل جائے مگر ایسے طریق سے کہ اس نئے شکار کو ان کوششوں کا ذرہ بھر علم نہ ہو۔ ادھر نئے شکار کو اپنے وعدہ کی یاد دہانی بھی ہوتی رہی۔ چند دن کے بعد درخواست منظور ہو گئی اور اب حالت یہ ہے کہ وہ صاحب مرزائی ہو گئے اور آپ قبولیت دعا کا پروپیگنڈا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ سودا کتنا نفع بخش ہے چند دن کی کوششوں سے ایک سادہ لوح کو قابو کر لیا گیا۔ اب اس کی آمدنی میں سے دسواں حصہ قادیان جائے گا۔ بہشتی مقبرہ کا سرٹیفکیٹ دے کر اس کی جائیداد کی وارث بھی قادیانی کمپنی ہوگی۔
شاید ناظرین کو یہ خیال گزرے کہ قادیان میں دعا بلا معاوضہ ہوتی ہے اس لئے ہم اس غلط فہمی کو بھی دور کئے دیتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا ارشاد سنئے۔
دعا کی قیمت ایک لاکھ روپیہ
”بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ پٹیالہ میں خلیفہ محمد حسین صاحب وزیر پٹیالہ کے مصاحبوں اور ملاقاتیوں میں ایک مولوی عبدالعزیز صاحب ہوتے تھے جو کہ ضلع لودہانہ کے رہنے والے تھے۔ ان کا ایک دوست تھا جو بڑا امیر کبیر اور صاحب جائیداد تھا اور لاکھوں روپیہ کا مالک تھا۔ مگر اس کے کوئی لڑکا نہ تھا جو اس کا وارث ہوتا اس نے مولوی عبداللہ صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب سے میرے لئے دعا کراؤ کہ میرے لڑکا ہو جائے مولوی عبدالعزیز نے مجھے بلا کر کہا کہ ہم تمہیں کرایہ دیتے ہیں تم قادیان جاؤ اور مرزا صاحب سے اس بارہ میں خاص طور پر دعا کے لئے کہو۔ چنانچہ میں قادیان آیا اور حضرت صاحب سے سارا ماجرا عرض کر کے دعا کے لئے کہا آپ نے اس کے جواب میں ایک تقریر فرمائی جس میں دعا کا فلسفہ بیان فرمایا۔ اور فرمایا کہ محض رسمی طور پر دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دینے سے دعا نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ایک خاص قلبی کیفیت کا پیدا ہونا ضروری ہوتا ہے جب آدمی کسی کے لئے دعا کرتا ہے۔ تو اس کے لئے ان دو باتوں میں
٤٩
سے ایک کا ہونا ضروری ہوتا ہے یا اس شخص کے ساتھ کوئی ایسا گہرا تعلق اور رابطہ ہو کہ اس کی خاطر دل میں ایک خاص درد اور گداز پیدا ہو جائے۔ جو دعا کے لئے ضروری ہے اور یا اس شخص نے کوئی ایسی دینی خدمت کی ہو کہ جس پر دل سے اس کے لئے دعا نکلے۔ مگر یہاں نہ تو ہم اس شخص کو جانتے ہیں اور نہ اس نے کوئی دینی خدمت کی ہے کہ اس کے لئے ہمارا دل پگھلے۔ پس آپ جا کر اسے یہ کہیں وہ اسلام کی خدمت کے لئے ایک لاکھ روپیہ دے یا دینے کا وعدہ کرے۔ پھر ہم اس کے لئے دعا کریں گے اور ہم یقین رکھتے کہ پھر اللہ اسے ضرور لڑکا دے گا۔ میاں عبداللہ کہتے ہیں میں نے جا کر یہاں جواب دے دیا۔ مگر وہ خاموش ہو گئے اور آخر وہ شخص لاولد ہی مر گیا اور اس کی جائیداد اس کے دور نزدیک کے رشتہ داروں میں کئی جھگڑوں اور مقدموں کے بعد تقسیم ہوئی۔“
(سیرت المہدی حصہ اول ص ٢٥٧ روایت نمبر ٢٦٤ مصنفہ بشیر احمد ایم ۔ اے پسر مرزا قادیانی)
دوسروں کو دعا کی تلقین
قادیانیوں کا ایک پراپیگنڈا تو یہ ہوتا ہے کہ لوگوں سے دعا کے لئے خطوط لکھوائے جائیں۔ دوسرا طریق یہ ہے کہ نیک طبیعت سادہ لوح حضرات کو قابو کرنے کیلئے یوں وعظ کیا جاتا ہے۔
علماء کے جھگڑوں کو چھوڑیئے۔ ان کے تنازعات تو کبھی ختم نہ ہوں گے۔ یہ تو ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ ہی لگاتے رہتے ہیں ان کا کام ہی یہ ہے میری گزارش تو آپ سے یہ ہے کہ آپ روزانہ بالالتزام ٤٠ دن تک تہجد پڑھیں اور تمام مخالف خیالات کو دل سے نکال کر خدا سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی رہبری کرے۔ خدا زندہ خدا موجود ہے وہ اپنے نیک بندوں کو ہدایت دیتا ہے اگر آپ کو اس عرصہ میں کوئی بشارت مل جائے تو آپ احمدیت (مرزائیت) کو قبول کر لیجئے اس کے بعد آپ کو کسی دلیل کی ضرورت نہ رہے گی۔ مگر یہ شرط یاد رہے کہ دعا بے اثر ہوگی اگر اس عرصہ میں آپ کے دل میں مرزا صاحب کے متعلق کوئی ذرہ بھر بھی نفرت ہو گی اس بات کو آپ بھی تسلیم کریں گے کہ دوران مدت دعا میں کوئی مخالف خیال نہ ہونا چاہئے تا کہ جو کچھ آپ کو خواب میں دکھائی دے وہ خالص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو۔
یہ مقدس وعظ کئی سادہ لوح اشخاص پر اثر کر جاتا ہے پہلا اثر تو یہی ہوتا ہے کہ قادیانی گروہ پاک لوگوں کی ایک جماعت ہے جن کو دعا پر یقین ہے جو تہجد جیسی مبارک چیز کی تلقین کرتے ہیں اور وہ سادہ لوح نہیں سمجھتا کہ یقینی امور کے متعلق اس قسم کے تردد میں پڑنا بذات خود ایک گناہ ہے اس طرح تو ایک مخالف اسلام اگر یہ وعظ کرے کہ تم ہمارے طریق عبادت کو اختیار کر کے ٤٠ دن پرارتھنا کرو اور نتیجہ دیکھو کہ پرمیشور تمہاری کیا رہبری کرتا ہے تو کیا ہم اس کے وعظ پر عمل پیرا ہو
٥٠
کہ اسلام اور دیگر مذاہب کی اس طریق دعا سے تحقیق شروع کر دیں گے؟ جب ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا دین کامل ہمارا نبی کامل تو آج پھر ہمیں کس تحقیق کی ضرورت ہے؟ ۔ بہر کیف ایک سادہ لوح ان کی نیکی کی تلقین کے پھندے میں آ جاتا ہے۔ ادھر قادیانی ایجنٹ مرزا غلام احمد کا فوٹو بھی اسے دکھانا شروع کر دیتا ہے کہ دیکھئے کیسی پاک صورت ہے کیسی معصوم شکل ہے کیا اس شکل سے کسی تصنع کی امید کی جاسکتی ہے؟
ادھر وہ سادہ لوح تہجد پر زور دیتا ہوا روزانہ یہ دعا کرتا ہے کہ الٰہی میری رہبری فرما کر تو مجھے اس مدت میں صاف صاف بتلا دے کہ مرزا سچا ہے یا نہیں؟ ۔ وہ سادہ لوح اس زور دعا میں یہ بھی نہیں سوچتا کہ ہمارا خالق ہمارا ماتحت نہیں کہ ہمارے حکم سے فوراً اس معاملہ کا فیصلہ کر دے وہ خدا نہ ہوا ہمارا ماتحت ملازم ہوا جو ہم چند دن کا الٹی میٹم دے کر اس سے اپنا مطالبہ پورا کرالیں۔ غرضیکہ وہ سادہ لوح روزانہ تہجد پڑھتا ہے خوابیں ہر انسان کو آتی ہیں مرزا کے خلاف جذبہ کو وہ دور کر چکا ہوتا ہے۔ بس اس عرصہ میں یا تو مرزا کی شکل اس کو خواب میں آ گئی یا اس نے سورج چڑھتا دیکھا، دریا بہتا دیکھا، نہر نظر آئی، پھل کھائے، انگور کھائے۔ غرضیکہ کوئی بھی خواب آئی فوراً اس کی تعبیر یہی کر لی کہ مرزا سچا ہے۔ نہر یا دریا کا پانی دیکھنے سے مراد بھی یہی ہے سورج دیکھنے کا مطلب بھی یہی ہے نیز دعا کرتے کرتے خود اس سادہ لوح کو اپنے تقدس اور نیکی کا وہم سوار ہو جاتا ہے اور وہ چند ہی دن میں اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ وہ خدا ہی کیا جو ہم سے کلام نہ کرے آج خدا نے خواب دکھا کر ہماری رہبری کی ہے وہ ہم سے کلام بھی کرے گا چنانچہ وہ صاحب الہام کے منتظر ہو جاتے ہیں (یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں میں کئی انبیاء پیدا ہو چکے ہیں)
دوسرے ہر انسان میں خود ستائی کا مادہ موجود ہے جب وہ سادہ لوح اپنی نیکی وطہارت کا غرور کرتا ہے تو ساتھ ہی یہ جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ میری دعا اکارت نہیں جاسکتی اس لئے وہ کوئی بھی خواب دیکھے تو ہر روز مرزا کی صداقت پر دلیل ٹھہراتا ہے ادھر قادیانی اس کی نیکی وتقویٰ کے گن شمار کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ہر وقت یہی ذکر ہے کہ آپ تو ولی اللہ ہیں خدا ہی آپ کو بتائے گا کہ اب تو فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ قصہ کوتاہ یہ کہ وہ سادہ لوح اپنے غرور کے گناہ میں اس جال کا شکار ہو جاتا ہے اب اس کے لئے نہ قرآنی دلائل کی ضرورت نہ مرزا کی کتب کا مطالعہ اسے تو خدا نے بتا دیا کہ مرزا سچا ہے۔ (کیونکہ اس نے خواب جو دیکھ لی کہ صبح کے وقت سورج روشن ہو رہا ہے۔ یا سمندر میں جہاز جارہا ہے)
قصہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ غریب مرزائیت کے دام کا شکار ہو جاتا ہے اس کے سامنے
٥١
کوئی دلیل بیان کرو تو یہی جواب ملتا ہے کہ ہمیں تو خدا نے ہدایت دی ہے انسانی دلائل ہمارے سامنے کیا چیز ہے ادھر قادیانی اخبار اس کے خواب کو رؤیا قرار دے کر اس کو اور زیادہ بدماغ کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ شخص ہمیشہ کے لئے ہدایت سے دور ہو جاتا ہے۔ الا ماشاء اللہ!
باب چہارم
سیرت جلسے
کچھ عرصہ سے قادیانی گروہ نے سیرت جلسوں کا ڈھونگ رچا رکھا ہے جس کی ابتداء راجپال ایجی ٹیشن کے دنوں سے ہوئی ان دنوں مرزا محمود کو مسلمانوں کی لیڈری کا شوق ہوا اور آنجناب نے خیال کیا کہ اس وقت مسلمان برافروختہ ہیں آؤ لگے ہاتھوں کچھ فائدہ اٹھا لیں۔ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے ایک انجمن ترقی اسلام بھی بنا لی قد آدم پوسٹر شائع ہونے شروع ہوگئے۔ پمفلٹ بازی ہوئی مرزائیت کی تبلیغ کی بجائے موضوع یہ تجویز ہوا۔
ناموس رسول اکرم ﷺ کی حفاظت
قادیانی گروہ نے سوچا یہ کہ اس ایجی ٹیشن کے وقت مسلمان ہمارے عقائد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہماری آواز پر کان دھریں گے اور ہم اس ہنگامہ آرائی سے قادیانی بیت المال میں کافی روپیہ جمع کر لیں گے چنانچہ اس اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مرزا محمود نے اپنے ایک سیکرٹری کی طرف سے ایک خفیہ چٹھی طبع کرائی اور اپنے مبلغین کو وہ چٹھی دے کر مختلف شہروں کے رؤساء کی طرف روانہ کر دیا۔ انہی دنوں خاکسار کو قادیانیت کا طوق اپنے گلے سے اتارنے کی توفیق نصیب ہوئی تھی میں نے وہ چٹھی اسلامی پریس کو بھیجنا اپنا فرض سمجھا چنانچہ مسلمان اس قادیانی چال سے بروقت آگاہ ہوگئے اور ایک عظیم الشان فتنہ کی روک تھام ہوگئی۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس چٹھی کو یہاں بھی درج کر دیا جائے تاکہ ناظرین کو قادیانی چالوں کا کما حقہ علم ہو جائے۔
٢٥ لاکھ روپیہ جمع کرنے کی اسکیم ...... نقل چٹھی
بسم اللہ الرحمن الرحیم ! نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب
مکرمی و معظمی ......... السلام علیکم! آپ سے پوشیدہ نہ ہوگا کہ اس و ـ
٥٢
مسلمانوں کی حالت کیسی نازک ہو رہی ہے۔ ہم نے اس خطرناک حالت کو دیکھ کر اس امر کا فیصلہ کر لیا ہے کہ ہندوؤں کی ان تدابیر کا اور اسی طرح دیگر مذاہب کے حملوں کا پوری طرح مقابلہ کیا جائے لیکن یہ کام نہیں چل سکتا جب تک کہ کم از کم پچیس لاکھ روپیہ پہلے ریزرو فنڈ کے طور پر جمع نہ کر لیا جائے..... ایک لاکھ روپیہ سے زیادہ روپیہ کا انتظام ہماری جماعت کر چکی ہے اور بھی رقم وہ دے گی مگر ضرورت پچیس لاکھ کی ہے اور باہر کے صوبوں کی حالت کو دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ رقم جمع بھی پنجاب اور سرحد سے ہو سکتی ہے۔ چونکہ بعض اضلاع ہندوؤں اور سکھوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ اس لئے پنجاب میں سے بھی انہی اضلاع پر امید کی جاسکتی ہے ۔ جہاں مسلمانوں کا زور ہے اور بڑے زمیندار مسلمان ہیں۔ اگر یہ اضلاع دو دولاکھ روپیہ فی ضلع جمع کردیں تو پھر یہ کام انشاء اللہ ہو سکتا ہے بظاہر یہ رقم بڑی ہے مگر ہماری جماعت کے کام کو مدنظر رکھ کر بالکل حقیر ہے کیونکہ ہماری قلیل جماعت ہر سال دولاکھ سے زائد روپیہ دین کی خدمت کے لئے دیتی ہے اگر ہماری جماعت ہر سال اس قدر روپیہ دیتی ہے تو کیا اس مصیبت کے وقت میں دوسرے لوگ ایک سال بھی اس قدر بوجھ نہ برداشت کریں گے۔ ہمارے نزدیک تو ایک ہزار مسلمان آسودہ حال اگر نیت کرکے کھڑا ہو جائے تو ایک سال میں یہ رقم جمع ہو سکتی ہے۔ صرف ایک سال اپنے اخراجات میں کمی کر کے ایک ہزار آدمی ایک ہزار سے دس ہزار روپیہ اس کام کے لئے دیوے تو آسانی سے یہ کام ہو سکتا ہے جناب کو اسلام کے لئے درد رکھنے والا سمجھ کر جناب کی خدمت میں جناب مولوی ...... صاحب کو بھیجا جاتا ہے۔ امید ہے کہ آپ قربانی کر کے ان کی مدد کریں گے۔ یعنی ایک معقول رقم اس غرض کے لئے ان کی معرفت ارسال فرمائیں گے اور دیگر دوستوں سے بھی اس کام میں مدد دلوائیں گے۔ نیز التماس یہ ہے کہ آپ ان کا لیکچر بھی کروائیں تاکہ مسلمانوں میں اتحاد اور خدمت اسلام کی روح پھونکی جائے اور انہیں حالات موجود سے اطلاع ہو باقی تمام حالات مولوی صاحب موصوف سے آپ کو معلوم ہوسکیں گے۔ والسلام !
یہ وہ اسکیم تھی جس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مرزا محمود میدان میں آیا مگر راز فاش ہو جانے پر کوئی کامیابی نہ ہوئی ۔ اس ناکامی کے بعد یہ قرار پایا کہ سیرت جلسے ضرور ہوا کریں۔ ہر جگہ کے قادیانی یہ اعلان کیا کریں کہ فلاں تاریخ کو سیرت جلسہ ہوگا جس میں رسول اکرم ﷺ کی سوانح حیات بیان کی جائے گی اور قادیان سے فلاں مولوی صاحب تشریف لائیں گے ۔
اس اسکیم سے فائدہ یہ ہوگا کہ قادیان کے نام تشہیر ہوگی یہ پراپیگنڈا ہوگا کہ قادیانی بھی رسول اکرم ﷺ کی سیرت بیان کرتے ہیں اور حضور ﷺ کے ہی غلام ہیں ۔ نیز احسن پیرایہ میں ٥٣
مرزائیت کی بھی تبلیغ کی جائے گی۔ یعنی ج مسلمانوں کے قلوب مرزا کی نبوت تسلیم کر دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ علماء مسل پلانا چاہتے ہیں ۔ خبردار ہو جاؤ۔ سیرت کی رو سے مسلمانوں سے کسی معاملہ میں کی چالوں سے بچیں۔
اگر قادیانی گروہ لاہوری مر ان کی دعوت اتحاد کے جواب میں مرزا بھگانے آیا تھا تو مسلمان ہی ایسے رہ اسلام یہ آواز بلند کریں گے تو قادیانی مولویوں کی تنگ نظری سیرت جلسوں یافتہ کیا جانیں کہ ان کے عقائد کیا ہ کرتے ہیں کہ بھئی بات تو درست
قادیانیوں نے سیرت جلسوں کا حربہ ہو چکی ہے اور ناظرین کو اس کتاب میں ملبوس ہو کر پبلک میں آتے ہیں وقت ناظرین باب اوّل کی گزارشا کمپنی ہے جو مذہبی لباس میں اپنے
سرکاری ملاقاتیں
باب دوم میں ہم قاد قادیانیوں کا بہترین شغل حکام کو خلاف جھوٹی رپورٹس کرنا ہوتا ہ سنیں خواہ وہ کوئی ہو قادیانیوں اٹھاتے ہیں سنئے ایک قادیانی
مرزائیت کی بھی تبلیغ کی جائے گی۔ یعنی حضورﷺ کی سیرت ایسے انداز میں بیان کی جائے گی جو مسلمانوں کے قلوب مرزا کی نبوت تسلیم کرنے کو بھی تیار ہو جائیں۔
دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ علماء مسلمانوں کو منع کریں گے کہ دیکھو قادیانی دودھ میں زہر ملا کر پلانا چاہتے ہیں۔ خبردار ہو جاؤ۔ سیرت کے نام پر ان سے تعاون نہ کرو۔ جب یہ گروہ اپنے عقائد کی رو سے مسلمانوں سے کسی معاملہ میں تعاون نہیں کر سکتا۔ تو مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ان کی چالوں سے بچیں۔
اگر قادیانی گروہ لاہوری مرزائیوں سے صلح اور اتحاد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا بلکہ ان کی دعوت اتحاد کے جواب میں مرزا محمود یہ کہتا ہے کہ ابلیس بھی حضرت معاویہؓ کو نماز کے لئے جگانے آیا تھا تو مسلمان ہی ایسے رہ گئے ہیں جو ان کے دام تزویر میں پھنس جائیں۔ جب علماء اسلام یہ آواز بلند کریں گے تو قادیانی فوراً گریجویٹ اور نو تعلیم یافتہ گروہ سے یہ کہیں گے دیکھیں ان مولویوں کی تنگ نظری سیرت جلسوں کی پاک تحریک میں بھی تعاون سے انکار ہے۔ بیچارے نو تعلیم یافتہ کیا جانیں کہ ان کے عقائد کیا ہیں۔ ان کی چالیں کیا ہیں؟۔ ان میں سے بعض یہی خیال کرتے ہیں کہ بھئی بات تو درست ہے سیرت جلسوں میں شمولیت سے انکار تنگ نظری ہے قادیانیوں نے سیرت جلسوں کا حربہ استعمال تو ضرور کیا مگر اب بفضلہ تعالیٰ اس کی حقیقت آشکارا ہو چکی ہے اور ناظرین کو اس کتاب کے مطالعہ کے بعد معلوم ہو گیا ہوگا کہ قادیانی کس کس لباس میں ملبوس ہو کر پبلک میں آتے ہیں اور کہ ان کا حقیقی مقصود کیا ہوتا ہے اس باب کا مطالعہ فرماتے وقت ناظرین باب اوّل کی گزارشات کو بھی ملحوظ رکھیں گے تو یہی ثابت ہوگا کہ یہ گروہ ایک تجارتی کمپنی ہے جو مذہبی لباس میں اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے۔
باب پنجم
سرکاری ملاقاتیں
باب دوم میں ہم قادیانیوں کی ”اسلامی خدمات“ کے سلسلہ میں یہ ذکر کر چکے ہیں کہ قادیانیوں کا بہترین شغل حکام کو خبر رسانی کی ڈیوٹی انجام دینا ہے۔ جس کا مقصد اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹی رپورٹس کرنا ہوتا ہے۔ حکام بوجہ سرکاری منصب مجبور ہوتے ہیں کہ وہ ہر ایک کی بات سنیں خواہ وہ کوئی ہو قادیانیوں کی رپورٹوں کو بھی سنتے ہیں۔ قادیانی ان ملاقاتوں سے کیا فائدہ اٹھاتے ہیں سنئے ایک قادیانی کسی حاکم کے بنگلہ سے باہر آتا ہے سڑک پر خراماں خراماں ٹہلتا ہوا
٥٤
واپس گھر جاتا ہے۔ اس کو شوق یہ ہوتا ہے کہ رستہ میں اسے اس کے واقف ملیں پس جو بھی اس وقت ملے گا تو جناب خواہ مخواہ اس سے یہ ذکر کریں گے۔ کہ ہم تو صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر یا صاحب سپرنٹنڈنٹ پولیس کی ملاقات کر کے آرہے ہیں مقصد یہ کہ ادھر ادھر یہ چرچا ہو جائے کہ جناب کا بہت رسوخ ہے آپ بڑی ملاقات والے ہیں ڈپٹی کمشنر آپ سے بات کرتا ہے سپرنٹنڈنٹ پولیس آپ کو ملتا ہے بس پھر کیا ہوتا ہے قادیانی صاحب خوشی سے پھولے نہیں سماتے عوام الناس میں سے کئی اس وہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ چلو یار اس قادیانی سے یارانہ گانٹھو شائد کوئی کام ہی نکل آئے۔ عوام الناس بیچاروں کو کیا علم کہ حکام رعایا کے تمام افراد کی شکایات سننے کیلئے پابند ہیں بلکہ ان کے ہاں ملاقات کے دن مقرر ہوتے ہیں جن اوقات میں ہر شخص اجازت لے کر مل سکتا ہے غرضیکہ وہ قادیانی یہی رعب جماتا رہتا ہے کہ اس کی ڈپٹی کمشنر یا انسپکٹر پولیس سے ملاقات ہے کئی بیچارے اس کے آگے اپنے دکھڑے بھی کہہ سناتے ہیں اور نہایت خوشامدانہ انداز میں اس سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کی سفارش کرے اور وہ قادیانی بھی یہ سمجھتا ہوا کہ ان بے وقوفوں کو کیا پتہ کہ میرا رسوخ ہے یا نہیں یا یہ کہ حکام کسی کی بھی سفارش مانا کرتے ہیں یا نہیں۔ سفارش کا وعدہ کر لیتا ہے۔ سفارش تو اس نے کیا کرنی ہوتی ہے۔ وعدہ کے بعد وہ اس تاک میں رہتا ہے کہ اس شخص کا کام ہوا ہے یا نہیں اگر کام ہو گیا تو جا دھمکے کہ دیکھا ہم نے تمہاری سفارش کی تھی اور اگر کام نہ ہوا تو کہہ دیا کہ ہم نے سفارش تو کی تھی مگر جواب کچھ زیادہ تسلی بخش نہ ملا تھا۔ صاحب بہادر نے فرمایا تھا کہ یہ دفتری معاملہ ہے ہم کچھ کر تو نہیں سکتے ہاں خیال رکھیں گے معلوم ہوتا ہے صاحب بہادر کے بس کی بات نہ ہوگی۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ کام نہ ہونے کی صورت میں بھی پردہ بنا رہے اور جس کا کام قدرتاً ہو جائے اس پر تو کاٹھی سوار ہو جاتی ہے کہ چلو مرزائی بنو۔ مرزائی بنو، ہم نے تمہارا کام کرا دیا ہم اگر کام کروا سکتے ہیں تو بگاڑ بھی سکتے ہیں۔
غرضیکہ یہ وہ حربہ ہے جو قادیانی عموماً شورش کے ایام میں اختیار کیا کرتے ہیں اور بعض عقل کے پورے ان کا شکار ہو جایا کرتے ہیں۔
باب ششم
ملازمتیں
اخبارات خصوصاً انگریزی اخبارات میں اس قسم کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلاں جگہ ملازمت کے لئے خالی ہے۔ قادیانی گروہ اس قسم کی خبروں پر اپنی پہلی فرصت میں توجہ دیتا
٥٥
ہے۔ دوسری طرف مریدوں کے ذریعے پروپیگنڈا یہ ہے کہ ہماری وساطت سے ملازمت بہت جلدی مل جاتی ہے اس لالچ میں قادیانی ایجنٹ جن اشخاص کو اپنا شکار بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ان کی درخواستیں قادیان پہنچ جاتی ہیں۔ جہاں کہیں اخبارات میں کوئی ملازمت کا اعلان نظر آیا فوراً وہ درخواست بھجوا دی اگر کام ہو گیا تو بس وہ ملازم پکا قادیانی ہوگا (حالانکہ یہی کام وہ خود صرف ایک آنہ کے ٹکٹ خرچ کر کے بھی کر سکتا تھا اور اسے معلوم ہو جاتا کہ اس کی درخواست کی منظوری میں اس بات کا کوئی دخل نہیں ہوتا کہ وہ قادیان کی مقدس زمین سے آئی ہے۔ بعض ہوشیار نوجوان تو صرف وعدہ ہی کر لیتے ہیں کہ اگر کام ہو گیا تو ہم مرزائی ہو جائیں گے مگر بعض ایسے عقل کے پورے ہوتے ہیں کہ ان کے چکمہ میں آ کر مرزائیت قبول کرنے کا اعلان ہی کر دیتے ہیں ان اعلان کرنے والوں کا نمبر قادیان والے پیچھے ڈال دیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مرزائی تو ہو ہی گیا ہے یہی ہمارا مقصد تھا) اور ان کو یہ تبلیغ شروع ہو جاتی ہے کہ خدا آپ کو آزما رہا ہے مؤمنین کو ابتلاء آنا ضروری ہوتا ہے ذرا صبر کیجئے انتظام ہو جائے گا۔ مرزائیت کا اعلان کر چکا ہوتا ہے اب اس چیز میں وہ شرم محسوس کرتا ہے کہ کام نہ ہونے کی صورت میں یہ کہہ دے کہ میں ملازمت کے لئے ان کے جھوٹے وعدہ کا شکار ہو گیا تھا وہ اسی ندامت کے باعث خاموش رہتا ہے اور بہرحال نرم گرم مرزائی رہتا ہوا دن بسر کرتا ہے لیکن توبہ کا اعلان نہیں کرتا۔ الا ماشاء اللہ!
یہ وہ حربہ ہے جس کا ہمارے کئی نوجوانوں نے تجربہ کیا ہوگا اصلیت یہ ہے کہ نہ ان کا ملازمتوں میں کوئی دخل نہ کوئی رسوخ یہ تو صرف ایک ہوشیاری و چالاکی ہوتی ہے۔
باب ہشتم
آریوں عیسائیوں کے خلاف لٹریچر
قادیانی گروہ کا ابتدائی کام آریوں عیسائیوں کے خلاف لٹریچر شائع کرنا تھا۔ ان دنوں مسلمانوں کو اپنے عتاب و عذاب سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ کیونکہ مقصود یہ تھا کہ آریوں اور عیسائیوں کو گالیاں دی جائیں جس کے جواب میں لازماً وہ بھی درشت کلامی سے پیش آئیں گے۔ اور اسلام کے خلاف زبان درازی کریں گے پھر کیا ہوگا کاروبار کی ترقی آریوں اور عیسائیوں کی گالیوں کو نقل کر کے شور برپا کیا جائے گا مسلمانوں کو مشتعل کر کے ان کی جیبیں خالی کی جائیں گی اور وہ بیچارے یہ سمجھ کر کہ یہ اسلام کے سپاہی آریوں عیسائیوں کو خوب ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں۔ دل
٥٦
کھول کر امداد دیں گے۔ چنانچہ قادیانی گروہ کا ابتدائی سرمایہ یہی چیز تھی۔ براہین احمدیہ وغیرہ کی اشاعت سے اس کام کو انجام دیا گیا جب سرمایہ جمع ہو گیا تو مجددیت، مسیحیت، محدثیت، نبوت سبھی دعاوی ہونے شروع ہو گئے۔
ان دنوں بھی قادیانی گروہ کا طرز عمل یہ ہے کہ ہر مقام کے مناسب حال اشاعت مرزائیت کے لئے مختلف ڈھنگ اختیار کئے جاتے ہیں۔ جہاں کہیں دو چار اشخاص مرزائیت کا شکار ہو چکے ہیں وہاں تو ہر وقت مسلمانوں سے ہی مقابلہ کیا جاتا ہے۔
میدان مناظرہ اور جہاں ابھی تک کوئی بھی مرزائیت کا شکار نہیں ہوا وہاں یہ لوگ آریوں عیسائیوں کو مناظرہ کا چیلنج دیں گے۔ اشتہار بازی کریں گے تا کہ آریہ اور عیسائی مقابلہ پر آمادہ ہو جائیں ادھر یہ کوشش ہو گی دوسری طرف چند مسلمانوں کو اسلام کا واسطہ دے کر یہ کہا جائے گا کہ ہمارا تمہارا اختلاف علیحدہ رہا اس وقت تو کفر و اسلام کی جنگ ہے۔ ناموس رسول اکرم ﷺ کا سوال ہے۔ خدارا اس آڑے وقت میں کام آؤ۔ بعض مسلمان اس چکمے میں آ جاتے ہیں۔ مناظرہ میں ان کو امداد دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ کچھ عرصہ کے بعد ایک دو حضرات جو ان کی اسلام دوستی کا شکار ہو جاتے ہیں مرزائیت قبول کر لیتے ہیں۔
جس جگہ قادیانی اپنی اشتعال انگیزی کے باوجود آریوں اور عیسائیوں سے میدان مناظرہ گرم کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ وہاں ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بعض ناواقف حال لوگوں کو اسلام کا واسطہ دے کر اس کام کے لئے آمادہ کیا جائے گا کہ وہ ایک لیکچر کا انتظام کر دیں اور ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ لیکچر میں مرزائیت کا ذکر تک نہیں کریں گے بعض سادہ لوح ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں ادھر قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا پہلا قدم ہی یہ ہے کہ ایک مسلمان کی زیر صدارت جلسہ ہو جائے اور ہم آریوں عیسائیوں کے خلاف لیکچر دیں۔ صدر جلسہ حاضرین کو یہ تعارف کرا دے کہ یہ مولوی صاحب قادیان سے تشریف لائے ہیں۔ صرف اس قدر تعارف ہی ہمارے قدم جمانے کا باعث ہوگا۔
پیشہ ور مناظر
اس ضمن میں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ہر قوم میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں جو اپنے کاروبار کی ترقی اپنی قوم کو دوسری قوم سے لڑانے میں سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ آریوں عیسائیوں میں بھی ہیں جن کو پیشہ ور مناظر کے نام سے موسوم کرنا انسب معلوم دیتا ہے۔ وہ اپنا بازار گرم کرنے کے لئے مرزائیوں سے مناظرہ پر آمادہ ہو جاتے ہیں ان کے دل میں قوم کے مفاد کا
٥٧
کوئی احساس نہیں ہوتا چنانچہ ان لوگوں کے مناظرہ کے سننے کا اگر آپ کو کبھی اتفاق ہوا ہو گا تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ ان کا طرز عمل وکلاء جیسا ہوتا ہے کہ فیس لی اور اپنے مؤکل کی ترجمانی کر دی بس اللہ اللہ خیر سلا۔ بسا اوقات طرفین کے مناظر اکٹھے سیر کرتے دکھا دیتے ہیں یا ٹی پارٹی میں شریک ہوتے ہیں۔ مگر فریقین کا یہ حال بنا دیتے ہیں کہ وہ آپس میں دست و گریبان رہتے ہیں۔
............ غرضیکہ نو تعلیم یافتہ طبقہ کو اپنے دام تزویر میں لانے کے لئے قادیانیوں کا یہ بھی ایک زبردست حربہ ہے کہ وہ آریوں‘ عیسائیوں کے خلاف اپنا لٹریچر پیش کر کے یا اپنے مناظروں کا حال سنا کر انہیں اپنا شکار بنانا چاہتے ہیں۔ مگر حقیقت کیا ہے؟ صرف مرزائیت کی تبلیغ اپنے کاروبار کی ترقی دینے کے ذرائع‘ خیال فرمائیے دوسرے کو گالی دے کر اپنے مذہب اور پیشوا کو گالی دلانا‘ یہ بذات خود اسلام دشمنی ہے مرزا نے اس کام کو سرانجام دیا خود اس کا اقرار سنئے۔
”اور سخت الفاظ استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں ایک تحریک ہو جاتی ہے مثلاً ہندوؤں کی قوم ایک ایسی قوم ہے کہ اکثر ان میں سے ایسی عادت رکھتے ہیں کہ اگر ان کو اپنی طرف سے چھیڑا نہ جائے تو وہ مداہنہ کے طور پر تمام عمر دوست بن کر دینی امور میں ہاں سے ہاں ملاتے رہتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ہمارے نبی کریم ﷺ کی تعریف و توصیف اور اس دین کے اولیاء کی مدح و ثناء کرنے لگتے ہیں لیکن دل ان کے نہایت درجہ کے سیاہ اور سچائی سے دور ہوتے ہیں اور ان کے روبرو سچائی کو اس کی پوری عداوت اور سختی کے ساتھ ظاہر کرنا اس نتیجہ خیر کا منبع ہوتا ہے کہ اسی وقت ان کا مداہنہ دور ہو جاتا ہے اور بالجہر یعنی واشگاف اور اعلانیہ اپنے کفر اور کینہ کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ گویا ان کی دق کی بیماری محرقہ کی طرف انتقال کر جاتی ہے۔ سو یہ تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیدا کر دیتی ہے اگر چہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے۔“
(ازالہ اوہام ص ٢٩‘٣٠ خزائن ج ٣ ص ١١٨‘١١٧)
کیا اس حوالہ کے مطالعہ کے بعد اس امر میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیانی کمپنی نے آریوں سے گندہ لٹریچر شائع کرانے میں پورا زور صرف کیا ہے۔ ایک اور واقعہ سنئے عیسائیوں نے ایک کتاب امہات المؤمنین شائع کی کتاب کے نام سے ہی اس کے مضمون کا پتہ چلتا ہے۔ یہ کیسی فحش کتاب تھی اس کا اندازہ اس سے کیجئے کہ انجمن حمایت اسلام نے تمام مسلمانوں کی طرف سے حکومت کی خدمت میں ایک میموریل روانہ کیا کہ اس کتاب کو ضبط کیا جائے مگر مرزا غلام احمد نے فوراً اس میموریل کے مقابلہ میں ایک اور میموریل روانہ کیا کہ اس کتاب کو ضبط نہ کیا جائے کیوں؟
٥٨
صرف اس خیال سے کہ گالیوں اور ترکی بترکی جواب سے ہی تو بازار گرم ہو رہا ہے۔ اگر یہ گالیاں نہ ہوں گی تو کاروبار ترقی کیونکر کرے گا ملاحظہ ہو میموریل بحضور گورنر پنجاب مندرجہ (تبلیغ رسالت ج ٧ ص ٣٦، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٦٠ تا ٤٦٤) ہم یہ میموریل من و عن اپنی کتاب مباہلہ پاکٹ بک میں بھی نقل کر چکے ہیں اُس کا مطالعہ کریں لا انتہا معارف کا انکشاف ہوگا۔
اس سلسلہ میں اگر ہم قادیانی گروہ کی تمام چالوں کا ذکر کریں تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا مگر چونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ قادیانی گروہ کی کوششوں کے نتائج دنیا کے سامنے آنے سے ان کی اسلام دوستی کا پردہ فاش ہوتا جا رہا ہے اس لئے چنداں زیادہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔ اب پبلک کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ آریوں اور عیسائیوں سے اسلام کے خلاف گندہ لٹریچر شائع کرانے کی محرک اگر کوئی جماعت ہے تو یہ اور ان کی یہ اسلام دشمنی اس درجہ ظاہر ہوتی جارہی ہے کہ آئندہ قادیانی اپنی اسلام دوستی کے ثبوت میں آریوں اور عیسائیوں کے خلاف اپنا لٹریچر پیش کرنے کی جسارت نہ کر سکیں گے۔
باب ہشتم
قادیانی نظام یا افتراق
”قادیانی مذہب“ کے پروپیگنڈا کے سلسلہ میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس جماعت کا نظام اس کی سچائی پر زبردست دلیل ہے۔ اور اس نظام کا نقشہ کھینچنے میں قادیانی کمال کر دیا کرتے ہیں۔ ان کی لفاظی لسانی کا تمام زور اس امر کے ثابت کرنے پر صرف ہو جاتا ہے کہ دنیائے عالم میں اس نظام سے بڑھ کر کوئی نظام نہیں۔ قادیانی اپنے نظام کو خوبصورت طریقہ سے بیان کرتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے افتراق و تشتت پر بھی تبصرہ کیا کرتے ہیں جو ان کا ہر وقت کا مشغلہ ہے۔ بعض قادیانیوں سے قبول قادیانیت کی وجہ صرف یہی معلوم ہوئی ہے کہ وہ ان کے بیان کردہ نظام سے متاثر ہو کر قادیانی بن گئے ورنہ انہیں نہ تو مرزائی لٹریچر کے مطالعہ کرنے کا موقعہ ملا نہ ہی ان کے عقائد کا علم تک ہوا۔ نظام نظام کے شور سے متاثر ہو کر اس باطل مذہب کا شکار ہو گئے اور اسی ایک غلط بات نے ان کا دل لبھا لیا۔
قبل اس کے کہ ہم اس دلیل پر بحث کریں یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ قادیانی نظام کیا حقیقت رکھتا ہے۔ ابھی اس مذہب کو وجود میں آئے صرف ٥٠ سال کا عرصہ ہوا ہے اس قلیل عرصہ کے واقعات پر سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ نظام ہے یا افتراق، خود مرزا قادیانی کی عین حیات میں قادیان کا نظام ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب اور مولوی چراغ دین صاحب کو ٥٩
اپنے قابو میں نہ رکھ سکا اور ان حضرات ۔ راز ہائے سربستہ کو فاش کر دیا جس کی وجہ سے خاص الخاص مرید ہاتھ میں رہ بھی گئے ان لنگر خانہ کے مصرف اور قادیانی بیت المال ۔ شخصی خواہشات اور خواجہ (کمال اور یہ باتیں کر رہے تھے کہ دفعتاً آپ کی (یعن کہ مولوی صاحب اب مجھے وہ طریق معلوم صاحب ہمارے سپرد کریں۔ ..... اس پر آ۔ کروں گا تو خواجہ صاحب نے یہ سنتے ہی آ میں کہنا شروع کیا کہ قومی خدمت ادا کرنے حوصلہ پست نہ کرنا چاہئے اور یہ کیسی غضب سے جمع ہوتا ہے اور جن اغراض قومی کے اغراض میں صرف نہیں ہوتا بلکہ بجائے اس اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قوۃ وجہ سے پورے نہ ہو سکے اور ناقص حالت سنبھالا جائے تو اکیلے اسی سے وہ سارے جانتے ہوئے پھر ایک ذرا سی بات سے ہوں میں ضرور پیش کروں گا۔ اس پر آپ خواجہ صاحب نے کہا کہ میں بھی ساتھ ہو تو میں خود کروں گا۔ غرض کہ اس طرح ۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ا صاحب نے شروع کر دیا تھا۔ (
مالی مناقشے
”باقی آپ سے (یعنی مولا (یعنی میاں محمود احمد ابن مرزا غلام احمد
اپنے قابو میں نہ رکھ سکا اور ان حضرات نے قادیانیت سے تائب ہو کر اس مذہب کے تمام راز ہائے سربستہ کو فاش کر دیا جس کی وجہ سے سینکڑوں اصحاب اس مذہب سے تائب ہو گئے اور جو خاص الخاص مرید ہاتھ میں رہ بھی گئے ان کی طرف سے اعتراضات کی بھرمار شروع ہو گئی۔ لنگر خانہ کے مصرف اور قادیانی بیت المال کے آمد و خرچ پر اعتراضات ہوئے۔
خواجہ (کمال الدین) صاحب بار بار تاکید کرتے تھے کہ ضرور کہنا اور یہ باتیں کر رہے تھے کہ دفعتاً آپ کی (یعنی مولوی محمد علی صاحب کی) طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے کہ مولوی صاحب اب مجھے وہ طریق معلوم ہو گیا ہے جس سے لنگر کا انتظام فوراً حضرت (مرزا) صاحب ہمارے سپرد کریں۔...... اس پر آپ نے کہا کہ خواجہ صاحب میں تو اب ہرگز نہیں پیش کروں گا تو خواجہ صاحب نے یہ سنتے ہی آنکھیں سرخ کر لیں اور غصہ والی شکل اور غصہ والے لہجہ میں کہنا شروع کیا کہ قومی خدمت ادا کرنے میں بڑے بڑے مشکلات پیش آیا کرتے ہیں اور کبھی حوصلہ پست نہ کرنا چاہئے اور یہ کیسی غضب کی بات ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ قوم کا روپیہ کس محنت سے جمع ہوتا ہے اور جن اغراض قومی کے لئے وہ اپنا پیٹ کاٹ کر روپیہ دیتے ہیں۔ وہ روپیہ ان اغراض میں صرف نہیں ہوتا بلکہ بجائے اس کے شخصی خواہشات میں صرف ہوتا ہے اور پھر روپیہ بھی اس قدر کثیر ہے کہ اس وقت جس قدر قومی کام آپ نے شروع کئے ہوئے ہیں اور روپیہ کی کمی کی وجہ سے پورے نہ ہو سکے اور ناقص حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ لنگر کا روپیہ اچھی طرح سے سنبھالا جائے تو اکیلے اسی سے وہ سارے کام پورے ہو سکتے ہیں۔ آپ اچھے خادم قوم ہیں کہ یہ جانتے ہوئے پھر ایک ذرا سی بات سے کہتے ہیں کہ میں آئندہ ہرگز پیش نہیں کروں گا میں تو کہتا ہوں میں ضرور پیش کروں گا۔ اس پر آپ نے کہا کہ میں ساتھ چلا جاؤں گا مگر بات نہیں کروں گا۔ تو خواجہ صاحب نے کہا کہ میں بھی ساتھ ہی جانے کے لئے کہتا ہوں۔ بات تو میں نہیں کراتا۔ بات تو میں خود کروں گا۔ غرض کہ اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جن سے اس بات کا صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے زمانہ میں مالی اعتراض کا درس خواجہ صاحب نے شروع کر دیا تھا۔“
(کشف الاختلاف ص ١٥، ١٦، مصنفہ سید سرور شاہ صاحب قادیانی)
مالی مناقشے
”باقی آپ سے (یعنی مولوی حکیم نورالدین صاحب قادیانی خلیفہ اول سے) میں (یعنی میاں محمود احمد ابن مرزا غلام احمد قادیانی) یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ابتلاء اگر حضرت
٦٠
(مرزا) صاحب زندہ رہتے تو ان کے عہد میں آتا۔ کیونکہ یہ لوگ (یعنی خواجہ کمال الدین صاحب مولوی محمد علی صاحب لاہوری ) اندر ہی اندر تیاری کر رہے تھے۔ چنانچہ نواب صاحب نے بتایا کہ ان سے انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حضرت (مرزا) صاحب سے حساب لیا جائے چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات ہوئی اس دن بیماری سے کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ (کمال الدین ) صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہئے تھا ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ آج خواجہ صاحب مولوی محمد علی صاحب کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا ہوتا ہے باقی جو ہزاروں روپیہ آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے اور گھر میں آ کر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق اگر آج میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدنی بند ہو جائے۔
(حقیقت اختلاف ص ٥٢، طبع دوم )
مختلف پارٹیاں
یہ امر تو محتاج بیان ہی نہیں رہا کہ مرزائی جماعت کے دو حصے ہو چکے ہیں ایک کا ہیڈ کوارٹر قادیان دوسری کا لاہور ان کا آپس کا اختلاف جو نوعیت اختیار کر چکا ہے اس پر ہر دو جماعتوں کا لٹریچر شاہد ہے۔ ہر دو پارٹیوں میں اور مختلف پارٹیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ قادیانی شاخ سے تو انبیاء بکثرت پیدا ہو رہے ہیں ہر نبی اپنی علیحدہ امت بنانے کی فکر میں ہے۔ لاہوری شاخ میں مصلح موعود پیدا ہو رہے ہیں۔ قادیانی خلیفہ کے آئے دن کے خطبے اس رخ کے اظہار پر مشتمل ہوتے ہیں کہ اس کی جماعت میں منافقوں کی کثرت ہے رؤیا اور خوابوں میں بھی منافق ہی نظر آتے ہیں اور آئے دن مرزائیوں کی جماعت سے اخراج کا اعلان ہوتا رہتا ہے کئی لوگ بہائی ہو کر اس جماعت سے علیحدہ ہوئے اکثر مسلمان ہو گئے۔ غرضیکہ اگر نظام اس چیز کا نام ہے تو فی الواقعہ اس سے بڑھ کر کوئی نظام نہیں۔ یہ ہے مختصر کیفیت قادیانی نظام کی۔ اب ہم نفس دلیل کے متعلق چند سطور لکھتے ہیں۔
پیری مریدی
بقول قادیانیوں کے قادیانی جماعت میں بظاہر جو نظام دکھائی دے رہا ہے ( ہم تو قادیانی نظام کے قائل ہی نہیں کیونکہ منافقین نے قادیانیت کی جڑوں کو ہلا دیا ہے اور اب صرف ایک ڈھانچہ باقی ہے لیکن بقول قادیانیوں کے بظاہر جو نظام دکھائی دے رہا ہے ) وہ اس مذہب کی سچائی ٦١
کی دلیل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ تو نتیجہ ہے پیری مریدی کا، پیری مریدی میں تقلید لازمی چیز ہے بات غلط ہو یا صحیح مرید ہر آواز پر لبیک کہتا ہے۔ اس میں قادیانی مذہب کی سچائی کو کیا دخل مزید برآں دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ نظام بذات خود مذہب کی سچائی کی دلیل ہو سکتا ہے اگر یہ تسلیم کر لیا جائے تو ہندوستان کی سینکڑوں تجارتی کمپنیوں بالخصوص انگریزی فرموں کا نظام اپنی نظیر آپ نہیں رکھتا۔ مثال کے طور پر ریلوے کے نظام کو ہی دیکھ لیا جائے کس باقاعدگی کس تنظیم کے ساتھ کام ہو رہا ہے۔
قادیانی نظام اس انتظام کا کیا مقابلہ کر سکتا ہے جس کا اپنا یہ حال ہے کہ قادیان میں صرف ایک مرتبہ احمدیہ اسٹور کے نام سے ایک تجارتی کام شروع کیا گیا ایک لاکھ سرمایہ مریدوں سے جمع کیا اور حشر جو ہوا اس کا پورا علم تو حصہ داروں کو ہی ہوا۔ مگر جو نتیجہ پبلک میں آیا وہ یہ تھا کہ راس المال کا بیشتر حصہ ہی ضائع ہو گیا۔ اور بعض مرزائی احمدیہ سٹور کے سلسلہ میں قادیانی گروہ کے طرز عمل سے ہی تائب ہو گئے۔ پس اگر نظام مذہب کی سچائی کی دلیل ہے تو ہندوستان کی ہزاروں فرمیں خصوصاً انگریزی فرمیں انشورنس کمپنیاں اس بات کی مستحق ہیں کہ انہیں مسیح و مہدی کا خطاب دیدیا جائے۔
باب نہم
نکاح اور شادی
قادیانی مذہب کی اشاعت کے لئے یہ پروپیگنڈا بھی عام ہے کہ قادیانی گروہ نے شادی کی رسم کو ایسی سہل اور کم خرچ بنادیا ہے جو انسان کوئی بوجھ محسوس نہیں کرتا۔ صرف چھوہارے کا خرچ ہوتا ہے اور وہ بھی حسب توفیق صرف آٹھ آنہ یا ایک روپیہ کا اس پروپیگنڈا کے ساتھ ساتھ الفضل میں عموماً اس قسم کے اشتہارات شائع ہوتے رہتے ہیں جن کا عنوان ضرورت نکاح ہوتا ہے۔ نیز یہ بھی پرچار کیا جاتا ہے کہ مرزائیت میں قوم، رتبہ، امارت، غربت کا کوئی معیار نہیں سب یکساں ہیں ان کا مذہب، ان کی قوم، ان کا کنبہ مرزائیت ہے۔ گو حقیقت اس کے برعکس ہے اور یہ وعظ صرف مریدوں کے لئے ہوتا ہے۔ مگر تاہم چونکہ ادّعا یہی ہے کہ مرزائیت میں قوم اور رتبہ کا کوئی سوال نہیں اس لئے ان کے اس ادّعا کی حقیقت واضح کرنا ضروری ہے۔ قبل اس کے کہ ہم اس معاملہ پر روشنی ڈالیں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ قادیانی عقائد میں یہ بات داخل ہے کہ مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ حرام ہے اور یہ وہ چیز ہے جو ان کی اسلام دشمنی کی زبردست دلیل ہے۔
٦٣
اسلام اور بانی اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تو اپنی امت کے لئے رشتہ اتحاد ”اسلام“ قرار دیا اور فرمایا کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ اب تا قیامت مسلمانوں کا قبیلہ مسلمانوں کی قومیت اسلام ہے۔ مگر اس گروہ نے از راہ تفرقہ انگیزی اس چیز سے انکار کرتے ہوئے اپنے نئے مذہب مرزائیت کو اپنی قوم بتایا ہے جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ یہ گروہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن ہے اور اسے اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ورنہ کیا کسی کے ذہن میں یہ آسکتا ہے کہ سرور کونین ﷺ سے ذرہ بھر محبت رکھنے والا بھی حضور علیہ السلام کی امت سے اس قدر بیگانگی اور دشمنی رکھ سکتا ہے دنیا میں رشتہ کا انقطاع ہی بیگانگی، علیحدگی کا سبب ہوا کرتا ہے جس کا خود قادیانی گروہ اقراری ہے۔
قادیانی گروہ نے مسلمانوں سے رشتہ کی ممانعت کیوں کر رکھی ہے۔ صرف اس لئے کہ اگر مریدوں کو مسلمانوں سے بالکل علیحدہ نہ کیا گیا تو خوف ہے کہ ان کا کاروبار فیل نہ ہو جائے۔ قادیانی گدی کا فائدہ اسی میں مضمر ہے کہ اس کے مرید دوسری تمام اقوام خصوصاً مسلمانوں سے کلیۃً علیحدہ رہیں تاکہ کبھی ان کے مسلمان ہو جانے کا امکان باقی نہ رہے اور ان کے تمام تعلقات منقطع رہیں اور اس طرح ان کی تمام تر توجہ قادیانیت کی طرف ہی رہے اور ان کی تمام رقوم سوائے قادیانی بیت المال کے کسی اور جگہ نہ جائیں ظاہر ہے کہ اگر ایک قادیانی کو آزاد رکھا جائے اسے مسلمانوں سے رشتہ و ناطہ کی اجازت ہو اور اس کے دل میں مسلمانوں کے خلاف اس درجہ نفرت پیدا نہ کی جائے تو وہ مسلمانوں سے میل جول رکھے گا اس کے رشتہ داروں میں غرباء و مساکین بھی ہوں گے۔ لہٰذا قادیانی کمپنی کو یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ وہ کسی مسلمان سے متاثر ہو کر قادیانیت سے انکاری نہ ہو جائے اور وہ کبھی اپنے رشتہ داروں میں سے کسی حقدار پر کوئی رقم خرچ نہ کر دے یہ وہ سبب ہے جو قادیانی گروہ کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنے مریدوں کو مسلمانوں سے کلیۃً علیحدگی اختیار کرنے کی تلقین کرے۔
ظاہر ہے کہ جس مذہب کی بنیاد اس قسم کی روک تھام اور انسانی تدابیر پر ہو اس میں کیا سچائی ہو سکتی ہے۔ اب سنئے قادیانیوں کے اس ادعا کی حقیقت کہ ان کا کنبہ اور قبیلہ مرزائیت ہے اور کہ ان کے ہاں نکاح اور شادی پر کوئی خرچ نہیں۔
امر اوّل کی حقیقت تو اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ قادیانی کمپنی کے حصہ داروں اور بانی مبانی لوگوں نے کبھی یہ نمونہ نہیں دکھایا کہ وہ نکاح اور شادی کا معیار صرف مرزائیت سمجھتے ہیں بلکہ ہمیشہ جاگیردار مالدار اشخاص کی تلاش رہتی ہے۔ جس کی تصدیق قادیان میں رہنے والے
٦٤
قادیانیوں سے ہو سکتی ہے۔ جہاں معمولی تنخواہ والے کلرک بھی موجود ہیں اور وہ لوگ بھی جو قادیانیت کے علمبردار ہیں۔ قادیانیت کے ان علمبرداروں نے اپنی جماعت کے لئے یہ نمونہ بہم نہیں پہنچایا کہ وہ فی الواقعہ مرزائیت کو اپنا کنبہ خیال کرتے ہیں جن کے ثبوت میں انہوں نے کبھی کسی کلرک سے رشتہ و ناطہ کرنا منظور کر لیا ہو بلکہ حالت یہ ہے کہ رشتہ کی تلاش کے وقت مد نظر یہ رکھا جاتا ہے کہ اس جگہ رشتہ کرنے سے کتنی جائیداد قابو میں آئے گی۔
رہا یہ پروپیگنڈا کہ مرزائیوں میں نکاح اور شادی پر کوئی خرچ نہیں اور اس وجہ سے مرزائیت قبول کی جانی چاہئے سو یہ بھی ایک دھوکہ ہے کیونکہ قادیانی گدی نے اپنے تقدس کا رعب جمانے کے لئے اگر مریدوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ نکاح و شادی پر کوئی خرچ نہ کرو تو اس کا مقصود مریدوں کو فائدہ پہنچانا نہیں بلکہ اپنا مفاد مد نظر ہے وہ مفاد کیا ہے؟ سنئے ایک مرزائی اپنے نکاح و شادی کے سلسلہ میں کسی رسم پر کوئی روپیہ خرچ نہیں کرتا اور خیال کرتا ہے کہ میں نے مرزائیت کی بدولت ان فضول رسموں پر دولت ضائع کرنے کی بجائے یہ روپیہ بچا کر فائدہ اٹھایا مگر ہوتا کیا ہے قادیانی کمپنی کے ایجنٹ اس کے دروازہ پر پہنچ جاتے ہیں اور قادیان کے ہر صیغہ کے شادی فنڈ کا مطالبہ شروع ہو جاتا ہے۔ خلیفہ المسیح کا نذرانہ الفضل کا چندہ لنگر خانہ کا چندہ غرضیکہ بیسیوں چندوں کا مطالبہ ہوتا ہے اور رسم و رواج سے بچائی ہوئی رقم اس راستہ سے خرچ ہو جاتی ہے ناظرین غور کریں کہ اس غریب کو کیا فائدہ ہوا۔ رسم و رواج پر خرچ نہ کیا تو دوسری طرف چلا گیا۔ اس کی جیب تو خالی ہو گئی۔
ہمارا مقصود یہ بتانا ہے کہ مریدوں کے لئے قادیانیوں کا وعظ ان کو رسم و رواج سے بچانا نہیں بلکہ اپنا بیت المال پر کرنا ہے اس جگہ یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ رسم و رواج کے خلاف قادیانیوں کے وعظ کا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ مریدوں میں کبھی اخوت پورے طور پر پیدا نہ ہو۔ بلکہ وہ جدا جدا رہتے ہوئے قادیانی بیت المال کو روپیہ دینے میں مصروف رہا کریں مثلاً مسلمانوں میں ایک رسم نیوتا (نیوندا) ہے یعنی شادی کے موقعہ پر تمام عزیز و اقارب شادی کرنے والے کو ایک رقم حسب توفیق دیتے ہیں اس رقم کا مقصد یہ ہے کہ شادی کے موقعہ پر اس کی امداد ہو جائے اور اس کے اخراجات میں اس کا ہاتھ بٹایا جائے۔ اس طریق سے ایک تو امداد ہو جاتی ہے اور دوسرے رشتہ داروں کا اتحاد قادیانی یہ نہیں چاہتے کہ چند مرید کبھی آپس میں متحد ہوں وہ تو ہر ایک کو جدا جدا رکھتے ہوئے ان کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتے ہیں۔
٦٥
ان حالات میں ناظرین غور کریں کہ قادیانیوں کا یہ پروپیگنڈہ کہ مرزائیت میں نکاح اور شادی آسان ہے اور کم خرچ کیا حقیقت رکھتا ہے ایک قادیانی کو ولیمہ پارچات زیور یہ خرچ تو لازماً کرنے پڑتے ہیں باقی سوال تو چند رسوم کا رہ جاتا ہے سو بعض مسلمان رسوم پر خرچ کر کے اپنا روپیہ مخلوق خدا میں بانٹ دیتے ہیں اور قادیانی چندوں میں دیدیتے ہیں۔
ہمارا قیمتی مشورہ
یہ ہے کہ جو کمزور طبائع مرزائیت میں نکاح اور شادی کے سہل و آسان ہونے کے پروپیگنڈا سے متاثر ہو جاتی ہیں وہ ہمارا نسخہ آزمائیں جو نہایت آسان ہے کہ بجائے مرزائیت کا شکار ہو جانے کے سچے مذہب اسلام پر قائم رہتے ہوئے۔ فضول رسم و رواج پر روپیہ ضائع نہ کریں بلکہ اس کو اپنے لئے یا اپنے حق دار عزیز واقربا کے لئے محفوظ رکھیں اس طریق سے رسم و رواج سے بچا ہوا روپیہ قادیان کی نذر نہ ہوگا بلکہ آپ کی جیب میں محفوظ رہے گا۔ اس باب کے اختتام پر ہم مرزائیوں کا ذیل کا اعلان بھی ہدیہ ناظرین کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ مرزائی مرزائیت کو فروغ دینے کے لئے کیا طریقے اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
احمدی لڑکیوں کا مہر
”نیز ہم نے یہ بھی لکھا تھا کہ بہتر ہوتا اگر احمدی لڑکیاں غیر احمدی سے اپنا دین مہر قبولیت احمدیت مقرر کیا کریں اور اس طریقہ سے احمدیت کو ترقی دیں۔ امید ہے کہ آپ اسے شائع فرما کر مشکور فرمائیں گے ۔“ (پیغام صلح ٣ مئی ١٩٣٤ء) اس امر پر ناظرین غور کرلیں کہ سودا مہنگا ہوگا یا سستا۔ اگر مہر صرف مرزائیت ہی ہو تو بھی دیکھنا یہ ہے کہ ایک مرزائی اپنی زوجہ کو روپیہ دینے کی بجائے غیر ممالک میں تبلیغ کے چندوں نذرانوں لنگر خانوں میں وہی روپیہ دے گا۔ بجائے مرزائیت کے اگر مہر نقد روپیہ ہوتا تو اس کے گھر میں تو رہتا مگر یہاں ہوتا یہ ہے کہ روپیہ مرزائیت کے علمبرداروں کے قبضہ میں جاتا ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!
باب دہم
خلاف عقل عقائد
مخلوق خدا کو اپنے جال میں پھانسنے کے لئے قادیانی یہ وعظ بھی کیا کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو خدا نے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ١٣٠٠؍سو سال سے پیدا شدہ غلط اور
٦٦
خلاف عقل عقائد کی اصلاح کرے مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زندہ موجود ہونا، مردہ جانوروں کا زندہ ہونا، وغیرہ عقائد ایسے ہیں جن کو عقل ہرگز تسلیم نہیں کر سکتی۔ مسلمانوں کے دقیانوسی مولویوں نے ان عقائد کو اسلام کی طرف منسوب کر رکھا ہے جن کو اس زمانہ میں جبکہ سائنس ترقی کر چکی ہے دنیا کے سامنے پیش کرنا عقل کو جواب دینا ہے۔
قادیانیوں کے اس وعظ کے جواب میں ہمارا پہلا سوال تو یہ ہے کہ تمہارا یہ وعظ مذہب سے مضحکہ خیزی نہیں تو اور کیا ہے؟ تم مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح کیا کر رہے ہو تم تو خدا کی ذات پاک پر الزام دے رہے ہو کہ مرض تو صدیوں سے موجود تھا مگر علاج ١٣٠٠ سال کے بعد ہو رہا ہے۔ اس مدت مدید میں جو لوگ انہی عقائد پر فوت ہو گئے ان کی اصلاح کے لئے تو مرزا قادیانی کا وجود موجود نہ تھا۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہ عقائد بالکل درست ہیں یا یہ کہ یہ عقائد ایسے نہیں جن پر انسان کی نجات کا دارو مدار ہو ورنہ یہ ضروری تھا کہ خداوند کریم ان عقائد کی اصلاح کے لئے آج سے کئی صدیاں پہلے مرزا قادیانی کے وجود کو مبعوث فرماتے۔ یہ بھی کیا انصاف ہوا کہ مرض تو صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور اس کی اصلاح آج ہو رہی ہے۔
دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ دنیا کی ہر عدالت ہر اس گواہ کی گواہی کو مسترد کر دیتی ہے جس کے متعلق یہ ثبوت بہم پہنچ جائے کہ وہ دشمنی کی وجہ سے گواہی دے رہا ہے۔ اس مسلمہ اصول کے مطابق ہم مرزا قادیانی کے مسلمانوں کے عقائد کے خلاف وعظ کو پرکھتے ہیں۔
دعویٰ مسیحیت سے پہلی زندگی کو لیجئے۔ اس زمانہ میں ابتدائی کارنامہ براہین احمدیہ کی اشاعت ہے جس میں بقول مرزا قرآن کریم کے وہ حقائق و معارف بیان کئے گئے ہیں جو آج تک دنیا ان سے بہرہ اندوز نہ ہوئی ہو۔ اس کتاب کی اشاعت کا مقصد کیا تھا اور کہ ٥٠ جلدوں کا وعدہ دے کر پیشگی رقوم حاصل کر کے بعد میں معاملہ کھٹائی میں ڈالتے ہوئے وہ جلدیں ہی پوری نہ کی گئیں ان امور پر ہم نے اپنی کتاب مباہلہ پاکٹ بک میں کافی روشنی ڈال چکے ہیں اس لئے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ ان حقائق و معارف پر ناز اتنا تھا کہ جواب دینے والے کے لئے دس ہزار روپیہ کا چیلنج بھی دیدیا گیا ( یہ قصہ علیحدہ ہے کہ دس ہزار روپیہ پاس موجود تھا یا نہ ) اس معرکۃ الآراء کتاب میں مرزا قادیانی اقراری ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں۔ اس براہین احمدیہ میں مرزا نے اپنے الہامات بھی شائع کئے ہیں پھر کیا یہ امر باعث تعجب نہیں کہ خدا کے الہاموں کی بارش ہو رہی ہے مگر ١٣٠٠ سال کے بعد مسلمانوں کے غلط عقائد کی اصلاح کرنے والا
٦٧
خود غلط خلاف عقل عقائد میں مبتلا ہے۔ باوجود حقائق و معارف کا دعویدار ہونے کے آپ ان عقائد پر کتنا عرصہ قائم رہے خود ان کا اقرار سنئے۔
”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا (یا عمداً غافل رہا) کہ خدا نے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔“
(اعجاز احمدی ص ٧)
اس عرصہ دراز کے بعد جب آپ کو دعویٰ مسیحیت کا خیال پیدا ہوا تو آپ نے سوچا کہ ہم تو حضرت مسیح علیہ السلام کو آسمان پر زندہ تسلیم کرتے ہیں میں دعویٰ مسیحیت کروں تو کیسے اس خیال کے پیدا ہوتے ہی معا وفات مسیح پر وعظ شروع ہو گئے۔ حضرت مسیح علیہ السلام مد مقابل نظر آنے لگے بدیں وجہ ان سے دشمنی ہو گئی یہی وجہ ہے کہ مختلف بہانوں سے جس قدر گالیوں کا نشانہ قادیانی لٹریچر میں حضرت مسیح علیہ السلام کو بنایا گیا اس قدر نظر عنایت کسی اور پر نہیں ہوئی ان واقعات وحقائق کی موجودگی میں ہر منصف مزاج یہی فیصلہ دے گا کہ قادیانی وعظ قابل قبول نہیں۔
تیسرا سوال: قادیانیوں سے یہ ہے کہ مسئلہ وفات وحیات مسیح علیہ السلام پر ہم سے جھگڑا کرتے کیوں ہو؟ ہمارا تمہارا جھگڑا تو مرزا کے کذب وصدق پر ہے۔ اس پر بحث کرو مرزا سچا ثابت ہوا تو اس کی ہر بات سچی ورنہ یہ سارا قصہ ہی جھوٹ۔
اگر مرزا قادیانی باوجود خدا کی الہامی بارش کے ایک عرصہ دراز خلاف عقل عقیدہ پر قائم رہا اور تمہارا نبی ہاں ١٣٠٠ سال کے بعد غلط عقائد کی اصلاح کرنے والا نبی خود اتنی مدت اس عقیدہ پر قائم رہنے کے بعد خدا کی عدالت سے سرخرو ہو جائے گا تو ہم غریبوں کی دماغ سوزی کیوں کرتے ہیں؟۔ جنہوں نے نہ تو کسی نبوت کا دعویٰ کرنا ہے نہ کسی کو دس ہزار کا چیلنج دینا ہے ہمیں تو یقیناً عدالت خداوندی سے کوئی گرفت نہ ہوگی۔
چوتھا سوال: یہ ہے کہ تمہارے مرزا قادیانی تسلیم کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ کوئی اور مسیح ان ظاہری الفاظ کا مصداق بھی آجائے پس خود مرزا کو تا وفات اس مسئلہ پر پورا یقین نہیں ہوا تو ہم اس بحث میں پڑیں کیوں۔
ملاحظہ ہو مرزا کا اقرار ”میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور
٦٨
دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں۔ ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کا انتظار بے سود ہے۔...... پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آ جائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا بلکہ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔“ (جس پر آج قادیان کا در و دیوار گواہی دے رہا ہے)
(ازالۃ الاوہام ص ٢٠٠، ١٩٩ خزائن ج ٣ ص ١٩٨، ١٩٧)
پانچواں سوال: یہ ہے کہ اگر ہم مسلمانوں کے یہ عقائد خلاف عقل ہیں تو آپ فرمائیے کہ موجودہ سائنس یہ تسلیم کرسکتی ہے کہ خدا دستخط کرتا ہے روشنائی استعمال کرتا ہے اور وہ روشنائی مرزا کے کپڑوں پر گر سکتی ہے؟۔ خدا سوتا ہے جاگتا ہے روزہ رکھتا ہے منی آرڈروں کی وحی بھیجتا ہے؟۔ قادیانی لٹریچر سے ہم مندرجہ ذیل عقائد نقل کرتے ہیں۔ جو سائنس ان عقائد کی صحت پر شہادت دے گی کیا وہ سائنس ہمارے عقائد کو خلاف عقل اور بوسیدہ خیالات قرار دے سکتی ہے؟ یہی تو وہ عقائد ہیں جن میں سے بعض پر اعتراض ہوا تو مرزا قادیانی نے حسب ذیل وعظ کہا تھا ہمارے عقائد پر اعتراض کرتے ہوئے یہی وعظ کیوں نہیں دہرالیا جاتا۔
خدا اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے
”یہ تو سچ ہے کہ جیسا خدا غیر متبدل ہے اس کی صفات بھی غیر متبدل ہیں اس سے کس کو انکار ہے مگر آج تک اس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق در عمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہا تک پہنچ گیا ہے بلکہ اس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام ناپیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اس کے قانون میں داخل ہے۔“
(چشمہ معرفت ص ٩٦، خزائن ج ٢٣ ص ١٠٤)
اب قادیانیوں کی فلسفیانہ باتیں سنئے جو عقل کے عین مطابق ہیں۔
خدائی مشاغل
”اللہ تعالیٰ نے مرزا صاحب سے کہا میں نماز پڑھوں گا روزہ رکھوں گا جاگتا ہوں اور سوتا ہوں۔“
(البشریٰ ج دوم ص ٧٩، مجموعہ الہامات مرزا)
حضرت موسیٰ علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں
”وکلمہ ربہ علی طور سینین وجعلہ من المحبوبین ھذا ھو موسیٰ فتی اللہ الذی اشار اللہ فی کتابہ الی حیاتہ و فرض علینا ان نؤمن انہ حی
٦٩
فی السماء ولم یمت ولیس من المیتین ‘‘ اور اس کا ( حضرت موسیٰ علیہ السلام ) خدا کو سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا یہ وہی موسیٰ علیہ السلام مردِ خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے اور ہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس بات پر ایمان لاویں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور ہرگز نہیں مرا اور مردوں میں سے نہیں ۔‘‘
(نور الحق جلد اول ص ٥٠، مصنفہ مرزا قادیانی‘ خزائن ج ٨ ص ٦٨‘ ٦٩)
ہندوؤں کا اوتار
’’جیسا کہ ابھی بیان کر چکا ہوں مجھے اور نام بھی دیئے گئے ہیں اور ہر ایک نبی کا مجھے نام دیا گیا ہے چنانچہ جو ملک ہند میں کرشن نام ایک نبی گذرا ہے جس کو رُدَر گوپال بھی کہتے ہیں ( یعنی فنا کرنے والا اور پرورش کرنے والا ) اس کا نام بھی مجھے دیا گیا ہے پس جیسا کہ آریہ قوم کے لوگ کرشن کے ظہور کا ان دنوں میں انتظار کرتے ہیں وہ کرشن میں ہی ہوں اور یہ دعویٰ صرف میری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ نے بار بار میرے پر ظاہر کیا ہے کہ جو کرشن آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے آریوں کا بادشاہ ۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٨٥، خزائن ج ٢٢ ص ٥٢١، ٥٢٢)
’’تمام انبیاء کے نام اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں ۔ میں آدم ہوں میں شیث ہوں میں نوح ہوں میں ابراہیم ہوں میں اسحاق ہوں میں اسماعیل ہوں میں یعقوب ہوں میں یوسف ہوں میں موسیٰ ہوں میں داؤد ہوں میں عیسیٰ ہوں اور آنحضرت ﷺ کا میں مظہرِ اتم ہوں یعنی ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں ۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٨٣ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٧٦)
الہامی حمل
’’اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر ٤ ص ١٩ میں بابو الٰہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے ۔... یعنی بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے تجھ میں حیض نہیں ۔ بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے ۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)
’’حضرت مسیح موعود نے ایک موقع پر اپنی حالت یہ ظاہر فرمائی ہے کہ کشف کی حالت آپ پر اس طرح طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی قوت کا اظہار فرمایا۔‘‘ (اسلامی قربانی ص ١١ مصنفہ قاضی یار محمد قادیانی مطبوعہ ریاض الہند پریس امرتسر ) ’’مریم
٧٠
کی طرح عیسیٰ کی روح مجھ میں نفخ کی گئی اور استعارہ کے رنگ میں مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینہ سے زیادہ نہیں بذریعہ اس الہام ...... مجھے مریم سے عیسیٰ بنایا گیا پس اس طور سے میں ابن مریم ٹھہرا۔‘‘
(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)
’’اس بارے میں قرآن شریف میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ میرے لئے بطور پیشگوئی کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اس امت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے او ر پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسیٰ سے حاملہ ہو گئی اور اب ظاہر ہے کہ اس امت میں بجز میرے کسی نے اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خدا کا کلام باطل نہیں ضرور ہے کہ اس امت میں کوئی اس کا مصداق ہو اور خوب غور کر کے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں پس یہ پیش گوئی سورۃ تحریم میں خاص میرے لئے ہے اور وہ آیت یہ ہے۔ و مریم ابنت عمران التی احصنت فرجها فنفخنا فيه من روحنا‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٧ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٠، ٣٥١)
خدا کی روشنائی کے دھبے
’’ایک میرے مخلص عبداللہ نام سنوری غوث گڑھ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور ان کی نظر کے سامنے یہ نشان الٰہی ظاہر ہوا کہ اوّل مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضاء قدر کے اہل دنیا کی نیکی و بدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خدائے تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ اس پر دستخط کر دیں۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے وہ ہو جائیں سو خدائے تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیئے۔ اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے۔ اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے اس لئے مجھے جب کہ ان قطروں سے جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے گرے۔ اطلاع ہوئی ساتھ ہی میں نے بچشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو میاں عبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تر بتر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لئے اور کوئی چیز
٧١
ایسی ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اس سرخی کے گرنے کا احتمال ہوتا۔ اور وہ وہی سرخی تھی جو خدا تعالیٰ نے اپنے قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی۔‘‘
(تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٩٧، حقیقۃ الوحی ص ٢٥٥، خزائن ج ٢٢ ص ٢٦٧)
خاکسار پیپرمنٹ
’’حضور (مرزا صاحب) کی طبیعت ناساز تھی۔ حالت کشفی میں ایک شیشی دکھائی گئی اس پر لکھا تھا خاکسار پیپرمنٹ۔‘‘
(اخبار الحکم قادیان ٢٤ فروری ١٩٠٥ء تذکرہ ص ٥٢٧ طبع سوم)
منی آرڈر کی وحی
’’ایک دن صبح کے وقت وحی الٰہی میری زبان پر جاری ہوا۔ عبداللہ خان ڈیرہ اسماعیل خان اور تفہیم ہوئی کہ اس نام کا ایک شخص آج کچھ روپیہ بھیجے گا۔ میں نے چند ہندوؤں کے پاس جو سلسلۂ وحی کے جاری رہنے کے منکر ہیں اس الہام الٰہی کا ذکر کیا اور میں نے بیان کیا کہ اگر آج یہ روپیہ نہ آیا تو میں حق پر نہیں ان میں سے ایک ہندو بشن داس نام قوم کا برہمن جو آج کل ایک جگہ کا پٹواری ہے بول اٹھا کہ میں اس بات کا امتحان کروں گا اور میں ڈاکخانہ میں جاؤں گا ان دنوں بھی قادیان میں ڈاک دوپہر کے بعد دو بجے آتی تھی وہ اسی وقت ڈاک خانہ میں گیا اور نہایت حیرت زدہ ہو کر جواب لایا کہ درحقیقت عبداللہ نام شخص نے جو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایکسٹرا اسسٹنٹ ہے کچھ روپیہ بھیجا ہے اور وہ ہندو نہایت متعجب اور حیران ہو کر بار بار مجھ سے پوچھتا تھا کہ یہ امر آپ کو کس نے بتائی اور اس کے چہرہ سے حیرانی اور مبہوت ہونے کے آثار ظاہر تھے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٢٦٣‘ ٢٦٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٧٦‘ ٢٧٥)
معزز ناظرین ...... آپ نے ملاحظہ فرمایا یہ عقائد یہ الہامات یہ کرامات موجودہ سائنس کے کیونکر عین مطابق ہیں جن کو قادیانیوں کی عقل سلیم فوراً تسلیم کرتی ہے دل چاہتا ہے کہ چند اور قادیانی عقائد بھی ہدیہ ناظرین کریں تو آپ کو معلوم ہو کہ صرف حیات مسیح کا عقیدہ ہی خلاف عقل ہے ورنہ اور سب باتیں ان کی عقل تسلیم کرتی ہے۔
حضرت ابراہیم پر آگ سرد ہو گئی
’’ابراہیم علیہ السلام چونکہ صادق اور خدا تعالیٰ کا وفادار بندہ تھا اس لئے ہر ایک ابتلاء
٧٢
کے وقت خدا نے اس کی مدد کی جب وہ ظلم سے آگ میں ڈالا گیا خدا نے آگ کو سرد کر دیا۔“
(حقیقۃ الوحی صفحہ ٥٢ خزائن ج ٢٢ ص ٥٢)
حضرت یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں
”اب ظاہر ہے کہ یونس مچھلی کے پیٹ میں مرا نہیں تھا اور اگر زیادہ سے زیادہ کچھ ہوا تھا تو صرف بے ہوشی اور غشی تھی اور خدا کی پاک کتابیں یہ گواہی دیتی ہیں کہ یونس خدا کے فضل سے مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور زندہ نکلا اور آخر قوم نے اس کو قبول کیا۔“
(مسیح ہندوستان میں ص ١٦ خزائن ج ١٥ ص ١٦)
نبی نے مردہ زندہ کیا
”انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ بنا کر دکھلا دیا اور کسی نے مردے کو زندہ کر کے دکھلا دیا یہ اس قسم کی دست بازیوں سے منزہ ہیں جو شعبدہ باز لوگ کیا کرتے ہیں۔“
(براہین احمدیہ ص ٤٣٣ خزائن ج ١ ص ٥١٨،٥١٩)
حضرت مسیح ابن مریم بے باپ
”ہمارا ایمان اور اعتقاد یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بن باپ تھے اور اللہ تعالیٰ کو سب طاقتیں ہیں اور نیچری جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا باپ تھا وہ بڑی غلطی پر ہیں۔“
(اخبار الحکم ج ٥ نمبر ٢٤ مورخہ ٢٤ جون ١٩٠١ء ص ١١ ، ملفوظات ج ٢ ص ٣٠٣)
”حضرت مسیح نے مہد میں باتیں کیں اور یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح نے تو صرف مہد میں ہی باتیں کیں مگر اس نے ماں کے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥١ خزائن ج ١٥ ص ٢١٧)
چاند دو ٹکڑے ہو گیا
”قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا اور کفار نے اس معجزہ کو دیکھا اس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ اقتربت الساعة وانشق القمر وان يروا آية يعرضوا يقولوا سحر مستمر یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اور کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا گیا ۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٤١، ٢٤٢ خزائن ج ٢٣ ص ٢٧١)
٧٣
بعض نادر الوجود عورتیں
”بعض عورتیں جو بہت ہی نادرالوجود ہیں۔ باعث غلبہ رجولیت اس لائق ہوتی ہیں کہ ان کی منی دونوں طور قوت فاعل و انفعال رکھتی ہو اور کسی سخت تحریک خیال شہوت سے جنبش میں آ کر خود بخود حمل ٹھہرنے کا موجب ہو جائے۔“
(سرمہ چشم آریہ ص ٤٨، خزائن ج ٢ ص ٩٦)
بکرے نے دودھ دیا
”کچھ تھوڑا عرصہ گزرا ہے کہ مظفر گڑھ میں ایک ایسا بکرا پیدا ہوا کہ جو بکریوں کی طرح دودھ دیتا تھا جب اس کا شہر میں بہت چرچا پھیلا تو میکالف صاحب ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ کو بھی اطلاع ہوئی تو انہوں نے یہ ایک عجیب امر قانون قدرت کے برخلاف سمجھ کر وہ بکرا اپنے روبرو منگوایا چنانچہ وہ بکرا جب ان کے روبرو دوہا گیا تو شائد قریب ڈیڑھ سیر دودھ کے اس نے دیا اور پھر وہ بکرا بحکم صاحب ڈپٹی کمشنر عجائب خانہ لاہور میں بھیجا گیا۔ تب ایک شاعر نے اس پر ایک شعر بھی بنایا اور وہ یہ شعر ہے۔
یہاں تک فضل باری ہے کہ بکرا دودھ دیتا ہے
(سرمہ چشم آریہ ص ٥١ خزائن ج ٢ ص ٩٩)
اس جگہ ہم اسی قدر حوالہ جات پر اکتفا کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مقصود تو بطور نمونہ قادیانی عقائد اور خیالات کا ذکر کرنا ہے جو ان حوالہ جات سے بخوبی ثابت ہے۔
معزز ناظرین! یہ امر واضح رہے کہ ہماری معلومات کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانی کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ ایک تجارتی کمپنی ہے جسے اسلام یا مذہب سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے تردید مرزائیت کے لئے کتب مرزائیت کو کافی سمجھتے ہوئے ہر بات خود ان کے لٹریچر سے پیش کی ہے قرآن پاک یا حدیث شریف اور اقوال بزرگان تو اس گروہ کے سامنے پیش کئے جا سکتے ہیں جسے ان چیزوں کا ادب ہو لیکن جب یہ گروہ اپنی من گھڑت تاویلات سے ثابت کر چکا ہے کہ نہ صرف قرآن پاک اور حدیث شریف سے انکار ہے۔ بلکہ وہ اعتراضات سے تنگ آکر مسلمانوں کی ہر بزرگ ہستی کی شان میں گستاخی پر اتر آیا کرتے ہیں تو اندریں حالات کیا اس گروہ کے سامنے کلام پاک یا اپنے کسی بزرگ کا فرمان بیان کرنا ارتکاب گناہ کے مترادف نہیں؟۔ پس اس گروہ کے مناسب حال یہی چیز ہے کہ خود اس کے لٹریچر سے اس کی تردید کی جائے۔
٧٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں سب سے آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
عشرۂ کاملہ
ماسٹر غلام حیدر شیخ رح
عشرہ کاملہ
شیخ غلام حیدر ہیڈ ماسٹر انگریزی بورڈ سکول چکوال ضلع جہلم
تعارف
”عشرہ کاملہ“ کتابچہ ہذا کے مصنف جناب ماسٹر غلام حیدر صاحب کے اس رسالہ کے ابتدائی حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف پہلے قادیانی عقائد رکھتے تھے۔ اس کتابچہ میں انہوں نے مرزا کی تکفیر سے بھی پہلو تہی کا موقف اختیار کیا۔ مگر بعد میں دوسرے رسائل جو اس جلد میں شامل ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرزا کو خالص کافر بلکہ کافر گر مانتے تھے۔ اس رسالہ میں انہوں نے دس اصول مقرر کر کے ان پر قلم اٹھایا اور حق یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور دیگر قادیانیوں کی خوب درگت بنائی۔ بلکہ ان کی بولتی بند کر دی۔ (فقیر اللہ وسایا ١٠؍ اپریل ٢٠٠٧ء)
التماس
پہلے تو یہی ارادہ تھا کہ یہ مراسلہ بخدمت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی (قادیانی) قلمی ہی بھیج دیا جائے۔ مگر اس خیال سے کہ شاید مولوی صاحب جواب نہ دیں یا پیاسی روح کو جو مدت سے بعض شکوک کا مخلصانہ جواب چاہتی ہے۔ اپنے فیض سے محروم کر دیں۔ اس جواب کو شائع کر دیا تا کہ اوروں کو بھی جواب سے نفع حاصل ہو اور میں اللہ تعالیٰ کی حلفاً کہتا ہوں کہ یہ مراسلہ محض نیک نیتی اور طلب حق کی خواہش سے تحریر کیا جاتا ہے اور مولوی صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے اپنے شکوک کا سچا اور اصلی فوٹو پیش کیا ہے۔ بحث اور ضد کرنے کا ہرگز مدعا نہیں۔ کچھ عرصہ ہوا ہے کہ چند سوالات کا جواب جناب مکرم حکیم مولوی نور الدین صاحب بھیروی (قادیانی) سے بھی طلب کیا تھا۔ مگر افسوس انہوں نے میری صادق توبہ کی بے خبری میں چند طنز آمیز کلمات بھی جوابوں میں درج فرمائے اور جواب ایسے دیئے کہ جن کو اخبار الحکم میں پڑھنے والے خوب جانتے ہیں کہ کہاں تک وہ صادق اور پیاسی روح کی تسلی کے واسطے کافی تھے۔ میعاد اس مراسلہ کے جواب کی بعد اس کے وصول ہونے کے دو ماہ ہے۔
بندہ شیخ غلام حیدر ہیڈ ماسٹر بورڈ سکول چکوال ضلع جہلم۔
١
مکرم ومحترم جناب مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی زاد لطفہ
السلام علی من اتبع الھدی! آپ کا نوازش نامہ مورخہ ١١؍ ستمبر ١٩٠١ء موصول ہو کر باعث راحت جان ہوا۔ آپ اسلامی محبت کے جوش میں تحریر فرماتے ہیں۔ (کاش آپ اس منہاج میں غور کرتے۔ جس پر خدا کا برگزیدہ چل رہا ہے۔ جو اس کام کے مناسب قوائے لے کر کارروائی کر رہا ہے۔ مگر خدا کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو) میں اس ایمائے مخلصانہ کا از حد ممنون و مشکور ہوں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ عرصہ آٹھ نو سال سے جب سے بندہ صادق تائب ہوا ہے۔ برابر اس کوشش میں مصروف ہے کہ کہاں تک آپ کا جدید منہاج اس اسلام کے مطابق ہے۔ جس کی ہم کو قرآن اور پیغمبر ﷺ اور قرون ثلاثہ کے علماء وصوفیاء کرام کی تصانیف سے اطلاع پہنچی ہے اور اگرچہ میں بلحاظ اسلامی علم کے محض ایک طالب علم ہوں۔ مگر چونکہ بہت سا حصہ اپنی عمر کا اسلامی کتب کے مطالعہ وصحبت علماء وفقراء میں بسر کیا ہے۔ اس لئے مجھ کو آپ کے منہاج کے بعض خیالات سے اتفاق نہیں۔ اگر محض مجھ کو ہی آپ سے اختلاف ہوتا تو چندان تعجب وحیرت کا مقام نہ تھا۔ لیکن جب میں دیکھتا ہوں کہ موجودہ اسلامی دنیا میں اکثر آپ کے منہاج پر حرف گیر ہیں اور ان میں مجھ سے بڑھ کر جو اسلام کو سمجھتے ہیں وہ بھی داخل ہیں تو کیونکر آپ کے منہاج کو الذین یؤمنون بالغیب کی طرح قبول کرلوں؟ ہاں اس میں بھی کچھ شک نہیں کہ بعض کی طرح آپ لوگوں پر اس درجہ تک بدظن بھی نہیں کہ بدگوئی کیا کروں اور تکفیر کے فتویٰ میں شامل ہو جاؤں۔ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کی بعض تصانیف کے چند نکات واقعی قابل قدر ہیں اور صرف انہی کی بدولت اب تک میں تکفیر کے فتویٰ میں شامل نہیں ہوا۔ مگر خالص دودھ یا شہد میں خواہ وہ کیسا ہی مرغوب الطبع ...... کیوں نہ ہو۔ اگر زہر کی آمیزش کا اندیشہ ہو تو ایسی چیز کے استعمال کے پہلے ضرور متامل ہونا پڑتا ہے۔ مگر تریاق کی مدد سے آپ کے شہد اور دودھ کو استعمال کیا اور ہر ایک کتاب مرزا قادیانی کی اور اکثر ان کی جماعت کی بھی پڑھیں اور خوب پڑھیں۔ دوستوں اور علماء کے ڈرانے سے نہ ڈرا۔ مگر میں بڑے افسوس سے ظاہر کرتا ہوں کہ ان کی صداقت بعض ان خیالات میں جو اسلامی دنیا میں بالکل نئے طرز کے ہیں۔ میرے دل پر اس درجہ تک مؤثر نہ ہوسکی کہ میں بھی مرزا قادیانی کے خالص مریدوں میں شامل ہونے کو فخر سمجھتا۔ ہاں اگر اس قول کے کچھ بھی معنی ہو سکتے ہیں کہ جس سے تو نے ایک حرف بھی سیکھا ہے وہ تیرا مولیٰ ہے۔ تو مرزا قادیانی تو ایک طرف رہے۔ بندہ کے آپ بھی مولیٰ ہیں۔ اب میری ملازمت تیس
٢
تسلی پوری ہو چکی ہے۔ اگر میرے لواحقین کے گزارے کا معقول بندوبست اللہ تعالیٰ نے کر دیا تو آپ لوگوں میں آنا میرے واسطے آسان ہو جائے گا۔ دس امور متنازعہ آپ کے منہاج کے جن کی بابت بندہ کو کافی اطمینان نہیں ہوا۔ بطور نمونہ ذیل میں درج کرتا ہوں اور گزارش ہے کہ ہر ایک امر مندرجہ کا جواب تحریر فرماویں۔ جو کافی بھی ہو اور مختصر بھی۔ کوئی استدلال آیت اور صحیح حدیث یا تاویل مسلمہ اہل سنت و جماعت اور واقعات یا عقل کے خلاف نہ ہو۔ اس کام کا اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے مدلل بیان سے میں اور میرے اکثر بھائی جو میرے ہم خیال ہیں۔ ان شبہات و شکوک سے نجات پاویں اور آپ کی سعی موجب ثواب دارین ہو۔
- ١....... مجدد اسلام
نبوت بے شک ختم ہو چکی ہے۔ مگر دوسرا سلسلہ بعد وفات آنحضرت ﷺ ہمیشہ سے ہر صدی میں قائم ہے۔ مگر کسی مجدد اسلام نے اپنے مجدد ہونے کی نسبت نبوت کی طرح اس سے پہلے اعلان عام نہیں دیا نہ اپنے عہدہ کی فضیلت امت محمدیہ سے منوانے کے لئے مباہلہ کی درخواست تک نوبت پہنچائی اور نہ مدعی و مخالفین کی نوبت غیر اسلامی عدالت تک پہنچی۔ جمہور علماء نے جس شخص میں مجدد کے لوازمات پورے پورے دیکھے اس کو خود بخود لقب مجدد کا دے دیا۔ اگر سلف کے مجدد مرزا قادیانی کی طرح اپنے عہدے کا گھر گھر اعلان کرتے تو آج ہم ہر صدی کے مجدد کا نام لے کر پورے تیرہ تک گن سکتے۔ مگر چونکہ بعض ظاہر ہیں اور بعض پوشیدہ۔ اسی واسطے وثوق سے آج اسلامی دنیا میں کوئی بھی نام لے کر تیرہ تک گن نہیں سکتا۔ ہر صدی میں متعدد علماء نے دین اسلام کی تائید میں کما حقہ کوشش کی۔ پس اس کثیر تعداد میں مبہم طور پر عہدہ مجدد کا مخفی رہا۔ وجہ اس اجمال کی جو قدرت کو منظور تھی یہ ہے کہ انسان جن جن امور پر تفصیلاً ایمان لانے کے واسطے مکلف ہے۔ انہی کا اعلان معرفت نبی یا رسول کے ضروری شرط ہے۔ مگر مجدد پر مجملاً ایمان لانا ہی کافی ہے۔ نبی کے وقت میں نبی کا منکر معذب و معتوب ہے۔ مگر کسی نبی کا تابع اگر چند قرائن سے کسی کو مجدد تسلیم نہ کرے تو نجات سے محروم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ایسے بھی ہزاروں مسلمان ایک زمانہ میں موجود ہوتے ہیں۔ جن کو پچھلی صدی کے مجدد کی تو کلی یا جزوی اطلاع ہوتی ہے۔ مگر نئی صدی کے مجدد کا اس وقت ابھی ظہور بھی نہیں ہوتا۔ یا چند وجوہات سے باوجود ظہور کے مجدد کے تسلیم کرنے میں موانعات حائل ہو جاتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ ایک ایسے امر مجمل کی خاطر اتنے مؤمنین کی جانیں ضائع نہیں کرتا جو خاتم النبیین کے تابع ہوں اور یہ بھی لازم امر نہیں کہ کسی مجدد کی حین حیات
٣
میں ہی اس کے عہدہ کا ثبوت کی طرف فیصلہ ہو جائے۔ ہاں اگر قرینہ سے جمہور علماء کا اتفاق ہو جائے کہ فلاں شخص مجدد ہے اور اس میں تمام یا اکثر وہ علامات بھی موجود ہوں جو مجددیت کو چاہتے ہیں تو یہ اور بھی عمدہ بات ہے۔ مگر یہ نہیں کہ تو جان نہ جان میں تیرا مہمان۔ اپنی مجددیت منوانے کے لئے اس طرح سے جدوجہد کرنا یا باقی علمائے اسلام سے ناشائستہ الفاظ سے مخاطب ہونا کسی مجدد کے واسطے اگر سلف میں بھی ضروری ہوتا تو کسی نہ کسی تصنیف سے ضرور اس بات کا پتہ لگتا۔ اگر مرزا قادیانی کی کل تصانیف کی تشخیص کی جائے تو اس میں اسلام کی خالص حمایت ایک چہارم حصہ بھی مشکل نکلے گی۔ باقی تین حصوں میں ان کے نئے خیالات اور دعویٰ کے متعلق بحث و تائید ہے۔ اگر اس قدر بھی اسلام کی حمایت میں اپنا قلم نہ اٹھاتے تو اسلامی گروہ سے بہت ہی کم مرید بنتے۔ کہیں تو گورنمنٹ پر انگریزی تراجم کے ذریعہ سے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کل وہ علمائے محمدی غلطی پر ہیں۔ جنہوں نے خونی مہدی کو مانا ہوا ہے۔ صرف میں ہی وہ شخص ہوں جس نے ایسے فرقہ کی بنیاد ڈالی ہے۔ جس کا یہ عقیدہ نہیں۔ کہیں گورنمنٹ پر اپنے خاندان کے خدمات روشن کر رہے ہیں۔ کہیں گورنمنٹ کو یہ جتلا رہے ہیں کہ میں نے اپنے خرچ سے ہزاروں کتب اور رسالے اس خونی مہدی کے فاسد عقیدہ کی بیخ کنی کے واسطے اسلامی ممالک میں بھیجے ہیں۔ جب ہم مرزا قادیانی کی اس قسم کی کارروائی دیکھتے ہیں تو تعجب آتا ہے کہ یا اللہ سلف میں بھی کسی خالص برگزیدہ نے حکام وقت کو اپنی خدمات خاص اللہ کے کام میں جتلائی ہیں تو اس وقت بے ساختہ یہ سوال منہ پر آجاتا ہے کہ آیا اللہ سے اجر پانے کے لئے مرزا قادیانی یہ اسلامی خدمت بجا لا رہے ہیں۔ یا گورنمنٹ کے ہاں اپنا ذاتی اعتبار قائم کر رہے ہیں۔ جس سے آئندہ کی پیری مریدی کے سلسلے پر گورنمنٹ بدظن نہ ہو جائے۔ جیسا کہ نیا فرقہ قائم کرنے سے اس کے بانی پر گورنمنٹ کا بدظن ہونا ممکن ہے۔ گورنمنٹ کے احتمالی مواخذے سے مذکورہ ذریعے سے خلاصی پا کر اب دین اسلام میں جہاں جہاں گنجائش دیکھی وہاں نئے نئے خیالات بھرتی کر کے اپنی تاویلوں اور تحریروں سے بہت درجہ تک کامیابی حاصل کر لی۔ اسلامی امام اور مجدد کی حیثیت سے یورپ کے بادشاہوں کی طرف دعوت اسلام پر رجسٹری شدہ مراسلات بھی ارسال کر دیئے۔ مگر نزدیک کے مقامی حکام کو ان مراسلات کا بھیجنا قرین مصلحت نہ سمجھا کہ آخر انہی سے نباہ ہے۔ کہیں بنی بنائی پٹری بھی نہ اکھڑ جائے۔ اگر مقامی حکام کو بھیجا تو کیا بھیجا۔ انگریزی پمفلٹ جن میں علمائے اسلام پر بدظنی اور مرزا قادیانی پر حسن ظنی پیدا ہونے کا مصالح بھرا پڑا تھا۔ مرزا قادیانی اطمینان فرماویں کہ اہل م
اسلام نے جس مہدی کو مانا ہوا ہے وہ ہندوستان یا زیر حکومت برطانیہ انگریزی رعایا سے نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ ضروری ہے کہ جس طرح خاتم نبوت جزیرہ نما عرب میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح خاتم ولایت بھی جو ان کا ظل ہے اسی جزیرہ نما میں اپنا ظہور کرے۔ نہیں معلوم کب ہوگا اور اس کا گورنمنٹ کو کیا خدشہ ہے اور نہیں معلوم مرزا قادیانی اس مسئلے سے ناحق خونی مہدی کا نتیجہ نکال کر اپنی کون سی خاص ذاتی غرض پورا کرنے پر آمادہ ہیں۔ مسلمانوں کے مہدی آپ اطمینان فرمائیں۔ ایسے نہیں ہوں گے کہ ظالم خونی کی طرح کسی قوم سے بلا چھیڑے خود بخود جا کر لڑائی شروع کر دیں گے۔ بلکہ باغی ہوں گے اور اپنے ملک کی حفاظت میں بشرط ضرورت امداد دیں گے اور یہ محض ایک پیشین گوئی ہے۔ جس کا ظہور نہیں معلوم کس زمانے میں ہوگا۔ اب مرزا قادیانی کی تصانیف اور امامت سے غیر مذاہب کے لوگوں نے کہاں تک اسلام کی طرف رجوع کیا۔ یہ ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب قریب قریب صفر کے ہوتا ہے۔ لور پول میں اور امریکہ میں سلف کی اسلامی تصانیف کے یمن و برکت سے ہی اسلام نے اپنا ظہور کیا۔ ہندوستان میں بھی مرزا قادیانی سے پہلے جو کچھ علماء کی تصانیف اور وعظ سے غیر قوموں میں اثر ہوا۔ اس کا ہزاروں حصہ بھی مرزا قادیانی کے طفیل ڈھونڈنا بے فائدہ ہے۔ جس قدر اور جو جو تصانیف اسلام کی صداقت اور اسرار میں اور غیر مذاہب ونصاری کے جواب میں اسلامی ممالک اور ہندوستان کے علماء نے تصنیف کی ہیں۔ مرزا قادیانی کی قلم میں وہ ڈھونڈنا بے جا ہے۔ اسلامی ممالک میں امام غزالی اور ہندوستان میں شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی کی تصانیف مشت نمونہ خروار پر ہی غور کیا جائے تو اس امر کی راستی کا کچھ پتہ مل سکتا ہے۔ امہات المومنین جس سے بڑھ کر آنحضرتﷺ کے برخلاف شاید ہی کوئی گندی کتاب شائع ہوئی ہوگی۔ مرزا قادیانی کے در دولت پر بہت عرصہ جواب کا تقاضا کرتی رہی۔ مگر ان کو جواب کی جرأت نہ پڑی۔ حالانکہ صلیب توڑنے کے مدعی بھی ہیں۔ آخر علمائے اسلام نے ہی اس کے متعدد جواب الگ الگ دیئے اور ہزاروں دلوں کو ٹھنڈا کیا۔ قرآن کا ترجمہ اردو موجودہ زمانے کی ضرورت کے واسطے کافی نہ رہا تھا۔ اس ضرورت کو بھی حافظ نذیر احمد صاحب ایل۔ ایل۔ بی ہی نے پورا کیا۔ اسلامی خدمات یوں ہوا کرتی ہیں۔ انگریزی تراجم کے ذریعے علمائے اسلام پر گورنمنٹ کو بدظن کرانا خدمت اسلام نہیں ہوتی۔ اسلامی علوم اور معارف کی عربی زبان میں سینکڑوں تصانیف اس قسم کی ہیں کہ اگر مرزا قادیانی اور ان کی جماعت ان کا ترجمہ کر کے اہل ہند کو نفع پہنچائے۔ جب بھی ایک بات ہو، قاضی محمد سلیمان صاحب وکیل ریاست ٥
پٹیالہ کی تائید الاسلام کے ہر دو حصوں کا جواب اب تک ان کی جماعت سے کوئی نہیں دے سکا اور نہ ہرگز امید ہے کہ کوئی معقول جواب اس کا دے سکیں۔ بلکہ ایسی کتاب کو دیکھنا بھی فضول سمجھتے ہیں۔ شمس الہدایت کا جواب جو امروہی صاحب نے دیا ہے۔ اس میں شائستگی کو بالائے طاق رکھ کر کام لیا ہے۔ ایسے روکھے اور بے تہذیب جواب کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں کرتے۔ مرزا قادیانی نے بحیثیت مجدد کے اسلام کو تازہ نہیں کیا۔ بلکہ آیات اور احادیث کی نرالی تاویلات سے گویا یہ جتلا دیا ہے کہ تیرہ سو برس سے بعض مسائل میں کل علمائے اسلام نے سخت غلطی کھائی ہے اور کھا رہے ہیں اور ان کا اجماع کورانہ ہے۔ صرف ہم پر ہی بعض اسلامی اسرار کا الہام ہوا ہے۔ جس سے سلف کے کل مسلمان محروم رہے۔ حالانکہ بموجب صحیح حدیث علماء امتی کا انبیاء بنی اسرائیل علمائے راسخون امت محمدیہ کے بنی اسرائیل کے انبیاء کی مثیل ثابت ہے۔
٢....... امام اسلام
جس امامت کے تسلیم نہ کرنے پر صحیح حدیثوں کے رو سے جاہلیت کی موت نصیب ہوتی ہے وہ امامت تو محض اسلامی ممالک کی امامت ہے۔ جس کو ان ہی حدیثوں میں امارت کے لفظ سے بھی بیان کیا گیا ہے اور قرآن کے بموجب بھی ایسا امام اولوا الامر منکم میں داخل ہے۔ بے شک ایسے امام سے گو وہ گنہگار ہی کیوں نہ ہو منحرف ہونا اسلامی ریاست میں موجب فساد اور فتنے کا ہے۔ مرزا قادیانی کی اس امامت والی حدیث سے اکثر ایسے اشخاص کو جن کو حدیث کے علم سے واقفیت نہیں سخت غلط فہمی ہوئی ہے۔ دوسری وہ امامت ہے جو دینی علم اور فضیلت کے لحاظ سے جمہور اہل اسلام نے بعض اسلامی برگزیدوں کے واسطے جائز رکھی ہے اور بعض ایسے برگزیدوں کی حین حیات میں یا بعد ان کی وفات کے تقلید اور متابعت کو موجب ترقی درجات سمجھا۔ مثلاً امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ و غیرہم۔ لیکن یہ کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے منہ سے اپنے آپ کو امام کہا ہو یا اپنے عہدہ کی فضیلت منوانے کے لئے اپنی قوم سے مرزا قادیانی کی طرح قلمی ہاتھا پائی کی ہو یا مرزا قادیانی کی طرح کل اسلامی دنیا کے علماء اور اولیائے موجودہ سے اس امر کا جھگڑا کیا ہو کہ تم لوگ میری متابعت سے اگر انکار کرو گے تو انوار و برکات سے محروم ہو جاؤ گے اور یہ بھی کسی سلف کے دینی امام نے نہیں کہا کہ اس زمانہ کے کل برکات ہمارے ہی طفیل ہیں اور نہ بلعم کی نظیر پیش کر کے بیعت سے انکار کرنے والوں کو راندۂ درگاہ الٰہی ہو جانے کی دھمکی دی۔ اس قسم کی حقیقی امامت کا محض نبی یا رسول ہی مستحق ہے اور
پر
اس کی بیعت کا انکاری محل خطر میں ہے۔ مگر خالص دینی امام جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے نبی کے خود تابع ہوتا ہے اور نبی کے تابعین پر ہرگز یہ حجت نہیں کر سکتا کہ بلا میری بیعت کے تم اسلام سے کٹ جاؤ گے۔ آئمہ اربعہ نے اسی واسطے یہ کہہ دیا کہ جو قول ہمارا کتاب اور سنت کے برخلاف پاؤ اس کو ہرگز قبول نہ کرو۔ ان میں سے تو اکثر ایسے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد ہی بوجہ خاص علامات کے لقب امام کا جمہور اسلام نے دے دیا۔ اس قسم کی امامت کا تسلیم کرنا جمہور اہل اسلام کے ہاتھ ہے اور بے شک عوام کو تقلید کے بغیر کچھ چارہ نہیں۔ ان کے لئے وہی امام ہے جس کی امامت فی الدین پر امت کا اجماع ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ مجدد کی طرح ہر صدی میں دینی امام بھی پیدا ہو جائے اور یوں بھی واقع ہوا ہے کہ ایک ہی زمانہ میں ایک سے زیادہ بھی اس قسم کے امام پیدا ہو گئے ہیں۔ ہاں حسب عقائد شیعہ اگر یہ کوئی ایسا عہدہ ہے۔ جس کا اعلان نبوت کی طرح ضروری ہے اور جس کا عدم تسلیم ایک نبی کے تابع کو معذب و معتوب بناتا ہے تو کسی آیت یا صحیح حدیث سے اس کا ثبوت پیش کرنا چاہئے۔ ورنہ گھر کی تاویلات اور دلائل سے سلف کی محکم بنیاد نہیں ہل سکتی۔ خلفاء راشدین کے بعد بھی دینی خلافت یا امامت جب اسلامی ریاست میں بھی پورے طور پر جلوہ گر نہیں تو ہندوستان جیسے غیر اسلامی ملک میں تو بالکل محالات سے ہے۔ ہاں البتہ کسی مسلمان کا علم، زہد، تقویٰ، اگر کمال کو پہنچ جائے تو جمہور اہل اسلام کو وہ بلا اکراہ وبلا کوشش مدعی (جیسے کہ ہمیشہ سنت اللہ جاری ہے) اپنی طرف کھینچنے اور امام قبول کرانے کی خود بخود قابلیت رکھتا ہے۔ پس جب مسلمان ایسے شخص کو ہر زمانے میں اپنا امام اور پیشوا تسلیم کرتے آئے ہیں تو از خود در پے ہو کر کسی کا اپنے تائیں امام منوانا کمال فخر اور خود فروشی کو ظاہر کرتا ہے۔
٣...... وفات حضرت عیسیٰ علیہ السلام
مرزا قادیانی کو جب اپنا مدعا ثابت کرنے کا وقت پیش آ جاوے تو مجذوبوں کے الہام اناجیل اور ضعیف احادیث اور اعداد جمل تک سے بھی بڑے وثوق کے ساتھ تمسک کر لیتے ہیں اور عجیب و غریب تاویلات سے کام نکالنے کی سعی کرتے ہیں۔ مگر جب دیکھتے ہیں کہ بعض آیات وصحیح احادیث ہمارے مدعا کے خلاف ہیں تو ان کے بیچ میں سے نہ صرف جملوں کے جملے اڑا جاتے ہیں۔ بلکہ اپنی طرف سے زائد جملے بھی ترجمہ میں ناحق داخل کر دیتے ہیں اور تاویل سے عاجز آکر صحیح احادیث تک بھی قبول نہیں کرتے اور اگر کچھ حصہ بھی حدیث کا ان کے حق میں مفید بنتا نظر آسکے تو اس کو اپنے مطلب کے موافق بنا لیتے ہیں۔ خواہ اس کا باقی حصہ ان کے دعویٰ اور مطلب
کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور ا بحوالہ صحیح مسلم امت محمدیہ کا اجم صحیح بخاری سے زیادہ تر کوئی سالم حدیث کا ترجمہ بحذف مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ بخاری سے بابت حیات ونز مرزا قادیانی دیدہ و دانستہ اس فرمایا اس ذات کی مجھ کو قسم ۔ مریم علیہ السلام تم میں حاکم جزیہ موقوف کریں گے۔ مال کہ دنیا اور دنیا بھر کے مال نے کہا۔ اگر تم اس پر دلیل ق من به قبل موتہ (ب اب دیکھئے آنحضرت ﷺ تفسیر، حیات و نزول مسیح ع ابن عباسؓ میں بھی موتہ ۔ اختیار کیا۔ امام جلال الد آنحضرت ﷺ سے احاد اپنی تفسیر اکلیل میں ”وانہ لعلم الس ونزول کو ثابت کرتی ہے کسی اور تابعی وغیرہ کے عیسیٰ بن مریم علیہ السلا مفسرین کا نام بتلا دیں۔ کے فوت ہو چکنے پر استد
کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور ایسے موقع پر لاچار ہو کر (امت کا کورانہ اجماع ) بولتے ہیں۔ حالانکہ بحوالہ صحیح مسلم امت محمدیہ کا اجماع غلطی پر ناممکن ہے۔ مرزا قادیانی کے نزدیک بعد قرآن مجید کے صحیح بخاری سے زیادہ تر کوئی کتاب معتبر نہیں۔ انہوں نے باب نزول مسیح مقرر کیا ہے۔ جس کی سالم حدیث کا ترجمہ بحذف اسمائے راویاں خطوط ہلالی میں یہاں لکھا جاتا ہے۔ مگر افسوس مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مخالفین کے واسطے ہرگز ممکن نہیں کہ اپنے خیالات کی تائید میں صحیح بخاری سے بابت حیات ونزول مسیح کوئی بھی حدیث پیش کر سکیں اور یہ بھی قابل افسوس ہے کہ مرزا قادیانی دیدہ و دانستہ اس حدیث کا آخری حصہ چھپانا چاہتے ہیں۔ ترجمہ (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی مجھ کو قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بے شک عنقریب ہے کہ ابن مریم علیہ السلام تم میں حاکم عادل ہو کر اتریں گے۔ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ موقوف کریں گے۔ مال کی کثرت یہاں تک ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا۔ یہاں تک کہ دنیا اور دنیا بھر کے مال و متاع سے صرف ایک سجدہ اچھا معلوم ہوگا ۔) اس کے بعد ابو ہریرہؓ نے کہا۔ اگر تم اس پر دلیل قرآنی بھی چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو ” وان من اهل الكتب الا ليؤ منن به قبل موته (بخارى ج ١ ص ٤٩٠، باب نزول عيسى بن مريم عليه السلام) “ اب دیکھئے آنحضرت ﷺ کا بیان، امام بخاری کا مذہب، ایک صحابی کا مذہب، قرآن کی آیت کی تفسیر، حیات و نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں ایک ہی حدیث سے بخوبی ثابت ہے۔ تفسیر ابن عباسؓ میں بھی موتہ سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کی موت ہے اور یہی مذہب ابی بن کعبؓ نے اختیار کیا۔ امام جلال الدین سیوطیؒ بھی جن کی نسبت مرزا صاحب کو اقرار ہے کہ کشفی طور پر آنحضرت ﷺ سے احادیث کو صحیح کر لیتے تھے۔
(ازالۃ ص ١٥١ خزائن ج ٣ ص ١٧٧)
اپنی تفسیر اکلیل میں اسی طرح لکھتے ہیں۔ تفاسیر زخرف، کبیر کشاف، معالم، بیضاوی میں ” وانہ لعلم الساعۃ “ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے اور ان کی حیات ونزول کو ثابت کرتی ہے۔ بعد اس قدر اجماع ثقات کے جس میں دو صحابی کا مذہب بھی گواہ ہے۔ کسی اور تابعی وغیرہ کے قول کو ترجیح دینا صریح ظلم ہے۔ اب جس طرح پر ہم نے حیات و نزول عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو ثابت کیا ہے۔ اس کے بالمقابل آپ بھی کم از کم دو صحابی اور پانچ مفسرین کا نام بتلادیں۔ جنہوں نے آیت و صحیح حدیث کی رو سے خاص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فوت ہو چکنے پر استدلال کیا ہو اور یہ بھی واضح ہو کہ سوائے بخاری کے بہت سی صحیح احادیث ایسی
٨
بھی موجود ہیں۔ جن سے حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام نصف النہار کی طرح ثابت ہورہا ہے اور یہ احادیث بوجہ طوالت یہاں درج نہیں کی گئیں۔ اگر محض صحیح بخاری پر ہی سرمایہ شریعت محمدی کا دارومدار ہے تو پھر سینکڑوں مسائل شرعی کے استدلال کا دروازہ مسدود ہوجاتا ہے اور جو سعی بلیغ اکابرین دین نے باقی صحیح احادیث کی فراہمی میں کی ہے اور جس سے سینکڑوں مسائل شرعی کا دروازہ کھل گیا ہے بیکار ہوجاتی ہے۔ امام بخاری اپنی کتاب صحیح بخاری کے دیباچہ میں خود اقرار کرتے ہیں کہ (میں نے ایک لاکھ صحیح حدیث اور دو لاکھ غیر صحیح حدیث کو حفظ کیا) مگر مقام غور ہے کہ ان کی کتاب میں ایک لاکھ صحیح حدیثوں میں سے تین ہزار سے زیادہ مندرج نہیں۔ مرزا قادیانی قرآن مجید میں الفاظ کی تقدیم و تاخیر کو الحاد سمجھتے ہیں۔ حالانکہ معنوی (نہ کہ لفظی) تقدیم و تاخیر کو ابن عباسؓ جیسے صحابی و رئیس المفسرین نے بعض مواقع پر قرآن میں جائز رکھا ہے۔ قتادہؒ بھی اس امر میں ان کے ہم مذہب ہیں۔ اب مرزا قادیانی ایک ہی شخص کے مذہب کو قبول بھی کرتے ہیں اور انکار بھی پس استدلال کے وقت ان کا کوئی اصول یا قاعدہ کلیہ نظر نہیں آتا۔ امام بخاری کی مذکورہ حدیث کی رو سے جو علامات نزول مسیح بن مریم علیہ السلام سمجھے جاتے ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کے زمانہ پر کسی طرح بھی منطبق نہیں ہوسکتیں۔ صرف مال ہی کی کثرت کو مشت نمونہ از خروارے لو کہ مال اس کثرت سے ہوگا کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ مرزا قادیانی تو دعاء کرنے کے واسطے بھی ڈاکٹر کی طرح فیس چارج کرتے ہیں۔ اپنے منارہ اور مدرسہ کے واسطے روپیہ کی ضرورت کا اعلان دیتے ہیں اور پھر فرماتے ہیں کہ نزول مسیح علیہ السلام کا زمانہ یہی ہے۔ ان کی تاویل یہ ہے کہ مال سے معارف دین مراد ہیں۔ اب نہ کسی لغت کی کتاب سے یہ معنی نکلتے ہیں نہ کسی کتاب میں سلف سے خلف تک مال کی تاویل ان معنوں میں دیکھی گئی ہے۔ نہ عرب کے محاورہ میں اس کا ثبوت ہے خیر بفرض محال اگر مال سے معارف دین کی مراد لی جائے تو اس وقت بھی ہزاروں مسلمان علم دین کی طلب میں اسلامی دنیا میں کوشاں اور ساعی نظر آتے ہیں۔ اس تاویل سے بھی کام نہ نکلا۔ اگر مال سے مرزا قادیانی کے نئے خیالات کے معارف مراد ہوں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے خالص مرید پیاسی روح کی طرح ان کو لیتے ہیں۔ اس طریق سے بھی مطلب حاصل نہ ہوا۔ غرض کہ ہزاروں تاویلیں کریں۔ ان کا مقصود ہرگز پورا نہیں ہوسکتا۔ اگر اسی طرح آیات اور حدیثوں میں تاویل کی گنجائش ہوا کرے تو بعد وفات آنحضرت ﷺ تیرہ سو برس سے اب تک مرزا قادیانی جیسے مجدد مہربان اسلام کو کچھ کا کچھ بنا دیتے اور اللہ تعالیٰ اور شارع کا مدعا ایسا
٩
مبہم کر دیتے ہیں۔ جیسا اب بھی بعض وحدت الوجود کے قائل کہتے ہیں کہ نماز سے مراد یادِ اللہ ہے۔ خواہ کسی طریق پر ہو اور طہارت سے مراد دل کی صفائی ہے۔ ظاہری ناپاکی اس کو مکدر نہیں کر سکتی یا فاقہ میں مردار کھانا بھی شہد وشکر کی طرح ہے اور بھی اس طرح کی سینکڑوں تاویلیں کرتے ہیں۔ مگر ہزار ہا شکر اس پاک ذات کو سزاوار ہے۔ جس نے اس دین کو اب تک اپنی حفاظت کے سایہ میں محفوظ رکھا اور علمائے راسخین نے ہر زمانے میں غلط پٹری پر چلنے والے کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی کسوٹی سے ایسا پرکھا جیسا صراف طلاء کو پرکھتا ہے اور ان کی پیروی سے بصیرت والا گروہ سلامت رہا۔ ایلیا نبی کے قصہ مندرجہ انجیل پر مرزا قادیانی کا بڑا تمسک ہے۔ اب جس انجیل کی رو سے حضرت ایلیاء کے دوبارہ آسمان سے آنے کو حضرت مسیح نے بروزی طور پر یوحنا نبی میں بتلایا۔ اسی انجیل کی رو سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یوحنا نے بروزی ایلیا ہونے سے صاف انکار کیا۔ اب کیا حضرت مسیح جھوٹے تھے۔ یا حضرت ایلیا۔ دونوں نبی سچے تھے۔ قصہ محض الحاقی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات پر مرزا قادیانی کا ایک اور عجیب استدلال یہ ہے کہ نسخہ مرہم عیسیٰ کا یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کی ہزار ہا طب کی کتب میں درج ہے اور یہ مرہم عیسیٰ علیہ السلام کے زخموں اور ضربوں کے واسطے بنائی گئی تھی۔ پھر یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ کس کو معلوم تھا کہ مرہم عیسیٰ کا نسخہ صدہا طبی کتابوں میں لکھا ہوا پیدا ہو جائے گا۔ اب پہلے بیان میں نسخہ کا عام ہونا اور دوسرے بیان میں نسخہ کا اپنے وقت میں پیدا ہونا نہیں معلوم کیا فصاحت اور لطف اپنے اندر رکھتا ہے؟ بہرصورت جن یہودیوں کی کتابوں میں یہ نسخہ اور یہ وجہ درج ہے ان کے اور ان کے مصنفوں کے ناموں اور عبارتوں کی نقل فرما دیتے تاکہ یہود کے قول ”انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم (نساء:١٥٧)“ کا کذب انہی کی مسلمہ تصانیف سے بخوبی ظاہر ہو جاتا۔ مقام غور ہے کہ اللہ تعالیٰ تو یہودیوں کا یہ عقیدہ ظاہر فرماتا ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کے مدعی ہیں اور مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ یہودی اطباء اس نسخہ کی بابت لکھتے ہیں کہ وہ زندہ صلیب سے بچ گئے اور یہ نسخہ اس وقت بنایا گیا تھا۔ اب کس کی شہادت کو معتبر خیال کیا جائے۔ آیا اللہ تعالیٰ کی شہادت کو یا مرزا صاحب کی تحریر کو؟ عیسائیوں کی جن کتابوں میں یہ نسخہ اور وجہ تحریر ہے۔ ان کے اور ان کے مصنفوں کے ناموں اور عبارتوں کی نقل ضروری تھی۔ کیونکہ اس سے کفارہ کے مسئلہ کو خوب شکست ملتی۔ یہی امر بھی مرزا قادیانی نے ذہن نشین نہ کیا کہ جب ہر ایک عیسائی کفارہ کا قائل ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے کہ کوئی مصنف دین عیسوی کا معتقد ہو کر ایسی وجہ لکھ سکتا تھا۔ جس سے اس کے عقیدہ ١٠
کی تکذیب لازم آتی ہو۔ ایک اور قباحت یہاں یہ بھی پیدا ہورہی ہے کہ اگر بقول مرزا قادیانی یہ تسلیم کیا جائے کہ مسیح علیہ السلام صلیب سے زندہ بچ گئے۔ مگر ان کو چوٹیں اور زخم صلیب پر ضرور پہنچے تھے۔ جو اس مرہم سے درست ہوگئے تھے تو معاذ اللہ قرآن کریم کی بھی تکذیب ساتھ ہی لازم آتی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے ”وما قتلوه وما صلبوه (نساء:١٥٧)“ یعنی یہود نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا تا آخر۔
اب بقول مرزا قادیانی اگر یہود کا اس قدر کامیاب ہونا بھی تسلیم کرلیا جائے کہ گو قتل تو نہیں کیا مگر صلیب پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زخم اور چوٹیں تو ضرور لگادیں تھیں۔ تو ایک نبی اللہ کی کافی بے عزتی اور ذلت ثابت ہوسکتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ”انی متوفيك ورافعك الیٰ (آل عمران:٥٥)“ کا وعدہ فرماتا ہے۔ پس مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کو جو رفعت کا وعدہ رہائی تکلیف کے وقت ملا تھا۔ اس کو ذرا بھی پورا ہونے نہیں دیتے اور گو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ٹوٹے مگر مرہم عیسیٰ کا ثبوت ضرور بہم پہنچے۔ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کا صلیب پر زخمی ہونا تسلیم کیا جائے تو رفعت کس چیز کا نام ہوا۔ یہ تو ایسی مثل ہے۔ جیسے ایک حاکم نے اپنے وزیر سے وعدہ کیا کہ ہم تم کو دشمنوں کے ہاتھوں سے قتل اور بے عزت ہونے ہرگز نہیں دیں گے۔ مگر خیر ٹکٹی پر ان سے چند ضرب بید ضرور مروا دیں گے اور پھر مرہم پٹی سے اچھا بھی کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی حمایت تو جب ہی ثابت ہو کہ ان کو صلیب پر چڑھانے کی نوبت ہی نہ پہنچ سکے اور اہل سنت و جماعت کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر مطلقاً نہیں لٹکائے گئے تھے۔
ایک اور استدلال بھی مرزا قادیانی کا وفات مسیح پر قابل ذکر ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ خاتم نبوت کو تو اللہ تعالیٰ نے بوقت ہجرت تیس میل کے فاصلہ پر ایک غار میں چھپالیا اور یہودیوں سے اس قدر ڈر گیا کہ مسیح علیہ السلام کو زمین سے آسمان پر لے گیا۔ اب افسوس ہے کہ باوجود دعویٰ قرآنی معارف کے مرزا قادیانی کو اتنا بھی نہ سوجھا کہ آنحضرت ﷺ کو کسی نے گرفتار نہیں کیا تھا۔ بلکہ انہوں نے خود ہجرت کی تھی۔ حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام کو یہودیوں نے گرفتار کرکے ایک کوٹھے میں بند کردیا تھا۔ آنحضرت ﷺ کو ایسے غار میں پناہ دینا جو کفار کا دیکھا بھالا ہو اور ان کے اس قدر قریب تھا۔ درحقیقت رفع الی السماء سے بڑھ کر معجزہ ہے۔ ہجرت اختیاری کے واسطے زمینی پناہ اور گرفتاری اضطراری کے واسطے آسمانی پناہ دونوں اعلیٰ نشانات قدرت ہیں۔ اس
١١
سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی فوقیت ثابت کرنا بے سود ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بعض امور میں خاتم النبوت سے خصوصیت ہے۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں صدیقہ تھی وہ بے باپ پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے طفولیت میں کلام کیا۔ وہ مردوں کو زندہ اور اندھوں اور کوڑھیوں کو تندرست کرتے تھے۔ اب آنحضرت ﷺ ان امور میں ایک کے بھی مصداق نہیں تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ان پر شرف حاصل نہیں اور وہ افضل الانبیاء نہیں۔ جب مسیح علیہ السلام کی پیدائش اور طفولیت نرالی ہے تو ان کے انجام کے نرالا ہونے میں کون سا استبعاد لازم آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو کون سے مانع کہ جو نشان قدرت کاملہ کا اس کو دکھلانا منظور ہو اس کے پورا کرنے سے اسے روک دے۔ اب ایسے خانہ زاد استدلالوں پر تمسک کرنا اور امت محمدیہ کے اجماعی عقیدہ کو جو پختہ بنیاد پر مبنی ہے کورانہ اجماع کہنا کیسا سراسر خلاف عقل و انصاف ہے۔ مرزا قادیانی کا وفات مسیح علیہ السلام پر دفتر سیاہ کرنے سے اسلامی دنیا کو عملی فائدہ کیا پہنچا۔ اس سے نہ اسلام کی کمزور دینی حالت کو تقویت پہنچی ہے۔ نہ دنیاوی حالت میں کچھ ترقی ہوئی ہے۔ اس مسئلہ کو اسلام میں نجات سے کیا تعلق ہے۔ تیرہ سو برس سے عام مسلمان تو ایک طرف رہے۔ ہزاروں ولی اللہ ایسے بھی فوت ہو چکے ہیں۔ جن کا عقیدہ اس مسئلہ میں مرزا قادیانی کے برخلاف تھا۔ جو کچھ علمائے سلف نے آیات اور صحیح حدیثوں سے اس مسئلہ کی بابت استدلال کیا ہے وہ مرزا قادیانی کے برخلاف ہے۔ اس لئے ہم جمہور امت کے عقیدہ کو چھوڑ کر اس نئے طرز کے مسئلہ کی طرف رجوع کرنا اپنا تضیع اوقات سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ مسئلہ اصول نجات سے نہیں ہے۔ اس لئے ہم اس پر مجملاً ایمان لاکر اصلی اور کامل علم اس کا اللہ تعالیٰ کے حوالے کر کے صرف ان امور کی طرف آمادہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ سے توفیق چاہتے ہیں۔ جن کے کرنے سے ہم اہل جنت میں داخل ہوں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مسیح موعود میں ہوں۔ اپنے دلائل اور براہین سے صلیب توڑ رہا ہوں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود ان کے اس دعویٰ کے نصاریٰ کا دین ترقی پر ہے اور پادری لوگ مشن کے کروڑہا روپیہ سے جابجا مدارس اور شفاخانے کھولتے ہیں۔ وعظ، تصنیف رسالہ جات میں از حد سرگرم ہیں اور مرزا قادیانی کی جماعت میں پچاس نامور عیسائی بھی اپنے عقیدہ سے تائب ہو کر داخل نہیں ہوئے تو ہم بلا شک نتیجہ نکالتے ہیں کہ عملی طور پر کسر صلیب خاک بھی نہیں ہوئی۔ بلکہ ان کے وقت میں ہندوستان میں پادریوں نے تصانیف میں اسلام کے برخلاف سابق سے بھی زیادہ سرگرمی سے کوشش کی ہے۔ اس قسم کی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کسر صلیب تو ١٦
علمائے اسلام ہمیشہ سے کرتے رہے ہیں۔ نہیں معلوم مرزا قادیانی کی اس سعی سے دین عیسوی کو کون سا عملی ضعف پہنچا۔ عیسائی دنیا تو مرزا قادیانی کے اس مسئلہ پر مضحکہ اڑاتی ہے۔ زیادہ تر کوشش مرزا قادیانی کی تو یہ ہے کہ حضرت مسیح کی موت کے ثبوت میں اپنا نصف سے زیادہ وقت بسر کیا اور پھر آخر کشمیر میں ان کی قبر دریافت کر کے فتح کا ڈنکا بجا کے خوش ہو بیٹھے ہیں کہ اب عیسائیوں کا مسیح ایک سو بیس برس کی عمر پا کر فوت ہو چکا اور تیرہ سو برس سے یہ مسئلہ یوں ہی لاحل پڑا رہا۔ آخر ہم نے ہی اس کو الہام سے کھولا ہے۔ اب بھی نصاریٰ کے رسالے تصانیف برخلاف اسلام کے یورپ اور ہندوستان میں اور دیگر ممالک میں جابجا اس قدر پھیلے پڑے ہیں کہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت اگر ایک سو سال تک اور بھی زندہ رہے تو ان کے اثر سے دنیا کو نہیں چھڑا سکتی۔ پس اگر مرزا قادیانی کے وجود باجود کا کچھ عملی اثر ہم دیکھتے تو دلائل اور تاویلات سے کہ صلیب کا مسئلہ بھی حل ہوتے سن کر کچھ اندازہ لگا سکتے۔ مگر افسوس کہ جس قدر وقت وفات مسیح کے ثبوت میں ضائع کیا ہے۔ اتنا وقت اگر نصاریٰ کے رسالوں کی انگریزی اور اردو میں تردید کے بنانے اور بنوانے میں خرچ کرتے تو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوتی۔ علیٰ ہذا القیاس جس قدر روپیہ اور کاموں میں خرچ کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ اگر وہی روپیہ اس مذکورہ کام میں صرف کریں اور ایسے رسالے نصاریٰ کے گھر میں مفت اور با قیمت تقسیم کریں تو جب بھی قلم کے ذریعے کہ صلیب کا راستہ کچھ طیار ہو۔
٤...... معجزہ یا خرق عادت
جب تک تو مرزا قادیانی اپنے نئے دعویٰ سے الگ رہے۔ معجزے کے اسی طرح قائل رہے۔ جس طرح کہ جمہور اہل اسلام۔ جیسا کہ ان کی کتاب سرمہ چشم آریہ سے ظاہر ہے۔ مگر جدید دعویٰ کے ساتھ ہی یک قلم معجزات کی تاویل میں سرسید صاحب کے قریب قریب ہم خیال ہو گئے۔ آسمان پر رفع جسمانی بالکل غیر ممکن ہے۔ آنحضرت ﷺ کا معراج جسمانی نہ تھا۔ مردہ ہرگز زندہ نہیں ہو سکتا۔ قرآن میں جس نبی کو مار کر اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا وہ خواب کی کیفیت ہے۔ ملائکہ کا وجود ہرگز زمین پر نہیں آ سکتا۔ (گو قرآن سے ملائکہ کا حضرت مریم، حضرت ابراہیم، حضرت لوط علیہم السلام اور صحیح حدیث سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کا آنحضرت ﷺ کے پاس بصورت انسان آنا اظہر من الشمس ہے) حضرت مسیح علیہ السلام کے معجزات ناچیز حقیر مسمریزم اور عمل الترب کے شعبدے ہیں۔ میرے ایک سوال کے جواب میں حکیم نورالدین قادیانی اخبار الحکم
١٣
میں فرماتے ہیں کہ پرندوں کی مورت بنا کر زندہ کرنے والا معجزہ جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کرتے تھے از روئے شریعت اسلام اب مکروہ اور حرام ہے اور اسی واسطے مرزا قادیانی ایسے معجزات کو ناچیز اور قابل نفرت خیال کرتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے اذن سے کوڑھیوں کو تندرست اور مردوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام جو زندہ کرتے تھے۔ اس کے مکروہ اور حقیر ہونے کا جواب کچھ نہیں دیا۔ سبحان اللہ! حکیم صاحب مرزا قادیانی کے پاس شریعت کے تو اس قدر مداح ہوں۔ مگر مرزا قادیانی کی تصویر اور اس کے فروخت کا اشتہار اخبار الحکم میں برملا اس پاس شریعت کی دھجیاں اڑائے۔ اللہ تو قرآن میں یہ فرمائے کہ مسیح علیہ السلام اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتے تھے کوڑھیوں اور نابیناؤں کو تندرست کرتے تھے اور ان کو یہ نشانات الٰہی عطاء ہوئے تھے۔ مگر مرزا قادیانی کی رائے میں ایسے اولوالعزم نبی کے ہاتھ سے ان نشانات کا ظاہر ہونا مداری کے تماشے کی کیفیت سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس ”مسیح کو اسرائیلی مسیح پر ایک جزئی فضیلت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کی دعوت عام ہے اور اس کی خاص تھی اور اس کو طفیلی طور پر تمام مخالف فرقوں کے اوہام دور کرنے کے واسطے ضروری طور پر وہ حکمت و معرفت سکھلائی گئی ہے۔ جو مسیح ابن مریم کو نہیں سکھلائی تھی۔“ (ازالہ ص ٤٢٨، خزائن ج ٣ ص ٣٥٠) ”اگر یہ عاجز اس عمل (معجزات مسیح) کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا تعالیٰ کے فضل و توفیق سے امید قویہ تھی کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“ (ازالہ ص ٣٠٩ حاشیہ، خزائن ج ٣ ص ٢٥٨) یہ مودبانہ کلمات تو مرزا قادیانی کے ایک اولوالعزم نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہیں۔ اب آنحضرت خاتم نبوت ﷺ کی نسبت جو حسن ظنی کے الفاظ وہ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا بھی ملاحظہ ہو۔ ”اگر آنحضرت ﷺ پر ابن مریم اور دجال کی حقیقت کاملہ بوجہ نہ موجود ہونے کسی نمونے کے موبمو منکشف نہ ہوئی ہو..... تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“ (ازالہ ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٣)
سبحان اللہ! آنحضرت ﷺ پر حقیقت دجال وغیرہ کے عدم اظہار کو مصلحت سے تصور کر کے اپنے لئے اس حقیقت کے انکشاف کی قابلیت ظاہر فرمائی۔ جن پر قرآن نازل ہوا اور جس کے واسطے ”الم نشرح لك صدرك“ کی خوشخبری سنائی گئی۔ جس کو معراج میں قدرت کے غیبی نشانات مشاہدہ کرا کر عین الیقین کا مرتبہ بخشا گیا۔ اس کی ذات کی نسبت مرزا قادیانی کا حسن ظن اس طرح کا ہے۔ حالانکہ ان کی محبت کا سب سے بڑھ کر دم بھرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ایسے عقیدہ سے نجات بخشے۔
١٤
٥...... اباحت صلوٰۃ و درود
جس قدر مرزا قادیانی کے خیالات اور تاویلات پر حیرت آتی ہے۔ اباحت صلوٰۃ اور درود کے بارہ میں بھی وہ کچھ کم نہیں۔ اب تیرہ سو برس سے اس قدر علماء و مجدد و امام اسلام گزر چکے ہیں۔ مگر تحریر اور ذکر میں کسی نے بھی صلوٰۃ کو بجز حضرت رسول ﷺ کسی پر الگ استعمال نہیں کیا۔ مگر اس طریق پر کہ پہلے آنحضرت ﷺ پر صلوٰۃ بھیج کر بعد ان کے آل واصحاب ومومنین صالحین پر اس کلمہ کا استعمال کیا ہے۔ جیسا کہ دلائل الخیرات سے ثابت ہوتا ہے۔ مگر یہ کلمہ اکیلا آل آنحضرت ﷺ پر نہ اصحاب اور مومنین پر سلف سے خلف تک مستعمل ہوتا دیکھا گیا ہے۔ مرزا قادیانی ”هو الذی یصلی علیکم“ والی آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ یہ کلمہ اکیلا مومنین پر بھی جائز ہو سکتا ہے۔ اب غور کا مقام ہے کہ یہ خاص مقولہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ جس کو وہ بحیثیت رحمٰن ہونے کے اپنے بندوں کی تسلی کے واسطے فرماتا ہے۔ اگر اس سے ہر ایک مسلمان فرداً فرداً ایک دوسرے پر اس کلمے کا جواز سمجھتا تو کیا تیرہ سو برس سے اس قسم کا استدلال مخفی رہ سکتا تھا اور کیا اس قدر عرصہ سے اسلامی دنیا میں ایک بھی اس طینت کا پیدا نہ ہو سکتا۔ جو آیت مذکورہ سے اس کی اباحت پر استدلال کر کے بلا اول آنحضرت ﷺ پر درود بھیجے دوسروں کے حق میں اکیلا اس کلمے کا استعمال کرنا روا رکھ سکتا۔ حقیقت میں اس کلمہ کے کہنے کا مجاز وہی ہو سکتا ہے جو از روئے رحمانیت یا تو اس کا خود لائق ہے یا جو از روئے اقتدار مطلق ۔ جس کے واسطے اور جس طریق پر چاہے تجویز کرے اور کرادے۔ اللہ تعالیٰ کو کون منع کر سکتا ہے کہ وہ جس پر چاہے درود بھیجے اور بھجوائے۔ مگر بندوں میں وہ کون ایسا دلیر ہے۔ جو بلا اجازت اس صلوٰۃ خداوندی کو جہاں چاہے تجویز کیا کرے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کلمہ اس کی رحمت کی خوشخبری کا ہے اور بندوں کی طرف سے یہ کلمہ دعاء کا ہے۔ مگر بر محل مذکور، علیحدہ مومنین کو آپس میں دعاء وعافیت کے اظہار کے واسطے اور کلمات کی استعمال کی اجازت ہے۔ اب جب امت میں صحابہ تک کو بھی اس کلمے کا الگ استحقاق حاصل نہ ہوا اور کسی نے اس کو استعمال بھی نہ کیا تو دوسرے کے واسطے اکیلا اس کا مدعی بننا اسلامی عصبیت پر حملہ کرنا ہے۔
٦...... اباحت تصویر
جہاں تک اسلام کی گہری نگاہ خلق اللہ کی بھلائی میں پہنچی ہے۔......اور جہاں تک اسلام نے اپنے پیرووں کی بت پرستی سے بچنے کا انتظام کیا ہے اور جہاں تک گذشتہ ازمنہ میں دیگر قوموں کے خدا پرستی کے بعد بت پرستی میں پڑنے کی اسلام کو سوجھی ہے۔ اس کی نظیر کہیں بھی ڈھونڈنا بے
١٦
فائدہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے شجر بیعت کو صرف اس خاطر اکھڑوا دیا تھا کہ لوگ اس جگہ کی عزت کرنے کے واسطے وہاں جمع ہو کر جلسہ کرنے لگ پڑے تھے۔ شارع مقدس نے قبر تک بوسہ لینے کہ خواہ وہ کیسی ہی متبرک اور ولی کی کیوں نہ ہو اور کسی سے اپنی تعظیم کھڑے ہو کر کروانا ناجائز قرار دے دیا۔ جاندار کی تصویر کا بنانا یا گھر میں رکھنا مطلق منع کر دیا۔ مگر سر کٹی یا دھڑ کی ہوئی ہو یا جہاں پاؤں کے نیچے یا فرش یا پائیدان پر کچلی جاوے تو بکراہت اس کی اجازت دے دی۔ اب اس کے بعد کسی عذر یا بہانہ سے جاندار کی تصویر کی اباحت کو قائم کرنا اس اسلام کی نقد صداقت پر حملہ اور دلیری کرنا ہے۔ جو تیرہ سو برس سے برابر محفوظ ہے۔ اس کی اباحت کے واسطے سلف کے انبیاء کے افعال اور شریعت کا حوالہ دینا گویا اس اسلامی شریعت پر جو کل سابقہ شریعتوں کی ناسخ ہے۔ صریح ظلم کرنا ہے اور اپنے سادہ لوح مریدوں کو رومن کیتھلک کے منہاج کے واسطے تیار کرنا ہے۔
اس مسئلہ میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں نے محض نیک نیتی سے اپنی تصویر بنوائی ہے ۔ تاکہ اہل یورپ قیافہ سے میرے صادق یا کاذب ہونے کو پرکھیں سبحان اللہ معارف دانی ہو تو ایسی ہو کہ نیک نیتی کے ساتھ ممنوع یا غیر مشروع فعل کے ارتکاب کو جائز قرار دیا جائے۔
کیا چوری اس نیت سے جائز ہو سکتی ہے کہ اس روپیہ سے مسجد بنوائی جاوے۔ اسلام کی ممنوع چیزیں نیک نیتی کے لحاظ سے ہر گز جائز نہیں ہو سکتیں۔ حرام میں اللہ تعالیٰ نے کوئی برکت نہیں رکھی۔ میرے ایک واقف نمازی مسلمان عہدہ دار کے پاس اپنے مرشد کی تصویر تھی۔ وہ صبح کو بلا اس کے دیکھنے اور سلام کرنے کے کسی کام کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ جب ان سے کبھی اس بات کا ذکر ہوتا کہ اسلام میں یہ کام جائز نہیں ہے۔ تو اکثر یوں کہہ دیا کرتے تھے کہ تصوف کے گہرے اسرار کو تم کیا جانو۔ بعد وفات مرزا قادیانی ان کے مرید اپنے مرشد کی تصویر دیکھنا ہی بس غنیمت سمجھیں گے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کے مرید اپنے مرشد کے فوٹو کو اب بھی شاید کس نگاہ سے دیکھتے ہوں گے۔ اسلام نے پیر پرستی، قبر پرستی ، بت پرستی تینوں کو اپنے دائرہ سے ایسا خارج کیا ہے۔ جیسا اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اپنی حضوری سے۔ اب دیکھئے اگر اسلام کے اقوال میں کچھ بھی صداقت ہے تو یہ اباحت مرزا قادیانی کے گروہ کو کیا تماشا دکھاتی ہے۔ معمولی لوگوں کی تصاویر جن سے ہم کو اس قدر گہرا تعلق نہیں ہوتا یا جیسی ڈکشنریوں میں ہوتی ہیں۔ جن کو ہم چنداں وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ اس قدر بت پرستی کی طرف ہم کو دھکیل کر لے جانے کی قابلیت نہیں رکھتیں۔ جس قدر کہ پیشوائے دین کی تصویر میں خطرہ اور احتمال ہے۔ مولوی نور الدین قادیانی میرے ایک سوال کے جواب میں اخبار الحکم میں فرماتے ہیں کہ فوٹو کی جاندار تصویر کا کیا
١٧
مضائقہ ہے۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر عکسی تصویر حرام ہے تو کیا آپ نے آئینہ دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ اب مسلمان بھائی ایمان اور علم کی بصیرت سے انصاف کریں کہ مولوی صاحب کے اس جواب سے کہاں تک اطمینان ہو سکتا ہے؟۔ فوٹو کی تصویر آئینہ کے عکس سے کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتی۔ فوٹو سے عکس مستقل طور پر کاغذ پر جم جاتا ہے اور بعد ازاں ہاتھ سے مصالحوں کے ذریعے اس کی کمی پوری کی جاتی ہے۔ حالانکہ آئینہ کے عکس میں یہ دونوں امور مفقود ہیں۔ سبحان اللہ! مرزا قادیانی کے فیض صحبت کے اثر سے ان کے خاص الخاص مرید معارف اور اسرار دین کے موتیوں کی لڑیوں کو کس طرح پروتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی فیض سے قادیاں میں رنگین ہونے کے واسطے مدعو کیا جاتا ہے۔
٧...... الہام
تبلیغ رسالت کے واسطے جو الہام نبی یا رسول کو ہوتا ہے۔ صرف وہی مامون ومصئون ہے۔ باقی الہاموں میں غلطی کا احتمال ہے۔ جیسا کہ خود مرزا قادیانی قائل ہیں کہ الہام میں غلطی ممکن ہے۔ اب جب کہ حق سے باطل شامل ہو گیا تو الہام پایۂ اعتبار سے ساقط ہو گیا۔ خاتم رسالت نے تبلیغی الہام کا دروازہ بالکل بند کر دیا ہے اور اس دین کو اماموں اور مجددوں کے الہام سے مستغنی کر دیا ہے۔ صادق الہام پرکھنے کے لئے کتاب اللہ اور سنت کی کسوٹی موجود ہے اور اس مسئلہ میں سلف اور خلف کا اجماع ہے۔ جناب پیر پیران شیخ عبدالقادر جیلانیؒ وقاضی ثناء اللہ صاحبؒ وابوسلیمان درانیؒ یہی فرماتے ہیں کہ الہام اور کشف پر عمل کرنا جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ کتاب سنت اجماع اور قیاس صحیح کے مخالف نہ ہو۔ حضرت فاروقؓ جیسے صحابی نے جن کی رائے کے مطابق بعض آیات قرآنی کا نزول مانا گیا ہے، آنحضرتﷺ کے زمانے میں اور صدیق اکبرؓ کے زمانہ میں اور اپنی خلافت کے زمانہ میں اپنی کئی غلطیوں سے رجوع کیا۔ حالانکہ وہ حضرت خاتم النبوۃ کی طرف سے محدث کا لقب پا چکے تھے۔ کئی مسائل میں اوروں سے مشورہ کرتے اور دوسرے بھی ان سے بحث کرتے اور ان کا یہ کہنا کہ اگر علی کرم اللہ وجہہ نہ ہوتا تو میں ہلاک ہو جاتا۔ صاف ثابت کرتا ہے جب ایسے جلیل القدر صحابی اور محدث کا یہ حال ہے تو دوسرا کون شخص ایسا دلیر ہے جو یہ کہے کہ میرا الہام غلطی سے مبرا ہے اور اگر میری نہیں مانو گے تو خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ٹھہرو گے اور تم سے ایمان سلب ہو جائے گا۔ غلطی آمیز الہام پڑے ہوا کریں۔ اسلام کا کیا حرج ہے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ اگر میں خدا تعالیٰ سے الہام پانے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہوں تو ہلاک کیوں نہیں ہو جاتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے۔ ”لو تقول علینا“ جناب من جس
١٨
جھوٹے الہام پر اللہ تعالیٰ ہلاک کرنے کا وعید فرماتا ہے۔ وہ الہام نبوت وتبلیغ فی الرسالہ ہے۔ اس کا دروازہ مدت سے مسدود ہوچکا ہے اور ہندوستان تو آج کل الہام کا مدعی ہونے کے لئے سب سے بہتر جگہ ہے۔ کوئی کچھ پڑا بکے، مزے کیا کرے۔ مرزا قادیانی کا الہام پہلے تو کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔ مگر اب بیچارہ حکام مجازی کے قانون شرائط کے ماتحت چلنے کی چال سیکھ گیا ہے اور طرفہ یہ کہ پھر بھی مرزا قادیانی یہی کہتے جاتے ہیں کہ میں تم میں حاکم عادل ہو کر مبعوث ہوا ہوں۔ ایسے الہام کا کس کو حسد ہے۔ جب مکھی پر بھی اللہ تعالیٰ الہام کر سکتا ہے تو مرزا قادیانی تو آخر انسان ہیں۔ ان پر الہام ہونے سے کیا تعجب ہے۔ حق اور باطل کو تمیز کرنے والا آخری دن بھی ضرور آئے گا۔ اس وقت سب حالات روشن ہو جائیں گے۔
٨...... گرونانک صاحب کا مسلمان ہونا
مرزا قادیانی اپنی کتاب ست بچن پوتھی میں بیان کرتے ہیں کہ نانک صاحب کے بہت شلوک قرآن کے مطابق ہیں۔ جن کا ماخذ کوئی ہندو کتاب نہیں ہو سکتی۔ ایک مسلمان ولی کی مزار کے پاس چلہ بھی کیا۔ چولا صاحب پر بھی آیات قرآنی لکھی ہیں۔ ان قرائن سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ وہ ضرور مسلمان تھے۔ اب یہ واقعہ مسلمہ ہے کہ ان کی وفات پر مسلمانوں نے کہا کہ یہ مسلمان ہے اور ہندوؤں نے اصرار کیا کہ یہ ہندو ہے۔ تجربہ اور مشاہدہ اس امر کی تائید کرتا ہے کہ مسلمان بے نماز، زانی، شرابی، قمار باز بھی فوت ہو جائے تو اہل اسلام اس کو دائرہ اسلام سے خارج نہیں کرتے۔ بلکہ مسلمان کی طرح اس کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ مگر اہل ہنود جب دیکھ لیں کہ ایک شخص مسلمانوں کی طرح مسجد میں نمازیں پڑھتا ہے اور قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو ایسے شخص کا ہندو ہونا ہرگز نہیں مانتے۔ اور نہ ہی اس کے ہندو ہونے پر اصرار کرتے ہیں۔ یہ ایک ہی واقعہ ایسا زبردست ثبوت اپنے پاس رکھتا ہے۔ کہ اس کے بالمقابل مرزا قادیانی یا بعض انگریزوں کی رائے کہ وہ مسلمان تھا کچھ وزن نہیں رکھتی۔
آپ صرف یہ ثابت کر دیں کہ جب سے ہندوستان میں اسلام نے اپنا ظہور کیا اور ہزاروں ہندو غریب بھی اور امیر بھی اور کم علم بھی اور صاحب علم بھی اسلام میں بخوشی داخل ہوئے ہیں۔ مگر کبھی کسی کی وفات پر ہندوؤں نے یہ بھی جھگڑا کیا ہے کہ یہ متوفی ہندو تھا۔ اور ہم اس کو دفن نہیں ہونے دیں گے۔ بلکہ ہندو رسم کے موافق اس کو آگ سے جلائیں گے۔ نیز یہ بھی تجربہ اور مشاہدہ سے ثابت ہے کہ ہندو لوگ ایک معمولی کلمہ گو مسلمان کو بھی ہندو کہنا اپنے دھرم کی ہتک سمجھتے ہیں۔ پس ایسے شخص کے واسطے جو بقول مرزا قادیانی ہندو مذہب سے بالکل بیزار ہو کر
١٩
ظاہر و باطن میں ایک سچا مسلمان ہو کر باکرامت ولی کے مرتبہ تک پہنچ گیا تھا۔ اہل ہنود نے اس کی وفات پر کیا بلا وجہ ہی شور مچا دیا تھا کہ باوا نانک ہندو تھا اور ہم اس کو آگ میں جلائیں گے۔ اگر نانک صاحب نے کسی مسلمان ولی کی مزار کے پاس چلہ کیا تو کیا قباحت ہے۔ ہندو فقیروں میں بھی کئی قسم کے چیلے ہوا کرتے ہیں۔ وہ محض خدا پرست موحد تھے اور صوفی منش مسلمانوں میں بے روک ٹوک بیٹھتے اور باتیں سنتے اور سناتے تھے۔ جیسا کہ اب بھی وہ ہمیشہ سے اس مشرب کے لوگوں کا وطیرہ ہے۔ چولا صاحب بھی کسی صوفی نے ان کو بطور تحفہ دے دیا ہوگا۔ چونکہ ظاہری کل مذاہب سے نانک صاحب کی نگاہ اٹھ گئی تھی۔ اس عطیہ کو بڑی خوشی سے قبول کیا اور اپنے پاس رکھا۔ ہندوستان میں اکثر مسلمان صوفی صاحب تصنیف گزرے ہیں اور ان کی تصنیف میں جا بجا ہزاروں اسلامی طرز کے الفاظ بھرے پڑے ہیں جو دوسرے کو صاف بتلا دیتے ہیں کہ اس کتاب کا مصنف بے شک مسلمان ہے۔ مگر برائے خدا یہ تو بتلاویں کہ نانک صاب کے شلوکوں میں اسلامی الفاظ سے کہاں تک کام لیا گیا ہے۔ اگر وہ کہیں ہیں بھی تو ضرورۃً جیسے بلھے شاہ صاحب کی کافیوں اور سی حرفیوں میں اہل ہنود کی طرز کے بعض الفاظ مندرج ہیں۔ جو شخص ظاہر و باطن میں مسلمان ہو گیا اس کے تمام اقوال اہل ہنود کی طرز سے رنگین ہوا کرتے ہیں۔ قرآن سے ان کے بعض اقوال کا مطابق ہونا ان کو مسلمان نہیں بنا سکتا۔ صوفیوں کی مجلس میں اکثر اقوال انہوں نے سنے اور ان میں توحید اور تصوف کی بو پائی۔ پس اپنی بولی میں بھی اسی طرح کر دیئے۔ صوفی منش شخص کے واسطے ایسا کر دینا موجب عار و شرم نہیں ہوا کرتا۔ دارا شکوہ صاحب نے بھی بعض ہندو تصوف کی کتابوں کا فارسی میں اسی شوق کی بناء پر ترجمہ کیا۔ تلسی داس، بھگت کبیر وغیرہ کے شلوکوں میں بھی توحید اور تصوف کی بو آتی ہے۔ مگر ان کا طرز بیان ہندو مذاق کے الفاظ میں ہے۔ ایسے لوگ ہر ایک مذہب کے بزرگوں کا ادب کرتے ہیں اور کئی باتیں سیکھنے کے لائق ان سے سیکھتے بھی ہیں۔ میں نے بچشم خود بہت سے ایسے ہندو دیکھے ہیں جو بہ سبب ایک مسلمان پیر کے مرید ہونے کے اپنے پیر بھائیوں سے کھا پی بھی لیتے ہیں۔ اکثر ہندو پیر کی گیارہویں بھی دیتے ہیں۔ بعض ہندو قرآن کی بعض سورتوں کے عامل بھی ہیں۔ پنجاب میں شمسی زرگر مشہور ہیں۔ وہ اپنی آمدنی کا برابر دسواں حصہ اپنے پیر کو دیتے ہیں اور اکثر ان میں قریب قریب شیعوں کے عقیدہ رکھتے ہیں۔ محرم کے دن ماتم میں بھی شامل ہوتے ہیں اور کھانا اور شربت تقسیم کرتے ہیں۔ مگر با وجود ان امور کے بھی یہ لوگ ہندو کہلاتے ہیں اور ہندوؤں کی طرح آگ سے جلائے جاتے ہیں اور نہ کوئی ہندو یہ کہتا ہے کہ فلاں متوفی مسلمان تھا۔ اس کو مت جلاؤ اور نہ کبھی کوئی ہندو
٦٠
یہ کہتا ہے کہ یہ ہندو تھا۔ اس کو مت دفن کرو۔ کیونکہ ہر ایک شخص کے متعلق جو بدیہات اور واقعات ہوتے ہیں۔ وہ بلا تنازع اپنے غلبہ کی وجہ سے جزوی دلائل پر حکم ناطق رکھتے ہیں۔ پس کچھ تعجب نہیں کہ نانک صاحب نے بھی بوجہ صحبت صوفیاء اسلام بعض اسلامی عقائد کو قبول کرلیا ہو۔ کیونکہ ہر ایک انسان کی فطرت میں توحید کی سرشت موجود ہے۔ نانک صاحب کی قبر کا ثبوت ندارد، ہندؤوں کے سامنے مسجدوں میں ایک مسلمان کی طرح نمازیں پڑھنا اور قرآن کی تلاوت کرنا پایہ ثبوت سے ساقط، ہندو بیوی اور ہندو اولاد سے تعلق کی عدم تردید بھائی بالا ہندو جاٹ کا ان کا حضوری چیلا ان کی لائف کا مؤلف ہونا۔ ان کا گرنتھ ہندؤوں میں جابجا پڑھا جانا۔ سکھوں کی دس گدیوں یعنی سلسلہ مرشد کا گرو نانک صاحب سے شروع ہونا۔ ان کے کل معاملات میں محض اہل ہنود کا ہی انٹرسٹ لینا اور اہل اسلام کا ان سے ہر امر میں قطع تعلق کرنا یہاں تک کہ مسلمان صوفیاء اور اولیاء کے ساتھ اپنی کتب میں ان کے تذکرہ سے بھی پرہیز کرنا حالانکہ بقول مرزا قادیانی نانک صاحب ایک مسلمان باکرامت ولی تھے۔ پچاس مسلمانوں کا بھی ان کا الگ مرید یا نام لیوا نہ ہونا۔ ان کے شلوکوں کا خالص صوفی مسلمان کی کتاب کی طرح اسلامی الفاظ کی رنگت سے مبرا ہونا۔ قرآن کی تعریف اور خوبی میں جو کتاب اسلام کا اعلیٰ سرمایہ نجات و ایمان ہے۔ نانک صاحب کے چار شلوک تک بھی موجود نہ ہونا۔ ان کا مرتے دم تک رباب اور سرنگی کے ذریعے سے بھجن اور شلوک سننا۔ ان کی وفات پر مسلمانوں اور ہندؤوں کا آپس میں مذہب کی بابت تنازع پیدا ہونا یہ کل ایسے بدیہی واقعات ہیں کہ نانک صاحب کے خالص اسلام کو محل شبہ میں ڈالتے ہیں اور ان کا ظاہر و باطن میں صادق مسلمان ہونا ثابت ہونے نہیں دیتے۔ مگر تعجب ہے کہ باوجود ان کل بدیہات کے بھی مرزا قادیانی ان کے مذہب کی ڈگری مسلمانوں کو ہی دیئے جاتے ہیں۔ ہاں البتہ نانک صاحب ایک موحد خدا پرست، صوفی منش، اسلام اور ہندو دونوں مذاہب کی ظاہری قیود سے آزاد شخص ضرور ثابت ہوتے ہیں اور مرزا قادیانی کا استدلال ان کے خالص اسلام پر بالمقابل مذکورہ بدیہات اور واقعات کے محض ظنی ہے اور ظن صداقت کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا۔
٩...... صراط مستقیم
اگر سوائے مرزا قادیانی کے منہاج کے سب منہاج غلط ہیں تو تیرہ سو برس سے جس قدر مسلمان اور برگزیدگان اسلام مرزا قادیانی کے عقیدے کے برخلاف اس جہان سے کوچ کر گئے ہیں۔ ان کی نجات کے بارہ میں آپ کی کیا رائے ہے۔؟۔ کیا وہ صراط مستقیم جو قرآن اور ٢١
رسول کی معرفت ہم کو پہنچا ہے اور جس کے پابند ہمارے بھائی سلف میں عرصہ تیرہ سو برس سے رہ چکے ہیں۔ ہماری نجات کا ذمہ اٹھانے سے عاجز اور قاصر ہے۔
بالخصوص جب ہم اپنی بدکرداریوں سے تائب ہو کر کسی نیک بندہ کی بیعت میں بھی داخل ہو جائیں۔ آپ برائے مہربانی اپنے اس نئے منہاج کے بغیر ایک مسلمان کے بشرائط مذکورہ نجات سے محروم رہنے کی دھمکی اور مسئلہ کی صداقت کو بوضاحت ثابت کردیں اور یہ بھی واضح کر دیں کہ سلف میں مرزا قادیانی کے عقیدے کے برخلاف کوئی بھی اہل نجات، ملہم اور مستجاب الدعوات اسلام دنیا میں گزرا ہے یا نہیں۔ اس امر کی بھی تشریح مطلوب ہے کہ آیا اسلام کو سوائے مرزا قادیانی کے تیرہ سو برس سے کسی اور مسلمان نے بھی اس طرح سمجھا ہے یا نہیں۔ جس طرح کہ اللہ تعالیٰ اور شارع کا مدعا اور منشاء تھا۔ جب تک آپ ان امور کے ثبوت قاطع اور مدلل نہیں دیں گے۔ تب تک آپ کے نئے خیالات کا منہاج قابل توجہ نہ ہوگا اور جو کچھ آپ اس منہاج کی خاص فضیلت کو مانے ہوئے ہیں وہ سلف کے دیگر متعدد مہدیوں اور مسیحوں سے زیادہ حقیقت اور وقعت نہیں رکھ سکتی۔
١٠...... قطعی فیصلہ
سلف کے بعض صوفیاء کرام نے بھی بوقت استغراق اور محویت انا الحق اور انا اللہ کے کلمات بولے۔ مگر ان کلمات کے کہنے سے وہ ہرگز حقیقی خدا نہیں بن سکتے۔ مگر باوجود اس امر کے بھی صوفیاء کرام نے ان کو مؤمنین کے گروہ میں داخل رکھا ہے۔ اسی طرح اگر مرزا قادیانی بھی انا المسیح وانا المہدی کہتے ہیں تو بخدا لایزال ہم بھی ان کو بالکل معذور رکھتے۔ علیٰ ہذا القیاس راقم مراسلہ کی یہ گذشتہ تحریر بھی کسی ضد اور بحث کی خاطر نہیں لکھی گئی۔ بلکہ صادق طلب کی عین حالت کا تقاضا ہے اور اگر آپ سچے طالب کے دستگیر ہیں اور واقعی اسلامی خیرخواہی اپنے اندر رکھتے ہیں تو ایک بھائی کی طرح تسلی بخش جواب عنایت فرمادیں نہ کہ جیسا آپ کی جماعت کا دستور ہے۔ ملامت اور طنز آمیز کلمات سے کام لیں۔ مگر قبل ازیں کہ آپ جواب مخلصانہ کے واسطے قلم اٹھائیں یہ بھی مؤدبانہ گذارش ہے کہ بلا تعصب حق کے صادق طالب کی طرح غایت المرام کے ہر دو حصص اور کتاب الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان شیخ احمد مالک مطبع احمدی لاہور سے) منگوا کر بخوبی ملاحظہ فرمالیویں تا کہ شاید آپ کو تدبر اور تفکر میں حقیقت کی طرف راہنمائی ہو اور یا آپ کو یا بندہ خاکسار کو اپنے موجودہ عقیدہ سے توبہ نصیب ہو۔ فقط:
الراقم ! خاکسار شیخ غلام حیدر ہیڈ ماسٹر
٢١
بسم الله الرحمن الرحيم
نحمده ونصلی علی رسوله الکریم
کشف الاسرار
ریویو بر انگریزی ترجمہ قرآن
از محمد علی لاہوری
ماسٹر غلام حیدر شیخؒ
کشف الاسرار یعنی ریویو متعلق انگریزی قرآن
مولوی محمد علی ایم اے۔ ایل ایل بی۔ امیر احمدی جماعت لاہور
وجہ تصنیف
بسم الله الرحمن الرحیم! الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الكريم خاتم النبيين ورحمة للعالمين! اما بعد!
اس کتاب کی تصنیف کی وجہ محض صرف یہ ہے کہ جب مولوی محمد علی لاہوری مرزائی کا انگریزی قرآن طبع ہو کر ان کے پاس ولایت سے لاہور پہنچ گیا۔ خاکسار کو بعد مطالعہ بعض مقامات پر یقین ہو گیا تھا کہ کوئی اہل سنت انگریزی خواں بالضرور اس کے متعلق کم و بیش روشنی ڈالے گا۔ کیونکہ اس کی تفسیر کا بہت سا حصہ اہل سنت کی تفاسیر کے بالکل خلاف تھا اور اس میں مرزائی نیچری مذہب کی جھلک جابجا موجود تھی۔ جس سے انگریزی زبان کے مذاق رکھنے والے اہل سنت مسلمان جو دینیات میں بالعموم کمزور ہوتے ہیں۔ اپنے عقائد کو خراب کر لیں گے۔ چند سال اسی انتظار میں گذر گئے۔ مگر کسی صاحب نے اس اہم فرض کو پورا نہ کیا اور کرتے بھی کیوں کر جب ان میں اکثر خود اہل سنت کے عقائد و علم تفسیر سے بے خبر تھے اور معدودے چند اہل سنت انگریزی دان جو قرآن کو ٹھیک طور پر سمجھ سکتے تھے۔ انہوں نے خدا معلوم کیوں تساہل سے کام لیا۔ خاکسار کی عمر ستر سال کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔ جس میں کوئی دماغی محنت کا کام بالخصوص اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ سے لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ آخر بسم اللہ شریف پڑھ کر انگریزی زبان میں قرآن مذکورہ کے مجوزہ ریویو کے متعلق ایک مختصر ٣٢ صفحہ کا رسالہ لکھ کر معاونین کی امداد سے مفت تقسیم کیا۔ جس میں آئندہ پورا ریویو لکھنے کا وعدہ کیا تھا اور ایک کھلی چٹھی بھی مولوی محمد علی صاحب لاہوری کو برادرانہ لہجہ میں بدیں مضمون لکھی تھی کہ آپ نے اکثر مقامات کی تفسیر اسلاف کے بالکل خلاف لکھی ہے۔ جو بروایات صحیحہ صحابہؓ سے ہم کو پہنچی ہے۔ لہٰذا آپ نے بسبب ناکافی علم حدیث وعدم یقین علم حدیث، ایک بھاری ذمہ داری کو بڑی جرات سے قبول کر کے پبلک کی گمراہی کا سامان مہیا کیا ہے۔ چونکہ توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ اس واسطے آپ توبہ کو اس وقت تک ملتوی نہ فرمائیں کہ جب توبہ قبول نہیں ہو سکتی۔ فقط!
اس رسالہ میں مولوی محمد علی لاہوری کے قادیان سے بوریا بستر اٹھا کر لاہور میں
آجانے اور خود اپنی امارت کی علیحدہ بنیاد رکھنے کا بھی ذکر تھا۔ قادیانی جماعت اور مولوی محمد علی کی جماعت کے مابین جو عقائد واصول میں فرق ہے اس کا حال بھی مذکور تھا۔ تورات وانجیل کے معجزات کی تطبیق قرآنی معجزات سے دے کر یہ بھی عرض کیا تھا کہ گو بوجہ تحریف باقی اکثر مضامین تورات وانجیل قرآن شریف کے عین مطابق نہ ہوں۔ جب بھی ہمارا کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ خود قرآن مجید ہمارے پاس موجود ہے اور اللہ کی حفاظت میں ہے۔ مگر معجزات انبیاء علیہم السلام کے بیان میں ہر سہ الہامی کتب حصہ مشترک اب تک رکھتی ہیں۔ جس سے انکار کرنا یا ان کو کسی تاویل میں ڈھال کر ان کی واقعیت پر پردہ ڈالنا ایک بے سود کوشش ہے۔ کیا کوئی مومن بالقرآن اس مسئلہ کو عقل سلیم رکھتے ہوئے قبول کرنے کو آمادہ ہوگا کہ تورات وانجیل کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کو معجزات کا دھیان کرنا لازمی تھا۔ مگر قرآن شریف کے نزول کے وقت اس نے سائنس سے ڈر کر اپنی طبعی سنت کو کسی مصلحت کی بناء پر بالکل ترک کر دیا کہ ایسا خیال کرنا بھی اہل سنت کے نزدیک گمراہی ہے۔ لیکن مولوی صاحب کا معجزات کے بارہ میں جو نہ صرف تورات وانجیل کے مطابق ہیں۔ بلکہ صحاح ستہ بالخصوص بخاری ومسلم میں بھی بروایات صحیحہ مروی ہیں۔ ہم سراسر انکار و تاویلات باطلہ کو ملاحظہ کر کے بیشک اس قدر کہنے میں ذرہ بھی تامل نہیں کرتے کہ یہ اٹکل آپ نے واقعی سرسید احمد خاں صاحب سے سیکھی ہے۔ جو ایسے علم کلام کے اس ملک میں بانی تھے۔ مگر سرسید صاحب نے اپنی تقریر میں صاف اس امر کا اقرار کر لیا تھا کہ اس کام میں میری نیت محض خیر کی ہے۔ خواہ خدا تعالیٰ اس پر مجھے عذاب کرے۔ خواہ معاف کرے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرسید در حقیقت معجزات سے انکاری نہ تھے۔ زمانہ کی مصلحت نے ان کو اس خیال پر مجبور کر دیا تھا۔ مگر مولوی محمد علی نے اس قسم کا کوئی اعتراف انگریزی قرآن کے دیباچہ میں یا کسی دیگر تحریر میں ظاہر نہیں کیا۔ اس واسطے ان کی تفسیر پر ریویو لکھنا ایک اہم دینی فرض ہے۔ اب یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ خواہ سرسید صاحب ہوں۔ خواہ کوئی اور صاحب ہوں۔ قرآنی صداقتوں کا جو اناجیل اور احادیث صحیحہ میں موجود ہوں کسی عذر یا بہانہ کی بناء پر بے رحمی سے خون کرنا قابل معافی نہیں۔ حضرت امام غزالی نے اپنی مختلف تصانیف میں اور شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ البالغہ و دیگر کتب میں ایسے علم کلام سے کام لیا ہے کہ ایک مصنف اور محقق کو اسلامی صداقتوں پر پورا یقین حاصل ہو جاتا ہے۔ جہاں سرسید صاحب نے جنت کی نعمتوں، حج، قربانی، روزہ، بیت اللہ شریف و دیگر اسلامی صداقتوں اور شعائر اللہ کے ساتھ بے باکی سے نہایت تمسخرانہ لہجہ اختیار کر کے اپنے خانہ زاد علم کلام کو قابل نفرت بنا دیا ہے۔ وہاں امام غزالی صاحب اور شاہ ولی اللہ صاحب نے اپنے علم
٢
کلام نے ان پر صداقت کا ایسا غالب رنگ چڑھایا ہے کہ عقائد صحیحہ کو سر مو صدمہ نہیں پہنچتا۔
ہمارے مولوی صاحب نے اس استہزاء میں سرسید کی پیروی بیشک نہیں کی۔ مگر باقی خانہ زاد تاویلات میں اور انکار معجزات میں اور مفسرین کو مطعون کرنے میں سرسید صاحب کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مگر پھر تعجب ہے کہ ان ہر دو صاحبان نے انہی رد کردہ مفسرین کی کاسہ لیسی کر کے اپنا مقصد بھی پورا کیا ہے۔
مولوی صاحب کے مسیح موعود کا عقیدہ متعلق معجزات انبیاء علیہم السلام کا اس طرح ہے۔ ’’نیا اور پرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس جسم خاکی کے ساتھ کرہ زمہریر تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس اس جسم کا کرہ ماہتاب و آفتاب تک پہنچنا اس قدر لغو خیال ہے۔‘‘
(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦)
- ٢....... یہ معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہ تھا۔ بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کا کشف تھا۔
(ازالہ ص ٤٧، خزائن ج ٣ ص ١٢٦ حاشیہ)
- ٣....... قرآن شریف میں جو معجزات ہیں وہ سب مسمریزم ١ ہیں۔
(ازالہ ص ٧٥٠، خزائن ج ٣ ص ٥٠٤ ملخص)
- ٤....... جبرائیل یا ملائکہ کا اصل وجود دنیا پر ہرگز نہیں آتا۔
(توضیح المرام ص ٧٩، خزائن ج ٣ ص ٦٦)
- ٥....... حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو حقیقت ابن مریم دجال، یاجوج ماجوج دابۃ
الارض کی معلوم نہ تھی۔
(ازالہ ص ٦٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤)
مرزا قادیانی اپنی کتاب سرمہ چشم آریہ میں معجزات کو بڑے زور سے ثابت کرتے ہیں اور اپنی کتاب (چشمہ معرفت ضمیمہ ص ٣٢٢، خزائن ج ٢٣ ص ٣٩١) میں متعلق معجزہ شق القمر اس طرح لکھتے ہیں۔ ’’یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیا تھا اور اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ یہ قواعد ہیئت کے مطابق نہیں۔ یہ عذرات بالکل فضول ہیں۔ معجزات ہمیشہ خارق عادت ہی ہوا کرتے ہیں۔ ورنہ وہ معجزات کیوں کہلائیں۔ اگر وہ صرف ایک معمولی بات ہو۔‘‘
١ مسمریزم کو آسٹریا کے مسمر نے اٹھارویں صدی عیسوی میں ایجاد کیا۔ سائیکلو پیڈیا برٹینی کا زیر لفظ Mes-Mer مگر انبیاء علیہم السلام کے معجزات عطیہ خدا کو مسمریزم بتلانا جس پر ایک غیر نبی و فاسق بھی قادر ہو سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ اور انبیاء علیہم السلام کی صریح توہین ہے۔
٣
مرزا قادیانی کے عقائد و خیالات کا سلسلہ ایسا بے ربط و متضاد ہے کہ ایک متلاشی اور محقق کو بخدا ہرگز پتہ نہیں لگ سکتا کہ وہ کن اصول کے پابند تھے۔ معجزہ کا اقرار بھی بڑے خلوص سے ہے۔ انکار میں نیچری سے بھی بڑھ کر ہیں۔ اسی طرح اپنی نبوت کے مدعی بھی اور انکاری بھی مسیح موعود کو بروئے احادیث دمشق میں جلالی رنگ میں نازل ہونے والا بھی مانتے ہیں۔ پھر جھٹ انکار کر کے اپنے مسیح موعود منوانے پر کئی ورق سیاہ کر دیئے ہیں۔ مسیح موعود پر ایمان لانا ایمانیات کی جزو سے خارج بھی کرتے ہیں۔
(ازالہ ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
مگر پھر اپنے آپ کو عین مسیح موعود پیش کر کے اس پر ایمان نہ لانا موجب عذاب شدید بھی قرار دیتے ہیں۔ ١
(ازالہ ص ٣٩، خزائن ج ٣ ص ١٢٢)
مولوی صاحب مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات کی بناء پر ان کو نبی نہیں مانتے۔ مگر مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود احمد قادیانی خلیفہ دوم مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات کی بناء پر ان کو نبی اللہ مانتے ہیں۔ ہر دو جماعت کے عقائد واصول کے اختلاف کے بانی خود مرزا قادیانی ہیں۔ یہ رام کہانی اہل سنت کی مختلف جوابی کتب میں مشرح مذکور ہے۔ ناظرین کو صرف اب یہ بتانا ہے کہ ایسے مسیح موعود کے مرید مولوی محمد علی کے انگریزی قرآن پر ریویو کا ہر ایک نمبر صد معارف قرآنی کے علاوہ ایک ایسے دلچسپ شغل کا ذریعہ ہے۔ جس سے طبیعت کو واقعی ایک ایسا لطف حاصل ہوتا ہے جس کو اردو کا لٹریچر آج کل انشاء اللہ مہیا نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی کے چند اشعار ذیل متعلق ان کے عقائد کے نقل کئے جاتے ہیں۔ جو محض مسلمانوں کو بنا کر قابو کرنے اور عیش سے اپنا گزارہ جاری رکھنے کے واسطے بنائے گئے ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے کوئی مطلب نہیں۔ جس طرح بطور نمونہ ابھی ظاہر کیا گیا ہے اور ریویو کے مطالعہ سے جابجا خود واضح طور پر ثابت ہو جائے گا۔
٥
ہست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختتام
اقتدائے قول او در جان ما است ہرچہ زو ثابت شود ایمان ما است
معجزات او ہمہ حق اندوراست منکر آں مورد لعن خدا است
معجزات انبیائے سابقین آنچہ در قرآن بیانش بالیقین
بر ہمہ از جان ودل ایمان ماست ہر کہ انکاری کند از اشقیا است
(سراج منیر ص ٧٢، خزائن ج ١٢ ص ٩٤، ٩٣)
٤
نوٹ !
مولوی محمد علی صاحب کے انگریزی قرآن کو پبلک نے اس واسطے غنیمت سمجھا کہ اس سے پہلے علاوہ پادریوں کے غلط تراجم کے صرف دو تراجم مسلمانوں کے موجود تھے۔ جن کی عدم خریداری کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم پٹیالوی کے ترجمہ کے ساتھ عربی بالکل نہیں اور تفسیر نیچریت و مرزائیت سے خالی نہیں۔ ڈاکٹر صاحب اگرچہ مرزائی مذہب سے تائب ہو چکے تھے۔ جس کی دلچسپ وجوہات کو اپنے ترجمہ میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ مگر ان کے ترجمہ وتفسیر سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے خیالات کا دامن مرزائیت سے کامل طور پر صاف نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ وہ قریباً بیس سال مرزا قادیانی کے حلقۂ بیعت میں رہ چکے تھے۔ البتہ اس قدر خوبی کے اہل بعد میں ضرور ہو چکے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے معجزات مرویہ احادیث صحیحہ کو اپنے ترجمہ میں بیان کر دیا تھا۔
دوسرا ترجمہ مرزا ابوالفضل کا تھا۔ جو الہ آباد میں کسی تاجر نے معہ عربی طبع کرایا تھا۔ جس میں تفسیری نوٹ ناکافی تھے۔ مگر حقیقت میں وجہ ان ہر دو تراجم کے عام طور پر فروخت نہ ہونے کی یہ ہے کہ عام اطلاع پبلک میں ان کے طبع ہو چکنے کی ہرگز نہیں ہوئی۔ تیسرا انگریزی ترجمہ عربی متن کے مرزا حیرت دہلوی کے زیر اہتمام مولوی محمد علی صاحب کے ترجمہ کے بعد صرف گذشتہ سال طبع ہوا۔ جس میں قریباً اسی ٨٠ گمراہ کن غلطیاں خاکسار نے ملاحظہ کیں۔ جن کا ظہور اس واسطے ہوا کہ باوجود اہل سنت کے عقائد کے مطابق ترجمہ کرنے کے مترجمان نے بوجہ ناکافی علم عقائد و زبان عربی صریحاً ٹھوکر کھائی ہے۔ غلام حیدر سابق ہیڈ ماسٹر مقیم سرگودھا پنجاب !
تصدیق قاضی ضیاء الدین صاحب ایم ۔ اے سند یافتہ ...... دارالعلوم دیوبند !
مولوی محمد علی صاحب ایم ۔ اے۔ ایل ۔ بی کے انگریزی ترجمہ قرآن پر ریویو لکھ کر مکرمی مولانا غلام حیدر صاحب نے تمام علماء اسلام کی طرف سے ایک فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ جس جرأت اور بے باکی سے مولوی محمد علی صاحب مذکور نے معجزات قرآنیہ سے (باوجود تسلیم اصل معجزہ) انکار کیا ہے اور احادیث معتبرہ کو (باوجود ادعاء تصدیق واتباع حدیث) اپنے مزعومات کی بناء پر ترک کیا ہے۔ وہ ہر ایک سلیم العقل والایمان مسلمان کے لئے باعث حیرت وافسوس ہے۔ مولانا موصوف نے نہایت مدلل طریق سے مولوی محمد علی صاحب کی اس بے اصولی کے بخیے ادھیڑے ہیں۔ وہ انہی کا کام تھا۔ ”فجزاہ اللہ خیراً عن سائر المسلمین ومتعہم بطول حیاتہ“
٥
رقیمہ!
(ضیاء الدین عفی عنہ پروفیسر عربی و فارسی سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور ٢٣ شوال ١٣٤٠ھ) محترمی مولانا غلام حیدر صاحب نے اہل اسلام پر نہایت درجہ کا احسان فرمایا ہے کہ ایک ایسی کلام پر (جس سے انگریزی دان اپنا عقیدہ خراب کر رہے ہیں) ایک ریویو اردو زبان میں تحریر فرمایا ہے۔ اللہ اس سے ہدایت فرمائے اور مصنف کی سعی مشکور فرمائے۔ آمین ثم آمین!
(فقیر عبداللہ خطیب جامع مسجد سرگودھا (پنجاب) سند یافتہ دارالعلوم دیوبند)
ناظرین!
اس ریویو کے اخیر میں اصحاب ذیل کے نام مصنف کی طرف سے کھلی چٹھیاں قابل دید ہیں۔ ان سے یہ امر بخوبی ثابت ہو رہا ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ جناب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کی تفسیر تشریح کو نہایت بے باکی سے پس پشت ڈال کر قرآن کی آیات سے ہوا پرستی کا مقصد پورا کیا جا رہا ہے تو دنیا کے اسلامی ممالک اور نیز اس ملک کی اسلامی ریاستوں اور انجمنوں کو بغرض حمایت اسلام اہل سنت کے عقائد و اصول کی بناء پر قرآن شریف کا انگریزی ترجمہ و تفسیر کا جلد اور کافی و معقول انتظام کر دینا ایک اہم فرض ہے۔ جس سے غفلت کرنا موجب مواخذہ اخروی ہے۔ ورنہ بصورت تساہل جس انگریزی ترجمہ و تفسیر کے ریویو کا نمونہ پیش کیا جا رہا ہے۔ وہ بالضرور پبلک کی گمراہی کا موجب ہو چکا ہے اور آئندہ بھی ہو جائے گا۔ جس کا تدارک کرنا محال ہوگا۔
- ......١ بنام ریاستہائے اسلامی ملک ہند۔
- ......٢ دوسری کھلی چٹھی بنام مولوی محمد علی ایم اے امیر احمدیہ جماعت لاہور۔
- ......٣ کھلی چٹھی بنام مرزا حیرت صاحب دہلوی۔
- ......٤ کھلی چٹھی بنام انجمن ہائے اسلامی (حمایت الاسلام، انجمن نعمانیہ لاہور)
انجمن ہائے اہل حدیث پنجاب۔
- ......٥ کھلی چٹھی بنام جوانان اہل سنت گریجویٹ اہل ہند۔
- ......٦ کھلی چٹھی بنام مولوی ابو یحییٰ (حشمت علی صاحب) قائم مقام مولوی
عبداللہ صاحب چکڑالوی اہل القرآن۔ یعنی منکر الحدیث نبوی لاہور۔
خاکسار ماسٹر غلام حیدر مقیم سرگودھا!
٦
ریویو
انگریزی قرآن مترجمہ و مفسرہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے ایل ایل بی
امیر احمدی جماعت لاہور نمبر ١
اخبار اہل حدیث مورخہ ٣ ستمبر ١٩٢٠ء کے صفحہ ١٣ پر ایک کتاب مسمی بہ مقام حدیث مؤلفہ مولوی محمد علی صاحب ایم اے کا ریویو پڑھ کر خاکسار بہت ہی محظوظ ہوا کہ مولوی صاحب نے علم حدیث کی حمایت میں اپنا قلم اس زمانہ میں اٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزاء خیر عطا فرمائے۔ یہ صاحب بحیثیت اڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان میں بھی احادیث پر آسمانی شہادت کے عنوان سے ایک نہایت قابل قدر مضمون شائع فرما چکے ہیں۔ پس یہ کہنا بالکل بجا اور خالی از مبالغہ ہے کہ آپ حمایت حدیث میں ہر دو احمدی جماعت میں ایک ممتاز اور قابل رشک پوزیشن رکھتے ہیں۔ آپ نے قرآن شریف کا ترجمہ انگریزی معہ نوٹ بھی شائع فرمایا ہے۔ جس کی کیفیت انگریزی دان کے سوا دوسرا نہیں جان سکتا۔ چنانچہ ناظرین کی ضیافت طبع کے واسطے خاکسار بطور نمونہ اس میں سے بالفعل اس نمبر میں صرف دو مقامات کے نوٹوں کا ترجمہ پیش کرتا ہے۔
مثال اوّل : قرآن ص ١٥٥ نوٹ نمبر ٤٢٦، زیر آیت ”ويكلم الناس في المهد وكهلاً (آل عمران:٤٦)“
مہد اور کہولت میں کلام کرنا معجزہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہر ایک تندرست بچہ اگر وہ گونگا نہیں۔ مہد میں بولنے لگ پڑتا ہے۔ اسی طرح کہولت میں بھی ہر ایک انسان جو صحت کی حالت میں اس حد کو پہنچ جاتا ہے۔ کلام کر سکتا ہے۔ اس خوشخبری کا صرف یہ مفہوم ہے کہ بچہ صحت کی حالت میں رہے گا اور ایام طفولیت میں فوت نہ ہوگا۔
مثال دوم : ترجمہ قرآن ص: ٩٠٧، نوٹ: ١٧١٠، زیر آیت ”قلنا یا نار کونی برداً وسلاماً على ابراهيم (انبياء:٦٩)“
بت شکنی کے واقعہ نے ابراہیم علیہ السلام کے خلاف مقابلہ کی آگ مشتعل کر دی۔ مگر اس کو اس سے کوئی ضرر نہ پہنچا اور وہ عافیت میں رہا۔ ”ارادوا به كيداً فجعلناهم الاخسرين (انبیاء:٧٠)“
سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آگ محض ایک کید یا مقابلہ تھا۔ ممکن ہے کہ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جلانے کا ارادہ کیا ہو۔ مگر اس تدبیر میں ناکام رہے۔ بموجب آیت
٧
”قالوا حرقوه وانصروا الهتكم (انبياء:٦٨)“ وبموجب آیت ”قالوا اقتلوه اوحرقوه فانجاه الله من النار (عنکبوت ٢٤:ص:٧٧٩، نوٹ نمبر:١٩١٠)“
کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ ابراہیم علیہ السلام درحقیقت آگ میں ڈالا گیا تھا۔ ایک طرف تو یہ مذکور ہے کہ اللہ نے اس کو آگ سے نجات دے دی۔ دوسری طرف یوں لکھا ہے کہ انہوں نے اس کو قتل کرنے یا جلانے کا ارادہ کیا۔ لہذا آگ کا مفہوم وہ مقابلہ ہے۔ جو ان کی تدابیر میں مدنظر تھا اور ”وقال انی مهاجر الی ربی“ سے مزید ثبوت ملتا ہے کہ آگ سے نجات کا مفہوم ابراہیم کی ہجرت ہے۔
ناظرین!
یہ حال ہے اس تفسیر کا جس کو تفسیر بالرائے کہتے ہیں۔ جس رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوا اور جس کی تعلیم کی شہادت خود قرآن شریف يعلمهم الکتب (سورہ جمعہ:٢) سے دیتا ہے۔ وہ زبان مبارک سے اس طرح فرماتے ہیں۔ جس کو ہمارے مولوی صاحب نے بسبب عدم علم حدیث یا عدم یقین بالکل پس پشت ڈال کر اپنی تفسیر بالرائے کی فضیلت کا پبلک پر سکہ جمانے کی نہایت مکروہ اور قابل مواخذہ کوشش کی ہے۔
جواب!
بخاری ج١ ص٤٨٩، باب واذکر فی الکتاب مریم۔ حضرت ابوہریرہؓ جناب نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مہد میں صرف تین بچوں نے کلام کیا ایک عیسیٰ نے (باقی بیان اصل کتاب سے دیکھو) حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں۔ گویا میں اب بھی نبی ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی انگلی چوس کر ان کے دودھ پینے کی کیفیت بتا رہے ہیں۔
نوٹ!
مولوی محمد علی تکلم فی المہد ہر ایک بچہ کے واسطے جو تندرست ہو اور گونگا نہ ہو جائز اور بالکل ممکن مان کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تکلم فی المہد بھی معمول میں داخل فرما کر معجزہ کی حد سے نکال دیتے ہیں۔ حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ شیر خوارگی کی عین حالت میں تکلم صرف تین اطفال تک محدود رکھتے ہیں۔ کیونکہ جس پیش گوئی کا اظہار ان کے فصیح کلام میں پایا جاتا ہے۔ وہ ہر ایک شیر خوار بچہ گو کیسا ہی تندرست اور صحیح الاعضاء کیوں نہ ہو قدرتاً زبان سے نہیں بول سکتا۔
شاید مولوی صاحب نے اپنے گاؤں میں یا کسی اور جگہ دیکھا ہوگا یا تاریخ میں پڑھا ہوگا۔
مولوی صاحب نے صرف تکلم کو مدنظر رکھا۔ مگر طرز و قسم کلام کو نظر انداز کر کے سخت ٹھوکر
٨
کھائی ہے۔ قرآن شریف سورۂ مریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تکلم فی المہد الفاظ ذیل میں بیان کرتا ہے۔
”قال انی عبدالله اتانی الکتاب وجعلنی نبیا وجعلنی مبارکاً این ما کنت واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیاً وبراً بوالدتی (مریم:٣٠، ٣١) ”یعنی حضرت عیسیٰ ابن مریم نے کہا میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھ کو کتاب دی اور مجھ کو نبی بنایا اور جہاں کہیں میں رہوں برکت والا بنایا اور جب تک میں دنیا میں زندہ رہوں۔ مجھ کو نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کا حکم فرمایا اور اپنی ماں کا تابعدار بنایا۔ الآیات!
کاش پیغام صلح کے ایڈیٹر صاحب امیر جماعت (مرزائیہ لاہوری) مولوی محمد علی صاحب کو اپنے عقیدے کے موافق جیسا بارہا انہوں نے ظاہر کیا ہے، بخاری اصح الکتب بعد کتاب اللہ کی طرف توجہ کر کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے قرآن کی تفسیر بالرائے سے روکنے کا ثواب عظیم حاصل کریں۔
دوسری مثال کے متعلق بخاری ج ١ ص ٤٧٤ باب قول عز وجل واتخذالله ابراهیم خلیلاً
- ا....... ام شریک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گرگٹ کے قتل کا حکم فرمایا
اور کہا کہ یہ حضرت ابراہیم پر آگ کو پھونکتا تھا۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
(مشکوٰۃ ص٤٦١، باب ما یحل اکلہ وما یحرم)
- ب....... صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٥٥، باب ان الناس قد جمعوا لكم
حضرت ابن عباسؓ راوی ہیں کہ حسبنا اللہ ونعم الوکیل حضرت ابراہیم نے کہا تھا جب ان کو آگ میں ڈالا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کلمہ کو اس وقت کہا۔ جب منافقوں نے مسلمانوں سے یہ کہا تھا کہ: ”قد جمعوا لكم فاخشوهم“
- ج....... صحیح بخاری ج ٢ ص ٦٥٥ میں مذکورہ حدیث کے بعد حضرت ابن عباسؓ
راوی ہیں کہ جب حضرت ابراہیم آگ میں ڈالے گئے تو آخری کلمہ آپ کا یہ تھا کہ: ”حسبناالله ونعم الوكيل“
- د....... تفسیر عباس و دیگر تفاسیر زیر آیت یا نار کونی برداً وسلاماً علی
ابراهیم حضرت ابن عباسؓ نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کلمہ سلاماً على ابراهیم نہ فرماتے تو آگ اس قدر ٹھنڈی ہو جاتی کہ آپ اس کی سردی سے ہلاک ہو جاتے۔
٩
نوٹ!
مولوی صاحب نے یہاں بھی کسی اہل سنت کے معتبر مفسر کو اپنا ہم خیال ظاہر نہیں کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے نزدیک سلف کے اہل زبان راسخون فی العلم بھی قرآن فہمی سے محروم تھے۔ اس مثال کے متعلق خاکسار نے بخاری اور مسلم کی صحیح اور مرفوع حدیث کو سب سے پہلے رکھا ہے اور بعد ازاں بطور تفسیر شواہد کو بیان کیا ہے۔ مولوی صاحب نے حدیث کی حمایت میں بیشک کئی دفعہ قلم اٹھایا۔ مگر عین امتحان کے وقت خود ایسے فیل ہوئے کہ اپنی انگریزی تفسیر کو مظہر تاویلات باطلہ کا بنا کر اس آیت کے مصداق ہو گئے۔ ”یحرفون الکلم عن مواضعه (مائدہ: ١٣)“
اس میں کوئی کلام نہیں کہ مولوی صاحب نے (ان کی نیت اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو گی) مسیح موعود آنجہانی کی نبوت سے بالکل انکار کر دیا ہے۔ اگر آئندہ بھی وہ تحقیق پر صدق دل سے کمر بستہ رہے تو ممکن ہے کہ پورے اہل سنت بن جائیں گے۔ بالفعل ان کے ترجمہ انگریزی میں نیچریت کا اقتداء نمایاں ہے۔ نہیں معلوم آپ نے علم حدیث کی سند کس درسگاہ سے حاصل کی ہے اور یہ بھی پتہ نہیں لگتا کہ آپ حدیث مرفوعہ صحیحہ کو اپنی رائے یا لغت پر ترجیح دینے کو آمادہ ہیں یا نہیں؟۔ اگر آمادہ ہیں تو بسم اللہ پڑھ کر اپنے انگریزی ترجمہ کی اصلاح کریں تا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے اقوال کے مطابق تفسیر شائع کرنے سے آپ کا ہر دو جہان میں حقیقی مرتبہ بلند ہو، اور اگر پھر بھی احادیث صحیحہ کے بارہ میں آپ کا اعتقاد تذبذب رہے تو خدائے لا یزال کی آپ کو قسم دے کر آپ کا فیصلہ سننے کا ہر آں منتظر ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کی عدم موجودگی میں ذیل کی آیات کی تعمیل کی کونسی صورت ممکن ہے؟۔ کہیں بڑے میاں کی طرح خواب یا کشف کے ذریعہ سے جناب ﷺ سے احادیث کی صحت کا مسئلہ پیش نہ کر دینا جس سے جناب سرور کونین کو بعد وفات بھی تبلیغ کا مکلف ماننا پڑے۔
- ا....... "فان تنازعتم فى شىء فردوه الى الله والرسول ان
كنتم تؤمنون بالله واليوم الاخر (النساء: ٥٩)" یعنی پھر اگر تمہارے درمیان کسی امر میں اختلاف ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم کو اللہ اور روز قیامت پر ایمان ہے۔
- ب....... "فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم
لا يجدوا فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليماً (النساء: ٦٥)" یعنی اے
١٠
نبی تیرے رب کی قسم ان کا ایمان ہی صحیح نہیں جو اختلافی امور میں تجھ سے فیصلہ نہ کرائیں اور یہی نہیں ۔ بلکہ جو فیصلہ تو کرے اس کو بدوں چون و چرا کے بخوشی منظور کرلیں اور مولوی صاحب متوجہ ہو کر سنیں کہ اگر احادیث کا قرآن سے تعلق برحق ہے تو خدا تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کی طرح احادیث کا ضرور انتظام کر دیا ہے۔ مذکورہ ہر دو آیات کی اور اسی قسم کی دیگر آیات جن میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع کا حکم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سے تعمیل کرانے کا کوئی حق نہیں رکھتا اور ہم ان آیات کو بعد وفات جناب رسول اللہ ﷺ منسوخ العمل یقین کر کے قیامت کے دن مواخذہ سے بری ہو جائیں گے؟۔
نوٹ!
قرآن شریف کی تفسیر کا یہ ایک مسلمہ و اجماعی اصول ہے کہ کسی لفظ کو اس کی ظاہری و متعارف مراد سے بدوں ضروری وملحقہ قرینہ کے ہرگز پھیرنا جائز نہیں اور اہل سنت کے راسخون فی العلم نے آیات متشابہ مثلاً ید عرش وجہ (چہرہ) وغیرہا کی تاویل کو بھی ناجائز قرار دے کر ان پر صرف ایمان لانا کافی سمجھا ہے۔ کیونکہ ان کی تاویل میں فتنہ کا خطرہ لازمی ہے۔ لہٰذا اس دروازہ کا بند کرنا گویا فتنہ سے محفوظ رہنا ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول اس کے متعلق کتاب فقہ اکبر میں اس طرح ہے۔ (اللہ تعالیٰ کی صفات مخلوق کی صفات کی طرح نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ، وجہہ، نفس وغیرہ قرآن میں مذکور ہے۔ مگر ان کی کیفیت مجہول ہے اور ہاتھ سے قدرت یا نعمت کی مراد لینا جائز نہیں۔ کیونکہ ان کی تاویل کرنا فرقہ قدریہ و معتزلہ کا مشرب ہے۔ اگر یہ تاویل صحیح ہے تو ”یدان (دو ہاتھ)“ کی تاویل پھر کامل قدرت ہوگی اور (ید) ایک ہاتھ کی تاویل ناقص یا نصف قدرت ہوگی۔ جو بالکل باطل ہے۔ بعض نے بوقت ضرورت ایسے الفاظ کی تاویل کو جائز کہا ہے۔ کیونکہ ”لا یعلم تاویلہ الا اللّٰہ والراسخون فی العلم (آل عمران:٧)“ میں ان کے نزدیک ”راسخون فی العلم“ کے بعد وقف ہے اور جو تاویل کو صرف اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرتے ہیں۔ وہ اس آیت میں (اللہ) پر وقف کے قائل ہیں۔ باقی الفاظ جو آیات متشابہ کی مد سے خارج ہیں۔ مثلاً نار وغیرہ سو ان کا مفہوم ہمیشہ اپنے متعارف معنی سے متجاوز نہ ہوگا۔ الا محض اس صورت میں جب کوئی خاص قرینہ اس لفظ کے متعارف وظاہری مفہوم کو روک دے۔ مثلاً قرآن شریف میں لفظ نار قریباً ایک سو بیس دفعہ واقع ہوا ہے اور سوائے تین مواقع ذیل کے باقی کل مواقع میں مفرد حالت میں بدوں قرینہ مذکور ہے۔
.......١
”کلما اوقدوا ناراً للحرب اطفاہا اللّٰہ (مائدہ:٦٤)“ یعنی
١١
جس وقت یہود مسلمانوں کے واسطے لڑائی کی آگ سلگاتے ہیں۔ اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔ اس جگہ نار کے ساتھ قرینہ للحرب ہے۔ لہٰذا نار اپنے متعارف معنوں سے جدا ہو جائے گا۔
- ......٢ "ما یاکلون فی بطونہم الا النار (البقرۃ:١٧٤)“
- ......٣ "انما یاکلون فی بطونہم ناراً (النساء:١٠)“ ان ہر دو مثالوں
میں نار کے ساتھ بطون قرینہ موجود ہے۔ جس کا حیات دنیا میں کھانا محال ہے۔ مگر بطور عذاب کے آخرت میں بالکل ممکن ہے۔
اس تمہید کے بعد اب اس نار کی تحقیق مطلوب ہے۔ جس کا تعلق حضرت ابراہیم کے ساتھ ہے۔ "قلنا یا نار کونی برداً (انبیاء:٦٩)“ میں نار کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ متصلہ موجود نہیں جس کی خاطر نار اپنے ظاہری و متعارف مراد سے جدا ہو سکے۔ پس مولوی محمد علی صاحب کا نار متعلقہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مقابلہ کی آگ مراد لینا تفسیر بالرائے محض باطل ہے۔ اگر اس کے متعلق کوئی صحیح حدیث نہ بھی ہوتی جب بھی محض علم اصول کے رو سے مولوی صاحب کی تفسیر باطل ہو جاتی۔ مگر اس آیت کے تفسیر کرنے کو جب چند احادیث بھی موجود ہوں تو پھر مولوی صاحب کی تفسیر کے باطل ہونے میں کیا شک باقی ہے۔ افسوس مولوی صاحب نہ علم اصول سے واقف نہ حدیث کے قائل۔ پبلک کو گمراہ کرنے کا وبال اپنے اوپر اٹھا رہے ہیں۔
مولوی صاحب خدا معلوم مفسر کے واسطے علم اصول کی واقفیت لازمی خیال کرتے ہیں۔ یا نہیں مگر معلوم ہوتا ہے کہ لازمی نہیں سمجھتے۔ بلکہ وہ علم اصول سے واقف ہی نہیں۔ اسی واسطے بعض الفاظ کو اپنی مرضی کے تابع بنا کر جس طرف لے جانا چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔ چنانچہ موت و حیات سے بھی بدوں قرینہ روحانی موت و حیات کا مفہوم قائم کر لیتے ہیں اور علم اصول پر ان کا تحکم اور جرات اس حد تک ہے کہ بعض واقعات کو معجزہ کی مد سے خارج کرنے کے واسطے بدوں قرینہ کے خواب کا قرینہ خود بخود تجویز کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ اس ریویو میں ناظرین کو بعض مقامات کے مطالعہ سے بخوبی روشن ہو جائے گا۔ اگر مولوی صاحب کا ترجمہ و تفسیر صحیح ہے تو بالضرور یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ کسی اہل زبان صاحب علم نے چودہ سو برس سے قرآن شریف کو بالکل نہیں سمجھا اور اس قدر اولیائے کاملین و راسخون فی العلم قرآن کو بدوں سمجھنے کے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ خدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ قرآن شریف کے متعلق جو تعلیم جناب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو دی وہ بسند صحیح ہمارے زمانہ میں موجود ہے۔ اب ناظرین خود انصاف کر سکتے ہیں کہ اس سے استغناء کرنا کہاں تک خطرناک اور گمراہ کن ہے۔
١٢
نوٹ!
ایڈیٹر اہل حدیث مورخہ ٧؍محرم ١٣٣٩ھ۔ مولوی محمد علی گو مرزا قادیانی کو مسیح موعود، مہدی معہود اور مجدد زمان مانتے ہیں۔ لیکن ایسے امور خرق عادت یہاں تک کہ پیدائش مسیح میں بھی آپ سرسید مرحوم کے خیالات سے متفق ہیں۔ مرزا قادیانی مسیح کی پیدائش کو خلاف عادت بے پدر کہتے ہیں۔
مگر مولوی محمد علی باپدر کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مسیح موعود امت کے اختلاف مٹانے آئے گا۔ معلوم نہیں پھر مولوی صاحب کو ایسے مسیح مہدی اور مجدد سے اختلاف کرنے کا کیا حق ہے۔ جس کو وہ خود ان تینوں القاب سے ملقب مانتے ہوں۔
ریویو نمبر ٢
ناظرین اس سے پہلے کچھ نمونہ مولوی محمد علی ایم۔اے امیر احمدیہ جماعت لاہور کی تفسیر القرآن بزبان انگریزی پیش کردہ خاکسار کا دیکھ چکے ہوں گے اور ان کے علم حدیث یا عدم ضرورت حدیث فی تفسیر القرآن کے عقیدہ کے متعلق اہل حدیث مورخہ یکم اکتوبر میں مطلع ہو گئے ہوں گے۔ مگر چونکہ سابقہ نمونہ اس قدر کافی نہیں کہ اس سے بعض اصحاب کوئی معقول رائے قائم کر سکیں۔ اس لئے خاکسار سابقہ سلسلہ کے ساتھ اس نمبر کو پیوست کرنے کے واسطے ادب سے خواست گار ہے۔
- ا....... ”فالتقمہ الحوت وهو ملیم . فلولا انہ کان من المسبحین
للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون (صافات: ١٤٢، ١٤٣، ١٤٤)“ پس یونس کو لقمہ کر لیا۔ مچھلی نے اور وہ اپنے آپ کو ملامت کر رہا تھا۔ پس اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو مچھلی کے پیٹ میں پڑا رہتا۔ اس دن تک جب مردے دوبارہ زندہ ہوں۔
- ب....... انگریزی ترجمہ ص ٦٥٥ ”فنادی فی الظلمات ان لا الہ الا
انت سبحانک انی کنت من الظلمین . فاستجبنا لہ ونجیناہ من الغم وکذالك ننجی المؤمنین (انبیاء: ٨٧، ٨٨)“ یعنی پس یونس نے اندھیروں میں یہ پکار شروع کر دی۔ (تیرے سوا کوئی معبود نہیں) تیری ذات ہر نقص سے پاک ہے۔ میں بیشک قصور واروں سے ہوں۔ مولوی صاحب کی تفسیر کا خلاصہ نوٹ نمبر ١٦٥٣ میں ظلمات بحر سے مراد سمندر کی مصائب ہیں۔ (دیکھو محکم لغات اور لین صاحب کی عربی انگریزی لغات) لہٰذا
١٣
مصیبت سیاہی یا تاریکی کے مشابہ ہوتی ہے۔
اس کے بعد مولوی صاحب نوٹ نمبر ٢١٢٣ میں اس طرح لکھتے ہیں کہ قرآن میں کسی جگہ بھی مذکور نہیں کہ یونس کو مچھلی نے نگل لیا تھا۔ کیونکہ لفظ التقم یہاں مذکور ہے۔ بالضرور لقمہ کے نگل جانے کا مفہوم نہیں ہوتا۔ بلکہ صرف منہ میں اخذ کرنے کا (لین صاحب) اپنی لغات میں التقم فاها فی التقبیل کی نظیر لکھ کر اس کے معنی کرتا ہے۔ (اس کا بوسہ لینے کے وقت اس نے اس کا منہ اپنے ہونٹوں میں لے لیا) اس بارہ میں ایک حدیث نبوی ﷺ بھی موجود ہے کہ مچھلی نے حضرت کی صرف ایڑی کو منہ میں لیا تھا۔ اس میں بھی قرآن بائبل کی تردید کرتا ہے۔ یعنی بائبل یونس کا مچھلی سے نگلا جانا اور اس کے پیٹ میں داخل ہونا بیان کرتی ہے۔ جو قرآن کے بر خلاف ہے۔
اس کے بعد مولوی صاحب اس طرح لکھتے ہیں کہ: ”بحوالہ لغات لین صاحب بطن کے معنی قبیلہ اور پیٹ ہر دو ہیں۔“ مولوی صاحب قبیلہ کے معنی کو ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک مابعد کے الفاظ سے یہ مفہوم خوب چسپاں ہے۔ مولوی صاحب اس طرح فرماتے ہیں کہ: ”اگر یونس اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والوں سے نہ ہوتا تو وہ اپنی قوم میں ایک معمولی حیثیت کا انسان رہتا اور نبی کا مرتبہ نہ پاتا۔ اگر بطن کے معنی پیٹ کے لئے جائیں تو ضمیر کا مرجع مچھلی ہوگا۔ مگر پھر بھی یہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا کہ مچھلی نے یونس کو درحقیقت نگل لیا تھا۔ مفہوم صرف یہ ہے کہ اگر یونس تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو مچھلی اس کو نگل جاتی۔“
جواب !
مولوی صاحب کی عجیب و غریب توجیہ کی گو ناظرین قدر نہ کریں۔ مگر خاکسار تاویل سازی کے فن میں ان کے قابل رشک کمال کا قائل ہے۔ مولوی صاحب نے لغت سے بوسہ کی مثال سے فائدہ اٹھا کر مچھلی کو بھی اسی قیاس پر اجازت نہیں دی کہ اس نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو لقمہ کر کے اپنے پیٹ میں نگل لیا ہو۔ اگرچہ بر خلاف بوسہ کے اس قسم کی اشیاء کا لقمہ کرنا پیٹ میں ڈالنے کا ایک پیش خیمہ ہوتا ہے۔ دوسری خوش قسمتی مولوی صاحب کی یہ ہے کہ بطن کے معنی لغت نے قوم کے بھی بتا دیئے۔ پس ان کے واسطے اب من مانگی مراد بلا زحمت اٹھانے کے آسانی سے حاصل ہوگئی اور ترجمہ کرنے کا راستہ بالکل صاف ہو گیا کہ (یونس اگر تسبیح نہ پڑھتا تو اپنی قوم میں ایک معمولی آدمی رہتا اور نبوت کا رتبہ نہ پاتا) گویا یہ مفہوم ہوا کہ یونس اس واقعہ سے پہلے نبی نہ تھے۔ صرف تسبیح کی بدولت ان کو نبوت عطاء ہوئی اور اب مولوی صاحب کے استدلال
١٤
سے یہ جدید مسئلہ بھی قائم اور ثابت ہو گیا کہ نبوت کوئی عطیہ رحمن نہیں بلکہ سعی سے وابستہ ہے۔ اس کے بعد الی یوم یبعثون کے متعلق مولوی صاحب نے نہیں بتایا کہ یونس کے معنی قوم کے ہیں تو قیامت تک یونسؑ معمولی آدمی کس طرح رہ سکتے ہیں۔ مولوی صاحب اس تاویل میں الی یوم یبعثون کو بالکل نظر انداز کر گئے ہیں۔
خیر آگے سنئے؟۔ مولوی صاحب بطن کے معنی پیٹ کے تسلیم کر کے بھی ایک حدیث کی بناء پر جس کا کوئی پتہ ونشان ظاہر نہیں کیا حضرت یونسؑ کی صرف ایڑی مچھلی کے منہ میں دیتے ہیں اور مچھلی کے پیٹ میں ان کے داخل ہونے کا مقدمہ ڈسمس کر دیتے ہیں۔ مولوی صاحب کو قانونی لیاقت نے جس کی سند وہ حاصل کر چکے ہیں۔ اس تاویل سازی کے فن میں بہت مدد دی ہے۔ اب مولوی صاحب کو اپنی توجیہ پر یہاں تک حق الیقین حاصل ہو گیا ہے کہ تورات یوناہ نبی کی کتاب باب دوم میں جو واقعہ حضرت یوناہ (یونس علیہ السلام) کا قرآن شریف اور حدیث صحیح کے مطابق پایا جاتا ہے۔ اس کو بھی محرف اور جعلی قرار دے دیا ہے۔ گویا قرآن یا حدیث صحیح کے مطابق بھی انجیلی بیانات محرف ہیں۔
مولوی صاحب نے حدیث پیش کرنے میں ضرور بخل کا ثبوت دیا ہے۔ اگر اس حدیث کو روشنی میں لاتے تو ہم کو بھی اس حدیث کا دیدار نصیب ہو جاتا۔ ایک دفعہ ان کے بڑے میاں (مرزا غلام احمد قادیانی) نے بھی کرشن جی کی نبوت پر یہ حدیث پیش کی تھی۔
(چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢)
”کان فی الهند نبیاً اسود اللون اسمه کاھناً“ یعنی ملک ہند میں ایک نبی کالے رنگ والا ہو گزرا ہے۔ جس کا نام کاہن (کرشن) تھا ہم نے دس سال تک سعی بلیغ کی کہ ہم کو اس جماعت سے یا حضرت اقدس (بڑے میاں جی) سے اس حدیث کا کوئی سراغ ملے۔ مگر ہم ناکام رہ کر آخر ہار گئے ١ ۔ خیر کچھ ہو مولوی صاحب نے حدیث کا حوالہ دے کر اس مثل کو صادق کر دکھایا ہے۔ جس میں ایک شخص روزہ تو بالکل نہ رکھتا تھا۔ مگر سحری اٹھ کر خوب اہل خانہ کے ساتھ کھا لیا کرتا تھا۔ ایک دن اس کی اماں نے کہا بیٹا تم روزہ تو رکھتے نہیں سحری کس مطلب کے واسطے کھاتے ہو؟۔ وہ بولا تم مجھ کو اسلام سے بالکل خارج کرنا چاہتے ہو۔ روزہ رکھنا یا نہ رکھنا امر دیگر
١۔ ان قادیانی کرشن جی کا تو قاعدہ تھا کہ جس کلام کو میں حدیث کہہ دوں وہ حدیث اور جس کو میں غلط کہہ دوں وہ غلط ہے۔ چونکہ آپ اس قاعدہ کو نہیں مانتے۔ اس لئے آپ کو تکلیف بھی ہوئی اور کامیاب بھی نہ ہوئے۔
١٥
ہے ۔ مگر سحری چھوڑنے میں صریح ترک سنت ہے تم مجھ کو کافر بنانا چاہتے ہو ۔ آیات محولہ کے متعلق (مشکوۃ ص ٢٠٠ کتاب اسماء اللہ تعالیٰ فصل ثانی) میں یہ حدیث مذکور ہے ۔ ”عن سعدٍ قال قال رسول الله ﷺ دعوة ذي النون اذا دعا ربه وهو فی بطن الحوت لا اله الا انت سبحانك انی کنت من الظالمين لم يدع بها رجل مسلم في شئى الا استجاب له، رواه احمد والترمذی“ یعنی سعدؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا جب انہوں نے اپنے رب سے دعا کی جب وہ مچھلی کے پیٹ میں تھے یہ تھی ۔ ”لا اله الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین“ ہر ایک مسلمان جو کسی حاجت کے واسطے اس دعا کو اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرماتا ہے۔ روایت کیا اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے ۔
اس حدیث مرفوع نے جس کو دو معتبر محدثوں نے روایت کیا ہے ۔ مولوی صاحب کی تمام محنت پر پانی پھیر دیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ مولوی صاحب کو احادیث صحیحہ پر ذرا اعتبار نہیں ۔ اگر چہ وہ احادیث کی حمایت کے مدعی ہیں اور یہ بھی اس حدیث سے ظاہر ہو گیا ہے کہ مولوی صاحب نے قرآن مجید کی غلط اور باطل تفسیر لکھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کا وبال اپنے اوپر لیا ہے ۔ مولوی صاحب کو حضرت یونس علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں جانے سے معلوم نہیں کیوں ضد اور انکار ہے ۔ اگر بقول مولوی صاحب مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کی صرف ایڑی ہی اپنے منہ میں رکھ لی تھی اور ان کو نقصان نہ پہنچا تھا تو معجزہ یا خرق عادت فعل تو اس طرح بھی ثابت ہو جاتا ہے ۔ مولوی صاحب نے مزید روشنی نہیں ڈالی کہ مچھلی نے جب حضرت یونس علیہ السلام کی ایڑی کو اپنے منہ میں لیا تھا تو آپ کا باقی دھڑ سمندر میں کس پوزیشن میں موجود رہا کھڑا رہا یا لیٹا رہا یا غوطے کھاتا رہا اور مولوی صاحب نے اس امر کا بھی اطمینان نہیں دلایا کہ مچھلی جیسا گوشت خور جانور حضرت یونس علیہ السلام کا کس بناء اور اصول پر جسم خورد برد ہونے سے محفوظ رکھتا ہے اور جب تک ان کی ایڑی منہ میں ہے ۔ خود روزہ سے رہتا ہے ۔ حتیٰ کہ سمندر کے کنارے پر ڈال دیتا ہے ۔ مولوی صاحب کے نزدیک یہ سب کچھ بامر اللہ جائز ہو سکتا ہے ۔ مگر حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں جانا جائز نہیں ۔ اب بھی اگر قرآن کی ایسی تفسیر دیکھ کر کسی اسلامی ریاست کے حاکم یا اسلامی انجمن کے صدر یا سیکرٹری کی رگ حمیت میں جوش نہ آئے تو اس کی ہستی یا عدم ہر دو برابر ہیں ۔ اہل سنت کے صحیح مسلک پر انگریزی ترجمہ معہ مختصر تفسیر تیار کر کے انگریزی خوان مسلمانوں کو گمراہی سے بچانا سب کا اولین فرض ہے ۔ کاش کوئی اسلامی انجمن یا اسلامی ریاست ١٦
اس طرف متوجہ ہو کر اجر عظیم حاصل کرے۔
نوٹ ! اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس وقت رابطہ عالم اسلامی نہ صرف انگلش بلکہ پچاس ساٹھ سے بھی زائد زبانوں میں ترجمہ وتفسیر شائع کر چکا ہے۔ فقیر مرتب!
ریویو نمبر ٣
کچھ عرصہ ہوا ہے کہ اخبار اہل حدیث امرتسر میں خاکسار کے دو مضمون یکے بعد دیگرے مورخہ یکم اکتوبر ١٩٢٠ء ، ٨ اکتوبر ١٩٢٠ء کو شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں اسی امر کو بخوبی ثابت کیا گیا تھا کہ مولوی صاحب احادیث صحیحہ کو صرف زبان سے تسلیم کرتے ہیں۔ مگر قرآن شریف کی تفسیر میں ان کو پس پشت ڈال کر تفسیر بالرائے کو پیش کر دیتے ہیں۔ ان کے اور قادیانی جماعت کے نزدیک اگر چہ یہ فعل بالکل جائز ہو۔ مگر محمدی مسلم انگریزی دانوں کے واسطے جو دینی تعلیم سے کافی حصہ نہیں رکھتے یہ تفسیر سراسر گمراہی کا موجب ہے۔ اس قسم کے انگریزی دان گریجویٹ بالعموم قرآن شریف کو بھی انگریزی زبان کے ذریعے ہی سیکھنا پسند کرتے ہیں اور باوجود اردو پڑھ سکنے کے بھی وہ کسی محمدی مسلمان کا اردو ترجمہ یا اردو تفسیر دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ چونکہ اہل سنت کے اصول اور عقائد کی بناء پر کوئی انگریزی ترجمہ معہ تفسیر اب تک شائع نہیں ہوا اور نہ کسی مسلم ریاست کی توجہ اس طرف ہوئی ہے۔ نہ انجمن حمایت اسلام لاہور انجمن نعمانیہ لاہور کسی انجمن اہل حدیث نے اس ضرورت کو اب تک پورا کرنے کا وعدہ یا اعلان شائع کیا ہے۔ اس واسطے ہمارے انگریزی دان بھائی مولوی صاحب کے ترجمہ اور تفسیر کو خرید کرنے سے باز نہیں رہ سکتے۔ صرف اسی قدر نہیں بلکہ اس کی تعریف میں چند کلمات مدح کے بھی ان کی زبان سے خاکسار نے خود اپنے کانوں سے سنے ہیں۔ اگر بنظر ہمدردی یا غیرت اسلام کوئی انگریزی دان اہل سنت سے مولوی صاحب کے ترجمہ اور تفسیر کے متعلق کچھ روشنی بزبان انگریزی ڈال دیتے تو خاکسار کو اس ضعیف العمری میں وہ محنت برداشت نہ کرنی پڑتی۔ جو کچھ عرصہ سے کر رہا ہوں۔ مگر الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے آخر اس خدمت کے واسطے اس حقیر بے بضاعت کو پسند فرمایا۔ ” ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم“ لہٰذا پورے ٣٢ صفحہ کا ایک انگریزی رسالہ مولوی صاحب کے قرآن کے متعلق بناء پر مفت تقسیم شائع ہو گیا ہے۔ جو قابل مطالعہ ہے۔ ممکن ہے کہ کسی وقت اس کے اقتباسات سے ناظرین کو محظوظ کیا جائے۔ اس قدر اطلاع دینا دلچسپی سے خالی نہیں کہ سرگودھا میں مذکورہ انگریزی قلمی رسالہ جس جس گریجویٹ نے پڑھا ہے اس کے دل میں مولوی صاحب کے ترجمہ اور تفسیر کی نسبت وہ سابقہ عظمت باقی نہیں رہی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہے کہ
١٧
میرے رسالہ کی چھپوائی کا زیادہ تر حصہ انہوں نے ہی ادا کر دیا ہے۔
ریویو نمبر ٤
ناظرین گذشتہ تین نمبروں میں مولوی محمد علی لاہوری کے اس ترجمہ اور تفسیر کی مختصر کیفیت سے آگاہ ہو چکے ہوں گے۔ جو آپ نے بزبان انگریزی شائع کی ہے۔ مولوی صاحب نے پہلی دفعہ پانچ ہزار جلدیں ولایت سے تیار کرائی تھیں۔ جو قریباً کل فروخت ہو چکی ہیں۔ اب آپ نے دس ہزار جلد کا انڈنٹ ولایت میں بھیجا ہوا ہے۔ جس کی تعمیل امروز فردا ہوا چاہتی ہے۔ ہمارے اسلامی بھائیوں کی بدذوقی سے مولوی صاحب نے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کو معلوم تھا کہ فیصدی اسی گریجویٹ اور دیگر انگریزی دان مسلمان بوجہ مسلمان ہونے کے باوجود ریش منڈ وانے کے انگریزی قرآن کو ضرور کم و بیش پڑھیں گے۔ پس ترجمہ و تفسیر کے ذریعے سے اپنے جدید فرقہ کے عقائد سے ان کو متاثر کرنے کا بہتر موقعہ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اگر تحقیق کی جائے تو انشاء اللہ پہلی پانچ ہزار جلد سے چار ہزار جلد ضرور محمدی مسلمان خرید چکے ہیں۔ میں اس نتیجہ پر بعض شہروں میں محمدی مسلمانوں کے پاس مولوی صاحب کا انگریزی قرآن بچشم خود دیکھ چکا ہوں۔ ممکن ہے کہ میرا یہ تخمینہ پورا صحیح نہ ہو۔ مگر اس کے قریباً صحیح ہونے میں شک نہیں۔ مولوی صاحب نے اپنے ترجمہ و تفسیر میں ملائک کے متمثل ہونے سے صریح انکار کر دیا ہے درحالیکہ بخاری اور مسلم میں علاوہ دیگر کتب احادیث کے ملائک کا انسانی وجود میں تمثل ہونا بلا تاویل روز روشن کی طرح ثابت ہے۔ ایک طرف مولوی صاحب کا احادیث صحیحہ کو بسر و چشم قبول کرنا اور دوسری طرف ان سے صاف انکار کر دینا ایک ایسی بداصولی ہے۔ جس کو جس قدر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے کم ہے۔ قادیانی جماعت نے البتہ پہلے پارہ کے اردو ترجمہ میں اپنی تفسیر کے چند اصول شروع میں لکھے ہیں۔ جن میں احادیث صحیحہ مرفوع کو تسلیم کر لیا ہے۔ مگر آخر اس پر قائم نہیں رہی۔ چنانچہ ناظرین مبصرین سے یہ راز پوشیدہ نہیں۔ اب خدا تعالیٰ کی قدرت کا تماشہ لاہوری اور قادیانی ہر دو میں قابل دید ہے کہ احادیث صحیحہ کو ہر دو جماعت تسلیم کرتی ہیں۔ مگر کم از کم تفسیر میں ان کو پس پشت ڈال کر اپنی رائے سے کام لیتی ہیں۔ اہل سنت کے ان ہر دو جماعتوں سے مناظرے ہوئے ہیں۔ جن میں اہل سنت نے ان کا قافیہ ایسا تنگ کیا ہے کہ سوا ان جماعتوں کے بچاؤ کی اور کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ اس جماعت کے ہر دو فریق سے آئندہ اگر بحث کا موقعہ ہاتھ لگے تو احادیث صحیحہ کے قبول کروانے کا اصول ضرور قائم کروا لینا چاہئے۔ ورنہ ان کے چیلنج کی مطلقاً پرواہ نہ کرنی چاہئے۔ شکست کی صورت میں بھی یہ لوگ اپنے اخبارات میں اپنی فتح کا ڈنکہ بجا کر اپنا سکہ جما لیتے ہیں۔
١٨
ان نمبر میں بخاطر ضیافت طبع ناظرین ایک دو مثالیں مولوی محمد علی کے انگریزی قرآن سے پیش کرنا ان کی قرآن فہمی اور عربی دانی کا سرٹیفکیٹ خیال کرنا مناسب ہوگا۔ مولوی صاحب صفحہ ٢٣ پر بذیل آیت ”او کالذی مرّ علی قریۃ (پارہ ٣ رکوع ٤)“ کے واقعہ کو خواب کا واقعہ بتلا کر لکھتے ہیں کہ قرآن ایسے واقعات کے متعلق جو خاص عبارت یا طرز واقعہ یا کسی ماقبل تاریخ کے رو سے خود بخود خواب کا مفہوم ہو۔ لفظ خواب کا بالعموم استعمال نہیں کرتا اور اس اصول خانہ زاد کی تصدیق میں مولوی صاحب حضرت یوسف کی مثال پیش کرتے ہیں کہ جب حضرت یوسف نے گیارہ تاروں اور سورج اور چاند کو اپنے کو سجدہ کرنے کا تذکرہ اپنے والد کو سنایا تو خواب کا لفظ بالکل استعمال نہ کیا۔
جواب !
اگر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے باپ سے اس تذکرہ کے وقت خواب کا لفظ استعمال نہیں کیا تو کیا حرج تھا۔ کیونکہ اس وقت وہ بالکل نابالغ تھے اور واقعہ بھی ایسا تھا جس کا ظاہری عالم ناسوت میں امکان تھا۔ جب باپ نے یہ واقعہ سنتے ہی کہہ دیا ”یا بنی لا تقصص رؤياك على اخوتك فيكيدوا لك كيداً (یوسف:٥)“ یعنی اے بیٹا اس خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے مت کرنا نہیں تو وہ تیرے واسطے کوئی بری تجویز کریں گے۔ تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن نے اس واقعہ میں خواب کا لفظ استعمال کرنے سے کیوں کر پہلوتہی کی۔ اگر ایک بچہ نے سہواً خواب کا لفظ ترک کیا تو دوسرے ہوشیار اور زیرک نے اس بات کو واضح کر دیا۔ لہٰذا مولوی صاحب کا اصول خانہ زاد تار عنکبوت سے بھی کمزور ہے۔ یہ جماعت قرآنی معارف کے خاص علم کی مدعی ہے۔ مگر مولوی صاحب اگر کچھ آگے چل کر قرآن کو دیکھتے تو اس آیت کو خود حضرت یوسف کی زبان سے سن لیتے ۔ ”قال يا ابت هذا تاويل رؤياي من قبل قد جعلها ربي حقاً (یوسف:١٠٠)“
مولوی صاحب نے تخیل سے کام لے کر اپنا بنا بنایا کام بگاڑ دیا ہے۔ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ جو جو واقعہ خواب کا قرآن مجید میں مذکور ہے وہاں قرآن نے اس کو پردۂ اخفاء میں ہرگز نہیں رکھا۔ بلکہ صاف لفظ (منام) یا رؤیا یا تاویل کا استعمال کر کے کسی اہل ہوا کی دال گلنے نہیں دی۔ حضرت ابن عباسؓ نے اس اصول کو توڑ کر اہل اسلام پر ایک بڑا بھاری احسان کیا ہے کہ قرآن شریف میں لفظ (رؤیا) پورے سات دفعہ دیکھ کر صرف سورۂ بنی اسرائیل والے رؤیا کو اس کے عام معنوں سے مستثنیٰ کر دیا ہے۔ چنانچہ امام بخاری علیہ الرحمۃ نے (ج ٢ ص ٦٨٦) اور (بخاری
١٩
ج ٢ ص ٦٨٧) میں فتنۃ للناس “ رئیس المفسرین ۔ کر دیا۔ مگر افسوس ثابت کر دیا اور مع علیحدہ ہو گئے۔ قرآ حدیث مرفوع در تاریخ و عربی علم اد ہیں۔ جن کا عمل بیا ......ا البحر سربا اپنی مچھلی کو بھول گ جماعت کے جب کرتے ۔ آپ ۔ صاحب نے سرباً نمبر ١٥١٣، ١٥١٤ : صرف منزل مقصود مچھلی تھی۔ تعجب کا تذکرہ موسیٰ سے ک پر سخت دھبہ لگایا السلام کے واقعہ سے دریا میں راست کہاں تک دیانت عجیب طور پر راست خود چشم دید واقعہ مولوی صاحب ا
ج ٢ ص ٩٧٨) میں دو دفعہ اس پر باب باندھا ہے۔ ”وما جعلنا الرؤیا التی اریناک الا فتنة للناس“ جس میں رؤیا کا صحیح مفہوم واقعہ چشم دید ہے۔ نہ کہ خواب کا حضرت ابن عباس رئیس المفسرین نے اس آیت میں لفظ فتنہ کے قرینہ کو دیکھ کر مطلب اور مفہوم کو بخوبی واضح کر دیا۔ مگر افسوس اہل ہوا نے اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنے آپ کو فتنہ کا مصداق ثابت کر دیا اور معراج نبوی کو خواب یا کشف سے منسوب کر کے اہل سنت کی جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ قرآن کو قرآن سے سمجھنا قرآن فہمی کا سب سے پہلا اصول ہے۔ دوسرا اصول حدیث مرفوع ذریعہ ہے۔ تیسرا اصول حضرت ابن عباسؓ و دیگر جمہور صحابہؓ کا مفہوم چہارم تاریخ و عربی علم ادب ہے۔ بشرط یہ کہ یہ پہلے تین اصولوں کے خلاف نہ ہو۔ کچھ اور بھی اصول ہیں۔ جن کا محل بیان یہ مضمون نہیں۔
- ا...... ”فلما بلغا مجمع بینهما نسيا حوتهما فاتخذ سبيله فی
البحر سربا (الكهف: ٦١) “ یعنی جب ہر دو شخص دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر پہنچے تو دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے۔ پس مچھلی نے دریا میں سرنگ بنا کر اپنا راستہ لیا۔ مولوی صاحب کا معہ قادیانی جماعت کے جب معجزہ سے صاف انکار کا عقیدہ ہے تو کس طرح ممکن تھا کہ ترجمہ میں تحریف نہ کرتے۔ آپ نے صفحہ ٦٠٠ پر یوں ترجمہ کیا ہے (اور مچھلی سمندر میں راستہ لے کر چلی) مولوی صاحب نے سرباً کو جو راستہ لینے کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ اپنے نوٹ نمبر ١٥١٣، ١٥١٤ میں اس صفحہ پر اس طرح لکھتے ہیں کہ (بموجب حدیث بخاری مچھلی کا گم ہونا صرف منزل مقصود مل جانے کا نشان تھا۔ قرآن یا حدیث میں ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ یہ بھونی ہوئی مچھلی تھی۔ تعجب کا ظہور مچھلی کے دریا میں چلے جانے پر نہیں بلکہ امر پر ہے کہ صاحب موسیٰ اس کا تذکرہ موسیٰ سے کرنا بھول گیا تھا ۔) مولوی صاحب نے بخاری کا حوالہ دینے سے اپنی حدیث دانی پر سخت دھبہ لگایا ہے۔ بخاری نے ١٣ ویں پارہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کے متعلق ایک باب باندھ کر دو احادیث لکھی ہیں۔ جن سے مچھلی کا عجیب طرح سے دریا میں راستہ بنانا ثابت ہوتا ہے۔ ناظرین خود بخاری کھول کر دیکھ لیں کہ مولوی صاحب نے کہاں تک دیانت داری سے کام لیا ہے۔ راقم بوجہ طوالت ان کی نقل سے معذور ہے۔ مچھلی کے عجیب طور پر راستہ بنانے پر ایک تو لفظ سربا شاہد ہے۔ دوسرا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفیق کا خود چشم دید واقعہ جس پر یہ آیت شاہد ہے۔ ”واتخذ سبيله فی البحر عجباً“ باقی رہا مولوی صاحب کا فرمانا کہ قرآن شریف سے ثابت نہیں کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی۔ سو ناظرین ٢٠
مولوی صاحب کی قرآن فہمی پر ضرور ہنس کر کہیں گے کہ جب موسیٰ نے اپنے رفیق سے ناشتہ طلب کیا۔ (آتنا غدآنا) تو وہ گمشدہ مچھلی ناشتہ کا کیوں کر ایک جزو نہ تھی؟۔ اور بالفرض محال زندہ رکھ لی تھی۔ جب بھی اتنا عرصہ بدوں پانی کے وہ کیونکر زندہ رہ سکتی تھی؟۔ قرآن شریف سے مچھلی کا زندہ ہو جانا بہر صورت ثابت ہے اور مولوی صاحب کی تفسیر بالرائے باطل ہے۔ مولوی صاحب کو خاکسار نے اپنے انگریزی جدید رسالہ میں صادق توبہ کا اعلان کرنے کے واسطے ایک مودبانہ چٹھی لکھی ہے۔ دیکھئے مانتے ہیں یا نہیں۔
ریویو نمبر ٥
پیغام صلح کی لعنت کا مصداق کون ہے؟۔
مولوی محمد علی امیر جماعت احمدی لاہور ترجمہ انگریزی قرآن کا اردو میں یکم اکتوبر ١٩٢٠ء سے سلسلہ ریویو شروع ہے۔ جس پر پیغام صلح کے ایڈیٹر صاحب نے ایسی سکوت اختیار کی ہے کہ گویا ان کی دوات سے سیاہی نے جواب دے دیا ہے۔ دس ماہ کے بعد اب ذرہ بیدار ہو کر حوت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق مندرجہ نمبر ٤ مطبوعہ ٥ اگست کا جواب لکھا ہے۔ مگر باقی اعتراضات کے نزدیک آنے سے آپ کا قلم کانپ گیا ہے۔ ہم شروع سلسلہ سے ہی ہر دو مرزائی جماعت پر معجزہ کے انکار کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ جس پر پیغام صلح مورخہ ٧ ستمبر ١٩٢١ء صفحہ ٣ پر مرزا قادیانی کا شعر نقل کر کے 'لعنۃ اللہ علی الکاذبین' کا فتویٰ سناتا ہے۔ ہاں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے قرآنی معجزات کے منکر کو ملعون کہا ہے۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ درحقیقت اس لعنت کا مصداق کون ہے؟۔ اصول عمل کی خاطر وضع کیا جاتا ہے۔ مگر باوجود معجزہ ثابت ہو جانے کے اس کو تسلیم نہ کرنا منکر کو 'لعنۃ اللہ علی الکاذبین' کا واقعی مصداق بنا دیتا ہے۔ اہل حدیث مورخہ یکم اکتوبر ١٩٢٠ء مورخہ ٨ اکتوبر ١٩٢٠ء بابت ریویو نمبر ١،٢ میں ہم نے متعلقہ تین معجزات کی بحوالہ احادیث صحیحہ تفسیر کی تھی ۔ جس سے مولوی محمد علی صاحب نے اپنے انگریزی قرآن میں بالکل انکار کر دیا ہوا ہے۔ ایک تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعی آگ میں ڈالا جانا دوسرا حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں داخل ہونا۔ تیسرا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بحالت رضاعت الہام سے غیب کے متعلق کلام کرنا اب پیغام صلح کے ایڈیٹر صاحب کی خدمت میں التماس ہے کہ یا تو حتی الوسع جلد ثابت کر دیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ واقعات کے متعلق ہماری بیان کردہ تفسیر نہیں کی یا اس لعنت کو واپس لے کر حسب مراتب ہر دو احمدی جماعت میں تقسیم فرما دیں۔
٢١
باقی پیغام صلح کی مہذبانہ تحریر کی بات ہم قلم کو روک لیتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کی سنت مؤکدہ ہے۔ ہاں ان کے چیلنج کا جواب انشاء اللہ دیا جاوے گا۔ نوٹ! جواب دیکھو ریویو نمبر ١٠ میں۔
ریویو نمبر ٦
مولوی صاحب اپنے قرآن کے صفحہ ٢٤١ پر بذیل آیت "وما قتلوہ وما صلبوہ (الی) وما قتلوہ یقیناً (نساء: ١٥٧)“ یہ بیان تحریر فرماتے ہیں کہ لفظ صلبوہ سے مسیح کے صلیبی عذاب کی نفی ثابت نہیں ہوتی۔ نفی صرف صلیبی عذاب سے موت کی ہے۔ اس کے متعلق کچھ اور بیان بھی درج ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ مسیح صلیب پر عذاب ضرور دیئے گئے۔ مگر وہاں وہ فوت نہیں ہوئے۔ بلکہ بعد ازیں قدرتی موت سے مر چکے ہیں۔ مولوی صاحب مسیح کے صلیبی عذاب میں نصاریٰ کے مقلد ہیں اور ان کی قدرتی موت کے وقوعہ میں اپنے خیالات کے پابند ہیں۔ مولوی صاحب نے قرآن کی چار آیات ذیل کو بالکل نظر انداز کر کے قرآن فہمی کے ایک اعلیٰ اصول کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
- ا........ ”وجیہاً فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین (آل
عمران: ٤٥) “ یعنی فرشتوں نے مریم کو بطور خوشخبری کے سنایا کہ مسیح دنیا اور آخرت ہر دو میں باعزت ہوگا اور خاص الخاص بندوں میں سے ہے۔
- ب ....... ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین (آل عمران: ٥٤) “
یعنی یہود نے مسیح کے بارہ میں بری تدبیر سوچی اور اللہ نے بھی تدبیر سوچی اور اللہ سب تدبیر کرنے والوں پر غالب رہتا ہے۔
- ج ........ "واذ کففت بنی اسرائیل عنک (مائده: ١١٠)“ یعنی اے مسیح تم
اللہ کا احسان یاد کرو۔ جب اس نے تم کو بنی اسرائیل کے ہاتھوں سے بچالیا۔
- د ........ "وجعلنی مبارکاً اینما کنت (مریم: ٣١) “ اور حضرت مسیح علیہ
السلام نے بالہام ربانی مہد میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بابرکت بنایا ہے۔ جہاں کہیں میں رہوں۔
اگر کوئی باانصاف عربی سمجھنے والا مذکورہ بالا چار آیات کی صحیح مراد پر غور کرے تو ہرگز ممکن نہیں کہ وہ اس امر کے قبول کرنے کے واسطے تیار ہو گا کہ یہود نے حضرت مسیح علیہ السلام پر قابو پالیا اور ان کو پکڑ کر ذلیل بھی کیا اور آخر صلیب پر چڑھا کر کیل کانٹے ان کے ہاتھوں اور پیروں میں ٹھونک دیئے۔ مولوی صاحب نے چار آیات مذکورہ میں سے صرف دوسری آیت کی تاویل اس
٢٢
طرح کی ہے کہ یہود کا مکر یہ تھا کہ وہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لعنتی موت سے ماریں اور اللہ تعالیٰ کا یہ مکر تھا کہ مسیح علیہ السلام کو لعنتی موت سے بچالیا۔ مولوی صاحب و احادیث مرفوعہ کے رد کرنے میں تو مولوی عبداللہ چکڑالوی کے قریباً ہم پہلو تھے ہی مگر نصوص قرآنی کو بھی رد کر کے ان کی ایسی تاویل کرنے کے عادی ہیں۔ جس کی دیگر آیات مانع ہیں۔ نہیں معلوم اللہ تعالیٰ نے اس ناچیز خاکسار کو مولوی صاحب کی قرآنی تفسیر کی تردید پر بالخصوص کیوں مامور کیا ہے۔ جب ملک میں خاکسار سے بڑھ کر انگریزی اور عربی دان مسلم اصحاب موجود ہیں۔ جن کی شاگردی کو میں اپنا فخر کرتا ہوں۔ مجھ کو اس میں یہی حکمت الٰہی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن فہمی میں میرا خاص معاون ہونا پسند کرتا ہے۔ ناظرین ایک کرشمہ قدرت کی مثال اس کے متعلق ملاحظہ فرما کر میرے حق میں دعا کریں۔ تاکہ آئندہ بھی اس اسلامی خدمت کو خلوص باطنی سے انجام دیتا رہوں۔ وہ کرشمہ قدرت یا رحمت الٰہی یہ ہے کہ تدبر سے قرآن کی ایک ایسی آیت میرے سامنے لائی گئی ہے۔ جو مذکورہ چار آیات کی پوری اور صحیح تفسیر ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی مردود تاویل کا پورا قلع قمع کر دیتی ہے۔ قرآن شریف کے پارہ ٩ رکوع ١٨ میں آیت ذیل نے ہر قسم کی باطل تفسیر بالرائے کو رد کر دیا ہے اور مسیح علیہ السلام کو یہود کے قابو میں ہرگز نہیں دیا اور جب یہود کو ان پر قابو ہی نہیں دیا تو ان کی گالوں پر طمانچے مارنا، منہ پر تھوکنا اور کانٹوں کا تاج پہنانا اور آخر سولی پر چڑھا کر کیل کانٹے ہاتھوں اور پاؤں پر ٹھوک دینا۔ کیوں کر لائق تسلیم ہے؟۔ ”واذ یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوك ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر الماکرین (انفال: ٣٠)“ یعنی اے محمد ﷺ ہمارے احسان کو یاد کرو۔ جس وقت کافروں نے تمہیں گرفتار کرنے یا قتل کرنے یا شہر سے نکال دینے کی تدبیر کی اور وہ تدبیر کرتے تھے اور اللہ بھی تدبیر کرتا تھا اور اللہ سب کی تدبیروں پر غالب آنے والا ہے۔ اس جگہ تعجیل سے شاید کوئی میرا بھائی اس طرح نہ کہہ دے کہ یہ آیت تو جناب سرور کونین علیہ السلام کے بارہ میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے اس کا کیا تعلق؟۔ ہاں تعلق تو ایک طرف رہا بلکہ بعینہ یہی آیت حضرت مسیح علیہ السلام کی حفاظت کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ زمانہ چونکہ قرآن کریم کے نزول وقت گزر چکا تھا۔ اس واسطے اس آیت میں ہر دو افعال ماضی میں ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ کے متعلق جو مذکورہ آیت ہے اس کے ہر دو افعال مضارع میں ہیں۔ کیونکہ آپؐ نزول آیت کے وقت موجود تھے۔ مگر واللہ خیر الماکرین ہر دو آیات کے آخر میں مساوی مذکور ہے۔ ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین (آل عمران: ٥٤)“ مذکورۃ الصدر ایک ہی ٢٣
قبیل اور مفہوم کے ماتحت ہیں اور تمام قرآن میں صرف دو دفعہ یہ آیت واقعہ ہوئی ہے اور صرف دو پیغمبروں کے واسطے اب خاکسار کو ظن غالب ہے کہ اہل السنت مسلمان تو ایک طرف رہے لاہوری اور قادیانی (احمدی) ہر دو فریق بھی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت رسول کریم ﷺ پر کفار قریش قابو نہ پا سکے۔ جب انہوں نے ایک رات آپ کے مکان کا محاصرہ گرفتاری یا قتل کے ارادہ سے کرلیا تھا۔ مگر آپ حضرت علیؓ کو اپنی چار پائی پر لٹا کر ہمراہ حضرت صدیقؓ چپکے سے روپوش ہو کر غار ثور میں جو مکہ شریف کے قریب ہی مدینہ کے راستہ پر واقعہ تھا جا چھپے تھے اور محاصرین اس غیبی اور اعجازی فرار کو معلوم کر کے باوجود تگ و تعاقب کے آپ کو گرفتار کرنے میں سخت ناکام اور مایوس ہوئے تھے۔ یہ ایک متواتر تاریخی واقعہ ہے۔ جس سے انکار کرنا گویا اللہ تعالیٰ کی غالب تدبیر کو جس کا اظہار اور ثبوت (خیر الماکرین) میں موجود ہے۔ بالکل باطل کر دینے کے مساوی ہے اب اہل باطل کی کل تاویلات باطلہ کو اس آیت نے بالکل ھباءً منثوراً کر دیا ہے۔
نہایت تعجب اور حیرت ہے کہ وہی آیت جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے واسطے وارد ہو تو وہاں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ آپ کفار کے قبضہ بموجب وعدہ الٰہی ہرگز نہ آسکے۔ لیکن جب بعینہ وہی آیت حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں وارد ہو تو یہ نتیجہ برآمد کیا جاتا ہے کہ یہودیوں نے مسیح ابن مریم کو گرفتار کر لیا راستہ میں ہر طرح کی ناگفتنی بے عزتی بھی کی اور آخر سولی پر چڑھا کر ان کے ہاتھوں اور پیروں میں کیل کانٹے بھی ٹھونک دیئے۔ (نعوذ باللہ من ہذہ البہتان العظیم) ایک ہی قسم کی ہر دو آیات سے دو مختلف نتیجے پیدا کرنا اہل حق اور اہل علم کی شان سے نہایت بعید ہے۔ اب خاکسار اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ کا راز بیان کرتا ہے کہ اس نے صرف دو پیغمبروں کے واسطے ہی کیوں ایک ہی قبیل کی آیت نازل فرمائی؟۔ عالم الغیب جل شانہ کو معلوم تھا کہ مسلمان کہلانے والوں سے بھی ایک فرقہ کسی وقت تقلید اہل کتاب کر کے حضرت مسیح علیہ السلام جیسے برگزیدہ پیغمبروں کو بھی باوجود مذکور پانچ آیات ان کی شان میں پڑھنے کے ان کی تاویل باطلہ کر کے حضرت مسیح علیہ السلام کو یہود کے حوالہ کر کے بڑی بے آبروئی سے آخر صلیب پر چڑھائے گا اور ان کے ہاتھوں پیروں میں کیل کانٹے ٹھونک دینا تسلیم کر کے کم علم مسلمانوں کو گمراہ کرے گا۔
جب سے قادیانی گروہ کا ظہور ہوا ہے اور اہل سنت نے اس سے مناظرے بھی کئے اس کی تاویلات باطلہ کی اپنی اکثر تصانیف میں خوب قلعی بھی کھولی۔ مگر جناب رسول خدا ﷺ کے متعلق خیر الماکرین والی مذکورہ آیت کو حضرت مسیح کے متعلق خیر الماکرین والی آیت سے تطبیق دے کر اس قادیانی گروہ پر کسی نے اب تک حجت پوری نہیں کی۔ جناب سرور کونینؐ کے متعلق خیر
٢٤
الماکرین والی آیت ہمیشہ قرآن میں ہر زمانہ میں زیر تلاوت رہی۔ سلف کے علماء اور مفسرین کو حضرت مسیح علیہ السلام والی خیر الماکرین کی آیت سے تطبیق دے کر صحیح نتیجہ اخذ کرنے کی اس واسطے ضرورت محسوس نہ ہوئی کہ ان کے عہد میں قادیانی خیالات کا اس قدر چرچا نہ تھا۔ انہوں نے دیگر آیات محولہ صدر کو مسیح علیہ السلام کے عدم صلیب اور عدم ذلت کافی نصوص خیال کیا۔ چنانچہ اہل سنت کے ایک بھی با علم مصنف یا مفسر نے حضرت مسیح علیہ السلام کا یہود سے گرفتار ہو کر صلیب پر چڑھایا جانا تسلیم نہیں کیا۔ حتیٰ کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو مسیح ابن مریم بنانے کی خاطر جدید عقائد کی بنیاد ڈالی اور قرآنی آیات کی تاویلات باطلہ کا دروازہ ایسا فراخ کر دیا کہ بموجب پیش گوئی حضرت مسیح علیہ السلام اچھے خاصے پڑھے بعض مسلمان بھی اس چار دیواری میں داخل ہو گئے۔ خاکسار بالفعل احادیث صحیحہ کو نظر انداز کر کے جن کی رو سے مرزا قادیانی مسیح موعود ہرگز نہیں بن سکتے۔ ہر دو لاہوری اور قادیانی جماعت کو اس آیت کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ''ویمکرون ویمکر اللہ واللہ خیر الماکرین (انفال: ٣٠) ''یہ آیت متعلق جناب رسول اللہﷺ حضرت مسیح والی آیت ''ومکروا مکر اللہ واللہ خیر الماکرین (آل عمران: ٥٤) '' کے مترادف ہے۔ اندریں صورت خاکسار نہایت اشتیاق سے اس امر کا منتظر رہے گا۔ مرزائی جماعتوں میں کوئی فرد با انصاف قرآن شریف کو اللہ تعالیٰ کا بے مثل بلیغ کلام یقین کر کے اس قرآنی نص کے سامنے جو کسی تاویل کی متحمل نہیں۔ اپنے تقلیدی عقیدہ سے توبہ کر کے اہل سنت کے زمرہ میں شامل ہونے کے واسطے آمادہ ہے یا نہیں۔ مگر ''ابو جہل از کعبہ مے آید و ابراہیم از بت خانہ کار با عنایت است باقی بہانہ''
ریویو نمبر ٧
خاکسار نے نمبر ٥ مندرجہ اہل حدیث مورخہ ٦ ستمبر ١٩٢١ء میں چند آیات قرآنی کی بناء پر ثابت کیا تھا کہ یہود حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام پر ہرگز قابو نہ پا سکے۔ چہ جائیکہ ان کو بے عزت کر کے سولی پر چڑھا دیا ہو اور یہ بھی لکھا تھا کہ کسی اہل سنت کے مفسر یا عالم نے اس امر کو تسلیم نہیں کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام واقع میں سولی پر چڑھائے گئے تھے۔ اس پر ایڈیٹر پیغام صلح نے اپنے اخبار مورخہ ٥ اکتوبر ١٩٢١ء کے صفحہ ٣ پر اس کے متعلق اہل سنت کی ایک معتبر کتاب کے حوالہ سے اس مضمون کی تردید لکھی تھی۔ خدا بھلا کرے ایڈیٹر صاحب اخبار اہل حدیث کا جنہوں نے محض حق کی تائید کی خاطر اپنے اخبار مورخہ ٣٠ دسمبر ١٩٢١ء کے صفحہ ٢٠ پر ایڈیٹر پیغام صلح کی علمیت و دیانت کی ایسی قلعی کھول دی کہ اب تک وہ ان کے چیلنج کے سامنے
٢٥
آنے کی بالکل جرات نہیں کر سکا۔ وہ مضمون بعد حذف امور غیر متعلقہ و بعد حذف عربی عبارت عنوان ذیل سے شروع ہوتا ہے۔
قادیانی امت علم و فضل میں کہاں تک درجہ کمال رکھتی ہے
ہم بتاتے ہیں کہ تحقیق مسائل میں اس امت کو کیا درجہ نصیب ہے۔ ناظرین کو معلوم ہو گا کہ ہمارے مکرم دوست ماسٹر غلام حیدر صاحب پنشنر سرگودھا قادیانی امت کے انگریزی ترجمہ کی تنقید کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان کی طرف سے ٧ نمبر نکل چکے ہیں۔ ان کے جواب میں ایڈیٹر پیغام صلح لاہور ایک جگہ لکھتا ہے۔
ماسٹر غلام حیدر صاحب نے تو سنی سنائی ہی باتیں یاد کی ہوئی ہیں۔ اگر ماسٹر صاحب اس روایت ہی کو پڑھ لیتے۔ جو کتاب استیعاب سے مدارج النبوۃ میں نقل ہوئی ہے کہ بعد نزول سورہ نساء جس میں آیت ”ما صلبوہ“ وارد ہوئی ہے۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہؓ (جو بدری صحابہ میں تھے) آنحضرتﷺ کے قاصد ہو کر مقوقس والی اسکندریہ کے جو عیسائی تھا۔ نامہ مبارک آنحضرتﷺ لے کر گئے۔ تو مقوقس نے ان سے یہ اعتراض کیا کہ اگر تمہارا صاحب نبی ہے تو اس نے کیوں خدا سے دعا نہ کی کہ اس کو مکہ سے ہجرت نہ کرنی پڑتی۔ اس پر حاطبؓ نے فرمایا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تو نبی تھے۔ انہوں نے کیوں دعا نہ کی کہ دار پر کھینچے نہ جاتے تو (ماسٹر غلام حیدر صاحب) یہ بھی کہتے کہ حضرت علامہ سیدنا محمد علی صاحب مسیح کی صلیب پر کھینچے جانے میں نصاریٰ کے مقلد ہیں۔
(اخبار پیغام صلح ١٥ اکتوبر ص٣ ک)
مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ کتاب استیعاب سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے کا اعتراف کیا ہے۔
آئیے! ہم استیعاب میں اس مضمون کو تلاش کریں۔ مگر پیش کرنے سے پہلے ہم قادیانی امت کو چیلنج دیتے ہیں کہ اگر وہ اپنے اندر صداقت پاتے ہیں تو آئیں استیعاب کو بیچ میں رکھ کر ہمارے ساتھ فیصلہ کریں۔
پس سنئے! (استیعاب فی معرفۃ الاصحاب ج١ ص٢٧٦،٢٧٧) میں یوں مذکور ہے۔ ”حاطب نے کہا مجھے رسول اللہﷺ نے اسکندریہ کے حاکم مقوقس کے پاس بھیجا میں نے آنحضرتﷺ کا خط اس کو پہنچایا اس نے مجھے اپنے مکان میں اتارا میں اس کے پاس کئی روز ٹھہرا رہا ایک روز اس نے اپنے مذہبی علماء کو بلا کر مجھے بھی بلایا اور کہا کہ میں تجھ سے ایک بات
٢٦
پوچھتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو وہ بات میری اچھی طرح سمجھ لیجیو میں نے کہا فرمائیے! کہا تو مجھے اپنے صاحب کی طرف سے بتا کیا وہ نبی ہے میں نے کہا ہاں وہ رسول اللہ ہیں۔ یہ سن کر مقوقس نے کہا پھر کیا وجہ کہ جب اس کی قوم نے اس کو اس کے شہر سے نکال دیا تھا تو اس نے ان پر بددعا کیوں نہ کی؟۔ میں (حاطب) نے کہا حضرت عیسیٰ کی آپ شہادت دیتے ہوں گے کہ وہ رسول اللہ تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جب ان کو ان کی قوم نے پکڑ کر سولی پر چڑھانا چاہا تو انہوں نے ان پر اس مضمون کی بددعا کیوں نہ کی کہ خدا ان کو تباہ کر دیتا۔ یہاں تک کہ اللہ نے ان کو اپنی طرف پہلے آسمان میں اٹھا لیا۔ یہ جواب سن کر مقوقس (حاکم) نے کہا تو نے بہت اچھا جواب دیا تو بڑا حکیم (دانا) ہے اور بڑے دانا کے پاس سے تو آیا ہے۔
یہی روایت (خصائص کبری ج ٢ ص ١٣٩) پر بعینہ انہی لفظوں سے موجود ہے۔
قادیانی دوستو! کیا ہم امید رکھیں کہ تم لوگ اپنے ہی پیش کردہ حوالہ کو سامنے رکھ کر ہمارے ساتھ فیصلہ کر لو گے؟۔ واقعات گذشتہ سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ تم لوگ مدینہ کی ایک شریف قوم کی طرح خیرنا وابن خیرنا کہہ کر فوراً اپنے قول کے برخلاف شرنا وابن شرنا کہنے لگ جایا کرتے ہو۔ پس اگر تم نے اپنے حوالہ استیعاب کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی اور آسمان پر جانے کے مسئلے کا فیصلہ استیعاب سے ہمارے ساتھ نہ کیا تو ہمارا دعویٰ ثابت ہوگا۔ اگر کر لیا تو ہمارا غلط ۔
ضمیمہ ریویو نمبر ٧
خاکسار اس نمبر میں ایک مختصر مضمون میر ابراہیم صاحب سیالکوٹی کا اخبار اہل حدیث مورخہ ٣ / دسمبر ١٩٢١ء سے اس واسطے نقل کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ ناظرین کو مرزائی جماعت کے مبلغ علم اور عقائد سے پورے طور پر واقفیت حاصل ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شاید کوئی قادیانی بھائی اس کے مطالعہ سے حق کی طرف رجوع کرے۔ لہذا سالم نمبر مولوی ثناء اللہ صاحب ایڈیٹر اخبار اہل حدیث امیر جماعت اہل حدیث پنجاب اور ان کے نائب اور وزیر کے قلم سے اپنی تائید کے واسطے مفید پا کر ناظرین کے سامنے بطور تحفہ کے پیش کرتا ہے
لاہوری مرزائی اور مرزا قادیانی
ہمارا پختہ خیال ہے اور بالکل حق ہے کہ لاہوری جماعت احمدیہ سنت نبویہ سے تو الگ تھی ہی مرزائی اصول سے بھی بہت پرے ہٹ گئی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ان احادیث کو بھی نظر
٢٧
انداز کر دیتے ہیں۔ جن کو جناب مرزا قادیانی آنجہانی نے نہایت مزے کی حالت میں خود اپنے مطلب کے لئے پیش کیا ہوتا ہے۔ چنانچہ ان کا رسالہ اشاعت اسلام بابت ماہ دسمبر ١٩٢١ء اس وقت میرے سامنے ہے۔ اس کے اخیر میں ایک عنوان ہے۔
حد درجہ کی لاعلمی
اس کے ضمن میں ایڈیٹر خواجہ کمال الدین صاحب نے بیان کیا کہ ولایتی اخبار السٹریٹڈ کرانیکل میں اسلام کے متعلق کچھ غلط گوئیاں شائع ہوئیں۔ کسی (محمدی) مسلمان نے خدا اس کو جزائے خیر دے۔ ان غلط بیانیوں کا جواب لکھا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اخبار مذکورہ کا نامہ نگار لکھتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو حضرت مسیح کی نسبت کوئی علم نہیں تھا۔
اس کا جواب محمدی مجیب صاحب نے یہ دیا کہ یہاں غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ آپ (آنحضرت ﷺ) حضرت مسیح کو خدا کا رسول اور اپنے سے دوسرے درجہ پر مانتے تھے اور مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح دوبارہ آئیں گے تو انہیں دفن کرنے کے لئے محمد ﷺ کے روضہ مبارک میں جگہ رکھی ہوئی ہے۔
خواجہ کمال الدین صاحب ایڈیٹر رسالہ اشاعت اسلام کو یہ جواب مرزائیت کے خلاف نظر آیا تو انہوں نے باوجود علم حدیث سے مطلقاً ناواقف ہونے کے محمدی مجیب صاحب کی تغلیط کرتے ہوئے یوں رقمطرازی شروع کر دی۔ اس موقع پر ہم مضمون نگار کو دو باتوں سے آگاہ کر دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے یہ کہیں دعوے نہیں کیا کہ آپ کا رتبہ حضرت مسیح سے بلند ہے۔ بلکہ اپنے پیرووں کو حکم دیا کہ وہ اس قسم کی تفریقات سے باز رہیں۔ یہ حضرت نبی کریم ﷺ کے وسعت قلب کی دلیل ہے۔ دوئم نبی کریم ﷺ کے مقبرہ میں حضرت مسیح کے دفن ہونے کے لئے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی۔
(ص ٦٩٦)
شکر ہے کہ خواجہ صاحب نے سرے سے اس امر ہی کا انکار نہیں کر دیا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ دنیا پر آئیں گے اور صرف قبر کی جگہ کے انکار پر اکتفاء کی۔ لیکن ہم ان کو بتلاتے ہیں کہ محمدی مجیب صاحب کو آگاہ کرتے کرتے خواجہ صاحب خود کتنے بہکے کہ مرزا قادیانی کے مایہ ناز و سرمایہ افتخار امر کو بھی بھول گئے۔ بغور سنیے !
- ١......آنحضرت ﷺ نے سید ولد آدم یوم القیامۃ ہونے کا دعویٰ کیا۔ احادیث
میں مذکور ہے۔
(مشکوۃ ص ٥١١، باب فضائل سید المرسلین فصل اوّل)
یعنی قیامت کے دن اولاد آدم علیہ السلام کا میں سردار ہوں گا اور انبیاء ٢٨
علیہم السلام میں تفریق کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو نہ مانیں ۔ جیسا کہ چھٹے پارے کے شروع میں مذکور ہے ایک کا دوسرے سے افضل ہونا موجب تفریق نہیں۔ کیونکہ اس میں تو خود قرآن شریف کی نص صریح موجود ہے۔ آیت ”تلك الرسل فضلنا بعضهم علی بعض (البقرة:٢٥٣)“ اور ہے کہ ”ولقد فضلنا بعض النبیین علی بعض (بنی اسرائیل:٥٥)“
دیکھو خیر اگر اس پر بھی آپ کو قناعت نہ ہو تو یوں سمجھ لیجئے کہ اگر فضیلت انبیاء کا مسئلہ موجب تفریق ہے تو جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے اس شعر کے کیا معنی ہیں؟۔
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص٢٠، خزائن ج١٨ ص٢٤٠)
اور ان کے حق میں جو یہ ترانہ نہایت ذوق وشوق سے گایا جاتا تھا۔
یہ مصطفیٰ ہمارا یہ دلربا ہمارا
اب سنائیے آپ کے خیال میں حضرت مسیح علیہ السلام سے برتری کا دعویٰ اگر آنحضرتﷺ نے نہیں کیا اور ان کا نام تفریق ہے اور یہ ممنوع ہے تو مرزا قادیانی نے جو حضرت مسیح علیہ السلام سے برتری کا دعویٰ کیا۔ اس کے رو سے مرزا قادیانی کا کیا حشر؟۔ افسوس آپ لوگوں کے دلوں سے ایمان تو گیا ہی تھا۔ دماغوں سے عقل بھی جاتی رہی۔ کیا آپ نے ان باتوں کے ہوتے ہوئے بھی مرزا قادیانی کو ہادی ومجدد مانتے رہیں گے؟۔
- ٢...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دفن کی جگہ کے متعلق بھی احادیث میں فیصلہ
ہو چکا ہے۔ خود جناب مرزا قادیانی منکوحہ آسمانی اور محبوبہ لاثانی محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق (ضمیمہ انجام آتھم کے ص٥٣، خزائن ج١١ ص٣٣٧ کے حاشیہ) پر جس حدیث کو پیش کرتے ہیں۔ اسی حدیث میں آنحضرتﷺ فرماتے ہیں۔ ”فیدفن معی فی قبری (مشکوۃ ص٤٨٠، باب نزول عیسیٰ علیہ السلام) “ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام میرے پہلو میں میرے مقبرے میں دفن کئے جائیں گے۔
سنائیے ! ابھی معلوم ہوا یا نہ کہ آنحضرتﷺ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مدفن کے متعلق خود فرما رہے ہیں اور مرزا قادیانی اس حدیث کو صحیح جان کر محمدی بیگم کے نکاح کے لئے
٢٩
دستاویز بناتے ہیں۔
اب یہ بھی سن لیجئے کہ ”داخل حجرۀ نبويه على صاحبها الصلوة والتحية“ ایک قبر کی جگہ ابھی باقی پڑی ہے۔ چنانچہ مشکوٰۃ میں ابو مودود کی روایت سے عبداللہ بن سلامؓ سے مروی ہے کہ عیسیٰ بن مریم محمدﷺ کے پاس دفن ہوں گے۔ اس کے بعد ابو مودودؒ راوی حدیث جو مدینہ طیبہ کا باشندہ ہے۔ کہتا ہے کہ ”وقد بقى فى البيت موضع قبر (مشكوة ص٥١٥، باب فضائل سيد المرسلين)“ یعنی حجرہ نبویہ میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ یہ تو پرانے زمانے کی بات ہے کہ خاکسار خود جب ١٣٣٠ھ میں مشرف بزیارت مسجد نبوی ہوا تو داخل حجرہ نبویہ ایک قبر کی جگہ خالی پائی اس امر میں خاکسار کی مستقل تصنیف الحق الصریح موجود ہے۔ جس میں پورا نقشہ بتایا گیا ہے۔
(محمد ابراہیم میر سیالکوٹی)
نوٹ! مسیح ابن مریم بعد نزول نکاح کریں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔ مسیح موعود بننے کے واسطے مرزا قادیانی نے حدیث مذکورہ کی بناء پر غیر معمولی نکاح کا اعلان کیا۔ مگر اس تدبیر میں ناکامی ہوئی۔ اللہ میاں نے ان کو مسیح موعود بننے نہ دیا۔ (مصنف)
ریویو نمبر ٨
ناظرین کرام سے پوشیدہ نہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر قرآن شریف میں صرف دو موقعہ پر ہے۔ ایک دفعہ تو سورۂ انبیاء پ ١٧ ع ٦ میں اور دوسری دفعہ سورہ ص پ ٢٣ ع ٣ میں ہر دو موقعہ پر حضرت ایوب علیہ السلام کی ایک سخت ابتلاء کا ذکر ہے۔ جس سے مخلص پانے کے واسطے آپ نے بارگاہ ایزدی میں نہایت عجز سے دعا کی اور ہر دو موقعہ پر آپ کی دعا کے قبول ہونے کا ذکر ہے۔ پہلے موقعہ پر دعا کے الفاظ یہ ہیں:۔ ”انی مسنى الضر وانت ارحم الرحمين (الانبياء:٨٣)“
اور موقعہ ثانی میں دعا اس طرح مذکور ہے۔ ”انی مسنى الشيطان بنصب وعذاب (صٓ:٤١)“ پہلی دفعہ اجابت دعا کا اظہار بدیں الفاظ ہے۔ ”وکشفنا مابه من ضرٍ (الانبياء:٨٤)“ اور دوسری دفعہ یوں ہے۔
”ارکض برجلك هذا مغتسل بارد وشراب (صٓ:٤٢)“ بقیہ عنایات ایزدی کا ذکر ہر دو مقامات میں مساوی بایں الفاظ ہے۔
”واتيناه اهله ومثلهم معهم رحمةً من عندنا وذكرى للعابدين ووهبناله اهله ومثلهم معهم وذكرى لاولى الالباب (صٓ:٤٣)“
٣٠
- ١...... مولوی صاحب اس کے متعلق اپنے قرآن کے ص ٨٨٦، ٨٨٧ پر اس
طرح تحریر فرماتے ہیں۔
”جس مصیبت کی حضرت ایوب شکایت کرتے ہیں وہ کسی ریگستانی سفر کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔ جس میں آپ کو تھکان اور پیاس سے تکلیف محسوس ہوئی۔ اس کی معاون بہت سی دلائل ہیں۔ ایک تو لفظ نصب ہے جس کے معنی تھکان کے ہوتے ہیں۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ بطور علاج یا تلافی کے آپ کو ایسی جگہ بتلائی جاتی ہے۔ جہاں پینے اور غسل ہر دو کے واسطے ٹھنڈا پانی موجود ہے۔ تیسرا قرینہ اس تکلیف کے ساتھ شیطان کا ذکر ہے۔ کیونکہ شیطان الفلاء حسب قاموس اور عربی لغات مصنفہ لین صاحب پیاس ہے۔ حضرت ایوب کے اس مصیبت ناک سفر میں بلا ریب اس طویل سفر کی طرف اشارہ ہے۔ جو نبی ﷺ کو خاص مصیبت ناک حالات میں مکہ سے مدینہ تک پیش آنے والا ہے۔ ارکض برجلک بھی اپنے گھوڑے کو ایڑی لگا کر دوڑاؤ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ایوب علیہ السلام وہاں جا پہنچے ہیں۔ جہاں پینے اور غسل کے واسطے ان کو پانی مل جاتا ہے۔ ایوب کو خیال ہوا کہ وہ ایک بے آب ریگستان میں وارد ہے اور اس نے تھکان اور پیاس کی جب شکایت کی تو اس کو جواب ملتا ہے کہ گھوڑے یا سواری کے جانور کو تیز چلاؤ۔ پھر تم کو آرام مل جائے گا۔ یہ ایک نصیحت ہے کہ مشکلات میں نا امید نہ ہونا چاہئے۔ ” خذ بیدک ضغثاً ولا تحنث “ اس آیت میں تین الگ الگ الفاظ ہیں۔ ان کے مفہوم کے متعلق عموماً غلط فہمی واقعہ ہوئی ہے۔ اس کے قصہ میں کل مفسرین ایک دوسرے کے مقلد ہیں۔ مفسرین کا بیان ہے کہ ایوب نے اپنی بیوی کو ١٠٠ کوڑے مارنے کی حلف اٹھائی تھی اور اس نے اپنی حلف کو آخر اس طرح پورا کر دیا کہ تنکوں کا مٹھا لے کر اس کو مار دیا۔ قرآن یا کسی صحیح حدیث میں اس قصہ کا کوئی نشان نہیں ملتا۔ ضغث کے معنی اگر چہ ٹہنیوں کا مٹھا بھی ہے۔ مگر اس کے دوسرے معنے بھی ہیں اور مترجم کا فرض ہے کہ اصل عبارت کے موقعہ کو مدنظر رکھ کر مناسب معنی تجویز کرے اور صاف الفاظ کی تشریح کے واسطے قصہ ایجاد کرنے سے پرہیز کرے۔ حدیث ”اخذ الضغث“ کے معنے دنیاوی اسباب کے لینے والا ہے۔ قرآن میں بھی ان دو الفاظ کا یہ مفہوم ہے کہ ایوب کو کچھ دنیاوی مال و متاع دیا گیا تھا۔ اب صرف لا تحنث کی تشریح باقی ہے۔ پس اس کا حقیقی مطلب سمجھنے میں کوئی بڑا اشکال نہیں ۔ کیونکہ قاموس اور لین صاحب کی لغت میں حنث کے صاف معنے درج ہیں کہ فلاں شخص حق سے باطل کی طرف مائل ہو گیا۔ اب اس آیت کا یہ مفہوم حاصل ہوا کہ ایوب کو نصیحت کی جاتی ہے کہ حصول دولت پر بدی کی طرف راغب مت ہونا۔“
٣١
اپنے قرآن کے ص ٨٨٦، ٨٨٧ پر اس تے ہیں وہ کسی ریگستانی سفر کا واقعہ معلوم سوس ہوئی۔ اس کی معاون بہت سی دلائل تے ہیں۔ دوسرا قرینہ یہ ہے کہ بطور علاج یا اور غسل ہر دو کے واسطے ٹھنڈا پانی موجود ۔ کیونکہ شیطان الفلاء حسب قاموس اور ب کے اس مصیبت ناک سفر میں بلا ریب صیبت ناک حالات میں مکہ سے مدینہ تک کو ایڑی لگا کر دوڑاؤ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ینے اور غسل کے واسطے ان کو پانی مل جاتا وارد ہے اور اس نے تھکان اور پیاس کی ی کے جانور کو تیز چلاؤ۔ پھر تم کو آرام مل ا چاہئے۔ ”خذ بيدك ضغثاً
ان کے مفہوم کے متعلق عموماً غلط فہمی واقعہ کے مقلد ہیں۔ مفسرین کا بیان ہے کہ ایوب راس نے اپنی حلف کو آخر اس طرح پورا
صحیح حدیث میں اس قصہ کا کوئی نشان نہیں اس کے دوسرے معنے بھی ہیں اور مترجم کا معنی تجویز کرے اور صاف الفاظ کی تشریح خذ الضغث“ کے معنے دنیاوی اسباب م ہے کہ ایوب کو کچھ دنیاوی مال ومتاع کا حقیقی مطلب سمجھنے میں کوئی بڑا اشکال کے صاف معنے درج ہیں کہ فلاں شخص حق حاصل ہوا کہ ایوب کو نصیحت کی جاتی ہے
مولوی صاحب کی تفسیر متعلق قصہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جس قدر تھی وہ خاکسار نے ان کے انگریزی قرآن سے اردو میں ترجمہ کر کے ناظرین کے سامنے رکھ دی ہے۔ ارکض برجلك کے متعلق مولوی صاحب نے دو امثلہ رکضت الفرس برجلى لینے میں گھوڑے کو اپنے پاؤں سے مار کر وہ تیز چلے رکض الدابة برجل یعنے اس گھوڑے کو تیز چلانے کے واسطے پاؤں مارا ان کی تفسیر میں بحوالہ لغات مذکور ہیں۔ جو سہواً مجھ سے رہ گئی ہیں۔ اب بیان کر دی گئی ہیں۔ تاکہ مولوی صاحب کا حق میرے پر باقی نہ رہے۔ مولوی صاحب حضرت ایوب علیہ السلام کے تذکرہ میں تین افسوس ظاہر فرماتے ہیں۔ ایک یہ کہ مترجم حسب منشاء متن قرآن ترجمہ نہیں کرتے۔ دوم یہ کہ کل مفسرین ایک دوسرے کی تقلید بلا تحقیق کرتے ہیں۔ سوم یہ کہ سب مفسرین نے بدوں کسی صحیح روایت کے یہ قصہ خود بخود گھڑ لیا ہے کہ ایوب علیہ السلام نے اپنی بیوی کو سو ١٠٠ درہ لگانے کی قسم کھائی تھی۔ سب کو انہوں نے اس طرح پورا کر دیا کہ سو ١٠٠ تنکوں کا مٹھا لے کر اپنی بیوی کو مار دیا۔ اب کون پوچھے کہ مولوی صاحب! کسی اہل زبان فاضل نے گذشتہ صدیوں میں اگر قرآن کے اس مقام پر آپ کی طرح تفسیر نہیں کی تو آپ کی تفسیر کل کے مقابلہ میں کیوں کر قابل اعتبار ہے۔ حالانکہ نہ آپ کو اہل زبان ہونے کا فخر حاصل ہے۔ نہ عرب اور مصر میں رہ کر علماء سے عربی علم ادب سیکھنے کا۔ آپ نے اسی پنجاب میں کچھ ٹوٹی پھوٹی عربی سیکھ کر اہل زبان مفسرین کی عربی دانی پر نکتہ چینی شروع کر دی۔ سلف کے اہل زبان فضلاء سے کوئی بھی اس لائق نہیں تھا کہ قرآن شریف کو سمجھ سکتا؟۔ جو کچھ آپ کے ترجمہ کا معہ اکثر دیگر مقامات کے مفہوم ہے وہ حدیث ذیل کا مصداق ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اخیر زمانہ میں فریب دینے والے جھوٹے ایسی باتیں لائیں گے جن کو نہ تم نے کبھی سنا ہے نہ تمہارے باپ دادوں نے۔ پس ان سے بچو اور ان کو آپ سے بچاؤ۔ مبادا وہ تم کو گمراہ کر کے فتنہ میں ڈال دیں گے۔
(مشکوٰۃ ص ٢٨، باب اعتصام بالکتاب والسنۃ فصل اول روایت کیا اس کو مسلم نے)
اس زمانہ میں قرآنی معارف کے علم کی ہر دو مرزائی جماعتیں (لاہوری اور قادیانی) مدعی ہیں۔ مگر بموجب حدیث مذکورہ آپ کے معنی باطل ہیں۔ کیونکہ سلف کے کسی اہل زبان مفسر نے اس طرح ترجمہ نہیں کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ مفسرین نے قصہ خود گھڑ لیا ہے۔ جس کی بناء کسی صحیح حدیث پر نہیں۔ سبحان اللہ مولوی صاحب کی جرات! علماء سلف سے مطالبہ حدیث! ایسا مطالبہ
٣٢
محض اس شخص کا حق ہے۔ جو جناب رسول اللہ ﷺ کی بموجب شہادت قرآن شریف ” یعلمھم الکتب والحکمة (جمعہ:٢) “ تعلیم قرآنی کا قائل ہو ۔ مگر جو شخص احادیث صحیحہ متعلقہ تعلیم کو پس پشت ڈال کر تفسیر بالرائے یا لغت غیر متعلقہ کو ترجیح دیتا ہو وہ ” چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد “ کا صریح مصداق ہے۔ مولوی صاحب ! اگر بعض مفسرین نے بوجہ عدم ضرورت قصہ زیر بحث کے متعلق حدیث کا حوالہ نہیں دیا تو اس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا کہ واقعہ میں بھی کوئی صحیح حدیث نہیں ۔ ہمارا سارا رونا ہی اسی بات کا ہے کہ آپ تفسیر میں احادیث صحیحہ کو رد کر کے اپنی من مانی تفسیر کرتے ہیں۔ جس کی مثالیں گذشتہ نمبروں میں خاکسار پیش کر چکا ہے ۔ کیا ان مثالوں کو دیکھ کر اور میری کھلی چٹھی مندرجہ جدید انگریزی رسالہ پڑھ کر آپ نے احادیث کو پس پشت ڈالنے سے اپنی توبہ کا اعلان شائع کر دیا ہے؟۔ اگر نہیں کیا تو اب اس قصہ کے متعلق حدیث پیش ہونے پر کیا آپ اپنی تفسیر بالرائے سے توبہ کرنے کا اعلان شائع کرنے کو صدق دل سے آمادہ ہیں؟۔ مگر آپ میں تحقیق حق کی سچی پیاس ہرگز نہیں ۔ کیونکہ سائنس اور تقلیدی مذہب آپ کو اپنے محدود دائرہ سے ایک بال بھر بھی باہر قدم رکھنے کی جب ہر گز اجازت نہیں دیتے تو مطالبہ حدیث چہ معنی دارد؟۔ آئندہ نمبر کے تیار ہونے تک خاکسار آپ کے عہد کا انتظار کرے گا ۔ جس کو غالباً پندرہ یوم لگیں گے۔ اگر اس عرصہ تک آپ نے حلفاً عہد کا اعلان شائع فرما دیا تو چشم ما روشن دل ماشاد ۔ ورنہ ناظرین کی خاطر آپ کا مطلب انشاء اللہ پورا کر کے آپ پر حجت تمام کی جائے گی۔ آپ نے ارکض برجلك کا ترجمہ (اپنے گھوڑے کو ایڑی مار کر دوڑالے چلو) قرآن مترجمہ مولوی عبداللہ چکڑالوی منکر حدیث نبوی سے لیا ہے ۔ مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اوّل نے بھی وہیں سے لیا تھا۔ نیچری تفسیر نے اور مولوی صاحب مذکور کی تفسیر نے آپ کو بڑی مدد دی ہے۔ یہ ہر دو تفاسیر اہل سنت کے بالکل خلاف ۔ تفسیر بالرائے کا نظارہ اور پورا فوٹو ہیں ۔ جن سے بموجب فرمان رسول اللہ ﷺ بچنا لازم ہے ۔ جیسا کہ بحوالہ مشکوٰۃ اوپر مذکور ہو چکا ہے۔ آئندہ نمبر میں انشاء اللہ مولوی صاحب کے ترجمہ و تفسیر کا بطلان احادیث و عقلی دلائل سے ثابت کیا جائے گا ۔
ریویو نمبر ٩
یہ سلسلہ زیب عنوان نمبر ٦ مطبوعہ اہل حدیث مورخہ ٢١؍ اکتوبر ١٩٢١ء میں خاکسار نے مولوی محمد علی صاحب سے جو کچھ اپنے ترجمہ اور تفسیر میں متعلق ابتلاء حضرت ایوب علیہ ٤٣
السلام لکھا تھا۔ اس کو بیان کر کے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر مولوی صاحب ١٥ دن تک تفسیر بالرائے سے اپنی توبہ کا اعلان شائع فرمائیں گے ١؎ تو انشاء اللہ خاکسار بذریعہ احادیث صحیحہ اور اقتضاء النص ودلالت النص آئندہ نمبر میں ثابت کر دے گا کہ ابتلاء حضرت ایوب علیہ السلام کو جو پیش آیا تھا اس کی نوعیت کیا تھی اور ارکض برجلك کا ترجمہ (اپنے گھوڑے کو ایڑی لگا کر تیز چلاؤ ) نہیں اور خذ بيدك ضغثاً فاضرب به ولا تحنث کا مفہوم ( دنیاوی اسباب ) کسی قدر لے لو پھر اس پر قناعت کرو اور باطل کی طرف میلان مت کرو صحیح نہیں۔ مولوی صاحب نے رکض کی جو دو مثالیں اپنے نوٹ میں پیش کی ہیں وہاں ہر دو میں جانور کا لفظ ساتھ شامل ہے اور ایسے موقعہ پر بلا ریب مفہوم جانور کو تیز کرنے کے سوا دوسرا نہیں ہو سکتا۔ مگر نص زیر بحث میں نہ فرس ہے نہ دابۃ لہٰذا مولوی صاحب نے ( گھوڑا) اپنی رائے سے اس میں شامل کر کے ثابت کر دیا کہ لغت کی مثال کی بھی وہ بخوبی اصلاح کر سکتے ہیں۔ اسی طرح فاضرب بہ کا ترجمہ (پھر اسی پر قناعت کرو ) ان کی خانہ زاد ایجاد ہے۔ ضرب کے معنے اگر قناعت کرنے کے عربی محاورہ میں ہو سکتے ہیں تو مولوی صاحب کو کسی لغت سے اس کی مثال پیش کرنا مناسب تھا۔ مگر اس میں ناکام رہ کر تفسیر بالرائے کا حق پورا ادا کیا۔ جب مولوی صاحب کی اپنی علمیت کی یہ حالت ہو تو کل مفسرین پر آیات زیر بحث کا غلط ترجمہ کرنے کا الزام لگانا انصاف سے نہایت بعید ہے۔ مولوی صاحب نے اس الزام سے فخر الدین رازی کو بھی جن کی تفسیر کا اکثر دفعہ حوالہ پیش کرتے ہیں۔ مستثنیٰ نہیں کیا۔ اگر کوئی فرشتہ رازی مرحوم کی قبر میں جا کر ان کے کان میں پھونک دے کہ حضرت کچھ خبر ہے کہ مولوی محمد علی لاہوری مرزائی جماعت کے امیر نے آپ کی تفسیر کو بھی ردی کر دیا ہے۔ تو وہ یقیناً ہنس کر یہ شعر پڑھ دیں گے ۔
کہ مراعاقبت نشانه نه کرد
چونکہ خاکسار کو کامل یقین ہے کہ وہ عمر بھر بھی اپنی تفسیر بالرائے سے رجوع نہیں کریں گے۔ کیونکہ خاکسار کی کھلی چٹھی مندرجہ انگریزی رسالہ مصنفہ خاکسار کو پڑھ کر بھی آپ نے پانچ ماہ میں اب تک رجوع کا نام نہیں لیا اور علاوہ ازیں وہ اپنے انگریزی قرآن کے دیباچہ میں
١؎ شملہ میں کسی مناظر اہل حدیث نے مولوی محمد علی صاحب سے آپ کے سلسلہ مضامین کا ذکر کیا تو مولوی صاحب نے کہا ماسٹر غلام حیدر صاحب اگر پرائیویٹ طور پر مجھے اطلاع دیتے تو میں خود غور کرتا، اس کا مطلب کیا ہے؟۔سب سمجھ سکتے ہیں۔ (اہل حدیث )
٣٤
فرماتے ہیں کہ: ”مرزا غلام احمد قادیانی زمانہ جدید کے افضل مجدد و مہدی نے اس ترجمہ و تفسیر کے متعلق میرے دل میں نہایت عمدہ آگاہی بطور الہام ڈال دی ہے اور اس کے علمی چشمہ سے میں نے بخوبی سیر ہو کر حصہ لیا ہے۔
اس واسطے ان کے رجوع کا زیادہ انتظار فضول جان کر اپنا وعدہ خاکسار پورا کرتا ہے۔
اوّل خود عبارت النص، دلالت النص، اقتضاء النص، اشارت النص سے بعد ازاں احادیث صحیحہ و دیگر معتبر ذرائع سے وما توفیقی الا بالله العظیم!
حضرت ایوب علیہ السلام کو جب ایک خاص ابتلاء سے اللہ تعالیٰ نے نجات بخشی تو بطور تعریف و قدر دانی کے انا وجدناه صابراً فرمایا آسمانی یونیورسٹی سفر کی معمولی یا غیر معمولی تھکان اور پیاس برداشت کرنے کی وجہ سے اس قسم کا کریڈٹ یا اعلیٰ سرٹیفکیٹ ہرگز نہیں دیا کرتی۔ کیونکہ سفر کی سخت سے سخت تکالیف ایک غیر مومن بھی بخوبی برداشت کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ جس کی تاریخ اور واقعات ہر دو شاہد ہیں۔ مولوی صاحب کی تفسیر میں یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو جب تھکان اور سفر میں پیاس نے بہت لاچار کیا تو آپ نے رفع تکلیف کے واسطے دعا مانگی۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے الہام کیا کہ اے ایوب اپنے گھوڑے کو ایڑی لگا کر تیز کرو تم کو غسل اور پینے کے واسطے ایک جگہ مل جائے گی۔ اب کون پوچھے کہ مولوی صاحب! ایک آدھ دن کی تکلیف سے بھی جو لاچار ہو کر صبر کا دامن چھوڑ کر واویلا کرنے لگ پڑتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ اس کو ”انا وجدنه صابراً“ کی اعلیٰ سند عطا فرما کر قیامت تک اپنے قرآن میں ایک نمونہ قائم کر سکتا ہے۔ یہ اعلیٰ سند مولوی صاحب نے ایسی سہل الحصول اور سستی کر دی ہے کہ بخدا ہم کو بھی لالچ پیدا ہو گیا ہے۔ مگر افسوس کہ سفارش کر کے دلانے والا مسیح موعود اب موجود نہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ جب قادیانی بہشتی مقبرہ میں چند فٹ خالی جگہ بدوں کافی مالی ایثار کے ملنی دشوار ہے تو ایسی اعلیٰ آسمانی سند ایک معمولی سفر کی تکلیف کی برداشت کے عوض نہیں بلکہ عدم برداشت اور واویلا کرنے سے کیوں کر مل سکتی ہے۔ بالخصوص ایک پیغمبر کو جن کے حصہ میں اللہ تعالیٰ نے بموجب حدیث سب خلق سے بڑھ کر مصائب مقدر فرمائے ہیں۔ تا کہ وہ خلقت کے واسطے سبق الانبیاء (ادب کاملین ) کا کام دیں۔ قرآن شریف میں انبیاء علیہم السلام کے خاص خاص اخلاق کا جہاں مذکور ہے، اس سے مراد ایسے کامل اخلاق کی بلا ریب ہے۔ جس سے بڑھ کر بشر میں ہونا غیر ممکن ہے۔ جب تک کسی نبی کا اخلاق ( شکور، حصور، حلیم، اوّاب، صابر وغیرہ) مختلف مواقعہ پر بذریعہ متواتر نتائج کے ثابت نہ ہو جائے۔ آسمانی تعلیم گاہ کمالیت کی سند ہرگز عطاء نہیں کرتی۔ ہمارے
٣٥
مولوی صاحب نے قرآن فہمی کے اصول سے پوری واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے حضرت ایوب علیہ السلام کو ”انا وجدنه صابراً“ کی ڈگری اور سند خدا تعالیٰ سے سفر کی معمولی تکلیف کے واسطے جس کو وہ پورے طور پر برداشت نہ کر سکے دلوادی ہے۔ ماقدروا الله حق قدرہ اور الہام بھی وہ کرا دیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نہایت موٹی عقل کے پیغمبر تھے۔ جن کو بدوں الہام ربانی کے اس قدر بھی سمجھنا دشوار تھا کہ سفر میں تھکان اور پیاس کے سبب پانی کا چشمہ تو تم کو مل جائے گا۔ مگر اپنی سواری کو ایڑی لگا کر تیز کر لو۔ ایک معمولی ناخواندہ کم عمر انسان بھی اس قدر خداداد عقل رکھتا ہے۔ کہ ایسی حالت میں اگر اس کو معلوم ہو جائے کہ آگے چل کر کچھ دوری پر پانی مل جائے گا۔ وہ بشرط یہ کہ سواری پر ہو۔ فوراً بلا تحریک و ترغیب اپنی سواری کو ہر ممکن کوشش سے تیز قدم کر لے گا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک پیغمبر کو اركض برجلك یعنی بموجب ترجمہ مولوی صاحب (اپنی سواری کو ایڑی لگا کر تیز کر لو) کے الہام کی کیا ضرورت تھی؟ صرف هذا مغتسل بارد وشراب کا الہام کافی تھا۔ اركض برجلك کا الہام ایک تحصیل حاصل ہے۔ جس سے معاذ اللہ خدائے ذوالجلال والاکرام کے ایک برگزیدہ پیغمبر پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ ایک موٹی عقل کے ایسے انسان تھے جو تکلیف میں پانی کے عنقریب ملنے کی یقینی اطلاع پا کر بھی بدوں الہام کے اپنی سواری کو تیز کرنے کی اٹکل سے خالی الذہن تھے۔ ناظرین نے اس خاکسار کے مذکورہ بیان سے ضرور بھانپ لیا ہوگا کہ جس قادیانی علمی چشمہ سے سیرابی کا وافر حصہ لیا گیا ہے۔ وہ چشمہ کیا حقیقت رکھتا ہے۔ جس کا ہمارے مولوی صاحب کو اس قدر ناز اور فخر ہے کہ کل مفسرین کو بیک نوک قلم مسترد کر دیا ہے کہ وہ سیاق و سباق کو دیکھے بغیر غلط معنی کر کے ایک دوسرے کی تقلید میں بناوٹی قصے اپنے دل سے گھڑ لیتے ہیں۔
اب حدیث سے ثبوت کی باری ہے۔ دلالت النص واقتضاء النص سے جو مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ محض اس کو ہی اگر مولوی صاحب غور اور تدبر سے تقلید مرزا کی زنجیر سے آزاد ہو کر سمجھتے تو حدیث کا اس بارہ میں کوئی مطالبہ نہ کرتے۔ مگر ان کے قلم سے جو نکلنا تھا وہ بموجب والقلم وما يسطرون رکنا محال تھا۔ خیر خدا ان کا بھلا کرے کہ خاکسار کو اللہ تعالیٰ نے خالص یہ خدمت سپرد کر کے اپنی غیبی نصرت فرمائی اور ناظرین کے واسطے ایک غیر معمولی ضیافت طبع پیش کی لله الحمد مباركاً طيباً!
حدیث کی عربی عبارت کا ملاحظہ اگر کسی کو منظور ہو تو کتاب ”رحمة المهداة الى من يريد زيادة العلم على (احاديث المشكوة ص ٢٨١)“ مطبوعہ مطبع فاروقیہ دہلی کو ٣٦
دیکھئے۔ اگر کسی کو اردو ترجمہ معہ سلسلہ روایات متعلقہ اس حدیث کے دیکھنا پسند ہو تو (تفسیر مواہب الرحمٰن ص١٨٤، سورہ ص پارہ ٢٣، جامع البیان ج ٢٣ پارہ ٢٣ ص ١٦٧) مطبوعہ کا ملاحظہ کرے۔ خلاصہ حدیث یہ ہے کہ شیخ ابن کثیر (تفسیر ابن کثیر ج٤ ص ٢٥) نے اس مقام پر لکھا ہے کہ "قال ابن جرير وابن ابي حاتم جميعاً حدثنا يونس بن عبدالاعلى اخبرنا ابن وهب واخبرني نافع بن يزيد عن عقيل عن ابن شهاب عن انس بن مالك رضی الله عنه" کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغمبر ایوب علیہ السلام اپنی بلاء میں اٹھارہ سال تک مبتلا رہا۔ اس کو نزدیک اور دور کے قرابتوں نے چھوڑ دیا سوائے دو مردوں کے جو ایوب علیہ السلام کے خاص بھائیوں میں سے تھے۔ یہ ہر دو ایوب علیہ السلام کے پاس صبح شام آیا جایا کرتے تھے۔ ایک دن ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ واللہ ایوب علیہ السلام نے کوئی ایسا سخت گناہ کیا ہے کہ شاید اہل عالم میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے ساتھی نے کہا تو کس دلیل سے ایسا کہتا ہے۔ اس نے جواب دیا اس دلیل سے ایسا کہتا ہوں کہ آج اٹھارہ برس گزرے کہ اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام پر رحم نہ فرمایا کہ اس سے یہ بیماری دفعہ ہو جاتی۔ پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس بیماری میں ایوب علیہ السلام کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ اپنی قضائے حاجت کے واسطے جاتے اور جب فارغ ہوتے تو ان کی زوجہ ان کا ہاتھ تھام لیتی۔ یہاں تک کہ اسی سہارے پر اپنی جگہ پہنچ جاتے۔ پر ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ جب ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کو گئے اور یہ نیک بخت عورت منتظر تھی۔ مگر کوئی آواز نہ آئی اور اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو یہ وحی فرمائی۔ "اركض برجلك هذا مغتسل بارد وشراب (ص:٤٢)" پھر جب عورت کو انتظار میں بہت دیر لگی تو وہ پاکدامنہ بڑھ کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔ اس کی نگاہ پڑی کہ ایوب علیہ السلام ایسے حال میں اس کے سامنے آ رہا ہے کہ جو بیماری اس کو تھی وہ بالکل جاتی رہی ہے۔ عورت کو یہ گمان بھی نہ ہوا کہ یہی آدمی ایوب علیہ السلام ہے۔ وہ مخاطب ہو کر بولی بھلا تو نے اس پیغمبر کو کہیں دیکھا ہے۔ جو بیماری میں مبتلا تھا واللہ تندرستی کی حالت میں وہ بالکل تیرے مشابہ تھا۔ اس پر حضرت ایوب علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں ہی وہ ایوب علیہ السلام ہوں۔ ماخذ اس حدیث کا حافظ ابو نعیم اصفہانی کی کتاب حلیہ ہے۔
اب ناظرین نے دیکھ لیا ہوگا کہ مولوی محمد علی صاحب نے جو ایک معمولی سفر کی تکلیف کے واسطے حضرت ایوب علیہ السلام کو درس گاہ آسمانی سے انا وجدنه صابراً کی سند دلوائی تھی اور آپ کی طرف پانی ملنے کی توقع سے گھوڑے کو تیز کر لینے کا الہام جو نازل کرا دیا تھا واقعی وہ
٣٧
مصیبت کس قدر عرصہ آپ پر وارد رہی اور (ارکض برجلک) سے مراد ایڑی مارنے سے بطور خارق عادت ایک چشمہ کا پھوٹ نکلنا تھا۔ ایسی لاچاری کی حالت میں جب وہ چلنے پھرنے سے عاجز تھے ١٨ سالہ ابتلاء کے بعد اجابت دعاء کا نتیجہ اس سے کمتر کیا ہوتا۔ تورات کے سارے بیان سے ہمارا اتفاق نہیں۔ مگر حضرت ایوب علیہ السلام کے پہلے اور دوسرے باب میں حضرت کے جسم پر تمام سخت چھالے پڑ جانے کا ذکر موجود ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ شیطان نے ایوب علیہ السلام کو ضرر پہنچانے کے واسطے اللہ تعالیٰ سے اجازت لے لی۔ اللہ تعالیٰ کو بھی حضرت ایوب علیہ السلام کا ابتلاء منظور تھا۔ تاکہ وہ قیامت تک صبر کا عملی نمونہ خلق کے واسطے قائم ہوں۔ قرآن کا انی مسنی الشیطان بنصب تورات کے اس بیان پر خود شاہد ہے۔ بہر صورت سخت قسم کی بیماری میں حدیث شریف اور تورات دونوں متفق ہیں۔ اگرچہ تورات والی خاص بیماری کے ہم قائل نہ ہوں کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو نہیں بتلایا۔ باقی بیماری کے عرصہ کا اور چشمہ حضرت ایوب علیہ السلام کی لات مارنے سے پھوٹ نکلنا صرف حدیث سے ثابت ہے۔ جو خاص آیات متعلقہ کی تفسیر ہے۔
باقی جواب خذ بیدک ضغثاً کی تشریح آئندہ کسی نمبر میں انشاء اللہ تعالیٰ ہوگی۔
ریویو نمبر ١٠
سابقہ نمبر ٧ مطبوعہ اہل حدیث مورخہ ٩ نومبر ١٩٢١ء میں ہر دو باقتضاء النص قرآن بحوالہ صحیح حدیث یہ ثابت کیا گیا تھا کہ حضرت ایوب علیہ السلام پورے اٹھارہ سال تک ایک سخت بیماری میں مبتلاء رہے۔ جس میں سوائے ان کی پاک دامن بیوی کے ان کی خدمت سے سب قریبی اور بعیدی رشتہ دار بھاگ گئے تھے۔ حتیٰ کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں کے پاؤں کی ٹھوکر سے ایک ایسا چشمہ بطور خرق عادت کے جاری فرما دیا۔ جس کے بابرکت پانی کے استعمال سے آپ بالکل صحیح و تندرست ہو گئے۔ جس غیر معمولی صبر سے آپ نے اس ابتلاء کو اٹھارہ سال تک برداشت کیا۔ اس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو انا وجدنه صابراً کی سند عطا فرمائی جو مولوی صاحب نے سفر کی ایک آدھ دن کی معمولی تکلیف کے واسطے ان کو دلوا دی تھی۔ باقی بیان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ تمہید نمبر موجودہ کے واسطے اسی مقدار کی ضرورت تھی۔ نمبر ٧ میں ”خذ بیدک ضغثاً فاضرب بہ ولا تحنث“ کے متعلق آئندہ لکھنے کا وعدہ تھا۔ جس کو اب بفضل اللہ تعالیٰ پورا کیا جاتا ہے۔ مولوی صاحب نے اپنے انگریزی قرآن میں اس
٣٨
آیت کا اس طرح ترجمہ کیا ہے۔ اپنے ہاتھ میں کسی قدر دنیاوی مال لے لو پھر اسی پر قناعت کرو اور باطل کی طرف مت جھکو۔ لغت کی بعض کتب سے اپنے معنے ثابت کرنے کی بہت کوشش بھی کی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے فاضرب بہ کے معنے کسی عربی لغت کی کتاب یا محاورہ عرب سے (قناعت کرنے کے) ثابت کرنے کی زحمت کو عمداً گوارا نہیں کیا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو اعتراض اس آیت کے بالکل غلط ترجمہ کرنے کا وہ کل مفسرین پر کرتے ہیں۔ اس کے صحیح ترجمہ کا خود بھی ثبوت نہ دے سکے۔ لغت متعدد معنوں کی بیشک متحمل ہوتی ہے۔ مگر بموجودگی صحیح حدیث یا معتبر قول صحابیؓ جس سے دوسرے صحابہؓ نے انکار نہ کیا ہو لغت کے متعدد معنوں سے صرف وہی قبول کیا جانے کا حق رکھتے ہیں۔ جو مطابق حدیث یا قول صحابیؓ ہو۔ جس کی تشریح ابھی ہو چکی ہے۔ صحابہؓ زیر تعلیم جناب رسول اللہ ﷺ رہ چکے ہیں۔ جس پر دلیل یہ آیت ہے۔ "یعلمہم الکتاب والحکمة (جمعہ:٢)" بعض میں خصوصیت بطور معجزہ بطفیل دعا حضرت سرور کائنات ﷺ ثابت ہے۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عباسؓ۔ جلال الدین سیوطی اپنی تفسیر درمنثور ج ٥ ص ٣١٦ میں زیر آیت مذکورہ بروایت امام احمد حضرت ابن عباسؓ سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے اپنی بیماری میں (کسی قصور کے واسطے) اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی حلف اٹھائی تھی۔ اب حال پوشیدہ نہیں کہ بعد صحت یاب ہونے کے اپنی قسم کو پورا کرنے کی فکر پڑی۔ اس کی خدمت یاد آتی تو کوڑے لگانا خلاف انصاف دیکھتے، قسم یاد آ جاتی تو اس کا پورا کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک آسان تدبیر بتلادی کہ ایوب علیہ السلام اپنے ہاتھ میں سو تنکوں کا ایک مٹھا باندھ کر ایک دفعہ ہی بیوی کے مار دے اور قسم میں جھوٹا مت بنے۔ سب سے اوّل جناب رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی نص سے ایک ضعیف الخلقت شخص پر جو زنا کی سو کوڑے کی حد برداشت نہ کر سکتا تھا۔ اسی قسم کی حد لگانے کا حکم فرمایا۔ دیکھو (مشکوٰۃ ص ٣١٢ کتاب الحدود فصل ثانی حدیث سعید بن سعد بن عبادہ) مسند امام احمد میں بھی ایسا ہی ایک ذکر مذکورہ ہے۔ طبرانی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔ مذہب حنفی میں اس قسم کا حکم موجود ہے۔ اب اس قدر قرائن کو نظر انداز کر دینا مولوی صاحب کا ہی کام ہے۔ حضرت علیؓ جنہوں نے کوفہ کو اپنی خلافت میں صدر مقام بنایا تھا وہاں کی مسجد میں اگا ہوا ضغث دیکھا تھا۔ جس سے حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کی بیوی کو مارنے کا حکم فرمایا تھا۔ (دیکھو مجمع البحار اور وحید اللغات) ضغث کے ساتھ قرینہ (فاضرب بہ) کا صاف مانع ہے کہ اس کو مال دنیا کے مفہوم میں خواہ مخواہ تبدیل کیا جائے۔ اگر ٢٩
مولوی صاحب لغت یا محاورہ عرب سے (ضرب) کے معنے قناعت کرنے کے ثابت کر دیتے۔ جو انہوں نے بالکل نہیں کئے اور نہ وہ آئندہ کر سکتے ہیں۔ تو البتہ اس صورت میں ہم اس نرالی تاویل کی ایجاد پر ان کی قابلیت کی داد دیتے۔ مولوی صاحب کا کل مفسرین کو اس آیت کے غلط مفہوم بیان کرنے کے واسطے الزام دنیا درست نہیں۔ جس مفہوم کے بیان میں کل مفسرین یا اکثر متفق ہوں۔ وہ بالضرور تحقیق کی بناء پر ہوتا ہے۔ اس کو ایک دوسرے کی تقلید سے منسوب کرنا عدم تدبر کا نتیجہ ہے۔ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ مولوی صاحب نے خود مولوی عبداللہ چکڑالوی کی اس آیت میں اور اکثر مواقع میں تقلید کی ہے۔ تورات میں اس قدر تو ثابت ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی نے ان کی بیماری میں ان سے اس طرح کہا۔ (کیا تو اب تک اپنی دیانت پر قائم رہتا ہے؟۔ خدا کو ملامت کر اور مرجا) اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تو نادان عورتوں کی بات بولتی ہے۔ کیا ہم خدا سے اچھی چیزیں لے لیویں اور بری چیزیں نہ لیویں۔
(دیکھو تورات ایوب ب ٢ آیت ٩ ١٠)
مفسرین نے چند دیگر وجوہات بھی بیان کی ہیں۔ جو حضرت ایوب علیہ السلام کے اپنی بیوی پر ناراض ہونے کا باعث ہوئیں۔ مگر ہم ان کو نظر انداز کر کے اقتضاء النص پر صرف قناعت کرتے ہیں کہ ضرور آپ اپنی بیوی سے ناراض ہو کر سزا دینے کی قسم کھا بیٹھے تھے۔ جس کو پورا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت آسان تدبیر بتلائی اور حیلہ شرعی کا جواز بھی اسی نص کی بناء پر ہے۔ بشرط یہ کہ اس میں کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ جس طرح خود جناب سرور کونین ﷺ سے ایک زانی کی سزا میں ثابت ہوتا ہے۔ جس کا ذکر ابھی ہو چکا ہے۔
اس نمبر میں ہم ایک قرضہ سے بھی سبکدوش ہونا چاہتے ہیں۔ جو بصورت چیلنج پیش کیا گیا تھا۔ (اخبار پیغام صلح مطبوعہ ٧ ستمبر ١٩٢١ء) کہ ماسٹر غلام حیدر قرآن کریم سے مچھلی کا بھنا ہونا اور پھر زندہ ہونا ثابت کریں۔ اڈیٹر صاحب اپنے مضمون میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ بخاری کی احادیث کتاب العلم وکتاب الانبیاء میں مچھلی کے مردہ ہو کر زندہ ہونے کی طرف کنایہ اور اشارہ تک بھی موجود نہیں۔
شکر ہے کہ اڈیٹر صاحب نے بخاری کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ تسلیم کر لیا ہے۔ مگر معلوم نہیں آپ کے امیر صاحب کا اس کے متعلق کیا عقیدہ ہے۔ ہم نے گذشتہ نمبروں میں بعض آیات کی تفسیر بموجب حدیث بخاری کے ثابت کیا تھا کہ مولوی محمد علی صاحب امیر احمدی جماعت لاہور نے ان سب احادیث کو پس پشت ڈال کر تفسیر بالرائے کو ترجیح دی ہے۔ آئندہ
٤٠
بھی احادیث بخاری پیش کر کے ہم ہر دو جماعتوں پر ثابت کر دیں گے کہ بخاری شریف کے متعلق اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا دعویٰ ان حضرات کا محض زبانی ہے۔ نہ عملی۔ گاہ گاہ بطور تبرک یا رفع بدظنی کوئی کوئی حدیث عملی طور پر مان بھی لیتے ہیں۔ احادیث صحیحہ خواہ وہ کسی محدث کی ہوں اہل سنت کے نزدیک قابل قبول ہیں۔ بہت سے مسائل شریعت اسلام کے ایسے بھی ہیں کہ بخاری یا مسلم ان کا کوئی فیصلہ ہرگز نہیں کر سکتے۔ غرض احادیث صحیحہ کے بارہ میں ہر دو جماعت کا عقیدہ مولوی عبداللہ چکڑالوی منکر احادیث اور اہل سنت کے بین بین ہے۔ نہ تو بالکل اہل قرآن ہیں نہ بالکل اہل سنت، مرزا قادیانی۔ (ہر دو جماعت کے امام) کا بھی یہی مسلک تھا۔ پس بموجب آیت ”فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فی انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما (نساء:٦٥)“ ان سے توقع رکھنا بالکل فضول ہے۔ یہ آیت مومن اور غیر مومن کے بارہ میں ایک قطعی نص ہے۔
اب ہم حوت (مچھلی) موسیٰ علیہ السلام کے متعلق چیلنج ایڈیٹر صاحب پیغام صلح کا بخوشی منظور کر کے عرض کرتے ہیں کہ بموجب احادیث بخاری ایڈیٹر صاحب نے اس قدر تو تسلیم کر لیا ہے کہ مچھلی تڑپ کر برتن سے نکل کر دریا کے کنارے پر گری۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پانی کی رو کو مچھلی سے روک لیا اور وہ اس کے اوپر طاق کی طرح بن کر رہ گئی۔ یعنی اس مچھلی کو بہا کر نہیں لے گئی۔ ایڈیٹر صاحب اگر صرف دلالت النص پر غور کرتے تو مچھلی کا موجودہ حالت سے زندہ ہو جانا سمجھ جاتے۔ ایک خاص مقام پر پہنچ کر مچھلی کا زنبیل سے تڑپ کر باہر کود پڑنا اور اس سے پہلے غیر متحرک رہنا صاف دلیل ہے۔ اس امر کی کہ اس مقام کی تاثیر کا اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ جس کو روایات صحیحہ میں چشمہ حیات یا آب حیات بتلایا گیا ہے اور اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے خضر علیہ السلام کے پتہ کا نشان یہی خاص مقام حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتلایا تھا۔ ایڈیٹر صاحب فرماتے ہیں کہ مچھلی کے مردہ سے زندہ ہو جانے کا احادیث بخاری ومسلم میں کنایہ واشارہ تک بھی موجود نہیں۔ پانی کی رو کا رک جانا اور مچھلی کے اوپر اس کا طاق کی طرح بن جانا بھی خوارق عادت امور ہیں۔ جب ان کو ماننے سے چارہ نہیں تو خاص مچھلی کا اسی خاص مقام پر متحرک ہو کر اور اچھل کر خود بخود پانی میں جا پڑنا، مردہ سے زندہ ہونے کی کافی دلیل ہے۔ جس کو اہل علم دلالت النص بولتے ہیں۔ ایڈیٹر صاحب بخاری شریف کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ صرف زبان سے کہتے ہیں۔ مگر اس کو غور سے مطالعہ کرنا یا اس کی مدد سے اپنے عقائد کی اصلاح و قرآن شریف کا مطلب سمجھنے کی ذرا پرواہ نہیں کرتے۔
٤١
اگر بخاری شریف کو آپ نے کسی اہل علم اہل سنت سے باقاعدہ پڑھا ہوتا یا صرف مطالعہ کے ذریعہ اس پر عبور ہوتا تو اس کے بخاری ص ٦٨٨ تا ٦٩٠ میں سورہ کہف کے متعلق تین احادیث مجمع البحرین کی بھی آپ کی نظر سے گزری ہوتیں اور آپ کو بے فائدہ چیلنج دینے کی زحمت اور شرمساری برداشت کرنی نہ پڑتی۔ براہ کرم ان ہر سہ احادیث کی شرح و ترجمہ بھی ساتھ لینا۔ کیونکہ یہ معمولی کتاب نہیں کہ بدون ان ذرائع کے اس کے باریک نکات آسانی سے حل ہوسکیں۔ آپ ان احادیث میں مچھلی کا مردہ ہونا ضرور پائیں گے۔ ”خذ نوناً ميتاً حيث ينفخ فيه الروح (بخاری ج ٢ ص ٦٨٨، كتاب التفسير) ”بروایت ابن عباسؓ وكان الحوت قد اكل منه فلما قطر عليها الماء عاش“ ”فى اصل الصخرة عين يقال له الحيوة لا يصيب من مائها شئى الا حى (بخاری ج ٢ ص ٦٩٠، مسلم ج ٢ ص ٢٧، باب فضائل الخضر فقيل له تزود حوتاً مالحا) “باقی احادیث اس حوت کے متعلق ترمذی ودیگر محدثین کی بوجہ طوالت نظر انداز کر کے مجبوراً عرض کرتا ہوں کہ ہر دو احمدی جماعت دنیا میں باذن اللہ مردہ زندہ ہونے کو تسلیم نہیں کرتیں۔ اگرچہ یہ قرآن اور احادیث ہر دو سے ثابت ہو وہاں اپنی رائے سے کھینچ تان کر تاویل کر کے ایسے واقعہ کو خرق عادت فعل سے خارج کر دیتے ہیں۔ خواہ کوئی قرینہ ایسی ضرورت کا موجود ہو یا نہ ہو۔
ریویو نمبر ١١
- ١....... مولوی صاحب اپنے قرآن شریف کے ص ٤٦٦ نوٹ نمبر ١١٨٩ میں
متعلق آیت ”ولقد جاءت رسلنا ابراهيم بالبشرى قالوا سلماً (هود: ٦٩)“ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید سے صاف طور پر ثابت نہیں کہ وہ رسول واقعہ میں فرشتے تھے۔ تورات پیدائش باب ١٨ سے مولوی صاحب نے اپنے اس بیان کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ کیونکہ وہاں فرشتوں کی بجائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس مردوں کا آنا اور طعام میں شریک ہونا لکھا ہے۔ مولوی صاحب اگر تورات سے پیدائش کے باب ١٩ کو بھی دیکھتے تو ان مردوں کو فرشتہ لکھا ہوا پاتے۔ پس ایک محرف کتاب کا حوالہ جس میں دو مختلف بیان ایک وجود کی شخصیت کے متعلق مذکور ہوں۔ مولوی صاحب بطور حجت کے پیش نہیں کر سکتے یہ عقل باور نہیں کر سکتی کہ جب مولوی صاحب نے باب ١٨ دیکھا تھا۔ باب ١٩ نہ دیکھا ہو۔ کیونکہ وہ باب نہایت قریب اور متصل ہے۔ اپنا مطلب پورا کرنے کو چشم پوشی سے کام لیا۔ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ
٤٢
السلام کے مرسلین کو قرآن شریف وضاحت سے فرشتے بیان نہیں کرتا۔ جناب من تورات ایسے بیان سے قاصر ہے نہ قرآن شریف جس نے اس بارہ میں وضاحت کا ایسا حق ادا کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ممکن نہیں قرآن شریف میں لفظ رسول رسل مرسلين بعوض ملائك قریباً تیرہ دفعہ مذکورہ ہے۔ مثلاً ”الله يصطفى من الملائكة رسلاً ومن الناس (الحج:٧٥)“ ”جاعل الملئكة رسلاً (فاطر:١)“ ”توفته رسلنا (انعام:٦١)“ ”بلى ورسلنا لديهم يكتبون (زخرف:٨٠)“ وغیرہ۔
قرآن شریف نے مقام زیر بحث کے لفظ رسلنا کی بعض دیگر مواقع پر ایسی تفسیر خود کر دی ہے کہ شک کی ہرگز گنجائش نہیں۔ سورہ عنکبوت میں ہے۔ ”قالوا انا مهلكو اهل هذه القرية (عنکبوت:٣١)“ ”انا منزلون على هذه القرية رجزا من السماء بما كانوا يفسقون (عنکبوت:٣٤)“
پھر اور جگہ میں اسی طرح ”قالوا انا ارسلنا الى قوم مجرمين لنرسل عليهم حجارة من طين (الذاریت:٣٢، ٣٣)“ اب ان تین مذکورہ مقامات سے بوضاحت ثابت ہورہا ہے کہ وہ فرشتے انسان کی صورت میں متمثل تھے۔ کیونکہ جو مشن انہوں نے اپنا ظاہر کیا۔ یعنی مامور بہ ہلاکت قریہ لوط علیہ السلام وہ انسانی طاقت سے محال ہے اور بموجب مدبرات امراً ملائک مختلف امور پر مامور ہوتے ہیں اور اس عالم اسباب میں اللہ تعالیٰ کی سنت اسی طرح جاری ہے۔ اگرچہ وہ لا شريك له (کن فیکون) پر اکیلا قادر ہے۔ عمل لکھنے والے جان قبض کرنے والے مومنین کے واسطے استغفار کرنے والے غرض بہت سے امور پر ملائک موکل ہیں۔ جن سے مومن بالقرآن ہرگز انکار نہیں کر سکتا۔ مگر صرف وہی جس کی قسمت میں قرآن شریف کے متعلق شرح صدر کا حصہ نہیں رکھا گیا۔ محرف تورات نے ان وجودوں کو مرد بھی لکھ دیا ہے اور آٹے کے پھلکے اور دودھ اور گوشت بھی کھلا دیا ہے۔ (پیدائش باب١٨) جس سے ان مولوی صاحب کو اپنی تفسیر بالرائے کو صحیح ثابت کرنے کا عمدہ موقعہ قسمت سے مل گیا ہے۔ مگر مولوی صاحب نے اگلے باب کو نہ دیکھا جہاں ان اشخاص کو فرشتہ لکھا گیا ہے۔ محرف تورات کو کیا خبر ہے کہ فرشتے کھانا نہیں کھایا کرتے۔ یہ فیصلہ قرآن کریم کے ذمہ تھا جو کامل کتاب ناممکن التحریف تا قیامت ایک زندہ معجزہ صداقت نبوت جناب محمد رسول اللہ ﷺ و دین اسلام پر شاہد ہے۔ قرآن شریف نے جہاں ضيف ابراهيم المكرمين کو ایک بڑے معرکہ کی مہم پر مقرر کر کے ملائکہ کا ثبوت وضاحت سے پہنچایا ہے۔ وہاں ساتھ ہی گوشت روٹی میں ان کی عدم شراکت بھی ظاہر کر دی ہے د
٤٣
تاکہ آئندہ کوئی تورات کے محرف حوالہ سے غلط فہمی سے ٹھوکر نہ کھائے ۔ ’’فما لبث ان جاء بعجل حنیذ فلما رأ أيديهم لا تصل اليه نكرهم واوجس منهم خيفة قالوا لا تخف انا ارسلنا الی قوم لوط (هود:٦٩،٧٠)‘‘ یعنی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فوراً ان کی تواضع کے واسطے تلا ہوا بچھڑے کا گوشت ان کے سامنے لا رکھا اور جب دیکھا کہ وہ اس کھانے کی طرف اپنے ہاتھ نہیں بڑھاتے تو ان سے متوحش ہوئے اور ان سے دل میں ڈرے۔ انہوں نے کہا ڈر مت ہم قوم لوط کی جانب بھیجے گئے ہیں۔ پھر اس واقعہ کا ذکر پارہ ٢٦ میں اس طرح ہے کہ: ’’فراغ الی اهله فجاء بعجل سمین فقربه الیهم قال الا تاکلون الذریت : ٢٦،٢٥‘‘ اب اس سے زیادہ صراحت اور وضاحت ملائک متمثل بانسان ہونے کے بارہ میں اور کیا ہو گی۔ ہاں احادیث صحیحہ سے بھی ثبوت ملائکہ کے متمثل بانسان ہونے اور صحابہ کو نظر آنے کا خاکسار پیش کر سکتا ہے۔ بخاری کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا مقولہ اس جماعت کا قسم بخدا محض زبانی ہے۔ در حقیقت یہ جماعت احادیث بخاری سے منکر اور قرآن شریف سے بے خبر ہے۔ قرآن شریف کو اپنی ہواء کے تابع کرتی ہے۔ مگر ان کو یہ توفیق نہیں کہ اپنی ہواء کو قرآن شریف کے تابع کریں۔ ملائک کے بارہ میں مولوی صاحب اپنے قرآن مجید کے صفحہ ٦١٢ نوٹ نمبر ١٥٣٦ متعلق آیت ’’ فتمثل لها بشراً سوياً (مریم: ١٧)‘‘ میں فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ خواب کا تھا۔ کیونکہ فانی آنکھ انسان کی ملائک کے وجود کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ مولوی صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ ایمان بالملائکہ ایمان کی ایک لازمی جز ہے۔ پس ملائک کو قرآن شریف اور حدیث شریف نے جس حیثیت میں پیش کر دیا ہو اس پر ایمان نہ لانا واقعی ایمان کا صریح نقص ہے اور جب یہ صورت ہے تو ان کی تفسیر بجائے عقائد صحیحہ کا مظہر ہونے کے خود تراشیدہ تاویلات کا آئینہ ہے۔ مریم صاحبہ کے روبرو فرشتہ جب حسب فرمودہ قرآن شریف انسان کی صورت میں متمثل ہو کر ظاہر ہوا تو مولوی صاحب کا خواب کی تاویل کرنا ناحق دخل در معقولات ہے۔ قرآن شریف نے کل خواب کے واقعات کو صاف کھول کر بیان کر دیا ہے۔
(دیکھو ریویو نمبر ٤)
بلا قرینہ یعنی اپنی رائے سے قرینہ گھڑ لینا تفسیر بالرائے ہے۔ جس پر شارع علیہ السلام نے وعید فرمائی ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فرشتے متمثل بانسان ہو کر آئے تھے تو ان کی بیوی نے بھی ان کو فانی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا بلکہ ان سے کلام بھی کیا تھا۔
(دیکھو پ ١٢ ع ١٧ اور پ ٢٧ ع ١٩)
جب یہ واقعہ خواب کا نہیں تو مریم صاحبہ کا فرشتہ کو دیکھنا بدوں قرینہ کیونکر خواب کا
واقعہ ہوسکتا ہے۔ خاکسار نے بتائید ایزدی اسی واسطے ضیف ابراہیم کو قرآن شریف سے ملائک ثابت کرنے کی پہلے کوشش کی ہے۔ تا کہ یہ امر ثابت ہونا آسان ہو جائے کہ جس طرح ان کی بیوی نے فرشتوں کو جاگتی حالت میں دیکھ کر ان سے کلام کیا تھا۔ اسی طرح مریم صاحبہ کا یہ واقعہ بھی تھا۔ اب بطور تکمیل حجت منجملہ احادیث کثیرہ جو ملائک کے متمثل بہ بشر ہونے پر وارد ہیں۔ خاکسار صرف تین احادیث پیش کر کے مولوی صاحب سے دریافت کرتا ہے کہ کیا یہ واقعات بھی خواب کے ہیں۔
- ا...... (مشکوٰۃ کتاب الایمان فصل اول ص ١١، بخاری ج ١ ص ١٢، باب سوال جبرائیل
النبی ﷺ اور مسلم ج ١ ص ٢٩، کتاب الایمان) ہر دو کی حدیث میں جس میں جبرائیل علیہ السلام نے نہایت سفید لباس میں متمثل ہو کر جناب ﷺ سے ایمان، اسلام، احسان، علامات قیامت وغیرہ کے متعلق سوال کئے اور حضرت عمرؓ راوی اس حدیث کے بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے جناب ﷺ نے پوچھا کیا تم سائل کو پہچانتے ہو؟۔ میں نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا جبرائیل تھے کہ تم کو مسائل دین سکھلاویں۔
- ب...... (مشکوٰۃ ص ٥٢٢، فصل اول باب المبعث وبدءالوحی) حضرت عائشہؓ نے جناب
رسول اللہ ﷺ سے کیفیت نزول وحی دریافت کی جس پر آپ ﷺ نے منجملہ دیگر جوابات کے اس طرح فرمایا کہ: ”واحياناً يتمثل لی الملك رجلاً فيكلمنی فاعی“ یعنی گاہ گاہ فرشتہ بصورت آدمی میرے پاس آ کر مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پس اس کلام کو یاد رکھتا ہوں۔
(راوی بخاری و مسلم ہر دو)
- ج...... (مشکوٰۃ ص ٥٣١ فصل اول باب المعجزات) حدیث سعد بن ابی وقاصؓ میں
مذکور ہے کہ جنگ احد کے دن میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کے دائیں بائیں سفید لباس والے دو شخص دیکھے جو سخت قتال کر رہے تھے۔ جن کو میں نے نہ پہلے دیکھا تھا نہ بعد میں دیکھا۔ یعنی جبرائیل ومیکائیل بخاری ومسلم ہر دو اس کے راوی ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے کیا اب بھی آپ یہی کہیں گے کہ مریم صاحبہ کو فرشتہ خواب میں نظر نہ آیا تھا؟ بقسم بخدا خاکسار آپ کو آیت ذیل کا مصداق پاتا ہے۔ ”ويقولون آمنا بالله وبالرسول واطعنا ثم يتولى فريق منهم من بعد ذلك وما اولئك بالمؤمنين (النور:٤٧)“ جب اس آیت کے مطابق آپ لوگوں کا ایمان ہی صحیح نہیں تو ایسے مردود اسلام و ایمان کی اشاعت قابل فخر؟۔ ہرگز نہیں بلکہ آخرت میں قابل مواخذہ ہے۔ رسول
٤٥
النبی ﷺ پر قرآن شریف نازل ہوا۔ آپ ﷺ نے بموجب حکم ”وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس مانزل اليهم (النحل:٤٤)“ جہاں مناسب جانا صحابہؓ کو بتلا دیا۔ اب اس معلم حقانی کی تفسیر کو رد کر کے تم لوگ دین الٰہی کو صریحاً بگاڑ رہے ہو۔ ”دنیا روزے چند است عاقبت کار با خداوند است “ آخر میں قرآن فہمی کا ایک باریک نکتہ بھی سامنے رکھ دیتا ہوں۔ جس سے ممکن ہے کہ مولوی صاحب یا ان کی جماعت سے کوئی فرد غور کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رسل کو فرشتے یقین کر سکے۔ قرآن میں جہاں جہاں الفاظ (رسل اور حرف س کی نصب سے تین الفاظ ذیل ہیں مرسل مرسلون مرسلین باستثناء بم يرجع المرسلون (نمل:پ١٩ ع ١٨) وہاں نبی اللہ یا فرشتہ سے مراد ہے۔ یعنی سوا ایک موقعہ کے باقی کل مقامات میں غیر نبی اللہ یا غیر ملائک ہرگز مراد نہیں۔
....... ٢ ....... مولوی صاحب اپنے ترجمہ قرآن کے صفحہ ٥٣٠ نوٹ نمبر ١١٩٦،٩١٨ میں متعلق آیت ” فجعلنا عاليها سافلها وامطرنا عليهم حجارة من سجيل (حجر:٧٤) “ فرماتے ہیں کہ بستیوں کا تہ و بالا ہونا زلزلہ کا نتیجہ تھا اور زلزلہ کے ساتھ کوہ آتش فشاں سے نکل کر پتھر بھی گرے تھے۔ جبرائیل کا بستیوں کو آسمان تک اٹھا کر پھر زمین پر اوندھا کر کے پھینک دینا بالکل بے بنیاد قصے ہیں۔ یہی مطلب علی گڑھی تفسیر میں مذکور ہے۔ جس کی تقلید ہمارے مولوی صاحب نے کی ہے۔ اب کون پوچھے کہ آپ نے ایم اے پاس کیا۔ کس پرانے اور نئے جغرافیہ میں تمام عرب یا شام میں کوہ آتش فشاں کا محل وقوع لکھا ہے؟۔ یہ خطہ کوہ آتش خیز سے بالکل خالی ہے۔ ”جزاء سيئة سيئة مثلها (شورے:٤٠)“ اصول الٰہی کے مطابق حضرت لوط علیہ السلام کی بستیوں کو بسبب خلاف فطری لواطت کے گناہ کے اللہ تعالیٰ نے زمین سے اٹھا کر پھر اوندھا کر دیا تو اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اب ان بستیوں کو قرآن کریم میں مؤتفکات یعنی الٹائی گئی بستیاں بھی اس وجہ سے لکھا گیا ہے۔ ان بستیوں کے محل وقوع پر بحر مردار ہے۔ جس میں کوئی جاندار چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہاں زلزلہ سے اوندھا کرنا ایجاد بندہ ہے۔ جبرائیل کو اللہ تعالیٰ کا اس کام پر مؤکل کرنا خلاف سنت نہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے ابھی خاکسار ثابت کر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے کہا تھا کہ ہم لوط علیہ السلام کی بستیوں کو تباہ اور ہلاک کرنے کے واسطے جا رہے ہیں۔ کیا انہوں نے جھوٹ بولا تھا؟۔ اور کیا ملائک کو انسان کی طرح ایسا کام کرنا دشوار ہے؟۔ کیا آسمان سے ہلاکت کا ذریعہ نازل کرنا ایک غیر ممکن امر ہے؟۔ چونکہ جعلنا عاليها سافلها میں فاعل اللہ تعالیٰ ہے اور انا مهلكوا انا منزلون لنرسل مذکورہ
٤٦
آیات کے افعال میں فاعل فرشتے ہیں اس واسطے مولوی صاحب کو بجائے تطبیق دینے کے تفسیر بالرائے سے کام لینا پڑا۔ قرآن کریم کے طرز بیان کا علم ہر کسی کو حاصل نہیں محض دعوے سے کام نہیں چل سکتا۔ بلکہ بقولے
نه هر که سربه تراشد قلندری داند
کچھ علمی طور پر کام کر کے عہدہ براہ ہونا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بسبب علت العلل ہونے کے بعض دفعہ بعض افعال کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ جس سے ملائک کے ذریعے افعال کا سر انجام باطل خیال کرنا قرآن فہمی سے بے علمی کی دلیل ہے۔ سورہ یسین میں ونکتب ، ماقد موا واثارهم (یسین:١٢) میں اللہ تعالیٰ فاعل ہے۔ اب کیا اس سے یہ آیات منسوخ ہو جائیں گی؟ ۔ ”ان رسلنا يكتبون ما تمكرون (یونس:٢١)“ ”بلی ورسلنا لديهم يكتبون (زخرف:٨٠)“ جن میں ملائک فاعل ہیں۔ مولوی صاحب نے بستیوں کا اٹھایا جاکر اوندھا کیا جانا بیہودہ قصے سمجھ کر گویا ان مفسرین پر چوٹ کی ہے۔ جنہوں نے روایت صحیحہ کی بناء پر ایسا لکھا ہے۔ اگرچہ روایات کو بعض نے بیان نہیں کیا۔ اب چند معتبر روایات بیان کر کے خاکسار مولوی صاحب پر حجت پوری کرتا ہے۔
- ا....... ابن جریر محمد بن کعب قرظی جو اجلہ آئمہ تابعین سے ہیں۔ بیان کرتے ہیں
کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو قوم لوط کے الٹ جانے والے (مؤتفکات) کی طرف بھیجا وہ ان شہروں کو اپنے پروں پر لے کر اونچے ہوئے۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا کے ملائک نے ان کے کتوں کے بھونکنے اور مرغیوں کی آواز سنی۔ پھر وہاں سے اوندھا الٹ دیا۔ پھر پڑھی یہ آیت ”فجعلنا عاليها سافلها وأمطرنا عليهم حجارة من سجيل (حجر:٧٤)“
- ب....... عبدالرزاق اپنی تصنیف اور ابی منذر اور ابی حاتم اپنی تفسیر میں حضرت
حذیفہ بن الیمانؓ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
- ج....... سعید بن منصور اپنی سنن میں اور حاکم اپنی مستدرک میں اور امام ابوبکر بن
ابی الدنیا بھی کتاب العقوبات میں حضرت ابن عباسؓ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
- د....... اب جریر مجاہد شاگرد ابن عباسؓ اور قتادہؓ شاگرد انسؓ بن مالک سے بھی ایسا
ہی بیان کرتے ہیں۔ مولوی صاحب جب بخاری اور مسلم کی احادیث کو بھی اپنی تفسیر بالرائے کے
٤١
مقابلہ میں رد اور ترک کر دینے کے پختہ عادی ہو چکے ہیں تو بھلا مذکورہ روایات کس شمار میں ہیں۔
- ٣...... مولوی صاحب اپنے قرآن کے ص ٥٢٥ نوٹ نمبر ١٣٣٢ میں متعلق آیت
”الا من استرق السمع فاتبعه شهاب مبین (حجر:١٨)“ فرماتے ہیں کہ کاہن آسمانی اخبار کے حصول کا دعویٰ کرتے تھے۔ مگر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سے دفع کئے جاتے ہیں اور (شہاب مبین) سے ان کا ناکام ہونا مراد ہے۔ مگر مولوی صاحب نے اس ماقبل آیت وحفظناها من كل شيطن رجیم کو نہیں دیکھا۔ یعنی ہم نے ہر شیطان مردود سے آسمان کو محفوظ کیا ہے۔ پس استرق السمع کا تعلق شیطان سے ہے نہ کاہن سے۔ صریح طور پر شیاطین پر آسمان سے انگار پڑنے کی تاویل ناکامی سے کر کے مولوی صاحب نے علم طبعی کی حمایت میں جناب رسول خدا ﷺ کی تفسیر کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
امام بخاریؒ نے کتاب (التفسیر ج ٢ ص ٦٨٢) میں آیت الا من استرق السمع فاتبعہ شهاب مبین کا ایک علیحدہ باب باندھ کر مرفوع حدیث سے تفسیر کر دی ہے۔ جس میں حکم الٰہی کے نزول پر ملائکہ کا مرعوب اور ہیبت زدہ ہو جانا اور ایسے موقعہ پر شیاطین کا آسمان پر جانا اور کسی ایک آدھ خبر کا وہاں ملائکہ سے سن کر زمین پر ساحر یا کاہن کو سو جھوٹ ملا کر کہہ دینا اور کبھی اوپر والے شیطان کو نیچے والے شیطان کو اس خبر کے بتانے کی مہلت کا نہ ملنا اور اس کا آگ کی چنگاری سے جل جانا سب کچھ بصراحت مذکور ہے۔
دیباچہ میں مولوی صاحب نے ترتیب قرآن شریف کے متعلق احادیث سے بخوبی فائدہ اٹھایا ہے۔ پس یہ خیال صحیح نہیں کہ آپ نے بخاری کی احادیث متعلقہ کی تفسیر کو نہ دیکھا ہو۔ خاکسار کو خدا لگتی کہنے میں شرم مانع نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا یہ امر تحقیق شدہ ہے کہ مولوی صاحب کو بخاری کی تفسیر اور اعجاز بیان کرنے والی احادیث پر مطلقاً یقین نہیں۔
ریویو نمبر ١٢
- ١...... مولوی صاحب اپنے قرآن کے صفحہ ٨٣١ پر ”حتی اذا فزع عن
قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم قالوا الحق وهو العلی الکبیر (سباء: ٢٣)“ کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ حتیٰ کہ جب ان کے دلوں سے خوف دور ہو جائے گا۔ وہ کہیں گے کہ تمہارے خدا نے کیا فرمایا۔ وہ جواب دیں گے حق فرمایا اور وہ عالیشان سب سے بڑا ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں مولوی صاحب نے دو صریح غلطیاں کی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس آیت کا تعلق قیامت سے سمجھ کر ترجمہ زمانہ مستقبل میں کیا ہے دوسری غلطی یہ کی ہے کہ اس آیت سے بھی
٤٨
شفاعت کا وہی عام مسئلہ نکالا ہے۔ جس کا ذکر وہ ایک دو ماقبل مقامات پر نوٹ نمبر ٧٦، ٤٣٩ میں کر چکے ہیں۔ مگر اس آیت کا خاص اشارہ ملاء الاعلیٰ (ملائک) کی طرف ہے۔ جن کی شفاعت کی توہم سے مشرک ان کو پوجتے ہیں۔ (دیکھو ماقبل والی دو آیات) اللہ تعالیٰ ان کے زعم باطل کی تردید فرماتے ہیں کہ وہ بیچارے از خود شفاعت میں کیوں کر دخیل ہو سکتے ہیں۔ جب خود ان کی یہ حالت ہے کہ کسی حکم الٰہی کے نزول پر ان پر ایسی ہیبت طاری ہو جاتی ہے۔ کہ گویا ان میں جان ہی نہیں۔ جب ان کی اس شدت خوف سے افاقہ ملتا ہے تو ایک دوسرے سے پوچھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا حکم فرمایا۔ دوسرا (جو غالباً زیادہ قریب ہوتا ہے) جواب دیتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو حق فرمایا۔ اس آیت پر امام بخاریؒ نے (ج٢ ص ٧٥٨، تحت سورہ سباء) میں ایک خاص باب باندھ کر مرفوع حدیث سے تفسیر کر دی ہے اور یہ خاص واقعہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ اس واسطے قیامت والے عام مسئلہ شفاعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ آیت حال استمراری کو بیان کرتی ہے۔ جس طرح سورہ فرقان کی آیت واذا خاطبهم الجهلون قالوا سلاما ہے۔ مولوی صاحب نے امام بخاریؒ کی کتاب التفسیر سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور عمداً جناب رسول اللہ ﷺ کی تفسیر کو پس پشت ڈال کر ایک بھاری ذمہ داری کو بڑی جرأت سے قبول کر لیا ہے۔ "وسيعلم الذين ظلموا ای منقلب ينقلبون (شعراء:٢٢٧)"
- ٢.......... "ولقد فتنا سليمن والقينا على كرسيه جسداً ثم اناب
(ص:٣٤)" کے متعلق مولوی صاحب اپنے قرآن شریف کے ص ٨٨٥ نوٹ نمبر ٢١٤١ میں فرماتے ہیں کہ سلیمان کو معلوم تھا کہ اس کا بیٹا رحبعام تخت کا وارث حکومت کے ناقابل ہے۔ اس واسطے اپنی سلطنت کی تباہی کے آثار دیکھ کر یا الہام کے ذریعہ سے مطلع ہو کر اللہ کی طرف رجوع کیا۔ ان کے تخت پر محض جسد کے رکھا جانے کا مفہوم اسی بیٹے کی نالائقی اور نا قابلیت ہے۔ جیسا تورات اوّل سلاطین ب ١٢ آیت ١٧ میں مذکور ہے۔ رحبعام سے بنی اسرائیل کے کل قبائل سوائے ایک کے منحرف ہو گئے یا یربعام مراد ہے۔ جس نے داؤد کے خاندان کے برخلاف علم بغاوت کھڑا کیا اور بنی اسرائیل کے دس قبائل پر حاکم ہو کر بت پرستی کو قائم کیا۔
(تورات اول سلاطین ١٣، آیت ٢٨ اوّل سلاطین ب ١٤ آیت ١٥)
پس سلیمان کے تخت پر ایک جسم بے جان کے ڈالا جانے سے مراد رحبعام یا یربعام ہے۔ صحیح تفسیر کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ اہل کتاب کی روایت بصورت قرآن شریف وحدیث کے خلاف ہونے کی ہرگز قابل حجت نہیں۔ اس واسطے مولوی صاحب کی یہ تفسیر آیت
٤٩
مذکور کے متعلق باطل ہے۔ کیونکہ (بخاری ج ١ ص ٤٨٧، کتاب الانبیاء) میں ایک حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے اس طرح مذکور ہے کہ جناب رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ سلیمان بن داؤد نے کہا کہ آج شب کو میں ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر عورت کے پیٹ میں شہسوار آ جائے گا۔ جو خدا کی راہ میں جہاد کرے گا تو ان سے ان کے ہم نشین نے کہا کہ انشاء اللہ کہئے۔ مگر سلیمان نے نہ کہا۔ پس کوئی عورت حاملہ نہ ہوئی۔ سوائے ایک کے اور اس کے ایک ایسا بچہ پیدا ہوا۔ جس کا ایک جانب گرا ہوا تھا۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو سب عورتیں حاملہ ہو جاتیں اور وہ سب بچے راہ خدا میں جہاد کرتے۔ اس حدیث کو مسلم نے بھی لیا ہے۔ عورتوں کی تعداد میں قدرے فرق ہے۔ باقی اسی طرح ہے۔
نوٹ !
تفسیر روح المعانی وشرح بخاری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ناقص الخلقت بچہ انا ( دایا ) نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت پر ان کے سامنے لا رکھا تھا۔ جس پر آپ انشاء اللہ کہنے کی فرو گذاشت پر بہت نادم ہوئے۔
اب اس حدیث سے حقیقت جسد اور کرسی اور وجہ انابت حضرت سلیمان صاف ظاہر ہے۔ اس آیت کے بعد ”قال رب اغفرلى وهب لى ملكا لا ينبغى لاحد من بعدى انك انت الوهاب (ص: ٣٥) “ کی آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا مغفرت طلب کرنا محض ترک انشاء اللہ کی وجہ سے تھا۔ کیونکہ مغفرت ذاتی فروگذاشت کے واسطے تھی۔ جس کا تعلق غیر کی ذات سے نہیں تھا۔ مولوی صاحب حضرت سلیمان علیہ السلام کی مذکورہ دعا کے متعلق نوٹ نمبر ٢١٤٢ میں فرماتے ہیں کہ اس دعا والی آیت کے ماقبل نالائق جانشین کا چونکہ تذکرہ ہے۔ اس واسطے حضرت سلیمان نے روحانی سلطنت مانگی۔ کیونکہ ایسی ہی سلطنت کو نالائق وارث خراب نہیں کرسکتا اور سلیمان کی دنیوی سلطنت ان کی وفات کے بعد نابود ہو گئی تھی۔
جب ماقبلی آیت میں جانشین کا اشارہ ہی حدیث مذکورہ کی بناء پر غلط ہے تو پھر دعا کا مقصود روحانی سلطنت بیان کرنا خود باطل ہے۔ قرآن شریف نے اس دعا کا مفہوم جب حرف ف سے بعد میں خود اس طرح فرما دیا ہے۔ ”فسخرنا له الريح تجرى بامره رخاء حيث اصاب والشياطين كل بناء وغواص واخرين مقرنين فى الاصفاد (ص: ٣٦، ٣٧، ٣٨) “ تو اب اس کے سامنے حضرت سلیمان کی دعا کو روحانی سلطنت پر محمول کرنا قرآن شریف پر تحکم ہے۔ اب مولوی صاحب سے کون پوچھے کہ کیا ایک پیغمبر بعد نبوت کے
٥٠
روحانی سلطنت سے محروم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایک تحصیل حاصل کے واسطے دعا کی ضرورت محسوس ہوئی؟۔ اگر مولوی صاحب کا مفہوم صحیح تسلیم کیا جائے تو مطلب یہ حاصل ہوا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے لا ینبغی لاحد من بعدی سے قیامت تک بعد کے پیغمبروں اور صالحین کے واسطے روحانی سلطنت سے محرومی کا سوال کیا تھا۔ جو شان نبوت سے نہایت بعید ہے۔ مولوی صاحب نوٹ نمبر ٨٤٣ میں فرماتے ہیں کہ شیاطین کی تسخیر سے مراد غیر ملک کے قبائل ہیں جن کو آپ نے مطیع کر کے مختلف کاموں پر لگا رکھا تھا اور مزید ثبوت میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ زنجیروں میں جنات یا شیاطین کو بسبب ان کے غیر مادی اجسام کے قید کرنا غیر ممکن ہے۔ پھر تورات ٢ تواریخ باب ٢ آیت ١٢، ١٨ کے حوالہ سے شیاطین کو انسانی وجود ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ پھر لغت کا حوالہ بھی دیا ہے کہ عرب میں ہوشیار آدمی کو بھی جن بولتے ہیں۔
بارہا اس سے پہلے خاکسار عرض کر چکا ہے اور اب پھر خاص توجہ دلاتا ہے کہ اہل کتاب کی روایت اور لغت کے لغوی معانی کا حوالہ صرف اسی صورت میں جائز ہے۔ جب وہ قرآن شریف کے خلاف نہ ہو۔ جب خاکسار گذشتہ نمبر ١١ میں ابھی ثابت کر چکا ہے کہ ضیف ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کے متعلق تورات کوئی صحیح فیصلہ نہیں کر سکتی کہ آیا وہ انسان تھے یا فرشتہ۔ (کیونکہ ان کو کھانے میں شریک کر کے انسان بھی لکھ دیا ہے اور پھر مابعد کے باب میں ان کو فرشتے بھی لکھا ہے) تو شیاطین کی شخصیت کے فیصلہ کی توقع تورات سے رکھنا فضول ہے۔ لہذا ذیل میں (بخاری ج ١ ص ٤٨٧، کتاب بدء الخلق) سے ایک مرفوع حدیث لکھی جاتی ہے۔ جس سے یہ امر بوضاحت ثابت ہو جاتا ہے کہ تسخیر شیاطین کی کیا حقیقت تھی۔ جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کی اجابت کا نتیجہ تھا۔ حضرت ابو ہریرۃ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ ایک سرکش جن (عفریت من الجن) یکا یک رات کو میرے پاس آیا تا کہ میری نماز خراب کر دے۔ پس اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور چاہا کہ اس کو مسجد کے کسی ستون سے باندھ دوں تا کہ تم سب اس کو دیکھ لو۔ مگر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا ”رب ھب لی ملکاً لا ینبغی لاحد من بعدی (ص: ٣٥)“ یاد آ گئی۔ پس میں نے اس کو نامراد واپس کر دیا۔ بخاری نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی اس دعا پر سورہ ص کے متعلق (بخاری ج ٢ ص ٧١٠، کتاب التفسیر) میں بطور تفسیر ایک خاص باب بھی باندھا ہے اور پھر وہی مذکورہ حدیث بیان کی ہے۔ اب مولوی صاحب سے کون پوچھے کہ فخر کونین سید المرسلین ﷺ تو ایک پیغمبر کے قول کا اس قدر پاس اور لحاظ کریں کہ تسخیر جنات کی مشابہت سے ٥١
بھی پرہیز کریں۔ مگر آپ ان کے امتی ہو کر ان کی تفسیر کی پرواہ نہ کریں اور محرف تورات و دیگر ذرائع کا سہارا لے کر اپنی تفسیر بالرائے کو ترجیح دیں۔ مولوی صاحب کو واضح ہو کہ ایک غیر نبی جنات وغیرہ کو زنجیر وغیرہ سے بے شک باندھ نہیں سکتا۔ مگر ایک پیغمبر کے واسطے ان کو باندھ رکھنا اور لوگوں کو دکھلا دینا آسان ہے۔ حضرت سلیمان بھی بعض جنات کو زنجیر میں قید کرتے نہ سب کو جیسا ”وآخرین مقرنین فی الاصفاد (ص:٣٨)“ سے ثابت ہے۔ جو شخص ”وخلق الجان من مارج من نار (رحمن:١٥)“ سے واقف ہے وہ جنات کو غیر مادی وجود نہیں جانتا۔ البتہ آگ کے لطیف مادہ سے ان کی خلقت ہے۔ جو اخفا و اظہار ہر دو کی متحمل ہے۔ مولوی صاحب کو واضح ہو کہ جنات کی خوراک لید، ہڈی اور کوئلہ اور آدمی کے دستر خوان پر سے گرے ہوئے ریزے ہیں۔ (دیکھو مشکوٰۃ، باب آداب الخلاء، فصل ثانی ص٤٢، ٤٤ دو احادیث بروایت ابن مسعود اور مشکوٰۃ کتاب الاطعمہ ص٣٦٣ حدیث جابر) بخاری نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ جنات غیر مادی نہیں۔ کیونکہ جب ان کی خوراک مادی ہے تو ان کا مادی وجود ہونا خود ثابت ہوا۔ اسرار الٰہی سے جس قدر پردہ شارع علیہ السلام نے اٹھا کر ہم کو بتلا دیا۔ اس سے زیادہ کرنا موجب گمراہی ہے۔
تسخیر ریح کے متعلق بھی مولوی صاحب کی تفسیر خود باطل ہوگئی۔ جو انہوں نے نوٹ نمبر ٢٠٢٥ میں متعلق ”غدوھا شھر ورواحھا شھر (سبا:١٢)“ بیان کی ہے۔ کیونکہ تسخیر ریح اسی صورت میں درست ہوسکتی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو جس وقت اور جس طرف کی ریح مطلوب ہو وہ باذن اللہ ان کی مسخر اور مطیع ہو۔ ورنہ بادبانی جہازوں کو چلانے والی قدرتی ہوا نہ وقت کی پابند ہے نہ سمت کے نہ نرمی و درشتی میں کسی کے زیر حکم ہوسکتی ہے۔ اگر مولوی صاحب والی بادبانی جہازوں کی قدرتی ریح سے یہاں مراد لی جائے تو پھر مطلب یہ ہوگا کہ حضرت سلیمان خود اس ریح کے تابع تھے۔ جب وہ ٹھہر گئی یا حد سے زیادہ تیز ہوگئی یا سمت مطلوبہ کی طرف متحرک نہ ہوئی تو سلیمانی جہاز بھی مدتوں کنارہ پر لنگر ڈالے پڑے رہے۔ لاہوری اور قادیانی ہر دو جماعت پیغمبروں کے واسطے جو معجزات بطور خرق عادت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں۔ ان سے در حقیقت منکر ہیں۔ اگر چہ مسلمانوں کو قابو کرنے کے واسطے یہ شعر ان کے ورد زبان ہے۔
آنچہ در قرآن بیانش بالیقین
٥٢
ہر کہ انکاری کند از اشقیا است
(سراج منیر ص ٧ خزائن ج ١٢ ص ٩٤)
اب مولوی صاحب سے کون پوچھے کہ کیا حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنے ملک میں خشکی کے سفر کی حاجت کبھی درپیش نہ ہوتی تھی کہ تسخیر ریح کو محض بادبانی جہازوں تک محدود سمجھا جائے۔ ”فسخرنا لہ الریح تجری بامرہ رخاء حیث اصاب (ص: ٣٦)“ یعنی ہم نے ہوا کو سلیمان علیہ السلام کے تابع کردیا۔ جو اس کے حکم کے مطابق جہاں وہ پہنچنا چاہتے تھے نرم نرم چلتی تھی۔ اس آیت میں ہر طرف ملک میں سفر کرنے کا اشارہ ہے۔ جس کو ہمارے مولوی صاحب محدود بہ بحری سفر کرتے ہیں۔ اس اعجازی عطیہ کو بگاڑنے کے واسطے مولوی صاحب کو قرآن شریف کی تحریف کرنے میں ذرا بھی ان کے ضمیر نے ملامت نہیں کی۔ چنانچہ آیت مذکورہ کا ترجمہ اس طرح لکھتے ہیں کہ ہم نے ہوا کو سلیمان کے تابع کر دیا اور وہ اس کے حکم کو جہاں وہ پہنچانا چاہتا تھا۔ آہستگی سے پہنچا دیتی۔ (یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے صرف حکم کو جہاں وہ چاہتے پہنچا دیتی) مولوی صاحب نے ریح کو ذریعہ انتقال حکم سلیمانی کا قرار دے کر اپنی عربی دانی پر سخت دھبہ لگایا ہے۔ حالانکہ صحیح ترجمہ اس طرح ہے۔ جس طرح اوپر پہلے مذکور ہوا کہ ریح حضرت سلیمان علیہ السلام کو جس جگہ وہ پہنچنا چاہتے لے چلتی۔
ریویو نمبر ١٣
”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الا قصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من آیاتنا انہ ہو السمیع العلیم (بنی اسرائیل: ١)“ یعنی ہر عیب ونقص سے پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندہ (محمد ﷺ) کو راتوں رات لے گیا۔ مسجد حرام سے مسجد بیت المقدس تک جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ تاکہ ہم اس کو اپنی قدرت کے نشانات دکھلائیں۔ بے شک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
اس آیت میں ذکر معراج نبی ﷺ کا ہے۔ جو ایک سال قبل ہجرت جناب رسول ﷺ کو کرائی گئی تھی۔ مسجد الحرام سے مسجد بیت المقدس تک رات کے ایک حصہ میں تا کہ آپ کو بہشت اور دوزخ کی کیفیت دکھلائی جائے اور انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کرائی جائے۔ مولوی محمد علی لاہوری اپنے انگریزی قرآن کے صفحہ نمبر ٥٦١ نوٹ نمبر ١٤٠١ میں اس کو واقعہ معراج کا تسلیم کر کے نوٹ نمبر ١٤٤١ میں متعلق آیت ”وما جعلنا الرؤیا التی ارینك الا فتنة للناس
٥٣
والشجرة الملعونة فی القرآن (بنی اسرائیل: ٦٠) ’’یعنی ہم نے (اے محمد ﷺ) جو دکھلاوا تم کو دکھلایا اور تھوہر کا ملعون درخت جو قرآن میں مذکور ہے۔ ان ہر دو سے ہم کو لوگوں کی آزمائش منظور ہے۔ اسی طرح لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین اس امر میں متفق ہیں کہ اس سے مراد واقعہ معراج کا ہے۔ علماء میں اختلاف ہے کہ آیا یہ معراج جسمانی تھی یا روحانی۔ جمہور جسمانی کے قائل ہیں۔ مگر حضرت معاویہؓ اور عائشہؓ اس کو روحانی بتلاتے ہیں۔ مگر بہ لحاظ صاف الفاظ ”وما ارینك الرؤيا التى ارينك“ کے جمہور کی رائے رد کر دینے کے لائق ہے۔ قرآن شریف کئی مواقع میں بدوں ذکر خواب کے خواب کا حال بتلاتا ہے۔ مگر اس آیت میں جب صاف لفظ (رؤیا) خواب مذکور ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کو خواب یا کشف تعبیر کیا جائے۔ احادیث سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ یہ واقعہ خواب کا تھا یا بیداری کا۔ ایک آدھ اور دلائل بھی اپنی رائے کی تائید میں لکھی ہیں۔ جو جواب میں قابل لحاظ نہیں۔
جواب!
- ١...... قرآنی معجزات میں معراج سب سے اعلیٰ درجہ کا معجزہ ہے اور اس کے
قبول کرنے سے رفع و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاویل کو سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ اس واسطے مولوی صاحب کو سخت ضرورت پڑی۔ (جس طرح ان کے مجدد صاحب کو پڑی تھی) کہ جمہور کا عقیدہ جسمانی معراج کا تسلیم کر کے بھی اس کو خواب یا کشف سے زیادہ رتبہ نہ دیا جائے۔ اہل سنت کے عقائد جمہور صحابہ اور جمہور اہل علم کے دلائل پر مبنی ہوتے ہیں اور بعض کا اختلاف عقائد اہل سنت میں مضر نہیں ہوتا۔ جمہور صحابہ میں اختلاف معراج جسمانی میں نہ تھا۔ بلکہ صرف رویت اللہ تعالیٰ میں تھا۔ نہ کہ معراج کی حقیقت میں بیت الحرام سے بیت المقدس تک معراج جسمانی کا منکر اہل سنت کے نزدیک کافر ہے۔ اور باقی معراج آسمانی مذکورہ سورہ نجم کا منکر بدعتی ہے۔
- ٢...... حضرت معاویہؓ اور حضرت عائشہؓ کا یہ حال ہے کہ حضرت معاویہؓ تو فتح مکہ
کے بعد اسلام میں داخل ہوئے اور حضرت عائشہؓ کو مکی زندگی میں جناب کے پاس رہنے کی رخصت نہیں ملی تھی۔ ”غایت ما فی الباب“ معراج میں ان ہر دو کا بیان اس روحانی معراج کا سمجھنا چاہیے۔ جو جناب رسول اللہ ﷺ کو علاوہ معراج جسمانی کے کئی بار ہوا تھا۔
- ٣...... مولوی صاحب جمہور کی رائے جسمانی معراج کے متعلق تسلیم کر کے بھی
قرآن کے صرف لفظ (رؤیا) کی بناء پر فرماتے ہیں کہ لفظ اپنے معنے کے لحاظ سے خواب پر چسپاں ہوتا ہے۔ نہ بیداری پر مولوی صاحب بخاری کو ”اصح الكتب بعد كتاب الله“ مان کر بھی
٥٦
اس کی احادیث کو جو ان کے عقیدہ کے خلاف ہیں۔ ردی میں پھینک دیتے ہیں۔ جس آیت کی بناء پر مولوی صاحب معراج کو کشفی یا نومی واقعہ بتلا کر جمہور کا فیصلہ ڈسمس کر دیتے ہیں۔ اسی آیت پر امام بخاریؒ ایک باب باندھ کر حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں۔ (نہیں کیا ہم نے اس روایت کو جو تجھے دکھلائی شب معراج میں مگر آدمیوں کے لئے فتنہ اور اس رویت سے خواب مراد نہیں ۔ بلکہ عین رویت مراد ہے۔ جو شب معراج میں نبی ﷺ کو دکھلائی گئی تھی ۔ ) (بخاری ج ٢ ص ٦٨٦، کتاب التفسیر ) اس حدیث نے مذہب صحابہؓ اور باقی علماء کے مذہب سے اطلاع کر دی ہے کہ کوئی اس رویت کو خواب پر محمول نہ کرے۔ مگر مولوی صاحب صحابہ سے قرآن کو بہتر سمجھنے کے مدعی ہیں۔ اس واسطے ان کو جبراً کون منوا سکتا ہے کہ آپ غلطی پر ہیں۔ معراج کے متعلق قرآن شریف نے لفظ فتنہ اسی واسطے آیت محولہ میں استعمال کیا ہے کہ کئی آدمی جسمانی معراج سے انکار کریں گے کہ ایسا سفر جو چالیس دن میں ختم ہوتا ہے۔ رات کے ایک قلیل حصہ میں کیونکر ممکن ہے؟۔ مولوی صاحب آیت میں لفظ رؤیا تو دیکھ کر بڑے خوش ہو گئے کہ ڈگری ہم کو مل گئی۔ مگر امام بخاری نے خدا ان کا بھلا کرے اِسی محولہ آیت پر باب باندھ کر صحیح تفسیر بتلا دی اور مولوی صاحب کو بالکل ناکام کر دیا ہے۔
- ٤....... زیادہ تر تعجب تو اس بات پر ہے کہ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ احادیث
سے ثابت نہیں ہوتا کہ معراج کا واقعہ بیداری کا ہے یا خواب کا۔ مولوی صاحب کی نسبت ریویو کے قریباً ہر نمبر میں یہی ثابت کرنا ہمارا نصب العین ہے کہ مولوی صاحب ان احادیث سے صاف منکر ہیں جو ان کے تقلیدی عقیدہ کے خلاف ہیں۔ اب مولوی صاحب سے کون پوچھے کہ اگر احادیث سے معراج جسمانی ثابت نہیں تو اہل سنت کے جمہور اس کے کیوں کر قائل ہو گئے؟۔ امام بخاریؒ ج ٢ ص ٦٨٤، کتاب التفسیر میں ”اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً“ پر بھی باب باندھ کر جابر بن عبداللہؓ سے یہ حدیث لکھ دی ہے کہ جناب نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب قریش نے مجھ کو ( معراج کے قصہ میں ) جھٹلایا تو میں کعبہ میں مقام حجر میں آیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بیت المقدس ظاہر کر دیا اور میں دیکھنے لگا۔ پھر ان کو اس کی نشانیاں بتلانے لگا۔
- ٥....... مسلم نے بھی ج ١ ص ٩٦، باب الاسراء میں بروایت ابو ہریرہؓ جناب
نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ قریش نے معراج کے متعلق مجھ کو اپنے سوالات سے اس قدر غمگین کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حجاب بیت المقدس کا مجھ سے اٹھا دیا۔ پھر جو جو پتہ وہ بیت المقدس کا مجھ سے پوچھتے میں ان کو بتلاتا تھا۔
٥٥
- ......٦ بریدہؓ نے جناب نبی ﷺ سے روایت کی کہ جب ہم بیت المقدس پہنچے تو
جبرائیل علیہ السلام نے اپنی انگلی کے اشارہ سے پتھر میں سوراخ کر دیا اور براق کو اس سے باندھ دیا۔
(رواہ ترمذی، مشکوۃ ص ٥٣٠، باب معجزات فصل ثانی)
- ......٧ ہرقل شاہ روم کے پاس ابوسفیان بھی بعد واقعہ معراج کے جب وارد ہوا تو
منجملہ دیگر باتوں کے جو اس نے ہرقل سے نبی ﷺ کی بابت ذکر کیں۔ واقعہ معراج بھی تھا۔ اس وقت بیت المقدس کا ایک پادری بھی ہرقل کے دربار میں موجود تھا۔ جس نے کہا میں اس رات کو خوب پہچانتا ہوں۔ ہرقل نے متوجہ ہوکر اس سے پوچھا کہ تم کو اس کا علم کیوں کر حاصل ہوا؟۔ اس نے جواب دیا کہ میں بدوں مسجد کے دروازے بند کرنے کے کبھی نہیں سوتا تھا۔ اس رات میں نے کل دروازے بند کر دیئے تھے۔ سوائے ایک دروازہ کے جس کو میں نے بمدد کل ملازمان بند کرنے کی نہایت کوشش کی مگر ناکام رہا۔ حتیٰ کہ بعض نجاروں کو طلب کرکے ان سے وہ دروازہ بند کرانا چاہا۔ نجاروں نے دیکھ بھال کر جواب دیا کہ ایسا نقص واقعہ ہوگیا ہے کہ جس کو ہم صبح سے پہلے درست نہیں کر سکتے۔ صبح کو جب میں اس دروازہ پر گیا تو وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھا اور جو پتھر مسجد کے زاویہ میں تھا جہاں پیغمبروں کی سواری بندھتی تھی۔ اس میں سوراخ دیکھا اور چوپایہ باندھنے کے آثار موجود تھے۔ پس اس عجب واقعہ کے مشاہدہ کے بعد میں نے اپنے لوگوں سے کہا ضرور کوئی نبی اس رات آیا ہے اور اس نے نماز بھی پڑھی ہے۔ اس واقعہ کو شیخ ابن کثیر نے بروایت صحیح بیان کیا ہے۔
(دیکھو تفسیر مواہب الرحمٰن المشہور جامع البیان ج ١٥ ص ٢٤، ٢٥، تفسیر سورہ بنی اسرائیل)
- ......٨ ہمارے مولوی صاحب جب عصائے موسیٰ کے تسخیر البحر اور شق البحر کے
ادنیٰ معجزہ کو تسلیم نہیں کرتے تو معراج جسمانی کو کیوں کر قبول کر سکتے ہیں۔ چند احادیث بخاری مسلم اور ترمذی کی خاکسار نے پیش کر دی ہیں جو اس معراج کی حقیقت کو بخوبی ظاہر کر رہی ہیں۔ بیت المقدس کے پتے پوچھنا منکرین معراج جسمانی کا اسی صورت میں درست ہے کہ نبی ﷺ نے اس واقعہ کو عین بیداری کا بتلایا تھا۔ ورنہ خواب میں خواہ کوئی کیسے عجائبات کا معائنہ کرے۔ اس پر سوالات متعلقہ پتہ ونشان کے کرنا بالکل بے معنی ہے۔ بعض روایات میں جو خاکسار نے بوجہ اختصار بیان نہیں کیں۔ نبی ﷺ نے قریش کو بعض قافلوں کا حال بھی بتایا تھا۔ جو راستہ میں سفر کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کو نبی ﷺ نے صدیق کا لقب اسی واسطے عطاء کیا تھا کہ جب ابوجہل ودیگر منکرین حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر جاکر کہنے لگے کہ تیرا یار کہتا ہے کہ میں آج کی رات
٥٦
سات آسمانوں کی سیر کر آیا ہوں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر میرے یار نے ایسا کہا ہے یہ ضرور واقعہ صحیح ہے۔
- ٩....... سبحان کا لفظ معمولی واقعہ پر نہیں بولا جاتا۔ عبد جسم اور روح ہر دو کا مرکب
ہے۔ اسراء انتقال جسمانی پر بولا جاتا ہے۔ ”ان اسر بعبادی (طہ وشعراء) فاسر باھلك (ھود وحجر)“
- ١٠....... جو مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو بخشا ہے جس کا بیان قرآن کریم
اور احادیث میں مذکور ہے۔ اس کو مدنظر رکھتے ہوئے معراج جسمانی ہرگز محال نہیں۔ آپؐ کی روحانی حالت ہی اس قدر ترقی پر پہنچ گئی تھی کہ جسم بھی روح ہی روح ہو گیا تھا۔ آپؐ وصال کے روزے برابر کئی دن تک بدوں سحری وافطار کے رکھا کرتے اور فرماتے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہی مجھ کو کھلاتا اور پلاتا ہے۔ پچھلی صف کو بدوں لوٹنے کے برابر دیکھ سکتے۔ آپؐ کے پسینہ سے عطر کی خوشبو آتی تھی۔ خاکسار کہاں تک بیان کرے۔ مگر جو احادیث صحیحہ کو بھی ظنی کہتا ہو اس کو خاکسار کسی طرح بھی منوا نہیں سکتا۔ معراج کا واقعہ سن کر کئی مسلمان مرتد ہو گئے تھے۔ اب مولوی صاحب سے کون پوچھے کہ خواب کی کیفیت بیان کرنے سے بھی کبھی کوئی مرتد ہو جایا کرتا ہے؟۔ قرآن نے اس واقعہ پر فتنہ کا لفظ استعمال کر کے خود تفسیر کر دی ہے کہ یہ معراج جسمانی تھا۔ ورنہ خواب موجب فتنہ نہیں ہوتا۔ خاکسار نے نہایت اختصار سے دس دلائل پیش کئے ہیں۔ اگر ان سے کسی کو اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب کر دے تو اس کے فضل سے کچھ بعید نہیں۔ کشفی معراج تو اس امت مرحومہ میں اکثر کاملین کو بھی ہوا ہے اور حدیث شریف (الصلوۃ معراج المومنین) ہر ایک کے واسطے جو صلوٰۃ کو صحیح طور پر ادا کرتا ہے۔ معراج کا وعدہ پیش کرتی ہے۔
ریویو ...... حصہ دوئم
مگر جناب نبی کریم ﷺ کے معراج کو خاص ایسا رتبہ حاصل ہے جس میں امتی شریک نہیں ہو سکتا۔
سورہ نجم میں اس معراج کے متعلق آیات (”مازاغ البصر وما طغیٰ لقد رایٰ من اٰیت ربہ الکبریٰ (نجم:١٨،١٧)“، یعنی پیغمبر ﷺ کی نگاہ نہیں چوکی نہ حد سے بڑھی۔ بیشک اس نے اپنے مالک کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں) سے ثابت ہوتا ہے کہ معراج روحانی نہیں تھا۔ بلکہ جسمانی تھا۔ کیونکہ الفاظ بصر رویت کشف اور خواب کے مفہوم کے مانع ہیں۔
٥٧
بسم الله الرحمن الرحیم!
نوٹ!
اب ریویو کے حصہ دوم کے متعلق صرف اس قدر عرض کرنا باقی ہے کہ اس شہر میں بسبب بیماری ہر دو مطابع بند ہو چکے تھے۔ ادھر پبلک کی بے صبری اور اشتیاق مطالعہ امر واقعہ تھا۔ لہٰذا ہر دو مطابع کے جاری ہونے پر ریویو کی طبع کا کام بانٹ کر تقسیم کر دینا قرین مصلحت معلوم ہوا تا کہ کام کی تکمیل جلد ہو۔
خاکسار! غلام حیدر سابق ہیڈ ماسٹر مقیم سرگودھا پنجاب
مولوی محمد علی امیر جماعت لاہوری
کے انگریزی قرآن کا ریویو نمبر ١٤
- ١....... ”وورث سلیمن داود وقال یایها الناس علمنا منطق
الطیر واوتینا من کل شئی ان هذا لهو الفضل المبین وحشر لسلیمن جنوده من الجن والانس والطیر فهم یوزعون (نمل: ١٦، ١٧)“
یعنی سلیمان جانشین ہوا داؤد کا اور کہنے لگا۔ اے لوگو! ہم کو پرندوں کی بولی سکھلائی گئی ہے اور ہم کو ہر چیز عطاء کی گئی ہے۔ واقعہ میں یہ صریح فضیلت ہے اور سلیمان کے واسطے جمع کئے گئے۔ لشکر جنات اور انسانوں اور پرندوں کے پس وہ الگ الگ صف باندھ کر کوچ کرتے۔
ان مذکورہ آیات میں جو عظمت وجبروت لشکر سلیمانی کا بیان مذکور ہے اور جس کی الگ الگ امثلہ قرآن مجید آئندہ بیان کرتا ہے۔ ہمارے مولوی صاحب کے نزدیک وہ ایک معمولی درجہ سے زیادہ نہیں۔ چنانچہ اپنے ( قرآن شریف ص ٧٤٦ پر زیر نوٹ نمبر ١٨٤٤) فرماتے ہیں کہ منطق الطیر سے یہ مراد ہے کہ حضرت سلیمان پرندوں سے پیغام رسانی کا کام لیتے تھے۔ پھر بہت سے معانی لغت سے اخذ کر کے نوٹ نمبر ١٨٨٦ میں فرماتے ہیں کہ طیر سے مراد رسالہ یعنی سواروں کی جماعت ہے۔ ایک تیسری تاویل یہ بھی کرتے ہیں کہ پرندوں کے غول فاتح لشکر کے ہمراہ مفتوحہ لشکر کی لاشوں کو کھانے کے واسطے بھی جایا کرتے ہیں اور اس خیال کی تائید میں عرب کے کچھ اشعار بھی نقل کئے ہیں۔ لے دے کر آخر ہر صنف مذکورہ کو نوع انسان میں داخل کرتے ہیں۔
- ٢....... مولوی صاحب کی ہر سہ توجیہات قابل داد ہیں۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ سلیمانی
لشکر کی صنف طیر کی اصل حقیقت کیا تھی۔ اگر واقعہ میں وہ انسان کی ہی قسم تھی تو باقی دو تاویل کا خود اپنی قلم سے بیکار کر دینا بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ اپنی وسعت معلومات کا پبلک کو یقین دلاویں۔
٥٨
قرآن شریف میں الفاظ طیر کل انیس ١٩ دفعہ مع طیر متنازعہ فیہ مذکور ہے اور سمجھ میں نہیں آتا کہ پوری اٹھارہ دفعہ یہ لفظ اپنی اصلی حقیقت اور شخصیت میں سوائے پرند یعنی پرواز جانور کے غیر وجوہ پر استعمال نہیں ہوا۔ تو زیر بحث مقام پر اس عام اصول سے کیوں علیحدہ ہو کر طیر نما سواروں کا رسالہ بن گیا۔ مولوی صاحب نے اس کے متعلق یہ وجہ لکھی ہے کہ حضرت سلیمان کو گھوڑوں کا شوق تھا۔
”اذ عرض عليه بالعشى الصافنات الجياد (ص: آیت نمبر ٣١)“
مولوی صاحب نے لفظی معنوں کی طرف مائل ہونے والوں کے پاس خاطر کے لئے پرندوں کی بھی دو طرح تاویل کر کے حق تفسیر کا کردار ادا کر دیا ہے۔ تاکہ کوئی ان پر یہ الزام لگانے کے قابل نہ رہے کہ کسی اہل زبان مفسر نے آج تک طیر متنازعہ کا مفہوم سواروں کا رسالہ ہرگز بیان نہیں کیا۔ پیغام رسانی کے واسطے مولوی صاحب نے بالکل نہیں بتایا کہ اس قدر تعداد کی حضرت سلیمان علیہ السلام کو کیوں غیر معمولی حاجت تھی۔ جب کہ ایک قلیل تعداد بھی پرندوں کی ایک بڑی جنگ میں کافی ہو سکتی ہے۔ دوسری توجیہ مولوی صاحب کی تو بالکل مضحکہ خیز ہے۔ کیونکہ پرند اگر محض مفتوحہ لشکر کی لاشوں کو چٹ کرنے کی خاطر حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کے ہمراہ ہوتے تھے تو بالضرور وہ دانہ خور قسم سے نہ تھے۔ بلکہ مردار خور قسم سے تھے اور اس قسم کے پرند کوچ و مقام میں قبل جنگ شروع ہونے کے راستہ میں کس چیز سے پیٹ بھرتے تھے۔ مولوی صاحب نے قبل حصول مفتوحہ لشکر کی لاشوں کے نہ ان پرندوں کی روزہ داری کا ثبوت دیا نہ ان کے واسطے حیوانی خوراک کے واسطے کسی خاص انتظام کا ذکر کیا اور مردار خور پرندوں کی خوراک کو محض مفتوحہ لشکر کی لاشوں تک محدود کر دیا۔ اب کون پوچھے کہ مولوی صاحب کیا فاتح لشکر سے کسی کا بالکل نہ مارا جانا اور ہمیشہ مفتوحہ لشکر سے مقتولوں کا ڈھیر لگ جانا تاکہ مذکورہ پرندوں کو پیٹ بھرنے کا موقعہ ہاتھ آئے۔ ایسی عاقلانہ تاویل ہو سکتی ہے۔ جس کو معمولی عقل بھی قبول کرنے کے واسطے آمادہ ہو؟۔ اگر واقعہ میں یہ پرند مردار خور تھے تو فاتح لشکر کی لاشوں کو چٹ کرنے سے بالکل باز رہنا اور مفتوحہ لشکر کی محض لاشوں کی انتظار میں بھوکے پڑے رہنا ایک ایسی تاویل ہے کہ بدوں ہمارے مولوی صاحب کے کسی دوسرے کی عقل میں آنا نہایت دشوار ہے۔ ہاں اگر مولوی صاحب معجزہ سلیمانی سے منسوب کر دیتے تو ہم کو پھر اس پر جرح کرنے کا کوئی حق نہ تھا۔ مگر مولوی صاحب کوئی معجزہ بھی کیوں ماننے لگے۔ بلکہ ان کی ساری ہمت کا مقصود ہی صرف یہی ہے کہ کوئی اعجازی واقعہ مذکورہ قرآن کریم کا ثابت ہی نہ ہو سکے۔ جیسا کہ ہم بارہا ادلہ سے گذشتہ نمبروں میں بخوبی ثابت کر چکے ہیں اور اب بھی اور آئندہ بھی انشاء اللہ ثابت کریں گے۔ ہمارے مولوی صاحب نے اپنی اس
تاویل کی بناء کو عرب کے بعض اشعار پر قائم کر دیا۔ مگر شعراء کے مبالغہ آمیز کلام کو بموجب ”الم تر انهم فی کل واد يهيمون (شعراء : ٢٢٥)“ پر ذرا بھی توجہ نہ کی۔ کیونکہ واقعات کا تجربہ اور مشاہدہ اس نرالی تاویل کی ہرگز تائید نہیں کرتا۔
- ٣...... چونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فضیلت میں سب سے پہلے منطق
الطیر کی تفہیم کا ذکر کیا تھا۔ اس واسطے قرآن شریف بھی پہلے اسی کی دو مثالیں بیان کرتا ہے۔ پہلے مثال نملہ کی منطق کی ہے۔ کیونکہ وہ تغلیباً طیر میں داخل ہے۔ جس طرح ابلیس تغلیباً ملائک میں داخل کیا گیا ہے۔ درحالیکہ وہ جنس ملائک سے نہ تھا اور یہ باریک نکتہ علم معانی کے ماہر سے پوشیدہ نہیں ۔ قرآن شریف جب خود طیر کی مثال میں نملہ کا ذکر شروع کرتا ہے تو طیر میں اس کا تغلیباً داخل ہونا بلا ریب صحیح ہوا۔ چنانچہ قرآن شریف حضرت سلیمان کے لشکر کے کوچ کا ذکر اس طرح شروع کرتا ہے۔ ”حتی اذا اتوا على واد النمل قالت نملة يايها النمل ادخلوا مساكنكم لا يحطمنكم سليمن وجنوده وهم لا يشعرون فتبسم ضاحكا من قولها وقال رب اوزعنی ان اشكر (نمل:١٨، ١٩)“ یعنی حتیٰ کہ جب وہ چیونٹیوں کے میدان کے قریب پہنچے تو ایک چیونٹی نے اپنی بولی میں کہا کہ اے چیونٹیو! اپنی بلوں میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو سلیمان علیہ السلام اور اس کا لشکر کچل ڈالے اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ پس سلیمان علیہ السلام اس کی بات پر مسکرا کر ہنس پڑے اور دعا کرنے لگے کہ اے میرے رب مجھ کو توفیق دے کہ تیری نعمت کا شکر ادا کروں۔
مولوی صاحب سے کون بندہ خدا کا پوچھے کہ اگر نملہ واقعہ میں کوئی انسان ہی تھا تو حضرت سلیمان علیہ السلام اور ان کے لشکر سے باقی اس کے ہم جنس انسانوں کے کچلا جانے کے متعلق کلمات سن کر مسکرانا اور ہنس پڑنا حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے دانا پیغمبر کی شان کے کیوں خلاف نہیں؟۔ نملہ کے اس کلام میں جو حضرت سلیمان کے تضحک کا موجب ہوا۔ آخر کوئی نہ کوئی غیر معمولی راز تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں۔ کیونکہ ایک پیغمبر کسی معمولی بات پر ہرگز نہیں ہنسا کرتا۔ بالخصوص ایک ایسا پیغمبر جس کی عقلمندی ضرب المثل ہے۔ نملہ کی اس گفتگو پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے شکر گزار بندہ بننے کے واسطے دعاء کرنا بھی اس راز کی غیر معمولیت پر شاہد ہے۔ اگر وہ نملہ انسان تھا تو کیا حضرت سلیمان بالخصوص اور ان کا لشکر اس قدر بے لگام اور غیر محتاط تھا کہ گھروں سے باہر نکلے ہوئے سب آدمیوں کو لتاڑ ڈالتے اور ان کو خبر بھی نہ ہوتی؟۔ ایک آدھ انسان کا لتاڑا جانا تو ممکن ہے۔ مگر اتنی تعداد کا حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے پیغمبر اور ان کے لشکر ٦٠
سے اندھا دھند کچلا جانا اور پھر ان کا اس سے بے خبر رہنا ایسی توجیہ ہے کہ اس کو عقلِ سلیم ہرگز قبول نہیں کر سکتی۔ اگر وہ نملہ اور اس کے باقی ہم جنس واقعہ میں انسان تھے تو کیا وہ سارے ہی اندھے تھے کہ اس قدر لشکر کی آمد کو محسوس نہ کر سکتے تھے؟۔ اس قصہ سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت سلیمان اپنے لشکر کے آگے آگے کوچ کر رہے تھے۔ کیونکہ سب سے اوّل نملہ زیر بحث کا کلام آپ نے ہی سنا تھا اور جب یہ صحیح نتیجہ ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ کیونکہ وہ لشکر کے اعلیٰ افسر بھی تھے تو پھر ان کی بے خبری میں باقی آدمیوں کا پس جانا صحیح نہیں ہو سکتا۔ اگر نملہ کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا نام معلوم تھا تو ان کا پیغمبر ہونا بھی بالضرور معلوم تھا۔ لہٰذا اندریں صورت وہ بے خبری میں اس کے ہم جنسوں کے کچلا جانے کا الزام ایک پیغمبر پر سب سے اوّل کیونکر لگا سکتا تھا۔ مگر صد آفرین اس نملہ پر کہ اس نے ایک پیغمبر کو مع ان کے لشکر کے اس بے خبری میں لتاڑ ڈالنے کے الزام سے بری کر دیا۔ اب سلیمان اور ان کے لشکر کے بے خبری میں کچلا جانے کا امکان اور احتمال اسی صورت میں یقین کا مرتبہ حاصل کر سکتا ہے کہ نملہ اور اس کے باقی ہم جنسوں کو چیونٹیاں تسلیم کیا جائے۔ جو سفر میں کوچ کرنے والے لشکر سے بسبب اقل مقدار کے لتاڑی جاسکتی ہیں۔ جیسا ہم روزمرہ کے واقعات سے بچشم خود مشاہدہ کرتے ہیں۔ پس خدا تعالیٰ کی ایک اس قدر حقیر اور ادنیٰ جاندار کے منہ سے ایسی عاقلانہ بات کا سننا جس میں وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو معہ ان کے لشکر کے بے خبری سے کچل ڈالنے کے الزام سے بری کر رہی ہے۔ بالضرور حضرت سلیمان علیہ السلام کے تفکّہ کا باعث ہوا۔ جس کے بعد آپ نے مذکورہ دعا مانگی ورنہ کسی انسان سے ایسی بات سن کر ایک معمولی انسان بھی جب تعجب سے نہیں ہنستا تو ایک عاقل اور سنجیدہ پیغمبر کیوں کر مسکرا کر ہنس دیتا ہے؟۔ وادیِ نملہ بیشک طائف میں اب تک ایک میدان موجود ہے۔ مگر یہ ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا کہ اس میدان کا ابتداء میں نام کسی انسان کی قوم نملہ کے سبب سے تھا اور اکثر آدمیوں کے نام اور ان کی کنیت پرندوں اور جانوروں کے نام سے مشہور ہوتی ہے۔ مگر اس سے ہرگز یہ لازم نہیں کہ باقی کل قرائن قویہ اور دلائل عقلیہ کو بالکل نظر انداز کر کے ایسے اسماء کو ہر حالت میں جزوِ انساں سمجھ لیا جائے اور اصلی و متعارف مراد کو بالکل رد کر دیا جائے۔
- ٤...... قرآن شریف طیر کی دوسری مثال اب بیان کرتا ہے۔ تا کہ منطق الطیر
کے علم کی فضیلت کا اظہار حضرت سلیمان علیہ السلام کے حق میں کامل طور پر ثابت ہو ورنہ طیر اگر جنسِ انسان میں داخل ہے تو اس کی بولی کے وہبی علم پر حضرت سلیمان کا اظہار فضیلت بالکل لغو ہو جاتا ہے۔ ایک معمولی بے علم آدمی بھی جب غیر ملک کی زبان کو سمجھ سکتا ہے تو ایک پیغمبر کی شان سے
٦١
نہایت بعید ہے کہ ایسی زبان دانی پر فضیلت کا اظہار کرے۔ پس یہ حقیقی پرندوں کی بولی کے علم کا واقعی ایک وہبی اور اعجازی عطیہ تھا اور اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے والد داؤد علیہ السلام بھی شامل تھے۔ جس پر یہ آیت شاہد ہے۔ ”وسخرنا مع داؤد الجبال يسبحن والطير (انبیاء:٧٩) “ اسی واسطے حضرت سلیمان علیہ السلام نے علم منطق الطیر میں بوقت اظہار فضیلت اپنے والد کو بھی شامل کر لیا تھا۔
- ٥......... اب جنس طیر سے دوسری مثال قرآن شریف ہدہد کی بیان کرتا ہے۔
” وتفقد الطير فقال مالي لا ارى الهدهد ام كان من الغائبين لا عذبنه عذاباً شديداً اولا ذبحنہ اولیا تینی بسلطان مبین (النمل:٢٠، ٢١) “ اور سلیمان علیہ السلام نے حاضری لی پرندوں کی اور کہا کیا وجہ ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا کیا وہ غیر حاضر ہے۔ میں اس کو سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا۔ ورنہ میرے سامنے کوئی معقول عذر پیش کرے۔ پس ہدہد تھوڑی ہی دیر میں آ گیا اور کہنے لگا کہ میں نے ایسی بات معلوم کی ہے جو آپ کو معلوم نہیں اور میں سبا سے آپ کے واسطے ایک سچی خبر لایا ہوں۔ وہاں ان لوگوں پر ایک عورت حکمرانی کرتی ہے اور اس کو ہر ایک ضروری چیز دی گئی ہے اور اس کا تخت بڑا عالی شان ہے وہ ملکہ اور اس کی قوم سوائے اللہ تعالیٰ کے سورج کو سجدہ کرتی ہے۔.... الخ ! حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا ہم عنقریب ہی معلوم کر لیں گے کہ آیا تم نے سچ کہا ہے یا تم جھوٹ بولنے والوں سے ہو۔ میرا یہ خط لے کر ان کے آگے ڈالدو پھر ان سے یکسو ہو کر دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ ملکہ بولی اے دربارو! لو میری طرف ایک معزز خط ڈالا گیا ہے یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یوں شروع ہوتا ہے۔ بسم الله الرحمن الرحیم تم میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور مسلمان ہو کر میرے پاس چلے آؤ۔ ( باقی ملکہ اور درباریوں کی باہمی گفتگو خاص قرآن شریف میں دیکھنا چاہئے ) اس کے متعلق مجاہد و سعید ابن جبیر حضرت ابن عباسؓ سے بیان کرتے ہیں کہ ہدہد کی یہ شان تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہندسہ کا علم دیا تھا۔ پس سفر میں حضرت سلیمان علیہ السلام اس کو طلب کر کے پانی کا پتہ زیر زمین دریافت کر لیتے۔ جس کو لشکر کے واسطے کھود کر نکالا جاتا۔ لہٰذا ہدہد کا ایسے موقعہ پر غائب ہو جانا حضرت سلیمان علیہ السلام کی خفگی کا باعث ہوا۔
( تفسیر مواہب الرحمٰن ص ١٦٥، پارہ ١٩، سورۂ نمل)
ملکہ سباء کے ہاں بعد صلاح مشورہ یہ اقرار پایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے یہاں کچھ تحائف قاصدوں کے ہمراہ بھیج کر نتیجہ دیکھنا چاہئے۔ ہدہد نے ان سے پہلے ہی پہنچ کر ملکہ کی
٦٢
تجویز سے حضرت سلیمان علیہ السلام کو اطلاع کردی تھی۔ جب قاصد تحائف لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آئے تو آپ نے تحائف کو نامنظور کر کے کہا کہ ہم زبردست لشکر لے کر ان پر جہاد کریں گے۔ وہ ہرگز مقابلہ نہیں کرسکیں گے اور ان کو ذلیل کر کے وہاں سے نکال دیں گے۔ اس کے بعد حضرت نے اپنے دربار والوں کو کہا کہ کون تم میں ایسا ہے جو اس ملکہ کا تخت ان کے مطیع ہونے سے پہلے میرے پاس لا کر حاضر کر دے۔ ایک بڑے جن نے کہا کہ میں اس کو لاسکتا ہوں۔ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں اور میں یہ کام کرنے کی طاقت رکھتا ہوں اور امین بھی ہوں۔ جس درباری کو علم الکتاب یعنی اسم اعظم کا علم تھا وہ بولا میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت کو لاسکتا ہوں۔ پس جب سلیمان نے اسی دم تخت کو اپنے پاس موجود پایا تو کہا کہ یہ کام میرے رب کے فضل سے ہے۔ تاکہ مجھ کو آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ پس حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ تخت کی صورت کو بدل ڈالو تاکہ معلوم کیا جائے کہ ملکہ اپنے تخت کو شناخت کرسکتی ہے یا نہیں۔ جس وقت ملکہ خود حاضر ہوئی تو سلیمان علیہ السلام نے اس سے پوچھا کہ آیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟۔ وہ بولی گویا یہ تخت وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی آپ کے متعلق آگاہی ہوچکی ہے اور ہم آپ کے مطیع بن چکے ہیں۔
......٦...... مولوی صاحب اس جگہ ہدہد کو مشہور پرند تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ کوئی اہل کار بتلا کر اس کو انسان قرار دیتے ہیں۔ مگر قرآن شریف جو افصح اور ابلغ الکلام واقع ہوا ہے۔ سلیمانی لشکر کے تین الگ الگ قسم ہی بیان نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک قسم کی الگ الگ اعجازی امثلہ بھی پیش کرتا ہے۔ یعنی دو مثالیں منطق الطیر کی ایک عفریت جن کی ایک آدمی کی۔ مولوی صاحب نوٹ نمبر ١٨٥١ میں فرماتے ہیں کہ ”يٰاَيُّھَا الْمَلَؤُا اَيُّکُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِھَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ (نمل:٣٨)“ میں مراد اس تخت کی ہے۔ جو حضرت سلیمان ملکہ بلقیس کو بٹھلانے کے واسطے اپنے اہل کاروں سے علیحدہ تیار کرانا چاہتے تھے۔ پس یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِھَا کا صحیح ترجمہ اس طرح ہے۔ (اس کے واسطے تخت لے آؤ) یعنی تیار کر کے یا کروا کر اس سے بلقیس والا تخت مراد نہیں۔
......٧...... اب مولوی صاحب سے کون عربی دان منوائے کہ عرش کے پہلے ب تعدیہ ہے اور لازمی فعل کو متعدی بنانے میں اکثر یہ قاعدہ ملحوظ ہوتا ہے۔ مگر مولوی صاحب نے اس ب کی بدولت تعدیہ کے علاوہ مفعول لہ کے معنے بھی خود بخود گھڑ لئے ہیں۔ آنکھ جھپکنے تک تخت بنا کر تیار کر دینے کو جلدی بنا سکنے پر محمول کیا ہے۔ کون پوچھے کہ جب ”قَالَ نَکِّرُوْا لَھَا عَرْشَھَا
٦٣
(نمل:٤١) ’’میں آپ نے (اس کا تخت) ترجمہ کیا ہے۔ تو ”يأتيني بعرشها“ میں (اس کے واسطے) کس قاعدہ کی رو سے ترجمہ کیا ہے۔ مولوی صاحب نے ”نكروا لها عرشها“ کا صرف ترجمہ کیا ہے۔ (اس کے واسطے اس کا تخت بدل ڈالو) مگر کوئی نوٹ اس پر عمداً نہیں لکھا۔ کیونکہ جب مولوی صاحب بلقیس کے واسطے سلیمانی اہل کاروں کی مدد سے ایک جدید تخت کا تیار کرایا جانے کا مطلب بیان کر چکے ہیں۔ تو اب اصل تخت کی حالت کو بخاطر ملکہ بلقیس بدل ڈالنا بالکل بے جوڑ سمجھ کر نوٹ لکھنے سے ڈر گئے تاکہ ساری محنت پر یکدفعہ پانی نہ پھر جائے۔ مولوی صاحب نے ”عفريت من الجن (نمل:٣٩)“ کو ایک دراز قد انسان لکھا ہے۔ ”قبل ان تقوم من مقامك“ نشست کی حالت سے اٹھنا مراد نہیں۔ بلکہ اس جگہ سے کسی دوسرے مقام پر پہنچنے کا مفہوم لکھا ہے۔ ”فلما راه مستقراً عنده“ کا یہ مفہوم نہیں کہ پہلی گفتگو کی اثناء میں وہ آگیا تھا۔ بلکہ یہ بالکل ایک علیحدہ واقعہ ہے۔ قرآن شریف کے صاف صاف الفاظ میں عجیب عجیب حکایات اس خیال کی بناء پر مفسرین داخل کر لیتے ہیں کہ یہ کل واقعات ایک ہی سلسلہ میں وقوع پذیر ہوئے۔
(نوٹ ١٨٥٢،١٨٥٤، انگریزی قرآن)
الجواب!
مولوی صاحب سے کون پوچھے کہ جب اہل زبان مفسرین نے بھی تیرہ سو برس کے اندر قرآن کو صحیح نہ سمجھا اور وہ سب پرانی لکیر کے فقیر تھے تو پھر قرآن کو باقی امت نے کس ذریعہ سے سمجھا۔ مولوی صاحب کو کون سمجھائے کہ جو سلیمان ملکہ بلقیس کے بیش قیمت تحائف کو کمال حقارت سے رد کر کے اس کو جہاد کا الٹی میٹم دیتا ہے۔ پھر اسی کی آؤ بھگت کی خاطر اس کے باعزت بٹھلانے کے واسطے ایک شاندار تخت کی تیاری کا حکم دے کر اپنے دبدبہ اور رعب کو ایک سورج پرست ملکہ کے مقابل کیوں کر ایسا خفیف کر سکتا ہے اور یہی نہیں بلکہ ایسے تخت کی تیاری میں بڑی تشویش آمیز کلام بھی استعمال کرتا ہے اور یہی نہیں بلکہ جب وہ تیار کردہ تخت اس کے سامنے لا کر رکھا جاتا ہے تو نہایت مؤدبانہ طور پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ اس تخت سے میری آزمائش ہو رہی ہے کہ آیا میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ ایک دولت مند امیر بھی ایسی معمولی چیز کی تیاری کو موجب ابتلاء نہیں سمجھتا تو اس قدر سر و سامان والا پیغمبر اور بادشاہ اس کو کیوں کر موجب اپنے ابتلاء کا سمجھ سکتا ہے؟۔ کیا حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنی توفیق اور اپنے اہل دربار کی قابلیت پر بالکل یقین نہ تھا کہ وہ حسب دلخواہ تخت بنوا سکتے ہیں اور پھر اس تخت کے تیار ہو کر پیش کئے جانے پر اس کو ایک ایسا اچنبھا اور خلاف توقع نعمت سمجھے کہ صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کا شکریہ ہی ادا نہ
٢٧
کرے بلکہ اپنے ابتلاء کا موجب بھی قرار دے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کے قاصدوں کو مع تحائف کے واپس کر کے جہاد کا الٹی میٹم دیا تو اپنے اہل دربار کی قابلیت جس کو وہ بالضرور جانتے تھے۔ عملی تجربہ کرنا چاہا اور جس عرش عظیم کی شیخی بلقیس کو تھی پہلے اس کے جلد منگوانے کا اس دربار کو حکم دیا۔ اس کام کو عفریت جن نے بھی جلد پورا کرنے کا اگرچہ ذمہ اٹھا لیا تھا۔ مگر جنی قوت چونکہ آخر فطرتی قوت ہوتی ہے۔ اس واسطے اعجازی قوت کی بناء پر جس پر درباری مومن بطفیل اسم اعظم قادر تھا۔ عرض کرنے لگا کہ طرفۃ العین میں بلقیس کا تخت لا سکتا ہوں۔ پس اس کا اتنا عرض کرنا اور تخت کا آپ کے سامنے لا رکھنا حضرت کی شکرگزاری اور محل ابتلاء کا باعث ہوا۔
مولوی صاحب کو کون یقین دلائے کہ قرآن شریف میں قریباً بارہ دفعہ جن وانس ملکر مذکور ہیں اور ہر دفعہ بدوں استثناء دو الگ الگ جنس کی جب مراد ہے تو اس جگہ جن وانس کیوں کر ایک ہی واحد جنس (انسان) ہو سکتا ہے؟ ۔ اللہ تعالیٰ کو کوئی اور عربی لغت کیا بوقت نزول قرآن شریف یاد نہ تھی۔ جس کے استعمال سے مولوی صاحب کے مزعومہ جن کا اظہار کر سکتا۔ اسی طرح طیر بھی قرآن مجید میں بدوں مفہوم پرند ہرگز مذکور نہیں۔ جس کو مولوی صاحب نے تسلیم کر کے بھی آخر ایسا بگاڑا ہے کہ عقلی دلائل اور مشاہدہ کی بناء پر ایسے نرالے پرند کا وجود ہی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچ سکتا۔
ریویو نمبر ١٥
- .......١ مولوی صاحب اپنے قرآن (ص ٢٩ نوٹ نمبر ٧٤) میں متعلق ”وارکعوا
مع الراکعین (البقرہ: ٤٣)“ اس طرح فرماتے ہیں کہ : ”جو رکوع کرتے ہیں وہ مسلمان ہیں اور نماز میں ان کو مسلمانوں کی طرح اقتداء کا حکم ہے۔“
جواب !
آج تک مشاہدہ سے ثابت نہیں ہوا کہ مولوی صاحب نے خود یا ان کی جماعت کے کسی رکن رکین نے کسی غیر احمدی مسلمان کے پیچھے نماز پڑھی ہو۔ اگر مولوی صاحب کا واقعی یہ عقیدہ ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو مسیح موعود نہ ماننے والے کو کافر نہیں کہتے۔ جیسا کہ خواجہ کمال الدین صاحب کے اعلان مطبوعہ احمدیہ سٹیم پریس لاہور سے ثابت ہے۔ جس میں (بحوالہ تریاق القلوب ص ١٣٠، خزائن ج ١٥ ص ٣٣٢ حاشیہ) مرزا غلام احمد قادیانی کا فتویٰ درج کیا ہے۔ کہ ”لفظ کافر صرف انہی پیغمبروں کے منکروں پر صادق ہوتا ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے شریعت اور احکام جدیدہ لاتے ہیں۔“ تو پھر اس جماعت کا غیر احمدی مسلمانوں کے ساتھ نماز میں عمداً اقتداء نہ کرنا یا بطور امام کے نماز کے وقت آگے کھڑا ہو جانا صاف اس امر کا اعلان ہے کہ آیت ”اتامرون
٦٥
الناس بالبر وتنسون انفسکم (البقرۃ: ٤٤) ’’پر عمل کرنا اس جماعت کے واسطے نہیں بلکہ دوسروں کے واسطے فرمایا گیا ہے۔ اس قسم کے الفاظ کا اظہار محض چندہ وصول کرنے کی خاطر ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کو جو مسلمان مسیح موعود نہیں مانتا یہ لوگ درحقیقت اس کو اچھا نہیں جانتے اور نہ نماز میں اس کی اقتداء کرتے ہیں۔
- ٢....... ص ٤٠٤ نوٹ نمبر ١٠٥٢ میں متعلق آیت ’’اتخذوا احبارہم
ورہبانہم ارباباً من دون اللّٰہ والمسیح ابن مریم (توبہ: ٣١)‘‘ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ جو مسلمان اپنے پیروں یا بزرگوں کو یہی مرتبہ دیتے ہیں وہ بھی اس الزام کے ماتحت ہیں۔
جواب !
اب مولوی کو کون قائل کرے کہ جو رتبہ آپ نے مرزا قادیانی کو دے رکھا ہے اس میں آپ کا پلڑا اس قدر بھاری ہے کہ پیر پرست بعض مسلمان اس کے مقابل کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ نہیں معلوم آپ نے کیوں کر قبول کر لیا ہے کہ مرزا قادیانی درحقیقت وہی مسیح موعود ہیں جن کی قرآن شریف میں مجملاً اور احادیث صحیحہ میں مفصلاً اطلاع دی گئی ہے۔ کیا آپ نے محض مرزا قادیانی کے الہامی دعویٰ کی بناء پر ان کو مسیح موعود تسلیم کر لیا ہے۔ یا جو فرائض جناب رسول اللّٰہ ﷺ نے مسیح موعود کے متعلق بتائے ہیں۔ ان کی تکمیل کا مصداق ان کو دیکھ کر قبول کیا ہے۔ مولوی صاحب ابھی مسیح موعود کی شخصیت کا فیصلہ بھی ضروری ہے۔ کیونکہ مسیح موعود کی شخصیت کا فیصلہ جناب رسول اللّٰہ ﷺ ایسی وضاحت اور تفصیل سے فرما چکے ہیں کہ اس پر کسی تاویل کا رنگ نہیں چڑھ سکتا۔ اب صرف دو معیار ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی یا کوئی اور صاحب پرکھے جا سکتے ہیں کہ آیا وہ واقعی مسیح موعود ہیں یا نہیں۔ وہ دو معیار کیا ہیں؟۔ ایک شخصیت کا دوسرا تکمیل مشن یا خاص فرائض کا ہم اہل سنت مسلمان آپ کے مسیح موعود کو جب ان پر ہر دو معیار مقرر کردہ جناب رسول اللّٰہ ﷺ سے پرکھتے ہیں تو ان کو ہر دو میں پورا فیل پاتے ہیں۔ جس طرح سلف نے مدعی مسیحیت کو بالکل فیل شدہ پا کر مسیح کاذب کا لقب دے دیا۔ اب آپ براہ کرم بتلائیں کہ مذکورہ معیار مقرر کردہ ’’وما ینطق عن الہویٰ ‘‘ کے سوا کوئی تیسرا معیار آپ کے پاس موجود ہے؟۔ اگر موجود ہے تو کس مطلب اور غرض کے واسطے اس کو اب تک پبلک سے پوشیدہ رکھا ہوا ہے؟۔ آپ لاکھ ہاتھ پاؤں ماریں ان کو مسیح موعود ثابت نہیں کر سکتے ہم اس کے جواب میں آپ کی
٦٦
طرف سے ہر آن منتظر ہیں۔ جب تک آپ مذکورہ معیاروں کا مصداق مرزا قادیانی کو مسیح موعود ثابت نہ کرسکیں گے۔ (ارباباً من دون الله ) والی آیت کا مصداق ہم آپ کو سب سے بڑھ کر یقین کرتے ہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ معیار پر تو آپ انشاء اللہ مرزا قادیانی کو ہرگز مسیح موعود ثابت نہیں کر سکتے اور اسی کے انکار کی وجہ سے آپ پر (ارباباً من دون الله ) خوب چسپاں ہو رہا ہے۔ بعض مسلمان اگر پیر پرست ہیں تو وہ بخدا آپ کی مرزا پرستی کی حد سے بہت نیچے ہیں۔
معیار شخصیت و فرائض مسیح موعود
- ١....... جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی ابن مریم عین وہی نام زبان مبارک سے
فرمایا۔ جو قرآن شریف میں قریباً ١٩ دفعہ مذکور ہے تا کہ شخصیت کی پوری تمیز ہو کر امت کو غلط فہمی نہ ہو۔ اس مسئلہ میں بھی مرزا قادیانی نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کو حسب ایماء مسیح یوحنا نبی بتلا کر غلط فہمی سے کام لیا ہے۔ اس انجیلی محرف بیانی میں چونکہ تناسخ ثابت ہوتا ہے۔ اس واسطے اہل سنت کے عقائد کے بالکل خلاف ہے۔ اگر بالفرض باقی پہلی امتیں سب کی سب گمراہ بھی ہو گئیں تو محمد رسول اللہ ﷺ کی امت ساری کی ساری ہرگز گمراہ نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بطور خوشخبری تین باتیں بتا دی ہیں۔ اوّل یہ کہ میری ساری امت گمراہ نہیں ہو سکتی۔ دوم یہ کہ تمہارا نبی بدعا کر کے تم سب کو ہلاک نہیں کروائے گا۔ سوم یہ کہ اہل باطل اہل حق پر غالب نہ ہو سکیں گے۔ (دیکھو مشکوٰۃ ص٥١٢، باب فضائل سید المرسلین، مشکوٰۃ ص ٥٨٣، باب ثواب ہذہ الامۃ ) میں مذکور ہے کہ یہ امت خیر امت ہے اور ایک گروہ اس کا ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔ جس کو کوئی مخالف فریق گمراہ نہ کر سکے گا۔ اس الہامی بیان کے سامنے مرزا قادیانی کا ابن مریم کی شخصیت کے بارہ میں کل امت کو گمراہ بتلانا درست نہیں۔ ایلیا نبی کی آمد ثانی کی بابت یوحنا نبی سے پوچھا گیا کہ تو ایلیا ہے تو اس نے انکار کر دیا۔ (دیکھو انجیل یوحنا باب ١ آیت ٢١) ایسا مشتبہ حوالہ قابل حجت نہیں ہو سکتا۔ مسیح ابن مریم اسم علم ہے۔ جس کی تاویل از روئے علم معانی ناجائز ہے۔ الا دو صورتوں میں اوّل جب تشبیہ مطلوب ہو مثلاً لکل فرعون موسیٰ اس مثال میں کل کا قرینہ فرعون اور موسیٰ کو اسم علم کی تعریف سے خارج کرتا ہے۔ دوم جب ایک نام کے کئی وجود ہوں۔ مثلاً ”اخت ھارون“ حضرت مریم کو قرآن شریف نے لکھا ہے اور یہ ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھائی نہ تھا۔ شخصیت کے متعلق سب سے اوّل علم اصول کے قاعدے کا بیان کر دیا ہے۔ تا کہ معلوم ہو کہ مسیح ابن مریم کا حج
٦٧
کرنا پھر نکاح کر کے صاحب اولاد ہونا پھر مقبرہ نبوی کے اندر مدینہ میں حضرت ابو بکر صدیق و حضرت عمر فاروق کے پہلو میں دفن ہونا۔ پھر جناب رسول اللہ ﷺ کا فرمانا کہ مسیح ابن مریم قیامت کے دس نشانات میں سے ایک نشان ہے۔ جیسا سورہ زخرف میں ” و انه لعلم للساعة (زخرف:٦١) “وارد ہے۔ کیونکہ ان کا نزول من السماء ایک خارق عادت فعل باقی خارق عادت افعال کا ایک پیش خیمہ ہے۔ یعنی دجال دابة الارض طلوع الشمس من المغرب وغیرہ کا اسی معیار پر پہلے کے مدعیان مسیحیت فیل ہوئے اور یہی معیار مرزا قادیانی کے واسطے ہے۔ مرزا قادیانی (حقیقت الوحی ص ٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣١) میں ابن مریم مسیح موعود کی شخصیت اور فرائض پر پردہ ڈالنے کی خاطر اس طرح فرماتے ہیں۔ (یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی ایسا نبی آنے والا ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے مساجد کی طرف دوڑیں گے تو وہ کلیسیا کی طرف بھاگے گا۔ اور جب لوگ قرآن شریف پڑھیں گے۔ تو وہ انجیل کھول بیٹھے گا۔ اور جب لوگ عبادت کے وقت بیت اللہ کی طرف منہ کریں گے تو وہ بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوگا اور شراب پیئے گا اور سور کا گوشت کھائے گا اور اسلام کے حلال و حرام کی کچھ پرواہ نہیں رکھے گا۔ معاذ اللہ !) مگر جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے برخلاف اس طرح فرمایا ہے کہ ابن مریم کے وقت میں اسلام ہی اسلام، دین واحد رہ جائے گا اور وہ حاکم عادل ہوں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ یعنی نصاریٰ بھی اسلام میں داخل ہو جائیں گے اور قتال و جزیہ موقوف ہو جائیگا۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے اس حدیث کو بیان کر کے یہ آیت پڑھی ”وان من اهل الكتب الا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيداً (نساء: ١٥٩) “ابن مریم کے ساتھ سیاسی حکومت کا ہونا حدیث سے ثابت ہے اور ’لیظهره علی الدین کله“ کا پورا عملدرآمد آپ کے عہد کے ساتھ وابستہ ہے۔ دجال مخصوص وہ نہیں جس کو مرزا قادیانی نے عیسائی پادری بنا دیا ہے۔ اس کو الف ، لام معرفہ اسی واسطے احادیث میں لگا ہوا ہے کہ ”ثلثون دجالون کذابون“ سے اس کی شخصیت ممتاز ہو جائے۔ جو بعد حضرت ﷺ کے جھوٹا دعویٰ نبوت کر کے لوگوں کو گمراہ کریں گے۔ اس دجال خاص کے خرق عادت افعال کا ذکر (مشکوٰۃ ص ٤٧٥، باب العلامات بین یدی الساعة وذکر الدجال) میں مذکور ہے۔ جو قوم یہود سے ہوگا اور تمیم داریؓ کی حدیث میں اس کی شخصیت کا سارا پردہ اٹھایا جاتا ہے اور جس طرح فرعون کی ہلاکت حضرت موسیٰ کے ہاتھوں سے واقعہ ہوئی۔ اسی طرح الدجال کی ہلاکت
٦٨
حضرت ابن مریم کے ہاتھوں سے احادیث میں مذکور ہے۔ امام مہدی کے پیچھے ابن مریم کا نماز ادا کرنا بھی احادیث میں بوضاحت مذکور ہے اور صرف اسی شخص کو اس بارہ میں شبہ ہوگا۔ جو مرزا قادیانی کے کلام و تاویل کو جناب ﷺ کی احادیث صحیحہ پر ترجیح دینا پسند کرے گا۔ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنا موجب فوری ہلاکت نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی سے پہلے بھی مدعیان نبوت، مسیحیت، مہدویت گزر چکے ہیں۔ جنہوں نے قریباً قریباً مرزا قادیانی کے برابر دعاوی کئے ہیں اور ان کو حکومت سیاسی بھی حاصل تھی۔ جس سے مرزا قادیانی محروم رہے۔ چنانچہ صالح بن طریف ٤٧ سال تک مدعی نبوت رہا۔ یونس ٤٤ سال تک، حسن بن صباح ٣٥ سال تک۔ (دیکھو تاریخ ابن خلدون ج٦ تاریخ کامل ابن اثیر تذکرہ بہادران اسلام، ابو منصور عیسیٰ سید محمد جونپوری مدعی الہام و مہدویت) (انجیل مرقس باب ١٣ آیت ٢١، ٢٢) میں حضرت مسیح علیہ السلام کی ایک پیش گوئی مذکور ہے کہ کاذب مسیح اور کاذب نبی بہت ظاہر ہوں گے اور اس قدر عجائب کرشمے دکھلائیں گے کہ بعض برگزیدہ بھی گمراہ ہو کر ان کو قبول کرلیں گے۔
”ولو تقول علينا بعض الاقاويل لا خذنا منه باليمين . ثم لقطعنا منه الوتين (الحاقة:٤٤، ٤٥ ، ٤٦)“ محض قرآن کی عظمت کی خاطر جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو فرمایا گیا ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ افتراء علی اللہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے اور مرزا قادیانی بھی افتراء علی اللہ اور افتراء علی محمد رسول اللہ ﷺ کرتے رہے اور آیات ذیل کے تحت ان کا حال اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی معرفت ہم کو اطلاع دیتا ہے کہ غیر قرآن کا افتراء فوری ہلاکت کو مستلزم نہیں۔ جس کی صداقت پر تاریخ گواہ ہے۔
- ١...... ”قل ان الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون
(یونس:٦٩)“
- ٢...... ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذباً اوكذب بايته انه لا
يفلح الظلمون (انعام:٢١)“
- ٣...... ”ومن اظلم ممن افترى على الله كذباً اوقال اوحی الی
ولم یوحی الیہ شئی (انعام:٩٣)“
- ٤...... ”قل من كان فى الضلالة فليمددله الرحمن مدا حتى
اذا رأوما یوعدون اما العذاب واما الساعة (مريم:٧٥)“
اب ان حالات کی موجودگی میں مولوی محمد علی صاحب کا بعض پیر پرست مسلمانوں پر
٦٩
”اتخذوا احبارہم ورہبانہم ارباباً من دون اللہ (توبہ:٣١)“ کے ماتحت الزام لگانا ایسا ہے۔ جیسا کسی دوسرے کی آنکھ میں ایک تنکا دیکھنا اور اپنی آنکھ میں شہتیر نہ دیکھنا ہے۔
ریویو نمبر ١٦
١....... مولوی محمد علی صاحب اپنے قرآن کے صفحہ نمبر ٣٧٦ نوٹ نمبر ٩٨٣ میں متعلق آیات ”اذ تستغیثون ربکم فاستجاب لکم انی ممدکم بالف من الملئکۃ مردفین وما جعلہ اللہ الا بشریٰ ولتطمئن بہ قلوبکم . وما النصر الا من عند اللہ ان اللہ عزیز حکیم (انفال: ٩، ١٠)“ اس طرح فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں کہیں مذکور نہیں کہ فرشتے در حقیقت لڑائی میں شریک ہوئے۔ امداد ملائک سے مراد مومنوں کے دل کو اطمینان دلانا مطلوب تھا۔ پس جب مومنوں کے دلوں کو اطمینان حاصل ہو گیا تو کفار کے دلوں پر رعب طاری ہو گیا۔ ہزار ملائک کی تعداد کفار کی تعداد کے مطابق تھی۔ جو جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابل برسر پیکار ہوئے۔ چند دیگر حوالہ جات بھی مولوی صاحب نے اس نوٹ میں لکھے ہیں۔ جن کا مفہوم بھی یہی ہے کہ فرشتے جنگ میں بالکل شریک نہ ہوئے تھے۔
جواب!
مولوی صاحب جب ملائک کے وجود کا متمثل ہونا ہی تسلیم نہیں کرتے۔ (دیکھو ریویو نمبر ١١) تو جنگ میں ان کا ایسی صورت میں شریک ہونا کیوں کر قبول کر سکتے ہیں؟۔ اب آیات مذکورہ کو سمجھنے والا تو مومنین کے استغاثہ ودعا سے اس کی قبولیت پر نص کی موجودگی میں ضرور یقین کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ملائک کے ذریعہ سے امداد اور اطمینان کا جھوٹا وعدہ نہیں کیا تھا۔ اگر ملائک سے صرف دلی اطمینان کا حصول مطلوب ہے۔ تو مومن کے واسطے یہ تحصیل خود حاصل ہے۔ خاص جنگ کے موقعہ پر جب تعداد مخالف کی بہت ہی زیادہ تھی۔ تو مومنین کی تضرع کا عملی رنگ میں بھی قبول ہو جانا محال نہ تھا اور اسی کا ذکر ان آیات میں ہے۔ جن کو مولوی صاحب کا تقلیدی عقیدہ واقعیت سے خارج کرنے پر مجبور کر رہا ہے اور پھر لطف یہ کہ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں مذکور نہیں کہ ملائک واقعی جنگ میں عملی طور پر شریک ہوئے تھے۔ اب اگر کوئی مولوی صاحب سے پوچھے کہ آپ ہر نماز میں جو رکعات کی تعداد معینہ ادا کرتے ہیں اور پھر ہر رکعت میں دو سجدے کرتے ہیں۔ اس کا ذکر کس آیت میں ہے؟۔ تو غالباً حدیث نبوی وعمل جمہور کا حوالہ دے کر اپنی خلاصی کرائیں گے۔ مگر ان آیات کی تفسیر میں بخاری ومسلم کی روایات مندرجہ (مشکوٰۃ ص ٥٣٠، ٥٤٢ باب فی المعجزات) میں حدیث عائشہؓ وحدیث انسؓ جن میں ملائک کا عملی طور پر
پر جنگ میں شریک ہونا مذکور ہے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے جو کفار سے قتال کیا تھا اس میں بعض مقتولوں کے زخموں کے نشان بھی صحابہ نے ملاحظہ کئے۔ جو اس وقت غیبی کوڑے سے لگے تھے۔ جس کی آواز بھی بعض صحابہ نے سنی تھی اور بعض نے ایسے سواروں کی صورت کو بھی دیکھا تھا۔ جو نہ جنگ کے پہلے موجود تھے نہ جنگ کے بعد موجود رہے اور جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی بعض ان بیانات کو صحابہ سے سن کر فرمایا تھا کہ تم سچ کہتے ہو۔ مولوی صاحب! آپ کو فیصلہ محمدی قبول کرنے سے مرزا قادیانی کی کورانہ تقلید مانع ہے۔ کیا پھر بھی آپ یہ دعویٰ کریں گے کہ ہم مرزا قادیانی کو رسول اللہ نہیں مانتے؟۔ ہاں بلکہ مرزا جی نے جو عقیدہ آپ کے کان میں پھونک دیا ہے۔ اس کے خلاف محمد رسول اللہ ﷺ کی صریح تفسیر بھی آپ کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ جن احادیث میں قرآن شریف کی صحیح تفسیر کا پتہ ملے۔ یا جن میں معجزات انبیاء علیہم السلام کا ذکر ہو۔ آپ ان سے چکڑالوی مولوی عبداللہ صاحب کی طرح عملی طور پر منکر ہیں۔ دعویٰ اشاعت اسلام! اور عقیدہ انکار فیصلہ محمدی!
٢...... ” واذ استسقى موسى لقومه فقلنا اضرب بعصاك الحجر فانفجرت منه اثنتا عشرة عيناً (البقرة:٦٠) “ یعنی جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے واسطے ہم سے پانی طلب کیا تو ہم نے اس کو کہا کہ اپنے عصا کو پتھر پر مارو اور پھر (جب اس نے عصا مارا) تو اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔
اس کے متعلق مولوی محمد علی صاحب اپنے قرآن عہ ص ٣٥ نوٹ نمبر ٩٦ میں فرماتے ہیں کہ ضرب کے معنی چلنا بھی لغت میں لکھا ہے اور عصا جماعت کے واسطے بھی لغت میں مذکور ہے۔ اس واسطے اس کے معنی یہ ہیں (اپنی سوٹی یا جماعت کے ساتھ پہاڑ میں راستہ کی تلاش کرو......الخ) لغت سے چند امثلہ اپنے ترجمہ کے ثبوت میں پیش کی ہیں۔
جواب!
تیرہ سو برس سے کسی اہل زبان مفسر نے یہ معنی بیان نہیں کئے۔ حالانکہ وہ لغت کو مولوی صاحب سے بہتر جانتے تھے۔ قرآن کا اسلوب بیان ایسے ابلغ اور افصح رنگ اور طرز میں واقعہ ہوا ہے کہ کسی اہل ہوا کی وہاں دال نہیں گل سکتی۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ جو معنی مولوی صاحب نے ضرب اور عصا کے لغت سے بیان کئے ہیں وہ صحیح ہیں۔ مگر کم از کم قرآن شریف میں وہ معنی ناجائز ہیں۔ کیونکہ قرآن شریف میں جس جس جگہ ضرب اور اس کے مشتقات کے معنی چلنا کے ہیں۔ وہاں اس کے بعد صلہ حرف جاری مذکور ہے۔ مثلاً
٧١
ا...... ب...... ج...... د...... ہ...... یہ کل پا اس کے بعد صلہ فی ضرب کے معنی حصہ واسطے ’اضرب بع سخت غلطی متعلق اس شریف میں حضرت سوٹی کے مفہوم میں کہ حضرت موسیٰ علیہ استعمال کر کے ایک ہے۔ عربی زبان میں اختیار نہیں کیا۔ کیونک کو شرح صدر کے تو نہیں کیا۔ کیونکہ اس وہ عجیبہ سے ظاہر کیا گیا ہے کے واسطے مخصوص ک پر کسی اور لفظ سے ظا الا دابۃ الارض والے تو اس باریک اپنے ترجمہ میں سر ہے۔ کیونکہ زمانہ حا
- ا...... ”لا يستطيعون ضرباً فی الارض (البقرة:٢٧٣)“
- ب...... ”اذا ضربتم فی سبیل الله (النساء:٩٤)“
- ج...... ”اذا ضربتم فی الارض (النساء:١٠١)“
- د...... ”ان انتم ضربتم فی الارض (المائده:١٠٦)“
- ه...... ”واخرون یضربون فی الارض (المزمل:٢٠)“
یہ کل پانچ مواقع قرآن شریف میں لفظ ضرب اور اس کے مشتقات کے ہیں۔ جہاں اس کے بعد صلہ فی مذکور ہے اور بالضرور معنے اس کے چلنا ہے۔ برخلاف دیگر مواقع کے جہاں ضرب کے معنے حسب صلہ وقرینہ مختلف ہیں۔ مولوی صاحب کو قرآنی اسلوب کا چونکہ علم نہیں۔ اس واسطے ”اضرب بعصاک“ میں بھی ضرب کے معنے چلنا بدوں فی کے بیان کر رہے ہیں۔ دوسری سخت غلطی متعلق اسلوب قرآنی کے لفظ عصا کے مفہوم میں کر رہے ہیں۔ یہ لفظ بطور اسم قرآن شریف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایسا مقید وملزوم ہوچکا ہے کہ پوری گیارہ دفعہ محض سوٹی کے مفہوم میں واقع ہوا ہے اور اس خصوصیت کو قرآن کی بلاغت نے یہاں تک ملحوظ رکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق اگر جماعت کا ذکر مطلوب ہوا ہے تو وہاں لفظ قوم یا عبادی استعمال کر کے ایک آئندہ واقعہ ہونے والے اہل ہوا کے مغالطہ سے ہم کو پہلے ہی بخوبی متنبہ کر دیا ہے۔ عربی زبان میں عصا کا مفہوم جماعت پر ہوا کرے مگر قرآن نے اس مفہوم کو ایک دفعہ بھی اختیار نہیں کیا۔ کیونکہ یہ لفظ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سوٹی کے مفہوم میں مخصوص ہوچکا ہے اور مجھ کو شرح صدر کے نور سے اس کے متعلق ایک اور عجیب نکتہ معلوم ہوا ہے۔ جس کا کسی مفسر نے ذکر نہیں کیا۔ کیونکہ اس سے پہلے ان کے زمانوں میں ایسے باطل معنے پیدا نہیں ہوئے تھے۔
وہ عجیب نکتہ یہ ہے کہ پارہ ٢٢ ع٨ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے عصا کو لفظ منساة سے ظاہر کیا گیا ہے اور اس میں راز یہ ہے کہ لفظ عصا کو قرآن شریف نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واسطے مخصوص کر دیا ہے۔ تو پھر ضرور تھا کہ سوٹی یا لکڑی کا مترادف بوقت ضرورت دیگر موقعہ پر کسی اور لفظ سے ظاہر کیا جائے۔ پس ”فلما قضينا عليه الموت مادلهم على موته الا دابة الارض تاكل منساته (سبا:١٤)“ میں عصا موسیٰ کی خصوصیت کا راز سمجھنے والے تو اس باریک نکتہ کی ضرور داد دیں گے۔ مگر اہل ہوا زیادہ چڑھیں گے۔ مولوی صاحب نے اپنے ترجمہ میں سرسید صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب منکر حدیث نبوی کے ترجمہ کی تقلید کی ہے۔ کیونکہ زمانہ حال میں گنتی کے صرف یہی دو شخص قدرت نے پیدا کئے ہیں۔ جن کی تفسیر سے
٧٢
ہمارے مولوی صاحب کو فائدہ اٹھانے کا موقعہ ہاتھ آیا ہے۔ باقی صد ہا اہل زبان مفسرین کے مقابلہ میں یہ کل تین صاحب قرآن کے حقیقی مفہوم کو بگاڑنے میں ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے۔ مولوی صاحب اگر اس عصائے موسیٰ کو بموجب ہدایت قرآن (آیت اللہ) تسلیم کر لیتے۔ جس کی بدولت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے جادوگروں کو مغلوب کیا تھا تو ان کو اس قدر باطل توجیہ کی طرف جھکنا نہ پڑتا۔ مگر کسی بھی معجزہ کو تسلیم نہ کرنا ان کا اصل عقیدہ ہے۔ اس واسطے وہ حضرت موسیٰ کا عصا مار کر بطور خارق عادت کے پتھر سے پانی کب نکالنے دے سکتے ہیں۔ تورات مقدس خروج باب ٥ کا حوالہ اس واقعہ کے متعلق لکھ کر بھی مولوی صاحب نے پھر اس کو ایسا ردی کرنے کی کوشش کی ہے کہ معجزہ کا اعجاز اس سے مفقود ہو جائے۔ قادیانی جماعت نے بھی مولوی صاحب کی ریس کر کے پہلے پارہ کا اردو ترجمہ معہ تفسیر شائع کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کے متعلق مولوی صاحب کے بھی کان کتر ڈالے ہیں۔ وہ اس طرح لکھتے ہیں کہ (پہاڑوں میں بعض جگہ سطح زمین کے ساتھ ساتھ پانی کا چشمہ بہتا ہے اور ذرا سی ٹھوکر سے باہر نکل کر بہہ پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ بتلا دیا کہ فلاں جگہ پانی ہے۔ اپنا عصا مار کر فلاں پتھر کو توڑ دو اس کے نیچے پانی نکل آئے گا) اس توجیہ کی ضرورت ان کو بھی اسی واسطے پیش آئی کہ ان کے عقائد میں بھی معجزات انبیاء کو بگاڑ کر باطل تاویلات میں تبدیل کرنا ضروری ہے اور تاویل سازی میں ایک جماعت دوسری جماعت سے بڑھ چڑھ کر ہے۔ جب کوئی محمدی مسلمان ان ہر دو جماعت کے کسی فرد کو کہتا ہے کہ تمہاری تحریروں میں معجزات انبیاء کا انکار ثابت ہوتا ہے تو جھٹ مرزا قادیانی کے اشعار:
آنچہ در قرآن بیانش بالیقین
ہر ہمہ از جان و دل ایمان است
ہر کہ انکارے کند از اشقیاست
(حوالہ گذر چکا)
اس کو سنا کر لعنۃ اللہ علی الکاذبین پڑھ دیتے ہیں۔ تاکہ غیر احمدی مسلمانوں کو یقین حاصل ہو جائے کہ واقعہ میں مرزا قادیانی معجزات کے منکر کو ملعون قرار دیتے ہیں۔ مگر ان اشعار کا مصداق اللہ تعالیٰ نے کذب بیانی میں خود انہیں ہر دو جماعت کو بنا دیا ہے۔
قادیانی جماعت کی تاویل عصاء موسوی کے اعجازی قوت زائل کرنے میں نہایت مضحکہ خیز ہے۔ بوجوہات ذیل:
<٧٣>
- ا....... اگر پہاڑ کے قریب سطح زمین کے نیچے بعض جگہ پانی ہوتا ہے تو ذرا سی ٹھوکر
مارنے سے سطح زمین کیا کوئی انڈے کا چھلکا تھا کہ جھٹ ٹوٹ گیا۔
- ب....... کیا حضرت موسیٰ کا عصا کوئی لوہے کا تھا۔ جس نے سطح زمین میں جھٹ
سوراخ کر دیا ہے۔
- ج....... اگر لکڑی کا تھا تو براہ مہربانی کسی قوی الجسم شخص کی معرفت پہاڑی زمین
میں ہم کو لکڑی کی سوٹی سے سوراخ نکلوا دیں اور وہ لکڑی بھی ٹوٹنے سے بچ رہے تو ہم آپ کی تاویل کی داد دیں گے۔ ورنہ آپ کے انکار سے عصائے موسیٰ کی اعجازی قوت ہرگز زائل نہیں ہو سکتی۔ اگر وہ لکڑی سانپ بن سکتی ہے اور جادوگروں کے سانپ نگل سکتی ہے تو پانی کو خشک اور جاری بھی کر سکتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو معجزات سے انکار کرنے کی خاص تعلیم اس واسطے دی گئی ہے کہ مبادا کوئی تمہارے مرزا قادیانی سے حضرت عیسیٰ یا موسیٰ علیہم السلام جیسا معجزہ طلب کر بیٹھے اور وہ دکھلا نہ سکیں۔ پس شروع سے ہی معجزہ کی نفی کی تعلیم دی گئی ہے۔ تا کہ کوئی معجزہ طلب ہی نہ کیا جائے۔ نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ افسوس ان ہر دو جماعت کو تقلید کورانہ نے عقل سے ایسا خالی کر دیا ہے کہ تاویل سازی کے وقت ان کو اس قدر بھی سوچنے کی فرصت نہیں ملتی کہ یہ تاویل ہم بڑے فخر سے کر رہے ہیں۔ آیا وہ عقل کے ترازو میں کچھ وزن بھی رکھتی ہے یا نہیں۔ ہر دو جماعت روحانیت کی مدعی ہو کر مادہ پرستوں کے اصول کو اختیار کر رہی ہیں۔ جن کا یہ اصول ہے کہ جہاں کوئی چیز نہیں ہوتی وہاں سے کوئی چیز نہیں نکل سکتی۔ اس واسطے عصاء موسیٰ سے بطور خرق عادت پانی کا جاری ہونا ان کے نزدیک غیر ممکن ہے۔
- ٣....... مولوی محمد علی صاحب معجزہ کو بگاڑنے کے واسطے اس بات کی ہرگز پرواہ
نہیں کرتے کہ جو معنے ہم بیان کر رہے ہیں وہ قواعد عربی زبان کے مطابق بھی ہیں یا نہیں۔ چنانچہ سورہ فیل میں ”ترمیهم بحجارة من سجیل (الفیل:٤) “ کا ترجمہ آپ انگریزی قرآن کے صفحہ نمبر ١٢٢٥ پر اس طرح کرتے ہیں۔ (اصحاب الفیل کو سخت پتھروں پر پٹکا کر مارتے تھے ) یعنی پرند اصحاب الفیل کی لاشوں کو سخت پتھروں پر زور سے پٹکاتے تھے۔ مولوی صاحب نے یہاں عربی قواعد کو جس بے باکی سے نظر انداز کر کے اپنا مطلب نکالنا چاہا ہے اس کی نظیر سلف و خلف میں نہیں ملتی۔ یہی مولوی صاحب سورہ مرسلات میں انھا ترمی بشرر میں لفظ شرر کو رمی کا مفعول بنا کر بالکل صحیح ترجمہ اس طرح کرتے ہیں۔ ( وہ محلوں کی طرح چنگاریاں پھینکتی ہے ) مگر سورہ فیل میں وہی محاورہ اب تحریف کا رنگ اختیار کر کے لازمی فعل کو متعدی بنانے والی ب حرف جار بنائی
جاتی ہے اور اس سے علی کا کام لیا جا رہا ہے تا کہ کسی طرح یہ مراد حاصل ہو جائے کہ پرندوں نے اصحاب الفیل پر قہری پتھر نہیں پھینکے تھے۔ بلکہ اصحاب الفیل کو چیچک نکل پڑی۔ جس سے وہ مر گئے اور ان کی لاشوں کو نوچ نوچ کر وہ سخت پتھروں پر مارتے تھے۔ جب مولوی صاحب نوٹ نمبر ١٣٨٧ میں بیان کرتے ہیں کہ مفتوحہ لشکر کی لاشوں کو چٹ کرنے کے واسطے پرند آ جاتے ہیں تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ پرند بجائے کھانے کے لاشوں کو پتھروں پر کیوں مارتے تھے؟۔ اس میں کلام نہیں کہ پرند قہری پتھروں کو اصحاب الفیل پر پھینکتے تھے۔ جس سے ان کے جسموں پر ایسے چھالے پڑ جاتے کہ وہ کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح وہیں ڈھیر ہو جاتے کہ مولوی صاحب کا اس مقام میں مفسرین پر طعنہ کرنا کہ انہوں نے بیہودہ قصے گھڑ لئے ہیں غیر معقول ہے۔
تفسیر مواہب الرحمن میں سورۃ فیل کی تفسیر اٹھارہ صفحہ سے کچھ اوپر مذکورہ ہے۔ جس میں روایات صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ام ہانی حضرت علیؓ کی ہمشیرہ صاحبہ کے پاس ان پتھروں کا ٹوکرا موجود تھا۔ جن کو پرندوں نے اصحاب الفیل پر پھینک کر ہلاک کیا تھا اور بعض صحابہؓ نے ان جانوروں کی بیٹ کا چشم دید رنگ وغیرہ بھی بتلایا تھا۔ مگر مولوی صاحب کو پرندوں کے ذریعہ سے پتھر گرا کر اصحاب الفیل کی اعجازی ہلاکت سے سخت انکار ہے۔ اس واسطے مفسرین پر بھی سخت ناراض ہیں اور پتھر بھی وہ تجویز کرتے ہیں۔ جو آسمانی نہیں بلکہ مکہ شریف کے گرد و نواح میں جو قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں۔ جن پر پرند اصحاب الفیل کی لاشوں کو مارتے تھے اور ’’ترمیہم بحجارة من سجيل‘‘ کے اصل معنے بگاڑ کر ’’يحرفون الكلم عن مواضعہ‘‘ کے مصداق ہو رہے ہیں۔
ریویو نمبر ١٧
بخاریؒ نے بخاری ج ٢ ص ٧٢١ میں ’’وانشق القمر وان يروا اية يعرضوا ويقولوا سحر مستمر‘‘ یعنی سورۃ قمر کی پہلی آیت پر باب باندھ کر اس کے بعد چار احادیث نقل کی ہیں۔ جن کا مفہوم یہ ہے کہ مکہ والوں نے حضرت محمد ﷺ سے کہا کہ ہم کو کوئی معجزہ دکھلاو۔ آپ ﷺ نے ان کو شق القمر کا معجزہ دکھلایا کہ چاند پھٹ گیا اور اس کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ ایک ٹکڑا پہاڑ پر الگ نظر آتا تھا اور دوسرا ٹکڑا اس کے پار جس پر حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ دیکھ لو۔ (مشکوٰۃ ص ٥٤٤ ، باب علامات النبوۃ فصل اوّل) میں یہی معجزہ شق القمر کا بیان ہے۔ جس کے متعلق امام بخاری و امام مسلم کی متفق علیہ احادیث مذکور ہیں۔
مولوی محمد علی صاحب اپنے انگریزی قرآن کے صفحہ نمبر ١٠٢٢ نوٹ نمبر ٢٣٨٨ میں اس
٧٥
واقعہ کو حضرت محمدﷺ کا معجزہ تسلیم کر کے بھی آخر ایسا بگاڑتے ہیں۔ کہ وہ محض خسف کی صورت میں بن جاتا ہے اور حوالہ تفسیر کشاف اور فخر الدین رازی کا اس کے متعلق دیتے ہیں۔ مولوی صاحب اور ان کے مجدد کی عادت ہے کہ جس ماخذ سے مقصود پورا ہو سکے اس پر پورا بھروسہ کر لیتے ہیں۔ ان کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اخذ کی صداقت یا عدم صداقت کی تحقیق بھی ضروری ہے۔ مولوی صاحب جن مفسرین کو زہر کی طرح کئی دفعہ اگل بیٹھے ہیں۔ پھر ان کی پیروی میں ذرا بھی غیرت نہیں کرتے۔ مولوی صاحب کو شاید معلوم نہیں کہ تفسیر کشاف کا مصنف زمخشری اہل سنت کے مفسرین سے بوجہ معتزلہ ہونے کے خارج ہے۔ البتہ لغت کا مسلمہ امام ہے۔ آخرت میں خدا تعالیٰ کے دیدار کا سخت منکر ہے اس کے عقائد کو مفصل بیان کرنا ہماری بحث سے خارج ہے۔ اس کا اس قدر بھی پتہ اس واسطے لکھ دیا ہے کہ کوئی ہمارے مولوی صاحب کی طرح شق القمر کے معجزہ کو چاند کا خسوف نہ سمجھ بیٹھے۔ تفسیر کبیر کے مصنف فخر الدین رازی اگرچہ اہل سنت کے مفسر ہیں۔ مگر چونکہ ان کی طبیعت میں فلسفیانہ میلان زیادہ تھا۔ اس واسطے بعض دفعہ اعتزال کی طرف بڑی رغبت سے جھک پڑتے ہیں۔ حتیٰ کہ کبھی کبھی امام بخاری پر بھی بوجہ عدم تفقہ کا اعتراض کر دیتے ہیں اور علم حدیث میں ان کی نظر وسیع نہیں۔ ابو مسلم اصفہانی نے معتزلہ کے حوالہ جات سے اپنی تفسیر کو بے اعتبار کر دیا ہے۔
ان ہر دو مفسرین مذکورہ کے حوالہ جات سے مولوی صاحب کو یہ دکھلانا مطلوب ہے کہ معجزہ شق القمر کو خسف بتلانا صرف ہمارا ہی عقیدہ نہیں۔ بلکہ سلف کے دو مسلمہ مفسرین بھی اس مسئلہ میں ہم سے متفق ہیں۔ اب کون پوچھے کہ اگر آپ کے نزدیک ان صاحبوں کی واقعی ایسی قدر و منزلت ہے تو پھر اپنی تفسیر کے کئی مقامات پر جہاں کل مفسرین کا کسی امر میں اتفاق ہوتا ہے۔ آپ سب کو بدوں استثناء کے کیوں رد کر دیتے ہیں۔ ایک آدھ کی تقلید میں احادیث صحیحہ اور جمہور کا فیصلہ نظر انداز کر دینا آپ کا مسلک ہے۔ ہم اہل سنت کا اصول اس مسئلہ میں قرآن و حدیث و جمہور ہے۔ در حقیقت معجزہ شق القمر میں چونکہ مرزا قادیانی نے بھی دوسرا پہلو اختیار کیا ہے۔ یعنی اس کو معجزہ تسلیم کر کے علم ہیئت کے قواعد کو رد بھی کر دیا ہے اور خسف بھی بتلایا ہے۔
پس مولوی صاحب اپنے مرشد و امام کی سنت سے علیحدہ نہیں ہو سکتے۔ بخاری اور مسلم کی متفق علیہ احادیث میں چاند کا دو الگ الگ ٹکڑے نظر آنا جب صاف طور پر مذکور ہے تو پھر ان کے مقابل کوئی ایسا قول پیش کرنا جو اس کے خلاف ہو۔ فیصلہ محمدی سے بے علمی یا بے یقینی کا نشان ہے۔ رات کے وقت چاند گرہن کا صرف وہی ایک ٹکڑا نظر آتا ہے۔ جو روشن ہوتا ہے اور جس
٧٦
قدر ٹکڑے پر خسوف کا اثر ہوتا ہے۔ وہ مدہم ہوتا ہے۔ قرآن شریف جیسا ابلغ الکلام شق القمر یعنی چاند کا پھٹنا۔ جب بیان کرتا ہے اور متفق علیہ احادیث سے بھی ہر دو ٹکڑوں کا الگ الگ نظر آنا جب ثابت ہے تو پھر خسوف کی طرف اس معجزہ کو منتقل کرنا صاف طور پر معجزہ محمدی سے انکار کرنا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت کا ایک راز ظاہر کردوں کہ جب آپ ”یأتی من بعدی اسمہ احمد“ کے مصداق بننے کے مدعی ہوئے تو ان کے خیال میں آیا کہ لوگ کہیں گے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے تو شق القمر کا معجزہ منکروں کو دکھلایا تھا تم بھی دکھلا دو۔ اس پر آپ کو یہ معجزہ بگاڑ کر خسف بنانے کی حاجت ہوئی تا کہ ایک طور پر مساویت کیا بلکہ حضرت محمد ﷺ پر بھی فضیلت ثابت ہو جائے۔ پھر یوں فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ کے واسطے ایک خسف واقعہ ہوا اور میرے واسطے دو خسف اب بھی مولوی محمد علی صاحب کہیں گے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ بلکہ محمد رسول اللہ کی پیروی سے مجددیت کا رتبہ پایا۔ مولوی صاحب نے شاید کہیں پڑھا ہو گا کہ کسی سلف کے مجدد نے حضرت ﷺ سے اپنی فضیلت کا اظہار کیا ہے؟۔ حضرت محمد ﷺ کے قرآنی معجزہ شق القمر کو خسف بنا کر اپنے واسطے ڈبل خسف ثابت کر دیا۔ اب باقی رہے حضرت مسیح علیہ السلام کے قرآنی معجزات سو وہ معجزات کی مد سے بالکل خارج کر دیئے گئے ہیں۔ وہ سحر مسمریزم شعبدہ بازی ہیں اور نہایت مکروہ اور قابل نفرت ہیں۔ ورنہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میں ان میں مسیح ناصری سے بڑھ جاتا۔ انجیل میں حضرت مسیح نے جو فرمایا تھا کہ کاذب مسیح ایسے عجائبات دکھلائیں گے کہ اچھے اچھے فہمیدہ لوگ بھی ان کے جال میں قابو آجائیں گے۔ اس پیش گوئی کی تصدیق ہم اس زمانہ میں بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔ مہا بھارت میں بھی اسی معجزہ کا ذکر موجود ہے اور تاریخ فرشتہ میں بھی اس معجزہ کی تصدیق ایک ہندو راجہ کی طرف سے لکھی ہوئی پائی جاتی ہے۔ بعض اس عہد کے اہل ہوا نے واقعہ شق القمر کو قیامت کے وقت لکھا ہے۔ مگر اس وقت اس کو سحر مستمرہ کہنے والا کون ہوتا یہ ثابت نہیں اس واسطے یہ تاویل بالکل بیہودہ اور علم حدیث سے بے خبر ہونے کی دلیل ہے۔
ریویو نمبر ١٨
”وإذ قال الله یا عیسیٰ إنی متوفیک ورافعک الی“ کے متعلق مولوی محمد علی صاحب فرماتے ہیں کہ ابن عباسؓ نے بروایت صحیح بخاری ”متوفیک“ کے معنی ”ممیتک“ بتلائے ہیں اور مولوی صاحب ”رافعک“ کے معنی بروئے لغت عزت دینے کے بیان کرتے ہیں
٧٧
اور فرماتے ہیں کہ رفع کے معنی مع الجسم حضور خدا تعالیٰ اٹھایا جانا۔ گویا خدا تعالیٰ کو ایک مکان میں محدود کر دیتا ہے اور مزید ثبوت میں فرماتے ہیں کہ مسلمان ہر روز اپنی نمازوں میں ”وارفعنی“ پڑھتے ہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ میرا مرتبہ بلند کر۔
(انگریزی قرآن صفحہ نمبر ١٦٠ نوٹ نمبر ٤٣٦، ٤٣٧)
جواب !
جو کچھ مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ ہم کو اس سے ہرگز انکار نہیں۔ مگر اس تفسیر میں حقیقی پہلو لکھنا چونکہ مولوی صاحب کے عقیدہ کے خلاف تھا۔ اس واسطے اس کو بالکل نظر انداز کر کے اہل سنت کے عقیدہ کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ حضرت ابن عباسؓ نے متوفیک کا مفہوم ممیتک بیشک بتلایا ہے۔ مگر اس مفہوم میں انکا مذہب تقدیم و تاخیر کا ہے۔ یعنی میں تم کو پہلے اپنی طرف اٹھا دوں گا اور بعد نزول کے فوت کروں گا۔ تفسیر درمنثور مصنفہ جلال الدین سیوطیؒ کی جلد ٢ صفحہ ٣٦ میں بروایت ابن عساکر و اسحاق بن بشر حضرت ابن عباسؓ کا مذہب اس آیت میں تقدیم و تاخیر کا مذکور ہے۔ ”اتقان فی علوم القرآن (ج٢ ص٤٢، مصنفہ جلال الدین سیوطی)“ میں تقدیم و تاخیر قرآن پر باب ٤٤ الگ بندھا ہوا ہے۔ تفسیر ابن کثیر ج٧ ص ٤١ و تفسیر فتح البیان ج١٢ ص ٣٦٨ میں بھی زیر آیت ”وانه لعلم للساعة“ سورہ زخرف حضرت ابن عباسؓ کا یہی مذہب لکھا ہے۔ فتح الباری و قسطلانی ہر دو شرح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ کا مذہب تقدیم و تاخیر کا مذکور ہے۔ اس وعدے کا ایک حصہ رفع عیسیٰ علیہ السلام میں پورا ہو چکا ہے۔ دوسرا حصہ نزول کا پورا ہو کر رہے گا۔ جس پر حدیث صحیحہ اس کثرت سے وارد ہیں۔ کہ ہر زمانے میں اہل سنت نے ان کی بناء پر اپنا عقیدہ قائم کیا ہے۔ مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کو باوجود دعوے نبوت دعویٰ مسیحیت دعویٰ معارف قرآنی اس قدر بھی معلوم نہ تھا کہ ترتیب ذکری ہمیشہ ترتیب وقوعی کو لازم نہیں کرتی۔ چنانچہ (ازالہ ص ٤٥٩، خزائن ج ٣ ص ٣٣٥) میں تقدیم تاخیر کے مسئلہ کے متعلق مرزا قادیانی مفسرین کو برا بھلا کہتے ہیں۔ مگر ہم چند امثلہ تقدیم تاخیر الفاظ قرآنی کی ذیل میں پیش کر کے اس نئے مجدد صاحب کے دعوے معارف قرآنی کا ناظرین پر حال روشن کرتے ہیں۔
- ١...... ”والله يدعوا الى الجنة والمغفرة باذنه (البقرة:٢٢١)“
اس آیت میں دعوت جنت کی مقدم ہے اور دعوت مغفرت کی مؤخر ہے۔ حالانکہ بدون حصول مغفرت جنت کا حصول محال ہے۔ چنانچہ پ ٤ ع ٥ میں ”سارعوا الى مغفرة من ربكم وجنة (آل عمران: ١٣٣)“ میں مغفرت مقدم ہے اور جنت مؤخر ہے۔
٧٨
- ب....... ”کنتم خير امة اخرجت للناس تأمرون بالمعروف
وتنهون عن المنکر وتؤمنون بالله (آل عمران: ١١٠)“ اس آیت میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر مقدم ہے اور ایمان باللہ مؤخر ہے۔ حالانکہ ایمان باللہ کے بدوں امر و نہی کوئی فضیلت نہیں رکھتا نہ موجب ثواب ہے۔
- ج....... ”والذين يبيتون لربهم سجداً و قياماً (الفرقان: ٦٤)“ اس آیت
میں مومنوں کا وصف پہلے سجدہ ہے اور قیام بعد ہے۔ درحال یہ کہ واقعہ میں سجدہ قیام کے بعد ہے۔
- د....... ”وادخلوا الباب سجداً وقولوا حطة (البقرة: ٥٨)“ اور
”قولوا حطة واد خلوا الباب سجداً (اعراف: ١٦١)“ ہر دو آیات میں ایک ہی واحد واقعہ کا بیان ہے۔ مگر ترتیب الفاظ میں تقدیم و تاخیر موجود ہے۔
- ہ....... ”انا اوحينا اليک کما اوحينا الى نوح والنبيين من بعده
واوحينا الى ابراهيم واسماعيل واسحاق ويعقوب والاسباط وعيسى وايوب ويونس وهارون وسليمان واتينا داود زبوراً (نساء: ١٦٣)“ اس آیت میں بعد عیسیٰ علیہ السلام جن پیغمبروں کا نام مذکور ہے۔ وہ محض ترتیب ذکری کے طور پر ہے۔ حالانکہ بطور واقعہ کے وہ سب پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پہلے گزر چکے ہیں۔
نوٹ!
قرآن شریف کی بلاغت میں تقدیم و تاخیر الفاظ کا مسئلہ بالضرور داخل ہے۔ جس کی بعض امثلہ ابھی مذکور ہو چکی ہیں۔ اس کی متعدد وجوہات علم بلاغت میں پائی جاتی ہیں۔
(دیکھو اتقان فی علوم القرآن نوع ٤٣ ج ٢ ص ٣٢، مصنفہ جلال الدین سیوطیؒ)
مگر مرزا قادیانی (ازالہ ص ٢٥٩، خزائن ج ٣ ص ٢٤٥) میں اس مسئلہ سے سخت انکاری ہو کر مفسرین کو مطعون کرتے ہیں۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو باوجود دعویٰ معارف قرآنی اس معمولی مسئلہ کا بھی علم حاصل نہ تھا اور یہ مسئلہ واقع میں بہت سے مسائل ومعارف کی کلید ہے۔
مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ رفع کو آسمان کی طرف محمول کرنا خدا تعالیٰ کی جہت کو آسمان میں ظاہر کرنے کا مترادف ہے۔ مگر مولوی صاحب سورہ ملک کی آیت ”أأمنتم من فی السماء (الملک: ١٦)“ دو دفعہ پڑھتے ہیں۔ جس میں اللہ تعالیٰ اپنی ذات کی نسبت آسمان کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ عظمت کے لحاظ سے اور مقام ملائک اور اجزائے احکام کے لحاظ سے قرآن شریف ہمیشہ آسمان ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ معراج شریف میں بھی پیغمبروں کی
٧٩
ملاقات کا ذکر آسمانوں میں ہی ظاہر کیا گیا ہے اور اسی بناء پر رافعک الیٰ آسمان کی طرف پھیرنا خلاف نص و دلیل ہرگز نہیں مگر ہمارے مولوی صاحب اصول علم قرآن کی عدم واقفیت سے بار بار ٹھوکر کھاتے ہیں۔ بیشک مسلمان نماز کے جلسہ استراحت میں ارفعنی ترقی منزلت کے واسطے دعا کرتے ہیں۔ مگر اس سے دوسرا پہلو زائل کرنا چونکہ مولوی صاحب کے عقیدے کے مطابق ہے۔ اس واسطے وہ قرآنی نص کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ ”الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ (فاطر : ١٠) “ کو پڑھیں تو رفع کی مزید حقیقت ان کو معلوم ہو۔ قرآن شریف میں حضرت ادریس علیہ السلام کے واسطے ”ورفعناہ مکاناً علیاً (مریم : ٥٧)“ مذکورہ ہے۔ جس کی تورات ٢ سلاطین باب ٢ آیت ١١ میں تصدیق موجود ہے کہ وہ آسمان پر معہ جسم کے اٹھائے گئے تھے۔ جو بیان قرآن شریف اور تورات کا مصدقہ اور مشترکہ ہو۔ اہل سنت کے ہاں وہ مقبول ہے۔ مگر مولوی صاحب کے نزدیک ان کے عقیدے کے خلاف ہونے کی وجہ سے وہ زہر قاتل ہے۔
مرزا قادیانی جب دینیات میں ہوائے نفسانی سے پاک تھے رفع و نزول مسیح کو جمہور اہل سنت کی طرح برابر مانتے رہے اور متوفیک کا ترجمہ (براہین احمدیہ ص ٥٢٠، خزائن ج١ ص ٦٢٠) میں اور خلیفہ نور الدین صاحب تصدیق (براہین حاشیہ ص ٨) میں تجھ کو پوری نعمت دینے والا اور تجھ کو لینے والا ہوں۔ کر چکے ہیں مگر جب مرزا قادیانی کو مسیح موعود بننے کا خیال غالب ہوا۔ جس میں حواری حکیم نور الدین صاحب نے بڑی امداد دی تو اہل سنت والا عقیدہ متعلق رفع و نزول مسیح علیہ السلام اسی دم رخصت ہو گیا اور تاویلات کا دروازہ ایسا فراخ ہو گیا کہ جس کی نظیر تاریخ میں نہیں مل سکتی۔
ریویو نمبر ١٩
مولوی محمد علی صاحب اپنے انگریزی قرآن کے صفحہ ٤٧٢ میں متعلق آیات ”فأما الذین شقوا ففی النار لھم فیھا زفیر و شھیق خالدین فیھا ما دامت السمٰوت والارض الا ماشاء ربک ان ربک فعال لما یرید (ھود : ١٠٦، ١٠٧)“ یعنی جو لوگ بدبخت ہیں وہ آگ میں ہوں گے۔ وہاں وہ چلائیں گے اور دھاڑیں گے۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں۔ مگر جو تیرا رب چاہے بیشک تیرا رب کر ڈالتا ہے جو چاہتا ہے۔
- ١....... اس طرح فرماتے ہیں کہ اہل شقاوت دوزخ میں ہمیشہ نہیں رہیں گے۔
کیونکہ ”مادامت السمٰوت والارض“ کے بعد ”الا ماشاء ربک ان ربک فعال ٨٠
لما يريد “ ہے جس میں استثناء موجود ہے اور لفظ فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔ یعنی خدا ایسی بات بھی کر ڈالتا ہے جو انسان کو غیر ممکن معلوم ہوتی ہے۔ مگر جنت والی آیت میں بھی اگرچہ استثناء بھی موجود ہے۔ لیکن اس کے بعد ”عطاءً غير مجذوذ“ ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہشت کی حالت غیر منقطع ہے۔ برخلاف جہنم کے جو ابدی بہشت کی طرح نہیں۔
٢....... رسول اللہ ﷺ کی بعض احادیث سے بھی یہی مفہوم ثابت ہے۔ یعنی جہنم ابدی نہیں۔ بلکہ منقطع الزمان ہے۔ مثلاً مسلم کی صحیح حدیث کا آخری حصہ اس طرح مذکور ہے۔ پھر اللہ یوں فرمائے گا کہ پیغمبر فرشتے اور مومنین اپنی اپنی باری میں گناہ گاروں کے واسطے شفاعت کر چکے ہیں اور اب ان کے واسطے سفارش کرنے والا سوا رحمن کے کوئی نہیں۔ پس اللہ تعالیٰ آگ سے ایک لپ بھر کر ایسے لوگوں کو آگ سے باہر نکال دے گا۔ جنہوں نے ہرگز کوئی نیکی نہیں کی ۔
(نوٹ نمبر ١٢٠١)
٣....... ”کنز العمال“ میں بھی بعض احادیث اسی مضمون کی ہیں۔ ا....... جہنم پر یقیناً ایک ایسا دن آئے گا جبکہ وہ ایسے اناج کے کھیت کی طرح ہوگی جو کچھ عرصہ سرسبز رہ کر بالکل خشک ہو گیا ہے۔ ب....... بیشک جہنم پر ایک ایسا دن آئے گا کہ اس میں ایک تنفس بھی نہ ہوگا۔
(کنز العمال ج ٧ ص ٢٤٥ ، نوٹ نمبر ١٢٠١)
٤....... حضرت عمرؓ کا ایک مشہور قول اس طرح ہے۔ گو جہنم کے رہنے والے ریگستان کی ریت کے دانوں کی طرح بے شمار ہوں۔ تب بھی ایک دن بیشک ایسا آئے گا کہ وہ اس میں سے باہر نکالے جائیں گے۔
(دیکھو تفسیر فتح الباری شرح صحیح بخاری تفسیر در منثور، حادی الارواح مصنفہ ابن قیم ، نوٹ نمبر ١٢٠١)
٥....... مگر لفظ ابد کا حل کرنا باقی ہے۔ جس کا مفہوم بالعموم ہمیشگی خیال کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ ابد قرآن میں جہنم کے متعلق تین دفعہ مذکور ہے۔ ایک سورہ نساء پ ٦ ع ٣ میں، دوسرا سورہ احزاب پ ٢٢ ع ٥ میں، تیسرا سورہ جن پ ٢٩ ع ١٢ میں ان ہر سہ موقعہ پر ہیں۔ محمد علی نے طویل عرصہ کا ترجمہ کیا ہے اور یہ مفہوم مذکورہ احادیث کی بناء پر صحیح معلوم ہوتا ہے۔ مختلف لغت کی کتب میں ”ابد“ ایسے وقت پر بھی حاوی ہے جو ہرگز ختم نہیں ہوتا اور ایسے وقت پر بھی جو اگرچہ دراز اور طویل ہے۔ مگر ختم ہو جاتا ہے۔
(نوٹ نمبر ١٢٠١)
٦....... سورہ نباء پارہ ٣٠ ع ١ میں جہنم کا عرصہ ”احقاب“ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ جو
٨١
”حقب“ کا جمع ہے اور ”حقب“ ٨٠ سال کا عرصہ ہوتا ہے۔ پس خواہ کس قدر ایسے ”احقاب“ ہوں۔ آخر منقطع ہونے والے ہیں۔ اگر ”احقاباً“ سے ہمیشہ رہنے والا زمانہ مراد ہوتا تو جہنم کے واسطے ”احقاباً“ قرآن میں نہ ہوتا۔ پس ابد کا مفہوم طویل عرصہ ہے۔ لہٰذا قرآن جہنم کی ہمیشہ کی زندگی کا مسئلہ بالکل رد کرتا ہے۔
(نوٹ نمبر ١٢٠١)
- .......٧ بہشت کے متعلق نیز بحوالہ سورہ حجر پ ١٤ ع ٤ میں ”وماهم منها
بمخرجين“ بھی وارد ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ بہشت سے بہشت والے ہرگز نکالے نہ جائیں گے۔
(نوٹ نمبر ١٢٠٢)
- .......٨ جو لفظ احقاب جہنم کے واسطے قرآن میں مذکور ہے وہ جنت کے واسطے ہر
گز پایا نہیں جاتا۔ جس سے ثابت ہے کہ اگر احقاب سے ہمیشہ کا مفہوم صحیح ہوتا تو جنت کے واسطے بھی اس کا استعمال جائز ہوتا۔ جہنم کی محدود الوقت سزا کے اشکال کو مفسرین نے اس طرح رفع کیا ہے کہ یا تو یہ آیت محدود الوقت سزا والی منسوخ ہے۔ یا جہنم سے وہ طبقہ مراد ہے جس میں فاسق مسلمان رہیں گے نہ کہ کافر۔ مگر بحوالہ دو آیات ”جزاءً وفاقاً“ ”انهم كانوا لا يرجون حساباً ۔ وكذبوا باياتنا كذاباً“ مفسرین کی یہ توجیہ غیر معقول ہے۔ عذاب کا محدود اور قابل منقطع ہونا سراسر قرآن کی روح و رواں ہے۔
(نوٹ نمبر ١٢٠٥)
- .......٩ ”ولوشاء ربك لجعل الناس امة واحدة ولا يزالون
مختلفين الا من رحم ربك ، ولذالك خلقهم وتمت كلمة ربك لاملئن جهنم من الجنة والناس اجمعين (ھود : ١١٨ ، ١١٩)“ یعنی اور اگر تیرا رب چاہتا تو کل آدمیوں کو ایک ہی دین پر کر دیتا اور لوگ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے۔ مگر جس پر تیرا رب رحم فرمادے اور اسی بات کے واسطے ان کو پیدا کیا اور تیرے رب کا فرمان پورا ہوا کہ میں دوزخ کو ضرور جنوں اور آدمیوں سب سے بھروں گا۔
- .......١٠ نوٹ نمبر ١٢٠٩ میں مولوی صاحب اس طرح فرماتے ہیں کہ اس آیت
سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کل انسانوں کو رحم کے واسطے پیدا کیا ہے۔ وہ اپنے رحم سے بعض کو راہ راست پر چلاتا ہے۔ مگر بعض کو جنہوں نے بسبب بدعملی کے اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنادیا ہے۔ اللہ کا رحم بعد سزا کے حاصل ہوگا۔ وہ لوگ اپنے ہاتھوں سے تکلیف و مشقت میں گرفتار ہوتے ہیں۔ مگر اللہ رحم کر کے ان کو اس سے نکالتا ہے۔
٨٧
- ١١....... پھر نوٹ نمبر ١٤١٠ میں مولوی صاحب اس طرح لکھتے ہیں کہ چونکہ ان
لوگوں نے اس طریق پر عمل نہ کیا جو اللہ نے بسبب رحم کے ان کو بتلایا تھا۔ اس واسطے ضرور ہے کہ وہ ایک دوسری مصیبت یا ابتلاء میں داخل ہوں تا کہ بدی سے پاک ہو کر روحانی ترقی کے لائق ہو سکیں۔
جواب!
مولوی صاحب کا بیان مسئلہ فناء النار کے متعلق خاکسار نے پورے گیارہ نمبروں میں نہایت تفصیل سے لکھ دیا ہے۔ تا کہ ناظرین اور محققین کو خاکسار کا جواب نمبر وار بغور مطالعہ کر کے اس مسئلہ میں اہل سنت کا جو صحیح عقیدہ ہے۔ اس کی اطلاع ہو۔ وما توفیقی الا بالله العلی العظیم!
تمہید
چونکہ اہل سنت کے عقائد میں یہ مسئلہ معرکۃ الآراء ہے۔ اس واسطے اس کے متعلق کچھ سلف کا حال بھی لکھنا ضروری ہے۔ تاکہ جن کو پورا علم نہیں ان کو واضح ہو جائے کہ یہ مسئلہ فناء النار کا ایسا مسئلہ نہیں جس کی ایجاد ہم بعض دیگر مسائل کی طرح محض قادیانی فتنہ سے منسوب کر کے اس سے اعراض کرنے کو مصلحت سمجھیں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ محی الدین ابن العربی، حافظ ابن قیم یہ دو مشہور اشخاص اپنی بعض کتب میں اس مسئلہ کے مؤید ثابت ہوتے ہیں کہ دوزخ کسی وقت آخر بالکل نابود یا فنا ہو جائے گی اور اگرچہ اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کے خیال نے ان صاحبوں کو ایسے عقیدہ کی طرف مائل کر دیا ہو تو تعجب کی کوئی بات نہیں۔ مگر ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ محی الدین ابن عربی سے پہلے اور ابن قیم کے سوا کسی اور اہل علم مسلم کا رجحان اس طرف تھا یا نہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ ان مذکورہ دو اشخاص یا ان کے شاگردوں کے دائرہ تک محدود رہا اور بعض صوفیاء بھی جو رطب و یابس روایات کی تنقید نہیں کرتے۔ اس مسئلہ کے قائل ہوئے ہیں۔ مگر جمہور اہل سنت کے راسخون فی العلم نے اس مسئلہ میں ہرگز ان سے اتفاق نہیں کیا۔ بلکہ اس کی تردید میں ابن جوزی، امام شوکانی، زمحشری نے اس قسم کی احادیث کو موضوع ثابت کیا ہے۔ شیخ احمد مجدد الف ثانی نے محی الدین ابن عربی کے بعض عقائد کے اوپر ایک رسالہ لکھا ہے جس کو خاکسار نے ١٩٠٣ء میں دیکھا تھا۔ جس میں اس مسئلہ کا بطلان بخوبی مذکور تھا۔ محمد بن اسماعیل نے اس مسئلہ پر ایک مضبوط رسالہ بنام (رفع الاستار لابطال أدلۃ القائلین بفناء النار) تصنیف کیا ہے۔ مگر یہ سب رسالے اب نایاب ہیں۔ البتہ اہل سنت کی اکثر تفاسیر میں اس مسئلہ کے قائلین کی
٨٤
نہایت معقول تردید موجود اس کا رد نہایت معقول طور واسطے اہل سنت کے عقائد دوامی مذکور ہے جو بدوں تـ النار کا مسئلہ رخنہ گر شد کر کے ایک فتنہ عظیم برپا الگ فرقہ کی بنیاد قائم کی۔ نے اپنی امت کے بارہ طائفہ ہوگا۔ یعنی صرف سنت والجماعت نام بطور
مولوی محمد علی صاحب
- ١.......
ربك ان ربك فعال خدا تعالیٰ کی مشیت سے داخل کر کے خاص قرآنی قطعی نصوص ہیں۔ اس بیان کرتا ہے جن سے فـ
- الف.......
يشاء (نساء:٤٨،
اور باقی اقسام گناہ کی و پیش عذاب دے کر
- ب.......
كفروا لم يكن الـ مغفرت و عدم ہدایت
- ج.......
كفار فلن يغفر ا
نہایت معقول تردید موجود ہے۔ ان تفاسیر میں اول قائلین کے دلائل کو نقل کیا گیا ہے۔ پھر بعد میں اس کا رد نہایت معقول طور سے لکھا ہے۔ غرض جمہور اہل سنت کا عقیدہ فناء النار کا بالکل نہیں۔ اس واسطے اہل سنت کے عقائد کی جس قدر کتب موجود ہیں ان میں ایسے مشرکین و کفار کا عذاب النار دوامی مذکور ہے جو بدوں توبہ کفر و شرک کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں مدت سے فناء النار کا مسئلہ بحث گزشتہ ہو چکا تھا جس کو مرزا قادیانی نے چودھویں صدی میں پھر از سر نو تازہ کر کے ایک فتنہ عظیم برپا کیا ہے اور دیگر بعض عقائد میں بھی اہل سنت سے اختلاف کر کے ایک الگ فرقہ کی بنیاد قائم کی ہے۔ تاکہ جناب رسول اللہ ﷺ کی وہ پیش گوئی پوری ہو جس میں آپ نے اپنی امت کے بارہ میں فرمایا ہے کہ اس کے ٧٣ فرقے ہو جائیں گے۔ حق پر صرف ایک طائفہ ہوگا۔ یعنی صرف وہی جو میرے اور میرے اصحاب کے طریق پر عامل ہے۔ (جن کا اہل سنت والجماعت نام بطور شرعی اصطلاح کے جمہور اہل علم نے قائم کیا ہے ۔)
مولوی محمد علی صاحب کے دلائل کا جواب
- ١....... ہاں بے شک (مادمت السماوات والارض ) کے بعد (الا ماشاء
ربك ان ربك فعال لمايريد (هود: ١٠٧)مذکور ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ عذاب النار کا خدا تعالیٰ کی مشیت سے منقطع ہونا بالکل ممکن ہے۔ مگر اس استثناء میں آپ نے کفار و مشرکین کو بھی داخل کر کے خاص قرآن کی ان آیات کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے جو کفار و مشرکین کی عدم نجات پر قطعی نصوص ہیں۔ اس آیت میں بھی فاسق مذکور ہیں نہ کہ کافر و مشرک۔ اب خاکسار ان آیات کو بیان کرتا ہے جن سے مذکورہ استثناء کا حال بھی روشن ہو جائے گا اور مشرک و کافر کی عدم نجات بھی۔
- الف...... ”ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر مادون ذلك لمن
يشاء (نساء:١١٦،٤٨)“ (دو دفعہ ) اس آیت میں عدم مغفرت مشرک بطور نص ثابت ہے اور باقی اقسام گناہ کی معافی مشیت الہی کے تحت میں ہے۔ خواہ بالکل معاف کر دے خواہ کم و بیش عذاب دے کر۔
- ب...... ”ان الذين آمنوا ثم كفروا ثم آمنوا ثم كفروا ثم ازدادوا
كفراً لم يكن الله ليغفر لهم ولا ليهديهم سبيلا (نساء:١٣٧)“ اس میں کافر کی عدم مغفرت و عدم ہدایت مذکور ہے۔
- ج...... ”ان الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله ثم ماتوا وهم
كفار فلن يغفر الله لهم (محمد:٣٤)“ اس آیت میں بحالت کفر فوت ہونے پر عدم مغفرت
٨٤
وعدم نجات ثابت ہے۔ ...... ”انه من يشرك بالله فقد حرم الله عليه الجنت ومأواه النار
(مائده: ٧٢)“
نوٹ: اللہ تعالیٰ مشرک پر جنت کو حرام کرنے کے بعد پھر اگر اپنا قول توڑ ڈالے اور اس کو بہشت میں داخل کر دے تو اللہ تعالیٰ کے قول میں کذب لازم آئے گا اور تبلیغ رسالت و پیدائش دنیا و آخرت کا سلسلہ بھی تمام بے کار ہو جائے گا: ”ومن اصدق من الله حديثا (نساء: ٨٧) “ سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی بھی اپنے قول میں سچا نہیں۔ اگر مشرک اور کافر بھی آخر ایک دن بہشت کے وارث ہو سکتے ہیں تو مرسلین جو بہ لحاظ تبلیغ کے مبشرین اور منذرین بنے۔ خوشخبری سنانے والے اور عذاب کا خوف دلانے والے ہیں۔ قابل اعتبار نہیں رہ سکتے۔ کیونکہ جب اس عقیدہ کو ان کی تبلیغ کا ایک لازمی جزو قرار دیا جائے گا کہ آخر ہر ایک انسان جنت کا وارث بن جائے گا تو رسالت کا در حقیقت صرف بشارت ہی کا واحد پہلو باقی رہ جائے گا اور دوسرا پہلو نذارت کا بے کار ہو کر موجب فتنہ عظیم ہو کر ہدایت اور اصلاح کی طرف پورا میلان پیدا کرنے سے مانع ہو جائے گا۔ یہ عقیدہ مسئلہ کفارۂ مسیح سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ اس میں کفر و شرک پر دلیر ہونے کی نسبتاً زیادہ ترغیب ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کے ہر دو پہلو کو ایسا قائم کر دیا ہے کہ دنیا اور آخرت ہر دو میں وہ قائم ہے۔ ورنہ یوم الدین انصاف کا دن کوئی یقینی چیز نہیں۔ وہاں بھی جب آخر جنت انجام ہے تو جو چاہو کرو جو خدا تعالیٰ تین درہم کی چوری پر قطع ید کا اور زانی کو مارنے اور زانیہ کنواری کو پورے سو درے لگانے کا حکم دیتا ہے اور مؤمنین کو فرماتا ہے ”ولا تاخذكم بهما رأفة فى دين الله (نور: ٢) “ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی اس تعمیل میں تم کو رحم ہر گز مانع نہ ہو۔ وہ خدا تعالیٰ کیونکر ایسا نرم دل ہو سکتا ہے کہ اپنے قول کو بھی بھول جائے اور یوں عذر کرنے لگے کہ پیغمبروں کی معرفت میں نے تم کو صرف اصلاح کے واسطے ڈرایا تھا۔ ورنہ در حقیقت بعد عرصہ کے تم کو اے کافرو اور مشرکو بہشت میں داخل کر کے عیش و راحت کا کل سامان تمہارے لئے مہیا کر دینے کا ارادہ تھا۔ بالفعل مجھ کو سچا کرنے کے واسطے کچھ عرصہ تکلیف برداشت کر لو۔ مبادا پیغمبر اور مومن لوگ مجھ کو یہ الزام نہ دیں کہ اے اللہ تعالیٰ اگر واقعی تو نے دوزخ کو فنا کر کے صرف بہشت ہی بہشت قائم اور آباد رکھنا تھا تو ہم کو جہاد کا حکم دے کر خواہ مخواہ ہمارا سر کٹوایا اور روزوں میں بھوکا مارا اور شب بیداری کرا کے ہمارا لہو خشک کرایا اور قیامت کے یہ ہولناک تذکرے سنا سنا کر ہمارے آرام کو ہم پر تلخ کر دیا۔
٨٨
- ٥ ........ ” ان الذين كفروا وماتوا وهم كفار اولائك عليهم لعنت
الله والملائكة والناس اجمعين ٠ خالدين فيها لايخفف عنهم العذاب ولاهم ينظرون (البقره :١٦٢،١٦١)“
نوٹ : ان آیات میں کافروں کے واسطے چار باتوں کی وعید ہے۔ اول لعنت الله والملائكة والناس کا جو ایسی سخت لعنت ہے کہ اس میں کسی مخلوق کو بھی سفارش کی گنجائش نہیں رہتی ۔ دوسرا دوامی لعنت جس کا انجام دوامی دوزخ ہے۔ تیسرا عدم تخفیف عذاب ۔ چوتھا عدم مہلت بنابر معذرت یا توقع معافی ۔ اب ایسی نص مبین کے سامنے الا ماشاء ربك سے کفار کو نجات دلانے کا مفہوم ثابت کرنا تفسیر بالرائے ہے۔ البتہ استثنا کی تفسیر اگر بروئے نص کی جائے تو وہ صرف اس آیت میں مل سکتی ہے ” ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر مادون ذالك لمن يشاء (نساء : ١١٦،٤٨)“ مگر قرآن شریف میں دوزخ سے نجات کی نص کفار کے واسطے پیش کرنا غیر ممکن ہے ۔ الا ماشاء ربك والی آیت میں بھی فاسق کی طرف اشارہ ہے ۔ نہ مطلق کافر کی طرف ۔
- ٦ ........ ” ان الذين كذبوا بآياتنا واستكبروا عنها لا تفتح لهم
ابواب السماء ولا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل فى سم الخياط (اعراف:٤٠)“ یعنی جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے تکبر کیا ان کے واسطے آسمان کے دروازے ہرگز کھولے نہ جائیں گے اور نہ وہ بہشت میں داخل ہوں گے۔ جب تک کہ اونٹ سوئے کے ناکے سے گزر نہ جائے ۔
- ٢ ........ ” بعض احادیث سے ثابت ہے کہ دوزخ ابدی نہیں بلکہ منقطع الزمان
ہے ۔ “ یہ آپ کا خاص اجتہاد ہے ۔ اس کے متعلق جو حدیث مسلم کی آپ نے بیان کی ہے اس میں کوئی لفظ ایسا موجود نہیں جس سے بطور نص یہ عقیدہ ثابت ہو سکے۔ صرف اسی قدر مذکور ہے کہ فرشتے اور پیغمبر اور مومن سفارش کر چکے اور اب صرف ارحم الراحمین باقی رہ گیا ہے ۔ پھر وہ یعنے اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی ایسے لوگوں کی لے کر نکال دے گا جنہوں نے کوئی نیکی ہرگز نہیں کی ہوگی ۔ اس لپ یا مٹھی ( قبضہ ) سے آپ نے کیونکر سمجھ لیا کہ کل اہل دوزخ کو نکال کر جنت میں داخل کر دے گا ۔ حتیٰ کہ کفار ومشرکین وابلیس تک کو بھی نکال کر نجات اور بہشت کا وارث بنادے گا ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ یعنی مسلم کے علاوہ بخاری نے بھی اس کو نقل کیا ہے ۔ مذکورہ جواب نمبر ایک میں قرآن شریف کی چھ آیات معہ تشریح مذکور ہیں ۔ پس مومن
٨٦
بالقرآن کا کوئی حق نہیں کہ اس حدیث کی تفسیر و تشریح قرآن کی منشا کے خلاف بیان کر کے لوگوں کو گمراہ کرے۔ لفظ (قبضہ) اللہ تعالیٰ کی آیات متشابہات میں داخل ہے۔ جس کی تاویل کو جب رسول اللہ ﷺ نے بھی صاف نہیں بتلایا تو آپ کیا حقیقت رکھتے ہیں۔ عجب نہیں کہ اس میں نابالغ مجانین اور ایسے لوگ داخل ہوں جن کو تبلیغ نہیں پہنچی۔ یا بالکل کان سے بہرے اور آنکھوں سے اندھے معذور لوگ ہوں اور اس قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخاری اور مسلم کی بہت سے شروح اہل سنت کے راسخون فی العلم نے لکھی ہیں۔ مگر کسی ایک میں بھی مولوی صاحب کا مفہوم ثابت نہیں۔ باقی رہی تاویل قبضہ کی سو مٹھی میں اگر قلیل مقدار لی جائے جب بھی مٹھی کا محاورہ اس پر اطلاق کر سکتا ہے اور اگر کثیر مقدار ہو جب بھی یہی محاورہ بولا جائے گا۔ پس مٹھی کو خواہ اسم آلہ بناؤ خواہ ظرف مکان بناؤ۔ ماخوذات و معمولات کا تعین انسانی عقل سے برتر ہے۔ لہٰذا جو قرآن کی نصوص کے خلاف کل زمانوں کے مشرکین اور کفار اور شیطان اور اس کی ذریت کو بھی اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں داخل کر کے ان کو بہشت دلواتا ہے۔ وہ بے شک خدا تعالیٰ اور اس کے رسول پر افتراء کرتا ہے۔
- ٣...... بے شک کنز العمال میں ایسی بعض احادیث مذکور ہیں۔ احادیث کی صحت
کا مدار سند روایت پر ہے۔ نہ اس دلیل پر کہ فلاں کتاب میں موجود ہیں۔ ان کی صحت مشکوک ہے۔ جیسا کہ ہدیۃ المہدی مصنفہ نواب وحید الزمان مترجم و شارح صحاح ستہ صفحات ٧١، ٧٢ میں درج ہے۔ تفسیر مواہب الرحمٰن پارہ ١٢ صفحہ ١٠٨، ١٠٩ میں بھی ان احادیث کو مجروح لکھا ہے۔ معہ دلائل کے کتب اسماء الرجال سے راویان کے صدق و کذب و ضعف کی بابت تحقیق کرنا محض ان علماء کا کام ہے جو اس فن کے ماہر ہیں اور جب ان کے نزدیک اس قسم کی احادیث کی صحت میں ہی کلام ہے تو بلاشبہ ان کو بطور حجت کے پیش نہیں کر سکتے۔ بالخصوص جب وہ خاص قرآن اور احادیث صحیحہ مرفوعہ کے خلاف ہوں۔ اس مسئلہ کے متعلق ابن حجر مکی نے ایک رسالہ الزواجر عن اقتراف الکبائر لکھا ہے۔ امام شوکانی نے بھی اس کے متعلق سوال و جواب کے طور پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے۔ غرض سب نے یہی نتیجہ نکالا ہے کہ اخبار متواتر اس امر پر شاہد ہیں کہ فاسق ایماندار خواہ ذرہ بھی ایمان رکھتا ہو دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا اور دوزخ کے متعلق جو الا ماشاء ربک والا استثناء مذکور ہے اس سے صرف مراد اہل کبائر موحد ہیں۔ اس کی تفسیر جناب رسول اللہ ﷺ نے خود کر دی ہے۔ چنانچہ احادیث ذیل اس بارہ میں نص قطعی ہیں۔
- الف...... (بخاری ج ٢ ص ٩٧٩ باب صفة الجنة والنار) ابن عمرؓ نے رسول
٨٧
کریم ﷺ سے روایت کیا کہ جب اہل جنت جنت میں اور اہل دوزخ دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اہل جنت تمکو موت نہ آئے گی اور اہل دوزخ تم کو موت نہ آئے گی۔ تم اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔ اس سے بھی واضح تر حدیث (بخاری ج٢ ص٦٩١ میں باب وانذرھم یوم الحسرة) کی تفسیر میں مذکور ہے جس سے خلود جنت ونار مساوی ثابت ہوتا ہے۔
- ب ..... ابوہریرہؓ نے بھی اسی طرح حضرت ﷺ سے مذکورہ حدیث کے بعد بیان
کیا (بخاری ج٢ ص٩٧٠ باب صفة اهل الجنة والنار)!
- ج ..... (بخاری ج١ ص٤٧٣ کتاب الانبیاء) میں حضرت ابوہریرہؓ نے جناب رسول
اللہ ﷺ سے روایت کی کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ آذر سے ملیں گے اور آذر کے چہرہ پر اس وقت سیاہی اور غبار ہوگا ان سے ابراہیم علیہ السلام کہیں گے کہ کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کرنا تو ان کا باپ کہے گا کہ اب میں تمہاری نافرمانی نہ کروں گا۔ پس ابراہیمؑ عرض کریں گے کہ اے پروردگار تو نے فرمایا تھا کہ مجھ کو رسوا نہ کروں گا جس دن لوگ محشور ہوں گے۔ پس اب کونسی رسوائی میرے باپ کی ذلت سے زیادہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تو جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے۔ الیٰ آخرہا۔
اس قسم کی احادیث بخاری اور مسلم میں اور بھی ہیں جن کو بوجہ طوالت خاکسار درج کرنے سے معذور ہے۔ اس آخری حدیث نے قطعی فیصلہ کر دیا ہے کہ جب ابراہیم خلیل اللہ کی سفارش پر یہ جواب ملتا ہے کہ کافر پر جنت حرام ہے تو پھر اس کے سامنے ایسی احادیث سے حجت پکڑنا کہ کافر ومشرک اور ابلیس بھی ایک دن بہشت میں چلے جائیں گے علم حدیث سے بے خبری نہیں تو اور کیا ہے؟۔
مولوی صاحب حدیث صحیح قرآن کے خلاف نہیں ہوا کرتی۔ جو چھ آیات قرآن شریف سے خاکسار نقل کرچکا ہے آپ بغور ملاحظہ فرمالیں کہ آپ کی پیش کردہ احادیث ان کے مطابق ہیں یا بخاری کی یہ تین احادیث۔ کاش علم حدیث کسی عالم اہل سنت سے پڑھتے تو آپ کا ایسا عقیدہ نہ ہوتا۔
- ٤ ..... یہ قول مبہم ہے اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ جہنم سے آپ کی مراد کسی خاص
طبقہ کی ہے یا بالعموم سارے دوزخ کی۔ اگر پہلے مراد ہے تو وہ بے شک قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کے مطابق ہے اور اگر دوسری مراد ہے تو آیات واحادیث صحیحہ محولہ کے بالکل خلاف ہے۔ لہٰذا
٨٨
ایسے قول سے حجت قائم نہیں ہو سکتی۔ تفسیر فتح البیان ، درمنثور کا حوالہ دے کر لوگوں کو دھوکا دینا بہت برا ہے۔ ان تفاسیر قائلین فناء النار کے دلائل ضرور مذکور ہیں جن کی آپ نے کاسہ لیسی کی ہے۔ مگر افسوس کہ ان دلائل کے بعد جو تردید وہاں درج ہے اس کو آپ بالکل ہضم کر گئے ہیں۔ البتہ ابن قیم نے حادی الارواح الی بلاد الافراح میں مسئلہ فناء النار کی تردید و تائید میں بہت کچھ لکھا ہے۔ جس کی امام شوکانی و دیگر اہل علم نے دھجیاں اڑا دی ہیں اور معتبر اہل سنت کی سب تفاسیر میں اس مسئلہ کا رد و ابطال کم و بیش پایا جاتا ہے اور وہ صرف چند لوگ ہیں جو اس مسئلہ و عقیدہ کے قائل تھے جو بالمقابل جمہور کے بالکل قابلِ اعتبار نہیں۔ اہل سنت کے عقائد کی بنا محض قرآن و احادیث صحیحہ پر ہے اور اہل سنت عقائد میں ضعیف حدیث تک بھی جب قبول نہیں کرتے تو بھلا مشکوک اور موضوع احادیث ان کے یہاں کب لائق حجت ہیں؟ ۔
- ......٥...... آپ نے جن احادیث کی بنا پر ابداً کا ترجمہ طویل مدت کیا ہے۔ ان
احادیث کو قرآن شریف اور احادیث صحیحہ پر پہلے پیش کرنا مناسب تھا۔ مگر فناء النار کے باطل عقیدہ نے آپ کی عقل پر ایسا غلبہ حاصل کر لیا تھا کہ حدیث کی صحت معلوم کرنے کے ایسے آسان و معمولی اصول کی طرف بھی آپ کو توجہ نہ ہوسکی۔ مولوی صاحب لفظ ابداً خالدین کو مؤکد کرنے کے واسطے بہشت کے واسطے قرآن شریف میں چار دفعہ آیا ہے اور دوزخ کے واسطے تین دفعہ پھر کیا وجہ ہے کہ جنت والا خالدین ابداً تو غیر محدود زمانہ مراد ہو اور دوزخ والا خالدین ابداً محدود زمانہ بن جائے۔
موضوع و مشکوک احادیث کی بناء پر ایک مسلمہ اجماعی اہل سنت کے عقیدہ کو بگاڑ کر خاص احمدی فرقہ کے عقیدہ کو قرآن سے ثابت کرنے کی کوشش اور پھر دعوے کرنا کہ ہم اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں بالکل عبث ہے۔
- ......٦...... سورہ نباء آیت نمبر ٢٣ میں لابثین فیها احقاباً بیشک مذکور ہے۔
آپ نے احقاب کو حقب کا جمع بتلایا ہے اور حقب سے آپ صرف اسی سال کا عرصہ مراد لیتے ہیں۔ لغت میں اسی سال عرصہ سے زیادہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس عرصہ کا خاص تعین مبہم ہے۔ پس جب واحد کی حالت میں عرصہ مبہم ہے تو جمع کی صورت میں اور بھی زیادہ مبہم ہوگا۔ پھر یہ دیکھنا ہے کہ یہ سزا کن لوگوں کے واسطے فرمائی گئی ہے۔ یہ سزا ان طاغین کے واسطے ہے جن کی بابت اسطرح وہاں مذکور ہے۔ ”انھم کانوا لا یرجون حساباً وکذبوا بآیاتنا کذاباً (نباء:٢٨) “ یعنی ان کو جواب دہی کا کوئی خوف نہ تھا اور وہ ہماری آیات کی تکذیب کرتے
٨٩
تھے۔ اس کا ماحصل یہ ہوا کہ وہ لوگ کافر تھے۔ اب کافر پر جنت کا مطلقاً حرام ہونا جواب نمبر دو، قرآن شریف کی چھ آیات سے اور جواب نمبر تین میں احادیث بخاری سے جب بخوبی ثابت ہوچکا ہے تو پھر اس قسم کے لوگوں کا دوزخ میں محدود وقت تک رکھا جانا صرف احمدی مذہب کا عقیدہ ہوگا۔ نہ جمہور اہل سنت کا اور وہ احقاباً کو خالدین ابداً کا مرادف سمجھتے ہیں۔ تاکہ تفسیر قرآن بالقرآن کا سب سے مقدم اصول قائم رہ سکے۔ اہل سنت قرآن کو قرآن سے پہلے سمجھتے ہیں۔ پھر اجمال وابہام کے واسطے صحیح حدیث کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ لغت وقواعد صرف ونحو وغیرہ کو سب سے آخر میں رکھتے ہیں۔
- ٧...... آپ فرماتے ہیں کہ بہشت کے متعلق غیر مجذوذ کے علاوہ سورہ حجر ٤٨ میں
”وماهم منها بمخرجين“ بھی وارد ہے۔ جس سے ثابت ہے کہ بہشت والے ہرگز نکالے نہیں جائیں گے۔
ناظرین! یہی ہے مولوی صاحب کا مبلغ علم آپ نے اس لفظ کا استعمال محض بہشت کے واسطے مخصوص کردیا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو بے شک منظور تھا کہ کسی وقت آپ کی قرآن دانی کا راز فاش کرکے آپ نمبروار پڑھتے جائیں اور مولوی صاحب کی قرآن دانی کی بھی داد دیتے جائیں۔
- الف...... ”وماهم بخارجين من النار (البقره:١٦٧)“
- ب...... ”يريدون أن يخرجوا من النار وماهم بخارجين منها
(مائده:٣٧)“
- ج...... ”ومأواكم النار ومالكم من ناصرين . ذالكم بان كم
اتخذتم آيات الله هزواً وغرتكم الحياة الدنيا فاليوم لايخرجون منها ولاهم يستعتبون (الجاثيه:٣٥)“
مولوی صاحب فناء النار کے عقیدہ میں ایسے بے خود ہو رہے ہیں کہ قرآن شریف کی دیگر آیات بھی حافظہ سے بھاگ گئی ہیں اور مولوی صاحب (اضله الله علی علم) کا مصداق ہوچکے ہیں۔
- ٨...... ایں گلے دیگر شگفت! یہی ضروری نہیں کہ جنت کے متعلق سب
محاورات والفاظ جن سے دوام ظاہر ہوتا ہے وہ جہنم کے دوام کے واسطے بھی استعمال ہوں۔ جواب نمبر دو میں احقاب کی تطبیق خالدین ابداً سے دی جاچکی ہے۔ اس واسطے اس کے اعادہ کی اس نمبر کے جواب میں ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ عربی کو آپ سے اور آپ کے اہل لغت سے بہتر جانتا
٩٠
ہے ۔ اگر احقابا کا محاورہ بعض وقت خالدین ابداً کا مرادف آپ تسلیم نہ کر سکیں تو ہم کو کوئی تعجب نہیں ۔ کیونکہ جب آپ جناب رسول اللہ ﷺ کی بتلائی ہوئی تفسیر کو تسلیم نہیں کرتے تو ہم امتی کس شمار میں ہیں ۔ مولوی صاحب! بہشت اور دوزخ کی میعاد و حالت کے متعلق بعض الفاظ مشترک ہیں ۔ بعض مختلف !
نقشہ الفاظ مشترکہ جو جنت اور جہنم ہر دو کے دوام پر نص ہیں
نمبر الفاظ متعلق جنت محل وقوع الفاظ متعلق جہنم محل وقوع ١ ماهم منها بمخرجين پ ١٤، ع ٤، الحجر : ٤٨ ٢ خالدين فيها ابداً پ ٥، ع ٥، نساء : ١٢٢ خالدين فيها ابداً پ ٦، ع ٢، نساء : ١٢٢ پ ٥، ع ١٠، نساء : ١٦٩ پ ٢٢، ع ٥، احزاب : ٦٥ پ ١٠، ع ٩، تو بہ : ١٠٠ پ ٢٦، ع ١٢، زمر : ٧٢ ٣ نعیم مقیم پ ١٠، ع ٩، تو بہ : ٢١ ماهم بخارجين من النار پ ٢، ع ٤، بقرہ : ١٦٧ ٤ ماكثين پ ١٥، ع ١٣، کهف : ٣ ماهم بخارجين منها پ ٦، ع ١٠، مائدہ : ٣٧ ٥ كانت لهم جزاءً ومصيرا پ ١٨، ع ١٧، فرقان : ١٥ لا يخرجون منها پ ٢٥، ع ٢٠، جاثیہ : ٣٥ ٦ حسنت مستقراً ومقاماً پ ١٩، ع ٤، فرقان : ٧٦ ماكثون پ ٢٥، ع ١٣، زخرف : ٧٧ ٧ جنت الماوى پ ٣٠، ع ١٥، نازعات : ٤١ ساءت مصيراً پ ٥، ع ١١، نساء : ٩٧ ٨ حسن المآب پ ٢٣، ع ١٣، ص : ٤٩ ساءت مستقراً ومقاماً پ ١٩، ع ٤، فرقان : ٦٦ ٩ ولاخرة خيراً وابقى پ ٣٠، ع ١٢، اعلی : ١٧ ماوی هم جهنم پ ٥، ع ١١، نساء : ٩٧ ١٠ اصحاب الجنة پ ٢٨، ع ٦، حشر : ١٩ شر المآب پ ٢٣، ع ١٣، ص : ٥٥ ١١ و رضوان من پ ٤، ع ١١، آل عمران : ١٥ والعذاب الآخرة اشد پ ١٦، ع ١٦، طہ : ١٢٧ وابقى ١٢ الله اكبر پ ١٠، ع ١٥، تو بہ : ٧٢ نزل پ ١٥، ع ٣، اسراء : ١٠٥ پ ٢٦، ع ١٦، صافات : ١٧٧ ١٣ لا جر الآخرة اكبر پ ١٤، ع ١٢، نحل : ٤١ اصحاب النار پ ٢٨، ع ٦، حشر : ١٩ ١٤ دار القرار پ ٢٤، ع ١٦، غافر : ٣٩ بئس القرار عذاب مقیم پ ١٣، ع ١٠، ابراہیم : ٢٩
کا مرادف آپ تسلیم نہ کرسکیں تو ہم کو کوئی گئی ہوئی تفسیر کو تسلیم نہیں کرتے تو ہم امتی کی میعاد و حالت کے متعلق بعض الفاظ
و کے دوام پر نص ہیں
متعلق جہنم محل وقوع
فيها ابداً پ ٦ ع ٢ ، نساء ١٢٢
پ ٢٢ ع ٥ ، احزاب ٦٥
پ ٢٦ ع ١٢ ، زمر ٧٢
ارجين من النار پ ٢ ع ٤ ، بقرہ ١٦٧
ارجين منها پ ٦ ع ١٠ ، مائده ٣٧
ون منها پ ٢٥ ع ٢٠ ، جاثیہ ٣٥
پ ٢٥ ع ١٣ ، زخرف ٧٧
سيراً پ ٥ ع ١١ ، نساء ٩٧
مستقراً ومقاماً پ ١٩ ع ٤ ، فرقان ٦٦
جهنم پ ٤ ع ١١ ، نساء ٩٧
پ ٢٣ ع ١٣ ، ص ٥٥
. الآخرة اشد پ ١٦ ع ١٦ ، طہ ١٢٧
پ ١٥ ع ٣ ، اسراء ١٠٥
پ ٢٧ ع ١٦ ، صافات ١٧٧
لنار پ ٢٨ ع ٦ ، حشر ١٩
ار عذاب مقيم پ ١٣ ع ١٠ ، ابراہیم ٢٩
٩ ...... آیت محولہ میں مولوی صاحب ولذالك خلقهم کا اشارہ صرف رحم تک محدود رکھتے ہیں۔ درحال یہ کہ اس اشارہ کے ماقبل ولا يزالون مختلفین مذکور ہے۔ پس لذالك خلقهم کا صحیح مفہوم صرف یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اختلاف اور رحم ہر دو کے واسطے پیدا کیا ہے۔ یعنی بعض اس کے رحم کے سبب سے جو تبلیغ رسالت کو قبول کرنے کا مرادف ہے۔ اختلاف کو ترک کر دیتے ہیں۔ مگر بعض بوجہہ عدم قبول تبلیغ اختلاف میں گرفتار رہتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا صادق ہو کہ (میں دوزخ کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھر دوں گا) اس آیت کے شروع میں ہمارے مفہوم کی تائید میں خود یہی لفظ شاہد ہیں۔ (اگر اللہ چاہتا تو بطور جبر کے) سب لوگوں کو ایک ہی امت یا واحد دین کا معتقد بنا دیتا۔ اب مطلب کے سمجھنے میں سرمو بھی ابہام نہیں کہ یہی اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے کہ لوگوں کو جبراً ایک دین کا معتقد بنا دے کوئی دین حق قبول کرے تو اس کی مرضی رحم کا مستحق بن جائے اور قبول نہ کرے۔ جب بھی اس کی مرضی اختلاف کی وجہ سے دوزخ میں جائے ”فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر (کہف:٢٩)“ اصول قرار پا چکا ہے۔ اگر خدا تعالیٰ ہدایت کے واسطے کوئی جبری اصول قائم کرتا تو پھر اختلاف بھی کوئی نہ رہتا اور دوزخ کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ اپنے سنت کے خلاف جان کر ہدایت اور گمراہی ہر دو کو انسان کا اختیاری فعل قرار دیتا ہے تا کہ آخرت کے عالم کی آبادی بہشت اور دوزخ ہر دو سے قائم رہے۔
ولذالك خلقهم کا اشارہ صرف رحم تک محدود رکھنا کل مفسرین اور اہل علم کے خلاف ہے۔ کیونکہ ذالک کے ماقبل مختلفین اور رحم ہر دو موجود ہیں۔ مگر مولوی صاحب کا ارادہ ان آیات سے بھی چونکہ فناء النار کے مسئلہ کو مؤید کرنا ہے۔ اس واسطے تفسیری نوٹوں میں آیات کی تفسیر میں ہی خلاف محاورہ دو مشار الیہ اختلاف و رحم کے بجائے پہلے لفظ کو نظر انداز کر کے صرف دوسرے لفظ رحم کو قائم کر دیا ہے۔ تا کہ اس بناء پر اپنی آئندہ خیالی عمارت کو پورا کریں۔ لہٰذا اس طرح فرماتے ہیں۔ (چونکہ اللہ تعالیٰ کے رحم سے بتلائے ہوئے طریق پر انہوں نے عمل نہ کیا اس واسطے ضرور ہے کہ وہ ایک دوسری مصیبت میں گرفتار ہوں تا کہ بدی سے پاک ہو کر روحانی ترقی کے لائق ہو سکیں۔) اس خیالی تفسیر میں مولوی صاحب نے احادیث صحیحہ تو ایک طرف رہیں۔ خاص قرآنی آیات کو بھی ایسا نظر انداز کر دیا ہے کہ گویا وہ
٩٢
قرآن میں داخل ہی نہیں۔ اب ان آیات کا مختصر بیان کرنا مناسب ہے۔ جو مولوی صاحب کی آخرت کی روحانی ترقی یا اصلاح کے عدم امکان پر نص ہیں۔
- الف...... ”ومن كان في هذه اعمى فهو في الآخرة اعمى“ بنی
(اسرائیل:٧٢) ”یعنی جو اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔
- ب...... ”قد افلح من زكها وقد خاب من دسها“ (الشمس:٩، ١٠) ”
یعنی اس شخص نے فلاح پائی جس نے نفس کا تزکیہ کر لیا اور نامراد ہوا۔ جس نے نفس کو (ناپاکیوں میں) غرق کر دیا۔
- ج...... ”قد جائكم بصائر من ربكم فمن أبصر فلنفسه ومن عمى
فعليها“ (انعام:١٠٤) ”اے لوگو! تم کو تمہارے رب کی طرف سے ہدایت کے دلائل آچکے۔ پس جو سمجھا اس کا ہی فائدہ ہے اور جو نہ سمجھ کر اندھا ہی بنا رہے اس کا وبال اس پر ہے۔
- د...... ”فاليوم ننسى هم كما نسوا لقاء يومهم هذا“
(اعراف:٥١) ”یعنی قیامت کے دن ہم ان کو بھلا دیں گے۔ جس طرح وہ اس دن میں حاضر ہونے کو بھول بیٹھے تھے۔
- ه...... ”قال رب لم حشرتنى اعمى وقد كنت بصيراً . قال
كذالك أتتك آياتنا فنسيتها وكذالك اليوم تنسى . وكذالك نجزى من اسرف الم يؤمن بآيات ربه ولعذاب الآخرة اشد وابقى“ (طه:١٢٥، ١٢٦، ١٢٧) ”یعنی غافل انسان کہے گا۔ اے میرے رب تو نے مجھ کو اندھا کر کے کیوں اٹھایا ہے۔ حالانکہ میں دنیا میں سوجھا (بینا) تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیگا۔ اس طرح دنیا میں ہماری آیات تمہارے پاس آئی تھیں۔ پس تو نے ان کو بھلا دیا تھا اور آج کے دن ہم تجھ کو بھلائے دیتے ہیں اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ اس کو جو حد سے تجاوز کرتا ہے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہیں لاتا اور واقعی آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔
- و...... ”والذين كفروا لهم نار جهنم لا يقضى عليهم فيموتوا ولا
يخفف عنهم من عذابها . كذالك نجزى كل كفورہ . وهم يصطرخون فيها ربنا اخرجنا نعمل صالحاً غير الذى كنا نعمل . اولم نعمركم مايتذكر فيه من
٩٣
تذکر وجاءکم نذیر. فذوقوا فما للظالمین من نصیر (فاطر: ٣٧،٣٦) ”یعنی جو لوگ کافر ہوئے ان کے واسطے دوزخ کی آگ ہے نہ تو ان کی قضاء آئے گی کہ وہ مرجائیں اور نہ دوزخ کے عذاب میں ان کے واسطے تخفیف ہوگی۔ ہم ہر کافر کو اسی طرح سزا دیتے ہیں اور وہ اس میں چلّا چلّا کر یوں کہیں گے اے ہمارے رب ہم کو اس سے نکال دے ہم نیک اعمال کریں گے۔ دنیا والے بدعمل پھر نہیں کریں گے۔ ان کو یہی جواب ملے گا کہ ہم تم کو اس قدر عمر نہیں دی تھی کہ جس کو سوچنا منظور ہوتا۔ وہ اس میں سوچ لیتا اور تمہارے پاس ڈرانے والے کیا نہیں آئے تھے؟۔ پس اب عذاب چکھو ظالموں کے واسطے کوئی مددگار نہیں۔
ز....... ”یوم یقول المنافقون والمنافقات الذین آمنوا انظرونا نقتبس من نورکم قیل ارجعوا وراءکم فالتمسوا نوراً (الحدید: ١٣) “یعنی قیامت کے دن منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان داروں کو کہیں گے ذرا ٹھہر جاؤ تاکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ نور لے لیں۔ ان کو جواب ملے گا تم پیچھے جاکر دنیا میں نور کی تلاش کرو۔
ح....... ”ونادیٰ اصحاب النار اصحاب الجنۃ ان افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اللہ قالوا ان اللہ حرمہما علی الکفرین (اعراف: ٥٠) “ یعنی دوزخ والے بہشت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہم کو کچھ پانی یا اپنے کھانے سے کچھ بخشو وہ جواب دیں گے کہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردیا ہے۔
ط....... ”ربنا اخرجنا منہا فان عدنا فانا ظالمون ٭ قال اخسؤا فیہا ولا تکلمون (مومنون: ١٠٨،١٠٧) “یعنی اہل دوزخ فریاد کریں گے کہ اے ہمارے رب ہم کو اس سے نکال دے۔ اگر ہم پھر ایسا کریں گے تو بیشک ہم بے انصاف ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے مت بولو۔
ی....... ”والذین کفروا بآیاتنا ولقائہ اولٰئک یئسوا من رحمتی واولٰئک لہم عذاب الیم (عنکبوت: ٢٣) “یعنی جنہوں نے ہماری آیات سے اور ہمارے ملنے سے انکار کیا وہ میری رحمت سے نا امید ہوگئے اور ان کے واسطے تکلیف دہ عذاب ہے۔
ک....... ”والذین کذبوا بآیاتنا ولقاء الآخرۃ حبطت اعمالہم (اعراف: ١٤٧) “یعنی جنہوں نے ہماری آیات اور آخرت کی ملاقات سے انکار کیا ان کے سب ٩٤
عمل برباد ہوگئے۔
- ك....... ”ونادوا يا مالك ليقض علينا ربك قال انكم ماكثون
(زخرف:٧٧)“ یعنی اہل دوزخ افسر دوزخ سے فریاد کریں گے کہ ہمارے واسطے اپنے رب سے موت کا فیصلہ کرادے۔ وہ جواب دے گا تم کو اسی جگہ رہنا ہوگا۔
- ل....... ”وما دعاء الكافرين الا فى ضلال (الرعد:١٤)“ یعنی کافروں
کی فریاد ضائع ہو جاتی ہے۔
- م....... ”انه لا يفلح الكافرون (مؤمنون:١١٧)“ یعنی بیشک کافر لوگ
نجات نہیں پاسکتے۔
- ن....... ”وان ليس للانسان الا ما سعى (نجم:٣٩)“ یعنی انسان کے
واسطے وہی ہے جو اس نے خود سعی کر کے حاصل کیا۔
جب سے دنیا بنی ہے اور انبیاء کا سلسلہ تبلیغ شروع ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منکر لوگوں سے کیا سلوک کیا ہے؟ قرآن کریم سے ایسے لوگوں کا بالکل ہلاک ہونا ثابت ہوتا ہے۔ آیاتِ ذیل قابلِ توجہ ہیں۔
- ١....... ”وجاء فرعون ومن قبله والمؤتفكات بالخاطئة فعصوا
رسول ربهم فاخذهم اخذة رابية (حاقه:٩، ١٠)“ یعنی فرعون اور اس کے پہلے لوگوں نے اور لوط کی الٹائی گئی بستیوں نے گناہ کئے اور اپنے رب کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ پس ان کو سخت پکڑ نے قابو کیا۔
- ٢....... ”انا ارسلنا عليهم صيحة واحدة فكانوا كهشيم المحتظر
(القمر:٣١)“ یعنی ہم نے ان پر ایک سخت چیخ کا عذاب نازل کیا کہ وہ روندی ہوئی باڑ کی طرح چورا چورا ہوگئے۔
- ٣....... ”فاخذتهم الرجفة فاصبحوا فى دارهم جاثمين
(عنكبوت:٣٧)“ یعنی پس ان کو بھونچال نے آپکڑا اور وہ مر کر اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے۔
- ٤....... ”فكلاً اخذنا بذنبه فمنهم من ارسلنا عليه حاصباً
٩٥
ومنهم من اخذته الصيحة و وما كان الله ليظلمهم ولكن نے سب کو بسبب ان کے گناہوں ۔ بعض کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض بلکہ انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا
- ٥....... ”واتبعو
یعنی فرعون کی قوم کے پیچھے اس دنیا میں
نوٹ! اس قسم کی آیات ہے کہ سنت اللہ تعالیٰ کی منکرین کے و (احزاب:٦٢) ”ایک قانون الہ اصلاح اور تزکیہ کے واسطے ایک اور م حصہ حاصل کریں۔ جس کے واسطے اور نصوص ہر دو کے خلاف ہے۔ کیونک لوگ ایسی نیت کے ساتھ منتقل ہوتے پس ایسی حالت کو محدود زندگی سے گنجائش کا مسئلہ نکالنا نہایت باطل او بخوبی ہوچکی ہے کہ جب منکر عذا جائے۔ تو پھر ہم ایسے کام ہرگز نہیں تھی۔ جس میں تم اپنی اصلاح کرکے عین انصاف ہے کہ جس سے ساری فوت نہ ہوا۔ وہ اس کے عوض ہمیشہ تھی۔ مگر بہ لحاظ عدم نیت اصلاح و اقل حصہ بھی لے کر فوت ہوتی ہے رہے۔ مولوی صاحب کے مسیح موع
ومنهم من اخذته الصيحة ومنهم من خسفنابه الارض ومنهم من اغرقنا وما كان الله ليظلمهم ولكن كانوا انفسهم يظلمون (عنكبوت: ٤٠)‘‘ یعنی ہم نے سب کو بسبب ان کے گناہوں کے پکڑا بعض پر پتھر برسائے اور بعض کو سخت چیخ نے پکڑا اور بعض کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض کو پانی میں غرق کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا۔
٥...... ’’واتبعوا فی هذه الدنيا لعنة ويوم القيامة (هود: ٦٠)‘‘ یعنی فرعون کی قوم کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگائی گئی اور قیامت کے دن بھی۔
نوٹ ! اس قسم کی آیات قرآن مجید میں کثرت سے مذکور ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سنت اللہ تعالیٰ کی منکرین کے واسطے دنیا میں کیا ہے اور ’ولن تجدلسنة الله تبديلاً (احزاب: ٦٢)‘‘ ایک قانون الٰہی اٹل ہے۔ آخرت میں یہی لوگ مولوی صاحب کے نزدیک اصلاح اور تزکیہ کے واسطے ایک اور موقعہ دیئے جائیں گے۔ تاکہ وہ آخر اللہ تعالیٰ کے اس رحم سے حصہ حاصل کریں۔ جس کے واسطے وہ پیدا کئے گئے ہیں۔ مولوی صاحب کی یہ منطق اور فلاسفی عقل اور نصوص ہر دو کے خلاف ہے۔ کیونکہ آخرت دارالعمل نہیں۔ بلکہ دارالجزاء ہے۔ آخرت میں یہ لوگ ایسی نیت کے ساتھ منتقل ہوئے ہیں جس میں ایمان یا اصلاح کے خیال تک بھی موجود نہ تھا۔ پس ایسی حالت کو محدود زندگی سے منسوب کر کے ان کے واسطے آخرت میں دوسرے موقعہ کی گنجائش کا مسئلہ نکالنا نہایت باطل استدلال ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے آیات میں اس مسئلہ کی تردید بخوبی ہو چکی ہے کہ جب منکر عذاب میں فریاد کر کے عرض کریں گے کہ ہم کو دوزخ سے نکالا جائے۔ تو پھر ہم ایسے کام ہرگز نہیں کریں گے اور ان کو جواب ملتا ہے کہ ہم نے تم کو کافی مہلت دی تھی۔ جس میں تم اپنی اصلاح کر سکتے تھے۔ اب اسی جگہ پڑے رہو اور ہم سے ہرگز کلام نہ کرو۔ یہ عین انصاف ہے کہ جس سے ساری عمر کفر ترک نہ کیا۔ حتیٰ کہ ایمان یا اصلاح کی نیت لے کر بھی فوت نہ ہوا۔ وہ اس کے عوض ہمیشہ تک دوزخ میں رہے۔ کیونکہ دنیا میں اگرچہ اس کی زندگی محدود تھی۔ مگر بہ لحاظ عدم نیت اصلاح وہ غیر محدود زمانہ پر حاوی تھی۔ اسی واسطے جو روح ایمان کا کوئی اقل حصہ بھی لے کر فوت ہوتی ہے۔ خدا کے انصاف سے نہایت بعید ہے کہ ہمیشہ وہ دوزخ میں رہے۔ مولوی صاحب کے مسیح موعود نے اس مردود اور باطل مسئلہ کو اہل سنت کے عقائد کے ٩٦
خلاف ہے اور سلف میں جس کی تردید جمہور کافی طور پر کر چکے ہیں۔ از سر نو تازہ کر کے اپنے خاص عقائد میں داخل کر کے مسئلہ کفارہ کے قائم مقام گھڑ لیا ہے۔ تا کہ نصاریٰ کے ساتھ اس فرقہ کی ایک قسم کی مشابہت قائم ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کا ایک صریح معجزہ ہے کہ جو فرقہ اسلام میں اہل سنت کے اصول و عقائد میں جزواً بھی مختلف ہوگا وہ دلائل میں اہل سنت کے سامنے ہمیشہ مغلوب ہوگا۔ چنانچہ سلف میں بھی اس صداقت کا ثبوت بیشمار کتب میں ملتا ہے اور آج کل بھی نیچری چکڑالوی (منکر حدیث) مرزائی وغیرہ اہل سنت واہل حق کے سامنے مغلوب اور ذلیل ہوتے ہیں۔ مگر بت پرست کی طرح اپنی ضد اور تعصب کو ترک نہیں کرتے۔ الا ماشا اللہ۔
نوٹ ! ماقبل کی نوٹ میں اللہ تعالیٰ کا سلوک دنیا میں بحق منکرین معہ آیات منصوصہ و دلائل عقلی بخوبی ظاہر ہو چکا ہے۔ اب ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ منکرین سے اور منافقین سے کسی قسم کے سلوک کا اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اپنے رسول اور مومنین کو حکم دیتا ہے۔
- الف....... "استغفرلهم أو لا تستغفرلهم سبعين مرة فلن يغفرالله لهم
ذالك بانهم كفروا بالله ورسوله (توبه: ٨٠) " یعنی اے پیغمبر! ان منکروں کے واسطے خواہ تم بخشش طلب کرو خواہ طلب نہ کرو اور گو ستر دفعہ بھی ان کے واسطے معافی طلب کرو۔ تب بھی اللہ تعالیٰ ان کے معافی دینے کا نہیں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے انکار کر دیا ہے۔
- ب....... "ولا تصل على احد منهم مات ابداً ولا تقم على قبره انهم
كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون (توبه: ٨٤)" یعنی اے رسول ان میں سے کسی کا جنازہ کبھی بھی مت پڑھ اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہو۔ کیونکہ ایسے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کر دیا ہے اور نافرمانی کی حالت میں ہی فوت ہو گئے ہیں۔
- ج....... "ماكان للنبى والذين آمنوا ان يستغفر وللمشركين
ولو كانوا اولى قربى من بعد ماتبين لهم انهم اصحاب الجحيم 0 وما كان استغفار ابراهيم لابيه الا عن موعدة وعدها اياه فلما تبين له انه عدولله تبر أمنه (توبه: ١١٣، ١١٤)" یعنی نبی اور مومنوں کو مناسب نہیں کہ مشرکوں کے واسطے بخشش مانگیں۔ خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہوں اور تم کو ابراہیم علیہ السلام کے بارہ میں کہیں غلط فہمی نہ واقع ہو کہ اس نے اپنے باپ کے واسطے بخشش مانگی تھی۔ سو اس کی یہی وجہ تھی
٩٧
کہ اس نے اپنے باپ سے استغفار کا عہد کیا تھا۔ مگر جب ابراہیم علیہ السلام کو معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے وہ بیزار ہو گیا۔
- .......٤ " لا تجد قوماً يؤمنون بالله واليوم الآخر يوآدون من
حاد الله رسوله ولو كانوا اباء ہم اوابناء ہم اواخوانهم اوعشيرتهم (مجادلہ:٢٢) " یعنی اے پیغمبر تم ہرگز نہیں دیکھو گے کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دلی دوستی کو اختیار کرلیں گے ۔خواہ وہ ان کے باپ ہوں ۔ خواہ بیٹے ،خواہ بھائی ،خواہ رشتہ دار ۔
- .......٥ " محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار
رحماء بينهم (الفتح:٢٩) " یعنی محمد اللہ کا رسول اور اس کے اصحاب کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحم دل ہیں ۔
ناظرین ! مولوی محمد علی قادیانی سے کون جا کر پوچھے کہ اگر ایسے لوگوں کے واسطے اللہ تعالیٰ کا ارادہ آخرت میں کسی طرح بھی رحم کرنے کا ہوتا تو اپنے پیغمبر اور مومنین کو ان کے جنازہ اور استغفار اور دلی محبت سے ایسی سختی سے کیوں منع فرماتا ۔حالانکہ خود بھی رحمٰن اور ارحم الراحمین ہے اور اس کا رسول بھی رحمت للعالمین ہے۔ مولوی صاحب کو کون قائل کرے کہ اللہ کا ایسے ایسے لوگوں سے خود دنیا میں جب ایسا سلوک قرآن سے ثابت ہے کہ ان کو بالکل ہلاک کر کے ملعون اور مغضوب کر دیتا ہے اور اپنے پیغمبر کو اور مومنین کو بھی ان کی دوستی ،جنازہ اور استغفار سے روک دیتا ہے۔ تو درحقیقت اللہ تعالیٰ اس سلوک کا پیش خیمہ ظاہر کر رہا ہے۔جس کے یہ لوگ بسبب کفر وشرک ونفاق کے ازروئے انصاف آخرت میں مستحق ہیں۔ کیونکہ یہ ایسی حالت میں فوت ہوتے ہیں کہ اصلاح کی نیت سے بھی کورے ہیں۔ مولوی صاحب تقلید کی زنجیر میں ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ قرآن اور احادیث کی روشنی میں اس مسئلہ کو دیکھنا ہرگز پسند نہیں کرتے ۔جس طرح بعض دیگر مسائل میں بھی ان کی یہی افسوس ناک حالت ہے۔ اس مسئلہ کے یقین نے قادیان میں بہشتی مقبرہ کی بنیاد ڈال دی ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے اور ان کے معجزات کے حق میں کیسے کیسے ناشائستہ کلمات مرزا قادیانی کے قلم سے لکھوائے ہیں ۔ پیغمبروں پر اور امام حسنؓ و حسینؓ پر اور کل صحابہؓ پر فضیلت کے دعوے ان سے کرائے ہیں۔حتیٰ
٩
کہ بعض مسائل میں جناب رسول اللہ ﷺ پر بھی عدم تفہیم کا الزام ان کے قلم سے نہ رک سکا۔ جو جو بے اعتدالیاں مولوی صاحب کے مسیح موعود کی سوانح میں ثابت ہیں۔ جس بیباکی اور دلیری سے مولوی صاحب نے قرآن کریم کے ترجمہ اور تفسیر میں جناب رسول اللہ ﷺ کی تفسیر کو بالکل پس پشت ڈال دیا ہے۔ وہ محض اسی فناء النار کے باطل عقیدہ کا نتیجہ ہے۔
دوسری کھلی چٹھی بخدمت مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے ایل ایل بی
امیر احمدی جماعت لاہور
برادرم ! گزشتہ سال خاکسار نے اپنے انگریزی ٹریکٹ میں آپ کو بذریعہ کھلی چٹھی کے اطلاع دی تھی کہ آپ نے اپنے انگریزی قرآن کے اکثر مقامات میں اس تفسیر کو جو بروئے احادیث صحیحہ جناب سرور کونین محمد رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے بالکل نظر انداز کر کے اپنی تفسیر بالرائے کو ترجیح دی ہے اور یہ بھی عرض کیا تھا کہ آپ نے اس ذمہ داری کو بڑی جرات سے قبول کر کے پبلک کی گمراہی کا وبال اپنے سر اٹھایا ہے۔ اندریں صورت خاکسار نے محض لوجہ اللہ برادرانہ لہجہ میں مؤدبانہ طور صادق توبہ کی طرف آپ کو دعوت دی تھی۔ جس کو آپ نے حقارت سے اب تک ٹال رکھا ہے۔ ترتیب و جمع قرآن کا حال لکھنے میں آپ محض احادیث کا ہی سہارا لیں۔ خلافت کے مضمون میں بھی احادیث سے مدد لیں۔ اسلام کے ارکان خمسہ میں بھی احادیث ہی کو آپ مدنظر رکھیں۔ تاریخی بیانات میں بھی احادیث ہی آپ کی معاون ہوں۔ جزاک اللہ خیراً ! مگر قرآن شریف کے صحیح معنے یا معجزات (خارق عادت افعال) بیان کرنے کے متعلق وہی احادیث آپ کے عقیدہ میں ایسی زہر آلودہ ہو جاتی ہیں کہ گویا وہ کسی جعلی یا موضوع ماخذ سے نکلی ہیں۔
برادرم! ” فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا فى انفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليماً (نساء:٦٥) “ یعنی اے پیغمبر تیرے رب کی قسم ان کا ایمان ہی صحیح نہیں۔ جو اختلافات میں تم کو اپنا حکم مقرر نہ کریں۔ پھر جو فیصلہ تم کرو جب تک اس کو وہ بدون چوں وچرا کے خوشدلی سے قبول نہ کر لیں۔ چونکہ آیت غیر منسوخ ہے اور ایک مسلم کے صحیح ایمان کا معیار ہے۔ اس واسطے جس قدر آیات کے متعلق احادیث
٩٩
صحیح تفسیر نبوی (فیصلہ محمدی) ثابت ہو جائے اس کو نظر انداز کر کے کسی اور طرف مائل ہونا قیامت کے دن ”یا لیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا (فرقان:٢٧)“ کا مصداق ہونا ہے۔
قادیانی جماعت تو مرزا قادیانی کو نبی اور رسول مانتی ہے۔ اس واسطے ان کی حدیث مرزا قادیانی کے اقوال ہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ سے ان کا صرف اسی قدر تعلق ہے جس قدر کی تعلیم اور اجازت ان کے اپنے رسول نے دی ہے۔ مگر آپ مرزا قادیانی کو رسول اور نبی نہ ماننے کے باوجود پھر اپنے رسول محمد ﷺ کا فیصلہ (احادیث صحیحہ) کو کیوں قبول نہیں کرتے؟۔ درحقیقت آپ کا عمل بھی اس بارہ میں بالکل قادیانی جماعت کی طرح ہے اور محمدی مسلمانوں میں اپنے صحیح اسلام پر فخر کرنا اور پبلک کو یقین دلانا کہ ہم اہل سنت ہیں۔ حنفی مذہب پر عامل ہیں۔ مرزا قادیانی کو صرف مسیح موعود اور مانتے ہیں کہ نبی یا رسول بالکل نہیں مانتے۔ محض ایک خلافِ واقعہ امر ہے۔
قادیانی جماعت کا اسلام مرزا قادیانی کو پیغمبر منوانا ہے۔ آپ کا اسلام مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور مجدد منوانا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ منوانا ہر دو کے مشن سے خارج ہے۔ اب تک آپ مرزا قادیانی کے مقلد ہیں۔ آپ میں فیصلہ محمدی کے قبول کرنے کی صلاحیت اور قابلیت کی توقع رکھنا بالکل عبث ہے۔ ”اتخذوا احبارہم ورہبانہم ارباباً من دون الله (توبہ : ٣١)“ کے ماتحت جو الزام آپ نے بعض پیر پرستوں پر اپنے قرآن میں لگایا ہے۔ وہ بخدائے لایزال آپ پر زیادہ عائد ہو رہا ہے۔ کسی پیر پرست مسلمان نے یا کسی سلف کے مسلم مجدد نے حضرت مسیح علیہ السلام پیغمبر خدا کے معجزات یعنی بینات و آیت اللہ کو جو وہ باذن اللہ کرتے تھے۔ یہود کی طرح ”سحر مبین (صف)“، ”مسمریزم اور مکروہ قابلِ نفرت عمل نہیں کیا اور نہ اپنے معتقدوں سے (ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے) کا ورد کرایا ہے۔ نہ ان میں سے کسی نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو حقیقت ابن مریم و دجال ودابة الارض وغیرہ سے بے علم بتلایا ہے۔ نہ غلامی ترک کر کے خود کو احمد منوانے کی تعلیم دی ہے۔ پھر باوجود ان واقعات صحیحہ کے آپ مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور مجدد اور مہدی اور کرشن اوتار مان رہے ہیں۔ لہٰذا ایک دفعہ پھر خاکسار آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ آپ کے مجدد صاحب کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ کے حوالہ ہو چکا ہے۔ مگر آپ کے واسطے سوچنے کا موقعہ ابھی باقی ہے۔ پس مبارک ہے ۔ وہ نفس جو چند روزہ امارت کی باطل خوشی اور ضد کو صداقت پر
١٠٠
قربان کر کے سابقون اولون میں داخل ہو جانے کو ترجیح دیتا ہے۔
امید ہے کہ’ واذا دعوا الى الله ورسوله ليحكم بينهم اذا فريق منهم معرضون (نور:٤٨)‘ کی آیت کا مصداق بن کر آپ اپنی جماعت کے واسطے برا نمونہ قائم نہ کریں گے۔
خاکسار! غلام حیدر سابق ہیڈ ماسٹر۔ مقیم سرگودھا (پنجاب)
معذرت از مصنف
ناظرین کرام! سے چند مجبوریوں کی وجہ سے معافی کی درخواست کی جاتی ہے۔
- ١...... شہر سرگودھا میں بیماری نے کل کارخانوں کو درہم برہم کر دیا ہے اور بعد
میں جب لوگوں نے واپس آ کر اپنے کام کاج کو سنبھالا اس وقت بھی ہر دو مطابع کا کام دل جمعی سے نہ ہوسکا۔ خاکسار نے اس ریویو کے طبع کرانے میں جس سخت محنت کو برداشت کیا اس کی شہادت ہر دو مطابع کے ملازم دے سکتے ہیں۔ اگر صبح کو کاتب کے پاس بیٹھا ہے تو پچھلے پہر پریس مین کے سر پر کھڑا ہے۔ غرض تین ماہ میں یہ مشکل طبع کا کام انجام کو پہنچا۔ مگر پھر بھی غلط نامہ ذیل شامل کئے بغیر چارہ نظر نہ آیا۔ تا کہ مضمون کی ممکن طور سے تلافی ہوسکے۔
- ٢...... ریویو کو سلسلہ وار نہیں لکھا بلکہ فراغت کے وقت مولوی محمد علی صاحب کے
انگریزی قرآن سے مختلف مقامات کا نشان قلم بند کرلیا۔ جن پر ریویو لکھنا مفید و مناسب سمجھا۔ جس جگہ اہل سنت کے عقائد کو سخت نقصان دیکھا اس کو تحریر میں لانا زیادہ قرین مصلحت جانا۔
اگر شائقین نے اس ریویو کی قدردانی فرمائی تو انشاء اللہ ایک اور حصہ بھی طیار ہونے کی ریویو میں گنجائش ہے۔ ورنہ جو کچھ موجودہ ہر دو حصوں میں درج ہو چکا ہے۔ وہ اہل بصیرت کے واسطے کافی ہے۔ ہاں اس ریویو کا انگریزی زبان میں طبع ہونا بھی غیر ممکن نہیں۔ مگر یہ کام قدرت کی تائید پر منحصر ہے۔
- ٣...... جن کھلی چٹھیوں کا ذکر حصہ اوّل کے صفحہ نمبر ١٠ پر ہے۔ ان میں سے صرف
مولوی محمد علی صاحب کے نام ریویو میں شامل کر دی گئی ہے اور باقی چٹھیاں فریق متعلقہ کے نام علیحدہ علیحدہ جاری ہوں گی۔ انشاء الله!
١٠١
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سچا کلمہ پڑھنے والے مسلمانوں کی خدمت میں ہدیہ
کشف الحقائق
ریویو بر ترجمہ بخاری شریف
از محمد علی لاہوری
ماسٹر غلام حیدر شیخ رح
کشف الحقائق
جناب غلام حیدر ہیڈ ماسٹر سرگودھا
دیباچہ
اس تنقید کا ایک جزوی ماحصل اخبار اہل حدیث امرتسر مورخہ ١٢ نومبر ١٩٢٦ء میں طبع ہوا تھا۔ مگر اس کا مطالعہ اخبار مذکورہ کے صرف ناظرین تک محدود رہا اور بعض قابل توجہ نکات بھی جلدی میں نظر انداز ہو گئے۔ اس واسطے بعد ترمیم واضافہ اس تنقید کو ازسرنو رسالہ کی صورت میں علیحدہ شائع کرنا قرین مصلحت معلوم ہوا۔
خاکسار کو اس امر کے اظہار میں کوئی حجاب نہیں کہ مولوی محمد علی صاحب (قادیانی لاہوری) اپنے خاص مشرب کے عقائد کے ماتحت جس پیرایہ میں اسلام کی خدمت بصورت تقریر وتحریر بجالا رہے ہیں۔ وہ علماء اہل سنت کے زیر نظر رہنا چاہیے۔
چونکہ محمد علی لاہوری مرزائی کے انگریزی ترجمہ وتفسیر قرآن شریف کی تنقید بصورت انگریزی دیباچہ ص ٣٠ بزبان اردو کتاب (کشف الاسرار ص ١٥٢) بھی اسی خاکسار نے عرصہ چھ سال ہوا شائع کرائی تھی۔ اس واسطے قدرت الٰہی نے محمد علی لاہوری کے بخاری شریف کے اردو ترجمہ وشرح کی تنقید کی خدمت بھی اسی ناچیز کے سپرد کر دی۔ اب آئندہ پاروں کی تنقید کے متعلق خاکسار کا یہ عذر ہے کہ ہر دو ماہ کے بعد ایک ایک پارہ شائع ہونے کی توقع دلائی گئی ہے اور قوائے ذہنی و دماغی بھی اب سابق کی طرح اس کام کا ثقل برداشت نہیں کر سکتے۔ اس واسطے علماء اہل سنت سے الدال علی الخیر کفاعلیہ عرض کر کے آئندہ پاروں کی تدریجی تنقید کی خدمت مجبوراً ان کے سپرد کرتا ہے۔ غلام حیدر.......سابق ہیڈ ماسٹر
شکریہ : خاکسار ان علماء کرام کا دلی شکریہ پیش کرتا ہے۔ جنہوں نے اس رسالہ کے ملاحظہ کی تکلیف گوارا فرمائی ۔ خصوصاً حکیم عبدالرسول صاحب ومولوی اصغر علی صاحب روحی کا جنہوں نے بعض مقامات پر مناسب اصلاح ومشورہ سے مدد دی۔ ماسٹر غلام حیدر
١
تمہید تنقید پارہ اول
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
محمد علی لاہوری مرزائی نے اپنے انگریزی ترجمہ و تفسیر قرآن شریف اور نیز ازاں بعد اپنے اردو ترجمہ وتفسیر کے اکثر مقامات میں اہل سنت کے صریح خلاف تفسیر و ترجمہ کیا ہے اور وہاں کسی معتبر اہل سنت مفسر کو اپنا ہم خیال ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ بعض دفعہ کل مفسرین کی متفقہ تفسیر کو لکیر کے فقیر بتلایا ہے۔ اب بوجہ عدم موجودگی انگریزی ترجمہ قرآن برمسلک عقائد اہل سنت انگریزی دان اصحاب محمد علی لاہوری کے ترجمہ و تفسیر سے کم و بیش متاثر ہوئے سوائے معدودے چند کے جو خوش قسمتی سے اس جدید مرزائی فرقہ کے خیالات سے پہلے ہی واقف تھے۔ لہٰذا جائے تعجب نہیں کہ وہی سلوک آپ نے اب اردو ترجمہ و شرح بخاری شریف سے شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ اپنے دیباچہ میں علم حدیث کی عدم تکمیل کا عذر پیش کر دیا ہے اور اس بے بضاعتی کی معقول وجہ بجائے اس کے کہ ان کو اس نازک کام سے روک دیتی۔ تاہم ایک خاص (لاہوری مرزائی) جماعت کی امارت ومولویت کے فرض کی خدمت کا خیال غالب آگیا اور آپ نے بسم اللہ شروع کردی۔
پارہ اوّل ص١٤، ترجمہ حدیث نمبر٢٠ (بحذف روایت)
"قال يدخل اهل الجنة الجنة واهل النار النار ثم يقول الله اخرجوا من كان فى قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان فيخرجون منها قد اسودوا فيلقون فى نهر الحياء او الحياة (شك مالك) فينبتون كما تنبت الحبة فى جانب السيل الم تر انها تخرج صفراء ملتوية" فرمایا نبیﷺ نے بہشت والے بہشت میں داخل ہوں گے اور دوزخ والے دوزخ میں۔ پھر اللہ تعالیٰ کہے گا اسے نکال دو جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو۔ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ ایسی حالت میں کہ ان کے جسم سیاہ ہوئے ہوں گے۔ پھر برسات یا زندگی کی نہر میں ڈالے جائیں گے۔ (یہ مالک راوی کو شک ہے) اور وہ اگیں گے۔ جس طرح دانہ ندی کے کنارے اگتا ہے۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ زرد لپٹا ہوا نکلتا ہے۔
اس پر محمد علی لاہوری کی شرح ذیل ملاحظہ ہو
"مشرک کے نہ بخشے سے مراد یہی ہے کہ وہ سزا پالے گا۔ مگر سزا کے بعد پھر اسے نہ صرف اس سزا سے نکال دیا جائے گا بلکہ وہ بھی ایک نئی زندگی حاصل کرے گا۔ یہی مراد نہر حیات
٢
میں ڈالے جانے سے ہے۔ یہ امید سوائے اسلام کے کسی دوسرے مذہب نے نہیں دی کہ آخر کار سب ہی ایک نئی زندگی پالیں گے اور یوں سزا کا فلسفہ بھی بتا دیا کہ وہ دکھ دینے کے لئے نہیں بلکہ بیماریوں سے پاک کرنے کے لئے ہے۔ اس کی قرآن شریف اور بہت سی احادیث سے تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ابن تیمیہ نے بہت سے صحابہ کے اقوال اس بارہ میں نقل کئے ہیں کہ نار پر آخر فنا آئے گی اور حضرت عمرؓ کا قول بھی یہی ہے اور حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ”سیأتی علی جہنم زمان لا یبقی فیھا احد“ یعنی جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی شخص باقی نہ رہے گا۔“
(فضل الباری ترجمہ صحیح بخاری ج ١ ص ٤١ از محمد علی لاہوری)
تنقید
محمد علی لاہوری! خدارا انصاف! حدیث زیر تنقید میں لفظ مشرک ہرگز موجود نہیں کہ اس کی شرح کی ضرورت لاحق ہو۔ بالکل ایک غیر متعلقہ مسئلہ کو بے موقع چھیڑ دینا اہل علم کا شیوہ نہیں۔ یہ صریح تحریف لفظی ہے۔ مگر جب آپ کے قادیانی مسیح صاحب بارہا تحریف لفظی سے اپنا مقصد پورا کرنا جائز سمجھتے رہے۔ (جس کا ثبوت انشاء اللہ عنقریب اسی مضمون میں پیش ہوگا) تو آپ بھی اسی چشمۂ ہدایت سے فیض یاب ہو کر اس عادت کو کیوں ترک کرنے لگے۔ مشرک کی عدم مغفرت و عدم خروج از نار پر نصوص تو بعد میں مذکور ہوں گی۔ بالفعل آپ اس قدر تو بتلائیں کہ نہر حیات کے ذریعہ سے اس کے نئی زندگی پانے کا ثبوت حدیث کے کس لفظ سے حاصل ہو رہا ہے۔ نہر حیات کوئی استعارہ ہرگز نہیں۔ بلکہ ایک حقیقت منصوصہ ہے۔ جس میں صرف انہی کا تزکیہ ہوگا۔ جن کا ذکر اس حدیث اور بعض دیگر احادیث میں موجود ہے۔ جہنم تزکیہ کا مقام نہیں۔ بلکہ ”جزاء وفاقاً“ (نبا:٢٦) ”مقام مستوجب سزا کا ہے۔ مگر آپ فرماتے ہیں کہ وہ بیماریوں سے پاک کرنے کی جگہ ہے۔ اس خانہ زاد فلسفہ پر کوئی نص پیش کی ہوتی۔ اس عقیدہ کے ثبوت میں مجوزین نے (جن میں آپ کی ساری جماعت بھی شامل ہے) جس قدر آیات و احادیث و اقوال الرجال و لغوی دلائل پیش کئے ہیں۔ ان کو غیر مجوزین عقیدہ ہذا نے محکمات و احادیث صحیحہ مرفوعہ کے تحت میں لا کر خیالات باطلہ ثابت کر دیا ہے۔ مجوزین کی تعداد اس قدر قلیل ہے کہ بمقابلہ کثیر تعداد غیر مجوزین اہل سنت، اس کی وقعت صفر کے برابر ہے۔ امام شوکانی، حضرت مجدد سرہندی، ملا علی قاری حنفی و بعض مفسرین اہل سنت نے اس پر کم و بیش لکھ کر کافی تردید کی ہے۔ مجوزین معدودے چند سے صرف دو اصحاب قابل ذکر ہیں۔ ایک شیخ محی الدین ابن عربی جو فرعون کے با ایمان غرق ہونے
٣
کے قائل ہیں اور ان کے اس قسم کے اقوال غیر معقول کا رد بعض علماء اہل سنت نے (جن میں مجدد سرہندیؒ بھی ہیں) بڑے شدومد سے کیا ہے۔ باقی رہے دوسرے صاحب ابن تیمیہ جو باوجود باکمال ہونے کے بعض مسائل میں جمہور اہل سنت سے الگ ہو گئے ہیں۔ مثلاً وہ ذات باری کی جسمیت کے قائل ہیں۔ تجارتی مال پر زکوٰۃ کو ناجائز بتلاتے ہیں۔ عمداً ترک صلوٰۃ کی قضاء عنداللہ مردود کہتے ہیں۔ چاندی کے زیور طفل اور مرد دونوں کے پہننے میں باک نہیں سمجھتے۔ جنبی کے مس قرآن کو درست فرماتے ہیں۔ مسئلہ طلاق ثلاثہ اور شد رحال میں ان کا سب سے علیحدہ مسلک ہے۔ (دیکھو کتاب دلیل الطالب) جب اہل سنت کی اجماعی ومتفقہ منصوص بعض مسائل میں وہ غلط فہمی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ تو (فنا النار) کے مسئلہ کا مؤید ہونا ان کی طرف سے جائے تعجب نہیں۔ اہل سنت کا فلسفہ بتائید منصوص نہایت معقول بناء پر یہ ہے کہ بوقت موت ایک نفس میں اگر رائی کے دانہ جتنا بھی ایمان ہے تو دوامی دوزخ سے ان کو بچا سکتا ہے۔ برخلاف اس کے جس کے دل میں بوقت موت سوا شرک کفر اور نفاق کے اور کچھ نہیں اور چونکہ نہر حیات میں تزکیہ پانے کا استحقاق یا اقل درجہ بھی بوقت موت اس میں موجود نہیں۔ اس واسطے مدامی دوزخ میں پڑا رہنے سے کوئی چارہ نہیں۔
مولوی صاحب نے جو ضعیف حدیث حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت سے ”سیأتی علی جهنم زمان لا يبقى فيها احد“ پیش کی ہے وہ کتاب کنز العمال میں مذکور ہے۔ جو رطب ویابس روایات کا ایک مجموعہ ہے۔ صحاح ستہ اس سے بالکل خالی ہے اور خود یہ حدیث حضرت ابو ہریرہؓ کی احادیث بخاری کے صریح خلاف ہے۔ جس میں مشرک وکافر کے واسطے مدامی دوزخ ثابت ہے۔ لہٰذا یہ حدیث قابل حجت نہیں۔ کیونکہ عقائد میں ضعیف حدیث کا باتفاق محدثین وفقہا ہرگز کوئی دخل نہیں۔ اسی طرح عمرؓ کے قول کی صحت میں کلام ہے۔ غایت مطلب ان کے قول کا (کہ آخر اہل جہنم اس سے نکالے جائیں گے۔ خواہ مدت کتنی ہی دراز ہو۔) اہل سنت محققین کے نزدیک آیات واحادیث مرفوعہ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ہے کہ صرف وہی اہل دوزخ آخر کار نکالے جائیں گے۔ جن پر مجمل قرآنی نص ”خالدین فيها مادامت السموات والارض الا ماشاء ربك ان ربك فعال لما يريد“ شاہد ہے۔ اس آیت (سورۂ ہود:١٠٧) کی تفسیر بوضاحت جناب سرور کائنات ﷺ نے خود فرمادی ہے۔ جن کو آج ہم صحاح ستہ بالخصوص بخاری شریف میں معہ کامل اسناد صحیحہ مرفوعات کے درجہ میں پاتے ہیں۔ پس اس کے خلاف جو بھی مواد
م
قائلین نے (مسئلہ فنا النار) کے متعلق پیش کیا ہے۔ اہل سنت جمہور کے محدثین و فقہا نے اس پر ہرگز اتفاق نہیں کیا۔ اس واسطے اہل سنت کی کتب عقائد میں یہ مسئلہ شامل نہیں۔ ایک اسلامی فرقہ (اشاعرہ) اور بعض مذکورہ چند ہستیاں مثلاً ابن تیمیہ و خواجہ ابن عربی خلف وعید کے قائل ہیں۔ یعنی خدا تعالیٰ عذاب کے وعدہ کو اگر آخرت میں پورا نہ کرے تو یہ بالکل ممکن ہے۔ کیونکہ وہ ہر بات پر قادر ہے۔ مگر اس میں امکان کذب باری تعالیٰ تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ جو شان قدوسیت کے منافی ہے اور مصلحت و حکمت تخلیق دنیا و آخرت و مصلحت تبلیغ رسالت باطل ہو جاتی ہے۔ اس واسطے اہل سنت کے جمہور علماء نے نصوص صحیحہ کی بناء پر اس سے انکار کر دیا ہے۔ اس حدیث کی شرح میں تحریف لفظی کر کے محمد علی لاہوری ’کبرت كلمة تخرج من افواههم (کهف:٥)‘‘ یوں فرماتے ہیں کہ کافر مشرک غرض ہر ایک ابلیس تک کو بہشت میں آخر کار چلا جانے کی امید سوا اسلام کے کسی مذہب نے نہیں دلائی۔ مگر اس اجتہاد سے محمد علی لاہوری نے آیات محکمات واحادیث مرفوعہ صحیحہ پر ہی ہاتھ صاف نہیں کیا بلکہ اس عقیدہ کو نصاریٰ کے پولوسی عقیدہ کفارہ کے قریب قریب پہنچا دیا ہے اور ان ہر دو عقائد میں جو صدمہ تقویٰ وخشیت اللہ کی تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ وہ باریک بین نظر سے مخفی نہیں۔ اسلام بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت وسیع کی منادی کرتا ہے۔ مگر باغیوں اور منکروں وغیرہ کو موت تک بھی توبہ سے اعراض کرنے پر ابدی جہنم کی وعید سناتا ہے۔ حتیٰ کہ ایمان بے شرک کے ساتھ اپنے بندوں کو تمام گناہوں کی معافی کی توقع دلاتا ہے اور ایسی توقع کوئی مذہب بدون اسلام کے پیش نہیں کر سکتا۔ ”قل ياعبادی الذین اسرفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله، ان الله يغفر الذنوب جميعا، انه هوالغفور الرحيم (زمر:٥٣)‘‘ یعنی اے پیغمبر میرے بندوں کو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ (خواہ عمداً خواہ سہواً) کہہ دو کہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ بے شک اللہ سب گناہوں کو معاف کر دے گا۔ بے شک وہ مغفرت اور رحم کرنے والا ہے۔
لیکن منکروں اور باغیوں کو اور پیغمبروں سے مقابلہ کرنے والوں کو ہلاک اور برباد کر کے اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اصول کا پتہ وثبوت دے دیا ہے کہ آخرت میں بھی یہ اشد العذاب کے مستحق ہیں۔ خلف وعید پر کوئی نص قرآنی یا حدیث صحیحہ موجود نہیں۔ بلکہ ایفائے وعدہ کا اللہ تعالیٰ نے جس طرح ان وعد الله حق سے ثابت فرمایا ہے۔ بالکل اسی طرح وعید کا بھی دیکھو سورہ ق:١٢ تا ١٤ میں۔
٥
- ١....... ”كذبت قبلهم قوم نوح واصحاب الرس وثمود وعاد
وفرعون واخوان لوط واصحاب الايكة وقوم تبع كل كذب الرسل فحق وعيد“
- ٢....... ”قال لا تختصموا لدى وقد قدمت اليكم بالوعيد ما يبدل
القول لدى وما انا بظلام للعبيد“
- ٣....... ”ونفخ فى الصور ذالك يوم الوعيد“
- ٤....... ”فذكر بالقرآن من يخاف وعيد“
اس سورۃ کی اس امر میں ایک نرالی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خلف وعید کا ابطال بڑے شدومد سے ثابت ہے۔ یعنی چار طریق سے۔ اوّل: فحق وعید سے۔ دوم: ما يبدل القول لدى یعنی متعلق وعید۔ سوم: قیامت کے متعدد منصوص اسماء سے یوم الوعید اسی واسطے ہے کہ اس کا وقوع بھی صورت مثالی میں بالضرور ظاہر ہو۔ چہارم: قرآن کے ذریعہ سے وعید سے خوف دلانا اسی صورت میں مفید ہوسکتا ہے کہ اس کا خلف نہ ہو ورنہ بچوں کو جھوٹ موٹ ہؤا کہہ کر ڈرانے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ اس واسطے ایسے خیالات کے لئے قرآن مجید نے ”ما قدروا الله حق قدره (الزمر:٦٧)“ فرمادیا ہے۔ اگر مستحق وعید ابدی کے واسطے آئندہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کو خلف یا کوئی رعایت منظور ہوتی تو اس کے جنازہ سے اور اس کے واسطے کسی قسم دعا خیر سے جناب رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو تاکیداً منع نہ فرمایا جاتا۔ جب دنیا ہی میں رحمت کے دروازے بصورت عدم جنازہ و دعائے خیر اس پر بند ہو چکے اور بوقت موت بھی ”لا تفتح لهم ابواب السماء“ اور ”لا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل فى سم الخياط (اعراف:٤٠)“ کی نص سے اس کا دخول جنت میں غیر ممکن معلوم ہو چکا تو پھر انتہائی درجہ کی جسارت ہے کہ خلف وعید کا مسئلہ پیش کر کے (فناء النار) کو عقیدہ کی جزو قرار دیا جائے۔ اگرچہ احادیث صحیحہ میں مشرک کافر وغیرہ کو موت کے بعد فوری عذاب کے شروع ہو جانے کا ثبوت ملتا ہے۔ مگر قرآنی نص بھی اس پر شاہد ہے۔ ”وحاق بآل فرعون سوء العذاب ٭ النار يعرضون عليها غدواً وعشيا ويوم تقوم الساعة ادخلوا آل فرعون اشد العذاب (المؤمن:٤٥،٤٦)“
اب جائے غور ہے کہ جو رحمٰن ارحم الراحمین اپنے رسول کریم ﷺ کو جو رحمۃ للعالمین
ہیں ۔ ایسے لوگوں کے جنازہ سے بھی روک دیتا ہے اور ان کے مرتے ہی عذاب ان پر نازل کر دیتا ہے ۔ تو یہ سب کچھ کیوں ؟ ۔ یقیناً اس لئے کہ وعید کا اثر حقیقی اور کامل پیدا ہو ۔ پس جو وعید میں خلف باری تعالیٰ کا عقیدہ رکھتا ہے ۔ اگر چہ دل خوش کن امید دلاتا ہے ۔ لیکن نصوص کو بالکل نظر انداز کر کے محض ہوا کا اتباع کرتا ہے۔ دوسرا بدتر نتیجہ اس عقیدہ کا یہ ہے کہ وہ التوائے توبہ واصلاح کا محرک ہے ۔ گویا نجات جیسی اہم مراد کے حصول میں غفلت کو مدد دیتا ہے۔ جب اس عقیدہ سے خلاصی وبریت ہوگی تو دو باتوں میں سے ایک کا دل میں اثر یقینی ہوگا ۔ یا تو نجات کی فکر سے توبہ واصلاح کا فوری میلان پیدا ہوگا ۔ یا منکروں کی جماعت میں داخل ہو کر آئندہ آنے والی مدامی ہلاکت وعذاب کے خدشہ میں مبتلا رہے گا ۔
چند نصوص متعلق عدم نجات مشرک و غیرہ
- .......١ ” ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر مادون ذلك لمن
يشاء
(النساء:٤٨) “
- .......٢ ” انه من يشرك بالله فقد حرم الله عليه الجنة وما واہ
النار
(مائده:٧٢) “
نوٹ: اس محکم آیت نے قطعاً فیصلہ کر دیا ہے کہ مشرک پر جنت کو اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے ۔ پھر اس فیصلہ کے خلاف جس قدر بھی ضعیف احادیث واقوال الرجال ہیں وہ قابل حجت نہیں رہتے ۔ کیونکہ صحیح تفسیر ومفہوم اس آیت کا صرف وہی قابل حجت ہو سکتا ہے جو زبان مبارک رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً بسند صحیح ثابت ہو۔ جیسا آئندہ مذکور ہوگا۔ لہٰذا مشرک وغیرہ کو آخر کار نہر حیات میں پاک کر کے جنت میں داخل کرنے کی تاویل باطل ہے ۔ مجھ کو نہایت افسوس سے یہ ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ محمد علی لاہوری نے دیباچہ شرح پارہ اوّل میں فرمایا ہے کہ حدیث کو حتی الوسع قرآن شریف سے تطبیق دینے کی سعی کی جائے گی ۔ ورنہ اس کی تاویل کی جائے گی ۔ اب موصوف نے اس وعدہ کا ایفا کیا تو کس طریق سے کیا ؟ ۔ حدیث زیر تنقید میں تحریف لفظی کر کے مجرد لفظ (مشرک) کی شرح شروع کر دی ۔ حالانکہ وہاں کوئی لفظ مشرک موجود نہیں اور پھر مشرک کو ناجی ثابت کرنے کی خاطر جو ضعیف حدیث غیر از صحاح ستہ بلاسند کامل اور اقوال الرجال پیش کئے ۔ وہ آیات محکمات واحادیث مرفوعہ کے صریح خلاف پیش کئے ۔ مگر جو جماعت آپ کو امیر مان چکی ہے وہ آپ کی اس عجیب وغریب شرح کی داد دیتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لے گی اور بہت کم توقع ہے
٧
کہ پبلک میں تو کجا پرائیویٹ طور پر ہی آپ کو ایسی صریح تحریف کی طرف متوجہ کرے۔ کیونکہ تقلید اس کی مانع ہے۔
- ٣...... ”فاليوم لا يخرجون منها ولاهم يستعتبون
(الجاثيه:٣٥)“ یعنی یہ لوگ آگ سے نکالے نہیں جائیں گے اور نہ ان کا عذر قبول ہوگا۔
نوٹ: اس آیت سے پہلے اگر چہ خاص مشرکین کا ذکر نہیں بلکہ منکرین قیامت اور انبیاء علیہم السلام سے استہزاء کرنے والے کافروں کا ہے اور چونکہ ان کو بھی آگ سے نکالا نہیں جائے گا اور ابد تک دوزخ میں رہنا ہوگا۔ اس واسطے یہ جماعت بھی بلحاظ عدم دخول جنت مشرکین کے مساوی ہے۔ جن پر بحوالہ آیت نمبر ٢ جنت حرام ہو چکی ہے۔ اس آیت میں ایک مزید امر یہ ہے کہ ان کا کوئی عذر بھی مسموع نہ ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا واقعہ میں یہ اپنا کوئی عذر پیش بھی کریں گے اور اگر کریں گے تو کس نوع کا ہوگا۔ جس کی شنوائی نہ ہوگی۔ اس کا نشان قرآن کریم خود وضاحت سے بتلاتا ہے۔
- ١....... ”ربنا اخرجنا نعمل صالحاً غير الذي كنا نعمل اولم نعمر
كم ما يتذكر فيه من تذكر و جاءكم النذير فذوقوا فما للظالمين من نصير (فاطر:٣٧) “یعنی اے ہمارے رب ہم کو دوزخ سے نکال دے تو ہم خلاف ان اعمال کے جو دنیا میں کرتے رہے ہیں۔ پھر نیک عمل کریں گے۔ جواب دیا جائے گا کیا دنیا میں ہم نے تم کو کافی عمر اور مہلت نہ دی تھی۔ پس نصیحت قبول کر لیتا جو چاہتا اور تمہارے پاس ڈرانے والے بھی آئے تھے۔ پس اب عذاب کا مزہ چکھو۔ ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔
ایک آیت اور بھی مجملہ باقی عذر کی تشریح کرنے والی آیات کے قابل بیان ہے۔ جو مشرکین کے متعلق ہے۔ ”ولو تری اذ وقفوا علی النار فقالوا ياليتنا نرد ولا نکذب بآيات ربنا ونكون من المؤمنين بل بدا لهم ما كانوا يخفون من قبل ولو ردوا لعادوا لمانهوا عنه وانهم لكاذبون (انعام:٢٧، ٢٨) “یعنی (بطور خلاصہ) یہ لوگ دوزخ میں پڑنے کے وقت کہیں گے۔ کاش! ہم کو دنیا میں واپس کیا جائے تو ہم اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کریں گے اور ایمان لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ بطور پیش گوئی کے یوں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔ اگر ان کو دنیا میں واپس کر بھی دیا جائے جب بھی یہ وہی کام کریں گے جن سے منع کئے گئے تھے۔
٨
- ٤...... ”ان الذين كفروا وماتوا وهم كفار اولئك عليهم لعنت الله
والملئكة والناس اجمعين ٠ خالدين فيها لا يخفف عنهم العذاب ولاهم ينظرون (البقره:١٦١)“
نوٹ: ان دو آیتوں میں اہل دوزخ ابدی کے واسطے انتہائی مایوسی پائی جاتی ہے۔ کیونکہ لعنت اللہ کو تنہا بھی رحمت سے دوری کا نشان ہے۔ مگر ملائک اور کل انسانوں کی جانب سے بھی جب اس لعنت میں شمولیت پائی جائے تو رحمت کے کل رستے مسدود ہو کر مایوسی کامل میں کوئی شک باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا دوزخ سے نکالے جا کر خواہ بہت عرصہ کے بعد سہی کوئی احتمال بہشت میں جانے کا باقی نہیں رہتا۔ اس میں بوضاحت ثبوت ابدی جہنم کا ملتا ہے۔
- ٥...... جس طرح بہشت ابدی سے نہ نکالے جانے کی نصوص اہل بہشت کے
واسطے قرآن شریف میں موجود ہیں۔ اسی طرح ابدی اہل دوزخ کے واسطے دوزخ سے نہ نکالے جانے کی نصوص بھی موجود ہیں اور کئی الفاظ قرآنی جنت اور نار کی ابدیت و مداومت میں مساوی طور پر شریک ہیں۔
جنت کے متعلق
- ١...... ”وماهم منها بمخرجين (حجر:٤٨)“
- ٢...... ”حسن ماب (ص:٤٠)“
- ٣...... ”نعيم مقيم (توبه:٢١)“
- ٤...... ”حسنت مستقرا ومقاماً (فرقان:٧٦)“
- ٥...... ”دارالقرار (المؤمن:٣٩)“
- ٦...... ”وما عندالله خير وابقى (قصص:٦٠)“
- ٧...... ”فلهم جنت الماوى (الم السجدة:١٩)“
- ٨...... ”خلدين فيها ابدًا (النساء:٥٧)“
نار کے متعلق
- ١...... الف...... ”وماهم بخارجين من النار (البقره:١٦٧)“
- ب...... ”فاليوم لا يخرجون منها (جاثيه:٣٥)“
- ٢...... ”لشرّ ماب (ص:٥٥)“
٩
- ٣...... ”عذاب مقیم (زمر:٤٠)“
- ٤...... ”ساءت مستقراً ومقاماً (فرقان:٧٦)“
- ٥...... ”بئس القرار (ابراہیم:٢٩)“
- ٦...... ”ولعذاب الاخرة اشد وابقی (طہ:١٢٧)“
- ٧...... ”فمأوہم النار (الم السجدة:٢٠)“
- ٨...... ”خٰلدین فیہا ابداً (النساء:١٦٩)“
نوٹ: محمد علی لاہوری نے قرآن شریف کے انگریزی ترجمہ تفسیر نوٹ نمبر ١٢٠١ میں خالدین فیہا ابداً کا ترجمہ متعدد دفعہ جہاں دوزخ کے متعلق وارد ہے۔ طویل عرصہ کیا ہے اور جہاں یہی الفاظ بہشت کے متعلق آئے ہیں۔ وہاں ہمیشہ کا ترجمہ کیا ہے۔ اس تحریف معنوی کو اختیار کرنے کی دلیل وہ یہ فرماتے ہیں کہ لغت میں (ابد) طویل مدت اور ہمیشگی ہر دو پر حاوی ہیں۔ مگر بر بناء حدیث دوزخ چونکہ مدامی نہیں۔ اس واسطے (ابد) کا ترجمہ ایسی جگہ طویل مدت کیا ہے۔ مگر افسوس کہ آپ نے لغت کی کتب سے اور صحاح ستہ سے یا سند صحیح کسی مرفوع حدیث سے اپنا عقیدہ ثابت نہ کیا۔ ایک ضعیف بلکہ موضوع حدیث کی بناء پر ترجمہ میں صریح تحریف معنوی کو اختیار کیا۔ جو کل سلف وخلف اہل سنت مفسرین وراسخون فی العلم کے خلاف ہے۔ مجمل کا مفہوم خاص کسی دوسری محکم آیت میں تلاش کیا جاتا ہے۔ بعد ازیں مرفوع حدیث میں بعد ازیں لغت میں مگر عقیدہ بھی قید بے زنجیر ہے۔ مولوی صاحب نے اہل علم کے پہلے دو اصول کو نظر انداز کر کے تیسرے اصول کو اختیار کرنا پسند کیا اور پھر لغت سے ایک آدھ مثال سے بھی چشم پوشی کر کے محض ایک بے سند حدیث واقوال الرجال کی پناہ لی۔ خلود کا لفظ گو تنہا بھی ابدیت ومداومت کا مترادف ہے۔ مگر شبہ کو زائل کرنے کی غرض سے لفظ ابداً اس کے بعد ملحق کیا گیا ہے۔ لہذا اس صورت میں بھی طویل عرصہ کا مفہوم اس سے پیدا کرنا قرآنی بلاغت سے بے خبری کی دلیل ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کو اس مداومت وابدیت سے استثناء منظور تھا وہاں الا ماشاء اللہ اس کے بعد متصل فرما دیا اور اس استثناء کی تفسیر صحیح احادیث میں موجود ہے۔ جن میں زیر تنقید حدیث بھی شامل ہے اور واضح ہو کہ خلاف احادیث مرفوعہ کوئی موضوع یا ضعیف حدیث یا اقوال الرجال قابل حجت نہ ہوں گے۔ اب غور وتحقیق سے معلوم ہوا کہ دوزخ کے واسطے خالدین فیہا ابداً پوری تین دفعہ واقع ہوا ہے۔
١٠
اول ....... (سورۃ نساء: ١٤) میں اور وہاں خاص کفار کے واسطے ہے اور یہ الفاظ بھی ہیں کہ ان کی مغفرت کی کوئی صورت نہ ہوگی۔
دوم ....... (سورۃ احزاب: ٦٥) میں جہاں کفار کا ذکر معہ طرد ولعنت اللہ موجود ہے۔
سوم ....... (سورۃ جن: ٢٣) میں اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ اور نافرمانی کرنے والوں کا حال ہے۔ لہٰذا ان ہر سہ مقامات میں ”طویل عرصہ“ کا مفہوم و ترجمہ صریح تحریف معنوی ہے۔ جس کے مرتکب محمد علی لاہوری ہوئے ہیں اور ان ہر سہ مواقعہ میں اللہ تعالیٰ ”الا ما شاء اللہ“ کی نص سے کوئی استثناء نہیں فرماتا اور موصوف نے ان ہر سہ جگہ استثناء باجتہاد خود قائم کر لیا ہے۔ جو احادیث مرفوعہ مفسرہ کے صریح خلاف ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو جہاں بعض کو اس عذاب سے کسی وقت آخر کار نکال کر نہر حیات میں پاک کر کے جنت میں خواہ بدرجہ ادنیٰ داخل کرنا منظور تھا۔ وہاں خود استثناء کو منصوص کر دیا ہے اور غور کرنے کے بعد صرف دو جگہ میں الا ما شاء اللہ کی نص ثابت ہوتی ہے اور ہر دو جگہ اس استثناء کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و قدرت کا اظہار ایسے الفاظ میں فرمایا ہے کہ قرآن کی بلاغت کا روح پرور اثر ایک باعلم مومن بالقرآن پر وجد کی حالت طاری کر دیتا ہے۔ اب ان پر دو مواقعہ کا ذکر موجب انبساط و شرح صدر ہوگا۔
١....... پہلا موقعہ (سورۃ انعام: ١٢٨) جہاں کفار و مشرکین یا انبیاء سے مقابلہ کرنے والوں کا صریح ذکر نہیں بلکہ بعض ایسے قصور واروں کا ذکر ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ آخر کار اپنی رحمت سے جنت میں لے جائے گا اور اس استثناء کا فلسفہ اپنے دو صفاتی اسماء (حکیم علیم) سے بتلا دیا ہے۔
”قال النار مثواكم خالدين فيها الا ماشاء الله ان ربك حكيم عليم“
٢....... دوسرا موقعہ اس استثناء کا (سورۃ ہود: ١٠٧) میں مذکور ہے اور وہاں بھی صریح کفار و مشرکین کا ذکر نہیں۔ بلکہ شقی و فاسق کا اور یہاں استثناء کا فلسفہ اپنے صفاتی اسم فعال لما یرید سے بیان فرمایا ہے۔ ”خالدين فيها مادامت السموات والارض الا ماشاء ربك ان ربك فعال لّما يريد (هود: ١٠٧)“
نوٹ: عرب کے محاورہ میں ابد کی جگہ مادامت السمٰوات والارض بھی جائز ہے۔ پس مذکورہ آیت مترادف خالدین فیھا ابداً کی ہوئی اور نمبر: ١، والی آیت میں خالدین فیھا کے بعد ابدا مذکور نہیں تا کہ ثابت ہو کہ تنہا، لفظ خالدین از مصدر خلود مدامت و ابدیت پر بھی حاوی ہو سکتا ہے کیونکہ اگر مفہوم ابدیت اس میں جائز نہ ہو تو پھر استثناء غیر ضروری ہو جاتا ہے
١١
جو قرآنی بلاغت کے خلاف ہے۔
احادیث مرفوعہ متعلق استثناء
- ١....... حدیث زیر تنقید جس میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان والا بھی آگ سے
نکالا جائے گا۔ باقی متعدد احادیث مرفوعہ صحیحہ میں جو کے دانے برابر ایمان والا ، رائی سے بھی ادنیٰ ایمان والا باجود کبیرہ گناہ کرنے کے۔ مگر توحید پر فوت ہونے والا دینار اور نصف دینار کے برابر ایمان والا ، آخر کار آگ سے نکالا جائے گا۔ ایک آخری رجل کا حال جو آگ سے نکالا جائے گا۔ جس کا باب بخاری نے پارہ : ٣٠ میں الگ باندھا ہے اور کتاب (مشکوٰۃ ص٤٩٠، باب الحوض والشفاعۃ) میں اس کا مفصل ذکر عجیب و غریب ہے۔ جو قابل مطالعہ ہے۔ اسی کے متعلق بروایت مسلم جناب نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں دوزخ سے آخری ایک شخص کو نکال کر بہشت میں سب سے پیچھے داخل ہونے والے کو بخوبی جانتا ہوں۔ حتیٰ کہ کل اقسام کی شفاعتوں کے بعد (انبیاء، ملائکہ، صالحین) اللہ تعالیٰ اپنی باری میں ایسے لوگوں کو اپنی مٹھی میں لے کر آگ سے نکالے گا۔ جنہوں نے کوئی خیر کا کام دنیا میں نہ کیا ہوگا۔ وہ آگ میں جل کر کوئلہ کی طرح ہوں گے۔ جو نہر حیات میں ڈالے جا کر بہشت میں داخل کئے جائیں گے۔ ان کا نام (عتقاء الرحمٰن) یعنی آزاد کردہ رحمٰن بدون سابقہ عمل خیر۔
(مشکوٰۃ ص٤٩٠، باب الحوض والشفاعۃ حدیث متفق علیہ)
نوٹ: اللہ تعالیٰ کے قبضہ یعنی مٹھی کی تحدید وکیفیت جب نبی ﷺ نے بوجہ متشابہات میں داخل ہونے کے نہیں فرمائی تو کسی امتی کا حق نہیں۔ جو اس کی مقدار میں اجتہاد نفسی سے یہ تاویل کرے کہ وہ اس قدر کشادہ وفراخ ہے کہ دوزخ میں کوئی باقی نہیں رہ سکتا۔ ایسی تاویل اہل سنت کے نزدیک بالکل حرام ہے۔ یہ نص ”لا تقف ما ليس لك به علم ان السمع والبصر والفؤاد كل اولئك كان عنه مسئولاً (بنی اسرائیل: ٣٦)“ اس نجات یافتہ جماعت بے عمل خیر کا علم صحیح سوائے ذات باری تعالیٰ کے کسی کو نہیں۔ مگر اس میں ایسی جماعت کو اپنے اجتہاد سے داخل کرنا صحیح نہیں ہو سکتا۔ جن کے دخول جنت کی نفی پر نصوص وارد ہوچکی ہیں۔
تنبیہ: اس تمام فیصلہ کے بعد جناب نبی ﷺ نے فرمایا ”ما یبقی فی النار الا من قد حبسه القرآن (ای وجب علیہ الخلود)
(بخاری ج٢ ص١١٠٨)“
یعنی آگ میں کوئی باقی نہ رہے گا۔ سوائے اس کے جس کو قرآن نے جنت میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
١٢
بیان احادیث مرفوعہ متعلق مداومت دوزخ و بہشت
- ١...... (بخاری پارہ نمبر ١٣ ترجمہ بطور خلاصہ فضل الباری شرح بخاری ج ١ ص ٧٧٢)
بروایت حضرت ابو ہریرہؓ فرمایا نبی ﷺ نے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام قیامت کے دن اپنے باپ آزر کی سخت رسوائی دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ تیرا ارشاد تھا کہ تجھ کو قیامت کے دن رسوا نہ کروں گا۔ پس اب کون سی رسوائی میرے باپ کی ذلت سے زیادہ ہوگی۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے۔
نوٹ: حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کی دل جوئی کے واسطے اگر کسی وقت دوزخ کی مطلق فنا مقدر ہوتی تو اللہ تعالیٰ بے شک فرماتا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ آخر کار میں اس کو جنت میں داخل کروں گا۔ ایک زیر حراست شخص کے واسطے انجام کار خلاصی اور رہائی کا وعدہ اعلیٰ حاکم کی طرف سے اس کے قریبوں کے لئے کس قدر موجب اطمینان اور دل جوئی کا ہو سکتا ہے۔ مگر صاف جواب جو خلیل کو ملتا ہے اس پر محمد علی لاہوری شاید غور کریں گے۔ مگر تقلیدی عقیدہ جو راسخ ہو چکا ہو۔ خواہ ساری بخاری شریف کی سند اس کے بطلان پر پیش کی جائے۔ ترک کرنا مشکل ہے۔
- ٢...... (بخاری پارہ ٢٧ فضل الباری شرح بخاری ج ٢ ص ١٤٤٤) بروایت ابن عمرؓ ۔ فرمایا
نبی ﷺ نے جب جنت والے جنت میں اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہو چکیں گے تو موت کو جنت اور دوزخ کے درمیان لا کر ذبح کر دیا جائے گا اور ایک منادی ندا کرے گا کہ اے اہل جنت تم کو موت نہیں ہے اور اے اہل نار تم کو موت نہیں ہے۔ اس آواز سے اہل جنت کی خوشی بڑھے گی اور اہل نار کو غم پر غم ہوگا۔
نوٹ: مذکورہ تین احادیث میں دو حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت سے اس واسطے پیش کی گئی ہیں کہ محمد علی لاہوری شاید غور کریں کہ جو حدیث بروایت ابو ہریرہؓ کتاب کنز العمال سے انہوں نے سیاتی علی جہنم زمان لا یبقی فیہا احد پیش کی ہے۔ یعنی جہنم پر کسی وقت ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں کوئی بھی باقی نہ رہے گا۔ وہ حضرت ابو ہریرہؓ کی بخاری والی احادیث کے کس قدر خلاف اور غیر قابل حجت ہے۔ بھلا موضوع یا مخدوش حدیث کبھی صحیح و مرفوع حدیث کا مقابلہ کر سکتی ہے؟ ۔ اس واسطے محدثین اور فقہا اہل سنت نے عقائد میں سواء مرفوع حدیث کے دیگر قسم کو ہرگز قبول نہیں کیا۔ محمد علی لاہوری والی حدیث بروایت حضرت ابو ہریرہؓ کی اہل سنت نے آیات و احادیث صحیحہ کو مد نظر رکھ کر اس طرح تاویل کی ہے۔ یعنی جہنم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس میں مسلمانوں میں سے کوئی باقی نہ رہے گا۔ یعنی لا یبقی فیہا احد من المسلمین اس
١٣
کے سوا جو کچھ بھی مواد قائلین فنا النار نے خلاف جمہور پیش کیا ہے۔ اس پر عقیدہ کی بناء قائم کرنا خاص قرآن واحاديث صحیحہ مفسرہ سے انکار اور جنگ کرنا ہے۔
پارہ اول ص ٣٧، حدیث ٧٧، فضل الباری شرح بخاری ج ١ ص ٣٨٠، ٣٨٧
”اس حدیث مدنی میں نبی ﷺ کے ایک موقعہ پر نماز کسوف پڑھنے کا ذکر ہے۔ جس کے بعد آپ نے فرمایا ”ما من شئ لم اكن اريته الا رايته في مقامي هذا حتى الجنة والنار‘‘ یعنی جو چیزیں دکھائی جاسکتی ہیں۔ ان سب کو میں نے یہاں کھڑے ہوئے دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ بہشت اور دوزخ کو بھی۔‘‘
محمد علی لاہوری اس کے متعلق نوٹ نمبر ١ کے آخر میں یوں شرح فرماتے ہیں۔
شرح: شارحین لکھتے ہیں کہ ”آپ نے حقیقتاً ان چیزوں کو دیکھا، پس اگر سب چیزوں کو اس مقام پر کھڑے ہوئے دیکھ سکتے ہیں تو یہ کیوں زور دیا جاتا ہے کہ معراج جب تک اس جسم کے ساتھ نہ ہوا ہو آپ آسمان پر کیونکر جاسکتے اور بہشت اور دوزخ کو دیکھ سکتے تھے۔ اس حدیث نے فیصلہ کر دیا کہ آپ کو صحابہ میں امامت کراتے کراتے عین حالت نماز میں سب کچھ دکھایا گیا۔ یہاں تک کہ بہشت اور دوزخ بھی۔“
(فضل الباری ج ١ ص ٣٨)
تنقید: محمد علی لاہوری چونکہ معتزلہ نیچری اور چکڑالوی (اہل قرآن) فرقہ کی طرح اہل سنت کے خلاف محض کشفی معراج نبی ﷺ کے معتقد ہیں اور جسمانی معراج کے منکر ہیں۔ اس واسطے اس حدیث سے ان کو اپنے عقیدہ کے ثبوت کا عمدہ موقع ہاتھ آگیا ہے۔ مولوی صاحب اس حدیث کی سند پر اپنی جماعت سے اور منکرین معجزات قرآنی سے معراج کا کشفی ہونا تو منوا سکتے ہیں۔ مگر اس مسلمان کو اس عقیدہ کا معتقد کیونکر بنا سکتے ہیں۔ جو علم حدیث کی روشنی میں قرآن شریف کو پڑھتا ہے۔ محمد علی لاہوری! آپ نے جب علم حدیث کی باقاعدہ تعلیم کسی مسلمہ درس گاہ میں پائی ہی نہ ہو تو بخاری جیسی پر اسرار دینی کتاب کی شرح لکھنے میں آپ کو تامل و توقف مناسب تھا۔
حدیث زیر تنقید والا واقعہ معراج کشفی کا مدینہ شریف میں ہوا اور یہ بدون سواری براق و بدون ہمرکابی جبریل ہے۔ حالانکہ جسمانی معراج قبل ہجرت از روئے قرآن واحادیث مکہ شریف میں ہوا۔ جس کا ذکر مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سورۂ اسراء پارہ ١٥ کے پہلے رکوع میں موجود ہے اور پھر وہاں سے آپ کا ذکر سورۂ نجم پارہ ٢٧ کے پہلے رکوع میں موجود ہے۔ اگر آپ
١٤
صحاح ستہ یا کم از کم مشکوٰۃ شریف کی طرف رجوع کریں تو معراج کا باب علیحدہ پائیں گے۔ جس میں نبی ﷺ کی معراج کا ذکر وضاحت سے ملتا ہے۔ اس معراج میں آپ کی سواری میں براق اور ہم رکابی میں جبریل تھے اور ایک ایک آسمان سے گذرنا اور آیات اللہ کا مشاہدہ کرنا اور پانچ نمازوں کا امت کے واسطے لانا سب کچھ مذکور ہے۔ نماز کسوف میں نبی ﷺ کی معراج کشفی مدنی واقع ہے۔ جس سے اہل سنت کو ہرگز انکار نہیں۔ حسب ارشاد عالی مومن کی معراج اس کی نماز ہے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کمالیت سے بھی پورا سرفراز فرمایا۔ مگر نہ معراج جسمانی آپ کی طاقت سے واقع ہوئی نہ معراج کشفی خود بخود ہوئی۔ ہر دو میں ’ان فضلہ کان علیک کبیراً (بنی اسرائیل: ٨٧)‘ کا ظہور ہے۔ مکی معراج میں امتی تو کجا کسی نبی و رسول کو بھی شراکت نہیں۔ مگر کشفی معراج یا محض کشف میں نبی ﷺ کی امت کے اکثر افراد جزوی طور پر بقدر روحانیت شامل ہیں۔ جن کا ذکر احادیث اور اولیاء اللہ کی معتبر سوانح میں ہم پڑھتے ہیں۔ جس کا ثبوت اس جگہ غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ قائلین محض کشفی معراج نبی ﷺ کو بوجہ عدم وسعت نظر علم حدیث ایک آدھ ضعیف حدیث کی بناء پر حضرت عائشہؓ و حضرت معاویہؓ کو اپنا ہم خیال ظاہر کرنے میں سخت غلط فہمی ہوئی ہے۔ مگر مکی جسمانی معراج نبی ﷺ کے وقت حضرت عائشہؓ کو آپ کے پاس جانے اور رہنے کی ابھی رخصت نہیں ہوئی تھی اور حضرت معاویہؓ ابھی تک مع اپنے والد ابوسفیان کے اسلام میں داخل ہی نہیں ہوئے تھے۔ کیونکہ وہ بعد ہجرت و بعد فتح مکہ اسلام سے مشرف ہوئے تھے۔ لہٰذا جسمانی معراج کے انکار کو ان کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ہو سکتا۔ ہاں مدینہ شریف میں حضرت عائشہؓ جس کسوف والی نماز میں نبی ﷺ نے خود امامت کرائی شامل تھیں اور ان کی شہادت آپ کے کشفی معراج مذکورہ حدیث زیر تنقید کے متعلق مترادف انکار جسمانی معراج ہرگز نہیں ہو سکتی۔ صحابہ میں جسمانی معراج کے بارہ میں ہر گز کوئی اختلاف از روئے صحیح حدیث ثابت نہیں معراج جسمانی کے متعلق صحیح اگر کوئی اختلاف ہے تو رویت اللہ تعالیٰ میں ہے۔ جس کا حال کسی قدر (بخاری ج ٢ ص ٧٢٠) تفسیر سورۃ النجم کتاب تفسیر القرآن میں اور کچھ حال دیگر دو احادیث (١٣ پارہ بخاری ج ١ ص ٣٥٩) میں ہے۔ حضرت عائشہؓ جس کی نسبت کشفی معراج کے معتقد عدم تحقیق کی وجہ سے یہ کہتے ہیں کہ جسمانی معراج سے انکاری ہیں۔ مذکورہ احادیث میں ایک صحابیؓ کو فرماتی ہیں کہ جو یہ کہے کہ محمد ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو معراج میں اس آنکھ سے دیکھا۔ اس نے جھوٹ کہا اور برا کہا۔ پس ان احادیث سے ثابت ہوا ١٥
کہ انہوں نے معراج جسمانی سے انکار نہیں کیا۔ بلکہ رویت اللہ کی بجائے صرف جبریل کی رویت اصلی کو تسلیم کیا ہے۔ حضرت ابن عباس معراج میں رویت اللہ تعالیٰ کے قائل ہیں۔ جیسا کہ مسند امام احمد وغیرہ میں مذکور ہے۔
جسمانی معراج کی تصدیق پر علاوہ لغوی تحقیق متعلق اسریٰ بعبدہ کے دو احادیث پوری روشنی ڈالتی ہیں۔ یعنی ایک تو (مشکوۃ ص٥٢٠، ٥٢٩، باب المعراج) کی آخری حدیث متفق علیہ ہے۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ قریش نے کہا کہ ہم کیونکر یقین کریں کہ تو بیت المقدس سے راتوں رات ہو آیا ہے۔ ہم کو فلاں فلاں نشان اس کا بتلاؤ۔ اس پر نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ مجھ کو اس سے اس قدر غم پیدا ہوا کہ ایسا کبھی نہ ہوا تھا۔ پر اللہ تعالیٰ نے مجھے بیت المقدس کا حجاب جو بعد اس کے معائنہ کے ہو گیا تھا اٹھا دیا۔ چنانچہ میں پھر جو پتہ ونشان وہ لوگ اس کے متعلق دریافت کرتے صاف صاف بتلاتا جاتا تھا۔ دوسری حدیث (مشکوۃ ص٥٢٨ بروایت ترمذی) یہ مذکور ہے کہ جب میں اور جبرائیل بیت المقدس پہنچے تو جبرائیل نے ایک پتھر میں انگلی سے اشارہ کر کے سوراخ کر دیا۔ جس سے براق کو باندھ دیا۔
اب مقام غور ہے کہ قریش کا نبی ﷺ سے بیت المقدس کے متعلق سوالات کا پوچھنا اسی صورت میں صحیح تسلیم ہو سکتا ہے کہ وہاں جسمانی طور پر جانے کا حال آپؐ نے بیان کیا ہو۔ ورنہ خواب میں یا دل سے دیکھنے کے متعلق کسی چیز کا پتہ دریافت کرنا یا اس معائنہ پر شک کرنا بالکل بے معنی ہے۔ قریش میں سے اکثر بیت المقدس کا ذرہ ذرہ حال جانتے تھے۔ کیونکہ وہ بار ہا وہاں سے ہو آئے تھے۔ بعض دیگر روایات صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے بعض واقعات راستہ کے بھی بتلائے تھے۔ جن کی تصدیق بعد میں ہوگئی۔ حضرت ابو بکر کو صدیق کا لقب بھی اسی وجہ سے ملا تھا کہ جب ابو جہل نے ان کے گھر جا کر ان کو کہا تھا کہ تیرا یار ہم کو بتلا رہا ہے کہ وہ آج رات کو بیت المقدس اور آسمانوں کی سیر کر آیا ہے تو حضرت ابو بکر صدیق نے جواب میں کہا کہ اگر میرا یار ایسا کہتا ہے تو وہ بالکل سچ کہتا ہے۔ اس کا منہ ایسا نہیں کہ وہ جھوٹ بولے۔
(بخاری ج ٢ ص ٦٧٨، پارہ ١٥) میں قرآن کی آیت ”وما جعلنا الرؤیا التی ارینک الا فتنة للناس (اسراء:٦٠) “ پر ایک باب باندھا ہے اور حضرت ابن عباسؓ سے اس کی تفسیر یہ لکھی ہے کہ لفظ رؤیا معراج میں آنکھ سے دیکھنے کا مفہوم ہے۔ شاہ عبدالقادر صاحبؒ نے اس کے مطابق ترجمہ (دکھلاوا) کیا ہے اور کل اہل سنت مفسرین نے جسمانی
١٦
معراج کی شرح کی ہے۔
نوٹ: قرآن مجید میں لفظ رؤیا سات دفعہ قریباً واقع ہوا ہے اور سوا مذکورہ آیت کے ہر مقام پر اس کا حقیقی مفہوم خواب ہی ہے۔ مگر چونکہ حضرت ابن عباس کا تفقہ فی القرآن حسب خاص دعا نبی ﷺ دیگر صحابہ سے ممتاز تھا۔ اس واسطے مذکورہ آیت والے لفظ (رؤیا) کا مفہوم بجائے معروف خواب کے ظاہری آنکھ سے دیکھنا بیان کرتے ہیں۔ اس پر علماء اہل سنت نے ان کے اس خاص مستثنیٰ مفہوم پر جب غور کیا تو اس آیت میں اس مفہوم کی بناء ان کی سمجھ میں یہ آئی کہ اور مقامات پر (رؤیا) کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ موجود نہیں۔ جو اس کے حقیقی مفہوم لغوی (خواب) سے تجاوز کرنے میں معاون ہوسکے۔ مگر اس آیت میں لفظ رؤیا کے ساتھ فتنۃ للناس ایک ایسا خاص قرینہ موجود ہے۔ جس کی بناء پر یہ لفظ معروف مفہوم سے جدا ہو کر بصری و حقیقی مفہوم کا پورا مرادف بن جاتا ہے۔ کیونکہ مذکورہ قرینہ فتنۃ للناس ایسا موجود ہے کہ اس میں علاوہ دیگر مصالح کے لوگوں کو آزمانا بھی مطلوب تھا کہ کون کون جسمانی معراج کو مانتا ہے اور کون کون اس کی تکذیب کرتا ہے۔ چنانچہ ابھی مذکور ہو چکا ہے کہ بعض نے قریش میں سے اس کی تکذیب کی بلکہ بعض نے نشانات بیت المقدس کا پتہ بھی دریافت کیا۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق نے ابوجہل سے صرف سن کر ہی نبی ﷺ کی عدم موجودگی میں اس کی تصدیق کر کے صدیق کا لقب حاصل کیا۔ لفظ (رؤیا) کا مصدر رؤیت ہے۔ جس میں بصری قلبی معاینہ ہر دو کا مفہوم داخل ہے۔ جس کا فیصلہ قرینہ کی شمولیت سے مشتبہ و مشکوک نہیں رہ سکتا۔ مگر اس آیت میں فتنۃ للناس کا قرینہ موجود ہے اور مقام غور ہے کہ جب ایک انسان بھی دوسرے انسان پر اپنی خواب کو کسی امر کی تصدیق و تکذیب کے واسطے حجت قائم نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ جو ”فلله الحجة البالغة (انعام:١٤٩)“ کے وصف سے موصوف ہے۔ اپنے رسول کو بجائے عینی و بصری رؤیت آیات کے محض خواب دکھا کر اسی قبیل سے کشف کے ذریعہ سے آیات دکھلا کر انسانوں کی آزمائش کے واسطے حجت کیونکر قائم کر سکتا ہے؟۔ بعد ازیں ہم کو لفظ اسریٰ کی لغت کی طرف متوجہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ قرآنی محاورہ سے جدا ہو کر ایسے مفہوم کو اختیار کرنا نہ پڑے۔ جس میں ہوائے نفس کے دخل سے نتیجہ ضلالت اور عقیدہ اہل سنت کے خلاف ثابت ہو۔
لفظ اسریٰ ماضی ہے از مصدر اسراء جس سے معراج کا مفہوم نکلتا ہے۔ وہ قرآن مجید میں بحالت امر قریباً پانچ دفعہ مذکور ہے۔ مثلاً اسر بعبادی، یا اسر باہلک اور ہر ایک دفعہ
١٧
جاندار جسم کے واسطے رات کے وقت حرکت جسمانی وانتقال مکانی کے سوا دیگر مفہوم قطعاً غلط ہوگا۔ دوسری وجہ اسریٰ کے پہلے لفظ سبحان کا قرینہ ہے۔ جو معمولی معروف واقعات کے اظہار کے واسطے قرآن مجید میں نہیں آتا۔ بلکہ واقعہ عظیم کے واسطے اور یہ امر ظاہر ہے کہ خواب یا کشف واقعہ عظیمہ نہیں ۔ بلکہ معمولیات معروفہ میں داخل ہے۔ تیسرا قرینہ اسریٰ کے ساتھ لنریہ من ایتنا موجود ہے۔ تا کہ مقصود اسراء معراج ثابت ہو۔ یعنی نشانات قدرت غیبیہ کا ہم اپنے رسول کو چشم دید ملاحظہ کرائیں اور کس وقت؟ ۔ رات کے ایک حصہ میں لفظ لیلاً رفع ابہام غیر وقت کے واسطے بنابر تاکید وارد ہے۔ ورنہ تنہا لفظ اسریٰ خود مفہوم رات کا سفر جاندار کے واسطے قرآن مجید میں ثابت ہے۔ مثلاً ” ان اسر بعبادی فاضرب لھم طریقاً فی البحر یبساً (طہ:٧٧) “ پس آیت ”سبحان الذی اسریٰ بعبده لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من ایتنا (بنی اسرائیل:١) “ میں چند امور بالبداہت بلا تاویل ثابت ہیں۔
- اول ....... معراج کوئی معروف و معمولی واقعہ نہیں یعنی خواب یا کشف نہیں۔
- دوم ....... رات کے وقت سفر جسد مع الروح تھا۔ کیونکہ مذکورہ پانچ قرآنی امثلہ اسر
بعبادی یا اسر باھلک سے جسد مع الروح کے سوا غیر مفہوم باطل ہے۔
- سوم ....... آیات غیبیہ کا ملاحظہ کرانا اللہ تعالیٰ کو منظور تھا۔ اب بعد ازیں یہ امر قابل
توجہ ہے کہ مذکورہ اسریٰ کی پانچ امثلہ میں انبیاء علیہ السلام ذریعہ سفر ثابت ہیں۔ مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی معراج اسراء میں اللہ تعالیٰ خود کو فاعل و ذریعہ بیان کرتا ہے۔ جس طرح یہ خاص اسراء غیر معمولی ہے۔ اسی طرح اس کے ذرائع بھی غیر معمولی ہیں۔ مگر لغت عرب کی قرآنی امثلہ مذکورہ میں جب اسراء جسم مع الروح پر حاوی ہے تو اسراء زیر تنقید میں جناب ﷺ کے جسم مبارک کو علیحدہ کر دینا لغت و قرآنی محاورہ کے صریح خلاف مسلک اختیار کرنا ہے۔ پس اوراق ماسبق میں جس قدر احادیث صحیحہ و دلائل عقلیہ مذکور ہیں۔ وہ قرآن کے عین مطابق ہیں اور انصاف و بصیرت کے رو سے راقم الحروف بے حجابانہ عرض کرتا ہے کہ اگر احادیث صحیحہ و دلائل عقلیہ کو بالکل نظر انداز کر کے ان سے جسمانی معراج پر حجت نہ بھی قائم کی جائے۔ جب بھی آیت اسراء کا خاص لفظ بر بناء لغت و محاورہ قرآنی جسمانی معراج کے ثبوت کے واسطے کافی ہے۔ جس کے اعجاز نے اہل عرب کے بڑے بڑے فصحاء کی گردنوں کو جھکا دیا تھا اور اب بھی جو فیض رحمانی سے
١٨
حصہ رکھتا ہے قرآن مجید کے سمندر میں غواص بن کر حیرت انگیز و معرفت افزاء نکات و معارف کے بے بہا موتی نکال سکتا ہے۔
حرم شریف سے بیت المقدس تک تو، رات کے وقت نبی ﷺ کی معراج جسد مع الروح خود اسراء کی آیت سے بلا تامل ثابت ہے۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ جس سے انکار کرنا اہل سنت کے نزدیک کفر کے برابر ہے۔ مگر بیت المقدس سے آگے آسمانوں کی معراج کے بارہ میں اہل سنت انکار کرنے والے کو صریح کافر کہنے میں متامل ہیں۔ البتہ مبتدع وغیرہ الفاظ اس پر عائد کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کا ثبوت سورۃ نجم میں مجملاً مذکور ہے اور اس اجمال کی تفصیل احادیث صحیحہ میں مذکور ہے۔ جیسا اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے۔ البتہ قرآن سورۂ نجم میں متعلق جسمانی معراج الی السموات آیتیں ایسی ہیں کہ اہل بصیرت کے واسطے کافی ہیں۔ کیونکہ احادیث صحیحہ متعلق معراج جسمانی مکہ شریف سے بیت المقدس تک عین مفہوم آیت اسراء کے مطابق ہیں تو وہاں سے آگے آسمانوں تک جسمانی معراج کے متعلق وہ غیر مطابق اور غیر صحیحہ نہیں ہوسکتیں۔ معتزلہ و دیگر منکرین خرق عادت کے واسطے بیت الحرام سے بیت المقدس تک جسمانی معراج میں شک اور تاویل کرنے کی خود آیت اسراء نے از روئے لغت و محاورہ قرآن کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ ہاں ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کر کے لغت و محاورہ کے خلاف جو ان کی طبیعت چاہے پڑے کہیں، اہل حق ان کو قبول کرنے سے معذور ہیں۔ کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے قبول حق کا مادہ رکھ دیا ہے اور علاوہ ازیں ان کو احادیث صحیحہ پر بھی بفضل خدا ایمان ہے۔ کیونکہ قرآن کے مجملات کی تشریح بدوں شارع علیہ السلام کی تفسیر کے غیر ممکن ہے۔ جس پر ہر زمانہ کا متواتر بیان و عمل شاہد ہے۔ اب انشاء اللہ بیت المقدس سے آگے اسراء الی السموات کا مختصر بیان بدوں حوالہ احادیث صحیحہ متعلق جسمانی معراج لکھنا مناسب ہے۔ کیونکہ از روئے احادیث اہل سنت اس پر بھی پورا ایمان رکھتے ہیں۔ جس کا بیان صفحات ماسبق میں ہو چکا ہے۔ سورۂ نجم کے جن الفاظ و قرائن سے جسمانی معراج الی السموات پر روشنی پڑ سکتی ہے ان کا بیان موجب شرح صدر ہے۔ گو منکرین اس سے انکار کر دیں ان کو روکنا محال ہے۔
معراج جسمانی کے متعلق سورۂ نجم سے استدلال
سب سے پہلے یہ اشکال رفع کرنا ضروری ہے کہ جسمانی معراج کا ذکر مسلسل کیوں مذکور نہیں۔ کیونکہ بیت المقدس تک اس کا ذکر سورۂ اسراء کے شروع میں ہے اور باقی الی السمٰوات
١٩
اسراء کا سورۂ نجم میں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر دو سورتیں مکی ہیں اور یکے بعد دیگرے مکہ شریف میں نازل ہوئیں اور معراج جسمانی کا واقعہ بھی مکی ہے۔ جو شخص قرآن مجید کی طرز واسلوب بیان سے واقف ہے۔ اس کو اس میں کوئی اشکال نظر نہیں آتا۔ کیونکہ قرآن مجید تاریخ کی طرح کوئی مسلسل بیان کی کتاب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے انبیاء علیہم السلام میں سے بعض کا ذکر صرف ایک ہی بار فرمایا ہے۔ بعض کا متعدد جگہ اور تبلیغ کی مصلحت کی وجہ سے جس قدر اور جتنی دفعہ مناسب جانا اسی قدر اور اتنی دفعہ بیان فرما دیا۔ مگر سبحان اللہ کہ باوجود اس تکرار کے سلسلہ آیات کا ایسا مربوط ہے کہ ایک ایک آیت ماقبل کی مابعد کی آیت سے زنجیر کی طرح کڑیوں میں پیوستہ ہے۔ مگر اصلی مقصود تبلیغ و تذکیر عباد ہے اور اس کی وجوہات پر کہ کیوں بعض بیان قلیل ہے اور بعض کثیر کیوں ہے۔ بجز باری تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے انسانی فہم ہرگز احاطہ نہیں کرسکتا۔ سوا اس کے کہ اپنی بے چارگی اور کم علمی کا اعتراف کرے اور بموجب ”لا تقف ما لیس لک بہ علم (بنی اسرائیل: ٣٦)‘‘ زیادہ خوض سے پرہیز کرے۔ بیمار کو اگر حکیم حاذق پر یقین ہے تو دوا کے استعمال کو اختیار کرے دوا کے مرکبات وجزویات و ترکیب ساخت سے بے تعلق رہے۔
استدلال
”سورۂ اسراء (بنی اسرائیل: ١)‘‘ کے شروع میں آیت ”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ الذی بارکنا حولہ لنریہ من آیتنا انہ ھو السمیع البصیر‘‘ میں اسراء نبی ﷺ یعنی سفر جسم مع الروح مبارک کا از مسجد الحرام تا بیت الاقصیٰ کا صرف ذکر ہے اور دوسرا اس امر کا کہ مقصود اس اسراء سے یہ ہے کہ ہم اپنے حبیب کو اپنی قدرت کے نشانات کا چشم دید ملاحظہ کرائیں۔ کیونکہ ہمارا حبیب خاتم النبیین ہے اور اس پر اپنی نعمت کو ہم پورا کرنا چاہتے ہیں اور اس کی دعا کو بھی سن کر قبولیت بخشنا چاہتے ہیں۔ جب وہ یوں کہا کرتا ہے۔ ”اللہم ارنی الحق حقاً وارنی الباطل باطلاً “ ۔
باقی استدلال
سورۂ اسراء میں مقصود اسراء سے صرف آیات کا ملاحظہ کرانا مذکور تھا۔ مگر اس امر کا ذکر یا ثبوت وہاں موجود نہ تھا کہ موعودہ نشانات دکھلائے گئے یا نہ دکھلائے گئے۔ اس واسطے ان کے واقعی دکھلانے کا ذکر سورۂ نجم میں بیان کردیا۔ مسجد الاقصیٰ کے متعلق نشانات تو ارضی تھے۔ سو وہ تو وہاں نبی ﷺ نے دیکھ لئے۔ باقی رہے نشانات سماوی سو ان کا دیکھنا
٢٠
کے ملاحظہ میں سلسلہ برابر قائم ہے۔ ارضی سے سماوی بعد میں واقع ہوا اور ایک ہی وقت میں جو لفظ لیلاً سے ثابت ہے۔
نشانات سماوی کی تفصیل تو احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔ سورۂ نجم میں مجملاً ہے۔ یعنی ملاحظہ جبریل کا اصل صورت میں سدرۃ المنتہیٰ کا، جنت الماویٰ کا، سدرۃ المنتہیٰ پر چھائی ہوئی اشیاء کا، اس سماوی اسراء وحی خاص کا: ”سورۂ نجم: ١“ کے ابتداء میں ”والنجم اذا هوى“ کی قسم کا اشارہ نبی ﷺ کے اسراء کا بطرف سموات کے منتقل ہونے کی طرف ہے اور پھر کلام وحی میں نبی ﷺ کے دخل ہویٰ کی نفی کا ثبوت ابلغ طور پر وحی کے اوصاف بیان کرنے میں پایا جاتا ہے اور ازیں بعد وحی کو اصلی صورت میں دیکھنے کے شبہ کو اس دلیل سے زائل کیا جاتا ہے کہ اس صورت میں ہمارا حبیب اس کو ایک دفعہ پہلے بھی (زمین پر غار حرا میں) دیکھ چکا ہے۔ حبیب کا مرتبہ ومنزلت (قاب قوسین) سے ظاہر کر کے آپ کی عصمت کا اظہار کامل طور پر ظاہر کر دیا ہے۔
”ما كذب الفؤاد ما رأى (نجم: ١١)“ میں حقیقت جبرائیل کو اس کی اصل صورت میں دیکھنا بتلایا گیا ہے اور دل کی شہادت اس کے معائنہ کو رفع شک کے واسطے بطور تاکید کے ہے۔ بسا اوقات انسان کو بظاہر جو چیز آنکھ سے نظر آتی ہے وہ درحقیقت اور طرح ہوتی ہے۔ یا مطلقاً اس کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ مثلاً یرقان کی بیماری والا ہر ایک چیز کا رنگ پیلا اور زرد دیکھتا ہے۔ درحالیکہ ایسا نہیں۔ اسی طرح ریگستانی علاقوں میں انسان کو دور سے باغ اور چشمے نظر آتے ہیں۔ مگر ہوتا وہاں کچھ بھی نہیں اور ان ہر دو حالتوں میں دیکھنے والے کا دل ان کی تصدیق نہیں کرتا۔ مگر عینی مشاہدہ کی تصدیق دل سے اسی صورت میں کامل ہو سکتی ہے کہ جب کسی نے ایک چیز کی حقیقت کو پہلے بھی دیکھا ہو۔ اس واسطے اس کی تصدیق بھی یہاں موجود ہے۔ مگر لفظ (فؤاد) سے محمد علی لاہوری نے اپنی انگریزی تفسیر القرآن میں کشفی معراج کے استدلال پر بوجہ عدم فہمی حکمت استعمال (فؤاد) سخت ٹھوکر کھائی ہے اور ما رأى والی آیت کا قرینہ بھی ذہن سے اتر گیا۔ قریش نبی ﷺ کی وحی کو افتراء جنون وغیرہ کہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کامل وضاحت سے وحی کی سماوی حقیقت کو بتلا دیا۔ لفظ (فؤاد) وحی اور قلب کا مرادف ہے اور قلب میں وحی کا القاء مطلق نزول کتب سماوی نبی ﷺ سے خصوصیت رکھتا ہے۔ جس کا ثبوت آیت ”وانه لتنزيل رب العلمين . نزل به الروح الامين . على قلبك لتكون من المنذرين (شعراء: ١٩٢ تا ١٩٤)“ غرض بہت سی آپ کی خصوصیات میں سے چار چوٹی کی ہیں۔
٢١
- اول ...... کل جہاں کی تبلیغ۔
- دوم ...... معراج جسمانی بناء پر مشاہدہ آیات اللہ۔
- سوئم ...... معائنہ جبرائیل بصورت اصلی۔
- چہارم ...... القاء کلام اللہ علی القلب۔
جن نشانات چشم دید معائنہ کا اللہ تعالیٰ نے معراج میں اپنے اس کو آیت ”لقد رأى من آيات ربه الكبرى (نجم: ١٨)“ م میں اکثر دل اور آنکھ کو اپنی طرف جبر مائل کرنے کی بوجہ غیر ارضی و غیر مع موجود تھی۔ اس واسطے اس آیت کے پہلے اپنے حبیب کی روحانی قوت بتلا دیا ہے۔ ”ما زاغ البصر وما طغى (نجم: ١٧)“ یعنی میرے ح چشم دید کر کے اپنی توجہ کو ہرگز کسی کی طرف مائل نہ کیا۔ کیونکہ دربار خ کیا گیا تھا اس نے حد ادب سے ہرگز تجاوز نہ کیا اور حبیب اللہ نبی ﷺ م دلیل ثابت ہوئے۔ اس آیت میں لفظ بصر کا استعمال عینی مشاہدہ آیات (مصدر اسراء) جسمانی معراج کو ثابت کر رہا ہے۔ کیونکہ جیسا راقم الح مجید سے ثابت کر چکا ہے کہ وہ جاندار بدن مع الروح کے سفر وانتقال م میں نہیں آسکتا۔ یعنی کم از کم قرآن مجید میں نص خاص قرآن مجید کی نص جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ کی معراج جسمانی بدون مدد احادیث کامل طور سے ثابت ہے۔ فرقہ ہائے غیر اہل سنت اگر مذکورہ بیان قص مطالعہ کریں تو محض کشفی معراج کا عقیدہ انشاء اللہ چھوڑ دیں گے۔ کیو براق و بدون معیت جبرائیل مدینہ شریف میں نبی ﷺ کو چند بار بہ تصری ثابت ہے۔ جو کشفی معراج سے بالکل مختلف ہے۔ جیسا اس سے پہلے م ہے۔ جس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
تنقید حدیث نمبر ٤٨ ص ٤٠، ٤١، فضل الباری شرح بخاری
”قال رسول الله ﷺ ثلاثة لهم اجران ر بنبيه وامن بمحمد والعبد المملوك اذا ادى حق كانت عنده امة فادبها فاحسن تاديبها وعلمها
٢٢
- اول ...... کل جہاں کی تبلیغ۔
- دوم ...... معراج جسمانی بناء پر مشاہدہ آیات اللہ۔
- سوم ...... معائنہ جبرائیل بصورت اصلی۔
- چہارم ...... القاء کلام اللہ علی القلب۔
جن نشانات چشم دید معائنہ کا اللہ تعالیٰ نے معراج میں اپنے حبیب سے وعدہ فرمایا تھا۔ اس کو آیت ”لقد رأی من أیات ربہ الکبریٰ (نجم:١٨)“ میں پورا کر دیا۔ ان نشانات میں اکثر دل اور آنکھ کو اپنی طرف جبراً مائل کرنے کی وجہ غیر ارضی و غیر معمولی ہونے کی پوری کشش موجود تھی۔ اس واسطے اس آیت کے پہلے اپنے حبیب کی روحانی قوت و منزلت کو اس آیت سے بتلا دیا ہے۔ ”ما زاغ البصر وما طغیٰ (نجم:١٧)“ یعنی میرے حبیب نے آیات کا ملاحظہ چشم دید کر کے اپنی توجہ کو ہرگز کسی کی طرف مائل نہ کیا۔ کیونکہ دربار خدا تعالیٰ میں جو حبیب مدعو کیا گیا تھا اس نے حدِ ادب سے ہرگز تجاوز نہ کیا اور حبیب اللہ نبی ﷺ معراج کے پورے مصداق و اہل ثابت ہوئے۔ اس آیت میں لفظ بصر کا استعمال یعنی مشاہدہ آیات پر نص ہے اور لفظ اسریٰ (مصدر اسراء) جسمانی معراج کو ثابت کر رہا ہے۔ کیونکہ جیسا راقم الحروف اس سے پہلے قرآن مجید سے ثابت کر چکا ہے کہ وہ جاندار بدن مع الروح کے سفر و انتقال مکان کے سوا کسی غیر مفہوم میں نہیں آسکتا۔ یعنی کم از کم قرآن مجید میں پس خاص قرآن مجید کی لغت و دیگر قرآئن متعلقہ سے جناب نبی کریم افضل الصلوٰۃ علیہ والہ کی معراج جسمانی بدون مدد احادیث صحیحہ و بدون دلائل عقلیہ کامل طور سے ثابت ہے۔ فرقہ ہائے غیر اہل سنت اگر مذکورہ بیان تعصب سے الگ ہو کر غور سے مطالعہ کریں تو محض کشفی معراج کا عقیدہ انشاء اللہ چھوڑ دیں گے۔ کیونکہ کشفی معراج بدون سواری براق و بدون معیت جبرائیل مدینہ شریف میں نبی ﷺ کو چند بار بہ تغیر ہیئت و کیفیت احادیث سے ثابت ہے۔ جو مکی معراج سے بالکل مختلف ہے۔ جیسا اس سے پہلے راقم الحروف مدلل بیان کر چکا ہے۔ جس کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
تنقید حدیث نمبر ٨٤ ص ٤٠ ، ٤١ ، فضل الباری شرح بخاری
”قال رسول اللہ ﷺ ثلاثة لهم اجران رجل من اهل الکتب امن بنبیہ وامن بمحمد والعبد المملوک اذا ادّی حق الله وحق موالیه ورجل کانت عنده امة فادبها فاحسن تادیبها وعلمها فاحسن تعلیمها ثم اعتقها
٢٢
فتنزوجها فله اجران“ ترجمہ بحذف روات رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین شخص ہیں۔ جن کے لئے دوہرا اجر ہے۔ اہل کتاب میں سے ایک وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور غلام جو دوسرے کے ملک میں ہو۔ جب وہ اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے اور ایک وہ شخص جس کے پاس ایک لونڈی ہو۔ پھر وہ اس کو ادب سکھائے اور اچھا ادب سکھائے اور اس کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے۔ پھر اسے آزاد کرے اور اسے اپنی زوجیت میں لے۔
اس پر محمد علی لاہوری صفحہ ٤١ کے نوٹ نمبر ایک میں یوں فرماتے ہیں کہ:
قال: بخاری کے بعض نسخوں میں امۃ کے بعد لفظ یطاھا وارد ہے۔ مگر یہ زیادتی معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے کہ بخاری کے صحیح ترین نسخے جن کو صاحب فتح الباری اور صاحب ارشاد الساری وغیرہ نے لیا ہے۔ ان میں یہ لفظ نہیں اور جن نسخوں میں یہاں لفظ یطاھا آئے ہیں اور ان میں اس حدیث کو جہاں دوسرے موقعوں پر لایا گیا ہے۔ باب العتق اور کتاب الجہاد میں وہاں یہ لفظ نہیں۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ زائد ہیں۔ جو بعض نسخوں میں غلطی سے درج ہوگئے ہیں اور اگر روایت میں اس لفظ کا موجود ہونا بھی مان لیا جائے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ لونڈی سے ہم بستری بلا نکاح تھی۔ تزوج میں ذکر زوجہ بنانے کا ہے۔ یعنی برابری کا مرتبہ دینا۔‘‘
اقول: جہاں محمد علی لاہوری نے اہل سنت کے اکثر اجماع مسائل میں اپنے غلط اجتہاد سے صریح اختلاف کیا ہے۔ مثلاً معراج جسمانی، نزول مسیح، نجات مشرک، پیدائش مسیح ابن مریم علیہ السلام، معجزات انبیاء وغیرہ میں وہاں مملوکہ حربی لونڈی سے وطی (ہم بستری) کے متعلق بھی یہ اجتہاد کیا ہے کہ بدوں نکاح کے مالک کو بھی اس سے وطی جائز نہیں۔ ان کے مطالعہ خانہ میں بخاری کے متعدد شروح موجود ہیں۔ جن سے جابجا اقتباس نقل کرتے ہیں۔ مگر اس مسئلہ میں کسی شارح کو اپنا ہم خیال ظاہر نہیں کیا۔ بلکہ امۃ کے بعد وطئھا کا تفسیری کلمہ جو بخاری کے بعض نسخوں میں موجود ہے۔ اس کو زیادتی اور غلط اندراج کا نتیجہ بتلاتے ہیں اور اس کا اندراج صحیح تسلیم کر کے بھی فرماتے ہیں کہ لونڈی سے وطی مالک بدون نکاح کے نہیں کرتا تھا۔ اگر امۃ کے بعد وطاھا مذکور نہ بھی ہو جب بھی حدیث زیر تنقید میں الفاظ ثم اعتقها فتزوجھا یعنی پھر مملوکہ لونڈی کو آزاد کر
٢٣
کے اس سے نکاح کر لے۔ صاف بتلا رہی ہیں کہ تزوج کا وقوع بعد اعتاق ہے۔ محمد علی لاہوری نے ترجمہ میں تحریف معنوی سے کام لے کر اپنا مقصد پورا کیا ہے۔ کیونکہ فتزوجھا کے صحیح معنے از روئے لغت عرب نکاح کے ذریعہ سے زوجیت میں لینے کے ہیں۔ مگر محمد علی لاہوری اس لفظ سے مفہوم نکاح کو خارج کر کے زوجیت میں لینے کی یہ شرح فرماتے ہیں کہ مالک لونڈی کو بیوی کے برابر رتبہ دیدے۔ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ مالک بدون اعتاق وطی حلال کرنے کی خاطر اس سے نکاح کر لے۔ اب کون بندہ خدا اس کو سمجھائے کہ جب مالک نے لونڈی سے نکاح بھی کر لیا اور وطی بھی کر لی۔ تو زوجہ بنانے میں کیا کسر رہ گئی کہ بعد اعتاق پھر اس کو زوجہ کا رتبہ عطاء کرے۔ اگر ان کے استدلال کا کچھ مفہوم زوجہ کے برابر جاننے کا ہو سکتا ہے تو صرف یہ ہے کہ لونڈی کو مالک نکاح اور وطی کے بعد اگر اچھا کھانا اور اچھے کپڑے۔ آزاد بیوی کے برابر نہیں دیتا تھا تو اب بعد اعتاق منکوحہ بیوی کے برابر دیا کرے۔ اگر پہلی حالت میں اسے برا بھلا کہتا یا مارتا پیٹتا تھا تو اب دوسری حالت میں ایسے سلوک کو ترک کر دے۔ اگر زوجہ کے برابر رتبہ دینے کا مفہوم اس کے علاوہ کوئی اور بھی ممکن ہے تو وہ محمد علی لاہوری کے بطن میں ہوگا۔ ورنہ نکاح سے کل حقوق زوجیت خاوند بالغ پر لازم ہو جاتے ہیں۔ محمد علی لاہوری نے خدا جانے عمداً یا سہواً اس امر سے سکوت فرمایا ہے کہ آیا مالک نے قبل از اعتاق جب لونڈی سے نکاح کیا تھا تو کیا مہر بھی مقرر کیا تھا اور دو گواہ کو بھی طلب کیا تھا۔ اگر نہیں کیا تھا تو نکاح فاسد اور اگر کیا تھا تو کسی واقعہ سے یا حدیث سے ثابت کریں کہ قبل اعتاق مالک کا امۃ (مملوکہ لونڈی) سے نکاح مع مہر موجودگی دو گواہ منعقد ہوا کرتا تھا۔ اب نصوص اور واقعات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے تا کہ محمد علی لاہوری یا ان کا کوئی مرید غور کر کے اس مسئلہ کی حقیقت کو پہچان سکے۔ سب سے اول اس مسئلہ کا فلسفہ بتانا ضروری ہے کہ مالک اپنی مملوکہ لونڈی سے قبل اس کے آزاد کرنے کے کیوں بدون نکاح وطی (ہم بستری) کر سکتا ہے۔
فلسفہ: تبلیغ دین حق کے وقت جو انکار و مقابلہ کرتا ہے وہ اپنی آزادی و جان کی حفاظت کا مستحق نہیں رہتا۔ اس واسطے وہ اور اس کے متعلقین جو اس مقابلہ میں شامل ہیں یا اس مقابلہ کنندہ کے ماتحت ہیں۔ مفتوح ہونے کے بعد فاتح کے قبضہ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ عورتیں اور مرد اسیر سلطانی ہیں۔ بعد تقسیم ان کو لونڈیوں اور غلاموں کی حیثیت میں اپنے اپنے قابضوں کی ماتحتی میں زندگی بسر کرنی پڑتی ہے اور جب تک مالک خود ان کو آزاد نہ کرے وہ اپنی آزادی کے حق دار نہیں۔ تورات میں بھی یہی حکم ہے۔ مگر اسلام جو رحمت کامل کا مذہب ہے۔ ان کو آزاد کرنے کی ترغیب کئی
٢٤
طریقوں سے دلاتا ہے اور قبل آزاد کرنے کے ان سے حسن سلوک کی تاکید کرتا ہے۔ جس کی تشریح کا یہ رسالہ متحمل نہیں۔
باقی بیان: محمد علی لاہوری جو مملوکہ لونڈی سے بدون نکاح مالک کو بھی بعد استبراء وطی کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کے پاس سوا اپنے اجتہاد کے کوئی شرعی نص نہیں۔ قرآن مجید میں محصنہ سے نکاح کی عدم استطاعت کی صورت میں ایک مسلم کو مومنہ لونڈی سے باذن مالک نکاح کی اجازت ہے۔ مگر غیر مالک کے نکاح میں جا کر بھی وہ بدستور غلامی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر بقول محمد علی لاہوری مالک نے وطی کے جواز کے واسطے اس سے نکاح کر لیا ہوتا تو کسی آیت یا حدیث یا کسی واقعہ میں یہ امر مخفی نہ رہ سکتا کہ غیر مالک کو نکاح کی اجازت دینے کے وقت مالک نے اس کو طلاق بھی دی تھی اور پھر وہ لونڈی عدت شرعی کے بعد غیر مالک کے نکاح میں داخل ہوئی تھی۔ مالک کے نکاح کا تعلق اس وقت پیدا ہو سکتا ہے۔ جب مالک اس کو آزاد کرے اور حدیث زیر تنقید میں بھی بنا بر دلیل ثواب واجر اس کی ترغیب ثابت ہے۔ اگر محمد علی لاہوری قبل اعتاق مالک سے اس کا نکاح مانتے ہیں تو ان کو نکاح کے ساتھ مہر کا تقرر اور شہادت دو گواہ کا بھی ماننا ضروری ہے۔ جو نکاح کے واسطے لازمی شرائط ہیں اور اس پر ایجاب صحت و قبول بھی جو رکن نکاح ہیں ثابت کریں۔ مگر وہ قیامت تک بھی ثابت نہیں کر سکتے۔ اس بارہ میں قرآن شریف کی بعض آیات کا پیش کرنا مناسب ہے۔ تا کہ اس مسئلہ پر پوری روشنی پڑ سکے۔
- ١...... "والذین هم لفروجهم حافظون ، الا علی ازواجهم او ما
ملکت ایمانهم فانهم غیر ملومین (المؤمنون: ٦،٥)" حفاظت فروج میں زوجہ اور لونڈی مملوکہ کو وطی کے واسطے قرآن مجید نے مستثنیٰ فرما دیا ہے۔ یعنی زوجہ کو بقید نکاح (کیونکہ زوج بنانے کے واسطے نکاح لازمی ہے) اور لونڈی کو بوجہ ملکیت کے جس کی آزادی سلب ہو چکی ہے۔
- ٢...... "ومن لم یستطع منکم طولاً ان ینکح المحصنٰت
المؤمنٰت فمن ما ملکت ایمانکم من فتیٰتکم المؤمنٰت ، واللّٰہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض فانکحوهن باذن اهلهن فاتوهن اجورهن بالمعروف محصنٰت غیر مسافحٰت ولا متخذات اخدان فاذا احصن فان اتین بفاحشة فعلیهن نصف ما علی المحصنٰت من العذاب (النساء:٢٥)"
نوٹ: ان آیات کریمہ میں مسلم غیر مستطیع نکاح حرہ کو کسی شخص کی مملوکہ مسلم لونڈی سے
٢٥
باذن مالک نکاح بادائے مہر کی اجازت ہے۔ مگر اس حالت میں بھی اس کی حالت بدستور لونڈی غیرہ کی قائم رہتی ہے۔ کیونکہ اس حالت میں اگر وہ زنا کی مرتکب ہوگی تو حرہ سے نصف حصہ حد شرعی کا اس پر جاری ہوگا۔
مشکوٰۃ ص ٣١١، کتاب الحدود میں بروایت حضرت علیؓ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! اپنی لونڈیوں اور غلاموں پر خواہ شادی شدہ خواہ غیر شادی شدہ ہوں حد جاری کرو۔ تحقیق رسول اللہ ﷺ کی ایک لونڈی نے زنا کیا تھا۔ پس آپ نے مجھ کو اس پر حد جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ مگر میں نے اس کو بحالت نفاس پایا تو ڈرا کہ حد جاری کرنے سے وہ مرجائے گی۔ لہٰذا اس امر کا استصواب رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا۔ اس حدیث کے ساتھ ابوداؤد کی ایک روایت کا حوالہ اس طرح مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دے۔ حتیٰ کہ اس کا خون بند ہو پھر اس پر حد جاری کر۔ اس حدیث سے ثابت ہے کہ جناب نبی ﷺ نے اس لونڈی سے وطی کی خاطر نکاح نہیں کیا ہوا تھا۔ کیونکہ اگر نکاح ہوتا تو وہ لونڈی آیت تطہیر کے خلاف زنا کی مرتکب نہ ہوتی۔ مگر محمد علی لاہوری کا اجتہاد اگر صحیح تسلیم کیا جائے تو پھر جناب رسول اللہ ﷺ مصداق اس قرآنی نص کے ہرگز نہیں رہ سکتے۔ ”الطیبات للطیبین (نور: ٢٦)“ لہٰذا تسلیم کے سوا چارہ نہیں کہ نبی ﷺ نے بنا بر وطی اپنی مملوکہ لونڈی سے ہرگز نکاح نہ کیا ہوا تھا۔ کیونکہ الطیبات للطیبین کا اشارہ محض ازواج مطہرات کے واسطے ہے۔ جن سے مملوکہ لونڈی مستثنیٰ ہے اور اس سے صدور زنا کا امکان قرآن سے اور واقعہ کا حدیث مذکورہ سے ثابت ہے۔ مگر ازواج نبی ﷺ زیر آیت تطہیر بسبب نکاح کے پاک ہیں۔
بعض واقعات متعلقہ حربی لونڈی کے
- ا....... ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ جنگ اوطاس میں ہم نے عورتیں قید
کیں۔ حالانکہ ان کے شوہر موجود تھے۔ پس ہم نے ان سے وطی کرنا مکروہ جانا۔ لہٰذا نبی ﷺ سے دریافت کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ”والمحصنات من النساء الاما ملکت ایمانکم“ پس ہم نے ان کے فروج کو حلال جانا۔ رواہ احمد، والترمذی، والنسائی، وابن ماجہ، ومسلم، وابوداؤد۔
نوٹ: طبرانی نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت خیبر کی قیدی عورتوں کے حق میں نازل ہوئی ہے۔ پس یہ یہود کی عورتیں کتابی تھیں۔ جن سے بنکاح و بملک بہر دو صورت بعد استبراء وطی حلال ہے۔ مگر جنگ اوطاس والی روایت اصح ہے۔ اس واسطے معلوم ہوتا ہے کہ وہ
٢٦
عورتیں مسلمان ہوگئی تھیں۔ کیونکہ مشرکہ عورت سے بحالت (ملک یمین) وطی شرعاً حلال نہیں۔
(ماخوذ از تفسیر مواہب الرحمن)
- ٢....... از روئے لغت ”ما ملکت ايمانهم“ لونڈی اور غلام ہر دو کی جانب
نسبت صحیح ہے۔ مگر یہاں چونکہ صرف مردوں کا بیان ہے۔ کیونکہ ”ایمانهم ، فروجهم ، يحافظون“ وغیرہ سب صیغے مردوں پر اطلاق کرتے ہیں۔ جس پر امت کا اجماع ہے۔ ابن کثیر نے بسند جید قتادہ تابعی سے روایت کی ہے کہ ایک عورت نے ایک غلام بنا بر وطی رکھا ہوا تھا اور جب وہ مواخذہ میں پکڑی گئی تو کہنے لگی کہ میں نے یہ فعل ماتحت ”الا ما ملكت“ کتاب اللہ کے کیا ہے۔ اس پر بہت سے صحابہؓ نے حضرت عمرؓ خلیفہ وقت سے عرض کیا کہ اس عورت نے آیت اللہ کا بے جا مفہوم سمجھا ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے غلام کا سر منڈوا کر اس کو شہر بدر کر دیا اور حکم دیا کہ کوئی مسلمان اس عورت سے نکاح نہ کرے۔ قتادہؒ نے حضرت عمرؓ کا زمانہ نہیں پایا۔ اس واسطے یہ روایت مرسل ہے۔ مگر مرسل روایت بھی قبولیت کا درجہ رکھتی ہے۔ جب اس میں مفید مسئلہ کا حل ثابت ہو۔ حضرت عمرؓ نے شرعاً اس عورت کا نکاح حرام نہ کیا تھا۔ صرف شبہ کے لحاظ سے اس پر حد جاری نہ کی۔ بلکہ بنا بر سد باب فتنہ جو آیت کی غلط فہمی سے پیدا ہونا ممکن تھا۔ صرف تعزیر پر اکتفاء کیا۔
(ماخوذ از تفسیر مواہب الرحمن)
- ٣....... جب بنی مصطلق کو شکست ہوئی تو اسیران جنگ میں جویریہ ایک رئیس
زادی ثابت بن قیس کے حصہ میں آئی۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے اپنا اسلام ظاہر کیا اور پھر کہا میں ثابت بن قیس کے حصہ میں آئی ہوں۔ وہ روپیہ لے کر مجھے چھوڑنا چاہتا ہے۔ آپ میری دستگیری فرمائیں۔ آپ نے فرمایا میں اس سے بہتر سلوک تیرے ساتھ کرتا ہوں۔ اگر تو منظور کرے۔ اس نے پوچھا کس طرح؟۔ آپ نے فرمایا میں تجھے آزاد کر کے اپنے نکاح میں لے لوں گا۔ یہ سن کر اس نے منظور کر لیا۔ آپ نے ثابت بن قیس کو اسی وقت روپیہ دے کر اس سے نکاح کر لیا۔ جب مسلمانوں نے سنا تو انہوں نے بھی اپنے سب قیدیوں کو آزاد کر دیا اور کہا کہ اب یہ ساری قوم نبی ﷺ کی رشتہ دار ہو گئی ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں یہ جویریہؓ بڑی برکت کا موجب ہوئی۔ جس کے طفیل اس کی قوم کے سو سے زیادہ آدمی آزاد ہو گئے۔ (ماخوذ از کتاب جواب امہات المومنین سیرت النبی مؤلفہ علامہ شبلی جلد اول زیر عنوان جنگ بنی مصطلق اور ابو داؤد میں زیر عنوان جہاد و عتق و کتاب رحمۃ للعالمین میں بھی قریباً اسی طرح مذکور ہے۔)
٢٧
نوٹ: مذکورہ تین امثلہ سے ثابت ہے کہ حربی لونڈی سے مالک کو بعد استبراء بدون نکاح وطی جائز ہے اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ”ما ملکت ایمانھم“ کا تعلق خاص مردوں کے واسطے ہے۔ عورت کو اس آیت کی بناء پر اپنے غلام سے وطی جائز نہیں اور یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حربی لونڈی کو خریدا اور آزاد کر کے نکاح کے ذریعہ سے ازواج مطہرات میں شامل کر کے ایک عمدہ مثال کی بنیاد ڈال دی اور حدیث زیر تنقید پر خود عمل فرمایا۔ لفظ تزوج اور تزویج میں نکاح کا مفہوم لازمی ہے۔ قرآن میں بھی زوجنکھا زید کی مطلقہ بیوی کے واسطے مذکور ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس سے نکاح کیا تھا۔ (احزاب: ٣٧)
مگر محمد علی لاہوری حدیث زیر تنقید میں فتزوجھا سے نکاح کا مفہوم یہ ہے کہ لونڈی مملوکہ کو صرف زوجہ کا رتبہ دے دے۔ جس کی تردید شروع تنقید میں اہل بصارت کے واسطے کافی ہو چکی ہے۔
تنقید متعلق ص ٣٩، حدیث نمبر ٧٩ ، فضل الباری شرح بخاری
حدیث محولہ عنوان میں بعض صحابہ کا نبی ﷺ کے پاس مدینہ شریف میں بنابر تعلیم دین باری باری کر کے باہر نواح سے آنے کا ذکر ”ینزل یوماً وانزل یوماً“ کے الفاظ سے مذکور ہے۔ یعنی ایک دن فلاں صحابی آتا ایک دن میں یعنی راوی آتا۔ اس پر محمد علی لاہوری اس طرح فرماتے ہیں۔
قال : فلاں فلاں صحابی کے مدینہ آنے پر لفظ نزول بولا گیا ہے۔ حالانکہ وہ آسمان سے نہیں اترا کرتے تھے۔
اقوال : محمد علی لاہوری کو جس طرح خوش قسمتی سے اپنے خاص مشرب کے عقائد کے اظہار کے واسطے قرآن شریف میں بعض مقامات پر بعض الفاظ مل گئے تھے۔ اسی طرح بخاری شریف کے متن میں بھی بعض الفاظ ایسے ہاتھ آ گئے ہیں۔ جن سے وہ اپنے خاص عقائد کے استدلال پر بڑے نازاں اور خوش ہیں۔ محمد علی لاہوری اگر اہل علم کے اس مسلمہ اصول کو صحیح تسلیم کرتے ہیں کہ مختلف المعنی الفاظ کا مختلف مقامات میں صحیح مفہوم قرائن متعلقہ کی مدد سے حاصل ہوتا ہے۔ تو ایسے الفاظ کے واحد مفہوم پر اڑ بیٹھنا لغت کی بے حرمتی کا مرادف ہے۔ لغت میں جب لفظ (نزول) بمعنی ورود سفر کے واسطے آتا ہے تو اسی لحاظ سے مسافر کو محاورہ عرب میں نزیل بولا کرتے ہیں۔ مگر نزول کے دیگر مفہوم کے واسطے قرائن کی شہادت مطلوب ہوتی ہے۔ چونکہ محمد علی
٢٨
لاہوری عیسیٰ علیہ السلام کے نزول من السماء کو تسلیم نہیں کرتے۔ کیونکہ بزعم و بعلم ان کے کسی ضعیف حدیث سے بھی نزول مسیح کا آسمان سے ثابت نہیں۔ اس واسطے حدیث زیر تنقید کے الفاظ انزل وینزل نے آپ کو اپنے عقیدہ کے ثبوت کا موقع دے دیا۔ اہل سنت کا عقیدہ متعلق نزول مسیح علیہ السلام اجماعی ومتواتر ہے اور قریباً بیس احادیث صحیحہ اس کی شہادت پر موجود ہیں۔ جن میں بعض ایسی بھی ہیں کہ صریح لفظ سماء کا ان میں موجود ہے۔ قادیانی مسیح کا بھی بوقت تصنیف براہین یہی عقیدہ تھا۔ کیونکہ اس وقت وہ اسلامی خدمت کے لئے آمادہ ہوگئے تھے۔ اگر چہ کتاب براہین میں بعض ایسی آیات و پیش گوئیاں درج کر دی تھیں کہ آئندہ مواقع پر حسب ضرورت وہ اپنے اوپر چسپاں کر سکیں۔ بعد ازیں جب سلسلہ پیری مریدی شروع ہوا تو پہلی بسم اللہ آپ نے مثیل مسیح ہونے کی کر دی اور رفتہ رفتہ خود مسیح موعود ومجدد وظلی وغیر تشریعی نبی وغیرہ تک دائرہ وسیع ہو گیا۔ جو امور اس قدر ظاہر ومشہور ہیں کہ ان کے ثبوت کا یہ رسالہ متحمل نہیں ہو سکتا۔ سیالکوٹ میں فارسی دفتر ضلع میں پندرہ روپیہ کے محرر تھے۔ طبیعت امیرانہ تھی۔ گزارہ معقول نہ دیکھ کر مختاری کے امتحان میں شامل ہوئے۔ مگر بدقسمتی سے ناکام ہو کر لاہور مسجد اہل حدیث چینیاں والی میں فروکش ہو گئے۔ وہاں بمشورہ مولوی محمد حسین بٹالوی کتاب براہین کی بنیاد رکھ دی۔ پھر وطن مالوف قادیان جا کر کام شروع کیا اور کتاب کے پیشگی چندوں نے آپ کو مرفه الحال کر دیا۔ مگر کتاب کی حسب وعدہ ساری جلدیں تیار کرنا غیرممکن ہو گیا۔ کیونکہ آپ ایسے مشاغل میں ہمہ تن و ہمہ وقت مصروف ہو گئے۔ جس سے جدید دعاوی کا ثبوت پبلک میں مشتہر ہو۔ مگر مطلوب چونکہ مرفه الحالی اور بڑائی تھی۔ مریدوں کا ایک باضابطہ رجسٹر تیار کیا جا کر اعلان کر دیا کہ جو مرید ہر ماہ میں خواہ کتنی رقم ہی ہو قادیان میں بطور چندہ ارسال نہ کرے گا۔ اس کا نام مریدوں کی فہرست سے فوراً کاٹ دیا جائے گا۔ دعاء خاص کے واسطے نذرانوں کی ترغیب وترہیب کا پہلو بھی نظر انداز نہ کیا گیا۔ المختصر آمدنی کا معقول انتظام کر کے پھر علماء اہل سنت سے دست وگریباں ہونا شروع کر دیا۔ کیونکہ انہوں نے مسیح قادیانی کے عقائد مخترعہ سے بیزاری ظاہر کر کے قوم کو اس کے جال میں پھنسنے سے جوابی تصانیف و تقریری ذرائع سے روکا تھا۔ اگر چہ عربی فارسی و اردو میں خاصی تحریر لکھ سکتے تھے۔ مگر علم قرآن وحدیث جس قدر استادوں سے حاصل کیا تھا۔ اس میں اپنی تاویلات کا دروازہ اس قدر فراخ کر دیا کہ بے باکانہ جو چاہا مریدوں سے منوالیا۔ جو بے چارے بعض تو کم علمی کے سبب سے بعض عمدہ کھانوں کے لالچ سے بعض منظور نظری کے خیال سے بعض شامت اعمال کی وجہ سے قادیانی
جال میں پھنسے رہے اور چونکہ تقلید گیری نہ کر سکتے تھے۔ زیادہ وضاح حدیث مسیح قادیانی کے علم کی بنا پر نے بھی صادر کر دیا تھا۔ یہ مولوی نو نیچری عقائد کے پلتے کھاتے ہو بن گئے تھے۔ بلکہ ان صادق مہا قادیان کو جائے اقامت اختیار کر
حدیث مخترع
”كان في الهند ایک کالے رنگ والے نبی ہونگے اس حدیث کی سند میں مل سکتا ہے نہ کسی صاحب مآخذ کی تحقیق کی۔ کیونکہ مرش حدیث ہے اور جس پر میری فرمائی تھی جب ہندوؤں کے کرشن صاحب کا عقیدہ ان حضرت صاحب اس کو پیغمبر و بالتوحید وایمان بالآخرت لا اندریں صورت کسی علمی یا عمل فیصلہ کرنا تضیع وقت و دماغ ہے۔ اسی طرح نزول من ال موعود کے نزول کے قرآنی قادیانی حضرت پر اور شخصیہ بلکہ وہ اسم علم ہے۔ جس کی دفعہ عیسیٰ بن مریم مذکور ۔
٢٩
جال میں پھنسے رہے اور چونکہ تقلید ان کا مشرب ہو گیا تھا۔ کسی خلاف شرع قول وفعل امام پر حرف گیری نہ کر سکتے تھے۔ زیادہ وضاحت سے کچھ باتیں ازیں بعد بیان ہوں گی۔ مگر اوّل ایک مختصر حدیث مسیح قادیانی کے علم کی ناظرین سن لیں۔ جس پر حکیم نور الدین صاحب بھیروی مشیر اعظم نے بھی صاد کر دیا تھا۔ یہ مولوی نور الدین مرزائی پہلے حنفی المذہب بعد ازاں اہل حدیث بعد ازاں نیچری عقائد کے پلٹے کھاتے ہوئے در دولت قادیانی مسیح پر حاضر ہو کر ان کے وزیر اعظم و منظور نظر بن گئے تھے۔ بلکہ ان صادق مہاجرین سے تھے جنہوں نے اپنے شہر مالوف کو خیر باد کہہ کر خاص قادیان کو جائے اقامت اختیار کر لیا تھا۔
حدیث مخترع
’’کان فی الہند نبی اسود اللون اسمہ کاہن‘‘ یعنی ملک ہندوستان میں ایک کالے رنگ والے نبی ہو چکے ہیں جن کا نام کاہن تھا۔ (چشمہ معرفت ص ١٠، خزائن ج ٢٣ ص ٣٨٢) اس حدیث کی سند روایت کا کوئی پتہ ونشان وحوالہ کتاب نہ قادیانی صاحب کی تحریروں میں مل سکتا ہے نہ کسی صاحب ایم۔ اے یا بی۔ اے مرید نے اس کا سراغ بتلایا ہے۔ نہ اس کے مآخذ کی تحقیق کی۔ کیونکہ مرشد اقدس کا فرمان صادر ہو چکا تھا کہ جس کو میں حدیث کہہ دوں وہ حدیث ہے اور جس پر میری تصدیق نہ ہو وہ ردی میں پھینک دو۔ یہ حدیث اس وقت آپ نے فرمائی تھی جب ہندوؤں کے کرشن اوتار بننے کا سودا آپ کے دماغ میں سما چکا تھا۔ اب کاہن یا کرشن صاحب کا عقیدہ ان کی کتاب گیتا سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تناسخ کا قائل تھا۔ مگر قادیانی حضرت صاحب اس کو پیغمبروں کی صف میں کھڑا کرتے ہیں۔ حالانکہ ہر نبی اللہ کی تعلیم میں ایمان بالتوحید وایمان بالآخرت لازمی جزو ہے۔ جیسا کہ کامل کتاب قرآن کریم سے ثابت ہے۔ اندریں صورت کسی علمی یا منصوص اصول کی بناء پر قادیانی جماعت سے کسی دینی مسئلہ کے متعلق قطعی فیصلہ کرنا تضیع وقت ودماغ ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفع الیٰ السماء احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اسی طرح نزول من السماء پر بھی احادیث شاہد ہیں اور بعض میں لفظ سماء بھی موجود ہے اور مسیح موعود کے نزول کے قرائن اس قدر ہیں کہ وہ نہ تو کسی سابقہ مدعی مسیحیت پر صادق ہو سکے۔ نہ قادیانی حضرت پر اور شخصیت مسیح موعود کوئی استعارہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔ جس کی تاویل جائز ہو۔ بلکہ وہ اسم علم ہے۔ جس کی تاویل از روئے علمی اصول باطل ہے۔ جس طرح قرآن مجید میں متعدد دفعہ عیسیٰ بن مریم مذکور ہے۔ اسی نام سے حدیثوں میں بھی مذکور ہے اور جب قرآن شریف والا
٣٠
عیسیٰ بن مریم غیر معین نہیں ہو سکتا۔ تو احادیث والا عیسیٰ بن مریم غیر معین کیونکر ہو سکتا ہے؟ ۔علاوہ ازیں قرائن مسیح موعود کے نزول کے متعلق ایسے ہیں کہ جو مدعی ان کے معیار پر ثابت نہ ہو وہ بالضرور کاذب مسیح ہوگا اور معیار منصوصہ پر سلف میں جس کو یقین مع علم تھا۔ اس نے کسی مدعی مسیحیت کو قبول نہ کیا۔ اسی طرح فی زمانہ اسی معیار کو مدنظر رکھنا ضلالت سے بچا سکتا ہے۔ ورنہ بے علمی یا معیار منصوصہ نبی ﷺ پر یقین نہ کرنے کی صورت میں اگر کوئی ضلالت کے گڑھے میں گرنا پسند کرے تو بے شک پڑا گرے۔ احادیث میں معیار مسیح موعود تو زیادہ ہے۔ مگر مختصراً یہاں بھی لکھ دینا مناسب ہے۔ شاید کسی سعید روح کو فائدہ ہو۔ بعد ازیں اختیار ہے۔ خواہ کوئی نبی کریم ﷺ کی بات کو مانے خواہ مسیح کاذب کی بیعت میں داخل ہو کر اور بہشتی مقبرہ کا معینہ چندہ دیکر جنت دجال میں چلا جائے۔
معیار و قرائن مسیح موعود
- ١....... نزول دمشقی منارہ پر۔
- ٢....... بعد ظہور مہدی۔
- ٣....... مہدی کی امامت میں بطور مقتدیٰ بلکہ مہدی کی امامت کا محرک۔
- ٤....... قاتل دجال خاص جو نبوت اور خدائی ہر دو کا مدعی ہوگا اور عجیب عجیب
خارق عادت افعال دکھلائے گا اور اس کا فتنہ دنیا کے کل فتنوں سے بڑھ کر ہوگا اور نبی ﷺ نے اور بھی علامات اس کے فرمائے ہیں۔ مگر مسیح موعود اس کا قرار واقعی قاتل قرار پا چکا ہے۔ اس کا مداح و ماتحت نہ ہوگا۔
- ٥....... یاجوج ماجوج مسیح موعود کی دعا سے ہلاک ہوں گے۔
- ٦....... اس کے عہد میں ایک ہی واحد ملت اسلام کے سوا سب دین مٹ
جائیں گے نہ دلائل سے بلکہ عملاً ۔ کیونکہ از روئے دلائل تو مدت کے مٹ چکے ہیں۔
- ٧....... مسیح موعود مقام روحا سے احرام باندھ کر بیت اللہ شریف کا حج کرے گا۔
- ٨....... نکاح کر کے صاحب اولاد ہوگا۔ کیونکہ پہلی زندگی قبل رفع الی السماء میں
وہ بدون بیوی کے رہا تھا۔
- ٩....... مدینہ شریف میں فوت ہو کر حجرہ نبی میں دفن ہوگا اور اس حجرہ شریف میں
ان کے واسطے چوتھا کونہ اب تک حضرت صدیق و حضرت فاروق کے پاس خالی پڑا ہے۔ جس کا
٣١
نقشہ بھی دوسری سے
- ١٠......
”وانہ لعلم للسا سے ایک نشان قرار ہ شک کر کے شیطان ک کے اس کو قیامت کا ا و ما بعدی تذکرہ کی دلی اس پیشین گوئی پر شک نوٹ: قیا میں نزول ابن مریم بھ نتیجہ: اب ثابت کر دیں۔ ورنہ ا ما انا علیہ واصح دجل مریدان مس یہ حقیقت میں اپنے آپ کو اہل اس پردہ میں اسلام ک ہیں۔ بے شک قرآ و تاویل و معانی حسب ہر ایک مدعی معارف جسمانی نبی ﷺ وزو ہو اس کو کافر جانتے موجب طوالت ہے طمع ہیں۔ جوان من محمد رسول اللہ ﷺ ۔
نقشہ بھی دوصدی سے زیادہ ہوئے اہل سنت نے اپنی بعض کتب میں لکھ دیا ہے۔
- ١٠....... قرآن مجید سورۃ زخرف پارہ ٢٥ میں ذکر ابن مریم علیہ السلام کے بعد
”وانہ لعلم للساعة“ کے ماتحت مسیح موعود قیامت کی دس قریبی نشانات فرمودہ نبی ﷺ میں سے ایک نشان قرار پاچکا ہے۔ اس کے متعلق قرآن کریم بعد ازیں فرماتا ہے کہ اس نشان میں شک کر کے شیطان کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ قرآن مجید نے ابن مریم کا ذکر کر کے اس کو قیامت کا ایک نشان بتلایا۔ پھر بعد ازیں بھی ذکر ابن مریم کو جاری رکھا تاکہ ماقبلی ومابعدی تذکرہ کی دلیل سے ضمیر انہ کی کسی غیر کی طرف راجع ومنسوب نہ ہوسکے اور پھر مزید برآں اس پیشین گوئی پر شک کرنے والے کو شیطان کا مرید کہا ہے۔
نوٹ: قیامت کے قریب خاص دس نشانات سب خارق عادت امور ہوں گے۔ جن میں نزول ابن مریم بھی داخل ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے فرما دیا ہے۔
نتیجہ: اب لاہوری اور قادیانی ہر دو جماعت مذکورہ دس علامات اپنے مزعومہ مسیح میں ثابت کردیں۔ ورنہ اہل سنت ان کو صریح منکر احادیث صحیحہ نبی ﷺ اور گمراہ جان کر خارج از ملت ما انا علیہ واصحابی کا فتویٰ صادر کرنے میں حق بجانب ہیں۔
دجل مریدان مسیح قادیانی
یہ حقیقت ثابت ہے کہ ان ہر دو جماعت کے اشخاص خاص اس ملک میں اور غیرممالک میں اپنے آپ کو اہل سنت حنفی ظاہر کرتے ہیں۔ تاکہ دیگر مسلمان ان سے بدظن نہ ہوجائیں۔ پھر اس پردہ میں اسلام کی اشاعت کا بہانہ کرکے اپنے خاص مشرب کے عقائد کی تبلیغ شروع کردیتے ہیں۔ بے شک قرآن بھی پڑھتے ہیں۔ نمازیں بھی قبلہ رو ہوکر ادا کرتے ہیں۔ مگر عقائد میں تفسیر وتاویل ومعانی حسب ہوائے نفس اہل سنت سے بالکل الگ کرتے ہیں اور قادیانی بیعت کے بعد ہر ایک مدعی معارف قرآن کا بن جاتا ہے۔ یہ اہل سنت ہرگز نہیں۔ کیونکہ امام اعظم ابوحنیفہؒ معراج جسمانی نبی ﷺ ونزول مسیح من السماء کے قائل ہیں اور جو محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی ہو اس کو کافر جانتے ہیں اور بھی بعض عقائد امام اعظمؒ سے یہ ہر دو جماعت الگ ہیں۔ جن کا بیان موجب طوالت ہے۔ پس غورو تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ ہر دو جماعت اس امام قادیانی کے متبع ہیں۔ جو ان متفقہ پیش گوئیوں کا پورا مصداق ہے۔ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے مدت مدید سے صادر ہوچکی ہیں۔
٣٢
- ١...... انجیلی پیشین گوئی
انجیل متی باب ٢٤ بطور خلاصہ بہت سے جھوٹے نبی اور مسیح ظاہر ہوں گے اور ایسے عجائبات دکھلائیں گے کہ بعض برگزیدہ بھی ان کے متبع ہو جائیں گے۔
- ٢...... بخاری پارہ ١٤ ج ١ص ٥٠٩
فرمایا نبی ﷺ نے کہ قیامت سے پہلے تیس دجال کذاب کا دنیا میں آنا ضروری ہے اور ان میں کا ہر ایک نبی اللہ ہونے کا دعویٰ کرے گا۔
اب ہر دو مذکورہ الہامات دو اولوالعزم پیغمبروں کی زبان مبارک سے فرمائے ہوئے معیار پر مسیح قادیانی کو پرکھنے کے واسطے راقم الحروف اس کے صریح کذب وافتراء خیانت وتحریف لفظی اور دجل کے امثلہ پیش کرتا ہے۔ جس کو اس کے متبع حب الشئ یعمی ویصم کی وجہ سے بالکل نہ پہچان کر اس کے جال میں پھنس گئے۔ جن میں ایم۔ اے یا بی۔ اے اور اہل علم عربی دان بھی شامل ہیں۔
کذب وافتراء کی مثال
جب قادیانی صاحب کو قبل نزول مسیح موعود ظہور مہدی کا مسئلہ جیسا کہ احادیث صحیحہ میں ثابت ہے۔ خود مہدی بننے کے خیال سے ناگوار معلوم ہوا تو یوں فرما دیا۔
بطور خلاصہ ”مہدی والی کسی حدیث کو صحیحین (بخاری مسلم) کے محقق محدثین نے بوجہ عدم صحت اپنی صحیح کتب میں درج نہیں کیا۔ حالانکہ اپنی ان ہر دو کتب میں آخری زمانہ کے متعلق انہوں نے بذریعہ احادیث پورا نقشہ کھینچ کر سامنے رکھ دیا ہے۔“
(ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٥١٨، خزائن ج ٣ ص ٣٧٨)
بہت خوب ! مگر جب خود مہدی بننے پر جم گئے تو پھر اسی بخاری کے حوالہ سے اس طرح فرماتے ہیں۔
بطور خلاصہ ”مہدی کے وقت آسمان سے یہ آواز آئے گی۔ ”ھذا خلیفۃ اللہ المھدی“ اور سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ کی ہے۔ جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ (بخاری) میں درج ہے۔“
(شہادۃ القرآن مصنفہ خود ص ٤١، خزائن ج ٦ ص ٣٣٧)
٣٣
نوٹ: نشان کسوف وخسوف ماہ رمضان والے کو غالباً مہدی کے ظہور کی علامت قرار دے کر اس کو آسمانی آواز بیان کرنا بطور استعارہ کے تھا۔ مگر حیرت پر حیرت ہے کہ اس آسمانی شہادت کی اہمیت وصداقت کو بخاری کا حوالہ دے کر کیسے تاکیدی الفاظ سے ظاہر کرتے ہیں۔ بخاری پر الگ افتراء ہے اور جناب نبی ﷺ پر الگ افتراء ہے اور جھوٹ بات کو نبی ﷺ سے منسوب کرنے کے وعید جہنم سے قادیانی صاحب انتہائی بے باکی اختیار کر رہے ہیں۔ مطلب برآری کے وقت خود حدیث گھڑ لینا یا کسی حدیث کو کسی محدث کی کتاب کے سر تھوپ دینا ان کے اصول میں داخل ہے۔ اس تقویٰ وعلمیت وسلطان القلمی پر ان کے مرید لٹو ہورہے ہیں اور کیا مجال کہ کوئی چون و چرا یا اصلیت کی تحقیق کر کے ایسے کاذب و مفتری کی تقلید سے آزاد ہو۔ اس عجیب پریشانی دماغ کی امثلہ کثیر ہیں۔ مگر بخوف طوالت قلیل نمونہ پر اکتفاء مناسب ہے۔
تحریف لفظی وخیانت کی مثال
جب قادیانی صاحب کو مجدد بننا منظور ہوا تو حضرت مجدد سرہندیؒ کی مکتوبات جلد ٢ سے بطور تصدیق یوں لکھ دیا۔
بطور خلاصہ
”مجدد سرہندی اپنی مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ جس شخص کو کثرت مکالمہ ومخاطبہ کا شرف حاصل ہو اور بہت سے امور غیبیہ اس پر کھولے جائیں۔ وہ مجدد ہوتا ہے۔“
(ازالۃ اوہام حصہ ٢ ص ٩١٤، ٩١٥، خزائن ج ٣ ص ٦٠٠، ٦٠١)
بہت خوب! مگر جب قادیانی صاحب کو نبی بننا منظور ہوا تو (حقیقۃ الوحی ص ٣٩٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦) میں مذکورہ مکتوب میں تحریف لفظی کر کے بجائے لفظ مجدد لفظ نبی پیش کر دیا اور مجدد کے بعد جو مثال وہاں حضرت عمرؓ کی مذکور تھی۔ اس کو عمداً خورد برد کر دیا۔ ایمان فروش عطار کی طرح ایک ہی بوتل سے دو الگ الگ قسم کا عرق نکال دینا ان کے اصول میں داخل تھا۔
دجل ومکر کی امثلہ
قادیانی صاحب نثر میں تالیف وتصنیف کتب وغیرہ کے علاوہ شعر گوئی سے بھی بے بہرہ نہ تھے اور جس طرح ان کی نثر میں سوائے اپنے دعاویٰ باطلہ کے کوئی حق بات بھی ہوا کرتی تھی۔ اسی طرح ان کے اشعار میں بھی دعاوی اور اظہار اتباع نبی ﷺ اور ایمان بالمعجزات قرآنی مترشح
٤٤
ہوتا تھا۔ جس سے مقصود پھنسے ہوئے مریدوں کو قابو رکھنے اور دوسرے مسلمانوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے سوا اور کچھ نہ ہوتا تھا۔ جب کوئی مخالف قادیانی صاحب کا ان کی تحریر کی بناء پر اعتراض کرتا کہ دیکھو جی تمہارے حضرت اقدس فلاں جُزء ایک نبی کی توہین کر رہے ہیں اور معجزہ قرآنی سے انکار کر رہے ہیں جو ایک معمولی مسلمان بھی نہیں کر سکتا تو جھٹ مرید اشعار ذیل قادیانی کے اس کو سنا کر لعنت اللہ علی الکاذبین کے جواب سے لاجواب کر دیتے ہیں۔
اشعار
ہست او خیر الرسل خیر الانام ہر نبوت را برو شد اختتام
معجزات انبیائے سابقین آنچہ در قرآں بیانش بالیقین
بر ہمہ از جان و دل ایمان ماست ہرکہ انکارے کند از شقیاست
اب ان اشعار پر مسیح قادیانی کا جو ایمان اور عمل ثابت ہے اس کو ملاحظہ کیجئے۔
(سراج منیر ص ٩٣، ٩٤، خزائن ج ١٢ ص ٩٥، ٩٦)
- ١....... ”اس نبیﷺ کے واسطے ایک خسف واقعہ ہوا۔ مگر میرے واسطے دو کا“
(قمر اور سورج کا)۔
(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)
نوٹ : نہایت لطف کی بات اس اظہار ذیل فضیلت میں جو قادیانی صاحب نے اپنے امام اور خیر الرسل پر کی ہے۔ یہ ہے کہ اپنے ہر دو کسوف وخسوف (چاند گرہن وسورج ) کی خاطر جناب نبیﷺ کے شق القمر کو بگاڑ کر خسف بیان کیا ہے۔ تا کہ تقابل قائم ہو۔ مگر نہ قرآن پر یقین کیا جہاں شق القمر سورۃ قمر میں موجود ہے۔ نہ اس کی تفسیر کا لحاظ رکھا۔ جو احادیث صحیحہ میں ہے۔ خسف کی حالت میں چاند کلیاً یا جزواً تاریک ہونے کی وجہ سے صرف نظر نہیں آتا۔ مگر وجود اس کا بلا تقسیم اجزاء سالم کا سالم رہتا ہے۔ لغت کی بناء پر بھی لفظ شق القمر پھٹ جانا یا ٹکڑے ہو جانے کا مفہوم ہے۔ جو خسف کے بالکل خلاف ہے۔ قادیانی صاحب اپنے مقصود کی خاطر لغت واحادیث مفسرہ کو ردی میں پھینک دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ مدعی ہیں کہ میں مسیح موعود حکم ہو کر آیا ہوں۔ حالانکہ بموجب احادیث صحیحہ مسیح موعود صرف اسلامی شرع کا پابند ہوگا نہ اس قسم کا حکم احادیث ولغت ہر دو کو رد کر دے گا۔ جس سے اسلام کی مخالفت ظاہر ہو۔ قادیانی مسیح خود غیر مسلم حکومت کا محکوم و مداح رہا۔ اپنے مقدمات کی پیروی میں غیر مسلم حکام سے چارہ جوئی کا ہزار ہا روپیہ مریدوں سے لے کر بڑی پریشانی سے تدارک کراتا رہا۔ بلکہ ایک مقدمہ میں بعد ثبوت جرم قائم ہونے کے مبلغ
٢٥
پانسو روپے کا بطور جرمانہ عدالت نے مسیح قادیانی کو حکم سنا دیا۔ جو اپیل سے بمشکل معاف ہوا۔ یہ ہے کیفیت قادیانی مسیح کے حکم ہو کر آنے کی۔
- ٢...... بطور خلاصہ (ازالہ اوہام حصہ ٢ ص ٢٩١، خزائن ج ٣ ص ٤٧٤) ”اگر
آنحضرت ﷺ کو بوجہ عدم موجودگی نمونہ پوری حقیقت ابن مریم، دجال، یاجوج ماجوج، دابۃ الارض کی بذریعہ وحی منکشف نہ ہوئی تو کچھ تعجب کی بات نہیں۔“
نوٹ: دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ برآمد ہوتا ہے کہ قادیانی حضرت کی وحی کامل تھی اور جناب محمد ﷺ کی وحی ناقص تھی اور اللہ تعالیٰ نے ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً (مائدہ:٣)“ اور ”یتم نعمتہ علیک (فتح:٢)“ جو آیات قرآن شریف میں متعلق تکمیل نعمت اسلام و تکمیل نعمت خاص بحق محمد رسول اللہ ﷺ نازل کی ہیں۔ وہ بالکل (معاذ اللہ) جھوٹ ہیں۔ ناظرین نے اب معلوم کر لیا ہوگا کہ قرآن شریف اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر قادیانی مدعی کا ایمان مطابق اشعار مذکورہ حقیقتاً ہے یا دجالانہ؟۔ جو دس نشانات متعلق قیامت جناب نبی ﷺ نے فرمائے ہیں۔ ان میں مغرب سے آفتاب کا طلوع بھی ہے اور دیگر نشانات معہ نزول عیسیٰ بن مریم سب خوارق عادت (مشکوٰۃ باب العلامات بین یدی الساعۃ ص ٤٧٢) میں بروایت مسلم مذکور ہیں اور قادیانی مدعی نے ہر ایک کی تاویل خلاف عقائد اہل سنت کر کے اسلام میں فتنہ برپا کر دیا ہے اور عقائد ”ما انا علیہ واصحابی“ سے مسلمانوں کو ہٹا کر اپنے جدید مذہب کی تعلیم اسلام کے پردہ میں دی ہے۔
اشعار میں ہر طرح و ہر قسم کی نبوت کے خاتمہ کا اقرار ثابت ہے۔ مگر عملاً کسی قسم کی نبوت باقی رہنے نہ دی۔ جس کا دعویٰ قادیانی صاحب نے نہ کیا ہو۔ بروزی ظلی، غیر تشریعی حتیٰ کہ تشریعی کا بھی اور خدائی کا بھی۔ احادیث میں مذکور ہے کہ دجال نبوت اور خدائی ہر دو کا مدعی ہوگا۔ اس کے متعلق راقم الحروف کی سمجھ میں ایک عمدہ نکتہ یہ آیا ہے کہ دجال کے ساتھ خدائی دعویٰ کے علاوہ نبوت کا دعویٰ اس واسطے مذکور ہے کہ بعض صوفیائے کرام جو حالات استغراق و محویت میں انا الحق اور انا اللہ بے خود ہو کر کہہ دیں گے۔ وہ اگرچہ شرعاً قابل مواخذہ ہیں۔ مگر دجالی طور پر ہرگز محمول نہ ہوگا۔ کیونکہ جس جس اہل اللہ کے متعلق ہم مختلف کتب سے ایسے مذکورہ کلمات پڑھتے ہیں وہ نبوت کے ہرگز مدعی نہیں ہوں گے۔ توحید کے غلبہ میں بحالت سکر واستغراق یہ کلمات ان سے بے اختیارانہ سرزد ہوئے ہیں۔ مگر ہم ان کے متعلق یہ بھی ساتھ ہی پڑھتے ہیں کہ بحالت صحو یا افاقہ ان کو جب ایسے کفریہ کلمات کی اطلاع ملی تو انہوں نے تاکیدی قسم کھا کر ان کلمات کے اظہار
٣٩
سے اپنی مطلق بے خبری کا عذر پیش کیا اور توبہ واستغفار سے اس کی تلافی کر دی۔ یا بہ تقاضائے مصلحت شرعی سزا کو قبول کر لیا۔ اب قادیانی مدعی کے کلمات متعلق دعویٰ خدائی اس طرح ہیں۔ ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا ہوں اور نئی زمین و آسمان بنانا چاہا۔ پس میں نے ان کو پیدا کر دیا۔‘‘
(کتاب البریہ ص ٨٥، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣)
قادیانی صاحب بجائے توبہ واستغفار کے ایسی کفریہ خواب کی تلافی کرنے اور معذرت کرنے کے بڑے وثوق سے اس کا اعلان مشتہر کرتے ہیں۔ گویا اس شیطانی القاء کو وحی خیال کرتے ہیں۔ پس دجالِ معہود کے دعویٰ خدائی ونبوت میں مسیح قادیانی کی کامل مشابہت ثابت ہے۔ اس دعویٰ کی حمایت اور تصدیق میں پشاور کے ایک مرید نے ایک رسالہ بنام ’ملفوظ الاولیاء‘ شائع کر کے بعض مسلم صوفیائے کرام کے اسی قبیل کے کلمات اور دعویٰ کفریہ کا حوالہ مختلف کتب سے دیکھ کر قادیانی کو بھی انہی اولیاء میں داخل کر دیا ہے۔ مگر جیسا راقم الحروف ابھی بیان کر چکا ہے۔ مؤلف رسالہ مذکور نے خود دجل اختیار کیا ہے۔ کیونکہ جس طرح ایسے کفریہ کلمات سے صوفیائے کرام واولیائے سلف نے استغفار یا قبولیت شرعی تعزیر سے اس غیر عمد گناہ کی تلافی کر دی ہے۔ جیسا ان کے سوانح سے ثابت ہے۔ اس کا عشر عشیر بھی مؤلف نے قادیانی مدعی کی طرف سے ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ بلکہ اس کو حق بجانب قرار دے کر دجال کے دجل میں پورا حصہ لیا ہے۔
- ...........٣ معجزات انبیاء مذکورہ قرآن مجید کا یقین (شق القمر) کے تحت میں جو
قادیانی صاحب کو حاصل تھا اس سے پہلے ابھی بیان ہو چکا ہے، مگر صراحت سے تحقیر جس قدر عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات قرآنی کے متعلق جو الفاظ قادیانی مدعی نے ازالہ اوہام و دیگر تحریرات میں استعمال کئے ہیں۔ مثلاً مکروہ، قابل نفرت، عمل الترب، مسمریزم وغیرہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دجل کا کمال اس سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ اشتہار میں لوگوں کو کچھ سنایا اور عمل اس پر یہ کیا کہ حقارت کا کوئی لفظ حافظہ اور لغت میں باقی نہ رہنے دیا۔ جو معجزات حضرت ابن مریم علیہ السلام کے بارہ میں استعمال نہ کیا ہو۔ یہ معجزات عطیہ وموہوبہ الٰہی تھے۔ جن کا ذکر قرآن مجید میں دو دفعہ مذکور ہے۔ یعنی (سورہ آل عمران اور سورہ مائدہ میں) اور ہر ایک معجزہ کے اظہار پر باذن اللہ یا باذنی کے صریح الفاظ مذکور ہیں۔ جن کو خدا تعالیٰ یاد کرا کر حضرت مسیح علیہ السلام سے اس نعمت کا شکریہ طلب فرماتا ہے۔ نعمت دینے والا اللہ تعالیٰ ہو اور لینے والا پیغمبر خدا ہو۔ مگر قادیانی صاحب کو یہ عطیہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور حسد وبغض کی آگ سے اس قدر جل بل گئے کہ ان کو مار کر اور کشمیر میں دفن کر کے خود ان کے رتبہ پر قابض ہو گئے۔ ا؎ اس نے یہ شعر ازبر کر لیا۔
٣
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
محمد علی لاہوری نے جب خلافت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے بعد وفات خلیفہ اوّل قادیان سے بستر بوریا اٹھا کر لاہور میں خلافت کی ہوس میں اپنے عقائد کی الگ جماعت بنا کر خلافت کی بجائے امارت کی صدارت حاصل کی تو بعض عقائد میں مسیح قادیانی کے بیٹے خلیفہ ثانی سے بالکل الگ ہو گئے۔ حالانکہ خلیفہ اوّل کے وقت تک سب مرید مساوی العقائد تھے۔ محمد علی لاہوری، مرزا قادیانی حضرت کی نبوت کے قائل نہیں۔ مگر خلیفہ ثانی اپنے باپ کی نبوت کو بڑے زور وشور سے بربناء تحریرات پدر خود ثابت کرتا ہے اور محمد علی لاہوری، قادیانی حضرت کی تحریرات سے نبوت کی نفی کرتے ہیں اور عجیب حیرت کا مقام ہے کہ اس اصولی اختلاف کے بانی خود مرزا قادیانی صاحب ہیں۔ ہاں دعویٰ مسیحیت قادیانی کو ہر دو جماعت لاہوری وقادیانی تسلیم کرتے ہیں۔ محمد علی لاہوری نے قرآن کا انگریزی ترجمہ معہ تفسیر جو قادیان میں شروع کیا تھا۔ اس کی تکمیل بحالت امارت لاہور میں کی۔ اس کے دیباچہ میں فرماتے ہیں۔
’’میں نے چشمہ مسیح موعود یعنی حضرت قادیانی کی صحبت وعلم سے کافی حصہ حاصل کیا ہے‘‘ اور ہونا بھی یہی چاہئے تھا۔ کیونکہ یہ بھی مہاجرین اوّلین سے تھے۔ ایم۔اے، ایل۔ایل۔بی کی سندات سے الگ ممتاز تھے۔ اس واسطے تاویلات میں اپنے مرشد سے بھی چند قدم بڑھ گئے۔ چنانچہ مرشد صاحب تو ابن مریم علیہ السلام کی ولادت بے پدر کو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر محمد علی لاہوری نیچری و معتزلہ عقائد کی اتباع میں حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش باپ سے منسوب کرتے ہیں۔ اہل القرآن جدید فرقہ منکر احادیث رسول اللہ کے اردو ترجمہ قرآن سے بھی بعض مقامات پر محمد علی لاہوری کے عقائد میں قادیانیت کا کثیر حصہ اور نیچری واہل قرآن واہل سنت کے عقائد کا حصہ بھی کم وبیش شامل ہے۔ محمد علی لاہوری مسیح قادیانی کی مسیحیت ومجددیت کے منکر کو بظاہر کافر تو نہیں کہتے۔ مگر عملاً اہل سنت کی نمازوں اور جنازوں میں برملا عام طور پر شامل نہیں ہوتے۔ کیونکہ جب اہل سنت کے عقائد سے کلاً متفق نہیں تو اپنی مساجد وغیرہ کا علیحدہ انتظام کرنا ان کے نزدیک لازمی ہے۔ مگر قادیانی یا محمودی جماعت مسیح قادیانی کی نبوت کے منکر کو صریحاً کافر کہتے ہیں اور دوسرے غیر قادیانی مسلمانوں کے ہمراہ نماز وجنازہ میں بالکل شامل نہیں ہوتے نہ اپنی لڑکیاں ان کو دیتے ہیں۔ مسیح موعود کے بارہ میں قادیانی کے عقائد پر کوئی
٣٨
مبصر اور محقق غور کرے تو بالیقین انشاء اللہ اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ ان کو خبط دماغ کا مرض لاحق تھا۔ جس کو اصطلاح طب میں (مراق ، مالیخولیا) بولتے ہیں۔ یہ نامراد مرض مریض کے دماغ کو ایسا پریشان کر دیتی ہے کہ اگلا پچھلا قول کا بالکل فراموش ہو جاتا ہے اور اکثر بالکل متضاد اقوال مریض سے سرزد ہوتے ہیں۔ بالخصوص جب اس مرض کا دورہ ہو۔ اس مرض کا اظہار قادیانی صاحب کی تحریرات سے ثابت ہے۔ مگر آپ کے پسر خلیفہ ثانی نے بھی جب اس مرض کی خود تصدیق کر دی ہے تو اس بارہ میں مزید تحقیق کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ (ریویو بابت ماہ اگست ١٩٢٦ء ص ١١) پر اس طرح فرماتے ہیں۔
بطور خلاصہ
”حضرت مسیح موعود کو یہ مرض (مراق) ورثہ میں نہیں ملا تھا۔ مگر جب خاندان میں اس کی ابتداء ہو چکی تو پھر آئندہ نسل میں یہ مرض منتقل ہے۔ چنانچہ مجھ کو بھی کبھی کبھی اس مرض کا دورہ ہو جاتا ہے۔“
باپ اور بیٹے خلیفہ ثانی ہر دو کے مرض مراق کی امثلہ کے واسطے اگر کوئی محقق ایک علیحدہ رسالہ مخصوص کر سکے تو فراغت کے وقت اس کا مطالعہ نہایت دلچسپ شغل ہو سکتا ہے۔ افسوس اس لطف سے ناظرین کو راقم الحروف بوجہ قلت گنجائش پورا بہرہ اندوز نہیں کر سکتا۔ البتہ چند دلچسپ ومعنی خیز امثلہ باپ اور پسر خلیفہ ثانی ہر دو کی بطور متبرک ہدیہ کے اس موذی مرض مراق کے متعلق اس جگہ پیش کر کے ناظرین سے انصاف کا طالب ہے کہ اسی تبرک چشمہ کے فیض یاب محمد علی لاہوری ہیں اور اسی چشمہ روحانی سے خلیفہ اوّل وخلیفہ ثانی حتی کہ کل مریدان انجیلی پیشین گوئی کا پورا ہونا بھی لازمی تھا۔ کاذب مسیحوں کے جال میں بعض اہل علم وبصیرت بھی پھنس جائیں گے۔ جس کا ذکر اوراق ماسبق میں گذر چکا ہے۔
نمونہ امثلہ مرض مراق مسیح قادیانی
- مثال اوّل.......الف.......مسیح ابن مریم کے نزول کا عقیدہ کوئی ایمانیات کی جزو نہیں۔
(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٧١)
- ب.......مسیح جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین
اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٤٩٨، ٤٩٩، خزائن ج ٢١ ص ٥٩٣)
٣٩
ج ...... ایک کیا دس ہزار سے بھی زیادہ مسیح بھی آ سکتا ہے۔
(ازالہ ص ٢٥، خزائن ج ٣ ص ١٥١)
د ...... ممکن ہے کہ مسیح موعود جیسا احادیث میں لکھا ہے۔ جلالی رنگ میں نازل ہو۔ کیونکہ یہ عاجز غربت اور درویشی کے رنگ میں آیا ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٢٠٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٧)
ہ ...... مسیح موعود پر عملاً ایمان لانا کافی ہے۔
و ...... میں مثیل مسیح ہوں۔
(ازالہ اوہام ص ١٤٠، خزائن ج ٣ ص ١٦٢)
ز ...... میں خود مسیح موعود ہوں (ہر قادیانی کتاب کے ٹائٹل پر موجود ہے) مجھ پر ایمان نہ لانا موجب عذاب ہے۔
(تذکرہ ص ٦٠٧)
ح ...... مسیح گلیل میں جا کر فوت ہو گیا۔ جہاں اس کی قبر ہے۔
(ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣)
ط ...... مسیح کی قبر سری نگر (کشمیر) میں ہے۔
(کشتی نوح ص ٥٤، خزائن ج ١٩ ص ٥٨)
ی ...... خواہ میں لاکھ معجزات دکھلاؤں لیکن جو کام مسیح موعود کے متعلق مذکور ہیں۔ ان کو اگر میں نہ کر دوں تو میں جھوٹا ہوں۔ مسیح موعود کے متعلق ازالہ اوہام و دیگر تحریرات میں اسی قسم کے اور بھی متضاد عقائد مذکور ہیں۔ مگر بخوف طوالت نظر انداز کئے گئے ہیں۔
مثال دوم ...... (کتاب تذکرۃ الشہادتین ص ٢٦، خزائن ج ٢٠ ص ٢٨) ”عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھایا جانے کے بعد خدا نے ان کو مرنے سے بچا لیا اور ان کی وہ دعا جو باغ میں جا کر بڑی تضرع سے آپ نے کی تھی منظور کر لی۔“
”حضرت مسیح نے ابتلا کی رات میں جس قدر تضرعات کئے وہ انجیل سے ظاہر ہیں۔ تمام رات جاگتے ...... اور رو رو کر دعا کرتے رہے کہ وہ بلا کا پیالہ جو ان کے لئے مقدر تھا ٹل جائے۔ پر باوجود اس قدر گریہ وزاری کے بھی دعا منظور نہ ہوئی۔“
(کتاب تبلیغ رسالت جلد اول ص ١٣٢، ١٣٣، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٧٥ حاشیہ)
نوٹ: مسیح ابن مریم کو سولی پر چڑھانے کی نوبت ہی نہیں آئی تھی۔ جیسا کہ اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ اس باطل عقیدہ کو قادیانی صاحب نے انجیل سے اخذ کیا ہے۔
مثال سوم ...... (بطور خلاصہ) خاتم النبیین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایسی مہر
٤٠
عطا ہوئی کہ آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے۔ جس کا ثبوت حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل میں ملتا ہے اور یہ مہر کسی اور نبی کو عطا نہیں ہوئی۔ بنی اسرائیل میں اگر چہ بہت نبی آئے ۔ مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا۔ بلکہ وہ براہ راست خدا تعالیٰ کا عطیہ تھا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص ٩٧ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٠)
” حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اتباع سے ان کی امت میں ہزاروں نبی ہوئے۔“
(اخبار الحکم مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء ج ٦ نمبر ٤٢ ص ٥)
مثال چہارم ...... ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ پر میرا عقیدہ ہے۔ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ کی نسبت میرا ایمان ہے۔ میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں۔ جس قدر خدا تعالیٰ کے پاک نام ہیں۔ اور جس قدر قرآن کریم کے حروف ہیں اور جس قدر حضرتﷺ کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں۔
(کرامات الصادقین ص ٢٥ خزائن ج ٧ ص ٦٧)
”اے برادر جان لے کہ میں نے ہرگز نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ نہ میں نے ان کو کہا ہے کہ میں نبی ہوں۔ میرے لئے یہ شایان نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور قوم کافروں میں شامل ہو جاؤں۔“
(حمامۃ البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٦)
- الف ...... ”اے مرزا تو عام طور پر سب لوگوں میں اعلان کر دے کہ تو ان تمام کے
واسطے رسول اللہ ہے۔“
(اخبار الاخیار ص ٣)
- ب ...... ”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیج دیا۔“
(دافع البلاء ص ١١، خزائن ج ١٨ ص ٢٣١)
- ج ...... ”قریہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا مصدر
مقام ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠)
- د ...... ”میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی
نے مجھ کو نبی کا نام دیا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٦٨، خزائن ج ٢٢ ص ٥٠٣)
”سابقہ اولیاء، ابدال، اقطاب کو نبوت کے واسطے اس قدر روحانی مرتبہ عطاء نہیں ہوا۔ جس قدر مجھ کو عطاء ہوا ہے۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٩١، خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
نوٹ: یہی اصول عقائد کا معرکۃ الاراء مسئلہ خلیفہ اوّل کی وفات سے آج تک لاہوری ٤١
اور قادیانی جماعت میں متنازعہ فیہ چلا آتا ہے۔ محمد علی لاہوری اپنے دلائل میں قادیانی حضرت کے نبوت سے صریح انکار کے اقوال پیش کرتے ہیں۔ جن کے بالمقابل خلیفہ ثانی قادیانی صاحب کے فرزند ارجمند اپنے باپ کے دعویٰ نبوت پر انہی کی مختلف تحریرات سے اقوال پیش کر کے یہ وجہ تاویل پیش کرتے ہیں کہ پہلے میرے والد صاحب نے نبوت سے جو انکار صریح کیا ہے تو اس بناء پر کیا تھا کہ ان کو اس بارہ میں وحی آسمانی نے کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ مگر بعد ازاں وحی الٰہی نے والد صاحب کو صاف الفاظ میں عطاء نبوت کا مژدہ سنا دیا۔ اس واسطے دعویٰ واعلان نبوت میں میرے پدر بزرگوار حق پر ہیں اور یہی عقیدہ کثیر جماعت محمودی یا قادیانی جماعت کا ہے اور اپنے مختلف کتب واخبارات میں ایک دوسرے پر تہذیب سے گرے ہوئے کلمات سے لے دے کرتے ہیں۔ جس سے اکثر ولایت ودیگر ممالک کے نو مسلم انگشت بدنداں ہیں اور جن میں لارڈ ہیڈلی معہ اپنے ہم خیالوں کے بھی شامل ہیں۔ مگر درحقیقت لاہوری جماعت کے امیر محمد علی صاحب خلیفہ اوّل کی وفات پر قادیان میں خود قادیانی حضرت کی نبوت کو تسلیم کرتے رہے۔ جیسا رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے مختلف مضامین سے ثابت ہے۔ یہ رسالہ ان کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔ پس بعد ازاں جبکہ خلافت کی مایوسی ان کو لاہور لے گئی تو اس عقیدہ سے بریت ظاہر کر کے ایک جماعت کو اپنے ہم خیال بنانے میں کامیابی حاصل کر لی اور امارت کی مسند پر متمکن ہو گئے۔ اوّل اوّل زیادہ تر انگریزی خوان شامل ہوئے۔ پھر رفتہ رفتہ اردو خوان بھی شامل ہوتے گئے۔ حتیٰ کہ امروہہ کے محمد احسن صاحب بھی جن کی علمیت کی قادیان میں دھوم مچی ہوئی تھی، لاہوری جماعت میں آ ملے۔ قادیانی جماعت انکار نہیں کر سکتی کہ قادیانی حضرت مامور من اللہ صاحب وحی مہدی ومسیح موعود ضرور تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی شان بے نیازی کا عجیب کرشمہ دیکھو کہ قادیانی جماعت کی عقل اور نور فراست ان کے اندر سے ایسے زائل ہو گئے ہیں کہ اتنا بھی تدبر کرنا ان کے لئے دشوار ہو چکا ہے کہ ایک وجود قوم کی اصلاح کے واسطے جب مامور من اللہ ہو کر صاحب وحی کے رتبہ تک پہنچ جاتا ہے تو متواتر کئی سال تک اس کو وحی سے اطلاع نہیں ملتی کہ تم رسول ونبی ہو۔ حتیٰ کہ وفات سے چند سال پہلے وحی نازل ہو کر چپکے سے کان میں کہہ دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو نبوت عطاء فرمائی ہے اور اس امت میں اس عہدہ کے لائق سوا تمہارے آج تک کوئی پیدا نہیں ہوا۔ نبوت کا عطیہ تو مامور ہونے پر ہی عطاء ہو جاتا ہے اور ہرگز تدریجی و ارتقائی عہدہ نہیں ہوتا۔ جس کی مثالوں سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے۔ اب ایسی وحی اگر بقول خلیفہ ثانی حضرت قادیانی صاحب کو
٤٢
ہوئی بھی ہو تو ان کی باقی وحیوں کی طرح ہوائے باطل تھی اور قادیانی حضرت جس طرح تدریجا مسیح موعود بنے اسی طرح ارتقائی و تدریجی نبی بھی بن گئے۔ ایک رتبہ اپنا شروع میں ظاہر کرتے۔ پھر اس کی قبولیت کم از کم مریدوں میں دیکھ کر اس سے بڑھ کر ایک اور رتبہ کا اعلان کرنا ان کا شیوہ تھا۔ جس کو دجل ومکر سے تعبیر کرنا بالکل صحیح ہے۔ کیونکہ گذشتہ اوراق میں زیر عنوان (کذب وافتراء، خیانت وتحریف لفظی ودجل ومکر) قادیانی صاحب چند امثلہ بطور نمونہ مذکور ہو چکی ہیں اور بموجب پیشین گوئی مندرجہ انجیل وصحیح بخاری ان کو کاذب مسیح و کاذب نبی ثابت کیا جا چکا ہے۔ مگر ہر دو صاحبان یعنی خلیفہ ثانی اور محمد علی لاہوری امیر لاہوری جماعت اب جس مسلک پر اپنے متبعین کو چلا رہے ہیں وہ اہل سنت سے بالکل الگ ہے۔ ہاں اس میں شک نہیں کہ خلیفہ صاحب تو مسیلمہ پنجاب کا کھلا تابع ہے۔ مگر امیر صاحب لاہوری بسبب انکار نبوت قادیانی اسلام منصوص کے قریب تر آگئے ہیں۔ مگر بیعت قادیانی مسیح سے رجوع کرتے نظر نہیں آتے اور اب امارت کی مسند سے علیحدہ ہونا ان کے لئے محال ہے۔ کیونکہ قادیان میں خلافت کی مایوسی جو ان کو لاہور لے آئی تھی۔ اس کا نعم البدل بصورت امارت ان کو حاصل ہو چکا ہے۔
خلیفہ ثانی پسر صاحب قادیانی کے مرض مراق کی مثال
”یہ سچ ہے ہم سیاست سے کوئی تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہم ایسی کتابیں پڑھتے ہیں جن میں سیاسی امور پر بحث کی گئی ہے۔“
(اخبار الفضل مورخہ ١٦ جولائی ١٩٢٦ء ص ٩ ج ١٤ نمبر ٢)
پھر بعض نادان دوست ایسے موجود ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے اندر سیاست تو ہے نہیں تو پھر کیوں ہم کسی کی بات مانیں۔ مگر یہ بات غلط ہے ہمارے اندر سیاست ہے۔ جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی سیاست ہے وہ خلیفہ کی بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں اور اصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔ خلیفہ کے لئے سیاست وہی عقیدہ ہے۔ جس کے لئے میں گیارہ سال سے غیر مبائعین سے جھگڑ رہا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست ہے ہی نہیں۔ جب سیاست نہیں تو خلیفہ بھی نہیں۔ کیونکہ خلیفہ بغیر سیاست کے نہیں ہو سکتا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہم میں سیاست ہے۔
مسیح موعود کے متعلق عجیب وغریب اسرار
اگرچہ مسیح موعود کی شخصیت و فرائض خاص کے متعلق صفحات گذشتہ میں بر بناء آیات
٤٣
کریمہ واحادیث صحیحہ مرفوعہ بیان کر چکا ہے کہ کاذب مسیح وصادق مسیح میں ایک مومن بالقرآن ومومن بالاحادیث کو صحیح تمیز حاصل ہو سکتی ہے۔ مگر اس کے متعلق چند عجیب وغریب اسرار ابھی باقی ہیں۔ جن کا بیان خاتمہ کتاب ہذا میں کرنا انشاء اللہ موجب انبساط قلب وشرح صدر ہوگا۔
- ١...... قرآن شریف میں دین اسلام کے غالب ہونے کی پیش گوئی اس آیت
میں موجود ہے۔ ”هو الذی ارسل رسوله بالهدی ودین الحق لیظهره علی الدین کله (فتح: ٢٨)“ یہ پیش گوئی تین دفعہ مذکور ہے۔ ایک دفعہ سورۂ فتح میں اور دوسری دفعہ سورۂ صف میں اور تیسری دفعہ سورہ توبہ میں۔
جب اس پیش گوئی کو قرآن میں اس قدر وقعت واہمیت حاصل ہے تو اس کا پورا ہونا تقدیر مبرم میں داخل ہے۔ جو کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا یہ پیش گوئی بعہد جناب سرور کائنات محمد رسول اللہ ﷺ یا بعہد خلفاء راشدینؓ یا بعد ازیں کامل طور پر پوری ہو چکی ہے۔ یا محض جزوی طور پر پوری ہوئی ہے اور اگر ماقبل ہر سہ ازمنہ میں اس کا کامل ظہور وقوع پذیر نہیں ہوا تو اس التواء میں کیا حکمت الہی مضمر ہے اور اس کی تکمیل کس عہد خاص سے وابستہ ہے۔
جواب: ہاں یہ حقیقت ثابت ہے کہ اگرچہ غلبہ اسلام از روئے دلائل وبراہین ہر سہ مذکورہ ازمنہ میں بخوبی اظہر من الشمس ہے۔ تاہم عملی طور پر اسلام کا غلبہ ثابت نہیں۔ کیونکہ عہد نبوت میں اسلام صرف ملک عرب میں غالب ہوا باقی ممالک میں کچھ تو خلفائے راشدینؓ کے وقت بعد ازاں دیگر خلفاء کے عہد میں یعنی ہسپانیہ، کابل، تاتار، ہندوستان وغیرہ جس میں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بالکل صحیح ہے کہ ابھی وہ زمانہ مصداق لیظهره علی الدین کله والا آنے والا ہے۔ جس میں اس پیشین گوئی کا کامل ظہور مقدر ہے اور وہ زمانہ مسیح موعود علیہ السلام کا ہوگا۔ جس کی بابت مفسر حقانی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اطلاع کر دی ہے کہ مسیح موعود کے وقت سوا اسلام کے دیگر کل ادیان معدوم ہو جائیں گے اور وہ میرے دین کا اتباع کریں گے اور حج بھی کریں گے اور صاحب اولاد بھی ہوں گے اور میرے مقبرہ میں دفن ہوں گے۔
- ٢...... حضرت رسول کریم ﷺ کے مقبرہ میں اس وقت خلفائے راشدینؓ
میں سے صرف دو خلیفہ صدیقؓ وفاروقؓ مدفون ہیں۔ باقی دو حضرت عثمانؓ وحضرت علیؓ کے واسطے اللہ کی حکمت بالغہ نے اس میں مدفون ہونا مقدر نہ فرمایا۔ کیونکہ بلحاظ ابتدائی غلبہ اسلام کے پہلے ہر دو خلیفہ اس کے مستحق تھے اور آخری کلی غلبہ کے لحاظ سے مسیح موعود علیہ السلام اس کے مستحق تھے۔ تیسرے اور چوتھے خلفاء راشدین کے عہد میں اسلامی فتوحات کی بجائے فتنے وفساد پھیلنے شروع ٤٤
ہو گئے تھے۔ اگرچہ خلافت نبوت کے اصول پر بدستور قائم رہی۔
- ٣...... حضرت مسیح علیہ السلام کا غیر متاہل رہنا انجیل، احادیث اور تاریخ سے
ثابت ہے۔ مگر قرآنی آیت ”ولقد ارسلنا رسلاً من قبلك وجعلنا لهم ازواجاً وذرية (رعد:٣٨)“ کے ماتحت مسیح علیہ السلام جناب رسول اللہ ﷺ کے ما قبلی رسولوں میں داخل ہونے کی وجہ سے اپنے عہد میں بذریعہ نکاح آیت مذکور کے مصداق ہوں گے۔ تا کہ جس طرح ”لیظهره علی الدین کله“ کے مصداق ہوں اسی طرح صاحب زوج و ذریة بھی ثابت ہوں اور سورۂ رعد والی مذکورہ آیت میں کذب کا (معاذاللہ ) احتمال باقی نہ رہے۔
- ٤...... لہٰذا حضرت مسیح علیہ السلام کے نکاح ومدفن وادائے حج وکامل غلبہ اسلام
وعدم صلب ورفع الی السماء ونزول من السماء کے متعلق جس قدر احادیث صحیحہ وارد ہیں۔ جن پر اہل سنت کا ایمان ہے۔ وہ قرآن کے خلاف نہیں کیونکہ وہ عبارت النص، دلالت النص، اشارت النص، اقتضاء النص کے چاروں اصول کے ماتحت ہیں۔ جن کو نبی ﷺ نے وحی خفی کی تائید سے فرمایا۔ اگرچہ مذکورہ اصطلاحات بعد میں وضع ہوئیں۔
- ٥...... قرآن مجید میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق دو اور اشارات بھی مذکور
ہیں ۔ جن کا ثبوت احادیث میں بھی موجود ہے۔
- اوّل...... ”وان من اهل الکتب الا لیؤمنن به قبل موته ویوم القیمة
یکون علیهم شہیداً (النساء: ١٥٩)“ اس آیت میں پہلے ذکر مسیح علیہ السلام کا ہے اور خاص آیت میں ذکر موت سے پہلے اہل کتاب کے ایمان لانے کا ہے اور بعد ازیں اس ایمان کی شہادت منسوب مسیح علیہ السلام ہے۔ جو اسی صورت میں صحیح قرار دی جاسکتی ہے کہ آپ کے وقت کل اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی موت سے پہلے اس پیش گوئی کا پورا ہونا حتمی اور لازمی ہے۔ کیونکہ قبل رفع کے وقت یہود اہل کتاب آپ پر ایمان نہ لائے تھے۔ (بخاری ج١ ص ٤٩٠ ، باب نزول مسیح) میں مذکورہ آیت کی تفسیر اسی طرح موجود ہے۔ جس کے خلاف یا جس پر کسی صحابی کا انکار ثابت نہیں ۔ لہٰذا اہل سنت کا یہ اجماعی مسئلہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بعد نزول فوت ہوں گے۔ بعد رفع وہ ماتحت قدرت الٰہی ہیں۔ جس طرح اصحاب کہف تین سو نو سال تک بدون خوراک زندہ رہے۔ علیٰ ہذا القیاس اللہ تعالیٰ کی قدرت کا احاطہ کرنا غیر ممکن ہے۔
- دوم...... حضرت مسیح علیہ السلام کو قرآن سورۂ زخرف: ٦١ میں ”وانه لعلم
للساعة“ فرمایا گیا ہے۔ یعنی وہ قیامت کا ایک نشان ہے اور ضمیر انه کی راجع بطرف مسیح علیہ
٤٥
السلام ہے۔ جس کا ڈبل ثبوت موجود ہے۔ ایک تو خود قرآن میں موجود ہے۔ یعنی اس آیت کے پہلے بھی آپ کا ذکر ہے اور اس آیت کے بعد بھی آپ ہی کا ذکر ہے۔ بلکہ تاکیداً یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اس پیشین گوئی میں شک مت کرو اور اس مسئلہ میں شیطان کی بات نہ سنو۔ کیونکہ وہ رفع و نزول مسیح کے خلاف قانون قدرت ہونے کی غلط حجت پیش کر کے دل میں شک اور وسوسہ ڈال دیتا ہے۔ اس مفہوم کی تصدیق مسلم کی حدیث مرفوعہ سے بھی ہوتی ہے کہ مسیح علیہ السلام قیامت کے دس نشانات سے ایک نشان ہے اور یہ دس نشانات جملہ از قسم خرق عادت ہیں۔ لہٰذا مسیح ابن مریم کو استعارہ قرار دے کر اس کا مشابہ کسی غیر کو قائم کرنا خرق عادت نشان ہر گز نہیں ہو سکتا۔
سوم...... ”والله خير الماكرين (انفال:٣٠)“ یعنی اہل اللہ کے دشمنوں کی تدبیر کے مقابلہ میں اللہ کی تدبیر و حکمت غالب رہتی ہے۔ جس سے دشمن بالکل ناکام ہو جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں صرف دو دفعہ واقع ہوا ہے۔ ایک جگہ سورہ آل عمران پارہ: ٣ رکوع: ١٣ میں حضرت مسیح علیہ السلام کو بچانے کے وقت اور دوسری جگہ رسول اللہ ﷺ کو بچانے کے وقت سورہ انفال پارہ: ٩ رکوع: ١٨ میں احادیث مرفوعہ سے ثابت ہے کہ مذکورہ ہر دو رسولوں کا دشمنوں نے محاصرہ کر لیا تھا اور ہر دو رسول دشمنوں کے فریب و بے آبروئی سے بال بال بچ رہے۔ چنانچہ جناب رسول اللہ ﷺ کے محاصرین کی آنکھوں پر اللہ تعالیٰ نے پردہ ڈال دیا اور آپ رات کے وقت ان کی موجودگی اور پہرہ اور بیداری کے باوجود گھر سے نکل کر اور صدیق کو گھر سے بلا کر تین میل کے فاصلہ پر غار ثور میں پناہ گزین ہو گئے۔ غار کے منہ پر عنکبوت نے بحکم الٰہی جالا تن دیا اور آپ کے قدم مبارک کے نشانات پر تعاقب کرنے والوں کی تلاش کو بالکل ناکام کر دیا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی شبیہ اللہ تعالیٰ نے ایک حواری پر ڈال کر ”ولــكــن شــبــه لــهــم (النساء: ١٥٧)“ ان کو اپنی قدرت کاملہ سے آسمان پر اٹھا لیا اور سولی پر چڑھنے کی نوبت نہ پہنچنے دی۔ انجیلی بیان اور قادیانی صاحب کا بیان کہ مسیح ذلیل بھی ہوا اور اس کے جسم میں کیل اور میخیں بھی ٹھونکی گئی۔ سراسر خلاف قرآن و احادیث ہیں۔ کیونکہ خیر الماکرین کی آیت مذکورہ جب ہر دو رسولوں کے واسطے خاص محدود ہے تو اس کا نتیجہ بھی مساوی الاثر ہونا لازمی ہے۔ مگر نہایت حیرت بلکہ افسوس کا مقام ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں تو یہ یقین کیا جائے کہ آپ محاصرین سے بدون ذلیل و مضروب ہونے کے بال بال بچ کر غار میں جا چھپے اور وہاں سے بھی کافر نامراد لوٹے۔ مگر اسی آیت کے ماتحت حضرت مسیح علیہ السلام کے بارہ میں یہ یقین جائز رکھا جائے کہ محاصرین نے آپ پر اس قدر قابو پالیا تھا کہ آپ کو کئی طریقوں سے ذلیل بھی کیا اور آخر سولی پر
٤٦
چڑھا کر آہنی کیل میخیں بھی جسم مبارک میں ٹھونک دیں۔ حالانکہ مسیح علیہ السلام کے بارہ میں آیت ذیل اس امر کی مزید شہادت علاوہ مذکورہ آیت کے صاف طور پر دے رہی ہیں کہ آپ پر یہود ہرگز قابو نہ پا سکے نہ آپ کی بے حرمتی کر سکے۔
- آیت اول ...... ”وجعلنی مبارکاً اینما کنت (مریم:٣١)“
- آیت دوم ...... ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک (مائدہ:١١٠)“
- آیت سوم ...... ”وجیہاً فی الدنیا والآخرۃ (آل عمران:٤٥)“
”ولکن شبہ لہم“ میں حرف ’ل‘ بنابر ضرار یعنی ضرر و نقصان ہے۔ جس طرح ”لہم کالام واملی لہم ان کیدی متین (نون:٤٥)“ میں ہے۔ تشابہ و تشبیہ میں جب شبہ کا مفہوم ہو تو اس کا صلہ (علی) ہوتا ہے۔ مثلاً ”ان البقر تشابہ علینا (البقرہ:٧٠)“ مگر نحو کا یہ باریک نکتہ سمجھنا ذرا مشکل ہے۔ (دیکھو نوٹ زیر آیت) ”اللہ خیر الماکرین“ ترجمہ انگریزی سیل صاحب جس میں آیت ولکن شبہ لہم پر کافی بحث ہے اور یہ بھی وہاں مذکور ہے کہ ابتداء میں بعض نصاریٰ کے فرقے مسیح کے عوض دیگر مشتبہ وجود کے مصلوب ہونے کے قائل تھے۔ انجیل بربناس و تفاسیر اہل سنت بھی اسی کی مؤید ہیں۔ اب رہا اس شبہ کا ازالہ کہ دشمنوں سے بال بال بچ جانا اور رسوائی سے بھی محفوظ رہنا تو ہر دو رسولوں کا از روئے قرآن و احادیث مسلم ہے۔ مگر آخری پناہ میں فرق عظیم کیوں ہے؟ ۔ ایک کو غار میں پناہ ملتی ہے۔ دوسرے کو آسمان میں اور اس میں تنقیص فضیلت جناب ﷺ پائی جاتی ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ تنقیص ہرگز نہیں۔ کیونکہ رفع مسیح سمٰوت تک بنابر مشاہدہ آیات اللہ معراج میں حضور کا صفحات ماسبق میں ثابت ہو چکا ہے۔ جو مسیح کیا کسی نبی کے واسطے بھی ثابت نہیں۔ بلکہ غار ثور کا زمینی معجزہ سماوی معجزہ سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہاں سے دشمن باوجود آپ کا سراغ لگانے کے بالکل ناکام و نامراد واپس آئے اور آسمان پر دشمن کا جانا قدرتاً محال تھا۔ باقی رہا خیر الماکرین کی حکمت و قدرت کا راز معلوم کرنا کہ کیوں اس طرح کیا اور کیوں اس طرح کیا؟ ۔ گستاخی میں داخل ہے۔ ”لا یسئل عما یفعل وہم یسئلون (انبیاء:٢٣)“ اس کی شان ہے۔ البتہ بال بال ہر دو رسولوں کا بچ رہنا اور پناہ کا حاصل ہونا ہر دو نتائج خرق عادت امور ہیں۔ جن میں مشابہت کامل ہے۔ پس بعد ازیں مسیح موعود کے بارہ میں باطل خیالات کی پیروی کرنا ”فبای حدیث بعدہ یؤمنون (مرسلات:٥٠)“ کے وعید میں داخل ہے۔ خاکسار اللہ تعالیٰ سے اپنے واسطے اور مؤمنین کے واسطے بہ طفیل اس کے حبیب ﷺ کی ہدایت کی دعا کرتا ہے۔
٤٧