شعورِ ختم نبوت اور قادیانیت شناسی · محمد طاہر رزاق
Shaoor Khatm-e-Nubuwwat aur Qad Shanasi · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

شعورِ ختمِ نبوت

اور

قادیانیت

شناسی

PDF 2

شعور ختم نبوت

اور

قادیانیت شناسی

(سوالاً جواباً)

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان

PDF 3

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہر مسلمان اس کتاب کو شائع کر سکتا ہے۔ لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔

نام کتاب ------- شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی مصنف ------- محمد طاہر رزاق تعداد ------- اکیس سو قیمت ------- 30 روپے اشاعت چہارم ------- ۱۴ اگست ۱۹۹۹ء ناشر ------- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ۔ ملتان مطبع ------- شرکت پرنٹنگ پریس، 43 نسبت روڈ لاہور

ملنے کا پتہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ حضوری باغ روڈ۔ ملتان مکتبہ سید احمد شہید۔ اردو بازار۔ لاہور

PDF 4

چہرہ مضامین

صفحہ 5

دستک

اے افراد ملت اسلامیہ! آج ہمارے ملک پاکستان میں ہر ہر محلے میں مسجد ہے۔۔۔ دینی ادارے ہیں۔۔۔ مذہبی جماعتیں ہیں۔۔۔ رفاہی تنظیمیں ہیں۔۔۔ اسلامی عسکری پارٹیاں ہیں۔۔۔ اسلامک یوتھ فورسز ہیں۔۔۔ اسلامی طلبہ تنظیمیں ہیں۔۔۔ حمدیہ نعتیہ بزمیں ہیں۔۔۔ مذہبی رسائل ہیں۔۔۔ اسلامی صحافت کے علمبردار جرائد ہیں۔۔۔ مذہبی اشاعتی ادارے ہیں۔۔۔ اسلامک ریسرچ سنٹر ہیں۔۔۔

لیکن دینی اداروں کے اس ہجوم میں قادیانی بڑے آرام و سکون سے رہ رہے ہیں۔۔۔ اور اپنے ارتدادی مشن میں پوری قوتوں سے سرگرم ہیں۔۔۔ اسلام کے متوازی ایک نئی نبوت اور نیا دین لاکر اسلام کی روح ”عقیدہ ختم نبوت“ پر حملہ آور ہیں اور اپنی مکاری سے مسلمانوں کو مرتد بنا رہے ہیں۔۔۔!!!

لیکن یہ مذہبی طبقہ ان کا راستہ نہیں روکتا۔۔۔ ان کا مد مقابل نہیں بنتا۔۔۔ ان کے ارتدادی تعفن کو محسوس نہیں کرتا۔۔۔ ان کے ایمان شکن اور اسلام سوز عقائد کا محاسبہ نہیں کرتا۔۔۔ ان کی سازشوں کو طشت از بام نہیں کرتا۔۔۔ عوام الناس کو ان کی زہرناکیوں سے آشنا نہیں کرتا۔۔۔ اور اگر کہیں قادیانیت کے دام تزویر میں پھنس کر کوئی مسلمان

صفحہ 6

قادیانی ہو جائے تو اس سے صرف نظر کرتا ہے۔

اگر صرف پاکستانی مذہبی طبقہ قادیانیوں کی سرکوبی کے لیے صرف ایک ہفتہ وقف کر دے تو پاکستان میں قادیانی نام کی کوئی خباثت ڈھونڈے سے بھی نہ ملے ـــــ اور پاکستان قادیانیت کی نحوست سے پاک ہو جائے۔

لیکن یہ مذہبی طبقہ ایسا کیوں نہیں کرتا؟

کچھ بھی ہو ـــــ دنیا اور آخرت کے محاسبے سے ہماری جان نہیں چھوٹتی ـــــ کیونکہ حق کو نہ جاننا بھی جرم ہے ـــــ حق کو نہ ماننا بھی جرم ہے ـــــ حق کی حفاظت نہ کرنا بھی جرم ہے ـــــ تو آئیے سوچئے ـــــ ہم کتنے بڑے مجرم ہیں ـــــ تحفظ ختم نبوت سے ہماری بے اعتنائی ـــــ تحفظ ختم نبوت سے ہماری لاپروائی ـــــ تحفظ ختم نبوت سے ہماری بے رخی ـــــ تحفظ ختم نبوت سے ہماری چشم پوشی ـــــ تحفظ ختم نبوت سے ہماری عدم دلچسپی ـــــ ہمارے آقا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنا تڑپا رہی ہے ـــــ کتنا رلا رہی ہے ـــــ کتنی اذیت پہنچا رہی ہے؟

راقم السطور اپنے تجربے کی بنیاد پر بڑے وثوق سے یہ کہہ سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں قادیانیت صرف اس لیے زندہ ہے ـــــ کہ مسلمان نہیں جانتا کہ:

صفحہ 7

کاٹ رہی ہے؟

ہے؟

رہی ہے؟

اور پھر راقم نے اپنے تجربے کی آنکھوں سے یہ بھی دیکھا کہ جب ایک مسلمان قادیانیت کے کفر کو بھانپ گیا۔۔۔ قادیانی عقائد و نظریات سے واقف ہوگیا۔۔۔ تو پھر۔۔۔!!!!

پیستا ہے۔

کے لیے تیار ہے۔

میں چمک آجاتی تھی۔ لیکن اب اس کی آنکھوں میں غیرت کی سرخی آجاتی ہے۔

دیکھ کر اسے متلی ہونے لگتی ہے۔

لیے بے تاب ہے۔

ہے۔

علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے:

؎ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں نے تحفظ ختم نبوت اور تردید قادیانیت کے

صفحہ 8

موضوعات کو مسلمانوں میں پھیلانے کے لیے یہ مختصر سی کتاب سوالاً جواباً ترتیب دی ہے۔ جس کے مطالعہ سے ایک عام مسلمان عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و نزاکت اور قادیانیت کی ہلاکت سے آشنا ہو جاتا ہے اور قادیانیت کی سرکوبی کے لیے وہ دلائل کے ہتھیاروں سے مسلح ہو جاتا ہے اور قادیانیت کا پنجر پنجر توڑ دیتا ہے۔

کتاب مطالعہ کے لیے آپ کے ہاتھوں میں ہے اور آپ کی آنکھوں کو دعوت مطالعہ دے رہی ہے--- اسے پڑھئے‘ پڑھائیے--- سمجھئے‘ سمجھائیے--- جاگئے--- جگائیے---!!!

کیونکہ یہی عہد حاضر کا سب سے بڑا جہاد ہے--- یہی وقت کی آواز ہے--- یہی اسلام کی صدا ہے--- یہی عشق رسول کی دلیل ہے--- اور یہی شفاعت رسول کا ذریعہ ہے---

تو آئیے--- اسلام کی اس صدا پر--- جہاد کی اس پکار پر لبیک لبیک کہتے ہوئے گلی گلی‘ کوچہ کوچہ‘ قریہ قریہ‘ بستی بستی‘ گاؤں گاؤں‘ شہر شہر اور ملک ملک تحفظ ختم نبوت کی روشنی بکھیر دیں۔

صدائے حق کی جرات سے تو زندہ کر زمانے کو
کہ تیرے ساتھ دنیا میں ہزاروں دل دھڑکتے ہیں

طالب شفاعت محمدیؐ بروز محشر محمد طاہر رزاق ۲ مارچ ۱۹۹۷ء بروز منگل‘ بوقت ایک بجے شب‘ لاہور

صفحہ 9

جائزہ

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد! مکرم محترم مجاہد ختم نبوت جناب محمد طاہر رزاق صاحب کا نیا رسالہ ”شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی“ زیر نظر ہے۔ موصوف نے اس سے قبل درجنوں رسائل مختلف عنوانات پر قادیانیت کے رد میں تحریر کیے۔ جنہیں بعد میں کتابی صورت میں یکجا کر دیا گیا۔ اس طرح ان کے کئی مجموعے تیار ہو گئے۔ تحفظ ختم نبوت‘ قادیانی افسانے‘ مرگ مرزائیت‘ قادیانیت شکن‘ نغمات ختم نبوت‘ ان کتابوں کی بارہا اشاعت ہوئی۔ کئی ایڈیشن شائع ہوئے اور اندرون و بیرون ملک قبولیت عامہ حاصل کی۔

مصنف کے قلم کو قدرت نے قادیانیت کے تعاقب کے لیے وقف فرما دیا ہے۔ بھرپور محنت و تیاری اور جگر کاوی سے قادیانیت کے قصر پر بمباری کرتے ہیں۔

زیر نظر رسالہ میں انہوں نے قادیانیت کے پس منظر‘ پیش منظر اور تہہ منظر کو طشت از بام کیا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت قرآن و سنت کی روشنی میں‘ عقائد قادیانیت‘ تحریک ہائے ختم نبوت‘ مجاہدین و اکابرین تحریک ہائے ختم نبوت‘ فتنہ قادیانیت اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں‘ مرزا قادیانی مردود اور اس کی اسلام دشمن تحریک‘ انگریز اور قادیانیت پروری اور اس قسم کے دیگر اہم موضوعات پر سوال و جواب کی شکل میں قلم اٹھایا ہے اور بھرپور انداز میں اس فریضہ کو سرانجام دیا ہے۔ رد قادیانیت کے موضوع پر کام کرنے والوں کے لیے انہوں نے ایک خوبصورت مجموعہ تیار کر دیا ہے جو مختصر مگر جامع مانع ہے۔ اللہ رب العزت مصنف

صفحہ 10

کے لیے ذریعہ نجات فرمائیں۔ امت کی دنیا و آخرت کی بھلائی قدرت نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاپوش مبارک سے وابستگی میں رکھ دی ہے۔ امت اس وقت تک فلاح نہیں پا سکتی، جب تک کہ وہ آپؐ کی ذات اقدس اور آپؐ کے منصب مبارک کے تحفظ کا فریضہ انجام نہیں دیتی۔ قدرت پوری امت کو اس اہم فریضہ کو سرانجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ فتنہ قادیانیت کی سنگینی کو جاننا اور اس فتنہ کا تعاقب کرنا مختصر الفاظ میں یہ اس رسالہ کا موضوع ہے۔ مصنف نے تو اپنے موضوع کو خوب سے خوب تر نبھایا ہے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ اسے پڑھیں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔ قدرت توفیق و رحمت فرمائے۔ آمین ثم آمین بحرمتہ النبی الامین الکریم۔۔۔۔

(مولانا) اللہ وسایا رابطہ سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

صفحہ 11

شارٹ انسائیکلوپیڈیا قادیانیکا

موجودہ دور میں وقت کی رفتار اس قدر تیز ہو گئی ہے کہ عوام ہی نہیں، خواص بھی اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ کسی کے پاس اس قدر وقت ہی نہیں ہے کہ طویل اور ضخیم کتابوں کا مطالعہ کر سکے۔ کمپیوٹر کی ایجاد نے انسان کے ذوق علم کی تسکین کے لیے مزید سہولت پیدا کر دی ہے۔ کہ محض ایک بٹن دبانے سے معلومات کا پورا خزانہ اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے اور اڑھائی لاکھ صفحات دو انچ کی ڈسک میں محفوظ کیے جاسکتے ہیں۔ عالمی شہرت یافتہ مسلمان سائنس دان ڈاکٹر عطاء الرحمن کا کہنا ہے کہ علوم و فنون میں اس تیزی کے ساتھ ترقی ہو رہی ہے کہ توقع ہے کہ آئندہ دس سال میں ان میں جتنا ارتقاء ہو گا، وہ گزشتہ پوری صدی کے دوران علوم و فنون میں ہونے والی مجموعی ترقی سے بھی زیادہ ہو گا۔ ان حالات میں مذاہب کی دنیا میں بھی اختصار و ایجاز کی طرف توجہ کرنا ایک ناگزیر ضرورت بن کر رہ گیا ہے اور ”خیر الکلام ماقل ودل“ کی صداقت روز بروز اظہر من الشمس ہوتی جارہی ہے۔

محمد طاہر رزاق قادیانی امت کی ابلیسیت کو طشت از بام کرنے میں اب کسی تعارف کے محتاج نہیں رہے۔ ان کی تحریر میں بلا کا زور مگر کسی قدر تلخی بھی ہے۔ لیکن حنظل کی یہ کڑواہٹ ان مغلظات کے مقابلے میں کہیں کمتر ہے، جنہیں قادیانی اپنے ”حضور“ کے ”ملفوظات“ اور عامتہ الناس ملفوظات واہیات کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ محمد طاہر رزاق کی زیر نظر کتاب ”سوالاً جواباً“ تحریر کی گئی ہے۔ لیکن کسی بھی سوال کا جواب ایسا نہیں، جس کے الفاظ قادیانی امت کے ”نبی“، اس کے کسی نام نہاد پاپائی خلیفے یا حواریوں میں سے کسی کی کتاب میں موجود نہ ہوں۔ اس لحاظ سے اسے بجا طور پر قادیانی امت کی خرافات کا انسائیکلوپیڈیا قادیانیکا کہا جا سکتا ہے۔ جسے پڑھنے کے بعد قادیانیت کی ساری خباثت مختصراً قاری کی نظر کے سامنے آجاتی ہے۔ ابنِ انشاء کی اردو کی آخری کتاب میں اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان کس نے توڑا تھا، شاگرد کہتا ہے کہ جناب میں نے نہیں توڑا۔ یہ کتاب پڑھنے کے بعد ہر قادیانی یہ کہنے پر مجبور ہو گا کہ مرزا غلام احمد کو نبی میں نے نہیں بنایا۔

صفحہ 12

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ ظلی بروزی ایک پہلو سے امتی اور ایک پہلو سے نبی جہاد کو حرام قرار دینے والا اور قادیان کے جلسہ کو ظلی حج قرار دینے والا ماڈرن نبی کس نے بنایا اور اس کے نام نہاد عقائد و نظریات کہاں سے آئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب سرکار انگلشیہ کے کرشمے ہیں، جس کی ریاست و مملکت کے خلاف مرزا غلام احمد نے اپنی ۸۶ سے زائد کتابوں میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا اور عیسائیوں، آریوں اور مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے علماء سے مناظرہ بازی کا بازار گرم کر کے اور ان سب کی آپس کی قوت کو انگریز کے خلاف استعمال کرنے سے روک کر ہندوستان میں انگریز کے قدم مضبوط بناتا رہا۔ یہ تو تھا اس خود کاشتہ پودے کا سیاسی پہلو، تو اس کا مذہبی پہلو یہ ہے کہ عیسائیوں کے ایک فرقہ کے وابستگان مومن کہلاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح قادیانی اپنے آپ کو احمدی اور دوسرے مسلمانوں کو غیر احمدی کہتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے زندہ اتر آئے تھے اور پھر انہوں نے وہاں سے ہجرت کی اور ہندوستان کشمیر میں آ گئے۔

ہولگر کرسٹن کی کتاب (Jesus lived in India) مرزا غلام احمد کے دعاوی سے پہلے کی لکھی ہوئی کتاب ہے اور اب کراچی سے حیدر علی ملجی نے اس کو دوبارہ شائع کر دیا ہے۔ مرزا غلام احمد نے سن سنا کر یہی داستان اپنی کتاب ”مسیح ہندوستان میں“ لکھی ہے۔ اس سے بخوبی پتہ لگ سکتا ہے کہ سیاسی ہی نہیں، مذہبی محاذ پر بھی قادیانیت نصرانیت ہی کے افکار و خیالات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ اس پس منظر میں طاہر رزاق کی اس کتاب کا مطالعہ ہر مسلمان کے لیے نور بصیرت اور ہر قادیانی کے لیے ”سرمہ چشم“ قادیانیہ کا کام دے گا۔

شفیق مرزا روزنامہ جنگ لاہور

صفحہ 13

سوچوں کا سفر

میں یہ اکثر سوچتا تھا کہ ایک مسلم معاشرے میں اگر ایک شخص خود کو محمد رسول اللہ کہلوائے‘ اپنے چیلوں کو صحابہ‘ اپنی بیٹی کو سیدۃ النساء‘ اپنی بیوی کو ام المومنین اور اپنے شہر کو مکہ و مدینہ سے بھی مقدس کہلوائے اور پھر خود کو مسلمان بھی ٹھہرائے تو کیا وہ اور اس کے ماننے والے مسلم معاشرے میں زندہ رہ سکیں گے؟

اور کبھی یہ خیال آتا تھا کہ اگر ایک شخص اپنے خود ساختہ اسلام کو زندہ اور سرکار مدینہؐ کے اسلام کو مردہ‘ اپنے دین کو اصلی اور ابوبکر و عمر و عثمان و علیؓ کے دین کو نقلی‘ اپنے مذہب کو بہتر اور فاطمہؓ‘ حسنؓ و حسینؓ کے مذہب کو کمتر‘ اپنے نظریات کو اعلیٰ اور معین الدین چشتی اجمیریؒ‘ علی ہجویریؒ‘ فرید الدین گنج شکرؒ اور بہاؤ الدین زکریاؒ جیسے اکابرین کے نظریات کو ادنیٰ قرار دے تو کیا پھر بھی مسلمان اسے اپنے ماحول میں جینے کا حق دیں گے؟ اور کبھی کوئی یہ پوچھتا تھا کہ اگر ایک شخص اپنی خرافات کو وحی‘ اپنی کتھارسس کو قرآن‘ اپنے توہمات کو حدیث اور اپنی مغلظات کو مقدس و مبارک تحریریں قرار دے تو کیا پھر بھی مسلمان اسے برداشت کریں گے اور کبھی دل میں یہ آتا تھا کہ اگر مسلمانوں کے درمیان رہ کر ایک شخص ببانگ دہل یہ اعلان کرنے لگے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے مرد تو جنگلوں کے سور اور ان کی عورتیں کتیاں ہیں۔ سرکار دو عالمؐ کو ماننے والے نہ صرف کافر بلکہ پکے کافر ہیں‘ تو کیا یہ سن کر بھی غیرت مسلم کو مہمیز نہ ہو گی۔

صفحہ 14

اور کبھی کوئی کہتا کہ اگر ایک شخص اپنا دایاں پاؤں بائیں جوتی میں اور بایاں پاؤں دائیں جوتی میں ڈالے، اوپر کا بٹن نیچے اور نیچے کا اوپر لگا لے، ٹخنے میں آنے والی پاپوش کو دوات بنا لے، غیر محرم لڑکیوں پہ ڈورے ڈالے، دور دراز سے شراب کی سربمہر بوتلیں منگوائے، اجنبی خواتین سے رات کے سناٹے میں ٹانگیں دبائے اور پھر اپنی خواہشات پوری نہ کرنے والوں کو وعیدیں بھی سنائے تو کیا ایسے شخص کو بھی کوئی بزرگ، ولی اور مجدد ماننے کو تیار ہوگا؟

سوچوں کے اسی سفر میں اک دوراہے پہ میری ملاقات عزیزم محمد طاہر رزاق سے ہو گئی تو اس سے ان سوالوں کے نہ صرف جواب مل گئے بلکہ یوں محسوس ہوا کہ جیسے خیالوں کے اس سفر کو اک ٹھنڈی منزل بھی مل گئی ہو۔ اس سے مجھے معلوم ہوا کہ ایسے دعویٰ کرنے والا اک شخص مرزا غلام قادیانی ملعون تھا اور اس کے ماننے والے قادیانی (خود کو احمدی کہلوا کر) مسلمانوں کے درمیان نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بڑے طمطراق کے ساتھ آگے بھی بڑھتے جا رہے ہیں اور مسلمان انہیں پہچاننے سے بھی قاصر ہیں اور ان کی یلغار روکنے سے بھی غافل۔

یہ سب جان کر مجھے یوں لگا کہ جیسے آج تک ہم بھی غفلت اور اندھیروں کے صحرا میں بھٹکتے خوش فہمی کے سراب کے اسیر رہے۔ بہت دنوں تک میں خود سے پوچھتا رہا کہ واقعی ایسا ہے؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ کیا واقعی ایسا ہو رہا ہے؟ تو نہ چاہتے ہوئے بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ہاں واقعی ایسا نہ صرف ہوتا رہا بلکہ ہو رہا ہے اور اس کی وجہ صرف اور صرف امت مسلمہ کی غفلت، بے توجہی، بے حسی، بے علمی اور شعور و آگہی کا فقدان ہے۔ جو مسلمان یہ سب کچھ جان لے اور پھر بھی قادیانیوں کو مسلمان سمجھتا رہے تو اس کا اپنا ایمان ختم ہوگا ورنہ جانتے ہوئے قادیانیوں کے نزدیک پھٹکنا بھی مسلمان کو گوارا نہ ہوگا۔ چنانچہ امت کو اس بھیانک جہنم سے بچانے کے لیے میں بھی طاہر رزاق کے سنگ اک نئے سفر پہ روانہ ہو گیا۔ اور وہ سفر ہے امت کو قادیانی فتنے سے آگاہ کرنے کا سفر، انہیں اندھیروں سے نکالنے کا سفر، علم کی روشنی عطا کرنے کا سفر، ایمان کو بچانے کا سفر اور قادیانیت کے

صفحہ 15

خلاف شعور و آگہی عام کرنے کا سفر۔

اس سفر میں محمد طاہر رزاق تحفظ ختم نبوت‘ قادیانیت شکن‘ مرگ مرزائیت‘ نغمات ختم نبوت اور قادیانی افسانے کے بعد اب قادیانیت کو پہچاننے کی منزل (شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی) پہ پہنچے ہیں اور میں خلوص دل سے یہ سمجھتا ہوں کہ ان کی پہلی کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی امت کے شعور و آگہی میں اضافے کا بیش بہا خزانہ ثابت ہو گی۔ قادیانیت سے بچانے کے لیے سوال و جواب کی شکل میں یہ ایک نیا اور انوکھا انداز ہے جو مختصر وقت میں چھوٹے سے لے کر بڑے سب کو اک مکمل تصویر دکھا دے گا۔ اب بھی اگر کوئی محروم رہ جائے تو شاید وہ ازلی محروم ہی ہو گا۔

الحاج محمد نذیر مغل امیر تحریک‘ تحریک منہاج القرآن‘ لاہور پاکستان

صفحہ 16

حرف سپاس

ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمن‘ جناب عبدالرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)

میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ 17

س: عقیدہ ختم نبوت سے کیا مراد ہے؟ ج: حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

س: سب سے پہلے اور سب سے آخری نبی کون ہیں؟ ج: سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام اور سب سے آخری نبی جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔

س: قرآن پاک کی وہ آیت سنائیے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہا گیا ہے؟ ج: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا ط

(سورۃ احزاب)

”نہیں ہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ لیکن آپ اللہ کے رسول اور تمام انبیاء کے ختم کرنے والے ہیں اور ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا“۔

س: قرآن پاک کی وہ آیت سنائیے جس میں دین کے مکمل ہونے کی خوشخبری سنائی گئی ہے؟ ج: اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا -

(سورۃ مائدہ‘ پارہ ۶)

”آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام ہی پسند کیا“۔

س: نبوت رحمت ہے‘ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ساری کائنات کے نبی ہیں۔ اس لیے آپ کو رحمتہ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ قرآن پاک کی وہ آیت بتائیے جس میں آپؐ کو رحمتہ للعالمین کہا گیا؟ ج: وَمَا اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ - ”ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت بنا کر تمام عالم والوں کے لیے“۔

س: قرآن پاک کی وہ آیت بتائیں جس میں بتایا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ 18

کو سارے انسانوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔

ج: قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا ۔ (سورۃ اعراف‘ پاره ٩) ”آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں“۔

س: قرآن پاک کی وہ آیت سنائیے جس میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے انسانوں کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجنے کا اعلان کیا گیا ہے؟

ج: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيراً وَنَذِيراً ۔ (سورۂ سبا‘ پاره ٢٢) ”ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام انسانوں کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر“۔

س: ختم نبوت کے سلسلہ میں کوئی حدیث سنائیے؟

ج: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ”میں آخری نبی ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔

س: ختم نبوت کے متعلق وہ فرمان نبویؐ سنائیے جس میں سید الکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کو انبیائے کرام کی مساجد میں سے آخری مسجد فرمایا ہے؟

ج: أَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَمَسْجِدِي خَاتَمُ الْمَسَاجِدِ ۔ (رواہ مسلم) ”میں خاتم الانبیاء ہوں اور میری مسجد خاتم المساجد“۔

س: ختم نبوت کے متعلق رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث سنائیے جس میں آپؐ نے نبوت و رسالت منقطع ہونے کی خبر دی ہے؟

ج: أَنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ ۔ (رواہ الترمذی وقال حدیث صحیح) ”بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی‘ پس نہ میرے بعد کوئی رسول اور نہ کوئی نبی“۔

س: ختم نبوت کے متعلق وہ فرمان رسالت سنائیے جس میں آپؐ نے اپنی پیدائش کو سب سے اول اور اپنی بعثت کو سب سے آخری بتایا ہے؟

ج: أَنَا أَوَّلُ النَّبِيِّينَ فِي الْخَلْقِ وَآخِرُهُمْ فِي الْبَعْثِ ۔ (ابن کثیر بر حاشیہ فتح البیان) ”میں پیدائش میں تمام انبیاء علیہم السلام سے پہلے تھا اور بعثت میں سب سے آخر میں“۔

س: ختم نبوت کے متعلق وہ حدیث نبویؐ سنائیے‘ جس میں حضرت آدم علیہ السلام کا پہلا نبی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اعلان کیا گیا ہے؟

صفحہ 19

ج: عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا اَبَا ذَرٍّ اَوَّلُ الْاَنْبِیَاءِ اٰدَمُ وَاٰخِرُہٗ مُحَمَّدُ۔ (رواہ ابن حبان فی صحیحہ وابو نعیم فی الحلیہ وابن عساکر والحکیم الترمذی (من الکنز ص ۱۳۰‘ ج ۶) واخرجہ ابن حبان فی تاریخہ فی السنۃ العاشرہ‘ ص ۶۹ قلمی)

”حضرت ابو ذرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سب انبیاء میں پہلے آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں“۔ (روایت کیا اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح میں، نیز اپنی تاریخ میں ۱۰ھ کے احوال کے تحت قلمی ص ۶۹ پر اور ابو نعیم نے حلیہ میں اور ابن عساکر و حکیم ترمذی وغیرہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (دیکھو کنز العمال، ص ۱۳۰، ج ۶) اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی فتح الباری میں اس کی تصحیح کی ہے)

س: ختمِ نبوت کے بارے میں وہ حدیث رسولؐ سنائیے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے جھوٹے نبیوں کے بارے میں بتایا ہے؟

ج: عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّہٗ سَیَکُوْنُ فِیْ اُمَّتِیْ کَذَّابُوْنَ ثَلٰثُوْنَ کُلُّہُمْ یَزْعُمُ اَنَّہٗ نَبِیٌّ وَّاَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ۔ (رواہ مسلم)

”حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قریب ہے کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، جن میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ روایت کیا اس کو مسلم نے“۔

س: ختم نبوت سے متعلق وہ حدیث پاک سنائیے جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہرِ نبوت کا تذکرہ آتا ہے؟

ج: عَنْ عَلِیٍّ قَالَ بَیْنَ کَتِفَیْہِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَہُوَ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔ (رواہ الترمذی فی شمائلہ، ص ۳)

”حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور آپؐ خاتم النبیین ہیں۔ (رواہ الترمذی)

س: ختم نبوت کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ فرمان بتائیے جس میں آدم

صفحہ 20

علیہ السلام کے پیدا ہونے کا بیان آتا ہے؟

ج: عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي عِنْدَ اللهِ مَكْتُوبٌ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ (رواه فى شرح السنه واحمد فى مسنده كذا فى المشكوه والكنز ص ۱۱۳ ج ۶) وفى لفظ لهذا الحديث عند ابن سعد اِنِّي فِي اُمِّ الْكِتَابِ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ الحديث كذا فى الكنز۔

”حضرت عرباض بن ساریہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین اس وقت لکھا ہوا تھا، جبکہ آدم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اس حدیث کو امام احمدؒ نے مسند میں روایت کیا ہے، (کذا فی المشکوۃ) نیز یہ حدیث کنزالعمال میں بھی بحوالہ ابن سعد روایت کی گئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ میں ”ام الکتاب“ میں ”خاتم النبیین“ لکھا ہوا تھا۔ (کذا فی الکنز ص ۱۱۳ ج ۶)

س: ختم نبوت کے بارے میں وہ حدیث رسول بتائیے جس میں آقائے دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک محل کی تعمیر کی مثال دے کر مسئلہ ختم نبوت سمجھایا ہے؟

ج: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوْفُوْنَ بِهِ وَيُعْجِبُوْنَ لَهُ وَيَقُوْلُوْنَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔ (رواه البخارى فى كتاب الانبياء ومسلم ص ۲۲۸ ج ۲ فى الفضائل واحمد فى مسنده ص ۳۹۸ ج ۲ والنسائى والترمذى) وَفِي بَعْضِ الفاظه فَكُنْتُ اَنَا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ وَخُتِمَ بِيَ الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ بِيَ الرُّسُلُ هكذا فى الكنز عَنْ ابى عساکر۔

”حضرت ابوہریرہؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا کہ میری مثال مجھ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ایسی ہے، جیسے کسی شخص نے گھر بنایا اور اس کو بہت عمدہ اور آراستہ و پیراستہ بنایا، مگر اس کے ایک گوشہ میں ایک اینٹ کی جگہ تعمیر سے چھوڑ دی، پس لوگ اس کے دیکھنے کو جوق در جوق آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ یہ ایک اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی (تاکہ مکان کی تعمیر مکمل ہو جاتی) چنانچہ میں نے اس جگہ کو پر کیا اور مجھ سے ہی قصرِ نبوت مکمل ہوا، اور میں ہی خاتم النبیین ہوں، (یا) مجھ پر تمام رسل ختم کر دیئے گئے“۔

صفحہ 21

س: ختم نبوت کے بارے میں وہ حدیث مقدسہ سنائیے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام‘ حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر آتا ہے؟ ج: وَعَنْ مَالِكِ ابْنِ حُوَيْرِثٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلَا تَرْضٰی اَنْ تَكُوْنَ بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی اِلَّا اَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ (رواہ الحاکم فی المستدرک والطبرانی فی الکبیر کذا فی الکنز‘ ص۱۵۴‘ ج۶) ”حضرت مالک ابن حویرثؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ کیا تم اس کو پسند نہیں کرتے کہ تم ایسے ہو جیسے ہارون ؑ موسیٰ ؑ کے ساتھ تھے‘ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔ (اس حدیث کو حاکم نے مستدرک میں نقل کر کے تصحیح کی ہے اور طبرانی نے معجم کبیر میں بھی روایت کیا ہے)

س: ختم نبوت کے متعلق وہ حدیث رسول سنائیے جس میں منکر نکیر کا ذکر بھی آتا ہے؟ ج: عَنْ تَمِيْمِ الدَّارِيِّ فِیْ حَدِیْثٍ طَوِيْلٍ فِیْ سُوَالِ الْقَبْرِ فَيَقُوْلُ (اَیِ الْمَیِّتُ) اَلْاِسْلَامُ دِيْنِيْ وَمُحَمَّدٌ نَبِيِّيْ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَهُ صَدَقْتَ (رواہ ابن ابی الدنیا وابو یعلی کذا فی الدر المنثور للسیوطی‘ ص۱۶۵‘ ج۶) ”حضرت تمیم داریؓ ایک طویل حدیث کے ذیل میں سوال قبر کے بارے میں روایت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (منکر و نکیر کے جواب میں) مسلمان کہے گا کہ میرا دین اسلام ہے‘ اور میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں اور وہ خاتم النبیین ہیں‘ منکر نکیر یہ سن کر کہیں گے کہ تو نے سچ کہا۔ روایت کیا اس کو ابن ابی الدنیا اور ابو یعلی نے۔ (منقول از در منثور‘ ص۱۶۵‘ ج۶)

س: مدعی نبوت سے جو دلیل بھی طلب کرے وہ بھی کافر ہے‘ یہ فرمان کس کا ہے؟ ج: امام اعظم ابو حنیفہؒ۔

س: مدعی نبوت کے لیے جو استخارہ کرے‘ وہ بھی کافر ہے۔ یہ فرمان کس کا ہے؟ ج: امام اعظم ابو حنیفہؒ۔

س: صحابہؓ کا پہلا اجماع کس مسئلہ پر ہوا؟ ج: مسئلہ ختم نبوت پر۔۔۔۔ مسیلمہ کذاب کے خلاف اعلان جہاد۔

س: پہلے شہید ختم نبوت کا نام بتائیے؟

صفحہ 22

ج: حضرت حبیبؓ بن زید انصاری۔

س: مسیلمہ کذاب کو کس صحابی رسولؐ نے قتل کیا؟

ج: حضرت وحشیؓ بن حرب۔

س: جنگ یمامہ میں کتنے صحابہ شہید ہوئے؟

ج: بارہ سو۔

س: جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے حفاظ قرآن صحابہ کرامؓ کی تعداد بتائیے؟

ج: سات سو۔

س: جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے چالیس ہزار کے لشکر میں سے کتنے مرتدین کو جہنم واصل کیا گیا؟

ج: ستائیس ہزار۔

س: جنگ یمامہ میں حضرت عمر فاروقؓ کے شہید ہونے والے بھائی کا نام بتائیے؟

ج: حضرت زیدؓ بن خطاب۔

س: امت مسلمہ میں سب سے پہلا جھوٹا مدعی نبوت کون ہے؟

ج: اسود عنسی

س: اسود عنسی کو کس صحابی رسولؐ نے قتل کیا؟

ج: حضرت فیروز دیلمیؓ

س: تحریک تحفظ ختم نبوت کا سب سے پہلا فاتح جرنیل کون ہے؟

ج: سیف اللہ حضرت خالدؓ بن ولید۔

س: حضرت حبیبؓ بن زید انصاری کی والدہ محترمہ کا نام بتائیے‘ جن کا ایک ہاتھ یمامہ کے میدان میں مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئے بازو سے کٹ گیا؟

ج: حضرت ام عمارہؓ

س: حضرت حبیبؓ بن زید کے بھائی کا نام بتائیے۔ جنگ یمامہ میں جن کی تلوار کا وار مسیلمہ کذاب کے سر پر پڑا؟

ج: حضرت عبداللہؓ

س: کیا کوئی شخص محنت و ریاضت سے نبی بن سکتا ہے؟

صفحہ 23

ج: نبوت ایک وہبی اور عطائی منصب ہے۔ کوئی شخص محنت و ریاضت سے نبی نہیں بن سکتا۔

س: کیا کسی نبی کا نام مرکب ہوتا ہے؟ ج: نہیں، کسی نبی کا نام مرکب نہیں ہوتا۔ ہر نبی کا نام مفرد ہوتا ہے۔ مثلاً آدمؑ نوحؑ ہارونؑ موسیٰؑ عیسیٰؑ لیکن جھوٹے نبی مرزا قادیانی کا نام مرکب ہے، یعنی مرزا غلام احمد قادیانی۔

س: کیا اس دنیا میں کوئی نبی کسی انسان کا شاگرد ہوتا ہے؟ ج: نہیں، نبی کی تعلیم و تربیت کا ذمہ اللہ تعالیٰ خود اٹھاتا ہے۔

س: کیا کوئی نبی وراثت چھوڑتا ہے؟ ج: نہیں---- لیکن مرزا قادیانی نے لاکھوں کی وراثت چھوڑی، جو اس کے ورثاء نے سنبھالی۔

س: کیا ہر نبی اسی جگہ دفن ہوا جہاں اس کا وصال ہوا؟ ج: جی ہاں---- ہر سچا نبی وہیں دفن ہوا جہاں اس کا وصال ہوا، لیکن جھوٹا نبی مرزا قادیانی برانڈرتھ روڈ لاہور کی لیٹرین میں مرا اور قادیان میں دفن ہوا۔

س: کیا نبی شاعر ہوتا ہے؟ ج: نہیں---- نبی شاعر نہیں ہوتا، لیکن جھوٹا نبی مرزا قادیانی شاعر بھی تھا۔

س: قادیانی کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کر کے نبی بنا ہے۔ کیا کوئی شخص اطاعت کر کے نبی بن سکتا ہے؟ ج: جی نہیں----- کوئی شخص اطاعت کر کے نبی نہیں بن سکتا۔ اگر اطاعت سے نبی بن سکتے تو صحابہ کرامؓ سے بڑھ کر کون اطاعت کرنے والا تھا۔

س: کیا اسلام میں ظلی و بروزی نبوت کا کوئی تصور ہے؟ ج: جی نہیں----- یہ نظریہ قادیانیوں کا من گھڑت ہے۔

س: قرآن پاک کی کتنی آیات واضح طور پر مسئلہ ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں؟ ج: ایک سو۔

س: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی احادیث واضح طور پر مسئلہ ختم نبوت پر دلالت کرتی ہیں؟

صفحہ 24

ج: دوسو دس۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب زمین پر نزول فرمائیں گے تو اس وقت وہ کون سا لباس پہنے ہوں گے؟

ج: دو زرد رنگ کے کپڑے۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے زمین پر کیسے اتریں گے؟

ج: اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اتریں گے۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کس شہر میں ہوگا؟

ج: دمشق۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول کس وقت ہوگا؟

ج: نماز فجر کے وقت۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے کتنے سال بعد تک زندہ رہیں گے؟

ج: چالیس سال۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے نزول کے بعد اس دنیا میں نکاح کریں گے‘ بتائیے وہ کس قوم میں نکاح کریں گے؟

ج: حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں۔

س: دجال کو کون قتل کرے گا؟

ج: حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو کس چیز سے قتل کریں گے؟

ج: اپنے نیزے سے۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو کس مقام پر قتل کریں گے؟

ج: فلسطین میں‘ مقام ”لد“ پر۔

س: نزول کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام فجر کی نماز کس کے پیچھے پڑھیں گے؟

ج: حضرت امام مہدی۔

س: قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر کس شہر میں بتاتے ہیں؟

ج: سری نگر‘ کشمیر‘ محلہ خانیار

صفحہ 25

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کس مقام پر دفن ہوں گے؟

ج: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر میں چوتھی قبر آپ کی ہو گی۔

س: مرزا قادیانی نے مقام ”لد“ سے کون سا شہر مراد لیا ہے؟

ج: لدھیانہ۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام عیسائیوں کے کس مشہور مذہبی نشان کو توڑیں گے؟

ج: صلیب۔

س: دجال کس چیز پر سواری کرے گا؟

ج: گدھے پر۔

س: دجال کی نشانی کیا ہو گی؟

ج: اس کے ماتھے پر کافر ”ک۔ف۔ر“ کی صورت میں لکھا ہو گا۔

س: دجال کس آنکھ سے کانا ہو گا؟

ج: بائیں آنکھ سے۔

س: دجال کن دو شہروں میں داخل نہ ہو سکے گا؟

ج: مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ، کیونکہ وہاں فرشتوں کا پہرہ ہو گا۔

س: دجال کے ساتھ کتنے یہودیوں کا لشکر ہو گا؟

ج: ستر ہزار۔

س: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر دجال کی کیا حالت ہو گی؟

ج: دجال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر یوں پگھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں۔

س: دجال کون سے بڑے دعوے کرے گا؟

ج: نبوت اور خدائی کے دعوے۔

س: حضرت امام مہدی کا نام کیا ہو گا؟

ج: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر آپ کا نام محمد ہو گا۔

س: حضرت امام مہدی کے والد محترم اور والدہ محترمہ کا کیا نام ہو گا؟

ج: حضورؐ کے والدین کے نام پر آپ کے والد محترم کا نام عبداللہ اور والدہ محترمہ کا نام آمنہ ہو گا۔

صفحہ 26

س: حضرت امام مہدی کس کی اولاد سے ہوں گے؟ ج: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے۔ س: کیا امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی شخصیت ہیں؟ ج: نہیں۔۔۔ دونوں الگ الگ شخصیتیں ہیں۔ س: حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام میں سے پہلے کس کا ظہور ہوگا؟ ج: امام مہدی کا۔ س: حضرت امام مہدی کس مقام پر لوگوں سے بیعت لیں گے؟ ج: حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان۔ س: امام مہدی کتنے سال حکومت کریں گے؟ ج: سات سال۔ س: قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی کیا ہے؟ ج: اللہ کا نبی اور رسول (نعوذ باللہ) س: قادیانی مرزا قادیانی کی بیوی کو کیا کہتے ہیں؟ ج: ام المومنین (نعوذ باللہ) س: قادیانی مرزا قادیانی کے ساتھیوں کو کیا کہتے ہیں؟ ج: صحابہ کرام (نعوذ باللہ) س: قادیانی مرزا قادیانی کی بیٹی کو کیا کہتے ہیں؟ ج: سیدۃ النساء (نعوذ باللہ) س: قادیانی مرزا قادیانی کی باتوں کو کیا کہتے ہیں؟ ج: احادیث (نعوذ باللہ) س: قادیانی مرزا قادیانی کے خاندان کو کیا کہتے ہیں؟ ج: اہل بیت (نعوذ باللہ) س: قادیانی مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد کو کیا کہتے ہیں؟ ج: قمر الانبیاء (نعوذ باللہ) س: قادیانی مرزا قادیانی کے شہر قادیان کو کیا کہتے ہیں؟

صفحہ 27

ج: مدینۃ المسیح (نعوذ باللہ)

س: قادیانی قادیان کے سالانہ جلسے کی حاضری کو کیا کہتے ہیں؟

ج: ظلی حج

س: قادیانی‘ قرآن اور قادیان کا کیا تعلق بتاتے ہیں؟

ج: اللہ تعالیٰ نے قرآن کو قادیان کے قریب نازل کیا ہے‘ (نعوذ باللہ)

س: قادیانیوں کا مکہ مکرمہ‘ مدینہ منورہ کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟

ج: قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مکہ اور مدینہ سے روحانیت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے‘ اب جو شخص بھی روحانیت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ قادیان کا رخ کرے۔

س: قادیانی مرزا قادیانی کی عبادت گاہ کو کیا کہتے ہیں؟

ج: مسجد اقصیٰ (نعوذ باللہ)

س: قادیانی مرزا قادیانی کے ۳۱۳ گماشتوں کو کیا کہتے ہیں؟

ج: اصحاب بدر (نعوذ باللہ)

س: جو شخص مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے‘ قادیانیوں کے عقیدہ کے مطابق وہ کون ہے؟

ج: کافر

س: قادیانی عقیدہ کے مطابق جو مرد مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کون ہے؟

ج: سور‘ حرام زادہ‘ کنجری کا بیٹا (نعوذ باللہ)

س: قادیانی عقیدہ کے مطابق جو عورت مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے‘ وہ کون ہے؟

ج: کتی‘ حرام زادی‘ کنجری کی بیٹی (نعوذ باللہ)

س: قادیانی جب کلمہ پڑھتے ہیں تو ”محمد“ سے مراد کیا لیتے ہیں؟

ج: مرزا قادیانی (نعوذ باللہ) کیونکہ ان کے عقیدہ کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دین اسلام کی تبلیغ کے لیے دوبارہ اس دنیا میں مرزا قادیانی کی شکل میں تشریف لائے ہیں۔ (نعوذ باللہ)

س: قادیانی‘ باعث تخلیق کائنات کسے کہتے ہیں؟

ج: مرزا قادیانی کو (نعوذ باللہ)

س: قادیانی عقیدہ کے مطابق اب مکہ اور مدینہ منورہ والی برکات کہاں نازل ہوتی ہیں؟

ج: قادیان پر۔ (نعوذ باللہ)

صفحہ 28

س: سادات کے بارے میں قادیانیوں کا عقیدہ کیا ہے؟

ج: اب سید صرف وہ ہو گا جو مرزا قادیانی کی اولاد سے ہوگا۔ (نعوذ باللہ)

س: قادیانی مرزا قادیانی کے شیطانی پیغام کو کیا کہتے ہیں؟

ج: وحی الہی۔ (نعوذ باللہ)

س: قادیانیوں کے عقیدہ کے مطابق کن کن شہروں کا نام قرآن پاک میں آیا ہے؟

ج: مکہ، مدینہ اور قادیان۔ (نعوذ باللہ)

س: یہ الفاظ کس قادیانی ملعون کے ہیں کہ: ”ہر شخص ترقی کی منازل طے کرتا کرتا نبی اکرم سے بھی بڑھ سکتا ہے“۔ (نعوذ باللہ)

ج: مرزا بشیر الدین ملعون۔

س: قادیانی بہشتی مقبرہ سے کیا مراد لیتے ہیں؟

ج: ایسا قبرستان جہاں دفن ہونے والے بہشتی ہیں۔

س: بہشتی مقبرے میں دفن ہونے کے لیے کیا شرط ہے؟

ج: دفن ہونے والا اپنی آمدن کا دسواں حصہ قادیانی جماعت کو دے، لیکن مرزا قادیانی اور اس کی اولاد کے لیے کوئی شرط نہیں۔

س: بہشتی مقبرے کا افتتاح کس قادیانی مردے سے ہوا؟

ج: مرزا قادیانی کے امام مرتد عبد الکریم کی لاش سے۔

س: مرزا قادیانی کا امام، مرتد عبد الکریم کس مرض سے جہنم واصل ہوا؟

ج: اس کے جسم پر ایک پھوڑا نکلا، کینسر کا یہ پھوڑا پورے جسم پر پھیل گیا اور پورا جسم پھوڑا بن گیا۔ ڈاکٹروں نے اس کے وجود کو چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور یوں وہ مردود جہنم واصل ہو گیا۔

س: مرزا قادیانی کہاں پیدا ہوا؟

ج: قادیان میں۔

س: قادیان کہاں واقع ہے؟

ج: قادیان، بھارت کے صوبے مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کا ایک گاؤں ہے۔

صفحہ 29

س: مرزا قادیانی کیسے پیدا ہوا؟

ج: مرزا قادیانی کہتا ہے کہ میں جڑواں پیدا ہوا، میرے ساتھ میری ایک بہن پیدا ہوئی، پہلے وہ نکلی، پھر میں نکلا اور میرا سر اس کے پاؤں میں پھنسا ہوا تھا۔

س: مرزا قادیانی کی ماں کا کیا نام تھا؟

ج: چراغ بی بی عرف گھسیٹی۔

س: مرزا قادیانی کو بچپن میں کس نام سے پکارا جاتا تھا؟

ج: دسوندی۔

س: مرزا قادیانی کو بچپن میں تیرنے کی بھی عادت تھی۔ بتائیے کہاں تیرتا تھا؟

ج: قادیان کے چھپڑ میں۔

س: بچپن میں مرزا قادیانی کن پرندوں کو پکڑ کر سرکنڈوں سے ان کے گلے کاٹا کرتا تھا؟

ج: چڑیوں کے۔

س: مرزا قادیانی کو اس کے باپ نے اپنی پنشن لینے بھیجا لیکن مرزا قادیانی پنشن کی رقم لے کر گھر سے بھاگ گیا، بتائیے وہ رقم کتنی تھی؟

ج: سات سو روپیہ۔

س: مرزا قادیانی کونسی شراب پیا کرتا تھا؟

ج: ای پلومر کی ٹانک وائن۔

س: مرزا قادیانی شراب کے علاوہ اور کون سا نشہ کرتا تھا؟

ج: افیم۔

س: مرزا قادیانی کا استاد بھی نشہ باز تھا، بتائیے وہ کونسا نشہ کرتا تھا؟

ج: افیم۔

س: مرزا قادیانی ایک دفعہ نہاتا نہاتا ڈوب چلا تھا، بتائیے کہاں؟

ج: قادیان کے چھپڑ میں۔

س: مرزا قادیانی ریشمی ازار بند (نالہ) استعمال کرتا تھا، کیوں؟

ج: کیونکہ سوتی ازار بند میں گرہ پڑ جاتی تھی اور پیشاب کپڑوں میں نکل جاتا تھا۔

س: مرزا قادیانی رات کو سوتے وقت کون سا لباس پہنتا تھا؟

صفحہ 30

ج: غرارہ۔

س: مرزا قادیانی رات کو سوتے وقت غرارہ کیوں پہنا کرتا تھا؟

ج: تاکہ پیشاب کرنے میں سہولت رہے۔

س: مرزا قادیانی کو دن میں کتنی دفعہ پیشاب آتا تھا؟

ج: سو مرتبہ۔

س: مرزا قادیانی گھر کی ساری چابیاں اکٹھی کر کے کہاں رکھتا تھا؟

ج: ازار بند کے ساتھ باندھ لیتا تھا۔

س: گھر والوں کو مرزا قادیانی کی آمد کا دور سے ہی پتہ چل جاتا تھا‘ کیسے؟

ج: کیونکہ مرزا قادیانی سارے گھر کی چابیاں اکٹھی کر کے ازار بند کے ساتھ باندھ لیتا تھا اور جب وہ چلتا تھا تو چابیوں کے آپس میں ٹکرانے سے چھن چھن کا میوزک پیدا ہوتا تھا اور یہ میوزک بتاتا تھا کہ مرزا قادیانی آ رہا ہے۔

س: مرزا قادیانی کے پاؤں کو جب زیادہ سردی لگتی تو کیا کرتا تھا؟

ج: اوپر نیچے دو دو جرابیں پہنا کرتا تھا؟

س: مرزا قادیانی جوتی کیسے پہنتا تھا؟

ج: دایاں پاؤں بائیں میں اور بایاں پاؤں دائیں میں۔

س: مرزا قادیانی کی سیاہی کی دوات کیسی تھی؟

ج: پرانے جوتے کی دوات بنا رکھی تھی؟

س: مرزا قادیانی قمیض کے بٹن کیسے لگاتا تھا؟ لگا کر دکھائیں؟

ج: اوپر والا بٹن نیچے والے کاج میں اور نیچے والا بٹن اوپر والے کاج میں۔

س: مرزا قادیانی سر کو تیل کیسے لگاتا تھا؟

ج: سر پر تیل لگانے کے بعد ہاتھوں کو جو تیل لگا رہتا‘ اسے کپڑوں پر مل کر ہاتھ صاف کر لیتا۔

س: مرزا قادیانی کا گڑ اور مٹی کے ڈھیلوں والا لطیفہ سنائیے؟

ج: مرزا قادیانی کو پیشاب بہت آتا تھا‘ اس لیے ایک جیب میں مٹی کے ڈھیلے رکھا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے میٹھا کھانے کا بھی بہت شوق تھا‘ اس لیے دوسری جیب میں گڑ کے ڈھیلے رکھا کرتا

صفحہ 31

تھا۔ اکثر گڑ کے ڈھیلوں کے ساتھ استنجا کر لیتا تھا اور مٹی کے ڈھیلے منہ میں ڈال لیتا تھا۔

س: مرزا قادیانی نے ایک کتا بھی پال رکھا تھا، اس کا نام بتائیے؟

ج: شیرو۔

س: مرزا قادیانی کو عرف عام میں کس نام سے پکارا جاتا تھا؟

ج: گاماں کانا۔

س: مرزا قادیانی کے سب سے تیز رفتار فرشتے کا نام بتائیے؟

ج: ٹیچی ٹیچی۔

س: مرزا قادیانی کے کوئی سے دو فرشتوں کے نام بتائیے؟

ج: خیراتی، مکھن لال

س: مرزا قادیانی ایک دفعہ اپنے چوبارے کی کھڑکی سے گرا اور اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ بتائیے کون سے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی؟

ج: دائیں ہاتھ کی ہڈی۔

س: مرزا قادیانی کی زبان میں لکنت تھی، بتائیے وہ پرنالے کو کیا کہتا تھا؟

ج: "پانالہ"

س: مرزا قادیانی کی آنکھوں کو کون سی بیماری تھی؟

ج: مائی اوپیا

س: وہ کون سی بیماری تھی جو مرزا قادیانی کو ڈانس کراتی رہتی تھی؟

ج: خارش۔

س: اس عورت کا نام بتائیے جو رات کو مرزا قادیانی کی ٹانگیں دبایا کرتی تھی؟

ج: بھانو۔

س: مرزا قادیانی کے دانتوں کو کون سی بیماری تھی۔

ج: کیڑا لگا ہوا تھا۔

س: ایک دفعہ مرزا قادیانی کے کیل داڑھ نکل آئی، بتائیے اس کا کیا علاج کیا گیا؟

ج: مرزا قادیانی کو لٹا کر منہ کھول کر ریتی سے داڑھ کی رگڑائی کی گئی۔

س: مرزا قادیانی کی موت کس بیماری سے ہوئی۔

صفحہ 32

ج: ہیضہ۔

س: مرزا قادیانی کی موت کس جگہ پر واقع ہوئی؟

ج: لیٹرین۔

س: مرزا قادیانی کس شہر میں مرا‘ پورا پتہ لکھیں؟

ج: برانڈرتھ روڈ‘ لاہور۔

س: مرزا قادیانی کس تاریخ کو جہنم واصل ہوا؟

ج: ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء

س: مرزا قادیانی کس دن کو منحوس کہا کرتا تھا‘ نیز یہ بھی بتائیے کہ وہ خود کس دن مرا؟

ج: منگل کے دن کو منحوس کہتا تھا اور خود منگل کے دن ہی مر گیا۔

س: مرنے کے بعد مرزا قادیانی کی کیا حالت تھی؟

ج: منہ اور مقعد سے پاخانہ بہہ رہا تھا۔

س: جب مرزا قادیانی کا جنازہ برانڈرتھ روڈ لاہور سے ریلوے اسٹیشن لایا جا رہا تھا تو زندہ دلان لاہور نے اس سے کیا سلوک کیا؟

ج: اہل لاہور عاشقان رسولؐ نے اپنے مکانوں کی چھتوں سے انگریزی نبی کے جنازے پر کوڑا کرکٹ اور غلاظت کی کڑاہیاں پھینک کر اللہ اور اس کے رسولؐ کے دشمن کو ذلیل و خوار کیا۔

س: مرزا قادیانی کی لاش کس چیز پر لاد کر لاہور سے قادیان پہنچائی گئی؟

ج: مال گاڑی۔

س: ریلوے افسر نے مرزا قادیانی کی میت کو مسافروں والی ٹرین میں کیوں نہ جانے دیا؟

ج: کیونکہ مرزا قادیانی ایک وبائی مرض ہیضہ سے مرا تھا‘ اور وبائی امراض سے مرنے والوں کی لاشیں ریلوے قانون کے تحت مسافروں کی ٹرینوں میں بک نہیں کی جاتی ہیں۔

س: جس تابوت میں مرزا قادیانی کی میت بند تھی‘ تدفین کے بعد اس تابوت سے کیا سلوک کیا گیا؟

ج: کیونکہ مرزا قادیانی ایک مہلک وبائی مرض سے مرا تھا‘ اس لیے اس تابوت سے وبائی مرض پھیلنے کا اندیشہ تھا‘ اس لیے حکومت نے اس تابوت کو جلا کر راکھ بنا دیا۔

س: جب عارف ربانی حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ نے قادیان جاکر مرزا قادیانی کی قبر پر

صفحہ 33

مراقبہ کیا تو انہیں کیا نظر آیا؟

ج: انہیں قبر میں ایک باؤلا کتا نظر آیا جو قبر میں دیوانہ وار چکر لگا رہا تھا۔

س: سکندر مرزا کس غدار کی نسل سے تھا؟

ج: میر جعفر۔

س: سکندر مرزا کی قبر کے ساتھ ایران میں کیا سلوک کیا گیا؟

ج: سکندر مرزا کی قبر اکھیڑ کر گلی سڑی بدبو دار ہڈیاں سمندر میں پھینک دی گئیں۔

س: بچپن میں مرزا قادیانی کی مدرسے میں کس طرح پٹائی کی جاتی تھی؟

ج: کان پکڑوا کر مرغا بنا دیا جاتا تھا اور پھر اس کے چوتڑوں پر مولا بخش کی بارش کی جاتی تھی۔

س: مرزا قادیانی سیالکوٹ کی کچہری میں کس عہدے پر ملازم تھا؟

ج: منشی۔

س: سیالکوٹ کی کچہری میں منشی مرزا قادیانی کی کتنی تنخواہ تھی؟

ج: پندرہ روپے ماہوار۔

س: سیالکوٹ کی کچہری کی ملازمت کے دوران مرزا قادیانی شام کو کس مضمون کی ٹیوشن پڑھتا تھا؟

ج: انگریزی۔

س: ایک دفعہ مرزا قادیانی اور اس کے ایک دوست جھنڈا سنگھ میں دوڑ کا مقابلہ ہوا‘ بتائیے کون جیتا؟

ج: جھنڈا سنگھ جیت گیا اور مرزا قادیانی ہار گیا۔

س: مرزا قادیانی کی ذلیل موت پر کہا گیا پنجابی زبان کا کوئی مشہور شعر سنائیے؟

ج: دو لکڑیاں دو کانے
مرزا مویا ٹٹی خانے

س: مرزا قادیانی کی عبرتناک موت پر کہا گیا اردو زبان کا کوئی مشہور شعر سنائیے؟

ج: اگر مرزا ہوتا خدا کا نبی
تو ٹٹی میں گر کر نہ مرتا کبھی
صفحہ 34

س: مرزا قادیانی کی کوئی انگریزی وحی سنائیے؟ ج: I Love You I am with you, Ishall help you.

س: مرزا قادیانی کی کوئی سی دو دماغی بیماریوں کے نام بتائیے؟ ج: مراق‘ ہسٹیریا

س: مرزا قادیانی کون سے امتحان میں فیل ہوا؟ ج: مختاری کے امتحان میں۔

س: کونسا کام کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے اپنی انگلی کاٹ لی تھی؟ ج: مرغی ذبح کرنے لگا تھا‘ لیکن چھری مرغی کی گردن پر چلانے کی بجائے اپنی انگلی پر چلا دی۔

س: مرزا قادیانی پر پنجابی میں بھی وحی نازل ہوتی تھی‘ بطور نمونہ کوئی ایک وحی بتائیں؟ ج: پئی پئی گئی۔

س: مرزا قادیانی روٹی کیسے کھاتا تھا؟ ج: پہلے نوالہ توڑ کر منہ میں ڈال کر چباتا اور انگلی سالن میں ڈبو کر زبان پر لگاتا۔

س: مرزا قادیانی کھانا کھاتے ہوئے روٹی سے کیا سلوک کرتا تھا؟ ج: روٹی کھاتا جاتا تھا اور ساتھ ساتھ روٹی کے چھوٹے چھوٹے بورے بناتا جاتا۔ جب روٹی کھا کر اٹھتا تو سامنے بوروں کا ایک ڈھیر پڑا ہوتا تھا‘ اتنی روٹی کھاتا نہیں تھا جتنی برباد کرتا تھا۔

س: مرزا قادیانی کی آنکھیں بڑی چھوٹی تھیں‘ بتائیے کس طرف کی آنکھ چھوٹی تھی؟ ج: دائیں آنکھ۔

س: مرزا قادیانی شاعری بھی کرتا تھا‘ اس کا کوئی ایک شعر سنائیے؟

ج: کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

س: انگریزوں نے مرزا قادیانی کو نبی کیوں بنایا؟ ج: مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم کرنے کے لیے‘ قرآن و سنت کی تعلیمات کو مسخ کرنے کے لیے اور ملت اسلامیہ کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے۔

صفحہ 35

س: مرزا قادیانی نے قادیانی جماعت کی بنیاد کب اور کہاں رکھی؟

ج: بتاریخ ۲۳؍ مارچ ۱۸۸۹ء بمقام لدھیانہ۔

س: مرزا قادیانی نے اپنے وحی و الہامات لکھنے کے لیے ایک ہندو لڑکے کو رکھا ہوا تھا، اس کا نام بتائیے؟

ج: شیام لعل۔

س: مرزا قادیانی کے خلاف کفر کا پہلا فتویٰ کس مسلمان عالم دین نے دیا؟

ج: حضرت مولانا شاہ محمد عبداللہ لدھیانویؒ۔

س: ان عورتوں کے نام بتائیے جو رات کو مرزا قادیانی کے کمرے میں پہرہ دیا کرتی تھیں؟

ج: مائی رسولاں بی بی، الہیہ بابو شاہ دین، منشیانی، مائی بھجو۔

س: مرزا قادیانی نے کل کتنے حج کیے اور کب؟

ج: مرزا قادیانی نے اپنی پوری عمر میں کوئی حج نہیں کیا، کیونکہ وہ حجاز مقدس جانے سے ڈرتا تھا کیونکہ لوگ اسے جہنم واصل کر دیتے۔

س: مرزا قادیانی کتنی زکوۃ دیتا تھا؟

ج: مرزا قادیانی نے بہت زیادہ مالدار ہونے کے باوجود ساری زندگی کبھی زکوۃ نہیں دی۔ وہ زکوۃ کیوں دیتا، اس نے تو دولت کے حصول کے لیے انگریز کے ہاتھوں اپنا ایمان بیچ دیا تھا۔

س: مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کب کیا؟

ج: ۱۹۰۱ء میں۔

س: وہ کون سا مرتد تھا جس نے سب سے پہلے اپنے نام نہاد جمعہ کے خطبات میں مرزا قادیانی کو نبی و رسول کہا؟

ج: عبدالکریم مرتد (مرزا قادیانی کے عبادت خانہ کا امام)

س: مسلمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مدنی کہتے ہیں، بتائیے اس کے مقابلہ میں قادیانی مرزا قادیانی کو کیا کہتے ہیں؟

ج: رسول قدنی۔

س: یہ قول کس مردود کا ہے: ”اگر خدا کا کلام سچا ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی“؟

صفحہ 36

ج: ”حکیم نور الدین مرتد“۔

س: مرزا قادیانی نے ایک مسلمان لڑکی محمدی بیگم کے بارے میں کہا کہ اس سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر میرا نکاح کر دیا ہے۔ عنقریب شادی ہوگی، لیکن یہ شادی نہ ہو سکی۔ بتائیے مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ کی شادی کس مسلمان نوجوان سے ہوئی۔

ج: مرزا سلطان احمد۔

س: مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے شوہر مرزا سلطان احمد کے بارے میں کہا کہ اگر اس نے محمدی بیگم سے شادی کی تو وہ اڑھائی سال کے اندر مر جائے گا۔ بتائیے کیا مرزا سلطان احمد مرزا قادیانی کی اس پیشگوئی کے مطابق مر گیا؟

ج: نہیں۔۔۔ بلکہ مرزا قادیانی خود ۱۹۰۸ء میں مر گیا، جبکہ مرزا سلطان احمد ۱۹۴۹ء تک زندہ رہا۔

س: مرزا قادیانی ساری زندگی جھوٹ بکتا رہا، اس کا کوئی ایک مزے دار سا جھوٹ سنائیں؟

ج: مرزا قادیانی نے کہا کہ:

”ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں“ لیکن وہ برانڈرتھ روڈ لاہور کی لیٹرین میں مر گیا۔

س: مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ سے مباہلہ کرتے ہوئے دعا کی تھی کہ الٰہی! جھوٹے کو سچے کی زندگی میں موت دے، اس مباہلہ کا کیا نتیجہ نکلا؟

ج: مرزا قادیانی مولانا کی زندگی میں ۱۹۰۸ء میں واصل جہنم ہوا، جبکہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ ۱۹۵۰ء تک زندہ رہے۔

س: مرزا قادیانی کے اس بیٹے کا نام بتائیے جو اپنے باپ کی خود ساختہ نبوت پر ایمان نہ لایا؟

ج: ”مرزا فضل احمد“

س: ہندوستان کی کس روحانی شخصیت نے مرزا قادیانی کو یہ چیلنج دیا؟

”لاہور آؤ، اور بادشاہی مسجد کے ایک مینار پر تم چڑھ جاؤ اور دوسرے پر میں چڑھ جاؤں اور دونو بیک وقت چھلانگ لگائیں، جو سچا ہو گا بچ جائے گا اور جو جھوٹا ہو گا، مر جائے گا“۔

ج: ”حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ “

س: ہندوستان کے کس پیر صاحب نے مرزا قادیانی کو مندرجہ ذیل چیلنج دیا تھا؟

”دو مردے لائے جائیں، ایک کو تم زندہ کرو، ایک کو میں زندہ کروں، جو مردہ کو زندہ کرنے میں

صفحہ 37

کامیاب ہو جائے وہ سچا اور جو ناکام رہے وہ جھوٹا"۔ ج: "حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ"

س: یہ الفاظ کس مجاہد ختم نبوت کے ہیں؟ "جو شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ اپنی ماں بہن کی عزت کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا"۔ ج: "حضرت صاحبزادہ فیض الحسن شاہؒ"

س: کس بزرگ شخصیت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں یہ الفاظ کہے؟ "محمد علی تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو اور قادیانی میری ختم نبوت کی تخریب کر رہے ہیں۔ تم ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو"۔ ج: "مولانا محمد علی مونگیریؒ"

س: یہ الفاظ سن کر آپ کے ذہن میں کس شخصیت کی تصویر ابھرتی ہے؟ "ہم سے تو گلی کا کتا ہی اچھا ہے، ہم اس سے بھی گئے گزرے ہیں، وہ اپنی گلی و محلے کا حق نمک ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموس رسالت پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی کا فرض ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبر کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کر سکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے سے بھی بدتر"۔ ج: "حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ"

س: یہ الفاظ کس عظیم مجاہد ختم نبوت کے ہیں؟ "مسلمانو! توہین رسالت کرنے والی زبان نہ رہے اور یا پھر سننے والے کان نہ رہیں"۔ ج: "مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ"

س: اس عظیم بزرگ مجاہد ختم نبوت کا نام بتائیں جن کا جنازہ دفتر ختم نبوت سے اٹھا؟ ج: "حضرت مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ"

س: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا محمد علی جالندھریؒ کے لبوں پر بوقت موت کیا الفاظ تھے؟ ج: اللہ، ختم نبوت۔

س: کس شہید ختم نبوت کے جنازہ پر غیبی پھولوں کی بارش ہوئی؟

صفحہ 38

ج: ”مولانا شمس الدین شہیدؒ“

س: کس بزرگ ہستی نے یہ پیش گوئی کی کہ مرزا قادیانی آئندہ چوبیس گھنٹے میں جہنم واصل ہو جائے گا؟ اور یہ پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی۔

ج: ”حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب“

س: یہ الفاظ کس عظیم عاشق رسول عالم دین کے ہیں؟ ”مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانیوں کو مظلوم سمجھنے والا اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے وہ بھی کافر“۔

ج: ”حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ“

س: یہ للکار کس مجاہد اسلام کی ہے؟ ”قادیانیوں کا مسئلہ باتوں سے حل نہیں ہوگا‘ آپ مجھے حکم دیں میں قادیانیوں سے نپٹ لوں گا اور چند روز میں ربوہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دوں گا“۔

ج: ”حضرت خواجہ قمرالدین سیالویؒ“

س: بوقت آخر یہ الفاظ کس عظیم مجاہد ختم نبوت کے لبوں کی زینت تھے؟ ”ڈاکٹر گواہ رہنا‘ میں عاشق رسول ہوں“۔

ج: ”آغا شورش کاشمیریؒ“

س: جب بیٹے کو تحریک ختم نبوت میں حصہ لینے کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی۔ پھر جب یہ خبر بیٹے کے باپ تک پہنچی تو عظیم باپ نے کہا: ”ایک بیٹا تو کیا اگر میرے ہزار بیٹے بھی ہوتے تو میں تحفظ ختم نبوت پہ نچھاور کر دیتا“ یہ عظیم باپ کون تھا؟

ج: ”حضرت علامہ ابوالحسنات مولانا محمد احمد قادریؒ“

س: کس عالم دین سے مباہلہ کرنے سے مرزا قادیانی جہنم واصل ہوا؟

ج: حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

س: یہ الفاظ کس محسن ملت اسلامیہ کے ہیں؟ ”قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں“۔

ج: حضرت علامہ اقبالؒ

صفحہ 39

س: حضرت علامہ اقبال نے قادیانیت کو یہودیت سے کن الفاظ میں تشبیہ دی ہے؟

ج: ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے“۔

س: حضرت مولانا مودودی کو کونسا کتابچہ لکھنے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی گئی؟

ج: ”قادیانی مسئلہ“ نامی پمفلٹ لکھنے پر۔

س: تحریک ختم نبوت میں شمولیت کرنے کے جرم میں جب اس مجاہد ختم نبوت کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو انہوں نے بڑے باوقار لہجہ میں کہا:

”زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اس لیے میں کسی حکومت سے رحم کی اپیل نہیں کروں گا“۔ یہ ایمان پرور الفاظ کس مجاہد ختم نبوت کے ہیں؟

ج: مولانا مودودی

س: ”حضرت مفتی صاحب! میں تحریک کی راہنمائی کے لیے جا رہا ہوں اور اپنا کفن بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔ پھر کفن نکال کر دکھایا اور کہا کہ مرزائیوں کو اس ملک میں آئین کی رو سے کافر ٹھہراؤں گا یا اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں گا، گھر واپس جانے کا ارادہ نہیں“۔

یہ الفاظ کس فدائی ختم نبوت کے ہیں؟

ج: قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا سید یوسف بنوریؒ

س: اس بے باک مجاہد ختم نبوت کا نام بتائیں جسے مرزا قادیانی کی قبر پر پیشاب کرنے کی سعادت حاصل ہوئی؟

ج: جناب جانباز مرزاؒ

س: تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں کتنے مسلمان شہید ہوئے؟

ج: دس ہزار

س: تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے شہیدوں کا سب سے بڑا قاتل کون ہے؟

ج: جنرل اعظم خان مردود

س: مرزائیوں کے ہاتھوں زخمی ہونے والے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے یہ الفاظ کس مجاہد ختم نبوت کے ہیں؟

”میرے بچو! جب تک تمہارے جسم سے بہتے ہوئے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب نہیں لیں گے، اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے“۔

صفحہ 40

ج: حضرت مولانا تاج محمودؒ

س: ”مرزا غلام احمد قادیانی دجال تھا‘ دجال تھا‘ دجال تھا۔ میں اس سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں‘ میں قانون محمدی کا پابند ہوں۔“۔ یہ الفاظ عالم اسلام کی کس عظیم شخصیت کے ہیں؟

ج: مولانا ظفر علی خانؒ

س: ”جلال الدین شمس! اگر تو اس طرح نہیں مانتا تو آنکھیں بند کر میں تجھے ابھی مرزا قادیانی کو جہنم میں جلتا ہوا دکھا دیتا ہوں۔“۔ مرزائی وکیل جلال الدین شمس کو بہاولپور کی عدالت میں مخاطب کرتے ہوئے یہ الفاظ کس بزرگ ہستی نے کہے تھے؟

ج: حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ

س: مولانا لال حسین اختر کس خواب کو دیکھ کر قادیانیت سے تائب ہوئے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کو کس حال میں دیکھا؟

ج: خنزیر کی شکل میں‘ جو جہنم میں جل رہا تھا۔

س: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وہ کون سے امیر تھے‘ جنہیں جیل میں اپنے والد کی نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت نہ ملی؟

ج: مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ

س: ”فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لیے اتنا لکھو‘ اتنا طبع کراؤ اور اتنا تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب سو کر اٹھے تو اس کے سرہانے رد قادیانیت کی کتب موجود ہوں۔“۔ بتائیے یہ فرمان کس بزرگ کا ہے؟

ج: مولانا محمد علی مونگیریؒ

س: یہ قول کس مجاہد ختم نبوت کا ہے؟ ”قادیان مرزائیت کی جائے پیدائش‘ ربوہ اعصابی مرکز‘ تل ابیب تربیتی کیمپ‘ لندن پناہ گاہ‘ ماسکو استاد اور واشنگٹن اس کا بنک ہے۔“۔

ج: آغا شورش کاشمیریؒ

س: اس بزرگ ہستی کا نام بتائیے جنہوں نے قادیانیت کو خارش زدہ کتے سے بدتر قرار دیا

صفحہ 41

ہے؟ ج: جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری س: ہندوستان کی کس علمی و روحانی شخصیت نے اپنے چار لاکھ مریدوں سے یہ کہا ”جو شخص قادیانیت کے خلاف کام نہیں کرتا‘ وہ میرا مرید نہیں“۔ ج: مولانا محمد علی مونگیریؒ س: کس شخصیت نے مرزا بشیر الدین کو کشمیر کمیٹی سے نکلوایا؟ ج: علامہ اقبالؒ س: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے موجودہ امیر کا نام بتائیے (بتاریخ ۹۷-۵-۲) ج: حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ۔ س: اس خطیب ختم نبوت کا نام بتائیے‘ جسے دورِ حاضر میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی خطابت کا امین کہا جاتا ہے؟ ج: مولانا محمد اجمل خان مدظلہ س: ہفت روزہ رسالہ ”ختم نبوت“ کہاں سے شائع ہوتا ہے؟ ج: کراچی س: ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ کہاں سے شائع ہوتا ہے؟ ج: ملتان۔ س: تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کی قیادت کس شخصیت نے فرمائی؟ ج: مولانا ابو الحسناتؒ س: تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کی قیادت کس نے فرمائی؟ ج: مولانا سید یوسف بنوریؒ۔ س: تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں کس شہر میں دس ہزار مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا؟ ج: لاہور۔ س: بہاولپور کی عدالت میں کس بزرگ عالمِ دین نے قادیانی وکیل جلال الدین شمس کو مخاطب کر کے کہا تھا ”جلال دین! تو اگر اس طرح نہیں مانتا تو آنکھیں بند کر میں تجھے ابھی اس

صفحہ 42

عدالت میں مرزا قادیانی کو جہنم میں جلتا ہوا دکھا سکتا ہوں؟

ج: حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ

س: اس مجاہد ختم نبوت کا نام بتائیے، جس نے ادارہ منہاج القرآن میں "رد قادیانیت" کے موضوع کو طلباء کے نصاب میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے؟

ج: مرکزی امیر تحریک ادارہ منہاج القرآن جناب علامہ مسکین فیض الرحمٰن مدظلہ۔

س: پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مرزا طاہر کو کب اور کہاں دعوت مباہلہ دی؟

ج: 24 اکتوبر 1988ء بمقام مینار پاکستان لاہور

س: قادیانی گرو مرزا طاہر، جناب پروفیسر طاہر القادری سے مباہلہ کرنے کے لیے کس میدان میں آیا؟

ج: اس بزدل کو میدان میں آنے کی جرات ہی نہ ہوئی۔

س: تحریک منہاج القرآن نے پوری دنیا میں قادیانیوں کا تعاقب کرنے کے لیے "شعبہ تحفظ ختم نبوت" قائم کیا ہے۔ اس شعبہ کے انچارج کا نام بتائیے؟

ج: الحاج محمد نذیر مغل

س: بوقت وصال یہ کس ہستی کے الفاظ تھے "روشنی آ رہی ہے، پردے ہٹا دو"۔

ج: صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ صاحبؒ

س: یہ کس بزرگ کا قول ہے "قادیانی کو قتل کرنا رضائے الٰہی کا موجب ہے"؟

ج: خطیب ختم نبوت صاحبزادہ فیض الحسن شاہؒ

س: کس مجاہد ختم نبوت کی قبر کی مٹی سے تین دن تک خوشبو آتی رہی؟

ج: مولانا محمد شریف بہاولپوریؒ

س: کس بزرگ ہستی نے جیل میں یہ کہہ کر چارپائی پر سونے سے انکار کر دیا، "میں چارپائی پر کیسے سو سکتا ہوں جبکہ ختم نبوت کے محافظ رضا کار زمین پر سوئیں؟"

ج: مولانا احمد علی لاہوریؒ

س: مرزا قادیانی ملعون نے یہ غلیظ جملہ کس عظیم ہستی کے بارے میں کہا؟ "اے گولڑہ کی سرزمین تجھ پر لعنت، تو ملعون کے سبب ملعون ہو گئی"۔

ج: حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ

صفحہ 43

س: وہ کون سا قادیانی خلیفہ تھا، جس کی بیوی بڑھاپے میں اسے بیماری کی حالت میں چھوڑ کر اپنے آشنا کے ساتھ فرار ہو گئی تھی؟

ج: حکیم نور الدین

س: وہ کون سا قادیانی تھا جو آخری وقت اپنا پاخانہ کھاتا رہا؟

ج: مرزا بشیر الدین

س: وہ کون سا قادیانی خلیفہ تھا جو بوقت موت کتے کی طرح بھونکتا تھا؟

ج: مرزا بشیر الدین

س: وہ کون سا قادیانی خلیفہ تھا جو گھوڑے سے گرا اور ٹانگ ٹوٹ گئی اور پھر ٹانگ کو گینگرین ہو گئی، آخری وقت میں زبان بند ہو گئی اور جس کا سانس آخری وقت میں دھونکنی کی طرح چلتا تھا؟

ج: حکیم نور الدین

س: اس قادیانی خلیفہ کا نام بتائیے جس سے اقتدار چھیننے کے لیے مرزا بشیر الدین نے اس کے جوان بیٹے کو قتل کرا دیا؟

ج: حکیم نور الدین

س: اس ملعون قادیانی سائنس دان کا نام بتائیے جس نے پاکستان کے بارے میں یہ ہرزہ سرائی کی تھی:

”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا جب تک کہ آئین میں کی گئی ترمیم (قادیانی غیر مسلم ہیں) واپس نہ لی جائے۔

ج: ڈاکٹر عبدالسلام

س: اس لعین قادیانی سائنس دان کا نام بتائیے جس نے یہودیوں کی طرف سے رشوت میں ملنے والے نوبل پرائز کو حاصل کرنے کے بعد یہ بکواس کیا تھا؟

”میں سب سے پہلا مرزا غلام احمد قادیانی کا غلام ہوں، پھر مسلمان، پھر پاکستانی“۔

ج: ڈاکٹر عبدالسلام

س: ڈاکٹر عبدالسلام نے یہودیوں سے نوبل پرائز حاصل کرنے کے بعد اس انعام کو کس کا معجزہ قرار دیا تھا؟

صفحہ 44

ج: مرزا قادیانی کا معجزہ

س: ۱۹۷۴ء میں ربوہ ریلوے سٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر جن ہزاروں قادیانی غنڈوں نے حملہ کیا‘ ان کی قیادت کون کر رہا تھا؟

ج: مرزا طاہر

س: مرزا طاہر‘ مرزا قادیانی کا کیا لگتا ہے؟

ج: پوتا

س: مرزا طاہر کی بیگم کا کیا نام ہے؟

ج: آصفہ اور آپچی

س: بچپن میں مرزا طاہر کو گھر میں کس نام سے پکارا جاتا تھا؟

ج: تاری

س: قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کا نماز جنازہ کیوں نہ پڑھا؟

ج: کیونکہ وہ قائد اعظم کو کافر سمجھتا تھا۔

س: ایم ایم احمد مرزا قادیانی کا کیا لگتا ہے؟

ج: پوتا۔

س: مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر قادیانیوں نے کیا کیا؟

ج: سڑکوں پر ڈانس کیا‘ شیرینی تقسیم کی اور آپس میں مبارکبادیں دیں۔

س: قادیانیوں کی لاہوری جماعت کے سربراہ کا کیا نام ہے؟

ج: محمد علی لاہوری

س: قادیانیوں کی لاہوری جماعت مرزا قادیانی کو کیا سمجھتی ہے؟

ج: مجدد اور امام مہدی (نعوذ باللہ)

س: مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ قادیانیوں کی قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے متعلق کیا فرمایا کرتے ہیں؟

ج: شاہ صاحب فرمایا کرتے تھے کہ یہ دونوں خنزیر ہیں۔ ایک سفید خنزیر دوسرا کالا خنزیر۔

صفحہ 45

س: وہ کون سا قادیانی خلیفہ تھا‘ جس نے اپنی ساری بیٹیوں سے منہ کالا کیا؟ ج: مرزا بشیر الدین محمود س: مرزا قادیانی کا کون سا بیٹا ”اغلام بازی“ میں مشہور تھا؟ ج: مرزا بشیر احمد س: کس قادیانی خلیفہ کا تفصیلی طبی معائنہ کرنے کے بعد دنیا کے ایک بہت بڑے ڈاکٹر نے یہ جملہ کہا تھا: ”میں بیماری کا علاج تو کر سکتا ہوں لیکن خدائی پکڑ کا علاج نہیں کر سکتا“۔ ج: مرزا بشیر الدین س: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے کس شعلہ نوا خطیب کی کڑکتی خطابت کو سن کر قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کو دل کا دورہ پڑا اور وہ جہنم واصل ہو گیا؟ ج: مولانا اللہ وسایا س: مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں بیگم کا شادی سے پہلے کیا نام تھا؟ ج: اللہ رکھی س: مرزا قادیانی نے شادی کے موقعہ پر اپنی بیوی نصرت جہاں بیگم کو کتنا زیور پہنایا؟ ج: تقریباً ۷۵ تولے س: مرزا قادیانی کی پہلی بیوی کا کیا نام تھا؟ ج: پھجے دی ماں س: مرزا قادیانی نے اپنی پہلی بیوی ”پھجے دی ماں“ کو اس کے بڑھاپے میں طلاق کیوں دی؟ ج: نئی نویلی دلہن‘ دوشیزہ نصرت جہاں بیگم کے کہنے پر۔ س: مرزا قادیانی اپنی اردو کی اصلاح کس سے لیا کرتا تھا؟ ج: اپنی بیوی نصرت جہاں بیگم سے۔ س: سب سے پہلا مرتد بتائیے‘ جس نے مرزا غلام قادیانی کے ہاتھ پر بیعت کی؟ ج: حکیم نور الدین س: اس قادیانی خلیفہ کا نام بتائیے جسے انگریزوں نے کشمیر میں اپنا جاسوس بنا کر مہاراجہ

صفحہ 46

کشمیر کے دربار میں بطور طبیب بھیجا ہوا تھا؟

ج: حکیم نور الدین

س: مرزا قادیانی اور اس کے ہندو دوست نے مختاری کا امتحان دیا جس میں ہندو دوست پاس ہو گیا اور مرزا قادیانی فیل ہو گیا‘ اس ہندو دوست کا نام بتائیے؟

ج: لالہ بھم سین

س: مرزا قادیانی کا بھائی کس بیماری سے مرا؟

ج: مرگی

س: مرزا قادیانی کا باپ کس بیماری سے مرا؟

ج: پیچش

س: جب غازی علم دین شہیدؒ نے شاتم رسول راجپال کو جہنم رسید کیا تو ایک قادیانی لیڈر نے اس موقع پر مندرجہ ذیل بکواس کیا: ”وہ نبی بھی کیا نبی ہے جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون میں ہاتھ رنگنے پڑیں“۔ یہ بکواس کس لیڈر کی ہے؟

ج: مرزا بشیر الدین

س: ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مرزا قادیانی کے باپ نے انگریزوں کی کیا مدد کی تھی؟

ج: انگریزی فوج کو اپنے پاس سے پچاس سوار اور پچاس گھوڑے دیے تھے۔

س: مرزا قادیانی نے خود کو کس کا ”خود کاشتہ پودا“ کہا ہے؟

ج: انگریز کا

س: کس مسلمان حکمران کی وفات پر قادیانیوں نے حلوے کی دیگیں پکائیں اور خوشی سے بھنگڑا ڈالا؟

ج: خادم حرمین شریفین شاہ فیصل شہیدؒ

س: کس انگریز گورنر نے قادیانیوں کو ربوہ میں ۱۰۳۳ ایکڑ‘ سات کنال آٹھ مرلے اراضی چار آنہ فی مرلہ کے حساب سے دی تھی؟

ج: سر فرانسس موڈی

س: پاک فضائیہ کا وہ کون سا ائیر چیف مارشل تھا جس کے دور میں ربوہ میں مرزا ناصر کو

صفحہ 47

قادیانیوں کے سالانہ جلسہ میں ایئر فورس کے طیاروں نے سلامی دی؟

ج: ایئر مارشل ظفر چوہدری قادیانی

س: قادیانیوں کو کس تاریخ کو کافر قرار دیا گیا؟

ج: ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء

س: صدارتی امتناع قادیانیت آرڈینینس کب نافذ ہوا؟

ج: ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء

س: خلافت عثمانیہ کی تباہی پر قادیانیوں نے کیا کیا؟

ج: قادیان میں چراغاں کیا۔

س: وزیر اعظم لیاقت علی خان کو کس نے قتل کرایا؟

ج: وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی

س: لیاقت علی خان کے قاتل کا کیا نام تھا؟

ج: سید اکبر ۔۔۔ یہ ظفر اللہ کا لے پالک بیٹا ہے۔

س: کس قادیانی جرنیل نے قادیان پہنچنے کے لیے کشمیر میں جنگ شروع کرائی تھی؟

ج: جنرل اختر ملک

س: ”ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک پاکستان بننا اصولاً غلط ہے“۔ بتائیے! یہ زہریلے الفاظ کس قادیانی سربراہ کے ہیں؟

ج: مرزا بشیر الدین

س: بتائیے! یہ غدارانہ الفاظ کس قادیانی سربراہ کے ہیں؟ ”ممکن ہے عارضی طور پر کچھ افتراق (علیحدگی) ہو اور کچھ وقت کے لیے دونوں قومیں (ہندو مسلم) جدا جدا رہیں۔ مگر یہ حالت عارضی ہوگی اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جلد دور ہو جائے‘ بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے“۔

ج: مرزا بشیر الدین

س: ”ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح متحد ہو جائیں“۔

صفحہ 48

بتائیے یہ مہلک جملہ کس قادیانی سربراہ کے گندے منہ سے صادر ہوا؟

ج: مرزا بشیر الدین

س: اس قادیانی وکیل کا نام بتائیے، جو مسئلہ کشمیر کا وکیل بن کر سلامتی کونسل میں گیا اور وہاں پر لمبی لمبی اور بے ہودہ تقریریں کر کر کے اس نے مسئلہ کشمیر کے مقدمے کا ستیاناس کر دیا؟

ج: سر ظفر اللہ قادیانی

س: مرزا قادیانی نے مسلمانوں کو کس کی مکمل اطاعت کا حکم دیا؟

ج: انگریزوں کی اطاعت کا۔

س: مرزا قادیانی نے اسلام کے کس ستون کو حرام قرار دے دیا؟

ج: جہاد

س: مرزا قادیانی نے گورنمنٹ انگلینڈ کو کس نام سے پکارا؟

ج: باران رحمت

س: حکومت انگلینڈ کی اطاعت نہ کرنے والے حریت پسندوں کو مرزا قادیانی نے کس نام سے پکارا؟

ج: بدکار اور حرامی

س: مرزا قادیانی نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں سرفروشانہ حصہ لینے والے مجاہدین کو کیا کہا؟

ج: چور، قزاق اور حرامی۔

س: مرزا قادیانی نے انگریزی حکومت کو کیا قرار دیا؟

ج: اولی الامر

س: ربوہ کے بہشتی مقبرے میں بڑے بڑے قادیانی کیوں امانتاً دفن کیے گئے؟

ج: کیونکہ قادیانیوں کا مذہبی عقیدہ ہے کہ ایک نہ ایک دن پاکستان ٹوٹے گا، اور جب پاکستان ٹوٹے گا تو ہم لاشیں یہاں سے نکال کر قادیان لے جا کر دفن کر دیں گے۔

س: اسرائیل میں کتنے قادیانی فوج میں بھرتی ہیں؟

ج: چھ سو

صفحہ 49

س: سقوط ڈھاکہ کا سب سے اہم قادیانی کردار کون تھا؟

ج: ایم ایم احمد

س: مسلمان کیوں مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے؟

ج: کیونکہ قادیانی اسلام اور وطن کے غدار ہیں۔ اس لیے کسی غدار کو کلیدی آسامی پر نہیں بٹھایا جاسکتا۔

س: مسلمان کیوں مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو افواج پاکستان سے نکالا جائے؟

ج: کیونکہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جہاد حرام ہے اور جو شخص جذبہ جہاد نہیں رکھتا اس کا افواج پاکستان میں کیا کام؟

س: مسلمان کیوں مطالبہ کرتے ہیں کہ قادیانی اوقاف کو بحق سرکار ضبط کیا جائے؟

ج: کیونکہ قادیانی اسلام اور پاکستان کے غدار ہیں۔ اس لیے پاکستان میں غداروں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

س: مسلمان قادیانیوں کو ان کے سینوں اور گھروں پر کلمہ طیبہ کے بیج اور بورڈ وغیرہ کیوں نہیں لگانے دیتے؟

ج: قادیانی کلمہ طیبہ کے بیج اور بورڈ لگا کر خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنے اس عمل سے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں۔

س: قادیانی اپنی عبادت گاہوں کا نام مسجد کیوں نہیں رکھ سکتے؟

ج: کیونکہ مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں اور مسجد شعائر اسلام میں سے ہے اور کوئی کافر شعائر اسلام استعمال نہیں کرسکتا۔

س: مسلمان قادیانیوں سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

ج: کیونکہ قادیانی مرتد، زندیق، گستاخ رسول اور ختم نبوت کے باغی ہیں۔ اس لیے ہر قادیانی سے نفرت و بے زاری ہر مسلمان کی دینی غیرت کا تقاضا ہے۔

س: شیزان اور دیگر قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ کیوں کرنا چاہیے؟

ج: کیونکہ شیزان اور دیگر قادیانی مصنوعات ساز ادارے اپنے منافع میں سے ایک مخصوص رقم قادیانی جماعت کو دیتے ہیں اور وہ رقم ہمارے آقا جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت اور آپ کی امت کے خلاف خرچ کی جاتی ہے۔ لہٰذا جو شخص جان بوجھ کر

صفحہ 50

قادیانی مصنوعات خریدتا ہے وہ قادیانیوں کا معاون و مددگار ہے۔

س: کیا کسی قادیانی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جاسکتا ہے؟

ج: قادیانی مرتد‘ زندیق اور گستاخ رسول ہیں‘ لہٰذا ان کا مسلمانوں اور ان کے قبرستان سے کیا تعلق۔

س: بتائیے! قادیانیوں کی مشہور کتاب ”تذکرہ“ سے کیا مراد ہے اور قادیانیوں کے نزدیک اس کا کیا مقام ہے؟

ج: مرزا قادیانی کی وحی‘ الہام‘ کشف اور خوابوں کے مجموعہ کو تذکرہ کہتے ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک تذکرہ ”قرآن پاک“ کی طرح ہے۔

س: مرزا قادیانی کہتا ہے کہ جو مجھے نہیں مانتا وہ کنجری کی اولاد ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کے اپنے بیٹے مرزا فضل نے اسے نبی تسلیم نہ کیا۔ بتائیے اس لحاظ سے مرزا قادیانی اور اس کی بیوی خود کیا ٹھہرے؟

ج: کنجری اور کنجر

س: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کی جس مسجد کو مسمار کرا کر اسے آگ لگوائی اس کا نام بتائیں؟

ج: مسجد ضرار

س: دنیا کے اس ملک کا نام بتائیں جہاں یہودیت کے علاوہ کسی اور مذہب کی تبلیغ کی قانونی اجازت نہیں‘ لیکن قادیانی مشن وہاں بھی قائم ہے؟

ج: اسرائیل

س: پاکستان کے اس واحد ضلع کا نام بتائیں جہاں قادیانیوں کا داخلہ قانوناً بند ہے؟

ج: ژوب---بلوچستان

س: کس قادیانی خلیفہ نے پاکستان کو ”پاگل خانہ“ قرار دیا؟

ج: مرزا طاہر پاگل نے

س: مصر میں قادیانیوں کی جماعت کو کب خلاف قانون قرار دیا گیا؟

ج: مئی ۱۹۵۸ء

س: شام میں مرزائیوں کو کب خلاف قانون قرار دیا گیا؟

صفحہ 51

ج: مئی ۱۹۵۸ء

س: قادیانیوں کی رائل فیملی نے ربوہ کی زمین خود تو ایک آنہ فی مرلہ کے حساب سے الاٹ کرائی، لیکن قادیانیوں کو وہ زمین کس بھاؤ دی؟

ج: تین سو روپے فی مرلہ

س: مرزا قادیانی ملعون کا وہ ملعون شعر سنائیں، جس میں اس نے قادیان کی سرزمین کو "ارض حرم" کہا ہے؟

ج:

زمین قادیاں اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

س: ربوہ میں فاتح مسلمانوں نے سب سے پہلے کون سی نماز ادا کی اور کب؟

ج: نماز ظہر، ۲۶؍ دسمبر ۱۹۷۴ء

س: ربوہ کو کس دن کھلا شہر قرار دیا گیا؟

ج: جنوری ۱۹۷۵ء

س: مرزا قادیانی نے کب یہ اعلان کیا کہ اس کی جماعت کے لوگ "احمدی" کہلائیں گے؟

ج: ۱۹۰۰ء میں

س: کس لعین نے یہ کہا تھا؟

"اگر ظفر اللہ خان کو وزارت خارجہ سے ہٹا دیا گیا تو امریکہ پاکستان کو گندم نہیں دے گا"۔

ج: خواجہ ناظم الدین

س: آزاد کشمیر اسمبلی میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد کس نے پیش کی؟

ج: میجر (ریٹائرڈ) محمد ایوب

س: پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قرارداد سب سے پہلے کس صوبے نے منظور کی؟

ج: صوبہ سرحد

صفحہ 52

س: ”قادیانیت ہماری نظر میں“ کے مولف کا نام بتائیے؟

ج: محمد متین خالد۔

س: ”رواداری اور دینی غیرت“ کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: محمد صدیق شاہ بخاری۔

س: ”تحفظ ختم نبوت“، ”قادیانیت شکن“، ”نغمات ختم نبوت“، ”مرگ مرزائیت“ ”شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی“ اور ”قادیانی افسانے“ کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: محمد طاہر رزاق۔

س: تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ”تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء“ جلد اول ”تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء، جلد دوم“، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ جلد سوم، قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت“ کے مولف کا نام بتائیے؟

ج: مولانا اللہ وسایا۔

س: ”قادیانیت کا علمی ریمانڈ“ نامی کتاب کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: مولانا تاج محمدؒ

س: ”سازشوں کا دیباچہ“ نامی کتاب کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: رائے کمال۔

س: ”قادیانیت کا سیاسی تجزیہ“ نامی کتاب کس کی تصنیف ہے؟

ج: صاحبزادہ طارق محمود۔

س: ”تحفظ ناموس رسالت اور گستاخ رسول کی سزا“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: ساجد اعوان۔

س: ”خطبات ختم نبوت“ کس کی تالیف ہے؟

ج: مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔

س: ”احتساب قادیانیت“ کے مصنف کا نام بتائیے۔

ج: مولانا لال حسین اختر۔

س: ”مرزائی نامہ“ کے مصنف کا نام بتائیے۔

ج: مولانا مرتضیٰ احمد میکش۔

صفحہ 53

س: ”شہر سدوم“ کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: جناب شفیق مرزا۔

س: ”قادیانی عقائد و عزائم“ کے مصنف کا نام بتائیے۔

ج: مولانا تاج محمودؒ

س: ”عقیدۃ الامت فی معنی ختم النبوۃ“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: علامہ خالد محمود۔

س: ”ختم نبوت کامل“ کے مولف کا نام بتائیے؟

ج: مولانا مفتی محمد شفیعؒ

س: ”ختم نبوت“ کس کی تالیف ہے؟

ج: مولانا مودودیؒ

س: ”فتنہ انکار ختم نبوت“ کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: پیر کرم شاہ الازہری۔

س: ”عقیدۃ الاسلام فی حیات عیسیٰ علیہ السلام“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

س: ”علامات قیامت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام“ کس کی تالیف ہے؟

ج: مفتی محمد رفیع عثمانی۔

س: ”سیف چشتیائی“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ

س: ”شہادت آسمانی“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

س: ”شہادات مرزا“ کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

س: ”شمس الہدایۃ“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ

س: ”شہادت القرآن“ کے مصنف کا نام بتائیے۔

صفحہ 54

ج: مولانا میر محمد ابراہیم سیالکوٹیؒ

س: ”قادیانی کیوں مسلمان نہیں؟“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: مولانا محمد منظور نعمانی۔

س: ”ایمان کے ڈاکو“ کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ

س: ”آئمہ تلبیس“ کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوریؒ

س: ”حرف محرمانہ“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: ڈاکٹر غلام جیلانی برق۔

س: ”فسانہ قادیان“ کے مصنف کا نام بتائیے؟

ج: مولانا محمد ابراہیم میرپوریؒ

س: ”قادیانی مسئلہ“ کے مصنف کا نام بتائیے۔

ج: مولانا مودودیؒ

س: ”قادیانی قول و فعل“ کے مولف کا نام بتائیے؟

ج: پروفیسر محمد الیاس برنیؒ

س: ”قادیانیت“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: مولانا ابوالحسن ندویؒ

س: ”قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ“ کس کی تالیف ہے؟

ج: پروفیسر محمد الیاس برنیؒ

س: ”قادیانی امت“ کے مولف کا نام بتائیے؟

ج: مولانا محمد شفیع جوش

س: ”کاویہ علی الغاویہ“ کس کی تصنیف ہے؟

ج: مولانا محمد عالم آسی امرتسری۔

س: ”ارمغان قادیان“ کس کا شعری مجموعہ ہے؟

ج: مولانا ظفر علی خانؒ

صفحہ 55

س: ”عقیدہ ختم نبوت اور مرزا قادیانی“ کے مصنف کا نام بتائیے؟ ج: پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادریؒ

س: ”تحقیق الکفر والایمان“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ

س: ”رئیس قادیان“ کے مصنف کا نام بتائیے؟ ج: مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوریؒ

س: ”مقیاس نبوت“ کے مصنف کا نام بتائیے؟ ج: مولانا محمد عمر اچھرویؒ

س: ”Islam And Ahmadism“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: حضرت علامہ اقبالؒ

س: ”اقبال اور قادیانی“ کے مصنف کا نام بتائیے؟ ج: نعیم آسیؒ

س: ”عجمی اسرائیل“ کے مصنف کا نام بتائیے؟ ج: آغا شورش کاشمیریؒ

س: ”حرف اقبال“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: جناب لطیف احمد شیروانی۔

س: ”تاریخ محاسبہ قادیانیت“ کے مصنف کا نام بتائیے؟ ج: پروفیسر خالد شبیر۔

س: ”فیضان اقبال“ کے مصنف کا نام بتائیے؟ ج: آغا شورش کاشمیریؒ

س: ”مرزائیل“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: آغا شورش کاشمیریؒ

س: ”مرزائیت نئے زاویوں سے“ کے مصنف کا نام بتائیے؟ ج: مولانا محمد حنیف ندویؒ

س: ”تحفہ قادیانیت“ جلد اول‘ تحفہ قادیانیت جلد دوم‘ تحفہ قادیانیت‘ جلد سوم کے

صفحہ 56

مصنف کا نام بتائیے؟ ج: حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ س: ”تحریک ختم نبوت“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: آغا شورش کاشمیریؒ س: ”مرزائیت اور اسلام“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ س: ”قادیان سے اسرائیل تک“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: ابو دثرہ۔ س: ”قادیانیوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلے“ کس کی تالیف ہے؟ ج: ملک محمد فیاض اختر۔ س: ”قادیانی عقائد پر ایک نظر“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ۔ س: ”بھٹو اور قادیانی مسئلہ“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: سید سلطان شاہ۔ س: ”مسیلمہ کذاب سے دجال قادیان تک“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: جانباز مرزاؒ س: ”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: جناب غلام نبی۔ س: ”نقوش جاوداں“ کس کی تصنیف ہے؟ ج: زاہد منیر عامر۔

مسلمانو!

ختم نبوت دین کی اساس ہے۔۔۔۔۔
ختم نبوت دین کی روح ہے۔۔۔۔۔
ختم نبوت دین کی آبرو ہے۔۔۔۔۔

مسلمانو! جو شخص تحفظ ختم نبوت کا کام کرتا ہے!

صفحہ 57

ہے۔

ہے۔

عظمتوں سے پہلو تہی کرتا ہے---- منہ موڑتا ہے---- بے رغبتی کا مظاہرہ کرتا ہے-----!!!

صفحہ 58

اے افراد ملت اسلامیہ! اٹھو! اللہ کے لیے----- اللہ کے رسول کے لیے----- اللہ کے دین کے لیے------

جاگو----- اور جگاؤ----- اور قادیانیوں سے برسر پیکار ہو جاؤ۔

اے میرے مسلمان بھائیو! حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان خصوصی توجہ سے سنئے۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ منکر کو دیکھیں اور بدلنے کی کوشش نہ کریں تو بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ برائی کرنے والوں اور اس کے دیکھنے والوں کو ایک ہی عذاب میں لپیٹ لے“۔

مسلمانو! اس وقت روئے زمین پر قادیانیت سے بڑھ کر برائی کیا ہوگی--- اور اس برائی کو دیکھ کر خاموش رہنے والے لوگوں سے بڑھ کر مجرم کون ہوں گے-----

آؤ دیکھتے ہیں، کہیں میں مجرم تو نہیں--- کہیں آپ مجرم تو نہیں---

آؤ جلدی سے اپنی شناخت پریڈ کرتے ہیں-----

مبادا کہیں اللہ کے عذاب کی بجلیاں کڑک پڑیں----

کہیں اللہ کے عذاب کے بادل شعلوں کی بارش برسا دیں۔

کہیں فرشتے زمین کے اس ٹکڑے کو اٹھا کر آسمان پر لے جائیں اور پھر اسے نیچے پٹخ دیں-----

جلدی کیجئے----- جلدی کیجئے۔

چوکھٹے قبروں کے خالی ہیں انہیں مت بھولو
جانے کب کون سی تصویر سجا دی جائے