شمع ختم نبوت
کے پروانوں
کی باتیں
ترتیب و تدوین
محمد طاہر رزاق
تاریخ
تحفظ ختم نبوت
سیریز 1
شمع
ختم نبوّت
کے
پروانوں کی باتیں
ترتیب و تدوین محمّد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان
انتساب
- علم کا ایک بہتا ہوا دریا
- عمل کا ایک متلاطم سمندر
- جذبوں کا ایک دہکتا ہوا آتش فشاں
- عقیدہ ختم نبوت کا ایک سر بکف پاسباں
- ناموس رسالت پر سو جان سے فدا و قرباں
جناب پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی
کے نام
جن کی شخصیت قادیانیت کے لئے ”سیف چشتیائی“ ہے
فہرست
ہم کہاں کھڑے ہیں (محمد طاہر رزاق) 12
میں مر کے وی نئیں مردا‘ جئے تیری نظر ہووے (محمد نذیر 15 فضل)
قادیانیت کے خلاف جہاد آخرت کا زاد راہ ہے (ڈاکٹر وحید 17 عشرت)
- 1- محبت 24
- 2- خدمت 24
- 3- درس حدیث 25
- 4- مولانا انور شاہ کشمیریؒ کا زاد راہ 26
- 5- دو مبارک خواب 27
- 6- حضرت رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ 29
- 7- جذبہ قربانی 30
- 8- اسلام کے لیے 30
- 9- شاہ جیؒ کا مقام 31
- 10- منہ توڑ جواب 32
- 11- پولیس نے لاٹھی چارج سے انکار کر دیا 33
- 12- دشمن کی گھات 33
- 13- اکابر احرار کا علمی و عملی مقام 34
- 14- مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی للکار 35
- 15- حضرت مفتی محمد شفیع کو حضرت کشمیریؒ کی دعائیں 36
- 16- مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی جرأت اظہار 37
- 17- علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا مقام 39
- 18- مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی فکر 39
- 19- ایک رات میں تعمیر ہونے والی کچی مسجد 39
- 20- پولیس نے تنگ آ کر چھوڑ دیا 41
- 21- دولہا نے نعرے لگانے شروع کر دیئے 41
- 22- وہ بھی کیا مسلمان تھے؟ 42
- 23- اچھے چہرے سے خیر کی امید ہے 44
- 24- علی گڑھ میں جلسہ ختم نبوت 46
- 25- ایک سوال 47
- 26- مرزا قادیانی شیطان سے بدتر 48
- 27- توکل شاہ سے دعا کی درخواست 48
- 28- بے مثال 49
- 29- حضرت بابو جی گولڑویؒ کی دعا 50
- 30- مولانا ظفر علی خانؒ 50
- 31- مولانا مودودیؒ کی استقامت 51
- 32- جانباز کی جانبازیاں 52
- 33- علامہ اقبالؒ کو توجہ دلائی 53
- 34- دعوت فکر 53
- 35- آفتاب خطاب 54
- 36- باعث نجات 59
- 37- قلندر کی جرأت 59
- 38- ایبٹ آباد میں تحریک ختم نبوت کی چند جھلکیاں 61
- 39- سنسنی خیز واقعہ 68
- 40- شیخ بنوریؒ کی توجہ 71
- 41- کایا پلٹ گئی 72
- 42- شہد کی مکھیاں 76
- 43- مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی فکر 78
- 44- وہ شخص کون تھا؟ 79
- 45- مردان کے مردان غازی 80
- 46- ایک مرزائی سے گفتگو 82
- 47- مرزائیت سے توبہ 84
- 48- مرزا قادیانی کے متعلق دربار رسالت کا فیصلہ 84
- 49- اگر ایسا ہوتا! 85
- 50- تکمیل نور 86
- 51- مرزائیوں کو شاہ فہد کا جواب 87
- 52- حل نکال لیا 87
- 53- داؤ پیچ 88
- 54- ”حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ“ 89
- 55- ”قبلہ عالم حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ“ 90
- 56- ”مولانا سید شمس الدین شہیدؒ“ 90
- 57- قادیانی مسلمان ہو گیا 91
- 58- دل پلٹ گیا 91
- 59- ”مولانا تاج محمودؒ“ 92
- 60- قبر کا عذاب 93
- 61- جذبہ 93
- 62- مولانا نیازی کا مجاہدانہ کردار 94
- 63- ڈاکٹر دین محمد فریدی کی یلغار 95
- 64- خدا کی غیبی امداد 102
- 65- خدا کی دوسری امداد 104
- 66- مولانا سید انور شاہؒ کی فکر 105
- 67- مولانا عبد العزیزؒ صاحب رائے پوری 107
- 68- حضرت پیر سید جماعت علی شاہؒ اور تحریک ختم نبوت 108
- 69- ریاست چنبہ میں مرزائیت کی ذلت 124
- 70- ایک انداز ناصحانہ 131
- 71- ایک لطیفہ 132
- 72- جناب مولانا ہمیشہ کی طرح ہشاش بشاش تھے 132
- 73- میں خوش ہوں کہ مجھے آرام مل گیا 133
- 74- مسلمانوں کو پیغام 134
- 75- انگریز کش خطاب 134
- 76- شاہ جیؒ کی نرالی شان 135
- 77- للکار 136
- 78- سکندر حیات کی کمینگی 137
- 79- لدھا رام کے خمیر میں انقلاب 137
- 80- لدھا رام کی حق گوئی 140
- 81- خودکشی کا ارادہ 145
- 82- متلی آنے لگی 145
- 83- قادیانی انہیں اپنا استاد بنانے آئے تھے 147
- 84- فاتح قادیان 147
85- ایک سبق 149
86- عوامی غیرت 150
87- خاتون جنتؓ کی توجہ 150
88- حضرت مولانا محمد الیاسؒ بانی تبلیغی جماعت 151
89- حضرت جی مولانا محمد یوسفؒ تبلیغی جماعت 151
90- حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوریؒ 152
91- حضرت مولانا محمد عمرؒ پالن پوری 152
92- حضرت مولانا انعام الحسنؒ، تبلیغی مرکز (رائے ونڈ) 153
93- حضرت مولانا عبد الوہابؒ، تبلیغی مرکز (رائے ونڈ) 153
94- حضرت مولانا سعید خانؒ، تبلیغی مرکز (رائے ونڈ) 154
95- حضرت مولانا مفتی زین العابدین (فیصل آباد) 154
96- علامہ حافظ محمد ایوب دہلویؒ 155
97- مولانا انظر شاہ کشمیری۔ بھارت 155
98- لوگ تائب ہو گئے 156
99- سر ظفر اللہ خان قادیانی ‘ سور کے گوشت کی گولیاں کھا گیا 156
100- قادیانی پیغمبری 157
101- 1965ء کی جنگ قادیانیوں نے لگوائی تھی 158
102- ایک خواہش 158
103- خاتم النبیین ﷺ 159
104- توہین خاتم النبیین ﷺ کفر ہے 159
- 105- اور مرزائی تڑپ اٹھا 160
- 106- ہلاکت مرزا اور کرامت پیر سید جماعتؒ علی شاہ صاحب 162
- 107- ہلاکت عبدالکریم، مرتد قادیانی 163
- 108- حکیم نورالدین بھیروی کی بدبو 164
- 109- جیل کی سختیاں 164
- 110- حضرت رائے پوری کی مسئلہ ختم نبوت سے محبت 164
- 111- اور مرزائی جہنم واصل ہو گیا 173
- 112- قادیانیوں کی بنی بنائی قبر نے ساتھ نہ دیا 174
- 113- میں قادیانی کیوں نہ بنا؟ 176
- 114- علامہ اقبالؒ کے حضور میری حاضری 182
- 115- ظفر اللہ خان قادیانی کو یونیورسٹی کے ایڈریس پڑھنے کی دعوت 182
دینے کا انکشاف طلبہ پر بجلی بن کر گرا
- 116- سر ظفر اللہ کا ایڈریس رکوانے کے لیے علامہ اقبالؒ سے ملنے کا 183
فیصلہ
- 117- علامہ اقبالؒ کی ہدایات اور کانووکیشن ایڈریس منسوخ ہو گیا 184
- 118- علی گڑھ کے طلبہ کے نام علامہ اقبالؒ کا پیغام 184
- 119- غداران تحریک ختم نبوت کا انجام 185
- 120- مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی باتیں 187
- 121- آہ! صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہؒ 191
حرف سپاس
ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمٰن‘ جناب عبد الرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہردم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)
میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)
محمد طاہر رزاق
ہم کہاں کھڑے ہیں
مورخ کا قلم تاریخ لکھ رہا ہے -----
بوڑھا آسمان اپنی تجربہ کار آنکھوں سے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے -----
زمین گوش بر آواز ہے -----
فرشتے جنت کے دریچوں سے ----- گواہی دینے کے لیے ----- یہ سارے مناظر اپنے ذہن کی لائبریری میں محفوظ کر رہے ہیں -----
دنیا کے میدان میں دو گروہوں میں ایک تاریخی معرکہ لڑا جا رہا ہے -----
ایک گروہ سانپ سے زیادہ زہریلی زبانیں نکالے ----- منہ سے کفر کے شعلے اگلتا ----- ہذیان بکتا ----- تاج و تخت ختم نبوت پر حملہ آور ہے -----
یہ قادیانیوں کا گروہ ہے -----
یہ لوگ مرزا قادیانی کے امتی ہیں -----
دوسرا گروہ اپنی جانیں ہتھیلی پہ رکھے ----- ان کا راستہ روکے کھڑا ہے -----
ان سے پنجہ آزمائی کر رہا ہے -----
ان سے بر سر پیکار ہے -----
ان سے گتھم گتھا ہے -----
یہ گروہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثاروں کا گروہ ہے -----
یہ لوگ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں -----
لیکن دنیا کے میدان میں لڑے جانے والے اس معرکہ کو دیکھنے والے کروڑوں تماشائی بھی ہیں -----
یہ تماشائی کون ہیں؟ یہ کس کے امتی ہیں؟ یہ کس کا کلمہ پڑھتے ہیں؟ کل قیامت کے دن یہ لوگ کس کے ساتھ اٹھائے جائیں گے؟ کل یہ کس سے شفاعت کا سوال کریں گے؟ کل یہ کس سے جام کوثر مانگیں گے؟ کل یہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جام کوثر مانگیں گے۔۔۔۔۔ شفاعت کا سوال کریں گے۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔ اگر وہاں پر ساقی کوثر ، شافع محشر ﷺ نے ان سے کہہ دیا۔۔۔۔۔ کل جب دنیا میں میرے تاج و تخت ختم نبوت پر حملہ ہوا تھا۔۔۔۔۔ تو تم فقط تماشائی تھے۔۔۔۔۔ اگر تمہارے ساتھ میرا تعلق ہوتا۔۔۔۔۔ تو تم میرے جانثاروں کے ساتھ ہوتے۔۔۔۔۔ میرے تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت کرتے۔۔۔۔۔ لیکن تم تو صرف تماشائی تھے۔۔۔۔۔
جاؤ۔۔۔۔۔ اب جا کے جہنم میں۔۔۔۔۔ تماشا۔۔۔۔۔ بن جاؤ۔۔۔۔۔ ہائے لوگو اس وقت کیا حال ہو گا۔۔۔۔۔ اس وقت کتنی قیامتیں ٹوٹ پڑیں گی۔۔۔۔۔ اس وقت کتنے آسمان سروں پہ گریں گے۔۔۔۔۔ لوگو آؤ جلدی سے خود کو پرکھیں ۔۔۔۔۔ کہیں میں تماشائی تو نہیں؟۔۔۔۔۔ کہیں آپ تماشائی تو نہیں؟۔۔۔۔۔
لوگو موت خاموش قدموں کے ساتھ ۔۔۔۔۔ ہاتھوں میں تلوار لیے ۔۔۔۔۔ برق رفتاری سے ہماری جانب لپکی آرہی ہے۔۔۔۔۔ اور وہ عنقریب اپنی تلوار سے ہماری رگ حیات کاٹ دے گی۔۔۔۔۔ اور اگلے لمحے ہم جواب دینے کے لیے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔۔۔۔۔
آؤ ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ موت ہماری حیات کو ذبح کر دے ۔۔۔۔۔ ہم قادیانیوں کے
خلاف جہاد کر کے اپنا نام عاشقان رسول ﷺ کی فہرست میں درج کرالیں----- خدا کرے اس فہرست میں آپ کا بھی نام درج ہو جائے----- میرا نام بھی درج ہو جائے----- جلدی کیجئے----- بہت جلدی کیجئے-----!!! مورخ کا قلم لکھ رہا ہے----- فرشتے----- جنت کے دریچوں سے----- گواہی دینے کے لیے----- یہ سارے مناظر اپنے ذہن کی لائبریری میں محفوظ کر رہے ہیں-----!!! موت کی بے آواز تلوار کی نوک زندگی کی شہ رگ کے بہت قریب پہنچ چکی ہے-----!!!
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی۔ایس۔سی---ایم۔اے (تاریخ) لاہور۔ 6 جون 1999ء
میں مرکے وی نئیں مردا جے تیری نظر ہووے
امت مسلمہ کا شروع ہی سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ جو آقائے دو جہاں کے قدموں پر قربان ہو گیا۔ وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔ وہ لوگ مر کے بھی نہیں مرتے بلکہ روشنی کے ایسے مینار بن جاتے ہیں کہ جن سے راہ گم کردہ اپنی کھوئی ہوئی منزل تلاش کیا کرتے ہیں۔ اسی لیے دنیائے کفر کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ ”روح محمد ﷺ“ کو تن مسلم سے نکال لیا جائے جبکہ مسلمان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ یہ متاع جاں کوئی ”بچا بچا کے رکھنے“ کا سامان نہیں بلکہ یہ جتنا ”شکستہ تر“ ہو گا‘ اتنا ہی ”عزیز تر“ ہو گا۔ نام مصطفیٰؐ پر اسی لیے ہر دور میں ہزاروں فرزانوں پر بھاری کچھ دیوانے نقد جان ہتھیلی پر لیے بارگاہ حضور ﷺ میں حاضر ہوتے رہے ہیں۔ ان کی زندگی کا اولین مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ یا تو آقا دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کرنے والی زبان نہ رہے اور یا ہم نہ رہیں۔ یا تو آقا ﷺ کی طرف بڑھنے والے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور یا ہم بکھر کر رہ جائیں۔ یا تو آقا کی طرف اٹھنے والے قدم رک جائیں اور یا وہ ان کی راہ میں سنگ گراں بن کے حائل ہو جائیں۔ یہ وہی مقدس مشن ہے‘ جس کا آغاز ابوبکر صدیقؓ نے یمامہ کے میدان میں کیا تھا۔
محبت و وفا‘ ایثار و قربانی اور اپنی ہستی کو فنا کرنے کی یہ روایت برصغیر میں اس وقت خوب پروان چڑھی جب لعین قادیانی نے حضور ﷺ کے مقابلے میں دعویٰ نبوت کر دیا۔ جوں جوں اس کی شیطانی ذریت بڑھتی گئی ۔ توں توں مسلمانوں کی ایمانی جرات بڑھتی گئی۔ اور جب محبت و وفا کے یہ راستے تاریک ہوتے نظر آئے تو مسلمانوں نے اپنے خون جگر سے وہ چراغ جلائے کہ جن کی ضیا آج تک ہر سو پھیل رہی ہے۔ انہی جلتے چراغوں کی داستاں سنانے محمد طاہر رزاق حاضر ہوئے ہیں۔ اس میں اسی
سالہ بوڑھے سے لے کر شیر خوار بچے تک عالم سے لے کر جاہل تک اور مرد سے لے کر عورت تک سب ہی صف عشق مصطفیٰ ﷺ میں برابر کھڑے نظر آتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ عشق مصطفیٰ ﷺ ہی وہ صف ہے کہ جس میں سب مسلمان برابر کھڑے ہونا فخر جانتے ہیں۔
محمد طاہر رزاق بے مقصد داستانیں سنانے کے قائل نہیں۔ یہ داستانیں ماضی کے اوراق سے ڈھونڈ کر آپ کی خدمت میں پیش کرنے کا مقصد ایک میزان قائم کرنا ہے تاکہ مسلمان ہمیشہ محشر سے قبل ہی خود کو تول کر اپنا وزن پورا کر لے ورنہ اس دن تو ”واقیمو الوزن بالقسط ولا تخسروا المیزان“ ہوگا۔
اس دن یہ موقع کب ہو گا کہ جسم و جاں اور علم و عمل میں عشق مصطفیٰ ﷺ کا وزن بڑھا کر میزان کا پلڑا اپنے حق میں جھکا لیا جائے۔ اللہ ہمیں یہ فہم نصیب فرما دے اور مجھے امید ہے کہ یہ کتاب پڑھنے کے بعد یہ فہم نصیب ہونا آسان ہو جائے گا کہ روشن مثالیں اور روشن راہیں سامنے ہیں۔ اب بھی کسی کو راہ نظر نہ آئے تو اس کی اپنی کم نصیبی ہے۔
غبار راہ طیبہ محمد نذیر مغل
قادیانیت کے خلاف جہاد آخرت کا زاد راہ ہے
تاریخ کا مطالعہ تو یہی بتاتا ہے کہ دنیا کی کوئی قوم اور امت ایسی نہیں۔ جس پر ابتلاء اور آزمائش کی گھڑی نہ آئی ہو۔ فرق صرف اس قدر ہے کہ جو قوم آزمائش اور ابتلاء میں صبر سے کام لیتی ہے اور جرات و استقامت سے اپنے بنیادی معتقدات، تصورات اور نظریہ حیات سے جڑی رہتی ہے، اس کی حفاظت اپنی زبان، قلم، عمل اور کومٹ منٹ سے کرتی ہے۔ وہ ایک ایسی چٹان ہے۔ جس سے حوادث زمانہ کے تھپیڑے سر پٹخ کر رہ جاتے ہیں اور وہ قوم اور امت ان آزمائشوں سے سرخ رو ہو کر فوز و فلاح کی منزلوں تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر اس کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ تاریخ کے اوراق میں اس کی جرات و عزیمت کی داستانیں رقم ہو کر رہتی ہیں اور دنیا، آخرت کی تمام نعمتیں ان پر ارزاں ہو جاتی ہیں۔
وہ اقوام یا امتیں جو اپنے عقیدے، نظریے اور خیال سے سرکش ہو جاتی ہیں۔ اس کے بارے میں تذبذب اور بے یقینی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اپنے عقائد اور نظریات کی حفاظت سے غافل ہو کر ادھر ادھر بھٹکتی پھرتی ہیں۔ وہ ژولیدگی کی، گمراہی اور انتشار کی راہ پر بھاگ بھاگ کر ہلاک ہو جاتی ہیں اور پھر ان کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ غلامی، سختی، مصائب اور غربت و افلاس اور مظالم اس قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے جو کسی نہ کسی طریقے سے اپنے نصب العین حیات سے پختہ رشتے میں بندھی ہوتی ہیں۔ عالمگیر کیمونزم، اشتراکی روس کی سفاک عسکریت وسط ایشیا کی مسلم ریاستوں کو ہڑپ نہیں کر سکی۔ یہ عسکری اشتراکیت افغانستان اور پاکستان پر قبضے کے ذریعے گرم پانیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دریائے آمو کے تیز دھاروں میں بہہ گئی ہے۔ افغان باقی ہیں۔ ان کے کوہسار باقی ہیں، ان کا ملک باقی ہے اور
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ کا حکم باقی ہے۔ ان کی اپنے عقیدے اور نظریے سے کمٹ منٹ لازوال ہے۔
خود برصغیر کی تاریخ کو دیکھیے۔ دو سو سال کی انگریز کی غلامی‘ ہندوؤں کی اسلام کو ہضم کرنے کی شدھی اور سنگٹھن کی تحریکیں‘ اکھنڈ بھارت اور ہندو رام راج کے خواب اور مسلمانوں کے اندر قرآن کی تحریف کرنے‘ فرقہ وارانہ اختلافات بھڑکانے‘ قرآن کی تفاسیر سے قرآن کے مضامین کو اختلافی بنانے کی سازشیں‘ رنگیلا رسول اور اسی نوع کی دیگر کتب اور تقاریر‘ جس کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانا اور ان کے عقائد کو متزلزل کرنا تھا‘ ہمارے علماء کرام اور ہمارے غازی علم الدین شہیدؒ‘ غازی عبد الرشید شہیدؒ‘ غازی عبدالقیوم شہید رحمتہ اللہ علیہ کے ایک وار کی بھی تاب نہ لاسکیں اور مسلمانوں نے ان کو واصل جہنم کردیا۔ مسلمانوں میں بہت سی غالی تحریکوں کو پروان چڑھایا گیا تاکہ انہیں اندر سے کھوکھلا کیا جاسکے۔ مذہبی اور دینی تحریکوں کے علاوہ عقلیت‘ فطرتيت‘ وجودیت‘ ارتقائيت اور لسانی تحریکوں سے بھی مسلمانوں کو علم‘ ادب‘ سائنس کے نام پر اپنے آپ سے بدگمان کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ مسلمانوں کی اپنے وجود کو سنبھالنے اور بچانے کی ہر کوشش کو پان اسلام ازم‘ بنیاد پرستی‘ عقیدہ پرستی اور خلاف عقل رویے کہہ کر پکارا گیا مگر یہ سب تحریکیں برباد ہوئیں۔ ناکام و نامراد ہوئیں۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے علماء کرام اور سواد اعظم نے اپنا رشتہ اسلام سے کبھی نہ توڑا اور اسلام کے ساتھ اپنی وابستگی کو ہر شک و شبہ سے بالا کردیا اور اپنے عقیدہ توحید اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر ہر چیز قربان کردی اور اقبال کے الفاظ میں اس نظریے کو امر کردیا کہ ؎
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
---------------
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
قرآن‘ توحید اور نبی پاک ﷺ کی محبت پر اعمال کے لحاظ سے بدترین اور گنہگار
مسلمان نے بھی کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ تارک نماز، تارک روزہ اور فسق و فجور میں مبتلا مسلمان کی جب بھی حمیت دینی کو ٹھیس پہنچی اس نے قرآن حکیم اور نبی پاک ﷺ کے ناموس کی اپنے لہو سے حفاظت کی۔ نبی پاک ﷺ کی محبت ہر مسلمان کے رگ و ریشہ میں سرایت کیے ہوئے ہے اور وہ مسلمان ہی نہیں جو اپنے نبی پاک ﷺ پر درود نہ بھیجے اور لاکھوں بار زندگی ملنے پر اسے لاکھوں بار ان پر قربان نہ کردے۔
عقیدہ ختم نبوت ۔۔۔۔۔ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والے مسلمہ کذاب سے لے کر قادیانی کذاب تک تمام جھوٹے، کافر اور اقبال کے بقول شرک فی النبوت کے مرتکب اور واجب القتل ہیں۔ اسلام کا یہ بنیادی عقیدہ کئی پہلو رکھتا ہے کیونکہ اگر کوئی آپ ﷺ کی نبوت کے بعد کسی کی نبوت کا قائل ہے تو اس سے قرآن کی آخری کتاب ہونے پر بھی زد پڑتی ہے پھر جس طرح نبی پاک ﷺ کی آمد سے پرانی شریعتیں منسوخ ہو گئیں تو کل کوئی بدبخت یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میری آمد سے نبی پاک ﷺ کی شریعت بھی منسوخ ہو گئی ہے۔ اس طرح قیامت تک آپ کی رسالت پر حرف آ سکتا ہے۔ پھر کوئی کم بخت کہہ سکتا ہے کہ ان کی شریعت صرف عرب تک تھی اور اس کے آنے تک تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عقیدہ ختم نبوت بہت دور رس عمرانی، سیاسی، تمدنی اور دینی اثرات رکھتا ہے۔ اگر اس عقیدے سے روگردانی کی اجازت دے دی جائے تو اسلام کی عالمگیریت اور آفاقی حیثیت ختم ہو کر رہ جائے گی۔ لہٰذا عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت خود اسلام کی حفاظت ہے۔ یہ محض قادیان کے ایک بد بخت تک محدود امر نہیں ہے۔ ان ملحدوں کو کیا معلوم کہ انہوں نے کتنا خوفناک جرم کیا ہے۔
برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی یہ بد نصیبی بھی ہے کہ حضور ﷺ کا ایک گستاخ، سارق ختم نبوت برصغیر بالخصوص پنجاب میں پیدا ہوا اور یہ خوش نصیبی بھی ہے کہ انہوں نے پوری عزیمت، طاقت، قوت اور سرفروشی سے اس فتنہ کا تعاقب کیا۔ علماء کرام، صوفیاء عظام، سیاست دانوں، رضاکاروں اور فدائین اسلام اور اہل قلم نے ہر طرح سے اس کا گھیراؤ کیا اور بالآخر اسے کافر اور پاکستان میں اقلیت قرار دلوا کر دم لیا۔ اور اس عقیدے کے تحفظ میں کوئی نرمی نہیں دکھائی۔ اس کے لیے پھانسیاں، جیل کی کال کوٹھریاں، بھوک پیاس، عدالتوں کی اکتا دینے والی پیشیاں، سفر کی صعوبتیں اور مال و دولت، سب کچھ قربان کیا
اور انگریز کے کاشتہ اس برگ حشیش اور ہندو کے پروردہ اس فتنہ کو قبول نہ کیا۔ اس جہاد کے راہ نورد اور غازی ہزاروں ہیں۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری‘ علامہ اقبال‘ حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا عبدالقادر رائے پوری‘ پیر مہر علی شاہ گولڑوی‘ مولانا ثناء اللہ امرتسری‘ سید ابوالاعلیٰ مودودی‘ مولانا الیاس برنی‘ علامہ یوسف لدھیانوی‘ مولانا منظور احمد چنیوٹی‘ قاضی احسان احمد شجاع آبادی جانباز مرزا‘ شورش کشمیری‘ مولانا لال حسین اختر‘ سید امین گیلانی‘ حضرت مولانا احمد علی لاہوری‘ مولانا عبدالستار نیازی‘ ماسٹر تاج الدین انصاری‘ مولانا محمد علی جالندھری‘ مولانا غلام غوث ہزاروی‘ مولانا مفتی عبدالقیوم پوپلزئی‘ مولانا محمد حیات‘ مفتی محمد شفیع اور حضرت مولانا ادریس کاندہلوی۔ غرض اس قافلے کے شرکاء کی ایک لمبی قطار ہے۔ جنہوں نے اس جادہ راہ میں ہر قربانی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ اور ختم نبوت کے عقیدے کی دل و جان سے حفاظت کی۔
اس کتاب میں انہی عاشقان ختم نبوت کی داستان مسطور ہے۔ یہ ان کے عزم و حوصلے کا رزمیہ ہے۔ ان کی جراتوں اور قربانیوں کا بیان ہے مگر اس میں ہماری تاریخ کے بعض بڑے دردناک بلکہ عبرت ناک واقعات بھی ہیں۔ مثلاً یہ کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ صدر جنرل ایوب خان کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے قادیانیوں نے کروائی‘ جس کو آپریشن جبرالٹر کا نام دیا گیا۔ اس جنگ کے ذمہ دار پاک فوج کے میجر جنرل اختر حسین ملک (قادیانی) ایم۔ ایم۔ احمد سیکرٹری مالیات (قادیانی) سیکرٹری خارجہ عزیز احمد (قادیانی) اور نذیر احمد ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن (قادیانی) تھے۔ قدرت اللہ شہاب مرحوم نے اپنی معروف کتاب ”شہاب نامہ“ میں متعدد ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے‘ جن میں قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور پاکستان دشمنی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ سرکاری اداروں میں فوج میں بھرتی کے پیچھے چوہدری ظفر اللہ کا ہاتھ رہا ہے۔ اب بھی ملک کے مالیاتی اداروں خواہ وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی قادیانی یہودیوں کی طرح گھسے ہوئے ہیں۔
یہ کتاب ان ایمان افروز واقعات کا بیان ہے‘ جو اہل عزیمت کو قادیانیوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے پیش آئے۔ ایک واقعہ کی تو میں خود بھی گواہی دے سکتا ہوں۔
میں ریلوے میں بطور ٹکٹ کلکٹر ملازم تھا اور مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ ریلوے
اسٹیشن شیخوپورہ پر میری تعیناتی تھی اور میں نے گورنمنٹ کالج شیخوپورہ میں داخلہ لے رکھا تھا جہاں مخلوط تعلیم تھی۔ ۱۹۶۷ء کی ایک دوپہر کو میں گیٹ پر ڈیوٹی دے رہا تھا کہ ایک نہایت خوبصورت لڑکی میرے پاس آئی۔ اس نے کالا برقع پہن رکھا تھا۔ اس نے کہا ”وحید تم یہاں کیسے؟ تم تو کالج میں ہمارے ساتھ پڑھتے ہو۔ میں نے بتایا ہاں میں کالج میں بھی پڑھتا ہوں اور شام کو اور رات کو ریلوے میں ٹکٹ کلکٹر کی ملازمت بھی کرتا ہوں۔ وہ کہنے لگی مجھے سانگلہ ہل جانا ہے۔ میرا نام بشریٰ ہے اور یہ میری بہن گل۔ آپ کالج میگزین کے ایڈیٹر اور کالج کی تقریبات اور حلقہ افکار مشرق میں بڑے نمایاں ہوتے ہیں۔ کئی مرتبہ خواہش ہوئی کہ آپ سے ملوں، مگر جھجکتی رہی۔ میں بھی سانگلہ ہل میں ڈسپنسر ہوں اور ساتھ ہی پڑھتی ہوں۔ کل کالج میں ملوں گی۔ کبھی سانگلہ ہل آؤ نا۔ وہاں میرے پاس الگ کوارٹر ہے اور ہاں گاڑی میں کتنی دیر ہے۔ میں نے کہا کہ نصف گھنٹہ ہے۔ اس نے کہا میں ویٹنگ روم میں بیٹھتی ہوں۔ فارغ ہو جاؤ تو آجانا۔ کوئی دس منٹ بعد اس کی بہن گل آئی اور اس نے کہا کہ باجی کہہ رہی ہیں، چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے۔ چائے۔ میں نے پوچھا۔ اس نے کہا ہاں۔ باجی نے سٹال سے چائے، سموسے اور برفی منگوائی ہے۔ میں ویٹنگ روم میں داخل ہوا تو اس نے برقعہ اتار رکھا تھا اور ہلکے رنگ کی گلابی شلوار قمیض پہن رکھی تھی۔ ڈوپٹہ بھی اس طرح تھا جو اس کے حسن کو مزید نکھار رہا تھا۔ میرے داخل ہوتے ہی وہ دروازے تک آئی اور مجھے کرسی پیش کرتے ہوئے کہا۔ میزبانی تو آپ کو کرنی چاہیے تھی مگر یہ شرف بھی میں حاصل کر رہی ہوں۔ دوستوں اور کلاس فیلوز سے کیا پردہ۔ ویسے بھی مجھے انٹلیکچول لوگ اور لکھنے والے بہت اچھے لگتے ہیں۔ اس نے چائے کی پیالی میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ میرے منہ سے ہوں ہاں کے سوا کچھ نہ نکلا۔ میں اس کے حسن کا شاید اسیر ہو چکا تھا۔ برفی کھاؤ نا اور یہ دیکھو اس اسٹیشن کے سموسے کتنے خستہ ہیں۔ تھوڑی دیر بعد ٹرین آگئی میں ٹکٹ اکٹھے کرنے گیٹ کی طرف بڑھ گیا اور وہ برقع اوڑھ کر ہاتھ کے اشارے سے سلام کرتی، مسکراتی ٹرین کی طرف بڑھ گئی۔
میری خالہ چونکہ سانگلہ ہل میں رہتی ہیں اور سانگلہ ہل میرا آنا جانا بھی رہتا تھا۔ چنانچہ ایک دن گرمیوں کی دوپہر کو کوئی ڈیڑھ بجے میں سانگلہ پہنچا تو پیاس کے مارے میرا برا حال تھا۔ ہسپتال اسٹیشن کے بالکل قریب تھا۔ اور میرے خالو کی دکان بھی قریب تھی۔ راستے
میں تھا کہ میں نے سوچا کہ چلو بشریٰ کے ہاں سے پانی پی کر چلتے ہیں۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے آواز آئی کون‘ میں نے کہا وحید ۔ ٹھہرو! میں نہا رہی ہوں۔ ابھی دروازہ کھولتی ہوں۔ ایک منٹ بھی توقف نہ ہوا تھا کہ اس نے دروازہ کھول دیا۔ اس کے بالوں سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور ہلکے نیلے رنگ کی لون کی قمیض اس کے جسم سے چپکی ہوئی تھی۔ ایک ہاتھ میں تولیہ اور دوسرے ہاتھ میں ڈوپٹہ ۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ باہر بڑی گرمی ہے۔ اندر آجاؤ اور پھر وہ کمرے میں چلی آئی اور میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ سنگ مرمر کی مورتی کے سحر سے میں بے حال تھا۔ بائیس سال کی عمر اور اس کی اٹھارہ سالہ جوانی۔ وہ بالوں کو تولیے سے خشک کرتے ہوئے میرے پہلو میں بیٹھ گئی اور گل کو اس نے اشارہ کیا کہ بازار سے دودھ اور بوتل لے آؤ۔ بڑی گرمی ہے۔ کہنے لگی تم اور عارف وقار (وقار انبالوی کا بیٹا جو ہمارے ساتھ سینئر طالب علم تھا) سارے کالج میں بڑے نمایاں ہو۔ میری شدید خواہش تھی کہ تم سے ملوں۔ بڑا اچھا کیا کہ میرے گھر کو رونق بخشی۔ شام تک یہیں ٹھہریں گے اور اکٹھے ہی شیخوپورہ چلیں گے۔ اپنے خالو کو پھر مل لینا۔ میں کوئی جواب نہ دے پایا۔ کچھ توقف سے پھر کہنے لگی کہ مرزا صاحب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ میں نے کہا مرزا ریاض دیکھنے میں اچھے استاد ہیں۔ ایم۔ اے فلسفہ ہیں۔ اچھے افسانے لکھتے ہیں۔ شعروں کی تشریح بہت عمدہ کرتے ہیں۔ اس نے کرب سے پہلو بدلتے ہوئے کہا۔ میں پروفیسر مرزا ریاض کے بارے میں کب دریافت کر رہی ہوں۔ جان‘ مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں پوچھ رہی ہوں۔۔۔۔۔ میں یک دم سٹپٹا گیا۔ اس کے حسن کا سارا نشہ ہرن ہو گیا اور میں اٹھ کھڑا ہوا۔ "اوئے توں مرزائن ایں" لاحول ولاقوت" اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ "سنو! سنو‘ میری بات تو سنو وہ دروازے تک میرے پیچھے بھاگتی ہوئی آئی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ سامنے سے گل دودھ اور بوتل لے کر داخل ہو رہی تھی۔ مجھے اس نے جاتے ہوئے حیرانی سے دیکھا۔ مگر میں کھٹاک سے دروازہ بند کر کے کفر اور اسلام کے درمیان دیوار کھڑی کر چکا تھا۔ میں گھبراہٹ میں خالو کی طرف بھی نہ گیا اور اسٹیشن پر جا کر واپس ٹرین کے ذریعے شیخوپورہ آگیا۔ مجھے حضرت یوسف بہت یاد آئے مگر بشریٰ زلیخا نہیں‘ ایک ڈائن تھی۔
قادیانیوں نے ہمیشہ تحریص کے جال پھیلائے اس وقت بھی میں ایک ایسے نوجوان کو
جانتا ہوں جو ایک بنک میں ملازم ہے۔ چودھری ظفر (قادیانی) اور شیخ عبدالماجد اس پر ڈورے ڈالتے رہتے ہیں کہ تمہیں کسی فارن بنک میں جگہ دیں گے۔ وہ اپنے کیریئر کے لیے کسی امیر لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ایسے ہی کئی نوجوان ان کے جال کا رزق ہیں۔ چودھری ظفر اور عبدالماجد قادیانی اسے کہتے رہتے ہیں کہ ہر جگہ ہمارے اپنے آدمی ہیں۔ وہ سب کچھ مجھے بتاتا رہتا ہے اور میں جب اسے کفر اور اسلام میں ایک کے انتخاب کا کہتا ہوں تو وہ کہتا ہے کہ میں نے دل سے قادیانی تھوڑا ہونا ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ ذرا جال میں پھنس کر تو دیکھو۔ یہ وہ کمبل ہے جسے تم چھوڑنا چاہو گے۔ مگر وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا۔ اسی تذبذب میں وہ ابھی تک اس جال میں نہیں پھنسا۔
قادیانیوں کی عورتوں کے ذریعے پھانسنے کی متعدد مثالیں ہیں۔ جن میں ایک سول جج چودھری سردار کی بھی ہے۔ جسے پروفیسر قاضی اسلم نے شعبہ فلسفہ جامعہ پنجاب لاہور میں طالب علمی کے زمانے میں اس کی غربت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پھانسا۔ اسے فرسٹ ڈویژن دلائی‘ نوکری دلائی‘ اور شادی کرائی۔ ایرک سپرن کو پھانسا اور وہ اعجاز سپرن بن گیا۔ راحت ملک جو کبھی قادیانی تھا۔ اس نے اپنی کتاب ”ربوہ کا مذہبی آمر“ میں بشیر الدین محمود اور قادیانی گورگوں کی ہولناکیوں کو بے نقاب کیا ہے جو لوگ اخلاقی طور پر اتنے پست ہوں تو ایک پست ذہنیت انسان کی ہی پیروی کر سکتے ہیں۔
یہ کتاب اہل عزم و ہمت کی داستان ہے۔ عزیمت مسلمان کا سرمایہ ہے۔ اس کتاب میں مختلف کتابوں اور رسائل کے حوالے ہیں جہاں سے یہ واقعات لیے گئے ہیں۔ اہل بینش کے لیے ان میں ایمان کے حوالے سے روشنی ہے۔ قادیانیت کے خلاف جہاد کا حوصلہ ہے۔ جو ہر مسلمان کے لیے آخرت کا توشہ اور زاد راہ ہے۔ میرے لیے‘ آپ کے لیے اور اس کتاب کے مصنف جناب محمد طاہر رزاق کے لیے جو اس جہاد کا ایک جری مجاہد ہے۔
ڈاکٹر وحید عشرت ڈپٹی ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی لاہور
محبت
ہم تو صرف اتنا جانتے ہیں کہ شاہ جی کا نام آیا اور ابا جی کے چہرہ پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ کسی نے شاہ جی کی تعریف کی تو خوش ہو گئے، کسی نے شاہ جی کو برا کہا تو بگڑ گئے۔ ابا جی کو اخبار پڑھنے کی کبھی عادت نہ تھی مگر صرف شاہ جی کی خبریں معلوم کرنے کے لیے، اخبار پڑھنے والوں سے، جب خیال آ جاتا تو پوچھتے کہ بھائی شاہ جی کی کوئی خبر ہے؟ کہیں تقریر کی یا نہیں؟ کہاں ہیں؟ ادھر دیو بند کی طرف تو آنے کی خبر نہیں؟
(”یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ“ ص ۶۴۔ از ازہر شاہ قیصرؔ)
خدمت
شاہ جی ایک دفعہ دیو بند تشریف لائے۔ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ساتھ تھے اور قیام ہمارے ہی مکان پر تھا۔ میں ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ہم جس مکان میں اب مقیم ہیں، اس مکان میں بھی ابا جی سات سال تک ہمارے ساتھ رہے۔ مگر اس سات سال کے عرصہ میں ایک مرتبہ یہ موقع آیا کہ ابا جی گھر کے باورچی خانہ میں تشریف لائے۔ صرف ایک مرتبہ اور یہ موقع وہی تھا جب شاہ جی ہمارے مہمان تھے۔ ابا جی نے باہر سے آتے ہی والدہ کو آواز دی۔ وہ باورچی خانہ میں تھیں۔ اس لیے آواز کا جواب نہ دے سکیں۔ جلدی سے ابا جی باورچی خانہ میں تشریف لے آئے۔ اماں سے فرمانے لگے کہ ”ارے سنتی ہو! آج ہمارے ہاں ایک بہت معزز مہمان آیا ہے۔ بہت زیادہ معزز۔ اس کی تواضع اور مہمانداری بہت اچھی طرح کرنی چاہیے۔ ابھی کسی ہمسائے کے یہاں سے ایک دو مرغ منگواؤ، ان کا شوربا پکالو۔ چاول پکاؤ، کوئی میٹھی چیز بھی پکالو۔ شام کو بڑے سلیقہ اور فراغت سے مہمان کو کھانا کھلاؤ“
آپ لوگوں کے نزدیک یہ کوئی اہم بات نہ ہوگی کہ ہر شخص اپنے مہمانوں کی تواضع
کرتا اور ان کی مدارات کے لیے مختلف اہتمام کرتا ہے مگر ابا جی کا معاملہ عام لوگوں سے الگ تھا۔ ان باتوں اور جھگڑوں سے ان کی بے تعلقی کا یہ عالم تھا کہ میں نے قرآن شریف ناظرہ سے شروع کر کے پورا حفظ کر لیا‘ اور اس میں مجھے دو تین سال لگے مگر ابا جی کو اس ساری مدت میں یہ نہ معلوم ہوا کہ ازبر کیا پڑھتا ہے۔ جس دن میں قرآن کے حفظ سے فارغ ہوا‘ اس دن مولانا سراج احمد صاحب رشیدی مرحوم نے‘ جو ابا جی مرحوم کی مجلس علمی کے ایک ممتاز رکن اور اپنے وقت کے بڑے عالم تھے‘ انہوں نے ابا جی کو مبارک باد دی۔ فرمانے لگے یہ تو ہماری توقع اور علم کے بغیر ایسا ہو گیا ہے ہمیں اس کا کوئی علم نہیں تھا کہ ازبر حفظ کر رہا ہے اور حفظ بھی اب تمام ہو گیا ہے"۔ آپ اندازہ کیجئے کہ جس شخص کو دنیا داری سے اتنی بے تعلقی ہو‘ شاہ جی کے حال پر اس کا یہ التفات‘ یہ محبت اور یہ توجہ قابل ذکر چیز ہے یا نہیں؟
(”یادگار زمانہ ہیں یہ لوگ“ ص ۶۵-۶۶ ‘ از ازہر شاہ قیصر)
جانے والوں کا جانا یاد آ جاتا ہے (مولف)
درس حریت
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری میرے دادا حضرت پیر غلام مصطفیٰ قاسمی کے عزیز ترین شاگردوں میں سے تھے۔ جبکہ والد ماجد انگریز استعمار اور اس کے قادیانی ایجنٹوں کے خلاف جدوجہد میں حضرت شاہ جی کو اپنا رہنما تصور کرتے تھے۔ چنانچہ انگریزوں اور قادیانیوں کے خلاف جدوجہد کے دوران وہ جلسوں اور جیلوں میں بھی ایک دوسرے کے رفیق رہے بلکہ پاکستان بننے کے بعد جب ۱۹۵۳ء میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے دوران والد ماجد کو تشدد کے لیے شاہی قلعے لے جایا گیا تو وہاں تفتیشی افسر نے تین دن کی شدید اذیت کے دوران ان سے کہا کہ اگر وہ یہ بیان دے دیں کہ تحریک میں حصہ انہوں نے شاہ صاحب کے اکسانے پر لیا ہے تو ان کی ”جان بخشی“ ہو سکتی ہے۔ اس پر والد ماجد نے حقارت سے اس کی
طرف دیکھا اور کہا ”تم اس شخص سے یہ بیان لینے کی کوشش کر رہے ہو جس کے نزدیک زندگی اور موت دونوں عطیہ خداوندی ہیں اور تم شاید یہ بھی نہیں جانتے کہ ختم نبوت کا درس شاہ صاحب نے مجھے نہیں دیا بلکہ خود انہوں نے یہ درس میرے خاندان سے لیا ہے۔ لہٰذا اگر تم چاہو تو ان کے حصے کی سزا بھی مجھے دے سکتے ہو“۔ چنانچہ باقی ماندہ قید کے دوران تفتیشی افسر نے والد ماجد کی یہ خواہش پوری کرنے کی حتی الامکان کوشش کی“۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر، حصہ اول، ص ۶۰۲-۶۰۳، تحریر عطاء
الحق قاسمی صاحب)
مولانا انور شاہ کشمیریؒ کا زاد راہ
علامہ مرحوم کو دور حاضر کے مہلک ترین فتنہ قادیانیت کی تردید سے غیر معمولی شغف تھا۔ سالہا سال تک علامہ مرحوم اس فتنہ کی ہلاکت سامانیوں سے ملت مرحومہ کو محفوظ فرمانے کے لیے تحریری و تقریری طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ تردید قادیانیت کے سلسلہ میں آپ انتہائی پریشان کن علالت میں بھی مذہبی جلسوں میں شرکت کے لیے دور دور کا سفر فرماتے تھے۔ انتہا یہ کہ انتقال سے صرف چند دن پہلے آپ اپنی مشہور و معرکہ آرا تصنیف ”خاتم النبیین“ سے فارغ ہوئے تھے جس میں آیۂ کریمہ ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین کی آپ نے اپنے مخصوص محدثانہ اور محققانہ انداز میں تفسیر فرمائی ہے۔ یہ تصنیف محض قادیانیوں کے دجل و تلبیس کے تار پود بکھیرنے کے لیے فرمائی گئی تھی۔ اس سے فراغت پا کر حضرت مرحوم نے اپنے خدام سے ارشاد فرمایا ”میں نے آخرت کے لیے کچھ نہیں کیا تھا۔ خاتم النبیینؐ کے عنوان سے یہ چند سطریں لکھی ہیں۔ انشاء اللہ یہ مرزائے قادیان کے دجل و فریب کو اظہر من الشمس کر دیں گی اور میرے لیے زاد راہ آخرت ہوں گی“۔
(”حیات انور“ ص ۱۵ مرتب سید محمد ازہر شاہ قیصر)
سچ پوچھئے تو بزم کی رونق چلی گئی
(مولف)
دو مبارک خواب
حضرت اقدس کو اس فیصلہ کے بعد عجیب و غریب مبشرات سے نوازا گیا۔ ان میں دو مبشرات حضرت ہی کے قلم سے ملاحظہ فرمائیے:
”قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جانا‘ بہت ہی عظیم برکات کا کارنامہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے منکروں کا مسلمانوں سے خلا ملانہ صرف مسلمانوں کے حق میں ناسور تھا بلکہ اس سے آنحضرت ﷺ کی روح مبارک بھی بے تاب تھی۔ قادیانی مسئلہ کے حل پر جہاں تمام ممالک کی جانب سے تہنیت و مبارک باد کے پیغامات آئے‘ وہاں منامات و مبشرات کے ذریعہ عالم ارواح میں اکابر امت اور خود آنحضرت ﷺ کی مسرت بھی محسوس ہوئی۔ آپ کے مبشرات کا ذکر کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تاہم اہل ایمان کی خوشخبری کے لیے اپنے دو بزرگوں سے متعلق بشارات منامیہ مخلصین کے اصرار پر ذکر کرتا ہوں۔
جمعہ ۳ رمضان المبارک ۱۳۹۴ھ صبح کی نماز کے بعد خواب دیکھتا ہوں کہ حضرت امام العصر مولانا محمد انور شاہ صاحب کشمیری علیہ الرحمہ گویا سفر سے تشریف لائے ہیں اور خیر مقدم کے طور پر لوگوں کا بہت ہجوم ہے۔ لوگ مصافحے کر رہے ہیں۔ جب ہجوم ختم ہو گیا اور تنہا حضرت شیخ رہ گئے تو دیکھتا ہوں کہ بہت وسیع چبوترہ ہے‘ جیسے اسٹیج بنا ہوا ہو۔ اس پر فرش ہے اور اوپر جیسے شامیانہ ہو۔ بالکل درمیان میں حضرت شیخ تنہا تشریف فرما ہیں۔ دو تین سیڑھیوں پر چڑھ کر ملاقات کے لیے پہنچا۔ حضرت شیخ اٹھے اور گلے لگا لیا۔ میں ان کی ریش مبارک اور چہرہ مبارک کو بوسے دے رہا ہوں۔ حضرت میری داڑھی اور چہرے کو
بوسے دے رہے ہیں۔ دیر تک یہ ہوتا رہا۔ چہرہ و بدن کی تندرستی زندگی کے آخری ایام سے بہت زیادہ ہے۔ بے حد خوش و مسرور ہیں۔ بعد ازاں میں دو زانو ہو کر فاصلے سے با ادب بیٹھ گیا اور آپ سے باتیں کر رہا ہوں۔ اسی سلسلہ میں یہ بھی عرض کیا کہ بھول گیا کہ ”معارف السنن“ حاضر کرتا۔ فرمایا میں نے نہایت خوشی اور مسرت کے ساتھ اس کا مطالعہ کیا ہے۔ اب چھٹی جلد کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو علم نہیں جو کچھ آپ نے فرمایا تھا، بس اس کی تشریح و توضیح و خدمت کی ہے۔ بہت مسرت کے لہجے میں فرمایا ”بہت عمدہ ہے“۔
”شوال ۱۳۹۴ھ میں میں لندن میں قیام کے دوران خواب دیکھا کہ ایک بہت بڑا وسیع میدان ہے، گویا ختم نبوت کا دفتر ہے۔ بہت سے لوگوں کا مجمع ہے۔ میں ایک طرف جاکر سفید چادر، جس طرح کہ احرام کی چادر ہو، باندھ رہا ہوں۔ بدن کا اوپری حصہ برہنہ ہے۔ کوئی چادر یا کپڑا نہیں۔ اتنے میں حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اسی ہیئت میں کہ احرام والی سفید چادر کی لنگی بندھی ہوئی ہے اور اوپر کا بدن مبارک بغیر کپڑے کے ہے، میرے داہنے کندھے کی جانب تشریف لائے اور آتے ہی مجھ سے چمٹ گئے۔ پہلا جملہ یہ ارشاد فرمایا ”واہ میرے پھول“ پھر دیر تک معانقہ فرمایا۔ میں خواب کی ہی حالت میں خیال کرتا ہوں کہ مبارک باد کے لیے تشریف لائے ہیں۔ انتہیٰ“۔
منامات کی حیثیت مبشرات کی ہے۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ بہر حال قادیانی ناسور کے علاج سے نہ صرف زندہ بزرگوں کو مسرت ہوئی بلکہ جو حضرات دنیا سے تشریف لے گئے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھی اس سے بے حد و بے پایاں خوشی ہوئی۔ فالحمد للّٰہ۔
(”مقالات یوسفی“ ص ۹۷-۹۸، مولانا یوسف لدھیانوی)
حضرت رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ
عمدۃ المحققین، زبدۃ العارفین، بقیۃ السلف حضرت مولانا عبد القادر صاحب رائے پوری رحمۃ اللہ کو حفاظت ختم نبوت اور تردید مرزائیت میں اس قدر شغف تھا کہ آپ کی مجلس میں عموماً قادیانیت کی اسلام دشمنی کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا۔ جب بھی حضرت کی مجلس میں حضرت امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا محمد علی صاحب جالندھریؒ، حضرت مولانا قاضی احسان احمد صاحبؒ شجاع آبادی، مولانا محمد حیاتؒ صاحب، مولانا لال حسینؒ صاحب اختر حاضر ہوتے، حضرت اقدس ان حضرات کو فرماتے کہ ختم نبوت، حیات حضرت مسیح علیہ السلام اور کذب مرزا کے دلائل بیان کیجئے۔ تاکہ حاضرین مجلس ان دلائل کو محفوظ کر کے تردید مرزائیت کی جدوجہد میں حصہ لے سکیں۔
حضرت نے اپنے وصال سے پندرہ دن پہلے مولانا لال حسینؒ صاحب اختر سے فرمایا کہ مجھے آپ سے، مولانا محمد علیؒ صاحب سے اور مولانا محمد حیاتؒ صاحب سے بہت زیادہ پیار ہے۔ کیونکہ آپ ختم نبوت کی حفاظت کا کام کرتے ہیں۔ مولانا لال حسینؒ صاحب اختر نے عرض کیا کہ پڑھنے کے لیے کوئی وظیفہ ارشاد فرمائیں۔ حضرت والا نے فرمایا مولوی صاحب آپ روزانہ کچھ درود شریف پڑھ لیا کیجئے۔ آپ کے لیے وظیفہ یہ ہے کہ ختم نبوت پر وعظ کیا کریں۔ یہ چھوٹا وظیفہ نہیں، بہت بڑا وظیفہ ہے۔ پورے دین کا مدار حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت پر ہے۔ حضرت کے ارشاد کی تعمیل میں مجلس مرکزیہ تحفظ ختم نبوت ملتان نے حضرت مولانا محمد ابراہیمؒ صاحب سیالکوٹی کی شہرہ آفاق کتاب ”شہادت القرآن فی حیات مسیح علیہ السلام“ دو ہزار کی تعداد میں طبع کرائی۔ حضرت والا نے حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی سے فرمایا کہ آپ تردید مرزائیت پر اردو اور عربی میں دو کتابیں تصنیف کریں۔ چنانچہ حضرت مولانا ندوی نے عربی اور اردو میں قادیانیت کے نام سے دو بہترین کتابیں تصنیف فرمائیں۔ جو ہزاروں کی تعداد میں مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے بھیجی گئیں اور عربی میں لکھی ہوئی کتاب ”القادیانی و القادیانیہ“ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان) کے خرچ پر طبع شدہ تمام عربی اسلامی ممالک
میں تقسیم کی گئی۔ جس سے اسلامی ممالک کے مسلمانوں کو بہت نفع ہوا اور تمام ممالک کو اجازت دی گئی کہ آئندہ شائع کر سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ کتاب اور محمد اکبر سیشن جج راولپنڈی کے فیصلہ کو بیرونی ممالک میں کثرت سے شائع کیا جارہا ہے۔
("تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء" جلد اول ص ۱۵۱-۱۵۲‘ مولانا اللہ وسایا)
جذبہ قربانی
حضور ﷺ کی ختم نبوت پر فدائیت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا حضور ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور ان کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے گا‘ میں اسے انسان بھی کہنے کے لیے تیار نہیں۔ تمہارا قانون جو چاہے‘ مجھے کرے۔ میں دار پر بھی یہی کہوں گا کہ حضور خاتم ﷺ النبیین ہیں۔ تمہارا قانون میرا کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اب رہ بھی کیا گیا ہے جو بگاڑ لوگے۔ ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ بھی میاں کی عزت پر نثار ہو جائے تو جان چھوٹے۔
("حیات امیر شریعت" از جانباز مرزا‘ ص ۴۹۶-۴۹۷)
اسلام کے لیے
تحریک تحفظ ختم نبوت کے دنوں میں شاہ جی سندھ کی کسی جیل میں محبوس تھے۔ ایک بڑا سرکاری افسر ملنے کے لیے گیا تو باتوں باتوں میں اس نے کہا "شاہ جی اب اسلامی حکومت ہے۔ پہلے جیل جاتے تھے تو لوگ قدر کرتے تھے‘ اب تو وہ دن نہیں رہے۔ لوگ بھول جائیں گے۔ چھوڑیے اس قصے کو‘ باہر آکر کوئی اور کام کیجئے"۔
حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمایا "ٹھیک ہے بھائی لیکن میں کبھی لوگوں کے لیے جیل نہیں گیا۔ میں تو اسلام اور آزادی کے لیے جیل جاتا رہا ہوں۔ رہا اسلامی حکومت کا سوال‘ تو مجھے تم سے اتفاق ہے۔ مگر یہ نہ بھولو کہ اسلامی حکومتوں میں بھی کچھ لوگ جیل میں رہا کرتے ہیں اور کچھ لوگ تخت پر۔ کچھ گوالیار کے قلعہ میں قید ہوتے ہیں اور کچھ دہلی کے
- قلعہ میں رہتے ہیں"۔
("چٹان" سالنامہ ' ص ۷۱)
کھاتے رہے ہیں پتھر ہم آئینہ دکھا کے
(مولف)
شاہ جیؒ کا مقام
حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب شیخ الحدیث جامعہ رشیدیہ ساہیوال نے مجھ سے فرمایا ! جب حضرت شاہ جی بستر علالت پر تھے ان دنوں تبلیغی جماعت کے حضرات کی ایک جماعت کویت گئی ہوئی تھی۔ امیر صاحب فرماتے ہیں کہ کویت میں ہمارا مرکز کویت کی مرکزی جامع مسجد میں تھا۔ ایک روز صبح کے وقت ایک سن رسیدہ بزرگ تشریف لائے جن کانورانی چہرہ ہی ان کی بزرگی کی شہادت دیتا تھا۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے کہ آپ لوگ پاکستان سے آئے ہیں، میں نے اثبات میں جواب دیا تو پوچھا پاکستان میں کوئی عطاءاللہ بخاری نام کے بزرگ ہیں، میں نے اقرار کرتے ہوئے شاہ جی کا مختصر تعارف کرایا اور تعجب سے دریافت کیا کہ آپ انہیں کیسے جانتے ہیں؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ رات میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ پھر فرمایا میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ ایک وسیع میدان میں ایستادہ ایک سمت یوں دیکھ رہے ہیں جیسے کسی کا انتظار ہو۔ پھر میں نے دیکھا کہ بہت بڑا ہجوم حضور ﷺ کی طرف آ رہا ہے۔ ہر شخص کا چہرہ نہایت نورانی، تابناک اور دل آویز ہے۔ وہ ہجوم حضور ﷺ کے پاس آکر دو حصوں میں دائیں بائیں بٹ گیا۔ کچھ وقفہ کے بعد ویسا ہی ایک اور ہجوم نمودار ہوا اور وہ بھی نہایت خوبرو اور درخشندہ پیشانیوں والے لوگ ہیں۔ حضورؐ کے قریب آکر وہ بھی دائیں بائیں تقسیم ہو گئے مگر حضور ﷺ اب بھی اسی طرح اسی جانب دیکھ رہے ہیں جیسے اب بھی کسی کا انتظار ہو۔
اتنے میں صرف ایک شخص جو نہایت حسین و جمیل ہے، آتا دکھائی دیا۔ جب وہ قریب تر پہنچا تو حضورؐ آگے بڑھے۔ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بھی ساتھ ساتھ ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے اس شخص سے مصافحہ کیا، سینے سے لگایا اور اس کی پشت پر شفقت سے
دست مبارک پھیرتے رہے۔ میں نے جی میں کہا یہ پہلا گروہ تو انبیاء کرام علیہم السلام کا تھا‘ دوسرا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مگر یہ شخص کون ہے جس کا حضور انتظار فرماتے رہے اور اتنی محبت و شفقت کا اظہار فرمایا۔ تو ایک آواز آئی کہ یہ خادم ختم نبوت عطاء اللہ شاہ بخاری پاکستانی ہے۔ خواب بیان کرنے کے بعد اس بزرگ نے فرمایا آپ نے بتایا ہے کہ وہ بیمار تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی وفات ہو چکی ہے۔ امیر جماعت کہتے ہیں جب شاہ جی کی وفات کا علم ہوا تو ہم نے حساب لگا کر دیکھا شاہ جی کی وفات اسی روز ہوئی تھی جس کی شب اس بزرگ نے یہ خواب دیکھا تھا۔
(”بخاری کی باتیں“ ص ۱۴۹، ۱۵۰‘ مصنفہ سید امین گیلانی)
بہت روشن ہے مستقبل ہمارا (مولف)
منہ توڑ جواب
مولانا عبد الستار نیازی کو چرخے پر سوت کاتنے کی مشقت دی تھی۔ مولانا نیازی ایک روز مشقت فرما رہے تھے کہ سپرنٹنڈنٹ جیل شیخ اکرم صاحب اپنے دوسرے جیل حکام کے ساتھ آدھمکے۔ نیازی صاحب بے ہنگم روئی تھامے موٹا موٹا کات رہے تھے۔ شیخ صاحب نے انہیں اس حالت میں دیکھ کر ذرا تحکمانہ لہجہ میں پوچھا:
آپ موٹا کات رہے ہیں‘ نیازی صاحب! ہاں جناب! تاکہ تمہاری سمجھ میں آجائے!
(”خطبات امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری“ ۴۳-۴۴ از مولانا مجاہد الحسینی)
یہ نصیب کیا کم ہے کوئی آزماتا ہے (مولف)
پولیس نے لاٹھی چارج سے انکار کر دیا
میں نے سنا کہ سرگودھا میں جب مفتی محمد شفیع صاحب کو گرفتار کیا گیا تو عوام نے اس کے خلاف جلوس نکالا۔ وہاں کے ایس پی (سنا ہے وہ مرزائی ہے) نے پولیس کو لاٹھی چارج کا حکم دیا۔ پولیس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم بھی مسلمان ہیں۔ یہ ہمارا بھی مطالبہ ہے۔ میں پولیس کو مبارک باد دیتا ہوں۔ کیونکہ ہم صرف حکومت کے نوکر نہیں ہیں۔ ہم محمد ﷺ کے غلام اور مسلمان ہیں۔ ہم کلمہ پڑھتے ہیں۔ یاد رکھو اے چندریگر! یہ پاکستان مسلمانوں کا ہے، فقط تیرا نہیں۔ کیا تم ہمیں مسجدوں میں کلمہ حق بلند نہیں کرنے دو گے؟ دعا فرمائیے ہمارے حکام کو اللہ تعالیٰ اسلام کی حمایت کی توفیق دے۔ (آمین) آپ کو معلوم ہے میں کسی سیاسی جماعت میں شریک نہیں ہوں۔ لیکن یہ مذہب کا معاملہ ہے۔ میں ناظم الدین کو کہتا ہوں کہ میں اپنے خدا اور رسول ﷺ کو ناراض نہیں کر سکتا۔
مرزا خود کافر اور جہنمی ہے
میں رپورٹر سے کہتا ہوں چندریگر اور ناظم الدین کو کہہ دو کہ مرزا تیرے باپ کو کافر اور تیری ماں کو کتیا کہتا ہے۔ تم کو غیرت نہیں آتی کیا کر رہے ہو آخر۔
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے
(”خطبات حضرت مولانا احمد علی لاہوری“ ص ۳۵-۳۶)
دشمن کی گھات
چوتھی اور پانچویں ملاقات ۲۴ اور ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۴ء کو لاہور میں ان کے دولت کدے پر ہوئی۔ آپ کچھ عرصہ پیشتر جیل سے اس حال میں باہر آئے تھے کہ چلنے پھرنے سے عاجز آگئے تھے اور مہینوں سے لازم الفراش تھے۔ کہنے لگے کہ ایک مرزائی ڈاکٹر میرا ہمدرد بن کر ہر روز میرا حال پوچھنے آتا ہے۔ مقصد یہ کہ میری حالت اگر بگڑ جائے تو ربوہ سے
میری موت کا الہام چند گھنٹے پہلے جاری ہو جائے لیکن میں ان لوگوں کو اس پیشگوئی کا موقع نہیں دوں گا"۔
(ہفت روزہ "چٹان" شورش کاشمیری نمبر، ص ۲۳)
مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے ید بیضا (مولف)
اکابر احرار کا علمی و عملی مقام
ہمارا سائیں "حیات" ماہر ٹیلر ماسٹر، تعلیم یافتہ اور اعلیٰ درجہ کا شاعر ہے۔ اس نے حال ہی میں اپنی دکان نیلام کر کے ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ ماسٹر تاج الدین صاحب انصاری اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مقرر ہیں۔ جناب شیخ حسام الدین بی۔اے ہیں۔ جناب مولانا غلام غوث صاحب جید عالم بھی ہیں۔ حکیم اور طبیب بھی، اچھے مناظر اور مقرر ہیں۔ مولانا محمد علی جالندھری سحر بیان مقرر اور موجودہ علم کلام کے مایہ ناز متکلم عالم ہیں۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی شعلہ بیان خطیب اور ایک مجاہد عالم ہیں۔
مولانا لال حسین صاحب اختر آسمان قادیان کا ٹوٹا ہوا ستارہ ہے جو وہاں سے خدا نے ہماری حمایت کے لیے بھیجا ہے۔ مرزا بشیر الدین محمود نے اس کی تعلیم پر ہزاروں روپے خرچ کیے، مگر خدا نے اس کے دل میں حق بینی اور صداقت شناسی کا چراغ جلایا۔ اس پر جب مرزا کا تمام دجل و فریب آشکار ہوا تو مرزائیت سے توبہ کر کے صحیح مسلمان ہو گیا۔ بہت بڑے عالم اور مبلغ ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تمام مذاہب کی کتابوں کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ مرزائیوں کے مقابلہ میں بے شمار مناظروں میں نمایاں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔
مولانا مفتی عبد القیوم صاحب پوپلزئی قابل مفتی اور مجاہد عالم ہیں، مولانا محمد حیات صاحب جید عالم اور مناظر ہیں۔ ان چند علماء کے نام میں نے "مشتے نمونہ از خروارے" کے طور پر بیان کیے، ورنہ ہماری جماعت احرار کو بہت سے دیگر علماء اور کارکنوں کی معیت حاصل ہے۔ ہم اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے مستعد ہیں۔ یہ اس لیے کہ معاملہ انتہا کو
پہنچ گیا ہے۔ مرزائی تبلیغ منظم طور پر ہر جگہ ہو رہی ہے۔ یہ فتنہ ارتداد غربت و افلاس کے ساتھ نہیں بلکہ پوری قوت و طاقت کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔ اس فتنہ کی پشت پر اربوں روپے اور ہر قسم کے مادی وسائل ہیں۔ یہ فتنہ بندوقوں، توپوں اور مشین گنوں، سمندری اور ہوائی طاقت کا سہارا لیے ہوئے مسلمانوں کے اس ملک میں چھایا جا رہا ہے۔
حضرات! اگر میں غلط بات کہوں تو میری اصلاح آپ کا فرض اولین ہے۔ ورنہ اگر حق بیان کر رہا ہوں تو اس فتنہ کی بیخ کنی میں میرا ساتھ دیں۔ اب تو نوجوان علماء اور قوی ہمت رضا کاروں کی اشد ضرورت ہے کہ وہ اس اہم فریضہ کو سنبھالیں۔ میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں۔ عالم شباب قید و بند میں گزرا، نو سال جوانی جیلوں میں بسر ہوئی۔ اب بھی دو دن کا بھوکا ہوں۔ پینتیس سال ہو گئے کہ میں تقریر سے پہلے کھانا نہیں کھاتا۔ اب تقریر ختم کر کے کچھ کھاؤں گا۔ وہ کیسے ہضم ہو گا؟ آپ تو اپنی ملازمتوں، تجارتوں اور دیگر مشاغل میں پورے آرام و اطمینان کے ساتھ مصروف ہیں۔ مرزائیت، تحفظ ختم نبوت اور دیگر بے شمار فتنوں کے مقابلہ میں ہماری جماعت احرار کو اکیلی چھوڑ بیٹھے۔
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ کجا کجا نہم؟
("خطبات امیر شریعت" ص ۲۰۹-۲۱۰، مجاہد الحسینی)
مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی للکار
فیروز پور میں مرزائیوں کے ساتھ ایک مناظرہ طے پایا اور عام مسلمانوں نے جو فن مناظرہ سے ناواقف تھے، مرزائیوں کے ساتھ بعض ایسی شرائط پر مناظرہ طے کر لیا جو مسلمان مناظر کے لیے خاصی پریشان کن ہو سکتی تھیں۔ دارالعلوم دیوبند کے اس وقت کے صدر مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمن رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شاہ صاحب کے مشورہ سے مناظرہ کے لیے حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاند پوری، حضرت مولانا محمد بدر عالم میرٹھیؒ، حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے نام
تجویز ہوئے۔ یہ حضرات جب فیروزپور پہنچے تو مرزائیوں کی شرائط کا علم ہوا کہ انہوں نے کس دجل سے من مانی شرائط سے مسلمانوں کو جکڑ لیا ہے۔ اب دو ہی صورتیں تھیں کہ یا تو ان شرائط پر مناظرہ کیا جائے یا پھر انکار کر دیا جائے۔ پہلی صورت مضر تھی۔ دوسری صورت مسلمانان فیروزپور کے لیے سبکی کا باعث ہو سکتی تھی۔ انجام کار انہی شرائط پر مناظرہ کرنا منظور کر لیا گیا اور حضرت شاہ صاحب کو تار دے دیا گیا۔
اگلے روز مقررہ وقت پر مناظرہ شروع ہو گیا اور عین اس وقت دیکھا گیا کہ حضرت شاہ صاحب بہ نفس نفیس حضرت علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے آتے ہی اعلان فرمایا کہ جائیے ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ تم نے جتنی شرائط مسلمانوں سے منوائی ہیں‘ اتنی شرائط اور من مانی لگوا لو۔ ہماری طرف سے کوئی شرط نہیں۔ مناظرہ کرو اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھو۔ چنانچہ اس بات کا اعلان کر دیا گیا اور مفتی صاحبؒ ‘ مولانا محمد ادریس کاندھلوی اور مولانا سید محمد بدر عالم صاحبؒ نے مناظرہ کیا۔ اس میں مرزائیوں کی جو درگت بنی‘ اس کی گواہی آج بھی فیروزپور کے در و دیوار دے سکتے ہیں۔ مناظرہ کے بعد شہر میں جلسہ عام ہوا جس میں حضرت شاہ صاحب اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی نے تقریریں کیں۔ تقریریں فیروز پور کی تاریخ میں یادگار نوعیت رکھتی ہیں۔ بہت سے لوگ جو قادیانی دجل کا شکار ہو چکے تھے‘ اس مناظرہ اور جلسہ کے بعد اسلام پر واپس لوٹ آئے۔
(”مقدمہ مرزائیہ بہاولپور“ صفحہ ۴۰۱‘ از میر عبدالماجد سید)
یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا (مولف)
حضرت مفتی محمد شفیعؒ کو حضرت کشمیریؒ کی دعائیں
قادیانیت کے موضوع پر حضرت شاہ صاحبؒ کے حکم سے حضرت والد صاحبؒ نے کئی کتابیں عربی اور اردو میں تحریر فرمائی ہیں جن کی تفصیل حضرت مولانا محمد اشرف خاں
صاحب اور مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی کے مضامین میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انہی میں سے ایک عربی تالیف التصریح بما تواتر فی نزول المسیح بھی ہے۔ اس کتاب کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ ان متواتر المعنی احادیث کا ایک مجموعہ تیار فرمانا چاہتے تھے۔ جن سے نزول مسیح علیہ السلام کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے۔ اس غرض کے لیے حضرتؒ نے ابتدائی مواد بھی جمع فرمالیا تھا اور اس کی یادداشتیں آپ کے پاس محفوظ تھیں۔ لیکن مصروفیات کی بنا پر انہیں مرتب کر کے کتابی شکل دینے کی نوبت نہ آئی تھی۔ بالآخر آپ نے یہ یادداشتیں حضرت والد صاحبؒ کو عنایت فرمائیں اور حکم دیا کہ ان کی بنیاد پر ایک کتاب عربی زبان میں لکھ دیں۔ حضرت والد صاحبؒ نے انتہائی تن دہی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل فرمائی اور دن رات لگ کر چند ہی دنوں میں یہ کتاب تیار فرمادی۔
حضرت والد صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ جب اس کتاب کی تالیف کے دوران میں کتب خانے سے کتابوں کے انبار اٹھا اٹھا کر اپنی جگہ لایا کرتا اور حضرت شاہ صاحب کے کمرے کے سامنے سے گزرتا تو حضرت بہت مسرور ہوا کرتے تھے۔ بالاخر جب میں کتاب مکمل کر کے اس کا مسودہ حضرتؒ کی خدمت میں لے گیا تو بہت دعائیں دیں اور حاضرین مجلس سے فرمایا "دیکھو بھائی محنت تو ہم کرتے ہیں اور ثواب یہ صاحب لے اڑتا ہے"
("البلاغ" مفتی اعظم نمبر، ص ۲۸۶-۲۸۵)
مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی جرأت اظہار
حضرت مولانا استقامت اور عزیمت کے کوہ ہمالیہ تھے اور انتہائی درجہ کے نڈر اور جری تھے۔ ڈرنا یا دبنا جانتے ہی نہ تھے۔ حق بات بڑی بے خوفی سے منہ پر کہہ دیا کرتے تھے اور اس سلسلہ میں جان تک کی پرواہ نہ کرتے تھے۔ ۱۹۳۴ء میں انگریز نے اپنے خودکاشتہ پودے قادیانیت کو دھن، دھونس اور دھاندلی سے پروان چڑھانے کا قطعی فیصلہ کر لیا تھا۔ ان دنوں انگریز اپنے خلاف بات بالکل برداشت نہ کرتا تھا۔ نوشہرہ ضلع پشاور میں مولانا نے مرزائیت کے خلاف تقریر کی، گرفتار ہو کر انگریز اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ کی عدالت میں لائے
گئے ۔ اس بد فطرت گورے کی عادت یہ تھی کہ جب ملزم عدالت میں اس کے سامنے لایا جاتا تو وہ پہلے ہی آنکھیں نکال کر اور چیخ کر اس کو دو چار گالیاں سنا دیتا ۔ مطلب یہ ہوتا تھا کہ ملزم پہلے ہی اس گھن گرج سے مرعوب ہو جائے اور عدالت میں لب کشائی کی سکت ختم یا کمزور کر بیٹھے ۔
مولانا جب اس کے سامنے پہنچے تو وہ مولانا کے مزاج سے واقف نہ تھا ۔ اپنی عادت بد کے مطابق اس نے چلا کر مولانا کو کہا ” ٹم بہت بدمعاش ‘ ٹم ہر جگہ فساد کرتا ‘ ہم ٹم کو سیڈھ کرتا “ مولانا نے بڑے تحمل سے اس کو مخاطب کیا کہ ” جناب یہ عدالت ہے اور عدالت کا احترام سب پر ضروری ہے ۔ جو ہم تو ضرور کریں گے لیکن قانونی طریقہ یہ ہے کہ وکیل استغاثہ پیش کرتا ہے ‘ ملزم اپنی صفائی بیان کرتا ہے اور پھر جج دونوں طرف کی بات سن کر انصاف سے فیصلہ کرتا ہے ۔ مگر یہاں تو آپ خود اپنی عدالت کی توہین کر رہے ہیں “ ۔
اب مولانا نے ہو بہو اس کی نقل اتار کر اس کی طرح منہ بگاڑ کر اسی چیخنے کی طرز پر اس سے زیادہ زور دے کر کہا ” ٹم بہت بدمعاش ‘ ٹم ہر جگہ فساد کرتا ‘ ہم ٹم کو سیدھا کرتا “ (عدالت میں پھر وہی قہقہے ) اس ناگہانی صورت حال سے اس نے بد حواس ہو کر کہا کہ ” جاؤ ایک سال قید “ مولانا نے کہا کہ شکریہ اور پولیس کے ساتھ جیل چلے گئے ۔ مشہور قومی کارکن ملک پیر بخش خاں صاحب مرحوم وکیل پشاور کو جو یہ تفصیل معلوم ہوئی تو اس نے مولانا کی طرف سے اپیل کی اور موقف یہ اختیار کیا کہ مجسٹریٹ نے سرکاری وکیل استغاثہ پیش کرنے ‘ استغاثہ کی شہادتیں پیش ہونے ‘ جواب دعویٰ ‘ صفائی کی شہادت اور پھر دو طرفہ وکیلوں کی بحث ہونے سے قبل ہی سزا کیوں سنا دی؟ معاملہ صاف تھا ۔ ایک ہفتہ کے بعد ہی مولانا بری ہو گئے ۔
(ماہنامہ ” تبصرہ “ جلد ۲۲ ‘ شمارہ ۶ ‘ ص ۸)
وہ محشر جو میرے دل میں بپا ہے (مولف)
علامہ انور شاہ کشمیریؒ کا مقام
علامہ مرحوم کی مختصر تعریف مدیر روزنامہ ”زمیندار“ کے الفاظ میں یہ ہو سکتی ہے کہ:
”مولانا کا تفقہ فی الدین‘ مذہبی تقشف و تورع‘ تبحر علمی‘ اخلاص وللہیت‘ بزرگان سلف کی یاد تازہ کرتی ہے۔ آج دعوے کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ علوم دینیہ میں مولانا کا جو بلند پایہ ہے‘ اس کا ثانی ارض بسیط پر ملنا محال ہے اور یہ حقیقت ہے کہ مولانا انور شاہؒ اگر آج بدرجہ اقل مجددیت ہی کا دعویٰ کر دیتے تو مرزائے قادیان جیسے دس ہزار مجدد ان کے قدم چومتے“۔
(روزنامہ ”زمیندار“ ۱۵ مارچ ۳۳ء)
مولانا انور شاہ کشمیریؒ کا فکر
”مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ روح کے عالم بالا کی طرف پرواز کرنے سے دس پندرہ گھنٹہ قبل قادیانی فتنہ کے نقصانات پر گفتگو فرما رہے تھے“۔
(ماہنامہ ”تبلیغ دین“ جلد ۱‘ شمارہ ۹-۱۰‘ مضمون مولانا ازہر شاہ قیصر)
ایک رات میں تعمیر ہونے والی مکی مسجد
اسلامیان گوجرانوالہ کے لیے ۹-۱۰ اکتوبر ۱۹۶۵ء کی درمیانی شب انتہائی باسعادت اور مسرت افزا تھی۔ ہر شخص عشق مصطفیٰ ﷺ کے جذبہ سے سرشار مسجد کی تعمیر میں سرگرم عمل تھا۔ ایک ہی رات میں بننے والی مسجد کا پس منظر یہ ہے کہ اس سے ملحقہ آبادی کے ایک نیک صفت انسان راجہ رحمت اللہ عقیدہ ختم نبوت کے جذبہ صادقہ کے ساتھ مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر واقع سیالکوٹی گیٹ آئے اور مجلس کے سرگرم رکن (جانباز
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ جناب غلام نبی سے ملاقات کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈیوڑھا پھاٹک کے نزدیک مرزائیوں نے فیض ہال کے نام سے بلدیہ سے نقشہ منظور کرا لیا ہے اور اس طرح مرزائی اپنے کفریہ عقائد کی ترویج کے لیے ایک مرکز تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو یہ اطلاع دینا میرا دینی فرض تھا۔ اگر آپ نے اس کا سدباب نہ کیا تو قیامت کے دن میرا ہاتھ اور آپ کا گریبان ہو گا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص مرتد ہو گیا تو اس کی ذمہ داری آپ پر ہو گی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ عظیم سپوت اسی وقت راجہ صاحب کے ساتھ چل پڑا اور مذکورہ جگہ کا جائزہ لے کر کارکنوں اور جماعتی احباب کا اجلاس بلایا اور یوں حضرت مولانا عبد الواحد مدظلہ کی تجویز پر فیض ہال کے بالمقابل ایک مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ ہوا۔
قادیانیوں کو فیض ہال تعمیر کرنے کی منظوری دینے پر اسلامیان گوجرانوالہ نے سخت ناپسندیدگی اور نفرت کا اظہار کیا۔ ہزاروں فدایان ختم نبوت نے میونسپل کمیٹی کا گھیراؤ کیا جس کے نتیجے میں کمیٹی کو اجازت نامہ منسوخ کرنا پڑا۔ مسجد کی یہ اراضی ایک بڑھیا کے قبضہ میں تھی جس نے اسے اپنی بیٹی کے نام منتقل کرا رکھا تھا۔ جناب غلام نبی نے بڑی کوشش اور منت سماجت سے اسے فروخت کرنے پر رضامند کیا اور اس طرح اس زمین کی قیمت جناب الحاج لالہ غلام رسول نے ادا کی۔ گوجرانوالہ کے شہریوں نے وحدت فکر و عمل کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مجاہد ملت حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی مدظلہ کی قیادت میں ۱۹ اکتوبر کو شام سات بجے ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ادھر کا رخ کیا۔ مولانا موصوف نے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس وقت عاشقان رسول کی ہمت اور محنت قابل دید تھی۔ ہر شخص اپنی بساط کے مطابق تعمیر کے کام میں مگن تھا۔ الغرض شام سات بجے سے اذان فجر تک مسجد کی تعمیر، پانی، بجلی کی فٹنگ اور لاؤڈ سپیکر سمیت ہر لحاظ سے مکمل تھی۔ جانشین شیخ التفسیر حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ نے اپنی جیب خاص سے تعمیر مسجد میں گراں قدر عطیہ دیا اور مسجد کا نام مکی مسجد تجویز فرمایا۔
("تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک" ص ۳۰۹-۳۱۰، از چودھری غلام نبی)
کہ تیرے ساتھ دنیا میں ہزاروں دل دھڑکتے ہیں (مولف)
پولیس نے تنگ آ کر چھوڑ دیا
رضا کاروں کی تلاش میں ایک روز بہاول پور گیا۔ رضا کار تو نہ مل سکے البتہ ایک جامع مسجد سے چار نابینا حفاظ نے جلوس نکالا۔ عوام اکٹھے ہو کر نعرے لگانے لگے۔ پولیس ان حفاظ کو پکڑ کر تھانہ لے آئی۔ انہوں نے پولیس کو تنگ کرنے کا باہمی مشورہ کیا۔ ان میں سے ایک نے پیشاب کی خواہش کی‘ تو دو پولیس والے ساتھ ہولیے۔ وہ آیا تو دوسرا کھڑا ہو گیا۔ دوسرا آیا تو تیسرے کو پیشاب ستانے لگا۔ اس طرح یہ چاروں باری باری پولیس کی دوڑ لگواتے رہے۔ پولیس نے انہیں اپنے لیے مصیبت گردانتے ہوئے چھوڑ دیا۔
("تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک" ص ۱۶۴‘ از چودھری غلام نبی)
دولہا نے نعرے لگانے شروع کر دیے
اجلاس میں عید کا پروگرام یہ طے پایا: ”بندر روڈ سے جلوس نکالا جائے۔ ایک آدمی گھوڑے پر سوار ہو‘ اس کے گلے میں ہار پڑے ہوں‘ تاکہ پتہ چلے کہ بارات جا رہی ہے اور یہ دولہا ہے۔ باقی رضا کار براتی ہوں گے۔ آگے آگے بینڈ ہوں گے۔ جونہی جلوس بندر روڈ پر پہنچے گا۔ دولہا ختم نبوت زندہ باد اور مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگائے گا اور پیچھے باراتی اس کا ساتھ دیں گے۔ اس کے بعد گرفتاریاں پیش کی جائیں گی“۔ پروگرام طے پانے کے بعد ہم اپنی جگہ پر آگئے۔
("تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک" ص ۱۶۸‘ از چودھری غلام نبی)
وہ بھی کیا مسلمان تھے
احرار رہنماؤں کو جب پتہ چل گیا کہ مرزائیوں نے قادیان سے بھاگ کر سندھ کو اپنا مرکز بنا لیا ہے تو وہ سندھ میں ان کے تعاقب کی سوچنے لگے۔ کئی دنوں کی سوچ پر بھی ناکام رہے۔ اول تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ سندھ کے کس ضلع یا علاقہ کو مرکز بنایا گیا۔ انہی دنوں اچانک لاہور کے دفتر میں ایک شخص چودھری افضل حق سے ملنے آیا۔ شکل اور لباس سے یہ لوہار ا کام کا مستری معلوم ہو تا تھا۔ اس نے رازدارانہ انداز میں اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا (متن):
”چودھری صاحب ا میں سندھ سے آیا ہوں۔ یہاں مرزائیوں نے آج کل اپنا مرکز بنا رکھا ہے۔ یہ میرپور خاص کے اضلاع ہیں۔ یہاں کے مسلمان ہر لحاظ سے پسماندہ ہیں۔ دین کی بھی سمجھ نہیں۔ مرزائی انہیں اپنی ملوں اور کارخانوں میں بطور مزدور بھرتی کرتے ہیں اور ساتھ ہی مرزا غلام احمد کے نبی ہونے کی تبلیغ کرتے ہیں۔ یہ جاہل لوگ مزدوری کے لالچ میں مرزائیت قبول کرتے جا رہے ہیں۔ یہاں ہر روز کوئی نہ کوئی مرزائی مبلغ آتا رہتا ہے۔ کسی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔
(آنے والا) چودھری صاحب ا میں آپ کا نام تک نہیں جانتا۔ میں مرزائیوں کی مل میں ملازم ہوں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ البتہ آپ کی جماعت کا کوئی کارکن وہاں جانا چاہے تو میں وہاں تک کا کرایہ دے سکتا ہوں اور ان کی رہنمائی کر سکتا ہوں“۔
اس پر چودھری صاحب نے مولانا عبد الغفار غزنوی اور مجھے (راقم کو) امرتسر سے بلوا کر آنے والے کے ہمراہ سندھ روانہ کر دیا۔ رات حیدر آباد اسٹیشن پر گزاری۔ دوسری صبح دس بجے یہاں سے چھوٹی لائن پر گاڑی چلتی ہے۔ ہمارا مخبر یہاں ہم سے الگ ہو کر دوسرے ڈبے میں جا بیٹھا۔ قریباً گیارہ بجے دوپہر ہم میرپور خاص پہنچے۔ یہاں سے تھوڑی دور تک پیدل چلنا پڑا۔ آگے ایک میدان میں معمولی سائے کے نیچے لوگ جمع تھے۔
دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ مرزائیوں کا بڑا مبلغ اللہ دتہ جالندھری اور مسلمانوں کی طرف سے مولانا عبداللہ معمار امرتسری کے درمیان مناظرہ ہو رہا ہے۔ اس پر ہم دونوں مجمع کے درمیان سے اسٹیج پر پہنچے۔ ہمیں دیکھ کر مولانا عبداللہ معمار بڑے خوش ہوئے۔ انہوں نے ہمارا تعارف کرایا۔ ہمارا نام سن کر اللہ دتہ جالندھری پر تو اوس پڑ گئی اور وہ پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ اتنے میں اسٹیج سے اعلان ہوا کہ :
"مناظرے کی دوسری نشست نماز ظہر کے بعد ہوگی۔ احرار لیڈر اس میں شامل ہوں گے"۔
اسی موقع پر مناظرہ کی شرائط بھی طے پا گئیں جن میں کذب مرزا شرط اول تھی۔ احرار کا نام سن کر کافی لوگ جمع ہو گئے۔ مناظرہ شروع ہوتے ہی مولانا عبد الغفار غزنوی نے دجال قادیان مرزا غلام احمد کا یہ شعر پڑھا۔
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی آر
اس شعر کی تشریح میں مولانا نے کہا:
"تمہارا نبی اپنے شعر میں اقرار کرتا ہے کہ وہ مٹی کا کیڑا ہے اور بندے کا پتر بھی نہیں اور آدمی کی نفرت کی جگہ ہے"۔
اللہ دتہ صاحب! آدمی کی نفرت کی جگہ دو ہوتی ہیں۔ ایک پیشاب کرنے کی اور دوسری رفع حاجت کی۔ پتہ نہیں دونوں میں سے تمہارا نبی کیا ہے۔ پھر وہ (غلام احمد) کہتا ہے کہ وہ بندے کا پتر بھی نہیں۔
جب وہ انسان ہی نہیں تو بات ختم ہو گئی۔
اس پر مرزائی مبلغ فوراً بول اٹھا:
مولانا! یہ انکساری ہے۔ باقی رہی الزامات کی بات تو ۱۴ سو سال سے پیغمبروں پر لگتے چلے آرہے ہیں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں۔ اس پر مولانا عبدالغفار غزنوی نے کہا:
بکواس بند کرو۔ غلام احمد شرابی اور زانی تھا۔ وہ لاہور ای پلومر کی دکان سے شراب منگوا کر پیتا تھا۔ تم ایسے ذلیل آدمی کو پیغمبر کہتے ہو۔ شرم نہیں آتی۔ ابھی تو کل کی بات ہے
تمہارے سامنے عبدالرحمن مصری کے لڑکے سے تمہارے نبی کا بیٹا بشیرالدین برائی کرتا رہا اور کرواتا رہا ہے“۔
مولانا قرآن ہاتھ میں لے کر: ”اللہ دتہ! یہ قرآن ہاتھ میں لے کر قسم کھاؤ قادیان میں ایسا جھگڑا نہیں چلتا رہا“۔
اس پر اللہ دتہ اٹھ کھڑا ہوا۔ مگر مولانا نے کہا بیٹھ جاؤ! ابھی میرا وقت ختم نہیں ہوا۔ مولانا عبدالغفار نے ایسی اشتعال انگیز تقریر کی کہ مجمع نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا۔ جذبات میں سندھی اور پنجابی مزدور اللہ دتہ کی پٹائی کرنے کو تیار ہو گئے اور اسے سٹیج سے نیچے اتار دیا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی تمام کتابیں وہیں چھوڑ کر اپنے حواریوں کی پناہ میں چلا گیا مگر مشتعل ہجوم اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا۔
(”مسیلمہ کذاب سے دجال قادیان تک“ ص ۲۷۰ تا ۲۷۲‘ از جانباز مرزا)
دوسروں کے گھر میں لیکن روشنی کرتے رہے (مولف)
اچھے چہرے سے خیر کی امید ہے
یہ واقعہ درجہ کرامت سے کم نہیں۔ حضرت امام اہلسنت مولانا عبدالشکور دین پوری رحمتہ اللہ علیہ نے سنایا اس لیے ان کی زبان سے تحریر کرتا ہوں: ”فرمایا: ایک جلسہ کے سلسلہ میں جھنگ گیا۔ ختم نبوت کانفرنس تھی۔ میں نے مرزائیت کی تردید‘ ختم نبوت کی تائید میں تقریر کی اور کہا کہ نبی حسین‘ مہ جبین‘ دلنشین‘ بہترین‘ بالیقین‘ نازنین‘ صادق و امین‘ میرے رحمتہ للعالمین‘ سید الاولین و آخرین‘ راحت العاشقین مراد المشتاقین ہیں۔ دوسری طرف مرزا لعین‘ بے دین‘ بدترین‘ جہنم کا شوقین‘ جس کی موت لیٹرین۔ مرزا نبی نہیں غبی ہے‘ علی نہیں شیخ چلی ہے‘ بروزی نہیں موذی ہے‘ یک چشم گل ہے‘
بدشکل ہے، بے عقل، نہ اصل ہے، نہ نسل ہے۔ یہ وہ دور تھا جب قادیانیت کے خلاف بات کہنا جرم تھا۔ مقدمہ ہو گیا۔ قبل از گرفتاری ضمانت کرائی۔ پیشی پر عدالت پہنچا تو میری پکار ہوئی۔ کمرہ عدالت میں گیا۔ سامنے ایک نو عمر جواں سال اور خوبرو جج کرسی پر براجمان تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا نام؟ عبدالشکور۔ گھر کہاں ہے؟ دین پور۔ آپ کا کام؟ تبلیغ اسلام۔ پھر جج نے کہا کہ آپ نے جھنگ کی تقریر میں مرزا قادیانی کے متعلق یہ (مذکورہ) کلمات کہے ہیں؟ میں نے جج کے سوال کا جواب دینے سے پہلے کہا، جناب آپ کی بات بعد میں پہلے میرے محبوب نبی ﷺ کی بات۔ جج صاحب آپ کو دیکھ کر مجھے رحمتہ للعالمینؐ کی ایک حدیث یاد آئی۔ آقائے نامدار کا ارشاد ہے اور مجھے یاد ہے۔ فرمایا: اطلبوا الخير من حسان الوجوه "اچھے چہرے سے خیر کی امید رکھو"۔
میں اس پر حیران پریشان سرگرداں ہوں کہ میرے محبوب کا فرمان کبھی غلط نہیں ہو سکتا۔ زمین آسمان کا نظام بدل سکتا ہے، مگر مصطفیٰ کی زبان کا جملہ غلط نہیں ہو سکتا۔ آپ میں کیا خامی یا کمزوری ہے کہ اتنے اچھے، حسین اور خوبصورت ہیں، مگر کلمہ حق کہنے کی پاداش میں ایک عالم دین آپ کے سامنے عدالت کے کٹہرے میں مجرم کی حیثیت سے کھڑا ہے۔ یہ حدیث مگر ابھی آپ پر صادق کیوں نہیں آتی۔ جج میری گفتگو کے بعد قلم منہ میں لگا کر دم بخود محو حیرت ہو گیا۔ پیشی دے دی۔ میں پھر اپنے پروگرام پر تقاریر کے سلسلہ میں چلا گیا۔ ایک ماہ بعد جب دوسری مرتبہ پیشی پر آیا، کمرہ عدالت میں داخل ہوا تو جج صاحب نے اٹھ کر سلام کیا۔ مجھے اپنی بیٹھک کے کمرہ میں لے گئے۔ عزت و ضیافت کی اور کہا، مولانا صاحب جب سے آپ نے حدیث رسول ﷺ سنائی ہے، اس وقت سے آج تک میری رات کی نیند حرام ہو چکی ہے کہ میرے محبوب ﷺ تو میرے متعلق اتنا اچھا خیال فرماتے ہیں اور میں نے کتنے فیصلے شاید محبوب خدا ﷺ کی شریعت کے خلاف کئے ہوں گے۔ میں آپ کے سامنے اپنے رب سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ اس کیس میں بری ہیں، جب کبھی اس علاقہ میں تشریف آوری ہو، مجھے یاد فرمایا کریں۔ میں زیارت کے لیے حاضر ہوا کروں
گا"۔
("خطبات دین پوری، ص ۲۶-۲۷، مرتبہ قاری جمیل الرحمٰن اختر)
دیکھتے دیکھتے کیا کیا گل خنداں نہ رہے (مولف)
علی گڑھ میں جلسہ ختم نبوت
خطرات گنواتے ہوئے آپ نے سب سے پہلے انگریز پرستی اور انگریز کی ساختہ پرداختہ قادیانی نبوت اور قادیانی امت کا خصوصی ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا کہ قادیانی نبوت اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ انگریز نے یہ فتنہ اپنے اقتدار کو استحکام اور دوام بخشنے کے لیے برپا کیا ہے۔ اگر قادیانی اپنے بے بنیاد، لچر اور لاطائل دعاوی اور نظریات اپنے آپ تک ہی محدود رکھتے تو شاید ہم تعرض نہ کرتے۔ مگر انگریز کی مربیانہ سرپرستی میں ان لوگوں نے اب کھلم کھلا مسلمانوں کی متاع دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ قادیانیوں کا ایمان ہے کہ انگریز کی اطاعت نہ کرنے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے (شیم شیم شیم کے آوازے) ان کے نبی کا کہنا ہے کہ ہر وہ شخص جو اس کی (جھوٹی اور خود ساختہ) نبوت پر ایمان نہیں لاتا، خواہ وہ قطب شمالی میں رہتا ہے یا قطب جنوبی میں، مشرق میں جی رہا ہے یا مغرب میں، خواہ اس نے مرزا صاحب کا نام سنا ہے، یا نہیں سنا، حرامزادہ اور ”ذریتہ البغایا“ (بازاری عورتوں کی اولاد) ہے۔ (شیم شیم شیم) مولانا نے فرمایا کہ جب قادیانیوں کے عقائد اصولی طور پر مسلمانوں کے معتقدات سے یکسر مختلف ہیں تو انہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ جیسی اسلامی درس گاہوں میں اسلام کا پر فریب لبادہ اوڑھ کر آئیں اور اپنے ملحدانہ نظریات کے جراثیم کھلم کھلا پھیلاتے پھریں؟ (قہر میں ڈوبی ہوئی آوازیں ۔۔۔۔۔ کوئی حق نہیں“، ہم ہرگز یہ گوارا نہیں کریں گے)
مولانا نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے سرکاری حلقوں میں اعتماد حاصل کرتے ہیں اور اپنی انگریز پرستی اور رجعت پسندی کے صلے
میں تمام اعلیٰ سرکاری مناصب اور اسامیوں پر ہاتھ صاف کر کے مسلمانوں کو ان کے جائز حصے سے محروم کرتے ہیں۔
متنبی قادیان کی تعلیمات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ انگریز کو اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے ضروری تھی کہ مسلمان اپنے دل سے جہاد بالسیف کا عقیدہ نکال دیں۔ جب تک مسلمان کا قرآن پر ایمان اور اس کے دل میں قرآن لانے والے خدا کے آخری نبی کی محبت کا بے پناہ جذبہ موجود ہے، یہ کیونکر ممکن ہے۔ انگریز نے ایک مغل زادے کی پیٹھ ٹھونک کر اس سے نبوت کا دعویٰ کرایا۔ اس (جھوٹے) نبی نے اپنی (نام نہاد) نبوت کا مقصد جہاد کو منسوخ کرنا بتایا۔ نبوت کے اس مدعی کو آسمان برطانیہ سے یہ ”وحی“ نازل ہوئی ہے الیوم حرام علی المسلمین ان یحاربو الدین اس تک بند ”نبی“ نے اس عربی ”وحی“ کا ترجمہ اپنے ایک اردو ”شعر“ میں خود یوں کیا کہ ”اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال، دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور جدال“ مولانا جب اس انداز میں قادیانی عقائد و تعلیمات کے بخیے ٹانکے ادھیڑتے جا رہے تھے، تو چند قادیانی طلباء نے جو یونین ہال کی پچھلی اور بغلی نشستوں پر دبکے بیٹھے تھے، اکا دکا کھسکنا شروع کر دیا تو پہچانے گئے اور عام لعن طعن کے ریلے میں روپوش نہیں بلکہ فرار ہو گئے۔
(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ص ۴۵۰، از عنایت اللہ نسیم سوہدروی“)
ایک سوال
مسلمانوں سے میرا ایک ہی سوال ہے۔ ”کیا آپ ”زمیندار“ کی ضمانتوں اور ضبطیوں سے ہیبت زدہ ہو کر حق اور باطل کے اس معرکے میں، جس میں ہم اور آپ سر دھڑ کی بازی لگا کر شریک ہو چکے ہیں، پسپا ہو جائیں گے اور غلام احمد قادیانی کو اپنا پیغمبر مان کر محمد مصطفیٰ ﷺ کی ختم المرسلینی کا دامن چھوڑ کر ہار جائیں گے“ (”زمیندار“ ۹ ستمبر ۱۹۳۴ء)
(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ص ۴۰۵، از عنایت اللہ نسیم سوہدروی“)
یہ عہد استوار اگر کر سکے تو کر (مولف)
مرزا قادیانی شیطان سے بدتر
۱۰ مارچ ۱۹۳۳ء دار العلوم دیوبند میں بعد نماز جمعہ عظیم الشان اجتماع ہوا۔ جس میں حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ نے انتہائی رقت آمیز الفاظ میں ارشاد فرمایا:
”آٹھ یوم سے متواتر بواسیر کا خون بدن سے خارج ہو رہا ہے۔ ضعف و نقاہت مانع تقریر ہے اور دو وقت سے فاقہ بھی ہے۔ لیکن دجال قادیان کے ہذیانات اور خاتم الانبیاء والمرسلین ﷺ کی حقیقی محبت نے آپ حضرات کے سامنے چند گزارشات پیش کرنے کے لیے ممبر پر بیٹھنے کی جرات دلا دی۔ منشی غلام احمد بلاشبہ مردود ازلی ہے۔ اس کے کفر میں احتمال کبھی پیدا نہ کرنا چاہیے۔ اس کو شیطان سے زیادہ سمجھنا جزو ایمان ہے۔ کیونکہ شیطان نے صرف ایک نبی کا مقابلہ کیا اور اس خبیث و بد باطن نے جمیع الانبیاء علیہم السلام پر افترا پردازی کی اور ان کی توہین پر لب کشائی کر کے فی النار والسقر ہو گیا۔ جو لوگ اب تک مرزا اور اس کے متبعین کو کافر سمجھنے میں متامل ہیں، ان کا علم صحیح نہیں ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے ایک وجہ بھی ایسی نہیں نکل سکتی جس سے اس فرقہ شیطانیہ کا اسلام ثابت ہو سکے“۔
(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ص ۴۰۰، از عنایت اللہ نسیم سوہدروی“)
توکل شاہ سے درخواست دعا
مولوی محبوب عالم ”صحیفہ محبوب“ میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواجہ توکل شاہ انبالوی سے عرض کیا کہ میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کو برا جانتا ہوں۔ آپ کے نزدیک وہ
کیسا شخص ہے؟ ان دنوں مرزا صاحب کا دعویٰ مہدویت و مجددیت سے متجاوز نہ ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ گویا کوتوال کی حیثیت سے شہر لاہور کا گشت کر رہا ہوں۔ ایک مقام پر مرزا غلام احمد کو دیکھا کہ کانٹوں اور گندگی میں پڑا ہے۔ میں نے اس کے ہاتھ کو جنبش دی اور ڈانٹ کر کہا تیرے پاس مجددیت اور مہدویت کا کیا ثبوت ہے؟ وہ سخت اداس اور غمزدہ دکھائی دیتا تھا۔ میرے سوال کا کچھ جواب نہ دے سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کوئی عمل کیا تھا۔ مگر پھر کسی بد پرہیزی کے باعث اس عمل سے گر گیا۔ مولوی محبوب عالم لکھتے ہیں کہ یہ تو میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اس کے اکثر خط خواجہ توکل شاہ کی خدمت میں آیا کرتے تھے جن کا مضمون یہ ہوتا تھا کہ ”حضور میرے حق میں دعا فرمائیں“۔ خط کے سنتے ہی خواجہ صاحب کے چہرہ پر غصہ کے مارے شکن پڑ جاتے تھے مگر ضبط کر کے خاموش ہو جاتے تھے۔ (ایضاً صفحہ ۲۱۸)
(”رئیس قادیان“ جلد دوم‘ ص ۱۹‘ مولانا ابو القاسم رفیق دلاوریؒ)
بے مثال
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے مولانا ظفر علی خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا:
”فتنہ قادیان کے استیصال میں مولانا ظفر علی خاں نے جو طرزِ عمل اختیار کیا ہے‘ وہ زمانہ حال کے عین مناسب و مطابق ہے۔ اگرچہ ہمارے علماء نے اس فتنہ کی ابتداء سے اب تک قادیانیت کے خلاف جو عظیم الشان کام کیے ہیں‘ وہ بھی قابل قدر ہیں۔ مگر مولانا ظفر علی خان نے چند سال میں اس فتنہ کی سرکوبی میں جو کامیابی حاصل کی ہے‘ وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ اب یہ فتنہ قیامت بن رہا ہے اور بحث و مناظرہ سے اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا تو انہوں نے وہ طرز عمل اختیار کیا جو نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ کے دل میں گھر کر گیا۔ اس میں انہیں اتنی کامیابی ہوئی جو علماء کی متفقہ جدوجہد سے نہیں ہوئی“۔
(روزنامہ ”زمیندار“ ۱۵ مارچ ۱۹۳۳ء)
دل کو تڑپائے گی اے نیر غزل خوانی مری (مولف)
حضرت بابو جی گولڑویؒ کی دعا
اس کے بعد راقم نے ۱۹۶۸ء سے سانحہ ربوہ تک تن تنہا قادیانی امت کا سیاسی محاسبہ جاری رکھا۔ بابو جی قدس سرہ نے راقم کو صبح شام کی دعاؤں میں شریک کر لیا۔ آپؒ کے روحانی تصرفات کا فیضان تھا کہ راقم کا قلب مضبوط ہوتا گیا۔ پھر جب جون ۱۹۷۴ء سے تحریک کا فیصلہ کن دور شروع ہوا تو حضرت بابو جی نور اللہ مرقدہ مرض الموت کے نرغہ میں تھے۔ لیکن آپ کے معمول میں کوئی فرق نہ تھا۔ آپؒ کو دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ اللہ والے یہی ہوتے ہیں۔ راقم نے وصال سے چند دن پہلے نیاز حاصل کیا تو فرمایا:
"جدوجہد کیے جاؤ، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے" پھر خاموش ہو گئے۔ چہرہ مبارک دمک رہا تھا۔ فرمایا اب مسئلہ طے ہو کے رہے گا۔ نصرت آچکی ہے۔ میں اعلیٰ حضرتؒ کے پاس جا رہا ہوں۔ ان سے عرض کروں گا آپ نے جس پودے کی آبیاری کی تھی، وہ پھل لے آیا ہے"۔
("تحریک ختم نبوت" ص ۶۰‘ شورش کاشمیریؒ)
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا (مولف)
مولانا ظفر علی خان
سید عطاء اللہ شاہ بخاری ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت شروع ہونے سے چند دن پہلے لاہور کے ایک جلسہ عام میں تقریر کر رہے تھے کہ مولانا ظفر علی خان اپنے فرزند اختر علی خاں کے ساتھ اچانک جلسہ گاہ میں آئے۔ مولانا انتہائی ضعیف ہو چکے تھے اور بیمار تھے۔ آپ کا
نطق کمزور پڑچکا تھا۔ نہایت مدھم بولتے۔ لیکن الفاظ ٹوٹتے تھے۔ شاہ جی نے مولانا کی آمد پر ان کے دونوں گالوں کو تھپتھپایا اور بولے ”ظفر علی خان تیرے ستارہ صبح نے میرے جگر میں آگ لگادی تھی“۔
شاہ جی فرماتے ”ستارہ صبح نے مجھے قادیانیت کے زہر آب سے آگاہ کیا۔ حضرت سید مہر علی شاہؒ نے وصیت کی کہ اس فتنہ کی سرکوبی کرنا۔ علامہ انور شاہؒ نے مجھے اس محاذ پر کھڑا کیا“۔
(”تحریک ختم نبوت“ ص۶۶‘ شورش کاشمیریؒ)
مولانا مودودیؒ کی استقامت
مولانا ۲۸ مارچ کی شب گرفتار کیے گئے جس کی جزوی روداد اوپر آچکی ہے۔ مولانا نے موت کی سزا سن کر بے نظیر استقامت دکھائی۔ حکومت اس سے لرز گئی۔ آپ نے پہلے ہی دن پھانسی کی کوٹھڑی میں اپنے لواحقین سے کہا کہ میرے لیے کسی عنوان سے کوئی اپیل نہ کرنا اور نہ حکومت سے کوئی استدعا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب پھانسی دے دی جائے تو مجھے انہی کپڑوں میں دفنا دینا اور اپنی زندگی اسی عشق و مقصد کے تحت بسر کرنا جس کے لیے ہم سب کوشاں ہیں اور جو اسلام کو اقتدار میں لانے کا قرآنی نصب العین ہے۔ بزدلان حکومت کو اندازہ ہی نہ تھا کہ جو لوگ اسلام کے لیے جیتے اور اسلام کے لیے مرتے ہیں‘ ان کی سیرت اس طرز کے سانچے میں ڈھلی ہوتی ہے اور انہیں کوئی سی دنیاوی آلائش یا ابتلا زیر نہیں کر سکتی۔ یہ ذکر آچکا ہے کہ حکومت نے تین چار روز ہی میں موت کی سزا منسوخ کر دی۔ پھر اس کے بعد پنجاب ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی بنا پر مولانا ۱۹۵۵ء میں رہا ہو گئے۔
(”تحریک ختم نبوت“ ص۱۵۰-۱۵۱ شورش کاشمیریؒ)
جانباز کی جانبازیاں
۲۹ فروری کو جمعہ تھا۔ اس دن مصنف (جانباز مرزا) نے پنڈی بھٹیاں (ضلع جھنگ) جانا تھا۔ یہاں سے فارغ ہو کر لائل پور (فیصل آباد) پہنچا۔ رات جامع مسجد میں کراچی میں رہنماؤں کی گرفتاریوں پر احتجاجی جلسہ تھا۔ یہاں سے فارغ ہو کر رات ایک بجے گھر پہنچا۔ ابھی نیند ابتدائی مراحل میں تھی کہ پولیس آن وارد ہوئی۔ ان دنوں رانا جہانداد خان لائل پور پولیس کے ڈی ایس پی تھے۔ نہایت شریف طبع اور ملنسار، پولیس آفیسر تھے۔ خانگی اعتبار سے ان کا تعلق مفکر احرار چودھری افضل حق سے تھا۔ کوتوال شہر کا نام تو یاد نہیں، البتہ پہلوان کہا جاتا تھا۔ یہ دونوں پولیس آفیسروں نے میرے گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا اور نام لے کر آواز دی۔ میری خوشدامن جاگ رہی تھیں۔ انہوں نے پولیس کی آواز سن کر کہا وہ تو گھر نہیں ہیں۔
رانا جہانداد خاں: اماں جی! وہ گھر پر ہی ہیں، آپ دروازہ کھولیں۔
اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔ پتہ چلا کہ پولیس گرفتاری کے لیے آئی ہے۔ میں نے آواز دی، رانا صاحب! میں آ رہا ہوں۔ اجازت ہو تو کپڑے تبدیل کرلوں۔
رانا صاحب: بالکل۔
اس پر دوسری آواز کوتوال شہر کی تھی۔
مرزا صاحب! ذرا دیے کی روشنی زیادہ کریں۔
میرے گھر بجلی نہیں تھی۔ کڑوے تیل کا دیا جل رہا تھا۔ اس پر رانا جہانداد نے برجستہ کہا:
”پہلوان! ایسوں کے گھر ایسے ہی ہوتے ہیں“۔
پولیس آفیسر کا یہ فقرہ میری زندگی کا حاصل بن گیا۔
بہر حال گرفتاری کے لیے باہر نکلا تو لاتعداد مسلح پولیس اور فوج کا دستہ موجود تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے گھیراؤ میں لے لیا۔ گلی سے باہر کھڑی پولیس کی جیپ میں بٹھا کر مقامی جیل میں پہنچا دیا۔ جیل کے عملہ نے مجھے اسی وقت پھانسی کوٹھڑی میں بند کر دیا۔
(”مسیلمہ کذاب سے دجال قادیان تک“ ص۴۱۰-۴۱۱‘ از جانباز مرزاؒ)
میں نے یہ جرم کیا مجھ کو سزا دی جائے (مولف)
علامہ اقبالؒ کو توجہ دلائی
حضرت سید انور شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تیسری طرف ملک کے شہسوار مفکر اور شاعر اسلام ڈاکٹر محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کو اس فتنہ کی سنگینی کی طرف متوجہ کیا جنہوں نے نظم و نثر اور نظر و فکر ہر طریقہ سے پڑھے لکھے اونچے طبقہ کو اس فتنہ سے خبردار کیا اور انگریز کے اس دور میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ سب سے پہلے آپ نے ہی کیا تھا اور یہ وہ نکتہ تھا جو حضرت شاہ صاحبؒ نے ہی آپ کے ذہن رسا میں ڈالا تھا۔ چوتھی طرف مولانا ظفر علی خانؒ جیسے بے باک صحافی‘ آتش بیان مقرر اور قادر کلام شاعر کو بھی حضرت شاہ صاحبؒ کشمیری اور حضرت شاہ صاحبؒ بخاری نے ان کے پیچھے لگا دیا تھا۔
(”چراغ ہدایت“ ص۳۳‘ از مولانا محمد چراغ)
دعوت فکر
مرزائیوں کو میں دعوت فکر دیتا ہوں۔ وہ غور کریں اور اپنے مدعی نبوت اور اس کے خاندان کی فرنگی نوازی دیکھیں کہ یہ انگریز کا درباری نبی کس طرح ہندوستان میں انگریز افسروں کے دربار میں اپنی اور اپنے باپ دادا کی خدمات کے حوالے سے اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے لجاجت‘ منت و سماجت اور سراپا حاجت بن کر یقین دہانیاں کراتا ہے۔ ظالم تم نے اگر نبوت کا دعویٰ کر ہی لیا تھا اور تم اپنے تئیں نبی بن ہی بیٹھے تھے تو کم از کم اس نام و منصب کا وقار ہی قائم رکھا ہوتا اور فرنگی کی چوکھٹ پر جبہ سائی نہ کرتے۔ اپنی جبین نیاز کو عدو اللہ فرنگی کی خاک نجس سے آلودہ نہ کرتے۔
”اے رو سیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا“
تجھ سے تو سابق کذاب و دجال مدعیان نبوت بہتر تھے۔ جنہوں نے دعوائے نبوت کے بعد مسلمان بادشاہوں کے درباروں کی راہ تک نہ دیکھی۔ ان کا بھی ایک وقار تھا مگر تجھ سا بے حمیت تو خطہ ارضی پر کوئی دوسرا نہیں
خطاب بانی احرار مؤسس تحریک تحفظ نبوت حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری احرار تبلیغ کانفرنس قادیان، ۲۱ اکتوبر ۱۹۳۴ء
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان، امیر شریعت نمبر، حصہ اول، ص ۱۰۹)
آفتاب خطابت
یہ دلفریب موسم تھا، سورج کی کرنوں کی چبھن کم ہو رہی تھی۔ شاموں کا حسن نکھر رہا تھا۔ ان ملگجی شاموں کو باغوں اور پارکوں میں ہجوم بڑھنے لگا تھا۔ سبزہ پھوٹ رہا تھا۔ ہریالی آ رہی تھی۔ ٹنڈ منڈ درختوں پر پتے پھر سے نمودار ہو رہے تھے۔ باغوں اور میدانوں میں خوشبوئیں پھیلنی شروع ہو گئیں تھیں۔ مجھے آج ایک ایسے ہی موسم اور ایسے ہی دنوں کی بات کرنی ہے۔
آج بھی یہ موسم آتا ہے، آج بھی کونپلیں پھوٹتی ہیں، ہریالی آتی ہے۔ آج بھی باغوں اور پارکوں میں سرشام لوگوں کے ہجوم جمع ہوتے ہیں۔ تاکہ وہ اس حسن سے لطف اندوز ہو سکیں۔ لیکن جو بات میں بتانا چاہتا ہوں، وہ بات اب نہیں ہوتی۔
اک رند ہی کے رو رہے ہیں مے خانے
بہت برس پہلے کی بات ہے ان دنوں کو یاد کے سینے میں دبائے ایک مدت گزر گئی ہے۔ اب بھی جب یہ دن یاد آتے ہیں تو جذبات میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے اور ماضی کی ان یادوں میں کھو جانے کو جی چاہتا ہے۔
ایسے ہی موسم میں جب شاموں کا حسن نکھر آیا تھا اور راتیں خنک ہونی شروع ہو گئی تھیں تو قادیان میں مجلس احرار نے تبلیغ کانفرنس (اکتوبر ۱۹۳۴ء) کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔ صرف انعقاد کا اعلان اور وہ بھی مجلس احرار کی طرف سے، ایک زبردست ہنگامے کی دعوت تھی۔ آج اتنے برس گزرنے کے بعد شاید نئی پود ان ہنگاموں کو سمجھ ہی نہ سکے اور نہ ہی کوئی مورخ بیان کرنے کے لیے تیار ہو لیکن اس کے باوجود خطابت کی تاریخ اور شعلہ نوائیوں کی داستان میں یہ کانفرنس اپنا عنوان ڈھونڈ کر ہی رہے گی۔ ہاں تو جن دنوں اس کانفرنس کے انعقاد کا اعلان ہوا، اس وقت پنجاب میں مجلس احرار کا طوطی بول رہا تھا۔ اس شعلہ بیان خطیبوں کی جماعت نے مسلمانان پنجاب کو بہت حد تک متاثر کر لیا تھا۔ یہ کشمیر چلو تحریک کا معرکہ سر کر چکے تھے۔ سر فضل حسین کی پوری کامیابیوں اور کامرانیوں کے باوجود مسلمانوں کے درمیانی طبقے میں مجلس احرار ان کی ساکھ پر ایک گہری چوٹ لگا چکی تھی۔ غرضیکہ چاروں طرف شہر اور قریہ میں ان شعلہ نواؤں کے چرچے تھے۔ میں بھی ان چرچوں سے متاثر تھا۔ نویں جماعت کا طالب علم مولانا داؤد غزنوی کے خطبوں سے شدید طور پر متاثر، احرار کے جلسوں کا رسیا۔ اب یہ موقع کیسے کھو سکتا تھا۔ چنانچہ کچھ بزرگ دوستوں کے ساتھ قادیان روانہ ہو گیا۔
اب اڑسٹھ برس بعد یہ یادیں دھندلا گئی ہیں۔ صرف امیر شریعت کے الفاظ آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں۔ قادیان میں ایک ہجوم تھا۔ جس کو ’یہ قریہ جس نے ”نبوت“ کو تو سنبھال لیا، لیکن وہ امیر شریعت کے چاہنے والوں کو سمیٹنے سے قاصر تھا‘ کوئی گاڑی، کوئی بس، کوئی بیل گاڑی، کوئی ٹم ٹم، کوئی تانگہ، کوئی سائیکل ایسی نہ تھی، جو قادیان کی طرف نہ آ رہی ہو اور رضا کار دنوں پہلے پیدل چل دیے تھے جیسے جیسے یہ مختلف دیہات سے گزرتے، دیہات والے بھی ان کے ساتھ ہو جاتے اور قادیان پہنچتے پہنچتے یہ خود ایک جلسہ بن جاتے اور ایک جلوس بھی۔ یہ پہلی تحریک تھی جس نے یہاں کے مسلمانوں کے دونوں جذبوں کو
بیک وقت متاثر کیا۔ ان کے نعرے ‘ان میں جذبہ عشق رسولؐ کو بھی متاثر کرتے تھے اور ان کی انگریز دشمنی اور حب الوطنی کے جذبے کی بھی ان نعروں سے تشفی ہوتی تھی۔
اس کانفرنس کا انعقاد اکتوبر ۱۹۳۴ء کے تیسرے ہفتے میں ہوا اور ۲۱‘ ۲۲‘ ۲۳ اکتوبر کی تاریخوں کا اعلان کیا گیا تھا۔ کانفرنس کے لیے ایک سکھ زمیندار کی اراضی حاصل کی گئی تھی۔ اس زمیندار کا نام ایشر سنگھ تھا۔ اس اراضی پر پنڈال بھی تیار ہونا شروع ہو گیا تھا لیکن مرزائیوں نے اس اراضی پر قبضہ کر لیا۔ اب احراریوں کے لیے اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ یا تو وہ اس اراضی کے لیے لڑتے یا پھر شہر سے دور کانفرنس منعقد کرتے۔ احرار نے جھگڑا کرنے سے گریز کیا‘ کیونکہ اس وقت احرار مرزائیوں کے ان ارادوں کو بھانپتی تھی۔ چنانچہ اس اشتعال کے باوجود مجلس احرار نے ایشر سنگھ کی اراضی پر کانفرنس منعقد نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس کے بعد قادیان سے ایک میل کے فاصلے پر ڈی۔اے وی سکول کے پہلو میں پنڈال تیار کیا گیا۔
کانفرنس سے دو دن پہلے ”سول اینڈ ملٹری گزٹ“ کے نامہ نگار نے قادیان سے یہ خبر بھیجی تھی جس سے اس کانفرنس کے خدوخال اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
”مجلس احرار اکیس‘ بائیس اور تئیس اکتوبر کو ایک تبلیغی کانفرنس قادیان میں منعقد کر رہی ہے۔ اس کانفرنس کے لیے بڑے وسیع پیمانے پر تیاریاں ہو رہی ہیں۔ مرزائیوں کی طرف سے مسلسل یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ اس کانفرنس سے ان کا جان و مال خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ چنانچہ مرزائیوں نے اپنی حفاظت کے لیے لاتعداد دیہاتیوں کو اور اپنے مریدوں کو قادیان میں جمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ ادھر احرار کی اس کانفرنس میں بیس سے لے کر پچاس ہزار کا ہجوم پہنچا ہے۔ مزید برآں کانفرنس کے منتظمین کا مطالبہ ہے کہ ان کو کانفرنس کے صدر کا جلوس نکالنے کی اجازت ہونی چاہیے اور یہ جلوس قادیان شہر میں سے گزرے۔
اس کانفرنس کے پیش نظر آج صبح پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس خود بہ نفس نفیس قادیان آئے۔ ان کے ہمراہ پولیس کی بھی ایک بھاری جمعیت تھی۔ چنانچہ انسپکٹر جنرل پولیس نے کانفرنس وغیرہ کا موقع دیکھا اور احکام جاری کر دیے گئے ہیں کہ اگر کانفرنس کے دوران قادیانیوں نے کوئی اجتماع منعقد کرنے کی کوشش کی تو یہ اجتماع خلاف قانون تصور
ہوگا۔ انسپکٹر جنرل نے احراریوں اور ان کی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو بھی متنبہ کر دیا ہے کہ وہ کانفرنس میں کسی قسم کے ہتھیار کے ساتھ شرکت نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ لاٹھیوں کو ساتھ لانے کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے۔ مزید برآں کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے ایک خاص راستہ متعین کر دیا گیا ہے۔ نیز اگر کسی قسم کا جلوس نکالا جائے تو اسے شہر میں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آج شام تک قادیان میں امن و امان بحال رکھنے کے لیے چار سو پولیس کے سپاہی پہنچ جائیں گے لیکن میرا اندازہ یہی ہے کہ یہ تمام پیش بندیاں بالکل غیر ضروری ہیں کیونکہ احراری ہر حالت میں کسی قسم کے جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی کانفرنس کا پنڈال ڈی۔ اے وی سکول میں بننا شروع ہو گیا ہے۔ اور اردگرد کے تمام علاقے میں ۱۴۴ نافذ کر دی گئی ہے۔ مزید برآں لاٹھیاں نہ لانے کی بھی منادی کرا دی گئی ہے۔
اس اقتباس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ پورے پنجاب میں اس کانفرنس کے کس قدر چرچے تھے اور کتنے گوشوں سے اس کانفرنس کی کامیابی اور ناکامی کی خبروں کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس فضا میں یہ کانفرنس ہوئی۔ اس کے صدر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے۔ چنانچہ رات جب اپنا پورا سایہ ڈال چکی، لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہو چکے تو صدر کانفرنس سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تشریف لائے۔ ہزارہا انسانوں کا ہجوم اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی پنڈال میں آمد اور کون سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، ملتان کی سرزمین میں دفن ہونے والا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نہیں، وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ ہیں جس کی زبان گنگ ہو گئی تھی، جس کے چہرے کا جھریوں نے احاطہ کر لیا تھا، جس کے بالوں میں بڑھاپے کی سفیدی آ گئی تھی۔ یہ وہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تھے، جن کا شباب اور شعلہ بیانی دونوں اپنے عروج پر تھے۔ جو لاؤڈ سپیکر کے بغیر لاکھوں کے ہجوم کو مسخر کر سکتا تھا، جس کا حسن اور بیان دونوں الگ الگ جادو جگاتے تھے، پچاس ہزار کا مجمع، رات کی خاموشی، قمقموں کی روشنی اور اتنے میں حسن و نور کے پیکر، شعلہ بیان خطیب اور شریعت کے امیر کی آمد
تم آگئے تو از سر نو زندگی ہوئی
بس پھر کیا تھا۔ مجمع میں کہاں ایک خاموشی اور ہو کا عالم تھا اور اب وارفتگی اور دیدار یار کی بے تابی نے سب کو آن گھیرا ہے اور اس بے تابی اور وارفتگی کا اظہار نعروں کی گونج میں ہوتا ہے۔ شاہ جی ہیں کہ مسکراتے ہوئے مجمع کو چیرتے ہوئے اسٹیج کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسٹیج پر پہنچے‘ چاروں طرف نگاہ مست انداز میں دیکھا۔ بس پھر کیا تھا نعروں کا ایک اور سیل ٹوٹ پڑا اور امیر شریعت فاتحانہ انداز میں مسکرا رہے ہیں۔ مجمع خاموش ہوا۔ تلاوت ہوئی‘ نظم ہوئی۔ اب سے اڑسٹھ برس پہلے کی تفصیلوں کو دہرائیے اور انہی تفصیلوں کو جن پر شاہ جی کی تاریخی تقریر کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی ہوں۔ شاہ جی نے یہی کوئی نو ساڑھے نو بجے تقریر شروع کی ہوگی اور رات تھی کہ وہ بھی دم بخود گزرے جارہی تھی لیکن شاہ جی کی شعلہ بیانی بڑھتی جارہی تھی‘ اس شعلہ بیانی اور آتش نوائی کو قدم قدم پر نعروں‘ قہقہوں اور آنسوؤں کے ذریعے خراج عقیدت پیش ہو رہا تھا۔ یہی وہ تقریر تھی جس میں شاہ جی نے اپنا مشہور جملہ کہا تھا:
”تم اپنے بابا کی ”نبوت“ لے کر آؤ اور میں اپنے نانا کی نبوت لے کر آتا ہوں۔ تم حریر و دیبا زیب تن کر کے آؤ اور میں اپنے نانا کی سنت کے مطابق کھدر پہن کر آؤں۔ تم یاقوتی اور پلومر کی شراب کے خم لنڈھا کر آؤ اور میں روکھی سوکھی روٹی کھا کر آؤں اور پھر زمانہ فیصلہ کرے کہ کون سچے نبی کی اولاد ہے“۔
یہ تقریر جو رات کی خاموشی میں شروع ہوئی تھی۔ جو عشاء کی نماز کے بعد جب ابھی رات کا آغاز تھا لوگوں نے سننی شروع کی تھی۔ یہ تقریر پوری رات ہوتی رہی اور مجمع بیٹھا رہا۔ ایک بھی ذی نفس ایسا نہیں تھا جس نے تھکن کا اظہار کیا ہو۔ جس کے چہرے سے اکتاہٹ کی غمازی ہوئی ہو۔ اتنے میں صبح کا نور پھیلنا شروع ہو گیا اور موذن نے اذان دے دی۔ تقریر تھی کہ اس وقت بھی اپنے عروج پر تھی لیکن موذن نے اس سیل رواں کو روک دیا اور خطابت کے دریاؤں کو بند مار دیا۔ ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ میں بہت کم خطیب اور مقرر ایسے گزرے ہیں جنہوں نے رات رات بھر تقریر کی ہو جنہوں نے لوگوں کو اس قدر مسحور کیا ہو جیسا کہ امیر شریعت نے کیا ہے
کیا کریں گر نہ انتظار کریں
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان‘ امیر شریعت نمبر‘ حصہ دوم‘ ص ۷۳ تا ۷۴‘
تحریر عبداللہ ملک)
باعث نجات
امیر شریعت رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیشہ اس ایمان افروز جذبے کے ساتھ مرزائیت کے استیصال پر کمر باندھ رکھی تھی۔ وہ ہر سیاست سے کنارہ کش ہو گئے تھے لیکن مرزائیت کے خلاف ان کی جدوجہد اس وقت بھی قائم رہی جبکہ وہ ذیابیطس و فالج جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ علالت کے ایام میں جن حضرات کو شرف دیدار میسر آیا ان سے فرماتے کہ ”اعضاء جواب دے رہے ہیں‘ تمام وجود باغی بن گیا ہے۔ میں نے اس کے ساتھ بہت زیادتیاں کی تھیں۔ اب یہ انتقام پر اتر آیا ہے۔ کچھ توشہ آخرت پاس نہیں البتہ ایک چیز پر فلاح آخرت کی امید رکھتا ہوں۔ وہ یہ کہ تمام عمر عصمت نبی کریم ﷺ کے تحفظ پر صرف کر دی ہے۔ وہ یقیناً موجب نجات اور وجہ عافیت دارین ثابت ہو گی۔“
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر‘ ص ۲۰۹-۲۱۰)
قلندر کی جرات
ایک مرتبہ امرتسر میں کنھیالال کے منڈوے میں مرزا بشیر الدین محمود (آنجہانی) کی تقریر تھی۔ شہر کے اکثر مولویوں نے مسلمانوں کو وہاں جانے سے روکا۔ چنانچہ مرزائیوں کے علاوہ وہاں شاید بہت ہی کم لوگ گئے۔ شیخ عبدالعزیز امرتسری مرحوم جو اس واقعہ کے راوی ہیں‘ نے سوچا کہ دیکھوں تو سہی مرزا محمود آخر کیا کہتے ہیں۔ جب تقریر کا وقت ہوا اور مرزا صاحب نے اسٹیج پر کھڑے ہو کر الحمد کی تفسیر بیان کرنا شروع کی تو نہ جانے اچانک
عطاء اللہ شاہ بخاری کہاں سے نکل آئے اور انہوں نے للکار کر کہا:
”مرزا صاحب آپ قرآن کی تفسیر تو غلط نہ کیجئے۔“
مرزا صاحب عطاء اللہ شاہ صاحب کو دیکھ کر سخت گھبرائے۔ کیونکہ وہ اپنی طرف سے اس جگہ کو بہت محفوظ سمجھ کر وہاں آئے تھے۔
وہاں اس وقت محمد اعظم تھانیدار اور عزیز دین کوتوال حفاظت پر متعین تھے۔ انہوں نے سرخ سرخ آنکھیں دکھائیں لیکن شاہ جیؒ ان باتوں سے کب ڈرنے والے تھے۔ وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ آخر لوگوں نے مرزا صاحب کو شاہ جیؒ سے مناظرہ کرنے کو کہا۔ لیکن مرزا صاحب نے صاف انکار کر دیا۔ اس پر کوتوال اور تھانیدار نے شاہ جیؒ سے کہا:
”شاہ جی! مرزا صاحب آپ کے ساتھ مناظرہ کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ہم نے ان سے پوچھا ہے۔ اب ہم آپ سے صرف یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کو یہاں سے جانے دیجئے وہ اب یہاں تقریر نہیں کریں گے۔“
شاہ جیؒ نے کہا:
”کیسے جانے دوں، اگر اس میں جرأت ہے تو سامنے کھڑے ہو کر بات کرے۔“
اس کے بعد شاہ جی منڈوے (سینما ہال) سے باہر آگئے۔ وہاں اتفاق سے ایک ٹرک کھڑا تھا۔ شاہ جیؒ نے اس پر کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی اور آن کی آن میں سارا بازار ایک جلسہ گاہ بن گیا۔
(”شاہ جیؒ کے علمی و تقریری جواہر پارے“ ص ۲۸۲-۲۸۳، از اعجاز احمد سکھرانی)
یوں تو آئیں گے بہت نغمہ سرا میرے بعد (مولف)
ایبٹ آباد میں تحریک ختم نبوت کی چند جھلکیاں
جب اظہر رحیم نامی ایک قادیانی کی تاریخ پیشی سے فراغت کے بعد ناصر احمد، اصغر علی شاہین اور رانا اقبال (قادیانی) کچہری سے ہمارے سامنے سے گزرے، ان کے گزرنے کے انداز، چال ڈھال سے فرعونیت ٹپک رہی تھی۔ ہماری نگاہیں اس فرعونیت کا جائزہ لے رہی تھیں اور دل سد باب سوچ رہے تھے کہ چلتے چلتے کالج کا ایک ساتھی ہم سے آگے دوڑا اور جاتے ہی اصغر علی شاہین کی گردن پر فلائنگ کک لگائی۔ اصغر علی شاہین زمین پر تھا۔ حسنین نے ناصر احمد کو عقب سے گردن سے پکڑا اور سامنے ایس پی آفس کی دیوار سے ٹکرانے کے لیے دوڑا۔ رانا اقبال بھی کسی کے ہتھے چڑھ چکا تھا۔ اب ہر کوئی جہاد میں سعادت سمجھ کر حصہ لینے لگا اور ہم کھڑے دیکھتے رہے کہ یہ آن کی آن میں ماجرا کیا ہوا۔
عرضی نویس حضرات کی ٹائپ رائٹرز خیمے اور کرسیاں الٹ پلٹ ہو رہی تھیں۔ قادیانی بنچوں کے تلے تھے اور انہیں اس فرعونیت کی سزا مل رہی تھی۔ میرے ساتھ احمد ندیم قاضی کھڑے تھے۔ کہنے لگے ”یہ اچھا نہیں ہوا“۔
راقم نے جواب دیا ”قاضی صاحب ہماری تدبیر پر اللہ کی تقدیر غالب ہے اور ہمیں اس پر راضی رہنا ہے۔
اس دوران اصغر علی شاہین کسی طرح جان چھڑا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا اور بھاگا بھی ہماری طرف۔ کسی نے آواز دی ”ساجد صاحب پکڑو جی اوئے مرزائی بھاگ گئے ہیں۔
میں لپکا لیکن وہ نکل گیا مگر مرزائی کی آواز سن کر ہم سے چند گز کے فاصلہ پر ایک ضعیف العمر سفید ریش بزرگ تھے۔ انہوں نے بھاگتے ہوئے اصغر علی شاہین کے پیر اڑایا۔ وہ ڈگمگایا لیکن نکل گیا۔ باباجی نے زمین سے پتھر اٹھا کر بھاگتے ہوئے اصغر علی شاہین کو مارا جو اس کے پیٹھ پر لگا۔
میں اور احمد ندیم قاضی باباجی کی جرات اور ایمانی پختگی کو نظروں سے سلام عقیدت
پیش کر رہے تھے اور اپنے آپ پر شرمندہ تھے۔ اس دوران حسنین بانس لیے اصغر علی شاہین کے تعاقب میں جا چکا تھا اور دونوں ہم سے اوجھل ہو چکے تھے۔
ہم تھانے والے چوک میں پہنچے تو تھانے سے ایس ایچ او ایاز خان صاحب کی ڈاٹسن نکل رہی تھی۔ ہم نے انہیں دیکھا اور انہیں تھانے چلنے کا اشارہ کیا۔ انہوں نے ہمیں پہنچنے کا اشارہ کیا اور اشارہ سے بتایا کہ میں کچہری سے ہو کر آرہا ہوں۔ وائرلیس پر شاید انہیں کچہری میں ہونے والے جھگڑے کی اطلاع ہو چکی تھی۔ ہم تھانے پہنچے۔ شمرز خان محرر تھے۔ ہم نے اپنی ابتدائی رپورٹ درج کروائی۔ دس منٹ میں ایس ایچ او بھی آگئے اور ڈاٹسن سے اصغر علی شاہین، ناصر احمد اور رانا اقبال (قادیانیوں) کو اتارا اور ساتھ ہمارے ایک ساتھی حسنین کو بھی۔
قادیانیوں کو حوالات میں بند کرنے کا حکم دیا اور حسنین بھائی کو بھی۔ یہ حسنین بھائی ہمارے بالکل نو وارد ساتھی تھے۔ وقار گل اور دیگر احباب تو موقع پر سے نو دو گیارہ ہو چکے تھے جبکہ حسنین بھائی پکڑے گئے۔ اب مجھے یہ قلق تھا کہ یہ اندر نہ ہوں اور یہ نہ سوچیں کہ مجھے اندر کروا دیا گیا۔ میں ان کی وجہ سے واقعتاً بہت مضطرب ہو گیا تھا۔ قادیانیوں نے کہا ہم نے بھی رپورٹ درج کروانی ہے۔ ناصر احمد کو لایا گیا اور ان کی رپورٹ درج ہونے لگی۔
راقم حوالات کی طرف گیا۔ حسنین بھائی کو دیکھا تو وہ حوالات میں اپنے گاؤں شیخ البانڈی کے چند جاننے والوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ اور انہیں کارگزاری سنا رہے تھے۔ میرے بلانے پر آئے۔ میں نے ان سے کہا آپ بالکل فکر نہ کریں۔ میں اور احمد ندیم قاضی ہیں یہاں، ہم بھی اندر آتے ہیں۔
حسنین بھائی نے کہا نہیں جی۔ یہ میرے دوست ہیں، گپ شپ ہو رہی ہے۔ آپ کے آنے کی ضرورت نہیں۔ وقار وغیرہ کو بھی موقع سے میں نے ہی نکلنے کا اشارہ کیا تھا، آپ فکر نہ کریں۔
ان کی اس گفتگو کے باوجود میرے دل کو قرار نہ تھا۔ باہر سے چائے وغیرہ سب کو لا کر دی۔ اس دوران قادیانی رپورٹ درج کروا کر دوبارہ حوالات میں تھے۔
حوالات کے دونوں کمرے تھانے کے گیٹ کے ساتھ بالکل آمنے سامنے تھے۔ ایک میں قادیانی تھے اور دوسرے میں ہمارے شیر حسنین۔
اندر حسنین بھائی اور باہر ہم کھڑے ان سے محو گفتگو تھے کہ ایاز خان ایس ایچ او ہمارے پاس آئے اور کہا قادیانیوں کو ملاحظہ کے لیے ہسپتال لے جایا جا رہا ہے۔ ہم نے ان سے کہا ہمارے ساتھیوں کو بھی لے کر جائیں۔
ایس ایچ او نے کہا ان کے چوٹیں ہیں اور آپ کے ساتھی بھلے چنگے ہیں۔ ان کا ملاحظہ کس چیز کا کروائیں۔
حسنین بھائی کی ایک انگلی پر زخم تھا۔ وہ دکھاتے ہوئے انہیں کہا ”یہ دیکھیں“ ایس ایچ او صاحب ہنس پڑے۔ یار اس کا کیا ملاحظہ کرائیں۔
راقم: احمد ندیم قاضی کے بھی چوٹیں ہیں۔ دونوں کو ملاحظہ کے لیے بھجوائیں۔ اور قادیانیوں کے کون سے سر پھٹے ہوئے ہیں یا خون بہہ رہا ہے۔ ان کا ملاحظہ ہو گا تو ان کا بھی ہو گا۔
ایس ایچ او نے اے ایس آئی کو بلوایا اور کہا ان حضرات کا بھی نقشہ ضرور بنائیں اور انہیں بھی ملاحظہ کے لیے لے جائیں۔
قادیانی ملاحظہ کے لیے جاچکے تھے۔
اب حسنین بھائی بھی حوالات سے باہر تھے۔ ہمارے سر کا بوجھ کندھوں پر آگیا۔ نقشہ ضرور بنا اور ہم تھانے سے نکل رہے تھے کہ ایس ایچ او نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ”ساجد آپ بھی واپس آنا۔ آپ بھی یہیں ہیں“ میں سمجھ گیا کہ قادیانیوں نے نام لکھوایا ہو گا۔
ہسپتال پہنچے۔ فریقین کے میڈیکل ہوئے۔ دونوں طرف معمولی اور ظاہری چوٹیں تھیں۔ قادیانی ہم سے پہلے فارغ ہو کر چلے گئے۔
حسنین بھائی اور ہم ابھی ہسپتال ہی میں تھے کہ حسنین بھائی کی ضمانت کروائی گئی۔ وقار گل اور دیگر احباب ہسپتال ہی میں ضمانت نامہ لے کر آگئے۔ ان کی بھی سنئے کہ یہ ماجرا کیا ہوا؟
وقار گل دوستوں کے ساتھ ضمانت کے لیے اے سی یار محمد خان کے بنگلہ پر گئے۔ انہوں نے جماعت کے حوالہ سے آؤ بھگت کی اور جیسے عزت دیا کرتے تھے دی۔ وقار گل نے ضمانت نامہ آگے بڑھا دیا اور کہا یہ ہمارے دوست ہیں۔ ان کی ضمانت ہے۔ انہوں نے دیکھا ١٠٧ / ١٥١ ہے۔ سمجھے کہیں کسی کا خاندانی جھگڑا ہے۔ دستخط کر دیے اور ضمانت نامہ انہیں لوٹاتے ہوئے پوچھا کدھر ہوا جھگڑا؟ انہوں نے بتایا آج صبح کچہری میں۔ اے سی صاحب پشیمان تھے۔ کہنے لگے او خانہ خراب میں اس قادیانی کو چھڑا رہا تھا تو یہ لڑکا اس پر بانس برسا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ "ڈائریکٹ جنت کا ٹکٹ لو" بڑی مشکل سے ڈی ایس پی اختر علی خان نے آکر اسے چھڑایا اور گرفتار کروایا۔ آپ نے مجھ سے اس کی ضمانت کروا لی ہے۔
ضمانت تو ہو چکی تھی۔ یوں حسنین بھائی آزاد ہو گئے۔ اب جبکہ حسنین بھائی سرکاری پابندیوں سے بری ہو چکے تھے تو راقم کا خود کو یوں ہی پابند کروالینا حماقت کے سوا اور کیا تھا۔ البتہ احمد ندیم قاضی رہ گئے تھے جو پولیس کی حراست میں تھے اور چونکہ وہ جماعت کے کنوینر تھے اور پرانے ساتھی، اس لیے ان کی اتنی فکر ہمیں نہ تھی۔ قادیانیوں نے وقار گل کا نام بھی لکھوایا تھا مگر چند روز قبل وہ اظہر رحیم کے کیس میں ١٠٧ میں پابند ہو چکے تھے اس لیے دوبارہ انہیں ضمانت کی ضرورت نہ تھی۔
پولیس احمد ندیم قاضی صاحب کو لے گئی۔ اب حوالات میں وہ تین تھے اور ہمارے صرف قاضی صاحب۔ بہت کوشش کی قاضی صاحب کی ضمانت ہو جائے مگر انتظامیہ نے ایک نہ سنی اور یہی بتایا کہ ان کے اگر تین اندر ہیں تو آپ کا کم از کم ایک تو ہوگا۔
رات آٹھ بجے تھانے فون کیا۔ محرر نے اٹھایا۔ ان سے کہا احمد ندیم قاضی صاحب سے بات کروائیں۔ اس وقت احمد ندیم قاضی اور قادیانیوں کو بھی حوالات میں بند کرنے کی بجائے محرر کے کمرے میں بٹھا دیا گیا تھا۔ قاضی صاحب نے ریسیور اٹھا لیا۔ میں نے حال احوال پوچھے تو قاضی صاحب کلاشنکوف کی طرح چلنے لگے:
قاضی صاحب کے دل کا غبار جب اترا تو میں نے پوچھا:
قادیانی کہاں ہیں؟
قاضی صاحب نے بتایا یہ میرے سامنے بیٹھے ہیں۔
راقم: کتنے شرم کی بات ہے قاضی صاحب۔ ان مرتدوں کے سامنے آپ اتنے پست خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ کیا سوچ رہے ہوں گے کہ بس یہی ہے ان کا جذبہ میرے نعرے کا جواب دیں ”ختم نبوت“
قاضی: ”زندہ باد“
راقم: ”مرزے پہ لعنت“
قاضی: ”بے شمار“
راقم: ”مرزائیوں پر لعنت“
قاضی: ”بے شمار“
راقم: ہاں یہ بات ہوئی ناں۔
قاضی صاحب ہنس پڑے۔
راقم: ایک چکر چلا رہے ہیں۔ انشاء اللہ آپ کو رات گھر لے کر جائیں گے۔ چکر چل گیا اور قاضی صاحب کو تھانے سے چھوڑ دیا گیا اور صبح آٹھ بجے ضمانت کے لیے آنے کو کہا۔
انتظامیہ والے فریقین سے ایک جیسے برتاؤ کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر ہمیں صبح تک ڈھیل دی تھی تو ظاہر ہے قادیانیوں کو بھی رات چھوڑ دیا ہو گا۔
دوسرے دن جمعہ تھا۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ حفظ الرحمن خان کے سامنے ہمیں ضمانت کے لیے پیش ہونا تھا۔ قادیانیوں کو ہتھکڑیاں پہنائے کچہری لایا گیا۔ چونکہ جمعہ تھا اور کچہری بالکل سنسان تھی۔ ادھر ہم بھی سو پچاس اکٹھے ہو کر پہنچ چکے تھے۔ قادیانی ڈاٹسن سے اترے اور ہمیں دیکھ کر پھر فوراً ڈاٹسن میں چڑھ دوڑے۔ وہی جگہ تھی۔ آج ڈیوٹی مجسٹریٹ ایس پی صاحب کے دفتر میں بیٹھے تھے۔
قادیانیوں کے اعصاب پر شاید کل کے آثار طاری ہو رہے تھے۔ دو منٹ میں ڈی ایس پی صاحب پہنچ گئے۔ اے ایس آئی نے وائرلیس پر انہیں آگاہ کیا تھا۔ قادیانی ختم نبوت والوں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے ہیں اور ڈاٹسن سے نہیں اترتے۔ ڈی ایس پی صاحب نے ہم
سے اپیل کی کہ آپ ایک طرف ہو جائیں ۔ انہیں پیش کرنے کے بعد آپ کو پیش کرتے ہیں۔
بہر حال قادیانی کورٹ میں گئے۔ ضمانتیں ہوئیں اور وہ چلے گئے۔ اب میں اور احمد ندیم قاضی کورٹ میں داخل ہوئے۔ مجسٹریٹ حفظ الرحمن خان سے روز شام کو ملاقات رہتی تھی۔ اچھے جاننے والے تھے۔ سلام دعا ہوئی۔ انہوں نے پوچھا جھگڑا ہو گیا قادیانیوں سے؟
راقم : جی سر۔
کدھر ہیں ملزم ‘ لائیں انہیں ۔ مجسٹریٹ صاحب نے کہا۔
راقم : ہم ہی ہیں جی۔
مجسٹریٹ : آپ تو مجھے ملزم نہیں لگتے ۔ (حقیقت بھی یہی تھی۔ ہم دونوں تو ایک طرف کھڑے رہے تھے)
احمد ندیم قاضی: ہم دونوں کا نام خوامخواہ ان مردودوں نے لکھوایا ہے۔
حفظ الرحمن خان نے گھنٹی بجائی۔ چپڑاسی آئے۔ اشارہ کرتے ہوئے، اس پولیس والے کو بلاؤ ۔ رشید احمد اے ایس آئی نے ہمیں پیش کیا تھا۔ وہ اندر آئے، سلوٹ کیا۔ جی !
مجسٹریٹ : ان کی ہتھکڑی کدھر ہے؟
ان کے ہوائیاں اڑنے لگیں اور کہنے لگے تھانے میں اور ہتھکڑیاں نہیں تھیں جی۔ وہی تھیں جو انہیں پہنادی تھیں۔
مجسٹریٹ : ان کو نہیں پہنائیں تو قادیانیوں کو کیوں پہنائی ہیں؟"
راقم: ہمیں نہ پہنانے پر آپ انہیں اتنا ڈانٹ رہے ہیں تو اگر انہیں بھی نہ پہنائی جاتیں تو انہیں ڈبل ڈانٹ سننا پڑتی۔
مجسٹریٹ: دیکھو یہ کورٹ ہے اور قانون تمام شہریوں کے لیے برابر ہے۔ آپ خود بتائیں آپ ملزم لگ رہے ہیں؟
راقم : جب ہم نہیں ہیں تو کیوں لگیں ! از روئے مزاح کہا۔
ہماری تکرار سن کر دروازے پر بھیڑ جمع ہو گئی۔
مجسٹریٹ: دیکھو بھائی حضرت عمرؓ کو جب عدالت طلب کرتی ہے تو وہ خود ملزم کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں۔ آپ اور میں ان سے بڑے نہیں ہیں۔
راقم: مگر حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جو مسیلمہ کذاب اور اس کی پارٹی کا کیا تھا‘ وہ بھی ہم نہیں کر رہے۔
مجسٹریٹ: بحث مت کرو۔
راقم: سچ کیوں نہ کہیں۔
مجسٹریٹ: سفید سوٹ پہن کر یہاں کھڑے ہو کر جج لگتے ہو۔ آپ یہاں مقرر لگ رہے ہو‘ ملزم نہیں۔ (ویسے یہ جملہ ان کا ذو معنی تھا)
غلطی پولیس کی ہے۔ اگر یہ ہمیں ہتھکڑی پہنا کر لے آتے تو آپ ہم سے اتنی بات نہ کرتے۔ غلطی ان کی ہے اور بے عزتی آپ ہماری کر رہے ہیں۔ ضمانت لیتے ہیں تو لیں ورنہ ہمیں جیل بھیج دیں۔
مجسٹریٹ: ان پولیس والوں نے ۱۹۷۴ء میں ہمیں تحریک ختم نبوت کے دوران پشاور میں خوب مارا ہے۔ اس وقت آپ بہت چھوٹے ہوں گے۔ ختم نبوت کا تحفظ ہم بھی کر رہے ہیں مگر آپ کی طرح نہیں۔
یہ بات سن کر مجھے خاموش ہو جانا چاہیے تھا اور میں خاموش ہو گیا۔
حفظ الرحمن صاحب نے چپڑاسی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا بلاؤ ان کو اور خود کاغذات پر دستخط کرنے لگے۔
محمد زمان نے آواز دی ”ضمانتی آؤ جی!“
حفظ الرحمن خان کے ریڈر تھے جاوید خان۔ ایک ایک ضمانتی کو طلب کر کے آتے رہے۔ جب فارمیلٹی پوری ہو چکی تو حفظ الرحمن خان نے کہا ”ٹھیک ہے جاؤ“
ہمارا پارا ابھی تک گرم تھا۔ بغیر سلام دعا کئے نکل آئے۔
کورٹ سے باہر نکلے تو ہمارے دوستوں کے علاوہ بھی کچھ لوگ تھے اور دروازے میں کھڑے ہماری گفتگو بڑی توجہ سے سنتے رہے تھے۔ ہمیں تھپکی دے کر کہنے لگے بہت اعلیٰ۔ صحیح جواب دیے ہیں۔
ہم سب باہر سڑک پر آچکے تھے۔ محمد زمان آئے اور ہمیں آکر کہا ’صاحب بلا رہے ہیں ۔ میں نے احمد ندیم قاضی سے کہا ”تمہی جاؤ“ وہ چلے گئے۔
اب ہم سب کھڑے ہو گئے اور سوچنے لگے کہ اب کیا ہے ۔ سب کورٹ کا رخ کیے منتظر تھے کہ احمد ندیم قاضی ہنستے ہوئے باہر آئے۔
وقار گل نے آگے بڑھ کر پوچھا ” کیا کہتے ہیں“
احمد ندیم قاضی صاحب نے کہا ”پانچ سو روپیہ دیا ہے“۔
میں نے احمد ندیم قاضی سے کہا ”میں جانتا ہوں انہیں ۔ تنخواہ کے علاوہ ایک پیسے کی ان کی آمدن نہیں ہے۔ پانچ سو تمہیں کہاں سے دیں گے۔ حقیقت بتاؤ کیا ہے؟“
مجھے ایک طرف کر کے احمد ندیم قاضی نے کہا ” کہتے ہیں جو کچھ کرتے ہو ، ٹھیک کرتے ہو “ ۔ یہ حفظ الرحمن خان آج کل اے سی اوگی ہیں ۔ اللہ انہیں خوش رکھے۔
(مؤلف کے نام مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان صاحب کا مکتوب)
سنسنی خیز واقعہ
جنوری ۱۹۹۴ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ پندرہ روزہ رد قادیانیت کورس مرکزی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان میں ہزارہ ڈویژن سے احباب کے ہمراہ شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔
روزانہ تقریباً بارہ بارہ گھنٹے پڑھائی ہوتی ۔ اس کے بعد حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب خصوصی شفقت فرماتے ہوئے ہمارے کمرے میں تشریف لے آتے اور دیر تک ایمان افروز واقعات سنا سنا کر ہمارے دلوں میں گرمی پیدا کرتے رہتے ۔
ایک روز راقم ، عبد الرؤف روفی ، حافظ عبید الرحمن ، محمد شعیب قریشی ، محمد ہارون اور بابو فضل الرحمن اپنے کمرے میں بیٹھے تھے ۔ سخت سردی تھی اور کمبل وغیرہ لے کر ہم دبکے بیٹھے تھے کہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب تشریف لے آئے
ہم سب اٹھ کھڑے ہوئے اور حضرت کو درمیان میں جگہ دی اور کمبل حضرت پر
اوڑھا دیا۔ ہر چند کہ حضرت منع فرماتے رہے مگر ہمارا تکلف محض تکلف نہ تھا۔ بلکہ اخلاص اور عقیدت کا ثبوت تھا جس میں حضرت دب گئے۔ اور شاید ہماری ان اداؤں سے حضرت بھانپ گئے کہ آج یہ کچھ سننے کے موڈ میں ہیں۔
چنانچہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے بات یوں شروع کی:
”مجلس کی طرف سے جن دنوں ربوہ میں متعین تھا‘ وہاں ربوہ میں اکمل نامی ایک قادیانی تھا جو ربوہ میں اندر کی خبریں مجھے آکر سنایا کرتا تھا اور میں جمعہ میں کھڑاک کر دیتا۔ جب جمعہ میں قادیانی خلفاء اور ان کے کارندوں کی خرمستیاں بیان کرتا تو انہیں بہت تکلیف ہوتی کہ ہمارے اندر کے راز مولوی صاحب تک کیسے پہنچ جاتے ہیں؟ اکمل ہی نے مجھے کہا کہ آپ مرزا قادیانی کے بارے میں اپنے جمعہ میں کچھ نہ کہا کریں۔ ربوہ کے قادیانی اس سے پھر بھی کچھ نہ کچھ عقیدت رکھتے ہیں بلکہ خلفاء کا خوب رگڑا لگائیں کیونکہ ربوہ کے قادیانی بھی ان سے سخت متنفر ہیں۔
حضرت فرماتے ہیں میں اس کی باتوں پر عمل کرتا رہا اور اس کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا۔ ایک روز اکمل میرے پاس آیا اور کہا ”مولوی صاحب! آج آپ میرے گھر چلیں“ میں نے کہا ٹھیک ہے‘ شام کو چلیں گے۔
مغرب کی نماز پڑھ کر میں اس کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل پڑا۔ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ جب اس کے گھر پہنچے تو اس نے مجھے اپنے گھر میں واقع تہہ خانے میں چلنے کو کہا۔ میں ذرا ٹھٹھکا۔ مگر اللہ پر بھروسہ کر کے سیڑھیاں اتر کر تہہ خانے میں چلا گیا۔ اس نے مجھے وہاں بٹھایا اور خود چائے کے انتظامات کا کہہ کر واپس اوپر چڑھ گیا۔ اب میں اکیلا وہاں بیٹھا تھا کہ چار پانچ ہٹے کٹے نوجوان سیڑھیوں سے اترے۔ میرا شک یقین میں بدل رہا تھا کہ بجلی چلی گئی۔
اکمل کا تہہ خانے میں جانے کے اشارے سے علم الیقین‘ نوجوانوں کے آنے سے عین الیقین اور اب بجلی بجھ جانے سے حق الیقین کی منزل پر پہنچ چکا تھا کہ اللہ وسایا آج تیرا کام پورا ہونے والا ہے۔
حضرت فرماتے ہیں میں بھی خاموش بیٹھا رہا اور وہ نوجوان بھی آکر خاموشی سے ایک
طرف بیٹھ گئے تھے کہ اکمل موم بتی جلائے سیڑھیوں سے اتر رہا تھا۔
اکمل نے آکر ان نوجوانوں کا مجھ سے تعارف کروایا۔ وہ سب قادیانی تھے۔ اسی دوران چائے آگئی اور بسکٹ وغیرہ بھی۔ اب تک ٹھیک چل رہا تھا۔
اکمل نے ایک پیالی میری طرف بڑھادی اور باقی لوگوں کو بھی چائے دی۔
میں نے اپنی پیالی اٹھا کر آدھی چائے اکمل کی پیالی میں ڈال دی اور چائے کم پینے کا عذر پیش کر دیا۔ دراصل مقصود یہ تھا کہ اگر یہ حضرات چائے میں کچھ ملا کر پلانے کے بعد کارروائی کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھے ہوں تو اپنی چائے قادیانی کی پیالی میں ڈالنے سے وہ چائے نہیں پیئے گا اور اگر وہ نہیں پیئے گا تو میں بھی نہیں پیوں گا۔
مگر اکمل نے پیالی اٹھالی اور اس میں سے پینے لگا۔ میرے سامنے جو بسکٹ کی پلیٹ رکھ دی گئی تھی‘ وہ اٹھا کر میں نے سب قادیانیوں کو اس میں سے بسکٹ پیش کیے۔ سب نے لے کر کھائے۔ اب مجھے یقین ہو گیا کہ چائے اور بسکٹ میں کچھ ملا ہوا نہیں۔ تب میں نے چائے وغیرہ پی۔
اس دوران اکمل نے مجھ سے کہا ”مولوی صاحب لایئے آپ کا ہاتھ دیکھیں“۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ادھر ادھر کی باتیں بتانے لگا۔ کچھ ان میں سچ بھی تھیں اور ایک تو اس کے بعد بھی سچ ثابت ہوئی۔ وہ یہ کہ اس نے اس وقت کہا تھا کہ آپ کی دوسری شادی بھی ہو گی۔ اس وقت دوسری شادی کا تصور بھی مجھے نہ تھا مگر بعد میں اتفاقاً ایسا ہوا۔
اس کے بعد اس نے کچھ چھوٹے چھوٹے پتھر اٹھا کر حساب وغیرہ شروع کیا اور بتایا کہ یہ رمل کا حساب ہے۔ اس نے وہ پتھر زمین پر پھینکے اور حساب لگا کر کہا کہ دنیا کے حالات اور ستاروں کی چالوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہونے والا ہے۔
مولانا اللہ وسایا صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قادیانی سے دوسرے قادیانیوں کے سامنے سر زمین ربوہ پر جب یہ بات سنی کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہونے والا ہے تو میرا ماتھا ٹھنکا اور میں نے اکمل سے پوچھا پھر ان کا کیا بنے گا جو مسیح علیہ السلام سے پہلے مسیح موعود ہونے کے دعویدار ہیں۔
اکمل نے کہا ”وہی جو جھوٹوں کا ہوا کرتا ہے“۔
راقم: اس قادیانی نے کہا؟
مولانا اللہ وسایا نے تاکیداً فرمایا ”ہاں ہاں ان سب قادیانیوں کے سامنے کہا“۔
حضرت نے فرمایا تھوڑی دیر بعد وہ قادیانی بھی اٹھ کر چلے گئے اور میں نے بھی اجازت لی۔ رات کافی ہو رہی تھی۔ میں نے سائیکل لی اور ربوہ کے درمیانی راستے سے آنے کے بجائے فیصل آباد‘ سرگودھا روڈ سے بارش میں بھیگتا ہوا اپنی مسجد پہنچا تو حضرت مولانا محمد شریف صاحب جالندھریؒ میرے منتظر تھے۔ مجھے بلوایا اور پوچھا۔ میں نے سارا واقعہ عرض کر دیا۔
دوسرے روز راولپنڈی اور پشاور وغیرہ کے لیے سفر کرنا تھا۔ سفر سے واپسی پر تین روز بعد لاہور پہنچا۔ وہاں شفیق مرزا صاحب (سابق قادیانی) ملے اور بتایا کہ کل ربوہ میں قتل ہوا ہے۔ مجھے حیرت ہوئی۔ میں نے پوچھا ”کون قتل ہوا؟“
شفیق مرزا نے بتایا کہ اکمل کو کسی نے پراسرار طور پر قتل کر دیا ہے۔
مجھے بہت صدمہ ہوا اور میں سمجھ گیا کہ اس روز کی کارروائی ان قادیانیوں نے قادیانی خلیفہ کو بتائی ہوگی اور یہ قتل خلیفہ کے حکم پر کیا گیا ہے۔
میں ربوے پہنچا۔ قادیانیوں کے قبرستان میں گیا اور اکمل کی قبر تلاش کی۔ اس کی قبر پر کھڑے ہو کر میں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
راقم: حضرت قادیانی کی نماز جنازہ پڑھی؟
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے بڑے زور سے کہا ”میاں! میرے سامنے تو اس نے مرزا قادیانی کو جھوٹا کہہ دیا تھا۔
(راقم کے نام مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان صاحب کا مکتوب)
شیخ بنوری کی توجہ
۲۹ جنوری ۱۹۹۵ء کو پندرہ روزہ رد قادیانیت کورس کی مسلم کالونی ربوہ میں آخری کلاس تھی۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے گزشتہ روز سے جاری سبق کی تکمیل
کروائی اور تمام شرکاء اجلاس سے کہا کہ اپنی جگہ کھڑے ہو کر اپنا اپنا تعارف کرائیں تاکہ تمام دوست ایک دوسرے سے متعارف ہوں اور اپنے اپنے علاقوں میں جا کر بھی ایک دوسرے سے بذریعہ خط رابطہ وغیرہ کر سکیں۔ سب نے اپنے تعارف کرائے۔
مگر ایک بزرگ ایسے اٹھے جنہیں کوئی بھی نہ جانتا تھا، کیونکہ پندرہ دن میں ہر چہرہ آشنا ہو چکا تھا۔ جب یہ اٹھے تو سب ان کی طرف متوجہ ہوئے کہ یہ صاحب آج آخری روز اور آخری کلاس میں کہاں سے آگئے۔ ان صاحب نے اپنا نام اور پنجاب ہی کے کسی قریبی علاقے سے تعلق بتایا۔ اس سے کسی کو دلچسپی نہ تھی مگر اگلی بات جو انہوں نے بیان کی، وہ دلچسپی سے خالی نہیں۔
انہوں نے کہا کل رات خواب میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحبؒ تشریف لائے اور فرمایا کہ تم یہاں سو رہے ہو اور قریب ہی ربوہ میں رد قادیانیت کورس ہو رہا ہے۔ جاؤ اور اس میں شرکت کرو۔ حضرت مولانا محمد یوسف بنوری صاحب کے حکم سے حاضر ہوا ہوں۔ آپ تمام شرکاء کورس مبارک باد کے مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سعادت سے بہرہ ور فرمایا۔ ان کے یہ ایمان افروز الفاظ سن کر ہر کوئی اپنے مقدر پر رشک کرنے لگا۔
(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان صاحب کا مکتوب راقم کے نام)
کایا پلٹ گئی
۱۲ جنوری ۱۹۹۰ء کو صاحبزادہ عبدالرشید قادیانی کے گھر پر قادیانیوں کا اجتماع ہوا۔ سپیکر لگا کر انہوں نے تقاریر کیں۔ مقدمہ درج ہوا۔ متعدد قادیانی گرفتار ہوئے اور تقریباً تین تین ماہ تک جیل رہنے کے بعد ان کی ضمانتیں ہوئیں۔ ایف آئی آر میں ایک نام مظفر احمد کا بھی تھا۔ پولیس نے اسے جی ٹی ایس کے اڈے سے اترتے ہوئے گرفتار کیا اور حوالات لے گئی۔
مظفر احمد نے انکار کیا کہ میں اس پروگرام میں شامل نہ تھا۔ یہ دوسرا مظفر احمد ہو گا۔
دونوں قادیانی تھے۔
دوسرے روز اپنے دفتر سے وقار گل صاحب نے راقم کو فون کیا کہ آپ تھانہ میرپور جائیں اور مظفر احمد کو شناخت کے لیے اپنے سامنے جیل لے کر جائیں۔ پولیس اسے صاحبزادہ عبدالرشید قادیانی سے ملوانے کے لیے جیل لے جانا چاہتی تھی کہ ان سے تصدیق کرائی جائے کہ یہ مظفر احمد اجتماع میں موجود تھا یا دوسرا۔ میں جب تھانے پہنچا تو پولیس اور مظفر احمد میرے منتظر تھے۔
ایک سوزوکی پک اپ انہوں نے پہلے سے روک رکھی تھی۔
مجھ سے کہا گیا کہ آپ تشریف رکھیں۔ فرنٹ سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔
میں نے اے ایس آئی صاحب اور مظفر احمد کو آگے بیٹھنے کو کہا اور خود پیچھے جانے لگا۔ اے ایس آئی صاحب نے مجھ سے اصرار کیا اور کہا ”آپ عالم ہیں، آپ آگے بیٹھیں“۔
میں نے عرض کی ”ارے نہیں صاحب! میں عالم نہیں ہوں۔ میں رضا کار ہوں۔ یہ بزرگ ہیں انہیں آگے بٹھائیں۔
سفید بال تھے ان کے اور عمر پچاس سے اوپر تھی۔ دونوں کو آگے بٹھا کر خود پیچھے بیٹھ گیا۔ پولیس والے ملزم کو اتنی عزت کہاں دیتے ہیں۔ ایسے میں میرا یہ عمل مظفر احمد کے لیے شاید مسیحائی کا اثر لیے ہوئے تھا۔
جیل کے دروازے پر دوسرے قادیانیوں سے آمنا سامنا ہوا۔ رانا اقبال، رفیع احمد وغیرہ کھانا دے کر واپس آئے تھے۔ مظفر احمد کو پولیس کے ہمراہ دیکھا تو رک گئے۔ آپس میں انہوں نے حال احوال دریافت کیے۔
پولیس مظفر احمد کو لے کر اندر گئی۔ میں بھی ہمراہ تھا۔
صاحبزادہ عبدالرشید قادیانی کو جیل کے دروازے پر بلوایا گیا۔ دونوں نے آپس میں پشتو میں بات چیت کی۔ چونکہ میں پشتو جانتا تھا اور ان کی گفتگو سمجھ رہا تھا۔ صاحبزادہ عبدالرشید نے ان سے پوچھا ”تم پنوں عاقل سے کب آئے ہو؟“
مظفر احمد نے کہا ”کل شام اڈے پر اترا تو پولیس نے گرفتار کر لیا اور رات تھانے
میں رکھا اور مجھ پر الزام ہے کہ میں بھی اجتماع میں موجود تھا۔ صاحبزادہ عبدالرشید قادیانی نے اے ایس آئی کو بتایا کہ یہ ہمارے اجتماع میں شامل نہیں تھے۔ وہ دوسرے مظفر احمد ہیں جو کاکول میں رہتے ہیں۔ اے ایس آئی نے مجھ سے کہا آپ سن رہے ہیں جی؟
میں نے عرض کی ۔ جی ، ٹھیک ہے جی۔
وہاں سے واپس لوٹے ۔ اسی سوزوکی پک اپ میں دوبارہ بیٹھنے لگے تو مظفر احمد نے اور اے ایس آئی صاحب نے پھر اصرار کیا کہ میں آگے بیٹھوں ، مگر میں نے ہر دو حضرات سے معذرت چاہی اور عزت دینے والے الفاظ ادا کر کے پھر پیچھے بیٹھ گیا۔
سوزوکی پک اپ تھانہ میرپور پہنچی۔ ایس ایچ او عبد الحمید ہمارے منتظر تھے۔ اے ایس آئی صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ مظفر احمد نہیں ہیں ۔ ہمیں دوسرے مطلوب ہیں۔
ایس ایچ او صاحب نے مجھ سے پوچھا ٹھیک ہے جی ، یہ نہیں ہیں ان کو چھوڑ دیں ؟
میں نے عرض کی ہاں جی چھوڑ دیں۔
میں نے اجازت طلب کی اور سلام کر کے نکلنے لگا تو مظفر احمد نے مجھے پکارا۔ لوٹ کر دیکھا تو مظفر احمد نے پوچھا ” آپ شہر جا رہے ہیں ؟“
میں نے کہا اجی ہاں۔
مظفر احمد نے کہا ” ٹھہریے اکٹھے چلتے ہیں “ میں رک گیا۔
ان کی ہتھکڑی کھلی اور اجازت لے کر وہ بھی آگئے ۔ اسی سوزوکی پک اپ پر انہوں نے مجھے اب فرنٹ سیٹ پر اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ سوزوکی چل پڑی ۔
راستے میں کوئی قابل ذکر بات نہیں ہوئی ۔ سی ایم ایچ کے پاس انہوں نے مجھ سے پوچھا ” آپ کہاں اتریں گے ؟“
میں نے کہا ” دفتر کے سامنے“۔
انہوں نے پھر پوچھا ” دفتر کہاں ہے ؟“
میں نے کہا ” ماڈل کیفے“
چند لمحوں بعد سوزوکی ماڈل کیفے کے سامنے کھڑی تھی۔ میں نے اترتے ہوئے ڈرائیور سے پیسے پوچھے تو مظفر احمد نے منع کر دیا اور خود پیسے ادا کیے اور میرے ساتھ اتر
گئے اور کہنے لگے ”مجھے آپ کے دفتر جانا ہے۔ میں نے سوچا کہ ایک قادیانی اور ہمارے دفتر میں؟“
میں نے پوچھا ”کیوں؟“
کہنے لگے میں نے اسلام قبول کرنا ہے۔
اب تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس کیفیت میں ان سے پوچھنے لگا ”کیوں؟ وجہ؟ کیا بات ہوئی؟“
کہنے لگے ”ہر بات لفظوں میں نہیں کہی جاسکتی۔ اوپر چلیں“
ہم دفتر گئے۔ وقار گل بھی ڈیوٹی سے آچکے تھے۔ میں نے انہیں روئیداد سنائی۔ انہوں نے بھی مظفر احمد سے وضاحت چاہی کہ آپ مسلمان کیوں ہونا چاہتے ہیں؟“ انہوں نے بتایا کہ میں مرزائیت سے بیزار ہو چکا ہوں اور مجھے حقیقی اسلام ہی میں سکون نظر آتا ہے۔
مانسہرہ سے محمد ظہور عثمانی صاحب اور لیاقت علی ظفر صاحب بھی آگئے۔ اور بھی بہت سے جماعتی ساتھی جمع ہو چکے تھے۔ سب کے سامنے ایک عہد نامہ تیار ہوا اور مظفر احمد نے اس پر دستخط کر دیے۔ عہد نامہ میں حضور ﷺ کی غیر مشروط ختم نبوت کی تصریح اور آپؐ کے بعد کسی بھی مفہوم یا تشریح میں نبوت کے دعویدار کی تکذیب اور حضرت عیسیٰؑ کی رفع الی السماء اور نزول کی عبارت درج تھی۔
سب نے انہیں مبارک باد دی اور گلے سے لگایا۔ دوسرے روز اخبارات میں سرخیوں کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی۔
اب تک مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ مرزائی مرزائیت سے اس قدر بھی بیزار ہو سکتے ہیں۔ جیسے بنجر زمین بارش کے پہلے قطرے کو اپنے دامن میں لے لیتی ہے‘ ایسے مرزائی بھی ذرا سے نیک سلوک سے یوں اپنے پیاسے قلوب پر اثر لے سکتے ہیں اور یہ مرزائیت کے مٹنے کی واضح علامات ہیں۔
(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان کا مکتوب‘ راقم کے نام)
شہد کی مکھیاں
روزنامہ "خبریں" اسلام آباد میں ایک خبر چھپی تھی کہ مردان میں بیس نوجوانوں نے قادیانیت اختیار کر لی۔ خبر پڑھ کر پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ دوسرے ہی روز صبح سویرے راقم اور توقیر الاسلام مردان پہنچے۔
مردان میں بالکل کسی سے ہماری واقفیت نہ تھی۔ خیال تھا کہ کسی مسجد میں جاکر بات شروع کریں گے۔ برادر مکرم جناب محمد متین خالد صاحب اور مجاہد ختم نبوت جناب محمد طاہر رزاق صاحب نے کارکنان ختم نبوت کے پتہ جات کی ایک ڈائریکٹری مرتب کر رکھی تھی۔ وہ ساتھ لے لی۔ اس ڈائریکٹری میں مردان کے صرف ایک مجاہد کا ایڈریس تھا اور وہ تھے غازی محمد یونس محلہ بکٹ گنج مردان۔ مردان اڈے پر اترے۔ بکٹ گنج کے لیے رکشہ لیا اور مینار والی مسجد کے سامنے اترے۔ مسجد سے غازی صاحب کے گھر کا پتہ کیا۔ گھر پہنچے مگر موصوف گھر پر نہ تھے۔
واپس مینار والی مسجد کے پاس آئے۔ مسجد کے نیچے ایک چھوٹی سی منیاری کی دکان تھی۔ وہاں سے مسجد کے خطیب صاحب کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کچھ بتایا اور پھر ہم سے سوال کیا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور کس کام سے آئے ہیں؟ ان کا نام جاوید تھا۔
ہم نے انہیں اخبار دکھایا اور مدعا بیان کیا۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے گئے اور بتایا کہ میں یہاں ختم نبوت کی جماعت کا سیکرٹری نشر و اشاعت ہوں۔ گھر پر چائے سے تواضع کی اور بتایا کہ یہاں بکٹ گنج کے مشہور ڈاکٹر ہیں، ڈاکٹر طارق محمود صاحب۔ وہ ہماری جماعت کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ وہ بھی صبح ہی سے خبریں کے نمائندے کو تلاش کر رہے ہیں۔ اور خود ڈاکٹر صاحب کا بھی پریس میں عمل دخل ہے۔
ہمارے سر کا بوجھ ان کا یہ کلام سن کر کندھوں پر آگیا تھا کہ چلو کام ہو رہا ہے۔
جاوید صاحب نے بتایا کہ یہ خبر غلط ہے۔ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی۔ ہمارے ساتھ باہر بازار میں قادیانیوں کی دکانیں ہیں۔ برتنوں کی ایک دکان انہوں نے مجھے گھر آتے ہوئے دکھائی بھی تھی۔ ہم نے قادیانیوں سے بھی خفیہ طریقہ سے کسی کو بھجوا کر اس خبر کے
بارے میں پچھوایا ہے مگر ان کو بھی علم نہیں ہے۔ اب ڈاکٹر صاحب خبریں کے نمائندے کو تلاش کر رہے ہیں۔ دیکھیں کیا بات سامنے آتی ہے۔
چائے سے فراغت کے بعد جاوید صاحب ہمیں اپنی گلی میں واقع ایک ”مرزاڑہ“ دکھانے لے گئے۔ ہم نے مرزاڑہ دیکھا۔ اس کی اینٹ سے اینٹ بج چکی تھی اور گلی محلہ کے لوگ اب وہاں کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے۔
جاوید صاحب نے اس مرزاڑے کی داستاں یوں سنائی کہ عید کا دن تھا۔ مرزائیوں نے عید کی نماز کا اہتمام کر رکھا تھا۔ لوگوں اور عوام نے انہیں منع کر رکھا تھا کہ نماز یہاں ادا نہ کریں مگر انہوں نے سپیکر وغیرہ آن کر دیے۔ پھر کیا تھا‘ آن کی آن میں لوگ جمع ہو گئے اور اس کفر گڑھ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
اس دوران جو ایمان پرور واقعہ رونما ہوا‘ وہ بھی بے مثال ہے۔
ہوا یہ کہ جب لوگ ”مرزاڑہ“ توڑنے میں مصروف تھے تو پولیس آگئی۔ پولیس لوگوں کو باز رکھنا چاہتی تھی مگر کیا ہوا کہ اسی ”مرزاڑے“ میں شہد کی مکھیوں کا ایک چھتہ تھا۔ وہ بھی توڑ پھوڑ کی زد میں آگیا۔ شہد کی مکھیاں جو چھڑیں تو صرف پولیس والوں کو اپنا تختہ مشق بنایا اور کسی دوسرے آدمی کو نہیں ڈسا۔ اب شہد کی مکھیاں پولیس والوں سے مصروف جہاد تھیں اور ہم لوگ اطمینان سے اپنا کام کرتے رہے۔
اس کے بعد جب لوگ اس کفر گڑھ کا نام و نشان مٹا چکے تو گھروں کو لوٹے‘ غسل کیے۔ نئے کپڑے پہنے‘ عید گاہ پہنچے اور رب لم یزل کے حضور شکرانے کے سجدے ادا کیے۔
اس روز مردان کے اہل ایمان محلہ بکٹ گنج کی دوہری عید تھی۔
جاوید صاحب ہمیں ڈاکٹر طارق محمود صاحب کے کلینک پر لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب تشریف لا چکے تھے۔ ان سے ہمارا تعارف کروایا اور آمد کا مقصد بتایا۔
ڈاکٹر صاحب نے ہمیں بتایا کہ یہ خبر سراسر جھوٹ ہے اور افواہ ہے۔ مردان کے غیور عوام مرزائیت کی زہرناکیوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور کبھی بھی اس فرض سے غافل نہیں رہے۔ اس خبر نے ایک بار پھر ہمیں متحد کر دیا ہے۔ انشاء اللہ آئندہ چند دنوں
میں آپ مردان سے متعلق اچھی خبر سنیں گے۔
ہمیں اطمینان ہوا۔
ڈاکٹر صاحب نے کھانا منگوا لیا۔ کھانا کھایا۔
اس دوران اور دوست بھی آ گئے۔ جن میں مقصود احمد خان اور نور محمد صاحب اس خبر کی وجہ سے خاصے جذباتی معلوم ہو رہے تھے۔
ان حضرات کے اخلاص اور جذبات سے اور اللہ کریم کی نصرت کے واقعہ سے اور توقیر بھائی مردان سے یہ ذہن لے کر نکلے کہ مشیت ایزدی میں مرزائیت اپنے انجام کو پہنچنے کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔
(جناب ساجد اعوان صاحب کا مکتوب، راقم کے
مولانا انور شاہ کشمیریؒ کا فکر
میں ۱۳۴۵ھ میں یہاں دورۂ حدیث کا طالب علم تھا۔ یہ دارالعلوم دیوبند حضرتؒ کی صدارت تدریس اور درس حدیث کا آخری سال تھا۔ جس دن دورۂ حد ص کے طلبہ کا سالانہ امتحان ختم ہوا۔ اس دن حضرت نے بعد نماز عصر مسجد میں دورہ سے فا ۱۴۰ ہونے والے ہم طلبہ سے خصوصی خطاب فرمایا، وہ گویا ہم لوگوں کو حضرت کی آخری وصی تھی۔ اس میں دوسری اہم باتوں کے علاوہ یہ بھی فرمایا کہ ہم نے اپنی عمر کے پورے سال اس میں صرف کیے کہ یہ اطمینان ہو جائے کہ فقہ حنفی حدیث کے خلاف نہیں۔ الحمد للہ فیمابیننا وبین اللہ اس پر پورا اطمینان ہو گیا کہ فقہ حنفی حدیث کے خلاف نہیں۔ اگر کسی مسئلہ کے خلاف کوئی حدیث ہے تو کم از کم اسی درجہ کی حدیث اس کی تائید موافقت میں موجود ہے۔
لیکن اب ہمارا احساس ہے کہ ہم نے اپنا یہ وقت ایسے کام پر صرف کیا جو ز ضروری نہیں تھا۔ جو کام زیادہ ضروری تھے، ہم ان کی طرف توجہ نہیں کر سکے۔ اس و سب سے زیادہ ضروری کام دین اور امت کی فتنوں سے حفاظت ہے جو بلاشبہ فتنہ ار
ہے۔ میں آپ لوگوں کو وصیت کرتا ہوں کہ ان فتنوں سے امت کی اور دین کی حفاظت کے لیے خود کو تیار کریں۔ یہ اس وقت کا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ اس کے لیے اردو تحریر و تقریر میں مہارت پیدا کریں اور جن کے لیے انگریزی میں مہارت حاصل کرنے کا امکان ہو وہ انگریزی میں مہارت پیدا کریں۔ ملک کے اندر ان فتنوں کا مقابلہ اردو میں کیا جا سکتا ہے اور ملک سے باہر انگریزی کے ذریعہ۔ حضرت الاستاذ قدس سرہ سے یہ ارشاد سنے ساٹھ سال سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ الفاظ میں تو یقیناً فرق ہوگا۔ لیکن اطمینان ہے کہ حضرت کا پیغام اور ہم لوگوں کو وصیت یہی تھی۔
حضرت اپنے خطابات اور تقریروں میں قادیانی فتنہ پر گفتگو فرماتے ہوئے اکثر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے اس غیر معمولی حال اور اضطراب کا ذکر فرماتے تھے۔ جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ارتداد کے فتنوں، خاص کر نبوت کے مدعی مسیلمہ کذاب کے فتنہ کے سلسلے میں آپ پر طاری تھا۔ ہم لوگ محسوس کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے قادیانی فتنہ کے بارے میں کچھ اس طرح کا حال ہمارے حضرت الاستاذ پر طاری فرمادیا ہے۔
("دارالعلوم دیوبند کا ختم نبوت نمبر" ص ۳۱-۳۲)
آنکھوں میں چمک آجاتی ہے دل ہے کہ دھڑکتا ہوتا ہے (مولف)
وہ شخص کون تھا؟
مولانا (محمد علی جالندھریؒ) مرحوم خود سنایا کرتے تھے کہ تقسیم سے قبل میں ایک گاؤں میں وعظ کے ارادے سے گیا۔ وہاں مرزائیوں کا رسوخ تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کو منع کر دیا کہ مولوی صاحب وعظ نہ کریں۔ مسلمانوں نے مجھے روک دیا۔ میں عشاء کی نماز پڑھ کر سو گیا۔ میرے دل و دماغ پر صدمہ کے اثرات تھے کہ مسلمانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ یہ قادیانیوں سے اتنے مرعوب ہیں۔ رات کو خواب میں مجھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ میں انہیں خواب میں دیکھتے ہی حدیثوں کے مطابق ان کی علامتوں
اور نشانیوں کو پوری کرنے لگ گیا۔ چہرہ مہرہ‘ شکل و شباہت‘ وضع قطع‘ سر کے بالوں سے پانی کا ٹپکنا کہ جس طرح حمام سے نہا کر تشریف لائے ہوں۔ جب میں نے احادیث میں پڑھی ہوئی علامتوں کو پورا کر کے یقین کر لیا کہ واقعتاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں تو میں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کیسے اس دنیا میں آگئے۔ ابھی تو حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور نہیں ہوا۔ دجال کا خروج نہیں ہوا۔ آپ نے تو احادیث رسول اللہ ﷺ کی رو سے ان اہم دو امور (ظہور مہدی و خروج دجال) کے بعد تشریف لانا تھا۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا محمد علی جالندھری جب تم میری حیات (لوگوں کے روکنے کے باعث) بیان نہیں کرتے تو میں خود اپنی حیات کی دلیل بن کر نہ آؤں تو کیا کروں؟ اس پر مولانا فرماتے ہیں کہ میں بیدار ہو گیا۔
رات بھر ذکر و فکر میں گزار دی۔ دل میں یہ فیصلہ کر لیا کہ جان جاتی ہے جائے‘ مگر میں صبح حیات عیسیٰ علیہ السلام پر تقریر ضرور کروں گا۔ چنانچہ صبح نماز کے بعد مسجد میں اعلان کیا کہ مسلمانو! تم نے میری تقریر مسجد میں نہیں ہونے دی۔ اب میں اپنی ذمہ داری پر خود اس گاؤں کے چوک میں تقریر کرنے لگا ہوں جو سننا چاہیں‘ آجائیں۔ میں نے جا کر تقریر شروع کر دی۔ آہستہ آہستہ گاؤں کے لوگ آنا شروع ہو گئے۔ ابتداء تقریر میں ایک شخص نے اجتماع میں آکر عصاء زمین پر گاڑ کر کہا کہ مولانا آپ تقریر کریں آپ کو کوئی نہیں روک سکتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ کون آتا ہے۔ تقریر کے بعد وہ آدمی چلا گیا۔ نہ معلوم کون تھا‘ کہاں سے آیا تھا۔ آج تک یہ راز ہے۔ میں نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر گھنٹوں جی بھر کر تقریر کی۔ کسی کو جرات نہ ہوئی کہ میری تقریر روک سکے۔ تقریر کے بعد سائیکل لے کر اس گاؤں سے بخیر و خوبی روانہ ہو گیا۔
("تذکرہ مجاہدین ختم نبوت" از مولانا اللہ وسایا)
مردان کے مردان غازی
مردان کے قادیانیوں نے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے بعد محض
مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے اعلان کر دیا کہ ہم عید الاضحیٰ اجتماعی طور پر ادا کر کے میدان میں اجتماعی طور پر اپنے جانور ذبح کریں گے ۔ ان کا ایسا کرنا محض مسلمانوں کو یہ باور کرانا تھا کہ قانون ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں کے طور طریق پر اپنا اجتماعی عمل کریں گے ۔ مسلمانوں نے حکومتی اداروں کو اطلاع دی۔ شہر میں اشتعال پھیلا کر مرزائی مسلح ہو کر اپنی عبادت گاہ میں جمع ہو گئے۔ پولیس پہرہ دار بن گئی۔ ادھر مسلمانوں کا اجتماع نعرے لگا رہا تھا۔ قادیانیوں میں ایک فوجی افسر تھا۔ اس نے نہایت ہی فرعونیت سے سپیکر پر مسلمانوں کو کوسنا شروع کر دیا۔ نتیجتاً پولیس تمام مرزائیوں کو گاڑیوں میں بٹھا کر محفوظ مقام پر لے گئی۔
مسلمانوں میں قادیانیوں کی خباثت کا شدید رد عمل تھا۔ مرزائیوں کی اشتعال انگیزی سے مسلمانوں کے ایمانی جذبے اور پٹھانوں کی روایتی غیرت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ پولیس کی موجودگی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھی ایک دم مسلمان، جو بالکل نہتے تھے، کسی کے پاس اسلحہ تو درکنار، لاٹھی تک بھی نہ تھی، خالی ہاتھوں قادیانی معبد پر اچانک ہلہ بول بیٹھے۔ پولیس کی زبردست مزاحمت اور لاٹھی چارج بھی مسلمانوں کے راستے میں بے کار ثابت ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے خالی ہاتھوں سے مسلمانوں نے قادیانی عبادت گاہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس پختہ عمارت کو زمین بوس کر دیا ۔ اب مجمع کی تعداد ہزاروں سے تجاوز کر گئی تھی۔ اس میں بچے، بوڑھے، جوان سب ہی شامل تھے ۔ سب کا جذبہ ایک ہی تھا کہ پاکستان کی پاک سرزمین سے کفر و ارتداد کے ان اڈوں کو ختم کیا جائے ۔ یہ ختم نبوت کا معجزہ تھا کہ اتنی بڑی عمارت کے گرنے کے باوجود کسی مسلمان پر نہ تو کوئی ملبہ گرا اور نہ کوئی لوہے کی سلاخ وغیرہ مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا سکی ۔ بعض افراد اور بچوں کی زبانی معلوم ہوا کہ پولیس کی لاٹھی ہمیں یوں معلوم ہوتی تھی جیسے گلاب کے پھول کی مار ۔ یہ بھی خاتم الانبیاء ﷺ کا پندرہ سو سال بعد معجزہ تھا کہ اس واقعہ کے دوران بھڑوں، زنبوروں کا ایک بہت بڑا غول مرزائی معبد کے انہدام کے موقع پر مسلمانوں کے سروں پر ہزاروں کی تعداد میں منڈلاتا رہا لیکن کسی ایک مسلمان کو بھی انہوں نے کاٹا تک نہیں ۔ ابرہہ کے ہاتھیوں کی تباہی کا قصہ قرآن حکیم اور ارشادات نبوی ﷺ کے مطابق تو معلوم تھا کہ ابابیلوں نے
ہاتھیوں اور ان کے سواروں کی فوج کو تباہ کیا تھا۔ لیکن آج بھڑوں کی اس فوج سے اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ختم نبوت کے پروانوں کی حفاظت کا کام لیا۔ بھڑوں کے اس عظیم لشکر کو دیکھ کر پولیس والے بھی مسلمانوں پر لاٹھی چارج کرنے سے گھبرانے لگے۔ ایک پولیس والے سے جب ہمارے نمائندے نے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے قسمیہ کہا کہ جب میں نے لاٹھی ہوا میں لہرائی اور قریب تھا کہ وہ کسی مسلمان کی پیٹھ یا سر پر پڑتی، میرے کانوں میں ان ہزاروں بھڑوں کی بھنبھناہٹ نے میرے اوسان خطا کر دیے اور خود بخود لاٹھی میرے ہاتھ سے گر گئی۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ از مولانا اللہ وسایا)
غزل خواں کی نہیں‘ اب رجز خواں کی ضرورت ہے (مولف)
ایک مرزائی سے گفتگو
ایک دفعہ میاں غلام حسین صاحب ایڈیٹر اخبار المنیر حضرت کیلیانوالہ شریف ایک تحصیل دار انکم ٹیکس کو ہمراہ لے کر حضور کی خدمت میں تشریف لائے‘ جو مرزائی تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ حضور نے ان کے لیے باہر ہی چارپائیاں ڈلوادیں اور خود بھی باہر ہی تشریف لے آئے۔ جب ان کے پاس تشریف فرما ہوئے تو جیسا کہ مرزائیوں کا عام دستور ہے‘ تحصیلدار صاحب نے بات چیت شروع کر دی اور دریافت کیا کہ آپ کے پاس کتنے مبلغ ہیں؟ کتنے مدرسے ہیں؟ حضور نے فرمایا کہ ویسے تو ہمارا ہر فرد مجسم مبلغ ہے لیکن جس طرح کے مبلغ سے آپ کا مفہوم ہے‘ ایسا کوئی نہیں۔
آخر تحصیل دار صاحب نے حرف مدعا چھیڑا اور حضور سے سوال کیا ”آپ کے نزدیک صراط المستقیم کون سی ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ جو قرآن مجید کے معانی کو صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے‘ وہی صراط مستقیم پر ہے۔ یہ سن کر وہ بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ جو مسلک آپ کا میں نے دیکھا ہے‘ وہ بہت ہی اعلیٰ ہے۔ واقعی جو قرآن شریف کے معانی کو
صحیح سمجھ سکے‘ وہی صراط المستقیم پر ہے۔ اس کے بعد حضور نے یہ آیات شریف تلاوت فرما کر ان کا ترجمہ کیا:
اذقال اللہ یعیسی ابن مریم اذکر نعمتی علیک و علی والدتک اذ ایدتک بروح القدس تکلم الناس فی المہد و کہلا واذ علمتک الکتب والحکمہ و التوراہ والانجیل واذ تخلق من الطین کہیئہ الطیر باذنی فتنفخ فیہا فتکون طیرا باذنی و تبری الاکمہ والابرص باذنی واذ تخرج الموتی باذنی
(پ ۷‘ ع ۵)
”اس روز خدا (عیسیٰ علیہ السلام) سے فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم! میرے ان احسانوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیے جب میں نے روح القدس یعنی جبریل سے تمہاری مدد کی۔ تم جھولے میں اور جوان ہو کر (ایک ہی نسق بدیع پر) لوگوں سے گفتگو کرتے تھے اور جب میں نے تم کو کتاب اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تم میرے حکم سے مٹی کا جانور بنا کر اس میں پھونک مار دیتے تھے تو وہ میرے حکم سے اڑنے لگتا اور مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے چنگا کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر کے نکال کھڑا کرتے تھے“۔
اور فرمایا کہ ”مادر زاد اندھے سے مراد کافر ہیں جن کے کفر کی ظلمت دور کر کے ایمان کی روشنی اور اسلام کی بصارت عطا فرمائی‘ کوڑھی کو اچھا کرنے سے مراد بھی دل کے کوڑھ کو درست کرنا ہے۔ اسی طرح مردے کو زندہ کرنے سے مراد مردہ دل کو اسلام کی زندگی عطا فرمانا ہے“ چونکہ مرزائی معجزات کے منکر ہیں‘ اس لیے اتنا سن کر وہ صاحب بہت خوش ہوئے اور حضور کو داد دینے لگے۔ آپ نے فرمایا ”یہ سب تاویلیں تو کر لیں‘ لیکن سمجھ نہیں آتی کہ مٹی سے پرندے کی تصویر بنا کر پھونک مارنے سے سچ مچ کا پرندہ بن جانا‘ اس کی کیا تاویل کی جائے“ اس وقت تحصیل دار صاحب کو آپ کے مفہوم کی سمجھ آئی۔ لیکن
چونکہ ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا لہٰذا فبھت الذی کفر کے مطابق مبہوت اور دم بخود ہو کر اٹھے اور یہ کہتے کہتے کہ عیسیٰ علیہ السلام کوئی خدا تھے؟ ”گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے ۔
مرزائیت سے توبہ
ایک دفعہ حضور رحمتہ اللہ علیہ مکان شریف عرس مبارک پر تشریف فرما تھے۔ ختم شریف ہو جانے کے بعد آپ دربار شریف سے مشرق کی جانب آم کے درختوں کے نیچے نماز ادا فرما رہے تھے کہ وہاں پر ایک آدمی آگیا جو دھرم کوٹ کا باشندہ تھا۔ بی۔اے تک تعلیم تھی اور انگریزی وضع کا کرزن فیشن بنائے ہوئے تھا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور کے قریب آ بیٹھا اور مرزائیوں کے اعتقادات وغیرہ کے متعلق گفتگو شروع کر دی۔ آپ نے یہی مندرجہ بالا آیات مبارک پڑھ کر یہی تبصرہ فرمایا تو بفضلہ تعالیٰ اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ ”میں مرزائی ہونے کو تیار تھا لیکن آپ کی رہنمائی سے میرا ایمان درست ہو گیا ہے۔ اب میں انشاء اللہ ان کے پھندے میں نہیں آسکوں گا“۔
مرزا صاحب کے متعلق دربار رسالت کا فیصلہ
ایک دن حضور رحمتہ اللہ علیہ نے بیان فرمایا کہ لاہور میں ایک لڑکا تھا۔ چھوٹی عمر میں ہی اس کو درود شریف پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا تو اس کو نبی اکرم ﷺ کا اکثر حضور حاصل ہوا کرتا۔ ہمارے احباب کو اس کے متعلق علم ہوا تو چونکہ ان دنوں مرزائی تحریک زوروں پر تھی، اس لیے برادرم محمد اسحاق، مہر جلال الدین، بابا الہ دین اور شیخ مظفر الدین وغیرہ کو خیال آیا کہ اس لڑکے سے کہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں عرض کر کے دریافت کرے کہ مرزا صاحب کے متعلق آپ کا کیا فرمان مبارک ہے؟ چنانچہ یہ تمام صاحبان اس لڑکے کے پاس اسلامیہ پریس میں گئے جہاں وہ کام کرتا تھا اور عرض کیا کہ ہم
آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوئے ہیں کہ آپ کو نبی اکرم ﷺ کا حضور ہے۔ آپ حضور کی خدمت اقدس میں عرض کریں کہ مرزا غلام احمد کے متعلق کیا ارشاد مبارک ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں۔ کسی وقت تو جب حضور ہوتا ہے جس بات کے دریافت کرنے کا خیال ہو، یاد رہتی ہے اور کبھی نہیں یاد رہتی۔ حضور اکرم ﷺ خود ہی جس بات کا جواب دینا منظور ہوتا ہے، دے دیتے ہیں ورنہ از خود میں عرض نہیں کر سکتا۔ اگر خدا کو منظور ہوا تو کسی وقت فرمادیں گے۔ چنانچہ ایک دو دفعہ اس لڑکے کو ملے تو اس نے یہی جواب دیا کہ حضور تو ہوا لیکن اس کے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔
کچھ عرصہ کے بعد ایک دن اتفاقاً بازار ہی میں اس لڑکے سے ملاقات ہو گئی تو کہنے لگا کہ وہ آپ کی بات ہو گئی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ مرزا غلام احمد کے متعلق جس کو اتنا بھی خیال ہو کہ شاید سچا ہے یا جھوٹا، میں اس کی بھی شفاعت نہیں کروں گا۔ بلکہ جو اس کو مسلمان سمجھے، وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
(سوانح حیات حضرت سید نور الحسن شاہ صاحب بخاری، خلیفہ مجاز حضرت میاں شیر
محمد صاحب شرقپوری، مصنفہ سید منیر حسین شاہ صاحب)
اگر ایسا ہوتا
”تصویر کا ایک رخ تو یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے۔ اس کے نقوش میں توازن نہ تھا، قد و قامت میں تناسب نہ تھا، اخلاق کا جنازہ تھا، کیرکٹر کی موت تھی۔ سچ کبھی نہ بولتا تھا، معاملات کا درست نہ تھا، بات کا پکا نہ تھا، بزدل اور ٹوڈی تھا۔ تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی ہونے لگتی ہے۔ لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری نہ بھی ہوتی، وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، قوٰی میں تناسب ہوتا، چھاتی ۴۵ انچ، کمر ایسی کہ سی آئی ڈی کو پتہ نہ چلتا، بہادر بھی ہوتا، مرد میدان ہوتا، کریکٹر کا آفتاب ہوتا، خاندان کا ماہتاب، شاعر ہوتا، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شیکسپئیر ہوتا اور اردو کا
ابو الکلام ہوتا‘ پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟ میں تو کہتا ہوں کہ اگر خواجہ غریب نوازؒ اجمیریؒ‘ سید عبدالقادر جیلانیؒ‘ امام ابو حنیفہؒ‘ امام بخاریؒ‘ امام مالکؒ‘ امام شافعیؒ‘ ابن تیمیہؒ‘ غزالیؒ یا حسن بصریؒ بھی نبوت کا دعویٰ کرتے تو کیا ہم انہیں نبی مان لیتے؟ علیؓ دعویٰ کرتا کہ جسے تلوار حق نے دی اور بیٹی نبیؐ نے دی‘ سیدنا ابو بکر صدیقؓ‘ سیدنا فاروق اعظمؓ اور سیدنا عثمانؓ بھی دعویٰ کرتے تو کیا بخاری انہیں نبی مان لیتا؟ نہیں‘ ہرگز نہیں۔ میاں ﷺ کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج امامت و رسالت جس کے سر پر ناز کرے۔ وہ ایک ہی ہے جس کے دم قدم سے کائنات میں نبوت سرفراز ہوئی۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
تکمیل نور
اسلام کا یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ سلسلہ نبوت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ختم ہے اور اب آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ آپ کی تشریف آوری سے نبیوں کے سلسلہ پر مہر لگ گئی۔ اب کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی۔ بس جن کو ملنی تھی‘ مل چکی۔ اسی لیے آپ کی نبوت کا دور سب نبیوں کی نبوت کے بعد رکھا‘ جو قیامت تک چلتا رہے گا۔ جس طرح روشنی کے تمام مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہو جاتے ہیں‘ اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وجود مسعود پر ختم ہو جاتا ہے۔ بدیں لحاظ ہم یہ ۔۔۔۔۔ کہہ سکتے ہیں کہ آپؐ رتبہ اور زمانہ ہر حیثیت سے خاتم النبیینؐ ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نبوت و ہدایت کا وہ مہر درخشاں ہیں جس کے طلوع ہونے کے بعد اب کسی دوسری روشنی کی مطلق ضرورت نہیں رہی۔ سب روشنیاں اسی نور اعظم میں محو و مدغم ہو گئیں۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
مرزائیوں کو شاہ فہد کا جواب
بون‘ ۲۸ اگست (نمائندہ خصوصی) سوئٹزرلینڈ کی قادیانی ایسوسی ایشن نے سعودی عرب کے شاہ فہد سے تحریری طور پر یہ مضحکہ خیز درخواست کی کہ وہ ان کے مذہب کے سربراہ کو حج کے لیے سعودی عرب آنے کی دعوت دیں۔ ایک خط میں‘ جو شاہ فہد سمیت سعودی عرب کے چند اعلیٰ حکام کو بھیجا گیا ہے‘ سوئٹزرلینڈ میں قائم قادیانیوں کی تحریک نے درخواست کی ہے کہ ان کے مذہب کے رہنما کو جو اس وقت ربوہ میں رہتے ہیں‘ سعودی فرمانروا کے سرکاری مہمان کی حیثیت سے دعوت دی جائے۔ سوئٹزرلینڈ کے مسلم سفارت کاروں نے اس کے متن پر غصہ و ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
(روزنامہ ”جنگ“ کراچی‘ ۲۹ اگست‘ ۱۹۸۲ء)
جب یہ درخواست شاہ فہد کے پاس گئی تو آپ نے جواب دیا کہ مرزا قادیانی ملعون کا طوق غلامی اتار کر مسلمان بن کر آئیں تو دل و جان سے مہمانداری کریں گے۔ اگر مرزا قادیانی کا طوق غلامی پہن کر آنا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ یہ سرزمین حجاز ہے۔ جو کچھ ہمارے پیش رو حضرت صدیق اکبرؓ نے مسیلمہ کذاب اور اس کی پارٹی کا حشر کیا تھا‘ وہی حشر ہم تمہارا کریں گے۔ اس جواب پر مرزائیوں کے اوسان خطا ہو گئے۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ ص ۲۳۱‘ از مولانا اللہ وسایا)
گئے وہ دن کہ چھپاتے تھے آستینوں میں (مولف)
حل نکال لیا
راقم الحروف کو یاد ہے کہ ایک دفعہ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے زمانہ میں جابہ ختم نبوت کانفرنس کے جملہ انتظامات مکمل کر لیے گئے مگر ضلع سرگودھا میں دفعہ ۱۴۴ کے تحت جلسوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ چنانچہ حضرت مرحوم کے حکم پر جلسہ گاہ سے ایک
میل دور‘ جہاں سے ضلع اٹک کی حدود شروع ہوتی ہے‘ وہاں پر پابندی نہ تھی۔ وہاں پر جلسہ رکھ کر احباب کی پریشانی دور کر دی۔ پابندی کے موقع پر قانون سے بچ کر اپنا کام کرنے میں حضرت مرحوم ایسی موشگافیاں نکالا کرتے تھے کہ بڑے بڑے ماہر قانون دنگ رہ جاتے تھے۔
داؤ پیچ
کندھکوٹ ضلع جیکب آباد‘ سندھ میں حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ مدرسہ کے سالانہ جلسہ پر تشریف لے گئے۔ پولیس آپ کے تعاقب میں تھی۔ مقامی احباب کو پریشانی لاحق ہوئی۔ انہوں نے تیسری منزل پر آپ کو ٹھہرایا۔ پولیس کو اطلاع ہوئی پولیس آفیسر بھاری بھرکم ہانپتا کانپتا تیسری منزل پر مخبری پا کر آدھمکا۔ حضرت مرحوم کو ضلع جیکب آباد کی حدود میں داخلہ بندی کا آرڈر دے کر کہا کہ آپ اس پر دستخط کر دیں۔ آپ نے آرڈر دیکھتے ہی فرمایا کہ یہ انگلش میں ہے اور میں انگلش نہیں جانتا۔ نہ معلوم اس میں کیا لکھا ہے ایس۔ ایم سے اردو ترجمہ کرا کر لاؤ پھر دستخط کروں گا۔ وہ چلا گیا۔ آپ نے منتظمین جلسہ کو بلا کر کہا کہ مشورہ کر لو‘ اگر تقریر کرانی ہے تو میں حاضر ہوں۔ وہ مشورہ میں لگ گئے‘ اتنے میں آفیسر ترجمہ کرا کر آگیا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ اس پر مہر نہیں ہے۔ مجھے کیا معلوم کہ کس نے ترجمہ کیا ہے‘ مہر لگوا کر لاؤ۔ وہ بے چارہ پھر مہر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے پھر منتظمین سے کہا کہ اب بھی وقت ہے‘ میری تقریر کرانی ہے تو جلدی کرو۔ میر صبح صادق کھوسو‘ جو بعد میں قومی اتحاد کی طرف سے عبوری مارشل لاء حکومت میں وفاقی وزیر بھی بنے‘ وہ اور دوسرے احباب جمعیت علماء اسلام نے مشورہ کر کے کہا کہ آپ کی تقریر کے بعد مقامی احباب کو پولیس تنگ کرے گی۔ فرمایا اس کا تو میرے پاس حل ہے۔ میں اسٹیج پر چلا جاتا ہوں‘ آپ اعلان کر دیں کہ ہمارا جلسہ ختم ہے۔ میں اعلان کر دوں گا کہ مدرسہ کا جلسہ ختم ہے‘ اور میرا جلسہ شروع ہے۔ جو میری تقریر سننا چاہے‘ بیٹھ جائے۔ ظاہر ہے کہ لوگ بیٹھے رہیں گے‘ میں تقریر کر لوں گا اور آپ یہ کہہ سکیں گے کہ جناب ہم نے تو جلسہ بند کر دیا تھا۔
مولوی صاحب ہمارے بزرگ تھے‘ وہ تقریر کرنے بیٹھ گئے۔ اب اس میں ہمارا کیا قصور ہے مگر مقامی احباب منتظمین جلسہ اس تجویز پر بھی آمادہ نہ ہوئے۔ اتنے میں پولیس آفیسر پھر مہر لگوا کر آگیا۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں لکھا ہے کہ تمہارا داخلہ بند ہے‘ میں تو داخل ہو چکا ہوں۔ لہٰذا میں لکھوں گا کہ دستخطوں کے بعد جو پہلی گاڑی ملے گی‘ اس پر چلا جاؤں گا۔ انسپکٹر نے کہا ٹھیک ہے۔ آپ نے دستخط کر دیئے ۔ جلسہ والوں کو بلا کر فرمایا کہ جب تک ٹرین نہ آئے‘ میں قانوناً یہاں رہ سکتا ہوں۔ زبان بندی ہے نہیں‘ اس لیے اب بھی تقریر کے لیے گنجائش موجود ہے۔ اس پر بھی وہ آمادہ نہ ہوسکے۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ۲۰۷-۲۰۸‘ از مولانا اللہ وسایا)
آفتیں برستی ہیں دل سکون پاتا ہے (مولف)
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ
۱۹۳۶ء میں چیف جسٹس کے سامنے مسٹر سلیم ایڈووکیٹ جنرل کے ایک سوال پر شاہ صاحبؒ نے فرمایا ”ہاں میں نے مرزا غلام احمد کو ہزاروں مرتبہ کافر کہا ہے‘ کہتا ہوں اور کہتا رہوں گا۔ یہ میرا مذہب ہے“۔
(”سوانح حیات بخاری“ از خان کابلی)
اسی عدالت میں فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد میری قبر پر بھی آکر کسی نے سوال کیا کہ مرزا قادیانی کون تھا تو میری قبر کے ذرہ ذرہ سے آواز آئے گی کہ مرزا کافر تھا‘ اس کے ماننے والے سب کافر ہیں۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“‘ ص ۱۸۸-۱۸۹‘ از مولانا اللہ وسایا)
گزرے تو رہگزار محبت سجا گئے (مولف)
قبلہ عالم حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ
پیر کرم شاہ صاحب سکنہ بھوپن کلاں نزد حافظ آباد اعلیٰ حضرت میاں صاحبؒ شرقپوری کے مریدین باصفا میں سے تھے۔ انہوں نے مولف سے بیان کیا کہ ایک زمیندار مردان علی نامی‘ صاحب ثروت تھا مگر تھا بڑا آزاد خیال۔ نیچری قسم کے اعتقادات رکھتا تھا۔ مرزائیت کی طرف مائل تھا اور وقتاً فوقتاً قادیان بھی جایا کرتا تھا۔ ایک بار کسی شخص کے ساتھ اعلیٰ حضرت میاں شیر محمدؒ کی خدمت میں ایک مسئلہ لے کر حاضر ہوا۔ اس کی نیت یہ تھی کہ اگر اعلیٰ حضرت شرقپوریؒ سے بھی یہ عقدہ حل نہ ہوا تو قادیان جاکر مرزا غلام احمد کی بیعت کر لوں گا۔ پیر کرم شاہ کا بیان ہے کہ وہ میاں صاحبؒ کی صرف ایک ہی نگاہ سے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا اور اپنی زبان سے کہنے لگا ”مرزا جھوٹا‘ مرزا جھوٹا‘ مرزا جھوٹا“ اس اقرار کے بعد جب وہ ہوش میں آیا تو فوراً اپنے خیالات فاسدہ سے تائب ہوا‘ اللہ اکبر۔
(”خزینہ کرم“ ص ۵۲۱‘ تالیف نور احمد مقبول‘ بی۔اے)
ایک نالہ سے بدل جاتا ہے رنگ انجمن (مولف)
مولانا سید شمس الدین شہید
آپ کو ایک سازش کے تحت شہید کیا گیا۔ مولانا سید امام شاہ اور خان محمد زمان خان نے بتایا کہ مولانا شہیدؒ کے خون مقدس سے ایسی خوشبو آ رہی تھی کہ اس جیسی خوشبو کسی چیز میں نہیں دیکھی کہ بعض افراد نے جن کے ہاتھوں کو خون لگ گیا تھا‘ سارا دن خون نہیں دھویا۔ یہ خوشبو لوگوں نے عام طور پر محسوس کی۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۱۵۶‘ از مولانا اللہ وسایا)
چمن میں کون بہاروں کا انتظار کرے (مولف)
قادیانی مسلمان ہو گیا
قادیانی آپ کا نام سن کر لرزہ براندام ہو جایا کرتے تھے۔ بارہا ایسا ہوا کہ کسی مناظرہ کی تحریک ہوئی، لیکن صرف یہ سن کر کہ اس مناظرہ میں مولانا امرتسریؒ پیش ہوں گے، قادیانیوں نے دست کشی اختیار کر لی۔ گوجرانوالہ کے ایک قادیانی کا نام بھی ثناء اللہ تھا۔ قادیانی اساطین ان کے اس نام سے اس قدر بدکتے تھے کہ انہوں نے اسے بدلنے کی بارہا کوشش کی۔ دسمبر ۱۹۳۴ء کے قادیانی اجلاس میں جب وہ حاضر ہوئے تو مولوی غلام رسول راجیکی نے اس موضوع پر گفتگو کے دوران ازراہ تمسخر کہا ”کیا ہوا؟ لوہا ہی لوہے کو کاٹتا ہے“ مگر حسن اتفاق دیکھئے کہ اس کے بعد ہی مستری ثناء اللہ موصوف امرتسر آئے۔ وہاں مولانا امرتسریؒ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے قادیانیت کے موضوع پر مولاناؒ سے طویل گفتگو کی اور بالآخر تائب ہو گئے۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۱۲۶' از مولانا اللہ وسایا)
وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے (مولف)
دل پلٹ گیا
مولانا سید بدرالرحمن امروہی، حضرت امروہیؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ ان کی آمد و رفت محمد احسن کے پاس رہنے لگی اور ان کی باتیں سن کر حیات مسیح علیہ السلام میں ان کو شک و تردد ہو گیا۔ بہت سے علماء نے ہرچند ان کو سمجھایا لیکن ان پر باطل کا اثر ہو گیا تھا۔ اس لیے کسی کی نہ سنتے تھے۔ ایک دن ان کو حضرتؒ کے پاس لایا گیا، یا وہ خود بخود آئے۔ حضرت نے انہیں دیکھ کر فرمایا! مولوی بدرالرحمن حقیقت میں تم ہمارے طبیب روحانی ہو، ہمیں غرور ہو چلا تھا کہ ہمارا شاگرد اور ہمارے پاس بیٹھنے والا باطل میں گرفتار نہیں ہو سکتا۔
اب معلوم ہوا کہ بات غلط ہے۔ تم نے ہمارا غرور توڑ دیا۔ نہ معلوم کس جذبہ سے یہ الفاظ ادا فرمائے تھے کہ مولوی بدرالحسن زار و قطار رونے لگے اور قدموں پر لوٹے لوٹے پھرے اور اپنے فاسد عقیدہ سے توبہ کی۔ یہی بدرالحسن، حضرت رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ مجلس مناظرہ رامپور میں موجود تھے۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ۱۲۸' از مولانا اللہ وسایا)
خدا کی راہ میں بھی ساز وساماں کی ضرورت ہے (مولف)
مولانا تاج محمودؒ
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت، جو مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ کر شہید ہوگئی، فیصل آباد میں مولانا تاج محمودؒ کے دم قدم سے چلی۔ حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد آپ کو گرفتار کیا۔ لاہور کے شاہی قلعہ میں لایا گیا۔ اس بوچڑ خانہ میں پولیس کے بعض افسروں نے آپ پر ستم توڑنے کی انتہا کر دی۔ لیکن اس مرد خدا نے ہر صعوبت، ہر تشدد اور ہر اذیت خندہ پیشانی سے جھیلی، اف تک نہ کی۔ اپنی استقامت سے قرون اولیٰ کی یاد تازہ کردی کہ رسول اللہ ﷺ کے عشاق، کفار مکہ کے ظلم سہتے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عشق میں قربان ہوتے تھے۔ سید اعجاز حسین شاہ اس زمانہ میں سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی اور قلعہ کے انچارج تھے۔ انہوں نے خود راقم الحروف سے ذکر کیا کہ ”تاج محمود قرون اولیٰ کے فدایان رسول عربیؐ کی بے نظیر تصویر تھے۔ وہ پولیس کے ہر وار پر درود پڑھتا اور عشق رسالت میں ڈوب جاتا ہے“۔
(ہفت روزہ ”چٹان“ شورش کشمیریؒ)
ہم ہی اک رہ گئے ہیں اشک بہانے والے (مولف)
قبر کا عذاب
موضع چبہ تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا کے ایک بڑے زمیندار نیک آدمی کے فوت ہونے پر اس کے لواحقین سے کسی مرزائی نے کہہ دیا تھا کہ اس کو عذاب دیا جارہا ہے۔ وہ لوگ گھبرا کر قاری صاحب (حضرت قاری عبد الکریم” صاحب ساکن نصیر پور تحصیل بھلوال) کو لے گئے۔ قبر کے متعلق دریافت کیا تو قاری صاحب نے فرمایا کہ کسی نے جھوٹ کہا ہے۔ یہ شخص تو بڑی اچھی حالت میں ہے اور اس کا ایمان خاص قسم کا ہے۔ جو ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا میں بیان کیا گیا ہے۔ فکر نہ کرو ایسا ایمان اعلیٰ درجہ کے اولیاء خاص کو ملا کرتا ہے۔
(”مجالس حضرت رائے پوری“ ص ۵۸۶ تا ۵۸۷‘ از مولانا حبیب الرحمٰن رائے
پوری)
جذبہ
امیر شریعتؒ اب کی بار جیل خانے سے رہا ہوئے تو یقین تھا کہ عمر رواں کا باقی ماندہ حصہ سکونِ قلب‘ تنہائی اور یادِ الٰہی میں گزار دیں گے۔ صحت تمام جسم سے بغاوت کر چکی تھی۔ خاص کر سکھر جیل کے چند دنوں کی ”سی کلاس“ خوراک نے رہا سہا بھرم بھی گنوا دیا۔ انہی دنوں عزیز بیٹی نے بھی اکثر اصرار کیا کہ ابا! اب آپ آرام کریں ”تو بڑے جلال میں فرمایا ”بیٹی! تم یہ پسند کرتی ہو کہ تمہارا باپ چار پائی پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے‘ یہ پسند نہیں کرتی کہ میں حضورؐ کی ختم نبوت کے لیے جان دے دوں“۔
(”حیات امیر شریعت“ ص ۳۸۶‘ از جانباز مرزاؒ )
رفتار قیامت کی ہے اور پاؤں میں چھالے (مولف)
مولانا نیازی کا مجاہدانہ کردار
نیازی صاحب نے ان دنوں ایسی ولولہ انگیز اور شعلہ بار تقریریں کیں کہ میں ساری زندگی نہ سن سکا۔ انہوں نے پولیس کے ظلم و ستم سے نڈھال لوگوں کو اپنی پرجوش تقریروں سے نئی زندگی بخشی۔ اندرون شہر سے پولیس کی حکومت کو ختم کر دیا۔ مسجد وزیر خان تک پولیس کا پہنچنا مشکل ہو گیا۔ شہر کے باہر پولیس گولی چلانے کے نفرت آمیز کردار سے بڑی بدنام ہو چکی تھی۔ چنانچہ شہر کے اندر جو سپاہی بھی دکھائی دیتا لوگ اس کی وردی پھاڑ دیتے۔ مختلف علماء کی گرفتاری اور جلوسوں پر گولیاں چلانے کے بعد جب فردوس شاہ ڈی ایس پی سٹی‘ مولانا نیازی صاحب کی گرفتاری کے لیے مسجد وزیر خان کی طرف بڑھے تو ایک پرجوش ہجوم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ میں اس منظر کو کبھی نہیں بھول سکتا جب فردوس کی بے گور و کفن لاش کوتوالی کے نل کے پاس پڑی ہوئی تھی اور ماشکی اس پر پانی ڈال رہا تھا۔ اس کے تھانے کے سپاہی بھی اس لیے نزدیک نہ جاتے تھے کہ یہ ختم نبوت کا مخالف ہے۔
مولانا نیازی سے مسجد وزیر خاں میں میری ملاقاتیں زیادہ ہونے لگیں۔ میں نوجوانوں کے وفود لے کر جاتا۔ شہر کے حالات پر تبصرہ کرتا اور نیازی صاحب سے ہدایات لے کر علماء تک پہنچاتا۔ نیازی صاحب ان دنوں جان ہتھیلی پر رکھے دن رات کام کرتے۔ کچھ دنوں بعد شہر فوج کے حوالے کر دیا گیا۔ جنرل اعظم خاں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن کر یکم اکتوبر ۱۹۵۳ء کو لاہور پر مسلط ہو گیا۔ اس نے لاہور کے گلی کوچوں میں ختم نبوت کے پروانوں کو جس بے دردی سے قتل کروایا وہ اس کی فوجی زندگی کا بدترین کارنامہ ہے۔ وہ سیاست میں آیا تو اس ”کارنامے“ نے اسے کبھی ابھرنے نہ دیا۔ اس کی فوجی عدالتوں نے علماء‘ طلباء‘ فقراء اور مشائخ کو تختہ دار و رسن کی ساری مصیبتوں سے گزرنے پر مجبور کیا اور اس کے فوجی‘ دیوانوں اور مجذوبوں کو بھی اللہ اکبر کہنے پر چودہ چودہ سال کی سزا دیتے گئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک رات ایک بے پناہ ہجوم ریلوے اسٹیشن سے بڑھتا ہوا وزیر خاں کی مسجد میں جانے کے لیے آگے بڑھا۔ یہ سارے لوگ دیہات سے آئے تھے اور
تحریک کے مرکز تک پہنچنے کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔ آدھی رات کے وقت دہلی دروازے کے چوک کے باہر ان پر اس قدر گولیاں برسائی گئیں کہ شاید ۱۹۴۷ء کے فسادات میں بھی نہ برسی ہوں گی۔ میں کوتوالی کے پاس ہی رہتا تھا۔ نماز کے بعد اس چوک میں پہنچا۔ سنسان اور ویران، کارپوریشن اور ملٹری کی موٹریں سڑکیں دھونے میں مصروف تھیں۔ لیکن بایں ہمہ ارد گرد کے بازاروں کی دیواروں پر شہداء کے گوشت کے چیتھڑے نظر آتے تھے۔ یہ سیاہ رات اپنے دامن میں شہداء کی نعشوں کے انبار لے کر گزر گئی مگر مارشل لاء کی شدت کے نقوش جس رنگینی سے ثبت ہوئے، اس کا نکھار ۱۹۷۴ء میں آکر ظاہر ہوا۔ اس تحریک کے لیے علماء اہل سنت نے لگا تار جدوجہد کی تھی۔ آخر مرزائیت اقلیت قرار دے دی گئی۔
("تذکرہ علمائے اہل سنت و جماعت لاہور" ص ۳۷۹، ۳۸۰، از علامہ اقبال احمد
فاروقی)
ڈاکٹر دین محمد فریدی کی یلغار
نماز جمعہ سے فارغ ہو کر ہرنولی سے جنوبی جانب ایک مریض دیکھنے کنیالا نوالہ جانا پڑا۔ مغرب سے کچھ دیر پہلے جب واپس ہرنولی آیا تو سبزی منڈی کے قریب کنوئیں کی منڈیر پر ایک اشتہار چسپاں دیکھا جس کی ہیڈنگ سرخ روشنائی سے چمک رہی تھی۔ یہ الفاظ لکھے تھے "مرزائیوں کو کچل دو" میں نے دل میں کہا یا اللہ خیر! یہ کس مجاہد کا کارنامہ ہے۔ جمعہ کی نماز تک کوئی فیصلہ نہیں تھا۔ اشتہار ہمارے کاتب صوفی کریم دین کا لکھا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ پڑھا تو پتہ چلا کہ مرزائیوں کے اعلان کے مطابق سر ظفر اللہ قادیانی چک 15 ڈی۔ بی، میں خطاب فرمائیں گے اور مسلمانوں پر اتمام حجت قائم کریں گے، اشتہار کے الفاظ کچھ اس قسم کے تھے۔ مغرب کی نماز کے ساتھ ہی ساتھی گھر پہنچے۔ چک نمبر ۱۵ سے رانا عبدالستار صاحب ایک ساتھی کے ساتھ آئے تھے۔ دس بارہ ہرنولی کے ساتھی تھے۔ رانا عبدالستار صاحب نے بتایا کہ ہم مسلمان جمعہ کی نماز سے فارغ ہوئے تو رستم نمبردار آگیا اور کہنے لگا کہ
ہم چک نمبر ۱۵ میں پرسوں ۲۴ مارچ کو لاؤڈ سپیکر پر جلسہ کر رہے ہیں۔ ہمارے لیڈر سر ظفر اللہ خان بھی تشریف لائیں گے۔ ہم تم پر اتمام حجت پوری کر دیں گے۔ پھر نہ کہنا کہ ہم نے اسلام کا پیغام تمہیں نہیں پہنچایا“۔
رانا صاحب نے کہا کہ ہم تو یہ سنتے ہی تمہارے پاس پہنچے ہیں اب ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا میرے آنے سے پہلے شہر کے ہر کونے پر اشتہار تو لگ گئے ہیں۔ ”مرزائیوں کو کچل دو“ اب دوسرا فیصلہ کیسا! کچل دو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تمام دوست صوفی کریم دین کی طرف دیکھ کر بے ساختہ ہنس پڑے۔ صوفی صاحب ہمارے اشتہاری دوست ہیں۔ بہت کام کے آدمی ہیں۔ ہر وقت چاک پاس ہوتا ہے۔ ہرنولی داخل ہوں جو اسلامی چاکنگ نظر آئے گی، وہ صوفی صاحب کا کارنامہ ہو گا۔ بہرحال صوفی صاحب ایک باغ و بہار طبیعت کے مالک ہیں۔ دوست احباب کہنے لگے کہ یہ تو جو ہوا ٹھیک ہوا۔ صوفی صاحب کے دستی اشتہاروں نے شہر میں ہیجان برپا کر دیا۔ عوام اب منتظر ہیں کہ عملی قدم کیسے اٹھایا جائے۔ تمام دوست آپ کی رائے سننے کے منتظر ہیں۔
میں نے کہا دوستو! اب تو ہمارے پاس کوئی ذریعہ ایسا نہیں ہے کہ مرکزی دفتر ملتان پہنچ کر مولانا محمد علی جالندھری کو مطلع کریں۔ اگر بہت کوشش بھی کریں تو کل شام تک بمشکل پہنچا جا سکتا ہے۔ نہ معلوم حضرت جالندھری وہاں ہیں بھی کہ نہیں؟ ہمت کرو خود تیاری کرو۔ صرف ایک دن درمیان میں باقی ہے۔ مگر اس طرح کرو کہ ضلعی اکابر کو ضرور مطلع کر دو۔
میانوالی مولانا محمد رمضان کو اور کلور کوٹ حافظ سراج دین کو۔ اور ہرنولی میں کل کے معاملات سنبھالنے کے لیے ذمہ دار افراد ہوں جو کہ چک نمبر ۱۵ جانے والے راستوں پر بھی نگران مقرر کریں۔ فیصلہ ہوا کہ رانا عبد الستار اور صوفی محمد رفیق ڈرائیور بھی میانوالی جائیں۔ رانا مبارک علی کلور کوٹ حافظ صاحب کے پاس اور آپ یہاں ہرنولی اور ارد گرد کے معاملات سنبھالیں۔ باقی ساتھی آپ سے تعاون کریں گے۔
فیصلہ کے مطابق ساتھی فوراً روانہ ہو گئے۔ عشاء کی اذان کے ساتھ ہی میں نے لاؤڈ سپیکر پر ہرنولی کے عوام کو خطاب کیا کہ قادیانی چک نمبر ۱۵ میں کھلا جلسہ کر رہے ہیں۔ چک نمبر
۱۵ کے مسلمانوں کا ایمان بچانے کے لیے پچھلے سال کے مناظرہ میں بھی ہرنولی کے عوام نے بھر پور کردار کا مظاہرہ کیا تھا۔ اب پھر چک ۱۵ کے عوام آپ کی امداد کے منتظر ہیں۔ چک کے قادیانیوں کے اعلان کے مطابق سر ظفر اللہ خان نے خطاب کرنے آنا ہے۔ میں ہرنولی کے غیور مسلمانوں سے توقع کرتا ہوں کہ اگر سر ظفر اللہ آئے تو ہم نے شہدائے ختم نبوت ۵۳ء کے مسلمانوں کے خون کا حساب ان سے لینا ہے۔ ہم نے اکابر سے رابطہ کے لیے ساتھی بھیج دیے ہیں۔ ہرنولی کے عوام سے میں اس اعلان کے ذریعہ رابطہ قائم کر رہا ہوں۔ کل مکمل فیصلہ کا اعلان ہوگا۔ میں تمام مسلمانوں سے توقع کرتا ہوں کہ سارقین ختم نبوت کے قلع قمع کے لیے ہر فرد میدان میں ہوگا۔
تین مرتبہ یہ اعلان ہوا۔ میانوالی کلور کوٹ جانے والے ساتھی ابھی اڈا پر ہی تھے۔ انہوں نے بھی یہ اعلان سن لیا۔ رانا عبد الستار کو چلتے وقت میں نے قادیانیت کے متعلق چند کتابیں دے دی تھیں اور کہا کہ ہو سکتا ہے آپ کو ایس۔ پی میانوالی کے ہاں پیش ہونا پڑے۔ ایس پی عقیدتاً شیعہ ہے۔ اس کو حضرت علیؓ، حضرت فاطمہ الزہراؓ اور حضرت حسینؓ کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کی بکواسات دکھا دینا۔ میں نے نشان رکھ دیے ہیں۔
میں یہ عرض کر دوں کہ میرے ذہن میں یہ بات بالکل اتفاقیہ آئی کہ ہو سکتا ہے ایسا ہو جائے۔ صبح نماز فجر کے ساتھ ہی ہرنولی کے عوام نے اعلان کے مطابق رابطہ کرنا شروع کر دیا۔ ہر آدمی ساتھ دینے کے لیے تیار تھا۔ میں نے انہیں کہا کہ ساتھی میانوالی اور کلور کوٹ گئے ہوئے ہیں۔ وہاں سے واپسی پر مشورہ سے کام ہو گا اور کل کے پروگرام کا اعلان رات لاؤڈ سپیکر پر کر دیا جائے گا۔ تمام دن مصروفیت میں گزرا۔ جوڑ توڑ مکمل کر کے نتیجہ اللہ کے حوالے کر دیا۔ بعد نماز ظہر میانوالی اور کلور کوٹ گئے ہوئے ساتھی واپس ہوئے۔ رانا عبد الستار نے بتایا کہ ہم نے مولانا محمد رمضان کو حالات بتائے تو انہوں نے ہمیں ایس پی کے پاس جانے کی ہدایت کی۔ ایس پی صاحب نے ہم سے پوچھا کہ تم مرزائیوں کی مخالفت کیوں کرتے ہو؟ ہم نے حوالے دکھائے کہ مرزا کہتا ہے کہ ”اے قوم شیعہ تم ایک مردہ علیؓ کو پوجتے ہو جبکہ زندہ علی (مرزا غلام احمد) تم میں موجود ہے“ ایس پی نے حوالہ دیکھا تو چونک اٹھا۔ کتاب ہمارے ہاتھ سے لی تو دیکھی کتاب مرزا کی اور حوالہ صحیح تھا۔
ہم نے دوسرا حوالہ حضرت فاطمہؓ کے متعلق دکھایا وہ سخت غصہ میں بھر گیا۔ ہم نے ساتھ ہی حضرت حسینؓ والا حوالہ پڑھ دیا۔ ایس پی صاحب نے فوراً ایس ایچ او پپلاں کو بلایا جو کہ ۲۳ مارچ کی وجہ سے میانوالی آیا ہوا تھا اور اسے کہا کہ چک ۱۵ میں قادیانیوں کی اچھی طرح خبر لے۔ رانا مبارک علی نے کہا کہ حافظ صاحب اپنے لڑکے کی برات لے کر میانوالی گئے ہوئے تھے۔ وہیں میں بھی پہنچا اور حالات بتا دیے ہیں۔ اب ہم دوستوں میں کل کے لیے مشورہ ہوا۔ میں نے رائے دی کہ کل ہمیں دو محاذ پر نظر رکھنی پڑے گی۔ دشمن قادیانی پھر پولیس۔ ایس پی صاحب نے تو حکم دے دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ قادیانی رشوت وغیرہ کے ذریعے اپنا بچاؤ کریں اور پولیس رسی کا سانپ بنا کر ہمارے ہی خلاف کارروائی شروع کر دے۔ بے پناہ ہجوم کی وجہ سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس جیسا معاملہ پیش آ جائے۔ ہم میں سے کچھ موقع پر بزدلی دکھا دیں اور ہمارے بھی پاؤں اکھڑ جائیں۔ لہٰذا مجھے وہ دوست چاہئیں جو کسی صورت میں میدان سے نہ بھاگیں۔ ہم ختم نبوت کی بالادستی کا عہد کریں گے۔ خدا ہمارا مددگار ہو گا۔ اس سلسلہ میں اب میدان میں رانا محمد خلیل جو نڈلوی اس کا بھائی رانا عبدالرشید فوجی‘ صوفی ولی الدین آزاد گھڑی ساز‘ صوفی محمد رفیق ڈرائیور‘ صوفی کریم الدین نے کھڑے ہو کر عہد کیا۔ ہم نے رانا عبدالستار کو واپس بھیج دیا کہ ہم صبح چک ۱۵ میں پہنچ جائیں گے۔
صبح گھر سے ناشتہ وغیرہ کر کے ہم پانچ سائیکلوں پر چھ ساتھی روانہ ہوئے۔ اڈے پر پہنچ کر صوفی کریم الدین صاحب اپنی دکان کا سامان لانے کے بہانے رفو چکر ہو گئے۔ دوسرے دوست اسے پکڑنے لگے تو میں نے کہا بہتری اسی میں ہے کہ یہ یہاں سے چلا جائے۔ موقع پر بزدلی ہمیں خراب کرے گی۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہم تمام دوست چک نمبر ۱۵ پہنچے۔ راستے میں چک ۱۶ کے قریب چشمہ جہلم لنک کینال پر پل تعمیر ہو رہا تھا۔ سینکڑوں افراد کام کر رہے تھے۔ کچھ ہوٹلوں پر بیٹھے تھے۔ قادیانی جلسہ کی وجہ سے جوش ان میں بھی پھیلا ہوا تھا۔ شاید چک ۱۵ کے مسلمانوں نے انہیں آگاہ کر دیا ہو کہ ہرنولی کے ساتھی پہنچ رہے ہیں۔ اور قیادت ڈاکٹر دین محمد فریدی کر رہے ہیں۔ جب ہم پل کے قریب پہنچے تو کافی واقف کار موجود تھے۔ انہوں نے والہانہ ہمارا استقبال کیا۔
مزدوروں نے اپنا کام موخر کر دیا اور اپنی خدمات مکمل طور پر ختم نبوت کے سلسلے میں پیش کر دیں۔ ہم نے مسلمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور عرض کیا کہ چک نمبر ۱۵ یہاں سے دور نہیں۔ اگر حالات ہمارے قابو سے باہر ہوئے تو ہمارے ساتھی آپ تک پہنچ جائیں گے۔ پھر آپ کا ہر قسم کا تعاون ہمیں قبول ہوگا۔ وہاں ہم نے دوستوں کے اصرار پر چائے پی اور چک کے لیے روانہ ہوئے۔ قادیانی بھی پہنچ چکے تھے۔ تھوڑی دیر میں پولیس ایک اے ایس آئی کی قیادت میں پہنچ گئی۔ انٹیلیجنس کے افراد بھی ہمراہ تھے۔ پولیس سیدھی قادیانی جلسہ گاہ میں پہنچی۔ ہم ساتھی بھی اٹھ کر وہیں جانے لگے تو صوفی ولی الدین نے کہا کہ بھائی میں قادیانی سوروں کی شکل دیکھنا نہیں چاہتا۔ میری اور ڈیوٹی لگا دیں۔
میں نے کہا کہ تمہاری ڈیوٹی یہ ہے کہ ہمارے سائیکلوں کی نگرانی کرو، کسی نے اٹھائے یا پنکچر وغیرہ کیا تو تیری خیر نہیں۔ سب دوست خوب ہنسے کہ واہ بھئی ولی الدین ڈیوٹی آسان بھی پُر مشقت بھی۔ ہم بھی سیدھے قادیانی جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ہمارے پہنچنے پر ایک شخص قادیانیوں میں سے اٹھ کر آیا اور اے ایس آئی سے اپنا تعارف کروانے لگا کہ میرا نام امام حقانی ہے۔ میں واپڈا کالونی چشمہ میں ایکسین ہوں۔ میں اے ایس آئی سے پچھلی جانب کھڑا تھا۔ قبل ازیں کہ اے ایس آئی کوئی جواب دے، میں فوراً آگے بڑھا اور امام حقانی کو مخاطب کر کے کہنے لگا کہ امام حقانی پاکستان کے لاء کو جانتے ہو، کوئی سرکاری ملازم فرقہ وارانہ معاملات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ تم سرکاری گاڑی لے کر یہاں کیوں آئے ہو؟ میں اچانک گھوم کر اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوا کہ رضا کاروں سے کہو کہ وہ سامنے امام حقانی کی سرکاری جیپ کھڑی ہے، جاؤ اسے آگ لگا دو۔ میں ذمہ دار ہوں۔ یہ مسلمانوں پر سرکاری آفیسر ہونے کا رعب ڈالتا ہے۔ میری اس جرات پر پولیس بھی ہکا بکا رہ گئی اور امام حقانی کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
محمد رفیق ڈرائیور اور رانا خلیل امام حقانی کی جیپ کی طرف بڑھ چکے تھے اور امام حقانی پولیس کی منتیں کر رہا تھا کہ میری جیپ بچاؤ، میں مارا جاؤں گا۔ میری ایک ہی للکار تھی کہ آگ لگا دو۔ میں مسلمانوں کے راہنما کی حیثیت سے تمہیں حکم دیتا ہوں اور مسلمان بھی جیپ کے قریب پہنچے تو اے ایس آئی نے مجھے کہا کہ یہ زیادتی نہ ہونے دیں۔ سرکاری
املاک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ میں نے کہا کہ یہ یہاں کون سے سرکاری کام پر آیا ہے؟ یہ جھوٹے مذہب کو سہارا دینے کے لیے اپنی سرکاری حیثیت کا مسلمانوں پر رعب ڈالتا ہے۔ میرے منہ سے نکل گیا کہ یہ فوراً چک چھوڑ دے، ہم کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ امام حقانی کی جان میں جان آئی، فوراً جیپ میں بیٹھا اور چک سے نکل گیا۔
وہاں جا کر پتہ چلا کہ سر ظفر اللہ خان کی آمد کی صرف افواہ تھی۔ قاضی نذیر لائل پوری آیا تھا۔ ویسے مرزائی دور دور سے پہنچے ہوئے تھے۔ اب قاضی نذیر خود اٹھ کر اے ایس آئی کے پاس آیا اور اپنا تعارف کروایا کہ میرا نام قاضی نذیر ہے۔ میں جماعت احمدیہ میں تحریک جدید کا صدر ہوں۔ اے ایس آئی نے کہا کہ پھر تم چک میں کیا لینے آئے ہو۔ وہ کہنے لگا کہ ہم محبت، امن و آشتی کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ یہ ڈاکٹر دین محمد ہرنولی سے کیا لینے آیا ہے؟ میں نے کہا کہ قاضی صاحب میں علاقہ کی مجلس تحفظ ختم نبوت کا جنرل سیکرٹری اور مسلمانوں کا راہنما ہوں۔ چک نمبر ١٥ والے ”پاد“ بھی ماریں تو ہرنولی سنائی دیتا ہے۔ آپ ربوہ سے کیا لینے آئے ہیں۔ قاضی نذیر نخوت سے کہنے لگا کہ میں تمہارے ساتھ بات نہیں کرتا۔ میں عالم ہوں اور تم جاہل..... میں نے کہا کہ قاضی صاحب مناظرہ کرلیں۔ علم کی حقیقت کھل جائے گی۔ قاضی نذیر فوراً تیار ہو گیا۔ کہنے لگا قرآن و حدیث پر بحث ہوگی۔ میں نے کہا کہ قرآن و حدیث متنازعہ فیہ نہیں۔ اے ایس آئی صاحب ثالث ہوں گے۔ مرزا کے اقوال و کتب اور مرزا کا صدق و کذب۔ اس نے کہا نہیں قرآن و حدیث۔ میں نے کہا کہ جب تم نے مرزا کو نبی تسلیم کیا ہے تو اپنے نبی کے اقوال و کتب پر کیوں نہیں آتے؟ تم قرآن و حدیث کے کیا لگتے ہو؟ کوئی یہودی، عیسائی جو کہ قرآن و حدیث کو نہیں مانتے، نبی کریم ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ اگر وہ مقابلہ کریں تو میں قرآن و حدیث سے حضور ﷺ کی سچائی ثابت کرنے کو تیار ہوں جبکہ تم مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہو تو اس کی کتابوں پر آؤ۔ بصورت دیگر مجھے لکھ کر دو کہ ہم مرزا کو کسی بھی صورت میں نبی تسلیم نہیں کرتے تو میں قرآن و حدیث سے بحث کرنے کو تیار ہوں۔
قاضی نذیر نے اس صورت میں بحث سے انکار کردیا اور وہ قرآن و حدیث کی رٹ لگانے لگا۔ بات اے ایس آئی کی سمجھ میں آگئی۔ اس نے صاف فیصلہ سنا دیا کہ اگر تم مرزا
کے اقوال و کتب سے مرزا کی سچائی ثابت نہیں کرتے تو مطالبہ کے مطابق لکھ کر دو کہ ہم مرزا کو کسی بھی شکل میں نبی تسلیم نہیں کرتے۔ یہ قرآن و حدیث سے مناظرہ کر لے گا۔ قاضی نذیر نے بحث سے قطعاً جواب دے دیا۔ اے ایس آئی نے کہا کہ تم یہاں جلسہ نہیں کر سکتے۔ لاؤڈ سپیکر وغیرہ اتروا دیے۔ مرزائیوں کی اب تو ماں مر گئی۔ علیحدہ اکٹھے ہوئے۔ پھر رستم نمبردار قادیانی اے ایس آئی کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جی یہ ہمارے مہمان ہیں، انہیں کھانا کھلانے کی اجازت تو ملنی چاہیے۔ پھر میری طرف منہ کر کے کہنے لگا تھانیدار صاحب یہ ڈاکٹر دین محمد فریدی بہت شرارتی ہے۔ پچھلے سال ۲۱ اگست کو بھی تین ہزار کے قریب آدمی لے کر آیا تھا اور ہمیں تنگ کیا تھا۔
میں نے کہا کہ آج بھی میرے پاس آدمی کم نہیں۔ مسلمان پل پر رکے ہوئے ہیں۔ اگر یہاں حالات ہمارے کنٹرول میں رہے تو ٹھیک، ورنہ پھر ہم امن کے ذمہ دار نہیں"۔ ہمارا ایک خفیہ منصوبہ بھی تھا۔ ہم ابھی یہ گفتگو کر رہے تھے کہ ایک آدمی بستی بالا کا آیا اور مجھے مخاطب کر کے کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب! ڈاکٹر صاحب ہم نے سنا ہے کہ یہاں مرزائی جلسہ کر رہے ہیں۔ آپ کی آمد کی اطلاع مل چکی ہے۔ بستی بالا کے مسلمان آ رہے ہیں۔ آپ جیسے کہیں گے، عمل ہو گا۔ میں نے رفیق ڈرائیور کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ رفیق یہاں پولیس نے انتظام ٹھیک کیا ہوا ہے۔ لہٰذا بستی بالا کے مسلمانوں کو باہر ہی روک دو۔ چک میں کسی ہنگامہ کی ضرورت نہیں۔ انہیں کہیں حالات ٹھیک ہیں۔ وقفے میں چک ۲۱ کا آدمی پہنچ گیا کہ چک ۲۰ اور ۲۱ سے مسلمان یہاں پہنچ رہے ہیں۔ ہم جلسہ نہیں ہونے دیں گے۔ یہ حالات دیکھ کر مرزائی تو کجا، پولیس بھی گھبرا گئی۔ مجھے اے ایس آئی کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب جو کہو گے، وہ ہو گا مگر آپ کسی قسم کا ہنگامہ نہ ہونے دیں۔
میں نے اپنے ساتھیوں کو چک کے چاروں طرف چکر لگانے کو کہا کہ مسلمانوں کو چک کی حد سے باہر روک دیں۔ حالات ٹھیک ہیں۔ مرزائیوں کا جلسہ رک گیا ہے۔ تھوڑی دیر میں ساتھیوں نے اطلاع دی کہ ہم نے چاروں طرف پھر کر کہہ دیا ہے کہ چک ۲۰، ۲۱، ۱۶، ۱۴ وغیرہ کے ساتھی پل پر ٹھہریں۔ بستی بالا کے ساتھی چک ۱۴ میں ٹھہریں۔ چک ۱۵ میں داخل نہ ہوں۔ جلسہ پولیس نے ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مرزائی کھانا کھا کر چلے جائیں گے۔
پولیس اور مرزائیوں کا سکون کچھ بحال ہوا۔
خدا کی غیبی امداد
نیت میں خلوص ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی ایسی غائبانہ امداد کرتا ہے کہ کفر سر پیٹ کر رہ جاتا ہے۔ جلسہ رکوانے کی تگ و دو میں دن کے بارہ بج گئے۔ ہمیں کھانے پینے کا ہوش تک نہ تھا۔ ہم سب ساتھی پولیس سمیت رستم قادیانی کے گھر کے سامنے موجود تھے کہ رستم نمبردار پولیس والوں کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کھانا کھالیں میں بندوبست کر چکا ہوں۔ پولیس والوں میں ایک سپاہی بنوں کا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس کے ایمان اور جرات میں اور برکت عطا فرمائے۔ اس نے نہایت حقارت سے کہا کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہم مرزائی کے گھر کا کھانا نہیں کھائیں گے۔ مسلمان ہمیں چٹنی روٹی دے گا، کھائے گا۔ پانی پی کر گزارہ کر لے گا۔ مرزائی کے گھر کا کھانا خنزیر کے برابر ہے۔ باقی پولیس والوں کو بھی اس نے منع کیا۔ اس پر تھانیدار صاحب نے مجھے کھانے کے انتظام کے لیے کہا۔ میں نے وہاں کھڑے ایک مسلمان محمد نواز کو بلایا اور کہا وہ ۱۴ پولیس والوں اور ہمارے ساتھیوں کے کھانے کا بندوبست سادگی سے کر کے لے آ۔ خدا گواہ ہے کہ مجھے یہ علم ہی نہیں تھا کہ محمد نواز کے گھر آج شادی ہے۔ نہ ہی اس ہنگامہ خیزی میں چک کے حالات پر نظر ڈالنے کی فرصت ہوئی۔ محمد نواز فوراً گھر دوڑا جیسے اشارہ کا منتظر تھا۔ صرف دس منٹ کے عرصہ میں کئی افراد کے سروں پر کھانا اٹھائے ہمارے پاس پہنچا۔ ہم نے جو برتنوں سے سرپوش اٹھائے، بہترین کھانے، زردہ، پلاؤ، بھنے ہوئے گوشت اور روغنی روٹیاں تھیں۔ آج بھی یاد کر کے منہ میں پانی آتا ہے کہ خدا نے اپنی قدرت سے ہمارے لیے من و سلویٰ بھیج دیا تھا۔
پولیس والے دیکھ کر حیران ہو گئے۔ مجھ سے کہنے لگے آپ ہیں کیا۔ ہمارے سامنے اشارہ دیا اور فوراً کھانا آگیا۔ کیا پہلے سے تیار تھا؟ میں نے کہا کہ میں اس علاقہ کا مذہبی راہنما ہوں۔ اور یہ سب خدا کی امداد ہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر قادیانی کچھ کھسر پھسر کرنے لگے کہ اے ایس آئی کچھ علیحدہ ہو تو سودے بازی کر لی جائے۔ میں اے ایس آئی کے سر پر
مسلط رہا۔ کھانے کی غیبی امداد سے میری توقیر میں اضافہ ہوگیا تھا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ مرزائی چک سے نکلنے پر تیار ہی نہیں تو اپنے دوسرے خفیہ منصوبہ پر عمل کر دیا۔ جو کہ میرے اور محمد رفیق ڈرائیور کے مابین تھا۔ میں نے محمد رفیق کو اشارہ دیا اور ایک مرزائی کے قریب اس طرح سے کھڑے ہوئے کہ مرزائی کو یہ دھوکہ ہوا کہ مجھے انہوں نے دیکھا ہی نہیں۔ میں نے محمد رفیق سے کہا کہ وہ اسلحہ بردار آدمی جو تمہارے ذمے لگائے تھے، وہ اپنے مقام پر پہنچا دیے ہیں کہ نہیں..... رفیق نے کہا کہ ہاں امین نے کہا کہ اشارہ سمجھا دیا ہے، اس نے کہا ہاں میں نے کہا کہ مرزائیوں کی خچر نیچر سے ثابت ہوتا ہے یہ نکلتے نہیں۔ اب ہم چلنے کی تیاری کرتے ہیں۔ تم اپنی ڈیوٹی سنبھالو۔ اسلحہ بردار ساتھیوں کو اشارہ دے کر چک سے نکل جاؤ، پھر وہ جانیں اور مرزائی (حالانکہ ان اسلحہ برداروں کا کوئی وجود ہی نہ تھا)
مرزائی چکر میں آگیا۔ فوراً رستم نمبردار قادیانی کے پاس پہنچ کر ہماری گفتگو بتادی۔ تمام مرزائی بدحواس ہو گئے ۔ رستم پولیس والوں کے پاس آیا اور رو رو کر کہنے لگا ہمیں بچاؤ۔ یہ ان کا منصوبہ ہے۔ اے ایس آئی صاحب نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ کیا کرتے پھر رہے ہو؟ میں نے کہا کہ ہم تو کچھ نہیں کر رہے ۔ مرزائی ہی آپ کے حکم پر عمل نہیں کر رہے۔ آپ کے حکم کے مطابق انہیں کھانا کھا کر چلے جانا چاہیے تھا۔ اے ایس آئی نے مجھے کہا کہ یہ ڈر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ اپنے ساتھیوں سمیت پہلے چلے جائیں، پھر یہ جائیں گے۔ میں نے کہا تھانیدار صاحب! بات یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو چک سے باہر روک چکے ہیں۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر میں اپنے ساتھیوں سمیت پہلے نکلا تو مسلمان یہ سمجھیں گے کہ ہم ناکام ہو گئے ہیں۔ ان کے جلسے کے اعلان سے اشتعال پھیلا ہوا ہے۔ اس صورت میں پھر جو بدامنی ہوگی، اس کا میں ذمہ دار نہیں ہوں گا۔ اس کے ذمہ دار پولیس اور مرزائی ہوں گے ۔ اگر مرزائی پہلے نکل گئے تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ بالکل امن رہے گا۔ صورت حال آپ کے سامنے ہے۔
خدا کی دوسری امداد
اتنے میں ظہر کی اذان ہو گئی۔ تمام مسلمان نماز کے لیے مسجد کی طرف چلے گئے۔ سنتیں پڑھ چکے تھے کہ میں وضو کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ جماعت بالکل تیار ہے اور آج ہر طبقہ خیال کا مسلمان مسجد میں موجود ہے۔ میرے وجدان نے کہا کہ اگر کوئی اور امام آگے بڑھا تو مسلمانوں میں جماعت کے لیے اختلاف رائے نہ ہو جائے۔ پولیس اور مرزائی دیکھ رہے ہیں اور موقع کی تلاش میں ہیں۔ وضو سے فارغ ہو کر خدا کا نام لے کر میں سیدھا زندگی میں پہلی مرتبہ مصلیٰ پر جا کھڑا ہوا۔ دل میں دعا گو تھا، مولا کریم میں اس قابل تو ہوں نہیں مگر ختم نبوت کے صدقے مسلمانوں کا اتحاد قائم رکھ اور ہماری عزت قائم رکھ۔ (آمین)
دل میں یہ دعا کر کے میں نے تکبیر کے لیے کہا۔ خدا نے ہماری عزت رکھی۔ تمام مسلمانوں نے ایک جماعت میں نماز پڑھی۔ پولیس ششدر کھڑی تھی۔ مرزائیوں کے چہرے لٹک گئے تھے کہ انہوں نے کئی دفعہ تھانے دار کو طعنہ دیا کہ تمام مسلمان ایک جگہ نماز تو پڑھ نہیں سکتے۔ ہمیں حق بیان کرنے سے منع کرتے ہیں۔ نماز سے فارغ ہوئے تو اے ایس آئی نے مجھے اشارہ سے بلایا اور کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب آپ مسلکاً دیوبندی ہو، ایک آدمی کی طرف اشارہ دیا کہ وہ تکبیر کے دوران انگوٹھے چوم رہا تھا، اہل حدیث، ایک اور نمازی کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ یہ شیعہ مسلک ہے، مگر مجھے حیرت ہے کہ یہ اکٹھے کیسے نماز پڑھ رہے تھے؟
میں نے کہا کہ تھانیدار صاحب یہ پھوٹ ہم میں انگریز اور قادیانیوں نے ڈالی ہے مگر ختم نبوت کے محاذ پر ہم سب یک جان ہیں۔ آپ نے خود نماز میں دیکھ لیا کہ سب میرے پیچھے صف آرا تھے۔ پھر تو پولیس نے فوراً تمام باہر سے آئے ہوئے مرزائیوں کو چک سے نکال دیا اور اپنا بھتہ بھی ان ہی سے وصول کیا۔ چند منٹ میں اپنے چاروں ساتھیوں سمیت سائیکلوں پر چک سے نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے سرخرو کیا۔ چند دن بعد مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ سے میانوالی میں ملاقات ہوئی۔ ان تک یہ واقعہ پہنچ چکا
تھا ۔ مجھ سے کہنے لگے کہ بیٹا اگر قاضی نذیر تمہیں لکھ دیتا کہ میں مرزا کو کسی قسم کا نبی تسلیم نہیں کرتا تو پھر تم قرآن و حدیث سے کیسے مقابلہ کرتے ....... میں نے عرض کیا کہ حضرت میرے پاس ایک غلطی کا ازالہ تھا۔ میں تھانے دار کو وہ دکھا دیتا۔ جس میں مرزا کا نبوت کا دعویٰ تھا۔ اور صاف صاف کہہ دیتا کہ قاضی نذیر جھوٹ بول رہا ہے ۔ لہٰذا میں جھوٹے سے بحث ہی نہیں کرتا۔ مولانا نے مجھے سینے سے لگایا اور بہت دعا دی ۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ۲۹‘ شمارہ ۱۷ تا ۲۹‘ از قلم ڈاکٹر دین محمد
فریدی)
مولانا سید انور شاہؒ کی فکر
ایک مرتبہ والد مرحوم نے فرمایا کہ فتنہ قادیانیت کی وجہ سے تین ماہ تک نہیں سویا ۔ اس غم اور فکر میں کہ کہیں قادیانیت کا فتنہ اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ نہ پھینک دے ۔ تین ماہ کے بعد میرے قلب پر القاء ہوا کہ خداوند تعالیٰ اس دین کی حفاظت فرمائے گا ۔
درس میں ایک مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ تیس سال کے عرصہ میں دس دس سال کے وقفہ سے میں نے تین مرتبہ رحمت عالم ﷺ کی زیارت کی ۔ آپ ہر مرتبہ توجہ دلاتے تھے کہ ختم نبوت کی حفاظت کرو ۔ جس وقت بہاولپور کا واقعہ پیش آیا تو آپ ڈابھیل کے لیے رخت سفر باندھ چکے تھے ۔ جس وقت شیخ الجامعہ (مولانا غلام محمد گھوٹویؒ) کا ٹیلی گرام پہنچا تو آپ بہاولپور تشریف لائے اور جامعہ مسجد الصادق میں تقریر فرمائی اور فرمایا کہ ”میں ڈابھیل کے لیے پا بہ رکاب تھا ۔ بہت ضعیف اور علیل ہوں ۔ میں یہی سمجھتا ہوں کہ میرے پاس کوئی توشہ آخرت نہیں ہے ۔ اس امید پر بہاول پور آگیا کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے دین کا جانبدار ہو کر آیا ہوں ۔ ممکن ہے کہ میرے لیے ذخیرۂ آخرت بن جائے“ ۔
اس پر بہاول پور کے عوام کی چیخ و پکار نکل گئی اور آپ کے ایک شاگرد مولانا عبد الحنان ہزارویؒ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ”حضرت آپ ہمارے ایمان کو آزمائش میں ڈال رہے ہیں ۔ اگر آپ کی بھی نجات ممکن نہیں تو ہم کہاں نجات پائیں گے“ ۔
پھر کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ ”ان مولوی صاحب نے ہماری تعریف میں مبالغہ کیا۔ ہم پر یہ بات کھل گئی ہے کہ گلی کا کتا بھی ہم سے اچھا ہے، اگر ہم ختم نبوت کی حفاظت نہ کر سکے“۔
وفات کے بعد حضرت مولانا حسین علی صاحب نقشبندیؒ دیوبند تشریف لے گئے جن کے متعلق والد مکرم فرمایا کرتے تھے کہ یہ نقشبندیت کے امام ہیں اور قبر پر بہت دیر تک مراقب رہے۔ جب دفتر تشریف لائے تو اہتمام کے ذمہ دار حضرات نے پوچھا کہ آپ دیر تک مزار پر کیا کرتے رہے۔ پہلے تو آپ نے بتلانے سے گریز کیا۔ سخت اصرار کے بعد فرمایا کہ حضرت شاہ صاحب سے میری لمبی گفتگو ہوئی۔ سب سے پہلے حضرت شاہ صاحب نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ تشریف لائے اور میرے بچوں کے سر پر دست شفقت رکھا۔
میں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہوا۔ فرمایا کہ نجات ہو گئی۔ میں نے دریافت کیا کہ کون سا عمل کام آیا؟
فرمایا کہ میں نے ختم نبوت کے لیے جو کام کیا تھا، وہ میرے لیے وسیلہ نجات بن گیا۔ اور فرمایا کہ عالم قبر میں آکر مجھ پر بات کھلی کہ ختم نبوت کی حفاظت و صیانت کے لیے کام کیا جائے اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عمل مقبول نہیں۔ بہاول پور کی سرزمین ایک تاریخی سرزمین ہے اور یہاں پر ان کا وقت گزرا ہے اور یہاں قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی گئی۔ اس لیے میری دلی تمنا اور آرزو تھی کہ میں یہاں آکر ان جگہوں کو دیکھوں جہاں والد مرحوم قیام پذیر رہے۔ کیونکہ مجھ سے پاکستان کے بعض اہل دل نے بیان کیا کہ جو اس سفر میں آپ کے ساتھ تھے کہ رات کو بہاولپور میں اپنی قیام گاہ میں بالکل تنہا ہوتے۔ نہ کوئی چراغ ہو تا اور نہ کوئی روشنی لیکن حضرت شاہ صاحب کا کمرہ اتنا منور ہو تا کہ جیسا ڈیڑھ دو سو پاور کا بلب جل رہا ہو۔ گویا اس وقت انوار الٰہی اور انوار نبوت محمدیہ کا فیضان عام تھا۔ اسی جذبے اور شوق دید کی بنا پر حاضر ہوا ہوں۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ جلد ۱۹‘ شمارہ ۲۸)
مولانا عبدالعزیز صاحب رائے پوری
اس سال عیدالفطر آپ نے حضرت مولانا تاج محمود صاحب مرحوم کی مسجد میں ادا فرمائی۔ مولانا مرحوم کی وفات کے بعد یہ پہلی عید تھی اس لیے آپ نے اپنے مخلص ورکروں اور حضرت مولانا مرحوم کی اولاد اور ارادت مندوں سے شفقت فرمائی کہ آپ کے تشریف لانے سے بہت ہی زیادہ حوصلہ افزائی ہوئی۔ مولانا مرحوم کے صاحبزادے طارق محمود اور مولانا فقیر محمد صاحب نے حضرت سے درخواست کی کہ آپ مولانا تاج محمود صاحب کی بیٹھک میں تشریف لے چلیں۔ فرمایا نہیں ، میں مولانا کے پاس ہی بیٹھوں گا۔
یہ فرما کر حضرت مولانا تاج محمود صاحب کی قبر مبارک پر تشریف لائے۔ دیر تک کچھ پڑھتے رہے۔ مراقبہ کی حالت آپ پر طاری تھی مگر کیا مجال کہ کسی کو کچھ محسوس ہو کہ آپ پر کیا کیفیت ہے۔ کسی نے کیا اچھا کہا ہے کہ خانوادہ رائے پور دریا ہی نہیں سمندر پی جاتے ہیں مگر ڈکار تک نہیں لیتے۔ یعنی صاحب کرامت و کشف ہونے کے باوجود اخفاء اتنا ہوتا ہے کہ کیا مجال ہے کہ کسی کو کچھ علم ہو کہ یہ بھی کچھ ہیں۔ دعا فرمائی ، چل دیے۔
بعد میں فقیر اپنے گرامی قدر مخدوم جناب محمد اقبال صاحب کے ہمراہ حضرت کی رہائش گاہ پر حاضر ہوا۔ دست بوسی کے بعد بیٹھتے ہی ہمارے دل میں خیال آیا کہ حضرت سے پوچھوں کہ میرے محسن مولانا تاج محمود صاحب کا کیا حال ہے؟ حضرت کا احترام اور مزاج مانع رہا مگر دل میں یہ خیال بار بار آئے کہ پوچھ لینے میں کیا جرم ہے۔ میری اس قلبی کیفیت کو اللہ رب العزت نے آپ پر منکشف فرما دیا۔ فوراً میری طرف نظر شفقت فرمائی اور فرمایا "گھر بنا بلبل کا باغ میں"۔
مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی۔ ایک حضرت مولانا مرحوم کی بابت یہ خوشخبری اور دوسری یہ کہ مجھے میرے سوال کا بن پوچھے جواب مل گیا۔
(ہفت روزہ "لولاک" جلد ۲۱ ، شمارہ ۳۳)
حضرت پیر سید جماعت علی شاہؒ اور تحریک تحفظ ختم نبوت
اگست ۱۹۰۰ء میں جب مرزا قادیانی نے حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی کو دعوت مناظرہ دی تھی تو حضرت امیر ملت قدس سرہ بھی حضرت گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ لاہور میں موجود تھے۔ مرزا کے فرار کے بعد بادشاہی مسجد لاہور میں حضرت گولڑویؒ کے اعزاز میں جو جلسہ منعقد ہوا تھا‘ اس میں بھی حضرت امیر ملت نے ایک ایمان افروز اور باطل سوز تقریر فرمائی تھی۔ اسی طرح جب مرزا کے خلیفہ اول حکیم نور الدین نے نارووال ضلع سیالکوٹ میں اپنا تبلیغی کیمپ لگایا اور سادہ لوح لوگ اس کے دام فریب میں پھنسنے لگے تو حضرت امیر ملت قدس سرہ‘ اس وقت صاحب فراش تھے۔ چارپائی سے اٹھا نہیں جاتا تھا لیکن آپ نے حکم دیا کہ میری چارپائی اٹھا کر ہی نارووال لے چلو تاکہ اس فتنہ کی سرکوبی میں اپنا فرض ادا کر سکوں۔ چنانچہ متواتر چار جمعے آپ کی چارپائی اٹھا کر نارووال لے جاتے رہے اور آپ خطبہ جمعتہ المبارک میں مرزائی عقائد کا تار و پود بکھیرتے رہے۔ ناچار حکیم نور الدین کو راستہ ماپنا پڑا۔
۲۷ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو مرزا بذات خود اپنے حواریوں کے انبوہ کثیر کے ساتھ سیالکوٹ میں اپنے مذہب کی تشہیر و اشاعت کے لیے وارد ہوا۔ ان دنوں یہاں مرزائیت کا بڑا شہرہ تھا۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفتر کا سپرنٹنڈنٹ مرزائی تھا‘ لہٰذا مرزا کو اپنے مشن میں کامیابی و کامرانی کی غالب امید تھی۔ حضرت امیر ملت قدس سرہ‘ فوراً سیالکوٹ پہنچے اور مختلف بازاروں‘ محلوں اور مسجدوں میں بڑے پیمانے پر جلسے منعقد کیے اور تقریباً ایک ماہ تک سیالکوٹ میں قیام فرما کر اپنے مخصوص مجاہدانہ انداز میں خطاب فرماتے رہے۔ آپ دلائل قاہرہ کے ساتھ ختم نبوت کے مسئلے کو تفصیلاً سمجھاتے اور دین متین اور عقائد حقہ پر قائم رہنے کی تاکید فرماتے تھے۔ آپ ارشاد فرماتے کہ:
”دوسری نئی چیزوں کے اختیار میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن دین اپنا وہی پرانا رکھو“۔
دوران قیام تمام اخراجات آپ نے اپنی جیب مبارک سے برداشت کیے۔ مرزا کو
مقابلہ میں آنے کی جرات نہ ہوئی۔ جس قدر لوگ اس کی بیعت کے لیے تیار تھے‘ وہ یہ ذلت و رسوائی دیکھ کر بدظن ہو گئے اور حضرت امیر ملت قدس سرہ کے حلقہ ارادت سے وابستہ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مرزا کو پھر تازیست سیالکوٹ کا رخ کرنے کی ہمت نہ ہو سکی۔
سیالکوٹ کے اس عظیم معرکہ کے دوران ایک اہم واقعہ یہ بھی پیش آیا کہ مرزا قادیانی کے ایک پیروکار مولوی عبد الکریم لنگڑا نے اپنے کیمپ کے اندر معراج النبی ﷺ پر لیکچر دیتے ہوئے یوں بکواس کی:
”لوگ کہتے ہیں براق آیا‘ براق آیا۔ لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ جب ایڑیاں اور گھٹنے رگڑتے ہوئے وہی نبی مکہ سے بھاگ کر پہاڑوں اور غاروں میں چھپتا پھرتا تھا تو اس وقت براق کیوں نہ آیا؟“
جب یہ گستاخانہ کلمات حضرت امیر ملت قدس سرہ نے اپنی جلسہ گاہ میں سنے تو آپ نے دوران تقریر پر جوش لہجے میں فرمایا کہ:
”وہ شخص بے دین ہے جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔ وہ بہت جلد اور ذلت کی موت سے مارا جائے گا“۔
دوسرے دن ایک غیر جانبدار شخص نے مولوی عبد الکریم کو خواب میں دیکھا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پنجہ مارا ہے اور اس وقت وہ یوں دکھائی دے رہا تھا کہ شانہ سے لے کر کمر تک پٹکا باندھے ہوئے دیوار سے سہارا لے کر کھڑا ہے اور انتہائی کرب کی حالت میں ہے۔
اس خواب کی تعبیر یوں کی گئی کہ حضرت امیر ملت قدس سرہ نے دوران تقریر جوش و خروش میں آکر میز پر زور سے اپنا ہاتھ مارا تھا جو رات کو حضرت امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پنجہ بن کر ظاہر ہوا تھا۔ چنانچہ تھوڑے عرصہ بعد مولوی عبد الکریم سرطان (گردن دانہ) سے ہلاک ہو گیا۔ یہ بد بخت مولوی عبد الکریم سیالکوٹ میں پیدا ہوا تھا۔ ابتدائی تعلیم مڈل تک تھی بلکہ اس میں بھی حساب کے مضمون میں فیل ہو گیا تھا۔ پھر عربی‘ فارسی کی پرائیویٹ تیاری کر کے وہیں مشن سکول میں مدرس فارسی متعین ہو گیا۔ ایک روز
ایک پادری سے الجھ کر مستعفی ہو گیا۔ اس وقت نیچری خیال کا حامل تھا۔ بعد میں مولوی نور دین خلیفہ اول مرزا صاحب کی وساطت سے مرزائی ہو گیا اور قادیان میں خطیب و امام مسجد بنا رہا اور حضرت امیر ملت قدس سرہ کی بد دعا سے ہلاک ہو کر سب سے پہلے قادیان کے بہشتی مقبرہ میں دفن ہوا۔
۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا اپنی اہلیہ کے علاج کے لیے لاہور میں خواجہ کمال الدین کے مکان پر وارد ہوا تو اپنا دام فریب بھی پھیلانے لگا۔ ان کے ساتھیوں نے لاہور شہر کے مختلف گوشوں میں تبلیغی کام شروع کر دیا تو اہالیان لاہور نے حضرت امیر ملت قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہو کر مرزائیت کی بیخ کنی کی درخواست کی۔ آپ لاہور تشریف لائے اور آتے ہی برانڈرتھ روڈ پر خواجہ کمال الدین کے مکان کے سامنے والے باغ (اب باغ والی جگہ پر اسلامیہ کالج واقع ہے) میں ایک بہت بڑی اسٹیج قائم کی اور اسٹیج کے ساتھ لنگر پکانے کا انتظام کیا تاکہ عوام و خواص ہر وقت کھانا کھا سکیں۔ اس جگہ کئی روز تک مجالس وعظ و تقریر ہوئیں اور معتقدات مرزائیت کی تردید کی جاتی رہی۔ حضرت امیر ملت قدس سرہ نے مقامی علماء کے علاوہ بہت سے بیرونی علماء کو بھی مدعو کر کے مرزائیت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔
ان جلسوں میں حضرت مولانا مفتی محمد عبد اللہ ٹونکی (ف ۱۹۲۰ء) مولانا پروفیسر اصغر علی روحی (۱۹۵۳ء) جیسے مشہور زمانہ علماء کے علاوہ حضرت امیر ملت کے خلفاء مثلاً مولانا محمد حسین قصوری (۱۹۲۷ء) مولانا امام الدین رائے پوری (۱۹۵۲ء) مولانا محمد شریف کوٹلوی فقیہ اعظم (۱۹۵۱ء) مولانا نور الحسن سیالکوٹی (۱۹۵۵ء) مولانا پیر خیر شاہ امرتسری (۱۹۲۵ء) مولانا غلام احمد اخگر امرتسری (۱۹۲۷ء) خطاب فرماتے تھے۔
حضرت امیر ملت نے مرزا کو مقابلہ میں آکر اپنی صداقت کا ثبوت دینے کی دعوت دی اور پانچ ہزار روپے کے انعام کا اعلان بھی فرمایا لیکن مرزا کو مقابلہ میں آنے کی سکت نہ تھی۔ لہٰذا نہ آسکا۔
کسی شخص نے مرزا کے گوش گزار یہ بات کی کہ پیر جماعت علی شاہ لاہور میں اس مقصد کے لیے آئے ہیں کہ مرزا بھاگ جائے۔ مرزا بولا یہ وہ شخص نہیں جو بھاگ جائے گا بلکہ اگر وہ بارہ برس بھی رہے تو قدم نہ ہلے گا۔ یہ خبر کسی نے حضرت امیر ملت قدس سرہ کو
پہنچادی تو آپ نے فرمایا : ”اگر وہ بارہ برس ٹھہر سکتا ہے تو ہم چوبیس برس کا ڈیرہ جمائیں گے مگر مرزا کا تو خدائی فیصلہ ہو چکا ہے“۔
جب مرزا قادیانی اپنے بانگ دہل دعووں اور بے شمار لاف زنیوں کے باوجود میدان میں نہ آیا تو پھر آپ نے ۲۲ مئی ۱۹۰۸ء کو ہندوستان کے عظیم مسلمان فرمانروا حضرت اورنگ زیب عالمگیرؒ کی بنا کردہ شاہی مسجد (المعروف بادشاہی مسجد لاہور) میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد کیا۔ اس جلسے میں برصغیر کے نامور علماء بھی موجود تھے۔ لاکھوں مسلمانوں نے آپ کی امامت میں نماز جمعہ ادا کی۔ بعد از نماز جلسے کا آغاز ہوا جس میں شمس العلماء مولانا مفتی محمد عبداللہ ٹونکیؒ (استاذ گرامی حضرت امیر ملتؒ) پروفیسر اصغر علی روحیؒ اور دیگر بہت سے علمائے کرام نے خطاب فرمایا۔ آخر میں آپ نے صدارتی تقریر کرتے ہوئے فرمایا :
”مرزا تو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر اپنی فوقیت جتاتا ہے لیکن میں حضرت امام حسین کا غلام ہوں۔ وہ تو اعلان کرنے پر بھی مقابلے کے لیے نہ آئے۔ میری عادت پیش گوئی کرنے کی نہیں ہے البتہ اس سے قبل نومبر ۱۹۰۴ء میں ایک دفعہ مرزا کے مقابلے میں میری زبان سے چند کلمات بطور پیش گوئی کے نکل گئے تھے۔ جس کا ایک ایک لفظ اللہ تعالیٰ نے پورا فرما دیا اور تھوڑے ہی عرصے کے بعد مرزا کا حواری عبدالکریم ذلت کی موت مر گیا۔ اب پھر میرے دل میں بار بار خیال آ رہا ہے جس کو میں باوجود کوشش کے ضبط نہیں کر سکتا اور وہ خیال یہ ہے کہ مرزا غلام احمد عنقریب ذلت اور رسوائی کی موت مرے گا اور تم اس کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔ میری اس پیشن گوئی کو مرزا کی پیشن گوئی کی طرح مت سمجھنا“۔
اس کے بعد آپ نے مزید ارشاد فرمایا کہ : ”جب تک مرزا یہاں سے چلا نہ جائے‘ میں لاہور سے نہیں جاؤں گا“۔
حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمتہ اللہ علیہ بھی اس جلسہ میں تشریف لائے
تھے۔ جلسہ کے اختتام پر انہوں نے حضرت امیر ملت قدس سرہ سے کہا کہ ”شاہ صاحب! میں تو واپس جاتا ہوں ، آپ اپنا کام جاری رکھیں“ ۔ حضرت امیر ملت قدس سرہ نے ان سے کہا آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر کیسے تشریف لے جائیں گے۔ حضرت گولڑوی نے فرمایا ”میں گھر سے شکار کرنے آیا تھا مگر مجھے معلوم ہوا کہ یہ شکار میرے مقدر میں نہیں ہے۔ بلکہ آپ کے لیے مقدر ہے۔ اس لیے آپ ٹھہریں اور اپنا کام کرتے رہیں“ ۔ چنانچہ اگلے دن حضرت گولڑویؒ واپس گولڑہ شریف تشریف لے گئے۔
آپ نے مرزا جی کو ہر طرح سے للکارا۔ اسے دعوت دی کہ وہ میدان میں آکر اپنے دعویٰ نبوت کو سچا ثابت کرے۔ مناظرہ کرے یا مباہلہ کرے۔ پانچ ہزار روپیہ کا انعام وصول کر لے۔ اگر مرزا میدان میں نہیں آسکتا تو ہم ان کے پاس جانے کو تیار ہیں مگر مرزے کو کوئی بھی بات ماننے کی جرات نہ ہو سکی۔
آخر کار ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء بروز پیر رات کے جلسہ میں لاہور و بیرون لاہور کے ہزاروں مسلمانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے بیان کیا کہ :
”ہم نے مرزا کا بہت انتظار کیا ہے لیکن وہ سامنے نہیں آیا پیشگوئی کرنا میری عادت نہیں لیکن میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ مرزا کا خدائی فیصلہ ہو چکا ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے وہ میرے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔ کیونکہ میرا نبی ﷺ سچا ہے اور میں صدق دل سے اس سچے نبی کا غلام ہوں۔ آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اپنے حبیب پاک ﷺ کے صدقے میں ہمیں اس جھوٹے نبی سے نجات عطا فرمائے گا“ ۔
جب آپ نے یہ پیشین گوئی فرمائی تو ہزاروں مسلمانوں نے یک زبان ہو کر آمین کی صدائیں بلند کیں ۔ یہ پیشن گوئی آپ نے رات دس بجے فرمائی اور ۲۶ مئی کو صبح دس بج کر دس منٹ پر مرزا آنجہانی ہو گیا۔ مولانا رومؒ نے سچ فرمایا ہے :
مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک بار کہا تھا کہ ”جو کوئی ہیضے کی موت مرے گا، وہ کتے کی
موت مرے گا" آسمان کا تھوکا منہ پر آیا۔ جس رات حضرت امیر ملت قدس سرہ نے پیش گوئی فرمائی تھی‘ اسی رات تھوڑی دیر بعد مرزا کو ہیضہ ہوا۔ نصف شب گزرنے تک مرض نے شدت اختیار کر لی۔ مرنے سے چھ گھنٹے قبل زبان بند ہو گئی۔ نجاست منہ سے نکلتی رہی اور اسی حالت میں (۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) (صبح دس بج کر دس منٹ پر) خاتمہ ہو گیا۔ مرزا کی تاریخ وفات ہے لقد دخل فی قعر جہنم (۱۳۲۶ھ)
جس وقت حضرت امیر ملت قدس سرہ نے مرزا کی ہلاکت کی پیش گوئی فرمائی تھی‘ تو لوگوں نے اسے پوری اہمیت نہ دی مگر جب پوری ہو گئی تو حد درجہ حیران ہوئے۔ اس پیش گوئی کا مرزائیوں نے آج تک ذکر نہیں کیا۔ مفتی محمد عبداللہ ٹونکی‘ پروفیسر اورنٹیل کالج لاہور نے فرمایا کہ ”ہم پہلے تو اس پیش گوئی کو معمولی سمجھتے تھے آخر وہ تو سب سے بڑھ کر نکلی“۔
حضرت امیر ملت قدس سرہ نے جب مرزا کی ہلاکت کی خبر سنی تو فوراً سجدہ شکر بجا لائے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے مسلمانوں کے ایمانوں کو محفوظ رکھا۔ اپنے حبیب پاک ﷺ کی صداقت ظاہر فرمائی اور مسلمانوں کو صراط مستقیم پر قائم رکھا۔
مرزا کی ہلاکت کی خبر آناً فاناً پورے لاہور میں پھیل گئی۔ مسلمانوں نے جگہ جگہ مسجدوں‘ بازاروں اور محلوں میں شکرانہ کے جلسے منعقد کیے۔ ان بیشتر جلسوں میں حضرت امیر ملت قدس سرہ خود شریک ہوئے اور اپنے مواعظ حسنہ سے لوگوں کو مستفید و مستفیض فرماتے رہے۔ اس سلسلے میں تین روز تک اسلامیہ کالج (ریلوے روڈ) کے میدان میں جلسے منعقد ہوئے جن میں لاتعداد لوگ شریک ہوتے رہے۔ بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ لاہور شہر کا کوئی گھر ایسا نہ ہو گا جس کے ایک دو افراد نے ان جلسوں میں شرکت نہ کی ہو۔ اس کے بعد اکناف واطراف لاہور میں بڑے بڑے جلسے ہوئے۔ تقریباً ہر جلسے میں علمائے کرام کی تقریروں کے بعد حضرت امیر ملت قدس سرہ کا خصوصی خطاب ہوتا تھا۔ ان تمام جلسوں میں بے شمار لوگ قادیانی عقائد سے تائب ہو کر دوبارہ مسلمان ہوئے اور ان میں سے اکثر و بیشتر نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کر کے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل ہونے کی سعادت حاصل کی۔ سلسلہ عالیہ میں داخل ہونے والوں کی تعداد ہر روز اتنی زیادہ ہوتی تھی
کہ آپ سٹیج پر کھڑے ہو کر سب کو داخل سلسلہ فرماتے تھے۔
مرزا قادیانی کی منحوس لاش کو جب نہایت بے کسی کی حالت میں بٹالہ کی طرف لے گئے تاکہ قادیان لے جا کر دفن کیا جائے تو اہل اسلام نے نہایت تذلیل و تحقیر کی۔
مرزا کی ہلاکت کے بعد بھی حضرت امیر ملت قدس سرہ رد مرزائیت میں جوش و خروش سے سرگرم عمل رہے اور دلائل قاہرہ سے ختم نبوت کے مسئلے کو ثابت فرماتے۔
مرزائیوں نے بوکھلا کر آپ کے خلاف ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر کے کلمتہ الحق سے باز رکھنے کی سعی نامشکور کی مگر نہ تو آپ پریشان ہوئے اور نہ ہی آپ کی سرگرمیوں میں سرمو فرق آیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نصرت و کامرانی آپ کے شامل حال رہی۔
وہ شمع کیوں بجھے جسے روشن خدا کرے
ایک دفعہ رعیہ خاص ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں میں حضرت امیر ملت قدس سرہ خطاب فرما رہے تھے کہ محمد علی جولاہا مرزائی ساکن سنگترہ نے حضور سید عالم ﷺ کی شان اقدس میں بے ادبی کے کچھ الفاظ کہے۔ حضرت اقدس ایسی گستاخی کی کب تاب لا سکتے تھے۔ آپ نے خود اپنے دست مبارک سے اس کو زد و کوب کیا۔ یہ دیکھ کر دوسرے مسلمان بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور اس بدبخت اور خبیث جولاہے کو سخت سزا دی۔
مرزائی تو پہلے ہی آپ کی حق گوئی و بے باکی سے ذلیل و خوار ہو کر بدلہ لینے کی فکر میں تھے۔ اس واقعہ سے وہ نہایت ہی ذلیل حرکتوں پر اتر آئے اور تحصیلدار رعیہ (رعیہ خاص ان دنوں تحصیل ہوا کرتی تھی اور تحصیلدار ہندو تھا) کی عدالت میں ایک جھوٹا مقدمہ دائر کر دیا کہ:
”یہ شخص (حضرت امیر ملت قدس سرہ) مسلمانوں کو گاؤ کشی پر برانگیختہ کرتا ہے۔ حکومت برطانیہ کے خلاف بہت کچھ کہتا رہتا ہے۔ محمد علی جولاہا نے اسے ان حرکتوں سے روکا تو اس نے محمد علی کو سخت زدو کوب کیا وغیرہ وغیرہ“۔
ماسٹر خواجہ محمد کرم الٰہی ایڈووکیٹ (۱۹۵۹ء ف) سیالکوٹ، خلیفہ مجاز و سیکرٹری مرکزی انجمن خدام الصوفیہ ہند اور سیالکوٹ کے دیگر یاران طریقت نے سیالکوٹ کے
انگریز ڈپٹی کمشنر کی عدالت میں تبدیلی مقدمہ کی درخواست پیش کی۔ اس نے درخواست قبول کرتے ہوئے ایک انگریز مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمہ منتقل کر دیا۔ سب سے پہلے حضرت اقدس امیر ملت کی حاضری عدالت کا معاملہ زیر بحث آیا۔ خواجہ کمال الدین وکیل مرزائی کو چونکہ آپ سے خصوصی عداوت و خصومت تھی، بدیں وجہ اس نے زور دیا کہ یہ شخص معمولی حیثیت کا مالک ہے۔ اس کا عدالت میں حاضر ہونا ضروری ہے۔ حضرت امیر ملت کی طرف سے کئی وکیل پیروی کر رہے تھے۔ انہوں نے اور ماسٹر کرم الٰہی ایڈووکیٹ نے عذر کیا کہ:
”آپ مسلمانوں کے بہت بڑے مقتدا اور رہنما ہیں۔ آپ کے کئی لاکھ معتقدین سارے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ کو حاضری عدالت سے مستثنیٰ کیا جائے“۔
انگریز مجسٹریٹ نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ:
”شاہ صاحب نہایت قابل تعظیم اور بزرگ ہستی ہیں۔ ان کی شان اس سے ارفع ہے کہ وہ ایسے چھوٹے مقدمہ میں عدالت میں بلائے جائیں۔ لہٰذا حکم کیا جاتا ہے کہ شاہ صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوں اور ان کی طرف سے وکیل پیروی کرلے“۔
محمد علی جولاہا نے مرزائی جماعت کی مدد سے سیشن جج کی عدالت میں نگرانی کی درخواست دے دی۔ وہاں سے بھی مقدمہ خارج ہوا تو مرزائیوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور زور دیا کہ آپ کو دوران مقدمہ حاضر عدالت ہونا لازم قرار دیا جائے۔ فریقین کی طرف سے قابل وکیل اور لائق بیرسٹر پیروی کر رہے تھے۔ آپ کی طرف سے کئی بیرسٹر بلا معاوضہ پیش ہوئے تھے جن میں سر میاں محمد شفیع بیرسٹر (ف ۱۹۳۲ء) بھی شامل تھے۔ بحث بھی انہوں نے ہی کی تھی۔ ہائی کورٹ میں بھی حضرت امیر ملت کو کامیابی ہوئی اور آپ کو حاضری عدالت سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ جب اس اقدام میں مرزائیوں نے ہائی کورٹ تک منہ کی کھائی تو اصل مقدمہ میں ایڑی سے چوٹی تک کا زور لگا دیا مگر سیالکوٹ کے مجسٹریٹ نے اصل مقدمہ بھی خارج کر دیا۔ اس کے بعد مرزائیوں کو دوبارہ اپیل کرنے کی ہمت نہ ہوئی
اور ذلیل و خوار ہو کر خاموش بیٹھ رہے۔
بار بار ذلیل و خوار ہونے کے بعد مرزائیوں نے حضرت امیر ملت کے منجھلے صاحبزادے حضرت پیر سید خادم حسین شاہ (ف ۱۹۵۱ء) رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ دائر کر دیا۔ تاکہ اپنی بار بار کی تذلیل کا بدلہ لیا جاسکے۔ صاحبزادہ صاحب اس وقت اورینٹل کالج لاہور میں مولوی فاضل کا امتحان دے رہے تھے۔ اس مقدمہ کی پیروی کے لیے حضرت امیر ملت قدس سرہ تقریباً ایک سال تک مسجد پٹولیاں (اندرون لوہاری دروازہ لاہور) میں قیام فرما رہے۔ مرزائیوں کی خواہش تھی کہ طرح طرح سے پریشان کر کے آپ کی تبلیغ و ارشاد کا سلسلہ ختم کر دیا جائے مگر ان کی یہ خواہش بھی پوری نہ ہوسکی۔ مسجد پٹولیاں میں قیام کے زمانے میں آپ کا فیض عام جاری رہا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ جوق در جوق حاضر ہوتے اور اپنے دامن میں فیوض و برکات سمیٹ کر لے جاتے۔ بے شمار لوگ سعادت بیعت سے بھی مشرف ہوئے۔ آپ کا لنگر بڑے پیمانے پر قائم تھا۔ ہر رات آپ وعظ و تقریر فرماتے جس میں دور و نزدیک کے لوگ شرکت کے لیے آتے اور فیض یاب ہوتے۔
مقدمہ کی پیروی کے لیے حضرت مولانا محرم علی چشتیؒ (ف ۱۹۳۴ء) آپ کی طرف سے وکیل تھے۔ دوسرے وکلاء بھی موجود تھے لیکن بحث میاں سر محمد شفیع بیرسٹر نے کی اور پہلے کی طرح اب بھی وہ کسی قسم کے محنتانہ کے روادار نہ ہوئے۔ ماسٹر کرم الٰہی ایڈووکیٹ مقدمہ کی پیروی کے لیے سیالکوٹ سے برابر آیا کرتے تھے۔ موخر الذکر نے جو خدمات انجام دیں، وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔
جس رات کی صبح فیصلہ سنایا جانا تھا، وہ رات حضرت امیر ملت قدس سرہ نے حضور داتا گنج بخش علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کے دربار گوہر بار میں بسر کی۔ صبح ہوتے ہی آپ نے خادم حاجی عبداللہ امرتسری کو حکم دیا کہ ”آج فیصلے کی تاریخ ہے، زردہ پلاؤ کی دیگیں چڑھا دو“ حاجی صاحب نے عرض کیا کہ ”بری ہونے کا فیصلہ ہو جائے تو دیگیں چڑھائیں گے“۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
”تم ابھی سے کام شروع کردو، اللہ تعالیٰ بری کرے گا“۔
چنانچہ انگریز جج نے باعزت بری ہونے کا فیصلہ سنایا تو حق کا بول بالا اور دشمنوں کا منہ کالا ہو گیا۔ جب فیصلے کی اطلاع حضرت امیر ملت کو پہنچائی گئی تو آپ کے ساتھ سب لوگ سجدہ شکر بجا لائے۔ خوشیاں منائی گئیں، خیرات کی گئی۔ سارا دن اور رات زردہ پلاؤ کا عام لنگر جاری رہا۔
جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا جاچکا ہے کہ حضرت امیر ملت قدس سرہ نے بادشاہی مسجد لاہور کے جلسہ میں اعلان فرمایا تھا کہ ”اگر مرزائی اپنے دین کو سچا ثابت کردیں تو پانچ ہزار روپے انعام دوں گا“۔
یہ اعلان اخبارات میں بھی شائع ہوا اور اشتہارات کی شکل میں بھی عام کیا گیا۔ مگر کبھی کسی نے انعام حاصل کرنے کی جرات نہ کی۔ البتہ ایک دفعہ مرزائیوں کی طرف سے اشتہار تقسیم کیے گئے کہ ”ہم مسلمان ہونا ثابت کرتے ہیں، پہلے تم روپیہ بینک میں جمع کراؤ“ اس وقت حضرت اقدس علی پور سیداں سے سیالکوٹ تشریف لے جارہے تھے۔ جب ٹرین سیالکوٹ اسٹیشن پر پہنچی تو بہت سے اشتہار اس سیکنڈ کلاس کے ڈبے میں ڈال دیے گئے۔ جس میں آپ سفر فرما رہے تھے۔ اشتہار دیکھا تو مطالبہ کا علم ہوا۔ چنانچہ دوسرے دن ہی بینک میں روپیہ جمع کروا دیا گیا۔ مگر مرزائیوں کو میدان میں آنے کی جرات نہ ہوسکی۔
انجمن خدام الصوفیہ ہند کے سیکرٹری جنرل ماسٹر خواجہ محمد کرم الہی نے ۱۴ دسمبر ۱۹۲۸ء کو روزنامہ ”سیاست“ لاہور میں ایک طویل بیان شائع کیا، جس میں تحریر کیا تھا کہ:
”مرزا صاحب کی جماعت ابتداء سے حضرت قبلہ عالم روحی فداہ (حضرت امیر ملت) اور آپ کے غلاموں کی مخالفت پر کمربستہ رہی ہے۔ ۱۹۲۶ء کے سالانہ جلسہ انجمن خدام الصوفیہ کے موقعہ پر مرزا قادیانی کے چند معتقد علی پور شریف آئے۔ ان کی نیت فساد اور شرارت کی تھی۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے مرزا کے اعتقادات اور الہامات کا ذکر کرنا شروع کر دیا۔ ایک مولوی صاحب نے جلسے میں مرزا کے اعتقادات کی تردید کی۔ ایمان کی حقیقت بیان کی اور مسئلہ ختم نبوت پر مکمل روشنی ڈالی۔ اس موقعہ پر حضرت قبلہ عالم امیر ملت
نے اعلان فرمایا کہ مرزا کے ایمان کو صحیح ثابت کرنے والے کو دس ہزار روپے انعام دیا جائے گا“ اس کے بعد سے سیالکوٹ کی مرزائی جماعت اور حضرت قبلہ عالم کے غلامان سیالکوٹ کے مابین اشتہار بازی ہوتی رہی۔ اب ان کے مطالبہ پر ہم نے دس ہزار روپے امپریل بینک سیالکوٹ میں جمع کرا کے اعلان کر دیا ہے اور دعوت دے دی ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود‘ مرزا کے ایمان کو سچا ثابت کرے مگر مخالفین اس اعلان کے بعد سے خاموش ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سب کو سکتہ ہو گیا ہے۔ کوئی سامنے نہ آیا جو اپنا مدعا ثابت کر سکتا اور اتنا بڑا انعام حاصل کرتا“۔
اس تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرزا اور ان کے حواریوں کو کبھی بھی سامنے آکر اپنا موقف اور عقیدہ ثابت کرنے کی جرات نہ ہو سکی اور ہمیشہ حق کا بول ہی بالا رہا۔
حضرت امیر ملت قدس سرہ کی رد مرزائیت کے لیے خدمات کا اعتراف خود انصاف پسند مرزائیوں نے بھی کیا ہے۔ آپ کے نبیرۂ اعظم جوہر ملت حضرت پیر سید اختر حسین شاہ صاحب (ف۱۹۸۰ء) رحمۃ اللہ علیہ روایت فرماتے ہیں کہ:
”ایک بار ریل میں ایک سینئر سب جج میرے ہم سفر تھے۔ وہ مرزائی تھے۔ انہوں نے باتوں باتوں میں کہا کہ ”ہندوستان میں تین طاقتوں نے بیک وقت اپنے اپنے عقائد کی تبلیغ کا کام شروع کیا تھا۔ انگریزوں نے عیسائیت کی‘ مرزا نے اپنے مذہب کی اور شاہ صاحب (امیر ملت) نے دین حق کی تبلیغ شروع کی۔ انگریز کے پاس بہت زیادہ دولت‘ طاقت اور حکومت تھی۔ مرزا نے بھی چندہ کر کے بڑی دولت جمع کر لی تھی اور تنخواہ دار مبلغین کی ایک مستقل جماعت قائم کی تھی۔ اس کے برعکس شاہ صاحب اکیلے ہی سرگرم عمل تھے۔ آپ کے پاس کوئی سرمایہ بھی نہ تھا۔ آپ نے چندہ بھی نہیں کیا اور مبلغین کی جماعت کو بھی ملازم نہیں رکھا۔ مگر میں اپنے سیالکوٹ کے علاقے ہی پر غور کرتا ہوں تو نظر آتا ہے کہ بدو ملہی کا صرف ایک زمیندار سدھ صاحب عیسائی ہوا ہے اور چودھری عنایت اللہ‘ ترگ کا ذیلدار اور میرے والد صاحب اور صرف چند گھر گھٹیالیاں کے
مرزائی ہوئے ہیں۔ علاقے کے باقی تمام لوگ جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں، شاہ صاحب کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور اپنے دین پر قائم رہے"۔
حضرت جوہر ملت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس کی تقریر سن کر کہا: ”یہ اللہ کی دین ہے‘ جو کوئی اللہ کے بھروسے پر کام کرتا ہے اور اسباب ظاہر کا پابند نہیں ہوتا‘ اللہ تعالیٰ اسے کامیاب فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: الا ان حزب الله هم الغالبون ”آگاہ رہو کہ بے شک خدا کی جماعت ہی کو غلبہ حاصل ہوا کرتا ہے“۔
آپ کی ان بے مثال مذہبی اور دینی خدمات سے متاثر ہو کر حضرت صاحبزادہ فیض الحسن شاہ صاحب سجادہ نشین آلو مہار شریف ضلع سیالکوٹ (ف ۱۹۸۴ء) نے یوں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ”حضرت امیر ملت قبلہ عالم رحمتہ اللہ علیہ کی نوجوانی کے زمانے میں تمام ملک ہندوستان میں کفر و ظلمت کا دور دورہ تھا اور اسلام کو کسی ایسی اولوالعزم ہستی کا انتظار تھا جو تاریکیوں کو مٹا کر نور ایمان سے دلوں کو روشن کر دے۔ کفر و الحاد کا عقاب ہر طرف شکار کی تلاش میں گرم پرواز تھا اور ڈرے سہمے کلمہ گو گوشہ نشینی میں عافیت سمجھ رہے تھے۔ اگر ایمان کی بجلی کبھی گمراہی کے تاریک پردوں کو چاک کرتی‘ تو اپنی خیرہ چشمی کی بدولت خلقت اس روشنی سے فیض پانے سے محروم رہتی۔ عوام الناس‘ عادات و اخلاق اور اعمال و افعال کے لحاظ سے کفر میں ایسے رنگے ہوئے تھے کہ اسلامی شان و امتیاز سے یکسر بیگانہ تھے۔ غیر اسلامی رسوم و شعائر کو دین و ایمان سمجھ بیٹھے تھے اور صبغۃ اللہ کے خداوندی رنگ کا ان کو احساس ہی نہ رہا تھا"۔
کافرانہ رواج اس قدر عام تھے کہ بے چاروں کو خدا‘ رسولؐ کی تعلیمات سے یکسر بیگانگی تھی۔ کفر و شرک کے پجاری رشد و ہدایت سے نبرد آزما تھے اور ہندوستان سے اسلام کا نام مٹا دینے پر کمر بستہ۔ غرض پورا برصغیر شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک‘ اسپین میں اسلام کے آخری دور سے مماثل نظر آتا تھا۔
"ایسے وقت میں جب کہ روشیں ویران اور آبجوئیں خشک ہو چکی تھیں کہ اچانک ابر رحمت نمودار ہوا۔ گلزار دو عالم میں آثار حیات ہویدا ہوئے۔ اس کا تقاطر بہار آفرین اور مردہ زمین کو حیات جادواں بخشنے والا تھا۔ انسانیت کے پژمردہ چہرے پر رنگ و شباب نکھرنے لگا۔ باد خزاں کے ہزیمت خوردہ درختوں کی عریاں شاخوں کو از سر نو خلعت برگ و بار عطا ہوئی کہ وہ آفتاب عالم طلوع ہوا۔ اس نیر اعظم نے شب و روز سفر کی صعوبتیں برداشت کر کے ' ان سرنگوں مسلمانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کو بینا و روشن کر دیا اور ان کے ظلمت کدوں میں پہنچ کر ان کے تاریک ترین گوشوں کو منور و ضوفشاں کر دیا۔ ان سیاہ ذروں کو تابندہ ستارے بنا دیا۔ اپنی تمازت عالم سے پژمردہ دلوں کو گرمایا اور تازہ خون پیدا کیا۔ خوابیدہ احباب کو جگایا اور ہوشیار کیا اور میدان عمل میں لا کھڑا کیا اور ان سے کام لیا۔ حالانکہ اس وقت نہ کوئی واعظ تھا نہ وعظ سننے والا۔ نہ جلسہ تھا نہ جلوس ' نہ انجمن تھی نہ کارکن۔ صرف حضرت امیر ملت قبلہ عالم رحمتہ اللہ علیہ ہی سب کچھ تھے اور آپ نے یکہ و تنہا احیاء دین کا بیڑہ اٹھایا تھا"۔
رد مرزائیت کے بارے میں حضرت امیر ملت قدس سرہ کی خدمات جلیلہ کی چند جھلکیاں آپ نے ملاحظہ فرمائی ہیں۔ افسوس کہ مواد کی عدم فراہمی کے سبب تفصیل نہیں دی جا سکی ورنہ آپ کی خدمات کا احاطہ کرنے کے لیے کئی دفتر درکار ہوتے۔ برصغیر میں
(۶۸)
حضرت امیر ملت کی ہی وہ واحد شخصیت ہے ' جس نے میدان عمل میں مرزائیت کا مقابلہ کر کے اس کا ناطقہ بند کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائی سب سے زیادہ دشمنی کا مظاہرہ بھی آپ کے ساتھ ہی کرتے تھے ' اور لوگوں نے بھی قادیانی فتنہ کی سرکوبی اور بیخ کنی کے لیے کام کیا ہے مگر ان کا کام جزوی ہے۔ کسی نے کتاب لکھ دی ' کسی نے ایک آدھ جلسہ سے خطاب کیا مگر کلی کام صرف اور صرف حضرت امیر ملت قدس سرہ کا ہے۔ پس پردہ رہ کر کام کرنا اور بات ہے ' میدان میں آکر نعرہ مستانہ لگانا اور چیز ہے۔ حکیم الامت اقبال نے سچ ہی تو کہا ہے:
ملا کی اذاں اور ہے مجاہد کی اذاں اور
مرزائی آپ سے اس حد تک مخالفت و مخاصمت رکھتے تھے کہ انہوں نے آپ کی مخالفت کا کوئی موقعہ بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ فتنہ ارتداد کے خطرناک موقع پر حضرت امیر ملتؒ نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے تھے، وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ فرقہ مرزائیہ نے اس فتنے میں حد درجہ بے غیرتی کا ثبوت دیا تھا اور اپنی معاندانہ کارروائیوں سے فساد کے اندر ایک اور فساد برپا کر دیا تھا۔ جو اسلامی جماعتیں شدھی کو روکنے میں سرگرم عمل تھیں، ان سب سے بدبخت مرزائیوں کی مخاصمت تھی لیکن خاص طور پر وہ حضرت امیر ملت کے دشمن تھے اور آپ کے ارسال کردہ مبلغین کے لیے زحمتوں اور مزاحمتوں کا سبب بنتے تھے مگر خدا کے فضل سے وہاں بھی ہر موقع پر ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آپ کے مبلغین باوجود ان کی مخاصمت و مخالفت کے کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
فتنہ ارتداد کے دور میں بھی آپ متواتر رد مرزائیت میں مصروف کار رہے۔ جھوٹے نبی کی جھوٹی نبوت پر ضرب کاری لگاتے رہے۔ کیونکہ آپ کی زبان اقدس پر ہر وقت قال اللہ اور قال الرسول ہی ہوتا تھا۔ تو پھر بھلا ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کیسے برداشت کر سکتے تھے۔ ۲ دسمبر ۱۹۲۴ء کو اکبری مسجد آگرہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
- ۱۔ "حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت سرور کائنات ﷺ تک تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے۔ سب کے اکہرے (مفرد) نام تھے۔ دہرے مرکب نام نہ تھے۔ مثلاً آدم، شیث، نوح و غیرہ۔ مگر مرزائی فرقہ کے بانی غلام احمد کا نام دہرا ہے۔ ایک غلام اور دوسرا احمد۔ دو لفظ ہیں۔ بھلا جب ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں میں سے کسی کا نام بھی دہرا نہیں ہے تو غلام احمد دہرے نام کا آدمی پیغمبر کیسے بن گیا۔
- ۲۔ انبیاء علیہم السلام اور خصوصاً حضرت سرور کائنات ﷺ کا کوئی استاد نہ تھا۔ اگر کوئی استاد ہوتا تو اس کی تعظیم واجب ہوتی مگر یہ خاصان خدا خود ہی سب
سے زیادہ واجب التعظیم تھے۔ اس لیے کوئی ان کا استاد ہی نہ ہوا جس کی تعظیم کرتے۔ ہاں! غلام احمد کا استاد گل شاہ تھا۔ اس سے بھی ثابت ہوا کہ اس کا دعویٰ نبوت جھوٹا اور باطل ہے۔
- ۳۔ سب نبیوں نے چالیس سال کی عمر میں نبوت کا دعویٰ کیا اور ایک دم
دعویٰ کیا۔ تدریجی دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد نے اول کہا ' میں محدث ہوں' پھر مجدد بنا' پھر مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر مسیح بن گیا اور نبوت کا دعویٰ کر دیا۔ لعنته الله على الكاذبين"۔
اسی طرح ۱۹۰۸ء میں بھی حضور اقدس امیر ملت قدس سرہ نے جھوٹے نبی کی شناخت کے عنوان سے جو ارشادات فرمائے تھے' وہ آج تک قادیانی جماعت کی چھاتی کا کابوس بنے ہوئے ہیں۔ پڑھئے اور مرزائیت پر دو دو حروف بھیجتے جائیے۔
- ۱۔ کسی نبی کا نام مرکب نہیں ہوا' مفرد ہی رہا۔ مثلاً نوح' عیسیٰ' موسیٰ' یحییٰ' ادریس'
جس کا نام مرکب ہو' وہ جھوٹا ہے۔
- ۲۔ کسی نبی کا دنیا میں کوئی استاد نہ تھا۔ اگر کوئی دنیا کے استاد سے سبق سیکھ کر پیغمبری کا
دعویٰ کرے' وہ جھوٹا ہے۔
- ۳۔ جس پیغمبر پر وحی نازل ہوئی' وہ وحی نازل ہوتے ہی اپنی نبوت کا اعلان کر دیتا تھا۔ جو
شخص سیڑھی در سیڑھی مدارج طے کر کے آخر میں نبوت کا دعویٰ کرے' وہ جھوٹا نبی ہے۔
- ۴۔ کسی نبی نے عمر بھر جھوٹ نہیں کہا۔ جو شخص ایک دفعہ بھی جھوٹ بولے' وہ جھوٹا
نبی ہے۔
- ۵۔ ایک نام کے دو پیغمبر نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتے ہیں۔ غلام' غلام ہی ہے' اور آقاء
آقا ہی ہے۔ غلام' آقا کی برابری نہیں کر سکتا۔ (یاد رہے کہ مرزا کا پورا نام مرزا غلام احمد قادیانی تھا مگر اس نے حضور سید عالم ﷺ کی غلامی سے منحرف ہو کر دعویٰ نبوت کر دیا۔ قصوری)
الغرض حضرت امیر ملت قدس سرہ' تادم واپسیں مرزائیت کی تردید میں ہمہ وقت مشغول و مصروف رہے۔ ۱۹۵۱ء میں آپ کی رحلت ہوئی اور ۱۹۵۳ء میں ملکی سطح پر تحریک
ختم نبوت چلی۔ اس تحریک میں آپ کے فرزند اکبر سراج الملت حضرت پیر سید حافظ محمد حسین شاہ صاحب (ف ۱۹۶۱ء) رحمتہ اللہ علیہ سجادہ نشین اول اور دیگر صاحبزادگان کے علاوہ آپ کے نبیرہ اعظم جوہر ملت حضرت پیر سید اختر حسین شاہ صاحب (ف ۱۹۸۰ء) رحمتہ اللہ علیہ نے بھر پور کردار ادا کیا۔ ضیغم اسلام مجاہد ملت حضرت مولانا عبد الستار خان نیازی مدظلہ نے اس تحریک میں تاریخی کردار ادا کیا اور سزائے موت کے حقدار ٹھہرائے گئے۔ (یہ سزائے موت بعد میں عمر قید میں تبدیل ہو گئی تھی) یہ بھی حضرت امیر ملت قدس سرہٗ کے فیض نظر کا اثر تھا۔ کیونکہ حضرت نیازی صاحب مدظلہ نے تحریک پاکستان کے دور میں اور پاکستان بننے کے بعد تحریک نفاذ اسلام میں حضرت امیر ملت قدس سرہ کے زیر کمان سرفروشانہ خدمات انجام دے کر حق گوئی و بے باکی اور سرفروشی کا سبق سیکھا۔
۱۹۷۴ء میں جب تحریک ختم نبوت ساحلِ کامیابی سے ہمکنار ہوئی‘ ملک کے سب سے بڑے با اختیار ادارے‘ قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تو میں نے چشم تصور سے دیکھا کہ حضرت امیر ملت قدس سرہ کی روح انور اس دن خوشی سے پھولے نہ سماتی تھی اور اپنی اولاد امجاد سے ارشاد فرما رہی تھی کہ:
”میرے بیٹو! میں نے زندگی بھر حق و صداقت کا ساتھ دیا ہے اور جابر سے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ لہٰذا تم ہر اس تحریک کو کچل دو‘ ہر اس جماعت کے خلاف جہاد کرو اور ہر اس شخص کو کیفر کردار تک پہنچا دو جو ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتا‘ جو جناب رسالت مآب ﷺ کی نبوت پر ڈاکے ڈالتا ہے۔
میرے بچو! تم پر تحفظ ختم نبوت کا دوہرا فرض ہے۔ کیونکہ تم امت رسولؐ ہو اور آل رسولؐ بھی۔ جاؤ میدان عمل میں نکل کر ہر اس ہاتھ کو قلم کر دو جو توہین رسالتؐ کے لیے اٹھتا ہے‘ ہر اس زبان کو کاٹ کر رکھ دو جو گستاخی رسولؐ کے لیے کھلتی ہے اور ہر اس تنظیم کو ملیا میٹ کر دو جس کا مقصد دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کرنا نہیں ہے۔
اٹھو! کمر ہمت باندھ کر نعرۂ تکبیر و رسالت بلند کرنے کے لیے تن من دھن
کی بازی لگا دو۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں"۔
(از قلم محمد صادق قصوری)
ریاست چنبہ میں مرزائیت کی ذلت
۱۹۳۹ء کے دم توڑتے دنوں کا ذکر ہے مولانا مظہر علی اظہر اور راقم ایک جلسہ میں شرکت کے لیے ڈلہوزی گئے۔ وہاں ایک آدمی ملنے آیا اور کہنے لگا:
”میرا نام غلام محمد ہے۔ میں ریاست چنبہ کا رہنے والا ہوں۔ آج کل لاہور میں ملازمت کر رہا ہوں۔ ریاست چنبہ میں ان دنوں مرزائی وہاں کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب کبھی بشیر الدین محمود یہاں آتا ہے تو چونکہ دریائے راوی پر رسے کا پل ہے‘ لہٰذا مسلمان اسے پالکی میں بٹھا کر دریا پار کراتے ہیں۔
آپ کی جماعت اس فرقہ باطلہ کا تعاقب کر رہی ہے۔ لہٰذا آپ اس طرف توجہ دیں۔ پیشتر ازیں میں مولانا محمد بخش مسلم اور مولانا ابراہیم سیالکوٹی سے مل چکا ہوں مگر ان کے مطالبات کا میں متحمل نہیں۔ میری تنخواہ ایک سو روپے ماہوار ہے۔ یہ ہیں وہاں کے حالات جس سے آپ کو آگاہ کر دیا ہے۔ اب آپ جیسے مناسب سمجھیں"۔
اجنبی کی گفتگو پر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد مولانا مظہر علی نے مجھ سے پوچھا:
”کیوں بھئی جانباز! کیا رائے ہے؟“
”مولانا! چلو چلیں۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا"۔
اس وقت صبح کے سات بجے تھے۔ ناشتہ سے فارغ ہو کر چلنے لگے تو اجنبی نے کہا:
”ٹھہریے میں سفر کے لیے گھوڑے کرائے پر لے آؤں۔۔۔۔۔“
بھائی! سفر کتنا ہے؟ کوئی پندرہ میل۔۔۔۔
تو بس ٹھیک ہے۔ ہم پیدل چلیں گے۔ غلام محمد نے حیرت سے کہا پیدل؟ جی ہاں پیدل۔۔۔۔ ٹھیک آٹھ بجے ہم ڈلہوزی سے چل پڑے۔
پہاڑی راستے کو موسم بہار نے اس قدر سجا رکھا تھا کہ ارض بہشت کا گمان ہونے لگتا۔ کہیں آبشاریں بہہ رہی تھیں۔ ان کے شور سے یوں لگتا جیسے یہ ملہار گا رہی ہوں۔ کہیں کہیں پہاڑی دوشیزائیں حسن بے حجاب کیے بھیڑ بکریاں چراتی دکھائی دیں۔ بعض موڑ سانپ کی طرح بل کھاتے ہمارا راستہ کاٹ رہے تھے۔ پہاڑیوں کی بلندیوں پر خودرو پھول دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے یہ ہمارے لیے گلدستے لیے کھڑے ہیں۔ کئی جگہیں آئیں جہاں ساون کے برستے بادلوں نے سماں باندھ رکھا تھا۔ اس رنگ و بو سے گزرتے ہوئے ہم مغرب کے قریب دریائے جہلم پر باندھے ہوئے رسے کے پل سے گزر کر ریاست میں داخل ہوئے۔ شام کے دھندلکے رات کے خوف سے دم توڑ رہے تھے کہ ہم میزبان کی رہائش گاہ پر پہنچے۔
پہاڑی طرز تعمیر کے مکان کی آرائش سے صاحب مکان کے حالات کا اندازہ ہو رہا تھا۔ تکلف کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ مکان سے باہر کا نظارہ بھی دیدنی تھا۔ پہاڑوں کی نشیب و فراز پر رات کے چراغوں نے دیپ مالا سجا رکھی تھی۔
دن بھر کی تھکان نے اجازت نہ دی کہ ریاست سے متعلق معلومات حاصل کرتے۔ سادہ مگر بے تکلف کھانا کھا کر ایسے بے خبر سوئے کہ موذن پکارتا ہی رہ گیا۔ الصلوٰہ خیر من النوم اس پر غصہ تو آیا کہ کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا مگر اس کی آواز کو حقیقت جان کر چپ ہو گئے۔ نماز فجر سے فارغ ہو کر میزبان سے دریافت کرنا چاہا کہ یہاں پر مرزائیوں کا طریق کار کیا ہے؟ ”پہلے بازار سے ناشتہ لے آئیں پھر عرض کروں گا۔ جانباز صاحب! آپ میرے ساتھ چلیں، کچھ باتیں راستے میں ہو جائیں گی“ میزبان نے دو چار سیکنڈز میں یہ سارا کچھ کہہ دیا اور مجھے ساتھ لے کر چل پڑا۔ مولانا مظہر علی اظہر نے یہ موقعہ غنیمت جانا اور سو گئے۔
اب اس تمہید کا اصل سنئے۔
کہانی مختصر سی ہے مگر تمہید طولانی
راستے میں میزبان نے ڈلہوزی والی گفتگو ذرا تفصیل سے سنائی کہ یہاں مسلمانوں کی کوئی تنظیم نہیں۔ انجمن اسلامیہ ہے مگر اس کا صدر مرزائی ہے۔ آج تک کوئی عالم دین یہاں نہیں آیا جو مرزائی اور مسلمانوں کے درمیان تفریق بتا سکتا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ آپ لوگ آئے ہیں۔ راجہ ہندو ہے اور آبادی بھی زیادہ غیر مسلم ہے۔ وہ یہ بیان کر رہا تھا اور میں حدود اربعہ دیکھ رہا تھا۔ ایک گول چوک کے ارد گرد دکانیں اور سامنے کی طرف راجہ کا محل تھا۔ اتنے میں میزبان نے کہا ”لیجئے ناشتہ کی دکان آگئی“ بہت بھیڑ تھی۔ ہم ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ اس بھیڑ میں کھڑے ایک آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میزبان نے کہا ”یہ ہے مرزائیوں کا لیڈر، اس کا نام غلام نبی ہے“۔
قریباً ساڑھے چھ فٹ قد، فربہ جسم، لمب چوسی مرزائی ٹائپ داڑھی۔ ممکن ہے یہ بھی ناشتہ لینے آیا ہو۔ اسے دیکھتے ہی میرے تیور چڑھ گئے اور میں اس کے گلے پڑنے کا بہانہ تلاش کرنے لگا۔
جوانی دیوانی ہوتی ہے۔ کہیں مقصد کی راہ پر گامزن ہو تو یہ شراب دو آتشہ ہو جاتی ہے۔ ان دنوں اپنے اندر بھی اسی شراب کی سی مستی تھی کہ جس کے سامنے آدمیت کے تمام راستے ختم ہو جاتے ہیں اور پھر نبیؐ کے دشمن کے سامنے۔
”ہم بہت دیر سے کھڑے ہیں۔ اگر آپ پہلے ہمیں فارغ کر دیتے“ میں نے طوفانی سے ذرا تیز لہجے میں کہا۔
”نہیں بابو صاحب! آپ سے پہلے یہ آئے ہیں“ (مرزائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) حالانکہ وہ ہمارے بعد آیا تھا مگر مرزائی گروہ کا لیڈر تھا۔ اور لوگ اسے احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اس لیے دکاندار نے اسے ہم پر ترجیح دی۔
”نہیں یار! پہلے تو ہم آئے ہیں“۔
دکاندار: خیر .... سودا پہلے انہیں ملے گا۔
دکاندار کا یہ کہنا تھا کہ اپنا پارہ احراری درجے پر پہنچ گیا۔ میں نے مرزائی لیڈر کو براہ راست گالیاں دینا شروع کر دیں۔ اس کی ذات کو نہیں بلکہ مرزا غلام احمد اور بشیر الدین
محمود کو ٹھیٹھ پنجابی زبان میں۔ ماں بہن، بیٹی کی ایک ساتھ کوئی ہزار گالیاں دے ڈالیں اور ساتھ ہی کہا: ”میں نے تیرے جھوٹے اور کذاب نبی اور تیرے مرزا کے خلیفے کو بے نقط گالیاں دی ہیں۔ تو میرے لیڈر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو ایک گالی دے کر دیکھ تو تیرا سر نہ پھوڑ دوں“۔
یہ کہتے ہوئے میں نے حلوائی کی دکان سے کھرپہ اٹھا لیا۔ یہ ہنگامہ سن کر لوگ بھی جمع ہو گئے۔ میں نے مرزا غلام احمد اور بشیر الدین محمود کو پھر گالیاں دینا شروع کر دیں۔ ہجوم کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
”آپ سے تو غازی علم الدین بہتر نکلا جو خاتم الانبیاء کی توہین برداشت نہ کر سکا۔ آپ ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے دشمنوں کو سر پر چڑھائے ہوئے ہیں“۔
ضمیر مجرم اور ایمان پر کفر قابض ہو تو آدمی بزدل ہو جاتا ہے۔ مرزائی لیڈر میرے سے کئی گنا طاقتور اور ماحول بھی اس کا ہمنوا تھا۔ میں مسافر ہونے کے علاوہ اکیلا تھا۔ میرا میزبان ایک طرف کھڑا کانپ رہا تھا۔ اتنے میں دکاندار نے کہا:
”پھڑ اوئے منڈیا اپنا ناشتہ ۔ تے چل ٹردا ہو‘ توں کی بلا ایں“۔
ہجوم میرا منہ تکتا رہا اور میں ناشتے کا سامان لے کر ڈیرے پر آیا تو میزبان نے مولانا مظہر علی کو ساری کہانی سنا دی۔ مولانا کہہ رہے تھے:
”بھئی احرار ہے نا اور جانباز بھی۔ خیر کوئی بات نہیں اللہ وارث ہے“۔
رات کے جلسے کی منادی کا پروگرام بنایا۔ حلوائی کی دکان کے برابر بساطی کی دکان تھی۔ منادی کا سامان یہیں تھا۔ مگر دکاندار غیر حاضر تھا۔ کچھ دیر ادھر ادھر تلاش کیا۔ اتنے میں ایک راہ گیر نے پوچھا ”کیا بات ہے؟“ میں نے مدعا کہا‘ تو وہ بولا ”صبح تم نے جس جوش کا مظاہرہ کیا‘ اس سے ڈر کر دکاندار غائب ہو گیا ہے“ کافی دیر انتظار کے بعد مایوس لوٹنے لگا تو چند قدم پر ایک تنور والے نے ہمیں روک کر پوچھا ”کیا بات ہے؟“ راقم ”احرار کے دو لیڈر یہاں آئے ہوئے ہیں۔ وہ مرزائیوں کے خلاف یہاں جلسہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر منادی کا سامان نہیں مل رہا“۔
”کون صاحب آئے ہیں“ میں نے نام بتائے۔ ”اچھا‘ اچھا۔ میں انہیں جانتا ہوں“
میں سیالکوٹ کا رہنے والا ہوں۔ یہاں مرزائیوں کی اکثریت ہے۔ جلسہ مشکل سے ہو گا۔ خیر.... منادی ہو جائے گی۔ آپ جائیں“۔
سہ پہر کے بعد دکان سے فارغ ہو کر وہ ایک ایک کے کان میں جلسہ کی اطلاع دیتا گیا۔ تھی تو جامع مسجد، مگر بہت ہی مختصر۔ تاہم رات مجمع کافی ہو گیا۔ میزبان کے بھتیجے نے قرآن حکیم کی تلاوت کی۔ میں نے نظم شروع کی۔ ابھی مصرعہ اٹھایا ہی تھا کہ ایک شخص نے آگے بڑھ کر میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا اور گالیاں دیتے ہوئے کہا، تم کہاں سے آئے ہو، ریاست کا امن خراب کرنے۔ سلامتی چاہتے ہو تو چلے جاؤ ورنہ تمہاری لاشیں دریا میں پھینک دی جائیں گی“۔
بڑی کوشش کی کہ کچھ کہہ سکیں۔ مولانا مظہر علی اٹھے۔ انہیں بھی بدتمیزی سے بٹھا دیا گیا۔ بہر حال جلسہ نہ ہو سکا۔
احرار کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا۔ خیر..... اس کا افسوس رہا اور رات بھر رہا۔ دوسری صبح واپسی کے لیے میزبان ہمیں پوچھے بغیر دو گھوڑے کرائے پر لے آیا۔ دریا کے اس پار پہنچ کر سوار ہونا تھا۔ چند قدم چل کر پہاڑ کی اوٹ سے دیکھا تو لٹھ بند مرزائی کھڑے نظر آئے۔ اس لمحے ابلیس نے دل کو دہشت زدہ کرنا چاہا کہ اب ہماری خیر نہیں۔ لیکن ایمان اور عزم نے کہا کچھ نہیں ہو گا۔ آیت الکرسی پڑھ کر چلتے جاؤ۔ یہ اللہ کا کلام تھا اس سے دشمن سے دفاع لازمی تھا۔ مگر بظاہر یہ ہوا کہ جیسے میں نے لٹھ بند مرزائی دیکھے، اپنے میزبان سے بلند آواز میں کہا ”غلام محمد! کل میں نے آپ کو اپنا ریوالور درست کرنے کو کہا تھا۔ ٹھیک ہو گیا ہے؟“
غلام محمد (میری بات سمجھ کر) آپ کے بہانے میں نے بھی اپنا پستول مرمت کر لیا ہے۔ اس کی لبلبی ذرا ڈھیلی تھی۔
میں: میرا ریوالور بتیس (۳۲) بور کا ہے اور جرمنی کا ہے۔
غلام محمد: میرا درے کا ہے۔ میں نے گزشتہ سال ایک پٹھان سے خریدا تھا۔
غلام محمد: جی دونوں لوڈ ہیں۔
یہ باتیں ہم بلند آواز میں کرتے ہوئے مرزائیوں کے قریب سے اس طرح گزر گئے
جیسے انہیں دیکھا ہی نہیں۔ حالانکہ ہمارے پاس سوئی تک نہ تھی۔ مگر پستول اور ریوالور کا سن کر وہ خوف کھا گئے۔ اگر ان کے دلوں میں کفر نہ ہوتا تو ممکن ہے ہماری زندگی کے یہ آخری لمحات ہوتے۔ مولانا مظہر علی ہماری گفتگو پر مسکراتے ہوئے آگے آگے چل رہے تھے۔
خالق اور مخلوق کی سوچ کا مقام اپنا اپنا ہے۔ انسان ذرا سی خفت پر بوجھل ہو کر آنسو بہانے لگتا ہے۔ اس کے پس منظر میں اس کی کامیابی کا کتنا راز ہے‘ اسے وہ نہیں دیکھ سکتا۔ یہ صرف خالق کائنات ہی جانتا ہے۔
جس عزم سے ہم ریاست چنبہ گئے تھے اور وہاں جو کچھ ہوا‘ اس کا ایک پہلو تو حلوائی کی دکان پر میری بد کلامی ہے۔ کیونکہ خالق کائنات کا حکم ہے لا اکراہ فی الدین بلاشبہ مجھے اپنی بد کلامی پر ندامت ہے لیکن دوسری طرف ایک نابینا صحابی عبداللہ بن ام مکتومؓ نے ایک گستاخ رسول کو قتل کر دیا۔ جب اس کی اطلاع مسجد نبوی میں سرکار دو عالم ﷺ تک پہنچی تو فرمایا عبداللہ بن ام مکتوم نے ٹھیک کیا ہے۔ اسی پر حضرت صدیق اکبرؓ نے عمل کرتے ہوئے مسیلمہ کذاب کو قتل کرایا۔
ان واقعات سے میری ندامت کے آنسو دھل گئے۔ کیونکہ رواں حالات میں گستاخ رسول کی یہی سزا ممکن تھی۔ دوسری قابل ذکر بات جلسہ کی ناکامی ہے۔ بظاہر یہ رنج دیر تک رہا۔ لیکن جیسے ہی (بلا تشبیہ) صلح حدیبیہ کا واقعہ ذہن میں آیا۔ اس سے سب کچھ بھول گیا اور نتیجہ رضائے الٰہی پر چھوڑ دیا۔ کیونکہ یہ کارروائی اسی کے محبوب حقیقی اور مخبر صادق کے دشمن کے خلاف ہی تو تھی۔
اس واقعہ کو ہوئے قریباً دو ماہ گزرے کہ ایک دن بازار میں سر راہ غلام محمد سے اچانک ملاقات ہو گئی اور وہ بڑے تپاک سے ملے اور مبارک باد دیتے ہوئے کہا ”جانباز بھائی! آپ کی گالیاں بہت کام آئیں۔ ہوا یہ کہ میں تو آپ کے ساتھ ڈلہوزی اور پھر لاہور واپس آگیا تھا۔ ایک ہفتہ بعد میرا بھتیجا حافظ زبیر لاہور آیا تو اس نے سنایا کہ آپ کی واپسی کے بعد چنبہ کے چند معززین‘ جن میں کچھ تعلیم یافتہ مرزائی بھی تھے‘ نے ایک اجلاس بلایا جس میں مرزائی جماعت کے لیڈر (جسے آپ نے گالیاں دی تھیں) کو خاص طور پر طلب کیا
گیا تھا۔
غلام نبی! تمہیں یہاں جماعت احمدیہ کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں سرعام حلوائی کی دکان پر جو واقعہ پیش آیا، اس کے متعلق تیرا کیا جواب ہے؟
(مرزائی لیڈر آنسو بہاتے ہوئے) میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ میں شرمسار ہوں۔
دوسرا سوال: کئی برسوں سے تیرے سمجھانے اور بتانے پر یہاں کے مسلمانوں نے احمدیت کو قبول کیا۔ اس کے بانی کو پیغمبروں کا درجہ دیا۔ اس کے اصولوں کی پیروی کی‘ اس کے بیٹے کو سر آنکھوں پر بٹھایا مگر پرسوں ایک اجنبی نوجوان نے بانی احمدیت کو نام لے کر جس طرح کی گندی اور فحش گالیاں دیں اور تو خاموشی سے سنتا رہا، نیز اس نے تمہیں چیلنج کرتے ہوئے کہا میں نے تیرے جھوٹے اور کذاب نبی کو گندی گالیاں دی ہیں۔ تو میرے لیڈر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو ایک گالی دے کر دیکھ‘ میں تیرا پیٹ پھاڑ دوں گا۔۔۔۔ تجھے اس پر کوئی غیرت آئی؟
تیسرا سوال: آئندہ تیرا کیا ارادہ ہے؟
جواب: میں یہاں سے جا رہا ہوں۔ آپ میری جگہ کوئی دوسرا آدمی مقرر کر لیں۔
عوام: ٹھیک ہے اپنے ساتھ جھوٹی نبوت کو بھی اٹھا کر لے جا۔ ہم اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ تیرے نزدیک اگر غلام احمد سچا نبی ہوتا تو تیری غیرت ضرور جوش میں آتی۔ یہی دلیل غلام احمد کے جھوٹا ہونے کی ہے۔ اس کے بعد سب نے از سر نو کلمہ پڑھا اور اس طرح چنبہ ریاست سے مرزائیت ختم ہو گئی۔
(”مسیلمہ کذاب سے دجال قادیان تک“ ص ۲۷۵ تا ۲۸۲‘ از جانباز مرزا)
ہر میکدہ کو بڑھ کے مسلماں کریں گے ہم (مولف)
اک انداز ناصحانہ
امیر شریعتؒ نے فرمایا:
”اگر میں آج یہ اعلان کر دوں کہ میں قائد اعظم ہوں تو کیا تم برداشت کرو گے؟“۔
سامعین نے بلند آواز سے کہا ”ہرگز نہیں“۔
امیر شریعت نے فرمایا:
”اگر تم اپنے ایک دنیاوی لیڈر کا مقام کسی دوسرے شخص کو دینے کی اجازت نہیں دیتے، تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ برطانیہ کا پٹھو، تاجدار مدینہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے یہ دعویٰ کرے کہ میں محمد ہوں“۔
اسی اصول اور ضابطے کے مطابق ہم اپنی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ مرزائیوں نے حضور پر نور ﷺ کے بعد مرزا غلام احمد کو اپنا نبی تسلیم کر کے اپنا تعلق سرکار مدینہؐ سے توڑ لیا ہے۔ اسلامی آئین کے مطابق حضورؐ کے بعد کسی دوسرے نبی کو ماننے والا مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔
مرزا بشیر الدین محمود کہتا ہے کہ موجودہ ملکی تقسیم غلط ہے۔ یہ تقسیم ختم کرانے اور دونوں ملکوں کا باہمی افتراق دور کرانے کی وہ ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس عارضی تقسیم کو کسی نہ کسی طرح ختم کیا جائے گا اور ہند و پاکستان کو پھر اکھنڈ بھارت بنایا جائے گا۔
جو آزادی ایک لاکھ ماؤں، بہنوں کی عزت و آبرو قربان کر کے اور دس لاکھ مسلمانوں کا خون بہا کر اور ایک کروڑ مسلمانوں کی خانہ بربادی کے بعد حاصل کی گئی ہے، اس کو عارضی آزادی سمجھنے والا ملک و ملت کا بد ترین دشمن نہیں تو اور کیا ہے؟“
(”حیات امیر شریعت“ ص ۴۳۵ تا ۴۳۷، از جانباز مرزا)
اس روز سے لبوں پہ ہیں تالے پڑے ہوئے (مولف)
ایک لطیفہ
راقم الحروف گوجرانوالہ سے تعلق رکھتا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں گوجرانوالہ سے میٹرک کا امتحان پاس کر کے اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔ والد صاحب کے ایک شناسا کے ہاں قیام پذیر تھا۔ رہائش کا کوئی معقول انتظام نہ تھا۔ لہٰذا پڑھائی کے لیے اکثر گورنمنٹ کالج لاہور کے قریب واقع گول باغ میں آ جاتا۔ ایک دن پڑھائی میں پوری طرح منہمک تھا کہ ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ سلام و دعا کے بعد چکنی چپڑی باتوں سے مجھے اپنا گرویدہ بنانے لگا۔ کہنے لگا کہ قرآن پاک میں یہ جو سورۂ مریم میں انی عبداللہ کا ذکر آیا ہے‘ وہ ہمارے محترم مرزا غلام احمد کے بارے میں ہے۔ میں نے از راہ تفنن کہا! نہیں نہیں یہ تو میرے والد کے بارے میں ہے۔ وہ لاحول ولاقوہ پڑھنے لگا۔ ابھی ہم بحث کے آغاز ہی میں تھے کہ دو نوجوان دوڑتے ہوئے آئے اور اس نوجوان پر پل پڑے۔ وہ فورا دم دبا کر بھاگ نکلا۔ بعد میں ان آدمیوں نے مجھے بتایا کہ یہ مرزائی ہے اور مرزائیت کی تبلیغ کے لیے بھولے بھالے نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے لیکن جب میں نے انہیں انی عبداللہ کا مذکورہ لطیفہ سنایا تو وہ بے حد محظوظ ہوئے اور مجھے تھپکی دے کر چلتے بنے۔ کہنے کا مقصود یہ ہے کہ نوجوانوں کو اس فتنہ مرزائیت سے بچنے کے لیے ہمہ تن ہشیار رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مرزائیت کے فتنہ و شر سے محفوظ رکھے۔
(”چراغ مصطفوی“ ص ۱۷۲‘ از پروفیسر چودھری محمد یوسف)
جناب مولانا ہمیشہ کی طرح ہشاش بشاش تھے
جب ہم پہنچے تو جناب سید عطاء اللہ شاہ صاحب برآمدہ میں بیٹھے کھانا تناول فرما رہے
تھے۔ چہرہ پر وہی سرخی‘ وہی تبسم‘ وہی ہنس ہنس کر باتیں کرنا اور نہایت خوش اور بشاش تھے۔ میں نے آپ کی خدمت میں پیغام مبارک باد پیش کیا۔ آپ نے فرمایا ”الحمد للہ کہ آج عطاء اللہ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ پیغام مبارک باد پہنچا“ اور اپنے مخصوص انداز میں فرمانے لگے کہ ”اس جادۂ عمل پر چلنے کے لیے بفضل خدا کئی احباب کو تیار کیا اور کئی بزرگ مجھ سے گوئے سبقت لے گئے۔ خدا کا شکر ہے کہ میں اعلاء کلمۃ الحق کرتا ہوا مسجد میں وعظ کرنے کے جرم میں ماخوذ کیا گیا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ جس شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے اسے سزا ضرور دی جاتی ہے میں اس کے لیے ہمیشہ تیار رہا ہوں“۔
(”مقدمات امیر شریعت“ ص ۱۲-۱۳‘ از سید ابوذر بخاریؒ)
نزع میں بھی گیت آزادی کے گا سکتا ہوں (مولف)
میں خوش ہوں مجھے آرام مل گیا
”بھائی تمہیں معلوم ہے کہ سال دو سال سے متواتر مسلسل کام کرتا پھرتا تھا مجھے چین نہیں آتا تھا اور یہ اضطراب اور یہ تڑپ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو عطا فرمائے۔ مجھے مطالعہ کی فرصت نہ تھی اور اب مجھے مطالعہ کے لیے موقعہ مل سکے گا۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید میں سے فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق جس قدر آیات پاک مل سکیں‘ مطالعہ کرنا شروع کر دی ہیں۔ انشاء اللہ جب جیل خانہ سے باہر آؤں گا تو ان آیات پاک کے مطالب و معارف بتا سکوں گا۔ اس وقت میرا وزن ایک من پینتیس سیر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح پھولتا ہوں“۔
(”مقدمات امیر شریعت“ ص ۱۳-۱۴‘ از ابوذر بخاریؒ)
مسلمانوں کو پیغام
میں مسلمانان پنجاب تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں کہ ابھی پنجاب کے مسلمانوں میں نماز روزہ کی پابندی اور شریعت حقہ پر چلنے کی ترویج نہیں ہوئی۔ مسلمانان پنجاب محض نام کے مسلمان ہیں۔ ہمارے صوبہ میں علمائے دین کی کمی نہیں۔ مبلغ بھی مل جائیں گے لیکن ایک بات ہے۔ وہ یہ ہے کہ میدان عمل میں اترنے سے کتراتے ہیں اور یہی مسلمان کے امتحان کا موقعہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ مذہب کی پابندی کریں اور خدا اور اس کے رسول پاک ﷺ کے احکام کی تعمیل کریں۔ اس معبود حقیقی کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ آپس میں محبت و پیار بڑھائیں۔
("مقدمات امیر شریعت" ص ۱۵ از ابوذر بخاری)
انگریز کش خطاب
مارچ کی ۲۵ تاریخ کو جمعہ کی نماز کے بعد خیر دین کی مسجد میں گیا۔ مجھے معلوم ہو گیا کہ وہاں وعظ ہو گا۔ جب میں وہاں پہنچا تو مولوی عطاء اللہ وعظ سنا رہے تھے۔ یہ فرماتے تھے کہ فرعون نے اپنے دشمن سے بچنے کے لیے جماع بندی کر دی تھی۔ انگریز تو صرف زبان بندی کرتے ہیں۔ جب ایسا ظالم بادشاہ تباہ ہو گیا تو ان کی کیا حقیقت ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ موسیٰ کو مارنے کے لیے فرعون نے حکم دیا تھا کہ جتنے بچے پیدا ہوں، قتل کر دیے جائیں۔ لیکن فرعون کو پتہ نہ تھا کہ موسیٰ گھر میں پرورش پائے گا اور اس کی داڑھی نوچے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو ان کی ماں نے صندوق میں بند کر کے ان کو دریا میں ڈال دیا۔ صندوق فرعون کے محل کے نیچے لگا۔ اس کی لڑکی نے اسے اٹھایا۔ اس میں سے ایک بچہ نکلا۔ سب دیکھ کر خوش ہوئے۔ انہوں نے دیکھا کہ دودھ پلانے کے لیے دائی منگوائی جائے۔ چنانچہ دائیاں بلائی جاتی تھیں۔ موسیٰ ان کا دودھ نہیں پیتے تھے کیونکہ ان کے بچے قتل کیے جا چکے تھے۔ پھر ایک خبر رساں نے خبر دی کہ ایک
عورت ہے‘ اسے بلایا جائے۔ چنانچہ موسیٰؑ کی والدہ کو بلایا گیا اور انہوں نے ان کا دودھ پیا اور ان ہی کے مکان پر رکھے گئے۔
اس جگہ رپورٹری کا ذکر ہوا تھا تو کہا تھا کہ رپورٹر اس زمانے میں بھی ہوتے تھے لیکن ایسے نہیں ہوتے تھے جو دس دس روپے کے لیے اپنے بھائیوں کا گلا کٹواتے ہیں۔ قیامت کے دن ان کے ہاتھ کوڑھی ہو جائیں گے۔ ان کے نامہ اعمال ان کی گردن میں ہوں گے۔ اس کے بعد ذکر کیا کہ جس طرح فرعون نے بچنے کے لیے بچوں کو قتل کرنے کی تجویز کی تھی‘ انگریزوں نے ہم کو قتل کرنے‘ تباہ کرنے کے لیے یہ تجویز کی کہ بچوں کو تعلیم دی جائے۔ اس تعلیم سے ہم اس قدر بے غیرت ہو گئے ہیں۔ روحانیت اور قومیت بالکل گم ہو گئی ہے کہ ہم نے جنگ میں اپنی گولیوں سے اپنے بھائیوں کے سینے چھیدے‘ مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کی‘ خانہ کعبہ کے غلاف میں اپنی گولیوں سے چھید کیا۔
(”مقدمات امیر شریعت“ ص ۲۷-۲۸‘ از ابوذر بخاریؒ)
زمیں کو سرخی خون شہیداں کی ضرورت ہے (مولف)
شاہ جیؒ کی نرالی شان
ایک نامہ نگار رقم طراز ہے کہ مورخہ ۱۹ اپریل ۱۹۲۱ء کی صبح مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب امرتسری پولیس کی مکمل گارڈ کے ماتحت امرتسر کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچائے گئے۔ پولیس لاٹھیوں سے مسلح تھی اور مولانا ہتھکڑی بیڑی میں مقید تھے۔ امرتسر کے ریلوے اسٹیشن پر ہزارہا کی تعداد میں مخلوق خدا جمع تھی اور اکثر رقیق القلب حضرات زار زار رو رہے تھے پولیس والوں کے زرد اور مرعوب چہرے ظاہر کر رہے تھے کہ وہ مجبوراً حق و صداقت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ورنہ اندر سے جی نہیں چاہتا کہ اپنا ناگوار فرض ادا کریں۔
مولانا ٹرین پر سوار ہوئے۔ ہزارہا مسلمانوں اور ہندوؤں اور سکھوں کے نالہ و فغاں
کے درمیان ٹرین لاہور کی طرف روانہ ہوئی۔ ہر اسٹیشن پر لوگوں کا ہجوم ہو جاتا تھا۔ مولانا ہر ایک سے کشادہ روئی اور تبسم سے گفتگو فرماتے تھے۔ سب کو یہی نصیحت کرتے تھے کہ کام کرو۔ مجھے دیکھ کر کیا کرو گے؟ ایک شخص نے قرآن مجید کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ آپ نے کہا یہ مجھے قید کرنے والا مقدس وارنٹ ہے۔ میں اسی کے پڑھنے کے جرم میں قید ہوا ہوں۔ میں اس کے ایک لفظ کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ ہاں اس کے لیے جیل میں جاسکتا ہوں اور جا رہا ہوں اور وہاں مجھے اسے پڑھنے کا کافی موقع مل جائے گا۔
("مقدمات امیر شریعت" ص ۴۶۔۴۷' از سید ابوذر بخاری")
ازل کے دن سے محبت رہی ہے بے آرام (مولف)
للکار
مار دیا ہم کو لفظ تبلیغ نے اور غیر سیاسی مجلس نے، اگر واگاں کھلیاں ہوندیاں‘
مرزائیو! پھر کہہ دیتا ہاں کہ اجے بھی ہوشیار ہو جاؤ۔ تسیں اتنے بھی نئیں جتنی پیشاب دی جھگ ہوندی اے۔ نبوت تے خلافت حکومت برطانیہ دے کلے تے ہے۔ تہانوں کی پتہ اے کہ ایہہ کتے پولیس ۵ سال بعد ساڈے قبضے وچ ہوئے گی جو پانچویں جماعت فیل ہو جاندا اے، اوہ نبی بن جاندا اے۔ اچھا! ہندوستان دی ریت اے جو فیل ہو جائے اوہ نبی بن جاندا اے۔ اوہ نبی بھلا ہوندا اے۔ غریب شاہ مجلس احرار کے رضا کار کو مارا۔ اے مسیح کی بھیڑو تہانوں کوئی فکر وی نئیں۔ متھا ہن جنہاں نال لگا اے، اوہ مجلس احرار ہے۔ یہ تمہارے لیے عذاب ہے۔
("مقدمات امیر شریعت" ص ۶۰' از سید ابوذر بخاری")
سکندر حیات کی کمینگی
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی مقبول عام شخصیت سے مرعوب ہو کر آنجہانی سر سکندر حیات لیڈر یونینسٹ پارٹی نے حضرت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا مندرجہ ذیل منصوبہ تیار کیا:
”اپنے ڈھب کے خوشامدی سپرنٹنڈنٹوں کو خفیہ خطوط لکھ کر ہدایت کی کہ جب شاہ صاحب آپ کے ضلع میں تقریر کے لیے آئیں تو چالاک اور ہوشیار رپورٹر تقریر نوٹ کرتے وقت جگہ خالی چھوڑتا جائے تاکہ بعد میں حسب خواہش عبارت درج کی جاسکے جس سے قتل عمد، کھلی بغاوت اور فساد و خون ریزی کی ترغیب ثابت ہو، جس کی سزا پھانسی، عبور دریائے شور، جائیداد کی ضبطی وغیرہ ہو سکے۔“۔
(”مقدمات امیر شریعت“ ص ۱۴۵، از سید ابوذر بخاری)
لدھارام کے ضمیر میں انقلاب
حضرت شاہ صاحب جیل دیوانی سے نکل کر سب جیل جارہے تھے۔ سب لوگوں نے، جو آئے ہوئے تھے، سلام پیش کیا۔ لدھارام پولیس رپورٹر نے بھی سلام عرض کیا۔ شیخ عبدالمالک نے کہا کہ یہ لدھارام آپ کی تقریر نوٹ کرنے والا رپورٹر ہے۔ حضرت نے لدھارام کی طرف سر سے پاؤں تک دیکھ کر کہا ”لدھارام ایک اور عدالت بھی قائم ہوگی جس میں سچ، سچ اور جھوٹ، جھوٹ ہو کر سامنے آئے گا۔ وہ خدا کی عدالت ہوگی۔ ہمیں اس کی پیشی کا بھی خیال کرنا چاہیے“۔ یہ کلمات فرما کر آپ جیل چلے گئے۔
لدھارام نے کہا یہ الفاظ بجلی بن کر مجھ پر گرے۔ مجھ میں تاب نہ رہی۔ میں کمپنی باغ جاکر رویا۔ جب طبیعت ہلکی ہوئی۔۔۔ سوچ بچار کے بعد عہد کیا کہ یہ بندوق جو میرے ہاتھ میں دے کر ایک مخلص، قومی، بے گناہ لیڈر کو قتل کرایا جارہا ہے، میں اپنے سر نہ لوں
اور پیشی پر صحیح حالات سے آگاہ کردوں"۔
لدھا رام کو اب اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ ملازمت سے استعفیٰ دے دے۔ چنانچہ لدھا رام کے استعفیٰ کا مضمون مرتب ہوا اور اگلی پیشی پر گجرات جیل میں عدالت کے روبرو پیش کر دیا۔ ہائی کورٹ نے شاہ صاحب کی درخواست پر یکے بعد دیگرے گجرات کیس کے فیصلہ کے بعد راولپنڈی کیس چلانے کا حکم دیا۔
اس تاریخ پیشی پر مقامی وکلاء کے علاوہ مشہور اور قابل قانون دان چمن لال اور میاں عبدالعزیز صاحب لاہور سے تشریف لائے۔ لدھا رام نے اپنا استعفیٰ تمام واقعات سمیت عدالت میں پیش کر دیا۔ مجسٹریٹ نے استعفیٰ پڑھا اور چونکہ اس سازش میں وزیر اعظم سر سکندر حیات ملوث تھے، اس لیے عدالت کی باقی ماندہ کارروائی ختم کر کے حکومت پنجاب کو اصل حالات سے آگاہ کر دیا۔ لدھا رام عدالت برخاست ہوتے ہی دیوان چمن لال کی کار پر لاہور چلا گیا۔ اب پولیس نے لدھا رام کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ چونکہ کیس اہم صورت اختیار کر گیا تھا اس لیے حکومت پنجاب کے حکم پر اسے لاہور ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا گیا۔ حضرت شاہ صاحب کو گجرات جیل سے بذریعہ بس ایک سب انسپکٹر اور چھ سپاہیوں کے ہمراہ لاہور جیل پہنچا دیا گیا۔ میں بھی شاہ صاحب کے ہمراہ اسی بس میں لاہور چلا گیا۔
سکندر حیات کی حکومت اب اس کوشش میں تھی کہ جس طرح ہو سکے، جلد از جلد لدھا رام کو گرفتار کر لیا جائے۔ ہماری مصلحت یہ تھی کہ لدھا رام اب پولیس کے ہاتھ نہ آئے۔ چنانچہ لدھا رام کو یو۔پی میں ایک نواب کے ہاں ٹھہرا دیا گیا۔
ہم نے کوشش کی کہ کیس کانگریس ہائی کمانڈ اپنے ہاتھ میں لے، لیکن افسوس ہم کامیاب نہ ہوئے۔ کیس ہائی کورٹ میں لگا اور تاریخ مقرر ہو گئی۔ پولیس اس سارے عرصہ میں لدھا رام کی تلاش میں ناکام رہی۔ مقدمہ سننے کے لیے چیف جسٹس سر ڈگلس ینگ اور جسٹس رام لال مقرر ہوئے۔ عدالت چاہتی تھی کہ لدھا رام کو پیش کیا جائے لیکن ہمارے وکلاء اس امر پر متفق نہ تھے۔ آخر دیوان چمن لال کے اصرار پر لدھا رام کو پیش کرنے کا فیصلہ ہو گیا۔
ہائی کورٹ کے احاطہ میں پولیس ہی پولیس تھی۔ پولیس چاہتی تھی کہ لدھا رام کو گرفتار کر کے ہم پیش کریں۔ ہم چاہتے تھے کہ وہ آزادانہ پیش ہو۔ لدھا رام کی کار آکر چیف جسٹس کی عدالت کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ لاہور کے جاں باز احرار رضا کاروں نے بڑی تعداد میں کار کو گھیرے میں لے لیا اور پولیس کی ہزار کوشش کے باوجود لدھا رام کو ہائی کورٹ کے کمرے میں دھکیل کر قانون کا تحفظ حاصل کرتے ہوئے اسے آزادانہ طور پر عدالت میں پیش کر دیا۔ چند منٹ بعد لدھا رام‘ چیف جسٹس ینگ اور جسٹس رام لال کی عدالت میں کھڑا فاضل ایڈووکیٹ جنرل مسٹر سلیم کی فاضلانہ جرح کا نہایت جرات اور دلیری سے ہوشمندانہ جواب دے رہا تھا۔
عدالت کی اس دن کی کارروائی کے بعد پولیس نے لدھا رام کی گرفتاری کے وارنٹ پیش کیے۔ عدالت نے ان وارنٹوں کے لیے لدھا رام کی ضمانت منظور کرلی۔ چنانچہ ڈاکٹر عبدالقوی صاحب نے ضمانت دے دی۔
انجام کار حضرت شاہ صاحب ان ہر دو فوجداری سنگین مقدمات میں ہائی کورٹ سے باعزت بری کر دیے گئے۔ سید مقبول شاہ جو ان دنوں لالہ موسیٰ میں ہیڈ کانسٹیبل تھا‘ اس نے مجھے کہا کہ جب میں ہائی کورٹ میں شاہ صاحب کے خلاف شہادت دینے کے لیے گیا تو لاہور میں سپرنٹنڈنٹ سی۔ آئی ڈی نے مجھے خاص طور پر ہدایت کی کہ دوران شہادت سید عطاء اللہ شاہ صاحب سے آنکھ نہ ملانا۔ اگر آنکھ مل گئی تو شہادت نہ دے سکو گے۔ اس لیے شہادت دیتے وقت اپنے پاؤں کے ناخن پر نگاہ رکھنا۔ تاکید ہے۔ چنانچہ میں نے دوران شہادت ایسا ہی کیا۔ یہ واقعہ حضرت مرحوم کی محبوب مقناطیسی شخصیت‘ روحانی جذب و کشش اور ایمانی عظمت کی ایک ادنیٰ مثال تھا۔
("مقدمات امیر شریعت" ص ۱۴۶ تا ۱۴۸‘ از سید ابو ذر بخاری)
جو موت کو خود لبیک کہے وہ حق سے گریزاں کیا ہوگا (مولف)
لدھارام کی حق گوئی
بخدمت سپرنٹنڈنٹ پولیس گجرات
جناب عالی!
میں عرصہ ڈھائی سال سے محکمہ پولیس میں کام کر رہا ہوں اور میری ڈیوٹی پولیس رپورٹر کی ہے۔ میں کئی ایک دفعہ اپنے ضمیر کے برخلاف کام کرتا رہا۔ وہ محض اس لیے کہ افسران بالا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے ان کو خوش رکھوں، مگر آخر کار مجھے اپنے ضمیر نے بیدار کیا اور میں اپنے ضمیر کا خون نہ کر سکا۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ میں آج عدالت میں بالکل درست، اصلی اور قدرتی چیز کو پیش کر رہا ہوں۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ کے اصل واقعات حسب ذیل ہیں:
آنریبل سر سکندر حیات وزیر اعظم پنجاب کی طرف سے چند ایک مراسلات ان کے پی اے کی معرفت سپرنٹنڈنٹ بہادر پولیس گجرات کو پہنچے جن میں سے فرضی حکموں پر میری تعمیل کرائی گئی۔ سب سے پہلی چٹھی مورخہ ۲۹.۱.۳۹ نمبر C.R.P / B.O.M.L جس میں سید عطاء اللہ شاہ کی نگرانی کے لیے تحریر تھا، جس میں مسٹر پی ایس برار سپرنٹنڈنٹ پولیس گجرات کو لکھا گیا تھا کہ "سید عطاء اللہ شاہ بخاری سکنہ ناگڑیاں ضلع گجرات جب تمہارے ضلع کی حدود میں پہنچے تو اس کی تمام حرکات و سکنات کی نگرانی کی جائے اور ایک اچھے اور ہوشیار رپورٹر کی ڈیوٹی اس کے ساتھ لگائی جائے جو محتاط ہو کر اس کی نگرانی کرے اور نگران کنندہ کا نام وغیرہ اس چٹھی میں درج کیا جائے۔
اس چٹھی کی تعمیل میں مجھے سید عطاء اللہ شاہ کی نگرانی کے لیے مقرر کیا گیا اور بذریعہ چٹھی نمبر 1060-A محررہ ۱۱.۲.۳۹ سپرنٹنڈنٹ صاحب کی طرف سے مندرجہ ذیل جواب وزیر اعظم کے پی۔اے کی معرفت بھیجا گیا۔
جناب عالی! تعمیل حکم حضور والا شان ہو گئی اور ایک اچھا ہوشیار رپورٹر ان کی نگرانی کے لیے منتخب کر لیا گیا ہے جس کا نام لدھارام ہے اور عہدہ فٹ کانسٹیبل ہے۔ انگریزی خواندہ ہے۔
اس کے بعد مندرجہ ذیل چٹھی پرسنل اسٹنٹ سر سکندر حیات کی طرف سے ۱۱ جون ۱۹۳۹ء کو سپرنٹنڈنٹ پولیس گجرات کے نام آئی۔
اس چٹھی کا نمبر C.R.P/B637L تھا۔
آپ کو تحریر کیا جاتا ہے کہ ہمیں خفیہ طور پر اطلاع ملی ہے کہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری تمہارے ضلع گجرات میں یونینسٹ وزارت کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے جا رہا ہے۔ آپ ایک با اعتبار رپورٹر کو حکم دیں کہ وہ اس کی تقریروں کے نوٹ لکھ کر آپ کے سامنے پیش کرے اور ممکن ہو تو بہت کشادہ لفظ لکھے جائیں۔ اس حکم کو نہایت خفیہ تصور کیا جائے اور بعد کرانے تعمیل رپورٹر ہمارے پاس واپس بھیج دیا جائے‘ ضروری ہے۔
اس چٹھی کے جواب میں مورخہ ۲۲.۶.۳۹ کو چٹھی نمبر 1060-B کے ذریعہ سپرنٹنڈنٹ گجرات نے سر سکندر حیات کو ان کے پی۔اے کی معرفت اس مضمون کی چٹھی لکھی:
بجواب حکم B-511-L عرض کی گئی ہے۔ لدھا رام رپورٹر کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے اور اس کو خاص ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عطاء اللہ شاہ کی تقریر کے نوٹ لیتے وقت کشادہ طور پر لکھے اور ہمارے سامنے پیش کرے اور پیر غازی میں ایک جلسہ ہونے والا ہے جس میں کہ اسے خاص ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کھلے طور پر نوٹ کرے جو کہ ڈائری علیحدہ ارسال ہوگی"۔
اس چٹھی کے بعد موضع پیر غازی وغیرہ میں جلسے وغیرہ ہوئے جس میں شاہ صاحب نے بالکل مذہبی تقریریں کیں۔ میں نے ان کو کشادہ لکھنا موزوں نہ سمجھا۔ کیونکہ ان میں کمی بیشی کر کے مقدمہ بنانے کی گنجائش نہ تھی۔ اس پر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے میری طلبی کی اور میں نے جواب دیا کہ تقریریں بالکل مذہبی تھیں۔ ان کا کشادہ لکھنا بے سود تھا۔
اس کے بعد سر سکندر حیات کے پرسنل اسسٹنٹ نے ۲۸ جون ۱۹۳۹ء کو چٹھی C.R.P/B780L کے ذریعہ سپرنٹنڈنٹ ضلع گجرات کو لکھا:
ڈائری خفیہ از موضع پیر غازی اور مدینہ پہنچ چکی ہے۔ چونکہ ان میں مذہبی لیکچر تحریر ہے جس میں کہ اتنی گنجائش معلوم نہیں ہوتی۔ لہٰذا آئندہ ڈائری کوئی بھی ہو، جس میں
پولیٹیکل اظہار ہوں‘ اس میں تقریر کو اس طرح پر بعد لینے رائے پراسیکیوٹنگ انسپکٹر بنایا جائے کہ وہ تقریر زیر دفعہ ۱۲۱ تعزیرات ہند یا کسی قتل کی تبلیغ کے جرم مثلاً ۳۰۲ / ۱۱۷ کا مرتکب ہو سکے اور یہ بھی خیال رکھا جائے کہ ساتھ ہی ۱۲۴ / ۱۵۳ الف بھی قائم رہے اور گواہان خاص طور پر معتبر اچھے پولیس کے اثر والے ہوں۔ اس حکم کو نہایت ہی خفیہ تصور کیا جائے۔
اس حکم کی وصولی کے بعد مورخہ ۲۸.۷.۳۹ کو شاہ صاحب نے لالہ موسیٰ ضلع گجرات میں تقریر کے لیے آنا تھا۔ چنانچہ حسب سابق مجھے رپورٹ لینے کے لیے متعین کیا گیا۔ شاہ صاحب نے تاریخ مقررہ پر لالہ موسیٰ میں تقریر کی اور میں نے اس تقریر کے شارٹ ہینڈ نوٹ لیے اور ان میں کچھ کشادہ جگہ بموجب ہدایت افسران بالا رکھی اور تقریر کے لانگ ہینڈ نوٹ لکھے بغیر ہی گجرات واپس آیا اور پراسیکیوٹنگ انسپکٹر کو شارٹ ہینڈ نوٹ دکھائے اور پڑھ کر سنائے۔ پراسیکیوٹنگ انسپکٹر صاحب نے کشادہ جگہ کو ناکافی خیال کیا اور مجھے کہا کہ میں اس تقریر کو لانگ ہینڈ میں بھی لکھوں۔ میں نے تعمیل حکم پی۔ آئی صاحب کی۔ پی۔ آئی صاحب نے لانگ ہینڈ کی عبارت میں اپنے حسب منشا تبدیلیاں اور اضافے کیے۔ اس کے بعد چونکہ ۲۸ تاریخ والی کاپی کی تحریر تبدیلیوں اور اضافوں کے باعث مشکوک ہو گئی تھی اور اسے عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا تھا‘ اس لیے پی آئی صاحب نے حکم دیا کہ نئی کاپی پر تبدیل شدہ عبارت کو شارٹ ہینڈ اور لانگ ہینڈ عبارت میں تبدیل کیا جائے۔ نئی کاپی مورخہ ۳۰.۷.۳۹ کو صاحب سپرنٹنڈنٹ بہادر پولیس کے سٹینو سے حاصل کی گئی اور اس پر تمام عبارت شارٹ ہینڈ اور لانگ ہینڈ میں نوٹ کرنے کے بعد ۲۸.۷.۳۹ والی اصلی کاپی کو پی آئی صاحب نے نذر آتش کر دیا اور اس نئی کاپی کی بنا پر مقدمہ کی منظوری حاصل کی گئی اور مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اصلی ڈائری اور موجودہ جعلی ڈائری کے چند ایک اختلافات میں یہاں نوٹ کرتا ہوں جن سے معلوم ہو سکے گا کہ کس طرح حکام بالا کے احکام کی ناجائز تعمیل کی گئی۔
موجودہ جعلی ڈائری میں جو کچھ تحریر کیا گیا تلف شدہ اصلی ڈائری میں جو کچھ تحریر تھا ۱- ساڑھے دھیاں دے نکاح تے ساڑے
نکاح دے فیصلے فرنگی شیطان فرنگی کرن تے ساڈی شریعت دا کوئی خیال تے لحاظ نہ ہووے
- ١- ساڈے نکاح تے ساڈیاں دھیاں دے
نکاح دے فیصلے غیر مسلم کرن۔ ساڈی شریعت دا کوئی خیال تے لحاظ نہ ہووے۔
- ۲- نہیں بلکہ ان بے ایمان فرنگیوں اور
سکندر کی متعصبانہ چال ہے
- ۲- نہیں بلکہ یہ سر سکندر اور یونی نسٹ
پارٹی کی مہربانی اور چال ہے
- ۳- میں حیران ہوں کہ یہ فرنگی خدا ان کو
غارت کرے کیوں نہیں جاتے
- ۳- میں حیران ہوں کہ باوجود سردار دھنا
سنگھ کی مسجد بنوانے پر بھی سکھ صاحبان کے دل سے کدورت اور خیال کیوں نہیں جاتا اور اتفاق کیوں نہیں کرتے
- ۴- میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ زیادہ نہیں
صرف جتنے آدمی یہاں موجود ہیں میرے ساتھ ہو جائیں۔ میں اس حکومت کا تختہ الٹ دوں۔ ان کے پرخچے اڑا کر رکھ دوں اور لنڈن کو بحر میں جا کر ایسا دھکا دوں کہ نظر ہی نہ آویں۔ مجھے اس وقت تمہارا حوصلہ ہو اور تیر و کمان و تیغ بکف ہو کر اور فرنگیوں کے خون کی نہریں بہا دو سمندر لال کر دو۔ نہریں ان کے خون سے زمین کو سیراب کریں۔ جس طرح یزید نے حسین کی فوج کو تہ تیغ کیا تھا۔ اسی طرح ان شیطانوں کو کاٹ دو۔ حوصلہ سے کام لو اور ان بے ایمان اور کافروں کو نکال دو۔
- ۴- یہ الفاظ صرف پی آئی صاحب نے منشا
حکم سر سکندر حیات خاں مندرجہ بالا اپنی طرف سے لکھوائے جو بالکل جھوٹ ہیں اور ایک بے گناہ ہستی کو گناہ عظیم کا موجب بناتے ہیں۔ یہ الفاظ قطعا مقرر نے اپنی تقریر میں استعمال نہیں کیے۔
اس طرح مقدمہ تیار کرنے کے بعد اور ۳۰۲/ ۱۱۷ کے ساتھ دفعہ ۱۲۱ تعزیرات ہند کا مواد مہیا کرنے اور ساتھ ہی ۱۲۱ الف / ۱۵۳ الف کا خیال رکھنے کے بعد سپرنٹنڈنٹ
گجرات نے سر سکندر حیات خاں کو ان کے پی اے کی معرفت اپنی چٹھی نمبر 1060C مورخہ ۲۸.۸.۳۹ء میں اپنی کارکردگی اور تعمیل ارشاد کی حسب ذیل اطلاع دی۔
”جناب عالی! مورخہ ۲۷.۷.۳۹ء کو عطاء اللہ شاہ نے لالہ موسیٰ میں تقریر کی ہے جس کے متعلق رپورٹر کو خاص طور پر ہدایت کی گئی تھی۔ مطابق ہدایت پی آئی صاحب کے پاس ڈائری کو بھیجا گیا تھا اور اس میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ڈائری ازسرنو مرتب کی گئی ہے جس میں قانونی اغراض کو مد نظر رکھتے ہوئے کمی بیشی کی گئی ہے اور ایسے الفاظ ایزاد کیے گئے ہیں کہ جن پر دفعہ ۱۱۷/۳۰۲ تعزیرات ہند کے لیے صرف الفاظ ترغیب قتل اقوام انگریز اور پبلک میں کافی اشتعال لکھا گیا ہے۔ لہٰذا بموجب حکم تعمیل ہو کر رپورٹ عرض ہے“۔
وزیر اعظم سے لے کر نچلے افسروں تک تمام کارروائی کا حال مذکورہ بالا خط و کتابت اور جعلی ڈائری نویسی سے ظاہر ہے۔ اس پر کسی مزید تنقید کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی منصف مزاج انسان اس بارے میں کسی تنقید کا محتاج ہو گا۔
اب میرے سامنے کئی روز سے یہ سوال درپیش ہے کہ آیا میں اس طرز عمل کو قبول کرتا جاؤں جو کہ اب تک جاری ہے اور جس کے ذریعے دنیاوی طور پر فائدہ اور ترقی کی امید ہے اور اس جعلی ڈائری کی ترتیب میں جو خدمت مجھ سے لی گئی ہے اس کے صلہ میں مورخہ ۸.۹.۳۹ کو ۲۵ روپے نقد اور ایک عدد سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے بعد مزید ترقی اور انعام و اکرام کے لالچ میں جیسا کہ مجھ سے وعدہ کیا گیا ہے میں ضمیر کشی کرتا جاؤں۔ یا دوسروں کے خون سے ہاتھ رنگین کرنے سے باز آؤں۔ خواہ اس میں دنیاوی زر و مال کی کمی ہی کیوں نہ ہو۔ میرے دل نے بے حد کشمکش اور شب و روز کے غور و فکر کے بعد یہی فیصلہ کیا ہے کہ میں بڑے بڑے آفیسران کا آلہ کار بن کر اپنے ضمیر کا خون نہ کروں اور جس محکمہ میں اس قسم کی بے ایمانی اور ضمیر فروشی کے بغیر ترقی کا راستہ نہیں مل سکتا، اس کو خیرباد کہتا ہوا اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کروں اور اپنے آپ کو خدا کے بھروسہ پر چھوڑ دوں۔ اندریں حالات میں ملازمت سے مستعفی ہوتا ہوں۔ (”لدھارام بقلم خود“)
(”مقدمات امیر شریعت“، ص ۱۴۱ تا ۱۴۶، از سید ابوذر بخاریؒ)
خود کشی کا ارادہ
چیف جسٹس: کیا تم نے درخواست میں کہا تھا کہ میں جھوٹی شہادت دینا نہیں چاہتا؟ گواہ: اگر میں لکھتا تو نہ معلوم مجھے کیا دھکے کھانے پڑتے اور نہ معلوم پولیس مجھ سے کیا سلوک کرتی۔
اس مرحلے پر مسٹر سلیم نے ایک سوال دریافت کرنا چاہا جس پر لدھا رام نے کہا کہ میری ایک اور درخواست بھی ہے۔ میں تہیہ کیے ہوئے تھا کہ شہادت دینے کے بعد خودکشی کر لوں گا۔ اس کے لیے میں نے سنکھیا خریدا۔ آپ بے شک اس دکان سے دریافت کر سکتے ہیں۔ میرے والد‘ میری والدہ اور گھر کے تمام آدمیوں کو اس کا علم ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میرے دل میں کیا تھا؟
(”مقدمات امیر شریعت“ ص ۲۰۴‘ از سید ابوذر بخاری)
متلی آنے لگی
مجھے اس دور کا ایک واقعہ آج بھی یاد ہے۔ میرا ماموں جب مرزائی ہو گیا تو ایک روز میری والدہ کے پاس بیٹھ کر مرزا کے بارے میں کہنے لگا کہ مرزا صاحب تو بہت خدا رسیدہ بزرگ ہیں۔ وہ تو ہر وقت خدا کی یاد میں اس قدر محو رہتے ہیں کہ بعض اوقات ان کے سامنے سے کتے ان کا کھانا کھا جاتے ہیں اور انہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔ جس وقت میں نے یہ واقعہ سنا تھا تو مجھے قے سی محسوس ہونے لگی تھی۔ آج بھی جب یہ واقعہ مجھے یاد آتا ہے تو میں متلی محسوس کرتا ہوں۔
(انٹرویو حفیظ جالندھری‘ ماہنامہ ”ضیائے حرم“ جولائی ۱۹۷۴ء)
قادیانی انہیں اپنا استاد بنانے آئے تھے
مفتی محمود صاحب جب مراد آباد سے فارغ التحصیل ہو کر آئے تو کم از کم دو سال فارغ رہے۔ ان کی فراغت کے زمانے میں گھر کے مالی حالات بہت پریشان کن تھے۔ ان کے بڑے بھائی بیمار تھے اور اہل خانہ پر اکثر فاقے گزرتے تھے۔ مفتی صاحب اس حالت سے سخت دل گرفتہ اور پریشان تھے۔ وہ اپنے گھر والوں پر گزرنے والے فاقے نہیں دیکھ سکتے تھے اور تدریس کے لیے کسی جگہ کے متلاشی تھے۔ انہی دنوں کی بات ہے کہ ان کے پاس مرزائیوں کے قادیان سے آدمی پہنچے اور ڈیرہ اسمعیل خان کے چند بڑے لوگوں سے بھی سفارش کرائی کہ ہم ایک بہت بڑا دینی مدرسہ بنا چکے ہیں۔ اس میں ایک معقولی یعنی منطق و فلسفہ پڑھانے والے استاد کی ضرورت ہے۔ انہیں شاید مراد آباد وغیرہ سے مفتی صاحب کے معقول ہونے کا علم ہو چکا تھا۔ اسی لیے وہ ان کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے مفتی صاحب کو سو روپے ماہانہ تنخواہ دینے کی پیشکش کی جو اس وقت کے حساب سے بہت زیادہ تنخواہ تھی اور بہت کم لوگ اتنی تنخواہ پاتے تھے مگر مفتی صاحب نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی انتہائی غربت کے باوجود اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس پیشکش کو قبول کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ میں مسلمانوں کے مقابلے میں مرزائیوں کو معقولی بناؤں۔ چند مخلص اور ہمدرد لوگوں اور دوستوں نے سمجھایا کہ ملازمت تو غیر مسلموں کی بھی درست ہے۔ آپ نے پیسے لینے ہیں اور تعلیم دینی ہے۔ کسی مسلمان کو تو مرزائی نہیں بنانا۔ پھر آپ کی مجبوری بھی ہے کہ آپ اس ملازمت کو قبول کرلیں مگر مفتی صاحب انکار پر جمے رہے۔ آخر کار وہ مایوس ہو کر واپس چلے گئے۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی)
فاتح قادیاں
طبع اول ۱۹۱۲ء (امرتسر) صفحات ۷۴، طبع پنجم ۱۹۳۰ء (امرتسر) صفحات ۶۴، طبع
ششم ۱۹۴۹ء (سرگودھا) صفحات ۷۰۔
یہ کتاب اس تحریری مناظرہ کی روئیداد ہے جو مولانا ثناء اللہ اور قادیانی مناظر منشی قاسم علی دہلوی کے ساتھ ۱۷ اپریل تا ۲۱ اپریل ۱۹۱۲ء لدھیانہ میں ہوا تھا۔
مسلمانوں کی طرف سے مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی (م ۱۳۷۵ھ) اور قادیانیوں کی طرف سے منشی فرزند علی ہیڈ کلرک فیروز پور منصف تھے۔ مسلم فریقین نے سرپنچ کے طور پر ایک دانشور سردار بچن سنگھ بی۔اے ایل ایل بی گورنمنٹ پلیڈر لدھیانہ کا انتخاب کیا۔
مناظرہ سے قبل قادیانیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اگر ہمیں اس مناظرہ میں شکست ہوئی تو مبلغ ۳۰۰ روپے بطور انعام مولانا ثناء اللہ کو دیں گے۔ چنانچہ یہ انعامی رقم مولانا محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ کے پاس جمع کرا دی گئی۔
مناظرہ کا موضوع مرزا صاحب کا اشتہار ”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“ تھا۔ یہ مناظرہ ۲۱ اپریل تک جاری رہا۔ فریقین کے مسلمہ منصفوں کے فیصلہ میں اختلاف رہا تو سردار بچن سنگھ نے ایک طویل فیصلہ سے پہلے ایک مختصر فیصلہ بھی لکھا۔
- ۱۔ میری ناقص رائے میں حسب دعویٰ مرزا صاحب ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء والا اشتہار بحکم
خداوندی مرزا صاحب نے دیا تھا۔
- ۲۔ خدا نے الہامی طور پر جواب دیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعا قبول فرمائی۔
سردار بچن سنگھ بی اے ۲۱ اپریل ۱۹۱۲ء
سردار بچن سنگھ کا مفصل فیصلہ ص ۴۴ تا ۵۷ درج ہے۔ اس فیصلہ میں سردار صاحب نے مباحثہ کے تمام پہلوؤں کا نہایت باریکی سے مفصل جائزہ لیتے ہوئے صاف اور صریح الفاظ میں مولانا ثناء اللہ صاحب کو فاتح قرار دیا۔ بعد ازاں مبلغ تین سو روپے انعامی رقم مولانا کے حوالے کی گئی اور اس مناظرہ میں کامیابی کے بعد آپ کا لقب ”فاتح قادیاں“ قرار پایا۔ اس کتاب میں فریقین کے پورے مباحث اور تینوں منصفوں کے فیصلوں کے مکمل متن درج کرنے کے ساتھ ساتھ اس مناظرہ کے پس منظر اور پیش نظر کی پوری تفصیل درج ہے۔
مولانا نے انعامی رقم سے یہ مناظرہ ”فاتح قادیاں کے نام سے چھپوا کر مفت تقسیم کیا۔
ایک سبق
ایک دفعہ شیخوپورہ تقریر ہوئی۔ میں نے اپنی ماؤں اور بہنوں سے اپیل کی کہ اگر مرزائی عورتیں جھوٹے شیخ کی تبلیغ کرتی ہیں تو تم سرور کائنات کی ختم نبوت کی تبلیغ کیوں نہیں کرتیں اور میں نے ان کو ایک سبق پڑھایا کہ سیرت المہدی میں لکھا ہے کہ ایک عورت بھانو نامی مرزا صاحب کو خلوت میں دباتی تھی۔ جو شخص کسی غیر محرم عورت سے خلوت میں دبوالے‘ وہ شریف آدمی نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ نبی ہو۔ چھوٹی چھوٹی سکول کی لڑکیوں نے بھانو بھانو‘ یاد کر لیا۔ حسن اتفاق کہ وہاں کی سکول مسٹرس مرزائی عورت تھی۔ دوسرے دن جب کمرہ میں استانی آئی تو ایک لڑکی نے کہا:
استانی صاحبہ!
آپ کا مرزا بھانو سے دبواتا کیوں تھا؟ اس نے اس لڑکی کو ڈانٹا ہی تھا کہ دوسری بولی نہیں جی استانی صاحبہ ہمیں ضرور بتاؤ کہ وہ بھانو کون تھی جو آپ کے مرزا صاحب کو دباتی تھی۔ استانی اسے خاموش کرا رہی تھی کہ تیسری بولی ہم سبق نہیں پڑھیں گی۔ جب تک ہمیں آپ اپنے مرزا صاحب کی بھانو کا حال نہ سنائیں۔ استانی تنگ آکر سکول کو خیر باد کہتی ہے اور اپنے والد کو جا کر کہا کہ یا میرا تبادلہ کر دو یا میں مرزائیت چھوڑتی ہوں۔ چھ ماہ کے بعد میرا وہاں جانا ہوا۔ دوستوں نے یہ قصہ سنایا۔ میں نے کہا کہ ابھی تو بچیاں شروع ہوئی ہیں۔ ہم نے تو تمام کو تیار کرنا ہے۔ پھر دیکھنا کہ کیا مزے آتے ہیں؟
(”خطبات ختم نبوت“ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی‘ ص ۲۱۹)
عوامی غیرت
ہماری تقریر سے مرزائیوں کے خلاف سخت نفرت پھیل گئی۔ تھوڑے دنوں بعد مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی مرحوم کوئٹہ تشریف لے گئے۔ ان کی تقریر کے دوران ایک مرزائی ڈاکٹر (اغلبًا محمود نام تھا) نے اٹھ کر کہا مولوی صاحب بکواس بند کرو۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ دو مسلمانوں نے اس کو پکڑا، دور لے گئے اور مار مار کر ختم کر دیا اور نعش نالے میں بہا دی۔ باقی مجمع امن و سکون سے بیٹھا تقریر سنتا رہا۔ مرزا محمود کوئٹہ میں ہی تھا۔ پولیس نے اسے کہا کہ بہتر ہے تم یہاں سے چلے جاؤ۔ مشتعل مسلمان تم پر برس پڑے تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ چنانچہ مرزا کو راتوں رات پولیس کے پہرہ میں وہاں سے نکلنا پڑا اور مرزا کی خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ وہ مسلمان دندناتے رہے اور کسی کو ان پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہ ہو سکی۔
(”خطبات ختم نبوت“ مولانا اسماعیل شجاع آبادی، ص ۲۵۲)
وہ عاشقان چاک گریباں نہیں رہے (مولف)
خاتون جنتؓ کی توجہ
نبوت سے بچاؤ! تحریک مقدسہ کے دوران ایک عورت اپنے خاوند کو روکتی تھی کہ تحریک میں شامل نہ ہو لیکن سیدۃ النساء اہل الجنۃ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خواب میں تشریف لائیں اور نہایت غصے میں فرمایا کہ میرے ابا جی کی عزت کا مسئلہ ہے اور تم اپنے خاوند کو روکتی ہو۔ چنانچہ اس عورت نے معافی مانگی اور خاوند کو جیل بھیج دیا۔ حضرت خاتون جنت نے اسے بشارت بھی دی کہ انشاء اللہ تیرا خاوند جلدی آ جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
(”خطبات ختم نبوت“ ص ۲۵۴، مولانا اسماعیل شجاع آبادی)
وہ افسانہ ہوگا حقیقت نہ ہوگی (مولف)
حضرت مولانا محمد الیاسؒ بانی تبلیغی جماعت
”قرآن و سنت، آثار صحابہؓ اقوال بزرگان دین اور تصریحات سلف صالحین سے مسئلہ ختم نبوت ثابت ہے۔ یہ ایک ایسا اجماعی عقیدہ ہے کہ اس کا منکر، دین اسلام کے بنیادی عقیدہ کا منکر ہونے کے باعث، تمام امت کے نزدیک کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ مرزا قادیانی محروم القسمت شخص تھا۔ اس کے پیروکاروں کو حق تعالیٰ شانہ ہدایت سے نوازیں، کہ یہ کفر و گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو ایمان ویقین کی دولت و نعمت سے آگاہ کرنا تمام مسلمانوں اور بالخصوص علماء ربانیین کا فرض ہے“۔
(دہلی میں علمائے کرام کے اجلاس سے خطاب)
حضرت جی مولانا محمد یوسفؒ ، تبلیغی جماعت
ہمارے حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور دوسرے بزرگ علماء، بلاوجہ قادیانیت کی مخالفت نہیں کرتے۔ انگلینڈ میں کوئی مشین کتنی تیز چلنے والی کیوں نہ ہو، وہ اتنی تیزی سے کپڑا تیار نہیں کرتی، جتنا قادیانی کفر کی مشین میں تیزی سے تیار کیا جاتا ہے۔ پھر اس پر مزعومہ دلائل کا رنگ چڑھا کر مرزائی مبلغین اسے دجل و فریب و کہنہ مکاری کی بھٹی میں استری کر کے مسلمان قوم کے ایمان کے جنازہ کے کفن کے لیے تیار کرتے ہیں۔ مرزائیت، مکر و افترا اور کذب و فریب کا ایک پلندہ ہے۔ مرزا قادیانی جھوٹوں کا سردار تھا۔ امت کو اس فتنے سے بچانے والے، پوری امت کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں“۔
(ختم نبوت کے ایک وفد کو ہدایات، بروایت حضرت مولانا اللہ وسایا، عالمی مبلغ)
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوریؒ
”مرزا قادیانی کے دماغ و زبان کی مہار‘ شیطان نے تھام رکھی تھی اور وہ مرزا کو منہ زور گھوڑے کی طرح جھوٹ کی وادیوں میں دوڑاتا تھا۔ ہر قدم پر جھوٹ تیار کرنا اور پھر سب سے پہلے اس کا خود بے دریغ استعمال کرنا‘ اس کا وطیرہ تھا۔ ہمارے اکابر نے اپنی ایمانی و وجدانی کیفیات سے سرشار ہو کر اس کا تعاقب کیا۔ حضرت گنگوہیؒ سے لے کر آپ (مولانا محمد علی صاحب جالندھری) تک سبھی حضرات نے امت کی اس فتنہ کے خلاف رہنمائی نہ فرمائی ہوتی تو اس فتنہ کے بڑھنے کے بہت اسباب تھے۔ آپ نے ان کے سامنے دیوارِ چین کھڑی کر دی ہے۔ لیکن مولانا (محمد علی جالندھری) دیکھیں یہ بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ حضور علیہ السلام کا ایک امتی قادیانی ہو گیا تو ہم سے پوچھا جائے گا کہ قادیانیوں نے اس کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا تھا‘ تم نے اس کا ایمان بچانے کی فکر کیوں نہ کی؟“
(دارالعلوم پیپلز کالونی فیصل آباد میں مولانا محمد علی جالندھری سے گفتگو)
حضرت مولانا محمد عمر پالن پوری
”قادیانیت ایک ناسور ہے۔ جس کو یہ لگ جائے‘ وہ لاعلاج ہو جاتا ہے۔ مرزا قادیانی کو صرف نبی و رسول ہونے کا دعویٰ نہ تھا‘ بلکہ نعوذ باللہ اس کو خدا کا بیٹا اور اس سے بھی بڑھ کر خدا ہونے کا دعویٰ تھا۔ حیرانی ہے کہ ایک احمق و کور باطن کو لوگ کیا سے کیا مانے ہوئے ہیں۔ اس فتنہ کے خلاف کام کرنا‘ نبی کریم ﷺ کی توجہات کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ یہ میں نہیں بلکہ حضرت علامہ کشمیریؒ فرمایا کرتے تھے۔ ہم تو بزرگوں کے اقوال نقل کرنے والے ہیں۔ دین و ایمان کی دعوت جتنی عام ہو گی‘ یہ فتنہ اتنا کم ہو گا“۔ (اپنے ایک تبلیغی کارکن کے سوال کے جواب میں)
حضرت مولانا انعام الحسن، تبلیغی مرکز (رائے ونڈ)
”آپ حضرات نے دیار غیر میں آکر قادیانیوں کا جو ناطقہ بند کیا ہے، اس کے لیے میرا رواں رواں آپ کے لیے دعا گو ہے۔ قادیانیت جیسی بے دین جماعت کا بانی انگریز تھا۔ آپ نے ان کے ملک میں ان کا احتساب کر کے قصہ زمین بر سر زمین پر عمل کیا۔ مولا پاک آپ کی ختم نبوت کانفرنس کو کامیاب فرمائے۔ میری دلی دعائیں کیا ہیں، اگر اللہ تعالیٰ سن لیں تو آپ کے ساتھ ہوں کہ اس کفرستان میں قادیانیت کا آپ جنازہ نکالنے والے بن جائیں۔ آمین“۔
(ختم نبوت کانفرنس لندن کی تیاری کے لیے جانے والے ختم نبوت کے وفد سے ڈیوز
بری تبلیغی مرکز میں ارشاد)
حضرت مولانا عبد الوہاب، تبلیغی مرکز (رائے ونڈ)
”تبلیغی جماعت کے رفقاء جب فتنہ قادیانی کی بیرونی دنیا میں سازشوں کے متعلق کچھ بتاتے ہیں تو تڑپ جاتا ہوں۔ ہمارے کام کا ایک دائرہ ہے۔ اس میں قدرت نے برکت دی ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ایمان و یقین کی دولت و دعوت عام ہو گی تو تمام فتنے خود مٹ جائیں گے۔ قادیانی کفر، ایسا خطرناک کھیل ہے کہ جو حضرات ان کی تردید کا کام کرتے ہیں، وہی اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ مرزا قادیانی کمبخت ایسا بد نصیب کافر اور مردود تھا کہ وہ رحمت عالم ﷺ کی مسند پر قدم رکھنے کا مدعی تھا۔ یہ سوچ آتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے کہ ابو جہل سے بڑے کافر بھی دنیا میں ہوئے ہیں“۔
(شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہؒ ساہیوال سے گفتگو)
مولانا سعید خان ، تبلیغی مرکز (رائے ونڈ)
”حرم نبویؐ کی ہمسائیگی اور اس کے انوار و برکات سے قدرت نے ہمارے جن بزرگوں کو نوازا تھا، ان میں سے ایک حضرت شیخ الحدیث بھی تھے۔ میں نے انہیں فتنہ مرزائیت کے سلسلہ میں جتنا متفکر پایا، بیان نہیں کر سکتا۔ وہ ہر وقت افریقہ، امریکہ اور برطانیہ میں قادیانی سازشوں کی خبروں پر فکرمند رہتے تھے۔ اس سلسلہ (ختم نبوت) میں جو بزرگ آتے، حضرت ان کو ہدایات و دعاؤں سے نوازتے تھے۔ اپنے خلفاء کو متوجہ فرماتے کہ ختم نبوت کا کام عظیم کام ہے۔ مرزائیت کے استیصال کے لیے کاوش کرنے والے ہزاروں مبارک بادوں کے مستحق ہیں۔ مرزائیت فتنہ عمیا ہے۔ اس کے ماننے والے آنکھوں کے نہ سہی، دلوں کے بہرحال اندھے ہیں“۔
(ختم نبوت کانفرنس لندن سے واپسی پر مدینہ طیبہ میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، دعا کے لیے حاضر ہوئے تو مولانا سعید خان صاحب نے ان سے فرمایا)
حضرت مولانا مفتی زین العابدین ، فیصل آباد
۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ میں حضرت شیخ الحدیث کی خدمت میں حاضر ہوا تو تمام رپورٹ عرض کی۔ کمزوری کے باوجود اٹھ کر بیٹھ گئے۔ بہت دعائیں دیں۔ پہلے بھی تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں قدرت نے کام لیا مگر حضرت کی دعاؤں کے بعد تو فرض سمجھ لیا کہ قادیانیت ایسے خدا اور رسول کے منکر، فتنہ اور سازشی گروہ کے استیصال کے لیے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے زمانہ میں قدرت نے جتنا کام لیا، یہ حضرت کی دعاؤں کا صدقہ ہے۔ قادیانی ملک و ملت کے دشمن، اسلام کے غدار اور انگریز کے لے پالک بیٹے ہیں“۔
علامہ حافظ محمد ایوب دہلویؒ
”اگر مرزا قادیانی سچا ہے تو تیرہ سو سالہ قوم پوری کی پوری جھوٹی ہو گئی۔ اور جب پوری قوم جھوٹی ہو گئی یعنی پوری قوم اس بات پر متفق ہو گئی کہ آگے کوئی نبی نہیں ہو گا تو پھر مذہب اسلام پورا کا پورا ختم ہو گیا۔ کیونکہ پوری قوم جب کذب اور جھوٹ پر متفق ہو جائے تو پھر اس قوم کی شہادت غیر معتبر ہے۔ بلکہ جھوٹی ہے اور پوری قوم نے اس قرآن کی شہادت دی ہے۔ لہٰذا یہ قرآن متفقہ طور پر کذابین کی نقل ٹھہرا۔ پھر نہ قرآن رہا نہ نبی نہ اسلام رہا اور نہ اصلی نبی رہا۔ بروزی اور ظلی کی ضرورت ہی کیا باقی رہ گئی اور اگر ساری قوم صادق اور سچی ہے اور یہی بات سچی اور حق ہے کہ ساری قوم متفقہ طور پر ختم نبوت کی قائل ہے تو پھر منکر ختم نبوت اور قادیانی جھوٹا ہے اور یہ بیان قادیانیت کو جڑ سے کاٹ کر پھینک دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ اگر قادیانی سچا ہے تو پھر ساری کی ساری چودہ سو سالہ قوم جھوٹی ہو گئی اور اس صورت میں کسی ظلی اور فرعی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اگر ساری قوم سچی ہے تو قادیانی جھوٹا ہے“۔
(ماہنامہ ”ترجمان اہلسنت“ ختم نبوت نمبر‘ اگست ۱۹۷۲ء)
مولانا انظر شاہ کشمیری۔ بھارت
(ممتاز عالم دین و فرزند امجد امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ)
”میرے والد کو تین مرتبہ حضور نبی کریم ﷺ کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی اور ہر مرتبہ نبی آخر الزمان ﷺ نے یہی ہدایت فرمائی کہ قادیانی فرقے کو نیست و نابود کرنے کی سعی کی جائے۔ سعودی عرب سمیت تمام اسلامی ممالک کے کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں کو برطرف کر کے انہیں ملک بدر کر دینا چاہیے۔ صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے قادیانیوں کے متعلق آرڈیننس کا اجراء کر کے تمام عالم اسلام کا دل جیت لیا ہے۔ یہ ان کے لیے توشہ آخرت ہے اور ان کی اس کارروائی پر بھارت کے مسلمانوں کے دلوں سے
ان کے لیے دعائیں نکلتی ہیں"۔
(روزنامہ "جنگ" ۱۸ جون ۱۹۸۴ء)
لوگ تائب ہو گئے
قادیانیوں نے نہایت عجلت کے ساتھ اپنے مبلغین کو جموں و کشمیر کے طول و عرض میں پھیلانا شروع کر دیا تاکہ وہ ریاست کے سادہ لوح عوام کو ورغلا کر اپنے خود ساختہ ”نبی“ کے حلقہ بگوش بنانا شروع کر دیں۔ یہ مہم کافی کامیاب رہی۔ کئی دوسرے مقامات کے علاوہ خاص طور پر ”شوپیاں“ میں مسلمانوں کی ایک خاص تعداد قادیانی بن گئی۔ پونچھ کے شہر میں مسلمانوں کی اکثریت نے قادیانی مذہب اختیار کر لیا۔ یہ خبر سنتے ہی رئیس الاحرار مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری پونچھ شہر پہنچے اور اپنی خطیبانہ آتش بیانی سے قادیانیت کے ڈھول کا ایسا پول کھولا کہ شہر کی وہ آبادی جو مرزائی بن چکی تھی، تقریباً ساری کی ساری تائب ہو کر از سر نو مشرف بہ اسلام ہو گئی۔
(”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)
سر ظفر اللہ خان قادیانی، سور کے گوشت کی گولیاں کھا
گیا
ہالینڈ میں پہنچ کر محکمہ پروٹوکول کے ایک افسر نے مجھے برسبیل تذکرہ یہ بتایا کہ اگر ہم سور کے گوشت (پورک، ہیم، بیکن وغیرہ) سے پرہیز کرنا چاہتے ہیں تو بازار سے بنا بنایا قیمہ نہ خریدیں، کیونکہ بنے ہوئے قیمے میں ہر قسم کا ملا جلا گوشت شامل ہو جاتا ہے۔ اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالینڈ کے استقبالیوں کا من بھاتا ”کھاجا“ قیمہ کی گولیاں (Meat Balls) کھانے سے اجتناب کرتے تھے۔ ایک روز قصر امن (Peace Palace) میں بین الاقوامی عدالت عالیہ کا سالانہ استقبالیہ تھا۔ چودھری ظفر اللہ خاں بھی اس عدالت کے جج تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ قیمے کی گولیاں، سرکہ اور چٹنی میں ڈبو کر مزے سے نوش فرما رہے تھے۔ میں نے عفت سے کہا، آج تو چودھری صاحب ہمارے میزبان ہیں۔ اس لیے قیمہ
بھی ٹھیک ہی منگوایا ہو گا۔ وہ بولی ذرا ٹھہرو پہلے پوچھ لینا چاہیے ۔ ہم دونوں چودھری صاحب کے پاس گئے۔ سلام کر کے عفت نے پوچھا، چودھری صاحب یہ تو آپ کی (Reception) ہے۔ قیمہ تو ضرور آپ کی ہدایت کے مطابق منگوایا گیا ہو گا؟ چودھری صاحب نے جواب دیا (Reception) کا موقع الگ ہے، قیمہ اچھا لائے ہوں گے۔ یہ کباب چکھ کر دیکھو۔ عفت نے ہر قسم کے ملے جلے گوشت کا خدشہ بیان کیا۔ چودھری صاحب بولے "بعض موقعوں پر بہت زیادہ کرید میں نہیں پڑنا چاہیے۔ حضور کا فرمان بھی یہی ہے" دین کے معاملے میں عفت بے حد منہ پھٹ عورت تھی۔ اس نے نہایت تیکھے پن سے کہا یہ فرمان آپ کے حضور (مرزا قادیانی) کا ہے یا ہمارے حضور ﷺ کا؟"
(”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)
قادیانی پیغمبری
"ایک روز صدر ایوب نے حسب معمول اپنے سیاسی فلسفہ پر طولانی تقریر ختم کی تو ایک سینئر افسر وجد کی کیفیت میں آکر جھومتے ہوئے اٹھے اور سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر عقیدت سے بھرائی ہوئی آواز میں بولے ”جناب آج تو آپ کے افکار عالیہ میں پیغمبری شان جھلک رہی تھی"۔
یہ خراج وصول کرنے کے لیے صدر ایوب نے بڑی تواضع سے گردن جھکائی۔ یہ سینئر افسر مرزائی عقیدے سے تعلق رکھتے تھے۔ معاً مجھے یہ خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں صدر ایوب سچ مچ اس جھوٹ موٹ کے اڑن کھٹولے میں سوار ہو کر بھک سے اوپر کی طرف نہ اڑنے لگیں۔ چنانچہ اس غبارے سے ہوا نکالنے کے لیے کھڑا ہو گیا اور نہایت احترام سے گزارش کی "جناب ان صاحب کی باتوں میں ہر گز نہ آئیں۔ کیونکہ انہیں صرف خود ساختہ پیغمبروں کی شان کا تجربہ ہے"۔
(”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)
۱۹۶۵ء کی جنگ قادیانیوں نے لگوائی تھی
”کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ جنگ (۱۹۶۵ء) قادیانیوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ اس لیے فوج کے ایک قادیانی افسر میجر جنرل اختر حسین ملک نے مقبوضہ کشمیر پر تسلط قائم کرنے کے لیے ایک پلان تیار کیا جس کا کوڈ نام ”جبرالٹر“ تھا۔ صاحبانِ اقتدار کے کئی افراد نے ان کی مدد کی۔ ان میں مسٹر ایم ایم احمد سر فہرست بتائے جاتے ہیں جو خود بھی قادیانی تھے، اور عہدے میں بھی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ہونے کی حیثیت سے صدر ایوب کے نہایت قریب تھے۔ جنرل اختر ملک نے اپنے پلان کے مطابق کارروائی شروع کی۔ ایک بار میں نے نواب آف کالا باغ سے اس جنگ کے متعلق کچھ دریافت کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے فرمایا بھائی شہاب یہ جنگ پاکستان کی ہرگز نہ تھی۔ دراصل یہ جنگ اختر ملک، ایم ایم احمد، عزیز احمد اور نذیر احمد نے شروع کروائی تھی“۔ (جو سب قادیانی تھے۔ ناقل)
(”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)
ایک خواہش
اے کاش مجھے قادیان میں پانچ چھ تقریریں کرنے کی اجازت مل جاتی۔ وہاں میں کسی کا نام نہ لیتا، برا نہ کہتا، صرف رب کا قرآن پڑھتا اور جانتے ہو قرآن خود بخود دلوں میں گھر کرتا ہے۔
میری تقریر سن کر جو بیعت نہ بھی ہوتے، تو ان کا ضمیر انہیں ضرور ملامت کرتا۔ اگر مد مقابل کوئی شریف ہوتا جو دوسروں کی سنتا، اپنی سناتا تو مزہ آجاتا اور حق و باطل کا اظہار ہو جاتا۔
(خطاب امیر شریعت، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
خاتم النبیین
آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ وہ مائیں مرگئیں جو نبی جنا کرتی تھیں۔ اب وہ سانچے ہی ٹوٹ گئے۔ اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔
حضرت شاہ عبدالقادرؒ نے خاتم النبیین کا ترجمہ کیا ہے ”نبیوں پر مہر“ قادیانیوں نے ترجمہ کیا ہے نبیوں پر مہر لگائی اور نبی بنا دیا۔ یہاں شہر اور گاؤں کے لوگ بیٹھے ہیں۔ آپ لوگ کبھی ڈاک خانہ میں گئے ہوں گے۔ وہاں سب چٹھیاں اکٹھی کی جاتی ہیں‘ سب پر مہر لگتی ہے۔ اس کے بعد ان سب کو ایک تھیلے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پھر ایک شمع جلائی جاتی ہے۔ پھر اس کے بعد ایک سرکاری مہر لگائی جاتی ہے اور لاکھ کو پگھلا کر تھیلے کو بند کر کے اس پر وہ مہر لگائی جاتی ہے۔ اس مہر کو راستہ میں کوئی نہیں توڑ سکتا۔ جو توڑے گا‘ اس پر ڈاک خانہ کے قوانین کی دفعہ ۵۲ پوسٹ آفس لگے گی۔
اب اس بات کو سمجھو کہ تمام انبیاء کو نبوتیں آنحضرت ﷺ کے طفیل ملی ہیں۔ گویا کہ سب نبوتیں رحمت عالم میں جمع کر دی گئی ہیں اور جمع کر کے مہر لگا دی گئی ہے۔ اب ترجمہ کرو شاہ صاحب کا کہ نبیوں پر مہر“۔
(خطاب امیر شریعت‘ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ )
توہین خاتم النبیین کفر ہے
نبی کریم ﷺ کی توہین کفر ہے۔ بعض لوگ ہم پر بھی معاذ اللہ توہین کا الزام لگا دیتے ہیں۔ ارے ہم تو انتظار میں ہیں کہ کب وقت آئے کہ ہم اپنی چمڑی کو آپؐ کے صدقہ کریں۔
جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی بن سکتا ہے‘ بنا ہے یا وہ خود ہے تو کیا آپ لوگ اس کے دعویٰ کے دلائل دریافت کریں گے؟
ارے اگر کوئی آپ سے کہے کہ میں آپ کا باپ ہوں تو اس سے دلائل پوچھو گے؟
ہرگز نہیں اس کا علاج دلائل سے نہیں ہوتا۔ اگر اس کا علاج دلائل سے نہیں ہوتا تو پھر نئی نبوت کے لیے دلائل کیسے دریافت کرتے ہو؟
جس نسل میں نبی ہوا کرتے تھے، وہ نسل ختم ہو گئی۔
ان اللہ اصطفیٰ آدم ونوحاً وآل ابراھیم وآل عمران علیٰ العالمین
(سورہ آل عمران)
لوگ کہتے ہیں کہ نبوت ختم ہو گئی لیکن میں کہتا ہوں کہ وہ نسل ہی ختم ہو گئی۔ جس سے نبی بنا کرتے تھے۔ بننے سے نبی نہیں بنتا بلکہ خدا بناتا ہے۔ پیغمبر جب بھی آیا، ان پڑھ ہی آیا۔ کسی پیغمبر کا کوئی استاد نہیں، کسی پیغمبر کی کوئی تصنیف نہیں۔ پیغمبر کتابیں لکھ کر کتب فروشی کے لیے نہیں آیا کرتے۔ اگر کسی استاد سے پڑھتے ہوتے تو یہ بھی لازماً ہوتا کہ شاگرد کا کسی دن سبق یاد نہ ہوتا اور استاد انہیں مرغا بنا دیتا۔ یہ چیز نبی کی شان کے خلاف ہے۔
پھر وہ ہی کل کو اٹھ کر کہتا ماسٹر جی مجھے نبوت مل گئی مجھ پر ایمان لے آؤ۔ ماسٹر جی کہتے کہ میں نے تجھے کان سے پکڑ کر لاتیں ماری تھیں تو تیرا ماتھا لوٹے کی ٹونٹی پر جا لگا تھا اور ابھی تک اس زخم کا داغ باقی ہے۔ فرمائیے اب نبی صاحب کیا جواب دیں گے؟
نبی کا استاد خدا ہوتا ہے۔ وہ مخلوق کے آگے نہیں، خدا کے آگے جھکا کرتا ہے۔ یہ بات پلے باندھ لو کہ نبی خدا کا شاگرد ہوتا ہے۔ کوئی نبی دنیا میں نہیں پڑھا کرتا۔ وعلم آدم الاسماء کلہا علم کے معنی دانستن کے، جاننے کے ہیں۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)”
اور مرزائی تڑپ اٹھا
دریں اثناء شورش کاشمیری نے اپنی عادت سے مجبور چٹان میں ایک اداریہ لکھا جس میں نواب صاحب کالا باغ کی تعریف اور ایوب خان پر کڑی تنقید تھی۔ شورش نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ صدر ایوب نے اپنے گرد قادیانی جمع کر رکھے ہیں جو قادیانی جماعت کے سربراہ کی ہدایت پر صدر محترم کو گمراہ کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان
کی اقتصادی پالیسی امریکہ کے زیر ہدایت ایم شعیب اور مرزا ناصر احمد کے کزن ایم ایم احمد تشکیل دیتے ہیں۔ ایوان صدر میں پرسنل سیکرٹری این اے فاروقی اور ڈپٹی سیکرٹری عبدالوحید فیلڈ مارشل صاحب کو صحیح حالات سے بے خبر رکھنے کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب افسر پکے قادیانی ہیں اور اپنی کارکردگی اور حکومت کے خفیہ فیصلوں سے قادیانی جماعت کے سربراہ کو باقاعدہ طور پر باخبر رکھتے ہیں۔
خاں صاحب یہ اداریہ پڑھ کر اتنے خوش ہوئے کہ جوش میں ہمارے فیصلہ کو بھول گئے اور حسب سابق سرخ پنسل سے خاص خاص سطروں کو خط کشیدہ کر دیا۔ اختر ایوب کا پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ شکار پر گئے ہوئے ہیں۔ چھ سات دن تک پرچہ ہمارے پاس رہا مگر اختر ایوب شکار سے واپس نہ آئے۔ خاں صاحب کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان کی بے چینی کم کرنے کے لیے میں نے ان سے پرچہ لے لیا۔ ایک فائل کور میں رکھ کر کوئی دوسرا کام نکال کر پریذیڈنٹ صاحب کے کمرے میں چلا گیا۔ ایک دو چیک پر دستخط کروائے اور پریذیڈنٹ صاحب کی نظر سے بچا کر فائل کو پریذیڈنٹ کے دوسرے کاغذات میں رکھ کر چلا آیا۔ خان صاحب کو بتایا تو ان کے سینے کا بوجھ ہلکا ہوا۔
پریذیڈنٹ نے دوسرے دن Seen لکھ کر فائل کور واپس بھیج دیا۔ سب کاغذات واپسی پر فاروقی کے پاس آتے تھے۔ اس نے وہ فائل کور اور خاں صاحب کی خط کشیدہ کاری دیکھی تو غصہ سے پاگل ہو گیا۔ ان کا چپڑاسی خاں صاحب کے پاس آیا کہ صاحب نے سلام دیا ہے۔ خاں صاحب کو ”کھڑک“ گئی۔ فاروقی نے اداریہ والا صفحہ کھول کر خاں صاحب کے آگے پھینکا جہاں اس کا نام لکھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے حاشیہ میں فاروقی نے لکھا ہوا تھا آئی ایم ناٹ اے قادیانی۔ لفظ ناٹ کو دو دفعہ خط کشیدہ کیا ہوا تھا۔ بات صحیح تھی کیونکہ فاروقی مرزائی تو تھا مگر قادیانی پارٹی کی بجائے مرزائیوں کی لاہوری پارٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ ویسے بھی مرزائی خود کو قادیانی یا مرزائی کہلوانا پسند نہیں کرتے بلکہ خود کو احمدی کہتے ہیں۔ پوچھا یہ پرچہ کیسے پریذیڈنٹ تک پہنچا جبکہ منع کر رکھا تھا کہ نوائے وقت اور چٹان پریذیڈنٹ کو نہیں بھیجنا کیونکہ وہ پسند نہیں کرتے۔ خاں صاحب نے لاعلمی ظاہر کی مگر چونکہ جھوٹ بولنے کی عادت نہیں تھی اس لیے چہرے سے اعتراف صاف ظاہر تھا۔
دوسرے دن فاروقی نے خاں صاحب کو واپس وزارت اطلاعات میں بھیج دیا۔
(”ایوان صدر میں بارہ سال“ ص ۲۰۲-۲۰۳، از م-ب خالد صاحب)
ہلاکت مرزا اور کرامت پیر سید جماعت علی شاہ
۲۲ مئی ۱۹۰۸ء کو شاہی مسجد لاہور میں پیر صاحب نے ہلاکت مرزا کی بددعا بڑی شد و مد سے کرائی جس میں ہزاروں مسلمان شریک تھے اور یک زبان ہو کر التجا کرتے تھے کہ یا اللہ اس ابتلائے قادیانی سے اسلام کو رہائی بخش اور مسلمانوں کو راہ راست پر قائم رکھ۔ آمین کی صدائیں بلند ہوتی تھیں۔ اس دعا کے بعد جلسہ گاہ سے متواتر دعائیں ہوتی رہیں۔ آخر ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو بروز پیر، پیر صاحب قبلہ نے بڑے زور سے خبر دی کہ چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر مرزا صاحب دنیا سے رخصت ہو جائیں گے جیسا کہ ”تازیانہ نقشبندی“ نمبر ۲ و ”اطاعت مرید و مرشد صادق“ ص ۵۰، مطبوعہ گلزار ہند پریس لاہور بفرمائش ایم حسام الدین، ایڈیٹر رسالہ ”خدام الصوفیہ“ میں مذکور ہے کہ مرزا بمعہ سٹاف کے لاہور آیا۔ شاہ صاحب نے بھی تردیدی جلسہ بالمقابل قائم کیا۔ ۲۲ مئی ۱۹۰۸ء کو شاہی مسجد میں اثنائے وعظ میں آپ نے فرمایا کہ میری عادت پیشین گوئی کرنے کی نہیں مگر مجبوراً کہتا ہوں کہ اگر مرزا کو سیالکوٹ جانے کی طاقت ہے تو وہاں جا کر دکھلائے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ وہاں کبھی نہیں جا سکتا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ اس کو توفیق ہی نہیں دے گا کہ سیالکوٹ جاسکے۔ اس سے پہلے ۱۹۰۴ء میں عبدالکریم کی موت سے وہ اپنی رسوائی دیکھ چکا ہے۔ اب سب لوگ گواہ رہو کہ مرزا بہت جلد ذلت اور عذاب کی موت سے مارا جائے گا اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ مرزا کو لاہور سے نکال کر جاؤں گا۔ کیونکہ یہ محمدیوں کے ایمان کا ڈاکو ہے۔ آپ نے ہر روز یہ لفظ دہرائے۔ آخر ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کی شب کو نہایت جوش سے کھڑے ہو کر فرمایا کہ ہم کئی روز سے مرزا کے مقابلہ میں آئے ہوئے ہیں۔ پانچ ہزار روپے کا انعام بھی مقرر کیا ہوا ہے کہ جس طرح چاہے وہ ہم سے مناظرہ کرے یا مباہلہ کرے اور اپنی کرامتیں اور معجزے دکھائے۔ لیکن اب وہ مقابلہ میں نہیں آتا۔ لیکن آج میں مجبوراً کہتا ہوں کہ آپ صاحبان
سب دیکھ لیں گے کہ کل ۲۴ گھنٹے میں کیا ہوتا ہے۔ آپ اتنے ہی لفظ کہہ کر بیٹھ گئے مگر رات کو مرزا ہیضہ سے بیمار ہو گیا اور دوپہر تک مر گیا۔
("الکاویہ علی الغاویہ" ص ۳۸۵-۳۸۶، از مولانا محمد عالم آسی امرتسریؒ)
خدا جانے بچھڑ کر ہم سے کس محور میں رہتے ہیں (مولف)
ہلاکت عبدالکریم مرتد قادیانی
اس میں بھی انہی پیر صاحب نے مرزائیت کا مقابلہ کیا تھا۔ چنانچہ بحوالہ مذکور یوں لکھا ہے کہ "مرزا بمعہ سٹاف کے نومبر ۱۹۰۳ء میں سیالکوٹ پہنچا اور شاہ صاحب قبلہ بھی وہاں پہنچ گئے اور تردیدی مجلس قائم کر دی۔ اسے چیلنج دیے مگر وہ باہر نہ نکلا۔ ایک دن لنگڑے عبدالکریم مرزائی نے اپنی چار دیواری کے اندر معراج نبوی پر لیکچر دیتے ہوئے یوں کہا کہ لوگ کہتے ہیں براق آیا، براق آیا لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ جب ایڑیاں اور گھٹنے رگڑتے ہوئے وہ ہی نبی مکہ سے بھاگ کر پہاڑوں اور غاروں میں چھپتا پھرتا تھا اور اس وقت براق کیوں نہ آیا؟ یہ گستاخانہ کلام جب شاہ صاحب کو جلسہ گاہ میں سنائی گئی تو آپ نے دوران وعظ میں جوش کھا کر کہا کہ وہ بے دین شخص جس نے حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی ہے، بہت جلد اور ذلت کی موت مارا جائے گا۔ دوسرے دن ایک غیر جانبدار شخص نے خواب دیکھا کہ عبدالکریم کہتا ہے کہ مجھے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے پنجہ مارا ہے۔ اس وقت یوں دکھائی دیا کہ شانہ سے لے کر کمر تک پٹکہ باندھے ہوئے اور دیوار سے سہارا لیے ہوئے کھڑا ہے۔ اس خواب کی تعبیر یوں کی گئی کہ پیر صاحب نے اثنائے تقریر میں غصہ میں آکر میز پر زور سے اپنا ہاتھ مارا تھا جو امام زین العابدین علیہ السلام کا پنجہ بن کر رات کو ظاہر ہوا تھا۔ چنانچہ ابھی کچھ عرصہ گزرا تھا کہ سرطان (گدود، دانہ) سے ہلاک ہو گیا"۔
("الکاویہ علی الغاویہ" ص ۳۸۷، از مولانا محمد عالم آسی امرتسریؒ)
حکیم نور الدین بھیروی کی بدبو
ابتدائی تعلیم اپنے اصلی مولد بھیرہ ضلع شاہ پور میں جناب مولانا احمد الدین صاحب مرحوم بگوی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاصل کی تھی۔ مروجہ تعلیم سے فارغ ہو کر لکھنؤ جاکر طب پڑھی۔ پھر حرمین شریفین میں اکتساب علوم کیا۔ مولانا مرحوم بگوی فرمایا کرتے تھے کہ اے نور الدین تم سے مجھے بدبو آتی ہے۔ مجھے خیال ہے کہ تم اہل اسلام کے لیے فتنہ بنو گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔
("الکاویۃ علی الغاویہ" ص ۵۲۶‘ از مولانا محمد عالم آسی امرتسریؒ)
جیل کی سختیاں
سنٹرل جیل میں امیر شریعتؒ کی آمد سے محفل عشاق میں رونق آگئی۔ گو امیر شریعت کے پاس دل زندہ کے سوا اب کوئی دولت باقی نہیں تھی۔ صحت عمر رفتہ کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی۔ رہی سہی کسر سکھر جیل نے پوری کر دی۔ نقاہت کے باعث امیر شریعت کا پر بہار چہرہ پت جھڑ کے موسم کی طرح اپنا رنگ و روغن ضائع کر چکا تھا‘ تاہم وہ اپنی گراں بہا دولت کہ ”زندگی زندہ دلی کا نام ہے“ کے سہارے جنگل میں منگل منا کر اسیران ہم قفس کے ساتھ وقت گزارنے لگے۔
("حیات امیر شریعت" "ص ۳۷۲‘ از جانباز مرزاؒ)
حضرت رائے پوریؒ کی مسئلہ ختم نبوت سے محبت
حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی سے جو قلبی تعلق تھا‘ وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ان حضرات کے جیل جانے کے بعد ان کے خاندان
اور پسماندہ افراد کی فکر رکھتے اور ان سب کی ذمہ داری محسوس فرماتے۔
مولانا محمد علی صاحب جالندھری لکھتے ہیں:
”مولانا حبیب الرحمن منٹگمری جیل میں جب نظر بند تھے، ملاقات کی کسی کو اجازت نہ تھی۔ میں رائے پور حاضر ہوا۔ فرمایا کہ مولانا حبیب الرحمن سے ملاقات اگر کسی طرح ہو جائے تو بہت اچھا ہے۔ دل ملاقات کو چاہتا ہے۔ میں نے عرض کیا حضرت میں انتظام کروں گا۔ اس پر بہت ہی خوشی کا اظہار فرمایا۔ فرمایا ضرور کوئی انتظام کریں۔ سخت سردی کا زمانہ تھا۔ میں نے ایک ایم۔ایل۔ اے کے ذریعہ، جو میرا ملاقاتی تھا، وزیر جیل منوہر لال سے اجازت لی۔ بذریعہ تار ملتان اجازت کی اطلاع ملی۔ میں نے رائے پور اطلاع دی۔ حضرت والا سخت سردی میں منٹگمری تشریف لائے۔ میں اسٹیشن پر پہلے سے موجود تھا۔ رات منٹگمری میں ایک دوست کے ہاں قیام کرایا، صبح مولانا حبیب الرحمن سے ملاقات ہوئی۔
مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے متعلق بڑے بلند کلمات فرماتے تھے۔ ان سے اور ان کی وجہ سے ان کے خاندان سے بڑی محبت و شفقت کا برتاؤ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ ”تم بخاری صاحب کو یوں ہی نہ سمجھو کہ صرف لیڈر ہی ہیں۔ انہوں نے ابتداء میں بہت ذکر کیا ہے“ اور فرمایا کہ یقین تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا نصیب فرمایا ہے کہ باید و شاید۔ میاں حالات و کیفیات کیا چیز ہے۔ اصل تو یقین ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو عطا فرمادے۔ مولانا محمد علی صاحب جالندھری فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت کے سامنے بخاری صاحب کے لڑکوں کا تذکرہ آیا۔ فرمایا کہ شاہ صاحب کے لڑکے ہیں۔ میں تو ان کا نوکر ہوں۔ یہ محبت اور خصوصیت ان کے اخلاص، خود فراموشی، دینی خدمت میں انہماک اور اس نفع کی بنا پر تھی، جو ان کی ذات اور ان کی ایمان افروز تقریروں سے عظیم مجمعوں میں پہنچتا تھا اور خصوصیت کے ساتھ پنجاب اور بالاخصوص ملتان اور اس کے نواح میں جو عقائد کی اصلاح ہوئی تھی۔ خود شاہ صاحب اپنی تقریروں اور
کوششوں کی روح اور اپنی زبان کے اثر اور اس محنت و جفاکشی کے تحمل کا راز ایک مخلص اور مقبول بندہ کے ساتھ تعلق اور اس کی دعاؤں اور محبت کو سمجھتے تھے اور اس پر ان کو بڑا ناز اور بہت اعتماد تھا۔ احرار سے محبت کی وجہ سے ان کی شان قلندرانہ اور جرات رندانہ تھی۔ ہر نئے فتنہ اور جدید فرقہ کے مقابلے میں یہ سینہ سپر اور سر بکف ہوتے۔ قادیانیت، رفض و تفضیل اور متعدد ایسی گمراہ کن تحریکیں تھیں جن کے مقابلہ میں یہی سر پھرے میدان میں آتے۔
اس لیے حضرت اس جماعت کے کارکنوں کی بہت سی کوتاہیوں اور غلطیوں سے بھی چشم پوشی فرماتے اور ان کے جذبہ اور ہمت کی قدر کرتے۔
حضرت نے قادیانیت کا آغاز اور اس کے سب دور اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ خود مرزا اور حکیم نور الدین اور اس تحریک کے بڑے بڑے ذمہ داروں سے قریبی واقفیت تھی۔ آپ اس تحریک کے حقیقی مقاصد اور اس کے اندرونی حالات سے بخوبی آگاہ تھے اور اس کو اسلام کی بیخ کنی اور تخریب کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی سے عشق و محبت کا جو تعلق اور آپ کے ختم رسل اور امام سبل ہونے پر جو اعتماد و یقین تھا، اس کی بنا پر آپ نبوت کے ہر مدعی کو نبوت محمدی کا رقیب و حریف سمجھتے تھے اور اس سے آپ کو ایسی ہی نفرت اور غیرت آتی تھی۔ جیسے ایک غیرت مند عاشق اور ایک وفادار غلام کو آنی چاہیے تھی۔ یہی جذبہ تھا جس نے آپ سے پہلے مولانا سید محمد علی مونگیری ناظم ندوۃ العلماء اور مولانا سید انور شاہ کشمیری کو مضطرب اور بے قرار بنا رکھا تھا اور انہوں نے قادیانیت کی مخالفت کو اپنے لیے افضل عبادت اور افضل جہاد سمجھا تھا۔ حضرت بھی اس بارے میں طبعی اور وجدانی طریقہ پر صاحب یقین اور صاحب حال تھے۔ تحریک احرار، ختم نبوت اور احراری رہنماؤں اور علماء میں درحقیقت آپ ہی کا جذبہ اور آپ ہی کی روح کام کر رہی تھی۔ آپ اس سلسلہ کی ہر کوشش کو وقت کا اہم فریضہ اور دین کی اہم خدمت سمجھتے تھے اور ہر طرح اس کی ہمت افزائی اور سرپرستی فرماتے تھے اور دل و جان سے اس کی خدمت و تقویت کو ضروری سمجھتے تھے۔ ان کوششوں کے تذکرہ سے آپ کے اندر شگفتگی
اور تازگی پیدا ہوتی تھی اور وہ آپ کی روح کی غذا بن گئی۔ مولانا محمد علی صاحب فرماتے ہیں:
”مرزائیت کی نسبت جس قدر متفکر رہتے‘ آپ کو معلوم ہی ہے۔ جب میں حاضر ہوتا‘ فرماتے! ’مرزائیوں کا کیا حال ہے؟ اگر کوئی خوشی کی بات بتائی جاتی‘ اکثر فرماتے الحمد للہ‘ اگر ہنسی والی بات ہوتی تو ایسا ہنستے کہ تمام بدن مبارک متحرک ہو جاتا۔
ایک دفعہ حاضر ہوا تو ایک نوٹ نکال کر عطا فرمایا کہ ختم نبوت کے کام کی امداد میری طرف سے۔ پھر مجلس میں حاضرین کو توجہ دلائی۔ سب نے امداد کی۔ حضرت مولانا فضل صاحب نے دس روپے کا نوٹ نکال کر دیا۔ فرمایا پانچ روپے رکھ لو۔ میں پانچ کا نوٹ واپس کرنے لگا۔ حضرت نے فرمایا واپس کیوں لیتے ہو۔ یہ بھی دے دو۔ انہوں نے وہ بھی دے دیا۔
اس سلسلہ میں جو لوگ نمایاں حصہ لیتے تھے اور جنہوں نے رات دن ایک کر رکھا تھا‘ ان سے حضرت کو نہایت محبت تھی اور ان کی نہایت قدر فرماتے تھے اور اپنی محبت و پیار کا اظہار فرماتے۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد مولانا محمد علی جالندھری اس میں پیش پیش تھے۔ حضرت ان سے بڑی محبت و شفقت فرماتے تھے اور ان کا بڑا اکرام کرتے تھے۔ مولانا لکھتے ہیں:
”ایک دفعہ صبح آٹھ بجے کے قریب لائل پور حاضر ہوا۔ زمین کے فرش پر دھوپ میں تشریف فرما تھے۔ آگے ہو کر فرش پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ میں تھوڑا آگے ہوا۔ بالکل برابر بٹھا کر کمر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا ”میرا چاند آیا“۔
میری موجودگی میں جب حضرت والا کی خدمت میں دودھ پیش کیا جاتا تب فرماتے مولوی صاحب کو پلاؤ۔ میں پی کر کیا کروں گا۔ یہ تو کام کرتے ہیں۔ خدام اصرار کر کے پلاتے اور کہتے اور دودھ مولوی صاحب کو پلا دیں گے۔ پھر بھی پورا نہ پیتے بلکہ چھوڑ کر فرماتے ”مولوی صاحب کو پلا دو“ اس طرح بارہا حضرت کا تبرک ملا“۔
مولانا محمد صاحب انوری لکھتے ہیں:
”آخر عمر میں حضرت اقدس کو رد مرزائیت کی طرف بڑی توجہ ہو گئی تھی۔ مولوی محمد حیات صاحب کو (جنہیں قادیانیوں اور لاہوریوں کی کتابیں ازبر ہیں) بلا کر مباحثہ سنتے تھے اور مولوی لال حسین اختر کو بلا بھیجتے تھے۔ مولانا محمد ابراہیم میر صاحب سیالکوٹی کی ”شہادت القرآن“ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ دوبارہ اس کو طبع کرانے کے بڑے متمنی تھے۔ آخر کار حضرت اقدس نور اللہ مرقدہ کی توجہ مبارک سے اس کی دوبارہ اشاعت ہو گئی اور ایک علمی خزانہ ہاتھ آگیا۔ علماء جو ادھر ادھر کے مسائل میں الجھے رہتے ہیں، حضرت کو بڑا صدمہ ہوتا تھا۔ ان ابحاث میں حضرتؒ نہیں پڑتے تھے بلکہ اہم کام رد مرزائیت کو قرار دیتے تھے۔
حضرت ہی کے حکم اور ایماء پر تحریک ختم نبوت میں مولانا محمد صاحب جیل گئے۔ مولانا لال حسین صاحب اختر کے لیے اسی سلسلہ کی سعی و جہد کو وظیفہ اور سلوک قرار دیتے تھے اور اس کو ان کی ترقی کا ذریعہ بتاتے تھے۔ جنوری ۱۹۵۳ء میں ختم نبوت کی تحریک شروع ہوئی۔ حضرت ہمہ تن اس کی طرف متوجہ رہے اور اس کی فکر اور اس کا اثر پورے طور پر آپ کی طبیعت، قویٰ فکریہ اور اعضاء جوارح پر مستولی ہو گیا۔ محمد افضل صاحب (سلطان فاؤنڈری والے) کہتے ہیں کہ تحریک کے زمانہ میں آپ ایک مرتبہ اپنے وطن ڈھڈیاں تشریف لائے ہوئے تھے۔ پنجاب کے ایک مشہور عالم کہیں قرب و جوار میں تشریف لائے تھے۔ حضرت کی موجودگی کی اطلاع پا کر زیارت کے لیے ڈھڈیاں آئے۔ آپ کی نگاہ جب ان پر پڑی تو آپ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے۔ اس وقت لاہور اس تحریک کا مرکز تھا اور یہاں گاؤں ہونے کی وجہ سے دیر میں خبریں پہنچتی تھی۔
آپ کا خیال تھا کہ یہ دورہ کرتے ہوئے آ رہے ہیں، ان کو تازہ حالات کا علم ہوگا۔ آپ نے بڑے اشتیاق کے ساتھ ان سے تحریک کی رفتار اور لاہور کے حالات کے متعلق دریافت کیا۔ انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا (جس سے بے
توجہی اور عدم دلچسپی کا اظہار ہوتا تھا) حضرت بہت مایوس اور پژمردہ ہوئے کہ یہ شہر سے آرہے ہیں۔ کچھ تازہ حال سنائیں گے مگر یہ تو بالکل ناواقف اور بے تعلق نکلے۔ محمد افضل صاحب یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جس زمانہ میں تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں پر مقدمہ چل رہا تھا اور مولوی مظہر علی اظہر احرار کے پیروکار اور وکیل تھے۔ حضرتؒ نے ایک روز مجھ سے فرمایا کہ کل ذرا سویرے موٹر لے آنا‘ کہیں چلیں گے۔ میں موٹر لے کر حاضر ہوا۔ حضرت مولوی مظہر علی کی کوٹھی پر تشریف لائے اور تنہا ان کے پاس تشریف لے گئے۔ بہت دیر تک تنہائی میں ان سے باتیں کی۔ خاصی دیر کے بعد باہر تشریف لائے۔
اس موضوع اور مقصد سے حضرت کی شیفتگی اور شغف کا اندازہ اس سے ہوگا کہ حکومت پنجاب کے ماتحت جنوری ۱۹۵۸ء میں لاہور میں اسلامک کلوکیم (مذاکرہ اسلامی) منعقد ہوا۔ اس میں مشرق وسطیٰ کے بڑے ممتاز اور نامور عالم شریک ہوئے۔ انہوں نے بعض شرکاء جلسہ اور پاکستانی علماء سے قادیانیت کے متعلق سوالات کیے اور اس بات کی خواہش ظاہر کی کہ اگر عربی زبان میں اس مذہب اور تحریک کے متعلق کوئی کتاب یا مضمون ہو تو ان کو پڑھنے کے لیے دیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ اسی سرزمین میں یہ مذہب و تحریک پیدا ہوئی۔ اس کو سمجھنے کا یہاں سے بہتر موقعہ نہیں مل سکتا لیکن عربی میں کسی موزوں کتاب کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے جس میں اس تحریک اور اس کے بانی کے تعارف اور اس مذہب کی حقیقت اور اس کی تاریخ بیان کی گئی ہو‘ ان کو کوئی چیز پیش نہ کی جا سکی۔ جو لوگ کلوکیم میں شریک ہوئے تھے اور وہاں کی کارروائی سے واقفیت رکھتے تھے‘ وہ اکثر شام کی مجلس میں حضرتؒ سے وہاں کی روداد بیان کرتے تھے۔ حضرت کو یہ سن کر بڑا صدمہ ہوا کہ ان اہم علماء کی فرمائش پوری نہیں کی جاسکی اور قادیانیت کے بارے میں عربی زبان میں کوئی ایسی کتاب نہیں‘ جس سے اس کی حقیقت معلوم ہو سکے۔ راقم سطور بعض مجبوریوں کی بنا پر کلوکیم میں نہیں پہنچ سکا تھا اور چند دن کی تاخیر سے حضرت کی خدمت میں لاہور حاضر ہونے والا
تھا۔ حضرت نے اس موقع پر فرمایا کہ وہ آئیں گے تو ہم ان سے چمٹ جائیں گے کہ یہ کام کر کے جاؤ۔
میں جب لاہور پہنچا تو حضرت نے یہ تمام واقعہ سنایا اور فرمایا کہ تم عربی میں ایک کتاب لکھ دو۔ مولانا محمد حیات صاحب کو اور دوسرے احباب اور خدام کو حکم ہوا کہ وہ اس کے لیے ضروری مواد اور سامان مہیا کریں۔ حضرت کا یہ قلبی تقاضا دیکھ کر اور حکم سن کر اپنی بے بضاعتی اور نااہلی کے باوجود میں نے حکم کی تعمیل کا وعدہ کر لیا۔ صوفی عبدالحمید صاحب کی کوٹھی پر قیام تھا۔ انہوں نے اپنا کمرہ عنایت فرما دیا۔ دو ایک دن کے اندر قادیانیت کا کتب خانہ اور مرزا صاحب کی تقریباً تمام تصنیفات جمع ہو گئیں اور کام شروع ہو گیا۔
میرے لیے بڑی دقت اور آزمائش یہ تھی کہ مجھے اس موضوع سے کبھی ذوق اور واسطہ نہیں رہا تھا۔ اپنے پیدائشی ادبی ذوق اور اپنے مخصوص علمی و تعلیمی ماحول کے اثر سے مجھے مناظرانہ مباحث سے کبھی دلچسپی نہیں ہوئی۔ بالخصوص مرزا قادیانی کی کسی کتاب کے چند صفحے پڑھنا بھی میرے لیے مجاہدہ عظیم تھا اور میں کبھی اس پر قادر نہ ہو سکا۔ صرف تحریک ختم نبوت کے زمانہ میں چونکہ ممالک عربیہ کے اخبارات میں یک طرفہ اطلاعات شائع ہو رہی تھیں اور تصویر کا صرف ایک ہی رخ پیش کیا جا رہا تھا۔ قادیانی جماعت کو محض ایک ایسے ستم رسیدہ فرقہ کی حیثیت سے دیکھا جا رہا تھا جو اکثریت اور جاہل و متعصب مسلمانوں کی ہر طرح کی دست درازیوں کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ میں نے اپنے عرب دوستوں کو حقیقت حال سے مطلع کرنے کے لیے ابتداً ایک خط کی شکل میں (جو بعد میں ایک رسالہ کی صورت میں شائع ہو گیا) قادیانیت اور پاکستان کی تحریک ختم نبوت کے متعلق کچھ لکھا تھا جس کا سرمایہ علم صرف پروفیسر الیاس برنی صاحب مرحوم کا ایک رسالہ ”قادیانیت کا محاسبہ“ اور مولانا ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کا ”قادیانی مسئلہ“ تھا۔ یہی میرے علم و مطالعہ کی کل کائنات تھی۔ اب مجھے ایک ناقدانہ مستقل علمی تصنیف مرتب کر کے حضرت کی خدمت میں پیش
کرنی تھی۔ اس کے لیے مرزا صاحب کی ساری تصنیفات اور ممکن الحصول قادیانی لٹریچر کا مطالعہ کرنا ضروری تھا۔ پھر اس کی تنقید اور تردید افتاد طبع قدیم تعلیم و تربیت‘ طبعی ذوق و رجحان ہر ایک کا ناطق فیصلہ یہ تھا کہ یہ کام میری دسترس سے باہر اور میرے مزاج کے بالکل خلاف ہے۔ لیکن انکار اور معذرت کی نہ گنجائش تھی نہ جرات۔ اللہ تعالیٰ کے اعتماد و توکل پر اس کام کا بیڑا اٹھالیا اور ایک علمی و تصنیفی اعتکاف کی نیت کرلی اور اپنے کام میں لگ گیا۔
حضرت اس کام کی تکمیل کی طرف پوری طرح متوجہ تھے۔ ان کو کسی طرح گوارا نہ تھا کہ میں اس عرصہ میں اپنا وقت کسی اور کام میں صرف کروں۔ کسی ضروری سے ضروری تقریب میں شرکت کے لیے کوٹھی سے باہر جانا بھی حضرت کو گراں گزرتا تھا۔ کبھی اس کا علم ہو جاتا کہ کوئی دوست اصرار کر کے لے گئے تو فرماتے پھر یہ کام کیسے ہوسکے گا۔ یہ کام اس وقت سب سے زیادہ ضروری ہے۔ دن بھر لکھنے میں مصروفیت رہتی۔ شام کو عصر کی مجلس میں اور کبھی اس سے پیشتر دن بھر کے کام کا جائزہ لیتے۔ جو کچھ کیا ہوتا‘ اس کو سنتے۔ اس وقت کسی اور موضوع کا چھیڑنا گوارا نہ تھا۔ کوئی بڑے سے بڑا شخص اس طرح بیٹھ جائے کہ میں آڑ میں ہوجاتا تو ان کو متوجہ فرمادیتے۔ اس موضوع سے خاص تعلق رکھنے والے جو علماء تشریف لاتے اور جن کی اس موضوع پر گہری اور وسیع نظر ہوتی ان سے ارشاد ہوتا کہ وہ میرے کام کو ملاحظہ فرمائیں اور اپنی معلومات سے مستفیض کریں۔ غرض اس عرصہ میں یہی موضوع اور یہی ذوق در و دیوار پر چھایا ہوا تھا۔
کتاب بحمد اللہ ایک مہینہ کے اندر اندر مرتب ہو گئی اور ۲۷ فروری ۱۹۵۸ء کو میں اس سے فارغ ہو گیا۔ مجھے اس کتاب کی تصنیف کے سلسلہ میں خوب اندازہ ہوا کہ حضرت کی فراست اور وجدان اس فرقہ کے بارے میں بالکل صحیح اور حق بجانب ہے۔ تخریب اسلام اور اسلام کو اپنے مرکز سے ہٹانے میں کوئی سازش اتنی خطرناک اور کامیاب نہیں ثابت ہوئی‘ جتنی یہ سازش اور
کوشش۔
میرے لیے اور ان سب دوستوں کے لیے جو میری افتاد طبع اور ثقافت سے واقف ہیں اور انہوں نے یہ کتاب بھی پڑھی ہے، یہ بات سخت تعجب خیز ہے کہ یہ کتاب اس قلیل عرصہ میں ایک ایسے شخص کے قلم سے کیسے تیار ہو گئی جو اس موضوع کے ابجد سے بھی ناواقف اور اس کوچہ سے یکسر نابلد تھا۔ تقریباً ایک مہینہ کی قلیل مدت میں اس پورے کتابی ذخیرہ کا جائزہ بھی لیا گیا، نوٹس بھی تیار کیے گئے اور عربی میں منتقل بھی کر لیا گیا۔ اگر اس کو حضرتؒ کی کرامت سمجھا جائے تو کچھ بے جا نہ ہو گا۔ میں اب بھی جب کبھی اس کو دیکھتا ہوں، مجھے خود حیرت ہوتی ہے اور اس کو محض تائید غیبی اور ایک مخلص کی دعا اور فکر کا نتیجہ سمجھتا ہوں۔
مصلحت را تہمتے بر آہوئے چین بستہ اند
یہ کتاب کچھ عرصے کے بعد ”القادیانی والقادیانیۃ“ کے نام سے خوبصورت عربی ٹائپ میں طبع ہو گئی اور مصر و شام نیز افریقہ کے ان حصوں میں جہاں قادیانیت نے فروغ حاصل کرنا شروع کیا تھا، اس نے بڑی مفید خدمت انجام دی اور کہیں کہیں اس نے ایک پشتہ کا کام دیا۔ (والحمد للہ وحدہ)
اس کے ٹھیک ایک سال بعد جب ۱۹۵۹ء میں دوبارہ لاہور حاضر ہوا تو ارشاد ہوا کہ اب اس کو اردو میں منتقل کر دو۔ کتابی ذخیرہ پھر جمع کیا گیا تاکہ اصل عبارتیں نقل کی جائیں۔ اس نقش ثانی میں کچھ اضافہ بھی کیا گیا اور مہینہ کے اندر اندر یہ ترجمہ بھی تیار ہو گیا جو ”قادیانیت“ کے نام سے لاہور سے شائع ہوا اور اس نے سنجیدہ حلقہ میں بہت جلد اپنی جگہ پیدا کر لی۔ اخبارات و رسائل نے بالعموم اس پر بڑے اچھے تبصرے کیے اور خاص طور پر اس کی متانت اور زبان کی ثقاہت مستند معلومات اور محکم استدلال کی داد دی۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی)
اور مرزائی جہنم واصل ہو گیا
دنیا پور میں قادیانیوں کے کئی گھر ہیں۔ گزشتہ سال کا واقعہ ہے کہ حفیظ اللہ نامی قادیانی کے بیٹے رفیق احمد نے چند مسلمانوں عبدالمجید، شبیر احمد، طور صاحب، حاجی شاہ جہان کے خلاف تھانہ دنیا پور میں ایک جھوٹا مقدمہ دائر کیا اور اس کی تفتیش کے لیے ایس۔ایس پی ملتان کو درخواست گزاری۔ ایس۔ایس پی ملتان نے ایڈیشنل ایس۔پی جناب سلیم بختیار قاضی کو تفتیشی افسر مقرر کیا۔ موصوف نے فریقین کی گفتگو سننے کے بعد موقعہ ملاحظہ کرنے کا وعدہ کیا۔
چنانچہ موصوف مورخہ ۱۸ دسمبر کو موقعہ ملاحظہ کرنے کے لیے دنیا پور تشریف لائے۔ چونکہ قادیانیوں نے جھوٹی رپورٹ پیش کی تھی۔ جب افسر مذکور نے سوالات کرنے شروع کیے اور رفیق مرزائی سے جواب نہ بن سکا تو رفیق نے فوراً کہا لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ جھوٹوں پر خدا کی لعنت، اللہ کا غضب اور عذاب نازل ہو۔
اس اثنا میں رفیق قادیانی کے گھر سے رونے کی آواز آئی۔ پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ رفیق قادیانی کے باپ حفیظ اللہ کو دل کا شدید دورہ پڑا۔ جس سے قادیانیوں نے مشتعل ہو کر ایڈیشنل ایس۔پی اور معزز شہریوں کو غلیظ گالیاں دینی شروع کر دیں اور کہا کہ ان کے والد کو دل کا دورہ ایڈیشنل ایس۔پی اور شہریوں کی وجہ سے پڑا ہے۔
مریض کو سول ہسپتال دنیا پور میں داخل کرایا گیا۔ مقامی ڈاکٹروں نے جواب دے دیا تو نشتر ہسپتال ملتان میں منتقل کر دیا گیا۔ معمولی وقت موت و حیات کی کشمکش میں رہ کر حفیظ اللہ قادیانی پر اس کے بیٹے کے قول کے مطابق جھوٹے پر خدا کی لعنت، پھٹکار، غضب اور عذاب نازل ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے مذکور اپنے جھوٹے نبی مرزا غلام قادیانی جہنم مکانی کے پاس پہنچ گیا۔ صدق اللہ۔ لعنت اللہ علی الکاذبین
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۱۰، شمارہ ۲۸)
قادیانیوں کی بنی بنائی قبر نے ساتھ نہ دیا
گزشتہ دنوں کی بات ہے ضلع مظفرگڑھ کے ایک نواحی قصبہ خان پور بگا شیر نامی میں ایک قادیانی ریٹائرڈ ماسٹر رحمت علی مر گیا۔ عشاء سے قبل قصبہ میں موجود دفتر سپاہ صحابہؓ میں تین نوجوان آئے۔ دفتر میں موجود مولوی انیس الرحمن صاحب قاسمی (متعلم جامعہ خیر المدارس) جنرل سیکرٹری سپاہ صحابہؓ خان پور بگا شیر سے دریافت کیا کہ کیا ہم قادیانی کے جنازہ میں شرکت کر سکتے ہیں؟ تو مولوی انیس الرحمن قاسمی نے جواب دیا کہ قادیانی کافر ہیں اور حکومت پاکستان نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے اور آپ بحمد اللہ مسلمان ہیں۔ لہٰذا آپ کے لیے شرکت کرنا حرام ہے۔ اس پر وہ کہنے لگے کوئی جواز کی صورت بتائیں تاکہ کسی طرح ہم شریک ہو سکیں۔ قاسمی صاحب نے کہا عالی جاہ! چونکہ میں طالب علم ہوں میرا علم محدود ہے۔ آپ مدرسہ محمود العلوم کے مہتمم قاری محمد ادریس صاحب سے جواز کی صورت معلوم کریں۔ چنانچہ وہ کھڑے ہوئے۔ اسی اثناء میں انیس الرحمن صاحب نے کہا آپ کو یہ معلوم کرنا چاہیے تھا کہ یہ قادیانی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس پر وہ کہنے لگے یار اک ہور مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ چنانچہ وہ چلے گئے۔
مولوی انیس الرحمن اور چند کارکنان نے نماز عشاء ادا کی اور فیصلہ کیا کہ آج اس قادیانی کو اپنے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دینا۔ پانچ ساتھیوں نے عزم بالجزم کیا۔ یہ پانچ کارکنان مولوی انیس الرحمن کے ساتھ قبرستان کی طرف اللہ عزوجل کی رحمت سے چل دیے۔ راستہ میں مدرسہ محمود العلوم میں ناظم مدرسہ سے پوچھا کہ آپ کے پاس کچھ لوگ مسئلہ پوچھنے آئے تھے تو انہوں نے فرمایا جی ہم نے یہی جواب دیا ہے کہ آپ کے لیے شرکت حرام ہے۔ تو مولوی صاحب نے کہا پھر آپ ہمارے ساتھ چلیں اور قادیانی کو دفن نہ ہونے دیں۔ انہوں نے فرمایا یہ میرا کام نہیں ہے۔ کہہ کر جان چھڑالی۔ تو یہ پانچ ساتھی جن کے نام محمد اشرف حقانی‘ عبد الستار بھٹہ‘ محمد اقبال بھٹہ‘ محمد ادریس‘ محمد یوسف ظفر اور لطف اللہ‘ مولوی انیس الرحمن قاسمی کی قیادت میں قبرستان کی طرف چل دیے۔ وہاں جاکر قبریں کھودنے والے کے گھر جاکر دستک دی۔ دریافت کیا کہ قبر کہاں بنائی ہے؟ وہ کہنے لگے
ہم عصر کے وقت سے قبر بنا کر فارغ ہو گئے ہیں۔ اب رات کے ساڑھے دس بج چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک نہیں آئے۔ مولوی صاحب نے پوچھا قبر کہاں بنائی ہے؟ وہ قبر پر لے گیا۔
قاضی صاحب نے کہا آپ اس قبر کو بند کر دیں اور اس کی لاگت‘ مزدوری ہم سے لے لیں۔ اس نے کہا آپ میت کو آنے دیں‘ اس کے بعد قبر کو بند کر دینا۔ چنانچہ گنتی کے چھ سات جیالے کارکنان اس قبرستان میں مردے کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ تقریباً بارہ بجے کے بعد دور سے روشنی معلوم ہوئی۔ ساتھی چوکس ہو گئے۔ اتنے میں دیکھا کہ کافی تعداد میں لوگ مردہ کے ساتھ ہیں جن میں اکثریت سنی العقیدہ لوگوں کی ہے۔ کچھ شیعہ ہیں اور قادیانی صرف نو آدمی تھے۔ جنازہ ضلع مظفر گڑھ کے بڑے قادیانی ڈاکٹر محمد اقبال نے پڑھایا۔ خیر جنازہ میں کسی نے شرکت نہیں کی۔ جنازہ سے فارغ ہوئے اور مردہ اٹھانے لگے تو قاضی صاحب نے کہا آپ اس مردہ کو یہیں رکھ دیں اور میری گزارش سنیں۔ چنانچہ مردہ رکھ دیا گیا۔
قاضی صاحب نے فرمایا آپ کو معلوم ہے کہ حکومت پاکستان نے بھٹو دور میں قادیانیوں کو اقلیتی فرقہ اور غیر مسلم قرار دیا ہے اور غیر مسلم مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق یہ قادیانی یہاں دفن نہیں ہو گا۔ اس بات پر قادیانی خاموش رہے۔ لیکن نام نہاد سنی اور پڑھے لکھے لوگ اچھلنے لگے کہ کہاں کا مفتی ہے اور زیادہ اچھلنے والے لوگ وہی تھے جو کچھ دیر قبل مسئلہ دریافت کرنے آئے تھے۔
قاضی صاحب نے کہا میرے ساتھ مسلمان بحث نہ کرے۔ اگر کرنی ہے تو غیر مسلم اور قادیانی بات کرے۔ میں اس کو جواب دوں گا۔ اب اگر میرے ساتھ کسی سنی نے بھی بحث کی تو میں سمجھوں گا کہ یہ سنی کے روپ میں قادیانی ہے۔ اس پر سناٹا چھا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چھ کارکن تھے اور وہ کم از کم دو سو آدمی تھے اور ان میں تقریباً ہر ایک ساتھی کا قریبی رشتہ دار موجود تھا۔ وہ کہنے لگے اپنے اپنے رشتہ دار کو یار تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ دفن ہونے دو۔ ساتھیوں نے کہا ہرگز ہرگز قطعاً دفن نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بظاہر غلبے کی کوئی صورت معلوم نہیں ہوتی تھی لیکن اس دن آنکھوں سے معائنہ کیا
اور سمجھ میں آیا
جاء الحق وزهق الباطل
بفضل خدا قادیانی مردہ کو ربوہ لے گئے اور قبر توڑ دی گئی۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۱۰‘ شمارہ ۲۸)
میں قادیانی کیوں نہ بنا؟
میں ابھی بچہ ہی تھا کہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم وزیر آباد تشریف لائے۔ رات کو غلہ منڈی میں انہوں نے تقریر کی۔ میں بھی اپنے دوستوں کے ہمراہ تقریر سننے چلا گیا۔ اور تو کچھ میری سمجھ میں نہ آیا‘ البتہ ایک صاحب نے ایک پنجابی نظم پڑھی جس کا شعر مجھے اب بھی یاد ہے
راتوں رات ہوندا جدھا مرزے نال میل اے
(خدا جانے ٹیچی ٹیچی کہاں کی چڑیل ہے‘ جو رات کے وقت مرزا قادیانی سے ملاقات کرتی ہے)
میں اور میرے دوست اس پر ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے اور میں یہ شعر گاتا ہوا گھر آ گیا...... ٹیچی ٹیچی رب جانے کتھوں دی چڑیل اے...... قادیانیت کے متعلق یہ میرا پہلا تاثر تھا
۱۹۴۶ء میں میٹرک کا امتحان پاس کر کے لاہور آ گیا۔ میرے ایک دوست محمد انور خاں ہیں جو آج کل اسلام آباد میں ہیں اور بڑے مخلص اور بلند پایہ انسان ہیں۔ ان کے پھوپھا خواجہ محمد صدیق ہوا کرتے تھے‘ جو قادیانی ہو گئے تھے۔ وہ ریلوے میں ملازم تھے اور ریلوے اسٹیشن کے پاس ریلوے کوارٹروں میں رہا کرتے تھے۔ خواجہ صاحب شطرنج کے بہت اچھے کھلاڑی تھے۔ خواجہ صاحب کے ایک دوست ڈاکٹر عبیداللہ ہومیوپیتھ تھے جو مرزا غلام قادیانی آنجہانی کے نام نہاد (صحابی) تھے اور ان کی صحبت نے خواجہ صاحب کو قادیانی کر
لیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب بھی شطرنج کے کھلاڑی تھے۔
میں شطرنج کا شائق تھا۔ کبھی کبھی چھٹی کے روز میں خواجہ صاحب کے ہاں شطرنج کھیلنے چلا جاتا۔ ڈاکٹر صاحب تو تقریباً روزانہ وہاں آیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب سے بھی میری ایک آدھ شطرنج کی بازی ہو جاتی۔ اس طرح میری ڈاکٹر سے جان پہچان ہو گئی۔
میں دین سے بالکل کورا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ عرصہ بعد بڑی شفقت و محبت سے دھیمے دھیمے مجھے قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دی اور مرزا قادیانی آنجہانی کی تصنیفات مجھے پڑھنے کے لیے دیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بڑا احسان ہے کہ جب تک میرے دل و دماغ گواہی نہ دیں، میں کسی بات کو تسلیم نہیں کرتا۔ دین کا علم نہ ہونے کی وجہ سے میں ڈاکٹر صاحب کے بعض دلائل کے سامنے عاجز آ جاتا۔ چنانچہ میں نے قادیانی لٹریچر پڑھنے کے ساتھ ساتھ دین کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔ مرزا قادیانی کی تصنیفات پڑھنے سے میں نے ایک بات محسوس کی کہ مرزا صاحب کی تحریر بھول بھلیوں کا چکر ہوتا ہے جس میں ۔۔۔۔۔ قولوا قولا سدیدا والی کوئی بات نہیں ہوتی۔ اگر آدمی دین کے علم کے بغیر اس میں گھس جائے تو اس کو باہر کا راستہ ملنا دشوار ہو جاتا ہے۔
غالباً ۱۹۳۸ء کی بات ہے۔ والد صاحب بھور شریف جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا آپ بھور کیا لینے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تلاش حق میں اودھ کے ایک بہت بڑے بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا ”تمہارا تو شمالی ہندوستان کے روحانی بادشاہ بھور شریف میں عرصہ سے انتظار کر رہے ہیں۔ تمہارا حصہ ان کے پاس ہے، ان کی خدمت میں حاضر ہو“ چنانچہ والد صاحب اودھ سے واپس آ کر بھور شریف پہنچے۔ جہاں فقیر صاحب فقیر فتح محمد نقشبندی مجددی (رحمۃ اللہ علیہ) کا فیض عام جاری تھا اور جن کی روحانیت کی ضیا پاشیوں سے بھور شریف بقعہ نور بنا ہوا ہے۔ فقیر صاحب نے حلقہ ارادت میں داخل کرتے ہوئے فرمایا ”معراج دین تم نے بہت انتظار کروایا“۔ فقیر صاحب کے حلقہ ارادت میں داخل ہونے کے بعد ان پر حب الٰہی کا شدید غلبہ ہوا۔ اور بے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھی، کے مصداق دفتر میں کام کرتے ہوئے بھی ان کی زندگی کا کوئی لمحہ یاد خدا سے خالی نہ رہتا۔ ان کی عبادت سے متعلق میری
سوتیلی والدہ مرحومہ کی ایک بات بس کافی ہے ۔ ۱۹۶۵ء میں ان کی وفات پر والدہ مرحومہ صاحبہ نے بتایا "بیٹا میں تمہارے باپ کے گھر ۱۹۲۴ء میں آئی تھی۔ شب عروسی سے لے کر ان پر فالج گرنے تک میں نے تمہارے باپ کو ہر شب رات کے بارہ بجے کے بعد جانماز پر ہی دیکھا" ۔
میں نے ایک روز والد صاحب سے ڈاکٹر عبید اللہ کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ قادیانی حضرات تو بہت اچھے لوگ ہوتے ہیں۔ آپ قادیانی کیوں نہیں ہوئے۔ حالانکہ ہماری برادری کے بابا میراں بخش قادیانی ہوچکے ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ مجھے بھی میرے چچا میراں بخش نے قادیانی ہونے کی دعوت دی تھی۔ ہوا یوں کہ تمہاری والدہ کی وفات سے پہلے میرے چھوٹے بہن بھائی عین عنفوان شباب میں فوت ہو گئے۔ پھر تمہاری والدہ فوت ہو گئی۔ اس کے آٹھ یوم بعد تمہارا نوزائیدہ بھائی محمد حنیف فوت ہو گیا۔ اس کے بعد تم سے بڑی تمہاری بہن فوت ہو گئی۔ ان پے در پے اموات نے میرے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور مجھے دائیں بازو کا فالج ہو گیا۔ چچا میراں بخش نے مجھے کہا جب تک نام نہاد خلیفۃ المسیح کے پاس نہیں جاؤ گے تمہیں آرام نہیں آئے گا۔ میں رات کو دیکھتا ہوں کہ میں ایک روشن سڑک پر جارہا ہوں کہ ایک دم ایک چیل نے جھپٹا مارا۔ جس سے سڑک پر ایک آدھ سیکنڈ کے لیے اندھیرا چھا گیا۔ اس کے بعد سڑک پھر روشن ہو گئی۔ میں سمجھ گیا کہ یہ چیل چچا میراں بخش کی دعوت قادیانیت تھی۔
دسمبر کا مہینہ تھا۔ میں فقیر صاحب کی خدمت میں بھور شریف پہنچا اور اپنی کیفیت بیان کی۔ عشاء کی نماز کے بعد حضرت نے اپنی مٹی کی کٹیا میں مجھے طلب فرمایا۔ گھڑے میں سے ایک پیالہ میں پانی لے کر اس پر دم کر کے مجھے دے کر فرمایا آدھا پانی پی ----- اور آدھا بازو پر مل لو۔ میں پچھلی شب تمہارے لیے دعا کروں گا۔
میں پانی لے کر اپنے کمرہ میں آگیا۔ پانی تھا کہ پگھلی ہوئی برف اوپر سے شدید سردی کا موسم ۔ میں نے آدھا پانی پی لیا اور آدھا بازو پر مل کر سو گیا۔ رات کو خواب دیکھا کہ انگڑائی لے رہا ہوں ۔ انگڑائی لیتے ہوئے میری آنکھ کھل گئی۔ سحری کا وقت تھا۔ میں نے دیکھا کہ میں واقعی دونوں بازو اوپر کیے انگڑائی لے رہا ہوں۔ میرا فالج زدہ بازو بحمد اللہ تندرست
ہوچکا تھا۔
فقیر صاحب صبح آٹھ بجے کے قریب اپنے وظائف وغیرہ سے فارغ ہوتے تھے۔ میں حاضر ہو کر قدموں میں گر پڑا۔ آپ نے صرف اتنا فرمایا کہ ”قربان جاؤں اس ذات پر جس نے مجھے تمہارے سامنے سرخرو کیا ہے“۔
واپسی پر میں نے چچا میراں بخش کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے مرشد کی دعا و برکت سے مجھے صحت دے دی ہے۔ چچا میراں بخش اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
بیٹا مرزا غلام قادیانی ایک کاذب مدعی نبوت ہے۔ اس پر توجہ دینے کی قطعا ضرورت نہیں۔ اپنی عادت سے مجبور میں نے مرزا کی کتب لے کر زور و شور سے پڑھنا شروع کردیں اور اپنے نوٹس لیتا گیا۔
والد صاحب مرحوم و مغفور کا واقعہ دوسرا تاثر تھا جو میرے ذہن پر قادیانیت کے خلاف قائم ہوا۔
۱۹۴۰ء کی بات ہے کہ میں ڈاکٹر عبید اللہ ہومیو پیتھ آنجہانی کی دکان پر گیا۔ میں اس سے مرزا کے چند الہامات کی وضاحت پوچھ رہا تھا کہ میں نے دیکھا ڈاکٹر صاحب کسی اور طرف متوجہ ہیں۔ میں نے باہر سڑک پر دیکھا تو وہاں ایک خوبصورت لڑکا کھڑا تھا۔ جس کے نظارہ دید میں ڈاکٹر صاحب دنیا و مافیہا سے غافل ہو چکے تھے۔ میں ڈاکٹر صاحب کے چہرے کے مدوجزر کو دیکھتا رہا اور ڈاکٹر صاحب اس لڑکے کو۔ جب وہ لڑکا وہاں سے چل دیا تو ڈاکٹر صاحب یکدم چونکے اور قدرے شرمساری سے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ”ہر شخص کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے“۔
میں نے اس دن جانا کہ زنا بالعین کیا ہوتا ہے اور ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ میں تو تمہارے مسیح موعود کے الہامات کی آپ سے وضاحت چاہتا تھا۔ یکدم آپ کی عدم توجہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ آخر کون سی بات ہے جو آپ کے نزدیک اپنے مسیح موعود کے الہامات سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ جب آپ کی نگاہیں اس خوبصورت لڑکے پر گڑی ہوئی دیکھیں تو کیا آپ جانتے ہیں کہ میری سوچ کس رخ پر چل نکلی۔ سنئے:
اس وقت آپ کی عمر کم از کم پچاس برس ہو گی۔ اس عمر میں نفسانیت اور خواہشات
کے جھکڑ سست پڑ جاتے ہیں۔ مجھے آپ کی کمزوری سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ جس وقت آپ کے مسیح موعود کے الہامات کا ذکر خیر ہو رہا تھا اس وقت آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک خوبصورت لڑکے کے نظارے میں اس قدر محو ہو گئے کہ آپ کو دنیا جہان کا ہوش نہ رہا۔ آپ اس کو دیکھتے رہے اور میں آپ کے چہرے کے مد و جزر میں سوچتا ہوں کہ جس نبی کی صحابیت نے آپ کو اس عمر تک قلب و نظر کی پاکیزگی سے سرفراز نہیں کیا‘ اس کی نبوت مجھ جیسے طلسم شباب کی ہوشربائیوں کے خوگر خمار کو کیا دے گی؟ میری ڈاکٹر صاحب سے یہ آخری مذہبی بات چیت تھی جس نے میرے ذہن پر قادیانیت کے خلاف تیسرا اور نہایت گہرا اثر چھوڑا۔
آج سے کوئی ۲۰ سال پہلے میری ملاقات ملک عبد الوحید سلیم صاحب سے ہوئی۔ وہ بڑے خوش اخلاق‘ ہمدرد اور مقناطیسی شخصیت کے مالک ہیں۔ دوسروں کے کام آنا ان کی فطرت ثانیہ ہے۔ اور یہی بات ان کی میرے ساتھ دوستی کا باعث بنی۔ ۱۹۸۴ء میں مرزا طاہر قادیانی لاہور آیا۔ جہاں قادیانی حضرات کا ایک جلسہ تھا۔ ملک سلیم بھی قادیانی ہے۔ وہ مجھے اپنے ساتھ جلسہ میں لے گیا اور مجھ پر زور دیا کہ میں مرزا طاہر قادیانی سے کوئی سوال کروں‘ مگر میں نے انکار کر دیا۔ چند دن بعد میں نے ملک صاحب کو ایک سوال لکھ کر دیا کہ اس کا جواب مرزا طاہر سے لے کر مجھے بتاؤ۔ انہوں نے میرا سوال ربوہ بھیج دیا۔ جہاں انہیں ایک کتابچہ بعنوان ”نظام نو“ اس ہدایت کے ساتھ موصول ہوا کہ اسے اپنے غیر جماعت دوست کو پڑھنے کے لیے دو۔ ملک صاحب نے یہ کتابچہ مجھے دے دیا۔ اس کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوا کہ کہیں بھی میرے سوال کا جواب نہیں۔ کیونکہ اس کتابچہ میں کہیں ذکر نہیں کہ مرزا غلام قادیانی نے ”براہین احمدیہ“ میں ”سرمایہ“ پر کوئی تبصرہ کیا یا کم از کم ”براہین احمدیہ“ لکھتے وقت ان کو سرمایہ کا علم تھا۔
کتابچہ ”نظام نو“ اس تقریر پر مشتمل تھا جو مرزا محمود قادیانی نے ۱۹۴۲ء میں کی۔ انہوں نے اس میں مرزا قادیانی کی ”الوصیت“ کا حوالہ دیا ہے جو انہوں نے ۱۹۰۵ء میں لکھی۔ اس کی شرط نمبر ۲ کے مطابق مرزا نے ہر قادیانی خواہ مرد ہو یا عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کے ۱/۱۰ سے لے کر ۱/۳ تک حصہ کی وصیت ”جماعت احمدیہ“ کے نام کر
دے اور فرمایا ”ان وصایا سے جو آمدن ہو گی وہ ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ (یعنی قادیانیت) کے واعظوں کے لیے خرچ ہوں گی“۔ (”نظام نو“ ص ۱۱۷)
”سرمایہ“ پہلی بار ۱۸۶۷ء میں چھپی۔ مرزا قادیانی کو ”الوصیت“ لکھنا سوجھا بھی تو کب؟
”سرمایہ“ کے چھپنے کے ۳۷ سال بعد اور مذکورہ بالا شرط نمبر (۲) کی وسعت و گیرائی کا مرزا محمود کو پورا علم ہوا بھی تو کب ۱۹۴۲ء میں، یعنی الوصیت کے لکھے جانے کے ۳۷ سال بعد ۔ ہے ”سرمایہ“ کے اس جواب کا کوئی جواب؟
۱۹۴۲ء میں تقریر کرتے ہوئے مرزا محمود قادیانی کہتا ہے ”اب وقت آگیا تھا کہ دنیا کے سامنے اس عظیم الشان پیغام کو ظاہر کر دیا جاتا“ حیرانگی ہے مرزا محمود قادیانی کی نظر الوصیت کے اس حصہ پر کیوں نہیں پڑی جو اس عظیم الشان پیغام کے غبارے سے ساری ہوا نکال دیتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس میں ان کی کوئی اپنی مصلحت ہو، لہٰذا اس خطبہ کو نیچے درج کیے دیتے ہیں:
الوصیت کی شرائط کے متعلق (جن میں سے شرط نمبر (۲) اوپر بیان ہو چکی ہے) مرزا قادیانی لکھتا ہے:
”میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے۔ باقی ہر ایک مرد ہو یا عورت ہو، ان کو شرائط کی پابندی لازمی ہو گی اور شکایت کرنے والا منافق ہو گا“
(الوصیت)
دیکھا آپ نے رام رام جپنا، پرایا مال اپنا۔
اس کے برخلاف سرور کائنات ﷺ سے جب آپ کے ترکہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو حضور نے فرمایا:
لا نورث ما ترکنا صدقہ
”ہماری وراثت نہیں ہوتی جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے“۔
یہ عظیم الشان فرق۔ ایک سچے اور ..... ایک جھوٹے میں۔ وہ اپنا سب کچھ امت کو
دے گئے..... یہ اپنا کیا دیتا امت کا بھی سمیٹ کر چل بسا۔ اس کے بعد کوئی عقل کا اندھا ہی مرزا غلام قادیانی پر ایمان لانے کی حماقت کرے گا۔ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ شمارہ ۲۲‘ جلد ۸‘ از قلم حافظ محمد حفیظ اللہ)
علامہ اقبالؒ کے حضور میری حاضری
مارچ ۱۹۳۷ء کا وہ دن میری زندگی کا ایسا یادگار دن ہے جس کی یادوں کی چاندنی آج بھی میرے افکار و محسوسات کی دنیا کو جگمگائے ہوئے ہے۔ یہ وہ دن تھا جب مجھے زندگی میں پہلی بار نابغہ روزگار حکیم الامت علامہ اقبال کے حضور حاضر ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔ راقم ان دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طبیہ کالج میں زیر تعلیم تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملت اسلامیہ کے دلوں میں قادیانیوں کے بارے میں اشتعال و بیزاری کا طوفان برپا تھا۔ پورے برصغیر میں ان کے خلاف نفرت کی فضا پیدا ہو چکی تھی۔ انجمن حمایت اسلام لاہور نے اپنے ایک اجلاس میں جو علامہ اقبال کی صدارت میں ہوا‘ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہوئے اپنے اداروں سے الگ کر دیا تھا۔ یوں پنجاب کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طلبہ نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہوئے‘ اپنے اداروں سے الگ قرار دینے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔ اس سلسلے میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مولانا ظفر علی خان کی تقاریر یونیورسٹی کی فضاؤں میں گونج چکی تھیں۔
ظفر اللہ خان قادیانی کو یونیورسٹی میں ایڈریس پڑھنے کی
دعوت دینے کا انکشاف طلبہ پر بجلی بن کر گرا
طلبہ میں زبردست ذہنی و روحانی ہیجان برپا تھا کہ یکایک طلبہ پر یہ انکشاف برق خاطف بن کر گرا کہ ڈاکٹر ضیاء الدین احمد وائس چانسلر نے سر ظفر اللہ قادیانی کو ایڈریس
پڑھنے کی دعوت دی ہے جسے ظفر اللہ نے منظور کر لیا ہے۔ ان دنوں ظفر اللہ خان وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر تھے۔ اس لیے بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتے تھے اور مسلمانوں کے احتجاج کے باوجود مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ یہ خبر یونیورسٹی کے ان طلبہ پر بجلی بن کر گری جو قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے مطالبے میں پیش پیش تھے۔
سر ظفر اللہ کا ایڈریس رکوانے کے لیے
علامہ اقبال سے ملنے کا فیصلہ
چنانچہ طلبہ نے فیصلہ کیا کہ سر ظفر اللہ خان کے کانووکیشن کی ہر حال میں مخالفت کی جائے۔ راقم الحروف، محمد شریف چشتی، قاری محمد انوار صمدانی اور سردار عبدالوکیل خان نے مل کر طے کیا کہ اس سلسلے میں علامہ اقبال سے بھی رجوع کیا جائے۔ اخبارات میں ظفر اللہ خان کی آمد کی ممانعت میں شذرات لکھوائے جائیں۔ چنانچہ الجمعیت، زمیندار اور دوسرے اخبارات میں ظفر اللہ خان کی علی گڑھ یونیورسٹی آمد کے خلاف شذرات شائع ہوئے جن میں ارباب یونیورسٹی کے اس فعل کی بھر پور مذمت کر کے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ طلبہ کے باہمی مشورے سے ان سطور کا راقم علامہ اقبال سے ملاقات کی غرض لے کر لاہور روانہ ہوا۔ علامہ اقبال ان دنوں جاوید منزل میں قیام پذیر تھے۔ جاوید اقبال ابھی بچے تھے۔ راقم السطور سہ پہر کے وقت لاہور پہنچا۔ سیدھا علامہ اقبال کی قیام گاہ پر گیا۔ علامہ اقبال ان دنوں علیل رہتے تھے اور کم ہی لوگوں سے ملتے تھے۔ مگر جب انہیں اطلاع ملی کہ طالب علم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے حاضر ہوا ہوں تو فوراً اذن باریابی مل گیا۔ علامہ اقبال ہال کے ایک جانب چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ سامنے چند کرسیاں تھیں۔ شلوار قمیص کے سادہ لباس میں ملبوس تھے۔ ایک جانب بڑا سا تکیہ رکھا تھا۔ میں نے ساری صورت حال ان کے گوش گزار کی۔ اس سلسلہ میں وہ فتویٰ بھی دکھایا جو دہلی میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید سے قادیانیوں کی بابت حاصل کیا تھا۔ علامہ نے ساری
صورت حال کو غور سے سنا۔
علامہ اقبال کی ہدایات اور کانووکیشن ایڈریس منسوخ ہو گیا
اور مجھے ہدایت فرمائی کہ فضل کریم درانی جو ہفتہ وار اخبار Truth کے ایڈیٹر تھے، سے مل کر میمورنڈم (یادداشت) تیار کروا کے لانے کو کہا۔ جس پر راقم الحروف عرب ہوٹل پہنچا جہاں فضل کریم درانی مقیم تھے۔ ان سے میمورنڈم کا مسودہ تیار کرا کے مسودہ ٹائپ کرایا اور اگلے روز پھر حسب ہدایت علامہ کے حضور حاضر خدمت ہوا۔ علامہ اقبال نے اس پر دستخط ثبت فرما کر مولانا ظفر علی خان سے بھی دستخط کرانے کی ہدایت فرمائی۔ چنانچہ مولانا ظفر علی خان اور دوسرے اکابرین سے دستخط کرائے گئے۔ اس طرح میمورنڈم کے ایک طرف علماء کے دستخط، دوسری طرف اکابرین ملت کے دستخط تھے جو جملہ ممبران کورٹ کو بھیجا گیا اور یونیورسٹی میں تقسیم کیا گیا جس کے نتیجے میں ظفر اللہ خان کا کانووکیشن ایڈریس منسوخ ہو گیا۔
علی گڑھ کے طلبہ کے نام علامہ اقبال کا پیغام
علامہ اقبال نے دوران ملاقات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت حال معلوم کی اور طلبہ کے نام پیغام دیا کہ وہ قادیانیت اور اشتراکیت کی ہر قیمت پر مخالفت کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں ڈاکٹر ظفر الحسن صدر شعبہ فلسفہ علی گڑھ یونیورسٹی کی ان خدمات کو سراہا جو وہ مجلس اسلامیات کے پلیٹ فارم سے سرانجام دے رہے تھے۔ علامہ نے تاکید کی کہ ان سے فیضان اور راہنمائی حاصل کی جائے۔ علامہ نے پروفیسر عبد الستار خیری، پروفیسر حمید الدین اور پروفیسر عطاء الرحمن کی خدمات کو بھی سراہا۔ علامہ اقبال کے اس کام سے قادیانی اگرچہ اقلیت نہ قرار پا سکے تاہم کانووکیشن ایڈریس کی منسوخی سے انہیں سخت ندامت ہوئی اور یوں قادیانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
علامہ اقبال کے اس ولولہ انگیز، حقائق افروز بیان سے ہر طرف غلغلہ اور انقلاب برپا ہو گیا۔ کیونکہ ان کی رائے ملت اسلامیہ میں انتہائی اہم اور وقیع سمجھی جاتی تھی کیونکہ انہیں ملت کے نقیب اور عظیم ترین مفکر کی حیثیت حاصل تھی۔ چنانچہ ان بیانات کو نہ صرف اخبارات بلکہ رسائل و پمفلٹ کی صورت میں شائع اور تقسیم کیا گیا۔ علامہ اقبال سے اس یادگار ملاقات کے نقوش آج بھی میرے لوح دل پر منقش ہیں۔ ان کا انداز تخاطب، طرز اظہار اور مبلغ علم و فکر جس کا مجھے ذرا سا فیض حاصل ہوا تھا، میری بساط علمی کا نشان امتیاز ہے۔ علاوہ ازیں میری ایک ذاتی کتاب پر انہی دنوں علامہ کے دستخط انگریزی میں آج بھی موجود ہیں جو میرے لیے سرمایہ ناز اور حرز جاں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ علامہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ سے جو محبت رکھتے تھے اس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں ہے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، جلد ۳۱، شمارہ ۲۰، از قلم حکیم عنایت اللہ
سوہدرویؒ)
غداران تحریک ختم نبوت کا انجام
اللہ تعالیٰ سردار عبدالرب نشتر کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ ایک دن عند الملاقات راقم سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا:
”ختم نبوت تحریک کے دوران جن لوگوں نے اقتدار کے زعم میں فدایان محمدؐ کا خون بہایا ان کا انجام ورق عبرت ہو گیا۔ انہیں قدرت نے اتنی زبردست سزا دی کہ اس کا تصور کرتے ہوئے جی کانپتا ہے۔ وہ سزا کیا تھی اور عبرت کیا؟ سردار صاحب نے تفصیلات نہیں بتائیں لیکن راقم بعض واقعات سے آگاہ ہے۔ مثلاً قلعہ لاہور میں علماء کو تفتیش کے لیے رکھا گیا تو پولیس کا جو افسر ان علماء پر مامور تھا، اس نے اتنی گندی زبان استعمال کی کہ ہم ملفوف سے ملفوف الفاظ میں بھی بیان نہیں کر سکتے۔ پھر اس کا جو انجام ہوا، ہمارے سامنے ہے اگلے ہی دن اس کی جوان لڑکی تالاب میں ڈوب کر مر گئی۔ قدرت یونہی عبرت سکھاتی
ہے"۔ ایک دوسرے سپرنٹنڈنٹ پولیس جو ان دنوں سی آئی ڈی میں اے سیکشن کے انچارج تھے، ایک مسلح دستہ پولیس لے کر مال روڈ پر نوجوانوں کو شہید کرتے رہے۔ انہوں نے مال روڈ پر چائینز لنچ ہوم کے سامنے دو درجن نوجوانوں کے ایک ہجوم پر ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگانے کی پاداش میں گولیوں کی بارش کر دی۔ کئی نوجوان شہید ہو گئے۔ وہ ان کی لاشوں کو ٹرک میں لاد کر جانے کہاں لے گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس سپرنٹنڈنٹ پولیس کو چند دنوں ہی میں سزا دی۔ اس کا بیٹا کھیلتا ہوا اس طرح گرا کہ اس کے پیٹ میں شکستہ بوتل کے ریزے چلے گئے اور وہ آناً فاناً رحلت کر گیا۔ وہ ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا جو خود اپنے حلقوں میں کبھی عزت پیدا نہ کر سکا۔ اس پر پولیس کے اہلکار اور آفیسر بھی لعنت بھیجتے رہے کہ وہ نوکری کے غرور میں اندھا ہو چکا تھا۔ ہر شخص کو معلوم ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر جس نے مسلمان عوام پر تحریک کے چار دنوں میں وحشیانہ ظلم کیے، پاگل ہو گیا تھا۔ پھر بہت دنوں پاگل خانے میں رہا۔ یہ تو خیر معمولی افسروں کے واقعات ہیں اور راقم کو ذاتی طور پر معلوم ہے کہ بعض پولیس آفیسر جو فدایان ختم نبوت کے معاملے میں فرعون ہو گئے تھے، ان کا انجام کیا ہوا اور وہ کس طرح تڑپ تڑپ کر مرتے رہے اور ان کی اولاد پر کیا بیتی؟
ملک غلام محمد ان دنوں گورنر جنرل تھے۔ انہوں نے ہماری ثقہ معلومات کے مطابق شیخ دین محمد گورنر سندھ کی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا کہ قادیانی فرقے کو فی الفور اقلیت قرار دیا جائے۔ شیخ صاحب نے اس سلسلے میں ایک آئینی و دستوری مسودہ تیار کیا۔ بحمد اللہ وہ محفوظ ہے لیکن ملک غلام محمد بعض عادتوں میں سر ظفر اللہ خان کے ساتھی تھے۔ انہوں نے اس کے مضمرات پر غور نہ کیا اور وہ قیمتی مسودہ ٹھکرا دیا بلکہ اس جرم میں ایک سازش کے تحت شیخ صاحب کو گورنری سے سبکدوش کر دیا۔ ملک غلام محمد کس طرح مرے، سب کو معلوم ہے۔ وہ آخری ایام میں دماغ کے تعطل کا ورق عبرت تھے۔ کسی مسلمان کہلانے والے کی موت اس سے زیادہ عبرت ناک کیا ہو سکتی ہے کہ وہ مر جائے تو اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں جگہ نہ ملے۔ ملک غلام محمد گوروں کے قبرستان میں دفن کیے گئے اور اب شاید وہ قبر بھی مٹ چکی ہے۔ کسی پھول یا چراغ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی مسلمان
انہیں عزت سے یاد نہیں کرتا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۵، شمارہ ۴۲، از قلم آغا شورش کاشمیریؒ)
مولانا غلام غوث ہزاروی کی باتیں
مولانا غلام غوث ہزاروی (مرحوم) نے فرمایا کہ جب قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے بارے میں بحث ہو رہی تھی اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایوان اور ایوان سے باہر مطالبات زوروں پر تھے تو اسی دوران چند قادیانی خواتین بیگم نصرت بھٹو سے ملنے آئیں اور سفارشات کا انبار لگا دیا۔ بھٹو صاحب کو روکیں کہ مولویوں کی بات سن کر ہمیں غیر مسلم اقلیت نہ قرار دے۔ ہم کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں۔ ملک کے لیے ہماری خدمات واضح ہیں۔ دیکھیں پرائم منسٹر صاحب سے سفارش کریں کہ وہ علماء کی باتوں میں نہ آئیں۔ یہ اقدام ان کے لیے اچھا ہے نہ ملک و قوم کے لیے۔ بیگم نصرت بھٹو نے ان کی یہ گفتگو سنی اور پھر وزیر اعظم صاحب سے آکر الجھ پڑیں کہ یہ آپ کیا کرتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ بس ایسا کام نہ کریں کہ کل کو دنیا میں رسوائی اور جگ ہنسائی کا باعث ہو۔ میں ہرگز یہ کام تمہیں نہیں کرنے دوں گی۔ یہ تو ان لوگوں پر بڑا ظلم ہو گا۔ حتیٰ کہ رات بھر دونوں میاں بیوی کی یہ تکرار ہوئی۔ صبح کو ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے حضرت مولانا ہزاروی کو فون کیا اور کہا کہ آپ سے ایک ضروری کام ہے۔ جلد یہاں تشریف لے آئیے۔
مولانا مرحوم نے مدرسہ فرقانیہ کوہاٹی بازار راولپنڈی میں علماء کا اجلاس طلب کیا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ بھٹو صاحب میں مصروف ہوں۔ علماء کرام آئے ہوئے ہیں، یہاں ایک ضروری میٹنگ ہو رہی ہے اس لیے میں آنے سے معذرت خواہ ہوں۔ بھٹو (مرحوم) نے کہا کہ مولانا صاحب یہاں اس سے بھی Important Meeting ہے۔ آپ جلد تشریف لائیں، میں انتظار میں ہوں۔ اس پر مولانا ہزاروی نے آمادگی کا اظہار کیا اور کہا کہ میں آ رہا ہوں۔
مولانا ہزاروی، بھٹو (مرحوم) کے ہاں پرائم منسٹر ہاؤس پہنچے۔ دیکھا تو بھٹو صاحب انتظار میں تھے۔ ملاقات ہوئی تو کہنے لگے مولانا صاحب! کل بیگم صاحبہ کے پاس قادیانی عورتیں آئی تھیں، انہوں نے آ کر اسے بڑا ورغلایا ہے کہ دیکھیں بھٹو صاحب ہمیں مولویوں کے کہنے پر غیر مسلم اقلیت قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ ہم مسلمان ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں اور ملک و قوم کے لیے ہماری خدمات سب کو معلوم ہیں۔ اس لیے بھٹو صاحب کو روکیں کہ وہ مولویوں کے جھانسے میں نہ آئیں ورنہ ان کی بھی خیر نہیں ہو گی۔ اب یہ رات بھر سے میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے، نہ خود سوئی اور نہ مجھے سونے دیا۔ اس لیے میں نے آپ کو زحمت دی ہے کہ آپ بیگم صاحبہ کو ختم نبوت اور قادیانیت کے حوالے سے کچھ بتائیں۔ کیونکہ میں آپ کو نیک دل اور خدا پرست عالم سمجھتا ہوں۔ آپ جو بات کہتے اور کرتے ہیں محض اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ کوئی لالچ یا بغض آپ کے دل میں نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ بیگم صاحبہ کو اس مسئلہ کی حقیقت سمجھائیں۔
مولانا غلام غوث ہزاروی نے کہا کہ میں، جناب بھٹو اور بیگم صاحبہ تینوں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو میں نے عقیدہ ختم نبوت، قرآن حکیم، حدیث، اجماع امت اور صحابہ کرام کے ارشادات کی روشنی میں پوری طرح واضح کیا اور مرزا قادیانی کی تاریخ اس کے دعاوی باطلہ، اس کی اسلام دشمنی، انگریز سے وفاداری اور اس کا مکر و فریب سب کچھ بتایا۔ مولانا نے فرمایا کہ میری بعض باتیں بھٹو (مرحوم) بیگم صاحبہ کو سمجھاتے رہے۔ جب ساری گفتگو ہو چکی تو بیگم بھٹو نے کہا یہ تو بہت گندے ہیں۔ مجھے تو ان کے بارے میں علم نہیں تھا مگر مولانا دیکھیں اسلام میں پردے کا حکم ہے اور میں پردہ سے نہیں ہوں تو کیا میں بھی کافر ہو گئی؟ اس پر حضرت مولانا ہزاروی نے فرمایا محترمہ جب تک آپ اسلام کے بنیادی عقائد سے انکار نہ کریں، یا پھر ان کا مذاق نہ اڑائیں تو صرف گناہ کرنے سے کوئی کافر نہیں ہوتا۔ گناہ سے انسان صرف گناہ گار ہوتا ہے۔ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ اگر آپ پردے کا انکار کریں کہ میں اس کو نہیں مانتی یا اس حکم کا مذاق اڑائیں تو تب آپ بھی کافر ہو جائیں گی۔ بہرحال کفر اور ایمان کا مسئلہ جدا ہے اور فسق و فجور و گناہ کا معاملہ علیحدہ ہے۔ بیگم
نصرت بھٹو صاحبہ نے کہا مولانا توبہ آخر مرنا ہے۔ میں اپنے آپ کو گناہ گار سمجھتی ہوں۔ اللہ معاف کرے۔ اس کے بعد بیگم صاحبہ نے بھٹو مرحوم سے اسی نشست میں کہا کہ بھٹو صاحب مجھے قادیانیوں کے بارے میں اب پتہ چلا ہے کہ ان کی اصلیت کیا ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو لٹکائے بغیر فی الفور حل کریں اور اس فتنے کا جلد تدارک فرمائیں۔ اس پر وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے مولانا ہزاروی کا بہت شکریہ ادا کیا اور یوں یہ نشست اپنے اختتام کو پہنچی۔
آئینی لحاظ سے ترمیم کا اختیار چونکہ ایوان کو حاصل تھا، بایں وجہ بھٹو (مرحوم) نے بلا تاخیر ایوان کا اجلاس طلب کیا اور پھر اسمبلی کے فلور پر یہ فتنہ اپنے منطقی انجام کو پہنچایا گیا۔ ستمبر ۱۹۷۴ء کی سات تاریخ کو پاکستان نیشنل اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس منعقد ہوا جس میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے متعلق ایک تاریخی اور ملی فیصلہ ہونا تھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی مرحوم نے بتایا کہ میں اجلاس میں شرکت کے لیے جامع مسجد بھوسہ منڈی (صدر راولپنڈی) سے نکل کر جب باہر سڑک پر آیا تو عجیب اتفاق کا سامنا کرنا پڑا کہ پورا شہر فوج کے کنٹرول میں ہے۔ ہر طرف آرمی کے نوجوان دکھائی دے رہے تھے۔ میرے دل میں خیال گزرا شاید بھٹو صاحب نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور ملک Army کے حوالے کرنے کے انتظامات کر لیے ہیں۔ لیکن خیر ہم بھی کفن باندھ کر آئے ہیں، جو ہو گا سو ہو گا۔ اب پیچھے لوٹ کر نہیں آنا۔ مگر جب اسمبلی پہنچے تو معلوم ہوا کہ حالات ٹھیک اور پر سکون ہیں۔ کسی قسم کا کوئی کھنچاؤ تناؤ نہیں۔ پھر تقریباً آدھ پون گھنٹے میں ضروری کارروائی مکمل ہو گئی اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر دستخط کر دیے گئے۔
یہاں اس بات کا اضافہ ضروری خیال کرتا ہوں کہ اجلاس میں ہر ممبر کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضلعی منتظم یعنی ڈی سی صاحب کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ اس کے احاطہ انتظام میں واقع کوئی رکن قومی اسمبلی اجلاس سے غیر حاضر نہ ہو، سابق ایم این اے مہتمم مدرسہ فرقانیہ راولپنڈی حضرت مولانا عبدالحکیم صاحب (مرحوم) نے راقم کو بتایا کہ اس موقع پر اراکین اسمبلی نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مسئلے کی نزاکت اور حکومت کے جرأت مندانہ فیصلے کی تعریف کی لیکن عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ جناب خان
عبدالولی خان نے کہا کہ جناب سپیکر میں تو اجلاس میں نہیں آرہا تھا مگر مجھے ڈپٹی کمشنر نے شرکت پر مجبور کیا۔
قصہ کوتاہ یہ کہ اس تاریخی دستاویز پر دستخط کرنے والوں میں جناب بھٹو مرحوم سرفہرست تھے۔ اس طرح اسمبلی کے مذکورہ اجلاس کی کارروائی بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ مگر مولانا ہزارویؒ نے فرمایا کہ میرے دل میں ابھی خلش باقی تھی۔ چنانچہ کچھ دنوں بعد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم خلاف معمول اسمبلی ہال کی طرف تشریف لائے۔ ملاقات ہوئی تو میری زبان سے بے ساختہ یہ جملہ نکل گیا کہ وزیر اعظم صاحب آپ نے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ بھٹو صاحب چونک اٹھے ‘کہا مولانا میں آپ سے کیا سن رہا ہوں؟ میں اور آپ کو دھوکہ’ مولانا نے کہا کہ بھٹو صاحب بات ویسے ہی زبان سے نکل گئی، لیکن زیڈ اے بھٹو صاحب کب ماننے کو تیار تھے۔ انہوں نے کہا مولانا صاحب نہیں یہ بات نہیں۔ آپ ایک بزرگ سیاست دان ہیں، آپ نے انگریز کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ میں آپ کو علماء حضرات میں ایک بڑا مدبر اور مستند سیاست دان سمجھتا ہوں۔ آپ سے اس طرح کی بات سن کر مجھے پریشانی ہوئی ہے۔ مجھے بتائیں کہ اس کا سیاق و سباق کیا ہے۔ یوں جناب وزیر اعظم حضرت مولانا ہزارویؒ کا ہاتھ تھامے ایک کمرے میں لے گئے اور بات کی وضاحت پوچھی۔
مولانا ہزاروی مرحوم نے کہا کہ بھٹو صاحب وہ بات ویسے ہی منہ سے نکل گئی تھی لیکن اس کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ ہم نے مسئلہ ختم نبوت کے لیے ۱۹۵۳ء میں بھی تحریک چلائی تھی اور تحریک کے آغاز سے قبل ہم نے سرحد کے وزیر اعلیٰ خان عبدالقیوم خان کو ایک اچھا مسلمان سمجھ کر اعتماد میں لینے کی کوشش کی، اور اسے اپنا پروگرام بھی بتا دیا کہ ہمارا مقصد حکومت سے ٹکراؤ نہیں اور نہ ہی ہم نے اقتدار پر قبضہ کرنا ہے۔ ہم تو مرزائیوں کی سیاست قوت اور مذہبی سازش کو مسلمانوں اور عالم اسلام کے لیے خطرناک سمجھتے ہیں۔ اس لیے آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل ہو گی اور مسلمان قوم میں آپ کی عزت بڑھے گی مگر جب تحریک چلی تو خان عبدالقیوم خان نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا اور صوبہ سرحد میں تحریک کی مزاحمت کی۔ جس
کا نقصان یہ ہوا کہ Movement کا سارا زور پنجاب پر آن پڑا۔ ہزاروں مسلمان شہید ہوئے اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا اور مسئلہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ لہٰذا جب میں نے سات ستمبر کو دیکھا کہ فوج پورے شہر پر قابض ہے تو میں سمجھا کہ شاید بھٹو صاحب نے بھی ہمارے ساتھ خان صاحب والا معاملہ کرنے کا پروگرام بنایا ہے اور فوجی طاقت سے مطالبے کو سرد خانے کی نظر کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔
مولانا ہزارویؒ نے کہا کہ میری یہ باتیں سن کر بھٹو صاحب کو اطمینان ہوا تو کہا مولانا صاحب Army کے اٹھارہ (۱۸) جنرل اور کور کمانڈرز قادیانی ہیں اور ان کے پاس فل پاور ہے۔ اس لیے مجھے سخت خطرہ تھا کہ کہیں یہ شرارت نہ کردیں۔ پہلا اقدام یہ کیا کہ میں نے ان سب قادیانی جرنیلوں کو جبری چھٹی پر بھجوایا پھر دور دراز علاقوں میں انہیں پھینکا اور شہر کو کسی وفادار مسلمان قیادت کے سپرد کیا کہ جس پر میرا اعتماد تھا۔ یہ سارا انتظام کرلینے کے بعد میں نے اسمبلی کے اجلاس کی تاریخ مقرر کی۔
وزیر اعظم بھٹو نے کہا کہ مولانا ترکی میں یوں ہوا کہ اسمبلی اندر ایک فیصلہ کر رہی تھی اور فوج نے باہر آکر گھیرا ڈال کر سب کے ہینڈز اپ کرا دیے۔ پھر اسمبلی مجبور تھی‘ ہمیں بھی حالات کی نزاکت کے تحت کچھ ردو بدل اور انتظام کرنا پڑا۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ۳۱‘ شمارہ ۳۳‘ از قلم پروفیسر محمد ادریس مفتی)
آہ! صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہؒ
۱۴ جولائی ساڑھے بارہ بجے شب اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ میں ابھی گھر میں داخل ہوا ہی تھا۔ ریسیور اٹھایا تو فون میں رونے اور آہ و بکا کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ”صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ میت ابھی ابھی ہسپتال سے گھر آگئی ہے“ گلوگیر لہجہ میں پیغام دینے والے یہ صاحب خلیفہ مختار تھے۔ جو صاحبزادہ کے دیرینہ خادم اور رفیق ہیں۔ میں نے دوبارہ کپڑے پہنے اور عزیزم ندیم کے ہمراہ محلہ طارق آباد میں واقع ”شہزادہ منزل“ پہنچ گیا۔ عزیز و اقارب اور بالخصوص صاحبزادہ صاحب کے اہل
خانہ کی چیخ و پکار اور گریہ و زاری سے ہر آنکھ پرنم تھی۔ چند برس پہلے داغ مفارقت دینے والے رعنا جوان ”شہزادہ“ کی ناگہانی اور المناک موت کا منظر نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ تب مرنے والا شہزادہ تھا اور آج خطابت کا شہنشاہ.....
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ گزشتہ پانچ برسوں سے صاحب فراش تھے، نوجوان بیٹے انوار الحسن شہزادہ کی وفات کے بعد ان کی صحت گرتی ہوئی دیوار ثابت ہوئی۔ بعض روگ جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ شربتی آنکھوں اور متبسم ہونٹوں والے، پیکر حسن و جمال بیٹے کی رحلت کے بعد صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ بقول کسے جی نہیں رہے تھے، جینے کی نقل کر رہے تھے۔ آخری ایام میں شاہ صاحب مرحوم کا جسم مختلف عوارض کا ہسپتال بن گیا تھا۔ شوگر کے عارضہ کے باعث مرحوم چلنے پھرنے سے معذور تھے لیکن انہوں نے اپنے حلقہ احباب سے رابطہ رکھا۔ جلسوں، کانفرنسوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے رہے۔ تقریر کے آغاز میں کہا کرتے تھے ”میں کونجوں کی ڈار سے بچھڑی ہوئی کونج ہوں۔ جب کونج ڈار سے بچھڑ جائے تو روتی نہیں بلکہ کرلاتی ہے۔ رونا اور ہے، کرلانا اور ہے“۔
صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ ایک تاریخ ساز، عہد آفرین شخصیت تھے۔ مرحوم بے پناہ خوبیوں اور کمالات کے مالک تھے۔ راقم کو انہیں بہت قریب سے دیکھنے اور ان کی شخصیت کو پڑھنے کا موقع ملا۔ والد گرامی کی وفات کے بعد شاہ صاحب خصوصی شفقت فرمانے لگے۔ ان کے جواں سال بیٹے کی وفات پر میں نے لولاک میں ”آہ شہزادہ“ کے عنوان سے مضمون لکھا۔ جو شاہ صاحب اور ان کے حلقہ احباب نے اس قدر پسند کیا کہ مجھے تحسین کی صورت میں بے شمار خطوط موصول ہوئے۔ ایک دن صبح سویرے صاحبزادہ افتخار الحسن راقم کے گھر تشریف لائے۔ مضمون کی تعریف فرمائی اور تین سو کاپیوں کی اشاعت کا حکم دیا۔ میرے مزاج اور طبیعت کے برعکس رقم زبردستی میری جیب میں ڈال دی۔ شہزادے کی موت کے بعد صاحبزادہ صاحب سے میرے تعلق خاطر میں اضافہ ہوا اور وہ مزید توجہ اور شفقت فرمانے لگے۔ مہینہ میں کم از کم دو بار میرے غریب خانہ پر تشریف لاتے۔ میں بھی کبھی ان کے در دولت پہ حاضری دیتا۔ یہ سلسلہ گزشتہ سات برس سے جاری تھا۔
وفات سے چند روز پہلے نیشنل ہسپتال کے کمرہ نمبر ۲ میں ملاقات ‘ آخری ثابت ہوئی ۔ کیونکہ اپنے ساتھ پیش آنے والے دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعہ کی وجہ سے عیادت کے لیے نہ جاسکا تھا ۔ حالانکہ میں جانتا تھا کہ صاحبزادہ صاحب چراغ سحری ہیں ۔ آخری ملاقات میں صاحبزادہ صاحب اپنی روایتی مسکراہٹ سے ملے ۔ خیال تھا کہ سخت گلہ شکوہ کریں گے ۔ کیونکہ اس سے پہلے میں نے کبھی ایسی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تھا ۔ صاحبزادہ صاحب کی مسکراہٹ نے حوصلہ بخشا‘ میں اٹھ کر قریب ہی بنچ پر بیٹھ گیا ۔ ان کے ہاتھوں میں ہاتھ دے دیے ۔ ملاقات کے اختتام تک نہ انہوں نے ہاتھ کھینچے اور نہ ہی میں نے دست کش ہونے کی جسارت کی ۔
میرے ہمراہ صاحبزادہ افتخار الحسن کے عقیدت مند طفیل تارڑ اور اشرف بٹ تھے ۔ جب ہم اٹھ کر جانے لگے تو خلیفہ مختار نے مودبانہ انداز میں کہا‘ صاحبزادہ صاحب اپنے دوستوں کو بہت یاد کرتے ہیں ۔ آپ ضرور تشریف لاتے رہا کریں ۔ میں نے صاحبزادہ صاحب کے چہرے پر نگاہ ڈالی تو یوں محسوس ہوا جیسے وہ زمانے سے گلہ کر رہے ہوں اور زبان حال سے کہہ رہے ہوں ؎
جن دامنوں نے بڑھ کے سہارا دیا مجھے
صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ ایک عظیم عوامی خطیب تھے ۔ بریلوی مکتب فکر میں صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ کے بعد بلاشبہ وہ بڑے خطیب تھے ۔ مرحوم سال ہا سال سے ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ اور پھر ربوہ میں شریک ہوا کرتے تھے ۔ ختم نبوت کے اسٹیج پر مختلف مکاتب فکر کے علماء موجود ہوا کرتے تھے ۔ مرحوم آخری مقرر کی حیثیت سے اسٹیج پر جلوہ گر ہوتے اور پھر اس طرح چھا جاتے کہ ان کی خطابت کے سامنے کسی کا چراغ نہ جلتا ۔ شاہ صاحب شوگر کے عارضہ کے باعث چلنے پھرنے اور اٹھنے سے معذور تھے ۔ انہیں معذوری کی یہ تکلیف گزشتہ دو برس سے تھی لیکن اس کے باوجود سید افتخار الحسن شاہ ربوہ ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہوا کرتے تھے ۔ ان ایام میں مرحوم اپنی سیڑھیوں والی کرسی ہمراہ رکھتے تھے ۔ شاہ صاحب کے ایک خادم اور رفیق نے بتایا کہ ایک دفعہ سفر سے واپس آرہے
تھے کہ راستہ میں سید افتخار الحسن شاہ نے فرمایا میں چلنے پھرنے سے معذور ہوں۔ دعا کرو اللہ تعالیٰ زبان سے معذور نہ فرمائے تاکہ میں اس کی حمد و ثناء اور اس کے حبیب ﷺ کی تعریف و توصیف بیان کرتا رہوں۔
ایک مرتبہ شاہ صاحب راقم کے گھر تشریف لائے۔ میں نے مذاقاً کہا شاہ صاحب مجھے محسوس ہوتا ہے آپ آئندہ الیکشن میں حصہ لیں گے؟ میری طرف غور سے دیکھا اور فرمایا یار الیکشن اور ہم دو متضاد چیزیں ہیں۔ بھلا میں بیمار آدمی الیکشن میں کیسے حصہ لے سکتا ہوں؟ اور تمہیں یہ کیسے خیال آیا کہ میں الیکشن لڑوں گا۔ میں نے عرض کی آپ نے اپنا مستقل انتخابی نشان کرسی کار کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا؟ شاہ صاحب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔
صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ بلاشبہ بڑے خطیب تھے۔ لیکن ان کی خطابت شجاعت سے عبارت تھی۔ دور ایوبی میں ملک امیر محمد خاں مغربی پاکستان کے گورنر تھے۔ صاحبزادہ صاحب نے ایک آمر اور جابر گورنر کے بارے میں کہا ”گورنر کی مونچھوں سے بغاوت ہو سکتی ہے۔ محمد ﷺ کی زلفوں سے بغاوت نہیں ہو سکتی“ صرف اتنی بات پر شاہ صاحب کو شاہی قلعہ دیکھنا پڑا تھا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے الیکشن میں ایوب خان کے مقابلہ میں حصہ لیا۔ صاحبزادہ فیض الحسن شاہ مرحوم ایوب خان کے جلسوں میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔ صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ کو بھی ایوب خان کے جلسہ میں مدعو کیا گیا۔ صاحبزادہ صاحب نے انتہائی جرات مندی کا مظاہرہ کیا اور سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
فاطمہ جناح رابعہ بصریؒ نہیں اور نہ ہی ایوب خان جنید بغدادیؒ ہیں۔ اس لیے آپ کی مرضی ہے جس کو چاہیں ووٹ دیں ” یہ کہہ کر اسٹیج سے نیچے اتر آئے۔ صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ نے ہر دور میں کلمتہ الحق بلند کیا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں....... ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں مرحوم نے بڑی جگر داری اور بہادری سے حصہ لیا۔ فیصل آباد سے رضاکاروں کا جو قافلہ روانہ ہوا تھا، شاہ صاحب نے اس کی قیادت فرمائی۔ روانگی سے پہلے شاہ صاحب کو ایک بڑے جلوس کی صورت میں ریلوے اسٹیشن تک لایا گیا۔ ریلوے اسٹیشن کے باہر صاحبزادہ صاحب نے تانگے پر کھڑے ہو کر ایک ولولہ انگیز تقریر
فرمائی۔
صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ نے اپنی تصنیف ”زندگی“ میں لکھا ہے کہ میری شفاعت اور بخشش کے لیے ۱۹۵۳ء کی تحریک میں اسٹیشن والی تقریر ہی کافی ہے۔ منیر انکوائری رپورٹ میں صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ کی اس تقریر کا ذکر موجود ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اس تقریر نے پورے شہر میں آگ لگا دی تھی۔ صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ نے مختلف جیلوں میں ساڑھے تین سال قید کاٹی۔ اگرچہ مرحوم بڑے خوش پوش، خوش خوراک اور نفیس الطبع انسان تھے لیکن اس کے باوجود نہایت پامردی اور جوانمردی سے اس طرح جیل کاٹی کہ مرحوم کے پائے ثبات میں لغزش تک نہ آئی۔
صاحبزادہ سید افتخار الحسن کا دستر خوان بڑا وسیع تھا۔ جب کبھی بھی ان کے پاس جانے کا اتفاق ہوا، انہوں نے تواضع میں کوئی کسر نہ اٹھا چھوڑی۔ کبھی کبھار علماء کی اجتماعی دعوت کا اہتمام کرتے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء جب ان کے دسترخوان پر جمع ہوتے تو اس محفل کا رنگ ہی کچھ اور ہوتا۔ مولانا محمد صدیق ”اہل حدیث“ مولانا تاج محمود اور صاحبزادہ افتخار الحسن فیصل آباد میں دوستی کی عظیم مثلث تھی۔ یہ تینوں حضرات آپس میں بے تکلف رہتے اور ایک دوسرے کے قابل اعتماد ساتھی بھی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی بے مثال دوستی نے فیصل آباد شہر کو فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچائے رکھا۔ والد گرامی کی وساطت سے صاحبزادہ افتخار الحسن اور مولانا محمد ضیاء القاسمی بھی ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے تھے۔ کئی دفعہ ختم نبوت کے اسٹیج پر دونوں حضرات نے اکٹھے خطاب کیا۔ صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ کی دوسری خوبی یہ تھی کہ ان کا ظاہر و باطن ایک تھا۔ جو کچھ ان کے اندر تھا، وہی کچھ باہر تھا۔
۱۵ جولائی بروز جمعرات بعد نماز عصر صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو ہر آنکھ اشکبار تھی۔ صاحبزادہ صاحب کے معتقدین زار و قطار رو رہے تھے۔ جنازہ مسلم ہائی سکول طارق آباد کی گراؤنڈ میں پہنچا تو انسانوں کا جم غفیر موجود تھا۔ ملک کے دور دراز علاقوں سے علمائے کرام اور شاہ صاحب کے مریدین نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ شیخ الحدیث مولانا غلام رسول رضوی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ بعد ازاں صاحبزادہ سید افتخار
الحسن کو جامع مسجد الفردوس منصور آباد میں، جہاں مرحوم نے سال ہا سال خطابت کے فرائض سرانجام دیے تھے، وہاں انہیں اپنی والدہ ماجدہ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ شاہ صاحب کی تدفین کے وقت رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، جلد ۲۹، شمارہ ۱۷، از قلم صاحبزادہ طارق محمود)
اے اسلامی بھائیو! نبی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”تم میں سے جو کوئی برائی کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے۔ اگر ہاتھ سے روکنے کی استعداد نہ رکھتا ہو تو اسے زبان سے روکے۔ اگر زبان سے بھی نہ روک سکتا ہو تو اسے دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے“۔
آؤ اس حدیث کی روشنی میں ہم اپنا احتساب کرتے ہیں۔
اس وقت قادیانیت دنیا کی سب سے بڑی برائی ہے جو اسلام کی ذیشان عمارت کو دھڑام سے زمین پر گرا کر اس کے کھنڈرات پر قادیانیت کی عمارت تعمیر کرنا چاہتی ہے۔
اگر ہمارے حکمرانوں نے ہاتھ سے یعنی اپنی حکومتی قوت سے اس برائی کو روکا ہوتا تو یہ فتنہ کبھی کا اپنی موت مر چکا ہوتا۔
اگر امت کی کثیر تعداد نے زبان سے اس فتنے کے خلاف جہاد کیا ہوتا تو آج اس برائی کے پرخچے اڑ چکے ہوتے۔
اگر ملت اسلامیہ کی کثیر تعداد نے قادیانیت کو دل سے برا جانا ہوتا تو آج قادیانی مسلم معاشرے میں گھل مل کے نہ رہ سکتا۔
سوچئے! ہمارا نام کس درجے میں آتا ہے یا کسی درجے میں نہیں آتا۔ اگر کسی درجے
میں نہیں آتا۔۔۔ تو کیا ہم مسلمان ہیں؟۔۔۔ کیا رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمارا کوئی ناطہ ہے؟۔۔۔
کچھ بھی پیغام محمدؐ کا تجھے پاس نہیں
اور
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے