مرگِ مرزائیت · طاہر رزاق
Marg Mirzaiyat · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

مرگِ مرزائیت

طاہر رزاق

PDF 2

مرگِ مرزائیت

محمد طاہر رزّاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

حضوری باغ روڈ ملتان ☎ 40978

صفحہ 3

انتساب

مجاہدِ اعظم ختمِ نبوت

سیّدنا صدّیق اکبر رضی اللہ عنہ

کے نام

جنہوں نے مسیلمہ کذاب کی جھوٹی نبوت کو یمامہ کے میدان میں دفن کر دیا۔

صفحہ 28
صفحہ 5

آئینہ مضامین

PDF 6

أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ١٤٠٤

صفحہ 7

گریہ دل

میں عالم تصور میں آنکھیں بند کیے بیٹھا ہوں۔--- میں دیکھ رہا ہوں کہ میرا ذہن الٹی زقندیں لگاتا ہوا زمانہ ماضی کی فلک بوس چٹانوں کو پھلانگتا ہوا عہد نبوی میں جا پہنچا ہے۔---!!!

میں دیکھ رہا ہوں-----

کو ساحر اور مجنون کہہ کر آپ کا مذاق اڑا رہے ہیں۔

طرف بلا رہے ہیں اور ابو جہل آپؐ کے سر اقدس میں خاک ڈالتا ہوا پیچھے پیچھے چل رہا ہے اور لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ لوگو اس کی بات نہ سننا یہ دیوانہ ہے۔

سے بھری ٹوکری آپؐ پر پھینک دیتی ہے۔ آپؐ انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے لباس مبارک کو جھاڑتے ہیں اور چل پڑتے ہیں۔

میں ملاحظہ کر رہا ہوں۔---

تو کفار آپؐ کی پیٹھ مبارک پر اونٹ کی غلیظ اوجھڑی رکھ دیتے ہیں۔---- اور پھر تماشا دیکھتے ہوئے شیطانی قہقہے لگاتے ہیں۔

ہیں۔ طائف کے رؤساء نے آپؐ پر پھبتیاں کسی ہیں۔ پھر آپؐ کے پیچھے اوباش لڑکوں کو لگا دیا ہے، جو آپؐ پر پتھر برسا رہے ہیں۔ آپؐ کی مبارک پنڈلیاں لہولہان ہوچکی ہیں۔ خون جوتوں میں جمع ہو کر جم گیا ہے۔ اگر آپؐ نقاہت اور کمزوری سے بیٹھ جاتے ہیں تو ظالم آپؐ کو بازو سے پکڑ کر اٹھا دیتے ہیں۔

صفحہ 8

میری چشم بینا یہ تصاویر دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔۔

کا محاصرہ کر لیا گیا ہے اور ننگی تلواریں حدت انتظار سے پگھل رہی ہیں۔

شہسوار انعام حاصل کرنے کے لیے آپ کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔۔۔۔۔

آپ مکہ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مدینہ منورہ جا رہے ہیں۔

یہ آوازیں میری سماعت کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر گئی ہیں

کہہ رہے ہیں "ابو بکر! غم نہ کر خدا ہمارے ساتھ ہے"۔

یہ واقعات میری بصارت میں رچ بس گئے ہیں۔

خندق کھود رہے ہیں۔۔۔ صحابہ کرام کے ساتھ مٹی اٹھا رہے ہیں۔۔۔ سر مبارک میں مٹی پڑ چکی ہے اور زلف عنبریں خاک آلود ہو چکی ہے۔

پتھر باندھ رکھے ہیں۔

دشمن کی نظر آپ پر مرتکز ہے اور وہ آپ کا چراغ زندگی بجھا دینا چاہتے ہیں۔ ایک شقی القلب آپ کے چہرہ انور پر تاک کر پتھر مارتا ہے۔ جس سے دانت مبارک شہید ہو جاتا ہے۔ منہ سے خون کا فوارہ پھوٹتا ہے اور داڑھی مبارک رنگین ہو جاتی ہے۔

صفحہ 9

یہ مناظر میری بینائی میں اتر گئے ہیں۔

آپؐ کو تڑپا رہی ہے۔

پیارے چچا کی شہادت آپؐ کے قلب و جگر کو رلا رہی ہے۔

پھر میں اچانک دیکھتا ہوں۔۔۔۔ کہ میں گنبد خضرا کے سامنے انتہائی ادب و عقیدت کے ساتھ ہاتھ باندھے کھڑا ہوں۔۔۔ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی شبنم گر رہی ہے۔۔۔۔ میرے لبوں پر درود شریف کے پھول ہیں۔۔۔۔ اچانک دل کے غم کا لاوا پھٹ کر زبان پر آجاتا ہے اور میں کہتا ہوں اے میرے آقاؐ ! جس دین کے لیے آپؐ نے اتنی مشقتیں اٹھائیں۔۔۔۔ جس دین کے لیے آپؐ نے اتنی تکلیفیں برداشت کیں۔۔۔۔ جس دین کے لیے آپؐ نے اتنے مصائب جھیلے۔۔۔۔ جس دین کے لیے آپؐ نے اتنے غم سہے۔۔۔۔ جس دین کے لیے آپؐ نے اتنی قربانیاں دیں۔۔۔۔!!!

آج وہ دین لٹ رہا ہے۔۔۔۔ وہ دین برہنہ ہو چکا ہے۔۔۔ اس دین کا لباس تار تار ہے۔۔۔ اس دین کی دستار خاک آلود ہے۔۔۔ اس دین کا جسم زخموں سے چور چور ہے۔۔۔ اور اس دین کی روح لہو لہو ہے!!!

اے میرے آقاؐ ! آپؐ کی جگہ مرزا قادیانی محمد رسول اللہ بن چکا ہے۔ خدیجہؓ و عائشہؓ کی جگہ مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں عرف نصو ام المومنین بن چکی ہے۔۔۔ آپؐ کی لاڈلی بیٹی فاطمۃ الزہراؓ کی جگہ مرزا قادیانی کی بیٹی سیدۃ النساء بن چکی ہے۔۔۔۔ سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی جگہ حکیم نور الدین، سیدنا عمر فاروقؓ کی جگہ مرزا بشیر الدین، سیدنا عثمان غنیؓ کی جگہ مرزا ناصر اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کی جگہ مرزا طاہر قابض ہو چکے ہیں۔۔۔

مرزا قادیانی کی بے سروپا و بے ہودہ گفتگو کو احادیث کہا جا رہا ہے۔۔۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی جگہ قادیان اور ربوہ لائے جا چکے ہیں۔۔۔ مرزا قادیانی کے ساتھیوں کو صحابہؓ کہا جا رہا

صفحہ 10

ہے۔۔۔ تین سو تیرہ بدری صحابہ کی جگہ مرزا قادیانی کے چیلوں کو لایا جا چکا ہے۔ پھر میں بھیگی آنکھوں اور لرزتی زبان کے ساتھ سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار اقدس میں ”مولانا الطاف حسین حالی“ کی زبان میں اپنی درخواست پیش کرتا ہوں:

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے
جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسریٰ
خود آج وہ مہمان سرائے فقراء ہے
وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں
اب اس کی مجالس میں نہ بتی ہے‘ نہ دیا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے

O

اچانک میں حکیم الامت‘ محافظ ختم نبوت اور غرقاب عشق رسول‘ حضرت علامہ اقبالؒ کی چیخیں سنتا ہوں۔ وہ ہچکیوں اور سسکیوں کی زبان میں کہہ رہے تھے:

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

O

قلب میں سوز نہیں‘ روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں!

O

صفحہ 11
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی۔ ایس سی۔ ایم اے (تاریخ) ۷ ستمبر ۱۹۹۵ء

نوٹ : یہ کتاب کبھی بھی منصہ شہود پر طلوع نہ ہوتی۔ اگر مجھے ملک فیاض اختر‘ محمد متین خالد‘ ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری اور سید علمدار حسین شاہ جیسے دوستوں کا تعاون میسر نہ ہوتا۔ ان دوستوں نے قدم قدم پر میری راہنمائی اور حوصلہ افزائی فرمائی۔ یہ انہی کی محنتوں کا ثمر ہے کہ آج یہ کتاب مطالعہ کے لیے آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ رب العزت میرے ان تمام دوستوں کو جزائے خیر سے نوازے۔ (آمین)

محمد طاہر رزاق

صفحہ 12

بسم اللہ

محمد طاہر رزاق صاحب قادیانیت کے خلاف بہت بڑا جہاد کر رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں بیشمار چھوٹے چھوٹے رسائل شائع کرتے رہے ہیں۔ اب ان سب کا مجموعہ شائع کر رہے ہیں۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔

فقیر دعا گو ہے کہ مولا پاک محترم محمد طاہر رزاق کی اس محنت کو قبول فرمادے اور اس مجموعہ کو اہل اسلام کے دین و ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنادے۔ آمین۔

والسلام فقیر خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ ۱۲؍ ذیقعدہ ۱۴۱۵ھ

صفحہ 13

زاویہ نگاہ

قادیانیت کا فتنہ اس صدی کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ اسلام مخالف حکومتوں اور افراد نے دل کھول کر اسے اپنی مکمل حمایت فراہم کی تاکہ اللہ تعالیٰ کے آخری اور کامل دین میں رخنہ ڈال سکیں۔ استعماری قوتوں نے اسے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے خوب استعمال کیا۔ تاکہ استعمار کے خلاف جہاد کے جذبے کو سرد کیا جاسکے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قادیانیت بے نقاب ہوئی اور باوجود بے پناہ وسائل اور حمایت کے دنیا بھر میں اس کا اصل چہرہ سامنے آرہا ہے۔

ابتداء فتنہ سے لے کر آج تک بعض خوش نصیب حضرات کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ توفیق حاصل رہی ہے۔ کہ وہ اس تحریک ارتداد کا تعاقب موثر انداز سے کرتے رہیں اور دلائل و براہین سے عام پڑھے لکھے لوگوں کے ذہن تیار کرتے رہیں اور ان کی ہر تلبیس کی کوشش کو ناکام بناتے رہیں۔

میرا تجربہ ہے کہ اگر صرف بانی فتنہ کی اپنی تحریریں ہی لوگوں کے مطالعہ میں لائی جائیں تو یہ مضحکہ خیز سلسلہ بہت تیزی سے ختم ہو جائے۔

محترم محمد طاہر رزاق صاحب نے بڑے موثر انداز میں اپنی تحریروں کے ذریعے اپنا فریضہ پورا کیا ہے۔ اللہ کریم انہیں اجر عظیم سے نوازیں۔ مجھے مزید اطمینان ہوگا اگر انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں بھی اس قسم کا لٹریچر تیار کر کے مناسب طور پر اسے انگریزی اور فرانسیسی بولنے والے خطوں میں تقسیم کیا جائے۔

راجہ محمد ظفر الحق سینیٹر سیکرٹری جنرل ورلڈ مسلم کانگریس

صفحہ 14

شناخت

قادیانیت اور کچھ ہو نہ ہو لیکن فساد کی جڑ ضرور ہے۔ ایک ایسا فتنہ جس نے امت میں تفرقہ، نفاق اور انتشار کا بیج بویا اور فرمان الٰہی کے مطابق فتنہ قتل سے زیادہ قبیح فعل ہے۔ جعلی نبوت، جعلی امہ اور جعلی خلافت جس نے از اول تا آخر صرف اور صرف مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کو نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت علامہ اقبالؒ نے انہیں ”اسلام اور ہندوستان کا غدار“ قرار دیا تھا۔ غدار خواہ ملت کا ہو یا ملک و وطن کا اس کی سرشت میں فتنہ و فساد ہوتا ہے۔ وہ سازش اور تخریب کا پیکر ہوتا ہے۔ آپ دیکھتے جائیں مرزا غلام احمد قادیانی سے لے کر مرزا طاہر احمد تک کسی نے بھی مسلمانوں کے دین و ایمان اور عقیدہ و مسلک ہی نہیں بلکہ جمعیت و سیاست کو بھی نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی تھے تو انگریز کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہد کو سبوتاژ کرتے رہے۔ اسلام کا ایک ایسا ایڈیشن پیش کرتے رہے جو خوشامد، چاپلوسی اور مفاد پرستی کا مرقع تھا۔ جہاد اور عشق رسولؐ جو اسلام کی روح اور ایمان کی اساس ہے، اس نام نہاد مذہب کا حصہ ہی نہیں تھے۔ ان کے جانشین مرزا بشیر الدین محمود نے جہاد کشمیر کو سبوتاژ کیا اور قیام پاکستان کے وقت قادیانی گروہ نے قادیان کی خاطر مشرقی پنجاب کے ایسے کئی اضلاع کو بھارت میں شامل رکھنے کی سازش کر کے اسلامیان کشمیر کی منزل کھوٹی کی۔ قیام پاکستان کے بعد یہ قادیانی ہی تھے، جنہوں نے اپنے سیاسی، انتظامی اور فوجی سپوتوں کے ذریعے دستور پاکستان مدون نہیں ہونے دیا۔ اپنی سازشوں سے مسلم لیگ کو کمزور کیا اور پاکستان کی بانی جماعت کو دینی جماعتوں سے لڑا کر جمہوریت کو عدم استحکام سے دوچار کیا۔ ۱۹۶۵ء، ۱۹۷۱ء کی جنگوں میں قادیانی جرنیلوں اور بیوروکریٹس نے بالواسطہ طور پر تقسیم پاکستان کی راہ ہموار کی اور اب بھی بیرون ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔

عزیزم محمد طاہر رزاق اس لحاظ سے قابل صد مبارکباد ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو

صفحہ 15

قادیانی فتنہ گردی کی نقاب کشائی کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ان کی دوسری تصنیفات کی طرح یہ کتاب بھی خاصے کی چیز ہے۔ قارئین زبان کی تلخی اور غیر ادبی اسلوب کی شکایت ضرور کریں گے لیکن سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ اور اسلام کے غداروں کا تذکرہ زبان و بیان کی نزاکتوں اور ادب و احترام کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر کرنا بد مذاقی ہے۔ ویسے بھی یہ اعتراض وہ لوگ کر سکتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کی گالی گلوچ اور یاوہ گوئی پر مبنی کتابوں کا مطالعہ نہیں کر سکے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کرنے والے افراد محمد طاہر رزاق کے انداز تحریر کو ہرگز غیر ثقہ قرار نہیں دے سکتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی اور محمد طاہر رزاق کے انداز تحریر کا مقابلہ کیا جائے تو اول الذکر جعفر زٹلی اور آخر الذکر غالب و اقبال نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے بعض دوست اسے جعفر زٹلی کے ساتھ زیادتی قرار دیں مگر ”نقل کفر کفر نہ باشد“ کے مصداق مثل مرزا بھی ضروری نہیں کہ مثل مرزا ہی ہو، کچھ نہ کچھ بہتر ہو گا۔ مگر مرزا ایسی زبان کسی نے چونکہ اردو ادب میں استعمال ہی نہیں کی جبکہ محمد طاہر رزاق نے جو زبان استعمال کی ہے۔ اس طرح کی زبان ہمارے ہاں اجنبی نہیں بلکہ کئی اچھے لکھنے والوں سے بہتر ہے، اس لیے یہ تقابل چنداں محل نظر نہیں۔ نوجوان محمد طاہر رزاق، اسلام، اسلامیان پاکستان اور پاکستان کی جو فکری خدمت کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر عطا فرمائے۔ ملک میں دہشت گردی، تخریب کاری اور فکری انتشار کی موجودہ فضا اس امر کی متقاضی ہے کہ ہم قادیانیت کو سمجھنے کی کوشش کریں ورنہ

ع ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

ارشاد احمد عارف ایڈیٹر (کو آرڈی نیشن) روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور

صفحہ 16

حال دل

قادیانی لابی پاکستان کے اندر ”خاموش جارحیت“ کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اسی طرح جیسے امریکہ میں یہودی لابی۔ امریکہ کی خارجہ امور کی کمیٹی ہو یا دفاعی امور کی کونسل‘ اخبارات ہوں یا ٹیلی ویژن‘ ہالی وڈ کی فلم انڈسٹری ہو یا ہم جنس پرستوں کی تحریک—— ہر جگہ ان کی تہہ میں یہودی لابی کا عمل دخل دیکھا جاسکتا ہے۔ یہودیوں کے لیے امریکہ ایک دوسرا اسرائیل ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ قادیانی لابی کے بھی یہودی لابی کے ساتھ کچھ رشتے ناتے ہیں۔ اسرائیل میں حیفہ کے مقام پر قادیانیوں کو مرکز قائم کرنے کی اجازت دینا اس تاثر کو اور بھی مستحکم کر دیتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے اندر پاکستان کی مسلح افواج‘ بیورو کریسی‘ ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اداروں میں ان کا عمل دخل کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ علاوہ ازیں مختلف سیکولر سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں اور سرگرمیوں پر بھی ان کا مضبوط کنٹرول محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات بھی مبالغہ نہ ہوگی کہ پاکستان جیسے اسلامی نظریاتی ملک کے اہم اداروں پر اس سازشی اقلیتی گروپ کی حکمرانی ہے۔

میرے نزدیک یہ کوئی مذہبی گروہ نہیں ہے بلکہ برطانوی سامراج کا پیدا کردہ سیاسی اور سازشی گروہ ہے۔ سابق ایئر مارشل ظفر چودھری ہوں یا پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں‘ اقتصادی پالیسی ساز ایم۔ ایم احمد ہوں یا ڈاکٹر عبدالسلام‘ موجودہ اہم حکومتی عہدے پر فائز فرنٹئیر پوسٹ سے وابستہ صحافی فرحت اللہ بابر ہوں (جنہیں ڈاکٹر عبدالسلام نے ایٹمی توانائی کے اہم شعبے میں سینئر سائنٹیفک آفیسر تعینات کیا تھا) یا پنجاب کے تعلقات عامہ کے کرتا دھرتا کرنل اکرام اللہ‘ ٹیکسٹ بک بورڈ ایسے اہم ادارے کے غالب احمد ہوں یا سابق سیکرٹری انفارمیشن نسیم احمد—— اور نہ جانے کتنے اور اہم اداروں کی پالیسی مرتب کرنے والے لوگوں کا تعلق اسی گروہ کے ساتھ ہے۔ دوسری طرف ہماری بے بسی کا یہ عالم

صفحہ 17

کہ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اس فتنے سے بے خبر اور بے تعلق اور اپنی منزل سے نا آشنا ہیں۔ ان حالات میں "مرگ مرزائیت" کے مصنف محمد طاہر رزاق نے قلمی جہاد کے ذریعے آج کے مذہبی اور غیر مذہبی طبقے کو اس فتنے کی حقیقت سے آگاہ کرنے کی ایک قابل ستائش کوشش کی ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک طویل عرصے سے قادیانیت کے خلاف برسرپیکار رہی ہے لیکن یہ بات کہنے میں مجھے کوئی احتراز نہیں کہ فتنہ قادیانیت کے بہت سے گوشے اس کی نظر سے مخفی ہیں جہاں قادیانیت پورے کروفر سے زندہ ہے۔ مجلس کا اولین فرض ہے کہ وہ اس جانب فوری توجہ دے کر وہاں قادیانیت کی تباہی کا ساماں کرے۔

ان مایوس کن حالات میں مصنف محمد طاہر رزاق نے ایک نہیں متعدد کتابوں کے ذریعے قلمی محاذ پر اس تحریک کو زندہ رکھنے کی بھرپور جدوجہد کر کے نبی آخر الزمانؐ سے اپنی محبت کو اور بھی مستحکم کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ فتنہ قادیانیت کی بابت آگہی دینا ہم سب پر ایک قرض تھا اور شاید اب بھی ہے۔ نوجوان مصنف محمد طاہر رزاق نے مستقل مزاجی اور تواتر کے ساتھ اس فتنے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈال کر اس قرض کو چکانے کی ایک اور کوشش کر ڈالی ہے۔ اللہ ان کی اس کوشش کو ان کی بخشش کا سبب بنائے۔ (آمین)

پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ شعبہ ابلاغیات، پنجاب یونیورسٹی، لاہور

صفحہ 28
PDF 19

قادیانی

مسلمانوں کو

کیا

سمجھتے ہیں؟

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 28
صفحہ 21

ایک دن میں نے دیکھا کہ میرا ایک دوست ایک قادیانی سے مسکرا مسکرا کر معانقہ کر رہا ہے۔ میں نے اسے اس دینی بے حمیتی پر ٹوکا تو وہ کہنے لگا۔ ”چھوڑیے طاہر صاحب! آپ ہر وقت قادیانیوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ اگر انہوں نے نیا نبی بنایا ہے تو اپنا ہی منہ کالا کیا ہے۔ اپنی ہی آخرت برباد کی ہے اور وہ خود ہی اپنے اس عمل کے باعث جہنم میں جائیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ہمیں کیا کہتے ہیں؟ ہمارا کیا لیتے ہیں؟ ہمارا کیا بگاڑتے ہیں“۔

میں نے کہا ”اے میرے سادہ لوح بھائی! کاش تجھے معلوم ہوتا کہ قادیانی ہمیں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے ہمارا کیا بگاڑا ہے؟ ملت اسلامیہ نے اس فتنہ کے خلاف کتنی سخت جدوجہد کی ہے؟ تمہاری لاعلمی تمہارا جرم ہے“۔

میں نے کہا کہ یہ اسلام پر قبضہ جمانے کے لیے شیطان کا تشکیل کردہ ”قبضہ گروپ“ ہے جو اسلام پر قبضہ کر کے مسلمانوں کو گلشن اسلام سے اٹھا کر باہر پھینکتا ہے اور جب مسلمان اس ظلم عظیم پر احتجاج کرتے ہیں تو قادیانی اپنی شیطانی زبان سے وہ ہذیان بکتے ہیں کہ الامان الحفیظ! وہ مسلمانوں کو کافر، کاذب، اللہ اور رسول کے نافرمان ایسے ناموں سے پکارتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی شخص کے مکان پر کوئی بدمعاش قبضہ کر لے اور اس کے بیوی بچوں، بہن بھائیوں، والدین کو قیدی بنا لے اور مال و اسباب لوٹ لے۔ اس ظلم و ستم پر جب وہ شریف آدمی گلیوں میں روتا، اپنی بپتا لوگوں کو سنا کر انصاف کی دہائی دے تو قبضہ کرنے والا بدمعاش اسے غلیظ گالیاں بکے۔ یہی سفاکانہ سلوک قادیانی مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ وہ مرزا قادیانی کو نبی بناتے ہیں۔ اسلام کی ساری برکات اس کے دامن میں ڈالتے ہیں اور پھر ساری کائنات میں بسنے والے مسلمانوں کو اس پر ایمان لانے کا حکم نامہ جاری کرتے ہیں۔ جو مرزا قادیانی کو نبی ماننے سے انکار کرے، ان کے بارے میں ان کے عقائد ہیں:

خدا کے نافرمان اور جہنمی: ”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری جماعت میں داخل نہیں ہوگا.. وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے“۔ (اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی، مندرجہ تبلیغ رسالت، جلد نمبر ۹ ص ۲۷)

رنڈیوں کی اولاد: ”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے

صفحہ 22

معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی"۔ (آئینہ کمالات اسلام‘ ص ۵۴۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

مرد سور‘ عورتیں کتیاں : "میرے مخالف جنگلوں کے سور ہوگئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں"۔ (نجم الہدیٰ ص ۱۵‘ مصنفہ مرزا قادیانی)

حرام زادے : "جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولدالحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں"۔ (انوار اسلام ص ۳۰ مصنفہ مرزا قادیانی)

یہ عقائد بتانے کے بعد میں نے کہا‘ اب ذرا بتا ۔۔۔ ذرا سنا ۔۔۔ کیا ان عقائد کی رو سے مرزا قادیانی اور قادیانیوں کے بقول تمہاری ماں‘ تمہاری بہنیں‘ تمہاری بیٹیاں‘ تمہاری دادی‘ تمہاری نانی‘ تمہاری چچیاں‘ تمہاری ممانیاں‘ تمہاری خالہ‘ تمہاری بھانجیاں‘ تمہاری بھتیجیاں اور دیگر رشتے دار اور ملت اسلامیہ کی کروڑوں خواتین

کتیاں نہیں ہیں؟

رنڈیوں کی اولاد نہیں ہیں؟

حرام زادیاں نہیں ہیں؟

خدا اور رسول کی نافرمان اور کافرہ نہیں ہیں؟

وہ یوں چونکا جیسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا ہو۔

میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا بھائی حوصلے سے سن ۔۔۔ سراپا ہوش بن کے سن ۔۔۔ ہمہ تن گوش بن کے سن ۔۔۔ دل و دماغ کے کانوں سے سن ۔۔۔ !!!

کیا تیرا باپ‘ تیرے بھائی‘ تیرے بیٹے‘ تیرا نانا‘ تیرا دادا‘ تیرے بھتیجے‘ تیرے بھانجے‘ تیرے چچا‘ تیرے ماموں‘ تیرے پھوپھا‘ تیرے خالو‘ تیرے استاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنگل کے سور نہیں ہیں؟

کنجری کے بیٹے نہیں ہیں؟

حرام زادے نہیں ہیں؟

کافر‘ خدا اور رسول کے نافرمان اور جہنمی نہیں ہیں؟

صفحہ 23

میں نے دیکھا کہ غصے سے اس کے نتھنے پھولنے لگے۔—— آنکھوں میں سرخ ڈورے جھلکنے لگے۔—— ماتھے پر تیوریاں چڑھ گئیں۔—— مٹھیاں بھنچنے لگیں۔—— اور پورے جسم میں ایک ارتعاش آگیا—— میں سمجھ گیا کہ اس کے ایمان نے جسم میں انگڑائی لی ہے اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد وہ جو گرم گرم سانس شوں شوں کر کے چھوڑتا ہے، یہ گرم سانس جسم کے اندر پڑے قادیانیت کے بارے میں رواداری کے جراثیموں کو جلا کر باہر پھینک رہے ہیں۔ وہ غصہ میں اٹھ کھڑا ہوا اور داہنے ہاتھ کا مکا بنا کر بائیں ہاتھ پر زور سے مار کر کہنے لگا ”میں سارا مسئلہ سمجھ گیا ہوں“۔ اور اٹھ کر جانے لگا۔ میں نے کندھے سے پکڑ کر بٹھا لیا اور کہا آج پورا مسئلہ سمجھا کر جانے دوں گا—— ادھوری بات نہیں رہنے دوں گا—— پھر میں نے اسے قادیانی کتب سے وہ حوالے سنانے شروع کیے جن کے لفظ لفظ سے اسلام اور مسلمانوں سے بغاوت، شقاوت، عداوت اور کدورت کے دریا ابلتے ہیں۔

مسلمان نہیں : ”ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں“۔

(حقیقۃ الوحی، ص ۱۶۳، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

جہنمی ہے : ”جو شخص میری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہوگا۔ وہ خدا، رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے“۔

(اشتہار معیار الاخیار، ص ۸، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

زمانہ بدل گیا : ”اب زمانہ بدل گیا ہے۔ دیکھو پہلے جو مسیح آیا تھا اسے دشمنوں نے صلیب پر چڑھایا مگر اب مسیح (مرزا غلام احمد) اس لیے آیا کہ اپنے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارے“۔

(عرفان الٰہی، تقریر مرزا محمود بر موقعہ جلسہ سالانہ قادیان ۱۹۱۴ء)

غیر مرزائی مسلمان نہیں : ”ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں، ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکر ہیں“۔

(انوار خلافت، ص ۹۰، تقریر مرزا محمود احمد بر موقعہ جلسہ قادیان ۱۹۱۵ء)

جنہوں نے نام بھی نہیں سنا : ”کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا، وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں“۔

(آئینہ صداقت، ص ۳۵، مصنفہ مرزا محمود احمد خلیفہ ثانی قادیانی)

صفحہ 24

مرزا کا منکر کافر : "ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا۔ یا عیسیٰ کو تو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا یا محمدؐ کو تو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے"۔ (کلمۃ الفصل‘ ص ۳۹‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا غلام احمد)

خبیث عقیدہ : "مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان سمجھنے کا عقیدہ ایک خبیث عقیدہ ہے۔ جو ایسا عقیدہ رکھے اس کے لیے رحمت الٰہی کا دروازہ بند ہے۔ جو شخص مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کے منکروں کو راست باز قرار دیتا ہے‘ اس کا دل شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہے"۔ (کلمۃ الفصل‘ ص ۳۹‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا غلام احمد)

سوال : "اگر مرزا صاحب غیر احمدیوں کو کافر سمجھتے تھے تو انہوں نے اپنی بعض آخری کتابوں میں مسلمانوں کا لفظ کیوں استعمال کیا؟" (کلمۃ الفصل‘ ص ۵۰)

جواب : "اگر مسیح موعود انہیں مسلمان نہ لکھتے تو اور کیا لکھتے۔ کیا وہ یہودی ہیں؟ کہ انہیں یہود لکھا جائے۔ کیا وہ عیسائی ہیں؟ کہ انہیں عیسائی لکھا جائے۔ کیا وہ ہندو ہیں؟ کہ انہیں ہندو لکھا جائے۔ کیا وہ بدھ مذہب میں داخل ہیں؟ کہ ان کو بدھ مذہب کے متبعین کے طور پر پیش کیا جاتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو بھی بعض وقت اس بات کا خیال آیا ہے کہ میری تحریروں میں غیر احمدیوں کے متعلق مسلمان کا لفظ دیکھ کر لوگ دھوکا نہ کھائیں اس لیے آپ نے کہیں کہیں بطور ازالہ کے غیر احمدیوں کے متعلق ایسے الفاظ بھی لکھ دیے ہیں کہ وہ لوگ جو اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاکہ جہاں کہیں بھی مسلمان کا لفظ ہو اس سے مدعی اسلام سمجھا جاوے نہ کہ حقیقی مسلمان"۔ (کلمۃ الفصل‘ ص ۵۰‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا غلام احمد)

عیسائی‘ یہود اور مشرک : "اس نے مجھے پیدا کر کے ہر ایک گزشتہ نبی سے مجھے تشبیہ دی کہ وہی میرا نام رکھ دیا۔ چنانچہ آدم‘ ابراہیم‘ نوح‘ موسیٰ‘ داؤد‘ سلیمان‘ یوسف‘ یحییٰ‘ عیسیٰ

صفحہ 25

وغیرہ یہ تمام میرے نام رکھے گئے۔۔۔۔۔۔ اور جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا"۔

(نزول المسیح، مصنفہ مرزا قادیانی، حاشیہ ص ۴ مندرجہ کلمتہ الفصل ص ۳)

غیر مرزائی کے پیچھے نماز : "حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) نے سختی سے تاکید فرمائی ہے کہ کسی احمدی کو غیر احمدی کے پیچھے نماز نہ پڑھنی چاہیے۔ باہر سے لوگ اس کے متعلق بار بار پوچھتے ہیں۔ میں کہتا ہوں تم جتنی دفعہ پوچھو گے اتنی دفعہ ہی میں یہی جواب دوں گا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہیں، جائز نہیں، جائز نہیں"۔

(انوار خلافت ص ۸۹، مصنفہ مرزا

محمود احمد)

منافق : "مرزا صاحب سے سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام الصلوٰۃ حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں یا نہ پڑھیں۔ حضرت مسیح موعود (مرزا جی) نے فرمایا کہ پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرو پھر اگر نہ تصدیق کرے نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو"۔

(ملفوظات احمدیہ، حصہ چہارم ص ۴۲ مرتبہ منظور الٰہی)

رشتہ اور جنازہ : "حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ غیر احمدیوں کا جنازہ نہ پڑھو۔ غیر احمدی رشتہ داروں کو لڑکی نہ دو"۔

(الفضل ۵؍ اپریل ۱۹۱۴ء)

جنازہ جائز نہیں : "غیر احمدیوں کا جنازہ جائز نہیں۔ حتیٰ کہ غیر احمدی میں کوئی سرسید جیسا صلح کل اور خادم ملت اور تکفیر وغیرہ کے طریق سے مجتنب رہنے والا انسان بھی ہو مگر وہ احمدیت کا مصدق نہ ہو تو پھر بھی اس کا جنازہ جائز نہیں"۔

(مسئلہ جنازہ کی حقیقت، ص ۲۵)

بے خبر : "اگر کوئی ایسا شخص ہے جس تک احمدیت کا پیغام نہیں پہنچا اور وہ بے خبر ہے تو اس کے متعلق ہمارا فرض ہے کہ پہلے اسے پیغام پہنچائیں۔ اور وہ خاموش رہے پھر بھی اس کا جنازہ جائز نہیں ہوگا"۔

(مسئلہ جنازہ کی حقیقت، ص ۶۰)

وہ بھی کافر : "جو شخص کہتا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود کا مخالف نہیں بلکہ آپ کو اچھا جانتا ہو مگر وہ احمدیت کی تصدیق نہیں کرتا (یعنی مرزائی نہیں ہونا چاہتا) اس کا جنازہ بھی جائز نہیں"۔

(مسئلہ جنازہ کی حقیقت، ص ۲۴)

جہاں تبلیغ نہیں پہنچی : "اگر یہ کہا جائے کہ کسی ایسی جگہ جہاں تبلیغ نہیں پہنچی اور وہاں

صفحہ 26

کوئی مرا ہوا ہو اور اس کے مر چکنے کے بعد وہاں کوئی احمدی پہنچے تو وہ جنازہ کے متعلق کیا کرے اس کے متعلق تو یہ ہے کہ ہم ظاہر پر ہی نظر رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ ایسی حالت میں مرا ہے کہ خدا تعالیٰ کے رسول اور نبی (مرزا غلام احمد) کی پہچان اسے نصیب نہیں ہوئی۔ اس لیے ہم اس کا جنازہ نہیں پڑھیں گے"۔ (الفضل‘ ۱۸؍ مئی ۱۹۱۵ء)

معصوم بچے کا جنازہ : "ایک صاحب نے عرض کیا غیر مبائع (لاہوری فریق) کہتے ہیں کہ غیر احمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ بچہ جوان ہو کر احمدی ہوتا اس کے متعلق فرمایا (مرزا محمود خلیفہ ثانی قادیانی) جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا"۔ (ڈائری مرزا محمود احمد‘ مندرجہ الفضل ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۲۲ء)

گویا کہ مرزائیوں کے نزدیک تمام کلمہ گو مسلمان کافر ہیں۔

جہنمی : "اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ‘ خدا کا مامور‘ خدا کا امین اور خدا کی طرف سے آیا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے"۔ (انجام آتھم‘ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی‘ ص ۶۲)

غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں ہوتی : "پس یاد رکھو جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے۔ تمہارے پر حرام اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفر اور مکذب یا متردد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہیے کہ تمہارا امام وہی ہو جو تم میں سے ہو"۔ (اربعین نمبر۳‘ ص ۲۸‘ حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

دعا مت کرو : سوال : "کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں شامل نہ ہو یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے اور مغفرت کرے"۔

جواب : "غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں"۔ (الفضل قادیان ۷؍ فروری ۱۹۲۱ء‘ جلد ۸ نمبر ۵۹)

غیر احمدی کو لڑکی نہ دو : "حضرت مسیح موعود کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی‘ غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے"۔ (برکات

صفحہ 27

خلافت از مرزا محمود احمد، ص ۷۵)

نکاح جائز نہیں : "غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے وہ نکاح جائز ہی نہیں۔" (برکات خلافت از مرزا محمود احمد، ص ۷۴)

بے سمجھے : "جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے۔ جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو مگر وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر بھی کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دے دیتے ہو"۔ (ملائکۃ اللہ، مصنفہ

مرزا محمود احمد، ص ۴۶)

مکمل بائیکاٹ : "غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اب باقی کیا رہ گیا ہے جو ہم ان کے ساتھ مل کر کر سکتے ہیں۔ دو قسم کے تعلقات ہوتے ہیں، ایک دینی دوسرے دنیوی۔ دینی تعلق کا سب سے بڑا ذریعہ عبادت کا اکٹھا ہونا ہے اور دنیوی تعلقات کا بھاری ذریعہ رشتہ و ناطہ ہے۔ سو یہ دونوں ہمارے لیے حرام قرار دیے گئے۔ اگر کہو کہ ہم کو ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں کہتا ہوں نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے"۔ (کلمۃ الفصل، مصنفہ مرزا بشیر احمد، پسر مرزا

غلام احمد ص ۲۹)

بیعت میں توقف کرنے والا بھی کافر : "آپ نے (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی نے) اس شخص کو بھی جو آپ کو سچا جانتا ہے مگر مزید اطمینان کے لیے اس بیعت میں توقف کرتا ہے، کافر ٹھہرایا ہے"۔ (ارشاد میاں محمود احمد، خلیفہ قادیان مندرجہ رسالہ تشحیذ الاذہان، جلد نمبر ۳ بابت

اپریل ۱۹۱۱ء منقول از عقائد احمدیہ صفحہ ۱۰۸، مؤلفہ میر قاسم علی احمدی

مرزا قادیانی کو مانے بغیر نجات نہیں : "ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیح اول، حکیم نور الدین صاحب سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں۔ فرمایا، اگر خدا کا کلام سچا ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہو سکتی"۔

(رسالہ تشحیذ الاذہان قادیان نمبر ۱۱ ص ۲۳، بابت ماہ نومبر ۱۹۱۳ء و اخبار بدر جلد ۲، نمبر ۲، مورخہ ۱۱

صفحہ 28

جولائی ۱۹۳۳ء اور محمد اسماعیل قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق جوابات پر نظر صفحہ ۱۴۱)

مرزا قادیانی کو نہ ماننا غضب الٰہی کا موجب : ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ (یہ مرزا کا الہام ہے۔ للمؤلف) سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ حضرت احمد علیہ السلام (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) ایک عظیم الشان نبی اللہ ہیں۔ اور ان کا انکار موجب غضب الٰہی اور کفر ہے“۔ (رسالہ الہدیٰ نمبر ۵‘ ۷ بابتہ ۱۹۱۹ء موسومہ النبوۃ‘ فی الالہام ص ۱۰ مؤلفہ قاضی محمد یوسف قادیانی)

قرآن کے رو سے کافر : ”خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنے الہام میں احمد نام رکھا ہے۔ اس لیے آپ کا منکر کافر ہے۔ کیونکہ احمد کے منکر کے لیے قرآن میں لکھا ہے واللہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون“۔ (کلمتہ الفصل‘ مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز‘ جلد ۱۴‘ نمبر ۳‘ صفحہ ۱۴۱)

ہاں ہم کافر کہتے ہیں : ”لکھنؤ میں ہم (یعنی میاں محمود احمد خلیفہ قادیان) ایک آدمی سے ملے جو بڑا عالم ہے۔ اس نے کہا کہ وہ آپ لوگوں کے بڑے دشمن ہیں جو یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ آپ ہم لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ میں نہیں مان سکتا کہ آپ ایسے وسیع حوصلہ رکھنے والے ایسا کہتے ہوں۔ اس سے شیخ یعقوب علی (قادیانی) باتیں کر رہے تھے۔ میں نے (یعنی میاں محمود احمد خلیفہ قادیان) نے ان کو کہا کہ آپ کہہ دیں کہ واقع میں ہم آپ لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ حیران سا ہوگیا“۔ (انوار خلافت صفحہ ۶۲‘ مصنفہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان)

ہم ہر جگہ کافر کہتے ہیں : ”چودھری صاحب (یعنی سر ظفر اللہ خان قادیانی) کی بحث تو صرف یہ تھی کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔ ہم کو کافر قرار دینا غلط ہے۔ باقی غیر احمدی (یعنی مسلمان) کافر ہیں یا نہیں۔ اس کے متعلق عدالت ماتحت میں بھی احمدیوں کا یہی جواب تھا کہ ہم ان کو کافر کہتے ہیں اور ہائی کورٹ میں بھی چودھری صاحب نے اس کی تائید کی“۔ (اخبار الفضل قادیان‘ جلد ۱۰‘ نمبر ۲۱‘ مورخہ ۳؍ ستمبر ۱۹۲۲ء)

جو مرزا قادیانی کو رسول نہ مانے کافر : اخبار بدر پرچہ ۱۸ مارچ ۱۹۰۶ء میں ملک مولا

صفحہ 29

بخش صاحب آف گجرات کے اس سوال کا کہ ”کیا مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود نہ ماننے والے کو کافر ماننا چاہیے“۔ حضرت مفتی (محمد صادق) صاحب (قادیانی) یہ جواب لکھتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا‘ شرائط اسلام میں داخل ہے۔ ایک شخص آدم سے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سب پر ایمان لاتا ہے درمیان میں سے ایک رسول کو (بالفرض مسیح ابن مریم ہی کو سہی) نہیں مانتا کہتا ہے وہ تو کافر ہے۔ بتلاؤ وہ شخص یہودی کہلائے گا یا مسلمان۔ حضرت مرزا صاحب بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں میں سے ایک رسول ہیں۔ جو خدا کے رسولوں میں سے ایک رسول کا انکار کرتا ہے۔ اس کا کیا حشر ہو گا مگر انصاف شرط ہے“۔ (محمد اسماعیل صاحب قادیانی کا رسالہ بعنوان مولوی محمد علی صاحب کے اپنی سابقہ تحریرات کے متعلق

جوابات پر نظر صفحہ ۱۳۳)

بیٹے کا جنازہ نہ پڑھا : ”حضرت (مرزا) صاحب نے اپنے بیٹے (فضل احمد مرحوم) کا جنازہ محض اس لیے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا (یعنی مسلمان تھا۔ للمولف) (اخبار الفضل قادیان جلد

۹‘ نمبر ۴۷‘ مورخہ ۱۵ دسمبر ۱۹۲۱ء)

غیر احمدی کے بچے کا جنازہ بھی حرام : ”ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کے منکر ہوئے اس لیے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندو اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں (یا قادیانی اپنے میں اور مسلمانوں میں اتنا ہی بعد اور فرق سمجھتے ہیں جتنا کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں ہے۔ للمولف) اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب ان کے بچہ کا قرار دیتی ہے۔ پس غیر احمدی کا بچہ غیر احمدی ہوا‘ اور اس لیے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہیے“۔ (انوار خلافت ص ۹۳‘ مصنفہ میاں محمود احمد‘ خلیفہ قادیان)

ماں کا جنازہ نہ پڑھنے والے کو شاباش : ”تعلیم الاسلام ہائی سکول (قادیان) میں ایک لڑکا پڑھتا ہے۔ چراغ الدین نام۔ حال میں جب وہ اپنے وطن سیالکوٹ گیا تو اس کی والدہ صاحبہ

صفحہ 30

فوت ہو گئیں۔ متوفیہ کو اپنے بچے سے بہت محبت تھی۔ مگر سلسلہ میں داخل نہ تھیں، اس لیے چراغ الدین نے اس کا جنازہ نہ پڑھا، اپنے اصول اور مذہب پر قائم رہا۔ شاباش اے تعلیم الاسلام کے غیور فرزند کہ قوم (قادیانی) کو اس وقت تجھ سے غیور بچوں کی ضرورت ہے۔ زندہ باش"۔ (اخبار الفضل قادیان جلد ۲، نمبر ۴۹، مورخہ ۱۴ اپریل ۱۹۱۵ء)

قائد اعظم اور سر فضل حسین کا جنازہ نہ پڑھا : "سر فضل حسین مرحوم کا انتقال ہوا جو قادیانیوں کے محسن اعظم تھے۔ جن کی بدولت سر ظفر اللہ خاں قادیانی وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے ممبر ہوئے اور قادیانیوں کو ان کی ذات سے فوائد عظیم حاصل ہوئے۔ لیکن ان قادیانیوں کی محسن کشی اور شقاوت کا یہ حال ہے کہ مرحوم سر فضل حسین کی نماز جنازہ میں انہوں نے شرکت نہیں کی اور جنازہ کے ساتھ جو غیر مسلم ہندو، سکھ، عیسائی شریک تھے۔ نماز جنازہ کے وقت قادیانی بھی ان کے ساتھ مسلمانوں سے علیحدہ جا کھڑے ہوئے۔ چودھری ظفر اللہ نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا جنازہ بھی نہیں پڑھا تھا اور صرف اسی بنا پر کہ قائد اعظم مسلمان تھے اور مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کے منکر"۔

ان قادیانیوں کا بھی جنازہ جائز نہیں : "میرا یہ عقیدہ ہے کہ جو لوگ غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں ان کا جنازہ جائز نہیں۔ کیونکہ وہ میرے نزدیک احمدی نہیں ہیں (گویا مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنے کے سبب وہ قادیانیت سے خارج ہو گئے۔ للمولف) اسی طرح جو لوگ غیر احمدیوں کو لڑکی دے دیں اور وہ اپنے اس فعل سے توبہ کیے بغیر فوت ہوجائیں۔ ان کا جنازہ بھی جائز نہیں"۔ (میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا مکتوب مندرجہ اخبار الفضل قادیان، جلد ۱۳، نمبر ۱۶۲، مورخہ ۱۳ اپریل ۱۹۲۶ء)

حکم کی تعمیل کرو : "حضرت مسیح موعود (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی صاحب) کا حکم اور زبردست حکم ہے کہ کوئی احمدی، غیر احمدی کو اپنی لڑکی نہ دے۔ اس کی تعمیل کرنا بھی ہر ایک احمدی کا فرض ہے"۔ (برکات خلافت صفحہ ۷۵، مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد، خلیفہ قادیان)

شادی ناجائز : "یہ اعلان بغرض آگاہی عام شائع کیا جاتا ہے کہ احمدی لڑکیوں کے نکاح غیر

صفحہ 31

احمدیوں سے (یعنی مسلمانوں سے۔ للمؤلف) کرنے ناجائز ہیں۔ آئندہ احتیاط کی جائے“۔ (ناظر امور عامہ قادیان) (اخبار الفضل قادیان جلد ۲۰‘ نمبر ۹۷‘ مورخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۳۳ء)

وہ بھی کافر ہے : ”جو شخص اپنی لڑکی کا رشتہ غیر احمدی لڑکے کو دیتا ہے میرے نزدیک وہ احمدی نہیں۔ کوئی شخص کسی کو غیر مسلم سمجھتے ہوئے اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا۔ ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جا سکتا ہے۔ جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا ہو (پھر وہی اصول کہ قادیانیوں کے نزدیک مسلمان‘ ہندو یا عیسائی کے برابر ہیں۔ للمؤلف) (میاں محمود احمد‘ خلیفہ قادیان کا فتویٰ مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۸‘ نمبر ۸۸ مورخہ ۲۳ مئی ۱۹۲۱ء)

شادی کے لیے مسلمانوں کی لڑکیاں لے سکتے ہو‘ دے نہیں سکتے : غیر احمدیوں کی (یعنی مسلمانوں کی۔ للمؤلف) ہمارے مقابلہ میں وہی حیثیت ہے جو قرآن کریم ایک مومن کے مقابلہ میں اہل کتاب کی قرار دے کر یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک مومن اہل کتاب سے عورتیں بیاہ سکتا ہے۔ اسی طرح ایک احمدی غیر احمدی عورت کو اپنے حبالہ عقد میں لا سکتا ہے۔ مگر احمدی عورت شریعت اسلام کے مطابق غیر احمدی مرد کے نکاح میں نہیں دی جا سکتی۔۔۔۔۔۔ حضور (مرزا غلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں:

”غیر احمدی کی لڑکی لے لینے میں حرج نہیں ہے۔ کیونکہ اہل کتاب عورتوں سے بھی نکاح جائز ہے۔ بلکہ اس میں تو فائدہ ہے کہ ایک اور انسان ہدایت پاتا ہے۔ اپنی لڑکی کسی غیر احمدی کو نہ دینی چاہیے۔ اگر ملے تو لے بیشک لو۔ لینے میں حرج نہیں اور دینے میں گناہ ہے“۔ (اخبار الحکم بابت ۳ اپریل ۱۹۰۸ء) (اخبار الفضل قادیان جلد ۸‘ نمبر ۴۵ مورخہ ۱۶؍ دسمبر ۱۹۲۰ء)

ابو جہل کی پارٹی : ”ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا“۔

(اخبار الفضل‘ ۴؍ جنوری ۱۹۵۲ء)

مسلمانوں سے مکمل اختلاف : ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مرزا قادیانی) کے منہ

صفحہ 32

سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات‘ رسول کریم صلعم‘ قرآن‘ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوٰۃ‘ غرض آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ہر ایک چیز میں ہمیں ان سے اختلاف ہے"۔ (میاں محمود احمد‘ خلیفہ قادیان کا خطبہ مندرجہ اخبار الفضل قادیان‘ جلد ۱۹‘ نمبر ۱۱۳‘ مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۳۶ء)

مسلمانو! آج ہماری باحیا بیٹیاں‘ عفت مآب بہنیں‘ قابل صد احترام مائیں‘ صالح بیویاں‘ تہجد گزار نانیاں‘ دادیاں‘ قادیانیوں کی آوارہ زبان کی نیش زنی سے محفوظ نہیں۔

صاحبو! امام کعبہ‘ امام مسجد نبوی‘ مفسرین‘ محدثین‘ اولیائے امت‘ بزرگان دین‘ حفاظ قرآن‘ شہدائے کرام‘ مجاہدین اسلام کو کافر‘ حرام زادے‘ کنجریوں کی اولاد اور جنگل کے سور لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ (نعوذ باللہ)

دنیا کی کسی قوم نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اتنی غلیظ زبان استعمال نہیں کی۔

کیا ان گالیوں کی آواز مسلمانوں کے کانوں تک نہیں پہنچ رہی؟

کیا مسلمان اسلام‘ پیغمبر اسلام اور اپنی ماؤں‘ بہنوں کی عزتوں کے بارے میں بے غیرت ہوچکا ہے؟

اسلام کے بیٹو! قادیانیوں کی آوارہ زبان کو لگام کون دے گا؟

ان کے پھٹے ہوئے منہ کو کون سیئے گا؟

ان کے ارتدادی ہاتھوں سے اسلام کی عزت روندنے والا غارت گر قلم کون چھینے گا؟

گلشن اسلام کی طرف بڑھتے ہوئے ان کے ہلاکت خیز قدموں میں زنجیر کون ڈالے گا؟

آج ہماری اس بے حسی و بے حمیتی پر نوحہ خوانی کرتے ہوئے حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی روح کہہ رہی ہے۔

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
صفحہ 28
PDF 34

پاکستان

قادیانی اور امریکی

سازشوں کے نرغے میں

اہل وطن کیلیے وطن کی داد و فریاد !

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

دفتر مرکزیہ حضوری باغ روڈ ملتان

صفحہ 35

وطن عزیز پاکستان ان دنوں تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ ہر طرف مایوسی و ہولناکی کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہر محب وطن فکر و غم کا مجسمہ بنا بیٹھا ہے۔ ہر صاحب دل ہاتھوں کا کشکول بنائے اللہ سے وطن کی سلامتی کی دعا مانگ رہا ہے کہ اے اللہ ! ماہ رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کے تحفے اور لاکھوں شہیدوں کی اس امانت کی حفاظت فرما۔ (آمین)

ملک کے اس بحران کا آغاز سابق صدر غلام اسحاق خان اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی چپقلش سے ہوا۔ جلد ہی اس چپقلش نے ایک بڑی جنگ کا روپ دھار لیا اور پھر اس جنگ کے مہیب شعلے پورے ملک میں پھیل گئے۔ بہت سے مخلصوں نے اس جنگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن ہر کوشش رائیگاں اور ہر تدبیر بے سود ٹھہری۔ آخر 18 اپریل کو صدر پاکستان نے آٹھویں ترمیم کے ایٹم بم سے قومی اسمبلی توڑ دی‘ جس سے عوام میں سخت غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔ صاحبان فہم و فراست‘ جو اپنے روشن دماغ اور چشم بینا سے ان سارے حالات کا بغور جائزہ لے رہے تھے‘ انہوں نے غلام اسحاق خان سے قومی اسمبلی تڑوانے اور صدر و وزیر اعظم کی لڑائی کروانے والے شخص کو پہچان لیا‘ جو قومی اسمبلی ٹوٹنے سے ایک ہفتہ قبل ایوان صدر میں خفیہ طور پر آ جا رہا تھا اور اپنی پراسرار سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ وہ ایوان صدر میں صدر کا شاہی مہمان بن کر ٹھہرا تھا۔ اس نے خفیہ طور پر ربوہ کا دورہ بھی کیا اور کئی دفعہ امریکی سفیر جان مونجو سے بھی ملا۔ اس غدار ملت‘ غدار وطن‘ غدار اسلام‘ قاتل مشرقی پاکستان‘ آلہ کار یہود و نصاریٰ کا نام ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی ہے۔

ایم۔ ایم۔ احمد کون ہے؟ اس کا حدود اربعہ کیا ہے؟ اس کی شخصیت و کردار کیا ہے؟ اسلام اور پاکستان کو اس نے کون کون سے زخم لگائے ہیں؟

ایم۔ ایم۔ احمد جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا‘ اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ کتاب ”سیرت المہدی“ لکھنے والے مرزا بشیر احمد کا بیٹا‘ قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود کا بھتیجا اور موجودہ قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کا چچیرا بھائی ہے۔

امریکی اور برطانوی ایجنٹ ہونے کے ناطے ایم۔ ایم۔ احمد پاکستان کے کلیدی عہدوں پر قابض رہا اور اپنے اختیارات سے اپنے آقاؤں کی خدمت بھی کرتا رہا اور قادیانیت اور

صفحہ 36

قادیانیوں کو بھی پالتا رہا۔ حکومتیں بدلتی رہیں، اقتدار آتے جاتے رہے لیکن ایم۔ ایم۔ احمد ہر حکومت و اقتدار میں شامل رہا۔

ذیل میں ہم ایم۔ ایم۔ احمد کی زندگی کے چند گوشے نہایت اختصار کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

اعلیٰ افسروں کو برطرف کر دیا، جن میں الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب جیسے لوگ بھی شامل تھے، لیکن امریکی و برطانوی مہرہ ایم۔ ایم۔ احمد، یحییٰ خان کی حکومت میں بھی شامل ہو گیا۔ یحییٰ خان کے بعد جب بھٹو مسند اقتدار پر بیٹھا تو اس نے ان فوجی افسران اور کئی اعلیٰ سول افسران کو چلتا کیا، جنہیں وہ یحییٰ خان کے ساتھ سقوط مشرقی پاکستان کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔ لیکن غیر ملکی ایجنٹ اور مشرقی پاکستان کا قاتل ایم۔ ایم۔ احمد، بھٹو کی حکومت میں بھی شامل تھا۔

ایک خاص کمیٹی قائم کی، جس کا سربراہ ایم۔ ایم۔ احمد مقرر ہوا۔ عوام نے اس پر زبردست احتجاج کیا، لیکن ظالم حکمرانوں نے ایک مرزائی کی خاطر مسلمانوں کی آواز کو دبا دیا۔

زبردست خوشی منائی، لیکن مسلمانوں کی خوشیوں کے پھولوں کو مسلتے ہوئے اسے فوراً صدر پاکستان یحییٰ خان کا اقتصادی امور کا مشیر بنا دیا گیا اور اس کا عہدہ و مراعات وزیر کے برابر رکھے گئے۔

تھا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیجئے۔ اسی لیے تو قادیانی خلیفہ اپنی قوم کو بار بار یہ بشارت سنا رہا تھا کہ عنقریب اقتدار تمہارے ہاتھ میں آجائے گا اور تم اس ملک کے وارث بنو گے۔

صدر مملکت اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان جب ایران کے صدر

صفحہ 37

سالہ جشن میں شرکت کے لیے ایران گیا تو ایم ۔ ایم ۔ احمد کو پاکستان کا قائم مقام صدر بنا گیا۔ مرزائی خوشی سے دیوانے ہو گئے کہ آج صدارت کی کرسی پر مرزا قادیانی کا پوتا بیٹھے گا اور ہمارے خلیفہ کی پیش گوئی بھی پوری ہو گی۔ اگلے دن صبح صبح ایم ۔ ایم ۔ احمد خوشی خوشی کرسی صدارت پر بیٹھنے کے لیے آفس پہنچا۔ کروڑوں مسلمان دل گرفتہ تھے کہ اللہ نے ان کی فریاد سن لی۔ ایم ۔ ایم ۔ احمد جو نہی لفٹ میں سوار ہو کر اوپر جانے لگا‘ ایک شخص اسلم قریشی انتہائی پھرتی سے اس پر چھری سے حملہ آور ہوا، جس سے ایم ۔ ایم ۔ احمد زخمی ہو کر گر پڑا اور صدارت کی کرسی پر براجمان ہونے کی بجائے ہسپتال کے بستر پر پہنچ گیا اور اسلم قریشی حوالات پہنچ گیا۔ قدرت کے قربان کہ ایم ۔ ایم ۔ احمد اتنے دن تک ہسپتال ہی میں پڑا رہا جب تک یحییٰ خان ایران سے واپس نہ آ گیا اور یوں قادیانیوں کی یہ خواہش دل ہی میں تڑپ کے دم توڑ گئی۔ جب اسلم قریشی جیل سے رہا ہو کر آیا تو ایم ۔ ایم ۔ احمد نے اسے اس کے شہر سیالکوٹ سے اغوا کرایا اور اسے تقریباً چار سال اپنی قید میں رکھا اور اس پر بہیمانہ تشدد کیا۔ جب اس کا دماغی توازن بگڑ گیا تو اس کو رہا کر دیا۔ اسلم قریشی آج کل اسی حالت میں اپنی بقایا زندگی کے ایام گزار رہا ہے۔

کہ میرا دادا نبی تھا۔ جو شخص اسے نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے۔ ایم ۔ ایم ۔ احمد کے اس خبیث بیان پر پوری امت تڑپ اٹھی۔

خبث باطن کا کس طرح مظاہرہ کر رہا تھا‘ اس واقعہ سے اندازہ کیجئے:

سابق گورنر مغربی پاکستان جنرل محمد موسیٰ اپنے ایک انٹرویو میں فرما چکے ہیں کہ 1965ء کی جنگ کے بعد جب ملک قحط سالی کا شکار تھا اور جناب گورنر فوجی نقطہ نظر سے حالت جنگ کی لائنوں پر ملک کو غلہ کے معاملہ میں خود کفیل بنانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے‘ تو ایم ۔ ایم ۔ احمد نے کروڑہا روپے کی رقم غلہ پر خرچ کرنے کی بجائے لاہور تا خانیوال بذریعہ بجلی ٹرین چلانے کی غیر ضروری مد پر خرچ کر دی۔ جناب

صفحہ 38

گورنر نے جب اس بات پر احتجاج کیا اور ملک کی بھیانک غذائی قلت کا نقشہ پیش کیا تو ایم۔ایم۔ احمد نے یہ کہہ کر ان کی بات ٹال دی کہ برطانیہ نے قرضہ ہی اس کار خاص کے لیے دیا تھا، حالانکہ برطانیہ سے قرضہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے لیا گیا تھا۔ پھر جب بجلی کی ٹرین چلنے کے باوجود سفر کا وقت کم نہ ہوا تو ایم۔ایم۔ احمد نے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالی کہ ہماری لائنیں زیادہ سپیڈ کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔

رپورٹ تیار کی جس میں اعداد و شمار سے ثابت کیا گیا کہ مشرقی پاکستان کے علیحدہ ہو جانے سے مغربی پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، بلکہ اس میں استحکام پیدا ہوگا۔

مجیب الرحمٰن نے واضح اکثریت حاصل کی۔ اس وقت پاکستان میں مارشل لا نافذ تھا۔ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خان خود صدر رہنے کا خواہش مند تھا۔ مجیب الرحمٰن اسے صدر نہیں مانتا تھا۔ اگر یحییٰ خان انتخابات کے نتائج کے مطابق فیصلہ کرتے تو اقتدار مجیب الرحمٰن کو ملتا۔ مجیب الرحمٰن کو اپنی صدارت کے لیے منانے کے لیے یحییٰ خان ڈھاکہ چلا گیا۔ یحییٰ خان مذاکرات کے لیے اپنی کابینہ کے سینئر رکن ایم۔ایم۔ احمد قادیانی کو بھی ساتھ لے گیا۔ ادھر سے بین الاقوامی گماشتہ ظفر اللہ خان قادیانی بھی ڈھاکہ پہنچ گیا۔ مجیب الرحمٰن، ایم۔ایم۔ احمد قادیانی اور ظفر اللہ خان کو ڈھاکہ میں پا کر سخت برہم ہوا اور کہا کہ قادیانی مشرقی پاکستان کو کمزور کرنے اور یہاں کے عوام کے دلوں میں احساس محرومی پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ان قادیانیوں نے یہاں کے عوام کے حقوق غصب کیے اور بے چینی پیدا کی۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں جتنی بھی دوریاں اور غلط فہمیاں پیدا کی گئیں، ان کے ذمہ دار قادیانی ہیں۔ شیخ مجیب الرحمٰن نے کہا کہ میں ان غداروں، ظالموں اور قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کو تیار نہیں۔ مشرقی پاکستان کے ذمہ دار حلقوں نے مذاکرات میں ایم۔ایم۔ احمد کی شخصیت کی شمولیت پر سخت احتجاج کیا کہ ایم۔ایم۔ احمد نے اقتصادی امور کے سیکرٹری، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین، صدر کے اقتصادی امور کے مشیر اور مشرقی

صفحہ 39

پاکستان میں طوفان زدہ افراد کی آبادکاری کی رابطہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ہمیشہ مشرقی پاکستان کو اقتصادی طور پر محروم کیا۔

مجیب الرحمٰن کا جواب سن کر ایم۔ ایم۔ احمد پریشان ہوا۔ اس نے یحییٰ خان کو اکسایا۔ نتیجتاً مجیب الرحمٰن گرفتار ہوا۔ وہ مشرقی پاکستان کا ہر دلعزیز لیڈر تھا۔ عوام نے اسے بڑی اکثریت سے جتایا تھا۔ اس کی گرفتاری پر عوام برہم ہوئے۔ احتجاج بڑھا تو فوجی ٹولے اور قادیانی ٹولے نے فوج کشی کی۔ عوام بپھر گئے۔ فوج کے مقابلہ کے لیے انڈیا نے فوج بھیج دی۔ 1971ء کی جنگ شروع ہو گئی اور سقوط ڈھاکہ کا المیہ رونما ہوا اور ایم۔ ایم۔ احمد کا منحوس خواب پورا ہوا۔

ہے۔ جنرل یحییٰ خان نے وائس ایڈمرل مظفر کو اختیار دیا تھا کہ وہ ہر سال دس کروڑ روپے اپنی مرضی کے مطابق خرچ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بحریہ کے متعلق پلان تیار کیا‘ مگر آخری وقت پر انڈیا کے ساتھ ملے ہوئے ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی نے جواب دیا کہ ہم یہ رقم نہیں دے سکتے۔

آپ نے ملاحظہ فرما لیا کہ کس طرح ایم۔ ایم۔ احمد نے مشرقی پاکستان میں اقتصادی بدحالی پیدا کر کے حالات کو خراب کیا۔ بھائی کے ہاتھوں بھائی کا گلا کٹوا دیا۔ بھائی کو بھائی کا خون پلا دیا۔ پھر پاک بھارت جنگ شروع کرا کے پاکستان کے ایک بازو کو کاٹ کے رکھ دیا اور دنیا کے نقشہ پر ایک نیا ملک بنگلہ دیش پیدا کر دیا۔ نوے ہزار پاکستانی فوج قید کرا کے پوری دنیا میں پاکستان کی مٹی پلید کی۔

کس کس کی زبان روکنے جاؤں تیری خاطر
کس کس کی تباہی میں تیرا ہاتھ نہیں ہے

صدر اسحاق کے ہاتھوں ایم۔ ایم۔ احمد کی تڑوائی ہوئی اسمبلی کا کیس لے کر سابق وزیر اعظم سپریم کورٹ پہنچے۔ سپریم کورٹ نے بڑی تفصیل سے کیس کی سماعت کی اور پھر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے میاں نواز شریف کی حکومت بحال کر دی‘ لیکن اسحاق خان نے اس فیصلے کو دل سے تسلیم نہ کیا۔ صدر اور وزیر اعظم کی کئی ملاقاتیں بھی کرائی گئیں‘ لیکن نفرتوں اور

صفحہ 40

کدورتوں کی دیوار ختم نہ ہوئی۔ یہ سنگین دیوار ختم بھی کیسے ہوتی، ایوان صدر میں ایم۔ایم۔ احمد جو سازشوں میں مصروف تھا۔ سپریم کورٹ کے نواز شریف کی حکومت بحال کرنے سے قبل ہی اسحاق خان کے اشارہ پر پنجاب اسمبلی میں تبدیلی لا کر غلام حیدر وائیں کی جگہ منظور احمد وٹو کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا گیا، جس پر قادیانی ہونے کا الزام لگ چکا ہے اور اس کے کردار نے اس الزام کی توثیق کر دی ہے۔ منظور وٹو کو مرزا طاہر نے بیرون ملک سے دس کروڑ روپے بھجوائے، جس کی تفصیل اخبارات میں آچکی ہے اور منظور وٹو نے اس کی تردید نہیں کی۔ منظور وٹو نے دو ارب روپیہ کے عوض دو گھنٹہ یومیہ سٹار سٹیلائٹ چینل پر پنجاب گورنمنٹ کے پروگرام دکھانے کا معاہدہ کیا، جس کا بڑا مقصد ڈش انٹینا کے ذریعے عوام کو قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کی تقریریں سنا کر قادیانی مذہب کی تبلیغ کرنا تھا۔ منظور وٹو نے مرکزی حکومت سے محاذ آرائی کرنے کے لیے اے پی سی کی جماعتوں کو لانگ مارچ کی کامیابی کے لیے پنجاب حکومت کی طرف سے تمام سرکاری وسائل مہیا کرنے اور دیگر انتظامی سہولتیں فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ لانگ مارچ کی تیاریاں زور و شور سے ہونے لگیں اور اسلام آباد پر قبضہ کرنے کے اعلان ہونے لگے۔ حالات بد سے بدتر ہونے لگے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ کسی وقت بھی ملک میں خانہ جنگی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس افراتفری، بے یقینی اور لانگ مارچ کا مقصد تیسری طاقت کو مداخلت کا جواز فراہم کرنا تھا۔ تیسری طاقت نے مداخلت کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ صدر اور وزیر اعظم دونوں اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو جائیں اور ملک میں نگران حکومت قائم کی جائے، جو از سر نو انتخابات کرائے۔ صدر اور وزیر اعظم کو ان شرائط پر راضی کر لیا گیا۔ نگران وزیر اعظم کے لیے جنرل کے۔ایم۔عارف، جنرل رحیم الدین، اے ۔جی۔ این قاضی، صاحبزادہ یعقوب علی، جسٹس عبدالقادر، سعید سہگل اور ڈاکٹر محبوب الحق کے نام منظر عام پر آئے۔ اچانک ایک سہ پہر ایم۔ایم۔احمد قادیانی امریکی سفیر جان مونجو کے ہمراہ ایوان صدر میں اسحاق خان سے ملاقات کرتا ہے اور ایک شخص معین قریشی کا نام نگران وزیر اعظم کے لیے پیش کرتا ہے۔ ملاقات کے بعد غلام اسحاق خان باقی تمام ناموں پر خط تنسیخ پھیرتے ہوئے صرف معین قریشی کا نام بطور وزیر اعظم پیش کرتے ہیں۔ ایم۔ایم۔احمد اور امریکہ کے تجویز کردہ نام پر نواز شریف کو بھی اعتراض کی جرات نہ ہوئی کیونکہ ہمارے

صفحہ 41

حکمرانوں کا یہ خاصہ ہے کہ وہ کتنے ہی بڑے مرد آہن بنیں‘ لیکن امریکہ کے سامنے موم کی ناک ہوتے ہیں۔ وہ کتنے ہی بڑے زبان آور ہوں‘ لیکن امریکہ کے سامنے گونگے اور تابعدار ہوتے ہیں۔ معین قریشی کو پاکستان کا نگران وزیر اعظم بنا دیا جاتا ہے اور وسیم سجاد صدر بنتے ہیں۔ معین قریشی کا نام سن کر عوام ورطہ حیرت میں کھو جاتے ہیں کہ آناً فاناً ایک اجنبی شخص کو پاکستان کا وزیر اعظم کیسے بنا دیا گیا؟ نگران وزیر اعظم‘ 35 سال کی طویل مدت سے امریکہ میں مقیم تھے اور وہ امریکی شہریت رکھتے ہیں۔ ان کی بیگم ایک جرمن نژاد برطانوی خاتون ہیں۔ روزنامہ ”جسارت“ نے ان کی بیگم کے بارے میں خبر شائع کی ہے کہ معین قریشی سے شادی کے وقت وہ مسلمان ہو گئی تھیں‘ لیکن بعد میں انہوں نے قادیانی مذہب قبول کر لیا۔ ان کے تمام بچے امریکی شہری ہیں اور وہ امریکہ ہی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی ایک بیٹی کسی غیر مسلم کے ساتھ بیاہی ہوئی ہے اور روزنامہ ”جسارت“ کے مطابق وہ ایک قادیانی کے ساتھ بیاہی ہوئی ہے۔ وہ ایک لمبی مدت ورلڈ بنک کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور جن عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں‘ ان پر اپوائنٹمنٹ سے قبل امریکی حکومت کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ ان عہدوں پر کام کرنے والوں کو دنیا بھر میں ”واشنگٹن کا آدمی“ سمجھا جاتا ہے۔ معین قریشی اور ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی ورلڈ بنک میں اکٹھے کام کرنے اور ”واشنگٹن کے آدمی“ ہونے کی وجہ سے گہرے دوست ہیں۔ اسی لیے تو معین قریشی کا نام بھی ایم۔ ایم۔ احمد نے پیش کیا۔

نہ ملا۔ کیا پورے ملک میں کوئی بھی شخص اس منصب کا اہل نہیں تھا کہ ہمیں امریکہ سے وزیر اعظم در آمد کرنا پڑا‘ جس کا نام پیش کرنے والا غدار وطن ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی‘ جو امریکی شہریت کا حامل‘ جو واشنگٹن کا آدمی‘ جو 35 سال سے وطن سے دور اور جس کی بیٹی قادیانی کے گھر بیاہی ہوئی اور جس کی بیوی بھی قادیانی!

مذہب اسلام۔ اس ملک کا وزیر اعظم اسلامی اور قومی غیرت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کی بیٹی کا ایک کافر کے گھر میں بیاہا جانا اور بیوی کا قادیانی ہونا کیا اسلامی غیرت کی

صفحہ 42

توہین نہیں؟ کیا ملی غیرت کو خاک میں ملانے کے مترادف نہیں؟

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

انتخابات کرانا اور فاتح پارٹی کو اقتدار منتقل کرنا ہے۔ لیکن کہیں وہ روپے کی قیمت کم کر رہے ہیں، کہیں آئی۔ ایم۔ ایف سے معاہدے کر رہے ہیں، کہیں ڈاک کے خرچ میں اضافہ کیا جا رہا ہے، کہیں آبیانہ بڑھایا جا رہا ہے، کہیں آٹا، گیس، پٹرول، بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ ہے، کہیں بلدیاتی ادارے توڑے جا رہے ہیں، کہیں ہزاروں اعلیٰ افسروں کی ٹرانسفروں کا طوفان ہے، جس سے پورے ملک میں بے یقینی اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہر شخص سوچ کی وادیوں میں سرگرداں ہے۔

چمن پر بجلیاں منڈلا رہی ہیں
کہاں لے جاؤں شاخ آشیانہ

”قادیانی اسلام اور وطن دونوں کے غدار ہیں“۔

ویسے بھی نعوذ باللہ پاکستان کا ٹوٹنا اور اکھنڈ بھارت بننا قادیانیوں کا مذہبی عقیدہ ہے۔ وزیر اعظم صاحب! اسلام اور وطن کے غدار ایم۔ ایم۔ احمد سے آپ کی دوستی کیسی؟ مفکر پاکستان کی فکر سے روگردانی کیسی؟ ختم نبوت کے باغی سے محبت کیسی؟

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلمان نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

نوازوں کو بٹھایا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے اسلامی ملک کی وزارت مذہبی و اقلیتی امور ایک ایسے شخص کے حوالے کی گئی ہے جو قادیانیوں کے گھر کا آدمی ہے۔ وزیر مذہبی و اقلیتی امور ریٹائرڈ جسٹس اے۔ ایس۔ سلام وہ شخص ہے جس نے برطانوی گماشتے سر ظفر اللہ خاں کے عطا کردہ وظیفوں سے تعلیم حاصل کی۔ جب وہ سپریم کورٹ کا جج تھا تو

صفحہ 43

اس کے چیمبر میں اکثر قادیانی وکلا چائے پیتے دیکھے جاتے تھے۔ سر ظفر اللہ خان کی موت کے بعد ہر سال قادیانی ”ظفر اللہ ڈے“ مناتے ہیں۔ اے۔ ایس۔ سلام ہر سال اس تقریب میں بطور مہمان خاص شرکت کرتا ہے اور اپنے آقا کی محبت کا ثبوت دیتا ہے۔ جس دن سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہوا‘ اس سے کچھ دن قبل اے۔ ایس۔ سلام نے ہائیکورٹ بار کا الیکشن جیتا تھا۔ اس فتح کا جشن منانے کے لیے اس نے وہ دن منتخب کیا تھا‘ جس دن مشرقی پاکستان کا حادثہ فاجعہ ہوا۔ ہائیکورٹ کے وکلاء نے اسے بڑا زور لگایا کہ آج کا دن ملت اسلامیہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ ہر مسلمان خون کے آنسو رو رہا ہے۔ پوری ملت اسلامیہ غم کی گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ تم یہ جشن کسی اور دن پر منتقل کر دو‘ لیکن اے۔ ایس۔ سلام بضد رہا اور اس نے سانحہ ڈھاکہ والے دن جشن منا کر اپنی غدارانہ فطرت کا ثبوت دیا۔ اے۔ ایس۔ سلام ایسا کیوں نہ کرتا۔ اسے ایسا کرنے کا حکم ربوہ سے ملا تھا کیونکہ اہل ربوہ نے بھی سقوط ڈھاکہ کے دن حلوے کی دیگیں تقسیم کی تھیں اور خوشی سے بھنگڑا ڈالا تھا۔ مشہور قادیانی کرنل ریٹائرڈ اکرام اللہ کو وزیر اعظم نے اپنا پریس سیکرٹری مقرر کیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض حلقوں سے وزیر خارجہ عبد الستار کے قادیانی ہونے کی صدائیں اٹھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کئی اہم عہدوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ کئی پوشیدہ قادیانیوں کو وہاں فٹ کر دیا گیا ہے۔

کوئی اس دور میں وہ آئینے تقسیم کرے
جس میں باطن بھی نظر آتا ہو ظاہر کی طرح

پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج مسٹر جسٹس صلاح الدین کی سربراہی میں انسانی حقوق کمیشن قائم کیا ہے اور وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دے دی ہے‘ جس میں ریٹائرڈ جسٹس دراب پٹیل‘ عاصمہ جہانگیر‘ خلیل الرحمٰن‘ خالد احمد‘ انصار برنی اور عبد الستار ایدھی شامل ہیں۔ جناب انصار برنی اور عبد الستار ایدھی کے سوا باقی ممبران یا تو قادیانی ہیں اور یا قادیانی نواز ہیں۔ انصار برنی

صفحہ 44

اور عبدالستار ایدھی کے نام صرف دکھاوے کے لیے ہیں، جبکہ کام دوسرے ممبران دکھائیں گے۔ ہم ہر دو حضرات سے کہتے ہیں کہ وہ فوری طور پر سازش سے بچیں اور کمیشن سے علیحدگی کا اعلان کریں۔ پاکستان میں جب بھی انسانی حقوق کی بات ہوتی ہے تو انسان اور انسانیت سے مراد صرف قادیانی ہوتے ہیں۔ قادیانیوں کے ان وکیلوں سے کوئی پوچھے کہ پاکستان میں قادیانیوں کو کیا تکلیف ہے اور ان کے کون کون سے انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں؟ پاکستان میں تو قادیانی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو بے چارے مسلمانوں کے، جن کے نبی کے مقابلہ میں قادیانیوں نے ایک جھوٹا نبی کھڑا کر رکھا ہے، جس کی زبان و قلم سے اسلام اور اسلام کی گراں مایہ ہستیوں میں سے کسی کی عزت محفوظ نہیں۔ اس نام نہاد کمیشن کا واحد مقصد قادیانیوں کے کفر و ارتداد سے اسلام کو محفوظ کرنے کے لیے مختلف ادوار میں جو قانون سازی کی گئی ہے، اسے ختم کرنا ہے۔ لیکن قادیانیوں کی حمایتی حکومت خوب اچھی طرح سن لے کہ مسلمان تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں بڑا حساس ہے۔ اس نے زندگیاں لٹا کر ختم نبوت کی حفاظت کی ہے۔ وہ تمہاری ہر سازش کو پیوند خاک کردے گا اور تمہیں ہر میدان میں خائب و خاسر کرے گا (انشاء اللہ)۔

حامل کتاب ”دی ایجنسی سی آئی اے کے عروج و زوال“ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ نگران وزیر اعظم معین قریشی کے چار نگران وزیر سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں اور وہ نگران وزیر اعظم کے انتہائی قابل اعتماد ساتھی ہیں اور خود وزیر اعظم ایک ادارے امریکن انٹرنیشنل گروپ پورنیڈ کے نام سے قائم بین الاقوامی تنظیم سے وابستہ واحد پاکستانی ہیں، جس کا بنیادی مقصد امریکہ کے اقتصادی مفادات کا فروغ و تحفظ ہے۔ اس ادارے کی سالانہ رپورٹ برائے 1993ء میں معین قریشی کے ادارے ایمرجنگ مارکیٹس کا نام درج ہے، جس کے وہ چیئرمین ہیں۔

کرتے ہوئے کہا کہ بے شمار امریکی ڈرگ مافیا والوں کی فلمیں بنانے کی آڑ میں

صفحہ 45

انتخابات کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان میں گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قوم کو آگاہ کرے کہ انتخابات کے اعلان کے بعد کتنے امریکی پاکستان آئے ہیں اور کیا وہ ڈرگ مافیا والوں کی ویڈیو فلمیں بنانے کی آڑ میں حساس مقامات کی فلمیں بنانے کے علاوہ انتخابات کو کنٹرول کرنے کا کام سرانجام نہیں دے رہے۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ مورخہ 23 اگست 1993ء)

وہ اک دھبہ ہیں علم و آگہی کے نام پر
تیرگی پھیلا رہے ہیں روشنی کے نام پر

اے میرے پیارے وطن کے لوگو! ہمارا پیارا ملک ہمارے سیاستدانوں کی نااہلیوں اور لڑائیوں کی وجہ سے قادیانی امریکی سازش کا شکار ہوچکا ہے۔ جس طرح آج سے 22 برس قبل مشرقی پاکستان قادیانی امریکی سازش کا شکار ہوا تھا۔۔۔ وہاں بھی سازشوں کے تانے بانے ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی نے بنے تھے۔۔۔ یہاں بھی سازشوں کا جال ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی نے تیار کیا ہے۔۔۔ دشمن گھر کی دیوار میں نقب لگا چکا ہے۔۔۔ اہل خانہ! خدارا بیدار ہو جاؤ۔۔۔ ہوشیار ہو جاؤ۔۔۔

سیاست دانوں کے لیے لمحہ فکریہ۔۔۔ علماء کے لیے وقت کی تنبیہہ۔۔۔ طلباء اور مزدوروں کے لیے پیغام سوچ و عمل۔۔۔ عوام الناس کے لیے وطن کی پکار۔۔۔

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
صفحہ 28
PDF 47

تھوڑی دیر

مرزا قادیانی

کی قبر پر

صفحہ 28
صفحہ 49

میں آنکھیں بند کئے تصورات کی دنیا میں ایک ہموار جگہ پر کھڑا ہوں۔ ماحول میں ایک مکمل سکوت ہے۔ دن بھر کا تھکا ہارا سورج مغرب کی گود میں سونے کے لئے جا رہا ہے اور رات کا اندھیرا اپنے پر پھیلائے آ رہا ہے۔ میری آنکھوں کے سامنے مرزا قادیانی کی قبر ہے۔ دیکھنے میں فقط یہ ایک مٹی کی ڈھیری ہے۔ جس پر چند سنگریزے اور تنکے پڑے ہیں۔ کبھی کبھی شریر ہوا چند سوکھے پتے اڑا کر قبر پر رکھ دیتی ہے اور پھر چند لمحوں بعد دوبارہ اٹھا کر لے جاتی ہے۔ میں قبر کی ڈھیری کو بغور دیکھ رہا ہوں۔ کبھی قبر کی لمبائی چوڑائی کو دیکھتا ہوں اور کبھی قبر پر پھیلی ہوئیں ہلکی ہلکی دراڑوں کو ملاحظہ کر رہا ہوں کہ اچانک حضرت خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اقدس میرے دماغ پر بجلی بن کر کوندتا ہے۔ ”قبر کو مٹی کا ڈھیر مت سمجھو۔ وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔“

میرے جسم میں ایک جھرجھری سی آجاتی ہے اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ بالا فرمان میرے دماغ میں بار بار گھومنے لگتا ہے اور میری زبان پوری قوت سے پکارتی ہے کہ یہ قبر والا جہنمی ہے ......... محمدؐ کے رب کی قسم ......... کعبہ کے رب کی قسم ............... اس کی قبر سیاہ ترین اور بدترین ہے ...... اس کی قبر میں نار جہنم شعلہ زن ہے۔ اس کی قبر میں سانپوں اور بچھوؤں کا اژدحام ہے جو اس کے گوشت اور ہڈیوں کو نوچ رہے ہیں۔ اس کے جسم پر عذاب الٰہی کے گرز بجلی کی سرعت سے برس رہے ہیں۔ اس عذاب شدید سے اس کی قبر میں ایک قیامت بپا ہے۔

اے مرزا قادیانی! ہمارے آقا نے تیرا کیا بگاڑا تھا کہ تو نے ان کے تاج و تخت ختم نبوت پر حملہ کیا؟ رحمۃ للعالمینؐ نے تجھے کیا دکھ دیئے تھے کہ تو نے ان کی شان عالیہ میں ہرزہ سرائی کی؟ عہد فرنگی میں جب ہندوستان کے غلام مسلمان انتہائی بے بسی و بے کسی کی زندگی گزار رہے تھے تو نے ان کے سینے میں جھوٹی نبوت کا خنجر گاڑ کر کیوں تڑپایا؟ تو نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو مزید جکڑنے کے لئے اور ملت اسلامیہ کے جوش و جذبہ کو ختم کرنے کے لئے منسوخی جہاد کی تحریک کیوں چلائی؟

اے شاتم رسول! جواب دے اے نبی کاذب! جواب دے

صفحہ 50

دین اسلام اور ملت اسلامیہ کے غدار اعظم! جواب دے۔ ملت اسلامیہ کی وحدت کی دیوار میں نقب لگانے والے فرنگی کے اجرتی ڈاکو! جواب دے۔

اے مرزا قادیانی! جب تو پیدا ہوا تو خالق نے تجھ پر کتنے احسانات کئے۔ دیکھنے کے لئے آنکھیں دیں۔ سننے کے لئے کان دیئے۔ بولنے کے لئے زبان دی۔ سونگھنے کے لئے ناک دیا۔ سوچنے کے لئے دماغ دیا۔ کام کاج کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں دیئے۔ پیدا ہونے سے قبل ماں کے تاریک شکم میں تیری خوراک کا اہتمام کیا۔ پیدا ہونے کے بعد ماں کی چھاتی سے تیرے لئے دودھ کی دھاروں کا انتظام کیا۔ تجھے ماں کی ممتا کی ٹھنڈی ہوائیں دیں۔ باپ کی شفقت کا سایہ دیا۔ بہن بھائیوں کی محبت دی۔

جب تو پیدا ہوا تو اہل محلہ تجھے دیکھنے آتے تھے اور تیرے ماں باپ کو مبارک بادیں دیتے تھے اور مٹھائی کا مطالبہ کرتے تھے۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ آج ابلیس جشن منا رہا ہے اور کفر و ارتداد کے ایوانوں میں بزم عیش و طرب سجی ہے۔ جام پہ جام لنڈھائے جا رہے ہیں اور آوارہ قہقہے لگائے جا رہے ہیں۔

کسی کو کیا معلوم تھا کہ مستقبل میں تیرے ان چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں قلم کا وہ سفاک خنجر ہو گا جو قرآن اور صاحب قرآن پر حملہ آور ہو گا اور تیری زبان سے کائنات کا وہ عظیم فتنہ بولے گا کہ الامان والحفیظ !

اے مرزا قادیانی! تو نے صرف حصول دولت کے لئے در انگریز پر ایمان بیچ دیا۔ چند روزہ زندگی کی سہولتیں حاصل کرنے کے لئے لامتناہی زندگی جہنم کی آگ میں گزارنے کا فیصلہ کر لیا .......... ہائے تو نے کتنے گھاٹے کا سودا کیا ...... تو نے اپنی ذات پر کتنا ظلم کیا ................ تو کتنا کوتاہ عقل اور کوڑھ دماغ تھا .........

اگر دولت حاصل کرنا اتنا ہی ضروری تھا تو رہزن بن جاتا ........ مویشی چور بن جاتا .......... خرکار بن جاتا ........... سمگلر بن جاتا ......... جیب تراش بن جاتا .......... جوئے کا اڈا چلا لیتا .......... شراب کا ٹھیکہ لے لیتا ........ لیکن نبوت کا دعویٰ نہ کرتا ............ محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج و تخت ختم نبوت پر حملہ آور نہ ہوتا .......... رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بکواس نہ کرتا ...........

اے مرتد ہندوستان! خدا نے تجھے ارتداد کی سڑک پر سرپٹ دوڑنے سے روکنے کے

صفحہ 51

لئے تیرے راستے میں بیماریوں کی کئی رکاوٹیں کھڑی کیں مثلاً مراق‘ ہسٹریا‘ سلسل بول‘ ذیابیطس‘ درد گردہ‘ چکر‘ بواسیر اور مختلف دورے وغیرہم۔ تاکہ تجھے تیری غلطی کا احساس ہو جائے اور تو تکلیف کے عالم میں اپنے رب کی طرف رجوع کر لے۔ لیکن تو ایک بدمست ہاتھی کی طرح ساری رکاوٹیں توڑتا ہوا گزر گیا۔

اے مسیلمہ ہندی! تجھے پختہ یقین تھا کہ تو نبی نہیں ہے۔ تجھے یہ بھی معلوم تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ تو یہ بھی جانتا تھا کہ جناب عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں پر زندہ ہیں اور قرب قیامت قتل دجال کے لئے زمین پر تشریف لائیں گے۔ تو اس بات سے بھی واقف تھا کہ امام مہدی نے ابھی پیدا ہونا ہے اور عیسیٰ علیہ السلام سے ان کی ملاقات بھی ہونا ہے لیکن تیری بے شرمی اور ڈھیٹ پن کی انتہا کہ تو خود کو نبی‘ رسول‘ عیسیٰ‘ مہدی لکھتا رہا اور کہلواتا رہا۔

اے دجال قادیان! چلو ساری زندگی تو تو یہ فعل شنیع کرتا رہا۔ برانڈرتھ روڈ لاہور میں جب تو دستوں کے مرض الموت میں مبتلا تھا اور دستوں نے ایک یلغار کر رکھی تھی۔ اس وقت تیرا جسم ٹھنڈا پڑ رہا تھا اور موت تجھے آنکھوں کے سامنے ناچتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ تو اس وقت ہی توبہ کر لیتا۔ تو لوگوں کو مخاطب کر کے اعلان کرتا کہ اے لوگو! میں مرنے سے پہلے اعلان کرتا ہوں کہ میں نبی نہیں ہوں۔ میں نے مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے اور جذبہ جہاد ان کے دلوں سے نکالنے کے لئے اشارہ فرنگی پر نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور میں تائب ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ تیرے اس اعلان توبہ سے تیری جماعت بھی تائب ہو جاتی اور سلسلہ ارتداد رک جاتا۔ مگر تو تو ایسا بے شرم اور ڈھیٹ نکلا کہ وفات کی رات بھی اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا۔ تجھ سے تو فرعون اچھا تھا کہ جب پانی میں ڈوبتے ہوئے اسے موت کی ہچکی آئی تو اس نے کہا کہ میں موسیٰ کے رب پر ایمان لاتا ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔

اے قاتل انسانیت! دعویٰ نبوت کرتے وقت تو اللہ کے جلال و جبروت سے نہ ڈرا۔ تجھے قبر کی ہولناک زندگی سے بھی خوف نہ آیا۔ تو پل صراط کی کٹھن منزل سے بھی خائف نہ ہوا اور جہنم کے آدم خور شعلوں اور جہنم کا دائمی قیدی بننے سے بھی خوفزدہ نہ ہوا۔ تو نے کتنے لوگ صراط مستقیم سے ہٹائے۔ کتنے دماغوں اور کتنی سوچوں کو

صفحہ 52

بھکایا۔ کتنے عقائد حقہ کے سفینے غرق کئے۔ کتنی ماؤں کے لال جہنم روانہ کئے۔ ان تمام انسانوں کے گناہوں کے پہاڑ تیرے ذمہ ہیں بلکہ اس کے آگے کفر و ارتداد کا جتنا سلسلہ خبیثہ چلے گا اتنا ہی وزنی لعنتوں کا طوق تیرے گلے میں ڈلتا جائے گا۔ جب حشر کے روز تو قبر سے باہر آئے گا تو قادیانیت کا جھنڈا تیرے ہاتھ میں ہو گا اور سارے قادیانی تیری منحوس قیادت میں چلتے چلتے جہنم کے گڑھے میں جا گریں گے۔

اچانک میری توجہ پھر قبر کی جانب پلٹتی ہے اور میری نظریں قبر پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ اب میں ماحول میں زبردست خوف و ہراس محسوس کر رہا ہوں۔ میرے جسم پر ایک کپکپی سی طاری ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ قبر سے آگ کے مہیب شعلے بلند ہو رہے ہیں جو آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ قبر کے اندر سے مجھے سانپوں کی خوفناک پھنکاریں سنائی دے رہی ہیں۔ میں لا تعداد وحشت ناک حشرات الارض کو بڑی پھرتی سے قبر سے باہر اور اندر آتے جاتے دیکھ رہا ہوں۔ قبر میں ایک زور دار زلزلہ ہے۔ جس سے پوری قبر کانپ رہی ہے۔ قبر سے ایک زبردست گڑگڑاہٹ کی آواز آ رہی ہے۔ جیسے کوئی بڑی سی ہنڈیا تیز آگ پر ابل رہی ہو۔ اس کے ساتھ ہی مجھے مرزا قادیانی کی دل ہلا دینے والی چیخیں سنائی دیتی ہے۔ اس عذاب قبر کو دیکھ کر میری زبان پر یہ شعر جاری ہو جاتا ہے۔

آتش فشاں ہے زمیں ایسی جگہوں سے کہ جہاں
لقمہ خاک ہوئے زہر اگلنے والے
صفحہ 28
PDF 54

قادیانیوں

کے

عبرتناک انجام

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 55

عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ کتاب اللہ کی تکذیب عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ وحی الٰہی پر عدم اعتماد عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ جناب خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو جھٹلانا عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ احادیث رسولؐ سے بغاوت عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ انبیائے سابقین پر کذب و افتراء باندھنا عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ پہلی الہامی کتابوں پر ایمان لانے سے فرار عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ صحابہ کرامؓ کی مقدس ہستیوں کو خائن کہنا عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ ملت اسلامیہ کی وحدت پر ضرب کاری لگا کر اسے ٹکڑوں میں بانٹنے کی سازش عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ نئی نبوت کا اجراء عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ نئے دین اور نئی شریعت کی تشکیل کرنا عقیدۂ ختم نبوت سے انکار ــــــــــــ نئی امت کی بنیاد رکھنا

مندرجہ بالا حقائق سے آپ اندازہ لگائیں کہ منکر ختم نبوت کتنا بڑا مجرم ہے۔ باغی ختم نبوت کس طرح دین اسلام کی رفیع الشان عمارت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اسے کھنڈرات میں بدل دینا چاہتا ہے۔ ہندوستان میں سب سے بڑا باغی ختم نبوت اور مدعی نبوت مرزا قادیانی تھا، جس نے ایک گہری انگریزی سازش کے تحت دعویٰ نبوت کیا۔ وہ کس طرح تاج و تخت ختم نبوت پر حملہ آور ہوا اور کس طرح مسلمانوں کے شجر وحدت کے تنے پر ارتداد کے کلہاڑے چلاتا رہا، یہ ایک کربناک اور خوفناک داستان ہے۔ یہاں ہم صرف مرزا قادیانی اور اس کی امت رذیلہ کے چند افراد کے چند واقعات رقم کر رہے ہیں، جن کے لفظ لفظ سے عبرت کا دریا بہتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ عبرت کے یہ چند واقعات قادیانی حضرات تک بھی پہنچ جائیں اور شاید

صفحہ 56

خوف خدا کی تھرتھراہٹ سے کسی کے دل پر لگا کفر کا قفل ٹوٹ جائے اور یہ واقعات اس کی ہدایت اور میری نجات کا سامان بن جائیں۔ (آمین۔ ثم آمین)

جنازہ اور مکھیاں ♠ میرے ایک دوست محمد صفدر بھٹی کے تایا ایک قادیانی مربی کی صحبت میں بیٹھنے کی وجہ سے قادیانیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے۔ قادیانی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک رات وہ مرزا قادیانی کی ایک کتاب پڑھتے پڑھتے سو گئے۔ اسی رات انہیں خواب آیا کہ رات کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے اور وہ ایک سنسان جنگل میں کھڑے ہیں کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ ان کے بالکل قریب سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ جنازے کے ساتھ صرف چار آدمی ہیں جنہوں نے چارپائی کے ایک ایک پائے کو اٹھا رکھا ہے۔ چاروں آدمیوں نے چہروں پر سیاہ نقاب اوڑھے ہوئے ہیں۔ میت پر کوئی چادر نہیں۔ لاکھوں مکھیاں میت پر بھنبھنا رہی ہیں۔ میت سے انتہائی غلیظ مادہ ٹپک رہا ہے، جس سے ناقابل برداشت بو اٹھ رہی ہے۔ انہوں نے بڑی ہمت سے جنازہ اٹھائے ہوئے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ جا رہا ہے؟ اس شخص نے بڑے درشت لہجے میں جواب دیا کہ یہ مرزا قادیانی کا جنازہ ہے۔ صفدر بھٹی صاحب کہتے ہیں کہ صبح اٹھتے ہی تایا جی زار و قطار رونے لگے۔ سارے گھر والے یکدم اکٹھے ہو گئے۔ تایا جی کو سنبھالا اور ماجرا پوچھا۔ انہوں نے کانپتے کانپتے سارا خواب سنا دیا۔ پھر تایا جی نے سارے اہل خانہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم سب گواہ رہنا کہ میں تائب ہو گیا ہوں اور مرزا قادیانی دجال پہ کروڑوں لعنتیں بھیجتا ہوں۔

کتے ♠ مولانا عتیق الرحمٰن چنیوٹی مرحوم پہلے قادیانی تھے، بعد میں اللہ کے فضل سے مسلمان ہو گئے۔ مولانا مرحوم اپنے مسلمان ہونے کا واقعہ یوں سنایا کرتے تھے: "ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میں قادیان میں مرزا قادیانی کے گھر سے چوک کی طرف آ رہا ہوں۔ چوک میں میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک دائرے کی

صفحہ 57

صورت میں اس طرح کھڑے ہیں کہ گویا کسی مداری کا تماشا دیکھ رہے ہوں۔ ان لوگوں کے درمیان میں کچھ لوگ کھڑے ہیں، جن کے دھڑ تو انسانوں جیسے ہیں لیکن منہ کتوں جیسے ہیں اور وہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر چیخ چیخ کر رو رہے ہیں۔ مجمع کے تمام لوگ انہیں بڑی حیرانی سے دیکھ رہے ہیں۔ میں نے ایک شخص کا کندھا ہلا کر اس سے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ مرزا قادیانی کے مرید ہیں۔ پھر میں خواب سے بیدار ہو گیا۔ خوف کے مارے میرا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ میں نے فوراً توبہ کی اور اعلاناً "مسلمان ہو گیا"۔

قبر پھٹ گئی ٭ ڈیرہ غازی خان کے قصبہ الہ آباد میں ایک منہ پھٹ اور انتہائی بدزبان قادیانی ماسٹر رہتا تھا۔ اس شاطر کو جہاں موقعہ ملتا، وہ قادیانیت کی تبلیغ کرتا اور ختم نبوت کے بارے میں بک بک کرتا۔ ایک دن وہ اسی طرح بک بک کرتا مر گیا۔ قادیانیوں نے اسے مسلمانوں کے مقامی قبرستان میں دفن کرنے کا خفیہ پروگرام بنایا۔ لیکن کسی ذریعہ سے یہ خبر مسلمانوں تک پہنچ گئی اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں اس ملعون کی تدفین نہ ہونے کا بندوبست کر لیا اور علاقہ پولیس کو بھی اطلاع کر دی۔ قادیانی خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے مجبوراً اس کو اس کی اپنی زمین میں دفن کر دیا۔ تدفین کے بعد قبر میں زبردست آگ لگ گئی اور یہ کیفیت تین دن تک مقامی لوگ دیکھتے رہے۔ آخر قبر پھٹ گئی اور وہاں ایک بہت بڑا گڑھا بن گیا۔ لوگ دور دور سے اس عبرت گاہ کو دیکھنے آئے۔ قادیانیوں نے اپنی بے عزتی ہوتے دیکھ کر پتھروں سے اس گڑھے کو بھروا دیا اور اس کے اوپر قبر کا پختہ چبوترہ قائم کر دیا لیکن بدبختوں نے اس ہولناک واقعہ سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔

دیکھو گے برا حال محمدؐ کے عدو کا
منہ پر ہی گرا جس نے چاند پہ تھوکا
صفحہ 58

جرمنی میں پاکستان سے گئی ہوئی ایک تبلیغی جماعت اپنے تبلیغی گشت میں مصروف تھی۔ شام ہونے کو تھی۔ جماعت نے مغرب کی نماز راستے میں آنے والی ایک مسجد میں پڑھی اور رات وہیں بسر کرنے کا ارادہ کیا۔ عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد کے امام سے جماعت کی گفتگو ہوئی اور امام مسجد سے وقت کا مطالبہ کیا۔ امام مسجد نے جماعت کے ساتھ تین دن چلنے کا وعدہ کیا۔ صبح ہوئی تو پتہ چلا کہ مذکورہ مسجد تو قادیانی عبادت گاہ ہے اور امام مسجد اس علاقے کی قادیانی جماعت کا سربراہ ہے۔ جب امام مسجد کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے جماعت کے امیر سے کہا کہ اگرچہ میں قادیانی ہوں لیکن میں دین کی باتیں سیکھنے کے لیے آپ کے ساتھ چلوں گا۔ چنانچہ وہ جماعت کے ساتھ تین دن کے لیے اسی وقت روانہ ہو گیا۔ اسے گھر سے نکلے یہ پہلی رات تھی کہ اسے خواب آیا۔ خواب میں اس نے دیکھا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور ساتھ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ فاصلے پر ایک خنزیر زنجیر سے بندھا ہوا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس قادیانی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں:

”تم اس خنزیر کے پاس تو جاتے ہو‘ ہمارے پاس کیوں نہیں آتے؟“

خواب نے اسے ہلا کر رکھ دیا لیکن اس نے کسی سے ذکر نہ کیا۔ اگلی رات سویا تو پھر یہی خواب دیکھا لیکن اس نے خواب کی بابت کسی سے کوئی بات نہ کی۔ تیسری رات اس نے پھر خواب دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے غصہ اور ناراضگی سے کہہ رہے ہیں:

”تم خنزیر کے پاس تو جاتے ہو لیکن ہمارے پاس کیوں نہیں آتے“۔

رات بھر وہ چین سے سو نہ سکا۔ صبح ہوئی تو وہ سر جھکائے جماعت کے امیر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ماتھے پر ندامت کا پسینہ تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ وہ امیر صاحب سے کہنے لگا:

”امیر صاحب! مجھے کلمہ پڑھائیے اور مسلمان کیجئے“۔

صفحہ 59

امیر صاحب خوشی سے اچھل پڑے اور اس سے پوچھا کہ اسے اس بات کی تحریک کیسے ہوئی۔ جواباً اس نے اپنا خواب سنایا۔ سب پر کیف و مستی کی کیفیت طاری ہو گئی اور مبارک مبارک کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ وہ نو مسلم ہاتھ باندھ کے جماعت کے امیر صاحب سے درخواست کرنے لگا کہ میں اپنے گھر میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ امیر صاحب نے ساتھیوں سے مشورہ کے بعد اس کی دلجوئی کے لیے دعوت قبول کر لی۔ جب جماعت اس کے گھر پہنچی تو انہیں سخت حیرانی ہوئی کہ اس کا بہت بڑا ڈرائنگ روم قادیانیوں سے بھرا ہوا تھا۔ نو مسلم جماعت کے امیر صاحب سے کہنے لگا:

”میں نے اپنا مبارک خواب ان سب کو سنایا تھا اور اب یہ سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا چاہتے ہیں“۔

تبلیغی جماعت اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی اور ہر سابق قادیانی بھی اسلام قبول کر کے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔

(نوٹ) راقم کو یہ واقعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبداللطیف ایمن صاحب نے سنایا اور انہیں یہ واقعہ مسلم کالونی ربوہ کی مسجد میں ٹھہری ہوئی تبلیغی جماعت کے ایک شخص نے سنایا‘ جو جرمنی گئی ہوئی جماعت میں شامل تھا۔

مردے کا منہ قبلہ سے پھر گیا ٭ آڈھی کوٹ ضلع خوشاب کے نزدیک امام الدین نامی ایک قادیانی رہتا تھا۔ جب 1974ء کی طوفانی تحریک ختم نبوت اٹھی تو مسلمانوں کے غیظ و غضب کو دیکھتے ہوئے امام الدین قادیانی نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ مسلمانوں نے اس کے اسلام قبول کرنے پر بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ امام الدین مساجد میں نماز پڑھنے لگا۔ مسلمانوں کی شادی غمی میں شرکت کرنے لگا۔ لیکن وہ منافق اندر ہی اندر قادیانیوں سے رابطے رکھتا اور انہیں مسلمانوں کی ساری خبروں سے آگاہ کرتا۔ لیکن مسلمانوں کو اس جاسوس کا پتہ نہ چلتا۔ ایک دن امام

صفحہ 60

الدین قادیانی بیمار ہوا اور چل بسا۔ مسلمانوں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا، نماز جنازہ پڑھائی، لحد تک ساتھ گئے۔ جب اسے قبر میں لٹایا گیا تو ایک مولوی صاحب قبر میں اترے اور انہوں نے اس کا چہرہ مخالف سمت سے قبلہ رخ کر دیا۔ ایک زور دار جھٹکا لگا اور مردے کا منہ دوسری طرف ہو گیا۔ مولوی صاحب نے سمجھا کہ شاید میرا پاؤں لگ گیا ہے۔ انہوں نے دوبارہ اس کا منہ قبلہ رخ کیا، لیکن پھر ایک جھٹکا لگا اور منہ دوسری طرف ہو گیا۔ مولوی صاحب کہتے ہیں: جب تیسری دفعہ بھی اس کا چہرہ قبلہ کی طرف سے ہٹ گیا تو میرے دل میں یہ القاء ہو گیا کہ یہ شخص قادیانی ہے اور اس نے صرف مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا۔ سارے حاضرین اس واقعہ کو دیکھ کر خوفزدہ ہوگئے اور جلدی جلدی قبر پر مٹی ڈال کر اپنے گھروں کو بھاگ گئے۔

مرقد کی وحشت بتا رہی ہے
مدفن ہے یہ کسی گستاخ رسولؐ کا

کالا ناگ ٭ بھکر کے عمر الدین سائی کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک قادیانی آیا اور مجھے قادیانیت کی تبلیغ کرنے لگا۔ مرزا قادیانی کو نبی اور قادیانیت کو مذہب حق ثابت کرنے لگا۔ میں اپنی علمی بساط کے مطابق اسے جواب دیتا رہا۔ ڈیڑھ دو گھنٹے بحث کرنے کے بعد وہ چلا گیا۔ میں نے اس واقعہ کا ذکر مولانا محمد نواز صاحب سے کیا۔ انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ مجھے قادیانیوں کے کفریہ عقائد کے متعلق بتایا اور مرزا قادیانی و مذہب قادیانیت کی سیاہ تاریخ سے آگاہ کیا۔ اس واقعہ کو تقریباً ایک ہفتہ گزرا تھا کہ ایک دن میرے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہی ملعون قادیانی کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں قادیانی کتابوں کا ایک بنڈل تھا۔ اس نے کتابیں میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرو، تمہیں بہت فائدہ ہوگا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں ان کتابوں کو اپنے گھر نہیں رکھ سکتا۔

صفحہ 61

اگر میری بیوی یا میرے والدین کو ان کی بابت پتہ چل گیا تو وہ مجھے گھر سے نکال دیں گے اور پورا خاندان میرا بائیکاٹ کر دے گا۔ اس پر وہ مجھے کہنے لگا کہ تم فکر نہ کرو‘ میری جوان بھتیجی ہے‘ میں اس کے ساتھ تمہاری شادی کر دوں گا اور میں اپنی زمین بھی تیرے نام کر دوں گا۔ میں نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ بے غیرت! تو زن اور زر کے عوض میرا ایمان خریدنا چاہتا ہے۔ میری نظروں سے دور ہو جا۔ میرا گرجتا جواب سن کر وہ منہ میں بڑبڑاتا ہوا دفع ہو گیا۔ اسی رات مجھے خواب آیا کہ ایک بہت بڑا کالا ناگ میرے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ میں جس طرف بھاگتا ہوں‘ وہ بڑی سرعت کے ساتھ میرے پیچھے بھاگتا ہے۔ بھاگ بھاگ کر میرا سانس پھول جاتا ہے اور میں پسینے میں شرابور ہو جاتا ہوں۔ اچانک میری نظر مولانا محمد نواز پر پڑتی ہے۔ میں لپک کر ان تک پہنچ جاتا ہوں اور ان سے لپٹ کر ان سے استدعا کرتا ہوں کہ مجھے اس ناگ سے بچائیں۔ اس افرا تفری میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ دیکھا تو پسینے میں نہایا ہوا تھا۔ دل اتنی تیزی سے دھک دھک کر رہا تھا گویا سینے سے ابھی باہر نکلا۔ حواس درست ہونے پر میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے اس قادیانی کو پیغام بھجوایا کہ اگر آئندہ مجھ سے ملاقات کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ یوں ایک خواب کے ذریعے اللہ پاک نے میری رہنمائی فرمائی۔

توکل شاہ سے درخواست دعا ٭ مولوی محبوب عالم صحیفہ محبوب میں لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے خواجہ توکل شاہ انبالوی سے عرض کیا کہ میں تو مرزا قادیانی کو برا جانتا ہوں‘ آپ کے نزدیک وہ شخص کیسا ہے؟ ان دنوں مرزا صاحب کا دعویٰ مجددیت و مہدویت سے متجاوز نہ ہوا تھا۔ خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ گویا کوتوال کی حیثیت سے شہر لاہور کا گشت کر رہا ہوں۔ ایک مقام پر مرزا غلام احمد کو دیکھا کہ کانٹوں اور گندگی میں پڑا ہے۔ میں نے اس کے ہاتھ کو جنبش دی اور ڈانٹ کر کہا۔ تیرے پاس مجددیت اور مہدویت کا کیا ثبوت ہے؟ وہ سخت اداس

صفحہ 62

اور غمزہ دکھائی دیتا تھا۔ میرے سوال کا کچھ جواب نہ دے سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کوئی عمل کیا تھا‘ مگر پھر کسی بدپرہیزی کے باعث اس عمل سے گر گیا۔ مولوی محبوب عالم لکھتے ہیں کہ یہ تو میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اس کے اکثر خط خواجہ توکل شاہ کی خدمت میں آیا کرتے تھے‘ جن کا یہ مضمون ہوتا تھا کہ ”حضور میرے حق میں دعا فرمائیں“۔ خط کے سنتے ہی خواجہ صاحب کے چہرہ پر غصہ کے مارے شکن پڑ جاتے تھے‘ مگر ضبط کر کے خاموش ہو جاتے تھے۔

(”رئیس قادیان“ جلد دوئم‘ ص ۱۹)

شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ ٭ شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ

سے علماء لدھیانہ کی ملاقات ہوئی۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے قادیانی کے متعلق استخارہ کیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں زنار نظر آیا‘ جس سے اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے۔

(فتاویٰ قادریہ)

جب ایک قادیانی کی قبر کھولی گئی ٭ کوٹ قیصرانی‘ تحصیل تونسہ‘ ضلع ڈیرہ

غازی خان میں ایک امیر مند نامی قادیانی مر گیا۔ اس مردود کو قادیانیوں نے مسلمانوں کی مسجد کے صحن میں دفن کر دیا۔ مقامی مسلمان اس حادثہ سے چیخ اٹھے۔ ان غریبوں کی احتجاجی آواز کو با اثر قادیانیوں نے دبانے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کی پکار پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کی مدد کے لیے بجلی کی سرعت سے پہنچی۔ خانقاہ تونسہ کے چشم و چراغ خواجہ مناف صاحب بھی عشق رسولؐ کے ہتھیار سے مسلح ہو کر خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے۔ جلوس نکالے گئے‘ کانفرنسیں ہوئیں اور حکومتی حکام سے مطالبہ کیا کہ قادیانی مردے کو مسجد سے نکالا جائے۔ حکومت نے ٹال مٹول کے ہتھیاروں سے

صفحہ 63

کام لیا، لیکن عوام کے طوفانی احتجاج کے سامنے حکومت بے بس ہو گئی اور اسے مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کرنا ہی پڑا۔ چوہڑوں کے ذریعے مردود کی قبر کشائی کی گئی۔ جونہی قبر کھلی، بدبو کے طوفان اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس شدت کی بو کہ لوگوں کے سر چکرا گئے اور آنکھوں سے پانی نکل آیا۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ غلیظ اور کٹا پھٹا لاشہ باہر نکلا تو مارے خوف کے چوہڑے بھی کانپ گئے۔ لاش قادیانیوں کے حوالے کر دی گئی، جنہوں نے چوہڑوں کے ذریعے ہی اسے اپنے گھر کے صحن میں دفن کر دیا۔ لیکن چند دنوں میں گھر میں ایسا تعفن پھیلا کہ گھر میں رہنا مشکل ہو گیا۔ آخر قادیانیوں نے تنگ آ کر اسے وہاں سے اکھیڑ کر اپنے کھیتوں میں دفن کر دیا۔ چشم دید گواہ کہتے ہیں کہ جب دوسری مرتبہ قادیانی کی لاش کو نکالا گیا تو اس کی بدبو کئی میل دور تک گئی اور لوگ کئی دنوں تک اس بدبو کو محسوس کرتے رہے۔ اس عبرتناک واقعہ کو دیکھ کر کئی قادیانی مسلمان ہو گئے، جن میں سے کچھ مردے کے خاندان میں سے بھی تھے۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

مرزا قادیانی کو چوہڑے کی شکل میں دیکھا

بھوکہ ضلع خوشاب کے جناب ظفر اقبال صاحب کہتے ہیں کہ میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ ہمارے گھر کے قریب ہی ایک قادیانی مبلغ غلام رسول رہتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھے قادیانیت کی دعوت دی اور پڑھنے کے لیے قادیانی لٹریچر بھی دیا۔ میری عمر بھی پختہ نہ تھی اور مذہبی تعلیم بھی واجبی سی تھی۔ اس کی دجالی گفتگو سننے اور گمراہ کن لٹریچر پڑھنے کے بعد شیطان نے میرے دل میں وسوسہ پیدا کر دیا کہ کہیں قادیانی جماعت سچی ہی نہ ہو۔ عشاء کی نماز پڑھ کر بستر پر لیٹے یہی سوچتے سوچتے سو گیا۔ رات میں نے خواب میں مرزا قادیانی کو انتہائی غلیظ اور کریہ الصورت چوہڑے کی شکل میں دیکھا۔ صبح بیدار ہوا تو زبان پر استغفار کے جملے جاری تھے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور قادیانی مبلغ

صفحہ 64

کے گھر جا کر اس کا لٹریچر اس کے منہ پر دے مارا۔

سر ظفر اللہ کا ہولناک انجام ❣ فتنہ قادیانیت کا پوپ سر ظفر اللہ بستر مرگ پر بے ہوش پڑا ہے۔ کبھی کبھی معمولی سی آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد کھڑے لوگوں کو ہلکی سی نظر دیکھ لیتا ہے۔ کھانے پینے سے عاجز ہے۔ غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے گلوکوز کی بوتلیں چڑھا رکھی ہیں۔ لیکن گلوکوز کا پانی پیلے رنگ کا محلول بن کر منہ کے راستے باہر نکل جاتا ہے اور اس پیلے رنگ کے محلول سے پاخانے جیسی بدبو اٹھ رہی ہے۔ ڈاکٹر ٹشو پیپر سے بار بار اس غلاظت کو صاف کر رہے ہیں لیکن غلاظت رکنے کا نام نہیں لیتی۔ سر ظفر اللہ بستر پر پیشاب کر رہا ہے۔ کمرے میں اس شدت کی بدبو ہے کہ ٹھہرنا مشکل ہے۔ بدبو اور دیگر حفاظتی تدابیر کو مد نظر رکھتے ہوئے قادیانی ڈاکٹروں نے اپنے منہ پر ماسک چڑھا رکھے ہیں۔ عام ملاقات پر سخت پابندی ہے کیونکہ سر ظفر اللہ کا یہ ہولناک انجام دیکھ کر کوئی بھی قادیانی، قادیانیت سے تائب ہو سکتا ہے۔ اسی حالت میں ظفر اللہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے۔ لیکن مرنے کے بعد بھی اس کے منہ سے غلاظت جاری رہتی ہے۔ جس سے بچنے کے لیے قادیانی ڈاکٹر اس کا منہ کھول کر گلے میں روئی کا گولہ ٹھونس دیتے ہیں۔ لیکن خدائی عذاب اس گولے سے کہاں رکتا ہے!!!

روشنی مل گئی ❣ سرحد کے نامور عالم دین دارالعلوم پشاور صدر کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان صاحب فرماتے ہیں: ”ایک مرتبہ تبلیغی جماعت کا ایک وفد غلطی سے قادیانیوں کے مڑاڑے میں چلا گیا۔ قادیانیوں نے جب تبلیغی جماعت کو دیکھا تو انہیں وہاں سے نکال دیا، جس پر جماعت کے امیر نے قادیانیوں سے کہا کہ ہم آپ کو بالکل دعوت نہیں دیتے، مگر آپ لوگ ہمیں یہاں صرف تین دن قیام کرنے کی اجازت دے دیں۔ ہم اپنی نمازیں

صفحہ 65

پڑھیں گے اور تمہارے کسی کام میں مخل نہ ہوں گے، جس پر قادیانیوں نے اجازت دے دی۔ جب تین دن ہو گئے تو جماعت کے امیر نے اللہ کے حضور گڑگڑانا شروع کیا کہ اے اللہ ! ہم سے وہ کون سا گناہ ہو گیا کہ ہمیں یہاں بیٹھے تین دن ہو چکے ہیں، ایک آدمی بھی ہمارے ساتھ تبلیغ میں جانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ ابھی وہ مصروف دعا تھے کہ ایک شخص آیا، جو قادیانی جماعت کا امیر تھا۔ اس نے جب امیر صاحب کو روتے دیکھا تو پوچھا کہ آپ رو کیوں رہے ہیں؟ جناب امیر صاحب نے فرمایا کہ ہم اللہ کے راستے میں اس کے سچے دین کی تبلیغ کے لیے تین دن سے یہاں قیام پذیر ہیں لیکن کوئی ایک شخص بھی ہمارے ساتھ جانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ جس پر اس قادیانی نے کہا کہ یہ تو معمولی بات ہے، میں تین دن کے لیے آپ کے ساتھ جاتا ہوں لیکن میری ایک شرط ہے کہ آپ مجھے کسی قسم کی دعوت نہ دیں گے۔ چنانچہ معاہدہ ہو گیا اور وہ قادیانی ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ تیسری رات اس نے ایک خواب دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو اس قادیانی نے جماعت کے امیر صاحب سے کہا کہ آپ مجھے کلمہ پڑھائیں اور مسلمان بنائیں۔ جس پر امیر جماعت نے کہا کہ ہم معاہدے کے پابند ہیں، آپ کو کلمہ پڑھنے پر مجبور نہیں کر سکتے، مگر آپ یہ بتائیں کہ یہ تبدیلی کیوں آئی؟ اس نے کہا کہ میں نے خواب میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ آپؐ نے ایک کتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تم میرے عاشقوں کے ساتھ پھرتے ہو اور اس کتے کو بھی مانتے ہو۔ وہ کتا مرزا قادیانی تھا، جس پر امیر جماعت نے اسے کلمہ پڑھایا اور سینے سے لگایا۔ جب اس شخص نے واپس اپنے گاؤں جا کر یہ واقعہ کچھ اور قادیانیوں کو سنایا تو وہ بھی مسلمان ہوئے۔ یہ واقعہ مولانا حسن جان نے حضرت مولانا قاری محمد طیب سے سنا۔

قبر میں زلزلہ ❦ بھارت کے صوبہ بہار کے حکیم محمد حسین نے خواب دیکھا کہ مرزا قادیانی کی قبر میں تدفین ہو گئی ہے۔ لوگ مٹی ڈال کر گھروں کو چل رہے ہیں۔ قبر

صفحہ 66

میں سخت اندھیرا اور خوف ہے۔ اللہ کے فرشتے سوال جواب کے لیے آ پہنچے ہیں۔ مرزا قادیانی سخت گھبرایا ہوا ہے اور تھر تھر کانپ رہا ہے۔ اللہ کے فرشتے اس سے سوال کر رہے ہیں اور جواب میں وہ اول فول بک رہا ہے۔ قبر میں قریب ہی شیطان کھڑا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کو کہہ رہا ہے کہ اے مرزا قادیانی! تو میرا بہترین ساتھی تھا۔ تو نے میرے مشن کے لیے بہت کام کیا۔ شب و روز محنت کر کے لوگوں کو گمراہ کیا۔ مجھے تیری موت کا بہت دکھ ہوا لیکن آج اس مشکل میں میں تیرے کسی کام نہیں آ سکتا۔ یہ عذاب تو اب تجھے سہنا ہی پڑے گا۔ یہ کہا اور شیطان غائب ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی مرزا قادیانی سخت ترین عذاب میں مبتلا ہو گیا اور اس کی چیخوں سے قبر میں ایک زلزلہ بپا ہو گیا۔

آتش فشاں ہے زمین ایسی جگہوں سے کہ جہاں
لقمہ خاک ہوئے زہر اگلنے والے!

قادیانیت سے رہائی ❦ بھارت کے سید عبدالغفار کہتے ہیں کہ میں قادیانیوں کے ہاں ملازمت کرتا تھا۔ ان کی صحبت اور تبلیغ کی وجہ سے میں بھی قادیانی ہو گیا۔ مجھے قادیانی ہوئے ابھی تھوڑی ہی مدت گزری تھی کہ ایک رات مجھے خواب میں ایک بزرگ نظر آئے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ مرزا قادیانی دجال اور کذاب تھا، تو قادیانی بن کر کیوں اپنی عاقبت خراب کر رہا ہے۔ سید عبدالغفار کہتے ہیں کہ میں نے اپنا یہ خواب قادیانیوں کو سنایا۔ قادیانی میرا خواب سن کر بجائے پریشان ہونے کے، بہت خوش ہوئے اور مجھے کہنے لگے کہ تم کتنے خوش قسمت ہو کہ تمہیں قادیانی ہوتے ہی بزرگوں کی زیارتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں، حالانکہ اس سے قبل تمہیں کبھی زیارت نہ ہوئی تھی۔ میں ان کی تاویل کے پھندے میں پھر گرفتار ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد پھر مجھے خواب آیا۔ میں نے ریچھ کی شکل والا ایک شخص دیکھا۔ اس کی کھال جلی اور ادھڑی ہوئی تھی۔ پاؤں میں بھاری زنجیریں ڈلی ہوئی تھیں۔ گلے میں آگ کا سرخ طوق تھا۔ وہ

صفحہ 67

آدمی، جن کے ہاتھوں میں بڑے مضبوط کوڑے تھے، اسے تڑاخ تڑاخ پیٹ رہے تھے۔ یہ منظر بڑا ہولناک تھا۔ میں نے دیکھا کہ کچھ فاصلے پر وہی بزرگ کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے اور اسے کیوں عذاب دیا جا رہا ہے۔ وہ بزرگ فرمانے لگے کہ یہ شخص مرزا قادیانی ہے اور اگر تم نے اسے نہ چھوڑا تو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا۔ نیند سے بیدار ہوا تو پسینے میں شرابور تھا اور تھر تھر کانپ رہا تھا۔ میں نے مولانا محمد علی مونگیریؒ کا نام سن رکھا تھا، فوراً ان کے ہاں حاضر ہوا۔ جب وہاں پہنچا تو میں یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ خواب میں مجھے نصیحت کرنے والے بزرگ میرے سامنے بیٹھے تھے۔ وہ مولانا محمد علی مونگیریؒ تھے۔ فوراً توبہ کی اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہو گیا۔

مرزے کی قبر جناب سراج الدین صاحب کہتے ہیں کہ میں مرزائی تھا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں قادیاں میں مرزا قادیانی کی قبر پر کھڑا ہوں۔ اچانک مجھے اس کی قبر پر ایک تختی نظر آئی جس پر لکھا تھا فی نار جھنم خالدین ابدا۔ بس یہ تحریر پڑھ کر کانپ اٹھا۔ اس کے ساتھ ہی مرزا کی قبر پر چند سور اور گدھ کی شکل میں جانور نظر آئے۔ میں بیدار ہوا اور سجدہ میں گر گیا کہ قدرت حق نے میری دستگیری فرمائی اور مسلمان ہو گیا۔

قادیانیت سے توبہ ایک شخص جیون خان ساکن ٹکوٹڑی موسیٰ خان ضلع سیالکوٹ اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں شومیٔ قسمت سے قادیانی ہو گیا۔ ایک رات خواب دیکھا کہ ایک کارواں حج کے لیے مکہ مکرمہ جا رہا ہے۔ میں بھی کارواں میں شامل ہو گیا۔ کارواں بخیریت مکہ مکرمہ پہنچا اور ہم حرم کعبہ میں پہنچ گئے۔ اذان ہوئی۔ ہم سب وضو کر کے نماز کے لیے کعبہ کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے۔ اچانک ایک قوی ہیکل انسان نمودار ہوا اور اس نے بڑی قوت سے مجھے گردن سے آ

صفحہ 68

دبوچا اور میرا منہ موڑ کر دوسری طرف کر دیا۔ بے تحاشا مارنا شروع کر دیا۔ چہرہ لہولہان کر دیا۔ دائیں بائیں کی پسلیاں توڑ دیں۔ میں نے مار کھاتے کھاتے پوچھا کہ یہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ اس نے نہایت گرجدار آواز میں جواب دیا کہ تم مرزائی ہو، تمہارا کعبہ سے کیا تعلق؟ تم مرزے کے گھر کی طرف منہ کرو، تمہارا اللہ سے کوئی تعلق نہیں۔ جیون خان نے خواب میں ہی زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔ پورے محلے کے لوگ اکٹھے ہو کر آگئے۔ مجھے سہارا دیا اور بٹھایا۔ میں سخت خوف کی حالت میں تھا اور مجھ پر کپکپی طاری تھی۔ لوگوں نے مجھ سے پوچھا، کیا ہوا؟ میں نے کہا پہلے میرے جسم کو دباؤ، میرا جوڑ جوڑ درد کر رہا ہے۔ لوگوں نے میرے سارے جسم کو اپنے ہاتھوں میں لے کر دبانا شروع کیا۔ کچھ دیر کے بعد اوسان بحال ہوئے تو میں نے سب کو واقعہ سنایا اور فوری طور پر قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گیا۔

مرزا قادیانی کی قبر پر کتے کا پیشاب ٭ جناب عبدالسلام دہلوی بیان کرتے ہیں کہ مجھے مرزائی بنانے کے لیے قادیانیوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن میں ان کے قابو نہ آیا۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے میرے دماغ میں سوال اٹھا کہ مجھے قادیان جانا چاہیے۔ میں نے فوراً قادیان کی تیاری شروع کر دی اور اگلے دن قادیان جا پہنچا۔ قادیان میں قادیانی مجھے بڑے تپاک سے ملے۔ مہمان خانہ میں ٹھہرایا گیا اور خوب خاطر مدارت کی گئی۔ مرزا بشیر الدین سے میری ملاقات بھی کرائی گئی۔ سوال و جواب کی نشست بھی جمتی رہی لیکن میرا دل مطمئن نہ ہوا۔ ایک دن عصر کی نماز کے بعد میں سیر کے لیے نکلا۔ اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ مجھے ان کا بہشتی مقبرہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ میں لمبے لمبے قدم اٹھاتا بہشتی مقبرہ میں جا پہنچا۔ بہشتی مقبرہ میں داخل ہوتے ہی میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ وہاں چار پانچ کتے آپس میں کھیل رہے تھے اور ان میں سے ایک کتا ایک قبر پر پیشاب کر رہا تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر جب اس قبر کے کتبے کو پڑھا، تو وہ مرزا قادیانی کی قبر تھی۔ میرا دل بول اٹھا کہ یہ قبر کسی مہدی،

صفحہ 69

مسیح یا نبی کی نہیں ہو سکتی۔ میں استغفار پڑھتا‘ ڈرتا ڈرتا واپس آگیا۔ رات قادیان میں ہی گزاری‘ جو آنکھوں میں بسر کی اور صبح ہوتے ہی اس منحوس بستی سے کوچ کر گیا۔

مرزا قادیانی کو آتش جہنم میں دیکھا جناب جاوید اختر رضوی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں بھوتہ ضلع گجرات میں ایک قادیانی خاندان رہتا ہے۔ اس خاندان کا ایک نوجوان‘ جو آنکھوں سے نابینا ہے اور گاؤں والے نابینا ہونے کی وجہ سے اسے حافظ کے نام سے پکارتے ہیں‘ ایک رات اس نابینا نوجوان کو خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا دادا آتش جہنم میں بری طرح جل بھن رہا ہے اور بری طرح چلا رہا ہے اور اپنے نابینا پوتے کو کہہ رہا ہے کہ میرے بیٹے یعنی اپنے باپ سے کہو کہ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لو ورنہ تمہارا انجام بھی مجھ سا ہو گا۔ اس نے یہ خواب اپنے والد صاحب کو سنایا۔ اسے یہ خواب مسلسل تین دن تک آتا رہا اور وہ اپنے باپ کو سناتا رہا۔ لیکن باپ کسی معبر سے تعبیریں پوچھنے کی باتیں کرتا رہا۔ آخر وہ نابینا نوجوان قادیانیت پر لعنت بھیج کر مسلمان ہو گیا ہے اور اب اللہ کے فضل سے اس نے قرآن پاک بھی حفظ کر لیا ہے۔ پہلے جس نوجوان کو لوگ نابینا ہونے کی وجہ سے حافظ کہتے تھے‘ اب اسے قرآن پاک کا حافظ ہونے کی وجہ سے حافظ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ استقامت عنایت فرمائے۔ (آمین)

قبر سانپوں سے بھر گئی محمد رمضان صاحب گجرات کے رہنے والے ہیں اور آج کل سیالکوٹ میں قیام پذیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیالکوٹ میں ایک بڑا گستاخ قادیانی رہتا تھا۔ قدرت نے دولت بھی خوب دے رکھی تھی‘ جس نے اسے انتہائی متکبر بنا رکھا تھا۔ میں اکثر قبروں کی کھدائی کا کام کرتا تھا۔ ایک دن کچھ قادیانی میرے پاس آئے اور مجھے قبر کھودنے کو کہا اور بتایا کہ فلاں قادیانی مر گیا ہے۔ میں نے اس

صفحہ 70

قادیانی کی قبر کھودی۔ لیکن جب اس گستاخ رسول کو دفنانے لگے تو مجھ سمیت جنازے میں شامل تمام مرزائیوں نے یہ منظر دیکھا کہ اس کی قبر آہستہ آہستہ سانپوں سے بھرنے لگی اور تھوڑی دیر میں سانپ ہی سانپ ہو گئے۔ قادیانیوں نے مجھے دوسری جگہ قبر کھودنے کے لیے کہا۔ میں نے جب دوسری جگہ قبر کھودی تو قبر سے ڈراؤنی آوازیں آنے لگیں اور آگ کی چنگاریاں نکلنے لگیں۔ سب لوگ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔ آخر اس مردود کو اسی قبر میں دفن کر دیا گیا۔

قادیانیوں کی زندگانی بھی ہے کتنی خراب
دنیا میں پھٹکار آخرت میں عذاب

قادیانی کی قبر پر آگ کے گولے ❦ روڈہ ضلع خوشاب میں ایک انتہائی

گستاخ قادیانی حاجی ولد موندا رہتا تھا۔ وہ انتہائی فحش گالیاں بکتا۔ گلی کوچوں میں اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتا۔ اس کی ناپاک زندگی کی صبحیں اور شامیں اسی غلاظت سے اٹی پڑی تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قادیانیوں کو ابھی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دیا گیا تھا اور قادیانی حج پر جاسکتے تھے۔ یہ رذیل بھی مسلمانوں کے ساتھ مکہ مکرمہ چلا گیا۔ وہ وہاں بھی اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتا۔ جگہ جگہ پر کھسیانی ہنسی ہنستا۔ قہقہے لگاتا اور بکواس کرتا کہ میں تو یہاں صرف سیر کرنے آیا ہوں کیونکہ اب حج تو صرف ربوہ میں ہوتا ہے۔ یہ گستاخ رسول جب مرا تو اسے قادیانیوں کے الگ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ سورج غروب ہونے کے بعد جلد ہی رات کا اندھیرا پہلے کی نسبت قدرے گہرا ہونا شروع ہو گیا۔ رات کو ارد گرد کی آبادیوں نے یہ خوفناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور وہ چشم دید گواہ آج بھی اس واقعہ کے شاہد ہیں کہ آگ کا ایک بہت بڑا سرخ گولہ عین اس کی قبر کے اوپر آ کر گرا اور غائب ہو گیا۔ پھر پے در پے گولے برسنے لگے تو رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اپنی آنکھوں سے اس قادیانی مردود کی قبر پر آگ برستے دیکھ کر بھی قادیانیوں کو کوئی عبرت نہ ہوئی، شاید ان کے دلوں پر

صفحہ 71

تالے پڑے ہیں۔

موت سے کافی عرصہ قبل قادیانیوں کا دوسرا خلیفہ مرزا بشیر الدین درجنوں بیماریوں کا شکار ہوچکا تھا۔ زنا کاریوں اور شراب نوشی نے دماغ کا انجر پنجر ہلا دیا تھا۔ فالج نے رہی سہی کسر نکال دی تھی۔ اللہ کے عذاب نے اسے کس طرح اپنے جبڑوں میں پھنسایا ہوا تھا‘ چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

فاتر العقل ٭ جب نام نہاد نماز کا وقت ہوتا تو مرزا بشیر الدین کو لا کر مصلیٰ امامت پہ کھڑا کر دیا جاتا۔ بشیر الدین کبھی ہاتھ باندھ لیتا کبھی چھوڑ دیتا۔ کبھی سجدے کھا جاتا اور کبھی سجدوں پہ سجدے کیے جاتا۔ کبھی رکوع غائب ہو جائے‘ کبھی چار کی بجائے دو رکعتیں اور کبھی دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھ جاتا۔ وہ منہ میں اول فول بکتا رہتا۔ کوڑھ دماغ قادیانی اس کے پیچھے کھڑے اس کی حرکات دہراتے رہتے۔ لیکن کیا مجال کہ کوئی اس کے سامنے زبان کھول سکے۔

حواس باختہ ٭ مرزا بشیر الدین ایک قادیانی جلسہ سے خطاب کر رہا تھا۔ ایک موقعہ پر وہ کہنے لگا: ”جب پاکستان بنا تھا اس وقت میری عمر ۴۹ سال تھی اور آج میری عمر ۱۰۵ سال ہے“۔ باقی سامعین کو تو بولنے کی ہمت نہ ہوئی‘ صرف ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا ”مرزا بشیر الدین تیرا معاملہ ختم ہو گیا“۔ یہ کہا اور جلسہ سے چل دیا۔

قبر ٭ جب مرزا بشیر الدین کی حالت زیادہ بگڑ گئی تو اسے ایک کمرے میں بند کر دیا گیا۔ کمرے میں پاخانہ سے فارغ ہونے کے بعد وہ پاخانہ کا کچھ حصہ کھا جاتا اور کچھ حصہ منہ پہ مل لیتا۔ کمرے میں چیختا چلاتا اور ڈراؤنی آوازیں نکالتا۔ کچھ دنوں کے بعد اس نے چیخ چیخ کر کہنا شروع کر دیا کہ مجھے میرے باپ کے پاس قادیان لے کر چلو۔

صفحہ 72

بڑے قادیانیوں نے اس کے شور سے تنگ آکر ایک رات جب وہ سو رہا تھا، اس کے کمرے میں مٹی کی ایک ڈھیری بنا دی اور اسے کہا کہ یہ تیرے باپ کی قبر ہے۔ وہ قبر پہ پٹ بچھ جاتا۔ کبھی قبر کی مٹی اپنے سر میں ڈالتا اور کبھی منہ میں ڈالتا۔ آخر ایک دن سر ظفر اللہ کے کہنے پر یہ قبر ہٹا دی گئی۔

پلنگ ❣ اب بشیر الدین چلنے پھرنے سے قاصر ہوچکا تھا۔ اٹھنے بیٹھنے کی بھی ہمت نہ تھی۔ وہ نیم جاں لاشے کی طرح چارپائی پر پڑا رہتا لیکن کبھی کبھی وہ اچانک کروٹیں لینا شروع کر دیتا اور دھڑام سے بستر سے نیچے گر جاتا، جس سے اس کو چوٹیں بھی آتیں۔ اسے گرنے سے بچانے کے لیے اس کی چارپائی کے گرد لکڑی کی دیواریں لگا کر اسے جنازے والی چارپائی جیسا بنا دیا گیا۔

ڈاکٹر کا مشورہ ❣ منکر ختم نبوت مرزا بشیر الدین کے لاعلاج امراض پر قادیانیوں نے کروڑوں روپے خرچ کیے۔ ہوائی جہاز کے ذریعے بیرون ممالک سے بہترین سے بہترین دوائیں منگوائیں۔ اعلیٰ سے اعلیٰ ڈاکٹروں کو علاج کے لیے بلایا۔ ایک ماہر نفسیات کو جب علاج کے لیے بلایا گیا تو اس نے کہا کہ مریض کے جسم کے علاوہ اس کے خیال میں بھی فالج نفوذ کر چکا ہے، اسی لیے وہ قادیان کو یاد کر کر کے روتا ہے۔ اس کے خیالات کو ہٹانے کے لیے ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ تجویز کیا کہ مریض ایک گیند لے کر اسے دیوار پر مارے، پھر پکڑے، پھر مارے اور دن میں کئی مرتبہ یہ مشق کرے۔ اس سے اس کے خیالات کا رخ بدل جائے گا لیکن جب ڈاکٹر کو یہ بتایا گیا کہ مریض چلنے پھرنے کے قابل نہیں تو پھر ڈاکٹر نے اس کے متبادل یہ علاج بتایا کہ مریض ربڑ کا گیند اپنے پاؤں کی محراب کے نیچے رکھ کر اسے دن میں کئی مرتبہ گھمائے۔ لیکن مریض یہ مشق کرنے کے بھی قابل نہیں تھا، لہٰذا ڈاکٹر مذکورہ کا علاج چھوڑ دیا گیا۔

صفحہ 73

خدائی پکڑ گستاخ رسول مرزا بشیر الدین کے علاج کے لیے بیرون ملک سے ایک بہت بڑے ہومیو پیتھک ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ ڈاکٹر نے مرزا بشیر الدین کا تفصیلی معائنہ کیا اور یہ کہہ کر چلا گیا: "میں بیماری کا علاج تو کر سکتا ہوں لیکن خدائی پکڑ کا علاج نہیں کر سکتا"۔

عبرتناک انجام انہی لاعلاج اور مہلک بیماریوں کے ہاتھوں سسک سسک کر اور ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بشیر الدین جہنم واصل ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ آخری وقت میں کتے کی طرح بھونکنے لگا تھا۔ وہ شام کے سات بجے مردار ہوا لیکن اس کی موت کا اعلان رات کے دو بجے کیا گیا۔ موت کا اعلان سات گھنٹے بعد کیوں کیا گیا؟ سات گھنٹے تک یہ خبر قصر خلافت سے باہر کیوں نہ آئی۔ وجہ یہ تھی کہ بشیر الدین کئی مہینوں سے نہایا نہیں تھا۔ ناخن، داڑھی اور سر کے بال کٹوائے نہیں تھے۔ جسم پر غلاظت کی پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ قادیانی جب اسے ان امور کے بارے میں کہتے تو وہ انہیں ننگی گالیاں دیتا۔ مرنے کے بعد رگڑ رگڑ کر بشیر الدین کے جسم کو دھویا گیا۔ ناخن کاٹے گئے، سر اور داڑھی کے بالوں کو کاٹ کر آراستہ کیا گیا۔ جسم کی بدبو ختم کرنے کے لیے بہترین خوشبوئیات چھڑکی گئیں۔ چہرے پر پوڈر لگایا گیا۔ ہونٹوں پر ہلکی ہلکی سرخی سجائی گئی۔ اس کے علاوہ منہ پر چمک پیدا کرنے والے کیمیکلز لگائے گئے اور اس کی چارپائی باہر دالان میں رکھ دی گئی۔ مرکری کا ایک بلب اس کے سر کی طرف اور دوسرا پاؤں کی طرف روشن کر دیا گیا۔ جب مرکری کے بلب کی چمکیلی شعاعیں اس کے چمکیلے کیمیکلز لگے منہ پر پڑتیں تو اس کا بدبودار منہ چمکتا اور قادیانی شکاری سادہ لوح قادیانیوں سے کہتے کہ دیکھو جی! حضرت صاحب کو کیسا روپ چڑھا ہے۔

مرزا قادیانی کا انجام قانون قدرت ہے کہ جب کوئی شخص گناہ کے راستہ پر چلتا ہے تو قدرت اس کے راستے میں ایک چھوٹی سی رکاوٹ رکھ دیتی ہے۔ اگر وہ

صفحہ 74

اسے پھلانگ کر نکل جائے تو پھر اس سے بڑی رکاوٹ رکھ دی جاتی ہے۔ اگر وہ اسے بھی روندتا ہوا نکل جائے تو رکاوٹ اور بڑی کر دی جاتی ہے۔ اگر شاہراہ معصیت کا مسافر قدرت کی رکھی ہوئی چھوٹی بڑی رکاوٹوں کو توڑتا‘ روندتا نکل جائے تو پھر اسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ مرزا قادیانی جب جھوٹی نبوت کے لیے دعوے بازی شروع کرتا ہے تو قدرت اس کے راستے میں سینکڑوں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے لیکن وہ کلہ توڑ کر بھاگنے والی بھینس کی طرح شاہراہ کفر و ارتداد پر سرپٹ بھاگتا ہی گیا اور ان ساری رکاوٹوں کو توڑتا ہوا جہنم میں جا گرا۔

مرزا قادیانی کو انتہائی خوفناک ہیضہ ہوا۔ منہ اور مقعد دونوں راستوں سے غلاظت بہنے لگی۔ اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین تک جا سکے‘ اس لیے چارپائی کے پاس ہی غلاظت کے ڈھیر لگ گئے۔ مسلسل پاخانوں اور الٹیوں نے اس قدر نچوڑ کر رکھ دیا کہ اپنی ہی غلاظت پر منہ کے بل گرا اور زندگی کی بازی ہار گیا۔ کائنات میں شاید ہی کسی کو ایسی ہولناک اور عبرتناک موت آئی ہو۔ تدفین تک منہ سے غلاظت بہتی رہی جسے بڑی کوشش کے باوجود بند نہ کیا جا سکا۔ جس تابوت میں مرزے کا جنازہ لاہور سے قادیاں گیا‘ اس تابوت اور تابوت میں پڑے بھوسے (توڑی) کو حکومت نے آگ لگوا کر خاکستر کرا دیا تاکہ اس تابوت سے علاقہ میں کوئی بیماری نہ پھیل جائے۔

حکیم نور الدین کا انجام : سب سے پہلے جس خبیث الفطرت انسان نے مرزا قادیانی کی نبوت کو تسلیم کیا اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی‘ وہ حکیم نور الدین تھا۔ قادیانی جماعت میں مرزا قادیانی کے بعد اس کا مقام ہے۔ مرزا قادیانی کی موت کے بعد وہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پہلا خلیفہ کہلایا۔ قادیانی اسے سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کے برابر قرار دیتے ہیں (نعوذ باللہ)۔ ساری زندگی سائے کی طرح مرزا قادیانی کے ساتھ رہا اور بناسپتی نبوت کی منصوبہ سازی میں پیش پیش رہا۔ ایک دن گھوڑے پر

صفحہ 75

سوار کہیں جا رہا تھا کہ گھوڑے نے پیٹھ سے زمین پر پٹخا جس سے ٹانگ ٹوٹ گئی۔ زخم ٹھیک نہ ہوا اور بگڑ کر گینگرین ہو گئی۔ اسی حالت میں اس کی بیوی کسی کے ساتھ فرار ہو گئی۔ جوان بیٹے کو بشیر الدین نے قتل کرا دیا اور اسی قاتل نے خلافت حاصل کرنے کے لیے اس کی بیٹی سے شادی رچائی۔ مرزا بشیر الدین نے باقی بیٹوں کو دھکے دے کر جماعت سے نکال دیا۔ آخری وقت میں زبان بند ہو گئی اور چہرہ مسخ ہو گیا۔ اسی حالت میں ختم نبوت کا غدار اس جہان فانی سے اپنی بقایا سزا پانے کے لیے اس دار باقی میں پہنچ گیا۔

مولانا لال حسین اخترؒ کی قادیانیت سے توبہ ٭ مولانا لال حسین اخترؒ کالج میں پڑھتے تھے کہ تحریک خلافت چلی۔ کالج کو خیرباد کہہ کر تحریک خلافت میں شامل ہو گئے۔ خلافت کمیٹی بٹالہ کے زیر ہدایت گورداسپور ضلع بھر میں خوب تحریک کا کام کیا۔ بالآخر گورداسپور کی عدالت میں تقریریں کرنے پر مقدمہ چلا۔ ایک سال کی سزا ملی‘ جو گورداسپور کی جیل میں کاٹی۔ رہا ہوئے تو آریہ سماج اور شدھی کی تحریک کے مقابلہ پر کام کرنے کا عزم کیا۔ مرزائیوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ مرزائیوں کی نام نہاد تبلیغ اسلام کے دام تزویر میں پھنس گئے۔ ان کی بیعت کی۔ انجمن کے کالج میں داخل ہو گئے۔ سنسکرت‘ وید وغیرہ بھی اسی دوران پڑھے۔ سیکرٹری احمدیہ ایسوسی ایشن ایڈیٹر ”پیغام صلح“ لاہور وغیرہ کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے اور آٹھ سال تک لاہور میں مرزائیوں کے مبلغ کی حیثیت سے مرزائی عقائد کی تبلیغ کرتے رہے۔ بالاخر ترک مرزائیت کرنے پر خود لکھتے ہیں: ”اللہ رب العزت نے فضل فرمایا۔ 1931ء کے وسط میں چند خواب دیکھے‘ جن میں مرزا قادیانی کی نہایت گھناؤنی شکل دکھائی دی اور اسے بری حالت میں دیکھا۔ آخرکار ان خوابوں سے متاثر ہو کر فیصلہ کیا کہ خداوند کریم کو حاضر و ناظر سمجھ کر‘ محبت و عداوت کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کی مشہور تصنیفات کا مطالعہ کیا۔ خالی الذہن ہو کر جوں جوں مطالعہ کرتا‘ مرزا کی صداقت مشتبہ ہوتی گئی۔ یہاں

صفحہ 76

تک کہ مجھے یقین کامل ہو گیا کہ مرزا قادیانی جھوٹا تھا۔

ان خوابوں کی تفصیل مولانا عبدالرحیم اشعر کی زبانی سنئے‘ جو حضرت موصوف کے نامور شاگرد اور رفیق سفر اور مجلس کے مناظر اسلام ہیں حضرت مولانا لال حسین اختر استاذی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک رسی ہے‘ جس کا ایک سرا میرے ہاتھ میں اور دوسرا مرزا قادیانی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ آئے اور انہوں نے کوئی چیز مار کر درمیان سے رسی کاٹ ڈالی۔ یک دم دھڑام ہوا۔ میں گھبرایا تو بزرگ نے کہا کہ وہ دیکھو مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔ میں نے دیکھا تو آگ کے الاؤ میں مرزا قادیانی جل رہا تھا اور اس کی شکل خنزیر کی سی تھی۔

دوسری دفعہ خواب میں دیکھا کہ جہنم میں مرزا قادیانی خنزیر کی شکل میں رسیوں سے جکڑا ہوا جل رہا ہے۔ میں ڈر گیا۔ غیب سے آواز آئی کہ یہ شخص مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے سب اسی طرح جلیں گے۔ تم بچ جاؤ۔ چنانچہ یکم جنوری 1932ء کو مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔

حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کا کشف : حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ نے ایک دفعہ مراقبہ کیا اور مرزا قادیانی کو قبر میں باؤلے کتے کی شکل میں دیکھا کہ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے اور وہ انتہائی خوفناک آوازیں نکال رہا ہے۔ بڑی پھرتی سے گھوم گھوم کر منہ سے دم پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غصہ میں آکر کبھی اپنی ٹانگوں کو کاٹتا ہے اور کبھی سرزمین پر پٹختا ہے۔ (اللہ تعالیٰ اس لعین کے عذاب میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین)

عبدالکریم قادیانی کا انجام : جسم کا موٹا‘ قد کا چھوٹا‘ نیت کا کھوٹا‘ مرزا قادیانی کے استنجے کا لوٹا۔ ایک آنکھ نہیں تھی‘ ایک کان نہیں تھا‘ ایک بازو نہیں تھا‘

صفحہ 77

بے ڈبے چہرے پر چیچک کے داغ تھے، سر کے ایک طرف کے بال کچھ یوں اڑے ہوئے جیسے جل گئے ہوں، ایک پاؤں کی ہڈی تھوڑی سی ٹیڑھی، نیم وا آنکھیں جنہیں دیکھ کے پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے۔ پیٹ اس انداز سے پھولا ہوا جیسے مٹکے کو ابھارا ہو جائے۔ اگر یہ نقوش اور خدوخال کسی مصور کو دے دیے جائیں تو جو لاجواب تصویر بنے گی وہ عبد الکریم ہوگا۔ مرزا قادیانی کے عبادت خانے کا امام تھا۔ اس کی شکل اور وجود کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ مرزا قادیانی کے جسم سے نکلنے والی لعنتی شعاعوں کو سب سے زیادہ اس نے اپنے وجود میں جذب کیا ہے۔ سیالکوٹ کا رہنے والا تھا۔ حکیم نور الدین مرتد کی ارتدادی تبلیغ سے مرتد ہوا اور حکیم نور الدین مرتد اس کے ایمان کا قاتل ٹھہرا۔ بڑا جوشیلا مقرر تھا۔ جب زیادہ جوش میں آتا تو منہ سے جھاگ اور تھوک کا سلسلہ شروع ہو جاتا جس سے قریبی سامعین خوب مستفید ہوتے۔ جب زیادہ جوش میں آتا تو اپنے "باقی ماندہ" اعضاء کو یوں حرکت دیتا کہ ابھی اڑ کر سامنے والی دیوار پر جا بیٹھے گا۔ مرزا قادیانی پر یوں فدا تھا جیسے شیطان مردے پہ فدا تھا۔ اپنے نام نہاد جمعہ کے خطبہ میں مرزا قادیانی کو اللہ کا نبی اور رسول کہتا اور دجل و فریب کی کالی اور زہریلی زبان سے قرآن و حدیث سے اس کی نبوت ثابت کرنے کی ناپاک جسارت کرتا۔ ایک دن عبد الکریم کے جسم پر ایک پھوڑا نمودار ہوا۔ بڑا علاج معالجہ کرایا گیا لیکن پھوڑا مرزا قادیانی کی زبان کی طرح بڑھتا ہی گیا اور آخر اس کا پورا وجود پھوڑا بن گیا۔ ڈاکٹروں نے چیر پھاڑ کر کے بدن کاٹ کاٹ کے رکھ دیا۔ مرتد عبد الکریم اور مرزا قادیانی ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔ اوپر کی منزل پر مرتد عبد الکریم اور نیچے کی منزل میں مرزا قادیانی۔ درد کی شدت سے مرتد عبد الکریم ذبح ہوتے بکرے کی طرح چیخیں مارتا جس سے سارا مکان ہل ہل جاتا۔ اس کا کٹا پھٹا اور چیرا پھاڑا وجود تڑپ تڑپ کر چارپائی سے نیچے گرتا جسے پھر چارپائی پر رکھ دیا جاتا۔ وہ چیخ چیخ کر مرزا قادیانی کو ملنے کے لیے آوازیں دیتا۔ لوگ مرزا قادیانی سے کہتے کہ تم اس سے مل لو، وہ تمہاری یاد میں روتا ہے۔ مکار مرزا جواب دیتا کہ مجھے اس کی

صفحہ 78

تکلیف کا انتہائی دکھ ہے اور میرا دل اسے ملنے کے لیے تڑپتا ہے لیکن میں اسے نہیں مل سکتا کیونکہ میں ایک کمزور دل کا آدمی ہوں اور مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جائے گی۔ درحقیقت مرزا اس سے ملنے صرف اس لیے نہیں جاتا تھا کہ کہیں اس کے قریب جانے سے یہ مہلک بیماری اسے بھی نہ لگ جائے۔ جب مرتد عبد الکریم کی چیخوں کی صدائیں زیادہ ہولناک ہوتیں تو مرزا قادیانی نے اپنا رہائشی کمرہ بدل کر اس کمرے میں رہائش اختیار کر لی جہاں چیخوں کی آواز کم آتی تھی۔ مرتد عبد الکریم مرزا قادیانی کو ملاقات کے لیے پکارتا رہا لیکن مرزا قادیانی اسے ملنے نہ آیا۔ آخر یہی حسرت دل میں لیے وہ تڑپتا تڑپتا جہنم واصل ہو گیا۔ مرزا قادیانی مرے ہوئے عبد الکریم کا چہرہ بھی ڈر کے مارے دیکھنے نہ گیا۔ مرتد عبد الکریم کا جنازہ میدان میں پڑا ہے۔ مرزا قادیانی وہاں آتا ہے۔ مرزے کا ایک مرید کفن سے عبد الکریم کا منہ نکال کر مرزے کو کہتا ہے کہ حضرت صاحب چہرہ دیکھ لیں۔ عیار مرزا قادیانی رونی صورت بنا کر کہتا ہے کہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔ آخر جھوٹے نبی کا جھوٹا صحابی‘ جھوٹی مسجد کا جھوٹا امام‘ جھوٹے بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ مرتد عبد الکریم وہ پہلا مردہ تھا جو سب سے پہلے قادیانی بہشتی مقبرہ میں دفن ہوا۔ یعنی قادیانی بہشتی مقبرہ کا ”بہترین افتتاح“ اس ”بہترین مردہ“ سے کیا گیا۔

پھگلہ میں مباہلہ اور مرزائیوں کا انجام ❦ آپ مانسہرہ سے اگر بالاکوٹ کی طرف جائیں تو ”عطر شیشہ“ کے قریب ایک گاؤں پھگلہ نامی ہے جس میں اکثر آبادی سادات کی ہے۔ اس قصبہ میں سب سے پہلے عبدالرحیم شاہ نامی ایک شخص نے مرزائیت قبول کی اور مرزائیت کا مبلغ بن کر مرزائیت کی تشہیر شروع کر دی‘ لیکن علماء کرام نے ہر دور میں باطل کے خلاف زبان و سنان سے جہاد کیا۔ خدا کی شان ہے اس علاقہ میں علماء حق علماء دیوبند کثیر تعداد میں تھے‘ خاص کر پھگلہ میں بھی مولانا قاضی عبداللطیف فاضل دیوبند سے اکثر و بیشتر مرزائیوں کا مباحثہ چلتا رہتا تھا۔ شدہ شدہ

صفحہ 79

معاملہ مباہلے تک پہنچا۔ طے یہ پایا کہ تین تین آدمی دونوں طرف سے لے لیے جائیں۔ مسلمانوں کی جانب سے تین علماء کرام تھے، جو مندرجہ ذیل ہیں:

مرزائیوں کی جانب سے (1) عبدالرحیم شاہ۔ (2) غلام حیدر۔ (3) عبدالرحیم عرف کیمیم چنے گئے۔

یہ تاریخی مباہلہ 26 فروری 1943ء جمعہ کے دن طے پایا اور اردگرد کے مضافات میں بھی اطلاعات بھیج دی گئیں۔ عوام کا عظیم اجتماع حق و باطل کے اس معرکے کو دیکھنے کے لیے امنڈ آیا اور جگہ بھی ایسی منتخب کی گئی جو کہ علاقہ کا مشہور ترین مزار تھا، جو ”غازی بابا“ کے نام سے مشہور ہے۔ مباہلہ شروع ہونے سے قبل حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب نے مباہلہ کی حقیقت بیان کی اور غرض و غایت سے عوام کو روشناس کرایا۔ نیز قادیانیت کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں، جبکہ مرزائی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر زندہ ہیں، جبکہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ انتقال کر چکے ہیں اور مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ کی جگہ ”مسیح“ بن کر آیا ہے۔ ہم اس لیے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ سب مل کر عاجزی، زاری اور خلوص سے دعا کریں کہ جس کا عقیدہ غلط ہے اور جو باطل پر ہے، خداوند قدوس اس پر ہلاکت کی صورت میں (ایک سال کے اندر اندر) عذاب نازل کرے اور سخت سزا دے۔

چنانچہ تمام حاضرین نے اپنے سروں کو ننگا کر کے دعا شروع کر دی اور بیس منٹ لگاتار دعا ہوتی رہی اور مجمع سے آمین آمین کی آواز آتی رہی۔ دعا کے درمیان غلام حیدر نامی قادیانی پر غشی کا دورہ پڑا اور بیہوش ہو کر گر پڑا۔ عبدالرحیم شاہ قادیانی نے اس کو ہوش میں لانے کے بعد کھڑا کیا اور حوصلہ دیا۔ ایک دوسرا قادیانی عبدالرحیم‘

صفحہ 80

جو دکاندار تھا اور مباہلہ میں شریک تھا، اسی دعا کے دوران کہنے لگا کہ میں تو دعا کرتا ہوں کہ خداوند قدوس، جو ہم میں جھوٹا ہے، اس کو پاگل کر دے تاکہ دیکھے سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے اور دوسروں کو بھی عبرت ہو۔

راقم الحروف سے حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہ نے بیان فرمایا کہ مباہلہ سے قبل میں نے عبدالرحیم شاہ قادیانی سے، جو وہاں مرزائیوں کا سرغنہ تھا، کہا کہ آؤ تم اور میں ایک آسان طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ جو چیڑ کے بلند و بالا درخت ہیں، ان درختوں پر چڑھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اوپر سے چھلانگ لگاتے ہیں، جو سچا ہو گا وہ بچ جائے گا اور جو جھوٹا ہو گا وہ نیچے گرتے ہی مر جائے گا۔ لیکن عبدالرحیم شاہ قادیانی نے اس بات سے بالکل انکار کر دیا اور کہا کہ نہیں، ہم مباہلہ ہی کریں گے۔

اب سنئے! مباہلہ کرنے والے قادیانی لوگوں کے ساتھ کیا بیتی اور ان کا انجام کیا ہوا۔ عبدالرحیم قادیانی نے دوران مباہلہ خود کہا تھا کہ خدا جھوٹے کو پاگل کر دے۔ ایک ماہ کے بعد وہ پاگل ہو گیا اور اول فول بکنے لگا۔ قریب "جبہ" نامی بستی میں فوج کا کیمپ تھا۔ وہ وہاں بغیر اجازت داخل ہوا اور شور شرابا شروع کر دیا۔ انگریز کمانڈر تھا۔ اس نے عبدالرحیم قادیانی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا اور کافی دنوں تک جیل میں رہا۔ جب جیل سے رہا ہوا تو خود کہنے لگا کہ میں نے مرزا قادیانی کو سور کی شکل میں دیکھا ہے اور قادیانی عقیدے کو ترک کر کے اسلام قبول کیا۔ غلام حیدر نامی قادیانی کو اس کے بھتیجوں نے ٹھیک ایک مہینہ کے بعد جمعہ کے دن 26 مارچ 1943ء کو بالکل معمولی بات پر جہنم واصل کر دیا۔ غلام حیدر کی کوئی اولاد نہ تھی۔ بھتیجوں کو سیشن کورٹ کے سپرد کر دیا گیا۔ چنانچہ چند مہینے ہی گزرے تھے کہ پولیس نے بغیر کسی سزا اور جرمانہ کے بری کر دیا اور اس کے وہ بھتیجے تاحال زندہ ہیں۔ راقم الحروف نے بالمشافہ ان سے بات بھی کی ہے۔ انہوں نے یہی کچھ بتایا ہے۔ راقم سے حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اس سال سے ہم تینوں علماء کے سر میں کبھی کبھی درد نہیں ہوا، بلکہ پہلے اگر کوئی تکلیف تھی تو وہ بھی اللہ تعالیٰ نے دور فرما دی۔

صفحہ 81

تیسرے قادیانی عبدالرحیم شاہ کو 1974ء میں اللہ تعالیٰ نے ایسی مہلک بیماری میں مبتلا کیا کہ اس کے جسم میں کیڑے پڑ گئے اور عام لوگ اس کے کمرہ میں نہ جا سکتے تھے۔ کمرے میں داخل ہونے سے ہی بدبو آتی تھی۔ بالآخر کافی مدت ایسی کیفیت میں رہنے کے بعد عبدالرحیم شاہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

مباہلین علماء میں سے صرف مولانا مکرم عبداللہ صاحب مدظلہ بقید حیات ہیں۔ بقیہ دو حضرات کچھ عرصہ قبل اس دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں۔ میں نے یہ روئداد مولانا مکرم عبداللہ صاحب سے سن کر قلمبند کی ہے۔

(مولانا منظور احمد شاہ آسی ۔ تذکرہ مجاہدین ختم نبوت' ص 307 تا 310 )

قادیانیو! اگر تم اپنی روش سے باز نہ آئے تو ایسا ہی عذاب منہ کھولے اور پنجے پھیلائے بڑی بے تابی سے تمہارا انتظار کر رہا ہے۔۔۔۔ قبر میں آگ لگنے کا عذاب۔۔۔۔ گرزوں کا عذاب۔۔۔۔ پیاس کی شدت کا عذاب۔۔۔۔ کھولتا پانی پینے کا عذاب۔۔۔۔ خون اور پیپ نوش کرنے کا عذاب۔۔۔۔ کھال جل جانے کا عذاب۔۔۔۔ انتڑیاں کٹ جانے کا عذاب۔۔۔۔ دماغ ابل جانے کا عذاب۔۔۔۔ سانپ اور بچھوؤں کا عذاب۔۔۔۔ لیکن ابھی تمہارے اور عذاب کے درمیان مہلت کی دیوار حائل ہے۔۔۔۔ ابھی سانسوں کی ڈور نہیں ٹوٹی۔۔۔۔ ابھی زیست کا چراغ نہیں بجھا۔۔۔۔ ابھی عزرائیل پیغام موت لے کر نہیں آیا۔۔۔۔ لحظہ لحظہ۔۔۔۔ لمحہ لمحہ۔۔۔۔ گھڑی گھڑی تمہارے ہمدرد اور غمگسار بن کر تمہارے دل و دماغ کے دروازوں پر دستک دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں۔

نہ جا اس کے تحمل پہ کہ ہے بے ڈھب گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
صفحہ 28
PDF 83

قومی شناختی کارڈ

اور

مذہب کا خانہ

جس سے باغیان ختم نبوت "قادیانیوں" کا خاتمہ خراب ہوگا

جس سے شخصی شناخت کے ساتھ ساتھ مذہبی شناخت بھی ہوگی

جس سے کفر و ارتداد کے راستے مسدود ہونگے

جس سے لوگوں کو اسلام کے نام پر قادیانی بنانے کی مذموم کوششیں دم توڑیں گی

عالم اسلام کا متفقہ مطالبہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان

صفحہ 28
صفحہ 85

جب سے حکومت پاکستان نے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج کا فیصلہ کیا ہے وطن عزیز میں ایک عجب شور بپا ہے۔ حالانکہ حکومت نے یہ فیصلہ چاروں صوبائی حکومتوں، وزارت مذہبی امور اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق کیا ہے۔ اس شور مچانے میں عیسائی اقلیت سب سے پیش پیش ہے۔ جلوس نکالے جا رہے ہیں، سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک روک کر مظاہرے کئے جا رہے ہیں، بھوک ہڑتالیں ہو رہی ہیں، اخبارات میں بیان بازی اپنے زوروں پر ہے اور حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ عیسائیوں کے ساتھ بے دین سیاست دان بھی شامل ہو گئے ہیں اس شوروغل میں ایک اقلیت خاموش بیٹھی ساحل کی تماشائی ہے۔ دراصل اس اقلیت نے اس شیطانی کھیل کو تشکیل دیا ہے۔ اس اقلیت نے اس سازش کے تانے بانے بنے ہیں اور اپنے لیڈر کے حکم پر اس سازش کو کامیاب کرانے کے لئے تجوریوں کے منہ کھول دیئے ہیں۔ یہ اقلیت کون سی ہے؟ سازشیوں کا یہ گروہ کون سا ہے؟ یہ وہی گروہ ہے جس کے بارے میں مفکر پاکستان، مصور پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا ”قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں“۔ ایک دوسرے موقع پر حکیم الامت نے پوری امت کو قادیانی فتنہ سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا۔ ”قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے“۔

دراصل شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج سے قادیانیوں کی کمر ٹوٹ جاتی ہے، قادیانی بیرونی ممالک میں جاکر خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنے حوالے سے لوگوں میں اسلام کی تبلیغ کرکے انہیں اپنے دام تزویر میں پھنساتے ہیں اور انہیں

صفحہ 86

اسلام کے نام پر قادیانی بنا لیتے ہیں جسے ملت اسلامیہ کسی بھی صورت میں قبول نہیں کر سکتی۔ قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں داخل ہو جاتے ہیں جبکہ وہاں ان کا داخلہ ممنوع ہے اور اس کے علاوہ اسی طریقہ جعل سازی سے حج اور عمرہ بھی کر لیتے ہیں۔ حالانکہ کوئی کافر حرم شریف کی حدود میں داخل نہیں ہو سکتا جبکہ قادیانی اپنے دجل و فریب سے حرم شریف میں اپنے ناپاک وجود سے حرم شریف کی حرمت کو روندتے رہتے ہیں۔

۱۹۷۴ء کی زبردست تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں پاکستانی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا لیکن قادیانیوں نے آج تک اس عظیم فیصلے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ وہ بڑی ڈھٹائی سے خود کو مسلمان اور پوری ملت اسلامیہ کو کافر کہتے ہیں۔ اپنے ووٹ مسلمانوں کے ووٹوں میں درج کراتے ہیں اور ان ووٹوں کے عوض بے دین سیاست دانوں سے اپنے مفادات کا سودا کرتے ہیں۔ کیونکہ ووٹنگ لسٹ شناختی کارڈ کے تحت بنتی ہے اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہیں ہوتا اس لئے قادیانی اپنے ووٹ مسلمانوں میں بنوا لیتے ہیں۔ ۱۹۷۴ء سے لے کر آج تک قادیانیوں نے ہمیشہ ظاہری طور پر الیکشن کا بائیکاٹ کیا ہے اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ان کی نشستیں خالی رہتی ہیں۔ موجودہ اسمبلیوں میں جو قادیانی بیٹھے ہوئے ہیں قادیانیوں کے خلیفہ مرزا طاہر نے واضح طور پر اعلان کر دیا تھا کہ ان کا قادیانی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اندراج ہو جائے تو قادیانیوں کے مندرجہ بالا دجل و فریب کے سارے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔

عیسائی حضرات یہ کہہ رہے ہیں کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ درج کرنے سے ان کے حقوق متاثر ہوں گے اور وہ پاکستان میں دوسرے درجے کے شہری بن جائیں گے۔ ہم ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک کیا مسلمانوں نے آپ کو پاکستان کا باعزت شہری تسلیم نہیں کیا؟ کیا آپ کی برادری کے لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز نہیں رہے اور کیا اب بھی ان کے پاس اہم آسامیاں نہیں ہیں؟ کیا پاکستان میں آپ کے عبادت خانے محفوظ نہیں؟ کیا عیسائی مشنریاں اور عیسائی سکول

صفحہ 87

بڑے دھڑلے سے اپنا کام نہیں کر رہے؟ کیا آپ کے بچوں کے لئے مسلمانوں کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں کے دروازے کھلے نہیں؟ ہم انہیں بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس خاتم الانبیاء کو ماننے والے ہیں جس کا فرمان ہے کہ "بیٹی بیٹی ہے چاہے کافر کی ہو۔" جس کے در پر جانور بھی اپنی شکایات سناتے تھے اور انصاف پاتے تھے۔ ہم ان خلفائے راشدین کے نام لیوا ہیں جو ذمیوں کو یہ کہہ کر رقم واپس کر دیتے تھے کہ اب ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے۔ ہمارا تعلق محمد بن قاسم کی قوم سے ہے جو جب ہندوستان سے واپس گیا تو یہاں کے لوگ اس مجسمہ اخلاق کی محبت میں ڈوب کر اس کی مورتیاں بنا کر پوجنے لگے۔

لادین سیاست دان یہ نغمے الاپ رہے ہیں کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ درج ہونے سے پاکستانی قوم ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔ ہم ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ مذہب اور عقائد کے لحاظ سے دنیا شروع سے ہی خانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پاکستان میں شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج سے کون سا طوفان آ جائے گا؟ کیا پاکستان میں مختلف مذاہب کی عبادت گاہیں جدا جدا نہیں ہیں؟ کیا الہامی یا مذہبی کتابیں جدا جدا نہیں ہیں؟ کیا انبیائے کرام یا مذہبی رہنما الگ الگ نہیں ہیں؟ کیا مذہبی تہوار اور مذہبی رسومات الگ الگ نہیں ہیں؟ کیا انسانی زندگی میں یہ مذہب کے خانے نہیں ہیں؟ اس دنیا میں بھی ہر شخص کے دل میں مذہب کا خانہ ہے اور قبر میں بھی مذہب کا خانہ ہو گا جب اس سے پوچھا جائے گا کہ "بتا تیرا دین کیا ہے؟" اور پھر قبر سے اٹھانے کے بعد میدان حشر میں ہر امت یا گروہ اپنے نبی یا مذہبی رہنما کی قیادت میں نہیں چلے گا؟ کیا کسی مسلمان کا اپنے گلے میں لفظ "اللہ" کا لاکٹ لٹکانا مذہب کا خانہ نہیں؟ کیا کسی عیسائی کا اپنے گلے میں صلیب لٹکانا مذہب کا خانہ نہیں؟ کیا کسی ہندو کا اپنے گلے میں کسی بھگوان کی مورتی لٹکانا مذہب کا خانہ نہیں؟ کیا کسی قادیانی کا اپنے ہاتھ میں اپنی مخصوص انگوٹھی پہننا مذہب کا خانہ نہیں؟ کیا پاکستانی پرچم کے دو رنگ مذاہب کے خانے نہیں؟ تو پھر اگر شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ آ جائے تو پھر یہ اودھم کیوں؟

صفحہ 88

شناختی کارڈ کے فارم میں مذہب کا خانہ درج ہے تو کارڈ میں اس کے اندراج سے کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی؟ پاسپورٹ‘ سکولوں‘ کالجوں‘ یونیورسٹیوں کے داخلہ فارموں اور سرکاری دفاتر میں ملازمتوں کے فارموں میں بھی مذہب کا خانہ موجود ہے تو صرف شناختی کارڈ پر ہی تنقید کیوں؟

مسیحی حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ تو خود کو پہلے ہی غیر مسلم اقلیت تسلیم کرتے ہیں اور اپنے عیسائی ہونے کا فخریہ اعلان کرتے ہیں۔ صدر پاکستان جناب غلام اسحاق خان نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ”کسی کو اپنے مذہب کے اظہار پر شرمندگی نہیں ہونی چاہئے“۔ مذہب کے خانے کا اقدام تو صرف قادیانیوں کے دجل و تلبیس کو ختم کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں ملکی قانون کا پابند بنایا جائے جس کے وہ ۱۹۷۴ء سے باغی ہیں۔

آج محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اور پیپلز پارٹی کے دیگر قائدین اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ سے ملک میں بے چینی اور فرقہ واریت پھیلے گی۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ کے والد محترم جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے دور میں ہی قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا اور پیپلز پارٹی والے اسے بھٹو صاحب کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ گردانتے ہیں۔ ہم تو صرف اس کارنامے کے ایک لفظ کو شناختی کارڈ میں لکھوانا چاہتے ہیں۔ ان کی خدمت میں مزید گزارش ہے کہ قادیانیت‘ عیسائیت‘ ہندو مت‘ سکھ مت وغیرہ اسلام کے فرقے نہیں بلکہ اپنی اپنی جگہ پر الگ الگ مذاہب ہیں۔ اس لئے وہ فرقہ واریت کی فکر نہ کریں۔

قادیانی خاندان کی بہو عاصمہ جہانگیر اور قادیانیوں کے ہم نوالہ‘ ہم پیالہ حنیف رامے‘ اعتزاز احسن‘ اصغر خان وغیرہ بڑی شدت سے پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج سے اقلیتوں کے انسانی حقوق متاثر ہونگے۔ اس سلسلہ میں وہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول کرا رہے ہیں۔ ہم انسانی حقوق کے ان علمبرداروں اور غمخواروں سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان

صفحہ 89

میں راحت و سکون میں بیٹھی ہوئی اقلیتوں کے فرضی انسانی حقوق کا تو تمہیں بہت فکر ہے لیکن کیا تمہیں ہندوستان میں غلام انسانیت، مقبوضہ کشمیر میں ذبح ہوتی انسانیت، فلسطین میں مجروح انسانیت، بلغاریہ میں زنجیروں میں جکڑی انسانیت، ایتھوپیا میں بھوکی ننگی انسانیت، سری لنکا میں سسکتی انسانیت اور بوسنیا میں روتی پیٹتی لٹتی انسانیت نظر نہیں آتی؟

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

اقلیتوں کے بعض وکیل اور مذہب بیزار شخصیات اخبارات میں یہ بھی بیانات جاری کر رہی ہیں کہ ملک میں جداگانہ طریقہ انتخاب کی بجائے مخلوط طریقہ انتخاب رائج کیا جائے۔ کوئی اقلیتوں کے ان ہمدردوں سے کہے کہ آپ مذہب کی بیزاری کی رو میں چلتے ہوئے اقلیتوں کا بیڑا غرق تو نہ کریں اگر ملک میں مخلوط طریقہ انتخاب رائج ہو گیا تو کوئی بھی اقلیتی نمائندہ اسمبلی میں نہیں جاسکے گا اور یہ نظریہ پاکستان کی بھی سراسر نفی ہو گی۔

قادیانی اور ان کے حواری پاکستان کو ایک لادینی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں مذہب کا کوئی عمل دخل نہ ہو لیکن شاید ان کے ذہنوں سے یہ چیز نکل گئی ہے کہ پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور اس کا سرکاری مذہب اسلام ہے، اس کی شناخت اسلام ہے، اس کی بنیاد اسلام ہے، اس کا خمیر اسلام ہے، اس کا ضمیر اسلام ہے، اس کی ابتداء اسلام ہے اور انشاء اللہ اس کی انتہا بھی اسلام ہی ہے۔ یہ رمضان المبارک کے مہینہ میں شب قدر کی بابرکت ساعتوں میں امت محمدیہؐ کو اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ انمول تحفہ ہے۔ اس کی بنیادوں میں شہیدان اسلام کا خون تیر رہا ہے۔ اس کی فضائیں شہیدان اسلام کے خون سے مہک رہی ہیں۔ آج بھی تحریک پاکستان کے شہداء کی روحیں جنت کے دریچوں سے ارض وطن کو دیکھ رہی ہیں اور وہ ہم سے سوال کرتی ہیں کہ بتاؤ کیا ہماری قربانیاں رنگ نہیں لائیں؟ کیا ہمارا خون رائیگاں گیا؟ کیا ہماری لٹی ہوئی عصمتیں کوئی انقلاب نہیں لا سکیں؟ پاکستان میں اسلام کیوں نافذ

صفحہ 90

نہیں ہو رہا؟ تم اللہ سے کیا گیا وعدہ کیوں ایفاء نہیں کر رہے؟۔ بولو۔۔۔ بولو۔۔۔ بولتے کیوں نہیں۔۔۔۔۔ جواب دو۔۔۔۔ جواب دو۔۔۔ جواب کیوں نہیں دیتے۔۔۔۔ ان کا اتنا بڑا سوال اور ہمارا یہ جواب کہ ہم قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ درج کرنے کو بھی تیار نہیں۔

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
صفحہ 28
PDF 92

شمع ختم نبوت

کے

پروانوں کی باتیں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب

ضلع شیخوپورہ

☎ 2329

صفحہ 93

نبوت انسانیت کی معراج ہے اور ختم نبوت‘ نبوت کی معراج ہے۔ ختم نبوت جناب خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی امتیازی شان ہے‘ پورے دین کی روح و جان ہے اور اس کا منکر پکا بے ایمان ہے۔ عقیدہ ختم نبوت وحدت امت کا علمبردار ہے‘ جو اس عقیدہ کا باغی ہے وہ ملت اسلامیہ کا غدار ہے۔ عقیدہ ختم نبوت سے انکار عقل و خرد سے بغاوت اور اپنے ایمان سے عداوت ہے۔ المختصر جو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھے وہ عاقل اور جو نہ رکھے وہ پاگل!

حق تعالیٰ نے ہم پر احسان عظیم کیا کہ اس نے ہمیں اپنا رسول کریم دیا۔ پہلے نبیوں میں سے کوئی نبی ایک ملک کے لیے نبی بن کر آیا‘ کوئی ایک شہر کے لیے نبی بن کر آیا‘ کوئی ایک قبیلے کے لیے نبی بن کر آیا‘ اور کوئی صرف ایک بستی کے لیے نبی بن کر آیا لیکن آمنہ کا لال ساری دھرتی کے لیے نبی بن کر آیا۔ رب العزت نے آپ کو تخت ختم نبوت پر بٹھا کر اور آپ کے سر اقدس پر تاج ختم نبوت سجا کر آپ کو خاتم النبیین کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ آپ کو انبیائے کرام کی امامت دے کر امام الانبیاء بنایا اور اہل دنیا سے آپ کا تعارف ”وما ارسلنک الا رحمتہ اللعالمین“ کے اعزاز جلیلہ سے کرایا۔

ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سید البشر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم تک سارے نبی صادق و امین ہیں اور آپ کے بعد ہر مدعی نبوت لعین ہے۔ جناب خاتم النبیین کے بعد سلسلہ وحی بند ہے۔ جو اس حقیقت سے انکار کرے وہ سراپا کفر کی غلاظت اور ارتداد کا گند ہے۔ اس گلشن ہستی کا دین صرف اسلام ہے۔ جو اس میں شامل ہے‘ اُس کے لیے دنیا و آخرت میں بڑا انعام ہے‘ جو اس کا منکر ہے جہنم اس کا انجام ہے۔ جو اس دین متین میں شامل ہو کر پھر کسی اور دین کو اختیار کرے‘ وہ انتہائی بد ہے۔ شریعت اسلامیہ میں اس کا نام مرتد ہے۔ اس کی سزا قتل ہے کیونکہ یہی حکم خدا اور اسلامی عدل ہے۔

شریعت محمدیہ آخری شریعت ہے۔ اسی میں انسان کی خیریت ہے اور اس کے بعد

صفحہ 94

ہر نظریہ حیات انسانیت کے لیے اذیت ہے۔ کلمہ طیبہ کلمہ عالم ہے۔ جو اس میں تحریف کرے یا اس کے مفہوم کو بدلے، وہ بڑا ظالم ہے۔ سنت سید الاولین و آخرین قیامت تک کے لیے آنے والوں کے لیے رہبر طریقہ ہے۔ اس میں زندگی کا ہر ہر سلیقہ ہے۔ اس کا پہلو پہلو روشن اور مصفیٰ ہے۔ امت محمدیہؐ آخری امت ہے، جو گروہ یا فرد اس میں شامل نہیں وہ غرقاب ظلمت ہے۔ قرآن مجید آخری کتاب ہے۔ پوری انسانیت کے لیے چراغ راہ و باعث نجات ہے۔ گمراہی کے ویرانوں میں بھٹکنے والے پیاسوں کے لیے آب حیات ہے۔ کفر کی سیاہ رات میں دمکتا ہوا مہتاب ہے اور قیامت تک کے لیے آنے والے جن و انس کے لیے رشد و ہدایت کا چمکتا ہوا آفتاب ہے۔ الغرض اب شریعت محمدیہؐ کی تکمیل اور دین اسلام کی تکمیل ہو چکی ہے۔ اب امت نہ تو کسی نئے نبی کی محتاج ہے اور نہ ہی اسے کسی نئی کتاب کی احتیاج ہے۔

کیونکہ مسئلہ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے، اس لیے مسلمان تاج و تخت ختم نبوت کی حفاظت میں بڑا حساس ہے۔ وہ ہر جھوٹے مدعی نبوت پر شعلہ جوالہ بن کر گرا ہے اور اسے جلا کر خاکستر کیا ہے۔ چاہے وہ وقت کا کتنا ہی بڑا غنڈہ یا بدمعاش ہے، وہ ہر دور میں اپنے نبی کی عزت و عصمت کی حفاظت کے لیے غیرت کا پہاڑ اور پیکر ایثار ثابت ہوا ہے۔ عہد رسالت کے آخری ایام میں جب اسود عنسی نے دعویٰ نبوت کیا تو فیروز دیلمی مسلمان نے اس مردود کو قتل کر کے موت کی نیند سلایا۔ جب مسیلمہ کذاب نے جناب خاتم النبیینؐ کی دستار ختم نبوت پہ ہاتھ ڈالا تو سیدنا صدیق اکبرؓ نے اسے خاک و خون میں تڑپایا۔ مغیرہ بن سعید بجلی نے جب تخت ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کی تو خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے اسے گرفتار کر کے زندہ آگ میں جلایا۔ ابو منصور عجلی نے جب منصب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھنے کی ناپاک جسارت کی تو خلیفہ ہشام بن عبدالملک نے اس ملعون کو پکڑ کر تختہ دار پر لٹکایا۔ غرضیکہ ان جھوٹے مدعیان نبوت کا یہ ذلیل گروہ اپنی کفر و ارتداد کی شاہراہ پر چلتا رہا اور عوام الناس کے ایمانوں پر ڈاکہ ڈالنے کی وارداتیں کرتا رہا۔ لیکن ابھی ان سب کے قائد، زندیق عصر،

صفحہ 95

مرتد زماں، کذاب ہندوستاں، چیلہ شیطاں، باغی قرآں و صاحب قرآں، دشمن انسانیت و انساں، بانی فتنہ قادیاں مرزا قادیانی جہنم مکانی نے اپنی صورت بد لے کر زمانے کے سامنے آنا تھا، ملت اسلامیہ کے سینے میں ارتداد کا خنجر مار کر گہرے زخم لگانا تھا، قرآن و حدیث کو مسخ کر کے امت مسلمہ کو تڑپانا تھا، سرور کائنات کی توہین کر کے مسلمانوں کو خون کے آنسو رلانا تھا اور ختم نبوت کے تخت پر ڈاکہ زنی کر کے مسیلمہ پنجاب کہلوانا تھا۔

مکار انگریز نے اس ملعون ازلی کو اپنے دستر خوان کی بچی کچھی ناپاک روٹیوں سے پالا۔ اسے اپنی انگریزی نبوت کے سانچے میں ڈھالا اور اس بدطینت نے اشارۂ فرنگی پر ”منسوخی جہاد“ کا کام سنبھالا۔ جہاں بھی اس انگریزی نبی نے اپنی انگلستانی نبوت کا جال بچھایا، مجاہدین ختم نبوت نے اس کا تعاقب کیا اور اسے گیدڑ کی طرح بھگایا۔ ہر میدان میں اسے گھسیٹا اور عبرتناک سبق سکھایا۔ انہوں نے قید و بند کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی سے سہا اور ان کے لبوں پر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ رہا۔ وہ خون میں نہا گئے اور عشق رسولؐ میں جام شہادت نوش فرما گئے۔ آپ بھی ان عاشقان رسولؐ کے ایمان پرور حالات پڑھئے اور تحفظ ختم نبوت کے لیے آگے بڑھئے۔۔۔!!

٭ ٭ ٭

سید انور شاہ کشمیریؒ کا جلال ٭ فخر المحدثین سید انور شاہ کشمیریؒ کے دورۂ حدیث میں کچھ طالب علم ضلع اعظم گڑھ سے بھی آئے ہوئے تھے۔ اعظم گڑھ کا ایک با اثر قادیانی، جو ضلع سہارنپور میں کسی اہم عہدہ پر فائز تھا، ایک دن اپنے شہر کے طلباء سے ملنے کے لیے دارالعلوم پہنچ گیا اور طلباء کو شکار کے بہانے باہر لے گیا تاکہ انہیں قادیانیت کی تبلیغ کر سکے۔ کسی طرح سے حضرت شاہ صاحبؒ کو اس واقعہ کا پتہ چل گیا۔ طلباء کی دینی بے حمیتی پر حضرت شاہ صاحبؒ کو سخت دلی رنج ہوا۔ رات کو طلباء واپس آئے اور طلباء کو جب حضرتؒ کی ناراضگی کا پتہ چلا تو سہم گئے۔ ان میں سے

صفحہ 96

ایک طالب علم حضرتؒ کے کمرے میں معذرت کے لیے گیا۔ اسے دیکھ کر حضرتؒ سخت جلال میں آگئے اور قریب پڑی چھڑی اٹھا کر اس طالب علم کی خوب مرمت کی اور فرمایا! بے شرمو! رسولؐ اللہ کی ختم نبوت کے باغی کے ساتھ میل جول رکھتے تمہیں حیا نہیں آتی۔ تمام طالب علم حضرتؒ کی خدمت میں معافی و معذرت کے مجسمے بنے پیش ہوئے اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

پٹائی ❣ نارووال میں ختم نبوت کا جلسہ ہو رہا تھا۔ امیر ملت پیر سید جماعتؒ علی شاہ جلسہ سے خطاب فرما رہے تھے۔ حاضرین گوش بر آواز بیٹھے تھے کہ نارووال کا ایک منہ پھٹ قادیانی جلسہ کے ایک کونے سے کھڑا ہو کر بک بک کرنے لگا۔ لوگوں نے اسے وہیں دبوچ لیا اور پیٹنا شروع کر دیا۔ حضرت امیر ملتؒ سٹیج سے نیچے اترے اور آپ نے اپنے ہاتھوں سے اس مردود کی پٹائی کی۔

یہ قربانیاں ان کی ❣ مولانا محمد علی جالندھریؒ ساری زندگی تحفظ ختم نبوت کی جنگ لڑتے رہے۔ عشق رسالتؐ کے جرم میں انہیں کئی دفعہ جیل جانا پڑا لیکن جیل کی دیوار ان کے رستے کی دیوار نہ بن سکی۔ ہر دفعہ جیل کاٹنے کے بعد زیادہ پرعزم ہو کر اپنے مشن میں ڈٹ جاتے۔ شدید تبلیغی مصروفیات کی وجہ سے کئی کئی ماہ گھر نہ جا سکتے۔ ایک دفعہ اپنے رفیق کار 'شاعر ختم نبوت' جناب سائیں حیاتؒ صاحب کے ساتھ ایک تبلیغی سفر پر تھے۔ صادق آباد کے قریب سے گزر ہوا۔ مولانا اپنے دوست سائیں حیات سے کہنے لگے: "یار! گھر کے قریب سے گزر رہے ہیں، چلو گھر سے ہوتے چلیں"۔ (مولانا کا گھر صادق آباد میں تھا)

مولانا گھر پہنچتے ہیں۔ اہل خانہ سے ملاقات ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کے احوال پوچھے جاتے ہیں۔ مولانا کی زوجہ محترمہ کہتی ہیں: "آپ کی گھر میں عدم موجودگی کی وجہ سے ہم بڑی تکلیف میں رہتے ہیں۔ گھر کے کام کاج میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ بہت سے کام ہیں جو صرف آپ سے متعلقہ ہیں اور آپ ہیں کہ کئی کئی مہینے گھر کی خبر

صفحہ 97

نہیں لیتے“۔

مولانا نے اہلیہ کی باتیں بڑی توجہ سے سنیں اور اہلیہ سے کہنے لگے: ”میں نے شادی کے اوائل دنوں میں ہی تجھ سے کہہ دیا تھا کہ میں اپنی زندگی ختم نبوت کو دے چکا ہوں۔ تم نے مجھے زندہ نہیں بلکہ مردہ سمجھنا ہے۔ تم اپنی پریشانیوں کا اظہار کر رہی ہو‘ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہارا مردہ خاوند زندہ ہو کر تمہارے سامنے کھڑا ہے“۔

نیک بی بی خاوند کا اچھوتا جواب سن کر ہنس پڑی‘ ساتھ ہی مولانا بھی ہنس پڑے اور اس ہنسی میں ساری بات اڑ گئی۔ چند گھنٹے گھر میں ٹھہرنے کے بعد ناموسِ محمدؐ کے اس پاسبان نے اہلِ خانہ کو اللہ کے سپرد کیا اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔

وہ صورتیں الٰہی کس دیس بستیاں ہیں
اب جن کو دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

دلیل محبت ✿ علامہ سید انور شاہ کشمیریؒ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب بھی کسی جلسہ‘ درس یا علمی گفتگو میں مرزا قادیانی کا نام آتا تو آپؒ کے چہرہ پر زبردست جلال آ جاتا‘ آنکھیں سرخ ہو جاتیں‘ ماتھے پہ شکن پڑ جاتے اور طبیعت میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہو جاتی۔ آپ جب مرزا قادیانی کا نام لیتے تو نام لینے سے پہلے لعین‘ ملعون‘ کذاب‘ دجال‘ گستاخ‘ شاتمِ رسول‘ مردود‘ بدطینت‘ بدفطرت‘ کافر‘ مرتد وغیرہ کے الفاظ استعمال فرماتے۔ ایک دن ایک صاحب نے پوچھا کہ حضرت! آپ تو حلیم الطبع اور ٹھنڈے مزاج کے آدمی ہیں‘ آپ مرزا قادیانی کے لیے ایسے الفاظ کیوں استعمال کرتے ہیں؟ آپؒ نے فرمایا! ”میاں! جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا ایمان ہے‘ اسی طرح آپؐ کے دشمنوں سے نفرت و بغض رکھنا بھی ایمان ہے۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن مرزا قادیانی ملعون تھا۔ جس شخص کو مرزا قادیانی سے جتنی نفرت ہوگی‘ اس شخص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی ہی محبت ہوگی۔ مرزے کے بارے میں میرا یہ الفاظ استعمال کرنا رسول اللہ صلی

صفحہ 98

اللہ علیہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے۔ تم اپنے باپ کے دشمنوں کو اور حکومت اپنے باغیوں کو برداشت نہیں کرتی، میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کو کیسے برداشت کرلوں؟“

حضرت لاہوریؒ کا بستر ❦ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو بھی گرفتار کیا گیا۔ آپ نے قید و بند کی صعوبتیں انتہائی خندہ پیشانی سے برداشت کیں۔ جیل میں آپ کی بزرگی کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے سونے کے لیے ایک چارپائی کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت لاہوریؒ نے جب اپنے بستر کے قریب چارپائی دیکھی تو احباب سے پوچھا کہ یہ چارپائی کس کے لیے؟

احباب نے جواب دیا کہ آپ کے لیے۔

”چارپائی کو فوراً اٹھا لو۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسیران تحریک ختم نبوت تو زمین پر سوئیں اور احمد علی چارپائی پر!“ حضرت لاہوری نے فرمایا۔

آپ نے یہ الفاظ کچھ اس انداز سے فرمائے کہ حاضرین کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں چارپائی واپس کر دی گئی اور آپ کا بستر شمع ختم نبوت کے پروانوں کے ساتھ زمین پر بچھا دیا گیا۔

وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں
انہیں کہیں سے بلاؤ بڑا اندھیرا ہے

باوفا ❦ ایک بوڑھا شخص بستر مرگ پر پڑا ہے۔ عزیز و اقارب چارپائی کے گرد بیٹھے ہیں۔ بوڑھا بڑی مشکل سے آنکھیں کھولتا ہے اور گلوگیر آواز میں پوچھتا ہے:

”کیا میرا چاند ابھی تک نہیں آیا؟“

گھر والوں کے چہرے پر مزید پریشانی پھیل جاتی ہے اور وہ جواباً کہتے ہیں کہ ابھی نہیں۔

تھوڑی دیر کے سکوت کے بعد بابا جی پھر آنکھیں کھولتے ہیں اور بڑی مشکل سے

صفحہ 99

نظریں گھما کر گھر کے دروازے کی طرف دیکھتے ہیں اور مایوس نظریں اہل خانہ کی طرف واپس لا کر سوالی ہوتے ہیں: ”کیا میرا اکلوتا بیٹا ابھی تک بھی نہیں پہنچا؟“ اہل خانہ کی آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں اور وہ روتے ہوئے ”نہ“ میں جواب دیتے ہیں۔

بابا جی پورے جسم کی قوت اکٹھی کر کے تھوڑی سی گردن گھماتے ہیں اور اپنی نظریں گھر کے دروازے پہ گاڑ دیتے ہیں اور پھر موت کی ہچکی لے کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔

بابا جی کا چاند عظیم مجاہد ختم نبوت، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، قاضی احسان احمد شجاع آبادی تھے اور بابا جی ان کے عظیم والد قاضی محمد امینؒ تھے۔ قاضی صاحب تحریک ختم نبوت کی وجہ سے جیل میں تھے۔ بیمار والد سے ملاقات کے لیے انہوں نے کئی بار کوشش کی لیکن فرعون حکمرانوں نے باپ بیٹے کی ملاقات نہ ہونے دی۔ جب والد ماجد کی موت کی اطلاع قاضیؒ صاحب تک پہنچی تو وہ زنداں میں تڑپ اٹھے۔ حکمرانوں نے قاضی صاحب کو جھکانے کے لیے اس واقعہ کو سنہری موقع سمجھا اور قاضیؒ صاحب سے کہا کہ اگر آپ معافی نامہ دے دیں تو حکومت آپ کو باپ کے جنازے میں شرکت کی اجازت دے دے گی۔

قاضی صاحب تک جب اپنے عہد کے فرعونوں کی یہ پیشکش پہنچی تو عاشق رسولؐ نے انہیں جو دندان شکن جواب دیا، وہ آج بھی عشق رسالتؐ کے آسمان پر ایک تابندہ ستارے کی صورت میں چمک رہا ہے۔ آپ نے فرمایا:

”میں نے یہ جیل رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے تحفظ میں قبول کی ہے۔ تم یہ چاہتے ہو کہ میں باپ کی محبت کو رسولؐ اللہ کی محبت پر ترجیح دے دوں اور رسولؐ اللہ کو بھول جاؤں۔ خدا کی قسم! میں ایسی ہزاروں تکلیفیں برداشت کر سکتا ہوں لیکن آمنہؓ کے لالؐ سے بے وفائی نہیں کر سکتا۔ جاؤ تمہیں حکومت مبارک ہو

صفحہ 100

اور مجھے رسول اللہ کے نام کی جیل!" آپ کا یہ باحمیت جواب سن کر ظالم حکمرانوں کے منہ لٹک گئے۔

ہم ہر حال میں حق بات کا اظہار کریں گے
منبر نہیں ہوگا تو سر دار کریں گے
جب تک بھی دہن میں ہے زباں سینے میں دل ہے
کاذب کی نبوت کا ہم انکار کریں گے

غیرت اقبالؒ ❦ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی زبردست کوششوں سے مرزائیوں کے دونوں گروہوں، قادیانیوں اور لاہوریوں کو انجمن حمایت اسلام سے نکال دیا گیا اور یہ قانون بنایا گیا کہ کوئی قادیانی یا لاہوری انجمن کا رکن نہیں بن سکتا۔ ایک دن انجمن کا اجلاس عام ہو رہا تھا۔ عاشق رسولؐ علامہ اقبالؒ اجلاس کی صدارت فرما رہے تھے۔ ساتھ میاں امیر الدین بیٹھے تھے۔ اچانک علامہ کی نظر سامنے کرسی پر بیٹھے لاہوری مرزائی ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ پر پڑی۔ علامہ چونک اٹھے۔ شدید غصہ کی حالت میں کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور گرجدار آواز میں حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کی طرف انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے:

”اگر مجھے صدر رکھنا ہے تو اس شخص کو فوراً یہاں سے نکال دو۔ میری غیرت یہ گوارہ نہیں کر سکتی کہ میرے آقاؐ کی ختم نبوت کا یہ دشمن بھی اجلاس میں بیٹھا رہے اور میں بھی موجود رہوں“۔

علامہ کا یہ فرمانا تھا کہ اجلاس میں ہلچل مچ گئی۔ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ علامہ کے اس سخت احتساب سے بدحواس ہوگیا اور انتہائی پریشانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ چنانچہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ کو بیک بینی دو گوش اجلاس سے نکال دیا گیا۔ شاہین ختم نبوت علامہ اقبالؒ کے اس ایمانی احتساب کا مرزائی مردود پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بدحواس ہو کر بہکی بہکی باتیں کرنے لگا اور اسی حالت میں چند روز میں جہنم واصل ہو گیا۔

صفحہ 101

تڑپ ♥ جناب خورشید احمد مینجنگ ایڈیٹر "میڈیکل نیوز" کراچی، اسلام آباد اپنے والد محترم کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے والد ماجد کا فخر المحدثین سید انور شاہ کشمیریؒ سے ایک خصوصی تعلق تھا۔ شاہ صاحبؒ جب لاہور تشریف لاتے، ابا جی کے ہاں ٹھہرتے۔ ایک دفعہ شاہ صاحبؒ دیوبند سے لاہور تشریف لائے۔ میرے والد صاحب ڈاکٹر جلال الدین ڈینٹل سرجن انہیں لینے کے لیے سٹیشن پر گئے۔ جب شاہ صاحبؒ سٹیشن پر تشریف لائے تو ابا جی انہیں گھر لانے لگے تو شاہ صاحبؒ نے جواب دیا کہ آج مجھے آپ کے ہاں نہیں جانا بلکہ مجھے سیدھا علامہ اقبالؒ کے پاس جانا ہے۔ مجھے علامہ کے ہاں لے چلو۔ والد صاحب شاہ صاحبؒ کو حضرت علامہ کے گھر لے گئے۔ والد صاحب باہر بیٹھے رہے۔ حضرت سید انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت علامہ اقبالؒ ایک بند کمرے میں بڑی دیر تک گفتگو کرتے رہے۔ جب دروازہ کھلا تو والد صاحب نے دیکھا کہ علامہ اقبالؒ بچوں کی طرح آنسو بہا رہے ہیں اور زار و قطار رو رہے ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے ابا جی سے کہا کہ مجھے سٹیشن پر چھوڑ دیجئے۔ وہ آپ کو لے کر سٹیشن کی طرف چل دیے۔ راستے میں ابا جی نے شاہ صاحبؒ سے گھر چلنے کا اصرار کیا تو شاہ صاحبؒ نے ابا جی سے کہا "آج میں صرف علامہ اقبالؒ کو قادیانیوں کی موجودہ زہرناکیوں سے آگاہ کرنے آیا ہوں۔ دیوبند سے لاہور صرف اسی عظیم مقصد کے لیے سفر کیا۔ میں اس کام میں کسی اور کام کو شامل کرنا نہیں چاہتا، اب مجھے سیدھا واپس جانا ہے"۔

اور پھر لاہور سے دیوبند روانہ ہو گئے۔

قبولیت ♥ تحفظ ختم نبوت کا کام کس قدر عظیم ہے اور اللہ کے ہاں اس کا کیا مقام و مرتبہ ہے، مندرجہ ذیل واقعہ سے اندازہ کیجئے۔ علامہ احسان الہی ظہیر اپنی زندگی کے اس حسین واقعہ کو اپنی کتاب "مرزائیت اور اسلام" کے صفحہ ۲۴ اور ۲۵ پر یوں رقم کرتے ہیں:

صفحہ 102

”جب ۱۹۷۴ء کے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب مسجد نبوی کے پڑوس میں اپنی کتاب ”القادیانیت“ کو مکمل کر کے سویا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سحرگاہ دعائے نیم شبی لبوں پر لیے باب جبرائیل کے راستے (کہ جب دیار حبیب علیہ السلام میں میرا مکان اسی جانب تھا) مسجد نبویؐ کے اندر داخل ہوتا ہوں لیکن روضہ اطہر کے سامنے پہنچ کر ٹھٹھک جاتا ہوں کہ آج خلاف معمول روضہ معلی کے دروازے وا ہیں اور پہرے دار خندہ رو استقبالیہ انداز میں منتظر ہیں۔ میں اندر بڑھا جاتا ہوں کہ سامنے سرور کونین رحمت عالم محمد اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رعنائیوں اور زیبائیوں کے جھرمٹ میں صدیق اکبرؓ اور فاروق اعظمؓ کی معیت میں نماز ادا کر رہے ہیں۔ دل خوشیوں سے معمور اور دماغ مسرتوں سے لبریز ہو جاتا ہے اور جب میں دیر گئے باہر نکلتا ہوں تو دربان سے سوال کرتا ہوں: ”یہ دروازے تم روزانہ کیوں نہیں کھولتے؟“ جواب ملا، یہ دروازے روزانہ نہیں کھلا کرتے اور آنکھ کھلی تو مسجد نبوی کے میناروں سے یہ دلکش ترانے گونج رہے تھے۔

اشہد ان محمداً رسول اللہ
اشہد ان محمداً رسول اللہ

اور صبح جب میں نے مدینہ یونیورسٹی کے چانسلر کو ماجرا سنایا تو انہوں نے فرمایا: ”تمہیں مبارک ہو، ختم نبوت کی چوکھٹ کی چوکیداری میں خاتم النبیینؐ کے رب نے تمہاری کاوش کو پسند فرمایا ہے“۔

انعام ♥ جناب ساجد اعوان ایبٹ آباد کے عظیم مجاہد ختم نبوت ہیں۔ اللہ پاک نے انہیں عشق رسولؐ کی لازوال دولت سے مالا مال کر رکھا ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی تحفظ ختم نبوت کے نام کر رکھی ہے۔ موصوف ان دنوں ”گستاخ رسولؐ کی سزا ۔۔۔ قتل“ پر ایک ضخیم اور تاریخی کتاب لکھ رہے ہیں۔ ساجد اعوان کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ کتاب لکھنا شروع کی تو ایک رات میرے سوئے ہوئے بخت جاگ اٹھے۔ میں نے عالم خواب میں دیکھا کہ میں مسجد نبوی شریف کی سیر کر رہا ہوں۔ جی

صفحہ 103

بھر کر مسجد نبوی شریف کی زیارت کی‘ پھر روضہ رسولؐ پر حاضر ہوا۔ مزار رسولؐ کی خوب خوب زیارت کی اور قلب و نظر کی تسکین کا سامان کیا۔ آنکھ کھلی تو پورے وجود میں ایک مہک تھی۔ طبیعت میں ایک عجیب فرحت تھی۔ اس خواب سے کئی دن مجھ پر ایک کیف و سرور کی کیفیت رہی۔

خنزیروں کی پٹائی ❦ محمد سلیم ساقی ایک صاحب درد نوجوان ہیں۔ سید الکائنات جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور قادیانیت سے شدید نفرت ان کی زندگی کے دو روشن پہلو ہیں۔ موصوف نے تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوعات پر کئی کتابچے تحریر کیے ہیں۔ ساقی صاحب کہتے ہیں کہ جب ابتداء میں‘ میں نے قادیانیت کے خلاف تحریری کام شروع کیا تو ایک رات مجھے خواب آیا کہ ایک سرسبز فصل میں بہت موٹے موٹے خنزیر پھر رہے ہیں اور وہ خنزیر بہت بری طرح اس فصل کو اجاڑ رہے ہیں۔ میں بھی فصل کے بیچ میں کھڑا ہوں۔ ایک لمبا اور مضبوط ڈنڈا میرے ہاتھ میں ہے۔ میں اس ڈنڈے سے خنزیروں کو پیٹ رہا ہوں اور انہیں کھیت سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ یہی منظر دیکھتے میری آنکھ کھل گئی۔ صبح اٹھ کر ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں سارا خواب سنایا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ خنزیر قادیانی ہیں اور جس فصل کو وہ اجاڑ رہے ہیں‘ وہ اسلام کی فصل ہے۔ آپ کا ڈنڈے سے ان کی پٹائی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے فتنہ قادیانیت کے خلاف کام لے رہے ہیں۔

مقام بخاری” ❦ شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی کہتے ہیں کہ شنکیاری ضلع ہزارہ میں تین روزہ جلسہ تھا۔ جلسہ کے دوسرے دن کچھ علماء‘ کچھ طلباء میرے پاس جمع ہو کر آگئے اور کہا کہ آپ ایک عمر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ رہے ہیں‘ ہمیں ان کی خاص باتیں سنائیں۔ ایک صاحب بولے کہ پہلے حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی عظمت کا ایک واقعہ ہم سے سن لیں تا کہ آپ کو

صفحہ 104

پتہ چلے کہ ہم ان کے متعلق آپ سے باتیں کیوں سننا چاہتے ہیں۔ تھوڑے دنوں سے یہاں گاؤں میں ایک اجنبی بزرگ خاموش چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسجد یا کوئی میدان ان کا ٹھکانا ہوتا ہے۔ کچھ پوچھیں تو جواب دو لفظی دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں کے ایک بزرگ عالم نے انہیں دیکھا تو بتایا کہ صاحب کشف و کرامت ہیں اور آزاد کشمیر سے پیدل یہاں پہنچے ہیں۔

ایک دن اسی بزرگ کو ہم نے ایک جگہ تنہا بیٹھے ہوئے دیکھا تو ہم نے آزمانے کے لیے ایک طریقہ اختیار کیا، وہ یہ کہ چند پتھروں کے ٹکڑے لیے اور ہر پتھر پر کسی ایک بزرگ کا بغیر سیاہی کے انگلی کے ساتھ نام لکھ دیا اور ایک پتھر پر مرزا غلام احمد بھی لکھ دیا۔ پھر ہم وہ سب پتھر اس بزرگ کے پاس لے کر گئے اور خاموشی سے ان کے سامنے رکھ دیے۔ وہ ہمیں دیکھ کر مسکرائے، پھر ایک پتھر اٹھا کر نام پڑھا اور اس بزرگ کا مقام بیان کیا، حالانکہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ ہم نے اس پتھر پر اسی بزرگ کا نام لکھا ہے۔ پھر دوسرا، پھر تیسرا نام پڑھتے گئے، مقام بتاتے گئے۔ پھر ایک پتھر اٹھا کر دور پھینک کر کہا، اس مردود کو ان میں کیوں رکھا ہے۔ پھر ایک پتھر اٹھایا اور کہا، سبحان اللہ! عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، ان کی بوعلی قلندر سے دوڑ ہوئی، آگے نکل گئے۔

حضرت میاں شیر محمد شرقپوریؒ کا کشف ❣ حضرت میاں شیر محمد

شرقپوریؒ نے ایک دفعہ مراقبہ کیا اور مرزا قادیانی کو قبر میں باؤلے کتے کی شکل میں دیکھا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے اور وہ انتہائی خوفناک آوازیں نکال رہا ہے۔ بڑی پھرتی سے گھوم گھوم کر منہ سے دم پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ غصہ میں آ کر کبھی اپنی ٹانگوں کو کاٹتا ہے اور کبھی سر زمین پر پٹختا ہے۔ (اللہ اس لعین کے عذاب میں مزید اضافہ فرمائے۔ آمین)

میرا بچہ رسولؐ اللہ پہ قربان ❣ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت اپنے عروج پر

تھی۔ پولیس نے پورے ملک میں پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی تھی۔ اسیران محمدؐ کریم کے

صفحہ 105

لیے جیلیں ناکافی ہو گئیں۔ بڑے بڑے میدانوں میں خاردار تار لگا کر عارضی جیلیں قائم کی گئیں۔ عظمت رسولؐ کے لیے لوگ پروانہ وار سینے پر گولیاں کھا کر جنت کے راہی ہو رہے تھے۔ فیصل آباد میں شمع ختم نبوت کے پروانوں کے ایک بہت بڑے ہجوم سے مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمودؒ بڑا جذباتی خطاب فرما رہے تھے۔ مسجد کی گیلری میں عورتیں بھی بیٹھی تھیں جو مستقبل کے مورخ کو یہ لکھوانے کے لیے آئی تھیں کہ جب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے پکارا گیا تو صرف مرد ہی لبیک لبیک کہتے ہوئے نہ آئے بلکہ عورتیں بھی گھر بار چھوڑ کر آ گئیں۔ مولانا کی جذباتی اور ایمان پرور تقریر کے دوران ایک عورت نے اپنا شیر خوار بچہ گیلری سے مولانا کی جھولی میں پھینک دیا اور کہا کہ مولانا میرے پاس زندگی کا یہ سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اسے میرے آقا محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو پر قربان کر دیں۔ یہ کہہ کر وہ بہادر عورت الٹے پاؤں واپس چل پڑی۔ ماحول میں ایک عجب جذباتی کیفیت پیدا ہو گئی۔ سارا مجمع دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ مولانا خود بھی زار و قطار رونے لگے اور انہوں نے گلوگیر آواز میں لوگوں سے کہا، اے لوگو! اس بی بی کو جانے نہ دینا۔ اسے بلاؤ، بلاؤ۔ چنانچہ اس عورت کو بلایا گیا اور مولانا نے اپنے قدموں میں بیٹھے اپنے ننھے منے اکلوتے بیٹے طارق محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بی بی! سب سے پہلے گولی تاج محمود کے سینے سے گزرے گی، پھر میرے اس بچے کے سینے کو چیرے گی، پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب یہ سب قربان ہو جائیں تو پھر اپنے بچے کو لے آنا اور اللہ کے پیارے رسولؐ پہ قربان کر دینا۔ یہ کہا اور بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا۔

٭ ٭ ٭

یہ ان لوگوں کا تذکرہ تھا جنہوں نے تحفظ ختم نبوت کو حرز جاں بنا لیا تھا۔ یہ ان دیوانوں کی ایمان پرور باتیں تھیں جو قادیانیت کے اندھے طوفان کے سامنے سینہ سپر ہو گئے۔ یہ ان بہادروں کی روشن حکایات تھیں جنہوں نے زندانوں میں عشق رسولؐ

صفحہ 106

کے لازوال باب رقم کیے۔ یہ اسلام کے ان جفاکش سپاہیوں کی تابندہ داستانیں تھیں جنہوں نے نگر نگر گھوم کر صدائے بیداری بلند کر کے قادیانی ڈاکوؤں سے مسلمانوں کے ایمانوں کو محفوظ رکھا۔ ملت اسلامیہ کے یہ محسن تو اپنی مجاہدانہ زندگی گزار کر، اپنے فرائض منصبی ادا کر کے اس جہاں سے چلے گئے اور تحفظ اسلام اور حفاظت ختم نبوت کا عظیم کام ہمارے ذمہ لگا گئے۔ آج ہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم اپنے ذمہ فرائض سے کس حد تک عہدہ برآ ہو رہے ہیں؟ ہم نے اس عظیم مشن کے لیے کیا منصوبہ بندی اور اقدامات کیے ہیں؟

آؤ! اپنے ضمیر کے دروازے پہ دستک دیتے ہیں۔

آؤ! ذرا خود احتسابی کرتے ہیں۔

آؤ! ذرا اپنا ریمانڈ لیتے ہیں۔

آؤ! اندھیرے میں آنکھیں بند کر کے ایک کونے میں بیٹھتے ہیں۔۔۔ گہری سوچ کے مراقبے میں غرق ہوتے ہیں۔۔۔ تصور میں حشر کا میدان لاتے ہیں۔۔۔ ہر طرف ایک وحشت ناک شور ہے۔۔۔ انسانوں کے گروہ ڈرے ہوئے اونٹوں کی طرح ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں۔۔۔ دنیاوی رشتے ناطے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ چکے ہیں۔۔۔ ماں اور بیٹے کے درمیان بیگانگی ہے۔۔۔ گرمی نے حشر میں اک حشر بپا کر رکھا ہے۔۔۔ بھوک نے انسانوں کو اپنا گوشت کھانے پہ مجبور کر دیا ہے۔۔۔ پیاس کی شدت نے زبانیں لکڑی کی بنا دی ہیں۔۔۔ اس عالم بے بسی و بے کسی میں ہماری نظر رحمت عالم محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پہ پڑتی ہے۔۔۔ ساقیٔ کوثر حوض کوثر پہ تشریف فرما ہیں اور کچھ لوگوں کو جام بھر بھر کر پلا رہے ہیں۔۔۔ ہم بھی لوگوں کے ہجوم کو چیرتے، کندھوں کو پھلانگتے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پہنچ جاتے ہیں۔۔۔ دونوں بازوؤں کو پھیلا کر، سوکھ کر کانٹا بنی زبان سے جام کوثر کا سوال کرتے ہیں!

اس وقت اگر جناب خاتم النبیینؐ نے ہم سے پوچھ لیا۔۔۔ تمہارے عہد میں

صفحہ 107

مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت کیا۔۔۔ تمہارے سامنے اس کا کفر و ارتداد چنگھاڑتا رہا۔۔۔ مرزا قادیانی اور دیگر قادیانی میری ذات اور میرے دین پر ہرزہ سرائی کرتے رہے۔۔۔ میرے امتیوں کے ایمان لٹتے رہے۔۔۔ مسلمان میری ذات سے کٹ کر مرتد ہوتے رہے۔۔۔ اگر تمہارا میرے ساتھ تعلق تھا تو بتاؤ! تحفظ ختم نبوت کے لیے تم نے کتنا وقت خرچ کیا؟ تحفظ ختم نبوت کے لیے تم نے کتنا مال خرچ کیا؟ قادیانیت کے خلاف تمہاری صحت اور جوانی نے کیا کردار ادا کیا؟ کیا تم نے اپنے معاشرے میں قادیانیوں کا معاشرتی بائیکاٹ کیا؟ تیری دنیاوی وجاہت اور اثر و رسوخ نے اس فتنہ کی سرکوبی میں کیا کردار ادا کیا؟ اپنی اولاد کو دشمنان اسلام سے برسرپیکار کرنے کے لیے تو نے ان کی کیا تربیت کی؟ قادیانیت کی گوشمالی کے لیے تیری زبان اور تیرے قلم نے کیا خدمات سرانجام دیں؟

صاحبو! ایک ہاتھ دل پہ رکھو اور دوسرا ہاتھ دماغ پر رکھو۔۔۔ اور دل و دماغ سے ان سوالات کے جواب مانگو۔۔۔ ہمارے دل و دماغ ان سوالوں کے کیا جواب دیتے ہیں؟ اگر جواب ”ہاں“ میں ہیں تو شکر کرو۔۔۔ اگر جواب ”نہ“ میں ہیں تو فکر کرو۔۔۔!!!

جو ختم نبوت کا طرفدار نہیں ہے
لاریب وہ جنت کا سزاوار نہیں ہے
خاموش رہے سن کے جو اسلام کی توہین
بے شرم ہے‘ بزدل ہے‘ وہ خوددار نہیں ہے
صفحہ 28
PDF 109

میڈ ان انگلینڈ

مرزا قادیانی کا لباس

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ فون 2329

صفحہ 28
صفحہ 111

کسی شخص کی گفتگو اس کا تعارف نامہ ہوتی ہے۔ کسی شخص کی تحریر اس کی شخصیت کے خدوخال سے ہمیں آشنا کرتی ہے۔ کسی شخص کے حلقہ احباب سے اس کی شخصیت کے بارے میں ایک رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ کسی شخص کے مشاغل سے اس کی پہچان ہو سکتی ہے۔ کسی شخص کے رہن سہن کو دیکھ کر اسے پہچانا جا سکتا ہے۔ کسی تقریب میں دسترخوان پر بیٹھے کھانا کھاتے شخص کو دیکھ کر اسے پرکھا جا سکتا ہے۔

اسی طرح کسی شخص کے لباس سے اس کی شخصیت کے متعلق جانا جا سکتا ہے۔ کیونکہ لباس اس شخصیت کا تعارف نامہ ہوتا ہے۔ لباس کا ایک ایک حصہ ہمیں اس سے متعارف کراتا ہے۔ اس کی طبیعت کے ذوق سے آگاہ کرتا ہے۔ لہٰذا آج کی نشست میں ہم لباس کی مدد سے مرزا قادیانی کی شخصیت کو پہچانتے ہیں۔ کیونکہ اس سے قبل ہم زندگی کے درجنوں زاویوں سے اس کی شخصیت کو پہچان اور جان چکے ہیں۔ آئیے خصوصی توجہ کے ساتھ مرزا قادیانی کے لباس کو دیکھتے ہیں۔

تہہ بند : ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ ہمیشہ رات کو سوتے ہوئے پاجامہ اتار کر تہہ بند باندھ لیتے تھے اور عموماً کرتہ بھی اتار کر سوتے تھے“۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۵۴ - ۵۳، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

اس کے بعد بھانو سے ٹانگیں دبواتے تھے۔ (ناقل)

لنگی : ”موسم گرما میں دن کو بھی اور رات کو تو اکثر آپ کپڑے اتار دیتے اور صرف چادر یا لنگی باندھ لیتے۔ گرمی دانے بعض دفعہ نکل آتے تو اس کی خاطر بھی کرتا اتار دیا کرتے“۔

صفحہ 112

(سیرت المہدی، حصہ دوم، ص ۲۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی) شکر کرو کہ لنگی ہی باندھ لیتے تھے۔ (ناقل)

رومال : ”آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا ہوتا تھا، باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارہ واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے یا کاج میں بندھوا لیتے تھے۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۵۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

اگر دوسرا سرا منہ میں دبا کر رکھتے تو شاید ہذیان کم بکتے۔ (ناقل)

بڑا رومال : ”آپ ہمیشہ بڑا رومال رکھتے تھے نہ کہ چھوٹا جنٹلمین رومال جو آج کل کا بہت مروج ہے۔ اس کے کونوں میں آپ مشک اور ایسی ہی ضروری ادویہ جو آپ کے استعمال میں رہتی تھیں اور ضروری خطوط وغیرہ باندھ رکھتے تھے اور اسی رومال میں نقد وغیرہ جو نذر لوگ مسجد میں پیش کر دیتے تھے، باندھ لیا کرتے“۔ (سیرت المہدی، حصہ دوم، ص ۴۷، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

باقی چیزیں تو صرف بہانہ معلوم ہوتی ہیں۔ اصل مسئلہ تو لوگوں سے وصول کی گئی رقم باندھنے کا تھا۔ (ناقل)

ریشمی ازاربند : ”چابیاں ازاربند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا اور والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود عموماً ریشمی ازاربند استعمال فرماتے تھے۔ کیونکہ آپ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا۔ اس لیے ریشمی ازاربند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جائے تو کھولنے میں وقت نہ ہو۔ سوتی ازاربند میں آپ سے بعض وقت گرہ پڑ جاتی تھی تو آپ کو بڑی تکلیف ہوتی تھی“۔ (سیرت المہدی، حصہ اول، ص ۵۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

لیکن سنا ہے کہ اس احتیاط کے باوجود بھی اکثر پیشاب کپڑوں میں نکل جاتا تھا۔ (ناقل)

چابیوں والا ازاربند : ”آپ کے پاس کچھ کنجیاں بھی رہتی تھیں۔ یہ یا تو رومال

صفحہ 113

میں یا اکثر ازار بند میں باندھ کر رکھتے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۲۸‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی) معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں بیوی پر اعتماد نہیں تھا۔ اس لیے ساری چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھ کر رکھتا تھا اور جب ازار بند سے چابیوں کا گچھا باندھ کر چلتا ہوگا تو چھن چھن کی آواز سے بچوں کو دور سے پتہ چل جاتا ہوگا کہ ہمارا ابا آ رہا ہے۔ ویسے قادیانیو! تم بھی کبھی اس طرح چل کے تو دیکھو! (ناقل)

غرارے : ”بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود اوائل عمر میں غرارے استعمال فرمایا کرتے تھے۔ پھر میں نے کہہ کر وہ ترک کروا دیئے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۶‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد‘ ابن مرزا قادیانی)

غرارے کے ساتھ پاؤں میں گھنگھرو بھی باندھتے ہوں گے۔ (ناقل)

پٹکا : ”خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود بعض اوقات کمر پر پٹکا بھی استعمال فرماتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۸‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

اور اس کے بعد دھمال ڈالتے تھے۔ (ناقل)

پگڑی : ”حضرت مسیح موعود عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموماً دس گز لمبی ہوتی تھی“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۶‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

یعنی مرزا قادیانی کی زبان کی طرح کافی دراز تھی۔ (ناقل)

شملہ : ”شملہ آپ لمبا چھوڑتے تھے۔ کبھی کبھی شملہ کو آگے ڈال لیا کرتے اور کبھی اس کا پلہ دہن مبارک پر بھی رکھ لیتے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۲۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

دہن سے بدبو آتی ہوگی۔ (ناقل)

لمبا شملہ : ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ عمامہ کا شملہ لمبا چھوڑتے تھے۔ یعنی اتنا لمبا کہ سرین کے نیچے تک پہنچتا تھا“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ

صفحہ 114

سوم‘ ص ۲۱۱‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

اور سرین پر غرارہ ہوتا تھا۔ سرین پر غرارہ اور شملے کی ملاقات کیسی حسین لگتی ہوگی۔ (ناقل)

کوٹ : "بدن پر گرمیوں میں عموماً ململ کا کرتہ استعمال فرماتے تھے۔ اس کے اوپر گرم صدری اور گرم کوٹ پہنتے تھے۔ پاجامہ بھی آپ کا گرم ہوتا تھا"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۶‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

جون جولائی میں کوٹ---- واہ برطانوی روبوٹ۔ (ناقل)

گرم کپڑے : "جب سے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو دورے پڑنے شروع ہوئے‘ اس وقت سے آپ نے سردی گرمی میں گرم کپڑے کا استعمال شروع فرما دیا تھا۔ ان کپڑوں میں آپ کو گرمی بھی لگتی تھی اور بعض اوقات تکلیف بھی ہوتی تھی مگر جب ایک دفعہ شروع کر دیتے تو پھر آخر تک یہی استعمال فرماتے رہے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

اتنی سزا کے باوجود نبوت کے دعوے سے باز نہیں آیا۔ (ناقل)

جراب : "عموماً جراب بھی پہنے رہتے تھے۔ بلکہ سردیوں میں دو دو جوڑے اوپر تلے پہن لیتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

پھر جوتا کیسے پہنا جاتا تھا؟ (ناقل)

الٹی جرابیں : "بعض دفعہ جب حضور جراب پہنتے تھے تو بے توجہی کے عالم میں اس کی ایڑی پاؤں کے تلے کی طرف نہیں بلکہ اوپر کی طرف ہو جاتی تھی"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۵۸‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

عموماً اپنا بھی سر نیچے اور ٹانگیں اوپر رہتی تھیں۔ (ناقل)

لٹکتی جرابیں : "زیادہ سردی میں دو دو جرابیں اوپر نیچے چڑھا لیتے۔ مگر بارہا جراب اس طرح پہن لیتے کہ وہ پیر پر ٹھیک نہ چڑھتیں۔ کبھی تو سر آگے لٹکتا رہتا اور کبھی جراب کی ایڑی کی جگہ پیر کی پشت پر آجاتی۔ کبھی ایک جراب سیدھی دوسری الٹی"۔

صفحہ 115

(سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۴۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

افیم جو کھاتا تھا۔ (ناقل)

کپڑے : "جب سے شیخ رحمت اللہ صاحب گجراتی ثم لاہوری احمدی ہوئے وہ آپ کے لیے کپڑوں کے جوڑے بنوایا کر باقاعدہ لاتے تھے۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

دوکان چل پڑی۔ (ناقل)

سب قبول : "حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جیسا کپڑا کوئی لے آئے پہن لیتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

آتے جو مفت تھے۔ (ناقل)

گرم قمیص : "شیخ صاحب موصوف آپ کے لیے انگریزی طرز کی گرم قمیص بنوا کر لایا کرتے تھے۔ آپ انہیں استعمال تو فرماتے تھے مگر انگریزی طرز کی کفوں کو پسند نہیں فرماتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

پسند بھی نہیں کرتا تھا اور پہنتا بھی تھا۔۔۔ تعجب ہے؟ (ناقل)

گھر کا لباس : "گھر میں آپ کے لیے صرف ململ کے کرتے اور پگڑیاں تیار ہوتی تھیں۔ باقی سب کپڑے عموماً ہدیتاً آپ کو آ جاتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۷ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

شاید پگڑی کا کپڑا انگریز کی طرف سے آتا ہوگا۔ (ناقل)

تبادلہ : "حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے آخری زمانہ میں اکثر دفعہ احباب آپ کے لیے نیا کرتہ بنوا لاتے تھے اور اسے بطور نذر پیش کر کے تبرک کے طور پر حضور کا اترا ہوا کرتہ مانگ لیتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۵۸‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

بنارسی ٹھگ۔ (ناقل)

صفحہ 116

مفت کا لباس : ”آخری ایام کے کچھ سالوں میں آپ کے پاس کپڑے سارے اور سلے سلائے بطور تحفہ کے بہت آتے تھے۔ خاص کر کوٹ صدری اور پائجامہ اور قمیض وغیرہ جو شیخ رحمت اللہ صاحب لاہوری ہر عید بقر عید کے موقعہ پر اپنے ہمراہ نذر لاتے تھے‘ وہی آپ استعمال فرمایا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۲۵ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

چلو خرچے سے جان چھوٹی۔ (ناقل)

گرگابی : ”ایک دفعہ کوئی شخص آپ کے لیے گرگابی لے آیا۔ آپ نے پہن لی مگر اس کے الٹے سیدھے پاؤں کا آپ کو پتہ نہیں لگتا تھا۔ کئی دفعہ الٹی پہن لیتے تھے اور پھر تکلیف ہوتی تھی۔ بعض دفعہ آپ کا الٹا پاؤں پڑ جاتا تو تنگ ہو کر فرماتے ان کی کوئی چیز بھی اچھی نہیں ہے۔ والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میں نے آپ کی سہولت کے واسطے الٹے سیدھے پاؤں کی شناخت کے لیے نشان لگا دیے تھے مگر باوجود اس کے آپ الٹا سیدھا پہن لیتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۶۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

جو اپنے جوتے سیدھے نہ کر سکا وہ دوسروں کو کیا سیدھا کرے گا۔ (ناقل)

سپیشل جوتی : ”جوتی اگر تنگ ہوتی تو اس کی ایڑی بٹھا لیتے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۴۸‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

موت کے وقت فرشتہ اجل نے بھی اسی طرح بٹھا لیا ہوگا۔ (ناقل)

گرد آور جوتی : ”نئی جوتی جب پاؤں میں کاٹتی تو جھٹ ایڑی بٹھا لیا کرتے تھے اور اسی سبب سے سیر کے وقت گرد اڑ اڑ کر پنڈلیوں پر پڑ جایا کرتی تھی۔ جس کو لوگ اپنی پگڑیوں وغیرہ سے صاف کر دیا کرتے تھے“۔ (اخبار الحکم‘ قادیان‘ جلد ۳۸‘ نمبر ۶‘ مورخہ ۲ فروری ۱۹۳۵ء)

سیر کے علاوہ بھی ساری زندگی گرد ہی اڑاتا رہا۔ (ناقل)

جوتی کی دوات : ”ایک مرتبہ فرمانے لگے میرے لیے کسی نے بوٹ بھیجے ہیں۔ میری سمجھ میں اس کا دایاں بایاں نہیں آتا۔ آخر اس کو سیاہی ڈالنے کے لیے بنا لیا“۔

صفحہ 117

(الحکم‘ ۱۴ دسمبر ۱۹۳۲ء ص ۵‘ کالم نمبر ۲)

ہائے! اسے پڑھ کر بھی لوگ مرزے کو نبی مانتے ہیں؟ (ناقل)

گمشدہ جوتا: "ایک دفعہ مرزا صاحب اور سید محمد علی شاہ تلاش روزگار کے خیال سے قادیان سے چلے۔ کلانور کے قریب ایک نالے سے گزرتے ہوئے مرزا صاحب کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا۔ مگر اس وقت تک انہیں معلوم نہیں ہوا جب تک وہاں سے دور جا کر یاد نہیں کرایا گیا"۔ (حیات النبی‘ جلد اول‘ ص ۵۸‘ مولفہ یعقوب علی قادیانی)

مرزے کی اس حرکت پر جوتا بھی ہنستا ہوگا۔ (ناقل)

جیبی گھڑی : "ایک دفعہ کسی شخص نے حضرت صاحب کو ایک جیبی گھڑی تحفہ دی۔ حضرت صاحب اس کو رومال میں باندھ کر جیب میں رکھتے تھے۔ زنجیر نہیں لگاتے تھے اور جب وقت دیکھنا ہوتا تھا تو گھڑی نکال کر ایک کے ہندسے یعنی عدد سے گن کر وقت کا پتہ لگاتے تھے اور انگلی رکھ کر ہندسے گنتے تھے اور منہ سے بھی گنتے جاتے تھے اور گھڑی دیکھتے ہی وقت نہ پہچان سکتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۱۸۰‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

تف ہے ان پر جو ایسے شخص کو قائد مانتے ہیں۔ (ناقل)

رومالی گھڑی : "گھڑی بھی آپ ضرور اپنے پاس رکھا کرتے مگر اس کی چابی دینے میں چونکہ اکثر ناغہ ہو جاتا اس لیے اکثر وقت غلط ہی ہوتا تھا اور چونکہ گھڑی جیب میں سے اکثر نکل پڑتی اس لیے آپ اسے بھی رومال میں باندھ لیا کرتے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۲۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

وقت غلط ہوتا تھا تو کیا؟ مرزے نے کون سا دفتر جانا ہوتا تھا۔ (ناقل)

گھڑی کی چابی : "شیخ صاحب نے عرض کیا حضور گھڑی تو اچھی چلتی ہے۔ آپ نے ایک رومال کو فرش پر رکھ کر اور ایک دو گانٹھیں کھول کر اس میں سے گھڑی نکالی۔ معلوم ہوا کہ بند ہے۔ چابی دی گئی۔ وقت درست کیا گیا۔ مولوی محمد علی صاحب نے آہستہ سے کہا اب جس دن پھر آؤ گے‘ چابی دے دینا"۔ (یاد ایام‘ از

صفحہ 118

قاضی محمد ظہور الدین قادیانی‘ مندرجہ اخبار الحکم قادیانی‘ جلد ۷‘ نمبر ۱۸ - ۱۹ مورخہ ۲۱‘ ۲۸ مئی ۱۹۰۳ء)

اور مرزا قادیانی کو چابی کون دیتا تھا؟ (ناقل)

بستر: ”ایک دفعہ ایک بچھو میرے بستر کے اندر لحاف کے ساتھ مرا ہوا پایا گیا اور دوسری دفعہ ایک بچھو لحاف کے اندر چلتا ہوا پکڑا گیا“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۲۳۶‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

بچھو کے بستر میں بچھو! (ناقل)

لحاف: ”بستر آپ کا ایسا ہوتا تھا کہ ایک لحاف جس میں ۵ - ۶ سیر روئی کم از کم ہوتی تھی اور اچھا لمبا چوڑا ہوتا تھا“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۳۹‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

بلا تبصرہ (ناقل)

پلنگ: ”تحریر وغیرہ کا سب کام پلنگ پر ہی اکثر فرمایا کرتے اور دوات قلم‘ بستہ اور کتابیں یہ سب چیزیں پلنگ پر موجود رہا کرتی تھیں۔ کیونکہ یہی جگہ میز کرسی اور لائبریری سب کا کام دیتی تھی“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۴۹‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

اور پھر ان کتابوں کے اوپر ہی سو جاتا ہوگا۔ (ناقل)

تکیہ: ”حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اگر تیمم کرنا ہوتا تو بسا اوقات تکیہ یا لحاف پر ہی ہاتھ مار کر تیمم کر لیا کرتے تھے“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ سوم‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

کتنا گرد آلود لحاف اور تکیہ ہوتا ہوگا؟ ویسے اپنے منہ پر ہاتھ مار کر بھی تیمم کر لیتا تو بھی ٹھیک تھا۔ (ناقل)

دامن: ”ایک دفعہ میرے دامن کو آگ لگ گئی تھی۔ مجھے خبر بھی نہ ہوئی۔ ایک اور شخص نے دیکھا اور بتلایا اور آگ کو بجھا دیا“۔ (سیرت المہدی‘ حصہ اول‘ ص ۲۳۶‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

صفحہ 119

بڑا ظلم کیا ظالم نے! کاش وہ مجھے نہ بتاتا اور یہ فتنہ جل کر ٹھنڈا ہو جاتا اور ہزاروں لوگ جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جاتے۔

(ناقل)

اترے ہوئے کپڑے : ”ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے اترے ہوئے کپڑوں کو سونگھا ہے۔ مجھے کبھی بھی ان میں پسینہ کی بو نہیں آئی“۔

(سیرت المہدی، حصہ دوم، ص ۱۹، مصنفہ

مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

بدبو اور خوشبو کو سونگھنے کے لیے عقل چاہیے اور اگر تجھ میں عقل ہوتی تو تو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانتا۔

(ناقل)

کاج اور بٹن : ”بارہا ایک کاج کا بٹن دوسرے کاج میں لگا ہوا ہوتا تھا اور بعض اوقات کوئی دوست حضور کے لیے گرگابی ہدیتاً لاتا تو بسا اوقات دایاں پاؤں بائیں میں ڈال لیتے تھے اور بایاں دائیں میں“۔

(سیرت المہدی، حصہ دوم، ص ۵۸، مصنفہ مرزا

بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

دماغ کے بٹن بھی ایسے ہی تھے۔

(ناقل)

بٹن اور کاج : ”بارہا دیکھا گیا کہ بٹن اپنا کاج چھوڑ کر دوسرے ہی میں لگے ہوئے ہوتے تھے۔ بلکہ صدری کے بٹن کوٹ کے کاجوں میں لگائے ہوئے دیکھے گئے“۔

(سیرت المہدی، حصہ دوم، ص ۱۲۶، مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

اور پھر بھی تمہیں عقل نہ آئی۔

(ناقل)

واسکٹ : ”واسکٹ کے بٹن ہمیشہ اپنے چاکوں سے جدا ہی رہتے تھے اور اسی وجہ سے اکثر حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سے شکایت فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے بٹن تو بڑی جلدی ٹوٹ جایا کرتے ہیں“۔

(اخبار الحکم، قادیان، جلد ۳۸، نمبر ۶، مورخہ ۲

فروری ۱۹۳۵ء)

بٹنوں کو منہ میں ڈال کر چباتا ہو گا۔

(ناقل)

وسمہ : ”آخری دنوں میں میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی نے ایک وسمہ تیار کر کے پیش کیا تھا۔ وہ لگاتے تھے۔ اس سے ریش مبارک میں سیاہی آ گئی تھی“۔

(سیرت

صفحہ 120

المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۱۳۳‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

ہاں جی! پکڑا گیا۔ محمدی بیگم سے شادی کا پروگرام جو بنا تھا۔ (ناقل)

صدری : "صدری گھر میں اکثر پہنے رہتے مگر کوٹ عموماً باہر جاتے وقت ہی پہنتے"۔

(سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

صدری اس لیے نہیں اتارتا ہوگا کہ صدری میں پیسے رکھتا ہوگا۔ کیونکہ چور ہر کسی کو چور ہی سمجھتا ہے۔ (ناقل)

کوٹ در کوٹ : "سردی کی زیادتی کے دنوں میں اوپر تلے دو دو کوٹ بھی پہنا کرتے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۴۷‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا

قادیانی)

۵-۶ سیر روئی والے لحاف کا ایک ہی کوٹ بنوا لیتے۔ (ناقل)

کپڑے اور احتیاط : "کپڑوں کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کوٹ‘ صدری‘ ٹوپی‘ عمامہ رات کو اتار کر تکیہ کے نیچے ہی رکھ لیتے اور رات بھر تمام کپڑے جنہیں محتاط لوگ شکن اور میل سے بچانے کو ایک جگہ کھونٹی پر ٹانگ دیتے ہیں وہ بستر پر سر پر جسم کے نیچے دبے جاتے اور صبح کو ان کی ایسی حالت ہو جاتی کہ اگر کوئی فیشن کا دلدادہ اور سلوٹ کا دشمن ان کو دیکھ لے تو سر پیٹ لے"۔ (سیرت المہدی‘ حصہ دوم‘ ص ۴۸‘

مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

رات کو بستر پر کراٹے کھیلتا ہوگا۔ (ناقل)

دائمی لباس : "پچھلی عمر میں بارہ مہینے گرم کپڑے پہنا کرتے تھے"۔ (سیرت المہدی‘

حصہ سوم‘ ص ۶۶‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی‘ ابن مرزا قادیانی)

گویا ہمالیہ کی چوٹی پہ رہتا تھا۔ (ناقل)

دھبے : "شیخ رحمت اللہ صاحب یا دیگر احباب کپڑے کے اچھے اچھے کوٹ بنوا کر لایا کرتے تھے۔ حضور کبھی تیل سر مبارک میں لگاتے تو تیل والا ہاتھ سر مبارک اور داڑھی مبارک سے ہوتا ہوا بعض اوقات سینہ تک چلا جاتا جس سے قیمتی کوٹ پر دھبے پڑ جاتے"۔ (اخبار الحکم قادیانی‘ جلد ۳۸‘ نمبر ۶‘ مورخہ ۲ فروری ۱۹۳۵ء)

صفحہ 121

مال مفت--- دل بے رحم۔ (ناقل)

جیبیں : ”آپ کو (مرزا قادیانی) شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانہ میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض وقت جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے“۔ (مرزا قادیانی کے حالات‘ مرتبہ معراج الدین عمر‘ قادیانی تتمہ براہین احمدیہ‘ جلد اول‘ ص ۶۷)

اور یہ بات زبان زد عام تھی کہ گڑ کے ساتھ استنجا کر لیتا تھا اور مٹی کے ڈھیلے کھا لیتا تھا۔ (ناقل)

چھڑی : ”حضور کے دائیں ہاتھ میں چھڑی ہوتی تھی۔ جو بعض اوقات لوگوں کی ٹھوکر سے گر بھی جاتی۔ مگر حضور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے بلکہ جب کوئی چھڑی پکڑا دیتا تھا تو پکڑ لیتے“۔ (اخبار الفضل قادیان‘ جلد ۲۷‘ نمبر ۲۵۰‘ مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۳۹ء)

کیا گردن نہیں مڑتی تھی؟ (ناقل)

سونٹا : ”دعوے سے قبل کا واقعہ ہے کہ حضور (مرزا قادیانی) باغ میں تشریف لے گئے۔ ساتھ چند اور بھی دوست تھے۔ کسی دوست نے ایک پھل دار درخت پر حضرت اقدس کا عصا مبارک پھینکا۔ وہ عصا وہیں لٹک کر رہ گیا۔ دوستوں نے پتھروں اور ڈھیلوں سے ہر چند کوشش کی مگر وہ عصا نیچے نہ گرا۔ میں (حافظ نبی بخش قادیانی) نوجوان لڑکا تھا۔ میں اپنا تہہ بند کس کر درخت کے اوپر چڑھ گیا اور عصا مبارک اتار لیا۔ حضرت اقدس کو اس سے بہت خوشی ہوئی۔ بار بار فرماتے میاں نبی بخش تم نے بڑا کمال کیا۔ تم نے تو آج میرے والد صاحب کا سونٹا نیا لا کر مجھے دیا ہے۔ باغ سے واپس لوٹے تو راستے میں جو ملے‘ ان سے بھی ذکر کیا کہ میاں نبی بخش نے مجھے آج نیا سونٹا لا کر دیا ہے۔ پھر مسجد میں آ کر بھی اسی شکرگزاری کا ذکر فرماتے رہے۔ (ذکر حبیب‘ از سردار مصباح الدین احمد قادیانی‘ مندرجہ اخبار الحکم قادیان‘ خاص نمبر‘ مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۳۲ء)

باقی سارا لباس تو مفت مل جاتا تھا--- لگتا ہے سونٹا خود خریدا ہو گا۔ (ناقل)

کس کی چھڑی : ”مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی

صفحہ 122

تھی۔ حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی۔ حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا یہ کس کی چھڑی ہے۔ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے، جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اچھا! میں نے تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے"۔ (سیرت المہدی حصہ اول ص ۲۷۳ مصنفہ مرزا بشیر احمد قادیانی، ابن مرزا قادیانی)

پہچان کیسے کرتا ہر مرید تو چھڑی لے کر آ جاتا تھا۔ (ناقل)

قادیانیو! یہ میں نے تمہارے سامنے تمہاری ہی کتابوں سے عبارتیں پیش کی ہیں اور یہ ساری عبارتیں اپنا پورا منہ کھول کر بتا رہی ہیں کہ مرزا قادیانی فاتر العقل تھا، مخبوط الحواس تھا، دانش و خرد سے عاری تھا، فہم و ذکا کا دشمن تھا اور مراق و ہسٹریا کا مریض تھا۔ لیکن تم اپنی ضد پر قائم، ظلمت کو نور، جہالت کو علم، کڑوے کو میٹھا، کذب کو سچ اور زہر کو تریاق کہے جا رہے ہو۔

لیکن قادیانیو! اس منظر کو ذرا تصور میں لاؤ--- جب حشر کا میدان ہوگا--- تم اللہ کے دربار میں پیش ہوگے--- وہاں تم چیخ چیخ کر کہو گے--- اے اللہ! اس مرزا قادیانی نے ہمیں گمراہ کیا--- اسی نے ہمیں ایمان سے محروم رکھا--- اسی دجال نے ہمیں اپنے جال میں پھنسائے رکھا--- اس لیے صرف اسے ہی عذاب دیا جائے--- ہمارے گناہ اسی کے سر پر لاد دیے جائیں--- اور پھر جب تمہارے جواب میں مرزا قادیانی نے کہہ دیا اے اللہ! میری کتابوں میں لکھا ہوا تھا کہ :

"میں شراب پیتا تھا--- افیون کھاتا تھا--- زنا جیسے فعل قبیح کا مرتکب ہوتا تھا--- غیر محرم عورتوں سے ٹانگیں دبواتا تھا--- حیاسوز شاعری کرتا تھا--- انگریز کا خود کاشتہ نبی تھا--- جہاد کو حرام قرار دینے والا تھا--- ملکہ کی اطاعت کرنے والا تھا--- جوتے الٹے سیدھے پہنتا تھا--- گڑ سے استنجا اور مٹی کے ڈھیلے کھاتا تھا--- قمیص کا اوپر والا بٹن نیچے کے کاج میں اور نیچے والا بٹن اوپر کے کاج میں لگاتا تھا--- گھر کی چابیاں ازاربند کے ساتھ باندھ کر چھن چھن کرتا پھرتا تھا--- ہر مد مقابل کو غلیظ گالیاں دیتا تھا--- مراق و ہسٹریا کا مریض تھا--- کیا انہوں نے میری

صفحہ 123

کتابوں میں نہیں دیکھا تھا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں کھل کر گستاخیاں کیں۔۔۔ تیرے حبیب کی شان میں ہذیان بکے۔۔۔ انبیائے کرام کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کی۔۔۔ قرآن پاک میں تحریف کی۔۔۔ احادیث نبوی کو اپنی منشا کے مطابق توڑا مروڑا۔۔۔ صحابہ کرام پر سب و شتم کیا"۔

"اے اللہ! تو نے انہیں دماغ کی نعمت سے نوازا تھا۔۔۔ انہیں سوچنے کی صلاحیت عطا کی تھی۔۔۔ یہ اپنے ذاتی معاملات میں تو بڑے سیانے تھے۔۔۔ انہوں نے مذہب کو کوئی اہمیت ہی نہ دی۔۔۔ آخرت کے بارے میں کوئی غور نہ کیا۔۔۔ تیرے حضور حاضری کا انہیں کوئی ڈر نہ تھا۔۔۔۔ آج بڑے بھولے بنے کھڑے ہیں۔۔۔"

قادیانیو! بتاؤ کیا تمہارے پاس ان سوالوں کے جواب ہیں؟ کیا تم اس صورت حال کا سامنا کر سکو گے؟ سوچو۔۔۔ خوب سوچو۔۔۔ گہرائی میں جا کر سوچو۔۔۔ ابھی مہلت کی گھڑیاں باقی ہیں۔۔۔ ابھی زندگی کا چراغ نہیں بجھا۔۔۔ ابھی سانس کی ڈور نہیں ٹوٹی۔۔۔ آج توبہ کر لو۔۔۔ کل توبہ کا دروازہ بند ہوگا۔۔۔ آج عمل کا دن ہے۔۔۔ کل حساب کا دن ہوگا۔۔۔ جواب کا دن ہوگا!!!

صفحہ 28
PDF 125

ھو

قادیانیت

کو کیا سمجھتے ہیں؟

قادیانیت

کے بارے میں ملک کے تمام شہروں کی

نامور شخصیات کے تاثرات کا انتخاب

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ ☎ 2329

صفحہ 28
صفحہ 127

کلام اول

جس طرح سانپ کا زہریلا ہونا ایک مسلمہ امر ہے
جس طرح بھیڑیے کا ظالم اور خونخوار ہونا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے
جس طرح لومڑی کا مکار ہونا کسی دلیل کا محتاج نہیں
جس طرح گیدڑ کا بزدل ہونا ایک طے شدہ بات ہے
جس طرح خنزیر کا ناپاک اور غلیظ ہونا ایک اٹل اصول ہے

اسی طرح انسانیت کے لیے قادیانیت کا وجود ایک زہر، ایک غلاظت اور ایک ناسور سے کم نہیں۔ مخبر صادق جناب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اپنی حیات ظاہری میں فتنہ انکار ختم نبوت سے آگاہ کر دیا تھا۔ یقیناً مرزا قادیانی انہی تیس دجالوں اور کذابوں میں سے ایک ہے، جن کا ذکر احادیث رسولؐ میں آیا ہے۔ اللہ اور اس کے پیارے رسولؐ کے اعلان ختم نبوت کے بعد کسی بھی مدعی نبوت کے جھوٹا ہونے کے لیے کسی بھی گواہی کی ضرورت نہیں۔ اس کے جھوٹا ہونے کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ کی شہادتیں ہی کافی ہیں--- لیکن قادیانی بازی گر قرآن و حدیث کی روح کو قطع و برید کر کے مرزا قادیانی کی نبوت کا جواز مہیا کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف گوشوں کے سرکردہ افراد کی قادیانیت کے حق میں آراء پیش کرتے ہیں۔ یہ آراء یا تو ان قادیانی چکمہ بازوں کی طبع زاد ہوتی ہیں اور یا ان افراد کے بیانات کو توڑ مروڑ کر اور انہیں جھوٹ کا خوشنما لباس پہنا کر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تاکہ قادیانیت کے زہر کو عوام کے قلوب میں اتارا جاسکے۔ ہم نے اس خطرناک قادیانی حملے کا دندان شکن جواب دینے کے لیے زندگی کے مختلف طبقات کے اہم افراد کی آراء کو اکٹھا کیا ہے تاکہ عوام تک یہ بات پہنچ سکے کہ ان سرکردہ افراد نے قادیانیت کو کیا جانا ہے، کیا پہچانا ہے اور پھر اپنے عمیق تجربے کو کن الفاظ کی زبان دی ہے۔ یہ کتابچہ ایک ایسا آئینہ ہے، جس میں مسلمان عوام اور قادیانیت کے چنگل میں پھنسے ہوئے قادیانی، قادیانیت کا ”رخ سیاہ“ دیکھ سکیں گے اور قادیانی بردہ فروشوں سے اپنے ایمان کی حفاظت کا سامان کر سکیں گے۔ (انشاء اللہ)

خادم تحریک ختم نبوت محمد طاہر رزاق

صفحہ 128

امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ

”مرزائیت کی تحریک جو مذہبی روپ میں نمودار ہوئی دراصل مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد فنا کرنے اور ان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ایک خوفناک سازش ہے جو انگریزی دور حکومت میں تیار کی گئی“۔ (”مرزائیت سیاسی تحریک‘ مذہبی بہروپ“ از ابو مدثرہ)

ایم۔ ایم عالم (ریٹائرڈ ایئر کموڈور)

”قادیانیوں نے ہمیشہ غداری کی ہے۔ یہ لوگ ملک اور قوم دونوں کے دشمن ہیں۔ میرے متعلق ان لوگوں نے افواہ اڑائی ہے کہ نعوذ باللہ میں قادیانی ہوں۔ میں ان پر لعنت بھیجتا ہوں“۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ۲۳‘ شمارہ ۲۸‘ مارچ ۱۹۸۸ء)

ایم۔ حمزہ

”قادیانی اسلام قبول کر لیں یا اپنے محسن انگریز کے پاس چلے جائیں۔ ختم نبوت کا مسئلہ چودہ سو سال قبل حل ہوچکا ہے“۔ (روزنامہ ”جسارت“ کراچی‘ ۳۰؍ جون ۱۹۷۴ء)

اسماعیل قریشی (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ)

”قادیانیوں کو جلسے کی اجازت دینا آئین اور قوانین کے منافی ہے۔ قادیانیوں کی صد سالہ تقریبات تمام مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کا سبب بنے گی“۔ (روزنامہ ”جنگ“

لاہور‘ ۲۰؍ مئی ۱۹۹۱ء)

اشتیاق احمد (نامور ناول نویس)

”مرزا غلام احمد قادیانی عیار ترین شخص تھا‘ جو تمام عمر گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہا“۔ (”مرزا غلام احمد قادیانی“ از اشتیاق احمد)

صفحہ 129

آغا شورش کاشمیریؒ

”مرزا قادیانی برطانوی اغراض کا روحانی بیٹا تھا۔ ”قادیان“ مرزائیت کی جائے پیدائش‘ ربوہ اعصابی مرکز‘ تل ابیب تربیتی کیمپ‘ لندن پناہ گاہ‘ ماسکو استاد اور واشنگٹن اس کا بینک ہے۔“ ۔(ہفت روزہ ”چٹان“ اپریل ۱۹۷۴ء)

اتا ترک غازی مصطفےٰ کمال پاشا

”میرے دوستو! اگر کوئی موقع آیا تو تم دیکھو گے کہ تحفظ ناموس اسلام کی راہ میں‘ میں سر کٹانے کے لیے مجاہدین کی صف اول میں شامل ہوں گا۔ تمہیں اجازت ہیکہ تم فرقہ ضالہ قادیانیہ کے استیصال کے لیے ہر ممکن اور جائز ذرائع اختیار کرو۔ میں تمہیں کامیابی کی نوید دیتا ہوں۔ وكان حقاً علينا نصر المؤمنین (القرآن)“ ۔(”مرزائیت عدالت کے

کٹہرے میں“ از جانباز مرزا‘ ص ۲۴۵)

احمد سعید اعوان (سابق وفاقی وزیر مملکت)

”مرزائی کافر ہیں اور ملک کے غدار ہیں۔ ان کی سرگرمیاں سخت مشکوک ہیں“۔

(ہفت روزہ ”لولاک“ جنوری ۱۹۷۶ء)

پیر سید جماعت علی شاہ صاحبؒ

”علاوہ ازیں مرزائی حضور علیہ السلام کے مدارج کو مرزا قادیانی کے لیے مان کر شرک فی النبوۃ کے مرتکب ہوئے۔ جس طرح خداوند کریم کا شریک کوئی نہیں‘ اسی طرح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال بھی کوئی نہیں“ ۔(”ایمان پرور یادیں“ از مولانا اللہ وسایا)

پروفیسر ساجد میر

”قادیانی قطعی طور پر خارج از اسلام ہیں۔ یہ دنیا بھر کے علماء کا متفقہ فیصلہ اور

صفحہ 130

آئین پاکستان کا حصہ ہے“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور‘ ۲۸ دسمبر ۱۹۸۹ء)

پروفیسر غفور احمد

”بلاشبہ دستور کی حد تک قادیانی مسئلہ تسلی بخش طور پر حل ہو گیا ہے۔ لیکن انتظامی لحاظ سے یہ مسئلہ پوری سنگینی کے ساتھ بدستور موجود ہے۔ قادیانی ملک کی کلیدی اسامیوں اور پالیسی ساز اداروں پر قابض ہیں اور ربوہ ابھی تک ان کی تحویل میں ہے۔ جب تک ان لوگوں کو ان کے مناصب سے الگ نہیں کیا جاتا اور ربوہ میں عام مسلمانوں کو رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی‘ یہ مسئلہ موجود رہے گا اور کسی وقت بھی امن عامہ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے“۔ (ہفت روزہ ”ایشیا“ لاہور‘ ۲۰ اکتوبر ۱۹۷۴ء)

پروفیسر خورشید احمد

”قادیانیت کے متعلق میرا ہمیشہ سے خیال ہے کہ اسے شعوری طور پر وہی قبول کر سکتا ہے جو یا تو اچھا خاصا غبی ہو یا پھر اسے کوئی مفاد اس طرف لے جائے“۔ (ماہنامہ ”اردو ڈائجسٹ“ دسمبر ۱۹۹۲ء)

پروفیسر قاری مغیث الدین شیخ (شعبہ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی لاہور)

”ملت اسلامیہ سے جھٹک دیے جانے کے باوجود قادیانیت ایک ایسا ناسور ہے جو اپنے غلیظ عقاید و نظریات کے ماتھے پر اسلام کا لیبل چپکائے رکھنے پر اصرار کرتا ہے‘ عالمی صیہونی تحریک کا آلہ کار‘ یورپ کا تربیت یافتہ اور اسرائیل نواز یہ گروہ دراصل اپنے مغربی آقاؤں کے مخصوص مقاصد و مفادات کی خاطر امت مسلمہ کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے مسلمانوں سے علیحدہ ہونا نہیں چاہتا“۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ ۱۴ اگست ۱۹۸۹ء)

جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری

”مرزائی مار آستین ہیں۔ جو دن رات وطن عزیز کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔

صفحہ 131

نظام اسلامی کے راستے میں انہوں نے جس طرح رکاوٹیں پیدا کیں‘ ان سے ہم سب باخبر ہیں ۔ اس فتنہ کے تدارک کی ذمہ داری ہم پر دوسروں سے زیادہ عاید ہوتی ہے ۔ ہم نے اگر اس میں کوتاہی کی تو یاد رکھئے آئندہ نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی“۔ (ماہنامہ ”ضیائے حرم“ دسمبر ۱۹۷۴ء)

جنرل محمد ضیاء الحق

”قادیانیت کا وجود عالم اسلام کے لیے سرطان کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت پاکستان مختلف اقدامات کے ذریعے اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ اس سرطان کا خاتمہ کیا جائے ۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پردہ چاک کیا اور دنیا کو اس کے فریب سے آگاہ کیا ۔ ختم نبوت کا عقیدہ نہ صرف ملت اسلامیہ کے ایمان کا بنیادی نکتہ ہے‘ بلکہ پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے دین اور رحمت کی تکمیل کا عالمی پیغام ہے“۔ (روزنامہ ”مشرق“ کوئٹہ‘ ۱۰؍اگست ۱۹۸۵ء)

جسٹس ملک غلام علی

”قادیانیت ایک بارودی سرنگ ہے‘ جسے اسلام دشمن طاقتوں نے بڑی ہنرمندی کے ساتھ اس کی دیواروں کے نیچے بچھا رکھا ہے“۔ (”ترجمان القرآن“ لاہور‘ جولائی ۱۹۷۴ء)

جنرل فضل حق (سابق گورنر سرحد)

صدر پاکستان (جنرل ضیاء الحق) نے قادیانیوں کے خلاف آرڈیننس جاری کر کے ایک جرأت مندانہ قدم اٹھایا ہے اور اسی طرح انہوں نے مسلم لیگ کی ایک دیرینہ خواہش کی تکمیل کی ہے ۔ اگرچہ قادیانیوں کو گزشتہ دورِ حکومت میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا لیکن دیگر قانونی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ ابھی تک نامکمل تھا ۔ قادیانیوں کو

صفحہ 132

اگرچہ دس سال قبل غیر مسلم قرار دیا گیا تھا لیکن وہ ابھی تک اسلامی روایات اور اداروں کو غلط طور پر استعمال کر رہے تھے اور خود کو مسلمانوں کے روپ میں ظاہر کرتے تھے، لیکن اب یہ چور دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ (روزنامہ ”جنگ“ ۸ مئی ۱۹۸۴ء)

چوہدری افضل حقؒ

”مرزائیت عیسائیت کی توام بہن ہے۔ یہ تحریک انگریزی حکمت عملی کی آغوش میں پل کر بڑھی، پھلی اور پھولی ہے“۔ (”تاریخ محاسبہ قادیانیت“ از پروفیسر خالد شبیر)

چوہدری محمد اسماعیل ایڈووکیٹ (چیئرمین انٹرنیشنل اسلامک ٹربیونل)

”یہودیوں کی طرح مرزائی بھی ایک منظم پارٹی ہے، جس کے سیاسی اور معاشی مفادات اکٹھے ہیں“۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ جلد ۲۲، شمارہ ۴۰، ۲۷ دسمبر ۱۹۸۵ء)

چوہدری غلام جیلانی

”وہ اب تک اپنے مردے پاکستان میں امانتاً ”دفن کرنا پسند کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ اکھنڈ بھارت پھر بن جائے اور ان کے وارے نیارے ہو جائیں، لیکن انشاء اللہ وہ روز بد کبھی نہیں آئے گا۔ قادیانی ایمان و اسلام سے تو محروم ہو چکے اور آخرت برباد کر چکے ہیں اور اب دنیا میں بھی ذلیل و خوار رہیں گے“۔ (ہفت روزہ ”ایشیا“ ۳۰ جون ۱۹۷۴ء)

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ

”حجاز کے مبارک سفر مکہ مکرمہ میں حاجی امداد اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی جو ایک صحیح صاحب کشف انسان تھے۔ جب ان کو میری آزاد اور بے باک طبیعت کا علم ہوا تو شدید اصرار اور تاکید سے فرمایا کہ چونکہ عنقریب ہندوستان میں ایک فتنہ ظاہر ہونے والا ہے، لہٰذا تم وطن واپس چلے جاؤ۔ اگر بالفرض تم خاموش بھی رہو گے تو بھی یہ فتنہ ترقی نہ کر سکے گا اور

صفحہ 133

اس طرح ملک میں آرام رہے گا۔ چنانچہ میں پورے وثوق کے ساتھ حاجی صاحب کے اس کشف کو مرزا قادیانی کے فتنہ سے تعبیر کرتا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خواب میں مجھے حکم دیا کہ یہ مرزا قادیانی غلط تاویل کی قینچی سے میری احادیث کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تو خاموش ہے“۔

(”ملفوظات طیبہ“ ص ۱۲۶-۱۲۷)

حضرت میاں شیر محمدؒ صاحب شرق پور شریف

”حضرت مولانا میاں شیر محمد صاحبؒ شرق پوری نے ایک دفعہ مراقبہ کیا اور دیکھا کہ مرزا قادیانی کی شکل قبر میں باؤلے کتے کی ہے اور باؤلے پن کا اس پر دورہ پڑا ہوا ہے۔ اس کا منہ دم کی طرف ہے‘ بھونک رہا ہے اور گول چکر کاٹ رہا ہے‘ منہ سے پانی نکل رہا ہے اور بار بار اپنی دم اور ٹانگوں کو کاٹتا ہے۔ اس کشف کا فقیر نے ایک بزرگ کے سامنے ذکر کیا‘ فوراً تڑپ اٹھے۔ فرمایا خدا گواہ ہے۔ واقعتاً ”یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ مرزا کی حقیقت ایسی ہی ہونی چاہیے“۔ (”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ از مولانا اللہ وسایا‘ ص ۱۵۲)

حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ

”جو شخص اسلام چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کرے تو وہ کافر ہے‘ مرتد ہے اور مرتد کی سزا شریعت میں قتل ہے۔ اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہوتی تو میں قادیانیوں کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرتا‘ جس کی نظیر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے قائم کی تھی۔ مرزائیوں کا سوشل بائیکاٹ بالکل جائز ہے۔ ان کے ساتھ ہر قسم کا میل جول ختم کر دیا جائے“۔ (ماہنامہ ”ضیائے حرم“ دسمبر ۱۹۷۴ء)

حضرت مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادریؒ

”مرزائیت کے نزدیک جہاد شرعاً ”حرام ہے۔ ادبیات مرزائیہ جہاد کے احساس کے لیے تباہ کن ہے۔ مرزائیت الہامات ربانی کی بنا پر اکھنڈ ہند کی خواہاں ہے۔ اس کے نزدیک

صفحہ 134

پاکستان کا قیام عارضی ہے“۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد)

حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ

”بے شک! اس فتنہ قادیانیت کا استیصال جہاد بالسیف سے کم نہیں“۔ (سیرت مولانا محمد علی مونگیریؒ از سید محمد الحسنیٰ، ص۳۰۳)

حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب صاحب

”قادیانی فرقہ دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔ دارالعلوم دیوبند تقسیم ملک سے برسہا برس پہلے بالاتفاق علماء برصغیر ختم نبوتؐ کے بنیادی اور قطعی اسلامی عقیدہ سے انکار پر قادیانی فرقہ کو مرتد اور خارج از اسلام قرار دے چکا ہے“۔ (ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک، نومبر۱۹۷۴ء)

حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ

”قرون اخیرہ کا سب سے بڑا فتنہ مرزا غلام احمد قادیانی کا ظہور ہے“۔ (”قادیانی اور ان کے عقاید“ از مولانا منظور احمد چنیوٹی)

حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ

”مرزائیوں سے خبردار رہو‘ یہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور حکومت پاکستان کو چاہیے کہ خان لیاقت علی خان کے قتل کی تحقیقات کرتے وقت ان کو ذہن میں رکھے۔ ان کو پاکستان میں اپنے مذہب کی تبلیغ کا کوئی حق نہیں ہے“۔ (”منیر انکوائری رپورٹ“ ص۳۳۵)

حضرت مولانا محمد الیاسؒ (بانی تبلیغی جماعت)

”قرآن و سنت، آثار صحابہؓ، اقوال بزرگان دینؒ اور تصریحات سلف صالحینؒ سے

صفحہ 135

مسئلہ ختم نبوت ثابت ہے۔ یہ ایک ایسا اجماعی عقیدہ ہے کہ اس کا منکر، دین اسلام کے بنیادی عقیدہ کا منکر ہونے کے باعث تمام امت کے نزدیک کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مرزا قادیانی محروم القسمت شخص تھا۔ اس کے پیروکاروں کو حق تعالیٰ شانہ ہدایت سے نوازیں کہ یہ کفر و گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو ایمان و یقین کی دولت و نعمت سے آگاہ کرنا تمام مسلمانوں اور بالخصوص علماء ربانین کا فرض ہے“۔ (دہلی میں علماء کرام کے اجلاس سے خطاب)

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب سہارنپوریؒ

”مرزا قادیانی کے دماغ و زبان کی مہار شیطان نے تھام رکھی تھی اور وہ مرزا کو منہ زور گھوڑے کی طرح جھوٹ کی وادیوں میں دوڑاتا تھا“۔ (دارالعلوم پیپلز کالونی فیصل آباد میں مولانا محمد علی جالندھری سے گفتگو)

حضرت مولانا عبد الوہاب تبلیغی مرکز (رائے ونڈ)

”مرزا قادیانی کمبخت ایسا بد نصیب‘ کافر اور مردود تھا کہ وہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسند پر قدم رکھنے کا مدعی تھا۔ یہ سوچ آتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے کہ ابو جہل سے بڑے کافر بھی دنیا میں ہوئے ہیں“۔ (شیخ الحدیث مولانا عبد اللہؒ ساہیوال سے گفتگو)

حضرت مولانا مفتی زین العابدین

”قادیانی ملک و ملت کے دشمن‘ اسلام کے غدار اور انگریز کے لے پالک بیٹے ہیں“۔ (مولانا محمد شریف جالندھری سے اقتباس)

حافظ عبد القادر روپڑی

”مرزائیت‘ مذہب کے قالب میں استعمار و سامراج کی آلہ کار تحریک ہے اور یہ

صفحہ 136

ابتداء سے آج تک مغربی سامراج کی ایجنٹ رہی ہے اور اب بھی سامراج کی آلہ کار ہے"۔

("قادیانی تحریک کا پس منظر" از علامہ فتح پوری)

حفیظ جالندھریؒ (خالق قومی ترانہ)

"مرزائے قادیان اور ان کے ایجنٹوں کی تحریریں، تقریریں اور تبلیغی تدابیر ہیں۔ ان تدابیروں کا مقصد دنیائے اسلام پر "یہود" کی حکومت قائم کرنا ہے"۔ ("قادیانی امت"

از محمد شفیع جوش)

حمید نظامی

"غیر ممالک میں پاکستان کے "سفارت خانے" تبلیغ مرزائیت کے اڈے اور ان کے جماعتی دفاتر معلوم ہوتے ہیں"۔ (ماہنامہ "صوت الاسلام" ستمبر، اکتوبر ۱۹۸۵ء)

خواجہ غلام فریدؒ

"مرزا قادیانی کافر ہے۔ قادیانی فرقہ ناری اور جہنمی ہے۔ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا"۔ ("فوائد فریدیہ" ص ۱۳، مضمون خواجہ غلام فریدؒ "ضیائے حرم" دسمبر ۱۹۷۴ء)

ڈاکٹر اسرار احمد

"قادیانی مسئلہ جو ہمارے جسد ملی میں ناسور کی حیثیت رکھتا ہے، ایک نئے اور پیچیدہ تر مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ فتنہ اپنے سازشی کردار اور خاموشی لیکن انتہائی مہارت اور مشاقی کے ساتھ جسد ملت میں سرطان کے پھوڑے کی طرح جڑیں جمانے کے اعتبار سے پوری ملت اسلامیہ کی تاریخ میں منفرد مقام رکھتا ہے"۔ ("قادیانی مسئلہ اور اس کا نیا اور پیچیدہ تر مرحلہ" از ڈاکٹر اسرار احمد)

صفحہ 137

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

”اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ عرصہ دراز سے قادیانی ملک کے اندر اور باہر یہودی لابی سے مل کر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش میں سرگرم عمل ہیں اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مغربی ممالک کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں اور بے جا پابندیاں پیدا کر کے ہماری فنی ترقی کو مفلوج کرنے میں مشغول ہیں“۔ (ہفت روزہ ”چٹان“ جلد ۳۹‘ شمارہ ۳۲۳‘ ۳۱ اگست ۱۹۸۶ء)

ڈاکٹر عبدالباسط (ممتاز قانون دان)

”میں سمجھتا ہوں کہ قادیانی تحریک کبھی بھی مذہبی مسئلہ نہیں تھی۔ اس فتنے کی ابتداء برطانوی دور میں شعبہ جاسوسی سے ہوئی اور اس کا مقصد مسلمانوں کو فکری انتشار میں مبتلا کر کے برطانوی سامراج کو زوال سے بچانے کی تدابیر کرنا تھا“۔ (ہفت روزہ ”چٹان“ ۱۱ر جون ۱۹۸۴ء)

ڈاکٹر وحید عشرت

”جہاں جہاں قادیانی ہیں‘ وہ استعماریت کے اغراض و مقاصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کے غدار اور مرتد ہیں“۔ (ہفت روزہ ”مہارت“ لاہور‘ ۱۳ تا ۱۹ر فروری ۱۹۹۲ء)

ڈاکٹر صہیب عبدالغفار حسن (دار الافتاء مکہ المکرمہ)

”قادیانیوں کا اسلام دشمن اور شرمناک سیاسی کردار سب مسلمانوں پر واضح ہے۔ اصل میں یہ ایک سیاسی تحریک ہے جس نے مذہبی روپ دھار رکھا ہے“۔ (ہفت روزہ ”لولاک“)

صفحہ 138

ڈاکٹر عبدالکریم غلاب (نامور مسلم سکالر مراکش)

”یہودیوں نے سنت نبویؐ، رسالت، جہاد اور وحی کے موضوعات پر جس قدر علمی اور تحقیقی بددیانتیاں کیں، قادیانیت ان کا بروز مجسم ہے“۔ (توفیق، مناہج الصہیونیہ، بیروت ۱۹۴۱ء، جلد اول، ص۲۳۰ بحوالہ ہفت روزہ ”چٹان“ لاہور، ۸ فروری ۱۹۷۰ء)

ذوالفقار علی بھٹو

”قادیانی اتنے خطرناک ہیں، اس کا احساس مجھے ان دو دنوں میں ہوا ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ قادیانی مذہب کے لوگ اس قدر خوفناک ارادے رکھتے ہیں“۔ (مقالہ مولانا تاج محمودؒ، علوم اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی ۱۹۹۱ء از محمد ندیم)

ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خاں

”ہر صحیح العقیدہ مسلمان کی طرح میرا ایمان بھی ہے کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں“۔ (ہفت روزہ ”لیل و نہار“ ص۶، ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی، ۲۲ تا ۲۹ جون ۱۹۷۴ء)

زیڈ اے سلہری

”دراصل قادیانی ازم انگریزوں کی سنگینوں کی حفاظت میں پروان چڑھا۔ کسی آزاد مسلم معاشرے میں اس کا پنپنا ناممکن تھا۔ اس کا مقصد اسلام کی تعلیم کو مسخ کرنا تھا اور مغرب میں اس مذموم مقصد کے حصول کا ایک ہی ذریعہ قرار دیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کو گھٹایا جائے“۔ (ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک، نومبر ۱۹۷۴ء)

سردار محمد عبدالقیوم خاں (صدر آزاد کشمیر)

”ہم آزاد کشمیر میں کوشش کر رہے ہیں کہ اس سرزمین کو قادیانیت کے فتنہ سے

صفحہ 139

محفوظ رکھیں۔ وہاں انہوں نے بہت سازشیں کی ہیں۔ قادیانی پاکستان کی اہم شخصیتوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کر چکے ہیں“۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ مارچ ۱۹۷۴ء)

سید ریاض الحسن گیلانی (سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل)

”عقیدہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے کی سزا موت ہے اور اسلامی مملکت میں یہ سنگین ترین جرم ہے، اس لیے اس جرم کے مرتکب کو سزا دینے کے لیے صرف حکومت کی مشینری کے حرکت میں آنے کا انتظار کرنا ضروری نہیں بلکہ کوئی مسلمان بھی اس سلسلے میں قانون کو ہاتھ میں لے سکتا ہے کیونکہ یہی شریعت کا حکم ہے“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ کراچی، ۱۹ نومبر ۱۹۸۵ء)

سر سید احمد خاں

”ان کی تصانیف میں نے دیکھیں۔ وہ اس قسم کی ہیں جیسا ان کا الہام یعنی نہ دین کے کام کی، نہ دنیا کے کام کی“۔ (”تاریخ محاسبہ قادیانیت“ از پروفیسر خالد شبیر، ص ۱۴۷-۱۴۸)

شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ (اسیر مالٹا)

”جس شخص کے ایسے عقاید و اقوال (قادیانی عقاید و اقوال) ہوں، اس کے خارج از اسلام ہونے میں کسی مسلمان کو، خواہ جاہل ہو یا عالم، تردد نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ متبعین درجہ بدرجہ مرتد، زندیق، ملحد، کافر اور فرقہ ضالہ میں یقیناً داخل ہیں“۔ (دارالعلوم دیوبند ختم نبوت نمبر ۱، جون تا اگست ۱۹۸۷ء)

شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ

”مرزا غلام احمد قادیانی اسلام کے ایک قطعی عقیدہ (ختم نبوت) کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے مرتد اور زندیق ہے اور جو جماعت ان تصریحات پر مطلع ہو کر ان کو صادق سمجھتی

صفحہ 140

رہے اور اس کی حمایت میں لڑتی رہے‘ وہ بھی یقیناً مرتد اور زندیق ہے‘ خواہ وہ قادیان میں سکونت رکھتی ہو یا لاہور میں“۔ (”الشہاب“ از مولانا شبیر احمد عثمانیؒ)

شاہ فہد (خادم الحرمین شریفین)

”سوئٹزر لینڈ کی قادیانی ایسوسی ایشن نے سعودی عرب کے شاہ فہد سے تحریری طور پر یہ مضحکہ خیز درخواست کی ہے کہ وہ ان کے مذہب کے سربراہ کو حج کے لیے سعودی عرب آنے کی دعوت دیں۔ ایک خط میں‘ جو شاہ فہد سمیت سعودی عرب کے چند اعلیٰ حکام کو بھیجا گیا ہے‘ سوئٹزر لینڈ میں قائم قادیانیوں کی تحریک نے درخواست کی ہے کہ ان کے مذہب کے رہنما کو‘ جو اس وقت ربوہ میں رہتے ہیں‘ سعودی فرمانروا کے سرکاری مہمان کی حیثیت سے دعوت دی جائے۔ سوئٹزر لینڈ کے مسلم سفارت کاروں نے اس ضمن میں غصہ و ناراضگی کا اظہار کیا ہے“۔ (روزنامہ ”جنگ“ کراچی‘ ۱۹؍ اگست ۱۹۸۲ء)

جب یہ درخواست شاہ فہد کے پاس گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ ”قادیانی جماعت کے سربراہ ”مرزا قادیانی ملعون“ کا طوق غلامی اتار کر‘ مسلمان بن کر آئیں تو دل و جان سے مہمانداری کریں گے‘ لیکن اگر مرزا قادیانی کا طوق غلامی پہن کر آنا چاہتے ہو تو یاد رکھو کہ یہ سرزمین حجاز ہے‘ جو کچھ ہمارے پیش رو حضرت صدیق اکبرؓ نے مسیلمہ کذاب اور اس کی پارٹی کا حشر کیا تھا‘ وہی حشر ہم تمہارا کریں گے“۔ اس جواب پر مرزائیوں کے اوسان خطا ہو گئے۔ (”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ از مولانا اللہ وسایا‘ ص ۲۳۰)

شیخ محمد عبداللہ بن سبیل (خطیب و امام مسجد الحرام مکہ مکرمہ)

”اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی فرقہ‘ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مکر و فتنہ پردازی میں مصروف ہے اور اللہ کے مومن بندوں کا سخت ترین دشمن ہے“۔ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ انٹرنیشنل کراچی‘ ۸؍ جون ۱۹۸۴ء)

شیخ عبداللہ بن حسن (مفتی اعظم‘ رئیس القضاۃ مکہ مکرمہ)

صفحہ 141

"جو شخص دعویٰ نبوت کرے، اس کے کفر میں کوئی شک نہیں اور جو شخص اس کے دعویٰ نبوت کی تصدیق کرے یا اس کی تابعداری کرے، وہ مدعی نبوت کی طرح کافر ہے اور اہل اسلام ان سے رشتہ و نکاح وغیرہ نہیں کر سکتے"۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد)

شیخ ابوالیسر عابدین (مفتی اعظم جمہوریہ شام)

"چونکہ فرقہ قادیانیہ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی تسلیم نہیں کرتا، جس سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”خاتم النبیین“ کی مخالفت لازم آتی ہے، نیز دین اسلام کے بیشتر عقاید کا منکر ہے۔ لہٰذا جو شخص بھی ان کے عقاید اختیار کرے گا، میں اس کے کفر کا فتویٰ دیتا ہوں۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم"۔ (فتویٰ مفتی اعظم جمہوریہ شام، ۱۵ اکتوبر ۱۹۵۷ء)

صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہؒ آلو مہار شریف

"کسی قادیانی کو قتل کرنا رضائے الٰہی کا موجب ہے"۔ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت، صفحہ ۱۸۰)

علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ

"تاریخ اسلام کا جس قدر میں نے مطالعہ کیا ہے، اسلام میں چودہ سو سال کے اندر جس قدر فتنے پیدا ہوئے ہیں، قادیانی فتنہ سے بڑا، خطرناک اور سنگین فتنہ کوئی بھی پیدا نہیں ہوا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنی خوشی اس شخص سے ہوگی، جو اس کے استیصال کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دوسرے اعمال کی نسبت اس کے اس عمل سے زیادہ خوش ہوں گے۔ جو کوئی اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے اپنے آپ کو لگا دے گا، اس کی جنت کا میں ضامن ہوں"۔ (”چراغ ہدایت“ از مولانا محمد چراغ، ص ۳۵)

علامہ احسان الٰہی ظہیر

صفحہ 142

"اسرائیل اور مرزائیت کا آپس میں گہرا رابطہ اور تعلق ہے اور مرزائیت اور اسرائیل دونوں ہی انگریز کی تخلیق اور سازش کا نتیجہ ہیں۔ مرزائیوں کے معتقدات مسلمانوں کے عقائد کے خلاف ہیں"۔ ("اسلام اور مرزائیت" از علامہ احسان الٰہی ظہیر)

علامہ اقبالؒ

”میں اس باب میں کوئی شک و شبہ اپنے دل میں نہیں رکھتا کہ یہ ”احمدی اسلام اور ہندوستان دونوں کے غدار ہیں“۔ (علامہ اقبال کا خط پنڈت جواہر لعل نہرو کے نام‘ ۲۱؍ جون ۱۹۳۶ء)

عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز (وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی)

”جو شخص یہ کہتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر دیا گیا ہے یا سولی پر چڑھا دیا گیا ہے یا وہ ہجرت کر کے کشمیر چلے گئے‘ جہاں عرصہ دراز کی زندگی کے بعد اپنی طبعی موت سے فوت ہوئے اور آسمان پر نہیں اٹھائے گئے یا یہ کہ وہ دنیا میں آ چکے ہیں یا وہ خود نہیں آئیں گے‘ بلکہ ان کا مثیل آئے گا‘ جیسا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ”میں مثیل مسیح ہوں‘ میں اس فریضہ کو ادا کروں گا“ اور یہ دعویٰ کرنا کہ آسمان سے نازل ہونے والا کوئی مسیح نہیں ہے۔ یہ سارے خیالات اللہ پر افترا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے‘ یعنی ایسا کرنے والا شخص اللہ اور اس کے رسول کو جھوٹا قرار دیتا ہے اور وہ شخص کافر ہے۔ ایسی باتیں کرنے والے شخص سے قرآن و سنت کے دلائل واضح کرنے کے بعد توبہ کا مطالبہ کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ توبہ کر کے حق کی طرف رجوع کرے تو بہتر ورنہ اسے کفر کی حالت میں قتل کر دیا جائے“۔ (فتویٰ عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز‘ نائب رئیس الجامعہ الاسلامیہ المدینہ المنورہ۔ ”قادیانیت عدالت کے کٹہرے میں“ از جانباز مرزا)

عطاء الحق قاسمی

میرے نزدیک بد بخت انگریز نے ہندوستان میں اپنے غاصبانہ قبضے کو مضبوط کرنے اور

صفحہ 143

اسلام سے اپنی ازلی دشمنی کے اظہار کے لیے جہاں اور بہت سے اقدامات کیے‘ وہاں مرزا غلام احمد کے گلے میں ”انگریزی نبوت“ کا طوق بھی ڈالا۔ چنانچہ موصوف نے مسلمانان ہند کو بے روح بنانے کے لیے پہلا کام یہ کیا کہ جہاد کو منسوخ قرار دے ڈالا تاکہ ہندوستان کے تخت و تاج کے وارث مسلمان انگریز کی غلامی کو مذہبی بنیادوں پر تسلیم کرلیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ موصوف نے انگریزوں کے جو قصیدے لکھے‘ وہ اتنے افسوسناک ہیں کہ انہیں پڑھتے ہوئے ایک آزادی پسند انسان کا خون کھولنے لگتا ہے۔ (عطاء الحق قاسمی ”قادیانیت شکن“ ص ۱۰۹)

غلام مصطفےٰ جتوئی (سابق وزیراعظم)

”این پی پی ۱۹۷۳ء کے آئین کو قادیانیوں سے متعلق غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی ترمیم سمیت تسلیم کرتی ہے“۔ (روزنامہ ”مشرق“ لاہور‘ ۲۰ستمبر ۱۹۸۶ء)

غلام حیدر وائیں (سابق وزیراعلیٰ پنجاب)

مسلم لیگ کے دستور کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ کے باقاعدہ رکن نہیں بن سکتے۔ البتہ پاکستان کی دیگر اقلیتوں کے ورکر اس جماعت کے شریک رکن اسی صورت میں بن سکتے ہیں بشرطیکہ مسلم لیگ کے اغراض و مقاصد اور نظریاتی اساس متفق ہوں“۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۸؍نومبر ۱۹۸۶ء)

قائداعظم محمد علی جناحؒ

جب کشمیر سے واپسی پر قائداعظمؒ سے سوال کیا گیا کہ آپ کی قادیانیوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ”میری رائے وہی ہے جو علماء کرام اور پوری امت کی ہے“۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ دسمبر ۱۹۷۱ء)

قدرت اللہ شہاب

صفحہ 144

”کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ جنگ (۱۹۶۵ء) قادیانیوں کی سازش کا نتیجہ ہے، اس لیے فوج کے ایک قادیانی افسر میجر جنرل اختر حسین ملک نے مقبوضہ کشمیر پر تسلط قائم کرنے کے لیے ایک پلان تیار کیا، جس کا کوڈ نام ”جبرالٹر“ تھا۔ صاحبان اقتدار کے لیے کئی افراد نے ان کی مدد کی۔ ان میں مسٹر ایم۔ ایم۔ احمد سر فہرست بتائے جاتے ہیں، جو خود بھی قادیانی تھے اور عہدے میں بھی پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ہونے کی حیثیت سے صدر ایوب کے نہایت قریب تھے۔ جنرل اختر ملک نے اپنے پلان کے مطابق کارروائی شروع کی۔ ایک بار میں نے نواب آف کالا باغ سے اس جنگ کے متعلق کچھ دریافت کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے فرمایا: بھائی شہاب، یہ جنگ پاکستان کی ہرگز نہ تھی۔ دراصل یہ جنگ اختر ملک، ایم۔ ایم۔ احمد، عزیز احمد اور نذیر احمد نے شروع کروائی تھی“۔ (جو سب قادیانی تھے۔

ناقل) (”شہاب نامہ“ از قدرت اللہ شہاب)

قاضی حسین احمد (امیر جماعت اسلامی)

”قادیانیت کے مکمل خاتمہ کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کا اتحاد ناگزیر ہے۔ انگریزوں نے مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خوف زدہ ہو کر قادیانیت کی بنیاد رکھی تھی اور اب تک روس، امریکہ اور برطانیہ اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ قادیانی گروہ پاکستان کے خلاف مسلسل تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اس جماعت کے افراد مسلح افواج، نوکر شاہی اور صنعتی اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں، جو طاغوتی طاقتوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ انگریز کا خود کاشتہ پودا آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مرزائی چاہتے ہیں کہ کوئی طاقت ان کو مسلمانوں کے نام پر اقتدار پر بٹھا دے۔ حکومت پاکستان ایرانی بھائیوں کی طرح پاکستان میں مرزائیوں کو خلاف قانون قرار دے“۔

(روزنامہ ”نوائے وقت“ ۲۸؍ اکتوبر ۱۹۸۸ء)

مولانا احمد رضا خاں بریلویؒ

”قادیانی مرتد، منافق ہیں۔ مرتد منافق وہ کہ کلمہ اسلام اب بھی پڑھتا ہے، اپنے

صفحہ 145

آپ کو مسلمان بھی کہتا ہے اور پھر اللہ عزوجل یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی نبی کی توہین کرتا یا ضروریات دین میں سے کسی شے کا منکر ہے۔ اس کا ذبیحہ محض نجس، مردار، حرام قطعی ہے۔ مسلمانوں کے بائیکاٹ کے سبب قادیانی کو مظلوم سمجھنے والا اور اس سے میل جول چھوڑنے کو ظلم و ناحق سمجھنے والا اسلام سے خارج ہے اور جو کافر کو کافر نہ کہے، وہ بھی کافر“۔

(”احکام شریعت“ ص ۱۴، ۱۴۴، ۱۷۷)

مفتی محمد حسین نعیمی

”قادیانی اپنے عقائد اور نظریات کے باعث مرتد ہیں۔ ایسا شخص، جو اسلام کے بعد کافر ہو، مرتد ہوتا ہے، واجب القتل ہے“۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۹۸۶ء)

مولانا رشید احمد گنگوہیؒ

مولانا محمد حسین بٹالویؒ کے استفتاء کے جواب میں تمام علماء ہندوستان نے مرزا قادیانی کی تکفیر کی، جس میں اکابر دیوبند میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے رقم فرمایا:

”مرزا غلام احمد اپنی تاویلات فاسدہ اور ہفوات باطلہ کی وجہ سے دجال، کذاب اور طریقہ اہلسنت والجماعت سے خارج ہے“۔ (مولانا محمد حسین بٹالوی کے استفتاء کے جواب میں)

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی

”اسلام کے خلاف وقتاً فوقتاً جو تحریکیں اٹھیں، ان میں قادیانیت کو خاص امتیاز حاصل ہے۔ وہ تحریکیں یا تو اسلام کے نظام حکومت کے خلاف تھیں یا شریعت اسلامی کے خلاف، لیکن قادیانیت درحقیقت نبوت محمدی کے خلاف ایک سازش ہے“۔

(”قادیانیت — مطالعہ و جائزہ“ از ابوالحسن ندوی)

مولانا محمد علی جالندھریؒ

صفحہ 146

”مرزائی زندیق ہیں اور واجب القتل ہیں۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ مرزا غلام قادیانی کے نام کے ساتھ لفظ ”کذاب“ شامل کر دیا (جائے) کرے۔ جو شخص کسی جھوٹے نبی کو قتل کر دے، اس کو ۱۰۰ شہیدوں کا ثواب ملتا ہے“۔ (”منیر انکوائری رپورٹ“ ص ۳۶۳)

مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

”جس طرح مسیلمہ کذاب کو مسلمان سمجھنا کفر ہے، اسی طرح مسیلمہ پنجاب مرزا قادیانی کو مسلمان سمجھنا کفر ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ مسیلمہ قادیان، یمامہ کے مسیلمہ سے دجل اور فریب میں کہیں آگے نکلا ہوا ہے“۔ (”اسلام اور مرزائیت کا اصولی اختلاف“ از مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ)

مولانا محمد تقی عثمانی

”ان لوگوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بالکل نئے دین کے پیرو ہیں، جو دشمنان اسلام کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے“۔ (ماہنامہ ”البلاغ“ اگست ۱۹۷۴ء)

مولانا منظور احمد چنیوٹی

”یہ لوگ پاکستان دشمن طاقتوں کے آلہ کار ہیں اور ان تمام کی خواہش ہے کہ پاکستان کا نام صفحہ ہستی سے مٹ جائے۔ حکومت کو بروقت آگاہ کرنا ہم اپنا ملی و ملکی فریضہ سمجھتے ہیں اور حکومت پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک دشمن اور باغی جماعت کو فی الفور خلاف قانون قرار دیا جائے“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ ۱۲ جون ۱۹۹۱ء)

مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی صاحب

”مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک تمام جھوٹے مدعیان نبوت مع

صفحہ 147

ایسی جماعت قطعی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جو ان کو کافر نہ کہے‘ وہ خود بھی کافر ہے"۔ (عقیدہ ختم نبوت اور اسلام" از ضیاءالرحمٰن فاروقی)

میجر (ریٹائرڈ) محمد امین منہاس

"انگریزوں نے اسلام اور فلسفہ جہاد سے خوفزدہ ہو کر مرزا غلام احمد قادیانی کو پلانٹ کیا‘ جس نے جہاد کو حرام قرار دیا"۔ (روزنامہ "جنگ"۔ "نوائے وقت" لاہور‘ یکم فروری ۱۹۹۳ء)

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

"متنبی قادیان مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کا کفر و زندقہ ایک ثابت اور کھلی ہوئی حقیقت ہے۔ پاکستان اور عالم اسلام کے لیے قادیانیت کا وجود ایک سرطان ہے"۔

("قادیانی امت" از مولانا محمد شفیع جوش)

محترمہ بے نظیر بھٹو

"قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم ملک کی منتخب اسمبلی میں اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی‘ اس لیے وہ ترمیم درست ہے اور اسے ختم نہیں کیا جائے گا"۔ (روزنامہ "جنگ" ۱۹۸۷ء)

محمد خان جونیجو (سابق وزیر اعظم)

"ختم نبوت کے منکرین (قادیانیوں) کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ توہین ختم نبوت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ختم نبوت کے منکرین اور نبوت کے جھوٹے دعویداروں کا خاتمہ کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے کئی موثر کارروائیاں کی ہیں۔ اس سلسلے میں اسلامی دنیا کو پاکستان سے تعاون کرنا چاہیے"۔ (ریڈیو رپورٹ‘ ۷؍ نومبر ۱۹۸۵ء‘ روزنامہ "جنگ" لاہور‘ روزنامہ "امروز" لاہور‘ ۲۸ نومبر ۱۹۸۵ء)

صفحہ 148

میاں نواز شریف

"حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کسی گستاخی پر کوئی بڑی سے بڑی سزا بھی کم ہے"۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ ۲۰ مئی ۱۹۹۱ء)

مولانا مفتی محمودؒ

"یہ فتنہ صرف مذہبی فتنہ نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے"۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ مارچ ۱۹۷۴ء)

مولانا فضل الرحمٰن

"انگریز مسلمانوں کو اپنا مضبوط ترین دشمن سمجھتا تھا۔ اس نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے فرقہ بندی اور جہاد کے جذبہ کو ختم کرنے کے لیے فتنہ قادیانیت کو جنم دیا۔ مرزا قادیانی اپنے عقاید کے لحاظ سے غلاظت اور گندگی کا ڈھیر تھا"۔ (ہفت روزہ ”لولاک“ ۲۵ اپریل ۱۹۸۶ء)

مولانا شاہ احمد نورانی

"مرزائیت‘ یہودیت کی گود میں پروان چڑھ رہی ہے اور پاکستان میں تل ابیب کا ایجنٹ ٹولہ ہے۔ اس کی معرفت جو چاہتے ہیں کرواتے ہیں--- مذہب کا تو ان لوگوں نے لبادہ اوڑھ لیا ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی خطرناک سیاسی تحریک ہے اور یہ صیہونیت کی ایک ذیلی تنظیم ہے جو مسلمانوں کے اندر رہ کر مسلمانوں کی تباہی و بربادی کا سامان پیدا کر رہی ہے"۔ (”ارشادات نورانی“ از ضیاء المصطفیٰ قصوری)

ملک محمد قاسم

"پاکستان مسلم لیگ ختم نبوت پر ایمان رکھتی ہے۔ اس کا ایمان ہے‘ جو کوئی اس

صفحہ 149

عقیدے پر ایمان نہیں رکھتا، وہ مسلمان نہیں"۔ (ہفت روزہ ”لیل و نہار“ ایڈیٹر مجیب الرحمٰن شامی، جولائی ۱۹۷۴ء)

میاں طفیل محمد (سابق امیر جماعت اسلامی)

”قادیانی پاکستان میں کئی بار حکومتوں کا تختہ الٹنے کی سازش کر چکے ہیں۔ پنڈی سازش کیس کا میجر نذیر، ظفر اللہ قادیانی کا رشتہ دار تھا“۔ (روزنامہ ”جسارت“ کراچی، ۲۹ جون ۱۹۷۴ء)

مولانا سمیع الحق (سینیٹر)

”قادیانیت ایک اسلام دشمن جماعت ہے۔ اگر اس واقعہ کا سختی سے نوٹس نہ لیا گیا تو اس سے نہ صرف اہل پاکستان بلکہ تمام عالم اسلام کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا“۔ (ہفت روزہ ”چٹان“ ۱۶ اگست ۱۹۸۶ء، جلد ۳۹ شمارہ ۳۱)

مولانا ماہر القادریؒ

”مرزا قادیانی ایک مراقی مریض ہے کہ جو منہ میں آتا ہے، بکتا چلا جاتا ہے۔ ان احمقوں اور جاہلوں کو کیا کہئے کہ جو ان ”ہذیانات“ کو الہام و وحی سمجھے ہوئے ہیں اور اس قسم کے خرافات پڑھ کر بھی مرزائے قادیان کی عزت کرتے ہیں اور اس کی ذات سے ان کی عقیدت میں کمی نہیں آتی۔ یہ کفر و ضلالت کا وہ آخری درجہ ہے جہاں ذہن و قلب سے حق شناسی اور اچھے برے کے جاننے پہچاننے کی تمیز سرے سے جاتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے"۔ (”قادیانیت“ از ماہر القادری)

مجیب الرحمٰن شامی

”مرزائیت کیا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ بد قسمتی سے ہمارے ہاں اسے محض ایک مذہبی ٹولہ سمجھا گیا، لیکن در حقیقت یہ ایک سیاسی تحریک ہے، ایسی تحریک جس کا مقصد

صفحہ 150

اکھنڈ بھارت کا قیام اور برصغیر میں سامراجی مفادات کی نگہداشت ہے۔“۔ (ہفت روزہ ”لیل ونہار“ ۲ تا ۸ جون ۱۹۷۴ء)

محمد صلاح الدین (مدیر ہفت روزہ ”تکبیر“)

”میں مولوی ہوں نہ مولانا، مفتی نہ کوئی عالم دین، لیکن بحمد اللہ خدا کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ادنیٰ امتی کی حیثیت سے جھوٹی نبوت کے کسی بھی دعوے کے تار و پود بکھیرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہوں۔ مجھے قادیانی مذہب کے جھوٹے ہونے پر مباہلہ یا مناظرہ کا چیلنج قبول ہے۔ علمی چیلنج دینے والے کی حیثیت داعی کی اور جسے چیلنج دیا جائے، اس کی حیثیت مدعو کی ہوتی ہے۔ آپ (مرزا طاہر احمد) میدان مباہلہ یا مقام مناظرہ کا تعین فرمالیں، تاریخ اور وقت مقرر کر دیں، میرے اخراجات، آمد و رفت کا بندوبست فرمادیں۔ یہ ممکن نہ ہوسکے تو مجھے مطلع کردیں، میرے دینی بھائی اس کا بندوبست کر دیں گے۔ میں حاضر ہو کر انشاء اللہ آپ پر آپ کی اصلیت اور اصل حقیقت واضح کر دوں گا اور سچی اور آخری نبوت پر بتوفیق الٰہی ایسی گواہی دوں گا کہ آپ کی جعلی، ظلی یا بروزی نبوت، منطق و استدلال کی عدالت میں اپنا مقدمہ چند منٹ بھی قائم و برقرار نہ رکھ سکے گی۔ پھر جو بھی نزول عذاب کا مستحق ہوگا، خدا کی پکڑ سے بچ کر نہ جاسکے گا، کیونکہ ان بطش ربک لشد ید (بیشک تیرے رب کی پکڑ سخت ہے)“۔ (ہفت روزہ ”تکبیر“ ۲۳ فروری ۱۹۸۹ء)

مولانا اشرف علی تھانویؒ

”ایسے عقاید کا معتقد کتاب اللہ کی بنیادوں کو منہدم کرنے والا، سنت رسول اللہؐ کو خاک میں ملانے والا اور اجماع مسلمین کا مقابلہ کرنے والا ہے“۔ (”مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے“ مولانا محمد حسین بٹالویؒ کا علماء سے استفتاء)

مولانا محمد اجمل خان

بہرحال مرزا قادیانی آنجہانی کے عقاید کفریہ کے واضح ہونے کے بعد ہر غیرت مند

صفحہ 151

مسلمان پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ تحریری اور تقریری طور پر مرزائیت کے خلاف جہاد کرے اور مسلمانوں کے ایمان بچانے کی پوری کوشش کر کے اللہ تعالیٰ اور اس کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرے۔ (”قادیانیت ہماری نظر میں“ ص۲۶)

مولانا ابوداؤد محمد صادق

اور مرزا قادیانی کے متعلق یاد رکھئے کہ وہ صرف ختم نبوت کے انکاری کی وجہ سے مرتد نہیں بلکہ اس ڈبل کفر کے علاوہ بھی اس کے اور بیسیوں کفریات ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی اور کسی مدعی نبوت کو نبی ماننا، اپنا امام و پیشوا جاننا تو درکنار، ایسوں کو ادنیٰ مومن سمجھنا اور ان کے کفر میں شک کرنا بھی اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے خصوصاً آج کل کے انبیاء سے

(ہفت روزہ ”رضوان“ ۷ تا ۲۸؍ اگست ۱۹۵۲ء، جلد ۵، شمارہ ۲۹)

مولانا ظفر علی خاںؒ

جہاں تک مرزا قادیانی کا تعلق ہے، ہم اس کو ایک بار نہیں، ہزار بار دجال کہیں گے۔ اس نے حضورؐ کی ختم المرسلینی پر اپنی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموس رسالت پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے۔ اس عقیدہ سے میں ایک منٹ کے کروڑویں حصے کے لیے بھی دستکش ہونے کو تیار نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال تھا، دجال تھا، دجال تھا۔ میں اس سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں۔ میں قانون محمدیؐ کا پابند ہوں۔ (”تحریک ختم نبوت“ از آغا شورش کاشمیریؒ ص ۶۸-۶۹)

مولانا عبدالستار خاں نیازی (وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور)

مرزائی جہاں کہیں بھی موجود ہے، کفر کا ایجنٹ ہے۔ اسلام کے خلاف جاسوس ہے۔ مرزا قادیانی نے خود کہا ہے کہ ”میں انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوں اور انگریز کی اطاعت خدا اور

صفحہ 152

رسول کی اطاعت ہے"۔ مزید کہا کہ "انگریز کے دور میں ہمیں وہ امن و امان نصیب ہوا ہے جو ہمیں مکے اور مدینے میں بھی نہیں مل سکتا"۔ قادیانیوں نے بغداد کے سقوط پر گھی کے چراغ جلائے تھے۔ (ہفت روزہ "ختم نبوت" مارچ ۱۹۷۴ء)

نواب زادہ نصر اللہ خاں

”میں مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک سب کو کاذب سمجھتا ہوں"۔ (روزنامہ "جنگ" کراچی‘ ۳۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء‘ ص ۸‘ ماہنامہ ”المنبر“ فیصل آباد‘ جمادی الاول ۱۳۸۹ھ)

نذیر احمد غازی (اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب)

"یہ انتہائی ظلم کی بات ہے کہ قرآن مجید میں حضرت نبی آخر الزماںؐ پر نازل ہونے والی اکثر آیات مبارکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے چوری کر کے اپنے نام کے ساتھ منسوب کر لی ہیں۔ اگر قادیانیوں کو ان کے مذہب کی تبلیغ کی اجازت دے دی جائے تو اس سے نہ صرف معاشرے میں ہیجان پیدا ہوگا، بلکہ اخلاقیات بھی تباہ ہو جائیں گی"۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ ۲۳؍ مئی ۱۹۹۱ء)

نذیر ناجی

”علمائے کرام تو مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کرنے کے مطالبات‘ عقاید کے حوالے سے کرتے ہیں‘ لیکن پاکستان کے دفاع کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان لوگوں سے چوکس رہا جائے۔ یہ کچھ بھی نہ کرتے ہوں تو بھی ان سے محتاط رہنے کی یہی وجہ کافی ہے کہ ان پر اسرائیل اور بھارت کی حکومتیں مہربان ہیں"۔ (کالم "سویرے سویرے" روزنامہ "نوائے وقت" ۵؍ جنوری ۱۹۸۸ء)

صفحہ 28
PDF 154

7 ستمبر

تحریک تحفظ ختم نبوت کا ایک عہد ساز دن

تحریک ختم نبوت

1974

تاریخ اسلام کا ایک درخشاں باب

عشق اور ایمان کی داستان ◉ جذبوں اور ولولوں کی کہانی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ 155

یہ 22 مئی 1974ء کا ایک روشن دن تھا۔ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے تقریباً سو طلبا شمالی علاقوں کی سیر و سیاحت کے لیے بذریعہ چناب ایکسپریس ملتان سے پشاور روانہ ہوئے۔ طلبا نے اپنی الگ بوگی بک کرا رکھی تھی۔ ہنستے کھیلتے طلبا کی گاڑی جب ربوہ ریلوے سٹیشن پر رکی‘ تو حسب معمول چند قادیانی نوجوان گاڑی کی مختلف بوگیوں میں داخل ہوئے اور قادیانیت کا لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ جب طلبا کی بوگی میں کفر و ارتداد کا یہ لٹریچر تقسیم کیا گیا تو طلبا میں اشتعال پھیل گیا۔ جواباً انہوں نے ربوہ ریلوے سٹیشن پر ختم نبوت زندہ باد‘ قادیانیت مردہ باد کے زوردار نعرے لگائے۔ سیٹی بجی اور گاڑی اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئی۔ لیکن طلبا کی اس جرأت سے ربوہ کے قصر خلافت میں ایک زلزلہ آگیا کیونکہ ربوہ شہر میں قادیانی خلیفہ کی اجازت کے بغیر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔ ربوہ ایک بند شہر تھا جس میں بغیر حکم کوئی مسلمان داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ خلیفہ ربوہ وہاں کا مطلق العنان بادشاہ تھا‘ جس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا تھا۔ ربوہ کی اپنی وزارتیں اور نظارتیں تھیں۔ غرضیکہ یہ پاکستان میں ریاست در ریاست تھی۔ طلبا کے واقعہ کے بعد بڑے قادیانی دماغ مل کر بیٹھے اور ان طلبا کو یادگار سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ 29 مئی کو چناب ایکسپریس میں طلبا پشاور سے واپس ملتان روانہ ہوئے۔ ربوہ سے پہلے سٹیشن نشتر آباد کے قادیانی سٹیشن ماسٹر نے طلبا کی بوگی پر چپکے سے نشان لگایا اور ربوہ کے قادیانی سٹیشن ماسٹر کو اس نشان زدہ بوگی کا نمبر بتایا۔ جب گاڑی ربوہ سٹیشن پر پہنچی تو سٹیشن پر ایک محشر بپا تھا۔ تقریباً پانچ ہزار قادیانی غنڈے پستولوں‘ بندوقوں‘ خنجروں‘ تلواروں‘ لاٹھیوں‘ آہنی مکوں اور اینٹوں سے مسلح کھڑے تھے اور غصے سے چلا رہے تھے۔ یہ ہجوم سانپ کی طرح پھنکارتا ہوا طلبا کی بوگی کی طرف لپکا۔ طلبا نے فوراً کھڑکیاں اور دروازے بند کر لیے لیکن ہجوم دروازے اور کھڑکیاں توڑ کر بوگی میں داخل ہو گیا اور قادیانی غنڈے نہتے طلبا پر پل پڑے۔ طلبا کو گھسیٹ گھسیٹ کر بوگی سے باہر نکالا اور پلیٹ فارم پر ان پر وحشیانہ تشدد کیا۔ طلبا خون میں نہا گئے۔ جسم زخموں سے بھر گئے۔ یونین کے صدر ارباب عالم کو اتنا مارا کہ وہ

صفحہ 156

بے ہوش ہو گئے۔

ختم نبو کے باغی تشدد کرتے ہوئے یہ نعرے بھی لگا رہے تھے۔ مرزا قادیانی کی جے‘ احمدیت زندہ باد‘ محمدیت مردہ باد (نعوذ باللہ) مرزا ناصر کی جے‘ نشتر کے مسلے‘ ہائے ہائے۔۔۔ قادیانی اپنے ساتھ عورتوں کو بھی لائے تھے جو طلبا کے پٹنے پر تالیاں بجاتیں اور رقص کرتیں۔ اس سارے قادیانی لشکر کی قیادت موجودہ قادیانی خلیفہ مرزا طاہر کر رہا تھا۔ قادیانی بدمعاشوں نے طلبا کے کپڑے پھاڑ دیئے‘ گھڑیاں چھین لیں‘ قیمتی سامان اچک لیا۔ سگنل ہونے کے باوجود ربوہ کے قادیانی سٹیشن ماسٹر نے گاڑی نہ چلنے دی تاکہ قادیانی اپنی آتش انتقام کو خوب ٹھنڈا کر سکیں۔ خدا خدا کر کے زخموں سے نڈھال طلبا کو لے کر گاڑی چلی۔ کسی طرح اس ظلم و بربریت کی خبر فیصل آباد پہنچ چکی تھی۔ غصے سے بھرا ہوا سارا شہر سٹیشن پر پہنچ چکا تھا۔ مجاہد ختم نبوت مولانا تاج محمودؒ ان طلبا کے لیے چشم براہ تھے۔ ڈی۔ سی‘ اے۔ سی‘ ایس۔ ایس۔ پی سمیت ساری انتظامیہ سٹیشن پر موجود تھی۔ جونہی ٹرین فیصل آباد پہنچی۔ سٹیشن پر کہرام مچ گیا۔ لوگ جذبات میں آ کر رو رہے تھے۔ ان کے جذباتی نعروں سے سارا سٹیشن گونج رہا تھا۔ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مولانا تاج محمودؒ پلیٹ فارم کی دیوار پر چڑھ گئے اور طلبا سے مخاطب ہو کر کہا:

”میرے بیٹو! تمہارے جسم سے بہنے والے مقدس خون کی قسم‘ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے خون کے ایک ایک قطرہ کا قادیانیوں سے انتقام لیا جائے گا اور قادیانی طوفان اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ آپ حضرات کو ایئر کنڈیشنڈ بوگی میں منتقل کر کے ملتان بھجوایا جا رہا ہے۔ آپ حضرات اطمینان رکھیں کہ ہم اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں گے جب تک اس ظلم کا حساب نہ چکا لیں۔ آپ کے بہنے والے خون کے ہر قطرہ سے قادیانیوں کی موت کے پروانے پر دستخط ہوں گے۔ اگر آپ کے خون کو

صفحہ 157

رائیگاں کر دیا گیا تو میں آپ کے خون کا جوابدہ ہوں گا۔"

مولانا کی تقریر نے زخمی طلبا کے دل جیت لیے۔ گاڑی طلبا کو لے کر ملتان روانہ ہو گئی۔ گوجرہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، شور کوٹ، خانیوال، ملتان جہاں جہاں گاڑی کے سٹاپ تھے، مولانا نے وہاں کے احباب کو اس صورت حال سے مطلع کر دیا۔ جس سٹاپ پر گاڑی رکتی، پورا شہر یا قصبہ زخمی طلبا کی محبت میں سٹیشن پر پہنچ جاتا۔ ہر سٹیشن پر زبردست مظاہرہ ہوا اور طلبا کو باور کرایا گیا کہ قادیانیوں نے صرف تمہیں ہی زخمی نہیں کیا بلکہ انہوں نے پوری ملت اسلامیہ کے قلب پر وار کیا ہے۔

ریلوے سٹیشن پر اخباری نمائندوں نے مولانا تاج محمودؒ سے آئندہ لائحہ عمل پوچھا تو آپ نے شام پانچ بجے "الخیام" ہوٹل میں پریس کانفرنس کا وقت دے دیا۔ بھرپور پریس کانفرنس ہوئی اور آپ نے مولانا سید یوسف بنوریؒ کے حکم کے تحت تحریک کا اعلان کر دیا۔ قادیانیوں کی غنڈہ گردی پر پوری قوم سراپا احتجاج بن گئی۔ جلوس نکلنے لگے، مظاہرے ہونے لگے، احتجاجی جلسے شروع ہو گئے اور تحریک پورے ملک کی گلی گلی میں پھیل گئی۔ ہڑتالیں ہونے لگیں اور قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ شروع ہو گیا۔ تحریک میں اتنا جوش و خروش تھا کہ طالبات اور اساتذہ نے بھی احتجاجی جلوس نکالے اور مظاہرے کیے۔ قادیانی پورے ملک سے دم دبا کر ربوے کی طرف بھاگنے لگے۔ بہت سے مقامات پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں جن میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ بطل حریت آغا شورش کاشمیریؒ کی تحریک پر مولانا سید یوسف بنوریؒ کو مجلس عمل تحفظ نبوت پاکستان کا کنوینر مقرر کیا گیا اور مستقل انتخاب کے لیے 16 جون 1974ء کو فیصل آباد میں ملک بھر کے علماء و مشائخ و سیاست دان جمع ہوئے۔ اس وقت مجلس عاملہ میں مندرجہ ذیل حضرات کو نمائندگی ملی، جس کی تفصیل یوں ہے:

مجلس تحفظ ختم نبوت: مولانا محمد یوسف بنوریؒ، مولانا خان محمدؒ، مولانا تاج محمودؒ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ، سردار میر عالم لغاری۔

صفحہ 158

جمعیت علماء اسلام : مولانا مفتی محمودؒ، مولانا عبدالحقؒ اکوڑہ خٹک، مولانا عبیداللہؒ انور، مولانا محمد زمان اچکزئی، مولانا محمد اجمل خاں، مولانا محمد ابراہیم۔

جمعیت علماء پاکستان : مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا صاحبزادہ فضل رسول، مولانا عبدالمصطفٰے الازہری، مولانا محمود علی قصوری، مولانا غلام علی اوکاڑوی۔

جمعیت اہل حدیث : میاں فضل حق، مولانا عبدالقادر روپڑی، مولانا اسحاق چیمہ، شیخ محمد اشرف، مولانا محمد صدیق، مولانا محمد شریف اشرف۔

تبلیغی جماعت : مولانا مفتی زین العابدین۔

شیعہ : سید مظفر علی شمسی۔

مسلم لیگ : میجر اعجاز احمد، چوہدری صفدر علی رضوی، چوہدری ظہور الہٰی، سید اصغر علی شاہ۔

پاکستان جمہوری پارٹی : نوابزادہ نصراللہ خان، رانا ظفراللہ خان۔

مجلس احرار : مولانا عبیداللہ احرار، مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاری، چوہدری ثناء اللہ بھٹہ، ملک عبدالغفور انوری، سید عطاء المحسن بخاری۔

اشاعت التوحید : مولانا غلام اللہ خانؒ، مولانا عنایت اللہ شاہ۔

جماعت اہل سنت : مولانا غلام علی اوکاڑوی، سید محمود شاہ گجراتی۔

اتحاد العلماء : مولانا مفتی سیاح الدینؒ کاکا خیل، مولانا محمد چراغ، مولانا گلزار احمد مظاہری۔

تنظیم اہلسنت : مولانا سید نور الحسن بخاری، مولانا عبدالستار تونسوی۔

حزب الاحناف : مولانا سید محمود رضوی، مولانا خلیل احمد قادری۔

قادیانی محاسبہ کمیٹی : آغا شورش کاشمیریؒ، علامہ احسان الہٰی ظہیرؒ

نیشنل عوامی پارٹی : ارباب سکندر خان، امیر زادہ۔

جماعت اسلامی : پروفیسر غفور احمد، چوہدری غلام جیلانی، میاں طفیل محمد۔

صفحہ 159

قومی اسمبلی میں آزاد گروپ کے لیڈر: مولانا ظفر احمد انصاری۔ اہم شخصیات: مولانا مفتی محمد شفیع، مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف۔

مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا انتخاب

صدر : مولانا محمد یوسف بنوریؒ ناظم اعلیٰ : مولانا محمود احمد رضوی نائب صدر : مولانا عبدالستار خان نیازی، سید مظفر علی شمسی، مو مولانا عبدالواحد، نوابزادہ نصر اللہ خان نائب ناظم : مولانا محمد شریف جالندھریؒ خازن : میاں فضل حق

عوام کے ملک گیر احتجاج کو دیکھتے ہوئے پنجاب گورنمنٹ نے سانحہ ربوہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس سردار محمد اقبال نے جسٹس کے۔ ایم۔ صمدانی کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا۔ جناب جسٹس صمدانی نے ربوہ کا تفصیلی دورہ کیا۔ مرزا ناصر نے انہیں قصر خلافت میں کھانے پر مدعو کیا، لیکن جسٹس صمدانی نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد مرزا ناصر نے خود ملاقات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور وقت مانگا، لیکن جسٹس صمدانی نے پھر جواب دے دیا۔ تحقیقات کے دوران جسٹس صمدانی نے ربوہ سے کچھ نہ کھایا پیا۔ وہ اپنا سامان خورد و نوش اپنے پاس رکھتے تھے۔ شاید عدالتی تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یا حفاظت جاں کے لیے! جناب جسٹس صمدانی کی عدالت میں مرزا ناصر کو بھی طلب کیا گیا اور اس کا سات گھنٹے کا خفیہ بیان ریکارڈ کیا گیا۔ مشہور مرزائی نواز حنیف رامے اس وقت پنجاب کا وزیر اعلیٰ تھا۔ اس نے جگہ جگہ مرزائیوں کی وکالت کی۔ اس نے خانیوال میں تقریر کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ میں مولویوں کو مار مار کر ان کے پیٹوں سے حلوہ نکال دوں گا۔ مرزائیوں کے اس مہرے نے جگہ جگہ تحریک کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، لیکن عوامی غیظ و غضب کے طوفان کے سامنے مرزائیوں کے ساتھ خود بھی ٹھنڈا ہو گیا۔ حکومت نے تحریک کے

صفحہ 160

ترجمان‘ ہفت روزہ ”چٹان“ کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا اور پریس ضبط کر لیا اور اس کے ساتھ ہی آغا شورش کاشمیریؒ کے بچوں کا پریس مسعود پرنٹرز بھی ضبط کر لیا گیا۔ حکومت پنجاب نے بطل حریت آغا شورش کاشمیریؒ کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کر لیا۔ آغا صاحب شدید بیمار تھے۔ ظالموں نے انہیں میو ہسپتال لاہور میں داخل کروا کر ان پر پولیس کا کڑا پہرہ لگوا دیا۔ یہ امتحان ان کے قدموں میں ڈگمگاہٹ پیدا نہ کر سکا اور فدائی ختم نبوت نے شدید علالت میں جسٹس صمدانی کی عدالت میں قادیانی امت کے بارے میں پانچ گھنٹے شہادت دی‘ جس میں قادیانیت کے غلیظ چہرے سے نقاب اٹھا کر ان کی اسلام اور پاکستان دشمنی کو ثابت کیا گیا۔ بہت سے سربستہ رازوں کا انکشاف کیا‘ قادیانیوں کی اندرون خانہ کربناک کہانی سنائی اور مرزا ناصر کی شخصیت کے تار و پود بکھیرے۔

مجلس عمل کے صدر مولانا سید یوسف بنوریؒ نے بڑھاپے کے باوجود پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا اور عوام کی رگوں میں جہادی خون دوڑا دیا۔ پوری قوم کو مجاہد بنا کر قادیانیت کے خلاف صف آرا کر دیا۔ آپ جب تحریک کی قیادت کے لیے گھر سے نکلے تو اپنے مدرسہ کے مفتی صاحب سے کہا کہ حضرت مفتی صاحب! میں تحریک کی رہنمائی کے لیے جا رہا ہوں اور اپنا کفن بھی ساتھ لے کر جا رہا ہوں۔ پھر کفن نکال کر مفتی صاحب کو دکھایا۔ مزید فرمایا کہ مرزائیوں کو اس ملک میں آئین کی رو سے کافر ٹھہراؤں گا یا اپنی جان کا نذرانہ پیش کروں گا‘ واپس گھر آنے کا ارادہ نہیں۔

توڑیں گے ہر اک لات و ہبل جھوٹے نبی کا
نابود ہر اک مسجد ضرار کریں گے
سو بار بھی گر ہم کو ملے زیست کی نعمت
قربان شہ کونینؐ پہ ہر بار کریں گے
اس دور میں ہو جرم اگر عشق محمدؐ
اس جرم کا اقرار سر دار کریں گے
صفحہ 161

تحریک کے بڑھتے ہوئے زور کو توڑنے کے لیے حکومت نے ختم نبوت کے ہزاروں رضاکاروں کو مختلف دفعات کے تحت پابند سلاسل کر دیا۔ جلوسوں پر شدید لاٹھی چارج کیا، جس سے ہزاروں کارکن زخمی ہوگئے۔ بہت سے مقامات پر قادیانیوں نے مسلمانوں پر فائرنگ کی، جس سے کئی مسلمان شہید ہوگئے۔ چنانچہ مسلمانوں نے مشتعل ہو کر قادیانیوں کے کئی مکانات اور دکانیں جلا دیں۔ تحریک دن بدن زور پکڑتی گئی۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان نے پورے ملک میں جلسوں اور کانفرنسوں کا جال بچھا دیا۔ ہر خطیب آتش فشاں تھا، ہر مقرر شعلہ بار تھا۔ انہوں نے پورے ملک میں قادیانیت کے خلاف آگ لگا دی اور ملت اسلامیہ پاکستان کے ہر فرد کو ختم نبوت کا رضاکار بنا دیا۔ اخبارات اور رسائل نے اپنی دینی غیرت اور عشق رسول کا حق ادا کر دیا۔ روزنامہ ”نوائے وقت“ اور ”جسارت“ نے خود کو تحفظ ختم نبوت پہ نثار کر دیا اور تحریک کے شباب کو برقرار رکھا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے مسلمانوں کو قادیانیوں کے عقائد سے آگاہ کرنے کے لیے لاکھوں کی تعداد میں ہینڈ بل اور پمفلٹ تقسیم کیے اور انہیں کلیدی اسامیوں پر بیٹھے لوگوں تک پہنچانے کا خصوصی اہتمام کیا۔ مجلس عمل کی اپیل پر قادیانیوں کے خلاف سوشل بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی، جس نے قادیانیت کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ مسلمانوں نے قادیانی دکانداروں سے سودا لینا بند کر دیا اور مسلمان دکانداروں نے قادیانیوں کو سودا سلف دینے سے انکار کر دیا۔ گلی محلوں میں قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کر دیا گیا۔ مسلمانوں نے قادیانی ہمسائیوں سے بول چال اور لین دین بالکل بند کر دیا، جس سے قادیانیت بلبلا اٹھی اور بہت سے قادیانی قادیانیت سے توبہ کر کے دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔

مجلس عمل نے 14 جون کو پورے ملک میں ہڑتال کی اپیل کی۔ شمع ختم نبوت کے پروانوں نے مجلس عمل کی آواز پر لبیک کہا اور 14 جون کو ملک میں درۂ خیبر سے کراچی اور لاہور سے کوئٹہ تک ایسی زبردست ہڑتال ہوئی کہ تاریخ پاکستان میں جس کی نظیر ملنا محال ہے۔ ہڑتال نے حکومت کی چولیں ہلا دیں اور حکومت کو بتا دیا کہ کو بتا دیا کہ ملت

صفحہ 162

اسلامیہ قادیانی ناسور کو کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی اور وہ کسی ایسی حکومت کو بھی برداشت نہیں کر سکتی جو قادیانیت کی حامی ہو۔

مسلمان لاکھ برے ہوں مگر نام محمدؐ پر
وہ تیار ہیں ہر حالت میں اپنا سر کٹانے کو

قادیانیت کو بپھرے ہوئے مسلمانوں کے حصار میں دیکھ کر برطانوی گماشتہ سر ظفر اللہ خان نے بیرونی ممالک کے دورے کرنے شروع کر دیے اور بیرونی حکمرانوں سے بھٹو حکومت پر پریشر ڈلوانا شروع کیا۔ ظفر اللہ خان نے لندن میں ایک بہت بڑی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا اور الزام لگایا کہ پاکستان میں حکومت قادیانیوں کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ اس نے عالمی اداروں سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے واویلا مچایا کہ وہ فوراً قادیانیت کی مدد کے لیے پاکستان پہنچیں۔ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر نے ایسوسی ایٹڈ پریس امریکہ کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کے خلاف فسادات بھٹو کی پارٹی نے کرائے ہیں اور اس طرح حکمران جماعت اپنی بگڑی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا چاہتی ہے۔ اس نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خواہ وہ قتل ہو جائے، لیکن اپنے مسلک سے باز نہیں آئے گا۔ قادیانیوں کو اسلام کی جانب پلٹتے اور تحریک سے خوفزدہ ہوتے دیکھ کر مرزا ناصر کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ اس نے ان کے مسمار حوصلوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے مرزا قادیانی کا یہ الہام ربوہ کے در و دیوار پر لکھوا دیا

”خدا اپنی فوجوں کے ساتھ آ رہا ہے“۔

لیکن نہ قادیانی خدا آیا اور نہ قادیانی خدا کی فوجیں آئیں اور مرزا قادیانی کا یہ الہام ملت اسلامیہ کے بپھرے ہوئے سیلاب کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ گیا۔

تحریک ختم نبوت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں پہنچ گیا اور مندرجہ ذیل قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی۔

ہر گاہ کہ یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا، نیز ہر گاہ کہ نبی

صفحہ 163

ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان‘ بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔ نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔ نیز ہرگاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار‘ چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہنما کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں‘ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

نیز ہرگاہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے‘ مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں‘ نیز ہرگاہ کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں‘ جو مکۃ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام 6 اور 10 اپریل 1974 کے درمیان منعقد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140 مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی‘ متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے‘ جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے‘ مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے‘ تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لیے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔

محرکین قرارداد

صفحہ 164

نوٹ: بعد میں حسب ذیل ارکان نے بھی قرارداد پر دستخط کیے۔

صفحہ 165

قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے قادیانی مسئلہ پر غور و فکر کرنے کے لیے دو مہینے میں 28 اجلاس اور 96 نشستیں کیں۔ مسلمانوں کی طرف سے ممبران قومی اسمبلی کو ملت اسلامیہ کا موقف نامی کتاب پیش کی گئی، جبکہ قادیانیوں اور لاہوریوں نے اپنے اپنے موقف میں لٹریچر تقسیم کیا۔ قومی اسمبلی میں مرزا ناصر پر گیارہ روز میں 42 گھنٹے جرح کی گئی اور لاہوری شاخ کے امیر صدر الدین پر 7 گھنٹے جرح کی گئی۔ دوران جرح مرزا ناصر کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے، وہ اوٹ پٹانگ باتیں کرتا، گھبراہٹ میں بار بار پانی مانگتا اور کبھی لاجواب ہو کر بالکل ساکت ہو جاتا۔ ذیل میں ہم قومی اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ اور مرزا ناصر میں ہونے والی گفتگو بطور نمونہ پیش کرتے ہیں، جس کی روداد مولانا مفتی محمودؒ نے ختم نبوت کانفرنس ربوہ میں سنائی تھی اور یہ روداد بہت سے رسائل میں شائع ہوچکی ہے۔

پہلا سوال ہم نے ان سے کیا: ”آپ مرزا صاحب کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ وہ کون تھے؟“

اس نے جواب میں کہا: ”وہ امتی نبی تھے، امتی نبی“۔

اس سے پوچھا: ”امتی نبی کسے کہتے ہیں؟“

اس نے کہا: ”جناب نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی امت میں سے کوئی فرد آپؐ کی اتباع کرتے ہوئے جب نبوت کا مقام حاصل کرلیتا ہے، آپؐ کی اتباع سے، آپؐ کی امت ہی کا ایک فرد، تو اسے امتی نبی کہتے ہیں۔ یہ مقام انہیں حاصل تھا“۔

اس سے پوچھا: ”کیا مرزا صاحب سے پہلے تیرہ سو سال میں اسلامی ادوار میں کوئی شخص اور بھی امتی نبی بنا ہے؟ آخر تیرہ سو سال گزرے اور امتی نبی جب بن سکتا ہے کوئی شخص ان کے بعد آپ کے خیال میں تو کوئی اور بھی بنا؟“

اس نے کہا: ”نہیں، کوئی نہیں“۔

ہم نے کہا: ”حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو افضل الامت بلکہ انبیاء

صفحہ 166

کے بعد تمام انسانوں سے افضل۔۔۔ وہ بھی کیا آپ کی اتباع سے اس مقام کو حاصل کر چکے تھے یا نہیں؟"

انہوں نے کہا: ”نہیں‘ وہ بھی امتی نبی نہیں"۔

"جناب عمر فاروقؓ جن کے بارے میں حضورؐ نے فرمایا: لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب۔ کیا وہ بھی امتی نبی تھے؟"

کہا: ”نہیں"۔

”حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ؟"

کہا : ”نہیں"۔

”حضرت علی کرم اللہ وجہہ؟"

کہا: ”نہیں"۔

اب جو سنی ممبر تھے‘ وہ اس سے متاثر ہوئے کہ اچھا! یعنی یہ مرزا کو حضرات شیخینؓ یا خلفاء اربعہ سے افضل سمجھتا ہے؟ یہ ان کا عقیدہ۔ وہ تھوڑا سا متنفر ہوگئے۔

پھر ہم نے پوچھا: "کیا حضرت حسنؓ وہ بھی امتی نبی تھے؟"

”نہیں"۔

”حضرت حسین رضی اللہ عنہ؟"

کہا: ”نہیں"۔

شیعہ اس سے متنفر ہوگئے۔

”امامیں؟"

کہا: ”نہیں"۔

ذہن کو دھچکا لگتا گیا۔ پھر اس سے پوچھا ہم نے "اچھا یہ بتاؤ کہ پہلے تو کوئی نہیں آیا تو مرزا صاحب کے بعد قیامت تک کوئی امتی نبی آئے گا؟"

تو اس نے کہا: ”نہیں‘ نہیں"۔

پھر پوچھا اس سے "اس کے معنی تو پھر یہ ہوئے کہ مرزا صاحب آپ کے

صفحہ 167

عقیدے کے مطابق خاتم النبیین ہیں اور قرآن تو کہتا ہے ولکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔ حضورؐ کا لقب ہے خاتم النبیین تو آپ تو ان کو سمجھتے ہیں خاتم النبیین“۔

اس نے کہا: ”بالکل نہیں، بالکل نہیں“۔

”کیسے نہیں؟ یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد تو مرزا آئے اور مرزا کے بعد قیامت تک کوئی نہ آئے تو خاتم النبیین تو مرزا ہوئے۔ ٹھیک ہے نا! ان کے عقیدے کے مطابق تو حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم کے بعد مرزا نبی آئے اور مرزا کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہ آئے، نہ امتی، نہ ظلی، نہ بروزی نہ تشریعی، نہ غیر تشریعی کوئی نبی نہ آئے تو خاتم النبیین کون ہوا۔ بتاؤ؟“

تو اس نے کہا: ”نہیں، نہیں“۔

”نہیں کیسے نہیں؟“

اس نے کہا: ”مرزا صاحب تو کچھ بھی نہیں تھے“۔

اب ہمیں تھوڑی سی خوشی بھی ہوئی کہ وہ خود کہتا ہے کہ کچھ بھی نہیں تھے۔ ہم نے کہا: ”وہ کچھ تو تھے آخر۔ وہ تمہارے دادا تھے۔ یہ کیسے کہتے ہو کچھ بھی نہیں تھے۔ پھر تم کہاں سے آئے؟ یہ بتاؤ“۔

اس نے کہا: ”نہیں، وہ حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم کی ذات اقدس میں ایسے فنا ہو گئے تھے کہ وہ بالکل ایک ہو گئے۔ ان کی ختم نبوت ان کی اور ان کی ان کی“۔

یہ کیا؟ ہم نے کہا: ”اچھا تم یہ بتاؤ مرزا صاحب پر وحی آتی تھی؟“

ان کی وحی بھی قرآن کی طرح یقینی تھی۔ اس میں غلطی کا کوئی احتمال تھا۔ یہ ان کی کتابوں سے حوالے ہم نے اکٹھے کیے تھے۔ ساری کتابیں اکٹھی ہمارے پاس موجود ہوتی تھیں۔ اس نے لکھا ہے کہ میری وحی بھی قرآن کی طرح یقینی ہے۔ اس میں خطا کا کوئی احتمال نہیں۔ اگر وہ انکار کریں تو ہم کتابیں دکھاتے۔ وہ جانتا تھا کہ ان کے پاس حوالہ ہے“۔

صفحہ 168

اس نے کہا: ”ہاں‘ قرآن کی طرح یقینی ہے۔ جھوٹ کا کوئی احتمال نہیں۔ غلطی اور خطا کا کوئی احتمال نہیں“۔

”تو پھر یہ بتاؤ انہوں نے یہ لکھا: ایک کتاب جس کا ہم نے حوالہ دیا کہ جو شخص بھی مجھ پر ایمان نہیں لاتا‘ خواہ اس نے میرا نام تک نہ سنا ہو تو وہ مشرک ہے‘ وہ کافر ہے‘ پکا کافر ہے‘ دائرۂ اسلام سے خارج ہے‘ جہنمی ہے۔ یہ ذرا الفاظ کافر‘ پکا کافر‘ دائرہ اسلام سے خارج‘ جہنمی چار لفظ۔ ہم نے کہا: یہ بھی اس کی عبارت ہے‘ یہ بھی وحی ہے؟“

”بالکل درست!“ اس نے کہا: ”بالکل درست“۔

اب ہمارے جو ممبر تھے‘ وہ اگرچہ انہیں مسلمان سمجھتے تھے‘ لیکن اس پر ایمان تو نہیں لائے تھے۔ وہ سمجھ گئے او ظالم‘ یہ تو ہمیں کافر کہتا ہے‘ پکا کافر کہتا ہے‘ جہنمی کہتا ہے۔ یہ بات تو ان پر بھی آئے گی۔ اب ذرا وہ اور متنفر ہوئے۔

اس نے کہا: ”ہاں یہ بات بھی ٹھیک“۔

ہم نے کہا: ”اگر ٹھیک ہے تو جو لوگ‘ جنہوں نے مرزا کو تسلیم نہیں کیا‘ وہ سب کافر ہیں؟ آپ کے خیال میں“۔

اب وہ سمجھ گیا کہ یہ میں نے کیا بات کہی۔ اس سے تو یہ سارے ممبر ہمارے خلاف ہو جائیں گے تو اس نے کہا: ”یہ ان کی ایک اصطلاح ہے۔ امام بخاریؒ نے باب باندھا ہے کفر دون کفر کفر چھوٹے بھی ہوتے ہیں بڑے بھی ہوتے ہیں۔ بڑا کفر اور چھوٹا کفر‘ تو انہوں نے کہا کہ وہ چھوٹے کافر ہیں۔ ہاں گناہ کا مرتکب۔ اگر گناہ کا مرتکب وہ کفر کرتا ہے لیکن وہ کفر چھوٹا کفر ہے یعنی دائرہ اسلام سے خارج نہیں کراتا‘ پھر بھی مسلمان رہتا ہے۔

ہم نے کہا: ”وہ کافر نہیں‘ چھوٹا کافر ہے“۔

انہوں نے کہا: ”ٹھیک“۔

ہم نے کہا: ”وہ تو کہتا ہے کہ پکے کافر‘ یہ پکا کافر کیسا ہوا؟“

صفحہ 169

اس نے کہا: ”چھوٹے کفر میں پکے“۔

”چھوٹے کفر میں پکے۔ اچھا‘ یہ جو کہتا ہے کہ دائرہ اسلام سے خارج‘ یہ دائرے سے جب نکل گیا‘ پھر اسلام سے کیا تعلق رہا اس کا؟“

اس نے کہا: ”اسلام کے کئی دائرے ہیں۔ ایک دائرے سے نکل گئے‘ دوسرے میں ہیں“۔

ہم نے کہا: ”جہنمی ہے‘ وہ تو جہنمی کہتا ہے۔ مسلمان تو جہنمی نہیں ہوتا“۔

اس نے کہا: ”تھوڑی دیر کے لیے جہنم میں بھیج دیں گے‘ اس کے بعد پھر جنت میں“۔

ذرا تاویلوں کو دیکھو‘ لیکن ان تاویلوں سے کیا کام چلتا۔ لوگ سمجھ گئے تھے‘ یہ ہمیں کافر کہتا ہے۔ ہمارے ممبر سمجھ گئے تھے۔ ان سے پوچھا: ”تمہاری کتاب میں‘ مرزا صاحب کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ

تلک کتب ینظر الیھا کل مسلم بعین المحبتہ والمودة و یقبلہ و یصدقنی الا ذریتہ البغایتہ الذ ین ختم اللہ علی قلوبھم فھم لا یقبلون۔

”ہر مسلمان میری کتابوں کو محبت اور مودت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے‘ میری تصدیق کرتا ہے مگر ذریتہ البغایتہ کنجریوں کی اولاد‘ جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگائی ہوئی ہے‘ وہ مجھے قبول نہیں کرتے“۔

ہم نے کہا: ”پھر یہ عبارت ذرا پڑھ لو۔ کیا یہ بھی وحی ہے‘ یقینی ہے‘ جو مرزا کو نہیں قبول کرتے نبی کی حیثیت سے‘ کیا وہ کنجریوں کی اولاد ہیں؟ بات ٹھیک ہے تمہاری“۔

تو اس نے کہا: ”یہاں پر یہ بغایتہ جو ہے یہ بغاوت سے ہے۔ یہ سرکشوں کی اولاد ہیں۔ یہ معنی ہیں“۔

کیا عجیب بات ہے۔ سرکش اس کا باپ ہو اور قبول نہیں کیا بیٹے نے۔ بیٹا قبول

صفحہ 170

نہ کرے تو باپ سرکش۔ گالی باپ کو دے دی۔ فساق باپ ہوتا ہے بیٹا نہیں ہوتا‘ لیکن اگر کنجری کی اولاد ہے تو حرامی ہے تو گالی اسی کو آئی۔ میں نے کہا: ”اچھا یہ بتاؤ کہ قرآن کریم میں ہے جو قوم نے مریم علیہ السلام سے بات کی

وما كانت امک بغيا۔ ما کان ابوک امرا سوء وما كانت امک بغيا

”تمہاری ماں وہ زانیہ نہیں تھی“۔

اس کا ترجمہ کرو‘ کیا ہے ترجمہ؟“

اس نے کہا: ”یہ تو بغیا ہے بغایتہ نہیں ہے“۔

حد ہو گئی جہالت کی۔ میں نے کہا: ”بغیا اور بغایتہ میں ”ۃ“ کا فرق ہے‘ معنی کیوں تبدیل ہو گیا“۔ پھر میں نے ان سے کہا: ”اچھا یہ بتاؤ قرآن میں ہے ولا تکرهوا فتياتكم على البغاء ان اردن تحصنا۔ یہاں بغا کے کیا معنی“۔

اس کے بعد میں نے کہا: ”چلو حدیث میں چلے جاتے ہیں۔ اگر قرآن سے تم جواب نہیں دے سکتے‘ جامع ترمذی کی روایت میں آتا ہے البغايتہ الا ینکحن بانفسهن بغیر بینہ۔ کنجریاں ہیں‘ زانیہ ہیں وہ عورتیں جو اپنا نکاح کرتی ہیں خفیہ بغیر گواہوں کے گواہ نہ ہوں۔ یہ زنا ہے“۔ میں نے کہا: ”اس کا کیا معنی ہے؟“

تیرہ دن جرح رہی۔ ہم نے اتنا وقت دیا انہیں آزادی کے ساتھ۔ اس کے بعد ممبروں کا ذہن بن چکا تھا۔ یہ سب کہتے تھے کہ اب یہ طے شدہ مسئلہ ہے کہ یہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔ یہ ہم نے منوا لیا۔ اب اگر ہم انہیں مسلمان کہتے ہیں تو پھر ہم کافر ہیں اور یا پھر وہ کافر۔ دونوں میں سے ایک بات ہو گی تو فیصلہ ہم کیوں نہ دیں کہ وہ کافر۔ چنانچہ بحث کی پوری تفصیلات آنے کے بعد میں نے بھی وہاں ایک کتاب دو سو صفحے کی پڑھی۔ ”ملت اسلامیہ کا موقف“ اول سے لے کر آخر تک تاکہ ہم بھی اپنا موقف پیش کریں۔

وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر بہت زیادہ بیرونی دباؤ تھا اور وہ مسئلہ کو حل کرتے

صفحہ 171

نظر نہ آتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس نوے سالہ مسئلہ کو چند دنوں میں کیسے حل کر سکتے ہیں۔ مجلس عمل کے ارکان سے ان کی کئی ملاقاتیں ہوئیں، لیکن بات کسی نتیجہ پر نہ پہنچی۔ کئی دفعہ تو کشیدگی یہاں تک پہنچی کہ آنے والے حالات انتہائی خوفناک نظر آنے لگے۔ آخری دن بڑا نازک تھا۔ وزیر اعظم مانتے نہیں تھے، ادھر مجاہدین ختم نبوت سروں پر کفن باندھ کر جانیں قربان کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ شام کو حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ حکومت نے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو چوکنا کر دیا۔ بڑے بڑے شہروں میں فوج تعینات کر دی گئی۔ بھاری اسلحہ کے انبار لگا دیے گئے۔ ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ تحریک کے لیڈران کی فہرستیں تیار کر لی گئیں۔ گویا آنکھوں کے سامنے جنگ کی بہت خوفناک تصویر نظر آ رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان اور مسلمانوں پر خصوصی کرم فرمایا اور حالات نے ایک خوشگوار کروٹ لی۔ مولانا مفتی محمودؒ جو مجلس عمل کے ایک نمائندہ کی حیثیت سے اپنے رفقاء کے ہمراہ وزیر اعظم سے مذاکرات کر رہے تھے، وزیر اعظم سے ملے اور ان سے کہا: ”ہم مذاکرات کرتے کرتے تھک گئے ہیں۔ ہم آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ نہیں مانتے، مجلس عمل والوں کے پاس جاتے ہیں تو وہ نہیں مانتے۔ آپ ہی بتائیے، ہم کیا کریں؟“

وزیر اعظم نے غصہ میں جواب دیا: ”میں نہیں جانتا مجلس عمل کون ہوتی ہے، میں تو آپ لوگوں کو جانتا ہوں، آپ تو اسمبلی کے معزز رکن ہیں“۔

مولانا مفتی محمودؒ نے فرمایا:

”بھٹو صاحب! آپ کو قوم کے ایک حلقہ نے منتخب کر کے بھیجا ہے، اس لیے آپ اسمبلی کے ”معزز رکن“ ہیں۔ میں بھی ایک حلقہ انتخاب کا نمائندہ ہوں، اس لیے میں بھی اسمبلی کا ممبر کہلاتا ہوں، مگر آنجناب کو بتانا چاہتا ہوں کہ ”مجلس عمل“ کسی ایک حلقہ انتخاب کی نمائندہ نہیں، بلکہ وہ اس وقت پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔ کیسی عجیب منطق ہے

صفحہ 172

کہ آپ ایک حلقہ کے نمائندہ کو تو عزت و احترام کا مقام دینے کو تیار ہیں، مگر قوم کے سات کروڑ افراد کی نمائندہ ”مجلس“ کو آپ پائے حقارت سے ٹھکرا رہے ہیں۔ بہتر ہے، میں ان سے جا کر کہہ دیتا ہوں کہ وزیر اعظم، پاکستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی بات سننے کو تیار نہیں“۔

مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی یہ منطق کام کر گئی اور بھٹو صاحب رضامند ہو گئے اور انہوں نے مجلس عمل کی مجوزہ قرارداد پر دستخط کر دیئے۔ اس طرح 4 بج کر 35 منٹ پر قادیانیوں کی دونوں شاخوں کو غیر مسلم قرار دے کر دائرۂ اسلام سے خارج کر دیا گیا۔ مسٹر بھٹو نے قائدِ ایوان کی حیثیت سے 27 منٹ تک وضاحتی تقریر کی۔ اعلان ہوتے ہی پوری اسمبلی خوشی کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ممبران جذباتی ہو کر ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے، حتیٰ کہ مسٹر بھٹو اور ولی خان بھی آپس میں گرم جوشی سے ملے۔ پورے ملک میں ایک عظیم الشان جشن کا سماں بندھ گیا۔ مسلمان خوشی سے دیوانے ہو گئے۔ ہر دل جھوم اٹھا، ہر دماغ مہک اٹھا۔ گلیاں اور بازار نعرہ ہائے تکبیر اللہ اکبر، تاجدارِ ختم نبوت زندہ باد، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد سے گونج اٹھے۔ فرطِ جذبات سے آنکھوں کے چشموں سے آنسو بہہ رہے تھے، مٹھائیاں تقسیم ہو رہی تھیں، حلوے کی دیگیں پک رہی تھیں، ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر مبارک بادیں دی جا رہی تھیں، مساجد شکرانے کے نوافل ادا کرنے والوں سے بھر گئی تھیں، مجاہدینِ ختم نبوت اور شہدائے ختم نبوت کی قبروں پر پھول چڑھائے جا رہے تھے۔

اسلام جیت گیا، کفر پٹ گیا۔ حق کا بول بالا ہوا، باطل کا منہ کالا ہوا۔ پرچم ختم نبوت سرفراز ہوا، جھوٹی نبوت کا بت اوندھے منہ گر گیا۔ ختم نبوت کے پاسبان کامیاب و کامران ہوئے اور انگریزی نبوت کے مجاور خائب و خاسر ہوئے۔

قومی اسمبلی کی طرف سے ختم نبوت پر متفقہ فیصلے کی قرارداد

صفحہ 173

قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لیے بھیجی جائیں۔

کل ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی اپنی رہنما کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے اور دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ‘ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت الاسلام‘ لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔

اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔

درج کی جائے۔ مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لیے خصوصی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور شدہ مسودۂ قانون منسلک ہے۔

درج کی جائے۔

تشریح:۔ کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ 260 کی شق (3) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے‘ وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔

قواعد‘ 1974 میں نتیجتاً قانونی اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔

کے جان و مال‘ آزادی‘ عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع

صفحہ 174

کیا جائے گا۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے لیے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کے لیے ایک بل

ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازیں درج اغراض کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔

لہٰذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔

کہلائے گا۔ (2) یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا۔

بعد ازیں آئین کہا جائے گا‘ دفعہ 106 کی شق (3) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ”اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)“ درج کیے جائیں گے۔

حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی‘ یعنی

”(3) جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم‘ جو آخری نبی ہیں‘ کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے‘ وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لیے مسلمان نہیں ہے۔“

بیان اغراض و وجوہ

جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارش کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے‘ اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم

صفحہ 175

ہے تاکہ ہر وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے‘ اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔

عبدالحفیظ پیرزادہ وزیر انچارج

اس تحریر کے مراحل کیسے طے ہوئے؟ اس میں کیا کیا بحثیں اور رکاوٹیں پیش آئیں‘ اس کی تفصیل مولانا مفتی محمودؒ سے سنئے۔ تفصیل سنانے سے پہلے مولانا مفتی محمودؒ نے حاضرین کانفرنس کو بتایا: ”میں نے اس مسئلے کو حرز جاں بنا لیا تھا۔ صبح و شام اسی فکر میں گھلا جاتا تھا۔ میرے ناتواں کندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری تھی۔ بعض دفعہ اسی غم میں مجھے ساری ساری رات نیند نہ آتی۔ مصلے پر بیٹھا اللہ کے حضور روتا رہتا۔ میرا دامن آنسوؤں سے بھیگ جاتا اور دعائیں مانگتے مانگتے صبح ہو جاتی“۔

مفتی صاحب نے فرمایا:

”اللہ نے دل پھیر دیے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جب قرارداد ہم نے پاس کی اور ترمیم آئین میں کی تو ایک ممبر نے بھی خلاف ووٹ نہیں دیا‘ متفقہ ووٹ دیے۔ بلا استثناء ایک ممبر بھی مخالف ووٹ نہیں دے سکا اور فیصلہ متفقہ ہوا۔

ہم سے وہاں کچھ لوگوں نے غلطی کرانی چاہی۔ جب فیصلہ ہوا تو انہوں نے کہا: بس ٹھیک ہے‘ مسلمان کی تعریف جامع کر لیں گے۔ یہ نکل جائیں گے۔ بس کافی ہے۔ ہمارا مطالبہ یہ نہیں کہ تعریف کرو مسلمان کی۔ مسلمان کون ہوتا ہے؟ غیر مسلم کون ہوتا ہے؟ یہ مطالبہ قوم کا نہیں‘ قوم کا مطالبہ یہ ہے کہ مرزائی فرقہ کا نام لے کر مشخص اس فرقے کو کافر قرار دے دو۔ مطالبہ قوم کا یہ ہے‘ یہ تو مطالبہ نہیں ہے کہ تعریف کرو مسلمان کی کہ کیا تعریف ہے۔ آخر یہ ہوا کہ جو ایک دفعہ آئین میں‘ جس میں یہ ہے: اس دفعہ میں۔۔۔ کہ غیر مسلم اقلیتیں پاکستان میں‘ جن کے لیے انہوں

صفحہ 176

نے حق دیا ہے، اسمبلی کی ممبرشپ کے لیے، اس میں چھ فرقے شمار کیے گئے نام لے کر: سکھ، عیسائی، پارسی، ہندو، بدھ مت، اچھوت۔ چھ فرقوں کا نام لے کر۔ یہ ہیں پاکستان میں غیر مسلم اقلیت۔ ہم نے کہا یہ اچھوت جو ہے، اس کے پیچھے مرزائیوں کا نام لکھو۔ پیچھے جگہ بھی بڑی مناسب تھی ان کے لیے۔ اس پر بڑی بحث ہوئی۔ اپنی میٹنگ میں حکومت سے ۔ میٹنگوں میں میں نے کہا، اس میں لکھو مرزائی فرقہ—— مرزائی اور بریکٹ میں لکھو قادیانی اور لاہوری۔ حفیظ پیرزادہ گورنمنٹ کی وکالت کر رہا تھا اور کوثر نیازی صاحب بھی۔ انہوں نے کہا، یہ تو مرزائی اپنے آپ کو کہتے ہی نہیں۔ آپ مرزائی لکھ دیں تو وہ کہیں گے کہ وہ مرزائی نہیں ہیں۔ ایسا نام لکھو کہ وہ بھی تسلیم کریں کہ ہم وہی ہیں، احمدی۔

ہم نے کہا احمدی ہم ان کو نہیں مانتے۔ وہ احمدی نہیں ہیں، وہ تو تحریف کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ ومبشرا رسول یاتی من بعد اسمه احمد وہ کہتے ہیں اس سے مراد نعوذ باللہ مرزا ہے، تو ہم نے کہا: ہم احمدی مانتے ہی نہیں ان کو۔ دستوری نام دینا چاہتے ہیں آپ۔ غلط کام۔ اس نے کہا: پھر مرزائی وہ نہیں کہتے اور احمدی تم نہیں مانتے۔ پھر کیا نام لکھیں؟

میں نے کہا: نام لکھو تم یہ (of Mirza Ghulam Ahmed Qadyani Followers) یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اور پھر بریکٹ میں لکھو: (قادیانی گروپ اینڈ لاہوری گروپ) "Qadyani Group And Lahori Group" میں نے کہا: مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ دیکھو مرزا ”غلام احمد قادیانی“ یہ تین لفظ دنیا میں میرے سوا کسی اور کو صادق نہیں آتے۔ میرا ہی نام ہے صرف مرزا غلام احمد قادیانی۔ میں نے کہا: اتنی تخصیص ہوئی اس کی، اس کی اپنی زبان سے۔ اسی کو لکھو۔ اب پیرزادہ صاحب جو ہیں وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا: مفتی صاحب! اس

صفحہ 177

پیر زادے کا نام کیوں دستور میں رکھتے ہو‘ سارا دستور پلید ہو جائے گا۔ اب میرے جذبات کو اس نے ابھارنا چاہا کہ سارا دستور پلید ہو جائے گا اس کا نام رکھ کے۔

میں نے کہا: کوئی بات نہیں پیرزادہ صاحب! قرآن میں ابلیس بھی ہے‘ فرعون بھی ہے لیکن قرآن پھر بھی پاک کتاب ہے۔ اس پر لعنت ہی بھیجیں گے نا۔ ہم نے کون سا اس کو مبارکباد دینی ہے۔ اگر قرآن ان کافروں کے ناموں سے نہیں پلید ہوتا‘ پھر بھی پاک کتاب‘ مبارک کتاب ہے تو یہ بھی۔ ہمارا دستور پلید نہیں ہوتا۔

پھر انہوں نے کہا: دیکھو دستور میں کسی آدمی کا نام نہیں ہوتا۔ اصول ہوتے ہیں‘ نام نہیں ہوتا۔

میں نے کہا: اسی دستور کے دیباچے میں دکھا دیں؟ دستور کا حصہ ہے وہ بھی۔ اس میں قائد اعظم محمد علی جناح کا نام ہے‘ ہے یا نہیں۔

اس نے کہا: قائد اعظم کا نام آسکتا ہے۔

اور پھر اس دستور میں‘ جس میں ہم نے مسلمان کی تعریف کی‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بھی تو نام دستور میں ضرورت کے لیے آسکتا ہے۔

آخر وہ غریب بے بس ہوگیا اور اس نے کہا: ایسا کرو کہ احمدی اور یہ قادیانی اور لاہوری بریکٹ میں۔ ہمارے کچھ ساتھی بھی اس پر آمادہ ہوگئے تھے کہ یہ ہو جائے‘ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ بات تو واضح ہوگئی۔ میں نے کہا: نہیں‘ میں نے انہیں کہا کہ میرے ساتھ دوسرے کمرے میں چلو‘ میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ میں نے کہا: ان کے سامنے میں کیا بحث کروں۔ میں نے ان سے کہا کہ دیکھو اگر آپ دستور میں لکھتے ہیں احمدی۔ جی۔ اور پیچھے بریکٹ میں کرلیں قادیانی گروپ اینڈ لاہوری گروپ‘ تو بریکٹ بند دستور کا جزو نہیں ہوتا۔ وہ وضاحت کے لیے تشریح کے لیے ہوتا ہے‘ لیکن دستور کا حصہ نہیں ہوتا۔ بریکٹ بند کے معنی یہ ہیں کہ یہ اس فقرے کا اصل حصہ نہیں‘ تو نام تو ان کا احمدی ہوگیا‘ پھر بریکٹ دستوری نہیں۔ سب نے

صفحہ 178

کہا: یہ تو بات ٹھیک ہے۔ خیر۔۔۔ میں نے کہا: اگر ایسا ہو جائے کہ ہم بجائے ایک گروپ کے۔ اچھوت۔ آگے لکھیں قادیانی گروپ اور لاہوری گروپ‘ یہ دو فرقے بنا لیں اور پھر بعد میں بریکٹ میں یہ کہیں جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں‘ بریکٹ میں وہ آجائیں۔ نام ان کا پڑ گیا: قادیانی لاہوری گروپ اور بریکٹ میں یہ ہو جائے گا کہ جو اپنے کو احمدی کہتے ہیں‘ جیسا کہ اپنے کو وہ احمدی کہتے ہیں تو یہ بریکٹ میں بند ہو جائے گا۔ یہ حصہ نہیں دستور کا‘ اس پر بڑی بحث کے بعد اتفاق ہو گیا اور رات کو پھر بارہ بجے تک ہم نے بھٹو صاحب سے بحث کی۔ وہ نہیں مانتے تھے۔ اوہو‘ اوہو! اتنی بحث اور یہ حضرات پنڈی میں بیٹھے ہمارا انتظار کر رہے تھے کہ کیا فیصلے کراتے ہیں اور کل آخری رات ہے۔ چھ اور سات کی درمیانی رات۔ بارہ بجے تک بیٹھے رہے‘ آخر اس سے منوا لیا"۔

مسلمانو! اس عظیم الشان اور تاریخی فتح کا تاج ان شہیدوں کے سر ہے‘ جنہوں نے سنگینوں کے سائے میں عشق رسولؐ کی داستانیں رقم کیں‘ جنہوں نے عقوبت خانوں کے اندھیروں میں درود شریف کا چراغاں کیا‘ جنہوں نے گولیوں کی خوفناک تڑتڑ کا جواب ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے دیا‘ جنہوں نے اپنی جوانی کا گرم خون دے کر چراغ ختم نبوت کو فروزاں رکھا‘ جو چہرے پر مسکراہٹیں سجائے موت سے ہم آغوش ہو گئے‘ جنہوں نے اپنی لاشوں کا بند باندھ کر جھوٹی نبوت کے منہ زور سیلاب کو روکا‘ جنہوں نے اپنے خون ناب سے سڑکوں پر ختم نبوت زندہ باد تحریر کیا۔ ظالموں نے جن کی لاشوں کو جانوروں کی طرح گلیوں اور بازاروں میں گھسیٹا۔ جن کی لاشیں غائب کر کے ویرانوں میں دبا دی گئیں‘ جن کی لاشیں ٹرکوں میں بھر کر دریائے راوی میں بہا دی گئیں‘ جو عشق رسولؐ میں اپنے بچوں کو داغ یتیمی دے گئے۔ تحفظ ختم نبوت کے مشن میں جن کی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے۔ ناموس مصطفےٰؐ کے تحفظ میں جن کے بوڑھے والدین کے سہارے ٹوٹ گئے۔

صفحہ 179
اے جان دینے والو محمدؐ کے نام پر
ارفع بہشت سے بھی تمہارا مقام ہے
تحریک پاک ختم نبوت کے عاشقو
واللہ! تم پر آتش دوزخ حرام ہے

آئیے--- انتہائی مودب ہو کر--- زبان دل سے--- اسلام کے ان عظیم سپوتوں اور شمع ختم نبوت کے پروانوں کے حضور سلام محبت و عقیدت پیش کرتے ہیں۔

سلام ان پر جنہوں نے سنت سجاد زندہ کی
سلام ان پر جنہوں نے کربلا کی یاد زندہ کی
سلام ان پر کہ جو ختم نبوت کے تھے شیدائی
سلام ان پر کہ جن کی جرات رندانہ کام آئی
سلام ان پر جنہوں نے مشعلیں حق کی جلائی ہیں
سلام ان پر جنہوں نے گولیاں سینوں پہ کھائی ہیں
سلام ان پر جو جیتے تھے فقط اسلام کی خاطر
جناب خواجہؒ دوسرا کے نام کی خاطر
سلام ان پر کہ جو ختم رسالت کے تھے پروانے
جو عاقل باخدا تھے اور حضور خواجہؒ دیوانے
سلام ان پر کہ جن کی غیرت ایمان تھی زندہ
سلام ان پر قیامت تک ہے جن کا نام پائندہ
صفحہ 28
PDF 181

دوزخ سے مرزا قادیانی

کا خط

مرزا طاہر کے نام

صفحہ 28
صفحہ 183

پیارے مرزا طاہر!

نمستے! کافی دنوں سے تمہیں خط لکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس شدت کا عذاب ہے کہ میری پور پور جل رہی ہے اور ہڈی ہڈی چٹخ رہی ہے۔ آج دوزخ میں الٹا لٹکایا گیا ہوں اور اسی حالت میں تمہیں یہ خط تحریر کر رہا ہوں۔

پچھلے مہینے ایک قادیانی لندن سے دوزخ میں آیا۔ اس کے ذریعے معلوم ہوا کہ تم نے میری بکواسیات پر مشتمل ساری کتابوں کو اکٹھا کر کے ”روحانی خزائن“ کے نام سے لندن سے شائع کیا ہے۔ طبیعت بڑی خوش ہوئی کہ تم دجل و فریب میں مجھ سے بھی چار ہاتھ آگے ہو۔ کفر و ارتداد پر مبنی کتابوں کو اکٹھا کر کے تم نے انہیں کیا خوب نام دیا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ کسی شراب خانے کے باہر مسجد کا بورڈ لگا دیا جائے۔ میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ جہنم آتے ہوئے میرے کسی امتی کے ہاتھوں مجھے ایک سیٹ ضرور بھیج دینا۔

اسی لندنی قادیانی کے ذریعے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ تم پاکستان سے بھاگ کر لندن آ گئے ہو اور تم نے ربوہ سے اپنا مرکز لندن منتقل کر لیا ہے۔ یہاں تم نے اربوں روپے کی زمین خرید کر ”اسلام آباد“ کے نام سے ایک نئی بستی آباد کی ہے اور اس میں تمہاری رہائش گاہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ پیارے! تم مقدروں کے بڑے دھنی ہو۔ ایک ہم بختوں کے مارے تھے کہ قادیان میں خاک پھانکتے تھے۔ گرمیوں میں گھر سے باہر قدم رکھتے تو جھلس جاتے اور سارے جسم پر گرمی دانے نکل آتے۔ سردی پڑتی تو ٹھٹھرے ہوئے سانپ کی طرح کمرے میں پڑے رہتے۔ برسات ہوتی تو مینڈک بن جاتے۔ گرد آلود ہواؤں کے جھکڑ چلتے تو بھوت بن جاتے۔ صبح سیر کے لیے جاتے تو راستے میں اتنی گرد اڑتی کہ واپسی پر یوں معلوم ہوتا کہ جیسے گرد میں نہا کے آئے ہیں اور تمہاری دادی کپڑے دھونے سے انکار کر دیتی۔ رات کو کہیں جانا پڑتا تو کتے کاٹتے۔ ایک تم ہو کہ جسے دنیا کی ہر آسائش میسر ہے۔ دولت تمہاری ہر ضرورت تمہارے گھر کی دہلیز پر پہنچا دیتی ہے۔ موسم کی خیرہ دستیاں تم پر کوئی اثر نہیں کر

صفحہ 184

سکتیں۔ تمہاری کوٹھی ایئرکنڈیشنڈ‘ تمہارا بیت الخلاء ایئرکنڈیشنڈ‘ تمہاری کار ایئرکنڈیشنڈ‘ تمہارا آفس ایئرکنڈیشنڈ اور ایک ہم ہیں کہ جہنم کی آگ میں ”ایئرکنڈیشنڈ“۔ لیکن کوئی بات نہیں بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی‘ آنا تو تم نے بھی ہمارے ہی پاس ہے! مجھے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ تم نے ایک ٹیلی ویژن چینل خریدا ہے اور ڈش انٹینا کے ذریعے اپنے ارتدادی پروگرام کو پوری دنیا میں خوب چلا رہے ہو۔ تم نے ساری قادیانی عبادت گاہوں میں ڈش انٹینا لگا دیے ہیں۔ جب تمہاری تقریر ہوتی ہے تو قادیانی مبلغ سادہ لوح لوگوں کو گھیر کر عبادت گاہوں میں لے جاتے ہیں اور ٹیلی ویژن پر تمہارے منہ سے نکلے ہوئے زہر کو لوگوں کے کانوں کے ذریعے ان کے قلب میں اتارتے ہیں۔ بھئی کمال تدبیر نکالی ہے تم نے ارتدادی تبلیغ کی۔ میری طرف سے ڈش انٹینا مہم پر بہت بہت شاباش۔

کل شیطان میرے پاس آیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا اور زور زور سے قہقہے لگا رہا تھا کہ تمہارے پوتے نے میری بہت مشکلیں حل کر دی ہیں۔ پہلے مجھے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ملک ملک کے سفر پر جانا پڑتا تھا اور مسلسل سفر سے میں تھک کے نڈھال ہو جاتا تھا۔ تمہارے پوتے نے ڈش انٹینا کے ذریعے یہ کام سنبھال کر میری ڈیوٹی سہل کر دی ہے۔ کیا خوب پوتا ہے تمہارا؟ تم تو نرے ”بھتو“ تھے! اور ہاں میں نے یہ بھی سنا ہے کہ تم ”وائس آف اسلام“ کے نام پر ایک ریڈیو سٹیشن بھی شروع کر رہے ہو۔ بھئی بڑے استرے ہو تم! اسلام کو اسلام کے نام پر ہی لوٹ رہے ہو۔ لندن میں ارتدادی بستی بسائی تو اس کا نام اسلام آباد‘ ارتدادی ریڈیو سٹیشن قائم کر رہے ہو تو اس کا نام بھی ”وائس آف اسلام!“ میری طرف سے ریڈیو سٹیشن قائم کرنے کے منصوبے پر بھی تھپکی وصول کرو! جب ”وائس آف اسلام“ شروع کرو تم کسی ماہر موسیقار سے منفرد سی دھن بنوا کر کسی مشہور گلوکار سے کہنا کہ وہ میری کتاب ”آریہ دھرم“ کے ص ۷۶۔۷۷ پر درج میرے یہ بول بہترین انداز میں گائے۔

صفحہ 185
چپکے چپکے حرام کروانا آریوں کا اصول بھاری ہے
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
دس سے کروا چکی ہے زنا لیکن پاک دامن ابھی ہے بیچاری -
زن بیگانہ پہ یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری -

پیارے! تم نے خود تو اتنی ترقی کر لی کہ ہوا کی لہروں کے ذریعے اپنی تبلیغ کر رہے ہو۔ تم اپنے تو ہر عیب پر اس خوبصورتی سے پردہ ڈالتے ہو کہ وہ خوبی بن جاتا ہے لیکن میری آج بھی چھپنے والی تصویروں میں مجھے کانا دکھایا جا رہا ہے۔ میری ایک آنکھ چھوٹی اور دوسری بڑی دکھائی جا رہی ہے۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ فوراً کسی ماہر مصور سے میری دونوں آنکھیں برابر کراؤ اور پھر میری چار رنگی تصویر چھاپ کر پوری دنیا میں تقسیم کرو۔ تاکہ ہمیں بھی پتہ چلے کہ ہمارا "خلیفہ" کسی سائنسی دور میں رہ رہا ہے۔

تمہاری بیوی آصفہ بیگم عرف آچھی مرنے کے فوراً بعد میری پاس جہنم میں پہنچ چکی ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ تم شراب بہت پیتے ہو۔ تمہاری بلانوشی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ تم شراب نہیں پیتے بلکہ شراب تمہیں پیتی ہے۔ اس شغل میں کمی کرو ورنہ تمہارے گردے ناکارہ ہو جائیں گے اور تم بھی میری طرح دن میں سو سو مرتبہ پیشاب کرتے پھرو گے۔ میری اس نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھنا کہ شراب ہمیشہ ولایتی پینا، کبھی بھول کر بھی دیسی شراب عرف کتے مار کے قریب نہ جانا۔ میں خود ہمیشہ ای پلومر کی ولایتی شراب پیتا تھا۔ کبھی کبھی جب ہاتھ بہت تنگ ہوتا تو قادیان کی بنی ہوئی کتے مار پی لیتا تو وہ نشہ چڑھتا کہ میں گھوم گھوم جاتا۔ میری کتابوں میں یعنی "روحانی خزائن" میں جتنی بھی گالیاں ہیں وہ کتے مار کی "برکت" ہیں۔

جہنم میں آنے والے میرے امتی مجھ سے بہت لڑتے ہیں۔ چیختے چلاتے ہیں کہ ہم تو پیسے دے کر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے تھے۔ ادھر تم خود جہنم میں بیٹھے ہو اور ہر

صفحہ 186

آنے والے قادیانی کا استقبال کر رہے ہو۔ میں انہیں اپنی شکل دکھاتے ہوئے کہتا ہوں کہ کیا نبی اس شکل کے ہوتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا کہ تو امام زماں تھا۔ میں کہتا ہوں نہیں میں آلام زماں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا کہ تو مسیح تھا۔ میں کہتا ہوں نہیں میں قبیح تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا کہ تو ظلی تھا۔ میں کہتا ہوں نہیں میں بھیگی بلی تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا کہ تو بروزی تھا۔ میں کہتا ہوں نہیں میں موذی تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا کہ تو نبی تھا۔ میں کہتا ہوں نہیں میں غبی تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا تھا کہ تو رسول تھا۔ میں کہتا ہوں نہیں میں فضول تھا۔ وہ مجھے گالیوں بکنے لگتے ہیں اور جواباً میں بھی انہیں گالیاں بکنے لگتا ہوں اور اس زور کا مشاعرہ گرم ہوتا ہے کہ فرشتے گرز مار مار کر ہمیں خاموش کراتے ہیں۔

ملکہ وکٹوریہ یہاں ”ملکہ دوزخ“ ہے۔ جنرل گریس کی ایسی درگت بنتی ہے کہ اس کے چہرے کی گریس (Grace) دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ انگریز گورنر سر فرانس موڈی جس نے تمہیں پاکستان میں ربوہ بسانے کے لیے ۱۰۳۳ ایکڑ سات کنال آٹھ مرلے زمین دی تھی۔ اسے جہنم میں اتنی ہی زمین مفت دے دی گئی ہے۔ یہاں پر سر فرانس موڈی کی شکل پنجاب کے دیہاتوں میں بیٹھنے کے لیے استعمال ہونے والے ”موڑھے“ کی طرح ہے۔

امریکی الیکشن میں بش ہار گیا اور کلنٹن جیت گیا۔ کیا خوب شخص تھا بش کہ عربوں کی کمر توڑ کے رکھ گیا۔ بھائی کو بھائی کا خون پلا گیا۔ تیل کے چشموں کو آگ لگوا کر عربوں کی معیشت کو جلا گیا۔ تیل اگلتی سرزمین پر اپنی فوجوں کے پہرے بٹھا گیا اور عربوں کے مابین نفرت کی ایسی سنگین دیوار چن گیا کہ ایک لمبی مدت تک وہ دیوار گرتی نظر نہیں آتی۔ سنا ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب اور کویت میں جو اپنی فوجیں اتاری تھیں، ان میں سے کچھ فوجی ہماری جماعت کے بھی تھے۔

مجھے معلوم ہوا ہے کہ کلنٹن سے تمہاری ملاقات ہوچکی ہے اور پرانے معاہدوں کی توثیق بھی ہوچکی ہے۔ کلنٹن بھی بش کی طرح ”سمجھ دار“ آدمی ہے۔ میں سمجھتا

صفحہ 187

ہوں گے تم دونوں کی خوب گزرے گی۔ پیارے! امریکہ کو ہمیشہ باپ سمجھ کر عزت کرنا۔ اس کے سامنے کبھی اف نہ کرنا بلکہ ہمیشہ دم ہلانا۔ کیونکہ امریکہ ہی وہ آکسیجن ہے جس کے سہارے ہماری جماعت زندہ ہے۔ یہاں ایک بات کا شدید رنج ہوا کہ ہمارا جگری یار سٹیفن سولارز امریکی سینٹ کا الیکشن ہار گیا۔ ہمارا زبردست حامی و مددگار تھا۔ ہماری حمایت میں اس کی تقریریں اور اخباری بیانات ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اسے مسلمانوں سے اتنی ہی نفرت تھی جتنی کسی بڑے سے بڑے یہودی کو ہو سکتی ہے۔ امریکہ میں مقیم مسلمانوں نے بڑی جدوجہد سے اسے ہرایا ہے۔ کوئی بات نہیں وہ سینٹ کے اندر ہو یا باہر اس کی آواز میں ایک طاقت تو ہے۔

اسرائیل سے تو تمہارے تعلقات دیوار چین سے بھی زیادہ مضبوط ہیں اور اس کے بارے میں، میں تمہیں تلقین کرنا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔ مجھے اس بات کی ازحد خوشی ہوئی کہ کشمیری حریت پسندوں کو کچلنے کے لیے اسرائیل سے جو کمانڈوز بھارت کی مدد کے لیے سری نگر آئے ان کمانڈوز میں ہماری جماعت کے نوجوان بھی تھے۔ بیٹا! یہود اور ہنود کے ہم پر ان گنت احسانات ہیں اور ہمیں اسی طرح اپنے محسنوں کے احسانات کا بدلہ چکاتے رہنا چاہیے۔ ویسے بھی آپس کی خوشی، غمی میں شامل ہونے سے تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں۔ بیٹا! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر ہمارا ہی پیدا کردہ ہے۔ تقسیم ہندوستان کے وقت اگر حدبندی کمیشن کے سامنے ہماری جماعت قادیان کے لیے اپنا الگ مطالبہ پیش نہ کرتی تو ضلع گورداسپور پاکستان میں شامل ہو جاتا اور کشمیر پاکستان کے پاس چلا جاتا اور پاکستان دفاعی اور معاشی اعتبار سے ایک مضبوط ملک بن جاتا۔ کشمیر کی آزادی ہماری بے عزتی اور توہین ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر ہمیشہ بھارت کے شانہ بشانہ کھڑے رہنا۔ کیونکہ بھارت مضبوط ہے، تو ہم بھی مضبوط ہیں!

بیٹا! روس ٹوٹا اور اس کی ریاستیں آزاد ہوئیں لیکن تم کسی بھی ریاست پر قبضہ نہ کر سکے۔ بڑے افسوس کی بات ہے لیکن مجھے یہ خبریں ملتی رہیں کہ تم نے اس مقصد

صفحہ 188

کے لیے کوششیں تو بہت کیں اور اب بھی بڑے ہاتھ پاؤں مار رہے ہو۔ میں تو جہنم میں بھی یہ خبر سننے کے لیے بیتاب رہتا ہوں کہ دنیا میں کہیں ہماری بھی ریاست بن گئی ہے۔

کل ہی جہنم میں تازہ تازہ آئے ایک اہم قادیانی نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں صدر غلام اسحاق خاں نے پھر قومی اسمبلی توڑ دی ہے۔ تم نے تو مجھے اطلاع نہ دی لیکن مجھے اس بات کی خبر مل گئی تھی کہ اسمبلی ٹوٹنے سے دو تین دن پہلے میرا پوتا ایم ایم احمد، صدر غلام اسحاق سے ملا تھا اور اس سے ایک لمبی رازدارانہ میٹنگ ہوئی اور اس نے تمہارا پیغام بھی غلام اسحاق کو پہنچایا اور اس ملاقات کے دو تین دن بعد قومی اسمبلی ٹوٹ گئی۔ مجھے اس بات سے ازحد خوشی ہوئی کہ پاکستان کے حکمرانوں سے تمہارے کتنے گہرے تعلقات ہیں اور پاکستان کی ریاست میں تم کس اہمیت کے حامل ہو۔ میں تمہاری طاقت دیکھ کے دنگ رہ گیا کہ اگر تم انگلینڈ میں بیٹھ کر ڈوریاں ہلاؤ تو یہاں کے حکمران بھی ہلنے لگتے ہیں۔ بھئی ہلیں کیوں نہ، سب کا ملجا و ماویٰ تو امریکہ ہے اور تم امریکہ کے بغل بچے! جو امریکہ کا غلام ہے وہ تمہارا بھی غلام ہے۔

بہت وقت بیت گیا۔ اچھا اب ختم کرتا ہوں۔

یہاں میرے پاس تمہارے ابا، اماں، دادی، نانا، نانی، چچا، چچیاں، ماموں، ممانیاں، سر ظفر اللہ، شیزان والا شاہنواز وغیرہم جہنم میں ”ٹھیک ٹھاک“ ہیں۔ ابو جہل، ابولہب، ولید بن مغیرہ، عبداللہ بن ابی، امیہ بن خلف، نمرود، شداد، فرعون، ہامان، اسود عنسی، مسیلمہ کذاب، ابن سبا، شمر، حکیم نور الدین، مرزا بشیر الدین، مرزا ناصر وغیرہم تمہیں بہت بہت پیار کہہ رہے ہیں۔

فقط تمہارا دادا مرزا قادیانی حال مقیم ”حاویہ“

صفحہ 28
PDF 190

مالک رام

کا

قبول اسلام یا

قبول قادیانیت؟

قادیانی جھوٹ کا پردہ

چاک ہوتا ہے

قولِ حق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوۃ

ننکانہ صاحب

ضلع شیخوپورہ

صفحہ 191

جناب مالک رام برصغیر پاک و ہند کی مشہور و معروف علمی و ادبی شخصیت تھی۔ وہ ان لوگوں کی صف میں شامل تھے جنہیں اردو زبان کی نزاکتوں اور لغت کی لطافتوں پر عبور حاصل ہوتا ہے۔ ماہرین اردو زبان نے انہیں اُردو ادب میں ایک اتھارٹی تسلیم کیا ہے۔ مالک رام کو مولانا ابوالکلام آزاد سے بہت عقیدت تھی اور وہ خود کو مولانا کے علمی خوشہ چینوں میں فخریہ شمار کرتے تھے۔ انہوں نے مولانا ابوالکلام آزاد پر بہت ریسرچ کی اور ریسرچ کا حق ادا کر دیا۔ مولانا اور ان کے فن پر مالک رام کی لکھی گئی کئی کتابیں اردو ادب اور ہندوستان کی تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

مولانا سے محبت و رغبت کی وجہ سے مالک رام نے اسلام کا بھی گہرا مطالعہ کیا تھا اور ان کے ذہن پر اسلام کے گہرے نقوش تھے جو ان کی بہت سے تحریروں سے عیاں ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے غالبیات پر بھی گراں قدر کام کیا۔ جناب مالک رام ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہیں۔ جن کی زندگی کی کشتی ہمیشہ کفر کے بھنوروں اور گردابوں میں پھنسی رہتی ہے اور قریب ہوتا ہے کہ کوئی موج بلاخیز اٹھے اور اس کشتی حیات کو بحر کفر میں غرق کر دے کہ اچانک کوئی موج رحمت اٹھتی ہے اور اس کشتی کو نکال کر ایمان کے ساحل مراد پر پہنچا دیتی ہے۔ جہاں جنت کی بہاریں اس کے لئے چشم براہ ہوتی ہیں۔

مالک رام نے ایک ہندو گھرانے میں آنکھ کھولی۔ بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا ہندو مت میں گزارا۔ وہ زندگی کے آخری ایام ہسپتال میں گزار رہے تھے۔ ان کا چراغ زیست موت کی تند ہواؤں سے آخری مقابلہ کر رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ یہ چراغ بجھتا، مالک رام نے اپنی موت سے پانچ روز قبل یعنی ۱۸ اپریل ۱۹۹۳ء کو اسلام قبول کر لیا۔ اور مالک رام سے اپنا اسلامی نام عبدالمالک رکھا۔ انہوں نے بتوں سے ناتا توڑ کر اللہ سے تعلق جوڑ لیا۔ ہندومت کی فرسودہ رسومات کو چھوڑ کر تاجدار ختم نبوت جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت مطہرہ کے سامنے اپنی گردن خم کر دی۔ اللہ کی وحدانیت اور نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کی گواہی دیتے ہوئے اور اس پر لوگوں کو گواہ بناتے ہوئے مالک رام اس جہان فانی سے اس جہان باقی

صفحہ 192

میں پہنچ گئے۔

قادیانی جماعت جو بڑوں لوگوں کی شہرت سے قادیانیت کو تقویت دینے کی تاک میں لگی رہتی ہے، نے جھٹ اعلان کر دیا کہ مالک رام مرنے سے پہلے قادیانی ہو گئے تھے۔ قادیانی دجالوں کا یہ پہلا حربہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ اس سے پہلے باکسر محمد علی کلے، پاک فضائیہ کے ہیرو ایم ایم عالم، جنرل حمزہ وغیرہم کے قادیانی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ لیکن ان حضرات نے ان اعلانات کے جواب میں قادیانیت کی سخت مذمت اور مرمت کی اور خود کو حضور ختمی المرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کا ادنیٰ غلام ظاہر کیا۔

جناب مالک رام کے بارے میں قادیانی اخبار ”الفضل“ اپنی ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء کی اشاعت میں لکھتا ہے۔ جناب مالک رام اردو ادب کے ایک درخشندہ ستارے تھے آپ نے کئی علمی ادبی کتب لکھیں۔ غالبیات آپ کا خاص مضمون تھا۔ اس ضمن میں آپ نے کئی کتب بھی لکھیں۔

جناب مالک رام ایک مخلص احمدی تھے۔ اگرچہ انہوں نے عمر بھر اپنی احمدیت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ لیکن ان کو جاننے والے اس بات سے باخبر تھے کہ وہ ایک راسخ العقیدہ احمدی ہیں۔ ان کی علمی کتب میں دین حق کے بارے میں خاصا مواد ہے۔ ”عورت اور اسلام“ کے نام سے انہوں نے ایک شاندار عالمانہ مضمون بھی سپرد قلم کیا۔

استاذی المکرم محترم پروفیسر ڈاکٹر ناصر احمد پروازی صاحب نے خاکسار راقم الحروف کو ایک بار بتایا کہ ان کو ایک ادبی کانفرنس کے سلسلے میں ہندوستان جانے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ محترم پروازی صاحب اردو ادب کے جاننے والوں میں متعارف ہیں۔ اس لئے جناب مالک رام سے بھی ان کی ملاقات ہوئی۔ مالک رام صاحب کو پتہ چلا کہ ڈاکٹر پروازی صاحب احمدی ہیں تو وہ احمدیت کی محبت میں ان کو ان کے ہوٹل سے اپنے گھر لے گئے اور فرمایا کہ آپ ہوٹل میں نہیں رہیں گے۔ میرے گھر رہیں۔ چنانچہ پروازی صاحب ان کے گھر پر رہے۔ اس قیام کی جو خاص بات محترم پروازی صاحب نے بتائی وہ یہ تھی کہ مالک رام صاحب نے خوب خوب نمازیں مجھے پڑھائیں۔

صفحہ 193

جناب مالک رام سے ہمارے ادارہ الفضل کے شعبہ ادارت کے ایک رکن مکرم سید ظہور احمد شاہ صاحب کی بھی قاہرہ میں ملاقات ہوئی۔ مکرم سید ظہور احمد شاہ نے بتایا کہ ۱۹۴۲ء میں برٹش آرمی کی انڈین میڈیکل کور (آئی اے ایم سی) بطور کلریکل حوالدار متعین تھا۔ یہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا۔ ہماری یونٹ کے بعض افراد کو مصر بھیجا گیا۔ ہم سمندری جہاز کے ذریعے پورٹ سعید پہنچے، وہاں سے بذریعہ ٹرین قاہرہ گئے۔ جہاں پر ایک ہزاری انفور سمنٹ کیمپ برٹش آرمی کا قائم تھا۔ یہ کیمپ مشہور اہرام مصر کے بالکل قریب واقع تھا۔ وہاں میرا قیام چار پانچ ماہ رہا۔ سمندری جہاز کے سفر کے دوران ایک احمدی کلرک سے میری دوستی ہو گئی جو اس وقت جمعدار (آجکل یہ عہدہ نائب صوبیدار کہلاتا ہے) کے رینک پر تھا۔ میری ڈیوٹی اسی احمدی کلرک کے ساتھ لگی۔ اس احمدی کلرک کا رابطہ کسی طرح مالک رام صاحب سے ہو گیا۔ جناب مالک رام ان دنوں ہندستانی سفارت خانے میں ٹریڈ کمشنر کے طور پر قاہرہ میں متعین تھے۔ ایک دن ایک احمدی کلرک مجھے کہنے لگے کہ آؤ آج جمعہ پڑھنے چلتے ہیں۔ یہ مجھے مالک رام کے گھر لے گئے۔ مالک رام صاحب کا فلیٹ قاہرہ کے گنجان آباد علاقے میں تھا۔ ہم دن کے دس ، گیارہ بجے ہی ان کے ہاں پہنچ گئے۔ جناب مالک رام صاحب نے یہ دیکھ کر کہ دو احمدی بھائی ان کے پاس آئے ہیں ہماری بڑی آؤ بھگت کی اور دوپہر کا شاندار کھانا بھی ہمیں اپنے گھر کھلایا۔ جمعہ کا وقت ہوا تو ۱۰، ۱۲ اور احمدی فوجی بھی جو اس فوجی کیمپ میں تھے۔ جمعہ پڑھنے کا وقت آیا جناب مالک رام نے کمرہ کی کنڈی چڑھا لی۔ ہم ان کی اس حرکت پر بڑے حیران ہوئے کہ اس احتیاط کی کیا وجہ ہے؟

تو انہوں نے بتایا کہ میری بوڑھی والدہ بھی میرے ساتھ ہے اور میں نے اپنی والدہ کی خاطر احمدیت کا اظہار نہیں کیا۔ کیونکہ اگر ان کو میرے احمدی ہونے کا علم ہو گیا تو انہیں شدید دکھ ہوگا اور خطرہ ہے کہ وہ اس غم کو برداشت نہ کر پائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ میری بیوی کو اس بات کا علم ہے۔ اگرچہ وہ خود احمدی نہیں ہے۔ مالک رام صاحب نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام بھی (احمدیوں) والے رکھے ہیں میری

صفحہ 194

والدہ نے جب مجھ سے پوچھا کہ ان کے نام (احمدیوں) جیسے کیوں رکھے ہیں تو میں نے یہ بہانہ بنایا کہ چونکہ ہم مسلمانوں کے ملک میں رہتے ہیں اس لئے مصلحت کا یہی تقاضا ہے کہ ان کے نام بھی ایسے ہی رکھے ہیں۔

جناب مالک رام نے قبول احمدیت کے بارے میں بتایا کہ میں ہندو اخبارات ”ملاپ“ ”پرتاپ“ کے نمائندہ کے طور پر سالانہ جلسے کے موقع پر لاہور سے قادیان جایا کرتا تھا۔ وہاں میری ملاقات حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے ہو گئی جنہوں نے میرے ساتھ نہایت محبت کا سلوک کیا۔ مجھے اپنے گھر میں بلاتے رہے اور احمدیت کے بارے میں بتاتے رہے حتی کہ میں احمدی ہو گیا۔ مگر میں نے احمدیت کا اعلان نہیں کیا۔ اس وقت انہوں نے ابھی سرکاری نوکری نہیں کی تھی۔ بعد ازاں غالباً حضرت چوہدری صاحب کے توسط سے انہیں ہندوستانی وزارت خارجہ میں نوکری مل گئی اور یہ انڈین ہائی کمیشن کے ٹریڈ کمشنر کے طور پر قاہرہ آگئے۔

مکرم شاہ صاحب نے بتایا کہ ان دنوں جناب مالک رام کی عمر ۲۵‘ ۳۰ سال کے لگ بھگ ہوگی۔ موزوں قد اور درمیانے جسم کے مالک تھے‘ رنگ کھلتا ہوا سفید تھا۔ شائد عینک بھی لگاتے تھے۔ جس کمرے میں ہم جمعہ پڑھتے تھے وہ خاصا فراخ تھا۔ اس میں ان کی لائبریری بھی تھی۔ جس میں قرآن کریم اور دیگر اسلامی کتب بھی رکھی ہوئی تھیں۔ یہیں ایک احمدی دوست احمدیوں سے چندے بھی وصول کیا کرتے تھے۔ مالک رام صاحب کہا کرتے تھے کہ میں اپنی والدہ کی زندگی تک اپنی احمدیت کا اعلان نہیں کروں گا۔ مکرم شاہ صاحب نے بتایا کہ اس جگہ قیام کے دوران مجھے تین چار جمعے جناب مالک رام صاحب کے گھر پڑھنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد میری پوسٹنگ سکندریہ اور وہاں سے چند ماہ بعد مجھے اٹلی بھیج دیا گیا۔ جہاں میں روم میں جنگ ختم ہونے تک رہا۔

جناب مالک رام صاحب نے ایک کتاب ”وے صورتیں الٰہی“ ۱۹۷۶ء میں دہلی سے شائع کی تھی۔ اس کے حوالے سے جناب مالک رام صاحب کے ذکر پر مبنی ایک مضمون محترم پروفیسر ڈاکٹر ناصر احمد صاحب پروازی نے الفضل ۲۲ فروری ۱۹۸۹ء میں شائع کروایا تھا۔ اس مضمون کے چند اقتباسات پیش ہیں اس سے جناب مالک رام

صفحہ 195

صاحب کے حالات زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔ محترم پروازی صاحب کہتے ہیں۔ ”مالک رام، اردو زبان و ادب کے ان محققین اور مصنفین میں شمار ہوتے ہیں جن کی علمی اور تحقیقی فتوحات بے حد و حساب ہیں۔ خاص طور پر غالب کے سلسلہ میں ان کی تحقیقی مساعی زیادہ مستند اور وقیع سمجھی جاتی ہیں۔ مالک رام اردو عربی اور فارسی تینوں زبانوں کا علمی ذوق رکھتے تھے فارسی کا ذوق تو ہماری پرانی نسل کے تمام بزرگ ادیبوں میں موجود تھا۔

اب رفتہ رفتہ یہ ذوق معدوم ہوتا جا رہا ہے اور ہم لوگ ایک متاع گراں بہا سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ مالک رام بھارت کی وزارت خارجہ میں ملازم ہونے کے ناطے طویل عرصہ تک قاہرہ میں بھی مقیم رہے۔ اس طرح آپ نے عربی زبان سے کماحقہ واقفیت حاصل کی اور اس طرح اسلام اور قرآن فہمی میں بھی خاصا نام پیدا کیا۔ ”عورت اور اسلام“ کے موضوع پر ان کا ایک مضمون پڑھ کر سید سلیمان ندوی مرحوم نے فرمایا تھا کہ ”اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ یہ مضمون کس کا لکھا ہوا ہے تو میں اسے پڑھ کر یہی خیال کرتا کہ یہ کسی مسلمان عالم نے لکھا ہے۔“

مالک رام صاحب کے اس شغف میں حسن رہتاسی کا کیا حصہ تھا، یہ مالک رام صاحب کی زبان سے ہی سنئے۔ ”ہائی سکول میں میرے ایک ہم سبق دوست ملک احمد حسن رہتاسی....... تھے جو بعد کو بہت دن تک ہفتہ وار ”دور جدید“ لاہور کے ایڈیٹر بھی رہے....... وہ بھی میری طرح اردو، فارسی اور خاص طور پر شعر کے رسیا تھے ہم دونوں کا ایک دانت کاٹی روٹی والا معاملہ تھا۔ وہ احمدی تھے۔ ان کی بدولت مجھے اسلام کے متعلق بہت وسیع مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ نہ جانے وہ میرے لئے کہاں کہاں سے کتابیں بٹور بٹور کر لاتے تھے اور میں بڑی سے بڑی کتاب دو چار دن میں ختم کرکے واپس کر دیتا تھا۔ قدرتی بات تھی کہ ہائی سکول کی تعلیم ختم کرتے کرتے میری مذہبی واقفیت عموماً اور اسلامی واقفیت خصوصاً میری اپنی عمر کے طلبہ سے کہیں زیادہ تھی...... میں نے طے کر لیا تھا کہ مجھے عربی پڑھنی چاہیے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو کم از کم قرآن کو معنوں کے ساتھ کسی استاد سے سبقاً سبقاً ضرور پڑھنا چاہیے...... پھر خدا نے ایسا سامان پیدا کر دیا کہ مجھے ایک

صفحہ 196

زمانے تک مصر میں قیام کرنا پڑا۔ یہاں میں نے عربی میں شدھ بدھ پیدا کر لی۔" "مالک رام نے عربی میں شدھ بدھ کیا، اتنی علمیت بہم پہنچائی کہ علمی حلقوں میں بہت وقعت کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے۔"

محترم پروازی صاحب کے اس مضمون سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ جن حسن رہتاسی صاحب کا ذکر کیا گیا ہے، وہ قادیان میں رہنے والے مشہور احمدی شاعر حسن رہتاسی تھے اس مغالطہ کو اس مضمون کے ساتھ ہی محترم مولانا نسیم سیفی صاحب نے وضاحتی نوٹ دے کر دور کر دیا ہے اور بتایا کہ رسالہ "دور جدید" لاہور کے ایڈیٹر ملک احمد حسن رہتاسی الگ شخصیت تھے اور معروف شاعر حسن رہتاسی اور شخصیت تھے۔

درج بالا تفاصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک احمدی کے ذریعے دینی لٹریچر کے مطالعے کے بعد جناب مالک رام کو احمدیت سے شناسائی اغلباً پہلے ہی ہوچکی ہوگی اور جس طرح سے جناب مالک رام پڑھنے کے دھنی تھے اس سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے خاصی کتب اس بارے میں پڑھی ہوں گی۔ چنانچہ جب ان کی ملاقات قادیان میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان جیسی علم پرور ہستی سے ہوئی تو رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی، اور موصوف احمدیت کے حلقہ میں آگئے، اگرچہ عمر بھر انہوں نے اپنی احمدیت کا کھلے طور پر اعلان نہیں کیا۔ لیکن چونکہ واقفان حال ان کے بارے میں جانتے تھے اس لئے جناب جمیل الدین عالی نے یکم جون ۱۹۹۳ء کے جنگ لاہور میں اپنے کالم میں لکھا ہے "افواہ ہے کہ آپ قادیانی تھے۔" اللہ تعالیٰ جناب مالک رام صاحب کے درجات بلند کرے اور اپنی رحمت سے نوازے"۔

(الفضل ربوہ ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ قادیانی بازی گروں نے جناب مالک رام کو قادیانی ثابت کرنے کے لئے کتنی پر پیچ اور لچھے دار کہانی تیار کی ہے۔ ایسی ہی لچھے دار کہانیاں مرزا قادیانی اپنی نبوت اور پیشن گوئیوں کے لئے تیار کیا کرتا تھا۔

مالک رام کیسے مسلمان ہوئے؟ اس کا مکمل پتہ ہمیں مالک رام کے اس خط سے ملتا ہے۔ جو انہوں نے عالم اسلام کے نامور سکالر مولانا سید ابوالحسن ندوی کے نام لکھا

صفحہ 197

ہے ۔ یہ تاریخی خط بہت سے دینی رسائل میں شائع ہو چکا ہے۔ ہم ماہنامہ نقیب ختم نبوت کے فروری کے شمارہ سے اس خط کی نقل پیش کرتے ہیں۔ جناب مالک رام اس خط کے پانچ روز بعد انتقال فرما گئے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مشفق من سلام مسنون

چند یوم قبل ہمدردی اور درد سے بھرا ہوا مکتوب موصول ہوا۔ فوراً جواب اس کا حق تھا مگر غور و فکر کرتا رہا آج کل میں ہسپتال پہنچا۔ اپنے کرم فرما حافظ محمد اقبال امینی جو ایک بھولے بھالے اور مخلص مسلمان ہیں کو بلوا کر انہیں سے یہ خط ہسپتال میں تحریر کرارہا ہوں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ خود حاضر ہو کر آپ کی محبت اور احسان کا حق تو کیا ۔ بس زبانی شکریہ ادا کرتا ۔ مگر اس حال میں نہیں اتنے مسلمان دوستوں سے زندگی میں واسطہ پڑا مگر آپ سا دوست اور آپ سا مخلص لعلک باخع نفسک الاتکونوا مومنین کا مفہوم سمجھ میں آگیا۔ میں حافظ اقبال اور آپ کو گواہ بنا کر اقرار کرتا ہوں:

”اشہد ان لاالہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ امنت باللہ کماہوا باسمائہ وصفاتہ و قبلت جمیع احکامہ امنت باللہ وملئکتہ وکتبہ و رسلہ والیوم الاخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ و البعث بعد الموت‘ و رضیت باللہ ربا و بالاسلام دیناً O و بمحمد رسولا صلی اللہ علیہ وسلم‘ و بالقرآن کتاباً‘ الحمدللہ الذی ہدانا لہذا و ما کنا لنہتدی لولا ان ہدانا اللہ O

کل قیامت کے دن آپ سے وصول کر لوں گا۔ کاش اللہ تعالیٰ صحت یاب

صفحہ 198

فرمائے تو کچھ کفر و شرک کی زندگی کی تلافی اور اپنے سب سے بڑے محسن کی زیارت خود خدمت میں حاضر ہو کر کر سکتا۔

آپ کے احسان کا اجر بس مولائے کل ہی دے سکتا ہے جس نے ساری عمر کے گم کردہ راہ کو ہدایت اور توفیق بھی عطا فرمائی۔

کاش! آپ سے پہلے ملاقات ہو گئی ہوتی۔ اس کی دعا بھی آپ ہی کریں اللھم من احييته منا فاحيه على الاسلام ومن توفيته منا فتوفه على الايمان

اللہ آپ کو سلامت رکھے اور آپ کی عمر دراز کرے۔

والسلام مع الاکرام، خاکسار ”عبدالمالک“ مالک رام

جناب مالک رام اس خط کے پانچ روز بعد وفات پا گئے۔

کتنے تعجب کی بات ہے کہ قادیانی پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ مالک رام قادیانی تھے لیکن مالک رام قبولیت اسلام پر مولانا کا شکریہ ادا کر رہے ہیں اور ان کے مرہون احسان ہو رہے ہیں۔ کتنی حیرت کی بات ہے کہ مالک رام قادیانی ہونے پر مولانا ابوالحسن ندوی کو گواہ بنا رہے ہیں۔ کس قدر اچنبھے کی بات ہے کہ مالک رام قادیانی ہونے پر مولانا سید ابوالحسن ندوی کو خط بھی ایک مسلمان سے لکھوا رہے ہیں۔ کس قدر حیران کن بات ہے کہ قادیانی ہونے پر آخری وقت میں مالک رام قادیانی سربراہ مرزا طاہر کی بجائے مولانا سید ابوالحسن ندوی سے ملاقات کے لیے تڑپ رہے ہیں۔

قادیانیو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مولانا سید ابوالحسن ندوی کون ہیں؟

وہ عالم اسلام کے نامور سکالر اور مذہبی ہیرو ہیں۔ وہ پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور مولانا محمد علی مونگیریؒ کے تحفظ ختم نبوت کے مشن کے قافلہ سالار ہیں۔ وہ تحفظ ختم نبوت کے عظیم جرنیل مولانا عبد القادر رائے پوریؒ کے عظیم مرید ہیں۔ یہ وہی مولانا سید ابوالحسن ندوی ہیں، جنہوں نے اپنے مرشد کامل حضرت عبد القادر رائے پوریؒ کے حکم پر اپنی شہرہ آفاق اور معرکۃ الاراء کتاب ”قادیانیت“ لکھی ہے، جس نے قادیانیت کے قلعے میں دراڑیں ڈال دی ہیں، جس میں مولانا کے قلم

صفحہ 199

نے مرزا قادیانی کے کفر کو طشت از بام کیا ہے۔ قادیانی نبوت کے تار و پود کو بکھیرا ہے، ملت اسلامیہ کو قادیانی ریشہ دوانیوں سے آگاہ کیا ہے۔ اس حقائق افروز اور قادیانیت سوز کتاب کے انگریزی اور عربی میں تراجم ہو کر پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔ مولانا کی قادیانیت سے شدید نفرت سے کون آگاہ نہیں۔ لیکن تعجب ہے ایک پڑھے لکھے شخص مالک رام پر کہ وہ قادیانی ہونے کے لیے مولانا ابوالحسن ندوی کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

؎ شرم تم کو مگر نہیں آتی

قادیانیو! تم تو مرزے کو نبی بنا لیتے ہو۔ تم مرزے کی باتوں کو حدیث رسول بنا لیتے ہو، تم مرزے کی ہفوات کو وحی الہی بنا لیتے ہو۔ تم تو مرزے کی بیوی کو ام المومنین بنا لیتے ہو، تم تو مرزے کے ساتھیوں کو اصحاب رسول بنا لیتے ہو، تم مرزے کے خاندان کو اہل بیت بنا لیتے ہو ۔۔۔ تو بے چارے مالک رام کو قادیانی بنانا تمہارے لیے کون سا مشکل کام ہے؟

قادیانیو! ۱۹۷۴ء سے پہلے کی بات ہے۔ ٹی۔ آئی کالج ربوہ میں سالانہ جلسہ ہو رہا تھا۔ سابقہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر جو ٹی۔ آئی کالج ربوہ کا پرنسپل بھی تھا، جلسہ کی صدارت کر رہا تھا اور چیف جسٹس ہائی کورٹ جناب جسٹس کیانی مہمان خصوصی تھے۔ اپنی صدارتی تقریر میں مرزا ناصر نے جناب جسٹس کیانی کو مخاطب کر کے کہا:

”جناب! جب ہم ربوہ میں آئے تو یہ ایک سنگلاخ اور بنجر علاقہ تھا۔ یہاں گھاس تک نہ اگتی تھی۔ درختوں کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔ ہمارے محنتی اور جفاکش لوگوں نے پندرہ پندرہ فٹ گہرے گڑھے کھودے۔ پتھریلی مٹی باہر پھینکی اور ان گڑھوں میں نرم مٹی اور کھاد ڈالی اور وہاں پودے اگائے۔ اب یہاں پر آپ کو جو درخت نظر آ رہے ہیں، یہ وہی پودے ہیں، جنہیں ہمارے محنتی ہاتھوں نے سنگلاخ زمین کا سینہ پھاڑ کر نکالا ہے“۔

مرزا ناصر کے بعد جب جسٹس کیانی خطاب کے لیے سٹیج پر آئے تو انہوں نے مرزا ناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

صفحہ 200

”مرزا ناصر صاحب! آپ نے سنگلاخ زمین کا سینہ چیر کر درخت اگانے کا جو ذکر کیا ہے‘ یہ واقعی بڑی محنت اور جفاکشی کا کام ہے۔ میں آپ کی ہمت اور جفاکشی کو داد دیتا ہوں لیکن میں آپ کی جفاکشی کو کہاں کہاں پر داد دوں۔ آپ تو ختم نبوت کی فولادی زمین پھاڑ کر اس میں سے نبوت کا پودا بھی نکال لیتے ہیں“۔

PDF 201

□ امتناع قادیانیت آرڈیننس مجریہ 1984ء

□ قادیانیوں کے صد سالہ جشن منانے پر پابندی

کے خلاف قادیانیوں کی اپیل مسترد کرنے والے

سپریم کورٹ کے

قابلِ صد احترام جج صاحبان

کو

ملتِ اسلامیہ کا خراجِ عقیدت

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت - حضوری باغ روڈ -

ملتان

PDF 202

تحفظ ختم نبوت اور ردّ قادیانیت کے موضوع پر تاریخ ساز کتابیں

عقیدہ ختم نبوت اور مسئلہ ام القریٰ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ -/۱۸ روپے

مرزا قادیان اور تشریعی نبوت کا دعویٰ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ -/۱۳ روپے

مرزا قادیان کی ذہنی کیفیت پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ -/۱۸ روپے

عقیدہ ختم نبوت اور دعوائے قادیان کا متضاد موقف پروفیسر محمد طاہر القادری مدظلہ -/۲۰ روپے

تحفظ ختم نبوت محمد طاہر رزاق -/۱۰۰ روپے

قادیانیت شکن محمد طاہر رزاق -/۵۰ روپے

مرگِ مرزائیت محمد طاہر رزاق -/۶۵ روپے

عقیدہ ختم نبوت اور قادیانیت شناسی محمد طاہر رزاق -/۲۰ روپے

نقابت ختم نبوت -/۹۰ روپے

قادیانی افسانے محمد طاہر رزاق -/۵۰ روپے

فتنہ قادیانیت کو پہچانیے محمد طاہر رزاق -/۱۲۰ روپے

دجال قادیان محمد طاہر رزاق -/۸۰ روپے

مرزا قادیانی کی علمی حیثیت محمد طاہر رزاق -/۷۰ روپے

قادیان کا شیطان محمد طاہر رزاق -/۴۰ روپے

تحریک تحفظ ختم نبوت اور قائدِ انقلاب پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری الحاج نواز رضا قادری -/۸۰ روپے

ثبوت حاضر ھیں محمد مبین خالد قیمت -/۶۰ روپے

علماء کرام اور طلباء کے لیے خصوصی رعایت

پڑھیے اور تحفظ ختم نبوت کیلئے آگے بڑھیے!

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۔ حضوری باغ روڈ ۔ ملتان

صفحہ 203

عقیدہ ختم نبوت اسلام کی اساس ہے۔ یہی وہ بنیادی پتھر ہے جس پر دین اسلام کی عمارت کھڑی ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو جسد اسلام کی روح ہے۔ اس عقیدہ کی اہمیت و نزاکت کی وجہ ہے کہ مسلمان ہر عہد میں تحفظ ختم نبوت کے لیے بڑے حساس اور چوکس رہے ہیں۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب بھی کسی کمینہ خصلت نے تاج و تخت ختم نبوت پر ڈاکہ زنی کی ناپاک جسارت کی‘ غیور مسلمانوں کی تلواریں اللہ کا انتقام بن کر اس کی طرف لپکیں اور اسے جہنم واصل کر دیا۔ مسلمانوں کی تاریخ ختم نبوت کے محافظوں کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ وقت نے جب بھی انہیں پکارا‘ وہ لبیک لبیک کی صدائیں دیتے آئے اور اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ تاریخ کے اوراق پر شہدائے ختم نبوت کے خون کی چمک رشک خورشید و قمر ہے۔

جب ہندوستان پر انگریز مکمل طور پر قابض ہوچکا تھا اور مسلمان غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ظالم فرنگی نے مسلمانوں کے جسموں سے روح محمد اور جذبہ جہاد نکالنے کے لیے جھوٹی نبوت کی ایک بھیانک سازش تیار کی اور اس کام کے لیے قادیان کے رہنے والے ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو منتخب کیا اور اس بدطینت نے پروگرام کے مطابق دعویٰ نبوت کر دیا‘ جس کے ماننے والے آج بھی ہند و پاک کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں اور انہیں قادیانی یا مرزائی کے نام سے پکارا جاتا ہے‘ جبکہ وہ خود کو ”احمدی“ کہلواتے ہیں۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی نبی اور رسول ہے‘ اس کی بیویاں امہات المومنین ہیں‘ اس کے ساتھی صحابہ کرام ہیں‘ اس کی من گھڑت باتیں کلام اللہ ہیں‘ اس کی بے ہودہ گفتگو احادیث ہیں‘ اس کا خاندان اہل بیت ہے‘ اس کی بیٹی سیدۃ النساء ہے‘ اس کا شہر مدینۃ المسیح ہے‘ اس کے تین سو تیرہ ساتھی بدری صحابہ کرام کی طرح ہیں۔ وہ اپنے سوا پوری ملت اسلامیہ کو کافر قرار دیتے ہیں‘ جو مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار نہ کرے‘ اسے کافر‘ سور‘ کنجری کی اولاد اور حرام الولد قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں لیکن کلمہ میں ”محمد“ سے مراد ”مرزا قادیانی“ کو لیتے ہیں۔ اپنی عبادت گاہ کا نام مسجد رکھتے ہیں‘ اذانیں دیتے ہیں‘ غرضیکہ شعائر اسلامی کا کھلم کھلا استعمال کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے ان کے خلاف 1953ء اور 1974ء میں دو زبردست تحریکیں چلائیں اور 1974ء کی تحریک کے نتیجہ میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے انہیں غیر مسلم قرار دے دیا۔ لیکن ظالم قادیانی مسلمانوں کے سینوں پر مونگ دلتے ہوئے شعائر اسلامی کا استعمال کرتے رہے۔ مجروح مسلمانوں نے شعائر اسلامی کے تحفظ کے لیے 1984ء میں ایک طوفانی تحریک ختم نبوت چلائی جس

صفحہ 204

کے نتیجہ میں سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے 26 اپریل 1984ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا، لیکن ختم نبوت کے باغیوں نے اس آرڈیننس کو قبول نہ کیا اور قانون شکنی کرتے رہے۔

23 مارچ 1989ء میں قادیانیوں نے قادیانیت کا جشن صد سالہ منانے کا پروگرام بنایا، کیونکہ ایک صدی قبل یعنی 23 مارچ 1889ء میں مرزا قادیانی نے لدھیانہ (بھارت) میں اس فتنہ کی بنیاد رکھی تھی۔ جھوٹی نبوت کا جشن منانے کے لیے ربوہ میں خصوصی انتظامات کیے گئے۔

ڈیکوریشن پارٹیوں سے گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد، راولپنڈی اور جھنگ وغیرہ سے سامان کرایہ پر حاصل کرنے کے لیے معاہدے کیے، ہزاروں روپیہ ایڈوانس دیا اور اسٹام پیپرز پر تحریریں حاصل کیں۔

انہیں عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا تھا۔

کیا۔

مسلمانوں کو جب جھوٹے نبی کی جھوٹی نبوت کے جشن کا پتہ چلا تو وہ غیرت ایمانی سے بھر گئے اور قریب تھا کہ اسلامیان پاکستان ربوہ پر چڑھ دوڑتے اور اینٹ سے اینٹ بجا دیتے، لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوراً حالات کو کنٹرول میں لیا اور اعلیٰ حکام سے رابطہ قائم کیا۔ مسلمانوں کے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر جھنگ نے جشن پر پابندی عائد کردی۔ قادیانیوں کا جشن سوگ میں تبدیل ہوگیا۔ جھوٹی نبوت پر اوس پڑ گئی۔ اسلام فتح یاب ہوا اور کفر کو شکست فاش ہوئی۔ قادیانی اس شکست پر سر کچلے سانپ کی طرح بل کھا رہے تھے۔ وہ غصہ سے پھنکارتے ہوئے ہائیکورٹ جا پہنچے اور اس پابندی کو ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔ جناب جسٹس خلیل الرحمن خان دامت برکاتہم کی عدالت میں کیس لگا۔ عزت مآب جسٹس صاحب نے قادیانیوں سے کہا کہ

صفحہ 205

اب جشن کا وقت گزر گیا ہے، اب یہ رٹ بعد از وقت ہے، لیکن قادیانی بضد تھے کہ جناب آپ ٹھیک فرماتے ہیں کہ جشن کا وقت بیت گیا ہے، لیکن ہم یہ فیصلہ چاہتے ہیں کہ یہ پابندی جائز تھی یا ناجائز؟

چنانچہ کیس کی کارروائی شروع ہوئی۔ انصاف کے ایوان میں قادیانیوں کی وہ درگت بنی کہ چھٹی کا دودھ یاد آگیا۔ عزت مآب جسٹس خلیل الرحمٰن خان صاحب کے ایمانی قلم نے وہ تاریخی فیصلہ رقم کیا کہ جھوٹی نبوت کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی۔ کفر طشت از بام ہو گیا۔ قادیانی بلبلا اٹھے اور سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی اور اس کے ساتھ ہی امتناع قادیانیت آرڈیننس کو بھی چیلنج کر دیا۔ مزید برآں کوئٹہ ہائی کورٹ کے جناب جسٹس امیر الملک مینگل صاحب کے تاریخ ساز فیصلہ کو، جس میں انہوں نے قادیانیوں کی طرف سے شعائر اسلامی کی توہین پر قادیانیوں کو سزا سنائی تھی، کو بھی چیلنج کر دیا۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ان تمام کیسوں کی سماعت کی۔ فل بنچ مسٹر جسٹس عبد القدیر چوہدری، مسٹر جسٹس محمد افضل لون، مسٹر جسٹس سلیم اختر، مسٹر جسٹس ولی محمد اور جسٹس شفیع الرحمٰن پر مشتمل تھا۔ کیس کی بھرپور سماعت ہوئی۔ فریقین کے وکلاء نے تفصیل سے اپنا اپنا موقف پیش کیا۔ آخر سپریم کورٹ نے اپنا تاریخ ساز اور قادیانیت سوز فیصلہ سنا دیا، جس کا ہر ہر لفظ قادیانیت کی رگ جاں پر نشتر ہے جس کی ہر ہر سطر نبوت کاذبہ کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ہے اور جس کا ہر ہر صفحہ مرزائیت کے لیے پیغام اجل ہے۔ 59 صفحات پر محیط یہ فیصلہ عزت مآب جناب جسٹس عبد القدیر چوہدری نے تحریر فرمایا۔ جناب جسٹس ولی محمد اور جناب جسٹس محمد افضل لون نے جناب جسٹس عبد القدیر چوہدری کے فیصلہ سے اتفاق کیا۔ جناب جسٹس سلیم اختر نے بھی قادیانیوں کی اپیل مسترد کرتے ہوئے تین صفحات پر مشتمل اپنا الگ فیصلہ لکھا، جبکہ جسٹس شفیع الرحمٰن نے اس تاریخی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا الگ اختلافی نوٹ لکھا۔ قابل صد احترام جناب جسٹس عبد القدیر چوہدری مدظلہ کے تحریر کردہ فیصلہ کے چند موٹے موٹے نکات پیش خدمت ہیں:

مسلمانوں کو دھوکہ نہ دینا چاہتے ہوتے تو اپنی علیحدہ اصطلاحات بنا لیتے۔

صفحہ 206

نہیں اپنایا اور نہ ہی ان پر قبضہ جمایا ہے۔

مذہب کی تبلیغ کرنے سے روکنے کے لیے قانون سازی کرے۔

کیونکہ یہ مسلمانوں کے عقائد کا حصہ ہیں۔

مسلمانوں کو اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ وہ انہیں دھوکا دینا چاہتے ہیں۔

درست تھا۔

جناب جسٹس عبدالقدیر چوہدری نے اس سارے فیصلے کا نچوڑ کیا خوب لکھا:

"اس خطے کے مسلمانوں کے نزدیک سب سے قیمتی چیز ایمان ہے اور وہ کسی ایسی حکومت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جو ان کے ایمان کا تحفظ نہ کر سکے اور انہیں دھوکہ دہی سے نہ بچا سکے"۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے تقریباً چھ ماہ بعد فیصلہ صادر فرمایا۔ مسلمانان پاکستان کو سپریم کورٹ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ ہر روز امید کا ایک نیا چراغ جلا کر اس عظیم الشان فیصلے کا یوں انتظار کرتے جیسے کوئی ماں ممتا کی تڑپ میں گھر کی دہلیز پر بیٹھی اپنے گمشدہ بچے کا انتظار کر رہی ہو یا بارانی علاقے کا کوئی غریب دہقان اپنی کٹیا میں بیٹھا آسمان پر نظریں جمائے بادلوں کا منتظر ہو۔ آخر انتظار کی یہ گھڑیاں ختم ہو کر خوشی و مسرت کی گھڑیوں میں تبدیل ہو گئیں۔ سپریم کورٹ کے ایوانوں سے یہ پر عظمت فیصلہ باد بہاری کا ٹھنڈا جھونکا بن کر آیا جس سے ہر مسلمان کے دل کی کلی کھل اٹھی اور چہرے پر مسکراہٹوں کے پھول اپنی بہار دکھانے لگے۔

سپریم کورٹ کے قابل صد احترام جج صاحبان!

آپ نے عدل فاروقی کی یاد تازہ کر دی۔ آپ نے محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی داستان عشق و وفا کو پھر زندہ کر دیا۔ ہم آپ کی الفت اسلام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہم

صفحہ 207

آپ کے دینی جذبہ کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ ہم آپ کی اسلامی غیرت کو جھک جھک کر سلام عرض کرتے ہیں۔ ہم آپ کے عشق رسول پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ ہم وارفتگی کے عالم میں آپ کے اس قلم کے بوسے لیتے ہیں، جن سے یہ تاریخ ساز فیصلہ لکھا گیا۔ ہم محسوس کررہے ہیں کہ پاکستان کی ہواؤں اور فضاؤں میں یہ نعرے گونج رہے ہیں --- ہر مسلمان کے ہونٹوں پر یہ صدا ہے ---

پاسبان ناموس رسالت جناب جسٹس عبد القدیر چوہدری ------ زندہ باد محافظ ختم نبوت جناب جسٹس محمد افضل لون ------ زندہ باد عاشق رسول جناب جسٹس ولی محمد ------ زندہ باد پروانہ شمع ختم نبوت جناب جسٹس سلیم اختر ------ زندہ باد

لائق تحسین جج صاحبان !

آپ پوری ملت اسلامیہ کے محسن ہیں۔ پوری قوم آپ کو سیلوٹ کرتی ہے۔ تحفظ ختم نبوت کی تاریخ میں آپ کے نام ستاروں کی طرح جگمگاتے رہیں گے۔ آپ کی آئندہ آنے والی نسلیں اپنے زمانے کے لوگوں کے سامنے آپ کا تذکرہ کرکے فخر حاصل کریں گی۔ آپ نے یہ ایمان پرور فیصلہ لکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک قریبی تعلق پیدا کرلیا۔ اللہ کی رحمتوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم گنبد خضراء میں آپ سے کتنے خوش ہوں گے۔ مجاہد اعظم ختم نبوت سیدنا صدیق اکبر کتنے شاداں و فرحاں ہوں گے۔ جنگ یمامہ کے شہدائے ختم نبوت اور دیگر زمانوں کے شہدائے ختم نبوت کی ارواح کتنی پرمسرت ہوں گی۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی، حضرت پیر جماعت علی شاہ، حضرت سید انور شاہ کشمیری، حضرت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری، مولانا ثناء اللہ امرتسری کتنے خوش و خرم ہوں گے۔ آپ نے ارتداد کے جن کو پابہ زنجیر کردیا۔ نبوت کاذبہ کے دجل و فریب کو ہتھکڑی لگادی۔ شعائر اسلامی کے سامنے دیوار چین قائم کردی۔ ملک عزیز پاکستان کو ایک بہت بڑے خونی بحران سے بچالیا۔ قادیانی مذہبی بہروپیوں کی وردی اتروادی اور کفر و اسلام کے درمیان ایک حد فاصل قائم کردی۔ آپ نے یہ فیصلہ لکھ کر ثابت کردیا کہ۔

مال و زر جہاں کی تمنا نہیں مجھے
عشق رسول میری متاع حیات ہے
صفحہ 208
دہلیز مصطفےٰؐ سے کہاں اٹھ کے جاؤں گا
میرا تو آسرا ہی پیغمبر کی ذات ہے

واجب الاحترام جج صاحبان!

آپ اس فیصلے کی برکات اپنی ذات اور اپنے گھر بار پر محسوس کریں گے۔ یہ فیصلہ سحاب کرم بن کر آپ کے سروں پر سایہ فگن رہے گا اور مصائب و مشکلات کی راہ میں سد سکندری بنے گا (ان شاء اللہ )۔ ہم دل کو دامن بنا کر آپ کے لیے دعا گو ہیں۔

عروج ہو ایسا نصیب تم کو دنیا میں
آسماں خود تمہاری رفعتوں پہ ناز کرے

اس تاریخ ساز مقدمہ میں امت مسلمہ کی وکالت کی سعادت اٹارنی جنرل جناب عزیز اے منشی‘ جناب مقبول الہی ملک ایڈووکیٹ جنرل پنجاب‘ جناب اعجاز یوسف ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان‘ جناب راجہ حق نواز ایڈووکیٹ سپریم کورٹ‘ جناب ایم اے آئی قرنی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ‘ جناب ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ‘ جناب محمد اسمعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ‘ جناب ممتاز علی مرزا ڈپٹی اٹارنی جنرل‘ جناب سردار خان ایڈووکیٹ جنرل صوبہ سرحد‘ جناب عبدالغفور منگی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ‘ جناب ایم ایم سعید بیگ کو حاصل ہوئی‘ جنہوں نے نہایت جانفشانی سے یہ ذمہ داری پوری کی اور اس کیس کو ساحل مراد تک پہنچایا۔

واجب الاحترام وکلاء صاحبان!

آپ ہمارا ناز ہیں‘ آپ ہمارا مان ہیں‘ آپ وکیل مصطفےٰؐ ہیں‘ آپ وکیل دین مصطفےٰؐ ہیں۔ آپ کے دلائل کے الفاظ منجنیق کے پتھر تھے‘ آپ کے جملے شمشیر کی دھار تھے‘ آپ کا لہجہ طغیانی بپا کیے دریا کی روانی تھا‘ جس نے قادیانیت کے پرخچے اڑا دیے۔ قوم آپ کی مشکور و ممنون ہے اور احسان مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہی ہے۔۔۔

خدا کرے تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار