رَدِّ قادیانیت
رسائل
فاتح قادیان حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
احتسابِ قادیانیت
ہشتم
عَالَمِی مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّت
حضوری باغ روڈ، ملتان ۔ فون: 514122
رَدّ قادیانیت
رسائل
فاتح قادیان حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
احتساب قادیانیت
ہشتم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 514122
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
دیباچہ احتساب قادیانیت جلد ہشتم
الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ ، اما بعد ! احتساب قادیانیت کی اس جلد میں فاتح قادیان ، مناظر اسلام ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے رد قادیانیت پر مشتمل رسائل کے مجموعہ کو شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔ فالحمدللہ اولاً وآخراً !
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ (وفات ١٥ مارچ ١٩٤٨ء) فاضل اجل متبحر عالم دین تھے۔ حاضر جوابی میں اپنی مثال آپ تھے۔ زندگی بھر فتنہ قادیانیت کے خلاف آپ صف آراء رہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ قدرت نے آپ کو فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے ہی پیدا کیا تھا۔ آپ نے جہاں حضرت مولانا حافظ عبدالمنان وزیر آبادیؒ ، حضرت مولانا احمد حسن کانپوریؒ سے علم حدیث حاصل کیا۔ وہاں آپ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے بھی شاگرد رشید اور ان کے قابل رشک تلامذہ میں سے تھے۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ قادیان میں آپ نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کی زیر صدارت خطاب کیا اور ان سے دعائیں حاصل کیں۔ حضرت مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری نے اپنی تصنیف ”فتنہ قادیانیت اور مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ“ اور حضرت مولانا عبدالمجید خادم سوہدرویؒ نے ”سیرۃ ثنائی“ میں حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی رد قادیانیت پر رسائل کی تعداد چھتیس چھتیس بیان کی ہے۔
البتہ حضرت مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری نے تفسیر ثنائی ، تاریخ مرزا اور تفسیر بالرائے ، کو شامل کر کے چھتیس کی تعداد بیان کی ہے۔ جبکہ حضرت مولانا عبدالمجید خادم
سوہدرویؒ نے ان تینوں کی بجائے آفتۃ اللہ، رسائل اعجازیہ، تحفہ مرزائیہ کے اضافہ سے چھتیس کی تعداد بیان کی ہے۔ مگر ہماری رائے میں تفسیر ثنائی کو رد قادیانیت کی فہرست میں شامل کرنا ٹھیک نہیں۔ یہ حضرت مولانا مبارک پوری کا سہو ہے۔ جبکہ رسائل اعجازیہ یہ کتاب مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی نہیں۔ یہ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ کی ہے۔ اس کا اصل نام ”حقیقت رسائل اعجازیہ“ ہے جسے احتساب قادیانیت ج٧ ص٥٧٣ تا ٦٣٤ میں شائع کر چکے ہیں۔ اسے حضرت مولانا امرتسریؒ کے رسائل میں شامل کرنا حضرت مولانا عبد المجیدؒ کا سہو ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا عبد المجید سوہدرویؒ نے تحفہ احمدیہ اور تحفہ مرزائیہ علیحدہ علیحدہ شمار کی ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ بھی ان کا سہو ہے۔ آفتۃ اللہ کی نشان دہی حضرت مولانا مبارک پوری نے نہیں کی۔ اس لئے بجائے تفسیر ثنائی کے رسالہ آفتۃ اللہ کو حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے رسائل رد قادیانیت میں شمار کیا جائے۔ تو پھر حضرت مولانا مبارک پوری کی فہرست اور حضرت مولانا عبد المجیدؒ کی مرتب کردہ فہرست کی تعداد چھتیس چھتیس رہے گی۔ لیکن دونوں حضرات سے ایک یہ سہو ہوا کہ ”عشرہ کاملہ“ کا نام اخبار اہل حدیث امرتسر میں دیکھ کر اسے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی تصنیف قرار دے ڈالا۔ حالانکہ یہ حضرت مولانا محمد یعقوب پٹیالویؒ کی تصنیف ہے۔ اور پھر لطف یہ کہ دونوں سوانح نگار حضرات نے ”عشرہ کاملہ“ کا جو تعارف لکھا وہ صرف اور صرف حضرت مولانا محمد یعقوب پٹیالویؒ کی تصنیف کا تعارف ہے۔ اور یقینی امر ہے کہ عشرہ کاملہ حضرت مولانا پٹیالویؒ کی کتاب ہے نہ کہ حضرت مولانا امرتسریؒ کی۔ اس لحاظ سے فہرست پینتیس رہ جائے گی۔ مزید یہ کہ حضرت مولانا مبارک پوریؒ نے تفسیر بالرائے کو اس فہرست میں شامل کیا۔ حالانکہ یہ صرف رد قادیانیت پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں جہاں قادیانی تفسیر پر گرفت کی گئی ہے وہاں شیعہ، چکڑالوی وغیرہ تفاسیر پر بھی گرفت کی گئی ہے۔ ویسے بھی ”نکات مرزا“ اور ”بطشِ قدیر“ کے ہوتے ہوئے اس رسالہ کو رد قادیانیت کی فہرست میں شامل کئے بغیر گزارہ ہو جاتا ہے۔ اس لئے اس کو بھی اس فہرست سے خارج کر دیں تو حضرت مولانا مرحوم کے
رد قادیانیت پر رسائل کی تعداد چونتیس رہ جاتی ہے۔ اسی طرح دونوں سوانح نگار حضرات نے ”مراق مرزا“ کو حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا رسالہ شمار کیا ہے۔ حالانکہ یہ حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کا رسالہ ہے (اس کا دیباچہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے لکھا ہے۔ اس میں صراحت موجود ہے) ہم اسے ”احتساب قادیانیت جلد سوم میں ص ١١ تا ٢٩“ مجموعہ رسائل حضرت مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ میں شائع کر چکے ہیں۔ اب حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے رسائل کی تعداد تینتیس رہ جائے گی۔ البتہ ”قادیانی حلف کی حقیقت“ اس میں اکثر حصہ حضرت مولانا مرحوم کا تحریر کردہ ہے جسے اہل حدیث دارالاشاعت سکندر آباد دکن نے شائع کیا۔ لیکن دونوں سوانح نگار حضرات نے اسے اپنی فہرست میں نہیں لیا۔ اسے اس فہرست میں شامل کریں تو مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے رسائل کی تعداد چونتیس ہو جائے گی۔ ہمارے نزدیک یہ سو فیصد صحیح تعداد ہے۔ اس لئے ہم ان چونتیس رسائل کو ہی اس مجموعہ میں شامل کریں گے۔ ان رسائل کے نام یہ ہیں:
- ١....... الہامات مرزا ٢....... ہفوات مرزا
- ٣....... صحیفہ محبوبیہ ٤....... فاتح قادیان
- ٥....... فتح ربانی (در مباحثہ قادیانی) ٦....... عقائد مرزا
- ٧....... مرقع قادیانی ٨....... چیستان مرزا
- ٩....... زار قادیان ١٠....... فسخ نکاح مرزائیاں
- ١١....... نکاح مرزا ١٢....... تاریخ مرزا
- ١٣....... شاہ انگلستان اور مرزائے قادیان ١٤....... مباحثہ دکن
- ١٥....... شہادت مرزا ١٦....... نکات مرزا
- ١٧....... ہندوستان کے دو ریفارمر ١٨....... محمد قادیانی
- ١٩....... قادیانی حلف کی حقیقت ٢٠....... تعلیمات مرزا
- ٢١....... فیصلہ مرزا ٢٢....... تفسیر نویسی کا چیلنج اور فرار
- ٢٣...... علم کلام مرزا ٢٤...... عجائبات مرزا
- ٢٥...... تناقضات مرزا ٢٦...... بہاء اللہ اور مرزا
- ٢٧...... ثنائی پاکٹ بک (متعلقہ حصہ) ٢٨...... اباطیل مرزا
- ٢٩...... تحفہ احمدیہ ٣٠...... مکالمہ احمدیہ
- ٣١...... بطش قدیر بر قادیانی تفسیر ٣٢...... لیکھرام اور مرزا
- ٣٣...... محمود مصلح موعود ٣٤...... آیۃ اللہ
ثنائی پاکٹ بک کا ایک مختصر حصہ رد قادیانیت پر مشتمل ہے۔ وہی حصہ ہم اس جلد میں شامل کر رہے ہیں۔ باقی کو ترک کر دیا ہے۔
آج کل ”مباحثہ سرگودھا“ کے نام سے ایک رسالہ فیصل آباد کے اہل حدیث مکتبہ کا شائع کردہ گشت کر رہا ہے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے ساتھ قادیانیوں کا ایک مناظرہ سرگودھا میں ہوا۔ قادیانیوں نے اسے مباحثہ سرگودھا کے نام سے شائع کیا۔ اہل حدیث مکتبہ فیصل آباد نے اس قادیانی رسالہ کو حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے نام سے شائع کر دیا برا ہو جہالت کا۔ کہ یہ رسالہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا نہیں بلکہ قادیانیوں کا مرتب کردہ ہے۔ اس میں حضرت مولانا مرحوم کے مباحثہ کے پرچہ جات کو مختصر اور قادیانی مناظر کے پرچہ جات کو وسیع کر کے شائع کیا ہے۔ بس حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا نام دیکھ کر مکتبہ والوں نے مکھی پر مکھی مار دی اور اسے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے نام سے شائع کر دیا۔ قطعاً یہ مولانا مرحوم کا رسالہ نہیں اور علاوہ ازیں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے دونوں متذکرہ سوانح نگار حضرات نے مباحثہ سرگودھا کی رپورٹ تو لکھی ہے مگر حضرت مولانا مرحوم کے رسائل کی فہرست میں اسے شامل نہیں کیا۔ غرض ہماری تحقیق میں چونتیس رسائل حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے رد قادیانیت پر ہیں۔ جو اس مجموعہ میں شامل ہوں گے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کی روح پر فتوح پر رحمت حق کی موسلادھار بارش نازل ہو۔ ان رسائل کو شائع
کرنے پر ہم رب کریم کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں کہ ایک مناظر اسلام اور فاتح قادیان کے رد قادیانیت پر رشحات قلم کو پہلی بار یکجا شائع کرنے کی صرف اور صرف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ ان رسائل کے جمع کرنے کے لئے ہمیں طویل اور صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا ہے۔ ترکت الحساب لیوم الحساب! کے تحت اس کہانی کو ہم یہاں ترک کرتے ہیں۔
البتہ یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے رد قادیانیت پر مضامین جو ہفتہ وار اخبار اہل حدیث امرتسر اور ماہنامہ مرقع قادیان امرتسر میں شائع ہوتے رہے وہ بلاشبہ بڑے معرکۃ الاراء ہیں۔ ہفتہ وار اور ماہنامہ کی تمام فائلیں جمع کر کے صرف حضرت مولانا مرحوم کے مضامین کو یکجا شائع کر دیا جائے تو ان رسائل کی ضخامت سے کئی گنا زیادہ ضخامت کی اور جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔ افسوس کہ ہمارے پاس دونوں اخبارات کی مکمل فائلیں نہیں ہیں اور نہ ہی موجودہ اپنی مصروفیت کو سامنے رکھ کر اس کام کو کرنے کی ذمہ داری قبول کر سکتے ہیں۔ کاش ہمارے بھائی اہل حدیث حضرات کا کوئی ادارہ اس کام کو کام سمجھ کر کرنا شروع کر دے تو حوالہ جات وغیرہ کے لئے جو تعاون ممکن ہو گا اس کی ہماری طرف سے پیشکش قبول فرمائی جائے۔ اہل حدیث حضرات کی تمام شخصیات و ادارے اس طرف توجہ فرمائیں۔ برادران اسلام یہ کام کرنے کا ہے۔ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل کی ضخامت بہت زیادہ ہونے کے باعث احتساب جلد ہشتم (جو آپ کے ہاتھوں میں ہے) اور جلد نہم میں ہم شائع کر رہے ہیں اس جلد میں کتنے اور کون سے رسائل شامل ہیں اس کے لئے فہرست کی طرف مراجعت فرمائیں۔ بقیہ دوسری جلد (احتساب قادیانیت جلد نہم) میں شامل ہیں۔
خاکپائے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ فقیر اللہ وسایا! ١٢ ذی قعدہ ١٤٢٣ھ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فہرست
دیباچہ ٣ ١....... الہامات مرزا ٩ ٢....... ہفوات مرزا ١٤٧ ٣....... صحیفہ محبوبیہ ١٥٧ ٤....... فاتح قادیان ١٩٩ ٥....... آفۃ اللہ ٢٦٧ ٦....... فتح ربانی در مباحثہ قادیانی ٢٧٥ ٧....... عقائد مرزا ٣٦٣ ٨....... مرقع قادیانی ٣٧٣ ٩....... چیستان مرزا ٣٧٩ ١٠....... زار قادیان ٤٣٧ ١١....... فسخ نکاح مرزائیاں ٤٤٣ ١٢....... نکاح مرزا ٤٦٩ ١٣....... تاریخ مرزا ٤٩٣ ١٤....... شاہ انگلستان اور مرزائے قادیان ٥٤٣ ١٥....... لیکھرام اور مرزا ٥٥٥ ١٦....... ثنائی پاکٹ بک ٥٦٧
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
الہامات مرزا
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
دیباچہ
الہامات مرزا !
مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہب کے متعلق باقی مسائل (حیات و وفات مسیح وغیرہ) کو چھوڑ کر صرف الہامات یا الہامی معجزات کو میں نے کیوں اختیار کیا؟ ۔ اس کی وجہ قابل غور ہے۔
مرزا قادیانی بحیثیت علم یعنی قرآن و حدیث دانی کے زیادہ سے زیادہ ایک عالم ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں بلکہ بحیثیت علم بہت سے علماء ان سے زیادہ عالم ہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تعلیم نہ تو با قاعدہ تھی نہ کامل۔ اس بات کو مرزا قادیانی اور ان کے حواری بھی تسلیم کرتے ہیں۔ اسی لئے تو مرزا قادیانی کی تصانیف کو ان کا معجزہ قرار دیتے ہیں۔ اس حیثیت سے تو ان کو یہ رتبہ نہیں کہ علماء اسلام ان کی رائے کے ماتحت ہو جائیں۔ وہ اگر قرآن پیش کریں تو علماء بھی کر سکتے ہیں۔ وہ حدیث لائیں تو وہ بھی لا سکتے ہیں۔ وہ کسی آیت یا حدیث کی شرح کریں تو علماء اسلام بھی کر سکتے ہیں۔ غرض بحیثیت علم مرزا قادیانی علماء سے کسی طرح برتری کا حق نہیں رکھتے۔ ہاں ! مرزا قادیانی جس دوسری حیثیت کے مدعی ہیں یعنی اس علم کے جو عام علماء کو نصیب نہیں جس کا نام الہام اور وحی ہے جس کی بابت ان کا قول ہے :
” ان قدمی ھذہ علیٰ منارة ختم علیھا کل رفعة . “ میرا یہ قدم اس منارہ پر جہاں تمام روحانی بلندیاں ختم ہیں۔
(خطبہ الہامیہ ص ٣٥، خزائن ج ١٦ ص ٧٠)
یہی ایک واحد حیثیت ہے کہ اس کے ثبوت پر علماء اسلام ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو تیار بلکہ خم کرنے کو اپنا فخر سمجھ سکتے ہیں۔
اس کی زندہ مثال یہ کیا کم ہے کہ جناب مرزا قادیانی کی جماعت میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو بلحاظ علم و فضل کے مرزا قادیانی سے بڑھ کر ہیں جیسے حکیم نور الدین اور محمد احسن امروہی جن کے علم و فضل کے بیان سے مرزا قادیانی ہمیشہ رطب اللسان رہتے تھے مگر وہ سب کے سب مرزا قادیانی کے مقابلہ میں اپنی اراء کو ہیچ سمجھتے ہیں اور ہمیشہ مرزا قادیانی کی تابعداری کو فخر جانتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟۔ وہی کہ ان کی تحقیق میں مرزا قادیانی الہامی اور صاحب وحی ہیں۔ یہ لازمی ہے کہ صاحب وحی کے سامنے بے وحی گردن جھکائے کیونکہ صاحب وحی مبداء فیض (خدا) سے براہ راست علم حاصل کرتا ہے دوسرا نہیں۔ اسی لئے مرزا قادیانی خود بھی لکھتے ہیں :
”ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لئے ہماری پیشگوئی سے بڑھ کر کوئی محک امتحان نہیں ہو سکتا۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٨‘ خزائن ج ٥ ص ٢٨٨)
چونکہ قادیانی مذہب کی جانچ کا یہی ایک اصل الاصول ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم اسی طریق سے اس ادعا کی جانچ کریں جس سے مرزا قادیانی کے الہامی ہونے کی حقیقت کھل جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات اور الہامی معجزات تو کئی ایک ہیں۔ ہم کس کس کی جانچ کریں؟۔ اس کا جواب مختصر یہ ہے کہ ہمارا حق ہے کہ ہم جس الہام کو چاہیں اسی کی جانچ کریں۔ کوئی شخص ایسا کرنے سے شرعاً و قانوناً ہم کو نہیں روک سکتا۔ مرزا قادیانی کی اور ہماری مثال بالکل مدعی اور مدعا علیہ کی سی ہے۔ مدعی مدعا علیہ پر ڈگری حاصل کرنے کو ایک تمسک پیش کرتا ہے۔ مدعا علیہ کا حق ہے کہ اس تمسک میں سے جس سطر جس لفظ بلکہ جس حرف پر چاہے اعتراض کر کے سارے کو مشکوک ثابت کر دے۔ مدعی اس کو ایسا کرنے سے روک نہیں سکتا۔ ٹھیک اسی طرح ہم بھی مرزا قادیانی کے جس الہام پر چاہیں اعتراض کریں لیکن ہم ایسا کر کے رسالہ کو لمبا نہیں کریں گے بلکہ چند ان الہاموں کی تحقیق کریں گے جن کو مرزا قادیانی نے خود معیار صداقت مشتہر کیا ہوگا۔
میں نے قادیانی مذہب کے متعلق کیا کیا محنت اور تحقیق کی ہے۔ اس کا ذکر رسالہ ہٰذا کے پہلے طبعات (اوّل دوم سوم) کے دیباچوں میں کر چکا ہوں۔ مختصر ان سب کا یہ ہے کہ میں نے اس بارے میں اتنی محنت کی ہے کہ خود مرزا قادیانی کے کسی مرید نے بھی نہ کی ہوگی بلکہ میں نے بھی کسی اور مذہب (آریہ وغیرہ) کی جانچ پڑتال کے لئے اتنی محنت نہ کی ہوگی۔ اسی محنت کا نتیجہ یہ ”رسالہ الہامات مرزا“ ناظرین کے سامنے موجود ہے۔
رسالہ ہٰذا مرزا قادیانی کی زندگی میں تین دفعہ طبع ہو کر شائع ہوا تھا۔ ان کی زندگی میں نہ تو انہوں نے جواب دیا۔ نہ ان کے مریدوں کی طرف سے جواب نکلا۔ بعض دفعہ اخباروں میں آمادگی کا اعلان دیکھا گیا لیکن عمل کو مشکل جان کر سادہ لوحوں کے لئے شائد محض اعلان کو کافی جانا گیا مگر ان کے انتقال کے بعد بھی جب مسلمانوں کے تقاضے نے ان کے مریدوں کو تنگ کیا تو مجبورا انہوں نے اس قرضہ کو ادا کرنا ضروری جانا۔ چنانچہ ایک رسالہ موسومہ ”آئینہ حق نما“ اس کے جواب میں شائع کیا۔ جواب کیا ہے؟۔ فحش گالیوں اور بد زبانیوں کو الگ کر کے بجائے تردید کے بفضلہ تعالیٰ تائید ہے جس کے لکھنے والے منشی یعقوب علی ایڈیٹر الحکم قادیان اور شائع کرنے والے منشی قاسم علی ہیں مگر چونکہ اخبار الحکم مجریہ ٧ جون ١٩١١ء میں ایڈیٹر صاحب کی طرف سے اعلان ہوا تھا کہ اس رسالہ کا مسودہ حکیم نور الدین خلیفہ قادیان نے نظر ثانی کر کے اصلاح فرمائی ہے۔ نیز رسالہ کے عربی حوالجات خود مظہر ہیں کہ وہ مصنف کی محنت کا ثمرہ نہیں بلکہ ”کوئی محجوب ہے اس پردہ زنگاری میں“ اس لئے ہم اسی رسالہ ”الہامات مرزا“ کے اندر اس رسالہ (آئینہ) کے جواب میں کسی ایرے غیرے کو مخاطب نہ کریں گے بلکہ براہ راست حکیم صاحب کا نام لیں گے۔ کیونکہ عام قانون ”بنی الامیر المدینۃ“ کے علاوہ یہاں خاص وجہ بھی ہے جس کا ثبوت الحکم کے مرقومہ پرچہ سے ملتا ہے۔ مجھے اس رسالہ آئینہ کے دیکھنے سے قادیانی جماعت پر پہلے کی نسبت زیادہ بدگمانی ہو گئی۔ کیونکہ میں نے اس میں دیکھا کہ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی بابت میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ کہنے والے کا ضمیر خود اس کو ملامت کرتا ہے۔ الفاظ دل اور قلم سے
نہیں نکلتے مگر زور سے نکالے جاتے ہیں۔ یہی معنے ہیں۔
”جحدوابہا واستیقنتھا انفسھم ظلماً وعلوا۔“
چنانچہ موقع موقع اس کا اظہار کیا جائے گا۔
رسالہ مذکورہ (آئینہ حق نما) کیا ہے؟۔ اچھا خاصہ گالیوں اور بد زبانیوں کا ایک کافی مجموعہ ہے مگر ہم اس کے جواب میں کسی قسم کی بد زبانی سے کام نہ لیں گے نہ لینا چاہتے ہیں۔
کیوں ؟ :
ان میں دو وصف ہیں بد خو بھی ہیں خود کام بھی ہیں
ابوالوفا ثناء اللہ !
مولوی فاضل ملقب فاتح قادیان امرتسر
طبع ششم محرم ١٣٤٧ھ / جولائی ١٩٢٨ء
........................................................................
پیشین گوئی متعلقہ ڈپٹی آتھم
یہ پیشگوئی مرزا قادیانی نے ٥ جون ١٨٩٣ء کو امرتسر میں عیسائیوں کے مباحثہ کے خاتمہ پر اپنے حریف مقابل مسٹر آتھم کی نسبت کی تھی جس کے اصل الفاظ یہ ہیں : ”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور
اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشر طیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب پیشین گوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ٢٠٩‘ ٢١٠‘ خزائن ج ٦ ص ٢٩١‘ ٢٩٢)
اس پیش گوئی کے آثار ولوازمات خارجیہ مرزا قادیانی کی تقریر اور تشریح ہی میں بیان کئے جاتے ہیں۔ فرماتے ہیں :
”میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔ یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ایک سزا کے اٹھانے کو تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جاوے‘ روسیاہ کیا جاوے‘ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے‘ مجھ کو پھانسی دی جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(ایضاً ص ٢١٠‘ ٢١١‘ خزائن ج ٦ ص ٢٩٢‘ ٢٩٣)
یہ پیشگوئی اپنے مضمون میں بالکل صاف ہے کسی قسم کا پیچ پیچ اس مضمون میں نہیں مطلب بالکل صاف ہے کہ ڈپٹی آتھم جس نے آدمی (حضرت مسیح) کو خدا بنایا ہوا تھا۔ اگر مرزا قادیانی کی طرح الوہیت مسیح سے منکر اور توحید محض کا قائل اور اسلام میں داخل نہ ہوا تو عرصہ پندرہ ماہ میں مر کر ہاویہ میں گرایا جائے گا مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا بلکہ مسٹر آتھم کفر پر رہ کر میعاد مقررہ کے بعد بھی قریباً دو سال تک زندہ رہا۔ اس کے متعلق مرزا قادیانی نے کئی ایک عذرات کئے ہیں۔
پہلا عذر : ”فریق سے مراد صرف آتھم نہیں بلکہ وہ تمام جماعت ہے جو اس
بحث میں اس کی معاون تھی۔ گو یہ بھی مانتے ہیں کہ آتھم سب سے مقدم ہے۔“
(انوار الاسلام ص ٢ خزائن ج ٩ ص ٢)
اس توجیہہ سے یہ نتیجہ نکالنا منظور ہے کہ اس پیشگوئی کو وسعت دی جائے۔ چنانچہ اس وسعت پر تفریع کرتے ہیں کہ اسی عرصہ میں پادری رائٹ ناگہان مر گیا۔ جس کے مرنے سے ڈاکٹر کلارک کو جو اس کا دوست تھا سخت صدمہ پہنچا وغیرہ وغیرہ۔
(اشتہارات انعامی ضمیمہ انوار الاسلام ص ٦٥ خزائن ج ٩ ص ٥٩‘ ٦٠)
اس کا جواب صرف اتنا ہی کافی ہے کہ خود مرزا قادیانی ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں بعدالت مجسٹریٹ گورداسپور اقرار کرتے ہیں کہ : ”فریق سے مراد صرف آتھم تھا۔ ڈاکٹر کلارک وغیرہ کو اس پیشگوئی سے کوئی تعلق نہیں۔“
(دیکھو روئیداد مقدمہ مرزا و ڈاکٹر کلارک ١٢‘١٣‘٢٠ اگست ١٨٩٧ء)
نیز مرزا قادیانی خود رسالہ کرامات الصادقین کے سرورق کے اخیر صفحہ پر بعبارت عربی رقمطراز ہیں :
”ومنها وعدني ربي اذا جادلني رجل من المتنصرين الذی اسمه عبدالله آتھم.......... الی (ان قال) فاذا بشرنی ربی بعد دعوتی بموته الیٰ خمسة عشر اشهرا من يوم خاتمة البحث فاستيقظت وكنت من المطمئنين ،“ یعنی خدا نے آتھم کے مرنے کی مجھے بشارت دی۔
(کرامات الصادقین ص ١٥ خزائن ج ٧ ص ١٦٣)
اب یہ لفظ مرزا قادیانی کی اس رکیک تاویل کو باطل کرتا ہے جو وہ کہا کرتے ہیں کہ اصل پیشگوئی میں موت کا لفظ نہیں بلکہ موت میری تفسیر ہے جس کے غلط ہونے سے اصل پیشگوئی غلط نہیں ہو سکتی۔ اصل پیشگوئی صرف ہاویہ ہے جو (بقول مرزا قادیانی) آتھم کو دنیا ہی میں نصیب ہو گیا۔ (دیکھو انوار الاسلام ص ٥‘٧ ج ٩) هكذا وجد في الاصل والصحيح شهر لعله من الالهام ايضا درنقل چه عقل!
نیز لکھتے ہیں : ”آتھم کی موت کی جو پیشگوئی کی گئی تھی جس میں یہ شرط تھی کہ اگر آتھم پندرہ مہینے کی میعاد میں حق کی طرف رجوع کرلیں گے تو موت سے بچ جائیں گے۔“
(تریاق القلوب ص ١١١‘ خزائن ج ١٥ ص ١٣٨)
رسالہ میں لکھتے ہیں : ”پیشگوئی نے صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع کرے گا تو پندرہ مہینہ میں نہیں مرے گا۔“
(کشتی نوح ص ٥‘ خزائن ج ١٩ ص ٦)
علاوہ اس کے ہم نے مانا کہ فریق کا لفظ عام ہے مگر اس میں تو شک نہیں کہ آتھم سب سے مقدم ہے جس کا تقدم خود مرزا قادیانی کو بھی مسلم ہے۔ پس آتھم کی زندگی سے پیشگوئی کسی طرح صحیح نہیں ہو سکتی۔
اس بحث کے متعلق حکیم نور الدین نے جو کچھ لکھا ہے اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عیسائیوں میں خود فریق کے معنے عام سمجھے جاتے تھے۔ چنانچہ مقدمہ فوجداری میں عیسائیوں کے بیانات اس امر کے مظہر ہیں۔
(آئینہ حق نما ص ٦٥)
یہ ایک اصولی غلطی ہے۔ ایک معنے ملہم خود کرے دوسرے معنے کوئی ایسا شخص کرے جو عرف شرع میں مومن بھی نہ ہو۔ اس صورت میں کون سے معنے معتبر ہوں گے ؟۔ حکیم صاحب کو اپنا واقعہ یاد رکھنا چاہئے تھا جب ماہ ستمبر ١٩٠٧ء میں آپ نے مرزا قادیانی کی تحریر آریہ سماج لاہور میں پڑھی تھی جس میں چند الہام بے ترجمہ بھی تھے۔ حاضرین کے اصرار کرنے پر آپ نے ان الہاموں کا ترجمہ کیا تو کیسے کیسے عذر کر لئے تھے کہ یہ ترجمہ میرا ہے صاحب الہام پر حجت نہ ہو گا بلکہ اصل اور صحیح ترجمہ وہی ہو گا جو صاحب الہام کرے گا وغیرہ۔ یہ وہی اصول ہے جو مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں : ”ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنے نہیں سمجھ سکتا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٧‘ خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٨)
پس فریق کے ایک معنے مرزا قادیانی نے کئے ہیں۔ دوسرے عیسائیوں نے سمجھے ہیں تو حسب قاعدہ مسلمہ فریقین مرزا قادیانی کے فہمیدہ معنے صحیح ہوں گے۔ علاوہ اس کے فریق کے معنے میں اگر باقی سرکردگان مناظرہ بھی داخل ہوں تاہم آتھم سب سے مقدم بلکہ مقدم تر ہے۔ چنانچہ حکیم نور الدین نے بھی حوالہ انوار الاسلام ص ٦ ہمارے اس دعوے کی تصدیق کی ہے۔
(آئینہ حق نما ص ٦٦)
پس جب تک پیشگوئی کا اثر مقدم فرد پر نہ ہو گا باقی افراد کو کون دیکھے گا۔
دوسرا عذر : جو عام طور پر مرزا قادیانی کے مریدوں میں مقبول اور زبان زد
ہے۔ یہ ہے :
”آتھم کی موت اس لئے نہیں ہوئی کہ اس نے حق کی طرف رجوع کیا تھا اور حق کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنے بتلاتے ہیں کہ آتھم کے دل پر پیشگوئی نے اثر کیا۔ وہ اس پیشگوئی کی عظمت کی وجہ سے دل میں موت کے غم سے شہر بشہر مارا مارا پھرتا رہا۔“
(اشتہارات ہزاری‘ دو ہزاری‘ سہ ہزاری‘ چہار ہزاری‘ انوار الاسلام ص ٤‘ خزائن ج ٩ ص ٤)
اس مضمون کی تفصیل سے مرزا قادیانی نے مسلم غیر مسلم کے ایسے کان بھر دیئے ہوئے ہیں کہ ہمیں ان کے کلام کی توضیح یا تفسیر کرنے کی حاجت نہیں۔
اس کا جواب اول رجوع الی الحق کے معنے جیسے عام فہم اس کلام سے سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ہیں کہ اسلام میں داخل ہو جائے گا تو سزائے موت ہاویہ سے بچایا جائے گا۔ کیونکہ یہ امر بالکل بدیہی ہے کہ ہر ایک مذہب والا دوسرے کو ناحق پر جانتا ہے اور کسی غیر کا اپنے مذہب کی طرف آجانے کا نام رجوع الی الحق رکھتا ہے۔ خاص کر دوران مباحثہ میں تو یہ لفظ بالکل انہیں معنے میں مستعمل ہوتا ہے۔ اگر ہم مرزا غلام احمد قادیانی کی اسی پیشگوئی کے الفاظ پر غور کریں تو ان سے بھی یہی معنے مستنبط ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی آتھم کی نسبت لکھتے ہیں :
”جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔“ اور اپنی نسبت تحریر فرماتے ہیں: ”جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے۔“ (حوالہ مذکور)
اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ جس امر میں فریقین (مرزا قادیانی اور آتھم) کا مباحثہ تھا اس امر میں آتھم اگر مرزا قادیانی کا ہم خیال ہو جائے گا تو پندرہ ماہ کے اندر کی موت سے بچ جائے گا۔ ورنہ نہیں۔ ہمارے اس بیان کی تائید مرزا قادیانی کے ایک مقرب حواری کی تحریر سے بھی ہوتی ہے جو مرزا قادیانی کے ملاحظہ سے گزر کر چھپ چکی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ”مسٹر آتھم کی نسبت یہ پیشگوئی کی کہ اگر وہ جھوٹے خدا کو نہیں چھوڑے گا تو پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“
(عسل مصفیٰ حصہ دوم ص ٥٨٥)
ان معنے پر مرزا قادیانی خود بھی رسالہ انجام آتھم میں دستخط کر چکے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں: ”پیشگوئی میں یہ صاف شرط موجود تھی کہ اگر وہ (آتھم) عیسائیت پر مستقیم رہیں گے اور ترک استقامت کے آثار نہیں پائے جائیں گے اور ان کے افعال یا اقوال سے رجوع الی الحق ثابت نہیں ہو گا تو صرف اس حالت میں پیشگوئی کے اندر فوت ہوں گے۔“
(١۔ انجام آتھم ص ١٣ خزائن ج ١١ ص ١٣)
١۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں: ”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کسی تحریر سے نکال کر دکھائیے کہ حضرت اقدس نے یہ کہا ہو کہ وہ (آتھم) ترک عیسائیت کر کے ان کے ہم مذہب ہو جائے گا۔“ (حق نما ص ٧٧)
تعجب ہے کہ حکیم صاحب نے مرزا قادیانی کی یہ عبارت نہیں دیکھی۔ اس میں دو لفظ ہیں: (١) ...... عیسائیت پر ترک استقامت اور (٢)...... رجوع الی الحق۔ ان دونوں لفظوں کو ملانے سے صاف ثابت ہے کہ آتھم عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام قبول کرے گا تو موت سے بچے گا۔
پس جبکہ مفہوم اور منطوق پیشگوئی کا صریح یہی ہے کہ اگر آتھم نے رجوع بحق کیا یعنی مرزا قادیانی سے مذہب حق میں موافق ہو گیا اور عیسائیت کو چھوڑ بیٹھا تو موت کی سزا سے بچ رہے گا۔ پھر کون نہیں جانتا کہ وہ مرزا قادیانی کے موافق جیسا کچھ ہوا عیاں را چہ بیاں۔ ہاں مرزا قادیانی بھی بلا کے پر کالے ہیں۔ آتھم پر دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر تم نے رجوع نہیں کیا تو قسم کھاؤ۔ ایک ہزار، بلکہ دو ہزار، بلکہ تین ہزار، بلکہ چار ہزار انعام پاؤ۔ لیکن مضمون قسم کا ایسا بتاتے ہیں جو رجوع سے کوئی تعلق نہیں رکھتا بلکہ بالکل اس قصہ کے مشابہ ہے جو کسی مولوی صاحب نے کسی شہدے کو نصیحت کرتے ہوئے نماز کی بابت تاکید کی تھی تو شہدے نے کہا کہ آپ نے ایک دفعہ دوستوں کی دعوت کی تھی تو نمک زائد نہیں ڈالا تھا؟۔ نہیں تو قسم کھائیے۔ مولوی صاحب بیچارے حیران ہو کر پوچھنے لگے کہ اس کلام کو میرے کلام سے کیا تعلق ہے۔ شہدے نے کہا بات سے بات نکل آتی ہے۔ یہی کیفیت مرزا قادیانی کی ہے۔ کہاں رجوع الی الحق اور کہاں پیشگوئی سے موت کا ڈر۔ مضمون قسم کا صرف یہ چاہتے ہیں کہ : ”اسلامی صداقت سے (یعنی میری پیشگوئی سے) خائف نہیں ہوئے؟۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩١)
ایک جگہ کی عبارت ہم ساری کی ساری نقل کرتے ہیں جو بحکم ”جواب تلخ مے زیبد لب لعل شکر خارا“ نہایت ہی شیریں اور مزیدار ہے۔ فرماتے ہیں : ”بعض مولوی اور نام کے مسلمان اور ان کے چیلے کہتے ہیں کہ جبکہ ایک مرتبہ عیسائیوں کی فتح ہو چکی تو پھر بار بار آتھم صاحب کا مقابلہ پر آنا انصافاً واجب نہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے بے ایمانوا نیم عیسائیو! دجال کے ہمراہیوا اسلام کے ا۔دشمنو! کیا پیشگوئی کے دو پہلو نہیں تھے۔ پھر کیا آتھم صاحب نے دوسرا رجوع الی الحق کے احتمال کو اپنے اقوال اور افعال سے آپ قوی نہیں کیا۔ وہ نہیں ڈرتے رہے۔ کیا انہوں نے اپنی زبان سے ڈرنے کا
ا۔ دریائے فراواں نشود تیرہ بسنگ ......عارف کہ برنجد تنک آب است ہنوز
اقرار نہیں کیا۔“ (اشتہار انعامی تین ہزار حاشیہ ص ٥‘ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٧٩)
خلاصہ یہ کہ آتھم جو اپنے دل میں خوف زدہ ہوا کہ میں کہیں مر نہ جاؤں۔ چنانچہ اسی خوف میں وہ امرتسر سے فیروز پور کبھی لدھیانہ بھاگتا پھرا۔ یہی اس کا رجوع ہے لیکن دانا سمجھتے ہیں کہ خوف کو جو عموماً ہر آدمی کو ایسے موقع پر طبعاً پیدا ہوتا ہے۔ رجوع یعنی مسلمان ہونے یا بالفاظ دیگر مرزا قادیانی سے موافقت کر لینے سے کیا نسبت ہے۔ ہاں ہم مانتے ہیں کہ آتھم کو موت کا اندیشہ ہوا ہو گا اور یقیناً ہوا ہو گا اور اس خوف سے اس نے ہر ایک تدبیر سے کام لیا مگر نہ اس لئے کہ وہ آپ کی پیشگوئی کو خدا کی طرف سے شدنی سمجھتا تھا بلکہ اس لئے کہ موت کو امر طبعی جانتا تھا لیکن موت کے تصور پر اس کو یہ بھی خیال تھا کہ آپ اور آپ کے ہوا خواہ بغلیں بجائیں گے اس خیال سے وہ حتی الوسع امور عارضہ کی روک تھام کرتا تھا۔ اس دعویٰ کی شہادت پر ہمارا بیان تو آپ کاہے کو سنیں گے۔ آپ ہی کے مخلص مرید شیخ نور احمد مالک مطبع ریاض ہند امرتسر کی شہادت پیش کرتے ہیں۔
لا تکتموا الشهادة
”میں ایک دفعہ کچہری سے آرہا تھا کہ ڈپٹی آتھم اپنی بگیچی صاف کرا رہا تھا۔
- ١۔ مرزا قادیانی کو جب سے پنڈت لیکھرام کے مرنے پر دھمکی کے خطوط پہنچے تو
ایسا انتظام کیا کہ مجال کوئی اجنبی آدمی یک بیک حضور میں پہنچ سکے۔ سیر کو جاتے وقت جب تک جماعت کثیر ساتھ نہ ہو سیر مشکل ہے۔ یہ بھی رجوع ہے۔ حالانکہ الہام ہے کہ تو ٨٠ برس یا کچھ کم و بیش زندہ رہے گا اور یہ بھی الہام ہے کہ جدھر تیرا منہ ہے ادھر ہی خدا کا منہ ہے بلکہ گورنمنٹ کے حضور ایک درخواست بھی دی تھی کہ قادیان میں چند سپاہی میری حفاظت کے لئے مقرر کئے جائیں۔ ایسا ہی آتھم کو بھی خوف ہوا ہو گا جس کا انہوں اظہار بھی کر دیا ہے۔ (دیکھو نور افشاں ستمبر اکتوبر ١٨٩٤ء)
میں نے اس سے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟۔ اس نے کہا صفائی کرا رہا ہوں۔ مبادا کوئی سانپ مجھے ڈس جائے تو تم کہنے لگو کہ پیشگوئی سچی ہو گئی۔ العبد شیخ نور احمد مالک ریاض ہند پریس امرتسر۔“
اس بیان سے نیز آتھم کے مضامین مندرجہ اخبار نور افشاں ١٨٩٣ء سے اس کے خوف کا مضمون صاف سمجھ میں آتا ہے کہ وہ آپ کی پیشگوئی کو تو ایک معمولی بازاری گپ جانتا تھا۔ البتہ موت کے مجہول العلم ہونے کی وجہ سے ہراساں تھا کہ مبادا اس کی اتفاقی موت پر آپ اپنی پیشگوئی کی صداقت سمجھ لیں۔ بھلا مرزا قادیانی اگر وہ آپ کی پیشگوئی کو خدا کی طرف سے سمجھ کر ڈر جاتا تو اس کی روک تھام کیوں کرتا اور اگر محض ایسا خوف بھی آپ کے نزدیک رجوع الی الحق یعنی فریق مخالف سے موافقت کرنے کے مساوی ہے تو آپ پرلے درجہ کے آریہ ہیں جو آریوں کی معمولی دھمکی پر گورنمنٹ سے امداد اور حفاظت کی درخواست کرتے تھے کہ کہیں آریہ مجھ کو مار نہ ڈالیں۔ (دیکھو درخواست اسی گورنمنٹ)
حکیم صاحب آئینہ حق نما ص ٧٥ میں لکھتے ہیں کہ آتھم نے رجوع کیا۔ اس لئے موت سے بچ رہا۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :
”جبکہ پیشگوئی میں یہ شرط ہے کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے تو سزائے موت سے بچایا جائے گا اس کا بچ جانا اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے رجوع کیا۔“
کیا ہی عالمانہ دلیل ہے کہ مخالف کو معتقد کی جگہ فرض کر کے لکھی گئی ہے۔ جناب یہ اس شخص کے نزدیک صحیح ہو سکتی ہے جو مرزا قادیانی کا معتقد ہو۔ بات بات پر مرحبا! صل علیٰ کہنے کا عادی ہو لیکن جو شخص دیکھتا ہے کہ رجوع بھی محسوس نہیں ہوا اور آتھم موت سے بچ بھی رہا تو کیا وہ یہ نہ سمجھے گا کہ یہ پیشگوئی سرے سے غلط ہے۔ اسے کیا مطلب کہ وہ اس کی تاویلات گھڑے۔
حکیم صاحب ! اہل علم کی اصطلاح میں اس کا نام مصادرہ علی المطلوب ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ سزائے موت سے بچ جانا رجوع کی دلیل ہو سکتا ہے۔ لیکن اس صورت میں جب آپ
کسی قطعی دلیل سے یہ ثابت کر دیں کہ ان دو مفہوموں رجوع اور سزا موت میں انفصال حقیقی ہے کہ تیسرے کسی کا دخل نہیں۔ جب تک آپ یہ ثابت نہ کریں ہمارا حق ہے کہ ہم تیسری صورت کے قائل ہوں۔ یعنی نہ اس نے رجوع کیا نہ موت سے مرا۔ بلکہ الہام سرے سے غلط تھا اور یہی صحیح ہے۔
مرزا قادیانی! ہم آپ کی خاطر یہ بھی مانے لیتے ہیں اور فرض کئے لیتے ہیں کہ آتھم آپ کی پیشگوئی ہی سے ڈرا اور محض اسی لئے ڈرا کہ اس نے اس پیشگوئی کو خدائی الہام اور آپ کو سچا ملہم سمجھا۔ تاہم اس کا یہ سمجھنا رجوع الی الحق نہیں ہو سکتا اور اس قابل نہیں کہ عذاب میں تاخیر کا موجب ہو۔ افسوس آپ مجدد تو بنتے ہیں لیکن علم حدیث تواریخ اور سیر سے بالکل غیر مانوس ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ جس حدیث کو کسی کتاب سے نقل کرتے ہیں چونکہ علم میں پورا تبحر اور قادر الکلامی نہیں۔ علاوہ اس کے صاحب الغرض مجنون بھی صحیح ہے۔ اس لئے عموماً ترجمے غلط مضامین ١؎ اغلط ہوتے ہیں۔ سنئے ہم آپ کو صحیح بخاری سے ایک حدیث سناتے ہیں۔ مختصر مضمون اس حدیث کا یہ ہے :
”ان سعد بن معاذ انه كان صديقاً لا مية ابن خلف وكان امية اذا مر بالمدينة نزل على سعد وكان سعد اذا مربمكة نزل على امية فلما قدم رسول اللہﷺ المدينة انطلق سعد معتمرا فنزل على امية بمكة فقال لامية انظر لى ساعة خلوة لعلى ان اطوف بالبيت فخرج به قريبا من نصف النهار فلقيهما ابوجهل فقال يا ابا صفوان من هذا معك فقال هذا سعد فقال له ابوجهل الا اراك تطوف بمكة آمنا وقد اويتم الصباة و زعمتم انكم تنصرونهم وتعينونهم اماوالله الولا انك مع ابى صفوان
١؎ مثال کے طور پر امامکم منکم اور کسوف والی حدیثیں موجود۔ جن کی تفصیل طول چاہتی ہے۔
ما رجعت الى اهلك سالما فقال له سعد ورفع صوته عليه اما والله لئن منعتنى هذا لا منعتك ماهو اشد عليك منه طريقك على اهل المدينة فقال له امية لا ترفع صوتك ياسعد على ابى الحكم سيد اهل الوادى فقال سعد د عنا عنك يا امية فوالله لقد سمعت رسول الله ﷺ يقول انهم قاتلوك قال بمكة قال لا ادرى ففزع لذالك امية فزعاً شديد افلما رجع امية الى اهله فقال ياام صفوان الم ترى ماقال لى سعد قالت وما قال لك قال زعم ان محمداً ﷺ اخبرهم انهم قاتلى فقلت له بمكة قال لا ادرى فقال امية والله لا اخرج من مكة فلما كان يوم بدر استنفر ابوجهل الناس قال ادركوا عيركم فكره امية ان يخرج فاتاه ابوجهل فقال يا ابا صفوان انك متى يراك الناس قد تخلفت وانت سيد اهل الوادى تخلفوا معك فلم يزل به ابوجهل حتى قال اما اذا غلبتنى فوالله لاشترين اجود بعير بمكة ثم قال امية ياام صفوان جهزينى فقالت له ياابا صفوان وقد نسيت ماقال لك اخوك اليثربى قال لاوما اريد ان اجوزمعهم الا قريبا فلما خرج امية اخذ لاينزل منزلا الا عقل بعيره فلم يزل بذلك حق قتله الله ببدر. صحيح بخارى، كتاب المغازى ، باب ذكر النبى من يقتل ببدر ج٢ ص٥٦٣“
”سعد بن معاذؓ اپنے دوست امیہ بن خلف کے پاس مکہ میں اترا کرتے تھے جو مشرک تھا۔ ایک دفعہ سعد کو کعبہ شریف میں ابو جہل نے طواف کرتے دیکھا اور ڈانٹا کہ مسلمانوں کو اپنے شہر میں جگہ دے کر آرام سے طواف کر جاتے ہو۔ سعدؓ نے بھی برابر کا جواب دیا۔ امیہ نے سعدؓ سے کہا خاموش رہو۔ یہ اس شہر کا سردار ہے۔ سعدؓ نے امیہ سے کہا اللہ کی قسم میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے کہ کسی دن مسلمانوں کے ہاتھ سے تو نے قتل ہونا ہے۔ امیہ نے کہا مکہ میں ؟۔ سعدؓ نے کہا میں نہیں جانتا۔ پس امیہ یہ سنکر سخت گھبرایا۔
امیہ نے اللہ کی قسم کھائی کہ میں تو مکہ سے کبھی نہ نکلوں گا۔ جب بدر کی لڑائی کا موقع آیا تو ابو جہل نے لوگوں کو جمع کیا اور امیہ سے کہا کہ اگر تیرے جیسے رئیس کو لوگ پیچھے ہٹا ہوا دیکھیں گے تو تیرے ساتھ وہ بھی ہٹ رہیں گے۔ آخر ابو جہل کے جبر سے اس نے ہاں کی تو اس کی بیوی نے یاد دلایا کہ تیرا مدنی دوست سعدؓ جو کچھ تجھے کہہ گیا تھا تو اسے بھول گیا۔ امیہ نے کہا میں تھوڑی دور تک ان کو رخصت کرنے جاؤں گا۔ چنانچہ وہ جس منزل پر ٹھہرتا اپنے اونٹ کو قابو رکھتا کہ موقع پا کر جلد واپس جاسکے۔ آخر کار خدا نے اسے بدر کی لڑائی میں قتل کرلیا۔“
کہئے! امیہ بن خلف دل میں آتھم سے زیادہ ڈرا یا نہیں؟ اور پھر باوجود اس خوف اور دلی یقین کے اس کے حق میں کہا جائے گا کہ اس نے رجوع حق کیا۔ کیا امیہ سے انذاری اـ پیشگوئی مختلف ہوئی۔ سب سے اخیر ایمان سے (ان کنتم مؤمنین) کہئے کہ آپ نے اس حدیث کو کبھی دیکھا اور دیکھ کر اس پر غور بھی کیا اور اس وقت سے پہلے اس کا کوئی جواب بھی سوچا؟۔
- ١۔ ہم مانتے ہیں کہ انذاری عذاب نہ صرف ملتوی ہو جاتا ہے بلکہ مرفوع بھی
ہو جاتا ہے۔ لیکن ایسے التواء یا رفع کے لئے اس عذاب سے ڈر جانا اور خاص کر ایسا ڈرنا جیسا کہ آتھم ڈرا ہرگز کافی نہیں۔ مرزا قادیانی ہمیشہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کا حوالہ دیا کرتے تھے مگر افسوس کہ اس میں بھی تحریف سے نہیں رکتے۔ اس قصہ کا مضمون بالکل ہماری تائید اور مرزا قادیانی کی تردید کرتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے : ” فلولا كانت قرية آمنت فنفعها ايمانها الا قوم يونس لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحيوة الدنيا ومتعناهم الىٰ حين ، یونس ٩٨“ اس آیت میں صاف اور صریح مذکور ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹل گیا لیکن کب ٹلا؟ جب وہ ایمان لے آئے۔ پس آتھم بھی ایمان لے آیا ہو تا تو آپ کی وہ عزت جو ستمبر ١٨٩٤ء کو ہوئی تھی کیوں ہوتی؟۔
حکیم صاحب نے اس حدیث کے اس ترجمہ کی نسبت اپنے ترجمہ کو ترجیح دی ہے جس کی کوئی وجہ ظاہر نہیں کی جس سے ہمیں بھی کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بعد آپ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں :
”اس ساری حدیث میں رجوع الی الحق کی شرط کہاں ہے ؟۔“
(آئینہ حق نما ص ٨٦)
ہم حیران ہیں حکیم صاحب کے حافظہ کی بابت کہاں تک شکایت کریں۔ اسی اپنی کتاب کے صفحہ ٣١ پر عام قاعدہ لکھتے ہیں جس کا مطلب صاف ہے کہ انذاری پیشگوئیوں میں گو رجوع الی الحق کی شرط مذکور نہ ہو تاہم ملحوظ ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی بھی اس قاعدے کو کئی ایک جگہ لکھ چکے اور منہاج نبوۃ قرار دے چکے ہیں۔ حکیم صاحب نے تو اس مضمون پر کئی صفحات صفحہ ٣١ سے صفحہ ٤٦ تک سیاہ کئے ہیں مگر جو نہی صفحہ ٨٦ پر پہنچے تو یہ اصول سرے سے بھول گئے۔ یہی معنے ہیں :
”لکیلا یعلم بعد علم شیئاً ، النحل ٧٠“(بڑھے کو علم میں ذہول ہو جاتا ہے)
مرزا قادیانی فرماتے ہیں اگر آتھم ڈرا نہیں تو قسم کھائے چار ہزار روپیہ ہم سے انعام پائے۔ آتھم نے عذر کیا کہ : ”انجیل متی باب ٥ میں قسم کھانے سے منع آیا ہے۔“ اس پر مرزا قادیانی نے کئی ایک ایسے حوالے اس کو سنائے کہ عیسائیوں کے پیشواؤں نے عدالت میں قسمیں کھائیں۔ آتھم نے جواب دیا کہ : ”اگر مجھے بھی حلف کرانا چاہو تو عدالت میں طلب کرو۔ عدالت کے جبر سے میں بھی قسم کھالوں گا۔“
(نور افشاں ١٠ اکتوبر ١٨٩٢ء)
ایسے معقول جواب سے مرزا قادیانی جیسے معقول پسندوں کو کیا تسلی ہو سکتی تھی۔ آپ لکھتے ہیں : ”گویا ان کا ایمان عدالت کے جبر پر موقوف ہے۔“
(اشتہار چار ہزاری حاشیہ ص ١‘ مجموعہ اشتہارات ج ٢ حاشیہ ص ٩١)
اس سے بڑھ کر معقول جواب ڈاکٹر کلارک امر تسری نے دیا : ”ہم کہتے ہیں مرزا قادیانی مسلمان نہیں۔ اگر مسلمان ہیں تو مجمع عام میں سور کا گوشت کھائیں۔ اگر کہیں کہ سور کا گوشت مسلمانوں کو حرام ہے اس سے اسلام کا ثبوت
کیسے؟۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح بالاختیار حلف اٹھانا عیسائیوں کو منع ہے۔ پس جب آتھم پکا عیسائی ہے تو وہ اپنی عیسائیت کا ثبوت قسم سے نہیں دے سکتا جس طرح آپ اپنے اسلام کا ثبوت سور کھانے سے نہیں دے سکتے۔“
(دیکھو اشتہار پادری ہنری کلارک مطبوعہ نیشنل پریس امرتسر)
مگر میں پوچھتا ہوں مرزا قادیانی کو آتھم پر قسم دینے کا حق ہی کیا تھا۔ کوئی آیت یا حدیث اس بارے میں ہے کہ کوئی کافر اگر اپنے نفس پر التزام کفر کرے اور اسلام سے انکاری ہو تو اس کو قسم دینی چاہئے جیسے قرضدار عدالت میں انکار کرے اور مدعی کے پاس ثبوت دعویٰ نہ ہو تو مدعا علیہ کو قسم دی جاتی ہے کہ میں نے اس کا کچھ نہیں دینا۔ اسی طرح کوئی حدیث اس مضمون کی ملی ہو تو اطلاع بخشیں۔ جب یہ اسلام بلکہ کسی مذہب کا مسئلہ نہیں ہے کہ منکر مذہب کو انکار مذہب پر قسم دینی چاہئے۔ تو آتھم کو قسم دینے کا آپ کو حق پہنچتا ہے۔ کاش! آپ (الیمین علی من انکر) پر قیاس کر کے آتھم سے حلف دلاتے تو بھی ایک بات ہوتی۔ گو یہ قیاس بھی قیاس فاسد ہی ہوتا جس کے جواب میں آپ مخلص اور بات بنانے والے کہہ سکتے کہ المجتہد قد یصیب وقد یخطی مگر یہاں تو غضب یہ ہے کہ اس مجدد کی تجدید نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ حدیث سے کوئی مطلب ہی نہیں خود ہی احکام ایجاد کر سکتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
”آتھم کا بیان بحیثیت شاہد مطلوب ہے نہ بحیثیت مدعا علیہ۔“
(اشتہار انعامی تین ہزار ص ٢، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٦٦)
پس اگر مرزا قادیانی کا کوئی مرید اس حدیث سے استدلال کر کے آتھم کو حلف دلانا تجویز کرے تو وہ مجاز نہ ہو گا کیونکہ اس حدیث کی رو سے مدعا علیہ پر وہ بھی دیوانی (لین دین) کے معاملہ میں قسم ہے اور آتھم پر تو مرزا قادیانی بحیثیت گواہ قسم دینا چاہتے ہیں۔ گو یہ منطق بھی ہماری سمجھ سے بالا ہے کہ آتھم گواہ ہے یا کیا؟۔
مرزا قادیانی اپنے دعویٰ پر کہ آتھم نے رجوع حق کیا تھا یہ دلیل دیتے ہیں :
”جب سے اس نے پیشگوئی سنی تھی عیسائیت کی حمایت پر ایک سطر بھی نہیں
لکھی۔ پس یہ اس کے رجوع کی علامت ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٢٧ خزائن ج ١٥ ص ٣٥٨)
حالانکہ بالکل غلط۔ سراسر جھوٹ۔ مباحثہ کے بعد وہ حسب طاقت برابر مخالف تحریریں شائع کرتا رہا تھا مگر آپ کے ملہم کو خبر نہیں ہوئی یا اس نے دانستہ آپ کو نہیں بتایا۔ اسلام ہی کے مخالف نہیں رہا بلکہ ان تحریروں میں وہ ذات شریف (مرزا قادیانی) پر بھی صلواتیں سناتا رہا۔
خلاصہ مباحثہ میں جو مباحثہ کے بعد اس کی تصنیف ہے لکھتا ہے :
”مرزا قادیانی کے ایک شاگرد مولوی نظام الدین ملتانی نے جو بہدایت اپنے استاد کے بعد اس مباحثہ کے آئے تھے اثنائے گفتگو تثلیث میں کہا کہ میں پورا دہریہ ہوں۔ اس پر راقم نے پوچھا کہ تب تو اشیاء محدود الوجود کو حد کس نے لگا دی۔ جس کا جواب حضرت نے حیرانی اور طرح دہی کے سوا اور کچھ نہ دیا اور یہ بھی فرمایا کہ منزل کاملاں کشف باطنی ہی ہے۔ پس ایسے مجذوب منشوں کو ہم مسئلہ تثلیث و توحید کیا سمجھا سکتے تھے۔ بجز دعا خیر کے فقط۔“
(خلاصہ مباحثہ ص ٤)
نیز لکھتا ہے :
”توحید محض کے عاشقاں سے پہلا سوال تو یہی ہے کہ وہ کوئی ایسی شے دکھلادیں۔ اگر دکھلا سکتے ہوں جو مجموعہ متعدد صفات کے سوا کچھ اور بھی ہو۔“
(خلاصہ مباحثہ ص ٣)
ان دونوں حوالوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آتھم مباحثہ کے بعد برابر اسلام کے خلاف لکھتا اور کہتا رہا اور خاص مسئلہ توحید میں (جس میں مرزا قادیانی اور آتھم کا پندرہ روز مباحثہ رہا تھا) تمام مسلمانوں سے مخالف تثلیث پر خوب جما ہوا تھا۔ جو صحیح اسلام کی نقیض ہے۔ پھر اسی رسالہ کے صفحہ ٨ پر اپنے اعتراضات کو اس نے آپ کے مقابل اسلام پر کئے تھے نقل کر کے آپ کے جوابات کو فضول بتاتے ہوئے لکھتا ہے :
”ان امور کا خاص جواب منجانب مرزا قادیانی کے وہی نبوت آنحضرت (مرزا قادیانی) کی تھی کہ آج سے جو ٥ جون ١٨٩٣ء کی ہے۔ پندرہ مہینے کے اندر جو فریق ناراست
ہی رہے گا۔ داخل جہنم ہو جائے گا۔“
آئینہ کمالات اسلام مصنفہ آنجناب میں گویا خدا یوں کہتا ہے : ”اے غلام احمد تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں۔ بقول آنجناب یعنی تو میرے دست قدرت سے نکلا ہے اور میں تیرے کمال سے جلال پاتا ہوں۔ ہم کو تو اس آئینہ میں چہرہ کسی دہریہ یا ہمہ اوست کا جو برادر توام دہریہ کا ہے نظر آتا ہے اور معجزات ایسے شخص (مرزا قادیانی) کے ممتحن ایمان ہی ہیں نہ موجب اطمینان جو تصدیق کذب کی کرے۔“
(خلاصہ مباحثہ ص ٨)
اس اخیر کے فقرے میں آتھم نے کھلے لفظوں میں مرزا قادیانی کو دجال اور جھوٹا بھی کہا ہے کیونکہ اس نے انجیل کے اس مقام کی طرف اشارہ کیا ہے جہاں پر حضرت مسیح نے فرمایا ہے کہ : ”بہت سے جھوٹے نبی آئیں گے خبردار رہنا خدا ان کی وجہ سے تمہارا امتحان کرے گا۔“
(دیکھو انجیل متی باب ٢٤ کی آیت ٢٤)
کہئے مرزا قادیانی آپ کو دجال یا کذاب کہنا بھی آپ کے اسلام کے مخالف ہے یا موافق ؟۔ پھر تعجب ہے کہ آتھم اس تمام مباحثہ کو فضول سمجھتا ہے اور آپ کو کھلے لفظوں میں دجال لکھتا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس نے خاموش رہ کر رجوع کا ثبوت دیا۔ کیا توحید کے خلاف تثلیث کا قائل ہو اور ذات شریف کو دجال کہے تو بھی وہ رجوع حق ہے؟ اور کہا جا سکتا ہے کہ وہ آپ کے متنازعہ مسئلہ میں اپنا خیال چھوڑ کر آپ کا ہم خیال ہو گیا ؟۔ علاوہ اس کے یہ کیا دلیل ہے کہ چونکہ اس نے عیسائیت کی حمایت میں کچھ نہ لکھا اس لئے وہ عیسائی نہ تھا۔ کیا کسی مذہب کی حمایت میں تصنیف نہ کرنا اس مذہب کے ترک یا روگردانی کی دلیل ہے ؟۔ کیا آپ کی جماعت کے لکھے پڑھے تمام ہی آپ کی تائید میں لکھتے ہیں تو کیا نہ لکھنے والے آپ کو چھوڑ بیٹھے ہیں؟۔ (خدا کرے)
(افسوس ہے حکیم صاحب نے اس جواب کو دیکھا بھی نہ ہوگا۔ اس لئے اس کے
پاس سے چپکے سے گزر گئے ۔)
اس پیشگوئی نے مرزا قادیانی کو ایسا حیران کر رکھا ہے کہ انھیں مطلق خبر نہیں کہ میں کیا لکھ رہا ہوں جو کچھ منہ میں آیا کہہ دیا یا معتقدین : " آمنا وصدقنا فاكتبنا مع الصادقین " کہنے کو تیار ہیں۔ آپ "کشتی نوح " کو بے بانس چلاتے ہوئے لکھتے ہیں : " اس (آتھم) نے عین جلسہ مباحثہ میں ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا ............. اور پیشگوئی کی بنا یہی تھی کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا تھا۔
(کشتی نوح ص ٦‘ خزائن ج ١٩ ص ٦)
ناظرین ! کیسی ہوشیاری ہے کہ آتھم کی پیشگوئی کی بنا یہ بتلائی ہے کہ اس نے آنحضرت ﷺ کو دجال کہا تھا۔ حالانکہ پیشگوئی کے الفاظ میں ان معنے کی طرف اشارہ بھی نہیں۔ ناظرین! شروع رسالہ میں پیشگوئی کے الفاظ بغور پڑھیں۔ دیکھئے کس تشریح کے ساتھ لکھا ہے کہ جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ کجا عاجز انسان کو خدا بنانا اور کجا آنحضرت ﷺ کو دجال کہنا۔ یہ ہے مرزا قادیانی کی حرکت مذبوحی جس سے ان کی بے بسی نمایاں ہے۔
سچ ہے : "لوكان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً ، نساء ٨٢"
(یعنی جو کلام خدا کی طرف سے القا اور وحی نہ ہو اس میں بہت بڑا اختلاف ہوتا ہے اور یہی اختلاف اس کے کذب کی دلیل ہے۔)
حیرت انگیز چالاکی !
مرزا قادیانی اپنی پیشگوئی کی توضیح یوں کرتے ہیں کہ اگر آتھم رجوع بحق نہ کرے گا تو ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ یعنی اس کا رجوع بحق کرنا ہاویہ میں گرائے جانے کو مانع ہے۔ گویا ان دونوں باتوں میں تضاد کا علاقہ ہے جیسے رات اور دن میں یا سیاہ اور سفید میں کہ ایک کے ہوتے
دوسرے کا ہونا ممکن نہیں بلکہ نہ ہونا ضرور ہے۔ یعنی ہاویہ اسی صورت میں ہو گا کہ رجوع نہ ہو۔ رجوع ہو تو ہاویہ نہ ہو گا۔ پس ناظرین اس تقریر کو ذہن نشین کر کے مرزا قادیانی کی عبارات مندرجہ ذیل کو غور سے پڑھیں کہ مرزا قادیانی کس ہوشیاری سے بحت چراغ داشتہ دونوں ضدوں (رجوع اور ہاویہ) کو ایک جگہ جمع کرتے ہیں۔ پس سنو !
”آتھم نے اپنے اس خوف زدہ ہونے کی حالت سے جس کا اس کو خود اقرار بھی ہے جو نور افشاں میں شائع ہو چکا ہے بڑی صفائی سے یہ ثبوت دے دیا ہے کہ وہ ضرور ان ایام میں پیشگوئی کی عظمت سے ڈرتا رہا۔ یعنی اس نے اپنی مضطربانہ حرکات اور افعال سے ثابت کر دیا کہ ایک سخت غم نے اس کو گھیر لیا ہے اور ایک جانکاہ اندیشہ ہر وقت اور ہر دم اس کے دامن گیر ہے۔ جس کے ڈرانے والی تمثیلات نے آخر اس کو امرتسر سے نکال دیا۔ واضح ہو کہ یہ انسان کی ایک فطرتی خاصیت ہے کہ جب کوئی سخت خوف اور گھبراہٹ اس کے دل پر غلبہ کر جائے اور غایت درجہ کی بے قراری اور بے تابی تک نوبت پہنچ جائے تو اس کے نظارے طرح طرح کی تمثیلات میں اس پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور آخر ڈرانے والے نظارے مضطربانہ حرکت کی طرف مجبور کرتے ہیں۔ اسی کی طرف توریت استثناء میں بھی اشارہ ہے کہ قوم اسرائیلی کو کہا گیا کہ جب نافرمانی کرے گا اور خدا تعالیٰ کے قوانین اور حدود کو چھوڑے گا تو تیری زندگی تیری نظر میں بے ٹھکانہ ہو جائے گی اور خدا تجھ کو ایک دھڑکا اور جی کی غمناکی دے گا اور تیرے پاؤں کے تلوے کو قرار نہ ہو گا اور جا بجا بھٹکتا پھرے گا۔ چنانچہ بارہا ڈرانے والے تمثیلات بنی اسرائیل کی نظر کے سامنے پیدا ہوئے اور خوابوں میں دکھائی دیئے جن کے ڈر سے وہ اپنے جینے سے ناامید ہو گئے اور مجنونانہ طور پر وہ شہر بشہر بھاگتے پھرے۔ غرض یہ ہمیشہ سے سنت اللہ ہے کہ شدت خوف کے وقت کچھ کچھ ڈرانے والی چیزیں نظر آجایا کرتی ہیں اور جیسے جیسے بے آرامی اور خوف بڑھتا ہے وہ تمثیلات شدت اور خوف کے ساتھ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ اب یقیناً سمجھو کہ آتھم کو انذاری پیشگوئی سننے کے بعد یہی حالت پیش آئی۔“
(ضیاء الحق ص ١٢‘١٣‘ خزائن ج ٩ ص ٢٦٠‘٢٦١)
”یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح یونس کی قوم کو ملائکہ عذاب کے تمثیلات میں دکھائی دیتے تھے اسی طرح ان کو بھی سانپ وغیرہ تمثیلات دکھائی دیئے مگر ساتھ ہی ضروری طور پر اس بات کو ماننا پڑتا ہے کہ جس شخص کا خوف ایک مذہبی پیشگوئی سے اس حد تک کو پہنچ جائے کہ اس کو سانپ وغیرہ ہولناک چیزیں نظر آئیں یہاں تک کہ وہ ہراساں اور ترساں اور پریشان اور بے تاب اور دیوانہ سا ہو کر شہر بشہر بھاگتا پھرے اور سراسیموں اور خوف زدوں کی طرح جابجا بھٹکتا پھرے۔ ایسا شخص بلاشبہ یقینی یا ظنی طور پر اس مذہب کا مصدق ہو گیا جس کی تائید میں وہ پیشگوئی کی گئی تھی اور یہی معنے رجوع الی الحق کے ہیں اور یہی وہ حالت ہے جس کو بالضرور رجوع کے مراتب میں سے کسی مرتبہ پر محمول کرنا چاہئے اور میں جانتا ہوں کہ آتھم صاحب کا اس پیشگوئی سے جو دین اسلام کی سچائی کے لئے کی گئی تھی جس کے ساتھ رجوع بحق کی شرط بھی تھی۔ اس قدر ڈرنا کہ سانپ نظر آنا اور تیروں تلواروں والے دکھائی دینا یہ ایسے واقعات ہیں جو ہر ایک دانشمند جو ان کو نظر یکجائی سے دیکھے گا۔ وہ بلا تامل اس نتیجہ پر پہنچ جائے گا کہ بلاشبہ یہ سب باتیں پیشگوئی کے پرزور نظارے ہیں اور جب تک کسی کے دل پر ایسا خوف مستولی نہ ہو جو کمال درجہ تک پہنچ جائے تب تک ایسے نظاروں کی ہرگز نوبت نہیں آتی جو شخص مکذب اسلام ہو اور حضرت عیسیٰ کے دور تک ہی الہام پر مہر لگا چکا ہو کیا وہ اسلامی پیشگوئی سے اس قدر ڈر سکتا ہے۔ بجز اس صورت کے کہ اپنے مذہب کی نسبت شک میں پڑ گیا ہو اور عظمت اسلامی کی طرف جھک گیا ہو۔“
(ضیاء الحق ص ١٦‘ ١٧ خزائن ج ٩ ص ٢٦٤‘ ٢٦٥)
عبارت مذکورہ بالا صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہے کہ آتھم نے رجوع کیا جیسا کہ عام طور پر مشہور ہے اور (بقول مرزا قادیانی) اس کے رجوع بحق ہونے کے معنے یہ ہیں کہ اس کے دل پر جو خوف غالب ہوا جس کی وجہ سے وہ بھاگا پھرا پس اس کا نتیجہ صاف اور صریح یہ ہونا چاہئے تھا کہ آتھم ہاویہ سے بچا رہتا مگر وہ بے چارہ باوجود ایسے رجوع کے ہاویہ سے بھی محفوظ نہ رہا۔ گویا اجتماع ضدین کا استحالہ اس کے حق میں واقع ہو گیا۔ اس دعویٰ دعویٰ کی دلیل
کہ آتھم کو مرزا قادیانی نے باوجود رجوع بحق کرنے کے بھی (اپنے مصنوعی) ہاویہ میں گرانا چاہا بلکہ گرا ہی دیا۔ مرزا قادیانی کی عبارت مندرجہ ذیل ہے۔ غور سے سنو!
”اور توجہ سے یاد رکھنا چاہئے کہ ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ ان کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا۔ یہی اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں بے شک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا جس کو عبداللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔“
(انوار الاسلام ص ٥ خزائن ج ٩ ص ٢٧)
اور لکھتے ہیں:
”پس اے حق کے طالبو! یقیناً سمجھو کہ ہاویہ میں گرنے کی پیشگوئی پوری نکلی اور اسلام کی فتح ہوئی اور عیسائیوں کو ذلت پہنچی۔ ہاں اگر مسٹر عبداللہ آتھم اپنے پر جزع فزع کا اثر نہ ہونے دیتا اور اپنے افعال سے اپنی استقامت دکھاتا اور اپنے مرکز سے تل بھر ہٹتا نہ پھرتا اور اپنے دل پر وہم اور خوف اور پریشانی غالب نہ کرتا بلکہ اپنی معمولی خوشی اور اعتدال میں ان تمام دنوں کو گزارتا تو بے شک کہہ سکتے تھے کہ وہ ہاویہ میں گرنے سے دور رہا۔ مگر اب تو اس کی یہ مثال ہوئی کہ قیامت دیدہ ام پیش از قیامت۔ اس پر وہ غم کے پہاڑ پڑے جو اس نے اپنی تمام زندگی میں ان کی نظیر نہیں دیکھی تھی پس کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ان تمام دنوں میں در حقیقت ہاویہ میں رہا اگر تم ایک طرف ہماری پیشگوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اس کے مصائب کو جانچو جو اس پر وارد ہوئے تو تمہیں کچھ بھی اس بات میں شک نہیں رہے گا کہ وہ بے شک ہاویہ میں گرا ضرور گرا۔ اور اس کے دل پر وہ رنج اور غم اور بد حواسی وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے۔ ہاں اعلیٰ نتیجہ ہاویہ کا جو ہم نے سمجھا اور ہماری تشریحی عبارات میں درج ہے یعنی موت وہ ابھی تک حقیقی طور پر وارد نہیں ہوئی
کیونکہ اس نے عظمت اسلام کی ہیبت کو اپنے دل میں دھنسا کر الہی قانون کے موافق الہامی شرط سے فائدہ اٹھا لیا مگر موت کے قریب قریب اس کی حالت پہنچ گئی اور وہ درد اور دکھ کے ہاویہ میں ضرور گرا اور ہاویہ میں گرنے کا لفظ اس پر صادق آگیا۔ پس یقیناً سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری۔ فالحمدللّٰہ علیٰ ذالك!
(انوار الاسلام ص ٧ خزائن ج ٩ ص ٢٧)
عبارت مذکور بالا صاف اور صریح طور پر اپنا مدعا بتا رہی ہے۔ ایسی کہ کسی شرح یا حاشیہ کی ضرورت نہیں۔ بعبارت النص ظاہر ہوتا ہے کہ آتھم ہاویہ میں گرا کیوں گرا؟۔ حسب مضمون پیشگوئی رجوع بحق نہ کیا ہو گا حالانکہ رجوع بحق کر چکا تھا جو عبارت منقولہ از ضیاء الحق سے ظاہر ہے۔ ہم مرزا قادیانی کے اہل علم حضرات کو علمی طرز پر تقریر سناتے ہیں تاکہ ان کو معقولی اصطلاح میں اس تہافت کا سمجھنا آسان ہو۔ مرزا قادیانی کی عبارت کا مطلب علیٰ طریق القیاس الاستثنائی یوں ہے :
”ان رجع عبد اللّٰه الى الحق فهو ناج من الهاوية لكنه رجع فليس بناج .“
مرزا قادیانی کے دوستو! آج تک تمام اہل معقول کا اجماع تھا کہ :
”وضع المقدم يستلزم وضع التالی ورفع التالی یستلزم رفع المقدم “
آج یہ نئی منطق کیا ہے کہ :
”وضع المقدم یرفع التالی فاین التلازم“
کیا منطقی اصطلاحات میں بھی تجدید تو نہیں کی؟۔ کیوں نہ ہو؟
اذ حيث كنت من الظلام ضياء
٣٠ اکتوبر ١٩٠٢ء کو موضع مدھلچ امرتسر میں راقم کا مباحثہ ہوا۔ فریق مرزائیہ کی
طرف سے مولوی سرور شاہ مباحث تھے۔ ان سے بھی اس تناقض کا میں نے ذکر کیا۔ مجھے تو خیال تھا کہ شاہ صاحب اس کا کچھ عالمانہ جواب دیں گے۔ مگر افسوس کہ جو کچھ انہوں نے جواب دیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے حق میں وہی مثل صادق ہے۔ جو پڑھا لکھا تھا یار نے ایک دم میں سارا بھلا دیا۔ آپ کی تحریر میرے پاس موجود ہے۔ چنانچہ حرف بحرف وہ یہ ہے :
”یاد رہے کہ رجوع ثابت اور رجوع کے ایام میں ہاویہ میں نہیں پڑا۔ ہاں عدم رجوع کے ایام اسی پندرہ ماہ کی میعاد کے اندر وہ ہاویہ میں گر گیا۔ غرض پہلے ١٥ ماہ رجوع کے ہیں اور دوسرے ١٥ ماہ عدم رجوع کے واقع میں کوئی تناقض نہیں۔ اپنی سمجھ کا تناقض ہے۔“
مرزا قادیانی کے کلام منقولہ سے پایا جاتا ہے کہ آتھم کے ایک ہی فعل یعنی انتقال مکانی کو وہ رجوع اور ہاویہ دو نام رکھتے ہیں جو پندرہ مہینوں میں وہ کرتا رہا پھر اس کے لئے شاہ جی کا یہ توجیہہ کرنا کہ پندرہ ماہ کا پہلا حصہ رجوع کا اور دوسرا عدم رجوع کا حقیقت میں حرکت مذبوحی اور تاویل الکلام بما لا یرضی بہ قائلہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اگر کسی صاحب کو یہ شبہ ہو کہ خدا جانے مرزا قادیانی کی عبارت ثانیہ کا کیا مطلب ہے یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ باوجود رجوع حق کرنے آتھم کے پھر بھی وہی ہاویہ میں گرایا جاتا یہ تو صاف تناقض صریح اور تہافت قبیح ہے جو ادنیٰ عقل کے آدمی سے بھی بعید ہے۔ مرزا قادیانی تو ماشاء اللہ ! بڑے مصنف ہیں۔ اگر الہامی نہیں ان کے مصنف اور مناظر ہونے میں تو شک نہیں :” ہرکہ شک آرد کافر گردد “(یعنی کفر بالطاغوت)۔ پھر ایسے صریح تناقض کے وہ کیونکر مرتکب ہونے لگے تھے جو احمق سے احمق بھی نہ کہے کہ جس چیز کا
١۔ مولوی سرور شاہ نے بھی موضع مد ضلع امرتسر کے مباحثہ میں یہی کہا تھا کہ مرزا قادیانی پاگل ہے کہ کہیں کچھ کہے اور کہیں کچھ مگر ہمارا یہ خیال نہیں کہ مرزا قادیانی پاگل ہے بلکہ پاگل گر ہے۔
، وجود کسی چیز کے لئے مانع ہو اس کے ہوتے بھی وہ چیز متحقق ہو سکے باوجود تسلیم کر لینے کے
قاعدہ۔
العدد اما فرد او زوج کے یہ کھنا العدد فرد مع انہ زوج لايقول بہ احد
الا من سفہ نفسہ
تو ایسے صاحبوں کی دلجمعی کے لئے ہم ہی نے یہ معنے مرزا قادیانی کی عبارت سے نہیں سمجھے بلکہ مرزا قادیانی کے اخص الخواص بلکہ امام الصلوٰۃ نے جو مرزا قادیانی سے بھی افضل اور مرزا قادیانی اس کے مقابلہ میں نہایت حقیر اور ذلیل ١ ہیں ایسے ثقہ بلکہ (مرزائی جماعت کے) امام الثقات نے بھی یہی معنے سمجھے ہیں کیونکہ وہ خود آتھم کو ہاویہ تک چھوڑنے گیا تھا (معلوم نہیں بوجہ معذوری خود واپس ہوا یا نہیں) غور سے سنو!
”(آتھم) پندرہ ماہ کے اندر اسلام کے خلاف ایک لفظ نہ بولا ٢ اور سراسیمگی اور اور دہشت کی حالت میں شہر بشہر مارا پھرا کہ کسی طرح ملک الموت کے پنجہ سے نجات پاوے۔ اس عرصہ میں اسے کئی دفعہ خونی فرشتے بھی نظر آئے اس کی قوت واہمہ نے اس پر ایسا اثر کیا کہ کہیں اس کی نظر میں بشکل اصل مجسم سانپ نمودار ہونے لگے کہیں خونی فرشتے حملہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے غرضیکہ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں سخت سے سخت ہاویہ کے عذاب میں گرفتار رہا۔“
(سیرت مسیح موعود حاشیہ ص ٢٥)
اب تو شبہ بالکل رفع ہو گیا کہ مرزا قادیانی اپنی پیشگوئی کی تصدیق کے لئے کہاں تک کوشش کرتے ہیں۔ ایسی کہ اجتماع ضدین کی بھی انہیں پرواہ نہیں رہتی۔ طرفہ تر یہ کہ اجتماع ضدین ہی پر قناعت نہیں بلکہ ایک ہی شے کو دو متضاد چیزیں بتلایا جاتا ہے۔ وہی آتھم کا
- ١ دیکھو ازالہ ص ٧٥ خزائن ج ٣ ص ٤٧٣ مقتدی امام کی نسبت حقیر و ذلیل
ہوتا ہے۔
- ٢ بالکل جھوٹ۔
ایک فعل ہے یعنی (بقول مرزا قادیانی) پیشگوئی کے خوف سے اضطراب کرنا اسی کو رجوع بحق کہا جاتا ہے اور اسی کا نام ہاویہ رکھا جاتا ہے پھر اسی کمال علمی پر سلطان القلم کا لقب اور مہدی زمان اور مسیح دوران کا ادّعا؟۔
شان ہے تیری کبریائی کی
مرزائیو! اور مرزا قادیانی کے اخص الخواص مقربو! علم کے مدعیو! علماء کرام کو جاہل اور کندہ ناتراش کہنے والو! انصاف سے خدا کے لئے مثنیٰ و فرادیٰ ہو ہو کر سوچو! ١۔ ”لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً. نساء ٨٢“ کے صدق میں کچھ شک ہے یا مرزا قادیانی کے کمال علم و دیانت میں کوئی شبہ باقی ہے؟۔
ارے لوگو! ذرا انصاف سے کہیو خدا لگتی
اظہار تعجب : صفحہ پندرہ کتاب ہٰذا سے یہاں تک کے مضمون کا حکیم صاحب نے کچھ جواب نہیں دیا۔
ایک اور طرز سے
بھی اس پیشگوئی کی تکذیب ہوتی ہے۔ قاعدہ کلیہ جس کو مرزا قادیانی نے بھی ازالہ اوہام ص ٥٧٨ خزائن ج ٣ ص ٤١٢ پر بڑے زور و شور سے بیان کیا ہے اور حضرت مسیح کے دوبارہ نہ آنے کو اسی قاعدہ پر مرتب سمجھا ہے جس کا بیان اہل علم کی اصطلاح میں یوں کیا جاتا ہے : ”الشئ اذا ثبت ثبت بلوازمه“ یعنی جب کوئی چیز وجود پذیر ہوتی ہے تو اس کے
١۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ جو کلام غیر اللہ کی طرف سے ہو اس میں بہت اختلاف ہوتا ہے۔
لوازم اس کے ساتھ ہوتے ہیں جس کو مرزا قادیانی کے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ :”ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو۔“
(ازالہ اوہام ص ٥٧٨‘ خزائن ج ٣ ص ٤١٢)
پس بعد تسلیم اس قاعدہ عقلیہ کے ہم اس پیشگوئی کے لوازم کی پڑتال کرتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے بھی اس پیشگوئی کے لوازم بتلائے تھے۔ یعنی : ”جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشگوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے ا۔ کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ٢١٠‘ خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)
پس ہم لازم اول ہی کو دیکھتے ہیں کہ کہاں تک اس کا ظہور ہوا کچھ شک نہیں کہ سچوں کی عزت سے مرزا قادیانی کی اپنی اور اپنی جماعت کی عزت تھی۔ سو اس پیشگوئی کے موقع پر جیسی کچھ ظہور میں آئی خدا دشمن کی بھی نہ کرے۔ ہر ایک قوم کی طرف سے ایک نہیں کئی کئی اشتہارات اخبار و رسالہ جات نکلے جن میں مرزا قادیانی کی عزت اور آؤ بھگت کے کلمات طیبات بھرے ہوئے تھے۔ سب کو نقل کرنا تو قریب محال ہے۔ ان میں سے چند بطور مشت نمونہ از خروارے نقل کر کے باقی کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ اہالی امرتسر کی طرف سے جو اشتہارات نکلے تھے ان میں سے ایک یہ ہے :
مرزا قادیانی اور آتھم کی لڑائی میں اسلام کی صداقت
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون آج ہم اس آیت کی تصدیق پاتے ہیں کہ خدا اپنے دین اسلام کی کیسی تائید کرتا ہے
ا۔ دیہاتی اردو۔
جو لوگ اس دین کی آڑ میں ہو کر اس دین کو بگاڑنا چاہتے ہیں ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا کہ تمام مخلوق کی نظروں میں ذلیل اور رسوا ہوا کہ آتھم امرتسری باوجود پیرانہ سالی کے پندرہ مہینے کی مدت میں (جس میں کئی فصول ہیضہ بھی ہوئیں) نہیں مرے۔ نہ صرف آتھم بلکہ ایک اور صاحب بھی (جن کی موت کے بعد مرزا قادیانی نے ان کی بیوی سے نکاح کرنا تھا جس کی مدت حسب شہادۃ القرآن مرزا قادیانی ٢٠ اگست کو پوری ہو گئی ہے) نہیں مرے :
وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کیا آج کوئی نہیں جو مرزا قادیانی کا ساتھ دے ؟۔ حکیم نور الدین کہاں ہیں؟۔ احسن امروہی کہاں ہیں؟۔ ریاض ہند کے نوجوان ایڈیٹر جو مارے خوشی کے پھولے نہ سماتے تھے کہاں ہیں؟۔ وہ سیالکوٹ کے معذور لیکچرار کہاں ہیں؟۔ خواجہ صاحب لاہوری کہاں ہیں؟۔ سچ ہے اور بالکل سچ ہے : ” ولو تقول علينا بعض الاقاويل . لاخذنا منه بالیمین..................“
اہالی لدھیانہ نے جو اشتہار دیئے ان میں سے ایک دو یہ ہیں :
ہوئی جس سے ہے ذلت قادیانی
قول صائب
عیسیٰ نتواں گشت بتصدیق خرے چند
ارے او خود غرض خود کام مرزا
ارے منحوس نا فرجام مرزا
رسول حق بنا اے خام مرزا
مسیح و مہدی موعود بن کر
بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا عبث نصاریٰ میں تفاخر
مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے
ہے آتھم زندہ اے غلام مرزا
تری تکذیب کی شمس و قمر نے
ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیاں کا نام تو نے
کہیں کیا اے بد و بدنام مرزا
کہاں ہے اب وہ تیری پیشگوئی
جو تھا شیطان کا الہام مرزا
اگر ہے کچھ بھی غیرت ڈوب مر تو
بظاہر اس میں ہے آرام مرزا
پیمبر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا
ترا اعزاز اور اکرام مرزا
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور
دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
ولیکن تو نہ آیا باز پھر بھی
یہ اس شوخی کا ہے انعام مرزا
Wait, let me fix the last line. It is "انعام مرزا". Wait! I am generating the output block. Let me write it cleanly.
رسول حق بنا اے خام مرزا
مسیح و مہدی موعود بن کر
بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا عبث نصاریٰ میں تفاخر
مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے
ہے آتھم زندہ اے غلام مرزا
تری تکذیب کی شمس و قمر نے
ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیاں کا نام تو نے
کہیں کیا اے بد و بدنام مرزا
کہاں ہے اب وہ تیری پیشگوئی
جو تھا شیطان کا الہام مرزا
اگر ہے کچھ بھی غیرت ڈوب مر تو
بظاہر اس میں ہے آرام مرزا
پیمبر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا
ترا اعزاز اور اکرام مرزا
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور
دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
ولیکن تو نہ آیا باز پھر بھی
یہ اس شوخی کا ہے انعام مرزا
Let me correct the last line: "یہ اس شوخی کا ہے انعام مرزا"
رسول حق بنا اے خام مرزا
مسیح و مہدی موعود بن کر
بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا عبث نصاریٰ میں تفاخر
مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے
ہے آتھم زندہ اے غلام مرزا
تری تکذیب کی شمس و قمر نے
ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیاں کا نام تو نے
کہیں کیا اے بد و بدنام مرزا
کہاں ہے اب وہ تیری پیشگوئی
جو تھا شیطان کا الہام مرزا
اگر ہے کچھ بھی غیرت ڈوب مر تو
بظاہر اس میں ہے آرام مرزا
پیمبر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا
ترا اعزاز اور اکرام مرزا
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور
دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
ولیکن تو نہ آیا باز پھر بھی
یہ اس شوخی کا ہے انعام مرزا
I will start over.
رسول حق بنا اے خام مرزا
مسیح و مہدی موعود بن کر
بچھائے تو نے کیا کیا دام مرزا
ہوا عبث نصاریٰ میں تفاخر
مسیحائی کا یہ انجام مرزا
مہینے پندرہ بڑھ چڑھ کے گزرے
ہے آتھم زندہ اے غلام مرزا
تری تکذیب کی شمس و قمر نے
ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا
ڈبویا قادیاں کا نام تو نے
کہیں کیا اے بد و بدنام مرزا
کہاں ہے اب وہ تیری پیشگوئی
جو تھا شیطان کا الہام مرزا
اگر ہے کچھ بھی غیرت ڈوب مر تو
بظاہر اس میں ہے آرام مرزا
پیمبر آیا تھا کیا کم کر گیا تھا
ترا اعزاز اور اکرام مرزا
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور
دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
ولیکن تو نہ آیا باز پھر بھی
یہ اس شوخی کا ہے انعام مرزا
Wait, the output in the final block must be exact. I'll just write it.
ندامت کا نہ پیتا جام مرزا
گلے میں اب ترے رسا پڑے گا
سیہ رو ہوگا پیش عام مرزا
سزا بھی کم سے کم اتنی تو ہوگی
کہ ہوجائے تجھے سرسام مرزا
ہے سولی اور پھانسی کار سرکار
رعایا کا نہیں یہ کام مرزا
مسلمانوں سے تجھ کو واسطہ کیا
بڑا کہلا نبی نام مرزا
کہ اک بھائی ہے مرشد بھنگیوں کا
اور اک ہیجڑوں کا بے اندام مرزا
کہا اسلامیوں نے حلف پاکر
ہے کاذب خارج از اسلام مرزا
تو ہے اک انبیائے بعل میں سے
سلف کو دے رہا دشنام مرزا
زمین و آسماں قائم ہیں اب تک
ترے وہ ٹل گئے احلام مرزا
براہین سے ٹھگے تو نے مسلماں
کبھی ایسے بھی تھے ایام مرزا
بحمد اللہ کہ چھپ کر فتح و توضیح
کھلے تیرے چھپے اصنام مرزا
یہی سعدی کا ہے پیغام مرزا
ولہ ایضا
نہ دیکھی تو نے نکل کر چھٹی ستمبر کی
ہے قادیانی ہی جھوٹا مرا نہیں آتھم
یہ گونج اٹھا امرتسر چھٹی ستمبر کی
ترے حریف کو فیروز پور سے لائی
یہ ریل ہے جو ٹراٹر چھٹی ستمبر کی
ذلیل وخوار ندامت چھپا رہے تھے کہ تھا
ترے مریدوں پہ محشر چھٹی ستمبر کی
یہ لدھیانہ میں مرزائیوں کی حالت تھی
کہ جینا ہوگیا ڈوبھر چھٹی ستمبر کی
سوا برس کے تھے امیدوار سب مایوس
مرید اعرج واعور چھٹی ستمبر کی
مسیح مہدی کاذب نے منہ کی کھائی خوب
یہ کہتے پھرتے تھے گھر گھر چھٹی ستمبر کی
ہے روسیاہ مثل مسیلم واسود
ملاحدہ کا وہ رہبر چھٹی ستمبر کی
یہ قادیانی کی تذلیل کس لئے تھی؟ نہ تھا
مباہلہ کا اثر گر چھٹی ستمبر کی
عیسائیوں کی طرف سے جو اشتہار نکلے ان میں سے ایک یہ تھا :
سارے الہام بھول جائیں گے
خاتمہ ہووے گا نبوت کا
پھر فرشتے کبھی نہ آئیں گے
رسول قادیانی کو پھر الہام
بڑھاپے میں ہے یہ جوش جوانی
نچاوے ریچھ کو جیسے قلندر
یہ کہہ کر تری مر جاوے نانی
ارے سن او رسول قادیانی
لعین بے حیا شیطان ثانی
نچادیں گے تجھ کو بھی اک ناچ ایسا
یہی ہے اب دل میں مصمم ٹھانی
پنجہ آتھم سے مشکل ہے رہائی آپ کی
توڑ ہی ڈالیں گے وہ نازک کلائی آپ کی
آتھم اب زندہ ہیں آکر دیکھ تو آنکھوں سے خود
بات یہ کب چھپ سکے ہے اب چھپائی آپ کی
کچھ کرو شرم و حیا تاویل کا اب کام کیا
بات اب بنتی نہیں کوئی بنائی آپ کی
جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بتلانا صریح
جھوٹ ہیں باطل ہیں دعوے قادیانی کے سبھی
بات سچی ایک بھی ہم نے نہ پائی آپ کی
حق ہے صادق اور صادق حق کا سب الہام ہے
ہو گئی شیطان سے خلوت آشنائی آپ کی
ہو گیا ثابت ہے سب اقوال بد سے آپ کے
کر رہا شیطان ہے بے شک رہنمائی آپ کی
اپنے پنجے سے نہیں شیطان تمہیں دیتا نجات
اس کو کب منظور ہے اکدم جدائی آپ کی
تم ہو اس کے اور وہ اب ہے تمہارا یار غار
رات دن کرتا وہی ہے رہنمائی آپ کی
ہم نہ کہتے تھے کہ شیطان کا کہا مانو نہ یار
کس بلا میں اس نے دیکھو جان پھنسائی آپ کی
ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار اور دھتکار ہے
دیکھو کیسی ناک میں اب جان آئی آپ کی
خوب ہے جبریل اور الہام والا وہ خدا
آبرو سب خاک میں کیسی ملائی آپ کی
ہے کہاں اب وہ خدا جس کا تمہیں الہام تھا
کس لئے کرتا نہیں مشکل کشائی آپ کی
اب بتاؤ ہیں کہاں اب آپ کے پیرو مرید
جو گلی کوچوں میں کرتے تھے بڑائی آپ کی
کرتے ہیں تعظیم جھک جھک کر تو حاصل اس سے کیا
آپ نے دنیا کے ٹھگنے کا نکالا ہے یہ ڈھنگ
جانتے ہیں ہم یہ ساری پارسائی آپ کی
کچھ کرو خوف خدا کا کیا حشر کو دوگے جواب
کام کس آئے گی یہ دولت کمائی آپ کی
ڈھیٹ اور بے شرم بھی عالم ہوتے ہیں مگر
سب پہ سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
کر کے منہ کالا گدھے پر کیوں نہیں ہوتے سوار
فیصلے کی شرط ہے مانی منائی آپ کی
داڑھی سر اور مونچھ کا بچنا بڑا دشوار ہے
کر ہی ڈالے گا حجامت اب تو نائی آپ کی
آپ کے دعوؤں کو باطل کردیا حق نے تمام
اب بھی تائب ہو اس میں ہے بھلائی آپ کی
اب بھی فرصت ہے اگر کچھ عاقبت کی فکر ہے
ہاتھ کب آئے گی یہ مہلت گنوائی آپ کی
سخت گمراہوں میں سمجھے مسیح کی شان کو
راہ حق اور بندگی سے ہے لڑائی آپ کی
خاتمہ بالخیر ہوگا اور ہوگے سرخرو
ہوگئی اب بھی مسیح سے گر صفائی آپ کی
المشتہر
بس ہوچکی نماز مصلے اٹھائیے
ان اشتہاروں کی بھی چنداں حاجت نہیں۔ مرزا قادیانی خود ہی مانتے ہیں کہ پیشگوئی کے خاتمہ پر تمام مخالفوں نے خوشی منائی اور مرزا قادیانی کی تذلیل میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں :
”انہوں نے پشاور سے لے کر الہ آباد اور بمبئی اور کلکتہ اور دور دور کے شہروں تک نہایت شوخی سے ناچنا شروع کیا اور دین اسلام پر ٹھٹھے کئے اور یہ سب مولوی یہودی صفت اور اخباروں والے ان کے ساتھ خوش خوش اور ہاتھ میں ہاتھ ملائے ہوئے تھے۔“
(سراج منیر ص ٥٢ خزائن ج ١٢ ص ٥٤)
مرزائیو! یوخذ المرء باقرارہ ١؎ پر غور کرو اور ان دنوں کی عزت و ذلت کو سوچو کہ کس کے نصیب تھی؟۔ بلکہ کوئی اب بھی اگر تم سے آتھم والی پیشگوئی کا ذکر کرے تو تمہارے دل پر کیا کچھ ذلت اور ندامت کے خطرات گزرتے ہیں۔ سچ بتانا خدا کو حاضر و ناظر سمجھ کر بتانا کہ جس طرح عیسائی تثلیث پر گفتگو کرنے سے جی چراتے ہیں۔ تم اس پیشگوئی کو ٹلاتے ہو یا نہیں۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ تم بالکل ہی چپ چاپ ہو جاتے ہو حاشا و کلا تم ایسے کہاں ؟۔ فونوگراف کیا اور آواز مذکورہ کے پورا پہنچانے سے خاموشی کیا؟۔ ظاہر میں تو بہت کچھ کہتے ہو بلکہ اپنے پیر کی پوری وکالت کرتے ہو مگر ہمارا یہ سوال ظاہری مناظرہ سے نہیں بلکہ اندرونی کیفیت سے ہے جس کو تم اور علیم بذات الصدور کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ فافہم!
حکیم صاحب سے اس معقول تقریر کا جواب اور کچھ تو نہ بن سکا۔ ہاں یہ فرمایا اور کیا خوب فرمایا :
”اے سلیم الفطرت دانشمند! ذرا غور کرو کہ اگر محض ناعاقبت اندیش اور سلامتی کے دشمن خبیث الفطرت معاندین کی گالیاں کسی مامور و مرسل کی تکذیب کا موجب ہو سکتی
١؎ آدمی اپنے اقرار سے پکڑا جاتا ہے۔
ہیں تو انصاف سے کہو کیا پھر دنیا میں کوئی راست باز ہو سکتا ہے۔ وغیرہ۔“ (آئینہ حق نما ص ٨٨)
حکیم صاحب ! آپ تو مولوی کے علاوہ حکیم اور مشہور طبیب بھی ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ آپ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کوئی صحیح الدماغ نہ کہہ سکے۔ بے شک کافروں اور حق کے مخالفوں سے حضرات انبیاء اور اولیاء علیہم السلام سخت سے سخت بدکلامیاں گالیاں اور بدزبانیاں سنتے رہے مگر سوال یہ ہے کہ انہوں نے کب کہا تھا کہ فلاں کام ہونے سے ہماری عزت ہو گی۔ پھر اسی کام پر ان کی بے عزتی ہوئی۔ حکیم صاحب قضیہ مخصوصہ اور ہے اور کلیہ اور ہے۔ ہماری مراد تو اس خاص وقت سے ہے جو بقول مرزا قادیانی ان کی عزت کا وقت تھا۔ عزت کے وقت میں ذلت کے ہونے سے تکذیب نہیں تو پھر کیا ہے ؟۔ سنئے قرآن مجید نے اس کے مشابہ ایک پیشگوئی یوں فرمائی ہے :
”یومئذ یفرح المؤمنون بنصر اللہ ، روم ٤‘٥“
جس روز رومی ایرانیوں پر غالب آویں گے اس روز مسلمان بھی اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے۔ کیا اس روز مسلمان بوجہ فتح بدر خوش نہیں ہوئے تھے ؟۔ اگر خوش نہ ہوتے بلکہ کسی وجہ سے مسلمانوں کو ناخوشی حاصل ہوتی تو یہ پیشگوئی صحیح ہو سکتی ؟۔ ہرگز نہیں۔
حکیم صاحب ! آپ تو طبیب ہیں۔ یوں تو کئی ایک مریض آپ کے زیر علاج مرے ہوں گے۔ تاہم آپ پر کوئی اعتراض نہیں لیکن آپ کسی بیمار کی نسبت یہ کہہ دیں کہ یہ ضرور اچھا ہو گا اس روز میری عزت دوبالا ہو جائے گی۔ اتفاق سے وہ مر جائے اور اہل میت بجائے عزت کے آپ کی گت بنادیں۔ کارٹون نکالیں یہ کریں وہ کریں تو بتائیے اس واقعہ پر بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ طبیبوں کے زیر علاج سینکڑوں ہزاروں مریض مرتے ہیں۔ اگر اس واقعہ سے مجھ پر اعتراض ہے تو مجھ سے پہلے کوئی طبیب بھی قابل اور لائق ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر آپ یہ عذر کریں تو شہر کے پرائمری مدارس کے لونڈے بھی آپ پر ہنسیں گے اور کہیں گے کہ حکیم صاحب کو معلوم نہیں کہ کسی واقعہ پر اپنی عزت کی پیشگوئی کرنی اور بات ہے اور عام طور پر مخالفوں سے تکلیف اور ذلت اٹھانی اور بات ہے۔ غالباً ہر عاقل بالغ ان دو
مضمونوں میں تمیز کر سکتا ہے۔ الا من سفہ نفسہ!
. اور ایک اور طرز سے
بھی پیشگوئی کی تکذیب ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی اپنے الہام یا وحی یا نبوت اور رسالت کو انبیاء کے منہاج اور طرز پر بتلایا کرتے ہیں۔ پس ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کی پیشگوئیاں بھی انبیاء کی پیشگوئیوں کی طرز پر ہوں۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ جو پیشگوئی انبیاء علیہم السلام نے کی خاص کر وہ پیشگوئی جو بطور مقابلہ کے ہو گی اس کا ظہور ایسے طریق سے ہوا ہے کہ کسی موافق یا مخالف کو اس کے وقوع میں کبھی تردّد نہیں رہا۔ گو بعض جہال نے عناد سے ان کو ساحر، مجنون، رمال، جفری وغیرہ کہا ہو۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ ان کی پیشگوئیاں بالخصوص مقابلہ میں کی ہوئیں تو ایسی وقوع پذیر ہوتی تھیں کہ ان کے وقوعہ میں مطلق تردّد نہ رہتا تھا۔ مثلاً غلبہ روم کی خبر فتح بدر کی پیشگوئی وغیرہ ہمچو قسم کوئی پیشگوئی ایسی نہ ملے گی جس کے وقوعہ میں کوئی کافر بھی متردّد رہا ہو۔ بخلاف اس کے آپ کی پیشگوئیوں کا یہ حشر ہے کہ غیر تو غیر خود اپنے مرید اور فدائی معتقد بھی دل سے منکر۔ بعض تو دائمی انقطاع کر جاتے ہیں اور بعض اپنی زبان کی پیچ سے کئی دنوں بعد بصد مشکل کچھ کچھ آپ کی طرف تاکتے تاکتے لحاظ میں پھنس کر فونوگراف کی طرح آپ ہی کی بولی بولنے لگ جاتے ہیں۔ اس جگہ ہم ایک معزز اور قابل شخص کے خط پیش کرتے ہیں۔ یعنی میاں محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ جو انہوں نے اس پیشگوئی کے خاتمہ پر (مرزا قادیانی کو) بھیجے تھے جن میں سے ایک یہ ہے :
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم!
مولانا مکرم سلمکم اللہ تعالیٰ
السلام علیکم!
آج ٧ ستمبر ہے اور پیشگوئی کی میعاد مقررہ ٥ ستمبر ١٨٩٢ء تھی گو پیشگوئی کے الفاظ کچھ ہی ہوں لیکن آپ نے جو الہام کی تشریح کی ہے۔ وہ یہ ہے :
”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسا ڈالا جائے، مجھ کو پھانسی دیا جائے، ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ضرور وہ ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا، ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
اب کیا یہ پیشگوئی آپ کی تشریح کے موافق پوری ہو گئی؟۔ نہیں ہرگز نہیں۔ عبداللہ آتھم اب تک صحیح و سالم موجود ہے اور اس کو بسزائے موت ہاویہ میں نہیں گرایا گیا۔ اگر یہ سمجھو کہ پیشگوئی الہام کے الفاظ کے بموجب پوری ہو گئی جیسا کہ مرزا خدا بخش صاحب نے لکھا ہے اور ظاہری معنے جو سمجھے گئے وہ ٹھیک نہ تھے۔ اول تو کوئی بات ایسی نظر نہیں آتی کہ جس کا اثر عبداللہ آتھم صاحب پر پڑا ہو۔ دوسری پیشگوئی کے الفاظ بھی یہ ہیں :
”اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں کے مباحثے کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک ماہ لے کر یعنی ١٥ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اس وقت جب پیشگوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجھا کے کئے جائیں گے بعض لنگڑے چلنے لگیں گے بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
پس اس پیشگوئی میں ہاویہ کے معنے اگر آپ کی تشریح کے بموجب نہ لئے جائیں اور صرف ذلت اور رسوائی لی جائے تو بے شک ہماری جماعت ذلت اور رسوائی (حکیم صاحب! سچ ہے ؟) کے ہاویہ میں گر گئی اور عیسائی مذہب سچا (عیسائی مذہب اسی حالت میں سچا سمجھا
١۔ یہ عبارت راقم خط کی ہی طرف سے ہے۔
جائے اگر یہ پیشگوئی سچی سمجھی جائے) جو خوشی اس وقت عیسائیوں کو ہے وہ مسلمانوں کو کہاں؟۔ پس اگر اس پیشگوئی کو سچا سمجھا جائے تو عیسائیت ٹھیک ہے کیونکہ جھوٹے فریق کو رسوائی اور سچے کو عزت ہوگی۔ اب رسوائی مسلمانوں کو ہوئی (مسلمانوں کو نہیں بلکہ مرزائیوں کو۔ مصنف) میرے خیال میں اب کوئی تاویل نہیں ١؎ ہو سکتی۔ دوسرے اگر کوئی تاویل ہو سکتی ہے تو یہ بڑی مشکل بات ہے کہ ہر پیشگوئی کے سمجھنے میں غلطی ہو۔ لڑکے کی پیشگوئی میں تفاول کے طور پر ایک لڑکے کا نام بشیر رکھا وہ مر گیا۔ تو اس وقت بھی غلطی ہوئی اب اس معرکہ کی پیشگوئی کے اصلی مفہوم کے نہ سمجھنے نے تو غضب ڈھایا۔ اگر یہ کہا جائے کہ احد میں فتح کی بشارت دی گئی تھی آخر شکست ہوئی تو اس میں ایسے زور سے اور قسموں سے معرکہ کی پیشگوئی نہ تھی اور اس میں لوگوں سے غلطی ہو گئی تھی اور آخر پھر جب مجتمع ہو گئے تو فتح ہوئی کیا کوئی ایسی نظیر ہے کہ اہل حق کو بالمقابل کفار کے ایسے صریح وعدے ہو کر اور معیار حق و باطل ٹھہرا کر ایسی شکست ٢؎ ہوئی ہو مجھ کو تو اب اسلام پر شبہے پڑنے شروع ہو گئے لیکن الحمد للہ کہ اب تک جہاں تک غور کرتا ہوں اسلام بالمقابل دوسرے ادیان کے اچھا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن آپ کے دعاوی کے متعلق تو بہت ہی شبہ ہو گیا۔ پس میں نہایت بھرے دل سے التجا کرتا ہوں کہ آپ اگر فی الواقع سچے ہیں تو خدا کرے کہ میں آپ سے علیحدہ نہ ہوں اور اس زخم کے لئے کوئی مرہم عنایت فرما دیں کہ جس سے تشفی کلی ہو۔ باقی جیسا لوگوں نے پہلے ہی مشہور کیا تھا کہ اگر یہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی تو آپ یہی کہہ دیں گے کہ ہاویہ سے مراد موت نہ تھی۔ الہام کے مفہوم سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ براہ مہربانی بدلائل تحریر فرمائیں ورنہ آپ نے مجھے ہلاک کر دیا۔ ہم لوگوں کو کیا منہ دکھائیں۔ برائے استفادہ نہایت دلی رنج سے یہ
١؎ نہیں معلوم ! خان صاحب نے اب کس تاویل پر بھروسہ کر کے قادیان میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
٢؎ کوئی نہیں۔
تحریر کر رہا ہوں۔“
(اصحاب احمد ج٢ حاشیہ ص٨٠‘ ٨١ مؤلفہ صلاح الدین قادیانی‘ آئینہ حق نما ص١٠٠‘ ١٠١)
”جو کچھ گھبراہٹ اور بے چینی اس خط سے ثابت ہوتی ہے۔ ناظرین اندازہ کر سکتے ہیں علاوہ اس کے اس موقع پر ہمیں زیادہ گفتگو کی ضرورت بھی نہیں۔ مرزا قادیانی خود ہی اپنے مجموعہ اشتہارات ج٢ ص٧٦‘ ٧٨‘ ٧٠ بعنوان اشتہار انعامی تین ہزار میں اپنے مخلصوں کی جو پیشگوئی کے صدق اور آتھم کے رجوع سے منکرانہ سوال کرتے تھے تسلی دیتے ہیں اور رسالہ انجام آتھم کے ص١١‘ ١٢‘ خزائن ج١١ ص١١‘ ١٢ پر بعض کا پھر جانا مانتے ہیں۔ یعنی تسلیم کرتے ہیں کہ اس پیشگوئی کی وجہ سے بعض مرید برگشتہ ہو گئے چونکہ آپ کو بھی اس کا اعتراف ہے۔ لہٰذا ہمیں فہرست بتلانے کی چنداں حاجت نہیں۔ ہماری غرض اس سے بھی جتنا کہ آپ نے اقرار کیا ہے پوری ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس طرز میں ہم صرف اس پہلو پر ہیں کہ پیشگوئی کا وقوعہ ایسے طرز اور طریق سے نہیں ہوا کہ مخالف موافق سب کو اس کے وقوعہ کا یقین ہوتا۔ گو بعد اس یقین کے مخالف اپنی مخالفانہ طرز سے اور موافق اپنے مخلصانہ طریق سے اس کے وقوعہ کی تعبیر کرتے مگر یہاں تو یہ غضب ہے کہ پیشگوئی کے وقوعہ کا یقین ہی نہیں۔ مخالفوں کو تو کیا ہوتا مخلصوں کو بھی یہاں تک تردّد تھا بلکہ گمان غالب ہے کہ اب بھی ہوگا۔ خود حکیم نورالدین صاحب نے ایک دوست کو خط لکھا تھا کہ میرے نزدیک یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ مگر چونکہ ہم نے مرزا قادیانی کی طرح ایک سال بھر کی پیشگوئی کر کے ان کے پیچھے دم نہیں لگائی۔ اس لئے ہم ان سے حلف لینا نہیں چاہتے۔ وہ اس امر پر دل ہی دل میں غور کریں۔ ہمارا مطلب تو مرزا قادیانی کے اعتراف مذکور ہی سے حاصل ہے کہ یہ پیشگوئی حضرات انبیاء کی پیشگوئیوں کی طرح وقوع پذیر نہیں ہوئی ہے کہ کسی مخالف یا موافق کو اس کے وقوعہ میں شک نہ رہتا۔ گو مخالف نہ مانتے مگر اس کے وقوعہ کے قائل ہوتے۔ مثلاً آتھم علی الاعلان اس حق کی طرف رجوع کرتا جس کے لئے مرزا قادیانی کا اس سے مناظرہ ہوا تھا یا پندرہ ماہ کے اندر مر جاتا۔ ہماری اس تقریر پر کہ سچی پیشگوئی وہ ہوتی ہے جس کے
وقوعہ میں کسی دوست یا دشمن کو بھی شبہ نہ رہے۔ خود مرزا قادیانی سراج منیر میں دستخط کر چکے ہیں۔ جہاں لکھتے ہیں :
”اگر پیشگوئی فی الواقعہ ایک عظیم الشان ہیئت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔“
(سراج منیر ص ١٥ خزائن ج ١٢ ص ١٧)
اس پیشگوئی نے جیسا کچھ دلوں کو مرزا قادیانی کی طرف کھینچا ہے عیاں راچہ بیاں ایسا کہ لینے کے دینے پڑ گئے تھے کئی قسم کی مغالطہ آمیز تحریروں سے بمشکل بعض مریدوں کو مجالس میں یہ کہنے کی جرات ہوئی تھی کہ آتھم نے رجوع کیا ہے۔ اس لئے بچ گیا۔ اگر رجوع نہیں کیا تو قسم کیوں نہیں کھاتا ؟۔ حالانکہ وہ خود ہی دل میں جانتے تھے کہ آتھم پر قسم کی کوئی صورت نہیں وہ قسم نہ کھانے کی وجہ شرعی بتلاتا ہے کہ انجیل متی باب ٥ میں قسم سے منع آیا ہے مگر ہمارے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی ایک سالہ پیشگوئی کی سچ سے جو قسم کھانے پر اس کے پیچھے لعنت کے طوق کی طرح ڈال کر لوگوں کی توجہ کامل ایک سال تک پھیرنی چاہتے تھے وہ اس سے بچنا تھا۔ وہ بھی آخر ڈپٹی رہ چکا تھا۔ اس نے اس قسم کے کئی ایک مقدمات طے کئے ہوں گے۔ وہ جانتا تھا کہ مرزا قادیانی کی یہ غرض ہے کہ جو رسہ میں نے جھوٹے کے لئے تجویز کیا تھا وہ ایک سال تک ملتوی رہے اور اگر مرزا قادیانی صرف قسم کی بابت اسے کہتے تو شاید انجیل متی باب ٥ کی کوئی تاویل سوچ کر وہ قسم کھا جاتا۔ رہا یہ کہ مرزا قادیانی کو قسم دینے کا کیا حق تھا ؟۔ اس کا ذکر پہلے آچکا ہے۔
اس طرز کے جواب میں تو حکیم صاحب ایسے الجھے ہیں کہ ان کو خبر نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں۔ نہایت افسوس ہی نہیں حیرت کا مقام ہے کہ ایک ایسا عالی خیال عالم جس پر مرزا قادیانی اور مرزائی جماعت فخر کرے جو ساری قوم میں عالمانہ حیثیت سے خاص امتیاز رکھتا ہو وہ بھی ایسی بہکی بہکی باتیں کرے یا سنے تو مقام حیرت نہیں تو کیا ہو گا ؟۔
آپ فرماتے ہیں :
”کوئی اس بھلے مانس (مصنف الہامات مرزا) سے پوچھے کہ اگر وہ (مخالفین انبیاء)
اس (پیشگوئی) کو خدا کی طرف سے سمجھتے اور اپنے سامنے بعینہ پورا ہوتے ہوئے دیکھتے تو انکار اور تردّد کیوں رہا؟۔ کیوں انہوں نے راستی سے اسلام قبول نہ کر لیا؟۔" (آئینہ ص ٩٩)
کوئی صاحب ہمارے کلام میں یہ دکھا دیں کہ ہم نے یہ کہاں کہا ہے کہ مخالفین انبیاء حضرات علیہم السلام کی پیشگوئیوں کو خدا کی طرف سے سمجھتے تھے یا انبیاء کو سچے الہامی مانتے تھے۔ ہم نے جو کہا وہ ناظرین کے سامنے ہے جس کو ہم مکرر نقل کرتے ہیں :
"جو پیشگوئی حضرات انبیاء علیہم السلام نے کی خاص کر وہ پیشگوئی جو بطور مقابلہ کے ہو گی اس کا ظہور ایسے طریق سے ہوا ہے جو کسی مخالف یا موافق کو اس کے وقوع میں کبھی تردّد نہیں رہا۔"
کتاب ہذا کے گزشتہ اوراق پر ہماری ساری عبارت دیکھی جائے اور غور کیا جائے کہ ہمارا مدعا کیا ہے تو آسانی سے یہ بات ذہن نشین ہو سکے گی کہ حکیم صاحب جو کہتے ہیں خود ان کا ضمیر ان کو ملامت کرتا ہو گا۔ ہمارا مدعا اس پیشگوئی کے وقوعہ سے ہے یعنی اس کا وقوعہ ایسے طور سے ہوتا تھا کہ ہر موافق مخالف مان جاتا۔ موافق اس کے مطابق ان کو صاحب الہام جانتے۔ مخالف رمال اور ساحر وغیرہ نام رکھتے مگر وقوع میں اختلاف نہ ہوتا۔
اس سے آگے جو حکیم صاحب نے فرمایا وہ اس سے بھی مزیدار ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ :
"بہر حال منہاج نبوت پر اگر پیشگوئیاں ایسے طور پر پوری ہوا کرتی ہیں کہ کافر کو بھی تردّد نہیں ہوا کرتا تو میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ یونس کی قوم کے لئے جو عذاب کی پیشگوئی تھی وہ کیونکر پوری ہوئی اور حضرت یونس کو کیوں کہنا پڑا :"لن ارجع کذابا ."
(آئینہ حق نما ص ٩٩)
واقعی یہ خیال بڑا ہی مشکل ہے کہ شاید ہی کسی اہل علم سے حل ہو سکے۔ کیوں نہ آخر حکیم صاحب ذوالوجہین یعنی دو علموں (علم شرع اور علم طب) کے عالم ہیں تو پھر کیوں نہ ایسے سوال کریں۔ اے جناب! حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے کیا وعدہ تھا؟۔
اس کا ثبوت کہاں ہے؟۔ وہی وعدہ تھا جو عام طور پر کفار سے ہوا کرتا ہے کہ درصورت کفر پر اصرار کرنے کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ یہی ان سے تھا مگر وہ کفر پر مصر نہ رہے۔ عذاب نہ آیا۔ قرآن مجید غور سے سنئے :
”لولا کانت قریة آمنت فنفعها ایمانها الا قوم یونس . لما آمنوا کشفنا عنهم عذاب الخزی فی الحیوة الدنیا ومتعناهم الی حین ، سورة یونس آیت ٩٨“
”کیوں نہ کوئی قوم ایسی ہوئی جو ایمان لاتی اور اس کو ایمان اس کا نفع دیتا سوا قوم یونس کے جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے وہ عذاب جو در صورت اصرار علی الکفر ان پر وارد ہونے والا تھا دنیا میں ان سے ہٹا رکھا اور ایک وقت مقررہ تک ان کو امن وعافیت سے بہرہ ور کیا۔“
حکیم صاحب! فرمائیے اس میں کیا مذکور ہے؟۔ کیا وعدہ ہے؟ اور کہاں ٹلا ہے؟۔ اسلامی لٹریچر میں یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ سزا کفر ، کفر پر ہوتی ہے جب وہ عذاب آنے سے پیشتر ہی ایمان لے آئے تو سزا کیسی؟۔ اے کاش! آپ بحیثیت مدعی اس عذاب اور اس کے ٹلنے کی ذرہ تفصیل بھی کئے ہوتے تاکہ معلوم ہو سکتا کہ آپ کا مافی الضمیر کیا ہے؟۔
حضرت یونس علیہ السلام کا قول : ”لن ارجع کذاباً .“ معلوم نہیں کہاں ہے۔ قرآن کے کس مقام پر ہے۔ حدیث کی کس کتاب میں ہے اور اس کا مطلب کیا ہے اور آپ کو مفید کیا؟۔
حکیم صاحب ! کہتے ہوئے ذرہ مفید غیر مفید کو تو سمجھ لیا کریں۔ حکیم صاحب کا اس سے آگے کا کلام اس سے بھی لطیف تر ہے۔
فرماتے ہیں کہ :
”پھر حدیبیہ میں کیا ہوا۔ قرآن مجید تو خود کہتا ہے : ”یصیبکم بعض الذی یعدکم .“ یہاں بعض کا لفظ بتاتا ہے کہ ساری پیشگوئیاں پوری نہیں ہوتی ہیں۔ بعض ملتوی یا
منسوخ ہو جاتی ہیں۔“
(ص ٩٩)
حکیم صاحب ! آپ تو ماشاء اللہ ! قرآن مجید کے مدرس ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ آپ ایسی فاش غلطی کرتے ہیں۔ سنئے آیت مذکورہ کا مطلب بتانے سے پہلے میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اگر کسی نبی کو الہامی پیشگوئی دیتا ہے۔ کیوں دیتا ہے ؟۔ جواب ہو گا مخالفوں پر حجت پوری کرنے کو۔ پھر یہ کیا اتمام حجت ہے کہ جس پیشگوئی کو خدا کا نام لے کر سنایا تھا اور جس کے اظہار پر اپنے مشن کی صداقت موقوف رکھی تھی وہ خود ہی غلط یا بقول آپ کے ملتوی ہو گئی چہ خوش کیا مخالفین اس الہام کی حجت کو مان لیں گے۔ یہ نہ کہیں گے کہ جناب اب تو آپ لاکھ الہام سنائیے ہم نہیں سنیں گے۔ جبکہ ایک دفعہ آپ کا کہا غلط ہوا اور عام نگاہ میں آپ جھوٹے ثابت ہوئے تو دوسری باتوں میں بھی آپ کا کیا اعتبار ؟۔ یہی مضمون جناب مرزا قادیانی نے خود لکھا ہے۔ غور سے سنئے :
”جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“
(چشمہ معرفت ص ٢٢٢‘ خزائن ج ٢٣ ص ٢٣١)
چونکہ حکیم صاحب نے اس آیت کو باوجود غلط فہمی کے بہت سی جگہ لکھ کر ”منہاج نبوت“ اسی کو قرار دیا ہے کہ انبیاء کی بعض باتیں سچی ہوتی ہیں اور بعض نہیں ہوتیں۔ اس لئے حکیم صاحب کی غلطی رفع کرنے کو ہم اس آیت کا مطلب بتاتے ہیں۔
یہ آیت دراصل اس شخص کا قول ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون کی قوم میں سے مخفی طور پر مسلمان ہوا تھا۔ پوری آیت یوں ہے :
”ان يك كاذباً فعليه كذبه . وان يك صادقاً يصبكم بعض الذی يعدكم . ان الله لا يهدى من هو مسرف كذاب . غافر ٢٨“
وہ مومن کہتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اگر جھوٹا ہے تو اس کا گناہ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہے تو جن جن سزاؤں سے وہ تم کو ڈراتا ہے ان میں سے بعض تو اسی دنیا میں تم کو پہنچ جائیں گی بے شک اللہ تعالیٰ بے ہودہ اور کذابوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا۔
حضرات انبیاء علیہم السلام جو عذاب کے وعدے دیا کرتے ہیں وہ دو قسم پر ہوتے ہیں۔ کچھ تو اسی دنیا کے متعلق ہوتے ہیں کچھ آخرت کے متعلق جیسے فرمایا : ”لهم فی الدنيا خزى ولهم فى الأخرة عذاب عظیم ٠ بقره ١١٤“ یعنی ان مفسدوں کے لئے دنیا میں بھی ذلت و خواری ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔
اس آیت اور اس جیسی بہت آیات نے صاف طور پر بتلایا ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کے مواعید دنیا اور آخرت دونوں ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ دنیا میں جو عذاب آتا ہے وہ مجموعہ عذاب کا بعض ہی ہوا کرتا ہے۔ اس لئے یہ مومن اپنی قوم فرعونیوں کو کہتا ہے کہ اگر یہ موسیٰ سچا ہوا تو تم کو دنیا ہی میں وہ عذاب جو دنیا کے متعلق ہے پہنچ جائے گا۔ آخرت کا عذاب آخرت میں ہو گا۔ واللہ میرے بدن پر رعشہ ہو جاتا ہے جب میں سنتا ہوں کہ قادیانی مشن کے لوگ اس کے بھی قائل ہیں کہ خدا کے وعدے غلط ہوا کرتے ہیں یا بقول ان کے ملتوی یا ٹل جاتے ہیں پھر ایسے خدا کا کیا اعتبار کہ بندوں سے جو نیک کاموں پر انعام دینے کے وعدے کرتا ہے وہ پورے نہ کرے اور ایسے الہامیوں کا کیا اعتبار ؟ ۔ آہ ! حکیم صاحب کو شائد خبر نہیں کہ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ ہوتا ہے جس حال میں مرزا قادیانی خود مانتے ہیں کہ :
”بعض خواب اور الہام بدکاروں حرامکاروں بلکہ فاحشہ عورتوں کے بھی سچے ہو جاتے ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ ص ٤٨‘ خزائن ج ١٧ ص ١٦٧)
تو جس صورت میں سچے الہامیوں بلکہ نبیوں کے الہامات کا حال بھی یہی ہو کہ بعض سچے اور بعض غلط پھر ان حرامکاروں اور سچے نبیوں میں معاذ اللہ فرق ہی کیا رہا؟ ۔ انا للہ
ناظرین ! آپ حیران ہوں گے کہ قادیانی مشن کی کیسی دلیری ہے کہ حضرات انبیاء پر بھی یہ جرات سے ایسی بات کہتے ہیں۔ میں اس کی وجہ آپ لوگوں کو بتاؤں :
ایک بڑھیا عورت کبڑی تھی۔ اس سے کسی نے پوچھا بڑی بی ! تو چاہتی ہے کہ تو اچھی ہو جائے یا چاہتی ہے کہ اور عورتیں بھی تیری طرح کبڑی ہو جائیں۔ اُس نے بڑی
قابلیت سے جواب دیا کہ میں تو یہی چاہتی ہوں کہ سب میری طرح ہو جائیں تاکہ میں بھی ان کی ویسی ہی ہنسی اڑاؤں جس طرح یہ مجھ پر ہنستی ہیں۔ یہی حال مرزا قادیانی اور حکیم صاحب کا ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ سلسلہ رسالت اور خاندان نبوت پر بھی وہی الزام لگایا جائے جو ہم پر لگایا جاتا ہے تاکہ یہ کہہ سکیں کہ ہم بھی تو آخر اسی سلسلہ کے ایک فرد ہیں مگر نہیں جانتے :
بآں کش تف زند ریشش بسوزد
حکیم صاحب ! سنئے ہمارا خدا آپ کے خیالات کی یوں تردید کرتا ہے : ”فلا تحسبن الله مخلف وعده رسله ان الله عزیز ذوانتقام . ابراہیم ٤٧“ ”خدا کو اپنے رسولوں کے ساتھ وعدہ خلاف ہر گز مت سمجھو۔ اللہ تعالیٰ بڑا غالب بدلہ لینے والا ہے۔“
نکتہ تفسیریہ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نفی بصیغہ نون ثقیلہ فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو وعدہ خلافی کرنے والا خصوصاً حضرات انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہرگز خیال مت کرو۔ یہ کہہ کر فرمایا اللہ غالب ہے اس کا کیا تعلق ؟ ۔ اس کا تعلق یہ ہے کہ وعدہ خلافی کرنا عاجزوں کا کام ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس کی علت کی طرف اشارہ کر کے اپنے اندر اس کی نقیض کا ثبوت دیا ہے۔ اس لئے فرمایا میری ذات تو اس ضعف اور کمزوری سے پاک ہے۔ میں تو سب پر غالب بلکہ سب سے بدلہ لینے پر قادر ہوں۔ پھر میں کیوں وعدہ خلافی کروں۔ اس سے ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ کو وعدہ خلاف سمجھنا کفر ہے کیونکہ وعدہ خلافی مستلزم ہے ضعف اور کمزوری کو۔ جس سے خدا کی شان بلند ہے۔
حکیم صاحب کا ایک سوال ہنوز باقی ہے جس کو وہ اپنے خیال میں بہت ہی مشکل جانتے ہیں۔ فرماتے ہیں :
”ہم آپ کے کلیہ کو تسلیم کرلیں گے۔ اگر آپ حدیبیہ یا ارض مقدس کے وعدہ موسوی یا مسیح علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے متعلق اس زمانہ کے کفار کی شہادتیں پیش کرو کہ انہوں نے ان پیشگوئیوں کے وقوع پر اعتراف کر لیا تھا۔“
(آئینہ حق نما ص ٩٩)
اس سوال کے تین حصے ہیں واقعہ حدیبیہ واقعہ موسوی واقعہ عیسوی۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں۔ اس لئے ہم تو اسلامی کتابوں ہی سے جواب دیں گے۔ حدیبیہ کا واقعہ اسلامی ہے جس کا اصل قصہ یہ ہے۔
آنحضرت ﷺ نے خواب دیکھا کہ میں کعبہ شریف کا طواف کرتا ہوں۔ ہنوز مکہ شریف فتح نہ ہوا تھا کہ آنحضور علیہ السلام نے شوقیہ بطور خود سفر کی تیاری کر دی جب مقام حدیبیہ قریب مکہ کے پہنچے تو کفار مکہ نے داخل مکہ ہونے سے روکا۔ آخر کار معاہدہ ہوا کہ آئندہ سال ہم مسلمان آئیں گے۔ چنانچہ آئندہ سال گئے اور حسب مضمون خواب باطمینان خاطر طواف کیا۔ قرآن شریف کھلے الفاظ میں اس کی تصدیق کرتا ہے :
”لقد صدق الله رسوله الرؤيا بالحق ، فتح ٢٧“ ”خدا نے اپنے رسول کا سچا خواب بالکل سچ کر دیا۔“
ناظرین ! جس مضمون کو قرآن مجید سچا کہے کسی ایماندار مسلمان کی جو قرآن مجید کو کلام الہی مانتا ہو شان ہے کہ اس کو غلط کہہ سکے ؟ : ”الا من سفه نفسه“ ۔ اس کا جواب یہی ہے کہ قرآن مجید نے اس کی تصدیق کی ہے اور بس!
ہاں ! اگر یہ سوال کھٹکتا ہو کہ جس سال حضور ﷺ پہلے تشریف لے گئے اسی سال کیوں نہ پورا ہوا۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ حضور جو تشریف لے گئے تو از خود شوقیہ لے گئے خواب اور الہام کا مضمون یہ نہ تھا کہ طواف اسی سال ہو جائے گا۔ اس کا فیصلہ حضور کی زندگی ہی میں ہو چکا ہے جب بعض صحابہ کرام نے ولولہ شوق میں کچھ کہا تو دوسروں سے جواب دیا گیا حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اسی سال ہم کر لیں گے ؟ ۔ نہیں۔
(زاد المعاد)
ارض مقدس کا وعدہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوا تھا وہ خاص طور پر
حضرت موسیٰ سے نہ تھا بلکہ بنی اسرائیل سے تھا۔ وہ بھی کوئی مؤقت اور محدود نہ تھا بلکہ عام تھا جس کی بابت حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کو شوق دلاتے رہے لیکن جب انہوں نے حسب تعلیم موسوی تیاری نہ کی تو ارشاد خداوندی پہنچا :
”فانها محرمة عليهم اربعين سنة يتيهون فى الارض فلا تأس على القوم الفاسقين . مائده ٢٦“
اب وہ ارض مقدس ان کو چالیس سال تک نہ ملے گی۔ اس مدت کے اندر اسی زمین میں پھریں گے پھر تو ان بد معاشوں کے حال پر افسوس نہ کیجئو۔
مضمون صاف ہے کیا کوئی ایماندار اس کو خلاف وعدہ کہے گا ؟۔ ہر گز نہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے متعلق معلوم نہیں آپ کے دل میں کیا ہے۔ اے کاش ! آپ کوئی مثال پیش کر کے اسلامی شہادت سے اس کا ثبوت چاہتے تو بتلایا جاتا ایسے مجمل بلکہ مہمل سوال کا جواب کیا دیا جا سکتا ہے جو آپ کر رہے ہیں جب ہم بشہادت قرآن مجید ثابت کر چکے کہ خدا تعالیٰ جو اپنے رسولوں کو اطلاع دیتا ہے وہ ہر گز خلاف نہیں ہو سکتی تو اب کسی لغو شہادت کی حاجت کیا ؟ :
اینست جوابش کہ جوابش ندہی
ایک اور طرز سے
یہی اس پیشگوئی میں تناقض ہے۔ مرزا قادیانی نے آتھم کا رجوع تو عین جلسہ مباحثہ ہی میں ثابت کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
”اس (آتھم) نے عین جلسہ مباحثہ میں ستر معزز آدمیوں کے روبرو آنحضرت ﷺ کو دجال کہنے سے رجوع کیا اور نہ صرف یہی بلکہ اس نے پندرہ مہینے تک اپنی خاموشی اور خوف سے اپنا رجوع ثابت کر دیا ۔ “
(کشتی نوح ص ٦ خزائن ج ١٩ ص ٦)
عبارت مذکورہ بالا سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آتھم نے جلسہ مباحثہ ہی میں وہ رجوع کر لیا تھا جس کے کرنے پر اسے ہاویہ سے بچ جانا تھا مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے باوجود اس کے رجوع کے اس پر رحم نہ کیا اور ناحق اس کو ہاویہ میں بھی ڈال دیا جیسا کہ انوار اسلام صفحہ ٧٥ خزائن ج ٩ ص ٧٥ کی عبارت منقولہ ناظرین دیکھ چکے ہیں۔ پہلی طرز تناقض میں تو ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ آتھم کا ایک ہی فعل یعنی گھبرانے اور سفر کرنے کو مرزا قادیانی رجوع بتلاتے ہیں اور اسی کو ہاویہ قرار دیتے ہیں جو حقیقی تناقض ہے ، جس میں موضوع بھی واحد ہے مگر اس طرز میں یہ نہیں۔ اس میں فعل دو ہیں یعنی بقول مرزا قادیانی دجال کہنے سے تو اس کا رجوع ہے اور اپنی حفاظت کے لئے سفر کرنا اس کا ہاویہ ہے۔ (واہ رے روحانی مسیح تیرا سب کچھ ہی روحانی ہے) جس پر ایک ادنیٰ سمجھ بوجھ کا آدمی بھی سوال کر سکتا ہے کہ اگر آتھم نے جلسہ ہی میں رجوع کر لیا تھا تو پھر وہ ہاویہ سے کیوں نہ بچا رہا۔ حالانکہ بقول مرزا قادیانی وہ پندرہ مہینوں تک اس رجوع پر قائم بھی رہا جیسا کہ آپ مرقومہ بالا عبارت لکھ چکے ہیں۔
حکیم صاحب نے اس طرز کا کوئی جواب نہیں دیا۔
ایک اور سوال : بھلا مرزا قادیانی اگر آتھم نے جلسہ ہی میں ستر آدمیوں کے سامنے دجال کہنے سے توبہ کی تھی اور یہی اس کا رجوع تھا اور اسی بنا پر پیشگوئی بھی تھی تو پھر آپ نے اسی وقت اپنی سچائی اور مسیحائی کا ثبوت کیوں نہ دیا۔ کیوں ناحق اس روز بد کا انتظار کیا جس کا واہمہ گزرنے سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں جس کا مختصر نقشہ یہ تھا :
نہ دیکھی تونے نکل کر چھٹی ستمبر کی
اور کیوں ناحق طول طویل اشتہارات میں فضول جھگڑا بڑھایا اور قسم تک نوبت پہنچائی کیوں نہ انہی ستر آدمیوں کو گواہی میں پیش کر دیا جن کے روبرو اس نے رجوع یا توبہ کی
تھی بلکہ اس وقت تو اس واقعہ کا ذکر تک نہ کیا اور آج نو دس سال کے بعد یہ منصوبہ گھڑ لیا۔ مرزا قادیانی کی ہوشیاری کی بھی کوئی حد ہے؟ پندرہ ماہ میں جب آتھم نہ مرا تو اس کو کبھی رجوع بحق سے ملزم ٹھہرایا اور کبھی ہاویہ میں پہنچایا اور پیشگوئی کے بعد ایک سال دس ماہ مرا تو بھی اپنی پیشگوئی کی تصدیق بتاتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
”چونکہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور فوت ہوگئے ہیں۔ اس لئے ہم قرین مصلحت سمجھتے ہیں کہ پبلک کو وہ پیشگوئیاں دوبارہ یاد دلادیں جن میں لکھا تھا کہ آتھم صاحب اگر قسم نہیں کھائیں گے تو اس انکار سے جو ان کا اصل مدعا ہے یعنی باقی ماندہ عمر سے ایک کافی حصہ ا۔ پانا یہ ان کو ہرگز حاصل نہیں ہو گا بلکہ انکار کے بعد ان کی بے باکی کی علامت ہے جلدی اس جہاں سے اٹھائے جائیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔“
(انجام آتھم ص ١ خزائن ج ١١ ص ١)
کیا ہی عجیب منطق ہے۔ کیا مرزا قادیانی آپ نے کہیں حکماء کا قول (٢۔ لولا الحمقا لبطلت الدنیا) تو نہیں سن لیا کہ تمام جہاں کے لوگوں کو احمق ہی سمجھ بیٹھے ہیں۔ غضب کی بات ہے کہ یہ کیا پیشگوئی ہے کہ ایک بوڑھے عمر رسیدہ کی بابت جو پندرہ ماہ میں بمشکل بچا ہو ایسی بے تعین پیشگوئی کی جائے کہ وہ جلد مر جائے گا پھر وہ کیوں صحیح نہ ہو۔ پچھلے دنوں ایک پنڈت جی نے مرزا قادیانی کی طرح چند پیشگوئیاں مشتہر کی تھیں۔ تو اخبار جامع العلوم مراد آباد کے زندہ دل ایڈیٹر نے بھی پنڈت جی کے حق میں مقابلہ کی چند پیشگوئیاں جڑ دی تھیں جن میں سے ایک دو یہ تھیں کہ پنڈت جی روٹی کھائیں گے تو لقمہ سیدھا اتر کر ان کے حلق سے اتر کر معدے میں جا کر گرے گا۔ صبح پخانہ جائیں گے تو پخانہ کے ساتھ ہی ان کا پیشاب بھی نکل جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ۔
ا۔ بالکل جھوٹ اس کا یہ مدعا نہ تھا۔
٢۔ اگر احمق نہ ہوں تو دنیا برباد ہو جائے۔
ٹھیک اسی طرح مرزا قادیانی کی پیشگوئی ہے کہ عنقریب آتھم مر جائے گا۔ غالباً اگر آتھم کئی سال بھی زندہ رہتا تو مرزا قادیانی اس پیشگوئی میں جھوٹے نہ ہوتے اور گمان غالب ہے کہ آیت : "انھم یرونہ بعیدا ونراہ قریبا ٠ معارج ٦" پڑھ دیتے ایسی پیشگوئی پر بحث کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے کہ ہم کیا کہیں جس شخص نے : "١۔ فاصنع ماشئت" ہی پر عمل کرنے کا عزم بالجزم کر لیا ہو اور جس کا یہ قول ہو : "قاضی نے ہرائی میں نہ ہاری" اس سے ہم کیونکر پورے اتر سکتے ہیں لیکن اتنی گزارش کرنے سے نہیں رک سکتے کہ جس صورت میں قسم کھانے پر آتھم کو ایک سال تک مستقل مہلت دیتے تھے تو بغیر قسم کھائے اس سے بھی کم مدت بتائی گو صاف لفظوں میں اس سے کم نہیں کہی مگر فحوائے عبارت سے یہی مفہوم ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کے الفاظ ملاحظہ ہوں :
"اگر (آتھم صاحب) قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں۔"
(اشتہار انعامی چار ہزار ص ١١‘ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٠٦‘ آئینہ حق نما ص ١١٢)
اس عبارت کے نتیجے میں حکیم صاحب لکھتے ہیں : "انہیں (آتھم) کو بتایا کہ دوسری صورت (قسم نہ کھانے) میں تو ایک سال سے بھی کم میں فوت ہو جائے گا۔"
(آئینہ حق نما ص ١١١)
حکیم صاحب ! بہت خوب۔ آئیے اب تاریخ ملا کر دیکھیں :
حکیم صاحب فرماتے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اشتہار انعامی چار ہزار میں صاف لکھ دیا تھا کہ در صورت قسم نہ کھانے کے آتھم سال سے بھی کم مدت میں فوت ہوگا۔ (آئینہ ص ١١١) بہت خوب آئیے آپ کی اور آپ کے پیر و مرشد کی راست گوئی و راست بازی ہم اسی
ا۔ بے حیا باش ہر چہ خواہی کن۔
سے بتاتے ہیں۔
جس اشتہار کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ ٢٧ اکتوبر ١٨٩٤ء کا مطبوعہ ہے اور آتھم کی موت ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو ہے۔ (دیکھو رسالہ انجام آتھم ص ١، خزائن ج ١١ ص ١) آئیے پرائمری کے کسی لڑکے سے حساب کرائیں کہ ٢٧ اکتوبر ٩٤ء سے ٢٧ جولائی ٩٦ء تک ایک سال نو ماہ ہوتے ہیں یا کم؟۔ حکیم صاحب! کس منہ سے آپ کہتے ہیں کہ آتھم کی موت حسب پیشگوئی واقعہ ہوئی۔ کیا قادیان میں حساب داں کوئی نہیں؟ آئے جناب ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے جملہ اعوان وانصار مل کر بھی (ولوکان بعضهم لبعض ظهیرا) زور لگادیں تو یہ ٹیڑھی کل سیدھی نہ ہوگی۔ دیکھئے آپ کے پیر و مرشد بلکہ نبی اور رسول نے کیا کیا گل کھلائے جب دیکھا کہ پندرہ ماہ کی میعاد میں تو آتھم مرا نہیں۔ حالانکہ اقرار یہی تھا اور پیشگوئی محدود تھی۔ تاہم آپ (مرزا قادیانی) فرماتے ہیں اور کیا ہی خوب فرماتے ہیں :
”اگر کسی کی نسبت یہ پیشگوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہو جائے گا۔ پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسویں مہینے مجذوم ہو جائے اور ناک ا۔ اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہو گا کہ یہ کہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقع پر نظر چاہئے۔“
(حقیقت الوحی حاشیہ ص ١٨٥، خزائن ج ٢٢ حاشیہ ص ١٩٣)
ا۔ سلطان القلم کی اردو کیا فصیح ہے۔
حکیم صاحب! کیا یہ ٹھیک ہے یا محض چالاکی؟ انصاف سے کہئے گا۔ آہ! کس قدر جرأت اور حیا سے دور ہے کہ ایک بات کو بطور پیشگوئی محدود الوقت کے شائع کیا جائے جب وہ پوری نہ ہو تو مجذوموں کی طرح عذر لنگ کیا جائے۔ اے جناب پندرہ کی بجائے بیس ماہ نہیں بلکہ پندرہ کی بجائے (٣٧) ماہ میں مرا ہو۔ یعنی اصل پیشگوئی سے زائد میعاد اوپر گزری ہو تو اس صورت میں بھی آپ پیشگوئی کی صداقت ہی گاتے جائیں گے؟۔ (شاید)
حکیم صاحب! حکیموں سے ایسی غلطی کی نظیر سابق زمانہ میں نہیں ملتی :
یہ تیرے زمانہ میں دستور نکلا
جہاں تک ہم سے ہو سکا اس پیشگوئی کے متعلق ہم نے بہت ہی اختصار سے کام لیا ورنہ ستمبر ١٨٩٢ء سے تو مرزا قادیانی کا کوئی رسالہ یا اشتہار اس کے ذکر سے خالی نہیں لیکن شکر ہے کہ بجز چند مقالات کے جن میں پچھلی تحریر پہلی تحریر سے متعارض اور متضاد ہے باقی کل رسائل اور اشتہارات قریب قریب ایک ہی مضمون سے بھرے پڑے ہیں جو سلطان القلم کی سلطانیت پر دلیل قاطع اور برہان ساطع ہے :
بندہ نواز! آپ کسی کے خدا نہیں
اس پیشگوئی نے مرزا جی کو ایسا حیران کر رکھا ہے کہ بلا مبالغہ انہیں کہتے کہتے یہ تمیز بھی نہیں رہتی تھی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ باوجود سالہا سال گزر جانے کے وہ سخت حیرانی میں رہے۔ رسالہ ہذا کے طبع اول سے بعد کی تحریریں پہلی تحریروں سے بھی زیادہ مزیدار ہیں۔ آپ لکھتے ہیں :
”پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ فریقین میں سے جو شخص اپنے عقیدہ کی رو سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو وہ (آتھم) مجھ سے پہلے مر گیا۔“
(کشتی نوح ص ٦ خزائن ج ١٩ ص ٦)
کیا ہی ناواقفوں کی آنکھوں میں مٹی کا سرمہ ڈالا ہے۔ مرزا جی کی اس بات کے تو ہم بھی قائل ہیں کہ پھنسوں کو پھنسائے رکھنے میں آپ کو کمال تھا۔ دیکھئے تو کس ہوشیاری اور صفائی سے لکھ رہے ہیں کہ پیشگوئی میں یہ بیان تھا کہ جھوٹا پہلے مرے گا۔ ناظرین ورق الٹ کر پیشگوئی کے الفاظ بغور پڑھیں کہ ان میں کوئی بھی ایسا لفظ ہے جس کے یہ معنے یا اشارہ ہو کہ جھوٹا سچے سے پہلے مرے گا۔ بڑے مزے کی بات ہے کہ پیشگوئی کے متصل کی عبارت جس
میں موت کا لفظ ہے۔ اس کی توجیہ تاویل کی گئی کہ ہماری تشریح تھی۔ اصل الہام کے لفظ نہ تھے۔ اگر وہ غلط ہو گئی تو بلا سے ہمارا فہم غلط ہو تو ہو الہام غلط نہ ہو۔ بقول شخصے ”جان بچی لاکھوں پائے“........... مگر یہاں پر کس آب و تاب سے فرما رہے ہیں کہ پیشگوئی میں یہ بیان (ناظرین بیان کے لفظ کو دیکھئے اور مرزا جی کے ہاتھ کی صفائی کی داد دیجئے) تھا کہ جھوٹا سچے سے پہلے مرے گا۔ گویا پندرہ مہینوں کی کوئی تحدید ہی نہیں۔ دراصل تقدم تاخر پر مدار ہے حالانکہ پیشگوئی میں پندرہ مہینوں کی تعداد اور تحدید ہے۔ چہ خوش :
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
اخیر اس بحث کے ہم اپنا خیال مرزا جی کی نسبت کچھ ظاہر نہیں کرتے۔ بلکہ انہی کے فرمودہ پر اعتقاد رکھتے ہیں :
”اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔ وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا جائے...................................... تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی قرار دو۔“
(جنگ مقدس ص ٢١١، خزائن ج ٦ ص ٢٩٣)
مرزاجی کے مریدو! دیکھو ہم ان کے کیسے پکے معتقد ہیں کہ جن لفظوں میں انہوں نے ہم کو اعتقاد رکھنا سکھایا ہے ہم اس پر ایسے جمے ہیں کہ بس بس۔ کیا کوئی آپ کے مصنوعی مریدوں میں ہے جو ہمارا مقابلہ کرے؟۔ یاد رکھو :
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رخ زیبا لے کر
دوسری پیشگوئی پنڈت لیکھرام کے حق میں
اس پیشگوئی کے متعلق اشتہار ٢٠ فروری ١٨٩٣ء مندرجہ ذیل ہے :
لیکھرام پشاوری کی نسبت ایک پیشگوئی
”واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔ اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہ کی طرف سے یہ الہام ہوا : ” عجل جسد له خوار له نصب وعذاب .“ یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بد زبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کو مل رہے گا اور اس کے بعد آج جو ٢٠ فروری ١٨٩٣ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ٢٠ فروری ١٨٩٣ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بد زبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں
رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ١؎ ہے۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں۔“
(سراج منیر ص ١٤، ١٤ خزائن ج ١٢ ص ١٥، ١٥)
اس اشتہار میں صاف مرقوم ہے کہ پنڈت لیکھرام پر کوئی خارق عادت عذاب نازل ٢؎ ہوگا۔ مذکورہ عبارت ناظرین ملاحظہ فرمالیں کہ ان میں کوئی لفظ بھی ایسا ہے کہ اس سے یہ مفہوم ہو سکے کہ لیکھرام کے مرنے کی پیشگوئی ہے بلکہ خارق عادت عذاب کی ہے جو زندگی کا ثبوت ہے۔ موت اور خصوصاً ایسی موت کہ جو پنڈت لیکھرام پر آئی ہیبت ناک عذاب کہنا مرزا جی کا کام ہے۔ پس اس اشتہار کے مطابق تو فیصلہ بالکل آسان ہے کہ پنڈت لیکھرام بموجب تحریر مرزا جی کسی خارق عادت عذاب میں مبتلا نہیں ہوا بلکہ ایک چھرے سے مرا ہے۔ ایسی واردات عموماً ہوتی ہیں۔ یہ نہ تو کوئی ہیبت ناک عذاب ہے اور نہ خرق عادت موت۔ اس لئے یہ موت پیشگوئی ہذا کی مصداق نہیں۔ ہاں مرزا جی نے رسالہ کرامات الصادقین میں ایک الہام لیکھرام کی موت کا بھی درج ہوا ہے جس کے مختصر الفاظ یہ ہیں :
”فبشرنی ربی بموتہ ٣؎ فی ست سنۃ“ یعنی خدا تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔“
(کرامات الصادقین ص ١٥، خزائن ج ٧ ص ١٦٣)
اس کا جواب بالکل سہل ہے کہ اصل الہام میں جو لیکھرام کی بابت شائع ہوا ہے موت کا لفظ نہیں بلکہ صرف خرق عادت عذاب کا ذکر ہے۔ اگر کہیں کہ یہ الہام بھی تو میرا ہی
١- ہمارا بھی اس پر صاد ہے۔
٢- خارق عادت وہ کام ہوتا ہے جو عام طور پر نہ ہو جسے معجزہ کہتے ہیں۔
٣- ست سنۃ عربی علم نحو کی رو سے غلط ہے۔ سنۃ کے بجائے سنین چاہئے۔
ہے پھر یہ کیا انصاف ہے کہ میرے ایک الہام کو دوسرے الہام کی تفسیر یا توضیح نہ بنایا جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عبارت الہام نہیں ہے بلکہ الہام کی حکایت بالفاظ دیگر ہے۔ اصل الہام جو اس حکایت کا محکی عنہ ہے اس میں موت کا ذکر نہیں۔ پس وہی مقدم ہے۔
اور اگر ہم اس عبارت مندرجہ کرامات الصادقین کو انہی معنے میں سمجھیں جن میں مرزا جی اس کو لے رہے ہیں کہ یہ بھی الہام یا الہام کی تشریح ہے تو بھی کچھ شک نہیں کہ یہ موت جو چھ سال کے اندر ہونے والی تھی اسی خرق عادت رعب دار اور ہیبت ناک عذاب سے ہونی چاہئے تھی۔ کیونکہ پہلے اشتہار میں یہ قید لگائی گئی ہے جو کسی طرح تبدیل نہیں ہو سکتی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ لیکھرام ایک ایسی موت سے مرا ہے جس سے عموماً لوگ مرتے ہیں اور ان کی موت کوئی خرق عادت نہیں جانتا۔ اور تو اور ایک زمانہ میں کالے پانی میں وائسرائے ہند اسی چھری کے شکار ہوئے تھے۔ تھوڑے روز ہوئے شہر لاہور کے انار کلی بازار میں ایک ادنیٰ سے فقیر نے ایک لمحہ میں ایک انگریز کا چھری سے خون کر دیا۔ چند ایام کا عرصہ ہوا ہے کہ ہمارے بازار میں لوگوں کے چلتے پھرتے ایک ہندو نوجوان لڑکے کا اس کے کسی حریف نے چھری سے کام تمام کر دیا۔ پھر لطف یہ کہ ہاتھ بھی نہ آیا۔ راولپنڈی اور پشاور میں تو آئے دن ایسی وارداتیں دن دہاڑے ہوتی ہیں۔ ١٩٢٦ء میں مقام دہلی آریوں کے لیڈر سوامی شردہانند دن دہاڑے قتل ہوئے۔ غرض اسی قسم کے واقعات سینکڑوں نہیں ہزاروں پولیس کی رپورٹوں میں مل سکتے ہیں۔ مگر لطف یہ ہے کہ ایسی موتوں کو کوئی بھی خرق عادت نہیں کہتا۔
مرزائیو خرق عادت کے یہی معنے ہیں کہ اس قسم کے واقعات ہر روز ہوتے ہوں اگر یہی معنے ہیں تو ہم مانتے ہیں کہ :
”تمہارا نبی بھس تیرانے اور لوہا ڈبونے میں کامل ہے۔“
مرزا جی نے اس پیشگوئی کے متعلق ایک اور کمال کیا ہے جس میں ہمیں ایک
بزرگ ١؎ کے کلام کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا جی قرآن شریف کے معانی اور مطالب ہی کو نہیں بلکہ کتب سابقہ کو بھی اپنی من گھڑت تاویلوں کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
” یہ الہام کہ : ” عجل جسد له خوار له نصب وعذاب ،“ یعنے لیکھرام گئوسالہ سامری ہے اور اسی گئوسالہ سامری کی طرح اس کو عذاب ہوگا یہ نہایت پر معنی الہام ہے جو گئوسالہ سامری کی مشابہت کے پیرایہ میں نہایت اعلیٰ اسرار غیب کے بیان کر رہا ہے۔ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ گئوسالہ سامری یہودیوں کی عید کے دن میں ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا جیسا کہ توریت خروج باب ٣٢ آیت ٥ سے ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ ہے : ”ہارون نے یہ کہہ کر منادی کی کہ کل خداوند کی عید ہے۔“ سو ایسا ہی اسلامی عید کے دن کے قریب یعنے ٦ مارچ ١٨٩٧ء کو لیکھرام قتل ہوا ۔“
(استفتاء (اردو) ص ١١‘ خزائن ج ١٢ ص ١١٩)
اس بیان میں مرزا جی نے یہ صفائی کی ہے کہ توریت کے حوالہ سے ثابت کرنا چاہا ہے بلکہ اپنے خیال میں کر ہی دیا ہے کہ گئوسالہ سامری عید یہود کے روز مارا گیا مگر جب مرزا جی کے بتائے ہوئے مقام کو دیکھتے ہیں تو وہاں اس کا ذکر بھی نہیں پاتے ۔ بلکہ جس عید کو آپ نے گئوسالہ سامری کے ذبح ہونے کا دن لکھا ہے وہ دن اس کی پرستش اور سوختنی قربانیوں کے چڑھاوے کا تھا۔ اس سے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو ابھی پہاڑ پر تھے خدا تعالیٰ کے بتلانے سے خبر ہوئی تو وہ آئے ۔ ان کے واپس آنے میں بھی کئی روز لگ گئے ۔ چنانچہ مقام مذکور کی کسی قدر عبارت ہم نقل کر کے باقی کے لئے ناظرین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ خود ہی مقام مذکور یعنے خروج ٣٢ باب کے فقرہ نمبر ٤ سے اخیر تک پڑھ جائیں ۔ وہ یہ ہے : ”اس نے ان کے ہاتھوں سے لیا اور ایک بچھڑا ڈھال کر اس کی صورت حکاکی ہتھیار سے درست کی اور انہوں نے کہا کہ اے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک
١۔ مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم کہا کرتے تھے مرزا دہریہ ہے۔
سے نکال لایا اور جب ہارون نے یہ دیکھا تو اس کے آگے قربان گاہ بنائی اور ہارون نے یہ کہہ کر منادی کی کہ کل ١۔ خداوند کے لئے عید ہے اور وے صبح کو اٹھے اور سوختنی قربانیاں چڑھائیں اور سلامتی کی قربانیاں گذرانیں اور لوگ کھانے پینے کو بیٹھے اور اٹھے تب خداوند نے موسیٰ کو کہا اتر جا۔ کیونکہ تیرے لوگ جنہیں تو مصر سے چھڑا لایا خراب ہو گئے ہیں وہ اس راہ سے جو میں نے انہیں فرمائی جلد پھر گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے لئے ڈھالا ہوا بچھڑا بنایا اور اسے پوجا اور اس کے لئے قربانی ذبح کر کے کہا کہ اے اسرائیل یہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے چھڑا لایا۔ پھر خدا نے موسیٰ سے کہا کہ میں اس قوم کو دیکھتا ہوں کہ ایک گردن کش قوم ہے۔ خروج ٣٢ باب کی ٤ سے ١٠ تک ٢۔“
یہ عبارت اپنا مطلب بتانے میں صاف ہے مگر نہیں معلوم مرزا جی کا قرآن شریف پر تو کوئی حق شفعہ بھی تھا بائبل پر کیا ہے؟ نہیں نہیں میں نے غلط کہا آخر مسیح نے بھی تو آپ کی خبر بتائی ٣۔ ہے؟۔ مرزا جی کے مقربو! اس علم سمجھ و دیانت پر بھی ان کو مجدد اور حکم مانتے ہو : ”ام تأمركم احلامكم بهذا ام انتم قوم طاغون ، طور ٣٢“ اگر ہم اس فقرہ ”عجل جسد لہ خوار“ کو آپ کی تکذیب پر گواہ بنانا چاہیں تو بنا سکتے ہیں کیونکہ باعتبار صریح مفہوم اور عرف عام اہل اسلام اس سے سمجھا جاتا ہے کہ لیکھرام بقر عید کے دنوں میں قتل ہو گا مگر وہ ہوا تو عید الفطر کے دنوں میں جو گائے اور گوسالے کے ذبح ہونے کا دن ہی نہیں۔
١۔ ناظرین! یہی عبارت قادیانی مسیح نے غلط ملط کر کے نقل کی ہے بغور دیکھئے۔
٢۔ حکیم نور الدین قادیانی نے اس عبارت سے چند سطریں آگے کی اور نقل کر کے ہم پر تحریف کا الزام لگایا ہے اور وجہ تحریف کچھ نہیں بتائی۔ حیرانی ہے ایسے مولانا اور بے ثبوت الزام۔
٣۔ دیکھو انجیل متی باب ٢٤ آیت ١١۔
اس مقام کو مرزا قادیانی نے اپنے حق میں مان چکے ہیں دیکھو کشتی نوح ص ٥ خزائن ج ١٩ ص ٥ ۔ ناظرین مقام مذکور ملاحظہ کر کے فیصلہ کریں کہ ہماری مراد صحیح ہے یا مرزا قادیانی کی۔
مرزاجی! ہاتھ لا استاد۔ کیوں کیسی کہی !
مرزا جی نے اس پیشگوئی کے متعلق کئی ایک الہام ایسے بتائے ہیں جن کا پہلے سے ان کو بھی علم نہ تھا۔ جن کی تمثیل بالکل اس چالاک عطار کی سی ہے جو ایام بیماری میں ایک ہی بوتل سے ہر ایک قسم کے شربت دیا کرتا تھا۔ گو چند شربتوں کو وہ پہلے سے ذہن میں سوچ لیتا ہو گا کہ یہ یہ شربت اس بوتل سے نکالوں گا مگر بعض خریدار ایسے شربتوں کے بھی آجاتے ہوں گے جو اس کے ذہن میں اس وقت نہ ہوتے ہوں گے۔ لیکن وہ عیار اسی بوتل سے سب کو نباہ دیتا تھا۔ یہی حال مرزا جی کی پیشگوئیوں کا ہے۔
آپ فرماتے ہیں :
”اگر چہ خدا تعالیٰ کی کلام کے باریک بھید جاننے والے گئوسالہ سامری کا نام رکھنے سے اور پھر اس عذاب کا ذکر کرنے سے سمجھ سکتا ہے کہ ضرور ہے کہ لیکھرام کی موت بھی اپنے دن کے لحاظ سے گئوسالہ سامری کی تباہی کے دن سے مشابہ ہو گی۔ مگر پھر خدائے تعالیٰ نے اپنے الہام میں اس اجمال پر اکتفا نہیں کیا بلکہ صریح لفظوں میں فرما دیا کہ ستعرف یوم العید والعید اقرب یعنی لیکھرام کا واقعہ قتل ایسے دن میں ہو گا جس سے عید کا دن ملا ہوا ہو گا اور یہ پیشگوئی ہے کہ عید کے دن کے قریب لیکھرام کی موت ہو گی۔“
(استفتاء ص ١٢ خزائن ج ١٢ ص ١٢٠)
مرزا جی کے لنگر کی روٹیاں کھانے والے یا ان کے مرید تو کاہے کو پوچھیں گے کیونکہ ان کا تو اصول ہی یہ ہے :
رو بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما
مگر ہم نے تو :ا۔ " یاتونکم ببدع من الحدیث بمالم تسمعوا انتم ولا ابائکم ، درمنثور ج ٦ ص ٥١ " کی حدیث سنی ہوئی ہے۔ اس لئے جب تک بفضلہ تعالیٰ ہم مرزا جی کی بوتل کی تمام شربتوں کا پتہ اور ماہیت اور اجزاء معلوم نہ کرلیں ہمیں کیونکر چین ہو۔
والعید اقرب یہ مصرعہ جس قصیدے کا ہے وہ کرامات الصادقین میں مرقوم ہے جس میں لیکھرام کا کہیں نام و نشان بھی نہیں بلکہ اس کے لکھتے وقت مرزا جی کو بھی اس کا خواب و خیال نہ ہوگا۔ ہم ناظرین کی تسلی اور مرزا قادیانی کی بوتل کی پڑتال کرنے کو اس قصیدے میں سے چند اشعار نقل کرتے ہیں۔ جن سے اس مصرعہ کے معنے اور سیاق و سباق معلوم ہو جائیں گے :
وتکفر من ہو مومن وتونب
وآلیت انی مسلم ثم تکفر
فاین الحیا انت امرء او عقرب
الا اننی تبر وانت مذہب
الا اننی اسد وانک ثعلب
الا اننی فی کل حرب غالب
فکدنی بما زورت فالحق یغلب
وبشرنی ربی وقال مبشراً
ستعرف یوم العید والعید اقرب
ا۔ ارشاد ہے کہ اخیر زمانہ میں کذاب لوگ پیدا ہوں گے وہ ایسی باتیں تم کو سنائیں گے جو تم نے نہ تمہارے سلف نے سنی ہوں گی۔
وهذا عطاء الله والخلق يعجب
وسوف ترى انى صدوق مؤيد
ولست بفضل الله ماانت تحسب
(کرامات الصادقین ص ٥٣ خزائن ج ٧ ص ٩٦)
اشعار مذکورہ بتلارہے ہیں کہ یہ کلام کسی ایسے شخص کے جواب یا خطاب میں ہے جو مرزا کا مکفر ہے۔ یعنی خود مسلمان ہے اور مرزا کو کافر کہتا ہے۔ اس کو مرزا جی ڈانٹتے ہیں کہ :
”تو بے حیا ہے۔ بچھو ہے۔ میں نیک ہوں۔ تو ملمع ساز ہے۔ میں شیر ہوں۔ تو لومبڑ ہے۔ میں ہر ایک لڑائی میں غالب ہوں۔ مجھے خدا نے بصارت دی ہے اور کہا ہے کہ تو عید کو پہچانے گا اور عید قریب ہے۔ میرے خدا نے مجھے نعمتیں دی ہیں۔ لوگ تعجب کرتے ہیں تو دیکھ لے گا کہ میں سچا ہوں اور جیسا تیرا گمان ہے۔ ویسا نہیں ہوں۔“
اس سے آگے بڑھ کر صاف اور صریح لکھتے ہیں :
وعليك وزر الكذب ان كنت تكذب
٢۔ وهل لك من علم ونص محكم
علی کفرنا او تخرصن وتتعب
(کرامات الصادقین ص ٥٣ خزائن ج ٧ ص ٩٦)
- ١۔ تو نے ان لوگوں کو قسم کھا کر بتلایا کہ یہ فتویٰ (جو مرزا جی پر لگائے گئے ہیں)
صحیح ہیں۔ اگر جھوٹا ہے تو جھوٹ کا وبال تجھ پر ہے۔
- ٢۔ کیا تیرے پاس قطعی علم یا مضبوط نص ہمارے کفر پر ہے یا تو محض اٹکل اور
تکلف کرتا ہے۔
صاف بات ہے کہ اس قصیدے میں نہ لیکھرام کا ذکر ہے نہ آتھم کا بلکہ صریح خطاب علماء مکفرین کو ہے۔ ہاں اگر علماء مکفرین تمام کے تمام یا کم سے کم ان کے سرگروہ ہی عید کے روز شہید ہوتے تو بھی مرزاجی کو کچھ کہنے کی گنجائش ہوتی مگر یہاں تو اتنی بھی نہیں خدا کے فضل سے سرگروہ مکفرین شمس العلماء مولانا سید محمد نذیر حسین دام فیوضہ آج (دسمبر ١٩٠١ء) تک ایک سو دس برس کی عمر میں سلامت بہ کرامت موجود ہیں اور مرزاجی کو پورے اسی برس کا بھی یقینی الہام نہیں ا۔
ناظرین یہ ہے مرزاجی کی عطار کی سی بوتل جس میں سے الہامی شربت جس تاثیر اور جس مرض کا چاہتے ہیں نکال دیتے ہیں اور دل میں جانتے ہیں کہ جہان احمقوں سے خالی نہیں۔ اس پیشگوئی پر دونوں طرح سے وہ جرح بھی ہو سکتی ہے جو آتھم والی پیشگوئی پر کی گئی ہے یعنی کہ اس پیشگوئی کے لوازم نہیں پائے گئے جن کو آپ نے اس پیشگوئی کے لئے سراج منیر میں تسلیم کیا ہوا ہے کہ :
”اگر پیشگوئی فی الواقع ایک عظیم الشان ہیبت کے ساتھ ظہور پذیر ہو تو وہ خود بخود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔“
(سراج منیر ص ١٥ خزائن ج ١٢ ص ١٧)
پس اگر یہ پیشگوئی ہیبت ناک عظیم الشان نشان کے ساتھ ظہور پذیر ہوئی ہوتی تو اپنا اثر بھی ساتھ رکھتی۔ حالانکہ نہیں۔ دوم یہ کہ انبیاء کی پیشگوئیوں کی طرح اس کا بھی ظہور قطعی ویقینی نہیں ہوا کہ کسی مخالف وموافق کو شبہ نہ رہتا بلکہ اس کے کذب پر بعض لوگ قسم کھانے کو تیار تھے جن کے جواب آپ نے آج تک نہیں دیئے۔
اس پیشگوئی کے متعلق حکیم صاحب سے جو بن سکا وہ صرف یہ ہے کہ الہام میں لیکھرام کو عجل (گوسالہ) کہا گیا اور اس کے لئے خوار اور نصب کا ثبوت ہے خوار مقتول کی آواز
ا؎ آہ! آج (١٩٢٠ء میں) ہم دونوں کو نہیں دیکھتے۔
کو کہتے ہیں۔ نصب کا لفظ بھی موت بالقتل پر دلالت کرتا ہے۔ عذاب سے بھی موت ثابت ہوتی ہے۔ وغیرہ
(آئینہ حق نما ص ١٢٨)
خدا جانے قادیانی مشن دنیا کو کیا جانتا ہے۔ کیا یہ ٹھیک ہے :
عجل بچھڑے کو کہتے ہیں۔ خوار، بیل گائے اور بچھڑے کی آواز کو کہتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو قاموس، صراح، منتہی الارب، صحاح جوہری، مفردات راغب وغیرہ) نصب بھی عذاب کو کہتے ہیں اس کو بھی قتل وغیرہ لازم نہیں۔ اہل جنت کے حق میں فرمایا ہے : ” لا يمسهم فيها نصب . حجر ٤٨“ اہل جنت کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے گی۔ عذاب سے بھی قتل ثابت نہیں۔ پھر ثابت کس سے ہے؟۔
عجیب چالاکی قابل افسوس !
حکیم صاحب نے کتاب لسان العرب جلد ٥ ص ٣٢٥ کے حوالہ سے (بزعم خود) ثابت کیا ہے کہ : ”خوار کا لفظ انسان پر اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کوئی مقتول قتل ہونے کے وقت گئوسالہ کی طرح چلاتا ہے۔“
(آئینہ ص ١٢٣)
مطلب آپ کا یہ ہے کہ لیکھرام کی بابت جو عجلاً جسداً له خوار آیا ہے یہ خوار ہی قتل پر اشارہ کرتا ہے۔ کس صفائی سے پورا حوالہ دیا ہے حالانکہ کتاب مذکور میں یہ مضمون کہیں بھی نہیں حوالہ مذکور نہ ملنے کی صورت میں حکیم صاحب پر خیانت اور کذب کا الزام رہے گا اور اگر حوالہ صحیح ثابت ہو جائے تو بھی حکیم صاحب مع اپنی جماعت کے بے سمجھی کے الزام سے بری نہیں ہوں گے۔ کیونکہ مرزائی الہام میں جو خوار کا لفظ آیا ہے وہ انسان کے لئے نہیں ہے بلکہ عجل (گئوسالہ) کے لئے ہے اور عجل بطور استعارہ (مثل زید اسد) انسان (لیکھرام) کے لئے ہے۔ اے کاش ! آپ فن معانی و بیان کو ملحوظ رکھتے تو یہ غلطی آپ سے
سرزد نہ ہوتی ١۔
فیصلہ ہو گیا۔ حکیم صاحب اور آپ کے اتباع ! آئیے میں آپ سے اس بارے میں فیصلہ کر لوں بشرطیکہ آپ سیدھی راہ انصاف کو اختیار کریں۔ پس غور سے سنئے آپ نے مرزا صاحب کی کتاب سراج منیر ص ١٠ خزائن ج ١٢ ص ١٣ سے یہ عبارت نقل کی ہے :
”پنڈت لیکھرام پشاوری کی قضاء و قدر وغیرہ کے متعلق غالباً اس رسالہ میں بقید تاریخ و وقت کچھ تحریر ہو گا۔“
(آئینہ ص ١٢٧)
اس عبارت کو نقل کر کے آپ نے بڑا زور دیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں :
”خدا کے لئے غور کرو کیا اس میں صاف طور پر ظاہر نہیں کیا گیا کہ لیکھرام کی قضا و قدر اور موت فوت کے متعلق بقید تاریخ ووقت ایک پیشگوئی شائع ہو گی۔..................... لیکھرام نے دیدہ دلیری سے کہا کہ میرے حق میں جو چاہو شائع کرو۔ میری طرف سے اجازت ہے جس پر پیشگوئی ٢٠ فروری ١٨٩٣ء کو شائع ہوئی۔“
(آئینہ ص ١٢٧)
پس اب مطلع صاف ہے آپ ہم کو فروری ١٨٩٣ء والے اشتہار سے لیکھرام کی موت بقید تاریخ اور بقید وقت دکھائیں۔ ہم اس کو مان جائیں گے۔ حکیم صاحب اور خلیفہ صاحب راست بازی اس کا نام ہے کہ جو حکایت کریں اس کا محکی عنہ بھی بتلائیں یہ نہیں کہ محض دعویٰ ہی دعویٰ ہو اور ثبوت کچھ نہ ہو۔ غالباً آپ کو اشتہار مذکور کی اس عبارت پر نظر ہو گی :
”آج کی تاریخ سے جو ٢٠ فروری ١٨٩٣ء ہے یہ شخص....................لیکھرام چھ
١۔ اخبار اہل حدیث مورخہ ٢٥ جولائی ١٩١٣ء میں بذریعہ کھلی چٹھی کے حکیم صاحب سے یہ حوالہ طلب کیا تھا اس کا جواب بھی نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حوالہ مذکور دکھا ہی نہیں سکتے۔ اس مقام کی عبارت سمجھنے میں ان کو غلطی ہوئی۔ ولیس ھذا اول قارورة کسرت فی القادیان !
برس کے عرصہ کے اندر عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔“
(سراج منیر ص ١٢‘ آئینہ ص ١١٧‘ خزائن ج ١٢ ص ١٥)
مگر اے جناب ! اگر یہ اور سابقہ عبارت ملک کی عام زبان (اردو) میں ہے تو کوئی اردو دان منصف بتا سکتا ہے کہ اس عبارت کا مطلب یہ ہے جو مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ :
”لیکھرام جن کی قضاء قدر کے متعلق ......... بقید وقت و تاریخ تحریر ہوگا۔“
(اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء‘ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٩٨‘ مندرجہ آئینہ ص ١٢٧)
اس عبارت کا مطلب صاف ہے کہ جس تاریخ اور جس وقت لیکھرام کی موت واقع ہونے والی ہو گی اس تاریخ کا نام اور اس وقت کا ذکر صاف لفظوں میں ہو گا یہ نہیں کہ آج سے چھ برس تک وقت ہو گا۔ چہ خوش ! حالانکہ مرا بھی چار برس تک کیونکہ فروری ١٨٩٣ء میں پیشگوئی شائع ہوئی اور مارچ ١٨٩٧ء میں وہ فوت ہوا۔ اگر یہ خیال ہو کہ چھ سال کے اندر ہی اندر مرا چھ سے تو آگے نہیں بڑھا چاہے چار سال تک مرا تو ان کو سوچنا چاہئے کہ اگر یہی قاعدہ ہے تو چھ سال کیا دس سال کے اندر مرا بھی کہہ سکتے ہیں۔ دس کیا بیس کے اندر مرا بیس کیا ایک صدی کے اندر مرا کہئے پھر چھ ہی کی کیا خصوصیت ہے۔ خیر ہمیں اس سے مطلب نہیں چھ سال کے اندر مرا یا چار سال کے اندر مرا ہمیں تو یہ غرض ہے کہ مرزاجی کی کسی تحریر سے لیکھرام کی موت بقید تاریخ اور وقت دکھا دیجئے۔ یہی دو حرفہ فیصلہ ہے :
مختصر یہ کہ پنڈت لیکھرام کی ہلاکت خارق عادت عذاب کا وعدہ تھا۔ موت کا اس میں کوئی لفظ نہیں بغیر خرق عادت عذاب کے اس کی موت نے ثابت کر دیا کہ یہ پیشگوئی جھوٹی ثابت ہوئی۔
حضرات انبیاء علیہم السلام کے مخالفوں پر جو موت آتی اور ان کی پیشگوئی سچی ثابت ہوتی تھی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کی پیشگوئی ہی ایسی ہوتی تھی : ” لنہلکن الظالمین “ (ہم (خدا) ظالموں کو ہلاک کر دیں گے ۔) چونکہ وہ ان کے ہلاک کرنے کی ہوتی تھی اس
لئے وہ سچی ہوتی اور مرزا صاحب کی پیشگوئی میں خرق عادت عذاب کا ذکر ہے اس لئے بغیر خرق عادت عذاب کے یہ پیشگوئی غلط ہوئی۔ الحمد للہ !
تیسری پیشگوئی
مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اور اس کے داماد
مرزا سلطان محمد کے متعلق
الہامات مرزا کے طباعات سابقہ میں مرزا سلطان محمد اور محمدی بیگم کے متعلق پیشگوئی ایک جا دکھائی گئی ہے۔ مگر اس طبع میں معقول وجہ سے ان دونوں کو الگ الگ کر دیا ہے۔ ناظرین مطلع رہیں۔
نوٹ : محمدی بیگم آسمانی منکوحہ والی پیشگوئی دراصل مقصود اصلی ہے اور مرزا سلطان محمد والی پیشگوئی اس کی تمہید اور دراصل دفع مانع ہے۔ کیونکہ آسمانی نکاح کا بہت مانع سلطان محمد ہوا اور اخیر تک رہا۔ اس لئے بلحاظ اصول فطرت مانع کے اٹھانے پر توجہ کا ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ مرزا صاحب کی توجہ اس مانع کی طرف ایسی ہوئی کہ اس بے چارے دلہا کو اپنی غضب آمیز نگاہ کا شکار بنایا۔ یہ اس کی قسمت تھی کہ بچ کر نکل گیا۔ چونکہ مرزا سلطان محمد صاحب کے متعلق جو اشتہار ہے اسی میں منکوحہ آسمانی کا ذکر بھی ہے۔ لہٰذا وہ ایک جگہ نقل ہو سکتا ہے۔ جو یہ ہے :
ایک پیشگوئی پیش از وقوع کا اشتہار
قدرت حق کا عجب ایک تماشا ہو گا
جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہو گا
کوئی پاجائے گا عزت کوئی رسوا ہو گا
اب یہ جاننا چاہئے کہ جس خط کو ١٠ مئی ١٨٨٨ء کے نور افشاں میں فریق مخالف نے چھپوایا ہے وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھا گیا تھا۔ ایک مدت دراز سے بعض سرکردہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کی حقیقی ہمشیرہ زاد کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ نشان آسمانی کے طالب تھے اور طریقہ اسلام سے انحراف اور عناد رکھتے تھے۔ اور اب بھی رکھتے ہیں۔ چنانچہ اگست ١٨٨٨ء میں چشمہ نور امرتسر میں ان کی طرف سے اشتہار چھپا تھا۔ یہ درخواست کی۔ اس اشتہار میں مندرج ہے ان کو نہ محض مجھ سے بلکہ خدا اور رسول سے بھی دشمنی ہے اور والد اس دختر کا باعث شدت تعلق قرابت ان لوگوں کی رضا جوئی میں محو اور ان کے نقش قدم پر دل و جان سے فدا اور اپنے اختیارات سے قاصر و عاجز بلکہ انہیں کا فرمانبردار ہو رہا ہے اور اپنی لڑکیاں انہیں کی لڑکیاں خیال کرتا ہے اور وہ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں اور ہر باب میں اس کے مدارالمہام اور بطور نفس ناطقہ کے اس کے لئے ہو رہے ہیں تب ہی تو نقارہ بجا کر اس کی لڑکی کے بارہ میں آپ ہی شہرت دے دی یہاں تک کہ عیسائیوں کے اخباروں کو اس قصہ سے بھر دیا۔ آفرین بریں عقل و دانش۔ ماموں ہونے کا خوب ہی حق ادا کیا۔ ماموں ہوں تو ایسے ہوں۔ غرض یہ لوگ مجھ کو میرے دعوٰی الہام میں مکار اور دروغ گو خیال کرتے ہیں اور اسلام اور قرآن پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے تھے اور مجھ سے کوئی نشان آسمانی مانگتے تھے تو اس وجہ سے کئی دفعہ اُن کے لئے دعا بھی کی گئی تھی۔ سو وہ دعا قبول ہو کر خدا تعالٰی نے یہ تقریب قائم کی کہ والد اس دختر کا ایک اپنے ضروری کام کے لئے ہماری طرف ملتجی ہوا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ : ”نامبردہ کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔ غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا اور مفقود الخبر ہے اس کی زمین ملکیت جس کا حق ہمیں پہنچتا ہے نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرا دی گئی تھی اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گرداسپور میں جاری ہے نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرادیں۔ چنانچہ ان کی
ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا تھا۔ چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضامندی کے بے کار تھا۔ اس لئے مکتوب الیہ نے بتمام تر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا۔ تاہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کر دیں اور قریب تھا کہ دستخط کر دیتے۔ لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب الٰہی میں استخارہ کر لینا چاہئے۔ سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا وہ استخارہ کیا تھا گویا آسمانی نشان کی درخواست کا وقت آ پہنچا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے اس پیرایہ میں ظاہر کر دیا۔ اس خدائے قادر مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کے لئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک و مروت تم سے اسی ١؎ شرط سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٨ء میں درج ہیں۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص ٢؎ سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔ پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کے لئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے جو مقرر کر رکھا ہے وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاوے گا اور بے دینوں کو مسلمان بناوے گا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلاوے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے : ”کذبوا بایتنا وکانوا بھا یستہزون فسیکفیکھم اللہ ویردھا الیک لا تبدیل لکلمات اللہ ان ربک فعال لما یرید انت معی وانا معک
١؎ کیا ہی عجیب موقع تھا۔ بیل کو کنوئیں میں خصی نہ کریں گے تو اور کہاں کریں گے۔ ٢؎ ناظرین عبارت ہٰذا کو ملحوظ رکھئے۔ یہی کام کی بات ہے۔
عسی ان یبعثك ربك مقاماً محمودا ۔ ”یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔ تو میرے ساتھ میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی ١۔ یعنی گو اول میں احمق اور نادان لوگ بدباطنی اور بدظنی کی راہ سے بدگوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن آخر کار خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی۔“ (آج تک تو جیسی ہوئی ہے نمایاں ہے۔ مصنف)
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٥٣‘١٥٦‘١٥٩)
یہ اشتہار اپنا مضمون بتلانے میں بالکل واضح ولائح ہے کسی مزید توضیح یا تشریح کی حاجت نہیں رکھتا۔ صاف بتلا رہا ہے کہ تاریخ نکاح سے تین سال تک دونوں (احمد بیگ اور اس کا داماد) فوت ہو جائیں گے۔ البتہ تاریخ معلوم کرنے کے لئے کہ نکاح کب ہوا اور کب تک ان دونوں کی موت کی تاریخ ہے۔ مرزا جی کی دوسری ایک تحریر سے شہادت لینے کی ضرورت ہے۔
”رسالہ شہادت القرآن ص ٧٩‘ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥“ میں مرزا جی خود ہی اس کی میعاد بتلاتے ہیں کہ ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء سے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔ پس بموجب اقرار مرزا جی ٢١ اگست ١٨٩٤ء کو مرزا سلطان محمد داماد مرزا احمد بیگ کو دنیا میں رہنے کی اجازت نہ تھی مگر افسوس کہ وہ مرزا صاحب کے سینہ پر مونگ دلتا ہوا آج یکم اگست ١٩٠٤ء تک زندہ ہے۔ سچ ہے : ”کذب المنجمون ورب الکعبه“ (مرزا کے مرنے کے چالیس سال بعد ١٩٤٨ء میں فوت ہوا۔ فقیر اللہ وسایا)
١ چھٹی ستمبر ١٨٩٥ء کے روز تعریف ہوئی تھی۔
مرزا صاحب اپنی زندگی میں تو سلطان محمد کی موت کی بابت امیدیں دلاتے رہے یہاں تک کہ رسالہ ضمیمہ انجام آتھم میں اس پیشگوئی کے دو جزو بتا کر ایک جزو متعلق موت مرزا احمد بیگ والد مسماۃ کا پورا ہونا لکھ کر دوسرے جزو یعنی خاوند منکوحہ آسمانی کی موت کی بابت لکھتے ہیں :
”یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جز (موت سلطان محمد) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
مرزا سلطان محمد کی زندگی کی وجہ سے جب چاروں طرف سے مرزا صاحب قادیانی پر اعتراضات ہوئے تو ان کا ایک ایسا صاف بیان شائع کیا جس سے صاف بیان نہیں ہو سکتا۔ فرمایا :
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم (قطعی) ہے اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہو گی اور میری موت آجائے گی۔“
(انجام آتھم حاشیہ ص ٣١ خزائن ج ١١ ص ٣١)
ناظرین! اس سے بھی زیادہ کون بیان واضح ہو سکتا ہے کہ خود صاحب الہام اقرار کرتا ہے کہ میری موت اگر اس کی زندگی میں آئی تو میں جھوٹا سمجھا جاؤں۔
اور سنئے مرزا قادیانی ہاں مدعی صاحب الہام ربانی فرماتے ہیں :
”یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جزو (موت داماد احمد بیگ) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بد تر ٹھہروں گا۔“
(رسالہ ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
بس یہ دونوں اقرار مع پیشگوئی کے مرزا صاحب کی صداقت یا بطالت جانچنے کو کافی ہیں مگر ہمارے مرزائی دوست بھی کچھ ایسے پختہ کار ہیں کہ کوئی نہ کوئی عذر نیا نکالا کرتے ہیں۔
مرزا سلطان محمد کا ایک خط شائع کرتے ہیں جس کا مضمون یہ ہے کہ میں مرزا صاحب قادیانی کو بزرگ جانتا ہوں۔ اس خط کو اس دعویٰ کی سند میں پیش کیا کرتے ہیں کہ سلطان محمد دل سے مرزا صاحب کا معتقد ہو گیا تھا۔ اس لئے وہ نہ مرا۔
اس کے جواب میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ مرزا صاحب کے اپنے بیانات کے سامنے یہ تحریر کوئی وقعت نہیں رکھتی ممکن ہے مخالف نے بطور استہزاء یا معمولی اخلاقی نرمی سے یہ فقرہ لکھ دیا ہو۔
ناظرین! آپ ذرا غور کیجئے کہ مرزا سلطان محمد تو اس لئے مرزا قادیانی کی زد میں آیا تھا کہ اس نے مرزاجی کی آسمانی منکوحہ سے نکاح کر لیا تھا اور کر کے پھر حسب منشاء مرزا قادیانی صاحب چھوڑا بھی نہ یہ کیا حسن اعتقاد ہے کہ منکوحہ کو روک رکھا اور مانع رہا۔ یا جس کا یہ مطلب ہے کہ جرم پر اصرار ہے زبان سے عقیدت کا اظہار کیا فائدہ دے سکتا ہے؟۔
اس کے علاوہ اس کی اپنی ایک تحریر ہمارے پاس ہے جس کی نقل یہ ہے:
”جناب مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے جو میری موت کی پیشگوئی فرمائی تھی میں نے اس میں ان کی تصدیق کبھی نہیں کی نہ میں اس کی پیشگوئی سے کبھی ڈرا میں ہمیشہ اور اب بھی اپنے بزرگان اسلام کا پیرو رہا ہوں۔“
(سلطان محمد بیگ ساکن پٹی ٣/٣/٢٣)
مرزا سلطان محمد صاحب کو خدا جزائے خیر دے کیسا شریفانہ کلام کیا مختصر مضمون میں سب کچھ بھر دیا۔ پیشگوئی سے ڈرا نہیں۔ پیشگوئی کی تصدیق نہیں کی۔ کیا ہی شریفانہ انداز میں سب کچھ کہہ گیا مگر بازاری لوگوں کی طرح بد کلامی نہیں کی۔
احمدی دوستو! مرزا سلطان محمد آج یکم مئی ٢٨ء میں پٹی ضلع لاہور میں زندہ ہے۔
مزید تشفی کے لئے اس سے ملو اور مرزا صاحب آنجہانی کا ان کو پیغام پہنچاؤ کہ :
چوتھی پیشگوئی
منکوحہ آسمانی محمدی بیگم بنت مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری
کے نکاح مرزا میں آنے کے متعلق
اس پیشگوئی کے متعلق ابتدائی بیان مرزا صاحب کا کتاب ہذا میں درج ہو چکا ہے۔
اس کی تکمیل میں مرزا صاحب کا مندرجہ ذیل بیان ملاحظہ ہو۔ آپ فرماتے ہیں :
”اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ ” يتزوج ويولد له “ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣‘ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
ناظرین! اب کس کی مجال ہے کہ بعد فیصلہ نبوی اس پیشگوئی کی نسبت کوئی برا خیال ظاہر کرے بلکہ ہر مومن کا فرض ہے کہ فیصلہ نبویہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیہ پر آمنا وصدقنا فاکتبنا مع الشاہدین کہہ کر ایمان لائے۔ اس لئے ہم تو ایمان لے آئے کہ مسیح موعود کی علامت بے شک یہ ہے مگر سوال یہ ہے کہ مرزا صاحب کے حق میں ایسا ہوا بھی ؟۔
آہ ! مرزا صاحب اور ان کے مرید زندگی میں تو اس کی امیدیں ہی دلاتے رہے اور یہی کہتے رہے کہ ہوا کیا فریقین (ناکح منکوحہ ) زندہ ہیں پھر نا امیدی کیا۔ نکاح ہو گا اور ضرور ہو گا۔ لیکن جوں جوں مرزا صاحب کا بڑھاپا غالب آتا گیا اس امر میں مرزا صاحب کو ناامیدی غالب آتی گئی تو آپ نے اس کے انجام پر نظر رکھ کر ایک نئی طرح ڈالی جو آپ کی کتاب حقیقت الوحی سے ہم ناظرین کو دکھاتے ہیں۔
فرماتے ہیں :
”احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اس کے اقارب پر غالب آگیا یہاں تک کہ بعض نے ان میں سے میری طرف عجز و نیاز کے خط بھی لکھے کہ دعا کرو۔ پس خدا نے ان کے
اس خوف اور اس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیشگوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٧ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥)
یہاں تک تو ہمارا کوئی نقصان نہیں تھا تاخیر پڑ گئی تو خیر ہم دیر آید درست آید انجام خیر ہوتا تو ہم بھی معترض نہ ہوتے مگر یہاں تو حالت ہی دگرگوں ہے کہ مرزا صاحب کو خود ہی اس پیشگوئی کے وقوع میں ایسا تردد ہوا کہ اسی کتاب حقیقت الوحی کو شائع کرنے سے پہلے اسی کتاب کے دوسرے مقام پر آپ نے اس تاخیر کے ساتھ ”فسخ“ بھی لگا دیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں :
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔ اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ : ”ايتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك“ پس جب ان لوگوں نے شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ (تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
ناظرین! یہاں پر تو پہلے کی نسبت ایک لفظ اور بڑھایا ہے۔ پہلے حوالہ میں صرف تاخیر تھی اب فسخ بھی بڑھا دیا ہے۔ مگر دورنگی کو نہیں چھوڑا۔ آہ کس آن بان سے کہتے ہیں نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔ پورا یقین نہیں۔
حضرات! آپ لوگ جو عرصہ سے اس نکاح کے ولیمہ کی دعوت کے منتظر ہوں گے اس عبارت میں فسخ نکاح کا لفظ سن کر سن ہو گئے ہوں گے اور آپ لوگوں کے منہ سے شاید یہ شعر نکلا ہو گا :
اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو
حکیم نور الدین قادیانی نے اپنے رسالہ آئینہ میں یہی عبارت نقل کر دینی کافی سمجھی ہے۔ اسی عبارت سے مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مخالفوں کو ڈانٹتے ہیں کہ تم لوگ کیسے ہو کہ
ایسے خدا کو مانتے ہو جو وعدہ عذاب ٹال نہیں سکتا۔ ہمارا خدا تو جو چاہے کر سکتا ہے۔ وعدہ کر کے پورا نہ کرے تو بھی کوئی اس کو پوچھنے والا نہیں وغیرہ۔ مگر ان سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ یہ نکاح تو عذاب نہ تھا بلکہ یہ نکاح تو بقول آپ کے ان کے حق میں بڑی خیر و برکت کا موجب تھا اس کو عذاب سے کیوں تعبیر کرتے ہیں اور اس کو ٹلاتے کیوں ہیں۔ کیا نبی کی حرم محترم بننا عذاب ہے؟۔
اور سنئے! چونکہ بقول آپ کے پیغمبر خدا ﷺ نے اس نکاح کو مسیح موعود کی علامت قرار دیا تھا۔ (ملاحظہ ہو رسالہ ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) تو چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی اس نکاح کے بغیر ہی انتقال فرما گئے ہیں۔ کیا ہمارا حق ہے کہ بوجہ ہم مقررہ علامت نہ پائے جانے کے مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت اپنا اعتقاد یوں ظاہر کریں :
حماقت ہے جہالت ہے بطالت
اس پیشگوئی نے قادیانی مشن کے بڑے بڑے ممبروں کو متوالا بنا رکھا ہے وہ ایسی بہکی بہکی باتیں کہتے ہیں کہ اس دیوانگی میں ان کو نہ تضاد کا علم رہتا ہے نہ تناقض کا۔ ایک بڑے جوشیلے نوجوان مگر قادیانی مشن کے بڑے کارکن (قاضی اکمل) لکھتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے اس الہام کے سمجھنے میں غلطی کھائی۔ (دیکھو رسالہ تشحیذ الاذہان ج ٨ شمارہ ٥ بابت ماہ مئی ١٩١٣ء ص ٢٢٤) لیکن ہمارے مخاطب جناب حکیم صاحب نے اس نکاح کی بابت نہ غلطی کا اعتراف کیا نہ فسخ کا اظہار فرمایا بلکہ کمال خوشی ہے کہ نکاح صحیح رکھا مگر نہ رکھنے سے بدتر۔ آپ ان آیات کو نقل کرتے ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے زمانہ رسالت کے موجودہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ یہ کیا وہ کیا۔ حالانکہ ان کے بزرگوں کے ساتھ کیا تھا۔ ان آیات کو لکھ کر فرماتے ہیں :
”اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں ان آیات کا یاد
دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبہ میں مخاطب کی اولاد مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا ؟ اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں۔ میں نے بار ہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جائے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آئے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا۔ پھر یہی وجہ بیان کی والحمدلله رب العالمین!“
(ریویو آف ریلیجنز ج ٧ شمارہ ٧ ص ٢٧٩)
حکیم صاحب کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرزا سے نکاح نہیں ہوا تو مرزا صاحب کے لڑکے در لڑکے، لڑکے در لڑکے، لڑکے در لڑکے، لڑکے در لڑکے تا قیامت اور ادھر ہر منکوحہ کی لڑکی در لڑکی، لڑکی در لڑکی، لڑکی در لڑکی، لڑکی در لڑکی تا قیامت ان میں کبھی نہ کبھی رشتہ ضرور ہو جائے گا واہ ! کیا کہنے ہیں بات تو خوب سوجھی۔
حکیم صاحب! آپ کی کوشش سے بات تو بن جاتی مگر اس کا کیا علاج ہو کہ جناب مرزا صاحب جن کی تصدیق کے لئے آپ یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ اس نکاح کو خاص اپنی علامت صداقت بتا رہے ہیں اور حضور سرور کائنات فخر موجودات ﷺ کے دستخط بھی اس علامت پر کراچکے ہیں۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧) اس لئے وہ آپ کی چلنے نہیں دیں گے۔ رہی آپ کی عقیدت۔ سو اس کی بابت تو یہی جواب ہے جس صورت میں آپ جیسوں کا مذہب ہے :
بتوں سے ہم نہ پھریں ہم سے گو خدا پھر جا
تو آپ کی عقیدت کا متزلزل نہ ہونا کونسا کمال ہے۔ قرآن مجید میں پہلے ہی پارے میں اس کی تصدیق ملتی ہے : (ختم اللہ علیٰ قلوبھم)!
مرزائی دوستو! یہی فلسفہ ہے جو تم یورپ تک پہنچانا چاہتے ہو ؟ (اف)
مرزا صاحب پر اس بارے میں اعتراض ہوا تو آپ نے اس کو اعتراض اور جواب
کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ غور سے سنئے !
”اعتراض پنجم : مسماۃ محمدی بیگم کو دوسرا شخص نکاح کر کے لے گیا اور وہ دوسری جگہ بیاہی گئی۔ الجواب : وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے۔ اول دوسری جگہ بیاہی جائے سو یہ ایک پیشگوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الٰہی کے یہ لفظ ہیں : ”سیکفیکہم الله ویردھا الیک ۔“ یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا۔ جاننا چاہئے کہ رد کے معنے عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جائے اور پھر واپس لائی جائے۔ پس چونکہ محمدی اقارب میں بلکہ قریب خاندان میں سے تھی یعنے میری چچازاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی یعنی احمد بیگ کی۔ پس اس صورت میں رد کے معنے اس پر مطابق آئے کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی اور پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی۔ سو ایسا ہی ہو گا۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ٢٣‘ ٣٠ جون ١٩٠٥ء ص ٢ کالم ٢)
خلیفہ صاحب آپ کی خلافت یہی فتوے دیتی ہے کہ اپنے رسول ہاں اپنے مسیح موعود ہاں مہدی مسعود اور کرشن گوپال جی کی تصریحات کے خلاف آپ تاویل کریں۔ آہ ! افسوس ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔
حکیم صاحب ! یہ تو بتلائیے کہ ہمارا اعتراض یا سوال مشن مرزائیہ یا خلافت نوریہ پر مانا کہ آپ کی تاویل صحیح ہو بہت خوب ! ہمارا آپ پر اعتراض تو نہ ہو گا بلکہ نبوت مرزائیہ پر ہو گا اور اس کی بناء ان کی تصریحات اور تشریحات ہوں گی۔ اور بس !
حکیم صاحب علماء کا عام اصول ہے تاویل الکلام بمالا یرضیٰ بہ قائلہ باطل (کسی کلام کی ایسی تاویل کرنی جو متکلم کے خلاف منشاء ہو غلط ہے) فرمائیے آپ کی دیانت امانت راست بازی یہی شہادت دیتی ہے کہ آپ مرزا صاحب کی پیشگوئی کی ان کے خلاف
تاویل کرتے ہیں۔ افسوس!
ہمارے خیال میں یہ پیشگوئی ایسی صاف ہے کہ زیادہ لکھنے سے ہمارا قلم رکتا ہے۔ اس لئے ناظرین کے حوالے کرتے ہیں۔ ہاں اتنا کہنے سے نہیں رک سکتے کہ مرزا صاحب نے اس پیشگوئی کے متعلق جتنی کوششیں کیں شاید ہی کسی کام کے لئے کی ہوں۔ بہت سے خطوط متضمن ترغیب و ترہیب مسماۃ کے وارثوں کو لکھے مگر افسوس کوئی بھی کارگر نہ ہوا۔ ہمیشہ یہی کہتے چلے گئے :
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
لطیفہ! گو یہ پیشگوئی مرزا جی کے الفاظ میں غلط ہوئی تاہم وہ ایک معنی سے سچے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ عورتوں کو سوکن کے ساتھ جو رنج ہوتا ہے وہ طبعی ہے۔ اس لئے غالباً نہیں بلکہ یقیناً یہ بات ہے کہ مرزا صاحب کی حرم محترم اپنی سوکن کے نہ آنے کے لئے دست بدعا ہوں گی۔ خدا نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ولایت گھر کی گھر میں رہی۔ خاوند نہیں تو بیوی ہی ولی سہی۔
مرزا جی کے دوستو! مرزا جی کی الہامی شکست کی باعث زیادہ تر ان کی حرم محترم ہیں کوئی اور نہیں۔ کیا سچ ہے :
ادھر لا لا ہاتھ مٹھی کھول یہ چوری یہیں نکلی
نوٹ : خاص اس پیشگوئی کے متعلق ہمارا ایک مستقل رسالہ ہے جس کا نام ہے ”نکاح مرزا“ اس میں یہ پیشگوئی مفصل مذکور ہے۔ (یہ بھی احتساب قادیانیت کی جلد ہذا میں ملاحظہ فرمائیے۔ فلحمد للہ! فقیر)
پانچویں پیشگوئی
مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی مرحوم اور ملا محمد بخش مالک اخبار جعفر زٹلی لاہوری اور مولوی ابو الحسن تبتی کے متعلق!
یہ پیشگوئی آتھم وغیرہ کی پیشگوئیوں سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ کیونکہ اس پیشگوئی سے مرزا جی اور ان کے مخالفوں کا قطعی فیصلہ ہے۔
ناظرین ! اشتہار مندرجہ ذیل پڑھیں۔ مرزا جی لکھتے ہیں :
”میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا جو میں نے کی ہے یہ ہے کہ اے میرے ذوالجلال پروردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں بار بار مجھ کو کذاب اور دجال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اس نے اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابو الحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ١٠ نومبر ١٨٩٨ء کو چھپا ہے میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ تو اے میرے مولا اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنے ١٥ دسمبر ٩٨ء سے ١٥ جنوری ١٩٠٠ء تک ذلت کی مار وارد کر، اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر کر اور اس روز کے جھگڑے کو فیصلہ فرما۔ لیکن اگر اے میرے آقا ! میرے مولا ! میرے منعم ! میری ان نعمتوں کے دینے والے جو تو جانتا ہے اور میں جانتا ہوں تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی سے دعا کرتا ہوں کہ ان تیرہ مہینوں میں جو ١٥ دسمبر ١٨٩٨ء سے ١٥ جنوری ١٩٠٠ء تک شمار کئے جائیں گے شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور تبتی مذکور کو جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے یہ اشتہار لکھا ہے ذلت کی مار سے دنیا میں رسوا کر۔ غرض اگر یہ لوگ تیری نظر میں سچے اور متقی اور پرہیز گار اور میں کذاب اور مفتری ہوں تو مجھے ان تیرہ مہینوں میں ذلت کی مار سے تباہ کر اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت اور عزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما کر ان تینوں کو
ذلیل اور رسوا اور : ” ضربت عليهم الذلة “ کا مصداق کر۔ آمین ثم آمین ! یہ دعا تھی جو میں نے کی۔ اس کے جواب میں الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کر دوں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گا ١؎ اور چند عربی الہامات ہوئے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :
” ان الذين يصدون عن سبيل الله سينالهم غضب من ربهم ضرب الله اشد من ضرب الناس ٠ انما امرنا ای اردنا شيئا ان نقول له کن فيكون ٠ اتعجب لامری انی مع العشاق انی انا الرحمن ذوالمجدوالعلی يعض الظالم علی يديه ويطرح بين يدی ٠ جزاء سيئة بمثلها وترهقهم ذلة ٠ مالهم من الله من عاصم فاصبر حتی یاتی الله بامره ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون ٠ “
یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے جس کا ماحصل یہی ہے کہ ان دونوں فریق میں سے جن کا ذکر اس اشتہار میں ہے یعنی یہ خاکسار ایک طرف اور شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور مولوی ابو الحسن تبتی دوسری طرف خدا کے حکم کے نیچے ہیں۔ ان میں سے جو کاذب ہے وہ ذلیل ہو گا۔ یہ فیصلہ چونکہ الہام کی بناء پر ہے اس لئے حق کے طالبوں کے لئے ایک کھلا کھلا نشان ہو کر ہدایت کی راہ ان پر کھولے گا ٢؎۔ اب ہم ذیل میں شیخ (مولوی) محمد حسین کا وہ اشتہار لکھتے ہیں جو جعفر زٹلی اور ابو الحسن تبتی کے نام پر شائع کیا گیا ہے۔ تا خدا تعالیٰ کے فیصلہ کے وقت دونوں اشتہارات کے پڑھنے سے طالب حق عبرت اور نصیحت پکڑ سکیں اور عربی
١.......ہاتھ کاٹے گا سے مراد یہ ہے کہ جن ہاتھوں سے ظالم نے جو حق پر نہیں ہے ناجائز تحریر کا کام لیا وہ ہاتھ اس کی حسرت کا موجب ہوں گے۔ وہ افسوس کرے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔ (مرزا قادیانی)
٢....... بے شک اس احکم الحاکمین نے ایسا ہی کیا۔ الحمد للہ !
الہامات کا خلاصہ مطلب یہی ہے کہ جو لوگ سچے کی ذلت کے لئے بدزبانی کر رہے ہیں اور منصوبے باندھ رہے ہیں۔ خدا ان کو ذلیل کرے گا اور میعاد پندرہ دسمبر ١٨٩٨ء سے تیرہ مہینے ہیں۔ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اور ١٤؍ دسمبر ١٨٩٨ء تک جو دن ہیں وہ توبہ اور رجوع کے لئے مہلت ہے۔ فقط!
(اشتہار ٢١ نومبر ١٨٩٨ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦٠ تا ٦٢)
یہ عبارت جس زور و شور سے لکھی گئی ہے اس کا اندازہ کرانے کے لئے کسی مزید توضیح یا تشریح کی حاجت نہیں۔ عبارت مذکورہ اپنا مطلب صاف اظہار کر رہی ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے دونوں رفیقوں پر خدا جانے کس قسم کا خرق عادت عذاب نازل ہوگا۔ کیا ان کی گت ہو گی جو خدا دشمن کی بھی نہ کرے۔ کوئی بڑی ہی سخت آفت آنے والی تھی جس کی بابت مرزا جی نے رسالہ راز حقیقت میں تیرہ مہینوں تک بڑے صبر سے اپنے مریدوں کو آخری فیصلہ کے انتظار کرنے کا حکم دیا تھا اور سخت تاکید کی تھی کہ اس فیصلہ کے منتظر رہیں۔ رسالہ راز حقیقت میں فرماتے ہیں :
”میں اپنی جماعت کے لئے خصوصاً یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ وہ اس اشتہار کے نتیجہ کے منتظر رہیں کہ جو ٢١ نومبر ١٨٩٨ء کو بطور مباہلہ بمقابلہ (مولوی) محمد حسین بٹالوی اشاعۃ السنۃ اور اس کے دو رفیقوں کی نسبت شائع کیا گیا ہے جس کی میعاد ١٥ جنوری ١٩٠٠ء میں ختم ہو گی۔ اور میں اپنی جماعت کو چند لفظ بطور نصیحت کہتا ہوں کہ وہ طریق تقویٰ پر پنجہ مار کر یاوہ گوئی کے مقابلے پر یاوہ گوئی نہ کریں اور گالیوں کے مقابلے میں گالیاں نہ دیں۔ وہ بہت کچھ ٹھٹھا اور ہنسی سنیں گے جیسا کہ وہ سن رہے ہیں مگر چاہئے کہ خاموش رہیں اور تقویٰ اور نیک بختی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فیصلے کی طرف نظر رکھیں۔ اگر وہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں قابل تائید ہوں تو صلاح اور تقویٰ اور صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اب اس عدالت کے سامنے مسل مقدمہ ہے جو کسی کی رعایت نہیں کرتی اور گستاخی کے طریقوں کو پسند نہیں کرتی۔ جب تک انسان عدالت کے کمرے سے باہر ہے۔ اگرچہ اس کی بدی کا بھی مؤاخذہ ہے مگر اس شخص کے جرم کا مؤاخذہ بہت سخت ہے جو عدالت کے سامنے کھڑے
ہو کر بطور گستاخی ارتکاب جرم کرتا ہے اس لئے میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی عدالت کی توہین سے ڈرو اور نرمی اور تواضع اور صبر اور تقویٰ اختیار کرو اور خدا تعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم میں اور تمہاری قوم میں فیصلہ فرماوے۔
(از حقیقت ص ١٢ خزائن ج ١٤ ص ١٥٣‘١٥٤)
اس سے صاف سمجھ میں آتا تھا کہ ان تیرہ مہینوں کے بعد مرزاجی سے مخالفوں کا قطعی فیصلہ ہو جائے گا۔ ایسا کہ کسی دوست دشمن کو چوں و چراں کرنے کی گنجائش نہ رہے گی۔ وہ فیصلہ کیا ہو گا مثل فتح مکہ کے آخری فیصلہ ہوگا۔ مگر افسوس کہ یہ پیشگوئی بھی بقول شخصے :
وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد
کوہ کندن و کاہ برآوردن کی مصداق ہوئی۔ چنانچہ آج (ستمبر ١٩١٣ء) کو تیرہ سال ہونے کو ہیں مگر مولوی محمد حسین صاحب اور ان کے ہر دو رفیق پیشگوئی زدہ بحمدہ زندہ بـ سلامت بلا کلفت مرزائیوں کے سامنے موجود ہیں۔ اس پیشگوئی کا بھی جو مرزاجی نے حشر کیا وہ بھی ناظرین کو سناتے ہیں :
یاد رہے کہ کوئی ایسا سوال نہ ہو گا جس کا مرزاجی نے جواب نہ دیا ہو۔ کیونکہ بقول (ملّا آں باشد کہ چپ نشود) ممکن نہیں کہ مرزاجی خاموش ہوں۔ یہ تاویل تو نہ چلی کہ یہ تینوں صاحب دل میں ڈر گئے۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند ہو گئے۔ ورنہ قسم کھائیں۔ کیونکہ
- ١ـ مولوی صاحب موصوف ٢٩ جنوری ١٩٢٠ء کو انتقال کرگئے اور مرزا صاحب
٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ان سے پہلے ہی انتقال کرگئے تھے۔ آہ! آج ہم ان دونوں مقابلین کو نہیں دیکھتے۔ سچ ہے :
تو بھی اے سلطان آخر موت ہے
یعنی مرزا کے ساڑھے گیارہ سال بعد رحمہ اللہ !
مرزا جی کو یقین تھا کہ ان صاحبوں کے سامنے قسم کا نام لیا تو یہ اپنی گرہ سے کچھ دے کر بھی سچی قسم اٹھالیں گے۔ ان کے مذہب میں تو آتھم کی طرح سچی قسم کھانی منع نہیں۔ اس لئے اس میں ایک اور ہی چال چلے۔ فرمایا کہ : ”جس طرح مولوی محمد حسین نے میرے پر فتویٰ کفر کا لگوایا تھا اس پر بھی لگ گیا۔ بس یہی میری پیشگوئی کا مدعا تھا اور بس !“
(دیکھو اشتہار ٧ جنوری ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٠٨ تا ١١٢)
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مرزا جی کی پیشگوئی سن کر مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب نے ہتھیار رکھنے کے متعلق بعض افسروں سے تذکرہ کیا کہ میری بابت مرزا نے پیشگوئی کی ہے۔ مبادا لیکھرام کی طرح میں بھی مارا جاؤں۔ اس لئے بطور حفاظت خود اختیاری مجھے ہتھیار ملنے چاہئیں۔ اس پر مرزا جی کی طلبی ہوئی آکر بتلاویں کہ کیوں ان سے حفظ امن کی ضمانت نہ لی جاوے۔ چنانچہ مقدمہ بڑے زور و شور سے چلنے لگا۔ اس پر مرزا جی نے یہ تجویز نکالی کہ کسی صورت سے اس مقدمہ کو خفیف کیا جاوے اور سرکار کے ذہن نشین کیا جاوے کہ یہ پیشگوئی کوئی قتل و قتال کی نہیں جیسی کہ مولوی محمد حسین صاحب نے سمجھی ہے۔ بلکہ صرف زبانی ذلت و رسوائی کی ہے۔ یا یوں کہئے کہ صرف اعتباری بات ہے اور کچھ نہیں۔ بعد مشورہ حاشیہ نشیناں یہ تجویز ٹھہری کہ ایک آدمی ناواقف علماء سے یہ فتویٰ حاصل کرے کہ حضرت مہدی کے منکر کا کیا حکم ہے۔ چنانچہ وہ شخص بڑی ہوشیاری یا مکاری سے علماء کے پاس چکر لگا اور ہر ایک کے سامنے مرزا کی مذمت کرتا اور یہ ظاہر کرتا کہ میں افریقہ سے آیا ہوں۔ مرزا قادیانی کے مرید وہاں بھی ہو گئے ہیں ان کی ہدایت کے لئے علماء کا فتویٰ ضروری ہے۔ اس پر علماء نے جو مناسب تھا لکھا۔ پس مرزا جی نے جھٹ اسے شائع کر دیا اور بجائے اپنے پر لگانے کے مولوی محمد حسین صاحب پر لگا دیا۔ یہ کہہ کر کہ اس نے اشاعۃ السنہ کے کسی پرچہ میں مہدی موعود سے انکار کیا ہے۔ پس جس طرح اس نے مجھ پر فتویٰ لگوایا تھا اسی طرح اس پر لگا۔ میری پیشگوئی کا صرف اتنا ہی مفہوم تھا۔
یہ ہے مرزا جی کی کوشش اور سعی جس سے اپنی پیشگوئیوں کو سچا کرتے ہیں لیکن
دنیا میں ابھی تک سمجھ دار موجود ہیں اور وہ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں کہ یہ فتویٰ (اگر ہم مان بھی لیں کہ مولوی صاحب پر ہے اور وہ اس کے مصداق بھی ہیں) ہی آپ کی تیرہ ماہ پیشگوئی کا مطلب تھا تو پھر کیا وجہ ہے جس طرح آپ سے علماء اسلام اور اہل اسلام بلکہ جملہ انام متنفر ہیں اسی طرح مولوی صاحب اور ان کے دونوں رفیقوں سے کیوں ان کو نفرت نہیں ؟۔ بلکہ ان کے ساتھ ان کا ایسا خلا ملا ہے کہ ٥ اکتوبر ١٩٠١ء کو مولوی صاحب موصوف ہی کی کوشش اور لحاظ سے مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اور حافظ محمد یوسف صاحب بھڑ امرتسری کی بقیہ کدورت بھی بالکل جاتی رہی اور پھر مثل سابق باہمی شیر و شکر ہو گئے۔ پس جس طرح ہم آتھم والی پیشگوئی کی بحث میں ثابت کر آئے ہیں اور آپ سے بھی حوالہ ازالہ اوہام ص ٥٧٨ دستخط کر آئے ہیں کہ ”انتفاء اللازم یستلزم انتفاء الملزوم“ یعنی لوازم کے عدم سے ملزوم کا عدم لازم ہوتا ہے تو پھر اس پیشگوئی کے کذب میں کیا شبہ ہے۔ اگر کہو کہ مولوی محمد حسین صاحب نے اپنا منافقانہ خیال ان سے چھپایا ہے اس لئے علماء اس سے متنفر نہیں ہوئے پھر تو مولوی محمد حسین صاحب آپ کے الہام کنندہ سے دانائی میں بڑھ گئے کہ یہ تو کامیاب ہو گئے اور وہ نہ ہوا جو ذلت کی پیشگوئی کر چکا جو مولوی صاحب کی (بقول آپ کے) ایک ادنیٰ تدبیر سے ملیا میٹ ہو گئی۔ علاوہ اس کے مرزا جی نے اپنے حاشیہ پر اپنی مراد بھی بتلائی ہوئی ہے جس کو ہم نے بھی اس کے مقام میں حاشیہ پر نقل کر دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں کہ ہاتھ کاٹنے سے مراد یہ ہے کہ :
”جن ہاتھوں سے ظالم نے جو حق پر نہیں ہے ناجائز تحریر کا کام لیا ہے وہ ہاتھ اس کی حسرت کا موجب ہوں گے۔ وہ افسوس کرے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔“
(اشتہار ٢١ نومبر ١٨٩٨ء حاشیہ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص حاشیہ ٦١)
مرزا جی کی یہ تشریح صاف بتلا رہی ہے کہ مولوی محمد حسین صاحب پر جب وہ عذاب تیرہ ماہ نازل ہوگا۔ تو وہ ان تحریروں پر نادم اور شرمندہ ہوں گے جو انہوں نے مرزا کے خلاف لکھی ہیں اور انہیں پر ہاتھ کاٹیں گے۔ مگر افسوس کہ تیرہ ماہ تک تو کیا آج تک بھی
مولوی صاحب موصوف جیسے کچھ ان تحریروں پر نادم ہیں سب کو معلوم ہے ابھی چند ہی روز کا ذکر ہے کہ مولوی صاحب نے اشاعۃ السنہ میں بدستور اپنا خیال مرزا کی نسبت ویسا ہی بتلایا ہے جیسا کہ وہ سابق میں بتایا کرتے تھے۔ یا جس کا وہ حق دار ہے۔
مرزا جی بھی چونکہ اصل میں دانا ہیں وہ جانتے ہیں کہ میری ایسی ویسی باتوں پر گو کم فہم تو لٹو ہو رہیں گے اور ”سبحان الله آمنا وصدقنا فاكتبنا مع الشاهدين .“ کہیں گے مگر آخر جہاں داناؤں سے خالی نہیں۔ اس لئے وہ اس فکر میں سوچتے رہتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سوچا کہ فتویٰ کی بابت جو کارروائی ہم نے بصد کوشش کی ہے اور مولوی محمد حسین صاحب کو اس پیشگوئی کا مصداق بنایا ہے یہ تو ایک معمولی سی بات ہے جو کوئی جاہل سے جاہل بھی نہ مانے گا۔ خاص کر اس وجہ سے کہ جن علماء نے ہمارے فریب اور دھوکے سے مولوی محمد حسین صاحب پر فتویٰ لگایا ہے انہی کے نزدیک مولوی صاحب موصوف کی وہ عزت ہے کہ باوجود یکہ وہ اپنے کاموں میں ہمیشہ مستغنی ہیں اور کبھی کسی کو اس کام میں جو ان کے متعلق ہو چندہ وغیرہ کی زبانی ترغیب بھی نہیں دیا کرتے۔ انہوں ہی نے مولوی صاحب کے مقدمہ میں از خود محض ہمدردی سے احباب کے مکانوں پر جا جا کر چندہ لیا اور اپنی ہمدردی کا ثبوت دیا۔ اس لئے مرزا جی نے سوچ بچار کر کے چند ایک اور ذلتوں کی فہرست تیار کی :
- (١)............. یہ کہ اس (مولوی صاحب) نے میرے ایک الہام پر اعتراض کیا کہ
عجبت کا صلہ لام نہیں آتا یعنی عجبت لہ کلام صحیح نہیں۔ حالانکہ فصحاء کے کلام میں لام آتا ہے۔ اس سے اس کی علمی بے عزتی ہوئی۔
- (٢)............. یہ کہ صاحب ڈپٹی کمشنر گرداسپور نے مقدمہ ہمارے حق میں کیا اور
اس کو سخت سست کہا۔ بلکہ اس سے عہد لے لیا کہ آئندہ کو مجھے دجال کادیانی کافر وغیرہ نہ کہے گا۔ جس سے اس کی تمام کوشش مجھ کو برا کہنے اور کہلانے کی خاک میں مل گئی۔ اور اس نے اپنے فتوے کو منسوخ کر دیا۔ یعنی اب وہ میرے حق میں کفر کا فتویٰ نہ دے گا۔
- (٣)............. یہ کہ مولوی محمد حسین نے میرے حق میں انگریزی لفظ ڈسچارج کا
ترجمہ غلط سمجھا۔ یہ اس کی بے عزتی کا موجب ہے۔
- (٤).............. یہ کہ اس کو زمین ملی زمیندار ہو گیا۔ یہ بھی ذلت ہے کیونکہ حدیث
میں آیا ہے کہ جس گھر میں کھیتی کے آلات داخل ہوں وہ ذلیل ہو جاتا ہے۔
(اشتہار ١٧ دسمبر ١٨٩٩ء مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٩٦ تا ٢١٥)
ناظرین ! یہ ہیں مرزا جی کی پیشگوئیاں اور یہ ہیں ان کے الہام اور یہ ہیں ان کے دعاوی و رسالت۔ کیا کہتے ہیں۔ ہمیں تو شرم آتی ہے کہ ہم ان کے متعلق کیا لکھیں۔ کیونکہ ہمارے خیال میں تو ان کا دعویٰ ہی ان کی تکذیب کو کافی ہے۔ بشرطیکہ کسی کے دماغ میں عقل سلیم اور فہم مستقیم ہو۔ دیکھئے ٧ جنوری ١٨٩٩ء 'مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٠٩ تا ١١٤ کے اشتہار میں جبکہ مقدمہ دائر تھا۔ تخفیف الزام کے لئے یا عدالت کو دھوکہ دینے اور عام رائے کو اس طرف پھیرنے کے لئے ایک فتویٰ شائع کرا دیا کہ مولوی محمد حسین صاحب پر میری پیشگوئی پوری ہو گئی جس کا ذکر ہم پہلے کر آئے ہیں۔ بھلا اگر ٧ جنوری سے پہلے آپ کی پیشگوئی پوری ہو چکی تھی تو بعد کے واقعات کو اس میں کیوں داخل کرتے ہو۔ الہام کے انکار والی بات کا کوئی ثبوت ہی نہیں۔ باقی امور نمبر ایک و نمبر دو تو ٢٤ فروری ١٨٩٩ء کے دن جس روز فیصلہ ہوا تھا ظاہر ہوئے تھے جو ٧ جنوری ١٨٩٩ء سے ڈیڑھ مہینہ بعد کا واقعہ ہے اور عطیہ زمین تو مدت کے بعد ہوا ہے۔ پھر ان کو پیشگوئی کے مصداق بنانا جس کا صدق ان سے پہلے مدتوں ہو چکا ہو کیا ہماری تصدیق نہیں کہ مرزا جی کو خود اپنی ہی تقریر میں جو سراسر ملمع سازی سے تیاری کی گئی ہوتی ہے شبہات رہتے ہیں۔ نہیں بلکہ دل سے اس کو جھوٹ اور قابل رد جانتے ہیں۔ آخر وہ دانا صاحب تجربہ ہیں۔ کیوں نہ سمجھیں۔
یہ تو ان نمبروں پر مجملاً گفتگو تھی۔ مفصلاً یہ ہے کہ نمبر اول تو بے ثبوت ہے ہمیں معلوم نہیں مولوی صاحب نے کب اور کس پیرایہ میں اعتراض کیا مرزا جی اور مرزائی پارٹی کے حوالجات ہمارے نزدیک بالخصوص اپنی تائید کے متعلق بحکم اصول حدیث معتبر نہیں۔ نہ مرزا جی نے مولوی صاحب کی کسی تحریر کا حوالہ دیا ہے۔ بغرض مزید تحقیق ہم نے سوچا کہ
ابھی تو مولانا ابو سعید محمد حسین صاحب زندہ ہیں۔ اگر ان کی زندگی میں فیصلہ نہ ہوا تو کب ہوگا۔ اس خیال سے ایک خط ان کی خدمت میں بھیجا۔ تو آپ نے ٢٣ نومبر ١٩٠٢ء کو چک نمبر ١٢٣ ضلع جھنگ سے جواب دیا جو درج ذیل ہے :
السلام علیکم ! مرزا جھوٹ لکھتا ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ عجب کا صلہ لام کبھی نہیں آتا۔ حدیث مشکوٰۃ : ”عجبنا لہ یسئلہ ویصدقہ“ مجھے بھول نہیں گئی۔ میں نے کہا تھا کہ قرآن میں عجب کا صلہ من آیا ہے۔ قالوا اتعجبین من امر اللہ !
(ابو سعید)
مرزا جی کہئے آپ کی اصطلاح میں مجدد اور مسیح کے لئے ایمانداری اور راست بیانی بھی ضروری شرط ہے یا نہیں۔ علاوہ اس کے اگر یہ صحیح ہے کہ کسی لفظ کا صلہ غلط سمجھنے سے عالم کی ذلت ہوتی ہے ایسی کہ وہ کسی الہام کی زد میں آجاتا ہے تو آپ کی کس قدر ذلت ہوئی ہوگی جب اشاعت السنہ میں آپ کی عربی اغلاط کی ایک طویل فہرست چھپی تھی جس کا جواب آج تک آپ سے نہ ہو سکا۔ اسی رسالہ میں ہم نے آپ کی ایسی الہامی عبارت نقل کی ہے کہ عالم تو عالم کوئی نحو میر پڑھتا ہوا طالب علم بھی ایسی غلطی نہ کرے گا کہ ستہ ١؎ کی تمیز مفرد لکھ کر ستہ
١؎ مرزا جی عربی دانی کے گھمنڈ میں ہمیشہ اعداد کی تمیز لکھنے میں غلطی کیا کرتے ہیں۔ کتاب مواہب الرحمٰن ص ١٢٩، خزائن ج ١٩ ص ٣٥٠ پر لکھتے ہیں : ”ان العدو اعد لذالک ثلثۃ حماۃ“ یہاں ثلاثہ کی تمیز منصوب لکھ ماری۔ پھر اسی صفحہ پر لکھتے ہیں : ”رائیت کانی احضرت محاکمۃً“ یعنی میں کچہری میں حاضر کیا گیا۔ حالانکہ کچہری کو محاکمہ نہیں بلکہ محکمۃ کہنا چاہئے تھا۔ پھر لکھتے ہیں ”فی جریدۃ یسمی الحکم“ حالانکہ تسمی چاہئے تھا اور پھر ”علی ہذا فی جریدۃ یسمی البدر تسمی بالحکم“ اور بالبدر چاہئے۔ علیٰ ہذا القیاس مگر آخر مرزا صاحب بھی کیا کریں :
تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے
ستہ الہام بتلایا ہے۔ پھر ایک جگہ نہیں اسی طرح کئی ایک موقع پر علاوہ اس کے آپ کے اعجازی قصیدے میں بیسیوں غلطیاں (جن کی فہرست آگے آتی ہے۔) ہونے سے بھی آپ کا معجزہ بدستور اور آپ کے اعجازی دم خم بحال مگر مولوی محمد حسین صاحب کو عجب کا صلہ لام معلوم نہ ہونے سے (حالانکہ قصہ بھی غلط) ایسی ذلت پہنچی کہ خدا کی پناہ۔
مرزا جی کہئے کہ آپ کی عزت جاٹ کی پنتالیس عزتوں کی مصداق تو نہیں؟۔
دوسری بات کے متعلق ہم کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتے کہ مقدمہ میں کس کی ذلت ہوئی۔ مطبوعہ فیصلہ ہمارے سامنے ہے اس کی کل دفعات ہم نقل کرتے ہیں۔ ناظرین خود ہی اندازہ لگا لیں گے کہ یہ فیصلہ کس کے حق میں مفید ہوا۔ و ہو ہٰذا!
- (١)............. میں (مرزا) ایسی پیشگوئی شائع کرنے پرہیز کروں گا جس کے یہ معنے
ہوں یا ایسے معنے خیال کئے جا سکیں کہ کسی شخص کو (یعنے مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی وغیرہ) ذلت پہنچے گی ۔ یا وہ مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- (٢)............. میں خدا کے پاس ایسی اپیل (فریاد و درخواست) کرنے سے بھی
اجتناب کروں گا کہ وہ کسی شخص کو (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی وغیرہ) ذلیل کرنے سے یا ایسے نشان ظاہر کرنے سے کہ وہ مورد عتاب الٰہی ہے یہ ظاہر کرے کہ مذہبی مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔
- (٣)............. میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا جس کا یہ
منشاء ہو یا جو ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (یعنی مسلمان ہو خواہ ہندو ہو یا عیسائی) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔
- (٤)............. میں اس امر سے بھی باز رہوں گا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین یا ان
کے کسی دوست یا پیرو کے ساتھ مباحثہ کرنے میں کوئی دشنام آمیز فقرہ یا دل آزار لفظ استعمال کروں یا کوئی ایسی تحریر یا تصویر شائع کروں جس سے ان کو درد پہنچے۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ ان کی ذات کی نسبت یا ان کے کسی دوست اور پیرو کی نسبت کوئی لفظ مثل دجال کافر کاذب
بطالوی نہیں لکھوں گا۔ میں ان کی پرائیوٹ زندگی یا ان کے خاندانی تعلقات کی نسبت کچھ شائع نہیں کروں گا جس سے ان کو تکلیف پہنچنے کا عقلاً احتمال ہو۔
(٥).......... میں اس بات سے بھی پرہیز کروں گا کہ مولوی ابو سعید محمد حسین یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو اس امر کے مقابلہ کے لئے بلاؤں کہ وہ خدا کے پاس مباہلہ کی درخواست کریں تاکہ وہ ظاہر کرے کہ فلاں مباحثہ میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔ نہ میں ان کو یا ان کے کسی دوست یا پیرو کو کسی شخص کی نسبت کوئی پیشگوئی کرنے کے لئے بلاؤں گا۔
(٦).......... جہاں تک میرے احاطہ طاقت میں ہے تمام اشخاص کو جن پر میرا کچھ اثر یا اختیار ہے ترغیب دوں گا کہ وہ بھی بجائے خود اسی طریق پر عمل کریں جس طریق پر کاربند ہونے کا میں نے دفعہ ١٠٧ میں اقرار کیا ہے۔
اس امر کا خارجی ثبوت کہ اس فیصلہ نے مرزا جی کا قافیہ کہاں تک تنگ کیا ہے لینا ہو تو مرزا جی کی تحریر ہی سے لیجئے۔ مرزا جی کا ایک مطبوعہ اشتہار ہمارے پاس ہے جس سے ان کی بے بسی نمایاں ہے کہ کسی شرح یا حاشیہ کی محتاج نہیں۔ فرماتے ہیں : ”مجھے بارہا خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں گا۔ سو میں نوح نبی کی طرح دونوں ہاتھ پھیلاتا ہوں اور کہتا ہوں : ”رب انی مغلوب“ (مگر بغیر ”فانتصر“ کے).......... میں اس وقت کسی دوسرے کو مقابلہ کے لئے نہیں بلاتا۔ اور نہ کسی شخص کے ظلم اور جور کا جناب الٰہی میں اپیل کرتا ہوں۔“
(اشتہار ٥ نومبر ١٨٩٩ء ص ٤، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٨١)
یہ عبارت بآواز بلند صاف کہہ رہی ہے کہ مرزا جی پر اس مقدمہ سے ایسا رعب چھایا ہے کہ خدا سے دعا کرتے ہوئے ”فانتصر“ (میری مدد کر) بھی نہیں کہہ سکتے۔ باوجود اس کے پھر بھی ڈرتے ہیں کہ گورنمنٹ خلاف عہدی سے باز پرس نہ کرے تو اس امر کے دفعیہ کو کہتے ہیں کہ میں کسی کو مقابلہ پر نہیں بلاتا۔ الہامی پیشگوئیاں چھن گئیں۔ نبوت کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ ابھی تک کہے جاتے ہیں کہ اس مقدمہ سے مولوی محمد حسین کی ذلت ہوئی کہ اس
کا فتویٰ کفر منسوخ ہو گیا۔ یہ بھی غلط۔ فتویٰ منسوخ نہیں ہوا صرف مباحثہ میں ایسے الفاظ (دجال کافر وغیرہ) بولنے سے دونوں فریق کو روکا گیا۔ کسی سائل یا مستفتی کے جواب میں فتویٰ دینے اور اپنی مجلس میں تمہاری نسبت رائے ظاہر کرنے سے ہرگز منع نہیں کیا گیا۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب نے اشاعۃ السنہ نمبر ٤ جلد ٩ بابت ١٩٠٢ء میں صاف صاف لفظوں میں آپ کے اس زعم باطل کو رد کر دیا ہے۔ ہم بلا کمی بیشی مولوی صاحب موصوف کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
”الغرض اپنے فتویٰ یا اعتقاد کو میں نے نہیں بدلا۔ اور نہ ہی منسوخ کیا اور نہ ہی اس دفعہ چہارم اقرار نامہ کا یہ منشاء ہے صرف مباحثہ میں ان الفاظ کو بالمقابل استعمال نہ کرنے کا دونوں فریق نے وعدہ و اقرار نامہ کیا ہے اور یہی اس دفعہ چہارم کا منشاء ہے۔ ناظرین اشتہار مرزائے ١دسمبر سے دھوکہ نہ کھائیں۔“ (ص ١٠٧)
کہئے مرزاجی! ابھی کچھ کسر ہے؟۔ نمبر سوم کا جواب ہم کیا دیں۔ ہاں! یاد آیا مولوی صاحب اگر انگریزی لفظ ڈسچارج کا ترجمہ غلط سمجھنے سے ایسے ذلیل ہوئے کہ آپ کی پیشگوئی کے مصداق بن گئے تو کیا حال ہے ان الہاموں کا جن کو انگریزی میں الہام ہوں اور کتاب کے چھپنے تک بے ترجمہ ہی لکھ دیں اور عذر یہ کریں کہ اس وقت یہاں کوئی مترجم نہیں۔ اس لئے بے ترجمہ ہی لکھا جاتا ہے۔
(دیکھو براہین احمدیہ ج چہارم حاشیہ ص ٥٥٦‘ خزائن ج ١ ص ٦٦٤)
نمبر چہارم کی بابت تو ہم آپ کی داد دیتے ہیں۔ واقعی زمینداری ایسی ذلت ہے کہ خدا دشمن کو نصیب نہ کرے جب ہی تو آپ نے قدیمی آبائی ذلت دھونے کو اپنی جائیداد غیر منقولہ اپنی بیوی کے پاس مبلغ پانچ ہزار پر گروی کر دی ہے۔ لیکن جس روز ان کو خبر ہو گئی کہ زمینداری کی ذلت مرزاجی نے دانستہ میرے گلے مڑھ دی ہے تو وہ آپ کو ستائے گی اور کہے گی:
خدا نخواستہ گر خشمگیں ہوتے تو کیا کرتے
ہم چاہتے تھے کہ مرزا جی سے درخواست کریں کہ ہمارے لئے بھی ایسی پیشگوئی کریں جس کا نتیجہ ایسی ذلت ہو جو مولوی محمد حسین صاحب کو زمین ملنے سے ہوئی مگر یاد آیا کہ گورنمنٹ نے شاید اسی خوف سے کہ اتنی زمین کہاں سے آئے گی جو مرزا جی کی پیشگوئیوں کے پورا کرنے کو کافی ہوسکے یہ تو ہمیشہ کسی نہ کسی کو پیشگوئی کا ہدف بنائے رکھیں گے۔ مبادا کہیں زمین کے نہ ہونے سے کوئی پیشگوئی غلط ہوجائے۔ ایسی پیشگوئیاں کرنے سے ان کو بند کردیا۔ افسوس !
وہ بھی قسمت سے تیرا چاہنے والا نکلا
ہاں! مرزا غلام احمد قادیانی نے جو حدیث پیش کی ہے اس کا مطلب بتانے کو تو جی نہیں چاہتا تھا بلکہ اسی ذخیرہ میں اس حدیث کو رکھنا چاہتے تھے جو مرزا جی کی حدیث دانی اور فہم معانی کا ہے مگر ناظرین کی اطلاع کے لئے بتانا ضروری ہے۔ یہ حدیث جس کے مضمون کی طرف مرزا جی نے اشارہ کر کے ثابت کرنا چاہا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بوجہ زمیندار ہوجانے کے ذلیل ہوگئے فاتح قوم کے حال سے متعلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو فاتح قوم یعنے بادشاہ ہو کر زمینداری کی طرف جھک جاوے اور ملک داری سے غافل ہوجائے اور اسی پر کفائت اور قناعت کرے تو وہ ذلیل ہوجائے گی۔ یعنی اس کی حکومت اور سلطنت چند دنوں میں ہاتھ سے نکل جائے گی۔ (صدق رسول الله فداه روحی) اسی اصول اور حکمت کی وجہ سے حضرت عمرؓ عربی سپاہیوں کو ایک چپہ بھر زمین بھی نہ دیتے تھے بلکہ آج کل بھی فاتح قوموں کا یہی اصول ہے ورنہ ایسی زمینداری جیسی کہ مولوی محمد حسین صاحب کراتے ہیں۔
اس قسم کی تو آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ خود کرتے اور کراتے رہے۔ خیبر کی زمین اسی طریق پر دی گئی تھی۔
مرزا جی مجدد کے لئے اتنا ہی علم کافی ہے یا اس سے زیادہ کی بھی ضرورت ہے؟ :
بندہ نواز آپ کسی کے خدا نہیں
ناظرین! یہ ہیں مرزا جی کے ہتھکنڈے جن سے پیشگوئیاں کو سچا کیا کرتے ہیں جو دراصل اس شعر کے مصداق ہیں :
مصلحت را تہمتے بر آہوئے چیں بستہ اند
ہاں! یہ یاد آیا کہ یہ پیشگوئی تین اشخاص سے متعلق تھی جن میں سے صرف مولوی محمد حسین صاحب ہی کامیاب اور فائز المرام ہوئے مگر دو صاحب ملا محمد بخش اور مولوی ابوالحسن تبتی ہنوز باقی تھے۔ سو ان کی نسبت بھی مرزا جی نے ہمیں منتظر نہیں رکھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں : ”ان (دونوں) کی ذلت اور عزت دونوں طفیلی ہیں۔“
(اشتہار ٧ دسمبر ١٨٩٩ء ص ١٤‘ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢١٦)
چلو چھٹی ہوئی۔ بس ہو چکی نماز مصلے اٹھائیے۔
ہاں ملا مذکور کے حق میں پیشگوئی کے صدق پر مرزا جی نے ایک دلیل بھی دی ہے جو قابل بیان ہے۔ فرماتے ہیں : ”وہ جعفر زٹلی (ملا محمد بخش) جو گندی گالیوں سے کسی طرح باز نہیں آتا تھا اگر ذلت کی موت اس پر وارد نہیں ہوئی تو اب کیوں نہیں گالیاں نکالتا۔“
(اشتہار مذکور ص ٧‘ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٠٣)
اس دلیل سے ہمیں ایک قصہ یاد آیا ہمارے شہر امرتسر میں ایک دیوانی عورت تھی اس کو لڑکے چھیڑا کرتے اور اس کو ہپو کی اماں کہا کرتے تھے جس روز لڑکوں کو تعطیل کا دن ہوتا اس دن تو انبوہ کثیر اماں کی خدمت میں حاضر رہتا اور خاطر تواضع اچھی کرتا مگر جس دن لڑکے کام میں مصروف ہوتے اس دن اماں جی کہتیں : ”آج شہر کے لونڈے مرگئے“ وہی کیفیت ہمارے الہامی جی کی ہے۔ افسوس کہ یہ بھی غلط۔
ملا مذکور ہمیشہ مرزا جی کی دعوت حسب موقع کرتا رہا اور کرتا ہے۔ قبول کرنا نہ کرنا مرزا جی کا کام ہے۔ وہ تو بے چارہ ہمیشہ دست بدعا ١؎ رہتا ہے :
ناظرین کے مزید اطمینان کے لئے ہم ملا مذکور کا ایک خط نقل کرتے ہیں۔ جو ہمارے سوال کے جواب میں ہے :
”السلام علیکم ! آپ ملا محمد بخش صاحب کی نسبت ٧؍ دسمبر ١٨٩٩ء کے اشتہار میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ آپ ذلت اور خواری کی وجہ سے اس کے مقابلہ سے باز آگئے۔ یا ٧؍ دسمبر سے پہلے آگئے تھے۔ آپ حلفیہ بتلادیں کہ یہ ٹھیک ہے ؟۔“
اس کا جواب :
”جناب مولانا صاحب وعلیکم السلام ! مرزا بالکل جھوٹ بکتا ہے۔ مجھے اس کے مقابلہ میں کبھی ذلت اور خواری نہیں پہنچی۔ بلکہ دن بدن خدا کے فضل سے عزت ہوتی رہی اور اس کی پیشگوئیوں کو ہمیشہ جھوٹی اور شیطانی احلام سمجھتا رہا۔ میں اس سے ہزار روپیہ بھی نہ لیتا جو وہ آتھم کو کہہ رہا تھا۔ وہ اب بھی اگر چاہے تو میں قسم کھاسکتا ہوں۔ اس کے شیطان ہونے پر، پھر چاہے وہ ایک سال نہیں دس سال کی بھی پیشگوئی جمادے میرے مضمون اس کی پیشگوئی کے ٧؍ دسمبر تک مفصلہ ذیل تاریخوں میں بعنوان ذیل نکلتے رہے۔ ٩؍ دسمبر ١٨٩٨ء ١٢؍ دسمبر ١٨٩٨ء ١٤؍ دسمبر ١٨٩٨ء ١٦؍ دسمبر ١٨٩٨ء ٣٠؍ دسمبر ١٨٩٨ء یہ مباہلہ کے پانچ اشتہار تھے۔ ١٥؍ فروری ١٨٩٩ء کو بعنوان ”مرزا کاذب اور ہم“ ٢٠؍ اپریل ١٨٩٩ء کو بعنوان ”مسیح کاذب کے ساتھ دو باتیں“ ٢٥؍ جون ١٨٩٩ء کو بعنوان ”قادیاں کا جھوٹا مسیح“ یکم اکتوبر ١٨٩٩ء کو بعنوان ”الحکم کی غلط فہمی“ ١٥؍ دسمبر ١٨٩٩ء کو بعنوان ”مجیب جواب“
(بندہ محمد بخش از لاہور یکم اکتوبر ١٩٠٠ء)
١؎ یہ اس کی زندگی کا واقعہ ہے۔
مولوی ابوالحسن تبتی بھی بخیریت اپنے وطن موضع کیرس ملک تبت میں زندہ سلامت ہیں۔ سردی کی وجہ سے کبھی نزلہ زکام ہوا ہو تو انکار نہیں ہو سکتا۔
اس پیشگوئی کے متعلق حکیم نورالدین صاحب سے کچھ نہ بن سکا۔ بجز اس کے کہ محض طوالت دینے کو اس پیشگوئی کے متعلق مرزا صاحب کی بڑی لمبی چوڑی تحریرات درج کر کے ناحق طول دیا۔ جسے دیکھ کر بے ساختہ یہ شعر منہ سے نکلتا ہے :
عجیب چیز ہے یہ طویل مدعا کے لئے
ہاں ! ایک بات پر بڑا زور دیا کہ : ”مولوی محمد حسین صاحب کی اولاد نالائق ہے۔ جس سے ان کو سخت تکلیف ہے یہی ذلت ہے۔“
(آئینہ حق نما ص ٢٣٦)
نہایت افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسا شخص جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے آتا ہے جو لوگ اس کی اس اصلاح پر روڑا اٹکاتے ہیں۔ ان کے حق میں وہ ایک عام پیشگوئی کرتا ہے جس کے نتیجہ کے لئے وہ تمام اپنے پرائے کو انتظار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مگر انجام کار یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ اس بڑی پیشگوئی کا جس کو اس مصلح نے تمام دنیا کے مقابلہ میں شائع کیا تھا عدم وجود برابر ہوتا ہے۔ آہ کیسا شرم بلکہ حسرت کا مقام ہے۔ ان لوگوں کے حق میں جو حسب مثال ”ڈوبتے کو تنکے کا سہارا“ ایسے سہارے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ایک طرف پیشگوئی کے الفاظ کو دیکھیں دوسری طرف اس کے انجام کو دیکھیں تو دونوں میں کوئی مناسبت ہی نہیں معلوم ہوتی۔
ہاں ! آپ نے بطور فخریہ خوب کہا ہے کہ : ”مسیح موعود (مرزا صاحب) کی جماعت میں حسد اور بغض نہیں۔“
(ص ٢٣٤ ایضاً)
حالانکہ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں کہ میری جماعت بہت بری اور بڑی بد اخلاق ہے۔ چنانچہ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں :
”اخی مکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ
کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاکدلی اور پرہیزگاری اور للٰہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بنا پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں۔ اور نکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں پر نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔“
(اشتہار ٢٧ دسمبر ١٨٩٣ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٤١)
مرزا صاحب کا یہ افسوس ناک کلام سن کر مرزائیوں کے حق میں ایک پرانی مثال یاد آتی ہے ”تیلی بھی کیا اور روکھا کھایا“ مرزا سے بیعت کر کے دنیا میں نکو بھی بنے اور فائدہ بھی کچھ نہ ہوا۔ شاید یہی معنے ہیں :
کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آرد سکندر را
اخیر میں ہم اپنے ناظرین کو مرزاجی کی ایک پیش بہا پیشگوئی پر بھی مطلع کرتے ہیں گو اس پیشگوئی کے دن ابھی باقی ١؎ ہیں لیکن ہم ابھی سے چشم براہ ہیں کہ دیکھیں پردہ عدم سے کیا کچھ ظہور پذیر ہوتا ہے۔ مضمون اس پیشگوئی کا حسبِ معمول بڑے زور شور کا ہے گو وہ صرف دعا ہی ہے مگر مرزا قادیانی کی دعا بھی تو صرف دعا ہی نہیں کہ قبول ہونا خیالی امر ہو۔
١؎ طبع اول کے وقت دن باقی تھے اب تو کئی برس اوپر ہو گئے۔
مرزا غلام احمد قادیانی سے تو خدا نے صاف کہا ہوا ہے جو تو کہے گا کروں گا۔ جو تو مانگے گا دوں گا۔ (حوالہ گزشتہ صفحات کتاب ہٰذا)
یہ پیشگوئی اشتہار مورخہ ٥ نومبر ١٨٩٩ء میں ہے جس کی میعاد تین سال ہے۔ ابتدا اس کی جنوری ١٩٠٠ء ہے اور انتہاء اس کی اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ مرزاجی میں اور مرزاجی کے مخالفوں میں کسی بین آسمانی نشان سے فیصلہ ہوگا۔ جو پہلے نہ ہوا ہو۔ ناظرین پہلے الفاظ دعائیہ پڑھیں پھر واقعات سے نتیجہ ملاحظہ کریں۔
چھٹی پیشگوئی متعلقہ نشانی آسمانی میعادی سہ سالہ
یہ پیشگوئی ایک دعا کے طور پر بڑے دو ورقوں میں مرقوم ہے جن کا اصل مطلب یہ ہے۔ مرزاجی لکھتے ہیں :
”اے میرے مولا! قادر خدا اب مجھے راہ بتلا (آمین).......... اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا۔ اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیا گیا ہے کافر اور کاذب نہیں ہوں تو ان تین سال میں جو اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔“
(اشتہار ٥ نومبر ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٧٥، ١٧٨)
گو یہ الفاظ دعائیہ ہیں مگر مرزاجی اپنے رسالہ اعجاز احمدی کے ص ٨٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٣ پر اس دعا کو پیشگوئی قرار دیتے ہیں۔ پھر ہمارا کیا حق ہے کہ ہم اس کی نسبت یہ گمان کریں کہ یہ صرف دعا ہی دعا ہے جس کی قبولیت قطعی نہیں اس لئے کہ ایک تو مرزاجی کی دعا ہے کسی معمولی آدمی کی نہیں۔ مرزاجی تو اپنی دعا کی بابت اسی اشتہار کے صفحہ چار پر فرماتے ہیں :
”جبکہ تو نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں تیری ہر دعا قبول کروں گا۔“
(اشتہار ٥ نومبر ١٨٩٩ء‘ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧١)
میں سچ کہتا ہوں کہ جب سے مجھے اشتہار مذکور ملا ہے آسمان کی طرف سے ہر روز تاکتا رہتا تھا کہ دیکھیں مرزا جی کے مخالفوں کے فیصلہ کے لئے کیا نشان ظاہر ہوتا ہے۔ جس کے دیکھنے کے بعد لوگوں کو ان کی نسبت جو خیالات ہو رہے ہیں رفع دفع ہو جائیں۔ کیونکہ یہ نشان کوئی معمولی نشان نہ تھا بلکہ ایک عظیم الشان نشان ہے جس کو سلطان کہتے ہیں جس کی بابت خود مرزا جی لکھتے ہیں :
”سلطان عربی زبان میں ہر ایک قسم کی دلیل کو نہیں کہتے بلکہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں کہ جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کرلے۔“ (اشتہار ٢٢ اکتوبر ١٨٨٩ء)
پس جو تعریف مرزا جی نے سلطان کی کی ہے وہی مرزا جی کے اس مطلوبہ نشان کی ہے جس کے نہ ہونے پر آپ فیصلہ دیتے ہیں :
”اگر تو (اے خدا) تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء عیسوی سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء عیسوی تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے اور اپنے بندہ کو ان لوگوں کی طرح رد کرے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں ........................ میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔“ (ہر کہ شک آرد ........................ الخ)
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٧‘ ١٧٨)
افسوس مرزا جی نے ناحق ہمیں تین سال تک انتظار میں رکھا۔ دیکھتے دیکھتے ہماری آنکھیں پتھرا گئیں کان بھی سن ہو گئے مگر کوئی آواز ہمارے کانوں تک نہ آئی کہ فلاں ایسا نشان
ظاہر ہوا ہے جس سے مرزا جی اور ان کے مخالفوں کا فیصلہ ہو گیا۔ ہم نے کتاب ہذا طبع اول کے وقت بوجہ بے خبری کے چند ایک نشان پیش کئے تھے یعنی امیر صاحب والی کابل کی وفات پر پریذیڈنٹ امریکہ کی موت یا ملکہ معظمہ قیصر ہند کا انتقال یا بیگم صاحبہ بھوپال کی رحلت مگر افسوس کہ مرزا جی کی پارلیمنٹ الہامیہ نے ان میں سے کسی ایک نشان کو قبول نہ فرمایا بلکہ ایک نئے نشان کی نشان دہی کی فکر میں لگ کر اس پیشگوئی کو بھی سابقہ پیشگوئیوں کی طرح کوہ کندن و کاہ بر آوردن کا مصداق بنایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔
دس ہزار روپیہ کا اشتہار : یہ اشتہار خدا تعالیٰ کے اس نشان کے اظہار کے لئے شائع کیا جاتا ہے جو اور نشانوں کی طرح ایک پیشگوئی کو پورا کرے گا۔ یعنی یہ بھی ا؎ وہ نشان ہے جس کی نسبت وعدہ تھا کہ وہ اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ظہور میں آجائے گا۔
(رسالہ اعجاز احمدی ص ٨٨ خزائن ج ١٩ ص ٢٠٢)
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موضع مد ضلع امرتسر میں مرزائیوں نے شور و شغب کیا تو ان لوگوں نے لاہور ایک آدمی بھیجا کہ وہاں سے کسی عالم کو لاؤ کہ ان سے مباحثہ کریں۔ اہالی لاہور کے مشورے سے : ”قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند“ ایک تار آیا اور صبح ہوتے ہی جھٹ سے ایک آدمی آ پہنچا کہ چلئے ورنہ گاؤں کا گاؤں بلکہ اطراف کے لوگ بھی سب کے سب گمراہ ہو جائیں گے۔
خاکسار چار و ناچار موضع مذکور میں پہنچا۔ مباحثہ ہوا۔ خیر اس مباحثہ کی روئیداد تو ضمیمہ شحنہ ہند مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء میں اہالی مذکور نے شائع کرادی مگر مرزا جی کو ان کے فرستادوں نے ایسا کچھ ڈرایا اور اپنی ذلت کا حال سنایا کہ مرزا جی آپے سے باہر ہو گئے اور جھٹ سے ایک رسالہ اعجاز احمدی نصف اردو اور نصف عربی نظم لکھ کر خاکسار کے نام مبلغ دس ہزار
ا؎ اس لفظ (بھی) کو ہم نہیں سمجھے شاید صحیح ”یہ ہی“ ہے۔
روپیہ کے انعام کا اشتہار دیا کہ اگر مولوی ثناء اللہ امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو عربی نظم جیسا میں نے بنایا ہے پانچ روز میں بنادے تو میں دس ہزار روپیہ ان کو انعام دوں گا اور اس قصیدہ کا نام قصیدہ اعجازیہ رکھا۔ یعنی یہ قصیدہ ایسا فصیح و بلیغ ہے جیسا کہ قرآن۔ آنحضرت کا معجزہ ہے یہ میرا معجزہ ہے۔ اس قصیدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ (خاکسار) کے اس قسم کے قصیدے کے لکھنے سے عاجز رہنے سے میری وہ پیشگوئی جو سہ سالہ میعاد کی میں نے طلب کی ہوئی ہے پوری ہو جائے گی۔ یعنی یہی وہ نشان ہے جس کی بابت مرزا نے خدا سے اتنے بڑے لمبے چوڑے دانت پیس پیس کر سوال کئے تھے۔
اب اس سوال کے متعلق میری کارروائی بھی سنئے۔ میں نے ٢١ نومبر ١٩٠٢ء کو ایک اشتہار دیا جس کا خلاصہ ٢٩ نومبر کے پیسہ اخبار لاہور میں چھپا تھا کہ آپ پہلے ایک مجلس میں اس قصیدے اعجازیہ کو ان غلطیوں سے جو میں پیش کروں صاف کر دیں تو پھر میں آپ سے زانو بزانو بیٹھ کر عربی نویسی کروں گا۔ یہ کیا بات ہے کہ آپ گھر سے تمام زور لگا کر ایک مضمون اچھی خاصی مدت میں لکھیں اور مخاطب کو جسے آپ کی مہلت کا کوئی علم نہیں محدود وقت کا پابند کریں اگر واقعی آپ خدا کی طرف سے ہیں اور جدھر آپ کا منہ ہے ادھر ہی خدا کا منہ ہے (جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے) تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ میدان میں طبع آزمائی نہ کریں۔
بلکہ بقول حکیم سلطان محمود ساکن راولپنڈی :
نکل! دیکھیں تری ہم شعر خوانی
حرم سرائے ہی سے گولہ باری کریں اس کا جواب باصواب آج تک نہ آیا کہ ہاں ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں۔ چونکہ میں نے اس اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ مجلس میں اغلاط نہ سنیں گے تو میں اپنے رسالہ میں ان کا ذکر کر دوں گا۔ اس لئے آج میں اس وعدے کا ایفا کرتا ہوں۔
قصیدہ اعجازیہ
آپ تو اس کا نام قصیدہ اعجازیہ رکھتے ہیں جس کے معنے یہ ہیں کہ فصاحت بلاغت کے ایسے اعلیٰ مرتبہ پر ہے کہ کوئی شخص اس جیسا لکھ نہیں سکتا۔ مگر غور سے دیکھا جائے تو خود آپ کو بھی اس اعجاز کا یقین نہیں۔ بھلا اگر یقین ہوتا، بیس روز کی مدت کی کیوں قید لگاتے کیا قرآن شریف کے اظہار اعجاز کے لئے بھی کوئی تحدید ہے کسی آیت تحدی میں کفار مخالفین سے کہا گیا ہے کہ اتنے دنوں میں یا اتنے مہینوں میں اس کی مثل لاؤ گے تو مقابلہ سمجھا جائے گا اور اگر اتنے دنوں سے زائد ایام گزرے تو ردی میں پھینک دیا جائے گا۔
(اعجاز احمدی ص ٩٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٥)
پھر طرفہ یہ کہ صرف بیس روز کی تصنیف کے قلمی مضمون سے جو مصنف کی اصل لیاقت کا معیار ہے کوئی شخص مرزا جی کو جیت نہیں سکتا۔ بلکہ اس معجزنمائی میں لکڑی اور لوہے کو بھی دخل ہے کہ وہ مضمون چھاپ کر کتاب تیار کر کے حضرت کی خدمت میں پہنچادے۔ جس سے یہ مراد ہے کہ نہ کسی مولوی صاحب کے ہاں مرزا جی کی طرح پریس اور منشی گھر کے ہوں گے اور نہ کوئی آپ سے مبلغات (وہ بھی روحانی اور معنوی) لے سکے گا۔ کیا ہی معجزہ ہے کہ پریس کے کام کو بھی معجزہ کا جزو بنایا جاتا ہے تاکہ اگر کسی صاحب میں ذاتی لیاقت وقابلیت ہو بھی تو بوجہ اس کے کہ اس کے پاس پریس کا انتظام ایسا نہیں جو قادیانی پریس کی طرح صرف مرزا جی کا کام کرتا ہو تو بس اس کی لیاقت بھی ملیا میٹ ضائع اور برباد ہے وہ بھی مرزا جی کو مسیح موعود مان لے کیونکہ اس کے پاس پریس نہیں اور مرزا جی کے پاس پریس ایک نہیں دو تین ہیں۔
ناظرین! یہ ہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی بھول بھلیاں۔ جن سے بہت کم لوگ واقف ہو سکتے ہیں۔
خیر ہمیں اس سے بحث نہیں ہم ان کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اب ہم
آپ کے اعجازی قصیدے کا عجز بتلاتے ہیں۔ آپ کے قصیدے میں ہر قسم کی غلطیاں ہیں۔ صرفی، نحوی، عروضی وغیرہ۔ آپ کے قصیدے کا مجریٰ (حرکت روی) ضمہ ہے۔ چنانچہ پہلا شعر آپ کا یہ ہے :
دارداك ضلیل واعزاك موغر
حالانکہ مندرجہ ذیل اشعار میں اقوا لازم آتا ہے۔ یعنے اخیر کی حرکت بجائے ضمہ کے کسرہ ہو جاتی ہے اور اقوا سخت عیب ہے۔ محیط الدائرہ میں ہے : ”ان تغیر المجری الى حركة قريبة كما اذا ابدلت الضمة كسرة والكسرة ضمة فهو عيب في القافية يسمى اقواء. ص١٠٦“
اور عروض المفتاح میں ہے عیب اختلاف الوصل ويسمى مثل منزلو مع منزلى اقواء ومثل منزلا مع منزلو ومنزلى اصرافا وهوا عیب. (یعنی اقواء اور اصراف اشعار میں عیب ہے۔)
اب سنئے مرزا جی کے اشعار میں اقواء
(٢، شعر ١٧) ايا عصبة للحق تبغون والوفا رويدكم لا تبطلوا صنيعكم بالخصم
(٣، شعر ٢٢) وإن كنت قد ساءتك امر خلافتى فسل مرسلى واسأل قتيلك واحسم
(٤، شعر ٤١) سئمنا تكاليف التطاول من عدا فأدت ليالى الجور يا ربّى اقصم
(٥، شعر ٤٢) وجئتك كالموتى فاحي امورنا لتخزا اماما كالمساكين ناعم
(٦، شعر ٤٦) تعال حبيبى انت روحى راحتى وإن كنت قد انست منى فسلّم
(٧، شعر ٤٨) بفضلك انا قد عصمنا من العدا كأن جمالك فاقبل فأت وانظم
(٨، شعر ٤٩) ونرتج دفعا بالهى ونبتغى ومن لى خصيما يا نصيرى تمم
(٩، شعر ٥٠) وإن كان لا يستطيع ابطال ايتي فقل خذه يا امير الضلالة والقم
(١٠، شعر ٥٢) اذا نحن بارزنا فأين حسينكم وإن كنت تحسبه فاعلن واعلم
(١٥ شعر) رموا كل سهم كان في اذيالهم بنبذ ملام خلق ولم اتحیر
(١٦ شعر) فاوصيك يا ردت الحسين ابا الوفا اثب واتق الله الحاسب بواحداز
(١٧ شعر) الا اتق الرحمان عما تصنع ومن كان اتقى لا يبالي و يحذر
(١٨ شعر) فرايت مجمع كيدهم وقتلتهم بضرب ولم اكسل ولم اتحیر
(١٩ شعر) امكفر مهلا بعض هذا التهكم وخفت حروبا قال لا تقف فاحذر
(٢٠ شعر) فان تبغنى في حلبة المجد تلقنى وان تطلبني في الميادين احضر
(٢١ شعر) وارسلنى ربي لاصلاح خلقه فيا صل لا تنطق هوى وتصبر
(٢٢ شعر) فكنت امرأ ابغى الخمول من الصبا متى يأتى من زائرين أصغر
(٢٣ شعر) فاخرجنى من حجرتى حكم مالكى فقمت ولم اعترض ولم اتعذر
(٢٤ شعر) وانى لاجنابه مقام وموقف لدى شأن فرقان عظیم معزز
(٢٥ شعر) ولست بتواق الى جمع العدا ولكن متى يستحضر القوم احضر
(٢٦ شعر) الا ان حسن الناس في حسن خلقهم ومن يقصد التحقير خُبثا يحقر
(٢٧ شعر) شعرنا مآل المفسدين ومن يعش الى برهة من بعد ذالك ليشعر
(٢٨ شعر) فتب واتق القهار ربك يا على وان كنت قد ازمعت حربي فاحضر
(٢٩ شعر) اريناك آيات فلا عذر بعدها وان خلتها تخفى على الناس تظهر
(٣٠ شعر) اردت عذابي ثم بينتها ومن لم يوقر صادقا لا يوقر
(٣١ شعر) وانى لعمر الله لست بجائر وان كنت تاتى بالشتائم فادبر
(٣٢ شعر) وهذا العهد قد تقرر بيننا بمذهب لم تنكث و لم تتغير
مرزا جی! ان اشعار کے مجری کا اعراب ہم نے آپ ہی کا لگایا ہوا لکھا ہے۔ عموماً آپ نے رفع لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقوا کی قوت سے آپ بھی دبتے اور خوف کھاتے ہیں مگر آپ کا رفع لکھا ہوا اگر صحیح سمجھا جائے تو صرفی اور نحوی قاعدہ کے خلاف ہوتا ہے مذہبی امور میں تو آپ اپنے ناواقف معتقدین کو اپنا حکم ہونا بتلایا کرتے ہیں اور دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ جو حدیث میرے دعویٰ کے خلاف ہو وہ غلط مگر صرفی اور نحوی اصول میں تو آپ حکم یا موجد نہیں کہ جو حکم چاہیں لگائیں۔
اس عیب کے علاوہ مندرجہ ذیل اشعار میں اصراف لازم آتا ہے جو اس سے بھی سخت عیب ہے جس کی بابت محیط الدائرہ میں ہے : ”ان تغیر المجرے الی حركة بعيدة كما اذا ابدلت الضمة فتحة اوبالعكس فهوعيب فى القافية يسمى اصرافا واسرافا ٠ ص١١٠“
عروض المفتاح میں ہے وھو عیب (کما مرّ آنفا) پس سنو!
(ص٤٨ شعر٦) دعوا حب ديناكم وحب تعصب ٠ ومن يشرب الصہبا یصبح مسکر کیونکہ مسکر بوجہ خبر ہونے یصبح کے منصوب ہے حالانکہ قصیدے کا مجریٰ مرفوع ہے۔
(ص٤٩ شعر٥) وان كان شان الامر ارفع عند كم ٠ فاین بهذا الوقت من شان جولر کیونکہ جولر بوجہ شان کے مفعول بہ ہونے کے منصوب چاہئے اور مجریٰ رفع ہے۔
(ص٥٤ شعر٦) وسبّوا وآذونی بانواع سبہم ٠ وسمون دجالا وسمون ابتر ابتر بوجہ مفعول ثانی ہونے سموا کے منصوب چاہئے جو مجریٰ سے خلاف ہے۔
(ص٥٦ شعر١) وقد كان صحف قبله مثل خارج ٠ فجاء لتکمیل الورے لیغزر ٠ لیغزر لام لگنے کے بعد ان ناصبہ مقدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا جو مجریٰ کے خلاف ہے۔
(ص٦٣ شعر٨) وكيف عصوا والله لم يدر سرها ٠ وكان سنا برق من الشمس اظہر ٠ اظہر بوجہ خبر ہونے کان کے منصوب چاہئے۔
(ص٦٥ شعر١٠) وكم من عد وكان من اكبرالعدا ٠ فلما اتانی صاغرا صرت اصغر ٠ اصغر بوجہ خبر ہونے صرت کے منصوب چاہئے جو مجریٰ کے مخالف ہے۔
(ص٦٨ شعر١١) اكان حسين افضل الرسل كلهم ، اكان شفيع الانبياء و مؤثر . مؤثر بوجہ معطوف ہونے شفیع کے کان کی خبر منصوب ہے۔
(ص٧٠ شعر٩) اتزعم ان رسولنا سيدالورى، على زعم شانئه توفی ابتر ، ابتر بوجہ حال ہونے توفی کی ضمیر کے منصوب ہے آپ نے مرفوع بنایا ہے۔
(ص٧٨ شعر٨) آآخيت ذئبا عایثا اوابالوفا ، اوابیت مذ أوریت امرتسر، امرتسر بوجہ مفعول بہ یا حسب ترجمہ مصنف مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہے۔ نیز ہمزہ سے ثقل آتا ہے گرانا جائز نہیں چونکہ قطعی ہے۔
(٨٣ شعر٢) وصبت على راس النبى مصيبة . ودقوا عليه من السيوف المغفر، المغفر بوجہ مفعول بہ ہونے دقوا کے منصوب ہے۔ آپ نے مرفوع بنایا ہے۔
(ص ٨٤ شعر ٧) وكنت اذا خيرت للبحث والرغا، سطوت علينا شاتما لتوقر، لتوقر بوجہ مقدر ہونے ان ناصبہ کے منصوب چاہئے جو مجریٰ کے خلاف ہے۔
(ص ٨٦ شعر١) ففكر بجهدك خمس عشرة ليلة، وناد حينا اظفرا واصنفر، اصنفر بوجہ معطوف ہونے مفعول بہ کے منصوب ہے۔
(ص ٨٧ شعر ٦) رميت لاغتالن وماكنت راميا، ولكن رماه الله ربى لیظہر ، لیظہر بوجہ ان مقدرہ کے منصوب ہے۔
اقوا اور اصراف گو بعض شعرا کے کلاموں میں آئے ہیں مگر ناقدین نے ان کو معیوب گنا ہے۔ چنانچہ عبارات کتب عروض اوپر گزر چکی ہیں۔
علاوہ اس کے مندرجہ ذیل اشعار میں سقم معنوی بھی ہے :
(ص ٤٨ شعر ٩) تسل ايهاالقارى اخاك اباالوفا، لما يخدع الحمقى وقد جاء منذر . عام مخاطب کو جس میں اپنی جماعت کے افراد ناقصہ اور کاملہ
بھی داخل ہیں۔ ابوالوفاء کا بھائی یعنی خلیل بنایا ہے اور ابوالوفا کو خدع سے موصوف کیا ہے۔ حا لانکہ ایھا القاری بحیثیت عموم کے خدع سے موصوف نہیں ہو سکتا۔
(ص ٥٠ شعر ٨) وان قضاء الله ما یخطی الفتی ٠ له خانیات لا یراها مفکر ٠ لا یراها کا فاعل مفکر کو بنایا ہے۔ حالانکہ مفکر کا کام رویت نہیں بلکہ فکر ہے اور اگر افعال قلوب سے کہیں تو دوسرا مفعول ندارد ہے جو ضروری ہے۔
(ص ٥٦ شعر ٥) ولوان قومی انسوی لطالب ٠ دعوت لیعطوا عین عقل وبصروا ٠ وبصروا کا عطف دعت پر مراد نہیں اور یعطوا پر صحیح نہیں۔
(ص ٧٤ شعر ٤) ايا عابد الحسنین اياك والظی ٠ ومالك تختار السعير وتشعرو ٠ وتشعرو پر واو غلط ہے۔ کیونکہ مضارع حال ہو تو صرف ضمیر سے آتا ہے کافیہ میں ہے والمضارع المثبت بالضمیر وحده اور مختار پر عطف مراد نہیں۔ کما لا یخفی!
(ص ٧٥ شعر ١١) فقلت الك الویلات یا ارض جولرا ٠ لعنت بملعون فانت تدمر ٠ انت ضمیر مونث مخاطب ہے اور تدمر صیغہ مذکر مخاطب ہے اور اگر تدمرین ہو تو نہ وزن درست رہے گا اور نہ قافیہ بے عیب حقیقت میں یہ پیر صاحب گولڑوی (جن کی اس شعر میں ہجو کی گئی ہے) کی گویا کرامت ہے۔
(ص ٧٧ شعر ٦) فیاتی من الله العلیم معلم ٠ ویہدی الى اسرارها ویفسر ٠ اسرارھا میں ضمیر مونث اللہ جل شانہ کی طرف پھیر دی ہے۔ (کیوں نہ ہو بازی بازی باریش بابا بازی)
(ص ٨٢ شعر ٤) وان كان هذا الشرك فى الدین جائزا ٠ فبا لغو رسل الله فى الناس بعثر ٠ یہ شعر بعینہ اور ہو بہو ص ٨٠ کا گیارہواں شعر ہے۔
(ص ٨٧ شعر ٨) نرى برکات نزلوھا من السماء ٠ لنا کاللو اقح والکلام ینضر ٠ نزلوھا میں ضمیر فاعل کا مرجع پہلے مذکور نہیں۔
بتلائیے ! جس چھوٹے سے قصیدے میں سرسری نظر سے اتنی غلطیاں لفظی اور معنوی ہوں ۔ وہ بھی اس قابل ہو سکتا ہے کہ اعجازیہ کا معزز لقب پاسکے اور اس کو بے مثل کہا جائے ۔ ہاں! اگر بے مثل کے یہ معنی ہیں کہ اس جیسا غلط کلام اور قصیدہ دنیا بھر میں کوئی نہیں تو ہمیں بھی مسلم ہے ۔
مرزا صاحب کے قصیدہ کا حال تو معلوم ہو چکا ۔ اب ان کے مقابلہ میں ایک قصیدہ سنئے جو قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نے مرزا صاحب کے جواب میں لکھا تھا۔ واضح ہو کہ قاضی صاحب کو مرزا صاحب نے اپنے قصیدے کے جواب کے لئے طلب فرمایا تھا۔
(ملاحظہ ہو اعجاز احمدی ص ٨٦ خزائن ج ١٩ ص ١٩٦)
قصیدہ رائیہ بجواب قصیدہ مرزائیہ
تذکرھا نعود الى البدء للورے ولقیان ذات اللہ یوم تبعثر
واھل لھا اضحوا رمیما واقفرت منازل علم الدین منھم ودمروا
مع السیر اخلاقا حسانا وکلھم لنجوم اضلّت ثم غابوا وغوروا
کانی اذا ما اذکر العھد والھدے لمشیم بروقا قد تلوح وتستر
وصحبی قیام فی مقام نصیحة یقولون لا تحزن فانک توجر
وان شفائی سنة نبویة فھل من کریم یرتضیھا ویؤثر
الا رب یوم کان یوما مبارکا ولا سیما یوم بھی مستتر
لھم فیہ نصح للبریة والوری بتذکار یوم کلنا فیہ نحشر
بإنکار یوم لیس یخفی علی الوری بہ اللہ یعطی من یشاء ویخسر
بہ اللہ یعصم من اتی مستکبرا بہ اللہ ینجی من کید من ھو یفجر
یہ قصیدہ مرزا صاحب کی زندگی ہی میں اخبار اہلحدیث میں چھپ چکا ہے ملاحظہ ہو ٨ جنوری تا ٢٨ مارچ ١٩٠٤ء
ويوم عقرنا فيه ليل نفوسنا الى كل ما يبغى وما يتخير
وملنا الى باق وخير ذخيرة ولغنى رضاء الله فيما يذخر
فاول ما يعلو به المرء فى الورى قبول لما قال الاله المكبر
وتسليم احكام اتت فى كتابه مرادى به ذاك الكتاب المنور
مرادى به ما قد تراه مفصلا بايدى الكرام المسلمين ويحبر
وكيف يريدون الأناسى فهم سواء عليهم انذروا ام تناذروا
فمن كان منهم مرسلا كان مرسلا الى نفسه او غيره ذاك يعسر
وذاك لان الغير ايضا كمثله فمن كان منهم امرا كان يومر
ومأمورهم ايضا كمثال وآمر لأمره حقا كذلك يعسر
وايثار شئ نفسه مشربا مضى عسير محال مثله لا ييسر
رجعنا الى ما قد اتيناه اولا وقلنا اردنا منه ما هو يزبر
كتاب حوى ما يتبع اولو النهى من الهدى والعلم الذى هو ابحر
فلولاه كنا فى الضلال كغيرنا وذقنا كما ذاقوه امر هو اكثر
كتاب شفاء للصدور بماله من الخير والفضل الذى لا يغمر
كتاب هدانا حسن اخلاق ربنا هو الملك الابهى السنى المطهر
كتاب علمنا ان نجل رسوله على الحق من وافى الينا يتخير
كتاب هدانا الاجتماع فلا نرى انا المقتدى المخبر الامام الموزر
يفرق شمل المسلمين بقوله اخوض على علم عليه واصدر
انا الحجة البيضاء فى كل ملحة مثالا له فيما يريد ويبصر
بدر دجى ذى سناء فلا نرى والبصرا
على انه يهدى الانام على السوا لقد مات عيسى فانظروا وتفكروا
فاى كتاب الله ينطق هكذا كان الرسل خير الناس حقا ففكروا
ولست بنيانا لاصالة للورى انا الظل لا الاصل الاصيل فتكبروا
فعوا واسمعوا من كلامى فاننى اريد جوابا يرتضيه مبصر
لئن مات عيسى فالرجوع محرم الى هذه الدنيا لديه مقرر
فكيف يقول المرء انى خليفة مسيح له فى القاديان تستر
وان كان حيا فالجواب ميسر ويحمل على من كان يخشى ويحذر
بان ليس هذا ذاك قط بلا مرا فكيف يكون العبد حرا يوقر
وان كان دعواه بانى مثيله فما قوله قد مات عيسى فابشروا
لان مثيل الامر لا يقتضى ولا يدل على اعدام الممثل فاحذروا
على ان ختم الانبياء يقيننا على منهج حق سوى يدثر
اذا تم مضمار النبوة فى الورى فما قوله شبه ومثل فابصروا
متى لم يكن امرا هو مشاركا فماذا وما ذاك انظروا وتدبروا
لان مثيل الشئ ياتى مشاركا له فى امور الذات وهو مقرر
على ان هذا جاء من حصص له وذاك له نوع كذالك يوثر
وليس نبى بعد حضرته ولا يحرم على الافكار الا معذر
فكيف يقول المرء انى مسيحكم وليس شريكا فى النبوة ينذر
فان قال انى ظله لا اصيله فما الظل الا ضده المستحقر
فهذا هو المحروم من نور شمسنا وذاك مضئ نير منور
يبين هذا ذاك حقا بلا مرا فهذا هو العرض الذى يتهور
فان كان هذا مثله او مثيله فقل كلنا الامثال والحال مخبر
فقال نبي الله اني مثيلكم وليس النبيين الكرام ففكروا
لانهم مثل النبي بكونهم اناسا كما كان النبي فحرروا
فما قاس مردود بقول اقوله فقد قلت ما فيه الكفاية فاشكروا
وليس بنبينا خصمنا وخصيمنا بل الخصم ضد للنبي مقرر
براهمة الهند الذين بزعمهم حكما يرون ما يراه ويأمر
بان الاناس الساكنين على الثرى جميعا صحيفات عن الرب تذكر
قصیدہ ہذا بہت لمبا اور مرزا صاحب کے قصیدہ کا کافی جواب ہے۔ مگر ہم اردو خوان ناظرین کے ملال خاطر کے خوف سے اسی قدر نمونہ پر کفایت کرتے ہیں۔
مرزا قادیانی کی قصیدہ خوانی کا جواب تو ہو لیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ حکیم صاحب نے بھی اس پیشگوئی کے متعلق بالکل معمولی معمولی باتوں میں وقت ضائع کیا ہے اصل بات کی طرف توجہ نہیں کی۔ گو ان معمولی باتوں میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ یہ قصیدہ اعجازیہ اس پیشگوئی کا مصداق نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ پیشگوئی بہت زیادہ وزن رکھتی ہے اور قصیدہ مذکورہ در صورت واقعی اعلیٰ ہونے کے بھی اس پیشگوئی کا مصداق نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی اعجاز نمائی مرزا صاحب کو اس پیشگوئی کے پہلے بھی حاصل تھی۔ اس سوال کا جواب حکیم صاحب اور ان کی کمپنی نے نہیں دیا۔ دیتے بھی کیا ؟ جو کام مشکل ہو وہ کون کرے ؟۔ حکیم صاحب تو اس مصیبت میں بزبان حال گویا یوں گویا ہیں :
غم ہم کو دیا سب سے جو مشکل نظر آیا
ناظرین ! اس آسمانی نشان کے متعلق واقعات صحیحہ کو سامنے رکھیں اور جناب مرزا صاحب کے الفاظ طیبہ کو دیکھیں جو مکرر درج ذیل ہیں :
”میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا مجھے سمجھا گیا۔“
(ص ١٣ اشتہار ٥ نومبر ١٨٩٩ء مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٨)
پس ہمارا بھی اسی پر صاد ہے کہ در صورت دعا قبول نہ ہونے کے آپ کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔ فاکتبنا مع الشاهدين!
ساتویں پیشگوئی متعلقہ طاعون پنجاب
اس پیشگوئی کی اصل بنیاد وہ اشتہار ہے جس میں یوں مذکور ہے :
"میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانیوالوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا اس سے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا۔"
(اشتہار ٦ فروری ١٨٩٨ء مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥)
پس ہم مرزا جی کے اشتباہ کی آخری مدت ہی لیتے ہیں تو بھی اس حساب سے فروری ١٩٠٠ء کے اندر طاعون کا زور ہونا چاہئے تھا۔ مگر خدا کے فضل سے ایسا نہ ہوا بلکہ ١٩٠٢ء میں یعنی مرزا جی کی پیشگوئی سے پورے دو سال کے بعد پنجاب کے بعض شہروں اور قصبوں میں طاعون ہوا۔ پھر بھی ایسا کہ مرزا جی شاید ایسے طاعون سے خوش نہ ہوں (خدا ان کو خوش نہ کرے) ہمارے شہر امرتسر جیسے کثیر التعداد آبادی میں ان دنوں (دسمبر ١٩٠٢ء) میں جو بقول مرزا جی طاعون کی وجہ سے خدا کے روزہ کھولنے کا زمانہ ہے۔ (دیکھو دافع البلاء ص ٧، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٧) اوسط اموات ٥، ٤، ٦ کل امراض سے ہوتی رہی جن میں ٢ سے ٣ یا حد
سے زیادہ ٤‘ ٥ سے مرتے رہے۔ حالانکہ بقول مرزا جی یہی دسمبر ١٩٠٢ء طاعون کے ایسے زور کا مہینہ تھا جو لکھتے ہیں :
”ابتداء نومبر ١٩٠٢ء سے خدا تعالیٰ اپنا روزہ کھولے گا۔ اس وقت معلوم ہو جائیگا کہ اس افطار کے وقت کون کون ملک الموت کے قبضہ میں آیا۔“
(رسالہ دافع البلاء ص ١٧ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٧)
حکیم صاحب نے اس پیشگوئی کے متعلق یہ لکھا ہے کہ طاعون کا زوروں پر ہونا مرزا صاحب کے الفاظ نہیں ہیں۔
(آئینہ حق نما ص ٢٣)
حالانکہ پیشگوئی کے الفاظ میں یہ لفظ ہیں ”طاعون عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے“ زور سے مراد بھی یہی عام اشاعت ہے جو نہ ہوئی۔ الحمد للہ !
ہاں! حکیم صاحب نے ایک بڑا کمال یا یوں کہئے کہ مرزا صاحب کی ایک مخفی شرارت کا اظہار کیا ہے۔ مرزا صاحب موصوف نے اپنی کتاب ”مواہب الرحمٰن“ کے صفحہ ١٠٩ خزائن ج ١٩ ص ٣٢٩ پر میرا ذکر بڑے جلی عنوان سے لکھا ہے۔ مگر اس سے پہلے صفحہ ١٠٨ خزائن ج ١٩ ص ٣٢٨ پر بڑے حرفوں میں یوں لکھا ہے :
”أريت قرطاسا من ربي العلام واذا نظرت فوجدت عنوانه بقية الطاعون“ ”میں نے خواب میں ایک کاغذ دیکھا جس کا عنوان تھا بقية الطاعون۔“
مرزائی علم رموز کے ماہرین پر یہ امر پوشیدہ نہ ہو گا۔ یا نہ ہونا چاہئے کہ خدا کے علم کے مطابق آئندہ کسی زمانہ میں میں طاعون سے مروں تو ایک پختہ مرزائی اس عبارت کو پیش کر کے کہہ دے گا کہ حضرت مسیح موعود نے پہلے ہی سے اس کی بابت نہایت باریک اشارہ کر دیا تھا۔ اسی باریک اشارہ کی طرف حکیم صاحب بھی اپنی اس کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں۔
آپ کے الفاظ یہ ہیں :
”امرتسری منکر اگر اس سے کچھ زیادہ دیکھنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے تھا کہ وہ اس وقت مقابلہ کے لئے نکلتا جب اس کو بلایا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ کے علم پر کون احاطہ کر سکتا ہے کہ
بقیہ الطاعون کا نظارہ دنیا دیکھ لے۔“
(آئینہ حق نما ص ٦٤٠)
یعنی مرزا قادیانی کی اس گول مول بے معنی عبارت کا مصداق خاکسار کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی معنی ہیں :
مقبلاں را زوال نعمت وجاه
حکیم صاحب ! هل تربصون بنا الا احدی الحسنیین !
آٹھویں پیشگوئی متعلق حفاظت قادیان
اس پیشگوئی پر تو مرزا جی نے اپنی صداقت کا بہت کچھ مدار رکھا تھا۔ اصل الہام اس بارہ میں یہ ہے ”انہ اوی القرية “ جس کی بابت فروری ١٨٩٨ء تک صاف اقرار ہے کہ : ” یہ فقرہ کہ انہ اوی القرية “ اب تک اس کے معنی میرے پر نہیں کھلے۔“ (حاشیہ اشتہار ٦ فروری ١٨٩٨ء ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ حاشیہ ص ٥) مگر اس سے بعد تو اس پر اتنے حواشی لگائے گئے کہ الامان۔ بقول شخصے داڑھی سے مونچھیں بڑی۔ رسالہ دافع البلاء میں تو اس قدر زور ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں کو للکارا جاتا ہے کہ کوئی ہے کہ وہ بھی ہماری طرح اپنے اپنے شہر کی بابت کہے کہ : ”انہ اوی القرية “ یہاں طاعون کیوں نہ آتا۔ بلکہ جو کئی آدمی باہر کا قادیان میں آ جاتا ہے وہ بھی اچھا ہو جاتا ہے وغیرہ وغیرہ (دافع البلاء ص ٦ خزائن ج ٨ ص ٢٢٦) اخبار الحکم میں مولوی عبدالکریم امام مرزا کا ایک مضمون نکلا تھا۔ جس میں سے چند فقرات درج ذیل ہیں :
”عجیب موقع ہے کہ خدا کی قدرت نمائی کی جلی اور صاف صاف پڑھے جانیوالے نشان دیکھ لیں۔ ایک طرف حضرت مسیح موعود (مرزا) نے اپنی راستی اور شفاعت کبریٰ کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیان کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے ان تمام لوگوں کو جو اکثر دہریہ طبع کفار مشرک اور دین حق
سے ہنسی کرنے والے ہیں۔ خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایہ شفاعت میں لے لیا ہے........ بولو اور سوچ کر بولو کہ کیا تمہارے نزدیک مسیح موعود (مرزا) کے اس دعویٰ اور پیشگوئی میں خدا کی ہستی پر........ مرزا غلام احمد قادیانی کے منجانب اللہ ہونے پر چمکتی ہوئی دلیل نہیں؟۔"
(اخبار الحکم ١٠ اپریل ١٩٠٢ء)
واقعی ہم بھی مانتے ہیں کہ اس واقعہ میں بہت بڑی زبردست دلیل ہے۔ آئیے ہم اس واقعہ کی تحقیق کریں۔ قادیان میں طاعونی پیشگوئی کا بفضلہ پورا ظہور ہوا۔ چند روز تو مرزا جی نے بہت ہی کوشش کی کہ قادیان میں طاعون کا اظہار نہ ہو مگر بکری کی ماں کب تک خیر منائے؟۔ آخر جب یہ امر ایسا محقق ہو گیا کہ مرزا جی کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ تو ایک اعلان جلی حرفوں میں جاری کیا جو درج ذیل ہے :
"اعلان چونکہ آج کل ہر جگہ مرض طاعون زور پر ہے۔ اس لئے اگرچہ قادیان میں نسبتاً آرام ہے۔ لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ برعائت اسباب ہذا مجمع جمع ہونے سے پرہیز کیا جائے۔ اس لئے یہ قرین مصلحت ہوا کہ دسمبر کی تعطیلوں میں جیسا کہ پہلے اکثر اصحاب قادیان میں جمع ہو جایا کرتے تھے۔ اب کی دفعہ اس اجتماع کو بلحاظ مذکورہ بالا ضرورت کے موقوف رکھیں اور اپنی اپنی جگہ خدا سے دعا کرتے رہیں کہ وہ اس خطرناک ابتلاء سے ان کو اور ان کے اہل وعیال کو بچاوے۔"
(دیکھو اخبار البدر قادیان ١٩ دسمبر ١٩٠٢ء)
اللہ اللہ کس دبی زبان سے قادیان میں طاعون کے ہونے کا اقرار ہے کس سوچ بچار سے لکھا گیا ہے کہ نسبتاً آرام ہے جس سے دام افتادوں کو بالکل آرام ہی معلوم ہو۔ مگر دانا اس نسبتاً کے لفظ کی نسبت کو سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس میں زیادہ کرید کرنے کی حاجت ہی نہیں ہمارے پاس ایسے ثبوت بھی ہیں جو مرزا صاحب کی پیشگوئی کو ہبا منثورا کرنے کو کافی ہیں۔ مرزا صاحب خود لکھتے ہیں اور غالباً بامر الٰہی اعلان کرتے ہیں۔
"طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہو گیا۔"
(حقیقت الوحی ص ٨٤ خزائن ج ٢٢ حاشیہ ص ٧٨)
ناظرین! یہ ایسا صاف اقرار ہے جس کے مقابلہ میں ہزار دلیل کام نہیں آسکتی۔ ایک دفعہ تو پھر مولوی عبدالکریم کی عبارت مرقومہ پڑھنے کی تکلیف گوارا فرماویں۔ اس کے بعد ان کو اس شعر کے پڑھنے اور سننے کا لطف حاصل ہوگا :
وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد
شاباش حواریو! شاباس! قادیانی اخبار کا ایڈیٹر اس وباء طاعون پر بجائے شرمندہ ہونے کے اظہار مسرت کرتا ہے۔ ”قادیاں میں جو طاعون کی چند وارداتیں ہوئی ہیں ہم افسوس سے بیان کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ اس نشان سے ہمارے منکر اور مکذب کوئی فائدہ اٹھاتے اور خدا کے کلام کی قدر اور عظمت اور جلال ان پر کھلتی۔ انہوں نے پھر سخت ٹھوکر کھائی۔“ (البدر ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء)
پھر ١٦ مئی کے پرچہ میں لکھا ہے : ”قادیاں میں طاعون حضرت مسیح علیہ السلام (مرزا) کے الہام کے ماتحت اپنا کام برابر کر رہی ہے۔“ (ہمارا بھی صاد ہے)
اسی ماتحتی میں طاعون کے مارے مرزا جی کا سکول نصف ماہ ٩ مئی تک بند رہا۔ جس سے پوری افرا تفری کا مضمون صادق آتا ہے۔ اخبار اہلحدیث امرتسر مورخہ ٢٧ مئی ١٩٠٢ء کے پرچہ میں معتبر شہادت کے حوالہ سے بتلایا گیا ہے کہ مارچ اپریل ١٩٠٢ء کے دو مہینوں میں ١؎ ١٣، ١٤ آدمی قادیاں میں طاعون سے مرے ہیں۔ حالانکہ آبادی کل ٢٨٠٠ کی ہے۔ سب لوگ ادھر ادھر بھاگ گئے۔ تمام قصبہ ویران سنسان نظر آتا تھا۔ آہ کیا سچ ہے :
١؎ یہ حساب اسی زمانہ کے روزنامجات قادیاں سے حاصل کیا گیا تھا اب اگر قادیانی ممبروں کو انکار ہو تو وہ بھی چونکہ طاعون کے قائل ہیں لہذا ان کا فرض ہے کہ وہ صحیح تعداد شائع کریں۔
اس پیشگوئی کے متعلق بھی حکیم صاحب سے کچھ نہ بن سکا۔ ہاں انہوں نے حسب عادت ادھر ادھر کی بہت سی باتیں کہہ کر اپنے ناظرین کو اصل بات سے غافل کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں صرف ایک بات قابل جواب ہے۔ آپ لکھتے ہیں : ”ہمارے مخالف نہیں بتلا سکتے کہ قادیاں طاعون سے بالکل محفوظ رہے گا۔“
(آئینہ حق نما ص ٦٢٢)
اسی کتاب آئینہ میں ہمارا پیش کردہ مضمون مرقومہ مولوی عبدالکریم اخبار الحکم ١٠ اپریل ١٩٠٢ء سے نقل کر چکے ہیں جس کے نقل کرنے سے پہلے یوں لکھا ہے : ”اس پیشگوئی کے متعلق میرے محسن و مخدوم حضرت مولوی عبدالکریم نے جو ایک پرشوکت آرٹیکل شائع کیا تھا ضرور ہے کہ وہ یہاں درج کر دیا جائے۔“
یہ عبارت اس مضمون کی عظمت اور شوکت ظاہر کرتی ہے وہ مضمون مرزا صاحب کی زندگی میں ان کی نظر سے گزر کر نکلا تھا۔ مولوی عبدالکریم نے اس مضمون میں اس پیشگوئی کے متعلق جس قدر توضیحات اور لن ترانیاں کی ہیں۔ وہ تو اس سارے مضمون کو دیکھنے سے معلوم ہو سکتی ہیں جو بہت لمبا ہے۔ اس مقام پر ہمارے مطلب کے چند فقرات درج ذیل ہیں :
”انہ اوی القریۃ“ کا مفہوم صاف لفظوں میں تقاضا کرتا ہے کہ اس میں اور اس کے غیر میں تمیز ہو........... حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے اپنی راستی اور شفاعت کبریٰ کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیاں کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے تمام ان لوگوں کو جو اکثر دہریہ طبع کفار مشرک اور دین حق سے مسخری کرنے والے ہیں خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایہ شفاعت میں لے لیا ہے۔ حضرت ممدوح (مرزا) نے لکھا ہے اور بار بار فرماتے ہیں کہ جہاں ایک بھی راست باز ہوگا۔ اس جگہ کو خدا تعالیٰ اس غضب سے بچالے گا........... تم لوگ بھی مل کر ایسی پیشگوئی کرو جس سے قادیاں کے پیغمبر کا دعویٰ باطل ہو جائے اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں یا یہ کہ لاہور اور امرتسر طاعون کے حملہ سے محفوظ رہیں یا یہ کہ قادیاں طاعون
میں مبتلا ہو جائے۔...... خدا نے اس اکیلے صادق (مرزا) کے طفیل قادیاں کو جس میں اقسام اقسام کے لوگ تھے اپنی خاص حفاظت میں لے لیا۔"
(آئینہ حق نما ص ٧٤‘٧٧‘٧٩‘٢٧)
حکیم صاحب ! بتلائیے اس عبارت کے کیا معنے ہیں؟۔ غور سے سنئے ! آپ کے نبی کی تکذیب دو ہی طرح سے ہو سکتی ہے۔ یا تو امر تسر لاہور طاعون سے محفوظ رہیں۔ وہ تو نہ رہے یا قادیاں طاعون میں مبتلا ہو۔ یہ ہو اور ضرور ہوا۔
اگر فرماویں کہ قادیاں میں شاذونادر واردات ہوئیں جو معتبر نہیں تو برائے مہربانی مرزا صاحب کی عبارت مندرجہ ذیل کی تشریح کر دیجئے۔ جو یہ ہے :
"طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیاں میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔"
(حقیقت الوحی ص ٨٤‘ خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)
حکیم صاحب ! قادیاں میں طاعون کے بزور ہونے کا کیسا صاف اقرار ہے کہ یہ شاذونادر ہے۔ اچھا اور سنئے اخبار البدر کے ایڈیٹر نے صاف لکھا تھا کہ "قادیاں میں طاعون نے صفائی شروع کر دی۔"
(٦؍اپریل ١٩٠٤ء)
ناظرین! مولوی عبدالکریم کی عبارت منقولہ کی پہلی سطر کو ایک بار پھر دیکھ جاویں کہ وہ کیا بتارہی ہے۔ ہمارا بھی اس پر صاد ہے کہ واقعی اس قسم کے الہامی مقامات میں وقوعات اسی طرح ہونی چاہئیں جو دوسرے مقامات سے امتیاز رکھتے ہیں۔ نہ یہ کہ پہلے تو اتنا زور و شور کہ قادیاں محفوظ رہے گا۔ جب محفوظ نہ رہا بلکہ طاعون زور سے ہوا تو کہہ دیا کہ فنا کر نیوالا۔ انتشار کرنے والا نہیں ہوا۔ کیا امر تسر لاہور فنا ہو گئے؟ کیا وہ آج تک آباد نہیں؟۔ اچھا پھر اس کے بھی کچھ معنی ہیں کہ :
"جہاں ایک بھی راستباز ہو گا۔ اس جگہ کو خدا اس غضب سے بچالے گا۔"
اللہ اکبر ! یہ دعوے اور یہ ثبوت ؟ اور نام مسیح موعود اور مہدی مسعود۔ انا للہ!
شان ہے تیری کبریائی کی
نویں پیشگوئی عمر خود کے متعلق
جناب مرزا صاحب نے اپنی عمر کی بابت ایک زبردست پیشگوئی فرمائی تھی جس کے مشرح الفاظ یہ ہیں :
”خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر اسی برس کی ہو گی اور اس ١ یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم .......... اور جو ظاہر الفاظ وحی کے متعلق ہیں وہ تو چھہتر اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔“
(ضمیمہ ج ٥ براہین احمدیہ ص ٩٧‘ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨‘ ٢٥٩)
عمر کی مدت تو صاف معلوم ہو گئی کہ کم سے کم چھہتر سال ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرزا صاحب پیدا کب ہوئے اور فوت کب ہوئے۔ ان دونوں امروں کے متعلق ہمیں زیادہ کرید کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صاف صاف مطبوعہ تحریر موجود ہے۔
مرزا صاحب کے معتمد خاص اور خلیفہ اول مولوی حکیم نور الدین صاحب اپنے رسالہ ”نور الدین“ میں مرزا صاحب کا سال پیدائش لکھ کر ایک نقشہ دیتے جاتے ہیں۔ سال پیدائش ١٨٤٠ء بتایا ہے۔ مرزا صاحب کا انتقال ١٩٠٨ء میں ہوا ہے۔ اس حساب سے مرزا صاحب کی عمر (٦٨) سال کی ہوتی ہے۔
(ملاحظہ ہو رسالہ نور الدین ص ١٧٠)
نوٹ : اس پیشگوئی نے امت مرزائیہ کو ایسا پریشان کیا ہے کہ کسی دوسری بات نے ایسا نہیں کیا۔ کیونکہ بات بالکل صاف اور معمولی سی ہے مگر چونکہ اڑسٹھ کو چھہتر بنانا مشکل نہیں محال ہے۔ اس لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ : ”لن یصلح العطار ما افسدالدهر“ جس کو زمانہ نے بگاڑا ہو اسے عطار کیونکر سنوارے۔
١۔ اس اردو کے ذمہ دار ہم نہیں ہم محض ناقل ہیں۔
دسویں پیشگوئی خاکسار (راقم) کے متعلق
مرزا صاحب رسالہ اعجاز احمدی کے ص ١١‘ ٢٣ پر خاکسار کو ان الفاظ میں دعوت دیتے ہیں :
”اگر یہ (مولوی ثناء اللہ) سچے ہیں تو قادیاں میں آکر کسی پیشگوئی کو جھوٹی ثابت کریں اور ١؎ ہر ایک پیشگوئی کے لئے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائیگا اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ۔ (اعجاز احمدی ص ١١‘ خزائن ج ١٩ص ١١٧‘١١٨) مولوی ثناء اللہ نے موضع مد میں بحث کے وقت یہی کہا تھا کہ سب پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں۔ اس لئے ہم ان کو مدعو کرتے ہیں اور خدا کی قسم دیتے ہیں کہ وہ اس تحقیق کے لئے قادیاں میں آئیں۔ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیشگوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ لے جائیں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں ٢؎ سے لوں گا۔ تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔ وہ سب ان کی نذر ہوگا۔“
(اعجاز احمدی ص ٢٣‘ خزائن ج١٩ص ١٣٢)
- ١- اہل زبان اس عطف کو غور سے دیکھیں اور الہامی صاحب کے اعجاز کی داد دیں۔
- ٢- حیرت انگیز انکشاف مرزا جی نے لکھا ہے ڈیڑھ سو پیشگوئی کاذب ہونے کی
صورت ہر ایک مرید سے ایک ایک روپیہ لے لوں گا۔ کیا مرزا جی در صورت ڈیڑھ سو پیشگوئی جھوٹی ثابت ہونے کے بھی آپ کے مرید آپ کی مریدی میں رہ کر آپ کو ایک ایک روپیہ نذرانہ دے دیں گے تب تو بڑے ہی عقل کے پتلے اور ایمان کے پکے ہوں گے حق تو یہ ہے کہ آپ کے مرید عموماً ایسے ہی ہیں ہم بھی اس کی داد دیتے ہیں۔ اگر وہ ایسے نہ ہوتے تو مجھے قادیاں میں موجود دیکھتے ہی آپ سے الگ ہو جاتے۔ کیونکہ میرے وہاں پہنچتے ہی آپ کی پیشگوئی مندرجہ اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١٤٨ غلط ہو گئی تھی۔
اسی بیان کے متعلق ایک دو پیشگوئیاں بھی جزوی ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
"اور واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔ (١)...... وہ قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کیلئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں اور سچی پیشگوئیوں کی اپنے قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہو گی۔ (٢)...... اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو وہ ضرور پہلے مریں گے۔ (٣)...... اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلے سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیاہی ثابت ہو گی۔"
(اعجاز احمدی ص ٣٧ خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)
نمبر سوم کا جواب تو سہ سالہ پیشگوئی کے ذکر میں ہو چکا ہے۔ نمبر دوم کا جواب اس کے سوا کیا ہے کہ : ” ما تدری نفس بای ارض تموت ۔“ (کسی نفس کو معلوم نہیں کہ کونسی زمین میں مرے گا)
چونکہ یہ خاکسار نہ واقع میں نہ آپ کی طرح نبی یا رسول یا ابن اللہ یا الہامی ہے۔ اس لئے ایسے مقابلہ کی جرأت نہیں کر سکتا چونکہ آپ کی غرض یہ ہے کہ اگر مخاطب پہلے مر گیا تو چاندی کھری ہے اور اگر خود بدولت تشریف لے گئے (خس کم جہاں پاک) تو بعد مرنے کے کس نے قبر پر آنا ہے ؟۔ اس لئے آپ ایسی ویسی بیہودہ شرطیں باندھتے ہیں مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ مجھے ان باتوں پر جرأت نہیں اور یہ عدم جرأت میرے لئے عزت ہے اور ذلت نہیں۔
ہاں ! نمبر اول کا جواب بیشک میرے بس میں تھا۔ یعنی قادیان میں پہنچنا۔ چنانچہ ١٠ جنوری ١٩٠٣ء کو راقم نے قادیاں میں پہنچ کر مرزا جی کو مندرجہ ذیل رقعہ لکھا جو یہ ہے :
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بخدمت جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان
خاکسار آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ١١ (خزائن ج ١٩ ص ١١٧
١٨ اوص ٢٣ خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) قادیان میں اس وقت حاضر ہے۔ جناب کی دعوت کے قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا۔ ورنہ اتنا توقف نہ ہوتا میں اللہ جلشانہ کی قسم کھاتا ہوں کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں چونکہ آپ (بقول خود) ایک ایسے عہدہ جلیلہ پر ممتاز و مامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لئے عموماً اور مجھ جیسے مخلصوں کے لئے خصوصاً ہے اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیشگوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں میں مکرر آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبت سفر کی طرف توجہ دلا کر اسی عہدہ جلیلہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور ہی موقع دیں۔ راقم ابوالوفا ثناء اللہ ١٠ جنوری ١٩٠٣ء وقت سوا تین بجے دن اس کا جواب مرزا جی کی طرف سے نہایت ہی شیریں اور مزیدار پہنچا جو مندرجہ ذیل ہے :
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ! از طرف ١؎ عائذ باللہ غلام احمد عافاہ اللہ وایدہ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب ! آپ کا رقعہ پہنچا اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک و شبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں رفع کراویں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہو گی اور اگرچہ میں کئی سال ہو گئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اس کا
١؎ مرزا جی کی دجالیت میں جس کو شبہ ہو وہ ان کی کتاب مواہب الرحمن ص ١٠٩ خزائن ج ١٩ ص ٣٢٩ پر دیکھے کہ کس چالاکی سے میرا قادیاں آنا لکھا ہے اور اصل واقعہ کو چھپا کر صرف اپنی طرف سے ایک عبارت لکھ ماری ہے جو نہ خط ہے نہ خط کا ترجمہ نہ اصل واقعہ کی وجہ بتلائی ہے نہ سارے خطوط نقل کئے ہیں یونہی لکھ مارا ہے کہ یہ ترجمہ ہے اس خط کا جو ہم نے ثناء اللہ کی طرف لکھا تھا۔
نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہوگا مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں۔
اگرچہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں مگر مجھے تامل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں۔ کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر بات کو کشاں کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدائے تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کرونگا۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کردیں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جائیں گے اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت ﷺ پر یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یا حضرت یونس (علیہ السلام) پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیشینگوئیوں پر زد نہ ہو۔ دوسری یہ شرط ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہ ہوں گے صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دیدیں کہ میرا یہ اعتراض ہے پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔ تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ کریں گے۔ کیونکہ آپ اطلاع دیکر نہیں آئے۔ چوروں کی طرح آگئے اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں خرچ کر سکتے۔ یاد رہے کہ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا جیسے : ”صم بکم“ یہ اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے اول صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سناویں ہم خود پڑھ لیں گے مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے۔
کیونکہ آپ تو شبہات ١؎ دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے میں بآواز بلند لوگوں کو سنادوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے اسی طرح تمام وساوس دور کر دیئے جائیں گے۔ لیکن اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقع دیا جاوے تو یہ ہر گز نہیں ہوگا۔ چودھویں جنوری ١٩٠٣ء تک میں اس جگہ ہوں بعد میں ١٥ جنوری ١٩٠٣ء کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا۔ سو اگرچہ بہت کم فرصتی ہے لیکن چودھویں جنوری ١٩٠٣ء تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہو گا ورنہ ہمار اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے خود خدا تعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔
سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہو گا کہ آپ بذریعہ تحریر جو دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جائیں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جاؤں گا ایسا صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسے دور کرالیتے ہیں ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا اس کو اپنے وساوس دور کرانے میں اور کچھ غرض نہیں لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔
بالآخر اس غرض کے لئے کہ اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں قادیاں ٢؎ سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں۔ اول چونکہ میں "انجام آتھم" میں خدا تعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا ہوں ٣؎ کہ ان لوگوں سے کوئی بحث نہیں کرونگا اس وقت پھر
- ا۔ چہ خوش ہم تو آپ کی دعوت کے مطابق تکذیب کو آئے ہیں آپ کا یہ کہنا کہ
شبہات دور کرانے آئے ہیں آپ کی معمولی بات ہے۔
- ٢۔ مرزا جی کے دوستو ! میرے قادیاں پہنچنے کی رسید لے لو۔
- ٣۔ بالکل جھوٹ آگے آتا ہے۔
اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا۔ صرف آپ کو یہ موقع دیا جائے گا کہ آپ اول ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیشگوئی پر ہو ایک سطر یا دو سطر حد تین سطر تک لکھ کر پیش کریں جس کا یہ مطلب ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور منہاج نبوت کے رو سے قابل اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں پھر دوسرے دن اسی طرح دوسری لکھ کر پیش کریں یہ تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنونگا اور آپ کی مجال نہیں ہو گی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اگر سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جائیں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص انحراف کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہے اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے ١؎۔ سو اب میں دیکھوں گا کہ آپ سنت نبویہ کے موافق اس قسم کو پورا کرتے ہیں یا قادیاں سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لیجاتے ہیں اور چاہئے کہ اول آپ مطابق اس عہد مؤکد بقسم کے آج ہی ایک اعتراض دو تین سطر کا لکھ کر بھیجدیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جائے گا اور آپ کو بلایا جاویگا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دور کر دیئے جائیں گے۔‘‘ مرزا غلام احمد بقلم خود (مہر)
کیسی صفائی اور ہوشیاری کے ساتھ بحث سے انکار کرتے ہیں حالانکہ تحقیق حق کے لئے مجھے بلایا ہے جو بالکل بحث کا ہم معنی لفظ ہے۔
(اعجاز احمدی ص ٢٣‘ خزائن ج ١٩ ص ١٣٢)
اور اب صاف منکر ہیں بلکہ مجھے ایسی خاموشی کا حکم دیتے ہیں کہ : ” صم بکم ۔“ (بہرہ گونگا) ہو کر آپ کا لیکچر سنتا جاؤں۔ یہ معلوم نہ ہوا کہ بکم یعنی گونگا ہو کر تو میں سن سکتا ہوں صم (بہرہ) ہو کر کیا سنوں گا۔ شاید یہ بھی معجزہ ہو۔ خیر بہر حال اس کا
١؎ الحمد للہ ! مرزا جی نے دیکھ لیا۔
جواب جو خاکسار کی طرف سے دیا گیا۔ وہ درج ذیل ہے :
الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی ۔ اما بعد !
از خاکسار ثناء اللہ بخدمت مرزاغلام احمد صاحب !
آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا مگر افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا وہی ظاہر ہوا۔ جناب والا جبکہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ١١‘٢٣ حاضر ہوا ہوں اور صاف لفظوں میں رقعہ اولیٰ میں انہیں صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں تو پھر اتنی طول کلامی جو آپ نے کی ہے۔ بجز العادة طبيعة ثانیہ کے اور کیا معنے رکھتی ہے۔
جناب من ! کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکورہ پر تو اس نیاز مند کو تحقیق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں (خاکسار) آپ کی پیشگوئیوں کو جھوٹی ثابت کروں تو فی پیشگوئی مبلغ سو روپیہ انعام لوں اور اس رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطریں لکھنے کے پابند کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹہ تجویز کرتے ہیں : ” تلك اذا قسمة ضیزٰی “ بھلا یہ کیا تحقیق کا طریقہ ہے میں تو ایک دو سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹے تک فرماتے جائیں اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آپ مجھے دعوت کر کے پچھتا رہے ہیں اور اپنی دعوت سے انکاری ہیں اور تحقیق سے اعراض کرتے ہیں جس کی بابت آپ نے مجھے در دولت پر حاضر ہونے کی دعوت دی تھی جس سے عمدہ میں امرتسر ہی میں بیٹھا ہوا کر سکتا تھا اور کر چکا ہوں۔ مگر چونکہ میں اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلا نیل مرام واپس جانا کسی طرح مناسب نہیں جانتا۔ اسی لئے میں آپ کی بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا اور آپ بلا شک تین گھنٹے تک تقریر کریں مگر اتنی اصلاح ہوگی کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤنگا اور ہر ایک گھنٹے کے بعد پانچ منٹ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کرونگا اور چونکہ مجمع آپ پسند نہیں کرتے اس لئے فریقین کے آدمی محدود ہوں گے جو پچیس پچیس سے زائد نہ ہوں گے۔ آپ میرا بلا اطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں۔ کیا مہمانوں کی خاطر اسی کو کہتے ہیں ؟۔ اطلاع دینا
آپ نے شرط نہیں کیا تھا۔ علاوہ اس کے آپ کو آسمانی اطلاع ہو گئی ہوگی۔ آپ جو مضمون سنائیں گے وہ اسی وقت مجھ کو دے دیجئے گا۔ کاروائی آج ہی شروع ہو جائے۔ آپ کے جواب آنے پر میں اپنا مختصر سا سوال بھیج دوں گا۔ باقی لعنتوں کی بابت وہی عرض ہے جو حدیث ١؎ میں موجود ہے۔ ١١ جنوری ١٩٠٣ء
کیسے معقول طریق سے راقم اثیم نے اپنے وجوہات بتلائے اور کس نرمی سے مرزا کی پیش کردہ تجویز تھوڑی سی خفیف اصلاح کے ساتھ (جسے کوئی منصف مزاج ناپسند نہ کرے گا) بعینہ منظور کر لی مگر مرزا جی اور معقولیت ؟۔ ایں خیال است و محال است و جنوں۔ چونکہ ہر ایک انسان کو اپنا علم حضوری ہے۔ مرزا جی بھی اپنا پول خوب جانتے تھے اس لئے آپ اس رقعہ پر ایسے خفا ہوئے اور اتنی گالیاں دیں کہ کہنے سننے سے باہر۔ ہم ان کو اپنے لفظوں میں نہیں بلکہ قاصدوں کے لفظوں میں حاشیہ ٢؎ پر لکھتے ہیں۔ آخر اس خفگی میں آپ نے رقعہ کا جواب بھی نہ دیا اور اپنے ایڈیٹروں کو حکم دیا کہ لکھدو۔ چنانچہ وہ یہ ہے
- ١۔ وہ یہ ہے کہ لعنت کا مخاطب اگر لعنت کا حقدار نہیں تو کرنیوالے پر پڑتی ہے۔
- ٢۔ شہادت ہم خدا کو حاضر و ناظر جان کر بحکم لا تکتموا الشہادۃ سچ کہتے ہیں کہ
جب ہم مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کا خط لیکر مرزا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مرزا صاحب ایک ایک فقرہ سنتے جاتے تھے اور بڑے غصہ سے بدن پر رعشہ تھا اور دہان مبارک سے خوب گالیاں دیتے تھے اور حضار مجلس مریدان بھی ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ حضرت واقعی ان (مولوی) لوگوں کو تہذیب اور تمیز نہیں۔ چند الفاظ جو مرزا صاحب نے علماء کی نسبت عموماً اور مولوی ثناء اللہ صاحب کی نسبت خصوصاً فرمائے تھے۔ یہ ہیں۔ خبیث سُؤر کتا بدذات گوں خوار ہے۔ ہم اس کو کبھی نہ بولنے دیں گے۔ گدھے کی طرح لگام دے کر بٹھائیں گے اور گندگی اس کے منہ میں ڈالیں گے۔ لعنت لے کر ہی جائے گا۔ اس کو کہو کہ لعنت لے کر قادیاں سے چلا جائے۔ وغیرہ وغیرہ! (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
بسم الله الرحمن الرحيم حامدا ومصليا!
”مولوی ثناء اللہ صاحب! آپ کا رقعہ حضرت اقدس امام الزماں مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت مبارک میں سنایا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد اور تعصب آمیز تھے جو طلب حق سے بعدالمشرقین کی دوری اس سے صاف ظاہر ہوتی تھی۔ لہٰذا حضرت اقدس کی طرف سے آپ کو یہی جواب کافی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے اور حضرت انجام آتھم میں اور نیز اپنے خط مرقومہ جواب سامی میں قسم کھا چکے اور اللہ تعالیٰ سے عہد کرچکے ہیں کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے۔ خلاف معاہدہ الٰہی کے کوئی مامور من اللہ کیونکر کسی فعل کا ارتکاب کرسکتا ہے؟۔ طالب حق کے لئے جو طریق حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے۔ کیا وہ کافی نہیں۔ لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے۔ وہ ہرگز منظور نہیں ہے اور یہ بھی منظور نہیں فرماتے ہیں کہ جلسہ محدود ہو بلکہ فرماتے ہیں کل قادیاں وغیرہ کے اہل الرائے ایسے مجتمع ہوں١؎ تاکہ حق و باطل سب پر واضح ہوجائے۔ والسلام علی من اتبع الہدی!
١١ جنوری ١٩٠٣ء
گواہ شد محمد سردار ابو سعید عفی عنہ / خاکسار محمد احسن بحکم حضرت امام الزماں
چونکہ میرا روئے سخن خود بدولت سے تھا۔ اس لئے میرا حق تھا کہ میں کسی ماتحت
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) سننے میں اور اس وقت کی حالت دیکھنے میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہم حلفیہ بطور شہادت کہتے ہیں کہ ایسی گالیاں ہم نے مرزا صاحب کی زبان سے سنی ہیں جو کسی چوہڑے چمار سے بھی کبھی نہیں سنیں۔ راقمان : حکیم محمد صدیق ساکن ضلع جالندھر بستی دانشمنداں، محمد ابراہیم امرتسر کٹڑہ سفید!
١؎ ناظرین رسالہ ہذا! ان بھلے مانسوں کی داد دیجئے کہ مجھے تو مجمع سے روکا جائے اور اپنے لئے مجمع کیا جاتا ہے۔
کی تحریر نہ لیتا۔ مگر اس خیال سے کہ پبلک کو مرزا جی کے فرار کا نشان بتلایا جاوے میں نے رقعہ مرقومہ قبول کر لیا۔ ان حضرات مرسلین رقعہ وگواہان کی حالت پر افسوس نہیں بلکہ افسوس ان لوگوں پر ہے............ جو ایسے لوگوں کو دراز ریش دیکھ کر عالم یا مولوی سمجھ لیتے ہیں جن کو یہ بھی خبر نہیں کہ مناظرہ
اور تحقیق ایک ہی چیز ہے رشیدیہ جو علم مناظرہ میں ایک مستند کتاب ہے۔ اس میں صاف مرقوم ہے المناظرة توجه المتخاصمين فى النسبة اظهارا للصواب یعنی کسی مسئلہ کی نسبت دو شخصوں کا نیک نیتی اور سچائی کے اظہار کرنے کی غرض سے متوجہ ہونا اسی کا نام مناظرہ ہے اور اعجاز احمدی ص ٢٣‘ خزائن ج ١٩ ص ١٣٢ پر مجھ کو تحقیق کے لئے بلا رہے ہیں۔ پس تحقیق حق کے لئے بلا کر مناظرہ سے انکار کرنا صریح انکار بعد از اقرار کا مصداق ہے اور موقع پر الہام کی یاد مرزا جی! اقرار کے بعد انکار معتبر نہیں ہو سکتا۔
(دیکھو اعجاز احمدی ص ٣٠ خزائن ج ١٩ ص ١٤٠)
علاوہ اس کے مناظرہ کرنا صرف زبانی گفتگو کا نام نہیں۔ بلکہ تحریری بلکہ ذہنی توجہ بھی مناظرہ ہے۔ چنانچہ رشیدیہ میں ہے: ” وان كان ذالك المتوجه في النفس كما كان للحكماء الا شراقيين“ لیکن اس الہامی جماعت نے جہاں مسائل شرعیہ میں تجدید کی ہے اصطلاحات عقلیہ میں بھی موجد ہیں۔ اسی لئے تو کتابوں میں (بزعم خود) علماء کے دلائل کے جواب دیتے ہوئے کچھ اخلاق حسنہ کا بھی اظہار کیا کرتے ہیں مگر جب خاکسار کو ایک لاکھ پندرہ ہزار دینے کا وقت آیا تو خدائی وعدہ یاد آگیا اور مناظرہ سے باوجود بلانے کے صاف لفظوں میں انکار کر دیا :
کیا وعدہ انہیں کر کے مکرنا نہیں آتا
بعد اللتیا واللتی ہم مرزا جی کی صداقت اور راست بیانی ظاہر کرنے کو ان کے حوالہ رسالہ انجام آتھم وغیرہ کی بھی پڑتال کرتے ہیں۔ آپ (انجام آتھم کے صفحہ ٢١٢
خزائن ج١١ ص ٢٨٢) پر بے شک لکھتے ہیں :
” وازمعنا لانخاطب العلماء بعد هذه التوضيحات ولو سبونا ................وهذه منا خاتمة المخاطبات “
یعنی ہم نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس سے بعد علماء سے خطاب نہ کریں گے۔ گو وہ ہم کو گالیاں دیں اور یہ کتاب ہمارے خطابات کا خاتمہ ہے۔
یہ کتاب (انجام آتھم) ١٨٩٦ء کی مطبوعہ ہے جیسا کہ اس کے صفحہ اول (خزائن ج ١١ ص ١) سے معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ اس سے بعد آپ نے علماء کرام کو صاف مباحثہ اور مقابلہ کے واسطے بلایا ہے۔ چنانچہ آپ ٢٥ مئی ١٩٠٠ء کے اشتہار معیار الاخیار (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠) پر لکھتے ہیں :
”مگر آپ لوگ اے اسلام کے علماء اب بھی اس قاعدہ کے موافق جو سچے نبیوں کی شناخت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ قادیان سے کسی قریب مقام میں جیسا کہ بٹالہ ہے یا آپ کو اگر انشراح صدر میسر آجاوے تو خود قادیاں میں ایک مجلس مقرر کریں۔ جس مجلس کے سرگروہ آپ کی طرف سے چند ایسے مولوی صاحبان ہوں کہ جو حلم اور برداشت اور تقویٰ اور خوف باری تعالیٰ میں آپ لوگوں کے نزدیک مسلم ہوں پھر ان پر واجب ہو گا کہ منصفانہ طور پر بحث کریں اور ان کا حق ہو گا کہ تین طور سے مجھے تسلی کرلیں۔ (١)...... قرآن وحدیث کی رو سے ۔ (٢)...... عقل کی رو سے ۔ (٣)...... سماوی تائیدات اور خوارق اور کرامات کی رو سے۔ کیونکہ خدا نے اپنی کلام میں مامورین کے پرکھنے کے لئے یہی تین طریق بیان فرمائے ہیں۔ پس اگر میں ان تینوں طوروں سے ان کی تسلی نہ کر سکا۔ یا اگر ان تینوں میں سے صرف ایک یا دو طور سے تسلی کی تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں کاذب ٹھہروں گا لیکن اگر میں نے ایسی تسلی کر دی جس سے وہ ایمان اور حلف کی رو سے انکار نہ کر سکیں اور نیز وزن ثبوت میں ان دلائل کی نظیر پیش نہ کر سکیں تو لازم ہو گا کہ تمام مخالف مولوی اور ان کے نادان پیرو خدا تعالیٰ سے ڈریں اور کروڑوں انسانوں کے گناہ کا بوجھ اپنی گردن پر نہ لیں۔“
کیا مرزا جی آپ نے اس تجویز میں فریق مخالف کو خطاب نہیں کیا یا ان سے بحث کا مطالبہ نہیں کیا جو عین مناظرہ ہے یا قادیاں میں ١٩٠٠ء ١٨٩٦ء سے پہلے ہونے کی وجہ سے یہ تحریر منسوخ ہے؟۔ نہیں تو پھر میں نے کیا بھس ملایا تھا کہ مجھ کو مناظرہ تو کیا زیارت سے بھی محروم رکھا گیا ہے :
ہمیشہ گھات میں رہتا ہے آسماں صیاد
ہاں یاد آیا کہ یہ تحریر ٢٥ مئی ١٩٠٠ء کی بھی تو اس قابل نہیں کہ اس کو پیش کیا جاوے۔ کیونکہ مرزا جی نے اس کو عملی طور سے منسوخ کر کے ردی کے صندوق میں ڈال دیا تھا جس کی تفصیل یہ ہے ندوۃ العلماء کے جلسہ (منعقدہ امرتسر) کے موقعہ پر ١٨ اکتوبر ١٩٠٢ء کو مرزا جی کے نام ٤٣ علماء نے مشترکہ نوٹس دیا تو جناب بغیر رسید ڈاکخانہ کے اُف تک نہیں کی وہ نوٹس اس جگہ پر ہم نقل کرتے ہیں جو یہ ہے :
بخدمت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی
السلام علينا وعلى عبادالله الصالحین آپ کی تحریر مورخہ ٢٥ مئی ١٩٠٠ء کے مطابق ہم لوگ آپ سے بحث کو حاضر ہیں۔ گو اس سے پہلے بارہا آپ کی اصلیت ملک کو معلوم ہو چکی ہے۔ تاہم آپ کی حجت پوری کرنے کو اس دفعہ بھی ہم تیار ہیں۔
پس آپ بہ پابندی شروط مقررہ علم مناظرہ آکر مباحثہ کریں۔ آپ کے بتلائے ہوئے طریق ثلاثہ ہمیں منظور ہیں۔ تقدیم و تاخیر ان کی ہمارے اختیار ہے۔ پس آپ شنبہ کے روز ١١ اکتوبر کی شام تک امرتسر پہنچ جائیں تو ہم لوگ بعد اختتام جلسہ ندوۃ العلماء بروز یک شنبہ آپ سے مباحثہ کریں گے۔ جس صاحب کو ہم اپنے مشورے سے پیش کریں گے۔ اس کا ساختہ پرداختہ منظور کریں گے۔ چونکہ آپ کو مولوی احمد حسن صاحب ایڈیٹر شحنہ ہند کے نوٹس مورخہ ٢٣ ستمبر اور ضمیمہ ٢٤ ستمبر سے تنبیہ ہو چکا ہے۔ اس لئے آپ قلت وقت کا
عذر نہیں کر سکتے۔ غالباً آپ کو اپنے خیالات کی اشاعت اور تحقیق حق کا اس سے عمدہ موقع نہ مل سکے گا۔
مرسلہ ابو عبیداللہ امرتسری، عبدالجبار غزنوی، عبدالرحیم غزنوی، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی، ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری، عبدالعزیز دینانگری، نور احمد امام مسجد شیخ بڈھا مرحوم امرتسری، عبدالاول غزنوی، عبدالغفور غزنوی، ابوزبیر، غلام رسول حنفی امرتسری، نور احمد سکھوکے، عبدالحق غزنوی، حکیم عبدالحق امرتسری، محمد حسین لکھوکے، سید عبدالقیوم حنفی جالندہری، عبدالقادر لکھوکے، تاج الدین امرتسری، عبدالرزاق لکھوکے، حافظ غلام صمدانی پشاوری (مولوی حکیم) محمد عبداللہ پشاوری، گل محمد بہاری پور ضلع پشاور، حیات پیر پشاوری، عبدالعظیم پسروری، عبداللہ پسروری، قاسم علی نائی والہ، محب اللہ خراسانی، عبدالمجید ہزاروی، عبدالودود باریوالہ، نیاز اللہ مدرس مدرسہ تقویۃ الاسلام امرتسری، حسن محمد بھنری، یحییٰ غزنوی، محمد غزنوی، خلیفہ عبدالرحمٰن امرتسری، سید احمد دہلوی، غلام محمد تپتی، مصطفیٰ ساکن کلیانوالہ ضلع گوجرانوالہ، حافظ محمد عبداللہ غزنوی، حبیب اللہ غزنوی، عبدالعلی نوشہرہ ضلع بھمبر، شاہ ابو صالح کانپوری۔ فقط!
ناظرین! یہ ہیں مرزا جی کی ابلہ فریبیاں جن میں ہم بھی ان زماں یکتائے کو مانتے ہیں۔ اور اس بات کے قائل ہیں کہ ان کی باتوں کی تہ تک پہنچنا اس رباعی کا مصداق ہے جو کسی صاحب نے کتاب خیالی حاشیہ شرح عقائد کی نسبت لکھی ہے :
نہ انجا جائے قل احمد نہ جند است
ولے عبدالحکیم از رائے عالی
حل کردہ خیالات خیالی
آخری فیصلہ !!!
حقیقت یہ ہے کہ یہ الہامات اور پیشگوئیاں بھی مرزا صاحب کی زندگی ہی میں زیرِ بحث تھیں ان کی وفات کے بعد خدا کی مہربانی سے ان کی بھی حاجت نہیں رہی کیونکہ ان کی وفات سے سارے اختلافات کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
ناظرین حیران ہوں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں حالانکہ اختلافات ہنوز موجود ہے۔ یہ سچ ہے کہ اختلاف موجود ہے مگر یہ سب کچھ مرزا صاحب کی امت کی ہٹ اور زبان کی کج ہے ورنہ دراصل سب اختلافات مٹ چکے ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ جناب مرزا صاحب قادیانی نے میرے مواخذات سے تنگ آکر (جس کا اظہار وہ خود کرتے ہیں) ایک اعلان شائع کیا جو اپنا مضمون بتلانے میں خود کافی ہے۔ کسی کی شرح یا حاشیہ لگانے کی حاجت نہیں اس لئے اس اعلان کو بعینہ درج کر کے ناظرین کی رائے پر چھوڑتے ہیں۔
وہ اعلان یہ ہے :
مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم . نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
یستنبونک احق ھو . قل ای وربی انہ لحق!
خدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السلام علی من اتبع الہدی! مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ دیکھتا ہوں کہ حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور
ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں جن سے بڑھ کر کوئی لفظ سخت نہیں ہو سکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤنگا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی ہی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیشگوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے اگر یہ دعوے مسیح موعود ہونیکا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے۔ تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین۔ مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین! یارب اللعالمین! میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں
سے بھی بدتر جانتے ہیں جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بد زبانیوں میں آیت : ”لا تقف ما لیس لک بہ علم“ الخ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں کے ذریعہ سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں در حقیقت مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین! ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین آمین! بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
الراقم: عبدہ المذنب مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ وایدہ مرقومہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩)
ناظرین ! غور کریں کہ یہ اشتہار کیا کہہ رہا ہے اور کس غرض کے لئے شائع ہوا ہے۔ صاف بتا رہا ہے کہ ہم (مرزا اور خاکسار) میں سے جو پہلے مرے گا وہ جھوٹا ثابت ہو گا۔ یعنی اس نزاع کی حیثیت میں جو ہم دونوں میں بابت دعوائے مسیحیت اور مہدویت و غیرہ تھی۔ ہم دونوں میں سے پہلے مرنے والا جھوٹا اور پیچھے رہنے والا سچا ہو گا۔ یہ مطلب اس اعلان کا ایسا واضح ہے کہ کسی غبی سے غبی کو بھی اس میں اختلاف نہیں ہو سکتا۔
چونکہ ہماری غرض تحقیق حق ہے۔ اس لئے اس فیصلہ پر موجودہ مرزائیوں کے عذرات نقل کر کے جواب دیتے ہیں۔
عذر اول: یہ کہا جاتا ہے کہ اشتہار الہامی نہیں بلکہ محض دعا ہے اور دعا کی بابت ہم نہیں کہہ سکتے کہ ضرور قبول ہوئی ہوگی۔
اس مختصر کا جواب یہ ہے کہ یہ عذر خود مرزا صاحب کے منشاء کے خلاف ہے۔ اس اعلان کی بابت مرزا صاحب کی تشریح جو اس کے بعد چھپی ہے وہ یہ ہے۔
اخبار بدر کا ایڈیٹر مرزا صاحب کی ڈائری میں لکھتا ہے :
”مرزا صاحب نے فرمایا یہ زمانہ کے عجائبات ہیں رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی۔ اور رات کو الہام ہوا۔ اجیب دعوت الداع صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں۔
(اخبار بدر قادیان جلد ٦ ص ٧ مورخہ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء، ملفوظات ج ٩ ص ٢٦٨)
مرزا صاحب کی یہ تشریح موجودہ مرزائیوں کے جملہ اعتراضات کا کلی فیصلہ کرتی ہے۔ ناظرین! بغرض تحقیق خالص نیت سے خود اس عبارت کو غور سے دیکھیں کیا یہ عبارت نہیں بتلاتی کہ یہ اعلان خدا کی تحریک سے ہے اور اس کی قبولیت کا وعدہ خدا کی طرف سے ہے۔
اس مضمون پر بمقام لدھیانہ ١٥ ماہ اپریل ١٩١٢ء کو مرزائیوں سے میرا مباحثہ ہوا تھا جس میں در صورت فتح یابی ان کی طرف سے مبلغ تین سو روپیہ انعام مقرر تھا۔ اور فیصلہ کے لئے ایک مسلمان ایک مرزائی منصف اور ایک سکھ صاحب سرپنچ تھے۔ ایک منصف اور سرپنچ کے اتفاق سے ہماری فتح ہوئی مبلغ تین سو روپیہ ہم کو انعام ملا۔ الحمد للہ! یہ بحث تحریری
تھی۔ جو ایک رسالہ کی صورت میں شائع ہوئی۔ جس کا نام ”فاتح قادیان“ ہے۔ (الحمد للہ ! یہ بھی احتساب کی اسی جلد میں شامل ہے)
خادم دین اللہ ! ابوالوفا ثناء اللہ کفاہ اللہ امرتسری الہندی
تمت بالخیر
فتح کی سند
ریاست رام پور حفظہا اللہ عن شرالدهور میں مرزائیوں کے شور و شر کرنے پر ہز ہائنس نواب صاحب رامپور نے مباحثہ کرایا۔ اس مباحثہ کے بعد حضور نواب صاحب نے خاکسار کو سرٹیفکیٹ مرحمت فرمایا جو دراصل مباحثہ کے لئے بھی فیصلہ کن ہے۔ حضور نواب صاحب نے تحریر فرمایا :
”رام پور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے وقت مولوی ابو الوفا محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو ہم نے سنی مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے محظوظ و مسرور ہوئے۔“
دستخط خاص : حضور نواب صاحب بہادر محمد حامد علی خاں
ردِّ قادیانیت
رسائل
حضرت علامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ
جناب پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
احتساب قادیانیت
جلد ششم
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 514122
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں
ہفوات مرزا
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بعد آنحضرت ﷺ کے مدّعی نبوت کافر
ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین و کان اللہ بکل شىء علیما۔
”محمد ﷺ تم میں سے کسی مرد بالغ کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور انبیاء کے ختم کرنیوالے ہیں، اور اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کو جانتا ہے۔“
یہ آیت باجماع مسلمین رسول اللہ ﷺ کی نبوت کو ختم کرنے والی ہے یعنی آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام علماء نے مرزا قادیانی کو کافر و مرتد لکھا ہے۔ حدیث شریف میں بھی موجود ہے کہ میرے بعد لوگ دعوائے نبوت کریں گے مگر کذاب دجال ہوں گے اور یہ امر واضح ہے کہ دجال کافر ہوگا۔ چنانچہ ترمذی شریف جلد دوم ص ٤٥ باب ’لا تقوم الساعة حتی یخرج کذابون‘‘ مطبع مجتبائی۔ میں حدیث ہے۔
عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعة حتی تلحق قبائل من امتی بالمشرکین وحتی یعبد الاوثان انه سیکون فی امتی ثلاثون کذابون کلہم یزعم انه نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔
”حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ میری امت کے بعض قبیلے مشرکین سے نہ مل جائیں اور بت نہ پوجے جائیں اور عنقریب میری امت میں تیس (٣٠) دجال جھوٹے پیدا ہوں گے اور دعویٰ نبوت کریں گے حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔“
بس صرف ایک آیت اور ایک حدیث پر کفایت کی جاتی ہے۔ مرزا قادیانی اس حدیث کی پیش گوئی کے مطابق مشرک بھی ہے کیونکہ اس نے دعویٰ خدائی کے علاوہ خدا کی اولاد ثابت کی ہے جیسا کہ آگے آئے گا اور دعویٰ نبوت بھی کیا ہے اور یہ دجال کافر کا کام ہے۔
٢
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ . نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُولِهِ الکَرِيمِ .
مقدمہ
ہم مسلمان مرزا غلام احمد قادیانی کے کیوں مخالف ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کا کوئی دنیاوی جھگڑا نہیں بلکہ محض دینی عداوت ہے۔ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے۔ ”لا تتولوا قوما غضب الله عليهم “ ”جس قوم پر خدا کا غضب ہے، اس سے ہرگز دوستی نہ کرو۔“ اس سے بڑھ کر کیا غضب ہوگا کہ مرزا قادیانی خدا تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں‘ خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
تكاد السموات يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هدا . ان دعوا للرحمٰن ولدا .
(مريم : )
یعنی قریب ہے کہ آسمان ٹوٹ جائیں اور زمین پھٹ جائے اور پہاڑ گر پڑیں۔ اس بات سے کہ انہوں نے رحمان کے لئے ولد پکارا (سورۂ مریم)
صاحبان ! شرک ایسی بلا ہے کہ اعمال کو برباد کر دیتی ہے اور مشرک خدا کی بدترین مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے۔ تو آپ ہی انصاف کریں کہ ہم مرزا صاحب کو کس طرح مسلمان کہیں۔ ہم اس مختصر ٹریکٹ میں آپ کو بتائیں گے کہ مرزا صاحب نے خدا کی اولاد بھی ثابت کی اور خود خدا بھی بنے۔ اور خدا اور رسول پر افتراء بھی کیا ہے اور انبیاء کی توہین بھی جی بھر کر کی۔ ایسے شخص کو کوئی شخص مسلمان بھی سمجھے تو ہم اس شخص کو بھی مسلمان نہیں کہتے۔
عقیدہ مشرکانہ
قادیانی ایجنٹ عام طور پر سادہ لوح مسلمانوں کو بہکانے کے لئے مرزا صاحب کی کتابیں پیش کر دیا کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے دین کی بڑی خدمت کی ہے۔ توحید مٹ چکی تھی تو جناب مرزا نے آ کر زندہ کی ہے اور قرآن مردہ ہو چکا تھا تو مرزا نے آ کر زندہ کیا۔ رسول مقبول ﷺ کی عیسائی لوگ توہین کرتے تھے تو مرزا قادیانی نے آ کر عزت افزائی کی۔ وغیرہ
ہم اس مختصر ٹریکٹ میں ثابت کریں گے کہ مرزا قادیانی نے آ کر اس قدر شرک اور کفر پھیلایا کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص ایک ظاہری مسلمان اپنے کو ظاہر کرتا ہے مگر باطن میں کفر اور شرک سے بھرا پڑا ہے اور قرآن مجید کی تحریف اور انبیاء و بزرگان دین کی سخت توہین کرتا تھا۔
٣
(١) مرزا قادیانی اپنی کتاب اربعین نمبر ٤ ص ١٩۔ خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢ کے حاشیہ میں خدا تعالیٰ کی اولاد ثابت کرتے ہیں۔ الہام ہوتا ہے ’’انت منی بمنزلۃ اولادی‘‘ یعنی اے مرزا تو میری اولاد کے مرتبہ پر ہے۔
صاحبو غور کرو اس الہام میں اللہ تعالیٰ اپنی اولاد ثابت کر کے مرزا کو اس کے مرتبہ میں بتا رہا ہے اور قرآن مجید جا بجا پکار رہا ہے کہ میری اولاد نہیں بلکہ اس عقیدہ کو کفر کہا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام کو یہود و نصاریٰ نے خدا کا بیٹا کہا تو خدا نے انہیں کافر ٹھہرایا۔ پس اس عقیدہ کی بنا پر مرزا صاحب پکے مشرک اور کافر ٹھہرے۔
دعویٰ خدائی
(٢) آئینہ کمالات ص ٥٦٤، ٥٦٥۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً وغیرہ میں مرزا صاحب لکھتے ہیں: ’’رأیتنی فی المنام عین اللہ فتیقنت اننی ھو‘‘ یعنی میں خواب میں اپنے آپ کو ہو بہو اللہ دیکھتا ہوں تو پھر میں نے یقین کیا کہ میں واقعی اللہ ہوں...... ’’فخلقت السموات والارض‘‘ پس میں نے آسمان اور زمین بنائے ’’فقلت انا زینا السماء الدنیا مصابیح‘‘ یعنی پھر میں نے آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا...... ’’وکنت اتیقن ان جوارحی لیست جوارحی بل جوارح اللہ تعالیٰ‘‘ یعنی میں یقین کرتا تھا کہ میرے اعضائے میرے نہیں بلکہ اللہ کے اعضاء ہیں...... ’’وکنت اتخیل انی انعدمت بکل وجودی وانسلخت من ھویتی والان لا ھنا نوع ولا شریک‘‘ یعنی مجھے یہ خیال ہو رہا تھا کہ میں اپنے وجود (انسانی) سے بالکل معدوم ہو چکا ہوں اور نکل چکا ہوں۔ پس نہ کوئی منازعت کرنے والا رہا نہ شریک (گویا وحدہ لاشریک ہوئے)۔ حضرات! دیکھا قادیانی متنبی کا خدائی دعویٰ۔ اور مزے کی سنو......
خدا سے رشتہ
حقیقة الوحی ص ٧٤۔ خزائن ج ٢٢ ص ٧٧ میں الہام ہوتا ہے ’’انت منی وانا منک‘‘ یعنی اے مرزا تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے‘‘ (استغفر اللہ نعوذ باللہ) قادیانی ایجنٹو! کیا اس توحید کو پھیلانے کے لئے مرزا آیا تھا، لم یلد ولم یولد کے مضمون کو بھول گئے کہ نہ کوئی خدا سے ہے اور نہ خدا کسی سے۔ اور یوں الہام ہوتا ہے ’’انت من مائنا‘‘ اے مرزا تو ہمارے پانی سے ہے۔ تو یہ کس قدر کفر ہے۔
٤
مرزا کے خدا کی مثال مرزا کے قلم سے
توضیح المرام ص ٧٥۔ خزائن ج ٣ ص ٩٠ میں مرزا نے اپنے خدا کی مثال اس طرح پر دی ہے کہ ”ایسا وجود اعظم ہے جس کے لیے بے شمار ہاتھ اور بے شمار پیر ہیں۔۔۔۔۔۔ عرض اور طول رکھتا ہے اور تیندوے کی طرح اس کی تاریں بھی ہیں۔“ قادیانی دوستو! کیا تمہارا بھی خدا یہی ہے جو مرزا صاحب نے پیش کیا ہے یا مسلمانوں کا خدا جو (ليس كمثله شىء) ہے۔ اس جگہ مرزا صاحب نے قرآن مجید کا انکار اور خلاف کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (فلا تضربوا لله الامثال) یعنی خدا تعالیٰ کے لئے مثالیں نہ بیان کرو۔ کیوں مرزائی دوستو! یہ خلافِ قرآن ہے یا نہیں؟
رسول اللہﷺ کی بے ادبی
تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ (مبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد) یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے حق میں ہے اور احمد آپؐ ہیں۔ مگر مرزا صاحب فرماتے ہیں کہ یہ میرے حق میں ہے اور میرا نام احمد ہے۔
(ازالہ ص ٦٧٣۔ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
اور لکھتا ہے:
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣۔ خزائن ج ١٥ ص ١٣٢)
اور لکھتا ہے:
من بعرفاں نہ کم ترم ز کسے
(نزول المسیح ص ٩٩۔ خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
یعنی انبیاء اگر چہ بہت ہوئے مگر میں بھی تو کسی سے کم نہیں۔
دوستو! بتاؤ گستاخی کس چیز کا نام ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر حضورؐ کی گستاخی اور کیا ہوگی جو صاف لفظوں میں کہہ رہا ہے کہ کسی نبی سے کم نہیں، لو صاحب اس سے بڑھ کر لو۔ حقیقۃ الوحی ص ٨٩۔ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢ میں یوں در افشانی کی ہے کہ ”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“ (توبہ نعوذ باللہ) اور سنو! اعجاز احمدی ص ٦٩۔ خزائن ج ١٩ ص ١٧٠ میں لکھا ہے کہ ”پہلوں کا پانی مکدر ہو گیا۔ ہمارا پانی اخیر زمانہ تک مکدر نہیں ہوگا“ (اس میں حضورؐ بھی
٥
آگئے کیونکہ آپ بھی پہلوں سے ہیں) اور تحفہ گولڑویہ ص ٤٠۔ خزائن ج ١٧ ص ١٥٣ میں مرزا نے لکھا ہے کہ ”نبی کریم کے معجزات تین ہزار تھے میرے معجزات دس لاکھ سے زیادہ ہیں ۔“
(نشان آسمانی ص ١٥۔ براہین احمدیہ حصہ ٥ ص ٥٦۔خزائن ج ٢١ ص ٧٢)
مرزائی دوستو! سچ کہنا کہ اس میں حضورؐ سے اپنے آپ کو مرزا نے بڑھایا ہے یا نہیں۔ بتاؤ دس لاکھ وہ کون سے معجزے ہیں۔ ہمارے سامنے تو ایک ہی پیش کیا کہ محمدی بیگم میرے نکاح میں آئے گی (مگر آہ! اے عشق تیرا ستیاناس) وہ بھی نکاح میں نہ آئی جس کے باعث آج کلنک کا ٹیکہ مرزائی امت پر باقی رہ گیا جو قیامت تک اتر نہیں سکتا۔ گویا یہ پیش گوئی مرزا صاحب نے ساری دنیا کے سامنے پیش کر کے یہ بتانا مقصود تھا کہ اگر محمدی بیگم میرے نکاح میں نہ آوے تو میں جھوٹا مگر خدا تعالیٰ نے ایسا صاف فیصلہ کر دیا کہ مرزا صاحب دنیا سے خالی ہاتھ گئے اور محمدی بیگم نہ ملی۔ جس کا افسوس آج مرزائی بھی کر رہے ہیں۔
مرزا کے بیٹے محمود کا عقیدہ
” (مرزا) خود محمد رسول اللہ ہے جو اسلام کی اشاعت کے لئے دوبارہ دنیا میں آیا۔
(کلمۃ الفضل ص ١٥٨)
”ہر شخص محمد رسول اللہ ﷺ سے بڑھ سکتا ہے۔“
(اخبار الفضل ١٧ جولائی ١٩٢٢ء ص ٥)
”مرزا کا ذہنی ارتقاء آنحضرت ﷺ سے زیادہ تھا۔“
(ریویو جون ١٩٢٩ء)
”رسول کریم کی کئی دعائیں قبول نہیں ہوئیں۔“
(الفضل ٤ مارچ ١٩٢٧ء ص ٥ ج ١٤ نمبر ٧٠)
”باعتبار کمالات ذات ورسالت کے مرزا محمد رسول اللہ ہی ہے“
(الفضل ١٥؍ جنوری ١٩١٩ء)
”مرزا صاحب عین محمد تھے۔“
(ذکر الٰہی۔ ص ٢٠)
”مرزا کی روحانیت نبی کریم سے اقویٰ اکمل اور اشد ہے۔“
(کلمۃ الفضل۔ ص ١٤٣)
حضرات ! آپ سن چکے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے کا یہ عقیدہ ہے۔ اب آپ پر ہی ہم انصاف چھوڑتے ہیں کہ یہ لوگ اگرچہ ظاہری کلمہ گو ہیں مگر جب حضور ﷺ کے متعلق یہ عقیدہ ہے تو کیا آپ انہیں مسلمان کہیں گے جس شخص کے دل میں ذرا سا بھی ایمان ہے وہ کبھی بھی ان باتوں کو سن نہیں سکتا۔ چہ جائیکہ ایسا خبیث عقیدہ رکھنے والے کو مسلمان کہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے بچائے۔ آمین
امام حسینؓ کی توہین
تمام اہل اسلام امام حسینؓ کی فضیلت اور بزرگی کے قائل ہیں ان کی گستاخی یا ہتک کو بے دینی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ حدیث شریف میں ان کے فضائل بہت سے ہیں جن میں سے ہم صرف ایک حدیث بیان کر دیتے ہیں۔ جو ابن ماجہ ج اوّل ص ١٣ پر ہے۔
عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ من احب الحسن والحسین فقد احبنی ومن ابغضہما فقد ابغضنی.
”یعنی حضور ﷺ فرماتے ہیں جس نے حسن حسین (رضی اللہ عنہما) سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے انہیں برا سمجھا اور ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا“
اب اس حدیث کے بعد ہم آپ ناظرین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے امام صاحب کی سخت توہین کی ہے اور اپنے آپ کو امام حسینؓ سے بڑھ کر لکھا ہے۔ چنانچہ دافع البلا ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣ میں لکھتے ہیں:
”اے قوم شیعہ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسینؓ تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔“
اور اعجاز احمدی ص ٥٣ ۔ خزائن ج ١٩ ص ١٦٤ میں ہے:
وقالوا علی الحسنین فضل نفسہ. اقول نعم واللہ ربی سیظہر.
”اور انہوں نے کہا کہ اس شخص نے امام حسن حسین سے اپنے تئیں اچھا سمجھا۔ میں کہتا ہوں ہاں اور میرا خدا عنقریب ظاہر کر دے گا۔
اور اسی کتاب کے ص ٨١ ۔ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣ میں یوں لکھا ہے:
وانی قتیل الحب لکن حسینکم. قتیل العداء فالفرق اجلی واظہر.
اور میں خدا کی محبت میں کشتہ ہوا ہوں لیکن حسین تمہارا دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا کھلا ظاہر ہے۔“
اور ص ٦٩ ۔ خزائن ج ١٩ ص ١٨١ پر لکھا ہے:
شتان ما بینی وبین حسینکم. فانی اُؤید کل ان وانصر.
”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“
٧
علاوہ اس کے اور بھی بہت اشعار ہیں جن میں سخت توہین کی ہے مگر اختصار مقصود ہے۔
توہین ابوہریرہؓ
یہ وہ صحابی ہیں جن سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔ حضورﷺ کو بہت پیارے تھے ہر وقت آپ کی خدمت میں رہا کرتے تھے۔ نہایت ذہین اور روشن ضمیر تھے، ایک دفعہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اے ابوہریرہؓ میں نے جنت میں اپنے آگے تیرے جوتے کی آہٹ سنی کہ تو جا رہا ہے۔ تو کیا عمل کرتا ہے کہ جس سے تجھ کو یہ مرتبہ حاصل ہوا۔ ابوہریرہؓ نے جواب دیا کہ حضور اور تو کچھ عمل نہیں کیا۔ صرف یہ ہے کہ جب وضو کرتا ہوں تو دو نفل پڑھ لیتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ بس اسی کی وجہ سے تجھ کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے۔ مگر مرزا نے اس صحابی ابوہریرہؓ سے بھی بدلہ لے کر چھوڑا۔
اعجاز احمدی ص ١٨۔ خزائن ج ١٩ ص ١٢٧ میں لکھتا ہے کہ ”بعض ایک دو کم سمجھ صحابہ جن کی درائت (سمجھ) عمدہ نہیں تھی عیسائیوں کے اقوال سن کر جو ارد گرد رہتے تھے پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان پر زندہ ہے جیسا کہ ابوہریرہؓ جو غبی (ردی سمجھ) تھا اور درائت اچھی نہیں رکھتا تھا۔“
مسلمانوں کو غور کرنا چاہئے کہ ایسے جلیل القدر صحابی کو بے سمجھ لکھنا یہ بے دینی نہیں تو اور کیا ہے؟
عام مسلمانوں کی توہین
آئینہ کمالاتِ اسلام ص ٥٤٧، ٥٤٨۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً پر لکھا ہے کہ ”ہر مسلمان میری تصدیق کرے گا مجھے قبول کرے گا مگر بدکار عورتوں کے بچے وہ تسلیم نہ کریں گے“ اور نجم الہدیٰ ص ١٠۔ خزائن ج ١٤ ص ٥٣ پر یوں تحریر ہے:
دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہوئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں
اور انجام آتھم ص ٢١۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً میں مرزا نے تمام مولویوں کو یہ لکھا ہے کہ ”اے بدذات فرقہ مولویاں“ اور میاں نذیر حسین صاحب دہلوی جو شیخ الہند مشہور ہیں جن کے فیض سے دنیاء عالم میں علم حدیث کا چرچہ ہوا اُن کے حق میں نہایت ناپاک الفاظ استعمال کیے ہیں جیسا کہ ”نالائق نذیر حسین اور اُس کے نا سعادت مند شاگرد محمد حسین کا یہ سراسر افتراء ہے“۔
(انجام آتھم ص ٤٥۔ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
٨
حضرات! یہ تہذیب مرزا بطور نمونہ پیش خدمت ہے ورنہ ایسی خرافات بہت سی ہیں جن کے ذکر سے اندیشہ طوالت ہے۔
توہین حضرت عیسیٰ علیہ السلام
سب سے پہلے یہ بات قابل یاد ہونی چاہئے کہ اسلام نے ہم کو یہ ہرگز تعلیم نہیں دی کہ اگر کوئی شخص خبیث الباطن ہمارے آقا سردار دو جہاں محمد ﷺ کی شان میں کوئی ہتک آمیز کلمہ کہے تو اس کے مقابل کسی ایسے نبی کی شان میں ان کے مقابلہ میں گستاخی کریں جس کو وہ نبی مانتا ہو مثلاً عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبی مانتے ہیں۔ اگر کوئی عیسائی نبی کریم ﷺ کے حق میں گستاخی کرے تو ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالی دیں۔ یہ ہرگز شریعت نے ہمیں نہیں سکھایا۔ دوسری بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ اور یسوع یہ ایک ہی نبی کے نام ہیں دو نہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی توضیح المرام ص ٤۔ خزائن ج ٣ ص ٥٢ پر فرماتے ہیں: ’’دوسرے مسیح ابن مریم جن کو عیسیٰ و یسوع بھی کہتے ہیں۔‘‘
جب یہ ثابت ہوا کہ یسوع عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں تو پھر جب یسوع کو گالی دی جائے گی وہ حضرت عیسیٰ ہی کو دی جائے گی۔ اب سنئے مرزا قادیانی ضمیمہ انجام آتھم ص ٧ حاشیہ خزائن ج ١١ ص ٢٩١ میں حضرت عیسیٰ یسوع کے بارے میں یہ تحریر فرماتے ہیں:
’’آپ کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔ آپ کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔‘‘
’’آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو۔‘‘
اور کشتی نوح ص ٦٥۔ حاشیہ خزائن ج ١٩ ص ٧١ میں لکھا ہے:
’’یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔‘‘
چشمہ مسیحی ص ١١۔ خزائن ج ٢٠ ص ٣٤٦ پر لکھا ہے کہ ’’حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود اخلاقی تعلیم پر عمل نہیں کیا۔‘‘ اور مکتوبات احمدیہ ص ٢٣‘ ٢٤ ج ٣ میں ہے ’’مسیح کا چال چلن کیا تھا۔ ایک کھاؤ پیو شرابی نہ زاہد نہ عابد نہ حق کا پرستار۔ متکبر خود میں خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔‘‘
اعجاز احمدی ص ٢٥۔ خزائن ج ١٩ ص ١٣٥ میں فرماتے ہیں:
٩
”افسوس ہے کہ جس قدر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اجتہاد میں غلطیاں ہیں اس کی نظیر کسی نبی میں بھی نہیں پائی جاتی۔“
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات سے انکار
قرآن مجید سورۂ مائدہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات بیان کرتے کرتے یہ بھی معجزہ بیان کیا ہے کہ آپ مٹی سے جانور کی شکل بنا کر بحکم الٰہی پھونک دیتے تھے تو وہ جانور ہو کر پرواز کرتا تھا مگر مرزا قادیانی ازالہ اوہام ص ٣٠٣‘ ٣٠٤۔ خزائن ج ٣ ص ٢٥٤‘ ٢٥٥ میں فرماتے ہیں کہ ”خدائے تعالیٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے۔۔۔۔۔کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک نجاری (بڑھئی) کا کام بھی کرتے رہے۔“
حضرات! دیکھا ایک تو معجزہ سے انکار۔ اور دوسرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ یوسف نجار کو ثابت کیا۔ استغفر اللہ۔ یہ عقیدہ یہود کا تھا مسلمان حضرت عیسیٰ کو بے باپ جانتے ہیں اور قرآن مجید اس پر شاہد ہے۔ اور ازالہ اوہام ص ٣٠٩۔ خزائن ج ٣ ص ٢٥٧‘ ٢٥٨ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ”یہ جو زندہ کرتے تھے تو صرف یہ عمل ترب (مسمریزم) تھا۔“ مرزا قادیانی کی عبارت ملاحظہ ہو۔ ”یاد رکھنا چاہئے کہ یہ عمل (ترب) ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدائے تعالیٰ کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان عجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔“ اللہ رے اللہ مسیح کے کارنامہ کو قابل نفرت اور مسمریزم سے تعبیر کرنا یہ صرف مرزا کا حق ہے۔ کسی مسلمان نے آج تک یہ گندہ عقیدہ نہ رکھا تھا۔
حضرات! عام طور پر مرزائی کہا کرتے ہیں کہ یسوع کو کہا ہے مگر آپ نے دیکھ لیا کہ ان عبارات میں یسوع بھی اور حضرت عیسیٰ اور ابن مریم کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ اب تاویل کی گنجائش نہیں نام لے کر گالی دی ہیں۔
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان بے دینوں سے بچائے۔ آمین
٭٭٭٭٭٭
١٠
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
صحیفہ محبوبیہ
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله واهله
پہلے مجھے دیکھئے
ان دنوں ایک کتاب موسومہ ”صحیفہ آصفیہ“ یعنی تبلیغ بحضور نظام قادیانی مشن سے نکلی ہے جو ٢٣؍ اکتوبر ١٩٠٩ء کو میرے مطالعہ میں آئی۔ اس کتاب میں قادیانی خلیفہ حکیم نور الدین کی طرف سے حضورِ پُر نور نظام یعنی والیٔ ریاست حیدرآباد دکن خَلَّدَ اللّٰہُ ملکہٗ وزاد جلالہٗ کی خدمت میں حوادثِ ارضی وسماوی عموماً اور واقع طوفانِ بلدہ حیدرآباد خصوصاً یاد دلا کر حضورِ ممدوح کو قادیانی مشن کی تبلیغ کی ہے کہ ان واقعاتِ حادثہ کی خبر ہمارے امام مرزا صاحب قادیانی نے پہلے سے دی تھی اس لئے مرزا صاحب مامور من اللہ اور مسیح موعود اور مہدیِ مسعود ہیں۔
چونکہ قادیانی مشن سے بحمد اللہ خاکسار کو پوری واقفیت ہے اس لئے حضورِ اعلیٰ نے اس بندۂ درگاہ کو بالقاء مامور فرمایا کہ حضور پُر نور شاہِ دکن کی طرف سے رسالہ صحیفہ آصفیہ کا جواب لکھوں۔ جس سے حضورِ پُر نور کے خدام پر اور دیگر اہلِ اسلام بلکہ عامۃ الانام پر اصل حال منکشف ہو سکے۔ وما توفیقی الا باللہ۔
اسی مناسبت سے اس رسالہ کا نام ”صحیفہ محبوبیہ“ رکھا۔ خدا قبول فرمادے۔
خاکسار ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری شوال ١٣٢٧ھ مطابق ٢٤؍ اکتوبر ١٩٠٩ء
٢
باب اوّل
حکیم نور الدین خلیفہ قادیانی نے اپنے مضمون (صحیفہ آصفیہ) میں دو باتوں کے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
- (١) دنیا میں بدکاری کثرت سے ہے جو ان آفات ارضی اور سماوی کی موجب ہے۔
- (٢) چونکہ مرزا قادیانی نے ان واقعات کی پیش از وقت خدا سے علم پا کر خبر دی ہے۔ لہٰذا وہ
ملہم ربانی اور خلیفہ سبحانی تھے۔
امر اول کی بابت تو کسی کو انکار نہیں۔ نہ انکار کی گنجائش ہے کہ دنیا کی آبادی میں کوئی نسبت نہیں ملتی کہ نیک اور بد کو ممتاز کر سکے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بنی آدم میں فی ہزار، نوسو ننانوے جہنمی ہوں گے اور ایک جنتی۔ زمانہ حال پر نظر کرنے سے اس حدیث کی تصدیق یوں ہوتی ہے کہ شاید زمانہ سلف کے صلحاء کو ملا کر یہ نسبت ہو سکے ورنہ حال میں تو فی لاکھ بھی یہ نسبت پیدا نہیں ہو سکتی۔
ہر ایک طبقے کے لوگ اپنے اپنے فرائض سے غافل ہیں۔ کسی شاعر نے زمانہ کے حالات کی خرابی دیکھ کر کیا اچھی رائے لگائی ہے کہ:
نیست جز انسان دریں عالم کہ بسیارست و نیست
چونکہ یہ امر واقعی ہے کہ اہل دنیا اپنے فرائض سے غافل ہی نہیں بلکہ اُنہیں توڑ رہے ہیں اس لئے حکیم صاحب کے اس حصے پر کسی طرح کی تنقید کرنے کی حاجت نہیں۔ البتہ آپ کی تحریر کا دوسرا پہلو کہ جناب مرزا صاحب کو خدا کی طرف سے غیوب پر اطلاع ہوتی تھی قابلِ غور ہے۔ چنانچہ اسی پہلو پر ہم غور کریں گے۔
حکیم صاحب نے جو واقعات اور حوادث پیش کئے ہیں اُن کی تحقیق تو ہم آگے چل کر
٣
کریں گے سردست ہم حکیم صاحب کو اہل علم کا اور خود مرزا صاحب کا مسلمہ اصول بتلاتے ہیں کہ : ”موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ“ ہوتا ہے۔ کیا معنی؟ کسی مدّعی کے صدق کے لئے جملہ امور میں سچا ہونا ضروری ہے اور کذب کے لئے بعض امور بھی کافی ہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب خود بھی لکھتے ہیں:
”ممکن ہے کہ ایک خواب سچی بھی ہو اور پھر بھی شیطان کی طرف سے ہو اور ممکن ہے کہ ایک الہام سچا ہو اور پھر بھی وہ شیطان کی طرف سے ہو۔“
(حقیقۃ الوحی ص١۔خزائن ج٢٢ ص٣)
پس ہم چند الہام مرزا صاحب کے بطور نمونہ دکھاتے ہیں جن کی بابت اُن کو خود اقرار ہے کہ ان کے صدق سے مَیں صادق اور ان کے کذب سے میں کاذب۔ چنانچہ اصلی الفاظ آپ کے یہ ہیں:
”ماسوا اِس کے بعض اور عظیم الشان نشان اِس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ٥؍ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینہ تک۔ اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ١٨٩٣ء ہے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اُس کی خاطر سے کسی اُس کے دشمن کو اُس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اُس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔ سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہو بلکہ محض اللہ جل شانہٗ کے اختیار میں ہیں سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔“
(شہادۃ القرآن ص٨٠،٨١۔خزائن ج٦ ص٣٧٥،٣٧٦)
پس بہت ضروری ہے کہ اِس اقرار یا اعلان مرزائی کے مطابق پہلے ہم آپ کی ان پیشگوئیوں کی تحقیق کریں۔
٤
پیشگوئی اول
مرزا صاحب نے جون ١٨٩٣ء میں بمقام امرتسر عیسائیوں سے مباحثہ کیا تھا۔ عیسائیوں کی طرف سے مسٹر عبداللہ آتھم مناظر تھے۔ مباحثہ کے خاتمہ پر مرزا صاحب نے ایک پیشگوئی بالفاظ ذیل کی تھی:
”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جب کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اُس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی ١٥۔ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اُس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اُس کی اس سے عزت ظاہر ہو گی اور اُس وقت جب یہ پیشین گوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“
(جنگ مقدس ص ٢٠٩، ٢١٠۔ خزائن ج ٦ ص ٢٩١، ٢٩٢)
اس عبارت کا مدعا صاف ہے کہ فریق مقابل یعنی عبداللہ آتھم جس نے پندرہ روز تک مرزا صاحب سے مباحثہ کیا تاریخ اظہار پیشگوئی سے پندرہ ماہ تک مر جائے گا۔ اس مقام کے علاوہ اور بھی کئی ایک مقامات پر مرزا صاحب کو اعتراف ہے کہ آتھم والی پیشگوئی میں موت مراد تھی۔ چنانچہ رسالہ ”کرامات الصادقین ص آخر۔ خزائن ج ٧ ص ١٦٣“ میں لکھتے ہیں:
” فبینما انا فی فكر لاجل ظفر الاسلام و افحام اللیام فاذا بشرنی ربی بعد دعوتی بموته (آتھم) الی خمسة عشر اشهر من یوم خاتمة البحث“ (یعنی آتھم کی موت پندرہ ماہ میں ہوگی)
اور سنئے ! مرزا صاحب فرماتے ہیں : ”ناظرین کو معلوم ہو گا کہ موت کی پیشگوئی اس (آتھم) کے حق میں کی گئی تھی اور اس پیشگوئی کی پندرہ مہینے میعاد تھی۔“
(تریاق القلوب ص ٥٤۔ حاشیہ خزائن ج ١٥ص ٢٤٩)
اور سنئے ! ”یاد رکھنے کے لائق ہے کہ عبداللہ آتھم کی نسبت بھی موت کی پیشگوئی تھی۔“
(حقیقة الوحی ص ١٨٦۔ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٣)
٥
یہ تینوں حوالے یکے بعد دیگرے مختلف اوقات کی شہادتیں ہیں۔ مؤخرالذکر سب سے آخری اقرار ہے جس کتاب (حقیقۃ الوحی) میں یہ اعتراف ہے وہ ١٩٠٧ء میں شائع ہوئی تھی۔ گویا اس بارے میں مرزا صاحب کی آخری تصنیف ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب آخری عمر تک اس پیشگوئی کو موت ہی کے معنی میں سمجھتے رہے تھے اور بس۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مسٹر عبداللہ آتھم مقررہ میعاد کے اندر مرا؟ ہرگز نہیں ٦؍ ستمبر ١٨٩٤ء تک میعاد تھی مگر وہ ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء کو مرا (انجام آتھم ص ١۔ خزائن ج ١١ ص ١) یعنی میعاد کے بعد ایک سال دس مہینے کچھ دن کامل زندہ رہا۔
لطیفہ:۔ مرزا صاحب کے الہام کا کوئی شخص قائل ہو یا نہ ہو مگر حافظہ اور روایت کا تو ضرور قائل ہوگا۔ آپ کو کسی روایت کے بیان کرنے میں ذرہ جھجھک نہ ہوتی تھی بلکہ روایت کو بھی ایسا ہی تصنیف کر لیا کرتے تھے جیسا کسی کتاب کو۔ لطف یہ ہے کہ خواہ وہ روایت آپ کے خلاف بلکہ آپ کے بیان کے بھی مخالف اور متناقض ہو۔ چنانچہ آتھم کی موت کی تاریخ آپ نے رسالہ انجام آتھم میں ٢٧؍ جولائی ١٨٩٦ء بتلائی ہے جو انقضاء میعاد سے دو سال کے اندر اندر ہے مگر رسالہ ”تریاق القلوب“ میں آتھم کی موت کی نسبت لکھتے ہیں کہ:
”اُس (آتھم) کے رجوع کی وجہ سے دو برس سے بھی کچھ زیادہ اور مہلت اس کو دے دی۔“
(تریاق القلوب ص ١٠١۔ خزائن ج ١٥ ص ٣٦٦)
حکیم صاحب! مشہور مقولہ ...... حافظہ نباشد، آپ نے بھی سُنا ہوگا؟ اسی حکمت کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے:
لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیرا۔
(قرآن خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا)
خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ ہے اصل مطلب یہ ہے کہ آتھم جو میعاد مقررہ میں نہ مرا تو مرزا صاحب نے اس کا جواب کیا دیا؟ آپ نے اس کے جواب دو طرح سے دیئے:
- (١) آتھم کی پیشگوئی میں چونکہ یہ قید تھی کہ ”بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے“ آتھم نے
رجوع کیا لہٰذا وہ میعاد کے اندر فوت نہ ہوا۔ چنانچہ مرزا صاحب کے اپنے الفاظ یہ ہیں:
”بھلا تم میں سے کوئی تو ثابت کر کے دکھلاوے کہ آتھم پیشگوئی کی میعاد میں اپنی پہلی عادات پر قائم اور مستقیم رہا اور پیشگوئی کی دہشت نے اُس کو مبہوت نہ کیا۔ اگر کوئی ثابت کر سکتا ہے
٦
تو کرے ہم قبول کرنے کو تیار ہیں ورنہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔ کیا یہ رجوع نہیں تھا کہ نہ صرف آتھم بد زبانی سے باز آیا بلکہ پیشگوئی کی تمام میعاد یعنی پندرہ مہینے تک ڈرتا رہا اور بے قراری اور خوف کے آثار اُس کے چہرہ پر ظاہر تھے اور اُس کو کسی جگہ آرام نہ تھا۔‘‘
(تریاق القلوب ص ١١۔ خزائن ج ١٥ ص ١٤٩)
یہ توجیہ مرزا صاحب کی ایسی مشہور و معروف اور پسندیدہ ہوئی کہ مرزا صاحب کی سیرت لکھنے والے معتقدین نے بھی اسی کو پسند کیا ہے۔ چنانچہ محمد علی لاہوری اپنی کتاب ’’مسیح موعود ص ١٧٠‘‘ میں لکھتے ہیں:
”عبداللہ آتھم کی پیشگوئی میں صاف شرط مذکور ہے کہ وہ پندرہ ماہ میں مر جائے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔۔۔۔۔ اور پھر برابر پندرہ ماہ خائف ہو کر ایک جگہ سے دوسری جگہ تبدیل مکان کرتے رہنا اور ڈراؤنے نظارے دیکھنا آخر کار قسم کھانے سے انکار کرنا یہ سب باتیں شاہد ہیں کہ اُس نے حق کی طرف رجوع کیا اور انذاری پیشگوئی سے فائدہ اٹھایا۔“
ان دونوں حوالوں کا مطلب صاف اور سیدھا ہے کہ آتھم نے رجوع کیا اور اُس کے رجوع کے معنی یہ ہیں کہ اُس نے پیشگوئی سُن کر پریشانی ظاہر کی۔ اپنے اصلی وطن (امرت سر) کو چھوڑ کر دوسرے مقامات میں جا کر ایام زندگی پورے کئے۔ وغیرہ۔
بہت اچھا۔ تو اس رجوع کا نتیجہ اُس کو یہ ملنا چاہئے تھا کہ (بقول مرزا جی) ہاویہ سے بچ جاتا۔ مگر ناظرین تعجب سے سنیں گے کہ جناب مرزا صاحب نے اُس کو پھر بھی ہاویہ میں گرایا اور بُری طرح گرایا۔ چنانچہ اس کا ثبوت مرزا صاحب کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
”توجہ سے یاد رکھنا چاہئے کہ ہاویہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اُس نے اپنے تئیں ڈال لیا۔ اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اُس کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اُس کے دل کو پکڑ لیا۔ یہی اصل ہاویہ تھا اور سزائے موت اُس کے کتمان کے لئے ہے جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں بے شک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا جس کو عبداللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا۔“
(انوار الاسلام ص ٥۔ خزائن ج ٩ ص ٥)
اور سنئے فرماتے ہیں:
٧
”اے حق کے طالبو! یقیناً سمجھو کہ ہاویہ میں گرنے کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور اسلام کی فتح ہوئی اور عیسائیوں کو ذلّت پہنچی ہاں اگر مسٹر عبداللہ آتھم اپنے پر جزع فزع کا اثر نہ ہونے دیتا اور اپنے افعال سے اپنی استقامت دکھاتا اور اپنے مرکز سے جگہ بَجگہ بھٹکتا نہ پھرتا اور اپنے دل پر وہم اور خوف اور پریشانی غالب نہ کرتا بلکہ اپنی معمولی خوشی اور استقلال میں ان تمام دنوں کو گزارتا تو بے شک کہہ سکتے تھے کہ وہ ہاویہ میں گرنے سے دور رہا مگر اب تو اُس کی یہ مثال ہوئی کہ قیامت دیدہ ام پیش از قیامت اس پر وہ غم کے پہاڑ پڑے جو اُس نے اپنی تمام زندگی میں اُن کی نظیر نہیں دیکھی تھی۔ پس کیا یہ سچ نہیں کہ وہ ان تمام دنوں میں درحقیقت ہاویہ میں رہا۔ اگر تم ایک طرف ہماری پیشگوئی کے الہامی الفاظ پڑھو اور ایک طرف اُس کے اُن مصائب کو جانچو جو اُس پر وارد ہوئے تو تمہیں کچھ بھی اس بات میں شک نہیں رہے گا کہ وہ بے شک ہاویہ میں گرا ضرور گرا۔ اور اُس کے دل پر وہ رنج اور غم اور بدحواسی وارد ہوئی جس کو ہم آگ کے عذاب سے کچھ کم نہیں کہہ سکتے۔ ہاں اعلیٰ نتیجہ ہاویہ کا جو ہم نے سمجھا اور جو ہماری تشریحی عبارت میں درج ہے یعنی موت وہ ابھی تک حقیقی طور پر وارد نہیں ہوا۔ کیونکہ اُس نے عظمت اسلام کی ہیبت کو اپنے دل میں دھنسا کر الٰہی قانون کے موافق الہامی شرط سے فائدہ اُٹھالیا۔ مگر موت کے قریب قریب اُس کی حالت پہنچ گئی اور وہ درد اور دکھ کے ہاویہ میں ضرور گرا۔ اور ہاویہ میں گرنے کا لفظ اُس پر صادق آ گیا پس یقیناً سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی۔ اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا۔ اور عیسائیت نیچے گری۔ فالحمد علیٰ ذالک۔“
(نور الاسلام ص ٧۔ خزائن ج ٩ ص ٧)
ناظرین! اہل منطق کہا کرتے ہیں کہ ضِدّین یا نقیضین کا اجتماع نہیں ہو سکتا۔ یہ سُن کر کسی زندہ دل شاعر نے ایک رباعی لکھی ہے؎
بگو با منطقی کیں ہست مردود
رُخ و زلفانِ یارم را نگاہ کن
کہ شمس طالع ست و لیل موجود
یعنی منطقی جو کہتے ہیں کہ سُورج اور رات باہمی نقیضین ہیں۔ اس لئے جمع نہیں ہو سکتے۔ یہ غلط ہے۔ دیکھو میرے دوست کا چہرہ تو سورج ہے اور اُس کی زلفیں رات ہیں پھر یہ کیوں جمع ہیں؟
یہ تو ایک شاعرانہ رنگ تھا مگر مرزا صاحب ہاں ہمارے الہامی حضرت نے اس کو واقعی
٨
صحیح کر دیا۔ رجوع اور ہاویہ میں وہی نسبت ہے جس کو نسبت تضاد کہیں یا تناقض یعنی ”رجوع“ جس صورت میں ہوگا اُس میں ”ہاویہ“ نہ ہوگا اور جس میں ”ہاویہ“ ہوگا اُس میں ”رجوع“ کا تحقق نہ ہو گا۔ باوجود اس کے مرزا صاحب نے آتھم کے حق میں دونوں کو تسلیم کیا ہے۔
لطف یہ ہے کہ آتھم کا ایک ہی فعل ہے جس کو (بقول مرزا صاحب) گھبراہٹ کہئے یا بے چینی نام رکھئے وہی اُس کا رجوع ہے اور وہی اُس کا ”ہاویہ“۔
مرزاجی کے دوستو! ام تأمرکم احلامکم بھذا ام انتم قوم طاغون؟
حکیم صاحب! ایک ہی محل میں دو متضاد حکموں کا جمع ہونا کبھی ہوا؟ آہ
یہ تیرے زمانے میں دستور نکلا
اہل علم سے مخفی نہیں کہ مباحثات میں جب کوئی فریق اپنی نسبت حق کا اور دوسرے کی نسبت ناحق کا لفظ بولتا ہے تو اس سے مراد اُس کی اوّلاً و بالذات وہ مسئلہ ہوتا ہے جس میں دونوں فریق کا مباحثہ ہو۔ مرزا صاحب لکھتے ہیں ”فریق مقابل جو انسان کو خدا بناتا ہے پندرہ مہینے میں بسزائے موت ہاویہ میں گرایا جائے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“ اس کا مطلب صاف ہے کہ آتھم اگر الوہیت مسیح کے خیال سے تائب ہو کر خالص اسلامی توحید کی طرف آ گیا تو پندرہ ماہ کی میعاد میں مرنے سے بچ جائے گا۔ چونکہ یہ مفہوم ایسا صاف ہے کہ ایک نابلد بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ جناب مرزا صاحب تو بڑے ہوشیار تھے اس لئے اُن کا ضمیر (کانشنس) اُن کو ایسے رجوع کرانے سے رجوع کرنے کی ترغیب دیتا ہوگا لہٰذا اُنہوں نے سب سے آخری جواب جو دیا وہ پہلے جواب سے بھی لطیف تر ہے۔ آتھم کے ذکر میں آپ فرماتے ہیں:
”اگر کسی نسبت یہ پیشگوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینہ تک مجذوم ہو جائے گا پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسویں مہینہ میں مجذوم ہو جائے اور ناک اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہوگا کہ یہ کہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے“
(حقیقۃ الوحی۔ حاشیہ صفحہ ١٨٥۔ خزائن ج ٢٢ حاشیہ ص ١٩٣)
جل جلالہ۔ یہ اقتباس بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب نے اِس جواب میں عدم رجوع کی شق (صورت) اختیار کی ہے یہی وجہ ہے کہ آپ اس کوشش میں ہیں کہ پندرہ ماہ کی میعاد ٹوٹنے سے خرابی لازم نہ آئے۔ لیکن دانا اِس جواب سے مرزا صاحب کے قلب مبارک کی کیفیت پاگئے ہوں گے کہ کس طرح اضطراب اور پریشانی میں کہہ رہا ہے۔
٩
نہ سنے کچھ خدا کرے کوئی
ناظرین! یہ ہے اُس ملہم ربانی کے بیانات کا نمونہ جن کو ہمارے عنایت فرما حکیم نور الدین صاحب نے اپنے ”صحیفہ آصفیہ“ میں کئی ایک مقامات پر ”سلطان القلم“ لکھا ہے اور فرمایا ہے کہ مخالفین اسلام ”احمدی قوم“ کا لوہا مان گئے ہیں۔ کیا سچ ہے ؎
اُس نے دیکھے ہی نہیں ناز و نزاکت والے
حکیم صاحب! آپ کی طبع ناساز کے لحاظ سے میں اس پیشگوئی کے واقعات کو مختصر ہی لکھ کر چھوڑ دیتا ہوں۔ مفصل دیکھنے ہوں تو آپ میرا رسالہ ”الہامات مرزا“ ملاحظہ فرماویں۔
ورنہ با تو ماجرا ہا داشتیم
......☆......
دوسری پیشگوئی
دوسری پیشگوئی سے ہماری مراد اِس جگہ منکوحہ آسمانی والی ہے جس کے متعلق مرزا صاحب نے بڑی تفصیل سے مزے لے لے کر الگ الگ اجزاء بتلائے ہیں۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
”اس (پیشگوئی متعلقہ نکاح آسمانی) کے اجزا یہ ہیں (١) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (٢) اور پھر داماد اُس کا جو اُس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (٣) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (٤) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ (٥) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو (٦) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“
(شہادت القرآن ص ٨١۔ خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)
اس پیشگوئی کی میعاد سہ سالہ پوری ہوگئی اور مرزا صاحب کی جان شکنجے میں آئی تو آپ بڑی خفگی کے لہجے میں معترضین کو ڈانٹ پلاتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ طیبہ یہ ہیں:
١٠
”سو چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بدگوہری ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اُس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اُس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جاوے گی۔ اور ذلت کے سیاہ داغ اُن کے منحوس چہروں کو بندروں اور سُوروں کی طرح کر دیں گے۔ سنو! اور یاد رکھو! کہ میری پیشگوئیوں میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جو خدا کے نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں میں اُن کا نمونہ نہ ہو۔ بے شک یہ لوگ میری تکذیب کریں۔ بے شک گالیاں دیں۔ لیکن اگر میری پیشگوئیاں نبیوں اور رسولوں کی پیشگوئیوں کے نمونہ پر ہیں تو اُن کی تکذیب اُنہیں پر لعنت ہے۔ چاہئے کہ اپنی جانوں پر رحم کریں اور روسیاہی کے ساتھ نہ مریں۔ کیا یونس کا قصہ انہیں یاد نہیں کہ کیونکر وہ عذاب ٹل گیا جس میں کوئی شرط بھی نہ تھی اور اس جگہ تو شرطیں موجود ہیں۔ اور احمد بیگ کے اصل وارث جن کی تنبیہ کے لئے یہ نشان تھا اُس کے مرنے کے بعد پیشگوئی سے ایسے متاثر ہوئے تھے کہ اس پیشگوئی کا نام لے لے کر روتے تھے اور پیشگوئی کی عظمت دیکھ کر اس گاؤں کے تمام مرد عورت کانپ اٹھے تھے اور عورتیں چیخیں مار کر کہتی تھیں کہ ہائے وہ باتیں سچ نکلیں۔ چنانچہ وہ لوگ اس دن تک غم اور خوف میں تھے جب تک اُن کے داماد سلطان محمد کی میعاد گزر گئی پس اِس تاخیر کا یہی سبب تھا جو خدا کی قدیم سنت کے موافق ظہور میں آیا۔ خدا کے الہام میں جو توبی توبی ان البلاء علی عقبک‘ ١٨٨٦ء میں ہوا تھا اس میں صریح شرط توبہ کی موجود تھی۔ اور الہام کذبوا بایاتنا اس شرط کی طرف ایماء کر رہا تھا۔ پس جبکہ بغیر کسی شرط کے یونس کی قوم کا عذاب ٹل گیا تو شرطی پیشگوئیوں میں ایسے خوف کے وقت میں کیوں تاخیر ظہور میں نہ آتی۔ یہ اعتراض کیسی بے ایمانی ہے جو تعصب کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ میں نے نبیوں کے حوالے بیان کر دیئے حدیثوں اور آسمانی کتابوں کو آگے رکھ دیا۔ مگر یہ نابکار قوم ابھی تک حیا اور شرم کی طرف رخ نہیں کرتی۔ (کیا ہی لطیف کلام ہے۔ جل جلالہ ) یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جز (یعنی آسمانی نکاح کی تنفیذ ) پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔ وہی رب ذوالجلال جس کے ارادوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اُس کی سنتوں اور طریقوں کا تم میں علم نہیں رہا۔ اس لئے تمہیں یہ ابتلاء پیش آیا۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣‘ ٥٤۔ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧‘ ٣٣٨)
١١
اسی مقام کے حاشیہ پر مزید تائید کے لئے مرزا صاحب یہ بھی فرماتے ہیں :
”اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ یتزوج ویولد لہ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوّج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوّج سے مراد وہ خاص تزوّج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ اُن سیہ دل منکروں کو اُن کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(حاشیہ ص ٥٣ ضمیمہ انجام آتھم ۔ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣٣٧)
ناظرین! عبارات مرقومہ بالا میں کوئی تاویل ہو سکتی ہے؟ صاف صاف الفاظ میں اظہار مدعا ہے اور کھلے کھلے لفظوں میں لکھا ہے کہ ایسا نہ ہونے سے مَیں تمام بدوں سے بدترین ہوں گا۔
زندگی میں تو وعدے دیتے رہے مگر آخر بقول ”بکری کی ماں کب تک خیر منائے گی؟“ خاتون معلومہ ابھی تک زندہ سلامت ہے اور مرزا صاحب ہمیشہ کے لئے تشریف لے گئے۔
مرزاجی کے دوستو ! مرزا صاحب کا حوالہ مذکورہ بالا ”میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا“ دیکھ کر ہمارے ساتھ یہ کہنے میں اتفاق کر سکتے ہو؟ کہ
زلیخا نے کیا خود پاکدامن ماہِ کنعاں کا
ناظرین ! مرزا صاحب کو آپ لوگ الہامی نہیں مانتے نہ مانیں مگر ان کی لیاقت اور ہوشیاری کی تو آپ کو داد دینی ہوگی خصوصاً جب ہم ان کے واقعات آپ لوگوں کو بتلا دیں گے تو انکار کی گنجائش نہ ہوگی۔
مرزا صاحب نے دیکھا کہ باوجود میرے مختلف حیلوں کے نکاح میں کامیابی نہیں ہوئی۔ تو آپ نے ایک اور چال نکالی چنانچہ آپ لکھتے ہیں :
”احمد بیگ کے مرنے سے بڑا خوف اُس کے اقارب پر غالب آ گیا۔ یہاں تک کہ بعض نے اُن میں سے میری طرف عجز و نیاز کے ساتھ خط بھی لکھے کہ دعا کرو پس خدا نے اُن کے اِس خوف اور اِس قدر عجز و نیاز کی وجہ سے پیشگوئی کے وقوع میں تاخیر ڈال دی ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ١٨٧۔ خزائن ج ٢٢ ص ١٩٥)
١٢
اس مقام پر تو تاخیر ہی لکھی مگر کتاب مذکور کے خاتمہ تک پہنچتے ہوئے آپ کے قویٰ بھی غالباً کمزور ہو گئے ہوں گے اس لئے اس کتاب کے ”تتمہ“ میں آپ یوں گویا ہوئے کہ:
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اُسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ایّھا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک۔ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٢، ١٣٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
اللہ اکبر! کہاں اتنا زور کہ اس کے عدم وقوع پر میں (مرزا) ہر ایک بد سے بدتر ہوں گا پھر اسی پر قناعت نہیں بلکہ حضور سید الانبیاء فداہ ابی و امی ﷺ کی ذات والا صفات پر بھی بہتان لگانے کی کوشش کی کہ آپ نے بھی اس نکاح کی بابت پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے جس کا آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ”نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا“۔
سبحان اللہ! اسی کو کہتے ہیں ”کوہ کندن و کاہ برآوردن“۔ حکیم صاحب! آپ تو حکیم ہیں، مولوی ہیں، مناظر اور مصنف ہیں۔ کیا ایسی ہی پیشگوئیوں سے مخالفوں پر حجت قائم ہو سکتی ہے؟ کہ ایک وقت میں تو بڑے زور شور سے کہا جائے کہ یہ ہوگا، وہ ہوگا نہ ہو تو میں ہر ایک بد سے بدتر ہوں گا مگر آخر کار خاتمہ اس پر ہوا کہ یہ حکم منسوخ یا ملتوی ہو کر بعد موت منسوخ ہی پر ٹھہرا۔ سچ ہے:
ومن عہدہا الا يدوم لہا عہد
ہاں یاد آیا کہ حکیم صاحب اِس نکاح کو نہ منسوخ کہتے ہیں نہ ملتوی بلکہ اس کی ایک اور ہی تاویل کرتے ہیں چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں۔ فرماتے ہیں:
جہل و قصورِ تست نفہمی کلامِ شاں
”ایک لڑکی کے متعلق کہ اس سے آپ کی شادی ہو گی اور ایک عورت سے زلازل کے پہلے ایک لڑکا ہو گا۔ اور پانچویں اولاد کی بشارت پر جو اعتراض ہیں ان کا للہ و باللہ قرآنی جواب یہ ہے کہ کتب سماویہ کا طرز ہے کہ مخاطب سے گاہے خود مخاطب ہی مراد ہوتا ہے اور گاہے وہ اور اُس کا جانشین اور اس کی اولاد بلکہ اس کا مثیل مراد ہوتا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ زمانہ نبوی میں فرماتا
١٣
ہے اقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ اس حکم الٰہی میں خود مخاطب اور ان کے مابعد کے لوگ شامل ہیں جو ان مخاطبین کی مثل ہیں۔ (اس کے بعد قرآنی تمثیلات دے کر لکھتے ہیں......) اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبۃ میں مخاطب کی اولاد ۔ مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں۔ تو احمد بیگ کی لڑکی یا اُس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی اور کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات کو حکم بنات نہیں مل سکتا؟ اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں؟ میں نے بارہا عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جاوے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آوے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آسکتا پھر یہی وجہ بیان کی۔ و الحمد للہ رب العالمین۔“
(ریویو آف ریلیجنز جلد ٧ نمبر ٧ ص ٢٧٦، ٢٧٧۔ جولائی ١٩٠٨ء)
ماشاء اللہ! کیا معقول جواب ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ قیامت تک مرزا جی کی اولاد میں سے یا افراد امت میں سے کسی کا آسمانی منکوحہ کی اولاد در اولاد سے نکاح ہو گیا تو بھی یہ پیشگوئی سچی ہے۔
کیوں نہ ہو آخر آپ حکیم ہیں فعل الحکیم لا یخلوا عن الحکمۃ ۔ اس جواب کی معقولیت میں تو شک نہیں مگر افسوس ہم اس کے سمجھنے ہی سے قاصر نہیں بلکہ الہامی کی تصریحات کے بھی اس کو خلاف پاتے ہیں۔ مرزا صاحب کا قول پہلے کتاب ہٰذا پر ہم نقل کر آئے ہیں کہ یہ نکاح میری زندگی میں ہوگا بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ بموجب حدیث شریف اس زوجہ سے میری اعجازی اولاد ہوگی ۔ ہاں یہ بھی مرزا جی کا قول ہے کہ:
”ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا۔ اور نہ کسی کا حق ہے جو اُس کے مخالف کہے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٧٢۔ خزائن ج ٢٢ ص ٤٣٨)
اسی اصول کے مطابق آپ نے ١٩٠٧ء میں بمقام لاہور آریہ کانفرنس میں مرزا جی کے مضمون میں الہاموں کا ترجمہ کرتے ہیں مگر سہ مکرر کہا تھا کہ میرا ترجمہ کسی طرح حجت نہیں ہو گا۔ بلکہ اصل ترجمہ وہی ہوگا جو صاحب الہام کرے گا۔ جب ترجمہ کرنے میں آپ کو یہ خوف دامنگیر ہوا اور آپ نے باوجود عربی دانی کے اپنے ترجمہ کو بھی ہیچ قرار دیا تو اب آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ صاحب الہام کی تصریح کے مخالف تشریح اور تفسیر کریں؟ یاللعجب وضیعۃ الادب۔
حکیم صاحب! آئیے میں آپ کو مرزا صاحب کا ایک اور کلام سناؤں ۔ افسوس آپ قادیان میں رہ کر مرزا صاحب کے ارشادات سے محروم رہتے تھے اور ہم دور رہنے والے مستفیض
١٤
ہوتے تھے۔ کیا سچ ہے ”نزدیکاں بے بصر دور“
مرزا صاحب کی زندگی میں یہ سوال پیش ہوا تھا پس وہ سوال اور مرزا جی کا جواب سنئے۔ غور سے نہیں بلکہ ایمان سے خدا کو حاضر و ناظر جان کر سنئے۔ مرزا جی کا ایک خط مرید کے جواب میں چھپا ہے اُس میں ہے:
”اعتراض پنجم“ مسماۃ محمدی کو دوسرا شخص نکاح کر کے لے گیا۔ اور وہ دوسری جگہ بیاہی گئی۔
الجواب: وحی الٰہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائے گی۔ بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اول دوسری جگہ بیاہی جائے سو یہ ایک پیشگوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الٰہی کے یہ لفظ ہیں سيكفيكهم الله ويردها اليك یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی خدا پھر اُس کو تیری طرف لائے گا۔ جاننا چاہئے کہ ردّ کے معنے عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جاوے اور پھر واپس لائی جاوے پس چونکہ محمدی ہمارے اقارب میں سے بلکہ قریب خاندان میں سے تھی یعنی میری چچا زاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی یعنی احمد بیگ کی۔ پس اس صورت میں ردّ کے معنی اُس پر مطابق آئے۔ کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی۔ اور پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی۔ اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی سو ایسا ہی ہوگا۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ١٣۔ ٣٠ جون ١٩٠٥ء ص ٢)
مرزا جی کے دوستو! عبارت مرقومہ بالا کو غور سے سمجھو اور یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہارے داؤ گھات سے بے خبر ہیں۔ ہم سچ کہتے ہیں کہ ہم تمہارے رازوں سے اس قدر واقف ہیں کہ تم کو اس کا علم نہیں:
سُنائیں گے تمہیں ہم ایک دن یہ داستاں پھر بھی
......☆......
تیسری پیشگوئی
قادیان میں طاعون نہ آنے کی بابت
اس پیشگوئی سے مرزا صاحب کی غرض تو یہ تھی کہ طاعون کے زمانہ میں لوگ بھاگ
١٥
بھاگ کر قادیان میں آئیں اور اسی بہانہ سے حلقہ ارادت میں شامل ہو کر مستفیض ہوں۔ ایک حد تک مرزا صاحب کی یہ غرض پوری بھی ہوئی کہ بعض سادہ لوحوں نے طاعون سے نجات کا ذریعہ بس یہی سمجھا کہ چلو قادیان میں چل رہیں۔ مرزا صاحب کے اصل الفاظ یہ ہیں:
”خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تا تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی ہے کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔۔۔۔۔۔ خدا ایسا نہیں کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو (مرزا) ان میں رہتا ہے۔“
(دافع البلاء ص ٥‘ ٧۔ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥‘ ٢٢٧)
اس مختصر الہامی کلام کی شرح مرزاجی کے پیش امام عبدالکریم سیالکوٹی نے مرزاجی کی زندگی میں اُن کی مرضی سے بڑی شرح وبسط کے ساتھ کی تھی جو بہت ہی لطف خیز ہونے کے علاوہ قادیانی مسیح کا حال بھی بخوبی روشن کرتی ہے اس لئے ہم اُسے یہاں لفظاً لفظاً نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے:
مسیح موعود اور قادیان دارالامان
پیسہ اخبار مطبوعہ ٥؍اپریل ١٩٠٢ء نے آٹھویں صفحہ میں ”قادیان کے اخبار کی گالیاں اور قادیان کے مذہب کا نمونہ“ عنوان جما کر لاہور کی نسبت لکھا ہے کہ لاہور میں انجمن حمایت اسلام کے جلسہ پر صدہا آدمی طاعون زدہ جگہوں سے آئے اور پھر لاٹ صاحب کی تقریب وداع پر اسی قسم کے لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہوا۔ پھر بھی لاہور طاعون سے محفوظ رہا اور امید ہے کہ محفوظ رہے گا اور پھر بڑی جرأت اور شیخی سے لکھتا ہے ”اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لاہور قادیان سے ایمانداری میں فائق ہے۔“
پیسہ اخبار کی یہ امید یا پیشگوئی اور یہ نتیجہ خوفناک حملے ہیں۔ خدائے غیور کی اُس عظیم الشان وحی پر جو کئی دفعہ الحکم میں شائع ہوئی۔ انہ اوی القرية یعنی یہ یقینی بات ہے کہ خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا اور اس وحی پر کہ لولا الاکرام لھلک المقام یعنی اس سلسلہ احمدیہ کا پاس اور اکرام اگر خدا کو نہ ہوتا تو یہ مقام بھی ہلاک ہو جاتا۔ اب سننے والے سنیں اور دیکھنے والے دیکھیں کہ ایک طرف پیسہ اخبار ایک زمینی کیڑا اپنے جوش نفس اور ارضی مادہ کے ابخرات کی تحریک سے پیشگوئی کرتا اور ذمہ لیتا ہے کہ لاہور طاعون سے محفوظ رہے گا اور دوسری طرف خدا کا مامور۔ مرسل۔ جری اور مسیح موعود خود خدائے حکیم علیم قدیر کی وحی انہ اوی القرية کی بناء پر
١٦
ساری دنیا کے طبیبوں، فلسفیوں اور میٹریلسٹوں کو کھول کر سناتا ہے کہ قادیان یقیناً اس پراگندگی تفرقہ جزع فزع اور موت الکلاب اور تباہی سے محفوظ رہے گا اور بالضرور محفوظ رہے گا جس میں دوسرے بلا مبتلا ہیں اور بعضے ہونے والے ہیں۔
پیسہ اخبار نے خدا کی جلیل الشان وحی کی کسر شان کے لئے ایسا جھوٹا دعویٰ کیا اور امید ظاہر کی اور ناپاک نتیجہ نکالا ہے۔ پیسہ اخبار کا دل اور کانشنس گواہ ہیں کہ اُس کی امید کی بنیاد کسی مضبوط چٹان پر نہیں وہ ان زمینی قوتوں پر بھروسہ کر کے آسمان کے خدا اور اس کے کلام کی ہتک کرتا ہے جو اب تک ہر سیلاب کے مقابل بند لگانے میں خس و خاشاک سے بھی بڑھ کر کمزور اور ہیچ ثابت ہوئی ہیں۔ پیسہ اخبار میں ذرا بھر بھی خدا شناسی کا یا کم سے کم دور اندیشی کا مادہ ہوتا تو وہ کانپتے ہوئے دل اور پُر آب آنکھوں سے اس پُر تحدی کلام کو دیکھتا اور بالبداہت اس نتیجہ پر پہنچ جاتا کہ زمین زادہ اور تاریکی کا فرزند ایسا دعویٰ کرنے اور کلام کرنے کا دل گردہ نہیں رکھتا۔ اس زمانہ میں جبکہ زمین کے غلیظ بخاروں یعنی علوم مادیہ ڈاکٹری اور طبعی تحقیقات اور خرد بینی تکشفات نے اپنے تئیں کمال عروج پر پہنچا لیا ہے اور یورپ کے دلیر اور پُر حوصلہ فرزند خدائی کی کل ہاتھ میں لے لینے کے لئے بحر و بر کو زیر و زبر کر رہے ہیں اور با ایں ہمہ اس بلائے جانستاں کے مقابل جہل اور ناتوانی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ایک شخص جو پُر شغب اور پُر ہنگامہ اور پُر تمدن شہروں سے ایک دور کے کنارہ میں رہتا ہے کس قدر قوت اور غیر متزلزل شوکت سے دعویٰ کرتا ہے کہ اگرچہ طاعون تمام بلاد پر اپنا پُر ہیبت سایہ ڈالے گی مگر قادیان یقیناً یقیناً اُس کی دست بُرد اور صولت سے محفوظ رہے گا اور وہ دیکھتا اور جانتا ہے کہ قادیان کے چاروں طرف طاعون پھیلتا جاتا ہے اور قریب قریب کے اکثر گاؤں مبتلا ہو گئے ہیں اور جوق در جوق لوگ متأثرہ جگہوں سے قادیان میں آتے ہیں اور روک کا کوئی بھی سامان اور مقدرت نہیں اِس پر بھی وہ یہ بلند دعویٰ کرتا اور اقرار کرتا ہے کہ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ یہ خدا کا کلام ہے جو مَیں پہنچاتا ہوں۔ مگر افسوس پیسہ اخبار نے راستی کے تمام مکذبوں کی طرح سخت شتاب کاری اور گستاخی اختیار کر کے چاہا ہے کہ خدا کے کلام کو پیروں کے نیچے کچل دے مگر کیا پیسہ اخبار کی ذمہ داری لاہور کے لئے اور قادر علیم خدا کی ذمہ داری قادیان کے لئے ایک مضحکہ خیز بات یا بازاری گپ کی مانند غیر ممیز رہ جائے گی؟ نہیں نہیں عنقریب ظاہر ہو جائے گا کہ زمین کے کمزور کیڑے کی بات میں اور فاطر ارض و سما کے مقتدر کلام اور دعویٰ میں کیا فرق ہے۔
سنو! اے زمین کے فرزندو! اور کان لگاؤ اے آسمان سے انقطاع کر کے مادیات پر
١٧
جھک جانے والو! پھر سنو! اے خدا کے مامور مرسل کی بے عزتی کرنے والو! اور راستیوں سے عداوت کرنے کے ٹھیکہ دارو! کہ انہ اوی القریۃ اُس خدا کا کلام ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر توریت نازل کی اور حضرت خاتم النبیین ﷺ پر خاتم الکتب قرآن کریم کو اُتارا۔ ہم آسمان و زمین کی خاطر خدا کو گواہ رکھ کر کہتے ہیں کہ یہ وحی ویسی ہی سچی ہے جیسے قرآن کریم کی وحی۔ اس لئے کہ یہ اُسی کی تائید وتصدیق میں اُتری ہے اور یہ ضرور پوری ہوگی اور ضرور ہوگی۔ انہ اوی القریۃ کا مفہوم صاف لفظوں میں تقاضا کرتا ہے کہ اس میں اور اس کے غیر میں بین امتیاز ہو اور یہ نہیں ہوسکتا جب تک کم از کم وہ شہر طاعون میں مبتلا نہ ہوں جنہوں نے سب سے زیادہ جنگ خدا کے سلسلہ سے کی اور جہاں پیسہ اخبار سا دشمن حق بود و باش رکھتا ہے غیور خدا اپنے کلام کے اکرام واعزاز کے لئے ایسا کرنے والا ہے کہ ایڈیٹر پیسہ اخبار کی امید اور پیشگوئی کی آنکھ میں خاک ڈال دے اور آدم کے دشمنوں کی آنکھیں نیچی کروا کر اقرار لے کہ کیا یہ صحیح نہیں کہ قادیان دارالامان ہے؟ پھر سُن لو از بس ضروری ہے کہ یہ بلا عام طور پر محیط ہو۔ اس لئے کہ کوئی کہنے کا موقع نہ پاسکے کہ قادیان ہی محفوظ نہیں رہا فلاں فلاں جگہ بھی محفوظ ہے خصوصاً خدا کی غیرت کا حملہ اُن جگہوں پر ہے جہاں بڑے بڑے ائمۃ الکفر رہتے ہیں اور ممکن ہے بلکہ غالب امید ہے کہ وہ بہتیرے کس مپرس ناتواں دیہات بچ رہے ہیں جہاں سے تابڑ توڑ توبہ اور استغفار اور بیعت کے خطوط آ رہے ہیں اور وہ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ یا مسیح الخلق فریاد
اگر اب تک پیسہ اخبار اور لاہور کے لوگ اپنی استہزاء اور تعلی اور تکبر پر اصرار کرتے اور ان باتوں کو کذب اور افتراء سمجھتے ہیں تو ان کے لئے بڑا عجیب موقعہ ہے کہ خدا کی قدرت نمائی کے جلی اور صاف صاف پڑھے جانے والے نشان دیکھ لیں۔ ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی راستی اور شفاعت کبریٰ کا یہ ثبوت پیش کیا ہے کہ قادیان کی نسبت تحدی کر دی ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا اور اپنی جماعت کے علاوہ اس جگہ کے اُن تمام لوگوں کو جو اکثر دہریہ طبع۔ کفار۔ مشرک اور دین حق سے ہنسی کرنے والے ہیں خدا کے مصالح اور حکمتوں کی وجہ سے اپنے سایۂ شفاعت میں لے لیا ہے جیسے کہ برسوں اِس سے قبل خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں خبر دی تھی کہ وما کان الله لیعذبہم وانت فیہم یعنی خدا ان کو عذاب سے ہلاک نہ کرے گا جبکہ تو ان کے درمیان ہے۔ غرض ایک طرف تو اس بڑے بھاری دعویٰ کے مدّعی نے اپنی بستی کی نسبت یہ دعویٰ کیا ہے اور دوسری طرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ لاہور اور اس کی مثل وہ مقامات جن میں ائمۃ الکفر رہتے ہیں طعمۂ طاعون ہونے سے ہرگز نہ بچیں گے اور حضرت ممدوح نے لکھا ہے اور بار
١٨
بار فرماتے ہیں کہ جہاں ایک بھی راستباز ہوگا اُس جگہ کو خدا تعالیٰ اس مشتعل غضب سے بچالے گا۔
حضرت مرزا غلام احمد کا یہ دعویٰ ٢٥ برس سے ہے کہ ان کی تکذیب پر آخر کار دنیا میں طاعون پڑنا تھا اور پھر خدا نے اس اکیلے صادق کے طفیل قادیان کو جس میں اقسام اقسام کے لوگ تھے اپنی خاص حفاظت میں لے لیا...... وقت آ گیا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک عالم کے نزدیک مسیح موعود اور مہدی مسعود یقیناً ثابت ہو جائیں اور التباس اور شک کا سارا پردہ اُٹھ جائے۔
اے نیچریو! اور اے بیباک زندگی کی چال کو پسند کرنے والو! اور اے مذہب اور خدا کو پُرانے زمانہ کا مشغلہ کہنے والو! اور اے یورپ کی عقل اور سائنس کو خدا کے لاکھوں راستبازوں کے سچے فلسفہ پر ترجیح دینے والو! اور اے خدا کی صفت تکلم اور پیشگوئیوں پر ہنسی اُڑانے والو! اور اپنی ہوا وہوس کے بتوں کے پرستارو! بولو اور سوچ کر بولو کیا تمہارے نزدیک مسیح موعود کے اس دعوے اور پیشگوئی میں خدا کی ہستی پر قرآن کی حقیقت پر خدا کے متصف بصفات کاملہ ہونے پر یعنی ازل سے ابد تک متکلم ہونے اور مدبر بالارادہ ہونے اور قادر مطلق ہونے پر اور بالآخر مرزا غلام احمد قادیانی کے منجانب اللہ ہونے پر چمکتی ہوئی دلیل نہیں؟ اب خدا کا ارادہ ہے کہ تم میں سے بہتوں کو جگائے جو غفلت کی نیند میں اینڈے پڑے سوتے تھے اور بہتوں کے منہ اپنی قدرت نمائی سے بند کردے جو بہت جلدی خدا کی باتوں پر ہنس دیتے تھے اور وقت آ گیا ہے کہ خدا کی اس وحی کی صداقت ظاہر ہو جائے جو آج سے ٢٢ برس پہلے براہین احمدیہ میں لکھی گئی اور وہ یہ ہیں ”دنیا میں ایک نذیر آیا دنیا نے اُسے قبول نہ کیا پر خدا اُسے قبول کرے گا اور زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا“ یہ وہی خدا کے زور آور حملے ہیں جو اُس کی سچائی کے اظہار کے لئے ہو رہے ہیں اور ہنوز خدا معلوم کب تک ان کا سلسلہ جاری رہے۔ آج وہی سعید ہے جو ہوا سے محسوس کرے کہ پیچھے زور سے برسنے والا بادل آ رہا ہے۔ وان فی ذالک لآیۃ لقوم یؤمنون۔
پادری صاحبان! غور کا مقام ہے کہ قادیان سے دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون تاخت و تاراج کر رہی ہے اور قادیان ایک جزیرہ کی طرح اس موجزن خونخوار سمندر میں بن رہا ہے اور روک اور حفاظت کا کوئی قہری یا دیگر جبری سامان نہیں۔ گورنمنٹ حفاظت سے دست کش ہو چکی ہوئی ہے اور طاعون زدہ مقامات سے بے روک ٹوک براتیں اور گنوار قادیان اور اُس کے بازار میں آتے جاتے ہیں با ایں ہمہ ایک شخص علی الاعلان کہہ رہا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھ سے بولا اور اُس نے مجھے کہا انہ اوی القریۃ۔ لو لا الاکرام لھلک المقام آپ لوگوں کے پاس کس قدر سامان ہیں؟ آپ کے گھروں میں کرم کش دوائیں چھڑکی جاتیں اور طاعون کے ساتھ جنگ کرنے کے
١٩
لئے بڑی ہتھیار بندی کی جاتی ہے اور آپ ہزاروں ہزار تنخواہیں گورنمنٹ سے یا گورنمنٹ کی قوم سے پاتے ہیں احسان کا معاوضہ دینے اور مذہب عیسوی کی صداقت ظاہر کرنے کا امتحان اور میدان تو اب پیش آیا ہے۔ یہ موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیجئے۔ اگر آپ نے بالمقابل کچھ شائع نہ کیا تو یسوع مسیح کی موت پر دوہری مہر لگ جائے گی اور ایک جہان پر روشن ہو جائے گا کہ نصرانیت مردہ مذہب ہے اور حضرت عیسیٰ عاجز انسان اور خدا کا عاجز بندہ تھا جو اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح فوت ہو گیا۔‘‘
عبدالکریم از قادیان۔ ١٠؍اپریل ١٩٠٢ء
ناظرین! آپ غور کریں کہ مرزا صاحب اور مرزا صاحب کے امام نے کس زور کی تحدّی کی ہے اور کس قدر اپنے دماغ اور قلم کا زور اِس پر خرچ کیا ہے آخر کار اس تحدّی اور دعویٰ کے بعد کیا ہوا یہ کہ قادیان میں ایسا طاعون آیا کہ الامان والحفیظ۔ اس کا ثبوت ہم اور جگہ سے کیوں دیں خود مرزا صاحب کی تحریریں موجود ہیں۔ مرزا صاحب اپنی آخری تصنیف میں لکھتے ہیں:
’’پھر طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص٨٤۔ خزائن ج٢٢ ص٨٧)
ان دونوں کلاموں سے نتیجہ کیا نکلا؟ ہم سے کوئی پوچھے تو ہم یہ کہیں گے کہ:
بزندان لعنت گرفتار کرد
ناظرین! یہ نمونہ ہے قادیانی مشن کی پیشگوئیوں اور غیب دانیوں کا۔ ورنہ ان کے علاوہ اور بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو سراسر غلط ثابت ہوئیں۔ مفصل کے لئے میرا رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ ملاحظہ فرماویں۔
اس کے بعد کچھ ضروری نہ تھا کہ قادیانی مشن کے متعلق ہم مزید تحقیق کرتے۔ لیکن حکیم نورالدین صاحب خلیفہ قادیان نے اپنے رسالہ ’’صحیفہ آصفیہ‘‘ میں جن واقعات کا ادھورا بلکہ غلط ذکر کیا ہے۔ اُن کی قدرے تفصیل کی جاتی ہے۔
......☆......
٢٠
باب دوم
حکیم نور الدین نے اپنے رسالہ ”صحیفہ آصفیہ“ میں دو طرح سے مرزا قادیانی کی نبوت کا ثبوت دیا ہے۔
- (١) ایک تو واقعات حوادث بتلا کر لکھا ہے:
”ایک طرف تو یہ امر محقق ہے کہ دنیا کی اخلاقی حالت بہت گر چکی ہے اور اصلاح کی محتاج ہے اور دوسری طرف کُل اہلِ دنیا یک زبان ہو کر بول اُٹھی ہے کہ یہ حادثات مختلفہ معمولی اور اتفاقیہ مصائب نہیں ۔ بلکہ یہ تو منتقم حقیقی کا غضب اور واحد القہار کا عذاب ہے۔ جو اہلِ دنیا کی سزا کے لئے نازل ہوا ہے۔ لہٰذا اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا تعالیٰ نے اپنی لا تبدیل سنت کے مطابق کوئی پاک نفس انسان ہم میں مبعوث کیا جو دنیا پر عذاب نازل ہونے سے پہلے دنیا کے لئے نذیر ہو کر آیا۔ اس کے جواب میں مَیں عرض کروں گا کہ ہاں خدا تعالیٰ نے اپنی قدیم سنت کے مطابق اس زمانے کو خوابِ غفلت سے جگانے اور غافلوں کو اُن کی ہلاکت سے پہلے آئندہ عذاب سے ڈرانے کے لئے ایک مقدس انسان ہم میں پیدا کیا جس نے سب سے پہلے اپنی قوم کو اور پھر کُل دنیا کو پیش از وقت آئندہ عذاب سے اطلاع دے کر اُن میں روح اور راستی پیدا کرنی چاہی۔ لیکن اُس کے ساتھ اہلِ ملک نے وہی سلوک کیا جو دیگر مرسلین کے ساتھ اپنی اپنی قوم کے اکثر افراد نے کیا۔ یا حسرۃ علی العباد ما یأتیہم من رسول الا کانوا بہ یستہزؤن۔“
(صحیفہ آصفیہ ص ٧)
اس کا جواب تو اتنا ہی کافی ہے جو قرآن مجید میں خداوند عالم نے خود دیا ہے۔ غور سے سنئے!
” وما ارسلناک الا کافۃ للناس “ ”اے نبی ! ہم (خدا) نے تجھ کو سب لوگوں کے لئے بھیجا ہے“
٢١
پس سنت اللہ کے مطابق نبوت اور ہدایت محمدیہ سب کے لئے کافی ہے۔ جدید نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرنا نص قرآنی کے مخالف ہے جو یہ ہے:
ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين.
(حضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم الانبیاء اور خاتم المرسلین ہیں۔)
پس ایسی نص قرآنی اور فرمان رحمانی کے ہوتے ہوئے کس مسلمان کی جرأت ہے کہ نبوت یا رسالت کا مدعی ہو یا کسی مدعی سے ایسا دعویٰ سن سکے۔
اسی آیت قرآنی کی بنا پر علماء اسلام کا بالاجماع عقیدہ ہے کہ بعد آنحضرت ﷺ کے نبوت کا دعویٰ کرنے والا کافر ہے علماء کے اس اجماع پر جناب مرزا قادیانی کے بھی دستخط ثبت ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
”ماکان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين الا تعلم ان الرب الرحيم المتفضل سمى نبينا ﷺ خاتم الانبياء بغير استثناء وفسّره نبينا في قوله لا نبي بعدى ببيان واضح للطالبين. ولو جوّزنا ظهور نبي بعد نبينا ﷺ لجوّزنا انفتاح باب وحى النبوة بعد تغليقها وهذا خلف كما لا يخفى على المسلمين وكيف يجىء نبى بعد رسولنا ﷺ وقد انقطع الوحى بعد وفاته وختم الله به النبيين.“
(حمامة البشرىٰ ص ٢٠۔ خزائن ج ٧ ص ٢٠٠)
”حضرت محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کا نام بغیر کسی استثناء کے خاتم الانبیاء رکھا ہے جس کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے کی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ اگر ہم کسی نبی کا بعد آنحضرت ﷺ کے آنا جائز قرار دیں تو وحی نبوت کا دروازہ باوجود بند ہونے کے ہم نے کھولنے کی اجازت دی۔ یہ امر خلاف اسلام ہے جیسا کہ مسلمانوں پر مخفی نہیں کس طرح کوئی نبی بعد ہمارے نبی کے آسکتا ہے حالانکہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد وحی نبوت بند ہوچکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ساتھ نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔“
اسی کتاب کے ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
” وما كان لى ان ادعى النبوة واخرج من الاسلام والحق بقوم كافرين.“
(حمامة البشرىٰ ص ٧٩۔ خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
٢٢
”یعنی یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے نکل جاؤں اور کافروں میں جاملوں۔“
باوجود نصوصِ قرآنیہ اور تصریحاتِ مرزائیہ کے حکیم صاحب کا مرزا صاحب کی نسبت نبوت کا ادّعا کرنا گویا آپ کو اور جناب مرزا صاحب کو خود ہی کافر بنانا ہے چنانچہ آپ لکھتے ہیں:
”حضور والا نے قرآن کریم میں ملاحظہ فرمایا ہو گا کہ علم غیب کے راز کسی نجوم یا جفر کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ بلکہ وہ اُنہیں پر ظاہر ہوتے ہیں جو خدا کے برگزیدہ مرسل ہوتے ہیں اور نہ کوئی زید وبکر اُس طاقت اور تحدّی کے ساتھ بغیر خدا کے بتلائے بول سکتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں فرماتا ہے:
ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء۔ (آل عمران: ع١٨) عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضیٰ من رسول۔ (جن:ع٢)
ترجمہ: اللہ کسی کو غیبی امور سے اطلاع نہیں دیا کرتا۔ مگر مجتبیٰ رسولوں میں سے جسے چاہے اُسے بتلا دیتا ہے۔ وہی عالم الغیب ہے اور رسولوں میں سے صرف اُنہیں کو غیب سے اطلاع دیتا ہے جو اُسے پسند ہوں۔ یعنی بجز خدا کے علم دیئے کوئی غیب کی بات نہیں بتلا سکتا اور خدا کسی خاص اپنے رسول کو ہی علم دیتا ہے۔“
(صحیفہ آصفیہ۔ ص ١٩، ٢٠)
اِس عبارت میں حکیم صاحب نے صاف طور پر مرزا صاحب کی نسبت ادعاء نبوت کا اظہار کیا ہے جو مرزا صاحب کی اپنی سابقہ تحریرات کے بموجب چاہِ ضلالت اور وادئ کفران میں گرنا ہے۔ لہٰذا اِس کا جواب بس یہی ہے:
جہالت ہے جہالت ہے جہالت
اِسی ضمن میں حکیم صاحب نے مرزا صاحب کی طرف سے کئی ایک پیشگوئیاں قبل از وقوع بھی بیان کی ہیں لہٰذا اِس بحث سے ہاتھ اُٹھا کر اُن پیشگوئیوں کی تحقیق کرتے ہیں۔
پیشگوئی اول ...... متعلقہ پنڈت لیکھرام
اِس پیشگوئی کو بڑے فخر سے حکیم صاحب نے لکھا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ صحیح واقعات کو غلط سے خلط ملط کر دیا ہے۔ جناب مرزا صاحب ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ:
”ہم اپنی اجتہادی باتوں کو خطا سے معصوم نہیں سمجھتے۔ ہمیں ملزم کرنے کے لئے ہمارا کوئی الہام پیش کرنا چاہئے۔“
(تریاق القلوب ص ١٤۔ خزائن ج ١٥ ص ١٥٤، ١٥٥)
٢٣
پس اس اصول عامہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو مرزا صاحب کی پیشگوئی متعلقہ پنڈت مذکور غلط اور بالکل غلط ثابت ہوئی۔
اصل اشتہار اس پیشگوئی کا وہی ہے جو حکیم صاحب نے بھی ”صحیفہ آصفیہ“ کے صفحہ ١٦ و ١٧ پر نقل کیا ہے مگر افسوس ہے کہ فرط محبت میں بحکم حبّک الشی یعمی ویصم حکیم صاحب نے اُس کو بغور نہیں دیکھا۔ ہم اُس کے بعض ضروری فقرات یہاں درج کرتے ہیں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص (پنڈت لیکھرام) پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہو جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں اور نہ اُس کی رُوح سے میرا نطق ہے۔“
(صحیفہ آصفیہ ص١٧۔حاشیہ)
یہ الفاظ اپنا مدّعا بتلانے میں صاف ہیں کہ چھ برس کے عرصے میں پنڈت لیکھرام پر خرقِ عادت یعنی خلافِ عادت کوئی عذاب نازل ہوگا۔ ایسا نہ ہو تو مرزا صاحب کا دعویٰ غلط۔ پس امرِ تنقیح طلب یہ ہے کہ کیا ایسا ہوا؟ صحیح جواب جو واقعات پر مبنی ہے یہ ہے کہ ”نہیں“۔ اس لئے کہ پنڈت لیکھرام گو چھ سال کے عرصے میں چھری سے مارا گیا لیکن اس کا مارا جانا کوئی خرقِ عادت عذاب نہیں بلکہ اس قسم کے قتل و خون آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ یہ قتل تو بڑی سازش سے ہوا ہو گا۔ اسی شہر لاہور میں دن دہاڑے کئی ایک دفعہ انگریزوں کو قتل کیا گیا۔ غرض اس قسم کے واقعات بلادِ پنجاب میں عموماً پیش آتے رہتے ہیں جن کو کوئی فردِ بشر بھی خرقِ عادت نہیں کہتا نہ جانتا ہے۔
حکیم صاحب نے اپنی بات بنانے کو مرزا صاحب کا ایک عربی شعر نقل کیا ہے جس سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس شعر میں لیکھرام کے قتل کا دن بھی بتلایا گیا ہے۔ چنانچہ حکیم صاحب کے الفاظ یہ ہیں کہ:
”پھر آپ نے اپنی عربی تصنیف موسومہ بہ کرامات الصادقین میں دُعا متعلق لیکھرام کا ذکر کرتے ہوئے ذیل کا شعر لکھا ہے کہ لیکھرام کی موت عید کے دن کے قریب ہوگی۔
ستعرف یوم العید والعید اقرب
(صحیفہ ص١٨)
٢٤
اس کے جواب میں ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ مرزا صاحب کے اصل قصیدے سے اس شعر کا سیاق و سباق بتلانے کو ادھر اُدھر کے چند شعر نقل کریں۔ ناظرین بغور سنیں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں:
والیت انی مسلم ثم تکفرُ فاین الحیا انت امر او عقربُ
الا اننی تبر وانت مذهبُ الا اننی اسد وانک ثعلبُ
الا اننی فی کل حرب غالب فکدنی بما ذوّرت فالحق یغلبُ
وبشرنی ربی وقال مبشرا ستعرف یوم العید والعید اقربُ
ونعمنی ربّی فکیف اردّهُ وهذا عطاء الله والخلق یعجبُ
وسوف تری انی صدوق مویّد ولست بفضل الله ما انت تحسبُ
(کرامات الصادقین ص ٥٤۔ خزائن ج ٧ ص ٩٦)
اشعار مذکورہ صاف بتلا رہے ہیں کہ یہ کلام کسی ایسے شخص کے جواب یا خطاب میں ہے جو مرزا جی کا مکفّر ہے یعنی خود مسلمان ہے اور مرزا صاحب کو کافر کہتا ہے اُس کو مرزا جی ڈانٹ پلاتے ہیں کہ ”تو بے حیا ہے بچھو ہے میں نیک ہوں ۔ تو طمع ساز ہے میں شیر ہوں تو لومڑ ہے میں ہر ایک لڑائی میں غالب ہوں ۔ مجھے خدا نے بشارت دی اور کہا ہے کہ تو عید کو پہچانے گا اور عید قریب ہے۔ میرے خدا نے مجھے نعمتیں دی ہیں ۔ لوگ تعجب کرتے ہیں۔ تو دیکھ لے گا کہ میں سچا ہوں اور جیسا تیرا گمان ہے ویسا نہیں ہوں ۔“
اس سے آگے قریب کر کے صاف اور صریح لکھتے ہیں:
وهل لک من علم ونص محکم علی کفرنا او تخرصا وتتعبُ
(کرامات الصادقین ص ٥٤۔ خزائن ج ٧ ص ٩٦)
(تو نے اُن لوگوں سے قسم کھا کر بتلایا کہ یہ فتوے (جو مرزا جی پر لگائے گئے ہیں) صحیح ہیں ۔ اگر تو جھوٹا ہے تو جھوٹ کا وبال تجھ پر ہے۔ کیا تیرے پاس قطعی علم یا مضبوط نص ہمارے کفر پر ہے یا تو محض اٹکل اور تکلف کرتا ہے۔)
صاف بات ہے کہ اس قصیدے میں نہ لیکھرام کا ذکر ہے نہ آتھم کا بلکہ صریح خطاب علماء مکفرین سے ہے نہ کسی اور سے، نہیں معلوم ایسے صحیح واقعات کو غلط اور مصنوعی واقعات سے
٢٥
مکر کرنا اگر لبس حق نہیں تو کیا ہے؟
حکیم صاحب! بہت سے امور اور مسائل میں اختلاف ہوتا ہے۔ مگر دیانت اور راستبازی میں کسی کا اختلاف نہیں پھر آپ کو بھی اس میں خلاف نہیں ہونا چاہئے ۔
وصف اتنے ہیں جہاں ایک وفا اور سہی
اگر ہم حسب قول حکیم صاحب اس شعر کو پنڈت لیکھرام کی تاریخ قتل سے متعلق مان لیں تو بھی مرزا صاحب کی تکذیب لازم آتی ہے پہلے شعر مذکور کو سنئے:
ستعرف يوم العيد والعيد اقرب
غور طلب بات یہ ہے کہ ”اقرب“ صیغہ تفضیل کا ہے جس کے لئے ایک تو مفضل علیہ کی ضرورت ہے۔ دوئم مقرب الیہ کی یعنی کس سے زیادہ قریب اور کس کے قریب۔ اوّل یعنی مفضل علیہ تو زمان بعد از عید ہے اور مقرب الیہ مخاطب خاص یا عام ہیں پس معنی یہ ہیں کہ:
مجھے پروردگار نے خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ تو عید کے دن کو پہچانے گا اور عید بہت قریب ہے۔ یہاں عید ہی کو تعرف کا مفعول بہ بنایا اور عید ہی کو اقرب کا محکوم علیہ۔ اس سے اگر کوئی بات ثابت ہوئی تو یہ کہ کوئی واقعہ عید کے دن ہوگا جس کا متکلم کو انتظار ہے اور مخاطب کا انتظار رفع کرنے کو متکلم کہتا ہے ”والعید اقرب“ ”عید بہت قریب ہے“ اس کی نظیر خود قرآن مجید میں بھی ملتی ہے۔ غور سے سنئے!
ان موعدهم الصبح اليس الصبح بقريب .
(پ١٢۔ ع٧)
حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر ہے کہ فرشتوں نے ان کو قوم کی تباہی کے لئے صبح کا وقت بتلا کر رفع انتظار کے لئے کہا۔ کیا صبح قریب نہیں یعنی ”الصبح قریب“ اس کے نظائر اور بھی بہت ہیں۔
پس مطلب صاف ہے کہ جو کچھ ہونا ہے وہ عید کے روز ہونا ہے نہ اس سے آگے نہ پیچھے ۔ لیکن لیکھرام کا واقعہ عید کے روز نہیں ہوا بلکہ دوسرے روز ہوا ہے۔ پھر پیشگوئی کے کذب میں کیا شک ہے؟ ہاں جو شخص پندرہ دن کی میعاد لگا کر پندرہ ماہ میں واقع نہ ہونے سے بھی سچا ہی بنتا ہو اُس کا تو کوئی جواب ہی نہیں ہو سکتا۔
...... ٭ ......
٢٦
دوسری پیشگوئی ...... متعلقہ طاعون پنجاب
اس پیشگوئی میں تو حکیم صاحب نے وہی برتاؤ کیا جو استاد نیاز نے کہا ہے:
کہ کتاب عقل کی طاق پر جہاں دھری تھی واں ہی دھری رہی
حکیم صاحب ! آپ نے غور نہیں فرمایا کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں آپ کے خلاف ہے۔ آپ نے مرزا صاحب کا اشتہار متعلقہ طاعون پنجاب نقل کیا ہے جس کے ضروری فقرے یہ ہیں:
’’میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ’’یہ طاعون کے درخت ہیں جو ملک میں عنقریب پھیلنے والی ہے‘‘ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا کہا کہ اُس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا۔‘‘
(صحیفہ آصفیہ ص ٢٢)
اس خواب کو ہم صحیح بھی مان لیں اور اس کی آخری مدّت بھی قرار دیں تو بھی پنجاب میں طاعون کا غلبہ ١٩٠٠ء میں کمال تک ہو جانا چاہئے تھا حالانکہ خدائے ذوالجلال کی غیرت نے یہ کرشمہ کر دکھایا کہ آپ خود بھی مانتے ہیں کہ:
’’١٩٠١ء میں کشف مذکورہ بالا کے طاعونی درخت پنجاب میں کسی قدر بارور ہونے لگے۔‘‘
(صحیفہ آصفیہ ص ٢٣)
اس ’’کسی قدر‘‘ کے لفظ کو دیکھئے اور مرزاجی کی عبارت منقولہ بالا میں ’’بہت پھیلے گا‘‘ کے لفظ کو ملاحظہ کر کے بتلائیے کہ ان دونوں لفظوں میں وہی نسبت ہے یا نہیں؟ جو ’’شیر قالین‘‘ اور ’’شیر نیستان‘‘ میں ہے۔
مرزائی خواب میں صاف تصریح ہے کہ غایت سے غایت ١٩٠٠ء میں طاعون کی خوفناک اشاعت پنجاب میں ہو جائے گی حالانکہ بقول آپ کے ١٩٠١ء میں بھی کسی قدر (دبی زبان سے ) ہوا جو قریب قریب عدم کے تھا۔
چونکہ واقع بھی یہی ہے کہ پنجاب میں ١٩٠٢ء سے طاعون کا شیوع ہوا اِسی لئے پنجاب
٢٧
یونیورسٹی نے ١٩٠٢ء ہی میں طلباء کو سرکلر دیا تھا کہ داخلہ امتحان سے پہلے ٹیکہ طاعون کرا کر آنا ہوگا اور آپ کو بھی اس کا اعتراف ہے چنانچہ آپ خود لکھتے ہیں کہ:
”وہ سیاہ درخت جو سر زمین پنجاب میں ١٨٩٨ء کے شروع میں لگائے گئے تھے ١٩٠٢ء کی بہار میں آ کر ثمر دار ہو گئے۔“
(صحیفہ آصفیہ ص ٢٥)
١٩٠٢ء کا واقع ١٨٩٨ء میں دیکھنا ابن صیاد کے ”دُخ“ سے کم نہیں۔
(آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جس کا نام ابن صیاد تھا اُس کی غیب دانی کا چرچہ ہوا تو حضور پیغمبر خدا ﷺ نے اُس سے پوچھا کہ بتلا میرے دل میں کیا ہے؟ آپ نے اپنے خیال میں ”حم دُخان“ رکھا تھا۔ اُس نے جواب میں کہا کہ آپ کے دل میں دُخ ہے۔ آپ نے فرمایا اخلط علیک الامر (واقعات تجھ پر مکدر رہیں) اسی حدیث کی طرف اشارہ ہے۔)
حکیم صاحب! آئیے! ہم آپ کی خاطر اس جواب کو صحیح مان لیں اور اُنہی معنی میں لیں جو مرزا صاحب اور آپ کے حسب منشاء ہے لیکن اس کا کیا علاج ہو کہ جناب مرزا صاحب خود ہی لکھتے ہیں کہ:
”اور یہ عجیب جرأت نما امر ہے کہ بعض طوائف یعنی کنجریاں بھی جو سخت ناپاک فرقہ دنیا میں ہیں سچی خوابیں دیکھا کرتی ہیں اور بعض پلید اور فاسق اور حرام خور اور کنجروں سے بدتر اور بد دین اور ملحد جو اباحتیوں کے رنگ میں زندگی بسر کرتے ہیں اپنی خوابیں بیان کیا کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو کہا کرتے ہیں کہ بھائی میری طبیعت تو کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میری خواب کبھی خطا ہی نہیں جاتی۔ اور اس راقم کو اس بات کا تجربہ ہے کہ اکثر پلید طبع اور سخت گندے اور ناپاک اور بے شرم اور خدا سے نہ ڈرنے والے اور حرام کھانے والے فاسق بھی سچی خوابیں دیکھ لیتے ہیں۔“
(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ٤٨۔ خزائن ج ٧ ص ١٦٨)
پس ایک آدھ خواب کی سچائی سے ہم کیونکر تسلیم کرلیں جب تک تمام واقعات کی تصحیح نہ ہو لے کیونکہ ”موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ“ ہوتا ہے۔ جس کا مطلب (بقول مرزا صاحب) دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ کنجروں اور بھڑووں کے بھی بعض خواب سچے ہو جاتے ہیں۔
٢٨
تیسری پیشگوئی...... زلزلہ کے متعلق
ہمارا تو دعویٰ ہے کہ جب سے آتھم کا واقعہ مرزا صاحب کے خلاف منشاء ہوا۔ مرزا جی نے کبھی کوئی پیشگوئی تعیین سے نہیں کی۔ چنانچہ زلزلہ کے متعلق جو آج حکیم صاحب اور حکیم صاحب سے قبل خود جناب مرزا صاحب بھی زور دیتے رہے یہ سب نکتہ بعدالوقوع ہے۔ حکیم صاحب نے زلزلہ کے متعلق مرزا صاحب کے اشتہار سے اقتباس کیا ہے۔ جو درج ذیل ہے:
”میں نے اس وقت جو آدھی رات کے بعد چار بج چکے ہیں بطور کشف دیکھا ہے کہ دردناک موتوں سے عجیب طرح پر شور قیامت برپا ہے۔ پھر میرے منہ پر یہ الہام الٰہی تھا کہ موتا موتی لگ رہی ہے۔ کہ میں بیدار ہو گیا اور اسی وقت جو کچھ حصہ رات کا باقی ہے۔ میں نے یہ اشتہار لکھنا شروع کر دیا ہے۔ دوستو! اُٹھو! ہوشیار ہو جاؤ کہ اس زمانہ کی نسل کے لئے نہایت مصیبت کا وقت آ گیا ہے۔ اب اس دریا سے پار ہونے کے لئے بجز تقویٰ کے اور کوئی کشتی نہیں۔“
(صحیفہ آصفیہ طبع اول ص ٢٩)
ناظرین! اس اقتباس کو ذہن نشین رکھیں اور اصل اشتہار مرزا صاحب کا بھی ملاحظہ فرماویں جس سے یہ اقتباس کیا گیا ہے۔
ہم اگر قادیانی مشن اور اُن کے خلیفہ صاحب کی نسبت کچھ کہتے تو مخالفانہ رائے تصور ہوتی لیکن الحمدللہ کہ قادیانی خلیفہ اور اُن کے مریدوں نے ہمیں موقع دیا کہ ہم یہ کہیں کہ ؎
جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے تو وہ لہو کیا ہے؟
پس آپ لوگ ٢٧؍فروری ١٩٠٥ء کا اشتہار سنئے! مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:
”دوستو! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے حال پر رحم کرے آپ صاحبوں کو معلوم ہوگا کہ میں نے آج سے قریباً نو ماہ پہلے الحکم اور البدر میں جو قادیان سے اخباریں نکلتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پا کر یہ وحی الٰہی شائع کرائی تھی کہ عفت الدیار محلها ومقامها یعنی یہ ملک عذاب الٰہی سے مٹ جائے گا یہ نہ مستقل سکونت امن کی جگہ رہے گی اور نہ عارضی سکونت امن کی جگہ یعنی طاعون کی وبا ہر جگہ عام طور پر پڑے گی اور سخت پڑے گی۔ دیکھو اخبار الحکم پرچہ مورخہ ٣١؍مئی ١٩٠٤ء نمبر ١٨ جلد ٨ کالم ٣۔ اور اخبار البدر نمبر ٢٠، ٢١۔ مورخہ ٢٤؍مئی و یکم جون ١٩٠٤ء ص ١٥ کالم ٢۔
٢٩
اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ وقت قریب آ گیا ہے۔ میں نے اس وقت جو آدھی رات کے بعد چار بج چکے ہیں بطور کشف دیکھا ہے کہ دردناک موتوں سے عجیب طرح پر شور قیامت برپا ہے۔ میرے منہ پر یہ الہام الٰہی تھا کہ موتا موتی لگ رہی ہے کہ میں بیدار ہو گیا اور اسی وقت جو ابھی کچھ حصہ رات کا باقی ہے میں نے یہ اشتہار لکھنا شروع کیا۔ دوستو! اُٹھو اور ہوشیار ہو جاؤ کہ اس زمانہ کی نسل کے لئے نہایت مصیبت کا وقت آ گیا ہے اب اس دریا سے پار ہونے کے لئے بجز تقویٰ کے اور کوئی کشتی نہیں۔ مومن خوف کے وقت خدا کی طرف جھکتا ہے کہ بغیر اس کے کوئی امن نہیں۔‘‘
(اشتہار الوصیت ٢٧؍فروری ١٩٠٥ء۔ مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥١٥)
حضرات! آپ لوگ غور سے اس اشتہار کو پڑھیں مکرر بلکہ سہ کرر پڑھیں۔ آپ کو بغیر اس کے کوئی مطلب معلوم نہ ہوگا کہ یہ اشتہار اور اس میں جتنی پیشگوئیاں ہیں طاعون کی تباہی کے متعلق ہیں۔ اخبار الحکم ٣١؍مئی ١٩٠٤ء کا حوالہ موجود ہے اُس میں بھی الہام عفت الدیار محلّھا ومقامھا لکھ کر ساتھ ہی لکھا ہے ”طاعون کے متعلق ہے“ باوجود اس تشریح اور تصریح کے پھر اسی الہام کو زلزلہ سے متعلق کرنا کون کہہ سکتا ہے کہ دیانت یا شرافت ہے؟ اور پاس سخن کا مقتضیٰ نہیں۔ کیا سچ ہے:
کیا وعدہ اُنہیں کر کے مُکرنا نہیں آتا؟
حکیم صاحب! آئیے میں آپ کو ایک خوشخبری سناؤں۔ جناب مرزا صاحب فرماتے ہیں: ’’ملہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے کہ اُس کے مخالف کہے۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص٧۔ خزائن ج٢٢ ص٤٣٨)
اصل یہ ہے کہ مرزا صاحب واقعات عامہ کے لحاظ سے یا ذُو ۔ رُخ کے طریق سے ایسے کچھ کلمات کے الہامات سنا دیا کرتے تھے جن کو موم کی گولی کی طرح سب طرف لگا سکیں۔ چنانچہ فروری ١٩٠٥ء تک یہی الہام عفت الدیار محلّھا ومقامھا طاعون پر چسپاں ہوتا رہا لیکن جونہی ایک مہینے بعد ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کو پنجاب میں زلزلہ عظیمہ آیا تو قادیانی پارٹی نے اس سے فائدہ حاصل کرنے کو فوراً سے پہلے جھٹ زلزلہ عظیمہ پر اس کو چسپاں کر دیا۔ جو کچھ تعجب انگیز امر نہیں بلکہ ان لوگوں کی روز مرہ کی عادت ہو کر بائیں ہاتھ کا کھیل ہو رہا ہے۔
لیکن ہم تو مرزا صاحب کے اصول عامہ کو نہیں چھوڑ سکتے کہ الہام کی تشریح ملہم جو کر
٣٠
دے وہ مقدم ہے۔ .......☆.......
چوتھی پیشگوئی ...... زلزلہ ثانیہ کے متعلق
زلزلہ عظیمہ واقعہ ٤؍ اپریل ١٩٠٥ء کی بابت تو ہم بتلا آئے ہیں کہ کوئی الہام مرزا صاحب کا نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ یاروں کی خوش اعتقادی ہے اور بس۔ اس زلزلہ کے علاوہ بھی کوشش کی جاتی ہے کہ مرزا صاحب کے الہام سے اور زلزلوں کا وجود ثابت کیا جائے چنانچہ حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ:
”ایک طرف جاپانی ماہر طبقات الارض نے اپنے علم و تجربہ کی بنا پر بعد از تحقیق دقیق اہل ہند کو یقین دلایا کہ آج سے دو صد برس تک ہند میں ہیچ قسم زلزلے کی کوئی امید نہیں۔ دوسری طرف پھر الہام الٰہی نے یکم فروری ١٩٠٦ء کو اطلاع دی کہ صدیاں تو درکنار دنوں میں اسی موسم بہار کے شروع پر ایک اور زلزلہ آنے والا ہے جو پہلے زلزلہ کے ہمرنگ ہوگا۔ ملک کو ان دو پیشگوئی کرنے والوں کے مقابلہ حیثیت پر ابھی غور کرنے کا موقع نہ ملا ہو گا۔ کہ خدا نے اپنے الفاظ ٢٩؍ فروری ١٩٠٦ء کو پورے کر دکھائے جبکہ رات کے دو بجے ٤؍ اپریل کا سا زلزلہ وادیٔ ہمالہ میں نمودار ہوا۔ اور اس طرح اس زلزلہ نے ذیل کے ان الفاظ کو سچ کر دکھایا جو مسیح الموعود نے اپنے تیسرے اشتہار موسومہ بہ البلاغ مجریہ ٢٩؍ اپریل ١٩٠٥ء میں ان سائنٹیفک مکذبین الہام الٰہی کی تردید میں درج فرمائے تھے۔ وہو ہذا۔
”یہ خدا تعالیٰ کی خبر اور اس کی خاص وحی ہے جو عالم الاسرار ہے اس کے مقابل پر جو لوگ یہ شایع کر رہے ہیں کہ کوئی سخت زلزلہ آنے والا نہیں ہے۔ وہ اگر منجم ہیں یا کسی اور علمی طریق سے اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک پر آنے والا ہے۔“
(صحیفہ آصفیہ ص ٣١۔ طبع اول)
حضرات! اشتہار ٢٩؍ اپریل کے ساتھ بھی حکیم صاحب نے وہی برتاؤ کیا جو ٢٧؍ فروری ١٩٠٥ء والے اشتہار سے کیا ہے۔ جس کا ذکر پہلے کتاب ہٰذا پر ملاحظہ ناظرین سے گزر چکا ہے۔ ہم اس اشتہار کی تمام عبارت نقل کرتے ہیں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”آج ٢٩؍ اپریل ١٩٠٥ء کو پھر خدا تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ کے زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی ہے سو میں محض ہمدردیٔ مخلوق کے لئے عام طور پر تمام دنیا کو اطلاع دیتا ہوں کہ
٣١
یہ بات آسمان پر قرار پا چکی ہے کہ ایک شدید آفت سخت تباہی ڈالنے والی دنیا پر آوے گی جس کا نام خدا تعالیٰ نے بار بار زلزلہ رکھا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ قریب ہے یا کچھ دنوں کے بعد خدائے تعالیٰ اُس کو ظاہر فرمادے گا مگر بار بار خبر دینے سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ بہت دور نہیں ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی خبر اور اس کی خاص وحی ہے جو عالم الاسرار ہے اس کے مقابل پر جو لوگ یہ شائع کر رہے ہیں کہ کوئی سخت زلزلہ آنے والا نہیں ہے۔ وہ اگر منجم ہیں یا کسی اور علمی طریق سے اٹکلیں دوڑاتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک پر آنے والا ہے جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا اور نہ کسی دل میں گزرا۔ بجز توبہ اور دل کے پاک کرنے کے کوئی اس کا علاج نہیں۔‘‘
(اشتہار ٢٩؍اپریل ١٩٠٥ء۔ مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٣٥)
ناظرین! خدارا ذرہ وہ دو آخری فقروں کو ملاحظہ فرمائیے! اور بتلائیے کہ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کے زلزلہ عظیمہ کے بعد ایسا زلزلہ کوئی آیا ہے؟ ٢٩؍فروری ١٩٠٦ء کوئی دور نہیں کوئی صاحب بتلاویں کہ اس زلزلہ کی یاد کسی کے ذہن میں ہے؟
اے آسمان کے رہنے والو! اے زمین کے باشندو! اے پنجاب کی سرزمین پر بسر کرنے والو! اے پورب پچھم دکن اُتر میں رہنے والو! خدارا بتلاؤ! کہ ٢٩؍فروری ١٩٠٦ء کو تم لوگوں نے ایسا کوئی زلزلہ دیکھا یا سُنا؟ جس کی بابت مرزا جی فرماتے ہیں کہ:
’’پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ کسی کان نے سُنا نہ کسی کے دل پر گزرا‘‘
گویا ٤؍اپریل کے زلزلہ عظیمہ سے بہت بڑا۔
حکیم صاحب! بخدا میں سچ کہتا ہوں آپ کے اس دعویٰ کی تصدیق نہ ہو سکے گی گو مرزا قادیانی بھی مرقد سے تشریف لے آویں۔
ہاں ہم مانتے ہیں کہ زلزلہ عظیمہ کے بعد مرزا صاحب ایسے کچھ خوف زدہ ہوئے تھے کہ آپ کو ہر وقت زلزلوں ہی کے خواب آتے تھے چنانچہ آپ ہی کے خوابوں اور ایسے الہاموں کی وجہ سے آپ کے معتقدین نے (جن میں راقم رسالہ صحیفہ آصفیہ بھی تھا) بہت دنوں تک خیموں میں بسیرا کیا اور چھتوں کے نیچے نہ سوئے نہ گئے کیونکہ خود بدولت بھی قادیان شریف میں ایسے ہی پڑے تھے۔ آخر کیا ہوا؟
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
٣٢
پانچویں پیشگوئی ...... متعلقہ طوفان حیدر آباد
اس طوفان کے متعلق بھی مرزا صاحب نے کوئی پیشگوئی نہیں کی تھی آج جو کچھ بتایا جاتا ہے محض حکیم صاحب اور اُن کے اتباع کے دماغ کا نتیجہ ہے۔ اسی لئے تو حکیم صاحب نے بھی اس واقع کے متعلق کوئی خاص پیشگوئی نہیں لکھی بلکہ ایک اٹکل پچو بات سے کام لیا ہے چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں۔ حکیم صاحب کہتے ہیں:
”اُس (خدا) نے اپنے بھیجے ہوئے نذیر کی خاطر جس کی آواز حیدر آباد میں پہنچ کر وہاں کی ہنسی ٹھٹھہ کا باعث ہو چکی تھی۔ حیدر آباد میں وہی کیا جو اُس نے اس طوفانی واقعہ سے دو سال پہلے کہا تھا ’دیکھ میں آسمان سے تیرے لئے برساؤں گا پر وہ جو تیری مخالفت کرتے ہیں پکڑے جاویں گے۔ صحن میں ندیاں چلیں گی۔ سخت زلزلے آئیں گے۔ میں تجھے ایک عجیب طور پر عزت دوں گا اور اس کے ساتھ دنیا پر بڑا رعب ڈالوں گا۔ چنانچہ اُس واحد القہار نے آسمان اور زمین سے پانی نکالا۔ اُس نے گھروں کے صحنوں میں ندیاں چلائیں۔ اُس نے اس آباد معمورہ کو جو صدیوں سے شہر نظام ہو رہا تھا۔ آن کی آن میں گور کر دکھایا اور اس طرح اُس کے وہ الفاظ پورے ہوئے جو اُس نے اس بلدہ کو تباہی کے متعلق کچھ عرصہ پہلے بطور پیشگوئی اپنے ملہم پر القا کئے تھے۔
زلزلہ در گور نظامی فگند
اس نے وہ سیلاب بھیجا جس سے کوئی کوشش کسی کو نہ بچاسکی اور اس طرح وہ کلام پاک لفظاً لفظاً پورا ہوا جو مسیح وقت نے بطور اندازہ اس طوفان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:
زلزلے سے دیکھتا ہوں میں زمیں زیروزبر وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے
ہے سر رہ پر کھڑا نیکوں کے وہ مولا کریم نیک کو کچھ غم نہیں ہے گو بڑا گرداب ہے
کوئی کشتی اب بچا سکتی نہیں اس سیل سے حیلے سب جاتے رہے اک حضرت توّاب ہے
(صحیفہ آصفیہ ص ٤٣‘ ٤٤۔ طبع اول)
اقتباسات مذکورہ بالا میں حکیم صاحب نے تین الہام لکھے ہیں اس لئے ہم ہر ایک کی الگ الگ پڑتال کرتے ہیں۔ پس غور سے سنئے۔
٣٣
- (١) الہام اوّل کہ ”دیکھ میں آسمان سے برساؤں گا“ اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا محض زبانی
بات ہے جس کا اعتبار نہیں ہو سکتا جب تک کہ اصل مقام کا حوالہ نہ ہو۔ بعد صحیح حوالہ کہا جائے گا کہ اس میں کسی خاص مقام کا ذکر نہیں بلکہ یہ وہی موم کی گولی ہے کہ جدھر چاہو پھیر لو۔ اس کی مثال دینے کو آپ ہی کے قادیانی اخبار بدر کی ایک عبارت کا پیش کرنا کافی ہوگا۔ ایڈیٹر بدر نے ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا: ”الہامی پیشگوئی اور اٹکل بازی میں فرق“ اس بیان میں لائق ایڈیٹر نے منجموں پالیٹشنوں اور اٹکل بازوں کی پیشگوئیوں کو الہامی پیشگوئیوں سے مقابلہ کرتے ہوئے اٹکل بازوں کی پیشگوئی کی مثال دی تھی کہ: ”مثلاً فلاں شخص کو کچھ خوشی پیش آئے گی۔ یا کچھ تکلیف پہنچے گی۔ اسی قسم کے اور فقرے ہوتے ہیں جو بالکل گول مول اور ہر ایک پہلو سے مڑے ہوئے ہیں تا کہ پردہ رہ جائے ..... برخلاف اس کے رسولوں کی پیشگوئیاں کثرت سے ایسی ہوتی ہیں جو بالکل صاف اور کھلا کھلا غیب اپنے اندر رکھتی ہیں اور ان میں تحدّی اور شوکت ہوتی ہے۔“
(البدر قادیان ٨؍ اگست ١٩٠٧ء ص ٣ کالم ٣ ج ٦ نمبر ٣٢)
ناظرین ! یہ عبارت کیا معیار بتلاتی ہے؟ یہ کہ الہامی پیشگوئی اپنا مصداق اپنے لفظوں میں بتلایا کرتی ہے جس کی مثال قرآن مجید سے سنو۔ ” غلبت الروم فی ادنی الارض وهم من بعد غلبهم سيغلبون فی بضع سنين “ ”روم کی سلطنت ابھی مغلوب ہوئی ہے اور وہ بہت جلد چند سالوں میں غالب ہوگی“
حکیم صاحب ! آئیے میں آپ کو بتلاؤں کہ در صورت صحیح ہونے کے بھی یہ الہام آپ کے امام کا غلط ہے کیونکہ اس میں مذکور ہے کہ ”جو تیری مخالفت کرتے ہیں پکڑے جائیں گے“۔ بڑے مخالف تو وہ ہیں جن کو مرزا صاحب نے رسالہ ”انجام آتھم“ میں مباہلہ کے لئے نام بنام بلایا اور اُن کو ائمۃ الکفر کہا۔ تو کیا آپ بتلا سکتے ہیں کہ حیدرآباد کے طوفان میں اُن مخالفوں میں سے کون پکڑا گیا۔ پس اگر یہ قاعدہ ”الشیئ اذا ثبت۔ ثبت بلوازمه“ (جب کوئی چیز موجود ہو تو اُس کے لوازم بھی ساتھ ہوتے ہیں (جیسے سورج کے ساتھ روشنی) صحیح ہے جو بالکل صحیح ہے تو آپ کے امام کی یہ پیشگوئی غلط ہے کیونکہ اس میں جو نشان تھا کہ مخالف پکڑے جائیں گے وہ متحقق نہیں۔ دوسرے الہام کا آپ نے ایک شعر نقل کیا ہے جو یہ ہے:
٣٤
زلزلہ در گور نظامی فگند
افسوس ہے اس الہامی شعر کے سمجھنے سے ہم ہی قاصر نہیں بلکہ عرفی اور خاقانی بھی اس کو نہیں سمجھ سکتے۔ لفظی ترجمہ تو یہ ہے:
’’میری حکومت کا دبدبہ جب بلند ہوا تو نظامی کی قبر میں زلزلہ آیا‘‘
چونکہ لفظی ترجمہ بالکل مہمل تھا کہ کہاں دبدبۂ حکومت اور کہاں نظامی (مصنف سکندر نامہ) کی قبر۔ اس لئے حکیم صاحب نے اس کی تشریح میں یوں اشارہ کیا کہ ’’نظامی‘‘ سے مراد ’’حضور نظام‘‘ اور ’’گور‘‘ سے مراد لیا ’’بلدہ حیدر آباد‘‘ پس معنی یہ ہوئے کہ خدا کے حکم سے حیدر آباد میں طوفان آیا۔ کیا کہنے ہیں۔ ماشاء اللہ چشم بد دُور کیا سچ ہے؟
’’کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا ...... بھان متی نے کنبہ جوڑا‘‘
ہم حیران ہیں کہ ان معقول پسندوں کی تردید کن لفظوں میں کریں۔ ایسی بے اصولی قوم جو آسمان بول کر زمین مراد لیں اور زمین بول کر خدا کہہ دیں اُن سے کون پورا ہو سکتا ہے؟
حکیم صاحب ! آپ حلفیہ کہہ سکتے ہیں؟ کہ قبل از طوفان حیدر آباد اس شعر کے معنے مرزا صاحب نے یا آپ نے یہی سمجھے تھے جو آج ظاہر کر رہے ہیں۔ اگر سمجھے تھے تو بتلائے کیونکر ؟ اگر نہیں سمجھے تھے تو کیا یہ شعر کسی جنی زبان میں تھا ؟ مانا کہ الہامی تھا لیکن جنی تو نہ تھا۔ الہام بھی تو آخر فارسی ہی میں تھا جس کے سمجھنے والے آج دنیا میں سینکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں، کروڑوں موجود ہیں۔ پھر کیا کوئی بھی آپ کا شریک حال ہو سکتا ہے کہ ’’نظامی‘‘ سے مراد ’’حضور نظام‘‘ اور ’’گور‘‘ سے مراد حضور کا دارالسلطنت بلدہ حیدر آباد۔
حکیم صاحب ! آئیے میں آپ کو علماء کا ایک متفقہ اور آپ کا مسلمہ اصول آپ ہی کے الفاظ میں سناؤں تا آپ کو ایسی حرکت مذبوحی کرنے سے کچھ تو رکاوٹ ہو۔ غور سے سنئے آپ فرماتے ہیں:
’’ہر جگہ تاویلات و تمثیلات سے، استعارات و کنایات سے اگر کام لیا جائے تو ہر ایک ملحد منافق بدعتی اپنی آراء ناقصہ اور خیالات باطلہ کے موافق الٰہی کلمات طیبات کو لا سکتا ہے۔ اس لئے ظاہر معانی کے علاوہ اور معانی لینے کے واسطے اسباب قویہ اور موجبات حقہ کا ہونا ضرور ہے۔‘‘
(خط ملحقہ بازالہ اوہام ص ٨۔ خزائن ج ٣ ص ٦٣١ )
بتلایئے ! یہاں دونوں لفظوں (نظامی اور گور) کے مجازی معنے لینے کے اسباب قویہ کیا
٣٥
ہیں؟ ہاں یاد آیا کہ پنجابی میں ایک مثل ہے کہ:
’’کنویں میں بیل گرے تو وہاں ہی خصی کر دینا چاہئے‘‘
یہ اُس موقع پر بولتے ہیں جب کوئی کام ایسا پیش آجائے کہ اُس وقت تو سہل ہو سکتا ہو اور دیر کرنے سے مزید تکلیف کا خطرہ ہو۔ سو اس مثال کے مطابق قادیانی مشن نے سمجھا کہ آج کل حیدر آباد کے طوفان کا چرچہ ہے۔ باشندگان دکن عذاب الٰہی سے خوف زدہ ہورہے ہیں۔ بس یہ وقت ہے کہ ایک چٹکلا ان میں چھوڑ دیں شاید کوئی ازلی بدبخت دام میں آجائے۔
حکیم صاحب! آپ کی اس دوراندیشی کی تو ہم بھی داد دیتے ہیں:
کہ روزے ہمائے در افتد بدام
تیسرا الہام بھی بالکل آپ کی کھینچ تان ہے۔ جس اشتہار سے یہ ابیات نقل کئے ہیں اُس کا نام ہے ’’النداء من وحی السماء‘‘ یعنی ایک زلزلہ عظیمہ کی نسبت پیشگوئی وحی الٰہی سے‘‘ اس اشتہار کا تمام مضمون اس امر کی بابت ہے کہ ٤؍ اپریل کے زلزلہ عظیمہ کے بعد ایک اور زلزلہ آئے گا چنانچہ اس اشتہار کا شروع یوں ہے:
’’٩؍ اپریل ١٩٠٥ء کو پھر خدائے تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہوگا۔ چونکہ دومرتبہ مکرر طور پر اس علیم مطلق نے اس آئندہ واقعہ پر مجھے مطلع فرمایا ہے اس لئے میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ عظیم الشان حادثہ جو محشر کے حادثہ کو یاد دلاوے گا دُور نہیں ہے۔ مجھے خدائے عزوجل نے یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ دونوں زلزلے تیری سچائی ظاہر کرنے کے لئے دونشان ہیں انہیں نشانوں کی طرح جو موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے تھے اور اس نشان کی طرح جو نوح نے اپنی قوم کو دکھلایا تھا۔‘‘
(١٨؍ اپریل ١٩٠٥ء ۔ مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٢٦)
تمام اشتہار پڑھا جائے کہیں ایک لفظ بھی ان معنی کا نہیں پاویں گے کہ کوئی طوفان ملک میں خصوصاً حیدرآباد میں آئے گا۔ مرزا صاحب اور اُن کے قائم مقاموں کی عادت ہے کہ نکتہ بعد الوقوع بہت نکالا کرتے ہیں اُسی طرح یہ بھی ایک ہے۔
تمام اشتہار پڑھ جائیے کہیں ایک لفظ بھی ان معنی کا نہیں پاویں گے کہ کوئی طوفان ملک میں خصوصاً حیدرآباد میں آئے گا۔ مرزا صاحب اور اُن کے قائم مقاموں کی عادت ہے کہ نکتہ بعد الوقوع بہت نکالا کرتے ہیں اُسی طرح یہ بھی ایک ہے۔
حکیم صاحب! آپ تمام اشتہار پڑھ کر ہمارے سامنے کسی لفظ پر نشان لگا دیں کہ یہ لفظ
٣٦
طوفان حیدرآباد کی طرف اشارہ ہے تو ہم بھی آپ کو اپنا خلیفہ (فیہ شی۔ فافہم ) بنالیں گے۔ یاد رہے کہ متکلم کے خلاف منشاء تفسیر ہم نہیں سنیں گے نہ کوئی دانا اس کو مانے گا۔ یہ دوسری بات ہے کہ آپ اور آپ کے معتقدین ”گورنظامی“ کے لفظ میں نظامی سے ”حضور نظام“ اور گور سے شہر حیدر آباد مراد لیں۔ مگر ہم ایسی مرادوں سے سوال نہیں کرتے بلکہ سیاق کلام چاہتے ہیں۔ غضب ہے متکلم (مرزا) تو اپنا مدعا اس اشتہار سے دوسرا زلزلہ عظیمہ بتلاتا ہے اور کھلے لفظوں میں کہتا ہے کہ:
”یہ دونوں زلزلے میری سچائی ظاہر کرنے کے لئے دونشان ہیں۔“
مگر حکیم صاحب اس کو طوفان پر چسپاں کریں تو اس طوفان بے تمیزی کا کیا انتظام؟
چیلنج : ہم حکیم نور الدین صاحب اور دیگر معتقدین مرزا صاحب کو چیلنج دیتے ہیں کہ وہ مرزا صاحب کی کوئی ایک پیشگوئی کھلے کھلے لفظوں میں طوفان حیدرآباد کی بابت دکھا دیں تو ہم سے منہ مانگا انعام پائیں۔ مگر یہ سوچ لیں کہ مقابل کون ہے۔
کہ اس نواح میں سودا برہنہ پا بھی ہے
......☆......
چھٹی پیشگوئی ...... متعلقہ ڈاکٹر ڈوئی
امریکہ میں ایک شخص ڈاکٹر ڈوئی تھا جو (بقول مرزا صاحب ) مدعی نبوت تھا۔ (ڈوئی کے حالات بجز قادیانی اخبارات کے اور کسی ذریعہ سے ہم تک نہیں پہنچے ۔ ) مرزا صاحب کی زندگی میں مرا تھا۔ اُس کی بابت حکیم صاحب لکھتے ہیں:
”ہندوستان میں لیکھرام اور امریکہ میں کاذب مدعی نبوت ڈاکٹر ڈوئی اُس کی تیر دُعا کا نشانہ بن کر ہلاک ہوا۔ اور ہندوستان اور امریکہ اور یورپ میں اس مصدوق انسان کی دو زبردست پیشگوئیوں کو پورا کر کے اس کے دعاوی کی صداقت پر مہر لگا گیا۔“
(صحیفہ آصفیہ صفحہ ٢٦ طبع اول )
ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے ڈوئی کے متعلق کوئی پیشگوئی نہیں کی تھی جو کی تھی وہ بھی غلط نکلی۔ مرزا صاحب اور حکیم صاحب کی طرح ہم صرف زبانی باتیں کرنے کے عادی نہیں بلکہ واقعات پیش کرتے ہیں۔
مرزا صاحب نے ڈاکٹر ڈوئی کو ایک دفعہ دعوت دی تھی جس کے اصل الفاظ یہ ہیں:
٣٧٠
"ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیشگوئی نہ سناویں بلکہ اُن میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کر دیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے کیونکہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں اُس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی جانتا ہوں۔ اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے۔ چاہئے کہ اس دعا کو چھاپ دے اور کم سے کم ہزار آدمی کی اس پر گواہی لکھے اور جب وہ اخبار شائع ہو کر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب اُس کے یہی دعا کروں گا اور انشاء اللہ ہزار آدمی کی گواہی لکھ دوں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ڈوئی کے اس مقابلہ سے اور تمام عیسائیوں کے لئے حق کی شناخت کے لئے ایک راہ نکل آئے گی۔"
(ریویو آف ریلیجنز بابت ستمبر ١٩٠٢ء ص ٣٤٤۔ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦١١)
اس عبارت کو دیکھ کر ہر ایک عالم اور جاہل سمجھ سکتا ہے کہ مرزا صاحب نے ڈوئی کی نسبت کیا لکھا ہے کوئی دعا یا مباہلہ نہیں کیا۔ بلکہ درخواست ہے کہ تم ایسا کرو۔ اُس کے ایسا کرنے کی صورت میں مرزا صاحب فرماتے ہیں:
"مسٹر ڈوئی اگر میری درخواست مباہلہ قبول کر لے گا اور صراحۃً یا اشارۃً میرے مقابلہ پر کھڑا ہوگا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دُکھ کے ساتھ اس دنیا فانی کو چھوڑے گا۔"
(ریویو۔ اپریل ١٩٠٧ء ص ١٤٤۔ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦١٩)
پس اب تنقیح طلب امر صرف یہ ہے کہ کیا ڈاکٹر ڈوئی نے ایسا کیا؟ یعنی حسب منشاء مرزا صاحب اُس نے مباہلہ کیا؟ اس کے جواب میں بھی ہم حسب عادت اپنی نہیں کہتے بلکہ مرزا جی کے ماہوار رسالہ ’ریویو‘ سے اصل حال بتلاتے ہیں جو یہ ہے:
"باوجود کثرت اشاعت پیشگوئی کے ڈوئی نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا اور نہ ہی اپنے اخبار لیوز آف ہیلنگ میں اس کا کچھ ذکر کیا۔"
(ریویو۔ اپریل ١٩٠٧ء ص ١٤٢۔ ج ٦ نمبر ٤)
نیز مرزا نے مزید لکھا کہ:
"یاد رہے کہ اب تک ڈوئی نے میری اس درخواست مباہلہ کا کچھ جواب نہیں دیا اور نہ اپنے اخبار میں کچھ اشارہ کیا ہے۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤١٩)
پس اب مطلع بالکل صاف ہے کہ مرزا صاحب نے ڈوئی کو جو شرطیہ دعوت دی تھی وہ اُس نے قبول نہیں کی یعنی حسب مراد مرزا صاحب ڈوئی نے دعاء موت نہیں کی لہٰذا وہ مرزا صاحب کی نہ دعا کے ماتحت آیا نہ پیشگوئی کی زد میں پھنسا۔ ہاں مرزا صاحب کے اس شرطیہ کلام سے کہ:
٣٨
”ڈوئی میری درخواست کو قبول کرے گا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت سے دنیا کو چھوڑے گا“
یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ بغیر قبول کرنے دعوت مرزائیہ کے ڈوئی کا مرزا جی کی زندگی میں مرجانا مرزاجی کی کافی تکذیب کرتا ہے مگر سمجھنے کو دل و دماغ صحیح چاہئے۔ فافہم
چیلنج:- حکیم یا کوئی صاحب ہم کو مرزا جی کی کسی تحریر سے ڈوئی کے متعلق صاف الفاظ میں کسی قسم کی پیشگوئی دکھا دیں تو ہم تسلیم کریں گے اور بہت کچھ انعام بھی دیں گے۔
مرزاجی کے دوستو! ہمت کرو۔ مرد میدان بنو سامنے آؤ منہ نہ چھپاؤ کیا تم جانتے نہیں؟
گرچہ ڈھونڈو گے چراغ رُخ زیبا لے کر
دیوانے کی بڑ
قادیانی پارٹی کو تصنیف کتب میں ایسا ملکہ ہے کہ واقعات بھی اپنی طرف سے تصنیف کر لیتے ہیں حالانکہ واقعات کسی کے تابع نہیں ہوتے۔ اگر اس کی مثال واقعات میں ہم نہ بتلا دیں تو پھر ہمارا دعویٰ بھی ”دیوانے کی بڑ“ سے کم نہ ہو گا اس لئے ہم قادیانی ”صحیفہ آصفیہ“ ہی سے واقعات پیش کرتے ہیں۔ حکیم صاحب لکھتے ہیں۔
”آپ (مرزا صاحب) کی بعثت سے آپ کے وصال تک صدہا مکذب آپ کے مقابل اُٹھے جنہوں نے آپ کی توہین پر کمر باندھی۔ لیکن خدا تعالیٰ نے انہیں ذلیل و خوار کیا جو آپ کے مقابل آیا ہلاک ہوا۔ جس رنگ میں کسی نے آپ کی ذلت کا ارادہ کیا اُسی طرح کی ذلت اُسے نصیب ہوئی آپ کے مکفرین یکے بعد دیگرے قریباً کل کے کل دنیا سے اُٹھائے گئے ۔“
(صحیفہ آصفیہ صفحہ ٣ طبع اول)
یہ ایک ایسا سفید جھوٹ ہے کہ شاعرانہ مبالغہ بھی اس کی حد تک نہیں پہنچ سکتا۔ واقعات صحیحہ اس کی تکذیب کرتے ہیں پنجاب میں بڑے مکذب اور سخت مخالف آپ کے اصحاب ذیل تھے: (١) مولانا ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی (٢) حضرت سید پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی (٣) مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی ۔ مقیم امرتسر (٤) مولوی صوفی عبدالحق صاحب غزنوی مقیم امرتسر (٥) شمس العلماء مولوی محمد عبداللہ صاحب ٹونکی مقیم لاہور (٦) مولوی اصغر علی صاحب روحی مقیم لاہور (٧) ڈاکٹر عبدالحکیم خان صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ ۔ اور (٨) یہ
٣٩
خاکسار ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری جس کی بابت مرزا صاحب کا خود اقرار ہے کہ: "مولوی ثناء اللہ صاحب جو آج کل ٹھٹھے ہنسی اور توہین میں دوسرے علماء سے بڑھے ہوئے ہیں۔"
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٠۔ خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٢)
حکیم صاحب! آپ خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب کاذبین مر گئے۔ جنگ اُحد کے روز ابوسفیان کی طرح آپ ان کی موت کی خبر دیں گے تو وہی جواب سنیں گے جو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔
قادیانی مشن کے ممبرو! یہ سب لوگ خدا کے فضل سے زندہ ہیں۔ گویا ان میں سے بعض (یعنی ڈاکٹر عبدالحکیم خان اور ابوالوفاء ثناء اللہ) کی موت کو دیکھنے کی ہوس تمہارا مسیح موعود دل میں رکھتا تھا جس کا اظہار بھی اُس نے کئی ایک دفعہ کیا مگر آخر کار نتیجہ وہی ہوا جو قرآن مجید نے بتلایا ہے۔ یعنی: لا يحيق المكر السيء الا باهله یعنی چاہ کندہ را چاہ در پیش جس کی مختصر کیفیت کسی زندہ دل کے کلام میں یوں ہے:
کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا
ناظرین! یہ ہیں قادیانی مشن کی ابلہ فریبیاں اور دھوکہ بازیاں کہ واقعات کو از خود تصنیف کر لیتے ہیں اسی طرح یہ دعویٰ بھی قادیانی مشن ہی کی ایجاد ہے کہ: "اسلام کے کل مخالفوں نے مرزا صاحب کو سلطان القلم قرار دیا"
(صحیفہ آصفیہ ص ١٤)
محض کذب اور صریح جھوٹ ہے۔ سچے ہو تو کسی مخالف کی شہادت پیش کرو۔
ہاں ہم بتلاتے ہیں کہ مرزا صاحب کے مضمون (اسلام گرو نانک) کا جواب جو سکھوں نے دیا تھا اُس میں لکھا تھا کہ: "مرزا صاحب کی تحریرات کسی شریف آدمی کے پڑھنے کے لائق نہیں۔"
شاید قادیانی اصطلاح میں سُلطان القلم ہونے کی سند یہی ہے۔ اگر یہی ہے تو ہمیں بھی انکار نہیں۔ لكل ان يصطلح ۔
مرزا صاحب کے عقائد
اخیر رسالہ میں ہم مختصر لفظوں میں بتلاتے ہیں کہ جناب مرزا صاحب اپنے حق میں کیا کہتے تھے:
٤٠
- (١) مسیح موعود میں ہوں ۔
(ازالہ ص ٣٩۔ خزائن ج ٣ ص ١٢٢)
- (٢) ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠۔ خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
- (٣) ایک منم کہ حسب بشارات آمدم عیسیٰ کجاست تا بنہد پایمنبرم
(ازالہ اوہام ص ١٥٨۔ خزائن ج ٣ ص ١٨٠)
- (٤) منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣۔ خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
- (٥) لا تقیسونی باحد ولا احد ابی (مجھے کسی دوسرے کے ساتھ قیاس مت کرو اور نہ کسی
دوسرے کو میرے ساتھ)
(خطبہ الہامیہ ص ٥٢۔ خزائن ج ١٦ ص ٥٢)
- (٦) انا شمس لا يحجبها دخان الشماس (میں سورج ہوں جس کو دشمن کا دھواں چھپا نہیں سکتا)
(خطبہ ص ٥٢۔ خزائن ج ١٦ ص ٥٢)
- (٧) انا خاتم الاولیاء لا ولّی بعدى الا الذى هو منی (میں خاتم الاولیاء ہوں میرے
بعد کوئی ولی نہیں ہوگا مگر وہ مجھ سے ہوگا۔)
(خطبہ الہامیہ ص ٧٠۔ خزائن ج ١٦ ص ٧٠)
- (٨) قدمى على منارة ختم عليها كل رفعة (میرا قدم ایک ایسے منارے پر ہے جس پر ہر
ایک بلندی ختم ہے) (یعنی میں رتبے میں سب سے بڑا ہوں)
(خطبہ الہامیہ ص ٧٠۔ خزائن ج ١٦ ص ٧٠)
- (٩) جو میری بیعت میں آتا ہے وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں شامل ہوتا ہے۔
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨۔ خزائن ج ١٦ ص ٢٥٨)
- (١٠) قرآن مجید میں جو آیت ہے یأتی من بعدی اسمه احمد اس احمد سے مراد میں ہوں۔
(ازالہ ص ٦٧٣۔ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
رسول حق باستحکام مرزا
اس کے علاوہ بھی بہت سے عجیب عجیب تعلیٰ کے خیالات ہیں۔
ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسر ١٩ ؍ شوال ١٣٢٧ھ ٣ ؍ نومبر ١٩٠٩ء
٤١
ضروری اعلان
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر ملتان سے شائع ہونے والا ﴿ماہنامہ لولاک﴾ جو قادیانیت کے خلاف گرانقدر جدید معلومات پر مکمل دستاویزی ثبوت ہر ماہ مہیا کرتا ہے۔ صفحات 64‘ کمپیوٹر کتابت‘ عمدہ کاغذ و طباعت اور رنگین ٹائیٹل‘ ان تمام تر خوبیوں کے باوجود زر سالانہ فقط یک صد روپیہ منی آرڈر بھیج کر گھر بیٹھے مطالعہ فرمائیے۔
رابطہ کے لئے
ناظم دفتر ماہنامہ لولاک ملتان
دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
حضوری باغ روڈ ملتان
انا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
فاتح قادیان
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم !
پہلے مجھے دیکھئے!
رسالہ ہذا اس انعامی رقم مبلغ تین سو روپیہ میں سے چھپ کر مفت تقسیم ہوا تھا۔ جو اس مباحثہ میں فتحیاب ہونے کی وجہ سے مولانا ابوالوفاء کو حسب وعدہ مرزائی گروہ سے وصول ہوئی تھی۔ اس کے بعد بھی کئی ایک دفعہ چھپا۔ یہاں تک کہ اب چھٹا ایڈیشن ناظرین کے سامنے پیش ہے۔
دیباچہ
ناظرین کو معلوم ہوگا۔ مرزا قادیانی آنجہانی کی زندگی میں انکا اور مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرتسری کا مقابلہ کس نوعیت سے تھا۔ یہی کہ مولانا صاحب ان کے کمالات کا اظہار ان کے اصلی الفاظ میں کرتے ہیں۔ یعنی ان کے الہامات متعلقہ اخبار ضمیمہ جو ان کے حق میں مدار کار ٹھہرائے جاتے تھے۔ ان کی تنقید کرتے جس کی مثال میں رسالہ ”الہامات مرزا“ ایک عمدہ نمونہ ہے۔ مرزا قادیانی اس نوعیت سے بہت گھبرائے۔ تو انہوں نے مندرجہ ذیل اشتہار دیا :
مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ! ”نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم یستنبؤنک احق ہو قل ای وربی انہ لحق“ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب ”السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ“ مدت سے آپ کے پرچہ اہل حدیث میں میری
٢
تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود و کذاب۔ دجال مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور کذاب اور دجال ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افتراء ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔ مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کیلئے مامور ہوں۔ اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں اور مجھے ان گالیوں اور ان تہمتوں اور ان الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ کہ جن سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں ہو سکتا۔ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں۔ جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے۔ اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔ تا خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے۔ جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں آپ پر میری زندگی ہی میں وارد نہ ہوئیں تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔ یہ کسی الہامی وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے۔ جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے۔ اگر یہ دعویٰ مسیح ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے۔ حق پر نہیں
٣
تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی میں ہی ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بد زبانیوں سے توبہ کرے۔ جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین! میں ان کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا۔ مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ان کی بد زبانی حد سے گزر گئی۔ وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بد تر جانتے ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے اور انہوں نے ان تہمتوں اور بد زبانیوں میں آیت : ”لا تقف مالیس لک بہ علم“ پر بھی عمل نہیں کیا اور تمام دنیا سے مجھے بدتر سمجھ لیا اور دور دور ملکوں تک میری نسبت یہ پھیلا دیا ہے کہ یہ شخص در حقیقت مفسد اور ٹھگ اور دکاندار اور کذاب اور مفتری اور نہایت درجہ کا بد آدمی ہے۔ سو اگر ایسے کلمات حق کے طالبوں پر بد اثر نہ ڈالتے تو میں ان تہمتوں پر صبر کرتا۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہی تہمتوں کے ذریعے سے میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اور میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ اس سے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے۔ اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھالے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر آمین ثم آمین ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق و انت خیر الفاتحین آمین! بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ ہے۔
مرقومہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء مطابق یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافاہ اللہ و ایدہ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨، ٥٧٩
٤
اس اشتہار نے مولانا ابوالوفا پر کیا اثر کیا؟ یہ کہ پہلے تو وہ اخبار اہلحدیث میں کبھی کبھی مرزا قادیانی کے مشن کے متعلق لکھا کرتے تھے۔ اب تو انہوں نے ایک مستقل رسالہ ماہوار اسی غرض سے جاری کیا۔ جس کا نام تھا ”مرقع قادیانی“ جس میں خاص مرزائی مشن کا ذکر ہوتا اور بس!
مرزا قادیانی کے اشتہار مذکور کا نتیجہ کیا ہوا؟ بیان کی حاجت نہیں کہ کاذب صادق کی زندگی میں اس جہان سے چلا گیا۔ مگر مرزا قادیانی کے مرید عناد سے اس اشتہار کو نظر انداز کرتے رہے۔ یہاں تک کہ خدا کے علم میں جو وقت اس مسئلہ کے کھلے فیصلے کا تھا آ گیا۔ یعنی منشی قاسم علی قادیانی جو قادیانی جماعت میں بولنے اور لکھنے والے جوشیلے ممبر ہیں۔ مولانا ابوالوفا کے سامنے اس غرض سے آئے کہ ان سے اس اشتہار کے متعلق مباحثہ کریں۔ چنانچہ منشی صاحب نے اپنے اخبار ”الحق“ میں مولانا موصوف کو چیلنج دیا۔ جس کو انہوں نے اخبار اہل حدیث یکم مارچ ١٩١٢ء میں قبول کیا۔ اس کے بعد شرائط کے متعلق ترمیم پر معمولی سا اختلاف ہو کر فیصلہ ہوا۔ یہ شرائط حسب ذیل ہیں۔
- الف ............ مباحثہ تحریری ہوگا۔
- ب ............ ایک منصف محمدی ﷺ دوسرا احمدی (مرزائی) تیسرا غیر مسلم،
مسلّم الطرفین سر پنچ ۔
- ج ............ دونوں منصفوں میں اختلاف ہو تو سرپنچ جس منصف کے ساتھ
متفق ہوں گے وہ فیصلہ ناطق ہوگا۔
- د ............ کل تحریریں پانچ ہوں گی۔ تین مدعی کی اور دو مدعاعلیہ کی۔
- ھ ............ مولانا ابوالوفا مدعی اور منشی قاسم علی مدعاعلیہ ہوں گے۔
- و ............ مدعی کے حق میں فیصلہ ہو تو مدعاعلیہ مبلغ تین سو روپیہ بطور انعام یا
تاوان مدعی کو دے گا مدعاعلیہ غالب۔ تو اس کو مدعی کچھ نہیں دے گا۔ غرض رقم ایک طرف سے ہو گی۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منشی قاسم علی اور ان کے دوستوں کو کامیابی کا کہاں تک یقین تھا؟ خیر بہر حال ١٥ اپریل ١٩١٢ء کی تاریخ مباحثہ کے لئے مقرر ہوئی۔ اور مقام مباحثہ خود منشی قاسم علی کی تجویز سے شہر لدھیانہ قرار پایا۔
ایک لطیفہ اور قدرتی اسرار
واقعی بات ہے کہ خدا کے اسرار خدا ہی جانتا ہے۔ اشتہار مذکورہ کی تاریخ بھی ١٥ اپریل اور اس پر مباحثہ کے لئے بھی ١٥ اپریل ہی کا اتفاق ہوا۔ حدیث میں آیا ہے کہ مسیح موعود دجال کو باب لد میں قتل کریں گے۔ محدثین کہتے ہیں کہ باب لد شام کے ملک میں ایک مقام ہے۔ مگر مرزا قادیانی چونکہ مسیح موعود ہونے کے مدعی تھے اور پنجاب کے باشندے اور پنجاب سے باہر نہ گئے تھے۔ اس لئے انہوں نے اس حدیث کی تاویل ایسی کی جس سے شہر لدھیانہ کی فضیلت بھی ثابت ہو سکتی ہے اور اس مناظرہ پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ آپ نے لکھا ہے :
”اول بلدة بايعنى الناس فيها اسمها لودهانة وهى اول ارض قامت شر فيها لا هانة فلما كانت بيعت المخلصين حربة لقتل الدجال اللعين باشاعت الحق المبين اشير فى الحديث ان المسيح يقتل الدجال علیٰ باب اللد بالضربة الواحدة فاللد مخلص من لودهيانة كمالا يخفى علیٰ ذوى الفطنة، رساله الہدیٰ والتبصرة لمن يراه حاشیه ص٩٢ خزائن ج١٨ حاشیه ص٣٤١“
یعنی سب سے پہلے میرے ساتھ لدھیانہ میں بیعت ہوئی تھی۔ جو دجال کے قتل کے لئے ایک حربہ (ہتھیار) تھی اسی لئے حدیث میں آیا ہے۔ کہ مسیح موعود دجال کو باب لد میں قتل کرے گا۔ پس لد دراصل مخفف ہے لدھیانہ سے۔
مرزا قادیانی نے لدھیانہ میں کس دجال کو قتل کیا؟۔ اس کا تو ہمیں علم نہیں وہ
٦
جانیں یا ان کے مرید۔ ہاں اس سے یہ تو بخوبی ثابت ہوا کہ لدھیانہ کا مقام منتخب ہونا اور فریق ثانی کی تجویز سے ہونا واقعی سر قدرت اپنے اندر رکھتا ہے کہ بقول مرزا قادیانی یہاں دجال قتل ہونا تھا۔
خیر ٥ اپریل ١٩١٢ء کو صرف اتنا کام ہوا کہ مبلغ تین صد روپیہ امین صاحب کے سپرد ہوا۔ امانت کے عہدہ کے لئے جناب مولانا محمد حسن صاحب مرحوم رئیس لدھیانہ سے بہتر کوئی نام نہ مل سکتا تھا۔ ہماری جانب سے مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی منصف مقرر ہوئے۔ ان کی جانب سے منشی فرزند علی صاحب ہیڈ کلرک قلعہ میگزین فیروز پور۔
سرپنچ کے متعلق بہت سی گفتگو ہوئی۔ آخر کار یہ خدمت سردار چن سنگھ صاحب بی اے گورنمنٹ پلیڈر لدھیانہ کے سپرد ہوئی۔ جناب موصوف نے بڑی مہربانی سے اس کو قبول فرمایا۔ حق تو یہ ہے کہ سرپنچی کا حق پورا ادا کیا جس کا ذکر آگے آتا ہے۔
٧ اپریل ١٩١٢ء کو ٣ بجے بعد دوپہر کے مباحثہ شروع ہوا۔ فریقین کے چالیس چالیس آدمی داخل یا شامل مباحثہ ہونے تجویز ہوئے تھے مگر آخر کار کوئی روک نہ رہی تو بہت سے لوگ آگئے۔ گفتگو میں کسی طرح کی بے امنی نہ ہوئی۔ منصف صاحبان نے جلسہ کا انتظام بخوبی رکھا۔ فریقین کی یہی خواہش معلوم ہوتی تھی کہ گفتگو امن و امان سے ہو۔ چنانچہ کسی طرح کی بے لطفی نہ ہوئی۔ ٣ بجے سے ٩ بجے شب تک جلسہ رہا۔ بحمد اللہ !
مرزائی فریق اور ان کے منصف کی خلاف ورزی
بحمد اللہ! ہماری کسی حرکت و سکون پر فریق ثانی کو اعتراض نہیں ہوا۔ مگر افسوس انہوں نے ہم کو بہت سے اعتراضات کا اخلاقی طور پر موقع دیا جو ایک مہذب جماعت کی شان سے بعید ہی نہیں بلکہ بعید تر ہے۔
اول : منشی قاسم علی صاحب نے پہلے ہی پرچہ میں ایک عبارت اپنی اور مرزا قادیانی کی نسبت پڑھی جس پر مولانا ابو الوفاء کو شبہ ہوا کہ یہ تحریر میں نہ ہوگی۔ چنانچہ پرچہ حاصل
٧
کر کے مولانا نے اس عبارت کی بابت سوال کیا تو جواب ملا کہ ہم نے زبانی کہی تھی۔ اس پر منصف صاحبان کی خدمت میں استغاثہ ہوا۔ کہ معاہدہ یہ ہے کہ کوئی لفظ زبانی نہ ہو۔ اس لئے فریق ثانی تحریری معافی مانگے۔ مگر منشی فرزند علی صاحب منصف مرزائی (احمدی) کی سفارش پر اتنے ہی پر کفایت ہوئی کہ نظر انداز کیجئے۔
دوم: شرط مقرر تھی کہ کل بحث کے پانچ پرچے ہونگے۔ مگر فریق ثانی نے بعد بر خاستگی جلسہ (خدا معلوم کس روز اور کس وقت) چھٹا پرچہ بہت بڑا سر پنچ صاحب کی خدمت میں بھیج دیا۔ جو انہوں نے بوقت فیصلہ مولانا ابوالوفا کو دکھلا دیا۔ جس پر مولانا نے اعتراض کیا اور شامل مثل نہ ہونے دیا۔ اس پرچہ میں بعض الفاظ خلاف شان بھی درج تھے۔
سوم: منشی فرزند علی صاحب نے فیصلہ تو جو دیا وہ آگے درج ہو گا۔ مگر خلاف شان یہ بات کہ ١٧؍اپریل کی شب کو انہوں نے وعدہ کیا کہ میں صبح فیصلہ دے کر جاؤں گا۔ مگر جس کا ایفاء انہوں نے یہ کیا کہ صبح چھ بجے چلے گئے مگر فیصلہ نہ دے گئے۔ بلکہ ٢٠؍اپریل کو ٤ بجے انکا فیصلہ سرپنچ کے پاس آیا جب کہ مولانا صاحب اور ان کے رفقاء بہت بے تاب ہو کر واپسی کے لئے اسٹیشن لدھیانہ پر آگئے تھے اتنے میں ایک آدمی بھاگتے ہوئے آیا۔ کہ مت جاؤ فیصلہ آگیا ہے۔
چہارم: شرط یہ تھی کہ دونوں منصف خدا کی قسم کھا کر حلفیہ فیصلہ لکھیں گے اور یہ شرط فریق ثانی یعنی احمدی (مرزائی) فریق ہی کی تجویز کردہ تھی۔ مولانا صاحب اس بات سے انکاری تھے کہ اس کی ضرورت نہیں۔ مگر فریق ثانی نے اسکو بہت ضروری سمجھا۔ یہاں تک کہ شرط میں یہ بڑھایا گیا کہ اگر بغیر حلف فیصلہ ہو گا۔ تو بے وقعت سمجھا جائے گا۔ مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ منشی فرزند علی صاحب منصف مرزائی (احمدی) نے اپنے فیصلہ میں حلف نہیں لکھی تاہم مولانا صاحب نے سر پنچ صاحب کو کہا کہ میں ان کی بے حلفی کو بھی منظور کرتا ہوں۔
اب سوال یہ ہے کہ منشی صاحب جیسے مہذب اور فرائض شناس تعلیم یافتہ مرزائی
٨
نے یہ بے اعتدالیاں کیوں کیں؟ اس کا جواب ان کا فیصلہ ہی دے سکتا ہے۔ جو آگے درج ہوگا جس کا مختصر مضمون یہ ہے :
مے برد ہر جاکہ خاطر خواہ اوست
بہر حال مولانا صاحب کی تقریر شروع ہوتی ہے۔ خاکسار مولوی رضا اللہ ثنائی سرگودھا
بیان مدعی
یعنی مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل امرتسری کا
پرچہ نمبر اول
صاحبان ! آج مباحثہ مندرجہ ذیل مضامین پر ہے :
- ١............ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزا قادیانی نے دیا تھا۔
- ٢............ خدا نے دعا مندرجہ اشتہار مذکورہ کی قبولیت کا الہام کر دیا تھا۔
صاحبان ! مرزا قادیانی نے ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو اشتہار دیا تھا۔ جس کی پیشانی پر لکھا ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ اس کے اندر یہ دعا کی۔
”اے میرے مالک بصیر و قدیر جو علیم و خبیر ہے جو میرے دل کے حالات سے واقف ہے ۔ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افتراء کرنا میرا کام ہے تو اے میرے پیارے مالک ! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر............ میں تیرے تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ صاحب میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اٹھا لے۔“
٩
اس دعا کے بعد جناب ممدوح نے یہ لکھا ہے : ”اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨‘٥٧٩) اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے دو دفعہ فیصلہ کا لفظ لکھا ہے۔ فیصلہ بھی کسی ذاتی معاملہ کا نہیں بلکہ اس معاملہ کا جس کے لئے بقول ان کے خدا نے ان کو مامور کیا تھا۔ چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں : ”چونکہ میں حق کے پھیلانے کے لئے مامور ہوں۔“ اب غور طلب بات یہ ہے کہ کیا سلسلہ رسالت و نبوت میں اس کی کوئی نظیر ملتی ہے کہ کسی نبی یا مامور نے کسی معاملہ الٰہیہ میں از خود ایسی تحدی اور فیصلہ کی صورت شائع کی ہو جس کی تحریک خدا کی جانب سے نہ ہو۔ ہرگز اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس لئے کہ اس قسم کے فیصلہ کا اثر اس کے مشن پر پہنچتا ہوتا ہے جس کی تبلیغ کیلئے نبی کو خدا مامور کر کے بھیجتا ہے۔ چنانچہ جناب ممدوح اسی اشتہار میں لکھتے ہیں :
”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جاؤں گا۔
مہربانی سے منصف صاحبان سارا اشتہار ایک دفعہ پڑھنے کی تکلیف گوارا فرماویں کوئی ایسا معاہدہ یا اعلان کوئی نبی خدا کی تحریک کے بغیر نہیں کر سکتا جس کا اثر اس کے اس مشن پر پڑے جس کیلئے وہ مامور ہو کر آیا ہو۔ قرآن مجید میں اس دعویٰ کے ثبوت کی بہت سی آیات ہیں۔ منجملہ چند ایک یہ ہیں :
- (١)...... ”ماكان لرسول ان يأتي باية الا باذن الله. الرعد ٣٨“
- (٢)...... ”لو تقول علينا بعض الاقاويل لاخذنا منه باليمين. معارج ٤٥“
- (٣)...... ”ليس لك من الامر شيى . آل عمران ١٢٨“ (٤)...... ”ان الحكم الا
لله . انعام ٥٧“ (٥)...... ”ان اتبع الا مايوحىٰ الی. انعام ٥٠“ (٦)...... ”وما ينطق عن الهویٰ ان هوالا وحی یوحىٰ. النجم ٣‘ ٤“
ترجمہ : (١)...... کسی رسول کی طاقت نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشان لاوے۔ (٢)...... نبی اگر خدا کے ذمہ کوئی بات از خود کہہ دے تو خدا اس کو ہلاک کر دے۔
١٠
(٣)...... اے نبی تجھے اختیار نہیں۔ (٤)...... حکم اللہ ہی کے ہاتھ ہے۔ (٥)...... میں (نبی) اس کی تابعداری کرتا ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے۔ (٦)...... نبی اپنی خواہش سے نہیں بولتا جو کچھ وحی ہوتی ہے وہی کہتا ہے۔
ان آیات میں جو پچھلی آیت ہے۔ صرف قرآن مجید ہی کی آیت نہیں بلکہ جناب مرزا قادیانی کا الہام بھی ہے۔ ملاحظہ ہو اربعین نمبر ٢ ص ٣٦ سطر ٢١‘ اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ سطر ٣ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ دینی معاملہ میں کوئی بات خدا کی وحی کے بغیر نہیں کہتے جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ خدا کی وحی ہوتی ہے یہی معنی اس فقرہ کے بطور الہام مرزا قادیانی ہوں گے کہ مرزا قادیانی کسی دینی معاملہ میں خدا کی تحریک کے بغیر نہیں بولتے۔ مختصر یہ ہے کہ مامور بحیثیت مامور مجبور ہے کہ کوئی بات دینی معاملہ میں ایسی نہ کہے خصوصاً کسی امر کہ کفر اور اسلام میں فیصلہ کن قرار نہ دے جب تک خدا کی طرف سے اجازت نہ ہو۔
یہاں تک تو میں نے عموماتِ قرآنیہ اور الہامات مرزائیہ سے استدلال کیا ہے اب میں خصوصاً اس امر کے متعلق عرض کرتا ہوں جس میں نزاع ہے۔ جناب مرزا قادیانی نے ١٥ اپریل کو اشتہار مذکور شائع کیا۔ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء کے اخبار بدر میں ان کے الفاظ یہ شائع ہوئے۔
ثناء اللہ : مرزا قادیانی نے فرمایا: ”یہ زمانہ کے عجائبات ہیں۔ رات کو ہم سوتے ہیں تو کوئی خیال نہیں ہوتا کہ اچانک ایک الہام ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ کوئی ہفتہ عشرہ نشان سے خالی نہیں جاتا۔ ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے۔ یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا: ”اجیب دعوة الداع ۔“ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامات استجابت دعا ہے۔ باقی سب اس کی شاخیں۔
(ملفوظات ج ٩ ص ٤٠٧)
١١ ٦١
ان الفاظ سے میرے دونوں دعوے ثابت ہوتے ہیں: (الف)......اس دعا کی بنیاد خدا کی طرف سے تھی جس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہنا زیبا ہے کہ خدا کے مخفی حکم اور منشاء سے تھی۔ (ب)......اس دعا کی قبولیت کا وعدہ تھا اگرچہ اثبات مدعا کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ مگر میں اس کو ذرا اور تفصیل سے بتلانا چاہتا ہوں۔
مرزا قادیانی کا عام طور پر الہام ہے کہ مجھے خدا نے فرمایا ہے: ”اجیب کل دعائك الافی شركائك،“ ١؎ یہ بھی دعویٰ ہے کہ میرا بڑا معجزہ قبولیت دعا ہی ہے۔ چنانچہ ان کے آرگن رسالہ ریویو ج٦ نمبر ٥ ص ٩٢ بابت مئی ١٩٠٧ء سے نقل کرتا ہوں۔
”حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) دعا کی قبولیت کا ایک ایسا قطعی ثبوت پیش کرتے ہیں جو آج دنیا بھر میں کسی مذہب کا کوئی ماننے والا پیش نہیں کر سکتا اور وہ ثبوت یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے ہیں اور اس دعا کا جواب پاتے ہیں اور جو کچھ جواب میں ان کو بتایا جاتا ہے۔ اس کو قبل از وقت شائع کر دیتے ہیں۔ پھر ان شائع شدہ امور کے بعد واقعات تائید کرتے ہیں اور یہ تائید ایسی ہوتی ہے کہ جس پر کوئی انسانی کوشش اور منصوبہ پہنچ نہیں سکتا اور ایسے ہی اعجازی اور فوق الطاقت طور پر وہ امر ظہور پذیر ہوتا ہے وہ مدت سے بات کو شائع کر رہے ہیں کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔“
ہاں اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی کے اشتہار ٥ اپریل میں یہ فقرہ بھی ہے کہ : ”یہ کسی الہام یا وحی کی بناء پر پیشگوئی نہیں۔“ اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت مرزا قادیانی کو اس تحریک الہی کا علم نہ تھا۔ جس نے مخفی طور پر ان کے قلب پر یہ اثر کیا تھا جس وقت انہوں نے یہ اشتہار دیا۔ لیکن بعد میں جب ان کو خدا کی طرف سے بتلایا گیا۔ تو
١؎ میں (خدا) تیری ہر ایک دعا قبول کروں گا سوا تیرے شریکوں کے حق میں۔
(تریاق القلوب ص ٣٨ خزائن ج ١٥ ص ٢١٠)
انہوں نے اعلان کیا کہ اس کی بنیاد خدا کی طرف سے ہے۔ میری اس تطبیق کی قطعی دلیل مرزا قادیانی کی وہ تحریر ہے جو میرے خط کے جواب میں بذریعہ ڈاک میرے پاس پہنچنے کے علاوہ اخبار بدر ١٣ جون ١٩٠٧ء میں چھپی تھی۔ جس میں یہ الفاظ ہیں :
”مشیت ایزدی نے حضرت حجت اللہ (مرزا قادیانی) کے قلب میں ایک دعا کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔“
(ص ٢ کالم ١)
اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ اس دعا کی تحریک ان کے دل میں خدا نے کی تھی۔ یہی معنی ہیں خدا کے حکم سے ہونے کے۔ ممکن ہے اس وقت جناب ممدوح کو اس کا علم نہ ہو۔ عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتا۔ (ملاحظہ ہو براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٨٠‘ خزائن ج ٢١ ص ٣٥٠) اس لئے ممدوح نے تحریر اول میں نفی فرمائی۔ لیکن بعد کے الہامات اور علامات خداوندی سے ان کو معلوم ہوا کہ اس کی تحریک خدا کی طرف سے تھی اور اس کی قبولیت کا وعدہ بھی تھا۔ انہوں نے کھلے الفاظ میں اظہار کیا کہ اس کی بنیاد خدا کی طرف سے ہے۔ بلکہ اس کی قبولیت کا الہام بھی شائع کیا : ” اجیب دعوۃ الداع ، “ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے میں دعا کرنیوالے کی دعا قبول کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی کی توجہ پر یہ الہام ہونا اس بات کی صاف دلیل ہے کہ جناب موصوف کو اس دعا کی قبولیت کا الہام قطعی ہو چکا تھا۔ مسلمانوں کے اعتقاد میں الہام بالفاظ قرآنی ہو تو بہت زیادہ قوت رکھتا ہے۔ بہ نسبت دیگر الفاظ کے الہام مذکور چونکہ الفاظ قرآنی میں ہے اس لئے قطعی قبولیت کو ثابت کرتا ہے۔ فریق ثانی کو میری یہ تطبیق پسند نہ ہو تو اس اثبات و نفی میں تطبیق دینا ان کا فرض اول ہے۔ کیونکہ وہ مرزا قادیانی کے مصدق ہیں اور قرآن میں غلط الہامات کی علامات یہی مذکور ہے کہ ان میں نفی اثبات کا اختلاف ہوتا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قائل ایک کلام میں کاذب ثابت ہوتا ہے۔ پس فریق ثانی کا بحیثیت مصدق فرض ہے کہ اس اختلاف میں پابندی قواعد علمیہ واصول مسلمہ محدثین و مبصرین تطبیق دے ابو الوفاء ثناء اللہ بقلم خود !
١٣
جواب دعوٰی
یعنی منشی قاسم علی احمدی قادیانی کا پرچہ نمبر اول
بسم اللہ الرحمن الرحیم رب یسر وتمم بالخیر!
جناب مولوی فاضل صاحب نے اپنے مضمون کو جس تمہید سے شروع کیا ہے اس سے نفس دعوٰی مولوی صاحب کو کوئی تعلق نہیں۔ یہ تمام وعظ و لیکچر اس دعوٰی کو کہ : ”٥؍اپریل والا اشتہار مرزا قادیانی نے بحکم خداوند دیا تھا اور دعا مندرجہ اشتہار مذکور کی قبولیت کا خدا نے وعدہ فرمایا تھا۔“ کسی طرح بھی ثابت نہیں کرتا۔
مولوی صاحب یعنی مدعی کا فرض تھا کہ وہ اپنا دعوٰی دو طرح سے ثابت فرماتے اول ایسا حکم منجانب اللہ وہ اس اشتہار کے متعلق پیش کرتے جس میں مرزا قادیانی کو خدا نے یہ حکم دیا ہوتا کہ تم ایسی درخواست ہمارے حضور میں پیش کرو۔ یا مرزا قادیانی نے کہیں فرمایا ہوتا کہ اشتہار مورخہ ٥؍اپریل ١٩٠٧ء میں نے حسب الحکم خداوند کریم شائع کیا ہے۔ جبکہ یہ دونوں صورتیں مولوی صاحب نے پیش نہیں فرمائی ہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ دعوٰی کس طرح ثابت ہو گیا کہ ٥؍اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی تھا۔ نہ کوئی حکم خداوندی اس کے متعلق موجود ہے۔ نہ مولوی صاحب نے ایسا حکم پیش فرمایا ہے۔ ہاں مولوی صاحب نے خصوصیت کے ساتھ اس امر کے متعلق دو دلیلیں پیش کی ہیں۔ جو ایک تو بدر مورخہ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کی ہے دوسری بدر ١٣؍جون ١٩٠٧ء کی جس سے آپ نے بخیال خود یہ ثابت فرمایا کہ ٥؍اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی تھا اور وہ دلیلیں یہ ہیں :
- (١)..........٢٥؍اپریل کے بدر میں مرزا قادیانی کی کلام شائع ہوئی ہے جس میں یہ
لکھا ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ فرمایا کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے وہ در اصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔
١٤
- (٢)...........١٣ جون کے بدر میں جو خط ایڈیٹر صاحب بدر نے جواب مولوی
صاحب شائع کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ :
”مشیت ایزدی نے حضرت مرزا قادیانی کے قلب میں ایک دعا کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔“
ان دونوں دلیلوں سے اپنا دعویٰ آپ اس طرح ثابت فرماتے ہیں کہ چونکہ اشتہار ١٥ اپریل میں والے کے بعد ٢٥ اپریل کے بدر میں مرزا قادیانی نے ایسا فرمایا ہے کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے وہ ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے ہے۔ پس بعد شائع کر دینے اشتہار کے مرزا قادیانی کو خدا نے بتا دیا کہ یہ اشتہار میرے حکم سے ہے۔ سو اس کا جواب تو یہ ہے کہ :
دعویٰ مولوی صاحب نے فرمایا کہ ١٥ اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی دیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اشتہار دینے سے پہلے وہ حکم مرزا قادیانی کو ملا ہوگا جس کی بنا پر اشتہار دیا گیا اور عقل بھی اس کی مقتضی ہے کہ حکم پہلے ہو تعمیل اسکے بعد ہونی چاہئے مگر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں تعمیل تو پہلے ہی مرزا قادیانی نے کر دی تھی۔ گو حکم بقول مولوی صاحب ١٥ اپریل والی تعمیل کا ٢٥ کو بعد میں صادر ہوا تھا۔ حیرت ہے کہ ایسی نظیر غالباً کسی جگہ نہیں ملے گی کہ حکم سے پہلے ہی تعمیل ہو جائے اور حکم تعمیل کو دیکھنے کے بعد حاکم کی طرف سے صادر ہو۔
بہر حال مولوی صاحب یہ خود مانتے ہیں کہ اشتہار ١٥ اپریل والے میں تو بیشک یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ اشتہار کسی حکم کی بنا پر نہیں بلکہ میری طرف سے بصورت درخواست یا عرضی کے ہے اور یہ بھی مولوی صاحب تسلیم فرماتے ہیں کہ جس وقت اشتہار دیا گیا اس وقت تو ان کو یہ علم نہیں تھا کہ میں خدا کے کسی حکم کی تعمیل کر رہا ہوں بعد تعمیل حکم حاکم نے ان کو بتایا کہ یہ ہمارے حکم سے تم نے اعلان کیا ہے پھر مرزا قادیانی نے بھی فوراً شائع فرما دیا کہ یہ درخواست میری خدا کے حکم کے مطابق ہے جس کا آج پتہ لگا ہے۔ سبحان اللہ ! کیا عجیب
١٥
استدلال ہے کہ حکم دس روز بعد دیا جائے یا دس روز بعد اس کا پتہ لگے مگر ملازم یا خادم قبل صدور حکم کی تعمیل کر کے رکھ دے۔ لہذا یہ استدلال دعویٰ مولوی صاحب کو کسی طرح بھی ثابت نہیں کر سکتا۔ اس میں کہیں یہ بھی تو نہیں لکھا کہ ١٥ اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی دیا گیا ہے ٢٥ اپریل کے بعد میں صرف اتنا لکھا ہے کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے وہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہے۔ ١٥ اپریل والے اشتہار میں لکھا جانا اس میں کہاں درج ہے۔ دعویٰ تو ١٥ اپریل والے اشتہار کے متعلق ہے جو خاص ہے اور دلیل ایک عام پیش کرتے ہیں جس میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق یوم تقریر سے پیشتر جو لکھا گیا ہے اس کا منجانب اللہ بنیاد رکھا جانا بتایا ہے۔ دوم ١٣ جون والے بدر میں جو لفظ ”مشیت ایزدی“ ہے اس سے مولوی صاحب اس اشتہار کا بحکم خداوندی دیا جانا ثابت کرتے ہیں۔ جو یہ بھی درست نہیں مشیت ایزدی کو تو رضا الٰہی بھی مستلزم نہیں۔ چہ جائیکہ وہ بحکم خداوندی ہو۔ مولوی صاحب نے ترک اسلام کے ص ٣٥ پر مشیت اللہ کے متعلق یہ تحریر فرمایا ہے کہ :
”مشیت اللہ خدا کے قانون مجریہ کا نام ہے۔ جو خدا کی رضا کو مستلزم نہیں۔“ ص ٣٥ اور ہم بلند آواز سے کہتے ہیں کہ زانی زنا کرتا ہے تو اس کی مشیت سے کرتا ہے چور چوری کرتا ہے تو اس کے قانون سے کرتا ہے۔“
پھر میں نہیں سمجھتا کہ مشیت ایزدی کو رضا الٰہی کا لازم نہ ہونا مان کر بھی صرف لفظ مشیت ایزدی سے اپنا دعویٰ ثابت کر دیا جائے کہ یہ اشتہار بحکم خداوندی تھا مشیت ایزدی سے تو زنا اور چوری بھی منسوب ہو سکتی ہے۔ اگر مرزا صاحب کے اشتہار مشیت ایزدی سے دیا جانا لکھا ہے تو اس کو رضا الٰہی کیوں سمجھ لیا گیا۔ والسلام!
اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ ڈائری مورخہ ٢٥ اپریل مرزا قادیانی کے اشتہار ١٥ اپریل والے کے متعلق ہے تو بے شک اس میں مولوی صاحب سچے ہوں گے اور میں جھوٹا ہوں۔ کیونکہ جب خدا نے ہی اشتہار اپنے حکم سے دلوایا اور پھر اس کے متعلق منظوری کا
١٦
اعلان بھی کر دیا تو ایسی صورت میں مرزا صاحب ہی کا معاذ اللہ ١؎ جھوٹا ہونا لازم آتا ہے۔
پس نہ تو بدر مورخہ ٢٥ اپریل سے یہ ثابت ہوا کہ وہ ١٥ اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی تھا نہ ١٣ جون کے لفظ مشیت سے یہ مدعا نکلا کیونکہ مشیت میں رضاء الہی کی ضرورت نہیں تو پھر حکم کیسا؟۔ دوسرا دعویٰ کہ اس کی قبولیت کا الہام ہو چکا تھا نہ ہی مرزا قادیانی کی اس ڈائری مندرجہ بدر مورخہ ٢٥ اپریل سے ثابت کیا گیا ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ : ”اجیب دعوۃ ۔“ پس خدا نے دعا قبول فرمالی۔ گویا اب مکمل تعمیل ہو گئی۔ پہلے تو خدا کے حکم سے اشتہار دیا پھر خدا نے دعا مندرجہ اشتہار کی قبولیت کا الہام بھی کر دیا۔ فیصلہ شد۔ مگر میں اس کو سراسر واقعات کے خلاف ثابت کرتا ہوں۔
(١)............. یہ تمام مغالطہ مولوی صاحب کو اس ڈائری کے ٢٥ اپریل والے بدر میں شائع ہونے سے پیدا ہوا ہے جو کہ دراصل ٢٥ اپریل کی نہیں اس لئے ٢٥ اپریل کے بدر میں جو تقریر مرزا قادیانی کی ڈائری سے مولوی صاحب نے اپنے استدلال میں پیش کی ہے وہ دراصل ٢٥ اپریل کی نہیں بلکہ ١٤ اپریل کی ہے جو اشتہار سے ایک روز پیشتر کی ہے جس حالت میں کہ اشتہار اس تقریر سے پہلے لکھا ہی نہیں گیا تھا تو اس کی نسبت تقریر ایک روز پہلے کی ہے۔ کیونکر ہو سکتی ہے۔ اشتہار ١٥ اپریل کو ہی لکھا اور ١٨ اپریل کو شائع کیا۔ ڈائری مذکور ١٤ اپریل کی اور الہام مذکور ١٣ اور ١٤ اپریل کی درمیانی شب کا ہے تو گویا نہ الہام کے وقت نہ اس تقریر کے وقت جو ١٤ اپریل بعد عصر کے ہے۔ یہ اشتہار لکھا تو پھر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس تقریر کا تعلق اس تحریر سے ہے جو تقریر سے ایک روز اور الہام سے قریباً دو روز بعد کہی گئی۔ باقی میں دوسرے پرچہ میں لکھوں گا۔ مولوی صاحب نے جو دلائل علاوہ ازیں لکھے ہوں وہ بھی لکھ دیں۔ کیونکہ مجھے پھر بجز دوسرے پرچہ کے جواب کا موقعہ ان کے متعلق نہیں ہو سکتا۔
(قاسم علی ٧ اپریل ١٢ء)
١؎ ابھی معاذ اللہ باقی ہے۔ (منیجر)
١٧
پرچہ مدعی نمبر ٢
یعنی ثنائی پرچہ نمبر ٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم ، نحمدہ و نصلی! جناب منصف صاحبان و منشی قاسم علی صاحب میری تمہید کو آپ نے بے تعلق بتلایا۔ حالانکہ وہ ایک عام قانون کی شکل میں تھی جس کے پیچھے تمام دنیا کی جزئیات داخل ہوا کرتی ہیں۔ یہ طریقہ قانون اور شریعت دونوں میں مروج ہے۔ بہر حال جو کچھ آپ سے بن پڑا کہا۔ آپ نے زور دیا کہ ٢٥ کے بدر میں ١٤ تاریخ کی ڈائری ہے مگر میرے مخاطب صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ ثناء اللہ کی بابت جو لکھا گیا جس کی قبولیت کا جناب باری تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے وعدہ فرمایا تھا اس کا نشان نہیں دیا۔ میرے مخاطب کا فرض تھا کہ ١٤ تاریخ کی ڈائری والا مضمون بتلاتے۔ ان ڈائری نویسوں کا تو یہ حال ہے کہ ١٤ تاریخ کی ڈائری لکھ کر صفحہ ٨ پر ١١ تاریخ کی لکھ دی۔ اگر دنیا میں کوئی مقام ایسا ہے کہ ١٥ اور ١٤ تاریخ کے بعد ١١ آتی ہو تو یہ بھی علی الترتیب ہو سکتی ہے۔ میں بتاتا ہوں کہ اشتہاروں کے لکھنے کا اور اشاعت کا طریق کیا ہوتا ہے ١٥ تاریخ کا اشتہار ہے اور ١٧ تاریخ کے الحکم میں شائع ہوتا ہے۔ اخباروں کے مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ اخبار ہندوستان وطن وغیرہ کی تاریخ اشاعت جمعہ ہے مگر عموماً جمعرات کو پہنچ جاتے ہیں۔ لہٰذا ١٧ تاریخ کے الحکم کو ایک روز آنے میں دیر ہوئی ہو گی یہ سب ڈائری ملا کر ١٤ کی ڈائری اسی اخبار الحکم میں لکھی گئی ہو گی اور وہ مرزا قادیانی کی لکھی ہوئی ہے۔ بھلا خود فرمائیے کہ ١٥ کا اشتہار کتابت کب ہوا۔ پریس میں کب گیا اور پھر کب چھپ کر تیار ہوا؟۔
١٨ تاریخ والا اخبار کم سے کم ١٦ تاریخ کو لکھا جاتا ہے۔ خصوصاً جناب مرزا قادیانی کی طرز تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ جناب ممدوح اپنے مسودوں کو دو دو چار چار مہینے پہلے لکھا کرتے تھے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پیغام صلح جو لاہور میں ان کے انتقال کے بعد پڑھا گیا تھا۔
١٨
خواجہ کمال الدین کو چند متفرق یاداشتوں کی صورت میں نوٹ ملے تھے۔ علاوہ اس کے جناب موصوف کی یہ بھی عادت تھی کہ مضمون میں بہت کچھ ردوبدل کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ پتھر پر بھی کانٹ چھانٹ کرتے تھے۔ پریس کا تجربہ رکھنے والے اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ مصنف کی عبارت کی نوعیت اسوقت تک نہیں بدلتی جبتک کہ کاٹا چھانٹا نہ جائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ مشیت اللہ سے تمام کاروبار ہوتے ہیں۔ چوری کرنا، زنا وغیرہ سب پر ہوتا ہے تو کس طرح استدلال کر سکتے ہو۔ میرے دوست خط کے الفاظ سامنے ہیں۔ میں اپنے خط کا مختصر مضمون پہلے سناتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے اشتہار دیا تھا کہ میں نے کتاب حقیقت الوحی لکھی ہے۔ اس میں مباہلہ کے لئے تمام عالموں کو دعوت دی ہے اور شرائط مفصل لکھی ہیں۔ جس کو وہ کتاب نہ ملی ہو وہ منگوالے۔ چونکہ اس میں میرا ذکر بھی تھا۔ اس لئے میں نے عریضہ لکھا کہ کتاب مذکورہ بھیجئے تاکہ حسب منشاء آپ کے مباہلہ کی تیاری کروں۔ اس خط کا جواب آیا کہ آپ کا رجسٹری شدہ کارڈ ٣ جون ١٩٠٧ء کو حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پہنچا...... ...... یہ الفاظ مفتی محمد صادق صاحب کے بحیثیت سررشتہ دار مرزا قادیانی کے ہیں۔ گو میرے دوست نے یہ کھلے لفظوں میں نہیں کہا کہ یہ خط مفتی صاحب کا ہے مرزا قادیانی کا نہیں لیکن بطور پیشین بندی کہتا ہوں کہ خط مذکور بطور سر رشتہ داری کے ہے۔ ورنہ میرے مخاطب تو مرزا قادیانی تھے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
”آپ کا خط حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پہنچا جس کے جواب میں آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کی طرف حقیقت الوحی بھیجنے کا ارادہ اسوقت ظاہر کیا گیا تھا جس وقت مباہلہ کے واسطے لکھا گیا تھا۔ تاکہ مباہلہ سے پہلے پڑھ لیتے مگر چونکہ آپ نے اپنے واسطے تعین عذاب کی خواہش ظاہر کی اور بغیر اس کے مباہلہ سے انکار کر کے اپنے لئے فرار کی راہ نکالی اس واسطے مشیت ایزدی نے آپ کو اور راہ سے پکڑا اور حضرت حجتہ اللہ مرزا قادیانی کے قلب میں آپ کے واسطے ایک دعا کی تحریک کی اور دوسرا طریق اختیار کیا۔“
منشی صاحب اس تحریک کو جو مشیت خداوندی نے مرزا قادیانی کے دل میں ہوئی
١٩
دنیا کی دوسری باتوں سے مشابہت دیتے ہیں میں ایسا کرتا تو مجھ سے بدتہذیبی کی وجہ سے معافی منگائی جاتی۔
میرے دوست ! ایک ایسا بزرگ اور مدعی جس کا دعویٰ ہے : ” انا خاتم الاولياء لا ولی بعدی ، “ میں خاتم الاولیاء ولیوں کا ختم کرنے والا ہوں۔ میرے بعد کوئی ولی نہ ہوگا۔ (خطبہ الہامیہ ص ٧٠ ، خزائن ج ١٦ ص ٧٠ ) جس کا یہ دعویٰ ہے کہ میرا قدم ایسے منارے پر ہے جس پر سب بلندیاں ختم ہو چکیں۔ (خطبہ الہامیہ ص ٣٥ ، خزائن ج ١٦ ص ٧٠ ) جس کا یہ دعویٰ ہو کہ میرے مقابل کسی قدم کو قرار نہیں۔ جس کا یہ دعویٰ ہو کہ دعا کا قبول ہونا اول علامت اولیاء اللہ سے ہے۔ (تریاق القلوب ص ٣٣، خزائن ج ١٥ ص ١٧١) اس کی دعا کو جو خدا کی تحریک سے اس کے دل میں پیدا ہو۔ آپ دنیا کی دیگر بدکاریوں سے مشابہت دیتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا کیا جواب ہو سکتا ہے خیر میں اس کا جواب اسلامی لٹریچر سے دیتا ہوں۔ انبیاء علیہم السلام کے دلوں میں جو خدا کی طرف سے کسی مذہبی فیصلہ کے لئے تحریک ہوتی ہے تو وہ وحی الہی سے ہوتی ہے۔ یہی معنے ان کے معصوم اور بے گناہ ہونے کے ہیں۔ اس مضمون کے ثابت کرنے کیلئے میں نے تمہید بیان کی تھی۔ جس کو آپ نے بے تعلق کہہ کر چھوڑ دیا۔ اگر آپ نے کتاب صحیح بخاری پڑھی ہوتی تو آپ تصدیق کرتے کہ عمومات قرآنیہ اور حدیثیہ سے مسائل کا ثبوت کیسے دیا جاتا ہے۔ جناب مرزا قادیانی بھی اس طریق استدلال کو اپنی تصانیف میں عموماً استعمال کرتے ہیں جہاں کہیں قرآن شریف میں ذکر آتا ہے کہ ہم نے پہلے کسی آدمی کیلئے ہمیشگی نہیں کی۔ کسی آدمی کے بغیر کھانے پینے کے پیدا نہیں کیا تو مرزا قادیانی فوراً حضرت مسیح کی موت کا ثبوت دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس طریق کا استدلال کرنا پرانا معقولی اور اصولی طریقہ ہے کیا آپ کو یاد نہیں امرت سر کے مباحثہ عیسائیاں میں مرزا قادیانی کے دلائل کی نوعیت کیا تھی؟۔ یہی کہ عام حالت حضرات انبیاء علیہم السلام کی جو قرآن شریف میں بیان کی گئی ہے جس میں حضرت مسیح کا کوئی خاص ذکر نہیں بطور اصول موضوعہ لے کر جناب مسیح علیہ السلام کی اولوہیت کو
٢٠
باطل کیا۔ بہر حال اسلامی لٹریچر سے واقف اور سننے والے ان الفاظ کو سنتے ہی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ ایک مامور کے دل میں منجانب اللہ تحریک ہونا یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے کہ کفر اور اسلام کے متعلق فیصلہ متحدیانہ کا چیلنج دینا بغیر وحی خدا اور الہام کے نہیں ہوتا۔ یہی مضمون آیت کریمہ :" لو تقول علینا بعض الاقاویل ۔" کا ہے۔ میں نے آیت قرآنیہ کے علاوہ مرزا قادیانی کا الہام بالفاظ قرآن بھی لکھوایا تھا کہ جناب موصوف کو کئی ایک مقامات پر الہام ہوا ہے :" ما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحیٰ ٠" (تذکرہ ص ٣٧٨ طبع سوم ) جس کا مطلب میں نے صاف لفظوں میں بتلایا تھا کہ جناب مرزا قادیانی کی نسبت بقول ان کے خدا فرماتا ہے کہ مرزا قادیانی بغیر وحی کے نہیں بولتے۔ اس آیت اور الہام کی تفسیر بتلانے میں میں نے دینی معاملہ کا لفظ بڑھایا تھا کیونکہ انبیاء علیہم السلام اور ماموران باری تعالیٰ کو اپنی ضروریات طبعیہ میں بولنے کے لئے وحی یا الہام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دینی معاملہ میں بغیر وحی کے نہیں بولتے۔ خصوصاً کسی ایسے معاملہ کی نسبت جو اشد مخالفوں کے سامنے بطور فیصلہ ظاہر کیا جائے۔ مرزا قادیانی مجھ کو اپنے مخالفوں میں بڑھا ہوا مخالف خیال کرتے ہیں۔
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٠، خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٢)
دوستو! خود ہی غور کرو مثنیٰ و فرادا غور کرو۔ خلوت اور جلوت میں غور کرو۔ ایک ایسے اشد مخالف کے مقابلہ میں ایک مامور خدا فیصلہ کی صورت شائع کرتا ہے اور اس کی بابت قرار کرتا ہے کہ مشیت ایزدی سے یہ تحریک میرے دل میں ہوئی۔ اس کو آج منشی قاسم علی صاحب دنیا کے دیگر واقعات مثلاً زنا، چوری وغیرہ سے تشبیہ دیتے ہیں ہمارے ثانی پریذیڈنٹ خصوصاً اس خیال کو ملحوظ رکھیں۔ شروع میں آپ نے عجیب منطق سے کام لیا ہے۔ آپ لکھتے ہیں ایسا ہونا چاہئے تھا کہ مرزا قادیانی کو پروردگار حکم دیتا کہ ہمارے حضور میں درخواست پیش کرو۔
پیغمبر اسلام علیہ السلام کی جتنی پیشگوئیاں موجود ہیں جن کو آپ بھی کفر و اسلام کے مباحثہ میں پیش کیا کرتے ہیں کیا کوئی ایسی آیت حدیث دکھا سکتے ہیں کہ نبی علیہ السلام کو
٢١
حکم ہوا ہو کہ تم میرے سامنے درخواست پیش کرو۔ درخواست کی ضرورت ہے تو آپ اٹھتے ہی اس آیت کی تفسیر کر دیجئے جس میں روم (سلطنت روما) کے مغلوب ہونے اور مغلوب کے بعد غالب ہونے کی پیشگوئی مذکور ہے کیا یہ پیشگوئی قرآنی فیصلہ نہ تھا۔ جناب پیغمبر خدا علیہ السلام نے بدر کی لڑائی میں فرمایا تھا کہ ابو جہل یہاں گریگا۔ فلاں وہاں گریگا۔ کیا اس کے لئے کوئی درخواست تھی؟۔ دوسرا یہ کہ بقول آپ کے ایسا ہوتا کہ :"اشتہار مورخہ ٥ اپریل میں (مرزا) نے حسب الحکم خدا شائع کیا۔" خدا کا شکر ہے کہ صدارت کی کرسی پر تینوں صاحب ذی علم و صاحب فضل ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ علم بیان میں ایک مضمون مختلف عبارات اور مختلف اشاروں سے ادا کیا جاتا ہے۔ مضمون ادا کرنے والے کو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ تم نے اس طریق سے کیوں ادا نہیں کیا۔ ایک مضمون مختلف الفاظ میں ادا ہو سکتا ہے۔ میرے پیش کردہ حوالوں کو غور سے ملاحظہ کر کے انصاف کریں کہ ان الفاظ سے منجانب اللہ ہونا پایا جاتا ہے یا نہیں :
ابو الوفا ثناء اللہ بقلم خود!
پرچہ مدعاعلیہ نمبر ٢
یعنی قاسم علی پرچہ دوم
عالیجناب پریذیڈنٹ صاحب و میر مجلسان و مولوی صاحب : آپ کا دعویٰ جو بحروف جلی ایک بورڈ کے اوپر لکھ کر سامنے لگا دیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزا قادیانی نے دیا تھا۔ دوسرا دعویٰ خدا نے الہامی طور پر جواب دیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعا قبول فرمالی۔ یہی دعویٰ آپ نے اپنے پہلے پرچہ میں پہلے ہی صفحہ پر تحریر فرمایا ہے۔ اس کے ثبوت میں آپ کی طرف سے جو علم بیان کے قاعدہ ہے یا آپ کے کسی خاص قانون سے اس طریق سے ایسے خاص دعویٰ کا استدلال بھی ہو کر ثابت کیا جاسکتا
٢٢
ہے اور عدالت اس قسم کے دلائل پر ہی غور کر کے آپ کے دعویٰ کو ثابت شدہ تسلیم کرنے کے بعد ٢٠٠ پونڈ یا ٣٠٠٠ روپیہ آپ کو دے سکتی ہے تو میرے خیال میں کسی قانون شہادت وغیرہ کی بھی گورنمنٹ کو ضرورت نہیں رہنی چاہئے۔ یہ ایک بدیہی بات آپ کے سامنے پیش کی گئی ہے کہ اشتہار ٥ اپریل والا ٧ اپریل کے الحکم اور ٨ اپریل کے بدر میں شائع ہوا اور اس اشتہار کے نیچے دونوں اخباروں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں۔ مرقومہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء اگر اس اشتہار کو ٥ اپریل سے اول کا سمجھا جاتا تو ایک امر واقعہ کے مقابلہ میں اس کے سامنے کوئی قیاسی دلائل پیش نہیں ہونے چاہئیں۔ اس اشتہار کے بحکم خداوندی دینے پر آپ نے ٢٥ اپریل کے بدر کی ڈائری پیش فرما کر یہ ثابت کرنا چاہا کہ تحریر اشتہار سے تقریر ٢٥۔ اپریل چونکہ بعد کی ہے اسلئے ثابت ہوا کہ اس تقریر کا تعلق اسی ٢٥ اپریل والے اشتہار سے ہے دوسری دلیل اس کے بحکم خداوندی ہونے کی آپ نے ١٣ جون کے اخبار بدر کے ایک فقرہ سے جس میں مشیئت ایزدی سے اس دعا کا حضرت مرزا قادیانی کے قلب میں آنا لکھا ہے۔ محض ایک لفظ مشیئت پر آپ اس کو بحکم خداوندی فرماتے ہیں حالانکہ لفظ مشیئت آپ کے مسلمہ معنوں کے لحاظ سے جن کی تشریح آپ نے اپنی کتاب ترک اسلام بجواب دھرم پال میں یہ کی تھی کہ مشیئت ایزدی کے لئے خدا کی رضامندی کا ہونا ضروری نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے ارادہ اور مشیئت سے ہو رہا ہے۔ زانی زنا کرتا ہے۔ چور چوری کرتا ہے تو بھی خدا کی مشیئت سے کرتا ہے۔ یہ آپ کی تشریح مشیئت کے متعلق بروئے شرط نمبر ١٤۔ آپ کے مسلمات سے کی گئی۔ جس کو آپ نے ہماری مسلمہ کہہ کر فرمایا کہ مرزا قادیانی کے اشتہار اور الہام کو میں زنا اور چوری کے ساتھ مشابہت دیتا ہوں۔ حالانکہ یہ مرزا قادیانی کے الہام وغیرہ کے متعلق نہیں بلکہ آپ نے جو مشیئت کے لفظ سے اپنا یہ دعویٰ کہ اشتہار بحکم خداوندی دیا تھا ثابت کرنا چاہا۔ اس کے باطل کرنے کے لئے میں نے آپ کو توجہ دلائی کہ مشیئت کے واسطے تو رضامندی الٰہی بھی ضروری نہیں۔ چہ جائیکہ اسے حکم خداوندی کہا جائے۔ ڈائری کے متعلق آپ نے جو اعتراض فرمایا ہے کہ وہ غیر مسلسل ہے
٢٣
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ ڈائری کسی پٹواری یا گرداور قانون گو یا نائب تحصیلدار بندوبست کی نہیں ہے کہ جس نے ٹریول (سفر) کر کے ٹریولنگ الاؤنس حاصل کرنا ہو یہ ڈائری ایک ریفارمر کی ہے۔ یہ ڈائری ایک قوم کے پیشوا کی ہے جس کی قوم کو اس کی تقریروں اور تحریروں کا پہنچانا سب سے بڑا ضروری فرض ان آرگنوں کا ہے جو اس کے مشن والوں کی طرف سے شائع ہوتے ہیں۔ وہ لوگ مختلف ڈائریوں کو جس کو اس کے مختلف مرید مختلف تاریخوں میں لکھتے تھے اور جب کبھی اخبار والوں کو دیتے تھے تب ہی وہ اس کو شائع کر دیتے تھے۔ بس انکا صرف کام یہ تھا کہ جس تاریخ کو کوئی ڈائری ہو۔ کوئی تقریر ہو اس تاریخ کو اول میں لکھ دیں۔ یہ خاص اسی اخبار میں نہیں بلکہ اگلے اور پچھلے پرچوں میں بھی اندراج ڈائری کا ایسا ہی سلسلہ رہا ہے خود ٢٥ اپریل کے بدر میں صفحہ ٤ کے اوپر ایک ڈائری شروع ہوئی جو اس ٢١ اپریل کی ہے اور پھر صفحہ ٧ پر ١٥ اپریل کی ڈائری شروع ہوئی ہے تو آپ کے اس اعتراض کا کہ ٢١ کے بعد ١٥ آ سکتی ہے؟ جواب دینا ایک ایسے شخص کیلئے کہ جو اپنا دستور نہ صرف آپ کی وجہ سے بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہی جانتا ہے ضروری نہیں۔ ٩ مئی کے بدر میں صفحہ پر بقیہ ڈائری ٢٥ اپریل کی شروع ہوئی ہے اور وہ ١١ اپریل کی ہے مگر اس کے صفحہ ٥ پر اپریل کے بعد ٢٠ مارچ کی ڈائری شروع ہوئی ہے تو کیا اپریل کے بعد مارچ آیا کرتا ہے؟۔ پس ڈائری کا غیر مسلسل ہونا آپ کے اثبات دعویٰ کے واسطے موجود دستور کے مطابق کوئی مفید نہیں ہو سکتا۔ پس اشتہار ١٥ اپریل کو لکھا گیا۔ ١٧‘ ١٨ اپریل کو شائع ہوا۔ اور یہ ڈائری ١٤ اپریل کی ہے جس کو اشتہار مذکور سے عقلاً یا قانوناً شرعاً کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک فیکٹ ہے‘ ہو گا‘ یا ہو گی۔ یا مرزا قادیانی کا یہ دستور تھا کہ پہلے ہی لکھ لیتے تھے یا پتھروں پر کاٹ دیتے تھے وہ کچھ کرتے تھے۔ موجودہ دعویٰ جس دستاویز کی بنا پر آپ ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ مشکوک یا جعلی نہیں ہے۔ الہام جو اس ڈائری میں درج ہے : ” اجیب دعوۃ الداع . “ جس کی بنا پر آپ اس دعا اشتہار والی کو قبول شدہ یا وعدہ قبولیت قرار دیتے ہیں۔ یہ الہام ٧ اپریل کے الحکم اور ١٨
٢٤
اپریل کے بدر کے ص ٢، ٣ پر ١٤ تاریخ کو ہو چکا ہو لکھا گیا ہے۔ پس ١٤ تاریخ کو جب الہام کا ہوتا بدرالحکم میں شائع ہو چکا ہے۔ اس کو ١٥ تاریخ کے کاغذ کے متعلق قرار دینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔
جناب پریذیڈنٹ و مولوی صاحب ! یہ اشتہار جو اس وقت متنازعہ ہے۔ اس کی اصلیت کیا ہے ؟ ۔ اس کی اصلیت خود اشتہار کے اندر لکھی ہوئی ہے اور وہ الفاظ میں ہے کہ یہ کسی وحی یا الہام کی بنا پر پیشگوئی نہیں بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔ یہ ایک درخواست ہے۔ یہ ایک استغاثہ ہے۔ ایک فریق کی طرف سے دوسرے فریق کے خلاف، تمام حاکموں کے حاکم کے حضور اور اس سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔ یہ کوئی قطعی فیصلہ نہیں۔ یہ کسی حکم الٰہی کے ماتحت نہیں۔ یہ کسی الہام کی بنا پر نہیں بلکہ ایک شخص جو اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا ہے وہ عدالت میں داد خواہ ہوتا ہے۔ یہ امر کہ اشتہار مذکور الہامی نہیں۔ آپ نے ٢٦ اپریل ١٩٠٧ء کے اہل حدیث میں خود بھی تسلیم کیا ہے کہ اس مضمون کو بطور الہام کے شائع نہیں کیا جو اسی اشتہار کے جواب میں ہے۔ پس اس اشتہار کی حیثیت ایک استغاثہ یا عرضی دعویٰ کی ہے۔ اس اشتہار میں جو استدعا کی گئی ہے جس کو آپ نے صورت فیصلہ سے نامزد کیا ہے اس کے متعلق اور اس دعا کے متعلق ٢٦ اپریل ١٩٠٧ء کے اہلحدیث میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ تمہاری یہ دعا کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اس کو منظور کر سکتا ہے۔ یہ امور میں نے محض اس لئے لکھائے ہیں کہ آپ نے بارہا مرزا صاحب کی قبولیت دعا کے متعلق بڑا زور دیا ہے۔ ورنہ نفس مقدمہ متنازعہ سے اس کو چنداں تعلق نہیں۔ مرزا صاحب نے جب خود درخواست مذکور میں ہی لکھ دیا ہے کہ یہ الہام یا وحی جس کو آپ حکم یا الہامی نام سے تعبیر فرماتے ہیں کسی بنا پر نہیں۔ ادھر ٢٥ اپریل والے اخبار کی ڈائری اشتہار سے ایک روز پہلے کی ادھر خود ٢٦ اپریل ١٩٠٧ء کے اہل حدیث میں آپ نے بھی اس کو غیر الہامی مان لیا ہے پھر کیونکر یہ دعویٰ ثابت ہو سکتا ہے کہ اشتہار مذکور بحکم خداوندی تھا جس کو آپ ٢٥
الہام کے معنوں میں لیتے ہیں۔ جیسا کہ ٩ فروری ١٩١٢ء کے اخبار اہل حدیث میں ص ٧ کالم ٣ پر آپ نے یہ لکھا ہے۔ مرزا قادیانی کو خدا نے الہام کیا کہ امت مرحومہ کو ایک واضح راستہ دکھاؤ۔ اس لئے مرزا قادیانی نے بحکم خداوندی ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو ایک اشتہار دیا۔ پس الہام کی بنا پر یہ اشتہار دیا گیا نہ کوئی الہام اس اشتہار والی دعا کی قبولیت کا پہلے یا پیچھے ہوا۔ آپ نے ایک بات فرمائی ہے کہ ڈائری میں چونکہ کسی پہلی تحریر کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے تو مجھ سے آپ اس تحریر کا پتہ دریافت فرماتے ہیں کہ بجز اس اشتہار کے وہ کونسی تحریر ہے جس کے متعلق ١٥ اپریل والی ڈائری میں یہ لکھا ہے کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے ہماری طرف سے نہیں بلکہ اس کی بنیاد خدا کی طرف سے رکھی گئی ہے۔ جناب مولوی صاحب آپ خود اس تحریر کو لکھواتے ہیں اور پھر مجھ سے دریافت فرماتے ہیں۔ غالباً جناب پریذیڈنٹ صاحبان! یہ ڈائری جیسا کہ دستاویزات سے ثابت شدہ ہے کہ ١٤ اپریل ١٩٠٧ء وقت عصر کی ہے اور اس میں کسی تحریر کا ذکر ہے۔ جو مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق لکھی گئی ہو اور یہ بھی ثابت شدہ ہے کہ اشتہار متنازعہ ١٥ اپریل کو لکھا گیا اور ١٨ اپریل ١٩٠٧ء کو ڈاک خانہ میں ڈالا گیا۔ ان اخبارات میں جو ١٧ یا ١٨ کو شائع ہوئے یہ تو دستاویز کا ثبوت ہے۔ اس کے مقابلہ میں آپ کے محض قیاس کو ایسا ہوا ہو گا یا یہ بات ہو گی آپ کے دعوے کو ثابت نہیں کرتے۔ ہاں میں آپ کو بتلادوں کہ وہ تحریر جو ١٤ اپریل والی ڈائری سے آپ کے متعلق پہلے شائع کی جا چکی تھی وہ وہی ہے جو آپ نے اہلحدیث مورخہ ١٩ اپریل ١٩٠٧ء میں نقل فرمائی ہے جو مرزا قادیانی کی طرف سے ١٤۔ اپریل ١٩٠٧ء کے بدر میں شائع ہو چکی اور نیز حقیقت الوحی میں بھی آپ کے متعلق ١٤ اپریل سے پہلے چند امور لکھے جا چکے تھے۔ پس یہ ڈائری ان تحریروں سے تعلق رکھتی ہے نہ کہ اس تحریر سے جو ڈائری کے بعد کی ہو۔ اور وہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء والا اشتہار ہے۔ آپ نے ایک دلیل اور بھی اس اشتہار کی قبولیت کے متعلق پیش کی ہے جو ایک خاص مقدمہ کے بارے میں مرزا قادیانی کو ہوا تھا۔ اور وہ شحنہ حق ص ٤٣ اور حقیقت الوحی ص ٥٣ وغیرہ کتابوں میں موجود ہے۔ جس میں لکھا ہے کہ ایک زمیندار کے
٢٦
مقدمہ میں جو شریکوں کیساتھ تھا میں نے دعا کی کہ مجھے خدایا اس میں فتح دے تو خدا نے جواب دیا : ”اجیب کل دعائك الا فی شرکائك ، “ میں تیری سب باتیں مانوں گا مگر شریکوں کے بارہ میں نہیں سنوں گا۔ یہ الہام ایک خاص مقدمہ کے متعلق ہے اور مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت سے بہت پہلے کا ہے۔ اس میں شریکوں کے خلاف دعا قبول کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ اگر یہ الہام عام ہوتا تو چاہیئے تھا کہ شریکوں کے متعلق بھی آئندہ کوئی دعا قبول نہ کی جاتی۔ جیسا کہ دیوار کے مقدمہ میں جو شریکوں کے ساتھ تھا یہ دعا کی گئی کہ مجھے اس میں فتح ہو ۔ تو وہ دعا قبول ہوئی جس کے لئے بڑا لمبا الہام ہوا جو حقیقت الوحی کے ص ٢٦٦‘ ٢٦٧ پر درج ہے اور مرزا صاحب اس میں کامیاب ہوئے۔ پس اگر وہ الہام جو شریکوں کے متعلق تھا عام ہوتا تو مرزا صاحب اس حکم الٰہی کے خلاف شریکوں کے مقدمہ میں ہی کیوں شریکوں کے خلاف دعا کرتے اور کیوں خدا تعالیٰ اس دعا کو قبول کرتا۔ پس نہ وہ الہام عام تھا۔ نہ وہ آپ کے اس دعویٰ کے متعلق کہ ١٥ اپریل والے اشتہار کی دعا قبول کی گئی اور نہ اس سے یہ دعویٰ ثابت کہ ١٥ اپریل والا اشتہار بحکم خداوندی دیا تھا اور نہ اس دعا کی قبولیت کا الہامی وعدہ ہو چکا تھا۔ دعویٰ آپ کا اس دعا کے متعلق ہے جو ١٥ اپریل والے اشتہار میں مرزا صاحب نے شائع کی ہے کہ وہ قبول ہو گئی اور اس کی قبولیت کا خدا نے الہام کیا۔ پس یہ دعویٰ اس الہام سے جو شرکاء کے متعلق اور ایک خاص مقدمہ سے تعلق رکھتا ہے جس کے خلاف ایک دوسری نظیر شرکاء کے خلاف مقدمہ فیصل ہو کر صاف بتا چکے کہ وہ وعدہ نہ دائمی تھا نہ عام۔ ورنہ خدا دعا کیوں قبول کرتا اور کیوں پھر مرزا صاحب شرکاء کے خلاف دعا ہی کرتے۔ مرزا صاحب کا یہ مذہب نہیں ہے کہ میری تمام دعائیں قبول ہوتی ہیں اس کے لئے حقیقت الوحی ص ٣٢٠‘ ص ٣٢٧ اور رسالہ فیصلہ آسمانی مطبوعہ بار سوئم ص ١٩ اور تریاق القلوب ص ١٥١ ملاحظہ ہو جن میں صاف لکھا ہے کہ میری اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور وہ دعائیں جن کو خدا اپنی مصلحت سے میرے حق میں مفید سمجھتا ہے قبول فرماتا ہے۔
آخر میں جناب پریذیڈنٹ صاحب کی توجہ اس دعویٰ کی طرف جس کے متعلق یہ
٢٧
مباحثہ ہے۔ ولذا نہایت ادب سے عرض کرتا ہوں کہ آپ بمشورہ اپنے مشیران جو آپ کی امداد کیلئے آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں بخوبی غور فرمالیں کہ دونوں دعوے ٤ اپریل والی ڈائری اور ١٤؍١٣ اپریل والی درمیانی شب والے الہام اور مولوی صاحب کے ٢٦ اپریل والے اہل حدیث اور خود اس اشتہار کے اندرونی فقروں سے اور دستاویزات جن کا حوالہ میں نے اپنے بیان میں دیا ہے۔ ان کو ملاحظہ فرما کر فیصلہ فرما سکتے ہیں کہ کیا یہ دعویٰ ثابت ہو گئے۔ اس کے بعد جو مولوی صاحب نے بیان فرمانا ہے وہ ان ہی کی تردید ہوگی۔ کوئی نئی دلیل پیش کرنے کا ان کو حق نہ ہوگا۔ کیونکہ اب اس کے ڈیفنس کا مجھے کوئی موقعہ نہیں ملے گا۔ فقط!
عاجز قاسم علی بقلم خود ٧ اپریل ١٩١٢ء
بیان مدعی
یعنی ثنائی پرچہ نمبر ٣
جناب صدر انجمن صاحبان و برادران! دعویٰ یہ تھا کہ مرزا قادیانی کا اشتہار ٥ اپریل خدا کے حکم سے تھا یہ بات یقینی ہے کہ میں مرزا قادیانی کو مامور من اللہ نہیں سمجھتا پھر جو میں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کا اشتہار خدا کے حکم سے تھا اس کے کیا معنی؟ صاف ظاہر ہے کہ میرا یہ دعویٰ ان کے مسلمات اور خیالات پر ہے۔ پس اہل حدیث ٢٦ اپریل ١٩٠٧ء کا حوالہ دیکر منشی قاسم علی صاحب کا یہ کہنا ہے کہ میں نے خود اس اشتہار کی بابت یہ لکھا ہے کہ یہ الہام سے نہیں میرے دعوے کے کسی طرح مخالف نہیں۔ وہ لکھنا میرا اپنا مذہب ہے اور ثابت کرنا مرزا قادیانی کے خیالات کا عکس ہے۔ علاوہ اس کے ٢٠ اپریل کی تحریر لکھنے تک جو کہ یقیناً ١٨، ١٩ اپریل کو لکھی ہوگی۔ ٢٥ اپریل کا بدر میرے پاس نہیں پہنچا تھا۔ جس کی بنا پر میں نے آج دعویٰ کیا ہے۔ میرے دعویٰ کا ثبوت دو طرح پر تھا۔ ایک دلائل عامہ دوسرے دلیل خاص سے دلائل عامہ میں میں نے حضرات انبیاء کا طریق اور خصوصاً مرزا قادیانی کے عام دعویٰ اور الہامات کو بیان کیا تھا جس میں ایک آیت قرآن اور الہام ”وما ینطق عن
٢٨
الہویٰ۔ ”دوسرا : ” اجیب کل دعائک الا .................. الخ، “ اس الہام کا جواب دینے میں میرے دوست کو بہت الجھن ہوئی ہے۔
جناب پریذیڈنٹ صاحب! یہ الہام دو فقروں پر مشتمل ہے ایک مستثنیٰ دوسرا مستثنیٰ منہ مستثنیٰ میں حکم ہے تیری دعا شریکوں کے بارہ میں قبول نہ ہوگی۔ مستثنیٰ منہ کا حکم ہے۔ کہ تیری وہ تمام دعائیں جو شریکوں کے سوا اور لوگوں کے حق میں ہوں گی میں ضرور قبول کروں گا۔ اس لئے میں نے عرض کیا تھا کہ میں مرزا قادیانی کا شریک نہیں ہوں۔ آپ نے بتلایا ہے کہ ٢٥ اپریل والے بدر میں جو ٤ اپریل کی ڈائری ہے۔ اس میں جس تحریر کا آپ کے متعلق ذکر ہے وہ حقیقت الوحی میں ١٤ اپریل سے پہلے لکھی جا چکی ہے۔ اس کے متعلق ١٤ اپریل کا بدر صفحہ ٤ پیش کرتا ہوں جس میں مرزا قادیانی حقیقت الوحی کی بابت لکھتے ہیں کہ ہماری کتاب حقیقت الوحی ٢٠، ٢٥ روز تک شائع ہو جائے گی۔ اب منصف صاحب غور فرمائیں کہ جس کتاب کو ابھی شائع ہونے میں کئی روز باقی ہوں وہ ١٤ اپریل سے پہلے کیونکر شائع ہو چکی تھی۔ حقیقت الوحی کے سرورق پر مطبوعہ تاریخ اشاعت ٣٠ اپریل ١٩٠٧ء ہے مگر قلمی سرخی سے ١٥ مئی بنائی گئی ہے۔ (دیکھو خزائن ج ٢٢ ص ١) یہ تو آپ کے اس حصہ کا جواب ہے۔ اس کے علاوہ آپ نے کوشش کی ہے کہ ٢٥ اپریل کے بدر والی ڈائری میں جس تحریر کا ذکر ہے اس کا ثبوت دیں۔ اس ثبوت کیلئے آپ نے ١٤ اپریل کے بدر صفحہ ٤ کا نام لیا ہے جو میرے ہاتھ میں ہے اور منصف صاحبان مہربانی فرما کر اس کو ملاحظہ فرمائیں کہ کوئی تحریر ایسی ہے جس کو میرے متعلق کہہ سکیں؟ جس کا جواب مرزا قادیانی کو بصورت الہام یہ ملا تھا: ”اجیب دعوة الداع“ جو صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہ تحریر میری کوئی دعا کی صورت میں ہے آپ نے شروع میں یہ بھی کہا ہے کہ اس قسم کے دلائل عامہ پر ہی غور کر کے عدالت فیصلہ نہیں کرتی۔ جناب والا اس ہی کے لفظ پر غور کیجئے۔ میں نے ہی سے کام نہیں لیا۔ میں نے صرف دلائل عامہ ہی بیان نہیں کئے۔ بلکہ خاص اس امر کے متعلق بھی بیان کئے۔ آپ جو اس اشتہار کو بمنزلہ ایک استغاثہ غیر مقبول کے قرار دیتے ہیں حقیقت میں یہ
٢٩
بات مرزا قادیانی کے کل دعاوی پر پانی پھیرتی ہے۔ میں نے ریویو مئی ١٩٠٧ء کے صفحہ ١٩٢ سے حوالہ نقل کیا تھا کہ مرزا قادیانی کا بڑا معجزہ قبولیت دعا ہی ہے اور یہ ایسا معجزہ ہے کہ وہ اس معجزہ کے مقابلے کیلئے ہم مسلمانوں کے علاوہ تمام دنیا کے مخالفوں کو چیلنج دیتے ہیں۔ میں نے ١٣ جون کے بدر سے یہ دلیل نقل کی تھی کہ مرزا قادیانی کے دل میں خدا نے میرے متعلق دعا کرنے کی تحریک پیدا کی میرے مخاطب فرماتے ہیں کہ وہ بقول میرے مشیئت کا مفعول ہے جو دنیا کے ہر ایک واقع سے تعلق رکھتی ہے۔ مگر جناب پریذیڈنٹ صاحبان! میں نے یہ بات بالتصریح بتلائی ہے اور قرآنی حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ کوئی مامور خدا کسی ایسے فیصلے کے لئے جو اس کے مشن پر اثر ڈالتا ہو از خود اظہار نہیں کر سکتا۔ ترک اسلام میں جو میں نے لکھا ہے وہ یہ ہے کہ مشیئت خدا کے قانون کا عام ہے جو مخلوق میں جاری ہے۔ لیکن وہی قانون جب مذہبی رنگ میں انبیاء علیہم السلام کے قلوب طیبہ پر اثر کرتی ہے تو مذہبی رنگ میں ایک دلیل کا حکم رکھتی ہے۔ مثال کے لئے ہمارے خواب اور حضرات انبیاء علیہم السلام کے خوابوں میں جو فرق ہے وہی فرق ان دو مشیئتوں میں ہے جو عام حالت اور خاص قلوب انبیاء سے تعلق رکھتے ہیں۔
باقی جو آپ نے ڈائری کی بے ترتیبی کی بابت لکھا ہے مجھے اس کے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے معزز ثالث صاحبان قانون پیشہ ہیں۔ ان کے پاس اس قسم کے کئی ایک مقدمات آئے ہوں گے۔ جن میں ایسی بے ترتیب ڈائریاں پیش ہو کر فیل یا پاس ہوئی ہوں گی۔
تریاق القلوب ص ١٥١، خزائن ج ١٥ ص ٤٦٩ کا بیان مرزا قادیانی کا اپنی دعاؤں کی نسبت ہے۔ بھلا اگر ساری دعائیں مرزا قادیانی کی قبول نہ ہوتیں تو معجزہ ہی کیا تھا۔ جب کہ حقیقت الوحی باب اول دوم و سوم میں خود لکھتے ہیں کہ بعض خواب اور کشف بدکار یعنی رنڈیوں اور فاحشہ عورت کے بھی سچے ہوتے ہیں۔ فرماتے ہیں سچا وہی ہے جس کے کل سچے ہوں۔“ ہمارے معزز ثالث صاحب قانونی طور پر جانتے ہیں کہ کسی دستاویز کا سچا ہونا اس پر موقوف
٣٠
ہے کہ اس میں کوئی لفظ مشکوک نہ ہو میں نے جہاں تک سوچا ہے آپ نے میرے پیش کردہ دلائل کا جواب نہیں دیا۔ میری دلیل مختصر لفظوں میں یہ ہے انبیاء و مامور خدا کوئی ایسا فیصلہ جو مخالفوں پر حجت کا اثر رکھتا ہو اور اس کے خلاف ہونے سے ان کے دین اور مشن پر خلاف اثر پہنچتا ہو۔ بلا اذن خدا شائع نہیں کر سکتے۔
مرزا قادیانی نے جو اس اشتہار میں الہام یا وحی کی نفی کی ہے اس کی ایک وجہ تو پہلے پرچہ میں عرض کر چکا ہوں۔ دوسری وجہ وہ ہے جو صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کے ساتھ ان کا معاہدہ ہوا تھا کہ میں الہام جتا کر کسی کی موت کی پیش گوئی نہیں کروں گا۔ اس لئے انہوں نے اس اشتہار میں الہام کا نام نہیں لیا بلکہ نفی کر دی۔ ٢٥ تاریخ کے بدر میں الہام کے ساتھ اس کی تعبیر کر دی۔ تاکہ وہ اس قاعدہ سے جو انبیاء علیہم السلام کا میں نے بتلایا ہے حجت ہو سکے۔ بس اب میں ختم کر کے فیصلہ معزز ثالثوں کے سپرد کرتا ہوں۔ ابوالوفا ثناء اللہ بقلم خود!
سرپنچ کا مختصر فیصلہ
چونکہ دونوں منصفوں جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب اور منشی فرزند علی صاحب میں اختلاف رہا تو سردار چرن سنگھ صاحب بی اے پلیڈر سرپنچ کو مداخلت کا موقع ملا۔ چنانچہ جناب موصوف کا مختصر فیصلہ یہ ہے :
میری رائے ناقص میں حسب دعویٰ حضرت مرزا قادیانی :
- (١).......... ”١٥ اپریل ١٩٠٧ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزا قادیانی نے دیا
تھا۔“
- (٢).......... ”خدا نے الہامی طور پر جواب دیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعا قبول
فرمائی۔“ ٢١ اپریل ١٩١٢ء
دستخط سردار چرن سنگھ صاحب بی اے پلیڈر (بحروف انگریزی)
٣١
جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی
منصف فریق محمدی کا حلفیہ فیصلہ
باسمہٖ
فیصلہ حلفی خاکسار (ابراہیم سیالکوٹی) منصف مقرر کردہ از جناب مولوی ثناء اللہ صاحب (مولوی فاضل) امرتسری مدعی :
دعویٰ نمبر ١ : اشتہار ٥ اپریل ١٩٠٧ء مرزا قادیانی نے بحکم خدا لکھا۔
دعویٰ نمبر ٢ : خدا نے دعا مندرجہ اشتہار کی قبولیت کا الہام کر دیا تھا۔
اثبات دعویٰ : بذمہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری۔ مدعی
ڈیفنس : بذمہ منشی قاسم علی صاحب دہلوی ایڈیٹر الحق دہلی۔ مدعا علیہ
مولوی صاحب مدعی نے اثبات دعویٰ میں دو قسم کے دلائل پیش کئے ہیں عام اور خاص، عام یہ کہ کوئی رسول برحق بغیر اجازت الٰہی کوئی ایسا امر اپنے مخالفین کے سامنے بطور تحدی پیش نہیں کر سکتا جو اس کے مخالفین میں صدق اور کذب کے متعلق امتیازی نشان رکھتا ہو۔ اس پر مولوی صاحب موصوف نے چند آیات قرآنی پیش کیں۔ جن میں سے ایک ایسی آیت بھی ہے جس کی نسبت مرزا قادیانی کا بھی دعویٰ ہے کہ وہ مجھے بھی الہام ہوئی ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ یہ پیغمبر اپنی خواہش سے نہیں بولتا جو کچھ بولتا ہے وہ وحی خدا ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ وہ رسول برحق ہے اور اس اشتہار ٥ اپریل ١٩٠٧ء میں طریقہ فیصلہ ایسا مذکور ہے۔ جو متحدیانہ ہے اور حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے۔ اس لئے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ مرزا قادیانی کی یہ دعا خداوند تعالیٰ کی تحریک اور محض اشارہ سے تھی۔
دیگر دلیل عام یہ بیان کی ہے کہ مرزا قادیانی نے بالخصوص اپنی دعاؤں کی قبولیت کے متعلق نہایت زور سے متحدیانہ دعویٰ کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو ریویو بابت مئی ١٩٠٧ء وغیرہ کتب جن کا مولوی صاحب نے پتہ دیا) لہٰذا یہ دعا ان دعوؤں کے سلسلہ میں جو ضرور ضرور
٣٦
مقبول ہوں۔ سب سے پہلے درجے پر ہونی چاہئے۔ کیونکہ اس کا اثر اس مشن پر پڑتا ہے جس کے لئے مرزا قادیانی مامور کئے گئے۔
دلیل خاص : جو مولوی صاحب نے بیان کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ خاص اسی دعا کی قبولیت کا الہام مرزا قادیانی کی طرف سے اخبار بدر قادیاں مورخہ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء میں طبع ہو چکا ہے جس میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ در حقیقت اس کی بنیاد خدا کی طرف سے رکھی گئی ہے۔ نیز اس اخبار مورخہ ١٣ جون ١٩٠٧ء میں جو خط مولوی ثناء اللہ صاحب مدعی کے نام طبع ہوا ہے۔ اس میں تشریح کی گئی ہے کہ اس طریق فیصلہ (١٥ اپریل ١٩٠٧ء) کے اشتہار کی دعا کی تحریک مشیت ایزدی سے ہوئی ہے۔ پس میرا یہ دعویٰ بھی ثابت ہے کہ مرزا قادیانی نے یہ دعا خدا کی تحریک سے کی اور یہ بھی کہ اس کی قبولیت کا الہام آپ کو ہو گیا تھا۔ مولوی صاحب مدعی نے اپنے اثبات دعویٰ کے ضمن میں بطور دفع دخل یہ بھی بیان کر دیا ہے کہ بیشک اس اشتہار میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ یہ پیشگوئی کسی الہام سے نہیں کی گئی۔ لیکن یہ فریق ثانی کو مفید نہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے کہ اس کلمہ میں اور ٢٥ اپریل کی ڈائری میں تعارض ہے اور تطبیق دونوں میں اس طرح ہو سکتی ہے کہ اشتہار لکھتے وقت خدا تعالیٰ نے ان پر یہ ظاہر نہیں کیا تھا۔ لیکن بعد میں الہام کر دیا چونکہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ دیگر یہ کہ چونکہ مرزا قادیانی صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں ایک خاص مقدمہ میں باضابطہ اقرار داخل کر چکے تھے کہ کسی شخص کے حق میں ڈر والا الہام ظاہر نہیں کروں گا۔ اس لئے بھی مرزا قادیانی نے نفی الہام کی مصلحت سمجھی۔ کیونکہ وہ میری موت کے متعلق تھی۔ یہ ہے خلاصہ ان کے اثبات دلائل کا۔ اب اس ڈیفنس کا خلاصہ بیان کرتے ہیں جو فریق ثانی نے پیش کیا۔
فریق ثانی یعنی منشی قاسم علی صاحب نے مولوی صاحب کی پہلی دلیل عام کا کوئی جواب نہیں دیا اور تردید نہیں کی۔ جس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ رسول برحق کبھی خدا کی اجازت کے بغیر بھی اپنے مخالفین کے ساتھ طریق فیصلہ کر سکتا ہے۔ دوسری دلیل عام کا
٣٣
جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہر دعا کی قبولیت کا نہیں ہے بلکہ اکثر دعاؤں کا ہے اور الہام: ”اجیب کل دعائك الا فی شركائك“ کا یہ جواب دیا کہ یہ خاص واقعہ کے متعلق ہے جس کے جواب میں مولوی صاحب مدعی نے کہا کہ اس کلام کے دو جز ہیں ایک مستثنیٰ منہ۔ دوسرا مستثنیٰ، مستثنیٰ منہ کلیہ ہے جس میں سے صرف اس دعا کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو مرزا قادیانی کے کنبہ کے متعلق ہو۔ اور چونکہ میں (مولوی صاحب مدعی) مرزا قادیانی کے کنبہ میں سے نہیں۔ اس لئے میرے حق میں استثنائی صورت نہیں ہوگی۔ بلکہ وہی مستثنیٰ منہ کی کلیت میرے حق والی دعا پر صادر آئے گی۔ منشی قاسم علی صاحب کے اس عذر سے ہماری تسلی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ جب مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میرا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ میری دعائیں قبول ہوتی ہیں تو یہ معجزہ ایسی دعا کی قبولیت کیلئے ضرور ظاہر ہونا چاہیے۔ جو مرزا قادیانی کی صداقت کا نشان ہے۔ یہ امر کوئی معمولی نہیں جس کی طرف سے بے پروائی کو دخل دے سکیں! اور بیشک الہام: ”اجیب کل دعائك الا فی شركائك۔“ (یعنی میں تیری ہر دعا قبول کروں گا مگر وہ جو تیرے کنبہ کے لوگوں کے حق میں ہو) سوائے استثنائی صورت کے اپنے عموم پر ہی قائم ہے اور مولوی صاحب والی دعا اس عموم میں داخل ہے۔
منشی قاسم علی صاحب نے مولوی صاحب مدعی کی پہلی دلیل خاص کا جواب یہ دیا ہے کہ ٢٥ اپریل کی بدر والی ڈائری ١٤ اپریل کی ہے اور اشتہار زیر بحث ١٥ اپریل کو لکھا گیا۔ اس لئے وہ ڈائری اس اشتہار کے متعلق نہیں ہو سکتی بلکہ وہ ان تحریرات کے متعلق ہے جو اخبار بدر مجریہ ١٤ اپریل ١٩٠٧ء اور تتمہ کتاب حقیقت الوحی ص ١٣٠، ١٣٣ پر مولوی ثناء اللہ صاحب مدعی کے حق میں درج ہیں۔ مولوی صاحب مدعی نے اس کے جواب میں کہا۔ کہ اشتہار ١٥ اپریل کی تسوید ٥ اپریل کو نہیں ہوئی۔ بلکہ یہ تو کاپی لکھنے کی تاریخ ہے۔ دوم یہ کہ ڈائری مندرجہ بدر ٢٥ اپریل میں ١٤ اپریل کی ڈائری کے بعد ١١ اپریل کی ڈائری مندرج ہے۔ پس ہم کس طرح سمجھ سکیں کہ یہ تاریخیں ترتیب وار ہیں۔ لہٰذا یہ عذر درست نہیں۔ سوم یہ کہ اخبار بدر مجریہ ١٤ اپریل ١٩٠٧ء اور حقیقت الوحی میں جو کچھ میرے متعلق لکھا ہے
٣٤
ان تحریروں میں کسی دعا کا ذکر نہیں۔ اور نہ ان کا مضمون اس اشتہار کے مضمون سے ملتا ہے۔ حالانکہ ٢٥ اپریل کے بدر کی ڈائری میں دعا کا بالتصریح ذکر ہے اور اشتہار میں بھی مضمون دعا ہی کا ہے۔ چہارم یہ کہ کتاب حقیقت الوحی کی اشاعت ١٤ اپریل تک نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ وہ اس کے بعد ہوئی جیسا کہ اس کے ٹائیٹل پیج سے ظاہر ہے کہ اس کی تاریخ اشاعت مطبوعہ الفاظ میں ٢٠ اپریل ١٩٠٧ء لکھی ہے اور پھر اسے سرخی سے کاٹ کر ١٥ مئی ١٩٠٧ء بنایا ہے۔ پس ہم یقیناً کہہ سکتے ہیں کہ حقیقت الوحی اور بدر محولہ منشی قاسم علی صاحب میں اشتہار ٥ اپریل کا مطلقاً ذکر نہیں۔ مولوی صاحب نے منشی قاسم علی صاحب کے عذر کے متعلق جو کچھ کہا ہے وہ بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اخبار مذکورہ ١٤ اپریل اور حقیقت الوحی میں کسی ایسی دعا کا ذکر نہیں جو مولوی صاحب کے حق میں ہوا اسے اخبار بدر ٢٥ اپریل والے الہام کا حوالہ اور مصداق کہہ سکیں اور کتاب حقیقت الوحی تو اس وقت تک شائع نہیں ہوئی تھی کہ مرزا قادیانی اس کا حوالہ دے سکیں۔ اس امر کی تائید ہم اس سے بھی پاتے ہیں کہ خاتمہ بحث پر جناب سردار چن سنگھ صاحب بی اے پلیڈر گورنمنٹ ایڈووکیٹ لدھیانہ نے جو بتراضی فریقین ثالث مقرر کئے گئے تھے۔ منشی قاسم علی صاحب سے سوال کیا کہ آیا آپ سوائے ١٤ اپریل کے بدر اور حقیقت الوحی کے حضرت مرزا قادیانی کی کوئی اور تحریر بھی بتلا سکتے ہیں تو انہوں نے جواب نفی میں دیا۔ مولوی صاحب نے جو یہ بیان کیا کہ ٥ اپریل کے اشتہار کا مسودہ ١٤ اپریل سے پیشتر لکھا گیا تھا یہ بھی قرین قیاس معلوم ہوتا ہے چونکہ مرزا قادیانی کے الفاظ جو ٢٥ اپریل سے پیشتر لکھا جا چکا تھا اور وہ مریدوں میں مشہور تھا۔ اس لئے مرزا قادیانی نے صرف اسی اشارہ پر کفایت کی کہ جو کچھ لکھا گیا اور ہم عام عادت بھی یہ پاتے ہیں کہ مضامین کاتب کے کاپی لکھنے سے پیشتر مکمل کر کے کاتب کو دیئے جاتے ہیں اور وہ اخص دوستوں میں طبع سے پیشتر ہی مشہور ہو جاتے ہیں۔ مولوی صاحب نے یہ بیان کیا کہ ڈائری کی تاریخیں غیر مرتب ہیں۔ اس کے جواب میں منشی قاسم علی صاحب نے کہا کہ تاریخیں صرف اسی پرچہ میں غیر مرتب نہیں ہیں بلکہ دیگر پرچوں میں بھی یہ بے ترتیبی پائی جاتی ہے
٣٥
ہماری رائے میں یہ عذر مولوی صاحب کی جرح کی تردید نہیں کرتا بلکہ اس کو تقویت دیتا ہے۔ کیونکہ ایک قصور دوسرے قصور کی تائید کرتا ہے نہ کہ تردید۔ نیز یہ کہ ١٤ اپریل اور ١١ اپریل کی غیر مرتب ڈائری ایک ہی پرچہ میں ہے مختلف پرچوں میں نہیں کہ منشی قاسم علی صاحب کی بیان کردہ وجہ کی گنجائش ہو۔ بہر حال اس سوال کے جواب کے سلسلہ میں بھی ہم مولوی صاحب مدعی کی جانب راجح پاتے ہیں۔
منشی قاسم علی صاحب نے ڈیفنس میں مولوی ثناء اللہ صاحب مدعی کی دوسری خاص دلیل کا جواب یہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنے رسالہ ترک اسلام میں لکھا ہے کہ سب کام نیک وبد خدا کی مشیت سے ہوتے ہیں۔ پس ان کے ساتھ رضا الہی ضروری نہیں۔ لہذا اگرچہ اخبار بدر میں یہ لکھا ہے کہ اس طریق فیصلہ کی تحریک خدا کی مشیت سے ہوئی لیکن ضروری نہیں کہ خدا اس پر راضی بھی تھا۔ مولوی صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ مشیت عام ہے اور ہر نیک وبد کے متعلق ہو سکتی ہے لیکن حضرات انبیاء علیہم السلام کے دلوں پر جب مشیت الہی بصورت فیصلہ اور بالخصوص ایسے امر میں نبی برحق کے مشن کے متعلق ہو۔ کوئی تحریک پیدا کرتی ہے تو وہ برنگ حکم وحی خفی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس میں نبی کے مشن کی تائید ہوتی ہے اور اس کے مخالفین کا ابطال اس کے متعلق مولوی صاحب نے علاوہ سابقہ حوالہ جات کے مرزا قادیانی کی کتاب حقیقت الوحی کا حوالہ صفحہ ٥ سے تا اخیر باب سوم۔ (دیکھو خزائن ج ٢٢ صفحہ ٧ تا ٥٨) دیا جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندے جس پر راضی ہوں خدا اس پر راضی ہوتا ہے اور جس پر خفا ہوں اس پر خفا ہوتا ہے۔ جب وہ شدت وقت میں دعا کرتے ہیں تو خدا ان کی ضرور سنتا ہے۔ اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کے آگے مرزا قادیانی نے ایک آیت لکھی ہے جو قبولیت دعا کے متعلق ہے۔ ان دلائل کا جواب فریق ثانی نے کافی نہیں دیا۔ لہذا ہم اس میں بھی مولوی صاحب سے موافقت کرتے ہیں اور علاوہ بریں یہ مستزاد کرتے ہیں کہ جب مولوی صاحب نے اخبار بدر ١٣ جون ١٩٠٧ء کے خط میں یہ حوالہ تحریک الہی والا پیش کیا تو منشی صاحب نے اپنے جواب
٣٦
میں اس حوالہ کے اشتہار مذکور زیر بحث کی نسبت ہونے سے انکار نہیں کیا۔ جس سے مولوی صاحب کے دعویٰ کو نہایت زبردست تقویت پہنچتی ہے کہ یہ اشتہار خدا کے خفیہ حکم سے لکھا گیا۔ منشی صاحب لفظ مشیت کے مطابق ہی بحث کرتے رہے جو ان کو ہرگز مفید نہیں۔ کیونکہ یہ دعا مشیت کے تحت داخل ہو کر بھی رضا الہی کو شامل ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اس دعا کا نتیجہ مرزا قادیانی کے خیال میں جو بوقت دعا تھا مرزا قادیانی کے مشن کے لئے مفید تھا اور مولوی صاحب کے خلاف۔
”لہٰذا ہم حلفیہ بیان سے خداداد علم کو کام میں لا کر اور اپنے ایمان و دین کی محکمی سے رائے دیتے ہیں کہ مولوی صاحب مدعی اپنے دعوے میں کامیاب ہیں اور فریق ثانی نے کوئی ایسا ڈیفنس پیش نہیں کیا جو ان کے دلائل کو توڑ سکے۔ واللہ علی ما نقول شہید!“
دستخط : مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی۔ (منصف) بحروف انگریزی
منشی فرزند علی صاحب منصف احمدی فریق کا بلا حلف فیصلہ
بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلى على رسوله الكريم ! میں نے اس مباحثہ کو جو مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اور میر قاسم علی صاحب احمدی دہلوی کے مابین ٧ اپریل ١٩١٢ء کو لدھیانہ میں ہوا خوب غور سے سنا۔ جو رائے میں نے اس مباحثہ کے متعلق قائم کی ہے اس کو ذیل میں بیان کرتا ہوں۔ اس مباحثہ میں دعویٰ منجانب ثناء اللہ صاحب یہ تھا کہ :
(الف) ۔۔۔۔۔۔۔ جو اشتہار ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو جناب مرزا قادیانی نے بعنوان ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ دیا خدا تعالیٰ کے حکم سے تھا۔
(ب) ۔۔۔۔۔۔۔ اس اشتہار میں جو دعا فیصلہ کے متعلق تھی اس کا جواب خدا تعالیٰ نے الہامی طور پر یہ دیا کہ ہم نے اس دعا کو منظور فرمالیا۔
شق (١) ۔۔۔۔۔۔۔ کے ثبوت میں جو موٹے موٹے دلائل مولوی ثناء اللہ صاحب
٣٧
نے دیئے وہ یہ تھے کہ :
- (١).......... حضرات انبیاء علیہم السلام کا یہ طریق نہیں تھا کہ اپنے مشن کے
متعلق کوئی متحدیانہ فیصلہ کن تجویزیں محض اپنے ارادے اور مرضی سے کریں۔
- (٢).......... ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کے اشتہار کے بعد ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء کے بدر
میں مرزا قادیانی کی طرف سے ایک تقریر اس مضمون کی شائع ہوئی کہ ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے اور رات کو جب مرزا صاحب کی توجہ اس طرف تھی تو الہام ہوا : ”اجیب دعوة الداع“ (ترجمہ : میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں ۔ )
- (٣).......... ١٣ جون ١٩٠٧ء میں ایک خط بنام مولوی ثناء اللہ صاحب درج
ہے۔ اس میں لکھا تھا کہ مشیت ایزدی نے مرزا صاحب کے قلب میں تحریک کر کے فیصلہ کی ایک اور راہ نکال دی۔
- فقرہ (١).......... نہ تو اس دعوٰی کی تائید اور وضاحت میں مولوی ثناء اللہ صاحب
نے کوئی مثالیں بیان کیں اور نہ میر قاسم علی صاحب کی طرف سے اس کا جواب دیا گیا۔
- فقرہ (٢).......... کے بیان کردہ واقعات کو اگر ہو بہو مان بھی لیا جائے تو تب بھی
صرف اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت مرزا صاحب کے اشتہار دینے پر بعد میں اظہار پسندیدگی فرمایا نہ یہ کہ اشتہار مذکور کا لکھا جانا اور شائع کیا جانا حکم خداوندی کی وجہ سے ہوا۔ جب مولوی صاحب نے خود اپنے پرچہ اہلحدیث میں تسلیم کیا کہ اشتہار مورخہ ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کے لکھتے وقت مرزا قادیانی کو خود خدا کے حکم کا علم نہ تھا۔ تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ کس طرح کہا جاتا ہے کہ اشتہار مذکور حکم خدا سے دیا گیا تھا۔
- ١۔ حکم خدا کا مطلب خود مرزا قادیانی نے بتلایا ہے کہ خدا کی طرف سے اس کی بنیاد
رکھی جاچکی ہے۔ یہی مولوی صاحب کی مراد ہے۔ (منیجر)
٣٨
فقرہ (٣).......... کی دلیل پر مولوی صاحب کی طرف سے بہت زور تھا۔ مگر جب میر قاسم علی صاحب نے دکھایا کہ جس ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء کو یعنی تاریخ اشتہار سے ایک روز پیشتر فرمائی تھی تو اس سے مولوی صاحب کی دلیل کا سارا زور ٹوٹ گیا۔ میر قاسم علی صاحب کے اس بیان پر مولوی صاحب کی طرف سے دو عذر اٹھائے گئے۔ اول یہ کہ جناب مرزا صاحب کی ڈائری یعنی روز مرہ کی تقریریں اخبار میں مسلسل بہ ترتیب تواریخ درج نہیں۔ اس لئے قابل اعتبار نہیں۔ دوم یہ کہ ١٤ اپریل ١٩٠٧ء والی تقریر ١٥ اپریل ١٩٠٧ء والے اشتہار کے متعلق نہیں تو مرزا قادیانی کی کونسی سابقہ تحریر یہ میرے متعلق تھی جس کی طرف اس تقریر میں اشارہ ہے۔
ڈائری کے متعلق جیسا کہ میر قاسم علی صاحب نے بیان کیا۔ یہ امر واقعہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی ڈائری نویسی کے لئے کوئی باقاعدہ تنخواہ دار سٹاف نہ تھا مرید لوگ اپنے شوق اور محبت سے ڈائری لکھتے تھے اور پھر جس کسی سے اور جس قدر جلد ہو سکے نقل اخبار والوں کو دے دیتے تھے۔ ڈائری کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس میں اکثر حصہ حضرت مرزا قادیانی کی ان تقریروں کا ہوتا تھا جو آپ روز مرہ کے سیر میں فرماتے تھے۔ جب کہ آپ کے ساتھ ایک ہجوم مریدوں کا ہوتا تھا۔ جس انبوہ میں رپورٹروں کے لئے کوئی خاص جگہ مختص نہ ہوتی تھی۔ جس کسی کے سننے میں جو کچھ آجاتا اسے قلمبند کر لیتا۔ میں غور کرنے سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہر ایک تاریخ کی ڈائری کو اپنی ذات میں مستقل سمجھ کر بلحاظ ترتیب تاریخ کے اخبار میں لکھ دیا جاتا تھا۔ ڈائری کے چھاپنے کی غرض ناظرین کو یہ دکھانا ہوتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب نے کیا کچھ فرمایا۔ بعض مضامین کو اپنی اہمیت اور ضرورت لحاظ سے اور بعض کو گنجائش اخبار کے لحاظ سے بہ نسبت دوسری تاریخوں کی ڈائری کے اخبار کے کالموں میں جلد تر جگہ مہیا کر دی جاتی تھی۔ بہر حال سلسلہ یہ تھا کہ ڈائری بلا ترتیب تاریخ شائع کر دیجاتی تھی۔ ایک دن کی ڈائری کو دوسری سے علیحدہ کرنے کیلئے ہر ایک روز کی ڈائری کے سر پر اس کی تاریخ لکھدی جاتی تھی۔ اگر تواریخ کی بے
٣٩
ترتیبی صرف اسی ایک پرچہ بدر میں ہوتی جس میں ١٤ اپریل ١٩٠٧ء کی ڈائری درج تھی تو البتہ اعتراض قابل غور ہوتا مگر جبکہ ہمیشہ ڈائریاں اسی بے ترتیبی کے ساتھ چھپتی تھیں تو محض اس عدم ترتیب کی بنا پر ڈائری کے اندراج ہرگز نا قابل اعتبار نہیں ٹھہرتے۔
مولوی صاحب کے دوسرے سوال کا جواب یعنی ١٤ اپریل ١٩٠٧ء کی ڈائری کی سابقہ تحریر حضرت مرزا صاحب سے متعلق تھی۔ میری رائے میں فریق ثانی کے ذمہ اس کا جواب دینا واجب نہ تھا مگر جب دیا گیا تو اس پر غور کرنا ضروری ہے۔ پس جو جواب اس سوال کا میر قاسم علی صاحب نے دیا اس کی صحت پر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ ہاں امکان تو ضرور ہے کہ جناب مرزا قادیانی کا اشارہ اس ١٤ اپریل کی ڈائری میں انہی مضامین کی طرف ہو جن کا حوالہ میر قاسم علی صاحب نے دیا ہے مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں بہم پہنچایا گیا اور میر صاحب کا بیان صرف قیاس پر مبنی تھا جو حجت نہیں ہو سکتا۔ بہر حال میری رائے میں یہ امر ظاہر ہے کہ ١٤ اپریل ١٩٠٧ء کی ڈائری کا اشارہ خواہ کسی سابق تحریر کی طرف ہو۔ ١٥ اپریل کے اشتہار کی طرف ہرگز نہیں ١؎۔ اور جب خود حضرت مرزا قادیانی اسی ١٥ اپریل کے اشتہار میں فرماتے ہیں کہ : ”یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیشگوئی نہیں۔ بلکہ محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے۔“ تو اس صریح بیان کے خلاف کوئی دعویٰ کسی طرح قائم اور ثابت ٢؎ ہو سکتا ہے؟۔
١۔ کیا ہی انصاف ہے۔ مجیب کے جواب سے مصنف صاحب کی تسلی نہیں ہوئی۔ تو خود جواب دینے کو مستعد ہوئے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ میرا منصب جواب دینا نہیں بلکہ جواب کی جانچ کرنا ہے۔
٢۔ از خود نہیں رہ سکتا مگر مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ جلد چہارم کے ص ٤٩٩‘ خزائن ج ١ ص ٥٩٣ پر صاف لکھا تھا کہ مسیح علیہ السلام زندہ ہیں مگر بعد میں بقول خود خدائی الہام سے بتلایا کہ حضرت مسیح فوت شدہ ہیں۔ (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں!)
٤٠
نیز یہی اعلان کہ اس اشتہار کی بنا کسی وحی یا الہام پر نہیں اس وہم کا بھی ازالہ کرتا ہے کہ شاید یہ اشتہار مجریہ ١٥ اپریل لکھا۔ اس تاریخ سے چند روز ما قبل گیا ہو کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو بعد میں اس کی تصدیق میں الہام ربانی نازل ہو جاتا تو مرزا قادیانی کی اصلاح پھر تب بھی کر دیتے۔ جیسا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے خود اپنی تقریر (٢) میں بیان کیا کہ مرزا قادیانی اپنی تصانیف میں ان کے چھپتے وقت تک ضروری تصحیح کرتے رہتے تھے۔ یا اگر بعد چھپ جانے کے بھی اشتہار کی تصحیح کی ضرورت ہوتی تو یہ درستی ہاتھ سے کر دی جاتی۔ جیسا کہ حقیقت الوحی کی تاریخ اشاعت کے مطابق کیا گیا تھا۔ دیکھو اس کتاب میں سر ورق جس کے نیچے تاریخ اشاعت ٢٠ اپریل ١٩٠٧ء سے بدل کر ١٥ مئی ١٩٠٧ء ہاتھ سے تمام کاپیوں میں لکھی گئی۔
اپنے آخری پرچہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے بیان کیا کہ دراصل تو اشتہار مذکور لکھا حکم الہی سے ہی گیا تھا۔ مگر چونکہ مرزا قادیانی نے عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور میں ایک دفعہ عہد کیا تھا کہ میں کسی کی موت وغیرہ کے متعلق آئندہ الہامی پیشین گوئی شائع نہ کیا کروں گا۔ اس لئے قانون کی زد سے بچنے کی غرض سے اشتہار میں یہ لکھ دیا کہ میں الہام یا وحی کی بنا پر یہ پیشگوئی نہیں کرتا۔ اس دلیل کا غلط ہونا بدیہی طور پر ظاہر ہے۔ کیونکہ اگر مرزا قادیانی کے لئے کسی شخص کی موت کی پیشگوئی کو الہام کی بنا پر شائع کرنا ممنوع تھا۔ تو بغیر الہام کے محض اپنی مرضی سے اس قسم کی پیشگوئی کا شائع کرنا زیادہ قابل مواخذہ ہونا چاہئے۔
رہا فقرہ نمبر ٣ : .......... جس میں مشیت ایزدی کی تحریک کو حکم خداوندی کے
(بقیہ حاشیہ) جس کو آپ لوگوں نے تسلیم کیا اسی طرح پہلے اشتہار میں گو مرزا قادیانی نے انکار کیا مگر دوسری تحریروں میں صاف کہا کہ خدائی منشاء اور تحریک سے ہم نے یہ کیا ہے اور خدا کی طرف سے اس کی بنیاد ہے تو پھر کیونکر یہ صاف اور صریح نہ ہوا کہ پہلی تحریر عدم علم پر تھی دوسری علم پر ہے جو معتبر ہے۔ (منیجر)
٤١
ہم پلہ بیان کیا گیا۔ اس کی تردید میر قاسم علی صاحب نے خاطر خواہ طور پر کر دی۔ اس لئے اس امر کی نسبت بحث کرنے کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔ پس میری رائے میں مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے دعویٰ کی شق (١) کا کوئی ثبوت بہم نہیں پہنچا سکتے۔
اب میں شق (ب) کو لیتا ہوں کہ آیا حضرت مرزا صاحب کو اشتہار مورخہ ١٥ء اپریل ١٩٠٧ء کی دعا کی قبولیت کا الہام بارگاہ الٰہی سے ہوا۔ اس کا ثبوت مولوی ثناء اللہ صاحب کے ہاتھ میں ایک تو وہ الہام تھا جو ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء کے بدر میں شائع ہوا۔ اور جو شق (١) کے ثبوتی فقرہ (٢) میں درج ہے : ”اعنی اجیب دعوة الداع ،“ (ترجمہ) میں دعا کرنیوالے کی دعا کو قبول کرتا ہوں یہ تو وہی ١٤ اپریل کی ڈائری ہے جس کا ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کے اشتہار سے غیر متعلق ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ دوسرا ثبوت یہ تھا کہ ایک پرانا الہام مرزا صاحب کو یہ ہو چکا : ” اجیب کل دعائك الا فى شركائك ،“ (ترجمہ : میں تیری سب دعائیں قبول کروں گا۔ سوائے ان کے تیرے شریکوں کے متعلق ہوں) اگر فریق ثانی اس الہام کی عمومیت کو تسلیم بھی کر لیتا تو اس سے صرف یہی ثابت ہوتا کہ مرزا صاحب کی یہ دعا منظور ہونی چاہئے تھی۔ نہ یہ کہ فی الواقعہ منظور ہوئی بھی ان دونوں دعوؤں میں بڑا بھاری فرق ہے مگر میر قاسم علی صاحب نے دکھایا کہ الہام مندرجہ بالا ایک خاص مقدمہ سے متعلق تھا۔ کیونکہ اس الہام کے بعد ایک اور مقدمے میں مرزا صاحب نے اپنے شرکاء کے خلاف دعا کی اور اس دعا کو خدا تعالیٰ نے منظور فرمایا۔ (میرے پاس اس کے متعلق حوالہ نہیں۔ وہ دیکھ لئے جائیں۔)
اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ خود مرزا صاحب کا عقیدہ اپنی دعاؤں کی قبولیت کے متعلق کیا تھا۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب اپنی ہر ایک دعا کا قبول ہو جانا ہرگز ضروری نہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ اسی : ” اجیب کل دعائك الا فى شركائك .“ (یعنی میں تمہاری وہ دعائیں جو تمہارے شرکاء کے متعلق ہوں قبول نہ کروں گا) والے الہام سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی بعض دعائیں نامنظور ہو جاتی تھیں اور حقیقت الوحی سے بھی
٤٢
(دیکھو اقتباسات منسلکہ ) مرزا صاحب کا صرف یہی دعویٰ پایا جاتا ہے کہ ہماری دعائیں بہ نسبت دوسرے لوگوں کے کثرت کے ساتھ شرف قبولیت حاصل کرتی ہیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے حقیقت الوحی کے صفحات ٥ سے ١١ کے حوالہ سے یہ بیان کیا تھا کہ مرزا صاحب کی کل دعاؤں کا قبول ہونا لازمی تھا۔ میں نے حقیقت الوحی کے صفحات مذکورہ کو پڑھا ہے۔ اس سے مولوی صاحب کے بیان کی ہرگز تصدیق نہیں ہوتی۔ ان صفحوں میں دعا کا کہیں مطلق ذکر تک بھی نہیں۔ ان میں خوابوں اور الہاموں پر بحث ہے مگر خواب اور الہام اور چیز ہے اور دعا اور چیز ۔ پس شق (ب) کی نسبت بھی میری یہ رائے ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے دعویٰ کو ثابت نہیں کر سکے ۔ فرزند علی عفا اللہ عنہ ہیڈ کلرک قلعہ میگزین فیروز پور ٢٠ اپریل ١٩١٢ء
نوٹ : میرے پاس فریقین کی تقریروں کی نقلیں نہیں ہیں۔ اس لئے میں نے یہ فیصلہ اپنے مختصر نوٹوں کی بنا پر لکھا ہے۔ (فرزند علی)
اقتباسات از حقیقت الوحی
- (١).......... ”یہ بالکل سچ ہے کہ مقبولین کی اکثر دعائیں منظور ہوتی ہیں۔ بلکہ بڑا
معجزہ ان کا استجابت دعا ہی ہے ۔ جب ان کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بے قراری ہوتی ہے اور اس شدید بے قراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا ان کی سنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ “
(حقیقت الوحی ص ١٨، ٢٠)
- (٢).......... ” یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دعا قبول ہو
جاتی ہے یہ سراسر غلط بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کیساتھ خدا تعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے کبھی وہ ان کی دعائیں قبول کر لیتا ہے اور کبھی وہ اپنی مشیت ان سے منوانا چاہتا ہے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا
٤٦
ہے ۔ اور اس کی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اس سے منوانا چاہتا ہے ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢١)
- (٣).......... ”میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بسا اوقات خدا تعالیٰ میری نسبت یا میری
اولاد کی نسبت یا میرے کسی دوست کی نسبت ایک آنے والی بلا کی خبر دیتا ہے اور جب اس کے دفع کے لئے دعا کی جاتی ہے تو پھر دوسرا الہام ہوتا ہے کہ ہم نے اس بلا کو دفع کر دیا ۔“
(حقیقت الوحی ص ١٨٨، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٤)
- (٤).......... ”یاد رہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچانے کیلئے دعا کا قبول ہونا
بھی ایک بڑا نشان ہوتا ہے ۔ بلکہ استجابت دعا کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں ۔ کیونکہ استجابت دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جناب الٰہی میں قدر اور عزت ہے اگرچہ دعا کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں ۔ کبھی کبھی خدائے عزوجل اپنی مرضی اختیار کرتا ہے ۔ لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مقبولین حضرات کی عزت کیلئے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے کثرت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعا کے مرتبہ میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہزارہا میری دعائیں قبول ہوئی ہیں ۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٢١، خزائن ج ٢٢، ص ٣٣٤)
- (٥).......... ”حقیقت الوحی ص ٣٢٧، سطر ١٠ میرا صدہا مرتبہ کا تجربہ ہے کہ
خدا ایسا رحیم و کریم ہے کہ جب اپنی مصلحت سے ایک دعا کو منظور نہیں کرتا تو اس کے عوض میں کوئی اور دعا منظور کر لیتا ہے جو اس کے مثل ہوتی ہے ۔“
(اخبار بدر ٢٠ اپریل ١٩١٢)
جناب سردار بچن سنگھ صاحب بی اے سرپنچ کا مفصل فیصلہ
سردار صاحب نے فیصلہ دینے سے پیشتر جو امور جانبین سے دریافت فرمائے اور جو جواب بطور بیانات لئے وہ اپنے فیصلہ سے منسلک فرما دیئے ۔ اس لئے وہ ذیل میں درج کئے جاتے ہیں ۔
٤٤
بیان مولوی ثناء اللہ صاحب : میں نے وہ پرچہ جو فریق ثانی نے بعد اختتام مباحثہ ثالث کے پاس بطور یاداشت بھیجا تھا ملاحظہ کر لیا ہے اور اس کے متعلق امور ضروری پیش کردہ فریق ثانی پر ثالث کے روبرو حسب گنجائش وقت سرسری طور پر زبانی تشریح بھی کر دی ہے۔ لیکن اس پرچہ کے بھیجنے میں بے ضابطگی ہوئی ہے۔ اس پرچہ کے متعلق تحریری بحث کی ضرورت خیال نہیں کی جاتی۔ مسلمان میر مجلس کیلئے جو شرائط میں یہ ہے کہ وہ حلفی فیصلہ دیں گے اس سے یہ مراد ہے کہ فیصلہ کرنے سے پیشتر وہ الفاظ ذیل تحریر کر کے کہ میں خدا کی قسم کھا کر یہ فیصلہ تحریر کرتا ہوں ‘‘ اپنا فیصلہ لکھے۔ میر صاحب کے دعویٰ کے مطابق وہ صاحب وحی الہام و معجزات و کرامات تھے۔ میرے نزدیک اگر الفاظ قسم میں کوئی فرق ہوا ہے تو کچھ مضائقہ نہیں بلکہ اگر بلا حلف بھی فیصلہ ہووے تو چونکہ شرائط کے بموجب حلفی فیصلہ کی ضرورت ہے اور میر مجلس صاحبان نے شرائط مباحثہ خوب ملاحظہ فرمائی ہیں تو ایسا فیصلہ بھی اگر شرائط کے مطابق حلفی فیصلہ تصور فرمایا جاوے تو مجھے کوئی عذر نہیں ہے۔ اگرچہ بموجب جس فقرہ اخیر شرط نمبر ٢ ایسا فیصلہ نا قابل وقعت سمجھنا چاہئے۔ مرزا صاحب کا انتقال ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو ہوا۔ دستخط : مولوی ثناء اللہ و سردار بچن سنگھ
بیان میر قاسم علی صاحب : مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں چودہویں صدی یعنی حال صدی کا مجدد ہوں اور خدا کی طرف سے مجھے الہام ہوتا ہے اور نشانات صداقت میرے بطور معجزات خدا کی طرف سے صادر ہوتی ہیں۔ نہ ہر وقت الہام ہوتا ہے نہ ہمیشہ معجزات ہی ہوتے ہیں۔ جب خدا چاہے ۔ الہام کرتا اور جب خدا چاہے معجزہ کا نشان دیتا ہے۔ یہ دونوں باتیں میرے اختیار میں نہیں ہیں۔ خدا کے اختیار میں ہیں۔
سوال : آیا مرزا صاحب کا دعویٰ دیگر انبیاء کے ہم رتبہ و ہم پلہ ہونے کا تھا یا کم و بیش ؟۔
٤٥
جواب : اسلام میں انبیاء دو قسم کے ہیں۔ ایک صاحب شریعت و صاحب
امت۔ دوم جو اسی نبی اور اس شریعت کے ماتحت ہوں۔ پہلی قسم کی مثال حضرت محمد صاحب
نبی اسلام کی ہے۔ دوسری مثال یحییٰ۔ مرزا صاحب قسم دوم کے نبی تھے۔
سوال : ان دونوں اقسام کے انبیاء میں روحانیت کے لحاظ سے کچھ فرق ہے؟
اور کیا؟۔
جواب : ہاں! اول قسم کے انبیاء پورے کمال کو پہنچے ہوئے اور دوم قسم کے ان
سے کم درجے پر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مالک اور نوکر کی حیثیت۔
سوال : حضرت محمد صاحب کے بعد آپ کے مقرر کردہ قسم دوم میں کون کون
نبی ہوئے ہیں؟۔
جواب : ہمارے عقیدہ میں جتنے نائب (خلفاء یا مجددین) حضرت محمد صاحب
کے بعد ہوئے ہیں۔ وہ سب کے سب قسم دوم کے نبی ١؎ تھے۔ جیسا کہ حضرت محمد ﷺ
نے فرمایا ہے :” علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ، “ (میری امت کے علماء بنی
اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں۔)
سوال : قسم دوم کے انبیاء بھی صاحب وحی و الہام ہوتے ہیں۔
جواب : ہاں!
سوال : اشتہار زیر بحث میں جو الفاظ آخری فیصلہ درج ہیں اس سے کیا مراد
ہے؟۔
١؎ پھر ان کے انکار سے تو آدمی کافر نہ ہو اور مرزا صاحب کے انکار سے کافر ہو۔ یہ
کیوں؟۔
٤٦
جواب : یہ ایک درخواست بارگاہ الٰہی میں بطور دعا کے جیسا کہ اشتہار میں لکھا ہے کی گئی ہے۔ خود مرزا صاحب کی طرف سے ہے خدا کی طرف سے نہیں ہے۔ خدا کے حضور میں پیش کی گئی ہے۔
سوال : درخواست مندرجہ اشتہار زیر بحث کسی دینی مسئلہ کے متعلق ہے اور جماعت مرزا صاحب کے متعلق یا دنیاوی معاملہ پر ؟۔ اور خاص مرزا صاحب کی ذات پر حاوی ہے ؟۔
جواب : درخواست متنازعہ میں خدا سے یہ استدعا کی گئی ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب جو مجھے جھوٹا کہتے ہیں۔ میری سچائی اور مولوی صاحب کے مجھے جھوٹا کہنے کی صداقت کا فیصلہ کیا جاوے اور اشتہار مذکور کسی دنیاوی تنازعہ پر نہیں تھا۔ بلکہ اس حیثیت سے تھا۔ جس حیثیت سے قرآن شریف میں ایک شعیب نبی نے یہ دعا کی کہ اے خدا مجھ میں اور میری قوم یعنی مخالفوں میں فیصلہ فرما اور یہی آیت مرزا صاحب نے بھی خدا سے بطور درخواست اس اشتہار میں لکھی ہے۔
سوال : نبی شعیب کی دعا قبول ہوئی ؟۔
جواب : ہاں قبول ہوئی۔
سوال : اشتہار متنازعہ میں سچائی کا معیار کسی بات پر مبنی رکھا گیا تھا۔
جواب : سچائی کا معیار اس بات پر مبنی رکھا گیا تھا کہ خداوند تعالیٰ جس طریق پر چاہے میری سچائی کا اظہار کرے جیسا کہ آیت مندرجہ اشتہار کا منشاء ہے اور اشتہار کے یہ الفاظ کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما۔ اب اس فیصلہ کی تمنا یہ کی گئی کہ اس طریق پر فیصلہ ہو سچا زندہ رہے اور جھوٹا مر جائے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس فیصلہ سے انکار کیا۔ اس وقت بحث صرف ان امور پر جو فریقین کے درمیان متنازعہ قرار پاچکے ہیں۔ جو حدود پر
٤٧
درج ہیں۔ ان میں کوئی امر ایسا نہیں ہے جس کے فیصلہ کے لئے ان سوالات کی ضرورت ہو۔ یہ بات کہ دعا مندرجہ اشتہار قبول ہوئی یا نہیں ہوئی۔ یا مرزا صاحب نے کسی حیثیت سے یہ اشتہار دیا امور زیر بحث سے غیر متعلق ہیں۔ کیونکہ میرا چیلنج خاص ان دو امور متنازعہ فیہ پر ہے۔
قاسم علی بقلم خود ! دستخط : سردار بچن سنگھ ٢١ اپریل ١٩١٢ء
مباحثہ مابین مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری
و میر قاسم علی صاحب دہلوی
مباحثہ : ہذا کی بنیاد اس اشتہار سے شروع ہوئی جو حضرت مرزا صاحب قادیانی نے بذریعہ اخبارات بدر والحکم مشتہر فرمایا اور جو اشتہار بعینہ چھاپہ شدہ ذیل میں چسپاں ہے۔ اس اشتہار کے متعلق دونوں فریقین نے برضامندی باہمی امورات ذیل متنازعہ فیہ قرار دیئے۔
- (١)........... ١٥ اپریل ١٩٠٧ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزا صاحب نے دیا تھا۔
- (٢)........... خدا نے الہامی طور پر جواب دیدیا تھا کہ میں نے تمہاری یہ دعا قبول
فرمالی۔
ثبوت : بذریعہ مولوی ثناء اللہ صاحب تردید : بذمہ میر قاسم علی صاحب
بتاریخ ٧؍ اپریل ١٩١٢ء فریقین نے اپنی اپنی بحث بذریعہ پرچہ جات تحریری ٣ بجے شام سے لے کر قریب ١٠ بجے رات تک روبرو ہر دو میر مجلسان و مجھ کمترین ثالث مقبولہ فریقین کی۔ چونکہ بحث میں بڑی رات گذر چکی تھی اور کمترین کا خیال تھا کہ میں اپنا اظہار رائے بصورت اختلاف رائے ہر دو میر مجلسان کروں۔ اس واسطے یہ قرار پایا کہ دو میر مجلسان اپنی اپنی رائے اگلی صبح یعنی بتاریخ ٨؍ اپریل میرے پاس بھیج دیں اور میں اپنی رائے ٢٠ اپریل کی شام تک تحریر کردوں گا۔ بدیں وجہ کہ مجھے ١٨، ١٩، اپریل کو بوجہ کثرت کار فرصت کم تھی
٤٨
میر مجلس منجانب مدعی نے اپنی رائے ١٩ اپریل کی شام کو اور میر مجلس منجانب مدعا علیہ نے کل ٢٠ اپریل کی شام کو بھیجی اور ان کی وجہ تاخیر چٹھی انگریزی منسلکہ ہذا سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے۔ چونکہ میں علم عربی سے بالکل ناواقف ہوں اور کتب مقدسہ اہل اسلام سے بالکل بے بہرہ۔ اس واسطے میں نے مناسب سمجھا کہ چونکہ ایک میر مجلس فیروز پور میں ہیں اس واسطے چند ایک شکوک فریقین سے ایک دوسرے کے مواجہہ میں رفع کر لوں۔ چنانچہ فریقین کی خدمت میں میں نے اطلاع کر دی کہ بوقت ١١ بجے امروزہ وہ مباحثہ والے مکان میں تشریف لے آویں۔ چنانچہ مکان مذکور میں ١١ ١/٢ بجے سے کاروائی شروع کی گئی ہے اور زبانی شکوک رفع کرنے کے علاوہ ضروری امور پر ہر دو فریقین کا بیان بھی لیا گیا جو رائے ہذا کا جزو تصور ہو گا شرائط مباحثہ کی شرط یہ ہے کہ رائے دہندہ اگر مسلمان ہے تو خدا کی قسم کھا کر اپنا تحریری فیصلہ بحث کے خاتمہ پر لکھے گا اور جو رائے مباحثے کے متعلق بغیر خدا کی قسم کھانے کے کوئی ثالث یا میر مجلس دے گا وہ قابل وقعت نہ ہو گی۔ چوہدری فرزند علی صاحب میر مجلس منجانب میر قاسم علی صاحب کے فیصلہ پر قسم وغیرہ کے متعلق کوئی اندراج نہیں ہے۔ لیکن چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنے بیان میں جو میں نے آج لیا ہے عدم تعمیل شرط بالا پر عذر نہیں اور یہ ایک معمولی سہو ہے اور خاص کر جبکہ چوہدری فرزند علی صاحب بخوبی جانتے تھے کہ یہ فیصلہ حسب شرائط حلفی لکھنا ہو گا۔ اندریں صورت یہ حلفی فیصلہ قابل وقعت ہے۔ خاصہ جب کہ وہ فریق جس کے بر خلاف فیصلہ مذکور ہے زیادہ اصرار نہیں کرتا ہے۔
مجھے سخت افسوس ہے کہ وہ معزز صاحبان جو ہر دو فریق کی مذہبی کتابوں سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔ اختلاف رائے ظاہر کریں جب دو عالموں میں جو فریق کے ہم مذہب ہوں (یہ سردار چن سنگھ کا اپنا خیال ہے) اختلاف رائے ہو تو میرے جیسے ناواقف اور غیر مذہبی شخص کی رائے کیا وقعت رکھتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں اور تمام صاحبان سے التماس کرتا ہوں کہ وہ میری رائے کو کسی طرح سے بھی اپنے مذہبی عقائد کے مخل تصور نہ فرمائیں۔ بے شک شرائط مباحثہ کی رو سے ایک فریق کی جیت اور دوسرے فریق کی ہار میری
٤٩
رائے سے ہو سکتی ہے لیکن میری رائے کسی صورت میں بھی کسی مسئلہ مذہبی کی فیصلہ کن نہیں ١۔ ہو سکتی اور یہ جیت اور ہار بھی ویسی ہی ہو گی۔ جیسا کہ دو متخاصمین کسی چند سالہ معصوم اور دنیا سے بالکل ناواقف بچہ سے التماس کریں کہ جس شخص کے سر کو تو ہاتھ لگا دے گا وہ فتحیاب تصور ہو گا اور وہ بچہ ان کے کہنے سے بلا جانے کسی امر کی ایک شخص کے سر کو ہاتھ لگا دیوے۔ فی الواقعہ میری واقفیت دربارہ اسلام میں جو کہ ایک وسیع سمندر ہے اس نادان اور ناواقف بچہ سے بدرجہا کم ہے اور میری رائے کا کوئی اثر کسی اور شخص پر نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی اور شخص اس کا پابند ہو سکتا ہے اور میرا پکا یقین ہے کہ فریقین بھی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے بموجب ہرگز ہرگز پابند نہیں ہوں گے۔ سوائے اس بات کے کہ بموجب شرائط مباحثہ تین سو روپے کی رقم کی ہار جیت ہو جاوے۔ میں نے کئی ایک مذہبی مباحثے دیکھے ہیں جن کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ جب کوئی شخص ایک خاص عقیدہ مذہبی کا پیروکار ہو تو وہ ہرگز اس سے منحرف نہیں ہو سکتا۔ خواہ اس کے مخالفین کچھ ہی کیوں نہ کہیں۔ بلکہ اس قسم کی مخالفت اور مباحثہ ایسے معتقدوں کو اور بھی پختہ بنا دیتے ہیں۔
البتہ اس قسم کے مباحثوں کا آئندہ ہونے والے معتقدوں پر تھوڑا بہت اثر ضرور ہوتا ہے لیکن میرا یقین ہے کہ میرے جیسے شخص کی رائے کا اثر ایسے لوگوں پر بھی کچھ نہیں ہو گا۔ لیکن چونکہ فریقین نے مجھے اپنا ثالث مقرر کیا ہے اور بد قسمتی سے ہر دو میر مجلسان میں اختلاف رائے ہو گیا ہے۔ اس لئے حسب شرائط مباحثہ مجھ پر لازم آیا کہ میں اپنی رائے کا اظہار خواہ اس کی وقعت کچھ بھی ہو اس مباحثہ کی غرض کیلئے ظاہر کروں۔
فریقین نے بحث بڑی قابلیت اور لیاقت کے ساتھ کی ہے اور طریق بحث میں بالکل قانون شہادت کی تقلید فرمائی ہے۔ لیکن جب میں دعویٰ کو دیکھتا ہوں تو مجھے بالکل
١۔ سردار صاحب کی کمال تواضع اور کسر نفسی ہے ورنہ یہ فیصلہ کسی مذہبی مسئلہ میں نہیں بلکہ واقعات کے بموجب ہے۔ (منیجر)
٥٠
تعجب پیدا ہوتا ہے جو صاحب اس مباحثہ میں مدعی بنے ہیں اور جو ہر دو امور متنازعہ فیہ کو مثبت میں ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہر دو امور میں متنازعہ فیہ کے مثبت میں ہونیکا نہیں ہے۔ گویا وہ اپنے دعوے کی اپنی ضمیر کے مطابق تصدیق کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ اگر معمولی قانون مندرجہ ضابطہ دیوانی کے مطابق کوئی شخص عرضی دعوٰی عدالت میں پیش کرے اور ساتھ ہی کہے کہ میں عرضی دعوٰی کے صحیح اور سچ ہونے کی حلفیہ تصدیق کرنے کیلئے تیار نہیں ہوں تو عدالت فوراً اس کے دعوٰی کو نامنظور کر دے گی۔ خواہ اس کا مدعاعلیہ اس کے دعوٰی کے اقبال کرنے کیلئے تیار کیوں نہ ہو۔ جو کہ مدعاعلیہ حال کی صورت نہیں ہے بلکہ وہ انکار دعوٰی پر اصراری ہے۔ لیکن چونکہ یہ مباحثہ ایک مذہبی مسئلہ پر ہے اس واسطے اس پر قانون دیوانی عائد نہیں ہو سکتا۔ یہ خیالات میں نے اس واسطے ظاہر کئے ہیں کہ ہمارے ملک میں کن حالات میں مباحثے پیدا ہو جاتے ہیں اور کن حالتوں میں ایک شخص کو محض مباحثہ کی غرض سے کیا حالت بدلنی پڑتی ١؎ ہے اور اس طرح سے میر قاسم علی صاحب جو مرزا صاحب کے صاحب وحی الہام ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ امور متنازعہ کی تردید میں کھڑے ہوتے ہیں۔ فی الواقعہ یہ بھی میری رائے ناقص میں عجائبات زمانہ میں ایک الگ عجوبہ ہے۔
امور متنازعہ کے فیصلہ کیلئے اشتہار کی عبارت کو غور سے پڑھنا نہایت ہی ضروری ہے اور یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا یہ اشتہار کسی مسئلہ دینی کے انفصال کے واسطے تھا یا کسی دنیوی امر کے فیصلہ کیلئے۔ اس امر کو میر قاسم علی صاحب نے صاف طور پر اپنے میں مان لیا ہے کہ یہ اشتہار دینی مسئلہ کے انفصال کیلئے تھا۔ میری رائے ناقص میں مرزا صاحب کا یہ انفصال کسی خاص مسئلہ دینی کے فیصلہ کیلئے نہ تھا۔ بلکہ اپنے مشن کے فیصلہ کیلئے تھا جو ایک معمولی مسئلہ دین کے مقابلہ میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے جیسا کہ عبارت ذیل مندرجہ اشتہار سے عیاں ہے۔
١؎ جناب سرپنچ صاحب ٹھیک فرماتے ہیں۔ مگر یہاں مدعی کا دعوٰی مدعاعلیہ کے اعتقاد پر مبنی ہے نہ واقعات پر۔ (منیجر)
٥١
- (الف)........ چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کیلئے مامور ہوں۔
- (ب)........ اور آپ بہت سے افتراء میرے پر کر کے دنیا کو میری طرف آنے
سے روکتے ہیں۔
- (ج)........ اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ
اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں۔
- (د)........ اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ
سے مشرف اور مسیح موعود ہوں۔
- (ہ)........ پس اگر وہ سزا جو انسان ........ تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔
- (و)........ اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افتراء ہے اور
میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں۔
- (ز)........ مگر میں دیکھتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ انہیں تہمتوں کے ذریعے سے
میرے سلسلہ کو نابود کرنا چاہتا ہے اور اس عمارت کو منہدم کرنا چاہتا ہے جو تو نے اے میرے آقا اے میرے بھیجنے والے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے۔ ان جملہ فقروں سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے اشتہار کے ذریعہ کسی معمولی مسئلہ دینی کے فیصلہ کیلئے استدعا نہیں کی بلکہ اپنے مشن کی تصدیق یا تکذیب کیلئے استدعا کی اس اشتہار کے متعلق ایک سوال پیدا ہوا ہے کہ مرزا صاحب کو اس اشتہار کے دینے اور اپنے مشن کی تصدیق کرانے کی کیوں ضرورت محسوس ہوئی خود اشتہار کے مفصلہ ذیل فقرات سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا صاحب بایام اشتہار ستائے ہوئے تھے اور حد درجہ کے دکھی کئے گئے تھے۔
چنانچہ لکھتے ہیں :
- (الف)........ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا۔
- (ب)........ میں آپ کے ہاتھ سے بہت ستایا گیا اور صبر کرتا رہا مگر اب میں
دیکھتا ہوں کہ انکی بد زبانی حد سے گذر گئی اور وہ مجھے ان چوروں اور ڈاکوؤں سے بھی بد تر جانتے
٥٢
ہیں۔ جن کا وجود دنیا کے لئے سخت نقصان رساں ہوتا ہے۔........... اور مفتری اور نہایت درجہ کذاب آدمی ہے۔
اگر بقول اور حسب دعویٰ مرزا صاحب یہ کل بحث ہی صرف اس دعویٰ پر مبنی ہے کہ وہ مسیح موعود مامور خداوند تعالیٰ تھے اور فی الواقعہ ایسی مصیبت میں تھے ۔ جیسا کہ اشتہار میں درج ہے۔ تو میری رائے ناقص میں حقیقت الوحی ص ١٨ (خزائن ج ٢٢ ص ٢٠) کے الفاظ ذیل ان پر عائد ہوتے ہیں۔
”جب ان کے (مقبولین کے) دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بے قراری ہوتی ہے اور اس شدید بے قراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا ان کی سنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گویا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔ خدا ایک مخفی خزانہ کی طرح سے کامل مقبولوں کے ذریعے سے وہ اپنا چہرہ دکھلاتا ہے خدا کے نشان تب ہی ظاہر ہوتے ہیں جب اس کے مقبول ستائے جاتے ہیں جب حد سے زیادہ ان کو دکھ دیا جاتا ہے تو سمجھ کہ خدا کا نشان نزدیک ہے۔ بلکہ دروازہ پر۔“
پس جب اشتہار کی عبارت سے حد درجہ کی مصیبت اور بے قراری ٹپکتی ہے تو حسب الفاظ بالا کاتب اشتہار کے ہاتھ کو اگر خدا کا ہاتھ تصور کیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ سوائے اس امر کے کوئی معتقد شخص اپنے مذہبی اصولوں کی طرف داری میں یہ نہ کہے کہ مقبولین کا ہاتھ خدا کا ہاتھ اور سب کاموں کے واسطے ہوتا ہے سوائے تحریر کے کاموں کے اور یہ بات بھی میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جب کہ چھوٹے چھوٹے اور بہت خفیف خفیف مسائل دینی اور امورات دنیاوی میں تو خدا کا حکم ہووے اور ایک ایسا اہم معاملہ جو کہ مرزا صاحب کے کل مشن کے متعلق تھا وہ بلا حکم خدا ہووے۔
میر قاسم علی صاحب نے اپنی بحث میں فرمایا ہے کہ فریق ثانی نے کوئی ایسا حکم پیش نہیں کیا جس میں مرزا صاحب کو خدا نے یہ حکم دیا ہو تا کہ تم ایسی درخواست ہمارے حضور میں پیش کرو۔
٥٣
میری رائے ناقص میں بحکم خداوندی کے یہ معنی ہرگز نہیں کئے جاسکتے کہ خداوند تعالیٰ اپنے ماموروں کو پہلے حکم دیتا ہے اور بعد ازاں وہ اپنی درخواست پیش کرتے ہیں۔
میں بحکم خداوندی کے معنی منظور خاطر خدا یا تحریک خدا یعنی پرماتما کی ”پریرنا“ لیتا ہوں۔
ممکن ہے کہ خداوند تعالیٰ چونکہ ہمہ دان ہے اپنے ماموروں اور مقبولین کو جو اس صفت سے موصوف نہیں ہیں۔ تحریک کر دے جس تحریک کا ان مامورین کو مطلقاً اس وقت پتہ نہ ہووے۔ یا بعد میں پتہ ہووے یا تحریک کا نتیجہ پیدا ہونے کے بعد بھی اس تحریک کا پتہ لگے اور نتیجہ پیدا ہونے سے پیشتر وہ کل عرصہ اس تحریک سے بے خبر رہیں۔
میری رائے ناقص میں بحکم خداوندی ہونیکا ایک یہ بھی معیار ہے کہ کسی فعل کا نتیجہ کیا ہوا ہے۔ اگر نتیجہ الفاظ استدعا کے مطابق ہوا ہے تو اس سے یہ قیاس پیدا ہوتا ہے کہ یہ استدعا خداوند تعالیٰ کے حکم سے ہی تھی لیکن اگر نتیجہ استدعا کے برخلاف ہوتا ہے تو قیاس یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلاں استدعا خلاف حکم ایزدی تھی۔ پس جب اس معیار سے بھی دعا مندرجہ اشتہار کو دیکھا جاوے تو چونکہ نتیجہ بالفاظ سائل پیدا ہوا اس واسطے قیاس یہ ہے کہ یہ اشتہار بحکم ایزدی دیا گیا۔
اگر ان قیاسات کو چھوڑ کر واقعات متعلقہ اشتہار متنازعہ کو دیکھا جائے تو بھی میری رائے ناقص میں یہی نتیجہ نکلتا ہے جو میں نے اوپر درج کیا ہے۔
اول سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اشتہار مرزا صاحب کے دست مبارک سے کب کاغذ پر ظہور میں آیا۔ بے شک چھاپہ شدہ کاغذ پر تاریخ ٥ اپریل ١٩٠٧ء درج ہے مگر میری رائے ناقص میں وہ مرزا صاحب کے دست مبارک سے نہیں ہے بلکہ کاتب کے ہاتھ کی۔ میں نے مزید تسلی کیلئے میر قاسم علی صاحب سے دریافت کیا کہ اصل مسودہ کہاں ہے جس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ اگر صرف چھاپہ شدہ تاریخ پر کسی امر کا فیصلہ کیا جاوے تو میں نہیں جانتا کہ کاروبار دنیا میں کیسی گڑبڑ مچ جائے گی وہ سول اینڈ ملٹری گزٹ جس پر کہ ٢٠ اپریل ١٩١٢ء چھپی ہوئی تھی وہ یہاں لدھیانہ میں ١٩ اپریل ١٩١٢ء کی شام کو کئی اصحاب کی
٥٤
ردی کی ٹوکری میں چلا گیا تھا۔ پھر نہیں معلوم کہ اس میں چھپے ہوئے مضمون ١٩ اپریل سے کتنا عرصہ پیشتر مصنفین کے ہاتھوں سے نکل چکے ہوں گے۔ حضور ملک معظم شہنشاہ ہند کے دہلی دربار کے موقعہ پر جو اعلان پڑھا گیا اس پر ١٢ دسمبر ١٩٠٦ء درج تھی۔ نہیں معلوم وہ چھاپہ خانہ سے کتنا عرصہ پیشتر نکل چکا تھا اور تیار کب کیا گیا تھا۔ پس اگر ٢٠ اپریل والے سول اینڈ ملٹری گزٹ کے کسی مضمون یا اعلان مذکورہ کی تاریخ تصنیف کی بابت کوئی تنازعہ پیدا ہو جاوے تو تاریخ متنازعہ کو ٢٠ اپریل یا ١٢ دسمبر بتلانا میں خود میر قاسم علی صاحب کے انصاف پر چھوڑتا ہوں۔ قصہ کوتاہ میری رائے یہ ہے کہ یہ اشتہار ١٥ اپریل سے پیشتر صاحب کے قلم سے نکل چکا تھا۔
دوم سوال یہ ہے کہ بدر مورخہ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء میں جو نوشت بکالم ڈائری درج ہے اس کے متعلق صحیح تاریخ کونسی قائم کی جاوے میر قاسم علی صاحب اس کی تاریخ ١٤ اپریل ١٩٠٧ء قائم کرنے پر بہت اصرار کرتے ہیں۔ لیکن میں افسوس کرتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا ہوں جس کے واسطے وجوہات ذیل ہیں:
(الف).......... محض ١٤ اپریل چھپ جانے سے میں ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ یہ ١٣ اپریل کی ڈائری ہے خاص کر جب کہ ١٥، ١٦ اپریل کی ڈائری پیش نہیں کی جاتی ممکن ہے کہ یہ نوشت ١٥، ١٦ کی ڈائری کی ہووے۔
(ب).......... ڈائریوں کی ترتیب جو مختلف اخباروں میں چھپی ہے بالکل درست نہیں ہے کہ ان کے متعلق تاریخوں کے صحیح ہونے کا کوئی قیاس بھی پیدا ہو سکے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے تو ڈائریوں کے متعلق ایک بے ضابطگی ظاہر کی تھی جس کے جواب میں میر قاسم علی صاحب نے کئی ایک اور بے ضابطگیاں بیان کیں جو بیان مدعی کی بجائے تردید کے تائید کرتے ہیں۔ اس واقعہ پر انگریزی کی ایک ضرب المثل کا مطلب درج کر دینا لاحاصل نہ ہو گا۔ دو سیاہ چیزیں مل کر سفید چیز پیدا نہیں کر سکتیں اور دو غلطیاں مل کر درستی پیدا نہیں کر سکتی۔
٥٥
(ج).......... اگر ڈائری اور تاریخ ٤ اپریل ١٩٠٧ء خود مرزا صاحب کے دست مبارک سے ہوتیں تو مجھے تاویل مذکورہ کے صحیح ماننے میں ذرا بھی تامل نہ ہوتا لیکن جبکہ مرید لوگ ڈائریاں تحریر کرتے تھے اور وہ ایسی لاپروائی اور بے احتیاطی سے چھپوائی جاتی تھیں تو محض چھاپہ شدہ تاریخ سے میں اس نوشت کے متعلق تاریخ قائم نہیں کر سکتا۔ خاصکر جبکہ خود ڈائریوں سے ظاہر ہے کہ یہ ڈائری ١٥ یا ١٦ اپریل کی بھی ہو سکتی ہے۔
(د).......... جبکہ وہ اشتہار جو کہ ١٥ اپریل کا بیان کیا جاتا ہے بدر مورخہ ١٨ اپریل ١٩٠٧ء اور الحکم مورخہ ١٧ اپریل ١٩٠٧ء میں شائع کیا جاتا ہے۔ اور ڈائری جو کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق ایک الہام کا بھی ذکر کرتی ہے اور جو اشتہار سے ایک دن پہلے کی بیان ہوتی ہے ٢٥ اپریل کے بدر کے انتظار میں رکھی جاتی ہے درحال یہ کہ ایسی ضروری ڈائری مورخہ ١٨ اپریل میں بڑی آسانی سے چھپ سکتی تھی۔ تو ایسی صورت میں میں ڈائری کی تاریخ ٤ اپریل ١٩٠٧ء مقرر کرنے سے بالکل قاصر ہوں۔ خلاصہ یہ کہ بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء والا الہام اشتہار متنازعہ کے متعلق ہے۔
میں نے قاسم علی صاحب سے مزید تسلی کیلئے دریافت کیا کہ سوائے حقیقت الوحی یا بدر مورخہ ٤ اپریل ١٩٠٧ء کے کوئی اور تحریر بھی ایسی جس پر کہ بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء والے الہام کا اطلاق کیا جائے۔ جس کا جواب انہوں نے صاف نفی میں دیا۔
حقیقت الوحی شائع ہی ١٥ مئی ١٩٠٧ء کو ہوتی ہے۔ یعنی بدر ٢٥ اپریل سے ٢٠ یوم بعد ایسی صورت میں الہام بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء کا اطلاق حقیقت الوحی کی کسی تحریر پر نہیں ہو سکتا۔ خواہ تحریر کی چھاپہ شدہ تاریخ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء سے پہلے کی ہی کیوں نہ ہو۔ تاوقتیکہ ایسی تحریر مشتہر نہ کی جاچکی ہو جو کہ ثابت نہیں کیا گیا۔ ٤ اپریل ١٩٠٧ء کی تحریر کا جو حوالہ دیا جاتا ہے وہ میں نے بعد میں پڑھی اور اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ کوئی دعا بر خلاف یا بحق مولوی ثناء اللہ نہیں کی گئی جس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکیں کہ الہام بدر مورخہ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء اس کے متعلق ہو۔ میں چاہتا تھا کہ میں تحریر بدر ٤ اپریل ١٩٠٧ء کو حرف بحرف
٥٦
اس جگہ درج کرتا لیکن طوالت اور کمی وقت کے باعث ایسا نہیں کر سکتا۔ لیکن تحریر بدر ٤ اپریل ١٩٠٧ء کو میں اپنی اس رائے کا جزو قرار دیتا ہوں جو صاحب اس رائے کو کسی جگہ چھپائیں وہ براہ مہربانی تحریر مذکور بھی چھاپ دیں۔ (سردار صاحب کے حسب منشاء ٤ اپریل کے بدر کی عبارت کا خلاصہ درج ذیل ہے۔)
’’اس کتاب حقیقت الوحی کے ساتھ ایک اشتہار بھی ہماری طرف سے شائع ہو گا جس میں ہم یہ ظاہر کریں گے کہ ہم نے مولوی ثناء اللہ کے چیلنج مباہلہ کو منظور کر لیا ہے اور ہم اول قسم کھاتے ہیں کہ وہ تمام الہامات جو اس کتاب میں ہم نے درج کئے ہیں وہ خدا کی طرف سے ہیں اور اگر ہمارا یہ افتراء ہے تو ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین ۔“ ہی مولوی ثناء اللہ بھی اس اشتہار اور کتاب کے پڑھنے کے بعد بذریعہ ایک چھپے ہوئے اشتہار کے قسم کے ساتھ یہ لکھ دیں کہ میں نے اس کتاب کو اول سے آخر تک بغور پڑھ لیا ہے۔ اس میں جو الہامات ہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں اور مرزا غلام احمد کا افتراء ہے اور اگر میں ایسا کہنے میں جھوٹا ہوں تو ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔“ اور اس کے ساتھ جو کچھ عذاب وہ خدا سے مانگنا چاہیں مانگ لیں۔ ان اشتہارات کو شائع ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ خود ہی فیصلہ کر دے گا اور صادق اور کاذب میں فیصلہ کر کے دکھا دے گا۔ (بدر ا۔اے ٤ اپریل ١٩٠٧ء ج٦ نمبر ١٤ ص ٤)
یہ تحریر مباہلہ کے متعلق تھی جو مباہلہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے پیش کیا تھا۔ اس پر مرزا صاحب نے فرمایا تھا کہ مباہلہ کے متعلق ہم دعا کریں گے جو دعا نہیں کی گئی اور مباہلہ بروئے تحریر مورخہ بدر ١٣ جون ١٩٠٧ء فسخ ہو گیا بلکہ مباہلہ کے فیصلہ کے لئے ایک اور طریق اختیار کیا گیا۔ پس نتیجہ یہ ہے کہ مضمون بکالم ڈائری بدر مورخہ ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء
١۔ منشی قاسم علی صاحب نے اپنے اخبار میں فیصلہ تو شائع کیا مگر بدر کی یہ تحریر درج نہیں کی حالانکہ انہی کی پیش کردہ تھی۔ (منیجر)
٥٧
پورے اشتہار متنازعہ کے کسی اور تحریر کے متعلق نہیں ہے۔ الفاظ مشیت ایزدی مندرجہ تحریر بدر ٣ جون ١٩٠٧ء پر بہت زور دیا گیا ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ اگر تحریر مذکور میں صرف یہی الفاظ ہوتے ہیں تو ان الفاظ سے بحکم خداوندی نتیجہ نہیں نکل سکتا تھا۔ کیونکہ مشیت کے واسطے رضامندی باری تعالیٰ لازمی نہیں ہے۔ لیکن تحریر مذکور میں الفاظ ذیل ہیں :
”اس وقت مشیت ایزدی نے آپ کو دوسری راہ سے پکڑا اور حضرت حجت اللہ کے قلب میں آپ کے واسطے دعا کی تحریک کر کے فیصلہ کا ایک اور طریق اختیار کیا۔“
پس میں اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوں کہ تحریر بدر ١٣ جون ١٩٠٧ء منجانب حضرت مرزا صاحب تھی اور متعلق اشتہار متنازعہ تھی اور اس سے صاف ثابت ہے کہ اشتہار مذکور بحکم خداوندی تھا ایک اور سوال جس پر زیادہ زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ خود اشتہار متنازعہ میں حکم خداوندی کی نفی کی ہے۔ اس بارہ میں اتنا ہی عرض کر دینا کافی ہے کہ یہ نفی محض اس وجہ سے عمل میں آئی کہ مرزا صاحب نے بعدالت ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع گورداسپور اقرار کیا تھا کہ میں آئندہ خاص قسم کی پیشگوئیاں جس میں ہلاکت کا سوال آوے نہیں کروں گا۔ اس واسطے پابندی احکام قانون دنیوی نفی مذکور کی گئی ہے۔ میر قاسم علی صاحب نے آج زبانی عذر کیا کہ وہ اقرار نامہ ........... صرف اس خاص مقدمہ کے متعلق تھا۔ لیکن میری رائے ناقص میں وہ اقرار نامہ عام تھا جیسا کہ اقرار نامہ اس بالکل صاف اور صریح الفاظ سے پایا جاتا ہے اقرار نامہ مذکور نہایت ضروری ہے اور میں بوجہ طوالت اس جگہ درج نہیں کر سکتا۔ وہ بھی اس رائے کا جزو تصور ہو گا۔
خلاصہ اقرار نامہ مرزا صاحب جو باجلاس
ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر گورداسپور دیا گیا
”میں کسی چیز کو الہام جتا کر شائع کرنے سے مجتنب رہوں گا جس کا یہ منشاء ہو یا جو
٥٨
ایسا منشاء رکھنے کی معقول وجہ رکھتا ہو کہ فلاں شخص (مسلمان ہو خواہ ہندو یا عیسائی) ذلت اٹھائے گا یا مورد عتاب الٰہی ہوگا۔“ مورخہ ٢٢ فروری ١٨٩٩ء (مرزا غلام احمد بقلم خود)
پس میری رائے ناقص میں نفی مندرجہ اشتہار بالکل ناقابل وقعت ہے جبکہ تحریرات بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء وبدر ١٣ جون ١٩٠٧ء سے خود مرزا صاحب کے اپنے الفاظ میں مشیت کا بالکل کافی اور تسلی بخش ثبوت ملتا ہے۔ پس آخر نتیجہ یہ ہے کہ حسب دعویٰ حضرت مرزا صاحب ١٥ اپریل ١٩٠٧ء والا اشتہار بحکم خداوندی مرزا صاحب نے دیا تھا۔
امر دوم‘ امر اول کا بالکل حاصل ہے۔ جبکہ میں نے قرار دیا ہے کہ تحریر بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء اشتہار متنازعہ کے متعلق تھی تو صاف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ الہام مندرجہ تحریر مذکور بھی اشتہار متنازعہ کی دعا کے متعلق تھا۔
جبکہ حقیقت الوحی کے ص ١٧٨ و حاشیہ‘ خزائن ج ٢٢ حاشیہ ص ١٩٤ میں صاف درج ہے کہ ایک شخص احمد بیگ کے میعاد مقررہ کے اندر مر جانے سے مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی کہ: ”اے عورت توبہ کر توبہ کر کیونکہ لڑکی اور لڑکی کی لڑکی پر ایک بلا آنے والی ہے۔“ جزوی طور پر پوری ہوئی۔ تو میں صاف اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب کے اس جہاں فانی سے بحیات مولوی ثناء اللہ صاحب رحلت فرمانے سے مرزا صاحب کی دعا مندرجہ اشتہار خداوند تعالیٰ نے قبول فرمائی اور اس قبولیت کا اظہار مرزا صاحب نے اپنی زبان مبارک سے کیا۔ ملاحظہ ہو تحریر بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء بقلم ڈائری جو اس رائے کا جزو تصور ہو گا۔
فریقین نے اپنی اپنی بحث میں کئی ایک باتوں پر زور دیا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آیا مرزا صاحب کی کل دعائیں (سوائے شرکاء کے متعلق) قبول فرمانے کا خداوند تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا۔ لیکن مجھے ان امور پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میری رائے ناقص میں مرزا صاحب کی دعا مندرجہ اشتہار بارگاہ الٰہی سے منظور فرمائی گئی۔ اگرچہ میں اتنا درج کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ الہام مذکور کے لفظ بلفظ ترجمہ سے ہرگز یہ نتیجہ نہیں
٥٩
نکل سکتا کہ وہ الہام محض مقدمہ کی دعاؤں کے متعلق ہے جو استثناء کی گئی ہے وہ صرف شرکاء کے متعلق ہے ورنہ وہ الہام کل دعاؤں کے متعلق ہے۔
اگرچہ میرے واسطے صرف ایک میر مجلس کیساتھ اتفاق رائے ظاہر کر دینا کافی تھا اور کسی وجہ کے پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن دونوں میر مجلس صاحبان نے اپنی اپنی رائے ہم مشورہ ہو کر نہیں لکھی۔ اس واسطے میں نے ان کی راؤں سے کوئی مدد نہیں لی۔ اور نہ ان کی رائیں پڑھی ہیں۔ صرف ان کا نتیجہ دیکھا ہے۔ نتیجہ سے جب ان کی مختلف رائیں معلوم ہوئیں تو میں نے ان کی وجوہات کو پڑھنا بالکل نامناسب سمجھا۔ خاص کر جب چوہدری فرزند علی صاحب لدھیانہ میں موجود نہیں تھے۔ اندریں صورت مجھے اپنے ناقص خیال کی تائید میں چند ایک دلیلیں دینے کی ضرورت پڑی۔ چونکہ میں عالم شخص نہیں ہوں اور نہ مجھے جیسا کہ میں نے پہلے درج کر دیا ہے۔ کتب اسلام سے واقفیت ہے۔ اگر میری کسی دلیل سے یا کسی تحریر سے کسی مسلمان صاحب کی ذرا بھی دل آزاری ہو تو میں نہایت ہی ادب سے معافی کا خواستگار ہوں۔ کیوں کہ میں نے ارادتاً ایسا نہیں کیا بلکہ قواعد مباحثہ کو مد نظر رکھ کر صرف فیصلہ فریقین کیلئے مجبوراً اظہار رائے کیا ہے۔ کیونکہ اگر میں گریز کرتا تو مجبوراً فریقین کو کسی اور ثالث کے تلاش کرنے کی ضرورت پڑتی اور خواہ مخواہ تشویش میں پڑتے اور خرچہ وغیرہ کے زیر بار ہوتے۔ دستخط: سردار چرن سنگھ پلیڈر (بحروف انگریزی)
رسالہ ہذا کا ضمیمہ مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب
فاتح قادیاں کے قلم سے
٢١ اپریل ١٢ء کو مغرب کے وقت سردار صاحب موصوف نے فیصلہ دیا فوراً ہی تمام شہر میں یوں خبر مشہور ہوئی جیسے عید کے چاند کی۔ مسلمان ایک دوسرے کو مبارک ، خیر مبارک کے نعرے سنتے اور سناتے ، چھوٹے چھوٹے بچے گاڑیوں پر بیٹھ کر خوشی کے نعرے لگاتے یہاں تک کہ دس بجے شب کے حضرت میاں صاحب (مولانا محمد حسن خان صاحب
٦٠
مرحوم) کے مکان کے وسیع احاطہ میں جلسہ ہوا۔ جس میں فیصلہ کا اظہار اور سرپنچ صاحب کے حق میں شکریہ اور دعا کا ریزولیشن بڑی خوشی سے حاضرین نے پاس کیا۔ اسی کے بعد مبلغ ٣٠٠ روپے کا انعام امین صاحب سے وصول کر کے صبح کو ڈاک پر روانہ امرتسر ہوئے۔ اسٹیشن پر احباب کا مجمع لگا تھا جنہوں نے نہایت مسرت و محبت کا اظہار کیا اور ایک جلوس کی معیت میں ہم اپنے مکان پر پہنچے۔ الحمد للہ !
شب کو احباب کی دعوت اور جلسہ ہوا جس میں مختصر کیفیت جلسہ کے بعد فیصلہ سنایا گیا اور سرپنچ صاحب کے تدبر و انصاف اور محنت و دیانت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے حق میں شکریہ اور دعا کا ریزولیشن پاس کیا گیا۔ الحمد للہ !
لطیفہ : ہم نے لکھا تھا کہ آپ (منشی قاسم علی صاحب) اپنے خلیفہ حکیم نور الدین صاحب سے اجازت لے کر مباحثہ میں آویں۔ اس کے جواب میں منشی صاحب نے لکھا۔ ہم کو اپنی کامیابی و نصرت الٰہی کے مورد ہونے کی خاطر ایک دینی خدمت میں اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کو ہم انشاء اللہ حاصل کر کے ہی لسانی و قلمی جہاد میں آپ کے سامنے آویں گے۔
(الحق ١٥ اپریل ١٩٠٧ء ص ٤ کالم ٦)
ہمارے خیال میں حکیم صاحب چونکہ مرزا صاحب کے خلیفہ ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ انہوں نے بھی مرزا صاحب کی تائید میں یہی دعا کی ہوگی کہ خدا حق کو ظاہر کرے۔ یہی ان کو چاہیئے تھا۔ اسی لئے حق ظاہر ہوا۔ پس جس طرح میں جناب مرزا صاحب کی قبولیت دعا کا قائل ہوں حکیم صاحب کی بابت بھی مقر ہوں کہ آپ کی دعا بھی قبول ہوئی اور ضرور قبول ہوئی۔ الحمد للہ ! خدا نے آپ کی دعائے حق کو ظاہر کر دیا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ آپ یا آپ کے دوست اس دعا کو نامقبول سمجھیں۔ جیسے مرزا صاحب کی دعا کو غیر مقبول کہتے ہیں۔ ایسا کہنے سے نہ ہمیں کچھ رنج ہے نہ جناب خلیفہ صاحب کو ہو گا اور نہ ہونا چاہیئے۔ کیونکہ مرزائی لوگ جب جناب مرزا صاحب کی دعا مقبول نہیں جانتے۔ حکیم صاحب کی دعا
٦١
کو بھی مقبول نہ جانیں تو کیا شکایت ہے۔
شکریہ: خدا کے کاموں کے اسرار خدا ہی جانتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ اور کوئی الہام تو جناب مرزا صاحب قادیانی کو خدا کی طرف سے ہو یا نہ ہو ٥ اپریل والی دعا اور اس کی قبولیت کا الہام تو ضرور خدا کی طرف سے ہوگا جس کا اثر خدا کو یہ دکھانا منظور تھا۔ جو دیکھا گیا۔
میرے دوست حیران ہیں کہ قادیانی جماعت کو عموماً اور منشی قاسم علی کو خصوصاً کیا خبط سمایا کہ انہوں نے اس مباحثہ پر ضد کی۔ میں اس کا جواب بھی یہی دیتا ہوں کہ واقعی یہ تحریک بھی خدائے قدیر کی طرف سے ان کے دل پر تھی۔ تاکہ فیصلہ اور بین ہو جائے۔ کیونکہ سابقہ صاف فیصلہ کو جو مرزا صاحب کی موت سے ہوا تھا۔ مرزا قادیانی کے مریدوں نے ناحق کی تاویلات سے مکدر کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس لئے خدا نے اس کام کیلئے قادیانی مشن کے جوشیلے ممبر منشی قاسم علی صاحب کو منتخب فرمایا اور ان کے ساتھ اور قادیانی دوستوں کو شریک کیا۔ الحمد للہ!
اس لئے اصل شکریہ تو خدا تعالیٰ کا ہے جس نے حق وباطل میں فرق کر دیا۔ اس کے سوا لدھیانہ کی اسلامی پبلک عموماً شکریہ کی مستحق ہے جن کی مخلصانہ دعائیں ہمارے شریک بلکہ معین حال تھیں۔ خصوصاً ہمارے مکرم مولانا محمد حسن صاحب وائس پریذیڈنٹ میونسپلٹی لدھیانہ (رحمتہ اللہ علیہ) اور ان کے اعزہ جناب بابو عبد الرحیم صاحب بابو عبد الفتاح صاحب بابو عبد الحی شیخ امین الدین مع برادران، منشی محمد حسن میونسپل کمشنر مسٹر یسین شاہ، مولوی ولی محمد، قاضی فضل احمد صاحبان کا شکریہ ہے۔ جنہوں نے اس کام میں ہمیں امور مشکلہ میں مشورہ سے مدد دی۔
یہاں نور بخش ٹیلر ماسٹر بھی شکریہ کے مستحق ہیں جو باوجود مرزا صاحب کے معتقد ہونے کے وقتاً فوقتاً مشوروں سے امداد دیتے رہے۔ سب کے لئے دعا ہے۔ جزا ہم اللہ خیر الجزاء!
یہودیانہ خصلت : حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام صحابی جو یہودیوں کے ایک بڑے عالم تھے۔ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام لائے۔ بعد قبول اسلام عبداللہ بن سلام نے کہا حضور ﷺ یہودیوں کی قوم بہتان لگانے والی ہے۔ آپ ﷺ ان سے دریافت فرمالیں کہ میری نسبت ان کی کیا رائے ہے۔ عبداللہ مکان میں چھپ گئے۔ آنحضرت علیہ السلام نے یہودیوں کو بلا کر پوچھا۔ عبداللہ بن سلام تم میں کیسا ہے؟ سب نے کہا : ”خیر ناوابن خیر نا اعلمنا و ابن اعلمنا،“ (ہم سب سے اچھا اور اچھے کا بیٹا۔ ہم سب سے بڑے علم والا اور بڑے علم والے کا بیٹا) اتنے میں عبداللہ اندر سے نکل آئے۔ نکل کر کہا : ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،“ یہودیوں نے ذرہ شرم نہ کی سنتے ہی فوراً کہا : ” شرناوابن شرنا،“ (ہم میں برا اور برے کا بیٹا)
سیر الاعلام الذہبی ج٢ ص٤١٥
یہی حال ہمارے مناظر منشی قاسم علی اور ان کی پارٹی کا ہے ہم نے کئی ایک معززین کے نام سرپنچی کے لئے پیش کئے۔ جن میں ایک نام سردار چنن سنگھ صاحب کا بھی تھا۔ منشی صاحب نے لدھیانوی دوستوں کے مشورہ سے سردار صاحب کو دیانتدار جان کر منتخب کیا اپنا سردار بنایا۔ تمام باگ دوڑ ان کے ہاتھ میں دی مگر جب انہوں نے واقعات کی بنا پر ان کے خلاف منشاء فیصلہ دیا۔ تو جس منہ سے خیر نا کہا تھا اسی منہ سے شرنا کہتے ہوئے ذرہ نہ جھجھکے۔ دو اشتہار اور ایک اخبار ان کی طرف سے فیصلہ مباحثہ کے بعد متصل ہی نکلے۔ جن کے مضامین تو کیا عنوان بھی ایسے ناشائستہ الفاظ دلخراش ہیں کہ کسی شریف آدمی کے قلم سے نہیں نکل سکتے۔ ایک اشتہار منشی قاسم علی کے اپنے قلم کا انہی کے نام پر نکلا ہے جس کا نام لدھیانہ میں سکھا شاہی فیصلہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ایک شخص کو اپنا سردار بنایا جائے۔ اپنا تمام فیصلہ ان کے سپرد کیا جائے۔ سیاہ و سفید کا مختار بنایا جائے؟۔ مگر جب فیصلہ اپنی مرضی کے خلاف ہو تو اسی اپنے سردار کو اپنے حاکم کو بے نقط سنائیں۔ اس سے شرم کا اور
٦٣
زیادہ مقام کیا ہو گا؟۔ سردار صاحب نے اپنی معمولی کسر نفسی سے یہ لکھ دیا کہ میں علم عربی سے ناواقف ہوں۔ اسلامی کتابوں سے بے خبر ہوں وغیرہ جو کہ راست باز کیلئے بالکل موزوں ہے۔ فریق ثانی نے بس اسی کو اپنی سند بنا لیا کہ جو شخص ایسا ناواقف ہے۔ اس کا فیصلہ ہی کیا؟۔ سچ ہے :
مگر اہل دانش کے نزدیک انکو ایسا کہتے ہوئے بھی خود ہی شرم کرنی چاہیے تھی۔ کیوں کہ بوقت انتخاب سر پنچ کے ان کو چاہیئے تھا کہ سردار صاحب کا علم عربی اور کتب تفسیر اور احادیث میں امتحان لے لیتے۔ کیا وہ اپنے ایمان اور دیانت سے کہہ سکتے ہیں کہ سردار صاحب کی سر پنچی بوجہ اس کے تھی کہ وہ عربی زبان کے ایک پروفیسر ہیں یا جامع ازہر (مصر) کے محدث بحث کے نشیب و فراز کو جاننے والے ہیں۔ چنانچہ میں نے فریق ثانی کو جب رقعہ لکھا کہ :
”ثالث کی بابت میری یہ رائے قرار پائی ہے کہ کوئی ایسا شخص ہونا چاہیئے جو مذہبی خیال کا ہو۔ الہامی نوشتوں کی اصطلاح سے واقف اور اس کے ساتھ دیانت دار بھی ہو۔ اس لئے میں پادری صاحب کو پیش کرتا ہوں (پادری دیری صاحب) امید ہے آپ کو بھی اوصاف کے لحاظ سے صاحب موصوف کا تقرر منظور ہو گا۔“
تو اس کے جواب میں منشی قاسم صاحب نے جو تحریر بھیجی وہ درج ذیل ہے :
”بجواب آپ کے رقعہ نمبر ٣ مورخہ امروزہ کے گذارش ہے کہ جب شرط مرقومہ آنجناب (غیر مسلم ثالث ہونا چاہیئے) ہم نے غیر مسلم ثالث جس کو ہمارے خیال میں مقدمات کے سمجھنے اور فریقین کے بیانات کا اندازہ کر کے فیصلہ کرنیکی پوری قابلیت ہے پیش کیا ہے شرط مذکورہ میں یہ درج نہیں کہ الہامی نوشتوں سے واقف یا ناواقف ہونا چاہیئے۔ بلکہ غیر مسلم کی شرط ہے۔“
ناظرین ! خدارا انصاف کیجئے میں نے پہلے ہی یہ نہ کہا تھا؟ کہ کسی ایسے سر پنچ کو
٦٤
منتخب کیجئے جو غیر مسلم ہونے کے ساتھ الہامی نوشتوں کی اصطلاحات سے واقف ہو۔ اس شرط کو ہمارے مخاطب نے کیسی حقارت سے ناپسند کیا۔
کیا یہ وصف (کہ مقدمات میں فریقین کا بیان سنکر فیصلہ دے سکیں) سردار چن سنگھ صاحب بی اے گورنمنٹ ایڈووکیٹ میں نہیں ہیں؟ نہیں ہیں تو آپ نے ان کا انتخاب کیوں کیا؟ کیا سردار صاحب کا نام ہم نے مقرر کیا تھا؟ سنئے آپ ہی کے ایک رقعہ کے چند فقرات ذیل میں درج ہیں۔ جن میں سردار صاحب کے تقرر کا فیصلہ بھی ملتا ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ :
”چونکہ ماسٹر نور بخش (احمدی) کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ آپ سردار چن سنگھ صاحب پلیڈر کا تقرر بطور ثالث پسند کرتے ہیں اور ان کا نام آپ کے رقعہ نمبر ٥ میں پیش کیا گیا ہے۔ سو ہم بھی سردار صاحب موصوف کے تقرر پر رضامند ہیں۔“
اس رقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ ہم نے کئی ١؎ ایک اہل علم اور اہل دیانت کے نام پیش کئے تھے۔ جن میں سے حسب مشورہ میاں نور بخش صاحب ٹیلر ماسٹر (جو مرزا صاحب کے راسخ معتقد ہیں۔)
آپ نے سردار چن سنگھ صاحب کو منظور کیا یہ جو لکھا کہ ماسٹر نور بخش صاحب نے کہا کہ آپ سردار صاحب کو پسند کرتے ہیں۔ اس کی صورت بھی یہی تھی کہ ماسٹر صاحب نے ہمارے سامنے دو تین آدمیوں کے نام لئے جن میں سردار صاحب بھی تھے۔ ہم نے سب کی منظوری بیک زبان دیدی کہ ہمیں سب منظور ہیں مگر ماسٹر صاحب کا رجحان کسی وجہ سے سردار صاحب کی طرف تھا۔ اسی لئے انہوں نے آپ کو یہی مشورہ دیا۔ بہر حال آپ سے غلطی ہوئی کہ آپ نے سردار صاحب کا پہلے امتحان نہ لے لیا۔ لیتے بھی کیسے جبکہ ہم کو آپ خود ہی لکھ چکے تھے کہ ثالث میں اتنی لیاقت ہونی چاہئیے کہ فریقین کی تقریریں سن کر
١؎ منشی قاسم علی صاحب نے بھی اپنے اشتہار میں لکھا ہے کہ مولوی صاحب نے ایک پادری و ہندو اور ایک سکھ کو پیش کیا۔ (منیجر)
٦٥
بطریق مقدمات فیصلہ کر سکے۔ بات بھی واقعی یہ ہے کہ قادیانی مباحث خصوصاً اس مباحثہ کا فیصلہ عربی دانی یا قرآن فہمی پر موقوف نہیں بلکہ واقعات کی تنقیح کرنے پر ہے۔ اچھا ہم پوچھتے ہیں کہ سردار صاحب تو عربی نہیں جانتے مگر آپ کے مسلمہ مقبولہ منصف منشی فرزند علی صاحب عربی میں کتنی کچھ قابلیت رکھتے ہیں؟۔ ذرہ ان کی ڈگری تو بتلا دیں بہر حال بعد منظور سرپنچ کے نہیں بلکہ اس کا فیصلہ اپنے خلاف سننے کے بعد یہ عذر کرنا جو قادیانی فریق نے کیا ہے اور سرپنچ مقرر کردہ کو پہلے اپنا سردار مان کر فیصلہ اپنے حق میں نہ ہونے کے باعث بعد میں اسے برا بھلا کہنا اور اس کو غیر مہذب الفاظ سے یاد کرنا حدیث مرقوم (جس میں عبداللہ بن سلام کے اسلام لانے پر یہودیوں کا ان کی ہجو کرنا مذکور ہے) کی پوری تصدیق کرتا ہے۔ فریق ثانی نے اسی قسم کے اور بھی عذر لنگ کئے ہیں جو ان کی بے بسی پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلاً ان کا یہ کہنا کہ جلسہ میں مباحثہ کیوقت فلاں رئیس یا فلاں وکیل یا فلاں پولیس افسر جو آیا تو وہ بھی اسی لئے آیا کہ سرپنچ پر اثر ڈالے۔ افسوس ہے ان لوگوں کی حالت پر۔ زیادہ افسوس یہ ہے کہ ان کو الہام بھی ہوتا ہے تو بعد از وقت۔ پہلے ہوا تو شرائط میں یہ بھی داخل کرتے کہ جلسہ مباحثہ میں کوئی ذی وجاہت شخص نہ آنے پائے بلکہ جلسہ کیا ہوا اچھا خاصہ شہدوں کا ایک مجمع ہو۔ (شیم)
تعجب پر تعجب
واقعہ یہ کہ قادیانی مناظر نے سرپنچ کی ذات اور ان کے فیصلہ کی نسبت بہت سخت توہینی فقرات جھاڑے ہیں۔ اس قدر تعجب انگیز نہیں جس قدر یہ تعجب خیز ہے کہ ملک کے عام پریس نے اس خبر کو مختصر اور مطول نوٹوں کے ساتھ شائع کیا مگر قادیانی پریس ایسا خاموش رہا کہ معمولی خبر تک بھی درج نہیں کی۔ بلکہ چناں خفتہ اند کہ گوئی مردہ اند۔ اس خاموشی سے ان کا یہ مقصد ہے کہ اس شکست کی شہرت نہ ہو یا کم از کم قادیانی اخباروں کے ناظرین تک یہ خبر وحشت اثر نہ پہنچ جائے۔ اس لئے وہ یاد رکھیں کہ وہ اس منصوبے میں کام
٦٦
یاب نہیں ہوئے اور نہ ہوں گے۔
اہالی قادیان اور قادیان کے خلیفہ صاحب کی گفتگو اور خفگی جو اس بارے میں ہوئی اس کا ہمیں خوب علم ہے ہمیں اس کے اظہار کی ضرورت نہیں۔ وہ جانیں اور ان کے مرید :
معمولی تحریری مقابلوں سے قطع نظر خدا نے چار دفعہ مجھے قادیان پر فتح عظیم بخشی الحمد للہ ! اسی لئے میرا لقب فاتح قادیان پبلک نے مشہور کر دیا۔ تفصیل درج ہے :
مجھے فاتح قادیان کا لقب کیوں زیبا ہے
(اول).......... اس لئے کہ جناب مرزا صاحب نے اپنی کتاب اعجاز احمدی کے ص ٢٣‘ خزائن ج ١٩ ص ١٣٢ پر بغرض مباحثہ مجھے قادیان آنے کی دعوت دی اور اسی کتاب کے ص ٣٧‘ خزائن ج ١٩ ص ١٤٨ پر لکھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب میرے ساتھ مباحثہ کرنے کیلئے قادیان نہیں آئے گا۔ مگر میں بلائے بے درماں کی طرح ١٠ جنوری ١٩٠٢ء کو قادیاں پر حملہ آور ہوا تو مرزا صاحب مقابلہ میں نہ آئے اور عذر کیا کہ میں نے خدا کے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہے کہ مباحثہ نہیں کروں گا۔ (کہاں کیا؟ یہ پتہ نہیں) ایک فتح۔
تفصیل کیلئے ”رسالہ الہامات مرزا“ ملاحظہ ہو۔ (جو احتساب ہٰذا میں موجود ہے۔ فقیر)
(دوم).......... اس کے بعد جناب ممدوح نے میری موت کا اشتہار دیا اور میرے خود بدولت دوسری فتح۔
(سوم).......... ریاست رام پور صانها الله عن الشرور میں ہزائنس حضور نواب صاحب کے سامنے مباحثہ ہوا اور اس مباحثہ میں قادیانی جماعت کے تمام برگزیدہ اصحاب شریک تھے مگر تین روز کے مقابلے کے بعد ایسے بھاگے کہ شہر رام پور کو پھر کر بھی نہیں دیکھا۔ بلکہ بزبان حال یہ کہتے ہیں :
٦٧
بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے
اس فتح کا ثبوت ہائنس نواب صاحب کا سرٹیفیکیٹ موجود ہے۔ جو درج ذیل ہے :
حضور نواب صاحب رام پور کا سرٹیفیکیٹ
رام پور میں قادیانی صاحبان سے مناظرہ کے وقت مولوی ابو الوفا محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی اسے بدلائل ثابت کیا ہم ان کے بیان سے محظوظ و مسرور ہوئے۔
دستخط : خاص حضور نواب صاحب بہادر محمد حامد علی خاں
- (چہارم).......... چوتھی فتح یہ ہوئی جو بمقام لدھیانہ میں قتل دجال سے خدا نے
دی۔ یہ ہیں چار فتوحات بینہ جن کی وجہ سے خیر خواہاں اسلام مجھ کو فاتح قادیان کہتے ہیں۔ الحمد للہ ! خاکسار ابو الوفا ثناء اللہ (مولوی فاضل) امرتسر
٦٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
آفتہ اللہ
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آفۃ اللہ ... بجواب ... آیت اللہ
مرزا قادیانی کی امت کے دو بڑے گروہ ہیں ایک قادیانی دوسرا لاہوری یا پیغامی مرزائی۔ آخری فیصلہ کا اثر ان دونوں پر پہنچتا ہے۔ اس لئے خدا کی حکمت نے تقاضا کیا کہ ان دونوں کو میدان میں لائے۔ مباحثہ لدھیانہ میں تو قادیانی گروہ نکلا۔ پیغامی گروہ میں یہ سکت تو نہ ہوئی کہ میدان مباحثہ میں آئے۔ اس نے حق الخدمت یوں ادا کیا کہ اس گروہ کے امیر مولوی محمد علی صاحب (ایم اے) نے اس مضمون پر ایک چھوٹا سا ٹریکٹ (رسالہ) لکھا۔ جس کا نام ہے آیت اللہ۔ مناسب ہے کہ اس رسالہ میں اس کا بھی مختصر سا جواب دیا جائے۔ تاکہ ساری بحث یکجا جمع ہو جائے۔
٢
مولوی محمد علی صاحب کا رسالہ تو کئی صفحات پر ختم ہوتا ہے مگر اس کے حشو زوائد مضامین کو چھوڑ کر دیکھا جائے تو اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ دعا مرزا صاحب کی محض یکطرفہ دعا نہ تھی بلکہ دعا کرنے اور کرانے کے لئے دعوت اور بلاوا تھا۔ مگر چونکہ مولوی ثناء اللہ نے بالمقابل دعا کرنے سے انکار کر دیا۔ لہذا وہ دعا نہ رہی۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کیلئے انہوں نے بہت پرانی تحریرات نقل کی ہیں جن میں مرزا صاحب اور میرے درمیان کبھی کبھی مباہلہ کا ذکر آجایا کرتا تھا۔ ان سب تحریرات کو اس اشتہار سے ملا کر اس مطلب پر پہنچے ہیں کہ یہ دعا بھی درحقیقت محض یک طرفہ دعا نہ تھی بلکہ بالمقابل دعا کیلئے دعوت تھی۔ چنانچہ مولوی محمد علی صاحب کے رسالے کی جان صرف یہ فقرہ ہے جو انہی کے الفاظ میں ہم نقل کرتے ہیں :
”مولوی ثناء اللہ صاحب نے بالمقابل قسم کھانے سے انکار کیا اور یہاں تک لکھ دیا کہ میں تمہاری قسم کا اعتبار ہی نہیں کرتا تو پھر آپ نے اس اشتہار میں جس کا عنوان ہے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کو بجائے قسم بالمقابل دعا کے ذریعے فیصلہ کرنے کی طرف بلایا۔“ (ص ١٦ آیت اللہ)
اس ایجاد سے مولوی محمد علی صاحب کی غرض یہ ہے کہ ظاہر کریں کہ مرزا صاحب کے اشتہار میں یہ شرط تھی کہ میرے مقابلہ میں مولوی ثناء اللہ بھی دعا کرے۔ چونکہ اس نے دعا نہیں کی۔ لہذا قرار داد نہ ہوئی۔ پس بات یونہی رہ گئی۔
میں کہتا ہوں کہ مرزا صاحب کا اشتہار سامنے رکھ کر اس لفظ پر انگلی رکھ دو یا نشان لگا دو جس سے آپ کے دعویٰ کا ثبوت یا تائید ہو سکتی ہے۔ ورنہ یاد رکھو : ”بے ثبوت دعویٰ کرنا کسی اہل عقل کا کام نہیں ۔“ ( تقریر مرزا بروجہۃ الوجود ص ٣١)
ہاں ! آپ نے اس دعویٰ کا ثبوت جن لفظوں میں دیا ہے ۔ وہ بھی ناظرین کی آگاہی کے لئے نقل کئے جاتے ہیں ۔ مولوی صاحب لکھتے ہیں :
”مرزا صاحب نے کہا میں نے دعا کے طور پر خدا سے فیصلہ چاہا ہے اب یہ ظاہر ہے کہ دعا سے جو فیصلہ خدا سے چاہا جاتا ہے وہ صرف مباہلہ کے رنگ میں ہی ہوتا ہے۔ یوں کسی
٣
بزرگ یا ولی یا نبی کی بد دعا سے کسی مخالف کی ہلاکت ضروری ہو جانا یہ سنت اللہ میں داخل نہیں۔ جب تک کہ اس دعا میں مباہلہ کا رنگ پیدا نہ ہو۔ چنانچہ فقرہ (٢) کے بعد فقرہ (٣) میں اپنی دعا کو درج کر کے فقرہ (٤) میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو بدیں الفاظ مخاطب فرمایا ہے۔ بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ یہ فقرہ صاف بتاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) نے اپنی طرف سے جو کرنا تھا کر دیا۔ مگر فریق ثانی سے آپ کا یہ مطالبہ ہے کہ وہ بھی اس کے مقابل کچھ کرے۔ صرف اپنی دعا پر حصر نہیں کیا۔ اگر اپنی بد دعا پر حصر کر دیتے تو پھر کہا جاسکتا تھا کہ شاید آپ نے اس بددعا کو یکطرفہ مباہلہ کا تصور کر لیا ہے۔ مگر مولوی ثناء اللہ صاحب سے یہ صریح مطالبہ کہ وہ بھی مقابلہ پر کچھ کرے ۔ بتاتا ہے کہ آپ اس کی طرف سے ایسی ہی دعا کے منتظر ہیں۔ جیسا کہ : ” ثم نبتهل“ کا منشاء ہے۔“
(ص ١٩‘٢٠)
مولوی محمد علی صاحب نے اس بیان میں دو دعوے کئے ہیں۔ ایک یہ کہ خدا سے جو فیصلہ چاہا جاتا ہے وہ صرف مباہلہ کے رنگ میں ہوتا ہے۔ (٢) دوم یہ کہ مرزا صاحب نے مولوی ثناء اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آپ بھی میرے مقابل دعا کریں۔ اللہ اکبر ! یہ علم اور یہ تعصب! جناب سنئے !
حضرت نوح علیہ السلام نے خدا سے فیصلہ چاہا تو وہ صرف حضرت نوح کی اپنی ہی دعا تھی یا مخالفوں نے بھی مباہلہ کیا تھا ؟۔
آنحضرت ﷺ کو جب کفار مکہ نے کعبہ شریف میں سخت تکلیف دی۔ تو آپؐ نے نہایت اشد کفار پر بد دعا کی تھی۔ خداوند ابو جہل کو پکڑ ۔ خداوند افلاں کو پکڑ وغیرہ۔ چنانچہ اس دعا کے مطابق جنگ بدر میں وہ لوگ مارے گئے۔ کیا یہ دعا تھی یا مباہلہ ؟۔ اس قسم کے واقعات بے شمار ملتے ہیں جن میں حضرات انبیاء علیہ السلام نے مخالفوں پر بد دعائیں کیں اور خدا نے قبول کر کے فیصلہ فرمایا۔
٤
آئیے میں آپ کو بتاؤں کہ آپ کا یہ دعویٰ نہ صرف قرآن وحدیث کے بر خلاف ہے۔ بلکہ خود مرزا صاحب کے طریق عمل کے بھی مخالف۔ مرزا صاحب ہمیشہ دعاؤں سے فیصلہ چاہا کرتے تھے۔ میں یہاں ان کی ایک دعا نقل کرتا ہوں۔ مگر میں اس کا ذمہ دار نہ ہوں گا کہ اس دعا کی قبولیت بھی بتاؤں یہ کام آپ کا ہے میرا کام صرف یہ ہے کہ میں یہ بتاؤں کہ مرزا صاحب کا طریق عمل بھی آپ کے دعویٰ کے خلاف تھا۔ سنئے! صاحب کہتے ہیں۔
”اس عاجز مرزا غلام احمد قادیانی کی آسمانی گواہی طلب کرنے کیلئے ایک دعا کا حضرت عزت سے اپنی نسبت آسمانی فیصلے کی درخواست..................“
یہ اس اشتہار کی سرخی (عنوان) ہے جس سے میں کچھ نقل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ عنوان ہی مولوی محمد علی کی تکذیب کافی کرتا ہے۔ کیونکہ اس میں صاف لکھا ہے کہ یہ فیصلہ کی درخواست ہے۔ تاہم اصل الفاظ بھی سنائے دیتے ہیں۔ مرزا صاحب دعا کرتے ہیں :
اے میرے مولا! قادر خدا! اب مجھے راہ بتلا اور کوئی ایسا نشان ظاہر فرما جس سے تیرے سلیم الفطرت بندے نہایت قوی طور پر یقین کریں کہ میں تیرا مقبول ہوں...... اگر تو تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جاویں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی آسمانی نشان نہ دکھلائے اور اپنے اس بندے کو ان لوگوں کی طرف رد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائنین ومفسد ہیں۔ تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٥ ، ١٧٧)
کیا یہ فیصلہ طلبی بذریعہ دعا ہے یا خدا سے بھی مباہلہ ہے ؟۔ (ہاں میں اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کہ ان تین سالوں میں کون سا ایسا نشان ظاہر ہوا جس سے مرزا صاحب کے دعویٰ کا اثبات ہوتا یا قوت پہنچتی ہو) میری غرض صرف یہ ہے کہ آپ کا دعویٰ قرآن وحدیث کے مخالفت کے علاوہ خود مرزا صاحب کے بھی مخالف ہے۔ انبیاء علیہم السلام بذریعہ دعا فیصلہ چاہتے رہے اور ہوتا رہا۔ ہمارے پنجابی نبی تو ہمیشہ دعا ہی کے ذریعے سے اپنی مشین
٥
چلایا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کی مشین کے ایک ڈرائیور نے لکھا تھا۔ جو آپ کے ملاحظہ کیلئے نقل ہے:
”حضرت مسیح موعود مرزا صاحب دعا کی قبولیت کا ایسا قطعی ثبوت پیش کرتے ہیں جو آج دنیا بھر میں کسی مذہب کا کوئی ماننے والا پیش نہیں کر سکتا۔ وہ مدت سے اس بات کو شائع کر رہے ہیں کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔“
(ریویو ١٩٠٦ء ج ٦ ش ٥ زیر ایڈیٹری محمد علی)۔
پس جب ان کا بڑا ثبوت دعا ہے تو پھر دعا فیصلہ کن نہ ہوئی۔ اسی لئے تو مرزا صاحب نے اپنی دعا کے ساتھ میری آمین کا بھی انتظار نہیں کیا جو بہت معقول ہے۔
دوسری بات کہ مولوی ثناء اللہ سے بھی دعا کا مطالبہ تھا۔ افسوس ہے کہ اس کے لئے اشتہار میں کوئی لفظ نہیں ملتا۔ مرزا صاحب تو کہتے ہیں کہ اس کے نیچے جو چاہو لکھو۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“ جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ میرے اقرار یا انکار دعا یا عدم دعا پر کچھ موقوف نہیں۔
طرفہ پر طرفہ: غرض مامورین الٰہی کسی دوسرے کے لئے بددعا نہیں کرتے۔ سوائے اس خالص حال کے جو مباہلہ کے نام سے موسوم ہے۔ یعنی دوسرے طریق کے بالمقابل جو عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہو۔ ہاں ایسے ہی ان کے مخالف جو جھوٹے کی موت مانگتے ہیں۔ ان کے سامنے بطور نشان کے ہلاک کر دیئے جاتے ہیں اور یہی دو طریق فیصلے کے حضرت مسیح موعود (مرزا) نے پیش کئے ہیں۔ باقی رہی بددعا سو اللہ تعالیٰ اپنے ماموروں کے لئے یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ دوسروں کیلئے ہلاکت مانگا کریں۔ ہمارے نبی کریم ﷺ تو منافقوں جیسے خطرناک دشمنان اسلام کیلئے بھی استغفار ہی کیا کرتے تھے۔ ہاں ایک موقعہ پر جب آپ کو سخت دکھ پہنچایا گیا اور آپ کے ستر نہایت عزیز قاری بے رحمی سے اور دھوکہ دے کر کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں قتل کر دیئے گئے۔ تو آپ نے ایک قوم پر کچھ دن بتقضائے
٦
بشریت بدعا کی۔ مگر اس رحمتہ اللعالمین کو یہی حکم ہوا : ”لیس لک من الا مر شئ او یتوب علیہم او یعذبہم فانہم ظالمون ، آیۃ اللہ ص ٤٥ ، ٤٦“ ہم حیران ہیں کہ اس انکار کو نقصان علم کہیں یا کتمان حق نام رکھیں۔ خیر کچھ بھی ہو حضرت نوح اور خود سید الانبیاء علیہم السلام کا واقعہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا خود قرآن مجید میں یوں مذکور ہے : ” ربنا اطمس علی اموالہم واشدد علی قلوبہم ١ ؎ ۔ یونس ٨٨“ کیسی صاف دعا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب پر مرزا صاحب کی محبت بہت غالب ہے کہ ان کے دعویٰ کے خلاف معمولی معلومات بھی آپ کو ذہول یا بھول جاتے ہیں۔
مزید افسوس : اس مضمون پر لدھیانہ کے مباحثہ میں کافی بحث ہو چکی تھی۔ فریقین اپنے اپنے دلائل پیش کر چکے تھے جو مولوی محمد علی صاحب نے بھی یقیناً دیکھے ہوں گے۔ اس لئے آپ کا فرض ہونا چاہئے تھا کہ آپ ان سب کے علاوہ کوئی بات کہتے یا ان میں کوئی معقول جدت پیدا کرتے۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے اپنا منہ تاکنے والوں کو دھوکہ میں رکھا۔ یا خود دھوکہ کھایا اور ان دلائل کا جواب نہ دیا۔
ہماری طرف سے دو دلیلیں فیصلہ کن پیش ہوئی تھیں۔ ایک اخبار بدر قادیان ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء سے جو اشتہار مذکور سے دس روز بعد ہے۔ اس میں مرزا صاحب کا قول ہے کہ میں نے جو ثناء اللہ کے حق میں دعا کی تو الہام ہوا : ” اجیب دعوۃ الداع ، “یعنی یہ دعا قبول ہے۔ (ملفوظات ج٩ ص ٢٦٨) الہام صاف فیصلہ کن ہے کہ دعا مذکور قبول ہوئی۔ مولوی محمد علی صاحب نے اس کا جواب نہیں دیا۔
دوئم اخبار بدر ١٣ جون ١٩٠٧ء یعنی میرے انکار مندرجہ اہل حدیث ٢٦ اپریل
١ ؎ ترجمہ : اے خدا فرعونیوں کے مالوں کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے تیرا عذاب دیکھے بغیر ایمان نہ لائیں۔
٧
١٩٠٧ء سے ڈیڑھ مہینہ بعد مرزا صاحب کا ایک خط میرے نام چھپا۔ جس میں اس فیصلہ کا خدا کے ہاتھ میں ہونا دوبارہ اظہار کیا۔ مولوی محمد علی نے بھی اس کا جواب کبھی نہیں دیا۔ افسوس! مختصر یہ ہے کہ مرزا صاحب کی مذکورہ دعا خدا کی تحریک سے تھی اس کے قبول ہونیکا انکو الہام ہو چکا تھا۔ اسلئے مرزا صاحب کی یہ دعا ضرور بالضرور قبول ہوئی۔ کیوں نہ ہوتی الہام مذکورہ کے علاوہ قرآن کریم بھی اس دعا کا مؤید ہے۔ غور سے سنئے: ” ولا يحيق المكر السيئ الا باهله ، فاطر ٤٣“
مرزائیو! دیکھو ہماری دریادلی کہ ہم اپنے بر خلاف خود تم کو عذر بتاتے ہیں۔ سنو استاد مومن خان کا شعر ورد زبان کر لو جہاں کسی نے اس دعا کی بابت ذکر کیا جھٹ سے یہ شعر پڑھ دیا کرو:
آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ
٨
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
فتح ربانی
در مباحثہ قادیانی
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
نحمد اللہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم!
پہلے ایک نظر ادھر
مرزا قادیانی نے سب سے پہلے مسیح موعود کا دعویٰ کیا ہے۔ اسی وقت سے علماء اسلام نے ان کا تعاقب کیا۔ بہت سے علماء نے ان کی تردید میں قلم اٹھایا۔ مولوی محمد حسین بٹالویؒ، حضرت پیر صاحب گولڑویؒ، حضرت سید محمد علی صاحب مونگیریؒ، مولوی غلام رسول صاحب عرف رسل بابا امر تسریؒ، مولوی محمد انوار اللہ صاحب حیدر آبادیؒ، مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹیؒ، مولوی غلام دستگیر صاحب قصوریؒ، ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب پٹیالوی، قاضی فضل احمد صاحب لدھیانویؒ، مولوی اسماعیل صاحب علیگڑھیؒ، منشی الہی بخش صاحب لاہوریؒ، مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ امر تسریؒ خاص قابل ذکر ہیں۔ جزاھم اللہ !
مولوی ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب کے واقعات تاریخ مرزائیہ میں بالخصوص قابل یاد گار ہیں۔ ١٩٠٢ء میں مرزا صاحب نے کتاب اعجاز احمدی کے ذریعہ مولوی صاحب کو قادیاں مباحثہ کے لئے بلایا اور ساتھ ہی پیشگوئی بھی جڑ دی کہ نہیں آئیں گے۔ مگر مولوی صاحب نے جنوری ١٩٠٣ء کو قادیان میں پہنچ کر مرزا صاحب کو میدان مباحثہ میں بلایا۔ لیکن مرزا صاحب باہر نہ نکلے۔
١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو مرزا صاحب نے مولوی صاحب کے مقابلہ میں آخری فیصلہ کے نام سے اشتہار دیا۔ (جو رسالہ فاتح قادیان میں درج ہے) اس اشتہار کا اثر یہ ہوا کہ مولوی صاحب نے بجائے خوفزدہ ہونے کے ایک رسالہ ماہوار مرقع قادیانی جاری کر دیا جو مرزا
صاحب کی حیات کے بعد تک بھی جاری رہا۔ اس میں خاص مرزا صاحب کے متعلق مضامین لکھے جاتے تھے۔ آخر نتیجہ یہ ہوا کہ ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا صاحب اس دار فانی سے انتقال فرما گئے۔ جس پر کسی اہل دل نے کہا :
کذب میں سچا تھا پہلے مر گیا
اس کے بعد ریاست رامپور میں بحکم ہزہائی نس نواب صاحب رام پور ١٥ جون ١٩٠٩ء کو مباحثہ ہوا جس میں مرزائی جماعت کے بڑے بڑے لوگ شریک تھے۔ گو مباحثہ تو حیات و وفات مسیح اور صداقت مرزا پر تھا۔ مگر تین روز تک صرف حیات و وفات پر رہا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزائی جماعت بلا اجازت نواب صاحب چلی آئی اور نواب صاحب نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو فتح یابی کا سرٹیفکیٹ دیا جو درج ذیل ہے۔ وھو ھذا!
”رام پور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے وقت مولوی ابوالوفا محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے محظوظ و مسرور ہوئے۔“
دستخط خاص! حضور نواب صاحب بہادر رام پور محمد حامد علی خاں
اس کے بعد مرزائیوں نے پھر سر اٹھایا اور مرزا صاحب کے اپریل ١٩٠٧ء والے اشتہار کی بابت چون و چرا کی کہ ہم اس پر بحث کرنے کو تیار ہیں۔ اگر جیت جاؤ تو ہم سے تین سو روپیہ انعام پاؤ۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کو منظور کیا اور مقام مباحثہ لدھیانہ تجویز ہوا۔ فریقین کی طرف سے ایک ایک منصف اور ایک غیر مسلمان سردار چنن سنگھ جی گورنمنٹ پلیڈر لدھیانہ بمنظوری فریقین سرپنچ مقرر ہوئے۔ مباحثہ باقاعدہ ہوا۔ فیصلہ مولوی ثناء
٣
اللہ صاحب کے حق میں ہوا اور انعام مبلغ تین سو روپیہ بھی ان کو وصول ہوا۔ اس مباحثہ کی ساری روئداد مع فیصلہ منصفان، مولوی صاحب نے رسالہ کی صورت میں "فاتح قادیان" کے نام سے شائع کی۔ جو اب بھی مل سکتی ہے۔ (احتساب جلد ہذا میں موجود ہے)
ان واقعات اور فتوحات الہیہ کے باوجود مرزائیوں سے کسی بحث و مباحثہ کی ضرورت نہ تھی۔ کیونکہ حق کے متلاشی کے لئے دو ہی راہیں ہیں۔ علم دار یا علم شناس کے لئے کتابی دلائل کافی ہوتے ہیں اور الہی فیصلہ تو سب کے لئے کافی ہونا چاہئے۔ جس کی بابت اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بار بار ارشاد فرماتا ہے: ”فانتظروا انی معكم من المنتظرين ۔ اعراف ٧١“
اس قسم کی آیات فیصلہ الہیہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ان سب کا مطلب یہی ہے کہ حکم الہیہ سے جو فیصلہ ہوتا ہے وہ سب سے بالاتر ہوتا ہے۔ مرزا صاحب اپنے اشتہارات کے مطابق خدائی فیصلہ کے نیچے آئے اور ان کے مریدان خاص اپنی مسلمہ شرائط کے ساتھ مقدمہ ہار گئے۔ پھر کسی بحث مباحثہ کی کیا حاجت؟۔
مگر چند دنوں کا واقعہ ہے کہ مرزائیوں نے امرتسر میں ایک مرزائی واعظ غلام رسول صاحب (راجیکی) کو بلا کر شہر میں ادھر ادھر کچھ کہنا سننا شروع کیا تو عوام میں اس کا چرچا ہوا۔ مختلف مقامات پر فریقین کی تقریریں ہوئیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کے بھی دو لیکچر ہوئے جن میں مولوی صاحب نے مرزائی الہامات کی خوب قلعی کھولی۔ اسی اثناء میں جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کسی تقریب سے امرتسر تشریف لائے تو اہالی امرتسر کے اصرار سے صاحب موصوف نے بھی متعدد تقریریں فرمائیں جن کا اہل شہر پر خاص اثر ہوا۔ جزاھم الله خیر الجزا!
لیکن لوگوں کا خیال رہا کہ فریقین ایک جگہ بیٹھ کر گفتگو کریں تو نتیجہ اور بھی بہتر ہو۔ چنانچہ انہی حضرات کی کوشش سے ایک جگہ بیٹھ کر مندرجہ ذیل شرائط کا تصفیہ ہوا۔
٤
شرائط مباحثہ!!!
بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!
مابین انجمن احمدیہ وانجمن حفظ المسلمین امرتسر بتواریخ ٢٩، ٣٠ اپریل ١٩١٦ء بشرائط ذیل مباحثہ ہونا قرار پایا ہے:
- ١............. جماعت احمدیہ کی طرف سے مولوی غلام رسول صاحب مناظر ہوں
گے اور انجمن حفظ المسلمین کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب مباحث ہوں گے۔
- ٢............. پہلے دن پہلا پرچہ مولوی غلام رسول صاحب وفات مسیح علیہ السلام
پر لکھیں گے اور مولوی ثناء اللہ صاحب حیات مسیح علیہ السلام پر۔
- ٣............. ہر دو مباحث مضمون مذکورہ بالا پر تین تین پرچے لکھیں گے۔ اور ہر
ایک پرچہ کے واسطے ایک ایک گھنٹہ وقت ہو گا۔ یعنے صبح ٨ بجے بحث شروع ہو کر ١١ بجے ختم ہو گی۔
- ٤............. دوسرے دن مولوی غلام رسول صاحب صداقت دعاوی و پیشگوئیاں
مرزا صاحب پر بروئے منہاج نبوت۔ یعنے قرآن وحدیث مضمون لکھیں گے اور مولوی ثناء اللہ صاحب ابطال دعاوی مرزا صاحب پر پرچہ لکھیں گے۔ اور اس مضمون پر بھی تین تین پرچے لکھے جاویں گے۔ اور ہر ایک پرچہ کے لئے بطریق مذکورہ بالا ایک ایک گھنٹہ وقت مقرر ہو گا۔
- ٥............. ہر ایک پرچہ بعد لکھنے کے سنایا جاوے گا اور خوشخط لکھ کر ہر فریق کی
طرف سے فریق مقابل کو دیا جاوے گا اور تحریر و تقریر ہر ایک پرچہ وقت مقررہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر ہو گی۔ ایزادی وقت نہیں ہو گی یعنے ٤٠ منٹ پرچہ لکھنے کیلئے اور دس دس منٹ پرچہ سنانے کے لئے ہوں گے۔
- ٦............. ہر ایک فریق پچھتر پچھتر آدمی اپنے ہمراہ لانے کا مجاز ہو گا اور
پچاس آدمی معزز اور شامل ہو سکیں گے جن میں پولیس اور غیر مذاہب والے ہوں گے۔
- ٧........... ہر ایک فریق اپنی اپنی جماعت کے حفظ امن کا ذمہ دار ہو گا۔
- ٨........... سوائے مباحثین کے کسی دوسرے شخص کو بولنے کا اختیار نہ ہو گا۔
بصورت خلاف ورزی پریذیڈنٹ کو اختیار ہو گا کہ اسے جلسہ سے باہر نکال دے اور ان شرائط مذکورہ کی پابندی ہر ایک فریق پر لازمی ہو گی۔
- ٩........... ہر ایک فریق کی طرف سے ایک ایک پریذیڈنٹ اور ایک ان پر سرپنچ
مقرر کیا جاوے گا۔
- ١٠........... تحریرات روز اول سرپنچ کے پاس رہیں گی تاوقتیکہ دوسرے دن
کارروائی ختم نہ ہو۔
(المرقوم ٢٤ اپریل ١٩١٦ء)
دستخط : ابوالوفا ثناء اللہ مناظر منجانب حفظ المسلمین دستخط : غلام رسول راجیکی نزیل امرتسر مناظر منجانب انجمن احمدیہ امرتسر
الحمد للہ! شرائط مذکورہ کے مطابق ٢٩، ٣٠ اپریل ١٩١٦ء کو مباحثہ بالکل امن وامان سے ہوا۔ کسی قسم کی بے لطفی نہیں ہوئی۔
مباحثہ کا نتیجہ !
کیا ہوا؟۔ اس کے متعلق ایک ہی واقعہ بتلانا کافی ہے۔ تحریری مباحثہ تو محدود اشخاص میں تھا۔ اس لئے عام رائے تھی کہ ایک مباحثہ عام جلسہ میں تقریری بھی کیا جائے۔ جس میں فریقین زبانی تقریریں کریں ہر چند ادھر سے کہا گیا مگر فریق مرزائی نے نہ مانا پر نہ مانا۔ (اپنی کمزوری دیکھ لی)
اظہار تعجب !
انجمن ہذا نے کیوں جلدی مباحثہ ہذا کو طبع نہ کر لیا؟۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے سنا تھا کہ مرزائی لوگ مباحثہ طبع کرائیں گے۔ چونکہ ہمیں گمان تھا کہ مرزائی لوگ مناظرہ میں
٦
اپنی کمزوری محسوس کر کے صرف مناظرہ کے کاغذات پر قناعت نہیں کریں گے بلکہ موقع بموقع اپنی کمزوریوں کو دور یا مخفی کرنے کے لئے نوٹ بھی لکھیں گے ۔اس لئے انتظار رہا کہ ان کے نوٹ دیکھے جاویں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ انہوں نے جابجا نوٹ لکھے بلکہ ہر مضمون کے بعد کبھی ضمیمہ ،کبھی تتمہ کے نام سے مضامین بڑھائے۔ پھر لطف یہ ہے کہ اخیر صفحہ پر لکھتے ہیں :
"ہم نے مناسب سمجھا کہ دونوں فاضلوں کی تحریروں پر کسی قسم کا ریمارک نہ کیا جاوے۔"
اللہ اکبر ! اس قدر جرأت اور اس قدر حوصلہ کہ جگہ جگہ نوٹ اور ضمیمے لگا کر بھی کہتے ہیں کہ کسی قسم کی رائے کے بغیر چھاپتے ہیں۔
اظہار افسوس !
مرزائیوں نے یہی نہیں کیا۔ بلکہ موقع بموقع نوٹ لکھے ہیں بلکہ ہمارے مضامین کو بعض جگہ سے بالکل مسخ کر دیا جس کا ذکر موقع بموقع آئے گا۔ انشاء اللہ !
ایک اور نتیجہ !
ایک مرزائی مرزائیت سے تائب ہو گیا اور اس نے ایک اشتہار شائع کیا جو یہاں بلفظہ درج کیا جاتا ہے۔ وہو ہذا !
مسلمانوں اور مرزائیوں کے مباحثہ کا اثر ،اطلاع عام !
صاحبان مرزائی دوستوں کی حیلہ سازی سے میں مرزا صاحب کا قبل جلسہ ١٩١٥ء میں مرید ہو گیا تھا۔ میں نے اس عرصہ میں مرزا صاحب کی چند ایک کتابیں دیکھیں اور ان کے الہام اور دعوؤں پر غور کیا مگر جہاں تک میری عقل نے سوچا سراسر غلط پایا۔ میں اب اس عقیدہ باطلہ سے توبہ کرتا ہوں اور جناب منشی محمد اسماعیل صاحب مشتاق تاجر ٹرنک امرتسر کا مشکور ہوں کہ جنہوں نے مسلمانوں اور مرزائیوں کا مباحثہ کرا کر حق و باطل میں فرق کر دیا اور میرے جیسے کو بھی یہ سمجھ آئی کہ یہ (مرزائی عقیدہ) بالکل غلط ہے۔ لہذا میں دل سے توبہ
٧
کرتا ہوں۔ آپ لوگ بھی میرے حق میں دعاء خیر فرمادیں کہ خداوند تعالیٰ مجھے دین محمدی پر تا زندگی قائم رکھے اور اسی پر میرا خاتمہ بالخیر ہو۔ آمین! ٢١ مئی ١٩١٦ء بقلم خود فضل الدین کٹڑہ مہان سنگھ کوچہ ارائیاں امرتسر
اطلاعی نوٹ
جو شخص ہمارے شائع کردہ پرچوں کا مقابلہ کرنا چاہیں وہ دفتر انجمن ہذا میں تشریف لا کر کر سکتے ہیں۔ پتہ انجمن: مسجد حاجی شیخ ہڈیا صاحب مرحوم چوک فرید امرتسر۔ ٢٩ اپریل ١٩١٦ء
پرچہ نمبر اول
دلائل حیات مسیح
از مولوی ثناء اللہ صاحب
بسم الله الرحمن الرحيم . سبحانك لا علم لنا الا ما علمتنا انك انت العليم الحكيم!
حضرات! دنیا میں جو مقتداء اور پیشواء ہوئے ہیں۔ ان کے حالات کو محفوظ رکھنے والے دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک موافق دوسرے مخالف ان دونوں کی نگاہیں اس مقتداء (ہیرو) کے افعال واقوال پر متفقہ پڑتی ہیں۔ گو ان کی نیتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ معتقدین تو بغرض اتباع ان کو دیکھتے ہیں اور مخالفین بغرض نکتہ چینی۔
خدا کی شان ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس خصوصیت میں خاص ممتاز ہیں کسی نبی کے حالات اس طرح مخالفین اور موافقین نے قلمبند نہیں کئے۔ جس طرح حضرت موصوف کے معتقدین نصاریٰ نے انجیلوں میں اور یہودیوں نے اپنی تاریخ میں ان کے حالات قلمبند کر رکھے ہیں۔
ان سب کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی دی گئی ہے جس
٨
سے بطور بین لازم کے یہ نتیجہ ثابت ہوتا ہے کہ ان دونوں کے نزدیک حضرت ممدوح اپنی طبعی موت سے نہیں مرے۔ اب ہمارے سامنے تواتر سے دو باتیں ثابت ہیں۔ ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا سولی پر مرنا۔ دوسرا موت طبعی سے نہ ہونا۔
قرآن مجید کا دعویٰ ہے کہ میں کتب اور حالات سابقہ پر بطور مہیمن کے آیا ہوں۔ یعنے ان کے غلط خیالات کی اصلاح کے اور صحیح عقائد کے القاء کیلئے قرآن کا آنا ہے۔ مذکورہ بالا دونوں عقائد میں سے عقیدہ سولی کو تو قرآن شریف نے کھلے لفظوں میں رد کر دیا۔ فرمایا :” وما قتلوه وما صلبوه “ کہ قتل کا وقوعہ ہوا نہ سولی کا۔
قاعدہ کی بات ہے کہ تواتر غلط نہیں ہوتا مگر تواتر کے منشاء میں غلطی لگ جاتی ہے۔ جیسے کسی شخص کو مردہ سمجھ کر بے شمار لوگ اس کی مردگی کی روایت کر دیں اور وہ تواتر تک پہنچ جاوے۔ لیکن اس کی ابتدا اگر غلط ہو تو جو شخص اس تواتر کا انکار کرے اس کا فرض ہے کہ اس منشاء غلطی کی غلطی کو کھول دے۔ چنانچہ قرآن مجید نے اس اصول کے مطابق فرمایا :” ولکن شبہ لھم “ قتل اور مصلوب نہیں ہوئے۔ ہاں ان دونوں گروہوں کے حق میں وہ مسیح مشبہ ہوگئے۔ پس بحکم قرآن کوئی مسلمان عیسائیوں اور یہودیوں کے متفقہ عقیدوں میں سے پہلے عقیدے (سولی) کو تو مان نہیں سکتا۔ البتہ ان کا دوسرا عقیدہ کہ وہ موت طبعی سے نہیں مرے۔ چونکہ قرآن مجید نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ ایک طرح تائید کی ہے۔ اس لئے ہم اس عقیدہ کو غلط نہیں کہیں گے۔ قرآن مجید نے کیسے تائید کی اس کا ذکر میں آگے کروں گا۔ پہلے میں یہ بتلاتا ہوں کہ میرا طرز استدلال کوئی جدید نہیں بلکہ جناب مرزا غلام احمد قادیانی نے خود اس طریق سے استدلال کیا ہے۔
جناب موصوف نے اپنے ازالہ اوہام ص ٢١٦ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣ میں جہاں حضرت مسیح کی وفات پر بحث کی ہے بائیسویں آیت یہ لکھی ہے :” فاسئلوا اهل الذكر ان کنتم لا تعلمون “ یعنے جس بات کو تم نہیں جانتے وہ اہل کتاب سے پوچھ لیا کرو۔
اب ہمارے سامنے یہ مسئلہ ہے کہ کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام موت طبعی سے
٩
مرے؟۔
ہم یہ سوال اہل کتاب کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ تو وہ بالاتفاق ہم کو جواب دیتے ہیں کہ موت طبعی سے نہیں مرے۔ قرآن مجید اس کی تائید کرتا ہے۔ جہاں فرمایا : ” ان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیامۃ یکون علیہم شہیدا . نساء ١٥٩ “ اس آیت کا ترجمہ میں آپ کروں تو میرے مخاطب کو جائے کلام ہو گا۔ اس لئے میں ان کے مسلمہ پیشوا خلیفہ اول قادیان مولوی حکیم نورالدین کا کیا ہوا لکھتا ہوں۔ فرماتے ہیں ۔
” نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لائے گا۔ ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہو گا اوپر ان کے گواہ۔“ (فصل الخطاب لمقدمتہ اہل الکتاب ص ٣١٣)
اس ترجمہ کو دیکھ کر ادنیٰ اردو دان بھی سمجھ سکتا ہے کہ جناب مصنف نے ”قبل موتہ .“ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف پھیری ہے۔
جناب مرزا صاحب خود بھی ایک زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے قائل تھے۔ (براہین احمدیہ حاشیہ ص ٤٩٨ خزائن ج ١ ص حاشیہ ٥٩٣) ملاحظہ ہو :
فرماتے ہیں :
” جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے...... الخ۔ “
میری مراد کوئی الزامی جواب دینا نہیں ہے بلکہ یہ بتلانا ہے کہ جن دنوں مرزا صاحب کو الہام اور مجددیت کا دعویٰ تھا۔ ان دنوں ان کا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں۔ حالانکہ قرآن دانی میں ان دنوں بھی اس کمال کا دعویٰ تھا کہ تین سو دلائل قرآن کی حقانیت کے قرآن ہی سے دینے کے ثبوت میں براہین احمدیہ لکھی تھی۔
(دیکھو براہین احمدیہ ص ٧٢ خزائن ج ١ ص ٦٧)
اگر مسئلہ حیات مسیح اس قسم کا غلط ہوتا کہ اس کی تردید قرآن مجید میں ہوتی تو ایسا قرآن دان اور قرآن کا حامی اس عقیدہ کو دل و دماغ میں رکھ کر میدان مناظرہ میں نہ آتا۔
١٠
اب میں ایک اور طریق سے بھی مختصر عرض کرتا ہوں کہ حیات مسیح کا مسئلہ اسلام کے مناسب ہے اور وفات مسیح کا مسئلہ نامناسب۔
کچھ شک نہیں قرآن مجید کو شرک سے خاص چڑ ہے۔ جہاں کہیں شرک کی بو آوے قرآن مجید کا فرض اولین ہوتا ہے کہ اس کی صفائی کرے۔ عیسائیوں کا اعتقاد ہے کہ مسیح ہمارے لئے مر کر کفارہ ہوئے۔ قرآن مجید نے جہاں فرمایا : ” ولا تزر وازرة وزر اخرىٰ . فاطر ١٨ “ کوئی کسی کا گناہ نہیں اٹھائے گا۔ مسئلہ کفارہ کو جڑ سے کاٹنے کو یا مسیح کی موت سے انکار کرنے کو فرمایا :” بل رفعه الله اليه . نساء ١٥٨ “ مسیح تو مرا نہیں۔ اس کو خدا نے اٹھا لیا۔ جب وہ مرے ہی نہیں تو کفارہ کہاں ؟۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کے مقابلہ میں اگر کوئی حربہ اہل اسلام کے پاس ہے تو مسیح کی حیات ہے۔ جس سے کفارہ کی بنیاد کھوکھلی نہیں جڑ سے اکھڑ جاتی ہے۔
پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں فتنہ صلیبی کو پاش پاش کرنے آیا ہوں۔ اس کا فرض ہونا چاہئے تھا کہ وہ وفات مسیح کا انکار کرے وقت کی پابندی سے اسی پر اکتفا کرتا ہوں :
سنائیں گے تمہیں ہم ایک دن یہ داستاں پھر بھی
دستخط : (مولوی) ثناء اللہ (مناظر منجانب مسلمانان) دستخط : میر حبیب اللہ (آنریری مجسٹریٹ) (پریذیڈنٹ منجانب مسلمانان) دستخط : (ڈاکٹر) عباد اللہ (پریذیڈنٹ منجانب مرزائیان)
پرچہ نمبر اول
دلائل وفات مسیح
(از مولوی غلام رسول صاحب مرزائی)
بسم الله الرحمن الرحیم ، نحمده ونصلی علی رسوله الکریم !
١١
وفات مسیح کا ثبوت قرآنی آیات سے
پہلی آیت : ”اذ قال الله يٰعيسے انی متوفيك ورافعك الى ومطهرك من الذين كفروا وجاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ٠ سورہ آل عمران پ٣“
اس آیت سے بھی حضرت عیسیٰ کی وفات کا ثبوت ملتا ہے۔ اس طرح پر کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح سے چار وعدے فرمائے ہیں۔ پہلا وعدہ توفی کا‘ دوسرا رفع کا‘ تیسرا تطھیر کا‘ چوتھا غلبہ متبعین کا۔
اب یہ ظاہر ہے کہ توفی کے بعد تین وعدے ظہور میں آچکے ہیں تو اس سے یہ بھی ماننا پڑا کہ بلحاظ ترتیب آیت توفی کا وعدہ بھی پورا ہو چکا۔ بلکہ سب سے پہلے پورا ہوا۔ اس آیت کے متعلق تقدیم و تاخیر کا تجویز کرنا۔ اس لئے غلط ہے کہ متوفيك کو بعد میں کہیں بھی رکھو بات نہیں بنتی۔ اگر رفع کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ ابھی تک تطھیر نہیں ہوئی۔ حالانکہ تطہیر ہو چکی ہے اگر مطهرك کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ غلبہ متبعین ابھی تک نہیں ہوا۔ حالانکہ وہ بھی ظہور میں آچکا ہے اور اگر : ” جاعل الذين اتبعوك فوق الذين كفروا الى يوم القيامة ٠“ کے فقرے کے بعد رکھو تو ماننا پڑے گا کہ قیامت تک حضرت مسیح فوت نہیں ہوں گے۔ ہاں جس دن خلق کا حشر و نشر ہو گا اور مردے جی اٹھیں گے۔ اس دن حضرت مسیح وفات پائیں گے۔ پس اس لئے تقدیم و تاخیر غلط ہے دراصل بات یہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں۔
دوسری آیت : ” واذ قال الله يٰعيسے ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذونی وامی الهين من دو ن الله ٠ قال سبحنك ما يكون لی ان اقول ما ليس لی بحق ٠ ان كنت قلته فقد علمته ٠ تعلم ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسك ٠ انك انت علام الغيوب ٠ ما قلت لهم الا ماامر تنی به ان
١٢
اعبدوا الله ربي وربكم ، وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم ، فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم ، وانت على كل شئ شهيد ، سوره مائده آخری رکوع ۔“
اس آیت سے بھی وفات مسیح کا زبردست ثبوت ملتا ہے۔ اس طرح پر کہ اس آیت میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ آیا عیسائیوں کا تثلیث کا غلط عقیدہ اور ان کا بگڑنا حضرت مسیح کی تعلیم سے اور آپ کی زندگی میں ہوا ہے یا آپ کی وفات کے بعد۔ سو حضرت مسیح کے جواب دعویٰ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا بگڑنا ابھی ہوا ہے اور حضرت مسیح کی وفات پہلے ہوئی ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں میں تثلیث کا غلط عقیدہ پایا جاتا ہے۔ پس اس عقیدہ کے پائے جانے سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح کی وفات بھی پہلے ہو چکی۔ اور اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت مسیح ابھی تک بجسدہ العنصری زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں اور کسی وقت وہی آئیں گے اور زمین پر چالیس سال تک رہیں گے اور صلیبوں کو توڑیں گے اور خنزیروں کو قتل کریں گے اور عیسائیوں کی تثلیث کا غلط عقیدہ اور ان کا بگڑنا بھی مشاہدہ کریں گے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ پھر وہ قیامت کے دن خدا کے حضور اس بات کے بیان کرنے میں جھوٹ بولیں گے کہ عیسائیوں کا بگڑنا میری وفات کے بعد ہوا اور پھر حدیث بخاری میں آنحضرت ﷺ کا اس آیت کی تفسیر میں :” اقول کما قال عبدالصالح“ فرما کر اس آیت کو اپنے واقعہ سے واضح فرمانا اس بات کی اور بھی تائید کرتا ہے کہ واقعی حضرت مسیح پہلے فوت ہوئے اور عیسائیوں کی تثلیث کا غلط عقیدہ پیچھے بنایا گیا۔
تیسری آیت : ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل ، افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ، سورۃ آل عمران پ ٤“
کیا مطلب ۔ یعنے محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بھی ایسے رسول ہو گزرے۔ کیا اگر وہ مر جائیں یا مارے جاویں تو کیا تم لوگ مرتد ہو جاؤ گے۔ اس آیت سے بھی وفات مسیح کا زبردست ثبوت ملتا ہے۔ اس طرح کہ اس آیت میں بتلایا گیا ہے کہ آنحضرت
١٣
سے پہلے جس قدر رسول ہوئے وہ گزر گئے جو : ”افان مات او قتل“ کے قرینہ سے ”خلت بالموت اوالقتل ٠“ کے معنوں کے ساتھ ہیں گزر گئے اور چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی آنحضرت ﷺ سے پہلے رسولوں میں داخل ہیں۔ اس لئے ثابت ہوا کہ وہ بھی فوت ہو گئے۔
پھر آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکرؓ کا اس آیت کو خطبہ میں پڑھ کر سنانا اور بھی اس بات کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ اس سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کا آپ کی وفات کے موقعہ پر اس آیت کو ذکر کرنا صریح اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ کا فوت ہونا کوئی جائے اعتراض نہیں۔ کیونکہ آپ سے پہلے بھی جس قدر رسول تھے وہ بھی تو فوت ہو گئے۔ گویا پہلا اجماع صحابہ کا جو آنحضرت ﷺ کی وفات پر ہوا وہ اسی پر ہوا کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے جس قدر رسول تھے خواہ عیسیٰ علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سب فوت ہو گئے۔
چوتھی آیت : ” ماالمسيح ابن مريم الا رسول ٠ قد خلت من قبله الرسل ٠ وامه صديقه ٠ كانا ياكلان الطعام ٠ سورة مائده پ ٦“
کیا مطلب یعنی مسیح ابن مریم صرف رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بھی ایسے رسول ہو گزرے اور اس کی ماں صدیقہ ہے۔ وہ دونوں ماں بیٹا جب تک جسدہ العنصری زندہ تھے۔ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے۔ کیونکہ اس آیت میں بتایا ہے کہ وہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ جس سے ماضی کا قرینہ صاف اس بات کا مظہر ہے کہ آپ فوت ہو گئے اور اگر اب تک جسدہ العنصری زندہ ہوتے تو یہ فرمایا جاتا کہ وہ اب تک کھانا کھایا کرتے ہیں۔ مگر ایسا نہیں فرمایا جس سے صاف ظاہر ہے کہ آپ فوت ہو گئے۔
پانچویں آیت : ” وما جعلنا لبشر من قبلك الخلد ٠ افان مت فهم الخالدون ٠ سورة انبیا پ ١٧“
١٤
اس آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ۔ کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کسی بشر کے لئے خلد نہیں بنایا گیا اور آیت : ” وما جعلنا هم جسداً لا ياكلون الطعام وما كانوا خالدين . “ سے ظاہر ہے کہ جسد عنصری کے ساتھ اس زمینی طعام کی سخت ضرورت ہے ۔ کیونکہ استحالات غذائیہ کا ہونا اور بھوک کا بار بار پیدا ہونا طعام کی حاجت کا مقتضی ہے جس سے خلد کے مفہوم کے خلاف حالت یعنے تغیر و تبدل کی حالت پیدا ہوتی رہتی ہے ۔ جس سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح اگر آنحضرت ﷺ سے پہلے تھے اور بشر تھے اور جسد عنصری رکھتے تھے تو ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آپ کو طعام کی بھی حاجت تھی اور اگر آپ جسد عنصری کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں تو ضرور ہے کہ ان کے جسم میں تغیر بھی آتا ہو جو خلد کے مفہوم کے خلاف ہے۔ پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح بوجہ تغیر و عدم خلد فوت ہو گئے ۔
دستخط : (مولوی) غلام رسول (مناظر منجانب مرزائیاں) دستخط : میر حبیب اللہ (انریری مجسٹریٹ) (پریذیڈنٹ منجانب مسلمانان) دستخط : (ڈاکٹر) عباد اللہ (پریذیڈنٹ منجانب مرزائیاں) ٢٩ اپریل ١٩١٦ء
تردید دلائل وفات مسیح
(از مولوی ثناء اللہ صاحب) پرچہ نمبر ٢
بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ اليه يصعد الكلم الطيب ! حضرات ! مسئلہ وفات مسیح پر جو دلائل دیئے گئے ہیں ان میں سے بعض میں حضرت مسیح کا نام لے کر تو ذکر نہیں البتہ ایک عام قانون کا ذکر ہے۔ بعض میں نام کا ذکر ہے آیئے پہلے انہی کا ذکر کرتا ہوں جن میں نام سے ذکر آیا ہے۔ پہلی آیت : ” انی متوفيك . “ اس آیت میں چار واقعات مسیحیہ کا ذکر ہے ۔ ان
١٥
سب کے آخر میں ”الی یوم القیامۃ“ فرمایا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ یہ چاروں واقعات قیامت سے پہلے پہلے ہو جاویں گے۔ کیونکہ جتنے صیغے اس آیت میں ہیں وہ سب اسم فاعل کے ہیں اور اسم فاعل کے صیغے زمانہ استقبال کے لئے کثرت سے آتے ہیں۔
چنانچہ فرمایا : ”وانا لجاعلون ما عليها صعيداً جرزاً ٠ کہف ٨“ ان صیغوں میں یہ نہیں ہو سکتا کہ وقت تکلم میں فوراً ان کا وقوعہ ہو جاوے۔ چنانچہ جناب مرزا صاحب کو خود بھی اس آیت کا الہام ہوا تھا۔ حالانکہ اس الہام کے بعد مرزا صاحب عرصہ تک زندہ رہے۔ اس جگہ مرزا صاحب کا الہام معہ ترجمہ کے سناتا ہوں جس سے اس آیت کا عقدہ بھی حل ہو جائے گا۔
بعد اس کے الہام ہوا : ”یٰعیسٰے انی متوفیک ، “اے عیسیٰ ١؎ میں تجھے کامل اجر بخشوں گا۔ (براہین احمدیہ حاشیہ ص ٥٥٧ خزائن ج ١ ص ٦٦٤) نیز فرمایا! اے عیسیٰ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا۔
(براہین احمدیہ ص ٥٢٠ خزائن ج ١ حاشیہ ص ٦٢٠)
”پس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ اے عیسیٰ میں تجھے پوری نعمت دوں گا وغیرہ۔ قیامت تک یہ سب کام تیرے ساتھ کروں گا۔“
چونکہ یہ سب صیغے استقبال کے لئے استعمال میں آئے ہیں۔ اس لئے ان سے وفات مسیح کا ثبوت نہیں ہوا۔ ہاں اگر کچھ ثبوت ہوا تو یہ کہ قیامت سے پہلے ان کی وفات ہو گئی ہو گی۔ یہ ہمارے مذہب کے خلاف نہیں۔
”فلما توفيتنی ٠“ کی آیت خاص قابل ذکر ہے۔ یہ واقعہ قیامت کا ہے۔ یعنی قیامت کے روز خدا تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو فرمائے گا تو اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ : ”جب تو نے مجھے فوت کر لیا۔“ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہوں گے آج موت کا ثبوت نہیں۔ ہاں حضرت ممدوح کی غلط گوئی کا الزام
١؎ یہاں عیسیٰ سے مراد مرزا صاحب خود ہیں۔
١٧
قرآن کی آیات پر غور نہ کرنے سے پیدا ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ نہ کوئی غلط بات کہیں گے نہ جھوٹ بولیں گے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ حضرت ممدوح کے دل میں امت کی محبت ہو گی جس سے وہ ان کی مخفی سفارش کرنا چاہیں گے۔ چنانچہ اسی مخفی سفارش کے الفاظ بھی قرآن مجید میں مذکور ہیں :”ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزيز الحکيم ، مائدہ ١١٨ “ اے خدا اگر تو ان کو بخشے تو تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ اگر حضرت مسیح اپنی امت کے شرک و کفر کا اقرار کرتے تو یہ مخفی سفارش نہ کر سکتے۔ کیونکہ فرمایا ہے :” ماکان للنبی والذین امنوا ان يستغفروا للمشركين ، توبه ١١٣ “ نبی اور ایمانداروں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کیلئے سفارش کریں۔ اس لئے حضرت ممدوح امت کے افعال قبیحہ سے خاموشی اختیار ١۔ کریں گے۔ ہاں اگر یہ سوال ہو کہ خاموشی کیوں اختیار
١۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف یہ سوال ہو گا کہ اے مسیح تو نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔ پس دراصل اس سوال کا جواب دینا حضرت ممدوح کے ذمہ ہو گا اس سے زائد نہیں۔ چنانچہ وہ بھی صرف اسی سوال کا جواب دے دیں گے کہ میں نے نہیں کہا تھا۔ اس سے آگے وہ اپنی گنہگار امت کے حال پر ضمناً رحم کی درخواست کرنے کو بارگاہ الٰہی میں عرض کریں گے کہ ان نالائقوں کو اگر تو بخش دے تو کون تجھ کو روک سکتا ہے۔ چونکہ مشرکوں کی سفارش کرنے سے منع آیا ہے اس لئے صاف لفظوں میں عرض نہیں کریں گے بلکہ جملہ شرطیہ کے ساتھ عرض کریں گے کہ اگر تو بخش دے تو کون روک سکتا ہے۔ مولوی غلام رسول صاحب نے جو آئندہ پرچہ میں اس سفارش کو مخالف سمجھ کر اعتراض کیا ہے یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے ”مخفی سفارش“ کا لفظ لکھا ہے۔ خالی سفارش کا لفظ نہیں کہا۔ بھلا اگر مخفی سفارش نہیں تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہے : ”ان تعذبهم فانهم عبادك وان تغفرلهم فانك انت العزيز الحکيم ، مائدہ ١١٨ “ اے خدا ! اگر تو ان کو (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں)
١٧
کریں گے تو جواب یہ ہے کہ ان کو امت کے افعال کے وقوعہ سے سوال نہ ہو گا بلکہ سوال یہ ہو گا کہ تو نے ان کو شرک کی تعلیم دی تھی ؟۔ اس سوال کا جواب وہ کافی دے دیں گے کہ میں نے نہیں دی تھی۔
رہی زائد بات اس کا بتلانا نہ ان پر واجب نہ مفید۔ اس لئے خاموشی کر کے مخفی سفارش کی طرف توجہ فرماویں گے آیت مرقومہ کو اصلی الفاظ میں دیکھا جائے تو قرآن کی بلاغت اور حضرت مسیح کی فصاحت کا کافی ثبوت ملتا ہے۔
ہاں ! آنحضرت ﷺ نے جو فرمایا : ” اقول کما قال العبدالصالح . “ اس سے بھی اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو یہی کہ قیامت سے پہلے وفات ہوئی ہو گی۔ قال جو ماضی کا صیغہ ہے وہ اقول کی نسبت ہے۔ یعنے آنحضرتؐ سے پہلے حضرت مسیح کا قول چونکہ ہو چکا ہو گا اس لئے حضورؐ نے اپنے لئے مضارع اور حضرت مسیح کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا۔ اس آیت کا ترجمہ بھی اپنا نہیں پیش کرتا بلکہ حکیم نورالدین صاحب کا کرتا ہوں :
”اور جب کہے گا اللہ اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تو نے لوگوں کو کہا کہ مجھ کو اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود ٹھہرا لو۔“
(فضل الخطاب ص ١٦٤)
غرض یہ آیت بھی میرے مخاطب کے لئے مثبت مدعا نہیں۔ تیسری آیت :” وما محمد الا رسول ۔ آل عمران ١٤٤ “ اس میں تو حضرت مسیح کا نام نہیں۔ ہاں خلت کے لفظ سے استدلال کیا گیا ہے۔ اس کے دو جواب ہیں ایک یہ کہ خلی کے معنے موت کے نہیں بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے ہیں۔ غور سے پڑھئے : ” واذا خلوا الی
(حاشیہ گزشتہ صفحہ سے آگے) عذاب دے تو تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے تو تو سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔ اس آیت کا صاف مفہوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی امت کو قابل رحم جان کر ان کی بخشش کے متمنی ہیں۔ مگر بوجہ ان کے مشرک ہونے کے کھلے لفظوں میں سفارش نہیں کرتے جو کمال درجہ کی بلاغت ہے۔ (مرتب)
١٨
شیاطینہم ٠ بقرہ ١٤ “ اس سے بھی اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو یہ کہ جناب مسیح اس دنیا سے انتقال فرما گئے نہ کہ مر گئے۔ دوسرا جواب یہ کہ اس میں حضرت مسیح کا نام نہیں۔
چوتھی آیت : ” کانا یاکلان الطعام ٠ مائدہ ٧٥ “ سے مدعا ثابت نہیں ہوتا۔ کانا جو ماضی کا صیغہ ہے۔ یہ ان کی ماں کی وجہ سے تغلیب ہے جیسے : ” کانت من القانتین ، “ میں مریم صدیقہ کو مذکر میں بحکم تغلیب داخل کیا گیا ہے۔ ہاں سوال ہو کہ اب وہ کیا کھاتے ہیں ؟۔ تو جواب میں وہ حدیث سناؤں گا جس میں حضور علیہ السلام نے فرمایا : ” ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی ٠ “ میں پے در پے روزے رکھتا ہوں کیونکہ رات کو خدا مجھے کھلاتا ہے۔
پانچویں آیت : ” افان مات ٠ آل عمران ١٤٤ “ بھی آنحضرت ﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت عیسیٰ کی طرف نہیں۔
مختصر یہ کہ جس طرح حضرت مسیح کا نام لے کر ان کے رفع اور زندگی کا ذکر ہے۔ ان کے نام سے زمانہ گزشتہ میں ان کی موت کا ذکر کسی آیت میں نہیں وقت کی تنگی ہے۔
دستخط : (مولوی) ثناء اللہ (مناظر منجانب مسلمانان)
دستخط : میاں نظام الدین (انریری مجسٹریٹ) (پریذیڈنٹ منجانب مسلمانان)
دستخط : (ڈاکٹر) عباد اللہ (پریذیڈنٹ منجانب مرزائیان)
تردید دلائل حیات مسیح
(از مولوی غلام رسول مرزائی) پرچہ نمبر ٢
مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ان کا دوسرا عقیدہ کہ وہ طبعی موت سے نہیں مرے۔ چونکہ قرآن مجید نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ تائید کی ہے۔ اس لئے ہم اس عقیدہ کو غلط نہیں کہیں گے۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ کیا یہ درست ہے کہ جو شخص نہ مقتول
١٩
ہو اور نہ مصلوب۔ اس کے لئے اور کوئی موت کی راہ نہیں؟۔ کیا موت کی یہ دونوں ہی راہیں ہیں؟۔
ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح اگر نہ مقتول ہوئے اور نہ مصلوب تو ضرور ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کے وعدے کے مطابق جو : ”انی متوفیک ۔“ کے فقرے سے ظاہر ہے طبعی موت سے فوت ہوگئے ہوں۔ جیسا کہ پہلے پرچہ میں عرض کیا گیا کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے اور طبعی موت سے ہی فوت ہو گئے۔ پس ہم کہاں یہ مانتے ہیں کہ مسیح مصلوب ہوئے یا مقتول۔ ہم بھی تو خدا کے وعدے کے مطابق جس کا : ”فلما توفیتنی ۔“ کے اقرار سے پورا ہونا ظاہر ہے۔ طبعی موت سے ہی فوت شدہ مانتے ہیں۔ ہاں وہ مصلوب یعنی صلیب پر مرے نہیں۔ لیکن : ”ولکن شبہ لہم ۔“ سے ظاہر ہے جیسا کہ مولوی صاحب نے اس کو خود تسلیم کیا کہ ان کے لئے وہ مشبہ ضرور ہوئے جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ عین مصلوب نہیں ہوئے۔ ہاں صلیب پر چڑھائے جانے سے مشبہ بالمصلوب ضرور ہوئے اور حضرت مرزا صاحب کا : ”فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۔“ کے متعلق فرمانا ہر امر کے متعلق نہیں۔ مثلاً جو امر کہ قرآن سے واضح و لائح ہے اس کے متعلق حضرت مرزا صاحب کہاں فاسئلوا کی ہدایت کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ ارشاد تو ایسے امور کے متعلق ہے جس کے متعلق قرآن کریم کچھ نہیں کہتا۔ جیسا کہ : ”ان کنتم لا تعلمون ۔“ کے فقرہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ یعنی قرآن نے فاسئلوا کا ارشاد ”ان کنتم لا تعلمون“ کی صورت میں فرمایا ہے۔ لیکن حضرت مسیح کی وفات کے متعلق تو قرآن میں اس قدر آیات ہیں کہ اہل الذکر سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ پھر : ”ان کنتم لا تعلمون ۔“ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر تمہیں علم نہ ہو اور اگر علم ہو تو پھر کیا ضرورت ہے ١؎ ۔
١؎ افسوس ہے انسان جلد بازی میں کیا کچھ کہہ جاتا ہے جس کا بعد میں اُس کو پچھتاوا ہوتا ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا صاحب کی کتاب (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٠
اور آیت : ”ان من اهل الكتاب ............. قبل موتہ ،“ سے یہ معنے لینا کہ حضرت مسیح پر سب اہل کتاب آپ کی موت سے ایمان لائیں گے ۔ جس سے آپ زندہ ثابت ہوتے ہیں یہ غلط ہے ۔ کیونکہ آیت : ” جاعل الذین اتبعوك فوق ........... الخ ،“ سے ظاہر ہے کہ مسیح کے متبعین قیامت تک رہیں گے اور آپ کے منکر بھی قیامت تک رہیں گے ۔ جس سے ثابت ہوا کہ : ” قبل موتہ ، “ کے وہ معنے غلط ہیں ۔ پھر قبل موتہ کی دوسری قرأت ”قبل موتهم“ ہے جس سے ظاہر ہے کہ موتہ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہیں نہ کہ مسیح ۔ پھر آیت : ” اغرينا بينهم العداوة والبغضاء“ سے بھی ظاہر ہے کہ یہود اور نصاریٰ کے درمیان قیامت تک عداوت رہے گی جس سے ظاہر ہے کہ سب کے سب اہل کتاب کے ایمان لانے کا معنے بالکل غلط ہے ۔
اور حضرت مرزا صاحب کے متعلق یہ کہنا کہ جب ان کو الہام اور مجددیت کا دعویٰ تھا ۔ ان دنوں انکا یہ عقیدہ تھا کہ حضرت مسیح زندہ ہیں ۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ میرا یہ عقیدہ کسی وحی یا الہام کی بنا پر تھا بلکہ آپ کا یہ عقیدہ ایسا ہی تھا جیسا کہ سب موعود نبیوں کا اپنے دعویٰ سے پہلے موعود نبی کے متعلق ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر حضرت مسیح اور آنحضرت کو لو کیا آپ کو دعویٰ سے پہلے
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) ازالہ اوہام کا حوالہ دے کر بتلایا کہ انہوں نے خود اسی آیت سے حضرت مسیح کی وفات پر استدلال کیا ہے۔ مگر مولوی غلام رسول صاحب نہ مرزا صاحب کی کتاب دیکھتے ہیں نہ مولوی صاحب کا بیان غور سے پڑھتے ہیں ۔ جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ مسیح کی وفات کا مسئلہ تو قرآن میں بہت سی آیات سے ثابت ہے ۔ پھر اہل کتاب سے پوچھنے کی کیا حاجت ہے ۔ مولوی مرزا صاحب کا ازالہ ص ٦١٦ ، خزائن ج ٣ ص ٤٣٣ دیکھئے کہ جناب موصوف بائیسویں آیت کون سی پیش کرتے ہیں ۔ اس پر جو اعتراض ہو وہ مرزا صاحب ہی پر کیجئے اور ان کے صاحبزادے سے جواب لیجئے۔ (مرتب)
٢١
یہ علم تھا کہ وہ آنے والا موعود میں ہی ہوں یا الہام الہی اور وحی کے بعد آپ نے پہلے عقیدہ کو تبدیل فرمایا۔
مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ مولوی نورالدین صاحب کا یہ ترجمہ ہے اس کے متعلق عرض ہے کہ مولوی نورالدین صاحب نے اپنے پہلے ترجمہ کے خلاف اس کے بعد پچیس سال تک قرآن پڑھایا اور اس معنے کی ہمیشہ تردید کرتے رہے۔ اس لئے یہ حجت نہیں ہو سکتی۔ پھر مولوی صاحب نے جو ترجمہ الہام الہی سے کیا ہے وہ مقدم ہے اور وہ یہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے اور اب وہ نازل نہیں ہونگے اور وہ آنے والا مسیح میں ہوں اور مسیح ناصری فوت ہو چکے اور تعجب ہے کہ حضرت مرزا صاحب کا سارا دعویٰ تو وفات مسیح کی بنا پر ہو اور آپ اس کے خلاف بیان کریں۔ اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ حیات مسیح سے کفارہ کی جڑ کٹتی ہے۔ صحیح نہیں۔ کیونکہ حیات سے نہیں بلکہ وفات مسیح سے تمام عیسائیوں کا مذہب باطل ہو جاتا ہے۔ اور عیسائیوں کا خدا مر جاتا ہے جو تائید توحید کو وفات مسیح سے ہوتی ہے۔ وہ حیات سے نہیں ہوتی بلکہ حیات مسیح کا مسئلہ تو عیسائیوں کی امداد ہے اور حضرت مسیح کو آسمان پر ماننا ان لوازم کے ساتھ جو اسے انسان سے برتر ثابت کرتے ہیں۔ عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی تائید کرتا ہے :
مگر مدفون یثرب را ندارند ایں فضیلت را
ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مدد دادند
دلیریہا پدید آمد پرستاران میت را
دستخط : (مولوی) غلام رسول (مرزائی مناظر) دستخط : میاں نظام الدین (آنریری مجسٹریٹ اسلامی صدر) دستخط : (ڈاکٹر) عباداللہ (مرزائی صدر)
٢٢
دلائل حیات و تردید وفات مسیح
آخری پرچہ نمبر ٣
(٢٩ اپریل ١٩١٦ء از مولوی ثناء اللہ صاحب)
بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ٠ ھو الاول والاخر والظاہر والباطن!
حضرات مولوی غلام رسول صاحب نے میرے مضمون پر جو توجہ کی ہے پڑھنے والوں سے مخفی نہ رہے گی۔ اس کا میں ذکر نہیں کرتا البتہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ علم منطق اور علم مناظرہ اور آج کل کے قانون سلطنت میں یہ مقررہ اصول ہے کہ متنازعہ واقعہ ثبوت میں پیش نہیں ہو سکتا۔
مولوی صاحب کا یہ پہلا پرچہ ہنوز متنازعہ تھا اس کو جواب میں پیش کرنا تینوں طریق سے غلط ہے۔ آپ نے کہا ہے کہ وفات مسیح کی آیات بکثرت ہیں۔ اس لئے ”فاسئلوا اہل الذکر ٠“ کے مطابق ہم کو ضرورت نہیں کہ اہل کتاب سے پوچھیں جناب یہ غلطی مجھ سے نہیں بلکہ مرزا صاحب سے ہوئی جنہوں نے بقول آپ کے وفات مسیح
١۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا تھا کہ اہل کتاب جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات دیکھنے اور لکھنے والے ہیں ان دونوں کا متفقہ بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام طبعی موت سے نہیں مرے۔ اس کے جواب میں مولوی غلام رسول نے کیا کہا یہ کہ ہم کہتے ہیں کہ حضرت مسیح طبعی موت سے فوت ہوئے۔ کیا اس کہنے سے اہل کتاب کے دونوں گروہوں کا بالاتفاق تواتر سے وہ بیان جو مولوی ثناء اللہ صاحب نے بیان کیا تھا غلط ہو گیا بلکہ یوں کہئے کہ آپ جو تواتر کے خلاف کہتے ہیں آپ کا قول غلط ہے نہ کہ تواتر غلط ہو جائے گا۔ جواب یہ ہوتا کہ تواتر نہیں؟۔ یا تواتر میں یہ غلطی تو ایک معقول بات ہوتی مگر مرزائی اور معقول؟۔ (مرتب)
٢٣
کی آیات کثیرہ کے ہوتے ہوئے بھی اس آیت کو اس مدعا کے لئے پیش کیا ہے۔
(دیکھو ازالہ ص ٦١٦ خزائن ج ٣ ص ٤٣٣)
سب اہل کتاب کے ایمان لانے پر آپ نے اعتراض کیا ہے کہ مسیح کے متبعین کو منکرین پر قیامت تک غالب رکھنے کا وعدہ ہے۔ جناب میں کہہ چکا ہوں کہ یہ معنے صحیح نہیں بلکہ ”الی یوم القیامۃ ۔“ مجموعہ چہار واقعات سے متعلق ہے نہ ہر ایک سے جس کا مطلب نحوی اصطلاح میں یہ ہے کہ عطف سے ربط مقدم ہے۔ فافہم !
قیامت سے پہلے ضرور ایک وقت آئے گا کہ تمام دنیا میں سوائے اسلام کے دوسرا مذہب نہیں ہوگا۔ چنانچہ مرزا صاحب بھی براہین احمدیہ میں اس کو خود شائع فرماتے ہیں۔
(ملاحظہ ہو براہین حاشیہ ص ٤٩٩ خزائن ج ١ حاشیہ ص ٥٩٣)
جن قرأتوں میں موتہم کا لفظ آیا ہے وہ حجت نہیں قرأت شاذہ موجودہ الفاظ قرآن کے مقابلہ میں جوے نیر زد۔
مرزا صاحب نے براہین میں صاف لکھا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ کتاب کہاں اور کب ختم ہوگی۔ اس کتاب کا ظاہر و باطن متولی خدا ہے جو باتیں مجھے سمجھاوے گا۔ لکھوں گا جہاں ختم کردے گا۔ بند ہو جاوے گی۔ جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ براہین کے مضامین مصدقہ خداوندی ہیں۔
(دیکھو براہین احمدیہ ص آخر خزائن ج ١ ص ٦٧٣)
حیات مسیح سے الوہیت مسیح کو اس صورت میں تقویت ہوتی جب ہم حضرت مسیح کو بذاتہ زندہ مانتے۔ اگر ہم ایسا مانتے تو قبل قیامت ان کی موت کے کیسے قائل ہوتے۔ ہاں حیات مسیح سے کفارہ بالکل جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔ کیونکہ جب وہ مرے ہی نہیں تو کفارہ کیسا ؟۔ نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی۔
موت کے قائل ہونے سے عیسائیوں کے کفارہ کی ایک گونہ تائید ضرور ہوتی ہے۔
اب میں ایک قاعدہ مسلمہ اسلامیہ سے اس مسئلہ کو حل کرتا ہوں۔ وہ یہ ہے جو
٢٢
قرآن مجید نے صاف الفاظ میں فرمایا : ” انزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیہم ولعلہم یتفکرون ، نحل ٤٤“ خدا فرماتا ہے ہم نے قرآن مجید تم پر اس لئے اتارا ہے کہ تو اے نبی اس کا مطلب واضح کر کے لوگوں کو سنا دے۔
اس آیت سے ایک عام اصول ملتا ہے کہ قرآن کے کسی مجمل مسئلہ میں اختلاف ہو تو اس کی تشریح و توضیح حدیث سے ہونی چاہئے۔ ہمارے مخاطب بھی اس اصول کو مانتے ہیں۔ اس لئے میں آخری فیصلے کے طور پر ایک حدیث سناتا ہوں جس سے آفتاب نیمروز کی طرح مسئلہ حیات و وفات مسیح کا فیصلہ ہو جائے گا۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں :
”ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولد لہ ویمکث خمساً اربعین سنة ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر٠ مشکوٰة شریف باب نزول المسیح ص ٤٨٠“
یعنی حضرت عیسیٰ دنیا پر اتریں گے۔ یہاں پر نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہو گی اور ٤٥ سال زندہ رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور میرے مقبرے میں میرے پاس دفن ہوں گے۔ پھر قیامت کے روز میں اور مسیح ایک مقبرے سے اٹھیں گے۔ اس طرح کہ حضرت ابوبکرؓ اور عمرؓ کے درمیان ہم دونوں ہوں گے۔
ایک حدیث میں جو بیہقی فی کتاب الاسماء والصفات باب قولہ اللہ عزوجل یعیسیٰ انی متوفیک ورافعک وبل رفعہ اللہ الیہ ص٤٢٤ طبع بیروت کی روایت میں جو اس وقت میرے پاس ہے۔ یہ الفاظ ہیں : ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم من السماء وامامکم منکم“ لیجئے حضور ﷺ نے فرمایا تم مسلمان اس وقت کیسے مزے میں ہوں گے جب حضرت مسیح آسمان سے تم پر اتریں گے اور ان سے پہلے تمہارا امام (جس کو دوسری روایات میں مہدی کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے) تم میں ہو گا : صدق اللہ ورسولہ ربنا امنا وصدقنا واکتبنا مع الشاہدین!
٢٥
مختصر یہ کہ قرآن کی آیات آنحضرت ﷺ کی احادیث مرزا صاحب کے کلمات سب حضرت مسیح کی زندگی کی تائید کرتے ہیں اور قرآن مجید جو سابقہ اہل کتاب کی اصلاح کے لئے آیا ہے۔ وہ اصلاح بھی اسی میں ہے کہ حضرت مسیح کی حیات کو مانا جاوے تاکہ اہل کتاب کا وہ غلط اور گمراہ کن عقیدہ جس کو کفارہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ دنیا سے رخصت ہو جاوے۔
واللہ ! مجھے سخت حیرت ہوتی ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ کی موت سے عیسائیوں کا خدا مر جاتا ہے اور عیسائی مذہب ہمیشہ کے لئے مغلوب ہو جاتا ہے۔ کیا عیسائیوں کا عقیدہ مسیح کی موت کا نہیں ہے؟۔ کیا انجیل میں نہیں لکھا کہ مسیح نے چلا کر جان دی پھر جو بات خود عیسائیوں کی کتاب میں صاف لفظوں میں لکھی ہو اس سے ان کے مذہب کی موت اور مغلوبیت کیا یہ ایک جی خوش کرنے والی بات ہے۔
ہاں اگر عیسیٰ کی موت کا بالکل انکار کر دیا جاوے جیسا کہ قرآن شریف کا منشا ہے۔ تو نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی۔ وقت کی پابندی ہے۔ یہ کہہ کر ختم کرتا ہوں :
دستخط : (مولوی) ثناء اللہ (مناظر منجانب مسلمانان) دستخط : میاں نظام الدین (آنریری مجسٹریٹ اسلامی صدر) دستخط : (ڈاکٹر عباد اللہ مرزائی صدر)
دلائل وفات و تردید حیات مسیح
آخری پرچہ نمبر ٣
(از غلام رسول مرزائی صاحب)
مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ آیت متوفیک میں چار وعدے ہیں یہ تو صحیح ہے مگر
٢٦
مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ ہم مسیح کی وفات کے متعلق تسلیم کرتے ہیں کہ وہ قبل از قیامت ہو جائے گی۔ اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ مولوی صاحب نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ متوفیک کو بعد میں کہنے سے کون سی ترتیب صحیح باقی رہتی ہے۔ کیونکہ متوفیک کو رافعک کے بعد رکھ کر دیکھ لو۔ کیا اس سے ظاہر نہیں ہوتا کہ ابھی تک تطہیر نہیں ہوئی۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ تطہیر ہو چکی۔ پھر تطہیر کے بعد رکھ کر دیکھو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ غلبہ متبعین ابھی تک ظہور میں نہیں آیا۔ حالانکہ حضرت مسیح کے متبعین کا غلبہ ظاہر ہے۔ پھر اب متوفیک کو ضرور ہے کہ آپ: ” فوق الذین کفروا الی یوم القیامة .“ کے بعد رکھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح : ”الی یوم القیامة .“ یعنے قیامت کے دن تک تو وفات نہیں پائیں گے۔ ہاں جس دن اسرافیل کی قرنا پھونکی جائے گی اور سب مردے زندہ ہوں گے اس دن حضرت مسیح وفات پائیں گے۔ واہ رے تقدیم و تاخیر اور واہ رے تیرا خارق عادت نتیجہ۔ پس اصل بات یہی ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے پھر رافعک کے متعلق یہ عرض ہے کہ توفی کے بعد رفع کا لفظ صاف اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ رفع جسمانی رفع نہیں بلکہ روحانی رفع ہے۔ کیونکہ توفی کے بعد آنے کا قرینہ صاف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ رفع روحانی ہے۔ پھر ”رافعک الی“ یعنے ”رفع الی اللہ“ ہے نہ ”رفع الی السما“ اور نہ ہی اس کے ساتھ بجسدہ العنصری کا فقرہ ہے کہ اس سے مسیح کا زندہ بجسدہ العنصری تسلیم کر لیا جائے۔ پھر آیت : ”ولوشئنا لرفعناہ“ یہاں سے باوجود ”اخلد الی الارض“ کے قرینہ سے بالاتفاق روحانی رفع مراد ہے نہ جسمانی جو اس بات کی اور بھی تائید کرتا ہے کہ رفع الی اللہ سے رفع روحانی مراد ہے نہ جسمانی پھر حدیث :”اذا تواضع العبد رفعه الله الى السما السابعة .“ میں باوجود یکہ یہ بتایا گیا ہے کہ تواضع سے اللہ تعالیٰ انسان کو ساتویں آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔ پھر اس رفع سے روحانی رفع ہی مراد ہے۔ ایسا ہی دعا : ”بین السجدتین“ کے فقرہ وارفعنی اس کی اور بھی تائید کرتا ہے۔ نمازی جو فقرہ بولتا ہے اس کا کیا مطلب ہے۔ اور مولوی صاحب کا آیت ”فلما توفیتنی .“ کے
٢٧
متعلق صرف سفارش کا مسئلہ لینا یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ سوال یہ ہوا ہے کہ اے عیسیٰ کیا تو نے لوگوں کو تعلیم دی کہ تم لوگ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بناؤ۔ اب اس کے جواب میں مسیح کہتے ہیں کہ میں نے ایسا نہیں کہا اور نہ ہی میری زندگی میں ایسا عقیدہ پیدا ہوا ١۔ بلکہ یہ غلط عقیدہ میری وفات کے بعد ہوا۔ جس سے مجھ پر الزام نہیں آسکتا۔ اب دیکھو خدا تعالیٰ کا سوال کیا ہے اور مسیح کے جواب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے سبب اپنی بریت کرانا چاہتے ہیں یا سفارش ببیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا پھر جب مولوی صاحب نے آیت : ”ما کان للنبی۔۔الخ“ سے یہ ثابت کیا ہے کہ نبی کو مشرکین کی سفارش کرنے کی اجازت نہیں تو پھر تعجب ہے کہ خود ہی اس کے بر خلاف حضرت مسیح کو اس کے نیچے لاتے ہیں۔ (مولوی ثناء اللہ نے مخفی سفارش کا لفظ بولا ہے۔ سفارش نہیں کہا۔ مرتب) پھر مولوی صاحب نے جو یہ فرمایا ہے کہ متوفی چونکہ صیغہ اسم فاعل ہے جو متکلم کے وقت تکلم کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ ہمیں کب اس سے انکار ہے۔ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ مسیح اس وعدے کے بعد ہی فوت ہو گئے۔ پھر مولوی صاحب نے خلت کے متعلق اذا خلوا کی مثال دے کر یہ کہا ہے کہ خلت کے معنے ہیں گزرنے کے نہ کہ مرنے کے۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے۔ اذا خلوا کے بعد الی صلہ ہے اور ”قد خلت من قبلہ“ میں من صلہ پھر ”افائن مات او قتل“ کا قرینہ ساتھ پڑا ہے۔ جس سے خلت کے معنے اس جگہ بلحاظ اس قرینہ کے موت ہی ہو سکتے ہیں۔ پھر لسان العرب میں لکھا ہے :” خلا فلان ای مات
١۔ مولوی غلام رسول صاحب ! مسیح موعود کے حواری اور مہدی مسعود کے مرید ہو کر ایسا صریح جھوٹ ہرگز زیبا نہیں۔ کس آیت میں ہے اور کس نے یہ ترجمہ کیا یا مطلب بتلایا ہے کہ حضرت عیسیٰ یہ جواب دیں گے کہ میری زندگی میں ایسا عقیدہ پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ غلط عقیدہ میری وفات کے بعد پیدا ہوا۔ افسوس مذہبی مناظرات میں بھی لوگ راستی اور راست گوئی کے پابند نہیں رہتے۔ اس افتراء کا جواب نوٹ نمبر ٢ میں ملاحظہ فرماویں۔ (مرتب)
٢٨
فلان" یعنے فلاں شخص گزر گیا یعنے مر گیا۔ پھر مولوی صاحب نے :"کانا یاکلان الطعام ۔" کے متعلق کہا ہے کہ یہاں تغلیب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کے نزدیک تغلیب کے یہ معنے ہیں کہ ایک بات ایک شخص میں نہ پائی جاتی ہے اور غلط طور پر اس کی طرف منسوب کی جائے کیونکہ وہ کہتے ہیں کانا میں صرف والدہ مسیح کے کھانا کھانے کا ذکر اور حضرت مسیح کھانا نہ کھاتے تھے یہ غلط ہے۔ کیونکہ تغلیب کا تو یہ مطلب ہے کہ مثلاً دو چیزوں میں جو مذکر اور مونث ہوں تو ان دونوں کیلئے لفظ مذکر کا بولا جاوے۔ جیسے قمران اور ابوان۔ پس اصل بات یہی ہے کہ دونوں کھانا کھایا کرتے ہیں جب تک کہ جسد عنصری کے ساتھ زندہ تھے۔ لیکن جب وہ اب نہیں کھاتے تو وہ فوت ہو گئے اور آنحضرت ﷺ نے صوم وصال کے متعلق جو مولوی صاحب نے کہا ہے اس طرح اگر حضرت مسیح میں صوم و صال میں ابیت عند ربی کے ارشاد فرماتے تو ہو سکتا تھا۔ مگر یہ صوم وصال عجیب ہے کہ انیس سو سال ہوئے پس کھانا کھایا ہی نہیں۔ حالانکہ آنحضرت باوجود صوم وصال کے کھانا کھا لیا کرتے تھے اور صرف سحری کے وقت نہ کھاتے تھے لیکن شام کو ضرور کھاتے تھے۔ پس اس سے بھی مولوی صاحب کا مدعا ثابت نہیں ہو سکتا اور اصل بات یہی ہے۔ حضرت مسیح فوت ہو گئے۔ واللہ درالقائل!
داخل جنت ہوا وہ محترم
وہ نہیں باہر رہا اموات سے
ہو گیا ثابت یہ تیس آیات سے
١؎ دیکھو غلط بات کہہ کر جھوٹی قسم کھا رہے ہو۔ سنو! حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو ابھی آسمان پر زندہ سلامت ہیں اور قیامت کے قریب قریب زمین پر ضرور نازل ہوں گے۔ ان کا آسمان سے زمین پر نازل ہونا قیامت کے بڑے نشانات سے ہے (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٢٩
دستخط : (مولوی) غلام رسول (مرزائی مناظر) دستخط : میاں نظام الدین (انریری مجسٹریٹ اسلامی صدر) دستخط : (ڈاکٹر) عباداللہ (مرزائی صدر)
ضمیمہ !!!
مرزائیوں نے چونکہ ہر روز کی بحث کے بعد ضمیمہ لگایا ہے حالانکہ پہلے روز کی بحث میں آخری پرچہ انہی کا تھا۔ تاہم اس کو ناکافی جان کر ضمیمہ لگایا۔ اس لئے ہمارا بھی حق ہے کہ ہم بھی ضمیمہ لگادیں۔
(حاشیہ گزشتہ صفحہ سے آگے) غور کرو قرآن مجید حضرت مسیح کی نسبت فرماتا ہے : " وانه لعلم للساعة فلا تمترن بها " نیز آیات : " وكهلا " " وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته " ۔ حدیث صحیح مؤکد بتاکیدات ثلاث : " والذی نفس محمد بيده لينزلن فيكم ابن مريم " وغیرہ کے واقعات آپ کے زمین پر نازل ہونے پر وقوع میں آئیں گے اور ضرور آئیں گے۔ تمام دنیا کے لوگوں سے زیادہ سچے اور افضل رسول محمد ﷺ (فداہ ابی وامی) کا قسم کھا کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا بتاکید بیان فرمانا ہر گز ہر گز جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ خود تم سوچو کہ جس بات کو ایسا سچا رسول قسم کھا کر ذکر فرمائے اور تم اسی بات کو قسم کھا کر جھٹلاؤ تو تمہاری ایک معمولی مرزائی کی قسم کے جھوٹا ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو گی کہ تم صادق مصدوق رسولؐ کی مؤکد قسم کی مخالفت میں قسم کھا رہے ہو :
پس تمہارے شعر غلط ہیں صحیح اشعار یہ ہیں۔ ابن مریم زندہ ہے حق کی قسم ؟۔ آسمان ثانی پہ ہے وہ محترم‘ وہ ابھی داخل نہیں اموات میں‘ یہی ہے مضمون تیس آیات میں۔ (مرتب)
٣٠
مولوی غلام رسول مرزائی نے کہا متوفنی کو پیچھے کریں اور دوسرے صیغوں کو پہلے رکھیں تو یہ خرابی آتی ہے۔ حالانکہ کوئی خرابی نہیں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے صاف کہا تھا کہ یہ چاروں فعل قیامت تک ہونے کا وعدہ ہے کوئی آگے ہو تو کیا، پیچھے ہو تو کیا۔ واؤ عطف اس لئے نہیں ہوتا کہ جو اس سے پہلے ہے وہ پہلے ہی ہے۔ دیکھو قرآن مجید میں مذکور ہے :"اقیمو لصلوٰة ولا تكونوا من المشركين ٠ " (نماز پڑھو) اور مشرک نہ بنو) کیا نماز پڑھ کر شرک پیچھے چھوڑنا چاہئے؟۔ نہیں بلکہ شرک پہلے چھوڑنا چاہئے۔
"كانا ياكلان الطعام" کا پھر ذکر کیا حالانکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کا جواب دے دیا تھا کہ حضرت مسیح کی والدہ صدیقہ کو بھی چونکہ شریک کیا گیا۔ اس لئے ماضی کا صیغہ لایا گیا ہے۔ جس کو آپ نے سمجھا نہیں ہو گا۔ اس لئے دوبارہ اس کا ذکر کیا۔ سنئے ! مرزا صاحب اور مرزا صاحب کی حرم محترم کا کوئی واقعہ ایسا ذکر کرنا ہو جو ان کی زندگی میں ہوتا تھا تو دونوں کو ایک ہی صیغے میں لاویں گے۔ جیسے یہ فقرہ مرزا صاحب اور ان کی حرم دونوں باغ میں سیر کیا کرتے تھے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جو ان میں سے اب زندہ ہے وہ سیر نہیں کرتا۔ کوئی کہے کہ ماضی کا صیغہ دلالت کرتا ہے کہ دونوں انتقال فرما گئے تو آپ بھی یہی جواب دیں گے کہ ماضی کا صیغہ مرزا صاحب کی وجہ سے ہے نہ کہ حرم کی وجہ سے ممکن ہے وہ اب بھی سیر کرتی ہوں۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کی مراد تغلیب سے یہی تھی کہ ماضی کا صیغہ حضرت مسیح کی ماں کی وجہ سے ہے۔
یہ خوب کہی کہ آنحضرت ﷺ باوجود صوم وصال کے کھانا کھا لیا کرتے تھے چہ خوش۔ پھر روزہ وصال ہی کیا ہوا؟۔ اور اس میں آپ کا کمال ہی کیا ؟ صحابہ کرام کو حضور ﷺ نے منع فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ آپ خود تو روزہ وصال رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے جیسے نہیں۔ میں رات کو اپنے رب کے پاس رہتا ہوں وہ مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ بقول آپ ﷺ کے اگر یہی کھانا پینا تھا تو ایسا کھا پی کر تو سب رکھ سکتے ہیں۔ پھر حضور ﷺ کا اس میں امتیاز کیا؟۔
٣١
مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا کہ مسیح کی وفات سے عیسائیوں کے عقیدہ کفارہ کو قوت پہنچتی ہے۔ یہ جواب مولوی صاحب کا بہت ہی صحیح تھا مگر مولوی غلام رسول صاحب جواب دیتے ہیں کہ اس سے عیسائیوں کا خدا مر جاتا ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ مرنے سے ان کو نقصان نہیں کیونکہ انجیل میں صاف لکھا ہے کہ مسیح نے چلا کر جان دی گو آپ لوگ مسیح کی موت صلیب پر نہیں مانتے تاہم موت کے تو قائل ہیں۔ لاریب بہ نسبت مطلق انکار موت کے موت سے عیسائیوں کو ایک گونہ قوت ہوتی ہے۔ اس لئے مولوی ثناء اللہ صاحب کا یہ کہنا بہت ٹھیک ہے کہ نہ بانس ہو گا نہ بانسری بجے گی۔
مختصر یہ کہ مرزائیوں کا مسئلہ وفات مسیح کی نسبت جو یہ گھمنڈ تھا کہ مخالف کا منہ اور قلم بند کر دیں گے۔ یہ ہوگا۔ وہ ہوگا۔ افسوس اس کا کوئی اثر ہم نے نہ پایا بلکہ مرزائی مناظر نے جو گفتگو کی مرعوبانہ حالت میں کی۔ نہ کسی آیت کا جواب دیا نہ حدیث کا نہ مرزا صاحب کے اقوال ہی کو دیکھا۔
مرزائی الزام لگاتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے قرآن مجید سے ثبوت نہیں دیا حدیثوں کی طرف چلے گئے۔ اللہ! اللہ! کس قدر دلیری ہے۔ ہم اس الزام کا جواب ناظرین پر چھوڑتے ہیں کہ وہ شرائط مناظرہ کو دیکھ کر فریقین کی تقریریں دیکھیں اور غور سے پڑھیں کہ کوئی پرچہ مولوی صاحب کا آیت حدیث سے خالی ہے؟۔
دوسرے روز یعنی ٣٠ اپریل ١٩١٦ء کی کارروائی
صداقت دعویٰ مرزا صاحب قادیانی
پہلا پرچہ از مولوی غلام رسول مرزائی
کیونکہ آپ ١؎ نے اپنے رؤیا میں تین چاند دیکھے تھے نہ چار۔ پس اب یہ امر قرآن
١؎ اس پرچہ میں مرزائی مناظر نے بہت سا مضمون کل کے مباحثہ یعنے وفات مسیح کے متعلق لکھا تھا جس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے صدر کو (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٣٢
سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے تو اب یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آنے والا کوئی اور ہے جو حضرت مسیح کے نام اور منصب و مرتبہ پر آئے گا اور وہ خدا کے فضل سے آنے والا آگیا اور وہ سیدنا حضرت مرزا صاحب ہیں جن کی صداقت دعویٰ کے ثبوت میں قرآنی آیات کو پیش کیا جاتا ہے۔
پہلی آیت :” فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذب بايته انه لا يفلح الظالمون “کیا مطلب! یعنے اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جس نے خدا پر افتراء کیا یا جس نے خدا کی آیات کی تکذیب کی۔ لیکن یادرہے کہ ظالم کامیاب نہیں ہوا کرتے۔ یہ آیت حضرت مسیح موعود کی صداقت میں ایک زبردست ہے۔ اس طرح پر کہ
(حاشیہ گزشتہ صفحہ) توجہ دلائی کہ یہ بے تعلق ہے۔ چنانچہ دونوں صدروں نے بالا تفاق وہ مضمون کٹوا دیا۔ مرزائی مناظر نے اتنا وقت بھی لے لیا مگر مطبوعہ مناظرہ میں مرزائیوں نے اس مضمون کا کچھ حصہ درج کر ہی دیا۔ پھر مزید لطف یا غلط بیانی یہ کی کہ اس مقام کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے یہ تمہیدی مضمون سنانے سے روک دیا۔ بھلا مولوی ثناء اللہ روکنے والے کون ؟ اور ان کے روکنے سے آپ رکے کیوں ؟۔ بات دراصل وہی تھی جو ہم نے لکھی کہ مرزائی مناظر نے خلاف شروط مقررہ دوسرے روز بھی وفات مسیح کا مسئلہ چھیڑا جس پر مسلمان مناظر مولوی ثناء اللہ صاحب نے دونوں صدروں کو توجہ دلائی۔ چنانچہ دونوں نے بالا تفاق مرزائی مناظر کا اتنا مضمون کاٹ دیا اور اس کی درخواست پر مزید وقت بھی اس کو دیا جو کاٹنے اور نیا مضمون پیوند کرنے میں لگا تھا۔ یہ ہے ان لوگوں کی دیانتداری اور یہ ہے ان کی راست گوئی اور راست روی۔ افسوس ہے مسیح موعود کے حواری اور مہدی مسعود کے مرید ہو کر ایسی غلط کاریاں کریں تو اور کیا کچھ نہ کریں گے۔ مرزائیوں کا دستخطی مضمون جو ہمارے ہاتھ میں آیا ہے۔ وہ اسی طرح (کیونکہ ) سے شروع ہوتا ہے۔ (مرتب)
٣٣
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص مفتری ہو اور اپنے دعوٰی میں سچا نہ ہو وہ کامیاب نہیں ہوتا۔ پھر ایسا ہی جو لوگ سچے مدعی کے مکذبین ہیں۔ وہ بھی ظالم اس ہیں اور وہ بھی سچے مدعی کی کامیابی میں روک ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ اب دیکھو اور غور سے دیکھو کہ حضرت مرزا صاحب نے جب دعوٰی کیا اس وقت صرف اکیلے تھے۔ اس کے باوجود مکذبین کی سخت سے سخت مخالف کوششوں کے لاکھوں انسانوں کا آپ کی تصدیق کرنا اور آپ کو قبول کرنا اس آیت کی رو سے اس بات کا زبردست ثبوت ہے کہ حضرت مرزا اپنے دعوٰی میں سچے ہیں۔ اور مکذبین لوگ جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں وہی ظالم ہیں جو ایک سچے کی کامیابی کی راہ میں باوجود سخت سے سخت مخالف کوششوں کے کامیاب نہ ہو سکے۔ اس بات کی تائید مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریر سے بھی ہوتی ہے۔ جیسا کہ انہوں نے تفسیر ثنائی کے مقدمہ میں ص ١٦ کے پہلے کالم میں لکھا ہے۔ چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ نظام عالم میں جہاں اور قوانین الٰہی ہیں میں یہ بھی ہے کہ کاذب مدعی نبوت کی ترقی نہیں ہوتی بلکہ وہ جان سے مارا جاتا ہے۔ پھر لکھتے ہیں واقعات گزشتہ سے بھی اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ خدا نے کبھی کسی جھوٹے نبی کو سرسبزی نہیں دکھائی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں باوجود غیر مذاہب ہونے کے جھوٹے نبی کی امت کا ثبوت مخالف بھی نہیں بتا سکتے ہیں۔
اب دوستو! غور کر کے اس تحریر کو ملاحظہ کرو کہ اس قاعدہ کی رو سے جو مولوی
١۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے صدارت کو اس لفظ پر توجہ دلائی کہ منکرین مرزا کو ظالم کہا گیا ہے۔ کیا ہم کو بھی اجازت ہو گی کہ ہم مریدین مرزا کو ظالم کہیں۔ مولوی غلام رسول صاحب نے کہا ہم نہیں کہتے قرآن کریم کہتا ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا ہم بھی قرآن کی شہادت سے کہیں گے۔ میاں نظام الدین صاحب صدر نے فرمایا بیشک آپ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے کہا گو صدر صاحب نے اجازت دے دی ہے مگر میں اپنے اخلاق کی پابندی میں نہیں کہوں گا مرحبا! (مرتب)
٣٤
ثناء اللہ صاحب نے بیان کیا ہے اس سے کس طرح ہمارے حضرت مرزا صاحب کی صداقت کھلے طور سے ثابت ہوتی ہے۔ اللہ اللہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی تحریر اور حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا اسی طرح سے کھلا ثبوت یہ ہے : ” الفضل ما شھدت بہ الاعداء ۔“ دوسری آیت : ”ما کنا معذبین حتی نبعث رسولا، سورۃ بنی اسرائیل پ ١٥“ کیا مطلب ! یعنی دنیا میں ہم عذاب نہیں بھیجا کرتے جب تک کہ پہلے کوئی رسول مبعوث نہ کرلیں۔ اس آیت سے بھی حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت ملتا ہے۔ کیونکہ اس میں بتلایا ہے کہ دنیا میں عذاب آنے سے پہلے خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ ضرور کوئی رسول بھیجتا ہے۔ اب دیکھو دنیا میں ہر طرف عذابوں کا ظہور ہے۔ کہیں طاعون ہے، کہیں زلزلہ، کہیں طوفان، کہیں قحط، کہیں جنگوں کے مہیب نظارے کہ جن کی نظیر پہلے زمانوں میں ہرگز نہیں ملتی۔ اب جبکہ یہی عذاب جو پہلے رسولوں کے وقت آئے اور اس آیت کی رو سے ان رسولوں کی صداقت کی دلیل ہے تو کیوں یہی عذاب اس خدا کے برگزیدہ رسول کی صداقت کی دلیل نہیں جو ان عذابوں کے ظہور سے پہلے آیا اور اس نے ان عذابوں کے ظہور کی خبر بھی پہلے سے سنا دی۔ چنانچہ آپ کے الہام ذیل کو غور سے ملاحظہ فرمایا جاوے۔ ”دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا۔ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔“ اب دیکھو اس الہام میں یہ بتلایا ہے کہ ایک نذیر آیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نذیر آنے والے عذابوں کی خبر دیتا ہے پھر دنیا کا لفظ بتاتا ہے کہ وہ عذاب ساری دنیا کے لئے ہوں گے۔ پھر یہ کہنا کہ دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ اس سے بتلایا کہ اس کے انکار کی وجہ سے وہ عذاب آئیں گے۔ پھر فرمایا کہ اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ اس سے یہ بتایا کہ وہ عذاب خدا کے زور آور حملے ہوں گے جن سے دنیا کی قوموں اور سلسلوں کو تو نقصان پہنچے گا۔ لیکن خدا کے اس نذیر اور رسول کی سچائی ظاہر ہوگی اور وہ اس سے ترقی کرے گا اور بڑھے گا۔ اب دیکھو کہ اس آیت اور اس الہام کی رو سے جو قبل از وقت شائع ہوا کس طرح دنیا میں مختلف قوموں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
٣٥
لیکن خدا کے فضل سے مرزا صاحب کا سلسلہ اس سے ترقی پر ترقی کر رہا ہے۔ کیا اس آیت کی رو سے روز روشن کی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مرزا صاحب اپنے دعویٰ میں سچے اور واقعی خدا کی طرف سے ہیں۔
دوستو! غور کرو پھر غور کرو تیسری آیت: ” فان لم یستجیبوا لکم فاعلموا انما انزل بعلم اللہ . سورہ ھود پ ١٢“ کیا مطلب! یعنے اگر یہ منکر لوگ اس اعجازی کلام کا مقابلہ نہ کریں تو اے طالبان حق تم اس نتیجہ کو بھی سمجھ لو کہ یہ اعجازی کلام بشری طاقتوں کا نتیجہ نہیں بلکہ علم الہی سے ظاہر ہوا۔
یہ آیت بھی حضرت مرزا صاحب کی سچائی کی زبردست دلیل ہے۔ کیونکہ آپ نے جن تصانیف کو اعجازی رنگ میں پیش کیا ان میں کسی کا بھی دنیا میں جواب نہیں لکھا۔ اس وقت ہم بطور مثال کے اعجاز احمدی کو لیتے ہیں جس کے ساتھ دس ہزار کا انعامی اشتہار بھی دیا گیا اور جسے خصوصیت کے ساتھ مولوی ثناء اللہ صاحب کے مقابلہ کے لئے لکھا۔ اب دیکھو کہ باوجودیکہ مولوی صاحب مولوی فاضل بھی ہیں اور شب و روز تحریر اور تصنیف کا کام بھی کرتے ہیں۔ لیکن آپ نے اعجاز احمدی کا جواب آج تک نہیں لکھا۔ حالانکہ مولوی صاحب کے مقابلہ میں لکھنے اور نہ لکھنے کو اعجازی قصیدہ ا؎ میں حضرت مسیح موعود نے اپنے صدق اور
ا؎ مولوی ثناء اللہ صاحب چونکہ شاعر نہیں ہیں۔ اس لئے انہوں نے قصیدہ نہ لکھا۔ ہاں مرزائی قصیدہ کی غلطیاں اس کثرت سے نکالیں کہ اس کے اعجاز کے بخیے ادھیڑ ڈالے کیا جس قصیدہ میں بے شمار غلطیاں نکلیں وہ بھی اعجاز ہے؟۔ البتہ مولوی صاحب کا رسالہ ”الہامات مرزا“ مرزائی مشن کے مقابلہ پر معجزہ ثابت ہوا ہے۔ جس نے مرزا کی معرکۃ الاراء پیشگوئیوں کا تار پود جدا جدا کر دیا۔ اور باوجودیکہ اس کا جواب لکھنے پر مرزا صاحب کو پہلے پانچ سو روپیہ پھر دوسرے ایڈیشن پر ایک ہزار روپیہ اور اب طبع سوم کے موقعہ پر دو ہزار روپیہ تک انعام کا وعدہ ہے۔ لیکن مرزا جی کو جواب لکھنے کا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ) حاشیہ اگلے صفحہ) اگلے صفحہ پر)
کذب کا معیار بھی قرار دیا ہے۔ جیسا کہ آپ لکھتے ہیں :
وان اک من ربی فیغشے ویشبی
کیا مطلب !یعنے اگر میں اپنے دعوے میں جھوٹا ہوں تو مولوی ثناء اللہ صاحب اس کی مثل ضرور بنالائیں گے ۔ لیکن اگر میں رب کی طرف سے ہوں تو مولوی صاحب پر پردہ ڈال دیا جاوے گا۔ اور انہیں مثل لانے سے روک دیا جاوے گا۔
دوستو! اب غور کرو اور خدا کے لئے غور کرو کہ مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیشہ کہا کرتے ہیں کہ ایسی پیشگوئی اور نشان کہ جس پر مرزا صاحب نے اپنے صدق دعویٰ کا انحصار رکھا ہو ہرگز ظہور میں نہیں آیا۔ اب دیکھو کہ یہ کس قدر زبردست نشان ہے جو ظاہر ہوا۔ کیا اس سے کوئی انکار کر سکتا ہے؟ اور کیا یہ نشان آیت موصوفہ کی رو سے اس بات کا زبردست ثبوت نہیں کہ فی الواقع حضرت مرزا صاحب اپنے دعویٰ میں سچے اور خدا کی طرف سے ہیں۔
چوتھی آیت : ”کتب اللہ لاغلبن انا ورسلی ٠ سورۃ مجادلہ پ٢٨“ کیا مطلب یعنے اللہ نے یہ قانون لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوا کرتے ہیں۔ یہ آیت بھی حضرت مرزا صاحب کی صداقت کے ثبوت میں ایک زبردست دلیل ہے۔ کیونکہ اس میں بتلایا ہے کہ خدا کا رسول اپنے مخالفوں پر غلبہ پاتا ہے۔چنانچہ اس آیت کی رو
(حاشیہ گزشتہ صفحہ) حوصلہ نہ ہوا۔ اعجاز یہ ہے کہ قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم پروفیسر اورئینٹل کالج لاہور نے ایک زبردست عربی قصیدہ رائیہ بجواب قصیدہ مرزائیہ لکھا تھا جو اہل حدیث کے کالموں میں طبع ہو چکا ہے۔ اب انشااللہ! کتابی صورت میں نکلے گا۔ باوجود اس کے پھر مرزائیوں کا یہ کہنا ہمارے قصیدہ کا جواب کسی نے نہیں لکھا۔ صریح کذب ہے۔ (مرتب)
٣٧
سے بھی دیکھ لو کہ حضرت مرزا صاحب نے جب دعویٰ کیا تو اس وقت ایک طرف آپ اکیلے تھے اور دوسری طرف سب دنیا۔ اب دیکھو مخالفین حضرت مرزا صاحب پر غالب آئے اور ان کے دعویٰ سے انکار کرایا۔ یا حضرت مرزا صاحب نے اپنے مخالفین کی جماعت سے نکال کر اپنا ہم عقیدہ بنایا۔
تکذیب دعویٰ مرزا صاحب قادیانی
پہلا پرچہ از مولوی ثناء اللہ صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم٠ الحمدللہ وحدہ والصلوۃ علی من لا نبی بعدہ!
حضرت مرزا قادیانی کا دعویٰ مسیحیت موعود کا مستقل نہیں بلکہ نبوت محمدیہ اور اخبار احمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والتحیۃ کی فرع ہے۔ یعنے چونکہ آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد مسیح موعود آئے گا۔ اس لئے مرزا صاحب دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ میں ہوں۔ پس اس کی مثال نماز، روزہ وغیرہ احکام کی ہے۔ کوئی شخص کسی خاص حکم کی تعمیل کا دعویٰ کرے جو قرآن مجید میں ہو تو لازمی بات ہے کہ اس حکم کے الفاظ قرآن مجید میں دیکھے جاویں کہ وہ کیا ہیں۔ اس لئے مرزا صاحب کے ابطال دعویٰ کے لئے ان احادیث کا دیکھنا ضروری ہے۔ جن میں مسیح موعود کے آنے کا ذکر ہے۔ میں ان میں سے ایک حدیث نقل کرتا ہوں :” قال رسول اللہﷺ ینزل عیسی بن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ ویمکث خمسا واربعین سنۃ ثم یموت فیدفن معی فی قبری فاقوم انا وعیسی ابن مریم فی قبر واحد بین ابی بکر و عمر٠
مشکوٰۃ باب نزول المسیح ص ٤٨٠“
یعنے حضور علیہ السلام فرماتے ہیں۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام زمین کی طرف آوینگے پھر نکاح کریں گے۔ ان کی اولاد ہو گی اور پینتالیس سال دنیا میں رہیں گے پھر مریں
٣٨
گے پھر میرے مقبرے میں میرے پاس دفن ہونگے پھر میں اور عیسیٰ ایک ہی مقبرے سے اٹھیں گے پھر دونوں عمرؓ اور ابو بکرؓ کے درمیان ہوں گے۔
کل میں نے یہ حدیث حضرت عیسیٰ کی زندگی کے لئے پیش کی تھی۔ آج اس مطلب کے لئے پیش کرتا ہوں کہ مسیح موعود کی کیفیت حدیثوں میں کیا ہے خاص کر اس حدیث کو میں نے اس لئے پیش کیا ہے کہ جناب مرزا صاحب نے خود اس حدیث کو اسی غرض کے لئے پیش کیا ہوا ہے۔
(ملاحظہ ہو ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
چونکہ یہ حدیث مسلمہ فریقین ہے اس لئے یہ قوی سند ہے اس بات کی کہ اس بحث میں لائی جاوے۔ اس حدیث میں مسیح موعود کے آنے کی صرف خبر ہی نہیں دی بلکہ ان کی زندگی کا سارا پروگرام بتلا دیا ہے۔ دنیا میں ان کی عمر اور بعد انتقال ان کے دفن کی جگہ بھی بتلادی۔ صدق اللّٰہ ورسولہ!
اب سوال یہ ہے کہ جناب مرزا صاحب بعد دعویٰ مسیحیت پینتالیس سال دنیا میں رہے؟۔ ہرگز نہیں۔ آپ لکھتے ہیں: ”ابتداء چودہویں صدی ہجری میں میری عمر چالیس سال تھی۔ اس وقت میں مامور اور ملہم ہوا ۔“
(تریاق القلوب ص ٦٨ خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)
آج ٩ سال مرزا صاحب کو فوت ہوئے ہو گئے۔ حالانکہ ابھی ١٣٣٤ ہجری ہے جس میں سے ٩ سال نکال دیں تو پچیس سال رہ جاتے ہیں۔ یعنے زمانہ دعویٰ الہام میں مرزا صاحب نے کل پچیس سال گزار کر ٦٥ سال کی عمر میں انتقال کیا۔ حالانکہ الہام ٨٠ سال سے زیادہ کی زندگی کا تھا۔
(ہو تریاق القلوب ص ١٣ خزائن ج ١٥ ص ١٥٢ حاشیہ)
دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا مرزا صاحب مدینہ منورہ میں فوت ہوئے؟ اور مرقد مبارک میں دفن ہوئے؟۔ آہ! اس کا جواب میں کیا دوں سب نے دیکھا کہ جناب ممدوح
٣٩
کا انتقال ١۔ لاہور میں ہوا اور قادیان میں دفن ہوئے۔ غرض اس حدیث نے صاف اور بین فیصلہ کر دیا کہ جناب مرزا صاحب مسیح موعود نہیں تھے۔
ہمارے صوبہ پنجاب کے دنیاوی مقدمات کے لئے اعلیٰ عدالت چیف کورٹ لاہور ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کے مذہبی مقدمات کے لئے ہائیکورٹ بلکہ سب سے آخری پریوی کونسل‘ حدیث شریف ہے کسی مسلمان کا حق نہیں کہ خدا اور رسول کے فیصلہ سے سرتابی کر سکے۔ یا اس کی اپیل کا دل میں خیال لاوے۔ لاوے تو اپنے ایمان کی خیر مناوے۔ پس اس حدیث کے ہوتے ہوئے کسی دوسری دلیل کی اس دعویٰ کے لئے حاجت نہیں۔ تاہم میں مزید اطمینان احباب احمدیہ کے لئے خود جناب مرزا صاحب کے اقرارات سے مرزا صاحب کے دعویٰ کی تکذیب سناتا ہوں۔
مرزا صاحب نے شہادت القرآن ص ٨٠‘ خزائن ج ٦ ص ٣٧٦ پر مسلمانوں کے لئے قابل غور پیشگوئی یہ کی ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی میرے نکاح میں آئے گی۔ یہ میری صداقت کی دلیل ہو گی۔ اس مضمون کو آپ نے بہت جگہ لکھا ہے۔ جہاں تک کہ جب اس لڑکی کی شادی ہو گئی تو مرزا صاحب کے سامنے سوال پیدا ہوا تو جناب موصوف نے فرمایا گو اس کی شادی پہلے ہو گئی ہے۔ تاہم آخر کار وہ میرے نکاح میں آئے گی اور ضرور آئے گی۔
(ملاحظہ ہو اخبار الحکم ٣٠ جون ١٩٠٥ء)
١۔ مرزا صاحب قادیانی کا لاہور جا کر بیوطنی کی حالت میں مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں بزبان حال یہ کہتے ہوئے: ”مارا دیار غیر میں مجھ کو وطن سے دور“ ہیضہ کی منہ مانگی موت سے مر جانا اور باوجود کئی طرح دواؤں اور دعاؤں کے ساتھ زور لگانے کے زندگی کی ایک دم کے لئے بھی مہلت نہ ملنا بلکہ بارگاہ ایزدی سے : ” هذا الذي كنتم به تستعجلون “ کے الفاظ میں جواب پانا مرزا جی کے جھوٹا ہونے کا ایک بین اور عظیم نشان ہے۔ (مرتب)
٤٠
ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ٥٤‘ خزائن ج ١١ ص ٣٣٨ پر لکھتے ہیں کہ اگر یہ نکاح نہ ہوا تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اسی رسالہ کے صفحہ ٥٣‘ خزائن ج ١١ ص ٣٣٧ پر لکھتے ہیں کہ حدیث میں اس نکاح کو مسیح موعود کی صداقت کی علامت خود حضور ﷺ نے فرمایا ہے۔ پھر وہی حدیث لائے ہیں جو میں اوپر لکھ آیا ہوں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نکاح ہوا؟۔ آہ! اس کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ جس پر یہ شعر بے ساختہ زبان سے نکل جاتا ہے :
اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو
اس کے علاوہ ایک بات اور عرض کرتا ہوں جس کا نام جناب مرزا صاحب نے آخری فیصلہ رکھا تھا جس کو اس مباحثہ سے خاص تعلق ہے کیونکہ اس اشتہار کو انجمن احمدیہ امرتسر نے جو اس وقت مناظرہ میں فریق ثانی ہے دوبارہ چھپوا کر شائع کیا تھا۔ چنانچہ میں اس انجمن کے شائع کردہ اشتہار سے چند جملے نقل کرتا ہوں۔ واضح رہے اس اشتہار کا نام ہے ”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“ اس کے آخری فقرے یہ ہیں :
”اے میرے آقا میرے بھیجنے والے میں تیری ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی میں دنیا سے اٹھالے۔“
یہ دعا ١٥ اپریل ١٩٠٧ء کو ہوئی اور جناب مرزا صاحب ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو اس دار فانی سے تشریف لے گئے۔
حضرات! یہ کوئی معمولی شخص کی دعا نہیں بلکہ اس شخص کی ہے جس کا الہام ہے : ” اجیب کل دعائک ، “ یعنی جس سے خدا کا وعدہ ہے کہ میں تیری ہر ایک دعا قبول کروں گا۔ (تریاق القلوب ص ٣٨‘ خزائن ج ١٥ ص ٢١٠) جس کا دعویٰ ہے کہ میں خدا کے حضور دعا کرتا ہوں اور اس کا جواب پاتا ہوں۔ میرے منجانب اللہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت
٤١
یہ ہے کہ میری دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
(ملاحظہ ہو ریویو جلد ٦ ص ١٩٢)
اب سوال یہ ہے کہ یہ دعا قبول ہوئی؟ میں تو اپنے ایمان سے کہتا ہوں کہ ضرور قبول ہوئی۔ اگر میرے مخاطب اس کے متعلق کچھ کہیں گے تو عرض کروں گا۔ وقت کی پابندی میں اسی پر کفایت ہے۔
ورنہ با تو ماجراہا داشتیم
٣٠ اپریل ١٩١٦ء
صداقت دعویٰ مرزا صاحب
(دوسرا پرچہ از مولوی غلام رسول صاحب)
صاحبان آپ نے دیکھ لیا کہ مولوی صاحب اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے کسی آیت کو پیش نہیں کر سکے اور صرف حدیث کی طرف رجوع کیا۔ اب اس کے متعلق کیا عرض کیا جائے کیا حدیثیں قرآن پر مقدم ہیں جب قرآنی محکمات کی رو سے حضرت مسیح فوت شدہ ثابت ہیں جیسا کہ کل ٢٩ اپریل کے پرچوں میں قرآنی آیات سے اس کا ثبوت کافی طور پر دیا گیا ہے اور مولوی صاحب نے حدیث نزول کو پیش کیا۔ ہم اس کو مانتے ہیں۔ لیکن نزول کے یہ کہاں معنے ہیں کہ واقعی یہ نزول جسمانی نزول ہے۔ دیکھو قرآن میں لوہے اور لباس اور چارپائیوں کے متعلق لفظ نزول استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ : ”انزلنا الحدید“ اور : ”انزلنا لکم من الانعام“ اور : ”انزلنا علیکم لباسا“ سے ظاہر ہے اور عربی زبان میں مسافر کو نزیل کہتے ہیں۔ کیا اس سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسافر آسمان سے اترا کرتے ہیں۔ پھر قرآن میں : ”انزل اللہ الیکم ذکرا رسول یتلوا علیکم ایت اللہ ۔“ بھی آیا ہے۔ دیکھو سورۃ الطلاق۔ اب دیکھو اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے متعلق فرمایا گیا کہ اس رسول کو اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے۔ اب کیا اس کا یہ مطلب ہو گا کہ آپ آسمان
٤٢
سے اترے اور جسمانی نزول کے ساتھ اترے۔
ہاں ! اس نزول سے مراد روحانی نزول ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ وہ خدا کی طرف سے روحانی قرب کے لحاظ سے رفعت حاصل کر کے پھر اصلاح خلق اللہ کے لئے روحانی نزول فرمائیں گے۔ یعنے مبعوث کئے ١؎ جاویں گے۔
پس آنے والے مسیح کے نزول سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام کا جسمانی نزول نہیں بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ ایک شخص حضرت مسیح علیہ السلام کے رنگ میں اور اس کی مشابہت میں آئے گا۔ جیسا کہ سورہ نور میں بتایا گیا ہے۔ دیکھو آیت : ” وعداللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنهم فی الارض کما استخلف الذین من قبلهم ۔“ جس کا یہ مطلب ہے کہ آنحضرت ﷺ کے خلفاء موسوی سلسلہ کے خلفاء کی مانند ہوں گے اور ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سلسلہ کے خلیفہ ہیں۔ جیسا کہ آیت : ” ولقد آتینا موسی الکتاب وقفينا من بعده بالرسل وآتینا عیسی ابن مریم البینات ٠ “ سے ظاہر ہے۔ پس اس صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس آیت استخلاف کے حرف کما سے مشابہ ہیں جن کی مماثلت میں سلسلہ محمدیہ میں ایک شخص کو آنحضرت ﷺ کی مماثلت میں بھیجا جاوے گا۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے دعویٰ سے ظاہر ہے پھر تعجب ہے کہ مولوی
١- آپ نے یا تو مولوی ثناء اللہ کا مطلب سمجھا نہیں یا دانستہ تجاہل کیا۔ مولوی صاحب نے تو صاف صاف اس حدیث کا مضمون کھول کھول کر بیان کیا ہے : (١)...... مسیح موعود کا مدینہ منورہ میں فوت ہونا۔ (٢)...... مرقد مبارک میں دفن ہونا۔ پس یہ دو نشان بموجب حدیث شریف مسیح موعود کے ہیں۔ آپ روحانی نزول کہیں یا جسمانی اس سے کیا فائدہ جب تک آپ ان دو باتوں کا جواب نہ دیں۔ ساری تقریر بے معنے ہے۔ آپ نے ان کا جو جواب دیا ہے۔ وہ ہمارے سامنے ہے۔ (مرتب)
٤٣
صاحب نے یدفن معی فی قبری کو آج پھر پیش کر دیا ١ ہے۔
کیا مولوی صاحب کے پاس قرآنی آیت سے کوئی آیت اپنے مدعا ثابت کرنے کے لئے نہیں ہے ؟۔ ہم کہتے ہیں کہ اس قبر سے مراد ظاہری قبر نہیں بلکہ برزخی قبر ہے اور ظاہری قبر کو مراد میں لینا حضرت عائشہؓ کے رویائے صالحہ کے برخلاف ہے۔ کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اپنے حجرے میں تین چاند دیکھے تھے۔ اگر مسیحؑ نے واقعی آپ کی قبر میں دفن ہونا تھا تو چار چاند ہوتے نہ تین۔
پھر مولوی صاحب نے حضرت مسیحؑ کی عمر کے متعلق کہا ہے۔ اس کے متعلق یہ عرض ہے کہ حضرت سیدنا مسیح موعود ہمیشہ تخمیناً عمر کا اظہار کیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ آپ کی مختلف تحریروں سے ظاہر ہے۔ اب دعویٰ الہام کی مدت کو دیکھا جاوے تو وہ عمر ٢٥ /٣٠ سال کی عمر کا ہے جس کے بعد ٤٠ سال تک زندہ رہے۔ اب کیا اس سے عمر والی حدیث پوری نہیں ٢۔ ہوئی۔ اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ میرے ساتھ آخری فیصلہ میں آپ اول ضرور فوت ہو گئے۔ اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ مولوی صاحب نے اس فیصلہ کے اشتہار کے جواب میں جو کچھ اپنے اخبار اہل حدیث کے ٢٦ اپریل ١٩٠٧ء کے پرچہ میں لکھا ہے اس کو کیوں ذکر نہیں کیا جاتا۔ دیکھو اس کو ہم پڑھ کر سناتے ہیں مولوی صاحب لکھتے ہیں تمہاری یہ دعا کسی صورت میں فیصلہ کن نہیں ہو سکتی اور پھر لکھتے ہیں اور یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔
١۔ کیا آپ کو حدیث سے انکار ہے۔ خصوصاً ایسی حدیث سے جس کو مرزا صاحب نے خود اسی مدعا کے لئے پیش کیا ہوا ہے۔ کیا شرائط مباحثہ میں حدیث کو داخل نہیں کیا گیا۔ افسوس کا مقام ہے کہ مرزائی مناظر کیا کہہ رہے ہیں۔ (مرتب)
٢۔ غنیمت ہے کہ یہاں آپ نے ظاہری عمر مراد لی‘ روحانی عمر نہ کہہ دی جس کا حساب کسی کو معلوم نہ ہو سکے۔ (مرتب)
٤٤
اب دوستو! غور سے سنو اور دیکھو کہ یہ مباہلہ یا دعا جو حضرت مسیح موعود کی طرف سے شائع ہوئی جب مولوی صاحب نے اسے منظور ہی نہیں کیا تو اس فیصلے کا مطلب کیا؟۔ پھر کیا آپ کی طرف سے اخبار میں یہ نہیں لکھا گیا کہ خدا تعالیٰ جھوٹے، دغاباز، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمر دیا کرتا ہے۔
اب غور سے دیکھو کہ مولوی صاحب کی یہ عبارت کیا فیصلہ کرتی ہے؟۔ ہاں! مولوی صاحب اگر حضرت مرزا صاحب کے فیصلہ والی تحریر کو منظور کر لیتے تو بیشک پھر جو کچھ چاہتے کہتے۔
ہاں ! بے شک حضرت مرزا صاحب نے اعجاز احمدی کے صفحہ ٣٧ پر یہ لکھا ہے کہ واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے میرے تین نشان ظاہر ہوں گے :
- (١).......... وہ قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہر گز
نہیں آئیں گے اور سچی پیشگوئیوں کو اپنی قلم سے پیش کرنا ان کے لئے موت ہو گی۔
- (٢).......... اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مر جائے تو
وہ ضرور پہلے مریں گے۔
- (٣).......... اور سب سے پہلے اس اردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے
عاجز رہ کر جلدی ان کی روسیاہی ثابت ہو گی۔
اب دوستو غور کرو کیا مولوی صاحب نے حضرت مرزا صاحب کا یہ چیلنج منظور کیا
- ١۔ اتنا تو ہمیں اعتقاد ہے کہ مرزائی جماعت عجیب فونو گراف ہے جو آواز اس میں
قادیان سے داخل کی جاتی ہے وہی ادا کر دیتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کی خیانت نہیں۔ نہ کسی قسم کی دیانت ہے کہ مرزا صاحب کے سارے اشتہار میں مباہلہ کا لفظ بھی درج نہیں مگر قادیان کی آواز میں جو مباہلہ نکلا تو بس سب مرزائی مباہلہ مباہلہ کہنے لگ گئے۔ حالانکہ وہ صرف دعائے مرزا ہے جس کا مباہلہ کہنا نہ صرف دھوکہ خوری بلکہ دھوکہ دہی ہے۔ (مرتب)
٤٥
اگر منظور کرتے تو بے شک احمد بیگ کی طرح اور ڈوئی امریکن اور مولوی اسماعیل علیگڑھ اور چراغ الدین جمونی کی طرح ضرور پہلے مرتے۔
اور مولوی صاحب کا احمد بیگ کی لڑکی کے متعلق اعتراض کرنا غلط ہے۔ کیونکہ جب الہام : ” يا ايتها المرءة توبى توبى“ سے ظاہر ہے کہ وہ نکاح کی پیشگوئی مشروط بوقوع وعید تھی اور وعید سے پہلا حصہ احمد بیگ کی موت نے پورا کر دیا اور دوسرے حصہ سے انہوں نے توبہ سے فائدہ اٹھایا اور حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعا کے لئے خط لکھا تو وعید ٹل گیا اور وعید ٹلنے سے نکاح کی پیشگوئی جو مشروط بوقوع وعید تھی بحکم اذا فات الشرط فات المشروط کے مطابق ظہور میں آئی ہے۔
اور یہ کہ مولوی صاحب کا اجیب دعوۃ الداع کو پیش کرنا بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس الہام کے یہ معنے ہیں کہ میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں یا کروں گا۔ اب بیشک اگر مولوی صاحب حضرت مرزا صاحب کی فیصلہ والی تحریر کو منظور فرماتے تو ضرور یہ دعا آپ کی قبول ہوتی لیکن چونکہ یہ دعا مباہلہ کی دعا تھی جیسے کہ مولوی صاحب کے نامنظور کرنے سے ظاہر ہے اس سے مولوی صاحب کی نامنظوری سے وہ فیصلہ بھی ظہور میں نہ آیا۔
اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ یہ صرف دعا تھا۔ اگر دعا تھی اور مولوی صاحب کی منظوری اور نامنظوری کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا تو اس کا کیا مطلب کہ مولوی صاحب نے یہ لکھ دیا کہ یہ تحریر تمہاری مجھے منظور نہیں۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مولوی صاحب کو مباہلہ کے لئے بلایا گیا اور آپ نے اس سے انکار کیا۔
پھر تعجب کہ آپ فیصلہ کے اشتہار کو بار بار پیش کرتے ہیں میں پوچھتا ہوں کہ کس
١؎ بھلے آدمی کہتے ہوئے کچھ تو خوف خدا دل میں لائے۔ نبی اور رسول کے ساتھ کسی عورت کا نکاح ہونا اس کے لئے عذاب ہے۔ یا رحمت موجب برکت؟ توبہ سے اگر ٹلتا ہے تو عذاب نہ کہ رحمت۔ افسوس ہے۔ (مرتب)
٤٦
انصاف کی بنا پر اسے پیش کیا جاتا ہے۔ پس اصل یہی ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی وفات مولوی صاحب کے مقابلہ کے ظہور میں نہ تھی۔
دستخط: مرزائی مناظر‘ غلام رسول
دستخط: اسلامی صدر‘ نظام الدین
دستخط: مرزائی صدر‘ عبداللہ
تکذیب دعویٰ مرزا صاحب
دوسرا پرچہ از مولوی ثناء اللہ صاحب
بسم اللہ الرحمن الرحیم ٠ الحمد للہ وسلام علیٰ رسولہ الکریم!
حضرات مرزا صاحب کی صداقت کا پرچہ آپ لوگوں نے سنا جو آیات پڑھی گئی ہیں ان میں سے کسی آیت میں مرزا صاحب کا نام یا ذکر تک نہیں ہے بلکہ صرف خیالات کا مجموعہ ہے۔ سب کا خلاصہ ہے کہ چونکہ دنیا میں آفات ہیں۔ اس لئے بطور دلیل انی کے ہماری سمجھ میں آتا ہے کہ دنیا میں کوئی رسول پیدا ہوا ہے وہ رسول مرزا صاحب ہیں۔
عربی میں ایک مثل ہے الغریق یتشبث بالحشیش۔ جس کا ہندی ترجمہ ہے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ پہلی آیت میں ظالموں کی ناکامی کا ذکر ہے بقول مخاطب چونکہ مرزا صاحب کے مرید بہت لوگ ہو گئے ہیں۔ لہذا کامیاب ہیں۔ حالانکہ مرزا صاحب سے سوامی دیانند کے چیلے اس وقت بہت زیادہ ہیں یہ کامیابی نہیں۔ بلکہ کامیابی یہ ہے کہ اپنے مخالفوں پر غالب آئے۔ ابھی میں ہی موجود ہوں۔ جس کی بابت مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ: ”مولوی ثناء اللہ صاحب دوسرے علماء سے توہین میں بڑھے ہوئے ہیں۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ٣٠‘ خزائن ج ٢٢ ص ٤٦٢)
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ: ”میرے مقابل پر کسی قدم کو قرار نہیں۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٤‘ خزائن ج ١٥ ص ٢٤٨)
٤٧
حالانکہ : (١)....... میں (٢)....... اور سب سے پہلے ان کا مباہل صوفی عبدالحق غزنوی اور سب سے آخری (٣)...... مخالف ڈاکٹر عبدالحکیم خاں سب زندہ ہیں اور مرزا صاحب ہم کو سب داغ جدائی دے گئے ۔ آہ! آج ہماری آنکھیں ان کے دیکھنے کو ترستی ہیں۔ ہاں واضح رہے کہ کامیابی اس کو کہتے ہیں کہ جس کام کا بیڑا اٹھایا ہو اس کو پورا ہوا دیکھ لے۔ ایک جرنیل جو فوج لے کر دشمن پر حملہ کرنے کو جاتا ہے جو خیالات اس کے دل و دماغ میں ہوں اگر ان کو پورا کر دے تو کامیاب سمجھا جاتا ہے ورنہ ناکام۔
اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ مرزا صاحب کیا کیا خیالات دل و دماغ میں لے کر آئے تھے اور اپنا پروگرام انہوں نے دنیا میں کیا شائع کیا تھا۔ میں اپنے الفاظ میں نہیں بلکہ انہی کے الفاظ میں عرض کرتا ہوں۔ آپ لکھتے ہیں :
”مسیح موعود (جس کے نام سے میں آیا ہوں ) اس کے زمانہ میں تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جاویں گی اور ایک ہی مذہب اسلام ہو جاوے گا۔“
(چشمہ معرفت ص ٨٣، خزائن ج ٢٣ ص ٩١)
اب سوال یہ ہے کہ کیا مرزا صاحب کے دم قدم کی برکت سے دنیا کی سب قومیں ایک ہی مسلم قوم بن گئی ؟۔ کیا خاص امرتسر میں کوئی غیر مسلم نہیں ؟۔ کیا امرتسر کا دربار صاحب جامع مسجد کی شکل میں تبدیل ہو گیا ؟۔ گرجا تو کوئی نہ ہوگا ؟۔ آریہ سماج کا نام ہی نہیں ؟۔ آج جو ان کا سالانہ جلسہ ہے۔ یہ خواب کا واقعہ ہے۔ بیداری میں نہیں ؟۔ اگر یہ سب کچھ ہے اور دنیا میں ابھی سوائے مسلم قوم کے غیر مسلم قومیں بھی موجود ہیں۔ تو کون دانا ہے جو مرزا صاحب کو کامیاب سمجھے۔ اس کی کامیابی پر مجھے ایک حکایت یاد آئی کہ ایک بادشاہ کا ملک دشمن نے لے لیا۔ رنجیدہ خاطر بیٹھا تھا۔ مصاحبوں میں کسی مسخرے نے کہا۔ حضور دشمن نے ہم پر بے طرح ظلم کیا۔ اس لئے اس نے اگر ہمارا ملک لیا تو ہم نے بھی ان کا ایمان لے لیا۔ ملک تو فنا ہونے والی چیز ہے اور ایمان باقی ہے۔ لہٰذا بڑے کامیاب ہم ہیں۔
حضرات! اس کامیابی پر خوش ہونا نابالغ بچوں کا بہلاوا ہے۔ آئیے میں اپنے اصول
٤٨
مقررہ کے مطابق بتاؤں کہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ کا نقشہ ہمارے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کیا بتلایا ہے :
"ولتذهبن الشحناء والتباغض والتحاسد ولیدعون الٰی المال فلا یقبله احد ٠ مشکوٰۃ باب نزول عیسٰی بن مریم"
یعنے مسیح موعود کے زمانہ میں لوگوں کے بغض و حسد سب دور ہو جاویں گے اور وہ مال کی طرف بلائے جاویں گے تو کوئی قبول نہ کرے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں عموماً اور مرزا صاحب کے مریدوں میں خصوصاً یہ حالت ہے ؟۔ میں اس کا جواب اپنے الفاظ میں نہیں دیتا۔ بلکہ خود مرزا صاحب کے الفاظ سناتا ہوں۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں :
"ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاکدلی اور پرہیزگاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ میں انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنٰی ادنٰی خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بدامن ہوتے ہیں۔ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں وغیرہ۔"
(اشتہار ملحقہ شہادت القرآن ص ٩٩ خزائن ج ٦ ص ٣٩٥)
غرض مرزا صاحب نہ تو اشاعت اسلام میں کامیاب ہوئے اور نہ تہذیب و تقدس میں بلکہ اپنے سارے پروگرام میں فیل نظر آتے ہیں۔
تفسیر ثنائی کے حوالہ سے جھوٹے نبی کی بابت جو کہا گیا ہے وہ درست ہے۔ مرزا صاحب جو چند یوم تک بچے رہے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کھل کر نبوت کے مدعی نہ تھے بلکہ نبوت محمدیہ کے دامن سے لپٹتے رہے اور یہ کہتے رہے :
جو ہوں سو اتباع محمدی میں ہوں۔ اس لئے خدا نے چند یوم مہلت دی۔ چونکہ نبوت محمدیہ کی آڑ میں رہے تھے۔ اس لئے خدا نے ان کی موت بھی ایک ادنٰی غلام محمد کے مقابلہ میں بھیجی۔ جس کی غلامی کا ثبوت خود اس کے نام سے ظاہر ہے۔ یعنے :
٤٩
عربی اعجازی قصیدہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس قصیدہ کا سارا بخیہ میں اپنے رسالہ الہامات مرزا میں ادھیڑ چکا ہوں۔ اس قصیدہ کی بلاغت کا نمونہ بتلانے کو دو شعر سناتا ہوں :
او افيت مال او ريت امرتسر
اس میں امر تسر مفعول بہ کو مرفوع لکھا ہے :
لعنت بملعون فانت تدمر
یہاں گولڑے کی ارض کو باوجود مونث لکھے کے تدمر صیغہ مذکر کا لائے ہیں۔ کیا کمال ہے: ایسا ہی ”ماکنا معذبین“ والی آیت کو بھی مرزا صاحب سے کوئی تعلق نہیں۔ نبوت محمدیہ چونکہ دنیا میں عام شائع ہے۔ اس لئے اس کی مخالفت کا اثر ہے کہ دنیا میں عذاب آتا ہے۔ مرزا صاحب خود فرماتے ہیں :
پھر آقا کی نبوت کا اثر نہ ماننا اور غلام کے اثر کا قائل ہونا۔ چہ بوالعجبیست! طاعون کی بابت مفصل دوسرے پرچہ میں عرض کروں گا۔ غرض یہ ہے کہ مرزا صاحب کو اپنے پروگرام میں دیکھا جاوے تو بالکل فیل ہیں مگر باوجود اس کے مدعی مسیحیت ہوں تو بے ساختہ یہ شعر منہ سے نکل جاتا ہے :
تو پھر اے سنگدل تیرا ہی سنگ آستان کیوں ہو
دستخط : اسلامی مناظر ثناء اللہ
دستخط : اسلامی صدر نظام الدین و دستخط : مرزائی صدر عباد اللہ
٥٠
صداقت دعویٰ مرزا صاحب
سب سے آخری پرچہ نمبر ٣
(از مولوی غلام رسول مرزائی)
صاحبان! مولوی صاحب نے کہا ہے کہ جن قرآنی آیات کو مرزا صاحب کی تصدیق میں پیش کیا ہے یہ غلط ہے۔ اس لئے کہ ان آیتوں میں حضرت مرزا صاحب کا نام نہیں یہ عجیب بات ہے کہ میں نے اس کے متعلق کہاں دعویٰ کیا کہ میں ان آیتوں سے حضرت مرزا صاحب کا نام پیش کرتا ہوں میں نے تو ان آیتوں کو مسلمہ اصول اور قواعد کے طور پر پیش کیا ہے کہ ان آیات سے سچے مدعیوں اور سچے رسولوں کے دعویٰ پرکھنے کے لئے معیار ہے۔ جیسا کہ میں نے کھول کر بتلا دیا کہ پہلی آیت کی رو سے مفتری کامیاب نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ کی حالت میں صرف اکیلے ہونا پھر اس کے بعد باوجود مکذبین کی مخالف کوششوں کے ان کا کامیاب ہونا اور ایک سے لاکھوں انسانوں کی جماعت بنالینا کیا یہ کامیابی نہیں؟۔ اور کیا اس آیت کی رو سے حضرت مرزا صاحب کی اس سے صداقت ظاہر نہیں ہوتی۔
دوستو ! غور کرو اسی طرح میں نے : ” ماکنا معذبین حتی نبعث رسولا۔“ کی آیت کو پیش کر کے یہ بیان کیا تھا کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ رسولوں کے مبعوث ہونے کے بعد ضرور ہی انکے نذیر ہونے کی وجہ سے عذاب آیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ کے بعد اور آپ کی بعثت کے بعد مختلف قسم کے عذاب ظہور میں آرہے ہیں۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے دعویٰ میں سچے اور واقعی خدا کی طرف سے ہیں۔
اسی طرح اعجازی کلام کے متعلق لکھا تھا اور اعجاز احمدی کی مثال پیش کی تھی جس کے جواب میں آج تک دوسرے غیر احمدی علماء عموماً اور مولوی ثناء اللہ صاحب خصوصاً اس
٥١
کے جواب لکھنے سے عاجز رہے اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ جیسا کہ انہوں نے کہا کہ امر تسر کی رائے کے مفعول بہ باوجود یکہ اسے زبر چاہئے مگر پیش لایا گیا۔
اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ شائد مولوی صاحب الاقواء جائز کا مسئلہ بھول گئے جو اصحاب عروض نے شاعروں کے لئے بطور تخفیف کے جائز رکھا ہے۔ ایسا ہی مولوی صاحب نے ارض جو لر پر اعتراض کیا ہے جو اسی قسم کا ہے سو اس کا جواب بھی پہلے آچکا کہ اقوا جائز ہے ا؎۔ پھر مولوی صاحب نے مرزا صاحب کے مقابلہ میں سوامی دیانند کو پیش کیا ہے مگر آپ کا یہ پیش کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ کیونکہ کہاں وہ شخص جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور الہام کی بنا پر اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے اور کہاں سوامی دیانند جو ویدوں کے بعد الہام کا قائل ہے نہیں غور کرو۔
قرآن نے لکھا ہے کہ جو شخص خدا پر افتراء کرے وہ کامیاب نہیں ہوتا نہ یہ کہ عام کامیابی جیسے کہ گدی نشینوں کو اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ مرزا صاحب نے اپنی جماعت کے متعلق شکایت لکھی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ابتداء دعویٰ یعنی ١٨٩٣ء کی بابت ہے۔ اس کے بعد حضرت صاحب نے لکھا ہے کہ میری جماعت میں ایک لاکھ سے بھی زائد لوگ ایسے ہیں جو صحابہ کا نمونہ رکھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو وہ جو عبدالحکیم کو لکھا گیا پھر جس تحریر کی بنا پر مولوی صاحب نے اعتراض کیا ہے اس کی نسبت حضرت مرزا صاحب نے اس کے نیچے خود یہ نوٹ دیا ہے کہ یہ باتیں ہماری عزیز جماعت کے لئے بطور نصیحت کے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ مرزا صاحب کا مدعا ان الفاظ سے جن کی بنا پر مولوی صاحب نے اعتراض کیا ہے
- ا۔ علم عروض میں تو اس کو معیوب لکھا ہے حوالہ مندرجہ ذیل ملاحظہ ہو : ”ان
تغیرالمجرى الى حركة بعيدة كما اذا بدلت الضمة فتحة اوبالعكس فهو عيب فى القافيه (محیط الدائره ص ١١٠)“ یعنے حرکت کا ردو بدل قافیہ میں عیب ہے۔ کیا عیب دار کلام بھی درجہ اعجاز پر ہو سکتا ہے؟۔ (مرتب)
٥٢
صرف یہ ہے کہ جماعت ہوشیار رہے۔ پھر اسی تحریر میں حضرت صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت ١٨٩٣ء میں بھی دو سو سے زائد آدمی ہیں۔ جن پر خدا کی خاص رحمت ہے اور خدا کے ساتھ حد درجہ کا تعلق رکھتے ہیں۔ پس اس تحریر کا یہ مطلب نہیں کہ کسی نصیحت سے واقعی کوئی غلطی پائی جاتی ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر :"الحق من ربک فلا تکونن من الممترین . " سے بھی سمجھا جاوے گا۔ آنحضرت ﷺ قرآن کے حق ہونے کے متعلق شک رکھتے تھے۔ کیونکہ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ یہ حق ہے تیرے رب سے پس تو شک کرنے والوں سے نہ ہو۔ ایسا ہی دوسری جگہ آنحضرت ﷺ اور حضرت نوح علیہ السلام کی نسبت فرمایا کہ :" لاتکونن من الجاہلین . " کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ واقعی حضرت نوح علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ اس آیت کی رو سے اس ارشاد سے پہلے جاہل تھے اور پیچھے ان کو نصیحت کی گئی کہ آپ جاہلوں سے نہ ہوں۔ پھر مولوی صاحب کا یہ لکھنا کہ مسیح موعود کے وقت سب قومیں ایک ہو جائیں گی اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ جنوں نے حضرت مرزا صاحب کو قبول کیا ہے واقعی وہ خواہ پہلے عیسائی تھے یا ہندو یا شیعہ یا سنی آپ کو قبول کرنے سے ایک ١۔ ہی ہو گئے۔ اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ سب کے سب ٢۔ لوگ مان جائیں گے یہ غلط ہے۔ کیونکہ مسیح موعود کے ذریعے جیسے کہ :" تہلک الملل کلہا الا الاسلام " سے ظاہر ہے۔ دلائل کے ساتھ غلبہ مراد ہے۔ نہ قہری غلبہ جو :"لا اکراہ فی
- ١۔ ہوش سے کہو کیا کہتے ہو ایک ہو گئے یا کئی ایک ہو گئے کیا لاہوری اور قادیانی
پارٹی کا اختلاف بھول گئے؟۔ (مرتب)
- ٢۔ مرزا صاحب کی کتاب چشمہ معرفت میں صاف مرقوم ہے کہ تمام دنیا میں
ایک قوم اسلام کی ہوگی۔ افسوس ہے مرزائی مناظر مرزا صاحب کی کتاب کو بھی بن دیکھے جواب دے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزائی مناظر پر کوئی خاص حالت طاری تھی۔ (مرتب)
الدین.“ کے خلاف ہے اور اگر یہی بات ہے تو آنحضرت کے اس فرمانے کا کیا مطلب کہ میری امت تہتر فرقے ہو جائے گی جن میں سے ایک آخری ناجی ہو گا جو مسیح موعود کی جماعت ہو گی جو مسیح موعود پر ایمان لانے کی وجہ سے ناجی ہو گی اور باقی بہتر فرقوں کا ناری ہونا حضرت مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے ہوگا۔
پھر حدیث :” لتتبعین سنن من کان قبلکم شبرا بشبر ذراعا بذراع “سے ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے میری امت کے لوگو ! تم یہود کی چال چلو گے جس سے ظاہر ہے کہ یہود کی شرارت کا رنگ آئے گا اور وہ رنگ یہی ہے کہ جب یہود کے پاس حضرت مسیح آئے تو انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ اسی طرح جب امت محمدیہ میں مسیح موعود آئیں گے یہ بھی اسے قبول نہیں کریں گے اور انکار کریں گے۔
اور مولوی صاحب کا یہ کہنا کہ مرزا صاحب نے کھل کر دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ یہ عجیب آپ نے کہا کیا کھل کر اور نا کھل کر دعویٰ کرنے کی بھی کہیں خصوصیت بتلائی ہے۔ قرآن کریم میں تو صرف :” من اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا .“ فرمایا یعنی خدا پر افتراء کرنے والا کامیاب نہیں ہوتا۔ اور مولوی صاحب کا یہ لکھنا کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کی آڑ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لئے بچ رہے۔ اللہ ! اللہ ! کیا اگر اس طرح کا دعویٰ نبوت بچا سکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی ہتک کرے تو ایسا مفتری جلد ہلاک ہونا چا ہئے۔ نہ کہ اسے مہلت دی جاتی۔ اے دوستو غور کرو کہ مولوی صاحب کی تحریر کی رو سے جو ا نہوں نے تفسیر ثنائی میں لکھی اور ایسا ہی قرآنی آیات کی رو سے جو پہلے پرچہ میں ذکر کی گئیں کس کھلے طور پر حضرت مرزا صاحب کی صداقت ظاہر ہے۔ پس مبارک وہ جو صداقت کو قبول کرے۔
پھر اس پر بھی غور فرماویں کہ جب مسیح کے انکار سے ٧٢ فرقوں نے ناری بننا تھا تو وہ سب قبول کس طرح کرتے کیونکہ ٧٣ سے ناجی تو صرف ایک ہی فرقہ بتلایا گیا جس فرقہ سے ہونے کا شرف خدا کے فضل سے اس خاکسار راقم کو بھی حاصل ہے۔ کیونکہ ہم نے خدا
کے فضل سے حق کو دیکھا اور قبول کیا اور خدا کے فضل سے ہم اس ناجی فرقہ سے ہو گئے۔ والحمد لله على ذالك! پس آپ کو بشارت ہو کہ آنے والا آگیا۔ مبارک وہ جو قبول کرے دلائل اور بھی بہت ہیں جو وقت کی تنگی کے لحاظ سے ذکر نہیں ہو سکتے۔ دستخط : مرزائی مناظر غلام رسول (مرزائی) دستخط : اسلامی صدر میاں نظام الدین آنریری مجسٹریٹ دستخط : مرزائی صدر عباد اللہ (مرزائی)
تکذیب دعویٰ مرزا صاحب
سب سے آخری پرچہ نمبر ٣
(از مولوی ثناء اللہ صاحب)
بسم الله الرحمن الرحيم . الحمد لله الذى بنعمته تتم الصالحات! حضرات میرے جواب میں کہا گیا ہے کہ قرآن سے دلیل نہیں لائے ہیں میں کہہ چکا ہوں کہ یہ حدیث ایسی مسلمہ فریقین ہے کہ مرزا صاحب بھی اس سے سند لائے ہیں اور میں بھی اس کو مانتا ہوں۔ قرآن مجید میں مسیح موعود کے آنے نہ آنے کا کوئی ذکر نہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب رسالہ شہادت القرآن کے شروع میں اس کو مانتے ہیں۔ (ص ١‘٢‘٣‘٤) یہی وجہ ہے کہ جو لوگ احادیث کو شرعی دلیل نہیں مانتے۔ جیسے سر سید احمد خان اور مولوی عبداللہ چکڑالوی اور ان کے ہم خیال وہ مسیح موعود کا مسئلہ بھی نہیں مانتے۔ پھر جو مسئلہ حدیثی ہو اس میں حدیث ہی کو پیش کرنا انصاف ہے ا؎۔
ا؎ قرآن مجید میں حضرت مسیح کے آنے نہ آنے کا ذکر کی نفی کرنے سے مراد مولوی صاحب کی یہ ہے کہ تفصیل اور واضح طریق سے نہیں جس پر (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٥٥
حدیث مذکور میں کون شخص مراد ہے مجھے اس سے بحث نہیں جو بھی ہو اس کا انتقال مدینہ منورہ میں ہونا اور مقبرے مبارک میں دفن ہونا صریح الفاظ میں مذکور ہے۔ معنوی دفن اور معنوی جسم کا ماننا ان لوگوں کا کام ہے جو اکبر بادشاہ کے نوری کپڑوں پر ایمان رکھتے ہوں۔
(حاشیہ گزشتہ صفحہ) مخالف کو مجال دم زدن نہ ہو۔ ہاں حدیثوں میں واضح ہے۔ اسی لئے مولوی ثناء اللہ صاحب نے بحکم علم مناظرہ صاف اور سیدھا راستہ اختیار کیا جس میں مخالف کو دم زدن کی مجال نہ ہو سکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مولوی صاحب نے جو حدیث نزول مسیح کے متعلق بیان کی تو مرزائی مناظر سے کچھ نہ بن پڑا۔ سوائے اس کے کہ طعنے کے طور پر کہنے لگے کہ مولوی صاحب قرآن پیش نہیں کرتے۔ حدیثیں لاتے ہیں حالانکہ اس میں رمز یہی تھی اسی حکمت سے خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ مبتدعین کے مقابلہ میں قرآن نہ پڑھا کرو کیونکہ قرآن میں وہ مسائل اجمالی شکل میں ہیں جن کی وہ تاویل کر لیتے ہیں۔ حدیثوں میں تفصیل ملتی ہے۔ اسی لئے فرمایا: ”فارموہم بالسنة ،“ ان کے سامنے حدیث پیش کیا کرو تاکہ فیصلہ جلدی ہو ایک زمانہ میں مرزا صاحب پر سوال ہوا تھا کہ قرآن مجید سے نزول مسیح کا ثبوت دیجئے تو آپ نے بڑا زور حدیثوں ہی کے ثبوت پر لگایا (ملاحظہ ہو رسالہ شہادت القرآن صفحات اول) ہاں آگے چل کر بڑا کمال کیا تو یہ کہ اتنا لکھا کہ قرآن کریم میں قطعی اور یقینی طور پر ایک ایسے مصلح کے آنے کی خبر تو موجود ہے جس کا دوسرے لفظوں میں مسیح موعود ہی نام ہونا چاہئے۔ (شہادت القرآن ص ١٤ خزائن ج ٦ ص ٣١٠) غور کیجئے جس قدر کھینچ تان ہے کیا مخالف اس کہنے سے خاموش ہو جائے گا۔ ہاں جو طریق مولوی صاحب نے اختیار کیا جبکہ شرائط میں حدیثیں داخل ہیں تو پھر کیوں نہ حدیث کو پیش کیا جاتا۔ آئندہ کو مرزائی اس بحث سے سبق لے کر شرائط میں حدیثوں کی نفی کر دیں گے تو ان کے لئے بہت آسانی ہوگی۔ (مرتب)
٥٦
حضرت عائشہؓ کی تین چاند دیکھنے والی روایت کا پتہ نہیں دیا اگر صحیح ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ جس وقت حضرت عائشہؓ نے خواب دیکھا تھا۔ اس وقت چونکہ حضرت عیسیٰ دفن نہیں تھے بلکہ اب تک بھی نہیں۔ اس لئے آپ کو خواب میں نہیں دکھائی دیا۔
کما کے لفظ سے مسیح کا مشبہ بہ ہونا میں سالہا سال سے قادیانی تصانیف میں دیکھتا آتا ہوں۔ میں نے آج تک دانستہ اس پر توجہ نہ کی تھی تاکہ بچوں کو ہنسنے کا موقعہ ملتا رہے مگر آج کہنے سے نہیں رک سکتا۔ اے جناب کما دراصل صفت ہے مفعول مطلق یعنے استخلاف کی اور مفعول مطلق فاعل کا فعل ہوتا ہے۔ مفعول بہ کی مفعول بہ سے تشبیہ نہیں بلکہ اس فعل لاحق کو فعل سابق سے تشبیہ ہے۔ انی ھذا من ذاک فالدفع ماتوھم!
عمر کا تخمینہ خوب کیا کہیں ساٹھ۔ کہیں ستر۔ کہیں اسی۔ کہیں نوے۔ اس اختلاف اقوال کو اگر آپ تخمینہ کہتے ہیں تو ہم اس کو شاعرانہ رنگ میں اس شعر کا مصداق کہہ سکتے ہیں :
الگ ہر ایک سے چاہت بتائی جاتی ہے
میں نے دعا مرزا کو منظور نہیں کیا۔ اس لئے دعا ٹل گئی۔ بہت خوب! سنئے! اول تو میری منظوری پر کوئی بات موقوف نہ تھی۔ دوم میں نے نامنظوری ٢٦ اپریل ١٩٠٧ء کے اہل حدیث میں لکھی اور مرزا صاحب نے ١٣ جون ١٩٠٧ء کے اخبار بدر میں ایک خط میرے نام پر چھپوایا جس میں پھر اسی دعا پر فیصلہ موقوف رکھا۔ بھلا اگر میری نامنظوری سے اس دعا کا اثر زائل ہو جاتا تو اس وقت مرزا صاحب کا حق تھا کہ صاف اعلان کرتے کہ بس اب وہ دعا منسوخ ہو گئی۔ بھلا ایسی دعا بھی منسوخ ہو سکتی ہے جس کی بابت خدا نے قبولیت کا وعدہ کیا ہو مرزا صاحب کے الفاظ سنئے فرماتے ہیں :
”ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا
٥٧
ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ رات کو توجہ اس کی طرف تھی۔ رات کو الہام ہوا اجیب دعوة الداع اذا دعان صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہے۔ باقی اس کی فرع۔“
(اخبار بدر ٢٥ اپریل ١٩٠٧ء)
ہمارے حضور علیہ السلام نے جنگ بدر میں اپنے مخالفوں کی موت کی خبر دی تھی۔ کیا انہوں نے تسلیم کر لیا تھا پھر کیا وہ اسی جگہ نہیں مرے؟۔ صدق الله ورسوله!
اعجاز احمدی ص ٣٧‘ خزائن ج١٩ ص ١٤٨ پر جو میرے قادیان نہ پہنچنے کی پیشگوئی کا ذکر ہے۔ میں شکر گزار ہوں کہ آپ نے یاد دلا دی۔ میں اپنا قادیان جانا اپنے لفظوں میں نہیں بتلاتا بلکہ مرزا صاحب کے الفاظ طیبہ سناتا ہوں۔ فرماتے ہیں ۔
ترجمہ :” ما کتبنا الی ثناء الله امرتسری اذ جاء قادیان وطلب رفع الشبهات بغرض فریبی وكان هذا عاشر شوال اذ جاء هذا الدجال .“
(مواہب الرحمان ص ١٠٩‘ خزائن ج ١٩ ص ٣٢٩)
اس عبارت میں میرے قادیان پہنچنے کی رسید دی ہے اور اس کے صلہ میں مجھ کو ایک عجیب خطاب دیا ہے۔ یعنے دجال۔ جس پر مجھے یہ شعر یاد آیا :
وہ جب آئینہ دیکھیں گے تو ہم ان کو بتادیں گے
میں قادیان میں گیا۔ میرے ساتھ جانے والے میاں حبیب اللہ صاحب، منشی محمد ابراہیم صاحب سلمہ اس مجلس میں موجود ہیں مگر مجھے گواہوں کی حاجت نہیں جبکہ مرزا صاحب میری رسید دے چکے ہیں؟ ۔ آہ! وہ وقت بھی کیسا عجیب تھا میں قادیان میں ہوں خط لکھتا ہوں کہ در دولت پر حاضر ہوں۔ جواب ملتا ہے ہمیں فرصت نہیں۔ آخر میں یہ پڑھتا ہوا واپس آیا :
آسمانی منکوحہ کے نکاح کی بابت جواب ملا ہے کہ ان کے توبہ تائب کرنے پر نکاح
٥٨
نہ رہا تھا۔ مجھے اس پر زیادہ کہنے کی حاجت نہیں۔ قادیانی خلیفہ اول حکیم نور الدین خود اس جواب کی تردید کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
اس لڑکی کی کوئی لڑکی در لڑکی اور مرزا صاحب کا کوئی لڑکا در لڑکا بیاہے جاویں گے۔ پس پیشگوئی ٹھیک ہے۔ ملاحظہ ہو رسالہ ریویو جلد ٧ ص ٢٧٩ یعنے مولوی نور الدین صاحب اس نکاح کو فسخ نہیں کہتے اور مولوی غلام رسول صاحب فسخ کہتے ہیں۔
آہ! ان دونوں کے اختلاف پر میرے منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے:
مرزا صاحب کی تحریرات کو دیکھئے۔ کس زور و شور سے اس نکاح کا ضروری ہونا اور اپنی صداقت کا اس پر موقوف ہونا بتلا رہے ہیں۔ اور ان حضرات کو دیکھئے کہ یہ نکاح کو فسخ کرتے ہیں۔
اب میں مختصر لفظوں میں بتلاتا ہوں کہ جناب مرزا صاحب کی زبان پاک لوگوں کی طرح جھوٹ سے محفوظ نہ تھی۔ آپ مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی اسمعیل علیگڑھی مرحوموں کے حق میں لکھتے ہیں:
مولوی غلام دستگیر نے اپنی کتاب میں اور مولوی اسمعیل نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ وہ اگر کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا۔
(اشتہار انعامی بالصد ص ٧٦)
یہ میرے ہاتھ میں ان دونوں علماء کی کتابیں ہیں۔ مجھ کو اس میں دکھا دیا جاوے کہ کہاں ان صاحبوں نے ایسا لکھا ہے:
رسالہ اعجاز احمدی ص ٢٣‘ خزائن ج ١٩ ص ١٣٢ پر میری بابت لکھا ہے کہ ثناء اللہ کا گزارہ مردوں کے کفن پر ہے۔ یہ وقت اس تحقیق کے لئے بہت اچھا ہے کیونکہ امرتسر میں میری پیدائش ہے اور اسی میں رہتا ہوں اور اسی میں پلا‘ اسی میں بڑھا۔ اس مجلس میں میرے مخالف‘ موافق میری برادری اور غیر برادری کے سب لوگ موجود ہیں۔ کوئی صاحب جس کو
٥٩
معلوم ہو کہ میں نے کبھی کسی میت کا کفن یا کفنی لی ہے۔ تو اللہ گواہی دے دیں۔ ورنہ سمجھا جائے گا کہ مرزا صاحب کا قلم اور زبان پاک لوگوں کی طرح کذب سے محفوظ نہ تھے۔
- ١۔ چاہئے تو یہ تھا کہ مرزائی لوگ مرزا صاحب کی عزت و ناموس رکھنے کو مولوی
صاحب کو اس بات کا ثبوت دیتے مگر اس وقت تو ایسے خاموش رہے کہ "کاٹو تو لہو نہیں بدن میں" دیتے کہاں سے۔ جبکہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس کام کے ہیں نہیں۔ یہاں تک کہ وہ کسی مسجد کے امام بھی نہیں مگر شاباش ہے مرزائیوں کی صداقت پسندی پر کہ اپنے مطبوعہ رسالہ میں اس کا ثبوت دیتے ہیں۔ چونکہ وہ ثبوت بہت ہی لطیف ہے۔ اس لئے ہم انہی کے الفاظ نقل کرتے ہیں۔ لکھا ہے۔ اس کے جواب میں واضح ہو کہ اول تو اس بات کی تصدیق مجمع مناظرہ میں ہی ہو گئی۔ کیونکہ طلب شہادت پر کسی صاحب نے اٹھ کر آپ کی بریت نہیں کی جس سے صاف ظاہر ہے کہ واقعی حضرت مرزا صاحب کا قول آپ کے حق میں درست ہے۔ پھر اس طرح سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ آپ چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو از روئے قرآن وحدیث فوت شدہ ثابت ہیں۔ لوگوں کے سامنے زندہ پیش کر کے مختلف بحثوں میں جا کر عیش و نوش حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے حضرت مسیح کے کفن سے آپ کا گزارہ نہیں چلتا تو اور کیا ہے ؟ ۔ (ص ٤٤) ناظرین! آپ اس جواب سے حیران نہ ہوں مرزائی مذہب ایسی ہی زبردست دلیلوں پر مبنی ہے۔ غور تو کیجئے شہادت تو طلب ہوتی ہے۔ اس دعویٰ کی جو مرزا صاحب نے کیا تھا یعنے کفنی لینے پر جو نہ گزری تو حسب قاعدہ شریعت اور قانون وقت وہ دعویٰ غلط ہوتا مگر مرزائی کہتے ہیں شہادت نہ گزرنے سے مولوی صاحب کی بریت نہ ہوئی۔ چہ خوش یہ تو بتاؤ کہ تمہارا دعویٰ ثابت ہو گیا ؟ ۔ دوسری دلیل اس سے بھی زبردست ہے جس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ اس طرح کی کفن فروشی مرزا صاحب بھی بہت زمانہ تک کرتے رہے جب تک حضرت مسیح کی حیات کے قائل رہے۔
(ملاحظہ ہو براہین احمدیہ ص ٤٩٩ خزائن ج ١ ص ٥٩٣)
٦٠
مختصر یہ کہ مرزا صاحب اپنے سب کاموں میں فیل ہیں اور دعویٰ ان کے بڑے لمبے چوڑے ہیں۔ اس لئے ہماری طرف سے صرف یہی جواب ہے :
جب جانیں کہ درد دل عاشق کی دوا ہو
دستخط : اسلامی مناظر ' ثناء اللہ دستخط : اسلامی صدر ' نظام الدین دستخط : مرزائی صدر ' عباد اللہ (دونوں دنوں کا مباحثہ ختم)
مباحثہ ھذا پر ریویو
کچھ دنوں سے مرزا محمود قادیانی نے اپنے ہمخیال پیدا کرنے کے واسطے جا بجا واعظ اور لیکچرار بھیج کر مشین کفر و ایمان کی کارروائی شروع کی اور خواہ مخواہ اہل اسلام کو کافر یہود اور بے ایمان کہہ کر اپنا من گھڑت اسلام پیش کر کے یہ ثابت کرنا چاہا کہ سوائے قادیانی جماعت کے دنیا میں کوئی مسلمان نہیں۔
در حقیقت مرزا صاحب کی ساری کارروائی ایک تمثیلی اور بناوٹی کارروائی ہے جس کا مختصر طور پر ثبوت یہ ہے کہ جس قدر دنیا میں خدا کے پیارے رسول ، آئمہ ، اولیاء ، ائمہ صوفیاء گزرے ہیں یا گزریں گے۔ ان کی مثال اور نمونہ خود بن کر دکھلاتے ہیں اور اسی طرح ان خدا کے پیاروں کی جائے ولادت سکونت مزار اور مذہبی پیروؤں کی مشابہت اپنے گاؤں قادیان میں پیدا کر کے ہر ایک کا نمونہ اپنے آپ کو ثابت کیا ہے۔
چنانچہ آپ کے مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ قادیان دارالامان یعنے مکہ شریف اور جنت البقیع کے سبب مدینہ شریف اور مسجد اقصیٰ کی وجہ سے بیت المقدس ہو چکا ہے اس لئے وہاں کا مدعی بھی یہاں کے خدا پرستوں کا مظہر ہو گا مگر ہر عقلمند یہ سوچ سکتا ہے کہ
٦١
بیت المقدس مدینہ طیبہ اور مکہ معظمہ موجود ہوتے ہوئے قادیان ان کی ذات کو نہیں مٹا سکتا۔ اسی طرح وہاں کا مدعی ان مقدس مقامات کے نبیوں، رسولوں اور اماموں کے نام کو ہرگز مٹا نہیں سکے گا صاف ظاہر ہے کہ ایک جعلی کارروائی ہے اور فرضی رسول، فرضی ابوبکر، عمر، عثمان، علی، اہلبیعت، امام اور فرضی سنی شیعہ کے نمونے اسلام کی پیشین گوئیوں اور حضرت رسول ﷺ کے احادیث کے انکار کے واسطے کافی روڑہ اٹکا رہے ہیں۔ یوں سمجھو کہ قادیان اس وقت دنیائے گزشتہ اور آئندہ کا عجائب گھر تو گزشتہ تصاویر قائم کرنے سے ثابت ہوتا ہے اور زندہ تصاویر نصب کرنے سے مذہبی چڑیا گھر کا نمونہ ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ اسلامی دنیا کے اسلامی نمونے جمادات، حیوانات اور انسان کی وہاں ایک نمائشی دکان کھولی ہوئی ہے اور اسلام کو ایک مخول اور ہنسی سمجھ کر کوئی انبیاء کا مثیل بن کر آتا ہے اور کوئی صحابہ و تابعین کا۔ چنانچہ مرزا محمود صاحب نے اپنے آپ کو حضرت عمر بن خطاب کا مثیل (بلا ثبوت اور ناحق) قرار دیا اور فاروق اعظم کی طرح اپنے خیالات کی توسیع کے لئے اہل اسلام کو کافر کہہ کر خواہ مخواہ اشتعال دلایا۔ چنانچہ مولوی غلام رسول قادیانی کو مبلغ خیالات تمثیلی اور مکفر اہل اسلام بنا کر امرتسر میں بھیجا گیا اور کٹڑہ جمیل سنگھ میں آپ نے تدریس قرآن میں الٹ پلٹ کر مسلمانوں کے سامنے ان کے اسلام کا نیا نمونہ قائم کرنے کی کوشش کی مگر غریب مسلمانوں نے غیرت اسلامی میں آکر ان کے دفعیہ کے لئے کچھ جانفشانی شروع کی۔ اس پر وہ زیادہ جوش میں آگئے۔ چنانچہ بہت تیز طرار واعظ اور دو چار کافر کرنے کی مشینیں جھٹ پٹ منڈو بھٹیالال صاحب میں لا کھڑی کیں۔ جن کے دو روز کے متواتر حملوں سے مسلمانوں کے سینوں پر دال دلنے لگی اور مارے غیرت کے کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ لے دے کر غربائے اہل اسلام نے اور بھی ہمت بڑھائی۔ اور اسی اثناء میں ایک مجلس (حفظ المسلمین) امرتسر زیر نگرانی مولوی نور احمد صاحب بھی مقرر ہوگئی کہ جس نے علمائے اسلام شہر امرتسر کو ان کی جوابدہی کے لئے آمادہ کیا۔ چنانچہ اہل اسلام کی طرف سے متعدد دعوت مناظرہ کے اشتہارات تقسیم کئے گئے جن کو مرزائیوں نے شرائط مباحثہ کے طے کرنے میں
٦٢
یوں ہی ٹال دیا۔ اور اس کے برخلاف لگاتار ان کی طرف سے اتمام حجت کے نام سے نمبر اول، دوم و سوم کے اشتہارات شائع ہوئے جن میں اہل اسلام کو سخت اشتعال دلایا گیا۔ آخر عربی اشتہار بھی اتمام حجت کے نام سے لکھ مارا کہ جس سے انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ علمائے اسلام میں کوئی عربی زبان دان نہیں۔ مگر غربا کی ہمت نے خدا کے فضل سے اور بھی مرتبہ بڑھایا۔ یہاں تک کہ ان کے اشتہاری حملے پسپا کر دیئے گئے اور اخیر میں ان کے عربی اشتہار کا جواب بھی ان کے ایک صفحہ کی بجائے چار صفحوں میں نہایت متانت کے ساتھ ابطال مرزائیت اور حیات مسیح کے ثبوت کے دلائل سے بھرا ہوا اور منہاج نبوت کے ذریعہ قادیانی نبوت کی جڑ بنیاد سے گرا دینے والا ثبجات نامی اشتہار عربی میں شائع ہوا۔ جس کا جواب باوجود زبانی وعدہ کے آج تک نہ دے سکے اور نہ کوئی غلطی نکال سکے۔ اصل پوچھو تو ہمارا یہ عربی اشتہار مرزا جی کے اعجازی قصیدہ سے بڑھ کر معجزہ ثابت ہوا ہے۔ کیونکہ مرزا جی کے قصیدہ کا جواب فصیح عربی میں قاضی ظفر الدین مرحوم پروفیسر عربی اورنٹیل کالج نے لکھا جو اخبار اہلحدیث کے کالموں میں ١٩٠٧ء میں ایک مدت تک شائع ہوتا رہا۔ جس کا جواب مرزا جی سے عربی میں نہ بن سکا اور مرزا جی کے قصیدہ کی غلطیاں تو علما کے علاوہ نحو میر پڑھنے والے طالب علموں نے بھی سینکڑوں کی تعداد میں نکال ڈالیں۔ مگر ہمارے عربی اشتہار ثبجات نامی کا جواب اب مرزائیوں کے سردار مرزا محمود تک سے بھی نہ بن سکا۔ نہ کوئی غلطی نکل سکی۔ پس سچا اعجاز ثبجات ہے اب بھی مرزا محمود صاحب کو علمیت کا دعویٰ ہو تو وہ ثبجات کا عربی جواب شائع کریں یا کوئی غلطی نکال کر دکھا دیں۔ مگر ہم پیشگوئی کرتے ہیں کہ مرزا موصوف یہ جرات نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قادیانی خلیفہ محمود صاحب کی علمیت اس اشتہار کے سامنے کچھ کارگر جواب دیتی ہوئی نظر نہیں آتی ورنہ کبھی کا جواب شائع کر دیتے خیر امرتسری مرزائیوں نے جب دیکھا کہ ثبجات اشتہار کا جواب ہمارے کسی مولوی سے نہیں بن سکتا تو انہوں نے مسلمانوں کے دلوں سے اس اپنی عربی کمزوری کے خیال کو دور کرنے کے لئے شرائط مناظرہ کو منظور کر لیا : ”وما كادوا يفعلون . “ پھر سارا انتظام اور
کل اخراجات مسلمانوں کے ذمہ قرار پائے مسلمانوں نے اخراجات کا سارا بوجھ اپنے سر اٹھالیا اور ٢٩ / ٣٠ اپریل ١٩١٦ء کو انجمن حفظ المسلمین کی طرف سے جناب مولانا ابوالوفا مولوی ثناء اللہ صاحب مولوی فاضل مناظر مقرر ہوئے اور مرزائیوں کی طرف سے جناب مولوی موصوف غلام رسول صاحب فاضل راجیکی منظور ہوئے۔ مباحثہ تحریری تھا ہر ایک مناظر اپنے وقت کی پابندی سے بزیر نگرانی جناب صدر صاحبان نہایت تہذیب اور حسن معاشرت سے اپنا فرض منصبی ادا کرتا رہا۔ مناظرہ ختم ہوتے ہی مرزائیوں کا وہ پہلا جوش و خروش سارے کا سارا باسی کڑی کا ابال ثابت ہوا۔ مگر انہوں نے جھٹ پٹ مناظرہ کی کارروائی چھاپنے میں کوشش کی تاکہ جس موقعہ پر وہ جواب نہیں دے سکے۔ اس کا نقص نکال کر اور ضمیمہ چسپاں کر کے مکمل کر دیا جاوے کہ اہل اسلام کو مرزائیوں کے مقابلہ میں نعوذ باللہ شکست ہوئی ہے۔ مگر الاسلام یعلو ولا یعلیٰ اہل اسلام میں پھر بھی کچھ نہ کچھ جوش اسلامی موجود ہے۔ چنانچہ حفظ المسلمین نے یہ تجویز کیا کہ جلسہ کی کارروائی اور کاغذات مناظرہ اپنے خرچ سے چھپوا کر شائع کرائے جاویں اور جس جگہ مرزائیوں نے حق کو چھپایا ہے یا ہمارے جوابات کو بعد میں اضافے لگا کر کمزور کر دکھایا اور دیدہ دانستہ مناظر اسلام کی تقریروں کو غلط الفاظ میں چھاپ کر اپنی کارروائی کو فروغ دیا ہے۔ سب کو مدنظر رکھ کر صحیح واقعات لوگوں کے سامنے پیش کئے جاویں۔ گو ہم مانتے ہیں کہ وقت کی تنگی کی وجہ سے بہت سے دلائل یا جوابات پوری تشریح سے قلمبند نہیں ہو سکے مگر تاہم ہر ایک عقلمند دیکھنے سے خود بخود سمجھ سکتا ہے کہ اصل معاملہ کیا ہے اور چونکہ مرزائیوں نے مباحثہ چھاپنے میں بہت سا ردوبدل کیا ہے اس لئے انجمن کو یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ ہر ایک مناظر کی خلاصہ تقریر بھی قلمبند کر کے اسلامی مناظر کے اصلی مطالب کو ظاہر کر دیا جاوے۔ پس سنئے!
وفات مسیح : کے متعلق مولوی غلام رسول صاحب نے حسب ذیل خیالات پر روشنی ڈالی :
٦٤
- (١)........... توفی اور وفات مسیح اور موت مسیح سب کا مفہوم ایک ہے۔ قرآن مجید
میں جو وعدے حضرت مسیح کو دیئے گئے وہ سب پورے ہو چکے۔ اس لئے وفات بھی تسلیم کرنی پڑے گی۔
- (٢)........... قرآن شریف میں حضرت مسیح کی نسبت رفع الی اللہ مذکور ہے رفع
الی السماء مذکور نہیں۔ اس لئے حضرت مسیح کا رفع بھی روحانی ہے جسمانی نہیں۔ احادیث وآیات میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ وہاں بھی جسمانی مراد نہیں ہو سکتی۔ جیسے اذا تواضع العبد رفعہ اللہ الی السماء السابعة !
(٢) ولو شئنا لرفعنہ ، (٣) ارفعنی (فی الدعاء بین السجدتین)
- (٣)........... حضرت مسیح علیہ السلام صرف اسرائیلی نبی تھے نزول مسیح تسلیم
کرنے سے خلاف قرآن لازم آتا ہے۔ اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ آپ مر گئے اور آنے والا مسیح محمدی مرزا صاحب ہیں۔
- (٤)........... عام قاعدہ یہ ہے کہ مصدق بعد میں ہوتا ہے اور مبشر پہلے۔ پس
حضرت مسیح صرف مصدق تورات تھے۔ مصدق قرآن نہ تھے۔ لہٰذا ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی وفات ہو چکی ورنہ مصدق قرآن بھی کہیں ثابت ہوتے۔
- (٥)........... آپ احمد کی بشارت دیتے ہیں پھر دوبارہ آنا ہوتا تو احمد کے لئے
مصدق بھی ہوتے۔
- (٦)........... آپ قرآن شریف کے لئے مبشر ہو کر آئے۔ اس لئے آپ کا زمانہ
گزر گیا۔
- (٧)........... احادیث میں مسیح کا لفظ دو اشخاص پر استعمال کیا گیا ہے۔ اول مسیح
ناصری پر کہ جن کا حلیہ حسب ذیل ہے۔ رنگ گورا، بال گھنگریالے، سینہ چوڑا وغیرہ۔ دوسرا مسیح محمدی پر جن کی نسبت حسب ذیل الفاظ ذکر کئے گئے ہیں۔ میانہ قد، گندم گوں، سیدھے بال وغیرہ۔ چونکہ دو حلیے ایک آدمی میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ آنحضرت
٦٥
علیہ السلام نے بھی مسیح ناصری کا نزول نہیں بتایا۔ بلکہ نزول مسیح سے مراد بعثت مسیح محمدی یعنے مرزا قادیانی ہے۔
- (٨).......... مسیح علیہ السلام سے جب قیامت کے دن اشاعت تثلیث کی نسبت
سوال ہوگا تو آپ لا علمی ظاہر کریں گے۔ نزول مسیح سے آپ کی لا علمی کیسے ثابت ہو سکتی ہے۔ ورنہ آپ کا جواب خلاف واقعہ ہوگا۔
- (٩).......... آنحضرت علیہ السلام نے بھی حضرت مسیح کی نسبت زمانہ ماضی کے
الفاظ استعمال فرمائے ہیں کہ میں بھی قیامت میں اپنے صحابہ کے متعلق وہی الفاظ کہوں گا جو حضرت مسیح نے کہے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیہ السلام کے زمانہ میں آپ کی وفات تسلیم ہو چکی تھی۔
- (١٠).......... قرآن مجید میں یہ ثابت ہے کہ آنحضرت علیہ السلام سے پہلے کل
انبیاء مر چکے اور ان کے مرنے کی تشریح بھی کر دی کہ بعض نبی اپنی موت سے مرے اور بعض نبی مقتول ہوئے مگر حضرت مسیح کو استثناء نہیں کیا گیا۔ اس آیت سے اگر وفات مسیح ثابت نہ ہوتی تو حضرت ابوبکر آنحضرت علیہ السلام کی وفات پر کیونکر استدلال کرتے۔
- (١١).......... قرآن مجید میں ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اور آپ کی والدہ کھانا
کھایا کرتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اب نہیں کھاتے۔ کیونکہ مر گئے ہوئے ہیں۔
- (١٢).......... آنحضرت علیہ السلام سے پہلے کسی شخص کو خلود (ہمیشہ کی زندگی)
نصیب نہیں ہوئی۔ اس لئے حضرت مسیح بھی وفات پا گئے۔
- (١٣).......... خدا تعالیٰ نے کوئی جسم عنصری ایسا نہیں بنایا کہ جس کو کھانے پینے
کی ضرورت نہ پڑے۔ حضرت مسیح علیہ السلام اب بھی اگر جسم عنصری کے ساتھ زندہ ہیں تو بوجہ ضرورت خوراک کے خلود کی زندگی نہیں پا سکتے۔
مناظر اسلام : مولوی ثناء اللہ صاحب نے حیات مسیح ثابت کرتے ہوئے
دلائل وفات مسیح پر بحث کی اور حیات مسیح کے متعلق صاف اور واضح دلائل پیش کئے جن کا خلاصہ یہ ہے :
- (١)......... توفی کا لفظ اپنے معنے موضوع لہ کے اعتبار سے موت کا مترادف (ہم
معنے) نہیں مگر بعض محاورات میں موت کا لازم قرار دیا گیا ہے پھر جب سلف صالحین اور احادیث ختم المرسلین سے حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کے متعلق ہی تصریحات بے شمار ہیں۔ اس لئے یہاں اصل معنے موضوع لہ (قبض کرنا) مراد لیا جائے گا۔ کیونکہ ایک عام اصول ہے کہ جب تک حقیقی معنے ہو سکتا ہے مجازی معنے نہیں لیا جاتا مگر ہم تھوڑی دیر کے لئے توفی اور موت کو آپس میں مترادف بھی تسلیم کر لیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ بقول حضرت ابن عباس ا؎ گو لفظوں میں توفی پہلے مذکور ہے مگر باعتبار وقوع کے بعد میں ہے تو گویا رفع جسم عنصری کے بعد موت ہوگی۔ جیسا کہ واسجدی وارکعی میں رکوع لفظوں میں بعد ہے اور وقوع میں پہلے اور سورۃ بقر میں قتل نفس لفظاً بعد میں ہے اور وقوعاً اول اسی طرح ساتویں پارہ میں انبیا کی تعداد میں بعض انبیا کا ذکر پہلے ہوا اور ان کا زمانہ پیچھے ہے۔ غرضیکہ اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں ہزاروں ملتی ہیں۔ اب جو شخص اہل علم ہو گا وہ ضرور ان امور کا لحاظ رکھے گا۔ علاوہ ازیں واؤ حروف عطف میں گو لفظی ترتیب ہوتی ہے مگر وقوعی ترتیب سے کبھی مخالف بھی پڑتی ہے۔ اس کا ثبوت گزشتہ آیات سے ملتا ہے اور وضو کی آیت بالکل اس کا فیصلہ کرتی ہے۔ کیونکہ جو شخص ترتیب وضو کے خلاف کرتا ہے یا وہ بارش میں بھیگ کر صاف ہو جاتا ہے یا نہر میں گر کر اس کا تمام بدن صاف ہو جاتا ہے تو وہ باتفاق تصریحات سلف صالحین قرآن کا خلاف نہیں کرتا۔ اور اس کا وضو معتبر ہے۔ مگر آیت وضو کی ترتیب کا نام و نشان نہیں۔ یا ہے تو الٹا ائمہ اربعہ میں سے صرف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرضیت ترتیب وضو کا قول کیا ہے مگر موجودہ صورتوں میں وہ بھی دوسرے اماموں کے ساتھ ہیں۔
ا؎ کے قول پر ہنسی مخول اڑانا ایمان کا خطرہ ہے۔
١٧
پس ثابت ہوا کہ دلیل نمبر اول وفات مسیح کا ثبوت نہیں دے سکتی۔
(٢)........... رفع کے متعلق صرف یہ کہنا کافی ہے کہ اس کا استعمال صرف رفع روحانی میں منحصر نہیں خود الفاظ رفعہ اللہ میں رفع روحانی مراد نہیں۔ ورنہ یہ لازم آئے گا کہ خدا نیک مردوں کو خاکساری کے صلہ میں مار کر ساتویں آسمان پر لے جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں رفع الی السماء صریح مذکور ہے جو مولوی غلام رسول صاحب کے نزدیک موت کا قرینہ تسلیم کیا گیا ہے۔
علاوہ بریں حضرت مسیح کی نسبت رفع سے روحانی رفعت مراد لینا بے معنی واقع ہوتا ہے۔ کیونکہ نیک بندوں کی رفعت روح ایک مسلمہ امر ہے۔ اس کو اتنے بڑے زور سے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟۔ باقی رہی یہ بات کہ یہود کے نزدیک مصلوب کے لعنتی ہونے کی تردید کا انحصار صرف روحانی رفعت پر موقوف ہے۔ یہ سراسر غلط ہے کیونکہ رفع جسمانی میں رفعت روحانی بھی چونکہ جزو ہے۔ اس لئے رفع جسمانی ہے۔ مقتضے حال کے مطابق ہوگا صرف ہم ہی رفع جسمانی پر زور نہیں دیتے۔ تیرہ سو سال سے اسلاف دین اور احادیث ختم المرسلین کے تواتر نے یہ ثابت کیا ہوا ہے اور ایک فرد بشر بھی رفع روحانی کا قائل نہیں ہوا۔ اس لئے نمبر ٢ کی تقریر محض خیالی سمجھی جاتی ہے کہ جس کی تائید کسی اسلامی اصول سے نہیں ہوتی۔ اسی واسطے ہمارے مناظر نے اس کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔
(٣)........... حضرت مسیح علیہ السلام گو صرف اسرائیلی نبی تھے مگر ہمارے لئے نبی ہو کر نہیں آئیں گے بلکہ اپنی بقیہ عمر گزارنے اور تجدید اسلام کے لئے رسول علیہ السلام کے مصدق ہو کر تشریف لائیں گے۔ پس ثابت ہوا کہ خلاف قرآن لازم نہیں آتا اور نہ ہی کسی بناوٹی مسیح کی ضرورت ہے۔ یہاں پر مرزائی اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اگر حضرت مسیح نبی ہو کر آئیں گے تو خاتم المرسلین کی ختم نبوت کے خلاف ہے۔ ورنہ ان کی نبوت مفت میں چھین لی جائے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح تجدید اسلام کے لئے تشریف لاویں گے اور یہ عہدہ نبوت سے تعلق نہیں رکھتا۔ ورنہ مرزا صاحب کی تجدید اور دعویٰ نبوت سے
٦٨
اور بھی توہین ہو گی۔ کیونکہ ایک پنجابی آدمی کہ جس کو ابھی تک اصول اسلام کی اصلیت پر آگاہی اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بھی نہیں مل سکی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی بجائے (کہ جن کو خدا تعالیٰ نے روح اللہ کا خطاب دیا ہو اور جن کی عصمت پر دنیا گواہ ہو) تسلیم کرنا اور اسلام کو مسیح قادیانی کی تجدید کا محتاج ماننا حضرت مسیح علیہ السلام کی تجدید سے بڑھ کر مستلزم توہین ہوگا۔ (بقول مرزا)
- (٤).......... حضرت مسیح علیہ السلام کی دنیاوی زندگانی کا زمانہ دو حصوں پر
منقسم ہے۔ ایک زمانہ رفاقت بنی اسرائیل دوسرا زمانہ تجدید اسلام محمدی۔ اس لئے قرآن میں آپ کے زمانہ رفاقت کی نسبت تصریح کی گئی ہے کہ آپ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے اور آپ نے تورات کی تصدیق کی۔ قرآن مجید کی تصدیق زمانہ تجدید میں کریں گے۔ احادیث کا مطالعہ کرنے سے حضرت خاتم الانبیاء علیہ السلام کی تصدیق کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ دفعہ بھی وفات مسیح کے اثبات میں ناکارہ ثابت ہوئی۔
- (٦/٥).......... ان دونوں کا جواب نمبر ٤ میں دیکھو۔
- (٧).......... لفظ مسیح کے دو مصداق قرار دینا صرف مرزا صاحب کی ساخت
و پرداخت ہے۔ کسی اسلامی کتاب میں‘ کسی امام‘ صحابی‘ اہل مذہب کا کوئی قول مؤید نہیں۔ مرزا صاحب اس قسم کی خود ساختوں پر تجدید کے مدعی بنے تھے اور دنیا کو غلط گو ثابت کرنا چاہا تھا مگر آپ ہی اخیر بے دلیل ثابت ہوئے۔ اصل بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کو علم حدیث اور اصول حدیث کی واقفیت نہ تھی۔ ورنہ خود محدثین نے حضرت مسیح علیہ السلام کے مختلف حلیوں کی تطبیق دی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ گندم گوں رنگت کو جب صاف کیا جاوے تو سرخ معلوم ہونے لگتی ہے اور سیدھے بال قدرے جعودت (گھنگریالے) کے منافی نہیں ہیں۔ کیونکہ آنحضرت علیہ السلام نے حضرت مسیح کا حلیہ آپ کی تروتازگی کی حالت کا بیان فرمایا۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ” کانہ خرج من دیماس ۔“ گویا آپ حمام سے ابھی غسل کر کے نکل رہے ہیں۔ کاش مرزا صاحب کو علم حدیث کا کچھ بھی پتہ ہوتا۔ تو خواہ مخواہ کی
٢٩
ملامت اپنے اوپر نہ لیتے۔
ہم حیران ہیں کہ حدیث حلیہ میں تو اختلاف الفاظ سے دو مسیح ۔ آپ نے سمجھ لئے اور کہہ دیا کہ ایک میں دو حلیے جمع نہیں ہو سکتا مگر ہم :
منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد
حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد ﷺ کے دو مختلف حلیوں کا ایک شخص مرزا صاحب میں جمع ہونا کس طرح تسلیم کیا گیا ہے؟۔ علاوہ بریں زن و مرد کا حلیہ بھی آپ ایک جگہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کو حضرت مریم کا جنم بھی نصیب ہوا اور آپ کرشن اوتار بھی ہوئے۔ پھر ایسے وسیع خیالات ہوتے ہوئے اختلاف الحلیتین کی تطبیق کو تسلیم کرنے سے کیا عذر ہے۔ اگر یہی عذر ہے کہ محدثین اس راز سے ناواقف تھے۔ صرف مرزا صاحب پر ہی منکشف ہوا تو لعن آخر ھذالامة اولھا کا خطاب مرزا صاحب کے لئے بہت مناسب ہو گا۔ بہر حال یہ جال بھی ٹوٹا اور دلیل وفات مسیح کی چاروں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ الحمد للّٰہ علیٰ ذلک!
- (٨).......... مناظر اسلام نے جواب تثلیث میں یہ پیش کیا ہے کہ آپ در پردہ
سفارش کریں گے صرف لاعلمی کا اظہار مراد نہیں۔ اس پر مولوی غلام رسول صاحب نے یہ اعتراض کیا کہ اہل شرک کے لئے سفارش ناجائز ہے۔ اس لئے لاعلمی ہی مراد ہو گی۔ مگر مولوی غلام رسول صاحب نے صریح سفارش اور اظہار رأفت استظہار بالمغفرت میں فرق نہیں کیا۔ اس لئے لاعلمی مراد نہ ہو گی اور استظہار بالمغفرت ناجائز نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کی بنیاد : ”ان رحمتی وسعت کل شئی ۔“ اور ”ان رحمتی سبقت غضبی“ پر ہے۔ یہ نکتہ مولوی غلام رسول صاحب پر منکشف نہیں ہوا۔ ورنہ ضرور ہی یہ جواب تسلیم کر لیتے۔
لو ہم آپ کو سادہ اصول سے سمجھاتے ہیں کہ سوال و جواب میں زمانہ رفاقت زیر
٧٠
تنقیح ہے۔ علم تثلیث زیر بحث نہیں۔ اس لئے علم کا ہونا نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔ سوال یوں ہوگا کہ کیا آپ نے اے حضرت مسیح ! دنیا میں اپنی زیر نگرانی تثلیث پھیلائی تھی؟ تو آپ جواب دیں گے کہ جب میرا رفع جسمانی ہوا تو میری ذمہ داری اور رفاقت ختم ہو چکی اور اپنی ڈیوٹی پوری کر چکا۔ بعد کی حالت کا میں ذمہ دار نہیں ہوں۔ زمانہ تجدید اسلام میں بنی اسرائیل بلکہ کسی کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔ صرف ترقی اسلام آپ کا فرض منصبی ہو گا۔ اس لئے یہ زمانہ زیر بحث نہ ہو گا۔ چونکہ مرزا صاحب کی یہ بھاری دلیل ہے۔ اس لئے زیادہ باریک بینی کی ضرورت پڑی۔ اہل علم اس جواب کی داد دیں گے اور سمجھ لیں گے کہ مرزا صاحب کا استدلال کہاں تک درست ہے۔ قطع نظر اس کے کہ مرزا صاحب احادیث مقدسہ اور فیصلہ نبویہ کے مقابلہ میں استدلال کرتے ہیں۔ آپ کو نفی رفاقت نفی علم میں تمیز نہیں :
- (٩)......... آنحضرت علیہ السلام کا فعل ماضی (قال) استعمال کرنا بلحاظ عبارت
قرآنیہ کے ہے۔ اس میں بھی ماضی ہی مستعمل ہوئی ہے اور آپ کا اصلی مطلب یہ ہے کہ میں بھی نفی رفاقت کے لئے وہی الفاظ استعمال کروں گا جو خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی طرف سے بیان کئے ہیں۔ کیونکہ آپ نے آیت تثلیث (أأنت قلت للناس) کو مدنظر رکھ کر اپنا جواب لوگوں کو سمجھایا ہے۔ مناظر اسلام نے اس سوال کے دو جواب دیئے ہیں اول یہ کہ ماضی مضارع کے معنے میں ہے۔ دوسرا یہ کہ حضرت مسیح سے سوال و جواب پہلے ہوچکے گا۔ پھر آپ سے سوال ہو گا اس لئے کما قال العبد الصالح درست ہوا۔ مگر یہ دونوں جواب چونکہ مفصل نہ تھے۔ اس لئے ان کی بجائے ایک مفصل جواب دیا گیا ہے کہ جس سے وفات مسیح کی دلیل بالکل نیست و نابود ہو گئی ہے۔
- (١٠)......... عام قاعدہ ہے کہ مامن عام الا ولہ مخصص اسی بنا پر امام
شافعیؒ نے ہر ایک عام لفظ کو ظنی قرار دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہی عام اصول ہے کہ : ”کل شيء هالك الا وجهه.“ مگر اس کے مستثنیات سے بھی انکار نہیں ہو سکتا۔ عرش، کرسی،
٧١
جنت‘ دوزخ‘ زبانیہ‘ حاملین عرش وغیرہ کی ہلاکت کہیں ثابت نہیں ہوتی اور احادیث مرویہ سے ان کے استثناء کو صحیح تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ نیز ان کی ہلاکت قرین قیاس بھی نہیں۔ اسی طرح یہ قاعدہ ہے کہ آپ سے پہلے سارے انبیاء مر گئے۔ اگرچہ عام ہے اس سے بھی یقینی طور پر حضرت مسیح کی موت ثابت نہیں بلکہ جب احادیث نبویہ اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مستثنیٰ کرنے پر مجبور کرتی ہیں تو یہ قاعدہ ظنی رہ جائے گا مفید یقین نہیں رہے گا۔
ہم اس دلیل پر دوسرے پہلو سے بھی بحث کر سکتے ہیں۔ وہ یہ کہ خلو گزرنے کا مترادف ہے۔ چنانچہ مناظر اسلام نے یہی دعویٰ پیش کیا اور اس پر : ”واذا خلا بعضهم الی بعض .“ بطور نقل پیش کیا۔ مگر مولوی غلام رسول صاحب نے لسان العرب کے نقول پیش کر کے خلا بمعنے مات ثابت کیا اور نقل میں حرف جار الیٰ کے آنے سے گزرنا تسلیم کیا مگر آیت قرآنی : ” وقد خلت سنة الاولین .“ میں مولوی غلام رسول صاحب کا جواب جاری نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس میں خلو بغیر حرف جار الیٰ کے استعمال ہوا ہے اور گزرنے کے سوا کوئی اور معنے نہیں ہو سکتا۔ اس لئے یہ دلیل بھی نکمی ثابت ہوئی۔ اصل معنے یہی ہے کہ آپ سے پہلے انبیاء کا عہد رسالت گزر چکا ہے۔ کسی کا عہد تجدید باقی رہ گیا ہو تو کیا مضائقہ ہے ؟۔
- (١١)............. حضرت مسیح علیہ السلام کے کھانا نہ کھانے سے وفات مسیح کا ثبوت
مشکل نظر آتا ہے۔ کیونکہ ہمیں کئی ایک ایسی نظیریں بھی ملتی ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کھانا نہ کھانے سے کئی انسان زندہ رہے ہیں۔ اول حضرت آدم علیہ السلام بہشت میں زندہ رہے اور آپ کو بھوک پیاس نہیں لگتی تھی۔ حوا علیہا السلام کا بھی یہی حال رہا۔ دوم حضرت عزیر علیہ السلام بھی سو سال تک بستر استراحت پر لیٹے رہے۔ مگر کھایا پیا کچھ نہ تھا بلکہ اتنے عرصے تک ان کا کھانا اور پینے کا پانی بھی ان کے پاس محفوظ پڑا رہا اور مطلق نہ بگڑا۔ سوم اصحاب کہف بھی تین سو نو سال کے بعد پہلی نیند سے جاگے اور خوراک نہ ملنے کے باعث ان کا کچھ نہ بگڑا۔ چہارم خود حضرت انسان نو ماہ تک بغیر کچھ کھائے پیئے زندہ رہتا ہے۔ پنجم خود
٧٢
حضرت ﷺ اپنے صحابہ کرام کو صوم وصال سے منع کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ” يطعمنی ربی ویسقینی .“ مجھے میرا خدا کھلاتا پلاتا ہے۔ یہی نظیر مناظر اسلام نے پیش کی اور مولوی غلام رسول صاحب نے جواب دیا کہ آپ ﷺ کی افطاری طعام سے ہوتی تھی۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کیا آٹھ پہر روزے رکھنے کو صوم وصال کہتے ہیں؟ کہ جس میں رات کو کھانا کھایا جاتا ہے اور سحری خالی گزرتی ہے۔ اگر یہی ہے تو آپ کا یہ فرمانا کہ :” يطعمنی ویسقینی .“ کیا مطلب رکھتا ہے؟۔ نہیں بلکہ صوم وصال میں قطعاً کھانا نہ تھا۔ مگر جنہوں نے معراج جسمانی سے انکار کیا ہے؟۔ ان کے نزدیک یہ واقعہ بھی قابل تسلیم نہ ہوگا۔ انا للّٰه وانا اليه راجعون !
بہر حال جسم عنصری کی زندگی کا انحصار کھانے پینے پر قابل تسلیم نہیں۔ ہاں یا تغذیہ ضروری ہے۔ خواہ کسی طرح ہو یا ایسی حالت کی ضرورت ہے جس کے باعث کھانا کھانے کی حاجت ہی نہ پڑے۔
- (١٢).............. خلود کے دو معنی ہیں۔ ایک دیر تک زندہ رہنا۔ سو آنحضرت ﷺ
سے پہلے لوگ سینکڑوں ہزاروں سال زندہ رہتے تھے۔ خود حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ساڑھے نو سو سال تھی۔ دوسرا معنے ہمیشہ کی زندگی۔ مگر اس قسم کا خلود نہ کسی کو آنحضرت ﷺ سے پہلے نصیب ہوا اور نہ بعد میں نصیب ہوگا۔ خود مسیح علیہ السلام بھی بقیہ عمر چالیس سال تک پوری کر کے فوت ہو جاوینگے۔ اب ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ نزول مسیح کا قول بیان کرنے سے کس طرح آپ پر خلود کا الزام قائم کیا جاتا ہے؟۔ ہاں ہوائی ثبوتوں کے ہم ذمہ دار نہیں ہیں۔
- (١٣).............. جسم عنصری کا بغیر دنیوی خوراک کے زندہ رہنا دفعہ ١١ میں ثابت
کیا گیا ہے۔ اب کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رہا کہ حضرت مسیح علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ عالم بالا میں خدا کی دی ہوئی خوراک یا خوراک کے محتاج ہونے سے زندہ ہیں اور موافق فیصلہ نبویہ قریب قیامت دوبارہ تجدید اسلام کے لئے دنیا میں اتریں گے۔
٧٣
دلائل حیات مسیح : اسلامی مناظر مولوی ثناء اللہ صاحب نے حیات مسیح کے متعلق حسب ذیل دلائل پیش کئے۔
- (١) پہلا قرآنی فیصلہ : حضرت مسیح نہ تو مقتول ہوئے اور نہ ہی صلیب
کے نزدیک تک لائے گئے۔ مگر آپ کی بجائے دوسرا شخص آپ کا ہم شکل بنا کر صلیب دیا گیا اور آپ حسب وعدہ بمعہ جسم عنصری مقبوض ہوئے اور آپ کو رفعت جسمانی مستلزم رفعت روحانی حاصل ہوئی اور قول یہود ہے کہ مصلوب ملعون ہوتا ہے۔ خدا نے آپ کو پاک رکھا اور آپ کے تابعداروں عیسائیوں اور مسلمانوں کو کافروں اور یہودیوں پر غالب رکھا اور قیامت تک رکھے گا۔
اس فیصلہ قرآنی پر چونکہ فیصلہ نبوی کے عین مطابق ہے۔ مولوی غلام رسول صاحب نے بہت سے ادھر ادھر کے خیالات پیش کئے کہ جن کا خلاصہ یہ تھا کہ آیت قرآنی میں حیات مسیح تسلیم کرنے سے سباق وسیاق بگڑ جاتا ہے۔ مگر ہم ان کو تشفی دیتے ہیں کہ اہل اسلام نے جو معنے کئے ہیں اور آیات کا خلاصہ لکھ بھی دیا ہے۔ اس کو غور سے پڑھیں اور خود بخود توہمات دور ہو جاویں گے۔
- (٢) دوسرا قرآنی فیصلہ : خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت مسیح کی موت
سے پہلے تمام اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ پھر فرمایا کہ آپ کا ظہور آثار قیامت میں سے ہے۔ مولوی غلام رسول صاحب نے ان دلائل کو حقارت کی نظر سے دیکھ کر فرمایا کہ چونکہ عداوت اور بغض اہل کتاب میں قیامت تک جاری رہے گا۔ اس لئے حضرت مسیح پر بالاتفاق سب کا ایمان لانا مشکل ہے اور نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منکر کوئی بھی نہیں رہے گا۔ حالانکہ قرآن شریف میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ آپ کے تابعدار آپ کے منکروں پر غالب رہیں گے۔ لیکن افسوس کہ مولوی صاحب اصلیت کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ یوں ہی مرزا صاحب کی تقلید میں قرآن وحدیث کا انکار کئے دیتے ہیں۔ آپ ذرہ سوچیں تو آپ کو معلوم
٧٤
ہوگا کہ اہل کتاب کا تسلیم کرنا اپنی موت سے یا آپ کی موت سے پہلے ذاتی عداوت اور بغض کا منافی نہیں ہے۔ مسلمان ہو جاویں اور خانگی معاملات کی پریشانی ان میں موجود رہے تو کیا حرج ہے؟۔ اور غلبہ تابعین کی آیت سے وجود کافرین ضمناً مفہوم ہوتا ہے اور ایمان اہل کتاب کی آیت سے صرف آپ کے زمانہ سے اس کی صریح نفی ہے۔ اس لئے ضمنی مفہوم کو صریح مفہوم کے مقابلہ میں ترک کیا گیا ہے نہ صرف اپنے خیال سے بلکہ احادیث متواترہ اور اقوال صلحاء اولیاء کی تائید سے بھی۔
- (٣) فیصلہ نبوی : آنحضرت علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ خدا کی قسم کہ ہم
میں حضرت مسیح علیہ السلام دمشق کے مشرقی سفید مینار پر دو فرشتوں کے سہارے نزول فرمائیں گے اور یہاں دنیا میں آکر نکاح کر کے صاحب اولاد ہونگے اور چالیس سال تک زندہ رہ کر طبعی موت سے مر کر روضہ نبویہ میں چوتھی قبر کی جگہ میں (جو ابھی خالی پڑی ہوئی ہے) شیخین کے درمیان دفن ہوں گے۔
مولوی غلام رسول صاحب نے روحانی قبر بتائی اور لے دے کر مرزا صاحب پر حدیث ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی۔ مگر چونکہ سارا مطلب ہی آپ کا خلاف واقعہ تھا اور محض تقلیدی خیالات پر مبنی تھا۔ اس لئے فیصلہ محمدی کو قطعاً نہ توڑ سکا۔
- (٤).......... الزامی فیصلہ خود مرزا صاحب نے جب ابھی نئے نئے مجدد بنے
تھے۔ براہین احمدیہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کو تسلیم کیا ہے گو بعد میں خود غرضی کے لئے منکر بن بیٹھے۔
اس کے جواب میں مولوی غلام رسول صاحب نے یہ پہلو اختیار کیا کہ اس وقت تک پورے طور پر یہ مسئلہ منکشف نہیں ہوا تھا۔ بعد میں جب تخیلات کا زور ہوا تو یہ مسئلہ پایہ ثبوت تک جا پہنچا۔
ہمیں یہ جواب سن کر تعجب پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی مجددیت کا زمانہ تو سادہ پن
٧٥
میں گزر گیا۔ مسیحیت میں آپ کو کونسا کمال حاصل ہو گیا تھا کہ آپ نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ اگر تبدیلی کی بنیاد انہیں دلائل پر تھی کہ جن کا بخیہ ادھیڑا جا چکا ہے تو اس تبدیلی رائے پر صد ہزار تعجب اور اگر الہام کے سلسلے کے ساتھ اس کا تعلق ہے تو وہ ہمارے نزدیک قابل تسلیم نہیں۔
بہر کیف مختصر یہ ہے کہ حیات مسیح ثابت کرنے کے واسطے مفصلہ بالا دلائل کافی ثبوت دیتے ہیں۔
دوسرے روز : مولوی غلام رسول صاحب نے مرزا صاحب کی صداقت پر حسب ذیل خیالات ظاہر کئے :
- (١)............. مفتری کی رہائی نہیں اور مرزا صاحب کئی سال تک کامیابی سے اپنے
ہم خیال پیدا کرتے رہے۔
- (٢)............. عذاب ایک نذیر آنے کی علامت ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب بھی
طاعون ہیضہ ، زلازل اور دیگر مصائب لے کر آئے۔
- (٣)............. رسول کا کلام معجزہ ہوتا ہے اور مرزا صاحب نے اعجاز احمدی لکھی
جس کا اب تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
- (٤)............. رسول ہمیشہ غالب ہوتے ہیں۔ مرزا صاحب بھی پہلے تن تنہا تھے
پھر لاکھوں کو اپنا ہم عقیدہ بنالیا۔
- (٥)............. نزول کا لفظ لباس‘ لوہا‘ جانور‘ ذکر اور رسول کی نسبت بھی مذکور
ہے۔ اسی طرح مرزا صاحب بھی روحانی نزول سے نازل من السماء ہوئے اور مر کر روحانی قبر میں حضرت ﷺ کے پاس دفن ہوئے۔ کیونکہ حضرت عائشہؓ کو خواب میں صرف تین چاند (آنحضرت ﷺ، حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ) ہی نظر آئے تھے۔ حضرت مسیح چاند بن کر دکھائی نہیں دیئے۔
- (٦)............. خدا تعالیٰ امت محمدیہ میں بھی اسرائیلیوں کی طرح خلفاء بھیجنے کا
٧٦
وعدہ فرماتا ہے۔ لہٰذا مرزا صاحب خلیفۃ اللہ ہوئے۔
- (٧) ............ مرزا صاحب چالیس سال تک زندہ رہے اور نکاح و اولاد سے بھی
سرسبز ہوئے اور یہی دو نشان مسیح کے تھے۔
- (٨) ............ مرزا صاحب کی بددعائیں دشمن کی عدم منظوری یا خشیۃ اللہ سے
ٹل جاتی تھیں۔ ورنہ وہ اٹل تھیں۔
مناظر اسلام : مولوی ثناء اللہ صاحب نے حسب ذیل مختصر لفظوں میں کافی تردید کی :
- (٢/١) مختصر جواب یہ ہے کہ قرآن پاک کے قواعد عامہ کا کسی کو انکار نہیں۔ کلام
اس میں ہے کہ کیا ان کا مصداق موجود ہو گیا؟ ۔ ہاں اگر کسی خارجی دلیل سے یا فیصلہ جات اسلام مذکورہ بالا کی رو سے مرزا صاحب مسیح ہوتے تب یہ قواعد ان کے حق میں سچ تسلیم کرنے پڑتے مگر ہمیں تو ان کے موضوع میں کلام ہے محمول کو ہم یوں ہی کیسے تسلیم کر لیں۔ ہاں دماغ سوزی اور جوہر ذکاوت کا ثبوت الگ ہے کہ مرزا صاحب نے بڑی جاں فشانی سے سارا قرآن اپنے حق میں اتار لیا ہے مگر اس سے صداقت نبوت کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس قسم کی دماغ سوزی یا آیات قرآنی کا خود ساختہ مصداق مقرر کر لینا حقانیت کی دلیل ہوتا تو آج سے کئی سو سال پہلے نادر شاہ اور اکبر بادشاہ دیر کے نبی ہو چکتے۔ درّہ نادرہ اور آئین اکبری میں ان کے مؤلفوں نے قرآن مجید کی ہر ایک آیت کا مصداق اپنے اپنے بادشاہوں کو بنالیا ہوا ہے۔ لیکن چونکہ خارجی دلائل سے وہ لوگ نبی نہ تھے۔ اس لئے اس قسم کی کارروائی کچھ مفید نہ پڑی۔
علاوہ ازیں ہم ہر ایک دلیل کے متعلق تھوڑا تھوڑا بیان کر دیتے ہیں۔ وهو هذا !
- (١) ............ مرزا صاحب بھی مفتری تھے اور جب آپ نے دعوٰی نبوت کا اعلان
کیا تو اس سے چند سال بعد آپ کے حق میں قطع وتین کا وعدہ پورا ہوا اور ناگہانی موت سے مر کر اس بات کا ثبوت دیا کہ آپ کو کچھ دن استدراج رہا۔ اور تھوڑی سی مہلت ملی پھر دفعتاً ہی
٧٧
موت آپ پر ٹوٹ پڑی۔ کیونکہ اہل استدراج کا یہی حال ہوتا ہے۔
- (٢).......... رسول قحط و وبا کی علت نہیں ہوتے۔ اصل علت لوگوں کی خود سری
ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ مرزا صاحب نے خلاف قرآن مجید خلاف حدیث اور خلاف اصول اسلام اپنے عقائد سے پنجاب میں ایک اندھیر مچا رکھا تھا۔ اس لئے پنجاب میں مصائب آئے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کی نحوست سے یہ سب کچھ ہوا۔ باقی رہا عام دنیا میں زلازل اور خسف و غرق یا ملاحم کا ہونا۔ سو ان کا تعلق مرزا صاحب کے وجود سے کچھ بھی نہیں بلکہ احادیث نبویہ میں صاف صاف پیشگوئیاں لکھی ہوئی ہیں جن کی صداقت خود بخود ہورہی ہے۔ خود مرزا صاحب کے حق میں بھی حدیث شریف میں پیشگوئی موجود ہے کہ :
- (الف).......... دنیا میں دجال آئیں گے۔ اور ہر ایک کا دعویٰ یہی ہوگا کہ وہ نبی
ہے۔
- (ب).......... دنیا میں تیس بڑے گمراہی کی دعوت دینے والے ہوں گے۔ پس
ثابت ہوا کہ مرزا صاحب احادیث کی پیشگوئیوں کو اپنی طرف سے نسبت کرنے میں اور تجدید کے رنگ میں مدعی نبوت بننے میں مفتری تھے۔ اس لئے پنجاب پر ہیضہ و طاعون کا تسلط ہوا اور خود مرزا صاحب بھی ہیضہ کے شکار ہوئے۔
- (٣).......... حضرت خاتم الانبیاء علیہ السلام کی زبان پر جو الفاظ کلام الہی کے
جاری ہوتے تھے۔ قرآن کی رو سے ان میں اعجاز ثابت ہوتا ہے خود حضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنے کلام میں اعجاز کا دعویٰ نہیں کیا۔ احادیث میں جب آیات کا کوئی لفظ آجاتا ہے تو خود بخود معلوم ہوجاتا ہے کہ موتیوں میں لعل چمکتا ہے اگر مرزا صاحب کے قصائد ان کا اپنا کلام ہیں (اور ضرور اپنا ہی ہیں؟) تو آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر اعجاز کا جھوٹا دعویٰ کیوں کیا؟۔ اگر ان کے خدا کا کلام ہے تو ان کا خدا کس لئے غلط گوئی سے اہل علم کے سامنے اس کو رسوا کرتا ہے؟۔ جس قصیدہ اور کلام کا نام مرزاجی اعجاز کہتے ہیں درحقیقت وہ تو صحت سے بالکل ہی گرا ہوا ہے۔ بھلا فصاحت و بلاغت کہاں؟۔ پھر اس کا اعجاز ثابت کرنا کہاں؟۔ محاورات کی
٧٨
غلطیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ عروضی اغلاط کا تو کچھ ٹھکانا ہی نہیں۔ بایں ہمہ غرور اتنا کہ ہم کسی قاعدہ کے پابند ہی نہیں خود مولوی غلام رسول صاحب کے پیش کردہ شعر میں (یاتی اور فیغشئے) حرف شرط کے ذیل میں مجزوم نہیں کئے گئے اور تعقید معنوی تو اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس لئے یہ کلام مقبول نہیں۔ اس کی فصاحت و بلاغت یا اعجاز کا دعویٰ کون دانشمند کر سکتا ہے؟ اور وہ شعر جو مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزا صاحب پر نکتہ چینی کرتے ہوئے پیش کئے ہیں۔ ان میں بھی امرتسر کی ہمزہ قطعی کا حذف ناجائز ہے۔ تدمرین کی جگہ تدمر (یعنے مونث (مادہ) کی بجائے مذکر (نر) استعمال کیا ہے۔ یہ مواخذہ چونکہ زبردست اور لاجواب تھا۔ اس لئے مولوی غلام رسول صاحب سے اس کا کوئی جواب نہ بن سکا۔ ہم مانتے ہیں کہ ضرورت شعری سے جزوی طور پر قواعد مستحسنہ کا خلاف جائز ہوتا ہے مگر ضروری قواعد کا خلاف کلام کو غلط بنا دیتا ہے۔ بہر حال جس کلام میں صحت ثابت کرنے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے پڑیں وہ تھرڈ کلاس کا بالکل نکما کلام ہوتا ہے۔ اس میں فصاحت وبلاغت کا دعویٰ خلاف واقع ہو گا۔ پھر اعجاز کا ادعا اس سے بڑھ کر جھوٹ ہو گا۔ اگرچہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے ایسے کلام کا جواب ترکی بہ ترکی نہیں دیا مگر کتاب الہامات مرزا میں یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ یہ قصیدہ قابل التفات بھی نہیں اہل علم کو اس کے مقابلہ میں قلم اٹھانا ہتک عزت کا باعث ہو گا۔
(٤).......... غلبہ رسل کا ثبوت مرزا صاحب کے حق میں مشکل ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ آپ دلائل سے غالب ہوتے ہیں۔ لیکن دلائل بھی ایسے خیالی ہیں کہ جن کا ثبوت اصول اسلام کی کسی کتاب میں نہیں ملتا۔ بحث و مناظرہ میں بھی مرزائیوں کی جیت کبھی نہیں سنی۔ بلکہ مولوی ثناء اللہ صاحب تو ان کو لاجواب کرنے میں انعام اور سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں نے اشاعت اور غلبہ کو مرادف سمجھ رکھا ہے۔ یہ بھی ان کی غلطی ہے۔ اسی نکتہ کی طرف مناظر اسلام نے توجہ دلائی تھی کہ اشاعت محض تو دیانندی اور عیسائی مذاہب وغیرہ کی بھی تو بہت ہے۔
٧٩
(٥)............. نزول کی بحث میں مرزائیوں کی قرآن دانی بھی معلوم ہو گئی۔ کیونکہ : ” انزلنا الیکم ذکرا رسولا ،“ میں رسول کو : ”منزل من السماء ،“ قرار دیا ہے۔ حالانکہ مفسرین کے یہاں دو مسلک ہیں۔ اول یہ کہ بعث یہاں محذوف ہے۔ دوم یہ کہ رسول انزل کے تحت میں ذکر کا مرادف (ہم معنے) ہے اور یتلوا کے تحت میں رسول بمعنے نبی مراد ہے۔ مختصر یہ کہ رسول کے لفظ میں صنعت استخدام ہے۔ باقی رہا جانور لباس وغیرہ کے متعلق لفظ نزول کا استعمال ۔ سو وہ بھی حسب تفاسیر سلف اپنی جگہ پر مستعمل ہیں۔ وہ یہ کہ مذکورہ بالا اشیاء جنت سے اتری تھیں ثابت ہوا کہ مرزائیوں کو نکات اسلام کی کچھ خبر نہیں مگر (بقول) الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ غیر مرزائیوں کو قرآن نہیں آتا۔ (شرم! شرم!!)
(٦)............. مسئلہ استخلاف میں بھی مرزائیوں نے نیا گل کھلایا اور خواہ مخواہ مولوی صاحب کے جواب پر نکتہ چینی کی۔ حالانکہ کما کے استعمال کو سمجھتے خود نہیں۔ مولوی صاحب کے جواب کا یہ مطلب تھا کہ یہ کاف حرف تشبیہہ نہیں ہے۔ حرف الحاق ہے۔ نحو کی کتابوں میں اس کا نام کاف الحاقیہ مشہور ہے۔ اس کی نظیر ہر ایک نماز میں موجود ہے کہ : ” کما صلیت علی ابراھیم ۔“ اگر یہ تشبیہہ ہے تو چونکہ کاف کی تشبیہہ میں عام طور پر مشبہ بہ اعلٰے ہوتا ہے۔ پھر تو حضرت خاتم المرسلین ﷺ کی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ اس لئے اس کو کاف الحاقیہ مانا گیا ہے اور اس میں مساوات یا عدم مساوات کا ذکر نہیں ہوتا۔ صرف وقوع فعل میں اشتراک ہوتا ہے۔ چنانچہ آیت استخلاف میں بھی اسی طرح امت محمدی کو خلفاء کا وعدہ دیا گیا اور اس کی توثیق کے لئے بنی اسرائیلی خلفاء کا ایفاء وعدہ پیش کیا گیا۔ بہر حال یہ وعدہ بنی اسرائیل میں انبیاء کی صورت میں پورا اترا اور امت محمدیہ میں علماء امت اور سلاطین وقت کی شکل میں پورا ہوا اور ہے۔ انبیاء کی شکل میں اس لئے پورا نہ ہوا کہ آپؐ نے اپنے بعد بڑے زور سے نبی کا آنا منفی کیا تھا اور خدا تعالیٰ نے بھی آپؐ کو اپنے کلام میں آخر الزمان نبی بنا کر بھیجا اور آج تک کیا مخالف کیا موافق سب ہی آپؐ کو آخر الزمان نبی تسلیم
٨٠
کرتے رہے اور کرتے ہیں مگر قادیانی دنیا کے معدودے چند خیالی اسلام کے پابند آج آنحضرت علیہ السلام کے اس اعزاز پر ہاتھ صاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایک پنجابی کہ جس کو یونیورسٹی سے بھی کوئی سند نہیں ملی۔ خدا کے ہاں سے نبوت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرتا ہے۔ (نازم بریں ریش دفش)
(٧)........... نکاح اولاد وغیرہ کا ذکر بعد میں ہو گا پہلے یہ بھی سوچنا چاہئے کہ جہاں آنحضرت علیہ السلام نے نزول مسیح کا مقام مقرر کیا ہوا ہے کیا قادیان وہی ہے؟۔ دمشق، منارہ، کرعہ، باب لد وغیرہ میں تصرفات کر کے ایسی چیستان بنائی ہے کہ جیسے کسی نے نتھو بہاؤ الدین اور لاہور وغیرہ قسم کے نام قرآن مجید کی آیات (ان انتھو یوصی بھا اودین) (الا ھو رب) سے نکال کر لوگوں کے سامنے اپنا کمال ظاہر کر دکھایا۔ ہم مانتے ہیں کہ مرزا صاحب بڑی دماغ سوزی کے بعد اس نتیجہ تک پہنچے ہیں کہ کرعہ، قادیان، لدھیانہ، منارہ جائے نزول ظہور مسیح دمشق، شریف خاندان مغل ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان الفاظ کے مصداق دنیا میں موجود نہیں؟۔ اگر ہیں تو ہمیں کون سی ضرورت مجبور کر رہی ہے؟۔ کہ ہم ایسے مصرحہ الفاظ کی چیستان بنا کر سارے اہل اسلام کو غلط قرار دیں اور کون سی حجت قطعی اور کون سی اسلامی دلیل ہمارے پاس موجود ہے کہ جس کی خاطر ہم ایسے الفاظ کو کھینچ تان کر پنجاب میں لے آتے ہیں۔ جب سوائے الہام کے کوئی ثبوت نہیں دے سکتے تو مرزا مہدی حسین کے نادر شاہ کے لئے استنباط قرآنی سے بڑھ کر یا نتھو وغیرہ کے استنباط سے بڑھ کر ہمارے نزدیک اس کی کوئی وقعت نہیں ہو سکتی۔ ہر چند مرزا صاحب نے ان سارے الفاظ کو تحریف کیا مگر شرقی دمشق کی تحریف میں کچھ زور پتلا پڑ گیا۔ آپ لکھتے ہیں کہ قادیان دمشق سے مشرق پر واقعہ ہے۔ اسی لفظ سے اہل دانش و بینش اندازہ لگا کر سوچیں کہ کسی کا جائے وقوع بتاتے ہوئے ہم دور دراز کے حدود بیان کرتے ہیں یا نزدیک اور متصل کے؟۔ ورنہ یہ کہنا جائز ہو گا کہ زید کا گھر یورپ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ ہاں حسن عقیدت ایسے رڈی استخراجات کو بغیر چون و چرا کے تسلیم کر سکتی ہے۔ مگر ہمارے نزدیک ایسے الفاظ تحریف کے
٨١
لئے پورا ثبوت ہیں۔
- (٨)........ مرزا صاحب کا دعویٰ تو مسیح جمالی کا تھا مگر بددعاؤں کی مشین اور
تکفیر کی نئی نئی کلوں سے معلوم ہوا کہ اگر بس چلتا تو وہ ساری دنیا کو تہہ تیغ کر ڈالتے۔ مگر افسوس کہ زمانے کی رفتار نے ان کو ایسا مجبور کیا کہ سفر حج سے بھی معذور سمجھے گئے اور اسی بنا پر خود قادیان ہی کو مکہ، مدینہ اور بیت المقدس بنالیا۔ تاکہ مناسک حج کی عدم ادائیگی کا سوال ہی نہ پڑے۔ ایسا ہی رمالوں کی طرح بددعاؤں میں بھی ایک بچاؤ کی صورت نکالی ہوئی تھی (کہ تم ڈرتے ہو یا تم نے بددعا منظور نہیں کی) ہر ذی عقل نتیجہ نکال سکتا ہے کہ ایسی بددعاؤں کی اصلیت سوائے اتفاقی واقعات کے کچھ نہیں ہو سکتی۔ ورنہ کئی بددعائیں غلط نہ جاتیں۔ آپ چونکہ اصول عربیت سے واقف نہ تھے۔ اس واسطے بددعا اور مباہلہ میں فرق نہیں کیا۔ وہ یہ ہے کہ مباہلہ میں منظوری کی ضرورت ہوتی ہے۔ بددعا یا کسی کی موت کی پیشگوئی میں منظوری یا عدم منظوری کو دخل نہیں ہوتا۔ جہاں تک مرزا صاحب کی عبارتوں میں پڑھا جاتا ہے۔ مولوی ثناء اللہ صاحب کی بابت بددعا کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر کہیں مباہلہ کا نام بھی ہے تو اس سے گریز کر کے بددعا پر زور دے کر دہرایا ہے مگر خدا کی قدرت اس دعا میں خود ہی پھنسے اور یکطرفہ مباہلہ خود مرزاجی کی جان کا وبال بنا۔ مرزاجی کی موت کے بعد مرزائیوں نے قرآن دانی کا اور ثبوت دیا اور یہ کہا کہ مرزا صاحب چونکہ سچے تھے۔ اس لئے موت کے خواہاں ہوئے۔ کیونکہ قرآن میں : ”فتمنوا الموت ١؎ ان کنتم صادقین“ موجود ہے۔ (واہ رے مرزائی قرآن دانی!) مرزائیو اگر تم بھی سچے ہو تو شب و روز اپنی ہلاکت کی دعائیں کیوں نہیں کرتے؟۔ اگر آپ نہیں کر سکتے تو ہمیں اجازت دیں کہ ہم آپ کی ساری جماعت کی تباہی اور ہلاکت کے لئے خدا کی جناب میں دست بدعا رہیں۔ (آمین ثم آمین)
اسلامی مناظر مولوی ثناء اللہ صاحب نے معیار رسالت اور منہاج نبوت کو ملحوظ
١؎ (ترجمہ : یہودیو! سچے ہو تو مرنے کی خواہش کرو)
٨٢
رکھتے ہوئے مرزا صاحب کی ادعا مسیحیت کو باطل ثابت کیا جس کے دلائل حسب ذیل ہیں :
- (١).......... حضرت مسیح حدیث کی رو سے مدینہ منورہ میں آنحضرت علیہ السلام
کے مقبرہ میں حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ کے مابین دفن ہوں گے۔ لیکن مرزا صاحب قادیان کی ڈھاب کے کنارے مدفون ہیں۔ جہاں نہ شیخینؓ کی قبریں ہیں۔ نہ حضرت خاتم الانبیاء علیہ السلام کی۔ اس کے جواب میں مولوی غلام رسول صاحب مرزائی مناظر نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر یہ ثابت کیا کہ یہ سب فرضی کاروائی ہے۔ وہی قادیانی ڈھاب کا کنارہ جنت البقیع ہے، اور وہی حضرات شیخینؓ کی روحانی قبریں ہیں۔ واہ رے مرزائی ذہانت! تو نے کس طرح مدینہ منورہ کا نام مٹانا چاہا اور کس انداز سے روضہ نبوی کے پاکباز مدفونوں کی پاکیزہ قبریں یہاں ثابت کر دکھائیں۔ (ای روشنی طبع تو برمن بلاشدی) ایسے نکمے مرزائی استدلالات اور اس فرضی کاروائی کو کوئی مسلم تسلیم نہیں کر سکتا۔ اس لئے مرزا صاحب فیل ثابت ہوئے۔ پھر مرزائی مناظر نے اپنی اس فرضی کاروائی کی تائید میں حضرت عائشہؓ کے تین چاند دیکھنے کا ثبوت دیا اور کہا کہ حضرت مسیح چوتھے چاند نمودار ہوتے تو تب اس حدیث کو اپنے معنے میں لے سکتے ہیں۔ ورنہ حدیث کی تحریف کرنی پڑے گی۔ مگر وہ یہ نہیں سمجھے کہ آنحضرت ﷺ تو سورج کی مانند تھے اور شیخینؓ اور حضرت مسیح علیہ السلام مجدد وقت ہونے اور حضورؐ کے تابع ہونے اور آپؐ کے نور سے مستفیض ہونے کی وجہ سے آپؐ کے مقابلہ بحیثیت چاند کے ہیں۔ اسی لئے حضرت عائشہؓ کا خواب سچا ہے اور چوتھے چاند کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔ علاوہ بریں اگر یہ جواب قابل استدلال ہوتا یا اس خواب میں حضرت رسول اللہ ﷺ بھی چاند کی صورت میں دکھائی دیتے تو آپ کے دفن کے وقت یہ حدیث کیوں پڑھی جاتی کہ انبیاء جہاں فوت ہوتے ہیں وہیں دفن ہوتے ہیں ١؎۔ کیا حضرت عائشہؓ
١۔ مرزائیوں سے دو سوال : (١) جب مطابق حدیث رسول جس پر جملہ صحابہؓ کا آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت بالاتفاق اجماع ہوا کہ سچے نبی کا (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)
٨٣
کو چاند والا خواب یاد نہ رہا تھا یا یہ کہ صحابہؓ کے سامنے وہ خواب پیش ہو کر مسترد کیا گیا؟ یا حضرت عائشہؓ اس وقت خود موجود نہ تھیں؟۔ پس معلوم ہوا کہ خواب کا جائے ظہور نہ مرزائیوں کو سمجھ آتا ہے اور نہ خود مرزا صاحب کو :
کار طفلان تمام خواہد شد
(٢) ......... حضرت مسیح علیہ السلام بد زبان نہ تھے اور نہ ہی نبی بد زبان ہوا کرتے ہیں۔ مگر مرزا صاحب کی کوئی تصنیف گالیوں اور ایذاء رسانیوں سے خالی نہیں۔ اندازہ لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزاجی کی تصانیف کا نصف حصہ الہام ہیں اور نصف حصہ گالیاں یا ایذاء رسانی۔ کیا قرآن مجید کی تعلیم یہی تھی اور قرآن فہمی کا انداز بھی یہی تھا۔ قرآن شریف میں تو مجاہرین کفر کو بھی گالیاں دینے سے روک دیا گیا ہے اور مرزا صاحب نے اہل اسلام کو اس قدر گالیاں دی ہیں کہ کراماً کاتبین نے بھی قلم ڈال دیئے ہوں گے۔ عذر یہ کیا جاتا ہے کہ
(حاشیہ گزشتہ صفحہ) یہ نشان ہے کہ وہ جہاں مرے اسی جگہ دفن کیا جاتا ہے۔ تو کیا وجہ ہے کہ مرزا صاحب قادیانی (جن کا دعویٰ تھا کہ میں آنحضرتؐ کی تابعداری میں رہ کر نبی بن گیا ہوں) فوت ہوئے تو لاہور میں اور مدفون ہوئے قادیان میں۔ کیا یہ واقعہ مرزا جی کے جھوٹا نبی ہونے کا کافی ثبوت نہیں۔ (٢) بعد مرنے کے مرزا جی لاش کو لاہور سے لا کر قادیان لانے کے لئے سوائے ریل کے کمتر درجہ کی گدھا گاڑی کے اور کوئی سواری نہ مل سکی۔ حالانکہ اپنی تصنیفات میں مرزا جی ریل کو دجال کا گدھا لکھتے ہیں۔ پھر جو شخص ساری عمر دجال کے گدھے پر سفر کرتا رہا ہو اور مرنے کے بعد بھی اس کی لاش کو دجال ہی کے گدھے پر سوار ہونا نصیب ہوا ہو کیا ایسا شخص (بقول مرزا صاحب) سچا مسیح ہو سکتا ہے یا پورا پورا دجال؟۔ مرزائی دوستو! ہم کچھ نہیں کہتے۔ اس بات کو آپ خود ہی سوچیں اور اپنے ضمیر سے جواب لیں۔ فتفکروا فی انفسکم افلا تعقلون ! (مرتب)
٨٤
لوگوں کا ترکی بہ ترکی جواب ہے مگر شروع تو حضرت مرزا صاحب سے ہوا یا یوں کہو کہ اشاعت دشنام کا مضمون تو مرزا صاحب کی بدولت ہوا۔ بہر حال بحکم البادی اظلم خود مرزا صاحب ہی من سن سنۃ سیئۃ کے مصداق ہیں۔ نزول مسیح کے مصداق نہیں۔
(٣)............. آنحضرت ﷺ کا قطعی فیصلہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اگر کوئی ہوتا تو حضرت عمرؓ ہوتے مگر مرزا صاحب آنحضرت علیہ السلام سے بھی بڑھے اور نبوت کا دعویٰ کر ڈالا۔ حضرت مسیح کے نزول کو اس حدیث کا معارض تراش کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ عام نفی نبوت کو توڑنے کے واسطے حضرت مسیح کا اترنا اور آپ کی نبوت کافی ثبوت ہے مگر یہ اعتراض یا تو حدیث کے الفاظ پر ہے یا اپنی کج فہمی کا نتیجہ ہے۔ اگر حدیث کے الفاظ ان کے نزدیک قابل وقعت نہیں ہیں تو ان سے خدا سمجھے اور اگر اپنی کج رائی کچھ اور معنی گھڑتی ہے تو ہم اس کا بھی ازالہ کئے دیتے ہیں کہ حضرت مسیح کی نبوت کوئی نئی نبوت نہیں ہو گی اور نہ ہی آپ بحیثیت نبی ہونے کے عہدہ تجدید کو رونق بخشیں گے۔ بلکہ صرف مجدد ہو کر آئیں گے۔ اس لئے حضرت مسیح کا نزول لا نبی بعدی کے مخالف نہیں بلکہ مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت مخالف پڑتا ہے۔ ہاں اگر صرف حضرت مسیح کا اتار بن کر مسیح کی آڑ میں نبوت کا دعویٰ کرتے تو ایک بات بھی بنتی مگر آپ موسیٰؑ عیسیٰؑ شیثؑ اور یسعؑ محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین سب انبیاء کا مظہر بنتے ہیں اور ہر ایک کے رنگ میں نبوت کا دعویٰ کئے ہوئے ہیں۔ مسیح کی آڑ میں تو نزول مسیح علیہ السلام سے کچھ نہ کچھ تعلق تھا مگر دوسرے انبیاء کے مظہر بننے کی آڑ میں کس دلیل سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ سوائے الہام کے مرزا صاحب کا دعویٰ نبوت ذرہ بھر بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور اسلامی دلائل ان کے خلاف قائم ہیں۔
(٤)............. مقابلہ میں نبی فیل نہیں ہوتا مگر مولوی عبدالحق صاحب غزنوی، ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب پٹیالوی اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کے مقابلہ میں مرزا صاحب فیل ثابت ہوئے۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر موصوف کے الہاموں کی بھی تاب نہ لاسکے۔
٨٥
بلکہ اس کی پیشگوئیوں کی صداقت میں مرے۔ اب ہم اسی پر اکتفا کر کے مضمون ختم کرتے ہیں۔ وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین والحمدللہ رب العالمین!
میاں محمود صاحب قادیانی کو اہل اسلام کی طرف سے مناظرہ کی دعوت
ایک پھر کردے گی جلسہ عام حفظ المسلمین
ہوچکی تحریر اب تقریر ہونی چاہئیے
دیتی ہے چیلنج صبح وشام حفظ المسلمین
اس قدر چھکے چھڑائے تونے مرزائیوں کے اب
کانپتے ہیں سن کے تیرا نام حفظ المسلمین
سچ تو یہ ہے تونے ان کو جھوٹ ثابت کردیا
جس قدر مرزا کے تھے الہام حفظ المسلمین
تیرے سب برہان قاطع‘ قاطع اوہام ہیں
تو ہے گویا عمر کی صمصام حفظ المسلمین
نوٹ : بوجہ عدم گنجائش نظم کے چند شعر درج کئے گئے ہیں۔ (مشتاق نائب ناظم)
نصوص آیات قرآن مجید
مختصر دلائل حیات حضرت مسیح علیہ السلام مشتمل بر تکذیب دعاوی مرزا قادیانی :
- ١............ ’’ وانہ لعلم للساعۃ . ‘‘ مسیح علیہ السلام کا ظہور ملاحم کبریٰ کے بعد
قرب قیامت کا نشان ہوگا۔
- ٢............ ’’ وان من اہل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ . ‘‘ تمام اہل
کتاب یہودی وغیرہ قرب قیامت میں مسیح علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئیں گے۔
٨٦
- ٣............." ويكلم الناس في المهد وكهلا . " مسیح علیہ السلام نے پیدا
ہوتے ہی لوگوں کو وعظ کیا اور کہولت کی عمر میں بھی آسمان سے اتر کر وعظ کریں گے۔
- ٤............." واذ كففت بنى اسرائيل عنك . " قیامت کے روز اللہ تعالیٰ
حضرت مسیح کو فرمائے گا کہ تم میری نعمت کو یاد کرو۔ جب یہود نے تجھ پر دست درازی کرنی چاہی تو میں نے ان کا ہاتھ تجھ سے ہٹائے رکھا۔ یعنی صلیب دینا تو کجا رہا وہ تجھ پر قابو بھی نہ پاسکے۔
- ٥............." وماقتلوه وماصلبوه . " مسیح علیہ السلام کو یہود نے نہ ہی قتل
کیا اور نہ ہی صلیب پر چڑھا سکے۔
- ٦............." بل رفعه الله اليه . " بلکہ خدا نے مسیح کو جسم عنصری کے ساتھ
ملاء اعلیٰ میں اٹھا لیا۔
- ٧............." انى متوفيك ورافعك الى . " خدا نے مسیح کو فرمایا میں تجھے بمعہ
جسم و روح اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔
- ٨............." ومن المقربين . " خدا نے مسیح کو ملائکہ مقربین کی جماعت میں
آسمان پر لے جا کر شامل کیا۔ لہٰذا آپ کو دنیاوی حاجات نہیں۔
- ٩............." ان مثل عيسى عندالله كمثل لأدم . " جس طرح آدم علیہ
السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام بھی۔ جس طرح آدم علیہ السلام بغیر خوراک کے بہشت میں زندہ رہے۔ اسی طرح مسیح علیہ السلام بغیر خوراک دنیاوی کے آسمان پر زندہ سلامت موجود ہیں اور جس طرح آدم علیہ السلام پہلے جنت میں تھے پھر زمین پر اترے اسی طرح مسیح علیہ السلام بھی آسمان سے اتریں گے۔
- ١٠............." ولنجعله آية للناس . " حضرت مسیح کے آسمان پر چڑھنے اور
پھر آسمان سے اترنے سے لوگوں کے لئے خدائی قدرت کا نشان ہے۔
- ١١............." وجعلنى مباركاً اينما كنت . " مسیح جہاں کہیں دنیا میں ہو یا
آسمان پر اسے خدا نے ہر جگہ بابرکت کیا۔
- ١٢............ ”فلما توفیتنی .“ قیامت کو مسیح علیہ السلام عرض کریں گے اے
خدا جب تو نے مجھے اپنی طرف اٹھالیا۔ (یہاں موت کا لفظ نہیں ہے۔)
- ١٣............ ” لیظہرہ علی الدین کلہ .“ اسلام کو خدا نے آنحضرت ﷺ
کی ذات سے مکمل کیا اور مسیح کے نزول سے کل ادیان پر غالب کرے گا۔
تصریحات احادیث نبویؐ!
- ١٤............ ”واللہ لینزلن فیکم بن مریم .“ خدا کی قسم تمہارے درمیان
منارہ بیضاء دمشق پر حضرت مسیح ضرور ضرور اتریں گے۔
- ١٥............ ”ان عیسیٰ لم یمت .“ آنحضرت علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ
بات بالکل صحیح ہے کہ حضرت مسیح ابھی تک نہیں مرے۔
- ١٦............ ”راجع الیکم قبل یوم القیامة .“ حضرت مسیح قیامت کے
آنے سے پہلے دنیا میں ضرور تشریف لاویں گے۔
- ١٧............ ” ینزل من السماء .“ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے۔
(قادیان میں ہرگز پیدا نہیں ہوں گے۔)
- ١٨............ ”یدفن معی فی قبری .“ عیسیٰ علیہ السلام مقبرہ نبوی میں دفن
ہوں گے۔ (قادیان کے گندے نالے میں دفن نہیں ہوں گے۔)
- ١٩............ ” یقتل الدجال .“ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو ملک شام میں قتل
کریں گے۔ (دجال کے گدھے پر سوار نہ ہوں گے۔)
- ٢٠............ ” یصلی بالناس .“ عیسیٰ علیہ السلام ملک شام میں جا کر لوگوں کو
عصر کی نماز پڑھائیں گے۔
تمت بالخیر!
٨٨
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
عقائد مرزا
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(١) ......... قرآن مجید میں ذکر ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا ” ومبشرا برسول یأتی من بعدی اسمہ احمد ، الصف ٦ “ جس کو آج تک سب مسلمان آنحضرت ﷺ کے حق میں سمجھتے آئے ہیں۔
مرزا قادیانی کہتے ہیں : ” میں وہ احمد ہوں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے میرے حق میں بشارت دی تھی۔ “
(ازالہ اوہام ص ٦٧٣ ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
(٢) ......... حدیث شریف میں آیا ہے : ” کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم من السماء ، “ (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص ٣٠١) ” تم کیسے ہوؤ گے جب حضرت عیسیٰ ابن مریم تم میں آسمان سے اتریں گے۔ “
مرزا قادیانی کہتے ہیں : ” یہ مسیح موعود میں ہوں۔ “
(ازالہ اوہام طبع اول ص ٦٦٥ ، خزائن ج ٣ ص ٤٦٩)
نوٹ : یہ مضمون مرزا قادیانی کی ہر ایک تحریر میں ملتا ہے :
(٣) ......... حدیث شریف میں آیا ہے کہ آخر زمانہ میں حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے ایک بزرگ پیدا ہو گا جس کا نام محمد اور باپ کا نام عبداللہ ہو گا۔ اس کا لقب امام مہدی ہو گا۔ اس کی صفت یہ ہو گی : ” یملاء الارض قسطا وعدلا کما ملئت ظلما و جوراً ، “ وہ زمین کو عدل سے بھر دے گا۔ “
(ابو داؤد ج ٢ ص ١٣١ کتاب المہدی)
مرزا قادیانی کہتے ہیں : ” وہ مہدی میں ہوں۔ “
(اشتہار معیار الاخیار ص ١١ ، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)
(٤) ......... مرزا قادیانی اپنے رتبہ کا اظہار ان لفظوں میں کرتے ہیں : ” میں نور ہوں۔ مجدد مامور ہوں۔ عبد منصور ہوں۔ مہدی موعود اور مسیح موعود
٢
ہوں۔ مجھے کسی کے ساتھ قیاس مت کرو۔ اور نہ کسی دوسرے کو میرے ساتھ ۔ میں مغز ہوں جس کے ساتھ چھلکا نہیں اور روح ہوں جس کے ساتھ جسم نہیں اور سورج ہوں جس کو دھواں چھپا نہیں سکتا اور ایسا کوئی شخص تلاش کرو جو میری مانند ہو۔ ہرگز نہیں پاؤ گے۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٥١‘ ٥٤‘ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
”میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر وہ جو مجھ سے ہو اور میرے عہد پر ہو گا اور میں اپنے خدا کی طرف سے تمام تر قوت اور برکت اور عزت کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور یہ میرا قدم ایک ایسے منارہ پر ہے جس پر ہر ایک بلندی ختم کی گئی ہے۔ پس خدا سے ڈرو اور مجھے پہچانو اور نافرمانی مت کرو۔“
(خطبہ الہامیہ ص ٧٠‘ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
”دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔“
(ایضاً ص ٤٢٣)
”پس جو میری جماعت میں داخل ہوا در حقیقت میرے سردار خیر المرسلین (محمد رسول اللہ) کے صحابہ میں داخل ہوا۔ (یعنی میرے مرید صحابہ کے برابر ہیں)“
(خطبہ الہامیہ ص ٢٥٨‘ ٢٥٩‘ خزائن ج ١٦ ص ایضاً)
مختصر طور پر فرماتے ہیں
نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار
(در ثمین ص ١٠٠، براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ١٠٣‘ خزائن ج ٢١ ص ١٣٣)
صد حسین است در گریبانم
در برم جامہ ہمہ ابرار
٣
داد آں جام را مرا بتمام
بخدا پاک دانمش زخطا
از خطاہا ہمیں است ایمانم
من بعرفان نہ کمترم زکسے
(درثمین ص ٢٧٨ نزول المسیح ص ٩٩، خزائن ج ١٨ ص ٤٧٧)
منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد
(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٤)
- (٥).......... مرزا قادیانی عیسائیوں اور شیعوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں :
”اے عیسائی مشنریو! ربنا المسیح مت کہو۔ دیکھو کہ آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔“
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)
اے قوم شیعہ ! اس پر اصرار مت کرو کہ حسین تمہارا منجی ہے کیونکہ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ آج تم میں ایک ہے (یعنی مرزا قادیانی) کہ اس حسین سے بڑھ کر ہے۔
(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
٤
فانی اؤید کل آن وانصر
”مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔“
(اعجاز احمدی ص ٦٩‘ خزائن ج ١٩ ص ١٨١)
- (٦).......... دنیا کی قضا و قدر (یعنی جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا) مرزا
قادیانی کہتے ہیں میں نے اس کو لکھا تھا۔ چنانچہ فرماتے ہیں : ”ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری غوث گڑھ علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور ان کی نظر کے سامنے یہ نشان الہی ظاہر ہوا کہ اول مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر کے اہل دنیا کی نیکی و بدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثیل کے طور پر میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کردے۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جائیں۔ سو خدا تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیئے اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبداللہ کے کپڑوں پر پڑے اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے۔ اس لئے مجھے جبکہ ان قطروں سے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے گرے اطلاع ہوئی۔ ساتھ ہی میں نے بچشم خود ان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو میاں عبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی تر بتر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لئے اور کوئی چیز ایسی ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا اور وہ وہی سرخی تھی جو خدا تعالیٰ نے اپنی قلم سے جھاڑی تھی۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی اور میاں عبداللہ زندہ موجود ہیں اور اس کیفیت کو حلفاً بیان ١۔ (حاشیہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں) کر سکتے ہیں کہ کیونکر یہ خارق عادت اور اعجازی طور پر امر تھا۔“
(تریاق القلوب ص ٣٣‘ خزائن ج ١٥ ص ١٥٧)
٥
- (٧)........... نبوت و رسالت کا دعویٰ !
”جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔ پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔“
(حقیقت الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦‘ ٤٠٧)
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں۔ اور یہ تعریف ہم پہ صادق آتی ہے۔ پس ہم نبی ہیں۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہورہی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں۔ اس لئے ہم نبی ہیں۔“
(اخبار بدر قادیان مورخہ ٥ مارچ ١٩٠٨ء ص ٢ کالم ١‘ ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧‘ ١٢٨)
نوٹ : چونکہ دعویٰ نبوت سن کر مسلمانوں کو سخت وحشت ہوتی ہے اور وہ مرزائی مذہب میں آنے سے نفرت کرتے ہیں۔ اس لئے مرزا قادیانی کے خلیفہ اول مولوی نور الدین کے بعد مرزا قادیانی کے بعض دانا مریدوں نے یہ کہنا شروع کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ ہمیں اس اختلاف سے مطلب نہیں۔ ہم تو مرزا قادیانی کے اصلی الفاظ سامنے رکھتے ہیں جو ملک کی عام زبان اردو میں ہیں جو چاہے دیکھ لے۔
- (٨)........... مرزا قادیانی کا منکر مومن نہیں۔ فرماتے ہیں :
جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا۔ کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری
١؎ ٢٧ نومبر ١٩١٦ء کو اس میاں عبداللہ گواہ نے ہمارے سامنے اس کشف پر قسم کھانے سے انکار کر دیا۔ (تفصیل کے لئے دیکھو اخبار اہل حدیث ٨ دسمبر ١٩١٦ء ص ١)
٦
امت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا............ اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے............ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کی نشانیوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٨)
- (٩)............(بقول مرزا) ایک الہام میں خدا نے مرزا قادیانی کو یوں مخاطب کیا :
”آسمان سے کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔“
(حقیقت الوحی ص ٨٩‘ خزائن ج ٢٢ ص ٩٢)
- (١٠)............ مرزا قادیانی کا ایک الہام یوں ہے :
”خدا قادیان میں نازل ہو گا۔“
(البشریٰ حصہ اول ص ٥٦‘ تذکرہ ص ٤٣٧)
- (١١)............ مرزا قادیانی فرماتے ہیں :
”میں نے خواب دیکھا کہ میں بعینہ اللہ ہوں۔ میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی اللہ ہوں۔“ یہ بھی فرماتے ہیں : ”اسی حال میں (جبکہ میں بعینہ خدا تعالیٰ) میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم کوئی نیا نظام و نیا کرہ بناویں۔ یعنی نیا آسمان اور نئی زمین بناویں۔ پس میں نے پہلے آسمان اور زمین اجمالی شکل میں بنائے جن میں کوئی تفریق اور ترتیب نہ تھی پھر میں نے ان میں جدائی کر دی اور جو ترتیب درست تھی اس کے موافق ان کو مرتب کر دیا اور میں اس وقت اپنے آپ کو ایسا پاتا تھا گویا میں ایسا کرنے پر قادر ہوں پھر میں نے ورلا (یعنی ادھر والا) آسمان بنایا اور میں نے کہا : ”انا زینا السماء الدنیا بمصابیح ١؎ “ پھر میں نے کہا۔ اب ہم انسان کو مٹی سے بناتے ہیں۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤‘ ٥٦٥‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
١؎ حالانکہ یہ آیت قرآن کی ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ : ”ہم (خدا) نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا ہے۔“
٧
- (١٢)..........مرزا قادیانی کا قول ہے۔ خدا نے مجھے فرمایا :
” ان الله معك ان الله يقوم اينما قمت . “
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٧ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣٠١)
- (١٣)..........مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا خدا عرش پر سے میری تعریف کرتا ہے
اور میری طرف آتا ہے۔ الہام کے الفاظ یہ ہیں : ” يحمدك الله من عرشه ويمشى اليك . “ (خدا تیری (اے مرزا قادیانی) عرش سے تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چل کر آتا ہے۔)
(انجام آتھم ص ٥٥ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- (١٤)..........مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا :
” میں مسلمانوں کے لئے مسیح موعود ہوں اور ہندوؤں کے لئے کرشن (اوتار) ہوں۔“
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)
- (١٥)..........مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا :
”میں امام حسینؓ سے افضل ہوں۔“
(دافع البلاء ص ١٣ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)
- (١٦)..........مرزا قادیانی کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ :
”میں حضرت ابو بکر صدیقؓ بلکہ بعض انبیاء علیہم السلام سے بھی افضل ہوں۔“
(اشتہار معیار الاخیار ص ١١ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)
- (١٧)..........مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ مجھے مندرجہ ذیل الہام ہوئے ہیں :
” وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى . دنى فتدلى فكان قاب قوسين اوادنیٰ . ذرنی والمکذبين . “
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
یہ سب آیات قرآنی ہیں جو آنحضرت ﷺ کی شان میں ہیں۔ ترجمہ ان کا یہ ہے : ”ہمارا نبی اپنی خواہش سے نہیں بولتا بلکہ اس کا بولنا وحی سے ہے۔“......”وہ اتنا خدا کے
٨
نزدیک ہوا جتنے کمان کے دو کونے بلکہ ان سے بھی زیادہ قریب۔‘‘......’’مجھے اور مکذبوں کو چھوڑدے میں ان سے سمجھ لوں گا۔‘‘ (خدا کا فرمان ہے۔)
(١٨)........... مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ :’’حوض کوثر مجھے ملا ہے۔‘‘ الہامی الفاظ یہ ہیں :
”انااعطیناك الکوثر ۔“
(رسالہ انجام آتھم ص٥٨‘ خزائن ج١١ ص ایضاً)
(١٩)........... مرزا قادیانی کہتے تھے خدا نے مجھے کہا ہے :’’تیرا نام پورا ہوجائے گا میرا نام پورا نہیں ہوگا۔ الہامی الفاظ یہ ہیں :’’یا احمد یتم اسمك ولا یتم اسمى ۔ “
(اربعین نمبر ٢ ص٦‘ خزائن ج١٧ ص ٣٥٣)
پورا تو ٹھیک ہوا :؎
(٢٠)........... مرزا قادیانی کہتے تھے کہ مجھے الہام ہوا ہے : ” اخترتك لنفسى الا رض والسماء معك کماھو ا؎ معى دسترك سرى انت منى بمنزلة توحیدی وتفریدی ۔ “
(اربعین نمبر ٢ ص٦‘ خزائن ج١٧ ص ٣٥٣)
”یعنی خدا فرماتا ہے (اے مرزا) میں نے تجھے اپنے نفس کے لئے پسند کیا۔ زمین اور آسمان تیرے ساتھ ہیں جیسے میرے ساتھ ہیں۔ تو میرے پاس بمنزلہ میری توحید اور تفرید کے ہے۔“(جل جلالہ)
یہ اور ان جیسے اور بھی خیالات ہیں جن کی وجہ سے علمائے اسلام مرزا قادیانی کے مخالف ہوئے تھے جو عامہ ناظرین کی واقفیت کے لئے شائع کئے گئے۔ (اپریل ١٩٢٨ء)
ا؎ یہ ”ھو “ عربی دانوں کی توجہ چاہتا ہے۔ (مصنف)
9
خوشخبری
ایک تحریک... وقت کا تقاضہ
بحمدہ تعالیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے اکابر کے مجموعہ رسائل پر مشتمل احتساب قادیانیت کے نام سے اس وقت تک سات جلدیں شائع کی ہیں۔
- (١)...... احتساب قادیانیت جلد اول مجموعہ رسائل...... حضرت مولانا لال حسین اخترؒ
- (٢)...... احتساب قادیانیت جلد دوم مجموعہ رسائل........ مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ
- (٣)...... احتساب قادیانیت جلد سوم مجموعہ رسائل....... مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ
- (٤)...... احتساب قادیانیت جلد چہارم مجموعہ رسائل..... مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ حضرت مولانا سید محمد بدر عالم میرٹھیؒ حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانیؒ
- (٥)...... احتساب قادیانیت جلد پنجم مجموعہ رسائل ’صحائف رحمانیہ‘ ٢٤ عدد خانقاہ مونگیر
- (٦)...... احتساب قادیانیت جلد ششم مجموعہ رسائل....... علامہ سید سلمان منصور پوریؒ
........ پروفیسر یوسف سلیم چشتیؒ
- (٧)...... احتساب قادیانیت جلد ہفتم مجموعہ رسائل.... حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ
- (٨)...... احتساب قادیانیت جلد ہشتم مجموعہ رسائل.. حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
- (٩)...... احتساب قادیانیت جلد نہم
(یہ نو جلدیں شائع ہو چکی ہیں) اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو جلد دہم، میں مرزا قادیانی کے نام نہاد قصیدہ اعجازیہ کے جوابات میں امت کے جن فاضل علماء نے عربی قصائد تحریر کئے وہ شامل اشاعت ہوں گے۔ اس سے آگے جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا۔
طالب دعا! عزیز الرحمن جالندھری مرکزی دفتر ملتان
انا خاتم النبيين لا نبي بعدي
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
مرقع قادیانی
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم. نحمدہ ونصلی علی رسولہٖ الکریم. مرقع قادیانی ١٩٠٧ء میں زیر ایڈیٹری مولانا ابوالوفا ثناء اللہ صاحب امرتسری ماہواری رسالہ کی صورت میں جاری ہوا تھا۔ جو مرزا صاحب کے انتقال کے بعد بند ہو گیا۔ اُس کے مضامین بہت دلچسپ ہوتے تھے۔ اس لئے مناسب جانا گیا کہ مرقع قادیانی کے فائل سے بعض زیادہ دلچسپ اور مفید مضامین رسالہ کی صورت میں شائع کیے جائیں۔ چنانچہ یہ رسالہ آپ کی نظر سے گذرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اسے قبول کر کے برکت فرمائے گا۔ خاکسار منیجر دفتر ”اہلحدیث“ امرتسر ربیع الاول ١٣٣٥ھ۔ جنوری ١٩١٧ء
...... ٭ ......
مرقع قادیانی
ڈاکٹر ڈوئی امریکن کی موت پر مرزا صاحب کی الہام بافی
مرزا صاحب کی ہمیشہ سے عادت تھی کہ جس وقت وہ الہام شائع کرتے تھے اُس وقت خود اُن کو یہ خبر نہیں ہوتی تھی کہ آئندہ کو کیا پیش آئے گا۔ اس لئے جیسا جیسا وقوعہ پیش آتا نکتے چھانٹا کرتے تھے۔ امریکہ کے ملک میں ایک شخص ڈاکٹر ڈوئی تھا۔ جس نے بھی مرزا جی کی طرح
٢
نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ جس پر کرشن جی قادیانی ١؎ کو غصہ آیا کہ ”ابے ہیں؟ ایک ہم اور ایک تو؟ یاد رکھ:
ہم ہونگے وہ نہ ہوں گے وہ ہونگے ہم نہ ہونگے
مگر وہ کوئی ایسا کوہ وقار تھا کہ اُس نے کبھی پھر کر بھی نہ دیکھا کہ پیچھے کون آتا ہے۔ خدا کی شان قضاء الٰہی سے وہ فوت ہو گیا۔ بس پھر تو مرزا جی کی بن آئی۔ لگے وہ بھی اور اُن کے چیلے بھی بغلیں بجانے۔ چنانچہ ٧ مارچ ١٩٠٧ء کے اخبار الحکم میں ایک مضمون نکلا جو یہ ہے: ”حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا صدق کھل گیا۔ اور کذاب ومفتری ڈوئی مر گیا۔
چشم بکشا کہ برچشم نشانیست کبیر
امریکہ کے کذاب ومفتری ڈاکٹر جان الگزنڈر ڈوئی کے نام سے الحکم کے ناظرین اور انڈیا کی مذہبی دنیا بخوبی واقف ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے الیاس اور عہد نامہ کا رسول ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ اور بالآخر اُس نے مسلمانان عالم کی ہلاکت کی پیشگوئی بڑے زور شور سے اپنے اخبار لیوز آف ہیلنگ میں کی تھی۔ جس پر حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود (مرزا) علیہ السلام نے ١٩٠٢ء کی تیسری سہ ماہی میں اُس کا ایک جواب انگریزی زبان میں بکثرت امریکہ میں شائع کیا تھا۔ اور ستمبر ١٩٠٢ء کے اردو میگزین میں اُس کا ترجمہ دیا گیا تھا۔ اور اخبارات کے سلسلہ میں بھی اس کا ذکر کیا گیا۔ اس پیشگوئی کا خلاصہ یہ تھا کہ کاذب صادق کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔“
دیکھئے کس زور کی عبارت ہے۔ اور کس مضبوطی سے دعویٰ ہے۔ مگر ناظرین آگے چل کر جان لیں گے کہ یہ مضبوطی نہیں بلکہ ڈھٹائی ہے۔ خیر اس کے جواب میں ہم نے اخبار اہلحدیث مورخہ مارچ ١٩٠٧ء میں ایک مضمون لکھا۔ جو یہ ہے:
کرشن قادیانی اور امریکن ڈوئی
”ہمارے مرزا صاحب قادیانی کی طرح امریکہ میں بھی ایک شخص ڈاکٹر ڈوئی تھا۔ جس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اب اُس کے مرنے کی خبر آئی ہے۔ جس پر قادیانی کرشن کی
١؎ مرزا صاحب قادیانی نے سیالکوٹ کے لیکچر میں یہ خطاب اپنے لئے خود تجویز فرمایا تھا کہ ہم ہندوؤں کے لئے کرشن ہیں۔ (لیکچر سیالکوٹ ص٣٣۔ خزائن ج٢٠ ص٢٢٨)
٣
پارٹی مارے خوشی کے آپے سے باہر ہوئے جاتی ہے کہ ہمارے کرشن کی پیشگوئی ثابت ہوگئی۔ اس لئے ہم ان بہادروں سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ بتلاؤ تمہارے کرشن جی قادیانی نے کب پیشگوئی کی تھی۔ اُس کی تاریخ مع اصلی الفاظ کے ظاہر کرو۔ مگر یاد رکھنا مولوی اسمعیل مرحوم علی گڑھی اور مولوی غلام دستگیر قصوری کے معاملہ کی طرح اس کو بھی خورد برد نہ کر جانا۔ بلکہ بہت جلد ہمارا معقول جواب دینا۔ بدر اور الحکم وغیرہ کے ایڈیٹرو! تمہیں تو کھانا حرام ہے جب تک مہاتما کرشن جی کی اصل پیشگوئی مع تاریخ شائع نہ کرو :
اس کو دیکھ کر الحکم کے ایڈیٹر نے الحکم مورخہ ١٩؍ مارچ میں جواب دیا۔ جو یہ ہے: کیا ثناء اللہ مان لے گا؟ امرتسری منکر مولوی ثناء اللہ امرتسری عجیب وغریب مذبوحی حرکات کرنے کا عادی ہے۔ اور اس کی چشم بینا ایسی بند ہے کہ وہ دیکھتا ہوا نہیں دیکھتا اور سنتا ہوا نہیں سنتا۔ جب کوئی نشان پورا ہوتا ہے تو اپنے اسلاف منکروں کے نقش قدم پر چل کر کہہ دیتا ہے۔ سحر مستمر ۔ ڈاکٹر ڈوئی مفتری رسول کی موت کی پیشگوئی پوری ہونے پر وہ مجھے کہتا ہے کہ تمہیں کھانا حرام ہے جب تک مہاتما کرشن جی کی اصل پیشگوئی مع تاریخ شائع نہ کرو۔ ع ’’تا سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد‘‘ میں امرتسری منکر کی کیا پروا کرتا ہوں اور ’’دروغ گو را تا بخانہ اش باید رسانید‘‘ پر عمل کرنے کے لئے اُسے الحکم ١٧؍ مارچ ١٩٠٧ء کے صفحہ ١٢۔١٣۔١٤ کے پڑھنے کی تکلیف دیتا ہوں جہاں پیشگوئی کے اصل الفاظ درج ہیں۔ اب اگر ثناء اللہ راست باز ہے تو اسے تسلیم کرے اور اگر وہ خدائے تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہے تو سچائی سے اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور تکذیب سے باز آئے۔‘‘
(ایڈیٹر الحکم ۔ ص ١٥)
اس جواب میں ایڈیٹر الحکم نے ہمارے جواب کے لئے ١٧؍ مارچ کے الحکم کا حوالہ کافی سمجھا۔ جس میں اُس نے پیشگوئی کا خلاصہ یہ لکھا تھا کہ:
’’کاذب صادق کی زندگی میں ہلاک ہو جائے گا۔‘‘
مگر ناظرین بانصاف غور کریں کہ ہم نے جو سوال کیا تھا وہ ڈوئی کے متعلق اصل عبارت سے تھا نہ کہ اُس کے خلاصے کے متعلق۔ خلاصہ تمہارا تو اسی قسم کا ہوتا ہے اصل عبارت تو تھی کہ پندرہ ماہ کے اندر آتھم مر جائے گا۔ مگر اس کو چھانٹتے چھانٹتے آخر ایسا تناسخ کے چکر میں ڈالا کہ اُس کی اصلی اور نقلی صورت میں اس سے زیادہ فرق معلوم ہوتا ہے جو بقاعدۂ تناسخ بداعمال انسان کو بدکرداری کی وجہ سے انسانی شکل سے کتے اور بلے کی جون نصیب ہوتی ہے۔ مگر ہوشیار
ایڈیٹر مذکور سمجھ گیا کہ ہماری پکڑ کوئی معمولی نہیں۔ اس لئے اُس نے اپنے بزرگ کی طرح بڑی چالاکی سے اصل عبارت کو چھپا کر اُس کے خلاصہ کا حوالہ بتلایا۔ پھر خلاصہ بھی وہ جس کو دیکھ کر سوال پیدا ہوا تھا۔
مرزائی پارٹی کا ایک اعلیٰ لیڈر جو گو مرزائی تقلید میں پھنسا ہوا ہے تاہم اُس کے قلم سے کبھی کبھی سچ سچ نکل جایا کرتا ہے۔ یعنی قادیانی ریویو کا ایڈیٹر (مولوی محمد علی۔ ایم اے) لکھتا ہے:
”ہم نہیں کہتے کہ کوئی شخص بلا تحقیق حضرت مسیح موعود (مرزا) کی پیشگوئیوں کو آمنا وصدقنا کہہ دے۔ بلکہ ہم صرف انہیں اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ محقق نظر سے غور کریں۔“
اپریل ١٩٠٧ء ص ١٣
اس لئے ہم ”بدر! بدر باید رسانید“ عمل کرنے کو جس کتاب کا ایڈیٹر الحکم نے حوالہ دیا ہے۔ اسی سے اصل عبارت نقل کرتے ہیں۔ مگر اُن کی طرح خلاصہ نہیں بلکہ اصل مضمون لفظ بلفظ سناتے ہیں۔ ناظرین بغور سنیں:
مرزا صاحب رسالہ ریویو بابت ماہ ستمبر ١٩٠٢ء میں صفحہ ٣٤٤ پر لکھتے ہیں:
”رہے مسلمان۔ سو ہم ڈوئی صاحب کی خدمت میں بادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے۔ ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا خدا ہے یا ہمارا خدا۔ وہ بات یہ ہے کہ وہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیشگوئی نہ سنائیں۔ بلکہ اُن میں سے صرف مجھے اپنے ذہن کے آگے رکھ کر یہ دعا کر دیں کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے۔ کیونکہ ڈوئی یسوع مسیح کو خدا جانتا ہے مگر میں اس کو ایک بندہ عاجز مگر نبی ١؎ جانتا ہوں۔ اب فیصلہ طلب یہ امر ہے کہ دونوں میں سے سچا کون ہے۔ چاہئے کہ اس دعا کو چھاپ دے اور کم سے کم ہزار آدمی کی اس پر گواہی لکھے۔ اور جب وہ اخبار شائع ہو کر میرے پاس پہنچے گی تب میں بھی بجواب اس کے یہی دعا کروں گا۔ اور انشاء اللہ ہزار آدمی کی گواہی لکھ دوں گا۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ڈوئی کے اس مقابلہ سے اور تمام عیسائیوں کے لئے حق کی شناخت کے لئے ایک راہ نکل آئے گی۔ میں نے ایسی دعا کے لئے سبقت نہیں کی بلکہ ڈوئی نے کی۔ اس سبقت کو دیکھ کر غیور خدا نے میرے اندر یہ جوش پیدا کیا۔ یاد رہے کہ میں اس ملک میں معمولی انسان نہیں ہوں۔ میں وہی مسیح موعود ہوں جس
١؎ یہاں تو یسوع کو نبی لکھا گیا مگر ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٦ پر اسی یسوع کو خوب گالیاں سنائی ہیں۔ مرزائیو ان دونوں مقاموں کو دیکھ کر اللہ سے ڈر کر فیصلہ کرو۔
٥
کا دعویٰ انتظار کر رہا ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ ڈوئی کہتا ہے کہ مسیح موعود پچیس برس کے اندر اندر پیدا ہو جائے گا۔ اور میں بشارت دیتا ہوں کہ وہ مسیح پیدا ہو گیا۔ اور وہ میں ہی ہوں۔ صد ہا نشان زمین سے اور آسمان سے میرے لئے ظاہر ہو چکے ایک لاکھ کے قریب میرے ساتھ جماعت ہے جو زور سے ترقی کر رہی ہے۔ ڈوئی بے ہودہ باتیں اپنے ثبوت میں لکھتا ہے کہ میں نے ہزار ہا بیمار توجہ سے اچھے کئے ہیں۔ ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ کیوں پھر اپنی لڑکی کو اچھا نہ کر سکا۔ اور وہ مر گئی۔ اور اب تک اس کے فراق میں روتا ہے۔ اور کیوں اپنے اس مرید کی عورت کو اچھا نہ کر سکا جو بچہ جن کر مر گئی۔ اور اس کی بیماری پر بلایا گیا۔ مگر وہ گزر گئی۔ یاد رہے کہ اس ملک کے صد ہا عام لوگ اس قسم کے عمل کرتے ہیں اور سلب امراض میں بہتوں کو مشق ہو جاتی ہے اور کوئی ان کی بزرگی کا قائل نہیں ہوتا۔ پھر امریکہ کے سادہ لوحوں پر نہایت تعجب ہے کہ وہ کس خیال میں پھنس گئے۔ کیا ان کے لئے مسیح کو ناحق خدا بنانے کا بوجھ کافی نہ تھا۔ کہ یہ دوسرا بوجھ بھی انہوں نے اپنے گلے ڈال لیا۔ اگر ڈوئی اپنے دعویٰ میں سچا ہے اور درحقیقت یسوع مسیح خدا ہے تو یہ فیصلہ ایک ہی آدمی کے مرنے سے ہو جائے گا۔ کیا حاجت ہے کہ تمام ملکوں کے مسلمانوں کو ہلاک کیا جائے۔ لیکن اگر اُس نے اس نوٹس کا جواب نہ دیا یا اپنے لاف و گزاف کی نسبت دعا کر دی اور پھر دنیا سے قبل میری وفات کے اُٹھایا گیا تو یہ تمام امریکہ کے لئے ایک نشان ہو گا مگر یہ شرط ہے کہ کسی کی موت انسانی ہاتھوں سے نہ ہو۔ بلکہ کسی بیماری سے یا بجلی سے یا سانپ کے کاٹنے سے یا کسی درندے کے پھاڑنے سے ہو۔ اور ہم اس جواب کے لئے ڈوئی کو تین ماہ تک مہلت دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ خدا سچوں کے ساتھ ہو۔ آمین‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ص ٣٤٤‘ ٣٤٥۔ ج ١ نمبر ٩ ستمبر ١٩٠٢ء)
یہ ہے اصل عبارت اس میں مرزا صاحب نے ڈاکٹر ڈوئی کو چیلنج دیا ہے کہ وہ دعا کرے کہ جھوٹا سچے سے پہلے مر جائے۔ یہ نہیں کہ بطور پیشین گوئی کے اعلان کر دیا کہ جھوٹا سچے سے پہلے مر جائے گا۔ مرزائیو! مولویت کے مدعیو! تمہیں اتنی بھی خبر نہیں کہ جملۂ انشائیہ اور جملۂ خبریہ میں کیا فرق ہوتا ہے۔
معزز ناظرین! خدارا ذرا کرشن جی کی اصلی عبارت دیکھتے جائیں کہ اس میں کوئی ایک لفظ بھی ایسا ملتا ہے جس کا یہ مطلب ہو۔ یا مرزا صاحب نے اعلان اور اخبار کے طور پر کہا ہو کہ ہم (مرزا اور ڈوئی) میں سے جو جھوٹا ہو گا سچے سے پہلے مر جائے گا۔ بلکہ یہی لکھا گیا ہے کہ ڈوئی یہ دعا کرے کہ جھوٹا سچے سے پہلے مر جائے۔ لیکن اس کوہ وقار ڈوئی نے کرشن جی کو دیہاتی سمجھ کر منہ
٦
اٹھا کر بھی نہیں دیکھا کہ کیا کہتا ہے۔ اُس نے ہرگز یہ دعا نہیں کی بلکہ نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا کہ قادیان میں کون رہتا ہے۔ چنانچہ مرزا جی کے رسالہ ریویو ہی سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ جہاں لکھا ہے:
”باوجود کثرت اشاعت پیشگوئی کے ڈوئی نے اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا اور نہ ہی اپنے اخبار ”لیوز آف ہیلنگ“ میں اس کا کچھ ذکر کیا۔“
(ریویو ج٦ نمبر ٤۔ بابت اپریل ١٩٠٧ء ص١٤٢)
یہ عبارت بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ ڈوئی نے مرزا صاحب کے حسب منشاء دعا نہیں کی۔ پس جب اُس نے دعا نہیں کی تو پھر یہ پیشگوئی یا مباہلہ نہ ہوا بلکہ یوں کہئے کہ بغیر مباہلہ کے ڈاکٹر ڈوئی کا مرزا صاحب کی زندگی میں مرنا مرزا صاحب کے مباہلہ کی تردید اور کرشن جی کی تکذیب کرتا ہے۔ کیونکہ اُس سے ثابت ہوا کہ اُس کی عمر ہی اتنی تھی۔ اگر وہ مباہلہ کر لیتا تو دو حال سے خالی نہ تھا۔ یا تو مرزا صاحب کی زندگی میں مرتا۔ تو ثابت ہوتا کہ اُن کے مباہلہ یا دعا کا اثر ہے۔ وہ اپنی اجل سے نہیں مرا۔ اور اگر مرزا صاحب کے بعد مرتا تو کھلی تکذیب ہوتی۔ غرض یہ ہے کہ مرزا صاحب کے حسب منشاء نہ تو ڈوئی نے دعا کی اور نہ اُن کے چیلنج کو قبول کیا اس لئے وہ اس پیشگوئی سے نہیں مرا۔ بلکہ اپنی مقررہ اجل پر مرا ہے۔ جس کو مرزا صاحب کی صداقت اور نبوت سے کچھ تعلق نہیں تعجب ہے مرزائیوں کے انصاف پر کہ کس آن بان سے اس واقعہ کو پیشگوئی لکھتے ہیں۔ حالانکہ جس شرط پر یہ پیشگوئی ہونی تھی وہ شرط متحقق ہی نہیں ہوئی۔ یعنی ڈوئی نے حسب درخواست مرزا صاحب دعا نہیں کی۔ چونکہ یہ بات بہت ہی واضح ہے کہ اذا فات الشرط فات المشروط ۔ جب شرط متحقق نہیں تو مشروط بھی ثابت نہیں۔ یعنی جب ڈوئی نے دعا نہیں کی تو مباہلہ بھی نہ ہوا۔ اس لئے قادیانی ریویو کا ہوشیار ایڈیٹر لکھتا ہے:
”جب وہ (ڈوئی) نہ تو اسلام کے متعلق دریدہ دہنی سے باز آیا۔ اور نہ ہی کھلے طور پر میدان مقابلہ میں نکلا۔ تو حضرت مسیح موعود نے ایک اور اشتہار جاری کیا۔ اس اشتہار کا عنوان یہ تھا ”بگٹ اور ڈوئی کے متعلق پیشگوئیاں“ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہوتا ہے۔ اب یہ خالی مباہلہ کی دعوت نہیں رہی تھی۔ بلکہ اس میں صراحت کے ساتھ ڈوئی کی ہلاکت کی پیشگوئی کی گئی تھی۔“
(ریویو آف ریلیجنز ج ٦ نمبر ٤۔ اپریل ١٩٠٧ء ص١٤٢)
اس عبارت سے دو امر ثابت ہوئے۔ ایک یہ کہ اس اشتہار سے پہلے کی تمام تحریریں
٧
مباہلہ یا پیشگوئی نہ تھیں۔ بلکہ دعوت مباہلہ تھی۔ دوسرا امر یہ ثابت ہوا ۔ کہ اس اشتہار میں جس کا ذکر اس منقولہ عبارت میں ہے صاف پیشگوئی کی گئی ہے مگر ہم بڑے افسوس سے کہتے ہیں کہ ؎
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
آخر اُس اشتہار کو جو ایڈیٹر مذکور نے نقل کیا تو پہلے تو اُس میں بھی یہ فقرے موتیوں کی طرح جڑے ہوئے نظر آئے۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں:
”مسٹر ڈوئی آخر میری درخواست مباہلہ قبول کرے گا اور صراحۃً یا اشارۃً میرے مقابلہ پر کھڑا ہوگا۔ تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دُکھ کے ساتھ اس دار فانی کو چھوڑے گا ۔ یاد رہے کہ اب تک ڈوئی نے میری درخواست مباہلہ کا کچھ جواب نہیں دیا اور نہ اپنے اخبار میں کچھ شروع کیا ہے۔ اس لئے میں آج کی تاریخ سے جو ٢٣؍اگست ١٩٠٣ء ہے۔ اُس کو پورے سات ماہ کی اور مہلت دیتا ہوں۔ اگر وہ اس مہلت میں میرے مقابلہ پر آ گیا اور جس طور سے مقابلہ کرنے کی میں نے تجویز کی ہے جس کو میں شائع کر چکا ہوں اگر تجویز کو پورے پورے طور پر منظور کر کے اپنے اخبار میں عام اشتہار دے دیا تو جلد تر دنیا دیکھ لے گی کہ اس مقابلہ کا انجام کیا ہوگا۔“
(ریویو ج٦ نمبر٤۔ اپریل ١٩٠٧ء ص١٤٤، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٦١٩‘ ٦٢٠)
باوجود اس صاف اور سیدھی تحریر کے ایڈیٹر ریویو اپنی عقل و دانش کو بالائے طاق رکھ کر لکھتا ہے کہ اس اشتہار میں مفصلہ ذیل امور خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔
- ”(١) یہ اشتہار پہلی چٹھی کی طرح محض ایک چیلنج یعنی مباہلہ کی دعوت ہی نہ تھی ١؎
بلکہ جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے اس میں ڈوئی کے انجام اور اس کی ہلاکت کی صریح خبر موجود تھی۔“
گو اس فقرہ میں ایڈیٹر ریویو نے اپنی کانشنس اور ضمیر کے خلاف کیا ہے تاہم خدا کی طرف سے اس پر جبر کیا گیا تو دوسرے ہی نمبر میں اُس کے قلم سے یہ فقرہ بھی نکل گیا۔
١؎ یہ لفظ ”تھی“ صاف ظاہر کرتا ہے کہ پہلی چٹھی مندرجہ ریویو ستمبر ١٩٠٢ء جس کا حوالہ اڈیٹر الحکم نے دیا ہے کوئی پیشگوئی نہ تھی بلکہ محض دعوت مباہلہ تھی۔ یعنی یہ کہا گیا تھا کہ آؤ مباہلہ کرو۔ باوجود اس قوی شہادت کے نہیں معلوم اڈیٹر الحکم وغیرہ کیوں اُس کا حوالہ دیتے ہیں۔ حالانکہ اہلحدیث میں اس کے متعلق پیشگوئی کے الفاظ مانگے گئے تھے۔ نہ اُس عبارت کے الفاظ جو مباہلہ کی دعوت تھی۔ مباہلہ کی دعوت اور ہے مباہلہ اور۔ پھر مباہلہ اور ہے پیشگوئی اور۔ افسوس ہے کہ مرزائی پارٹی کو ان تینوں لفظوں میں تمیز نہیں یا دانستہ اپنے علم و عقل کے خلاف کر رہے ہیں۔
- (٢) مندرجہ ذیل الفاظ خاص طور پر توجہ کے قابل ہیں کہ مسٹر ڈوئی اگر میری
درخواست مباہلہ قبول کرے گا اور صراحتاً یا اشارتاً میرے مقابلہ پر کھڑا ہو گا تو میرے دیکھتے دیکھتے بڑی حسرت اور دُکھ کے ساتھ اس دنیائے فانی کو چھوڑے گا۔“
(ریویو اپریل ١٩٠٧ء ص ١٤٤۔ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٦١٩)
ناظرین! اس فقرہ کو بغور دیکھئے کہ جن لفظوں پر ہم نے خط دیا ہے۔ اُن کو ایڈیٹر ریویو نے موٹے لفظوں میں لکھا ہے۔ پس آپ ذرا انصاف سے بتلائیں کہ ان لفظوں میں کوئی لفظ بھی ایسا ہے جس کے معنی پیشگوئی کے ہیں یا محض ایک درخواست ہے اور ڈوئی کو بلایا جاتا ہے کہ آؤ ہم سے مباہلہ کرو۔ ایڈیٹر ریویو پیشگوئی کے اصلی الفاظ مانگنے والوں پر کھسیانے ہو کر اُن کو بے شرم اور بے حیا تو کہتا ہے۔ مگر ناظرین اُسی کے الفاظ میں دیکھ سکتے ہیں کہ بے شرم اور بے حیا کون ہے۔ وہی بے حیا ہے جو اپنی تحریر کے آپ ہی خلاف کہے۔ پھر اُسی اپنے مخالف کلام کو بطور سند پیش کرے۔ لا يفعله الا من سفه نفسه.
مرزائیو! ایمان سے کہنا ایسے شخص کو امام یا لیڈر ماننا کیا اس شعر کا مصداق نہیں؟ ؎
سيهديهم طريق الهالكين
(جب کوئی گمراہ آدمی کسی قوم کا رہنما ہوگا۔ تو وہ گمراہی کی طرف ہی ہدایت کرے گا) باوجود اس صفائی کے مرزائیوں کی راستبازی کی یہ کیفیت ہے کہ تمام دنیا کو یا تو اندھا جانتے ہیں یا خود ایسے ہیں کہ دنیا بھر میں کوئی ایسا نہ ہوگا۔ چنانچہ قادیانی پارٹی کا اصلی رُکن ایڈیٹر ریویو لکھتا ہے:
”وہ خدائی فیصلہ جو حضرت مسیح موعود نے اپنی دعا میں اللہ تعالیٰ سے مانگا تھا کہ اے خدا تو کھلے طور پر ڈوئی کے جھوٹ کو دنیا پر ظاہر فرما۔ وہ فیصلہ ظاہر کر چکا ہے۔ اور جو پیشگوئی اُس کے انجام کے متعلق تین سال پہلے امریکہ اور یورپ میں شائع ہو چکی تھی وہ نہایت صفائی سے پوری ہو چکی ہے۔ پیشگوئی میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ ڈوئی حضرت مسیح موعود کی زندگی میں بڑے بڑے دُکھ اُٹھا کر اور بڑی بڑی حسرتوں کے ساتھ ہلاک ہو جائے گا ۔“
(ریویو ج ٦ نمبر ٤۔ اپریل ١٩٠٧ء ص ١٤٩)
پھر کمال ہوشیاری یہ ہے کہ بڑی صفائی سے ایڈیٹر مذکور لکھتا ہے کہ ”پیشگوئی کے یہ لفظ تھے کہ وہ (ڈوئی) میری آنکھوں کے سامنے اور میرے دیکھتے دیکھتے حسرت اور دُکھ کے ساتھ اس
٩
دنیا کو چھوڑ جائے گا۔“ (ریویو ج٦ نمبر٤۔اپریل١٩٠٧ء ص١٣٩سطر١٤۔مجموعہ اشتہارات ج٣ص٦١٩)
پس ہم بھی اسی ایک بات پر فیصلہ کرتے ہیں کہ پیشگوئی کے یہ الفاظ دکھا دو تو ہم بھی مان جائیں گے کہ کرشن جی کی یہ پیشگوئی سچی ہوئی۔
مرزائیو! اور مرزا کے ایڈیٹرو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ انصاف کر کے اور تقویٰ سے کام لے کر پیشگوئی کے یہ الفاظ دکھا دو۔ نہیں تو یاد رکھو کہ ”مرقع قادیانی“ تمہارے ہی مقابلہ کے لئے جاری ہوا ہے۔ تم دیکھ لو گے کہ عمر بھر اس تقاضا سے تمہاری جان نہ چھوٹے گی۔ آج تک مرزا جی جس قدر ہمارے مؤاخذات سے چلائے ہیں۔ اُس سے زیادہ چلاؤ گے:
میں وہ بلا ہوں شیشہ سے پتھر کو توڑ دوں
......☆......
سچے اور جھوٹے مسیح میں رقابت
آج کل کچھ ایسا دستور ہو رہا ہے کہ جھوٹے دوکاندار جب اپنی دوکان کا اشتہار دیتے ہیں تو خواہ مخواہ بھی دوسرے دوکانداروں کی طرف کوئی نہ کوئی لفظ نوک جھونک کا لکھ دیتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو اتنا ضرور ہی لکھیں گے کہ ”جھوٹے دغابازوں سے بچو“۔ یہی حال ہمارے پنجابی متنبّی مرزا صاحب قادیانی کا ہے کہ جب سے آپ نے مسیحیت کا دعویٰ کیا ہے۔ خواہ نخواہ آپ حضرت مسیح کی کسی نہ کسی لفظ میں تحقیر شان کرتے ہی رہتے ہیں۔ آپ نے اپنے ازالہ میں لکھا:۔
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بمنبرم
(ازالہ اوہام ص١٥٨۔خزائن ج٣ص١٨٠)
پھر (دافع البلاء ص٢٠ خزائن ج١٨ص٢٤٠ میں) لکھا ؎
اس سے بہتر غلام احمد ہے
گو اس قسم کی عبارات توہین مسیح میں صاف ہیں۔ لیکن مرزاجی کے معتقدین پھر بھی اُن
١٠
کی تاویلات رکیکہ کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے آج ہم ایک ایسی عبارت مرزا جی کی توہین مسیح میں تازہ دکھاتے ہیں جس کے دل میں ذرہ بھر بھی حضرات انبیاء خصوصاً حضرت مسیح علیہم السلام کی عظمت اور عزت ہوگی وہ بھی مرزا صاحب پر نفرین کرے گا۔ اور جان جائے گا کہ قادیانی متنبی اشتہاری دوکانداروں کی طرح خواہ مخواہ بزعم خود حضرت مسیح کو اپنا رقیب سمجھتا ہے۔ بہرحال وہ عبارت یہ ہے:
قادیانی اخبار بدر ج ٦ نمبر ١٩ ص ٥ ۔مورخہ ٩ مئی ١٩٠٧ء میں مرزا صاحب کے کلمات ناطیبات کی ذیل میں لکھتا ہے کہ مرزا صاحب نے فرمایا:
”دوبارہ آمد :۔ فرمایا ایک دفعہ حضرت مسیح زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشرک دنیا میں ہو گئے۔ دوبارہ آ کر وہ کیا بنائیں گے کہ لوگ اُن کے آنے کے خواہشمند ہیں۔“
اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی تعلیم سے لوگ مشرک ہوئے ہیں۔ حضرت نے اتنا بھی نہیں سوچا کہ قرآن مجید تو مسیح کی برأت کرتا ہے اور صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ اُس نے صرف توحید کی تعلیم دی تھی۔ پھر اُس کی عظمت اور بزرگی بتلانے کو ”وجیهاً فی الدنیا والاخرۃ ومن المقربین“ فرمایا (یعنی دین و دنیا میں عزت والا اور خدا کے مقرب بندوں میں سے ہے) مگر مرزا صاحب اپنی رقابت کاذبہ کے زعم میں عیسائیوں کی غلطی کو اُس پاک نبی اور برگزیدہ خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
مرزائیو ! اب بھی کہو گے کہ تمہارا مہدی اور کرشن حضرت مسیح کی توہین نہیں کرتا؟
(مرقع قادیانی، جون ١٩٠٧ء)
......☆......
قادیانی مشین میں الہام بافی
قادیانی مشین کے پرزے الہام بافی میں کچھ ایسے تیز ہیں کہ ایک دن میں ہزارہا الہام بُن ڈالتے ہیں۔ الہاموں کا شمار تو ناظرین کو غالباً معلوم ہوگا۔ مگر اُن کے بُنے جانے کی کیفیت شاید معلوم نہ ہو۔ پس آج ہم اس الہام بافی کی کیفیت بتلاتے ہیں کہ یہ الہام قادیانی مشین میں
١١
کس طرح تیار ہوتے ہیں۔ ناظرین غور سے سنیں۔ اپریل کے مہینے میں مولوی ابوسعید محمد حسین بٹالوی نے کاپیاں صحیح کرانے کے لئے منشی غلام محمد کاتب کو خط لکھا جو قادیان میں مرزا صاحب کا کام کرتا تھا۔ کہ بٹالہ میں آکر ہمارا کام کر دو۔ اور اگر تمہیں آنے کی فرصت نہ ہو تو میں ہی قادیان میں آجاؤں گا۔ مگر الگ کسی مکان میں رہوں گا۔ اس امر کی اطلاع جب مرزا صاحب کو ہوئی کہ مولوی صاحب قادیان میں آنا چاہتے ہیں تو مرزا صاحب نے کئی ایک دعوتی خط مولوی محمد حسین صاحب کو لکھے۔ جن میں سے چند ایک فقرات ہم یہاں نقل کرتے ہیں:
”جناب مولوی صاحب سلمہٗ۔ بعد دعائے مخلصانہ میں نے رقعہ آپ کا پڑھ لیا۔ مجھے سخت افسوس ہے کہ میں ایک سخت ضرورت کے باعث چند روز تک میاں غلام محمد کاتب کو اجازت نہیں دے سکتا۔ آپ میرے پُرانے زمانے کے دوست ہیں اور آپ سے مجھے دلی محبت باوجود اُس مذہبی اختلاف کے جو قضا و قدر سے درمیان میں آگیا ہے۔ جس کو خدائے علیم جانتا ہے۔ آپ بلا تکلف دو تین روز کے لئے یہاں آجائیں۔ کوئی امر مذہبی درمیان میں نہیں آئے گا۔ اور مجھ سے آپ ہر طرح تواضع پائیں گے۔ اور آپ کا مضمون اس جگہ کے مطبع میں چھپ بھی سکتا ہے۔“
(١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء۔ خاکسار غلام احمد از قادیان)
اس خط میں کس لجاجت نرمی اور چاپلوسی سے مولوی صاحب موصوف کو دعوت دے کر بلایا ہے۔ خیر اس چال کا حشر تو یہ ہوا کہ اتنے میں خاکسار کو اس خط و کتابت کی خبر ہوئی تو بحکم ”گونگے کی بولی گونگے کی ماں جانے“ خاکسار نے مرزا جی کے مطلب کو پالیا کہ حضرت جی اس میں معجزہ نمائی کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے مولوی صاحب کو میں نے فوراً لکھا کہ اتنے کام کے لئے آپ قادیان میں نہ جائیں۔ میں اپنا کام چھڑا کر آپ کا یہ کام کرادوں گا۔ مولوی صاحب موصوف نے بھی یہی مناسب سمجھا۔ اور امرتسر تشریف لے آئے۔ مگر مرزا صاحب نے چونکہ مولوی صاحب کو بلانے کے لئے بڑی کوشش کی تھی اُن کو رات دن یہی خیال تھا کہ مولوی صاحب آئے کہ آئے۔ اس لئے اُن کو بقول ”بلی کو چھیچھڑوں کے خواب“ ١١؍ مئی کو ایک خواب آیا۔ جو ١٦؍ مئی کے بدر میں ان لفظوں میں چھپا کہ:
”رؤیا ...... مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی کو دیکھا کہ وہ ہمارے مکان میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کسی اپنے آدمی کو کہا کہ مولوی صاحب کو خاطر
١٢
داری سے کھانا کھلانا چاہئے۔ ان کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس رویا سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم کہ وہ دن نزدیک ہے کہ خدائے تعالیٰ مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کو خود رہنمائی کرے کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ بھی ایک الہام سے معلوم ہوا کہ خدائے تعالیٰ آخر وقت میں اُن کو سمجھ دے گا کہ انکار کرنا اُن کی غلطی تھی اور یہ کہ میں اپنے دعویٰ مسیح موعود میں حق پر ہوں۔ مگر معلوم نہیں کہ آخر وقت کے کیا معنی ہیں۔“
(بدر ج ٦ نمبر ٢٠ ص ٤۔ ١٦ مئی ١٩٠٧ء۔ تذکرہ ص ١٨ طبع ٣)
اس خواب اور اس خط کو ملانے سے مرزائی الہام بافی کی کیفیت یہ معلوم ہوئی کہ جو امر دن کو آپ کی آنکھوں کے سامنے اور دماغ کے اندر مضبوطی سے جگہ پکڑے ہوتا تھا وہی رات کو خواب آتا تھا۔ اسی کا نام الہام ہے اور اسی کو کہتے ہیں ”بلی کو چھیچھڑوں کے خواب“۔
باقی رہا آپ کا یہ نتیجہ نکالنا کہ مولوی صاحب موصوف آخر کار اپنی غلطی کا اقرار کریں گے اور مجھے مان جائیں گے۔ سو یہ آپ کی پُرانی تمنا ہے۔ چنانچہ ’اعجاز احمدی (ص ٥١۔ خزائن ج ١٩ص ١٦٤) میں بھی آپ یہ لکھ چکے ہیں۔
عجیب وعنداللہ ھین وایسر
کیا محمد حسین کا دل ہدایت پر آ جائے گا۔ کون گمان کر سکتا ہے۔ عجیب بات ہے اور خدا کے نزدیک سہل اور آسان ہے۔
مگر انشاء اللہ یہ صرف آپ کی اُمنگ رہے گی جیسی کہ آج تک آسمانی منکوحہ کے وصال سے حسرت ہے کہ باوجود آسمان پر نکاح ہو چکنے کے آپ کے دل سے حسرت بھری آہ ہی سننے میں آتی رہی؎
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جُدا
اسی طرح آپ اس حسرت کو بھی سینہ میں ساتھ ہی لے جائیں گے۔ اور مولوی صاحب ممدوح برابر آپ کا سر کوٹتے رہیں گے۔
(مرقع قادیانی‘ جولائی ١٩٠٧ء)
.......☆.......
١٣
مرزا صاحب کا فتویٰ طاعونی مردوں کے دفن کے متعلق
کسی طرح سے تو مٹ جائے ولولہ دل کا
مرزا جی کی نیرنگیاں جو خاکسار کو معلوم ہیں کاش مرزا جی کے مریدوں خصوصاً علم و فضل کے مدعیوں کو معلوم ہوں تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی مرید نہیں رہ سکتے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب آپ نے دعویٰ کیا تھا کہ طاعون میرے مخالفوں پر عذاب بھیجا گیا ہے۔ میرے مرید اس سے محفوظ رہیں گے۔ چنانچہ (کاغذی) کشتی نوح میں لکھا تھا:
”اگر ہمارے لئے آسمانی روک نہ ہوتی تو سب سے پہلے رعایا میں سے ہم ٹیکا کراتے۔ اور آسمانی روک یہ ہے کہ خدا نے چاہا کہ اس زمانے میں انسانوں کو ایک آسمانی رحمت کا نشان دکھا دے۔ سو اُس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چاردیواری کے اندر ہوگا۔ اور وہ جو کامل پیروی اور سچے تقویٰ سے تجھ میں محو ہو جائے گا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے۔“
(کشتی نوح ص ٢٧۔ خزائن ج ١٩ ص ٢٧)
اس عبارت کی مزید تشریح کی حاجت نہیں۔ کیونکہ مضمون صاف ہے کہ مرزا جی اور ان کے گھر والے اور اُن کے راسخ الاعتقاد فانی الشیخ جن کو فانی المرزا کہنا بجا ہو طاعون سے محفوظ رہیں گے۔ اسی مضمون کو مرزا جی نے کتاب ”مواہب الرحمٰن“ میں اور بھی واضح کر دیا ہے۔ جس کے ہم مشکور ہیں۔ آپ فرماتے ہیں:
”لنا من الطاعون امان ولا تخوفونی من هذه النیران فان النار غلامنا بل غلام الغلمان۔“
(مواہب الرحمٰن ص ٢٣۔ خزائن ج ١٩ ص ٢٣٢)
یعنی ہمارے لئے طاعون سے امان ہے۔ مجھ کو طاعون سے مت ڈراؤ۔ طاعون ہمارا غلام یعنی تابعدار ہے بلکہ غلاموں کا غلام ہے۔“
مگر چونکہ مرزا جی کو اپنا اندر کا پول معلوم تھا کہ ڈھول کی آواز ہی آواز ہے۔ اندر کچھ نہیں ہے۔ اس لئے آپ نے طاعون زدوں سے بڑی احتیاط اور پرہیز کے حکم صادر کیے۔ یہاں تک کہ مرزا جی کا مقرب اخبار البدر کا ایڈیٹر محمد افضل جب طاعون ہی سے قادیان میں مرا۔ تو مرزا
١٤
اور مرزائیوں نے اُس سے کوئی ہمدردی نہ کی۔ بلکہ جس مسجد میں اُس کی چار پائی الگ کی گئی تھی۔ بحکم مرزا جی اُس مسجد کے کنوئیں سے رسی اور ڈول کئی دنوں تک اُترا رہا۔ تاکہ کہیں اس کنوئیں کا پانی سقے گھروں میں نہ لے آویں۔ نہ اُس کے جنازہ پر کوئی گیا۔ اسی طرح قاضی امیر حسین بھیروی کا جوان لڑکا طاعون کی بھینٹ چڑھا۔ اور مرزائیوں نے اُس سے بھی وہی سلوک کیا جو فضل مذکور سے کیا تھا۔ تو قاضی موصوف نے مرزاجی کی خدمت میں آکر بہت شور و غل کیا کہ آپ کے مرید تو کافروں سے بدتر ہیں۔ کسی میں ہمدردی نہیں۔ یہ نہیں وہ نہیں۔ اس پر مرزا جی کو ہوش آیا تو آپ نے ایک تقریر کی جو ٤ مئی ١٩٠٥ء کے اخبار بدر قادیاں میں چھپی تھی جو یہ ہے:
اس وقت تمام جماعت کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اپنی جماعت کے اندر طاعون کے بیماروں اور شہیدوں کے ساتھ پوری ہمدردی اور اخوت کا سلوک کرنا چاہئے۔ یاد رکھو تم میں اس وقت دو اخوتیں جمع ہو چکی ہیں۔ ایک تو اسلامی اخوت اور دوسری اس سلسلہ کی اخوت ہے۔ پھر اُن دو اخوتوں کے ہوتے ہوئے گریز اور سردمہری ہو تو یہ سخت قابل اعتراض امر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم خارج از مذہب سمجھتے ہو اور وہ تم کو کافر کہتے ہیں اُن میں ایسے موقع پر سرد مہری نہیں ہوتی۔ جن لوگوں سے یہ سرد مہری ہوتی ہے وہ دو باتوں کا لحاظ نہیں رکھتے افراط اور تفریط کا۔ اگر افراط اور تفریط کو چھوڑ کر اعتدال سے کام لیا جائے تو ایسی شکایت پیدا نہ ہو۔ جبکہ ”تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ“ کا حکم ہے تو پھر ایسے مُردوں سے گریز کیوں کیا جائے۔ اگر کسی کے مکان کو آگ لگ جائے اور وہ فریاد کرے تو جیسے یہ گناہ ہے کہ محض اس خیال سے کہ میں نہ جل جاؤں اُس مکان کو اور اس میں رہنے والوں کو جلنے دے اور جا کر آگ بجھانے میں مدد نہ دے۔ ویسے ہی یہ بھی معصیت ہے کہ ایسی بے احتیاطی سے اس میں کود پڑے کہ خود جل جائے۔ ایسے موقع پر احتیاط مناسب کے ساتھ ضروری ہے کہ آگ بجھانے میں اُس کی مدد کرے۔ پس اسی طریق پر یہاں بھی سلوک ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے جابجا رحم کی تعلیم دی ہے کہ یہی اخوۃ اسلامی کا منشاء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرمایا ہے کہ تمام مسلمان مومن آپس میں بھائی ہیں۔ ایسی صورت میں کہ تم میں اسلامی اخوۃ قائم ہو۔ اور پھر اس سلسلہ میں ہونے کی وجہ سے دوسری اخوۃ بھی ساتھ ہو۔ یہ بڑی غلطی ہو گی کہ کوئی شخص مصیبت میں گرفتار ہو اور قضا و قدر سے اُسے ماتم پیش آ جائے تو دوسرا تجہیز و تکفین میں بھی اُس کا شریک نہ ہو ہرگز ہرگز اللہ تعالیٰ کا یہ منشا نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کے صحابہ جنگ میں شریک ہوتے یا مجروح ہو جاتے تو میں یقین نہیں رکھتا کہ صحابہ انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہوں۔ یا پیغمبر ﷺ اس بات پر راضی ہو جاتے ہوں کہ وہ اُن کو چھوڑ کر
١٥
چلے جاویں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایسی وارداتوں کے وقت ہمدردی بھی ہو سکتی ہے اور احتیاط مناسب بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ اول تو کتاب اللہ سے یہ مسئلہ ملتا ہی نہیں کہ کوئی مرض لازمی طور پر دوسرے کو لگ بھی جاتی ہے ١۔ ہاں جس قدر تجارب سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے لئے بھی نص قرآنی سے احتیاط مناسب کا پتہ لگتا ہے۔ جہاں ایسا مرض ہو کہ وہ شدت سے پھیلی ہوئی ہو۔ وہاں احتیاط کر لے یہی مناسب ہے۔ لیکن اس کے بھی یہ معنی نہیں کہ ہمدردی چھوڑ دے۔ خدا تعالیٰ کا ہر گز یہ منشاء نہیں ہے کہ انسان ایک میت سے اس قدر بُعد اختیار کرے کہ میت کی ذلت ہو۔ اور پھر اُس کے ساتھ جماعت کی ذلت ہو۔ خوب یاد رکھو کہ ہرگز اس بات کو نہیں کرنا چاہئے۔ جبکہ خدا تعالیٰ نے تمہیں باہم بھائی بنا دیا ہے۔ پھر نفرت اور بُعد کیونکر ہو سکتا ہے۔ اگر وہ بھی مرے گا تو اُس کی بھی کوئی خبر نہیں لے گا۔ اور اس طرح پر اخوّۃ کے حقوق تلف ہو جائیں گے۔ خدا تعالیٰ نے دو ہی قسم کے حقوق رکھے ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ جو شخص حقوق العباد کی پروا نہیں کرتا وہ آخر حقوق اللہ کو بھی چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ حقوق العباد کا لحاظ رکھنا یہ بھی تو امر الٰہی ہے جو حقوق اللہ کے نیچے ہے۔
یہ خوب یاد رکھو اللہ تعالیٰ پر توکل بھی کوئی شے ہے۔ یہ مت سمجھو کہ تم نرے پرہیزوں سے بچ سکتے ہو۔ جب تک خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو۔ اور انسان اپنے آپ کو کار آمد انسان نہ بنائے اس وقت تک اللہ تعالیٰ اُس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔ خواہ ہزار بھاگتا پھرے کیا وہ لوگ جو طاعون میں مبتلا ہوتے ہیں وہ پرہیز نہیں کرتے۔ میں نے سنا ہے کہ لاہور میں نواب صاحب کے قریب ہی ایک انگریز رہتا تھا وہ مبتلا ہو گیا۔ حالانکہ یہ لوگ تو بڑے پرہیز کرنے والے ہیں۔ نرا پرہیز کوئی چیز نہیں۔ جب تک خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق نہ ہو۔ پس یاد رکھو کہ حقوق اُخوّۃ کو ہرگز نہ چھوڑو۔ ورنہ حقوق اللہ بھی نہ رہیں گے۔ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ طاعون کا سلسلہ جو مرکز پنجاب ہو گیا کب تک جاری رہے۔ لیکن مجھے یہی بتایا گیا ہے ”ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم“ اللہ تعالیٰ کبھی حالت قوم میں تبدیلی نہ کرے گا جب تک لوگ دلوں میں تبدیلی نہ کریں گے۔ ان باتوں کو سُن کر یوں تو ہر شخص جواب دینے کو تیار ہو جاتا ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں۔ استغفار بھی کرتے ہیں۔ پھر کیوں مصائب اور ابتلاء آ جاتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی باتوں کو جو سمجھ لے وہی سعید ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا منشاء کچھ اور ہوتا ہے سمجھا کچھ اور جاتا ہے اور پھر اپنی عقل اور عمل کے پیمانہ سے ناپا جاتا ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہر چیز جب اپنے مقررہ وزن
١ مرزا صاحب کی اُردو ایسی ہی تھی جس میں تذکیر و تانیث کی تمیز لازمی نہ تھی (مرتب)
١٦
سے کم استعمال کی جائے تو وہ فائدہ نہیں ہوتا جو اُس میں رکھا گیا ہے۔ مثلاً ایک دوائی جو تولہ کھانی چاہئے اگر ایک تولہ کی بجائے ایک بوند استعمال کی جائے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا اور اگر روٹی کی بجائے کوئی ایک دانہ کھا لے تو کیا وہ سیری کا باعث ہو سکے گا۔ اور پانی کے پیالہ کی بجائے ایک قطرہ سیراب کر سکے گا؟ ہرگز نہیں۔ یہی حال اعمال کا ہے جب تک وہ اپنے پیمانہ پر نہ ہوں وہ اوپر نہیں جاتے ہیں۔ یہ سنت اللہ ہے جس کو ہم بدل نہیں سکتے۔ پس یہ بالکل خطا ہے کہ اسی ایک امر کو پلے باندھ لو کہ طاعون والے سے پرہیز کریں تو طاعون نہ ہوگا۔ پرہیز کرو جہاں تک مناسب ہے۔ لیکن اس پرہیز سے باہمی اخوت اور ہمدردی نہ اُٹھ جائے۔ اور اس کے ساتھ ہی خدا سے سچا تعلق پیدا کرو۔ یاد رکھو کہ مردہ کی تجہیز وتکفین میں مدد دینا اور اپنے بھائی کی ہمدردی کرنا صدقات و خیرات کی طرح یہ بھی ایک قسم کی خیرات ہے۔ اور یہ حق حق العباد ہے۔ جو فرض ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ نے صوم وصلوٰۃ اپنے لئے فرض کیا ہے اسی طرح اس کو بھی فرض ٹھہرایا ہے کہ حقوق العباد کی حفاظت ہو۔ پس ہمارا کبھی یہ مطلب نہیں ہے کہ احتیاط کرتے کرتے اخوۃ ہی کو چھوڑ دیا جائے۔ ایک شخص مسلمان ہو پھر سلسلہ میں داخل ہو اور اُس کو یوں چھوڑ دیا جائے جیسے کُتے کو...... یہ بڑی غلطی ہے۔ جس زندگی میں اخوت اور ہمدردی ہی نہ ہو وہ کیا زندگی ہے۔ پس ایسے موقع پر یاد رکھو کہ اگر کوئی ایسا واقعہ ہو جائے تو ہمدردی کے حقوق فوت نہ ہونے پائیں۔ ہاں مناسب احتیاط بھی کرو۔ مثلاً ایک شخص طاعون زدہ کا لباس پہن لے یا اُس کا پس خوردہ کھا لے تو اندیشہ ہے کہ وہ مبتلا ہو جائے۔ لیکن ہمدردی یہ نہیں بتاتی کہ تم ایسا کرو۔ احتیاط کی رعایت رکھ کر اُس کی خبر گیری کرو۔ اور پھر جو زیادہ وہم رکھتا ہو وہ غسل کر کے صاف کپڑے بدل لے۔ جو شخص ہمدردی کو چھوڑتا ہے وہ دین کو چھوڑتا ہے۔ قرآن شریف فرماتا ہے ”مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ۔ الآیۃ“ یعنی جو شخص کسی نفس کو بلاوجہ قتل کر دیتا ہے وہ گویا ساری دنیا کو قتل کرتا ہے۔ ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنے بھائی کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تو اُس نے ساری دنیا کے ساتھ ہمدردی نہیں کی۔ زندگی سے اس قدر پیار نہ کرو کہ ایمان ہی جاتا رہے۔ حقوق اخوت کو کبھی نہ چھوڑو۔ وہ لوگ بھی تو گزرے ہیں جو دین کے لئے شہید ہوئے ہیں۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات پر راضی ہے کہ وہ بیمار ہو اور کوئی اُسے پانی تک نہ دینے جائے۔ خوفناک وہ بات ہوتی ہے جو تجربہ سے صحیح ثابت ہو۔ بعض ملّا ایسے ہیں جنہوں نے صدہا طاعون سے مرے مُردوں کو غسل دیا اور اُنہیں کچھ نہیں ہوا۔ آنحضرت ﷺ نے اسی لئے فرمایا ہے کہ یہ غلط ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے۔ وبائی ایام میں اتنا لحاظ کرے کہ ابتدائی حالت ہو تو وہاں سے نکل جائے۔ لیکن جب زور شور ١٧
ہو تو مت بھاگے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو کہا تھا کہ تم ابواب متفرقہ سے داخل ہونا۔ اس لحاظ سے کہ مبادا کوئی جاسوس سمجھ کر پکڑ نہ لے۔ احتیاط تو ہوئی۔ لیکن قضا و قدر کے معاملہ کو کوئی روک نہ سکا۔ وہ ابواب متفرقہ سے داخل ہوئے لیکن پکڑے گئے۔ پس یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں۔ ایمان کو مضبوط رکھو۔ قطع حقوق معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہو وہ عقل اور انصاف کی رو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضر ثابت ہوئے ہیں۔ یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہو کہ ان میں اخوت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی۔ میں دوسرا پہلو نہ بیان کرتا لیکن مجھے چونکہ سب سے ہمدردی ہے اس لئے اسے بھی میں نے بیان کرنا ضروری سمجھا۔ بہرحال باہم ہمدردی ہو۔ اور اب میں اس دعا کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت سے اس طاعون کو اُٹھا لے۔ آمین‘۔
(بدر ٤؍ مئی ١٩٠٥ء۔ ملفوظات ج ٧ ص ٣٤٩ تا ٣٥٣)
اس ساری تقریر میں دو تین ہی باتوں کا ذکر ہے جس کو شیطان کی آنت سے بھی حسب عادت لمبا کیا گیا ہے۔ (١) مرزائیوں میں طاعون ہے اور ضرور ہے۔ (٢) یہ کہ طاعون متعدی مرض نہیں ہے۔ (٣) طاعونی مردوں کی بے عزتی نہیں کرنی چاہئے اُن کے دفن کفن میں شریک ہونا چاہئے۔ بہت خوب ہمیں اس میں بحث نہیں۔ ہمارا مقصود ابھی آگے ہے۔ مگر اس مقصود سے پہلے ہم ایک لطیفہ بتلانا ضروری جانتے ہیں۔
اس تقریر میں یہ ذکر ہے کہ اس جماعت میں اگر اخوت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہو گی۔ مگر دوسرے ایک موقع پر مرزا جی خود ہی تسلیم کرتے ہیں کہ میرے مرید بدخلق ہیں۔ بدتہذیب ‘نامراد ہیں۔ ناپاک باطن وغیرہ ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں:
”حضرت مولوی نور الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کر چکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص للّٰہیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور للّٰہی محبت باہم پیدا نہیں کی۔ سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر اور اس عاجز سے بیعت کر کے اور عہد توبہ نصوح کر کے پھر بھی کج دل ہیں۔ کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔ وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کر سکتے۔ چہ جائیکہ خوش خلقی اور
١٨
ہمدردی سے پیش آئیں۔ اور انہیں سفلہ اور خودغرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خودغرضی کی بنا پر لڑتے ہیں اور ایک دوسرے سے دست بدامن ١؎ ہوتے ہیں۔ اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کر لیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پر نفسانی بحثیں ہوتی ہیں۔“
(اشتہار التوائے جلسہ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٤٤١۔ ملحقہ بہ رسالہ شہادۃ القرآن ص ٩٩۔ خزائن ج ٦ ص ٣٩٥)
اس مرزائی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا جی کی تشریف آوری سے اسلام کو کوئی ایسا بڑا فائدہ نہیں ہوا جتنا کہ نقصان ہوا ہے۔ خیر یہ بھی سہی۔ اس سے بھی ہمارا مطلب نہیں۔ بلکہ مطلب ہمارا آگے آتا ہے۔ مرزا جی نے ١٠؍اپریل ١٩٠٧ء کے الحکم میں ایک نیا سرکلر جاری کیا جو قابل غور ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
”یہ دن خدا تعالیٰ کے غضب کے دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کئی بار مجھے بذریعہ وحی فرمایا ہے کہ ”غضبت غضباً شدیداً“ آج کل طاعون بہت بڑھتا جاتا ہے اور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ میں اپنی جماعت کے واسطے خدا تعالیٰ سے بہت دعا کرتا ہوں کہ وہ اُس کو بچائے رکھے۔ مگر قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جب قہر الٰہی نازل ہوتا ہے تو بدوں کے ساتھ نیک بھی لپیٹے جاتے ہیں اور پھر اُن کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا۔ دیکھو حضرت نوحؑ کا طوفان سب پر پڑا ٢؎ اور ظاہر ہے کہ ہر ایک مرد عورت اور بچے کو اس سے پورے طور پر خبر نہ تھی کہ نوح کا دعویٰ اور دلائل کیا ہیں۔ جہاد میں جو فتوحات ہوئیں وہ سب اسلام کی صداقت کے واسطے نشان تھیں لیکن ہر ایک میں کفار کے ساتھ مسلمان بھی مارے گئے۔ کافر جہنم کو گیا مسلمان شہید کہلایا۔ ایسا ہی طاعون ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان ہے اور ممکن ہے کہ اس میں ہماری جماعت کے بعض آدمی بھی شہید ہوں۔ ہم خدا تعالیٰ کے حضور دعا میں مصروف ہیں کہ وہ اُن میں اور غیروں میں تمیز قائم رکھے ٣؎ لیکن جماعت کے آدمیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کچھ نہیں بنتا۔ جب تک کہ ہماری تعلیم پر عمل نہ کیا جائے۔ سب سے اول حقوق اللہ کو ادا کرو۔ اپنے نفس کو تمام جذبات سے پاک رکھو۔ اس کے بعد حقوق عباد کو ادا کرو۔ اور اعمال صالحہ کو پورا کرو۔ خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ۔ اور تضرع کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہو۔ اس کے بعد اسباب ظاہری کی رعایت رکھو۔ جس مکان میں چوہے مرنے شروع ہوں اُسے خالی کر دو۔ اور جس محلے میں طاعون ہو اُس محلہ سے نکل جاؤ اور کسی کھلے میدان میں جا کر ڈیرا لگاؤ۔ جو تم میں سے
١؎ مرزائیو! کیا تم ایسے ہی ہو۔ افسوس؟ ٢؎ اس کا ثبوت کیا؟ ٣؎ جب دونوں مرے تو تمیز کیسی؟
١٩
بتقدیر الٰہی طاعون میں مبتلا ہو جائے اس کے ساتھ اور اس کے لواحقین کے ساتھ پوری ہمدردی کرو اور ہر طرح سے مدد کرو۔ اور اس کے علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھو۔ لیکن یاد رہے کہ ہمدردی کے یہ معنی نہیں کہ اُس کے زہریلے سانس یا کیڑوں سے متاثر ہو جاؤ۔ بلکہ اُس اثر سے بچو۔ اسے کھلے مکان میں رکھو۔ اور جو خدانخواستہ اس مرض سے مر جائے۔ وہ شہید ہے۔ اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں ہے اور نہ نیا کفن پہنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو ایک سفید چادر اُس پر ڈال دو۔ اور چونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہریلا اثر زیادہ ترقی پکڑتا ہے اس واسطے سب لوگ اُس کے اردگرد جمع نہ ہوں۔ حسب ضرورت دو تین آدمی اُس کی چارپائی کو اُٹھائیں۔ باقی سب دور کھڑے ہو کر مثلاً ایک سو گز کے فاصلہ پر کھڑے ہو کر جنازہ پڑھیں۔ جنازہ ایک دعا ہے اور اس کے لئے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر پر کھڑا ہو۔ جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان ہو سکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر میت کو لاد کر لے جائیں۔ اور میت پر کسی قسم کی جزع فزع نہ کی جائے خدا کے فعل پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔ اس بات کا خوف نہ کرو کہ ایسا کرنے سے لوگ تمہیں بُرا کہیں گے وہ پہلے کب تمہیں اچھا کہتے ہیں۔ یہ سب باتیں شریعت کے مطابق ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ آخر کار وہ لوگ جو تم پر ہنسی کریں گے۔ خود بھی ان باتوں میں تمہاری پیروی کریں گے۔ مگر مکرراً یہ بہت تاکید ہے کہ جو مکان بہت تنگ اور تاریک ہو اور ہوا اور روشنی خوب طور پر نہ آسکے اُس کو بلا توقف چھوڑ دو۔ کیونکہ خود ایسا مکان ہی خطرناک ہوتا ہے۔ گو کوئی چوہا بھی اس میں نہ مرا ہو۔ اور حتی المقدور مکانوں کی چھتوں پر رہو۔ نیچے کے مکان سے پرہیز کرو۔ اور اپنے کپڑوں کو صفائی سے رکھو۔ نالیاں صاف کراتے رہو۔ سب سے مقدم یہ کہ اپنے دلوں کو بھی صاف کرو۔ اور خدا کے ساتھ پوری صلح کرلو۔‘‘
(الحکم ١٠؍اپریل ١٩٠٧ء ۔ ملفوظات ج٩ ص٢٥٢‘ ٢٥٣)
ناظرین! خدارا اس مسیح کی حکمت عملیاں دیکھتے جائیں کہ پہلے سرکلر مندرجہ بدر ٤؍مئی ١٩٠٥ء میں کیا ہدایتیں کرتا ہے اور کیسا برادرانہ سلوک سکھاتا ہے کہ میت کو ذلیل نہ کرو۔ پرہیز سے کیا ہوتا ہے۔ ایک ملا (مردہ شو) سینکڑوں طاعونی مردوں کو غسل دیتا ہے اس کو کچھ بھی ضرر نہیں ہوتا۔ قرآن مجید سے طاعون کا متعدی ہونا ثابت ہی نہیں بلکہ محض وہم ہے۔ وغیرہ۔ اس کو دوبارہ پڑھئے۔ مگر اس مضمون میں میت کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے۔ تین چار آدمی چارپائی اٹھا کر چلیں بلکہ ہٹ کر دور رہیں بلکہ جنازہ بھی سو گز کے فاصلہ پر پڑھیں۔ واہ
٢؎ مرزائیو! کوئی آیت یا حدیث اس دعویٰ پر لا سکتے ہو؟
٢٠ سکتے ہو؟
٢٠؟
سبحان اللہ! (مرے مردود نہ فاتحہ نہ درود) مرزائی دوستو! "الیس فیکم رجل رشید" کیا تم میں کوئی بھی سمجھ دار نہیں؟ ضرور ہوگا۔ جب بڑے میاں نے پہلی بات کہی تھی اس وقت بھی تم لوگوں نے سبحان اللہ کہا تھا۔ اور جب یہ دوسری بات فرمائی تو اس وقت بھی تم لوگوں نے ”آمنا و صدقنا“ کہا۔ اس لئے تمہارے حال پر سخت رحم آتا ہے کہ تم لوگوں نے بے سوچے سمجھے مرزا جی کو اپنا امام بنا رکھا ہے۔ جسے اتنی بھی خبر نہیں کہ شریعت کے کیا اصول ہیں یا میں نے پہلے کیا کہا تھا اور اب کیا کہتا ہوں۔ سچ ہے۔
کیا وعدہ انہیں کر کے مکرنا نہیں آتا
ناظرین! اس منقولہ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ ڈاکٹری طریق سے پرہیز کرو اور اسباب پر اعتماد کرو۔ ناظرین! بس اس خلاصہ کو ملحوظ رکھ کر اس بزرگ کا ایک اور قول سنو۔ آپ فرماتے ہیں:
اعلم ان الاسباب اصل عظیم للشرک الذی لا یغفر و انها اقرب ابواب الشرک واوسعها للذی لا یحذر و کم من قوم اهلکهم هذا الشرک واردیٰ فصاروا کالطبیعیین والدهریین.
(مواہب الرحمٰن ص ٥۔ خزائن ج ١٩ ص ٢٢٣)
یعنی اسباب طبعیہ کا پابند ہونا شرک کی بڑی جڑ ہے جو کبھی نہ بخشا جائے گا اور شرک کے سب دروازوں سے بہت قریب یہ دروازہ (اسباب طبعیہ) کا ہے۔ اور سب سے فراخ اور چوڑا اس شخص کے حق میں جو شرک سے بچتا نہیں۔ بہت سی قوموں کو اس شرک (یعنی اسباب کے استعمال اور بھروسہ) نے گمراہ کر دیا۔ پس وہ طبیعی یا دہریہ ہوگئے۔“
مرزا جی کے مریدو! مرزا صاحب سے تم پوچھ سکتے ہو یا ہمیں اپنی طرف سے پوچھنے کی اجازت دے سکتے ہو کہ جب اسباب پر بھروسہ کرنے سے آدمی گمراہ اور مشرک ہو جاتا ہے تو آپ نے ١٠؍اپریل کے اخبار الحکم (اور ملفوظات ج ٩ ص ٢٥٢‘ ٢٥٣) میں جو سرکلر دیا ہے کہ طاعونی مردے میں زہریلا اثر زیادہ ہوتا ہے اور یہ پرہیز جو آپ نے بتایا ہے۔ اسباب کے لحاظ سے ہے یا کچھ اور۔ پھر آپ بھی اس کی پابندی سے مشرک ہوئے یا نہیں؟
مرزائیو! تمہاری وکالت میں ہم نے سوال تو کر دیا ہے۔ مگر جواب ملنے کی توقع نہیں۔ پس اب تم جانو اور تمہارا امام۔ ہم نے تو تم کو اس شرک کا ثبوت دینا تھا جو دے دیا۔ اب تم
٢١
جانو! اور وہ
حوالت باخدا کردیم و رفتیم
ناظرین! مرزاجی جو خاکسار سے خفا تھے کہ اس نے میرے سلسلہ کو ہلا دیا۔ بہت نقصان پہنچایا۔ یہ کیا وہ کیا۔ اس کی وجہ آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہی معقول بحث ہے جو حوالجات صحیحہ پر مبنی ہوتی ہے نہ کہ زبانی رام کہانی اور گالی گلوچ۔
جادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے
(مرقع بابت جولائی ١٩٠٧ء)
……☆……
سرسید احمد خاں اور مرزا صاحب قادیان
کمر پتلی صراحی دار گردن
اس مضمون میں ہم ان دونوں نام آوروں کی پبلک زندگی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ پبلک زندگی سے ہماری مراد فن تصنیف ہے۔ جس کی وجہ سے ان دونوں نام آوروں کو نام آوری نصیب ہوئی ہے۔ اُسی فن میں ہم اُن کا مقابلہ دکھائیں گے اور اس سے زیادہ یہ نہیں ہوگا کہ ان میں سے کسی ایک کے مذہبی خیالات کے ہم منکر یا مؤید ہوں۔ بلکہ صرف فن تصنیف میں مقابلہ منظور ہے۔ چنانچہ ہم پہلے فنِ تصنیف کی ایک مختصر سی تعریف کرتے ہیں۔
تصنیف:۔ کے معنی ہیں واقعات صحیحہ کو جمع کر کے نتیجہ نکالنا۔ نتیجہ نکالنا غلطی ہو جانا اور بات ہے مگر واقعات صحیحہ کا پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ پس اس تعریف کے مطابق ہم ان دونوں مصنفوں کا مقابلہ دکھاتے ہیں۔
کچھ شک نہیں کہ سرسید احمد خاں کے مذہبی خیالات کچھ بھی ہوں مگر اُن میں بڑا کمال تھا کہ واقعات کی تلاش میں بہت کوشش کرتے تھے۔ مخالف عبارت یا مخالف کے کلام کو نقل کی
٢٦
ضرورت ہوتی تو پوری نقل کر کے کتاب اور صفحات کا حوالہ بھی دیتے۔ چنانچہ اُن کی تصنیفات تفسیر۔ خطبات وغیرہ کے دیکھنے والوں پر یہ امر مخفی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرسید کی تصنیفات دیکھنے سے اُن کا معتقد مخالف سے باقاعدہ مباحثہ کرنے پر قدرت پا سکتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی ایسے نہیں بلکہ مخالف کے کلام کو جہاں نقل کرتے ہیں ایسی طرح سے کرتے ہیں کہ نہ اُس کا سر سالم رہتا ہے نہ پیر۔ اگر ہم اس دعویٰ کو یونہی بے حوالہ چھوڑ دیں تو ہم بھی مرزا صاحب کی طرح ہوں گے۔ اس لئے ہم صحیح صحیح واقعات ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ مخالفین اسلام کے مقابلہ پر مرزا صاحب کے مد مقابل شروع سے آریہ سماجی رہے ہیں۔ ہمیشہ ان کو اُن سے پالا رہا۔ تو کیسا ضروری تھا کہ مرزا صاحب اُن کے متعلق جو کچھ لکھتے باقاعدہ لکھتے مگر ناظرین دیکھ کر حیران ہوں گے کہ ایسے بڑے مخالف کے سامنے بھی مرزا صاحب ڈون کی لیتے ہیں۔ آریوں کی بابت آپ (شحنہ حق ص ٤٥۔ خزائن ج ٢ ص ٣٧١) پر لکھتے ہیں کہ:
”ان بیدوں نے بجز گالیوں اور بد زبانیوں کے اور کیا سکھلایا ہے۔ جا بجا اول سے آخر تک یہی شرتیاں پائی جاتی ہیں کہ اے اندر ایسا کر کہ ہمارے سارے دشمن مرجائیں اُن کے بچے مرجائیں ۔“
دیکھئے اتنا بڑا تو دعویٰ ہے۔ مگر ثبوت کہیں نہیں۔ نہ پوری عبارت نقل ہے نہ کسی کتاب کا بحوالہ صفحہ پتہ ہے۔
کیا ایسی تحریر کو دیکھ کر کوئی شخص مخالف سے مناظرہ کر سکتا ہے۔ جب وہ حوالہ مانگے تو قادیان جا کر لائے۔ مگر وہاں سے لانا بھی چیل کے گھونسلے سے ماس لانے سے مشکل ہے۔ یہ تو ہوا اُن کا برتاؤ مخالفین اسلام سے۔ اب سنئے کہ مخالفین ذات شریف سے کیا برتاؤ کرتے ہیں۔
مرزا صاحب کے برخلاف مولوی غلام دستگیر مرحوم قصوری نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ”فتح رحمانی“۔ مولوی اسمعیل مرحوم علی گڑھی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے ”اعلاء الحق الصریح“۔ قصوری مرحوم نے اپنی کتاب کے صفحہ ٢٧ پر گذشتہ زمانے کے ایک کاذب مہدی کی ہلاکت کا قصہ لکھا کہ محمد طاہر کی دعا سے وہ ہلاک ہوا تھا۔ اس کے بعد یوں لکھا:
”یا مالک الملک جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحارالانوار کی دعا اور سعی سے اس مہدیٰ کاذب اور جعلی مسیح کا بیڑا غارت کیا تھا ویسا ہی دعا اور التجا اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے (جو سچے دل سے تیرے دین متین کی تائید میں حتی الوسع ساعی ہے) مرزا قادیانی اور اُس کے حواریوں کو توبہ نصوح کی
توفیق رفیق فرما۔ اور اگر یہ مقدر نہیں تو اُن کو نمونہ اس آیت فرقانی کا بنا۔ ”فقطع دابر القوم الذین ظلموا والحمد لله رب العالمین انک علی کل شیء قدیر وبالاجابۃ جدیر ۔ آمین۔
(ص٢٧)
اس دعا کا مدعا صاف ہے کہ خداوندا یا تو مرزا صاحب کو توبہ کی توفیق دے یا ہلاک کر مگر یہ دعویٰ مولوی صاحب قصوری نے اس میں نہیں کیا کہ میری زندگی ہی میں اُس کو ہلاک کر نہ یہ کہا ہے کہ جو جھوٹا ہو وہ پہلے مرجائے۔ بلکہ مولوی صاحب کی دعا کے الفاظ میں وہ وسعت ہے کہ جب کبھی بھی مرزا صاحب بغیر توبہ کے مریں گے اُن کی دعا قبول سمجھی جائے گی۔ چنانچہ پیغمبر خداﷺ کی دعا کا اثر مسیلمہ پر یہ ہوا تھا کہ آپؐ کے بعد مرا۔ مگر آخر کار چونکہ بے نیل مرام مرا۔ اس لئے دعا کی صحت میں شک نہیں۔ پس مولوی صاحب قصوری کی دعا کا مدعا یا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرزا صاحب میری زندگی میں مریں یا یہ کہ جو ہم میں سے جھوٹا ہے وہ پہلے مرے۔ اور مولوی صاحب علی گڑھی نے تو اتنا بھی نہیں کیا۔ اب سنئے مرزا صاحب ان دونوں بزرگوں کی نسبت کیا لکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
”مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی کتاب میں اور مولوی محمد اسمعیل علی گڑھ والے نے میری نسبت قطعی حکم لگایا کہ اگر وہ کاذب ہے تو ہم سے پہلے مرے گا۔ اور ضرور ہم سے پہلے مرے گا کیونکہ وہ کاذب ہے۔ مگر جب ان تالیفات کو دنیا میں شائع کر چکے تو پھر بہت جلد آپ ہی مر گئے۔ اور اس طرح پر ان کی موت نے فیصلہ کر دیا کہ کاذب کون تھا۔“
(اربعین نمبر ٣ ص ٩ ۔ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٤)
اس عبارت کا مدعا مولوی صاحب قصوری کی عبارت سے بالکل الگ ہے۔ پھر لطف یہ ہے کہ جتنی عبارت پر ہم نے خط دیا ہے اُتنی عبارت پر مرزا صاحب نے بھی خط دیا ہے۔ گویا اشارہ ہے کہ یہ عبارت زیر خط بعینہ وہی ہے جو مولوی صاحبان نے لکھی ہے۔ حالانکہ یہ اُس سے بالکل اجنبی ہے۔ بہر حال جو کچھ ہے اس کا مطلب بھی ناظرین سمجھ لیں کہ اس محرفہ عبارت میں بھی یہ نہیں ہے کہ ہم (مولوی و مرزا) میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرجائے گا۔ بلکہ وہ قطعی مرزا صاحب کو کاذب قرار دے کر (بقول مرزا صاحب) بددعا کرتے ہیں۔ لیکن ناظرین کس قدر حیران ہوں گے کہ اس کتاب (اربعین نمبر ٣ ص ١١۔ خزائن ج ١٧ ص ٣٩٧) پر پھر اس محرفہ عبارت میں یوں ترمیم کی گئی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
”ان نادان ظالموں سے مولوی غلام دستگیر اچھا رہا۔ کہ اُس نے اپنے رسالہ
٢٤
میں کوئی میعاد نہیں لگائی۔ (یہ ہم بھی مانتے ہیں مرزائیو! یاد رکھنا کہ کوئی میعاد نہیں لگائی۔ مرقع) یہی دعا کی کہ یا الٰہی اگر میں مرزا غلام احمد کی تکذیب میں حق پر نہیں تو مجھے پہلے موت دے اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوے میں حق پر نہیں تو اُسے مجھ سے پہلے موت دے۔ بعد اس کے بہت جلد خدا نے اُس کو موت دے دی۔ دیکھو کیسی صفائی سے فیصلہ ہو گیا۔‘‘
اس عبارت میں کیسی صفائی کا ہاتھ دکھایا ہے لکھتے ہیں کہ ”اُس نے دعا ہی یہ کی تھی“ حالانکہ اس کو اس دعا کی خبر تک نہ ہوگی۔ بھلا ایسی دعا وہ کیسے کر سکتا تھا۔ اُسے معلوم نہ تھا کہ آنحضرت ﷺ باوجود سچے نبی ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال کر گئے...... مسیلمہ باوجود کاذب ہونے کے صادق سے پیچھے مرا۔ کیا کسی اہل علم کی یہ شان ہو سکتی ہے کہ اس قسم کی دعا کرے۔ مگر چونکہ دونوں مولوی صاحبان انتقال کر گئے۔ اس لئے مرزا صاحب کو ایک موقع بات بنانے کا مل گیا۔ بس انہوں نے جھٹ سے اپنے مریدوں کی عقلوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ بلکہ کر ہی لیا۔ اور اپنے دل میں یقین کر لیا کہ کسی کو کیا ضرورت ہے اتنی تحقیقات کرے گا کہ اصل کتاب میں کیا ہے۔ مگر انہیں معلوم نہ تھا کہ امرتسر سے مرقع نکلنے والا ہے۔ اور سنیے ایک مقام پر آپ اسی عبارت کو یوں لکھتے ہیں:
”غلام دستگیر کی کتاب دور نہیں مدت سے چھپ کر شائع ہو چکی ہے دیکھو کس دلیری سے لکھتا ہے کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔“
(اشتہار انعامی پانسو ص٧)
اس عبارت میں کس دلیری سے کام لیا ہے کہ مولوی غلام دستگیر کے لکھنے کا مقصود اس جملہ کو بناتے ہیں:
”ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا“
مرزائیو! خدارا ذرا انصاف کر کے ہم کو دکھا دو کہ مولوی غلام دستگیر نے یہ لکھا ہے کہ ”ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا“۔
معاذ اللہ، استغفر اللہ!! کیسی خیانت مجرمانہ ہے کہ مخالف کے کلام کو بگاڑ بگاڑ کر مسخ صورت بنا کر پیش کیا جائے۔ پھر اس خیانت مجرمانہ کو معجزہ قرار دیا جائے۔ چہ خوش۔
گربہ شاشید و گفت باران شد
٢٥
اس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ مرزا صاحب صاف صاف اور صحیح صحیح واقعات سے اپنی کامیابی نہیں جانتے۔ جب ہی تو ایسی خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ چونکہ وہ جانتے ہیں کہ مخالف کی کتاب ہر ایک کے پاس تو ہوگی نہیں۔ پس جو کوئی ہماری تحریر دیکھے گا وہ لٹو ہو رہے گا۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ جتنے ہمارے مریدین ہیں خیریت سے اُن کو اتنی توجہ ہی نہیں کہ کسی غیر کی سچی بات کو بھی سُن سکیں۔ اس لئے اگر کوئی مخالف اُن کو اصل عبارت دکھائے گا تو اُن کو اثر نہیں ہوگا۔ چنانچہ ہم نے اس کا خوب تجربہ کیا ہے۔ کہ عوام کالانعام تو کیا اچھے پڑھے لکھے مولوی صاحبوں اور بابوؤں سے کہا کہ مرزا صاحب کا یہ دعویٰ مولوی صاحبان کی تصنیفات سے دکھا دو۔ دونوں مرحوموں کی کتابیں اُن کے سامنے رکھ دیں۔ کتابوں کو ادھر اُدھر اُلٹ کر کچھ بڑ بڑا کر چلتے بنے۔
لطیفہ :۔ ایک روز میرے پاس دو مرزائی آئے اور مرزا صاحب کی تعریفات میں رطب اللسان ہونے لگے۔ میں نے کہا خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ” تنزل علیٰ کل افاک اثیم “ یعنی جھوٹ بولنے والے الہام ربانی کے مخاطب نہیں ہو سکتے۔ بلکہ شیطان کے ہوتے ہیں، اس آیت سے ایک عام اصول ملتا ہے کہ ملہم اگر جھوٹ بولتا ہے تو وہ ہرگز ملہم ربانی نہیں ہے خواہ وہ کچھ ہی دکھائے۔ ہم دکھاتے ہیں کہ مرزا صاحب جھوٹ بولتے ہیں۔ مرزا صاحب نے (اعجاز احمدی ص ٢٣۔ خزائن ج ١٩ ص ١٣٢ پر ) میری نسبت لکھا ہے:
”مولوی ثناء اللہ دو دو آنہ کے لئے در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ ہے۔“
حالانکہ نہ میں نے کبھی کفن لیا نہ وعظ گوئی پر میرا گزارہ ہے نہ وعظ گوئی میرا پیشہ۔ امرتسر اور پھر بیرونجات کے دوست و دشمن شہادت دے سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ میں کسی مسجد کا امام بھی نہیں پھر جو میری نسبت لکھا کہ دو پیسہ کے کفن اور دو آنے کے وعظ پر گزارہ کرتا ہے جھوٹ نہیں تو کیا ہے؟ بتاؤ۔ مگر افسوس کہ میری تقریر ان پر یوں معلوم ہوتی تھی۔ گویا گرم لوہے پر پانی کا چھینٹا ہے کہ ٹھہرتا ہی نہیں۔ کیوں اس لئے کہ اُن کا خیال ہے۔
بتوں سے ہم نہ پھریں ہم سے گو خدا پھر جائے
اب ہم ایک مثال اس امر کی دیتے ہیں کہ مرزا صاحب جس طرح مطلب برآری کے لئے مخالف کے کلام کو بگاڑ دیتے ہیں۔ آڑے وقت پر اپنے حق میں بھی اسی ہتھیار سے کام لیا کرتے ہیں۔ یعنی اپنے کلام کو بھی مروڑ تروڑ کر ٹیڑھا سیدھا کر دیتے ہیں۔ کیوں نہ ہو ’’بازی بازی
٢٦
بارلیش با بابازی“۔ آپ نے پادری آتھم کی بابت لکھا تھا: ”١٥ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔“
(جنگ مقدس ص٢١٠۔خزائن ج٦ ص٢٩٢)
مگر باوجود اس تصریح اور تحدید پندرہ ماہ کے اس سیدھی تحریر پر بھی مرزا صاحب نے اپنا دست شفقت یوں صاف کیا کہ اس کا مطلب یوں لکھتے ہیں:
”میں نے ڈپٹی آتھم کے مباحثہ میں قریباً ساٹھ آدمیوں کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مر جائے گا۔“
(اربعین نمبر٣ ص١١۔خزائن ج١٧ ص٣٩٧)
یہی عبارت کئی ایک جگہ لکھی ہے۔
مرزائیو! خدارا اتنا تو سوچو کہ اس عبارت میں مرزا صاحب نے جو دعویٰ کیا ہے کہ ”یہ کہا تھا“ ”اُس“ ”کہا تھا“ کا لفظ غور سے دیکھو۔ پھر اصل مقام پر الفاظ پڑھو۔ دہلی اور دیگر مقامات کے اہل زبان اور اردو دان مرزائی دوستو! ان دونوں عبارتوں کا مقابلہ کر کے دیکھو اور ”کہا تھا“ کا مضمون سمجھ کر بتاؤ کہ کرشن جی نے یہی کہا تھا جو اس عبارت میں دعویٰ کیا ہے۔ خدارا اصل مقام کو جنگ مقدس ص٢١٠ سے نکال کر سامنے رکھو اور اس عبارت کو بھی دیکھو۔ پھر بتاؤ کہ جھوٹ کے سر سینگ ہوتے ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اس مقابلہ میں تم سمجھ جاؤ گے۔
اور اگر تم ان دونوں مقاموں کا مطلب ایک ہی سمجھو تو ہمیں یقین نہیں کہ تم کچھ بھی سمجھ سکو۔ فَمَالِ هٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا
اب ہم تم سے ایک سوال کرتے ہیں کہ اگر آتھم والی پیشگوئی کا یہی مطلب تھا کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجائے گا اور اُس کی میعاد پندرہ ماہ کوئی نہ تھی۔ تو پندرہ ماہ کے ختم ہونے پر تم لوگوں پر حشر کیوں قائم ہوا تھا۔ کیوں سعدی لدھیانوی مرحوم نے مرزا صاحب کو لکھا تھا کہ:
نہ دیکھی تو نے نکل کر چھٹی ستمبر کی
کیوں مرزا صاحب نے اُس وقت یہ عذر نہ کیا کہ ابھی تو میں زندہ ہوں۔ پھر پیشگوئی کا کذب کیسے؟ کیوں نہ یہ کہا کہ میں نے تو یہ کہا تھا کہ میری زندگی میں مرے گا۔ جب تک میں زندہ ہوں پیشگوئی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔ کیوں یہ عذر نہ کیا بلکہ یہ فرمایا تھا کہ آتھم دل سے رجوع کر گیا۔ جس کی تفسیر بھی خیریت سے یہ کی کہ دل میں ڈر گیا۔ پھر اس ڈرنے کے یہ معنے بتائے کہ امرتسر
٢٧
سے فیروز پور جا رہا۔ واہ سبحان اللہ! ”کوہ کندن و کاہ برآوردن“ اسے ہی کہتے ہیں۔
ان تمثیلات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سرسید احمد خاں مذہبی اعتقادات کے لحاظ سے خواہ کچھ ہی ہوں۔ فن تصنیف میں وہ امانت دار اور دیانتدار تھے بخلاف اس کے مرزا صاحب قادیانی مذہبی اعتقادات سے قطع نظر فن تصنیف میں بھی اعلیٰ درجہ کے خائن تھے۔
مخالف کے کلام کو صحیح نقل نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ بوقت ضرورت اپنے کلام کو بھی بگاڑ دیتے تھے۔ اُن کی غرض یہ نہیں ہوتی تھی کہ ناظرین کو صحیح صحیح واقعات سنائیں اور پہنچائیں بلکہ ان کی غرض صرف خود غرضی ہوتی تھی۔ سو جس طرح سے بن پڑے حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ناظرین اس بحث میں نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ مرزا صاحب کی تحریر میں کوئی واقعہ دیکھیں تو جب تک تحقیق نہ ہو تصدیق کرنے کے قابل نہیں۔
مرزائیو! یہ نہ سمجھو کہ اس تحریر کا لکھنے والا کون ہے بلکہ یہ دیکھو کہ لکھا کیا ہے۔ پس ان واقعات کو غور سے دیکھو اور نتیجہ پائو
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
اس ساری تحریر کا نتیجہ کیا ہوا؟ یہ کہ جب مرزا صاحب واقعات صحیحہ میں کذب بیانی کرتے تھے تو اُن کی نبوت اور رسالت کا کیا حکم ہے۔ یہ کہ۔
بطالت ہے بطالت ہے بطالت
(مرقع قادیانی ۔ ماہ اگست ١٩٠٧ء)
……☆……
مرزا صاحب کے الہامات کی کیفیت
ہم کئی ایک دفعہ اس مشکل مسئلہ کو حل کر کے مرزا صاحب کے مخالفین کا منہ بند کر چکے ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو الہام نہیں ہوتے۔ ہم مانتے ہیں کہ ہوتے ہیں مگر کس کیفیت سے؟ اس کیفیت سے کہ آپ کو جس بات کا خیال لگا رہتا ہے اُس کی نسبت جو ایک واہمہ گزرتا ہے وہ الہام ہے۔ یہ اور بات ہے کہ دوسرے لوگ اُس کو خیال خام یا بلی کو چھیچھڑوں کا خواب کہیں۔ مگر (لا
٢٨
مناقشة فی الاصطلاح ) اصطلاح پر اعتراض نہیں۔ مرزا صاحب کی اصطلاح میں یہی الہام ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال سنئے۔ قادیانی اخباروں نے ایک نئی بے پر کی اڑائی ہے۔ لکھتے ہیں: ’’٤؍ جولائی ١٩٠٧ء کی صبح کو حضرت ام المومنین (زوجۂ مرزا) بمعہ صاحبزادگان و دیگر اہلبیت و اقارب و خدام واہلیہ حضرت مولوی نورالدین صاحب قریباً اٹھارہ کس ہمراہ حضرت میر ناصر نواب صاحب (خسر مرزا) پانچ چھ روز کے واسطے بغرض تبدیلی ہوا لاہور کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ اس قافلہ کی روانگی سے تین چار روز پہلے عاجز راقم (ایڈیٹر بدر) نے اسٹیشن ماسٹر بٹالہ کو ایک خط لکھا تھا کہ اس قافلہ کے واسطے ایک درمیانہ درجہ کی گاڑی کے چند خانے ریزرو کئے جائیں تاکہ ضرورت ہو تو الگ گاڑی منگوائی جائے۔ وہ خط ایک خاص آدمی کے ہاتھ روانہ کیا گیا تھا۔ اور اُس میں تاریخ اور وقت سب لکھا گیا تھا۔ چنانچہ اس کے مطابق ٤؍ جولائی کی صبح کو یہاں سے روانگی ہوئی۔ اسی روز بعد نماز عصر حضرت اقدس مسیح موعود (مرزا صاحب) نے مسجد مبارک میں حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خاص طور پر مخاطب کیا جبکہ عاجز راقم بھی پاس ہی کھڑا تھا۔ اور فرمایا کہ ’’آج دو بجے دن کے مجھے خیال آیا کہ ہمارے گھر کے آدمی اب شاید امرتسر پہنچ گئے ہوں گے اور یہ بھی خیال تھا کہ امن امان سے لاہور پہنچ جائیں۔ تب اس خیال کے ساتھ ہی کچھ غنودگی ہوئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ نخود کی دال (جو رنج اور ناخوشی پر دلالت کرتی ہے) میرے سامنے پڑی ہے اور اس میں کشمش کے دانے قریباً اسی قدر ہیں اور میں اس میں سے کشمش کے دانے کھا رہا ہوں اور میرے دل میں خیال گذر رہا ہے کہ یہ اُن کی حالت کا نمونہ ہے۔ اور دال سے مراد کچھ رنج اور ناخوشی ہے کہ سفر میں اُن کو پیش آئی ہے یا آنے والی ہے۔ پھر اسی حالت میں میری طبیعت الہام الٰہی کی طرف منتقل ہوگئی اور اس بارے میں الہام ہوا ’’خیر لهم ۔ خیر لهم‘‘ یعنی ان کے لئے بہتر ہے‘ اُن کے لئے بہتر ہے۔ بعد اس کے اسی نظارۂ خواب میں چند پیسے دیکھے کہ وہ دکھ اور تشویش پر دلالت کرتے ہیں جیسا کہ چنے کی دال بھی ایک ناگوار اور رنج کے امر پر دلالت کرتی ہے۔‘‘ فقط۔
یہ الہام اور خواب سنا کر حضرت اقدس (مرزا صاحب) حسب معمول اندر تشریف لے گئے اور اس کے سننے میں اس وقت تمام جماعت جو نماز کے لئے آئی ہوئی تھی شامل تھی۔ خلیفہ رشیدالدین صاحب شیخ علی محمد صاحب سوداگر جموں وغیرہ بہت سے دوست تھے۔ حضرت اقدس کے اندر جانے کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب نے دوبارہ سہ بارہ اُسی مسجد میں پھر یہ سب لوگوں کو اسی وقت سنایا۔ کیونکہ بعض لوگ جو دور تھے انہوں نے حضرت کی آواز اچھی طرح نہ
٣٠
سنی تھی۔ غرض اس الہام اور خواب کی جب اچھی طرح اشاعت ہوگئی تو قریب شام کے اپنا ایک آدمی جو سب قافلہ کو ریل پر سوار کر کے واپس آیا تھا اُس کی زبانی معلوم ہوا کہ عین دوپہر کی گرمی میں ریل کے اندر مسافروں کی کشاکش سے بچنے کے واسطے جو انتظام ریزرو کا کیا گیا تھا وہ نہ ہو سکا کیونکہ لاہور سے کوئی الگ گاڑی اس مطلب کے واسطے نہ پہنچ سکی تھی۔ اور اس سبب سے تشویش ہوئی۔ اس طرح خواب کا حصہ پورا ہوا۔ مگر پھر بھی بموجب بشارت الہام کے خیریت رہی اور معمولی گاڑی میں آرام سے بیٹھ کر چلے گئے۔
اس کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا کہ خواب اور الہام تو ایک طرح پورا ہو گیا ہے مگر ایک خیال مجھے باقی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ چیزیں جو رنج اور ناخوشی پر دلالت کرتی ہیں وہ دوبارہ دکھلائی گئی ہیں۔ یعنی اول چنے کی دال دکھلائی گئی اور پھر چند پیسے دکھلائے گئے۔ ایسا ہی الہام بھی دو دفعہ ہوا کہ ”خیر لہم . خیر لہم“ اس لئے دل میں ایک یہ خیال ہے کہ خدانخواستہ کوئی اور امر مکروہ پیش نہ آیا ہو۔ جس کے لئے دو دفعہ دو ایسی چیزیں دکھلائی گئیں کہ علم تعبیر کی رو سے رنج اور تشویش پر دلالت کرتی ہیں اور ایسا ہی اُن سے محفوظ رکھنے کے لئے دو دفعہ یہ الہام ہوا کہ ”خیر لہم . خیر لہم“ ۔ یہ میرا خیال ہے خدا تعالیٰ ہر ایک رنج سے محفوظ رکھے۔ آمین‘
(بدر ج ٦ نمبر ٢٨ ص ٤۔ ١١ جولائی ١٩٠٧ء۔ تذکرہ ص ٧٢١‘ ٧٢٢ طبع ٣)
اس ساری تقریر کو بغور پڑھنے سے مرزا صاحب کی وحی کی حقیقت صاف کھل جاتی ہے کہ آپ اُن خیالات کا نام الہام اور وحی تجویز فرماتے ہیں جو عموماً تفکر کے موقع پر ہر ایک انسان کو سوجھا کرتے ہیں۔ بس اب تو کوئی وجہ نہیں کہ کوئی مولوی عالم مرزا صاحب کے ایسے الہامات کی تکذیب کرے۔ ہر کہ شک آرد...... گردو۔
.......☆.......
مرزا قادیانی کی تحریروں میں اختلاف
نبوت کے متعلق:۔ (١) دیکھو (آسمانی فیصلہ ص ٣۔ خزائن ج ٤ ص ٣١٣) میں مرزا غلام احمد تحریر کرتے ہیں: ”میں نبوت کا مدعی نہیں ہوں۔ بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔“
٣١
اور پھر دیکھو (ازالہ اوہام ص ٥٣٣۔ خزائن ج ٣ ص ٣٨٦) میں لکھتے ہیں:
”خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا اور نبی بھی۔“
اے مرزائیو! اسلام سے خارج کون ہوا؟ خود بدولت ہیں یا کوئی اور؟
- (٢) دیکھو (ازالہ اوہام ص ٧٨۔ خزائن ج ٣ ص ١٨٥) میں تحریر کرتے ہیں:
”من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“
اور پھر دیکھو (دافع البلاء ص ١١۔ خزائن ج ١٨ ص ٢٣١) میں لکھتے ہیں:
”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“
- (٣) (ازالہ اوہام ص ٧٦١۔ خزائن ج ٣ ص ٥١١) میں تحریر کرتے ہیں:
’قرآن کریم بعد خاتم النبیین کے کسی رسول کا آنا جائز نہیں رکھتا خواہ وہ نیا رسول ہو یا پرانا ہو۔ کیونکہ رسول کو علم دین بتوسط جبرئیل ملتا ہے۔ اور باب نزول جبرائیل ۔ بپیرایۂ وحی رسالت مسدود ہے۔‘
اور پھر دیکھو (اخبار الحکم جلد ٥ نمبر ٨ ص ٩ مورخہ ٣ مارچ ١٩٠١ء) میں لکھتے ہیں:
”خدائے رحیم وقدوس نے مجھے وحی کی ” انی انا الرحمن دافع الاذی “
اور پھر وحی ہوئی ”انی لا یخاف لدی المرسلون“
(تذکرہ ص ٤٠٦ طبع ٣)
اے مرزائیو! اب نیا سلسلہ وحی کا کون جاری کر رہا ہے۔ خود بدولت یا کوئی اور؟
- (٤) اور دیکھو (آسمانی فیصلہ ص ٢٥۔ خزائن ج ٤ ص ٣٣٥) میں مرزا غلام احمد تحریر کرتے ہیں:
”اے لوگو دشمن قرآن مت بنو اور خاتم النبیین کے بعد وحی نبوت کا نیا سلسلہ جاری نہ کرو اُس خدا سے شرم کرو جس کے سامنے حاضر کئے جاؤ گے۔“
اور دیکھو (دافع البلاء ص ٥۔ خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥) میں وہی مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی اُس کی عبارت یہ ہے ”ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم انہ اوٰی القریۃ“ یعنی خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ اُن خیالات کو دور نہ کر لیں جو اُن کے دلوں میں ہیں یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں۔“
مرزائیو! تمہیں ایمان سے کہو کہ اپنے قول کے خلاف خاتم النبیین ﷺ کے بعد وحی اور نبوت کا نیا سلسلہ کون جاری کر رہا ہے اور خدا سے کون بے خوف ہو رہا ہے؟؟
٣٢
”کشتی نوح“ میں مرزا غلام احمد کے چار جھوٹ
(کشتی نوح ص ٥۔ خزائن ج١٩ ص ٥) میں مرزا صاحب تحریر کرتے ہیں: ”اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شریف میں بلکہ توریت کے بعض صحیفوں میں یہ خبر موجود ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی انجیل میں خبر دی ہے اور ممکن نہیں کہ نبیوں کی پیشگوئیاں ٹل جائیں۔“
اسی صفحہ کے حاشیہ پر (خزائن ج١٩ ص ٥) میں لکھتے ہیں: ”مسیح موعود کے وقت طاعون کا پڑنا بائبل کی کتابوں میں موجود ہے۔“ ذکریا باب ١٤ آیت ١٢، ١٥ انجیل متی باب ٢٤ آیت ٨۔ مکاشفات ٨/٢٢
پہلا جھوٹ:۔ قرآن شریف میں یہ کسی جگہ نہیں لکھا ہے کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی اگر کوئی مرزائی قرآن شریف میں سے دکھا دے تو مرزا صاحب کا کہنا سچا ورنہ کہنا چاہئے ”لعنت الله علی الکاذبین“
دوسرا جھوٹ:۔ کتاب ذکریا نبی کے باب ١٤ آیت ١٢ میں یہ ہرگز نہیں لکھا کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ اُس میں تو ان لوگوں پر مری پڑنے کا ذکر ہے جو یروشلم پر چڑھ آئیں گے۔ ہو ھذا:
”اور وہ مری کہ جس سے خداوند ساری قوموں کو جو لڑنے کو یروشلم پر چڑھ آویں مارے گا۔ سو یہ اُن کا گوشت جس وقت وے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے فنا ہو جائے گا۔“
(زکریا باب ١٤۔ آیت ١٢)
ڈبل جھوٹ:۔ انجیل متی باب ٢٤ آیت ٨ میں یہ نہیں لکھا کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ بلکہ اس کے برعکس اُس میں لکھا ہے کہ جب جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی آئیں گے تب مری پڑے گی اور بھونچال آویں گے۔ دیکھو غور سے دیکھو انجیل متی باب ٢٤۔ آیت ٣
”جب وہ زیتون کے پہاڑوں پر بیٹھا تھا۔ اُس کے شاگرد الگ اُس کے پاس آئے اور بولے کہ کب ہو گا اور تیرے آنے کا اور دنیا کے آخر کا نشان کیا ہے۔ (٤) اور یسوع نے جواب دے کے انہیں کہا خبردار ہوؤ کہ کوئی تمہیں گمراہ نہ کرے۔ (٥) کیونکہ بہتیرے میرے نام
٣٣
پر آویں گے اور کہیں گے میں مسیح ہوں اور بہتوں کو گمراہ کریں گے (٦) اور پھر تم لڑائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سنو گے خبر دار گھبراؤ مت۔ کیونکہ ان سب باتوں کا واقع ہونا ضروری ہے۔ پر اب تک آخر نہیں ہے۔ (٧) کیونکہ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھیں گے۔ اور کال اور وبائیں اور جگہ جگہ زلزلے ہوں گے (٨) پھر یہ سب باتیں مصیبتوں کا شروع ہیں۔ متی باب ٢٤۔ آیت ٢٣۔ تب اگر کوئی کہے دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں تو یقین مت لاؤ۔ (٢٣) کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے اور بڑے نشان اور کرامتیں دکھاویں گے۔ یہاں تک کہ اگر ممکن ہوتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔ (٢٤) دیکھو میں تمہیں پہلے سے کہہ چکا ہوں۔ (٢٥) پس اگر وے تمہیں کہیں دیکھو وہ جنگل میں ہے تو باہر مت جاؤ۔ دیکھو وہ کوٹھڑی میں ہے تو مت باور کرو۔ (٢٦) کیونکہ جیسے بجلی پورب سے کوندھتی اور پچھم تک چمکتی ہے ویسے ہی انسان کے بیٹے کا آنا ہو گا۔‘‘
اے مرزائیو! ایمان سے کہو کہ انجیل متی میں طاعون اور زلزلوں کا ہونا مسیح موعود صادق کی علامت ہے یا مسیح کاذب کی؟
چوتھا جھوٹ:۔ مکاشفات یوحنا باب ٢٢۔ آیت ٨ میں یہ ہر گز نہیں لکھا کہ مسیح موعود کے وقت طاعون پڑے گی۔ دیکھو باب ٢٢، آیت ٨:
’’اور مجھ یوحنا نے ان چیزوں کو دیکھا اور سنا۔ اور جب میں نے دیکھا اور سنا تھا تب اُس فرشتے کے پاؤں پر جس نے مجھے یہ چیزیں دکھائیں سجدہ کرنے کو گرا۔‘‘
اے مرزائیو! تمہیں خدا سے ڈر کر سچ ہی کہو کہ طاعون اور زلزلے مسیح موعود کی علامات ہیں یا مسیح کاذب کی؟ کیا تم میں سے کوئی حق کا طالب یا راست گو یا صاحب تحقیق بھی ہے یا سب اندھوں کی طرح ہیں کہ جو کچھ مرزا صاحب نے لکھ دیا یا جو کہہ دیا ہے وہی سچ ہے۔
افسوس ہے ایسے شخصوں کی عقل اور حالت پر جو حق اور باطل میں دیدہ دانستہ تمیز نہیں کرتے۔ اور ڈبل افسوس ہے ایسے لوگوں کی دلیری پر جو دیدہ دانستہ لوگوں کو دھوکہ میں ڈالنے کے لئے جھوٹ تحریر کریں۔ جیسے کہ مرزا صاحب نے کشتی نوح میں لکھ دیا کہ قرآن شریف میں اور زکریا نبی کی کتاب ١٣/ ١٢ میں اور انجیل متی ٢٤/ ٨ میں اور مکاشفات یوحنا ٢٢/ ٨ میں لکھا ہے کہ مسیح کے وقت میں طاعون پڑے گی۔ حالانکہ کسی میں ایسا نہیں لکھا۔ بلکہ انجیل متی میں تو یہ صاف لکھا ہوا ہے کہ جب جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھیں گے تب طاعون پڑے گی اور زلزلے آویں گے۔ پس بشہادت انجیل متی صاف صاف آفتاب نیمروز کی طرح ظاہر ہو رہا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کے دعاوی باطلہ کے باعث طاعون پڑی اور زلزلے آئے ہیں۔ ؎
٣٤
اب آگے چاہو تم مانو نہ مانو
...... ٭ ......
چیستان مرزا قادیان اور اُس کے حل کرنے پر مرزا صاحب کو
پانصو روپیہ انعام
آج ہم یہ مضمون انعامی بنام ”چیستان مرزا“ لکھتے ہیں اور مرزا صاحب کو ایک مہینے کی مہلت دیتے ہیں۔ پس ہمارے مرزائی دوست جو مدتوں سے ہم پر خفا ہیں۔ اس چیستان مرزا کو حل کرا کر ہم سے اپنی کشیدگی کا نعم البدل (مبلغ پانصو) پائیں۔ پس اب غور سے سنتے جائیں۔
مرزا صاحب ازالۂ اوہام میں علامات مسیح کے شمار میں لکھتے ہیں:
”از آں جملہ ایک یہ کہ ضرور تھا کہ آنے والا ابن مریم الف ششم ٢؎ کے آخر میں پیدا ہوتا کیونکہ ظلمت عامہ اور تامہ کے عام طور پر پھیلنے کی وجہ سے اور حقیقت انسانیہ پر ایک فنا طاری ہونے کے باعث سے وہ روحانی طور پر ابوالبشر یعنی آدم کی صورت پر پیدا ہونے والا ہے۔ اور بڑے علامات اور نشان اُس کے وقت ظہور کے انجیل اور فرقان میں یہ لکھے ہیں کہ اُس سے پہلے عالم کون میں روحانی طور پر ایک فساد پیدا ہو جائے گا۔ آسمانی نور کی جگہ دخان لے لے گا اور ایک عالم پر دخان کی تاریکی چھا جائے گی۔ ستارے گر جائیں گے زمین پر ایک سخت زلزلہ آ جائے گا۔ مرد جو حقیقت کے طالب ہوتے ہیں تھوڑے رہ جائیں گے اور دنیا میں کثرت سے عورتیں پھیل جائیں گی یعنی سفلی لذات کے طالب بہت ہو جائیں گے۔ جو سفلی خزائن اور دفائن کو زمین سے باہر نکالیں گے مگر آسمانی خزائن سے بے بہرہ ہو جائیں گے۔ تب وہ آدم جس کا دوسرا نام ابن مریم بھی ہے بغیر وسیلہ ہاتھوں کے پیدا کیا جائے گا۔ اسی کی طرف وہ الہام اشارہ کرتا ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے اردت ان استخلف فخلقت ادم میں نے ارادہ کیا
١؎ یہ مضمون ماہ دسمبر ١٩٠٧ء کے مرقع میں نکلا تھا۔ ٢؎ یعنی چھ ہزار۔
٣٥
کہ اپنا خلیفہ بناؤں سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ آدم اور ابن مریم درحقیقت ایک ہی مفہوم پر مشتمل ہے۔ صرف اس قدر فرق ہے کہ آدم کا لفظ قحط الرجال کے موقعہ پر ایک دلالت تامہ رکھتا ہے اور ابن مریم کا لفظ دلالت ناقصہ۔ مگر دونوں لفظوں کے استعمال سے حضرت باری کا مدعا اور مراد ایک ہی ہے۔ اسی کی طرف اس الہام کا بھی اشارہ ہے جو براہین میں درج ہے اور وہ یہ ہے: ان السموات والارض كانتا رتقا ففتقنهما كنت كنزا مخفيا فاحببت ان اعرف یعنی زمین و آسمان بند تھے اور حقائق ومعارف پوشیدہ ہو گئے تھے سو ہم نے اُن کو اس شخص کے بھیجنے سے کھول دیا۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا سو میں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔ اب جبکہ اس تمام تقریر سے ظاہر ہوا کہ ضرور ہے کہ آخر الخلفاء آدم کے نام پر آتا اور ظاہر ہے کہ آدم کے ظہور کے وقت دورِ ششم کے قریب عصر ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ اور توریت سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے ہر ایک منصف کو ماننا پڑے گا کہ وہ آدم اور ابن مریم یہی عاجز ہے۔“
(ازالہ ص ٢٩٣‘ ٢٩٥ ۔ خزائن ج ٣ ص ٤٧٤‘ ٤٧٥)
اس عبارت کا خلاصہ دو حرفہ ہے کہ مرزا صاحب دنیا کی عمر کے چھٹے ہزار کے خاتمہ کے قریب آنے کے مدعی ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ دنیا کی عمر کے بابت مرزا صاحب نے کیا لکھا ہے۔ شکر ہے کہ اس بات کا جواب مرزا صاحب کے ازالہ ہی سے ملتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
”میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن کریم کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں اُن کا نام ونشان نہیں پایا جاتا مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آں حضرت ﷺ کے زمانہ بعثت تک مدت گزری تھی وہ تمام مدت سورۃ العصر کے اعداد حروف میں بحساب قمری مندرج ہے یعنی چار ہزار سات سو چالیس (٤٧٤٠)۔ اب بتاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قرآن کریم کا اعجاز نمایاں ہے کس تفسیر میں لکھے ہیں۔“ (سبحان اللہ جل جلالہ )
(ازالہ ص ١٣١ تا ١٣٣۔ خزائن ج ٣ ص ٢٥٨‘ ٢٥٩)
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت دنیا کی عمر ( بقول مرزا صاحب ) چار ہزار سات سو چالیس سال تھی۔ بہت خوب۔ اچھا ان چالیس میں تیرہ (١٣) سال اقامت مکہ کے ملائے جائیں جو قبل از ہجرت تھے۔ تو چار ہزار سات سو ترپن (٤٧٥٣) سال ہوئے۔ چھ ہزار پورے کرنے کے لئے ان میں بارہ سو پینتالیس سال ملانے کی ضرورت ہے۔ پس سنہ بارہ سو پینتالیس ہجری کو دنیا کی عمر ( بقول مرزا جی ) چھ ہزار پوری ہوگئی۔ جس کو آج
٣٦
١٣٢٥ھ میں اٹھہتر سال ہوئے ہیں۔ بہت خوب۔
آیئے اب ہم اس مرحلے کو بھی طے کریں کہ مرزا صاحب کس سنہ میں مامور یا رسول ہو کر تشریف لائے ہیں۔ آپ اپنے ازالہ میں خود ہی اس سوال کا جواب دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
”لطیفہ:۔ چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو آلایت بعد المأتین ہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ ”مسیح ہے جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی۔ اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی۔ اس نام کے عدد پورے تیرہ سو (١٣٠٠) ہیں۔ اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نام نہیں۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔ اور اس عاجز کے ساتھ اکثر یہ عادت اللہ جاری ہے کہ وہ بعض اسرار اعداد حروف تہجی میں میرے پر ظاہر کر دیتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے آدم کے سنہ پیدائش کی طرف توجہ کی تو مجھے اشارہ کیا گیا کہ ان اعداد پر نظر ڈال جو سورہ العصر کے حروف میں ہیں کہ انہی میں سے وہ تاریخ نکلتی ہے۔“
(ازالہ ص ١٨٥، ١٨٦ خزائن ج ٣ ص ١٨٩، ١٩٠)
اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب ١٣٠٠ھ خاتمہ پر تشریف لاویں تو صاف ثابت ہوا کہ آپ چھٹے ہزار کو جو بارہ سو پینتالیس ہجری میں پورا ہو چکا تھا ختم کر کے ساتویں ہزار کے شروع سے پچپن سال بعد آئے ہیں۔ بہت خوب۔ چنانچہ یہی مضمون کھلے لفظوں میں آپ کو تسلیم ہے۔ آپ رسالہ ”دافع البلاء“ میں لکھتے ہیں:
”طاعون جو ملک میں پھیل رہی ہے کسی اور سبب سے نہیں بلکہ ایک سبب سے ہے وہ یہ کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود کے ماننے سے انکار کیا جو تمام نبیوں کی پیشگوئیوں کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوئے۔“
(دافع البلاء ص ١٢۔ خزائن ج ١٨ ص ١٣٢)
اس عبارت میں مرزا جی نے صاف صاف اور کھلے لفظوں میں تسلیم بلکہ تبلیغ کیا ہے کہ میں ساتویں ہزار میں آیا ہوں حالانکہ آپ کو ١١٠٠ھ میں آنا چاہئے تھا۔ کیونکہ عصر کے بعد بھی تو دن کا کچھ حصہ ہوتا ہے جو سارے دن کے پانچویں حصے سے کسی طرح کم نہیں ہوتا۔ سارا دن جب ایک ہزار سال کا ہوا تو پانچواں حصہ دوسو سال کا ہوگا۔ پس آپ کو ١١٠٠ ہجری کے نصف میں آنا
٣٧
چاہئے تھا۔ مگر آپ بہت لیٹ ہو کر پورے ١٣٠٠ ہجری کے خاتمہ پر تشریف لائے یہاں تک کہ ٹرین بھی چلی گئی۔ یہی لیٹ آپ کی عدم صداقت کی دلیل ہے۔
لطیفہ :- مرزا صاحب کی چالاکی اور ہوشیاری کی تو ہم داد دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے ؎
شنیدہ کے بود مانند دیدہ
آپ نے دیکھا کہ صرف غلام احمد کے اعداد (١١٢٢) ہوتے ہیں۔ یہ تو بہت کم ہیں۔ اس لئے جھٹ سے اپنے نام میں اپنے قصبہ کی نسبت کو بھی داخل کر کے پورا نام غلام احمد قادیانی بنایا۔ پھر کس لطافت سے لکھتے ہیں کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا نام نہیں۔ واہ سبحان اللہ ایسا سچا الہام کہ نام میں مقامی نسبت کو بھی داخل کر کے کھچڑی بنایا گیا ہے۔ ایسے الہام کو کون جھوٹا کہے۔ مگر تو بھی لوگ ایسے کے ویسے ہیں کہ ایسے الہام پر بھی ایمان نہیں لاتے۔ سچ ہے ؎
گربہ شاشید و گفت باراں شد
...... ٭ ......
چیستان مرزا نمبر ٢
آدم ثانی
ہمارے مرزا صاحب کو جو باریک باریک نکات سوجھتے تھے شاید ہی کسی کو سوجھتے ہوں گے۔ ماشاء اللہ آپ کی ذہانت اُس مشہور ذہین سے بھی بڑی ہوئی ہے جس نے تیلی کا کولہو دیکھ کر بہت غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ نکالا تھا کہ یہ آسمانی لوگوں کی سرمہ دانی ہے۔ واہ سبحان اللہ یہ کیا کمال تھا۔ ہمارے مرزا جی میں اس سے بھی زیادہ کمالات ہیں آپ خیر سے کل انبیاء علیہم السلام کے ہم نام اور ہم رتبہ ہیں۔ بلکہ کل انبیاء کے اوصاف کمال کے جامع۔ چنانچہ آپ کے خلیفہ راشد حکیم نور الدین صاحب لکھتے ہیں:
’’میں نے اس مضمون کو قبل از عشاء حضرت امام ہمام خلیفۃ اللہ مسیح موعود علیہ السلام کی
٣٨
خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے فرمایا ان اعتراضوں کی اصل ہے معجزات وخوارق کا انکار۔ یہ لوگ اسی ایک مد میں اُن ہزاروں معجزات کو شامل کرتے ہیں جو ہمارے نبی کریم ﷺ سے ظہور میں آئے اور یہ لوگ اور ان کے دل و دماغ کے نیچری بھی بدقسمتی سے اسی قسم کے اعتراضوں یا وسوسوں میں مبتلا ہیں۔ اور جہاں کسی معجزہ کا ذکر ہوا اُس کو ہنسی اور ٹھٹھے میں اڑا دیا۔ اس وقت مناسب یہ ہے کہ ان تمام سوالات کا ایک ہی جواب بڑی قوت اور تحدّی سے دیا جائے۔ کہ جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء علیہم السلام کے اور ہمارے نبی کریم ﷺ کے قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ اُن سب کے صدق اور حقیقت کے ثابت کرنے کے لئے آج اس زمانہ میں ایک شخص موجود ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ اُسے وہ تمام طاقتیں کامل طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی ہیں جو انبیاء علیہم السلام کو ملی تھیں۔ جو عجائبات خدائے تعالیٰ نے حضرت ابراہیم اور موسیٰ علیہما السلام کے ہاتھ پر منکروں کو دکھائے وہی عجائبات زندہ اور قادر خدا آج اُس کے ہاتھوں پر دکھانے کو موجود اور تیار ہے۔ کوئی ہے جو آزمائش کے لئے قدم اٹھائے۔“
(نورالدین ص ١٢٠)
حضرت عیسیٰ سے تو آپ کو مشابہت کا دیرینہ دعویٰ ہے۔ مگر ناظرین یہ سُن کر حیران ہوں گے کہ آپ باوا آدم بھی ہیں یعنی آپ کا نام ملاء اعلیٰ میں آدم ثانی بھی ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنا آدم ثانی ہونا بڑے شدومد سے ثابت کیا ہے غور سے سنئے آپ فرماتے ہیں:
”سو یہ زمانہ جو آخر الزمان ہے اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو حضرت آدم علیہ السلام کے قدم پر پیدا کیا جو یہی راقم ہے۔ اور اس کا نام بھی آدم رکھا جیسا کہ مندرجہ بالا الہامات سے ظاہر ہے اور پہلے آدم کی طرح خدا نے اس آدم کو بھی زمین کے حقیقی انسانوں سے خالی ہونے کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں جلالی اور جمالی سے پیدا کر کے اُس میں اپنی روح پھونکی۔ کیونکہ دنیا میں کوئی روحانی انسان موجود نہ تھا جس سے یہ آدم روحانی تولد پاتا۔ اس لئے خدا نے خود روحانی باپ بن کر اس آدم کو پیدا کیا اور ظاہری پیدائش کی رو سے اُسی طرح نر اور مادہ پیدا کیا جس طرح کہ پہلا آدم پیدا کیا تھا۔ یعنی اُس نے مجھے بھی جو آخری آدم ہوں جوڑا پیدا کیا۔ جیسا کہ الہام ”یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ“ میں اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے اور بعض گذشتہ اکابر نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ وہ انتہائی آدم جو مہدی کامل اور خاتم ولایت عامہ ہے اپنی جسمانی خلقت کی رو سے جوڑا پیدا ہو گا یعنی آدم صفی اللہ کی طرح مذکر اور مؤنث کی صورت پر پیدا ہو گا اور خاتم اولاد ہوگا۔ کیونکہ آدم نوع انسان میں سے پہلا مولود تھا۔ سو ضرور ہوا کہ وہ شخص جس پر بکمال و تمام دورہ حقیقت آدمیہ ختم ہو وہ خاتم الاولاد ہو
٣٩
یعنی اُس کی موت کے بعد کوئی کامل انسان کسی عورت کے پیٹ سے نہ نکلے۔
اب یاد رہے کہ اس بندۂ حضرت احدیت کی پیدائش جسمانی اس پیشگوئی کے مطابق بھی ہوئی۔ یعنی میں ”توأم“ ١؎ پیدا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی جس کا نام جنت تھا اور یہ الہام کہ ”یا ادم اسکن انت وزوجک الجنۃ“ جو آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ کے صفحہ ٤٩٦ میں درج ہے اس میں جو جنت کا لفظ ہے اس میں یہ ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ لڑکی جو میرے ساتھ پیدا ہوئی اس کا نام جنت تھا اور یہ لڑکی صرف سات ماہ تک زندہ رہ کر فوت ہو گئی تھی غرض چونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے کلام اور الہام میں مجھے آدم صفی اللہ سے مشابہت دی تو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اس قانون قدرت کے مطابق جو مراتب وجود و دوریہ میں حکیم مطلق کی طرف سے چلا آتا ہے مجھے آدم کی خو اور طبیعت اور واقعات کے مناسب حال پیدا کیا گیا ہے۔ چنانچہ وہ واقعات جو حضرت آدم پر گذرے منجملہ اُن کے یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش زوج کے طور پر تھی یعنی ایک مرد اور ایک عورت ساتھ تھی۔ اور اسی طرح پر میری پیدائش ہوئی یعنی جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا۔ میں ان کے لئے خاتم الاولاد تھا۔ اور یہ میری پیدائش کی وہ طرز ہے جس کو بعض اہل کشف نے مہدی خاتم الولایت کی علامتوں میں سے لکھا ہے اور بیان کیا ہے کہ وہ مہدی آخری جس کی وفات کے بعد اور کوئی مہدی پیدا نہیں ہوگا۔ خدا سے براہ راست ہدایت پائے گا۔ جس طرح آدم نے خدا سے ہدایت پائی تھی۔ اور وہ ان علوم و اسرار کا حامل ہوگا جن کا آدم خدا سے حامل ہوا تھا۔ اور ظاہری مناسبت آدم سے اس کی یہ ہوگی کہ وہ بھی زوج کی صورت پر پیدا ہو گا۔ یعنی مذکر اور مؤنث دونوں پیدا ہوں گے۔ جس طرح آدم کی پیدائش تھی۔ ان کے ساتھ ایک مؤنث بھی پیدا ہوئی تھی۔ یعنی حضرت حوا علیہا السلام۔ اور خدا نے جیسا کہ ابتداء میں جوڑا پیدا کیا۔ مجھے بھی اس لئے جوڑہ پیدا کیا۔ کہ تا اولیت کو آخریت کے ساتھ مناسبت تام پیدا ہو جائے۔ یعنی چونکہ ہر ایک وجود سلسلہ بروزات میں دورہ کرتا رہتا ہے۔ اور آخری بروز اس کا بہ نسبت درمیانی بروزات کے اتم اور اکمل ہوتا ہے۔ اس لئے حکمت الٰہیہ نے تقاضا کیا کہ وہ شخص جو آدم صفی اللہ کا آخری بروز ہے۔ وہ اس کے واقعات سے اشدّ مناسبت پیدا کرے۔ سو آدم کا ذاتی واقعہ یہ ہے کہ خدا نے آدم کے ساتھ حوا کو بھی پیدا کیا سو یہی واقعہ بروز اتم کے مقام میں آخری آدم کو بھی پیش آیا
١؎ جوڑ:
٤٠
کہ اس کے ساتھ بھی ایک لڑکی پیدا کی گئی۔ اور اسی آخری آدم کا نام عیسیٰ بھی رکھا گیا۔ تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ حضرت عیسیٰ کو بھی آدم صفی اللہ کے ساتھ ایک مشابہت تھی لیکن آخری آدم جو بروزی طور پر عیسیٰ بھی ہے۔ آدم صفی اللہ سے اشد مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ آدم صفی اللہ کے لئے جس قدر بروزات کا دور ممکن تھا۔ وہ تمام مراتب بروزی وجود کے طے کر کے آخری آدم پیدا ہوا ہے۔ اور اس میں اتم اور اکمل بروزی حالت دکھائی گئی ہے۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کے صفحہ ٥٠٥ میں میری نسبت ایک یہ خدا تعالیٰ کا کلام اور الہام ہے کہ خلق ادم فاکرمہ یعنی خدا نے آخری آدم کو پیدا کر کے پہلے آدموں پر ایک وجہ سے اس کو فضیلت بخشی۔ اس الہام اور کلام الٰہی کے یہی معنے ہیں کہ گو آدم صفی اللہ کے لئے کئی بروزات تھے۔ جن میں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی تھے۔ لیکن یہ آخری بروز اکمل اور اتم ہے۔“ (تریاق القلوب ص ١٥٦، ١٥٧۔ خزائن ج ١٥ ص ٤٨١ تا ٤٨٢)
یہ ایسی پُر زور دلیل ہے۔ کہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ مگر افسوس ہے مخالفت نے مخالفوں کے دانت ایسے تیز کر رکھے ہیں کہ ایسی صاف اور شستہ تقریر پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت آدم اور حوا ”توأم“ (جوڑے) پیدا ہوئے تھے۔ یہ دعویٰ محض بے ثبوت ہی نہیں۔ بلکہ قرآن مجید کے صریح خلاف ہے۔ قرآن شریف میں صاف مذکور ہے ”خلق منھا زوجھا“ (خدا نے آدم کی بیوی اُس میں سے یا اُس کی جنس سے پیدا کی) ان دونوں توجیہوں کو تو الفاظ قرآنی برداشت کر سکتے ہیں۔ مگر آپ نے جو فرمایا ہے کہ آدم اور حوا ”توأم“ (جوڑے) پیدا ہوئے تھے۔ یہ محض گپ ہے۔ (مرزائیو! کیا کہتے ہو؟)
اسی ضمن میں مرزا صاحب نے حضرت شیخ اکبر ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی نقل کیا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
”اس پیشگوئی کو شیخ محی الدین ابن العربی نے فصوص الحکم میں فص شیث میں لکھا ہے اور دراصل یہ پیشگوئی فص آدم میں رکھنے کے لائق تھی مگر انہوں نے شیث کو ”الولد سر لابیہ“ کا مصداق سمجھ کر اسی فص میں اُس کو لکھ دیا ہے۔ ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ اس جگہ شیخ کی اصل عبارت نقل کر دیں اور وہ یہ ہے۔ وعلی قدم شیث یکون آخر مولود یولد من ھذا النوع الانسانی وھو حاصل اسرارہ ولیس بعدہ ولد فی ھذا النوع فھو خاتم الاولاد وتولد معہ اخت لہ فتخرج قبلہ ویخرج بعدھا یکون راسہ عند رجلیھا ویکون مولدہ بالصین ولغتہ لغت بلدہ ویسری العقم فی الرجال والنساء فیکثر النکاح
٤١
من غیر ولادۃ ویدعوھم الی اللہ فلا یجاب . “
(تریاق القلوب ص ١٥٨۔ خزائن ج ١٥ ص ٤٨٢)
مناسب ہے کہ اس عربی عبارت کا ترجمہ پہلے ہم ناظرین کو سنالیں تاکہ مرزا صاحب کی غلط بیانی اُن کو بخوبی ذہن نشین ہو سکے۔ ترجمہ یہ ہے:
’’حضرت شیث کے طریق پر سب سے آخر نوع انسانی کا ایک بچہ پیدا ہوگا اور وہ اُس کے اسرار کو لئے ہوئے ہوگا اور اس سے بعد نوع انسانی میں کوئی بچہ پیدا نہ ہوگا۔ پس وہ نوع انسانی کے لئے خاتم الاولاد ہوگا اُس کے ساتھ اُس کی ایک ہمشیرہ پیدا ہوگی جو اس سے پہلے نکلے گی اور وہ اُس سے بعد نکلے گا اُس لڑکے کا سر اپنی ہمشیرہ کی دونوں ٹانگوں میں ہوگا۔ اور اُس بچے کی ولادت چین میں ہوگی۔ اور اُس بچے کی زبان یعنی گفتگو اسی (چینی) زبان میں ہوگی۔ اُس بچے کے بعد مردوں اور عورتوں میں عقم یعنی بے اولادی عام ہو جائے گی۔ نکاح تو زیادہ ہوں گے مگر بغیر اولاد کے۔ وہ بچہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے گا مگر اُس کی سنی نہ جائے گی۔ (یعنی کوئی شخص اس کی ہدایت پر عمل نہ کرے گا ۔)
اس کلام کا مطلب صاف ہے کہ قریب قیامت کے نوع انسان میں ایک بچہ چین کے ملک میں پیدا ہوگا جو بڑا ہو کر چینی زبان میں چینیوں کو وعظ کرے گا اُس سے بعد کوئی بچہ پیدا نہ ہوگا اور اس کے بعد آہستہ آہستہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اب غور سے سنئے کرشن قادیانی اُس کو اپنے پر کس طرح لگاتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’یعنی کامل انسانوں میں سے آخری کامل ایک لڑکا ہوگا جو اصل مولد اس کا چین ہوگا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم مغل اور ترک میں سے ہوگا اور ضروری ہے کہ عجم میں سے ہوگا نہ عرب میں سے۔ اور اس کو وہ علوم واسرار دیئے جائیں گے جو شیث کو دیئے گئے تھے۔ اور اس کے بعد کوئی اور ولد نہ ہوگا اور وہ خاتم الاولاد ہوگا۔ یعنی اس کی وفات کے بعد کوئی کامل بچہ پیدا نہیں ہوگا۔ اور اس فقرہ کے یہ بھی معنی ہیں کہ وہ اپنے باپ کا آخری فرزند ہوگا اور اُس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اُس سے پہلے نکلے گی اور وہ اس کے بعد نکلے گا اُس کا سر اُس دختر کے پیروں سے ملا ہوگا یعنی دختر معمولی طریق سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اس کے پیروں کے بعد بلا توقف اُس پسر کا سر نکلے گا جیسا کہ میری ولادت اور میری توام ہمشیرہ کی ظہور میں آئی۔ اور پھر بقیہ ترجمہ شیخ کی عبارت کا یہ ہے کہ اُس زمانہ میں مردوں اور عورتوں میں بانجھ کا عارضہ سرایت
٤٢
کرے گا۔ نکاح بہت ہوگا یعنی لوگ مباشرت سے نہیں رکیں گے مگر کوئی صالح بندہ پیدا نہیں ہوگا اور وہ زمانہ کے لوگوں کو خدا کی طرف بلائے گا مگر وہ قبول نہیں ؎١ کریں گے اور اس عبارت کے شارح نے جو کچھ اس کی شرح میں لکھا ہے وہ یہ ہے: پہلا مولود جو آدم کو بخشا گیا وہ شیث ہے اور ایک لڑکی بھی تھی جو شیث کے ساتھ بعد اُس کے پیدا ہوئی پس خدا نے چاہا کہ وہ نسبت جو اول اور آخر میں ہوتی ہے وہ نوع انسان میں متحقق کرے اس لئے اُس نے ابتداء سے مقدر کر رکھا تھا کہ طرز ولادت پسر آخری پسر اول سے مشابہت رکھے پس پسر آخر جو خاتم الخلفاء تھا اور بموجب اس پیشگوئی کے جو شیخ نے اپنی کتاب عنقاء مغرب میں لکھی ہے وہ خاتم الخلفاء اور خاتم الاولیاء عجم میں سے پیدا ہونے والا تھا نہ عرب سے اور وہ حضرت شیث کے علوم کا حامل تھا۔ اور پیشگوئی میں یہ بھی الفاظ ہیں کہ اُس کے بعد یعنی اُس کے مرنے کے بعد نوع انسان میں علت عقم سرایت کرے گی یعنی پیدا ہونے والے حیوانوں اور وحشیوں سے مشابہت رکھیں گے اور انسانیت حقیقی صفحۂ عالم سے مفقود ہو جائیں گے ؎٢ ”وہ حلال کو حلال نہیں سمجھیں گے اور نہ حرام کو حرام ؎٣۔ پس اُن پر قیامت قائم ہوگی۔“
(تریاق القلوب ص ١٥٨، ١٥٩، خزائن ج ١٥ ص ٤٨٢، ٤٨٣)
مرزائیو! ایمان سے کہنا عربی عبارت سامنے رکھ کر اپنے پیر کے کمالات کو سمجھ کر کہنا۔ کیا عربی عبارت کا یہی مطلب ہے جو کرشن جی کہتے ہیں؟ بھلا اتنا تو بتلاؤ کہ یعنی در یعنی لگانے کا کرشن جی کو کیا حق ہے۔ کیا تم ایمان سے کہہ سکتے ہو کہ ”یکون مولدہ بالصین“ کے مطابق مرزا صاحب پر یہ عبارت چسپاں ہوسکتی ہے؟ پھر اس طرفہ پر طُرہ یہ ہے کہ آپ حقیقۃ الوحی میں اسی عبارت کو ایسا صاف محرف کرتے ہیں کہ یہودیوں کے بھی کان کتر ڈالتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
”شیخ محی الدین ابن العربی نے لکھا ہے کہ وہ چینی الاصل ہوگا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٠١، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٩)
اس کمال جرأت کو دیکھئے کہ جس عبارت کو آپ ہی نقل کرتے ہیں اُسی کو دوسرے مقام پر ایسا بگاڑتے ہیں کہ بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے
؎١ آپ کے تو (بقول آپ کے) لاکھوں مرید ہیں پھر یہ پیشگوئی آپ پر کیسے صادق آسکتی ہے؟ ؎٢ اصل کتاب میں اسی طرح ہے۔ ؎٣ اگر یہ پیشگوئی آپ کے حق میں ہے تو مرزائی وحشی ہیں کیونکہ آپ کے بعد کوئی صالح بندہ پیدا نہ ہونا چاہئے۔ مرزائی دوستو! کیا کہتے ہو؟ (مصنف)
٤٣
کیا وعدہ تمہیں کر کے مکرنا نہیں آتا
لطیفہ :۔ ناظرین یہ سن کر حیران ہوں گے کہ مرزا صاحب اس جگہ تو حضرت ابن العربی کا قول سند لاتے ہیں۔ مگر تقریر وحدۃ الوجود میں انہی ابن العربی اور اُن کے مذہب کی نسبت وہ بے نقط سنائی ہیں کہ الاماں۔ مگر یہاں اُن کے قول کو (اور وہ بھی محرف کر کے) سنداً پیش کیا ہے۔ کیا سچ ہے۔
میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل چلا
......☆......
ہم نے جناب مسیح موعود کو کیا دیکھ کر قبول کیا
اس عنوان سے ایک طویل مضمون قادیانی اخبار الحکم ١٠؍ جنوری ١٩٠٨ء میں نکلا ہے جو کئی ایک نمبروں میں ختم ہوا ہے۔ اس مضمون کا لکھنے والا ایسا طول نویس ہے کہ ہم جس مضمون پر اس کے دستخط دیکھ پاتے ہیں اُس کو نہیں پڑھتے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو یہی مرزا صاحب کا پکا مرید ہے۔ جس طرح مرزا صاحب طول نویسی میں مشاق ہیں۔ یہ راقم بھی کم نہیں بلکہ اُن سے بھی کسی قدر زائد۔ مگر ایک دوست کی فرمائش سے ہم نے بادلِ نخواستہ اس مضمون کو پڑھا اور جواب کی طرف توجہ کی۔ سنئے:
سارے مضمون کا خلاصہ دو فقروں میں ہے۔ جو خود راقم ہی کے الفاظ میں نقل کر دیتے ہیں۔ راقم مضمون لکھتا ہے:
’’اس میں شک نہیں کہ مرزا صاحب کے دعویٰ کا دارو مدار آ کر آخر کار اسی مرکز پر ٹھہرتا ہے کہ یہ تمام اسلام کی صداقت کا زندہ ثبوت ہے اور کہ اسلام میں یہ طاقت موجود ہے کہ اُس کی پیروی کرنے سے اُس کا ایک سچا پیرو وحی و الہام سے مشرف کیا جاسکتا ہے۔ ......پس کیوں نہ ہم اس پہلو کو اختیار کریں جو اصل الاصول اور نتیجہ خیز پہلو ہے۔‘‘
(الحکم ١٠ جنوری ١٩٠٨ء ص ٧ کالم ٢)
٤٤
راقم مضمون کی یہ تقریر دو حصوں پر منقسم ہے ایک تو یہ کہ اسلام میں یہ برکت ہے۔ بہت خوب ہمیں اس سے تو بحث نہیں۔ دوسرا حصہ جو آپ کی اصل مراد ہے یہ ہے کہ مرزا صاحب اس کا زندہ نمونہ ہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب خود بھی ہمیشہ اسلام کا نمونہ اپنے وجود باجود ہی کو پیش کیا کرتے ہیں (دیکھو تریاق القلوب ص ٥٤۔ خزائن ج ١٥ ص ٢٤٩)۔
پس اس دوسرے حصہ پر ہماری بحث ہو گی۔ یعنی اس امر پر کہ مرزا صاحب واقعی موردِ الہام و وحی ہیں۔ لیکن اس بحث سے پہلے ہم ناظرین کو ایک خوشخبری سناتے ہیں کہ مرزائی جنگ کا صحیح نقشہ جو ہم نے آج سے سالہا سال پہلے پبلک میں پیش کیا تھا جس کو اس وقت مرزائیوں نے غلط سمجھا تھا۔ راقم مضمون نے اُسی کو صحیح سمجھا ہے۔ وہ نقشہ ہم نے رسالہ الہامات مرزا میں لکھ دیا تھا کہ مرزائی مباحث میں زور صرف اس بات پر ہونا چاہئے کہ مرزاجی کے الہامات صحیح ہیں یا غلط۔ اس کا نتیجہ بھی یہی بتلایا تھا کہ اگر مرزاجی اپنے الہامات میں سچے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ مقرب خدا ہیں۔ پھر جو کچھ وہ فرمائیں یا کسی آیت کی تفسیر کریں گے وہی صحیح ہو گی۔ اور اگر وہ اپنے الہامات میں کاذب ہیں تو گو بعض فرعی مسائل میں وہ حق بجانب ہوں یا اُن کا پہلو قوی ہو تو بھی وہ مسیح موعود یا مہدی مسعود نہیں ہو سکتے۔ الحمدللہ کہ ہمارا پیش کردہ نقشہ آج مرزائی کیمپ میں بھی منظور ہو گیا۔ جس پر ہم خوشی میں اگر یہ شعر پڑھیں تو بجا ہے۔
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
الحمدللہ کہ موضوع بحث کا تو مقرر ہو گیا۔ اس لئے سڑک صاف ہے۔ پس اب ہم ناظرین کو خوشخبری سناتے ہیں کہ اس موضوع میں ہمارا ایک زبردست رسالہ ہے جس کا نام ہے ’’الہامات مرزا‘‘۔ اس رسالہ میں مرزا صاحب کے الہامات کا وہ مدلل خاکہ اُڑایا ہے کہ آج تک نہ مرزا سے نہ کسی مرزائی سے اُس کا جواب بن پڑا۔ اس جگہ ہم بطور نمونہ مرزاجی کے الہامات کا نقشہ بتلاتے ہیں۔ غور سے سنئے۔
مرزا صاحب کی پیشگوئیاں یوں تو بقول اُن کے سینکڑوں تک پہنچتی ہیں۔ مگر وہ عموماً اُسی قسم کی ہیں جو گذشتہ ایام میں اخبار جامع العلوم مراد آباد کے شوخ مزاج اڈیٹر نے ایک پنڈت جی کی نسبت کی تھیں کہ صبح اُٹھتے ہی پنڈت جی کو پاخانہ پیشاب کی حاجت ہو گی۔ پنڈت جی کھانا کھائیں گے تو سیدھا اُن کے معدہ میں اُتر جائے گا۔ غرض مرزاجی کی پیشگوئیاں بھی بہت سی اسی قسم کی ہیں۔ مگر چند ایسی بھی ہیں کہ اُن کو مرزا صاحب خود بھی اپنے لئے مدار صدق و کذب جانتے
٤٥
اور بتلاتے ہیں۔ بہتر ہے کہ اُن پیشگوئیوں کی فہرست مرزا صاحب ہی کے الفاظ میں بتلادیں۔
مرزا صاحب رسالہ ”شہادۃ القرآن“ میں عبداللہ آتھم۔ پنڈت لیکھ رام۔ مرزا احمد بیگ اور اُس کے داماد کی نسبت پیشگوئیوں کا ذکر کر کے لکھتے ہیں:
”یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے۔ اور ان میں سے وہ پیشگوئی جو مسلمانوں کی قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت عظیم الشان ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٨٠۔ خزائن ج ٦ ص ٣٧٦)
اس تحریر میں مرزا صاحب نے مرزا احمد بیگ اور اُن کے داماد والی پیشگوئی کو مسلمانوں سے بتلایا ہے گو ہمارا حق ہے کہ ہم سب پیشگوئیوں کی جانچ کریں لیکن چونکہ مرزا صاحب نے اس تقریر میں صرف ایک ہی پیشگوئی کو ہمارے حصہ میں دیا ہے۔ اس لئے ہم بھی سر دست اسی ایک کو بطور نمونہ جانچتے ہیں۔
شکر ہے کہ مرزا صاحب نے اس پیشگوئی کو واضح لفظوں میں بیان کیا ہوا ہے۔ آپ رسالہ ”کرامات الصادقین“ میں لکھتے ہیں:
”قال انہا لے١؎ سیجعل ثیبۃ ویموت بعلہا وابوہا الی ثلاث سنۃ من یوم النکاح ثم نردہا الیک بعد موتہما ولا یکون احدہما من العاصمین۔“
(اخیر صفحہ سرورق کرامات الصادقین۔ خزائن ج ٧ ص ١٦٢)
”یعنی خدا نے کہا ہے کہ وہ عورت یعنی مرزا احمد بیگ کی لڑکی (جس کے نکاح میں آنے کے مرزا صاحب کو الہام ہوتے تھے اور وہ دوسری جگہ بیاہی گئی تھی) بیوہ ہو جائے گی اُس کا خاوند اور اس کا باپ روزِ نکاح سے تین سال کے اندر اندر مر جائیں گے پھر ہم (خدا) اُس کو تیرے (مرزا کے) پاس (نکاح میں) لے آئیں گے اور اُن دونوں میں سے اُس کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“
اس تحریر میں مرزا صاحب نے احمد بیگ اور اُس کے داماد کی موت یومِ نکاح سے تین سال تک بتلائی ہے۔ اب ہم کو یہ دکھانا ہے کہ اس پیشگوئی کی آخری تاریخ کیا ہے۔ شکر بلکہ صد شکر ہے کہ مرزا صاحب نے ہمیں اس امر کی تحقیق کرنے سے بھی سبکدوش کر دیا۔ آپ رسالہ شہادۃ القرآن میں لکھتے ہیں:
١؎ یہ عبارت اسی طرح ہے ہم اس کی صحت کے ذمہ دار نہیں ۔ (مصنف)
٤٦
”مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو ٢١ ستمبر ١٨٩٣ء ہے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٩۔ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥)
یہ عبارت بآواز بلند پکار رہی ہے کہ احمد بیگ کا داماد (طال عمرہ) ٢١ اگست ١٨٩٤ء کو دنیا میں نہ رہنا چاہئے تھا۔ مگر ناظرین کس حیرت سے سنیں گے کہ باوجود یکہ میعاد کو ختم ہوئے آج ٢١ اپریل ١٩٠٨ء ١ کو تیرہ سال سات ماہ مدت گذر چکے ہیں مگر وہ جوان (طال بقاہ) آج تک زندہ سلامت ہے۔ جس کی زیست کی خبریں سُن کر مرزا جی اندر ہی اندر کڑھتے ہیں۔
ناظرین! یہ ہے مرزا جی کی وحی اور الہام کا نمونہ جو آپ حضرات نے دیکھ لیا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ راقم مضمون مرزا جی کی بگڑی ہوئی وحی کو کیونکر سنوارتا ہے۔ لیکن وہ یاد رکھے:
ولن یصلح العطار ما افسد الدہر
ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ کوئی پیشگوئی مرزا صاحب نے ایسی نہیں کی جو پیش از وقت صاف بتلائی ہو پھر اُس کا وقوعہ بھی اُسی طرح ہوا ہو۔ اور جن کا وقوعہ بتلایا جاتا ہے وہ ایسی گول مول ہیں کہ موم کی ناک سے بھی زیادہ نرم ہیں۔ ہم اس امر کے ثابت کرنے کے لئے بفضلہ تعالیٰ کافی مصالحہ رکھتے ہیں۔ اچھا ہوا کہ نامہ نگار مذکور نے یہ پہلو خود ہی اختیار کیا۔
چھیڑیو مت کہ بھرے بیٹھے ہیں
......☆......
مرزا قادیانی اپنے منہ سے کافر
آج کل مرزا صاحب کے کافر ہونے نہ ہونے پر بہت کچھ موشگافیاں ہو رہی ہیں۔ مگر
١ آج (مارچ ١٩١٧ء کو ٢١ سال ہو گئے ابھی زندہ ہے۔
٢ ایک بڑھیا عورت وسمہ لینے کو جا رہی تھی کہ سر کے بالوں کو سیاہ کرے ایک شوخ طبع شاعر نے اسے دیکھ کر یہ شعر پڑھا کہ عطار کے پاس جوانی کا ساز و سامان لینے چلی ہے۔ بھلا جو زمانے کے اثر سے خراب ہو چکا ہے اُسے عطار کیا سنوارے گا۔ یہ شعر مرزا صاحب اور اس کے ماننے والوں کے حق میں بہت موزوں ہے۔
٤٧
ہم آج جس طریق سے مرزاجی کا کافر ہونا ثابت کریں گے وہ سب سے آسان تر ہے اور لطف یہ ہے کہ مرزاجی کا اپنا اقرار ہے۔ مرزاجی لکھتے ہیں:
"ما کان لی ان ادعی النبوۃ واخرج من الاسلام والحق بقوم کافرین"
(حمامة البشریٰ ص ٧٩، خزائن ج ٧ ص ٢٩٧)
”یعنی یہ جائز نہیں کہ میں نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافروں سے جاملوں۔“
مرزاجی کے اس کلام سے معلوم ہوا کہ دعویٰ نبوت اسلام سے خارج ہونے اور کافر ہونے کا موجب ہے۔ اب سنئے! کہ مرزاجی نے نبوت کا دعویٰ کیا یا نہیں۔ پُرانے حوالے تو سب لوگوں کو معلوم ہیں کہ کس کس آن بان سے اظہارِ نبوت ہوتا تھا۔ مگر آج ایک نیا حوالہ سب سے واضح تر بتلا کر مرزائیوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ کیوں ایسے شخص کے پیچھے پڑے ہو جو بقول خود کافر ہے۔ مرزائیو! نیچے کا حوالہ بغور سنو! مرزاجی کہتے ہیں:
”ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم بغیر نئی شریعت کے رسول اور نبی ہیں...... بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے جن پر کتاب نازل نہیں ہوئی۔“
(بدر ٥/مارچ ١٩٠٨ء ۔ ملفوظات ج ١٠ ص ١٢٧)
مطلب یہ کہ مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں حضرت ہارون ۔ زکریا ۔ یحییٰ وغیرہم علیہم السلام کی طرح نبی ہوں۔ بہت خوب؎
سال دیگر گر خدا خواہد خدا خواہد شدن
مرزائیو! دیانتداری سے ان دونوں کلاموں کو ملا کر نتیجہ نکالو۔ تم میں سے جو ذرا منطق جانتے ہوں اُن کی آسانی کے لئے ہم یہاں صغریٰ کبریٰ بنا کر نتیجہ بتلاتے ہیں۔ سنو!
مرزا نے دعویٰ نبوت کیا۔ (صغریٰ)
اور بقول مرزاجی دعویٰ نبوت کرنے والا کافر ہے۔ (کبریٰ)
نتیجہ تم خود ہی سوچ لو کہ کون کافر ہے ؎
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
(مرقع اپریل ١٩٠٨ء)
٤٨
مرزا صاحب کا مجھ سے ایک سوال
اور
میری طرف سے اُس کا جواب
قابل توجہ مرزا صاحب اور مریدان مرزا صاحب
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
میرے عنایت فرما مرزا صاحب قادیانی نے اپنی تازہ تصنیف حقیقۃ الوحی میں مجھ سے ایک سوال کیا ہے جو واقعی قابل قدر ہے۔ گو مرزا صاحب تو ہمارے کسی سوال کا جواب نہیں دیا کرتے۔ مگر ہم کیوں نہ دیں۔ پس میں پہلے مرزا صاحب کے سوال کو اُنہی کے الفاظ میں نقل کرتا ہوں۔ مگر اس سوال کی وجہ مرزا صاحب کو یہ پیش آئی ہے کہ ٨؍فروری ١٩٠٨ء کے اخبار ”اہلحدیث“ میں لکھا گیا تھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب امام مرزا کی نسبت مرزا صاحب کو کئی ایک الہام صحت یاب ہو جانے کے بعد ہوئے تھے تاہم وہ مر گیا۔ اس پر مرزا صاحب نے میری نسبت غصہ ظاہر کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
”یاد رہے کہ میرے نشانوں کو سن کر مولوی ثناء اللہ صاحب کی عادت ہے کہ ابو جہلی مادہ کے جوش سے انکار کے لئے کچے حیلے پیش کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ اس جگہ بھی انہوں نے یہی عادت دکھلائی۔ اور محض افتراء کے طور پر اپنے پرچہ ٨؍فروری ١٩٠٨ء میں میری نسبت یہ لکھ دیا ہے کہ مولوی عبدالکریم کے صحت یاب ہونے کی نسبت ان کو الہام ہوا تھا کہ وہ ضرور صحت یاب ہو جائے گا مگر آخر وہ فوت ہو گیا۔ اس افترا کا ہم کیا جواب دیں بجز اس کے کہ ”لعنت الله علی الکاذبین“ مولوی ثناء اللہ صاحب ہمیں بتلائیں کہ اگر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کے صحت یاب ہونے کی نسبت الہام مذکورہ بالا ہو چکا ہے تو پھر یہ الہامات مندرجہ ذیل جو اخبار الحکم اور بدر میں شائع ہو چکے ہیں کس کی نسبت تھے؟ یعنی کفن میں لپیٹا گیا۔ ٤٧ سال کی عمر۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس نے اچھا ہونا ہی نہیں تھا۔ ”ان المنایا لا تطیش سہامھا“ یعنی موتوں کے تیر ٹل نہیں سکتے۔
٤٩
واضح ہو کہ یہ سب الہام مولوی عبد الکریم صاحب کی نسبت تھے۔ ہاں ایک خواب میں اُن کو دیکھا تھا کہ گویا وہ صحت یاب ہیں مگر خوابیں تعبیر طلب ہوتی ہیں اور تعبیر کی کتابیں دیکھ لو۔ خوابوں کی تعبیر میں کبھی موت سے مراد صحت اور کبھی صحت سے مراد موت ہوتی ہے۔ کئی مرتبہ خواب میں ایک شخص کی موت دیکھی جاتی ہے اور اس کی تعبیر زیادت عمر ہوتی ہے۔ یہ حال اُن مولویوں کا ہے جو بڑے دیانت دار کہلاتے ہیں۔ جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی بُرا کام نہیں۔ ایسے جھوٹ کو خدا نے جس سے مشابہت دی ہے۔ مگر یہ لوگ رجس سے پرہیز نہیں کرتے۔“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٣٦۔ خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٨، ٤٥٩)
جواب :۔
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
شکر صد شکر ہے کہ مرزا صاحب بھی اس اصول میں ہمارے ساتھ متفق ہوئے ہیں کہ جھوٹ بولنے سے بدتر دنیا میں اور کوئی بُرا کام نہیں۔ پس اب ہمیں واقعاتِ صحیحہ سے یہ بتلانا ہے کہ جھوٹ کون بولتا ہے۔ ہمارے مرزائی دوست ہم کو صحیح صحیح واقعات پیش کرنے میں معذور سمجھیں اور یہ جانیں کہ اگر ہم ان واقعات کو پیش نہ کریں گے تو وہ کسی طرح مٹ نہ جائیں گے۔ پس وہ ٹھنڈے دل سے ان واقعات کو سنیں اور سچ جھوٹ کو بڑی متانت سے جانچیں۔ میں جانتا ہوں کہ انسان فطرۃً مجبور ہے کہ محبوب کے عیوب دیکھنے اور سننے کے وقت اُس کی آنکھ اور کان بند ہو جاتے ہیں۔ لیکن اُن کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر وہ نہ سنیں گے تو اُن کے مخالف تو ضرور سنیں گے۔ پھر کسی موقع پر اچانک اُن کے سامنے اگر وہ واقعات پیش ہو گئے تو کیا جواب دیں گے۔ اس لئے ذرہ انصاف اور حوصلہ سے سنیں۔ ہم سے جہاں تک ہو سکا ہے اس مضمون میں مرزائیوں کی دل شکنی کا بہت لحاظ رکھا ہے۔ حتی المقدور ان الفاظ سے جن کے ہم مرزا صاحب کو مستحق جانتے ہیں کام نہیں لیا تا کہ ہمارے مرزائی دوستوں کو اصل مضمون سمجھنے میں مانع نہ ہوں۔ بہر حال بغور سنئے:
عبارت مرقومہ بالا میں مرزا صاحب نے ایک تو اس سے انکار کیا ہے کہ مولوی عبد الکریم کی بابت کوئی الہام صحت یابی کا نہیں ہوا تھا۔ دوم کفن، ٤٧ سال اور منایا والے الہامات سب مولوی عبد الکریم کے حق میں تھے۔ بس ان دو تنقیحی امور کا تردیدی ثبوت ہمارے ذمہ ہے۔ ناظرین رسالہ خصوصاً مرزائی دوست بغور سنیں۔
مولوی عبد الکریم کی علالت کی خبر پہلے پہل الحکم ٣١؍اگست ١٩٠٥ء میں نکلی تھی۔ جس
٥٠
میں بہت بڑی تمہید کے بعد مرزا صاحب کے چند ایک الہامات درج تھے۔ جو یہ ہیں:
”٣٠ اگست ١٩٠٥ء۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی گردن کے نیچے پشت پر ایک پھوڑا ہے جس کو چیرا دیا گیا ہے۔ (مرزا صاحب نے ) فرمایا میں نے اُن کے واسطے رات دعا کی تھی۔ رؤیا (خواب) میں دیکھا کہ مولوی نورالدین ایک کپڑا اوڑھے بیٹھے ہیں اور رو رہے ہیں۔ فرمایا ہمارا تجربہ ہے کہ خواب کے اندر رونا اچھا ہوتا ہے۔ اور میری رائے میں طبیب کا رونا مولوی صاحب کی صحت کی بشارت ہے۔“
(تذکرہ ص ٥٥٩ طبع ٣۔ الحکم ج ٩ نمبر ٣١ مورخہ ٣١ اگست ١٩٠٥ء ص ١٠ کالم ١۔٢)
گو یہی ایک الہام معہ الہامی تفسیر کے ہمارے دعوے کے اثبات کے لئے کافی ہے مگر ہم اسی پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اور بھی بہت کچھ پیش کرتے ہیں۔ ذرا غور سے سنئے ۔ ١٠؍ستمبر ١٩٠٥ء کے الحکم میں ٧ ؍ستمبر کا واقعہ لکھا ہے:
”(مرزا صاحب نے ) فرمایا اللہ تعالیٰ کے نشان اس طرح کے ہوتے ہیں کہ ان میں قدرت اور غیب ملا ہوا ہوتا ہے اور انسان کی طاقت نہیں ہوتی کہ اُن کو ظاہر کر سکے۔ فرمایا مولوی صاحب کی زیادہ علالت کے وقت میں بہت دعا کرتا تھا اور بعض نقشے میرے آگے ایسے آئے جن سے ناامیدی ظاہر ہوتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ موت کا وقت ہے اور ظاہر طب کی رو سے بھی معاملہ خوفناک تھا۔ کیونکہ ذیابیطس والے کو سرطان ہو جائے تو پھر بچنا مشکل ہوتا ہے۔ اس دُعاء میں نے بہت تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بشارت نازل کی اور عبداللہ سنوری والا خواب میں نے دیکھا جس سے نہایت درجہ غم ناک دل کو تشفی ہوئی جو گذشتہ اخبار میں چھپ چکا ہے۔“
(صفحہ ٣ کالم ٢۔ ملفوظات ج ٨ ص ٧)
٩ ؍ستمبر کا واقعہ اس سے بھی واضح تر ہے۔ ایڈیٹر الحکم لکھتا ہے:
”حضرت اقدس حسب معمول تشریف لے آئے اور ایک رؤیا (خواب) بیان کی جو بڑی ہی مبارک اور مبشر رؤیا ہے جس کو میں نے اس مضمون کے آخر میں درج کر دیا ہے۔ فرماتے تھے کہ آج تک جس قدر الہامات اور مبشرات ہوئے تھے اُن میں نام نہ تھا۔ لیکن آج تو اللہ تعالیٰ نے خود مولوی عبدالکریم صاحب کو دکھا کر صاف طور پر بشارت دی ہے اس رؤیا (خواب) کو سُن کر جب ڈاکٹر صاحب پٹی کھولنے گئے ہیں تو خدا کی عجب قدرت کا مشاہدہ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ سارے زخم پر انگور آ گیا ہے۔ والحمد للہ علیٰ ذالک۔ غرض اس وقت تک زخم کی حالت اچھی ہے۔
٥١
اور مولوی صاحب روبصحت ہیں۔ ضعف اور نقاہت ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کئی دن سے کھایا کچھ نہیں تھوڑی سی یخنی یا دودھ پیتے ہیں۔ بہر حال رب کریم کے حضور سے بہت بڑی امیدیں ہیں کہ وہ اپنے بندے کو ضائع نہ کرے گا۔ جماعت کا فرض ہے کہ مولوی صاحب کیلئے خاص طور پر دعائیں کرے۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ٣٢۔ ١٠؍ستمبر ١٩٠٥ء ص ٢ کالم ٤)
مرزائی دوستو! اس حوالہ کو دیکھ کر بھی تم لوگ کہہ سکتے ہو کہ تمہارے اعلیٰ حضرت کس قدر راست گو ہیں۔ واللہ سچ کہتا ہوں کہ خاکسار کو مرزا صاحب پر اتنا رحم نہیں آتا جتنا تم لوگوں کے حال پر رحم بلکہ افسوس ہوتا ہے کہ تم لوگ بے خبری میں ایسے گڑھے میں گرے ہو کہ اُس سے باہر نکلنا تمہارا مشکل ہے۔ ان حضرت کی شان کو تو میں اس سے ارفع جانتا ہوں کہ ان کی نسبت میں کاذب یا کذّاب کا لفظ لکھوں۔ مرزا صاحب کے مباحثات کی بنیاد اب کسی منقول یا معقول پر مبنی نہیں رہی بلکہ واقعات کی تحقیق پر ہے جس میں ہر ایک عالم اور جاہل حصہ لے سکتا ہے۔ اور سنئے! ٢٤؍ستمبر ١٩٠٥ء کے الحکم میں لکھا ہے۔
”مرزا صاحب نے ١٩؍ستمبر ١٩٠٥ء کو رؤیا (خواب) دیکھا کہ مرزا غلام قادر صاحب میرے بڑے بھائی نہایت سفید لباس پہنے ہوئے میرے ساتھ جارہے ہیں اور کچھ باتیں کرتے ہیں ایک شخص اُن کی باتیں سن کر کہتا ہے کہ یہ کیسی فصیح بلیغ گفتگو کرتے ہیں گویا پہلے سے حفظ کر کے آئے ہیں۔ فقط۔ فرمایا: ہمارا تجربہ ہے کہ جب کبھی ہم اپنے بھائی صاحب کو خواب میں دیکھتے ہیں تو اُس سے مراد کسی مشکل کام کا حل ہونا ہوتا ہے۔ آج کل چونکہ مولوی عبدالکریم صاحب کے واسطے بہت دعا کی جاتی ہے۔ اس واسطے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اِن کو شفا دے گا۔ غلام قادر سے خدائے قادر کی قدرت کی طرف اشارہ ہے۔
(ج ٩ نمبر ٣٣۔ ص ١ کالم ٣۔ تذکرہ ص ٥٢٧۔ طبع ٣)
پھر صفحہ نمبر ٢ پر لکھا ہے: ”شیخ نور احمد صاحب نے اپنا ایک خواب عرض کیا کہ میں نے دیکھا کہ مولوی عبدالکریم صاحب مسجد میں کھڑے ہیں اور وعظ کرتے ہیں اور یہ آیت پڑھتے ہیں ”اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون“ فرمایا اس سے بظاہر مولوی صاحب کی صحت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم“
(ج ٩۔ نمبر ٣٣۔ ص ٢ کالم ٢۔ ملفوظات ج ٨ ص ١٣۔ ١٤)
پھر کالم نمبر ٤ پر اس سے بھی زیادہ وضاحت کی گئی ہے۔ لکھا ہے: ”٢١؍ستمبر کو اعلیٰ حضرت (مرزا صاحب) حضرت مولوی (عبدالکریم) صاحب
٥٢
کے لئے بہت دعا کرتے رہے۔ اس پر الہام ہوا ”طلع البدر علینا ، من ثنیۃ الوداع“ (یعنی ہم پر بدر چڑھا جس کا صاف مطلب ہے کہ مولوی عبدالکریم صحت یاب ہو گا ۔)
(ایضاً ص٢۔ تذکرہ ص ٥٦٨ طبع ٣۔ ملفوظات ج ٨ ص ٤٨٤)
مرزائی دوستو! ہمارے حوالجات کو دیکھ کر بتلا سکتے ہو کہ مرزا صاحب نے کوئی الہام یا خوشخبری مولوی عبدالکریم کے لئے ظاہر نہیں کی؟ اگر نہیں کی تو اوپر کی عبارات کا مطلب کیا ہے۔ کیا تم اتنا نہیں سمجھتے کہ تم لوگ اگر محبت میں پھنس کر واقعات صحیحہ کو نہ دیکھو گے تو کیا دنیا بھی اندھی ہے۔ اور اگر ان حوالجات میں کوئی الہام تسلی بخش یا خوشخبری صحت بخش ہے تو پھر یہ حضرت کیوں انکار کرتے ہیں۔ جو حقیقۃ الوحی کے ایک اور مقام پر لکھتے ہیں : ”١١؍ اکتوبر ١٩٠٥ء کو ہمارے ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم اسی بیماری کاربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے۔ اُن کے لئے بھی میں نے دعا کی تھی مگر ایک بھی الہام اُن کے لئے تسلی بخش نہ تھا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٢٦۔ خزائن ج ٢٢ ص ٣٣٩)
مرزائیو! کیا تم حوصلہ کر سکتے ہو کہ اُن حضرت یا اُن کے خلیفہ سے دریافت کرو کہ جھوٹ بولنا نجس کھانے کے برابر ہے یا کم و بیش؟ اور یہ کہ قادیانی اصطلاح میں جھوٹ بولنا لازمہٴ نبوت ہے یا منافی۔ آہ؎
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
ہم نے تو اپنے دعوے کا ثبوت کافی دے دیا ہے کہ مولوی عبدالکریم کی بابت صحت کے الہام تھے۔ یہاں تک کہ مرزا صاحب کو خود اقرار ہے کہ خدا نے مولوی عبدالکریم کا نام بھی لے دیا ہے۔ پھر اس سے زیادہ ثبوت کیا ہو سکتا ہے۔
رہا دوسرا حصہ کہ کفن میں لپیٹا گیا ٤٧ سال کی عمر وغیرہ۔ سو اس کے متعلق بھی ہم اصل اور صحیح واقعات پیش کر دیتے ہیں۔ خدا کے فضل سے ہمارے پاس کافی سامان ہے۔ اس لئے ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ اپنے پاس سے کچھ جواب دیں۔ پس بغور سنئے۔ الحکم ١٠؍ ستمبر ١٩٠٥ء کے پرچہ میں یہ الہامات درج ہیں جو معہ تفسیر مرزائی کے ہم نقل کرتے ہیں۔ لکھا ہے: ”٢؍ ستمبر ١٩٠٥ء۔ سینتالیس سال کی عمر۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ اس
٥٣
سے دوسرے دن ٣؍ ستمبر ١٩٠٥ء کو ایک شخص کا خط آیا۔ جس میں اپنی بدکاریوں اور غفلتوں پر نہایت افسوس کی تحریر کر کے لکھا۔ اب میری عمر سینتالیس سال کی ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ فرمایا کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جو خط باہر سے آنے والا ہوتا ہے اُس کے مضمون سے پہلے ہی اطلاع دی جاتی ہے۔‘‘
(الحکم ج ٩ نمبر ٣٣ ص ٣ مورخہ ١٠؍ ستمبر ١٩٠٥ء ۔ تذکرہ ص ٥٦٦‘ ٥٦٧ ۔ طبع ٣)
٩؍ ستمبر ١٩٠٥ء۔ ان المنایا لا تطیش سہامھا ۔ کفن میں لپیٹا ہوا۔ فرمایا معلوم نہیں یہ الہامات کس کے متعلق ہیں۔‘‘
(ج ٩ نمبر ٣٣ ص ٣ کالم ٢۔ تذکرہ ص ٥٦٤)
مرزائیو! اعلیٰ حضرت کے کرشمے خوب غور سے دیکھو۔ کیا فرمارہے ہیں۔ مذکورہ بالا عبارت میں ٤٧ سال والے الہام کی تشریح تو خود حضرت صاحب نے آپ ہی کر دی کہ کسی تائب شخص کے حق میں ہے باقی دو کی بابت خود اقرار ہے کہ معلوم نہیں کہ یہ کس کے حق میں ہیں۔ البتہ ایک الہام باقی رہ گیا کہ ”اس نے اچھا ہونا ہی نہیں“۔ سو اس کا کہیں حوالہ نہیں دیا کہ کس زمانے کا ہے اور کب شائع کیا تھا اور اُس کا اشارہ کس طرف ہے۔ خدارا اتنا تو سوچو کہ ایک طرف تو مرزا جی خود ہی لکھتے ہیں:
”آج تک جس قدر الہامات اور مبشرات ہوئے تھے اُن میں نام نہ تھا لیکن آج تو اللہ تعالیٰ نے خود مولوی عبدالکریم صاحب کو دکھا کر صاف طور پر بشارت دی ہے۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ٣٣۔ ١٠؍ ستمبر ١٩٠٥ء تذکرہ ص ٥٦٣ طبع ٣)
پھر ساتھ ہی اس کے یہ الہام ہوا کہ:
”اُس نے اچھا ہونا ہی نہیں“
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ٢٦۔ خزائن ج ٢٢ ص ٤٥٨)
تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ ایک ہی واقعہ کی نسبت دو متضاد الہام کیا بتلا رہے ہیں۔ معلوم نہ ہو تو قرآن مجید کا عام اصول دیکھو کیا ہے۔ غور سے سنو!
”لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا .“ (النساء : ٨٢) ”(مطلب) اختلاف بیانی دلیل ہے کہ یہ کلام خدا کے ہاں سے نہیں ہے۔“
مرزائی دوستو! آؤ ہم ایک لطیف تفسیر ان الہاموں کی تم کو سنائیں۔ مگر خدارا ذرا دل کو کدورات سے صاف کر کے سننا۔ انہی الہامات کی تفسیر مرزا صاحب خود فرماتے ہیں۔ توجہ سے سنو! اڈیٹر الحکم لکھتا ہے:
”حضرت مولوی عبدالکریم کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے ٩؍ ستمبر کو (مرزا صاحب نے) فرمایا کہ مجھے بہت ہی فکر تھا کہ بعض الہامات ان میں متوحش تھے۔ آج صبح بہت سوچنے کے
٥٤
بعد میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ بعض وقت ترتیب کے لحاظ سے الہامات پہلے یا پیچھے ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان الہامات کی ترتیب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالی کہ ایسے الہامات جیسے اذا جاء افواج وسم من السماء اور کفن میں لپیٹا گیا اور ان المنايا لا تطيش سهامها یہ اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ قضا و قدر تو ایسی ہی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و رحم سے رَدّ بلا کر دیا (یعنی مولوی عبد الکریم اب نہیں مرے گا)
١٠؍ ستمبر نماز صبح کے وقت رؤیا :۔ ایک جگہ ایک بڑی حویلی ہے اُس کے آگے ایک چبوترہ ہے جس کی کرسی بہت بلند ہے اُس پر مولوی عبدالکریم صاحب سفید کپڑے پہنے ہوئے دروازہ پر بیٹھے ہیں اس جگہ میرے پانچ چار اور دوست ہیں جو ہر وقت اسی فکر میں ہیں۔ میں نے کہا مولوی صاحب میں آپ کو آپ کی صحت کی مبارکباد دیتا ہوں۔ اور پھر میں رو پڑا اور میرے ساتھ کے دوست بھی رو پڑے اور مولوی صاحب بھی رو پڑے۔ پھر میں نے کہا دعا کرو اور دعا میں تین دفعہ سورۂ فاتحہ پڑھی۔ فرمایا اس خواب کے تمام اجزاء مولوی صاحب کی صحت کی بشارت دیتے ہیں۔ سورۂ فاتحہ پڑھنے کی تعبیر بھی یہی ہے کہ انسان کوئی ایسا امر دیکھے جو اُس کو خوش کرنے والا ہو اور فرمایا جو الحمد خواب میں پڑھتا ہے اُس کی دعا قبول ہوتی ہے۔‘‘
(١٠؍ ستمبر ١٩٠٥ء صفحہ ١٢ کالم ٤،٣۔ تذکرہ ص ٥٦٥، ٥٦٤ طبع ٣)
ناظرین ! بغور ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا صاحب جن الہامات کو خود ایک جگہ بلاتعیین لکھ چکے ہیں اور دوسری جگہ اُن کو تقدیر مبرم بتلا چکے ہیں پھر کس قدر جرأت ہے کہ اُنہی الہامات کو مولوی عبدالکریم کی موت پر پیش کر کے اپنے تمام سابقہ نوشتوں پر پانی پھیرتے ہیں۔ خیر تو یہ ہوا واقعات کا اظہار۔ اب سنئے اس کا نتیجہ: مرزا صاحب اور ان کے معتقدین بڑے فخر سے کہا کرتے ہیں کہ مرزا جی کی دعا رَد نہیں ہوتی اور اسی کو وہ اپنے معجزات میں اول نمبر پر شمار کیا کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب لکھتے ہیں:
”مجھے بارہا خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرما چکا ہے کہ جب تو دعا کرے تو میں تیری سنوں گا۔“ (ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ٥ ص ٤ مورخہ ٥؍ نومبر ١٨٩٩ء۔ خزائن ج ١٥ ص ٥١٥)
اس اصول سے ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا صاحب کا یہ معجزہ بھی مسیلمہ کذاب کے معجزہ کے ہم وزن معلوم ہوتا ہے۔ مشہور ہے کہ مسیلمہ کسی کانے کو دم کرتا تھا تو وہ اندھا ہو جاتا تھا۔ وہی کیفیت ہم مرزا صاحب کی دعاؤں کی دیکھتے ہیں۔ ایڈیٹر الحکم لکھتا ہے:
٥٥
”حضرت خلیفۃ اللہ (مرزا) کے لئے اُس دن سے کہ مولوی (عبدالکریم) صاحب پر عمل جراحی کیا گیا رات کا سونا قریباً حرام ہو گیا۔ باوصفیکہ چوٹ لگنے اور بہت سا خون نکل جانے کی وجہ سے حضرت اقدس کو تکلیف تھی اور دورانِ سر کی بیماری کی شکایت تھی۔ لیکن یہ کریم النفس وجود ساری رات ربّ رحیم کے حضور مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے دعاؤں میں لگا رہا ...... یہ ہمدردی اور ایثار ہر شخص میں نہیں ہوسکتا۔ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں اور ماموروں ہی کی یہ شان ہے کہ اپنی تکالیف کو بھی دوسروں کی تکلیف کے مقابلہ میں بھول جاتے ہیں اور نہ صرف بھول جاتے ہیں بلکہ قریب بہ موت پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن ہاں اُن کے دل میں کسی بندہ کے لئے خاص طور پر اضطراب اور قلق کا پیدا ہونا خود اُس بندہ کی عظمت اور وقعت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ حضرت اقدس (مرزا) نصف شب سے آخر شب تک دعاؤں میں مصروف رہے۔ اور اس اثنا میں مولوی صاحب ممدوح کے دروازہ پر آ کر حال بھی پوچھا۔ ساری دنیا سوتی تھی۔ مگر یہ خدا کا جری جاگتا تھا اپنے لئے نہیں اپنی اولاد کے لئے نہیں، اپنے کسی ذاتی مقصد کے لئے صرف اس لئے کہ تا رحیم و کریم مولا کے حضور اپنے ایک مخلص کی شفاء کے لئے دعا کرے۔ فرمایا میں نے ہر چند چاہا کہ دو چار منٹ کے لئے ہی سو جاؤں۔ مگر میں جانتا ہی نہیں کہ نیند کہاں چلی گئی۔ یہ باتیں آپ نے ایک روز صبح کو بیان فرمائیں۔ بعض خدّام نے عرض کی کہ حضور اس وقت جا کر آرام کر لیں۔ فرمایا یہ اپنے اختیار میں تو نہیں میں کیونکر آرام کر سکتا ہوں جب کہ میرے دروازہ پر ہائے ہائے کی آواز آرہی ہے۔ میں تو اُس قلق اور کرب کو جو مولوی صاحب کو ہوا دیکھ بھی نہیں سکتا۔ اس لئے میں اوپر نہیں گیا۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ٣١۔ ٣١؍ اگست ١٩٠٥ء ص ٩)
ان حضرت کی دعاؤں کے علاوہ اصحاب منازل بھی دعاؤں میں شریک تھے۔ دیکھو الحکم ٣٠ ستمبر ص ١٢ کالم ٢۔ یہاں تک کہ اڈیٹر الحکم لکھتا ہے:
”مولوی عبدالکریم صاحب کے لئے جو دعائیں کی جاتی ہیں جب ان کا کھلا کھلا اظہار ہوگا تو ہماری جماعت کی معرفت اور اُمید زیادہ ہوجائے گی۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ٣٤۔ ٣٠ ستمبر ١٩٠٥ء)
لیکن ہم بڑے افسوس سے کہتے ہیں کہ جب ان دعاؤں کا نتیجہ وہی نکلا جو اُستاد مومن خاں مرحوم نے کہا ہے ؎
آخر تو دُشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ
تو ساری جماعت نے آنکھیں اور کان بند کر لئے اور ایسے سوئے کہ ”گوئی مردہ اند“
اخیر میں ہم ایڈیٹر الحکم کا ایک قول نقل کر کے اُس سے ایک سوال کرتے ہیں۔ ایڈیٹر مذکور لکھتا ہے:
”یہ امر بلا مبالغہ ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کا اس بیماری سے جاں بر ہو جانا ایک عظیم الشان نشان ہو گا۔ جو سچ مچ احیاء موتیٰ ہو گا۔ خدا کرے ہم اس کو بہت جلد دیکھیں۔“
(الحکم ج ٩ نمبر ٣٤۔٣٠ ستمبر ١٩٠٥ء ص ١٢ کالم ٣)
سوال:۔ یہ ہے کہ ان دعاؤں کا اثر تو جو ہوا تمام پبلک نے دیکھ لیا اب بتلاؤ احیاء موتیٰ کی بجائے اماتت احیاء ہوا۔ اس سے تمہارے ایمان میں ترقی ہوئی یا تنزل؟ ایمان سے سچ کہنا کہ یہ قول صحیح ہے یا غلط؟
مرزائی دوستو! انصاف سے کہنا مرزاجی کے سوال کا جواب ہم نے پورا دے دیا یا نہیں؟
بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر
اعلیٰ حضرت خود یا اُن کا کوئی مرید ان حوالجات کو غلط ثابت کر دے تو مبلغ پانسو کے مستحق ہوں گے۔ کیا کوئی ہے جو سامنے آئے ؟
اذا جمعتنا یا جریر المجامع
تمت ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسر
٥٧
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میرے بعد کوئی نبی نہیں
چیستان مرزا
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم!
انعامی سو اور دوسو روپیہ
چونکہ ہمارے یقین میں قادیانی مشن کیلئے یہ مضمون ایک فیصلہ کن ہے اس لئے اس کے جواب پر بہ تفصیل ذیل انعام دینے کا اعلان شائع کرتے ہیں لاہوری پارٹی کے سرکردہ مولوی محمد علی صاحب جواب دیں تو مبلغ ایک صد روپیہ ‘ قادیانی پارٹی کے رئیس میاں محمود احمد صاحب جواب دیں تو وہ دوسو روپیہ انعام کے مستحق ہوں گے ان دونوں سرگروہوں کے سوا کوئی اور صاحب بھی جواب دیں گے تو انعام کے مستحق ہوں گے بشرطیکہ ان دونوں میں سے مجیب جس کے ماتحت ہو وہ اس جواب پر تصحیح کے دستخط کر دیں۔
فیصلہ کی صورت بالکل وہی ہو گی جو مباحثہ لدھیانہ میں تھی۔ یعنی روپیہ امین کے پاس رکھا جائے گا اور تین اصحاب منصف ہوں گے ایک ایک ہر فریق کا ‘ تیسرا سرپنچ غیر مسلم مسلمہ طرفین ‘ ایک مجیب کے بجائے کئی ایک ہوں گے تو یہی رقم بانٹ لیں گے تاریخ اشاعت سے پندرہ روز تک مجیب کی طرف سے درخواست آنی چاہئے جس میں اپنے منصف کا نام اور عہدہ اور سرپنچ کیلئے متعدد ناموں کی فہرست ہو جن میں سے کسی ایک کو ہم مقرر کر لیں گے یا کوئی اور بتا دیں گے۔
نوٹ : تین سو روپیہ ہم نے امین کے پاس رکھوا دیا ہے جن کی رسید بعد تقرر منصفان کیلئے دی جائے گی۔
بعد پندرہ روز کے درخواست جواب سے مایوس ہو کر یہ مضمون ٹریکٹ کی صورت میں چھاپا جائے گا۔ انشاء اللہ ! مجیب کے جواب پر باستفسار کسی منصف کے مجھے جواب دینے کا
٢
حق حاصل ہو گا۔ جیسا مباحثہ لدھیانہ میں تھا۔
قرآن شریف کا سنہری اصول ہے جو ہر ایک مذہب اور ہر ایک عقلمند کے نزدیک مسلّم اور مقبول ہے کہ الہامی کلام میں اختلاف نہیں ہوتا۔ یعنی کسی کلام میں اختلاف اور تناقض کا ہونا اسے الہامی درجہ سے گرانے کو کافی ہے۔
مرزا قادیانی کے کلام میں یوں تو بہت سے مقامات پر اختلاف پایا جاتا ہے مگر آج جس اختلاف کا ہم ذکر کرتے ہیں یہ سب سے نرالا اختلاف ہے۔ کیونکہ یہ مرزا قادیانی کی تاریخ بعثت ١ اور سنہ وفات کے متعلق خود ان کے الہاموں یا الہامی نتیجوں میں پایا جاتا ہے۔ پس ناظرین غور سے سنیں اور داد دیں۔
مرزا قادیانی اپنی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں اپنی بعثت (ماموریت) کی بابت یہ رقم طراز ہیں : ”چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو الآیات بعد المأتین ہے۔ ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعداد حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے جو کہ تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا جو پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ سو ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا نام غلام احمد نہیں ہے۔ بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اس وقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔“
(ازالہ اوہام ص ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩، ١٩٠)
اس عبارت میں صاف دعویٰ ہے کہ میری بعثت سنہ ہجری ١٣٠٠ پورے ہو جانے پر ہوئی تھی۔ اسی کی تائید میں آپ اپنی کتاب تریاق القلوب میں یوں لکھتے ہیں :
١ بعثت کے معنی ہیں خدا کی طرف سے مامور یا ملہم ہونا۔
”غلام احمد قادیانی اپنے حروف کے اعداد سے اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی تیرہ سو کا عدد جو اس نام سے نکلتا ہے وہ بتلا رہا ہے کہ تیرھویں صدی کے ختم ہونے پر یہی مجدد آیا جس کا نام تیرہ سو کا عدد پورا کرتا ہے۔“
(تریاق القلوب ص ١٦‘ خزائن ج ١٥ ص ١٥٨)
یہ عبارت اور سابقہ عبارت دونوں متفق ہیں کہ سنہ ہجری ١٣٠٠ پورا ہو جانے کے بعد مرزا قادیانی آئے اسی کی تائید میں مرزا قادیانی ایک اور مقام پر یوں فرماتے ہیں :
”جب میری عمر چالیس برس تک پہنچی تو خدا تعالیٰ نے اپنے الہام اور کلام سے مجھے مشرف کیا اور یہ عجیب اتفاق ہوا کہ میری عمر کے چالیس برس پورے ہونے پر صدی کا سر بھی آ پہنچا تب خدا نے الہام کے ذریعہ سے میرے پر ظاہر کیا کہ تو اس صدی کا مجدد اور صلیبی فتنوں کا چارہ گر ہے۔“
(تریاق القلوب ص ٦٨‘ خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣)
اسی کی تائید ایک اور مقام پر بھی کرتے ہیں جہاں فرماتے ہیں :
”میں بھی آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے چودہویں صدی پر مبعوث ہوا ہوں۔“
(تحفہ گولڑویہ حاشیہ طبع کلاں ص ٧١‘ خزائن ج ١٧ ص ٢٠٩)
یہ سب حوالہ جات بیک زبان مظہر ہیں کہ مرزا قادیانی کی بعثت سنہ ہجری پورے تیرہ سو ہونے کے بعد چودہویں صدی ہجری کے شروع میں ہوئی تھی۔ بہت خوب!
اور سنئے کتاب حقیقت الوحی میں لکھتے ہیں : ”یہ عجیب امر ہے اور میں اس کو خدا تعالیٰ کا ایک نشان سمجھتا ہوں کہ ٹھیک بارہ سو نوے ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا۔
(حقیقت الوحی ص ١٩٩‘ خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)
یہ عبارت صاف بتلا رہی ہے کہ مرزا قادیانی کی بعثت تیرھویں صدی کے خاتمہ سے دس سال رہتے ہوئے ہوئی تھی۔ بہت خوب!
اور سنئے ! اسی پہلی کتاب ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں :
”حدیثوں میں یہ بات بوضاحت لکھی گئی ہے کہ مسیح موعود اس وقت دنیا میں آئے گا کہ جب علم قرآن زمین پر سے اٹھ جائے گا اور جہل شیوع پا جائے گا۔ یہ وہی زمانہ ہے جس
٤
کی طرف ایک حدیث میں یہ اشارہ ہے: ”لوكان الايمان معلقا عند الثريا لناله رجل من فارس ،“ یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اس سنہ ہجری میں شروع ہو گا جو آیت : ” وانا علی ذهاب به لقادرون ، “ میں بحساب جمل مخفی ہے۔ یعنی ١٢٧٤ھ
(ازالۃ الاوہام تقطیع خورد ص ٦٧٥‘ خزائن ج ٣ ص ٤٥٥)
یہ عبارت صاف کہتی ہے کہ مرزا قادیانی کی بعثت ١٢٧٤ھ میں ہونی چاہئے تھی۔ یعنی تیرہویں صدی کے ختم ہونے سے پورے چھبیس سال پہلے‘ اسی کی تائید کتاب کے دوسرے مقام پر فرماتے ہیں۔ چنانچہ آپ کے الفاظ یہ ہیں :
”اب اس تحقیق سے ثابت ہے کہ مسیح ابن مریم کی آخری زمانے میں آنے کی قرآن شریف میں پیشگوئی موجود ہے۔ قرآن شریف نے جو مسیح کے نکلنے کی چودہ سو برس مدت ٹھہرائی ہے۔ بہت سے اولیاء بھی اپنے مکاشفات کی رو سے اس مدت کو مانتے ہیں اور آیت : ”وانا علی ذهاب به لقادرون ، “ جس کے حساب جمل ١٢٧٤ عدد ہیں اسلامی چاند کی سلخ ١؎ کی راتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں نئے چاند کے نکلنے کی اشارات چھپی ہوئی ہے جو غلام احمد قادیانی کے عددوں میں بحساب جمل پائی جاتی ہے۔“
(ازالۃ الاوہام ص ٦٧٥‘ خزائن ج ٣ ص ٤٦٤)
یہ دونوں حوالے متفق ہیں کہ مرزا قادیانی کے بعثت کا زمانہ ١٢٧٤ھ یعنی تیرہویں صدی کے خاتمہ سے چھبیس سال پہلے تھا۔
پس اس وقت مرزا قادیانی کے تین بیان پبلک کے سامنے ہیں: (١)…… سنہ ہجری پورے تیرہ سو ہونے پر۔ (٢)…… تیرہویں صدی سے دس سال رہتے ہوئے ١٢٩٠ھ۔ (٣)…… تیرہویں صدی کے پورے چھبیس سال رہتے ہوئے ١٢٧٤ھ میں آپ مبعوث ہوئے۔ ان تینوں بیانات میں جو اختلاف ہے ناظرین اندازہ کر سکتے ہیں۔
١۔ سلخ راتیں قمری مہینے کی آخری راتوں کو کہتے ہیں جن میں چاند بالکل گم ہو جاتا ہے۔
٥
موت کے متعلق اختلاف : گزشتہ اختلاف تو بعثت (مامور خدا ہونے) کے متعلق تھا اب ذرا وفات کے متعلق بھی سنئے ! مرزا قادیانی اپنی عمر کے متعلق لکھتے ہیں جو ناظرین کی مزید توجہ کا مقام ہے : ”آخری زمانہ اس مسیح موعود کا دانیال (نبی) تیرہ سو پینتیس برس لکھتا ہے جو خدائے تعالیٰ کے اس الہام سے مشابہ ہے جو میری عمر کی نسبت بیان فرمایا ہے۔“
(کتاب حقیقت الوحی ص ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ دانیال نبی نے مسیح موعود کی عمر کا خاتمہ (جس سے مراد خود مرزا قادیانی ہیں) تیرہ سو پینتیس ہجری میں بتلایا ہے اور مرزا قادیانی کا الہام بھی دانیال نبی کی تائید کرتا ہے کہ واقعی مرزا قادیانی تیرہ سو پینتیس ہجری میں انتقال فرمائیں گے۔
اب ہم مرزا قادیانی کے الہامی الفاظ ان کی عمر کے متعلق سناتے ہیں۔ آپ کتاب تریاق القلوب میں لکھتے ہیں کہ خدا مجھے مخاطب کر کے کہتا ہے : ”میں (خدا) تجھے (مرزا) اسی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔“
(حاشیہ تریاق القلوب تقطیع کلاں ص ١٣، خزائن ج ١٥ حاشیہ ص ١٥٢)
نوٹ : اس الہام کی خوبی اور لطافت اور خدا کے علم غیب پر مطلع نہ ہونے کی کیفیت ملاحظہ ہو کہ عمر دینے کا وعدہ کرتا ہے تو صاف لفظوں میں نہیں کہتا بلکہ ”سہ گونہ“ کلام کرتا ہے۔ اسی کچھ کم یا کچھ زیادہ۔
یہ تو ہم حوالہ تریاق القلوب ص ٦٨ (خزائن ج ١٥ حاشیہ ص ٢٧٣) پہلے بتلا آئے ہیں کہ تیرہویں صدی ختم ہونے پر آپ کی عمر پوری چالیس کی تھی۔ پس الہام مذکورہ (مندرجہ تریاق القلوب حاشیہ ص ١٣، خزائن ج ١٥ ص ١٥٢) کا درجہ کم سے کم پچھتر سال عمر لے لیں تو آپ کے الہام اور دانیال نبی کے کشف میں ٹھیک مطابقت ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ١٣٠١ھ میں مرزا قادیانی چالیس سال کے تھے اور ١٣٣٥ھ میں پچھتر سال کے ہوئے جو بالکل حسب الہام مندرجہ تریاق القلوب ٹھیک ہے۔
ہاں بڑے سے بڑا اعتراض کوئی کر سکتا ہے تو یہ کر سکتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے بتلائے ہوئے وقت سے پہلے کیوں فوت ہو گئے ؟۔ کیونکہ آپ کا انتقال ١٣٢٦ھ مطابق ١٩٠٨ء میں ہوا۔ یعنی کل ٩ سال پہلے‘ تو یہ کوئی اعتراض نہیں۔ اس کا جواب یہی ہے کہ مرزا قادیانی دنیاوی بادشاہوں اور افسروں کی طرح اپنے پروگرام کے ایسے پابند نہ تھے کہ سرمو ادھر ادھر نہ سرکیں۔ اس لئے جب آپ کا جی چاہا اس ذلیل دنیا کو چھوڑ کر تشریف لے گئے۔ کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا کیا حق ہے ؟۔
ایک اور طرح سے الہام کی سچائی
سابقہ طریق سے تو قبل از وقت چلے جانے کا اعتراض پیدا ہوا ہے مگر مرزا قادیانی کی روح اور مرزائی دوستوں کو خوش کرنے کیلئے مرزا قادیانی ......... ان کی ایک اور تحریر سے آپ کی الہامی عمر ٹھیک کئے دیتے ہیں۔ آپ کتاب ”اعجاز احمدی“ میں لکھتے ہیں : ”اس کی (آتھم کی) عمر تو میری عمر کے برابر تھی۔ یعنی قریب ٦٤ سال کے ۔“
(اعجاز احمدی ص ٣‘ خزائن ج ١٩ ص ١٠٩)
آتھم ١٨٩٦ء میں فوت ہوئے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں : ”مسٹر عبداللہ آتھم ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور فوت ہو گئے ہیں۔“
(انجام آتھم ص ١‘ خزائن ج ١١ ص ١)
ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کی عمر ١٨٩٦ء میں ٦٤ سال تھی اور انتقال آپ کا ١٩٠٨ء میں ہوا۔ ٩٦ سے ١٩٠٠ تک چار سال اور ١٩٠٠ سے ١٩٠٨ تک ٨ سال کل ١٢ سال ١٢ کو ٦٤ میں ملانے سے ٧٦ سال ہوئے جو مرزا قادیانی کے الہام مندرجہ ذیل کے قریب قریب ہے۔ بقول مرزا قادیانی خدا فرماتا ہے : ”میں (خدا) تجھے (مرزا کو) اسی برس یا چند سال زیادہ یا اس سے کچھ کم عمر دوں گا۔“
(تریاق القلوب حاشیہ ص ١٣‘ خزائن ج ١٥ حاشیہ ص ١٥٢)
الحمدللہ! مرزا قادیانی اس الہام کے مطابق اسی سال سے کچھ کم عمر پا کر دار فانی سے
٧
دار بقا کو تشریف لے گئے۔
اعتراف حقیقت : ہم سے جہاں تک ہو سکا ہم نے مرزائی الہامی الجھن کو صاف کرنے میں بہت کوشش کی مگر افسوس سے اظہار کرنے میں ہمیں ذرہ تامل نہیں کہ ہم اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ عرب کا ایک مشہور شعر ہے جس کا محل وقوع یوں ہوا تھا کہ ایک بڑھیا عورت جس کے بال سفید تھے۔ عطار کے ہاں وسمہ لینے جارہی تھی کسی شاعر نے پوچھا۔ بڑھیا کہاں جارہی ہے؟۔ اس نے کہا بیٹا! کیا بتاؤں۔ بڑھاپے کا علاج لینے جارہی ہوں۔ زندہ دل شاعر نے فوراً شعر کہا :
ولن یصلح العطار ما افسد الدہر
(یہ بڑھیا عورت عطار کے پاس جوانی لینے جارہی ہے۔ حالانکہ جس چیز کو زمانہ نے خراب کر دیا ہو‘ عطار ہر گز اسے نہیں سنوار سکے گا۔)
یہی حال مرزا قادیانی کے الہامات کا ہے۔ ہم کہاں تک سنوار سکتے ہیں جس حال میں زمانہ ان کو بگاڑ چکا ہے۔ ہم نے اس جواب میں بصد کوشش مرزا قادیانی کا انتقال حسب الہام ٧٦ سال کی عمر میں درست کیا مگر دوسری طرف سے بگاڑ پیدا ہو گیا۔ کیونکہ سابقہ حوالوں میں مرزا قادیانی بڑے صاف الفاظ میں خود لکھتے ہیں کہ ١٣٠٠ھ کے خاتمہ پر میری عمر ٹھیک چالیس سال تھی اور انتقال آپ کا ١٣٢٦ھ میں ہوا اس صاف اور سیدھے حساب سے آپ چھیاسٹھ سال کی عمر پا کر فوت ہوئے جو کسی طرح الہامی مقررہ وقت ١٣٣٥ھ کے موافق نہیں ہے۔
ہم بڑی سچائی سے اعتراف کرتے ہیں کہ ہم اس مشکل کے حل کرنے میں عاجز ہیں مرزا قادیانی کا کوئی راسخ الاعتقاد مرید تو جواب دیکر مرزا قادیانی کی بات بنائے اور بشرائط مقررہ ہم سے انعام پائے۔ وللہ الحمد!
٨
خاتم النبیین لا نبی بعدی
سیدنا محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں
زار قادیان
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج کل پنجاب میں قادیانی مذاکرہ کے متعلق مرزا صاحب کی اس پیشگوئی کا بہت چرچہ ہے جس میں ایک مصرع یہ ہے ع
اس پیشگوئی کو مرزا صاحب کی اُمت موجودہ جنگ اور موجودہ جنگ میں زار روس کی تخت سے معزولی پر چسپاں کر رہے ہیں۔ پھر لطف یہ ہے کہ مرزائی اُمت کی دونوں پارٹیاں ایک دوسرے سے بڑھ کر اس کام میں حصہ لے رہی اور خوشیاں منا رہی ہیں۔ جو لوگ اس خیال میں ہیں کہ لاہوری پارٹی والے مرزائیت میں نرم ہیں۔ انہیں اس واقعہ پر غور کرنا چاہئے۔ کہ اگر نرم ہوتے تو ایسے موقعہ پر خاموش رہتے۔ ان کی نرمی مرزائیت کے لحاظ سے نہیں ہے بلکہ کسی اور وجہ سے ہے۔
خیر ہم تو ان دونوں پارٹیوں کو ان معنی سے شاباش کہتے ہیں کہ باوجود باہمی سخت اختلاف کے ایک مشترک کام میں ایک دوسرے سے بڑھ کر سبقت کر رہے ہیں۔ سارے مسلمان بھائیوں کو اس سے سبق حاصل کر کے مشترک کاموں میں ہمیشہ مل جانا چاہئے۔
قادیان اور لاہور کے اخباروں کے علاوہ دونوں پارٹیوں کے سرگروہوں کی طرف سے ٹریکٹ (چھوٹے چھوٹے رسالے) بھی شائع ہوئے ہیں جن میں بڑے زور سے دعوے کیے گئے ہیں کہ ہمارے حضرت صاحب کی یہ پیشگوئی بڑی صفائی سے پوری ہوئی۔
اخبار اہلحدیث میں آج سے پہلے بھی متعدد دفعہ اس پر مضمون لکھے گئے ہیں۔ جن میں کافی طور پر ثابت کیا گیا ہے کہ مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی موجودہ جنگ اور زار روس کے متعلق نہیں ۔ مگر قادیانی مشن کی دونوں پارٹیاں اپنی عادت کے مطابق اہلحدیث کے اعتراضات کی طرف تو رُخ نہیں کرتیں۔ اپنی ہی کہی جاتی ہیں۔ اس لئے آج ہم ذرہ تفصیل سے لکھتے ہیں۔
مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی سب سے پہلے ٩؍اپریل ١٩٠٥ء کو شائع ہوئی۔ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کو پنجاب میں زلزلہ عظیمہ آیا۔ تو مرزا صاحب نے اپنے ایک اشتہار مورخہ ٥؍اپریل ١٩٠٥ء میں اس زلزلہ کو اپنا نشان بتایا۔ اور لوگوں کو اپنی طرف بلایا۔ اس کے بعد آپ نے ایک اشتہار مورخہ ٢٠؍اپریل کو شائع کیا۔ جس کا نام تھا ”النداء من وحی السماء“ یعنی زلزلہ عظیمہ کی نسبت بار دوم وحی سے“
اس کے شروع میں لکھا:
”٩؍اپریل ١٩٠٥ء کو پھر خدائے تعالیٰ نے مجھے ایک سخت زلزلہ کی خبر دی ہے۔ جو نمونہ قیامت اور ہوش ربا ہوگا“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٢٦)
پھر ایک اشتہار دیا جس کا نام ہے ”زلزلہ کی خبر بار سوم“ اس کے شروع میں لکھا ہے:
”آج ٢٩؍اپریل ١٩٠٥ء کو پھر خدائے تعالیٰ نے مجھے دوسری مرتبہ زلزلہ شدیدہ کی نسبت اطلاع دی...... درحقیقت یہ سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اسی ملک پر آنے والا ہے۔ جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں گزرا۔“
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٣٥)
یہ اقتباسات صاف بتلا رہے ہیں کہ وہ زلزلہ عظیمہ یہی ہے جس کو اُردو میں بھونچال کہتے ہیں۔ یہی مرزا صاحب اور ان کے الہام کنندہ کی مراد تھی۔
اسی مضمون کو مرزا صاحب نے اپنی کتاب براہین احمدیہ حصہ پنجم میں بصورتِ نظم شائع کیا جس کے چند ابیات یہ ہیں:
جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار
آئے گا قہر خدا سے خلق پر اک انقلاب
اک برہنہ سے نہ ہو گا یہ کہ تا باندھے ازار
یک بیک اک زلزلہ سے سخت جنبش کھائیں گے
کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار
مضمحل ہو جائیں گے اس خوف سے سب جن و انس
زار بھی ہو گا تو ہو گا اس گھڑی با حال زار
(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص١٢٠۔ خزائن ج٢١ ص١٥١، ١٥٢)
٣
پہلے شعر میں جو لفظ آج ہے اس کے نیچے لکھا ہے ”تاریخ امروزہ ١٥؍اپریل ١٩٠٥ء“ اس سے ثابت ہوا کہ یہ پیشگوئی وہی ہے جو زلزلہ عظیمہ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کے اردگرد آپ نے کی تھی۔
مرزا صاحب کی عادت مبارکہ تھی کہ اپنی الہامی پیشگوئیوں کو ادھر اُدھر گھمایا کرتے تھے۔ اس لئے دانشمند لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ پیشگوئی گول مول ہے۔ اس کو صاف کرنا چاہئے تاکہ اس کے وقوعہ پر کسی قسم کا اختلاف نہ ہو۔ جواب میں مرزا صاحب نے لکھا:
”آپ خود سوچ لیں کہ یہ پیشگوئی گول مول کیسے ہوئی جبکہ صریح اس میں زلزلہ کا نام بھی موجود ہے اور یہ بھی موجود ہے کہ اس میں ایک حصہ ملک کا نابود ہو جائے گا اور یہ بھی موجود ہے کہ وہ میری زندگی میں آئے گا اور اس کے ساتھ یہ بھی پیشگوئی ہے کہ وہ ان کے لئے نمونہ قیامت ہوگا جن پر یہ زلزلہ آئے گا اور اگر یہ گول مول ہے تو پھر کھلی کھلی پیشگوئی کس کو کہتے ہیں؟“ (ضمیمہ براہین حصہ پنجم ص٩٠، خزائن ج٢١ ص٢٥٠)
یہ اقتباس اپنا مضمون صاف بتلا رہا ہے کہ وہ زلزلہ موعودہ بھونچال ہوگا اور ہمارے ملک پنجاب میں ہوگا۔ اور مرزا صاحب کی زندگی میں ہوگا۔ (بہت خوب) اس مضمون کو اور واضح کرنے کے لئے مرزا صاحب اسی کتاب کے صفحہ ٩٧ پر یوں رقم طراز ہیں:
”اب ذرہ کان کھول کر سن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیشگوئی ہے اس کو ایسا خیال کرنا کہ اس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی۔ یہ خیال سراسر غلط ہے جو محض قلت تدبر اور کثرت تعصب اور جلد بازی سے پیدا ہوا ہے کیونکہ بار بار وحی الہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیشگوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئے گی۔“
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص٩٧۔ خزائن ج٢١ ص٢٥٨)
(بہت خوب) یہ اقتباس بھی اپنا مضمون بتلانے میں صاف ہے کہ ٤؍اپریل ١٩٠٥ء کا زلزلہ عظیمہ پنجاب میں بڑا دہشت ناک تھا۔ اس کے بعد ہی مرزا صاحب نے ایک اور سخت زلزلہ کی پیشگوئی جڑ دی۔ تو اخباروں میں مرزا صاحب کے برخلاف گورنمنٹ کو توجہ دلائی گئی کہ ان کی ایسی پیشگوئیوں سے لوگوں میں وحشت اور دہشت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے دفعیہ کے لئے مرزا صاحب نے ایک مضمون لکھا۔ جس کا نام ہے ”ضروری گذارش لائق توجہ گورنمنٹ“۔ اس میں آپ نے اس الزام کا جواب دیا۔ انصاف سے ماننا پڑتا ہے کہ معقول جواب دیا۔ چنانچہ آپ کے
٤
الفاظ یہ ہیں:
’’جس آنے والے زلزلہ سے میں نے دوسروں کو ڈرایا اس سے پہلے میں آپ ڈرا۔ اور اب تک قریباً ایک ماہ سے میرے خیمے باغ میں لگے ہوئے ہیں۔ میں واپس قادیان میں نہیں گیا۔ کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ وہ وقت کب آنے والا ہے۔ میں نے اپنے مریدوں کو بھی اپنے اشتہارات میں بار بار یہی نصیحت کی کہ جس کی مقدرت ہو اسے ضروری ہے کہ کچھ مدت خیموں میں باہر جنگل میں رہے اور جو لوگ بے مقدرت ہیں وہ دعا کرتے رہیں کہ خدا ہمیں اس بلا سے بچاوے۔ پس میری نیک نیتی پر اس سے زیادہ کون گواہ ہو سکتا ہے کہ اسی خیال سے میں مع اہل و عیال اور اپنی تمام جماعت کے جنگل میں پڑا ہوں اور جنگل کی گرمی کو برداشت کر رہا ہوں۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٤٠)
اس حوالہ سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی سے مرزا صاحب کی مراد یہی تھی کہ سخت بھونچال آئے گا جس سے مکانات گر جائیں گے اور تمام ملک برباد اور تباہ ہو جائے گا۔
اسی کی تائید مرزا صاحب کی مندرجہ ذیل عبارت سے بھی ہوتی ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
’’ (خدا نے) پھر فرمایا۔ بھونچال آیا اور شدّت سے آیا۔ زمین تہ و بالا کر دی۔ یعنی ایک سخت زلزلہ آئے گا اور زمین کو یعنی زمین کے بعض حصوں کو زیر و زبر کر دے گا جیسا کہ لوط کے زمانہ میں ہوا۔‘‘
(الوصیت ص ١٤، خزائن ج ٢٠ ص ٣١٥)
پھر ایک مقام پر اس زلزلہ عظیمہ موعودہ کا زمانہ بھی مقرر کرتے ہوئے فرمایا:
’’خدا تعالیٰ کا الہام ایک یہ بھی ہے۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعودہ کے وقت بہار (یعنی موسم بہار) کے دن ہوں گے اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالباً وہ صبح کا وقت ہو گا یا اس کے قریب‘‘
(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم حاشیہ ص ٩٧۔ خزائن ج ٢١ ص ٢٥٨)
ان سارے حوالجات سے ثابت ہوا کہ وہ زلزلہ عظیمہ جو کبھی کسی نے نہ دیکھا نہ سنا نہ کسی کے دل پر گزرا جس کی شان اور کیفیت یہ ہوگی کہ:
وہ واقعی بھونچال ہو گا اور اسی ملک پنجاب میں ہو گا اور مرزا صاحب کی تصدیق کے لئے ان کی زندگی میں ہو گا۔
اب ہم یہ بتلاتے ہیں کہ یہ پیشگوئی کوئی قابل خوف و ہراس نہیں کیونکہ یہ زلزلہ مرزا
٥
صاحب کی زندگی میں ہو چکا ہے۔ جس کو مرزا صاحب نے بھی مان لیا تھا کہ ہاں یہی ہے۔ غور سے سنئے:
٢٨؍فروری ١٩٠٦ء کی رات کو ایک بجے کے قریب ایک زلزلہ آیا تھا۔ جس میں ایک قسم کی ضرب اور گونج بھی تھی۔ جس سے معمولی نیند والے بیدار بھی ہو گئے ہوں گے۔ غرض وہ ایسا تھا کہ آج کسی کو شاید یاد بھی نہ ہو۔ مرزا صاحب نے کمال دور اندیشی سے سوچا کہ آئندہ کو خدا جانے اتنا بھی ہو یا نہ ہو۔ اس لئے اسی پر فیصلہ کرنا مناسب ہے۔ چنانچہ آپ نے ایک اشتہار دیا۔ جس کی سرخی تھی ’’زلزلہ کی پیشگوئی‘‘ اس کے شروع میں لکھا:
’’اے عزیزو! آپ لوگوں نے اس زلزلہ کو دیکھ لیا ہو گا جو ٢٨؍فروری ١٩٠٦ء کی رات کو ایک بجے کے بعد آیا تھا۔ یہ وہی زلزلہ تھا جس کی نسبت خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں فرمایا تھا ’’پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی...... الحمدللہ والمنۃ‘‘ اسی کے مطابق عین بہار کے ایام میں یہ زلزلہ آیا۔‘‘
(٢۔مارچ ١٩٠٦ء۔ مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٥٢٨)
یہ اقتباس صاف بتلاتا ہے کہ مرزا صاحب کا موعودہ زلزلہ عظیمہ جس کی بابت یہ مصرع تھا:
یہ انہی کی زندگی میں ہو چکا۔ اب اس کا انتظار یا خوف کرنا یا کسی اور واقعہ پر اس کو چسپاں کرنا خود مرزا صاحب کے منشاء کے خلاف ہے۔ ہاں یہ امر بے شک قابل غور ہے کہ ایسا زلزلہ عظیمہ شدیدہ ہائلہ وغیرہ وغیرہ ایک معمولی زلزلہ کی صورت میں کیوں نمودار ہوا۔ جس کی بابت یہ کہنا چاہئے کہ:
سو اس کا جواب بہت آسان ہے کہ یہ بھی مرزا صاحب کی برکت ہے کہ اتنا بڑا عذاب ایک جھٹکے میں دنیا سے ٹل گیا۔ کیا سچ ہے ؎
وہ ساری ان کی شیخی جھڑی دو گھڑی کے بعد
......☆......
٦
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
فسخ نکاح مرزائیاں
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
دیباچہ
فتنہ قادیانیہ کا ظہور اسلام اور اہل اسلام کے حق میں کہاں تک مضر ہے اس کا جواب خود ان کے اقوال وافعال سے ملتا ہے۔ مرزا قادیانی اور ان کے جانشین صاحبزادہ میاں محمود احمد مسلمانوں کو اسلام سے خارج اور کفر میں داخل جانتے ہیں۔ کیوں ؟۔ اس لئے کہ مسلمان قادیانی نبی کے منکر ہیں۔
(ملاحظہ ہو رسالہ انوار خلافت ص ٩٠ تا ٩٤)
اس کے علاوہ مرزا قادیانی نے ایک گشتی چٹھی کے ذریعے اپنے اتباع کو حکم دے رکھا ہے کہ تم سب رشتے ناطے آپس میں کیا کرو۔ کوئی احمدی (مرزائی) ایسے مسلمانوں کو لڑکی نکاح میں نہ دے جو مرزا قادیانی کی بیعت میں نہیں۔
(فتاویٰ احمدیہ جلد ٢ ص ٢٧)
یہ بھی دیکھا گیا کہ بیٹا مرزائی ہے تو مسلمان باپ کا اس نے جنازہ نہیں پڑھا۔ خاوند مرزائی ہے تو عورت مسلمہ سے کیا سلوک کرے گا۔ ان وجوہ سے ضرورت محسوس ہوئی کہ مسلمانوں کو امت مرزائیہ کے ساتھ رشتہ نکاح کرنے کی بابت فتویٰ شریعت غرا سے مطلع کیا جائے۔ الحمد للہ کہ اس مسئلہ کے جواب میں اسلام کے کل فرقے شیعہ سنی حنفی اہل حدیث سب بیک زبان متفق ہیں۔ اس لئے یہ فتویٰ متفق علیہ ہونے کی وجہ سے واجب القبول اور واجب العمل ہے۔ خدا مسلمانوں کے حق میں اس کو مفید بنائے۔ آمین!
٢
سوال (استفتاء)
خدمت شریف جناب علمائے اسلام سلمکم اللہ الیٰ یوم القیام! کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین و مفتیان شرع متین اس امر میں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مندرجہ ذیل ہیں :
- (١).......... آیت : ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد .“
کا مصداق میں ہوں۔
(ازالہ اوہام طبع اول ص ٦٧٣‘ خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)
- (٢).......... مسیح موعود (جن کے آنے کی خبر احادیث میں آئی ہے) میں ہوں۔
(ازالہ اوہام طبع اول ص ٦٦٥‘ خزائن ج ٣ ص ٤٥٩)
- (٣).......... میں مہدی مسعود اور بعض نبیوں سے افضل ہوں۔
(معیار الاخیار ص ١١‘ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)
- (٤).......... ان قدمی ہذہ علی منارۃ ختم علیہ کل رفعۃ میرا قدم
اس منارہ پر ہے جہاں کل بلندیاں ختم ہو چکی ہیں۔
(خطبہ الہامیہ ص ٧٠‘ خزائن ج ١٦ ص ٢٧٠)
- (٥).......... لا تقیسونی باحد ولا احدا بی میرے مقابل کسی کو پیش نہ کرو۔
(خطبہ الہامیہ ص ٥٢‘ خزائن ج ١٦ ص ٢٥٢)
- (٦).......... میں مسلمانوں کے لئے مسیح مہدی اور ہندوؤں کے لئے کرشن ہوں۔
(لیکچر سیالکوٹ ص ٣٣‘ خزائن ج ٢٠ ص ٢٢٨)
- (٧).......... میں امام حسین (علیہ السلام) سے افضل ہوں۔
(دافع البلاء ص ١٣‘ خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)
- (٨).......... وانی قتیل الحب لکن حسینکم
٣
(میں عشق کا مقتول ہوں مگر تمہارا حسین دشمن کا مقتول ہے فرق بالکل ظاہر ہے۔)
(اعجاز احمدی ص ٨١ خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)
- (٩)........ یسوع مسیح کی تین دادیاں اور تین نانیاں زنا کار تھیں۔ (معاذ اللہ)
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧‘ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢٩١)
- (١٠)........ یسوع مسیح کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔ (معاذ اللہ)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥‘ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢٨٩)
- (١١)........ یسوع مسیح کے معجزات مسمریزم تھے۔ اس کے پاس بجز دھوکہ کے
اور کچھ نہ تھا۔
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٢٩١)
- (١٢)........ میں نبی ہوں اس امت میں۔ نبی کا نام میرے لئے مخصوص ہے۔
(حقیقت الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦‘ ٤٠٧)
- (١٣)........ مجھے الہام ہوا ہے۔ (یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم
جمیعا) (لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں)
(حقیقت الوحی ص ٣٩١ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٧‘ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٠)
- (١٤)........ میرا منکر کافر ہے۔
(حقیقت الوحی ص ١٦٣ خزائن ج ٢٢ ص ١٦٧)
- (١٥)........ میرے منکروں بلکہ متاملوں کے پیچھے بھی نماز جائز نہیں۔
(فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص ١٨)
- (١٦)........ مجھے خدا نے کہا ہے۔ (اسمع ولدی) (اے میرے بیٹے سن!)
(البشریٰ ص ٤٩ حصہ اول)
- (١٧)........ لولاك لما خلقت الافلاك (اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمان پیدا نہ کرتا)
(حقیقت الوحی ص ٩٩‘ خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢)
- (١٨)........ میرا الہام ہے وما ينطق عن الهوى یعنی میں بلا وحی نہیں بولتا۔
(اربعین نمبر ٣ ص ٣٦‘ خزائن ج ١٧ ص ٤٢٦)
٤
- (١٩).......... مجھے خدا نے کہا ہے وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین یعنی
خدا نے تجھے رحمت بنا کر بھیجا۔
(حقیقت الوحی ص ٨٢‘ خزائن ج ٢٢ ص ٨٥)
- (٢٠).......... مجھے خدا نے کہا انک لمن المرسلین (خدا کہتا ہے کہ تو بلاشک
رسول ہے۔)
(حقیقت الوحی ص ١٠٧‘ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
- (٢١).......... اتانی مالم یعط احد من العالمین ، خدا نے مجھے وہ عزت
دی جو کسی کو نہیں دی گئی۔
(حقیقت الوحی ص ١٠٧‘ خزائن ج ٢٢ ص ١١٠)
- (٢٢).......... اللہ معک یقوم اینما قمت (خدا تیرے ساتھ ہو گا جہاں
کہیں تو رہے۔)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٧‘ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣٠١)
- (٢٣).......... انا اعطیناک الکوثر خدا نے مجھے حوض کوثر دیا ہے۔
(انجام آتھم ص ٥٨‘ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
- (٢٤).......... (رایت) فی المنام عین اللہ تیقنت انی ھو فخلقت
السموات والارض (میں نے اپنے آپ کو بعینہ خدا دیکھا اور میں یقیناً کہتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے زمین آسمان بنائے ۔)
(آئینہ کمالات ص ٥٦٤‘ ٥٦٥‘ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
- (٢٥).......... میرے مرید کسی غیر مرید سے لڑکی نہ بیاہا کریں۔
(فتاویٰ احمدیہ جلد دوم ص ٧)
جو شخص مرزا قادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو اس کے ساتھ کسی مسلمان کا رشتہ زوجیت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تصدیق بعد نکاح موجب افتراق ہے یا نہیں؟۔
الجواب
(١) سنی‘ از ریاست بھوپال :
مندرجہ سوال ہذا میں متعدد ایسے اقوال ہیں جن کے کلمہ کفر ہونے میں تاویل بھی نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا جس شخص کے عقائد ایسے ہوں وہ بوجہ مخالفت اسلام کے جماعت
٥
اسلام سے جدا ہے اور مسلمان مرد و عورت کا نکاح ایسے خارج عن الاسلام سے درست نہیں۔ (مہر و دستخط محمد یحییٰ عفا اللہ عنہ مفتی بھوپال ٣ رجب ١٣٣٦ھ)
(٢) از ریاست رامپور
جو شخص مرزائے قادیانی کے اقوال مذکور میں تصدیق کرے وہ اعلیٰ درجہ کا ملحد اور کافر ہے۔ ایسے شخص کے یہاں نکاح کرنا مطلقاً حرام ہے۔ اور اگر کوئی شخص بعد نکاح اقوال مذکورہ میں مرزائے قادیانی کی تصدیق کرے گا تو اس سے افتراق لازم ہو گا۔ دستخط ظہور الحسن محلہ پہلوار۔ ”ذالک کذالک.“ مظفر علی خان مقبرہ عالیہ ...... ”الامر کما حرره مولانا السید ظہور الحسن“ انصار حسین عفی عنہ ...... ”فان القول ماقالت حذام.“ ذوالفقار حسین عفی عنہ ...... ”الامر کذالک.“ فقیر سید تاثیر حسین عفی عنہ۔
(٣) از ریاست حیدر آباد
یہاں کے جوبات کی بجائے کتاب افادۃ الافہام بجواب ازالۃ الاوہام مصنفہ جناب مولانا مولوی محمد انوار اللہ خاں مرحوم ناظم امور مذہبیہ کا مطالعہ کر لینا کافی ہو گا۔
(٤) از دارالعلوم دیوبند ضلع سہارنپور (سنی)
اقوال مذکورہ کا کفر و ارتداد ہونا ظاہر ہے۔ پس وہ شخص جو ایسا کہتا اور عقیدہ رکھتا ہے اور جو اس کی پیروی اور تصدیق کرنے والے ہیں۔ وہ کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اہل اسلام کو ان سے مناکحت درست نہیں اور ان کے ساتھ نکاح منعقد نہ ہو گا۔ اگر کوئی مسلمان نکاح کے بعد مصدق قادیانی کا ہو جائے تو وہ فوراً مرتد ہو جائے گا اور نکاح اس کا فسخ ہو جائے گا اور تفریق لازم ہو گی۔ (مہر و دستخط عزیز الرحمان عفی عنہ مفتی مدرسہ دیوبند ١٢ رجب ١٣٣٦ھ) الجواب صحیح، گل محمد خاں مدرس مدرسہ عربیہ دیوبند ...... الجواب صحیح، غلام رسول
٦
عفی عنہ ...... الجواب صحیح ، الحسن عفی عنہ ...... الجواب صحیح ، محمد رسول خان عفی عنہ ...... الجواب صحیح ، فقیر اصغر حسین عفی عنہ ...... اصاب المجیب ، محمد اعزاز علی عفی عنہ ...... الجواب صحیح ، محمد ادریس عفی عنہ ...... الجواب صحیح ، احمد امین عفی عنہ ...... الجواب صواب ، محمد تفضل حسین عفی عنہ ...... الجواب صواب ، عبدالوحید عفی عنہ۔
(٥) از تھانہ بھون ضلع سہارنپور (سنی)
جو مسلمان ایسے عقائد اختیار کرے جن میں بعضے یقینی کفر ہیں۔ بحکم مرتد ہے اور مرتد کا نکاح مسلمان عورت سے اور اسی طرح مرتدہ کا نکاح مسلمان مرد سے صحیح نہیں۔ اور نکاح ہو جانے کے بعد اگر عقائد کفریہ اختیار کرلے تو نکاح فسخ ہو جائے گا۔ (دستخط اشرف علی عفی عنہ ، حکیم الامتہ مصنف تصانیف کثیرہ ١٣٤٦ھ )
(٦) مدرسہ عربیہ مظاہر العلوم سہارنپور (سنی)
سوال مذکور الصدر میں اکثر ایسے امور ذکر کئے گئے ہیں جو مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ ناجائز اور موجب کفر و ارتداد ہیں۔ پس جو شخص ایسا عقیدہ رکھتا ہو اور ان اقوال کا مصدق ہو تو اس کے کفر میں کچھ کلام نہیں۔ وہ شرعاً مرتد ہو گا جس کے ساتھ نکاح جائز نہیں اور جو پہلے سے اہل اسلام تھا بعد نکاح کے قادیانی عقائد کا ہو گیا۔ اس کا نکاح فوراً شرعاً باطل ہو جائے گا۔ قضاء قاضی اور حکم حاکم کی بھی شرعاً اس میں ضرورت نہیں ”ارتداد احدهما (الزوجين) فسخ عاجل بلا قضاء (شامی جلد٢ ص ٤٢٥) لا يجوز له ان تزوج مسلمة الخ ويحرم ذبيحته وصيده بالكلب والبازي والرمي.“ حررہ عنایت الٰہی مہتمم مدرسہ مظاہر العلوم ٩ اپریل ١٩١٨ء
(عالمگیریہ ص ٨٧٧)
الجواب صحیح ، خلیل احمد ...... الجواب صحیح ، ثابت علی ...... الجواب صحیح ، عبدالرحمن ...... الجواب صحیح ، عبداللطیف ...... الجواب صحیح بلا ارتیاب ، عبدالوحید سنبھلی ...... قد اصاب
٧
من اجاب، ممتاز میرٹھی....... الجواب صحیح، منظور احمد .......ھذا ھوالحق، محمد ادریس....... الجواب صحیح، عبدالقوی....... الجواب الحق، محمد فاضل....... الجواب صحیح، بدر عالم میرٹھی....... جواب المجیب صحیح، علم الدین حصاری ....... المجیب مصیب، غلام حبیب پشاوری .......ھذا الجواب حق، عبدالکریم نوگانوی....... ھذا جواب صحیح، فصیح الدین سہارنپوری....... جواب المجیب صحیح، محمد روشن الدین محمد پوری....... الجواب صحیح، نور محمد....... الجواب صحیح، ذلیل الرحمن....... الجواب صحیح، محمد بلوچستانی....... الجواب حق، ظریف احمد مظفر نگری ....... للہ در المجیب، محمد حبیب اللہ (عفی عنہم)
(٧) رائے پور ضلع سہارنپور (سنی)
جو شخص مسلمان ہو کر ان اقوال عقائد کا معتقد ہو وہ بلا تردد مرتد ہے۔ اس سے کوئی اسلامی معاملہ کرنا اور رشتہ ناطہ کرنا جائز نہیں اور جو ان کے عقائد تسلیم کر کے مرتد ہو جائے تو اس کی بیوی اس پر حرام ہے۔ حررہ نور محمد لدھیانوی مقیم رائے پور ! الجواب صحیح ، عبدالقادر شاہ پوری....... الجواب صحیح ، مقبول سبحانی کشمیری....... مصدق، عبدالرحیم رائے پوری....... مصدق ، خدا بخش فیروزی، مجھے اتفاق ہے ، محمد سراج الحق....... جواب درست ہے ، محمد صادق شاہ پوری....... ھذا الجواب صحیح ، احمد شاہ امام مسجد بھٹ....... الجواب صحیح، اللہ بخش بھاول نگر۔
(٨) از شہر کلکتہ (سنی)
ان باتوں کا ماننے والا اقسام کفر و شرک کا معجون مرکب ہے۔ پس ایسی حالت میں ان سے عقد مناکحت و مواخاۃ بالکل جائز نہیں اور یہ سب عقائد باعث ارتداد و موجب تفریق نکاح ما سبق ہیں۔ واللہ اعلم ! کتبہ عبدالنور مدرس اولیٰ مدرسہ دارالہدیٰ کلکتہ۔ الجواب صحیح، افاض الدین....... الجواب صحیح، ابوالحسن محمد عباس....... مہر، عبدالنور .......الجواب صحیح، محمد سلیمان مدرس مدرسہ دارالکتاب والسنۃ....... الجواب صحیح ، شمس
٨
العلماء مفتی محمد عبداللہ صدر مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ ...... الجواب صحیح، احمد سعید انصاری سہارنپوری حال وارد کلکتہ ...... الجواب موافق الکتاب والسنۃ ، عبدالرحیم ...... الجواب صحیح ، محمد یحییٰ ...... الجواب صحیح، محمد اکرم خان سیکرٹری انجمن علماء بنگالہ ایڈیٹر اخبار محمدی کلکتہ ...... الجواب صحیح ، محمد یحییٰ مدرس مدرسہ عالیہ کلکتہ ...... لاریب فی صحۃ الجواب ، محمد مظہر علی ...... لاریب فی الجواب ، عبدالصمد اسلام آبادی مدرس ...... لاریب فی الجواب ، صفی اللہ شمس العلماء مدرس ...... الجواب صحیح ، عبدالواحد مدرس دوم مدرسہ دارالہدیٰ ...... الجواب صحیح ، محمد زبیر ...... الجواب صحیح ، ضیاء الرحمن از کلکتہ کولوٹولہ نمبر ٦ مسجد اہل حدیث ٢٤ رجب ١٣٢٦ھ
(٩) از شہر بنارس (سنی)
مرزا قادیانی مسائل اعتقادیہ منصوصہ کا منکر ہے۔ لہٰذا اس عقیدہ رکھنے والے کے ساتھ عقد مناکحت و استقرار نکاح ہر گز نہیں ہو سکتا اور تصدیق (مرزا) بعد نکاح موجب افتراق و فسخ نکاح ہوگا۔ کتبہ محمد ابوالقاسم البنارسی مدرسہ عربیہ محلہ سعید نگر بنارس ١٠ جمادی الاخری ١٣٢٦ھ میں بھی اس تحریر کے موافق ہوں، محمد شیر خان مدرس کان اللہ لہ ...... ما کتب صحیح ، حکیم محمد حسین خان ...... الجواب صحیح ، محمد عبداللہ مدرس کانپوری ...... الجواب صحیح ، محمد حیات احمد ...... جواب صحیح ہے ، حکیم عبدالمجید عفی عنہ۔
(١٠) شہر آرہ (سنی)
اقوال مندرجہ سوال مرزا قادیانی کا حد کفر تک پہنچنا ظاہر ہے۔ بلکہ اس کے بعض اقوال سے شرک ثابت ہوتا ہے اور مشرکین کے حق میں وارد ہے : ”ولا تنکحو المشرکین حتی یؤمنوا ، الایۃ“ اور مرزا کے منکر رسالت ہونے میں کوئی کلام نہیں ۔ بلکہ وہ خود مدعی نبوت والوہیت ہے۔ (اعاذنا اللہ منہ) پس جو لوگ ان اقوال کے قائل و مصدق و معتقد ہیں۔ ہر گز وہ مومن نہیں ہیں۔ ان کے ساتھ مخالطت و مجالست و مناکحت
٩
جائز نہیں : ” قال تعالى ولا تركنوا الى الذين ظلموا فتمسكم النار اى لاتميلوا اليهم بمودة ومخالطة ومجالسة ومناكحة ومداهنة ورضى باعمالكم فتصيبكم النار كما صرح به المفسرون المحققون من المتقدمين منهم والمتأخرين رضوان الله عليهم اجمعين . “بالجملہ قادیانیوں کے ساتھ کسی مسلمہ کا نکاح ہرگز جائز نہیں اور اگر نکاح ہو گیا تو تفریق کرا دینی چاہئیے اور اگر کوئی مسلمان قادیانی ہو گیا تو اس کا نکاح بلا طلاق فسخ ہو گیا۔ اس کی عورت کسی مسلمان صالح سے نکاح کر سکتی ہے : واللہ اعلم بالصواب کتبہ ابوطاہر البہاری عفا عنہ الباری المدرس الاول فی المدرسة الاحمدیۃ ! قد صح الجواب ، محمد طاہر ابن حضرت مولانا ابو طاہر دام فیضہ ...... قد اصاب من اجاب، محمد مجیب الرحمن دربھنگوی۔
(١١) بدایوں (سنی)
مرزائیوں سے رشتہ زوجیت قائم کرنا حرام ہے۔ اگر لا علمی سے ایسا ہو گیا تو شرعاً نکاح ہی نہ ہوا۔ کیونکہ مسلمان عورت کا نکاح کافر کے ساتھ قطعاً حرام ہے۔ (ھکذا فی کتب الفقہ) اگر بعد نکاح کوئی مسلمان باغوائے شیطان عقائد کفریہ مرزائیہ کا معتقد ہو گیا تو اس کی عورت اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور اگر عورت معتقد ہو گئی تو اس کا نکاح قائم نہ رہے گا۔ مثل مرتدین کے ہو جائے گا۔
مہر ، محمد ابراہیم قادری بدایونی...... مہر ، محمد قدیر الحسن حنفی قادری ...... الجواب صحیح، محمد حافظ الحسن مدرس مدرسہ محمدیہ ...... الجواب صواب ، احمد الدین مدرس مدرسہ شمس العلوم ...... ذالك كذالك ، شمس الدین قادری فرید پوری ...... مہر ، محمد عبدالحمید ...... الجواب صحیح، حسین احمد۔ واحد حسین مدرس مدرسہ اسلامیہ ، عبدالرحیم قادری، محمد عبد الماجد منظور حق مہتمم مدرسہ شمس العلوم، فضل الرحمن ولایتی، عبد الستار عفی عنہ۔
(١٢) شہر الور و سنبھل (سنی)
مرزا کافر مرتد ملعون خارج از اسلام ہے اور ایک ہے ان تیس میں جن کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی ہے کہ میرے بعد تیس دجال کذاب پیدا ہوں گے جو اپنے نبوت باطلہ کا دعویٰ کریں گے۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور جو شخص غلام احمد قادیانی کا ہم عقیدہ ہے وہ بھی کافر ہے۔ مسلمان عورت اور مردوں کا نکاح ان مرتدین کے رجال و نساء سے ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح پہلے ہو چکا تھا پھر زوجین میں سے کسی ایک نے ان کفریات کا ارتکاب کیا تو فوراً ہی نکاح ٹوٹ گیا۔ زن و شوہر کا جو تعلق و رشتہ تھا وہ منقطع ہو گیا۔ اب اگر صحبت ہو گی تو زنا ہو گا اور اولاد حرامی ! حررہ العبد المسکین محمد عماد الدین سنبھلی السنی الحنفی القادری !
بے شک ایسے کفری قول کرنے والا اور ایسا عقیدہ رکھنے والا اسلام سے خارج ہے اور مرتد اور اس کا مسلمانوں سے نکاح جائز نہیں۔ محمد ابوالبرکات سید احمد الوری سلمه الله القوی !
(١٣) از آگرہ (اکبر آباد) و بلند شہر (سنی)
(الف)............. جو ان اقوال کفریہ کا مصدق ہے وہ کافر ہے۔ اس کے ساتھ مسلم غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت جائز نہیں۔ اور زوجین میں سے کسی ایک کا بعد نکاح ان اقوال کی تصدیق کرنا موجب افتراق ہے۔ فقط محمد ھمام امام مسجد جامع آگرہ۔
(ب)............. ان اقوال کے قائل اور معتقد کے ساتھ نکاح مطلق جائز نہیں اور ایسا نکاح موجب افتراق ہے۔ سید عبداللطیف مدرس عالیہ جامع آگرہ۔
(ج)............. قادیانی مرتد ہے اور قادیانیوں کے ساتھ نکاح مطلقاً جائز نہیں اور اگر کوئی مسلمان مرد یا عورت مرتد ہو جائے اس کا نکاح فسخ ہو گا۔ (انتهی مختصر فقط)
حررہ العبد الراجی رحمة ربه القوی ابومحمد دیدار علی الرضوی
١١
الحنفی المفتی فی جامعہ اکبر آباد۔
(و).......... عقائد مندرجہ سوال رکھنے والا قطعاً کافر ہے۔ عورت اس کے نکاح سے باہر ہے۔ اہل اسلام کو چاہئے کہ احکام و معاملات میں ان سے احتراز رکھیں۔ هکذافی کتب الاسلام ! خادم الطلبا محمد مبارک حسین محمودی صدر مدرس مدرسہ قاسم العلوم ضلع بلند شہر۔
(١٤) از مراد آباد (سنی)
غلام احمد قادیانی کے کفریات بدیہی ہیں کہ جن پر استدلال کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے اس کے تابعین سے رشتہ اخوت سلسلہ مناکحت ‘ تعلق محبت ‘ ربط ‘ ضبط ‘ شرعاً قطعی حرام ہے۔ ہرگز ہرگز ان اسلامی روپ کے کافروں سے مومنین کو کوئی دینی تعلق نہ رکھنا چاہئے۔ ان سے نکاح زنا ہوگا جو دین و دنیا میں وبال و نکال ہے۔ خادم العلماء والفقراء غلام احمد حنفی قادری مراد آبادی‘ ٨ رجب ١٣٢٦ھ
(١٥) شہر لکھنو (از حضرات شیعہ)
(نوٹ) حضرات شیعہ کے فتوے اس لئے معدودے چند ہیں کہ ان میں سوائے مجتہد کے کوئی دوسرا فتویٰ نہیں دے سکتا اور مجتہد کا فتویٰ تمام افراد شیعہ کو ماننا پڑتا ہے :
(الف).......... الجواب ومن الله التوفيق عقد مسلم یا مسلمہ قادیانی یا قادیانیہ سے جائز نہیں۔ اور اگر کوئی مسلم یا مسلمہ خدانخواستہ قادیانی مذہب اختیار کرے تو نکاح اس کا باطل ہو جائے گا۔ والله العاصم ! ناصر علی عفی عنہ بقلمہ۔
(ب).......... باسمه سبحانه‘ جو شخص ان اقوال کا قائل اور ان معتقدات کا معتقد ہو۔ اس کا عقد ان مسلمین و مسلمات سے اور علی الخصوص مؤمنین و شیعیان اثنا عشرہ سے جو کہ ان معتقدات باطلہ کے قائل و معتقد نہیں ہیں۔ حرام و باطل ہے اور تصدیق ان عقائد کے بعد عقد بھی موجب افتراق و بطلان عقد ہے۔ حررہ السید آقا حسن!
١٢
(ج).......... باسمه سبحانه جو شخص ان تمام امور مندرجہ استفتاء کا معتقد ہو۔ وہ کافر ہے۔ اس کے ساتھ زن مسلمہ کا عقد ناجائز و باطل ہے۔ اور جس زن مسلمہ کا شوہر بعد الاسلام ان عقائد کا معتقد ہو جائے۔ اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔ بلکہ جمیع احکام کفر و ارتداد ایسے اعتقاد والے جاری ہو جائیں گے۔ واللہ یعلم ! سید نجم الحسن عفی عنہ بقلمہ !
(١٦) شہر لکھنو ندوۃ العلماء (سنی)
جو شخص ان اقوال مندرجہ استفتاء کا مصدق ہو۔ اس کے ساتھ مسلمہ غیر مصدقہ کا رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں اور جو شخص کہ نکاح کے بعد ان اقوال کا مصدق ہوا اس کی یہ تصدیق ضرور موجب افتراق ہے۔ قال تعالیٰ : ”فان علمتموهن مؤمنات فلا ترجعو هن الى الكفار لاهن حل لهم ولاهم يحلون لهن،“ خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ اگر تم یقیناً معلوم کرلو کہ عورتیں مسلمان ہیں تو کبھی کفار کو واپس نہ دو۔ نہ یہ (عورتیں) ان کیلئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لئے حلال ہیں۔ واللہ اعلم ! کتبہ محمد عبد اللہ ١١ جمادی الاخریٰ ١٣٤٦ھ
جو ان اقوال کا معتقد اور مصدق ہے وہ ہر گز مسلمان نہیں ہے اور نکاح وغیرہ ایسے لوگوں سے ناجائز ہے۔ حررہ الراجی رحمۃ ربہ القوی ابوالحماد محمد شبلی المدرس فی دار العلوم لندوۃ العلماء عفے عنہ !
مذکورہ بالا جوابات بالکل صحیح ہیں، عبد الودود عفے عنہ مدرس دارالعلوم۔
ان اقوال مذکورہ استفتاء کا جو شخص قائل ہو وہ کافر ہے اور اسلام سے خارج ہے۔ مناکحت وغیرہ اس سے جائز نہیں۔ امیر علی عفا اللہ عنہ مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء۔
معتقد ان اعتقادات کا مسلمان نہیں ہے۔ لہٰذا کسی مسلمہ کا نکاح ان سے جائز نہیں اور اگر نکاح کیا گیا ہو وہ عدمِ محض سمجھا جائے گا اور تفریق واجب ہو گی۔ حیدر شاہ فقیہ دوم دار العلوم ندوۃ العلماء۔
١٣
واقعی بعض از معتقدات مذکورہ کفر است و معتقد را بسر حد کفر رساند و کفر کہ بعد ایمان ارتداد است و بامرتد و مرتدہ نکاح ایماندار درست نیست۔ (واللہ اعلم بالصواب! حررہ الراجی الی رحمۃ ربہ الباری محمد عبدالهادی الانصاری حفید العلامۃ ملامبین شارح السلم والمسلم اسکنہ اللہ فی اعلیٰ علیین)
میں نے ایک عرصہ تک مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات و دعاویٰ کی تحقیق کی۔ دوران تحقیق میں اس امر کا خاص لحاظ رکھا کہ ذرہ بھر نفسانیت کا دخل نہ ہو۔ لیکن خدا اس کا بہتر شاہد ہے کہ جس قدر میں تحقیق کرتا گیا۔ اسی قدر میرا یہ اعتقاد پختہ ہوتا گیا کہ جو لوگ مرزا قادیانی کی تکفیر کرتے ہیں۔ یقیناً وہ حق پر ہیں۔ پس ایسی صورت میں مرزائیوں سے مناکحت وغیرہ ہرگز جائز نہیں۔ اگر نکاح ہو چکا ہے تو تفریق ضروری ہے۔ حررہ ابوالھدیٰ فتح اللہ الہ آباد کان اللہ لہ حال مدرس اول انجمن اصلاح المسلمین لکھنؤ!
(١٧) از شہر دہلی (سنی)
(الف)........... فرقہ قادیانی قطعاً منکر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ اور اجماع امت کا ہے۔ اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ان سے مناکحت یقیناً ناجائز اور باطل ہے۔ حکیم ابراہیم مفتی دہلوی مدرسہ حسینیہ۔
(ب)........... مرزا غلام احمد قادیانی کے یہ اقوال مندرجہ سوال اکثر میرے دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی اقوال ایسے ہیں جو ایک مسلمان کو مرتد بنادینے کیلئے کافی ہیں۔ پس مرزا قادیانی اور جو شخص ان کا ان کلمات کفریہ کا مصدق ہو سب کافر ہیں۔ تعجب ہے کہ مرزائی تو غیر احمدی کا جنازہ بھی حرام بتائیں اور غیر احمدی ان کے ساتھ رشتے ناطے کریں۔ آخر غیرت بھی کوئی چیز ہے۔ حررہ محمد کفایت اللہ غفرلہ مدرس مدرسہ امینیہ دہلی!
(ج)........... جو شخص مرزائے قادیاں کا ان اقوال مذکورہ میں مصدق ہو اس کے ساتھ مسلم غیر مصدق کا رشتہ مناکحت کرنا ہرگز جائز نہیں اور تصدیق کے بعد موجب
١٤
افتراق ہے۔ حررہ السید ابوالحسن عفی عنہ‘ الجواب صحیح، احمد سلمہ الصمد مدرس مدرسہ مسجد حاجی علی جان مرحوم دہلی۔ ماآجاب المجیب فھو حق جری ان یعمل بہ‘ حررہ ابو محمد عبیدالله مدرس مدرسہ دارالھدیٰ کشن گنج دہلی۔ : مرزائی بوجہ اپنے کفر کے اس قابل نہیں ہیں کہ ان سے مسلمان رشتہ داری‘ مناکحت و مجالست کریں اور نہ ایسے لوگوں میں مسلمان عورت کا نکاح ہو سکتا ہے۔ حرہ الراجی رحمتہ المنان عبدالرحمٰن مدرسہ دارالھدیٰ!
(و)..........مرزا غلام احمد قادیانی کافر ہے اور جتنے اس کے (اقوال مندرجہ سوال میں) معتقد ہیں سب کافر و مرتد ہیں۔ ان کے نکاح میں مسلمہ عورتیں دینا جائز نہیں۔ مسلمانو! بچو اور اپنے بھائیوں کو ان سے بچاؤ۔ حررہ احمد اللہ مدرس مسجد حاجی علی جان دہلی۔ الجواب صحیح‘ عبدالستار کلانوری نزیل دہلی مفتی مدرسہ دارالکتب والسنته ١٠ جمادی الثانی ٣٦ھ۔ عبدالعزیز عفی عنہ‘ عبدالرحمٰن عفی عنہ‘ عبدالسلام خلف مولوی عبدالرحمٰن‘ ابوتراب عبدالوہاب عفی عنہ‘ للہ در المجیب ابوزیر محمد یونس پرتاپ گڑہی مدرسہ علی جان
(١٨)ہوشیار پور (سنی)
مرزائے قادیانی کے دعاویٰ کاذبہ کی جو تصدیق کرتا ہے۔ اس کا رشتہ و نکاح کسی مسلمان سے ہرگز ہرگز جائز نہیں۔ اور جو شخص اس کے عقائد باطلہ کی تصدیق بعد عقد زوجیت کرے تو اس کی یہ تصدیق موجب تفریق اور باعث فسخ نکاح ہے۔ خادم اراکین انتظامیہ ندوۃ العلماء غلام محمد ہوشیار پوری۔ ھذا ھو الجواب الحق ! کتبہ مولوی احمد علی عفی عنہ نور محلے
(١٩)لودھیانہ (سنی)
(الف)..........ایسے عقائد مذکور کا شخص کافر بلکہ اکفر۔ ان سے رشتہ لینا دینا
١٥
درست نہیں ہے۔ کتبہ العبد العاجز علی محمد عفا عنہ مدرس مدرسہ حسینیہ لدھیانہ (ب) ............. چونکہ یہ شخص نصوص قطعیہ کا منکر ہے اور یہ کفر و ارتداد ہے۔ اس لئے ایسے کافر و مرتد سے نکاح منعقد نہیں ہوتا اور اگر قبل از ارتداد نکاح ہوا تو ارتداد سے فسخ ہو جاتا ہے۔ حررہ رحمت علی مدرس مدرسہ غزنویہ محلہ دھولیوال! الجواب صحیح محمد عبداللہ عفی عنہ مدرس مدرسہ غزنویہ، نور محمد از شہر لدھیانہ، عاجز حافظ محمد الدین مہتمم مدرسہ بستان الاسلام لدھیانہ محلہ صوفیاں
(٢٠) لاہور (سنی و شیعہ صاحبان)
(الف) ............. چونکہ مرزائے قادیانی اور اس کے پیروؤں کا کفر منجانب علمائے ہند و پنجاب قطعی ہے۔ لہذا ان کے ساتھ کسی مسلمہ عورت کا نکاح جائز نہیں اور بروقت ظہور مرزائیت نکاح فسخ ہو جائے گا۔ نور بخش (ایم اے) ناظم انجمن نعمانیہ لاہور!
(ب) ............. صورت مرقومہ میں جس قدر عقائد بیان کئے گئے ہیں از روئے قرآن و حدیث کے وہ سب باطل اور کفر ہیں۔ بلکہ بعض تو حد شرک تک پہنچے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں ان عقائد کا مدعی جس طرح دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے مرید اور معتقد بھی چونکہ لازماً اس حکم میں داخل ہیں۔ لہذا ان سے بہر طور معاشرت کرنا اور ان کو معابد و مساجد میں آنے دینا، ان پر نماز جنازہ پڑھنا، ان سے رشتہ و ناطہ کرنا شرعاً سب ناجائز اور فعل حرام اور معصیت عظیم ہے۔ خاص کر ان کو لڑکی کا رشتہ دینے کی ممانعت تو نہایت ہی مؤکد اور اہم ہے (لان المرأة تاخذ من دين بعلها) کیونکہ عورت اپنے خاوند سے دین حاصل کرتی ہے۔ اس لئے کہ عورت ضعیف العقل ہونے سے سبب شوہر کے دین کو اختیار کر لیتی ہے: ”أعاذنا الله وجميع المؤمنين من النفس الامارة بالسوء والضلالة بعد الهدیٰ (وهو العالم) من مبارك حویلی(لاہور)رقمه خادم الشريعة المطهره على الحائری بقلمه
١٦
(٢١) شہر پشاور معہ مضافات (سنی)
عقائد مرقومہ کا معتقد اور مصدق یقیناً اسلام سے خارج ہے اور کسی مسلمان عورت کا نکاح ایسے شخص سے جائز نہیں اور تصدیق بعد از نکاح موجب افتراق ہے۔ تمام کتب فقہ میں ہے (وارتداد احدھما فسخ فی الحال) کہ بیوی، میاں سے کسی کا مرتد ہونا نکاح فوراً فسخ کرتا ہے۔ حررہ محمد عبدالرحمن ہزاروی، الجواب صحیح، بندہ محمود شہر پشاور۔ عبدالواحد از پشاور، عبدالرحمن بقلم خود مفتی عبدالرحیم پشاوری، محمد خانپوری، محمد رمضان پشاوری، مولوی عبدالکریم پشاوری، حافظ عبداللہ نقشبندی۔
(٢٢) راولپنڈی معہ مضافات (سنی)
جو الفاظ مرزا غلام احمد کے استفتاء میں ذکر ہوئے یہ تمام کفریہ ہیں۔ پس عورت مسلمان کا نکاح مرزائی کے ساتھ ہرگز جائز نہیں اور اگر پہلے وہ مسلمان تھا اور پیچھے وہ مرزائی ہو گیا اور عورت مسلمان ہے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ کتبہ عبدالاحد خانپوری از راولپنڈی۔ الجواب صحیح، عبداللہ عفا عنہ از مدرسہ سعیدیہ راولپنڈی، سید اکبر علی شاہ متصل جامع مسجد، محمد یحییٰ مکرانی مقیم شہر راولپنڈی، محمد مجید امام راولپنڈی، محمد عصام الدین مدرس مدرسہ احیاء العلوم راولپنڈی، عبدالرحمن بن مولوی ہدایت اللہ صاحب مرحوم امام مسجد اہل حدیث صدر، پیر فقیر شاہ از راولپنڈی۔
(٢٣) شہر ملتان معہ مضافات (سنی)
بلاریب یہ تمام اعتقادات صریح کفر و الحاد ہیں۔ قائل و معتقد ان کا خود بھی کافر ہے اور جو شخص اس کو باوجود ان اعتقادات کے مسلم یا مجدد یا نبی یا رسول مانے وہ بھی کافر اور مرتد ہے اور بحکم آیت : ”لا ھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن“ مناکحت مسلمہ ، مرزائی وبالعکس نہ ابتداء صحیح ہے نہ بقاء۔ یعنی نہ رشتہ مناکحت ہو سکتا ہے اور نہ قائم رہ سکتا۔ اسی طرح حقوق ارث سے بھی حرمان ہو جاتا ہے۔ حررہ ابو محمد عبدالحق ملتانی۔
١٧
الجواب صحیح ، احقر العباد ابو عبید خدا بخش ملتانی عفی عنہ ، خاکسار محمد عفی عنہ از ملتان
(٢٤) ضلع جہلم (سنی)
مرزائے قادیانی کے یہ دعاوی اور اسی قسم کے دوسرے دعاوی کفر و شرک تک پہنچ چکے ہیں۔ اس کا الہام ہے کہ : (الارض والسماء معك كما هو معى ، تذكره ص ٦٥ طبع سوم) زمین آسمان جیسے خدا کے ماتحت ہیں ایسے مرزا کے بھی ماتحت ہیں۔ ایک اور الہام ہے کہ : (يتم اسمك ولا يتم اسمى ، تذكره ص ٥١ طبع سوم) خدا کہتا ہے کہ میرا نام تو ناقص رہے گا۔ مگر تیرا نام ضرور کامل ہو جائے گا۔ پہلے دعوے میں شرک جلی اور دوسرے میں وہ غرور دکھایا ہے کہ کسی فرعون نے بھی نہیں دکھایا۔ اس لئے جو ان اقوال کا مصدق ہو وہ بلا شبہ کافر و مشرک ہے اور کسی مسلم کو جائز نہیں کہ کسی مشرک سے تعلق زوجیت قائم رکھے اور رشتہ زوجیت قائم ہونے کے بعد ایسے عقائد کا مصدق ہونا موجب افتراق ہے۔ علاوہ ازیں مرزا (محمود) نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو اس کی نبوت کا کلمہ نہیں پڑھتا۔ خواہ وہ مرزا کا منکر نہ بھی ہو وہ کافر ہے اور اہل اسلام کو کافر کہنے والا خود کافر ہوتا ہے۔ پھر مرزا نے توہین انبیاء میں کچھ کمی نہیں چھوڑی : (لولاك لما خلقت الافلاك ، حقيقة الوحى ص ٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٢) کے دعوے میں آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات پر سخت حملہ کیا ہے اور اپنے آپ کو علت تکوین عالم بتاتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا۔ (پھر طرفہ یہ کہ دعویٰ غلامی ہے۔) انتہی مختصراً حررہ محمد کرم الدین از بھین ضلع جہلم تحصیل چکوال ، نور حسین از باد شاہانی ، محمد فیض الحسن مولوی فاضل بھین ضلع جہلم ۔
(٢٥) ضلع سیالکوٹ (سنی)
(الف).......... مرزا کے عقائد کفر ہیں اور جو ایسے مذہب کا مصدق ہے۔ اس کے ساتھ رشتہ زوجیت کرنا ہرگز جائز نہیں۔ بلکہ تصدیق بعد از نکاح موجب افتراق ہے :
١٨
(من بلفظ كفر يكفر واما كل من ضحك عليه او استحسنه او يرضى به يكفر (قواطع الاسلام) من حسّن کلام اهل الاهواء وقال معنی او کلام له معنی صحيح ان كان ذالك كفر من القائل كفر المحسن (البحر الرائق) ایما رجل سب رسول الله ﷺ او كذبه او عابه او تنقصه فقد كفر بالله و بانت منه امرئته (كتاب الخراج للامام ابي يوسف) ابو یوسف محمد شریف عفی عنہ کوٹلی لوہاراں مغربی ضلع سیالکوٹ۔
- (ب).......... مرزا کے عقائد کفریہ کا جو مصدق ہو وہ بھی کافر ہے۔ لقولہ
تعالیٰ: ” ومن يتولهم منكم فانه منهم ، “ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے زمانہ میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور مقام استدلال پر علامت نبوت کیلئے کچھ مہلت مانگی تھی تو آپ نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ جو شخص اس سے نبوت کی علامت طلب کرے گا۔ وہ کافر ہو گا۔ کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کے اس فرمان کا مکذب قرار دیا جائے گا کہ : (لا نبی بعدی) میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (الخیرات الحسان لابن حجر المکی) پس مرزا کے مصدق سے رشتہ زوجیت جائز نہیں کوئی کرے بھی تو کالعدم ہو گا۔ حررہ ابو الیاس محمد امام الدین قادری کوٹلی لوہاراں مغربی۔
- (ج).......... ایسا شخص کافر ہے اور کافر سے نکاح درست نہیں جامع الفصولین
و فتاویٰ ہندیہ میں ہے : ” قال انا رسول الله او قال بالفارسية من پيغمبرم يريد به من پيغامبر م يكفر “ علامہ یوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں لکھتے ہیں کہ : ” من ادعى النبوة فى زماننا او صدق مدعيا لها او اعتقد نبيا فى زمانه او قبله من لم يكن نبيا كفر ، “ جو شخص ہمارے زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کرے یا مدعی نبوت کی تصدیق کرے یا یہ اعتقاد رکھے کہ آپ کے زمانہ میں یا آپ سے پہلے وہ شخص نبی تھا کہ جس کی نبوت کا ثبوت نہیں وہ کافر ہو گا۔ رقمه ابو عبد القادر محمد عبدالله امام مسجد جامع کوٹلی مذکور ‘ سید میر حسن از کوٹلی لوہاراں ‘ الفقیر السید فتح علی شاہ ١٩
حنفی قادری از کھروٹہ سیداں ضلع سیالکوٹ۔
(٢٦) ضلع ہوشیار پور (سنی)
جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے دعاوی کاذبہ کی تصدیق کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اہل اسلام کے ساتھ ایسے شخص کا تعلق زوجیت جائز نہیں اور ازدواج کے بعد اس کے دعاوی کی تصدیق موجب فرقت ہے۔ حررہ نورالحسن جہلمی مدرس مدرسہ خالقیہ کوٹ عبد الخالق الجواب صحیح، اللہ بخش پٹیالوی مدرس عربی مدرسہ خالقیہ، محمد فاضل گجراتی مدرس مدرسہ خالقیہ، عبد الحمید جسری از کوٹ عبد الخالق۔
(٢٧) ضلع گورداسپور (سنی)
عورت اگر مرزائی عقیدہ کی ہو تو نکاح نہیں ہو گا۔ چہ جائیکہ مرد اس عقیدہ کا ہو۔ اگر بعد انعقاد نکاح یہ اعتقاد احد الزوجین کا ہو جائے تو نکاح باطل ہو گا۔ واللہ اعلم بالصواب! بندہ عبدالحق دینا نگری مورخہ ٢٠ جمادی الثانیہ ٣٦ھ۔
(٢٨) ضلع گجرات پنجاب (سنی)
مرزا کے مصدق سے اہل اسلام کا باہمی رابطہ ازدواج ہرگز درست نہیں۔ فقہاء نے بعض بدعات بھی مکفرہ فرمائی ہیں۔ بھلا یہ تو صاف کفریات ہیں۔ واللہ الہادی! حررہ العبد الاواہ الشیخ عبد اللہ عفی عنہ از ملکہ الجواب صحیح بندہ عبید اللہ از ملکہ۔
(٢٩) ضلع گوجرانوالہ (سنی)
(الف).......... جو لوگ اعتقادات مذکورہ میں مرزا قادیانی کے معتقد و مصدق ہیں۔ ان سے علاقہ زوجیت ہرگز نہ کرنا چاہئے۔ حررہ حافظ محمد الدین مدرس مسجد حافظ عبد المنان مرحوم۔
(ب).......... بے شک جن لوگوں کا ایسا عقیدہ ہے ان کے ساتھ مخالطت اور
٢٠
مناکحت جائز نہیں۔ حررہ عبداللہ المعروف بہ غلام نبی از سوہدرہ الجواب صحیح محی الدین نظام آبادی عفی عنہ، عمر الدین معلم وزیر آباد مسجد پرانے والی۔ خاکسار عبد الغنی!
(ج) ....................... بے شک مرزا کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کا شریک ثابت کرتا ہے۔ اس لئے مرزائیوں سے مناکحت ناجائز ہے۔ حررہ احمد علی بن مولوی غلام حسن از چک بھٹی۔
(٣٠) شہر امرت سر (سنی)
(١) ....................... مدعیان نبوت و رسالت کے ارتداد و کفر میں کوئی اہل ایمان و علم متردد نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کے لوگوں سے رشتہ و ناطہ کرنا بالکل حرام ہے اور اگر بیوی یا میاں اب مرزائی ہو جائے تو نکاح واجب الفسخ ہے اور مقننین اہل اسلام کا فرض ہے کہ گورنمنٹ سے ایسے قانون کے نفاذ کی اپیل کریں تاکہ ہمارے مذہب اور ضمیر کے خلاف کوئی ایسا فیصلہ نہ ہو سکے کہ جس سے ہمارے حقوق تلف ہوں۔ کیونکہ مرزائی جائے خود رہے جو مرزائیوں کو مسلمان تصور کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ ختم رسالت وغیرہ بدیہیات دین کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔ بلکہ دراصل منکر ہیں۔ حررہ ابوالحسن غلام المصطفیٰ الحنفی القاسمی الامرتسری عفااللہ عنہ!
(٢) ....................... مرزا غلام احمد قادیانی کی تالیفات اس کے کفر پر معتبر گواہ (شاہد عدل) ہیں جن کے سامنے اس کا ایمان بالکل ثابت نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص کشتی نوح ضمیمہ انجام آتھم اور دافع البلاء کو دیکھنے والا اس کے کفر میں کبھی شک نہیں کر سکتا۔ پس جو لوگ اسے نبی مانتے ہیں ان سے محبت، دوستی، رابطہ، رشتہ پیدا کرنا یا قائم رکھنا جائز نہیں: ”لقولہ تعالیٰ لا تتخذوا الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ولقولہ تعالیٰ لا یتخذ المؤمنون الکفرین اولیاء من دون المؤمنین ومن یفعل ذالک فلیس من
٢١
الله فی شیئی، امام و متولی مسجد کوچہ سمی امرتسر۔
- (٣).......... مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور ہمارے نبی ﷺ کے بعد نبوت
کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے۔ (دیکھو شرح فقہ اکبر ملا علی قاری) لہذا جماعت مرزائیہ خارج از اسلام ہے۔ سب مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت اس پر حرام ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو صحبت کرے گا وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد کہ پیدا ہوتی ہے ولد الزنا ہوگی اور مرتد جب بغیر توبہ کے مر جائے تو اس پر جنازہ پڑھنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا حرام ہے۔ بلکہ مانند کتے کے بغیر غسل و کفن کے گڑھے میں ڈالا جائے۔ (ملاحظہ ہو کتاب الاشباہ والنظائر): ”اللهم توفنا مسلمين والحقنا بالصالحين ولا تجعلنا من المرزائيين.“ حررہ عبدالغفور الغزنوی عفا اللہ عنہ الجواب صحیح محمد حسین۔
- (٤).......... مرزا قادیانی کا فتنہ اسلام میں آفات کبریٰ سے ہے۔ اس کا کفر علماء
ربانیین نے قدیماً وحدیثاً ثابت کیا ہوا ہے۔ اہل اسلام کے اس باب میں کئی کتب ورسائل واشتہارات موجود ہیں اور وہ اسی عقیدہ کفریہ پر مر گیا ہے۔ اب بھی جو کوئی اس کو نبی جانے اور اسی طرح کا عقیدہ رکھے وہ بھی بلاریب بموجب شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰت والتحیہ کافر ہے اور مومنہ سنیہ سے اس کا نکاح فسخ ہے اور مومنہ سنیہ کا نکاح مرزائی سے باندھنا حرام ہے اور یہ نکاح باطل ہے: ”قال الله عزوجل ”لاهن حل لهم ولاهم يحلون لهن.“ الاية هذا فقط والله اعلم! ابو اسحاق نیک محمد عفی عنہ مدرس مدرسہ غزنویہ تقویۃ الاسلام امرتسر۔
- (٥).......... بندہ کو مضامین بالامذکورہ میں اتفاق ہے۔ واقعی مرزا غلام احمد
قادیانی کے عقائد باطلہ دائرہ اسلام سے اس کو خارج کرتے ہیں۔ فقط محمد تاج الدین مدرس ایم اے ہائی سکول امرتسر۔
- (٦).......... مرزا غلام احمد قادیانی نے علی الاعلان دعویٰ نبوت کیا اور دیگر انبیاء
کی توہین کی۔ بعض کو گالیاں دیں اور مذکورۃ الصدر سارے دعوے بھی کئے۔ جن کی بنا پر وہ خود کافر ہو کر مرا۔ اس کے ماننے والے بھی کافر۔ ان سے ہر قسم کا قطع تعلق کر لیا جائے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری۔
- (٧)........... اقوال مذکورہ اکثر کفریہ ہیں جن کی تاویل سے بھی مخلصی کی
صورت پیدا نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان اقوال کا ماننے والا اور مصدق اس قابل ہرگز نہیں کہ اس کے ساتھ رشتہ زوجیت پیدا کیا جائے اور اگر نکاح پہلے ہو چکا ہے تو افتراق ضروری ہے۔ مسکین سلطان محمد بقلم خود جواب صحیح ہے سلام الدین عفا اللہ عنہ۔
- (٨)........... الجواب! جو شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال مذکورہ بالا
کا مصدق ہے اور ان کو صحیح مانتا ہے، وہ شرعاً کافر و مرتد ہے۔ اور کافر و مرتد کا نکاح عورت مسلمہ سے ہرگز جائز نہیں اور اگر بعد از نکاح تابع مرزائی ہو گیا تو فوراً نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اعلان کرنا چاہئے کہ کوئی شخص مسلمان مرزائیوں سے زوجیت کا تعلق پیدا نہ کرے۔ حکیم ابو تراب محمد عبدالحق الجواب صحیح ھوالفقیر محمد شمس الحق امرتسری۔
- (٩)........... جو شخص مرزا قادیانی کا ان اقوال میں مصدق ہو۔ اس کے ساتھ
مسلم غیر مصدق کا رشتہ زوجیت کرنا جائز نہیں۔ محمد داؤد غزنوی امرتسری۔
- (١٠)........... الجواب! قادیانی مدعی نبوت نے جو کچھ خارج از اسلام عقائد
پھیلائے ہیں وہ صاف صاف اس کے کافر ہونے پر بین ثبوت ہیں اور جس قدر اس نے اہل اسلام سے اظہار نفرت کیا ہے۔ اسی قدر ہم بھی اس کے ہم عقیدہ اور مریدوں سے نفرت کریں تو ہمارے مذہبی احساس کا نتیجہ ہو گا۔ اس لئے جملہ اہل اسلام کو ضروری ہے کہ ان سے قطع تعلق کریں اور بالخصوص مناکحت اور کفن دفن سے ضرور اجتناب کریں۔ نور احمد عفی عنہ پسروری ثم امرتسری ٢٥ شوال ١٣٣٨ھ الجواب صحیح غلام محمد مولوی فاضل منشی فاضل اول مدرس دینیات اسلامیہ ہائی سکول امرتسر الجواب صحیح محمد نور عالم مولوی فاضل منشی فاضل مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول امرتسر۔
٢٣
(١١)........ میری مدتوں کی تحقیق میں اچھی طرح سے ثابت ہوچکا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کافر قطعی اور کذاب یقینی ہے اور جو لوگ دیدہ دانستہ اس کے تابعدار اور اس کے مذہب کے پابند ہیں۔ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ پس مسلمہ عورت کے ساتھ مرزائی مرد کا نکاح فسخ ہے : (لا ھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن ٠) بلا طلاق اور جگہ نکاح جائز ہے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہ ہونے دیں۔ ایسے کافر ہیں کہ پہلے زمانوں میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔ والعلم عنداللہ! محمد علی عفا اللہ عنہ واعظ ٢٧ شوال ١٣٣٨ھ
(١٢)............ بحکم حدیث شریف: ” زوجوا من ترضون دینه “ مرزائی سے محمدی خاتون کا نکاح نہ ہونا چاہئے اور اگر ہو جائے تو فسخ کرا لینا چاہئے۔ ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری۔
(٣١) فتح گڑھ چوڑیاں ضلع گورداسپور (سنی)
امابعد! (١)......فنقول ان المرزا ادعی وفات المسیح(٢)......القول بحيوة المسيح شرك(٣)......الجنة والنار لاحقيقت لهما(٤)......الله جسم غير متناه(٥)......النصوص ليست على ظواهرها (٦)......فوقية نفسه على رسولنا صلى الله عليه وسلم علما(٧)......النبوة لنفسه (٨)......دوامها بعد ختم الرسالة (٩)......تحصيل النبوة بالاكتساب (١٠)......التمثل بعيسىٰ بل بجميع الانبياء (١١)......فضيلة نفسه على المسيح (١٢)......الاجراء الوحى (١٣)......ضرورة الايمان به (١٤)......المجالسة بالله (١٥)......المجانسة به (١٦)......كونه زوجة لله (١٧)......ولد الله (١٨)......كونه قيم الله فى كائناته(١٩)......واتحاد ذاته بذات الله (٢٠)......شركته فى صفته الخلق وقدرته٠ فهذه عشرون امرا كله كفر
٢٤
يخالف الاسلام بل وبعض هذه الخرافات من الكفر اذ يكفى بها الرجل فى كفره واحد فكيف اذا اجتمعت جميعها فى قائل هذه الاقوال ذلك وحده بل صرح بكفره من الائمه المتقدمين القاضی عياض فى الشفا وملا على القارى فى شرح الفقه الاكبر وابن حجر واخرون فى مصنفاتهم.“ (ملخصاً) عبدالحی بن مولانا عثمان عفا اللہ عنہ ٤ ذیقعدہ ١٣٤٨ھ ولا يجوز لاهل الاسلام ان يعاملوا المرزائية فى امر دينيا كان او غير دين‘ انا العاجز محمد فاضل بن المولوی محمد اعظم مرحوم فتح گڑھی۔
مرزائیوں سے نکاح ہی درست نہیں۔ چہ جائیکہ افتراق کی حاجت ہو۔ محمد عبداللہ فتح گڑھی
تمت هذه الفتاوى فالمرجو من المسلمين ان يعملوا بها!
حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ کے ارشادات
- ☆☆............... قادیانی زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام
کہتے ہیں، اور شریعت کے مطابق زندیق واجب القتل ہوتا ہے۔
- ☆☆............... یہ مرزا غلام احمد قادیانی کی مراقی مسیحیت کے
کرشمے ہیں کہ وہ خود سے خود پیدا ہو کر مسیح ابن مریم بن گیا۔ ☆......☆......☆
٢٥
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ و پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم کی زیر سرپرستی اور مولانا مفتی محمد جمیل خان کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف 350/= روپے
رابطہ کے لئے : منیجر ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔
نکاح مرزا
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
بسم اللہ الرحمن الرحیم !
دیباچہ
پہلے مجھے دیکھئے
مرزا غلام احمد قادیانی نے مہدویت مسیحیت بلکہ نبوت کے دعوے کئے جس پر علماء اسلام سے ان کی بحثیں ہوتی رہیں۔ ان سب بحثوں کو جن میں قال اقول کی گردانیں ہوتی تھیں۔ مرزا قادیانی نے قطع مسافت کرنے اور ختم کرنے کو یوں فرمایا کہ مجھے میری روحانیات سے جانچو۔ یعنی میں جو کسی غیبی امر کی نسبت پیشگوئی کروں اس کو دیکھو۔ اگر وہ سچی ہے تو میں سچا ہوں۔ جھوٹی ہے تو میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ لکھتے ہیں :
’’بعض عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم امرتسری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ٥ جون ١٨٩٣ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیشگوئی جسکی میعاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ١٨٩٣ء ہے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں ١؎۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقت سے بالکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کیلئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک
١؎ یعنی اگست ١٨٩٤ء تک اس کی زندگی کا خاتمہ ہے اس سے آگے نہیں۔ حالانکہ اب (اگست ١٩٢١ء) تک زندہ ہے۔ (١٩٣٨ء میں انتقال ہوا۔ فقیر)
٢
کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا ١۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہرائے۔ سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہوں۔ بلکہ محض اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندؤوں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیشگوئی جو مسلمانوں کی قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے۔ کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں کہ :
(١)...... ”مرزا احمد بیگ ہوشیارپوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔ (٢)...... اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔ (٣)...... اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ (٤)...... اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ (٥)...... اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہونے تک فوت نہ ہو۔ (٦)...... اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“
(شہادت القرآن ص ٧٩، ٨٠، خزائن ج ٦ ص ٣٧٥، ٣٧٦)
اس عبارت میں مرزا قادیانی نے بڑی صفائی سے دو باتوں کا اظہار کیا ہے ایک یہ کہ میری یہ تین پیشگوئیاں قابل غور ہیں۔ دوم یہ کہ ان میں سے مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت اور اس کی لڑکی کے نکاح والی پیشگوئی مسلمانوں سے خاص تعلق رکھتی ہے۔ ہم نے
١۔ مرزا قادیانی کی اردو نویسی کا نمونہ ہے : ”نہیں کرتا“ کی جگہ : ”نہیں کر سکتا“ لکھا ہے۔ اصل مضمون میں ہم آپ کی تصدیق کرتے ہیں کہ واقعی ایسا نہیں کرتا۔
٣
ان تینوں پیشگوئیوں بلکہ عموماً ان کی ساری پیشگوئیوں کی پڑتال رسالہ الہامات مرزا میں کی ہوئی ہے مگر بغرض اختصار خاص اس پیشگوئی کو جو (بقول مرزا) مسلمانوں سے خاص تعلق رکھتی ہے الگ رسالہ کی صورت میں شائع کرنا مفید سمجھا۔ اس لیے یہ چھوٹا سا رسالہ ناظرین کی خدمت میں پیش ہوتا ہے۔ امید ہے باانصاف ناظرین! اسے بغور دیکھیں گے۔ ابو الوفاء ثناء اللہ کفاہ اللہ ملقب فاتح قادیان امرتسر (ذی الحجہ ١٣٣٩ھ اگست ١٩٢١)
الہامی پیشگوئی بابت نکاح دختر مرزا احمد بیگ
سب سے پہلے بطور اشتہار جو مرزا قادیانی نے اس نکاح کے متعلق اعلان کیا تھا۔ وہ ١٠ جولائی ١٨٨٨ء کا اشتہار ہے۔ جس کے ضروری فقرے درج ذیل ہیں :
”اس خدائے قادر و حکیم مطلق نے مجھے فرمایا کہ اس شخص کی دختر کلاں کے نکاح کیلئے سلسلہ جنبانی کر اور ان کو کہہ دے کہ تمام سلوک اور مروت تم سے اسی شرط ا۔ سے کیا جائے گا اور یہ نکاح تمہارے لئے موجب برکت اور ایک رحمت کا نشان ہو گا اور ان تمام برکتوں اور رحمتوں سے حصہ پاؤ گے جو اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں درج ہے۔ لیکن اگر نکاح سے انحراف کیا تو اس لڑکی کا انجام نہایت ہی برا ہو گا اور جس کسی دوسرے شخص سے بیاہی جائے گی وہ روز نکاح سے اڑھائی سال تک اور ایسا ہی والد اس دختر کا تین سال تک فوت ہو جائے گا اور ان کے گھر پر تفرقہ اور تنگی اور مصیبت پڑے گی اور درمیانی زمانہ میں بھی اس دختر کے لئے کئی کراہیت اور غم کے امر پیش آئیں گے۔
پھر ان دنوں میں جو زیادہ تصریح اور تفصیل کیلئے بار بار توجہ کی گئی تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ نے یہ مقرر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ کی دختر کلاں کو جس کی نسبت درخواست کی گئی تھی۔ ہر ایک روک دور کرنے کے بعد انجام کار اسی عاجز کے نکاح میں لاویگا اور بے دینوں
اب کیا ہی عجیب موقع تھا بیل کو کنویں میں خصی نہ کریں گے تو کہاں کریں گے۔ (مصنف)
٤
کو مسلمان بنا دیگا اور گمراہوں میں ہدایت پھیلا دے گا۔ چنانچہ عربی الہام اس بارہ میں یہ ہے : ” كذبوا بآياتنا وكانوا بها يستهزؤن فسيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربك فعال لما يريد انت معى وانا معك عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا ۔ “(ترجمہ) یعنی انہوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کر رہے تھے۔ سو خدا تعالیٰ ان سب کے تدارک کیلئے جو اس کام کو روک رہے ہیں تمہارا مددگار ہوگا اور انجام کار اس کی اس لڑکی کو تمہاری طرف واپس لائے گا۔ کوئی نہیں جو خدا کی باتوں کو ٹال سکے۔ تیرا رب وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہ ہو جاتا ہے تو میرے ساتھ اور میں تیرے ساتھ ہوں اور عنقریب وہ مقام تجھے ملے گا جس میں تیری تعریف کی جائے گی ١؎ ۔ یعنی گو اول میں احمق اور نادان لوگ بد باطنی اور بد ظنی کی راہ سے بد گوئی کرتے ہیں اور نالائق باتیں منہ پر لاتے ہیں۔ لیکن آخر کار خدا تعالیٰ کی مدد دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور سچائی کے کھلنے سے چاروں طرف سے تعریف ہو گی۔“ (آج تک تو جیسی ہوئی ہے نمایاں ہے) خاکسار غلام احمد از قادیاں ضلع گرداسپور ۔
(١٠ جولائی ١٨٨٨ء‘ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ١٥٧‘ ١٥٨)
اس اشتہار کی عبارت اپنا مدعا بتانے میں صاف اور واضح ہے۔ جس کی تفصیل خود مرزا قادیانی اپنے رسالہ شہادۃ القرآن میں کر چکے ہیں۔ جس کی عبارت ہم دیباچہ میں نقل کر آئے ہیں۔
اس اشتہار سے دو امر ثابت ہیں۔ ایک ! داماد مرزا احمد بیگ کا روز نکاح سے اڑھائی سال کے اندر اندر مر جانا۔ دوم ! مسمات ( محمدی بیگم منکوحہ ) کا مرزا قادیانی سے نکاح ہو جانا۔ چنانچہ اس مضمون کو مرزا قادیانی نے ایک اور مقام پر خود ہی لکھا ہے :
١۔ شاید ٦ ستمبر ١٨٩٥ء کے روز کی طرف اشارہ ہے۔
٥
فالهمنی ربی وقال سأریهم آیاته من انفسهم واخبرنی وقال اننی سأجعل بنتامن بنا تهم آیة لهم فسماها وقال انها سیجعل ثیبة ویموت بعلها وابوها الى ثلث سنة من یوم النکاح ثم نردها الیک بعد موتها ولا یکون احدهما من العاصمین .“
(کرامات الصادقین ص ١٠ خزائن ج ٧ ص ١٦٢)
ترجمہ : میں (مرزا) نے بڑی عاجزی سے خدا سے دعا کی تو اس نے مجھے الہام کیا کہ میں ان (تیرے خاندان کے )لوگوں کو ان میں سے ایک نشانی دکھاؤں گا۔ خدا تعالیٰ نے ایک لڑکی (محمدی بیگم ) کا نام لے کر فرمایا کہ وہ بیوہ کی جائے گی۔ اس کا خاوند اور باپ یوم نکاح سے تین سال تک فوت ہو جائیں گے۔ پھر ہم اس لڑکی کو تیری طرف لائیں گے اور کوئی اس کو روک نہ سکے گا۔
یہ عبارت بھی اپنا مدعا بتانے میں صاف ہے کہ یوم نکاح سے تین سال کے عرصہ کے اندر اندر مرزا احمد بیگ اور اس کا داماد مر جائیں گے اور مسمات منکوحہ اس کے بعد مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔
شہادة القرآن کی منقولہ عبارت مندرجہ دیباچہ کتاب ہذا بتارہی ہے کہ مرزا سلطان محمد داماد احمد بیگ کی مدت حیات اگست ١٨٩٤ء تک ختم تھی۔ اس کے بعد اس کو دنیا میں رہنے کی اجازت نہ تھی۔ حالانکہ وہ آج (جولائی ٢١ء) تک بھی زندہ ہے اور اس مدت میں وہ فرانس کی جانگداز جنگ میں بھی گیا۔ مگر مرزا قادیانی کی دعا سے گولی کھا کر بھی زندہ بچ آیا۔ سچ ہے :
آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ
مرزا قادیانی کا اپنے چچازاد بھائیوں سے ایک دیوار کے متعلق مقدمہ تھا جس میں انہوں نے مرزا قادیانی پر چند سوال کئے جن کے جواب میں مرزا قادیانی نے عدالت ہی میں حلفیہ بیان دیا۔ فرماتے ہیں :
٦
”احمد بیگ کی دختر (محمدی بیگم) کی نسبت جو پیشگوئی ہے جو اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے۔ وہ مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے۔ وہ میرا ہے اور سچ ہے۔ وہ عورت (محمدی بیگم) میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہوگا۔ جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی جیسا کہ پیشگوئی میں تھا میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا اور سب کے ندامت سے سر نیچے ہوں گے۔ پیشگوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیشگوئی تھی کہ وہ اس کے ساتھ بیاہی جائے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیشگوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی۔ اس لئے وہ بیاہ کے بعد چھ مہینوں کے اندر مر گیا اور پیشگوئی کی دوسری جز پوری ہو گئی۔ اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیشگوئی کا ایک جزو تھا۔ انہوں اس نے توبہ کی۔ چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو مہلت دی۔ عورت اب تک زندہ ہے۔ میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں ہو کر رہیں گی۔“
(الحکم ١٠ اگست ١٩٠١ء ص ٤ کالم ٣ کتاب منظور الٰہی ص ٢٤٥، ٢٤٤ مصنفہ منظور الٰہی قادیانی لاہوری)
یہ حوالہ بھی اپنا مدعا بتانے کو کافی ہے کہ نکاح ضرور ہوگا۔ اسی کی تائید میں مرزا قادیانی ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :
”خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت
ا۔ مرزا قادیانی کا یہ فقرہ کیسا غلط دھوکہ ہے۔ توبہ تو کی رشتہ داروں نے اور مہلت دی گئی سلطان محمد کو۔ (مصنف)
٧
عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن آخر کار ایسا ہی ہو گا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
یہ عبارت بھی اپنا مطلب بتانے میں کسی شرح یا حاشیہ کی محتاج نہیں تاہم اسکی تشریح مرزا قادیانی خود فرماتے ہیں : جب مسمات مذکورہ کی شادی ہو گئی اور معترضین نے اعتراض کئے تو مرزا قادیانی نے جواب دیا!
”الجواب : وحی الہی میں یہ نہیں تھا کہ دوسری جگہ بیاہی نہیں جائیگی بلکہ یہ تھا کہ ضرور ہے کہ اول دوسری جگہ بیاہی جائے گی۔ سو یہ ایک پیشگوئی کا حصہ تھا کہ دوسری جگہ بیاہی جانے سے پورا ہوا۔ الہام الہی کے یہ لفظ ہیں : ”سیکفیکہم اللہ یردھا الیک.“ یعنی خدا تیرے ان مخالفوں کا مقابلہ کرے گا۔ اور وہ جو دوسری جگہ بیاہی جائے گی۔ خدا پھر اس کو تیری طرف لائے گا۔ جاننا چاہئیے کہ رد کے معنے عربی زبان میں یہ ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ ہے اور وہاں سے چلی جائے اور پھر واپس لائی جائے۔ پس چونکہ ”محمدی“ ہمارے اقارب میں سے بلکہ قریب خاندان میں سے تھی۔ یعنی میری چچازاد ہمشیرہ کی لڑکی تھی اور دوسری طرف قریب رشتہ میں ماموں زاد بھائی کی لڑکی تھی۔ یعنی احمد بیگ کی۔ پس اس صورت میں رد کے معنی اس پر مطابق آئے کہ پہلے وہ ہمارے پاس تھی اور پھر وہ چلی گئی اور قصبہ پٹی میں بیاہی گئی اور وعدہ یہ ہے کہ پھر وہ نکاح کے تعلق سے واپس آئے گی سو ایسا ہی ہو گا۔“
(الحکم ٣٠ جون ١٩٠٥ ص ٢ کالم ٢)
یہ عبارت سب حوالہ جات کی شرح بلکہ شرح الشرح ہے۔ اس عبارت میں مرزا قادیانی کے عزم و استقلال کا کمال ثبوت ملتا ہے کہ باوجود یکہ منکوحہ دوسری جگہ بیاہی گئی تھی۔ تاہم مرزا قادیانی امید لگائے بیٹھے ہیں کیا سچ ہے :
٨
کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
ناظرین! کیا ان عبارات کو دیکھ کر اس نکاح کے یقینی ہونے میں کسی قسم کا شبہ رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ تاہم مرزا قادیانی نے اس نکاح کو رجسٹری بھی کرایا اور رجسٹری بھی کسی انگریزی محکمہ میں نہیں بلکہ محکمہ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ میں اس کی تصدیق کرائی تاکہ کسی مسلمان کو اس کی بابت چون وچرا کرنے کی گنجائش نہ رہے۔ پس اس رجسٹری کی عبارت سنئے۔ فرماتے ہیں :
”اس پیشگوئی کی تصدیق کیلئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے ہی ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ : ” یتزوج ویولد لہ ، “ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣ حاشیہ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣٣٧)
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ آسمانی نکاح مدینہ طیبہ کی عدالت عالیہ میں رجسٹری ہو چکا ہے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ ظہور پذیر نہ ہو بہت خوب! مگر کیا ہوا؟۔ آہ اس کا جواب بڑا دلفگار ہے۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ :
ہے اپنا اپنا مقدر جدا نصیب جدا
اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ان الہامی دھمکیوں پر کفایت نہیں کی تھی بلکہ اس کے لئے بہت سی دنیاوی کوششیں بھی کی تھیں مسمات مذکورہ کے والد اس کے رشتہ
٩
داروں تعلقداروں کو خطوط لکھے۔ طمع اور دھمکیاں دیں۔ غرض جو کچھ بھی ایسی مشکل میں مبتلا انسان کیا کرتا ہے مرزا قادیانی نے بھی کیا۔ چنانچہ آپ کی کوشش کے چند خطوط ہم بھی نقل کرتے ہیں :
پہلا خط : مشفقی مرزا علی شیر بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ !
السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھ کو آپ سے کسی طرح سے فرق نہ تھا اور میں آپ کو ایک غریب طبع اور نیک خیال آدمی اور اسلام پر قائم سمجھتا ہوں۔ لیکن اب جو آپ کو ایک خبر سناتا ہوں۔ آپ کو اس سے بہت رنج گزرے گا مگر میں محض للہ ان لوگوں سے تعلق چھوڑنا چاہتا ہوں جو مجھے ناچیز بتاتے ہیں اور دین کی پرواہ نہیں رکھتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ مرزا احمد بیگ کی لڑکی کے بارے میں ان لوگوں کے ساتھ کس قدر میری عداوت ہو رہی ہے اب میں نے سنا ہے کہ عید کی دوسری یا تیسری تاریخ کو اس لڑکی کا نکاح ہونے والا ہے اور اب آپ کے گھر کے لوگ اس مشورہ میں ساتھ ہیں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نکاح کے شریک میرے سخت دشمن ہیں۔ بلکہ میرے کیا دین اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ عیسائیوں کو ہنسانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور اللہ ورسول کے دین کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور اپنی طرف سے میری نسبت ان لوگوں نے یہ پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اس کو خوار ١؎ کیا جائے‘ ذلیل کیا جائے‘ روسیاہ کیا جائے۔ یہ اپنی طرف سے ایک تلوار چلانے لگے ہیں۔ اب مجھ کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اگر میں اس کا ہوں گا تو ضرور مجھے بچا لے گا۔ اگر آپ کے گھر کے لوگ سخت مقابلہ کر کے اپنے بھائی کو سمجھاتے تو کیوں نہ سمجھ سکتا۔ کیا میں چوہڑ یا چمار تھا جو مجھ کو لڑکی دینا عار یا ننگ تھی۔ بلکہ وہ تو اب تک ہاں میں ہاں ملاتے رہے اور اپنے بھائی کیلئے مجھے چھوڑ دیا اور اب اس لڑکی کے نکاح کیلئے سب ایک ہو گئے۔
١؎ اس سے صاف مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ صرف نکاح پر آپ کی خواری مرتب تھی جو ہو چکی۔
١٠
یوں تو مجھے کسی کی لڑکی سے کیا غرض کہیں جائے مگر یہ تو آزمایا گیا کہ جن کو میں خویش سمجھتا تھا اور جن کی لڑکی کیلئے چاہتا تھا کہ اس کی اولاد ہو اور وہ میری وارث ہو۔ وہی میرے خون کے پیاسے۔ وہی میری عزت کے پیاسے ہیں۔ اور چاہتے ہیں کہ خوار ہو اور اس کا روسیاہ ہو۔ خدا بے نیاز ہے جس کو چاہے روسیاہ کرے۔ مگر اب تو وہ مجھے آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میں نے خط لکھے کہ پرانا رشتہ مت توڑو۔ خدا تعالیٰ سے خوف کرو۔ کسی نے جواب نہ دیا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ کی بیوی نے جوش میں آکر کہا کہ ہمارا کیا رشتہ ہے۔ صرف عزت بی بی نام کیلئے فضل احمد کے گھر میں ہے، بے شک وہ طلاق دیدے۔ ہم راضی ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ شخص کیا بلاء ہے۔ ہم اپنے بھائی کے خلاف مرضی نہیں کریں گے۔ یہ شخص کہیں مرتا بھی نہیں۔ پھر میں نے رجسٹری کرا کر آپ کی بیوی صاحبہ کے نام خط بھیجا مگر کوئی جواب نہ آیا اور بار بار کہا کہ اس سے ہمارا کیا رشتہ باقی رہ گیا جو چاہے سو کرے۔ ہم اس کیلئے اپنے خویشوں سے اپنے بھائیوں سے جدا نہیں ہو سکتے۔ مرتا مرتا رہ گیا کہیں مرا بھی ہوتا یہ باتیں آپ کی بیوی کی مجھے پہنچی ہیں۔ بے شک میں ناچیز ہوں، ذلیل ہوں، خوار ٢؎ ہوں، مگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں میری عزت ہے۔ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اب جب میں ایسا ذلیل ہوں، تو میرے بیٹے کے تعلق رکھنے کی کیا حاجت ہے۔ لہٰذا میں نے ان کی خدمت میں خط لکھ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے ارادہ سے باز نہ آئیں اور اپنے بھائی کو اس نکاح سے روک نہ دیں پھر جیسا کہ آپ کی خود منشاء ہے۔ میرا بیٹا فضل احمد بھی آپ کی لڑکی اپنے نکاح میں رکھ نہیں سکتا بلکہ ایک طرف جب محمدی کا کسی شخص سے نکاح ہو گیا تو دوسری طرف فضل احمد آپ کی لڑکی کو طلاق دیدے گا۔ اگر نہیں دے گا تو میں اس کو عاق اور لاوارث کردوں گا۔ اور اگر میرے لئے احمد بیگ سے مقابلہ کرو گے اور یہ ارادہ اس کا رد کرادو گے تو میں بدل و جاں حاضر ہوں اور
٢؎ ہائے ایسی بے ادبی۔ ٢؎ آہ ! دشمن کے طنز و دوست کی پند آسمان کی جور۔ کیا کیا مصیبتیں سہیں تیرے واسطے۔
١١
فضل احمد کو جواب میرے قبضے میں ہے ہر طرح سے درست کر کے آپ کی لڑکی کی آبادی کیلئے کوشش کروں گا اور میرا مال ان کا مال ہوگا۔ لہٰذا آپ کو بھی لکھتا ہوں کہ آپ اس وقت کو سنبھال لیں اور احمد بیگ کو پورے زور سے خط لکھیں کہ باز آجائے اور اپنے گھر کے لوگوں کو تاکید کر دیں کہ وہ بھائی کو لڑائی کر کے روک دے۔ ورنہ مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب ہمیشہ کیلئے یہ تمام رشتے ناطے توڑ دوں گا۔ اگر فضل احمد میرا فرزند اور وارث بنا چاہتا ہے تو اسی حالت میں آپ کی لڑکی کو گھر میں رکھے گا جب آپ کی بیوی کی خوشی ثابت ہو۔ ورنہ جہاں میں رخصت ہوا ایسا ہی سب رشتے ناطے بھی ٹوٹ گئے۔ یہ باتیں خطوں کی معرفت مجھے معلوم ہوئی ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ کہاں تک درست ہیں۔ واللہ اعلم! راقم خاکسار غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٢ مئی ١٨٩١ء"
(کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٥ تا ١٢٧)
دوسرا خط: "والدہ عزت بی بی کو معلوم ہو کہ مجھ کو خبر پہنچی ہے کہ چند روز تک محمدی (مرزا احمد بیگ کی لڑکی) کا نکاح ہونے والا ہے اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا چکا ہوں کہ اس نکاح سے رشتے ناطے توڑ دوں گا اور کوئی تعلق نہیں رہے گا۔ اس لئے نصیحت کی راہ سے لکھتا ہوں کہ اپنے بھائی مرزا احمد بیگ کو سمجھا کر یہ ارادہ موقوف کراؤ اور جس طرح تم سمجھا سکتی ہو اس کو سمجھا دو اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو آج میں نے مولوی نور الدین صاحب اور فضل احمد کو خط لکھ دیا ہے کہ اگر تم اس ارادہ سے باز نہ آؤ تو فضل احمد عزت بی بی کے لئے طلاق نامہ بھیج دے۔ فضل احمد طلاق نامہ لکھنے میں گریز کرے یا عذر کرے تو اس کو عاق کیا جائے اور اپنے بعد اس کو وارث نہ سمجھا جائے اور ایک پیسہ وراثت کا نہ ملے۔ سو امید رکھتا ہوں کہ شرطی طور پر اس کی طرف سے طلاق نامہ لکھا آجائے گا۔ جس کا یہ مضمون ہو گا کہ اگر مرزا احمد بیگ محمدی کا نکاح کسی غیر کے ساتھ کرنے سے باز نہ آئے تو پھر اسی روز سے جو محمدی کا کسی اور سے نکاح ہو جائے عزت بی بی کو تین طلاقیں ہیں۔ سو اس طرح پر لکھنے سے ایک طرف تو محمدی کا کسی دوسرے سے نکاح ہو گا اور اس طرف عزت بی بی پر فضل احمد کی طلاق
١٢
پڑ جائے گی۔ سو یہ شرطی طلاق ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اب بجز قبول کرنے کے کوئی راہ نہیں اور اگر فضل احمد نے نہ مانا تو میں فی الفور اس کو عاق کر دوں گا اور پھر وہ میری وراثت سے ایک دانہ نہیں پاسکتا اور اگر آپ اس وقت اپنے بھائی کو سمجھالو تو آپ کے لئے بہتر ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں عزت بی بی کی بہتری کیلئے ہر طرح سے کوشش کرنا چاہتا تھا اور میری کوشش سے سب نیک بات ہو جاتی مگر آدمی پر تقدیر غالب ہے یاد رہے کہ میں نے کوئی بات کچی نہیں لکھی۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ میں ایسا ہی کروں گا اور خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے جس دن نکاح ہو گیا اس دن عزت بی بی کا نکاح باقی نہ رہے گا۔“ راقم مرزا غلام احمد از لدھیانہ اقبال گنج ٤ مئی ١٨٩١ء
(نوشتہ غیب ص ١٢٨‘ ١٢٩)
تیسرا خط مرزا قادیانی نے اپنی بہو سے لکھا کر بھیجا جو یہ ہے
”از طرف عزت بی بی بطرف والدہ اس وقت میری بربادی اور تباہی کا خیال کرو مرزا صاحب کسی طرح مجھ سے فرق نہیں کرتے۔ اگر تم اپنے بھائی میرے ماموں کو سمجھاؤ تو سمجھا سکتی ہو۔ اگر نہیں تو پھر طلاق ہو گی اور ہزار طرح کی رسوائی ہو گی۔ اگر منظور نہیں تو خیر جلدی مجھے اس جگہ سے لے جاؤ۔ پھر میرا اس جگہ ٹھہرنا مناسب نہیں (اس خط پر مرزا قادیانی کی طرف سے یہ ریمارک ہے) جیسا کہ عزت بی بی نے تاکید سے کہا ہے کہ اگر (مرزا سلطان محمد سے محمدی بیگم کا) نکاح رک نہیں سکتا تو بلا توقف عزت بی بی کیلئے کوئی قادیاں میں آدمی بھیج دو تاکہ اس کو لے جائے۔ فقط!“
عزت بی بی بذریعہ خاکسار غلام احمد رئیس قادیان ٦ مئی ١٨٩١ء
(منقول از نوشتہ غیب ص ١٣٢‘ ١٣١)
چوتھا خط : ”مشفقی مکرمی اخویم مرزا احمد بیگ صاحب سلمہ تعالیٰ (آسمانی خسر)١
١۔ پرانی مثل : ”کھسیانی بلی کھمبہ نوچے“ مرزا قادیانی نے سچ کر دکھائی۔
١٣
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! قادیاں میں جب واقعہ ہائلہ محمود فرزند آں مکرم کی خبر سنی تھی تو بہت درد اور رنج اور غم ہوا لیکن بوجہ اس کے کہ یہ عاجز بیمار تھا اور خط نہیں لکھ سکتا تھا۔ اس لئے عزا پرسی سے مجبور رہا صدمہ وفات فرزندان حقیقت میں ایک ایسا صدمہ ہے کہ شاید اس کے برابر دنیا میں اور کوئی صدمہ نہ ہو گا۔ خصوصاً بچوں کی ماؤں کیلئے تو سخت مصیبت ہوتی ہے۔ خداوند تعالیٰ آپ کو صبر بخشے اور اس کا بدل صاحب عمر عطا فرمائے اور عزیزی مرزا محمد بیگ کو عمر دراز بخشے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ آپ کے دل میں گو اس عاجز کی نسبت کچھ غبار ہو لیکن خداوند علیم جانتا ہے آپ کے لئے دعائے خیر و برکت چاہتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں کس طریق اور کن لفظوں میں بیان کروں تا میرے دل کی محبت اور خلوص اور ہمدردی جو آپ کی نسبت مجھ کو ہے آپ پر ظاہر ہو جائے۔ مسلمانوں کے ہر ایک نزاع کا آخری فیصلہ قسم پر ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی قسم کھا جاتا ہے تو دوسرا مسلمان اس کی نسبت فی الفور دل صاف کر لیتا ہے۔ سو مجھے خدائے تعالیٰ قادر مطلق کی قسم ہے کہ میں اس بات میں بالکل سچا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا تھا کہ آپ کی دختر کلاں کا رشتہ اس عاجز سے ہو گا اگر دوسری جگہ ہو گا تو خدا تعالیٰ کی تنبیہیں وارد ہوں گی اور آخر اسی جگہ ہو گا۔ کیونکہ آپ میرے عزیز اور پیارے تھے اس لئے میں نے عین خیر خواہی سے آپ کو جتلایا کہ دوسری جگہ اس رشتہ کا کرنا ہرگز مبارک نہ ہو گا۔ میں نہایت ظالم طبع ہوتا جو آپ پر ظاہر نہ کرتا اور میں اب بھی عاجزی اور ادب سے آپ کی خدمت میں پیش ہوں کہ اس رشتہ سے آپ انحراف نہ فرماویں کہ یہ آپ کی لڑکی کیلئے نہایت درجہ موجب برکت ہو گا اور خدا تعالیٰ ان برکتوں کا دروازہ کھولے گا جو آپ کے خیال میں نہیں۔ کوئی غم اور فکر کی بات نہیں ہوگی جیسا کہ یہ اس کا حکم ہے جس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی کنجی ہے تو پھر کیوں اس میں خرابی ہو گی اور آپ کو شاید معلوم ہو گا یا نہیں کہ یہ پیشگوئی اس عاجز کی ہزارہا لوگوں میں مشہور ہو چکی ہے اور میرے خیال میں شاید دس لاکھ سے زیادہ آدمی ہو گا کہ جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہے اور ایک جہاں
١٤
کی اس طرف نظر لگی ہوئی ہے اور ہزاروں پادری شرارت سے نہیں بلکہ حماقت سے منتظر ہیں کہ یہ پیشن گوئی جھوٹی نکلے تو ہمارا پلہ بھاری ہو۔ لیکن یقیناً خدا تعالیٰ ان کو رسوا کرے گا اور اپنے دین کی مدد کرے گا۔ میں نے لاہور میں جاکر معلوم کیا کہ ہزاروں مسلمان مساجد میں نماز کے بعد اس پیشگوئی کے ظہور کیلئے بصدق دل دعا کرتے ہیں۔ سو یہ ان کی ہمدردی اور محبت ایمانی کا تقاضا ہے اور یہ عاجز جیسے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لایا ہے۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ کے ان الہامات پر جو تواتر سے اس عاجز پر ہوئے ایمان لاتا ہے۔ اور آپ سے ملتمس ہے کہ آپ اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کیلئے معاون بنیں تاکہ خدا تعالیٰ کی برکتیں آپ پر نازل ہوں۔ خدا تعالیٰ سے کوئی بندہ لڑائی نہیں کر سکتا اور جو امر آسمان پر ٹھہر چکا ہے۔ زمین پر وہ ہرگز بدل نہیں سکتا خدا تعالیٰ آپ کو دین اور دنیا کی برکتیں عطا کرے اور اب آپ کے دل میں وہ بات ڈالے جس کا اس نے آسمان پر سے مجھے الہام کیا ہے۔ آپ کے سب غم دور ہوں اور دین و دنیا دونوں آپ کو خدا تعالیٰ عطا فرمائے۔ اگر میرے اس خط میں کوئی ناملائم لفظ ہو تو معاف فرمادیں۔ والسلام !
(خاکسار احقر عباداللہ غلام احمد عفی عنہ ٧ جولائی ١٨٩٢ء بروز جمعہ از کلمہ فضل رحمانی ص ١٢٣)
یہ خطوط سب سے پہلے رسالہ کلمہ فضل رحمانی میں درج ہوئے تھے جس کی بابت مرزا قادیانی نے عدالت میں حلفیہ بیان کے ذریعے سے اقرار کیا ہے کہ جو خط کلمہ فضل رحمانی میں درج ہے۔ وہ میرا ہے۔
اس کے علاوہ ان خطوط کی تصدیق ایک اور مقام پر بھی فرمائی ہے۔ لوگوں نے خطوط لکھنے پر طعنہ دیا تو آپ نے فرمایا :
” یہ کہنا کہ پیشگوئی کے بعد احمد بیگ کی لڑکی کے نکاح کیلئے کوشش کی گئی اور طمع دی گئی اور خط لکھے گئے۔ یہ عجیب اعتراض ہیں۔ سچ ہے انسان شدت تعصب کی وجہ سے اندھا ہو جاتا ہے۔ کوئی مولوی اس بات سے بے خبر نہیں ہو گا کہ اگر وحی الٰہی کوئی بات بطور پیشگوئی ظاہر فرمادے اور ممکن ہو کہ انسان بغیر کسی فتنہ اور ناجائز طریق سے اس کو پورا کر سکے تو اپنے
١٥
ہاتھ سے اس پیشگوئی کا پورا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مسنون ہے۔“
(حقیقت الوحی ص ١٩١، خزائن ج ٢٢ ص ١٩٨)
بہر حال یہ خطوط مصدقہ ہیں اور ہم سے کوئی پوچھے تو ہم بھی مرزا قادیانی کو ایسا کرنے میں معذور جانتے ہیں۔ آہ!
کیا کوچہ دلدار میں جایا نہیں کرتے؟
مرزا قادیانی کا عام دستور تھا کہ جب کوئی مخالف پیشگوئی کی زد سے بچا رہتا تو اس کی بابت یہ عذر بتاتے کہ یہ دل میں ڈر گیا خوف زدہ ہو گیا بچ گیا۔ مگر یہاں اپنے رقیب (مرزا سلطان محمد شوہر منکوحہ آسمانی) کے حق میں یہ بھی نہیں کہہ سکے کیونکہ اس نے اس مقابلہ میں ایسا استقلال دکھایا کہ دشمن کو بھی اس کا لوہا ماننا پڑا۔ چنانچہ مرزا قادیانی خود لکھتے ہیں :
”احمد بیگ کے داماد (مرزا سلطان محمد) کا یہ قصور تھا کہ اس نے تخویف کا اشتہار دیکھ کر اس کی پرواہ نہ کی۔ خط پر خط بھیجے گئے۔ ان سے کچھ نہ ڈرا۔ پیغام بھیج کر سمجھایا گیا کسی نے اس طرف ذرہ التفات نہ کی۔“
(اشتہار انعامی چار ہزار ص ٣ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٩٥)
واہ رے شیر بہادر سلطان محمد تیرے کیا کہنے تو نے ایمانداروں کی صفت : ”لم یخش الا اللہ ۔١؎“ کو پورا کر دکھایا۔ اسی ہمت کی برکت ہے کہ تمام مسلمانوں کی دعائیں تیرے شامل حال رہیں اور تو اپنے سخت ترین دشمن پر غالب آیا : جزاك الله وبارك الله عليك وعلى عيالك!
اب ہم ایک حوالہ اس مضمون کا نقل کرتے ہیں کہ سلطان محمد ڈرتا بھی تو اس کو مفید نہ ہوتا۔ کیونکہ اس کی تقدیر مبرم (موت قطعی) تھی۔ کیونکہ جرم اس کا نکاح تھا۔ لہٰذا معمولی ڈر یا توبہ کسی کام نہ آتی جب تک نکاح نہ چھوڑتا۔ اس لئے مرزا قادیانی اس کی بابت بہت معقول فرماتے ہیں :
١؎ مومن اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔
١٦
”میں بار بار کہتا ہوں کہ نفس پیشگوئی داماد احمد بیگ (سلطان محمد) کی تقدیر مبرم (قطعی) ہے۔ اس کی انتظار کرو اور اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ پیشگوئی پوری نہ ہو گی اور میری موت آجائے گی۔“
(انجام آتھم ص ٣١ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣١)
ناظرین ! اب بھی آپ کو مرزا قادیانی کے اس کلام کی تصدیق کرنے میں کچھ تامل ہو گا۔ مناسب نہیں۔ اب ہم ایک آخری فیصلہ سناتے ہیں جو مرزا سلطان محمد (رقیب خاص) کے نہ مرنے کی صورت میں مرزا قادیانی نے اپنے حق میں کیا ہوا ہے۔ رسالہ ضمیمہ انجام آتھم میں اس پیشگوئی پر بحث کرتے ہوئے اس کے دو جزو قرار دیئے ہیں۔ ایک مرزا احمد بیگ والد منکوحہ کی موت۔ دوسرا سلطان محمد کی موت۔ اس دوسرے جزو کی بابت فرماتے ہیں :
”یاد رکھو کہ اس پیشگوئی کی دوسری جز پوری نہ ہوئی تو میں ہر ایک بد سے بدتر ٹھہروں گا۔ اے احمقو! یہ انسان کا افتراء نہیں۔ یہ کسی خبیث مفتری کا کاروبار نہیں۔ یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ وہی خدا جس کی باتیں نہیں ٹلتیں۔“
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ ص ٣٣٨)
بالکل ٹھیک ہے۔ خدا کی باتیں کبھی نہیں ٹلتیں اور جو ٹل جائیں وہ خدا کی نہیں : ”امنا وصدقنا فاكتبنا مع الشاهدين . “ اب ہم مرزا قادیانی کا آخری نوٹس ان کے مریدوں کو سنا کر ایک سوال کریں گے۔ مرزا قادیانی فرماتے ہیں :
”چاہئے تھا کہ ہمارے نادان مخالف (اس پیشگوئی کے) انجام کے منتظر رہتے اور پہلے ہی سے اپنی بد گوئی ظاہر نہ کرتے۔ بھلا جس وقت یہ سب باتیں پوری ہو جائیں گی تو کیا اس دن یہ احمق مخالف جیتے ہی رہیں گے اور کیا اس دن یہ تمام لڑنے والے سچائی کی تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ان بیوقوفوں کو کوئی بھاگنے کی جگہ نہیں رہے گی اور نہایت صفائی سے ناک کٹ جائے گی اور ذلت کے سیاہ داغ ان کے منحوس چہروں کو بندروں اور سوروں کی طرح کر دیں گے۔“ (آغا تلوار میان کن)
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٣، خزائن ج ١١ ص ٣٣٧)
١٧
مرزائی دوستو! سنتے ہو مرزا جی کیا کہتے ہیں؟۔ آپ کا مطلب یہ ہے نہ کہ اس پیشگوئی کے خاتمہ پر ایسا ہو گا؟۔ کس کے حق میں ہو گا؟۔ واقعہ جس کے خلاف ہو گا پھر کیا ہوا؟۔ بس تم سمجھ لو :
آہ! مرزا قادیانی اس حسرت کو دل ہی دل میں لے گئے۔ بلکہ آج بھی ان کی قبر سے گویا آواز آ رہی ہے :
اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو!
عجیب دور اندیشی اور پیش بندی
مرزا قادیانی بلا کے پر کالے اور غضب کے دور اندیش تھے۔ دیکھا کہ ادھر بڑھاپا غالب آ رہا ہے اور ادھر موانع نکاح کم نہیں ہوتے۔ بڑا مانع سلطان محمد شوہر منکوحہ کی زندگی ہے جو ختم ہونے میں نہیں آتی۔ اس لئے اپنے کمال دور اندیشی سے ارشاد فرمایا اور کیا ہی معقول فرمایا :
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کیلئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ : ” ایتہا المرأۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبك . “ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔“
(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٣ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
اس عبارت میں جناب مرزا قادیانی نے بالکل اس شاعر کے مشورے پر عمل کیا ہے جس نے اپنے معشوق سے درخواست کی تھی کہ :
١٨
بات وہ کہہ کہ نکلتے رہیں پہلو دونوں
مرزا قادیانی نے اس پر خوب عمل کیا فسخ اور التواء دونوں کو ہاتھ میں رکھا۔ حالانکہ فسخ تو قطع چاہتا ہے اور التواء میں تعلق ثابت رہتا ہے دونوں پہلو ہاتھ میں رکھنے میں یہ حکمت تھی کہ اگر احد الفریقین کی موت تک ملاپ نہ ہوا تو فسخ کہہ دیں گے اور اگر ملاپ ہو گیا تو کہہ دیں گے کہ التواء ہوا تھا۔ مرزا قادیانی!
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے!
ہاں ! اس نکاح کی کارروائی کو شرطی کہنا بھی عجیب منطق ہے۔ حالانکہ حوالہ جات سابقہ کے علاوہ ایک حوالہ خاص مرزا قادیانی کے صریح الفاظ میں ہم نقل کرتے ہیں جو اس نکاح کو تقدیر مبرم ( یقینی اور قطعی ) ثابت کرتا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اسی نکاح کی بابت فرماتے ہیں:
”ثم ماقلت لكم ان القضيت علے هذا القدر تمت والنتيجة الآخرة هى التى ظهرت وحقيقة انباء عليها ختمت بل الامر قائم على حاله ولا يرده احد باحتياط له والقدر قدر مبرم من عندالرب العظيم وسيأتى وقته بفضل الله الكريم فوالذى بعث لنا محمد المصطفے وجعله خير الرسل وخيرالور ٰے ان هذا حق فسوف ترى وانى اجعل هذا النباء معيار الصدقى وكذبى وماقلت الا ببعد ماانبئت من ربى.“
(انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ٢٢٣)
”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ یہ کام ( نکاح کا ) ختم ہو گیا بلکہ یہ کام ابھی باقی ہے۔ اس کو کوئی بھی کسی حیلہ سے رد نہیں کر سکتا اور یہ تقدیر مبرم ( یقینی اور قطعی ) ہے اس کا وقت آئے گا۔ قسم خدا کی جس نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا ہے یہ بالکل سچ ہے۔ تم دیکھ
١٩
لوگے اور میں اس خبر کو اپنے سچ یا جھوٹ کا معیار بناتا ہوں اور میں نے جو کہا ہے یہ خدا سے خبر پاکر کہا ہے۔“
تنبیہ : بعض مرزائی اس پیشگوئی اور اس جیسی اور پیشگوئیوں کے غلط ہونے پر حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ پیش کیا کرتے ہیں۔ حالانکہ نہ حضرت یونس علیہ السلام نے کوئی پیشگوئی فرمائی تھی نہ وہ غلط ہوئی بلکہ جیسا حضرات انبیا علیہم السلام کا دستور ہے کفر پر عذاب کی دھمکی سنائی تھی۔ لیکن جب وہ لوگ ایمان لے آئے تو عذاب ٹل گیا۔ الحمد اللہ خیر سلا۔ غور سے سنئے!
”الا قوم یونس لما آمنو کشفنا عنہم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا ومتعنا ہم الی حین ٠ یونس ٩٨“ ”یعنی یونس کی قوم ایمان لے آئی تو ہم (خدا) نے اس سے عذاب ہٹا دیا یعنی واقع نہ ہونے دیا۔“
یہ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اس کو مرزا قادیانی کی پیشگوئی خصوصاً مبرم اور قطعی پیشگوئی بابت آسمانی نکاح سے کیا تعلق ؟۔ خیر یہ تھا مرزا قادیانی کی عبارت کا جواب ہماری طرف سے۔ مگر مرزائی امت تو اپنا یہ حق نہیں جانتی کہ مرزا کے کسی قول کو جانچیں۔ ان کا تو اصول ہی یہ ہے :
پھروں میں تجھ سے تو مجھ سے مرا خدا پھر جا
اس لئے مرزا قادیانی کی اس گول مول عبارت سے مرزائی امت دو گروہ ہو گئی۔
ایک فریق کہتا ہے نکاح فسخ ہو گیا۔ ان کے سرگروہ مفتی محمد صادق ہیں جنہوں نے ایک رسالہ آئینہ صداقت لکھا ہے۔ اس میں وہ فسخ کی صورت کو اختیار کئے ہیں (ص ٢٤) دوسرے گروہ کے سرگروہ مولوی حکیم نور الدین صاحب اول خلیفہ قادیاں ہیں جن کے علم و فضل پر مرزا قادیانی اور مرزائی صاحبان کو بہت ناز تھا اور جس کی تصدیق ہم بھی کرتے ہیں۔ واقعی حکیم
٢٠
صاحب ان علم داروں میں تھے جو اپنے زور علم سے آدمی کو گدھا اور گدھے کو الو بنا دیا کرتے تھے۔ ہمارے اس دعویٰ کی جو تصدیق نہ کرے۔ وہ حکیم صاحب کا جواب سن لے۔ حکیم صاحب نے پہلے وہ آیات لکھی ہیں جن میں بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ تم نے یہ کیا تم نے وہ کیا۔ حالانکہ ان کے پرانے بزرگوں نے کیا تھا۔ اس کے بعد حکیم صاحب لکھتے ہیں :
”اب تمام اہل اسلام کو جو قرآن کریم پر ایمان لائے اور لاتے ہیں۔ ان آیات کا یاد دلانا مفید سمجھ کر لکھتا ہوں کہ جب مخاطبت میں مخاطب کی اولاد مخاطب کے جانشین اور اس کے مماثل داخل ہو سکتے ہیں تو احمد بیگ کی لڑکی یا اس لڑکی کی لڑکی کیا داخل نہیں ہو سکتی کیا آپ کے علم فرائض میں بنات البنات (لڑکیوں کی لڑکیوں) کو حکم بنات نہیں مل سکتا؟ اور کیا مرزا کی اولاد مرزا کی عصبہ نہیں۔ میں نے بار بار عزیز میاں محمود کو کہا کہ اگر حضرت کی وفات ہو جائے اور یہ لڑکی نکاح میں نہ آئے تو میری عقیدت میں تزلزل نہیں آ سکتا۔ پھر یہی وجہ بیان کی۔ والحمد لله رب العٰلمین !
(ریویو قادیان بابت ١٩٠٨ء ص ٢٧٩)
حکیم صاحب کی اس حکیمانہ عبارت کا مطلب ہم ایک نقشہ میں سمجھاتے ہیں۔ یعنی مرزا قادیانی کا لڑکا در لڑکا در لڑکا در لڑکا اور منکوحہ آسمانی کی لڑکی در لڑکی در لڑکی در لڑکی کا جب کبھی کسی درجہ میں نکاح ہو گیا۔ یہ پیشگوئی صادق ہو جائے گی۔ (جل جلالہ)
حکیم صاحب کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ نکاح ثابت ہے صرف طرفین نکاح بدل گئے ہیں۔ یعنی مرزا اور منکوحہ آسمانی کی ذات خاص مراد نہیں بلکہ ان دونوں کی اولاد میں سے کوئی جوڑی بھی ہو پیشگوئی پوری ہو جائے گی۔ اس حکیمانہ کلام کے جواب میں کچھ لکھنے کی حاجت نہیں۔ ماشاء اللہ ! ایسے حکیم ایسے عالم ایسے فلسفی کا کلام قابل تردید ہو سکتا ہے؟۔ لیکن نہایت ادب سے عرض ہے کہ مرزا قادیانی بذات خود اس نکاح کو مسیح موعود کی علامت بتا رہے ہیں ان کی عبارت مکرر ملاحظہ ہو :
٣١
”اس پیشگوئی کی تصدیق کیلئے جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے : ” یتزوج ویولدلہ .“ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہو گا۔ اب ظاہر ہے کہ : ” تزوج “اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں۔ کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔ اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ ”تزوج“ سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہو گا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔ گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔“
(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٥٣ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣٣٧)
پس چونکہ یہ نکاح مرزا قادیانی کا نہیں ہوا، لہذا اس اقرار کے موافق خود بدولت تو کسی طرح مسیح موعود نہیں ہیں۔ بقول حکیم صاحب آئندہ کسی کا ہوا تو دیکھا جائے گا۔ سردست مرزا قادیانی ناکام تشریف لے گئے۔ آہ ! سچ ہے :
اخیر میں ہم مرزا قادیانی کا ایک حوالہ اور نقل کرتے ہیں جو سارے نزاع کیلئے فیصلہ کن ہے۔ آپ اس پیشگوئی کی بابت مکرر تفصیل سے لکھتے ہیں :
” میری اس پیشگوئی میں نہ ایک بلکہ چھ دعوے ہیں۔ اول : نکاح کے وقت تک میرا زندہ رہنا۔ دوم : نکاح کے وقت تک اس لڑکی کے باپ کا یقیناً زندہ رہنا۔ سوم : پھر نکاح کے بعد اس لڑکی کے باپ کا جلدی سے مرنا جو تین برس تک نہیں پہنچے گا۔ چہارم : اس کے خاوند کا اڑھائی برس کے عرصہ تک مر جانا۔ پنجم : اس وقت تک کہ میں اس سے نکاح کروں اس لڑکی کا زندہ رہنا۔ ششم : پھر آخر یہ کہ بیوہ ہونے کی تمام رسموں کو توڑ کر باوجود سخت مخالفت اس کے اقارب کے میرے نکاح میں آجانا۔ اب آپ ایماناً کہیں کہ کیا یہ باتیں انسان کے اختیار ہیں ؟ اور ذرہ اپنے دل کو تھام کر سوچ لیں کہ کیا ایسی پیشگوئی سچی ہو جانے کی حالت میں انسان کا فعل ہو سکتی ہے ؟۔“
(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٢٥ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
٢٢
آہ! یہ تفصیل اور آخر کار ناکامی قبر میں بھی حسرت دکھاتی ہوگی۔ افسوس مرزا قادیانی کی اس ناکامی پر آج ان کے مخالفوں کو بھی رحم آتا ہے اور وہ زبان حال بلکہ قال سے کہہ رہے ہیں:
نامرادی میں ہوا ہے تیرا آنا جانا
نکاح کا الہام تھا اور نکاح نہیں ہوا
(مولوی محمد علی ایم اے لاہوری کا قول)
شہد شاہد من اھلھا!
اور کوئی کہتا تو خدا جانے وہ منکر اور مکذب اور کیا نہیں کیا بنتا۔ مگر اپنے گھر کا بھیدی جو چاہے کہے۔ مولوی محمد علی صاحب لاہوری مرزائی جماعت کی ایک شاخ کے امیر ہیں۔ آپ اس پیش گوئی کی نسبت جو رائے کہتے ہیں قابل دید و شنید ہے۔ فرماتے ہیں:
”یہ سچ ہے کہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ نکاح ہوگا اور یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہوا۔“
باوجود اس اقرار کے آپ اس کے متعلق مخالفین مرزا کو یوں سمجھاتے ہیں کہ:
”میں کہتا ہوں کہ ایک ہی بات کو لے کر سب باتوں کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔ کسی امر کا فیصلہ مجموعی طور پر کرنا چاہئیے جب تک سب کو نہ لیا جائے ہم نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔ صرف ایک پیشگوئی لے کر بیٹھ جانا اور باقی پیشگوئیوں کو چھوڑ دینا جن کی صداقت پر ہزاروں گواہیاں موجود ہیں۔ یہ طریق انصاف اور راہ ثواب نہیں۔ صحیح نتیجہ پر پہنچنے کیلئے یہ دیکھنا چاہئیے کہ تمام پیشگوئیاں پوری ہوئیں یا نہیں۔“
(اخبار پیغام صلح لاہور ٢١ جنوری ١٢ء ص ٥ کالم ٣)
کوئی شخص جس کو ذرہ بھی علم شریعت یا علم منطق میں واقفیت ہوگی جو اتنا بھی جانتا ہوگا کہ موجبہ کلیہ کی نقیض سالبہ جزئیہ ہوتا ہے وہ بھی جان لے گا کہ مولوی محمد علی اگر دل
٢٣
سے ایسا کہتے ہیں تو وہ عالم نہیں۔ اگر عالم ہیں تو یہ لکھنا ان کا دل سے نہیں بلکہ محض زبان سے : ان هي الاكلمة هوقا ئلها، ”سنئے صاحب! ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ جملہ متحدیانہ پیشگوئیاں مرزا قادیانی کی غلط ہوئیں جن کا ثبوت ہمارے رسالہ ”الہامات مرزا“ میں ملتا ہے۔ لیکن اس پیشگوئی کو خاص کر ہم اس لئے لیتے ہیں کہ خود صاحب الہام مرزا قادیانی اس پیشگوئی کو مسلمانوں سے مخصوص کرتے ہیں اور لکھتے ہیں :
”اس پیشگوئی کو میں اپنے صدق یا کذب کا معیار بناتا ہوں۔“
(انجام آتھم ص ٢٢٣ خزائن ج ١١ ص ایضاً)
پس بحکم : ”یوخذ المرء باقراره، “ (آدمی اپنے اقرار پر پکڑا جاتا ہے) ہمارا حق ہے کہ ہم اس پیشگوئی کو خوب جانچیں اور آپ کا فرض ہے کہ اس کا جواب دیں اور در صورت جواب نہ بن سکنے کے مرزا قادیانی کو دعوئی الہام وغیرہ میں کاذب کہنے میں ہمارے ہمنوا ہوں جس کی ہمیں امید ہے۔ کیونکہ اتنا بھی جو آپ نے مانا ہے ہمارے (مخالفین ہی کے ) اعتراضوں کا اثر ہے تو پھر آئندہ مزید اثر کی امید کیوں نہ ہو۔ آہ!
پردے میں گل کے لاکھ جگر پاش ہو گئے
ابو الوفاء ثناء اللہ امر تسری !
٢٤
خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں ۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
تاریخ مرزا
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
پہلے مجھے دیکھئے
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مرزا غلام احمد قادیانی کے مذہبی خیالات اور علمائے کرام کی طرف سے اُن پر تنقیدات تو عرصہ سے شائع ہورہی ہیں جس کا کافی بلکہ کافی سے بھی زیادہ ذخیرہ جمع ہوچکا ہے۔ خاکسار کے بعض دور اندیش احباب (جناب مولوی ابراہیم سیالکوٹی ۔ متوفی ١٩٥٦ء) نے ایک روز برسبیلِ تذکرہ فرمایا کہ یہ جتنا کچھ آج تک لکھا گیا ہے۔ مسائل مرزا پر لکھا گیا جو کافی ہے۔ اس وقت تو بہت سے لوگ مرزا قادیانی کی شخصیت کو جاننے والے خاص کر پنجاب میں موجود ہیں ممکن ہے کچھ مدّت بعد ان کی شخصیت کی تلاش ہو نہ ملنے پر اُن کی تصنیفات اپنا اثر کر جاویں۔ اس لئے کوئی کتاب بطور سوانح کے لکھی جائے تو موجودہ اور آئندہ نسلوں کو بہت مفید ہو۔
عرصہ ہوا خاکسار کے زیر اہتمام ایک کتاب ”چودھویں صدی کا مسیح“ مرزا قادیانی کے حالت میں چھپی تھی جو ناول کے طرز پر تھی۔ اس کو ان صاحب نے اس مطلب کے لئے کافی نہ جانا تو بوجہ حُسنِ ظن اور بوجہ اس تعلق کے جو خاکسار کو قادیان سے ہے فرمائش کی کہ میں اس کام کو انجام دوں۔ کچھ دنوں بعد میرے دل میں بھی اس کی اہمیت آئی تو میں نے اس کے لکھنے کے لئے قلم اٹھایا۔ بحمد اللہ! یہ رسالہ پورا ہوکر ناظرین کے ملاحظہ سے گزر رہا ہے۔
نوٹ :۔ اس رسالہ میں بطور تاریخ کے مضامین لکھے گئے ہیں بطور مناظرہ نہیں مناظرانہ رنگ دیکھنا ہو تو خاکسار کی دوسری تصنیفات رسالہ ”الہامات مرزا“ ۔ ”مرقع قادیانی“ وغیرہ اور دیگر اصحاب کی تصنیفات ملاحظہ کریں۔
ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری رمضان المبارک ١٣٤١ھ مئی ١٩٢٣ء
٢
پہلا حصہ...... تاریخ مرزا
تَمہِيد
مرزا قادیانی کی زندگی دو حصوں پر منقسم ہے۔ ایک قبل دعویٰ مسیحیت۔ دوسرا بعد دعویٰ مسیحیت۔ ان دونوں میں بہت بڑا اختلاف ہے۔
پہلے حصے میں مرزا قادیانی صرف ایک با کمال مصنف کی صورت میں پیش ہوتے ہیں۔ دوسرے حصے میں اُس کمال کو کمال تک پہنچا کر مسیح موعود، مہدی مسعود۔ کرشن گوپال، نبی اور رسول ہونے کا بھی ادّعا کرتے ہیں۔ پہلے حصے میں جمہور علماء اسلام ان کی تائید پر ہیں۔ دوسرے حصے میں جمہور بلکہ کل علمائے اسلام ان کے مخالف نظر آتے ہیں۔ چنانچہ یہ سب کچھ واقعات سے ثابت ہوگا۔ مرزا قادیانی کے مریدوں نے بھی ان کی سوانح لکھی ہیں مگر وہ محض اعتقادی اصول پر ہیں۔ ہماری یہ کتاب واقعات صحیحہ سے لبریز ہے چنانچہ ناظرین ملاحظہ فرماویں گے۔
تاریخ مرزا حصہ اول قبل دعویٰ مسیحیت
امرتسر سے شمال مشرق کو ریلوے لائن پر ایک پرانا قصبہ بٹالہ ہے جو ضلع گورداسپور کی تحصیل ہے۔ بٹالہ سے گیارہ میل کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا قصبہ قادیان ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی کی جائے ولادت ہے۔ مرزا قادیانی کی تاریخ ولادت صاف تو نہیں البتہ ان کی اپنی کتاب (تریاق القلوب ص ٦٨۔ خزائن ج ١٥ ص ٢٨٣) سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ١٢٦٠ھ مطابق ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد کا نام حکیم مرزا غلام مرتضیٰ تھا۔ قوم زمیندار پیشہ طبابت کرتے تھے۔ ابتداء میں مشرقی علوم مولوی گل شاہ (شیعہ) سے بٹالہ میں پڑھے۔ اردو، فارسی، عربی کے سوا انگریزی سے واقف نہ تھے۔ ثابت نہیں کہ کسی مشہور درسگاہ میں آپ نے تحصیل علم کی ہو۔ جوان ہو کر تلاش معاش میں نکلے۔ سیالکوٹ کی کچہری میں پندرہ روپیہ ماہوار کے محرر ہوئے۔
٣
وہاں سے بغرض ترقی آپ نے قانونی مختار کاری کا امتحان دیا، فیل ہو گئے۔ ازاں بعد تصنیف کی طرف طبیعت کا رخ ہوا طبیعت میں ایجاد تھی اس لئے بڑی کتاب شائع کرنے سے پہلے اشتہاری طریق کار اختیار کیا۔ کبھی آریوں سے مخاطب ہوئے کبھی عیسائیوں سے کبھی برہموؤں سے چنانچہ ایک دو اشتہار اس مضمون کے بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔
اشتہار انعامی پانسو روپیہ
”اشتہار ہذا اس غرض سے دیا جاتا ہے کہ ٧؍ دسمبر ١٨٧٧ء کو وکیل ہندوستان وغیرہ اخبار میں بعض لائق فائق آریہ سماج والوں نے بابت روحوں کے اصول اپنا یہ شائع کیا ہے کہ ارواح موجود بے انت ہیں اور اس کثرت سے ہیں کہ پرمیشر کو بھی ان کی تعداد معلوم نہیں۔ اسی واسطے ہمیشہ مکتی پاتے رہتے ہیں اور پاتے رہیں گے مگر کبھی ختم نہیں ہوویں گے۔ تردید اس کی ہم نے ٩؍ فروری سے ٩؍ مارچ تک سفیر ہند کے پرچوں میں بخوبی ثابت کر دیا ہے کہ اصول مذکور سراسر غلط ہے اب بطور اتمام حجت کے یہ اشتہار تعداد پانسو روپیہ مع جواب الجواب باوا نرائن سنگھ صاحب سیکرٹری آریہ سماج امرتسر کے تحریر کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب آریہ سماج والوں میں سے بپابندیٔ اصول مسلمہ اپنے کے کل دلائل مندرجہ سفیر ہند و دلائل مرقومہ جواب الجواب مشمولہ اشتہار ہذا کے توڑ کر یہ ثابت کردے کہ ارواح موجودہ جو سوا چار ارب کی مدت میں کل دورہ اپنا پورا کرتے ہیں بے انت ہیں اور ایشور کو تعداد ان کا نامعلوم رہا ہوا ہے تو میں اس کو مبلغ پانسو روپیہ بطور انعام دوں گا اور درصورت توقف کے شخص مثبت کو اختیار ہوگا کہ بمدد عدالت وصول کرلے لیکن واضح رہے کہ اگر کوئی صاحب سماج مذکور میں سے اس اصول سے منکر ہو تو صرف انکار طبع کرانا کافی نہ ہوگا بلکہ اس صورت میں بتصریح لکھنا چاہئے کہ پھر اصول کیا ہوا؟ آیا یہ بات ہے کہ ارواح ضرور کسی دن ختم ہو جاویں گے۔ اور تناسخ اور دنیا کا ہمیشہ کے واسطے خاتمہ ہو گا یا یہ اصول ہے کہ خدا اور روحوں کو پیدا کر سکتا ہے یا یہ کہ بعد مکتی پانے سب روحوں کے پھر ایشور انہیں مکتی یافتہ روحوں کو کیڑے مکوڑے وغیرہ مخلوقات بنا کر دنیا میں بھیج دے گا یا یہ کہ اگرچہ ارواح بے انت نہیں اور تعداد ان کا کسی حدود معین میں ضرور محصور ہیں مگر پھر بھی بعد نکالے جانے کے باقی ماندہ روح اتنے کے اتنے ہی نہیں رہتے ہیں۔ نہ مکتی والوں کی جماعت جن میں یہ تازہ مکتی یافتہ جاملتے ہیں اس بالائی آمدن سے پہلے سے کچھ زیادہ ہو جاتے ہیں اور نہ یہ جماعت جس سے کسی قدر ارواح نکل گئے بعد اس خرچ کے کچھ کم ہوتے غرض جو اصول ہو بہ تفصیل مذکورہ
٤
لکھنا چاہئے۔“ المشتہر مرزا غلام احمد رئیس قادیان عفی عنہ
(٢ مارچ ١٨٧٨ء ۔ مجموعہ اشتہارات ص ٢١ ج ١)
دوسرا اشتہار بجواب سوامی دیانند بانی آریہ سماج ملاحظہ ہو
اعلان
”سوامی دیانند سرسوتی صاحب نے بجواب ہماری اس بحث کے جو ہم نے روحوں کا بے انت ہونا باطل کر کے غلط ہونا مسئلہ تناسخ اور قدامت سلسلہ دنیا کا ثابت کیا تھا۔ معرفت تین کس آریہ سماج والوں کے یہ پیغام بھیجا ہے کہ اگرچہ ارواح حقیقت میں بے انت نہیں لیکن تناسخ اس طرح پر ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ جب سب ارواح مکتی پا جاتی ہیں تو پھر بوقت ضرورت مکتی سے باہر نکالی جاتی ہیں۔ اب سوامی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے اس جواب میں کچھ شک و شبہ ہو تو بالمواجہ بحث کرنی چاہئے۔ چنانچہ اسی بارے میں سوامی صاحب کا ایک خط بھی آیا۔ اس خط میں بھی بحث کا شوق ظاہر کرتے ہیں اس واسطے بذریعہ اس اعلان کے غرض کیا جاتا ہے کہ بحث بالمواجہ بسر و چشم ہم کو منظور ہے کاش سوامی صاحب کسی طرح ہمارے سوالوں کا جواب دیں۔ مناسب ہے کہ سوامی صاحب کوئی مقام ثالث بالخیر کا واسطے انعقاد اس جلسہ کے تجویز کر کے بذریعہ کسی مشہور اخبار کے تاریخ و مقام کو مشتہر کر دیں لیکن اس جلسہ میں شرط یہ ہے کہ یہ جلسہ بحاضری چند منصفان صاحب لیاقت اعلیٰ کہ تین صاحب ان میں سے ممبران برہمو سماج اور تین صاحب مسیحی مذہب ہوں گے قرار پائے گا۔ اوّل تقریر کرنے کا ہمارا حق ہوگا۔ کیونکہ ہم معترض ہیں۔ پھر پنڈت صاحب برعایت شرائط تہذیب جو چاہیں گے جواب دیں گے۔ پھر اس کا جواب الجواب ہماری طرف سے گذارش ہو گا اور بحث ختم ہو جائے گی۔ ہم سوامی صاحب کی اس درخواست سے بہت خوش ہوئے ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ کیوں سوامی صاحب اور اور دھندوں میں لگے ہوئے ہیں اور ایسے سخت اعتراض کا جواب نہیں دیتے جس نے سب آریہ سماج والوں کا دم بند کر رکھا ہے۔ اب اگر سوامی صاحب نے اس اعلان کا کوئی جواب مشتہر نہ کیا تو بس یہ سمجھو کہ سوامی صاحب صرف باتیں کر کے اپنے توابعین کے آنسو پونچھتے تھے اور مکتی یابوں کی واپسی میں جو جو مفاسد ہیں مضمون مشمولہ متعلقہ اس اعلان میں درج ہیں ناظرین پڑھیں اور انصاف فرمائیں۔“ المعلن:۔ مرزا غلام احمد رئیس قادیان
(١٠؍جون ١٨٧٨ء ۔ مجموعہ اشتہارات ص ٧٦۔ ج ١)
٥
اس قسم کی اشتہار بازی کچھ مدت تک کرنے سے ملک میں کافی شہرت ہو گئی مسلمانوں نے آپ کو حامی اسلام سمجھا تو آپ نے ایک اشتہار بغرض امداد کتاب براہین احمدیہ شائع کیا جو درج ذیل ہے۔
اشتہار بغرض استعانت و استظہار
از انصار دین محمد مختار صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ الابرار
”اخوان دیندار و مؤمنین غیرت شعار و حامیان دین اسلام ومتبعین سنت خیر الانام پر روشن ہو کہ اس خاکسار نے ایک کتاب متضمن اثبات حقانیت قرآن و صداقت دین اسلام ایسی تالیف کی ہے جس کے مطالعہ کے بعد طالب حق سے بجز قبولیت اسلام کچھ بن نہ پڑے اور اس کے جواب میں قلم اٹھانے کی کسی کو جرأت نہ ہو سکے۔ اس کتاب کے ساتھ اس مضمون کا ایک اشتہار دیا جاوے گا کہ جو شخص اس کتاب کے دلائل کو توڑ دے ومع ذالک اس کے مقابلہ میں اسی قدر دلائل یا ان کے نصف یا ثلث یا ربع یا خمس سے اپنی کتاب کا (جس کو وہ الہامی سمجھتا ہو) حق ہونا یا اپنے دین کا بہتر ہونا ثابت کر دکھائے اور اس کے کلام یا جواب کو میری شرائط مذکورہ کے موافق تین منصف (جن کو مذہب فریقین سے تعلق نہ ہو) مان لیں تو میں اپنی جائیداد تعدادی دس ہزار روپیہ سے (جو میرے قبض و تصرف میں ہے) دستبردار ہو جاؤں گا اور سب کچھ اس کے حوالے کردوں گا اس باب میں جس طرح کوئی چاہے اپنا اطمینان کرلے مجھ سے تمسک لکھالے یا رجسٹری کرالے اور میری جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو آکر بچشم خود دیکھ لے۔“
باعث تصنیف:۔ اس کتاب کے پنڈت دیانند صاحب اور اُن کے اَتباع ہیں۔ جو اپنی امت کو آریہ سماج کے نام سے مشہور کر رہے ہیں اور بجز اپنے وید کے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ مسیح اور حضرت محمد مصطفیٰ علیہم السلام کی تکذیب کرتے ہیں اور نعوذ باللہ توریت، انجیل، زبور، فرقان مجید کو محض افتراء سمجھتے ہیں اور ان مقدس نبیوں کے حق میں ایسے توہین کے کلمات بولتے ہیں کہ ہم سُن نہیں سکتے۔ ایک صاحب نے ان میں سے اخبار سفیر ہند میں بطلب ثبوت حقانیت فرقان مجید کئی دفعہ ہمارے نام اشتہار بھی جاری کیا ہے اب ہم نے اس کتاب میں ان کا اور ان کے اشتہاروں کا کام تمام کردیا ہے اور صداقت قرآن و نبوت کو بخوبی ثابت کیا ہے۔ پہلے ہم نے اس کتاب کا ایک حصہ پندرہ جزو میں تصنیف کیا۔ بغرض تکمیل تمام ضروری امروں کے نو حصے اور زیادہ کر دیئے جس کے سبب سے تعداد کتاب ڈیڑھ سو جزو ہو گئی۔ ہر ایک حصہ اس کا ایک ایک ہزار صفحہ
چھپے تو چورانوے روپیہ صرف ہوتے ہیں پس کل حصص کتاب نو سو چالیس روپے سے کم میں نہیں چھپ سکتے ۔ ازانجا کہ ایسی بڑی کتاب کا چھپ کر شائع ہونا بجز معاونت مسلمان بھائیوں کے بڑا مشکل امر ہے اور ایسے اہم کام میں اعانت کرنے میں جس قدر ثواب ہے وہ ادنیٰ اہل اسلام پر بھی مخفی نہیں ۔ لہٰذا اخوان مؤمنین سے درخواست ہے کہ اس کارِ خیر میں شریک ہوں اور اس کے مصارف طبع میں معاونت کریں ۔ اغنیاء لوگ اگر اپنے مطبخ کے ایک دن کا خرچ بھی عنایت فرمائیں گے تو یہ کتاب بسہولت چھپ جائے گی ۔ ورنہ یہ مہر درخشاں چھپا رہے گا یا یوں کریں کہ ہر ایک اہل وسعت بہ نیت خریداری کتاب پانچ پانچ روپیہ مع اپنی درخواستوں کے راقم کے پاس بھیج دیں ۔ جیسی جیسی کتاب چھپتی جائے گی ان کی خدمت میں ارسال ہوتی رہے گی ۔
غرض انصار اللہ بن کر اس نہایت ضروری کام کو جلد تر بسر انجام پہنچا دیں اور نام اس کتاب کا ”البراہین الاحمدیہ علیٰ حقیقۃ کتاب اللہ القرآن والنبوۃ المحمدیۃ“ رکھا گیا ہے ۔ خدا اس کو مبارک کرے اور گمراہوں کو اس کے ذریعہ سے اپنے سیدھے راہ پر چلاوے ۔ آمین
المشتہر:۔ خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور۔ پنجاب
(مجموعہ اشتہارات ص ١٠ تا ١٢۔ ج ١)
جس زور شور سے اس کتاب کا اشتہار تھا آخر کار نکلی تو صورت اس کی یہ تھی کہ ایک جلد موٹے حرفوں میں صرف اس کے اشتہار کی تھی ۔ باقی جلدوں میں مضامین شروع ہوئے ۔ مگر مضامین کی بناء پر زیادہ تر اپنے الہامات اور مکاشفات پر تھی لیکن وہ الہامات ایسے کچھ صاف اور صریح اسلام کے مخالف نہ تھے بلکہ بعض معاون ، بعض گول ، اس لئے حسنِ ظن علماء اس پر بھی مرزا قادیانی سے مانوس ہی رہے ۔ اس زمانہ میں سب سے بڑے مانوس مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنۃ تھے ۔ جنہوں نے اس کتاب پر بڑا بسیط ریویو لکھا اور مخالفین کے جوابات دیئے ۔ باوجود اس کے دُور اندیش علمائے اسلام مرزا قادیانی سے خوفزدہ تھے ۔ مولانا حافظ عبدالمنان مرحوم محدث وزیر آبادی سے میں نے خود سنا کہ ”مجھے شبہ ہوتا ہے کسی دن یہ شخص (مرزا) نبوت کا دعویٰ کرے گا ۔“ ایسا ہی حضرت مولوی ابوعبداللہ غلام العلیٰ صاحب مرحوم امرتسری سے سننے والوں کا بیان ہے کہ مرحوم بھی مرزا قادیانی سے خوفزدہ تھے کہ کسی دن نبوت کا دعویٰ کریں گے ۔ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں مولوی صاحب مرحوم کا نام لے کر رَد بھی کیا ہے ۔ ایسا ہی مولوی غلام دستگیر مرحوم قصوری اور مولوی محمد وغیرہ خاندان علمائے لدھیانہ بھی مرزا قادیانی سے بدظن تھے ۔ ہم حیران ہیں ان علماء کی فراست کس درجہ کی تھی کہ آخر کار وہی ہوا جو ان
٧
حضرات نے گمان کیا تھا جس کا بیان دوسرے باب میں آئے گا۔ چونکہ مرزا قادیانی ملک میں بحیثیت ایک نامور مصنف مناظر بلکہ باکمال عارف باللہ صوفی ملہم کی صورت میں پیش ہوئے تھے اس لئے آپ کی کوئی تجویز کراماتی رنگ سے خالی نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ آپ نے ایک اشتہار بطور اظہار کرامت دیا جو درج ذیل ہے:
پیشگوئی
”بالہام اللہ تعالیٰ واعلامہٗ عزّ وجل۔ خدائے رحیم و کریم بزرگ و برتر نے جو ہر چیز پر قادر ہے ( جل شانہٗ وعزاسمہٗ ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔ اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بہ پایہ قبولیت جگہ دی اور تیرے سفر کو (جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفر ہے) تیرے لئے مبارک کر دیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح و ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔ اے مظفر تجھ پر سلام۔ خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں۔ جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفیٰ ؐ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کی راہ ظاہر ہو جاوے۔ سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک ذکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا وہ لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔ اس کا نام عمانوائیل اور بشیر بھی ہے اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت اور غیوری نے اسے کلمۂ تمجید سے بھیجا ہے وہ سخت ذہین اور فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا (اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے) دوشنبہ ہے۔ مبارک دوشنبہ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر ا
٨
لاول والآخر۔ مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء جس کا نزول بہت مبارک اور جلال الٰہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔ نور آتا ہے نور جس کو خدا نے اپنی رضامندی سے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی تب اپنے نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا۔ وکان امرا مقضیا۔‘‘
خاکسار مرزا غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ ہوشیار پور طویلہ شیخ مہر علی صاحب رئیس ٢٠ فروری ١٨٨٦ء
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٠٠ تا ١٠٢)
اس اشتہار پر مخالفوں کی طرف سے اعتراض ہوا کہ چند روز سے مرزا قادیانی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو مخفی رکھا گیا ہے اس کے جواب میں مرزا قادیانی نے ایک اشتہار دیا جو درج ذیل ہے:
اشتہار واجب الاظہار
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم۔ چونکہ اس عاجز کے اشتہار مورخہ ٢٠؍فروری ١٨٨٦ء پر جس میں ایک پیشگوئی در بارہ تولد ایک فرزند صالح ہے جو بصفات مندرجہ اشتہار پیدا ہوگا دو شخص سکنہ قادیان یعنی حافظ سلطانی کشمیری و صابر علی نے رُوبروئے مرزا نواب بیگ و میاں شمس الدین و مرزا غلام علی ساکنان قادیان یہ دروغ بے فروغ برپا کیا ہے کہ ہماری دانست میں عرصہ ڈیڑھ ماہ سے صاحب مشتہر کے گھر میں لڑکا پیدا ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ قول نامبردگان کا سراسر افتراء دروغ و بمقتضائے کینہ و حسد و عناد جبلی ہے۔ جس سے نہ صرف مجھ پر بلکہ تمام مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم اُن کے قول دروغ کا رَد واجب سمجھ کر عام اشتہار دیتے ہیں کہ ابھی تک جو ٢٢؍مارچ ١٨٨٦ء ہے ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بجز پہلے دو لڑکوں کے جن کی عمر ٢٠۔٢٢ سال سے زیادہ ہے پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا لڑکا بموجب وعدہ الٰہی ٩ برس کے عرصہ تک ضرور پیدا ہوگا خواہ جلد ہو خواہ دیر سے۔ بہر حال اس عرصہ کے اندر پیدا ہو جائے گا اور یہ اتہام کہ گویا ڈیڑھ ماہ سے پیدا ہو گیا ہے سراسر دروغ ہے۔ ہم اس دروغ کے ظاہر کرنے کے لئے لکھتے ہیں کہ آج کل ہمارے گھر کے لوگ بمقام چھاؤنی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ
٩
نویس دفتر نہر کے پاس بودوباش رکھتے ہیں اور اُن کے گھر کے متصل منشی مولا بخش صاحب ملازم ڈاک ریلوے اور بابو محمد صاحب کلرک دفتر نہر رہتے ہیں۔ معترضین یا جس شخص کو شبہ ہو اُس پر واجب ہے کہ اپنا شبہ رفع کرنے کے لئے وہاں چلا جاوے اور اس جگہ اردگرد سے خوب دریافت کر لے۔ اگر کرایہ آمد و رفت موجود نہ ہو تو ہم اس کو دے دیں گے لیکن اگر اب بھی جا کر دریافت نہ کرے اور نہ دروغ گوئی سے باز آوے تو بجز اس کے ہمارے اور حق پسندوں کی نظر میں لعنۃ اللہ علی الکاذبین کا لقب پاوے اور نیز زیر عتاب حضرت احکم الحاکمین کے آوے اور کیا ثمرہ اس یاوہ گوئی کا ہوگا۔ خدا تعالیٰ ایسے شخصوں کو ہدایت دیوے کہ جو جوشِ حسد میں آکر اسلام کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور اس دروغ گوئی کے مآل کو بھی نہیں سوچتے۔ اس جگہ اس وہم کا دُور کرنا بھی قرین مصلحت ہے کہ جو بمقام ہوشیار پور ایک آریہ صاحب نے اس پیشگوئی پر بصورت اعتراض پیش کیا تھا کہ لڑکا لڑکی کے پیدا ہونے کی شناخت دائیوں کو بھی ہوتی ہے دائیاں بھی معلوم کرسکتی ہیں کہ لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی۔ واضح رہے کہ ایسا اعتراض کرنا معترض صاحب کی سراسر حیلہ سازی و حق پوشی ہے۔ کیونکہ اول تو کوئی دائی ایسا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ بلکہ ایک حاذق طبیب بھی ایسا دعویٰ ہرگز نہیں کر سکتا کہ اس امر میں میری رائے قطعی اور یقینی ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں صرف ایک اٹکل ہوتی ہے کہ جو بار ہا خطا ہو جاتی ہے۔ علاوہ اس کے یہ پیشگوئی آج کی تاریخ سے دو برس پہلے کئی آریوں اور مسلمانوں و بعض مولویوں و حافظوں کو بھی بتلائی گئی تھی چنانچہ آریوں میں سے ایک شخص ملاوامل نام جو سخت مخالف اور نیز شرمپت ساکنان قصبہ قادیان ہیں ماسوا اس کے ایک نادان بھی سمجھ سکتا ہے کہ مفہوم پیشگوئی کا اگر بنظر یکجائی دیکھا جائے تو ایسا بشری طاقتوں سے بالاتر ہے جس کے نشان الٰہی ہونے میں کسی کو شک نہیں رہ سکتا۔ اگر شک ہو تو ایسی قسم کی پیشگوئی جو ایسے ہی نشان پر مشتمل ہو پیش کرے۔ اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشانِ آسمانی ہے جس کو خدائے کریم جل شانہٗ نے ہمارے نبی کریم رؤف و رحیم محمد مصطفیٰ ﷺ کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے فرمایا ہے اور درحقیقت یہ نشان ایک مُردہ کے زندہ کرنے سے صد ہا درجہ اعلیٰ و اولیٰ و اکمل و افضل و اتم ہے۔ کیونکہ مردہ کو زندہ کرنے کی حقیقت یہی ہے کہ جناب الٰہی میں دعا کر کے ایک روح واپس منگوایا جاوے اور ایسا مردہ زندہ کرنا حضرت مسیح اور بعض دیگر انبیاء علیہم السلام کی نسبت بائبل میں لکھا گیا ہے جس کے ثبوت میں معترضین کو بہت سی کلام ہے اور پھر باوصف ان سب عقلی و نقلی جرح و قدح کے یہ بھی منقول ہے کہ ایسا مردہ صرف چند منٹ کے لئے زندہ رہتا تھا اور پھر دوبارہ اپنے عزیزوں کو دوہرے ماتم میں ڈال کر اس جہان سے رخصت ہو
١٠
جاتا جس کے دنیا میں آنے سے نہ دنیا کو کچھ فائدہ پہنچتا تھا۔ نہ خود اس کو آرام ملتا تھا اور نہ اس کے عزیزوں کو کوئی سچی خوشی حاصل ہوتی تھی۔ سو اگر مسیح علیہ السلام کی دعا سے بھی کوئی روح دنیا میں آئی تو درحقیقت اس کا آنا نہ آنا برابر تھا اور بفرض محال اگر ایسی روح کئی سال جسم میں باقی بھی رہتی تب بھی ایک ناقص روح کسی رذیل یا دنیا پرست کی جو احد من الناس ہے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا سکتی تھی مگر اس جگہ بفضلہ تعالیٰ واحسانہ و ببرکت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔ سو اگرچہ بظاہر یہ نشان احیاء موتیٰ کے برابر معلوم ہوتا ہے۔ مگر غور کرنے سے معلوم ہو گا۔ یہ نشان مُردوں کے زندہ کرنے سے صدہا درجہ بہتر ہے۔ مردہ کی بھی روح ہی دعا سے واپس آتی ہے اور اس جگہ بھی دعا سے ہی ایک روح ہی منگوائی گئی ہے مگر ان روحوں اور اس روح میں لاکھوں کوسوں کا فرق ہے جو لوگ مسلمانوں میں چھپے ہوئے مرتد ہیں، وہ آنحضرت ﷺ کے معجزات کا ظہور دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ ان کو بڑا رنج پہنچتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
اے لوگو! میں کیا چیز ہوں اور کیا حقیقت۔ جو کوئی مجھ پر حملہ کرتا ہے وہ درحقیقت میرے پاک متبوع پر جو نبی کریم ﷺ ہے حملہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ آفتاب پر خاک نہیں ڈال سکتا۔ بلکہ وہی خاک اس کے سر پر اس کی آنکھوں پر اس کے منہ پر گر کر اس کو ذلیل اور رسواء کرے گی اور ہمارے نبی کریم کی شان و شوکت اس کی عداوت اور اس کے بخل سے کم نہیں ہو گی بلکہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ ظاہر کرے گا۔ کیا تم فجر کے قریب آفتاب کو نکلنے سے روک سکتے ہو۔ ایسے ہی تم آنحضرت ﷺ کے آفتاب صداقت کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ خدا تعالیٰ تمہارے کینوں اور بخلوں کو دُور کرے۔ وَالسَّلام عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الهُدٰی۔‘‘
راقِم:۔ خاکسار غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ از قادیان ضلع گورداسپور ٢٢؍مارچ ١٨٨٦ء۔ روز دوشنبہ
(مجموعۂ اشتہارات ج١ص١١٣ تا ١١٦)
اس اشتہار پر بھی اعتراضات ہوئے تو مرزا قادیانی نے اُن کے جواب میں ایک اور اشتہار دیا جو درج ذیل ہے۔
اشتہار صداقت آثار
’’بسم الله الرحمان الرحیم. نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم!
١١
واضح ہو کہ اس خاکسار کے اشتہار ٢٢؍ مارچ ١٨٨٦ء پر بعض صاحبوں نے جیسے منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے یہ نکتہ چینی کی ہے کہ نو برس کی حد جو پسر موعود کے لئے کی گئی ہے۔ یہ بڑی گنجائش کی جگہ ہے ایسی لمبی میعاد تک تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہو سکتا ہے۔ سو اوّل تو اس کے جواب میں یہ واضح ہو کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے کسی لمبی میعاد سے گو نو برس سے بھی دو چند ہوتی اس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا بلکہ صریح دلی انصاف ہر ایک انسان کا شہادت دیتا ہے کہ ایسے عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور اخصّ آدمی کے تولد پر مشتمل ہے۔ انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اور دعا کی قبولیت ہو کر ایسی خبر کا ملنا بے شک یہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہے۔ نہ یہ کہ صرف پیشگوئی ہے۔ ماسواء اس کے اب بعد اشاعت اشتہار مندرجہ بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج آٹھ اپریل ١٨٨٦ء میں اللہ جل شانہٗ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو مدّت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ غالباً ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضرور اس کے قریب حمل میں۔ لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہو گا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہو گا اور پھر بعد اس کے یہ بھی الہام ہوا کہ انہوں نے کہا کہ آنے والا یہی ہے یا ہم دوسرے کی راہ تکیں۔ چونکہ یہ عاجز ایک بندۂ ضعیف مولیٰ کریم جل شانہٗ کا ہے۔ اس لئے اسی قدر ظاہر کرتا ہے جو منجانب اللہ ظاہر کیا گیا۔ آئندہ جو اس سے زیادہ منکشف ہوگا وہ بھی شائع کیا جاوے گا۔ والسلام علی من اتبع الھدی۔
المشتہر:۔ خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور۔ ١٨؍ اپریل ١٨٨٦ء مطابق دوم رجب ١٣٠٣ھ
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١١٦‘ ١١٧)
آخر کار مرزا قادیانی کے گھر لڑکا پیدا ہو گیا تو مرزا قادیانی نے مخالفوں کا منہ بند کرنے کو اشتہار دیا جو درج ذیل ہے۔
خوشخبری
’’اے ناظرین! میں آپ کو بشارت دیتا ہوں کہ وہ لڑکا جس کے تولد کے لئے میں نے اشتہار ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء میں پیشگوئی کی تھی اور خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر اپنے کھلے کھلے بیان میں لکھا تھا کہ اگر وہ حمل موجودہ میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں جو اس کے قریب ہے ضرور
١٢
پیدا ہو جائے گا ۔ آج ١٦ ذی قعدہ ١٣٠٤ھ مطابق ٧ اگست ١٨٨٧ء میں بارہ بجے رات کے بعد ڈیڑھ بجے کے قریب وہ مولود مسعود پیدا ہو گیا ۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک ۔
اب دیکھنا چاہئے کہ یہ کس قدر بزرگ پیشگوئی ہے جو ظہور میں آئی ۔ آریہ لوگ بات بات میں یہ سوال کرتے ہیں کہ ہم وہ پیشگوئی منظور کریں گے جس کا وقت بتلایا جاوے ۔ سو اب یہ پیشگوئی انہیں منظور کرنی پڑی کیونکہ اس پیشگوئی کا مطلب یہ ہے کہ حمل دوم بالکل خالی نہیں جائے گا ضرور لڑکا پیدا ہوگا اور وہ حمل بھی کچھ دور نہیں ۔ بلکہ قریب ہے ۔ یہ مطلب اگرچہ اصل الہام میں مجمل تھا لیکن میں نے اسی اشتہار میں لڑکا پیدا ہونے سے ایک برس چار مہینہ پہلے روح القدس سے قوت پا کر مفصل طور پر مضمون مذکورہ بالا لکھ دیا یعنی یہ کہ اگر لڑکا اس حمل میں پیدا نہ ہوا تو دوسرے حمل میں ضرور ہو گا ۔ آریوں نے حجت کی تھی کہ یہ فقرہ الہامی کہ جو ایک مدّت حمل سے تجاوز نہیں کرے گا ۔ حمل موجودہ سے خاص تھا ۔ جس سے لڑکی ہوئی ۔ میں نے ہر ایک مجلس اور ہر ایک تحریر و تقریر میں انہیں جواب دیا کہ یہ حجت تمہاری فضول ہے کیونکہ کسی الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہم آپ بیان کرے اور ملہم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح اور تفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی کیونکہ ملہم اپنے الہام سے اندرونی واقفیت رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ سے خاص طاقت پا کر اس کے معنی کرتا ہے پس جس حالت میں لڑکی پیدا ہونے سے کئی دن پہلے عام طور پر کئی سو اشتہار چھپوا کر میں نے شائع کر دیئے اور بڑے بڑے آریوں کی خدمت میں بھی بھیج دیئے تو الہامی عبارت کے وہ معنی قبول نہ کرنا جو خود ایک خفی الہام نے میرے پر ظاہر کئے اور پیش از ظہور مخالفین تک پہنچا دیئے گئے ۔ کیا ہٹ دھرمی ہے یا نہیں ۔ کیا ملہم اپنے الہام کے معانی بیان کرنا یا مصنف کا اپنی تصنیف کے کسی عقیدہ کو ظاہر کرنا تمام دوسرے لوگوں کے بیانات سے عند العقل زیادہ معتبر نہیں ہے بلکہ خود سوچ لینا چاہئے کہ مصنف جو کچھ پیش از وقوع کوئی امر غیب بیان کرتا ہے اور صاف طور پر ایک بات کی نسبت دعویٰ کر لیتا ہے تو وہ اپنے اس الہام اور اس تشریح کا آپ ذمہ دار ہوتا ہے اور اس کی باتوں میں دخل بے جا دینا ایسا ہے جیسا کوئی مصنف کو کہے کہ تیری تصنیف کے یہ معنی نہیں بلکہ یہ ہیں جو میں نے سوچے ہیں ۔ اب ہم اصل اشتہار ٨ اپریل ١٨٨٦ء ناظرین کے ملاحظہ کے لئے ذیل میں لکھتے ہیں تا کہ ان کو اطلاع ہو کہ ہم نے پیش از وقوع اپنی پیشگوئی کی نسبت کیا دعویٰ کیا تھا اور پھر وہ کیسا اپنے وقت پر پورا ہوا ۔“ المشتہر : ۔ خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ٤ اگست ١٨٨٧ء ۔
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١ ١٤٢)
اس اشتہار نے تمام نزاعوں کا فیصلہ کر دیا اور مرزا قادیانی کے لئے آئندہ کی مشکلات کا
١٣
دروازہ کھول دیا کیونکہ مولود لڑکے کے اوصاف تو یہ تھے کہ: ”وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا اور دل کا حلیم اور علوم ظاہری و باطنی سے پُر کیا جائے گا...... فرزند دلبند گرامی ارجمند۔ مظہر الاول والآخر مظہر الحق والعلا کان اللہ نزل من السماء۔ (گویا خدا اوپر سے آیا) وغیرہ۔“
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٠١)
مگر تقدیر خدا غالب ہے وہ بچہ جس کو اس پیشگوئی کے مطابق موعود فرمایا تھا ٤؍ نومبر ١٨٨٨ء کو سولہ مہینے عمر پا کر مرزا قادیانی اور ان کے ہوا خواہوں کو ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گیا۔ جس کا لازمی نتیجہ مخالفوں کی شورش ہوا۔ چنانچہ چاروں طرف سے مخالف ٹوٹ پڑے۔ مگر مرزا قادیانی کچھ ایسے کمزور دل گردے کے نہیں تھے جو مخالفوں کی شورش سے دب جاتے۔ آپ نے بڑے حوصلہ اور بڑی متانت سے اشتہار دیا جو درج ذیل ہے:
حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر
”واضح ہو کہ اس عاجز کے لڑکے بشیر احمد کی وفات سے جو ٧؍اگست ١٨٨٧ء روز یکشنبہ میں پیدا ہوا تھا اور ٤؍نومبر ١٨٨٨ء کو اسی روز یکشنبہ میں ہی اپنی عمر کے سولہویں مہینے میں بوقت نماز صبح اپنے معبود حقیقی کی طرف واپس بلایا گیا۔ عجیب طور کا شور و غوغا خام خیال لوگوں میں اُٹھا اور رنگارنگ کی باتیں کیں اور طرح طرح کی نافہمی اور کج دلی کی رائیں ظاہر کی گئیں۔ مخالفین مذہب جن کا شیوہ بات بات میں خیانت وافتراء ہے انہوں نے اس بچے کی وفات پر انواع و اقسام کی افتراء گھڑنی شروع کی۔ سو ہر چند ابتداء میں ہمارا ارادہ نہ تھا کہ آں پسر معصوم کی وفات پر کوئی اشتہار یا تقریر شائع کریں اور نہ شائع کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ کوئی ایسا امر درمیان نہ تھا کہ کسی فہیم آدمی کی ٹھوکر کھانے کا موجب ہو سکے۔ لیکن جب یہ شور و غوغا انتہا کو پہنچ گیا اور کچے اور ابلہ مزاج مسلمانوں کے دلوں پر بھی اس کا مضر اثر پڑتا ہوا نظر آیا تو ہم نے محض للہ یہ تقریر شائع کرنا مناسب سمجھا۔
اب ناظرین پر منکشف ہو کہ بعض مخالفین پسر متوفی کی وفات کا ذکر کر کے اپنے اشتہارات و اخبارات میں طنز سے لکھتے ہیں کہ یہ وہی بچہ ہے جس کی نسبت اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء اور ٨؍اپریل ١٨٨٦ء اور ٧؍اگست ١٨٨٧ء میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہوگا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ بعضوں نے اپنی طرف سے افتراء کر کے یہ بھی اپنے اشتہار میں لکھا کہ اس بچہ کی نسبت یہ الہام بھی ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ بادشاہوں کی
١٤
بیٹیاں بیاہنے والا ہوگا لیکن ناظرین پر منکشف ہو کہ جن لوگوں نے یہ نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے بڑا دھوکا کھایا ہے یا دھوکا دینا چاہا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ماہ اگست ١٨٨٧ء تک جو پسر متوفی کی پیدائش کا مہینہ ہے جس قدر اس عاجز کی طرف سے اشتہار چھپے ہیں جن کا لیکھ رام پشاوری نے وجہ ثبوت کے طور پر اپنے اشتہار میں حوالہ دیا ہے ان میں سے کوئی شخص ایک ایسا حرف بھی پیش نہیں کر سکتا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہو کہ مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا تھا جو فوت ہو گیا۔ بلکہ ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کا اشتہار اور نیز ٧؍ اگست ١٨٨٧ء کا اشتہار کہ جو ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء کی بناء پر اور اس کے حوالہ سے بروز تولد بشیر شائع کیا گیا تھا صاف بتلا رہا ہے کہ ہنوز الہامی طور پر یہ تصفیہ نہیں ہوا کہ آیا یہ لڑکا مصلح موعود اور عمر پانے والا ہے یا کوئی اور ہے۔ تعجب کہ لیکھ رام پشاوری نے جوش تعصب میں آ کر اپنے اس اشتہار میں جو اس کی جبلی خصلت بد گوئی و بد زبانی سے بھرا ہوا ہے۔ اشتہارات مذکورہ کے حوالہ سے اعتراض تو کر دیا مگر ذرا آنکھیں کھول کر ان تینوں اشتہاروں کو پڑھ نہ لیا تا کہ جلد بازی کی ندامت سے بچ جاتا۔ نہایت افسوس ہے کہ ایسے دروغ باف لوگوں کو آریوں کے وہ پنڈت کیوں دروغ گوئی سے منع نہیں کرتے جو بازاروں میں کھڑے ہو کر اپنا اصول یہ بتلاتے ہیں کہ جھوٹ کو چھوڑنا اور تیاگنا اور سچ کو ماننا اور قبول کرنا آریوں کا دھرم ہے۔ پس عجیب بات یہ ہے کہ یہ دھرم قول کے ذریعہ سے تو ہمیشہ ظاہر کیا جاتا ہے مگر فعل کے وقت ایک مرتبہ بھی کام نہیں آتا۔
افسوس ہزار افسوس۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ ہر دو اشتہار ٨؍ اپریل ١٨٨٦ء اور ٧؍ اگست ١٨٨٧ء مذکورہ بالا اس ذکر و حکایت سے بالکل خاموش ہیں کہ لڑکا پیدا ہونے والا کیسا اور کن صفات کا ہے بلکہ یہ دونوں اشتہار صاف شہادت دیتے ہیں کہ ہنوز یہ امر الہام کی رو سے غیر مفصل اور غیر مصرح ہے۔ ہاں یہ تعریفیں جو اوپر گزر چکی ہیں ایک آنے والے لڑکے کی نسبت عام طور پر بغیر کسی تخصیص و تعیین کے اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں ضرور بیان کی گئی ہیں لیکن اس اشتہار میں تو کسی جگہ نہیں لکھا کہ جو ٧؍ اگست ١٨٨٧ء کو لڑکا پیدا ہو گا وہی مصداق ان تعریفوں کا ہے بلکہ اس اشتہار میں اس لڑکے کے پیدا ہونے کی کوئی تاریخ مندرج نہیں کہ کب اور کس وقت ہوگا۔ پس ایسا خیال کرنا کہ ان اشتہارات میں مصداق ان تعریفوں کا اسی پسر متوفی کو ٹھہرایا گیا تھا سراسر ہٹ دھرمی اور بے ایمانی ہے۔ یہ سب اشتہارات ہمارے پاس موجود ہیں اور اکثر ناظرین کے پاس موجود ہوں گے مناسب ہے کہ ان کو غور سے پڑھیں اور پھر آپ ہی انصاف کریں۔ جب یہ لڑکا فوت ہو گیا ہے پیدا ہوا تھا تو اس کی پیدائش کے بعد صدہا خطوط اطراف مختلفہ سے بدیں استفسار
١٥
پہنچے تھے کہ کیا یہ وہی مصلح موعود ہے جس کے ذریعہ سے لوگ ہدایت پائیں گے تو سب کی طرف یہی جواب لکھا گیا تھا کہ اس بارے میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا۔ ہاں اجتہادی طور پر گمان کیا جاتا تھا کہ کیا تعجب کہ مصلح موعود یہی لڑکا ہو اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پسر متوفی کی بہت سی ذاتی بزرگیاں الہامات میں بیان کی گئی تھیں جو اس کی پاکیزگی روح اور بلندیٔ فطرت اور علو استعداد اور روشن جوہری اور سعادت جبلی کے متعلق تھیں اور اس کی کاملیت استعدادی سے علاقہ رکھتی تھیں۔ سو چونکہ وہ استعدادی بزرگیاں ایسی نہیں تھیں جس کے لئے بڑی عمر پانا ضروری ہوتا۔ اسی باعث سے یقینی طور پر کسی الہام کی بنا پر اس رائے کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا کہ ضرور یہ لڑکا پختہ عمر تک پہنچے گا اور اسی خیال اور انتظار میں سراج منیر کے چھاپنے میں توقف کی گئی تھی۔ تا جب اچھی طرح الہامی طور پر لڑکے کی حقیقت کھل جاوے تب اس کا مفصل و مبسوط حال لکھا جائے۔ سو تعجب اور نہایت تعجب کہ جس حالت میں ہم اب تک پسر متوفی کی نسبت الہامی طور پر کوئی رائے قطعی ظاہر کرنے سے بکلی خاموش اور ساکت رہے اور ایک ذرا سا الہام بھی اس بارے میں شائع نہ کیا تو پھر ہمارے مخالفوں کے کانوں میں کس نے پھونک ماردی کہ ایسا اشتہار ہم نے شائع کر دیا ہے۔“ المشتہر:۔ غلام احمد عفی عنہ۔ یکم دسمبر ١٨٨٨ء
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٦٣ تا ١٦٦)
یہ اشتہار معمولی اشتہار نہیں بلکہ ایک کتاب ہے جو ٢٠×٢٦ کے ٢٤ صفحوں پر ختم ہے۔ مضمون سارا اسی قدر ہے جو اوپر نقل ہوا۔
ہاں اس اشتہار کے اخیر کے چند فقرے قابل دید و شنید ہیں جو مرزا قادیانی کے طرزِ رندی کا اظہار کرتے ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ’’بالآخر یہ بھی اس جگہ واضح رہے کہ ہمارا اپنے کام کے لئے تمام و کمال بھروسہ اپنے مولا کریم پر ہے۔ اس بات سے کچھ غرض نہیں کہ لوگ ہم سے اتفاق رکھتے ہیں یا نفاق اور ہمارے دعوٰی کو قبول کرتے ہیں یا رَدّ اور ہمیں تحسین کرتے ہیں یا نفرین بلکہ ہم سب سے اعراض کر کے اور غیر اللہ کو مردہ سمجھ کے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ گو بعض ہم سے اور ہماری ہی قوم میں سے ایسے بھی ہیں کہ وہ ہمارے اس طریق کو نظرِ تحقیر سے دیکھتے ہیں مگر ہم ان کو معذور کہتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جو ہم پر ظاہر کیا گیا ہے وہ ان پر نہیں اور جو ہمیں پیاس لگا دی گئی ہے وہ انہیں نہیں۔ کـــــل یعمل علٰی شاکلتہ۔‘‘
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٨٠)
١٦
ان فقرات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی اپنی کاروائی ہمیشہ متوکلانہ اور عارفانہ دکھلایا کرتے تھے۔ چنانچہ جب بعض علماء نے آپ کو دوستانہ نصیحت کی کہ اس قسم کے مکاشفات ظاہر نہ کیا کریں جن سے مخالفین کو ہنسی کا موقع ملے۔ تو آپ نے اسی اشتہار میں ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
”اس محل میں یہ بھی لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مجھے بعض اہل علم احباب کی ناصحانہ تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی اس عاجز کی یہ کارروائی پسند نہیں کرتے کہ برکات روحانیہ و آیات سماویہ کے سلسلہ کو جو بذریعہ قبولیت ادعیہ والہامات ومکاشفات تکمیل پذیر ہوتا ہے۔ لوگوں پر ظاہر کیا جائے۔ بعض کی ان میں سے اس بارہ میں یہ بحث ہے کہ یہ باتیں ظنی وشکی ہیں اور ان کے ضرر کی امید اُن کے فائدہ سے زیادہ تر ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حقیقت میں یہ تمام بنی آدم میں مشترک ومتساوی ہیں۔ شاید کسی قدر ادنیٰ کمی بیشی ہو بلکہ بعض حضرات کا خیال ہے کہ قریباً یکساں ہی ہیں اُن کا یہ بھی بیان ہے کہ ان امور میں مذہب اور اتقاء اور تعلق باللہ کو کچھ دخل نہیں۔ بلکہ یہ فطرتی خواص ہیں جو انسان کی فطرت کو لگے ہوئے ہیں۔ اور ہر ایک بشر سے مومن ہو یا کافر۔ صالح ہو یا فاسق۔ کچھ تھوڑی سی کمی بیشی کے ساتھ صادر ہوتے رہتے ہیں یہ تو اُن کی قیل و قال ہے جس سے ان کی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور مبلغ علم کا اندازہ ہوسکتا ہے مگر فراست صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ غفلت اور حُبّ دنیا کا کیڑا ان کی ایمانی فراست کو بالکل کھا گیا ہے۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ جیسے مجذوم کا جذام انتہا کے درجہ تک پہنچ کر سقوط اعضاء تک نوبت پہنچاتا ہے اور ہاتھوں پیروں کا گلنا سڑنا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی اُن کے روحانی اعضاء جو روحانی قوتوں سے مراد ہیں بباعث غلو محبت دنیا کے گلنے سڑنے شروع ہو گئے ہیں اور ان کا شیوہ فقط ہنسی اور ٹھٹھہ بدظنی اور بدگمانی ہے۔ دینی معارف اور حقائق پر غور کرنے سے بکلی آزادی ہے بلکہ یہ لوگ حقیقت اور معرفت سے کچھ سروکار نہیں رکھتے اور کبھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے کہ ہم دنیا میں کیوں آئے اور ہمارا اصلی کمال کیا ہے بلکہ جیفۂ دنیا میں دن رات غرق ہورہے ہیں اُن میں یہ حس ہی باقی نہیں رہی کہ اپنی حالت کو ٹٹولیں کہ وہ کیسی سچائی کے طریق سے گری ہوئی ہے اور بڑی بدقسمتی ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی اس نہایت خطرناک بیماری کو پوری پوری صحت خیال کرتے ہیں اور جو حقیقی صحت وتندرستی ہے اس کو بنظر توہین واستخفاف دیکھتے ہیں اور کمالات ولایت اور قرب الٰہی کی عظمت بالکل اُن کے دلوں پر سے اُٹھ گئی ہے اور نومیدی اور حرمان کی سی صورت پیدا ہوگئی ہے۔ بلکہ اگر یہی حالت رہی تو اُن کا نبوت پر ایمان قائم رہنا بھی کچھ معرض خطر میں ہی نظر آتا
١٧
ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص ١٨١‘١٨٢)
علمائے اسلام کی مشفقانہ نصیحت اور مرزا قادیانی کا تلخ جواب سُن کر ایک عاشق کے تلخ جواب کی قدر معلوم ہو گئی جو اپنے ناصحوں کو کہتا ہے۔
لاکھ ناداں ہیں کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے
ہم اقرار کر آئے ہیں کہ تاریخ مرزا بحیثیت مؤرخانہ لکھیں گے مناظرانہ نہیں۔ اس لئے ہم نے سب واقعات ناظرین کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ:
مرزا قادیانی نے کئی ایک اشتہاروں میں تولد فرزند ارجمند کا الہام شائع کیا۔ یہاں تک کہ ٧؍ اگست ١٨٨٧ء کو بچہ پیدا ہوا۔ جس کا نام ”بشیر“ رکھا (مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٦٣) اور اس کو فرزند موعود قرار دے کر اشتہار دیا اور اسی اشتہار میں لکھا کہ:
”الہام کے وہ معنی ٹھیک ہوتے ہیں کہ ملہم آپ بیان کرے۔“
(مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٤٢)
اس کے بعد وہ بشیر موعود فوت ہو گیا تو مولوی سعد اللہ مرحوم لدھیانوی کو یہ کہنے کا موقع ملا:
ترا اعزاز اور اکرام مرزا
کیا تھا اس نے تجھ کو زندہ درگور
دیا تھا تجھ کو سخت الزام مرزا
باب اول ختم شد ......☆......
تاریخ مرزا......باب دوم
براہین احمدیہ کے بعد
ہم پہلے بتا آئے ہیں کہ مرزا قادیانی کی مشہور کتاب براہین احمدیہ کی تصنیف تک گو بعض علماء بدگمان تھے مگر جمہور علمائے اسلام آپ کی نسبت حُسنِ ظن اور محبت رکھتے لیکن براہین کے
١٨
زمانے کے بعد آپ نے جو رنگت اختیار کی تو سب علیحدہ ہو گئے اس لئے اس کی تہ کو معلوم کرنا ضروری ہے کہ وہ کونسا مرکزی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے علمائے اسلام مرزا قادیانی سے بالکل متنفر ہو گئے۔
یوں تو بعد میں بہت سے مسائل پیدا ہو گئے جن کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں لیکن مرکزی مسئلہ جس کو اصل الاصول کہا جائے ایک ہی تھا اور اب بھی وہی ایک ہی ہے اس مسئلہ کی حقیقت اور اصلیت خود مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ سے دکھاتے ہیں تا کہ ہمارے ناظرین کو علماء کی مخالفت کی نسبت بھی صحیح رائے قائم کرنے کا موقع مل سکے۔
براہین احمدیہ میں وہ مرکزی مسئلہ یوں مرقوم ہے:
”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں پیشگوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لاویں گے تو اُن کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا۔“
(براہین احمدیہ جلد چہارم حاشیہ ص ٤٩٣۔ خزائن ج ١ حاشیہ ص ٥٩٣)
اس عبارت سے تین امر مفہوم ہیں۔ ایک حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی زندگی‘ دوم انہی کا دوبارہ تشریف لانا۔ سوم تمام دنیا میں اسلام کا پھیل جانا۔ یہ ہیں براہین احمدیہ تک مرزا قادیانی کے خیالات۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے ١٣٠٨ھ مطابق ١٨٩٠ء میں رسالہ ”فتح اسلام“۔ ”توضیح مرام“ شائع کئے جن میں اس خیال کی تبدیلی یوں کی کہ مسیح موعود جن کی بابت براہین احمدیہ کی مذکورہ عبارت میں لکھا تھا کہ اطراف واقطاع دنیا میں اسلام پھیلا دیں گے۔ ان کے منصب کا دعویٰ خود اختیار کر لیا۔ یعنی فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے۔ وہ تو نہیں آویں گے بلکہ اُن جیسا کوئی آوے گا اور وہ میں ہوں۔ اس کا ذکر اور ثبوت ان تینوں رسالوں میں دینے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ ”ازالہ اوہام“ میں بہت لمبی تقریر کے بعد آپ نے لکھا:
”سو یقیناً سمجھو کہ نازل ہونے والا ابن مریم یہی ہے جس نے عیسیٰ ابن مریم کی طرح اپنے زمانہ میں کسی ایسے شیخ والد روحانی کو نہ پایا جو اس کی روحانی پیدائش کا موجب ٹھہراتا۔ تب خدا تعالیٰ خود اس کا متولی ہوا اور تربیت کی کنار میں لیا‘ اور اس اپنے بندہ کا نام ابن مریم رکھا کیونکہ اس نے مخلوق میں اپنی روحانی والدہ کا تو منہ دیکھا جس کے ذریعہ سے اس نے قالب اسلام کا پایا
١٩
لیکن حقیقت اسلام کی اس کو بغیر انسانوں کے ذریعہ کے حاصل ہوئی تب وہ وجود روحانی پا کر خدا تعالیٰ کی طرف اٹھایا گیا، کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ماسوا سے اس کو موت دے کر اپنی طرف اٹھالیا اور پھر ایمان اور عرفان کے ذخیرہ کے ساتھ خلق اللہ کی طرف نازل کیا سو وہ ایمان اور عرفان کا ثریا سے دنیا میں تحفہ لایا اور زمین جو سنسان پڑی تھی اور تاریک تھی اس کے روشن اور آباد کرنے کے فکر میں لگ گیا پس مثالی صورت کے طور پر یہی عیسیٰ ابن مریم ہے جو بغیر باپ کے پیدا ہوا۔ کیا تم ثابت کر سکتے ہو کہ اس کا کوئی والد روحانی ہے۔ کیا تم ثبوت دے سکتے ہو کہ تمہارے سلاسل اربعہ میں سے کسی سلسلہ میں یہ داخل ہے؟ پھر اگر یہ ابن مریم نہیں تو کون ہے؟“
(ازالہ اوہام ص ٦٥٩۔ خزائن ج ٣ ص ٤٥٦)
مطلب اس عبارت کا یہ ہے کہ مسیح ابن مریم کے لئے جو حدیثوں میں پیشگوئی آئی ہے اس سے مراد میں ہوں۔ کیونکہ ابن مریم کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام بغیر وسیلہ باپ کے پیدا ہوئے تھے وہ مسیح موعود بغیر کسی شیخ طریقت کی راہ نمائی کے کمال کو پہنچے گا۔ چنانچہ میں ایسا ہی (بے پیر کے) کمال کو پہنچا ہوں۔ اس دعویٰ پر علمائے کرام کے ساتھ لفظی مباحثات ہوتے رہے لیکن مرزا قادیانی چونکہ روحانیت کے مدعی تھے اس لئے انہوں نے اپنی روحانیت کا ثبوت یوں دینا چاہا کہ واقعات آئندہ کی بابت پیشگوئیاں کیں جن کی بابت لکھا گیا کہ اگر یہ پیشگوئیاں صحیح نہ ہوں تو میں جھوٹا۔ چنانچہ اسی کتاب ”ازالہ اوہام“ میں ایک پیشگوئی یوں فرمائی:
”خدا تعالیٰ نے پیشگوئی کے طور پر اس عاجز پر ظاہر فرمایا کہ مرزا احمد بیگ ولد مرزا گاماں بیگ ہوشیار پوری کی دختر کلاں انجام کار تمہارے نکاح میں آئے گی اور وہ لوگ بہت عداوت کریں گے اور بہت مانع آئیں گے اور کوشش کریں گے کہ ایسا نہ ہو لیکن آخر کار ایسا ہی ہوگا اور فرمایا کہ خدا تعالیٰ ہر طرح سے اس کو تمہاری طرف لائے گا۔ باکرہ ہونے کی حالت میں یا بیوہ کر کے اور ہر ایک روک کو درمیان سے اٹھا دے گا اور اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“
(ازالہ اوہام ص ٣٩٦۔ خزائن ج ٣ ص ٣٠٥)
اس پیشگوئی کے متعلق مزید معلومات آگے آویں گی۔
مرزا قادیانی کے دعویٰ مسیحیت پر سب سے اول مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اُٹھے جنہوں نے مرزا قادیانی کے اقوال کو یکجا کر کے علماء کرام سے ان کے برخلاف ایک فتویٰ لیا جو اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں چھاپا۔ مگر حق یہ ہے کہ بعد اس فتویٰ کے مرزا قادیانی نے بجائے دبنے
٢٠
کے اپنے خیالات اور مقالات میں جو ترقی کی اُس کو دیکھتے ہوئے یہ فتویٰ جن خیالات پر علماء نے دیا تھا وہ کچھ بھی حقیقت نہ رکھتے تھے‘‘۔ (مرزا نے آگے چل کر اس سے کہیں زیادہ کفریات کا ارتکاب کیا۔)
ماہ مئی جون ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی کا ایک مناظرہ عیسائیوں کے ساتھ امرتسر میں ہوا۔ جس میں مرزا قادیانی کے مقابل ڈپٹی عبداللہ آتھم (پادری) تھے۔ پندرہ روز تک مباحثہ ہوتا رہا جس میں پچاس پچاس آدمی فریقین کے بذریعہ ٹکٹ داخل ہوتے تھے۔ مباحثہ الوہیت مسیح پر تھا۔ مرزا قادیانی نے ابطال الوہیت مسیح پر بہت سی دلیلیں پیش کیں۔ یہ مباحثہ ”جنگ مقدس“ کے نام سے چھپ چکا ہے مگر چونکہ لفظی بحثیں علمائے ظاہری کا حصہ ہیں اور مرزا قادیانی ایک روحانی درجہ لے کر آئے تھے اس لئے اپنے ان لفظی دلائل کو خود ہی ناکافی جان کر آخر میں ایک روحانی حربہ سے کام لینا چاہا۔ چنانچہ آخری روز خاتمہ مباحثہ پر آپ کے الفاظ یہ تھے:
”آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر کا فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بناتا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت جب یہ پیشینگوئی ظہور میں آوے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔۔۔۔۔ میں حیران تھا کہ اس بحث میں کیوں مجھے آنے کا اتفاق پڑا۔ معمولی بحثیں تو اور لوگ بھی کرتے ہیں۔ اب یہ حقیقت کھلی کہ اس نشان کے لئے تھا۔ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشینگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسہ ڈال دیا جاوے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا۔ ضرور کرے گا ضرور کرے گا۔ زمین آسمان ٹل جاویں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔“
(جنگ مقدس ص ١٨٨، خزائن ج ٦ ص ٢٩١ تا ٢٩٣)
٢١
اس روحانی حربہ کا مطلب صاف ہے کہ عیسائی مناظر (جو الوہیت مسیح کا قائل ہے) پندرہ ماہ کے عرصہ میں مرکر واصل جہنم ہوگا۔
اس پیشگوئی کے علاوہ ایک پیشگوئی مرزا قادیانی کی اور تھی جو پنڈت لیکھ رام آریہ مصنف کے حق میں روحانی حربہ تھا جس کے متعلق اصل الفاظ یہ ہیں:
لیکھ رام پشاوری کی نسبت ایک پیشگوئی
”واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ٢٠؍ فروری ١٨٨٦ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔ اندرمن مراد آبادی اور لیکھ رام پشاوری کو اس بات کی دعوت کی گئی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جاویں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصے کے بعد فوت ہو گیا۔ لیکن لیکھ رام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کرو میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شانہٗ کی طرف سے یہ الہام ہوا۔ ”عِجْلٌ جَسَدٌ لَّهُ خُوَارٌ لَّهُ نَصَبٌ وَّعَذَابٌ“ یعنی صرف ایک بے جان سا گوسالہ ہے جس کے اندر سے مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے جو ضرور اس کو مل کر رہے گا اور اس کے بعد آج ٢٠؍ فروری ١٨٩٣ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو ٢٠؍ فروری ١٨٩٣ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی ان بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا۔ جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لیے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جاوے اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئی میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے زیادہ اس سے کیا لکھوں۔“
(سراج منیر ص ١٤‘ ١٣۔ خزائن ج ١٢ ص ١٥)
اس حربہ کا مطلب ملاحظہ ہو کہ پنڈت لیکھ رام پر خلاف عادت عذاب نازل ہوگا۔ اس وقت تین پیشگوئیاں (مرزا احمد بیگ کی لڑکی سے نکاح اور ڈپٹی آتھم کی موت اور پنڈت لیکھ رام پر خارق عادت عذاب کے متعلق) ملک میں بہت مشہور تھیں۔ بہت سے لوگ ان کے انجام کے منتظر تھے چنانچہ مرزا قادیانی نے خود انہیں کی طرف پبلک کو متوجہ کرنے کو اعلان شائع کیا جس کے الفاظ یہ ہیں:
”بعض عظیم الشان نشان اس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں جیسا کہ منشی عبداللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ٥؍جون ١٨٩٣ء سے ١٥ مہینہ دن تک اور پنڈت لیکھ رام پشاوری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ١٨٩٣ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ١٨٩٣ء ہے قریباً گیارہ مہینے باقی رہ گئے ہیں۔ یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالاتر ہیں ایک صادق یا کاذب کی شناخت کیلئے کافی ہیں۔ کیونکہ احیاء اور اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو۔ خدا تعالیٰ اس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا۔ خصوصاً ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہرا دے۔ سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات نہیں جو انسان کے اختیار میں ہوں۔ سو اگر کوئی طالب حق ہے تو ان پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے۔ یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں۔ یعنی ایک مسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وہ پیشگوئی جو مسلمانوں کی قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے اجزاء یہ ہیں۔ (١) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو۔ (٢) اور پھر داماد اس کا جو اس کی دختر کلاں کا شوہر ہے۔ اڑھائی سال کے اندر فوت ہو۔ (٣) اور پھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تا روز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو۔ (٤) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تا نکاح اور تا ایام بیوہ ہونے کے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو۔ (٥) اور پھر یہ کہ یہ عاجز بھی ان تمام واقعات کے پورے ہو جانے تک فوت نہ ہو۔ (٦) اور پھر یہ کہ اس عاجز سے نکاح ہو جاوے اور ظاہر ہے کہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔“
(شہادۃ القرآن ص ٧٩ ، ٨٠۔ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥ ، ٣٧٦)
ان تینوں پیشگوئیوں (یا روحانی حربوں) پر مرزا قادیانی کو ایسا یقین تھا کہ اردو
٢٣
تصنیفات کے علاوہ عربی کتاب میں بھی آپ نے ان کا بڑی چستی اور دلیری سے ذکر کیا۔
(ملاحظہ ہو رسالہ کرامات الصادقین سرورق ص ٤٣، خزائن ج ص )
اب تو پبلک بالکل ان تینوں روحانی حربوں کی زد پر چشم براہ ہوگئی۔ ناظرین کے استحضار مطلب کے لئے ہم ان تینوں کی انتہائی تاریخ لکھتے ہیں۔
مرزا سلطان محمد داماد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری انتہائی تاریخ اٹل (شوہر منکوحہ کی) موت اس کی موت کے بعد ٢١ اگست ١٨٩٤ء مرزا صاحب کا نکاح ڈپٹی عبداللہ آتھم (عیسائی مناظر) ٥ ستمبر ١٨٩٤ء پنڈت لیکھرام آریہ مصنف ٢٠ فروری ١٨٩٩ء
مرزا سلطان محمد تو آج (جون ١٩٢٣ء) تک بھی زندہ ہے اور مرزا قادیانی ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو فوت ہوگئے۔ ڈپٹی آتھم بجائے ٥ ستمبر ١٨٩٤ء کے ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو فوت ہوئے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اُن کے مرنے پر رسالہ ”انجام آتھم“ لکھا جس کے شروع میں لکھا ہے:
”مسٹر عبداللہ آتھم صاحب ٢٧ جولائی ١٨٩٦ء کو بمقام فیروز پور فوت ہوگئے۔“
(انجام آتھم ص ١۔ خزائن ج ١١ ص ١)
اس حساب سے ڈپٹی آتھم اپنی مقررہ میعاد پندرہ ماہ سے متجاوز ہو کر ایک سال پونے گیارہ ماہ تک زیادہ زندہ رہے تو مرزا قادیانی نے اس کے جواب میں فرمایا۔ گو آتھم پندرہ ماہ میں نہیں مرا۔ لیکن مرا تو سہی اس میں کیا حرج ہے۔ میعاد کو مت دیکھو۔ یہ دیکھو کہ مر تو گیا۔ چنانچہ آپ کے اصلی الفاظ یہ ہیں:
”اگر کسی کی نسبت یہ پیشینگوئی ...... کہ وہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہو جائے ...... اور ناک اور تمام اعضاء گر جاویں تو کیا وہ مجاز ہو گا کہ یہ کہے کہ پیشینگوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے ۔“ (حقیقۃ الوحی ص ١٨٥ حاشیہ۔ خزائن ج ٢٢ حاشیہ ص ١٩٣)
اسی کی تائید میں دوسرے مقام پر لکھا ہے:
”ہمارے مخالفوں کو اس میں تو شک نہیں کہ آتھم مر گیا ہے جیسا کہ لیکھرام مر گیا اور جیسا کہ احمد بیگ مر گیا ہے لیکن اپنی بے حیائی سے کہتے ہیں کہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔ اے نالائق قوم جو شخص خدا کی وعید کے موافق مر چکا اب اس کی میعاد غیر میعاد کی بحث کرنا کیا حاجت بھلا دکھاؤ کہ اب وہ کہاں اور کس شہر میں بیٹھا ہے۔“
(سراج منیر ص ٧٠۔ خزائن ج ١٢ ص ٧٢)
٢٤
غرض اس پر فریقین سے کافی تحریرات شائع ہوتی رہیں۔ مفصل بحث بطریق مناظرہ ہمارے رسالہ ”الھامات مرزا“ میں مذکور ہے۔
پہلی پیشگوئی متعلقہ موت مرزا سلطان محمد دراصل تمہید تھی۔ اصل پیشگوئی نکاح منکوحہ کے متعلق تھی اس لئے مسمات مذکورہ کا نکاح ہو گیا تو بھی مرزا صاحب کو مایوسی نہ تھی بلکہ بڑی مضبوطی اور استقلال سے امید کیا یقین کا اظہار کرتے تھے کہ مسمات مذکورہ میرے نکاح میں آوے گی۔ چنانچہ گورداسپور کی ججی میں ایک دیوانی مقدمہ میں مرزا صاحب پر اس کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے جو جواب دیا وہ قادیان کے اخبار الحکم نے شائع کیا تھا‘ ہم بھی اسے نقل کرتے ہیں:
”احمد بیگ کی دختر کی نسبت جو پیشگوئی ہے وہ اشتہار میں درج ہے اور ایک مشہور امر ہے مرزا امام الدین کی ہمشیرہ زادی ہے جو خط بنام مرزا احمد بیگ کلمہ فضل رحمانی میں ہے وہ میرا ہے اور سچ ہے وہ عورت میرے ساتھ بیاہی نہیں گئی مگر میرے ساتھ اس کا بیاہ ضرور ہو گا جیسا کہ پیشگوئی میں درج ہے۔ وہ سلطان محمد سے بیاہی گئی۔ جیسا کہ پیشگوئی میں تھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ اسی عدالت میں جہاں ان باتوں پر جو میری طرف سے نہیں ہیں بلکہ خدا کی طرف سے ہیں ہنسی کی گئی ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ عجیب اثر پڑے گا۔ اور سب کے ندامت میں سر نیچے ہوں گے۔ پیشگوئی کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے اور یہی پیشگوئی تھی کہ وہ دوسرے کے ساتھ بیاہی جاوے گی۔ اس لڑکی کے باپ کے مرنے اور خاوند کے مرنے کی پیشگوئی شرطی تھی اور شرط توبہ اور رجوع الی اللہ کی تھی۔ لڑکی کے باپ نے توبہ نہ کی اس لئے وہ بیاہ کے چند مہینوں کے اندر مر گیا اور پیشگوئی کی دوسری جزو پوری ہو گئی اس کا خوف اس کے خاندان پر پڑا اور خصوصاً شوہر پر پڑا جو پیشگوئی کا ایک جز تھا انہوں نے توبہ کی چنانچہ اس کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے خط بھی آئے اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کو مہلت دی عورت اب تک زندہ ہے میرے نکاح میں وہ عورت ضرور آئے گی۔ امید کیسی یقین کامل ہے۔ یہ خدا کی باتیں ہیں ٹلتی نہیں‘ ہو کر رہیں گی۔“
((اخبار الحکم مورخہ ١٠؍ اگست ١٩٠١ء ۔ کتاب منظور الٰہی ۔ ص ٢٤٥))
رسالہ (انجام آتھم حاشیہ ص ٣١ ۔ خزائن ج ١١ حاشیہ ص ٣١) پر اس نکاح کو تقدیر مبرم (قطعی قضاء الٰہی) لکھا ہے لیکن کتاب ”حقیقۃ الوحی“ میں لکھا ہے:
”یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے‘ یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اُسی وقت شائع کی گئی تھی
٢٥
اور وہ یہ کہ ایتھا المراۃ توبی توبی فان البلاء علی عقبک پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘
(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٢‘ ١٣٣۔ خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)
اس بیان میں نکاح کی بھی امید تھی مگر ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو جب مرزا صاحب انتقال کر گئے تو ساری امیدیں منقطع ہو گئیں۔
نوٹ:۔ اس پیشگوئی کے متعلق हमारा ایک مستقل رسالہ ہے اس کا نام ہے ’’نکاح مرزا‘‘ جس میں مناظرانہ رنگ میں اس نکاح کی مفصل بحث ہے۔
تیسری پیشگوئی پنڈت لیکھ رام کے متعلق تھی جو بہت ہی مختصر ہے اس کے الفاظ یہ تھے: ’’اگر اس شخص (لیکھ رام) پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عتاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔‘‘
(سراج منیر ص ٣۔ خزائن ج ١٢ ص ١٥)
پنڈت لیکھ رام کا واقعہ یوں ہوا کہ ایک نوجوان اس کے پاس آکر یوں گویا ہوا کہ میں ہندو سے مسلمان ہو گیا ہوں اب مجھ کو آریہ بنا لیجئے۔ پنڈت مذکور نے اس سے مانوس ہو کر چند روز تک اس کو اپنے پاس رکھا۔ آخر ٦؍ مارچ ١٨٩٧ء کو قریب شام جب پنڈت لیکھ رام اور وہ مکان میں لیٹے باتیں کر رہے تھے داؤ بچا کر اُس نے پنڈت مذکور کے پیٹ میں چھری چبھادی۔ جس سے پنڈت لیکھ رام فوراً مر گیا اور وہ چپکا سا چلتا بنا‘ اور آج تک نہ پکڑا گیا۔
اب اس واقعہ پر یہ بحث باقی ہے کہ آیا یہ واقعہ کوئی خارق عادت تھا یا روزمرہ کا معمولی یہ ایک مناظرانہ گفتگو ہے جس کے لئے یہ رسالہ موزوں نہیں بلکہ وہی رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ اس کے لائق ہے۔
مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ
جن دنوں مرزا قادیانی نے ڈپٹی عبداللہ آتھم سے مباحثہ کیا تھا۔ انہی دنوں میں مولوی عبدالحق غزنوی مقیم امرتسر سے مباہلہ بھی کیا جس کی تفصیل یہ ہے:
’’مولوی صوفی عبدالحق غزنوی مرزا صاحب کے مقابلہ میں اشتہارات وغیرہ نکالا کرتے تھے۔ بات بڑھتے بڑھتے مباہلہ تک پہنچی جس کو آخر کار فریقین نے منظور کیا۔ اس سارے
٢٦
واقعہ کے بتلانے کے لئے یہاں ایک اشتہار نقل کیا جاتا ہے‘ جو ایام مباحثہ عیسائیان امرتسر میں مولوی عبدالحق مرحوم غزنوی نے شائع کیا تھا وہ درج ذیل ہے:
اطلاع عام برائے اہل اسلام
(از مولوی صوفی عبدالحق غزنوی مباہل مرزا)
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ میں مرزا کے مباہلہ کا مدت سے پیاسا ہوں اور تین برس سے اُس سے یہی درخواست ہے کہ اپنے کفریات پر جو تو نے اپنی کتابوں میں شائع کیے ہیں مجھ سے مباہلہ کر۔ مگر چونکہ خاص کر ان دنوں میں وہ پادریوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے لڑتا ہے تو اس موقع پر میں نے اور ہمارے اور بھائی مسلمانوں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ مرزا سے اس موقع پر مباہلہ یا مباحثہ یا اور کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی جاوے تاکہ وہ پادریوں کے مقابلہ میں کمزور نہ ہو جاوے۔ لہٰذا میں نے یہ خط مسطور الذیل بتاریخ ٧؍ ذیقعدہ ١٣١٠ھ ارسال کیا کہ ہم کو آپ سے مباہلہ بدل و جان منظور ہے۔ مگر تاریخ تبدیل کر دو۔ وہ خط یہ ہے۔
’’بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ مرزا غلام احمد قادیانی۔ السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔ چونکہ آپ آج کل اسلام کی طرف سے مخالفین اسلام کے ساتھ مقابلہ کرتے ہو اور اہل اسلام کی مدد میں ہو۔ لہٰذا اس موقع پر کسی مسلمان کو آپ پر حملہ کرنا یا آپ کے ساتھ مقابلہ یا مباہلہ میں پیش آنا نہایت نامناسب اور بہت ہی خلاف مصلحت معلوم ہوتا ہے ...... اور اس امر کی عقل اور عرف اجازت نہیں دیتی کیونکہ اس میں اسلام اور اہل اسلام کی ذلت اور بدنامی ہے۔ لہٰذا یہ تاریخ مقررہ آپ کی بے موقعہ ہے۔ اس تاریخ کا بدلنا ضروری ہے۔ ہم کو مباہلہ کرنا آپ سے بدل و جان منظور ہے۔ رسالہ موسوم بہ ’’سچائی کا اظہار‘‘ میں آپ لکھتے ہیں کہ عنقریب ایک جلسہ مباحثہ علمائے لاہور سے ١٥؍ جون ١٨٩٣ء تک ہونے والا ہے اس لئے ضرور ہے کہ مباہلہ اس مباحثہ کے بعد ہو جبکہ آپ اسلام کے مقابلہ پر ہوں۔ نیز آپ کا لیکچر اس موقعہ پر ہمیں بالکل منظور نہیں کیونکہ جب آپ اپنی صفائی ظاہر کریں گے تو ہم بھی آپ کی تردید کریں گے۔ پھر تو مباحثہ ہوا نہ مباہلہ‘ یہ بحثوں کے جھگڑے تو ختم ہونے والے نہیں مقام مباہلہ میں فقط فریقین یہی دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ جھوٹے پر لعنت کرے۔ فقط اس کا جواب بدست حاملان رقعہ ہٰذا بھیج دیں۔
راقم عبدالحق غزنوی بقلم خود ۔٧؍ ذیقعدہ ١٣١٠ھ
میرے خط کا جواب جو مرزا صاحب نے بھیجا وہ بھی بعینہٖ نقل کیا جاتا ہے:
٢٧
”بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی ۔ از طرف عاجز عبداللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ وایدہٗ۔ میاں عبدالحق غزنوی کو واضح ہو کہ اب حسب درخواست آپ کے جس میں آپ نے قطعی طور پر مجھ کو کافر اور دجال لکھا ہے مباہلہ کی تاریخ مقرر ہو چکی ہے اور میرے امرتسر میں آنے کے لئے دو ہی غرضیں تھیں۔ ایک عیسائیوں سے مباحثہ اور دوسرے آپ سے مباہلہ۔ میں بعد استخارہ مسنونہ انہیں دو غرضوں کے لئے مع اپنے قبائل کے آیا ہوں اور جماعت کثیر دوستوں کی جو میرے ساتھ کافر ٹھہرائی گئی ہے ساتھ لایا ہوں اور اشتہارات شائع کر چکا ہوں اور مخالِف پر لعنت بھیج چکا ہوں۔ اب جس کا جی چاہے لعنت سے حصہ لے۔ میں تو حسب وعدہ میدان مباہلہ یعنی عید گاہ میں حاضر ہو جاؤں گا۔ خدا تعالیٰ کاذب اور کافر کو ہلاک کرے۔ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُوْلئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا۔“ یہ بھی واضح رہے کہ میں ١٥؍جون ١٨٩٣ء کے مباحثہ میں نہیں جاؤں گا بلکہ میری طرف سے اخویم حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب یا حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب بحث کے لئے جاویں گے۔ ہاں یہ مجھے منظور ہے کہ مقام مباہلہ میں کوئی وعظ نہ کروں۔ صرف یہ دعا ہو گی کہ میں مسلمان اور اللہ رسول کا متبع ہوں۔ اگر میں اس قول میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ میرے پر لعنت کرے۔ اور آپ کی طرف سے یہ دعا ہو گی کہ یہ شخص در حقیقت کافر اور کذاب اور دجال اور مفتری ہے اور اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ میرے پر لعنت کرے۔ اور اگر یہ الفاظ میری دعا کے آپ کی نظر میں ناکافی ہوں جو آپ تقویٰ کی راہ سے لکھیں کہ دعا کے وقت یہ کہا جائے وہی لکھ دوں گا مگر اب ہر گز تاریخ مباہلہ تبدیل نہیں ہو گی۔ لعنة الله على من تخلف منا وما حضر في ذالك التاريخ واليوم والوقت والسلام على عباده الذين اصطفى۔
خاکسار غلام احمد از امرتسر (ہفتم ذی قعدہ۔ ١٣١٠ھ)
غرض یہ ہے کہ اب میں بری الذمہ ہو گیا ہوں اور مجھ پر کسی قسم کی ملامت نہیں کیونکہ میں نے تاریخ کا بدلنا تو اس سبب سے چاہا تھا کہ اگرچہ میں اور دیگر مسلمان مرزا کو کیسا ہی گمراہ سمجھیں مگر جب وہ اسلام کی طرف سے لڑتا ہے تو ہم سب کو بجائے بددعا کے دعا اور مدد دینی چاہئے مگر مرزا نے وہ تاریخ یعنی دہم ذیقعدہ نہیں بدلی۔ اب میں بھی اس وقت معینہ پر کہ دہم ذی قعدہ ١٣١٠ھ بوقت دو بجے دن کے اپنا حاضر ہونا مباہلہ کے واسطے مقام مباہلہ میں فرض سمجھتا ہوں اور وہاں جا کر لیکچر یا وعظ یا اظہار صفائی طرفین سے مطلق نہ ہو گا جیسا کہ اس نے اپنے خط میں وعدہ کر لیا ہے کہ مقام مباہلہ میں کوئی وعظ نہ کروں گا۔‘‘
٢٨
مقام عید گاہ میں مباہلہ اس طریق پر بدیں الفاظ ہوگا: ”میں یعنی عبدالحق ٣ بار بآواز بلند کہوں گا کہ ’یا اللہ میں مرزا کو ضال‘ مضل‘ ملحد‘ دجال‘ مفتری‘ محرف کلام اللہ تعالیٰ و احادیث رسول اللہ سمجھتا ہوں۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔‘ مرزا تین دفعہ بآواز بلند کہے ۔ ’یا اللہ اگر میں ضال و مضل وملحد و دجال وکذاب و مفتری و محرف کتاب اللہ واحادیث رسول اللہ ﷺ ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تو نے آج تک نہ کی ہو۔“
بعدہٗ رو بقبلہ ہو کر دیر تک ابتہال و عاجزی کریں گے کہ یا اللہ جھوٹے کو اور رسوا کر اور سب حاضرین مجلس آمین کہیں گے۔
المشتہر :۔ عبدالحق غزنوی از امرتسر پنجاب۔ مورخہ ٨؍ ذیقعدہ ١٣١٠ھ مطابق جون ١٨٩١ء
اس اشتہار کے مطابق عیدگاہ امرتسر میں دونوں صاحبوں کا مباہلہ ہوا اور دونوں فریق امن وامان سے واپس آگئے۔
نتیجہ :۔ اس مباہلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس سے ایک سال تین ماہ بعد جب ڈپٹی آتھم والی پیشینگوئی کی میعاد پوری ہو گئی اور آتھم کی وفات نہ ہوئی اور چاروں طرف سے مرزا صاحب پر بھرمار ہوئی تو مولوی عبدالحق غزنوی نے ایک اشتہار دیا۔ جس کا عنوان تھا ”اثر مباہلہ عبدالحق غزنوی بر غلام احمد قادیانی“۔ اس اشتہار میں غزنوی مباہل نے مرزا صاحب کی ناکامی اور بدنامی اور رسوائی کو اپنے مباہلہ کا نتیجہ قرار دیا اور سند میں مرزا صاحب کے ایک رسالہ ”حجۃ الاسلام“ کا حوالہ دیا جس میں مرزا صاحب نے عیسائیوں کے جواب میں لکھا تھا:
”میری سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو اور اگر نشان ظاہر نہ ہو تو پھر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں۔“
(حجۃ الاسلام ص ٩۔ خزائن ج ٦ ص ٤٩)
مرزا صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ غلط ہے کہ میرا نشان ظاہر نہیں ہوا بلکہ میرے کئی ایک نشان ظاہر ہوئے مباہلہ کے بعد میری ترقی ہوئی‘ مریدین زیادہ ہوئے امداد نقدی زیادہ آئی وغیرہ۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٢٤٠۔ خزائن ج ٢٢ ص ٢٥٢)
آخری نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب اپنے مباہل کی موجودگی میں ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤؍ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کو فوت ہو گئے اور مولوی عبدالحق غزنوی مرزا صاحب سے کئی سال بعد
٢٥
٢٣ رجب ١٣٣٥ھ مطابق ١٦ مئی ١٩١٧ء کو یعنی پورے ٩ سال بعد فوت ہوئے۔
مولانا شمس العلماء سید محمد نذیر حسین صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ
پہلے لکھا گیا ہے کہ سب سے اول مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مرزا صاحب کی مخالفت پر کمر باندھ لی۔ مگر مرزا صاحب نے دیکھا کہ مولوی محمد حسین صاحب گو بڑے نامور علماء میں سے ہیں۔ لیکن ان سے بھی اوپر جو ہے اس سے ٹاکرہ کرنا چاہئے چنانچہ آپ دہلی تشریف لے گئے اور وہاں جا کر مولانا سید محمد نذیر حسین (المعروف حضرت میاں صاحب) کو جو تمام ہندوستان میں کیا بحیثیت علمی وجاہت اور کیا بلحاظ عمر سب سے بڑے تھے مخاطب کر کے چند اشتہار دیئے جن میں سے ایک درج ذیل ہے:
اشتہار بمقابلہ مولوی سید نذیر حسین صاحب
سرگروہ اہلحدیث
مشتہرہ مرزا صاحب:
”چونکہ مولوی سید نذیر حسین صاحب نے جو کہ موحدین کے سرگروہ ہیں اس عاجز کو بوجہ اعتقاد وفات مسیح ابن مریم ملحد قرار دیا ہے اور عوام کو سخت شکوک و شبہات میں ڈالنا چاہا ہے اور حق یہ ہے کہ وہ آپ ہی اعتقاد حیات مسیح میں قرآن کریم اور احادیث نبویہ کو چھوڑ بیٹھے ہیں اول اہلحدیث کا دعویٰ کر کے اپنے بھائیوں حنفیوں ؎١ کو بدعتی قرار دیا اور امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر یہ الزام لگایا کہ ان کو حدیثیں نہیں ملی تھیں اور وہ اکثر احادیث نبویہ سے بے خبر ہی رہے تھے اور اب باوجود دعویٰ اتباع قرآن اور حدیث کے حضرت مسیح ابن مریم کی حیات کے قائل ہیں۔ وہٰذا العجب العجاب اگر کوئی عوام میں سے ایسا کچا، اور خلاف قال اللہ قال الرسول دعویٰ کرتا تو کچھ افسوس کی جگہ نہیں تھی لیکن یہی لوگ جو دن رات درس قرآن اور حدیث جاری رکھتے ہیں اگر ایسا بے اصل دعویٰ کریں تو ان کی علمیت اور قرآن دانی اور حدیث دانی پر سخت افسوس آتا ہے یہ بات کسی تنفس پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی کہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ فی الواقع حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاچکے ہیں مگر جن لوگوں کو عاقبت کا اندیشہ نہیں۔ خدا تعالیٰ کا خوف نہیں وہ تعصب کو مضبوط پکڑ کر قرآن اور حدیث کو پس پشت ڈالتے ہیں خدا تعالیٰ اس اُمّت پر
؎١ حنفیوں کو بھڑکانے کی اچھی تجویز نکالی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ (مصنف)
٣٠
رحم کرے لوگوں نے کیسے قرآن اور حدیث کو چھوڑ دیا ہے اور اس عاجز نے اشتہار ٢ / اکتوبر ١٨٩١ء میں حضرت مولوی ابو محمد عبد الحق صاحب کا نام بھی درج کیا تھا مگر عندالملاقات اور باہم گفتگو کرنے سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب موصوف ایک گوشہ گزین آدمی ہیں اور ایسے جلسوں سے جن میں عوام کے نفاق و شقاق کا اندیشہ ہے طبعاً کارہ ہیں اور اپنے کام تفسیر قرآن کریم میں مشغول ہیں اور شرائط اشتہار کے پورے کرنے سے مجبور ہیں کیونکہ گوشہ گزین ہیں۔ حکام سے میل ملاقات نہیں رکھتے اور بباعث درویشانہ صفت کے ایسی ملاقاتوں سے کراہیت بھی رکھتے ہیں لیکن مولوی نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگرد بٹالوی صاحب جواب دہی میں موجود ہیں ان کاموں میں اول درجہ کا جوش رکھتے ہیں۔ لہذا اشتہار دیا جاتا ہے کہ اگر ہر دو مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح ابن مریم کو زندہ سمجھنے میں حق پر ہیں اور قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے اس کی زندگی ثابت کر سکتے ہیں تو میرے ساتھ بہ پابندی شرائط مندرجہ اشتہار ٢ / اکتوبر ١٨٩١ء بالاتفاق بحث کر لیں اور اگر انہوں نے بقول شرائط اشتہار ٢ / اکتوبر ١٨٩١ء بحث کے لئے مستعدی ظاہر نہ کی اور پوچ اور بے اصل بہانوں سے ٹال دیا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کی وفات کو قبول کر لیا۔ بحث میں امر تنقیح طلب یہ ہوگا کہ آیا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہی مسیح ابن مریم جس کو انجیل ملی تھی اب تک آسمان پر زندہ ہے اور آخری زمانے میں آئے گا یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت فوت ہو چکا ہے اور اس کے نام پر کوئی دوسرا اسی امت میں سے آئے گا اگر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ مسیح ابن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر موجود ہے تو یہ عاجز دوسرے دعوے سے خود دست بردار ہو جائے گا ورنہ بحالت ثانی بعد اس اقرار کے لکھانے کے در حقیقت اسی امت میں سے مسیح ابن مریم کے نام پر کوئی اور آنے والا ہے یہ عاجز اپنے مسیح موعود ہونے کا ثبوت دے گا۔ اور اگر اس اشتہار کا جواب ایک ہفتہ تک مولوی صاحب کی طرف سے شائع نہ ہوا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے گریز کی اور حق کے طالب علموں کو محض نصیحتاً کہا جاتا ہے کہ میری کتاب ازالۃ اوہام کو خود غور سے دیکھیں اور ان مولوی صاحبوں کی باتوں پر نہ جاویں۔ ساٹھ جزو کی کتاب ہے اور یقیناً سمجھو کہ معارف اور دلائل یقینیہ کا اس میں ایک دریا بہتا ہے۔ صرف سے ٣ روپے قیمت ہے۔ اور واضح ہو کہ درخواست مولوی سید نذیر حسین صاحب کی کہ مسیح موعود ہونے کا ثبوت دینا چاہئے اور اس میں بحث ہونی چاہئے بالکل تحکم اور خلاف طریق انصاف اور حق جوئی ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ مسیح موعود ہونے کا اثبات آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ہوگا اور آسمانی نشانوں کو بجز اس کے کون مان سکتا ہے کہ اول اس شخص کی نسبت جو کوئی آسمانی نشان
٣١
دکھاوے۔ یہ اطمینان ہو جاوے کہ وہ خلاف ”قال اللہ وقال الرسول“ کوئی اعتقاد نہیں رکھتا ورنہ ایسے شخص کی نسبت جو مخالف قرآن اور حدیث کوئی اعتقاد رکھتا ہے ولایت کا گمان ہرگز نہیں کر سکتے بلکہ وہ دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے اور اگر وہ کوئی نشان بھی دکھاوے تو وہ نشان کرامت متصور نہیں ہوتا بلکہ اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔ چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بھی اپنے لمبے اشتہار میں جو لدھیانہ میں چھپوایا تھا اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ سب سے پہلے بحث کے لائق وہی امر ہے جس سے یہ ثابت ہو جاوے کہ قرآن اور حدیث اس دعویٰ کے مخالف ہیں اور وہ امر مسیح ابن مریم کی وفات کا مسئلہ ہے کیونکہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر درحقیقت قرآن حکیم اور احادیث صحیحہ کی رُو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ہی ثابت ہوتی تو اس صورت میں پھر اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعوے پر ایک نشان کیا بلکہ لاکھ نشان بھی دکھا دے تب بھی وہ نشان قبول کرنے کے لائق نہیں ہوں گے۔ کیونکہ قرآن ان کے مخالف شہادت دیتا ہے غایت کار وہ استدراج سمجھے جاویں گے لہٰذا سب سے اول بحث جو ضروری ہے مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات کی بحث ہے جس کا طے ہو جانا ضروری ہے کیونکہ مخالف قرآن و حدیث کے نشانوں کا ماننا مومن کا کام نہیں۔ ہاں ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن اور حدیث سے کچھ غرض نہیں رکھتے۔ فاتقوا اللہ ایہا العلماء و السلام علی من اتبع الھدٰی۔ المشتہر:۔ مرزا غلام احمد از دہلی بازار بلیماراں۔ کوٹھی نواب لوہارو۔ ٦؍ اکتوبر ١٨٩١ء
(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ٢٣٧ تا ٢٤٠)
نتیجہ:۔ اس چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت میاں صاحب مرحوم (مولانا نذیر حسین) کے شاگرد جو بڑے بڑے نامور علماء تھے دہلی میں جمع ہو گئے۔ پنجاب سے مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ پہنچ بھی چکے تھے۔ بھوپال سے مولوی محمد بشیر صاحب مرحوم بھی پہنچ گئے اور اچھا خاصہ ایک مجمع علماء بن گیا۔ جامع مسجد میں مقابلہ کی ٹھہری مگر مرزا صاحب نے اس میں خیریت اور مصلحت نہ دیکھی۔ اس لئے علیحدہ مکان پر گفتگو ہونی قرار پائی۔ چونکہ مرزا صاحب اپنا اختلافی مسئلہ صرف حیات وفات مسیح کو کہتے تھے اس لئے یہی مسئلہ زیر بحث آیا۔ مولوی محمد بشیر صاحب حیات مسیح کے مدعی بنے اور آپ نے آیت ”اِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ“ سے استدلال کیا یہ مباحثہ رسالہ کی صورت میں انہی دنوں چھپا تھا جس کا نام ہے ”الحق الصریح فی اثبات حیوۃ المسیح“ اس مباحثہ کی مجمل کیفیت اسی رسالہ میں یوں مرقوم ہے: جناب مولوی محمد بشیر صاحب مناظر خود فرماتے ہیں:
٣٢
اما بعد! یہ کیفیت ہے اُس مناظرہ کی جو میرے اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مدعی مسیحیت کے درمیان میں بمقام دہلی واقع ہوا۔ مرزا صاحب نے دہلی میں آ کر دو اشتہار ایک مطبوعہ دوم اکتوبر ١٨٩١ء دوسرا مطبوعہ ششم اکتوبر سنہ صدر بمقابلہ جناب مولانا سید نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مدظلہم العالی کے شائع کئے اور طالب مناظرہ ہوئے وہ دونوں اشتہار خاکسار کے بھی دیکھنے میں آئے خاکسار نے محض بنظر نصرت دین وسنت وازالہ الحاد و بدعت قصد مناظرہ مصمم کر کے جواب اشتہار مرزا صاحب کے پاس بوساطت جناب حاجی محمد محمد صاحب دہلوی کے بھیجا اور اس جواب میں مرزا صاحب کے سب شروط کو تسلیم کر کے صرف شرط ثالث میں قدرے ترمیم چاہی۔ مرزا صاحب نے بھی اس ترمیم کو قبول کیا۔ بعد ترمیم کے یہ تین شرطیں قرار پائیں۔ اول یہ کہ امن قائم رہنے کے لئے سرکاری انتظام ہو۔ دوسرے یہ کہ فریقین کی بحث تحریری ہو۔ ہر ایک فریق مجلس بحث میں سوال لکھ کر اور اُس پر اپنے دستخط کر کے پیش کرے اور ایسا ہی فریق ثانی جواب لکھ کر دے۔ تیسرے یہ کہ اول بحث حیات مسیح علیہ السلام میں ہو۔ اگر حیات ثابت ہو جاوے تو مرزا صاحب مسیح موعود ہونے کا دعویٰ خود چھوڑ دیں گے اور اگر وفات ثابت ہو تو مرزا صاحب کا مسیح موعود ہونا ثابت نہ ہوگا پھر حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول اور مرزا صاحب کے مسیح موعود ہونے میں بحث کی جاوے گی اور جو شخص طرفین میں سے ترک بحث کرے اس کا گریز سمجھا جاوے گا جب تصفیہ شروط کا ہو گیا تو جناب حاجی محمد احمد صاحب نے حسب ایماء مرزا صاحب کے خاکسار کو طلب کیا۔ چنانچہ شب شانزدہم ربیع اول ١٣٠٩ھ کو میں بھوپال سے روانہ ہو کر روز سہ شنبہ تاریخ شانزدہم ماہ مذکور قریب نواخت چہار ساعت کے دہلی میں داخل ہوا اور مرزا صاحب کو اطلاع اپنے آنے کی دی تو مرزا صاحب نے مختلف رقعوں کے ذریعہ سے شروط میں تبدیل ذیل فرمائی کہ حیات مسیح علیہ السلام کا ثبوت آپ کو دینا ہوگا۔ بحث اس عاجز کے مکان پر ہو۔ جلسہ عام نہیں ہوگا۔ صرف دس آدمی تک جو معزز خاص ہوں آپ ساتھ لا سکتے ہیں مگر شیخ بٹالوی (یعنی مولوی محمد حسین صاحب) اور مولوی عبدالمجید ساتھ نہ ہوں۔ پرچوں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہ ہو اور پہلا پرچہ آپ کا ہو۔ اِتنی ان شروط کا قبول کرنا نہ تو خاکسار پر لازم تھا اور نہ میرے احباب کی رائے ان کے تسلیم کرنے کی تھی مگر محض اس خیال سے کہ مرزا صاحب کو کوئی حیلہ مناظرہ سے گریز کا نہ ملے۔ یہ سب باتیں منظور کی گئیں بعد اس کے تاریخ نوزدہم ربیع الاول روز جمعہ بعد نماز جمعہ مناظرہ شروع ہوا خاکسار نے ان کے مکان پر جا کر مجلس بحث میں پانچ ادلہ حیات مسیح کے لکھ کر حاضرین کو سُنا دیئے اور دستخط اپنے کر کے مرزا صاحب کو دے دیئے۔ مرزا صاحب نے مجلس بحث
٣٤
میں جواب لکھنے سے عذر کیا۔ ہر چند جناب حاجی محمد احمد صاحب وغیرہ نے ان کو الزام نقض عہد و مخالفت شروط کا دیا مگر مرزا صاحب نے نہ مانا اور یہ کہا کہ میں جواب لکھ رکھوں گا آپ لوگ کل دس بجے آئیے ۔ ہم لوگ دوسرے روز دس بجے گئے۔
مرزا صاحب مکان کے اندر تھے اطلاع دی گئی تو مرزا صاحب باہر نہ آئے اور کہلا بھیجا کہ ابھی جواب تیار نہیں ہوا۔ جس وقت تیار ہوگا آپ کو بلا لیا جائے گا ۔ پھر غالباً دو بجے کے بعد ہم لوگوں کو بلا کر جواب سنایا اور یہ کہا کہ اب مجلس بحث میں جواب لکھنے کی ضرورت نہیں آپ مکان پر لے جاویں۔ چنانچہ میں اس تحریر کو مکان پر لے آیا۔ اسی طرح ٦ روز تک سلسلہ مباحثہ جاری رہا۔ چھٹے روز کہ تین پرچے میرے ہو چکے تھے اور تین پرچے مرزا صاحب کے۔ مرزا صاحب نے پہلی ہی بحث کو ناتمام چھوڑ کر مباحثہ قطع کیا اور یہ ظاہر کیا کہ اب مجھے زیادہ قیام کی گنجائش نہیں ہے اور زبانی فرمایا کہ میرے خسر بیمار ہیں اس وقت ایک مضمون جو پہلے سے بنظر احتیاط لکھ رہا تھا اور وہ متضمن تھا اس امر پر کہ مرزا صاحب کی جانب سے نقض عہد و مخالفت ہوئی مرزا صاحب کی موجودگی میں سب حاضرین جلسہ کو سنا دیا گیا ۔ حاضرین جلسہ مرزا صاحب کو الزام دیتے تھے مگر مرزا صاحب نے ایک نہ سنی ۔ اسی روز تہیہ سفر کر کے شب کو دہلی سے تشریف لے گئے ۔ مرزا صاحب کے یہ افعال اول دلیل ہیں اس پر کہ ان کے پاس اصل مسئلہ یعنی ان کے مسیح موعود ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ اصل بحث کے لئے دوسدّیں انہوں نے بنا رکھی ہیں ۔ ایک بحث حیات و وفات عیسیٰ علیہ السلام ۔ دوسرے نزولِ عیسیٰ علیہ السلام ۔ جب دیکھا کہ ایک سدّ جو ان کے زعم میں بڑی راسخ تھی ٹوٹنے کے قریب ہے۔ اس کے بعد دوسری سدّ کی جو ضعیف ہے نوبت پہنچے گی ۔ پھر اصل قلعہ پر حملہ ہوگا وہاں کچھ ہے ہی نہیں تو قلعی کھل جاوے گی اس لئے فرار مناسب سمجھا۔ بعد ا نقطاع مباحثہ اور چلے جانے مرزا صاحب کے احقر دو روز دہلی میں متوقف رہ کر روز شنبہ کو ڈاک گاڑی میں روانہ بھوپال ہوا ۔‘‘
(رسالہ الحق الصریح ص٢)
پیر مہر علی شاہ صاحب :۔ ایک وقت مرزا صاحب کی توجہ پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی کی طرف ہوگئی ۔ فریقین نے اس مضمون پر کتابیں لکھیں آخر مرزا صاحب نے بذریعہ اشتہار اُن کو للکارا کہ:
”میرے مقابل سات گھنٹہ زانو بزانو بیٹھ کر چالیس آیاتِ قرآنی کی عربی میں تفسیر لکھیں جو بتقطیع کلاں بیس ورق سے کم نہ ہو۔ پھر جس کی تفسیر عمدہ ہوگی وہ مؤید من اللہ سمجھا جاوے گا لیکن اس مقابلہ کے لئے پیر (مہر علی شاہ صاحب) موصوف کی شمولیت یا ان کی طرف سے
٣٤
چالیس علماء کا پیش کردہ مجمع ضروری ہے اس سے کم ہوں گے تو مقابلہ نہ ہو گا۔“
(٢٠ جولائی ١٩٠٠ء۔ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٧٣ تا ٧٧۔ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٢٨‘ ٣٢٩‘ ٣٣٢)
اس دعوت کے مطابق پیر گولڑہ صاحب بغرض مقابلہ اگست ١٩٠٠ء بمقام لاہور پہنچ گئے لیکن پیر صاحب نے چالیس علماء کی شرط کو فضول سمجھا اور مقابلہ تفسیر نویسی کے لئے بذات خود پیش ہوئے مگر مرزا صاحب تشریف نہ لائے بلکہ قادیان سے ایک اشتہار بھیج دیا کہ پیر صاحب گولڑہ مقابلہ سے بھاگ گئے۔
عجیب نظارہ:۔ جس روز پیر صاحب گولڑہ لاہور میں آئے بغرض امداد حق اردگرد سے علماء اور غیر علماء بھی وارد لاہور ہوئے تھے۔ مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور خاکسار وغیرہ بھی شریک تھے۔ قرار پایا تھا کہ جامع مسجد لاہور میں صبح کے وقت جلسہ ہوگا۔ پیر صاحب مع شائقین مسجد موصوف کو جا رہے تھے۔ راستے میں بڑے بڑے موٹے حرفوں میں لکھے ہوئے اشتہار دیواروں پر چسپاں تھے جن کی سُرخی یوں تھی:
”پیر مہر علی کا فرار“
جو لوگ پیر صاحب کو لاہور میں دیکھ کر یہ اشتہار پڑھتے وہ بزبان حال کہتے
......☆......
سہ سالہ میعادی پیشینگوئی
مرزا صاحب نے اپنے مخالفوں کا رُخ پھیرنے کو ایک اشتہار دیا جس میں لکھا کہ ١٩٠٠ء سے ١٩٠٢ء کی سہ سالہ میعاد میں میرے لئے فیصلہ کن نشان ظاہر نہ ہوا تو میں جھوٹا سمجھا جاؤں۔
اس اشتہار کا عنوان یہ ہے:
”اس عاجز غلام احمد قادیانی کی آسمانی گواہی طلب کرنے کے لئے ایک دُعا اور حضرت عزت سے اپنی نسبت آسمانی فیصلہ کی درخواست“
”مجھے تیری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے تیرا فیصلہ منظور ہے پس اگر تو تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جاویں گے۔ میری تائید میں
٣٥
چالیس علماء کا پیش کردہ مجمع ضروری ہے اس سے کم ہوں گے تو مقابلہ نہ ہو گا۔“
(٢٠ جولائی ١٩٠٠ء۔ تبلیغ رسالت ج ٩ ص ٧٣ تا ٧٧۔ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٢٨‘ ٣٢٩‘ ٣٣٢)
اس دعوت کے مطابق پیر گولڑہ صاحب بغرض مقابلہ اگست ١٩٠٠ء بمقام لاہور پہنچ گئے لیکن پیر صاحب نے چالیس علماء کی شرط کو فضول سمجھا اور مقابلہ تفسیر نویسی کے لئے بذات خود پیش ہوئے مگر مرزا صاحب تشریف نہ لائے بلکہ قادیان سے ایک اشتہار بھیج دیا کہ پیر صاحب گولڑہ مقابلہ سے بھاگ گئے۔
عجیب نظارہ:۔ جس روز پیر صاحب گولڑہ لاہور میں آئے بغرض امداد حق اردگرد سے علماء اور غیر علماء بھی وارد لاہور ہوئے تھے۔ مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی اور خاکسار وغیرہ بھی شریک تھے۔ قرار پایا تھا کہ جامع مسجد لاہور میں صبح کے وقت جلسہ ہوگا۔ پیر صاحب مع شائقین مسجد موصوف کو جا رہے تھے۔ راستے میں بڑے بڑے موٹے حرفوں میں لکھے ہوئے اشتہار دیواروں پر چسپاں تھے جن کی سُرخی یوں تھی:
”پیر مہر علی کا فرار“
جو لوگ پیر صاحب کو لاہور میں دیکھ کر یہ اشتہار پڑھتے وہ بزبان حال کہتے
......☆......
سہ سالہ میعادی پیشینگوئی
مرزا صاحب نے اپنے مخالفوں کا رُخ پھیرنے کو ایک اشتہار دیا جس میں لکھا کہ ١٩٠٠ء سے ١٩٠٢ء کی سہ سالہ میعاد میں میرے لئے فیصلہ کن نشان ظاہر نہ ہوا تو میں جھوٹا سمجھا جاؤں۔
اس اشتہار کا عنوان یہ ہے:
”اس عاجز غلام احمد قادیانی کی آسمانی گواہی طلب کرنے کے لئے ایک دُعا اور حضرت عزت سے اپنی نسبت آسمانی فیصلہ کی درخواست“
”مجھے تیری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے تیرا فیصلہ منظور ہے پس اگر تو تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جاویں گے۔ میری تائید میں
٣٥
اور میری تصدیق میں کوئی آسمانی نشان نہ دکھلاوے اور اس بندہ کو ان لوگوں کی طرح رَد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا۔ اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھ لوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں...... اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیا گیا ہے کافر اور کاذب نہیں ہوں تو ان تین سالوں میں جو آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جاویں گے کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو...... میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعاء قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔ اگر میں تیرا مقبول ہوں تو میرے لئے آسمان سے ان تین برسوں کے اندر گواہی دے تا ملک میں امن اور صلح کاری پھیلے اور تا لوگ یقین کریں کہ تو موجود ہے اور دعاؤں کو سنتا اور ان کی طرف جو تیری طرف جھکتے ہیں، جھکتا ہے۔ اب تیری طرف اور تیرے فیصلہ کی طرف ہر روز میری آنکھ رہے گی جب تک آسمان سے تیری نصرت نازل ہو اور میں کسی مخالف کو اس اشتہار میں مخاطب نہیں کرتا اور نہ اُن کو کسی مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں۔ یہ میری دعا تیری ہی جناب میں ہے کیونکہ تیری نظر سے کوئی صادق یا کاذب غائب نہیں ہے۔ میری روح گواہی دیتی ہے کہ تو صادق کو ضائع نہیں کرتا اور کاذب تیری جناب میں کبھی عزت نہیں پاسکتا اور وہ جو کہتے ہیں کہ کاذب بھی نبیوں کی طرح تحدّی کرتے ہیں اور ان کی تائید اور نصرت بھی ایسی ہی ہوتی ہے جیسا کہ راست باز نبیوں کی وہ جھوٹے ہیں اور چاہتے ہیں کہ نبوت کے سلسلہ کو مشتبہ کر دیں بلکہ تیرا قہر تلوار کی طرح مفتری پر پڑتا ہے اور تیرے غضب کی بجلی کذاب کو بھسم کر دیتی ہے مگر صادق تیرے حضور میں زندگی اور عزت پاتے ہیں۔ تیری نصرت اور تائید اور تیرا فضل اور رحمت ہمیشہ ہمارے شاملِ حال رہے۔ آمین ثم آمین۔ المشتہر : ۔ مرزا غلام احمد از قادیان ٥؍نومبر ١٨٩٩ء
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٧ تا ١٧٩)
اس اعلان کے مطابق سارا ملک منتظر تھا۔ مگر نتیجہ وہی برآمد ہوا جو اس شعر میں ہے۔
اب ہے یہ آرزو کہ کبھی آرزو نہ ہو
٣٦
دعویٰ نبوت
ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ مرزا صاحب کے مخالف ابتداء ہی سے بدگمان تھے کہ آپ نبوت کے مدعی ہوں گے۔ چنانچہ وہی ہوا کہ مرزا صاحب نے دبی زبان سے دعویٰ نبوت کیا۔ آپ کے مریدوں پر مخالفین نے اعتراضات کرنے شروع کئے اور وہ اپنی پہلی اسلامی تعلیم کے اثر سے انکار کرنے لگے تو مرزا صاحب نے ایک اشتہار دیا جس کا نام ہے ”ایک غلطی کا ازالہ“ جو درج ذیل ہے:
”ایک غلطی کا ازالہ“
مشتہرہ مرزا صاحب
”ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعویٰ اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں۔ جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ میں دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ۔ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الٰہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی ہیں ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے۔ ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ (دیکھو صفحہ ٤٩٨ براہین احمدیہ ) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جری اللہ فی حلل الانبیاء یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلول میں دیکھو براہین صفحہ ٥٠٤۔ پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے۔
٣٧٤
محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمدؐ رکھا گیا اور رسول بھی۔ پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ ٥٥٧ براہین میں درج ہے۔ ’’دنیا میں ایک نذیر آیا اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا۔ سو اگر یہ کہا جائے کہ آنحضرت ﷺ تو خاتم النبیین ہیں۔ پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آ سکتا ہے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ بےشک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پُرانا نہیں آسکتا۔ جس طرح سے آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آخری زمانے میں اُتارتے ہیں‘ اور پھر اس حالت میں اُن کو نبی بھی مانتے ہیں بلکہ چالیس برس تک سلسلۂ وحی نبوت کا جاری رہنا اور زمانہ آنحضرت ﷺ سے بھی بڑھ جانا آپ لوگوں کا عقیدہ ہے بےشک ایسا عقیدہ تو معصیت ہے اور آیت ولكن رسول الله وخاتم النبيين اور حدیث لا نبي بعدي اس عقیدہ کے کذب صریح ہونے پر کامل شہادت ہے لیکن ہم اس قسم کے عقائد کے سخت مخالف ہیں اور ہم اس آیت پر سچا اور کامل ایمان رکھتے ہیں جو فرمایا ولكن رسول الله وخاتم النبيين اور اس آیت میں ایک پیشگوئی ہے جس کی ہمارے مخالفوں کو خبر نہیں اور وہ یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد پیشگوئیوں کے دروازے قیامت تک بند کر دیئے گئے اور ممکن نہیں کہ اب کوئی ہندو یا یہودی یا عیسائی یا کوئی رسمی مسلمان نبی کے لفظ کو اپنی نسبت ثابت کر سکے۔ نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑکی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنا فی الرسول کی‘ پس جو شخص اس کھڑکی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر ظِلّی طور پر وہی نبوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں‘ کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ اپنے نبی کے چشمہ سے لیتا ہے اور نہ اپنے لئے بلکہ اس کے جلال کے لئے اس لئے اس کا نام آسمان پر محمد اور احمد ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ محمد کی نبوت آخر محمد کو ہی ملی گو بروزی طور پر مگر نہ کسی اور کو۔ پس یہ آیت کہ ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ: ليس محمد ابا احد من رجال الدنيا ولكن هو اب لرجال الآخرة لانه خاتم النبيين ولا سبيل الى فيوض الله من غير توسطه غرض میری نبوت اور رسالت باعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے روح سے۔ اور یہ نام بہ حیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا۔ لہٰذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔ لیکن عیسیٰ کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا...... اور جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے‘ صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا
نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں مگر ان معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مقتدیٰ سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لئے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے رسول اور نبی ہوں۔ مگر بغیر کسی جدید شریعت کے اس طور کا نبی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ بلکہ انہی معنوں سے خدا نے مجھے نبی اور رسول کر کے پکارا ہے۔ سو اب بھی میں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا...... اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلی طور پر محمد ہوں ﷺ۔ پس اس طور سے خاتم النبیین کی مہر نہیں ٹوٹی۔ کیونکہ محمد ﷺ کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔ یعنی بہر حال محمد ﷺ ہی نبی رہے نہ اور کوئی۔ یعنی جبکہ میں بروزی طور پر آنحضرت ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی معہ نبوت محمدیہ کے میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں تو پھر کونسا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوت کا دعویٰ کیا...... غرض خاتم النبیین کا لفظ ایک الٰہی مہر ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پر لگ گئی ہے اب ممکن نہیں کہ کبھی مہر ٹوٹ جائے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجاویں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں اور یہ بروز خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: و اخرین منھم لما یلحقوا بھم اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے...... پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے کہ دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ (خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان۔ ٥ نومبر ١٩٠١ء)
(ایک غلطی کا ازالہ ص ٢ تا ١٢۔ خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦ تا ٢١٢۔ مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣١ تا ٤٣٢)
اس اشتہار میں مرزا صاحب نے نبوت کی دو قسمیں کی ہیں۔ ایک بلا واسطہ۔ دوم بالواسطہ۔ اور اپنے لئے فرمایا کہ میں بواسطہ نبوت محمدیہ نبی ہوں۔ مطلب یہ کہ میری نبوت کا ذریعہ پہلے نبیوں کے ذریعہ سے الگ ہے۔ مگر مقصود میں سب برابر ہیں چنانچہ اسی مضمون کو دوسری جگہ
٣٩
یوں فرماتے ہیں:
”ایک اور نادانی یہ ہے کہ (میرے مخالف) جاہل لوگوں کو بھڑکانے کے لئے کہتے ہیں کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے حالانکہ یہ ان کا سراسر افتراء ہے بلکہ جس نبوت کا دعویٰ کرنا قرآن شریف کی رُو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں اُمّتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرت ﷺ کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ ومخاطبہ پاتا ہوں۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٩٠۔ خزائن ج ٢٢ ص ٤٠٦)
اس قسم کے بہت سے حوالجات ہیں جن میں مرزا صاحب نے نبوت کا صاف صاف دعویٰ کیا ہے مگر بواسطہ نبوت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ لیکن بعد حصولِ نبوت دوسرے نبیوں سے کسی طرح کم نہیں۔
ڈاکٹر عبدالحکیم خانصاحب پٹیالوی
ڈاکٹر صاحب موصوف عرصہ بیس سال تک مرزا صاحب کے مرید رہے آخر اُن سے علیحدہ ہوئے اور مرزا صاحب کے برخلاف قدم اٹھایا بلکہ دعویٰ الہام سے بھی مقابلہ کی ٹھہری۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اپنا آخری الہام مرزا صاحب کی موت کے متعلق شائع کیا۔ جس کا ذکر مرزا صاحب نے مع جواب خود ان لفظوں میں کیا ہے جو درج ذیل ہیں:
”ایسا ہی کئی اور دشمن مسلمانوں میں سے میرے مقابل پر کھڑے ہو کر ہلاک ہوئے اور اُن کا نام ونشان نہ رہا۔ ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ١٤؍ اگست ١٩٠٨ء تک ہلاک ہو جاؤں گا اور یہ اس کی سچائی کے لئے ایک نشان ہوگا یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اور کذاب قرار دیتا ہے پہلے اس نے بیعت کی اور برابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا۔ پھر ایک نصیحت کی وجہ سے جو میں نے محض للہ اس کو کی تھی مرتد ہو گیا نصیحت یہ تھی کہ اُس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اور پیروی آنحضرت ﷺ کے نجات ہو سکتی ہے گو کوئی شخص آنحضرت ﷺ کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو چونکہ یہ دعویٰ باطل تھا اور عقیدہ جمہور کے بھی برخلاف۔ اس لئے میں نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا آخر
٤٠
میں نے اس کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔ ١؎ تب اس نے یہ پیشگوئی کی کہ میں اُس کی زندگی میں ہی ١٤؍اگست ١٩٠٨ء تک اس کے سامنے ہلاک ہو جاؤں گا مگر خدا نے اس کی پیشگوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جاوے گا اور خدا اس کو ہلاک کرے گا اور میں اس پر اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اُس کی مدد کرے گا۔‘‘
(چشمہ معرفت ص ٣٢١‘٣٢٢۔ خزائن ج ٢٣ ص ٣٣٦‘٣٣٧)
اس مقابلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب ڈاکٹر صاحب کی بتائی ہوئی مدّت کے اندر اندر ہی (٢٦؍مئی ١٩٠٨ء) کو فوت ہو گئے اور ڈاکٹر صاحب آج (٢١؍جون ١٩٢٣ء) تک زندہ ہیں۔
آئندہ اللہ اعلم
دعویٰ الوہیت:۔ دعویٰ نبوت کے متعلق مرزا صاحب کے الفاظ پہلے سنائے گئے ہیں یہاں دعویٰ الوہیت کا بیان ہے۔ مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔
’’رأیتنی فی المنام عین اللہ وتیقنت اننی ھو۔ فخلقت السمٰوات والارض۔ وقلت انا زینا السماء الدنیا بمصابیح۔‘‘
(آئینہ کمالات اسلام ص ٥٦٤‘٥٦٥۔ خزائن ج ٥ ص ایضاً)
’’میں نے نیند میں اپنے آپ کو ہوبہو اللہ دیکھا اور میں نے یقین کر لیا کہ میں وہی اللہ ہوں۔ پھر میں نے آسمان اور زمین بنائے اور میں نے کہا کہ ہم نے آسمان کو ستاروں کے ساتھ سجایا ہے۔‘‘
ہم واقعات مرزا لکھ رہے ہیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم مرزا صاحب کے اصل الفاظ نقل کر دیں ان کے متعلق اُن کے معتقدین کی تاویلات یا تحریفات کے ہم ذمہ دار نہیں۔
مرزا صاحب کی نظر عنایت خاکسار پر
قرعۂ فال بنامِ من دیوانہ زدند
١؎ حالانکہ یہی مذہب خانصاحب میاں محمد علی خاں رئیس مالیر کوٹلہ داماد مرزا صاحب قادیانی کا ہے پھر نہیں معلوم ڈاکٹر صاحب تو خارج اور مرتد ہوں اور خانصاحب داماد۔ تلک اذاً قسمۃ ضیزیٰ۔
٤١
گزارہ ہے۔ ایک لاکھ روپیہ حاصل ہو جانا اُن کے لئے ایک بہشت ہے لیکن اگر میرے اس بیان کی طرف توجہ نہ کریں اور اس تحقیق کے لئے بہ پابندی شرائط مذکورہ جس میں بشرط ثبوت تصدیق ورنہ تکذیب دونوں شرط ہیں۔ قادیان میں نہ آئیں تو پھر لعنت ہے اس لاف و گزاف پر جو انہوں نے موضع مڈ میں مباحثہ کے وقت کی اور سخت بے حیائی سے جھوٹ بولا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ گمراہوں نے بغیر علم اور پوری تحقیق کے عام لوگوں کے سامنے تکذیب کی کیا یہی ایمانداری ہے وہ انسان کتوں سے بدتر ہوتا ہے جو بے وجہ بھونکتا ہے اور وہ زندگی لعنتی ہے جو بے شرمی سے گزرتی ہے۔‘‘
(اعجاز احمدی ص٢٣۔ خزائن ج١٩ ص١٣٢)
’’واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعے سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔ وہ قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے اور سچی پیشگوئیوں کی اپنی قلم سے تصدیق کرنا اُن کے لئے موت ہوگی۔ اگر اس چیلنج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق سے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے اور سب سے پہلے اس اُردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر اُن کی رُوسیاہی ثابت ہو جائے گی۔‘‘
(اعجاز احمدی ص٣٧۔ خزائن ج١٩ ص١٤٨)
انجام اس کا یہ ہوا کہ میں نے ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء مطابق ١٠؍شوال ١٣٢٠ھ کو قادیان پہنچ کر مرزا صاحب کو اطلاعی خط لکھا جو درج ذیل ہے:
’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ بخدمت جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان خاکسار آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی صفحہ ١١‘ ١٣ قادیان میں اس وقت حاضر ہے جناب کی دعوت قبول کرنے میں آج تک رمضان شریف مانع رہا‘ ورنہ اتنا توقف نہ ہوتا۔ میں اللہ جل شانہٗ کی قسم کھاتا ہوں کہ مجھے جناب سے کوئی ذاتی خصومت اور عناد نہیں۔ چونکہ آپ (بقول خود) ایک ایسے عہدۂ جلیلہ پر ممتاز و مامور ہیں جو تمام بنی نوع کی ہدایت کے لئے عموماً اور مجھ جیسے مخلصوں کے لئے خصوصاً ہے اس لئے مجھے قوی امید ہے کہ آپ میری تفہیم میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں گے اور حسب وعدہ خود مجھے اجازت بخشیں گے کہ میں مجمع میں آپ کی پیشگوئیوں کی نسبت اپنے خیالات ظاہر کروں۔ میں مکرر آپ کو اپنے اخلاص اور صعوبتِ سفر کی طرف توجہ دلا کر اسی عہدۂ جلیلہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور ہی موقع دیں۔‘‘
(راقم ابوالوفاء ثناء اللہ۔ ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء)
مرزا صاحب نے اس کا جواب دیا:
٤٢
جس طرح مرزا صاحب کی زندگی کے دو حصے ہیں (براہین احمدیہ تک اور اس سے بعد) اسی طرح مرزا صاحب سے میرے تعلق کے بھی دو حصے ہیں۔ براہین احمدیہ تک اور براہین سے بعد۔ براہین تک میں مرزا صاحب سے حسن ظن رکھتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ جب میری عمر کوئی ١٧۔١٨ سال کی تھی میں بشوق زیارت بٹالہ سے پا پیادہ تنہا قادیان گیا۔ اُن دنوں مرزا صاحب ایک معمولی مصنف کی حیثیت میں تھے مگر باوجود شوق اور محبت کے میں نے وہاں دیکھا مجھے خوب یاد ہے کہ میرے دل میں جو اُن کی بابت خیالات تھے وہ پہلی ملاقات میں مبدل ہو گئے جس کی صورت یہ ہوئی کہ میں اُن کے مکان پر دھوپ میں بیٹھا تھا وہ آئے اور آتے ہی بغیر اس کے کہ السلام علیکم کہیں یہ کہا تم کہاں سے آئے ہو کیا کام کرتے ہو۔ میں ایک طالب علم علماء کا صحبت یافتہ اتنا جانتا تھا کہ آتے ہوئے السلام علیکم کہنا سنت ہے فوراً میرے دل میں آیا کہ انہوں نے مسنون طریق کی پرواہ نہیں کی کیا وجہ ہے مگر چونکہ حسن ظن غالب تھا اس لئے یہ وسوسہ دب کر رہ گیا۔
جن دنوں آپ نے مسیحیت موعودہ کا دعویٰ کیا۔ میں ابھی تحصیل علم سے فارغ نہیں ہوا تھا۔ آخر بعد فراغت میں آیا تو مرزا صاحب کی کتابوں کا مطالعہ شروع کیا۔ دل میں تڑپ تھی استخارے کئے دعائیں مانگیں خواب دیکھے جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرزا صاحب نے مجھے اپنے مخالفوں میں سمجھ کر مجھ کو قادیان میں پہنچ کر گفتگو کرنے کی دعوت دی جس دعوت کے الفاظ یہ ہیں:
"مولوی ثناء اللہ اگر سچے ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیشگوئی کو جھوٹی تو ثابت کریں اور ہر ایک پیشگوئی کے لئے ایک ایک سو روپیہ انعام دیا جائے گا۔ اور آمد و رفت کا کرایہ علیحدہ۔"
(اعجاز احمدی ص ١١۔ خزائن ج ١٩ ص ١١٧، ١١٨)
یہ بھی لکھا:
"یاد رہے کہ رسالہ نزول المسیح میں ڈیڑھ سو پیشگوئی میں نے لکھی ہے تو گویا جھوٹ ہونے کی حالت میں پندرہ ہزار روپیہ مولوی ثناء اللہ صاحب لے جائیں گے اور در بدر گدائی کرنے سے نجات ہوگی بلکہ ہم اور پیشگوئیاں بھی مع ثبوت اُن کے سامنے پیش کر دیں گے اور اسی وعدہ کے موافق پیشگوئی دیتے جائیں گے۔ اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ میری جماعت ہے۔ پس اگر میں مولوی صاحب موصوف کے لئے ایک ایک روپیہ بھی اپنے مریدوں سے لوں گا تب بھی ایک لاکھ روپیہ ہو جائے گا وہ سب اُن کی نذر ہوگا۔ جس حالت میں دو دو آنہ کیلئے وہ در بدر خراب ہوتے پھرتے ہیں اور خدا کا قہر نازل ہے اور مُردوں کے کفن ١؎ اور وعظ کے پیسوں پر
١؎ محض جھوٹ۔ مرزا صاحب کا کوئی مرید ثابت کرے تو ایک ہزار روپیہ انعام۔ (مصنف)
٤٣
”بسم الله الرحمان الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!“
از طرف عائذ باللہ الصمد غلام احمد عافاہ اللہ وایّدہ ۔ بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب آپ کا رقعہ پہنچا۔ اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک وشبہات پیشنگوئیوں کی نسبت یا اُن کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں رفع کرا دیں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگرچہ میں کئی سال ہو گئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہیں کروں گا کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ ظاہر نہیں ہوا۔ مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے تیار ہوں اگر چہ آپ نے اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا کہ میں طالب حق ہوں مگر مجھے تأمل ہے کہ اس دعویٰ پر آپ قائم رہ سکیں کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ہر ایک بات کو کشاں کشاں بیہودہ اور لغو مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدائے تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دُور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جاویں گے اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت ﷺ پر یا حضرت عیسیٰ پر یا حضرت موسیٰ پر یا حضرت یونس پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیشگوئیوں پر زد نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہیں ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جاوے گا۔ اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔ تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ کریں گے۔ کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے چوروں کی طرح آگئے ہیں ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں خرچ کر سکتے یاد رہے کہ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا جیسے صم بکم اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے اول صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔ تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جاوے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سُنا دیں۔ ہم خود پڑھ لیں گے مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔ اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنادوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء
٤٤
اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے اسی طرح تمام وساوس دُور کر دیئے جاویں گے لیکن اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جاوے تو یہ ہرگز نہیں ہو گا ۔ چودھویں جنوری ١٩٠٣ء تک میں اس جگہ ہوں ۔ بعد میں ١٥؍ جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا ۔ تو اگر چہ کم فرصتی ہے ۔ مگر ١٤؍ جنوری ١٩٠٣ء تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں ۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہو گا ورنہ ہمارا اور آپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے ۔ خود خدا تعالیٰ فیصلہ کر دے گا۔
سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہو گا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہو ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جاویں گے اور میں وہ وسوسہ دُور کرتا جاؤں گا ۔ ایسے صد ہا آدمی آتے ہیں اور وسوسے دُور کرا لیتے ہیں ۔ ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کر لے گا اس کو اپنے وساوس دُور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں ۔ بالآخر اس غرض کے لئے کہ اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں ۔ دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں ۔ اول چونکہ میں رسالہ ”انجام آتھم“ میں خدا تعالیٰ سے قطعی عہد کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے کوئی بحث ١ نہیں کروں گا۔ اس وقت پھر اسی عہد کے مطابق قسم کھاتا ہوں کہ میں زبانی آپ کی کوئی بات نہیں سنوں گا ۔ صرف آپ کو یہ موقعہ دیا جائے گا کہ آپ اول ایک اعتراض جو آپ کے نزدیک سب سے بڑا اعتراض کسی پیشگوئی پر ہو۔ ایک سطر یا دو سطر حد تین سطر لکھ کر پیش کریں جس کا مطلب یہ ہو کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور منہاج نبوت کی رُو سے قابلِ اعتراض ہے اور پھر چپ رہیں اور میں مجمع عام میں اس کا جواب دوں گا جیسا کہ مفصل لکھ چکا ہوں ۔ پھر دوسرے دن اسی طرح دوسری لکھ کر پیش کریں ۔ یہ تو میری طرف سے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس سے باہر نہیں جاؤں گا اور کوئی زبانی بات نہیں سنوں گا اور آپ کی مجال نہیں ہو گی کہ ایک کلمہ بھی زبانی بول سکیں اور آپ کو بھی خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ اگر سچے دل سے آئے ہیں تو اس کے پابند ہو جاویں اور ناحق فتنہ و فساد میں عمر بسر نہ کریں اب ہم دونوں میں سے ان دونوں قسموں سے جو شخص انحراف کرے گا اس پر خدا کی لعنت ہے اور خدا کرے کہ وہ اس لعنت کا پھل بھی اپنی زندگی میں دیکھ لے ۔ آمین ۔ سو میں اب دیکھوں گا کہ آپ سنتِ نبوی کے موافق اس قسم کو پورا کرتے ہیں یا قادیان سے نکلتے ہوئے اس لعنت کو ساتھ لے جاتے ہیں اور چاہئے کہ اول آپ مطابق اس عہد مؤکد بقسم کے آج ہی ایک
١ محض جھوٹ ۔ مرزا صاحب کا کوئی مرید ثابت کرے تو ایک ہزار روپیہ انعام ۔ (مصنف)
٣٥
اعتراض دو تین سطر لکھ کر بھیج دیں اور پھر وقت مقرر کر کے مسجد میں مجمع کیا جاوے گا اور آپ کو بلایا جاوے گا اور عام مجمع میں آپ کے شیطانی وساوس دُور کر دیئے جائیں گے۔‘‘
مرزا غلام احمد بقلم خود
اس خط کو دیکھ کر چاہئے تھا کہ میں مایوس ہو جاتا۔ مگر ارادہ کے مستقل آدمی سے یہ اُمید غلط ہے کہ وہ ایک آدھ مانع پیش آنے سے مایوس ہو جائے اس لئے میں نے پھر ایک خط لکھا جو درج ذیل ہے:
الحمد للہ و السلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ۔
اما بعد! از خاکسار ثناء اللہ۔ بخدمت مرزا غلام احمد صاحب
آپ کا طولانی رقعہ مجھے پہنچا۔ افسوس کہ جو کچھ تمام ملک کو گمان تھا وہی ظاہر ہوا جناب والا! جبکہ میں آپ کی حسب دعوت مندرجہ اعجاز احمدی ص ٢٣١ حاضر ہوا ہوں اور صاف لفظوں میں رقعہ اولیٰ میں انہی صفحوں کا حوالہ دے چکا ہوں تو پھر اتنی طول کلامی جو آپ نے کی ہے بجز العادۃ طبیعۃ ثانیہ کے اور کیا معنی رکھتی ہے۔ جناب من کس قدر افسوس کی بات ہے کہ آپ اعجاز احمدی کے صفحات مذکورہ پر تو اس نیاز مند کو تحقیق کے لئے بلاتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں (خاکسار) آپ کی پیشگوئیوں کو جھوٹی ثابت کردوں تو فی پیشگوئی مبلغ سو روپیہ انعام لوں اور اس رقعہ میں آپ مجھ کو ایک دو سطریں لکھنے کا پابند کرتے ہیں اور اپنے لئے تین گھنٹے تجویز کرتے ہیں۔ تلک اذاً قسمۃ ضیزیٰ۔
بھلا یہ تحقیق کا طریق ہے میں ایک دو سطریں لکھوں اور آپ تین گھنٹے تک فرماتے جائیں۔ اس سے صاف سمجھ میں آتا ہے کہ آپ مجھے دعوت دے کر پچھتا رہے ہیں اور اپنی دعوت سے انکاری ہیں اور تحقیق سے اعراض کرتے ہیں۔ جس کی بابت آپ نے مجھے ص ٢٣ پر دعوت دی ہے۔ جناب والا! کیا انہیں ایک دو سطروں کے لکھنے کے لئے آپ نے مجھے درِ دولت پر حاضر ہونے کی دعوت دی تھی، جس سے عمدہ میں امرتسر میں ہی بیٹھا ہوا کر سکتا تھا اور کر چکا ہوں مگر چونکہ میں اپنے سفر کی صعوبت کو یاد کر کے بلا نیل مرام واپس جانا کسی طرح مناسب نہیں جانتا۔ اس لئے میں آپ کی بے انصافی کو بھی قبول کرتا ہوں کہ میں دو تین سطریں ہی لکھوں گا اور آپ بلا شک تین گھنٹے تک تقریر کریں مگر اتنی اصلاح ضرور ہوگی کہ میں اپنی دو تین سطریں مجمع میں کھڑا ہو کر سناؤں گا اور ہر ایک گھنٹے کے بعد پانچ منٹ نہایت دس منٹ تک آپ کے جواب کی نسبت رائے ظاہر کروں گا اور چونکہ آپ مجمع عام پسند نہیں کرتے اس لئے فریقین کے آدمی محدود ہوں گے جو پچیس
٤٦
پچیس سے زائد نہ ہوں گے۔ آپ میرا بلا اطلاع آنا چوروں کی طرح فرماتے ہیں کیا مہمانوں کی خاطر اسی کو کہتے ہیں۔ اطلاع دینا آپ نے شرط نہیں کیا تھا۔ علاوہ اس کے آپ کو آسمانی اطلاع ہو گئی ہوگی۔ آپ جو مضمون سنائیں گے وہ اسی وقت مجھ کو دے دیجئے گا۔ کارروائی آج ہی شروع ہو جاوے آپ کے جواب آنے پر میں اپنا مختصر سا سوال بھیج دوں گا۔ باقی لعنتوں ١؎ کی بابت وہی عرض ہے جو حدیث میں ہے۔ ١١؍جنوری ١٩٠٣ء
اس کا جواب جناب مرزا صاحب نے خود نہیں لکھا بلکہ آپ کی طرف سے مولوی محمد احسن صاحب امروہی نے لکھا جو درج ذیل ہے:
’’بسم اللہ الرحمان الرحیم ۔ حامداً و مصلیا ۔
مولوی ثناء اللہ صاحب! آپ کا رقعہ حضرت اقدس امام الزمان مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت مبارک میں سنا دیا گیا۔ چونکہ مضامین اس کے محض عناد و تعصب آمیز تھے جو طلب حق سے بُعد المشرقین کی دوری اس سے صاف ظاہر ہوتی تھی۔ لہٰذا حضرت اقدس کی طرف سے آپ کو یہی جواب کافی ہے کہ آپ کو تحقیق حق منظور نہیں ہے اور حضرت انجام آتھم میں اور نیز اپنے خط مرقومہ جواب رقعہ میں قسم کھا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عہد کر چکے ہیں کہ مباحثہ کی شان سے مخالفین سے کوئی تقریر نہ کریں گے۔ ٢؎ خلاف معاہدہ الٰہی کے کوئی مامور من اللہ کیونکر کسی فعل کا ارتکاب کر سکتا ہے۔ طالب حق کے لئے جو طریق حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے کیا وہ کافی نہیں۔ لہٰذا آپ کی اصلاح جو بطرز شان مناظرہ آپ نے لکھی ہے وہ ہرگز منظور نہیں ہے اور یہ بھی منظور نہیں فرماتے کہ جلسہ محدود ہو بلکہ فرماتے ہیں کہ کل قادیان وغیرہ کے اہل الرائے مجتمع ہوں تاکہ حق و باطل سب پر واضح ہو جائے۔
والسلام علیٰ من اتبع الہدی ۔ ١١؍جنوری ١٩٠٣ء
گواہ شد: محمد سرور و ابوسعید عفی عنہ۔ خاکسار محمد احسن بحکم حضرت امام الزماں
بس اب نا امیدی ہو گئی تو میں مع اپنے مصاحبوں کے یہ کہتا ہوا چلا آیا؎
١؎ وہ یہ ہے کہ لعنت کا مخاطب اگر لعنت کا حق دار نہیں تو کرنے والے پر پڑتی ہے۔ (مصنف) ٢؎ غلط ہے۔ (مصنف)
٤٧
خاکسار پر آخری نظر عنایت
بلا یہ کون لیتا جان پر لیتے تو ہم لیتے
میرا روئے سخن مرزا صاحب کے ساتھ اور بزرگان علمائے کرام سے بعد شروع ہوا۔ مگر کیفیت میں اُن سے بڑھ گیا تھا اس لئے مرزا صاحب نے آخری نظر عنایت جو مجھ پر کی۔ خود اُنہی کے لفظوں میں درج ذیل ہے۔ فرماتے ہیں:
”اس لئے اب میں تیرے ہی تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور جو تیری نگاہ میں درحقیقت کذاب مفسد ہے اس کو صادق کی زندگی میں ہی دنیا سے اُٹھا لے یا کسی اور نہایت سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک تو ایسا ہی کر۔ آمین ثم آمین۔ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔ آمین۔
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“
الراقم عبداللہ الصمد مرزا غلام احمد مسیح موعود عافا اللہ واید مرقومہ یکم ربیع الاول ١٣٢٥ھ مطابق ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء
(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥٧٨-٥٧٩)
اس اشتہار کی اشاعت کے بعد ٢٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کے اخبار بدر میں مرزا صاحب کی روزانہ ڈائری یوں چھپی:
”ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف تھی اور رات کو الہام ہوا کہ اُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ صوفیاء کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے باقی سب اس کی شاخیں ہیں۔“ (مرزا)
(ملفوظات ج٩ ص٢٦٨۔ اخبار بدر قادیان ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء صفحہ٧ کالم١)
نتیجہ یہ ہوا:۔ کہ جناب مرزا صاحب ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء مطابق ٢٤؍ ربیع الثانی ١٣٢٦ھ کو انتقال کر
٤٨
گئے ۔ آپ کے انتقال کی خبر اخبار الحکم کے خاص پرچہ میں جن لفظوں میں سنائی گئی وہ درج ذیل ہیں:
وفات مسیح
برادران! جیسا کہ آپ سب صاحبان کو معلوم ہے کہ حضرت امامنا ومولانا حضرت مسیح موعود مہدی معہود (مرزا صاحب قادیانی) علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اسہال کی بیماری بہت دیر سے تھی اور جب آپ کوئی دماغی کام زور سے کرتے تھے حضور کو یہ بیماری بسبب کھانا نہ ہضم ہونے کے اور چونکہ دل سخت کمزور تھا اور نبض ساقط ہو جایا کرتی تھی عموماً مشک وغیرہ کے استعمال سے واپس آ جایا کرتی تھی۔ اس دفعہ لاہور کے قیام میں بھی حضور کو دو تین دفعہ پہلے یہ حالت ہوئی لیکن ٢٥؍ تاریخ مئی کی شام کو جب کہ آپ سارا دن ”پیغام صلح“ کا مضمون لکھنے کے بعد سیر کو تشریف لے گئے تو واپسی پر حضور کو پھر اس بیماری کا دورہ شروع ہو گیا اور وہی دوائی جو کہ پہلے مقویٰ معدہ استعمال فرماتے تھے مجھے حکم بھیجا تو بنوا کر بھیج دی گئی مگر اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا اور قریباً ١١ بجے اور ایک دست آنے پر طبیعت از حد کمزور ہوگئی اور مجھے اور حضرت خلیفہ نور الدین صاحب کو طلب فرمایا ...... مقویٰ ادویہ دی گئیں اور اس خیال سے کہ دماغی کام کی وجہ سے یہ مرض شروع ہوئی نیند آنے سے آرام آ جائے گا۔ ہم واپس اپنی جگہ پر چلے گئے مگر تقریباً دو اور تین بجے کے درمیان ایک اور بڑا دست آ گیا۔ جس سے نبض بالکل بند ہوگئی اور مجھے اور مولانا خلیفہ المسیح مولوی نور الدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کو بلوایا اور برادرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بھی گھر سے طلب کیا اور جب وہ تشریف لائے تو مرزا یعقوب بیگ صاحب کو اپنے پاس بلا کر کہا کہ مجھے سخت اسہال کا دورہ ہو گیا ہے آپ کوئی دوا تجویز کریں۔ علاج شروع کیا گیا‘ چونکہ حالت نازک ہو گئی تھی اس لئے ہم پاس ہی ٹھہرے رہے‘ اور علاج باقاعدہ ہوتا رہا۔ مگر نبض واپس نہ آئی۔ یہاں تک کہ سوا دس بجے صبح ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو حضرت اقدس کی روح اپنے محبوب حقیقی سے جا ملی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔
(ضمیمہ الحکم غیر معمولی پرچہ الحکم مورخہ ٢٨؍مئی ١٩٠٨ء)
اور خاکسار مصنف (ابوالوفا ثناء اللہ مورد عتاب مرزا) تاحال (جون ١٩٢٣ء تک) بفضلہ تعالیٰ زندہ ہے اور مرزا صاحب آج سے ١٥ سال پہلے فوت ہو چکے۔ آہ!
روئے گل سیر ندیدم بہار آخر شد
تمت بالخیر
٤٩
شیزان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیجئے!
شیزان کی مشروبات ایک قادیانی طائفہ کی ملکیت ہیں۔ افسوس کہ ہزارہا مسلمان اس کے خریدار ہیں۔ اسی طرح شیزان ریستوران جو لاہور‘ راولپنڈی اور کراچی میں بڑے زور سے چلائے جارہے ہیں۔ اسی طائفے کے سربراہ شاہ نواز قادیانی کی ملکیت ہیں۔ قادیانی شیزان کی سرپرستی کرنا اپنے عقیدہ کا جزو سمجھتا ہے۔ کیونکہ اس کی آمدنی کا سولہ فیصد حصہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں جاتا ہے۔ جس سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد ان ریستوران کی مستقل گاہک ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں کہ وہ ایک مرتد ادارہ کی گاہک ہے اور جو چیز کسی مرتد کے ہاں پکتی ہے وہ حلال نہیں ہوتی۔ شیزان کے مسلمان گاہکوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے بھول پن پر نظر ثانی کریں۔ جس ادارے کا مالک ختم نبوت سے متعلق قادیانی چوچلوں کا معتقد ہو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانے اور سواد اعظم اس کے نزدیک کافر ہو اور جہاں ننانوے فیصد ملازم قادیانی ہوں ایک روایت کے مطابق شیزان کی مصنوعات میں چناب نگر کے بہشتی مقبرہ کی مٹی ملائی جاتی ہے۔
اے فرزندان اسلام!
آج فیصلہ کر لو کہ شیزان اور اسی طرح کی دوسری قادیانی مصنوعات کے مشروبات نہیں پیئو گے اور شیزان کے کھانے نہیں کھاؤ گے۔ اگر تم نے اس سے اعراض کیا اور خوردونوش کے ان اداروں سے باز نہ آئے تو قیامت کے دن حضور ﷺ کو کیا جواب دو گے؟۔ کیا تمہیں احساس نہیں کہ تم اس طرح مرتدوں کی پشت پناہی کر رہے ہو۔
(آغا شورش کاشمیریؒ)
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
شاہ انگلستان
اور مرزائے قادیان
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
دیباچہ قابل ملاحظہ
بسم الله الرحمن الرحيم. نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى آله واصحابه اجمعين.
جس بات کو خدا جھوٹا کرنا چاہتا ہے اُس کے اسباب مختلف پیدا کر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ زمین و آسمان بھی اس کے کذب کی شہادت دینے لگ جاتے ہیں۔
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ.
(الدخان : ٢٩)
ہمارے ملک میں مذہبی حیثیت سے مرزا قادیانی کے دعویٰ الہام کے برابر کوئی جھوٹی بات نہیں۔ اس لئے خدا نے ان کے اظہارِ کذب کے لئے بھی مختلف اسباب پیدا کئے۔ یہاں تک کہ آسمان و زمین نے بھی ان کے کذب پر شہادت دی۔ کیا سچ ہے:
ہوا مدت کا خوب اتمام مرزا
مگر مرزا قادیانی کے راسخ مریدوں نے ان شہادتوں کو بھی پس پشت ڈالا۔
كَمْ مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ.
(یوسف : ١٠٥)
ترجمہ : ”آسمان اور زمین میں کئی ایک نشان ہیں جن پر لوگ منہ پھیر کر گزر جاتے ہیں۔“
آخر خدا تعالیٰ نے اپنی مخفی مصلحت سے دنیا کا سب سے بڑی شان و شوکت کا آدمی‘ جو نہ صرف ہم ہندوستانیوں کا بلکہ دیگر بہت سے ممالک کا بادشاہ ہے‘ یعنی جارج پنجم شاہِ انگلستان و قیصرِ ہند‘ کو ہندوستان میں اس غرض کے لئے بھیجا کہ ہندوستان کے لوگوں کو عموماً اور مرزا قادیانی
٢
کے معتقدین کو خصوصاً اعلان کر دے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ الہام غلط بلکہ کذب ہے۔ چنانچہ شاہ انگلستان نے دسمبر ١٩١١ء کو دہلی دارالحکومت ہند میں بہت بڑے جلسہ میں مرزا قادیانی کے الہامی دعویٰ کا ”دروغ بے فروغ“ ہوتا اعلان فرمایا، مگر اس کو انہی کانوں نے سُنا اور انہی آنکھوں نے د یکھا جن کی بابت عارفانہ رنگ میں یہ شعر ہے:
ہر ورقے دفتریست معرفت کردگار
اس دعویٰ کا ثبوت ہم اس چھوٹے سے رسالہ میں دیں گے۔ ناظرین بغور ملاحظہ فرمائیں۔
بنگالیوں کی دل جوئی
لارڈ کرزن وائسرائے ہند نے ملک بنگالہ کو دوحصوں میں تقسیم کر کے دو جدا جدا صوبے بنا دیئے۔ مغربی بنگال، جس کا صدر مقام کلکتہ تجویز ہوا اور مشرقی بنگال، جس کا صدر مقام ڈھاکہ مقرر ہوا۔ اس تقسیم کو بنگالیوں نے بہت بُرا سمجھ کر کوشش کی کہ یہ تقسیم منسوخ کی جائے اور مثل سابق دونوں صوبوں کا گورنر ایک ہی ہو، مگر گورنمنٹ کی طرف سے اس کا جواب نفی ہی میں ملتا رہا۔ اس پر ہوا کا رُخ دیکھ کر مرزا قادیانی نے ایک الہام شائع کیا کہ:۔ ”پہلے بنگال کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی۔“
(تذکرہ:ص٥٩٦ طبع سوم)
اس کے بعد مرزا قادیانی نے اپنی آخری کتاب ”حقیقت الوحی“ میں اس کی تشریح یوں کی ہے:۔ ” ١١؍فروری ١٩٠٦ء کو بنگالہ کی نسبت ایک پیشگوئی کی گئی تھی۔ جس کے یہ الفاظ تھے: ”پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہوگی“۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جیسا کہ سب کو معلوم ہے گورنمنٹ نے تقسیم بنگالہ کی نسبت حکم نافذ کیا تھا اور یہ حکم بنگالیوں کی دل شکنی کا باعث اس قدر ہوا تھا کہ گویا اُن کے گھروں میں ماتم پڑ گیا تھا اور انہوں نے تقسیم بنگالہ کے
٣
رُک جانے کی نسبت بہت کوشش کی مگر ناکام رہے بلکہ برخلاف اس کے یہ نتیجہ ہوا کہ ان کا شور و غوغا گورنمنٹ کے افسروں نے پسند نہ کیا‘ اور اُن کی نسبت ان افسروں کی طرف سے جو کچھ کاروائیاں ہوئیں‘ ہمیں اس جگہ ان کی تفصیل کی بھی ضرورت نہیں۔ خاص کر فلر لیفٹیننٹ گورنر کو انہوں نے اپنے لئے ملک الموت سمجھا‘ اور ایسا اتفاق ہوا کہ ان ایام میں بنگالی لوگ اپنے افسروں کے ہاتھ سے دُکھ اٹھا رہے تھے‘ اور سر فلر کے انتظام سے جاں بلب تھے‘ مجھے مذکورہ بالا الہام ہوا یعنی یہ کہ پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا‘ اب ان کی دلجوئی ہو گی۔ چنانچہ میں نے اس پیشگوئی کو انہیں دنوں میں شائع کر دیا۔ سو یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ بنگالہ کا لیفٹیننٹ گورنر فلر صاحب‘ جس کے ہاتھ سے بنگالی لوگ تنگ آگئے تھے‘ اور اس قدر شاکی تھے کہ ان کی آہیں آسمان تک پہنچ گئی تھیں‘ یکدفعہ مستعفی ہو گیا۔ وہ کاغذات شائع نہیں کئے گئے جن کی وجہ سے استعفا دیا گیا‘ مگر فلر صاحب کے استعفا پر جس قدر خوشی کا اظہار بنگالیوں نے کیا ہے‘ جیسا کہ بنگالی اخباروں سے ظاہر ہے‘ وہ سب سے بڑھ کر گواہ اس بات پر ہے کہ بنگالیوں نے فلر کی علیحدگی میں اپنی دلجوئی محسوس کی ہے اور فلر کے استعفا دینے سے اُن کے خوشی کے جلسے اور عام طور پر خوشی کے نعرے اس بات کی شہادت دے رہے ہیں‘ کہ درحقیقت فلر کی علیحدگی سے ان کی دلجوئی ہوئی ہے‘ بلکہ پورے طور پر دلجوئی ہوگئی ہے‘ اور یہ کہ انہوں نے فلر کی علیحدگی کو اپنے لئے گورنمنٹ کا بڑا احسان سمجھا ہے۔ پس فلر کے استعفیٰ میں جس غرض کو کہ گورنمنٹ نے اپنی کسی مصلحت سے پوشیدہ کیا ہے‘ وہ غرض بنگالیوں کی بے حد خوشیوں سے ظاہر ہو رہی ہے‘ اور اس سے بڑھ کر پیشگوئی کے پورا ہونے کا اور کیا ثبوت ہو گا کہ بنگالیوں نے اپنی دلجوئی اس کارروائی میں خود مان لی ہے۔ اور گورنمنٹ کا بے انتہا شکر کیا ہے‘ اور یہ میری پیشگوئی صرف ہمارے رسالہ ”ریویو آف ریلیجنز“ میں ہی شائع نہیں ہوئی تھی بلکہ پنجاب کے بہت سے اخباروں نے اس کو شائع کیا تھا۔ یہاں تک کہ خود بنگالہ کے بعض نامی اخباروں نے اس پیشگوئی کو شائع کر دیا تھا۔“
(حقیقة الوحی ص ٢٩٦ تا ٢٩٨۔ خزائن ج ٢٢ ص ٣٠٩ تا ٣١١)
اس اقتباس سے صاف سمجھا جاتا ہے کہ اس پیشگوئی کا مصداق مرزا قادیانی کے نزدیک سرفلر گورنر مشرقی بنگال کی تبدیلی ہے اور بس۔
اس اقتباس منقولہ از ”حقیقة الوحی“ میں مرزا قادیانی نے جس رسالہ ”ریویو“ کا ذکر کیا ہے جس کی بابت لکھا ہے ”ہمارے رسالہ ریویو میں درج تھی“ اس کی عبارت درج ذیل ہے:۔
”بنگالہ کی نسبت جو پیشگوئی آج سے چھ سات ماہ پہلے شائع کی گئی تھی‘ اس پر غور کرو کہ
٤
کس صفائی سے پوری ہوئی ۔ پیشگوئی کے شائع ہونے کے وقت بنگالیوں کی شورش اور فساد حد درجہ تک پہنچی ہوئی تھی اور ادھر سرفلر کی گورنمنٹ اس بات پر تلی ہوئی تھی کہ اس تمام فساد کو زور سے دبا دیا جائے۔ ایسے وقت میں دو قسم کی اُمیدیں تو لوگوں کے دلوں میں ضرور تھیں، یعنی بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ شاید گورنمنٹ بنگالیوں کی شورش وغیرہ سے دب کر تقسیم بنگال کو منسوخ کر دے گی۔ چنانچہ بعض نجومیوں نے ایسی پیشگوئیاں اپنی جنتریوں میں شائع بھی کر دی تھیں۔ دوسری طرف سے جو لوگ اس امر سے واقف تھے کہ سرفلر کیسا مستعد اور کسی سے نہ دبنے والا حاکم ہے ان کا یہ خیال تھا کہ گورنمنٹ اس تمام شورش کی کوئی پرواہ نہیں کرے گی اور قانون کے منشاء کے مطابق اس شورش کو (مناسب ذرائع عمل میں لا کر) فرو کرے گی، لیکن ان دو خیالوں کے سوا اور کوئی خیال اُس وقت کسی نے ظاہر نہیں کیا۔ انہی حالات کے نیچے ١١؍ فروری ١٩٠٦ء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر پا کر حضرت مسیح موعود (مرزا) نے اس امر کا اعلان کیا کہ اس حکم کے متعلق، جو ہو چکا ہے اب گورنمنٹ صرف ایسا طریق اختیار کرے گی جس سے بنگالیوں کی دلجوئی ہو، جس کا یہ صاف صاف مفہوم ہے کہ جو خیال لوگوں کے دلوں میں ہیں وہ دونوں پورے نہیں ہوں گے بلکہ ایک ایسا طریق اختیار کیا جائے گا جس سے تقسیم بھی منسوخ نہ ہو اور اہل بنگال کی دلجوئی بھی ہو جائے۔ اب جس وقت تک نئے صوبہ کی حکومت سرفلر کے ہاتھ میں تھی اُس وقت تک کسی بات سے بنگالیوں کی دلجوئی کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ ایک طرف تو سرفلر بھی ایک زبردست حاکم تھا اور دوسری طرف بنگالیوں کو اس سے اس کی بعض کارروائیوں کے سبب سے خاص عناد تھا اور بظاہر پانچ سال تک جب تک سرفلر کا زمانہ حکومت خود بخود ختم ہو جاتا، گورنمنٹ کی پالیسی بنگالیوں کی نسبت بدل نہیں سکتی تھی، مگر وہ علیم خدا جس نے اپنے بندہ پر پیش از وقت یہ ظاہر کیا تھا کہ اب بنگالیوں کی دلجوئی ہوگی، وہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر واقعات پیدا ہونے والے ہیں، جن سے دلجوئی کی جائے گی۔ چنانچہ یک بیک جب کسی کو خیال بھی نہ تھا سرفلر نے استعفا پیش کیا اور گورنمنٹ نے اسے منظور کیا۔ یہ بات کہ اس استعفا سے بنگالیوں کی دلجوئی ہوئی، ایسی صاف ہے کہ ایک سخت سے سخت دشمن بھی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ جو خوشیاں بنگالہ میں سرفلر کے استعفا پر ہوئی ہیں اور جس طرح پر بنگالی اخباروں نے خوشی کے نعرے بلند کئے ہیں اور کالموں کے کالم اسی خوشی میں سیاہ کئے ہیں اُس سے بہت کم لوگ ناواقف ہوں گے اور یہ سب باتیں صاف ظاہر کرتی ہیں کہ بنگالیوں نے گورنمنٹ کی اس دلجوئی کو خوب محسوس کیا ہے۔‘‘
(ریویو آف ریلیجنز ۔ بابت ج٥ نمبر٩۔ ماہ ستمبر ١٩٠٦ء ۔ص ٣٤٧)
٥
یہ عبارت بقلم مسٹر محمد علی ایم۔اے۔ ایڈیٹر ریویو اور بتصدیق مرزا قادیانی شائع ہوئی ہے، کیونکہ آپ نے اس رسالہ کو اپنا رسالہ کہا ہے، جو درحقیقت ہے بھی انہی کا اور اس عبارت کا خود حوالہ بھی دیا ہے، اس لئے یہ عبارت مرقومہ مسٹر محمد علی اور مصدقہ مرزا قادیانی ہے۔ اس عبارت میں صاف طور پر اظہار کیا ہے کہ پیشگوئی ہذا سے یہ مراد ہے کہ تقسیم بنگالہ منسوخ نہ ہوگی، بلکہ اور کوئی صورت دلجوئی کی تجویز کی جاوے گی، یعنی صوبہ کے لاٹ سر فلر کا استعفا قبول کیا جائے گا۔ بہت خوب۔ پھر ہوا کیا؟ یہ کہ ١١؍دسمبر ١٩١١ء کو بادشاہ جارج پنجم قیصر ہند شاہ انگلستان نے دہلی میں آکر دربار کیا اور اس میں بالفاظ ذیل اعلان فرمایا:۔
”مابدولت (بادشاہ) اپنی رعایا پر اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے وزراء کی صلاح پر، جو ہمارے گورنر جنرل باجلاس کونسل سے مشورہ لے کر پیش کی گئی تھی، مابدولت نے گورنمنٹ آف انڈیا کا صدر مقام کلکتہ سے قدیم دارالسلطنت دہلی میں بدلنے اور اس تبدیلی کے نتیجہ پر جس قدر جلد ممکن ہو سکے الگ گورنری احاطہ بنگال کے لئے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جیسے ہمارے گورنر جنرل باجلاس کونسل ہمارے سیکرٹری آف سٹیٹ فار انڈیا باجلاس کونسل کی طرف سے مناسب طریقہ پر قرار دیں۔“
(روزنامہ پیسہ اخبار۔ ١٥؍دسمبر ١٩١١ء صفحہ ٢)
اس اعلان سے تقسیم بنگالہ منسوخ ہوگئی۔ چنانچہ اب سارا بنگالہ ایک ہی گورنر (لاٹ) کے ماتحت ہے، اور یہی ان کو مطلوب تھا۔ اعلان شاہی سے بنگالیوں کو جو مسرت ہوئی وہ مندرجہ ذیل خبر سے ثابت ہوتی ہے:
”دہلی میں جب بنگالیوں نے منسوخی تقسیم کا اعلان سُنا تو ان کو اس قدر خوشی ہوئی کہ جب حضور شہنشاہ معظم (جلسہ سے) تشریف لے گئے، تو انہوں نے نہایت ادب سے تخت کو جھک جھک کر سلام کئے اور بوسے دیئے۔“
(روزنامہ پیسہ اخبار ١٦؍دسمبر ١٩١١ء ص ٨)
اس شاہی اعلان اور اس خبر سے مرزا قادیانی کی پیشگوئی صاف غلط ہوئی جو ریویو کے الفاظ میں مشرح لکھی گئی تھی کہ تقسیم بنگالہ منسوخ نہ ہوگی۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ تقسیم بنگال حسب منشاء بنگالیان منسوخ ہو کر صوبہ بنگال بجائے دو کے ایک صوبہ بن گیا۔
دنیاوی خیال کے لوگوں کی نگاہ میں بادشاہ کا آنا ملکی انتظام کے لئے تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے کوئی بادشاہ انگلستان سے ہندوستان میں نہ آیا تھا، مگر عارفانہ نگاہ میں بادشاہ کا آنا اس مخفی
٦
حکمت سے تھا کہ ہندوستان میں اعلان کر دے کہ پنجابی مدعی نبوت اور مدعی الہام و بشارت کا دعویٰ غلط ہے۔ اسی لئے ہم نے شروع میں لکھا ہے کہ خدا نے اپنی مخفی مصلحت کے لئے بادشاہ کو بھیجا، جس کے راز کی اطلاع خود بادشاہ کو بھی نہ تھی تا کہ خدا اس سے وہ اعلان کرائے جس سے مدعی کاذب کا کذب دنیا پر نمایاں ہو جائے۔ الحمد للہ ۔ واللہ یعلم وانتم لا تعلمون۔
ہوا کا رُخ : مگر مرزا قادیانی اور ان کے مریدین بھی غضب کے تاڑ باز ہیں۔ مرزا قادیانی نے تقسیم بنگال کی نسبت اعلیٰ حکام کے انکار پر انکار سن کر ہوا کا رخ یہ سمجھا کہ اب تقسیم بنگالہ منسوخ نہ ہوگی۔ اس لئے انہوں نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ تقسیم تو منسوخ نہ ہوگی مگر اور کسی طرح دلجوئی کی جاوے گی، جو سر فلر گورنر مشرقی بنگال کے مستعفی ہونے سے پوری ہوگئی لیکن جونہی کہ شاہ انگلستان کے فرمان سے تقسیم منسوخ ہوئی، اس وقت مرزا قادیانی تو زندہ نہ تھے۔ وہ ہوتے تو ہوا کا رُخ خوب تاڑ جاتے مگر مریدوں نے بھی اپنی ذہانت اور ہوا شناسی سے جو کام لیا، وہ خوب لیا۔
ہواشناسانِ لاہور خواجہ کمال الدین اور مسٹر محمد علی صاحبان لکھتے ہیں۔ ناظرین توجہ سے سنیں:
’’اس مادہ پرستی کے زمانہ میں جبکہ تقریباً کل کی کل دنیا اسبابِ دنیا کی تلاش میں منہمک ہو کر خدا کی یاد دلوں سے عملاً بھلا رہی ہے، عجب نہ تھا کہ خداوند عالم اصلاحِ عالم کی خاطر اپنی سنّتِ قدیمہ کے مطابق از سر نو دنیا کو اپنی ہستی کا ثبوت دے کر اپنی یاد دنیا میں پیدا کرے، نو برس کے قریب زمانہ گزرا جب لارڈ کرزن صاحب وائسرائے ہندوستان نے اُن خالص مصالح ملکی کے ماتحت، جن کا احساس غالباً ١٨٦٧ء میں ایام وزارت لارڈ نارتھ کوٹ صاحب بہادر سے شروع ہو چکا تھا، آخر کار ملک بنگالہ کے متعلق وہ حکم نافذ فرمایا کہ جس سے بنگال کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ یہ تقسیم اگرچہ زیادہ تر انتظام ملک میں سہولت پیدا کرنے کے لئے وقوع میں آئی تھی لیکن اس کا جو اثر اہل بنگال پر ہوا اور اس سے جو نتائج پیدا ہوئے وہ محتاج تشریح نہیں۔ تقسیم بنگال کو اہل بنگال نے ایک قومی صدمہ سمجھا، اور اس صدمہ کا اظہار جائز اور ناجائز طریق پر کیا گیا۔ اگر ایک طرف ایجی ٹیشن اور پولیٹکل جلسوں کے ذریعہ ملک میں شور کیا گیا، تو دوسری طرف قتل، ڈکیتیاں، بلوے، بدامنی، فساد، قیمتی سے قیمتی جانوں پر حملے، الغرض طرح طرح کے جرائم اور بدعملیوں نے اس رنج و صدمہ کے اظہار کی صورت اختیار کی۔ یہ حکم اگر کسی چھوٹے موٹے افسر کا ہوتا تو شاید ملک کی یہ خطرناک حالت اس کو قابل ترمیم ٹھہرا دیتی، لیکن یہ حکم نہ صرف ایک بادشاہ کے نائب کا ہی حکم تھا ٧
کہ جس کی تائید میں وزیر ہند کی اجازت بھی تھی‘ اور اس لئے بنگالی شور و شر پر ایسے حکم کی ترمیم و تنسیخ شاہی رعب اور ملکی سیاست کے منافی تھی‘ بلکہ یہ حکم اُن مصالح حقہ پر مبنی تھا‘ کہ جن کا نفاذ پریزیڈنسی بنگال کے حسنِ انتظام کے لئے از بس ضروری سمجھا گیا تھا۔ پریزیڈنسی بنگال میں ملک بنگال کے علاوہ بہار‘ اڑیسہ‘ چھوٹا ناگپور کا جمع ہو جانا انتظامی مشکلات کا موجب ہو کر عمائدِ سلطنت کو مدت سے تقسیم بنگالہ کی طرف راغب کر رہا تھا۔ بالمقابل تقسیم بنگالہ کی مخالفت میں بنگالی یا غیر بنگالی اہلِ الرائے اصحاب کی طرف سے جو کچھ کہا سنا گیا‘ اُس میں کبھی کوئی ایسی وزنی بات نہ تھی کہ جس سے گورنمنٹ کے اس فعل پر جائز نکتہ چینی ہو سکتی‘ اور حق تو یہ ہے کہ تقسیم بنگالہ کے مضرات جو بروقت تقسیم اہلِ الرائے طبقے کی طرف سے بیان کئے گئے‘ وہ مشتعل شدہ طبائع کے وہم و خیال کا ہی نتیجہ تھے۔ دراصل وہ واقعات ابھی اس ملک میں پیدا نہ ہوئے تھے کہ جس سے بنگالیوں کی یہ شکایت‘ جو بالکل وہمی تھی‘ حقیقی ہو جاتی۔ اس لئے ایسے وقت میں گورنمنٹ نے بدامنی کو انارکزم کی حالت میں دیکھنا قبول کیا لیکن شاہی سیاست نے گورنمنٹ کی پالیسی میں تبدیلی گوارا نہ کی۔ اہلِ بنگال اپنی جائز اور ناجائز کوشش میں ناکام رہے‘ گو لارڈ کرزن کا اچانک چلے جانا اور ان کی جگہ لارڈ منٹو جیسے مرنجان مرنج انسان کا آنا‘ لارڈ مارلے جیسے حکیم مزاج انسان کا عنانِ وزارت کو ہاتھ میں لینا بنگالیوں کے لئے موجبِ اطمینان ہوا‘ اور ان دو مدبّرانِ سلطنت نے مفید سے مفید احکام ہند میں جاری کئے۔ لیکن تقسیم بنگال کے متعلق جب کبھی ان عالی مرتبت عمالِ سلطنت کو رائے ظاہر کرنے کا موقع ملا‘ انہوں نے اس حکمِ تقسیم کو پتھر پر لکیر ہی بتلایا۔ عین ایسے وقت جب اس حکم نے قطعیت کا رنگ اختیار کر لیا اور اہلِ بنگال کو اس کی ترمیم سے ہمیشہ کے لئے مایوس کر کے ان کو کوتاہ ہتھیاروں پر لا اُتارا‘ خدائے علیم و قدیر کی مقتدر آواز ذیل کے پُر سطوت الفاظ میں خدا کے ایک خاص الخاص بندہ پر نازل ہوئی‘ ”پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دل جوئی ہو گی۔“ اور کیا شان ربی ہے کہ آج تقریباً چھ برس کے بعد یہ الفاظ لفظاً لفظاً اور معناً معناً پورے ہو گئے۔ ان مقدس کلمات میں یہ امر نہایت ہی غور طلب ہے کہ ان الفاظ سے یہ نہیں پایا جاتا‘ کہ وہ حکم آخر کار منسوخ ہو گا‘ کہ جس نے بنگالہ کو تقسیم کر کے بنگالیوں میں شورش پیدا کر رکھی تھی‘ بلکہ یہ الفاظ کسی ایسی ترمیم کا پتہ دے رہے ہیں کہ جس ترمیم کو کسی آئندہ وقت پر گورنمنٹ اہلِ بنگال کی دلجوئی کے لئے اختیار کرے گی۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر اس پیشگوئی پر تقسیم بنگالہ کی منسوخی یا بحالی کا اشارہ ہوتا تو اسے عقل و قیاس پر مبنی قرار دینا عین صحیح اور درست ہوتا۔ کیونکہ سیاسی نکتہ خیال جہاں ایک طرف اس کی بحالی کی سفارش کر رہا تھا‘ وہاں ملک کی شوریدہ سری اس تقسیم کے منسوخ ہو جانے پر مواقع کو
٨
متوجہ کر رہی تھی، لیکن یہ پاک الفاظ کسی نجوم، رمل، یا حکیمانہ اٹکل بازی کے ماتحت نہ تھے بلکہ یہ اُس علیم و قدیر خدا کے منہ بولے الفاظ تھے کہ جس کے علم میں وقت آنے والا تھا جب حکم تقسیم بعض نئے واقعات کے پیدا ہو جانے پر گورنمنٹ کے نزدیک بھی ایک حد تک اہل بنگالہ کے لئے مضر ثابت ہو گا اور پھر اس وقت اہل بنگالہ کی دلجوئی اسی میں سمجھی جائے گی کہ اس کا ضرر رساں حصہ ترمیم کر دیا جاوے۔ کیا ١٩٠٦ء میں کوئی شخص گورنمنٹ کو یقین دلا سکتا تھا کہ یہ حکم ایک دن فی الواقعہ قابل ترمیم ہو کر اہل بنگالہ کی دلجوئی اُس سے چاہے گا؟ ١٩٠٦ء تک تو خود بنگالہ کے اہل الرائے کھلے کھلے الفاظ میں کسی حقیقی مضرت کا پتہ نہ دے سکتے تھے جو تقسیم بنگالہ ان کے لئے پیدا کرنے والی تھی تو پھر اس وقت وہ کس دلجوئی کے مستحق سمجھے جاتے؟ یہ تو ١٩٠٦ء سے کئی سال بعد جب مجلس واضعان قوانین ہند کے متعلق لارڈ مارلے کی نئی تجویز نیابت نے کماحقہ عملی لباس پہنا تو یہ تقسیم بنگالہ گورنمنٹ کی نگا ہ میں بھی اہل بنگالہ کو ضرر رساں نظر آنے لگی اور ان کی شکایت جو ١٩٠٩ء تک وہمی نظر آ رہی تھی حقیقت کی صورت اختیار کرنے لگی اور جس کی طرف موجودہ وائسرائے کی گورنمنٹ نے خیال کیا اور قدرتی طور پر کسی ایسی تجویز کی فکر میں لگ گئی کہ جس سے اہل بنگال کی دلجوئی اس حکم کی نسبت ہو جائے جو پہلے جاری ہو چکا تھا۔ مقام غور ہے کہ کئی سال بعد نئے واقعات نے پیدا ہو کر گورنمنٹ سے وہ کرانا چاہا جو خدا کے بولے ہوئے الفاظ ١٩٠٦ء میں بتلا رہے تھے کہ ”پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہو گی ۔“ یہ الفاظ ایک ایسے وقت بولے گئے جب وہ حکم نہ مضرت رساں سمجھا جاتا تھا اور نہ اس کے متعلق کسی دلجوئی کی ضرورت تھی۔ یہ امر ایک طالب حق کے لئے اور بھی ازدیاد ایمان کا موجب ہوگا جب اُسے معلوم ہوگا کہ حضور وائسرائے بہادر نے یہ ترمیم جو لارڈ کرزن کے حکم میں تجویز فرمائی ہے اس سے بھی زیادہ تر ان کی غرض وہی دلجوئی ہے کہ جس کی طرف خدا کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔ اس مراسلہ میں جو لارڈ ہارڈنگ اور ان کی کونسل کی طرف سے وزیر ہند کی خدمت میں تبدیلی دارالخلافہ اور ترمیم حکم تقسیم بنگالہ کے متعلق چار ماہ ہوئے اگست میں لکھا گیا لارڈ ہارڈنگ صاحب بہادر صاف اور صریح الفاظ میں تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اہم تجویز جو ہمارے زیر نظر ہے اس کا ایک بھاری مقصد اہل بنگالہ کی دلجوئی ہے یعنی وائسرائے بہادر اس تجویز سے اس زخم پر مرہم لگانا چاہتے ہیں جو تقسیم بنگالہ نے اہل بنگالہ کے دل پر لگا رکھا ہے اور وائسرائے اور اس کی کونسل کے نزدیک دربار دہلی سے بہتر موقعہ اس دلجوئی کا نہیں۔ مقام غور ہے کہ شہنشاہ معظم کا نائب اس عظیم الشان انقلاب کی جو تبدیلی دارالخلافہ کے ساتھ وابستہ ہے ایک بھاری وجہ اگر بتلاتا ہے تو وہی دلجوئی اہل بنگال جسے خدا کا نائب آج سے چھ ٩
سال پہلے بربناء الہام ربانی بتلا چکا ہے اور یہ دلجوئی حکام بالادست کی نگاہ میں کچھ ایسی اہم سمجھی جاتی ہے کہ ایک سرکاری دستاویز میں مختلف پیرایوں میں اس دلجوئی کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے اور پھر اس دلجوئی کا اظہار سب سے بڑا عظیم الشان بادشاہ جو زمین پر خدا کا سایہ ہے اپنی خوشی کے بہترین وقت میں کرتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہوتا ہے کہ اُس خداوند خدا کے بولے ہوئے الفاظ پورے ہوں جو حاکموں کا حاکم اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔‘‘
(رسالہ مسیح موعود مصنفہ مسٹر محمد علی ایم اے۔ منقول از خواجہ کمال الدین ص ١٦١ تا ١٦٣)
یہ عبارت کیسی ہوشیاری اور ہوا شناسی سے لکھی گئی ہے اس کے راقم کی دور اندیشی اور ہوا شناسی کی داد دیئے بغیر ہم نہیں رہ سکتے کہ کس قدر مختصر مضمون کتنی لمبی عبارت میں ادا کیا ہے، جو اِس شعر کی مصداق ہے:
عجیب چیز ہے یہ طولِ مدعا کے لئے
اس ساری عبارت میں اصل مطلب کے دو ہی فقرے ہیں:
- (الف) بنگالیوں کو تقسیم بنگال سے سخت زخم لگا تھا۔
- (ب) پیشگوئی کا مطلب یہ تھا کہ تقسیم بنگال میں ترمیم ہوگی۔ چنانچہ ترمیم ہوئی۔
حالانکہ منقولہ عبارت از ریویو ١٩٠٦ء مندرجہ صفحہ٤-٥ رسالہ ہذا سے صاف ثابت ہے کہ پیشگوئی کا صدق سر فلر گورنر مشرقی بنگال کے استعفا سے پورا ہو گیا تھا مگر بعد منسوخی تقسیم پھر اُسی پیشگوئی کو دہرایا گیا جو کئی سال پہلے بقلم مسٹر محمد علی پوری ہو چکی تھی۔ لطف یہ ہے کہ منسوخی کو ترمیم کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں:
بندہ نواز! آپ کسی کے خدا نہیں
تمام ملک جانتا ہے اور مسٹر محمد علی صاحب کو تسلیم ہے کہ بنگالیوں کو اس بات کا صدمہ تھا کہ بنگلہ زبان بولنے والے ملک کو دو حصوں مغربی اور مشرقی بنگال میں تقسیم کر کے دو گورنروں کے ماتحت کیا گیا۔ بادشاہ نے آ کر دو گورنروں کی بجائے کل صوبہ کو ایک گورنر کے ماتحت کر دیا۔ چنانچہ آج سب کو معلوم ہے کہ صوبہ بنگال کا گورنر ایک ہے۔ یہی بنگالی لوگ چاہتے تھے اور اس کا نام ہے منسوخی تقسیم بنگال۔ جس کی نص مرزا صاحب بقلم محمد علی کر چکے تھے۔ (ملاحظہ ہو صفحہ ٥ رسالہ ہٰذا) لیکن جب بادشاہ نے تقسیم کو منسوخ کیا تو وہی مسٹر محمد علی جن کے قلم سے پیشگوئی سر فلر تک
١٠
صادق ہو کر ختم ہو چکی تھی جو منسوخی تقسیم کی نفی کر چکے تھے انہوں ہی نے ہوا کا رخ دیکھ کر فوراً لکھ دیا کہ پیشگوئی کا مطلب یہی تھا جو بادشاہ نے کیا۔ یہی معنی ہیں:
اس کی مثال: ناظرین! آپ حیران ہوں گے کہ مسٹر محمد علی صاحب نے ہوا کا رخ پہچان کر بات کو کیسے بدلا ہے۔ آپ کو ہم بتاتے ہیں کہ موصوف جس طرح مذہب میں مرزا قادیانی کے مرید ہیں فن بوقلمونی میں بھی انہی سے مستفید ہیں۔ اس کی مثال سنئے: مرزا صاحب کا الہام ہے ”شاتان تذبحان“ (دو بکریاں ذبح ہوں گی)۔ اس الہام کو آپ نے رسالہ ضمیمہ انجام آتھم میں لکھ کر مرزا احمد بیگ والد منکوحہ آسمانی اور مرزا سلطان محمد شوہر منکوحہ آسمانی پر چسپاں کر دیا کہ یہ الہام ان دو کے حق میں ہے یعنی دو بکریوں سے یہ شخص مراد ہیں۔
(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٧۔ خزائن ج ١١ ص ٣٤١)
پھر کابل میں ان کے دو مرید مولوی عبداللطیف اور ان کا کوئی ساتھی بجرم ارتداد قتل کئے گئے تو اسی پیشگوئی کو ان پر چسپاں کر دیا۔
(کتاب تذکرۃ الشہادتین ص ٢٧۔ خزائن ج ٢٠ ص ٦٩)
غرض مرزا قادیانی کو اس میں کمال حاصل تھا۔ ایام وبا میں بعض عطار ایک ہی بوتل سے ہر قسم کے شربت دے دیا کرتے ہیں۔ شربت بنفشہ، شربت نیلوفر، شربت شفا، جتنے شربت ہیں سب ایک ہی بوتل سے دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک ہی الہام سے مختلف معانی اور مختلف مصداق بنانا مرزا قادیانی کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ کیا سچ ہے:
او زمانے کی طرح رنگ بدلنے والے
٭٭٭٭٭
احتساب قادیانیت
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اکابرین کے رد قادیانیت پر رسائل کے مجموعہ جات کو شائع کرنے کا کام شروع کیا ہے۔ چنانچہ احتساب قادیانیت جلد اول مولانا لال حسین اخترؒ، احتساب قادیانیت جلد دوم مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، احتساب قادیانیت جلد سوم مولانا حبیب اللہ امرتسریؒ کے مجموعہ رسائل پر مشتمل ہیں۔
احتساب قادیانیت جلد چہارم
مندرجہ ذیل اکابرین کے رسائل کے مجموعہ پر مشتمل ہوگی۔ مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ : ”دعوت حفظ ایمان حصہ اول و دوم“ مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ : ”الخطاب المليح في تحقيق المہدی والمسیح رسالہ قائد قادیان“ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ : ”الشہاب لرجم الخاطف المرتاب، صدائے ایمان“ مولانا بدر عالم میرٹھیؒ : ختم نبوت، حیات عیسیٰ، آواز حق، امام مہدی، دجال، نور ایمان، الجواب الفصیح لمنکر حیات المسیح“ ان تمام اکابرین امت کے فتنہ قادیانیت کے خلاف رشحات قلم کا مطالعہ آپ کے ایمان کو جلا بخشے گا۔
رابطہ کے لئے:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
لیکھرام اور مرزا
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
پہلے مجھے دیکھئے
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔
جناب مرزا غلام احمد قادیانی مدعی مسیحیت اور مہدویت بالقابہ اپنے دعوے کے ثبوت میں الہامی دعاوی اور غیبی پیشگوئیاں پیش کیا کرتے تھے۔ جن میں سے تین پیشگوئیوں کو موصوف نے تین قوموں کے لئے قابل غور قرار دیا تھا۔ (١) ڈپٹی عبداللہ آتھم والی پیشگوئی عیسائیوں کے لئے (٢) مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی لڑکی محمدی بیگم کے نکاح والی پیشگوئی مسلمانوں کے لئے (٣) پنڈت لیکھ رام آریہ والی پیشگوئی ہندو قوم کے لئے۔
(شہادۃ القرآن ص ٧٩، ٨٠۔ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥، ٣٧٦)
ہم نے رسالہ ”الہامات مرزا“ میں مرزا صاحب کی ساری اہم پیشگوئیوں پر بحث کی ہوئی ہے۔ چونکہ مرزا صاحب اور ان کے اتباع کو پنڈت لیکھ رام والی پیشگوئی پر بڑا ناز ہے۔ وہ اس کو ایسا صحیح جانتے ہیں جیسا ”دو دو نے چار“۔ ہماری تحقیق میں یہ پیشگوئی سب سے زیادہ غلط ثابت ہوئی ہے۔ اس لئے اس کے متعلق مستقل رسالہ لکھنے کی ضرورت پیش آئی۔
ناظرین کرام! عموماً اور اتباع مرزا صاحب خصوصاً ہمارے پیش کردہ حوالجات کو غور سے پڑھیں تاکہ یوم الفصل سے پہلے ہی ہماری نزاع ختم ہو جائے اور اُستاد داغؔ کا یہ شعر ہم پر صادق آئے۔
لے جاؤ ان کو خلد میں جو کچھ ہوا ہُوا
...... ٭ ......
ابوالوفا ثناء اللہ امرتسر رمضان ١٣٦١ھ، ستمبر ١٩٤٢ء
٢
لیکھرام اور مرزا
مرزا صاحب نے پنڈت لیکھرام کی بابت جو کچھ لکھا اس کے دو باب ہیں۔ (١) ایک مباہلہ (٢) دوسری پیشگوئی۔ ہماری تحقیق یہ ہے کہ مرزا صاحب کے دعوے کے دونوں باب شکستہ بلکہ برباد ہیں۔ اس دعوے کے اثبات میں ہم مرزا صاحب کی اصل عبارات پیش کریں گے۔
مرزا صاحب نے سب سے پہلے ١٨٨٦ء میں آریوں کے معززین کو مباہلہ کے لئے دعوت دی۔ جس کے الفاظ یہ ہیں:
”آخر الحیل مباہلہ ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارات کر آئے ہیں۔ مباہلہ کے لئے وید خوان ہونا ضروری نہیں۔ ہاں باتمیز اور ایک باعزت اور ایک نامور آریہ ضرور چاہئے۔ جس کا اثر دوسروں پر بھی پڑ سکے۔ ...... اگر وہ وید کی اُن تعلیموں کو جن کو کسی قدر ہم اس رسالہ میں تحریر کر چکے ہیں فی الحقیقت صحیح اور سچ سمجھتے ہیں۔ اور ان کے مقابل جو قرآن شریف کے اصول اور تعلیمیں اسی رسالہ میں بیان کی گئی ہیں اُن کو باطل اور دروغ خیال کرتے ہیں تو اس بارہ میں ہم سے مباہلہ کر لیں۔ اور کوئی مقام مباہلہ کا برضا مندی فریقین قرار پا کر ہم دونوں فریق تاریخ مقررہ پر اُس جگہ حاضر ہو جائیں۔ اور ہر ایک فریق مجمع عام میں اُٹھ کر اُس مضمون مباہلہ کی نسبت جو اس رسالہ کے خاتمہ میں بطور نمونہ اقرار فریقین جلی قلم لکھا گیا ہے تین مرتبہ قسم کھا کر تصدیق کریں کہ ہم فی الحقیقت اُس کو سچ سمجھتے ہیں اور اگر ہمارا بیان راستی پر نہیں تو ہم پر اسی دنیا میں وبال اور عذاب نازل ہو۔ غرض جو جو عبارتیں ہر دو کاغذ مباہلہ میں مندرج ہیں۔ جو جانبین کے اعتقاد ہیں بحالت دروغ گوئی عذاب مترتب ہونے کے شرط پر ان کی تصدیق کرنی چاہئے اور پھر فیصلہ آسمانی کے انتظار کے لئے ایک برس کی مہلت ہوگی۔ پھر اگر برس گزرنے کے بعد مؤلف رسالہ ہٰذا ١ پر کوئی عذاب اور وبال نازل ہوا یا حریف مقابل پر نازل نہ ہوا تو ان دونوں صورتوں میں یہ عاجز قابل تاوان
١ مراد مرزا صاحب ہیں۔
٣
پانسو روپیہ ٹھہرے گا۔ جس کو برضامندی فریقین خزانہ سرکاری یا جس جگہ بآسانی وہ روپیہ مخالف کو مل سکے داخل کر دیا جائے گا۔"
(سرمہ چشم آریہ ص ٣٠٠، ٣٠١۔ خزائن ج ٢ ص ٢٥٠، ٢٥١)
مجیب: اس عبارت سے دو امر ثابت ہیں۔ (١) ایک دعوت مباہلہ (٢) مباہلہ کا اثر جو کچھ بھی ہو اس کے ظہور کے لئے مدت ایک سال۔
اس کے بعد صفحہ ٢١٤ سے صفحہ ٢١٦ تک لمبا چوڑا مضمون مباہلہ لکھا ہے۔ جو آپ (مرزا صاحب) کی طرف سے ہے۔ اس کے اخیر پر بھی یہ فقرہ ہے۔ "جو سراسر ضد کرتا ہے...... اس پر تو اے قادر کبیر ایک سال تک کوئی اپنا عذاب نازل کر۔"
(سرمہ چشم آریہ طبع دوم ص ٣٠٥۔ خزائن ج ٢ ص ٢٥٥)
پھر آریہ کی دعا مباہلہ لکھ کر یہ فقرہ لکھا ہے: "اے ایشور! تیری نظر میں جو کاذب ہے اس کو ایک سال کے عرصہ تک لعنت کا اثر پہنچ جائے۔"
(ملخص سرمہ چشم آریہ ص ٣٠٨۔ خزائن ج ٢ ص ٢٥٨)
مجیب: ان تینوں حوالوں سے بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ مباہلہ آریہ کا اثر کچھ بھی ہو ایک سال تک ہوگا۔ دگر ہیچ۔
اس کے بعد پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب نسخہ خبط احمدیہ مطبوعہ ١٨٨٨ء میں بالفاظ ذیل مباہلہ شائع کیا ہے: "اے پرمیشور! ہم دونوں میں سچا فیصلہ کر۔ اور جو تیرا ست دھرم ہے اس کو نہ تلوار سے بلکہ پیار سے معقولیت اور دلائل کے اظہار سے جاری کر۔ اور مخالف کے دل کو اپنے ست گیان سے پرکاش کر۔ تاکہ جہالت وتعصب و جور وستم کا ناش ہو۔ کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاسکتا۔" راقم: آپ کا ازلی بندہ لیکھ رام شرما سبھاسد آریہ سماج پشاور۔"
(نسخہ خبط احمدیہ ص ٣٣٧)
مجیب: یہ مباہلہ ١٨٨٨ء کو شائع ہوا۔ حوالجات مرقومہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مباہلہ پر عذاب کی مدت ایک سال تک ہے۔ اس حساب سے ١٨٨٩ء میں پنڈت لیکھ رام عذاب کا شکار ہو جانا چاہئے تھا۔ مگر نہیں ہوا بلکہ صحیح سالم رہ کر "١٨٩٧ء میں فوت ہوا۔"
(حقیقۃ الوحی ص ٢٨٥۔ خزائن ج ٢٢ ص ٢٩٨)
ناظرین کرام! حوالجات مرقومہ بالا دیکھنے سے اس میں کوئی شک و شبہ رہ سکتا ہے کہ مرزا صاحب کا دعویٰ بحیثیت مباہلہ لیکھ رام کے متعلق غلط ثابت ہوا۔ اور مخالفوں کو یہ کہنے کا موقع ملا:
٤
تکبر وہ بری شے ہے کہ فوراً ٹوٹ جاتا ہے
مرزا صاحب کی ہوشیاری اور مریدوں کی سادہ لوحی
باوجود اس صفائی کے مرزا صاحب نے اس بارے میں وہ کمال دکھایا ہے کہ ہم دل سے اس امر کے معترف ہو گئے ہیں کہ جرمنی کا پرنس بسمارک اور انگلستان کا گلیڈسٹون بھی باوجود سیاسیات میں بلند مرتبہ ہونے کے مرزا صاحب کی دور اندیشی یا بالفاظ دیگر نکتہ آفرینی کو نہیں پہنچ سکتے۔ ہمارے دعوے کی تسلیم میں کسی صاحب کو شک ہو تو مندرجہ ذیل حوالہ ملاحظہ کریں۔
مرزا صاحب نے لیکھ رام کی اسی کتاب میں اس کے اسی مباہلہ کا ذکر خود کیا ہے۔ جس سے کئی امور ثابت ہوں گے۔ مرزا صاحب نے کتاب حقیقۃ الوحی میں اپنی تحریر مندرجہ رسالہ سرمہ چشم آریہ ...... (منقولہ گذشتہ صفحہ) کا ذکر کر کے لکھا ہے:
”میری اس تحریر پر پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ مطبوعہ ١٨٨٨ء کے صفحہ ٣٤٤ پر (بعد تمہید) لکھا ہے۔
”اے پرمیشور! ہم دونوں فریقوں (مرزا صاحب اور مجھ) میں سچا فیصلہ کر۔ کیونکہ کاذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پاتا۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣١٤، ٣١٩۔ خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٧، ٣٣٢)
ناظرین! پہلے آپ ان دونوں عبارتوں (مرقومہ پنڈت صاحب اور منقولہ مرزا صاحب) کو غور سے پڑھ کر ان میں فرق سمجھیں۔ ہمارا مقصد چونکہ اس پر موقوف نہیں اس لئے ہم اس تفصیل میں نہیں جاتے۔ ہاں اس منقولہ عبارت (مرقومہ پنڈت صاحب) پر مرزا صاحب نے جو تفریح پیدا کی ہے اُسے ناظرین کے سامنے من وعن رکھے دیتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں:
”اب مباہلہ کی اس دعا کے بعد جو پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے صفحہ ٣٤٤ سے ٣٤٧ تک لکھی ہے جو کچھ خدا نے آسمان سے فیصلہ کیا ہے اور جس طرح اُس نے کاذب کی ذلت ظاہر کی اور صادق کی عزت ...... وہ یہ ہے جو ٦؍ مارچ ١٨٩٧ء کو بروز شنبہ دن کے چار بجے کے بعد ظہور میں آیا۔ دیکھو یہ خدا کا فیصلہ ہے جس فیصلہ کو لیکھ رام نے اپنے پرمیشر سے مانگا تھا تا صادق اور کاذب میں فرق ظاہر ہو جائے۔“
(حقیقۃ الوحی ص ٣٢٠۔ خزائن ج ٢٢ ص ٣٣٣)
ہم ناظرین کو مکرر تکلیف دیتے ہیں کہ وہ مرزا صاحب کی عبارات از کتاب ”سرمہ چشم
٥
آریہ ”غور سے پڑھیں۔ جن میں مباہلہ کی میعاد ایک سال قرار دی ہے جو ١٨٨٩ء میں پوری ہو چکی۔ مگر لیکھ رام ١٨٩٧ء میں مرتا ہے۔ تاہم مرزا صاحب اپنا چیلنج (دعوت مباہلہ) اور لیکھ رام کا قبول چیلنج نقل کر کے اس کی ١٨٩٧ء والی موت کو مباہلہ کا اثر قرار دیتے ہیں:
بندہ نواز! آپ کسی کے خدا نہیں
مرزا صاحب کی نکتہ آفرینی
مرزا صاحب کو نکتہ آفرینی میں خاص ملکہ حاصل تھا۔ مثلاً یہ کہ فریق ثانی کی عبارت میں عجیب تبدیلی یا تحریف کرتے کہ اپنے مریدانِ باصفا کے ایسی دل نشیں کر دیتے کہ وہ اس کو کالوحی من السماء مان لیتے۔ جہاں کوئی مخالف مرتا مرزا صاحب جھٹ کہہ دیتے اس نے لکھا تھا جھوٹا پہلے مرے گا چنانچہ وہ مجھ سے پہلے مر گیا۔ اس کی مثالیں ہمارے پاس بہت ہیں جو کسی اور موقع پر ہم ظاہر کریں گے۔ انشاء اللہ! یہاں بطور مثال ایک واقعہ بتا کر اصل بات پر آتے ہیں۔
علی گڑھ میں ایک بزرگ مولوی اسماعیل صاحب اسرائیلی رہتے تھے۔ بڑے عالم ذی اثر تھے۔ آپ نے مرزا صاحب کی تردید میں ایک رسالہ موسومہ ”اعلاء الحق الصريح بتكذيب مثيل المسيح“ لکھا۔ جس کے شائع ہونے کے بعد دو سال گزار کر آپ قضاء الٰہی سے فوت ہو گئے۔ جھٹ مرزا صاحب نے لکھ دیا کہ مولوی اسماعیل نے لکھا تھا کہ ہم دونوں (مرزا اور اسماعیل) میں سے جو جھوٹا ہے وہ مر جائے۔ چنانچہ وہ میری زندگی میں مر کر میری سچائی پر مہر ثبت کر گئے۔
(اشتہار انعامی پانسو روپیہ ملحقہ بہ تحفہ گولڑویہ ص ٧۔ خزائن ج ١٧ ص ٤٨)
حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ مرحوم کی کتاب ”اعلاء الحق الصريح بتكذيب مثيل المسیح“ ہمارے پاس موجود ہے۔ کوئی صاحب اس کتاب میں یا مرحوم کی کسی تحریر میں یہ مضمون دکھا دیں تو بطور انعام ہم سے مباحثہ لدھیانہ کے تین سو میں سے یک صد روپیہ حاصل کر کے اپنے مسیح کی عزت بحال کریں۔
مرزا صاحب نے دیکھا کہ پنڈت لیکھ رام کے متعلق میں نے ایک سال مدت مقرر کی تھی جو ١٨٨٩ء میں ختم ہو گئی اور وہ نہیں مرا تو آپ نے فوراً نکتہ آفرینی کا معجزہ دکھانے کو لکھا کہ: ”اُس (پنڈت لیکھ رام) نے اپنے مباہلہ میں جو اُس کی کتاب خبط احمدیہ میں درج ہو کر اُس کے مرنے سے ایک مدت پہلے شائع ہو گیا تھا اس مضمون کی دعا کی۔ جس کا خلاصہ مطلب
٦
یہ تھا کہ اے پرمیشر ! میں جانتا ہوں کہ چاروں وید سچے ہیں اور قرآن شریف نعوذ باللہ جھوٹا ہے اور اسی بنا پر میں مرزا غلام احمد قادیانی سے مباہلہ کرتا ہوں پس اگر میں اس عقیدہ میں سچا نہیں ہوں تو اے پرمیشر ! میری مراد کے مخالف فیصلہ کر۔ اور جو شخص تیری نظر میں جھوٹا ہے سچے کی زندگی میں ہی اُس کو سزا دے۔‘‘
(اشتہار باعث تالیف کتاب چشمہ معرفت ص الف۔ب۔ خزائن ج ٢٣ ص ٦٥)
ناظرین کرام! مرزا صاحب کا انتقال ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء کو دن کے دس بجے ہوا۔ پنڈت لیکھ رام اگر ٢٥؍مئی ١٩٠٨ء بلکہ ٢٦؍مئی ١٩٠٨ء دن کے نو بجے بھی مر جاتا تو اس محرفہ عبارت کے ماتحت مرزا صاحب کی پیشگوئی سچی ہو جاتی نہ ایک سال کی مدت رہتی نہ چھ سال کی۔ کیسی نکتہ آفرینی ہے جس کی داد دینے کو ہر ایک کا جی چاہتا ہے۔
مرزا صاحب کے مریدو! کیا یہی خدمتِ اسلام ہے جس کے لئے مرزا صاحب نے پنڈت لیکھ رام اور دیگر معزز آریوں کو چیلنج مباہلہ دیا تھا۔ اور ظہورِ اثر کے لئے ایک سال مقرر کیا تھا۔ لیکن اس کی موت کے بعد تمہارے ہیرو نے ایسی غلط بیانی کی کہ پہلے کسی مصنف بلکہ کچہری کے پیشہ ور گواہ نے بھی نہ کی ہوگی:
یہ تیرے زمانہ میں دستور نکلا
خلاصہ اس سارے باب کا یہ ہے کہ مرزا صاحب نے آریوں کو مباہلے کا چیلنج دیا۔ اور مباہلے کا اثر ظاہر ہونے کے لئے ایک سال کی مدت مقرر کی۔ پنڈت لیکھ رام نے ١٨٨٨ء میں اپنے لفظوں میں مباہلہ شائع کر دیا۔ جسے مرزا صاحب نے تسلیم کیا مگر اثر اس کا ایک سال تک کسی فریق پر ظاہر نہ ہوا۔ چاہئے یہ تھا کہ مرزا صاحب اپنے اقرار کے مطابق آریوں کو پانسو روپیہ تاوان میں دیتے مگر وہ بالکل چُپ سادھ گئے یہاں تک کہ ١٨٩٧ء میں پنڈت لیکھ رام کی موت ہوئی تو متعدد تصانیف میں اس کی موت کو اس مباہلے کا اثر بتایا۔ جس کی مدت ١٨٨٩ء میں ختم ہو چکی تھی۔ اور مریدان باصفا نے مرزا صاحب کی اس زبردستی کو تسلیم کر لیا۔ کیونکہ ان کا قول ہے؎
رو بسوئے خانہ خمار دارد پیر ما
باب دوم
اس باب میں ہم مرزا صاحب کی ان عبارات کو نقل کرتے ہیں جو حقیقۃً پنڈت لیکھ رام کے حق میں پیشگوئی کی شکل میں ہیں۔ اس کے متعلق مرزا صاحب کی سب سے پہلی تحریر درج ذیل ہے جس کی سرخی ہے:
٧
”لیکھرام پشاوری کی نسبت ایک پیشگوئی“
”واضح ہو کہ اس عاجز نے اشتہار ٢٠ فروری ١٨٨٦ء میں جو اس کتاب کے ساتھ شامل کیا گیا تھا اندرمن مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری کو اس بات کی دعوت دی تھی کہ اگر وہ خواہش مند ہوں تو اُن کی قضا وقدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں۔ سو اس اشتہار کے بعد اندرمن نے تو اعراض کیا اور کچھ عرصہ کے بعد فوت ہو گیا۔ لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو میری طرف سے اجازت ہے۔ سو اُس کی نسبت جب توجہ کی گئی تو اللہ جل شأنہٗ کی طرف سے یہ الہام ہوا: عِجْلٌ جَسَدٌ لَّهُ خُوَار ۔ لَهُ نَصَبٌ وَّعَذَاب یعنی یہ صرف ایک بے جان گوسالہ ہے جس کے اندر سے ایک مکروہ آواز نکل رہی ہے۔ اور اُس کے لئے ان گستاخیوں اور بدزبانیوں کے عوض میں سزا اور رنج اور عذاب مقدر ہے۔ جو ضرور اُس کو مل رہے گا۔ اور اس کے بعد آج جو ٢٠ فروری ١٨٩٣ء روز دوشنبہ ہے اس عذاب کا وقت معلوم کرنے کے لئے توجہ کی گئی۔ تو خداوند کریم نے مجھ پر ظاہر کیا کہ آج کی تاریخ سے جو بیس فروری ١٨٩٣ء ہے چھ برس کے عرصہ تک یہ شخص اپنی بدزبانیوں کی سزا میں یعنی اُن بے ادبیوں کی سزا میں جو اس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی ہیں عذاب شدید میں مبتلا ہو جائے گا۔ سو اب میں اس پیشگوئی کو شائع کر کے تمام مسلمانوں اور آریوں اور عیسائیوں اور دیگر فرقوں پر ظاہر کرتا ہوں کہ اگر اس شخص پر چھ برس کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے۔ اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر ایک سزا کے بھگتنے کے لئے میں تیار ہوں۔ اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسّہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے ۔ اور باوجود میرے اس اقرار کے یہ بات بھی ظاہر ہے کہ کسی انسان کا اپنی پیشگوئیوں میں جھوٹا نکلنا خود تمام رسوائیوں سے بڑھ کر رسوائی ہے۔ زیادہ اس سے کیا لکھوں۔“
(سراج منیر ص ١٢، ١٣۔ خزائن ج ١٢ ص ١٤، ١٥)
مجیب : اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ٢٠ فروری ١٨٨٦ء والا اشتہار پیشگوئی نہ تھا۔ بلکہ وہ محض مباہلے کی دعوت تھا۔ ہاں یہ اشتہار جس پر ٢٠ فروری ١٨٩٣ء مرقوم ہے پیشگوئی کی صورت میں ہے۔ اس لئے اس باب میں اس کی تحقیق کرنا ہمارا مقصود ہے۔
٨
سب سے پہلے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا صاحب آریوں کے متعلق عموماً اور پنڈت لیکھ رام کے متعلق خصوصاً یہی ظاہر کرتے رہے کہ درصورت سچائی کے:
”اپنی لمبی چوٹی کٹا کر اور رشتہ بے سود زنار کو توڑ کر اس پاک جماعت میں داخل ہو جائے جو لا الہ الا اللہ کی توحید سے اور محمد رسول اللہ کی کامل رہبری سے گم گشتگان بادیہ شرک و بدعت کو صراطِ مستقیم کی شاہراہ پر لاتے جاتے ہیں۔“
(شحنہ حق ص ٢٧۔ خزائن ج ٢ ص ٤٩۔ ایضاً تبلیغ رسالت جلد اول ص ٩٧‘ مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٣٨، ١٣٩)
یہ غرض مرزا صاحب کے ذہن میں اس قدر پختہ تھی کہ پنڈت لیکھ رام اور مرزا صاحب میں جو معاہدہ ہوا تھا۔ اس میں بھی دونوں مذہبوں کی سچائی اور اسلام کے قبول کر لینے کا ذکر تھا۔ مرزا صاحب نے ایک موقعہ پر اپنے معترض مولوی صاحبان کا گلہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
”بعض مولوی صاحبان جیسے مولوی محمد حسن بٹالوی اُس کھلی کھلی پیشگوئی کی نسبت بھی جو دونوں مذہبوں (ہندو دھرم اور اسلام) کے پرکھنے کے لئے معیار کی طرح ٹھہرائی گئی تھی جانکاہی سے کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح لوگ اس پر اعتقاد نہ لاویں۔ ہم انشاء اللہ عنقریب اس معاہدے کو جو ہم میں اور لیکھ رام میں ہوا تھا سراج منیر کے اخیر میں نقل کر دیں گے۔“
(تبلیغ رسالت ج ٦ ص ٨١۔ مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٨٢)
مگر مرزا صاحب کا یہ وعدہ بھی دوسرے وعدوں کی طرح پورا نہ ہوا۔ آپ نے اس معاہدے کو سراج منیر میں نقل نہیں کیا۔ کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب دینا ہمارے ذمہ نہیں بلکہ اَتباعِ مرزا کے ذمہ ہے۔ ہم تو یہی کہیں گے۔ خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمی آید
تصرف قدرت: ناظرین کرام! مرزا صاحب نے ہرچند اس معاہدے کو چھپایا مگر تصرف قدرت اندر ہی اندر اپنا کام کر گیا جس کی خبر نہیں ہوئی۔ سچ ہے:
اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ o (الفجر:١٤) (تمہارا پروردگار گھات میں ہے۔)
باوجودیکہ مرزا صاحب نے حسب وعدہ مکمل معاہدہ درج نہیں کیا۔ تاہم قدرت کے تصرف نے جو جلوہ دکھایا وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ آپ لکھتے ہیں:
”وہ معاہدہ جو نشانوں کے دیکھنے کے لئے اس راقم اور لیکھ رام کے مابین تحریر پایا تھا...... اس معاہدے کا خلاصہ یہ ہے (اگر کوئی پیشگوئی لیکھ رام کو سنائی جائے اور وہ سچی نہ ہو تو وہ ہندو دھرم کی سچائی ١؎ کی دلیل ہوگی اور فریق پیشگوئی کرنے والے (مرزا ملہم) پر لازم ہوگا کہ آریہ
١؎ کیسی غلط شرارت ہے۔ مرزا صاحب کی یا کسی اور ملہم کی پیشگوئی غلط ہونے سے یہ نتیجہ تو نکل سکتا ہے کہ پیشگوئی کرنے والا جھوٹا ہے۔ لیکن اس سے یہ ثابت کرنا یا اسے تسلیم کرنا کہ ہندو مذہب سچا ہے کسی اہل دانش کا کام نہیں۔
مرزائی دوستو! کیا کہتے ہو؟
٩
مذہب کو اختیار کرے یا تین سو ساٹھ روپیہ لیکھ رام کو دے دے۔ اور اگر پیشگوئی کرنے والا سچا نکلے تو اسلام کی سچائی کی یہ دلیل ہوگی اور پنڈت لیکھ رام پر یہ واجب ہوگا کہ اسلام قبول کرے۔ پھر اس کے بعد وہ پیشگوئی بتائی گئی جس کی رو سے ٦؍ مارچ ١٨٩٧ء کو لیکھ رام کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔‘‘
(استفتاء ص: ٩۔ خزائن ج ١٢ ص ١١٧)
مجیب : یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ ٢٠ فروری ١٨٩٣ء والی پیشگوئی کا وقوع ایسے طریق پر ہونا چاہئے تھا کہ پنڈت لیکھ رام اسلام قبول کر سکتا یعنی زندہ ہوتا۔ پس اس کا مر جانا یا مارا جانا پیشگوئی کی تصدیق نہیں کرتا۔ بلکہ تکذیب کرتا ہے۔ کیونکہ اس کے لئے اسلام قبول کرنے کا موقع نہ رہا۔ باوجودیکہ پیشگوئی صریح طور پر جھوٹی ثابت ہوئی۔ تاہم خود مرزا صاحب اور ان کے مریدین یہی کہتے جاتے ہیں کہ ہم نے لیکھ رام کی پیشگوئی میں اس کی موت کا دن اور تاریخ بھی بتا دی تھی۔ یہ سب تکے بعد الوقوع ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنڈت لیکھ رام کی موت کے بعد یہ سب ایجادیں کی گئی ہیں۔ کتاب کرامات الصادقین ہو یا کوئی اور سب بعد الوقوع ایجادیں ہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ جو حکایت محکی عنہ کے مطابق نہ ہو وہ غلط ہوتی ہے۔ قادیانی اصطلاح کے متعلق تو ہم کہہ نہیں سکتے لیکن عام اصول یہی ہے کہ حکایت صحیح وہی ہوتی ہے جو محکی عنہ کے مطابق ہو۔ پس جو کچھ کہتے ہو پیشگوئی ٢٠ فروری ١٨٩٣ء میں دکھاؤ۔ اگر اس میں نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں۔ سنئے! ہم تو ان محدثین کے پیرو ہیں جن کی شان میں مولانا حالی مرحوم نے کہا ہے :
مشائخ میں جو قدح دیکھا بتایا ائمہ میں جو داغ پایا جتایا
طلسم ورع ہر مقدس کا توڑا
نہ صوفی کو چھوڑا نہ ملا کو چھوڑا
خلاصہ : اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مرزا صاحب نے ٢٠ فروری ١٨٩٣ء کو جو پیشگوئی کی تھی وہ ایسے خرق عادت عذاب شدید کی تھی جو پنڈت لیکھ رام پر وارد تو ہوتا مگر اُس کی حیات ختم نہ کرتا۔ بلکہ اس کے اثر سے اس کو قبول اسلام کا موقع ملتا۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ جس کا مرزا صاحب کو بھی حیرت انگیز غلط بیانی : ہم اپنے پاس وہ الفاظ نہیں پاتے جن کے ذریعہ سے ہم اس تعجب کا اظہار کر سکیں۔ جو مرزا صاحب کی تحریرات سے ہمارے دماغ میں پیدا ہوتا۔ ہم ناظرین کو ایسی تحریرات کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ کتاب استفتاء کے صفحہ ٩ کی عبارت ہم نقل کر چکے ہیں۔ جس میں مرزا صاحب اور
١٠
پنڈت لیکھ رام کے درمیان مباہلہ کا خلاصہ دکھایا گیا ہے۔ اس میں لیکھ رام کے اسلام قبول کرنے کا ذکر ہے۔ اسی کتاب کے صفحہ ١٠ پر مرزا صاحب لکھتے ہیں:
’’٢٠ فروری ١٨٩٣ء کو بہت توجہ اور دعا اور تضرع کے بعد معلوم ہوا کہ آج کی تاریخ سے یعنی ٢٠ فروری ١٨٩٣ء سے چھ برس کے درمیان لیکھ رام پر عذاب شدید جس کا نتیجہ موت ہے نازل کیا جائے گا۔‘‘
(استفتاء ص ١٠۔ خزائن ج ٢٢ ص ١١٨)
ناظرین! کیا یہ حیرت کا مقام نہیں ہے کہ جس واقعہ کے لئے پنڈت لیکھ رام کی زندگی لازمی ہو اُسی واقعہ کا نتیجہ موت بتایا جائے۔ ہاتھ کی کیسی صفائی ہے۔
اللہ رے صفائی! اللہ رے صداقت اور راستگوئی اور مریدوں کی حق پسندی۔ ایک صفحے کا خلاف دوسرے صفحے پر موجود ہے۔ مگر مریدوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اور وہی کہے جاتے ہیں جو ان کا نبی اور ملہم کہہ گیا ہے۔ پختگی اور مضبوطی اسی کا نام ہے۔ سچ ہے:
ناظرین ان دونوں ابواب کو پڑھ کر اس نتیجے پر پہنچ گئے ہوں گے کہ دو مضمون بالکل الگ الگ ہیں ایک مباہلہ جس کے اثر کی میعاد ایک سال تھی جو ١٨٨٩ء میں ختم ہوگئی۔ دوسرا مضمون ٢٠ فروری ١٨٩٣ء سے شروع ہوتا ہے۔ جس میں لیکھ رام پر اس کی زندگی میں خرق عادت عذاب کا ذکر ہے۔ اس کی میعاد چھ سال ہے اور یہ پہلے سے بالکل الگ ہے۔ مرزا صاحب نے گندم نما جو فروشوں کی طرح مخلوط گندم کو اصل گندم کے بھاؤ فروخت کیا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
’’میری اس تحریر پر پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ میں جو ١٨٨٨ء میں اُس نے شائع کی تھی جیسا کہ اس کتاب کے اخیر میں یہ تاریخ درج ہے میرے ساتھ مباہلہ کیا۔ چنانچہ وہ مباہلہ کے لئے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے صفحہ ٣٤٢ میں بطور تمہید یہ عبارت لکھتا ہے۔..... (اس کے بعد لیکھ رام کا مضمون مباہلہ از نسخہ خبط احمدیہ نقل کیا ہے جو کتاب ہٰذا میں پہلے درج ہو چکا ہے) اب مباہلہ کی اس دعا کے بعد جو پنڈت لیکھ رام نے اپنی کتاب خبط احمدیہ کے صفحہ ٣٤٢ سے ٣٤٧ تک لکھی ہے جو کچھ خدا نے آسمان سے فیصلہ کیا ہے اور جس طرح اُس نے کاذب کی ذلت ظاہر کی اور صادق کی عزت وہ یہ ہے جو ٦ مارچ ١٨٩٧ء کو بروز شنبہ دن کے چار بجے کے بعد ظہور میں آیا۔ دیکھو یہ خدا کا فیصلہ ہے جس فیصلہ کو لیکھ رام نے اپنے پرمیشر سے مانگا تھا تا صادق اور کاذب میں فرق ظاہر ہوجائے۔‘‘
(حقیقۃ الوحی ص ٣١٤، ٣٢٠۔ خزائن ج ٢٢ ص ٣٢٧، ٣٣٣)
ناظرین کرام! غور فرمائیں کہ پنڈت لیکھ رام کے ٨٨ء والے مباہلہ کو چھ سالہ پیشگوئی کے
١١
ساتھ کیسے ملا دیا۔ اور کیا ہی مخلوط گندم خالص گندم کے بھاؤ بیچی ہے۔ احمدی دوستو! آؤ مرزا صاحب کے دوسرے ہاتھ کی صفائی بھی تمہیں دکھائیں۔ آپ لکھتے ہیں:
’’(١)لیکھ رام نے صرف بد زبانی پر بس نہ کی بلکہ اپنی موت کے لئے مجھ سے پیشگوئی چاہی۔ چنانچہ میں نے اس کے بار بار کے اصرار کی وجہ سے خدائے عزوجل سے اطلاع پا کر اس کو خبر کر دی کہ وہ چھ برس کے اندر مر جائے گا۔ (٢)مگر اس نے اس پر کفایت نہ کر کے مجھ سے تحریری مباہلہ کیا اور ایسے وقت میں اس نے مباہلہ کیا جبکہ خدا کے نزدیک اس کی زندگی کا خاتمہ ہو چکا تھا۔‘‘
(اشتہار باعث تالیف کتاب چشمہ معرفت ص: الف۔ خزائن ج ٢٣ ص ٥)
ناظرین! اس عبارت پر دو نمبر ڈالے گئے ہیں تاکہ ان کا مفہوم الگ الگ ظاہر ہو جائے۔ پہلے نمبر سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسرے نمبر سے پہلے کا ہے اور دوسرا نمبر اس کے بعد کا۔ یعنی مرزا صاحب کی پیشگوئی مورخہ ٢٠ فروری ١٨٩٣ء‘ ١٨٨٨ء والے مباہلے سے پہلے کی ہے اور ١٨٨٨ء والا مباہلہ بعد کا ہے۔
قادیانی ممبرو! تمہارا بھائی ”پیغام صلح“ (٣١ مئی ١٩٣٢ء) تو تمہیں مسلوب العقل قرار دیتا ہے مگر ہم تم سے ایسے بدگمان نہیں ہیں۔ اس لئے پوچھتے ہیں کہ دونوں حوالوں کا کیا مطلب ہے؟
صحیح واقعہ تو یہ ہے کہ مرزا صاحب نے ١٨٨٦ء میں آریوں کو عموماً اور پنڈت لیکھ رام کو خصوصاً مباہلے کا چیلنج دیا۔ جس پر پنڈت لیکھ رام نے ١٨٨٨ء میں اپنے لفظوں میں مباہلہ کیا۔ جس کی مدت ١٨٨٩ء میں ختم ہو گئی۔ اس کے بعد چھیڑ خوانی ہوتی رہی۔ جس پر چار سالہ وقفے کے بعد مرزا صاحب نے فروری ١٨٩٣ء کو چھ سالہ پیشگوئی کا اشتہار دیا۔ چنانچہ ١٨٩٧ء کے واقعہ پر یہ کھیل بھی ختم ہو گیا۔ مگر مرزا صاحب نے ان حوالوں میں حقیقۃ الوحی اور اشتہار باعث تالیف میں جو کچھ لکھا ہے اس ترتیب کے بالکل الٹ ہے۔ تو بتاؤ کہ ان کے لکھنے والا ملہم تو کیا قابل مصنف بھی ہو سکتا ہے؟ پھر یہ بھی بتانا کہ لیکھ رام کی موت ١٨٩٣ء والی پیشگوئی کے مطابق ہوئی یا ١٨٨٨ء والے مباہلے کے مطابق؟ ذرا سوچ سمجھ کر جواب دینا۔
مرزا صاحب کے مریدو! آپ لوگ فخر کیا کرتے ہیں کہ:
”مرزا صاحب نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے ایک جدید علم کلام کو پیدا کیا جو نہایت محکم نہایت معقول ہے۔ جس پر کسی معقول انسان کو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔“
(الفضل۔ ١٧ اگست ١٩٤٢ء ص ٢)
کیا اس کلام کا یہی نمونہ ہے جو ہم نے اس رسالے میں پیش کیا ہے۔ جس میں اختلاف۔ تضاد بلکہ تناقض کے درجے تک پہنچا ہوا ہے۔ اگر تمہارا یہی معقول علم کلام ہے تو اس پر جتنا فخر کرو بجا ہے۔ مگر ہم تو مرزا صاحب میں کوئی عارفانہ یا عالمانہ کمال نہیں پاتے:
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں
ثنائی پاکٹ بک
(متعلقہ حصہ)
فاتح قادیان
حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری
ثنائی پاکٹ بک
فرقہ مرزائیہ یا احمدیہ
بسم الله الرحمن الرحیم. نحمده ونصلی علی رسوله الکریم. وعلی آله واصحابه اجمعین.
یہ فرقہ بددین فرقوں میں سب سے اخیر ہے مگر حرکت کی وجہ سے آج کل مشہور بہت ہے۔ اس فرقے کے بانی مرزا غلام احمد صاحب قادیان پنجاب میں ١٢٦١ھ مطابق ١٨٤٠ء میں پیدا ہوئے ١؎ ۔ ١٣٠٨ھ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ اس دعوے پر جو دلیل دی اس کی تشکیل یوں ہے:
”حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ان کے نام سے جو آنے والا مسیح موعود ہے اس سے مراد مثیل مسیح ہے جو میں ہوں‘ مسیح موعود کے نزول کا مقام جو حدیثوں میں دمشق آیا ہے اس سے مراد قادیان ہے۔“
اپنے روحانی کمالات کے ثبوت میں انہوں نے اپنی چند پیشگوئیاں پیش کیں۔ علماء اسلام نے مرزا قادیانی کا ہر طرح سے تعاقب کیا۔ قرآن سے‘ حدیث سے‘ ان کے الہامات کی تکذیب سے‘ ان کی پیشگوئیوں سے‘ ان کے ساتھ مباہلوں سے۔ حیات مسیح کے ثبوت میں کئی ایک کتابیں اردو‘ عربی میں لکھی گئیں۔ احادیث کی رو سے ان کو جانچا گیا۔ الہامات سے ان کو پرکھا گیا۔ وفاتِ مسیح پر انہوں نے جتنی آیات پیش کیں ان سب کے جوابات ہم نے تفسیر ثنائی جلد دوم میں دیئے ہیں۔ اس سے مزید تفصیل کے ساتھ مولوی ابراہیم سیالکوٹی نے ”شہادت القرآن“ کے دو حصوں میں اس مسئلہ پر بحث کی۔ مولوی انور شاہ مرحوم اور مولوی غلام رسول (عرف رسل بابا) مرحوم امرتسری نے عربی میں ایک کتاب لکھی۔ اور علماء نے بھی بہت کچھ لکھا۔
١؎ رسالہ ”نور الدین“ ص ٧٠ا۔ سال وفات ١٩٠٨ء میں عمر مرزا ٦٩ سال تھی۔
٢
میری ابتدا سے یہ رائے رہی ہے کہ مرزا قادیانی کی نزاع میں حیاۃ مسیح قابل بحث نہیں ہے بلکہ مرزا صاحب کے الہامات اور روحانی کمالات جن کے وہ مدعی ہیں ان سے ان کو جانچنا چاہئے جن کا ان کو دعویٰ ہے اس لئے میں نے زیادہ توجہ اس پر رکھی تاہم ”پاکٹ بک“ ہذا میں حیاۃ مسیح کی ایک زبردست دلیل پیش کی جاتی ہے۔
حیاۃ مسیح :۔ بوقت نزول قرآن شریف یہودی اور عیسائی دونوں متفق تھے کہ مسیح کو صلیب پر لٹکایا گیا اور ایک سپاہی نے ان کو بھالا مارا جس سے ان کا خون نکلا اور انہوں نے چلا کر جان دی۔
(انجیل متی باب ٢٧۔ ایضاً یوحنا باب ١٩)
اہل کتاب کے اس متفقہ عقیدے کو قرآن مجید نے صاف صاف لفظوں میں ردّ کیا۔ چنانچہ فرمایا:
”ما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم ‘ وما قتلوه يقينا “ (النساء: ١٥٧)
”نہ انہوں نے مسیح کو قتل کیا نہ سولی پر مارا لیکن ان کو شبہ ہوا اور انہوں نے اس کو یقیناً قتل نہیں کیا۔“
ان آیات میں اہل کتاب کے متفقہ عقیدے کا ابطال کر کے قرآن مجید نے اپنا عقیدہ بتایا:
”بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ “ (النساء : ١٥٨ )
” بلکہ خدا نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا “
اب ظاہر ہے کہ جس شخص کو قتل اور سولی پر مارنے کا وہ لوگ گمان کرتے تھے اسی کی بابت ارشاد ہوا کہ ہم نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ نہ قتل سے مرے نہ صلیب سے بلکہ وہ اٹھائے گئے ۔ اس تصریح سے زیادہ تصریح کیا ہو گی؟
اب اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی طرف سے آیات (انی متوفیک یا توفیتنی) وغیرہ پیش کرنی (جو وفات فی زمان الماضی میں نص صریح نہیں) گویا نص قرآنی کا مقابلہ کرنا ہے۔ مفصل تفسیر ثنائی جلد دوم اور کتاب شہادۃ القرآن دو حصوں میں ملاحظہ ہو۔
نشانات مرزا :۔ ہم بتا چکے ہیں کہ مرزا صاحب کے متعلق ہماری نا قابل تردید رائے یہ ہے کہ ان کو ان کے روحانی کمالات (پیشگوئیوں اور الہامات) سے جانچنا چاہئے۔ مرزا صاحب نے جن امور کو کمال تحدی اور زور کے ساتھ اپنی صداقت پر پیش کیا ہے وہ چار امور ہیں:
(١) پنڈت لیکھ رام کے متعلق پیشگوئی (٢) ڈپٹی آتھم کی موت کے متعلق پیشگوئی
٣
(٣) محمدی بیگم کے مرزا صاحب کے نکاح میں آنے کی پیشگوئی۔
(شہادۃ القرآن ص ٧٩، ٨٠۔ خزائن ج ٦ ص ٣٧٥ تا ٣٧٦)
(٤) چوتھی بات جو سب سے اخیر اور سب سے اہم ہے وہ ”آخری فیصلہ“ ہے۔ ہماری تحقیق میں تینوں پیشگوئیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ سب سے اول پنڈت مذکور کے متعلق ہے جس پر اتباع مرزا کو بڑا ناز ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ”اگر اس (لیکھرام) پر چھ برس کے عرصہ میں کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت اور اپنے اندر الٰہی ہیبت رکھتا ہو تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ۔“
(سراج منیر ص ١٢۔ خزائن ج ١٢ ص ١٥)
ناظرین! ان الفاظ کو سامنے رکھیے۔ اور پنڈت مذکور کی موت کا واقعہ سنئے۔ ٦؍ مارچ ١٨٩٧ء کو قریب شام کے کوئی شخص لیکھرام کو چھری سے قتل کر کے بھاگ گیا اور گرفتار نہیں ہو سکا۔ اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ چھری سے قتل کرنے یا قتل ہونے میں خلاف عادت کیا بات ہے۔ آئے دن ایسے قتل ہوتے رہتے ہیں۔ پشاور میں تو عام ہے۔ خاص لاہور میں بھی ہیں۔ بھگت سنگھ نے قتل کیا۔ مشہور علم دین نے راجپال آریہ کو لاہور میں دن دہاڑے قتل کیا۔ سوامی شردہانند دہلی میں قتل کیا گیا۔ کلکتہ میں ایک پنجابی نے ایک کتب فروش کو دن دہاڑے قتل کیا۔ بٹالہ کے محمد حسین مرحوم کو ایک مرزائی نے قتل کیا جو پھانسی دیا گیا یہ واقعات تو حال ہی کے ہیں۔ ان سے پہلے بھی بکثرت قتل ہوتے آئے ہیں تو کیا یہ قتل سپر نیچرل (خلاف عادت) ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا پھر پنڈت لیکھرام کا قتل خلاف عادت (ہونے کا ذکر پیشگوئی میں ہے) کیونکر ہوا۔ ہرگز نہیں۔ بلکہ اصل واقعہ ہے جو نہ اپنے اندر کوئی خاص ہیبت رکھتا ہے نہ خرق عادت ہے۔ پس ثابت ہوا ہے کہ پیشگوئی غلط ہوئی ہے۔
(مفصل ”الہامات مرزا“ مشمولہ جلد ہٰذا)
دوسری پیشگوئی: دوسری پیشگوئی ڈپٹی آتھم عیسائی کے متعلق ہے۔ جس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ” آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے بہت سے تضرع اور ابتہال سے جناب الٰہی میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے تو اس نے مجھے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس کی
٤
اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اُس وقت جب پیشینگوئی ظہور میں آئے گی بعض اندھے سوجاکھے کئے جائیں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے۔“ (جنگ مقدس ص٢١٠‘٢٠٩۔ خزائن ج٦ ص٢٩٢‘٢٩١)
اس کی بابت تو پوچھنا ہی کیا۔ ان پندرہ ماہ کی مدت ستمبر ١٨٩٤ء کو ختم ہوئی تھی مگر آتھم (عیسائی مناظر) بہت پیچھے مرا۔ جس کی تاریخ خود مرزا صاحب کی تحریر میں موجود ہے جو درج ذیل ہے:
”مسٹر عبداللہ آتھم ٢٧؍جولائی ١٨٩٦ء کو فوت ہوئے۔“ (انجام آتھم ص١۔ خزائن ج١١ ص ایضاً)
مرزا صاحب کا کمال ہے کہ باوجود فاصلہ ٢٢ ماہ ٢٠ روز کا ہے لیکن کس جرأت سے لکھتے ہیں:
”اگر کسی کی نسبت پیشگوئی ہو کہ وہ پندرہ مہینے تک مجذوم ہو جائے گا پس اگر وہ بجائے پندرہ کے بیسویں مہینے میں مجذوم ہو جائے اور ناک اور تمام اعضاء گر جائیں تو کیا وہ مجاز ہوگا کہ یہ کہے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ نفس واقعہ پر نظر چاہئے۔“
(حقیقۃ الوحی ص١٨٥ حاشیہ۔ خزائن ج٢٢ حاشیہ ص١٩٣)
اس اقتباس میں آتھم کی میعاد کی وسعت تسلیم کرکے کیا خوب جواب دیا ہے۔ معاملہ فہم اصحاب غور کریں کہ مرزا صاحب کا یہ جواب کہاں تک صحت رکھتا ہے۔ خدا عالم الغیب ہے جس پر کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں، جس کو ٦؍ستمبر ١٨٩٤ء معلوم ہے تو ٢٧؍جولائی ١٨٩٦ء بھی معلوم ہے۔ وہ کیوں نہ بجائے ١٥ ماہ کے یوں کہے کہ:
”جھوٹا فریق ٢٧؍جولائی ١٨٩٦ء تک مر جائے گا اور سچا زندہ رہے گا“
تاکہ اس کے ملہم کی لوگ تکذیب نہ کریں بلکہ الہام کنندہ کو بھی ساتھ ہی مکروہ الفاظ سے یاد نہ کریں۔ ثابت ہوا کہ یہ پیشگوئی بھی غلط نکلی۔ (مفصل...... الہامات مرزا میں)
تیسری پیشگوئی: تیسری پیشگوئی بڑی اہم ہے۔ جس کے متعلق سب سے اول مرزا صاحب نے اعلان کیا تھا کہ اگر محمدی بیگم بنت احمد بیگ ہوشیار پوری میرے ساتھ بیاہی نہ گئی بلکہ دوسری جگہ بیاہی گئی تو روزِ نکاح سے اڑھائی سال میں اس کا خاوند مر کر بیوہ ہو کر میرے نکاح میں آئے گی۔
(اشتہار ١٠؍جولائی ١٨٨٨ء۔ مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٥٨)
اس کے بعد جب اس مسماۃ محترمہ کا نکاح دوسری جگہ ہو گیا تو مرزا صاحب کو لوگوں نے توجہ دلائی یا طعنہ دیا تو اس نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان کیا جس کے الفاظ یہ ہیں:
”(خدا نے) فرمایا کہ میں اس عورت (بنت احمد بیگ) کو اُس کے نکاح کے بعد واپس لاؤں گا اور تجھے دوں گا اور میری تقدیر کبھی نہیں بدلے گی اور میرے آگے کوئی بات انہونی
٥
نہیں اور میں سب روکوں کو اٹھا دوں گا جو اس حکم کے نفاذ سے مانع ہوں۔ اب اس عظیم الشان پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ وہ کیا کیا کرے گا۔ اور کون کون سی قہری قدرت دکھلائے گا اور کس کس شخص کو روڑے کی طرح سمجھ کر اس دنیا سے اٹھا لے گا۔" (تبلیغ رسالت جلد سوم ص ١١٥۔ مجموعہ
اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
اس اقتباس کے ساتھ ہی آپ نے معاملہ بالکل صاف کر دیا جس پر کسی مأوّل یا محرف کی بات ہرگز نہ چل سکے یہ ہے کہ:
"نفس پیشگوئی یعنی اُس عورت (بنت احمد بیگ) کا اس عاجز (مرزا) کے نکاح میں آنا یہ تقدیر مبرم (اٹل) ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ کیونکہ اس کے لئے الہام الٰہی میں یہ فقرہ موجود ہے کہ لا تبدیل لکلمات اللہ یعنی میری یہ بات ہرگز نہیں ٹلے گی۔ پس اگر ٹل جائے تو خدا تعالیٰ کا کلام باطل ہوتا ہے۔"
(مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٤٣)
مذکورہ عبارات اپنا مطلب بتانے میں بالکل صاف ہیں اور سب کی سب متفق ہیں کہ خاتون موصوفہ مرزا صاحب کے نکاح میں ضرور آئے گی نہ آئے تو خدا کا الہام جو مرزا صاحب کو ہوا تھا غلط ہو جائے گا حالانکہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ ممدوحہ قصبہ پٹی ضلع لاہور میں مرزا سلطان احمد صاحب کی زوجیت میں بفضلہ تعالیٰ آج ٢٤ / مارچ ١٩٣٤ء تک زندہ ہے اور مرزا صاحب نکاح کی امید میں یہ شعر پڑھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے:
اب آرزو یہ ہے کہ کبھی آرزو نہ ہو
نوٹ :۔ باوجود اس کے مرزا صاحب کے وکیل بالخصومت کہے جاتے ہیں کہ محمدی بیگم کے متعلق حضرت مرزا صاحب نے جس طرح پیشگوئی کی تھی بعینہ اسی طرح پوری ہوئی (مکمل پاکٹ بک احمدی ص ب) کیا ہم اس دعوے کو اس حدیث کے ماتحت سمجھیں۔ اذا لم تستحی فاصنع ما شئت ١
آخری فیصلہ
یہ فیصلہ کوئی زن ۔ زر ۔ زمین کا نہیں بلکہ مرزا صاحب اور عالم اہل اسلام بلکہ تمام اہل
١؎ جب کسی میں حیاء نہ ہو تو جو جی میں آئے کرے۔ منہ
٢
دنیا کے اختلافات کا فیصلہ ہے۔ فیصلہ بھی کوئی انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ قدرتی ہاتھ سے ہے جس کی اپیل نہیں۔ اس کے متعلق مرزا صاحب نے سرخی یہ قائم کی :
”مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ آخری فیصلہ“
(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨۔٥٧٩)
ناظرین ایک نظر اس اشتہار کو ”فیصلہ مرزا“ میں پڑھ چکے ہیں ہم نے یہاں اسے حذف کر دیا۔ اس میں سوائے دعا کے کوئی اور لفظ مباہلہ یا مخالفہ وغیرہ بھی ہے؟ ہر گز نہیں۔ بلکہ محض دعاء ہلاکت کاذب کے لئے ہے۔ ہاں اس میں ایک فقرہ یہ بھی قابل غور ہے کہ مرزا صاحب نے اس میں لکھا ہے کہ یہ کسی الہام کی بنا پر نہیں بلکہ محض دعاء کے طور پر ہے۔ بالکل ٹھیک ہے لیکن بعد دعا کرنے کے خدا نے اس دعا کے قبول کر لینے کا الہام ضرور کیا تھا۔ چنانچہ اس بارے میں مرزا صاحب کی ڈائری کے الفاظ یوں ہیں :
”ثناء اللہ کے متعلق جو لکھا گیا ہے یہ دراصل ہماری طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک دفعہ ہماری توجہ اُس کی طرف ہوئی اور رات کو توجہ اس کی طرف ہوئی *** رات کو الہام ہوا اجیب دعوۃ الداع صوفیا کے نزدیک بڑی کرامت استجابت دعا ہی ہے باقی سب اُس کی شاخیں ۔“
(ملفوظات ج ٩ ص ٢٦٨۔ اخبار بدر ٢٥؍اپریل ١٩٠٧ء)
پس ثابت ہوا کہ گو یہ دعاء الہام کی بنا پر نہ تھی لیکن بعد دعا قبول کرنے کا وعدہ الہامی ضرور ہے۔ پھر کیا ہوا یہی کہ مرزا صاحب ٢٦؍ مئی ١٩٠٨ء کو انتقال کر گئے اور خاکسار (ثناء اللہ ) اس وقت تک زندہ یہ سطور لکھ رہا ہے۔
عذر بارد : چاہئے تو یہ تھا کہ جماعت احمدیہ اس نشان قدرت کو دیکھ کر توبہ کرتی اور مرزا صاحب کا دامن چھوڑ کر دامنِ محمدی سے آلپٹتی مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ اس کے جواب میں کئی عذر نکالے۔ مجھ کو مباحثہ کا چیلنج دیا بلکہ درصورت فیصلہ ثالث تین سو روپیہ انعام دینے کا وعدہ بھی کیا جسے میں نے منظور کیا اور حسب خواہش ان کے بمقام لدھیانہ فریقین مباحثہ کے لئے پہنچ گئے۔ مباحثہ ہوا یہاں تک کہ حسب فیصلہ ثالث تین سو روپیہ میں نے ان سے وصول کیا۔ وللہ الحمد۔ (اپریل ١٩١٢ء) اس مباحثہ کی روئداد مع فیصلہ ثالث رسالہ ”فاتح قادیان“ کے نام سے شائع
(***) اسی طرح مرقوم ہے۔
٧
ہے ۔ تاہم جماعت احمدیہ بہر دو صنف نے انکار پر اصرار کیا۔ عذر یہ کیا اور کرتے رہتے ہیں کہ ١٨٩٧ء میں مرزا صاحب نے مباہلہ کا اشتہار دیا تھا اس میں مولوی ثناء اللہ کو بھی دعوت مباہلہ ١ دی تھی۔ یہ اشتہار اُسی سلسلہ کی کڑی ہے اس میں مرزا صاحب نے مولوی صاحب کو دعوت مباہلہ دی تھی جو مولوی صاحب نے منظور نہ کی۔ لہٰذا مباہلہ نہ ہوا۔ جب مباہلہ نہ ہوا تو الزام کیا؟
اس کا جواب ہم اپنے الفاظ میں نہیں دیتے بلکہ حسب عادت مرزا صاحب ہی کے الفاظ میں دیتے ہیں۔ مرزا صاحب نے ١٩٠٢ء میں کتاب اعجاز احمدی میں لکھا تھا کہ:
’’ہم موت کے مباہلہ میں اپنی طرف سے کوئی چیلنج نہیں کر سکتے کیونکہ حکومت کا معاہدہ ٢ ایسے چیلنج سے ہمیں مانع ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢٢)
اس عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کسی شخص کو بھی موت کے مباہلہ کی دعوت نہیں دے سکتے تھے اور اس امر کا کھلے الفاظ میں اظہار کرتے تھے۔ اور ایسا کرنے کو حکومت سے وعدہ شکنی سمجھتے تھے۔ پھر یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اس اشتہار میں مجھے مباہلہ موت کی دعوت دی ہو۔ ہر گز نہیں۔ ناظرین! پھر ایک دفعہ اشتہار مذکور کو پڑھ جائیں۔ دیکھیں کہ سارے اشتہار میں ایک جگہ بھی مباہلہ کا لفظ یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ موجود ہے؟ ہر گز نہیں۔ بلکہ محض دعا ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ چنانچہ مرزا صاحب کی زندگی ہی میں قادیانی اخبار بدر میں یہ مضمون شائع ہو چکا ہے کہ: ’’فیصلہ محض دعا سے چاہا گیا ہے مباہلہ سے نہیں‘‘
(بدر ج ٦ نمبر ٣٤ ص ٨ کالم ١۔ ٢٢ اگست ١٩٠٧ء)
اس سے بھی واضح تر یہ ثبوت ہے کہ مرزا صاحب کے انتقال کے بعد قادیان کے ماہوار رسالہ ’’ریویو‘‘ کا جو پہلا پرچہ نکلا تھا اُس وقت خلیفۂ قادیان مولوی نور الدین تھے۔ اور رسالہ مذکورہ کے ایڈیٹر مولوی محمد علی (حال امیر جماعت احمدیہ لاہور) تھے اس میں مولوی محمد علی اور مولوی محمد احسن امروہی نے تسلیم کیا ہے کہ یہ اشتہار محض دعا تھا۔
(ریویو آف ریلیجنز قادیان ج ٧ نمبر ٧ ص ٢٩٨۔ بابت جون جولائی ١٩٠٨ء)
پھر اب دعوت مباہلہ کیسے ہوئی؟ اس پہلو میں بھی احمدی جب کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے ایک اور پہلو نکالا وہ یہ ہے:
١ مباہلہ کے معنی بقول مرزا صاحب دونوں طرف سے بددعا ہوتی ہے۔
٢ مرزا صاحب نے ایک مقدمہ میں ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور کے سامنے تحریری اقرار کیا تھا کہ میں کسی کو موت کے مقابلہ کی دعوت نہ دوں گا۔ اس وعدہ سے ڈرتے ہیں۔
”آپ (مولوی ثناء اللہ) نے اخبار اہلحدیث مورخہ ٢٩ مارچ ١٩٠٧ء میں مرزا صاحب کو مباہلہ کا چیلنج دیا تھا۔ یہ اشتہار اسی چیلنج کی منظوری ہے۔“
چنانچہ قادیانی پارٹی کا ایک جدید قابل مصنف لکھتا ہے:
”مولوی ثناء اللہ نے لکھا تھا:۔ مرزائیو! سچے ہو تو اپنے گرو (مرزا) کو ساتھ لاؤ وہی میدان عیدگاہ امرتسر تیار ہے جہاں تم پہلے مولوی عبدالحق غزنوی سے مباہلہ کر کے آسمانی ذلت اٹھا چکے ہو اسے ہمارے سامنے لاؤ جس نے ہمیں رسالہ انجام آتھم میں مباہلہ کی دعوت دی ہوئی ہے۔ کیونکہ جب تک پیغمبر جی سے فیصلہ نہ ہو سب امت کے لئے کافی نہیں ہو سکتا (اہلحدیث ٢٩ مارچ ١٩٠٧ء) حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) نے اس چیلنج کو منظور کر لیا اور فوراً ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو دعاء مباہلہ بعنوان ”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“ شائع فرمائی۔ جس میں آپ نے یہ دعاء فرمائی ”اب میں تیرے (اللہ) ہی کے تقدس اور رحمت کا دامن پکڑ کر تیری جناب میں ملتجی ہوں کہ مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما“ اور مولوی ثناء اللہ کو لکھ دیا کہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔“
(مکمل پاکٹ بک ص ٣٨٠، ٣٨١ مصنفہ ملک عبدالرحمن خادم گجراتی)
جواب:۔ اس بیان میں مصنف مذکور نے ہمارا جواب تو جو دیا سو دیا اپنی دیانت اور امانت کا پورا مظاہرہ دکھایا۔ باانصاف ناظرین غور سے سنیں۔ اس تاویل سے انہوں نے بزعم خود دونوں پہلو بچا لئے یعنی سرکاری وعدہ شکنی بھی نہ ہوئی اور یہ اشتہار سلسلہ مباہلہ میں بھی آ گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جواب سب جوابوں سے زیادہ غلط اور اس کو پیش کرنے والے سب سے زیادہ دجل اور تعصب سے بھر پور یا اپنے لٹریچر سے بے خبر ہیں۔ کیونکہ میرے کلام منقولہ از اہلحدیث ٢٩؍ مارچ ١٩٠٧ء کے جواب میں مرزا صاحب نے فرمایا تھا کہ ”ہم ثناء اللہ کے ساتھ مباہلہ اُس وقت کریں گے جب ہماری کتاب ”حقیقۃ الوحی“ چھپ کر شائع ہو جائے گی اور مولوی ثناء اللہ اس کو پڑھ کر ہمیں امتحان بھی دے لے گا۔“
(اخبار الحکم ٣١؍ مارچ ١٩٠٧ء اور بدر ٤؍ اپریل ١٩٠٧ء)
اور کتاب حقیقۃ الوحی کے سرورق پر اس کی تاریخ اشاعت لکھی ہے ١٥؍ مئی ١٩٠٧ء۔ باوجود اس کے جب مجھے وہ نہ ملی تو میں نے مرزا صاحب کو بتاریخ ٥؍ جون ١٩٠٧ء کو مطالبہ کا خط لکھا جو مع جواب اخبار بدر قادیان مورخہ ١٣؍ جون ١٩٠٧ء میں چھپا تھا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وسط
٩
جون ١٩٠٧ء تک کتاب حقیقۃ الوحی مجھے نہیں ملی تھی۔ پھر مرزا صاحب نے میری تحریک مباہلہ اور اپنے جواب کے مطابق دو مہینے پہلے یعنی ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو مجھ سے مباہلہ کیوں کر دیا تھا؟ کوئی راست گو یا راست رو ایسا کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
ثابت ہوا کہ یہ اشتہار دعوت مباہلہ یا قبولیت مباہلہ نہیں بلکہ محض دعاء ہلاکت کاذب کے لئے ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے۔
کذب میں پکا تھا پہلے مر گیا
مفصل کے لئے ہمارا رسالہ ”فیصلہ مرزا اور مباحثہ لدھیانہ فاتح قادیان“ ملاحظہ کریں۔
(مشمولہ جلد ہذا)
٭٭٭٭٭
ہفت روزہ ختم نبوت کراچی
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ﴿ہفت روزہ ختم نبوت﴾ کراچی گذشتہ بیس سالوں سے تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ اندرون و بیرون ملک تمام دینی رسائل میں ایک امتیازی شان کا حامل جریدہ ہے۔ جو مولانا مفتی محمد جمیل خان صاحب مدظلہ کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔
زر سالانہ صرف =/250 روپے
رابطہ کے لئے:
دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی نمبر 3
١٠