عصمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملے
مُصنّف
سید ممتاز علی بخاری
زاویہ پبلشرز
( C-8 محی الدین بلڈنگ ) داتا دربار مارکیٹ، لاہور فون: 042-7248657 موبائل: 0300-9467047 - 0300-4505466 Email:zaviapublishers@yahoo.com
پبلشرز زاویہ
جملہ حقوق محفوظ ہیں
2009
بار اول ــــــــــــــــــــــــــــــــ 1000 ہدیہ ــــــــــــــــــــــــــــــــ 250 روپے زیر اہتمام ــــــــــــــــــــــــــــــــ مجاہد علی تارڑ
لیگل ایڈوائزرز
محمد کامران حسن بھٹہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ (لاہور) 0300-8800339 رائے صلاح الدین کھرل ایڈووکیٹ ہائی کورٹ (لاہور) 0300-7842176
ملنے کے پتے
کتاب گھر، کمیٹی چوک، راولپنڈی 051-5552929 اسلامک بک کارپوریشن، کمیٹی چوک، راولپنڈی 051-5536111 احمد بک کارپوریشن، کمیٹی چوک، راولپنڈی 051-5558320 مکتبہ قادریہ، پرانی سبزی منڈی، کراچی 0213-4944672 مکتبہ برکات المدینہ، بہادر آباد، کراچی 0213-4219324 مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی 0213-2216464 حنفیہ پاک پبلی کیشنز، کھارادر، کراچی مکتبہ سخی سلطان، حیدرآباد 0321-3025510 مکتبہ قادریہ، سرکلر روڈ، گوجرانوالہ 055-4237699 مکتبہ قادریہ، داتا دربار مارکیٹ لاہور 0423-7226193 کتب خانہ حاجی مشتاق احمد، ملتان 061-4545486
عصمت رسول ﷺ پر حملہ
انتساب دیباچہ تقریظ تقریظ تقریظ تقریظ مقدمہ
باب اول ٭ (آبائے رسول)
حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا
باب دوم ٭ (حضور ﷺ ک
رضاعی دور میں یہودیو اعلان نبوت کے بعد یہ عمر بن خطاب کا ارادہ ابو جہل کا پتھر مارنے ک ابوسفیان کا حملہ عقبہ بن ابی معیط ملعون قبیلہ بنی مخزوم کا حملہ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
فہرست
انتساب 8 دیباچہ 9 تقریظ (سید غلام مصطفیٰ بخاری عقیل) 11 تقریظ (پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن) 13 تقریظ (پروفیسر اکرام الرشید) 15 تقریظ (سید منیر احمد بخاری) 17 مقدمہ 21
باب اول ☆ (آبائے رسول ﷺ کی جان لیوا آزمائشیں) 26 حضرت ابراہیم علیہ السلام آتش نمرود میں 28 حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی 31 حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کی قربانی 34 حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ پر قاتلانہ حملہ 38 حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ کے جسد اطہر کے متعلق ناپاک سازش 41
باب دوم ☆ (حضور ﷺ کو شہید کرنے کی کوششیں) 42 رضاعی دور میں یہودیوں کا حملہ 44 اعلان نبوت کے بعد پہلا حملہ 45 عمر بن خطاب کا ارادہ قتل نبوی 46 ابو جہل کا پتھر مارنے کا منصوبہ 48 ابوسفیان کا حملہ 50 عقبہ بن ابی معیط ملعون کی کارستانیاں 51 قبیلہ بنی مخزوم کا حملہ 53
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ٭4٭
سفر طائف 54 دارالندوہ میں کفار کی مشاورت 59 غار ثور میں قیام 65 سراقہ کا تعاقب کرنا 67 بریدہ اسلمی کی لالچ 71 عمیر اور صفوان کا شرمناک معاہدہ 73 سفر غزوہ ذی الامر میں حملہ 77 کعب بن اشرف کی بدبختیاں 79 اُحد کا خونریز معرکہ 85 خوش نصیب گھڑی 89 ابوسفیان کی سازش 90 بنو نضیر کی عہد شکنی 93 سفر غزوہ ذات الرقاع میں حملہ 97 خسرو پرویز کا گستاخانہ حکم 99 زہر آلود گوشت کی دعوت 103 فضالہ بن عمیر کا ناپاک ارادہ 104 لبید بن اعصم کا جادو 105 وفد بنی عامر بن صعصعہ کی سازش 108
باب سوم ٭ (صبح دوام زندگی) 110
آغاز سفر آخرت 112 آخری ہفتہ 113 پانچ دن قبل 114 چار دن قبل 116
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
دو دن قبل ایک دن قبل آخری دن حالت نزع اور وصال مبارک غسل مبارک روضہ اقدس (قبر اطہر) کفن مبارک نماز جنازہ تدفین
باب چہارم ٭ (روضۂ رسول
واقعہ حرّہ اموی دور کا واقعہ خسف کا عبرتناک واقعہ مصری حکمران الحاکم کی ناپاک عیسائی دُنیا کے ادھورے خواب محمد بن عبدالوہاب کا حملہ
باب پنجم ٭ (گستاخان
توہین رسالت کیا ہے؟ قرآن حکیم کے مطابق سزا احادیث مبارکہ کی روشنی میں اجماع امت اور قانون توہین ادیان عالم کے قوانین شاتم رسول کی توبہ کے احکام
4 54 59 65 67 71 73 77 79 85 89 90 93 97 99 103 104 105 108 110 112 113 114 116
﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿
دو دن قبل 118 ایک دن قبل 119 آخری دن 120 حالت نزع اور وصال مبارک 122 غسل مبارک 123 روضہ اقدس (قبر اطہر) 125 کفن مبارک 126 نماز جنازہ 127 تدفین 128 باب چہارم ٭ (روضۂ رسول ﷺ پر ناپاک جسارتیں) 129 واقعہ حرہ 131 اموی دور کا واقعہ 134 خسف کا عبرتناک واقعہ 135 مصری حکمران الحاکم کی ناپاک جسارت 138 عیسائی دُنیا کے ادھورے خواب 140 محمد بن عبدالوہاب کا حملہ 144 باب پنجم ٭ (گستاخان رسول اور اُن کا انجام) 146 توہین رسالت کیا ہے؟ 148 قرآن حکیم کے مطابق سزا 150 احادیث مبارکہ کی روشنی میں سزا 153 اجماع امت اور قانون توہین رسالت 155 ادیانِ عالم کے قوانین 157 شاتم رسول کی توبہ کے احکام 159
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
عصماء بنت مروان کی گستاخیاں 164 ابو رافع ملعون 166 ابن خطل کی بدبختی 169 اندلس میں تحریک شتامت رسول ﷺ 171 راج پال کا واقعہ 173 ایک ڈوگرہ فوجی کی غلیظ حرکت 177 رام گوپال کا واقعہ 181 شہیدان وفا 184 غازی عبدالقیوم شہید 185 غازی عبدالرشید شہید 188 غازی عبداللہ انصاری شہید 190 غازی محمد صدیق شہید 192 غازی امیر احمد ، عبداللہ شہید 194 غازیان ناموس رسالت 196 غازی زاہد حسین 197 غازی فاروق احمد 198
باب ششم☆ (مستشرقین کی گستاخیاں) 200
تحریک استشراق 202 تحریک استشراق کا آغاز 203 تحریک استشراق کی تاریخ 205 پہلا دور 205 دوسرا دور 209 تیسرا دور 211
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
چوتھا دور پانچواں دور چھٹا دور سلمان رشدی ملعون گستاخانہ خاکے (ایک منظم سا گستاخانہ خاکوں کے مقاصد خاکوں کی اشاعت لمحہ بہ لمحہ مسلم دنیا کا ردعمل غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید OIC کا کردار غیر مسلموں کا دوغلا کردار
باب ہفتم☆ (منصب نبوت پر
اسود عنسی طلیحہ اسدی سجاح بنت حارث مسیلمہ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی امت مسلمہ کی ذمہ داریاں عالم اسلام کے لئے عملی تجاویز
﴿6﴾
ں 164 166 169 ﷺ 171 173 177 181 184 185 188 190 192 194 196 197 198 گستاخیاں) 200 202 203 205 205 209 211
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿7﴾
چوتھا دور 215 پانچواں دور 218 چھٹا دور 221 سلمان رشدی ملعون 225 گستاخانہ خاکے (ایک منظم سازش) 230 گستاخانہ خاکوں کے مقاصد 233 خاکوں کی اشاعت لمحہ بہ لمحہ 237 مسلم دنیا کا ردعمل 243 غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید 255 OIC کا کردار 259 غیر مسلموں کا دوغلا کردار 260
باب ہشتم ☆ (منصب نبوت پر حملہ کرنے والے کذاب) 269
اسود عنسی 271 طلیحہ اسدی 274 سجاح بنت حارث 276 مسیلمہ کذاب 278 مرزا غلام احمد قادیانی 280 امت مسلمہ کی ذمہ داریاں 283 عالم اسلام کے لئے عملی تجاویز (Recomandations) 284
عصمت رسول ﷺ پر حملے
انتساب
- ا۔ اس جذبے کے نام
جس کے باعث عصمت رسول ﷺ پر لاکھوں دل پروانہ وار قربان ہونے کے لئے مچل رہے ہیں۔
- ۲۔ ان جانوں کے نام
جو اس عظیم مشن کی تکمیل میں اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کر کے شہادت کے منصب پر فائز ہوئیں اور اعدائے رسول ﷺ کے لئے موت کے خوف کی علامت بن گئیں۔
سید محمد ممتاز علی بخاری
عصمت رسول ﷺ پر حملے
حضور نبی کریم ﷺ کی محبت وعقیدت ہر مسلمان کے رگ و محبت و عقیدت اصل ایمان ہے۔ اسی
گر بہ
ایک مسلمان کا نبی آخر الزماں کا تعلق ہے جب کہ دوسرا تعلق جذباتی میں کتنا ہی کمزور اور تہی دامن کیوں مالا مال ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی میں گستاخی کی جسارت ہوئی ، ہر م علم الدین شہیدؒ نے آگے بڑھ کر شمع رسالت دشمنان اسلام مسلمانوں کے آزمانے کیلئے ہر دور میں شان رسالت رہے ہیں اور شمع رسالت ﷺ کے سعادت حاصل کرتے رہے ہیں۔ ی بقول اقبالؒ
چراغ
حال ہی میں بعض یورپی ممالک کے کے مسلمانوں نے بیک زباں اس گم ج سے بھی بڑھ کر اس گستاخی کے مر محسن انسانیت ﷺ کے مقام و مرتبے
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
دیباچہ
حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی باعث تخلیق کائنات ہے۔ آپ ﷺ سے محبت و عقیدت ہر مسلمان کے رگ و ریشے میں خون کی طرح گردش کرتی ہے۔ یہی محبت و عقیدت اصل ایمان ہے۔ اسی لیے علامہ اقبالؒ نے فرمایا:
گر بہ او نہ رسیدی، تمام بولہبی است
ایک مسلمان کا نبی آخر الزماں ﷺ سے ایک تعلق شعوری سطح پر ہے جو کہ اطاعت کا تعلق ہے جب کہ دوسرا تعلق جذباتی سطح پر ہے اور وہ ہے محبت کا تعلق! مسلمان چاہے عمل میں کتنا ہی کمزور اور تہی دامن کیوں نہ ہو، اس کا دل حضورؐ کے عشق کی لازوال دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی بدبخت کی طرف سے اس ذات اقدس ﷺ کی شان میں گستاخی کی جسارت ہوئی، ہر مسلمان کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور کسی غازی علم الدین شہیدؒ نے آگے بڑھ کر شمع رسالت پر اپنی جان پروانہ وار نثار کر دی۔
دشمنان اسلام مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کا امتحان لینے اور ان کی غیرت ایمانی کو آزمانے کیلئے ہر دور میں شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کی ناپاک جسارت کرتے رہے ہیں اور شمع رسالت ﷺ کے پروانے ہر دور میں اس شمع پر جانیں نثار کرنے کی سعادت حاصل کرتے رہے ہیں۔ یہ سلسلہ ظہور اسلام کے وقت سے تا حال جاری ہے۔
بقول اقبالؒ
چراغ مصطفویٰ سے شرار بولہبی!
حال ہی میں بعض یورپی ممالک کے اخبارات میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر دنیا بھر کے مسلمانوں نے بیک زباں اس گھناؤنی سازش پر صدائے احتجاج بلند کی ہے۔ لیکن احتجا ج سے بھی بڑھ کر اس گستاخی کے مرتکب اہل مغرب کی بدبختی پر ماتم کرنے کا مقام ہے کہ جو محسن انسانیت ﷺ کے مقام و مرتبے سے نا آشنا ہونے کے باعث صرف مسلمانوں کو رنج
﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿
کرنے کیلئے ایسی حرکات کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ دنیا بھر کے مسلمانو ں، حکمرانوں، دانشوروں، علماء، مبلغین اور سرکردہ لوگوں کیلئے فکر کا مقام ہے کہ امت محمدیہ نے نبی مہربان اور رحمۃ للعالمین ﷺ کا پیغام اہل مغرب تک نہیں پہنچا اور وہ بے خبری، تعصب اور جہالت کے باعث ایسی حرکات کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
وہ آج کے گم کردہ راہ مسلمانوں کی حرکات کو ان کے نبی ﷺ کی تعلیمات کا نتیجہ سمجھ کر نبی کے بارہ میں غلط رائے قائم کر بیٹھے ہیں۔ آج کی ملت اسلامیہ کے لئے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ تعلیمات نبوی اقوام عالم کے سامنے درست سیاق و سباق میں شرح و بسط سے پیش کریں تاکہ اتمام حجت ہوسکے۔
عزیزم سید محمد ممتاز علی بخاری نے تاریخ اسلام کی عرق ریزی کرتے ہوئے مختلف ادوار میں شان رسالت میں گستاخی کے مرتکب دنیا کے بدقسمت ترین افراد اور گروہوں کی تفصیل زیر نظر کتاب میں بیان کی ہے جو نبی مکرم ﷺ سے ان کی والہانہ عقیدت اور بے پایا ں عشق کا اظہار ہے۔
مجھے پورا یقین ہے کہ کتاب کے زیور طبع سے آراستہ ہونے سے پہلے ہی یہ کاوش دربار رسالت مآب ﷺ میں قبولیت کا شرف پاچکی ہے کہ وہاں قبولیت کے لئے کسی جبہ و دستار، کسی علمی سند، کسی ادبی چاشنی یا کسی مرصع طباعت کی نہیں عشق اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ مصنف نے ایسے وقت میں جب وہ اپنی لڑکپن کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور جن کی ابھی تک مونچھیں بھی ٹھیک سے نہیں بھیگیں، اسی جذبہ عشق سے سرشار ہو کر زیر نظر کتاب لکھنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں
اللہ مصنف کا عشق سلامت رکھے کہ یہی اہل ایماں کی حقیقی دولت ہے۔
سید سلیم گردیزی مظفر آباد
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
بسم الله الرحمن الرحيم
تقریظ
جوانوں کو پیروں کا استاد کر۔۔۔!
عزیز گرامی سید ممتاز علی بخاری کی شستہ و عرق ریز تحریر کو جستہ مقامات سے تاریخی مواد کے حوالے سے اور بعض اُصولی مسائل پر ہونے والی مباحث مثلاً گستاخِ رسول کی توبہ یا احکامات کو ایک مختصر وقت میں دیکھا۔ یہ تحریر عزیز کی محنت، ذہانت اور علمی ذوق کی مظہر ہے اور بہت سے بکھرے ہوئے موتیوں کو یکجا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس میں یہ پہلو خاص طور پر پیشِ نظر ہے کہ تاریخ کو عقیدے کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے اور مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ وہ اپنی تاریخ کو محض مرورِ ایام کے واقعات سمجھ کر نہ پڑھیں بلکہ تاریخ کے مرتب کرنے میں جو روح کارفرما تھی وہ تعظیم و تکریمِ رسالت اور آپ کے لائے پیغام کے ساتھ سچی وفاداری تھی جس نے ایک ایسی تاریخ کو جنم دیا جس کی مثال خود تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے اور اقبال نے ایک جگہ اس کی ایک جھلک یوں دکھائی کہ
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
دُنیائے عیسائیت اور لبرل مسلمانوں کو مسلمانوں اور مشرقی رومیوں کی چھ ساڑھے چھ سو سال کی مسلسل محاذ آرائی اور بالآخر 654ھ میں سلطنتِ روما کا خاتمہ اسباب کے حوالے سے کبھی سمجھ نہیں آئے گا اگر وہ دومۃ الجندل کے رومی گورنر کی جانب سے رسول اللہ کے نامہ گرامی کی گستاخی اور پھر سفیر کا قتل نظر انداز کردیں۔ دراصل یہ ہی چنگاری (گستاخی رسول ، قاصد رسول) تھی جو مسلمانوں کے سینوں کو شعلہ جوالہ بنا گئی اور رومیوں کا سر کچلنے تک سرد
عصمت رسول ﷺ پر حملے نہیں ہوئی۔ اس لئے اسلام کی تاریخ کو محض تاریخ نہ سمجھا جائے تو پھر مسلمان کی تگ و تاز در جہان اور روشن ہو جاتی ہے۔ عزیزم ممتاز علی بخاری نے یہ پہلو خاص طور پر اسلاف اور اخلاف کے حوالے سے کامیابی سے اجاگر کیا ہے۔ ”اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ“ اور اس کا سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ مصنف کے دل میں عشق رسول ﷺ کا موجزن سمندر صفحۂ قرطاس پر رواں نظر آتا ہے اور قاری کو بھی ایک خاص کیفیت سے دوچار کر دیتا ہے۔ عزیز کی یہ پہلی کاوش اس کے بطور مؤلف، مصنف، مورخ، تابناک مستقبل کی عکاس ہے۔ اس کتاب کو جستہ مقامات سے پڑھ کر پہلا تحریر شدہ فقرہ بے ساختہ میرے قلم سے جو ٹپکا ”کہ انشاء اللہ آنے والی نسل ان معاملات میں ہماری اُستاد ثابت ہوگی“ میں آخر میں عزیز محترم سید ممتاز علی بخاری اُن کے والد گرامی میرے عزیز ترین دوست اور بھائی سید منیر احمد بخاری صاحب کا ممنون ہوں کہ اُنہوں نے مجھ ناچیز سے چار حروف لکھوا کر اس تحریر کو معتبر بنانے کے قابل سمجھا۔ یہ اُن کا حسن ظن ہے ورنہ من انم کہ من دانم
سید غلام مصطفیٰ بخاری عقیل بانی و ناظم اعلیٰ جامعہ مدینۃ العلم رانا ٹاؤن زونل خطیب اوقاف پنجاب
عصمت رسول ﷺ پر حملے
تقریظ
سیرت کا موضوع گلشن سدابہار کی طرح ہے جس کے ہر پھول کی رنگینی و شادابی دامان نگاہ کو بھر دینے والی ہے۔ یہ گل چین کا اپنا ذوق انتخاب ہے کہ وہ کس پھول کو چنتا ہے اور کس کو چھوڑتا ہے۔ سیرت النبی کے موضوع پر نئی تحقیق قوس و قزح کے ہر رنگ کو سمیٹتی اور نکھارتی نظر آتی ہے۔ سیرت طیبہ کا موضوع اتنا متنوع ہے کہ ہر انسان نہ صرف مسلمان جو قلم اٹھانے کی سکت رکھتا ہو اس موضوع پر حسب استطاعت لکھتا ہے اور لکھنا اپنی سعادت سمجھتا ہے۔ ہر قلم کار اس موضوع کو ایک نیا اسلوب دیتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت قوت ایمانی کا ایسا سرچشمہ ہے جس کی بدولت امت کا ہر فرد اور پوری انسانیت بالعموم نور ایمانی حاصل کرسکتی ہے۔
سیرت نبوی انتہائی پاکیزہ اور بلند پایہ موضوع ہے اس سے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ دین کن کن مراحل سے گزرا۔ ہمارے پیغمبر اور صحابہؓ پر کیا بیتی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کیسی کیسی نسبی و خاندانی شرافت بخشی اور اس طرح وحی و رسالت اور دعوت دین کے لئے منتخب فرمایا۔ پھر آپ نے اس راہ میں کیا کیا مشقتیں جھیلیں، کیسے کیسے مصائب برداشت کیے اور بالآخر کس کس طرح کے انعامات سے نوازے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے پردہ غیب سے برکات نازل فرما کر، معجزات ظاہر کر کے کس کس طرح آپ کی نصرت و تائید فرمائی۔ ممتاز علی بخاری آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی میں جیالوجی میں زیر تعلیم ہے اور یونیورسٹی کی لٹریری سوسائٹی کا صدر بھی ہے، اس نے ”عصمت رسول ﷺ پر حملے“ ایک بنیادی مسئلہ پر کتاب لکھی۔
ہمیں قرطبہ کی صدائیں بلا رہی ہیں، ہمیں اسپین کی تنہائی کھینچ رہی ہے، ہمیں بوسنیا کی ویرانی کچھ کہہ رہی ہے، ہمیں افغان کی بے بسی تڑپا رہی ہے، ہمیں ایران و بغداد اور کویت اپنا مرثیہ نوحہ در نوحہ سنا رہا ہے کہ قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ ساز عامل
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کی تلاش کی جائے تو اس میں سرفہرست تعلیم آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسان اپنا خلیفہ اور نمائندہ مقرر کرنے کے لیے سب سے پہلے جس چیز سے آراستہ کیا وہ علم تھا اور اپنے تمام انبیاء کو جو کام سونپا اس میں تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ نفس کو مرکزیت حاصل ہے۔ دوسری اقوام کی تاریخ میں بھی تعلیم کی یہ مرکزی حیثیت نمایاں نظر آتی ہے۔ مغرب کے دورِ جدید کا آغاز علمی نشاۃ ثانیہ سے ہوا۔ ہر خطۂ زمین میں تمام اہم تہذیبی اور فنی ادوار و مراحل کی پشت پر ہمیں ایک نہ ایک علمی تحریک نظر آتی ہے۔
عزیزی ممتاز علی بخاری مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے متعصب مشرکوں، ملحدوں، ضالین اور مغضوبین کے گٹھ جوڑ سے عصمتِ رسول ﷺ کے خلاف ہونے والی قدیم و جدید سازشوں کو بے نقاب کرنے کی حسین سعی فرمائی ہے۔ اتنی کم عمر میں اس عظیم موضوع پر سیر حاصل کرنے پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس کتاب میں عظمت و شانِ رسالت کے بارے میں فاضل مصنف نے جو گرانقدر مواد یکجا کیا ہے اس کا مطالعہ علم و دانش کے خوشہ چینوں کے لیے معارف و بصائر کے خزینے مہیا کرنے کے علاوہ فروغِ عشقِ رسول کی زور دار تحریک کا موجب بھی بن سکتا ہے۔
حق تو یہ ہے کہ اس عظیم الشان موضوع پر کتاب کی تقریظ میرے لیے اعزاز کا باعث ہے میری دعا ہے کہ اللہ کریم فاضل مصنف کی یہ مساعی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہم سب کو اپنی جان و مال، عزت و آبرو اپنے آقا نبی ﷺ کے ناموس پر قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن وائس چانسلر یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر
عصمت رسول ﷺ پر حملے
تقریظ
الحمد لله رب العالمين وا ث رحمة العالمين ۔ عالم انسانیت پر جب ذلت ، پستی او جب فسق و معصیت کی تاریکیوں میں ٹھوکریں کھا د اپنے درجہ کمال کو پہنچا تو رب کائنات نے گم کر ختم المرتبت سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کو پید کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس پر آشوب دور میں قلم اٹھایا۔
میرا قلم تو عدالت
آج مادیت کا دور ہے آج کے انسا انتخاب کرنا پڑے تو وہ دولت کا انتخاب کرے گا بقول
آج کا انسان صرف دولت کو خوش ن ہے آج کا نام نہاد مسلمان فرعون کی پیروی کرتا ہے آسائشوں کا گرفتار نمائشوں کا پرستار، آرائشوں ہے۔ اس کا دل بجھ چکا ہے لیکن اس کے مکان میں گرفتار ہے اسے کسی بڑے مقصد سے تعارف کلین بولڈ ہو جاتا ہے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
تقریظ
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على محمد المبعو ث رحمة العالمين ۔
عالم انسانیت پر جب ذلت، پستی اور ضلالت کی گھٹائیں چھا گئیں۔ انسان جب فسق و معصیت کی تاریکیوں میں ٹھوکریں کھاتے کھاتے بے بس ہو گیا اور جب شر و فسا د اپنے درجہ کمال کو پہنچا تو رب کائنات نے گم کردہ راہ بندوں کو ہدایت و راہنمائی کے لیے ختم المرتبت سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کو پیدا فرمایا۔ عزیزی ممتاز علی بخاری مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس پر اشوب دور میں اہم ترین موضوع عصمت رسول ﷺ پر قلم اٹھایا۔
میرا قلم تو عدالت ہے میرے ضمیر کی
آج مادیت کا دور ہے آج کے انسان کو دولت اور اللہ تعالیٰ میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ دولت کا انتخاب کرے گا بقول اقبال
آج کا انسان صرف دولت کو خوش نصیبی سمجھتا ہے اور یہی اس کی بد نصیبی کا ثبوت ہے آج کا نام نہاد مسلمان فرعون کو پسند کرتا ہے اور عاقبت موسیٰ کی۔ بد قسمت ہے وہ انسان آسائشوں کا گرفتار نمائشوں کا پرستار، آرائشوں کا پجاری الائشوں کی بیماری میں کراہ رہا ہے۔ اس کا دل بجھ چکا ہے لیکن اس کے مکان میں قمقمے روشن ہیں۔ وہ لذت وجود کی لعنت میں گرفتار ہے اسے کسی بڑے مقصد سے تعارف نہیں وہ صرف سینچریاں ہی بناتا ہے اور پھر کلین بولڈ ہو جاتا ہے۔
﴿عصمتِ رسول ﷺ پر حملے﴾
آج کا انسان اس مادی ترقی کو منتہائے حیات سمجھ رہا ہے آسمانوں کی راہ ڈھو نڈنے والا دل کی دنیا ویران کر چکا ہے۔ مقصد حیات سے بے خبر ہے خوش نصیبی کے مفہوم سے نا آشنا ہے۔ خوش نصیبی کسی شے کا نام نہیں، سماجی مرتبے کا نام نہیں، بنک بیلنس کا نام نہیں ۔ خوش نصیب ممتاز علی بخاری ہے اس نے عصمت رسول ﷺ پر قلم اٹھایا ہے یہ کام گہرے ایمان و محبت اور والہانہ جذبہ فدا و فدائیت کا نتیجہ ہے اور یہ احساس ہی کامیابی اور خوش نصیبی کا معیار ہے اور اگر یہ احساس نہ ہو تو ناکامی مقدر بن جاتی ہے۔
کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور
حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت کے بغیر ہمارا دین مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔
از رسالت دین ما ، آئین ما
رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور اطاعت میں ہی کامیابی کا راز ہے اس کو آپ ﷺ نے کتنے خوبصورت الفاظ میں ارشاد فرمایا
”کل امتی یدخلون الجنۃ الا من ابیٰ قیل و من ابیٰ یا رسول الله قال من اطاعنی دخل الجنۃ و من عصانی فقد ابیٰ “
دنیا میں رسالت ہی سے ہماری مسلمانی کی پہچان ہے اور رسالت ہی سے ہمارا دین اور آئین قائم و دائم ہے۔ اگر ہم دنیا میں عزت و سر بلندی کے خواہاں ہیں تو اس کا طریق کار صرف یہی ہے۔
پروفیسر اکرام الرشید آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی مظفر آباد
﴿عصمتِ رسول ﷺ پر حملے﴾
خوش تر و ز
عشق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و ”مشک آنست کہ خود ببوید عشق نبی ﷺ کے چراغ میں حُب رسول ﷺ کے گلوں کی مہکار حاصل کرنے کا موجب بنتی ہے۔ اس
ہست خو
سرتاج الاولیاء سید جلال جہانگشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کا ثبوت طلب فرمایا۔ روضۂ اطہر وعلیکم السلام یا ولدی مدینہ مضطرب ہوئے کہ ہمیں جما الفاظ تاریخ کی پیشانی کا جھومر ادا فرما رہے تھے اور ہم نے تو پیش کیا تو جواب سے سرفراز ہو
سرکار مخدوم جہانیاں ناصر الدین محمود بخاری ، سید علی
عصمت رسول ﷺ پر حملے
تقریظ
خوش تر و زیبا تر و محبوب تر
(اقبال)
عشق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مشک عنبر بار ہے کہ
عشق نبی ﷺ کے چراغ کی ضوفشانی ہر قلب تاریک کو منور کر کے اس گلستاں میں حُبّ رسول ﷺ کے گلوں کی مہکار سے چہار دانگ عالم کو مشک بار کرنے کا نصب العین حاصل کرنے کا موجب بنتی ہے۔ اس کے ثمر کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ
ہست حُبّ رحمۃ للعلمین
(اقبال)
سرتاج الاولیاء سید جلال الدین حسین بخاری المعروف حضرت مخدوم جہانیاں جہانگشت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب مدینہ طیبہ حاضر ہوئے تو اشراف مدینہ نے ”سید“ ہونے کا ثبوت طلب فرمایا۔ روضۂ اطہر پر حاضر ہو کر سلام پیش کیا۔ تو جواب سے سرفراز ہوئے۔ وعلیکم السلام یا ولدی قرۃ عینی و سراج کل امّتی انت منّی ۔اشراف مدینہ مضطرب ہوئے کہ ہمیں جواب کیوں نہ مل سکا؟ حضرت مخدوم جہانیاں جہانگشت کے الفاظ تاریخ کی پیشانی کا جھومر ہیں کہ جب آپ نے سلام پیش کیا تو سرکار دو عالم ﷺ نماز ادا فرمارہے تھے اور ہم نے توقف کر کے فارغ ہونے کا انتظار کیا۔ بعد ازیں جب سلام پیش کیا تو جواب سے سرفراز ہوئے۔ انوار شاہ ولایت ص 312-311
سرکار مخدوم جہانیاں جہانگشت رحمۃ اللہ علیہ کا یہ شرف نسلاً بعد نسلٍ بالترتیب سید ناصر الدین محمود بخاری، سید علی علاؤ الدین بخاری، سید فخر الدین بخاری، سید حاجی محمد مراد
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿ بخاری (کرڑی ضلع بارہ مولا کشمیر)، سید ابوسعید بخاری، سید میر عبدالعزیز بخاری، سید شریف اللہ بخاری، سید محمد قاسم بخاری، سید محمد زاہد بخاری، سید محمد اکرم بخاری، سید رسول شاہ بخاری، سید گل شاہ بخاری، سید حسن شاہ بخاری، سید محمد شاہ بخاری، سید عبدالغنی شاہ بخاری، سید حمید اللہ شاہ بخاری، سید منیر احمد بخاری سے ہوتا ہوا سید محمد ممتاز علی بخاری تک منتقل ہوا۔
آزاد جموں و کشمیر کا خطہ جبی سیداں جس کی سابق ریاست پونچھ (موجودہ ضلع پونچھ، راولاکوٹ، سدھنوتی، باغ، حویلی اور مقبوضہ پونچھ) میں اہمیت مسلمہ ہے۔ خانوادہ سادات بخاریہ پر مشتمل یہ گاؤں اپنی علمی، مذہبی اور روحانی روایات کے سبب سابق ریاست پونچھ میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ریاست کے چہار طبقات میں سے راجگان کی عمل داری خواجگان کی تجارت اور چوہدری (گوجر برادری) کی خدمت گزاری اور سادات کی سیادت اور تعلیم و تعلم ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہے۔
تہذیبوں کے ٹکراؤ میں ہر نئی آنے والی تہذیب اپنا زور بہ تمام و کمال وہاں صرف کرتی ہے جہاں رائج الوقت تہذیب کے قدم زیادہ مضبوطی سے قائم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ دینی و مذہبی تعلیم کے اس مرکز جبی سیداں اور اسی سے منسلک موضع سولی میں جب جدید تعلیم کا آغاز ہوا تو شہر پونچھ کے بعد راجگان کے مرکز دھڑہ راجگان (پلنگی) اور سادات کے مرکز جبی سیداں کے دامن میں سولی کے مقام پر ابتدائی سکول قائم کئے گئے۔ اور خواجہ حسن صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور بعد ازیں سید محمد سعید بخاری ڈائریکٹر امور دینیہ نے علوم جدید کو اس خطہ میں عام کیا۔ لیکن اپنے مخصوص تعلیمی پس منظر کے باعث پلنگی کی نسبت جبی سولی نے تعلیم و تعلم میں نمایاں نام اور مقام پیدا کیا۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ ممتاز حسین راٹھور مرحوم سے لے کر سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف آزاد جموں کشمیر اور موجودہ چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں کشمیر جناب جسٹس خواجہ محمد سعید تک متعدد نامور ہستیوں نے اس مرکز علم سے مستفیض ہو کر تاریخ پر اپنے نشانات ثبت کئے۔ سابق کرنل محمد رشید نے اپنی تصنیف Miracle of Jabi & Soli میں اس ساری صورتحال اور خصوصاً اپنے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
استاذی المکرم سید صدر الدین بخاری کا تذکرہ بڑی شرح وبسط کے ساتھ کیا۔
معروف مورخ محمد دین فوق نے ”تاریخ اقوام پونچھ“ میں جبی سیداں کی متعدد روحانی، مذہبی اور علمی شخصیات کا تعارف تحریر فرمایا ہے لیکن ان سب کا طرۂ امتیاز سرکار دو عالم احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات بابرکات سے عشق و محبت رہا ہے۔
عزیزی سید محمد ممتاز علی بخاری سلمہٗ کو عشق رسول ﷺ کی یہ دولت اپنے جد بزرگوار، معروف عاشق رسول، کامل ولی دوراں محترم المقام سید حمید اللہ شاہ بخاری مرحوم و مغفور کی صحبت سے میسر آئی۔ موصوف ہنوز دور طالب علمی میں ہیں۔ سید سلیم گردیزی نے حقیقت حال ہی بیان فرمائی ہے کہ ”ایسے وقت میں جب وہ اپنے لڑکپن کے مرحلے سے گزر رہے ہیں اور جن کی ابھی تک مسیں بھی ٹھیک سے نہیں بھیگیں“، عملی سائنس (Applied Sciences) کا طالب علم ہونے کے باوصف سیرت النبی ﷺ کے حوالے سے مختلف النوع کاوشیں کرنا عزیزی موصوف کے اسی جذبہ عشق کا اظہار ہے۔ اس سلسلہ میں ”تعمیر سیرت یوتھ سوسائٹی“ کا قیام اور مختلف بین الکلیاتی اور بین الجامعاتی تقاریب میں سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر تقریری، مضمون نگاری اور کوئز مقابلہ جات میں متعدد انعامات و اسناد کا حصول خاص طور پر قابل ذکر ہے۔
علاوہ بریں موصوف گزشتہ سال یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر مظفر آباد کی ”سیرت سوسائٹی“ سے وابستہ تھے جبکہ امسال یونیورسٹی کی لٹریری سوسائٹی کی صدارت کے فرائض بطریق احسن سرانجام دے رہے ہیں۔
اس پس منظر میں جب شتامت و اہانت رسول ﷺ کی ناپاک جسارتوں نے آزادی اظہار کے نام پر گستاخانہ خاکوں کی تحریک کی صورت اختیار کی تو عزیزی موصوف کے محبت رسول ﷺ سے لبریز دل پر ایک کاری ضرب لگی۔ جس سے بے تاب ہو کر موصوف نے ایک وقیع تحقیقی کاوش سپرد قلم و قرطاس کی ہے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کتاب کی ترتیب و تدوین، الفاظ کی دروبست اور اس کے بین السطور میں پوشیدہ عقیدت و عشق رسالت مآب ﷺ کی خوشبو انشاء اللہ العزیز قاری کے عقیدہ و ایمان کو معتبر کرے گی۔ راقم کی دانست میں یہ شرف قبولیت کی ایک علامت ہے۔
راقم عزت مآب پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمان وائس چانسلر یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر مظفر آباد، جناب پروفیسر اکرام الرشید یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر مظفر آباد، معروف مصنف برادر مکرم سید سلیم گردیزی، محترم المقام حضرت علامہ مفتی سید غلام مصطفیٰ بخاری عقیل بانی و ناظم اعلیٰ جامعہ مدینۃ العلم رانا ٹاؤن لاہور کا تہہ دل سے سپاس گزار ہے جنہوں نے اپنے زریں الفاظ سے اس کتاب کی اہمیت کو اُجاگر بلکہ دوبالا فرمایا۔ اور برادر خواجہ غلام یاسین غزنوی میڈیکل سٹور کالا مولا ضلع حویلی اور محترم المقام برادر مکرم نجابت علی تارڑ صاحب منتظم اعلیٰ زاویہ پبلشرز داتا دربار مارکیٹ لاہور، کتاب کی اشاعت کے سلسلہ میں خصوصی شکریے کے مستحق ہیں جن کی معاونت سے یہ کاوش اس خوبصورت پیرایہ میں منظر عام پر آئی۔
اللہ رب العالمین فاضل مصنف سید محمد ممتاز علی بخاری کے علم و عمل اور جذبہ عشق رسول ﷺ میں دن دُگنی رات چوگنی ترقی، استقامت، درازی عمر اور تعلیم و تربیت میں فروغ عطا فرمائے اور اس طرح کی سعادتوں سے اس کے دامن کو مالا مال فرما کر دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور فرمائے۔
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طالب شفاعت محمدی بروز حشر سید منیر احمد بخاری ایم اے ایم ایڈ
عصمت رسول ﷺ پر حملے
حضرت محمد ﷺ کے زمانے اپنے اپنے نبیوں اور بانیان مذاہب کو م کے انبیاء کو ماننا ضروری تھا۔ عیسائی حض حقدار ہو جاتے ہیں۔ ہندو سری کرشن شخصیت پر ایمان رکھنے کے پابند ہیں ماننے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن مسلما انبیائے ماسبق پر ایمان لانا بھی ضرور
گزشتہ چند صدیوں کے نظریہ سے لکھی اور طبع ہونے والی کتب خاکے، کارٹون اور اس نوعیت کے ہوتا ہے کہ بعض مسیحی مورخین ، المل مذہبی جذبات اور اُن کے مقدس رہن ہے۔ تاہم چند مذہب بیزار، کٹھ معاونت پر کمر بستہ نظر آنے لگے پیغمبر اسلام کی شان میں یاوہ گوئی بے جا کا مرتکب ہوتا رہتا ہے ہے۔ اور مسلمانوں کی عقیدت افسوس کا مقام ہے کہ معاندین کیا گیا تو محسوس ہوا کہ یہ کوئی ا
﴿20﴾ ظ کی دروبست اور اس کے بین السطور میں پوشیدہ ہ اللہ العزیز قاری کے عقیدہ و ایمان کو معتبر کرے کی ایک علامت ہے۔
ر حبیب الرحمان وائس چانسلر یونیورسٹی آف آزاد ام الرشید یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر مظفر آباد، وی، محترم المقام حضرت علامہ مفتی سید غلام مصطفیٰ عظم رانا ٹاؤن لاہور کا تہہ دل سے سپاس گزار ہے کتاب کی اہمیت کو اُجاگر بلکہ دوبالا فرمایا۔ اور برادر ا مولا ضلع حویلی اور محترم المقام برادر مکرم نجابت علی ار بار مارکیٹ لاہور، کتاب کی اشاعت کے سلسلہ ی معاونت سے یہ کاوش اس خوبصورت پیرایہ میں
ف سید محمد ممتاز علی بخاری کے علم و عمل اور جذبہ عشق ، استقامت، درازی عمر اور تعلیم و تربیت میں فروغ نا سے اس کے دامن کو مالا مال فرما کر دارین کی
آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طالب شفاعت محمدی بروز حشر سید منیر احمد بخاری ایم اے ایم ایڈ
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿21﴾
مقدمہ
حضرت محمد ﷺ کے زمانے تک یہ طریقہ رائج تھا کہ مختلف انسانی گروہ اور قومیں اپنے اپنے نبیوں اور بانیانِ مذاہب کو مانتے تھے۔ مثلاً یہودیوں کے لئے صرف بنی اسرائیل کے انبیاء کو ماننا ضروری تھا۔ عیسائی فقط حضرت عیسیٰ ابن مریم کو مان کر خدا کی بادشاہت کے حقدار ہو جاتے ہیں۔ ہندو سری کرشن، رام چندر جی اور اپنے اوتاروں کے علاوہ کسی دوسری شخصیت پر ایمان رکھنے کے پابند ہیں۔ آتش پرست زرتشت کے علاوہ کسی دوسری شخصیت کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن مسلمانوں کے لئے حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے کی طرح انبیائے ماسبق پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔
گزشتہ چند صدیوں کے دوران مذہبی دل آزاری اور نبی ﷺ کی اہانت کے نقطہ نظر سے لکھی اور طبع ہونے والی کتب، رسائل و جرائد اور اخبارات میں چھاپے جانے والے خاکے، کارٹون اور اس نوعیت کے پے در پے واقعات کا ناقدانہ جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض مسیحی مورخین، اہل ہنود اور یہودی مصنفین کی جانب سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات اور اُن کے مقدس تاریخی ورثے کا مضحکہ اُڑانا تو ایک مستقل روایت بن چکی ہے۔ تاہم چند مذہب بیزار، کرائے دار اور نام نہاد مسلمان بھی اس سلسلہ میں اُن کی معاونت پر کمر بستہ نظر آنے لگے۔ مختصر وقفوں کے بعد کوئی نہ کوئی تنگ نظر اور گستاخ اہل قلم پیغمبر اسلام کی شان میں یاوہ گوئی، دریدہ دہنی اور تاریخی حقائق میں تحریف و تغیر کی جسارت بے جا کا مرتکب ہوتا رہتا ہے جس سے دُنیائے اسلام میں غم اور اضطراب کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اور مسلمانوں کی عقیدت و محبت کے نازک آبگینوں کو سخت ٹھیس پہنچتی ہے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ معاندین اسلام کی جانب سے یہ ناشائستہ اور مبالغہ آمیز تحریریں، کیا گیا تو محسوس ہوا کہ یہ کوئی اچانک یا فوری کاروائی نہیں بلکہ ایک منظم اور مربوط تحریک کا
عصمت رسول ﷺ پر حملے
تسلسل ہے۔ بقول اقبال
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
زیر نظر کتاب میں ذات رسالت مآب ﷺ اور منصب نبوت ورسالت پر حملوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔
کتاب کے پہلے باب میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے قبل آپ کے آباؤ واجداد کی اُن آزمائشوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن سے عمومی طور پر زندہ بچنے کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں۔ کتاب کے دوسرے باب میں نبی اکرم ﷺ پر آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں کئے جانے والے اُن حملوں کا تذکرہ ہے جن کے ذریعے شمع رسالت کو گل کرنے کی ناکام کوششیں کی گئیں اور جو اس ارشاد خداوندی کی صداقت وحقانیت کے مصداق بن گئے ۔
وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ لوگوں (کے شر) سے آپ کی حفاظت کرے گا۔
(القرآن 67:5)
تیسرے باب میں سرکارِ دو عالم ﷺ کے وصال مبارک اور سفر آخرت کا تذکرہ ہے بقول اقبال
چوتھے باب میں ان فتنوں کا تفصیلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے جن کے دوران روضہ رسول ﷺ کو نشانہ بنانے کی ناکام کاوشیں کی گئی ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے عصمت رسول ﷺ کی حفاظت کے وعدہ کے باعث خائب وخاسر رہی۔ پانچویں باب میں گستاخان رسول اور
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ان کے انجام پر تحقیق کی گئی ہے۔ اس سلسلہ کا آغاز ایک اصولی بحث سے کیا گیا ہے۔ جس میں توہین رسالت کی حقیقت، قانون توہین رسالت۔۔۔ قرآن حکیم، احادیث مبارکہ اور اجماع امت کے مطابق کیا ہے۔ مذاہب عالم کی روشنی میں اس قانون کا جائزہ لے کر شاتم رسول کی توبہ کے احکام پر روشنی ڈالنے کے بعد گستاخان رسول کے واقعات اور ان کے انجام پر مختصراً بحث شامل ہے۔
اس کے ذیل میں ان شہیدان وفا کا تذکرہ نگینہ کی طرح سجا ہوا ہے جنہوں نے اپنی جان اس مشن کی خاطر جان آفرین کے سپرد کر دی۔ اور وہ بھی جنہوں نے بنا جان کی قربانی دئیے، اس مقصد کو پورا کیا۔
باب ششم میں ”تحریک استشراق“، اس کے اغراض و مقاصد، مختلف ادوار اور مو جودہ گستاخانہ خاکوں کی تحریک کا مکمل پس منظر بیان کرنے کے بعد ان خاکوں کی اشاعت اور اس پر ردعمل بیان کیا گیا ہے۔ جب کہ ساتواں باب ”جھوٹے مدعیان نبوت“ کے بیان سے متعلق ہے جنہوں نے دنیاوی اغراض و مقاصد کے لئے منصب رسالت پر نقب زنی کی کو شش کی اور ہمیشہ کے لئے ذلت و رسوائی کو گلے لگا لیا۔
عملی سائنس (Applied Science) کا ایک طالب علم ہونے کے با وصف عشق رسول ﷺ کے اس عظیم موضوع پر قلم اٹھانے کی ہمت میرے دادا جان سید حمید اللہ شاہ بخاری مرحوم و مغفور کی ان شفقتوں کا شاخسانہ ہے جنہیں ان کی زندگی کی آخری شام تک مجھے سمیٹنے میں کبھی کسی دوسرے کی موجودگی مانع نہیں ہوئی اور جن کے عشق رسول ﷺ کو ان کے ماننے والے سارے لوگ بخوبی جانتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے شیخ کامل قاری صوفی سید زین العابدین بخاری
عصمت رسول ﷺ پر حملے
نظیمی کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ممنون احسان ہوں جنہوں نے جذبہ عشق کو میرے دل میں موجزن کرنے میں اپنا کردار بطریق احسن ادا فرمایا۔
مواد کی فراہمی اور کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں اپنے والد گرامی ”منیر احمد بخاری“ کی ذاتی لائبریری اور ان کی علمی وادبی سرپرستی، حوصلہ افزائی اور شفقتوں کا تذکرہ نہ کرنا کفران نعمت سمجھتا ہوں۔ جن کی پہلی تصنیف ”کشمیر حقائق کے آئینے میں“ کی اشاعت سے اس دشت کی صحرانوردی کے میرے شوق کو مہمیز ملی۔ کتاب کی تیاری میں مجھے ربیعہ فاطمہ بخاری کے ایم اے ماس کمیونیکیشن کے تھیسز سے بہت معاونت ملی جس کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں وہ کم ہے۔
یہاں میں اپنے ماموں سید احمد سعید بخاری شہید کا تذکرہ نہایت ضروری سمجھتا ہوں جنہوں نے بنک کی مصروفیات کے باوجود ایم اے انگلش، ایم بی اے اور آئی بی پی کی ڈگریاں اعزاز سے حاصل کر کے ہمارے لئے نہ صرف تعلیم کے میدان میں نشان منزل بنے بلکہ اس کاوش کی ابتدائی تحریک بھی انہی کی مشاورت کی مرہون منت ہے جو 18 اکتوبر 2005ء کو نیشنل بنک آف پاکستان مین برانچ مظفر آباد میں فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے شہادت کے منصب پر فائز ہو گئے۔
اس کتاب کا ابتدائی خاکہ 2005ء میں بنایا گیا تھا لیکن عملاً یہ کاوش 2008ء کی گرمائی تعطیلات کے دوران ہی آغاز سے اختتام تک ریکارڈ کم دورانیے میں سپرد قلم وقرطاس کی گئی۔
کتاب کی کمپوزنگ کے سلسلے میں معاونت محمد ارشد پروگرامر ڈائریکٹریٹ آف سٹوڈنٹس افیئرز نے شب وروز کی محنت سے کی۔ کتاب کا سرورق تیار کرنے کے لئے کی گئی اپنے ماموں سجاد بخاری رضا کی محنت بھی میرے لئے ایک نیک بختی ہے۔ میں اس کتاب کی
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کبھی تکمیل نہ کر پاتا اگر مجھے اپنے گھر والوں کی حوصلہ افزائی نہ ملتی اور خصوصاً یہاں میں اپنی امی کی دعاؤں کے باعث اس مقام تک پہنچا ہوں۔
کتاب کے سلسلے میں میں اپنے دوستوں وسیم بخاری، حامد بخاری، ذیشان بخاری ، نوید الحسن، نوید آزاد، منصور بخاری، تمیم بخاری اور نواز اکرام اور ہومیو پیتھک ڈاکٹر خواجہ غلام یاسین غزنوی میڈیکل ہال کالا مولا ضلع حویلی کے عملی تعاون پر ان کا ممنون احسان ہوں۔
دعا ہے کہ اللہ رب العالمین میری اس کاوش کو قبول فرمائے اور روز محشر شافع یوم النشور ﷺ کی شفاعت کا باعث بنائے ۔
آمین!
سید محمد ممتاز علی بخاری صدر جموں و کشمیر لٹریری سوسائٹی یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر
عصمت رسول ﷺ پر حملے
باب اوّل
آبائے رسول ﷺ کی جان
لیوا آزمائشیں
عصمت رسول ﷺ پر حملے
وَ اِذِ ابْتَلٰۤی اِبْرٰہٖ فَاَتَمَّہُنَّ ؕ قَا لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَا قَالَ لَا یَنَالُ ع
(البقرہ: 24
ترجمہ: اور جب ابرا نے چند باتوں میں آ (رب نے) فرمایا " والا ہوں“۔ انہوں میں سے؟“ فرمایا ”
﴿عصمتِ رسول ﷺ پر حملے﴾
وَ اِذِ ابْتَلٰی اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ۙ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ
(البقرہ: 124)
ترجمہ: اور جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے چند باتوں میں آزمایا تو انہوں نے پورا کر دیا۔ (رب نے) فرمایا ”میں تجھے لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں“۔ انہوں نے عرض کی ”اور میری اولاد میں سے؟“ فرمایا ”میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔“
﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿
حضرت ابراہیم علیہ السلام آتش نمرود میں
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو بہتیرا سمجھاتے کہ ان بے بس اور بے اختیار بتوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو کیونکہ وہی عبادت کے لائق ہے لیکن آپ علیہ السلام کی باتیں ان کی سمجھ سے بالاتر تھیں وہ انہیں سمجھ نہ سکے اور اپنی ضد پر اڑے رہے۔
آپ علیہ السلام نے اُن بتوں کی بے بسی آشکار کرنے کے لئے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا جس نے اُن سب کی آنکھوں سے پردہ اُٹھا دیا۔ ایک دفعہ اُن کا قومی جشن تھا۔ بڑے صنم کدہ کو بڑی شان و شوکت سے سجایا گیا تھا۔ چھوٹے بڑے بتوں کے سامنے لذیذ اور تازہ مٹھائیوں کے تھال بھر کر رکھ دیئے گئے تھے۔ ساری قوم دادِ عیش دینے کیلئے شہر سے باہر کھلے میدان میں جمع ہوگئی۔ بُت کدہ اپنے پجاریوں اور پروہتوں سے خالی ہوگیا۔
توحید الٰہی کے سب سے بڑے علمبردار ہر قسم کے خوف و ہراس سے اپنے دل کو پاک کر کے اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید پر بھروسہ کئے ہوئے بتوں کی خُدائی کا جنازہ نکالنے اور اُن پر ضربِ کاری لگانے کے لئے بت کدہ میں داخل ہوئے۔ ایک وزنی ہتھوڑا اُن کے ہاتھ میں تھا۔ اُن جھوٹے خداؤں پر حقارت بھری نظر ڈالتے ہوئے کسی کا کان، کسی کی ناک، کسی کا بازو اور کسی کی ٹانگ کاٹ دی۔ آخر میں اُن کے سامنے رکھی ہوئی مٹھائیوں کے تھال اُٹھا کر بڑے بُت کے سامنے رکھ دیئے اور کلہاڑا اُس کے کندھے پر سجا دیا۔ اپنا کام مکمل کرنے کے بعد واپس تشریف لے گئے اور اپنی قوم کے ردّعمل کا سامنا کرنے کے لئے اُن کی واپسی کا انتظار کرنے لگے۔ شام کو جب بُت کدے کے خادم اور پروہت واپس آئے اور بت کدے میں داخل ہوئے تو اپنے بتوں کی یہ حالت دیکھ کر اُن پر سکتہ کا عالم طاری ہو گیا ۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح چشم زدن میں سارے شہر میں پھیل گئی اور ایک حشر برپا ہو گیا۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
اپنے خداؤں کی یہ درگت دیکھ کر وہ حواس باختہ ہو گئے۔ مجرم کی تلاش شروع ہو گئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نظریات سے کون واقف نہ تھا؟ چنانچہ فوراً سب کے ذہن اُن کی طرف منتقل ہو گئے۔ کہنے لگے: ”ہم نے ایک جوان کے بارے میں سُنا ہے کہ وہ ہمارے بتوں کا بڑی حقارت سے ذکر کرتا رہتا ہے۔ اُن کی بُرائیاں پیش کرتا رہتا ہے۔ اُس کا نام ابراہیم (علیہ السلام) ہے۔“
نمرود اور اس کے کارندوں کو بھی اس حادثے کی خبر مل گئی چنانچہ شاہی فرمان جاری ہوا۔ ”سب کے روبرو اسے پکڑ کر لاؤ شاید وہ اس کے متعلق کوئی شہادت دیں۔“
آپ علیہ السلام کو پکڑ کر لایا گیا اور پوچھا گیا: ”اے ابراہیم (علیہ السلام)! کیا ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت تو نے کی ہے۔“
آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اے عقل کے اندھو! مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ کیا تم دیکھتے نہیں کہ سارے مٹھائی کے تھال بڑے بت نے اُن کے سامنے سے اُٹھا کر اُن پر خود قبضہ کر لیا ہے؟ کلہاڑا، آلۂ جرم اُس کے کندھے پر ابھی بھی موجود ہے اُسی نے ان کی یہ درگت بنائی ہوگی۔ مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ اس سے پوچھو۔ اگر وہ اس حقیقت سے پردہ اُٹھا سکتا ہے تو اُٹھا دے گا۔“
کچھ دیر سب دم بخود ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے اور آخر کار یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ بتوں کے اندر کوئی طاقت نہیں اور بولے: ”اے ابراہیم (علیہ السلام)! آپ جانتے ہیں کہ یہ بول نہیں سکتے۔“
آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر یہ بول نہیں سکتے۔ اپنے منہ پر سے مکھی تک اڑا نہیں سکتے تو یہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں؟ تمھاری مدد کیسے کر سکتے ہیں حالانکہ یہ اپنی مدد نہ کر سکے۔“
جب لوگ آپ علیہ السلام کی دلیلوں سے متاثر ہونے لگے تو نمرود کو اپنی
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿30﴾
بادشاہت خطرے میں محسوس ہوئی۔ اُس نے فوراً آتش کدہ بھڑکانے کا حکم دیا۔ حکم شاہی کی فوراً تعمیل کی گئی۔ کئی دن تک اُسے جلایا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مشکیں کس دیں گئیں۔ آپ علیہ السلام کو منجنیق میں باندھ کر آتش کدے میں پھینکنے کے منصوبے کو آخری شکل دی جانے لگی۔ عالم بالا میں شور مچ گیا فرشتوں نے عرض کی: ’’الٰہی! اے قادر مطلق! کیا تیرے اس بندے کو یوں بھڑکتے ہوئے شعلوں کی نذر کر دیا جائے گا؟ کیا توحید کا یہ چراغ بھی گل ہو جائے گا۔‘‘
اللہ تعالیٰ کے اذن سے جبرائیل علیہ السلام بارگاہ خلیل علیہ السلام میں حاضر ہوئے اور اپنی خدمات پیش کی اس پر آپ علیہ السلام نے بڑی نیازمندی سے جواب دیا: ’’مجھے تمہاری امداد کی ضرورت نہیں‘‘
انہوں نے عرض کیا: ’’اپنے رب سے دُعا ہی مانگو‘‘
فرمایا: ’’جب وہ میرے حالات کو جانتا ہے تو پھر سوال کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
اقبال نے اس واقعے کی یوں منظر نگاری کی ہے۔
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
جب آپ علیہ السلام کو آتش کدہ میں پھینکا گیا تو آپ وہاں آگ کے سُرخ انگاروں میں نہیں تھے بلکہ گلاب کے ڈھیروں میں تھے۔ اتنے بڑے معجزے کو دیکھنے کے باوجود نمرود ایمان نہ لایا بلکہ اُس نے آپ علیہ السلام کی اذیت رسانی میں اضافہ کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک حقیر مچھر کے ذریعے ہلاک کر دیا۔
(1) ضیاء النبی از محمد کرم شاہ الازہری۔ جلد اول ص 278-380
عصمت رسول ﷺ پر حملے
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی
ایک رات حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہتا ہے کہ اے ابراہیم (علیہ السلام)! اُٹھ اور قربانی کر۔ آپ علیہ السلام خواب سے بیدار ہو گئے۔ صبح دوسو اونٹ ذبح کیے لیکن اسی طرح تین راتوں تک خواب آتا رہا اور آپ علیہ السلام اونٹ ذبح کرتے رہے۔ یہاں تک کہ چوتھی رات کو خواب میں حکم ہوا کہ اپنے فرزند اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی کر۔ صبح آپ علیہ السلام جاگے اور ہاجرہ علیہا السلام سے کہا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کے سر کو کنگھی کر کے اُس کے بال مشک وغیرہ سے خوشبودار کر دو، سُرمہ آنکھوں میں لگا کر پاکیزہ کپڑے پہنا دو۔ یہ میرے ساتھ دعوت میں جائے گا۔ تب ہاجرہ علیہا السلام نے اُن کو نہلا دھلا کر تیار کر دیا۔ ابراہیم علیہ السلام چُھری اور رسی ہاجرہ علیہا السلام سے چھپا کر لائے اور اسماعیل علیہ السلام کو لے کر چل دیئے۔ اُس وقت شیطان لعین حضرت ہاجرہ علیہا السلام سے بولا: ’’تمہارا اسماعیل (علیہ السلام ) کہاں ہے؟‘‘
آپ علیہا السلام نے فرمایا: ’’باپ کے ساتھ ضیافت میں گیا ہے۔‘‘
ابلیس نے کہا: ’’افسوس! اُس کا باپ اُسے ذبح کرنے لے گیا ہے‘‘
آپ علیہا السلام نے فرمایا: ’’معاذ اللہ! تم نے کبھی سُنا ہے کہ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو بے گناہ مارا ہو۔‘‘
ابلیس بولا: ’’اُس کو اُس کے خدا نے خواب میں حکم دیا ہے۔‘‘
ہاجرہ علیہا السلام نے کہا: ’’اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہے تو میں اُس پر راضی ہوں۔‘‘
تب ابلیس یہ سوچتے ہوئے اسماعیل علیہ السلام کے پاس پہنچا کہ ابھی یہ لڑکا ہے اسے راہ سے
عصمت رسول ﷺ پر حملے بھٹکانا آسان ہے اور اسماعیل علیہ السلام سے پوچھا: ”اے اسماعیل (علیہ السلام) ! تو کہاں جارہا ہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”باپ کے ساتھ ضیافت میں جارہا ہوں۔“ ابلیس نے کہا: ”نہیں، تمھارا باپ تم کو ذبح کرنے کے لئے لے جارہا ہے“ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ باپ بیٹے کو ذبح کرے۔“ ابلیس نے کہا: ”اُس کے خدا نے اسے حکم دیا ہے۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر خدا کا حکم ہے تو میری ہزار جان اُس پر فدا ہے۔“ پھر وہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس گیا اور کہنے لگا: ”اے ابراہیم (علیہ السلام)! ایک خواب کی وجہ سے تم اپنا بیٹا ذبح کرنے لگے ہو خواب تو جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں۔“ یہ سنتے ہی ابراہیم علیہ السلام نے اُس کو کنکر مارے اور فرمایا: ”تو ابلیس لعین ہے۔“ اور اس کے ساتھ ہی ابلیس وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا حضرت ابراہیم علیہ السلام، اسماعیل علیہ السلام کو لے کر قربان گاہ پہنچے۔ سارا واقعہ بیان کیا اور بیٹے سے رائے طلب کی۔ بیٹے نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہا: ”اے میرے باپ! میری تین وصیتیں ہیں۔“
پہلی: ”ہاتھ پاؤں میرے مضبوط باندھنا کہ میری جان نازک ہے چھری کے زخم کے مارے جنبش میں نہ آ جاؤں اور خدانخواستہ میرے خون کا قطرہ آپ کے کپڑوں پر لگ جائے تو میں قیامت کے دن تک گناہ میں گرفتار ہو جاؤں اور عذاب الٰہی برداشت نہ کر سکوں۔“
دوسری: ”یہ کہ آنکھوں پر پٹی باندھ لیں تاکہ محبت پدری جوش نہ مارے اور خدا کے حکم سے روگردانی نہ ہو۔“
تیسری: ”یہ کہ جب آپ گھر جائیں تو میری والدہ کو میرا سلام کہنا اور میرا کپڑا اُن کو دے دینا
عصمت رسول ﷺ پر حملے کہ یہ نشان تسلی کا ہے۔ اس لئے کہ اُنکا کوئی
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کو باندھا اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر چھری کوشش کے باوجود چھری اسماعیل علیہ السلام میں آکر چھری پتھر پر ماری پتھر دو ٹکڑے ہو کی۔ تھوڑی دیر میں چھری چل پڑی۔ اُنھو
حضرت اسماعیل علیہ السلام کھڑے مسکرا رہ آئی: ”اے ابراہیم (علیہ السلام)! اپنا ہاتھ رو دی۔“ (1)
(1) قصص الانبیاء ص 6
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
کہ یہ نشان تسلی کا ہے۔ اس لئے کہ اُنکا کوئی اور فرزند نہیں۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آستین سے رسی نکال کر اسماعیل علیہ السلام کو باندھا اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر چھری چلا دی مگر چھری کاٹ نہیں رہی تھی۔ کافی کوشش کے باوجود چھری اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر نہ چلی تو ابراہیم علیہ السلام نے غصے میں آ کر چھری پتھر پر ماری پتھر دو ٹکڑے ہو گیا۔ چھری تیز دیکھ کر اُنھوں نے دوبارہ کوشش کی۔ تھوڑی دیر میں چھری چل پڑی۔ اُنھوں نے آنکھوں سے پٹی اُتار کر دیکھا۔ سامنے حضرت اسماعیل علیہ السلام کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ اور دُنبہ ذبح پڑا ہے۔ غیب سے آواز آئی:
”اے ابراہیم (علیہ السلام)! اپنا ہاتھ روک لے تو نے اپنے خواب کی عملی تصدیق کر دی۔“(1)
(1) قصص الانبیاء ص 82-86
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کی قربانی
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ رئیس القریش حضرت عبدالمطلب کے سب سے لاڈلے بیٹے تھے۔ زمزم کی کھدائی کے دوران جب قریش حضرت عبدالمطلب کے مقابل آ گئے اُس وقت حضرت عبدالمطلب نے کثیر العیال ہونے کی اہمیت کو جانا اور یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اُنہیں دس بیٹے عطا کیے اور سب جوان اور صحت مند ہو کر اُن کی تقویت کا باعث بنے تو وہ اُن میں سے ایک بیٹے کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کریں گے۔ جب سارے بیٹے جوان ہو گئے تو اب اُنہیں اپنی نذر ایفاء کرنے کا خیال آیا۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے فرزندوں کو اپنے پاس بلایا اور انہیں جو نذر مانی تھی اُس کے بارے میں بتایا۔ سب بیٹوں نے بڑی سعادت مندی کا اظہار کرتے ہوئے سر جھکا دیئے اور بصد ادب عرض کیا:
”اے ہمارے پدر بزرگوار! آپ اپنی نذر پوری کر لیجئے۔ ہم میں سے جس کو آپ قربانی کے لئے نامزد کریں گے وہ اس پر فخر محسوس کرے گا اور اپنے سر کا نذرانہ بصد مسرت پیش کر دے گا۔“
طے پایا کہ بیت اللہ شریف کے فال نکالنے والے سے فال نکالی جائے جس کے نام کا قرعہ نکلے اس کو بلا پس و پیش راہِ خدا میں قربان کر دیا جائے۔ سب مل کر بیت اللہ شریف کے پاس جمع ہوئے۔ فال نکالنے والے کو بلایا گیا۔ صورت حال سے اسے آگاہ کیا گیا وہ فال کے تیر نکال کر لے آیا ۔ آپ کے سارے بچے شکل و صورت اور سیرت و کردار کے لحاظ سے چندے آفتاب اور چندے ماہتاب تھے۔ کسی ایک کے گلے پر چھری ضرور پھرنی تھی لیکن حضرت عبدالمطلب پہاڑ کی چٹان بنے کھڑے ہیں۔ ان کے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ارادے میں کسی قسم کی لچک کا دور دور تک نشان نہیں۔ اپنے رب سے انہوں نے جو وعدہ کیا تھا اس کو ضرور پورا کریں گے۔ اپنے اس پختہ عزم کا اظہار وہ اس رجز سے کر رہے تھے۔
اذاكان مولاى وانا عبده نذرت نذرا لا أحبُّ أناعيش بعده
ترجمہ: ”میں نے اپنے رب سے عہد کیا ہے اور میں اپنے عہد کو پورا کروں گا۔ بخدا کسی چیز کی ایسی حمد نہیں کی جاتی جس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد کی جاتی ہے۔ جب وہ میرا مولا ہے اور میں اس کا بندہ ہوں اور اس کے لیے میں نے نذر مانی ہے۔ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس نذر کو مسترد کردوں۔ پھر مجھے زندہ رہنے کی کوئی خواہش نہیں ۔“ (۱)
قرعہ فال عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کے نام نکلا۔ یہ درست تھا کہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ بہت حسین تھے۔ بوڑھے باپ کے یہ سب سے لاڈلے تھے لیکن یہاں معاملہ عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ اور ان کے خدا کا تھا۔ اگر ان کے خالق نے قربانی کے لئے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کو پسند فرمایا ہے تو عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کو اپنے ہاتھوں ذبح کرنے کے لئے حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ آستین چڑھا رہے تھے۔ اس کی اطلاع بجلی کی سرعت کے ساتھ مکہ کے ہر گھر میں گھومنے لگی۔ قریش کے رؤسا یہ سن کر اپنی مجلسوں سے دوڑے عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ کے پاس آئے۔ مکہ کے ہر فرد پر سناٹا طاری ہو گیا، مکہ کے سردار کہنے لگے:
”اے عبدالمطلب (رضی اللہ تعالیٰ)! ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ چاند سے زیادہ من موہنے چہرے والا ، پھول سے زیادہ نازک بدن والا عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ) ہمارے سامنے ذبح کر دیا جائے ؟ ایسا ہرگز نہ ہونے دیں گے“
عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ فرمانے لگے: ”یہ میرا اور میرے پروردگار کا معاملہ ہے۔ اس میں
عصمت رسول ﷺ پر حملے
دخل دینے والے تم کون ہو؟“
بوڑھے باپ کے عزم کو دیکھ کر سارے سردار منت و سماجت پر اتر آئے اور کہنے لگے:
”اے ہمارے سردار! اگر بیٹوں کو ذبح کرنے کی رسم کا آغاز تمھارے جیسی ہستی نے کر دیا تو پھر اس رسم کو بند کرنا کسی کے بس کا روگ نہیں رہے گا۔ اپنی قوم کے نونہالوں پر رحم کرو۔ اس کے نتائج بڑے ہولناک ہوں گے۔
طویل کشمکش کے بعد یہ طے پایا کہ حجاز کی عرافہ اور بعض روایات کے مطابق الحجر کی کاہنہ کے پاس جاتے ہیں۔ وہ جو فیصلہ کرے گی اس کو سب تسلیم کریں گے۔ چنانچہ سب مل کر یثرب پہنچے وہاں اس عرافہ کے بارے میں پتا چلا کہ وہ خیبر میں سکونت پذیر ہے۔ وہاں جا کر اسے اپنے آنے کے مقصد سے آگاہ کیا۔ وہ کہنے لگی:
”مجھے ایک دن کی مہلت دو۔ میرا تابعی آئے گا میں اس سے پوچھ کر بتاؤں گی۔“
دوسرے روز پھر اس کے پاس حاضر ہوئے۔ اس نے کہا کہ میرا تابعی آیا تھا میں نے تمھارے بارے میں اس سے پوچھا اس نے مجھے حل بتا دیا۔ پہلے تم یہ بتاؤ کہ تمھارے ہاں مقتولوں کی دیت کیا ہے۔
انہوں نے بتایا: ”دس اونٹ۔“
اس نے کہا: ”تم اپنے وطن لوٹ جاؤ۔ ایک طرف دس اونٹ کھڑے کر دینا اور دوسری طرف عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ) ، پھر فال نکالنا۔ اگر قرعہ اُونٹوں کے نام نکلا تو اُن کو ذبح کر دینا تمھاری نذر ادا ہو جائے گی۔ اگر قرعہ عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ) کے نام نکلے تو پھر دس دس اونٹ بڑھاتے جانا یہاں تک کہ قرعہ اونٹوں کے نام نکلے پھر اُن کو ذبح کر دینا یوں تمہاری نذر ادا ہو جائے گی۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
سارا کاروان عرافہ کے اس فیصلے کو سُن کر مکہ واپس آ گیا اور اُس کے کہنے کے مطابق قرعہ اندازی شروع کر دی۔ دس اونٹوں کے وقت بھی قرعہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کے نام نکلا۔ دس دس اونٹ بڑھاتے گئے لیکن ہر بار قرعہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کے نام نکلتا رہا ۔ یہاں تک کہ اونٹوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی۔ اس وقت قرعہ اندازی کی گئی تو قرعہ اونٹوں کے نام نکلا۔ حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ کو بتایا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ تین بار قرعہ اندازی کرو۔ اگر تینوں بار قرعہ اونٹوں کے نام نکلا تو تسلیم کروں گا ورنہ نہیں۔
عالم انسانیت کی خوش قسمتی تھی کہ تینوں بار قرعہ اونٹوں کے نام نکلا۔ چنانچہ وہ سو اونٹ ذبح کر دیئے گئے اور اِذنِ عام دے دیا گیا کہ ان کے گوشت کو جو چاہے، جتنا چاہے ، لے جائے۔ کسی کو روکا نہ جائے یہاں تک کہ کسی گوشت خور پرندے اور درندے کو بھی اُن کا گوشت کھانے سے نہ منع کیا جائے۔
حضرت عبدالمطلب جب نذر ایفاء کرنے کی آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے تو اُن کی مسرت وشادمانی کا اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا۔ (۲)
(۱) اعلام نبوت 179 (۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ جلد اول ص 457-459
عصمت رسول ﷺ پر حملے
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ پر قاتلانہ حملہ
آدھی رات کا وقت تھا۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ حرم سے کافی فاصلے پر ایک غار میں روشنی تھی۔ اُس میں کچھ مسافر آرام کر رہے تھے۔ وہ پانچ یہودی سوداگر تھے جو مکہ سے واپس خیبر جارہے تھے اور غار میں شب بسری کے لئے ٹھہرے تھے۔ وقت گزاری کے لئے مذہب کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔
ایک نے باتوں باتوں میں تورات کی پیش گوئی کا ذکر کیا کہ صحرائے عرب سے ایک نبی (ﷺ) ظاہر ہوگا۔ دوسرے نے دعویٰ کیا: ”نبی (ﷺ) ہماری قوم سے ہوگا“ تیسرے نے کہا: ”ہم برگزیدہ قوم ہیں۔ ہم پر خُدا راضی ہے ۔“ چوتھے نے کہا: ”وہ نبی (ﷺ) چاہے جس علاقے سے بھی ہو لیکن ہماری قوم سے ہی ہوگا۔“ پانچواں بولا : ”وہ ہمارے سوا کسی قوم سے نہیں ہوسکتا۔“
دوسری طرف ابلیس ایک مقدس نورانی شکل میں وہاں غار میں ظاہر ہوا ۔ اندھیرے سے نکل کر اس طرح آیا کہ یہودی ڈر گئے۔ اُس نے انہیں تسلی دی اور عارفانہ شان سے بولا : ”اے بچو! میں تمہیں نصیحت کرنے اُترا ہوں اور تمہیں تمہارے مذہبی میلان پر خراج تحسین پیش کرنے کے لئے بھی۔ جب تم نبی (ﷺ) کے معاملے پر جھگڑ رہے تھے اُس وقت میں بیت المقدس میں بیٹھا تمہاری باتیں سُن رہا تھا۔ دل میں یہ خیال آیا کہ تمہیں وہ سیدھی راہ بتاؤں جس سے قوم یہود کو فائدہ ہو۔ سردارِ مکہ عبدالمطلب (رضی اللہ تعالیٰ) کے بیٹے عبداللہ (رضی اللہ تعالیٰ) کو تم جانتے ہوگے اُسی کے صلب سے نبی آخر الزمان (ﷺ) پیدا ہوگا۔ وہ آل اسماعیل سے ہوگا اور انہیں بادشاہت دلائے گا۔ یہود پر قہر بن کر اُترے گا۔ مجھے یہ بات فرشتوں نے بتائی ہے۔“
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
یہ بات سُن کر پانچوں لعینوں کو جوش آ گیا اور بولے: ”واقعی ہم پر ہمیشہ ظلم ہوتا رہا ہے۔“
ابلیس بولا : ”ایسی بات منہ سے مت نکالو۔ اگر اپنا بھلا چاہتے ہو تو اُس لڑکے کو جا کر مار ڈالو۔“
وہ بولے: ”ہمارے پاس تو لڑائی کا سامان نہیں ہے۔“
ابلیس نے فوراً اپنی شیطانی طاقت کے ذریعے ایک پتھر سے مسلح گھوڑے پیدا کیئے اُن کے حوالے کر کے غائب ہو گیا۔ یہودی اُس کی یہ کرامت دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور انہوں نے اس کی اس نصیحت پر مصمم ارادہ سے عمل کرنے کا تہیہ کر لیا۔
صبح کا وقت تھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ ہرن کے شکار پر نکلے تھے۔ شکار کے دوران ہرن کے پیچھے دوڑتے ہوئے آپ اپنے تمام خادموں سے آگے نکل گئے۔ ہرن کو تیر مار کر زخمی کر دیا اور اُسے ذبح کرنے کے ارادے سے گھوڑے پر سے اُترے۔ جونہی اُسے ذبح کرنے کے لئے جھکے اُن یہودیوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ کو گھیرے میں لے لیا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ نے کھڑے ہو کر اُن سے حملے کا سبب دریافت کرنا چاہا لیکن انہوں نے مہلت ہی نہ دی اور فوراً آپ پر تلواروں سے حملہ کر دیا۔ پہلے آپ اُن کے حملوں کو ڈھال سے روکتے رہے پھر موقع دیکھ کر تیزی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نیزے سے یہودیوں پر حملہ کر دیا۔ نیزہ ایک یہودی کے سینے میں جا لگا اور وہ مر گیا۔
اپنے ساتھی کو مرتا دیکھ کر وہ مزید خونخوار اور سفاک بن گئے۔ لڑتے لڑتے اُنہوں نے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کے گرد گھیرا تنگ کر دیا۔ اب عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنا مشکل ہو گیا لیکن پھر بھی وہ مستقل مزاجی سے لڑتے رہے اور زخمی ہونے کے باوجود بھی ہمت نہ ہاری۔ اگرچہ بہت جرأت کا مظاہرہ کیا لیکن پھر بھی خون زیادہ بہہ جانے کے باعث اُن پر
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
نقاہت طاری ہونی شروع ہو گئی۔ جس کے باعث لڑنا مزید محال ہو گیا۔ بنو زہرہ کے ایک آدمی ”وہب“ کا اونٹ گم ہو گیا تھا۔ وہ اُس کو ڈھونڈتا اُدھر آنکلا۔ اُس نے یہ ساری جنگ دیکھی تو اُسکے دل میں خیال آیا کہ لڑکے کی مدد کرنی چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ آدمی اسے قتل کر دیں۔ مگر جیسا ہی اس خیال سے وہ اُٹھا نہ جانے کیسے وہ اپنے لبادے میں اُلجھ کر گر گیا۔ دوبارہ اُٹھنے کی کوشش کی تو ایک پتھر سے پاؤں پھسلا اور اُبھری ہوئی چٹان سے ٹکرایا۔ اُس نے پھر کوشش کی کہ اُس نوجوان کو قتل ہونے سے بچاؤں ، لیکن ایک اژدھا اُس کی راہ میں حائل ہو گیا۔ اور وہ دور بیٹھا حسرت سے دیکھتا رہا کہ نوجوان (عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ ) زخموں کی شدت سے سُست پڑ گیا ہے اور یہودی زور و شور سے اس پر حملے کر رہے ہیں۔ اُس نے سوچا کہ شاید میری آواز سے وہ ڈر جائیں۔ یہ خیال آتے ہی اُس نے منہ کھولنا چاہا لیکن کسی نے اُس کا حلق اتنے زور سے گھونٹا کہ گلا خشک پڑ گیا۔
جب اُسے کوئی صورت نظر نہ آئی تو اُس نے اس خیال سے آنکھیں بند کرلیں کہ میں اس بے گناہ کو قتل ہوتے نہ دیکھوں۔ اتنے میں زمین سے آسمان تک نور چھا گیا جس سے چار نورانی فرشتے ظاہر ہوئے۔ اُنہوں نے ملعون یہودیوں کا تعاقب کر کے اُنہیں مار ڈالا اور غائب ہو گئے۔ یہ دیکھ کر وہ آدمی بہت حیران ہوا اور سوچنے لگا کہ اپنی بیٹی ”آمنہ“ کی شادی اس نوجوان سے کروانی چاہیے کیونکہ یہ بڑی شان والا ہے۔ وہ اُٹھا، اب اس کے راستے میں کوئی اژدھا نہ تھا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ کے پاس آیا اور اُنہیں اُن کے گھر پہنچا آیا۔ بعد میں اپنی بیٹی کی اُن سے شادی کروادی۔
ماخوذ از شاہنامہ اسلام از حفیظ جالندھری ص 93-100
عصمت رسول ﷺ پر حملے
حضرت آمنہ علیہا السلام کے جسدِ اطہر کے
متعلق ناپاک سازش
کفار کا لشکر جرار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے چلا جا رہا تھا جب اُن کا گزر ابواء نامی بستی کے پاس سے ہوا تو کینہ توز ہندہ کے ذہن میں ایک فتور آیا۔ اُس نے اپنے خاوند ابوسفیان سے کہا: ”سُنا ہے کہ یہاں محمد (ﷺ) کی والدہ کی قبر ہے تم یہاں پر پڑاؤ کرو۔ اپنے آدمیوں کی مدد سے اُسے تلاش کرو۔ قبر کھود کر نعش اپنے قبضہ میں کر لو۔ اگر جنگ میں تمہارے کچھ آدمی مسلمانوں کی قیدی بن گئے تو اُن کا فدیہ درہم و دینار میں نہیں دیں گے بلکہ اس کے بدلے ہم آمنہ (رضی اللہ تعالیٰ) کا ایک ایک عضو کاٹ کر دیتے جائیں گے۔ (معاذ اللہ ) اور اپنے اسیرانِ جنگ کو آزاد کراتے جائیں گے۔
ابوسفیان کو یہ سفاکانہ رائے بہت پسند آئی۔ اُس نے جا کر لشکر کے سربراہان کو یہ بات بتائی مردہ ضمیر قریش نے اس رائے کو بہت پسند کیا لیکن چند دانش مند لوگوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: ”اگر تم نے قبر کھودنے کی رسم شروع کر دی تو پھر تمھارے دشمن بنو بکر وغیرہ تمھارے اسلاف کی قبروں کو کھود کر اُن کی تذلیل کرنا شروع کر دیں گے۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ فتنہ کے اس دروازے کو بند ہی رہنے دو۔“ اس پر وہ لوگ اس برے کام سے باز آ گئے۔ (1)
اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ کی حرمت کو محفوظ رکھا۔ إِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ۔
(1) ضیاء النبی از پیر کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 463
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿42﴾
باب دوم
حضور ﷺ کو شہید کرنے
کی کوششیں
عصمت رسول ﷺ پر حملے
أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ ٥ البقرہ: ۸۷
(البقرہ: 87)
ترجمہ: تو کیا جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسی چیز لایا۔ جو تمہارے دلوں کو نہ بھائی تو تم اکڑ گئے ۔ بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کو قتل کرنے لگے۔
﴿44﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے
رضاعی دور میں یہودیوں کا حملہ
حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس قیام کے زمانہ میں حضور ﷺ کو دیکھ کر بعض یہودیوں اور عرب قیافہ شناسوں نے یہ معلوم کر لیا کہ یہ نبی آخری الزمان (ﷺ) ہیں اور یہی ہمارے آبائی مذہب کو دُنیا سے مٹائیں گے۔ یہ سمجھ کر اُنہوں نے آپ ﷺ کو قتل کرنے کی بڑی کوششیں کیں لیکن ناکام رہے۔
ایک روایت میں ہے کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ کو پہلے پہل مکہ مکرمہ سے لے کر عکاظ کے میلہ میں آئیں۔ وہاں قبیلہ ہذیل کا ایک قیافہ شناس بڑھا تھا جس کے پاس عورتیں اپنے اپنے بچوں کو لے کر آتی تھیں اور فال نکواتی تھیں۔ اُس کی نظر جب آپ ﷺ پر پڑی تو وہ چلا اٹھا کہ اس کو قتل کر دو۔ یہ تمہیں اور تمہارے مذہب کو غارت کر دے گا۔ یہ تمہیں تباہ و برباد کر دے گا۔ ہر طرف شور مچ گیا۔ ایسے میں حلیمہ سعدیہ آپ ﷺ کو لے کر وہاں سے نکل پڑیں۔ بعد میں لوگوں نے بڑھے سے واقعہ پوچھا تو اُس نے کہا کہ میں نے ابھی وہ بچہ دیکھا ہے جو تمہارے اہل مذہب کو قتل کرے گا۔ تمہارے بتوں کو توڑے گا اور وہ کامیاب ہو گا۔ اس کے بعد لوگوں نے آپ ﷺ کو بہت تلاش کیا لیکن آپ ﷺ نہ ملے۔
سیرت النبی از شبلی نعمانی جلد سوم ص 417-418
عصمت رسول ﷺ پر حملے
اعلانِ نبوت کے بعد پہلا حملہ
جب چالیس سال کی عمر میں آپ ﷺ کو نبوت ملی تو پہلے پہل آپ ﷺ نے خفیہ تبلیغ شروع کی۔ اس خفیہ تبلیغ سے جب چالیس سے زیادہ لوگ مسلمان ہو گئے تو ایک دن حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حرم کعبہ میں جا کر اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت کا اعلان کیا اور مشرکین کو اسلام لانے کی دعوت دی۔ جہالت اور کفر کے اندھیروں کے مکین قریش مکہ کو یہ بات بہت بُری لگی اور اُن کے نزدیک یہ حرم کی بھی توہین تھی اس لئے اُنہوں نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ ہر طرف سے لوگ آپ ﷺ پر ٹوٹ پڑے۔ آپ ﷺ کو زدوکوب کیا جانے لگا۔
آنحضرت ﷺ کے ربیب حضرت حارث بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر میں موجود تھے۔ کسی نے اُنہیں جا کر خبر دی کہ قریش محمد ﷺ کو مار پیٹ رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ دوڑے دوڑے آئے۔ کفار کے چنگل سے نبی ﷺ کو بچانے کے لئے آگے بڑھے تو کفار نے آپ ﷺ کو چھوڑ کر اُن پر حملہ کر دیا۔ ہر طرف سے تلواریں برسنے لگیں اور وہ شہید ہو گئے اسلام کی راہ میں پہلا خون تھا جس سے سرزمینِ حرم رنگین ہوئی۔ (1)
(1) سیرت النبی از شبلی نعمانی جلد اول ص 137
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
عمر بن خطاب کا ارادہ قتل نبوی
حق و باطل کے درمیان کشمکش جاری تھی۔ حضور ﷺ کے ظہور کے بعد روشنی ذہن کے دریچوں کو منور کر رہی تھی۔ ابلیس اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا اور یہ جنگ نفسیاتی محاذ پر بھی جاری تھی۔ عمر بھی اسلام لانے سے قبل کفار و مشرکین کے لئے ایک بہت بڑا سہارا بنے ہوئے تھے۔ کفار کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ عمر جیسا دشمن، اسلام کی آغوش میں جاسکتا ہے۔ عمر ایک سچے اور کھرے انسان تھے، شجاعت اور بہادری میں اپنی مثال آپ تھے۔ اُن کے دل پر بھی روشنی، مجسم رحمت بن کر گری تھی لیکن آنکھوں پر کفر کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ ایسے حالات میں آپ ﷺ نے دُعا فرمائی ”یا اللہ! عمر بن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے کسی کے ذریعہ اسلام کی تائید فرما۔“
نبی اکرم ﷺ کی دعا کی قبولیت کا منظر تاریخ نے یوں بیان کیا ہے کہ سیرت ابن ہشام کے مطابق ایک دن عمر بن خطاب حضور ﷺ کے قتل کے ارادے سے گھر سے نکلے راستے میں اُن کی ملاقات نعیم بن عبداللہ سے ہوئی۔ انہیں عمر کے ارادے کا علم ہوا تو وہ بولے: ”اے عمر! خدا کی قسم تیرے نفس نے تجھے فریب دیا ہے۔ کیا تو یہ خیال کرتا ہے کہ محمد ﷺ کو شہید کرنے کے بعد بنی عبد مناف تجھے زمین پر پھرنے دیں گے۔ تو ہرگز زندہ نہیں رہے گا۔ محمد ﷺ کو قتل کرنے سے پہلے اپنے گھر کی تو خبر لے۔ تیری بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہوچکے ہیں۔“
یہ سُن کر عمر پلٹے اور اپنی بہن کے گھر پہنچے۔ تلوار اُن کے گلے میں لٹک رہی تھی۔ اُنہوں نے تلاوت کی آواز سنی۔ گھر کے اندر داخل ہوکر اُس آواز کے بارے میں استفسار کیا اور کہا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے محمد ﷺ کی اطاعت قبول کر لی ہے۔“ ان کا اقرار سن کر
عصمت رسول ﷺ پر حملے
انہوں نے اپنے بہنوئی کو پکڑ لیا اور مارنے لگے۔ اُن کی بہن اپنے شوہر کو چھڑانے کے لئے آگے بڑھیں تو عمر نے اپنی بہن کو بھی زخمی کر دیا۔ عمر کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ سخت غصے میں ہیں لیکن دونوں میاں بیوی نے نتائج سے بے پرواہ ہو کر عمر سے کہا کہ ہم دونوں ایمان لا کر محمدﷺ کے دین میں داخل ہو چکے ہیں تم جو چاہو کر لو ہم یہ دین چھوڑنے والے نہیں۔ زخمی بہن کے منہ سے یہ بات سُن کر عمر بہت حیران ہوئے اور بہن سے کہنے لگے: ”لاؤ یہ کاغذ مجھے دے دو تاکہ میں بھی دیکھوں کہ محمد (ﷺ) پر کیا نازل ہوا ہے۔ بہن نے اعتماد سے کہا: ”تم نجس ہو۔ اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے تاوقتیکہ پاک نہ ہو جاؤ۔“
عمر نے اُسی وقت غسل کیا، کاغذ دیکھا۔ کاغذ پر سورۃ طہٰ لکھی تھی پڑھتے ہی بے ساختہ پکار اُٹھے ”کیا اچھا کلام ہے!“
اس کے بعد آپ نے تلوار حمائل کی اور دار الارقم پہنچے۔ ایک صحابی نے انہیں آتے دیکھا تو گھبرا بارگاہ نبوی میں عرض کی: ”یا رسول اللہﷺ! عمر تلوار حمائل کر کے آیا ہے۔“ حضرت حمزہؓ نے فرمایا: ”اُسے آنے دو۔ اگر خیر کے ارادے سے آیا ہے تو بہتر ورنہ اُسی کی تلوار سے اُسے قتل کر دیں گے۔“
عمر اندر داخل ہوئے۔ صحابہ رضوان اللہ اجمعین نے عمر کو آپﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پیش کیا۔ آپﷺ کھڑے ہو گئے اور پوچھا: ”کس ارادے سے آئے ہو۔“
عرض کی: ”یا رسول اللہﷺ! ایمان لانے کے لئے۔“
حضورﷺ نے بلند آواز میں تکبیر پڑھی اور پھر عمر نے کلمہ پڑھا اس کے ساتھ ہی کفار کا ایک طاقتور اور بہادر سردار اسلام کی آغوش میں داخل ہو گیا اور اسلام لانے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ بن گیا۔
سیرت النبی از شبلی نعمانی ج 1 ص
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ابوجہل کا پتھر مارنے کا منصوبہ
جب حضور ﷺ نے قریش کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا تو ابو جہل کہنے لگا: ”اے قریش! تم نے دیکھا کہ محمد ﷺ نے تمہاری کوئی بات نہیں مانی اور تمہارے بزرگوں کے اور تمہارے مذہب کے بُرا کہنے سے باز نہ آیا۔ پس میں خُدا سے عہد کرتا ہوں کہ کل ایک بہت بڑا بھاری پتھر لے کر بیٹھوں گا اور جس وقت محمد ﷺ سجدہ کرے گا میں اُس کے سر پر دے ماروں گا۔ تم مجھ کو اپنی پناہ میں لے لینا پھر بنی عبد مناف سے جو کچھ ہو سکے وہ کریں۔ قریش نے کہا: ”قسم ہے خُدا کی! ہم تمہیں پناہ دیں گے۔ تم سے جو ہو سکے وہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“
پھر جب صبح ہوئی تو ابو جہل ایک پتھر لا کر حضور ﷺ کے نماز پڑھنے کا انتظار کرنے لگا۔ حضور ﷺ بھی صبح کو اپنے دستور کے مطابق مسجد حرام میں رونق افروز ہوئے۔ چونکہ اُن دنوں قبلہ بیت المقدس تھا اس سبب سے آپ ﷺ حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان نماز میں مشغول ہوگئے۔
قریش اپنی اپنی جگہ بیٹھے ابو جہل کی کارستانی کے منتظر تھے۔ چنانچہ جس وقت آپ ﷺ نے سجدہ کیا ابو جہل وہ پتھر لے کر آپ ﷺ کے نزدیک پہنچا پھر وہاں سے اُلٹے پاؤں بھاگا یہاں تک کہ پتھر اُس کے ہاتھ سے گر گیا اور وہ نہایت بدحواسی اور خوف کی حالت میں اپنی قوم کے پاس گیا۔ لوگ بھی اُس کی طرف دوڑے اور کہا: ”اے ابوالحکم! کیا ہوا ہے؟“
کہنے لگا: ”جب میں پتھر لے کر اُس کی طرف چلا تا کہ اُس کا کام تمام کر سکوں اور اپنا وعدہ پورا کر سکوں۔ تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نہایت قوی ہیکل اور خوفناک اونٹ منہ پھاڑ کر میری
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿49﴾
طرف حملہ آور ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ مجھے کھا جائے۔ میں فوراً ہی پیچھے ہٹا ورنہ جان بچانی مشکل تھی۔‘‘ (۱) اسی صورتحال کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے
ان کان علی الھدی ہ او امر بالتقوی ہ
ارئیت ان کذب و تولی ہ الم یعلم بان
الله یری کلا لئن لم ینتہ ہ لنسفعاً بالنا صیۃ ہ
ناصیۃ کاذبۃ خاطئۃ ہ فلیدع نادیہ ہ سندع
الزبانیۃ ہ کلا لا تطعہ و اسجد و اقترب ۔(۲)
ترجمہ: تم نے دیکھا اُس شخص کو جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہِ راست پر ہو یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟ ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اُسے کھینچیں گے۔ اُس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطا کار ہے۔ وہ بلا لے اپنے حامیوں کی ٹولی کو، ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے۔ ہرگز نہیں اُس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو۔
(۱) سیرت النبی از ابن ہشام جلد اول ص 186
(۲) القرآن: 96: 19-1
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ابوسفیان کا حملہ
جب سورۃ لہب نازل ہوئی تو اُم جمیل سُن کر غصے سے بے قابو ہوگئی۔ اپنے بھائی ابوسفیان کے گھر گئی اور اُسے حضور ﷺ کے خلاف بھڑکانے لگی : ’’اے میرے بہادر بھائی! کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہوا کہ محمد (ﷺ) نے میری ہجو کی ہے۔‘‘ کہنے لگا : ’’چلو میں ابھی اس کا بدلہ لیتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے تلوار اُٹھائی اور بجلی کی سُرعت کے ساتھ گھر سے نکل گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد تیزی سے بھاگتا ہوا لوٹ آیا۔ ہوش و حواس اُڑے ہوئے تھے اور سانس پھولی ہوئی تھی۔
اُم جمیل نے پوچھا : ’’کیا اُسے قتل کر آئے ہو؟‘‘
ابوسفیان نے بڑی حسرت سے پوچھا : ’’اے بہن ! کیا یہ بات تمہیں خوش کرتی ہے کہ تیرے بھائی کا سر کسی اژدھے کے منہ میں ہو۔‘‘
اُس نے کہا : ’’ہرگز نہیں۔‘‘
ابوسفیان بولا : ’’جب میں تلوار لے کر اُن کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک اژدھا منہ کھولے میری طرف بڑھ رہا ہے اور مجھے نگلنا چاہتا ہے۔ اُس کے خوف سے میں پیچھے بھاگ آیا۔‘‘ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر کرم شاہ الازہری جلد دوم ص 306
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
عقبہ بن ابی م
ایک مرتبہ عقبہ بن ابی معیط نے دی ۔ کفار ہنستے ، مسکراتے اور قہقہے لگاتے اطلاع ملی تو وہ تشریف لائیں اور اپنے ننھے دفعہ کا ذکر ہے کہ اس نے حالت سجدہ میں معلوم ہوتا تھا کہ دونوں آنکھیں نکل آئی ہیں ایک اور مرتبہ سرکارِ دوعالم ﷺ ابی معیط آیا اور اپنی چادر حضور ﷺ کی گر اس زور سے بھینچا کہ دم گھٹنے لگا۔ اچانک یہ منظر دیکھ کر بے چین ہو گئے ۔ عقبہ کو اُس کہ وہ دور جا گرا اور ساتھ ہی یہ فرمایا: ’’کیا تم ایسی ہستی کو قتل کرتے ہو جو کہ سامنے اس پر دلائل بھی پیش کرتا ہے؟‘‘ علامہ ابن کثیر کفار کے مذموم وعندى ان غالب سلا الجزور بين كـ مسعود و فيه ان فاطـ عليهم فشتمتهم ثم لـ على سبعة منهم كمـ
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
عقبہ بن ابی معیط کی کارستانیاں
ایک مرتبہ عقبہ بن ابی معیط نے حالت سجدہ میں حضور ﷺ پر اونٹ کی اوجھ ڈال دی۔ کفار ہنستے، مسکراتے اور قہقہے لگاتے رہے۔ آخر جب حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو اطلاع ملی تو وہ تشریف لائیں اور اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ان اوجھڑیوں کو ہٹایا۔ ایک اور دفعہ کا ذکر ہے کہ اس نے حالت سجدہ میں نبی ﷺ کی گردن مبارک کو اس زور سے روندا کہ معلوم ہوتا تھا کہ دونوں آنکھیں نکل آئی ہیں۔
ایک اور مرتبہ سرکار دو عالم ﷺ حرم شریف میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور اپنی چادر حضور ﷺ کی گردن میں ڈال دیا۔ اُسے بل دینے شروع کیے اور اس زور سے بھینچا کہ دم گھٹنے لگا۔ اچانک ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ آگئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ یہ منظر دیکھ کر بے چین ہو گئے۔ عقبہ کو اُس کے کندھے سے جا پکڑا اور اس زور سے دھکا دیا کہ وہ دور جا گرا اور ساتھ ہی یہ فرمایا: ’’کیا تم ایسی ہستی کو قتل کرتے ہو جو کہتے ہیں کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور وہ تمہارے سامنے اس پر دلائل بھی پیش کرتا ہے؟‘‘ (1)
علامہ ابن کثیر کفار کے مذموم ارادوں کی ناکامی کے بارے میں لکھتے ہیں:
وعندی ان غالب ما روی مما تقدم - من طرحهم سلا الجزور بين كتفيه وهوا يصلى كما رواه ابن مسعود و فيه ان فاطمة جاءت فطرحته عنه و اقبلت عليهم فشتمتهم ثم لما انصرف رسول الله ﷺ دعا على سبعة منهم كما تقدم وكذالك ما اخبر به عبدالله
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
بن عمرو بن العاص من خنقه اياه عليه السلام خنقاً شديداً حتى حال دونه ابو بكر الصديق قائلاً : اتقتلون رجلاً ان يقول ربي الله ! وكذالك عزم ابى جهل ، لعنه الله على ان يطا على عنقه وهو يصلى فحيل بينه و بين ذالك وما اشبه ذالك كان بعد وفات ابى طالب والله تعالى اعلم بالصواب۔۔ (۲)
ترجمہ : ” میں (ابن کثیر ) کہتا ہوں کہ میرے نزدیک اکثر وہ واقعات جیسے غلیظ اوجھ کا حالت نماز میں حضور ﷺ کے کندھوں پر ڈال دینا پھر فاطمہ (سلام اللہ علیہا ) کا تشریف لانا اور اُس کو اُٹھا کر پرے پھینکنا اور پھر مشرکین کو بُرا بھلا کہنا ۔ اِسی طرح عبداللہ بن عمرو بن العاص کی وہ روایت جس میں کفار کا حضور ﷺ کا شدت سے گلا گھونٹنا اور ابو بکر صدیق (رضی اللہ تعالیٰ ) کا اُن کے درمیان داخل ہونا اور یہ فرمانا: تمہیں شرم نہیں آتی تم اس شخص کو قتل کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے۔ اِسی طرح ابو جہل ملعون کا یہ عزم کرنا کہ جب حضور ﷺ حالت نماز میں ہوں تو حضور ﷺ کی گردن کو اپنے پاؤں سے روندے گا ۔ پھر قدرت الٰہی کا اس کے ارادے کو ناکام بنانا۔ ان میں سے اکثر واقعات ابو طالب کی وفات کے بعد پیش آئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
(۱) سیرۃ النبویہ از ابن کثیر جلد دوم ص 148 (۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد دوم ص 310-312
عصمتِ رسول ﷺ پر حملے
قبیلہ بنی مخزوم کا حملہ
ایک دفعہ قبیلہ بنی مخزوم کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ حضورﷺ کو نماز پڑھتے وقت قتل کر دیا جائے اُس وقت وہ ہمیں کچھ نہیں کہیں گے۔ اُن لوگوں میں ابو جہل، ولید بن مغیرہ اور ایسے ہی دوسرے دشمنانِ اسلام شامل تھے۔
یہ فیصلہ کر کے وہ لوگ مسجد حرام میں آئے اُس وقت حضورﷺ حرم شریف میں رکنِ شامی اور رکنِ عراقی کے درمیان نماز ادا فرما رہے تھے۔ ولید نے اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانا چاہا۔ جب وہ آپﷺ کے نزدیک پہنچا تو اُسے صرف قرآن پاک کی آواز آرہی تھی۔ وہ حضورﷺ کے وجودِ مبارک کو نہ دیکھ سکا۔ چنانچہ اُس نے واپس جا کر اپنے قبیلہ کے لوگوں کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ ابو جہل نے اُس کا مذاق اڑایا اور چند افراد اپنے ساتھ لے کر حرم کعبہ کی طرف چل پڑا۔ کعبہ شریف میں پہنچ کر اُسے قرآن پاک کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی مگر حضورﷺ نظر نہیں آرہے تھے۔
اُس کے ساتھیوں نے بھی آپﷺ کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام ہوئے اور اُنہیں آواز کے سوا کچھ پتہ نہ چل سکا۔
(1) معارج النبوۃ مولانا معین واعظ الکاشفی جلد سوم ص 633-632
عصمت رسول ﷺ پر حملے
سفر طائف
حضرت ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد حضور ﷺ نے محسوس فرمایا کہ لوگوں کے تیور یکلخت بدل گئے۔ اُن کے رویہ میں شائستگی اور احترام کے بجائے بے مروتی بلکہ سنگ دلی کا مظاہرہ ہونے لگا۔ مشرکین مکہ نے نبی ﷺ کی ذات اقدس پر اپنے مظالم کی حد کر دی۔ حضور ﷺ نے جب ملاحظہ فرمایا کہ موجودہ حالات میں مکہ کی مسموم فضا دین اسلام کی تبلیغ کے لئے سازگار نہیں تو آپ ﷺ طائف کی طرف تشریف لے گئے جہاں قبیلہ بنی ثقیف آباد تھا۔ شہر کے ارد گرد انگوروں اور سیبوں کے خوبصورت باغات کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ مکہ کے رؤسا نے وہاں گرمی سے دل بہلانے کے لئے اپنے مکانات بنا رکھے تھے۔
طائف کے باشندے کیونکہ مالی لحاظ سے خوش حال تھے اس لئے وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی طرف بھی توجہ دیتے تھے جبکہ اس زمانہ میں جزیرہ عرب جہالت کے اندھیروں میں غرق تھا۔ طائف کا شہر اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے حضور ﷺ کی توجہ کا مرکز بنا۔ قبیلہ بنی ثقیف سے حضور ﷺ کی کچھ رشتہ داری بھی تھی۔ ان تمام امور کے پیش نظر حضور ﷺ نے مکہ کے بجائے طائف کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کا ارادہ فرمایا۔ چنانچہ بعثت کے دسویں سال ماہ شوال میں حضور ﷺ مکہ سے طائف روانہ ہوئے۔ محمد بن سعد صاحب الطبقات کے مطابق اس کٹھن اور دشوار سفر میں حضور ﷺ کے خادم خاص زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ کو بھی معیت کا شرف حاصل ہوا۔
طائف پہنچ کر حضور ﷺ نے رابطہ مہم شروع فرمائی۔ طائف کے تمام قابل ذکر افراد کے پاس تشریف لے جاتے اور اسلام کی دعوت دیتے۔ دعوت کا یہ سلسلہ دس دن تک
عصمت رسول ﷺ پر حملے
جاری رہا۔ لیکن کسی کو اللہ تعالیٰ نے توفیق نہ دی کہ وہ داعی برحق کی دعوت کو قبول کرتا۔ آخر کار حضور ﷺ طائف کے تین چوٹی کے سرداروں کے پاس پہنچے جن کے نام عبد یالیل بن عمرو، مسعود بن عمرو اور حبیب بن عمرو تھے، یہ تینوں سگے بھائی تھے۔ حضور ﷺ اُن کے ہاں تشریف لے گئے اور انہیں قبول اسلام کی دعوت دی۔ بجائے اس کے کہ وہ اس سچی دعوت پر دل کی گہرائیوں سے لبیک کہتے اور صدق و خلوص کے ساتھ حضور ﷺ کی غلامی اختیار کرتے، اُنہوں نے بداخلاقی اور شعلہ مزاجی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ حضور ﷺ کے قلب نازک کو سخت صدمہ پہنچا۔ حضور ﷺ کے ارشادات سن کر ان میں ایک نے کہا:
وهو ايمرط اثواب الكعبة ان كان الله ارسله ”اور اگر اللہ نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو گویا میں نے غلاف کعبہ کو پارہ پارہ کر دیا ہے “
دوسرے نے بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا:
اما وجد الله احدا يرسله غيرك کیا تمہارے سوا اللہ تعالیٰ کو کوئی اور نہ ملا جسے وہ رسول بنا کر مبعوث کرتا
تیسرا کہنے لگا:
والله لا اكلمك ابدا لئن كنت رسولا من الله كما تقول لانت اعظم خطرا من ان ارد عليك الكلام، ولئن كنت تكذب على الله ما ينبغی لی ان اکلمک، ”بخدا! ہرگز میں آپ سے بات نہ کروں گا۔ اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں جس طرح آپ کا دعویٰ ہے تو پھر آپ کی شان بہت بلند ہے۔ مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ آپ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
کے کلام کا جواب دوں اور اگر آپ (معاذ اللہ) اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں تو مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں آپ کے ساتھ بات کروں“۔
حضور ﷺ نے ان سے رخصت ہونے سے پہلے فرمایا: ان فعلتم ما فعلتم فا كتمو على
”میرے ساتھ جو برتاؤ تم نے کیا وہ تو کیا۔ اب یہ سارا معاملہ راز رہے اس کو افشاء نہ کرنا“۔
حضور ﷺ کو خدشہ تھا کہ اگر اہل مکہ کو یہ اطلاع مل گئی تو اسلام کے خلاف ان کے معاندانہ رویے میں مزید تیزی اور تلخی پیدا ہو جائے گی لیکن ان بدبختوں میں مروت نام کی کو ئی چیز نہ تھی۔ انہوں نے اس واقعہ کی خوب تشہیر کی۔ اس سے بھی خست اور رذالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: يا محمد اخرج من بلدنا
”اے محمد! ہمارے شہر سے فوراً نکل جاؤ۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ تم ہمارے نوجوانوں کو اپنی باتوں سے بگاڑ دو گے“۔
اس کے علاوہ انہوں نے شہر کے اوباشوں اور نوخیز چھوکروں کو نبی ﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ جلوس کی شکل میں اکھٹے ہو گئے اور حضور ﷺ کا تعاقب شروع کر دیا۔ آوازے کستے، پھبتیاں اڑاتے، دشنام طرازی کرتے، بتوں کے نعرے لگاتے ہوئے حضور ﷺ کے پیچھے لگ گئے۔ جس راستہ سے رحمت دو عالم ﷺ نے گزرنا تھا، اس کے گرد طائف کے شہری دو رویہ صفیں بنا کر بیٹھ گئے اور حضور ﷺ جب ان کے درمیان سے گزرے تو انہوں نے پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ حضور ﷺ کے بابرکت قدموں کو اپنے پتھروں کا نشانہ بنا تے۔ آپ ﷺ چلتے ہوئے جو پاؤں رکھتے تو وہ ان کی زد میں آجاتا۔
یہاں تک کہ ان ظالموں کی سنگ باری سے قدمین مبارک زخمی ہو گئے اور خون
عصمت رسول ﷺ پر حملے
بہنا شروع ہو گیا۔ ان کی سنگ باری جب شدت اختیار کر لیتی تو آپ ﷺ درد کی شدت سے بیٹھ جاتے۔ وہ ظالم آگے بڑھ کر آپ ﷺ کو بازوؤں سے پکڑ کر کھڑا کر دیتے۔ پھر پتھر برسانے شروع کر دیتے اور ساتھ ساتھ قہقہے لگاتے ۔ زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ بے کسی کے عالم میں اپنے آقا کو بچانے کے لئے آڑ بن کر کھڑے ہو جاتے ۔ کئی پتھر ان کے سر پر لگے اور زخموں سے خون بہنے لگا ۔ اس طرح طائف کے ان بدبخت شہریوں نے اپنے اس معزز و مکرم مہمان کو اپنے ہاں سے رخصت کیا۔ سرور عالم ﷺ جب طائف شہر کے باہر پہنچے تو دل ان کے ظالمانہ سلوک سے از حد مغموم تھا ۔ سارا جسم زخموں سے چور چور تھا اور پاؤں مبارک سے خون بہہ رہا تھا۔
حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ ان میں سے کسی نے میری دعوت قبول نہیں کی۔ میں لوٹا تو اس روز میں سخت غمگین اور پریشان خاطر تھا۔ جب میں قرن الثعالب کے مقام پر پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ میں یہاں پہنچ گیا ہوں۔ میں نے اچانک سر اوپر اٹھا کر دیکھا کہ ایک بادل کا ٹکڑا مجھ پر سایہ کیے ہوئے ہے۔ پھر میں نے غور سے دیکھا تو جبرائیل علیہ السلام مجھے وہاں دکھائی دیئے۔ انہوں نے بلند آواز میں مجھے پکارا اور کہا: ”اللہ تعالیٰ نے وہ گفتگو سن لی ہے جو آپ ﷺ کی قوم نے آپ ﷺ سے کی ہے اور جو روکھا اور درشت جواب انہوں نے آپ ﷺ کو دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتہ کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ہے تا کہ آپ ﷺ جو حکم اسے دیں وہ بجالائے۔ پہاڑوں کے فرشتہ نے آگے بڑھ کر سلام عرض کیا پھر گزارش کی ۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کے لئے بھیجا ہے اگر آپ ﷺ فرمائیں تو دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملادوں اور یہ سارے تلنگے اور اوباش پس کر رہ جائیں ۔ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ارجو ان يخرج الله من اصلابهم من يعبد الله لا يشرك به شيئاً
”میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی پشتوں میں سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اللہ کی عبادت کریں گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائیں گے۔
حضور ﷺ کی اس رحمت و شفقت کو دیکھ کر پہاڑوں کا فرشتہ یہ کہہ اٹھا کہ جس طرح آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ کا نام رحمت للعالمین رکھا ہے بے شک آپ ﷺ رؤف و رحیم ہیں۔ (۱)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد دوم ص 439 تا 450
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
دارالندوہ میں کفار کی مشاورت
مسلمانوں کی اجتماعی ہجرت سے کفار مکہ کو طرح طرح کے شدید خطرات کا احساس ہونے لگا۔ انہیں یہ خیال بھی ستانے لگا کہ کہیں محمد ﷺ بھی یہاں سے ترک وطن کر کے اپنے ساتھیوں کے پاس نہ پہنچ جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو عین ممکن ہے کہ کچھ عرصہ بعد وہ مکہ پر دھاوا بول کر ان کا کچومر نکال دیں۔ اس سے پیشتر کہ حالات ان کے قابو سے باہر ہو جائیں انہیں کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا چاہیے۔
باہمی مشاورت کے لئے انہوں نے تمام قبیلوں کے سر برآوردہ اور زیرک لوگوں کو دارالندوہ میں جمع ہونے کی دعوت دی۔ اس مجلس مشاورت میں شریک ہونے والوں کے لئے ضروری تھا کہ وہ کسی قریشی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ہوں اور ان کی عمریں چالیس سال سے متجاوز ہوں۔ ان قیود سے صرف ابو جہل کو مستثنیٰ رکھا گیا تھا کیوں کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے اس کی عداوت سب سے بڑھی ہوئی تھی اور وہ اپنے قبیلہ میں سب سے زیادہ عقلمند شمار ہوتا تھا اس لئے وہ ابوالحکم کی کنیت سے مشہور تھا اسے اس مجلس میں شرکت کی اجازت دے دی گئی تھی۔
علامہ ابن ہشام نے اس مجلس شوریٰ میں شریک ہونے والوں کے نام اور ان کے قبائل کے نام تفصیل سے تحریر کیے ہیں۔
نام قبیلہ شرکت کرنے والوں کے نام بنی عبدشمس عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابوسفیان بن حرب بنی نوفل بن عبد مناف طعمہ بن عدی، جبیر بن مطعم،
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴾60﴿
بنی عبدالدار حرث بن عامر بنی اسد بن عبدالعزیٰ نضر بن حارث ابوالبختری، زمعہ بن اسود اور حکیم بن حزام بنی مخزوم ابوجہل بن ہشام بنی سہم نبیہ بن حجاج، منبہ بن حجاج بنی جمح امیہ بن خلف
ان کے علاوہ چند اور آدمی بھی تھے۔
جب یہ لوگ دارالندوہ میں داخل ہونے لگے تو انہوں نے دروازہ پر ایک اجنبی کو دیکھا جس نے ریشمی جبہ زیب تن کیا ہوا تھا۔ شکل وصورت اور وضع قطع سے کسی قبیلہ کا رئیس معلوم ہوتا تھا۔
انہوں نے اس سے پوچھا: ”مَنِ الشیخ ؟“ اے بزرگ! آپ کون ہیں ؟ حقیقت میں وہ انسانی شکل میں ابلیس تھا۔ اس نے جواب دیا۔ ”میں اہل نجد کا سردار ہوں۔ میں نے اس امر کے بارے میں سنا جس کو طے کرنے کے لئے تم یہاں اکٹھے ہوئے ہو۔ میں بھی اسی لئے حاضر ہو گیا تا کہ تمہاری گفتگو سنوں اور مجھے امید ہے کہ میں تمھیں کوئی بہتر مشورہ یا رائے دے سکوں گا“۔ انہوں نے کہا ”آئیے! تشریف لائیے!“ چنانچہ وہ ان کے ہمراہ ان کے پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہو گیا جب سب معززین مکہ جمع ہو گئے تو اصل موضوع پر گفتگو شروع ہوئی۔
”اس شخص (ﷺ) کے حالات تمھارے سامنے ہیں۔ ان کے سارے ساتھی یثرب میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ خود بھی کسی روز یہاں سے چلے جائیں اور
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اپنے ساتھیوں سے جاملیں۔ اگر یہ ہمارے مجتمع کر کے ہم پر حملہ کردیں۔ اس وقت کے سدباب کے لئے تدبیر کرنی چاہئیے“
یہ بات سننے کے بعد سب لوگ البختری گویا ہوا! ”میری رائے یہ ہے کہ جائے پھر صبر سے اُسی روز کا انتظار کیا جا کی طرح اُن کی زندگی کی شمع بھی گل ہو جا
یہ سُن کر وہ نجدی رئیس بولا: ” مکان میں بند کر کے دروازہ مقفل کر دو کی اطلاع پہنچ جائے گی۔ وہ اپنی جان جائیں گے اور تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے اس ہونے لگا۔
ابوالاسود ربیعہ بن عمرو العامری کردیں اور اپنے علاقہ سے انہیں باہر ن چھوٹ جائے گی اور ہم امن وسکون سے ز اس سے پیشتر کہ کوئی اور آدمی ا اُٹھا: ”پہلی رائے کی طرح یہ رائے بھی لا اندازِ تعلیم سے باخبر ہو۔ اگر تم انہیں یہاں کر اُن کا لشکر جرار لے کر تم پر حملہ آور ہوں ہرگز نہیں۔ کوئی اور تجویز سوچو جو اس فتنہ کا
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اپنے ساتھیوں سے جاملیں۔ اگر یہ ہمارے قبضہ سے نکل گئے تو کوئی بعید نہیں کہ وہ اپنی قوت مجتمع کر کے ہم پر حملہ کر دیں۔ اس وقت ہم کچھ بھی نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں آج ہی اس خطرہ کے سدباب کے لئے تدبیر کرنی چاہئے۔‘‘
یہ بات سننے کے بعد سب لوگ سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور مشورے ہونے لگے۔ اب البختری گویا ہوا!: ’’میری رائے یہ ہے کہ انہیں زنجیروں میں جکڑ کر ایک مکان میں بند کر دیا جائے پھر صبر سے اُسی روز کا انتظار کیا جائے جس روز زمانہ ماضی کے شعراء زہیر، نابغہ وغیرہ کی طرح اُن کی زندگی کی شمع بھی گل ہو جائے ۔‘‘
یہ سُن کر وہ نجدی رئیس بولا: ’’یہ رائے بالکل لغو اور بے معنی ہے۔ اگر تم اُسے کسی مکان میں بند کر کے دروازہ مقفل کر دو گے تو اُس کے عقیدت مندوں کو اُس کے قید ہونے کی اطلاع پہنچ جائے گی۔ وہ اپنی جان کی بازی لگا کر انہیں تمھاری قید سے نکال کر لے جائیں گے اور تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے اس لئے یہ رائے قطعاً قابل غور نہیں ۔ مزید غور وخوض ہونے لگا۔
ابوالاسود ربیعہ بن عمرو العامری کہنے لگا: ’’میری رائے یہ ہے کہ ہم انہیں شہر بدر کر دیں اور اپنے علاقہ سے انہیں باہر نکال دیں پھر وہ جہاں چاہیں جائیں۔ ہماری جان چھوٹ جائے گی اور ہم امن وسکون سے زندگی بسر کریں گے۔‘‘
اس سے پیشتر کہ کوئی اور آدمی بولے شیخ نجدی سے چپ نہ رہا جا سکا اور فوراً بول اُٹھا: ’’پہلی رائے کی طرح یہ رائے بھی لامعنی ہے۔ تم لوگ اُن کی شیریں کلامی اور دل نشین انداز تعلیم سے باخبر ہو۔ اگر تم انہیں یہاں سے نکال دو گے تو وہ کسی دوسرے قبیلہ کو ہم نوا بنا کر اُن کا لشکر جرار لے کر تم پر حملہ آور ہوں گے۔ کیا اُس وقت تم اُن کا راستہ روک سکو گے؟ ہرگز نہیں۔ کوئی اور تجویز سوچو جو اس فتنہ کا قلع قمع کرے۔ تمھارا مذہب ، تمھارے شہر کا تقدس
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اور تمہارے علاقے کا امن اُن کی یلغار سے محفوظ ہو جائے۔“
سب لوگوں نے ابلیس کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے دوسری رائے کو بھی مسترد کر دیا۔ کچھ دیر پھر بحث جاری رہی۔ آخر میں ابو جہل اُٹھا اور کہنے لگا: ”میرے ذہن میں ایک تجویز آئی ہے اس پر غور کرو۔“
ساری محفل میں سناٹا چھا گیا۔ سب حاضرین اُس کی طرف متوجہ ہو گئے وہ بولا: ”ہم ہر قبیلہ میں سے ایک جوان چنیں، جو بہادر ہو، عالی نسب ہو، اپنے قبیلہ کا سردار ہو پھر ہر ایک کو تیز تلوار دیں۔ پھر وہ سب مل کر اُس شخص پر حملہ کر کے اُسے قتل کر دیں۔ اس طرح اس مصیبت سے ہمیں راحت مل جائے گی۔“
اُسکی حکمت اس نے یہ بیان کی کہ جب ہر قبیلہ قریش کا نامی گرامی جوان اُن کے قتل میں شریک ہو گا تو ان کا خون تمام قبائل میں منتشر ہو جائے گا۔ بنو ہاشم سارے قبائل سے بیک وقت قصاص نہیں لے سکیں گے آخر کار وہ دیت لینے پر رضامند ہو جائیں گے اور ہم سب مل کر بڑی آسانی سے اُن کی دیت ادا کر دیں گے۔ یہ سُن کر شیخ نجدی کا چہرہ خوشی سے تمتمانے لگا اور وہ کہنے لگا:
”یہی وہ تجویز ہے جو اس شخص نے کہی۔ اس کے علاوہ کسی اور رائے کی ضرورت نہیں۔“
سب نے اس کی تائید کی اور سب اس پر متفق ہو گئے۔ یوں یہ طے کر کے مجلس برخاست ہو گئی ادھر لات و منات کے پرستار محبوب خدا ﷺ کو قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے اُدھر رب محمد اپنے محبوب ﷺ کا بال بھی بیکا نہ ہونے کا ارادہ فرما رہا تھا۔ کائنات کے خالق و مالک نے اپنا فیصلہ صادر فرما دیا اور بذریعہ جبرائیل امین علیہ السلام اس کی اطلاع اپنے حبیب ﷺ کو پہنچائی۔
اسی روز یہ آیت نازل ہوئی ۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ازا یمکر بک الذین کفروا لیثبتوک او یقتلوک او یخرجوک و یمکرون و یمکر اللہ واللہ خیر المکرین۔ (۲)
”اور یاد کرو جب خفیہ تدبیریں کر رہے تھے کافر آپ (ﷺ) کے بارے میں، تاکہ آپ (ﷺ) کو قید کردیں یا شہید کردیں یا آپ (ﷺ) کو جلاوطن کردیں۔ وہ بھی خفیہ تدبیریں کررہے تھے اور اللہ بھی خفیہ تدبیر فرمارہا تھا اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر خفیہ تدبیر کرنے والا ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اس رات ہجرت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ بھی عرض کی کہ آج رات حضور ﷺ اپنے بستر پر آرام نہ فرمائیں چنانچہ حضور ﷺ نے لوگوں کی امانتیں واپس کرنے کے لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو مقرر فرمایا اور اپنے بستر مبارک پر سُلا دیا۔ رات کے وقت تمام جوان جمع ہو گئے اور حضور ﷺ کے گھر مبارک کا محاصرہ کرلیا۔ حضور ﷺ آدھی رات کے وقت اپنے گھر سے نکلے۔ اُس وقت آپ ﷺ سورۃ یٰسین کی اس آیت کی تلاوت فرمارہے تھے۔
و جعلنا من بین ایدیھم سدا و من خلفھم سدا فاغشینھم فھم لا یبصرون۔ (۳)
”ہم نے اُن کے سامنے ایک دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔ پس وہ کچھ نہیں دیکھ سکتے۔“
یہ آیت پڑھ کر اُن پر پھونک دیا فوراً اُن کی بینائی سلب ہوگئی۔ ان پر نیند غالب آگئی اور وہ سب اونگھنے لگے۔ اُنہی لمحوں میں حضور ﷺ اُن کے نرغے کو توڑتے ہوئے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
اپنے رب قدیر کی امان میں بخیر و عافیت گھر سے تشریف لے گئے۔ گزرتے ہوئے اُن سب کے سروں پر ایک ایک چٹکی مٹی کی ڈالتے گئے وہاں سے سیدھے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ کے گھر کا رُخ کیا ،وہ چشم براہ بیٹھے تھے ۔ اُٹھ کر آقا کو مرحبا کہا اور پھر دونوں صدیق رضی اللہ تعالیٰ کے مکان کے عقب میں موجود چھوٹے دروازے سے نکل کر غارِ ثور کی طرف روانہ ہوگئے ۔
اس اثناء میں محاصرہ کرنے والوں کو ایک آدمی نے بتایا کہ محمد ﷺ تمہارا حصار توڑ کر نکل گئے اور جاتے جاتے تمہارے سروں پر مٹی ڈال گئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے سروں پر ہاتھ پھیرے تو مٹی موجود تھی لیکن اندر جھانک کر دیکھا تو انہیں بستر اقدس اور اس پر کوئی سویا نظر آیا تو وہ مطمئن ہو گئے۔ صبح حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو (بستر سے جاگتا) دیکھ کر وہ حواس باختہ ہو گئے ۔ (۳)
(۱) (القرآن 30 : 8)
(۲) القرآن (36 : 9)
(۳) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 61-45
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
غارِ ثور میں قیام
سفر ہجرت میں قدم قدم پر معجزے رونما ہوئے اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت مسافرانِ حق کے ہمرکاب رہی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے آخری رسول ﷺ کی حفاظت کا اہتمام کیا گیا۔ کفار و مشرکین ہر بار ناکام و نامراد ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان حرف بحرف سچ ثابت ہوا کہ وہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ دانش و حکمت کے تحت نبی ﷺ نے مکہ سے تین میل دور غارِ ثور میں قیام کا ارادہ فرمایا تاکہ کفار کی تلاش ختم ہو جائے تو پھر سفر جاری رکھا جائے۔ غارِ ثور میں قیام کے دوران ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ کا آزاد کردہ غلام عامر اپنی بکریاں چراتا ہوا غار کے قریب لے آتا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ بکریوں کا دودھ حاصل کر لیتے۔ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ مکہ میں قریش کی خبریں معلوم کر کے رات کو آ کر بیان کر جاتے۔
اہل مکہ تلاش میں ادھر ادھر مارے مارے پھر رہے تھے۔ تلاش کے دوران ایک ماہر کھوجی کے ہمراہ پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے اس غار کے دہانے تک پہنچ گئے۔ جب ان کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ نے جھک کر دیکھا۔ معلوم ہوا کہ کفار کی ایک جماعت غار کے منہ پر کھڑی ہے۔ اپنے محبوب ﷺ کو یوں خطرے میں گھرا دیکھ کر بے چین ہو گئے اور عرض کی:
”یا رسول اللہ ﷺ! اگر انہوں نے جھک کر دیکھا تو ہمیں پالیں گے۔“
حضور رحمت عالم ﷺ نے فرمایا:
یا ابا بکر ما ظنک باثنین اللہ ثالثہا
”اے ابوبکر! اُن دو کی نسبت تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔“
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کھوجی نے ایک نشان کو دیکھ کر کہا کہ یہ تو ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ) کے پاؤں کا نشان ہے لیکن اس کے ساتھ ہی جو دوسرا نشان ہے میں اسے صحیح طرح سے پہچان نہیں سکتا کیونکہ یہ اس پاؤں کے نشان سے بڑی مشابہت رکھتا ہے جو مقام ابراہیم پر ہے۔
اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم تھا کہ کفار ادھر ادھر سے مایوس ہو کر نبی ﷺ کی تلاش میں اس طرف بھی ضرور آئیں گے۔ چنانچہ اُس نے اپنی قدرت کاملہ سے ایسے حالات پیدا فرما دیئے کہ وہ تلاش کرتے کرتے غار کے دہانے تک تو پہنچ جاتے لیکن نہ اس کے اندر داخل ہوتے اور نہ اُس کے اندر جھانکتے اور یوں ہی الٹے پاؤں چلے جاتے۔
ہوا یہ کہ غار کے دہانے کے قریب ایک غاردار درخت اُگ آیا جس کو عربی میں ”اُم غیلان“ کہتے ہیں۔ اس کی بلندی انسانی قد کے برابر ہوتی ہے۔ اُس کی شاخیں بڑی گنجان اور خاردار ہوتی ہیں۔ اس درخت کی موجودگی میں کسی شخص کا غار کے اندر جانا بہت مشکل ہوتا ہے نیز غار کے دہانے کے قریب جنگلی کبوتروں کے جوڑے نے گھونسلہ بھی بنایا ، وہاں انڈے بھی دیئے اور اُن انڈوں کو سینے کے لئے ایک کبوتری اُن پر ڈیرا جما کر بیٹھ گئی ۔ ساتھ ہی غار کے منہ پر مکڑی نے ایک گھنا جالا تن دیا۔
اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب کوئی ماہر کھوجی یہاں پہنچتا تو ان چیزوں کی موجودگی کے باعث واپس چلا جاتا۔ اُمیہ بن خلف جیسا ہی غار کے دہانے پر پہنچا تو اس کے ایک ساتھی نے اُسے کہا کہ اندر داخل ہو کر تسلی کر لو اس پر اُمیہ بن خلف بولا: ”غار کے اندر جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس کے دروزے پر ایک مکڑی کا جالا ہے جو محمد (ﷺ) کی پیدائش سے بھی پہلے کا معلوم ہوتا ہے۔“ (۱)
عصمت رسول ﷺ پر حملے
سراقہ کا تعاقب کرنا
کفار مکہ نے ان دو نفوس ذکیہ کی جستجو میں ناکامی کے بعد اعلان عام کر دیا کہ جو شخص اُن دو میں سے کسی ایک کو زندہ یا مردہ حالت میں ہمارے سامنے پیش کرے گا، اُسے فی کس ایک سو سرخ اونٹ بطور انعام دیئے جائیں گے۔ عرب کے افلاس زدہ لوگوں کے لئے یہ بہت بڑا انعام تھا۔
بنو مدلج کے نوجوان بھی اس مہم کو سر کرنے کے لئے کسی سے پیچھے نہ تھے۔ اسی قبیلہ کا ایک نوجوان جو ایک ماہر شمشیر زن اور تیر افگن تھا، اُس کا نام سراقہ بن مالک تھا۔ وہ بھی اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے بے تاب تھا۔ اپنی مہم جوئی کی داستان اُس نے خود بیان کی ہے۔ سراقہ کہتے ہیں:۔
”ہمارے پاس بھی قریش مکہ کے قاصد یہ پیغام لے کر آئے کہ جو شخص محمد ﷺ اور ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ) کو قتل کرے گا یا انہیں زندہ گرفتار کر کے لائے گا ، اُسے فی کس ایک سو سرخ اونٹ بطور انعام دیئے جائیں گے۔ میں اپنی قوم کی ایک مجلس میں موجود تھا جہاں یہ اعلان سُنایا گیا۔ اسی اثناء میں ایک آدمی آیا اور مجھے کہنے لگا : ”اے سراقہ! میں نے ابھی ابھی تین شتر سواروں کی پرچھائیں دیکھی ہیں جو ساحل سمندر کی طرف جا رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ پرچھائیں اُنہی لوگوں کی ہیں۔“
سراقہ کہتے ہیں کہ میں جان گیا کہ یہ وہی لوگ ہیں۔ میں نے اُسے کن اکھیوں سے اشارہ کیا کہ خاموش ہو جاؤ۔ وہ چپ ہو گیا پھر میں نے کہا : ” تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے یہ وہ لوگ نہیں بلکہ فلاں فلاں شخص ہیں اور ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ میرے سامنے سے گزرے تھے۔ شاید اُن کا کوئی اونٹ گم ہو گیا ہے۔ وہ اُس کو ڈھونڈنے کے لئے گھروں سے نکلے
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿68﴾
ہیں ۔ ''یہ کہہ کر میں یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ مجھے اُن کو پکڑنے سے کوئی دلچسپی نہیں، کچھ دیر وہاں بے تعلق بیٹھا رہا پھر آہستہ سے وہاں سے اُٹھا ۔ اپنے گھر آیا اور اپنی کنیز کو کہا کہ میرا گھوڑا لے کر اُس ٹیلے کے پیچھے جا کر کھڑی ہو جا۔ اور میرا انتظار کر میں ابھی آتا ہوں ۔ میں نے اپنا نیزہ اُٹھایا اور گھر کے عقبی دروازے سے نکل گیا ۔ وہاں گھوڑا موجود تھا۔ میں اُس پر سوار ہو کر بڑی تیز رفتاری سے اس سمت میں روانہ ہو گیا ۔ بہت جلد مجھے محمدﷺ کی پر چھائیں نظر آنے لگیں ۔ میری خوشی کی کوئی حد نہ رہی اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جاؤں گا ۔
جب میں ان کے بالکل قریب پہنچا تو اچانک میرے گھوڑے کو ٹھوکر لگی اور میں چکرا کر زمین پر آ گرا۔ میں فوراً اُٹھا اور اپنے ترکش سے فال کے تیر نکالنے لگا ۔ اتفاق سے فال میں سے میرا نا پسندیدہ تیر نکلا جس پر لکھا تھا کہ تم جن کا تعاقب کر رہے ہو اُن کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے ۔ لیکن مجھے سو سرخ اونٹوں کے لالچ نے ایسا بدحواس کر رکھا تھا کہ میں نے تیر کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی۔ گھوڑے پر سوار ہوا اور اُسے ایڑ لگائی ۔ وہ بڑی تیزی سے آگے بڑھنے لگا میں اس قدر قریب پہنچ گیا کہ حضورﷺ کی تلاوت کی آواز مجھے سُنائی دینے لگی ۔
حضورﷺ بڑے سکون اور طمانیت کے ساتھ تلاوت فرماتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے ۔ میرے گھوڑے کی سموں کی آہٹ سُن کر بھی حضورﷺ میری طرف متوجہ نہ ہوئے لیکن ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ) بار بار میری طرف دیکھتے تھے ۔ جب میں اور نزدیک ہوا تو اس سنگلاخ زمین میں میرے گھوڑے کی ٹانگیں گھٹنوں تک دھنس گئیں اور میں قلابازی کھاتا ہوا نیچے آ گرا۔ میں نے گھوڑے کو جھڑکا تو وہ جھٹ کود کر باہر نکل آیا ۔ میں نے پھر فال کا تیر نکالا لیکن دوبارہ وہی تیر نکلا ۔ یہ تیر دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ میں اس مہم میں کامیاب نہیں ہو سکوں گا ۔ میں انہیں گرفتار نہیں کر سکوں گا ۔ لیکن پھر لالچ غالب آ گیا اور میں نے تعاقب
عصمت رسول ﷺ پر حملے
شروع کر دیا اور میرا گھوڑا پہلے کی طرح زمین میں دھنس گیا۔ میں نے بڑی کوشش کی لیکن وہ نہ نکل سکا پھر میں نے فریاد کرتے ہوئے محمد ﷺ سے عرض کی: ”مہربانی فرما کر مجھ پر نظر کرم فرمائیں۔ بخدا میں آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔“ نبی ﷺ نے صدیق رضی اللہ تعالیٰ سے فرمایا: ”اس سے پوچھو یہ کیا چاہتا ہے۔“ سراقہ نے کہا: ”میرے گھوڑے کی زمین سے نکلنے کے لئے دُعا کریں۔“
چنانچہ آپ ﷺ نے دُعا فرمائی جس کی وجہ سے گھوڑا زمین سے آزاد ہو گیا۔ پھر سراقہ نے عرض کی کہ مجھے ایک معافی نامہ لکھ دیجئے۔ حضور ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کو امان نامہ لکھنے کا حکم دیا اور سراقہ سے فرمایا کہ ہمارا راز فاش نہ کرنا۔
جب مکہ فتح ہوا اور حضور ﷺ اہل حنین کے معاملات سے فارغ ہوئے تو سراقہ ہاتھ میں وہ امن کا پروانہ لیے حضور ﷺ سے ملاقات کے لیے نکلا۔ میں انصار کے دستے میں داخل ہوا تو انہوں نے مجھے نیزوں کی انیاں چبھونی شروع کر دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مجھے نبی اکرم ﷺ سے دور رہنے کا کہہ رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے میری طرف توجہ فرمائی تو انصار کو حکم دیا کہ اسے میرے قریب آنے دو۔ میں قریب پہنچا تو نبی ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار تھے۔ سراقہ نے اس نوازش نامہ کے ساتھ ہاتھ بلند کیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! یہ آپ کا نوازش نامہ اور پروانہ امن ہے اور میں سراقہ بن مالک ہوں۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ”یہ وفا اور بھلائی کا دن ہے اور تمہارے لیے بھی معافی ہے۔“
علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب سراقہ نے لوٹنے کا ارادہ کیا تو رسول ﷺ نے فرمایا: ”اے سراقہ ! اُس وقت تمہاری کیا شان ہوگی جب تم کسریٰ کے کنگن پہنو گے۔“ اُس نے سراپا حیرت ہو کر کہا ”کسریٰ بن ہرمز کے؟“ فرمایا ”ہاں“۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ کے دور خلافت میں جب فارس فتح ہوا تو انہیں کنگن عطا کئے گئے۔ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 94-92
عصمت رسول ﷺ پر حملے
بریدہ اسلمی کی لالچ
بریدہ بن حصیب الاسلمی اپنا قصہ سُناتے ہیں:۔
”جب میں نے سُنا کہ قریش نے حضور ﷺ کو گرفتار کرنے کے لئے ایک سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ہے تو اتنے بڑے انعام کے لالچ میں میں بھی آپ ﷺ کے تعاقب میں روانہ ہوا۔ میرے ساتھ میری قوم کے ستر شہسوار تھے۔ اتفاق سے میری ملاقات حضور ﷺ سے ہوگئی۔
آپ ﷺ نے پوچھا: ”من انت“ یعنی کہ تم کون ہو؟
میں نے عرض کی: میرا نام بُریدہ ہے۔
یہ سُن کر حضور ﷺ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”بَرَدَ امرنا و صلح“ یعنی کہ ہماری مہم کی تپش ٹھنڈی ہوگئی اور حالات درست ہوگئے۔
پھر پوچھا: ”ممن انت؟“ یعنی کہ تم کس خاندان سے تعلق رکھتے ہو؟
عرض کی: ”میں قبیلہ اسلم کا فرد ہوں۔“
یہ سُن کر فرمایا: ”سلمنا“ یعنی ہم محفوظ ہوگئے۔
پھر پوچھا: ممن؟ ”کونسی شاخ سے“
عرض کی: ”من بنی سہم“ ”بنی سہم سے“
حضور ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ سے فرمایا: ”خرج سہمک یا ابا بکر“
”اے ابوبکر! تیرا تیر نکل آیا ہے۔“
بریدہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: ”من انت“۔ ”آپ (ﷺ) کون ہیں؟“
حضور ﷺ نے فرمایا: ”میں محمد بن عبداللہ (ﷺ) ہوں اور اللہ کا رسول ہوں۔“
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿72﴾
اُس پیکر نور کی ایک جھلک دیکھتے ہی بُریدہ کی آنکھیں روشن ہو گئیں، سارے نقاب حقیقت کے روئے زیبا سے اُٹھ گئے اور بے تابی سے پکار اُٹھا۔ ”اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمد عبدہ و رسولہ ۔“ بریدہ اور اس کے ہمراہی تمام کے تمام مشرف بہ اسلام ہو گئے اور حضور ﷺ کے دستِ اقدس پر بیعت کی۔ (۱)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 100
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
عمیر اور صفوان
عمیر بن وہب، مکہ کے اصـ عیاری اور چالاکی کا اُس کی اہمیت میں باعث مشکل مسائل کو حل کرنے کے لیے
سب سے پہلے میدانِ بدر مشرکین نے راہِ فرار اختیار کی تو بھاگنے و بیٹے صفوان کے ساتھ بڑی گہری دوستی تھی اور صفوان کے باپ اُمیہ کو مسلمان شمشیر ز میں مسلمانوں کے خلاف عداوت و عناد سـ جمع ہوئے اور دل کے پھپھولے پھوڑنے
عمیر نے کہا: ”اے صفوان! تیرے دل کو زخمی کیا ہے تو انہوں نے میرے کی انتہا کر دی ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں بہـ کے لئے بھی کوئی چیز نہیں۔ نیز میں عیالدار میں نے کوئی پس انداز نہیں کر رکھا۔ اگر (ﷺ) کو قتل کر دیتا۔
اس طرح اس آتشِ انتقام کو ٹھنـ تیرے بلکہ سارے اہل مکہ کے دلوں میں قرض خوروں کا قرض ادا کرنے سے قاصر
عصمت رسول ﷺ پر حملے
عمیر اور صفوان کا شرمناک معاہدہ
عمیر بن وہب ، مکہ کے اصنام پرست معاشرہ میں بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ اُس کی عیاری اور چالاکی کا اُس کی اہمیت میں بڑا دخل تھا۔ وہ اپنی دور اندیشی اور معاملہ فہمی کے باعث مشکل مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنی قوم کا مرجع بنا ہوا تھا۔
سب سے پہلے میدان بدر میں جنگ کی چنگاری اسی نے بھڑکائی تھی اور جب مشرکین نے راہِ فرار اختیار کی تو بھاگنے والوں میں پیش پیش تھا۔ اُس کی امیہ بن خلف کے بیٹے صفوان کے ساتھ بڑی گہری دوستی تھی۔ عمیر کے لڑکے کو مسلمانوں نے جنگی قیدی بنا لیا تھا اور صفوان کے باپ امیہ کو مسلمان شمشیر زنوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ دونوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف عداوت و عناد کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ ایک دفعہ دونوں حجر میں جمع ہوئے اور دل کے پھپھولے پھوڑنے لگے۔
عمیر نے کہا : ”اے صفوان! اگر مسلمانوں نے تیرے سردار باپ کو قتل کر کے تیرے دل کو زخمی کیا ہے تو انہوں نے میرے نوجوان بچے کو جنگی قیدی بنا کر مجھ پر بھی زیادتی کی انتہا کر دی ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں بہت مقروض ہوں اور میرے پاس قرض ادا کرنے کے لئے بھی کوئی چیز نہیں۔ نیز میں عیالدار ہوں اور ان کے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے میں نے کوئی پس انداز نہیں کر رکھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں چپکے سے مدینہ چلا جاتا اور محمد (ﷺ) کو قتل کر دیتا۔
اس طرح اس آتش انتقام کو ٹھنڈا کرنے کوئی صورت پیدا ہو جاتی جو میرے اور تیرے بلکہ سارے اہل مکہ کے دلوں میں بھڑک رہی ہے۔ کیونکہ میں ایسا مقروض ہوں جو قرض خوروں کا قرض ادا کرنے سے قاصر ہے اور میرے پاس کوئی ایسا اندوختہ بھی نہیں کہ
عصمت رسول ﷺ پر حملے اگر اس منصوبہ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے قتل کر دیا جاؤں تو میرے بال بچے اس سے اپنی ضروریات پوری کرسکیں ۔ اگر میں وہاں چلا جاؤں اور مارا جاؤں تو لوگ یہی کہیں گے کہ قرضے سے بچنے کے لئے اس نے دانستہ اس خطرہ میں چھلانگ لگا دی اور بال بچوں کو بھیک مانگنے کے لئے بے یار و مددگار چھوڑ گیا ہے۔“
صفوان کے دل میں اپنے باپ، بھائی اور چچا کے قتل کے باعث ایک آگ لگی ہوئی تھی۔ اس نے جب عمیر کی یہ باتیں سنیں تو کہا: ”اے عمیر ! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس مہم کے سر کرنے میں اگر تیرے ساتھ کوئی سانحہ پیش آیا تو تیرا سارا قرض میں ادا کر دوں گا اور جب تک میں زندہ رہوں گا۔ تیرے اہل و عیال کے جملہ اخراجات کا میں کفیل رہوں گا۔ تم ان باتوں کی فکر مت کرو۔ اگر اس منصوبہ کو تم عملی جامہ پہنا سکو تو ساری قوم تمہاری شکر گزار ہوگی ۔“
دونوں طرف سے مناسب یقین دہانیوں کے بعد اُن کے درمیان یہ معاہدہ طے پا گیا۔ دونوں وہاں سے اُٹھے اور صفوان، عمیر کے لئے زادِ سفر تیار کرنے لگا۔ اُس نے اسے تلوار دی جو از حد صیقل تھی۔ اُس کی دھار کو خوب تیز کر دیا گیا تھا اور اُسے کئی بار زہر میں بجھایا گیا تھا۔ چند روز بعد صفوان، عمیر کو الوداع کہنے کے لئے اُس کے پاس آیا اور اس معاہدے کی تجدید کرنے کے بعد تاکید کی کہ اس بات کی خبر کسی کو نہ کرنا۔ پھر اس کے بعد عمیر وہاں سے عازمِ مدینہ طیبہ ہوا۔
کئی دن کے سفر کے بعد عمیر مدینہ پہنچا۔ مسجد نبوی کے دروازے کے پاس اپنا اونٹ بٹھایا، اُس سے اُترا اور اُونٹ کے پاؤں باندھ دیئے ۔ تلوار کو گلے میں لٹکایا اور مسجد میں داخل ہونے کا ارادہ کیا جہاں نبی ﷺ تشریف فرما تھے ۔ اچانک عمر رضی اللہ تعالیٰ کی نگاہ اُس پر پڑ گئی، وہ مسجد سے باہر چند انصار کے ساتھ محوِ گفتگو تھے ۔ عمیر کو دیکھ کر عمر رضی اللہ تعالیٰ
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملہ﴿ گھبرا گئے۔ فرمایا: ”قریش کا یہ شیطان کسی اچھی نیت سے یہاں نہیں آیا۔“
پھر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”یا رسول اللہ ﷺ! یہ عمیر بن وہب اپنے گلے میں تلوار آویزاں کئے ہوئے مسجد میں داخل ہوا ہے۔ یہ بڑا غدار اور دھوکہ باز ہے۔ اس کا خیال رکھیئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: عمیر کو میرے پاس لے آؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عمیر کی طرف متوجہ ہوئے اور جس چمڑے کے پٹے کے ساتھ اُس نے تلوار باندھ کر گلے میں لٹکائی تھی اُس کو گریبان سے پکڑا اور گھسیٹ کر حضور ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ عمیر نے آکر کہا: ”صبح بخیر۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے ہمیں تمہارے دُعائیہ جملہ سے بہتر دعائیہ جملہ سکھایا ہے اور اہلِ جنت کا دُعائیہ جملہ بھی یہی ہے۔“ اس ارشاد کے بعد پوچھا: ”عمیر کیسے آنا ہوا؟“ کہنے لگا: ”میں اپنے قیدی بیٹے کی خبر لینے آیا ہوں تا کہ اس کا فدیہ ادا کروں اور اُسے آزاد کراؤں۔ میرا آپ سے خاندانی تعلق ہے اُمید ہے کہ آپ میرے ساتھ خصوصی مروت فرمائیں گے۔“ عمیر نے یہ خیال کیا کہ میں نے یہ بات کہہ کر محمد (ﷺ) کو مطمئن کر لیا ہے اب میری آمد کے بارے میں آپ کو اور کسی کو کوئی شک نہیں رہا لیکن حضور ﷺ نے یہ فرما کر اُسے ششدر کر دیا کہ تمہارے گلے میں یہ تلوار لٹک رہی ہے اس کی تمہیں کیا ضرورت تھی؟“
اُس نے کہا: ”ان تلواروں کا ستیاناس ہو۔ انہوں نے پہلے ہمیں کونسا فائدہ پہنچایا ہے۔ میں اُونٹ سے اُترا اور جلدی میں آپ (ﷺ) کے پاس آگیا۔ مجھے اس تلوار کا خیال ہی نہیں رہا۔ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سچی بات بتاؤ کہ کیوں آئے ہو؟“ اُس نے پھر وہی جھوٹ بولا لیکن پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ پوچھ کر اس کا راز فاش کر دیا کہ تم نے صفوان بن اُمیہ کے ساتھ حجر میں بیٹھ کر کیا شرطیں طے کی ۔ اب وہ گھبرایا لیکن پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور پوچھا: ”میں نے صفوان کے ساتھ کیا شرطیں طے کی ہیں؟“
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
آپ ﷺ نے فرمایا : ”تم نے مجھے قتل کرنے کی اس شرط پر ذمہ داری قبول کی ہے کہ وہ تمہارے بچوں کے اخراجات کا بھی کفیل ہوگا اور تیرے قرض خواہوں کو تیرا قرض بھی ادا کرے گا۔ اے عمیر سُن ! میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ حائل ہے۔ تیری مجال نہیں کہ میرا بال بیکا کر سکے۔“
حضور ﷺ کی اس ضربت قاہرہ سے اسکی عیاری ، چالاکی اور دانشمندی کے سارے قلعے پیوند خاک ہو گئے اور بے ساختہ اس کی زبان سے نکلا۔
اشہد ان لا الہ الا اللہ و اشہد ان محمد عبدہ و رسولہ
یا رسول اللہ ﷺ! ہم آسمانی وحی کے بارے میں آپ کی تکذیب کیا کرتے تھے لیکن یہ راز جس سے آپ ﷺ نے پردہ اٹھایا ہے یہ تو ایک سر مکتوم تھا جس کی ہم دونوں کے بغیر کسی کو خبر نہ تھی۔
حضور ﷺ نے ان کے اسلام قبول کرنے پر خوشی کا اظہار فرمایا اور پھر صحابہ کو فرمایا: اپنے بھائی کو دین کے مسائل سمجھاؤ۔ قرآن حکیم کی تعلیم دو اور اس کے قیدی بیٹے کو بغیر فدیہ لئے آزاد کر دو۔ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 402-410
عصمت رسول ﷺ پر حملے
سفر غزوۂ ذی الامر میں حملہ
غزوۂ ذی الامر سے واپسی پر حضور ﷺ نے ایک بڑے چشمے ذی الامر کے پاس پڑاؤ کیا اور اپنے خیمے نصب کر دیے۔ اس روز وہاں موسلا دھار بارش ہوئی جس کے باعث سب کے کپڑے گیلے ہو گئے تھے۔ حضور ﷺ ایک درخت کے نیچے آرام فرما تھے اور کپڑے سوکھنے کے لئے درخت پر پھیلا دیئے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اپنے اپنے فرائض سر انجام دینے میں مشغول ہو گئے۔
شکست خوردہ مشرکین نے دور سے پہچان لیا کہ نبی ﷺ اکیلے استراحت فرما ہیں۔ انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے سردار ”دعثور“ کو کہا کہ وہ جائے اور اس بے خبری میں اس شمع ہدایت ﷺ کو گل کردے پھر ایسا موقع نہیں ملے گا۔ اس نے اپنی تلو ار گلے میں حمائل کی اور دبے پاؤں حضور ﷺ کی آرام گاہ کی طرف روانہ ہوا۔
حضور ﷺ کے سر مبارک کے قریب کھڑے ہو کر اس نے اپنی تلوار کو لہرایا اور کہا : ”اے محمد ﷺ! آج آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ“۔
یہ پُر جلال جواب سن کر اس لرزہ طاری ہو گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔
حضور ﷺ نے تلوار فوراً اٹھا لی اور اس سے پوچھا: اب بتاؤ تمھیں کون بچائے گا۔
اس نے کہا: کوئی بچانے والا نہیں آپ احسان فرمائیے۔
آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔ آپ ﷺ کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر اس نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ ﷺ نے اس کی تلوار اسے واپس کر دی اور وہ اپنی قوم کے پاس چلا گیا۔ قوم کے استفسار پر اس نے کہا کہ جب میں نے برہنہ تلوار ان کے سر پر لہرائی تو ایک
عصمت رسول ﷺ پر حملے
طویل قامت شخص ظاہر ہوا جس نے مجھے مکا مار کر گرایا۔ میں نے جان لیا کہ یہ فرشتہ ہے پس میں ان کی رسالت پر ایمان لے آیا ہوں۔
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 433 تا 434
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کعب بن اشرف کی بدبختیاں
اگرچہ ہر یہودی کے دل میں اسلام دشمنی کے جذبات شعلہ زن رہتے ہیں لیکن کعب بن اشرف کی اسلام دشمنی کا انداز بڑا گھناؤنا اور نرالا تھا۔ یہ خاندانی طور پر رئیس نہیں تھا ۔ اس کا باپ ایک اعرابی تھا جس کا تعلق بنی نبہان قبیلہ سے تھا۔ اس نے اپنے علاقہ میں کسی شخص کو قتل کر دیا اور جان بچانے کے لئے بھاگ کر یثرب آ گیا اور بنی نضیر کا حلیف بن گیا۔ ا س نے وہاں بڑی دولت کمائی۔
بنی نضیر قبیلہ کے سردار ابوالحقیق کی لڑکی عقیلہ سے شادی کر لی جس کے بطن سے یہ لڑکا ’’کعب‘‘ نامی پیدا ہوا۔ کعب بڑا قد آور تھا۔ اُس کی توند بڑھی ہوئی تھی اور سر نمایاں طور پر بڑا تھا۔ جسمانی وجاہت کے علاوہ وہ بڑا فصیح اللسان، قادر الکلام شاعر تھا۔ دولت و ثروت کی کثرت کے باعث حجاز میں بسنے والے سارے یہودیوں کا سردار بن گیا تھا۔ اُس نے سارے یہودی عالموں کے لئے بھاری سالانہ وظائف مقرر کر رکھے تھے۔
جب نبی ﷺ نے مدینہ طیبہ میں ورود فرمایا تو یہودی علماء حسب معمول اپنے وظائف لینے کے لئے اُس کے پاس گئے اُس نے ان سے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں تمہارے پاس کیا معلومات ہیں؟
اُنہوں نے جواب دیا: یہ وہ ہستی ہیں جن کے لئے ہم عرصہ سے چشم براہ تھے۔ اُن کی جو صفات تورات میں بیان کی گئی ہیں وہ بہ تمام ہا اُن میں پائی جاتی ہیں۔ یہ جواب سُن کر اُس نے اُن سب کو ٹکا سا جواب دیا اور کہا کہ میرے ذمہ بہت سے دوسرے فرائض ہیں جن کو ادا کرنا میری اولین ذمہ داری ہے۔ اس لئے میں مزید کچھ دینے سے قاصر ہوں۔ وہ جب بے نیل و مرام واپس آئے تو اُنہیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اُس کی تلافی
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کے لئے وہ پھر اُس کے پاس پہنچے اور عذر خواہی کرتے ہوئے کہنے لگے: ”جلدی میں ہم سے آپ کے سوالات کے صحیح جواب نہ دیئے جاسکے۔ ہم نے اپنے اکابر علماء سے اس کے بارے میں پوچھا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ وہ شخص نہیں جس کا ہمیں انتظار تھا۔ یہ بات سُن کر وہ اُن سے راضی ہوگیا اور اُن کی جھولیوں کو اپنے عطیات سے بھر دیا۔
رسول مکرم ﷺ کی ہجو میں یہ بدبخت اشعار کہتا تھا، لکھتا تھا اور کفار کو حضور ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے بھڑکاتا تھا۔ جنگ بدر میں کفار کی شکست کے بعد وہ یثرب سے چل کر قریش کے پاس آیا۔ اور ان کے مقتولین پر رونا شروع کر دیا۔ اُس نے اُن کی آتشِ انتقام کو خوب بھڑکایا اور بدلہ لینے کے لئے انہیں جنگ پر آمادہ کیا۔ مکہ میں یہ بدبخت مطلب بن ابی دواعہ کے پاس ٹھہرا۔ اُس کی بیوی عاتکہ بھی اُس کے ساتھ کعب کی خاطر مدارت کرتی رہی۔
وہاں اثنائے قیام اُس نے ہجویہ اشعار سُنانے شروع کر دیئے۔ جب نبی ﷺ کو اس کارستانی کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے دربار نبوت کے شاعر حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ کو اس کا جواب لکھنے کا حکم دیا۔ حسان رضی اللہ تعالیٰ کے اشعار بجلی بن کر اُن پر گرے اور اُن کو جواب دینے کی سکت نہ رہی۔ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ کے اشعار میں مطلب اور اُسکی بیوی عاتکہ نے اپنا ذکر سُنا تو اُنہوں نے کعب کا سامان اُٹھا کر باہر پھینک دیا۔ پھر مکہ میں اُسے کوئی پناہ گاہ نہ ملی اور چار و ناچار اُسے یثرب واپس آنا پڑا۔ واپس آکر اس کی فطرت بد نے ایک نیا رُخ اختیار کیا۔ اُس نے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ کی عصمت شعار بیویوں کے نام لے کر اپنے اشعار میں اُن سے اپنے عشق و محبت کے فرضی افسانے نظم کر کے لوگوں کو سُنانے شروع کر دیئے اور باوجود منع کرنے کے باز نہ آیا۔
انہی ایام میں کعب نے حضور ﷺ کو دعوت دی۔ اس دعوت کا مقصد یہ تھا کہ حضور
عصمت رسول ﷺ پر حملے
صلی اللہ علیہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے آئیں گے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ جبرائیل علیہ السلام اپنے پر تان کر کھڑے ہو گئے۔ کعب اور اس کے حواری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے۔ اس طرح اُن کی اس ناپاک سازش کو اللہ تعالیٰ نے ناکام بنا دیا۔
جب صبر کا پیمانہ چھلک گیا تو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”من لنا با بن الاشرف“۔ ”ہمیں اشرف کے بیٹے سے کون بچائے گا۔“
حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ نے کھڑے ہو کر عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اُس خبیث کو موت کے گھاٹ اُتارنے کی ذمہ داری میں قبول کرتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے سعد بن معاذ (رضی اللہ تعالیٰ) سے ضرور مشورہ کر لینا۔ اس کے بعد محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ، ابونائلہ رضی اللہ تعالیٰ، عباد بن بشر رضی اللہ تعالیٰ، حارث بن اوس رضی اللہ تعالیٰ اور ابو عبس رضی اللہ تعالیٰ کے پاس گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو وعدہ کیا تھا اُس سے سب کو آگاہ کیا۔ سب نے ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔
محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ ایک روز تنہا کعب بن اشرف کے پاس گئے اور اُس سے کہا: یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیں صدقہ دینے پر بار بار مجبور کرتا ہے۔ ہمارے کھانے کے لئے بھی ایک دانہ تک اُس نے نہیں چھوڑا۔ ہم تو اس سے بہت تنگ آ گئے ہیں۔ آج مجبوراً میں تمہارے پاس کچھ قرض مانگنے آیا ہوں۔ یہ سُن کر کعب دل ہی دل میں خوش ہوا۔ کہنے لگا: ”میں تو پہلے ہی تمہیں کہتا تھا کہ تم بہت جلد اُس سے اُکتا جاؤ گے۔“ اب مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ نے کہا: ”میں تو اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ پانچ دس من غلہ تم سے مانگوں تا کہ اپنا اور اپنے بال بچے کا پیٹ بھر سکوں۔
اُس نے پوچھا: ”تمہارا اپنا غلہ کدھر گیا؟“
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ابن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ نے کہا: ”وہ تو ہم نے اس شخص اور اُس کے دوستوں پر خرچ کر دیا ہے۔“
کعب نے کہا: ”اب بھی تم پر یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ تم راہ راست سے بھٹک گئے ہو اور غلط راستے پر چل نکلے ہو۔“
پھر اُس نے کہا: ”مجھے تمہارا بڑا احترام ہے اور تمہاری تکلیف کا شدید احساس ہے اس لئے جتنا غلہ تم نے مانگا ہے وہ میں ہر قیمت پر تمہیں دوں گا۔ لیکن تمہیں میرے پاس کوئی چیز رہن رکھنا ہو گی۔“
اُنہوں نے کہا: ”کون سی چیز؟“
اُس نے بڑی ڈھٹائی سے کہا: ”اپنی عورتیں میرے پاس گروی رکھ دو اور غلے لے جاؤ۔
ابن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ نے کہا: ”یہ تو ہمارے لئے ممکن نہیں۔ تم بلا کے حسین ہو۔ ہمیں خطرہ ہے کہ ہماری عورتیں تیرے عشق میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ کوئی اور چیز طلب کرو۔“
اُس نے کہا: ”پھر اپنے بیٹے میرے پاس گروی رکھ دو۔“
اُنہوں نے جواب دیا: ”یہ بھی ممکن نہیں۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو انہیں عمر بھر لوگ یہ طعنہ دیں گے کہ تم وہی ہو جن کو اُن کے والدین نے ایک دو وسق غلہ کے عوض رہن رکھ دیا تھا۔ البتہ ہم اپنا اسلحہ تمہارے اطمینان کے لئے رکھوا دیں گے اگرچہ ہمیں اسلحہ کی بہت ضرورت ہے۔“ یہ وعدہ اُنہوں اس لئے کیا تھا کہ اگر وہ مسلح ہو کر آئیں تو اُن پر کوئی اعتراض نہ ہو۔ کعب نے یہ تجویز منظور کر لی۔
کچھ وقفہ کے بعد اس مہم کے دوسرے شریک ابو نائلہ رضی اللہ تعالیٰ کعب کے پاس آئے اور ابن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ کی طرح کعب سے گفتگو کی۔ کعب نے اُن کی بات بھی مان لی۔ ابو نائلہ کعب کے رضاعی بھائی تھے اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ کعب کے رضاعی بھائی
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿83﴾
کے بیٹے تھے۔ باقی اصحاب اوس قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ جانباز جب اس خطرناک مہم کو سر کرنے کے لئے جانے لگے تو نبی ﷺ انہیں الو داع کہنے کے لئے بقیع شریف تک تشریف لائے۔ وہاں انہیں اللہ تعالیٰ کے حوالے کیا اور اپنی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔
رات کا وقت تھا اور چاندنی رات تھی۔ کعب کا قلعہ مدینہ طیبہ سے باہر شمال مشرقی سمت میں تھا۔ جب وہاں پہنچے تو سب سے پہلے ابو نائلہ رضی اللہ تعالیٰ نے آواز دی۔ کعب اس وقت اپنے کمرے میں تھا اور اس کی ابھی ابھی شادی ہوئی تھی۔ اس کی دلہن نے اسے جانے سے روکا اور کہا کہ مجھے اس آواز سے شر اور بعض روایات کے مطابق خون کی بو آتی ہے ۔ کعب نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا: تم فکر نہ کرو۔ ایک میرا رضاعی بھائی ہے دوسرا رضاعی بھتیجا۔
چنانچہ دامن چھڑا کر نیچے چلا گیا۔ کچھ دیر آپس میں گپ شپ لگاتے رہے۔ آخر انہوں نے کعب سے کہا کہ چاندنی رات ہے۔ چلیں ”شعب العجوز“ تک چلیں۔ کعب نے کہا: جیسی مرضی پھر کچھ دیر چلتے رہے۔ چلتے چلتے ابو نائلہ رضی اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ کعب کے سر کے بالوں میں ڈالے۔ پھر نکال کر سونگھا اور کہا کہ میں نے آج تک ایسا خوشبودار عطر نہیں دیکھا۔ یہ سن کر وہ پھول گیا اور بولا ایسا کیوں نہ ہو جب کہ میری بیوی عرب کی تمام عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے اور حسن و جمال میں سب سے بالا ہے۔
ابو نائلہ رضی اللہ تعالیٰ نے دو تین مرتبہ پھر ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ کعب کو اطمینان ہو گیا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں۔ آخر میں انہوں نے پھر کعب کے بالوں میں ہاتھ ڈالا تو انہیں مضبوطی سے پکڑا اور اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ اس دشمن خدا کے پرزے پرزے کر دو ۔ سب نے یکبارگی اپنی تلواروں سے حملہ کر دیا۔ اس نے بڑی خوفناک چیخ ماری جو اس کی بیو
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
ی نے سن لی۔ اس نے چلا کر یہودیوں کو مدد کے لئے پکارا۔
اسلام کے فدائیوں نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا اور ایک توبرے میں ڈال لیا۔
اتنے میں یہودی ہر طرف سے اکٹھے ہو گئے۔ ان صحابہ نے عام راستہ چھوڑ کر غیر معروف راستہ اختیار کیا۔ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور اس موذی کا سر تو برے سے نکال کر حضور ﷺ کے قدموں میں ڈال دیا۔ حضور ﷺ نے ان کی اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لئے دعا فرمائی۔ (۱)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 441 تا 448
عصمت رسول ﷺ پر حملے
احد کا خونریز معرکہ
غزوہ احد میں تیر اندازوں کے اپنی مقررہ جگہ سے ہٹنے کے باعث مسلمانوں کی فتح شکست میں بدل گئی۔ مسلمان چاروں طرف سے گھیرے میں لیے جاچکے تھے۔ ہر طرف سے مسلمان پس رہے تھے اور شکست خوردہ ہوکر سراسیمہ پھر رہے تھے۔ ایسے عالم میں کسی شیطان نے تین بار یہ اعلان کیا کہ جان عالم ﷺ کو قتل کر دیا گیا ہے۔
یہ خبر سن کر لشکر بالکل پراگندہ ہو گیا۔ سب لوگ حواس باختہ ہو گئے۔ ایک گروہ تو بھاگ کر مدینہ طیبہ میں جا داخل ہوا۔ لیکن جانبازوں کی ایک جماعت نے اپنے پریشان حال ساتھیوں کو للکار کر کہا: ”آؤ! ہم بھی اس دین کی بقا کیلئے اپنی جان کی بازی لگا دیں جس کے لئے نبی ﷺ نے جام شہادت نوش کیا ہے تا کہ بارگاہ الٰہی میں شہید بن کر حاضر ہوں“۔
ان سنگین حالات میں بڑے بڑے شیر دل صحابہ رضوان اللہ اجمعین انتشار کی زد میں آگئے تھے۔ کفار کی تلواریں مسلمانوں کو بے دریغ کاٹتی چلی جارہی تھی۔ حضور ﷺ ایسے حالات میں بھی ایک بالشت بھر اپنی جگہ سے نہیں ہلے اور دشمن کے سامنے کھڑے رہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کا ایک گروہ نبی کریم ﷺ کی طرف لوٹ کر آتا تھا اور دوسرا دشمن پر حملہ کرنے کے لئے میدان میں پھیل جاتا تھا۔ اس روز پیغمبر ﷺ کے اردگرد پندرہ جا نثار حلقہ باندھے کھڑے رہے جن میں سے آٹھ مہاجر اور سات انصار تھے۔ کفار چاروں طرف سے حضور ﷺ پر تیر برساتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کوئی تیر آپ ﷺ کو چھو کر نہیں گزرتا تھا۔
مشرکین نے پرا باندھ کر اس عزم کے ساتھ کہ آپ ﷺ کو زندہ نہیں چھوڑیں گے آپ ﷺ پر ہلہ بول دیا۔ عتبہ بن ابی وقاص نے چار پتھر مارے۔ ایک پتھر لگنے سے سامنے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
والے دو اوپر کے اور دوسرے سے دو نیچے والے دانت شہید ہو گئے۔ جڑ سے نہیں اکھڑے بلکہ ان کا اوپر کا حصہ الگ ہو گیا اور نیچے والا ہونٹ مبارک بھی زخمی ہو گیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ نے دربارِ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول ﷺ ! یہ حرکت کس نے کی ہے؟
فرمایا: ”عتبہ بن ابی وقاص نے“
پوچھا: ”وہ کدھر گیا ہے؟“
حضور ﷺ نے اشارہ سے بتایا کہ اُدھر ۔
حاطب رضی اللہ تعالیٰ نے تعاقب کر کے اسے جہنم رسید کیا اور اس کا سر کاٹ کر آپ کے قدموں میں ڈال دیا۔ حضور ﷺ کے چہرہ انور پر عبداللہ بن الشہاب الزہری کی ضرب سے زخم آیا اور ریش مبارک خون سے تر ہو گئی۔ عبداللہ بن قمیئہ ، جو بنو ہذیل کا بہادر شہسوار تھا، نے حضور ﷺ کو زخمی کیا اور پھر تلوار سے وار کرنے لگا۔ حضور ﷺ اس کے حملہ کو روکنے کے لئے آگے بڑھے کہ سامنے موجود گڑھے میں گر پڑے۔ یہ گڑھا عامر فاسق کے بنائے ہوئے ان گڑھوں میں سے ایک تھا جو اس نے مسلمانوں کو گرانے کے لئے کھودے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور طلحہ رضی اللہ تعالیٰ نے نیچے اتر کر سہارا دیا۔ نبی ﷺ باہر تشریف فرما ہوئے۔ حضور ﷺ کے گھٹنوں پر خراشیں آگئی تھیں۔
قریش کا ایک بہادر سالار عثمان بن عبداللہ مخزومی تھا۔ وہ سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر محمد مصطفے ﷺ پر حملہ کرنے کے ارادے سے آگے بڑھا اور آپ ﷺ کو مخاطب ہو کر کے نعرہ لگا رہا تھا: لا نجوت ان نجوت ’اگر آپ (ﷺ) بچ گئے تو میں کبھی نہیں بچوں گا ۔‘ جب وہ قریب پہنچا تو نبی رحمت ﷺ زخمی ہو نے اور نقاہت کے باوجود مقابلہ کرنے کے لئے خود کھڑے ہو گئے۔ اچانک اس کے گھو
عصمت رسول ﷺ پر حملہ
ڑے کا پاؤں پھسلا اور وہ بدبخت زمین پر آ گرا۔ حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ تعالیٰ نے جب اسے آپ ﷺ کے مقابل دیکھا تو دوڑ کر پاس آ گئے۔ تھوڑی دیر لڑنے کے بعد اسے اپنی تلوار سے مار ڈالا۔ جب نبی اکرم ﷺ گھاٹی میں تشریف فرما ہوئے تو اچانک ابی بن خلف آدھمکا۔ اس نے سر پر خود اور چہرے پر آہنی نقاب ڈالا ہوا تھا۔ اس نے حضور ﷺ کو دیکھ لیا تھا۔ کہنے لگا ”محمد ﷺ کہاں ہے؟ اگر وہ بچ گیا تو میرا بچنا محال ہے۔“ بہت سے مسلمان مجاہدین نے آگے بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا لیکن آپ ﷺ نے بلند آواز سے حکم دیا۔ اسے چھوڑ دو اور اس کا راستہ خالی کر دو۔ جب وہ قریب آ گیا تو رسول ﷺ نے حارث بن صمہ رضی اللہ تعالیٰ سے چھوٹا نیزہ پکڑ کر اس کی گردن کے ننگے حصے پر ضرب لگائی جس سے وہ حواس باختہ ہو گیا۔ سر چکرا کر گرا اور لڑھکنے لگا۔ واپس چیختا چلاتا اپنی قوم کے لوگوں کے پاس پہنچا اور کہنے لگا ”محمد ﷺ نے مجھے قتل کر دیا ہے“۔
انہوں نے اس کا زخم دیکھا اور پھر کہنے لگے : ”تم خواہ مخواہ ڈر گئے ہو چوٹ تو بہت تھوڑی ہے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ ضرب محبوب خدا ﷺ کے ہاتھ سے لگی ہے۔ وہ بد بخت احد سے واپسی پر اسی زخم کے باعث مقام سرف پر مر گیا۔ یہ واحد بد بخت ہے جس کے اوپر نبی اکرم ﷺ نے ہتھیار اٹھایا۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ پہاڑ کے اوپر چڑھ رہے تھے تو آپ ﷺ کے ہمراہ گیارہ انصاری اور ایک مہاجر طلحہ رضی اللہ تعالیٰ تھے۔ یکا یک مشرکین نے انہیں جالیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ”کیا تم میں سے کوئی ہے جو ان کا راستہ روکے؟“۔ ایک انصاری آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے سارے کے سارے انصاری شہید ہو گئے۔ اب صرف حضور ﷺ اور طلحہ رضی اللہ تعالیٰ بچ گئے۔ ان کفا کے سامنے طلحہ رضی اللہ تعالیٰ سینہ سپر ہو کر کھڑے ہو گئے اور ان کو ایک انچ آگے نہ بڑھنے دیا۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
آپ رضی اللہ تعالیٰ بہت اچھے تیر افگن تھے۔ آپ نے کفار پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔
ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 505 تا 526
﴿88﴾ کفار پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿89﴾
خوش نصیب گھڑی
غزوہ احد میں بعض مسلمانوں کو جنہیں رسول ﷺ کے زندہ بچ نکلنے کا علم نہ تھا وہ شکست کھانے کے بعد پناہ کے لئے اس پہاڑی پر پہنچ گئے جہاں بعد میں نبی ﷺ نے میدان سے واپسی کے بعد پناہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ آپ ﷺ اپنے چند صحابہ کے ساتھ پہاڑ کی طرف چڑھ رہے تھے۔ پہاڑی پر چھپے ہوئے مسلمانوں میں سے ایک نے جب آہٹ سنی تو اُس نے اپنی کمان میں تیر رکھا اور اُسے چھوڑنے کے لئے رسول ﷺ کی طرف سیدھا کیا۔ اگر رسول ﷺ اُسے دیکھ نہ لیتے تو قریب تھا کہ وہ تیر ذات نبوی ﷺ کے سینے کی طرف چل جاتا۔ آپ ﷺ نے اُسے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ وہ مسلمان ہے۔ چنانچہ نبی ﷺ نے اُسے آواز دی کہ میں اللہ کا رسول (ﷺ) ہوں۔ یہ آواز سنتے ہی اُس نوجوان نے اپنی کمان سے تیر نکال لیا۔ وہ سب رسول ﷺ کے وہاں سلامتی کے ساتھ پہنچنے پر خوش ہو گئے۔
خدا جانتا ہے کہ اس وقت اس نوجوان کا کیا حال تھا جو اپنے نبی ﷺ کو شہید کرنے والا تھا۔ بلا شبہ اُسکی زندگی کی یہ خوش نصیب گھڑی تھی جس میں اُس نے اپنی اس کمان کی تانت سے اپنا تیر اُتارا۔ اگر اس سے نبی ﷺ کی طرف تیر چل جاتا تو یہ دُنیا کی منحوس ترین کمان ہوتی۔
(1) غزوہ احد از علامہ محمد احمد باشمیل ص 187-186
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ابوسفیان کی سازش
ایک روز ابوسفیان کے پاس اُس کے چند ہم مشرب ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کہنے لگا کہ محمد (ﷺ) عام لوگوں کی طرح بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں۔ کوئی محافظ دستہ اُن کی حفاظت پر مامور نہیں ہوتا۔ اگر تم میں سے کوئی شخص ہمت کرے یا چپکے سے وہاں جائے اور اچانک اُن پر حملہ کر کے اُن کا کام تمام کر دے تو ہمارے سارے انتقام پورے ہو جائیں گے۔ یہ فتنہ جس نے ہماری رات کی نیند اور دن کا چین حرام کر دیا ہے دم توڑ دے گا۔
سامعین میں سے کسی نے اس کی حامی نہ بھری۔ ابوسفیان جب گھر لوٹ آیا تو ایک اعرابی نے تنہائی میں اُس سے ملاقات کی اور اسے کہا کہ اگر تم مجھے انعام دینے کا عہد کرو اور مجھے یقین دلاؤ کہ تم اس وعدے کو پورا کرو گے تو میں یہ کارنامہ سرانجام دینے کے لئے تیار ہوں۔ میں صحرائی راستوں کا ماہر ہوں۔ میرے پاس چیل کے پر کے برابر ایک خنجر ہے جسے آسانی سے چھپایا جاسکتا ہے میں یہ کام بآسانی اور بڑی راز داری سے کر سکتا ہوں۔
ابوسفیان نے اس کے ساتھ انعام و اکرام کا وعدہ کیا۔ اُسے سواری کے لئے اونٹ اور سفر خرچ بھی دیا اور اُسے تاکید کی کہ اس منصوبے سے کسی کو آگاہ نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص قبل از وقت اُنہیں خبر دار کر دے اور تم ناکام ہو جاؤ۔ اس اعرابی نے ابوسفیان کو یقین دلایا کہ فکر مت کرو۔ اس بات کی کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے پائے گی۔
چنانچہ رات کی تاریکی میں اونٹ پر سوار ہو کر اپنے اس مذموم ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مکہ سے روانہ ہوا۔ آخر چھٹے روز وہ مدینہ طیبہ پہنچا۔ لوگوں سے نبی ﷺ کے بارے میں دریافت کرنے لگا کہ محمد (ﷺ) کہاں تشریف فرما ہیں؟ پوچھتے پوچھتے وہ عید گاہ تک آیا۔ وہاں سے کسی نے اُسے بتایا کہ خاتم النبین ﷺ بنو عبدالاشہل کے پاس تشریف
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
فرما ہیں۔ وہ وہاں پہنچا اور اپنے اونٹ کے گھٹنے باندھنے کے بعد مسجد میں چلا گیا۔ جہاں حضور ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ سے محو گفتگو تھے۔ حضور ﷺ کی نظر اُس کے چہرے پر پڑی تو آپ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ سے فرمایا: یہ شخص غداری کرنے آیا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اُس کو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔
اتنے میں وہ آدمی اور نزدیک آ گیا اور پوچھنے لگا: ”تم میں سے عبدالمطلب کا فرزند کون ہے؟“
نبی معظم ﷺ نے فرمایا: ”میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔“
وہ حضور ﷺ پر اس طرح جھک گیا گویا کوئی سرگوشی کرنے لگا ہو۔
حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ نے اُسے گلے سے پکڑ کر ایک طرف کھینچ لیا اور فرمایا: ”سرکارِ عالم ﷺ سے دور ہو جا۔“ یہ کہہ اس کی تہ بند میں ہاتھ ڈال کر اُسے گھسیٹا تو اس میں چھپا ہوا خنجر مل گیا۔ حضرت اسید رضی اللہ تعالیٰ نے عرض کی: ”یا رسول ﷺ! یہ دھوکا باز غدار ہے اور کسی بُری نیت سے آیا ہے۔“ اعرابی کے تو حواس باختہ ہو گئے اور چلایا: ”دَعْنِی دَعْنِی یَا مُحَمَّد (ﷺ)“ حضور ﷺ نے اُسے فرمایا: ”سچ سچ بتا دو تم کون ہو؟ اور کس نیت سے یہاں آئے ہو؟ اگر سچ بولو گے تو تمہارا ہی فائدہ ہے اور اگر جھوٹ بولو گے تو نقصان اُٹھاؤ گے جس مقصد کے لئے تم آئے ہو ہم اُس سے باخبر ہیں۔“
بدو نے کہا: ”کیا مجھے جان کی امان ہے؟“
فرمایا: ”ہاں“
پھر اُس نے ساری سازش کے بارے میں عرض کر دیا۔ حضور ﷺ نے اسید رضی اللہ تعالیٰ کو حکم دیا اُسے لے جائیں اور قید کر دیں۔ دوسرے روز اسے طلب کیا اور فرمایا: ”تم آزاد ہو اور میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ جدھر چاہو جا سکتے ہو البتہ ایک تجویز ہے تمہاری
عصمت رسول ﷺ پر حملے
مرضی ہو تو قبول کرلو۔“ بولا : ” کیا تجویز ہے؟“ اسلام قبول کرلو۔ اُس نے خوشی خوشی اسلام قبول کرلیا۔ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 592-590
عصمت رسول ﷺ پر حملے
بنو نضیر کی عہد
بئر معونہ کے سانحہ سے حضرت ع قناۃ ( کوہستانی نہر ) پر پہنچے تو وہاں اُن کی م ہوئی ۔ عمرو رضی اللہ تعالیٰ نے اُن سے پوچھا: ”ت انہوں نے جواب دیا: ”بنی عامر قبیلہ کے ۔“ ع دوپہر کا وقت تھا۔ سب قیلولہ ک اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کا کام تمام کر دیا کیو والوں کا تعلق بھی اس قبیلہ سے تھا۔ اس کے حاضر ہوئے ۔ بئر معونہ کے المناک حادثہ عرض کر دیا۔ حضورﷺ نے یہ سُن کر فرمایا : تھی۔
اُنہوں نے عرض کی: ”یا رسول ا میں تو اُنہیں مشرک خیال کرتا تھا۔ اُن کی قو کیا تھا۔ میں نے اُسکا بدلہ لینے کے لئے یہ ق
حضورﷺ نے فرمایا : ” جو ہتھیا ۔ ہم اُن کے اہل و عیال کی طرف اُن کی د وارثوں کو بھیجا جائے گا کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا یہود کے ساتھ آنحضرت ﷺ میں سے کسی کو کسی مقتول کی دیت ادا کرنا پڑ
﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿
بنو نضیر کی عہد شکنی
بئر معونہ کے سانحہ سے حضرت عمرو بن اُمیہ رضی اللہ تعالیٰ واپس آتے ہوئے جب قناۃ (کوہستانی نہر) پر پہنچے تو وہاں اُن کی ملاقات بنی عامر بن صعصعہ کے دو آدمیوں سے ہوئی۔ عمرو رضی اللہ تعالیٰ نے اُن سے پوچھا: ”تم کس قبیلہ کے افراد ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”بنی عامر قبیلہ کے۔“
دوپہر کا وقت تھا۔ سب قیلولہ کے لئے لیٹ گئے جب وہ دونوں سو گئے تو عمرو رضی اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کا کام تمام کر دیا کیونکہ بئر معونہ کے مقام پر ستر مبلغین کو شہید کرنے والوں کا تعلق بھی اس قبیلہ سے تھا۔ اس کے بعد عمرو رضی اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بئر معونہ کے المناک حادثے اور اُن دو آدمیوں کے قتل کے بارے میں بھی عرض کر دیا۔ حضور ﷺ نے یہ سُن کر فرمایا: ”تو نے بہت بُرا کیا ہم نے تو اُن کو امان دے دی تھی۔
اُنہوں نے عرض کی: ”یا رسول ﷺ! مجھے حضور ﷺ کے امان دینے کا علم نہ تھا۔ میں تو اُنہیں مشرک خیال کرتا تھا۔ اُن کی قوم نے ہمارے مبلغین کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کیا تھا۔ میں نے اُس کا بدلہ لینے کے لئے یہ قدم اُٹھایا۔“
حضور ﷺ نے فرمایا: ”جو ہتھیار یا لباس تم نے اُن سے چھینا ہے وہ یہاں رکھ دو ۔ ہم اُن کے اہل و عیال کی طرف اُن کی دیت بھیجیں گے اور اس کے ساتھ یہ سامان بھی وارثوں کو بھیجا جائے گا کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔“
یہود کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے جو معاہدہ کیا تھا اُس کی رو سے اگر فریقین میں سے کسی کو کسی مقتول کی دیت ادا کرنا پڑے تو دوسرا فریق اُس کی مدد کرے گا۔ سرکار دو
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿94﴾
عالم ﷺ ہفتہ کے روز مسجد قبا میں تشریف لے آئے۔ وہاں نماز ادا فرمائی۔ حضور ﷺ کے ہمراہ مہاجرین و انصار کا گروہ بھی تھا۔ رسول ﷺ اُس دن صحابہ کے ہمراہ بنی نضیر کے ہاں تشریف لے گئے اور اُنہیں کہا کہ ان دو مقتولوں کی دیت ادا کرنے میں حسب معاہدہ تعاون فرمائیں۔
اُنہوں نے کہا: ”یا ابوالقاسم (ﷺ)! آپ نے تشریف لا کر ہماری عزت افزائی کی ہے۔ ہم ضرور تعاون کریں گے۔ آپ (ﷺ) تشریف رکھیں۔ کچھ ماحضر تناول فرمائیے پھر تعمیل ارشاد ہوگی۔ بڑے ادب سے گفتگو کی، عزت سے بٹھایا اور خود ادھر ادھر ہو کر سرگوشیاں کرنے لگے۔“
حی بن اخطب، جو اُن کا رئیس تھا، کہنے لگا: ”اے یہودی بھائیو! آج محمد (ﷺ) آئے ہیں۔ اُن کے ساتھی دس سے بھی کم ہیں اُن میں ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ)، عمر (رضی اللہ تعالیٰ)، عثمان (رضی اللہ تعالیٰ) اور علی (رضی اللہ تعالیٰ) جیسی سر بر آوردہ ہستیاں ہیں۔ چھت کے اوپر چکی کا پاٹ رکھا ہے۔ اگر اُسے اُن کے اوپر گرا دو تو اُن کا خاتمہ ہوجائے گا اور یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے فرو ہو جائے گا۔ کان کھول کر سُن لو۔ ایسا زریں موقع قیامت تک نہ ملے گا۔“
عمرو بن جحاش بولا: ”یہ خدمت میں بجا لاؤں گا۔ میں چھت پر جاتا ہوں اور اُن پر پتھر لڑھکا دوں گا۔“ اُن میں ایک ہوش مند شخص تھا جس کا نام ”سلام بن مشکم “ تھا۔ وہ بولا: ”اے میری قوم! میری یہ بات ضرور مانو پھر چاہے عمر بھر میری کوئی بات نہ ماننا۔ بخدا اگر تم نے یہ حرکت کی تو اُنہیں پتہ چل جائے گا کہ تم نے اُن کے ساتھ بغاوت کی ہے اور وہ عہد جو ہمارے اور اُن کے درمیان طے پاچکا ہے یہ فعل اس عہد کو توڑنے کے برابر ہوگا۔ پس ایسی حرکت سے باز آجاؤ۔“ لیکن یہود ایسی بات ماننے والے کب تھے؟ عمرو بن
عصمت رسول ﷺ پر حملے
جحاش اپنے منصوبہ پر عمل کرنے کے لئے دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ جلدی سے اُٹھ کھڑے ہوئے تشریف لے جارہے ہیں۔ رسول ﷺ
یہودی مدینہ طیبہ سے بنونضیر کے پاس کہ ہم نے ایک منصوبہ بنایا ہے اور اس
اُس نے پوچھا : ”وہ محمد (ﷺ) کہاں ہیں وہ بولے ” یہیں کہیں ہیں، ابھی آرہے
اُس نے جب اُن کو بتایا کہ مدینہ شہر میں دیکھ کر آرہا ہوں۔ یہ سُن کر گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ ابھی تک بیٹھے
جب زیادہ وقت گزر گیا تو صدیق اکبر لئے تشریف لے گئے ہیں۔ تم یہاں کیا کھڑے ہوئے۔
جب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ کو جا بہت جلدی کی ہے ہم تو اُن کے حکم کی تع ناکامی پر انہیں شدید ندامت کا احساس
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین ”یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ تشریف
حضور ﷺ نے فرمایا: ”یہود نے مجھے قتل ک
﴾عصمتِ رسول ﷺ پر حملے﴿
جحاش اپنے منصوبہ پر عمل کرنے کے لئے چھت پر چڑھ گیا۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس سازش سے آگاہ فرما دیا۔ حضور ﷺ جلدی سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ حاضرین نے یہی سمجھا کہ رفعِ حاجت کے لئے تشریف لے جا رہے ہیں۔ رسول ﷺ وہاں سے اُٹھ کر مدینہ طیبہ پہنچ گئے۔ اتنے میں ایک یہودی مدینہ طیبہ سے بنو نضیر کے پاس آیا۔ اُس نے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک منصوبہ بنایا ہے اور اس کے ساتھ ہی سارا منصوبہ اُسے بتا دیا۔
اس نے پوچھا: ”وہ محمد (ﷺ) کہاں ہیں؟“
وہ بولے ”یہیں کہیں ہیں، ابھی آ رہے ہیں۔“
اُس نے جب اُن کو بتایا کہ احمقو! تم اُنہیں یہاں ڈھونڈ رہے ہو۔ میں تو اُن کو مدینہ شہر میں دیکھ کر آ رہا ہوں۔ یہ سُن کر وہ حواس باختہ ہو گئے اور اُن کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ ابھی تک بیٹھے ہادیٔ دو عالم ﷺ کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔ جب زیادہ وقت گزر گیا تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”حضور ﷺ کسی اہم کام کے لئے تشریف لے گئے ہیں۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟“ سب پیغمبر خدا ﷺ کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے۔
جب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ کو جاتے دیکھا تو حیی بن اخطب کہنے لگا کہ ابو القاسم نے بہت جلدی کی ہے ہم تو اُن کے حکم کی تعمیل میں لگے ہوئے تھے لیکن دل ہی دل میں اپنی اس ناکامی پر اُنہیں شدید ندامت کا احساس تھا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کی:
”یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ اُٹھ کر تشریف لے آئے اور ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔“
حضور ﷺ نے فرمایا: ”یہود نے مجھے قتل کرنے کی سازش کی تھی۔ میرے اللہ نے مجھے بتا دیا
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
اور میں اُٹھ کر چلا آیا۔ (۱)
اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
يا ايها الذين امنوا اذكروا نعمت الله عليكم اذ هم قوم ان يبسطوا اليكم ايديهم فكف ايديهم عنكم ج واتقوا الله ط وعلى الله فليتوكل المومنون (۲)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! یاد کرو اللہ کی نعمت جو تم پر ہوئی۔ جب ایک قوم نے تمہاری طرف ہاتھ بڑھانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے ہاتھوں کو تم سے روک لیا۔ اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے ایمان والوں کو۔
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ جلد سوم ص 600-597
(۲) (القرآن 5:11)
﴾ عصمتِ رسول ﷺ پر حملے ﴿
سفر غزوہ ذات الرقاع میں حملہ
بنی محارب قبیلہ کا غورث نامی ایک شخص اپنی قوم کے سرداروں کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ اگر تمہاری مرضی ہو تو میں محمد (ﷺ) کی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہوں۔ اُنہوں نے اس کی اس تجویز پر بڑی خوشنودی کا اظہار کیا اور پوچھنے لگے کہ تم یہ کیسے کر سکتے ہو؟ اُس نے کہا: ”میں اچانک بے خبری میں اُن پر حملہ کر دوں گا۔“
چنانچہ اپنی قوم کے رئیسوں کی آشیر باد حاصل کر کے وہ اس مہم کو سر کرنے کے لئے روانہ ہوا۔ جب وہ مسلمانوں کی قیام گاہ میں گیا تو دیکھا کہ نبی ﷺ اکیلے تشریف فرما ہیں اور تلوار گود میں رکھی ہے۔
وہ بڑے مؤدب طریقے سے قریب جا کر بیٹھ گیا اور بڑے ادب سے کہنے لگا: ” کیا میں آپ کی یہ تلوار دیکھ سکتا ہوں؟“
حضور ﷺ نے فرمایا: ”بڑی خوشی سے۔“
چنانچہ اُس نے تلوار اُٹھائی۔ اُسے نیام سے نکالا اور لہرانے لگا۔ دل ہی دل میں رسول ﷺ پر حملہ کرنے کا ارادہ کرنے لگا۔ اِسی اثناء میں اُس نے پوچھا: ”اے محمد (ﷺ)! آپ کو مجھ سے ڈر نہیں لگ رہا ہے؟“
حضور ﷺ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں میں تجھ سے قطعاً خائف نہیں ہوں۔“
اس نے پھر پوچھا: ”کیا اب بھی آپ خوفزدہ نہیں حالانکہ میرے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے۔“
حضور ﷺ نے بڑے وثوق سے فرمایا: ”کیونکہ اللہ تعالیٰ مجھے تیرے شر سے بچائے گا۔“
حضور ﷺ کے اس پُر یقین جواب سے وہ اس حد تک مرعوب ہوا کہ اپنے اس برے ارادے سے تائب ہوا اور چپکے سے آپ ﷺ کے سامنے تلوار رکھی اور آپ ﷺ کو
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
نقصان پہنچائے بغیر واپس چلا گیا۔ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 614
عصمت رسول ﷺ پر حملے
خسرو پرویز کا گستاخانہ حکم
اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول ﷺ نے اپنے صحابی حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ کو بھیجا تا کہ وہ ایران (فارس) کے فرمانروا خسرو پرویز کو نبی ﷺ کا گرامی نامہ پہنچائیں۔ یہ خط سر بمہر تھا اس کا متن درج ذیل ہے۔
بسم الله الرحمن الرحیم من محمد رسول الله الی کسری عظیم فارس سلام علی من اتبع الہدی و امن بالله و رسولہ و اشہد ان لا اله الا الله وحدہ لا شریک لہ و ان محمداً عبدہ و رسولہ، و ادعوک بداعیۃ الله عزوجل ۔ فانی انا رسول الله عزوجل الی الناس کافۃً لانذر من کان حیاً و حق القول علی الکفرین ۔ اسلم تسلم فان ابیت فعلیک اثم المجوس۔
ترجمہ
ترجمہ: یہ خط محمد رسول اللہ (ﷺ) کی طرف سے کسریٰ شاہِ فارس کے نام ہے۔ سلامتی ہو ہر اُس شخص پر جس نے ہدایت کی پیروی کی اور اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پر ایمان لے آیا۔ اور یہ گواہی دی کہ اللہ وحدہ لاشریک کے بغیر کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اُس کے بندے اور رسول ہیں۔ اے کسریٰ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ پر
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں کیونکہ میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں تمام لوگوں کی طرف تاکہ میں ہروقت متنبہ کروں جو زندہ ہیں اور تاکہ حجت تمام کروں کافروں پر۔ اسلام قبول کر لے سلامت رہے گا۔ اور اگر اسلام قبول کرنے سے انکار کرے گا تو تیری گردن پر سارے مجوسیوں کی گمراہی کا گناہ ہوگا۔‘‘
جب اُس پیکر نخوت وغرور نے یہ ہدایت نامہ پڑھا تو فرطِ غضب سے آپے سے باہر ہو گیا اور اُس کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ میرا ایک غلام (معاذ اللہ) مجھے اس قسم کا خط لکھنے کی جسارت کرتا ہے۔
سرکار دوعالم ﷺ کو جب اس گستاخی کے بارے میں علم ہوا تو ارشاد فرمایا: ’’اُس نے میرے گرامی نامہ کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ملک کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔‘‘
اس کے بعد کسریٰ نے یمن میں اپنے مقرر کردہ گورنر باذان کو حکم نامہ لکھا جس میں اس نے کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ تیرے علاقے میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اُسے فوراً ہتھکڑی لگا کر میرے پاس بھیجو۔ باذان نے اپنے ایک وزیر بابویہ کو ایک فارسی النسل شخص خرخرہ کے ساتھ مدینہ طیبہ روانہ کیا نیز اُس نے ایک خط بھی رسول ﷺ کے نام لکھ کر اُنہیں دیا۔ اس میں تحریر تھا کہ آپ (ﷺ) ان دونوں کے ہمراہ کسریٰ کے پاس فوراً پہنچیں۔
جب یہ لوگ طائف پہنچے تو وہاں قریشِ مکہ کے کئی سردار آئے ہوئے تھے ۔اُنہوں نے جب باذان کا خط پڑھا تو خوشی سے اُن کی باچھیں کھل گئیں۔ کہنے لگے: ’’اب ان کی ٹکر کسریٰ سے ہوئی ہے۔ ان کا خاتمہ اب زیادہ دور نہیں۔‘‘ بابویہ اور خرخرہ وہاں سے مدینہ طیبہ پہنچے۔ رحمت اللعالمین ﷺ نے اُنہیں خوش آمدید کہا۔ اُن کے طعام و قیام کا انتظام فرمایا۔ پھر صبح کے وقت اُنہیں اپنے پاس بلوایا۔ جب وہ حاضر ہوئے تو اُنہیں بیٹھنے کا
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ اشارہ فرمایا۔ دونوں دوزانو ہو کر بیٹھ گئے۔ باذویہ نے سلسلہ کلام کا آغاز کیا۔ اُس نے کہا: ”شہنشاہ ایران نے ہمارے فرمانروا باذان کو خط لکھا ہے جس میں حکم دیا ہے کہ وہ آپ (ﷺ) کی طرف اپنے آدمی بھیجے جو آپ (ﷺ) کو پکڑ کر اُس کے دربار میں پہنچائیں۔ باذان نے یہ ڈیوٹی ہمارے سپرد کی ہے۔ اگر آپ ہمارے ساتھ چلیں تو باذان آپ (ﷺ) کیلئے سفارشی خط شہنشاہ کو تحریر کر دے گا جس سے آپ (ﷺ) کو فائدہ پہنچے گا اور اگر آپ (ﷺ) اس کا حکم ماننے سے انکار کر دیں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ آپ (ﷺ) اور آپ (ﷺ) کی ساری قوم کو تباہ کر دے گا۔ آپ کے شہروں کو برباد کر کے رکھ دے گا۔“
سرکار دو عالم ﷺ نے وہ خط پڑھا اور اُن کی دھمکی آمیز گفتگو سن کر تبسم فرمایا، پھر اُنہیں بڑے محبت بھرے انداز میں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ وہ گفتگو تو بڑی جرأت کے ساتھ کر رہے تھے لیکن جلال نبوت سے اُن کے دل تھر تھر کانپ رہے تھے۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ ﷺ ہمارے ساتھ جانے کے لئے تیار نہیں تو ہمارے بادشاہ باذان کے نام جوابی خط لکھ دیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ”اب جاؤ اور آرام کرو۔ کل صبح پھر ملاقات ہوگی۔
رات کو جبرائیل علیہ السلام بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اللہ نے اُس مغرور پر اُس کے بیٹے شیرویہ کو مسلط کر دیا ہے اُس نے اُس کے پیٹ میں خنجر گھونپ کر رات کے فلاں وقت اُس کا کام تمام کر دیا ہے۔
جب صبح باذویہ اور خرخسرہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اپنے صاحب کو جا کر بتا دو کہ میرے رب نے اُس کے رب کسریٰ کو آج رات قتل کر دیا ہے جبکہ رات کے سات پہر گزر چکے تھے۔ اُس کے بیٹے شیرویہ نے اس کی چھاتی
عصمت رسول ﷺ پر حملے
پر چڑھ کر اسکا پیٹ پھاڑ ڈالا ہے۔ جاؤ اور باذان کو جا کر اُس کے شہنشاہ کی ہلاکت کی اطلاع دو۔ وہ کہنے لگے : ” آپ (ﷺ) کو علم ہے کہ آپ (ﷺ) کیا کہہ رہے ہیں؟ اس کے نتائج کتنے خوفناک ہوں جو آپ (ﷺ) نے کہا ہے؟ ہم اپنے بادشاہ کو لکھ دیں گے اور وہ اس کی اذیت ناک سزا دے گا۔“ حضورﷺ نے فرمایا : ”بے شک یہ باتیں اُسے جا کر بتا دو اور ساتھ ہی اُسے یہ بھی بتانا کہ میرا دین اور میری حکومت کسریٰ کی مملکت کی آخری حدوں تک پہنچے گی بلکہ وہاں تک جہاں تک کوئی کُھر یا سُم والا جانور موجود ہوگا۔ اُسے میری طرف سے یہ بھی کہنا کہ اگر تم اسلام قبول کر لوگے تو تمہارا ملک اور تمہارا ساز و سامان تمہارے پاس ہی رہنے دیا جائے گا۔“
جب باذان کے قاصد واپس جانے لگے تو احمد مرسل ﷺ نے ایک کمر بند جو سونے چاندی سے مرصع تھا خرخسرہ کو بطور تحفہ عطا فرمایا اور انہیں رخصت فرما دیا۔ وہ جب باذان کے پاس پہنچے تو سارے واقعات اُس سے کہہ سُنائے ۔ باذان نے کہا : ”یہ گفتگو کسی بادشاہ کی معلوم نہیں ہوتی بلکہ نبی کی معلوم ہوتی ہے ۔ اگر اُن کی بتائی ہوئی باتیں درست ہو گئیں تو میں اُن پر ایمان لے آؤں گا۔“
چند روز ہی گزرے تھے کہ شیرویہ کا خط اُس کے نام موصول ہوا جس میں اُس نے اپنے باپ کے قتل اور اپنی بادشاہت کا لکھا تھا۔ اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ جس شخص کے قید کرنے کا میرے باپ نے حکم دیا تھا اسے تاحکم ثانی رہنے دو۔ باذان اور اسکے رفقاء نے یہ سن کر فوراً اسلام قبول کر لیا۔
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 207-204
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
زہر آلود گوشت کی دعوت
جب رسول اللہ ﷺ فتوحات سے فارغ ہوئے تو زینب بنت حارث (جو سلام بن مشکم کی بیوی تھی) نے ایک بکری کا گوشت بھون کر آنحضرت ﷺ کی دعوت کی۔ اس نے لوگوں سے دریافت کر رکھا تھا کہ نبی ﷺ کو دستی کا گوشت پسند ہے؟‘‘
اُس نے دستی میں بہت سا اور باقی گوشت میں بھی خوب زہر ملا کر حضور ﷺ کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ آپ ﷺ نے اُس میں سے ایک بوٹی اُٹھا کر منہ میں رکھی اور اُس کو چبایا مگر نگلا نہیں بلکہ اُس کو تھوک دیا۔
بشر بن براء رضی اللہ تعالیٰ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ اُنہوں نے ایک بوٹی اُٹھا کر نگل لی۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: ’’یہ ہڈی مجھ سے کہتی ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔‘‘ پھر آپ نے اس عورت کو بلا کر دریافت فرمایا تو اس نے اس بات کا اقرار کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’تم نے یہ کام کیوں کیا ہے؟‘‘ عورت نے کہا: ’’اس لئے کہ تم نے میری قوم کی جو حالت کی ہے وہ سب جانتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اگر تم بادشاہ ہو تو میں تم کو زہر دے کر نجات پاؤں گی اور اگر تم نبی ہوئے تو تم کو ضرور اُس زہر کی خبر ہو جائے گی۔‘‘
رسول ﷺ نے اُس عورت سے درگزر فرمایا۔ لیکن بشر بن براء رضی اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد اُسے اُن کے قصاص میں قتل کر دیا گیا۔ (1)
(1) سیرت النبی از ابن ہشام جلد دوم ص 232-233
عصمت رسول ﷺ پر حملے
فضالہ بن عمیر کا ناپاک ارادہ
فتح مکہ سے دوسرے دن کا ذکر ہے کہ نبی ﷺ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے۔ فضالہ بن عمیر، جو دل سے مسلمان نہیں ہوا تھا، نے موقع دیکھ کر ارادہ کیا کہ آنحضرت ﷺ کو شہید کر ڈالے۔
جب وہ اس ارادہ سے قریب پہنچا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا فضالہ آتا ہے؟“
فضالہ بولا: ”ہاں“
آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے دل میں ابھی کیا ارادہ کر رہے تھے؟“
فضالہ نے کہا: ”کچھ نہیں میں تو اللہ اللہ کر رہا تھا۔“
نبی رحمت ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ”اچھا! تم اپنے خدا سے اپنے لئے معافی کی درخواست کرو۔“
یہ فرما کر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اُس کے سینے پر رکھ دیا۔
فضالہ کا بیان ہے کہ ہاتھ رکھ دینے سے مجھے بہت اطمینان قلب حاصل ہوا اور حضور ﷺ کی محبت اس قدر میرے دل میں پیدا ہو گئی کہ آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہ رہا۔ (1)
(1) رحمت اللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری جلد اول ص 116
عصمت رسول ﷺ پر حملے
لبید بن اعصم کا جادو
صلح حدیبیہ کے بعد جب رسول ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو محرم ۷ھ میں خیبر کے یہودیوں کا ایک وفد مدینہ طیبہ آیا اور ایک مشہور جادوگر لبید بن اعصم سے ملا جو انصار کے قبیلہ بنی زریق سے تعلق رکھتا تھا۔ اُن لوگوں نے اُس سے کہا کہ محمد (ﷺ) نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے وہ تمہیں معلوم ہے۔ ہم نے اُن پر بہت جادو کرنے کی کوشش کی مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ اب ہم تمہارے پاس آئے ہیں کیونکہ تم ہم سے بڑے جادوگر ہو۔ لو، یہ تین اشرفیاں حاضر ہیں۔ انہیں قبول کر لو۔ اور محمد (ﷺ) پر ایک زور کا جادو کر دو۔
اُس زمانے میں حضور ﷺ کے ہاں ایک یہودی لڑکا خدمت گار تھا۔ اس سے ساز باز کر کے ان لوگوں نے نبی ﷺ کی کنگھی کا ایک ٹکڑا حاصل کر لیا جس میں آپ ﷺ کے موئے مبارک تھے انہی بالوں اور کنگھی کے دندانوں پر جادو کیا گیا۔ بعض روایات میں ہے کہ لبید نے خود جادو کیا اور بعض کے مطابق اپنی بہنوں سے کروایا جو اُس سے بڑی جادوگرنیاں تھیں۔ بہر حال ان دونوں صورتوں میں سے جو بھی صورت ہو۔ اُس جادو کو ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف میں رکھ کر لبید نے بنی زریق کے کنویں ’ذروان‘ یا ’ذی اروان‘ نامی کی تہہ میں ایک پتھر کے نیچے دبا دیا۔
اس جادو کا اثر رسول ﷺ پر ہوتے ہوتے ایک سال لگا۔ دوسری ششماہی میں کچھ تغیر مزاج محسوس ہونا شروع ہوا۔ آخری چالیس دن سخت اور آخری تین دن نہایت سخت گزرے۔ مگر اس کا زیادہ سے زیادہ جو اثر حضور ﷺ پر ہوا وہ بس یہ تھا کہ آپ ﷺ گھلتے چلے جا رہے تھے۔ کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ وہ کر لیا ہے مگر نہیں کیا ہوتا تھا۔ بعض
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اوقات آپ ﷺ کو اپنی نظر پر بھی شبہ ہوتا تھا کہ کسی چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں دیکھا ہوتا تھا۔ یہ تمام اثرات آپ ﷺ کی ذات تک محدود رہے حتیٰ کہ دوسرے لوگوں کو یہ معلوم تک نہ ہوسکا کہ آپ ﷺ پر کیا گزر رہی ہے؟
رہی بات آپ ﷺ کے نبی ہونے کی حیثیت کی تو اس میں آپ (ﷺ) کے فرائض کے اندر کوئی خلل واقع نہ ہونے پایا۔ کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اُس زمانے میں آپ ﷺ نے قرآن کی کوئی آیت غلط پڑھی ہو یا کوئی آیت بھول گئے ہوں یا اپنی صحبتوں، وعظوں یا خطبوں میں آپ ﷺ کی تعلیمات کے اندر کوئی فرق آیا ہو یا کوئی ایسا کلام آپ ﷺ نے وحی کی حیثیت سے پیش کر دیا ہو۔ جو فی الواقع آپ ﷺ پر نازل نہ ہوا ہو یا کوئی نماز آپ ﷺ سے چھوٹ گئی ہو اور اُس کے متعلق آپ ﷺ نے سمجھ لیا ہو کہ پڑھ لی ہے مگر نہ پڑھی ہو۔
آپ ﷺ ایک روز حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کے ہاں تشریف فرما تھے اور بار بار اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگ رہے تھے۔ اُسی حالت میں نیند آ گئی یا غنودگی چھا گئی اور پھر بیدار ہو کر آپ ﷺ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ سے کہا کہ میں نے جو بات اپنے رب سے پوچھی تھی وہ اُس نے مجھے بتا دی ہے۔
عائشہ رضی اللہ تعالیٰ نے عرض کی : ”وہ کیا بات ہے؟“
”آپ ﷺ نے فرمایا : ”دو آدمی (فرشتے آدمی کی شکل میں) میرے پاس آئے ایک سرہانے کی طرف بیٹھ گیا اور دوسرا پائنتی کی طرف۔
ایک نے پوچھا : ”انہیں کیا ہوا؟“
دوسرے نے کہا : ”ان پر جادو ہوا ہے۔“
پہلے نے پوچھا : ”کس نے کیا ہے؟“
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
جواب دیا: ”لبید بن اعصم نے۔“
پوچھا : ”کس چیز سے کیا ہے؟“
جواب دیا : ”کنگھی اور بالوں میں ایک نر
پوچھا : ”وہ کہاں ہیں؟“
جواب دیا : ”بنی زریق کے کنویں ذی ار
پوچھا : ”اب اس کے لئے کیا کیا جائے؟
جواب دیا : ”کنوئیں کا پانی سونت دیا جائ
اس کے بعد حضور ﷺ نے کو بھیجا۔ اُن کے ساتھ بنی زریق کے دو تھے بعد میں آنحضرت ﷺ خود بھی چند غلاف برآمد کر لیا گیا۔ اس میں کنگھی اور ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں جبرائیل علیہ السلام نے آک ﷺ ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور سے ایک سوئی نکالی جاتی رہی۔ خاتم سوئیاں نکل گئی اور آپ ﷺ جادو کے اث گھل جائے۔ لبید نے اپنے جرم کا اعت
(1) تفہیم القرآن از ابوالاعلیٰ مودودی
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
جواب دیا: ”لبید بن اعصم نے۔“
پوچھا: ”کس چیز سے کیا ہے؟“
جواب دیا: ”کنگھی اور بالوں میں ایک نر کھجور کے خوشے کے غلاف کے اندر۔“
پوچھا: ”وہ کہاں ہیں؟“
جواب دیا: ”بنی زریق کے کنویں ذی اروان (ذروان) کی تہہ میں پتھر کے نیچے ہے۔“
پوچھا: ”اب اس کے لئے کیا کیا جائے؟“
جواب دیا: ”کنوئیں کا پانی سونت دیا جائے اور پھر پتھر کے نیچے سے اس کو نکال لیا جائے۔“
اس کے بعد حضور ﷺ نے علی رضی اللہ تعالیٰ ، عمار رضی اللہ تعالیٰ اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ کو بھیجا۔ اُن کے ساتھ بنی زریق کے دو اصحاب جبیر رضی اللہ تعالیٰ اور قیس رضی اللہ تعالیٰ بھی شامل تھے بعد میں آنحضرت ﷺ خود بھی چند اصحاب کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔ پانی نکالا گیا اور وہ غلاف برآمد کر لیا گیا۔ اس میں کنگھی اور بالوں کے ساتھ ایک تانت کی گیارہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں۔
جبرائیل علیہ السلام نے آکر بتایا کہ آپ ﷺ معوذتین پڑھیں۔ چنانچہ آپ ﷺ ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور اس کے ساتھ ایک ایک گرہ کھولی جاتی اور پتلے میں سے ایک سوئی نکالی جاتی رہی ۔ خاتمہ تک پہنچتے ہی ساری گرہیں کھل گئیں۔ ساری سوئیاں نکل گئیں اور آپ ﷺ جادو کے اثر سے نکل کر اس طرح ہو گئے جیسے کوئی بندھا ہوا شخص کھل جائے۔ لبید نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور آپ ﷺ نے اُسے معاف کر دیا۔ (1)
(1) تفہیم القرآن از ابوالاعلیٰ مودودی جلد ششم ص 555-554
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
وفد بنی عامر بن صعصعہ کی سازش
بنی عامر کے وفد کے لوگ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے۔ عامر بن طفیل، اربد بن قیس اور جبار بن سلمی تینوں اشخاص بنی عامر کے سردار اور اول درجہ کے شیاطین تھے۔ عامر بن طفیل اس وفد میں اس لئے آیا تھا کہ موقع کی مناسبت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے نبی ﷺ کو نقصان پہنچا سکے۔
لوگ اُسے کہتے تھے: ’اے عامر! سب لوگ مسلمان ہو گئے تو بھی اسلام قبول کر لے۔‘ وہ بولا: ”واللہ! میں نے قسم کھائی ہے کہ میں اس بات کی کوشش کرتا رہوں گا کہ تمام عرب میرے مطیع ہوں پھر اب میں اس شخص کا کیسے مطیع بن سکتا ہوں؟“ پھر عامر نے اربد سے کہا: ”جب ہم محمد (ﷺ) کے پاس پہنچیں گے تو میں اُن کو باتوں میں مشغول کرلوں گا۔ تم تلوار سے اُن پر وار کر لینا۔“
یہ شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عامر بن طفیل نے کہا: ”اے محمد (ﷺ)! مجھ سے خلوت میں کچھ باتیں کیجئے۔“ رسول ﷺ نے فرمایا: ”تو پہلے اللہ اور اُسکے رسول پر ایمان لا۔“
اُس نے آپ ﷺ کو باتوں میں لگایا اور اربد کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تا کہ جس بات کا اُس کو حکم دیا تھا اُس کو وہ پورا کرے مگر اربد خاموش کھڑا رہا۔ جب عامر نے دیکھا کہ اربد کچھ نہیں کرتا تو غصہ میں وہاں سے کھڑا ہو کر نبی ﷺ سے کہنے لگا: ”قسم ہے خدا کی! سواروں اور پیدلوں سے میں تمہارے مقابلہ پر زمین کو بھر دوں گا۔“
آپ ﷺ نے اُن دونوں کے حق میں بددعا فرمائی۔ جب عامر رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزر کر باہر نکلا تو اربد پر بہت خفا ہوا کہ تو نے محمد (ﷺ) کو قتل کیوں نہ کیا۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اربد نے کہا: ”تو ناحق ناراض ہو رہا ہے جب میں نے یہ ارادہ کیا تو بجز تیرے اور کوئی مجھ کو دکھائی نہ دیا تو پھر کیا میں تجھے قتل کرتا۔“
جب یہ لوگ اپنے شہروں کو واپس ہوئے تو رات ہی میں عامر بن طفیل مرض طاعون میں گرفتار ہو کر بنی سلول کی ایک عورت کے گھر میں مر گیا اور اربد بن قیس اپنا اونٹ لے جاتے ہوئے آسمانی بجلی کا شکار بنا۔ آسمانی بجلی نے اُسے اونٹ سمیت جلا کر راکھ کر دیا۔ (1)
(1) سیرت النبی از ابن ہشام جلد دوم ص 363-634
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
باب سوم
صبح دوامِ زندگی
﴿عصمتِ رسول ﷺ پر حملے﴾
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ ۚ قَدْ خَلَتْ ۚ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۭ اَفَا۟ئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِكُمْ ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَيْهِ ۭ فَلَنْ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيْئًا ۭ وَسَيَجْزِي اللّٰهُ الشّٰكِرِيْنَ ﴿۱۴۴﴾
ترجمہ : اور محمد ﷺ تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ۔ تو کیا وہ اگر انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا۔ اللہ کا کچھ نقصان نہیں کرے گا۔ اور عنقریب اللہ شکر گزاروں کو صلہ دے گا۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
آغاز سفر آخرت
29 صفر المظفر روز دوشنبہ نبی رحمت ﷺ ایک جنازہ سے واپس تشریف لا رہے تھے راستے میں ہی درد سر شروع ہو گیا۔ پھر تپ شدید لاحق ہوئی۔ ابو سعید خدری کا بیان ہے کہ جو رومال آنحضرت ﷺ نے سر مبارک پر باندھ کر رکھا تھا۔ میں نے اُسے ہاتھ لگایا، اُس سے سینک آتا تھا۔ بدن ایسا گرم تھا کہ میرے ہاتھ کو برداشت نہ ہوا۔ میرے تعجب کر نے پر فرمایا: ”انبیاء سے بڑھ کر کسی کو تکلیف نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ ان کا اجر سب سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔ بیماری کے عالم میں گیارہ دن تک مسجد میں آ کر خود نماز پڑھاتے رہے۔ مختلف روایات کے مطابق بیماری کے دن تیرہ، چودہ یا پندرہ ہیں۔
جس دن نبی اکرم ﷺ ام المومنین حضرت میمونہ کے حجرہ میں تشریف فرما تھے اس دن درد کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ بیماری کی اس شدت کے باوجود رسول ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی باریوں کا لحاظ رکھا۔ لیکن جب ہر روز مکان بدلنے میں دقت محسوس ہوئی تو ان سب کو طلب فرمایا اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کے حجرہ میں بیماری کے دن گزارنے کی اجازت طلب فرمائی۔ جب انہوں نے اجازت دے دی تو آپ ﷺ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے کندھوں کا سہارا لے کر عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ کے حجرہ مبارک میں تشریف لے آئے۔ قدم مبارک نقاہت کی وجہ سے زمین کے ساتھ گھسٹ رہے تھے۔ جمعرات کے دن شدید بخار کی حالت میں حضرت اسامہؓ کا لشکر روانہ فرمایا۔ اس لشکر میں اکابر صحابہؓ بھی شامل تھے۔
ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 792 تا 795
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
آخری ہفتہ
آخری ہفتہ رسول ﷺ نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ کے گھر میں پورا فرمایا تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتی ہیں کہ جب کبھی آپ ﷺ بیمار ہوا کرتے تو یہ دعا فرماتے اور اپنے ہا تھ جسم مبارک پر پھیر لیا کرتے تھے۔
اذهب الباس رب الناس واشف انت الشافی لا شفاء الا شفاء ک شفاء لا یغادر سقما۔
”اے نسل انسان کے پالنے والے! خطرے کو دور فرما دے اور صحت عطا کر۔ شفا دینے والا تو ہی ہے اور شفا کا نام شفا ہے جو تو عنایت کرتا ہے۔ ایسی صحت دے کہ کوئی تکلیف باقی نہ چھوڑ۔“
ان دنوں میں میں نے یہ دعا پڑھی اور آنحضرت ﷺ کے ہاتھوں پر دم کر کے چاہا کہ جسم اطہر پر مبارک ہاتھوں کو پھیر دوں۔ نبی ﷺ نے ہاتھ اٹھا لیے اور فرمایا:
اللهم اغفرلی و الحقنی بالرفیق الاعلی
ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 792 تا 795
عصمت رسول ﷺ پر حملے
پانچ دن قبل
چہار شنبہ کا دن تھا کہ نبی اکرم ﷺ نے مخضب میں بیٹھ کر سات کنوؤں کی سات مشکوں کا پانی سر پر ڈلوایا۔ اس تدبیر سے کچھ سکون ہوا۔ جب طبیعت ذرا ہلکی ہوئی تو مسجد میں تشریف لے آئے سر مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ منبر پر بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا:
ان یہودیوں ، نصرانیوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ میرے بعد میری قبر کو ایسا نہ بنانا کہ اس کی پرستش ہوا کرے۔ اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا سخت غضب ہے جس نے قبور انبیاء کو مساجد بنایا۔ دیکھو میں تمہیں اس سے منع کرتا رہا ہوں۔ دیکھو، میں تبلیغ کر چکا۔ الٰہی تو اس کا گواہ رہنا۔ الٰہی تو اس کا گواہ رہنا۔
اے لوگو! اگر میں نے کسی کو کوئی ضرر پہنچایا ہو تو وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کو برا بھلا کہا ہو تو وہ انتقام لے سکتا ہے۔ اگر کسی کا مال لیا ہو تو میرا مال حاضر ہے۔ تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے مجھ سے انتقام لیا تو میں اس سے ناراض ہو جاؤں گا یہ میری شان نہیں۔
ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”یا رسول اللہ ﷺ! میرے تین درہم آپ ﷺ کے ذمہ ہیں۔“ نبی ﷺ نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ کو حکم دیا کہ اس کے تین درہم اس کو ادا کر دیں۔ پھر فرمایا: اگر کسی نے مال غنیمت سے ناجائز لیا ہے تو وہ بیت المال میں لوٹا دے۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ ﷺ! مال غنیمت کے تین درہم میرے ذمہ واجب الادا ہیں۔“
فرمایا: ”تم نے یہ درہم کیوں لیے تھے؟“
عرض کی: ”اس وقت میں مفلس اور تنگ دست تھا۔“
عصمت رسول ﷺ پر حملے
حضورﷺ نے حضرت فضل رضی اللہ تعالیٰ کو حکم دیا کہ اس سے تین درہم لے کر بیت المال میں جمع کرا دیں۔
اس کے بعد نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد پھر منبر شریف پر جلوہ فرما ہوئے۔ منبر پر یہ آپﷺ کی آخری نشست تھی۔ حمد و ثناء کے بعد فرمایا:
”میں تم کو انصار کے حق میں وصیت کرتا ہوں۔ یہ لوگ میرے جسم کے پیرہن اور میرے زادِ راہ رہے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے واجبات کو پورا کر دیا ہے اور اب اُن کے حقوق باقی رہ گئے ہیں۔ اُن میں سے اچھا کام کرنے والوں کی قدر کرنا اور لغزش کرنے والوں سے درگزر کرنا۔“
پھر اس کے بعد فرمایا کہ ایک بندے کے سامنے دُنیا و مافیہا کو پیش کیا گیا مگر اُس نے آخرت ہی کو اختیار کیا۔
اس امر کو نبی کے یارِ غار ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ ہی سمجھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ماں ، باپ، ہماری جانیں اور ہماری زر و مال آپﷺ پر فدا ہوں۔“ (۱)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 796,800,801
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
چار دن قبل
جمعرات کا ذکر ہے کہ شدت مرض بڑھ گئی۔ اسی حالت میں رسول ﷺ نے حاضرین سے فرمایا: ”لاؤ میں تمہیں کچھ لکھ دوں تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو۔“ بعض بولے: ”نبی ﷺ پر شدت درد غالب ہے۔ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ ”جب لوگ آپس میں جھگڑنے لگے تو نبی ﷺ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ اُس کے بعد اسی روز حضور ﷺ نے تین وصیتیں فرمائیں۔
- ۱۔ یہود کو جزیرۂ عرب سے باہر کر دیا جائے۔
- ۲۔ وفود کی عزت و مہمانی اسی طرح کی جائے جیسا کہ معمول نبی ﷺ تھا۔
- ۳۔ تیسری وصیت سلیمان الاحول کی روایت میں بیان نہیں ہوئی مگر صحیح بخاری کی
کتاب الوصایا میں عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے قرآن پاک کے متعلق وصیت فرمائی۔ (واللہ اعلم بالصواب)
اُس روز مغرب تک کی تمام نمازیں نبی ﷺ نے خود پڑھائیں۔ نمازِ مغرب میں سورۃ المرسلات کی تلاوت فرمائی۔ اس سورت کی آخری آیت بھی قرآن پاک کی جلالت شان کو آشکار کرتی ہے۔
فبای حدیث بعدہ یومنون القرآن (50:77) ترجمہ: قرآن کے بعد اور کس کا کلام لاؤ گے؟
نماز عشاء کے لئے مسجد میں جانے کا تین بار عزم فرمایا۔ ہر دفعہ وضو کے لئے بیٹھے تو بے ہوشی طاری ہو گئی۔ آخر کار ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کے متعلق فرمایا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ اس حکم کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی حیات طیبہ میں سترہ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ نمازیں باجماعت پڑھائیں۔
(1) رحمت اللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری
قبل بڑھ گئی۔ اسی حالت میں رسول ﷺ نے تاکہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو۔“ ہے۔ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ نے خاموشی اختیار فرمائی۔ تین وصیتیں فرمائیں۔ جائے۔ کیا جائے جیسا کہ معمول نبی ﷺ تھا۔ کہ روایت میں بیان نہیں ہوئی مگر صحیح بخاری کی علی کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے قرآن علم بالصواب) نبی ﷺ نے خود پڑھائیں۔ نماز مغرب میں سورہ کی آخری آیت بھی قرآن پاک کی جلالت
صفوۃ القرآن (50:77) ہو گئے؟ تین بار عزم فرمایا۔ ہر دفعہ وضو کے لئے تعالیٰ کے متعلق فرمایا کہ وہ نماز پڑھائیں۔ علی نے نبی ﷺ کی حیات طیبہ میں سترہ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ نمازیں باجماعت پڑھائیں۔
(1) رحمت اللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری ص 243-242
عصمت رسول ﷺ پر حملے
دو دن قبل
شنبہ کا ذکر ہے کہ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کی امامت میں نماز ظہر قائم ہو چکی تھی کہ نبی ﷺ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کے کندھوں پر سہارا دیئے ہوئے مسجد کے اندر تشریف فرما ہوئے۔ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے مت ہٹو۔ پھر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ کے برابر بیٹھ کر نماز میں داخل ہو گئے اب ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ تو آنحضرت ﷺ کی اقتداء کرتے تھے اور باقی لوگ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کی تکبیرات پر اپنی نماز ادا کر رہے تھے۔ (1)
(1) رحمت اللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری ص 243
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ایک دن قبل
یک شنبہ کے دن سب غلاموں کو آزاد فرمایا۔ بعض روایات کے مطابق اُن کی تعداد چالیس تھی۔ گھر میں جو نقد سات دینار تھے وہ غربا میں تقسیم کر دیئے۔ اُس دن کی شام کو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ نے چراغ کا تیل پڑوسن سے عاریتاً منگوایا تھا۔
سلاحات مسلمانوں کو ہبہ فرمائے۔ حضور ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے عوض رہن رکھی تھی۔ (1)
(1) رحمت اللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری ص 243-244
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿120﴾
آخری دن
دوشنبہ کے دن نماز صبح کے وقت حضور ﷺ نے وہ پردہ اُٹھا دیا جو حجرۂ عائشہ اور مسجد کے درمیان پڑا ہوا تھا۔ اُس وقت نماز ہورہی تھی تھوڑی دیر تک نبی ﷺ اُس نظارۂ پاک کو جو آپ ﷺ ہی کی تعلیم کا نتیجہ تھا، ملاحظہ فرماتے رہے۔ اس نظارہ سے رُخ انور بشاش تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ اس وقت چہرہ مبارک ورقِ قرآن معلوم ہوتا تھا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کا شوق اور اضطراب سے یہ حال ہو گیا کہ رُخ انور کی طرف متوجہ ہو گئے۔ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ پیچھے ہٹنے لگے تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ پڑھاتے رہو۔ یہی اشارہ سب کی تسکین کا موجب ہوا۔ پھر حضور ﷺ نے پردہ چھوڑ دیا۔ یہ نماز ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ ہی نے مکمل کروائی۔ اس کے بعد حضور ﷺ پر کسی دوسری نماز کا وقت نہیں آیا۔
دن چڑھا تو پیاری بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہا کو بُلایا۔ کان میں کچھ بات کہی تو وہ رو پڑیں۔ پھر کچھ اور بات کہی تو وہ ہنس پڑیں۔ بتول پاک سلام اللہ علیہا سے روایت ہے کہ پہلی بات جو نبی ﷺ نے فرمائی وہ یہ تھی کہ اب میں دُنیا کو چھوڑ کر جارہا ہوں اور دوسری بات جو بتائی وہ یہ تھی کہ اہل بیت میں سے تم ہی میرے پاس سب سے پہلے پہنچو گی۔ سیدۃ النساء سلام اللہ علیہا نے حضور ﷺ کی حالت دیکھ کر کہا: ”آہ کتنا کرب ہے؟“
فرمایا: ”تیرے باپ کو آج کے بعد کوئی کرب نہ ہوگا۔“
پھر حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم کو بُلایا۔ دونوں کو چوما اور اُن کے احترام کی وصیت فرمائی۔
پھر ازواج مطہرات کو بُلا کر انہیں نصیحتیں فرمائیں۔
پھر علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کو بلایا۔ اُن کا سر مبارک اپنی گود میں رکھ لیا اور اُن کو بھی نصیحت
عصمت رسول ﷺ پر حملے
فرمائی۔ اُس وقت سانس مبارک علی کرم اللہ وجہہ پر فرمایا:
الصلوٰۃ الصلوٰۃ وما مل
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ کے مطاب
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتی ہیں کہ اسی ار
(1) رحمت اللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری
عصمت رسول ﷺ پر حملے
فرمائی۔ اُس وقت سانس مبارک علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے چہرہ مبارک پر پڑ رہا تھا۔ اسی موقع پر فرمایا:
الصلوٰۃ الصلوٰۃ وما ملکت ایمانکم
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ کے مطابق آنحضرت ﷺ کی آخری وصیت یہی تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ فرماتی ہیں کہ اسی ارشاد کو آپ ﷺ کئی مرتبہ فرماتے رہے۔ (1)
(1) رحمت اللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری ص 244-245
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿122﴾
حالتِ نزع اور وصال مبارک
اب نزع کی حالت طاری ہوئی۔ اس وقت حضور ﷺ کو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ سہارا دیے ہوئے پس پشت بیٹھی ہوئی تھیں۔ پانی کا پیالہ آپ ﷺ کے سرہانے رکھا ہوا تھا۔ رسول ﷺ پیالہ میں ہاتھ ڈالتے اور چہرہ مبارک پر پھیر لیتے تھے۔ چہرہ مبارک کبھی سُرخ ہوتا اور کبھی زرد پڑ جاتا تھا۔ زبان مبارک سے فرماتے تھے۔
لا اله الا الله ان للموت سكرات
اتنے میں عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ آگئے اُن کے ہاتھ میں تازہ مسواک تھی۔ حضور ﷺ نے مسواک کی طرف نظر ڈالی تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ نے اپنے دانتوں سے مسواک کو نرم بنادیا۔ حضور ﷺ نے مسواک کی۔ پھر ہاتھ کو بلند فرمایا اور زبان مبارک سے فرمایا:
اللهم الرفيق الاعلى
اُسی وقت ہاتھ مبارک لٹک گیا۔ پُتلی اوپر کو اُٹھ گئی۔ بارہ ربیع الاول 11ھ یوم دوشنبہ وقت چاشت تھا کہ جسم اطہر سے روح انور پرواز کرگئی۔ اُس وقت عمر مبارک 63 سال تھی۔ (1)
(1) رحمۃ اللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوریؒ ص 246-243
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
غسل
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عن کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کہنے لگے۔ ”ہم دیں؟ کیا جس طرح ہم دوسری میتوں کو حضور ﷺ کو کپڑوں سمیت غسل دیں؟
یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ اللہ تعالیٰ اونگھنے لگے، اُن کی ٹھوڑیاں اُن کے سینوں مبارک کے ایک کونے سے کسی کو یہ کہتے ہے؟، کوئی کہہ رہا تھا۔
”نبی ﷺ کو کپڑوں چنانچہ آپ ﷺ کو کپڑوں سمیت سرورِ عالم ﷺ کو غسل دینے تعالیٰ، اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ کو نصیب غسل بھی دے رہے تھے اور ساتھ ساتھ
بابی واَم
ترجمہ: ”میرے ماں باپ آ بھی طیب و پاکیزہ تھے اور وصال کے حضور ﷺ کو غسل مبارک د
عصمت رسول ﷺ پر حملے
غسل مبارک
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ کے صاحبزادے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب رحمت عالم ﷺ کو غسل دینے کا وقت آیا تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کہنے لگے۔ ”ہمیں علم نہیں کہ ہم حبیب خدا ﷺ کو کس طرح غسل دیں؟ کیا جس طرح ہم دوسری میتوں کو کپڑے اتار کر غسل دیتے ہیں اُس طرح کریں یا حضور ﷺ کو کپڑوں سمیت غسل دیں؟
یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب لوگوں پر نیند مسلط فرمادی۔ سب لوگ اونگھنے لگے، اُن کی ٹھوڑیاں اُن کے سینوں سے ٹکرانے لگیں۔ اس وقت اُنہوں نے حجرۂ مبارک کے ایک کونے سے کسی کو یہ کہتے ہوئے سُنا، وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کون آدمی بول رہا ہے؟، کوئی کہہ رہا تھا۔
”نبی ﷺ کو کپڑوں سمیت غسل دو۔“
چنانچہ آپ ﷺ کو کپڑوں سمیت غسل دیا گیا
سرورِ عالم ﷺ کو غسل دینے کی سعادت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ، اسامہ رضی اللہ تعالیٰ، اور فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ کو نصیب ہوئی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ اپنے آقا کو غسل بھی دے رہے تھے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ رہے تھے۔
ترجمہ: ”میرے ماں باپ آپ (ﷺ) پر قربان۔ آپ (ﷺ) زندگی میں بھی طیب و پاکیزہ تھے اور وصال کے بعد بھی طیب و پاکیزہ ہیں۔“
حضور ﷺ کو غسل مبارک دینے کے لئے پانی غرس نامی کنویں سے لایا گیا جو قبا
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کے قریب تھا اور یہ سعد بن خثیمہ رضی اللہ تعالیٰ کی ملکیت تھا۔ آنحضرت ﷺ اکثر اس کنویں کا پانی نوش فرمایا کرتے تھے۔
حضور ﷺ کا ارشاد عالی شان ہے۔
”غرس کا کنواں بہترین کنواں ہے یہ جنت کے چشموں میں سے بہترین چشمہ ہے۔ اس کا پانی نہایت پاکیزہ ہے۔“
غسل کے لئے لائے گئے پانی میں بیری کے پتے ملائے گئے تھے۔ (۱)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 837-838
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿125﴾
روضہ اقدس (قبر اطہر)
جب قبر کھودنے کا وقت آیا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ نے دو آدمیوں کو بلایا اور کہا تم میں سے ایک حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ کو بلا لائے اور دوسرا آدمی حضرت ابو طلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ تعالیٰ کو بلا لائے ۔ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ لحد والی قبر کھودنے کے ماہر تھے اور ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ بغیر لحد کے قبر کھودا کرتے تھے ۔ وہ دو آدمی فوراً روانہ ہوگئے اُن کے جانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ نے دُعا مانگی: ” اللهم خر لرسول “ یعنی اے اللہ ! تو ان دونوں میں سے جس کو اپنے رسول (ﷺ) کے لئے پسند فرماتا ہے اُ س کو بھیج دے۔
چنانچہ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ کو بلانے والا آدمی خالی واپس آگیا اور کہنے لگا کہ ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ اُسے نہیں ملے۔ دوسرا آدمی ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ کو لے کر آگیا۔ چنانچہ رسول ﷺ کے لئے لحد والی قبر تیار کی گئی ۔ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 838
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
کفن مبارک
سرکار عالم ﷺ کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ یہ تینوں کپڑے یمن کے ایک موضع سحول کے بنے ہوئے تھے اسی نسبت سے سحولیہ کہلاتے تھے ان پارچات میں نہ قمیض تھی نہ ہی عمامہ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 838
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
نماز جنازہ
سرکار دو عالم ﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ مجھے غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد میری مرقد کے کنارے رکھ دیا جائے اور پھر کچھ وقت کے لئے تمام لوگ میرے حجرے سے باہر نکل جائیں ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی وصیت کے مطابق آپ ﷺ کو غسل دے کر کفن مبارک پہنا کر آپ ﷺ کے جسد اطہر کو حجرہ مبارک میں رکھ دیا گیا اور تمام لوگ باہر نکل آئے۔ پھر کچھ وقت کے بعد اہل بیت کے مرد و خواتین داخل ہوئے اور صلوٰۃ و سلام عرض کی۔ ان کے بعد ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ چند مہاجرین و انصار کو لے کر حجرۂ مقدسہ میں داخل ہوئے اور سلام عرض کی ۔ پھر سب نے صفیں بنائیں ۔ اور بغیر کسی امام کے نماز جنازہ ادا کی ۔ پھر یہ لوگ باہر چلے گئے ۔ نئی جماعت داخل ہوئی ۔
یہاں تک کہ تمام مرد نماز جنازہ پڑھنے سے فارغ ہو گئے تو مستورات کو اندر جانے کی اجازت ملی ۔ وہ باری باری نماز جنازہ ادا کرتی رہیں ۔ پھر بچوں کی باری آئی وہ حاضر ہو کر نماز جنازہ کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے ۔ بچوں کے بعد غلاموں کی باری آئی ۔
الغرض تمام لوگوں نے باری باری گروہ در گروہ یہ شرف حاصل کیا ۔ کوئی آدمی بھی اس نماز جنازہ کی امامت نہیں کرا رہا تھا ۔ تین دن تک لوگوں کے دیدار کے لئے اور نماز جنازہ کے لئے جسد اطہر کو حجرۂ مقدسہ میں رکھا گیا۔ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 839-840
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿128﴾
تدفین
صحابہ کرام کو اس بات کا علم نہ تھا کہ رحمت دو عالم ﷺ کی قبر مبارک کہاں بنائی جائے ۔ لوگ اس مسئلہ پر غور فکر کر رہے تھے کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ گویا ہوئے : ”میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ ہر نبی کو اُسی جگہ دفن کیا جاتا ہے جہاں اُس کی وفات ہوتی ہے۔“
یہ ارشاد نبوی سننے کے بعد اس بارے میں ساری تشویش ختم ہو گئی ۔ لوگوں نے بستر مبارک کی جگہ قبر کھود دی ۔ جب قبر تیار ہو گئی تو پہلے زمین پر ایک سُرخ رنگ کا کمبل بچھایا گیا۔ پھر قبر مبارک میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ، فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ ، اور قثم بن عباس رضی اللہ تعالیٰ اور شقران رضی اللہ تعالیٰ (نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام) چاروں اُترے ۔ اوس بن خولی رضی اللہ تعالیٰ نے عرض کی: ”اللہ کے واسطے! ہمیں بھی رحمت دو عالم ﷺ کی تدفین میں حصہ لینے کی سعادت مرحمت فرمائیے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے انہیں بھی قبر مبارک میں اترنے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔
حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے سوموار کے دن وفات پائی اور تدفین بُدھ کی رات کو ہوئی ۔ تدفین کے بعد بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ نے پانی کا مشکیزہ لیا اور اس سے سرور عالم ﷺ کے مزارِ اقدس پر چھڑکاؤ کیا ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ نے چھڑکاؤ کا آغاز سر مبارک کے دائیں طرف سے کیا یہاں تک کہ قدمین شریفین تک سارے مرقد انور پر چھڑکاؤ کیا۔ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد چہارم ص 841-843
عصمت رسول ﷺ پر حملے
باب
روضۂ
ناپاک
عصمت رسول ﷺ پر حملے
باب چہارم
روضۂ رسول ﷺ پر
ناپاک جسارتیں
عصمت رسول ﷺ پر حملے
وَاللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
(المائدہ: 67)
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں (کے شر) سے بچائے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملہ﴾
واقعہ حرہ
اہل مدینہ طیبہ نے یزید بن معاویہ کے بدقماش، تارک صوم وصلوٰۃ، ممنوعات کا مرتکب اور شراب نوشی جیسے قبیح افعال کا خوگر ہونے کے باعث جب اُسکی بیعت سے سرتابی کی تو یزید نے مسلم بن عقبہ کی ماتحتی میں بارہ ہزار کا لشکر جرار مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ کر دیا۔ اُس نے یہ اعلان عام کر دیا تھا کہ جو کوئی حجاز کی جنگ میں شامل ہونا چاہئے وہ حکومت کے دفتر خاص سے زاد راہ اور اسلحہ حاصل کر لے۔ اس کے علاوہ ایک سو دینار بطور انعام دینے کا اعلان بھی کیا۔ چنانچہ بارہ ہزار آدمی اس مہم میں شامل ہوئے۔ مسلم بن عقبہ ازلی ملعون نے باوجود مریض اور معمر ہونے کے یہ ناپاک جسارت کی کہ نبی مکرم ﷺ کے مقدس شہر، مسجد اور معزز و محترم شہریان مدینہ کے قتل و غارت اور خونریزی کا بیڑا اٹھایا۔
امام ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ مسلم بن عقبہ کو یزید نے ایک بڑا لشکر دے کر اہل مدینہ طیبہ سے جنگ کرنے کو روانہ کیا۔ اور یہ حکم بھی دیا کہ اول اُن کو بیعت واطاعت کی پیش کش کی جائے۔ قبولیت کی صورت میں ان سے دست کش رہنا اور انکار کی صورت میں تین دن تک نہایت سختی اور شدت کے ساتھ قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھنا اور حرم محترم کی بے حرمتی کرتے رہنا۔
مسلم بن عقبہ نے حرہ میں قیام کیا۔ یہ جگہ مسجد نبوی سے ایک میل کے فاصلہ پر واقع تھی۔ یہاں ہی اہل مدینہ اور شامی فوج کے مابین یہ خون آشام واقعہ ظہور پذیر ہوا اسی لئے اس کو واقعہ حرہ کہتے ہیں۔ ادھر باشندگان مدینہ کو جب ان حالات کی اطلاع ملی تو وہ بھی اہل فساد کی مدافعت پر کمر بستہ ہو گئے۔ واقدی کے بیان کے مطابق شہر کے گرد ایک خندق کھودی گئی۔ پندرہ دن تک اس پر کام ہوتا رہا۔ مدینہ طیبہ میں مقیم بنو امیہ کے افراد سے بھی
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
اس معاملہ میں گفت و شنید ہوئی مگر وہ اپنی بات کے پابند نہ رہے۔ مسلم بن عقبہ یزید کے حکم کے مطابق تین روز تک بیعت و اطاعت کے متعلق مذاکرات کرتا رہا۔ لیکن حضرات صحابہ کرام اور تابعین اطہار ایک فاسق و فاجر کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر کسی طرح آمادہ نہ ہوئے لہٰذا فریقین کے مابین جنگ شروع ہو گئی۔
ابن خلدون رقم طراز ہیں:
”عبدالرحمن بن زبیر بن عوف رضی اللہ تعالیٰ خندق پر متعین کئے گئے۔ عبداللہ بن مطیع رضی اللہ تعالیٰ قریش کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ مطہرہ کی ایک سمت اور دوسری جانب معقل بن سنان رضی اللہ تعالیٰ مہاجرین کی ایک جماعت لئے ہوئے مامور تھے۔ ان سب کے سپہ سالار حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اللہ تعالیٰ تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا لشکر لے کر کوفہ کے راستہ کی ناکہ بندی کر لی۔ مسلم بن عقبہ اپنی فوج لے کر حرہ سے مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوا۔ حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ اُن کے مقابلے کو نکلے اور اس مردانگی اور شجاعت سے لڑے کہ سواران شام کو منہ کی کھانی پڑی۔ مسلم بن عقبہ نے پیادہ دستے کو للکارا تو فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ سپہ سالار سے اجازت لے کر بیس لوگوں کے ہمراہ اُن پر ٹوٹ پڑے۔ شامی فوج میں افراتفری پھیل گئی۔ سوار اور پیادہ کی ترتیب بھی درہم برہم ہو گئی۔
ابن قرطبی بیان کرتے ہیں کہ حضرات انصار و مہاجرین اور تابعین کو چھوڑ کر ایک ہزار سات سو رحمت عالم ﷺ کے پڑوسی مدینہ طیبہ کے باشندوں کو تہ تیغ کیا گیا۔ عورتوں اور بچوں کے علاوہ دو ہزار آدمیوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ سات سو حفاظِ قرآن نیز ستانوے سردارانِ قریش کو ظلم و ستم کی تلوار سے ذبح کر ڈالا۔ فسق و فساد اور زنا کا بازار اس قدر گرم کیا کہ اس واقعہ کے بعد ایک ہزار عورتوں نے زنا کی اولاد جنی۔ مسجد نبوی میں
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
گھوڑوں کو جولانی دیتے تھے۔ اور غائط اور پیشاب کرتے تھے (العیاذ باللہ)۔
اُن کے ظلم و ستم اور قتل عام س رونق ہو گئے۔ کوئی شخص مسجد نبوی میں تین دن تک نہ آذان ہوئی اور نہ ہی جما تابعی کے علاوہ کوئی بھی تنہا مسجد میں نماز پڑ
القبر الشريف لایاتی
ذان من القبر ثم اقیـ
فى المسجد احدی غـ
ترجمہ: جب نماز کا وقت ہوتـ جب بھی نماز کا وقت آتا تو میں روضہ ا اور میں اُسی اقامت میں نماز پڑھتا۔ الـ
(1) مجموعہ درود پاک از میاں خوشی محمد ۔ م
﴾عصمتِ رسول ﷺ پر حملہ﴿
گھوڑوں کو جولانی دیتے تھے۔ اور غضب یہ کہ ریاض الجنہ میں شامی فوج کے گھوڑے لید اور پیشاب کرتے تھے (العیاذ باللہ)۔
اُن کے ظلم و ستم اور قتل عام کے باعث شہر اور مسجد نبویؐ دونوں ویران اور بے رونق ہو گئے۔ کوئی شخص مسجد نبویؐ میں جاکر نماز پڑھنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ مسلسل تین دن تک نہ آذان ہوئی اور نہ ہی جماعت، اور سعید ابن المسیب رحمۃ اللہ تعالیٰ جیسے تابعی کے علاوہ کوئی بھی تنہا مسجد میں نماز پڑھنے نہ آتا۔ آپؒ فرماتے ہیں:
اذا حانت الصلوۃ اسمع اذاناً يخرج من قبل القبر الشريف لا یاتي وقت الصلوۃ الا سمعت الا ذان من القبر ثم اقیمت الصلوۃ فصلیت و ما فى المسجد احد غيرى۔
ترجمہ: جب نماز کا وقت ہوتا تھا میں قبر شریف میں سے اذان کی آواز سنتا تھا۔ جب بھی نماز کا وقت آتا تو میں روضہ اطہر سے اذان کی آواز سنتا اور پھر اقامت بھی ہوتی اور میں اُسی اقامت میں نماز پڑھتا۔ ان دنوں مسجد نبویؐ میں میرے سوا کوئی نہ ہوتا تھا۔
(1) مجموعہ درود پاک از میاں خوشی محمد ص 346-335
عصمت رسول ﷺ پر حملے
اموی دور کا واقعہ
91ھ میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالمالک کے حکم سے مدینہ منورہ کے گورنر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر کے لئے قبر انور کے حجرہ کی دیواروں کو منہدم کرنے کا حکم دیا۔ دیوار گرتے ہی قبر انور نظر آنے لگی۔ ایک رومی معمار جو نصرانی تھا اس نے یہ دیکھ کر کہ مسجد میں کوئی مسلمان موجود نہیں ہے اپنے نصرانی ساتھیوں سے کہا کہ میں پیغمبر اسلام (ﷺ) کی قبر پر گندگی کروں گا (نعوذ باللہ)۔ اس کے ساتھیوں نے اس کو اس ناپاک ارادے سے ہر چند منع کیا لیکن وہ ملعون نہیں مانا۔ ابھی وہ اس ارادۂ بد سے چلا ہی تھا کہ اوپر سے ایک پتھر اس کے سر پر گرا اور اس کا بھیجا پاش پاش ہو کر بکھر گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر بہت سے نصرانی معمار اسی وقت مشرف بہ اسلام ہو گئے۔ (1)
(1) روحانی حکایات از علامہ عبد المصطفےٰ اعظمی ص 19، 20
عصمت رسول ﷺ پر حملے
خسف کا عبرتناک واقعہ
شیخ شمس الدین صواب جو حرم نبوی کے خُدام کے رئیس تھے۔ اُن کا بیان ہے کہ میرے ایک مخلص دوست جن کے تعلقات امیر مدینہ سے بہت گہرے تھے۔ جب کبھی امیر تک کوئی کام مجھے پیش آتا تو اُنہی کی وساطت سے کراتا تھا۔ ایک دن میرے دوست میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ حلب کے رافضیوں کی ایک جماعت امیر مدینہ کے پاس آئی ہے۔ وہ لوگ نہایت قیمتی سامان اور تحائف نادرہ بھی اپنے ساتھ لائے ہیں۔ یہ تمام چیزیں امیر کو بطور رشوت پیش کی ہیں کہ ہمیں ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ کے مبارک اجسام کو یہاں سے لے جانے میں مدد دیں۔ امیر مدینہ نے اپنی مذہبی بے حسی اور حُب دُنیا کی وجہ سے اُن کا کہنا مان لیا ہے اور اُن کو اس بات کی اجازت دے دی ہے۔
شیخ صواب فرماتے ہیں کہ یہ بات سُن کر میرے اوسان خطا ہوگئے۔ میں انتہائی فکر میں بیٹھا ہی تھا کہ امیر کا قاصد مجھے بلانے آ گیا۔ میں وہاں گیا تو امیر نے مجھے کہا کہ آج رات کچھ لوگ مسجد میں آئیں گے۔ تم اُن سے تعرض نہ کرنا وہ جو کچھ کریں انہیں کرنے دینا ۔ تم کسی بات میں دخل نہ دینا۔ میں بہت اچھا کہہ کر چلا آیا مگر سارا دن حجرہ مقدسہ کے پیچھے بیٹھے روتے گزار دیا۔ ایک لمحہ کیلئے بھی آنسو نہ تھمتے تھے۔ کسی کو کیا خبر کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے؟
عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر جب سب لوگ چلے گئے تو میں نے تمام دروازے بند کر دیئے ۔ باب السلام، جو امیر کے گھر کے قریب تھا، کی جانب سے یہ لوگ آئے اور دروازہ کھول کر اندر آنا شروع کر دیا۔ میں چپکے سے اُن کو گنتا رہا اُن کی تعداد چالیس تھی۔ اُن کے پاس پھاوڑے ، ٹوکریاں ، کدال ، گرالے اور کھودنے کے آلات اور شمع تھی۔ میں سخت
عصمت رسول ﷺ پر حملے
پریشان اور حیران تھا۔ ایک کونے میں بیٹھا روتا اور سوچتا تھا کہ خداوندا! کب قیامت برپا ہو گی اور یہ بدطینت اپنے ناپاک عزائم سے باز آئیں گے۔ وہ لوگ مسجد شریف میں داخل ہو کر حجرہ انور کی طرف بڑھتے چلے گئے لیکن رب ذوالجلال کی قدرت پر قربان جاؤں۔ وہ لوگ ابھی منبر نبوی شریف کے قریب پہنچے ہی نہیں پائے تھے کہ یک دم انہیں معہ اُن کے ساز وسامان کے زمین نگل گئی۔ یہ جگہ اس ستون کے قریب واقع ہے جو توسیع عثمانی کی ابتداء ہے۔
امیر مدینہ اُن کی واپسی کا منتظر تھا اور اس تاخیر کا سبب بھی سوچتا رہا۔ جب بہت دیر گزر گئی اور وہ واپس بھی نہ ہوئے تو حقیقت حال دریافت کرنے کے لئے امیر نے مجھے طلب کیا۔ جب میں حاضر ہوا تو مجھ سے اس جماعت کے متعلق دریافت کیا۔ میں نے جو ماجرا دیکھا تھا لفظ بہ لفظ کہہ سنایا لیکن امیر کے حاشیہ خیال میں یہ بات آ ہی نہیں سکتی تھی کہ زمین اُن کو نگل گئی۔ اُس نے کہا کہ ہوش سے بات کر۔ میں جواب دیا کہ آپ خود تشریف لے چلیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ دھنسنے کے آثار اور بعض کپڑے جو قریب ہی اوپر تھے ابھی باقی ہیں۔ امیر نے مجھے سختی سے تنبیہ کی کہ اس واقعہ سے کسی کو ہرگز آگاہ نہ کرنا ورنہ تیری گردن مار دی جائے گی۔ (1)
یہ واقعہ مجموعہ درود شریف میں اسی طور ملا۔ لیکن میری دانست میں امیر مدینہ خواہ کتنا ہی بے حس اور دُنیا پرست کیوں ہی نہ ہو کسی درجے کا مسلمان ہی تھا اور سرور عالم ﷺ کے روضہ اطہر میں کسی قسم کی بے جا مداخلت کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔ لیکن یہ واقعہ بذاتہ روضہ اطہر کے خلاف کی جانے والی سازشوں کی ایک کڑی ہے اس لئے اسے شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی بدبخت یہ جسارت کرے کہ وہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ کے
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اجسام مبارک کو وہاں سے نکالے تو کیا وہ نبی ﷺ کے جسم اطہر کو چھوڑتا؟
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
(1) راحت القلوب (ترجمہ از جذب القلوب الی دیار المحبوب) از شیخ محدث دہلوی ص 130
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
مصری حکمران ”الحاکم“ کی ناپاک جسارت
عبیدی حکومت کے چھٹے حکمران ”الحاکم“ کے عہد میں بغض صحابہ سے مخمور اور عداوت صحابہ سے چُور ، کچھ مفسدہ پرداز بدطینت رافضیوں نے حاکم کو سبز باغ دکھایا کہ دُنیا بھر سے لوگ مدینہ طیبہ میں پروانہ وار جمع ہوتے ہیں۔ کیوں نہ مصر میں گنبد خضریٰ کے مقابلے میں ایک عالی شان گنبد بنالیا جائے۔ نبی ﷺ اور ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ وعمر رضی اللہ تعالیٰ کے اجسام مبارک وہاں سے نکال کر اس گنبد میں منتقل کر دیئے جائیں تا کہ لوگ یہاں زیارت کو آئیں۔ اور تیرا نام دنیا میں روشن ہو اور ساری مخلوق مصر میں زیارت کرنے آیا کرے۔
حاکم مصر اُن زندیق مشیروں کی چکنی چپڑی باتوں میں پھنس گیا اور مصر میں ایک فقید المثال عمارت اور شاندار محل تیار کرایا جس پر بے انتہا دولت خرچ کی۔ جب وہ ”بیت العنکبوت“ (مکڑی کا گھر) تیار ہو گیا تو اس نے اپنے ایک معتمد اور مقرب آدمی ”ابو الفتوح“ کو اس رذیل اور کمینہ پروگرام اور مہم پر روانہ کر دیا۔ اس بات کا چرچا ہر طرف ہونے لگا۔ اتفاق سے مدینہ طیبہ کے معززین کی ایک جماعت سے اس کی ملاقات ہو گئی جن میں سے ایک قاری قرآن بھی تھا۔ قاری صاحب نے اسے دیکھ کر قرآن پاک کی اس آیت کی تلاوت کی۔
و ان نكثوا ايمانهم بعد عهدهم في دينكم طعنوا ائمة الكفر انهم لا ايمان لهم لعلهم ينتهون ۔ الا تقاتلون قوما نكثوا ايمانهم و همو باخراج الرسول ان كنتم مومنين ۔
﴿عصمتِ رسول ﷺ پر حملے﴾
ترجمہ : ”اور وہ لوگ عہد کر لینے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو کفر کے سرغنوں کو قتل کر دو۔ بے شک اُن کی قسمیں باقی نہیں رہیں۔ تم ان کے ساتھ لڑائی کیوں نہیں کرتے جنہوں نے قسم کو توڑ دیا اور اللہ کے رسول (ﷺ) کو نکالنے کا ارادہ کیا۔ اگر تم مومن ہو۔“
تلاوت کچھ ایسی عظمت اور پُر شکوہ انداز میں کی کہ حاضرین میں ایک ولولہ اور زبردست ہیجان پیدا ہو گیا۔ اور وہ لوگ ابوالفتوح کو کیفر کردار تک پہنچانے پر آمادہ ہو گئے ، چونکہ عنانِ حکومت اُنہی لوگوں کے ہاتھ میں تھی اور شہر بھی اُنہی کا تھا اس لئے اُس کے قتل سے گریز کر گئے ۔
ابوالفتوح بھی خوفزدہ ہو گیا اور کہنے لگا : خدا کی قسم ! اگر میرا سر بھی چلا جائے تو مجھے پروا نہیں مگر میں قبر اطہر کی طرف اپنا ہاتھ کبھی بھی دراز نہیں کروں گا۔ اُسی رات زبردست آندھی آئی یوں محسوس ہوتا تھا کہ کرۂ زمین اس کی شدت اور زور کے باعث اپنی جگہ سے ہٹ کر کہیں دوسری جگہ چلا جائے گا۔ اونٹ اپنے پالانوں سمیت اور گھوڑے اپنی زینوں سمیت گیند کی مانند پھینکے جا رہے تھے۔ ابوالفتوح اس عبرت ناک منظر کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا۔ اُس کا دل کانپ گیا اور حاکم کا خوف اُس کے دل سے مکمل طور پر کافور ہو گیا اور وہ اس ناپاک جسارت سے تائب ہو گیا۔ اس کے بعد سلامتی اور صدقِ نیت کے ساتھ واپس لوٹ گیا۔ (1)
(1) راحت القلوب (ترجمہ: جذب القلوب الی دیار المحبوب) شیخ عبدالحق محدث دہلوی ص 130 - 129
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
عیسائی دُنیا کے ادھورے خواب
557ء کا واقعہ ہے کہ سلطان نور الدین بن عماد الدین زنگی جو نہایت متقی ، پرہیز گار اور ذاکر و شاغل ، شب بیدار اور عادل بادشاہ تھا۔ ایک رات نماز تہجد سے فارغ ہو کر سو گیا۔ خواب میں آقائے دو جہاں ﷺ کی زیارت با سعادت سے مشرف ہوا۔ حضور ﷺ نے دو آدمیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ جن کی آنکھیں نیلی تھیں کہ ان دونوں سے میری حفاظت کرو۔ سلطان کی گھبراہٹ سے آنکھ کھل گئی۔ فوراً اٹھ کر وضو کیا اور نوافل پڑھ کر پھر لیٹ گیا۔ معاً آنکھ لگ گئی اور بعینہ وہی خواب دوبارہ دیکھا۔ پھر گھبرا کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ وضو کر کے نوافل میں مشغول ہو گیا لیکن پھر نیند غالب آ گئی ۔ اور آنکھ لگتے ہی تیسری مرتبہ وہی خواب دیکھا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا کہ اب نیند کی کوئی گنجائش نہیں۔ فوراً اپنے وزیر جمال الدین کو بلایا جو نہایت نیک آدمی تھا۔ اس سے سارا واقعہ کہہ سُنایا۔ وزیر با تدبیر نے عرض کیا : ” اب دیر نہ کیجئے۔ بلا تاخیر مدینہ طیبہ روانہ ہو جانا چاہیے اور اس خواب کا تذکرہ بھی کسی سے نہ کیجئے۔“
بادشاہ فی الفور تیار ہو گیا۔ وزیر اور دیگر بیس خدام خاص کو ساتھ لیا اور تیز رو اونٹنیوں پر بہت سا مال و متاع لاد کر اسی وقت عازم مدینہ ہو گیا۔ دن رات برابر سفر جاری رکھا۔ بالآخر سولہویں دن شام کے وقت مدینہ پہنچ گیا۔ مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا۔ نہایت عجز و انکسار اور ادب و احترام کے ساتھ مسجد نبوی شریف میں داخل ہوا۔ ریاض الجنۃ میں تحیۃ المسجد ادا کئے اور سخت متفکر بیٹھ کر سوچنے لگا کہ کیا تدبیر کی جائے ۔ وزیر نے اعلان کیا کہ بادشاہ سلامت تشریف لائے ہیں اور اہل مدینہ کو انعامات و اکرامات سے نوازیں گے۔ ایک بہت بڑی دعوت کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں تمام اہل
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
مدینہ کو مدعو کیا گیا تا کہ ہر ایک آدمی آئے اور سلطانی سخاوت سے لطف اندوز ہو۔ لوگوں نے آنا شروع کر دیا اور شاہی عنایات سے بہرہ ور ہونے لگے۔ سلطان عطا کے وقت نہایت گہری نگاہ سے ہر آدمی کو دیکھتا اور خواب میں دکھائی گئی شکلوں سے اُن کا موازنہ کرتا۔ تمام اہل مدینہ یکے بعد دیگرے حاضر ہو کر شاہ کی سخاوت سے لطف اندوز ہوئے مگر جن کی تلاش تھی وہ نظر نہ آئے۔
بادشاہ نے دریافت کیا کہ اگر کوئی اور آدمی رہ گیا ہو تو اسے بھی بلایا جائے۔ لوگوں نے بتایا کہ دو نیک اور متقی پرہیز گار مغربی آدمی رہ گئے ہیں جو دُنیا سے یکسو اور گوشہ نشین ہیں ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ انہیں بھی بلایا جائے۔ لوگوں نے کہا: ”انہیں تو کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ تو خود اہل مدینہ پر شب و روز بے دریغ صدقات و خیرات کرتے رہتے ہیں۔ وہ دونوں شب و روز عبادت میں مصروف رہتے ہیں ۔ اسی لئے یہاں حاضر نہیں ہوئے۔“ لیکن شاہی فرمان کے باعث انہیں سلطان کے روبرو پیش ہونا ہی پڑا۔
بادشاہ نے ایک نظر دیکھتے ہی انہیں پہچان لیا کہ یہی وہ آدمی ہیں جو خواب میں دکھائے گئے ہیں۔ بادشاہ نے اُن سے دریافت کیا: ”تم کون ہو؟ اور کہاں کے رہنے والے ہو؟“
کہنے لگے: ”ہم مغرب کے باشندے ہیں حج کرنے آئے تھے۔ حج سے فراغت پر مدینہ طیبہ زیارت کے لئے حاضر ہوئے اور حضور ﷺ کے پڑوس میں رہنے کی تمنا اور شوق نے ہمیں یہیں کا کر دیا۔“
بادشاہ نے اُن کی قیام گاہ دریافت کی۔ معلوم ہوا کہ وہ روضۂ اقدس کے قریب ہی ایک رباط میں مقیم ہیں ۔ بادشاہ نے انہیں وہیں ٹھہرنے کا حکم دیا اور خود اُن کی قیام گاہ پر گیا۔ بڑی تلاش و تجسس کے باوجود سوا مال متاع اور کچھ کتابوں کے کوئی مشتبہ چیز نظر نہیں
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
آئی جس سے خواب کی تائید ہوئی۔ بادشاہ بہت پریشان اور متفکر تھا۔
ادھر اہل مدینہ ان دونوں کی سفارش کے لئے کثیر تعداد میں جمع ہو گئے کہ یہ تو بہت ہی نیک اور بزرگ آدمی ہیں۔ دن بھر روزہ رکھتے ہیں ہر ایک نماز ریاض الجنۃ میں ادا کرتے ہیں۔ روزانہ بقیع شریف میں زیارت کو جاتے ہیں اور ہر شنبہ کو قبا جاتے ہیں۔ بڑے ہی فیاض ہیں کسی سائل کو کبھی خالی نہیں لوٹایا۔ اس سال قحط کے دوران اہل مدینہ کے ساتھ بے حد ہمدردی اور غم گساری کا برتاؤ کیا ہے۔
ایسی باتیں سن کر بادشاہ کے فکر اور پریشانی میں اور بھی اضافہ ہو گیا کہ اے بار خدایا! یہ کیا معاملہ ہے؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ دفعتاً بادشاہ کو خیال آیا کہ ان کے مصلیٰ کی جگہ کو دیکھا جائے جب اُن کا مصلے جو ایک بوریے پر بچھا تھا اس کو اُٹھایا تو اس کے نیچے ایک پتھر تھا۔ جب پتھر اُٹھایا گیا تو ایک سرنگ نمودار ہوئی جو بہت گہری کھودی گئی تھی اور قبر اطہر تک پہنچ گئی تھی بادشاہ نے ڈرا دھمکا کر اس کمینہ حرکت کا سبب دریافت کیا۔ اُنہیں چار و ناچار حقیقت کو منکشف کرنا ہی پڑا اور اس راز کو افشا کرنا ہی پڑا جس کے پس پردہ عیسائیت ایک منحوس خواب دیکھ رہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ہم دونوں عیسائی ہیں اور عیسائی بادشاہ نے ہمیں زر کثیر اور بے پناہ دولت دے کر اس لئے یہاں بھیجا ہے کہ ہم کسی حیلے سے حجرہٴ مقدسہ میں داخل ہو کر سید کائنات ﷺ کے جسمِ عنبریں کے ساتھ گستاخی کر کے انہیں یہاں سے نکال کر لے جائیں۔ وہ دونوں رات بھر کھدائی کرتے اور مشکوں میں مٹی ڈال کر رات ہی کو بقیع کے مضافات میں ڈال آتے۔
سلطان نے جب ان کی باتیں سنیں تو آتش غضب میں سخت برانگیختہ ہوا اور ساتھ ہی رقت بھی طاری ہو گئی کہ اس کے حبیب ﷺ نے اس خدمت پر اسے مامور فرمایا۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اس نے ان دونوں کو قتل کر کے ان کی منحوس لاشوں
کذالک العذاب والعـ
یعملون۔
کہا جاتا ہے کہ جس رات یہ نقب قبر بارش ہوئی۔ گرج و چمک نے عظیم زلزلہ برپا کـ بعد سلطان نے حجرہٴ پاک کے چاروں طرف اتـ پھر سیسہ پگھلا کر بنیادوں کو سطح زمین تک بھر پہنچنے کی جسارت نہ کر سکے۔ (1)
(1) راحت القلوب (جذب القلوب الی دیار المحبوب
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اس نے ان دونوں کو قتل کر کے ان کی منحوس لاشوں کو خاکستر کر دیا۔ كذالك العذاب والعذاب الاخرة اكبر لو كانو يعلمون۔
کہا جاتا ہے کہ جس رات یہ نقب قبر شریف تک پہنچنے والی تھی۔ اس رات سخت بارش ہوئی۔ گرج و چمک نے عظیم زلزلہ برپا کر دیا اور زبردست آندھی ہوئی۔ اس کے بعد سلطان نے حجرۂ پاک کے چاروں طرف انتہائی گہری بنیادیں کھدوائیں کہ پانی نکل آیا پھر سیسہ پگھلا کر بنیادوں کو سطح زمین تک بھر دیا گیا تا کہ آئندہ کوئی مفسد قبر نبی ﷺ تک پہنچنے کی جسارت نہ کر سکے۔ (1)
(1) راحت القلوب (جذب القلوب الی دیار المحبوب) شیخ عبدالحق محدث دہلوی ص 127-128
﴿144﴾ ﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
محمد بن عبدالوہاب کا حملہ
محمد بن عبدالوہاب نجدی 1111ء میں پیدا ہوا اور بعد از ہزار خرابی 1207ء میں فوت ہوا۔ ابتدائی تعلیم شیخ محمد سلیمان کردی شافعی اور شیخ محمد حیات سندھی حنفیؒ سے حاصل کی۔ لیکن ہر دو بزرگان اپنے نور فراست سے کہا کرتے تھے کہ یہ ملحد ہوگا۔ بظاہر اس کا شغل بھی اسی قسم کا تھا۔ اکثر مسیلمہ کذاب، اسود عنسی اور طلیحہ اسدی وغیرہ کے حالات کا مطالعہ کیا کرتا تھا۔ جنہوں نے اس سے قبل دعویٰ نبوت کیا تھا۔ پھر اس نے چند اصولی عقائد مرتب کیے کہ فقط قرآن مجید کی اتباع ہی واجب ہے نہ اُن فروعات کی جو اُن سے مستنبط ہیں ۔ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور دوست ہیں لیکن اُن کی مدح و تعظیم کرنا درست نہیں کیونکہ مدح و تعظیم قبیل شرک ہے۔ چونکہ لوگوں کا ایسا شرک کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آیا۔ لہٰذا اس نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کروں۔ پس جو کوئی مجھے قبول کرے گا۔ وہ دوستوں میں سے ہوگا اور جو کوئی میرا حکم نہ مانے گا وہ عذاب کا مستحق ہوگا اور اس کا قتل بلاشبہ واجب ہے۔ (یہی اس ملعون کا دعویٰ نبوت ہے)۔
یہ عقیدہ اس نے پہلے پوشیدہ ظاہر کیا۔ چند لوگ اس کے مقلد ہو گئے اور پھر وہ ملک شام کی طرف چلا گیا۔ لیکن وہاں اس کی کچھ نہ بن پائی۔ تین برس کے بعد مدینہ منورہ آیا لیکن وہاں کے علماء کی مخالفت کی وجہ سے وہاں ٹھہر نہ سکا۔ وہ وہاں سے نجد چلا گیا۔ وہاں کے بدوی لوگوں میں اس کا فسوں اثر کر گیا۔ اسی اثناء میں ایک شخص ابن مسعود نے اپنی خفی آرزو کے لالچ سے کہ اس کی حکومت عالمانہ بصورت ریاست کسی طرح سے بڑھے۔ اس نے ابن عبدالوہاب کا مذہب قبول کر لیا۔ محمد بن عبدالوہاب ان کا امام مقرر ہوا اور ابن مسعود اس کے لشکر کا سالار۔ رفتہ رفتہ ایک لاکھ بیس ہزار کی فوج مرتب کر لی لیکن مسعود کی حیات
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
نے وفا نہ کی۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے بزور شمشیر کی۔ پہلے مکہ مکرمہ کی حرمت کو تاراج ک مسعود بن عبدالعزیز نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی مبارک کو توڑ کر خزائن بے شمار لے گیا کہا جاتا ہے جب عبداللہ بن مسعود بن عبدالعزیز، محمد علی پاشا اس کے پاس ایک صندوق ملا جس میں سے تبر کلاں کے نکلے۔ اُس نے اقرار کیا کہ یہ صندوق تھا۔ مسعود نے مکہ میں قبہ مولد نبی کے ساتھ ساتھ ا اللہ تعالیٰ کے قبے گرا دیے۔ مدینہ طیبہ میں روضہ قدرت حق ظاہر ہوئی کہ اس کے بہت سارے معت ایک آگ کا شعلہ نکلا جس نے اُن میں سے بہتوں اور افواج عبدالوہاب کا تعاقب کیا۔
ایرانی حکومت کے ایک وفد نے جو روضہ کی گنبد پر پانچ گولیاں لگی تھیں۔ (1)
(1) آفتاب گولڑہ اور فتنہ مرزائیت از حاجی نواب دین
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
نے وفا نہ کی۔ اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے عبدالعزیز نے اس کے عقائد کی دعوت بزور شمشیر کی۔ پہلے مکہ مکرمہ کی حرمت کو تاراج کیا پھر اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے مسعود بن عبدالعزیز نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی اور ایسا تاراج کیا کہ آپ ﷺ کے حجرہ مبارک کو توڑ کر خزائن بے شمار لے گیا کہا جاتا ہے کہ ساٹھ اونٹوں پر لاد کر لے گیا۔ چنانچہ جب عبداللہ بن مسعود بن عبدالعزیز ، محمد علی پاشا خدیو مصر کے سامنے گرفتار کر کے لایا گیا تو اس کے پاس ایک صندوق ملا جس میں سے تین سو لولوئے آبدار کلاں اور کئی دانے زمرد کلاں کے نکلے ۔ اُس نے اقرار کیا کہ یہ صندوق بھی حجرۂ نبویہ سے اُس کے والد نے نکالا تھا۔ مسعود نے مکہ میں قبۂ مولد نبی کے ساتھ ساتھ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ، علی رضی اللہ تعالیٰ، خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ کے قبے گرا دیے۔ مدینہ طیبہ میں روضۂ رسول کے گنبد کو جب گرانے لگا تو عجب قدرتِ حق ظاہر ہوئی کہ اس کے بہت سارے معتمد سُرنگوں ہو کر مر گئے اور اسی اثناء میں ایک آگ کا شعلہ نکلا جس نے اُن میں سے بہتوں کو جلایا اور اسی طرح ایک اژدھا نمودار ہو اور افواج عبدالوہاب کا تعاقب کیا۔
ایرانی حکومت کے ایک وفد نے جو بسلسلہ تحقیق گنبد خضریٰ گیا، بیان کیا کہ روضہ کی گنبد پر پانچ گولیاں لگی تھیں۔ (1)
(1) آفتاب گولڑہ اور فتنہ مرزائیت از حاجی نواب دین چشتی ص212-205
عصمت رسول ﷺ پر حملے
باب پنجم
گستاخان رسول
اور
ان کا انجام
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِى الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا
(الاحزاب: 57)
ترجمہ:۔ یقیناً جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
توہین رسالت کیا ہے؟
توہین رسالت سے مراد نبی رحمت ، سرور دو عالم ، فخر موجودات ، باعث تخلیق کائنات حضرت محمد ﷺ کی توہین ہے۔ وہ جو اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور بندوں کے بھی۔ بھلا کوئی اپنے محبوب کی توہین کیسے برداشت کرسکتا ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہوسکتا۔ رسول ﷺ کی توہین دراصل اللہ تعالیٰ کی توہین ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توہین رسالت کیا ہے؟ کون کون سے بات توہین رسالت میں شامل ہے؟ اس مسئلہ میں اصولی بات یہ ہے کہ ہر وہ بات جسے عرف عام میں توہین آمیز کلمہ تصور کیا جائے گا۔ جس میں کسی بھی طریقہ سے حضور ﷺ کی توہین یا تنقیص کا پہلو نکلتا ہو وہ توہین رسالت تصور ہوگی بلکہ یہ اتنا نازک مقام ہے کہ بعض چیزیں جنہیں عرف عام میں توہین نہیں بھی سمجھا جاتا، رسالت کے باب میں ایسا غیر مناسب رویہ بھی توہین تصور کیا جاتا ہے۔
قاضی ابوالفضل عیاض بن موسیٰ اندلسی فرماتے ہیں کہ جان لو کہ جو شخص حضور ﷺ کو گالی دے، یا آپ ﷺ پر عیب لگائے یا کسی نقص کی نسبت آپ ﷺ کی ذات ، نسب ، دین یا آپ ﷺ کی عادات میں سے کسی عادت کی طرف کرے۔ یا آپ ﷺ کو بطریق گستاخی کسی چیز سے تشبیہ دے یا آپ ﷺ کو ناقص کہے یا آپ ﷺ کی شان کو کم کرے یا آپ ﷺ پر یا آپ ﷺ کی کسی بات پر عیب لگائے وہ آپ ﷺ کی توہین کرنے والا ہوگا۔ اس کے متعلق وہی حکم ہے جو آپ ﷺ کو گالی دینے والے کا ہے کہ اُسے قتل کردیا جائے گا۔
توہین رسالت کے متعلق علمائے امت نے بعض چیزوں کا خصوصیت سے ذکر
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کیا ہے کہ ان چیزوں کا ارتکاب کرنے والا توہین جن میں سے سرفہرست کسی ایسے ذومعنی لفظ حضور ﷺ کی توہین کا باعث بنے ، کوئی گھٹیا لغ ﷺ سے برتر کہنا ، حضور ﷺ سے متعلق کی کرنا، سُنت رسول کا مذاق اُڑانا ، رسول ﷺ حضور ﷺ پر تنقید کرنا اور حضور ﷺ کا ذکر ہے۔ (۱)
(۱) توہین رسالت کی سزا از پروفیسر مجیب
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
کیا ہے کہ ان چیزوں کا ارتکاب کرنے والا توہین رسالت کا مرتکب ہوگا۔ جن میں سے سرفہرست کسی ایسے ذو معنی لفظ کا استعمال کرنا جو کسی بھی معنی کے لحاظ سے حضور ﷺ کی توہین کا باعث بنے، کوئی گھٹیا لفظ آپ ﷺ کی نسبت استعمال کرنا، کسی کو آپ ﷺ سے برتر کہنا، حضور ﷺ سے متعلق کوئی عیب منسوب کرنا، موئے مبارک کی توہین کرنا، سُنّتِ رسول کا مذاق اُڑانا، رسول ﷺ کی کملی کی طرف کوئی عیب منسوب کرنا، حسنِ حضور ﷺ پر تنقید کرنا اور حضور ﷺ کا ذکر بے موقع کرنا بھی توہین رسالت میں شامل ہے۔ (1)
(1) توہین رسالت کی سزا از پروفیسر حبیب اللہ چشتی ص 24 تا 30
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
قرآن حکیم کے مطابق سزا
قرآن مجید میں توہین رسالت کے مرتکب کے لئے دو قسم کی سزاؤں کا ذکر ہے۔
- (1)۔ توہین رسالت کا مرتکب اگر کلمہ گو ہے تو کافر ہو جائے گا
قرآن پاک میں سورۃ الحجرات آیت نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
یا ایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم و انتم لا تشعرون ۔
ترجمہ: ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی (ﷺ) کی آواز سے اونچی نہ کرو اور نہ اُن کے حضور بات چلا کر کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال اکارت نہ ہو جائیں اور تمہیں خبر نہ ہو۔“
اس آیۃ کریمہ میں توہین رسالت کے مرتکب کے کافر ہونے پر وجہ استدلال یہ ہے کہ اس آیۃ کریمہ میں بارگاہِ نبوت میں اپنی آواز بلند کرنے پر حبطِ اعمال کی وعید سنائی گئی ہے جو قرآن پاک میں صرف کفر اور شرک اختیار کرنے پر ہی سنائی ہے۔ قرآن پاک میں سورۃ مائدہ آیت نمبر 5 میں ارشاد ہوتا ہے
من یکفر بالایمان فقد حبط عملہ
ترجمہ: ”جو ایمان سے منکر ہوا اس کا عمل ضائع ہوگیا۔“
اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 57 میں فرماتے ہیں
ان الذین یوذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا ولاخرۃ و اعد لہم عذاباً مھیناً
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ترجمہ: ”بے شک جو لوگ ایذاء دیتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کو۔ اُن پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے دُنیا میں اور آخرت میں اور اُن کے لئے ذلت کا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔“
جب دُنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت حضور ﷺ کو ایذاء دینے والوں پر ہے تو ثابت ہوا کہ وہ ایذاء دینے والا کافر ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام کی کافر قوم کے بارے میں سورہ ہود آیت نمبر 60 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
واتبعوا فی هذه الدنیا لعنة و یوم القیامة
ترجمہ: ”اور دنیا اور آخرت میں ان کے پیچھے لعنت لگی ہوئی ہے۔“
قرآن پاک میں اس کے علاوہ بھی متعدد مقامات پر اس سزا کا ذکر ہے۔ لیکن سزا ثابت کرنے کے لئے دو آیات ہی کافی ہیں۔
پس جب توہین رسالت سے ایک مسلمان کافر ہو جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مرتد ہو گیا ہے اور مرتد واجب القتل ہوتا ہے۔ توہین رسالت کا ارتداد ایسا ارتداد ہے جس کی توبہ بھی قبول نہیں۔
- (۲)۔ گستاخ رسول ہر حال میں واجب القتل ہے۔
قرآن پاک میں توہین رسالت کے مرتکب افراد کی یہ سزا بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ ہر حال میں واجب القتل ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیت نمبر تیرہ میں فرماتے ہیں۔
الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانهم وهموا باخراج الرسول وهم بدءوکم اول مرة اتخشونهم فالله احق ان تخشوه ان کنتم مومنین
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ترجمہ: ”کیا تم ان لوگوں سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول ﷺ کے نکالنے کا قصد کیا حالانکہ پہل اُنہی نے کی ہے کیا تم ان سے ڈرتے ہو اور اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔“
مفہوم یہ بنتا ہے کہ جن لوگوں نے اخراج رسول ﷺ کا قصد کیا انہیں قتل کرو اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ سب وشتم کرنا اخراج رسول ﷺ کے قصد سے کہیں بڑا جرم ہے۔
(1) توہین رسالت کی سزا از حبیب اللہ چشتی ص 34 تا 37 اور ص 49 تا 55
عصمت رسول ﷺ پر حملے
احادیث مبارکہ
سُنن ابی داؤد میں حضرت عکرمہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی نے اپنی تو اُسے قتل کر دیا۔ رسول ﷺ کو جب اطلاع مل
عن علی ان یہو و تقع فیہ فخنقہا رجل حتی دمہا۔
ترجمہ : ”حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ) سے مر گالیاں دیتی تھی۔ ایک آدمی نے اُس کا گلا گھو کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔“
(مشکوٰۃ ج:
عن حسین ابن ع اللہ ﷺ قال من سب اصحابہ فاضربوہ
”حضرت امام حسین بن علی علیہ السلام اپنے وال نے فرمایا جو کسی نبی کو گالی دے اُسے قتل کر دو اور مارو۔“
(الشفاء ج 2 ص 122)
ابورافع کو خصوصی طور پر اسی لئے قتل کعب بن اشرف یہودی کا قتل بھی توہین رسال واضح دلیل ہے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
احادیث مبارکہ کی روشنی میں سزا
سُنن ابی داؤد میں حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی نے اپنی ام ولد کو رسول ﷺ کو گالیاں دیتے ہوئے سُنا تو اُسے قتل کر دیا۔ رسول ﷺ کو جب اطلاع ملی تو فرمایا: گواہ رہو، اُس کا خون رائیگاں گیا۔
عن علی ان یہودیۃ کانت تشتم النبی ﷺ وتقع فیہ فخنقہا رجل حتی ماتت فابطل النبی ﷺ دمہا۔
ترجمہ: ”حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ) سے مروی ہے کہ ایک یہودی عورت حضور ﷺ کو گالیاں دیتی تھی۔ ایک آدمی نے اُس کا گلہ گھونٹ کر اُسے قتل کر دیا۔ حضور ﷺ نے اُس کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔“
(مشکوۃ ج ص 165)
عن حسین ابن علی عن ابیہ ان رسول الله ﷺ قال من سب نبیاً فاقتلوہ و من سب اصحابہ فاضربوہ
”حضرت امام حسین بن علی علیہ السلام اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو کسی نبی کو گالی دے اُسے قتل کر دو اور جو میرے کسی صحابی کو گالی دے اُسے کوڑے مارو۔“
(الشفاء ج 2 ص 122)
ابو رافع کو خصوصی طور پر اسی لئے قتل کیا گیا کہ وہ حضور ﷺ کو اذیت پہنچاتا تھا۔ کعب بن اشرف یہودی کا قتل بھی توہینِ رسالت کے مرتکب کے واجب القتل ہونے پر واضح دلیل ہے۔
﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿
گستاخ رسول ابن خطل فتح مکہ کے موقع پر کعبے کے پردوں سے چمٹا ہوا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا اُس کو اسی حال میں قتل کر دو۔
عصماء بنت مروان نے نبی ﷺ کی ہجو کی تو آپ ﷺ نے اُسے قتل کرنے کا حکم دیا۔
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ سے یہ حقیقت بالکل واضح اور عیاں ہورہی ہے کہ نگاہِ نبوت میں شاتم رسول کی سزا قتل کے سوا اور کچھ نہیں۔(۱)
جو لوگ اس بات کو شاتم رسول کی معافی کے لیے وجہ استدلال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ابن خطل کی ایک لونڈی کو، جو کہ مسلمان ہوگئی تھی، معاف فرما دیا تھا۔ اس کے علاوہ عبداللہ بن ابی اور اس جیسے دوسرے منافقین کو بھی معاف فرما دیا جنہوں نے آپ ﷺ کو زندگی بھر اذیتیں دیں۔ ان کے علاوہ بھی کئی ایسے لوگوں کو اذیت رسانی کرنے کے باوجود معاف فرما دیا۔ وہ لوگ شاید اس بات سے بھی واقف ہوں گے کہ حیثیت عرفی کے قانون کے مطابق انسان خود اپنے خلاف کی گئی ہر حرکت معاف کر سکتا ہے لیکن یہ اختیار کسی دوسرے کو نہیں ہوتا کہ وہ ایسی حرکت معاف کرے۔
(۱) توہین رسالت کی سزا از حبیب اللہ چشتی ص65 تا 77
کے موقع پر کعبے کے پردوں سے چمٹا ہوا تھا، کر دو۔ کی ہجو کی تو آپ ﷺ نے اُسے قتل کرنے کا حکم
حقیقت بالکل واضح اور عیاں ہو رہی ہے کہ نگاہ کچھ نہیں۔ (1)
کی معافی کے لیے وجہ استدلال کے طور پر پیش کی ایک لونڈی کو، جو کہ مسلمان ہو گئی تھی، معاف اس جیسے دوسرے منافقین کو بھی معاف فرما دیا کی۔ ان کے علاوہ بھی کئی ہا لوگوں کو اذیت رسانی ف شاید اس بات سے بھی واقف ہوں گے کہ جو اپنے خلاف کی گئی ہر حرکت معاف کر سکتا ہے کی حرکت معاف کرے۔
77
عصمت رسول ﷺ پر حملے
اجماع امت اور قانون توہین رسالت
والیٔ یمن حضرت مہاجر بن اُمیہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ کو بتایا کہ وہاں ایک عورت حضور ﷺ کی مذمت میں اشعار گاتی تھی تو اُنہوں نے اس کے ہاتھ کاٹ دیئے اور اس کے اگلے دانت نکال دیئے تو جناب صدیق رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”کہ اگر تم نے یہ سزا نہ دی ہوتی تو میں تمہیں اس عورت کے قتل کا حکم دیتا کیونکہ انبیاء کی گستاخی دوسرے لوگوں کی گستاخی کے مشابہ نہیں ہوتی۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص حضور ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرے اُسے قتل کر دیا جائے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کو بھی قتل کر دیا تھا جو کسی قوم کی امامت کرواتا تھا اور ہر باجماعت نماز میں سورۃ عبس کی تلاوت کرتا تھا۔ اُس کا خیال تھا کہ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو جھڑکا ہے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے فرمان پر ایک گستاخِ نبوت عورت کو قتل کیا۔
ان روایت سے صحابہ کا نقطۂ نظر واضح ہو گیا کہ ان کے مطابق گستاخ رسول کی سزا موت ہے ائمہ اربعہ کے نزدیک اگر ذمی کافر حضور ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔
ایک حنفی فقیہ مولانا گل محمد کہتے ہیں۔
”جس نے نبی مکرم ﷺ یا صاحب شریعت کو گالی دی یا قرآن مجید کی توہین کی یا حضور ﷺ کے دین، نسب، یا نبی ﷺ کی کسی عادت میں عیب نکالا تو وہ کافر ہو جائے گا اور قتل کا مستحق ہو
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
گا۔‘‘
امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جو بھی حضور ﷺ یا کسی دوسرے نبی کی توہین کرے وہ مسلمان ہو یا کافر۔ اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔
امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص بھی رسول ﷺ کو گالی دے یا آپ کی شان میں گستاخی کرے وہ مسلمان ہو یا کافر اسے قتل کر دیا جائے اور اسے توبہ کا مطالبہ بھی نہ کیا جائے۔
امام شافعیؒ کے مطابق جب کوئی توہین کا ارتکاب کرے اُسے فوراً قتل کر دیا جائے۔
اب ہم شاتم رسول کے متعلق شیعہ حضرات کا نقطہ نظر جانتے ہیں۔
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس شخص کے متعلق پوچھا جس نے کسی شخص کو اتہام کے بغیر گالی دی ہو اور اس نے گالی دینے والے کے خلاف دعویٰ کر دیا ہو تو کیا اسے کوڑے لگیں گے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بطور تعزیر لگائے جائیں گے۔
وسائل شیعہ میں ہے کہ جو شخص جناب نبی مکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام میں سے کسی ایک کو بھی گالی دے وہ قتل کی سزا کا مستحق ہے (1)
(1) توہین رسالت کی سزا از حبیب اللہ چشتی ص 81 تا 84 اور 89 تا 108
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ادیان عالم کے قوانین
اگر مذہب کے ساتھ ربط ایک زندہ شعور کے ساتھ موجود ہو تو بانیان مذاہب کے توہین کی سزا ہر وقت اور ہر جگہ قتل ہی رہی ہے۔ البتہ اگر کسی جگہ عیاشی کو ہی بطور مذہب اپنا لیا جائے تو پھر وہاں سوچ کے دھارے بدل جاتے ہیں اور ان کے مردہ ضمیر ”آزادیٔ رائے“ کے نام پر ہر چیز کو قبول کر لیتے ہیں۔
نمرود کے عہد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدائے واحد کی عبادت کا درس دیا اور بتوں کی بے بسی کا اعلان کیا۔ جب ان کی قوم نہ مانی تو انہوں نے سارے بت توڑ دیئے ۔ بتوں کی توہین پر انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ آگ میں پھینک دیا۔ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ قوم نمرود بتوں کی توہین کرنے والے کو زندہ جلانے کا عقیدہ رکھتے تھے۔
ہندومت کی مذہبی کتاب کی توہین پر سخت اور کڑی سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
ویدوں کی توہین کرنے والے کو ناستک قرار دیا۔ ویدوں کے حکم کے مطابق ویدک دھرمی راجہ کا فرض تھا کہ وہ ویدک دھرم کے مخالفوں کو ہمیشہ تباہ و برباد کرے اور انہیں آگ میں جلا دے۔
سوامی جی نے پرمیشور کا حکم ہندی زبان میں ان لفظوں میں بیان کیا ہے۔
”اے سخت دنڈ دینے والے راج پرش (راجہ) آپ دھرم کے مخالف دشمنوں کو ہمیشہ آگ میں جلائیے۔ جو ہمارے دشمنوں کو حوصلہ دیتا ہے۔ آپ اس کو الٹا لٹکا کر خشک لکڑی کی مانند جلائیے۔“
قدیم ایران میں مذہبی مقتدروں کی توہین کی سزا بلکہ یہاں تک کہ بادشاہی سے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
غداری کی سزا بھی موت تھی۔
چین کے فوجداری قوانین کے مطابق بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کرنا جرم ہے جس کا ارتکاب کرنے والے مجرم کو سزائے موت دی جاتی ہے۔
قبل مسیح میں یہودیت میں خدا، رسول، یوم سبت اور مذہبی عقائد کی توہین کے ارتکاب پر موت کی سزائیں دی جاتی تھیں اور سنگسار کیا جاتا تھا۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی توہین کا الزام لگا کر ہی اُن کے قتل کا مطالبہ کیا تھا۔ مسیحیت کے ایک مبلغ ستنفس پر یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین کا الزام لگا کر اسے سنگسار کیا (1)
(1) توہین رسالت کی سزا از پروفیسر حبیب اللہ چشتی ص 109 تا 116
عصمت رسول ﷺ پر حملے
شاتم رسول کی توبہ کے احکام
اللہ تعالیٰ توبہ سے اُن گناہوں کو معاف فرماتا ہے جو خالصتاً اُس کی ذات سے متعلق ہوتے ہیں۔ جنہیں اصطلاح میں حقوق اللہ کہا جاتا ہے لیکن وہ گناہ جن کا تعلق بندوں سے ہوتا ہے انہیں معاف کرنے کا حق بھی اس نے بندوں کو ہی دے رکھا ہے۔ گویا حقوق العباد توبہ سے معاف نہیں ہوتے۔ مثلاً اگر کوئی کسی کو گالی دیتا ہے تو جب تک جسے گالی دی گئی ہے وہ اسے معاف نہ کرے۔ گالی دینے والا اگر لاکھ مرتبہ توبہ کرتا رہے اس کی دنیاوی سزا اسے ضرور ملے گی۔
پھر آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ جب ایک عام آدمی کو دی گئی گالی کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہو سکتی تو وہ ذات اقدس ﷺ جو باعث تخلیق کائنات ہیں۔ جن کی توہین سے نہ صرف کروڑوں انسانوں کے دل شدت جذبات سے بھڑک اٹھتے ہیں بلکہ ملاءِ اعلیٰ کے باسی بھی غیض و غضب سے چلا اٹھتے ہوں گے تو کیا اس ذات اقدس ﷺ کو گالی دینے والے کی سزا صرف توبہ کرلینے سے معاف ہوجائے گی؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔
مومنین کو اذیت پہنچانا صرف کھلا گناہ ہے جبکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچانے کی سزا دنیا و آخرت میں لعنت اور ذلت کا عذاب ہے۔ جب بھی کسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ نے کسی توہین رسالت کے مرتکب کو قتل کرنے کی خبر دی تو حضور ﷺ نے اس کی تحسین فرمائی اور یہ نہ فرمایا کہ تم نے اسے توبہ کا موقع کیوں نہ دیا۔
علماء نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ ﷺ اپنے شاتم کی سزا دیں یا معاف فرمائیں۔ اُن کے وصال کے بعد کسی کو شاتم رسول کو معاف کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ وہ ہر حال میں واجب القتل ہے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
اسلامی تعلیمات کے مطابق اگر کوئی بندہ مرتد ہو جائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے گا اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اسے معاف کر دیا جائے گا ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔ لیکن توہین رسالت کے سبب جو ارتداد پیدا ہوتا ہے وہ مطلق ارتداد سے بہت بڑا جرم ہے۔ چونکہ اس نے کائنات کی سب سے معزز ذات ﷺ کو گالی دی ہے اور کروڑوں انسانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے اس لئے وہ ہر حال میں قتل کا مستحق ہے اور توبہ کر لینے سے اس کا قتل معاف نہ ہوگا۔
ظاہر ہے اگر ایک آدمی بالفرض اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا الہامی مذہب اختیار کرتا ہے اور دوسرا آدمی حضور ﷺ کو گالی دیتا ہے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگرچہ اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا الہامی مذہب اختیار کرنا بھی جرم ہے کیونکہ اس طرح وہ آدمی تکذیب رسالت کا مرتکب ہوتا ہے لیکن جو شخص نبی ﷺ کو گالی دیتا ہے وہ تکذیب رسالت سے بڑھ کر ”شتم رسالت“ کا مجرم بن جاتا ہے۔ اس لئے اس کی سزا بھی عام ارتداد سے بڑی ہوگی۔
علامہ شامی اپنی کتاب تنقیح حامدیہ جلد نمبر ایک کے صفحہ 4 پر رقمطراز ہیں:
”شاتم رسول ﷺ کا ارتداد دوسرے ارتداد کی طرح نہیں ہے کیونکہ دوسرا ارتداد انفرادی عمل ہوتا ہے۔ اس میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کی توبہ قبول ہوتی ہے مگر جس نے حضور ﷺ یا دیگر انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی کو گالی دی وہ کفار میں شامل ہو جائے گا اور اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے پھر تو بلا اختلاف اسے کفر کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا اور اگر توبہ کرے تو مشہور مذہب کے مطابق اسے بطور حد قتل کیا جائے گا۔“
اپنی ایک اور کتاب ردالمحتار جلد تین کے صفحہ 290 پر علامہ شامی لکھتے ہیں:۔
”اگر کوئی بھی مسلمان مرتد ہو جائے تو اس کی توبہ قبول کی جائے مگر دو آدمیوں کی توبہ قبول نہ
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ہوگی (اور وہ واجب القتل ہی ٹھہریں گے)
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں ”جو سے ہونے کے باوجود تنہا ارتداد سے بھی عظیم ﷺ کو گالی دینا ارتداد بھی ہے اور اس سے بڑھ نکل جانے کی وجہ سے مرتد کا کفر دوبالا ہوگیا رسول ﷺ کی توہین کرنے والا جس نے اللہ او اذیت دی۔ اس کے کفر کا شدیدتر ہونا اولیٰ ہے کہ کفر کی انواع میں گالی کا فساد ارتداد سے بھی عظ
اب ہم اس کی تائید میں صحابہ کرام اس نام نہاد مسلمان کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کر د کیا اور بارگاہِ نبوت سے ”فاروق“ کا لقب پا دیا گیا جو حضور ﷺ کی توہین کی نیت سے سورۃ کے متعلق ان کا نقطہ نظر بتانے کے لئے ایک روای
”محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے مروی ہے کہ موسیٰ اشعریؓ کی جانب سے آیا۔ حضرت عمرؓ نے ایک آدمی کے متعلق بتایا کہ وہ مرتد ہوگیا۔ حضر سلوک کیا۔ اس نے کہا ہم نے اس کی گردن اڑا دن کے لئے قید و بند میں نہ رکھا کہ ہر روز اسے کہ وہ توبہ کر لیتا۔ پھر فرمایا: اے اللہ ! میں اس وق حکم دیا اور نہ ہی یہ بات سن کر راضی ہوا ۔“ اس
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ہوگی (اور وہ واجب القتل ہی ٹھہریں گے ) جو بار بار مرتد ہو اور جو نبی ﷺ کو گالی دے۔ علامہ ابن تیمیہ حنبلی لکھتے ہیں ”رسول کریم ﷺ کو گالی دینا کفر و قتال کی جنس میں سے ہونے کے باوجود تنہا ارتداد سے بھی عظیم جرم ہے۔ اس لئے ایک مسلمان کا رسول اللہ ﷺ کو گالی دینا ارتداد بھی ہے اور اس سے بڑھ کر جرم بھی ، جب دین میں داخل ہو کر اس سے نکل جانے کی وجہ سے مرتد کا کفر دوبالا ہو گیا ہے تو اس کا قتل کرنا عین واجب ہے بنا بریں رسول ﷺ کی توہین کرنے والا جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور تمام مومن بندوں کو اذیت دی۔ اس کے کفر کا شدید تر ہونا اولیٰ ہے۔ اس لئے وہ یقیناً قتل کا مستحق ہے اس لئے کہ کفر کی انواع میں گالی کا فساد ارتداد سے بھی عظیم تر ہے۔“
اب ہم اس کی تائید میں صحابہ کرام کا ردعمل دیکھتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق نے اس نام نہاد مسلمان کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کر دیا تھا جس نے حضور ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کیا اور بارگاہ نبوت سے ”فاروق“ کا لقب پایا تھا۔ اس کے علاوہ اس بندے کو بھی قتل کر دیا گیا جو حضور ﷺ کی توہین کی نیت سے سورۃ عبس کی تلاوت کرتا تھا۔ لیکن مطلق ارتداد کے متعلق ان کا نقطہ نظر بتانے کے لئے ایک روایت ملاحظہ ہو۔
”محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک آدمی ابو موسیٰ اشعریؓ کی جانب سے آیا۔ حضرت عمرؓ نے وہاں کے حالات دریافت کئے۔ اس نے ایک آدمی کے متعلق بتایا کہ وہ مرتد ہو گیا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: تم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ اس نے کہا ہم نے اس کی گردن اڑا دی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم نے اسے تین دن کے لئے قید و بند میں نہ رکھا کہ ہر روز اسے روٹی کھلاتے اور توبہ کا مطالبہ کرتے ممکن تھا کہ وہ توبہ کر لیتا۔ پھر فرمایا: اے اللہ ! میں اس وقت حاضر نہ تھا اور نہ ہی میں نے اس بات کا حکم دیا اور نہ ہی یہ بات سن کر راضی ہوا ۔“ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ کے نزدیک وہ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
آدمی جو حضور ﷺ کی گستاخی کا مرتکب ہو وہ تو فوراً ہی واجب القتل ہے لیکن مرتد پر اسلام پیش کرنا لازمی ہے۔
امام ابو حنیفہ، ان کے اصحاب سفیان اور اوزاعی کے متفقہ قول کے مطابق شاتم رسول کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ امام خیر الدین الحنفی فرماتے ہیں: ’’ہم کہتے ہیں جب کسی نے نشہ کی حالت میں حضور ﷺ کو گالی دی تو اسے معاف نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ اسے بطور حد قتل کر دیا جائے گا۔ حضرت ابوبکرؓ، امام اعظمؒ، البدری اور اہل کوفہ کا یہی مذہب ہے۔ امام مالک اور ان کے اصحاب کا بھی مشہور قول کے مطابق یہی مذہب ہے۔
اشباہ میں ہے کہ جب بھی کوئی کافر توبہ کرے گا تو اس کی توبہ دنیا اور آخرت میں مقبول ہوگی۔ مگر ایک جماعت کی توبہ قبول نہ ہوگی جو کسی نبی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہوا ہو۔‘‘ (فتاویٰ خیریہ ج ص 102-103) قاضی ثناء اللہ مظہری الحنفی اپنی کتاب تفسیر مظہری جلد نمبر چار کے صفحہ نمبر 131 پر لکھتے ہیں: ’’جو بھی نبی ﷺ کو گالی دے اسے قتل کر دیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ برابر ہے کہ وہ مومن ہو یا کافر۔‘‘ اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ اس مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’سید عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ ہزار ہا آئمہ دین کے نزدیک اصلاً قبول نہیں اور ہمارے علمائے حنفیہ میں سے امام بزازی و امام محقق علی الاطلاق ابن الہمام و علامہ مولیٰ خسرو صاحب درر و علامہ زین و ابن نجیم صاحب بحر الرائق و علامہ عمر بن نجیم و علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ و علامہ خیر الدین رملی صاحب و علامہ شیخ زادہ مدقق علی صاحبؒ نے اختیار فرمایا ہے۔ بداں تحقیق المسئلہ فی الفتاویٰ الرضویۃ اس لئے کہ عدم قبول توبہ صرف حاکم اسلام کے یہاں ہے کہ وہ اس معاملہ میں بعد توبہ بھی سزائے موت دے ورنہ اگر توبہ صدق دل سے ہے تو عنداللہ مقبول ہے کہیں یہ بدگو اس مسئلہ کو دستاویز نہ بنالیں کہ آخر توبہ قبول نہیں پھر کیوں تائب ہوں؟ نہیں نہیں
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
توبہ سے کفر مٹ جائے گا۔ مسل گے۔ (تمہید الایمان ص 41-42 مک مکتبہ دیوبند کے مقتدر عالم دین علا اذیت دینا کفر ہے۔ ہمارے آئمہ واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا ہے او
اگر کوئی توبہ کر لیتا ہے تو ا میت کے احکام نافذ ہوں گے جیسا ک صفحہ نمبر 394 پر لکھتے ہیں: ’’اور مختار ایسی بات کہے جو حضور ﷺ کی شان م اور اس کی توبہ سے اس کا قتل معاف نہی رجوع کرے یا توبہ کرے لیکن اگر وہ مسلمان میت کے احکام نافذ ہوں گے جائے گی اور اسے دفن کر دیا جائے گا۔ دے تو اس طریقے سے اس کی موت ک ہوگی اور اس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ جائے گا بلکہ اس کی شرمگاہ ڈھانپ د گا جیسا کہ کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہ (1) توہین رسالت کی سزا حبیب اللہ چشتی
عصمت رسول ﷺ پر حملے
توبہ سے کفر مٹ جائے گا۔ مسلمان ہو جاؤ گے اور جہنم ابدی سے نجات پاؤ گے۔ (تمہید الایمان ص 42-41 مطبوعہ سکھر)
مکتبہ دیوبند کے مقتدر عالم دین علامہ شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں: ’’بے شک حضور ﷺ کو اذیت دینا کفر ہے۔ ہمارے آئمہ نے اسے وضاحت سے بیان کیا ہے اور ایسے کافر کے واجب القتل ہونے کا فتویٰ دیا ہے اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘
اگر کوئی توبہ کر لیتا ہے تو اس سے اس کا قتل تو ساقط نہ ہوگا البتہ اس پر مسلمان میت کے احکام نافذ ہوں گے جیسا کہ علامہ حقی حنفی اپنی کتاب تفسیر روح البیان، جلد 3 کے صفحہ نمبر 394 پر لکھتے ہیں: ’’اور مختار قول یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسی بات کہے جو حضور ﷺ کی شان میں گستاخی پر دلالت کرے تو اس کو قتل کرنا واجب ہے اور اس کی توبہ سے اس کا قتل معاف نہیں ہوگا۔ اگر چہ وہ کلمہ شہادت پڑھے اور اپنے قول سے رجوع کرے یا توبہ کرے لیکن اگر وہ توبہ کے بعد مر گیا یا اسے بطور حد قتل کیا گیا تو اس پر مسلمان میت کے احکام نافذ ہوں گے۔ اس کو غسل دیا جائے گا۔ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے دفن کر دیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ اپنی گستاخی پر ڈٹا رہے اور توبہ سے انکار کر دے تو اس طریقے سے اس کی موت کفر پر سمجھی جائے گی اس کی وراثت مسلمانوں کے لئے ہوگی اور اس کو غسل نہیں دیا جائے گا۔ نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی اور اسے کفن نہیں پہنایا جائے گا بلکہ اس کی شرمگاہ ڈھانپ دی جائے گی اور اس پر مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا جائے گا جیسا کہ کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔‘‘ (1)
(1) توہین رسالت کی سزا حبیب اللہ چشتی ص 122 تا 128 اور 158,157
عصمت رسول ﷺ پر حملے
عصماء بنت مروان کی گستاخیاں
عصماء ایک یہودن تھی۔ وہ ہر وقت حضور ﷺ کی شان اقدس میں بدکلامی کرتی رہتی تھی اور لوگوں کو اسلام کے خلاف بھڑکاتی رہتی تھی۔ اس کی شر انگیزیاں جب حد سے گزر گئی تو حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ کو جب اس کی باتوں اور اشتعال انگیزیوں کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ اے اللہ ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر تو حضور ﷺ کو بخیر و عافیت مدینہ لوٹا دے تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا۔
رسول ﷺ اس وقت بدر میں تھے جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے۔ وہ عورت اپنے اہل خانہ کے ساتھ سورہی تھی اور اس کے ارد گرد اس کے بچے سو رہے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینے سے چمٹا دودھ پی رہا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ نے بچے کو الگ کیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھ کر اس کی پشت سے پار کر دیا۔ پھر صبح کی نماز رسول ﷺ کے ساتھ ادا کی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر رضی اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے بنت مروان کو قتل کر دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں۔ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ ڈرے کہ انہوں نے رسول ﷺ کی مرضی کے خلاف یہ کام نہ کیا ہو اس لئے عرض کی: ”یا رسول اللہ ﷺ! اس ضمن میں مجھ پر کوئی چیز واجب ہے؟“ فرمایا: نہیں دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتیں۔ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارد گرد دیکھا اور فرمایا کہ جب تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کو دیکھ لو۔
جب حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس عورت کے بیٹے لوگوں کی ایک جماعت عمیر رضی اللہ تعالیٰ کو دیکھ کر کہا: ”اے عمیر! فرمایا: ”ہاں! تم نے جو کرنا ہے کر لو۔ اگر قتل کر دوں گا یا اسی کوشش میں مارا جاؤں
عصماء کا تعلق بنو خطمہ سے تھا لیکن خوف کے باعث اپنے ایمان کو ظاہر جرأت مندانہ جواب سے اہل ایمان کے ہونے کا اعلان کر دیا۔
(1) توہین رسالت کی سزا از حبیب اللہ چشتی
(2) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کو دیکھ لو۔
جب حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول ﷺ کے پاس سے لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ اس عورت کے بیٹے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں۔ انہوں نے عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ کر کہا: ”اے عمیر! کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟“ فرمایا: ”ہاں! تم نے جو کرنا ہے کر لو۔ اگر تم سب وہ بات کہو جو وہ کہا کرتی تھی تو میں تمہیں بھی قتل کر دوں گا یا اسی کوشش میں مارا جاؤں گا“
عصماء کا تعلق بنو خطمہ سے تھا۔ اس قبیلہ کے کئی لوگ دل سے ایمان لا چکے تھے لیکن خوف کے باعث اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس جرأت مندانہ جواب سے اہل ایمان کے حوصلے بلند ہو گئے اور انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔
(۱) توہین رسالت کی سزا از حبیب اللہ چشتی ص 75-76
(۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوئم ص 436
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ابو رافع ملعون
حضرت براء بن عازبؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ابو رافع یہودی کے لئے انصار سے چند حضرات کو بھیجا اور حضرت عبداللہ بن عتیکؓ کو ان پر امیر مقرر فرمایا کیونکہ ابو رافع حضور ﷺ کو اذیت دیا کرتا تھا۔ سرزمین حجاز میں اس کا قلعہ تھا جب یہ حضرات وہاں پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا اور لوگ اپنے جانوروں کو لے جا رہے تھے۔
عبداللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آپ اسی جگہ بیٹھ جائیں۔ میں جاتا ہوں اور دربان سے کوئی بہانہ کر کے اندر جانے کی کوشش کروں گا۔ پس یہ دروازے کے نزدیک جا پہنچے اور اپنے کپڑے اس طرح سمیٹ کر بیٹھ گئے جیسے کوئی رفع حاجت کے لئے بیٹھ گیا ہو۔ سارے لوگ اندر داخل ہو گئے تو دربان نے انہیں آواز دی کہ اے اللہ کے بندے ! اگر اندر آنا ہے تو آجاؤ ورنہ میں دروازہ بند کرنے لگا ہوں وہ اندر داخل ہو کر ایک جانب چھپ گئے۔
جب لوگوں کی آمد و رفت ختم ہو گئی تو اس نے دروازہ بند کر کے چابیاں ایک کیل کے ساتھ لٹکا دیں۔ حضرت عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ میں اُٹھا، چابیاں لیں اور دروازہ کھولا ۔ ابو رافع کے پاس بالا خانے پر قصہ خوانی ہو رہی تھی۔ جب قصہ خوان اس کے پاس سے چلے گئے تو میں اس کی طرف چڑھنے لگا۔ میں جس دروازے کو کھولتا ، اس کو اندر سے بند کر دیتا تھا تاکہ کوئی دوسرا داخل نہ ہو سکے اور اگر لوگوں کو میرا پتہ لگ بھی جائے تو میں ان کے پہنچنے تک ابو رافع کا کام تمام کر دوں۔ آخر کار میں اس تک پہنچ گیا۔
وہ ایک اندھیرے کمرے میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو خواب تھا۔ گھر کے اندر مجھے یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ وہ کدھر ہے؟
عصمت رسول ﷺ پر حملے
پس میں نے اسے آواز دی: ”اے ابو رافع!“ اس نے کہا: ”کون ہے؟“ میں نے آواز کے مطابق تلوار سے وار کیا۔ میرا دل دھڑک رہا تھا وار اوچھا پڑا۔ وہ چلانے لگا تو میں کمرے سے باہر نکل آیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے پھر اندر جا کر پوچھا: ”اے ابو رافع! یہ آواز کیسی تھی؟“ اس نے کہا: ”تیری ماں تجھے روئے۔ ابھی ابھی ایک آدمی نے گھر میں تلوار سے مجھ پر وار کیا تھا۔
وہ فرماتے ہیں کہ آواز سنتے ہی میں نے تلوار کا بھر پور وار کیا لیکن وہ نہ مرا۔ پس میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھ کر دبائی تو اس کی کمر سے پار نکل گئی اور مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ پس میں ہر ایک دروازے کو کھول کر باہر نکلتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک منزل سے اترتے ہوئے جب میں نے قدم اٹھایا تو گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی۔ میں نے اسے اپنے عمامہ سے باندھ لیا اور دروازے پر بیٹھ گیا۔ پھر اپنے دل میں کہا کہ آج رات اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ جب تک مجھے اس کے مرنے کا یقین نہ ہو جائے۔
جب مرغ نے اذان دی تو ایک شخص قلعہ کی دیوار پر کھڑا ہو کر کہنے لگا: ”لوگو! اہل حجاز کا تاجر ابو رافع مر گیا ہے۔“
پس میں اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ ہمیں یہاں سے چلنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ابو رافع کو جہنم واصل کر دیا ہے پھر میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ عرض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا پاؤں پھیلاؤ۔“
عصمت رسول ﷺ پر حملے
میں نے اپنا پاؤں پھیلا دیا تو آپ ﷺ نے اس پر اپنا دستِ کرم پھیر دیا تو وہ ایسے ہو گیا جیسے اس میں سرے سے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔
(1) توہین رسالت کی سزا از حبیب اللہ چشتی ص 70، 71
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ابن خطل کی بدبختی
ابن خطل فتح مکہ سے پہلے مدینہ طیبہ میں حاضر ہوا اور مشرف بہ اسلام ہوا۔ اُسکا نام عبدالعزیٰ تھا۔ نبی ﷺ نے اس کو عبداللہ کے مبارک نام سے موسوم فرمایا اور صدقات و خیرات وصول کرنے کے لئے قبائل پر متعین فرمایا۔ ایک انصاری کو اس کے ہمراہ بھیجا تا کہ اس کی خدمت کرے۔ ایک دفعہ وہ اپنے خادم کو لے کر ایک قبیلہ میں گیا۔ اپنے خادم کو کھانا پکانے کا حکم دے کر سو گیا جب بیدار ہوا تو اسے پتہ چلا کہ خادم کھانا تیار کئے بغیر سو گیا ہے۔ اسے بہت غصہ آیا اور غصے سے بے قابو ہو کر اسے سوتے میں ہی قتل کر دیا۔ پھر مرتد ہو کر مکہ لوٹ آیا۔ قادر الکلام شاعر بھی تھا۔ مکہ آکر حضورﷺ کی ہجو میں اشعار لکھنے شروع کر دیئے۔ اس کی دو کنیزیں تھیں انہیں اپنے ہجویہ اشعار یاد کروا دیتا اور انہیں حکم دیتا کہ وہ یہ اشعار گایا کریں۔
جب فتح مکہ کا دن آیا تو اس نے ذرہ پہنی، اپنے ہاتھوں میں نیزہ پکڑا اور گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ اس نے قسم کھائی کہ میں محمد (ﷺ) کو زبردستی مکہ میں ہرگز داخل نہیں ہونے دوں گا۔ لیکن جب اس نے اللہ تعالیٰ کے شہسواروں کو دیکھا تو مرعوب ہو کر سیدھا کعبہ کی طرف گیا گھوڑے سے اترا، ہتھیار پھینک دیئے اور کعبہ شریف کے غلاف میں چھپ گیا۔
ایک آدمی نے اس کے ہتھیار لے لئے اور اس کے گھوڑے پر سوار ہو کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور اس کے بارے میں بتایا۔
سرکار دو عالم ﷺ نے حکم دیا کہ وہ جہاں ملے اسے قتل کر دو۔ جب رحمت العالمین ﷺ کعبہ کا طواف کرنے لگے تو صحابہ نے عرض کی:
’’یا رسول اللہﷺ! یہ ہے عبداللہ بن خطل۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اس کو قتل کر دو کعبہ کسی مجرم
عصمت رسول ﷺ پر حملے
بدکار کو پناہ نہیں دیتا۔‘‘
چنانچہ سعید بن حریث رضی اللہ تعالیٰ اور ابو برزہ الاسلمی رضی اللہ تعالیٰ نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کی دو کنیزیں جو ہجویہ اشعار گاتی تھیں ان کو بھی قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ ایک قتل ہوئی اور دوسری نے اسلام قبول کر لیا اور حضورﷺ نے اسے معافی دے دی۔ (1)
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد سوم ص 452، 453
﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿
اندلس کی تحریک شماتت رسول
850ء میں پرفیکٹس نامی ایک راہب بازار گیا۔ چند مسلمانوں نے اس سے سوال کیا کہ آیا محمد ﷺ عظیم پیغمبر ہیں یا عیسیٰ علیہ السلام۔ وہ اس سوال سے گھبرا گیا کہ کیا جواب دے۔ تھوڑی دیر ہچکچانے کے بعد اس نے محمد ﷺ پر جھوٹا مدعی نبوت، جنسی بے راہرو اور دشمن مسیح ہونے کے اعتراضات لگائے اور نبی ﷺ پر گالیوں کی بوچھاڑ کردی۔ جب اس معاملے کی خبر حکومت کو ہوئی تو پرفیکٹس کو فوراً جیل بھیج دیا گیا۔
قرطبہ میں اس واقعہ کا پیش آنا خلاف معمول تھا کیونکہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے باہمی تعلقات بہت اچھے تھے اور یہودیوں کی طرح عیسائیوں کو بھی اسلامی سلطنت میں مکمل آزادی تھی۔ اکثر ہسپانوی اس عظیم تہذیب کا حصہ ہونے پر فخر محسوس کرتے تھے۔
پرفیکٹس کی تقلید میں ایک چھوٹا سا طبقہ پیدا ہو گیا جس نے محمد ﷺ کو گالیاں دینا اپنا معمول بنالیا۔ اُن میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ جب پرفیکٹس کو قاضی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ سخت ڈرا ہوا تھا۔ قاضی نے اس بنا پر پرفیکٹس کو سزائے موت نہ سنائی کہ اس کو غلط انداز میں اشتعال دلایا گیا تھا جس کی وجہ سے اس نے یہ رویہ اختیار کیا۔ لیکن رہائی کے چند دن بعد پرفیکٹس نے پھر اس جرم کا اعادہ کیا۔
اس بار قاضی نے قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے پرفیکٹس کو سزائے موت سنا دی۔ عیسائیوں کے ایک گروپ نے اسے شہید قرار دیا اور بعد پھانسی اس کے جسم کے ٹکڑوں کی بطور تبرک تعظیم شروع کردی۔ چند دن کے بعد ایک اور راہب اسحاق نے بھی وہی حرکت کی جو پرفیکٹس نے کی تھی۔ اس کے قتل کے بعد جرمیاس اور اس کے چھ راہب ساتھیوں نے بھی وہی حرکت کی۔ نتیجے میں سب قتل کر دیئے گئے۔ اس تحریک میں تقریباً پچاس لوگوں
عصمت رسول ﷺ پر حملے
نے اپنی جانیں دیں۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اس تحریک کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی اور زیادہ تر پادری ہی لقمہ اجل بنے۔ کیونکہ عیسائی شرفاء اور عوام امیر عبدالرحمن کے اس قدر گرویدہ اور جانثار تھے کہ انہوں نے اپنی متحدہ کوشش سے عوام الناس کو پادریوں کے زہریلے اثر سے محفوظ رکھا۔ لین پول لکھتا ہے
”ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ مسیحی ”شہداء“ راہ راست سے بھٹکے ہوئے تھے۔ بے شک انہوں نے اپنی جانوں کو مفت ضائع کیا۔ انہوں نے جو بھی کیا فی الجملہ غلط کیا۔“
امیر عبدالرحمن نے اس تحریک کو ختم کرنے کے لئے ایک کلیسائی کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جو عیسائیوں کو نبی ﷺ کی بے ادبی سے روکتی۔ چنانچہ تمام بزرگ پادریوں کو ایک مجلس میں جمع کیا گیا اور بادشاہ کی طرف سے ایک بڑا عیسائی سرکاری عہدیدار اس مجلس میں شریک ہوا۔ اس مجلس میں فیصلہ ہوا کہ اس وقت تک جس قدر لوگ ’شہید‘ ہوچکے ہیں چونکہ تمام کلیساؤں نے ان کی ’ولایت‘ کو تسلیم کیا ہے لہٰذا وہ ہر قسم کے جرم سے بری کئے جاتے ہیں لیکن آئندہ جو شخص بھی ان کی پیروی کرے گا وہ مجرم اور خارج از مذہب سمجھا جائے گا۔
ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم ص 147 ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت از اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ ص 259،258
عصمت رسول ﷺ پر حملے
راج پال کا واقعہ
شیفتہ رسول کریم غازی علم الدین شہید 3 دسمبر 1908ء بمطابق 8 ذی قعدہ 1326ھ بروز جمعرات لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام طالع محمد تھا جو بڑھی تھے۔ لاہور میں راج پال نامی ایک کتب فروش تھا جس کی دکان پر بالعموم آریہ سماج کی مذہبی کتب فروخت ہوتی تھیں۔ اس کی دکان آج کی پان گلی، انارکلی سے ملحق تھی اس نے ایک دل آزار کتاب ”رنگیلا رسول (نعوذ باللہ)“ شائع کی جس کو ڈی اے وی کالج کے پروفیسر چھپاوتی نے لکھا تھا مگر کتاب پر اس کے مصنف کا نام تحریر نہیں تھا۔
پھر جب عدالت عالیہ نے بھی ظالموں کا ساتھ دیا تو 19 اکتوبر 1927ء کو کوہاٹ کے رہائشی عبدالعزیز نے اپنی دانست میں راج پال پر حملہ کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیا مگر وہ راج پال کا دوست جتندر داس نکلا۔ عدالت سے عبدالعزیز کو چودہ سال قید کی سزا سنائی گئی 27 دسمبر 1927ء کو لاہور کے ایک غیور شیر فروش خدا بخش نے راج پال پر قاتلانہ حملہ کیا جو ناکام ہوا۔ عدالت نے اسے سات سال قید کی سزا سنائی۔
آخر کار یہ سعادت سولہ اپریل 1929ء کو علم الدین شہید کے حصہ میں آئی اس نے راجپال ملعون کی دکان میں گھس کر اس کے دو ملازموں، دو ہندو سپاہیوں اور ایک سکھ حوالدار جو اس کی دکان پر حکومت کی جانب سے تعینات تھے، کے سامنے دن دیہاڑے اپنا خنجر اس کے سینے میں پیوست کر کے اس کو جہنم رسید کیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے مقدمہ کی پیروی کی مگر سزائے موت بحال رہی۔
غازی علم الدین شہیدؒ کی جان بچانے کے لئے مسلمان پریوی کونسل تک پہنچے۔ اس زمانے میں جب دیسی گھی پچھتر پیسے سیر، چینی ایک روپے کی چار سیر، گندم روپیہ کی ایک
عصمت رسول ﷺ پر حملے
من اور دودھ ایک آنے سیر فروخت تھا۔ اس مقدمہ پر اٹھارہ ہزار روپے خرچ آیا جو مسلمانوں نے بطور چندہ جمع کیا تھا۔ اکتیس اکتوبر کی صبح میانوالی جیل میں غازیؒ کو پھانسی دے دی گئی اور نو بجے جیل کے حکام نے شہید کے جسد خاکی کو بغیر نماز جنازہ خاموشی کے ساتھ جیل ہی میں دفن کرکے پہرہ لگا دیا۔
حکومت کی اس حرکت پر بالخصوص مسلمانان پنجاب بپھر گئے اور نہ رکنے والا ایجی ٹیشن شروع ہوگیا۔ مجبور ہو کر شہادت کے تیرہ روز بعد میت قبر سے نکالی گئی جو بالکل صحیح سلامت اور تروتازہ تھی۔ نعش کو جست کے صندوق میں رکھ کر اسپیشل ٹرین کے ذریعے لاہور لایا گیا۔
چودہ نومبر 1929ء بروز جمعرات ساڑھے دس بجے شمع رسالت ﷺ کے اس پروانے کا جنازہ اٹھا جو پانچ میل لمبا تھا۔ چھ لاکھ انسانوں نے شرکت کی، جس میں پورے ہندوستان کے ہر صوبے کے مسلمان شامل تھے۔ جنازے کی کیفیت دیدنی تھی۔ فضاء خوشبو ؤں سے عطر بیز تھی۔ جنازہ جدھر سے گزرتا، پھولوں کی بارش ہونے لگتی۔ صندوق پر سیاہ چادر تھی جس کے حاشیوں پر یہ شعر کڑھا تھا
بداں را بہ نیکاں بہ بخشند کریم
ہر شخص وفور جذبات کی تصویر بنا ہوا تھا لمحہ لمحہ شہادت کی پکار فضا میں گونج رہی تھی اور ہزاروں لوگ ’’بداں را بہ نیکاں بہ بخشند کریم‘‘ پڑھتے جا رہے تھے۔ چارپائی ، جس پر صندوق تھا کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیئے گئے تھے۔ اور ان بانسوں سے لوگوں نے اپنی پگڑیاں باندھ دی تھیں جن کو ہزار ہا لوگوں نے تھام رکھا تھا۔ ساری فضا کلمہ شہادت، تکبیر، غازی علم الدین زندہ باد اور اسلام زندہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی۔ اس زمانے
﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿
میں پرانی انارکلی اور چوبرجی کے درمیان کھیت ہوتے تھے۔ بارہ بجے ملتان روڈ پر یونیورسٹی گراؤنڈ کے قریب پرانی چاند ماری میں جہاں اب خوبصورت کوٹھیاں بنی ہیں وہاں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پھر چوبرجی سے میانی صاحب تک آدھے میل کا راستہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا۔ مولانا ظفر علی خان نے اپنی نگرانی میں قبر بنوائی ، وہ لحد میں اترے، لیٹے اور لمبائی ، چوڑائی کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں علامہ محمد اقبالؒ اور مولانا دیدار علی شاہ نے اپنے دست ہائے مبارک سے اس عاشق رسول اور عصمت رسول ﷺ کے پاسبان کو سپرد خاک کیا۔
اکتیس اکتوبر 1929ء صبح قیدی نمبر 105 یعنی غازی علم الدین شہید کو میانوالی جیل میں قید رکھا ہوا تھا اور کوٹھڑی کے اندر اور باہر سخت پہرہ تھا۔ نواب دین وارڈن جیل چاق و چوبند ، ہاتھوں میں بندوق لئے عالم اضطراب میں قیدی کی کال کوٹھڑی کے کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف چکر لگا رہا تھا۔ اس کی نظریں بار بار اس قیدی پر مرکوز ہو جاتی تھیں جو نماز عشاء کے بعد سے تلاوت میں مشغول تھا۔
اسی اثناء میں کئی بار اس قیدی کی جبیں سجدہ ریز ہوئی۔ عجیب نظارہ تھا صبح کی اذان میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ نواب دین کو ایک لمحہ کے لئے اونگھ آ گئی۔ اسی لمحے قیدی اپنی کال کوٹھڑی سے غائب ہو چکا تھا۔ نواب دین نے بندوق کو بغل میں دبا کر پریشان نظروں اور لرزتے ہاتھوں سے کال کوٹھڑی کے مضبوط تالے کو اچھی طرح جھنجھوڑ کر دیکھا۔ تالا بند تھا اور دیوار میں کوئی شگاف بھی نہ تھا۔ خوف، اندیشے اور وسوسے اس کے ذہن پر مسلط ہو گئے اور عالم حیرانی و پریشانی میں اس کی آنکھیں اس قیدی کو ادھر ادھر تلاش کر رہی تھی ایک بار پھر اس کی نگاہ کال کوٹھڑی کی طرف اٹھ گئی جہاں اب اندھیرے کی جگہ نور کا سیلاب آیا ہوا تھا اور وہی قیدی فرش پر خشوع و خضوع سے بیٹھا عرش بریں کی طرف نگاہیں اٹھائے خاموشی کی زبان میں کسی سے ہم کلام تھا۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے 176
نواب دین کا بیان ہے کہ کال کوٹھڑی بقعہ نور بن چکی تھی اور ایک نورانی صورت بزرگ مصلے پر بیٹھے ہوئے قیدی نمبر 105 کے سر پر دستِ شفقت پھیر رہے تھے۔ نواب دین ان کی زیارت کے لئے کوٹھڑی کی سلاخوں کے قریب آیا ہی تھا کہ وہ مہمان بزرگ غائب ہو گئے۔ پس قیدی رہ گیا جو تسبیح و تہلیل میں مصروف تھا اور جس کو علی الصبح تختہ دار پر لٹکایا جانا تھا۔ صبح کو جب اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جانے لگے تو میں نے اللہ کا واسطہ دے کر اسے روکا اور پوچھا کہ للہ بتائیے کہ وہ بزرگ کون تھے؟ اس نے تامل کیا لیکن تھوڑی دیر بعد میرا پرزور اصرار ملاحظہ کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ وہ بزرگ ہستی نبی مہربان ﷺ خود تھے۔ (1)
(1) زیارت نبی بحالت بیداری از محمد عبدالمجید صدیقی
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ایک ڈوگر
16 مئی 1937ء رات ہوئے مختلف عقائد و مذاہب کے فو ڈوگرے اور مسلمان سپاہی بڑھ چ ڈوگرے نے بلند آواز میں مترنم لہ مٹھاس اور عقیدت کے رنگ نے فضا کھسک کر اس کے گرد آ کر بیٹھ گئے (ﷺ)۔ ہندو نعت گو بارگاہِ رسال پیش کر رہا تھا کہ جوش مسرت سے مسل مبارک مذکور کے منہ سے نکلا، دوسرا ڈ ساتھی کو تنبیہ کی اور کہا: ”________ محمد (ﷺ) کی اور کا نام لو________ تو ہندو دھرم یہ تمام کاروائی محمد ﷺ میں کافی ہلچل مچ گئی۔ ان میں ایک انداز میں گستاخ ڈوگرے سے کہا کہ نام نامی اچھا لگتا ہے اگر تمہیں پسند نہ کی بکواس کی تو زبان کھینچ لوں گا۔ یہ کہا تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔“ میاں مح
ی ی@PAGE 177 ﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ایک ڈوگرہ فوجی کی غلیظ حرکت
16 مئی 1937ء رات کے چھ بجے تھامس ماؤنٹ چھاؤنی کے قلعے میں بیٹھے ہوئے مختلف عقائد و مذاہب کے فوجی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ان میں دو ہندو ڈوگرے اور مسلمان سپاہی بڑھ چڑھ کر اس گفتگو میں حصہ لے رہے تھے۔ ایک ہندو ڈوگرے نے بلند آواز میں مترنم لہجے میں نعت پڑھنا شروع کر دی۔ خوش الحانی، لہجے کی مٹھاس اور عقیدت کے رنگ نے نعت کا مزہ دوبالا کر دیا۔ مسلمان فوجی اپنی جگہوں سے کھسک کر اس کے گرد آ کر بیٹھ گئے۔ اس نعت کا آخری مصرعہ تھا ”واہ واہ پیارے محمد (ﷺ)“۔ ہندو نعت گو بارگاہِ رسالت میں اپنا نذرانہ عقیدت کچھ اس والہانہ انداز میں پیش کر رہا تھا کہ جوش مسرت سے مسلمانوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ جونہی محمد عربی ﷺ کا اسمِ مبارک مذکور کے منہ سے نکلا، دوسرا ڈوگرہ سپاہی جل بھن گیا۔ اس نے غلیظ الفاظ میں اپنے ساتھی کو تنبیہ کی اور کہا:
”__________________ محمد (ﷺ) کو __________________ کرو __________________ کسی اور کا نام لو__________________ تو ہندو دھرم کا مجرم ہے اور تیرا پاپ ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا۔“
یہ تمام کاروائی محمد ﷺ کے شیدائیوں کے سامنے ہوئی جس سے ان کے دلوں میں کافی ہلچل مچ گئی۔ ان میں ایک مسلمان فوجی کا نام میاں محمد تھا جس نے بڑے جذباتی انداز میں گستاخ ڈوگرے سے کہا کہ تو نے جو کیا ہے بہت غلط کیا ہے۔ تمہارے ساتھی کو یہ نام نامی اچھا لگتا ہے اگر تمہیں پسند نہیں تو خاموشی سے یہاں سے چلا جا اور اگر آئندہ اس قسم کی بکواس کی تو زبان کھینچ لوں گا۔ بدکلام ڈوگری سپاہی نے جواب دیا: ”مجھے اس سے روکنے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔“ میاں محمد کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور وہ ہونٹ چباتے ہوئے
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿178﴾
بولے: ”میں تمہیں جلد ہی بتا دوں گا کہ میرا حق ہے یا نہیں۔“
اس کے بعد انہوں نے جا کر حوالدار کو تمام واقعہ کی تفصیل بتائی اور اپنے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ معافی کا خواستگار نہ ہوا تو میرے لئے اپنی جان پر کھیلنا فرض ہو جائے گا۔ حوالدار نے صرف اتنا کہا کہ وہ اسے سمجھا دے گا مگر اسے معافی مانگنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ جب شکایت پر کوئی شنوائی نہ ہوئی تو میاں محمد گم سم اپنی بیرک میں پہنچا۔ وردی تبدیل کی اور نماز عشاء پڑھی۔ پھر مزید کچھ نوافل پڑھنے کے بعد اس مسئلہ پر غور وفکر کرنے لگا۔ بالآخر عقل مات کھا گئی اور عشق بازی لے گیا۔
نماز اور دُعا سے فراغت کے بعد میاں محمد چپکے سے کوارٹر گارڈ جا پہنچے۔ جہاں وہ بدبخت گارڈ ڈوگرہ سپاہی اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔ میاں محمد اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گارڈ روم میں داخل ہو گئے اپنی رائفل لوڈ کر کے باہر نکلے اور اسے للکارتے ہوئے بولے:
”ارے کمبخت ______ اب بتا کہ میرے نبی ﷺ کی شان میں توہین کا مرتکب ہونے پر میں تم سے باز پرس کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟“ یہ سنتے ہی ڈیوٹی پر متعین شاتم رسول نے بھی پوزیشن سنبھال لی اور رائفل کا رخ میاں محمد کی طرف کر دیا مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور قدم اٹھاتا۔ عاشق رسول کی ایک گولی اس کے سینے کے پار ہوگئی میاں محمد رائفل کی دس گولیاں اس کے سینے میں اتارنے کے بعد اس کے چہرے پر سنگین ضربیں لگاتے رہے اور ساتھ ساتھ کہتے: ”بے غیرت! اس ناپاک اور گندی زبان سے تو نے میرے پیارے رسول ﷺ کی شان میں بکواس کی تھی۔ جی چاہتا ہے کہ تیرا پلید جسم کتوں اور کوؤں سے نچوا دوں۔
ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق مردے کے چہرے کل پانچ ضربیں لگی ہوئی تھیں جب میاں محمد کو اس مردود کے واصل جہنم ہونے کا یقین ہو گیا تو خطرے کی گھنٹی انہوں
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
نے خود بجائی اور بگلر کو مسلسل بگل بجانے نے ایک مسلمان افسر کو گرفتاری پیش کی وقوعہ کی شب وہ اپنے افسر انہیں مقدمے کی تفتیش کے لئے پولیس میں لایا گیا تا کہ فوجی قانون کے تحت باوجود ان کے گھر والوں کو خبر مل گئی ایڈوکیٹ کے سپرد کر دیا۔ طبی معائنے تک کورٹ مارشل جاری رہا۔ حسب ضابطہ کورٹ مارشل کمانڈر انچیف کو دیئے جس نے منظور سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا گیا پانچ اکتوبر 1937ء کو وائسرائے ہند پریوی کونسل میں بھی اپیل کی گئی لیکن بالآخر بارہ اپریل 1938ء بارہ اپریل کی درمیانی شب کال کوٹ سفید لباس زیب تن کیا۔ کلاہ باندھ کے والد آخری وقت تک وہاں موجو آپ بڑی شان وشوکت سے چل کر مدینہ منورہ کی طرف کیا اور بڑی م پھانسی کا پھندہ قبول کیا اور آخر وقت
عصمت رسول ﷺ پر حملے
نے خود بجائی اور بگلر کو مسلسل بگل بجائے رکھنے کا کہا۔ یونٹ کے لوگ جمع ہو گئے تو انہوں نے ایک مسلمان افسر کو گرفتاری پیش کی۔
وقوعہ کی شب وہ اپنے افسران کی کڑی نگرانی میں رہے۔ سترہ مئی 1937ء کو انہیں مقدمے کی تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پھر دس دن بعد واپس یونٹ میں لایا گیا تا کہ فوجی قانون کے تحت ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ فوج کی لاکھ کوشش کے باوجود ان کے گھر والوں کو خبر مل گئی۔ انہوں نے یہ مقدمہ معروف قانون دان اصغر علی ایڈوکیٹ کے سپرد کر دیا۔ طبی معائنے کے بعد غازی صاحب کا سولہ اگست سے بیس اگست تک کورٹ مارشل جاری رہا۔
حسب ضابطہ کورٹ مارشل کے فیصلے کی توثیق کے لئے کاغذات انڈین آرمی کے کمانڈر انچیف کو دیئے جس نے منظوری دے دی۔ 23 ستمبر کو فوجی رواج کے مطابق انہیں سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا گیا۔ غازی صاحب کے والد صوبیدار (ر) غلام محمد نے پانچ اکتوبر 1937ء کو وائسرائے ہند کے پاس اپیل کی جو مسترد کر دی گئی۔ اس کے بعد پریوی کونسل میں بھی اپیل کی گئی لیکن اس کو بھی مسترد کر دیا گیا۔
بالآخر بارہ اپریل 1938ء کے دن آپ کو پھانسی دینے کا فیصلہ ہوا۔ گیارہ اور بارہ اپریل کی درمیانی شب کال کوٹھڑی میں اپنے والد سے ملاقات کی۔ صبح غسل کر کے سفید لباس زیب تن کیا۔ کلاہ باندھ کر اپنی پگڑی اپنے والد صاحب کے حوالے کر دی۔ ان کے والد آخری وقت تک وہاں موجود رہے بلکہ کنٹوپ بھی انہوں نے خود ہی بیٹے کو پہنایا۔ آپ بڑی شان وشوکت سے چل کر تختہ دار پر جا کھڑے ہوئے۔ نعرۂ تکبیر بلند کیا پھر چہرہ مدینہ منورہ کی طرف کیا اور بڑی عقیدت سے سر جھکا لیا۔ کلمہ شہادت کا ورد کرتے ہوئے پھانسی کا پھندہ قبول کیا اور آخر وقت تک قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
یہ واقعہ بروز منگل دس صفر المظفر 1357 ھ بمطابق بارہ اپریل 1938ء پیش آیا۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے شہادت کی تصدیق کر دی۔ پھر اس کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی۔ فساد امن کے خطرے کے باعث لاش کو وطن لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آخر کار انہیں مدراس سنٹرل ریلوے سٹیشن سے تین میل دور ایک بڑے قبرستان میں معروف ولی اللہ حضرت پیر دستگیر ساویؒ کے مزار اور مسجد کے درمیان سپرد خاک کر دیا گیا۔ وصال کے وقت چہرہ پر نور تھا اور ماحول معطر تھا۔ بارہا ان کی قبر سے تلاوت قرآن پاک کی آواز سنی گئی۔
قبر کے ساتھ نصب پتھر پر قرآن پاک کی ایک آیت کے ساتھ یہ درج تھا۔
بلوچ رجمنٹ فرزند غلام محمد صوبیدار بمقام تلہ گنگ
ضلع کیملپور (پنجاب)
تاریخ وفات: دس صفر المظفر 1357ء بمطابق بارہ اپریل 1938ء
(1) ہفت روزہ ہلال ص 155-151
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
رام گوپال کا واقعہ
ہندوستان کے ایک قصبہ ”پلول“ ضلع گڑگانواں کے ایک ہندو ڈاکٹر رام گوپال نے جو شفاخانہ حیوانات میں کام کرتا تھا اپنے ہسپتال کے ایک گدھے کا نام محسن انسانیت ﷺ کے اسم گرامی پر رکھا (نعوذ باللہ)۔ یہ خبر ایک دن زمیندار اخبار نے شائع کی تو اس بدذات کی اس شرمناک جسارت کی خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی اور مسلمانوں نے آگ بگولہ ہوکر صدائے احتجاج بلند کی۔ جب نقض امن کا خطرہ بڑھا تو مصلحتاً اس ڈاکٹر کا تبادلہ وہاں سے ضلع حصار کے قصبہ نارنوند میں کر دیا گیا۔
مرید حسین ایک صوم وصلوٰۃ کا پابند عاشق رسول مسلمان تھا۔ ایک رات خواب میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے دائیں ایک بندے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس گستاخ کو سزا دو۔ وہ رام گوپال ہی تھا۔ غازی مرید حسین پہلے ہی متعصب ہندوؤں کی حرکتوں سے رنجیدہ خاطر رہتے تھے کہ ڈاکٹر رام گوپال کی اس قبیح حرکت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ چنانچہ آپ نے اصرار کر کے ماں سے رخصت کی اجازت لی کہ وہ ایک اہم کام پر جا رہے ہیں۔
بھیرہ پہنچ کر بھائی کو بھی اطلاع دے دی۔ وہاں سے چاچڑ شریف اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عرض مدعا پیش کیا اور دعا کی درخواست کی۔ پیر صاحب نے گلے لگا کر رخصت کیا۔ راستے میں ایک دوست کے ہاں ٹھہرے۔ دوست نے ایک ہندو دھوبی سے کپڑے دھلوا دیئے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر پہننے سے انکار کر دیا کہ یہ ہندو دھوبی کے دھوئے ہوئے ہیں۔
وہاں سے سیدھے چکوال گئے اور ڈاک خانہ سے اپنی جمع پونجی سات سو روپے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
نکلوائی (اس زمانے میں سات سو روپے آج کے ستر ہزار سے بھی زیادہ تھے) اور کسی کو بتائے بغیر اپنے مشن پر روانہ ہو گئے۔ حصار پہنچ کر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر ایک ماہ کی چھٹی پر پشاور چلا گیا ہے۔ چنانچہ وہ ڈاکٹر کا تعاقب کرتے ہوئے جب پشاور پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ واپس جاچکا ہے۔
چھ اگست 1936ء کو دوبارہ حصار پہنچ گئے پوچھتے پوچھتے اس ہسپتال جا پہنچے جہاں گستاخ زمانہ ڈاکٹر متعین تھا۔ خواب میں بتائے گئے حلیے کی مدد سے اسے تلاش کر لیا۔ ڈاکٹر کی رہائش گاہ جو ہسپتال سے متصل تھی دیکھی اور حالات کا جائزہ لیا پھر کسی مسلمان کے گھر میں جا کر نماز ادا کی۔
اگست کا مہینہ تھا۔ ڈاکٹر اپنے گھر کے صحن میں گھنے درختوں کے سائے میں سو رہا تھا۔ غازی مرید حسین نے جب اس کے صحن میں قدم رکھا تو ڈاکٹر پر نظر پڑی۔ قریب ہی ڈاکٹر کی بیوی کشیدہ کاری میں مصروف تھی۔ ملازم اندر باہر پھر رہے تھے۔ مرید حسین نے اسے دیکھتے ہی بلا خوف وخطر ”اللہ اکبر“ کا نعرہ لگایا اور کہا ”او گستاخ کافر اُٹھ! آج محمد ﷺ کا پروانہ آہی گیا ہے۔“
بیوی شوہر سے بولی : ”رام گوپال! اٹھو کوئی مسئلہ آ گیا ہے۔“
رام گوپال بیوی کی آواز سن کر جاگا۔ اس کی بیوی اور نوکر چاکر مرید حسین کو پکڑنے کے لئے لپکے لیکن انہوں نے آن کی آن میں خنجر موذی کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ جب انہوں نے اسے گرتے دیکھا تو فوراً خنجر نکال کر قریبی تالاب میں پھینکا اور خود بھی اس کے اندر چھلانگ لگادی اور تیرنے لگے۔
پولیس نے فوراً تالاب کو گھیرے میں لے لیا۔ غازی مرید حسین نے پوچھا: تم میں سے کوئی مسلمان ہے؟ اتفاق سے مقامی تھانیدار مسلمان تھا۔ انہوں نے فوراً اس کے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ہاتھ گرفتاری دے دی۔ اخبارات سے اطلاع حصار پہنچے اور مقدمے کی پیروی شروع کر دی کے دوران نماز کی اجازت طلب کر کے ن چوتھے دن سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا۔ ا سماعت کی مگر سزائے موت بحال رہی۔ ا انہوں نے اپیل خارج کر کے سزائے موت جیل کی جس کال کوٹھری میں غاز قتل کا ایک ہندو مجرم قید تھا۔ وہ غازی صاح متاثر تھا۔ ایک دن اس نے غازی صاح ششدر ہو کر بولا : میری کچھ راہنمائی فرما ہوں۔ انہوں نے اسے اسلام قبول کرنے ک اس کا نام غلام رسول رکھا۔
چوبیس ستمبر 1937ء جمعۃ المبار درود پاک پڑھ رہے تھے۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ انہوں نے کہا : ”میں اپنا کلام کر رہا ہوں، آ کہتے ہیں کہ ایک خفیف سے جھٹکے اور یاد روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ (1)
(1) ہفت روزہ ہلال ص 50
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ہاتھ گرفتاری دے دی۔ اخبارات سے اطلاع پاتے ہی غازی صاحب کی والدہ اور بھائی حصار پہنچے اور مقدمے کی پیروی شروع کر دی۔ حصار کی ضلع کچہری میں مقدمے کی سماعت کے دوران نماز کی اجازت طلب کر کے نماز ادا کی۔ تین دن سماعت ہوتی رہی آخر کار چوتھے دن سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا۔ ایک درخواست کے نتیجے میں مقدمے کی دوبارہ سماعت کی مگر سزائے موت بحال رہی۔ اس پر ہائی کورٹ میں اپیل کی سماعت ہوئی لیکن انہوں نے اپیل خارج کر کے سزائے موت بحال رکھی۔
جیل کی جس کال کوٹھڑی میں غازی صاحب قید تھے ان کے ساتھ والی کوٹھڑی میں قتل کا ایک ہندو مجرم قید تھا۔ وہ غازی صاحب کی عبادت گزاری اور بے باکی سے بہت متاثر تھا۔ ایک دن اس نے غازی صاحب کے کمرے کو نور سے منور دیکھا تو حیران و ششدر ہو کر بولا: میری کچھ راہنمائی فرمائیں کہ میں آپ کا پڑوسی ہوں اور روشنی کا طالب ہوں۔ انہوں نے اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جو اس نے قبول کر لی۔ آپ نے اس کا نام غلام رسول رکھا۔
چوبیس ستمبر 1937ء جمعۃ المبارک کی صبح انہیں پھانسی دی گئی۔ آپ اس وقت درود پاک پڑھ رہے تھے۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے کہا: ”زبان کو حرکت نہ دو۔“ انہوں نے کہا: ”میں اپنا کام کر رہا ہوں، آپ اپنا کام کریں۔“ کہتے ہیں کہ ایک خفیف سے جھٹکے اور یادگار مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ (1)
(1) ہفت روزہ ہلال ص150-147
عصمت رسول ﷺ پر حملے
شہیدان وفا
توہین و اہانت رسول ﷺ کی ایک طویل داستان ہے جو بیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میں عروج پر تھی اس عرصے میں اہانت رسول ﷺ کی ایک منظم اور مربوط تحریک اُٹھی جس کا مقصد بقول حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبالؒ یہ تھا
روح محمد ﷺ ان کے بدن سے نکال دو
مسلمانوں کے بدن سے روح محمد ﷺ نکالنے کی اس ناپاک سازش کا منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ غازیوں کی ایک پاکیزہ و مطہر جماعت شہیدان وفا کے روپ میں ڈھل گئی اس سلسلہ میں آسمان شہادت کے جن دمکتے ستاروں سے ہم اپنی اس کوشش (کتاب ہذا) کو مزین کرتے ہیں ان میں
- ۱۔ غازی عبدالرشید شہیدؒ
- ۲۔ غازی عبدالقیوم شہیدؒ
- ۳۔ غازی محمد صدیق شہیدؒ
- ۴۔ غازی عبداللہ شہیدؒ
- ۵۔ غازی منظور حسین شہیدؒ
- ۶۔ غازی امیر احمد شہیدؒ اور غازی عبداللہ شہیدؒ
اور دیگر ازیں علاوہ غازی علم الدین شہیدؒ، غازی مرید حسین شہیدؒ اور غازی ملک میاں محمد شہیدؒ جن کا ذکر مفصل پہلے ہو چکا ہے۔ دراصل مشتے از خروارے ہیں۔ عاشقان رسول ﷺ کی طویل ترین تاریخ سے بطور نمونہ یہ چند واقعات پیش خدمت ہیں۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
غازی عبدالقیوم شہید
1933ء کے اوائل میں جب سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا ان دنوں آریہ سماج حیدرآباد (سندھ) کے سیکریٹری نتھو رام نے ”ہسٹری آف اسلام“ کے نام کی ایک کتاب شائع کی جس میں نبی ﷺ کی شانِ اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا۔
مسلمانوں میں اس کتاب کی اشاعت کے سبب بڑا اضطراب پیدا ہوا۔ جس سے متاثر ہو کر انگریزی حکومت نے کتاب کو ضبط کیا اور نتھو رام پر عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ جہاں اس پر معمولی سا جرمانہ ہوا اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عدل وانصاف کی اس کمی نے نتھو رام کا حوصلہ بڑھا دیا۔ اس نے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کر دی۔
ستمبر 1934ء میں ملزم ”نتھو رام“ کی اپیل کراچی میں سنی جا رہی تھی عدالت کا کمرہ وکیلوں اور شہریوں سے بھرا پڑا تھا۔ عدالت دو انگریز ججوں پر مشتمل تھی۔ ”عبدالقیوم“ نامی ہزارے کا ایک نوجوان بھی وہاں موجود تھا۔ وہ دوسرے شہریوں کے ساتھ وکلاء کی قطار کے پیچھے نتھو رام کی برابر والی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ عین مقدمے کی سماعت کے دوران وہ اپنا تیز دھار چاقو لے کر نتھو رام پر ٹوٹ پڑا اور اس کی گردن پر وار کر کے اسے قتل کر دیا۔
اس لرزہ خیز واقعہ سے کمرۂ عدالت میں بھگدڑ مچ گئی۔ دونوں انگریز جج خوفزدہ ہو کر اپنے چیمبرز میں بھاگ گئے۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس کے بھی اوسان خطا ہو چکے تھے۔ وکلاء اور شہریوں نے بھگدڑ مچا رکھی تھی۔
غازی عبدالقیوم اگر فرار ہونا چاہتا تو بڑی آسانی سے ہجوم میں شامل ہو کر باہر نکل سکتا تھا۔ لیکن وہ انتہائی نفرت وحقارت کے ساتھ مقتول نتھو رام کو دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد لوگ
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿186﴾
دوبارہ کمرۂ عدالت میں داخل ہوئے ۔ جج اپنی نشستوں پر آگئے اور پولیس عبدالقیوم کی طرف بڑھی اس نے گرفتاری پیش کر دی ۔ جج نے نتھو رام کو قتل کرنے کی وجہ پوچھی تو عبدالقیوم نے کہا کہ اگر کوئی تمہارے بادشاہ کی توہین کرے تو کیا تم اسے زندہ چھوڑو گے؟ اس ہندو نے میرے آقا ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے جسے میری غیرت گوارہ نہیں کر سکتی ۔
غازی عبدالقیوم پر مقدمہ چلا ۔ آخر کار سیشن جج نے اسے سزائے موت کا حکم دیا ۔ سزائے موت ملنے پر وہ بے حد خوش تھے لیکن باقی مسلمانوں کے دل بے چین تھے اور وہ انہیں سزا سے بچانا چاہتے تھے ۔ چنانچہ انہوں نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی مگر ہائی کورٹ نے اپیل خارج کر دی۔ اس کے بعد جیل حکام نے ایک رات چپکے سے غازی عبدالقیوم کو پھانسی دے کر شہید کر دیا اور راتوں رات ”میوہ شاہ“ قبرستان میں دفن کر دیا گیا ۔
علی الصبح شہادت کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی ۔ مسلمانوں کو اس بات کا بہت زیادہ صدمہ ہوا کہ حکومت نے انہیں شہید کے آخری دیدار اور نماز جنازہ پڑھنے سے محروم کر دیا تھا۔ چنانچہ ہر طرف سے مسلمان ”میوہ شاہ“ قبرستان میں پہنچنا شروع ہو گئے ۔ قبر کھول کر نعش مبارک نکالی میدان میں صفیں باندھ کر نماز جنازہ ادا کی ۔ پھر یہ طے پایا کہ نعش جلوس کی صورت میں شہر کی بڑی عیدگاہ لے جا کر دوبارہ نماز جنازہ پڑھائی جائے ۔
جب جلوس ”چاکیواڑہ“ سے گزر رہا تھا تو پولیس نے فائرنگ شروع کر دی جس سے ایک سو ساٹھ آدمی شہید ہوئے اور صد ہا زخمی ہو گئے ۔ اس کے باوجود مسلمانوں کا اصرار تھا کہ جلوس عیدگاہ ضرور جائے گا ۔ لیکن کراچی کے چند مقتدر مسلمانوں نے حکومت کو خوش رکھنے کے لئے اس کی مخالفت کی اور واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے
عصمت رسول ﷺ پر حملے غازی عبدالقیوم شہید کی نعش مبارک کو ”میوہ
(1) شہید ناموس رسالت عامر عبدالرحمن چیمہ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
غازی عبدالقیوم شہید کی نعش مبارک کو ”میوہ شاہ“ قبرستان میں لے جا کر دفن کر دیا۔ (1)
(1) شہید ناموس رسالت عامر عبدالرحمن چیمہ ترتیب و تدوین : محمد متین خالد ص 43-41
عصمت رسول ﷺ پر حملے
غازی عبدالرشید شہیدؒ
قاضی عبدالرشید پیشہ کے لحاظ سے خوش نویس تھے اور دہلی سے شائع ہونے والے اخبار ”ریاست“ میں کتابت کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان میں شدھی اور سنگٹھن کی تحریکیں شروع تھیں۔ ان تحاریک کے پس منظر میں ایک شخص ”سوامی شردھانند“ پوری سرگرمی سے لگا رہا۔
اس نے مسلمانوں اور قرآن پاک کے خلاف ہتک آمیز تحریریں لکھنی شروع کر دی۔ شردھانند کے ایک چیلے نے ”بڑپٹ“ نامی کتاب لکھی جس میں نبی ﷺ سمیت دیگر انبیاء کرام خاص کر حضرت ابراہیمؑ ، حضرت لوطؑ ، حضرت ایوبؑ اور حضرت اسحاقؑ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ مسلمان ہندو راہنماؤں کی ناپاک حرکتوں سے سخت پریشان اور نالاں تھے۔
قاضی عبدالرشید اپنے دفتر میں، آریہ سماجیوں کے جو اخبارات و رسائل اور دیگر پمفلٹ وغیرہ تبادلہ کی غرض سے آتے تھے، انہیں بڑے غور و سنجیدگی سے پڑھتے ۔ آریہ سماجیوں کی نجس و ناپاک حرکتوں سے ان کے جذبات بے انتہا مجروح ہوئے اور اس کے سبب وہ گم سم رہنے لگے۔ کام میں دل نہ لگتا۔ 23 دسمبر 1928ء کو اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے کیلئے جوڑی جا رہی تھی۔ قاضی صاحب نہ آئے چند اشتہار کے چربے اور مسودے انہی کے پاس تھے۔
آخر کافی دیر کے بعد وہ اخبار کے دفتر پہنچے تو ہیڈ کاتب نے اعتراض کیا تو انہوں نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ مجھے نوکری کی کوئی پرواہ نہیں۔ اپنے سردار کو کہہ دو میں کام نہیں کرتا۔ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلے گئے ۔ سہ پہر کو انہوں نے شردھانند کو اس کے دفتر میں گولی
عصمت رسول ﷺ پر حملے
مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس آئی اور اس نے انہیں میں اقبال ”جرم“ کیا۔ 15 مارچ 1926ء کو سیشن کورٹ کورٹ میں اپیل دائر کی گئی لیکن مسترد ہو عبدالرشید نے دہلی سنٹرل جیل میں پھانسی پ معروف روحانی شخصیت حضرت خواجہ باقی با
(1) شہید ناموس رسالت عامر عبدالرحمن چیمہ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس آئی اور اس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ انہوں نے عدالت میں اقبال ”جرم“ کیا۔
15 مارچ 1926ء کو سیشن کورٹ سے پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی لیکن مسترد ہو گئی۔ اگست 1927ء کے اوائل میں قاضی عبدالرشید نے دہلی سنٹرل جیل میں پھانسی کے تختے پر جام شہادت نوش کیا اور ان کی تدفین معروف روحانی شخصیت حضرت خواجہ باقی باللہ کے مزار سے ملحقہ قبرستان میں ہوئی۔ (1)
(1) شہید ناموس رسالت عامر عبدالرحمن چیمہ ترتیب و تدوین: محمد متین خالد ص 48-46
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿ 190 ﴾
غازی عبداللہ انصاری شہید
1938ء میں ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں چک نمبر ”24 چوٹی“ کے ساکن ایک شخص مسمی نور محمد جٹ کے ایک شادی شدہ عورت سے ناجائز تعلقات استوار ہو گئے ۔ دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے اور کوشاں رہنے لگے کہ کسی طرح ان کی آپس میں شادی ہو جائے۔
عورت چونکہ پہلے ہی شادی شدہ تھی اس لئے انہوں نے مشورہ کیا کہ اگر اسلام سے منہ موڑ لیں اور عیسائیت اختیار کر لیں تو شاید ہمارا مسئلہ حل ہو جائے۔ چنانچہ انہوں نے ”سانگلہ ہل“ جا کر ایک عیسائی پادری کے ہاتھوں عیسائیت اختیار کر لی پھر بھی جب ان کی خواہش کے مطابق مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ بھاگ کر امرتسر چلے گئے اور سکھ مذہب میں داخل ہو گئے اور چنچل سنگھ نام رکھا اور عورت نے دلجیت کور رکھا۔
بعد ازاں چک نمبر ”24 چوٹی“ میں آ کر آباد ہو گئے جہاں بیشتر آبادی سکھوں کی تھی۔ سکھ ان کو ہمیشہ مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے اور انہیں سکھ تسلیم نہیں کرتے تھے۔ سکھوں نے انہیں چند شرائط پیش کیں جن میں سے ایک یہ کہ بھرے مجمع میں نبی ﷺ کی بے حرمتی کریں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اس حرکت سے مسلمانوں کی سخت دل آزاری ہوئی۔ سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا جس پر سکھوں نے مسلمانوں کے مجمع عام سے اس بے ہودہ و ناپسندیدہ حرکت کی معافی مانگی، مگر مسلمانوں کی تسلی و تشفی نہ ہوئی۔
اس موقع پر غازی عبداللہ انصاری کی رگ حمیت پھڑکی۔ اس نے مسلمانوں سے کہا کہ ان لوگوں کے گناہ کی معافی تو صرف اللہ تعالیٰ یا نبی ﷺ ہی دے سکتے ہیں اور کوئی دوسرا شخص معافی دینے کا مجاز نہیں۔ ان کو ان کی گستاخی کی سزا ملنی چاہیے۔ بحیثیت ایک
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ادنیٰ غلام نبی ہونے کے ان کو واصل جہنم کردوں گا۔ بالآخر ایک تیز چھری لے کر وہ چک نمبر ”24 چھوٹی“ کی طرف چل دیا۔
اتفاقاً راستے میں اسے چنچل سنگھ کا حقیقی بھائی مل گیا۔ عبداللہ کے دریافت کرنے پر اس نے اشارے سے بتایا کہ چنچل سنگھ اپنے کھیت میں کام کر رہا ہے۔ وہ فوراً اس کے پاس پہنچے اور اسے دور سے ہی للکارا۔ قوی ہیکل چنچل سنگھ کرپان سونت کر عبداللہ کی طرف حملے کے لئے بڑھا اور کرپان کا وار بھی کیا مگر وار خالی گیا۔
ادھر غازی عبداللہ نے چھری کے ساتھ حملہ کر دیا اور پہلے ہی زور دار وار میں گستاخ رسول چنچل سنگھ کا پیٹ چاک کر دیا۔ وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ قریب ہی کھیتوں میں اس کی بیوی دلجیت کور کام کر رہی تھی۔ عبداللہ نے اسے للکارا تو وہ بھاگ نکلی مگر عبداللہ نے اسے بھی کچھ فاصلے پر جا لیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے چنچل سنگھ کے قریب لا کر ذبح کر دیا۔ غازی عبداللہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ چالان مکمل ہونے پر مقدمہ سیشن کورٹ کے سپرد ہوا تو وہاں بھی مرد مجاہد نے بصد خوشی ”اقبال جرم“ کیا۔ عدالت نے غازی عبداللہ انصاری کو سزائے موت سنائی۔ انہیں لاہور جیل میں پھانسی دے دی گئی اور ان کی میت کو گمنامی کی حالت میں موضع پٹی حال تحصیل امرتسر (بھارت) میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ (1)
(1) شہید ناموس رسالت غازی عامر عبدالرحمن چیمہ ترتیب و تدوین: محمد متین خالد ص 48-50
❁ عصمت رسول ﷺ پر حملے ❁
غازی محمد صدیق شہید
روزنامہ ”انقلاب“ لاہور کی 7 ستمبر 1934ء کی اشاعت کے مطابق مسمی ”پالامل“ سنار نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخیوں اور بے ادبیوں کا کھلم کھلا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ سولہ مارچ 1934ء کو جب وہ کچھ نماز پڑھنے والوں کے پاس سے گزرا تو اس نے نہ صرف نماز کا مضحکہ اڑایا بلکہ نبی ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات بکے۔ شان رسالت ﷺ میں صریحاً گستاخی کی اس قبیح حرکت پر پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ معززین کے مشورے پر پیر محمد کلیم صاحب نے عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ درجہ اول لاہور نے پالامل کو چھ ماہ قید اور دو سو روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔
دس ستمبر 1934ء کی رات غازی محمد صدیق کو خواب میں نبی ﷺ نے اس گستاخ کی طرف اشارہ کر کے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ دوسرے دن غازی محمد صدیق قصور میں اپنے ماموں کے پاس چلے گئے۔
سترہ ستمبر 1934ء کی شام کو غازی محمد صدیق بابا بلھے شاہ کے مزار کے نزدیک نیم کے درخت سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ عقبی نگاہیں آنے جانے والوں کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔ اتنے میں ایک نقاب پوش دکھائی دیا۔ آپ نے جھٹ اس کی راہ روکی اور پوچھا: ”تو کون ہے؟“ اسے اپنے نام بتانے میں تامل تھا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ آپ کو تنہا دیکھ کر اسے بھی حوصلہ ہوا اور اس نے اپنا تعارف کروا دیا۔
الغرض غازی موصوف نے اسے پہچان لیا۔ غازی نے اسے کہا کہ مجھے تمہیں ٹھکانے لگانے پر مامور کیا گیا ہے۔ میں کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا یہ کہہ کر آپ نے
❁ عصمت رسول ﷺ پر حملے ❁
تہہ بند سے رمبی (چمڑا کاٹنے کا اوزار) نکالی ا مسلسل وار کر کے اسے واصل جہنم کر دیا۔
مقتول مردود کے واویلے اور غازی ک جانب متوجہ ہو چکے تھے۔ قتل کے الزام میں پولیس ن سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔
زندہ دلان قصور نے اس فیصلہ کے خلا 31 جنوری 1935ء کو ہائی کورٹ نے سیشن کور دل کی حدت سے مشعل وفا کو فروزاں رکھنے وال سال تھی۔ (1)
(1) شہید ناموس رسالت عامر عبدالرحمن چیمہ ترتیب
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
تہہ بند سے رمبی (چمڑا کاٹنے کا اوزار) نکالی اور للکارتے ہوئے اس پر حملہ کر دیا اور مسلسل وار کر کے اسے واصل جہنم کر دیا۔
مقتول مردود کے واویلے اور غازیؒ کے نعرۂ تکبیر سے کثیر تعداد میں لوگ اس جانب متوجہ ہو چکے تھے۔ قتل کے الزام میں پولیس نے آپ کو گرفتار کر لیا۔ سیشن کورٹ میں سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔
زندہ دلانِ قصور نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں اپیل دائر کی لیکن 31 جنوری 1935ء کو ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کا حکم بحال کر دیا۔ قربان گاہ میں خون دل کی حدت سے مشعلِ وفا کو فروزاں رکھنے والے اس مجاہد کی عمر اس وقت صرف اکیس سال تھی۔ (1)
(1) شہید ناموس رسالت عامر عبد الرحمٰن چیمہ ترتیب و تدوین: محمد متین خالد ص 50-53
عصمت رسول ﷺ پر حملے
غازی امیر احمد شہیدؒ، غازی عبداللہ شہیدؒ
پشاور سے تعلق رکھنے والے امیر احمد کی عمر صرف اکیس برس تھی جب اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا۔ اس کے سامنے وہ کتاب آگئی تھی جس کے ٹائٹل پر نبی ﷺ کی فرضی تصویر بنانے کی جسارت کی گئی تھی اور اس کتاب کے اندر تحریر میں بھی گستاخانہ مواد موجود تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ کتاب کلکتہ سے شائع ہوئی ہے۔ چنانچہ اس نے پشاور سے کلکتہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔
وہ اپنے بچپن کے دوست عبداللہ کے ساتھ سٹیشن کی جانب چل پڑا۔ راستے میں اس نے عبداللہ کو اپنے سفر کے مقصد سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی ضعیف والدہ کا خیال کرنے کی وصیت کی لیکن عبداللہ نے ساتھ چلنے کی ضد شروع کر دی۔ بالآخر مسلسل اصرار پر امیر احمد کو اپنے دوست کے سامنے ہار ماننا پڑی اور یوں دونوں کلکتہ جا پہنچے۔
وہاں وہ فوراً ہی توہین آمیز کتاب شائع کرنے والے ناشر کی تلاش میں نکل گئے۔ اس کتاب کا ناشر ہی اس کا مصنف تھا۔ انہوں نے اس سے ملاقات کی اور کتاب کے متنازعہ حصوں کو کتاب سے نکالنے پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے مسلمانوں سے معافی طلب کرنے کا بھی کہا لیکن کتاب کا ناشر اس بات پر اڑا رہا کہ میں نے جو کیا ہے وہ درست ہے اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی بھی تو میں اپنی غلطی کا ڈھنڈورہ نہیں پیٹ سکتا لہذا تم جا سکتے ہو۔ تم میری دوکان سے نکل جاؤ۔
ناشر کتاب کا یہ رویہ دیکھ کر ان دونوں کو غصہ آ گیا۔ اور وہ دونوں اس نامراد پر ٹوٹ پڑے اور اسے قتل کر دیا۔ پھر انہوں نے ٹریفک پولیس کو جا کر اپنی گرفتاری پیش کی۔ پولیس والے مارے دہشت کے وہاں سے بھاگ گئے پھر انہوں نے تھانے جا کر اپنی
عصمت رسول ﷺ پر حملے گرفتاری پیش کی۔
عدالت میں مقدمہ چلا، ما دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور عدا نے انہیں پھانسی کی سزا تجویز کی۔ جس بھی ان سے آخری ملاقات کے لئے کے گورا قبرستان میں ساتھ ساتھ ہیں
(1) شہید ناموس رسالت عامر چیمہ
عصمت رسول ﷺ پر حملے
گرفتاری پیش کی۔
عدالت میں مقدمہ چلا، ماہر قانون دان وکیلوں نے اپنی خدمات مفت پیش کر دیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور عدالت میں قتل کرنے کا اعتراف کرتے رہے۔ قانون نے انہیں پھانسی کی سزا تجویز کی۔ جس روز پھانسی کی سزا پر عمل ہوا اس دن دونوں کی مائیں بھی ان سے آخری ملاقات کے لئے آئیں۔ اُن شہیدانِ محبت کی آخری آرام گاہیں کلکتہ کے گورا قبرستان میں ساتھ ساتھ ہیں۔ (۱)
(۱) شہید ناموس رسالت عامر چیمہ ترتیب وتدوین: محمد متین خالد ص 54-56
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
غازیان ناموس رسالت
- ۱۔ غازی زاہد حسین
- ۲۔ غازی فاروق احمد
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
غازی زاہد حسین
1961ء میں ایک عیسائی مبلغ پادری سیموئیل نے مغل پورہ ورکشاپ میں دوران تبلیغ حضور ﷺ کی شان میں کچھ گستاخانہ اور توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔ زاہد حسین اور ان کے ساتھیوں کے منع کرنے پر بھی وہ باز نہ آیا۔ زاہد حسین نے مشتعل ہو کر اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا جس کے نتیجہ میں وہ بدبخت ہلاک ہو گیا۔ زاہد حسین نے عدالت کے رو برو اعترافِ قتل کیا جس پر اس کو اشتعال انگیزی کی بنا پر صرف جرمانہ کی سزا ہوئی۔
سال 1964ء میں زاہد حسین کو جب یہ معلوم ہوا کہ ”پاکستان بائبل سوسائٹی“ انارکلی میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ”اثمارِ شیریں“ فروخت ہو رہی ہے۔ جس میں نبی ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد شامل ہے اس پر یہ مردِ غازی ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے ایک ساتھی کو لے کر بائبل سوسائٹی کی دکان میں آگ لگا دی اور اس کے منیجر ”ہیکٹر گوہر مسیح“ پر قاتلانہ حملہ کر دیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔
عدالت کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو ان دونوں نے بلا پس و پیش اقبال جرم کیا جس پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال قید کی سزا سنائی۔ اپیل کرنے پر سیشن جج لاہور نے بھی اس سزا کو بحال رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر ہوئی۔ جسٹس شوکت علی نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے زاہد حسین اور ان کے ساتھی کی رہائی کا حکم دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کر لے۔ (1)
(1) شہید ناموس رسالت عامر چیمہ از: محمد متین خالد ص 65-64
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
غازی فاروق احمد
1994ء میں فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے دفتر میں عارضی طور تعینات ایک سینئر عیسائی ٹیچر (معروف ترقی پسند شاعر) نعمت احمر کے بارے میں شکایت پائی جاتی تھی کہ وہ گستاخ رسول ہے اور طلباء کے سامنے شعائر اسلام اور اکابرین اسلام کے بارے میں نازیبا کلمات کہتا رہتا ہے۔
متعدد اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو اس کے خلاف درخواستیں دیں۔ اس کے خلاف تھانہ ڈجکوٹ میں بھی اس کے نامناسب ریمارکس کے خلاف پرچہ درج تھا لیکن نہ محکمہ تعلیم اور نہ ہی محکمہ پولیس نے کوئی توجہ دی۔
محکمہ تعلیم نے حفظ ماتقدم کے طور پر اسے عارضی طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) میں تعینات کر دیا۔ اس طرح علاقے میں لوگوں میں غم وغصہ کی لہر مزید تیز ہوگئی کہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والے اور اسلام کے خلاف بکواسات کرنے والے انسان کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے اسے مزید تحفظ دیا گیا۔ علاقہ میں بھی اس کے خلاف سخت اشتعال پایا جاتا تھا۔
چنانچہ ”فاروق“ نامی قصاب نے اسے دفتر سے باہر کھلی جگہ پر بلا کر چھری کے پے در پے چھ وار کئے جس سے وہ زخمی ہو کر تڑپنے لگا اور چند ساعتوں کے بعد واصل جہنم ہو گیا۔ غازی فاروق نے خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے لوگوں سے کہا کہ مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں نے گستاخ رسول ﷺ کو قتل کیا ہے۔ پھر اس نے لوگوں سے کہا کہ پولیس کو اطلاع دو۔
اطلاع ملنے پر پیپلز کالونی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ محکمہ تعلیم اور پولیس کی
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
روایتی تساہل پسندی اور غفلت سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ اگر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے بروقت کاروائی کی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔
4 جون 1994ء کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے غازی فاروق کو چودہ سال قید بامشقت کی سزا کا حکم سنایا۔ (1)
(1) شہید ناموس رسالت عامر عبدالرحمن چیمہ از متین خالد ص62-61
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
باب ششم
مستشرقین کی گستاخیاں
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّيَتَّخِذَهَا هُزُوًا اُولٰۤئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ
(القرآن 6:31)
ترجمہ: اور انسانوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دلفریب خرید کر لاتا ہے۔ تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑا دے۔ ایسے لوگوں کے لئے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿ 202 ﴾
تحریک استشراق
ڈاکٹر احمد عبدالحمید غراب اپنی کتاب ”روية اسلامية للاستشراق“ میں لکھتے ہیں: ”استشراق اس مغربی اسلوب کا نام ہے جس کا مقصد مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے اس کی فکری اور سیاسی تشکیل نو کرنا ہے۔ (۱)
یہ تعریف اگرچہ مستشرقین کے استعماری اور استحصالی ارادوں کا پتہ دیتی ہے لیکن ان کے سینوں میں چھپی اس حقیقی خواہش کی طرف اشارہ نہیں کرتی جس کا پردہ ہمارے علیم و خبیر رب نے صدیوں پہلے چاک کر دیا تھا۔
ودت طائفة من اهل الكتب لو يضلونكم وما يضلون الا انفسهم وما يشعرون
ترجمہ: اہل کتاب سے ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کر دیں۔ اور وہ نہیں گمراہ کرتے مگر اپنے آپ کو اور وہ (اس حقیقت کو) نہیں سمجھتے (۲)
ڈاکٹر محمد ابراہیم الفیومی رودی بارات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مستشرقین کے عرف میں لفظ مشرق کا جغرافیائی مفہوم مراد نہیں بلکہ ان کے ہاں مشرق سے مراد زمین کے وہ خطے ہیں جن پر اسلام کو فروغ حاصل ہوا (۳)
اہل مغرب جو مشرقی اقوام خصوصاً ملت اسلامیہ کے تہذیب و تمدن کا مطالعہ اس غرض سے کرتے ہیں کہ ان اقوام کو اپنا غلام بنا کر ان پر اپنا مذہب اور تہذیب مسلط کر سکیں اور ان کے وسائل حیات کا استحصال کر سکیں۔ ان کو مستشرقین کہا جاتا ہے۔
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 121
(۲) سورۃ ال عمران آیت نمبر 69
(۳) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 123،122
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
تحریک استشراق کا آغاز
تحریک استشراق کے آغاز کے متعلق کئی نقطہ نظر ہیں۔ بعض کے نزدیک اس تحریک کا آغاز 1312ء میں اس وقت ہوا جب فینا کی کلیساء کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ یورپ کی مختلف یونیورسٹیوں میں عربی زبان کی تدریس کے لئے باقاعدہ شعبہ جات (Classes) قائم کئے جائیں۔ (۱)
بعض کے مطابق اس تحریک کا آغاز قشتالہ کے بادشاہ ”الفونس دہم“ نے 1269ء میں مرسیلیا میں اعلیٰ تعلیمات کا ادارہ قائم کر کے کیا۔
اسی صدی میں سسلی کے بادشاہ فریڈرک ثانی نے مائیکل سکاٹ کی سرکردگی میں دارالترجمہ قائم کیا۔ اس کی مترجم کتابیں یورپ کے بعض ممالک میں سترھویں صدی تک پڑھائی جاتی رہی ہیں۔
بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب 1143ء میں پطرس محترم کی ایماء پر پہلی مرتبہ قرآن حکیم کا لاطینی ترجمہ ہوا۔ اس کی قائم کردہ جماعت نے اس کے علاوہ بھی کئی عربی کتابوں کے ترجمے بھی کئے۔ ان تراجم سے پطرس کا مقصد اسلام کی مخالفت کے لئے عیسائیوں کو مواد فراہم کرنا تھا جس کا اعتراف خود پطرس محترم نے کیا تھا۔ (۲)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس تحریک کا آغاز دسویں صدی عیسوی میں اس وقت ہو ا جب فرانس کا ایک راہب جریبرٹ ڈی اورلیاک حصول علم کی خاطر اندلس گیا۔ اشبیلیہ اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں سے علم حاصل کر کے یورپ میں عربی زبان وادب اور ثقافت کا عالم
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 123 (۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 124
عصمت رسول ﷺ پر حملے
تعارف ہوا۔ بعد میں سلفسٹر ثانی کے لقب سے پاپائے روم کے منصب پر فائز رہا۔ (۱)
اس سب سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ:
- (۱)۔ استشراق کی تحریک کا آغاز عملاً آٹھویں صدی عیسوی سے شروع ہو چکا تھا اگرچہ
اس تحریک کو یہ نام کئی صدیوں بعد دیا گیا۔
- (۲)۔ اس تحریک کو شروع کرنے والوں کی اکثریت راہبوں اور پادریوں پر مشتمل تھی
جن میں مشرق سے تعلق رکھنے والے بھی تھے اور مغرب سے بھی تعلق رکھنے والے۔
- (۳)۔ قافلہ استشراق شروع سے ہی دو مختلف راستوں پر گامزن ہے۔
- i) ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اسلامی علوم سے متاثر ہوئے اور معرفت و حکمت کی
جو روشنی ان علوم کی وجہ سے اسلامی مشرق کو بقعۂ نور بنا رہی تھی انہوں نے مغرب کی فضاؤں میں بھی اسی شمع کو روشن کرنے کا تہیہ کیا۔ انہوں نے اسلامی علوم سے کما حقہ استفادہ کیا۔
- ii) دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کی کوششوں کا محرک سوائے اسلام دشمنی کے اور
کچھ بھی نہیں۔ ان کا مقصد مسلمانوں کی کمزوریاں تلاش کر کے انہیں نقصان پہنچانے کا تھا۔ مستشرقین کی اکثریت اسی طبقے پر مشتمل ہے۔ ان کے مقاصد میں وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی رہی ہیں لیکن اسلام دشمنی کا بنیادی مقصد کبھی ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا۔ (۲)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 125
(۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 128
عصمت رسول ﷺ پر حملے
تحریک استشراق کی تاریخ
تحریک استشراق کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی میں ہوا۔ بارہ سو سال سے یہ تحریک پورے زور وشور سے اپنے کام میں مصروف ہے۔ اس تحریک کا سب سے بڑا مقصد اسلام کے خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔ حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ تحریک استشراق اپنے اہداف اور طریقہ کار میں ضروری تبدیلیاں بھی کرتی رہی ہے۔
تحریک استشراق کی تاریخ کو سمجھنے کے لئے اسے مختلف ادوار میں تقسیم کرنا ضروری ہے۔ پروفیسر خلیق احمد نظامی صاحب نے 1982ء میں اپنے ایک مقالے میں مستشرقین کی تاریخ کو پانچ ادوار میں جبکہ صاحب ضیاء النبی ﷺ نے ایک اور دور کا اضافہ کرتے ہوئے چھ ادوار میں تقسیم کیا ہے (۱)
پہلا دور
پہلے دور کا تعلق اس زمانے سے ہے جب مسلمانوں نے اندلس کو علم وحکمت اور تہذیب وتمدن کا مرکز بنایا تھا۔ اہل مغرب اس شمع علم سے اکتساب نور کرنے یا اس شمع کو بجھانے کے لئے جوق در جوق اندلس کا رخ کر رہے تھے اس زمانے میں یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ جربرٹ اور لیاک، فرانسیسی راہب تھے جنہوں نے قرطبہ اور اشبیلیہ کی یونیورسٹیوں سے عربی زبان و ادب، علم ریاضی اور علم الفلک میں مہارت حاصل کی۔ طلیطلہ کے رئیس ڈان ریمنڈ نے 1130ء میں دارالترجمہ قائم کیا جس میں مختلف موضوعات کی اہم کتابوں کے ترجمے لاطینی زبان میں کئے (۲)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 130 (۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 132
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
پطرس محترم اندلس سے تعلیم حاصل کر کے اپنی دیر کالونی میں ایک مترجمین کی انجمن بنائی جس کے ارکان ایک جماعت کی شکل میں ترجمے کا کام کرنے میں مصروف ہو گئے پطرس محترم سمجھتا تھا کہ قدرت نے اسے تین محاذوں پر لڑنے کے لئے بھیجا ہے۔
- ۱۔ یہودیت اور اسلام کا قلع قمع کرنا۔
- ۲۔ یورپ میں بیداری کی لہر نے کلیسا کو جس فکری اضطراب اور انتشار
میں مبتلا کر دیا ہے اس کا مقابلہ کرنا۔
- ۳۔ ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے کلیساء کو تیار کرنا (۱)
جیرار دی کریمون (1187-1114) ایک وینسی راہب تھا۔ طلیطلہ سے علم حاصل کر کے رازی کی کتابوں کے علاوہ ستر سے زائد کتابوں کے لاطینی تراجم کئے (۲)
رابرٹ آف تشٹر وینسی راہبوں میں سے تھا۔ اندلس سے تعلیم حاصل کی۔ اپنے دوست ھرمان الدلماطی سے مل کر عربی کتب کے ترجمے کئے۔ اس کی ملاقات جب پطرس محترم سے ہوئی تو اس کی ترغیب پر اس نے علم نجوم وغیرہ چھوڑ کر قرآن پاک کا لاطینی ترجمہ کیا (۳)
ایڈلرڈ آف باتھ (1128ء) نے ابتدائی عمر میں شام اور ہسپانیہ جا کر علوم حاصل کئے۔ کئی کتب کے ترجمے کئے عربی علوم میں مہارت کی وجہ سے ہنری دوم ، شاہ برطانیہ کا اتالیق بنا۔ (۴)
مائیکل سکاٹ (1235-1175) سکاٹ لینڈ کا رہنے والا تھا۔ پیرس ، بلرمہ اور
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 134-133
(۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 135
(۳) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 136
(۴) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 137-136
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
طلیطلہ سے علم حاصل کیا۔ سسلی کے بادش کیا۔ (۱)
راجر بیکن نے پیرس کے مد الہیشم کی کتابوں کے مطالعہ اور تحقیق کے ہو گیا۔
ریمونڈل (1316-235 غلام سے عربی سیکھی۔ یورپ میں مختلف کرنے میں اس کا اور راجر بیکن کا بڑا معہ
فریڈرک ثانی (1236-0 تہذیب و تمدن کا دلدادہ تھا۔ اس نے کئی مامور کیا ہوا تھا۔
الفا نسو دھم (1284-254 عربوں کے علمی ورثے کو یورپی زبان میں اس کام میں حصہ لیا۔
1250ء میں طلیطلہ کی کلیسائی یونانی عبرانی اور عربی زبانیں سیکھنے کے لیے
1259ء کی بلنسیہ کانفرنس سکھانے کے لیے ایک مدرسہ قائم کرنے پر
اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ راہب اشبیلیہ ، 1276ء میں میورقہ ، 1281ء
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
طلیطلہ سے علم حاصل کیا۔سسلی کے بادشاہ فریڈرک ثانی کے قائم کردہ دارلترجمہ میں بھی کام کیا۔ (۱)
راجر بیکن نے پیرس کے مدارس میں علم نجوم اور علم کیمیا پر عبور حاصل کیا۔ ابن الہیثم کی کتابوں کے مطالعہ اور تحقیق کے نتیجے میں ’’مائیکروسکوپ‘‘ ایجاد کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
ریمنڈ لُل (1235-1316) سپین کے جزیرہ میورقہ میں پیدا ہوا۔ اپنے عربی غلام سے عربی سیکھی۔ یورپ میں مختلف مقامات پر عربی کی تدریس کے لئے شعبہ جات قائم کرنے میں اس کا اور راجر بیکن کا بڑا عمل دخل تھا۔ (۲)
فریڈرک ثانی (1220-1236) سسلی کا بادشاہ تھا۔ عربی علم و ادب اور تہذیب وتمدن کا دلدادہ تھا۔ اس نے کئی علماء کو عربی ادب لاطینی زبان میں منتقل کرنے پر مامور کیا ہوا تھا۔
الفانسو دہم (1254-1284) قشتالہ کا بادشاہ تھا۔ اس نے بھی کئی علماء کو عربوں کے علمی ورثے کو یورپی زبان میں منتقل کرنے پر مامور کیا اور خود بھی ان کے ساتھ اس کام میں حصہ لیا۔
1250ء میں طلیطلہ کی کلیسائی کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ آٹھ ڈومینکی راہبوں کو یونانی عبرانی اور عربی زبانیں سیکھنے کے لئے پیرس بھیجا جائے۔
1259ء کی بلنسیہ کانفرنس نے اُن کو قطلونیا میں عربی اور عبرانی زبانیں سکھانے کے لیے ایک مدرسہ قائم کرنے پر مامور کیا۔ (۳)
اس سب کا نتیجہ یہ ہوا کہ راہبوں کے عربی مدارس پھیلنے لگے۔1250ء میں اشبیلیہ، 1276ء میں میورقہ، 1281ء میں بلنسیہ اور 1291ء میں جنیوا میں جو مدارس
عصمت رسول ﷺ پر حملے
قائم ہوئے ان میں سے کچھ ترقی کر کے یونیورسٹیوں کی صورت اختیار کر گئے۔
پوپ حضرات اور بادشاہوں نے دل کھول کر مدارس کی امداد کی جس کی وجہ سے ان مدارس نے اسلامی علوم کو یورپ منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ (۴)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 137 (۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 138 (۳) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 139 (۴) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 140
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
دوسرا دور
دوسرے دور کا تعلق اس زمانے سے ہے جب صلیبی جنگوں میں پے در پے شکستوں نے دنیائے نصرانیت کو اسلام دشمنی میں پاگل پن کی حد تک پہنچا دیا تھا۔ وہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف نت نئے انداز میں زہر اگل رہے تھے۔
اس دور کی خصوصیت یہ ہے کہ اس زمانے کے مستشرقین نے اسلام اور حضور ﷺ کو اپنی علمی تحقیق کا نہیں بلکہ اپنی الزام تراشیوں کا ہدف بنایا اور تاریخی حقائق کے بجائے اپنے تخیل کی بلند پروازی کے ذریعے اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔
اسلام کے خلاف کاروائیوں میں ان کا بنیادی شکار حضور ﷺ کی ذات بابرکات رہی انہوں نے فرضی کہانیوں ، افسانوں ، ناولوں کے ذریعے نبی کریم ﷺ کے کردار ، آپ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کے پیروکاروں کی کردار کشی کی۔
ایک بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ اسلام دشمنی میں غیر علمی اور متعصبانہ رویہ صرف اسی دور کے لئے خاص نہیں بلکہ مستشرقین کے اس رویئے کی جھلک ہر دور کے مستشرقین کے کام میں نظر آتی ہے۔
پہلے اور دوسرے دور میں فرق یہ ہے کہ پہلے دور کے مستشرقین اسلام پر اعتراض کرنے کے لئے اسلام کی تاریخ اور تعلیمات میں ہی اس اعتراض کی بنیاد تلاش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ جبکہ دوسرے دور کے مستشرقین کا تکیہ صرف اپنے تخیل کی پرواز پر تھا۔ انہیں اسلام کے خلاف لکھنے کے لئے نہ عربی زبان اور دین اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ ضروری تھا اور نہ ان سے آگاہی۔
ان کا عقیدہ تھا کہ وہ جو مرضی چاہیں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف لکھیں
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
اس میں کوئی حرج نہیں۔ مستشرقین کا اسلام کے متعلق یہ رویہ لاعلمی کی بنیاد پر نہ تھا بلکہ بدنیتی کی بنیاد پر تھا (1)
انہیں یقین تھا کہ اگر اسلام کی تعلیمات اپنی اصل شکل میں اور پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت طیبہ اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ یہود و نصاریٰ تک پہنچ گئی تو انہیں اسلام قبول کرنے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔ اس لئے انہوں نے آپ ﷺ کی کردار کشی کی۔
کرن آرمسٹرانگ (keren Armstrong) نے اپنی کتاب Muhammad "A west Attemp to understand Islam" میں ایک باب جس کا نام "Muhammad : The Enemy" ہے میں اہل مغرب کی اسلام دشمنی کی کہانی لکھی ہے (۲) ڈانٹے نے اپنی کتاب "The devine Comedy" میں محمد ﷺ کو نعوذ باللہ تفرقہ بازوں کے ساتھ جہنم کے آٹھویں درجے میں دکھایا۔ (۳)
مغرب میں آج بھی بعض لوگ یہ سن کر حیران ہوتے ہیں کہ مسلمان اسی خدا کی عبادت کرتے ہیں جس کی عبادت یہودی اور عیسائی کرتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں سلمان رشدی کی کتاب کو جو مقبولیت حاصل ہوئی ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اہل مغرب آج بھی اسلام کے بارے میں اسی لٹریچر کو پڑھنا چاہتے ہیں جس میں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ پر دل کھول کر کیچڑ اچھالا گیا ہو۔
گو ہم نے مستشرقین کے اس رویہ کو صلیبی جنگوں کا ردعمل قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرزعمل کی جڑیں صلیبی جنگوں سے پہلے بھی موجود تھی۔
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 142، 143
(۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 146
(۳) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 151
عصمت رسول ﷺ پر حملے
تیسرا دور
تیسرے دور کا تعلق اس زمانے سے ہے جب مغرب مضبوط اور عالم اسلام کمزور ہو چکا تھا اور مغربی طاقتیں استعماری اور استبدادی عزائم کے ساتھ مشرق کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
دنیائے اسلام پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے انہوں نے بڑی محنت سے منصوبہ بندی کی۔ انہوں نے بروقت اس حقیقت کو محسوس کر لیا تھا کہ مسلمانوں کے علاقوں پر تسلط کو دوام بخشنے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی، سماجی، دینی، اخلاقی اور معاشی حالات کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے۔ ان کی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں کمزور کیا جائے (۱)۔
اس مقصد کے لئے انہوں نے متعدد اقدامات کئے جو بذیل ہیں
- ۱۔ مسلمانوں کے علمی شاہکاروں کی نشر و اشاعت کا بندوبست
- ۲۔ عالم اسلام سے مخطوطات اور کتابوں کو جمع کر کے انہیں یورپ منتقل کرنا۔
- ۳۔ عربی علوم اور مشرقی تہذیب و تمدن کو سمجھنے کے لئے مراکز کا قیام۔
- ۴۔ عالم اسلام میں علمی مہمیں بھیجنے کا بندوبست۔
- ۵۔ یونیورسٹیوں میں عربی اور سامی زبانوں کی تدریس کے لئے شعبہ جات کا قیام۔
- ۶۔ السنہ شرقیہ کی تدریس کے لئے مختلف تعلیمی اداروں کا قیام
- ۷۔ متعدد کانفرنسوں کے ذریعے تحریک کے کام کو منظم کرنے کی کوششیں (۲)
ذیل میں ہم مستشرقین کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 153
(۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 153، 154
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
کتابوں کی نشر واشاعت
مستشرقین نے مسلمانوں کی کتب کے مغربی زبانوں میں ترجمے کئے۔ ان میں علم الافلاک، جغرافیہ، تاریخ، طب، حکایات، ریاضی، فلسفہ اور دوسرے ہر قسم کے علوم کی کتابیں شامل تھیں۔
مستشرقین کی طرف سے اسلامی کتابوں کے ترجمے تحقیق اور نشر و اشاعت کا کام جو مسلمانوں کے سپین میں قدم رکھنے کے ساتھ شروع ہو وہ آج تک جاری ہے اور اس میں مسلسل تیزی آرہی ہے۔ امریکہ کی مشرقی سوسائٹی ہر سال اسلام کے متعلق کئی بحثیں شائع کرتی ہے۔ واشنگٹن میں امریکی کانگرس کی لائبریری میں عربی، فارسی اور ترکی وغیرہ جیسی اسلامی زبانوں میں لکھی ہوئی پانچ لاکھ کے قریب کتابیں موجود ہیں یہی حال بڑی لائبریریوں کا ہے۔(1)
کتبے اور مخطوطات جمع کرنا
1671 میں فرانس کے بادشاہ لوئی چہار دہم نے تمام اسلامی ممالک سے مخطوطات خریدنے کے لئے کارندے بھیجے اور تمام سفارت خانوں کے نام یہ شاہی فرمان لکھ دیا کہ اپنے مالی اور افرادی وسائل کو اس مقصد کے لئے استعمال کریں۔ انہوں نے مساجد اور دوسرے مقامات سے قیمتی مخطوطے ردی کے بھاؤ خریدے۔
ڈاکٹر منجن نے 1924 سے 1929 تک مشرق قریب سے بے شمار مخطوطے جمع کئے۔ اس طرح مارگولیتھ نے بھی مخطوطات کی فہرست تیار کی۔
برلن، پیرس، میلانو، روم، کیمرج، لیڈن، آکسفورڈ، میونخ، ڈبلن، ایڈنبرا، لیقن
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 154، 155
عصمت رسول ﷺ پر حملے
گراڈ اور برٹش ایشیاٹک سوسائٹی کی لائبریریاں مخطوطات کی شکل میں مسلمانوں کے علمی ورثے سے بھری پڑی ہیں۔ مذکورہ بالا لائبریریوں میں اڑھائی لاکھ کے قریب مخطوطے ہیں۔ (1)
اسی قسم کے قیمتی اور نایاب علمی شہ پاروں کو یورپ کی لائبریریوں میں دیکھ کر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ خون کے آنسو روئے
جو دیکھیں اُن کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ
عربی اور سامی زبانوں کی تدریس کے شعبے
مستشرقین نے عربی زبان کی اہمیت کو بہت پہلے سمجھ لیا۔ 1312ء میں فینا کی کلیسائی کانفرنس نے عربی تدریس کی منظوری دے دی۔ 1539ء میں فرانسواول نے پیرس میں کالج آف فرانس کی بنیاد رکھی جس میں عربی اور یونانی زبان کی تدریس کے شعبے قائم کیے۔
اٹھارویں صدی کے اختتام سے قبل آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایک مطبع قائم کیا جس کا مقصد عربی کے مخطوطات کو شائع کرنا تھا۔ انیسویں صدی کے آغاز میں لندن یونیورسٹی میں عربی کا شعبہ قائم ہوا۔ اسی طرح روس کی مختلف یونیورسٹیوں میں عربی کی تدریس کے لیے شعبے قائم ہوئے۔
گلیوم پوسٹل مسلمانوں کے عربی ورثے کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے: ”جو بات جالینوس پانچ ضخیم جلدوں میں کہتا ہے وہی بات ابن سینا ایک یا دو صفحوں میں کہتا ہے“۔
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 156، 157
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ہالینڈ کے ایک مستشرق تھامس ارپینیس (Thomes Erpenius) نے بھی علوم عربیہ کی اشاعت کے لیئے زبردست کام کیا۔ 1732ء میں ایک پادری ’مائتو ریپا‘ نے اٹلی کے شہر ’ناپول‘ میں مشرقی زبانوں کی تدریس کے لیے ایک ادارہ قائم کیا۔ 1967 ء میں امریکہ کی ساٹھ یونیورسٹیاں، چالیس لائبریریاں اور اٹھارہ مراکز مشرق وسطیٰ کے امور کی تدریس میں مشغول تھے (۱)
علمی مہمیں
علم کی خاطر سفر، مسلمانوں کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ اس سفر کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کا دین انہیں یہ بتاتا تھا کہ حکمت مومن کی گم گشتہ میراث ہے۔ یورپ میں یہ اسلوب تعلیم پہلی مرتبہ پندرھویں صدی عیسوی میں نظر آتا ہے جب ایک اطالوی باشندے نے دمشق میں عربی سیکھی پھر علم کی تکمیل کے لیے لبنان، مصر، فارس اور ایشیائے کوچک کا سفر کیا۔ پھر باودی کے مدرسہ میں آیا، وہاں اس نے ابن سینا کے فلسفہ کی تشریح کی۔ اس طرح کئی لوگ علمی مہموں پر روانہ ہوئے۔
”روجرسیہ“ حصول علم کے لیے لبنان گیا“۔ ”شارقو بریان“ القدس اور ”رینان“ لبنان گیا۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی لوگوں نے بھی اس غرض سے مشرق کا سفر کیا۔ نیبوھر 1761ء سے 1767ء تک اسی مقصد کے لیے کئی ممالک میں پھرتا رہا۔ یہ لوگ مشرقی ممالک کے قدرتی وسائل سے اپنی حکومتوں کو آگاہ کرتے رہتے تھے (۲)۔
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 159 t 157 (۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 159، 160
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کانفرنسیں
مستشرقین نے اس حقیقت کو سمجھ لیا کہ زندگی کے کسی بھی شعبے میں انفرادی کوششوں سے زیادہ اجتماعی کوششیں مفید ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے کئی کانفرنسیں کیں۔ مستشرقین کی پہلی کانفرنس 1873ء میں پیرس میں ہوئی۔ 1964ء تک ان کانفرنسوں کی تعداد بیس تک پہنچ گئی۔ آکسفورڈ میں منعقدہ کانفرنس میں مندوبین کی تعداد 900 تھی۔ ان بین الاقوامی کانفرنسوں کے علاوہ مختلف ممالک کے مستشرقین کی قومی کانفرنسیں بھی ہوتی رہیں (۳)
چوتھا دور
چوتھے دور کا تعلق اس دور سے ہے جب نو آبادیات کے باشندے غیر ملکی تسلط کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے استعماری طاقتوں کو اپنے ممالک سے نکالنے کی جدوجہد شروع کی تھی۔
اہل مغرب نے مسلمانوں سے تلوار کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوششیں کیں لیکن ناکام ہوئے۔ نو آبادیات قائم کرنے کے لیے بھی انہوں نے تلوار کا استعمال ہر اس مرحلے پر کیا جب ان کی دوسری چالوں کے ذریعے مسلمان سر اٹھانے کے قابل نہ رہے تھے۔ اب طویل غلامی کے بعد مسلمانوں کے آزاد ضمیر نے انگڑائی لینی شروع کی تو استعماری طاقتیں ایک نئی صورتحال سے دوچار ہوئیں۔ اب ان کے پاس دو راستے رہ گئے تھے ایک تو یہ تھا کہ آزادی کی اٹھتی ہوئی تحریکوں کو بزور شمشیر کچل دیں اور دوسرا طریقہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے علاقوں کو خالی کر کے اپنے ممالک واپس چلی جائیں۔
(۳) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 161 ، 162
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
پہلے راستے کو اختیار کرنے کی اُن میں جرأت نہ تھی۔ صلیبی جنگوں کی طویل تاریخ کے ہولناک مناظر انہیں اس راستے کو اختیار کرنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ اس لیے انہوں نے دوسرے طریقے پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن جن علاقوں پر انہوں نے اتنا لمبا عرصہ حکومت کی تھی انہیں یوں ہی چھوڑ کر چلے جانا آسان نہ تھا۔ وہ اب تک مسلمانوں کے حکمران تھے اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کی مخلوق سمجھتے ہوئے اُن کے ساتھ برا سلوک کرتے تھے لیکن اب انہوں نے مسلمانوں کی دوستی اور خیر خواہی کا لبادہ اوڑھ لیا۔ اُنہوں نے پوری کوشش کی کہ مسلمان جسمانی طور پر ان کے نکلنے کے بعد بھی ذہنی طور پر ان کے غلام رہیں۔ (1)
اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ ایسی چیزیں جو مسلمانوں کے دلوں میں اہل مغرب کے خلاف نفرت پیدا کرتی تھیں، اُن کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اُن کے پیشروؤں نے کئی سو سال تک اسلام اور رسول ﷺ کے خلاف زہر اگلا تھا۔ عیسائیوں سے مسلمانوں کو متنفر کرنے کے لیے مستشرقین کی یہ کتابیں بہت خطرناک ثابت ہو سکتی تھیں۔
اس لیے تحریک استشراق کے گرگوں نے ایک اور رنگ بدلا۔ اب ایسے مصنفین منظر عام پر آنے لگے جنہوں نے اپنے پیشروؤں کی تحریروں پر تنقید کی۔ انھوں نے اسلام کے بارے میں ایسی کتابیں شروع کیں جن میں اسلام کی تعریف کی گئی۔
اس قسم کے مصنفین کی تحریروں میں گو انصاف کی جھلک نظر آتی ہے۔ لیکن نسلی اور دینی تعصب نے ان کو بھی انصاف کے آئینے میں حقائق کو دیکھنے کی مہلت نہ دی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان مصنفین کا مقصد حق کی جستجو تھا ہی نہیں۔ ان کا مقصد تو صرف مسلمانوں کی
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 164، 165
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
حمایت حاصل کرنا تھا اور اپنے رویے میں معمولی سی تبدیلی سے انہوں نے یہ مقصد حاصل کر لیا۔ منٹگمری واٹ اور تھامس کارلائل جیسے لوگوں نے اسلام کے متعلق چند کلماتِ خیر لکھ دیئے تو مسلمانوں کے بڑے بڑے ادباء اور مصنفین نے ان کی تعریف میں بڑھ چڑھ کر اپنا زورِ قلم صرف کیا۔ انہیں منصف مزاج، بے لاگ مبصر اور غیر جانبدار محقق کے خطابات دیئے حالانکہ ان لوگوں نے بھی اسلام اور حضور ﷺ پر حملے کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ یہ لوگ نبی ﷺ پر الزام لگاتے تھے کہ آپ ﷺ نے قرآن خود گھڑا ہے۔ تھامس کارلائل قرآن کو دنیا کی سب سے بڑی بور کتاب کہتا تھا اور منٹگمری واٹ نے حضور ﷺ کی حیاتِ طیبہ پر بڑھ چڑھ کر حملے کئے۔
تحریک استشراق کی اس تاریخ کے اس دور میں مستشرقین اپنی حکومتوں کے دستِ راست بن گئے۔ وہ اپنے اپنے ممالک کی وزارتِ خارجہ کے مشیر بنے اور اپنے وسیع تجربے اور مطالعے سے فائدہ اٹھا کر ایسی پالیسیاں وضع کیں کہ استعماری طاقتوں کے چلے جانے کے بعد بھی مسلمان ان کی ضرورت محسوس کریں۔
جنگِ عظیم دوم کے بعد برطانیہ میں سکاربرو رپورٹ تیار کی گئی۔ اس رپورٹ میں مشرق میں برطانوی مفادات کے تحفظ کے لیے نیا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ مشہور مستشرق ایچ۔ اے۔ آرگب نے اپنی کتاب (Modern Trends In Islam) میں نئے تقاضوں کے پیشِ نظر مسلمانوں کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ (1)
استعماری طاقتوں نے دمِ واپسیں مستشرقین کے مشوروں کے مطابق مسلمانوں پر جو وار کئے اُن کے اثرات ہم آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ نصابِ تعلیم قوموں کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم اپنے مدارس میں وہ نصاب پڑھا رہے ہیں
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 165، 166
عصمت رسول ﷺ پر حملے
جو مستشرقین ہمیں دے کر گئے تھے۔ اس نظام تعلیم میں دین کو دنیا سے اور علوم جدیدہ کو مسلمانوں کے روایتی علوم سے علیحدہ کر دیا ہے۔ مستشرقین نے جو زہر پھیلایا تھا اس کا اثر یہ ہے کہ آج مسلمان عربی اور اسلامیات سیکھنے کے لئے یورپ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں اور دین کو سمجھنے کے لئے ان علمی مصادر کی طرف رجوع کرتے ہیں جو مستشرقین نے اپنے خصوصی مقاصد کے تحت تیار کئے ہیں۔ مستشرقین کے ان مقاصد میں اسلام کی تصویر کو مسخ کر کے پیش کرنا سر فہرست ہے۔
دیکھا جائے تو انسان اس حقیقت کا فوراً ادراک کر لیتا ہے۔ کہ اس دور کے مستشرقین کا پھیلایا ہوا زہر ہر دور کے مستشرقین کے پھیلائے ہوئے زہر سے زیادہ مہلک اور خطرناک ہے (1)
پانچواں دور
پانچویں دور کا تعلق اس زمانے سے ہے جب قدرت نے عالم اسلام کو زر سیال کی دولت سے مالا مال کر دیا اور اہل مغرب کی حریص نگاہیں اس دولت خداداد پر مرکوز ہو گئیں۔ استعماری طاقتوں نے نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد مسلمانوں پر اپنے اثر و نفوذ کو قائم رکھنے کے لئے اقتصادیات ہی کا سہارا لیا تھا۔
مسلم ممالک نے گو آزادی حاصل کر لی تھی لیکن وہ اقتصادی شعبے میں مغرب کی طرف دیکھنے پر مجبور تھے۔ مستشرقین نے مسلمانوں کو تباہ کرنے کی جو طویل المعیاد منصوبہ بندی کی تھی اس کا نتیجہ تھا کہ مسلمان اس بات پر مجبور تھے کہ وہ اپنا خام مال کوڑیوں کے بھاؤ اہل مغرب کے ہاتھوں فروخت کریں اور پھر اسی خام مال سے تیار کردہ اشیاء مہنگے داموں
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 167
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿219﴾
خرید کر اپنی نالائقی کا ماتم کریں۔ ناقص نظام تعلیم کی وجہ سے مسلمانوں کی یونیورسٹیوں سے انجینئر، سائنس دان اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جگہ کلرک، سیاست دان اور اسی قسم کے لوگ پیدا ہو رہے ہیں (۱)
جب مسلمان ممالک کا اقتصادی طور پر مضبوط ہونا یقینی تھا تو اہل مغرب سوچ رہے تھے کہ اگر مسلمان جاگ اُٹھے تو مغرب کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو جائیں گے۔ وہ اپنے مذہب، تہذیب، زبان اور طرزِ حیات پر فخر کرنے لگیں گے اور مشرق کا شکنجوں میں پابند خطہ ان کے پنجوں سے آزاد ہو جائے گا۔
اس سنگین صورتحال کو خاموش تماشائی بن کر دیکھنا اہل مغرب کے لئے ممکن نہ تھا۔ انہوں نے کچھ کرنے کا فیصلہ کیا اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مستشرقین ہی ان کے کام آئے۔ مستشرقین نے اب اسلام کے روائتی مطالعہ پر توجہ کم کر دی اور دورِ حاضر کے مسلمان معاشروں میں پائے جانے والے رجحانات کا تفصیلی مطالعہ شروع کر دیا۔ اب ان کے مطالعہ کا مرکز توجہ پورا مشرق نہ تھا بلکہ صرف وہ ممالک تھے جہاں قدرت نے تیل کے وافر ذخائر پیدا فرمادئے تھے۔
اب مستشرقین نے ایشیائی سوسائٹیوں کی بجائے مشرقِ وسطی کے نام سے سوسائٹیاں قائم کرنا شروع کر دیں۔ 1966 میں امریکہ نے جنوبی امریکہ کی مطالعاتی ایسوسی ایشن برائے مشرق وسطیٰ (The Middle East Studies of North America) قائم کی۔ 1976 میں برطانیہ کی مطالعاتی سوسائٹی برائے مشرق وسطیٰ (British Society of Middle East Studies) قائم ہوئی (۲)
(۱) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 167، 168 (۲) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 168
عصمت رسول ﷺ پر حملے
مستشرقین اس دور میں جو کام کر رہے تھے گو وہ خفیہ ہے لیکن اس کے اثرات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ وہ اسلامی ممالک جن میں زر سیال کی دولت موجود ہے اُن پر وہ لوگ حکمران ہیں جن کا مرکز قوت امریکہ ہے۔
اہلِ مغرب جمہوریت کے پرچار اور شہنشائیت اور آمریت کے دشمن ہیں لیکن تیل پیدا کرنے والے مسلمان ممالک کے لئے وہ جمہوریت کو نقصان دہ سمجھتے ہیں کیونکہ اگر وہاں جمہوریت ہوگی تو ان ممالک کی پالیسیوں پر مغرب کا کنٹرول کمزور پڑ جائے گا۔ ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے جو شعلے بھڑکائے گئے اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے امریکہ نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں جو کردار ادا کیا وہ تیل کے اسی خطرے سے نمٹنے کی ایک صورت تھی (1)
مسلمانوں کو اس بات میں کسی قسم کی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اہلِ مغرب مسلمانوں کو آسانی سے کبھی یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ تیل کی اس خداداد دولت کو اپنی مرضی سے اپنی قوم کی فلاح و بہبود اور انکے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے استعمال کریں۔ اہلِ مغرب کی یہ غنڈہ گردی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسلمان اپنے دوست اور دشمن میں فرق نہیں کریں گے۔
یہ پانچوں ادوار، پروفیسر خلیق احمد نظامی نے 1982ء میں اعظم گڑھ میں اسلام اور مستشرقین کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں ایک مقالے میں تجویز کئے ہیں۔ لیکن صاحب ضیاء النبی پیر محمد کرم شاہ الازہری نے ان ادوار ایک اور دور کا اضافہ کیا ہے۔ یہ واحد دور ہے جس میں نہ صرف مستشرقین اور مسلم دشمن قوتیں اسلام کے خلاف سینہ سپر ہیں بلکہ کچھ نام نہاد مسلمان بھی ان کے پروپیگنڈے کا ساتھ دے رہے ہیں۔
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 169
﴿ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴾
چھٹا دور
اس دور کا تعلق اس زمانے سے ہے جب عالم اسلام میں اسلامی تحریکوں نے زور پکڑا اور انہوں نے عالم اسلام کو مغرب کی ذہنی غلامی سے نجات دلانے اور فرزندان توحید کو اپنے سارے مسائل کے حل کے لئے واشنگٹن اور ماسکو کے بجائے مکہ اور مدینہ کی طرف مبذول کرنے کی تلقین کی۔
مسلمانوں کو تلوار اور قلم کے ساتھ گھائل کرنے کی کوششیں صدیوں تک جاری رہیں اور ایک وقت وہ آیا جب اسلام دشمن قوتوں کو یقین ہو گیا کہ اب مسلمانوں کا اپنے مرکز قوت سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے جس کے بحال ہونے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔
مستشرقین نے اسلامی تعلیمات کو ایسے بھونڈے انداز میں پیش کیا تھا کہ ہر سلیم الفطرت انسان ان سے نفرت کرنے پر مجبور ہو جاتا۔ انہوں نے مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ ان کی تہذیب کے مقابلے میں مغربی تہذیب کہیں بہتر ہے اور دنیا میں ترقی کے لئے اسلام سے قطع تعلق ضروری ہے۔ (1)
اس دور میں اسلامی تحریکوں نے زور پکڑا۔ برصغیر میں ایک ایسی تحریک اُٹھی جس نے اسلام کے نام پر ایک نئی ریاست کے قیام کی کوشش کی جو کامیاب ہوئی۔ وہ تحریک تحریک پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی جس کا نعرہ یہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔ اس کے علاوہ مصر اور افریقہ کے مسلم ممالک میں ایسی تحریکوں نے زور پکڑا۔ افغانستان اور ایران کے مسلمان اپنے دوسرے ملی بھائیوں سے بھی چند قدم آگے تھے۔ اس صورتحال نے اہل مغرب کا سکون برباد کر دیا۔ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے انہوں نے "اسرائیل"
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 170
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کی بنیاد رکھی۔ اکثر مسلم ممالک میں اسلام پسند عناصر کو فتح حاصل کرنے کے باوجود اقتدار سے محروم رکھا گیا اور اس کی کوششیں کی گئیں۔
مستشرقین نے مسلمانوں کے لئے "دہشت گرد" اور "بنیاد پرست" کی اصطلاحیں ایجاد کی۔ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ان اصطلاحوں کی اتنی تشہیر کی کہ مسلمان علماء کی زبانوں سے بھی بنیاد پرستی کی مذمت ہونے لگی۔ مسلمانوں کا طبقہ دہشت گردی کے الزام سے بچنے کے لئے اپنے مسلمان ہونے پر شرمندگی محسوس کرنے لگا۔
اسلام کا نام لینے کے جرم میں ایران کو سارے مغرب کا سب سے بڑا دشمن سمجھا گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے ایٹم بم بنانے کی کوششوں کو اسلامی بم، سنی بم اور شیعہ بم کا نام دیا گیا اور عراق کے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کیا گیا۔ آج یہ حالت ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے جرائم میں ملوث افراد بھی مسلمان ہیں اور ان کا نشانہ بننے والے بد نصیب بھی اسلام سے ہی تعلق رکھتے ہیں (1)۔
امریکہ نے خلیج کی جنگ میں لاکھوں انسانوں کے خون سے ہولی کھیلی لیکن وہ اتنی بڑی دہشت گردی کے باوجود "امن پسند" اور "مہذب" ہے اور عراق اور لیبیا بلکہ سارے مسلمان دہشت گرد ہیں۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کا خون کیا لیکن وہ امن پسند ہیں لیکن اس قلمی دہشت گردی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والے دہشت گرد۔ نیٹو کا وزیر دفاع کہہ چکا ہے کہ اشتراکیت کے خاتمے کے بعد آج یورپ اور امریکہ کا سب سے بڑا دشمن اسلام ہے۔ (2)
اس دور میں گاہے بگاہے مستشرقین کا پھیلایا ہوا زہر مختلف صورتوں میں ظاہر
(1) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 171
(2) ضیاء النبی از پیر محمد کرم شاہ الازہری جلد ششم صفحہ 171، 172
عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿223﴾
ہوتا رہا۔ 1977 میں امریکی یہودیوں نے ایک فلم بنائی جس کا نام "محمد پیغمبر خدا" تھا۔ مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا لیکن جب فلم بند نہ کی گئی تو ایک غیور مسلمان "خلیفہ حماس" نے چند یہودیوں کو اغوا کر کے مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کرایا لیکن بعد میں خلیفہ کو اس کے گھر والوں سمیت شہید کر دیا گیا۔
مغرب نے 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں ملعون رشدی اور تسلیمہ نسرین کے بکواسات کی آزادیٔ رائے کے نام پر پذیرائی کی لیکن جب سلمان رشدی کے جواب میں برطانیہ کے پاکستانی ڈاکٹر بشیر احمد نے کتاب لکھی تو پہلے تو کسی بھی برطانوی پبلشر نے اسے شائع کرنے کی حامی نہ بھری اور پھر بعد میں اسے برطانیہ سے نکال دیا گیا۔
جولائی 1997 میں ایک یہودی عورت نے نبی کریم ﷺ کی گستاخی دیواروں پر توہین آمیز پوسٹر آویزاں کر کے کی جسے نیویارک کے معروف یہودی ہفت روزہ "جیوش ویک" نے "مجاہدہ" قرار دیتے ہوئے اس پر طویل اداریہ تحریر کیا۔ ستمبر 2000ء میں انٹرنیٹ پر ایک نیم برہنہ دوشیزہ کے سامنے مسلمانوں کو سجدہ ریز کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ انٹرنیٹ پر قرآن کی طرف منسوب دو جعلی سورتیں پیش کی گئیں۔ اکتوبر 2001 میں نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب چھ تصاویر شائع کیں اور دعویٰ کیا کہ آپ ﷺ (نعوذ باللہ) دہشت گردی کی وجہ ہیں۔
نومبر 2004 میں ہالینڈ میں ایک ایسی فلم ریلیز کی گئی جس میں اسلامی احکامات کا مذاق اڑایا گیا اور برہنہ فاحشہ عورتوں کی پشت پر قرآنی آیات تحریر کی گئیں۔ جنوری 2005 میں فرقان الحق نامی کتاب کو قرآن باور کرانے کی کوشش کی گئی جس میں 72 سورتیں ہیں اور جہاد کے متعلق آیات اس میں موجود نہیں۔ اسرائیل کے شہر "اشدود" میں قائم یہودی ڈسکو ڈانس کلب کا نام مکہ رکھا گیا (نعوذ باللہ)۔ دنیا میں کتنی مساجد کو جلا دیا
عصمت رسول ﷺ پر حملے
گیا اور کچھ عجائب گھروں میں تبدیل کر دی گئیں اور کچھ عریاں فلموں کے لئے کھول دی گئیں۔ کوانٹانا موبے میں انسانیت کی بھلائی پر مبنی کتاب (قرآن مجید) کو ٹشو پر استعمال کیا گیا۔ تیرہ فروری 2008ء کو ہالینڈ میں ایک فلم بنائی گئی جس سے نبی کریم ﷺ کو دنیا میں قتل وغارت اور دہشت گردی کا سبب قرار دیا گیا (نعوذ باللہ)۔ ہالینڈ میں اس اسلام مخالف فلم "فتنہ" کے ڈائریکٹر نے کہا کہ میرے فلم بنانے کا سبب ہالینڈ میں اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ موجودہ دور میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے اس دور کی ایک مثال ہیں اور یہ سب اس تحریک کا تسلسل کی ایک کڑی ہیں۔
ماخوذ از ماہنامہ رشد لاہور
عصمت رسول ﷺ پر حملے
شر شیطان رشدی ملعون
سلمان رشدی ہندوستان کے شہر بمبئی میں ایک مرتد ہندی نژاد انیس رشدی کے ہاں 1947ء میں پیدا ہوا۔ اس نے ابتدائی تعلیم عیسائی مشنریوں کے سکولوں میں سے ایک سکول میں حاصل کی اس وجہ سے اوائل عمر میں ہی اسلام سے نفرت، نبی کریم ﷺ سے بغض اور قرآن حکیم کے بارے میں شک و شبہ اس کے رگ و پے میں سرایت کر گیا۔ یہ فطری بات تھی کہ گمراہی والا چھپا ہوا کینسر اس کے دل پر غالب آ جائے اور بچپن ہی میں اسے زنگ آلود بنا دے۔ جو کچھ اسلام کے بارے میں اپنے باپ سے سنا کرتا تھا وہ اسے اسلام سے دور کرنے والا تھا۔ چنانچہ اس طریقہ سے گھر اور مدرسہ دونوں اس کی شخصیت کی تعمیر میں معاون ثابت ہوئے۔ عیسائی مشنری اس کو اور اس کے ساتھیوں کو خوراک و پوشاک کی تمام ضروریات اس امید پر پیش کر رہے تھے کہ وہ اسلام کے خلاف اس کی معاندانہ اور نفرت بھری سرگرمیوں میں کوشاں ہوں گے۔ چنانچہ یہ نمک خواری بھی اسلام کے خلاف اس کی نفرت کی زیادتی کا باعث بنی۔ گویا وہ کفر و الحاد کی گود میں پلا بڑھا اور اسلام کے ساتھ مخالفت اپنے باپ سے ورثہ میں پائی۔
جب پاک و ہند جنگ ہوئی اور ہندوستان کو ذلت آمیز غربت اور فقر کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اقتصادی تنگی نے اس میں پنجے گاڑ دیئے تو بہت سارے ہندوستانی تلاش رزق اور آسودہ زندگی کی طلب میں ملک سے باہر نکل کھڑے ہوئے۔ سلمان رشدی کے خاندان نے بھی اس امید پر لندن کا رخ کیا اس وقت سلمان رشدی کی عمر تیرہ برس تھی۔ اس کے باپ نے اسے لندن کے ایک سیکنڈری سکول "راگبی" نامی میں داخل کروا دیا۔ وہاں سے اس نے ثانوی تعلیم کی سند حاصل کی پھر کیمرج یونیورسٹی کے کنگز کالج کے شعبہ تاریخ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
میں تخصیص حاصل کرنے کے لئے داخل ہوا جو نہی اس کالج سے فارغ التحصیل ہوا۔ اپنی تعلیمی قابلیت کے مطابق مناسب نوکری کی تلاش شروع کر دی لیکن ناکام رہا۔ پھر اسے نوکری کی تلاش کے لئے پاکستان کی سوجھی۔ وہ پاکستان آیا اور یہاں ٹیلی ویژن کے محکمے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ یہاں ایک دن اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسلام کے موضوع پر گفتگو کر رہا تھا کہ خبث باطن ظاہر ہو گیا۔ پاکستان چونکہ ایک اسلامی ملک ہے یہاں اسلام پر نکتہ چینی اور توہین ہرگز برداشت نہیں کی جاتی۔ یہ بات محکمہ کے ذمہ داران تک پہنچ گئی جنہوں نے اسے فوراً ہی معزول کر دیا۔
اب وہ ناکام و نامراد اور تباہ حال لندن چلا گیا۔ اسلام کے خلاف اسکا غصہ مزید بھڑک اٹھا کیونکہ اسلام کے ساتھ کینہ رکھنے اور اس سے نفرت کرنے کی وجہ سے اسے نوکری سے ہٹایا گیا تھا۔ اب وہ کوئی کام تلاش کرنے لگا یہاں تک کہ نشریات کی ایجنسیوں میں ایک ایجنسی میں اس نے نوکری حاصل کر لی۔ اس ایجنسی میں مستقل آمدنی طے ہو جانے کے بعد اس نے اپنی پہلی کتاب "گریموس" شائع کی لیکن ناکام رہا۔ پھر اس نے "کلاریسالارڈ" نامی ایک انگریز لڑکی سے شادی کی جس کی بہت سارے ناشرین سے جان پہچان تھی۔ پھر اس نے "Midnight Children" لکھی۔ جس پر اسے برطانیہ نے بوکر "Boker" نامی انعام دیا ۔ 1983 میں فرانس میں "العار" پر اسے انعام دیا گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی کا کام مکمل ہو گیا ہے تو اس نے اسے طلاق دے دی۔ اس کے بعد ایک امریکی کاتبہ "ماریان ویگنز" سے شادی کر لی۔ 1988 میں اس نے "شیطانی آیات" نامی کتاب لکھی اور "وائکنگ پریس" نامی ادارہ طباعت نے اس کو شائع کیا مگر دیگر فلاپ کتابوں کی طرح کافی عرصہ تک یہ کتاب جمود کا شکار رہی جس کی وجہ سے ادارہ مایوس ہو گیا اور آخر کار اس نے اسے ادارہ پینگوئن کے ہاں فروخت کر دیا۔ ادارہ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
پینگوئن نے اس کتاب کے لئے عا کے مالکان جو اسلام دشمنی کے لحاظ
جب مسلمانان برطانیہ انہوں نے اس کے خلاف زبردس برمنگھم ، لنکاشائر، ہائی ویکب وغیر لندن کے ہائیڈ پارک سے بیس ہزا سخت سردی کے باوجود ساڑھے چ یاداشت پیش کی۔ 27 مئی کو لندن ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے پھر ایک شاندار مظاہرہ کیا۔ انیس چلانے کا ایک قانونی معرکہ جیتا۔
ہندوستانی مسلمانوں فوراً پابندی عائد کر دی لیکن ہندوست کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے مظاہ جلوس نکالا۔ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی مسلمانوں نے زبردست مظاہرہ ہو۔ تیرہ فروری کو انجمن ہلا فروری 1989 کو روز نامہ جنگ
عصمتِ رسول ﷺ پر حملے
پنگوئن نے اس کتاب کے لئے عالمی منڈی حاصل کر لی اور تمام حکومتوں میں لائبریریوں کے مالکان جو اسلام دشمنی کے لحاظ سے مشہور تھے ان کو فروخت کر دی۔
دنیائے اسلام کا ردعمل
جونہی مسلمانان برطانیہ کو اس کتاب "شیطانی آیات" کی اشاعت کا پتہ چلا انہوں نے اس کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ برطانیہ کے شہروں بریڈ فورڈ، بوسٹن، برمنگھم، لنکا شائر، ہائی ویکمب وغیرہ میں مظاہرے ہوئے اور اس کتاب کو نذر آتش کیا۔ لندن کے ہائیڈ پارک سے بیس ہزار سے زائد افراد نے جلوس نکالا۔ موسلادھار بارش اور سخت سردی کے باوجود ساڑھے چار میل کا فاصلہ طے کر کے کتاب کے پبلشر کو احتجاجی یاداشت پیش کی۔ 27 مئی کو لندن کے پارلیمنٹ سکوئر میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ سترہ جون کو بریڈ فورڈ کے مسلمانوں نے پھر ایک شاندار مظاہرہ کیا۔ انیس جون کو مسلمانان برطانیہ نے رشدی کے خلاف مقدمہ چلانے کا ایک قانونی معرکہ جیتا۔
ہندوستانی مسلمانوں کے پرزور احتجاج کی بناء پر حکومت ہند نے اس کتاب پر فوراً پابندی عائد کر دی لیکن ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے جذبات کے اظہار اور عالم اسلام کے ساتھ ہم آہنگی کے لئے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا۔ 24 فروری کو بمبئی سے ایک جلوس نکالا۔ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں شیطانی کتاب کے مسئلے میں ہنگامہ ہوا۔ سری نگر کے مسلمانوں نے زبردست مظاہرہ کیا۔ بارہ فروری کو امریکن سنٹر اسلام آباد کے باہر احتجاج ہوا۔ تیرہ فروری کو انجمن مدارس عربیہ نے مسلم مسجد لاہور سے جلوس نکالا۔ تیرہ فروری 1989 کو روزنامہ جنگ راولپنڈی نے یہ خبر شائع کی "پوپ جان پال نے ہدایت
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
کی ہے کہ شیطانی آیات نامی کتاب ویٹی کن سٹی کی سرکاری لائبریری میں نہ رکھی جائے۔ پاپائے روم نے خود بھی یہ کتاب پڑھی ہے اور اس پر منفی ردعمل کا اظہار کیا۔ بعد میں انہوں نے حکم دیا کہ یہ کتاب کسی صورت ویٹی کن کے کتب خانے میں نہ پہنچنے پائے"
23 فروری کو سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں ہڑتال ہوئی۔ آزاد کشمیر کی کابینہ نے اس کتاب پر پابندی لگا دی ان کے علاوہ تین مارچ کو ہالینڈ کے دارالحکومت ڈین ہیگ میں مظاہرہ ہوا اور چار مارچ کو اوسلو، روم ، ہالینڈ میں مظاہرہ ہوا۔ ڈنمارک کے صدر مقام کوپن ہیگن میں دو ہزار مسلمانوں نے اور فرانس میں ایک ہزار مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ایران نے سلمان رشدی کو قتل کرنے والے ایرانی کو تیس لاکھ ڈالر اور غیر ملکی کو دس لاکھ ڈالر دیئے جائیں گے۔ ایران کے صدر خامنہ ای نے پوری اسلامی دنیا کے بہادر اور مسلمان نوجوانوں سے اپیل کی کہ آیت اللہ خمینی نے رشدی کو قتل کرنے کا جو فتویٰ دیا ہے اس پر عمل کیا جائے۔ دو ہزار کے قریب ایرانیوں نے تہران میں برطانوی سفارت خانے کا گھیراؤ کیا۔ اس فتوے سے ناراض ہو کر یورپ کے کئی ممالک نے ایران سے اپنے سفیر واپس بلا لئے مگر ایرانی حکومت اپنے فیصلے پر قائم رہی۔
حکومت ایران نے کہا کہ جس انداز میں برطانیہ اور مغربی ممالک اس ملعون کی پشت پناہی کر رہے ہیں اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ برطانیہ ہمیں تو بار بار کہتا ہے کہ ہم اپنا فتویٰ واپس لیں لیکن کسی برطانوی مدبر یا لیڈر نے ایک بار بھی رشدی کو یہ نہیں کہا کہ اس نے اس قسم کی سوقیانہ اور رکیک حملوں سے بھری ہوئی کتاب کیوں لکھی اور نہ اس پر مقدمہ چلانے کے لئے اسے گرفتار کیا۔ بھارت ،پاکستان، مصر، ایران، سعودی عرب، کویت، ملائشیا، سری لنکا اور جنوبی افریقہ سمیت کئی ممالک نے اس کتاب پر پابندی لگا دی۔ تمام فضائی کمپنیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
رشدی کسی طیارے میں سفر نہیں کر سکتا کر دیا۔
16 جون 2007ء کو ہڈ (Knight Hood) کا خطاب زیادہ معتبر ہے۔ اس کے علاوہ رشدی اس کی پرتعیش رہائش کا انتظام بھی کیا حکمرانوں اور سیاست دانوں کو پاگل ک کے لائق ہے جس سے مسلمانوں کو دلی
(1) شیطان رشدی اور اس کی خرافات کا تنقید
(2) روزنامہ خبریں راولپنڈی 16 اپری
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿229﴾
رشدی کسی طیارے میں سفر نہیں کر سکتا۔ حکومت برطانیہ نے اسے سرکاری نگرانی میں روپوش کر دیا۔
16 جون 2007ء کو برطانیہ کے شاہی محل سے سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ (Knight Hood) کا خطاب دیئے جانے کا اعلان کیا گیا جو سر کے خطاب سے زیادہ معتبر ہے۔ اس کے علاوہ رشدی کو برطانیہ نے نہ صرف سکیورٹی فراہم کی بلکہ نیوزی لینڈ اس کی پرتعیش رہائش کا انتظام بھی کیا۔ مسلمانوں کے خلاف یورپ اور امریکہ کے بڑے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو پاگل کر رکھا ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ کام انتہائی قدردانی کے لائق ہے جس سے مسلمانوں کو دلی تکلیف ہوتی ہو اور ان کے ضمیر کو گہری ٹھیس لگتی ہو۔
(1) شیطان رشدی اور اس کی خرافات کا تنقیدی جائزہ از شمس الدین قاسمی صفحہ 11 تا 18 اور 44 تا 49
(2) روزنامہ خبریں راولپنڈی 16 اپریل 2008ء
﴿ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴾
گستاخانہ خاکے (ایک منظم سازش)
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سارا عمل ایک منظم منصوبہ بندی اور گہری سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے بلکہ باقاعدہ مذموم مقاصد و اہداف کے پیش نظر کارٹونوں کے مقابلے کروا کر ڈنمارک کے اخبارات کو ان کی اشاعت کے لئے منتخب کیا گیا کیونکہ وہاں جدید تہذیب کے کھوکھلے نعرے زیادہ شدت کے ساتھ زیرِ عمل ہیں۔
اس کے علاوہ ڈنمارک سکینڈے نیوین ممالک میں سب سے زیادہ یہودیت نواز ملک ہے۔ یہ بھی اس سازش کے وہاں پنپنے کی ایک وجہ ہے۔ سارے حالات اور حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ڈنمارک کے ایک اخبار کی شرارت نہیں بلکہ ایک عالمی مہم ہے جس میں ڈنمارک کو ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس کا ہدف اسلام، مسلمانوں اور پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی اور اسلامی شعائر کا مذاق اڑانا ہے۔
ڈنمارک کے اخبارات کے بعد ان خاکوں کی اشاعت کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے پیچھے یہودی ذہن کی منصوبہ بندی ہے جو حسبِ سابق مسلمانوں کے خلاف عیسائی قوتوں کو آلہ کار بناتے رہتے ہیں۔ سب سے پہلے خاکے شائع کرنے والے اخبار "یولاندو پوسٹن" کی پیشانی پر "سٹار آف ڈیوڈ" اس کے متعصب یہودی ہونے کا برملا اظہار ہے۔ اس گھناؤنی سازش میں ڈنمارک کے ساتھ ساتھ فرانس، جرمنی، ناروے، ہالینڈ، اٹلی سمیت تمام امریکی اور یورپی ریاستوں کے ذرائع ابلاغ بھی برابر کے شریک ہیں۔
ان خاکوں کی بڑے پیمانے پر اشاعت اور مذکورہ ممالک کے باشندوں کا طرزِ
عصمت رسول ﷺ پر حملے
عمل (اپنے میڈیا کی حمایت میں خاموشی) اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ سب کچھ منظم طریقے سے شروع کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ دنیا کی دو بڑی ویب سائٹس "فری ری پبلک" اور "یو ٹیوب" شروع دن سے ہی ان خاکوں کی تشہیر کر رہی ہیں۔ ان دونوں ویب سائٹس کے مرکزی کمپیوٹر سسٹم (Server) امریکی ریاست فلوریڈا میں ہیں۔ ان خاکوں کی اشاعت کے دو بنیادی کردار ہیں۔
پہلا ڈینیل پائپس جو پچھلے چالیس سال سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف قلمی جنگ کر رہا ہے۔ بیسیوں کتابوں اور سینکڑوں مضامین کا مصنف ہے۔ صہیونی تحریک میں اونچا مقام رکھتا ہے اور مسلمانوں کا کٹر مخالف ہے۔ صدر بش نے اسے ایک ایسے تھنک ٹینک کا مشیر بنایا ہوا تھا جس کے مصارف سرکاری خزانے سے برداشت کئے جاتے ہیں۔ امریکی اخبارات اسے اسلام فوبیا کا مریض اور مغربی دانشور اسلام دشمن قرار دیتے ہیں۔ موجودہ دور میں اسلام کے خلاف دنیا بھر میں جہاں بھی کوئی سرگرمی ہو یہ اس میں اپنا کردار ضرور ادا کرتا ہے۔
دوسرا کردار فلیمنگ روز ہے جو یولانڈر پوسٹن کا کلچرل ایڈیٹر ہے۔ کافی عرصہ سے یہ بھی توہین رسالت کے موقع کی تلاش میں تھا کہ کیرے بیونچن نامی ایک ڈینش مصنف نے نبی ﷺ کے بارے میں بچوں کے لئے ایک کتاب لکھی جس میں تصویری خاکوں کے ذریعے نبی ﷺ کی وضاحت کرنے کے لئے اس نے فلیمنگ سے آپ ﷺ کا کوئی خاکہ طلب کیا۔ اس کے تقاضے پر فلیمنگ امریکا گیا اور وہاں سے ڈینیل پائپس سے خصوصی صلاح و مشورہ کیا۔ اس مشاورت کے نتیجے میں فلیمنگ نے چالیس کارٹونسٹوں کو گستاخانہ کارٹون بنانے کی دعوت دی جن میں سے صرف بارہ لوگ ایسے تھے جو بدبخت اس مذموم حرکت کے لئے آمادہ ہوئے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
اس گھناؤنی سازش کی قیادت مغرب کا وہ طبقہ کر رہا ہے جو مذہب سے خدا واسطے کا بیر رکھتا ہے اور انسانیت کو مذہب بیزار کرنا اس کا مقصد ہے۔ اس طبقے نے چند سال قبل ایک متنازعہ فلم ”ڈاونچی کوڈ“ کی بڑے پیمانے پر نمائش کی جس میں عیسیٰ علیہ السلام کو زناء (نعوذ باللہ ) ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ فلم برطانیہ میں سرعام دکھائی گئی اس میں (نعوذ باللہ ) عیسیٰ علیہ السلام کو ولد الزناء ثابت کرتے ہوئے ان کی والدہ مریم علیھا السلام کے کردار پر بھی کیچڑ اُچھالا گیا۔
اس فلم کی اشاعت سے عیسائیوں میں بھی شدید ردعمل پیدا ہوا لیکن آزادی اظہار کے نام پر آج تک اس بدنام زمانہ فلم کی نمائش جاری ہے۔ برطانیہ میں مسیحیت کے خلاف کفریہ کلمات ایک قابل سزا جرم ہے اس کے باوجود برطانیہ میں ایک فلم The last) (Temptation of Christ بنائی گئی جس میں مسیح علیہ السلام کی جنسی زندگی کے مناظر دکھائے گئے (نعوذ باللہ ) اور یہ فلم برطانیہ میں سرعام دکھائی گئی مغرب میں اہانت انبیاء کے حوالے سے جس قدر بے حسی پائی جاتی ہے وہ کسی ذی شعور پر مخفی نہیں۔
بیسویں صدی کے آغاز میں لندن میں ایک ڈرامے میں محمد ﷺ سمیت بعض دیگر انبیائے کرام کے کردار کو بھی پیش کئے جانے کی خبر ملی تو اس موقع خلیفہ سلطان عبدالحمید نے پہلے سفارت کاری اور بعد ازاں دھمکی دے کر اس مذموم عمل کو وقوع پذیر ہونے سے روک دیا کہ وہ بحیثیت خلیفہ پوری امت مسلمہ کو برطانیہ کے خلاف جنگ کا حکم جاری کردیں گے۔
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے وقت سابق صدر پرویز مشرف ناروے میں موجود تھا جو سکینڈے نیویا کا ایک ملک ہے لیکن اسے اپنی زبان سے اس عظیم سانحہ کے خلاف ایک حرف نکالنے کی توفیق نہ ہوئی۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
گستاخانہ خاکوں کے مقاصد
مغرب کے تمام تر اقدامات اسلام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی دعوت اور ان کی اپنی مٹتی ہوئی تہذیب کی وجہ سے ہیں۔ مغرب کے مادر پدر آزاد کلچر نے اسے اخلاقی طور پر دیوالیہ کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس تہذیب کے ستائے ہوئے لوگ اب اسلام کی جستجو میں کشاں کشاں چلے آ رہے ہیں جس کا مغرب کو بہت دکھ ہے اور وہ اپنی ڈوبتی ہوئی تہذیب کو بچانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہئے کہ مغرب اس قسم کی حرکتوں سے جلد باز آنے والا نہیں۔ اس کے اسلام سے متعلق منفی کاموں کے شعبوں کی جڑیں کئی صدیوں کی کاوشوں میں پنہاں ہیں۔ اخلاقی گراوٹ کی آخری حدوں کو چھوتے ہوئے اہلِ مغرب نے مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی ﷺ کو اپنی تضحیک و تحقیر کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ اب ہم خاکے بنانے کے مقاصد کا مفصل جائزہ لیتے ہیں۔
عداوت و دشمنی
خاکوں کی اشاعت کی بنیادی وجہ اہل مغرب کی نبی ﷺ سے انتہاء درجے کی عداوت ہے جس کا اظہار وہ مختلف قسم کی نازیبا حرکات کر کے کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ روزِ اول سے مسلمانوں کا نبی ﷺ سے تعلق کمزور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی یہ ناپاک کوشش ہے کہ محبوب خدا ﷺ کو متنازعہ ثابت کیا جائے تاکہ آپ ﷺ کے پیروکاروں کے دلوں سے عظمت مصطفیٰ ﷺ اور توقیر و تعظیم کم کی جا سکے۔ اس کے لئے وہ وقتاً فوقتاً نبی ﷺ کی شان میں ہذیان بکتے رہتے ہیں۔ جب ان بکواسات کے باوجود غصے اور حسد کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تو پھر ان بدبختوں نے توہین آمیز خاکے بنا کر اپنے
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
دردوں کا مداوا کرنے کی کوشش کی۔
جہاد کو دہشت گردی ثابت کرنا
دنیائے اسلام میں جہاد کو جو مقام و مرتبہ حاصل ہے وہ کسی اہل علم سے مخفی نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد کو دین اسلام کے کوہان کی چوٹی قرار دیا گیا ۔ اسلام دشمن اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ وہ میدان کارزار میں مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اس لئے وہ مسلمانوں کو جہاد سے برگشتہ کرنے کے لئے مختلف بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ان کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کو جہاد سے دور کر دیا جائے پھر انہیں ترنوالہ سمجھتے ہوئے نگل لینا آسان ہو جائے گا۔ وہ یہ باور کرانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام دین امن نہیں بلکہ یہ ظلم وتشدد کا علمبردار ہے۔ ان خاکوں کی ایک وجہ جہاد کو دہشت گردی ثابت کرنا بھی ہے۔
یورپ وامریکہ میں تیزی سے پھیلتے ہوئے اسلام کو روکنا
اسلام اپنی انسانیت نواز خوبیوں کے باعث روز اول سے مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔ آج دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ مسلمان ہیں۔ موجودہ زمانے میں دیارِ مغرب میں اسلام کے فروغ کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔ اسلام یورپی ممالک اور امریکہ میں دوسرا وسعت پذیر دین ہے۔ امریکہ و یورپ میں اس قدر تیزی سے بڑھتے ہوئے اسلام کے اس سیل رواں کے آگے بند باندھنے کے لئے غیر مسلم متحرک ہو چکے ہیں۔ وہ مختلف حیلے بہانے اور سازشوں کی مدد سے نور اسلام کو بجھانے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ توہین آمیز خاکے اس بغض و فساد اور تعصب کی کڑی ہیں جس کا مقصد نبی ﷺ اور اسلام کی حقانیت کو مجروح کر کے دنیا کو تیزی سے بڑھتے ہوئے اسلام سے متنفر
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملہ﴾
کرنا ہے۔
توہین رسالت کے بارے میں مسلمانوں میں بے حسی پیدا کرنا
مغرب میں اہانت انبیا کے حوالے سے جو بے حسی پائی جاتی ہے اس سے پورا زمانہ واقف ہے۔ وہ کسی بھی نبی کی توہین کو آزادی رائے اور سیکولرازم کے نام پر برداشت کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ اہل یورپ توہین آمیز خاکوں اور اسلام مخالف فلموں کے ذریعے مسلمانوں میں یہی بے حسی پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ توہین رسول ﷺ کو قطعی اہمیت نہ دیں۔ ہالینڈ کے ایک اخبار نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ہم یہ کارٹون ہر ہفتے شائع کیا کریں گے تاکہ مسلمان ان کے عادی ہو جائیں۔
دنیا کو پیغام رسالت سے برگشتہ کرنا
اسلام امن و رواداری، حسن اخلاق اور مہر و وفا کا دین ہے۔ اس کے عقائد سچے ، اس کی عبادات سادہ اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں اور پیغمبر اسلام ﷺ کی سیرت مطہرہ بنی نوع انسان کے لئے اسوۂ حسنہ ہے۔ اپنی انہی بے مثال روایات و تعلیمات کی وجہ سے اسلام روز بروز پھیلتا جا رہا ہے۔
یہودیت و نصرانیت کی انسانیت سوز تعلیمات و احکام کے بالمقابل جب لوگ اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات اور نبی ﷺ کے حسن و اخلاق اور اعلیٰ کردار کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ یہ بات اہل مغرب کو گوارا نہیں ہے۔ وہ یہ تہیہ کر چکے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلامی احکام و تعلیمات کو مسخ کر کے پیش کیا جائے تا کہ لوگ اسلام کی طرف التفات نہ کریں۔
اس مقصد کے لئے وہ کبھی قرآن اور نبی ﷺ کے خلاف فلمیں ریلیز کرتے ہیں تو
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کبھی گستاخانہ خاکے شائع کرتے ہیں۔ کبھی اسلام کی تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہیں تو کبھی مسلمانوں پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ
روح محمد ﷺ ان کے بدن سے نکال دو
عصمت رسول ﷺ پر حملے
خا
اسلام سے مغرب کی عداو تک محدود رہی لیکن جب بات اس طر لیا اور گستاخانہ خاکے اور فلمیں اس مقص گستاخانہ خاکوں کی لمحہ بہ لمحہ اشاعت کی
30 ستمبر 2005ء ڈنمارک کے قدامت پسند
17 اکتوبر 2005ء مصری اخبار ”الفجر“ نے چھ شائع کیا جس میں کارٹون
3 نومبر 2005ء جرمن اخبار ”ڈی ویلٹ“ ن ایک بوسنوی اخبار ”سلوڈو“
7 جنوری 2006ء سویڈن کے ایک اخبار ”س ”کویل پوسٹن“ کے خواتی B_T اخبار نے دو خاکے
10 جنوری 2006ء
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿237﴾
خاکوں کی اشاعت
اسلام سے مغرب کی عداوت کی جنگ پہلے تو اس کی نظریاتی بنیادیں کمزور کرنے تک محدود رہی لیکن جب بات اس طرح نہ بن پائی تو انہوں نے غیر اخلاقی حرکات کا سہارا لیا اور گستاخانہ خاکے اور فلمیں اس مقصد کے لیے نشر کرنی شروع کر دیں۔ ذیل میں ہم ان گستاخانہ خاکوں کی لمحہ بہ لمحہ اشاعت کی تفصیل بتاتے ہیں۔
30 ستمبر 2005ء
ڈنمارک کے قدامت پسند اخبار ”یولاندر پوسٹن“ نے بارہ کارٹون شائع کئے۔
17 اکتوبر 2005ء
مصری اخبار ”الفجر“ نے چھ خاکے شائع کئے اور ان کے ساتھ ایک آرٹیکل بھی شائع کیا جس میں کارٹون بنانے والوں کی بھر پور حمایت کی گئی۔
3 نومبر 2005ء
جرمن اخبار ”ڈی ویلٹ“ نے ایک کارٹون شائع کیا۔ ایک بوسنوی اخبار ”سلوڈینا بوسنا“ نے بھی کارٹون شائع کئے۔
7 جنوری 2006ء
سویڈن کے ایک اخبار ”سویڈش ایکسپریس“ نے بھی خاکے شائع کئے۔ ”کویل پوسٹن“ کے خواتین ایڈیشن نے بھی خاکے شائع کئے۔ T_G اخبار نے دو خاکے شائع کئے۔
10 جنوری 2006ء
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿238﴾
ناروے کے اخبار ”میگزنٹ“ نے بارہ خاکے شائع کئے۔
31 جنوری 2006ء آئس لینڈ کے اخبار ”D V“ نے دو خاکے شائع کئے۔
یکم فروری 2006ء فرانسیسی اخبار ”فرانس سوار“ نے خاکے شائع کئے۔ جرمن اخبار ”ڈی ویلٹ“ نے دوبارہ خاکے شائع کئے۔ اٹالین اخبار ”لاسٹمپا“ نے خاکوں کی اشاعت کی۔ ہسپانوی اخبار ”E P“ نے بھی خاکے شائع کئے۔ ڈچ اخبار ”وولکس کرانٹ NRC“ اور ”ہینڈلزبلاڈ“ کے علاوہ ”ایلویہ“ نے بھی اسی شرمناک حرکت کا اعادہ کیا۔
2 فروری 2006ء جرمن اخبار ”ڈائی رینٹ“ نے کارٹونز شائع کئے۔ جارڈن کے اخبار ”الشیحان“ نے بھی خاکے شائع کئے۔ امریکن اخبار ”نیو یارک سن“ نے بھی خاکے شائع کئے۔ بیلجئین اخبار ”سٹوئر“ نے بھی خاکوں کی اشاعت کی۔ فرانسیسی اخبار ”لی مونڈ“ نے بھی خاکے شائع کئے۔ ”برٹش نیشنل پارٹی“ نے اپنے ویب پیج کو کارٹونز سے آراستہ کیا۔
3 فروری 2006ء انڈین اخبار ”دی ٹائم آف انڈیا“ نے بارہ خاکے شائع کر کے اس سلسلے کو تقویت دی۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر ح آسٹریلین ٹی وی کی خبروں میں کارٹون بیلجین اخبار ”لار سے خاکہ بنایا جا سک
4 فروری 2006ء نیوزی لینڈ کے اخب ساتھ ایک وضاحتی پولینڈ کے اخبار ”ر
6 فروری 2006ء یوکرائن کے اخبار سلوینی اخبار ”فلیڈ اسرائیل کے اخبار وہ اتنے چھوٹے تھے
7 فروری 2006ء ”کارڈف یونیور جس کے خاکے ”ری پبلک“ نام
8 فروری 2006ء فرانس کے ہفت کی جن میں ایک
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
آسٹریلین ٹی وی ”SBS“ اور ”ABC“ نے اپنی رات کی خبروں میں کارٹونز شائع کئے۔
بیلجیئن اخبار ”لارلبر“ نے ایک گیم متعارف کروائی جس میں نقطوں کی مدد سے خاکہ بنایا جا سکتا تھا۔
4 فروری 2006ء
نیوزی لینڈ کے اخبار ”دی ڈومینین“ نے خاکے شائع کئے اور ان کے ساتھ ایک وضاحتی آرٹیکل بھی شائع کیا۔
پولینڈ کے اخبار ”ریزیزپوسپولیٹا“ نے بھی خاکے شائع کئے۔
6 فروری 2006ء
یوکرائن کے اخبار ”سیووڈینا“ نے بھی کارٹون شائع کئے۔
سلوینی اخبار ”فلیڈنا“ نے بھی کارٹونز کی اشاعت کی۔
اسرائیل کے اخبار ”دی یروشلم“ نے بھی خاکے شائع کئے۔ اگرچہ وہ اتنے چھوٹے تھے کہ انہیں دیکھنا بھی محال تھا۔
7 فروری 2006ء
”کارڈف یونیورسٹی“ کے سٹوڈنٹس یونین کا اخبار ”گیر ریڈ“ وہ پہلا اخبار تھا جس کے خاکے شائع کرنے پر عالمی مظاہروں کا آغاز ہوا۔
”ری پبلک“ نامی اخبار نے چار خاکے شائع کئے۔
8 فروری 2006ء
فرانس کے ہفتہ وار میگزین ”چارلی ہیبڈو“ نے تیرہ کارٹونز کی اشاعت کی جن میں ایک نیا کارٹون تھا جو فرانسیسی کارٹونسٹ ”کابو“ نے بنایا تھا۔
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿ ﴾240﴿
برازیل کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے میگزین ”وجاء“ نے تین کارٹونز شائع کئے اور ان کو اپنی ویب سائٹ پر بھی نشر کیا۔
پرنس ایڈورڈ یونیورسٹی آف پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ کے طلباء اخبار ”کیڈر“ نے خاکے شائع کئے۔
9 فروری 2006ء
روس کے اخبار ”ولگوگریڈ“ نے خاکے شائع کئے۔
جاپانی اخبار ”ہوکائیڈو“ نے حکومت کے منع کرنے کے باوجود کارٹون شائع کیا۔
الینوس یونیورسٹی کے اخبار ”الینوس ڈیلی“ نے چھ خاکے شائع کئے۔
10 فروری 2006ء
مقدونیا میں دو اخبارات ”وم“ اور ”ویسٹ“ نے بارہ خاکے شائع کئے۔
14 فروری 2006ء
ساؤتھ افریقہ کے دو اخبارات نے خاکے شائع کئے۔
17 فروری 2006ء
موزیک میں ”ساوانا“ نامی اخبار نے آٹھ خاکوں کی اشاعت کی۔
21 فروری 2006ء
بیلا روس کے اخبار ”وڈا“ نے بارہ خاکے شائع کئے۔
22 فروری 2006ء
”برٹش نیشنل پارٹی“ نے اپنے ویب پیج کو کارٹونز سے دوبارہ آراستہ کیا۔
28 فروری 2006ء
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، کیلیفورنیا کالج اور ری پبلکن کلب نے کارٹونز کی نمائش کی۔
3 مارچ 2006ء فرانسیسی اخبار ”چارلی ہیبڈو“ نے ”یولانڈر پوسٹن“ والے کارٹونز شائع کئے۔
15اپریل 2006ء امریکی بیسڈ طنز و مزاح کے مرکزی نیٹ ورک نے کارٹونز کی جنگ پارٹ ون نشر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے لوگ محظوظ ہوں گے۔
7فروری 2007ء کلیئر کالج آف کیمبرج کے سٹوڈنٹ اخبار نے ایک کارٹون شائع کیا۔
8فروری 2007ء فرانس کے اخبار ”لبریشن“ نے کارٹونز شائع کئے۔
3فروری 2008ء ڈنمارک کے بہت سے اخبارات بشمول ”یولانڈر پوسٹن“ نے قابلِ اعتراض خاکے دوبارہ شائع کئے۔
خلاصہ یہ کہ
کسی بھی قوم کے مہذب ہونے کی یہ دلیل ہے کہ اول تو وہ کوئی غیر اخلاقی کام ہی نہ کرے۔ بفرضِ محال اگر اس سے ایسی کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو پھر اس غلطی کو تسلیم کرے نہ کہ اسے درست ثابت کرنے کے لئے دلائل دے۔ مغرب پر نہایت افسوس
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
ہے جو اتنی بھی اخلاقی جرأت نہیں رکھتے کہ کسی غلط کو غلط کہہ سکیں۔ جن لوگوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ان کا طرز عمل بھی یہ رہا کہ ڈنمارک بھی ناراض نہ ہو اور مسلمان بھی خوش ہو جائیں۔ مغرب کے اس شرمناک عمل میں شریک، ڈینش اخبارات کی پشت پناہی اور مسلسل مغربی اخبارات کا یکے بعد دیگرے خاکے شائع کرنا ان کے غیر مہذب، متعصب اور اسلام دشمن ہونے کی دلیل ہے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
مسلمانوں کا ردعمل
14 اکتوبر 2005ء
ڈنمارک کے تقریباً پانچ ہزار مسلمانوں نے کوپن ہیگن میں "یولانڈر پوسٹن" کے آفس کے باہر ایک پُرامن احتجاج کیا۔
19 اکتوبر 2005ء
دس اسلامی ممالک کے سفیروں نے کارٹونز کے معاملے میں ڈنمارک کے وزیر اعظم "انڈرفوگ راسموزم" سے ملاقات کی درخواست کی جسے وزیر اعظم نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ وہ آزادی صحافت پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتے۔
28 اکتوبر 2005ء
کئی ایک مسلم تنظیموں نے ڈینش پولیس کو درخواست دی کہ اخبار "یولانڈر پوسٹن" نے دفعہ 140 اور 266-b کے تحت جرم کا ارتکاب کیا ہے لہٰذا اخبار پر مقدمہ چلایا جائے۔
7 نومبر 2005ء
بنگلہ دیشی گورنمنٹ نے کارٹونز کے خلاف ایک پر زور سفارتی احتجاج کیا کہ اُن کی اشاعت کیوں کی گئی۔
5 دسمبر 2005ء
ڈنمارک کے پانچ ائمہ کا وفد ابوالبشر کی قیادت میں مصر گیا اور وہاں اس سلسلے میں عرب لیگ کے سیکریٹری عمر موسوی، مصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ اور شیخ الازہر شیخ محمد سعید طنطاوی اور شیخ محمد شعبان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا اہتمام
عصمت رسول ﷺ پر حملے ڈنمارک میں تعینات مصری سفیر نے کیا۔
7 دسمبر 2005ء پاکستان میں مزدور یونین نے کارٹونز کے خلاف احتجاج کیا۔
17 دسمبر 2005ء ڈینش آئمہ کا دوسرا وفد رعید ہلیابل کی قیادت میں لبنان گیا جہاں انہوں نے لبنان کے مفتی اعظم شیخ محمد رشید قبانی، محمد حسین فضل اللہ اور میری ونٹ چرچ لیڈر نصر اللہ سفیر سے ملاقات کی۔ اسی دوران امام احمد اکری شام گئے اور وہاں انہوں نے شام کے مفتی اعظم شیخ بدر الدین حسان کے سامنے اپنے معاملے کی نوعیت واضح کی۔
ایک وفد ترکی ،سوڈان، مراکو، الجزائر اور قطر گیا اور اس معاملہ کی بریفنگ دی۔
29 دسمبر 2005ء عرب لیگ نے ڈینش گورنمنٹ کو اس معاملہ میں کوئی باقاعدہ ایکشن نہ لینے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا
24 جنوری 2006ء سعودی حکومت نے کارٹونسٹ کو سخت سزا دینے کا اپنا پہلا عوامی پیغام جاری کیا۔
26 جنوری 2006ء سعودی حکومت نے اپنے سفیر کو ڈنمارک سے واپس بلا لیا اور ڈنمارک کا مکمل تجارتی بائیکاٹ کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کویت اور دوسرے مشرق وسطی کے ممالک نے بھی مکمل معاشی بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ 27 جنوری کو یولاندر پوسٹن کی ویب سائٹ پر پہلا اٹیک ہوا اور وہ بند کر دی گئی۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
29 جنوری 2006ء
لیبیا نے ڈنمارک میں اپنا سفارتخانہ بند کر دیا۔ افغانی صدر حامد کرزئی نے اس کو ایک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے مستقبل میں میڈیا ایسی غلطیاں نہیں کرے گا۔ ڈینش پرچم کو نابلس اور ہیبرن میں جلایا گیا۔
یمن اسمبلی نے کارٹونز کی اشاعت کو غلط قرار دیا۔
بحرین اور شام کی حکومت نے بھی کارٹونز کی اشاعت کی مذمت کی۔
فلسطین اسلامک جہاد موومنٹ نے ڈینش اور نارویجین کو کہا کہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر غزہ خالی کر دیں۔ اقصیٰ بریگیڈ نے بہتر (72) گھنٹوں کے اندر غزہ خالی کرنے کا حکم دیا۔ قطر نے ڈینش اشیاء کا مکمل بائیکاٹ کر دیا۔
30 جنوری 2006ء
فلسطینی تنظیم الفتح نے یورپی یونین کے ایک آفس پر کارٹونز کی اشاعت کے خلاف پر زور احتجاج کرتے ہوئے قبضہ کر لیا۔ اقصیٰ بریگیڈ نے یورپی یونین کے آفس میں ہلچل مچا دی اور اس کے ساتھ یہ دھمکی بھی دی کہ اگر یورپی یونین نے سرکاری طور پر معافی نہ مانگی تو ورکرز کو اغواء کر لیا جائے گا یہاں تک کہ وہ معافی مانگیں۔
عراقی مجاہدین نے ناروے اور ڈنمارک کے خلاف شدید ہڑتال کرنے کا اعلان کیا۔ 31 جنوری 2006ء
ڈینش مسلم ایسوسی ایشن نے یولاندر پوسٹن اور ڈینش وزیراعظم کی طرف سے مانگی گئی معافی قبول کر لی۔
سترہ اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ کارٹونز کے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
ڈنمارک کو قرار واقعی سزا دی جائے اور اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے۔
بحرین کی نیشنل اسمبلی نے ڈیمانڈ کی کہ ملکہ ڈنمارک اور ڈنمارک گورنمنٹ مسلمانوں سے سرکاری طور پر معافی مانگے ورنہ ہم ڈنمارک کی تمام اشیاء کا بائیکاٹ کریں گے اور GCC ممالک کے ساتھ مل کر تیل کی برآمد بھی بند کر دیں گے (مذکورہ ممالک یومیہ 1,59,000 بیرل تیل برآمد کر رہے ہیں) فلسطینی تنظیم حماس نے مطالبہ کیا کہ کارٹونسٹ کو سخت سزا دی جائے۔
یکم فروری 2006ء
شام میں ڈینش سفارتخانے کو بم کی افواہ پر خالی کر دیا گیا۔ شام نے اپنا سفیر ڈنمارک سے واپس بلا لیا۔
چیچن لیڈر "شامل بسیوف" نے کارٹونز کی سخت مذمت کی۔
کوپن ہیگن میں یولانڈز پوسٹن کے ہیڈ آفس کو بم سے اڑا دینے کی دھمکی پر خالی کر دیا گیا۔ ملائشیا کی ایک مسلم آرگنائزیشن نے ڈنمارک کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے لئے حکومت پر زور دیا۔
انڈونیشیا کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کارٹونز کی اشاعت کی مذمت کی۔
عمانی تاجروں نے ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کر دیا۔
2 فروری 2006ء
جارڈن کے اخبار الشیحان کے کارٹونز شائع کرنے پر اس کے منیجر کو گولی مار دی گئی۔
برٹش اسلامک گروپ الغرابہ نے ایک مضمون شائع کیا جس میں یہ کہا کہ گستاخ
عصمت رسول ﷺ پر حملے
رسول کو قتل کر دو اور اس پر قرآن وحدیث سے دلائل پیش کئے۔
3 فروری 2006ء
ڈنمارک کے وزیر اعظم سے متعدد سفیروں نے ملاقات کی جس میں مصری سفیر نے ڈنمارک پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ انڈونیشیاء کے دارالحکومت جکارتہ میں مشتعل مظاہرین نے ڈینش سفارتخانہ بند کرنے کا مطالبہ کیا اور سارا فرنیچر باہر نکال دیا۔ بعد ازاں سفیر نے مظاہرین کے لیڈر سے مذاکرات کئے جس کے بعد صورتحال کنٹرول میں آئی۔
بیلجین مسلمانوں نے کارٹونز کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا۔
لندن میں مسلم کمیونٹی نے لانگ مارچ کیا۔
پاکستانی سینٹ میں کارٹونز کی اشاعت کے خلاف قرارداد مذمت پاس ہوئی۔
ساؤتھ افریقہ کے جج "محمد جہامے" نے ساؤتھ افریقہ میں کارٹونز کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی۔
4 فروری 2006ء
لندن میں ڈینش سفارتخانے کے باہر مسلم مظاہرین نے منظم انداز سے مظاہرہ کیا۔
سیریا میں موجود ڈنمارک کے سفارتخانے پر مسلم مظاہرین نے بم پھینکے جن سے آگ بھڑک اٹھی اور عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔
ایرانی صدر احمدی نژاد نے مسلم ممالک کو خاکے شائع کرنے والے ممالک سے بائیکاٹ کا مشورہ دیا اور اپنے ممالک کے ان تمام سفراء کو جو ان ممالک میں تھے واپس بلا لیا اور ان ممالک کے صحافیوں کی ایران آمد پر پابندی لگا دی۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
غزہ میں موجود جرمنی کا ثقافتی ٹاور مظاہرین نے تباہ کر دیا۔
بیروت میں موجود ڈینش سفارتخانے کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں نے سفارتخانے پر ہلہ بول دیا۔ جس پر پولیس نے کافی مظاہرین کو قید کر لیا۔
6 فروری 2006ء
دس ہزار پر امن مسلمان مظاہرین نے فرانس کے شہر پیرس میں تین گھنٹے تک پیدل مارچ کیا۔
افغانستان میں خاکوں کی اشاعت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے تین افراد کو قتل کر دیا گیا۔
انڈونیشیا میں مظاہرین نے ڈنمارک کے کونسل خانے اور امریکی سفارت خانے میں توڑ پھوڑ کی۔
لبنانی گورنمنٹ نے ڈنمارک حکومت پر واضح کیا کہ وہ ڈینش سفارتخانے کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
ایران کے شہر تہران میں آسٹریلیا کے سفارتخانے پر دستی بموں سے حملہ کیا گیا تاہم سکیورٹی فورسز کی مداخلت سے آگ زیادہ نہ پھیل سکی۔
سیریا کے مفتی اعظم نے ڈنمارک سے قطع تعلق کا اعلان کر دیا۔
ایک ایرانی اخبار "ہمشہری" نے "ہولوکاسٹ" پر کارٹونز بنانے کا مقابلہ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔
ایک ہزار فرانسیسیوں نے پیرس میں دوبارہ خاکے شائع کرنے پر احتجاج کیا۔
ایک ڈینش باشندے نے یولاندر پوسٹن کے خلاف بدامنی پھیلانے کا مقدمہ دائر کیا۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
7 فروری 2006ء
افغانستان میں ہزاروں مظاہرین
طالبان نے مسلمانوں پر زور دیا ک جہاد کیا جائے۔
یمنی حکومت نے دو پرائیویٹ ا لائسنس اس وجہ سے منسوخ کئے ک
10 فروری 2006ء
احمد ابوالبان نے ڈنمارک کے خ "میگزنٹ" کے ایڈیٹر کی طرف س قبول کر لی۔
کینیا میں احتجاج کے دوران ایک ایشیائی مسلمانوں نے بڑی بڑی
10 فروری 2006ء
پیرس میں اینٹی کارٹونز مظاہرین کی اشاعت کی مخالفت کے بیان
13 فروری 2006ء
ایران کے اخبار "ہمشہری" نے اخبار کا کہنا تھا کہ اس سے ہما لگانا ہے۔
14 فروری 2006ء
عصمت رسول ﷺ پر حملے
7 فروری 2006ء
افغانستان میں ہزاروں مظاہرین کی پولیس اور نیٹو افواج سے جھڑپیں ہوئیں۔
طالبان نے مسلمانوں پر زور دیا کہ خاکے شائع کرنے والوں کے خلاف اعلان جہاد کیا جائے۔
یمنی حکومت نے دو پرائیویٹ اخباروں "یمن آبزرور" اور "الرایہ" کے لائسنس اس وجہ سے منسوخ کئے کہ انہوں نے خاکے شائع کئے۔
10 فروری 2006ء
احمد ابوالبان نے ڈنمارک کے خلاف تشدد بند کرنے کی اپیل کی۔
"میگزین" کے ایڈیٹر کی طرف سے کی گئی معذرت ناروے مسلم تنظیم نے قبول کر لی۔
کینیا میں احتجاج کے دوران ایک آدمی مارا گیا۔
ایشیائی مسلمانوں نے بڑی بڑی ریلیاں نکالیں۔
10 فروری 2006ء
پیرس میں اینٹی کارٹونز مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں خاکوں کی اشاعت کی مخالفت کے بیانات درج تھے۔
13 فروری 2006ء
ایران کے اخبار ہمشہری نے ہولوکاسٹ پر کارٹون مقابلے کا اعلان کر دیا۔ اخبار کا کہنا تھا کہ اس سے ہمارا مقصد مغرب کے دعویٰ آزادی اظہار رائے کا پتہ لگانا ہے۔
14 فروری 2006ء
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿250﴾
پنجاب میں ہزار سے زائد مظاہرین نے کئی مغربی مصنوعات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کی عمارت کو نقصان پہنچایا۔ اس دوران دو آدمی مارے گئے۔
15 فروری 2006ء
منیلا میں ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر مظاہرین نے احتجاج کیا۔
16 فروری 2006ء
کراچی میں لگ بھگ چار ہزار مظاہرین نے مارچ کیا اور ڈنمارک کے وزیر اعظم کا پتلا نذر آتش کیا۔
17 فروری 2006ء
پاکستان کے معروف عالم دین یوسف قریشی نے خاکہ نویس کو قتل کرنے والے کے لئے ایک ملین ڈالر اور ایک کار کے انعام کا اعلان کیا۔ اُتر پردیش (انڈیا) کے ایک وزیر نے گیارہ ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کیا۔ بن غازی میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاج کے دوران سفارتخانے پر حملہ کر دیا۔ ہانگ کانگ اور تنزانیہ میں ہزاروں مسلمانوں نے خاکوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے۔
18 فروری 2006ء
کوپن ہیگن میں تین ہزار مظاہرین نے پر امن احتجاج کیا۔
19 فروری 2006ء
تقریباً 4,000 مظاہرین نے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں امریکی
عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
سفارتخانہ توڑنے کی کوشش مخالف نعرے لگائے۔ تر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں
26 فروری 2006ء
پچیس ہزار لوگوں نے پاکسـ یورپی ممالک کے ساتھ سفـ پولیس نے لاہور میں احتجا لوگوں کو گرفتار کر لیا۔
17 مارچ 2006ء
خاکوں کے معاملہ پر ڈینش کے ادارہ برائے انسانی حقـ
20 مارچ 2006ء
ایک پاکستانی طالب علم ”مـ چیف ایڈیٹر پر آفس میں حمـ نے اسے پکڑ کر پولیس کے و ذہنی تشدد کیا جس سے طـ کے خوف سے پولیس نے
22 مارچ 2006ء
بحرین میں ایک اسلامی مـ خاکے شائع کرنے کے جـ
عصمت رسول ﷺ پر حملے
سفارتخانہ توڑنے کی کوشش کی، امریکہ کے جھنڈے نذر آتش کئے اور امریکہ مخالف نعرے لگائے۔ ترکی کے دارالحکومت استنبول میں فیلیسٹی پارٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں لاکھوں افراد شریک ہوئے۔
26 فروری 2006ء
پچیس ہزار لوگوں نے پاکستان کے شہر کراچی میں احتجاج کیا اور امریکہ مردہ باد اور یورپی ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرو جیسے نعرے لگائے۔ پولیس نے لاہور میں احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین کو روکنے کے لئے چند لوگوں کو گرفتار کر لیا۔
17 مارچ 2006ء
خاکوں کے معاملہ پر ڈینش مسلمان تنظیموں نے ڈنمارک کے خلاف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق میں شکایت درج کی۔
20 مارچ 2006ء
ایک پاکستانی طالب علم ”عامر عبدالرحمن چیمہ“ نے جرمن اخبار ڈی ویلٹ کے چیف ایڈیٹر پر آفس میں حملہ کر کے اسے شدید زخمی کر دیا۔ بعد ازاں سکیورٹی گارڈ نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ برلن پولیس نے 44 دن اس پر جسمانی و ذہنی تشدد کیا جس سے 3 مئی 2006ء کو وہ شہید ہو گئے۔ مسلمانوں کے ردعمل کے خوف سے پولیس نے ان کی شہادت کو خودکشی قرار دیا۔
22 مارچ 2006ء
بحرین میں ایک اسلامی کانفرنس بلائی گئی جس میں یولاندر پوسٹن کے بار بار خاکے شائع کرنے کے متعلق بحث و تمحیص کی گئی۔ حاضرین میں چوٹی کے
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
مسلمان سائنسدان اور علماء نے شرکت کی۔
29 مارچ 2006ء
دارفور میں سوئیڈن کے قائمقام وزیر خارجہ کا استقبال اس لئے نہیں کیا گیا کہ وہ خاکوں کی اشاعت میں حکومت کے ساتھ ملوث تھے۔
تہران میں ایرانی انقلابی گارڈ نے خاکوں کے خلاف احتجاج کے دوران زنجیر زنی کی۔
30 مارچ 2006ء
ڈینش مسلم تنظیموں نے خاکوں کی اشاعت کے خلاف "یولاندر پوسٹن" کے خلاف مقدمہ دائر کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ خاکوں کی اشاعت غیر قانونی اور قابل مذمت ہے۔
16 اپریل 2006ء
لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے ایک جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ محمد ﷺ پر تہمت لگا رہے ہیں حقیقتاً وہ اپنے ہی پیغمبر پر تہمت لگا رہے ہیں۔ انہیں اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں یا جنگ۔
24 اپریل 2006ء
اسامہ بن لادن نے ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے پر زور دیا اور خاکہ نویسوں کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا۔
12 مئی 2006ء
القاعدہ نے ایک ویڈیو پیغام میں یہ بات کہی کہ ڈنمارک، ناروے اور فرانس کو تباہ کر دیا جائے اور یہاں خون کی ندیاں بہا دی جائیں۔
﴾عصمت رسول ﷺ پر حملے﴿
آزاد جموں و کشمیر یونیور گیا۔ ڈنمارک کی کئی مص
TE DENMARK
30 مئی 2006ء
اردن کی عدالت نے ڈن نبی ﷺ کے خاکے شائ
15 فروری 2008ء
ڈنمارک میں خاکوں کی کویت کے ممبران پار غزہ میں حماس نے بھی کاروائی کا مطالبہ کیا پاکستان کے تمام مذ اظہار کیا۔ مذہبی جما شہید ناموس رسالت رسالت کے لئے ایک
16 فروری 2008ء
خاکوں کی دوبارہ اشا اسلامی جمعیت طلبہ منعقد کی گئی۔
20 فروری 2008ء
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی مظفر آباد میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ ڈنمارک کی کئی مصنوعات ضائع کی گئی۔ طلباء نے اپنے خون سے WE HATE DENMARK لکھا۔
30 مئی 2006ء
اردن کی عدالت نے دو صحافیوں "جہاد ممانی" اور "ہشام الخلیدی" کو نبی ﷺ کے خاکے شائع کرنے کی پاداش میں جیل بھیج دیا۔
15 فروری 2008ء
ڈنمارک میں خاکوں کی دوبارہ اشاعت سے مسلم دنیا میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی۔ کویت کے ممبران پارلیمنٹ نے ڈنمارک کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔ غزہ میں حماس نے بھی خاکوں کی دوبارہ اشاعت کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کے تمام مذہبی حلقوں نے خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ مذہبی جماعتوں کی اپیل پر پورے پاکستان میں یوم احتجاج منایا گیا۔ شہید ناموس رسالت عامر چیمہ شہید کے والد نذیر احمد چیمہ نے تحفظ ناموس رسالت کے لئے ایک منظم پلیٹ فارم بنانے پر زور دیا۔
16 فروری 2008ء
خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے تحت جامعہ پنجاب میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس منعقد کی گئی۔
20 فروری 2008ء
عصمت رسول ﷺ پر حملے
پاکستان نے ڈنمارک کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر شدید احتجاج کیا۔
22 فروری 2008ء
جماعت اہل سنت کی اپیل پر پاکستان بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ لاہور بار ایسوسی ایشن نے خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جس میں ڈنمارک کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میاں عدنان یعقوب ایڈووکیٹ نے پیش کی۔
23 فروری 2008ء
خاکوں کی دوبارہ اشاعت پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید
عامر عبدالرحمن چیمہ 4 دسمبر 1972ء کو گوجرانوالہ ڈویژن کے ضلع حافظ آباد کے محلہ گڑھی اعوان میں پیدا ہوئے۔ عامر کے والد پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے ان کا نام "عبدالرحمن" جبکہ والدہ ثریا بیگم نے ان کا نام عامر رکھا اور یوں ان کا نام عامر عبدالرحمن چیمہ بن گیا۔ عامر چیمہ کے والد محترم پروفیسر نذیر احمد چیمہ اپنی تیس سالہ ملازمت پوری کرنے کے بعد 2006ء میں ریٹائر ہوئے۔ عامر چیمہ تین بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔
عامر چیمہ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول راولپنڈی شروع کی ۔1993ء میں گورنمنٹ کمپریہینسو ہائی سکول راولپنڈی سے میٹرک کیا۔ اس کے بعد سر سید کالج راولپنڈی سے FSC امتحان پاس کیا۔ 1996ء میں وہ راولپنڈی چھوڑ کر فیصل آباد چلے گئے ۔ وہاں جا کر انہوں نے نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں داخلہ لیا۔ 2000ء میں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ پھر انہوں نے رائے ونڈ ٹیکسٹائل مل میں ملازمت اختیار کر لی۔ کچھ عرصہ بعد ملازمت چھوڑ کر لاہور چلے گئے جہاں انہوں نے یونیورسٹی آف مینجمنٹ ٹیکنالوجی میں پڑھانا شروع کر دیا۔
اسی دوران انہیں جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا اور وہ 26 نومبر 2004ء کو اپنے خرچ پر ماسٹر آف ٹیکسٹائل مینجمنٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لئے جرمنی کے شہر مونشن گلاڈباغ (Monchengladbach) میں نیدر ہائن یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے اپنی پڑھائی کے تین سمسٹر مکمل کر لئے تھے اور آخری سمسٹر باقی تھا کہ اسی دوران ڈنمارک ، جرمنی سمیت یورپ کے اخبارات نے نبی ﷺ کے نازیبا خاکے شائع کئے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
جب عامر کو معلوم ہوا تو وہ مارچ 2006ء کے آغاز میں برلن میں اپنے عزیزوں کے پاس آگئے۔ وہاں وہ ”ڈی ویلٹ“ کے آفس کی نگرانی کر کے منصوبہ بندی کرتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے برلن کی ایک دوکان سے خنجر خریدا جس سے انہوں نے ”ڈی ویلٹ“ کے چیف ایڈیٹر ”ہنرک بروڈر“ پر 20 مارچ 2006ء کو قاتلانہ حملہ کیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور کئی دن تک ڈاکٹروں کی سر توڑ کوششوں کے باوجود وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہ کر نہایت عبرتناک حالت میں جہنم واصل ہوا۔ تاہم موقع پر موجود سکیورٹی گارڈز نے انہیں پکڑ لیا اور جرمن پولیس کے حوالے کر دیا۔
اگلے روز 21 مارچ 2006ء کو متعلقہ جج کے روبرو عامر چیمہ کو برلن کی ضلعی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں ایک پاکستانی مترجم انوار الحق نے عامر چیمہ پر لگائے گئے الزامات پڑھ کر سنائے۔ غازی عامر چیمہ نے بھری عدالت میں قاتلانہ حملے کا جرم قبول کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہائی کے بعد بھی نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں پر حملے کرے گا۔ جرمن حکام نے "عالمی انصاف" کا مظاہرہ کرتے ہوئے غازی عامر کو کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی۔
23 مارچ 2006 کو برلن کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں عامر چیمہ کے خلاف جرمن پینل کوڈ کی دفعہ 113 اور 240 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق :-
- 1۔ عامر چیمہ نے ڈی ویلٹ کے دفتر میں داخل ہو کر چیف ایڈیٹر کو قتل کرنے کی
کوشش کی۔
- 2۔ سکیورٹی گارڈز کو شکاری چاقو اور بم کے ذریعے دھمکیاں دیں۔
- 3۔ گرفتاری کے وقت پولیس کے فرائض میں مداخلت اور مزاحمت کی۔
جرمن پولیس اور مختلف حکومتی ایجنسیاں برلن جیل میں 44 دنوں تک غازی عامر
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
پر دوران حراست ذہنی و جسمانی تشدد کرتی رہیں۔ جرمنی اور پاکستان میں مقیم ان کے عزیز و اقارب سے بھی تفتیش کی گئی۔ مسلسل تشدد کی وجہ سے 3 مئی 2006ء کو برلن کی جیل میں وہ شہید ہو گئے۔
27 اپریل 2006ء کو برلن کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں عامر شہید کا کیس سماعت کے لئے منظور ہو چکا تھا جہاں انہیں قانون کا سامنا کرنا تھا لیکن ہٹلر کے ظالم اور درندہ صفت بیٹوں نے انہیں ماورائے عدالت قتل کر دیا۔ جیل انتظامیہ نے ردعمل سے بچنے کے لئے یہ دعویٰ کیا کہ عامر نے خودکشی کی ہے۔ عامر کے والدین کو جب اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر ملی تو وہ ان کی شہادت پر بے حد خوش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ عامر کبھی خودکشی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ اتنا بزدل نہ تھا۔
طویل سفارتکاری کے بعد 20 مئی 2006ء کو عامر چیمہ کی نعش پاکستان کے حوالے کر دی گئی۔ عامر شہید کی نماز جنازہ کے متعلق حکومت نے عوام کو کنفیوژن میں رکھا۔ اخبارات اور TV چینلوں نے سہ پہر چار بجے کا وقت بتایا لیکن حکومتی مداخلت سے جنازہ پہلے ہی پڑھا دیا گیا۔ نماز جنازہ اور تدفین کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومت کی کسی قابل ذکر شخصیت نے شرکت نہیں کی۔ پروفیسر نذیر چیمہ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے زبردستی ان کے بیٹے کو ساروکی قبرستان میں دفن کروایا۔ حکومت نے ان کے ساتھ دھوکا دیا۔ حکومت نے عامر چیمہ کی نماز جنازہ راولپنڈی میں ادا کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر ہماری بات نہ مانی تو تم اپنے بیٹے کا آخری دیدار بھی نہ کر سکو گے اور اسے ہم خود دفن کر دیں گے۔ اس کے علاوہ حکومت نے شہید کے جنازہ میں شرکت کے لئے جانے والے قافلوں کو روکنے کی کوشش بھی کی۔
جب شہید کا جنازہ اٹھایا گیا تو فضا کلمہ طیبہ کے ورد سے گونج اٹھی۔ نماز جنازہ پیر
﴾ عصمت رسول ﷺ پر حملے ﴿
کرنل ڈاکٹر محمد سرفراز محمدی سیفی نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد افراد شریک تھے۔
شہید کے جسد خاکی کو جب لحد میں اتارا گیا تو فضا نعرہ تکبیر سے گونج اٹھی۔ ہر طرف رقت آمیز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور الوداع! الوداع! عامر شہید الوداع! عامر شہید الوداع! کے نعرے لگا رہے تھے۔ ان کی تدفین کے بعد پہنچنے والے لوگوں نے "امیر حمزہ" کی امامت میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی۔
(1) شہید ناموس رسالت عامر چیمہ ترتیب و تحقیق محمد متین خالد صفحہ 69 تا 71 ، 78 تا 80
عصمت رسول ﷺ پر حملے
او۔ آئی۔ سی کا کردار
او آئی سی کا قیام 1969 میں سانحہ مسجد اقصیٰ کے موقع پر عمل میں آیا۔ مسلمانوں نے شعائر اسلام کے دفاع کے لئے ایک پلیٹ فارم بنایا اور اس وقت OIC کے اقدامات سے اسرائیل کو باور کر دیا گیا کہ مسلمانوں کا خرمن راکھ کا ڈھیر نہیں بن سکا اور عشق کی آگ ابھی فروزاں ہے۔ مسلمان ممالک کی ترجمان اور نمائندگی کرنے والی یہ تحریک اب اغیار کے بوئے گئے کانٹوں اور مصلحتوں کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کی حیثیت اب بے جان گھوڑے کے سوا کچھ نہیں سانحہ مسجد اقصیٰ پر ایکشن میں نظر آنے والی یہ تحریک نبی ﷺ کی توہین پر اپنا مؤثر کردار ادا نہ کر سکی۔
او۔ آئی۔ سی نے 28 جنوری 2006ء کو مطالبہ کیا کہ ڈنمارک حکومت فوری طور پر خاکوں کی اشاعت کو غلط قرار دے۔ ڈنمارک نے خاکوں کی اشاعت کا دفاع کیا اور کئی دوسرے ممالک اسی ڈگر پر چل پڑے تو مسلم علماء نے کارٹونسٹ کے قتل کرنے کے فتوے دیئے جن پر 21 فروری 2006ء کو او۔ آئی۔ سی نے ایک بیان میں خاکوں کی وجہ سے ہونے والے جھگڑے اور ڈنمارک کے کارٹونسٹ کی موت کے فتوؤں کی مذمت کی۔ 29 فروری کو OIC نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ اس مسئلہ کو کوئی ایسا مستقل حل تلاش کیا جائے جس سے کسی بھی مذہب کے خلاف زبان درازی ممنوع قرار پائے۔
مجموعی طور پر او آئی سی کا ردعمل کسی طور بھی قابل تحسین نہیں رہا۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
غیر مسلموں کا دوغلا کردار
گستاخانہ کلمات اور بے ادبی کی سزا کئی ممالک میں مقرر کی گئی ہے۔ آسٹریا کے آرٹیکل نمبر 188، 189 کریمنل کوڈ دفعہ 9 فن لینڈ کے قوانین میں سیکشن 10، چیپٹر 17 کے پینل کوڈ کے تحت، جرمنی کے آرٹیکل نمبر 166 کریمنل کوڈ کے تحت، نیدرلینڈ کے آرٹیکل 147 کریمنل کوڈ کے مطابق، سپین آرٹیکل 528 کریمنل کوڈ کے تحت اور نیوزی لینڈ کے قانون کی سیکشن نمبر 123 کرائم ایکٹ 1961 کے تحت کسی بھی انسان کے لئے ہتک آمیز الفاظ کا استعمال اور کسی آدمی کی توہین کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ کینیڈا کے سیکشن 296 کینیڈین کریمنل کوڈ کے تحت عیسائی مذہب کی تنقیص وتضحیک بھی جرم قرار دی گئی ہے
اس کے علاوہ ڈنمارک کے قانون کی دفعہ نمبر 140 اور دفعہ نمبر 266-B کے تحت بھی کسی کی توہین ایک جرم ہے۔ اس کے باوجود بھی ان ممالک میں کھلم کھلا توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے انہیں قوت فراہم کی جا رہی ہے۔ ڈینش مسلمانوں نے جو مقدمہ دائر کیا تھا وہ بھی خارج کر دیا گیا۔ کچھ غیر مسلموں نے درست رویہ بھی اپنایا لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ باقی کچھ لوگوں نے صرف اظہار مذمت کی اور کچھ نے اس کی بھی ضرورت محسوس نہ کی۔
آئیے ہم غیر مسلموں کا طرزعمل ملاحظہ کرتے ہیں جو انہوں نے اس دوران کئے ہیں چاہے وہ منفی ہو یا مثبت۔
19 اکتوبر 2005ء
﴿عصمت رسول ﷺ پر دس اسلامی ممالک سے ملاقات کی درخو دیا اور کہا وہ آزادی
24 نومبر 2005ء اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر درخواست کی کہ اس نسلی تعصب کی بنیاد
7 دسمبر 2005ء اقوام متحدہ کی ہیومن سے کوئی تعلق نہیں تحقیقات کرے گی
23 جنوری 2006ء ڈنمارک حکومت نے جواب ارسال کیا
28 جنوری 2006ء سعودی عرب میں یولاندر پوسٹن پر دیا۔
29 جنوری 2006ء ڈنمارک کی حکو
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
دس اسلامی ممالک کے سفیروں نے کارٹونز کے معاملہ میں ڈنمارک کے وزیراعظم سے ملاقات کی درخواست کی لیکن وزیراعظم نے یہ کہہ کر ملنے سے انکار کر دیا اور کہا وہ آزادی صحافت پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتے۔
24 نومبر 2005ء
اقوام متحدہ کے سپیشل رپورٹر آف ریلیجن اینڈ بیلیف نے ڈنمارک مشن کو یہ درخواست کی کہ اس کیس کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ اجانب بیزاری یا نسلی تعصب کی بنیاد پر تو منظر عام پر نہیں آیا۔
7 دسمبر 2005ء
اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کی کمشنر لوئس اربور نے کہا کہ اقوام متحدہ کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اقوام متحدہ ڈینش گورنمنٹ کے اس متعصب رویہ کی تحقیقات کرے گی۔
23 جنوری 2006ء
ڈنمارک حکومت نے سفارتی سطح پر اقوام متحدہ کی 24 نومبر والی درخواست کا جواب ارسال کیا۔
28 جنوری 2006ء
سعودی عرب میں ڈینش سفیر نے DR ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے یولاندر پوسٹن پر سخت تنقید کی اور ان کی اس حرکت کو اسلام سے ناواقفیت قرار دیا۔
29 جنوری 2006ء
ڈنمارک کی حکومت نے ڈینش سفیر کے انٹرویو کو سفیر کا ذاتی نظریہ قرار دیا اور کہا
عصمت رسول ﷺ پر حملہ
کہ اس کو ڈینش حکومت کا بیان نہ سمجھا جائے۔
ڈنمارک کے خبر رساں ادارے نے سروے کیا جس میں اکیس فیصد لوگوں نے کہا کہ ڈینش وزیراعظم کو مسلمانوں سے معذرت کرنی چاہیے۔ 52% لوگوں نے کہا کہ آزادی صحافت ڈینش پریس کا حق ہے۔ 44% لوگوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس مسئلہ کے حل کے لئے بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔ 38% لوگوں نے یولاندر پوسٹن کو معافی مانگنے کی رائے دی اور 58% لوگوں نے یہ رائے دی کہ یہ یولاندر پوسٹن کا حق ہے۔
30 جنوری 2006ء
یولاندر پوسٹن نے اپنی طرف سے ایک معافی نامہ جاری کیا جس میں کارٹونز شائع کرنے کے بجائے مسلمانوں کو پہنچنے والی تکلیف پر معافی مانگی گئی۔
ڈینش وزیراعظم نے کہا کہ میں ذاتی طور پر خاکوں کی اشاعت کے معاملہ سے لاتعلق ہوں، لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ اس بارے میں حکومت کا کیا رویہ ہونا چاہیے۔
یورپی یونین نے یہ کہہ کر ڈنمارک کی پشت پناہی کی کہ یورپی ممالک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
31 جنوری 2006ء
ڈنمارک کے وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس میں زور دے کر کہا کہ ڈینش عوام کسی ایسے اقدام سے قطعی گریز کریں جس سے حالات خراب ہونے کا خدشہ ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ پریس کی آزادی ڈینش سوسائٹی کا حصہ ہے ہم اس پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
روسی صدر ویلادی میر پوٹن نے کہا کہ ڈینش حکومت مسلمانوں کی توہین کو آزادی صحافت کا نام دے رہی ہے۔
یکم فروری 2006ء
فن لینڈ کے وزیر خارجہ نے ڈنمارک کے انتہائی سست رویہ پر شدید تنقید کی۔ روس کے آرتھوڈیک چرچ اور مفتیان نے یورپینز کے کارٹونز دوبارہ شائع کرنے پر سخت تنقید کی۔
2 فروری 2006ء
نحاروف میوزیم کے ڈائریکٹر "یوری سموڈروف" نے ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کارٹونز کی نمائش منعقد کرائیں گے اور مزید یہ کہ سلمان رشدی کے بدنام زمانہ ناول Satanic Verses کے نئے ایڈیشن میں ڈینش کارٹون بھی شامل کر کے شائع کریں گے۔ پانچ نارڈک بشپوں نے کارٹونز کی اشاعت پر سخت تنقید کی۔ ڈینش کمپنی ارلافوڈز نے رپورٹ دی کہ بائیکاٹ کی وجہ سے کروڑوں ڈالر کے گھاٹے پڑ رہے ہیں۔
3 فروری 2006ء
برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ نے یورپی میڈیا پر پابندی لگائی کہ وہ کسی قسم کے خاکے شائع نہ کریں۔
US ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ کے ترجمان نے کہا کہ ہم پریس کی آزادی کے حامی ہیں لیکن اس آزادی کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ مذاہب کی توہین کی جائے ایسی حرکات کسی طرح بھی قبول نہیں کی جائیں گی۔
ساؤتھ افریقہ میں کارٹونز کی اشاعت پر پابندی کے خلاف بعض پولیٹیکل اور
عصمت رسول ﷺ پر حملے
سول تنظیموں نے احتجاج کیا۔
4 فروری 2006ء
زیک اور ایم۔ایف۔ڈی۔این۔ای۔ایس نے خاکوں کی اشاعت پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ یولاندر پوسٹن کی معذرت قبول کرلیں۔
وائٹ ہاؤس نے سیریا میں ڈینش سفارتخانے پر حملے کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے یورپی اتحادی کی خود مختاری پر ان کے ساتھ ہیں اور سیریا کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔
6 فروری 2006ء
ڈنمارک کی وزارت خارجہ نے اپنے باشندوں کو مصر، مراکش، تیونس، الجزائر، لیبیا، اومان، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، سوڈان، ایران، پاکستان، اور افغانستان میں چھٹیاں گزارنے سے منع کردیا۔
فرانسیسی وزیر اعظم نے خاکوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تشدد کی نفی کی اور اس سے بردباری اور دوسرے مذاہب کا احترام کرنے کی تلقین کی۔
برطانیہ کے وزیر اعظم نے کہا کہ ڈنمارک کے لئے ہماری تمام تر سپورٹ اور قوت مہیا ہے۔
اسی طرح کے ریمارکس نیٹو کے جنرل سیکرٹری نے ڈنمارک کے لئے دیئے۔
ڈنمارک میں موجود امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ صد فی صد ڈینش میڈیا کی تائید کرتا ہے۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
یورپی یونین کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگرچہ کارٹون شائع کرنا قانوناً صحیح تھا لیکن اس میں اخلاقی حدود سے تجاوز کیا گیا۔
7 فروری 2006ء
اٹلی کے وزیر اعظم نے ترکی سے کہا ہے کہ اس تعصب کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
ڈینش طلبا تنظیموں نے مل کر آرس میں پرامن احتجاج کیا جس کا مقصد حکومت کی حمایت کا اظہار کرنا تھا۔
نیویارک پریس نامی رسالے کے ذمہ داران نے خاکے شائع کرنے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
8 فروری 2006ء
ڈنمارک کے قانون کے ماہر جمعز نے کہا کہ میرے خیال کے مطابق خاکے شائع کرنے والے اخبار یولاندر پوسٹن کے چیف ایڈیٹر کارسٹن خاکوں کی اشاعت سے مبرا ہیں۔ کینیڈا اور آئرلینڈ کی کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی کے منتظمین نے طلبا اخبار کیڈر کی خاکے شائع کرنے پر دو ہزار کاپیاں ضبط کرلیں۔
9 فروری 2006ء
نیویارک ٹائم نے مکہ میٹنگ میں کارٹونز کی اشاعت کو واضح ترین ظلم قرار دیا
10 فروری 2006ء
ناروے کے عیسائی اخبار "میگزنٹ" نے خاکوں کی اشاعت پر معذرت کی۔
12 فروری 2006ء
آئرلینڈ کے صدر نے خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا مشتعل ہونا بجا ہے
عصمت رسول ﷺ پر حملے
14 فروری 2006ء اطالوی وزیر نے ایک ایسی ٹی شرٹ پہنی جس پر نبی ﷺ سے منسوب خاکے بنے ہوئے تھے۔ اس نے کہا کہ میرے پاس یہ کارٹونوں والی ٹی شرٹ ہے جسے میں نے پہن کر سب سے پہلے مسلمانوں کو اشتعال دلایا ہے۔
15 فروری 2006ء انسانی حقوق کی علمبردار NGOs نے کارٹونز کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔
16 فروری 2006ء یورپی یونین نے ایک قرارداد منظور کی جس میں خاکوں کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ اس حرکت سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ہے مگر ہم آزادی اظہار رائے کو ختم نہیں کر سکتے۔
20 فروری 2006ء پوپ نے لوگوں سے کہا کہ انہیں کسی بھی مذہب اور اسکے شعائر کی عزت کرنی چاہیے اور ایسی تمام باتوں سے احتراز کرنا چاہیے جس سے کسی کے مذہبی احساسات مجروح ہوں۔
21 فروری 2006ء لتھوانیا کے صحافیوں اور ناشران کی جماعت نے خاکوں کی اشاعت کے صحافتی اقدار سے متصادم ہونے سے انکار کیا ہے۔
22 فروری 2006ء برٹش نیشنل پارٹی کے کارٹونز شائع کرنے پر بڑی سیاسی جماعتوں نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
27 فروری 2006ء یورپی یونین نے محمد ﷺ کے خاکوں کے خلاف افسوس کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی یورپی مفادات کے خلاف ردعمل بھی افسوس کا اظہار کیا۔
یکم مارچ 2006ء ڈنمارک پولیس نے عوام کو مسلمان اقلیت کے خلاف مزید الزامات لگانے سے منع کر دیا اور کہا ڈنمارک کی سلامتی کے لئے اس کیس کی حقیقت تبدیل نہیں کی جائے گی۔
21 مارچ 2006ء ویلینز کے ایک چرچ نے اپنے ڈسٹری بیوٹرز سے درخواست کی کہ اس سے لاشعوری طور پر کارٹون چھپ گئے لہذا اس اخبار کی تمام کاپیاں واپس کر دی جائیں۔ اس نے مسلم کونسل آف "ویلز" سے اس واقعہ کی معافی مانگی۔
29 مارچ 2006ء امریکہ میں دو بڑے کتب خانوں بارڈر اور ولڈن بکس اپریل اور مئی کے شمارے رکھنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان میں متنازعہ خاکوں کو شائع کیا گیا۔
26 اکتوبر 2006ء یولاندر پوسٹن کے خلاف قائم کردہ مقدمہ ڈینش عدالت نے خارج کر دیا۔
12 فروری 2008ء ڈنمارک کی پولیس نے تین لوگوں کو پگڑی والا کارٹون بنانے والے کارٹونسٹ کو قتل کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا۔
23 فروری 2008ء
عصمتِ رسول ﷺ پر حملے
ڈینش وزیر خارجہ نے ڈنمارک کے شہریوں سے مسلم ممالک کا سفر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
کے شہریوں سے مسلم ممالک کا سفر نہ کرنے کی
﴿عصمتِ رسول ﷺ پر حملے﴾
باب ہفتم
منصب رسالت پر حملہ کرنے
والے مشہور کذاب
عصمت رسول ﷺ پر حملے
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ ۗ وَكَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا
(سورۃ احزاب آیت ۴۰)
محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز جاننے والا ہے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملہ ﴿271﴾
اسود عنسی
فتنہ ارتداد سب سے پہلے یمن میں رسول ﷺ کے عہد میں شروع ہوا۔ اس کا بانی ذی الخمار عبہلہ بن کعب تھا جو اسود کے نام سے مشہور ہوا۔ حجۃ الوداع کے بعد اس نے خروج کیا اور بنو مذحج کے اکثر افراد اس کے ساتھ ہو گئے۔
اسود ایک کاہن اور شعبدہ باز تھا جو اپنی شعبدہ بازی اور سحر بیانی سے دلوں کو مسخر کرتا تھا۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا، بنو مذحج کے ساتھ معاہدہ کر کے نجران پر قبضہ کر لیا اور وہاں سے عمرو بن حزام اور خالد بن سعید بن العاص کو نکال کر ان کے مکان پر قبضہ کر لیا اور وہیں رہائش پذیر ہو گیا۔ اس نے زیادہ دیر نجران میں قیام نہیں کیا اور چند ہی روز میں صنعاء پر حملہ آور ہو کر قابض ہو گیا۔
اس طرح اس نے رفتہ رفتہ سارے یمن پر قبضہ کر لیا۔ اس تمام واقعے کی سب سے پہلی اطلاع فروہ بن مسیک نے نبی ﷺ کو دی۔ اسود کی فوج کا سپہ سالار قیس بن عبد یغوث تھا۔ اور ابناء کی سرداری فیروز اور داذویہ کے سپرد تھی۔ مگر جب اس کی حکومت اچھی طرح جم گئی تو اس نے قیس، فیروز اور داذویہ کی اہانت کی وہ اس طرح کہ اس نے شہر کی بیوی جو فیروز کے چچا کی بیٹی تھی، سے شادی کر لی۔ (۱)
جیش بن الدیلمی سے مروی ہے کہ دبر بن تحنیس رسول ﷺ کا خط لے کر ہمارے پاس آئے۔ اس خط میں حکم تھا کہ ہم اپنے دین پر قائم رہیں اور لڑائی یا حیلے سے اسود کے خلاف جنگی کاروائی کریں۔ اسی زمانے میں اسود اپنے سپہ سالار قیس سے مشتبہ ہو گیا۔ ہم نے موقع غنیمت جان کر اسے دعوت دی، رسول ﷺ کا پیغام اسے دیا۔ وہ اسود کے برتاؤ
(۱) تاریخ طبری از علامہ ابی جعفر محمد بن جریر طبری جلد اول صفحہ 513
عصمت رسول ﷺ پر حملے سے ملول اور کبیدہ خاطر تھا اس نے فوراً ہماری بات مان لی۔ شیطان نے اس کاروائی کی بھنک اسود کو پہنچائی۔ اس نے قیس کو طلب کر کے تفتیش کی۔ قیس نے الزام کی تردید کی۔ اسود نے اسے معاف کر دیا۔ اس کے بعد قیس، جشیش، فیروز اور داذویہ کے پاس آیا اور سارا واقعہ بیان کیا۔
ابھی وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ اسود نے انہیں بلایا اور پوچھا کہ تم میرے خلاف سازش کر رہے ہو؟ ہم نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی مانگی اور آئندہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ اس طرح ہماری جان بچی۔ جب لوگوں کو رسول ﷺ کا پیغام مل گیا تو بہت سے لوگ اسود سے علیحدہ ہو کر تائب ہو گئے اور ایک جگہ اکٹھا ہونا شروع ہو گئے۔ اسود کو اپنی موت نظر آنے لگی۔ میں اس کی بیوی کے پاس گیا اور اسود کے مظالم بیان کر کے اس سے مدد کا متمنی ہوا۔ وہ فوراً راضی ہو گئی۔
میں اس سے مل کر باہر اپنے دوستوں کے پاس آیا اور انہیں سارا واقعہ بیان کرنے لگا۔ اسی اثناء میں اسود نے ہمیں دوبارہ طلب کیا۔ اس وقت وہ مذحج اور ہمدان کے لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ہمیں دھمکانا شروع کر دیا مگر قیس کی عاجزانہ گفتگو سن کر اسے رحم آ گیا اور اس نے ہمیں معاف کر دیا۔
میں پھر اسود کی بیوی کے پاس گیا۔ اس سے ملاقات کر کے نکلا ہی تھا کہ اسود سے میری مڈبھیڑ ہو گئی۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی مجھ سے پوچھا: تم یہاں کیسے آئے؟ پھر اس نے میرے سر پر تھپڑ مارا۔ وہ بہت طاقتور تھا، اس تھپڑ کے باعث میں گر پڑا۔ اسی وقت اس کی عورت نے چیخ ماری۔ اس نے گھبرا کے مجھے چھوڑا اور اپنی بیوی کے پاس چلا گیا۔ اس طرح اس کی بیوی نے میری جان بچائی۔ میں اپنے دوستوں کے پاس گیا اور انہیں بھاگ جانے کا مشورہ دیا۔ ہم اسی تذبذب میں تھے کہ اسود کی بیوی کا پیغام ملا کہ اپنا
عصمت رسول ﷺ پر کام مکمل کرنے کے سوا واپس
اب اسود سے لیکر اسود کی بیوی کے پاس بھیج جگہ تیار کی۔ اس کے بعد اکٹھے دیکھا تو فیروز کو بے
رات کو ہم نے آگے آگے اندر داخل
دروازے کے پاس میں داخل ہوئے تو اسود یہاں کیسے؟ اس اندیشے بھی۔ فیروز نے فوراً اس
اس کے بعد سر اتارنے لگے مگر شی میں نہ رکھ سکا۔ میں نے پکڑ لئے۔ اس کے حلق کے گرد پہرے پر متعین واپس کر دیا کہ بنی صالح
باقی رات اعلان کیا۔ اسی اثناء میں
(۲) تاریخ طبری از علامہ
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کام مکمل کرنے کے سوا واپس نہ جانا۔
اب اسود سے ٹکراؤ کی وجہ سے میں نے فیروز کو منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لئے اسود کی بیوی کے پاس بھیجا۔ فیروز نے وہاں جا کر اسود کی بیوی کی مدد سے نقب زنی کے لئے جگہ تیار کی۔ اس کے بعد فیروز اس کی بیوی کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ جب اسود نے ان دونوں کو اکٹھے دیکھا تو فیروز کو بے عزت کر کے گھر سے نکال دیا۔
رات کو ہم نے باہر سے نقب لگائی۔ فیروز چونکہ ہم سب سے زیادہ بہادر تھے ، وہ آگے آگے اندر داخل ہوئے اور باقی سب ان کے پیچھے۔ جب فیروز اس شہ نشین کے دروازے کے پاس پہنچے تو انہوں نے اسود کو بڑبڑاتے ہوئے سنا۔ فیروز جب اندھیرے میں داخل ہوئے تو اسود کی زبان سے شیطان بولنے لگا۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا: فیروز تم یہاں کیسے؟ اس اندیشے سے کہ اگر ہم پلٹ جائیں تو ہم بھی مارے جائیں گے اور یہ عورت بھی۔ فیروز نے فوراً اس کا سر پکڑ کر اسے قتل کر دیا اور اس کی گردن کچل دی۔
اس کے بعد فیروز ہمارے پاس آئے۔ ہم بھی ان کے ساتھ اندر گئے اور اس کا سر اتارنے لگے مگر شیطان نے اسے حرکت دے دی اور وہ اس طرح تڑپا کہ کوئی اسے قابو میں نہ رکھ سکا۔ میں نے کہا کہ سب اس کے سینے پر چڑھ جاؤ۔ اس کی بیوی نے اس کے بال پکڑ لئے۔ اس کے حلقوم سے خرخراہٹ کی آواز آنے لگی ۔ اس آواز پر وہ سپاہی جو شہ نشین کے گرد پہرے پر متعین تھے، فوراً دوڑے ہوئے آئے مگر اس کی بیوی نے یہ کہہ کر انہیں واپس کر دیا کہ نبی صاحب پر وحی نازل ہو رہی ہے اور یہ اسی کی آواز ہے۔
باقی رات ہم نے وہیں گزاری۔ صبح مکان کی چھت پر کھڑے ہو کر اسود کے قتل کا اعلان کیا۔ اسی اثناء میں رسول ﷺ نے صحابہ کو اسود کے قتل کی بشارت دی (۲)۔
(۲) تاریخ طبری از علامہ ابی جعفر محمد بن جریر طبری جلد دوم صفحہ 48 تا 59
عصمت رسول ﷺ پر حملے
طلیحہ اسدی
عروہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد تمام عرب مرتد ہو گئے۔ طلیحہ نے اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ بنو غطفان اور بنو اسد نے اس کی بیعت کر لی۔ حضرت ابو بکر صدیق نے طلیحہ کے مقابلے میں فوج بھیجی۔
عینیہ بن حصن طلیحہ کی فوج کا سپہ سالار تھا۔ عینیہ نے بنی فزارہ کے سات سو افراد کے ساتھ طلیحہ کی فوج میں خوب ہی داد مردانگی دی۔ اس وقت طلیحہ اپنے اونی خیمے کے صحن میں چادر اوڑھے نبی بنا بیٹھا تھا۔ اور باہر میدان میں خونریز جنگ ہو رہی تھی۔ جب عینیہ کو لڑائی میں تکلیف اٹھانا پڑی اور اس کا شدید نقصان ہوا تو وہ میدان جنگ سے پلٹ کر طلیحہ کے پاس آیا اور اس سے پوچھا: ”کیا جبرائیل تمہارے پاس آئے؟“
اس نے کہا: ”نہیں ابھی نہیں آئے۔“
عینیہ پھر معرکے میں آ کر لڑائی میں مصروف ہو گیا جب اس کو دوبارہ جنگ کی شدت نے پریشان کیا تو وہ پھر طلیحہ کے پاس آیا اور پوچھا: ”کہو اب بھی جبرائیل نہیں آئے۔“
اس نے کہا: ”نہیں“
عینیہ نے کہا: ”اب کب آئیں گے؟ ہمارا تو کام تمام ہوا۔“
مگر ایک بار پھر عینیہ میدان جنگ میں پلٹ کر لڑنے لگا۔ اب ایک بار پھر ناکامی اس کا راستہ تک رہی تھی۔ وہ فوراً طلیحہ کے پاس آیا اور پوچھا: ”اب بھی جبرائیل آئے؟“
اس نے کہا: ”ہاں!“
عینیہ نے کہا: ”انہوں نے کیا بات بتلائی؟“
عصمت رسول ﷺ پر حملے
طلیحہ نے کہا: ”انہوں نے مجھے ایک ایسا واقعہ ہوگا جو کبھی فراموش
عینیہ کو یقین آگیا کہ کو لڑائی سے علیحدگی کا حکم دے دیا
طلیحہ کے پاس پہنچے تو اس نے طلیحہ میدان سے کے بعد ایمان لے آیا۔ اس کے تمام حامی قبائل بنو اسد گیا (1)۔
(1) تاریخ طبری از علامہ ابی جعفر محمد
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
طلیحہ نے کہا: ”انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ لڑائی تمھارے لئے چکی کا پاٹ ثابت ہوگی اور یہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا“
عیینہ کو یقین آ گیا کہ طلیحہ اپنے دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہے۔ چنانچہ اس نے بنی فزارہ کو لڑائی سے علیحدگی کا حکم دے دیا۔ ان کے الگ ہونے کے بعد باقی فوج کے لوگ جب طلیحہ کے پاس پہنچے تو اس نے بھاگنے کا حکم دیا اور خود بھی بھاگ کھڑا ہوا۔
طلیحہ میدان سے بھاگ کر نقع میں بنی کلب کے پاس فروکش ہو گیا اور کچھ عرصے کے بعد ایمان لے آیا۔ اس کے اسلام لانے کی یہ وجہ ہوئی کہ جب اس نے دیکھا کہ اس کے تمام حامی قبائل بنو اسد ، غطفان ، بنی عامر مسلمان ہو گئے ہیں تو وہ بھی مسلمان ہو گیا (1)۔
(1) تاریخ طبری از علامہ ابی جعفر محمد بن جریر طبری جلد دوم صفحہ 61، 62، 74، 80
عصمت رسول ﷺ پر حملے
سجاح بنت حارث
سجاح بنت حارث بنی تغلب میں سے تھی۔ رسول ﷺ کے وصال کے بعد اس نے جزیرہ میں اپنی نبوت کا دعویٰ کیا۔ ہذیل اپنی نصرانیت چھوڑ کر سجاح کا مرید ہو گیا۔ پھر اس نے بنی یربوع اور بنی مالک کو دعوت دی جس پر وکیع اور مالک نے اس کی اطاعت قبول کر لی۔ اس طرح اب وکیع مالک اور سجاح تینوں ایک رائے ہو گئے۔ انہوں نے آپس میں مصالحت اور عہد کر کے سب سے لڑنے کی ٹھان لی۔
سجاح اپنے مقام سے بڑھ کر حتا ر میں آ کر فروکش ہوئی اور مالک کو دہانی پر قبضہ کرنے کا حکم دیا۔ ہذیل نے قبیلہ ثعلبہ بن سعد سے اور وکیع نے بنی بکر سے جنگ کی جس میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ہذیل، وکیع اور کئی دوسرے لوگ گرفتار ہو گئے۔ اس کے بعد سجاح، ہذیل اور بنو بکر اس معاہدے سے جو وکیع اور سجاح کے درمیان ہوا تھا، پلٹ گئے۔ جزیرے کے لشکر کے ساتھ سجاح اپنے مقام سے بڑھ کر نباح پہنچی۔ اوس بن خزیمہ نے بنی عمرو کے لوگوں کے ہمراہ ان پر اچانک حملہ کر دیا جس میں سجاح کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس نے قیدیوں کے تبادلے اور علاقے سے نہ گزرنے پر اوس بن خزیمہ سے صلح کی۔
جب ہذیل دشمن کے پنجے سے رہائی پا کر سجاح کے پاس آیا اور اہل جزیرہ کے دوسرے سردار بھی جمع ہوئے تو انہوں نے سجاح سے کہا کہ مالک اور وکیع نے اپنی قوم سے صلح کر لی ہے اور اب وہ ہماری مدد نہیں کرتے۔ اس طرح ہم نے تمام قبائل سے اس شرط پر صلح کی ہے کہ ہم ان کے علاقے میں سے نہیں گزریں گے۔ اب آپ کیا حکم دیتی ہیں؟ اس پر سجاح نے انہیں یمامہ پر حملے کا حکم دے دیا۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
سجاح اور اس کی جماعت بنی حنیفہ کی طرف چلی۔ مسیلمہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو مسلمانوں کے حملے کے پیش نظر اس نے سجاح کو تحائف بھیجے اور امن کا خواستگار ہوا۔ سجاح نے مسیلمہ کو اپنے پاس بلایا اور ملاقات کی۔ ایک دو ملاقاتوں کے بعد مسیلمہ نے اسے اپنے خیمے میں بلایا۔ وہاں سجاح نے اس کی نبوت کو تسلیم کرلیا۔
مسیلمہ نے اسے شادی کی دعوت دی جسے اس نے قبول کرلیا۔ تین دنوں تک وہ مسیلمہ کے پاس رہی۔ پھر اپنے لوگوں میں جب واپس چلی گئی تو لوگوں نے مہر طلب کیا تو مسیلمہ نے اس کے مہر میں فجر اور عشاء کی نمازیں معاف کردیں۔ مسیلمہ کی موت کے وقت وہ بنی تغلب میں مقیم تھی۔ عرصے تک وہی رہی یہاں تک کہ حضرت امیر معاویہ کے دور میں لوگوں کے ساتھ کوفہ منتقل ہوگئی اور اسلام قبول کرلیا (1)۔
(1) تاریخ طبری از علامہ ابی جعفر محمد بن جریر طبری جلد دوم صفحہ 92،87
عصمت رسول ﷺ پر حملے
مسیلمہ کذاب
جب بنی حنیفہ کا وفد رسول ﷺ کے پاس آیا تو اس میں مسیلمہ بن حبیب بھی شامل تھا۔ بنی حنیفہ نے مسیلمہ کو برقع اوڑھا رکھا تھا۔ مسیلمہ نے رسول ﷺ سے کچھ باتیں کی ۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم مجھ سے اس شاخ کو بھی جو میرے ہاتھ میں ہے، مانگو تو میں نہ دوں گا۔“
جب وفد واپس اپنے علاقے میں چلا گیا تو مسیلمہ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور لوگوں کے سامنے یہ جھوٹ بولا کہ میں بھی محمد ﷺ کے ساتھ نبوت میں شریک کر دیا گیا ہوں۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو نماز معاف کر دی، شراب حلال کر دی اور زناء کو جائز قرار دیا۔ (۱)
نبی ﷺ کی وفات کے بعد جب حضرت ابو بکر صدیق خلیفہ بنے تو انہوں نے عکرمہ کو مسیلمہ کے مقابلے پر بھیجا اور ان کے پیچھے شرحبیل کو بھیج دیا۔ عکرمہ کو شرحبیل کے پہنچنے کے بعد حملے کا حکم دیا تھا مگر انہوں نے کامیابی کا سہرا اپنے سر کرنے کے لئے شرحبیل کے آنے سے پہلے ہی مسیلمہ سے جنگ شروع کر دی اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب حضرت ابو بکر صدیق کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے شرحبیل کو خالد کا انتظار کرنے کا حکم دیا اور عکرمہ کو دوسرے قبائل سے جنگ کا۔ لیکن پھر شرحبیل نے بھی عکرمہ کی طرح عجلت دکھائی اور شکست کھائی۔
جب خالد شرحبیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے شرحبیل کو ڈانٹ پلائی۔ پھر فوج کو منظم کرنے لگے۔ جب مسیلمہ کو ان کے قریب آنے کی اطلاع ملی تو اس نے عقرباء میں اپنا پڑاؤ ڈالا اور لوگوں کو مدد کے لئے بلایا۔ خالد نے شرحبیل کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ خالد
(۱) تاریخ طبری از علامہ ابی جعفر محمد بن جریر طبری جلد اول صفحہ 468، 469
عصمت رسول ﷺ پر حملے
نے اپنے مقدمۂ جیش پر خالد مخزومی کو، میمنہ پر زید کو اور میسرہ پر ابو حذیفہ کو امیر مقرر کیا۔ جب یہ مسیلمہ کے ایک پڑاؤ سے ایک رات کے فاصلے پر رہ گئے تو انہوں نے رات کے وقت بنی حنیفہ کی ایک ساٹھ افراد پر مشتمل جماعت کو سوتے میں جا لیا جو شب گزاری کے لئے ٹھہری ہوئی تھی۔
خالد کی فوج نے انہیں جگایا اور پوچھ گچھ کی۔ مسیلمہ کے پیروکار ثابت ہونے پر وہ قتل کر دیئے گئے۔ مجاعہ نے امان طلب کی، اسے معاف کر دیا گیا۔ جب خالد نے یمامہ پر یورش کی تو مسیلمہ نے جنگ کرنے کا حکم دے دیا۔
جب مسلمانوں کو شکست ہوئی اور بنی حنیفہ کے حملہ آور خیموں میں داخل ہو کر اُمِ تمیم کو قتل کرنے لگے تو مجاعہ نے انہیں بچا لیا۔ پھر مسلمانوں نے پلٹ کر ایسا جوابی حملہ کیا کہ کافروں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگے۔ انہیں ایک باغ میں پناہ گزین ہونا پڑا جو ان سب کے لئے ہلاکت کا مقام ثابت ہوا۔ براء نے کہا: ”اے مسلمانو! تم مجھے دیوار پر چڑھا کر اندر اتار دو۔“ ساتھیوں نے انکار کر دیا۔
ان کے کافی اصرار پر انہیں کندھے پر بٹھا کر باغ کی دیوار پر چڑھا دیا۔ وہ وہاں سے دشمن پر کود پڑے۔ باغ کے دروازے سے انہیں مار بھگایا اور دروازہ مسلمانوں کے لئے کھول دیا۔ مسلمان باغ میں داخل ہو گئے لیکن مرتدین نے ان کا سخت مقابلہ کیا یہاں تک کہ مسیلمہ کو وحشی اور ایک انصاری نے مشترکہ طور پر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ (۲)
(۲) تاریخ طبری از علامہ ابی جعفر محمد بن جریر طبری جلد دوم صفحہ 98، 100، 103، 105، 108
عصمت رسول ﷺ پر حملہ
مرزا غلام احمد قادیانی
تحریک قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد تھا۔ وہ برٹش انڈیا میں صوبہ پنجاب کے ضلع گورداسپور کے موضع قادیان میں 1839ء کو پیدا ہوا۔ اس کا والد غلام مرتضیٰ تھا جو سمرقندی مغل گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا پیشہ طبابت اور زمینداری تھا۔ مرزا مروجہ طب، عربی اور فارسی کی تحصیل سے فارغ ہو کر 1864ء کے بعد تقریباً چار سال تک ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے دفتر میں کام کرتا رہا۔ بعد ازاں ملازمت چھوڑ کر اپنے والد کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ ساتھ ساتھ مذہبی کتب کا مطالعہ بھی جاری رکھا اور مذہبی مناظرات وغیرہ میں حصہ لیتا رہا۔
مرزا اوائلِ زندگی میں ایک صحیح العقیدہ مسلمان تھا۔ 1879ء میں اس نے ایک اشتہار شائع کیا کہ میں ایک کتاب ”براہین احمدیہ“ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں جو 50 جلدوں پر مشتمل ہوگی اور اس میں اسلام کی حقانیت اور دیگر مذاہب کی تردید میں قوی اور محکم دلائل پیش کئے جائیں گے۔ مسلمانوں نے اس کتاب کی اشاعت کے لئے کثیر تعداد میں پیشگی قیمت بھیج کر معاونت کی۔
1880ء سے 1884ء تک مرزا نے اس کتاب کی صرف چار جلدیں شائع کیں۔ پھر اس نے دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے بذریعہ الہام اشاعتِ دین پر مامور فرمایا ہے اور وہ اس صدی کا ”مجدد“ ہے۔ اس لئے اس کتاب کی مزید اشاعت بند کی جاتی ہے ۔ 1886ء میں مرزا نے اپنی دوسری کتاب ”سرمہ چشم آریہ“ تصنیف کی اور ہوشیار پور میں آریہ سماجیوں کے ساتھ مناظرہ کیا۔ اس طرح اس نے ایک مناظرِ اسلام اور مدعیِ اسلام کی حیثیت سے شہرت حاصل کر کے اپنے گرد عقیدت مندوں کا ایک گروہ پیدا کیا جس میں
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
حکیم نورالدین شاہی طبیب ریاست جموں و کشمیر جیسے بارسوخ مشیر و معاون بھی شامل تھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں کو ایسے غداروں کی اشد ضرورت تھی جو مسلمانوں کے جذبہ جہاد اور عشقِ رسول کو ختم کردیں۔ اس مقصد کے لئے جن شخصیتوں نے ان کی مدد کی ان میں سے ”مرزا غلام احمد“ بھی تھا۔
مسلمان ایک پُر آشوب دور سے گزر رہے تھے۔ جب مرزا نے شہرت حاصل کی تو اس کے رفیقِ خاص حکیم نورالدین نے اُسے اس پُر آشوب زمانہ سے فائدہ اُٹھانے کا مشورہ دیا۔ تھوڑے ہی عرصے بعد مرزا نے حکیم نورالدین کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے مجدد سے آگے بڑھ کر مثیلِ مسیح ہونے کا دعویٰ کیا۔ مرزا اپنے اس دعوے پر بھی زیادہ عرصہ تک قائم نہ رہا اور اپنی تین تصنیفات میں وفاتِ مسیح کا اعلان کر کے پہلے مہدی موعود اور یہی مسیح موعود ہونے کا اعلان کر دیا۔
مرزا اپنے مسیح موعود ہونے کے دعوے پر تقریباً دس سال قائم رہا اور پھر گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے اس نے ختم نبوت کے معروف اسلامی نظریئے کو غلط قرار دیتے ہوئے نومبر 1901ء میں اپنی نبوت کا اعلان کر دیا۔ اپنے اس دعوے کے بعد مرزا کچھ عرصہ تک اپنے آپ کو ظلی نبی ظاہر کرتا رہا۔ اس کے کہنے کے مطابق اگرچہ محمد ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا تھا مگر نبوت صرف آپ ﷺ کے فیضان سے ہی مل سکتی تھی۔ آپ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ ظلی انبیاء کا معیار محمد ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنا اور ان کی شریعت کو قائم کرنا ہو گا۔ کچھ عرصہ اس طرح ظل رہنے کے بعد اس نے اپنے مستقل صاحبِ شریعت رسول اور خاتم النبیین ہونے کا دعویٰ کر دیا۔
مرزا کو اسہال کی بیماری بہت پہلے سے تھی۔ جب وہ کوئی دماغی کام کرتا تھا تو وہ بیماری بہت بڑھ جاتی تھی۔ اس کو یہ بیماری بسبب کھانا ہضم نہ ہونے کے تھی۔ دل بہت
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
کمزور تھا اور نبض اکثر ساقط ہو جایا کرتی تھی۔ 25 مئی 1908ء کی شام جب وہ ”پیغام صلح“ کا مضمون لکھنے سے فارغ ہوا تو اسے اس بیماری کا دورہ پڑ گیا۔
جب دوائی سے کچھ فائدہ نہ ہوا تو اس نے حکیم نور الدین کو طلب کیا اور اس سے نیند کی دوا لی۔ بیماری کی وجہ سے اس نے اپنے کمرے میں ہی حاجت ضروریہ سے فارغ ہونے کا انتظام کرایا ہوا تھا۔ دوا کی وجہ سے وہ سو گیا اور سب واپس اپنی جگہ چلے گئے۔ رات تقریباً دو اور تین بجے کے درمیان ایک بڑا دست آیا جس سے اس کی نبض بند ہوگئی۔ حکیم نور الدین، خواجہ کمال دین اور ڈاکٹر یعقوب بیگ کو بلایا گیا۔ کافی دیر کے علاج کے باوجود نبض واپس نہ آسکی۔ یہاں تک کہ دس بجے صبح 26 مئی 1908ء کو وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گیا (1)۔
(1) آفتاب گولڑہ اور فتنہ مرزائیت از حاجی نواب دین چشتی
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
امت مسلمہ کی ذمے داریاں
(پس چہ بائد کرد)
محمد رسول اللہ ﷺ نے سسکتی انسانیت کو عزت و آبرو کا راستہ دکھایا اور بد تہذیبی کے بھنور میں ڈوبتی کشتی کو بادبان میسر کر کے ساحل کی سمت رواں دواں کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت کو تہذیب یافتہ بنانے میں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کا کردار نمایاں ہے۔
اسلام اپنی انسانیت نواز خوبیوں کے باعث روز اول سے مسلسل پھیلتا جا رہا ہے۔ اس کے عقائد سچے ، عبادات سادہ اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہیں جب لوگ اسلام کی ان تعلیمات اور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
اوائل اسلام سے ہی ہر دور کی باطل قوتوں نے اسلام کی بڑھتی ہوئی دعوت کو روکنے کے لئے ہزارہا جتن کئے اور ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنے کے بعد وہی گھسا پٹا حربہ استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں کہ اس تحریک کی رہبری کرنے والی شخصیت مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی محمد ﷺ کی شخصیت پر اعتراضات لگا کر انہیں متنازعہ ثابت کیا جائے۔ وہ تعلق جو ایک مسلمان اور نبی ﷺ کے درمیان ہے اسے کمزور کیا جائے۔
اسلام کے متعلق مغرب کے منفی کاموں کے شعبوں کی جڑیں کئی صدیوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ توہین رسالت کے متعلق مغرب کے رویے نے اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے کر دیا ہے ۔ اب مسلمانوں کو جان لینا چاہیے کہ یہ لوگ ان کے خیر خواہ کبھی نہیں ہو سکتے۔
توہین رسالت کا مسئلہ جس قدر سنگین اور لائق مذمت تھا، اسی قدر مسلم حکمرانوں
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
نے اس پر لاپروائی اور عدم توجہ کا مظاہرہ کیا۔ اٹھاون اسلامی ممالک ماسوائے سوڈان، سعودی عرب اور ایران کے کسی ملک نے قابل قدر کردار ادا نہیں کیا۔ مسلمانوں کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ مغرب کے اس شیطانی طرز عمل کا کس طرح جواب دیا جائے۔ اگر مغرب علم کے راستے حملہ آور ہوا ہے تو اس کا جواب بھی علم ہی کے راستے دینا ہو گا نہ کہ سڑکوں پر توڑ پھوڑ سے۔ مغرب کی منشا یہی ہے کہ مسلمانوں کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا کر انہیں اس قسم کے ردعمل میں مبتلا کر دیا جائے۔
مسلم سلاطین کے عہد میں توہین رسالت جیسے عمل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا جہاں کوئی اپنی غلطی کا ارتکاب کرتا فوراً اسے سزا دی جاتی۔ توہین رسالت کا یہ عمل دور استعمار اور مسلمانوں کی غلامی کے دور کا کرشمہ ہے موجودہ حالات میں معاشرے کے مؤثر دینی و معاشرتی طبقات کو اپنی حکمت عملی طے کرنے چاہیے۔ اس سلسلے میں مندرجہ ذیل اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔
عالم اسلام کے لئے عملی تجاویز
(Recomandations)
- 1۔ دین اسلام کی حقانیت اور نبی ﷺ کی سیرت طیبہ کے بارے میں صحیح معلومات
عام کی جائیں اور اس سلسلے میں نشر و اشاعت کو تیز کیا جائے۔
- 2۔ علمائے کرام قرآن وسنت کی روشنی میں حکمران طبقہ اور عوام الناس کو ناموس
رسالت کے مسئلے کے بارے میں معلومات فراہم کریں۔
- 3۔ علمائے کرام امت مسلمہ کی فکری قیادت کے طور پر مسلمان حکمرانوں کو جرات
مندانہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کریں۔
﴿عصمت رسول ﷺ پر
- 4۔ میڈیا کو اس سلسلے
کرنے کا انتظام کرنا چاہیے۔
- 5۔ ارباب اختیار
کار اختیار کئے ہیں ان میں پہلوؤں میں الجھاؤ پیدا کر ضات کا جواب دیں اور ا
- 6۔ مسلمانوں کو
چاہیے تاکہ ان کے کسی
- 7۔ OIC میں شا
یقین دلا کر گستاخانہ خاکوں جرات مندانہ موقف اختیا
- 8۔ OIC کو مؤث
ذریعے مسلمان اتحادی باہمی معاملات اقوام متحد
- 9۔ امت مسلم
جاری ہو۔
- 10۔ انفرادی اور
امت مسلمہ کے متفقہ مؤق کریں۔
- 11۔ تمام مسلم حکمران
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿285﴾
- 4- میڈیا کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہیں مثبت طور پر آگہی مہیا
کرنے کا انتظام کرنا چاہیے۔
- 5- ارباب اختیار نے اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈے کے نفاذ کے لئے جو طریقہ
کار اختیار کئے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ بعض نام نہاد دانشوروں کو اہم مسائل کے عملی پہلوؤں میں الجھاؤ پیدا کرنے کے لئے مقرر کرتے ہیں۔ اہل علم کو چاہیے کہ ان کے اعترا ضات کا جواب دیں اور ان کے پیدا کردہ فکری الجھاؤ کو دور کریں۔
- 6- مسلمانوں کو اپنی زندگیاں اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق گزارنی
چاہیے تا کہ ان کے کسی عمل کی وجہ سے بانی اسلام ﷺ پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔
- 7- OIC میں شامل تمام اسلامی ممالک OIC کی قیادت کو اپنے بھر پور اعتماد کا
یقین دلا کر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے ذمہ دار افراد کو سزا دلانے کے متعلق سخت اور جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرنے پر زور دیں۔
- 8- OIC کو مؤثر کر کے اس تنظیم کا فوجی اور دفاعی شعبہ قائم کیا جائے۔ جس کے
ذریعے مسلمان اتحادی افواج دنیا میں حقیقی امن قائم کر کے دکھائیں۔ مسلم ممالک اپنے باہمی معاملات اقوام متحدہ کی بجائے او آئی سی کے تحت حل کریں۔
- 9- امت مسلمہ کا ایک مرکزی دارالافتاء ہونا چاہیے تا کہ کسی بھی ایشو پر ایک ہی فتویٰ
جاری ہو۔
- 10- انفرادی اور اجتماعی طریقوں سے ارباب اختیار پر دباؤ بڑھایا جائے تا کہ وہ
امت مسلمہ کے متفقہ مؤقف سے انحراف نہ کریں اور مسلمانوں کے اجتماعی فیصلوں کا احترام کریں۔
- 11- تمام مسلم حکمران اپنے اپنے ممالک کے اندر موجود اسلام مخالف نظام اور قوتوں
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾ ﴿286﴾
کی حوصلہ شکنی کریں اور اسلامی تحریکوں کو پروان چڑھائیں تا کہ اسلام پر آنے والے کڑے وقت میں ان تحریکوں سے تعاون حاصل کیا جاسکے۔
- 12۔ مسلم دنیا کو اپنی یکساں اور مربوط خارجہ پالیسی باہم مشورے سے بنانی چاہیے۔
- 13۔ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں پر مذاہب اور ان کے شعائر کے تحفظ کے لئے
قانون سازی پر مجبور کیا جائے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
- 14۔ عالمی منڈیوں پر اس وقت یہود و نصاریٰ کا مکمل قبضہ ہے جس کی وجہ سے وہ
اسلامی ممالک پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی اجارہ داری ختم کرنے کے لئے اپنی تجارتی منڈیاں قائم کی جائیں۔ مسلم ممالک کو اپنی باہمی تجارت ستر فیصد سے زائد کر کے غیر مسلم ممالک پر اپنا انحصار بتدریج کم کرنا چاہیے۔
- 15۔ تمام مسلم سرمایہ دار اپنے سرمایہ جات مغربی ممالک کے بنکوں سے نکال کر اپنا
بین الاقوامی اسلامی بنک قائم کر کے اس میں جمع کروائیں۔
- 16۔ مسلم ممالک کو یورپی یونین کی طرز پر ایک مشترکہ کرنسی جاری کرنی چاہیے جو ان
کی ناگفتہ بہ حالت بدلنے کا سبب بنے گی۔
- 17۔ اسلامی ممالک میں شریعت کورٹ بنائے جائیں جو علماء اور ماہرین اسلامی
قوانین پر مشتمل ہوں۔ توہین رسالت کے کیس اس کورٹ میں دائر کئے جائیں اور علمائے شریعت ایسے کیس کا فیصلہ دیں کہ واقعی ملزم گستاخی کا مرتکب ہوا ہے یا نہیں۔ اگر اس پر جرم ثابت ہو جائے تو قرآن و سنت کی رو سے اسے سزا دی جائے۔
عصمت رسول ﷺ پر حملے
کتابیات
- 1- کرم شاہ الازہری پیر محمد : ضیاء النبی، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور
- 2- حفیظ جالندھری: شاہنامہ اسلام، مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور
- 3- شبلی نعمانی: سیرت النبی
- 4- ابن ہشام: سیرت النبی
- 5- معین واعظ الکاشفی مولانا : معارج النبوۃ
- 6- محمد احمد باشمیل علامہ : غزوہ احد، نفیس اکیڈمی، کراچی
- 7- خوشی محمد میاں : مجموعہ درود پاک، داتا دربار، لاہور
- 8- سلیمان سلمان منصور پوری : رحمت اللعالمین
- 9- مودودی ابوالاعلیٰ : تفہیم القرآن، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور
- 10- عبدالحق محدث دہلوی شیخ : راحت القلوب (جذب القلوب الی دیار المحبوب)
- 11- عبدالمصطفیٰ اعظمی علامہ : روحانی حکایات، پروگریسو بکس اردو بازار، لاہور
- 12- نواب دین چشتی حاجی : آفتاب گولڑہ اور فتنہ مرزائیت
- 13- حبیب اللہ چشتی پروفیسر : توہین رسالت کی سزا، جمال کرم، لاہور
- 14- محمد عبدالمجید صدیقی ایڈوکیٹ : زیارت نبی بحالت بیداری، فیروز سنز، لاہور
- 15- متین خالد محمد : شہید ناموس رسالت عامر چیمہ، علم وعرفان پبلشر، لاہور
- 16- محمد بن جریر الطبری ابی جعفر : تاریخ طبری، نفیس اکیڈمی، کراچی
``` نفیس اکیڈمی، نفیس اکیڈمی، کیونکہ کراچی
﴿عصمت رسول ﷺ پر حملے﴾
- 17- اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ: ناموس رسول اور قانون توہین رسالت، فیصل ناشران و
تاجران، لاہور
- 18- مبارز ملک ڈاکٹر محمد (شمس الدین فاسی): شیطان رشدی اور اس کی خرافات کا
تنقیدی جائزہ
- 19- ہلال ہفت روزہ: حیدر روڈ، راولپنڈی
- 20- خبریں روزنامہ: لاہور
وَاللّٰهُ
يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ط
اور اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں (کے شر) سے بچائے گا ۔
(القرآن ۶۷:۵)
عصمت رسولﷺ پر حملے
مصنف
سید ممتاز علی بخاری
زاویہ
زاویہ پبلشرز
دربار مارکیٹ، لاہور