قادیانی کرتوت · محمد طاہر رزاق
Qadyani Kartoot · Tahir Abdul Razzaq
PDF 1

قادیانی کرتوت

ترتیب و تحقیق

مُحَمَّد طاہر رزّاق

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

پاکستان کا مطلب کیا

PDF 2

تاریخ

تحفظ ختم نبوت

سیریز 14

قادیانی کرنٹ

ترتیب و تحقیق

محمد طاہر رزاق

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان

PDF 3

تحفظ

ال

PDF 4

ئع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہوگی۔

*

قادیانی کرتوت محمد طاہر عبدالرزاق گیارہ سو فراز کمپوزنگ سنٹر، اردو بازار، لاہور عنایت اللہ رشیدی 90 روپے مارچ 2005ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ، ملتان شرکت پرنٹنگ پریس نسبت روڈ، لاہور

ملنے کا پتہ

شرز 34- اردو بازار، لاہور 7352332 ختم نبوت کتاب مارکیٹ، غزنی سٹریٹ زار، لاہور فون: 7232926

انتساب

باوقار بھائی

قابل اعتماد دوست

مجاہد ختم نبوت

محب خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

جناب شاہد اقبال

اور اُن کے

والدین مرحومین

کے نام ..... بصدِ احترام

PDF 5

تحفظ

PDF 6

فہرست

زخم نمائی محمد طاہر عبدالرزاق 9 کچھ تالیف اور صاحب تالیف کے بارے میں محمد عطا اللہ صدیقی 15 1965ء کی جنگ۔ جنرل موسیٰ پردہ اٹھاتے ہیں 21 امریکہ کی مشروط امداد۔ مسلمان کے مذہبی 24 معاملات میں مداخلت ہے ایک خطرناک قادیانی چال 27 کیا ربوہ کے قصر خلافت میں ایٹمی پلانٹ تعمیر ہورہا ہے 31 انگریزوں کی پنیری 39 مرزا طاہر کی دیدہ دلیری 45 قادیانی مخمصے میں مبتلا ہیں 49 مرزا ناصر کی دوسری شادی 52 سرسید کا خط 56 احمدی اقبال کی نظر میں 57 مرزا رفیع کے مرزا ناصر احمد سے اختلافات 64

PDF 7

ڈاکٹر سلام کا نمک خوار ڈاکٹر مظہر بھی بولا 69 جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا 72 مرزا طاہر کے منہ پر جنرل حمزہ کا زناٹے دار تھپڑ 81 قادیانی سازش بے نقاب 85 قادیانی ریشہ دوانیوں کا پس منظر 95 بنن۔ افریقہ سے قادیانیوں کو دیس نکالا مل گیا 105 بنگلہ دیش میں قادیانی سرگرمیوں کا ایک جائزہ 109 اسلام اور پاکستان کے خلاف قادیانیوں کی گھناؤنی سازش 118 قادیانی اور کھر تنازعہ 128 بلوچستان میں 9 مئی کا واقعہ اور تحریک ختم نبوت پر ایک نظر 133 مرزا طاہر احمد کی پچاس لاکھ بیعتیں 150 پاکستانی شمسی توانائی کا نظام تباہ کر دیا گیا 167 تقسیم کشمیر ایک خطرناک سازش 172 خلافت، ملوکیت یا انسانیت پر ظلم 176 یہودی اخبار کی تصویر نے مجھے حیرت زدہ کر دیا 181 ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا مسئلہ 185 کہوٹہ پر بھارت، اسرائیل حملہ کا خطرہ 188 پاکستان میں عظیم تر پنجاب تحریک اور قادیانی ٹولہ 191 مرزائیوں کی خوفناک سیاسی چالیں 193

PDF 8

تحفظ

صفحہ 9

زخم نمائی

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ پڑا ہے۔ لاکھوں مسلمان غم و اندوہ کی تصویریں بنے کھڑے ہیں۔ آنکھوں سے آنسو برس رہے ہیں۔ ہچکیوں اور سسکیوں کا شور ہے۔ لوگ گلے مل کر رو رہے ہیں۔ بیرونی دنیا سے ہزاروں مسلمان جنازہ میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ پوری فضا سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ نماز جنازہ کا اعلان ہوتا ہے۔ صفیں بندھ گئی ہیں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔

اللہ اکبر کی ایک زور دار آواز اٹھتی ہے اور نماز جنازہ شروع ہو جاتی ہے ادھر حزیں قلب مسلمان نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں ادھر ایک عجیب منظر ہے کہ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ سر ظفر اللہ قادیانی غیر ملکی سفیروں کے جھرمٹ میں ٹانگیں پسارے بیٹھا ہے۔ وہ کنکھیوں سے جنازے کا سارا منظر دیکھ رہا ہے۔ اس کے ہونٹوں پر ایک زہریلی مسکراہٹ اور اس کی آنکھوں میں ایک شرارت ہے۔ اپنے قائد کا جنازہ پڑھ کر مسلمان فارغ ہوئے۔ تو صحافیوں نے سر ظفر اللہ قادیانی سے پوچھا:۔

”آپ نے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم کی نماز جنازہ کیوں نہ پڑھی“

سر ظفر اللہ قادیانی نے جواب دیا۔

”آپ مجھے ایک کافر ملک کا مسلمان وزیر خارجہ یا ایک مسلمان ملک کا کافر وزیر خارجہ سمجھ لیں۔“

سر ظفر اللہ اس ذو معنی جملے میں بہت کچھ کہہ گیا۔ وہ قائد اعظم کو کافر کہہ گیا۔ وہ قائد اعظم کے کافر ہونے کا اعلان کر گیا۔ وہ اپنے اس عقیدے کی تشہیر کر گیا کہ جو مرزا قادیانی کو نبی نہ مانے وہ کافر اور پکا کافر ہے۔ دنیا بھر کے قادیانیوں نے اس پر خوب بغلیں بجائیں۔ کہ سر ظفر اللہ نے ڈٹ کر اپنے عقیدے کا اظہار کیا ہے۔

صفحہ 11

مسلمانو! سر ظفر اللہ قادیانی نے قائد اعظم کو کافر کہا اپنے کن عقائد کی بنیاد پر کہا۔ وہ روح فرسا قادیانی عقائد ملاحظہ فرمائیے!

خدا کے نافرمان اور جہنمی

”جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری جماعت میں داخل نہیں ہو گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔“ (اشتہار مرزا غلام احمد قادیانی، مندرجہ تبلیغ

رسالت، جلد نمبر 9، ص 27)

رنڈیوں کی اولاد

”میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔“ (آئینہ کمالات اسلام، ص 547،

مصنف مرزا قادیانی)

مرد سور عورتیں کتیاں

میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔

(نجم الہدیٰ ص 15، مصنفہ مرزا قادیانی)

حرام زادے

جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ (انوار اسلام ص 30، مصنفہ مرزا قادیانی)

مسلمان نہیں

ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں۔ (حقیقۃ الوحی ص 163، مصنفہ مرزا قادیانی)

جہنمی ہے

جو شخص میری پیروی نہ کرے گا اور بیعت میں داخل نہ ہو گا وہ خدا رسول کی

نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔ (اشتہار معیار الاخبار ص 8)

اہلِ وطن! یہ ہیں وہ غدارانِ اسلام و پاکستا- فریضہ سمجھتے ہیں۔ جو بابائے قوم کو گالی دینا کارِ ثواب قائد اعظم کے والد، قائد اعظم کی بیٹی، قائد اعظم کی بہن ا نام دیتے ہیں جن کا نام لکھنا میرے ضمیر کو گوارہ نہیں۔

قادیانی پوری ملت اسلامیہ کو کافر، جہنمی، رنڈ کہتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اس لیے وہ کسی مسلما دجال قادیان مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے مرز مرزا فضل احمد مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا تھا بلکہ اسے کذ اور ڈرامہ چھوڑ دے۔ ظفر اللہ قادیانی نے اپنے محسن سر فضل نے اسے وائسرائے کونسل کا ممبر بنوایا تھا۔ اسی طرح قا ہاروں اور محسنوں کے جنازے اس لیے پائے حقارت اسلامہ کو کافر اور جہنمی کہتے ہیں۔ جنازے کے بارے م دیکھیے اور ہوش میں آئیے!

بیٹے کا جنازہ

”حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے (فضل نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا۔“ (اخبار الفضل قادیا

9۔ نمبر 47)

معصوم بچے کا جنازہ

ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیر مبائع (لاہو کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو معصوم ہوتا ۔ ہو کر احمدی ہوتا۔

اس کے متعلق (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان ۔ کا جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے ا

صفحہ 11

نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔ (اشتہار معیار الاخیار ص 8، مصنفہ مرزا قادیانی)

اہلِ وطن! یہ ہیں وہ غدارانِ اسلام و پاکستان جو قائد اعظم کو کافر کہنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ جو بابائے قوم کو گالی دینا کارِ ثواب سمجھتے ہیں۔ جو قائد اعظم کی ماں، قائد اعظم کے والد، قائد اعظم کی بیٹی، قائد اعظم کی بہن اور قائد اعظم کو ان غلیظ جانوروں کا نام دیتے ہیں جن کا نام لکھنا میرے ضمیر کو گوارہ نہیں۔

قادیانی پوری ملت اسلامیہ کو کافر، جہنمی، رنڈیوں کی اولاد، ولدالحرام، اور خنزیر کہتے ہیں اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اس لیے وہ کسی مسلمان کا جنازہ نہیں پڑھتے۔

دجال قادیان مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے مرزا فضل احمد کا جنازہ نہ پڑھا کیونکہ مرزا فضل احمد مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتا تھا بلکہ اسے کہتا تھا کہ ابا جھوٹی نبوت کا یہ دھندہ اور ڈرامہ چھوڑ دے۔ ظفر اللہ قادیانی نے اپنے محسن سر فضل حسین کا جنازہ بھی نہ پڑھا جس نے اسے وائسرائے کونسل کا ممبر بنوایا تھا۔ اسی طرح قادیانیوں نے اپنے بہت سے پالن ہاروں اور محسنوں کے جنازے اس لیے پائے حقارت سے ٹھکرا دیئے کہ وہ پوری ملت اسلامیہ کو کافر اور جہنمی کہتے ہیں۔ جنازے کے بارے میں قادیانیوں کے چند مذہبی عقائد دیکھیے اور ہوش میں آئیے!

بیٹے کا جنازہ

”حضرت مرزا صاحب نے اپنے بیٹے (فضل احمد) مرحوم کا جنازہ محض اس لیے نہیں پڑھا کہ وہ غیر احمدی تھا۔“ (اخبار الفضل قادیان مورخہ 15 دسمبر 1921ء جلد 9۔نمبر 47)

معصوم بچے کا جنازہ

ایک صاحب نے عرض کیا کہ غیر مبائع (لاہوری جماعت) کہتے ہیں غیر احمدی کے بچے کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو معصوم ہوتا ہے اور کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ بچہ جوان ہو کر احمدی ہوتا۔

اس کے متعلق (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان نے) فرمایا کہ جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے اس طرح ایک غیر احمدی کے بچے کا

صفحہ 12

بھی جنازہ نہیں پڑھا جا سکتا۔‘‘ (ڈائری میاں محمود احمد۔ خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد 10، نمبر 32، ص 6، مورخہ 23 اکتوبر 1922ء)

جنازہ جائز نہیں

غیر احمدیوں کا جنازہ جائز نہیں حتیٰ کہ غیر احمدی میں کوئی سرسید جیسا مصلح کل اور خادم ملت اور تکفیر وغیرہ کے طریق سے مجتنب رہنے والا انسان بھی ہو مگر وہ احمدیت کا مصدق نہ ہو تو پھر بھی اس کا جنازہ جائز نہیں۔ (مسئلہ جنازہ کی حقیقت، ص 45)

اس کا بھی جنازہ جائز نہیں!

جو شخص کہتا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود کا مخالف نہیں بلکہ آپ کو اچھا جانتا ہوں مگر وہ احمدیت کی تصدیق نہیں کرتا (یعنی مرزائی ہونا نہیں چاہتا) اس کا جنازہ بھی جائز نہیں۔ (مسئلہ جنازہ کی حقیقت، ص 44)

ماں کا جنازہ نہ پڑھنے والے کو شاباش

تعلیم الاسلام ہائی سکول (قادیان) میں ایک لڑکا پڑھتا ہے۔ چراغ دین نام، حال میں جب وہ اپنے وطن سیالکوٹ گیا، تو اس کی والدہ صاحبہ فوت ہوگئیں متوفیہ کو اپنے بچے سے بہت محبت تھی مگر سلسلہ میں داخل نہ تھیں۔ اس لیے چراغ دین نے اس کا جنازہ نہ پڑھا۔ اپنے اصول اور مذہب پر قائم رہا۔ شاباش اے تعلیم الاسلام کے غیور فرزند کہ قوم (قادیانی) کو اس وقت تجھ سے غیور بچوں کی ضرورت ہے۔ زندہ باش! (اخبار الفضل قادیان جلد 2۔ نمبر 129 مورخہ 2/اپریل 1915ء)

ایسا شخص

سوال: کیا کسی شخص کی وفات پر جو سلسلہ احمدیہ میں داخل نہ ہو یہ کہنا جائز ہے کہ خدا مرحوم کو جنت نصیب کرے۔

جواب: غیر احمدیوں کا کفر بینات سے ثابت ہے اور کفار کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں۔ (روشن علی، محمد سرور قادیان)۔ (اخبار الفضل قادیان جلد 8 نمبر 59 مورخہ 7/فروری 1921ء)

صفحہ 13

دعائے استغفار

"جو شخص مرزا صاحب کا انکار کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اس کے لیے دعائے استغفار جائز نہیں۔" (اخبار الفضل قادیان مورخہ 17/ اکتوبر 1921ء جلد 9۔

نمبر 30۔ ص 3)

تعلقات ختم

اس کے بعد حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے صاف حکم دیا کہ غیر احمدیوں کے ساتھ ہمارے کوئی تعلقات ان کی غمی اور شادی کے معاملات میں نہ ہوں جبکہ ان کے غم میں ہم نے شامل ہی نہیں ہونا تو پھر جنازہ کیسا۔ (اخبار الفضل قادیان جلد 3 نمبر 120

مورخہ 18 جون 1916ء)

عزیز ہم وطنو! پاکستان کا ٹوٹنا قادیانیوں کا مذہبی عقیدہ ہے اور اکھنڈ بھارت ان کا ایمان ہے۔ قادیانیوں کا پاکستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ یہ آئین پاکستان کے باغی اور اس ملک کے غدار ہیں۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی غدار کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ ان کا پاکستان میں رہنا چمن وطن میں سانپوں کا بل بنانا ہے اور ملک کی شہ رگ قاتل کے سپرد کرنا ہے۔ انہیں اٹھا کر اسرائیل کی جھولی میں پھینک دیا جائے یا ملکہ وکٹوریہ کی شیطانی اولاد کو ان کے ننھیال انگلستان بھیج دیا جائے۔

خاکپائے مجاہدین ختم نبوت : محمد طاہر عبدالرزاق بی ایس سی۔ ایم اے (تاریخ)

PDF 14

ہ داخل ہوئے محمد اشرف ہمدانی 128 مولانا تاج محمود 137 سید منظور احمد شاہ آسی 142 مولانا اللہ وسایا 146 علامہ یوسف بنوری 147 کا نام تبدیل کر لیا محمد طاہر عبدالرزاق 148 چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 153 مولانا منظور احمد چنیوٹی 161 ئی پلانٹ تعمیر روداد ...... جو راشد چودھری 170 نے کے خواب چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 178 محمد شاہد 183 چودھری غلام رسول (سابق قادیانی) 189 194 مولانا تاج محمود 198 انتخاب کے خلافت کے وا کرنے کی انکار منصور بخاری 201

قَالَ اللهُ تَعَالٰی فِی الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ

وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

محمد باپ نہیں کسی کا تمھارے مَردوں میں ، لیکن رسول ہے اللہ کا اَور خَتْمِ نبیوں پر

Muhammad is not the father of any one of your men, but the

Messenger of ALLAH (God) and the Seal upon all the Prophets.

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم

اَنَا خَاتَمُ النَّبِيّٖنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ

میں خاتم النّبیین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں

صفحہ 15

ان اللہ تعالیٰ فی القرآن المجید

محمد

ا اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ

سُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ

پ کسی کا تمہارے مردوں میں سے، لیکن رسول ہے اللہ کا اور سب نبیوں

Muhammad is not the father of any one of your m

Messenger of ALLAH (God) and the Seal upon all

قال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

اتم النَّبِيّٖنَ لَا نَبِىَّ بَعْدِىْ

خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

کچھ تالیف اور صاحب تالیف کے بارے میں

رد قادیانیت کی بلیغ ترین اور نہایت مؤثر صورت یہ ہوگی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے ملعون چہرے سے جعلی غلاف نبوت نوچ کر اس کا کریہہ المنظر چہرہ عین چوراہے پر لا کر پٹخ دیا جائے۔ اب یہ بات لوگوں کے ”ذوق جمال“ پر چھوڑ دی جائے کہ وہ اس چہرے کا کیا تاثر قبول کرتے ہیں۔ ہمارے بعض مسلمان مرزا قادیانی کی سخت الفاظ میں مذمت سن کر سخت ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ ان کے خیال میں دشمن کا ذکر بھی نرم الفاظ میں کرنا چاہئے۔ اس ”تہذیب اور شائستگی“ کے معصوم مبلغین عموماً وہ سادہ ذہن، کم علم اور مرنجان مرنج قسم کے افراد ہوتے ہیں جنہوں نے مرزا قادیانی کے مغلظات کو پڑھا ہوتا ہے نہ ہی ان کے سینوں میں آتش حمیت کبھی بھڑکتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں انہیں حسان بن ثابتؓ کا چہرہ کبھی دکھائی نہیں دیتا جسے خود آقائے دو عالمﷺ نے کفار پر لفظوں کے تیر برسانے کا حکم دیا تھا۔ وہ کبھی بھی نہیں سوچتے کہ آخر مکہ کا سب سے بڑا اور قابل احترام سردار عمر بن ہشام تاریخ میں آج محض ”ابوجہل“ کے نام سے کیوں زندہ ہے۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ”ابوجہل“ کا لقب اسے کس ذات اقدس نے عطا کیا تھا؟ یہ وہی ذات بابرکات تو تھی جس کے لیے ”کان خُلقہ القرآن“ کے الفاظ کہے گئے۔ انبیاء کرام اور صحابہ کرام تو ایک طرف، خود خالق کائنات نے قرآن مجید میں بار بار جن طبقات پر لعنت بھیجی ہے، وہ ایک درجن سے کم کیا ہوں گے۔ فرمایا: ﴿لعنت اللہ علی الکٰذبین ......﴾ وغیرہ۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی کو ”ملعون“ کہنا بری بات ہے۔ حالانکہ جو لوگ اسے ”ملعون“ کہتے ہیں، وہ ”سنت اللہ، سنت رسول“ اور سنت صحابہؓ پر عمل پیرا ہیں۔ ایک ایسا خبیث آدم زاد جو کروڑوں مسلمانوں کو ”کنجریوں کی اولاد“ جیسی گالی اپنی تحریروں میں دیتا ہو، اس کے لیے ”ملعون“ کا لفظ میرے خیال میں بے حد نرم ہے۔ اور یہ لفظ مرزا کے حق میں ”گالی“ ہرگز نہیں ہے، اس روئے زمین پر شاید ہی گزشتہ ۱۴ سو برسوں میں مسلمانوں کے گروہوں میں سے ایسا کوئی بدبخت نکلا ہو، جو مرزا

صفحہ 16

قادیانی سے زیادہ لعنت اور پھٹکار کا مستحق ہو۔ جب کوئی شخص کسی لفظ کا مستحق ہوتا ہے تو پھر وہ ایک گالی نہیں رہتی۔ ایک شخص اگر صادق ہے اسے کذاب کہہ دیا جائے تو یہ اس کے حق میں یقیناً گالی تصور ہوگی۔ مگر ایک شخص جو سراسر جھوٹا ہو، اسے ”کذاب“ کہنا یقیناً ”گالی“ تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا قادیانی نے جب تمام مسلمانوں کو ”کنجریوں کی اولاد“ کہا تھا یہ ایک بدترین گالی تھی کیونکہ یہ بات خلاف حقیقت ہے۔ مگر جب محمد طاہر عبدالرزاق یا دیگر غیور قلم کار مرزا قادیانی کو لعنتی، ملعون یا کذاب کہتے ہیں، یہ اس کے خلاف گالی گلوچ ہرگز نہیں ہے۔ بعض لوگ وہ حدیث مبارک پیش کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ تم دوسروں کے خداؤں کو برا بھلا مت کہو، کیونکہ ان کے پوجنے والے آپ کے خدا کو برا بھلا کہیں گے، مگر یہاں وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ اس حدیث میں کسی مذہب کے پیروکاروں کے خدا کو برا بھلا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ مثلاً اگر ہندو رام کو خدا مانتے ہیں، تو رام کو برا بھلا کہنا اس حدیث کی رو سے درست نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے بہت دعویٰ کیے حتیٰ کہ اپنے خدا ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ وہ ایک گمراہ آدم زاد تھا جس کا مشن ہی دوسروں کو گمراہی کی طرف بلانا تھا۔ ایسے شخص کی مذمت اور ہجو بیان کرنا حسانؓ بن ثابت کی سنت کو زندہ کرنے کے مترادف ہے۔

پھر ذرا غور فرمائیے پاکستان میں مرزا قادیانی کے ”انسانی حقوق“ کی جو لوگ بات کرتے ہیں، یہی وہ طبقہ زنادقہ ہے جو سلمان رشدی کے ”شیطانی خرافات“ کو اظہار رائے کی آزادی کا حق بھی عطا کرتا ہے۔ مرزا قادیانی کے خلاف کوئی بات کی جائے تو اسے وہ خلاف انسانیت حرکت کہتے ہیں، مگر ایک بدبخت اور سور طبع دوپائے نے محسن انسانیت کے خلاف جو بکواس کی ہے، اس پر ان کی رگ انسانیت نہیں پھڑکتی۔ سچ ہے ہمیشہ اس شخص کی توہین پر دکھ اور قلق ہوتا ہے، جس سے محبت اور عقیدت کا رشتہ ہو۔ یہاں تفصیلات کی گنجائش نہیں ورنہ صلیب پرست پادریوں نے اور ”روشن خیال“ والٹیر جیسے مغربی دانشوروں نے پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف جو زبان درازیاں کی ہیں وہ بھی تاریخ کے صفحات سے نقل کر کے دکھائی جاسکتی ہیں اور پھر امریکی صدر، سیاستدانوں اور صحافیوں نے صدر صدام حسین اور پھر طالبان کے امیر ملا عمر اور کرشماتی شخصیت کے مالک اسامہ بن لادن کے بارے میں جو جو کلمات خبیثہ کہے اور لکھے ہیں، اس کو بھی نگاہ میں رکھنا چاہئے اور پھر اس تناظر میں محمد طاہر عبدالرزاق کی قلمی کاوشوں کا جائزہ لیا جائے تو کسی احساس شرمندگی کی بجائے احساس تفاخر ہی کے وہ حق دار ٹھہرتے ہیں۔

صفحہ 17

جو لوگ آج بھی مرزا قادیانی کو ’’مرزا صاحب‘‘ کے الفاظ کے بغیر خطاب نہیں کر سکتے، ان کے لیے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ وہ مرزا کے بارے میں جناب الیاس برنی اور مولانا رفیق دلاوریؒ کی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کریں، محمد طاہر عبدالرزاق کی تالیفات و تصنیفات ایسے ’’مہذب‘‘ انسانوں کے ذوق تہذیب کو کبھی مطمئن نہیں کر سکتیں۔ جو لوگ آتش دل کو بجھانے کے لیے برف کے گولوں جیسے لفظوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں، ان کو کسی اور وادی کی سیر کرنی چاہئے۔ مولانا محمد طاہر عبدالرزاق کا قلم تو آتش کا الاؤ چھوڑتا ہے جو ایسے گلیشیر کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے۔

اگر کسی کا دل مکمل راکھ نہیں بن چکا اور اس میں حب رسول ﷺ کی معمولی سی چنگاری بھی موجود ہے، تو محمد طاہر عبدالرزاق کی نگارشات اس چنگاری کو ایسا شعلہ جوالہ بنا دیتی ہیں جس کی تپش میں انسان دل و جان کو اس آگ میں جھونکنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ محمد طاہر عبدالرزاق اب ’’قلمی جہاد‘‘ کی منزل سے گذر کر ’’قلمی قتال‘‘ کی منزل میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں الفاظ کی انیوں کو نیزے کی انی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جو ہدف میں کھب کر اسے تڑپا کے رکھ دیتی ہے۔ ان کا قلم اس قتال کے دوران کبھی غزوہ احد والے حضرت طلحہؓ کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو آنحضرت ﷺ پر برستے ہوئے تیروں کو اپنے سینے پر روکتے ہیں۔ حضرت طلحہؓ خدا کے محبوب پیغمبر ﷺ کے جسد مبارک پر برسنے والے تیروں کو روک رہے تھے، اور مولانا طاہر کا قلم ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے دیوانہ وار لفظوں کے گولے برسا رہا ہے۔ بس فرق اتنا ہے۔ جسد مبارک اور ناموس مبارک کا تحفظ بنیادی طور پر ایک ہی فریضہ کی دو صورتیں ہیں، قادیانیت بلاشبہ اسلام کے خلاف دور حاضر کا بہت بڑا فتنہ ہے۔ بقول مرزا آنجہانی اس فتنہ کا ’’پودا انگریزوں کا کاشت کردہ‘‘ ہے۔ انگریزی استعمار کی سرپرستی نے برصغیر کی زمین پر اس کی آب یاری کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ’’پودا‘‘ ایک تناور شجر خبیثہ کی شکل اختیار کر گیا۔ اس فتنہ کی سرکوبی کے لیے اسلامی حمیت سے سرشار مسلمانوں نے مختلف حکمت عملیاں اختیار کی ہیں۔ نامور علماء کی ایک جماعت نے قرآن و سنت کی روشنی میں قادیانی کذب کو بے نقاب کیا۔ علامہ اقبالؒ جیسے فلسفیوں نے فلسفہ و منطق کی زبان میں قادیانی اسرار کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے تلوار خطابت سے قادیانیت کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دیئے۔ الیاس برنی جیسے محققین نے نہایت دیدہ ریزی سے قادیانی ذروں کو جمع کر کے ان کی بھیانک تصویر لوگوں کو دکھائی۔ پیر مہر علی شاہؒ صاحب جیسے صوفیاء کرام نے نعرہ ہائے معرفت د

صفحہ 18

حقیقت نے قادیانی ایوانوں کو لرزہ براندام کیے رکھا۔ ختم نبوت کے پروانوں نے قادیانی آتش کدے کو اپنے خون کے فواروں سے بجھانے کی لازوال داستان رقم کی۔ مولانا مفتی محمودؒ اور شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدالحق حقانیؒ جیسے اکابرین ملت نے پارلیمنٹ میں آواز حق بلند کر کے قادیانیت پر کفر کی قانونی مہر ثبت کرا دی۔ صدر ضیاء الحقؒ نے رد قادیانیت آرڈیننس جاری کر کے قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو قانونی جکڑ بندیوں میں کسنے کی کوشش کی ......

رد قادیانیت کی اس پوری مہم میں شمع رسالت کے پروانوں کا ایک غیور و جسور گروہ ہمیشہ قائم رہا ہے جس نے مرزا ملعون کے کرتوتوں اور اس کی شخصیت کے شیطانی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی دیوانہ وار جدوجہد کی ہے۔ ان کی کاوشوں کا اصل ہدف یہی رہا ہے کہ اس جھوٹے مدعی نبوت کے اندر چھپے ہوئے سؤر کو عام پبلک کے سامنے ننگا کر کے کچھ اس انداز میں کھڑا کیا جائے کہ اس کے پاس سے ہر گزرنے والا اسے نفرت اور حقارت کی نگاہ ڈال کر گزرے۔ شاید ہی کوئی لطیف مذاق رکھنے والا ایسا ہو جو کیچڑ میں لتھڑے ہوئے سؤر کو دیکھے اور اس کی طبیعت منقبض نہ ہو۔ اپنے بچوں کو کتوں اور سانپوں کے اشرار سے محفوظ رکھنے کے لیے مائیں انہیں صرف یہی نہیں بتاتی کہ یہ بچوں کو کاٹ لیتے ہیں۔ بلکہ ان کے بارے میں ان کے دل میں نفرت اور خوف کے جذبات کچھ اس طرح ابھارتی ہیں کہ بچے لاعلمی میں بھی ان انسان دشمن جانداروں کے قریب نہ بھٹکیں۔ یہی ”اپروچ“ رد قادیانیت مہم میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ اس ”اپروچ“ کو اپنا رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں ان میں محمد طاہر عبدالرزاق کا نام سرفہرست ہے اور وہ اس میں بہت کامیاب جا رہے ہیں۔ آج قادیانیت اگر نفرت اور اشتعال کا ”سمبل“ بن کر رہ گئی ہے تو اس کا بنیادی سبب انہی حضرات کی یہی اپروچ ہے۔ انہوں نے انسانی نفسیات کے اصولوں کو رد قادیانیت کے مقاصد کے حصول کے لیے بروئے کار لا کر دین اسلام کی نمایاں خدمت انجام دی ہے۔

ابھی تک میں نے مؤلف موصوف کے متعلق چند باتیں لکھی ہیں، زیر نظر کتاب ”قادیانی کرتوت“ محمد طاہر عبدالرزاق صاحب کی ۲۳ ویں کتاب مگر تازہ تالیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ماہنامہ ختم نبوت، نقیب ختم نبوت، روزنامہ جنگ، روزنامہ اوصاف ہفت روزہ تکبیر اور دیگر اخبارات و رسائل میں چھپنے والے ۲۷ مضامین کو مؤلفانہ رشتہ میں پرو کر تالیفانہ تسبیح کی شکل دی ہے۔ یہ مضامین اگرچہ مختلف وقتوں میں مختلف افراد کی طرف سے لکھے گئے ہیں، ان کا مرکزی موضوع قادیانی کرتوتوں کے گرد ہی گھومتا ہے۔ مؤلف چونکہ دشت

صفحہ 19

قادیانیت میں ایک عمر گزار چکے ہیں، اسی لیے ان کا انتخاب قارئین کے لیے چونکا دینے والا اور معلومات افزاء ہے۔ تلبیس کوشی، دسیسہ کاری، فریب انگیزی، سازشی چالیں اس قوم دجال کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہیں جو دجال موعود کا ٹریلر ہے۔ فاضل مؤلف نے نجانے کتنی ذہنی مشقت اٹھائی ہوگی، تب ہی وہ قادیانی کرتوتوں کا یہ بیڑا اٹھانے میں کامیاب ہوئے ہوں گے جسے انہوں نے ”قادیانی کرتوت“ کا نام دیا ہے۔ اس کرتوتی جھونپڑے میں ذرا جھانک کر دیکھئے گا، تو آپ پر چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔ یہ جو جماعت مرزائیہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کمیشن کے دروازوں پر سر ٹکرا ٹکرا کر دھائی دیتی ہے کہ پاکستان میں ان پر ظلم ہو رہا ہے، ان کی حقیقت مظلومی کا پردہ اس آئینہ کرتوت میں دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ ذریت دجال موعود کیا کیا فریب کاریاں کر رہی ہے۔ ان ”مظلومان داد خواہ“ کے اثر و رسوخ کا پول بھی زیر نظر کتاب کھول کر رکھ دیتی ہے۔

اس کتاب کے موضوعات میں کتنا تنوع، اور اس میں قادیانیوں کی کن کن مکروہ چالوں کا تذکرہ یکجا کر دیا گیا ہے، اس کو اگر اختصار سے بھی بیان کرنا چاہوں تو طویل مضمون درکار ہے۔ راقم الحروف نے قادیانیت پر بہت کچھ پڑھ رکھا ہے، پھر بھی قادیانیوں کے بعض ”کرتوت“ اس کی نگاہ سے اوجھل تھے، اب اس تالیف میں دیکھا ہے تو درحیرت وا ہوا ہے۔ چند مضامین کا یک سطری تذکرہ اگر کر دیا جائے تو شاید قارئین اس کتاب کی افادیت کا ایک سرسری خاکہ ذہن میں لاسکیں۔

قارئین کرام! ”جنرل موسیٰ پردہ اٹھاتے ہیں“ تو آپ پردے کے پیچھے جھانک کر حیران رہ جائیں گے کہ ۱۹۶۵ء کی جنگ میں قادیانی جرنیلوں نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے کیا کیا سازش کی۔ ”ایک خطرناک قادیانی چال“ پڑھ کر آپ پر منکشف ہوگا کہ کس طرح مسلمانوں کو قادیانی ووٹرز کی فہرست میں شامل کرا کر ایک قادیانی دغاباز سرحد اسمبلی کارکن منتخب ہوتا ہے۔ ربوہ کے نام نہاد ”قصر خلافت“ کے اندر کے ہوش ربا حالات کی اصل کہانی راشد چوہدری کے قلم سے درج کی گئی ہے۔ بلوچستان میں قادیانی سرگرمیاں بھی انکشاف کا درجہ رکھتی ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ قادیانیوں کے خلیفہ نے اپنے پیروکاروں کو بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو قادیانی بنانے کا ٹاسک سونپا تھا؟ اگر نہیں جانتے، تو ”بلوچستان میں قادیانیت کے عزائم“ کا مطالعہ ضرور کیجئے۔ پھر بھی مسلمانوں سے گلہ کیا جاتا ہے کہ ان میں اقلیتوں کے متعلق رواداری نہیں ہے۔ ”قادیانی کرتوت“ میں مرزا منور احمد ملک کا مضمون بھی

صفحہ 20

خامے کی چیز ہے۔ ملک صاحب خود چالیس برس تک قادیانی رہے، خدا انہیں ظلمت سے کھینچ کر نور کی طرف لایا۔ انہوں نے جس طرح جہلم کے متعلق اعدادوشمار دیئے ہیں، اگر پاکستان کے تمام ضلعوں میں محققین اس طرح اعدادوشمار جمع کردیں، تو قادیانی پراپیگنڈہ کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ قادیانی اپنی تعداد کے بارے میں بے حد مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں، منور احمد ملک نے باقاعدہ حقائق کی بنیاد پر ان کا دعویٰ جھٹلایا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے میں قادیانیوں نے کس قدر گھناؤنے منصوبے بنائے اس پر بھی دو مضامین شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالستار جو ابھی تک قادیانی ہیں، ان پر ہونے والے مظالم کا تذکرہ بھی چشم کشا ہے۔

روزنامہ جنگ کے صحافی قبلہ نذیر ناجی صاحب کا ”روشن خیال“ چہرہ تو آپ آئے روز جنگ کے صفحات پر دیکھتے ہی رہتے ہیں۔ یہ ان کا دوسرا جنم ہے۔ آپ ان کے پہلے جنم کی جھلک دیکھنا پسند کرتے ہوں تو یہودی اخبار میں پاکستانی قادیانیوں کی تصویر دیکھ کر انہوں نے جو حیرت انگیز مضمون لکھا تھا، اسے ایک نظر ضرور دیکھ لیں۔ ذرا غور فرمائیے یہ صاحب کل کیا تھے اور اب کیا ہو گئے ہیں۔ ”بنگلہ دیش میں قادیانی سرگرمیوں کا جائزہ“ بھی معلومات افزاء ہے۔ ایک جواں سال دوشیزہ کو آٹھویں بیوی کے طور پر حال ہی میں دام نکاح (یا دام تزویر) میں پھانسنے والے سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر کے ساتھ قادیانیوں نے کیا کیا؟ یہ جاننے کے لیے ”قادیانی اور کھر تنازعہ“ فاضل مؤلف نے آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر کیا ہے۔ جنوبی افریقہ میں قادیانی ”اشاعت اسلام“ کا عزم لے کر گئے تھے اور پھر قدرت کو یوں منظور تھا کہ اپنے لعنتی چہرے پر کفر کا تمغہ سجا کر نمونۂ عبرت بن گئے۔ اس پورے مقدمہ کی تفصیل سید حبیب الحق ندوی کے مضمون میں موجود ہے۔ غرض کیا کیا بیان کروں اور کسے مرفوع القلم سمجھ کر نظر انداز کروں۔ اب میں آپ کی انگلی پکڑ کر قادیانیوں کے ہر ہر کرتوت پر پھرانے سے تو رہا، کچھ تو آپ بھی فاضل مؤلف کو داد تالیف دیں اور جن مضامین کا تذکرہ میں نے عمداً نہیں کیا، ان کا مطالعہ بھی آپ اتنا ہی مفید پائیں گے۔

فاضل مؤلف کوئی پیشہ ور قلم کار نہیں ہیں، مگر جوش ملی اور دینی غیرت نے انہیں جس ”قلمی قتال“ کے لیے اپنی عمر عزیز وقف کر دینے پر مجبور کر دیا ہے، خدا کرے ان کے جذبات کا لاوا یونہی ابلتا رہے اور ان کا قلم یونہی جواہر پارے اگلتا رہے۔ ہم ان کے ”شغل قتالی“ میں استقامت کے لیے دعا گو ہیں۔

محمد عطاء اللہ صدیقی، لاہور

صفحہ 21

۱۹۶۵ء کی جنگ

جنرل موسیٰ پردہ اٹھاتے ہیں

جنگ ستمبر میں پاکستان کی بری فوج کی قیادت کے ذمہ دار کمانڈر انچیف جنرل محمد موسیٰ نے اس جنگ کے پندرہ سال بعد ۱۹۸۰ء میں لکھی گئی اپنی کتاب "مائی ورژن" میں اپنے دور کے واقعات قلم بند کرتے ہوئے بعض تلخ حقائق کو بے نقاب کیا ہے جن سے رن کچھ اور ۱۹۶۵ء کی جنگ میں بھٹو کے سازشی کردار کی بعض مربوط کڑیاں ہمارے سامنے آئی ہیں۔ ان کے ساتھ اگر ۷۱ء کی جنگ کو بھی منسلک کر کے بھٹو کے مجموعی کردار کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھارت کے ایک ایجنٹ کی صورت میں ہمارے سامنے آتے ہیں۔ آئیے دیکھیں جنرل موسیٰ کیا کہتے ہیں:

جنرل موسیٰ اپنی کتاب مائی ورژن (My Version) میں لکھتے ہیں کہ جنگ کسی پیشگی منصوبہ بندی یا فوجی حکمت عملی کے تحت نہیں لڑی گئی تھی بلکہ یہ اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور سیکرٹری خارجہ عزیز احمد قادیانی نے میجر جنرل اختر حسین ملک (قادیانی) کے گٹھ جوڑ سے جو اس وقت آزاد کشمیر میں ہماری فوج کے کمانڈر تھے، ہم پر مسلط کی تھی۔ انہوں نے حکومت پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ مقبوضہ ریاست میں ہونے والی گڑ بڑ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج کو ہدایت کرے کہ وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لمبی مدت کی

صفحہ 22

تخریبی کارروائیوں کی خاطر اپنے گوریلا دستے داخل کرے جو مقامی آبادی کو غاصب بھارتی فوج کے خلاف تحریک آزادی چلانے میں مدد فراہم کریں۔ ان افراد کے مطابق اس وقت تک ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس بیورو نے جو اقدام کیے تھے، وہ نہ صرف غیر مؤثر رہے تھے بلکہ قابض فوجوں کو چوکنا کرنے کا باعث بھی بنے تھے جس کے نتیجے میں دشمن کی فوجوں نے اپنے حفاظتی انتظامات کو نہایت سخت کر دیا تھا۔

جنرل موسیٰ کتاب کے پہلے باب ”جنگ سے قبل کے سیاسی حالات“ میں لکھتے ہیں ”میں نے جی ایچ کیو میں اپنے عملے کے ہمراہ اس تجویز کا جائزہ لیا اور ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ کشمیر کے مسئلے کو متحرک کرنے کے لیے کچھ مثبت اقدام ہونے چاہئیں اور اس نظریے کے تحت مقبوضہ کشمیر کے عوام کو احتجاجی مہم چلانے کے لیے مدد فراہم کی جائے۔ اگرچہ نظریاتی اور بنیادی طور پر یہ ایک جائز طریقہ تھا لیکن اس کا دائرہ کار محدود ہونا چاہیے اور ہماری حکومت کو جلد بازی میں ان احتجاجی سرگرمیوں کے لیے کسی اشتعال انگیز اقدام اور باقاعدہ امداد کا وعدہ نہیں کرنا چاہیے۔ جون ۸۲ء میں تکبیر کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل موسیٰ نے کہا یہ عجیب جنگ تھی۔ ہم تو جنگ کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ پاکستان کی پالیسی عدم جارحیت کی تھی اور ہے۔ تمام دنیا کو پتہ ہے کہ ہمارے کبھی بھی جارحانہ عزائم نہیں رہے۔ جب کشمیر میں کارروائی کرنے کے منصوبے کا مجھے علم ہوا تو میں نے بتایا کہ وادی کے لوگ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر سکیں گے۔ وہاں بھارتی فوج کے پانچ چھ ڈویژن موجود ہیں اور مقامی لوگوں کے تعاون کے بغیر گوریلا آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جانے والوں کو غذا، ہتھیار، گولہ بارود اور طبی امداد کی فراہمی ممکن نہیں ہوگی۔ لیکن یہ مرحوم بھٹو صاحب کا منصوبہ تھا۔ ہماری بات نہیں سنی گئی۔

جنرل محمد موسیٰ بیان کرتے ہیں ”حکومت پاکستان کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو جموں و کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کے بہانے اکثر و بیشتر میجر جنرل اختر حسین ملک اور میرے دیگر افسران سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقاتیں کرتے رہتے تھے جبکہ در حقیقت وہ ان مواقع پر اپنا سارا زور یہ ثابت کرنے پر صرف کرتے تھے کہ مقبوضہ ریاست میں جلد از جلد فوجی حملوں کا آغاز کرنا اشد ضروری ہے۔ مجھے بھی شرکت کے لیے مدعو کیا جاتا تھا لیکن میں سوائے ایک مرتبہ کے دوبارہ کبھی نہیں گیا اور وہ بھی میں صرف یہ جاننے کے لیے گیا تھا کہ

صفحہ 23

ان پس پردہ سرگرمیوں کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ چنانچہ میں نے خود کو ان ملاقاتوں سے الگ رکھنے کا فیصلہ کیا اور جس ماحول میں یہ نام نہاد تبادلہ خیال جاری تھا، اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں یہ تمام صورت حال صدر پاکستان کے علم میں لاؤں۔ بحیثیت فوجی کمانڈر میں نے محسوس کیا کہ زمینی جنگوں کے ذمہ دار کی حیثیت سے میرے ان ماتحتوں کو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اس قسم کی برین واشنگ سے ہوشیار رہیں۔ اس کے برعکس مجھے یقین تھا کہ ان میں سے بیشتر افراد ایسے ہیں جنہیں کسی صورت گمراہ نہیں کیا جاسکتا۔ ادھر صدر ایوب نے میری اس بات سے اتفاق کیا کہ اس قسم کے حساس نوعیت کے معاملات میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ وزیر خارجہ بھٹو کو فوج کے متعلقہ افراد کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں سے منع کریں گے۔ میری اس کوشش کا مثبت نتیجہ نکلا۔

جنگ ستمبر کے آغاز سے قبل بھٹو صاحب نے اگرچہ اس بات کو بہت کثرت سے اچھالا کہ پاکستان کے ساتھ بھارت کی جنگ کے نتیجے میں وہ چین سے مادی امداد حاصل کر سکتے ہیں لیکن ہم فوجیوں نے کبھی اس پر یقین نہیں کیا تھا۔ ۱۹۷۰ء کی انتخابی مہم کے دوران لاہور کے موچی گیٹ کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے چینی امداد کے اس دعوے کو میرے ساتھ گفتگو کے حوالے سے دہرایا جس سے ان کی مراد غالباً یہ تاثر پیدا کرنے سے تھی کہ میں اس جنگ میں سخت پریشان ہو گیا تھا اور بیرونی فوجی امداد کے لیے دہائی دے رہا تھا لیکن میں نے اس سے اس لیے درگزر کیا کہ وہ اس وقت محض سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے اس قسم کی باتیں کر رہے تھے۔ جو کہ انہیں نہیں کرنی چاہئیں تھیں۔

(شکریہ ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی)

صفحہ 24

امریکہ کی مشروط امداد مسلمانوں کے

مذہبی معاملات میں مداخلت ہے

روزنامہ جنگ ۵ مئی ۱۹۸۷ء میں ارشاد احمد حقانی کے قلم سے یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ امریکی سینٹ کی ۱۷ رکنی خارجہ تعلقات کی کمیٹی نے پاکستان کی فوجی و اقتصادی امداد کے لیے اپنی قرار داد میں جو شرائط شامل کی ہیں ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ امریکی صدر ہر سال اس مفہوم کا ایک سرٹیفیکیٹ جاری کریں گے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں مثلاً احمدیوں کو مکمل شہری اور مذہبی آزادیاں نہ دینے کی روش سے باز آرہی ہے اور ایسی تمام سرگرمیاں ختم کر رہی ہے جو مذہبی آزادیوں پر قدغن عائد کرتی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ امریکہ نے قادیانیوں کے لیے پاکستانی امداد کو کیوں مشروط کیا ہے۔ اس کی دو ہی وجوہ ہو سکتی ہیں۔ یا تو نسل انسانیت کے لیے یا پھر اندرونی سازش کے لیے۔ اگر نسل انسانیت کے لیے یہ اقدام ہے تو کیا پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں‘ ہندوؤں کی حمایت میں بھی کبھی ایسا فیصلہ کیا‘ یقیناً نہیں کیا۔ پاکستان کے بانی‘ اور واضح اکثریت پر مشتمل مسلمانوں کی آبادی میں مٹھی بھر قادیانیوں نے جو تباہی مچائی ہے‘ اس وقت حقوق انسانی آپ کو نظر نہیں آتے تھے۔ مولانا محمد اسلم قریشی کو قادیانیوں نے شہید اور اغواء کیا‘ ساہیوال میں غیور مسلمانوں کو شہید کیا‘ بلوچستان میں مولانا شمس الدین کو شہید کیا‘ یہ انسانی ہمدردی کیوں بیدار نہ ہوئی‘ راولپنڈی میں عیاشی کا اڈہ قادیانی شخص چلا رہا تھا اور حکومت نے چھاپہ مارا اور گرفتار کیا

صفحہ 25

گیا۔ جو شخص نسل انسانی کو تباہ کر رہا تھا، اس وقت امریکیوں کی غیرت کیوں بیدار نہ ہوئی۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ سارا کھیل نسل انسانیت کے لیے نہیں ہے بلکہ الکفر ملت واحدہ کے پیش نظر اندرونی سازش ہو رہی ہے اور پاکستانی امداد روک کر مسلمانوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے لہٰذا ہم تمام اسلامی ممالک بالخصوص حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ امریکہ و روس اور غیر مسلم ممالک کی امداد اس مچھیرے کی سی ہے جو مچھلی کو پکڑنے کے لیے کانٹے پر چارا لگاتا ہے۔ اس کی مراد مچھلی کو خوراک پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ مچھلی کو ہڑپ کرنا ہوتا ہے۔ لہٰذا تمام اسلامی ممالک کو چاہیے کہ کفار کی مدد پر سہارا نہ رکھیں۔

باہمی اتحاد کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر قرآن کے حکم اعدوا لھم ما استطعتم پر عمل کریں۔ مسلمان قوم غیرت مند ہے اور مادی وسائل پر بھروسہ نہیں کرتی۔ بلکہ احکم الحاکمین کی مدد کامل پر یقین رکھتی ہے اور ہم زمام اقتدار سنبھالنے والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ان کالی بھیڑوں پر کڑی نظر رکھیں اور اس بیان کی تہہ میں پہنچ کر اصل محرکات سے آگاہی حاصل کریں کہ امریکہ نے قادیانیوں کی حمایت کے ساتھ پاکستانی امداد کو کیوں مشروط کیا ہے۔ اس بات سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور مسلم امہ سختی کے ساتھ اس کی مذمت کرتی ہے۔ امریکہ شروع سے قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکہ کے بغلی بچہ، اسرائیل کے اہم ترین عہدوں پر قادیانی فائز ہیں اور رہ چکے ہیں۔ ان کے فسادات و شرپسندی کے منصوبے اسرائیل میں تیار ہوتے ہیں۔ اسی گٹھ جوڑ نے امریکہ کو مجبور کیا کہ پاکستانی امداد کو قادیانیوں کی آزادی کے ساتھ مشروط کر دیا۔ جبکہ قادیانی آزاد دندناتے پھر رہے ہیں۔ پاکستان کے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں لیکن مگرمچھ کے آنسو بہانا ان کا جدی پشتی شیوہ ہے۔ ان کا عقیدہ اکھنڈ بھارت ہے۔ انہوں نے نہ پاکستان کو تسلیم کیا ہے اور نہ ہی یہ کر سکتے ہیں۔ بلکہ انہوں نے اپنی میتوں کو امانتاً دفن کیا تاکہ بعد میں قادیان لے جائیں۔ یہ خواب انشاء اللہ شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ امریکہ کی مشروط امداد مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت ہے جو ناقابل برداشت ہے۔

جن لوگوں نے آج تک پاکستان کو اپنا ملک ہی تسلیم نہیں کیا، ان سے اچھائی کی کیا توقع کی جا سکتی ہے بلکہ ان کی جماعت کی پوری کوشش و محنت اس بات پر ہو رہی ہے۔ کسی طرح پاکستان کو تباہ کر دیا جائے اور اسے اکھنڈ بھارت بنا دیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے

صفحہ 26

انہوں نے امریکہ میں زمام اقتدار سنبھالنے والوں کی مدد چاہی ہے۔ اگر ان کو پاکستان سے محبت ہوتی تو یہ ملک پاکستان کے خلاف یاوہ گوئی نہ کرتے۔ امریکہ کی اس مکروہ شرط سے اندازہ ہوتا ہے کہ قادیانی ملک کو نقصان پہنچانے کا جال بن چکے ہیں۔ زمام اقتدار سنبھالنے والوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس قادیان نواز امریکی پالیسی کے پیش نظر مکمل تحقیق کرائی جائے کہ امریکہ کو اس شرط پر آمادہ کرنے والے کون کون اشخاص ہیں۔ آئے دن کے دھماکے، فسادات، ہندوستان کی گیدڑ بھبکیاں، بکاؤ لیڈروں کے بیانات، ان سب باتوں کے ڈانڈے قادیانی ذریت اور یہودیت کے ساتھ ملتے ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ نوٹس لے اور ملک کے خلاف کام کرنے والوں کو آئین پاکستان کے تحت غداری کا مرتکب گردان کر غدار کی سزا لاگو کی جائے۔ یہ محمد عربی ﷺ کی شریعت کے بھی غدار ہیں اور ملک و ملت کے بھی غدار ہیں۔ غداروں کو چھوڑ دینا ہر طرح مضر و مہلک ہے۔ امریکہ کے ارباب بست و کشاد کو چاہیے تو یہ تھا کہ قادیانیوں کو ناپسندیدہ، تخریب کار اور پر اسرار سمجھتے ہوئے اپنے تمام حواری ممالک میں ان کے داخلے پر پابندی لگائی جاتی اور ایسے گروہ کا عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا تاکہ نسل انسانی کو ان کے ہاتھوں نقصان نہ پہنچ سکے جبکہ پوری امت اسلامی کا اس بات پر اجماع ہے کہ قادیانی کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ امریکی حکومت کو چاہیے کہ اجماع امت کے پیش نظر ان کو دہشت گرد ٹولہ قرار دے کر (د۔ف۔ع) کر دے۔ لہٰذا امریکہ کے ارباب حل و عقد کو ہم خبردار کرتے ہیں کہ قادیانیوں کی حمایت سے دستبردار ہو جائیں ورنہ پوری امت مسلمہ امریکہ کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک چلائے گی۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۶، شمارہ ۱۲، ستمبر ۱۹۸۷ء)

صفحہ 27

ایک خطرناک قادیانی چال

ختم نبوت دین کا جتنا بنیادی اور اہم مسئلہ ہے۔ ہماری پاکستانی حکومتیں اسے ہمیشہ اتنا ہی نظرانداز کرتی چلی آ رہی ہیں۔ یہ ایسا عظیم حادثہ ہے کہ اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے، کم ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال ذیل کی خبر سے ملاحظہ ہو ۔

پشاور (بخت زادہ یوسف زئی) سرحد اسمبلی کی قادیانی اقلیتی نشست پر مسلسل تین مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہونے والے رکن اسمبلی اور وزیر اعلیٰ سرحد کے خصوصی معاون ملک نسیم الدین خالد نے صوبہ سرحد کی قادیانی نشست پر رکن اسمبلی منتخب ہونے کے لیے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ۱۵۵ سے زائد سادہ لوح اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو قادیانی اور احمدی بنایا۔ ملک نسیم الدین خالد ۱۹۹۰ء سے مسلسل قادیانی نشست پر رکن سرحد اسمبلی منتخب ہو رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تیار کردہ قادیانی انتخابی فہرست میں شامل افراد کے نام ولدیت اور رہائشی پتے متعلقہ علاقوں کے مسلمان ووٹروں کے انتخابی فہرستوں میں بھی موجود ہیں۔ جبکہ ملک نسیم الدین خالد نے محض اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے سادہ لوح اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو قادیانی اور احمدی بننے پر مجبور کیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی دستاویزات انتخابی فہرستوں اور دوسرے شواہد میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ جس کے مطابق اچھرہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ملک نسیم الدین قادیانی نشست پر سات ووٹوں سے رکن سرحد اسمبلی منتخب ہو گئے اور بعد میں سابق وزیر اعلیٰ مرحوم میر افضل خان کے معاون خصوصی بھی بن گئے۔ تاہم ۱۹۹۳ء کے انتخابات میں ملک نسیم الدین خالد کے

صفحہ 28

ووٹروں کی تعداد حیرت انگیز طور پر بڑھ گئی اور ملک نسیم الدین خالد اس مرتبہ ۸۲ ووٹوں سے رکن سرحد اسمبلی منتخب ہو گئے۔ جبکہ ۱۹۹۷ء کے انتخابات میں ملک نسیم الدین خالد نے ۴۵ ووٹ لے کر ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ۱۹۹۳ء کی قادیانی ووٹر لسٹوں میں جو سنسنی خیز حقائق سامنے آئے ہیں، اس کے مطابق ملک نسیم الدین خالد نے ایک مربوط منصوبہ بندی اور وسیع پیمانے پر بڑی رقم خرچ کر کے صوبے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ۹۳ افراد کے نام قادیانی ووٹر لسٹ میں شامل کیے۔ اس انتخابی فہرست میں شامل ۹۳ افراد کو پشاور کی جدید ترین اور پوش رہائش علاقے حیات آباد کے سکونتی اور شہری درج کیا گیا ہے۔ جبکہ ۱۹۹۳ء کے بعد ملک نسیم الدین خالد نے نوشہرہ کے مضافاتی بستی خویشگی پایاں اور چارسدہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے اندراج، انتخابی فہرستوں کے فارم نمبر ۷ کے ذریعے پر کر کے انہیں نوشہرہ کینٹ کے وارڈ نمبر ۹ اور نمبر ۱ کے شہری اور رہائشی درج کیا ہے۔ سب سے حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا ہے کہ خود الیکشن کمیشن کی تیار کردہ مسلم ووٹر لسٹوں میں جو خویشگی پایاں اور چارسدہ کے ایک موضع ماروزئی کی انتخابی فہرستیں ہیں، قادیانی ووٹر لسٹوں کے تمام نام ان مسلم ووٹر لسٹوں میں بھی شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کی تیار کردہ مسلم اور قادیانی ووٹر لسٹوں میں جو نام دونوں جگہ شامل کیے گئے ہیں ۔ ان میں خویشگی پایاں کے شین خان ولد اول خان، مذہب احمدی، رہائش حیات آباد، پیشہ ملازمت، عمر ۴۳ سال درج ہے۔ جبکہ خویشگی پایاں تحصیل و ضلع نوشہرہ کی مسلم ووٹر لسٹ میں شین خان ولد اول خان کو عمر ۴۷ سال، مذہب اسلام اور رہائش شیخ شہباز بابا درج ہے۔

اسی طرح رضوان اللہ ولد غلام سرور کے کوائف قادیانی ووٹر لسٹ کے مطابق مذہب احمدی، عمر ۳۰ سال، رہائش حیات آباد، پشاور، پیشہ ملازمت اور انتخابی حلقہ وارڈ نمبر ۲۳ شاہین ٹاؤن، پشاور درج ہیں۔ جبکہ مسلم ووٹر لسٹ کے اندراج کے مطابق رضوان اللہ ولد غلام سرور خان، عمر ۳۴ سال، مذہب اسلام، پیشہ ملازمت، رہائش محلہ جھنڈ خیل خویشگی پایاں ضلع نوشہرہ درج ہے۔ فضل ہادی، ولد غلام اکبر مذہب احمدی عمر ۳۶ سال رہائش حیات آباد، پشاور، انتخابی حلقہ وارڈ نمبر ۲۳ شاہین ٹاؤن جبکہ مسلم ووٹر لسٹ کے مطابق فضل ہادی، ولد غلام اکبر، پیشہ مزدوری، عمر ۲۱ سال مذہب اسلام، رہائش محلہ جھنڈ

صفحہ 29

یز طور پر بڑھ گئی اور ملک نسیم الدین خالد اس مرتبہ ۸۲ ووٹوں سے ہار گئے۔ جبکہ ۱۹۹۷ء کے انتخابات میں ملک نسیم الدین خالد نے کامیابی حاصل کی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ۱۹۹۳ء کی قادیانی ووٹر لسٹوں کے حقائق سامنے آئے ہیں، اس کے مطابق ملک نسیم الدین خالد نے اور وسیع پیمانے پر بڑی رقم خرچ کر کے صوبے کے مختلف علاقوں سے ۹۴ افراد کے نام قادیانی ووٹر لسٹ میں شامل کیے۔ اس انتخابی عملے نے ان افراد کو پشاور کی جدید ترین اور پوش رہائش علاقے حیات آباد کے پتے پر درج کیا گیا ہے۔ جبکہ ۱۹۹۳ء کے بعد ملک نسیم الدین خالد نے نوشہرہ کے مضافاتی علاقوں اور چارسدہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے اندراج، انتخابی فارموں کے ذریعے پر کر کے انہیں نوشہرہ کینٹ کے وارڈ نمبر ۹ اور نمبر ۱ کے پتے پر درج کیا ہے۔ سب سے حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا ہے کہ خود الیکشن کمیشن آف پاکستان کی لسٹوں میں جو خوسگی پایاں اور چارسدہ کے ایک موضع ماروزئی کی بنی ہیں ان قادیانی ووٹر لسٹوں کے تمام نام ان مسلم ووٹر لسٹوں میں بھی شامل ہیں۔

مثال کے طور پر مسلم اور قادیانی ووٹر لسٹوں میں جو نام دونوں جگہ شامل کیے گئے ہیں ان میں خوسگی پایاں کے شین خان ولد اول خان، مذہب احمدی، رہائش حیات آباد، عمر ۳۶ سال درج ہے۔ جبکہ خوسگی پایاں تحصیل و ضلع نوشہرہ کی مسلم ووٹر لسٹ میں شین خان ولد اول خان کو عمر ۳۷ سال، مذہب اسلام اور رہائش شیخ شہباز بابا درج کیا گیا ہے۔

رضوان اللہ ولد غلام سرور کے کوائف قادیانی ووٹر لسٹ کے مطابق عمر ۳۰ سال، رہائش حیات آباد، پشاور، پیشہ ملازمت اور انتخابی حلقہ وارڈ نمبر ۲۳ شاہین ٹاؤن پشاور درج ہیں۔ جبکہ مسلم ووٹر لسٹ کے اندراج کے مطابق رضوان اللہ ولد غلام سرور، عمر ۳۰ سال، مذہب اسلام، پیشہ ملازمت، رہائش محلہ جھنڈ خیل خوسگی پایاں ضلع نوشہرہ درج ہے۔ فضل ہادی، ولد غلام اکبر مذہب احمدی عمر ۳۲ سال رہائش حیات آباد، پشاور، انتخابی حلقہ وارڈ نمبر ۲۳ شاہین ٹاؤن جبکہ مسلم ووٹر لسٹ کے اندراج کے مطابق فضل ہادی، ولد غلام اکبر پیشہ مزدوری، عمر ۲۱ سال مذہب اسلام، رہائش محلہ جھنڈ

خیل خوسگی پایاں ضلع نوشہرہ درج ہیں۔ مقصود علی ولد بدیع الزماں مذہب احمدی رہائش حیات آباد، پشاور، انتخابی حلقہ وارڈ نمبر ۲۳، شاہین ٹاؤن، پشاور جبکہ مسلم ووٹر لسٹ کے مطابق مقصود علی ولد بدیع الزماں، عمر ۲۱ سال، مذہب اسلام، رہائش محلہ جھنڈ خیل خوسگی پایاں ضلع نوشہرہ۔

محمد عالمگیر ولد شین جان، عمر ۲۱ سال، مذہب اسلام، رہائش محلہ جھنڈ۔ مدت خان ولد نذر محمد مذہب قادیانی، عمر ۳۴ سال، رہائش وارڈ نمبر ۳، نوشہرہ کینٹ اور مسلم ووٹر لسٹ کے مطابق مدت خان ولد نذر محمد، عمر ۳۲ سال، مذہب اسلام، رہائش ضلع چارسدہ۔ ابراہیم ولد شامل خان، مذہب قادیانی، عمر ۲۹ سال رہائش حیات آباد، پشاور، انتخابی حلقہ وارڈ نمبر ۲۳ شاہین ٹاؤن، مسلم ووٹر لسٹ کے مطابق ابراہیم، ولد شامل خان، مذہب اسلام، عمر ۲۴ سال، رہائش شیخ شہباز بابا خوسگی پایاں ضلع نوشہرہ۔ مدثر خان ولد مزمل خان مذہب قادیانی، عمر ۶۶ سال رہائش وارڈ نمبر ۳، نوشہرہ کینٹ، جبکہ مسلم ووٹر لسٹ میں مدثر خان ولد مزمل خان، عمر ۴۰ سال، مذہب اسلام، رہائش ماروزئی ضلع چارسدہ، لحاظ گل ولد فیض گل، مذہب قادیانی عمر ۳۲ سال، رہائش وارڈ نمبر ۳ نوشہرہ کینٹ جبکہ مسلم ووٹر لسٹ میں لحاظ گل ولد فیض گل، مذہب اسلام، عمر ۳۶ سال رہائش قلعہ ماروزئی، ضلع چارسدہ۔ مہربان شاہ، ولد مبارک شاہ، عمر ۲۵ سال، پیشہ زمینداری، رہائش ماروزئی، ضلع چارسدہ۔ رحیم اللہ ولد لشکر خان، مذہب قادیانی، عمر ۶۸ سال، پیشہ تجارت رہائش وارڈ نمبر ۳، نوشہرہ کینٹ۔ مسلم ووٹر لسٹ میں رحیم اللہ ولد لشکر خان، مذہب اسلام، عمر ۶۸ سال، پیشہ تجارت، رہائش وارڈ نمبر ۳، نوشہرہ کینٹ۔ فیصل خان ولد حمید خان، مذہب قادیانی، پیشہ تجارت عمر ۵۰ سال، رہائش وارڈ نمبر ۲ نوشہرہ کینٹ، مسلم ووٹر لسٹ میں فیصل خان، ولد حمید خان، مذہب اسلام، پیشہ زمینداری، عمر ۴۰ سال، رہائش خوسگی پایاں، ضلع نوشہرہ۔ رب نواز خان، ولد امیر نواز خان، مذہب قادیانی، پیشہ ملازمت، عمر ۲۷ سال، رہائش حیات آباد، پشاور۔ انتخابی حلقہ وارڈ نمبر ۲۳ شاہین ٹاؤن اور مسلم ووٹر لسٹ میں رب نواز خان، ولد امیر نواز خان، پیشہ ملازمت، عمر ۳۴ سال، محلہ عمر زئی خوسگی پایاں ضلع نوشہرہ اور نور الہدیٰ ولد مومن خان، مذہب قادیانی، پیشہ ملازمت، رہائش حیات آباد انتخابی حلقہ وارڈ نمبر ۲۳ شاہین ٹاؤن پشاور۔ مسلم ووٹر لسٹ کے مطابق نور الہدیٰ ولد مومن خان، پیشہ ملازمت، عمر ۲۴ سال،

صفحہ 30

رہائش محلہ نور احمد بابا لائی خیل خویشگی پایاں ضلع نوشہرہ درج ہیں۔ اس سلسلے میں جب صوبائی الیکشن کمشنر سے رابطہ کر کے پوچھا گیا تو انہوں نے ”روزنامہ اوصاف“ کو بتایا کہ مجھے ذاتی طور پر اس سنگین اور حساس نوعیت کے مسئلے کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جو ووٹر لسٹیں صوبائی حکومت فراہم کرتی ہے۔ ہم اس کی بنیاد پر انتخابی عمل اور ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے علم کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی ملک نسیم الدین خالد محلہ قصائی پشاور کے اصل باشندے ہیں، ۱۹۹۰ء تک صوبہ سرحد کے کسی علاقے میں ملک نسیم الدین خالد کا نام کسی بھی انتخابی حلقے میں درج نہیں تھا۔ اور نہ ہی وہ صوبہ سرحد میں کسی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کے مالک تھے۔ ذرائع کے مطابق اس خاندان کے چار بھائی ملک بشیر الدین خالد قادیانی نشست پر رکن قومی اسمبلی، ملک نسیم الدین خالد صوبہ سرحد کی واحد قادیانی نشست پر رکن سرحد اسمبلی ہیں۔ ملک نعیم الدین خالد پنجاب اسمبلی کی قادیانی نشست پر رکن پنجاب اسمبلی ہیں اور ان کے بھائی ملک سعید الدین خالد سندھ اسمبلی کی قادیانی نشست پر رکن سندھ اسمبلی چلے آرہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق رکن سرحد اسمبلی ملک نسیم الدین کا تجویز کنندہ اشفاق احمد ولد غلام ربانی جو حیات شہید ٹیچنگ ہسپتال کے میڈیکل او پی ڈی میں ڈسپنسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ وہ نہ تو قادیانی ہے اور نہ احمدی اور قادیانی ووٹر لسٹ میں ان کا نام درج نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق ملک نسیم الدین خالد کو سب سے پہلے نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے بلال ولد فضل کریم نے صوبہ سرحد میں متعارف کرایا۔ جبکہ اس خاندان کی سیاسی سرپرستی لاہور سے تعلق رکھنے والا مسلم لیگ (نون) کا ایک کلیدی راہنما حاجی جبار کر رہا ہے۔

(روزنامہ اوصاف، اسلام آباد، فروری ۱۹۹۹ء)

صفحہ 31

کیا ربوہ کے قصر خلافت میں ایٹمی پلانٹ تعمیر ہو رہا ہے

ایک اخبار نویس کی روداد ۔۔۔ جو قادیانیوں کے ہتھے چڑھ گیا

تحریر: راشد چودھری

قادیانی فرقے کے سربراہ مرزا ناصر احمد کی دل کے دورے کی وجہ سے موت اور پھر مسئلہ جانشینی پر آنجہانی کے بھائیوں میں سنگین اختلافات کی خبریں سن کر ہماری اخبار نویسوں کی مخصوص حس تجسّس ہمیں بے چین کرنے لگی اور جب یہ ناقابل برداشت محسوس ہونے لگی تو ہم نے ربوہ جا کر خود حالات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ۲۴ جون کو صبح نو بجے کے قریب جب بس کے اڈے کے قریب واقع گول بازار میں داخل ہوا تو وہاں مسند نشینی کے بعد مرزا طاہر احمد کی پہلی تقریر کے کیسٹ کی آوازیں سنیں، تقریر کی آوازیں متعدد دکانوں سے اٹھ رہی تھیں اور بظاہر ایسے لگتا تھا کہ اس سلسلے میں باقاعدہ پروگرام کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ آوازیں مناسب فاصلوں سے اٹھ رہی تھیں۔ ایک دکان کا مالک تنہا بیٹھا مدھم آواز میں کسی شخص کی ٹیپ سن رہا تھا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ آنجہانی مرزا ناصر کی تقریر سن رہا ہے۔

مسلسل دو گھنٹے تک میں نے ربوہ میں گھوم پھر کر لوگوں کی آراء معلوم کیں جن سے صاف پتہ چلتا تھا کہ اگرچہ اس شہر میں مرزا رفیع احمد کے حامیوں کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے مگر مرزا طاہر اور ان کے حامیوں کو حالات پر کنٹرول حاصل ہے۔ جب مرزا رفیع کے ایک حامی سے اس کی توجیہ طلب کی گئی تو اس نے کہا کہ ابھی لوگ مرزا ناصر احمد کی موت کا سوگ منا رہے ہیں۔ اس لیے اصل صورت حال چند روز تک کھل کر سامنے آئے گی۔

صفحہ 32

ایک مخلص قادیانی نوجوان سے پوچھا کہ آیا وہ مرزا رفیع احمد کو پسند کرتا ہے تو اس نے جواب دیا ”کیوں نہیں‘ وہ بہت نیک آدمی ہیں۔“ تو پھر آپ نے مرزا طاہر احمد کی بیعت کیوں کی؟” میں نے دریافت کیا۔ جس پر اس نے کہا:

”دراصل جماعت کی انتظامیہ بہت بدعنوان ہو چکی ہے۔ مرزا رفیع احمد بہت دیانتدار اور بااصول ہیں اگر وہ خلیفہ بن جاتے تو انہوں نے تمام بیورو کریسی کی چھٹی کروا دینی تھی۔ جس سے پارٹی میں زبردست انتشار پیدا ہوتا۔ لہٰذا میرے خیال میں مرزا طاہر احمد کا انتخاب زیادہ موزوں ہے۔“

جانشینی کے بارے میں مرزا طاہر احمد کے حامیوں کی متفقہ رائے یہ تھی کہ خلفاء خدا بناتا ہے اور اگر انتخاب کا طریق غلط بھی ہو تو بھی مرزا طاہر احمد خدا تعالیٰ کے منتخب کردہ ہیں۔ جب میں نے اس سلسلے میں مرزا رفیع احمد کے ایک حامی سے رائے پوچھی تو اس نے جواب دیا:

”اگر خلیفہ خدا بناتا ہے تو پھر انتخابات کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے۔ وہ شخص جو جماعت کی مشینری میں سب سے زیادہ مضبوط ہو‘ خود ہی اپنی خلافت کا اعلان کر دیا کرے۔“

بہر حال مرزا رفیع احمد کے حامیوں کو شکایت ہے کہ بیعت کر لینے کے باوجود ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ایک ستر سال سے زیادہ عمر کے قادیانی نے بتایا کہ وہ آنجہانی مرزا ناصر احمد کے آخری دیدار کے لیے گیا تو اسے یہ کہہ کر میت کے قریب جانے سے روک دیا گیا کہ بھابھی نے حکم دیا ہے کہ مرزا رفیع سے تعلقات رکھنے والوں کو جنازے کے قریب نہ پھٹکنے دیا جائے۔

بیرون ربوہ سے آنے والے ایک نوجوان جو مرزا رفیع احمد کے واک آؤٹ اور پھر دونوں بھائیوں کے حامیوں کے درمیان ناخوشگوار صورت حال اور مرزا رفیع احمد پر دست درازی سے پریشان تھے۔ انہوں نے مرزا طاہر احمد کی بیعت کر لی تھی اور ان کے نزدیک یہ انتخاب حالات کی مناسبت سے ٹھیک ہوا تھا۔ مگر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے وقت وہ بار بار اپنے لیے خلافت سے وابستگی کی دعا مانگ رہے تھے۔ جب وہ مجھ سے علیحدہ ہونے لگے تو انہوں نے بتایا کہ وہ آج کوئٹہ واپس جا رہے ہیں اور پھر بڑی لجاجت کے ساتھ کہا۔

صفحہ 33

"آپ بہت شریف انسان معلوم ہوتے ہیں‘ میرے لیے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے خلافت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطا فرمائے"۔

شرافت‘ خلافت دعا میرے لیے یہ سب اجنبی سے لفظ تھے۔ میں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور مسکراتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر بات چیت کے لیے کسی اور شخص کو تلاش کرنے لگا۔

مرزا طاہر احمد کے حامیوں کی یہ بات درست ہے کہ ان کے فرقے میں "منافقین" صورت حال کو مزید بگاڑ رہے ہیں۔ تاہم ذاتی طور پر میں "منافقت" اور مصلحت میں تمیز نہیں کر سکا۔ مثال کے طور پر ایک شخص جو قادیانی تنظیم کے اہم عہدوں پر فائز رہ چکا ہے اور ان دنوں زیر عتاب ہے‘ وہ درجن کے قریب اہل خانہ کا کفیل ہے‘ اس شخص نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

"آپ کی یہ رائے درست ہے کہ مرزا طاہر احمد بہت ذہین و فطین انسان ہیں مگر دنیا میں فقط ذہانت ہی کام نہیں آتی۔ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کتنے عظیم انسان اور خود کو کتنے بلند مقام و مرتبہ پر خیال کرتے تھے۔ مگر قدرت نے صرف ایک جھٹکے سے ان کے تمام منصوبے ختم کر دیے۔ میں نے مرزا طاہر کی بیعت کی ہے اور یہ جانتے ہوئے کی ہے کہ وہ "بہت خچر آدمی ہے۔"

میں نے متعدد لوگوں سے مرزا رفیع کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ اس وقت کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ مگر اس سلسلے میں مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا۔ میں نے ان سے دریافت کیا کہ آیا ان سے ملاقات ممکن ہے؟ تو اس پر منفی جواب ملا۔ بلکہ ایک دو افراد نے تو یہاں تک کہا کہ اسی (۸۰) کنال کے رقبے پر مشتمل اس "Walled City" میں جانا میرے لیے کسی مصیبت کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے مگر چونکہ ان کے بارے میں متضاد خبریں تھیں‘ لہٰذا میں نے ان کی رہائش گاہ پر جا کر حالات کا جائزہ لینے کا ارادہ کیا۔

اس مقصد کے لیے میں نے گول بازار کے ایک دکاندار سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس کا کہنا یہ تھا کہ مرزا رفیع احمد کے گھر جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور اگر میں چاہوں تو وہاں جا کر خود حالات کا مشاہدہ کر سکتا ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ وہ مجھے کہیں سے سائیکل فراہم کر دے تو شدید دھوپ میں پیدل چلنے سے بچ جاؤں گا۔ جس پر اس

صفحہ 34

نے ایک نوجوان سے کہا کہ ایک ٹانگہ لا دو۔ تھوڑی دیر میں ٹانگے پر بیٹھ کر مرزا رفیع کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ ٹانگے والے کو میں نے ہدایت کی کہ وہ غیر مانوس راستے سے جائے۔ دوسری سواری نہ بٹھائے اور بلاوجہ راستے میں نہ رکے۔ تھوڑی دیر میں میں ایک بہت بڑے گیٹ کے دروازے پر کھڑا تھا۔ سڑک پر موجود یہ واحد گیٹ مرزا ناصر احمد کے خاندان کی کوٹھیوں میں لے جاتا تھا۔ کسی زمانے میں عام شہروں کی طرح ان کوٹھیوں کے درمیان گلیاں اور سڑکیں تھیں۔ اور ان گھروں تک پہنچنے کے لیے متعدد راستے تھے مگر کچھ عرصہ قبل تمام راستے بند کر دیے گئے۔ میری معلومات کے مطابق چند برس قبل جب یہ کام ہوا تو ٹاؤن کمیٹی والوں نے اس بنیاد پر ان راستوں کو بند کرنے کے لیے نو تعمیر دیواریں گرا دیں کہ اس طرح ان کوٹھیوں میں آنے جانے والوں کو دقت کا سامنا کرنا پڑے گا مگر تازہ ترین صورت حال کے مطابق مجھے ایک ایسے گیٹ میں سے گزر کر جانا پڑا۔ جسے کسی وقت بھی بند کر کے کوٹھیوں کے اندر جانے کا راستہ بند کیا جا سکتا تھا۔

جب میں گیٹ کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ خلاف توقع وہاں کوئی پہرہ نہیں تھا۔ لہٰذا میں آگے بڑھتا گیا اور اس چھوٹی سی سڑک پر پہنچ گیا جہاں مرزا رفیع کی رہائش گاہ ہے۔ اس سڑک پر چڑھتے ہی میں نے ایک درخت کے نیچے دو نوجوانوں کو کھڑے ہوئے دیکھا جو واضح طور پر قادیانی نوجوانوں کی تنظیم ”خدام الاحمدیہ“ سے تعلق رکھتے تھے اور جو فاصلے پر کھڑے ہو کر مرزا رفیع کے گھر کی نگرانی کر رہے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی میرے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ شاید یہ لوگ تعرض کریں۔ مگر کسی قسم کی رکاوٹ کے بغیر ہی میں مرزا رفیع کی کوٹھی کے گیٹ پر پہنچ گیا۔ گیٹ کھلا ہوا تھا اور سامنے ایک کار کے پاس بیٹھا بچہ کھیل رہا تھا۔ میں نے اس سے دریافت کیا:

آپ کے ابو کہاں ہیں؟

مجھے نہیں پتہ۔

بیٹا! اپنے ابو کو میرے آنے کی اطلاع تو کر دو۔

”آپ اندر چلے جائیں۔“

”آپ اندر جا کر میری آمد کا بتائیں۔ اگر وہ اجازت دیں گے تو پھر ہی میں اندر جا سکتا ہوں۔“

صفحہ 35

میں نے کہا ہے نا کہ آپ اندر چلے جائیں۔

سامنے ایک جالی دار دروازہ تھا۔ میں اسے کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ پاس ہی ایک کمرے میں کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ چند لمحے توقف کے بعد میں اس کمرے میں داخل ہو گیا۔ دروازے کے عین سامنے بیڈ پر ایک نوجوان لیٹا ہوا تھا۔ دو شخص کرسیوں پر تھے اور دو فرش پر بچھی ہوئی دری پر بیٹھے تھے۔ مگر یہ چاروں افراد تیزی سے کچھ لکھنے میں مصروف تھے۔ کمرہ چھوٹا سا تھا۔ لہٰذا مجھے دروازے کے قریب ہی کھڑا ہونا پڑا۔

اتنی دیر میں ایک نوجوان شمیم قدی پانی کا ایک جگ اور گلاس لیے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے مجھے بیٹھ جانے کے لیے کہا۔ میں دری پر بیٹھ گیا۔ میرے پاس ایک شخص تیزی سے کچھ لکھ رہا تھا۔ غالباً وہ کسی اخبار کے لیے خبر یا مضمون تھا۔ اس نے تحریر کو میری نظروں سے بچانے کے لیے دیوار سے ٹیک لگا لی اور فاصلہ بڑھا دیا۔ شمیم قدی وقفے وقفے سے کمرے میں آتا رہا اور میں ہر بار اس سے مرزا رفیع احمد کے بارے میں دریافت کرتا رہا مگر ہر بار اس کا ایک ہی جواب تھا۔ ابھی بیٹھے رہیں۔ جب کچھ دیر گزر گئی تو میں نے ایک بار پھر شمیم قدی کو مخاطب کیا اور اسے کہا کہ مجھے میاں صاحب سے ملنا ہے۔ جس پر اس نے کہا کہ "ان سے ملاقات نہیں ہو سکتی"۔ اور وہ یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کے باہر نکلتے ہی کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے میرا تعارف حاصل کرنا چاہا۔ میں نے اپنا نام وغیرہ بتا دیا۔ جس پر ان میں سے ایک شخص نے بیڈ پر لیٹے ہوئے لڑکے سے کہا۔

صدا! انہیں لے جائیں اور اس نے فوراً اٹھتے ہوئے مجھ سے کہا کہ فوری طور پر یہاں سے نکل جائیں اور پھر ایک جست کے ساتھ میرے قریب پہنچ گیا اور پھر بڑی درشتی سے کہا:

"آپ میرے والد کا انٹرویو لینا چاہتے ہیں؟"

"نہیں، صرف ملاقات کا خواہش مند ہوں" میں نے جواب دیا۔

آپ یہاں فتنہ اور انتشار برپا کرنے کے لیے آئے ہیں۔ فوری طور پر چلے جائیں۔

ابھی میں اس کمرے سے نکلا ہی تھا کہ انتہائی ڈرامائی طور پر سامنے والے کمرے سے مرزا رفیع احمد کا دوسرا صاحبزادہ نمودار ہوا۔ وہ بڑے غصے میں تھا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:

"یہ لوگ ہمیں تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے اندر فتنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔"

صفحہ 36

اب میں مرزا رفیع کے دونوں لڑکوں میں گھرا ہوا گیٹ کی طرف جا رہا تھا۔ گیٹ پر پہنچنے کے بعد میں حیران رہ گیا کیونکہ اندر آتے ہوئے جن دو نوجوانوں کو میں نے کوٹھی سے کچھ فاصلے پر درخت کے نیچے دیکھا تھا، اب گیٹ کے عین سامنے کھڑے تھے۔ مزید برآں اب یہ دو نہیں تھے، بلکہ ان میں ایک اور پہلوانوں جیسی شخصیت کا اضافہ ہو چکا تھا۔ مجھے گیٹ سے نکالنے کے بعد مرزا طیب احمد نے ان لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا ”اسے لے جائیے“۔

وہ لوگ بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھے اور مجھے اس طرح اپنے بازوؤں میں جکڑ لیا جیسے کوئی انتہائی خطرناک قسم کا مجرم پاکستانی پولیس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ یہ لوگ انتہائی نازیبا اور دھمکی آمیز زبان استعمال کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز نوائے وقت میں شائع ہونے والی خبر میں نے فراہم کی ہے اور آج مجھے اس جرم کی سنگین سزا بھگتنی ہوگی۔ جس پر میں نے یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ آپ کے بارے میں اخبارات میں یہ جو خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ان کی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی بلکہ یہ خبریں اخبارات کے مقامی نمائندے بھجواتے ہیں۔ مگر وہ ٹس سے مس ہونے کے لیے تیار نہیں تھے بلکہ اپنے گرد ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کسی کے انتظار میں ہوں۔ اتنی دیر میں مرزا طاہر اور ان کے خاندان کا ایک شخص نمودار ہوا اور ان لوگوں نے اس سے مخاطب ہو کر کہا: ”یہ شخص مرزا رفیع سے ملنا چاہتا ہے“۔

”اسے مرزا غلام احمد کے پاس پہنچا دو“ اس شخص نے یہ جواب دیا۔

پہلوان نما آدمی غالباً گیٹ کے پاس ہی بیٹھ گیا اور دوسرے دو نوجوانوں نے قریباً گھسیٹتے ہوئے مجھے قصر خلافت کی طرف لے جانا شروع کر دیا۔ گھسیٹنے کے لفظ سے قارئین یہ خیال نہ کریں کہ شاید میں ان کے ساتھ جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ بلکہ بات یہ تھی کہ دونوں نوجوان بڑے جذباتی انداز میں چلتے ہوئے میرے بازوؤں کو اپنی اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے میرے لیے توازن برقرار رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ بالاخر وہ مجھے قصر خلافت میں لے گئے۔ یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ قصر خلافت محض ایک عمارت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک کمپلیکس ہے، جس میں متعدد عمارتیں اور دفاتر موجود ہیں۔ میرے گرفتار کنندگان مجھے ایک عمارت کے انٹرنس پر لے گئے اور بدستور مجرموں کی طرح

اپنی گرفت میں لیے ہو یہ کہا گیا کہ وہ اندر جا ک ہم اسے پکڑ کر لائے ہ کے لیے انٹرنس پر آیا۔ وقت کے ایگزیکٹو ایڈیٹر حراست میں لینے والے کام دو اور نوجوانوں کچھ دیر کے بعد آپ نے صبح عمارت سے باہر چھوڑ آ اس کے بعد ان طرف روانہ ہو گئے۔ اور ان میں سے ایک ”اگر آپ کو مر واپس ان کی کوٹھی پر آپ پر ہوگی“۔ جس پر میں نے جاننا چاہتا ہوں کہ مرزا موقف کیا ہے۔ اگر مجھے قسم کے نتائج کی ذمہ دا میرے مگر انور ہیں۔ اس سے زیادہ خ کیا ہے، آپ کی حفاظت جس پر میں نے کے باہر ہو جا، جس حفا

صفحہ 37

اپنی گرفت میں لیے ہوئے وہاں کھڑے ہو گئے۔ پیچھے سے دو نوجوان آگے بڑھے۔ ان سے یہ کہا گیا کہ وہ اندر جا کر بتائیں کہ ایک اخبار نویس مرزا رفیع کا انٹرویو لینے کے لیے آیا تھا۔ ہم اسے پکڑ کر لائے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ایک نوجوان میرا مکمل تعارف دریافت کرنے کے لیے انٹرنس پر آیا۔ جس پر میں نے اسے بتایا کہ میرا نام راشد چودھری ہے۔ میں نوائے وقت کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کی اجازت سے صحیح صحیح حالات معلوم کرنے کے لیے آیا ہوں۔ مجھے حراست میں لینے والے دونوں نوجوان اس شخص کے ساتھ اندر چلے گئے اور میری نگرانی کا کام دو اور نوجوانوں نے سنبھال لیا۔

کچھ دیر کے بعد یہ لوگ باہر آئے اور آتے ہی مجھے کہا کہ : آپ نے صحیح حالات کا جائزہ لے لیا ہے نا۔ اب ہمارے ساتھ آئیں، ہم آپ کو عمارت سے باہر چھوڑ آتے ہیں۔

اس کے بعد انہوں نے مجھے ایک گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا اور پھر وہ گول بازار کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے میں ایک درخت کے سائے میں انہوں نے گاڑی کھڑی کر دی اور ان میں سے ایک نے میری طرف مخاطب ہو کر کہا: ”اگر آپ کو مرزا رفیع احمد کے لڑکوں سے دوبارہ ملاقات کی خواہش ہو تو ہم آپ کو واپس ان کی کوٹھی پہ لے جانے کے لیے تیار ہیں مگر اس شرط پر کہ نتائج کی ذمہ داری خود آپ پر ہو گی۔“

جس پر میں نے جواب دیا کہ ”میں گناہ بے لذت کا عادی نہیں ہوں۔ میں تو صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مرزا رفیع احمد اس وقت کہاں ہیں، کس حال میں ہیں اور ان کا تازہ ترین موقف کیا ہے۔ اگر مجھے اس کے حصول کے لیے مرزا رفیع احمد کے پاس پہنچا دیں تو پھر میں ہر قسم کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہوں“۔

میرے نگرانوں نے جواب دیا ”ہم آپ کو مرزا رفیع کے صاحبزادوں سے ملا سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ خدمت ممکن نہیں ہے۔ اور ہاں یہ بات یاد رکھیں کہ ہم نے جو کچھ بھی کیا ہے ، آپ کی حفاظت کے نقطہ نظر سے کیا ہے“۔

جس پر میں نے ان سے کہا ” آپ نے جس حفاظت کے ساتھ مجھے مرزا رفیع کے گیٹ کے باہر دبوچا، جس حفاظت کے ساتھ گھسیٹتے ہوئے آپ لوگ مجھے قصر خلافت میں لے گئے

صفحہ 38

اور راستے میں دھمکی آمیز زبان میں آپ نے مجھے جس حفاظت کی بار بار پیش کش کی، میں اسے فراموش نہیں کر سکتا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کے علاقے میں ایک اخبار نویس کی حیثیت سے آیا تھا، دشمن کی حیثیت سے نہیں اور اس سلسلے میں مروجہ آداب کو ملحوظ رکھنا آپ کا اخلاقی فرض تھا۔ میرے خیال میں اب بہتر ہو گا کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں یہیں اتر جاؤں"۔

"نہیں! ہم آپ کو کم از کم گول بازار تک چھوڑ کر آئیں گے"۔

گول بازار پہنچنے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ میں کھانا کھا کر جاؤں۔ جس پر میں نے پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کے اصرار پر میں نے کہا: صرف پانی پلا دو۔ پانی پینے کے بعد میں ان سے الگ ہو گیا۔ جاتے ہوئے ان میں سے ایک نے قہقہہ لگایا اور کہا: "ربوہ آپ کا اپنا گھر ہے۔ آپ یہاں مزید گھوم پھر سکتے ہیں۔ آپ سے کوئی تعرض نہ کیا جائے گا"۔

یہ ڈرامہ تو ختم ہو چکا تھا مگر مجھے کہیں ڈراپ سین نظر نہیں آ رہا تھا۔ جس پراسراریت کے پردے چاک کرنے کے لیے میں یہاں آیا تھا، وہ ابھی بدستور موجود تھے۔ اب بھی میں کشمکش میں تھا کہ ربوہ ایک کھلا شہر ہے یا منی اسٹیٹ؟ اس کھلے شہر اور پھر ۸۰ کنال کے رقبے میں تعمیر نام نہاد "خاندان نبوت" کی رہائش گاہوں پر مشتمل اس قلعہ نما کمپلیکس میں داخل ہونے کے بعد کوئی شخص اپنے آپ کو محبوس کیوں تصور کرتا ہے؟ اگر مرزا رفیع احمد آزاد ہیں تو پھر انہیں لوگوں سے ملنے کی اجازت کیوں نہیں؟ اگر وہ آزاد نہیں ہیں تو پھر ان کے بیٹوں کا یہ عجیب و غریب طرز عمل اس الزام کی نفی کیوں کرتا ہے۔ یہ لوگ باہر سے آنے والوں کو تحفظ کی فراہمی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اگر درست ہے تو پھر یہ بد سلوکی اور متشددانہ رویہ چہ معنی دارد؟ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے جیسے قصر خلافت میں کوئی ایٹمی پلانٹ تعمیر ہو رہا ہے اور غلطی سے انہوں نے مجھے مارک ٹیلی سمجھ لیا۔

(بہ شکریہ نوائے وقت، کراچی ۱۶ جون ۱۹۸۲ء)

صفحہ 39

انگریزوں کی پنیری

محمد اکرم‘ الریاض

انگریز بہادر نے برصغیر پر اپنی حکمرانی کی طنابیں مضبوطی سے قائم رکھنے کے لیے ہندوستان کی قوموں میں ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی اختیار کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے مسلمانوں میں نئے نئے فتنے کھڑے کیے۔ ان فتنوں میں مرزائیت کا خود ساختہ مذہب بھی انگریزوں کی ایک گھٹیا سازش تھی۔ جس کا مقصد مسلمانوں کی قوت کو منتشر اور پارہ پارہ کرنا تھا۔ قادیانی خاندان کی بنیاد کچھ اس طرح پڑی تھی کہ ۱۵۳۰ء میں بابر کے عہد میں ہادی بیگ‘ سمرقند سے نقل مکانی کرکے گورداسپور میں رہائش پذیر ہوگئے۔ ہادی بیگ باعلم آدمی تھے۔ وہ اپنی قابلیت کے بل بوتے پر قاضی اور مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز ہوگئے اور قادیان کے علاقے میں ان کا سکہ چلنے لگا۔ ان کے بعد ان کا خاندان نسل در نسل علاقے میں عزت و تکریم کا حامل ٹھہرتا رہا۔ انیسویں صدی کے شروع میں سکھوں نے اس خاندان سے جائیداد چھین لی تو یہ سکھ حکومت کے کاسہ لیس بن گئے۔ نونہال سنگھ اور شیر سنگھ کے عہد میں غلام مرتضیٰ نے ان کی گراں قدر خدمات سرانجام دیں اور مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ صوبہ سرحد کے غیور پٹھانوں نے سکھوں کو ٹکنے نہ دیا تو ان حریت پسندوں کے خلاف جنگی کارروائیوں میں غلام مرتضیٰ نے سرگرم حصہ لیا۔ مرزا غلام محی الدین نے بھی بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سکھوں کے شانہ بشانہ مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے۔ جب بھائی مہاراج سنگھ نے دیوان ساون مل کی مدد کے لیے ملتان کی طرف مارچ کیا تو غلام محی الدین نے دوسرے جاگیرداروں کے ساتھ مل کر حریت پسندوں کے خلاف سکھوں کی معاونت کی۔

صفحہ 40

ان خدمات کے عوض سکھوں نے غلام محی الدین اور اس کے خاندان کو جاگیروں سے مالا مال کر دیا۔ قادیان میں وسیع جاگیر کے حقوق ملکیت دیے گئے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں اس خاندان کا ریکارڈ سکھوں کے تعاون سے زیادہ روشن اور بھاری تھا۔ غلام مرتضیٰ نے سینکڑوں آدمی اور اپنا بیٹا غلام قادر حریت پسندوں کی سرکوبی کے لیے نکلسن کے حوالے کیے۔ جنہوں نے مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگے اور انہیں گرفتار کر کے اذیت ناک سزائیں دلوائیں۔ اس غداری کے صلے میں جنرل نکلسن نے غلام قادر کو تعریفی سرٹیفکیٹ عنایت کیے۔ غلام مرتضیٰ کے بھتیجے انعام الدین جو غلام محی الدین کے بیٹے تھے، رسالدار کی حیثیت سے برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ خاص طور پر محاصرہ دہلی کے دوران وفاداری کے حوالے سے کسی اور خاندان کو نمایاں نہ ہونے دیا۔ ان کی دی ہوئی اطلاعات گورداسپور کے ضلع میں حریت پسندوں کو کچلنے کے لیے بے حد معاون ثابت ہوئیں۔

مرزا غلام مرتضیٰ ۱۸۷۶ء میں فوت ہو گیا تو اس کا بیٹا غلام قادر خاندان کا سربراہ بنا۔ اس نے مقامی انتظامیہ سے تعاون کرنے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ وہ کچھ عرصہ گورداسپور ڈسٹرکٹ آفس میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر بھی کام کرتا رہا۔ اس کا بیٹا لڑکپن ہی میں فوت ہو گیا۔ تو اس نے اپنے بھتیجے اور مرزا غلام احمد کے بیٹے سلطان احمد کو متبنیٰ بنا لیا۔ سلطان احمد نے نائب تحصیلدار کے عہدے سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ترقی پاتے پاتے وہ ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر بنا۔ وہ قادیان کا نمبردار بھی تھا۔ انگریز بہادر نے انہیں خان بہادر کے خطاب کے علاوہ منٹگمری (حال ساہیوال) میں ۵ مربع زمین بھی دی۔ اس کی موت ۱۹۳۰ء میں ہوئی۔ اس کی موت کے بعد اس کے بڑے بیٹے مرزا عزیز کو اسسٹنٹ کمشنر بنا دیا گیا۔

مرزا غلام قادر کا بھائی مرزا غلام احمد قادیانی جو انگریزی فتنہ ”احمدی تحریک“ کا بانی تھا۔ ۱۸۳۰ء میں پیدا ہوا۔ اس نے اعلیٰ انگریزی تعلیم حاصل کی اور ۱۸۹۱ء میں پہلے مجدد اور پھر مسیح موعود اور (نعوذ باللہ) نبی ہونے کا اعلان کیا اس کے بعد اس نے اپنے ماننے والوں کی ایک فوج تیار کی اور اس خود ساختہ مذہب کی تحریک انگریزوں کی بیساکھیوں اور مفادات کے سہارے چلتی رہی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے فارسی، عربی اور اردو میں کئی

صفحہ 41

کتابیں لکھیں، جن کا مقصد مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو ٹھنڈا کرنا تھا۔ جو انگریزوں کے خلاف برصغیر کے مسلمانوں میں ابل رہا تھا۔ جب مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے فریب کو سمجھ لیا اور مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اس کی جانی دشمن ہو گئی تو انگریز نے اس کی حفاظت اپنے ذمہ لے لی۔ اس جھوٹے نبی نے زندگی کی آخری سانس تک انگریزوں کی طرفداری کی۔

غلام احمد کے بعد حکیم مولوی نور الدین کشمیری کو احمدیہ تحریک کا سربراہ نامزد کیا گیا۔ وہ بہت بڑا طبیب تھا۔ وہ کئی برسوں تک مہاراجہ کشمیر کی خدمات بھی سرانجام دیتا رہا اور مرزا غلام احمد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، انگریزوں کے ہر فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرتا رہا۔ مولوی نور الدین کے بعد مرزا بشیر الدین جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا تھا، احمدی تحریک کا خلیفہ نامزد ہوا۔ مرزا بشیر الدین کی قیادت میں احمدی تحریک نے بہت زور پکڑا اور تنظیمی حوالے سے ہندوستان کی ایک قوت بن گئی۔ انگریزوں کے خلاف عدم تعاون کی تحریک شروع ہوئی تو مرزا بشیر الدین نے بھرپور مالی امداد دی اور ان کے مخبر انگریزوں کو ضروری معلومات فراہم کرتے رہے۔ ۱۹۱۹ء تک پنجاب میں آنے والے تین گورنروں اور تین وائسرائوں نے مرزائی خاندان کی وفاداری اور ان کے عملی تعاون کی تحریری تعریف کی جو ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ انہی خدمات کے صلے میں انہیں ۱۵۰۰ ایکڑ اودھ پونے اور ۱۲۵۰۰ ایکڑ تعلق داری میں دیے گئے۔ علاوہ ازیں انہیں ضلع منٹگمری میں ۱۵ مربع اور ۵ ہزار ایکڑ سندھ میں دیے گئے۔ یہ سب انعامات مسلمان قوم کو گمراہ کرنے کے صلے میں سرکار برطانیہ کا تحفہ تھے۔

آخر کار مرزائی تحریک میں بغاوت پھوٹ پڑی۔ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی نے بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی کے خلاف بغاوت کر کے ”لاہوری پارٹی“ کی بنیاد رکھی جو مرزا غلام احمد کے احکام کی اطاعت تو کرتی ہے لیکن وہ انہیں نبی ماننے کے بجائے صرف مجدد مانتی ہے۔ تاہم مسلمانوں کے عناد میں دونوں جماعتیں یکساں ہیں۔ اکابر دیوبند سے مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور مولانا محمد یعقوبؒ نے عالمی سطح پر فتنہ مرزائیت کا مقابلہ کیا۔ ۱۹۳۴ء کے بعد قادیانیوں کو احرار کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اکتوبر ۱۹۳۴ء میں سید عطا اللہ شاہ بخاری نے قادیان میں احرار کانفرنس منعقد کر کے اس عظیم

صفحہ 42

جدوجہد کا آغاز کیا۔ ۱۹۳۱ء میں قادیانی جماعت نے مسلمانوں کی سیاسی قیادت حاصل کرنے کا ایک نیا منصوبہ بنایا۔ ڈوگرہ مہاراجہ نے کشمیر کے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے تھے۔ ان کا کوئی موثر جواب مسلمانوں کی طرف سے نہیں دیا جا رہا تھا۔ چنانچہ ۲۵ جولائی ۱۹۳۱ء کو مرزا بشیر الدین محمود نے بعض مسلمان اکابر کو جمع کر کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی جس کا سربراہ وہ خود تھا۔ اس میں علامہ اقبال بھی شامل تھے۔ جلد ہی علامہ اقبال اور ان کے احباب نے محسوس کر لیا کہ انگریزوں کے پٹھو، مسلمانوں کی قیادت اور ترجمانی نہیں کر سکتے۔ ان کے نزدیک کشمیر کمیٹی کا مقصد قادیانیت کی تبلیغ سے زیادہ کچھ نہ تھا، لہٰذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس کمیٹی کا سربراہ کسی قادیانی کو نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح علامہ اقبال نئے سربراہ بنے۔ تب قادیانیوں نے انگریزوں کے ایماء پر علامہ اقبال کے خلاف سازشوں کا جال پھیلا دیا اور انہیں دو سال کے اندر اندر مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ پنڈت نہرو قادیانیت سے بہت متاثر تھا اور اس نے قادیانیوں کی حمایت میں ”ماڈرن ریویو کلکتہ“ میں لکھنا شروع کیا تو علامہ اقبال نے اس کا بھرپور جواب دیا۔

قادیانیوں نے تقسیم ہند کے خلاف ہر آن انگریزوں اور کانگریس کے موقف کی ترجمانی کی۔ ان کے ترجمان ”الفضل“ (۱۶ مئی ۱۹۴۷ء) نے لکھا: ”اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو وہ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے، تقسیم ہو بھی گئی تو ہم یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں۔“

قیام پاکستان کے بعد مرزائیوں نے کلیدی عہدوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس غرض سے انہوں نے فوج اور بیوروکریسی میں پلاننگ کے تحت بے شمار افراد بھرتی کرائے۔ مسٹر ظفر اللہ خان پاکستان کا وزیر خارجہ تھا۔ اس نے اپنی اس حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی سفارت خانوں میں مرزائی افسر تعینات کیے اور ان کی مدد سے اور اپنے اثر و رسوخ سے بیرونی ممالک میں قادیانی مشن قائم کرائے۔ حساس اور باشعور لوگ ان چیزوں کو محسوس کر رہے تھے۔ مگر بے بس تھے۔ قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سر ظفر اللہ خان نے خواجہ ناظم الدین کی کمزوریوں سے بہت فائدہ اٹھایا۔ ۱۷ مئی ۱۹۵۲ء کو جہانگیر پارک کراچی میں قادیانیوں کا جلسہ ہوا۔ جس میں انہوں نے وزیر اعظم کا مشورہ قبول نہ کرتے ہوئے شرکت کی۔ اس طرح قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت

صفحہ 43

س قادیانی جماعت نے مسلمانوں کی سیاسی قیادت حاصل کرنے مہاراجہ نے کشمیر کے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے تھے۔ ان کا ی طرف سے نہیں دیا جا رہا تھا۔ چنانچہ ۲۵ جولائی ۱۹۳۱ء کو مرزا مان اکابر کو جمع کر کے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی جس کا سربراہ ل بھی شامل تھے۔ جلد ہی علامہ اقبال اور ان کے احباب نے بیٹھ، مسلمانوں کی قیادت اور ترجمانی نہیں کر سکتے۔ ان کے یانیت کی تبلیغ سے زیادہ کچھ نہ تھا‘ لہٰذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ کو نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرح علامہ اقبال نئے سربراہ بنے۔ کے ایماء پر علامہ اقبال کے خلاف سازشوں کا جال پھیلا دیا اور مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا۔ پنڈت نہرو قادیانیت سے بہت وں کی حمایت میں ”ماڈرن ریویو کلکتہ“ میں لکھنا شروع کیا تو واب دیا۔

ہند کے خلاف ہر آن انگریزوں اور کانگریس کے موقف کی الفضل“ (۱۶ مئی ۱۹۴۷ء) نے تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے مجبوری سے، تقسیم ہو بھی گئی تو ہم یہ کوشش کریں گے کہ کسی “۔

رزائیوں نے کلیدی عہدوں پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس بیورو کریسی میں پلاننگ کے تحت بے شمار افراد بھرتی کرائے۔ یر خارجہ تھا۔ اس نے اپنی اس حیثیت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے میں مرزائی افسر تعینات کیے اور ان کی مدد سے اور اپنے اثر و قادیانی مشن قائم کرائے۔ حساس اور باشعور لوگ ان چیزوں بے بس تھے۔ قائد اعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی یا نے خواجہ ناظم الدین کی کمزوریوں سے بہت فائدہ اٹھایا۔ ب کراچی میں قادیانیوں کا جلسہ ہوا۔ جس میں انہوں نے تے ہوئے شرکت کی۔ اس طرح قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت

کے لیے سرکاری اثر و رسوخ کے استعمال کا الزام ثابت ہو گیا۔ قادیانی خلیفہ کے بیٹے مرزا منظور احمد نے ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے قادیانی مشنریوں کی سرگرمیوں کی پشت پناہی کی۔ عوام میں آئے دن قادیانیت کی پر اسرار سرگرمیوں کے بارے میں بدگمانیاں پیدا ہو رہی تھیں اور اس نئے مذہب کے ماننے والوں کو کافر قرار دینے کی تحریک جو ۱۹۵۳ء میں شروع ہوئی تھی‘ پنجاب میں خوفناک صورتحال اختیار کر گئی اور یہاں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو گیا جس کو کنٹرول کے لیے پنجاب میں مارشل لاء نافذ کرنا پڑا۔ مولانا مودودیؒ اور مولانا عبد الستار نیازی کو مرزائیوں کے خلاف تحریک چلانے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنادی گئی جس نے عوام کے جذبات کو اور مشتعل کر دیا۔

مسلم لیگ کی حکومت اس تحریک کے دوران عوام کا اعتماد کھو چکی تھی۔ میاں ممتاز دولتانہ اور خواجہ ناظم الدین دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر مرزائیوں کے خلاف چلنے والی تحریک کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے۔ غلام محمد دونوں سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ چنانچہ پنجاب کی بدامنی کی ذمہ داری دولتانہ پر ڈال کر ان سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ پھر ایکٹ ۱۹۳۵ء کے اختیارات کے تحت خواجہ ناظم الدین کو برطرف کر دیا گیا۔ یوں قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینے کی تحریک ٹھنڈی پڑ گئی۔ محمد علی بوگرہ‘ سہروردی‘ آئی آئی چندریگر اور فیروز پور خان نون وزارت عظمیٰ کی گدی پر آتے جاتے رہے۔ لیکن قادیانیت کی تحریک کا اثر و نفوذ برقرار رہا۔

ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تو قادیانی تحریک نے اس میں بھی اثر و نفوذ پیدا کر لیا۔ ان دنوں مرزائی ایم ایم احمد منصوبہ بندی کمیشن کا چیئرمین تھا۔ ۱۹۷۱ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو برسر اقتدار آئے تو اس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کا سہرا جہاں ملک کے کروڑوں غریبوں کے سر تھا‘ وہاں مرزائیوں نے بھی دامے درمے سخنے بھٹو کی مدد کی۔ بھٹو دور میں قادیانیوں کے حوصلے بڑھ گئے تھے اور سول بیورو کریسی میں ان کے نمائندے اعلیٰ عہدوں پر پہنچ گئے تھے۔ ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ تفریحی ٹور پر تھے۔ جب وہ ربوہ اسٹیشن سے گزرے تو قادیانیوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس پر سارے ملک میں قادیانیوں کے خلاف ایک تحریک اٹھ کھڑی ہوئی اور معاملہ قومی اسمبلی تک جا پہنچا جہاں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ احمد رضا قصوری کے واک آؤٹ سے قطع

صفحہ 44

یہ فیصلہ قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا۔ قادیانی مسئلہ کے حل کے سلسلے میں پیپلز پارٹی میں آخر وقت تک اختلاف رائے تھا۔ لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے دباؤ‘ ملک گیر تحریک اور نازک مذہبی جذبات کے پیش نظر ذوالفقار علی بھٹو نے تحریک کو سختی سے دبانے کے بجائے اس مسئلہ کو دستوری طور پر حل کر دیا۔

پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے اس تاریخ ساز فیصلہ کے بعد مرزائیوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دے دیا گیا جو قیام پاکستان کے بعد قادیان کی طرز پر خفیہ سرگرمیوں کا اڈا تھا۔ مرزا ناصر جو اس وقت خلیفہ تھا‘ اس کے لیے یہ فیصلہ صدمے کا باعث بنا۔ مرزا ناصر کے بعد مرزا طاہر خلیفہ نامزد ہوا۔ صدر ضیاء الحق شہید نے اس کی خفیہ سرگرمیوں کو ناممکن بنا دیا تو اس نے اپنا مرکز لندن کو بنا لیا اور وہاں سے ضیاء الحق شہید اور پاکستان کے خلاف معاندانہ پروپیگنڈا کرنے لگا اور آج بھی کر رہا ہے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۱۲‘ شمارہ ۲۰)

صفحہ 45

مرزا طاہر کی دیدہ دلیری

ڈش انٹینا فروغ قادیانیت کا ذریعہ

سندھ کا وسیع و عریض علاقہ صحرائے تھر ہندوؤں، عیسائیوں کی ہی نہیں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا بھی اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ اس علاقہ کی غربت، کسمپرسی اور تعلیم میں کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اقلیتیں خدمت خلق کے حوالے سے اور اپنے اثر و رسوخ کی بدولت علاقہ کے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے بھاری وسائل خرچ کر رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں لٹریچر، تبلیغی اجتماعات کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لیا جا رہا ہے۔ ڈش انٹینا کے ذریعہ براہ راست مرزا طاہر احمد کا خطاب جمعرات اور جمعہ کو ۴ سے ۵ بجے لوگوں کو جمع کر کے سنایا جاتا ہے۔ ربوہ سے اس قسم کی سرگرمیوں کے لیے ڈش انٹینا لوگوں کو رعایتی قیمت پر فراہم کیا جاتا ہے اور ہر ذمہ دار قادیانی ہر جگہ پابند ہے کہ وہ ڈش انٹینا کے ذریعہ قادیانی تعلیمات کو عام کرنے کا بندوبست کرے۔ یہ سی اسٹار چینل ہانگ کانگ کے ذریعہ نشر ہوتی ہیں جو قادیانیوں کا خریدا ہوا ہے۔ قادیانیوں نے خصوصی طور پر چندہ کر کے ۲۰ ہائی پاور ڈش انٹینا جولائی ۱۹۹۳ء میں تھر بھجوائے جن میں ۳ گولارچی، ۳ شادی لارج اور بقیہ چودہ نوکوٹ فضل بھبھرو، نفیس نگر، نبی سر اور گپنا میں نصب کیے گئے۔ یہ ڈش انٹینا خاص قسم کے بتائے جاتے ہیں۔ ان کو جب آن کیا جاتا ہے تو ٹی وی کی نشریات جام ہو جاتی ہیں اور تقریباً دو ہزار فٹ کے اندر ہر ٹی وی سیٹ پر یہ ڈش انٹینا سی اسٹار سیٹلائٹ کے ذریعے مرزا طاہر کا پروگرام نشر کرتا ہے۔ اس طرح ہر فرد کو جمعرات اور جمعہ کو چار سے پانچ بجے تک اس رینج میں یا تو ٹی وی بند رکھنا پڑتا ہے یا پھر یہ خطاب سننا پڑتا ہے اور اس خطاب میں مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے باقاعدہ اسلامی انداز کو اپنایا جاتا ہے۔ جب مرزا طاہر خطاب کرتا ہے

صفحہ 46

تو اس کے ایک طرف مسجد نبوی اور دوسری طرف خانہ کعبہ کی تصویر آویزاں ہوتی ہے اور اس طرح سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلے کا سر عام مذاق اڑایا جاتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قادیانی اپنی رسوم‘ طریق عبادت‘ عبادت گاہوں‘ کلمہ اور دیگر مذہبی فرائض کے نئے نام رکھ لیں۔ جس طرح ہندو‘ سکھ‘ عیسائی اور دیگر اقلیتیں اپنی تمام مذہبی رسومات اور عبادت گاہ کا جداگانہ انداز رکھتے ہیں۔

حساس سرحدی علاقہ تھر میں اسلام دشمن سرگرمیاں

گولارچی ضلع بدین میں قادیانی ہیڈ کوارٹر خالد عرف خالی قادیانی کنٹرول کرتا ہے۔ یہ قادیانی اسکواڈ کا کمانڈر بھی ہے۔ کھوسکی شہر ضلع بدین میں اس کی زیر نگرانی بشیر قادیانی کے گھر میں عبادت خانہ قائم ہے جس میں ہر جمعہ کے روز تحصیل ٹنڈو باگو کے قادیانی جمع ہوتے ہیں اور اپنی عبادت کرتے ہیں۔ سیٹلائٹ کے ذریعہ مرزا طاہر کی تقریر سنتے اور لندن سے آنے والی نئی ہدایت وصول کرتے ہیں۔ ایک شخص نصیر قادیانی لٹریچر تقسیم کرتا ہے جو اس کے پاس بذریعہ ڈاک آتا ہے۔ کھوسکی اور شادی لارج کے درمیان پی۔ اے۔ ایف چک میں قادیانیوں کا سالانہ سہ روزہ جلسہ ہوتا ہے۔ جس کے انچارج سلیم اور احمد نامی ہیں۔ اس جلسہ میں سادہ لوح مسلمانوں کو پھانس کر لایا جاتا ہے اور ان کو صراط مستقیم سے ہٹانے اور بھٹکانے کے لیے تمام اہتمام ہوتے ہیں۔ شادی لارج کا ایک باشندہ منصور قادیانی ہے جو چند سال قبل یہاں آیا تھا۔ اس وقت بالکل غریب تھا اور اب لاکھوں کی جائیداد کا مالک ہے۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ یہ سیالکوٹ کی سرحد پار کر کے بھارت سے پاکستان آیا اور نواب شاہ کے بعد شادی لارج چلا گیا۔ شادی لارج کے جنوب میں تین کلو میٹر واقع ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کا فارم ہے جو بے روزگار افراد شکار کرتے ہیں اور اچھے مستقبل اور سنہرے خواب دکھا کر قادیانیت کا جال پھینکتے ہیں۔ انہوں نے ایک شخص نثار کو اسی طرح قادیانیت کے جال میں پھنسانا چاہا مگر وہ والد کے دباؤ کی وجہ سے بچ نکلا‘ نوکوٹ میں قادیانی مرکز چودھری محمود احمد جیسے بااثر کی زیر نگرانی ہے۔ کسی بھی افسر اور زمیندار کی جرات نہیں کہ اس کے آگے دم مار سکے۔ اس کے خطرناک افراد سے راہ و رسم بنائے جاتے ہیں۔

ایک خاتون مسرت شاہین جو قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گئی اور اس کی

صفحہ 47

شادی اصغر ولد منیر مسلمان سے ہو گئی تھی۔ مبینہ طور پر اسی بااثر شخص نے ایک اے ایس آئی پولیس افسر سے مل کر اس مسلمان نوجوان اصغر کو جیل بھجوا دیا اور مسرت شاہین کو بزور اغوا کر کے واپس اس کے قادیانی والد ڈاکٹر نذیر احمد کے پاس نصرت آباد فضل بھمبرو بھجوا دیا۔ مسرت شاہین چھ ماہ کی حاملہ تھیں۔ ان کا حمل ضائع کروا دیا گیا۔

صحرائے تھر میں قادیانیوں کا سب سے بڑا مرکز نبی سر روڈ تحصیل و ضلع عمر کوٹ میں ہے۔ قادیانی خوبصورت لڑکیوں کے ذریعے مسلمان نوجوانوں کو پھانس کر قادیانی بناتے ہیں۔ اس طرح وہ ان کے پورے خاندان کو اپنا زیر اثر بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔ نبی سر روڈ میں قادیانیوں کا سرپرست چودھری احسان اللہ ہے جو ایک جاگیردار ہے۔ قادیانی لڑکیاں تعلیمی اداروں میں سرگرم عمل رہتی ہیں۔ احسان اللہ کی لڑکی مبارکاں، جو طالبہ تھی اس نے کھوسہ قبیلے کے شادی شدہ نوجوان خیرو سے اپنی بیوی کو طلاق دلوائی اور خود شادی کر لی اور خیرو کھوسہ کو قادیانی بنا لیا۔

خیرو کو اس کے والدین نے گھر سے نکال دیا تو چودھری احسان اللہ نے جو قادیانیوں کا معلم ہے۔ خیرو کھوسہ کو بھی مرتدی کے صلے میں مرزا طاہر سے معلم قادیانیت کا سرٹیفکیٹ دلایا۔ کنری پارک میں طارق معلم قادیانی ہے۔ یہ سرمایہ دار تاجر ہے۔ اس کو قادیانی معتبر مذہبی ہستی سمجھتے ہیں۔ اس کی ہر بات کے آگے قادیانی سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ اس کے ہاتھوں پر قادیانی ہونے والے مرتد کو بیعت کروائی جاتی ہے۔ چودھری اللہ رکھا نزد نبی سر روڈ وارڈ نمبر 11 کا زمیندار مالی وسائل قادیانی تنظیم کو فراہم کرنے کی شہرت رکھتا ہے اور ہر قادیانی اپنی آمدنی کا دس فیصد ربوہ بھجواتا ہے۔ اس سے مرتد ہونے والوں کی مالی مدد کی جاتی ہے۔ یہ قادیانیوں سے چندہ جمع کرتا ہے اور املاک ربوہ کے لیے وقف کراتا ہے۔ چودھری محمود ساکن ٹالہی تحصیل ڈگری بھی زمین کی فصل کا 10 فیصد ربوہ کے نام پر بھیجتا ہے اور اس کے پاس نوجوان لڑکوں کا ایک دہشت گرد اسکواڈ بھی بتایا جاتا ہے۔ جو ان کو ڈھارس بندھواتا ہے اور تحفظ دیتا ہے۔ چودھری شریف ضلع عمر کوٹ کا زمیندار ہے۔ جو مخصوص ذرائع سے رقم جمع کر کے قادیان بھجواتا ہے۔ ڈاکٹر نصیر تحصیل و ضلع عمر کوٹ قادیانی لابی کا صدر ہے۔ اس کے بغیر عمر کوٹ ضلع میں کوئی قادیانی معلم کسی پر فیصلہ یا کوئی بات تھوپ نہیں سکتا۔ باہمی تنازعات اور اہم فیصلے یہ کرتا ہے۔

صفحہ 48

ان کے علاوہ قادیانیوں نے تھر کے علاقہ نگرپارکر، چیلور، ڈیپلو، مٹھی میں بھی اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ مسلمانوں کو پھانسنے کے ساتھ کولہی، بھیل، میگھواڑ اور عیسائیوں میں بھی ان کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہ ان کو طرح طرح کا لالچ دے کر پھانستے ہیں۔ سادہ لوح اور دینی تعلقات سے عاری افراد ان قادیانیوں کو بھی مسلمانوں کا ایک فرقہ سمجھ کر ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور جو کوئی ان کے قریب ہوا، اس کو مزید پختہ کرنے کے لیے ربوہ لے جایا جاتا ہے اور جو ربوہ یاترا کر آئے اور مزید پختہ ہو کر اسلام سے مرتد ہو جائے اس کو پھر قادیان بھجوایا جاتا ہے اور وہاں کے سالانہ جلسے میں جس علاقہ سے جتنے نئے قادیانی جو قادیانی معلم بھجواتا ہے وہ اتنا ہی قادیان میں قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔ "صحرائے تھر" پانی کی قلت کا ہی شکار نہیں، دینی تعلیمات کی قلت کا بھی شکار ہے۔ دین کی تعلیم سے بے بہرہ افراد جب ان قادیانیوں کی قرآن و سنت کے حوالے سے چکنی چپڑی باتیں سنتے ہیں تو پھر وہ ان کے اسیر ہو جاتے ہیں اور اس طرح مکڑی کے جال یعنی قادیانیت میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ کچھ لوگ قادیانیت کے جال کو ایمانی حرارت سے توڑ کر واپس نکل آتے ہیں ایسے ہی لوگوں میں صحرائے تھر کے دو افراد عبدو جونیجو اور شہزاد پٹھان ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پھر ہدایت کی راہ پر گامزن کیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ اور علمائے کرام کب خواب غفلت سے بیدار ہوں گے اور صحرائے تھر میں عیسائیوں، ہندوؤں اور قادیانیوں کی تنظیمیں جو ہمارے ملک اور ایمان پر نقب لگا رہی ہیں۔ سرحدی صورتحال کی روشنی میں اس کی روک تھام کے لیے ہر ایک کب احساس ذمہ داری سے سرگرم ہوگا۔

(شکریہ، ہفت روزہ "تکبیر" کراچی۔ ۲ دسمبر ۱۹۹۳ء)

صفحہ 49

قادیانی مخمصے میں مبتلا ہیں

ایک تجزیہ ----- ایک فیچر

تحریر: بشیر طاہر (سابق قادیانی و سابق رکن نیشنل اسمبلی) ترجمہ شفیق احمد خان

قادیانیوں کے تیسرے سربراہ آنجہانی مرزا ناصر احمد کی موت کے بعد قادیانیوں میں جو انتشار کی لہر دوڑ گئی ہے‘ اس کا کچھ حصہ ہم اخبارات کے حوالے سے قارئین کے لیے نقل کرتے چلے آ رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک سابق قادیانی جناب بشیر طاہر کا اسی موضوع پر ”ایک اہم ترین جائزہ“ انگریزی جریدہ ہفت روزہ ”میگ“ کراچی نے شائع کیا۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر اس کے بعض حصے ذیل میں ’میگ‘ ویکلی کے شکریہ کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔

مذکورہ مضمون میں ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً مرزائیوں کے سربراہ کے لیے خلیفہ‘ قادیانیوں کی جگہ احمدی اور مرزائیوں کی عبادت گاہ کے لیے ”مساجد“ اس سے ہمیں شدید اختلاف ہے لیکن اس کے باوجود ادارہ من وعن اس کو شائع کر رہا ہے۔

خلافت کے معاملے کا حال ہی میں جو تنازعہ پیدا ہوا ہے‘ اس سے قادیانی جماعت ایک بار پھر افتراق کا شکار ہو گئی ہے۔ اس افتراق کے باعث کچھ ایسے چونکا دینے والے اور سنسنی خیز حقائق سامنے آئے ہیں‘ جن سے اس جماعت کے انتہائی خفیہ اور مکاری پر مبنی نظام کا پتہ چلتا ہے۔

ربوہ جو قادیانیوں کی سرگرمیوں کا مرکز ہے‘ حال ہی میں زبردست انتخابی

صفحہ 50

سرگرمیوں کا محور رہا ہے۔ اس لیے کہ مرزا ناصر احمد کے انتقال کے نتیجہ میں ایک نئے خلیفہ کے انتخاب سے ان کی جگہ پر کرنا تھی۔ کافی جوڑ توڑ کے بعد انتخاب خلیفہ کمیٹی نے مرزا طاہر احمد کو قادیانیوں کا چوتھا خلیفہ منتخب کر لیا، جن کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کی رو سے غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔

لیکن اس انتخاب سے بجائے اس کے کہ یگانگت پیدا ہوتی، جماعت میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ نئے خلیفہ مرزا طاہر احمد نے اپنے سوتیلے بھائی مرزا رفیع احمد اور ان کے مریدین اور حامیوں کو جماعت کے دائرہ سے اور ربوہ سے خارج کر دیا ہے اور غیر ممالک میں احمدیوں کی تبلیغی جماعتیں شدید نوعیت کی بے چینی اور خلفشار میں مبتلا ہو گئی ہیں۔

ایک ممتاز احمدی مسٹر ایم ایم احمد اور ایک دوسرے احمدی جو اپنا نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے، کے کہنے کے بموجب ربوہ میں ایک متوازی تنظیم قائم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں اور اس کے متعلق ایک باضابطہ اعلان جاری کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ مرزا رفیع احمد کے ایلچی ملک کے مختلف علاقوں میں لوگوں سے رابطہ کر رہے ہیں، جن کا ردعمل ”مثبت“ ہے۔

انہی ذرائع نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ربوہ میں ہزاروں عقیدت مند رفیع احمد کی رہائش گاہ کے سامنے بڑی بے چینی سے ان کا انتظار کرتے ہیں۔ ان کی سربراہی کو قبول کرنے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ لیکن ”خفیہ محافظ“ جنہیں ربوہ کی مذہبی انتظامیہ نے مقرر کیا ہے، ان کو اس بہانہ سے چلتا کر دیتے ہیں کہ رفیع احمد کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ کہاں ہیں۔ یہ لوگ ناامیدی اور مایوسی کے عالم میں واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ صورت حال اس وقت انتہائی سنگین ہو گئی تھی جب مرزا رفیع احمد کو مرزا ناصر احمد کے جنازہ میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔ ربوہ کی تمام مساجد میں بھی ان کے داخلہ پر پابندی عائد ہے۔ ترجمان کے کہنے کے بموجب رفیع احمد کے ساتھ اس قسم کا رویہ ۷ سال سے برتا جا رہا ہے۔

ربوہ میں احمدیوں کو یقین ہے کہ رفیع احمد کو قصر خلافت میں زبردستی حراست میں رکھا گیا ہے۔ جن احمدیوں کو حالیہ واقعات کا علم نہیں ہے، ان کی معلومات کے لیے ایک تحریری بیان جاری کیا گیا تھا جس سے انتخاب خلیفہ کمیٹی کی ریشہ دوانیاں ظاہر ہو گئیں۔ اس

صفحہ 51

لیے کہ اس بیان کے مطابق خلیفہ کے انتخاب کے لیے جو اجلاس ہوا تھا اس میں ۱۳۸ ارکان نے شرکت کی تھی۔ جبکہ ۲۰۰ سے زائد بزرگ ارکان و شرفاء کو اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔

اجلاس میں جو کچھ ہوا وہ خاصا دلچسپ ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اجلاس کے شروع میں ہی ایک ضعیف احمدی نے جو مرزا غلام احمد کا ساتھی رہا ہے، مرزا رفیع احمد کا نام تجویز کیا۔ اس کی تائید ایک دوسرے احمدی نے کی۔ لیکن اس پر شور برپا ہو گیا۔ اس موقع پر مرزا رفیع احمد نے اجلاس سے خطاب کرنا چاہا لیکن ان کی کوشش کو مرزا طاہر احمد کے حامیوں نے ناکام بنا دیا اور لاؤڈ اسپیکر کے تار کاٹ دیے۔ خدام احمدیہ نے رفیع احمد کو اجلاس سے باہر نکال دیا۔ مرزا رفیع نے اس کے بعد چوک گیسٹ ہاؤس میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرنا چاہا۔ ہزاروں حامیوں کی موجودگی میں جو ان کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ رفیع احمد نے طاہر احمد کو نیا خلیفہ بنانے کے لیے ارباب اقتدار کی چالوں کے پردہ کو چاک کیا۔

ایک روز قبل مرزا رفیع کے حامیوں نے پمفلٹ تقسیم کیے تھے، جن میں ان کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا اور انتخاب کمیٹی سے مرزا رفیع احمد کو منتخب کرنے کی درخواست کی تھی۔ رفیع احمد نے اپنی تقریر میں الزام لگایا تھا کہ طاہر احمد اور ان کے حامی جماعت کو تباہ کر رہے ہیں اور کلمہ کی بھی بے حرمتی کر رہے ہیں۔

جس وقت یہ اجلاس جاری تھا، مرزا طاہر کے حامیوں نے زبردستی اجلاس میں گڑبڑ پیدا کی۔ مرزا رفیع احمد کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ ان کو زبردستی ایک کار میں ڈال کر لے گئے۔ ان کو ان کے مکان میں محبوس کر دیا اور سخت حفاظتی پہرہ ان کے مکان پر لگوا دیا۔ مکان کو جانے والے سارے راستے بند کر دیے اور اس طرح معتقدین کو ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے روک دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ربوہ خوف و ہراس کی گرفت میں ہے اور جماعت کے بہت سے ارکان کو جس میں الباسط جوئیلرز کا خاندان اور مقبرہ بہشتی کے انچارج مولوی بشارت الرحمن شامل ہیں، غیر اہم وجوہ کی بنا پر جماعت سے خارج کر دیا گیا ہے۔ یہی حال مرزا رفیع اور اس کے حامیوں کا ہے۔ جماعت سے نکالے جانے کے بعد ان کو سخت معاشرتی بائیکاٹ کا بھی سامنا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ جماعت کا ایک نیا دفتر ربوہ میں قائم کیا جائے گا لیکن اگر

صفحہ 52

حالات نے اجازت نہ دی تو پھر یہ دفتر لاہور میں قائم کیا جائے گا۔

مرزا ناصر احمد کی دوسری شادی

پہلی بیوی منصورہ بیگم کے انتقال کے بعد مرزا ناصر احمد کو شادی کی کئی تجاویز موصول ہوئیں، مرزا ناصر نے اس سلسلہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی کے لیے چالیس روز تک دعائیں مانگیں۔ انہوں نے مولانا عبد المالک اور فیصل آباد کے امیر جماعت شیخ مظہر احمد سے بھی دعا مانگنے کے لیے کہا۔ ان لوگوں نے کہا کہ پیش رفت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ادھر مرزا ناصر احمد کے لڑکے مرزا لقمان احمد کو ان کی مرحومہ والدہ نے خواب میں کہا کہ اس کے والد شادی کا پیغام عبد المجید خان کی لڑکی اور ٹی آئی کالج ربوہ کے پرنسپل پروفیسر نصیر احمد خان کی ہمشیرہ طاہرہ کے گھر بھیجیں۔ پیغام بھیج دیا گیا۔ طاہرہ کی والدہ نے اس کی مرضی معلوم کی۔ طاہرہ نے انکشاف کیا کہ اس نے حال ہی میں ایک خواب دیکھا ہے جس میں اسے مطلع کیا گیا تھا کہ ایک بادشاہ حیثیت انسان اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ طاہرہ کی عمر اس وقت چوبیس سال تھی اور اسے یقین نہیں تھا کہ مرزا ناصر احمد کی عمر و حیثیت کا انسان اسے قبول کرلے گا۔

بہر حال مرزا ناصر کی دوسری شادی ربوہ میں ایک سادہ سی تقریب میں ہو گئی۔ برات میں صرف چار اشخاص شامل تھے۔ جن میں مرزا مبارک احمد، ان کی بہن ناصرہ بیگم اور لڑکے انس احمد اور لقمان شامل تھے۔ ایک ہزار روپے مہر مقرر ہوا اور باراتیوں نے دلہن کے گھر پر چائے یا ٹھنڈا نوش نہیں کیا۔ ایک گھنٹہ کے اندر مرزا ناصر طاہرہ کو قصر خلافت میں لے آئے لیکن ولیمہ میں کافی لوگوں نے شرکت کی۔

طاہرہ اب بیوہ ہو چکی ہے۔ وہ ربوہ میں موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے۔ لوگوں کو یقین ہے کہ وہ دوبارہ شادی نہیں کر سکتی، اس لیے کہ وہ ایک خلیفہ کی بیوہ ہے۔ لیکن ایک امکان ہے۔ اگر جماعت کے کچھ معزز افراد کو بشارت ہوتی ہے کہ طاہرہ احمد جن کے کوئی لڑکا نہیں ہے، دوسری شادی کر لیں تو طاہرہ کی دوسری شادی ہو سکتی ہے ورنہ طاہرہ بیوہ کی حیثیت

صفحہ 53

سے باقی زندگی گزاریں گی۔

خلافت کے تنازعہ سے متعلق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام اور پلاننگ کمیشن کے ایک سابق ڈپٹی چیئرمین ایم ایم احمد نے ابھی نئے خلیفہ کے ساتھ عہد وفاداری نہیں کیا ہے۔

کچھ احمدیوں کو یاد ہے کہ جب مرزا ناصر احمد کو تیسرا خلیفہ منتخب کیا گیا تھا تو انہیں جو بشارتیں ہوئی تھیں اور انہوں نے جو خواب دیکھے تھے‘ ان کو انہوں نے بشارت ربانیہ کے عنوان سے ایک کتابی شکل میں شائع کرایا تھا۔ ایک خواب میں انہوں نے دیکھا تھا کہ مرزا رفیع احمد‘ مرزا ناصر احمد سے دس قدم پیچھے کھڑے ہیں اور کتے کے سائز کے کئی بچھو‘ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ اس قسم کے خواب موجودہ صورت حال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

گزشتہ جمعہ کو مرزا طاہر نے ربوہ میں اعلان کیا کہ اب جماعت کافی مضبوط اور پرانی ہو چکی ہے۔ اس نے ان تمام خطرات کا بڑی کامیابی سے تدارک کر دیا ہے جو خلیفہ کا عہدہ سنبھالتے وقت انہیں درپیش تھے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ آئندہ ”خلافت“ کو کوئی خطرہ درپیش نہیں ہوگا۔ انہوں نے سامعین کو مطلع کیا کہ انہوں نے مرزا طاہر احمد سے کہا تھا کہ وہ اپنی جان بھی ان کے لیے قربان کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ اس اعلیٰ مرتبہ پر اپنی خدمات کی وجہ سے پہنچے ہیں جو انہوں نے جماعت اور مرزا ناصر احمد کے لیے سرانجام دی ہیں۔

قادیانی ”نبوت و خلافت“ اور اس کا متنازعہ پس منظر

مغل دربار کے ایک جنرل کے پوتے مرزا غلام احمد نے قادیانی مذہب کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ فروری ۱۸۳۵ء میں مشرقی پنجاب کے ایک گاؤں قادیان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان قادیان گاؤں کا مالک تھا۔ ۱۸۶۴ء میں مرزا غلام احمد کو سیالکوٹ کی ایک عدالت میں ملازمت مل گئی اور وہ وہاں چار سال تک رہے۔ اپنے والد کے انتقال کے بعد مرزا غلام احمد نے اسلامیات کے مطالعہ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور لاہور ہائی کورٹ کے ریکارڈ کے مطابق انہوں نے ایک کتاب لکھی جو چار جلدوں پر مشتمل تھی۔ یہ زمانہ

صفحہ 54

مناظرات اور مناقشات کے لیے خاصا مشہور تھا۔

اسلام پر دو اطراف سے حملے کیے جا رہے تھے۔ ایک طرف تو عیسائی مبلغین کی جانب سے اور دوسرے آریہ سماج کی تحریک کی جانب سے۔ برطانوی حکمران ”نفاق ڈالو اور حکومت کرو“ کی پالیسی پر گامزن تھے۔ ۱۸۸۲ء میں مرزا غلام احمد پر پہلی ”وحی“ نازل ہوئی جس میں ان کو ”مامور من اللہ“ کے لقب سے نوازا گیا۔

لدھیانہ میں انہوں نے تمام مسلمانوں سے کہا کہ وہ اس کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کریں۔ بعد میں ۱۸۹۰ء میں ان پر انکشاف ہوا کہ وہ مہدی موعود اور مسیح موعود ہیں۔ ان کے عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح کی روح ان کے جسم میں دوبارہ لوٹ کر نہیں آئے گی۔ اس لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ایک دوسرا مسیح پیدا ہونا تھا۔ مرزا غلام احمد کے کہنے کے بموجب یہ چیز پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور اب وہ ہی مسیح اور مسیح موعود ہیں۔ مسیح کی حیثیت میں انہوں نے اعلان کیا کہ جہاد ختم کر دیا گیا اور یہ کہ وہ ایسے مہدی نہیں ہیں کہ اپنے ساتھ کشت و خون کو لاتے۔ ان کے کہنے کے مطابق یہ وحی ان پر مختلف زبانوں یعنی اردو‘ عربی‘ فارسی‘ انگریزی اور پنجابی میں نازل ہوئی۔

وحی کے نزول کا نظریہ مسلمانوں کے عقیدہ کے برعکس تھا۔ آخر کار مرزا صاحب نے ۱۹۰۱ء میں اپنے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ اس دعویٰ سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا۔ ۱۹۰۴ء میں انہوں نے اپنے آپ کو کرشن کہا، جس کی وجہ سے ہندو بھی ان کے مخالف ہو گئے۔

مرزا کے خلاف مسلمانوں کی مخالفت اس درجہ بڑھ گئی کہ علماء نے انہیں کافر کہا اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ تمام دنیائے اسلام سے ان کے خلاف فتوے آئے لیکن قادیانی جماعت ۱۹۰۱ء میں قائم ہو گئی۔ ۱۹۰۸ء میں مرزا غلام احمد کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے خلیفہ کے انتخاب کا معاملہ معتقدین پر چھوڑ دیا۔

غلام احمد کے انتقال کے بعد حکیم نور الدین بھیروی ان کے جانشین ہوئے۔ وہ چھ سال تک یعنی ۱۹۱۴ء میں اپنی موت تک خلیفہ رہے۔ ان کے انتقال کے وقت تک قادیانی جماعت متحد و منظم رہی۔ حکیم نور الدین بھیروی کے انتقال کے بعد ان کی جانشینی تنازعہ کا باعث بن گئی۔ بہر حال مغل خاندان کی جیت رہی اور مرزا غلام احمد کے لڑکے مرزا بشیر

صفحہ 55

الدین محمود احمد کو سربراہ جماعت بنا دیا گیا۔ ان کی اس وقت عمر ۲۵ سال تھی اور مولوی محمد علی اور خواجہ کمال جیسے سینئر لوگ بھی قادیانی جماعت کے اعلیٰ ترین عہدہ کے لیے کوشاں تھے۔ چونکہ مغل خاندان جائیداد کے باعث جو اس کو انگریز حکمرانوں سے ملی تھی، کافی طاقتور تھا اس لیے مولوی محمد علی نے اپنے حامیوں کے ہمراہ جماعت کو خیرباد کہہ دیا اور لاہوری گروپ کے نام سے ایک دوسرا گروپ بنا لیا۔ ان کا ہیڈ کوارٹر احمدیہ بلڈنگ لاہور میں ہے، جہاں مرزا غلام احمد کا انتقال ہوا تھا۔

لاہوری گروپ کا ایمان ہے کہ غلام احمد نبی نہیں تھے بلکہ مجدد یا محدث تھے۔ دونوں پارٹیوں نے حمایت حاصل کرنے کے لیے انتھک کوشش کی ہے۔ وہ اس کام میں اب بھی مصروف ہیں اور اپنی برتری ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ بتانا بھی دلچسپی کا باعث ہو گا کہ جس وقت برصغیر کے عوام غیر ملکی حکمرانوں کے ساتھ برسر پیکار تھے اس وقت مرزا غلام احمد کے دادا مرزا مرتضیٰ خان انگریزوں کی حمایت کر رہے تھے اور آدمیوں اور گھوڑوں کے ذریعہ ان کی امداد کر رہے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ انگریزوں کی حکومت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نعمت ہے اور مسلمانوں کو لازمی طور پر اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ غلام احمد کی ”نبوت“ کی وجہ سے انگریزوں کو برصغیر میں اپنی حکومت مستحکم کرنے میں مدد ملی لیکن آزادی کے حصول میں کامیابی اور پاکستان کے قیام نے قادیانی سازش کو ناکام بنا دیا۔

قیام پاکستان کے بعد قادیانی عارضی بنیاد پر ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ ان کو یقین تھا کہ ایک روز آئے گا جب وہ آخر کار قادیان واپس ہو جائیں گے۔

ہجرت کے وقت مرزا بشیر الدین محمود نے اعلان کیا تھا کہ قادیانی پاکستان میں جائیدادوں کے کلیم داخل نہیں کریں گے لیکن احمدیہ ایسوسی ایشن ربوہ نے ہندوستان میں چھوڑی ہوئی جائیداد کے کلیم داخل کیے۔ قادیانیوں کو سندھ میں محمود آباد، بشیر آباد اور نصیر آباد میں وسیع و عریض اراضی ملی۔ یہ علاقہ ۲۵ ہزار ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے۔

مرزا بشیر الدین محمود کو ان کے والد غلام احمد نے خواب میں یہ ہدایت کی کہ مغل خاندان کے سارے افراد کو جن کا انتقال پاکستان میں ہو، عارضی طور پر پاکستان میں دفن کیا جائے۔ جب کبھی بھی ممکن ہو سکے گا، ان لاشوں کو قادیان تدفین کے لیے لے جایا جائے گا۔ اس قدر جان لینا ان خفیہ نظریات کے جاننے کے لیے کافی ہے جو قادیانیوں کے پاکستان کے

صفحہ 56

متفق ہیں۔

قادیانی جماعت نے اب تک پاکستان کو اپنا وطن نہیں مانا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ آخر کار عظیم تر ہندوستان کا نظریہ عملی شکل اختیار کرے گا اور پاکستان اس کا ایک حصہ ہو گا۔

مرزا بشیر الدین محمود کا انتقال ۱۹۶۵ء میں ہوا۔ تب نئے خلیفہ کے انتخاب کا مسئلہ پھر اٹھا۔ جماعت کی سربراہی کو مغل خاندان میں رکھنے کے لیے اور مرزا بشیر الدین محمود کے لڑکے کو منتخب کرانے کی غرض سے مغل خاندان نے عوام الناس کی رائے کے نظام کی بجائے انتخاب کا ایک مختلف طریقہ اختیار کیا۔ خلیفہ کے انتخاب کے لیے ایک منتخب کمیٹی بنائی گئی۔ خلافت کے لیے دو امیدوار تھے۔ یعنی مرزا ناصر احمد اور مرزا رفیع احمد۔ لیکن مرزا بشیر کی طویل علالت کے باعث اس کے لڑکے مرزا ناصر کو اپنے حلقہ اثر کو وسعت دینے اور اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع مل گیا۔ اس صورت حال میں بنیادی جمہوریتوں کے نظام سے بھی بدتر ایک انتخابی نظام اختیار کیا گیا اور مرزا ناصر کو تیسرا "خلیفہ" منتخب کرانے کے لیے ہر قسم کا دباؤ ڈالا گیا۔ یاد ہو گا کہ مرزا بشیر الدین محمود نے پیشین گوئی کی تھی کہ مرزا ناصر کی خلافت کا زمانہ احمدیہ جماعت کی فتح اور توسیع کا زمانہ ہو گا لیکن اس پیشین گوئی کے برعکس مرزا ناصر کے زمانہ میں احمدی اور ان کے سارے گروپوں کو پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک حقیقت پسند پارٹی ابھری ہے جو بڑی سرگرمی سے زمین دوز سرگرمیوں میں مصروف ہے اور یہ سرگرمیاں احمدیہ جماعت کے حکمران گروہ کے خلاف ہیں۔

سرسید کا خط

اس خط کا اس سال سے تعلق ہے جب مرزا غلام احمد اور اس کے گروہ کے لوگ لاہور، لدھیانہ اور دہلی میں مذہبی مناظروں میں حصہ لینے کے بعد قادیان واپس آئے تھے۔ علامہ اقبال کے بزرگ استاد مولانا سید میر حسن نے سرسید احمد خان کی رائے مرزا غلام احمد کے متعلق اس کے اعلانات کی روشنی میں معلوم کی تھی۔ یہ خط سرسید کے ان بہت سے خطوط میں سے تھا جو ان کے پوتے سر راس مسعود نے شائع کیے تھے۔

صفحہ 57

محترم!

آپ کے خط اور پانچ روپے کے چندہ کا شکریہ۔ مجھے افسوس ہے کہ تفسیر لکھنے میں کبھی دیر ہو جاتی ہے لیکن میں لکھتا رہتا ہوں۔ تفسیر سورہ یوسف مکمل ہو چکی ہے اور زیر طباعت ہے۔ مرزا غلام احمد کی جانب لوگ کیوں مائل ہوتے ہیں؟ اچھا ہے اگر اس کے پاس وحی آتی ہے۔ ہمیں اس سے کیا فائدہ ہے۔ اس سے ہماری دنیا اور ہمارے مذہب کی کوئی خدمت نہیں ہو گی ان کی وحی سے ان کو ہی فائدہ پہنچتا رہے۔

ان کی وحی سے ہمیں کوئی نقصان بھی نہیں ہو گا۔ وہ جو کچھ بھی ہیں اپنے لیے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک بزرگ آدمی ہیں اور عبادت کرتے ہیں۔ ہمارے لیے پس یہی کافی ہے کہ ہم ان سے الگ رہیں۔ تنازعہ کیا ہے؟ میں نے ان کی تحریریں دیکھی ہیں۔ وہ بالکل ان کی وحی کی مانند ہیں۔ ان سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ میں نے حکیم نور الدین کی تحریریں نہیں دیکھی ہیں۔ دینیات میں کسی بھی شخص کی وحی بیکار ہے۔ جب تک کہ وہ توثیقی نہ ہو۔ خدا تعالیٰ کے علم کا دوسرا نام تقدیر ہے۔ وحی سے تقدیر نہیں بدلتی ہے۔ جو کچھ اس دنیا میں ہوتا ہے وہ یا تو مقدر کا لکھا ہوتا ہے اور یا خدا تعالیٰ کا علم ہوتا ہے۔ کسی شخص کی وحی بھی کسی شخص کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ یہ کوشش عبث ہے۔"

سرسید علی گڑھ ۹ دسمبر ۱۸۹۱ء

احمدی۔۔۔۔ اقبال کی نظر میں

ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام کے متعلق ان کے رویہ کو نہیں بھولنا چاہیے۔ اس تحریک کے بانی نے ملت اسلامیہ کو "تلخ دودھ" اور اپنی جماعت کو "تازہ دودھ" کہا ہے۔ انہوں نے اپنے متبعین کو ہدایت کی تھی کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ میل جول نہ رکھیں۔ اس سے بھی بڑھ کر ان کا بنیادی اصولوں کو قبول نہ کرنا۔ اپنے لیے ایک علیحدہ نام (احمدی) رکھنا۔ عبادات اور شادی کے معاملات میں مسلمانوں کا بائیکاٹ کرنا اور دنیائے اسلام کو کافر کہنا ظاہر کرتا ہے کہ قادیانی مختلف مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

صفحہ 58

حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں سے اس سے زیادہ دور ہیں جتنے کہ سکھ ہندوؤں سے ہیں۔ سکھ ہندوؤں کے ساتھ شادی کرتے ہیں گو کہ وہ مندروں میں پوجا پاٹ کے لیے نہیں جاتے۔

گزٹ آف پاکستان

غیر معمولی حکومت کا شائع کردہ اسلام آباد۔ جمعرات ۸ ستمبر ۱۹۸۰ء

۱۹۶۰ء کے ایکٹ نمبر XLV میں دفعہ ۲۹۸۔اے کا اضافہ۔ ضابطہ فوجداری پاکستان میں ۱۹۶۰ء ایکٹ XLV مندرجہ ذیل نئی دفعہ کا اضافہ کیا جائے گا۔ ۲۹۸۔اے مقدس ہستیوں کے متعلق تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال ، کوئی شخص بھی زبانی یا تحریری طور پر الفاظ کے ذریعہ یا کسی نظر آنے والی شے کے ذریعہ یا کسی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر تہمت ، طعن یا در پردہ تعریض کے ذریعہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ (ام المومنینؓ) یا خاندان کے ارکان (اہل بیتؓ) یا خلفا (خلفائے راشدینؓ) یا ساتھیوں (صحابہؓ) کے مقدس ناموں کی تضحیک یا توہین کرے گا ، اس کو تین سال تک قید یا قید بامشقت یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

مرزا غلام احمد کے انکشافات وحی

خدا تعالیٰ

اپنا کوئی ارادہ اور خیال اور کوئی عمل نہیں رہا۔ ”الوہیت میری رگوں اور پٹھوں میں سرایت کر گئی۔“

(کتاب البریہ ، صفحہ ۱۰۳-۱۰۴)

صفحہ 59

کے ہے۔“ (حقیقت الوحی، صفحہ ۷۶)

”خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔“

(البشریٰ (صفحہ ۷۹، جلد ۲)

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم

الفضل، قادیان، مورخہ ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء)

اور کسی کو کم۔ مگر مسیح موعود کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ ﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے۔ پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔ (کلمتہ الفصل (صفحہ ۱۱۳، شمارہ نمبر ۳، جلد ۱۴)

اور میرے لیے چاند اور سورج کا، اب کیا تو انکار کرے گا؟“ (اعجاز احمدی، صفحہ ۷۱، مصنفہ غلام احمد قادیانی)

”میں عیسیٰ ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں محمد اور احمد ہوں، میں منتخب کیا گیا ہوں۔“

صفحہ 60
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

مرزا نے ان اشعار کی تعریف کی اور شاعر کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہ اشعار بدر میں شائع کیے جاچکے ہیں۔ (اخبار بدر نمبر ۴۳، جلد ۲، صفحہ ۱۴، ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)

انبیاء

”میں اللہ کا نبی اور رسول ہوں اور مجھ پر خدا کی وحی نازل ہوتی ہے اور وہ ایسی ہی پاک وحی ہے‘ جیسے دوسرے نبیوں پر نازل ہوتی رہی اور یہ وحی قرآن مجید کی طرح۔ خدا کا کلام اور خطاؤں سے پاک اور منزہ ہے۔ اور جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کو قرآن مجید پر یقین تھا‘ اسی طرح مجھے اپنی وحی پر یقین ہے اور جو شخص اس وحی کو جھٹلاتا ہے‘ وہ یقینی لعنتی ہے“۔ (نزول المسیح، ص ۹۹)

ص ۸۹)

(متعلق) زیادہ معجزات اور پیش گوئیاں موجود ہیں۔ وہ سب اس وقت محض بطور قصے اور کہانیوں کے ہیں لیکن میرے معجزے لوگوں کی نظروں کے سامنے ہیں جو ان کو دیکھ سکتے ہیں‘ ہندوؤں کے پاس بہت سے قصے تھے۔ کسی کہانی کو پیش کرنا ایسا ہی ہے‘ جیسے خوشبو کے مقابلہ میں گوبر کا پیش کرنا ہے۔“

ہے کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے‘ ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے‘ بلکہ چور کی طرح کسی اور راہ سے آئے۔“ (نزول مسیح، صفحہ ۳۵)

صفحہ 61

عیسیٰ‘ ظلی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“ (حقیقت الوحی‘ ۷۲)

مندرجہ بالا انبیاء کے متعلق مرزا کہتا ہے:

آدم

”آدم اس لیے آیا کہ نفوس کو اس دنیا کی زندگی کی طرف بھیجے اور ان میں اختلاف اور عداوت کی آگ بھڑکائے اور مسیح ام اس لیے آیا کہ ان کو دار فنا کی طرف لوٹائے اور ان میں سے اختلاف‘ مخاصمت‘ تفرقہ اور پراگندگی کو دور کرے۔“ (ضمیمہ خطبہ الہامیہ‘ ص

۱)

نوح

”میرے لیے اس کثرت سے نشان دکھلا رہا ہے کہ اگر نوح کے زمانہ میں وہ نشان دکھلائے جاتے تو وہ لوگ غرق نہ ہوتے۔“ (تتمہ حقیقت الوحی‘ صفحہ ۱۳۷)

”خدا نے میرے لیے وہ نشان دکھائے کہ اگر وہ ان امتوں کے وقت نشان دکھلائے جاتے جو پانی اور آگ اور ہوا سے ہلاک کی گئیں تو وہ ہلاک نہ ہوتیں۔“ (دعوات حق

ملحقہ حقیقت الوحی‘ صفحہ ۷)

یوسف

”یہ یوسف اسرائیل کے یوسف سے بہتر ہے‘ اس لیے کہ مجھے قید میں نہیں ڈالا گیا گو میں نے اس کے لیے دعا کی تھی۔ میری تصدیق خود خدائے تعالیٰ نے کی جبکہ یوسف کی تصدیق ان کی رہائی کے لیے ایک شخص نے کی۔“ (براہین احمدیہ‘ حصہ ۵)

صفحہ 62

موسیٰ

”حضرت موسیٰ کی توریت میں پیشگوئی تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو ملک شام میں جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، پہنچائیں گے، مگر یہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔“ (حقیقت

الوحی، صفحہ ۱۷۷)

عیسیٰ

خود بیں، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔“ (مکتوبات احمدیہ، جلد ۳ صفحہ ۲۱ تا ۲۴)

(بڑھئی) کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔“ (ازالہ اوہام، صفحہ ۱۲۷)

مزاج تھے اور اپنے اوپر قابو نہیں رکھ سکتے تھے۔“ (انجام آتھم، صفحہ ۷)

ہے، یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے اور پھر ایسا ظاہر کیا کہ گویا یہ میری تعلیم ہے لیکن جب یہ چوری پکڑی گئی، عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لیے کی ہو گی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں لیکن آپ کی اس بے جا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ نہیں، عقل و کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا، جس سے آپ نے تورات کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔“

کوئی معجزہ نہیں ہوا۔“

”معلوم ہوتا ہے کہ یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی سے کچھ بہت حصہ نہیں دیا اور یا اس استاد کی شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا، بہر حال آپ علمی اور

صفحہ 63

عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے چلے گئے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم، صفحہ ۲۹۰)

آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ مگر شاید یہ بھی خدائی کے لیے ایک شرط ہوگی۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیز گار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقعہ نہیں دے سکتا کہ وہ اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زنا کاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے، سمجھنے والے سمجھ لیں ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے۔“۔ (انجام آتھم، صفحہ ۲۹۱)

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء)

حضرت ابوبکر

”میں وہی مہدی ہوں جس کی نسبت ابن سیرین سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے درجہ پر ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ابو بکر تو کیا وہ تو بعض انبیاء سے بہتر ہے۔“ (اشتہار معیار الاخبار، صفحہ ۱۱)

حضرت علی

”پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو، اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (مرزا صاحب) تم میں موجود ہے۔ اس کو تم چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علیؓ) کی تلاش کرتے ہو۔“

(ملفوظات احمدیہ، صفحہ ۱۳۱، ج ۱)

صفحہ 64

حضرت حسین

یہ تمام خرافات پڑھنے کے بعد کون شخص ایسا ہے جو مرزا غلام احمد کو کافر نہیں کہے گا۔ یہ تحریریں عام مسلمانوں اور علماء کو مشتعل کرنے کے لیے کافی ہیں، اس لیے کہ ان اعلانات اور تحریروں کے تباہ کن اثرات کا انہیں علم ہے۔

قادیانی ہر شخص کو جو مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے کافر کہتے ہیں بالکل اسی طرح ہے جس طرح یہودی اور عیسائی ان کے نزدیک کافر ہیں۔ اس بارے میں ان کا عقیدہ نہایت واضح ہے۔ مرزا بشیر الدین نے مرزا غلام احمد کے ایک خط کا حوالہ دیا ہے:

”خدا تعالیٰ نے مجھ پر منکشف کیا ہے کہ ہر وہ شخص جس نے میری باتیں سنیں اور مجھے نبی تسلیم نہیں کیا، وہ کافر ہے۔“

مرزا رفیع کے مرزا ناصر احمد سے اختلافات

آنجہانی مرزا ناصر احمد کی جانشینی کے معاملہ میں بنیادی اختلافات صرف جماعت کی دو بڑی شخصیتوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ نظریہ کا فرق ہے جو کہ چوتھے خلیفہ کے انتخاب کے معاملہ میں اختیار کیا گیا۔ مرزا رفیع احمد کے کہنے کے مطابق ایک کروڑ سے زائد احمدیوں کو، نہ کہ مجلس انتخاب کمیٹی کے ۱۴۸ ارکان کو خلیفہ کا انتخاب کرنا چاہیے، یہ انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ضلع وار ہونا چاہیے اور ووٹ دینے والے احمدیوں کو ربوہ میں موجود ہونا چاہیے۔

صفحہ 65

جب کلمہ شریف کے تبدیل کرنے کے متعلق مرزا رفیع احمد سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ مرزا ناصر احمد اور مرزا طاہر احمد کی سازش ہے جس نے خدا تعالیٰ کی آخری کتاب کو غیر قانونی قرار دیے جانے میں مدد دی۔ ان سے کوئی چیز بھی بعید نہیں۔ جہاں تک کلمہ شریف کا تعلق ہے۔ اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ 1980ء میں جب مرزا ناصر احمد یورپی دورے پر گئے تھے تو انہیں اس امر کا انکشاف ہوا تھا کہ سمندر کی لہریں لا الہ الا اللہ پڑھتی ہیں۔ (سوائے اللہ کے اور کوئی خدا نہیں ہے۔)

اس لیے یورپ کے دورہ سے واپسی پر انہوں نے حکم دیا کہ کلمہ شریف کا صرف پہلا حصہ پڑھا جائے اور دوسرا حصہ قطعی نہ پڑھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی حکم دیا کہ کلمہ شریف کے تمام کتبے ملک کے تمام دفاتر سے ہٹا دیے جائیں سوائے ان کتبوں کے جو ربوہ کے دفاتر پر لگے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قصر خلافت میں واقع مسجد میں ”للہ ما فی السموات وما فی الارض“ کا ایک کتبہ بجائے کلمہ شریف کے کتبہ کے دیکھا گیا۔ قادیانی جماعت کے چوتھے خلیفہ نے جو بیعت کا فارم تمام احمدیوں کو بھیجا ہے، اس میں کلمہ شریف تحریر نہیں ہے۔ مسلمانوں کے عام عقیدہ کے مطابق لفظ ”حضور“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ چونکہ قادیانیوں کو آئین میں ترمیم کے ذریعہ اور پھر 1984ء کے صدارتی حکم کے ذریعہ غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے مرزا طاہر احمد نے بیعت ان عقائد کی بنیاد پر لینا چاہی ہے۔ جو ”مسیح موعود“ مرزا غلام قادیانی نے وضع کیے تھے۔ یہ بات ہمارے آخری نبی اور ان کے خلفاء کی بے حرمتی کا باعث ہے۔

اپنے آپ کو ”امیر المومنین“ خلیفہ المسیح الرابع بنا کر انہوں نے خلفائے راشدین کی بے حرمتی کی ہے جس سے پاکستان کے تمام مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھے ہیں اور یہ واضح طور پر آئین کی خلاف ورزی ہے۔

مرزا غلام احمد، انگریزوں کا بویا ہوا بیج

جنگ پلاسی سے لے کر 1857ء کی جنگ آزادی تک کی صدی ہندوستان میں انگریزوں کی کامیابی کی صدی ہے جس میں انہوں نے مسلمانوں کو یا تو سازشوں کے ذریعہ

صفحہ 66

اور طاقت کے ذریعہ اپنا مطیع و فرمانبردار کرنا چاہا۔ لیکن مسلمانوں نے باوجود شکستوں کے اس ظلم و ستم کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس لیے کہ وہ انگریزوں کو غاصب سمجھتے تھے جو مسلمانوں کو غلام بنانا چاہتے تھے۔ اسلام اور غلامی میں قطعاً موافقت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو آزادی سے محبت تھی اور وہ اس آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے تھے۔ انگریزوں کا خیال تھا کہ بار بار کی شکستوں سے مسلمانوں میں جہاد کا ولولہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن انہوں نے اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کر کے اپنی اس غلطی کو محسوس کر لیا۔ پس انہوں نے مسلمانوں میں ایک ایسا فرقہ پیدا کرنے میں اپنی ذہانت صرف کی جو جہاد کی مذمت کرے۔

انہیں غلام احمد کی ذات میں ایسا شخص ملا، جس کی انہیں تلاش تھی۔ مرزا غلام احمد نے اپنی نبوت کا دعویٰ ایسے وقت کیا جب مسلمان اپنی بقا کے لیے جنگ کر رہے تھے۔ مرزا نے انگریزوں کے لیے وہی کچھ کیا جو میر جعفر اور میر صادق نے لارڈ کلائیو کے لیے کیا تھا۔ سیاسی فوائد حاصل کرنے کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں کو مذہبی سطح پر بھی شکست دینے کی سازش کی۔ انہیں ایک ایسے شخص کی تلاش تھی، جو مسلمانوں کو گمراہ کر سکے اور بجائے مکہ اور مدینہ کے ان کی توجہ قادیان کی جانب کروائے تاکہ مسلمان ایک مرکز سے محروم ہو جائیں۔ اگر ہم قادیانی تحریک کا اس کے مذہبی تناظر میں جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ وہ جہاد کی سخت مخالف ہے۔ یہی محور ہے جس کے گرد سارے قادیانی عقائد اور ان کی سیاست گردش کرتی ہے۔

انگریزوں نے اس تحریک کی حمایت کی اور مرزا غلام احمد ان کے ہاتھوں میں محض ایک کھلونا تھے۔ اپنے مالکوں کی ہدایت کے تحت قادیانیوں نے بڑے مذہبی جوش کے ساتھ جہاد کے خلاف ہندوستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں تبلیغ کی۔ جہاد کے خلاف تبلیغ کے علاوہ قادیانیوں نے انگریزوں کے لیے جاسوسی کا کام بھی انجام دیا۔ ایک وحی کی بنیاد پر مرزا غلام احمد نے جہاد کو حرام قرار دیا۔ مرزا اور ان کے جانشینوں نے انگلستان کی ملکہ کو تعریفی خطوط لکھے اور ہندوستان میں انگریزی راج کو خدا تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت قرار دیا۔

روزنامہ الفضل لاہور نے حال ہی میں مرزا طاہر احمد کا ایک پیغام جماعت کے ارکان کے نام شائع کیا ہے۔ جس میں انہیں ”خلیفہ المسیح“ اور ”عبدہ المسیح الموعود“ کہا گیا ہے۔

صفحہ 67

یہ پاکستان کے آئین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

احمدیہ کے سربراہ کا لڑکا اور آٹھ دوسرے افراد گرفتار

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ کے ایک پریس نوٹ کے مطابق لاہور میں مارشل لاء اتھارٹیز نے ۹ افراد کو مارشل لاء قوانین و احکامات کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔

پریس نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ”گرفتار کیے جانے والوں میں تعلیم الاسلام کالج لاہور کے پرنسپل مرزا ناصر احمد شامل ہیں۔ وہ احمدیہ جماعت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کے لڑکے ہیں۔ مرزا غلام احمد کے لڑکے مرزا شریف احمد اور مرزا مظفر احمد، جن کا تعلق رتن باغ لاہور سے ہے، گرفتار کیے جانے والوں میں ہیں۔ جن دوسرے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں محمد بشیر، محمد صالح، محمد یحییٰ، ملک برکت علی، شیخ فضل حق اور حکیم سراج الدین شامل ہیں۔

۱۹۵۳ء میں مرزا غلام احمد کے لڑکے مرزا شریف احمد اور مرزا بشیر احمد کے لڑکے مرزا ناصر احمد کو مارشل لاء قواعد و احکامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان میں سے ہر ایک کو پانچ سال کی سزا دی گئی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرنے کے لیے ربوہ پر چھاپہ مارا تھا۔

مرزا کی خلط ملط لغزشیں

اپنی کتاب ”براہین احمدیہ“ کی اشاعت کے بعد مرزا غلام احمد کے یکے بعد دیگرے چھیاسی اعلانات جو ان کی کتابوں میں موجود ہیں، ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:

”میں عالم، امام، مجدد ہوں۔ میں عیسیٰ، مریم، مہدی، چینی نژاد مسلمان، آخری نبی، آخری اولیاء، آخری خلیفہ ہوں۔ میں حسن اور حسین سے بہتر ہوں۔ حضرت عیسیٰ سے بہتر ہوں۔ میں خدا کا پیغمبر، اس کا اوتار ہوں۔ میں خدا ہوں، مثل خدا ہوں، خالق ہوں،

صفحہ 68

خدا کا بیٹا ہوں، خدا کا والد ہوں، خدا مجھ سے ہے اور میں خدا سے ہوں۔ میں تفضلی نبی ہوں، میں آدم، شیث، نوح، ابراہیم، اسماعیل، یعقوب، یوسف، موسیٰ، داؤد، عیسیٰ ہوں، میں محمد کا مکمل اوتار ہوں، میں محمد اور احمد کا سایہ ہوں، میں موتی اور حجر اسود ہوں، میں میکائیل اور ذوالقرنین ہوں، میں خدا کا گھر، آریوں کا بادشاہ، شیر، سورج، چاند ہوں، میں امن کا شہزادہ، بہادر اور برہمنوں کا خدا ہوں، میری حمد و ثناء کی گئی ہے۔ میں خدا کا نور، سخی اور منتخب ہوں، میں وہ ہوں جس کی نشست سب سے اونچی ہے۔ خدا تعالیٰ نے میری تعمیل کا وعدہ کیا ہے“۔

اس ساری خرافات کو پڑھنے کے بعد آپ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ کیا ایسے شخص کو کافر کہنا کافی ہے؟

(ہفت روزہ ختم نبوت، اگست ۱۹۸۲ء)

صفحہ 69

ڈاکٹر سام کا نمک خوار ڈاکٹر مظہر بھی بولا!

ہمارے سامنے اس وقت روزنامہ جنگ لاہور ۱۹ فروری ۱۹۸۸ء کا ایڈیٹوریل صفحہ ہے۔۔۔۔۔ اس میں ایک مضمون کی آخری قسط ہے۔ مضمون کا عنوان ہے ”پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کا فروغ“ مضمون نویس ہیں۔۔۔۔ ڈاکٹر مظہر علی ۔ ملک طرابلس (لیبیا) مظہر علی صاحب نے سائنس اور سیاست دانوں کی قدر و قیمت پر روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی ملک ٹیکنالوجی کے بغیر موجودہ دور میں آگے نہیں بڑھ سکتا اور ٹیکنالوجی میں استطاعت حاصل کرنے کے لیے ہمیں سائنس دانوں سے رابطہ رکھنا ہوگا۔ جناب ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ خصوصاً جب پوری دنیا میں ٹیکنالوجی کی دوڑ زوروں پر ہو۔ ایسے میں ضروری ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے سائنسدان اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھیں اور ان سے مکمل تعاون ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر در پردہ ایک ایسے آدمی کے انتخاب پر حکومت اور عوام کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے (جیسا کہ خود ڈاکٹر صاحب دبے الفاظ میں اعتراف کر چکے ہیں) جو قادیانیوں کا ایک متعصب مبلغ ہے اور شاید ڈاکٹر صاحب کی نظر سے ڈاکٹر عبدالسلام کا یہ جملہ گزرا نہ ہو جب ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں ایک عالمی سائنس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا اور اس میں دیگر سائنس دانوں کے علاوہ ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی دعوت دی تھی اور یہ کانفرنس قادیانیوں کو ۱۹۷۴ء میں کافر قرار دینے کے بعد منعقد ہوئی تھی۔

جب دعوت نامہ ڈاکٹر عبدالسلام کو پہنچا تو اس نے جو جواب دیا‘ وہ ان دنوں تقریباً

صفحہ 70

ملک کے تمام مشہور رسالوں میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے جواب دیا تھا کہ "میں اس لعنتی زمین پر قدم نہیں رکھ سکتا جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے" ڈاکٹر صاحب نے اشاروں اشاروں میں یہ تو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے لیے ہم کو مذہب سے بالاتر ہو کر کام کرنا چاہیے۔ لیکن شاید ڈاکٹر صاحب یہ بھول گئے کہ ڈاکٹر عبدالسلام یہودیوں کی صیہونی لابی کا ایجنٹ ہے اور ان کی گھٹی میں پاکستان کو تباہ کرنا موجود ہے۔ یہ کسی بھی وقت پاکستان کو نقصان تو پہنچائیں گے لیکن فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ رہا یہ مسئلہ کہ اس نے حاصل کردہ نوبل انعام پاکستان کے نوجوانوں کے نام کر دیا ہے۔

یہی تو ایک طریقہ ہے ان کے پاس پاکستان کے نوجوانوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی بنانے کا اور ان کے فنڈز اسی لیے ہوتے ہیں کہ لوگ جب یہ سنیں گے کہ دیکھو اتنی بڑی رقم ڈاکٹر عبدالسلام نے وقف کر دی ہے تو وہ ہمارے قریب رہیں گے۔ ہماری قربانی و ایثار سے متاثر ہوں گے اور پھر ہم ان کو چپکے چپکے مرزا طاہر کے پاس لندن پہنچا دیں گے۔ افسوس ! ڈاکٹر مظہر صاحب یہ بھول گئے کہ صدر ایوب کے دور میں بھی ایم ایم احمد کو ایسے ہی جذبے کے تحت آگے لایا گیا۔ پھر اس نے ایوبی دور میں جہاں تک ممکن ہو سکا پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھی قادیانی ایم ایم احمد کی منصوبہ بندیوں کی بدولت ہی معرض وجود میں آئی ہے۔ ڈاکٹر مظہر کو یاد ہونا چاہیے کہ ایوبی دور میں قادیانیوں نے اسی طرح در پردہ جس جس قسم کے گل کھلائے ہیں ان کو احاطہ تحریر میں لایا جائے تو ایک کتاب بنتی ہے۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر مظہر طرابلس میں بیٹھ کر ذرا اس پہلو پر بھی غور کریں کہ ہم جس آدمی کو اشاروں اشاروں میں پیش کر رہے ہیں وہ سائنس کی ترقی کے لیے کیا کرے گا۔ وہ مسلمان سائنس دان ڈاکٹر قدیر خان جیسے انسان کو بھی پس منظر میں لے جانے کی کوشش کرے گا اور ایسے شاندار طریقہ اور ملمع سازی سے لائحہ عمل بنائے گا کہ پاکستان کا بچا کھچا علاقہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور آخر کار مرزائی امت پورے ملک میں شور مچانے لگ جائے گی کہ ہمارے حضرت صاحب نے نہیں کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔

علامہ شورش کاشمیری کی کتاب تحریک ختم نبوۃ میں صفحہ ۱۸۳ پر درج ہے۔۔۔۔۔ پاکستان فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل ظفر چودھری سخت گیر طبیعت کے متعصب قادیانی

صفحہ 71

تھے۔ انہوں نے فضائیہ کو اپنے ہم عقیدہ اشخاص کی ملک بنانے کا عزم کر رکھا تھا۔

اس غرض سے وہ یہی کچھ کرتے مثلاً امریکہ وغیرہ تربیت کے لیے کسی فضائی نوجوان یا افسر کے بھیجنے کا سوال پیدا ہوتا تو قادیانی کا چناؤ کر کے انہی کو فضائیہ کے اہم شعبوں میں لگاتے، عرب ریاستوں میں بھجواتے۔ پھر ظفر چودھری قادیانی نے مرزائی افسروں کی ترقی کا راستہ ہموار کرنے کے لیے بہت سے مسلمان فضائی افسروں کو نام نہاد سازش کے مقدمہ میں پھنسا کر کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھا دیا۔ ان میں وہ نوجوان بھی تھے، جنہوں نے بہت سارے فضائی معرکے سر کیے تھے۔ ان نوجوانوں کو طویل سماعت کے بعد لمبی لمبی سزائیں دی گئیں۔ انہوں نے سماعت کے دوران عدالت میں قادیانیت کا پردہ چاک کیا۔

اس لیے ڈاکٹر مظہر صاحب کو مشورہ دینے سے پہلے اس پہلو کو سوچ لینا چاہیے کہ یہ ڈاکٹر عبدالسلام جب ملک پاکستان کی ٹیکنالوجی کا انچارج ہو گیا تو صرف اس لیے کہ ہماری گاڑی چلتی رہے۔ ملک رہے یا نہ رہے، اس سے ہم کو کیا سروکار ہے۔ ڈاکٹر صاحب یاد رکھیں یہ بے ایمانوں کا ٹولہ ہے۔ یہ اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ یہ کسی بھی روپ میں آئیں، نتیجہ ایمان، اسلام، ملک کی تباہی ہو گا۔ لہٰذا آپ لیبیا میں بیٹھ کر ہم پر رحم کریں اور ایسے بھیانک مشوروں سے پرہیز کریں۔ اور فرصت ملے تو شورش کاشمیری کی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ ضرور پڑھیں۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۶، شمارہ ۴۳، اپریل ۱۹۸۸ء)

(از قلم : حافظ محمد حنیف)

صفحہ 72

جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ نے بھی

قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا

جنوبی افریقہ جو فطری وسائل اور معدنیات (سونا‘ ہیرے‘ اور یورینیم وغیرہ) کی دولت سے مالا مال ہے۔ تقریباً ساڑھے تین سو برس تک مغربی سفید استعمار کے زیر نگیں رہا۔ ڈچ (اہل ہالینڈ) اور برطانوی استعمار اس پر حکومت کرتے رہے۔ آخر ان کی عمر پوری ہوئی اور وہ راہ عدم کے مسافر ہوئے۔ ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۵ء تک ۵ سالوں کے عرصہ میں عظیم انقلابات رونما ہوئے۔ صدر منڈیلا پورے ساڑھے ستائیس برس کی قید کے بعد آزاد ہو کر نئے جنوبی افریقہ کے معمار کی حیثیت سے منظر عام پر نمودار ہوئے۔ ان کا عالمی بھرم بڑھتا گیا۔ اس لیے کہ اس قلیل عرصہ میں قومی‘ عوامی اور مقامی انتخابات کے ذریعہ موصوف نے ملک کو جمہوریت کی شاہراہ پر کھڑا کر دیا اور ملک کے جمہوری سانچوں کی داغ بیل ڈال دی۔

مسلمانوں کی آمد

مغربی استعمار نے عالم اسلام پر جو تسلط قائم کیا تھا‘ وہ بھی بتدریج ختم ہوتا گیا۔ انڈونیشیا پر ڈچ حکمران پورے ساڑھے تین سو برس تک مسلط رہے۔ انڈونیشیا کے ساتھ ملائیشیا کے جزائر بھی ان کے زیر نگیں رہے۔ مقامی مسلم سلاطین اور حکمران جو راجہ کے نام سے بھی معروف تھے‘ استعمار کے ساتھ نبرد آزما ہوئے۔ استعمار نے انہیں پابہ زنجیر قید کر

صفحہ 73

کے جنوبی افریقہ میں لاکر نظر بند کیا۔ انہی میں ایک راجہ تنبورا بھی تھے۔

کیپ ٹاؤن میں مسلمانوں کی پہلی آمد ۱۶۵۸ء میں بتائی جاتی ہے، جب مسلمانوں کی ایک جماعت (Mardy Ckers of Amboya) یہاں بطور غلام ملائیشیا وغیرہ کے علاقوں سے لائی گئی۔ کیپ ٹاؤن کے رجسٹر میں انہیں غلام کی حیثیت سے درج کیا گیا۔ اس کے بعد سے مسلم قیدیوں کی آمد جاری رہی۔ راہ حریت کے متوالے جو ڈچ استعمار کے خلاف نبرد آزما تھے، گرفتار کر کے یہاں لائے گئے اور جزیرہ رابن کے قید خانوں میں رکھے گئے۔ ان ممتاز شخصیات میں شیخ یوسف کا نام قابل ذکر ہے۔ موصوف بانٹم میں شاہی امام تھے۔ وہ ڈچ کے خلاف بانٹم کے مسلم حکمران کے ساتھ جنگ آزادی میں شریک تھے۔ چونکہ وہ شاہی مسجد کے امام تھے، اس لیے ڈچ نے انہیں ۱۶۹۴ء میں لا کر غلاموں کے زمرہ سے الگ رکھا۔ کیپ کے گورنر سے موصوف کے اچھے تعلقات تھے۔ اس بناء پر موصوف نے درخواست کی کہ وہ تنبورا کے راجہ کو جیل سے نکال کر علیحدہ علاقہ میں منتقل کرے۔ شیخ یوسف کی وفات کے بعد ان کے مریدین ملائیشیا واپس چلے گئے اور ان کی لڑکی سے راجہ تنبورا کی شادی ہو گئی۔ راجہ نے حافظ کی مدد سے قرآن کریم کا پورا نسخہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر گورنر کیپ کی خدمت میں پیش کیا۔ ۱۹۹۴ء میں جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کی آمد کی تین سو سالہ تقریبات تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئیں۔ صدر منڈیلا نے تقریب کا افتتاح کیا۔ سارے ملک میں قرآن خوانی کے ساتھ دیگر تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

مسلمانوں کی آمد کی یہ مختصر ترین یادداشت اس لیے اہم ہے کہ چند نفوس ذکیہ اور مخلص دین داروں نے اس ملک میں مذہب اسلام اور قرآنی کلچر کی داغ بیل ڈال کر امت کے لیے وسعت ارضی میں اضافہ کیا۔ انہوں نے روز اول سے اسلامی روایات، عقائد اور عبادات کے تحفظ پر زور دیا۔ بچوں کی تعلیم کے لیے مدارس و مساجد قائم کیے۔ مسلم غلاموں کا قافلہ آخر آزادی کی نعمت سے شادکام ہوا اور سیاسی قیدی آزاد شہری ہو گئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیپ میں ڈچ رفارم چرچ کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب قابل قبول نہیں تھا۔ ان مشکلات کے باوجود اسلام کے معجز نما مذہب و کلچر یہاں پروان چڑھنے لگے، تصوف کا فروغ ہوا اور آج اسلام اس ملک کا ایک مستحکم مذہب ہے۔

استعمار نے اسلام کو زیر کرنے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کیے۔ برصغیر

صفحہ 74

ہندو پاک کے برطانوی استعمار نے قادیانی نام کا ایک نیا مذہب قائم کر کے امت مسلمہ کی تفریق کا سامان فراہم کیا۔ وحدت کو پارہ پارہ کر دیا۔ گھر گھر میں دو فرقے کھڑے ہو گئے۔ پھر اسی قادیانی فرقہ کو دو بازوؤں میں تقسیم کرایا۔ ایک احمدی لاہوری کے نام سے موسوم ہوا اور دوسرا قادیانی کے نام سے۔ وحدت امت کو ختم کرنے کے لیے یہ فتنہ کھڑا کیا کہ احمدی لاہوری‘ مسلمان تھے۔ اس طرح خود فرقہ قادیان میں دو جماعتیں باہم متحارب کھڑی کر دیں۔ حالانکہ دونوں ایک ہی یونٹ کے دو دال تھے۔ قادیانی تحریک کو عالمی تحریک بنانے کی سعی جاری رہی اور اس کے قائدین نے عالمی دوروں کے ذریعہ ہر جگہ اس کی شاخیں قائم کر ڈالیں۔ براعظم افریقہ جو خود صدیوں زیر استعمار رہا‘ تعلیم اور ترقی میں پسماندہ رہا۔ قادیانیوں نے افریقہ میں اپنی تحریک کو تیز گام بنانے کے لیے ہر ملک میں اپنی جماعت کی شاخیں قائم کر ڈالیں۔ جنوبی افریقہ چونکہ براعظم افریقہ کا سب سے نمایاں ترقی یافتہ اور دولت مند ملک تھا۔ اس لیے قادیانیوں نے اس پر نظریں گاڑ دیں اور براعظم افریقہ میں اسی کو اپنی تحریک کا مرکزی قلعہ بنایا۔ سر ظفر اللہ خان نور نظر برطانیہ‘ بنفس نفیس جنوبی افریقہ تشریف لائے اور شہر کیپ ٹاؤن میں ایک مرکز قائم کر کے واپس تشریف لے گئے۔ یہاں قادیانی عقائد کی اشاعت کے لیے وہی ذرائع اختیار کیے گئے جو برصغیر میں استعمال کیے گئے تھے۔ مثلاً ذہین طلباء کو آکسفورڈ اور کیمرج کے تعلیمی وظائف دے کر ان کی ذہنی اور تعلیمی تربیت مادر برطانیہ میں کی گئی‘ جس نے اس فرقہ کو جنم دیا تھا۔ پاکستان میں فرقہ قادیان کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد فرقہ کا مرکز مادر برطانیہ منتقل ہو گیا‘ جہاں سے مبلغ سارے عالم میں بھیجے جاتے رہے۔ جنوبی افریقہ بھی آتے رہے۔

جنوبی افریقہ میں قادیانی تبلیغ خفیہ طور پر چلتی رہی کیونکہ یہاں کے مسلمان نہ صرف بیدار تھے بلکہ پاکستانی دستور میں قادیانیوں کے مرتد یا غیر مسلم ہونے کا اعلان ہوتے ہی یہاں کے مسلمان ہوشیار ہو گئے اور ہر قادیانی کی سرگرمی پر نظر رکھنے لگے۔ مساجد میں ان کے داخلہ پر پابندیاں لگا دیں وغیرہ۔

برصغیر کے باہر قادیانیوں نے اپنے تحفظ کے لیے قانونی چارہ جوئی شروع کی اور سیکولر عدالتوں میں مقدمات دائر کیے‘ کہ انہیں مذہبی اقلیت کی حیثیت سے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسلام دشمن سیکولر عدالتیں جنوبی افریقہ میں بھی ان کو تحفظ دینے کے لیے

صفحہ 75

آمادہ نظر آئیں اور ایسے فیصلے صادر کیے، جن سے قادیانیوں کو تقویت ملی اور وہ مسلم مساجد و قبرستان میں شرکت کا دعویٰ کرنے لگے ۔ یہاں انہوں نے اپنے آپ کو احمدی لاہوری مسلم فرقہ قرار دے کر آنکھوں میں دھول جھونکی اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کر دیا۔

مسلم مساجد میں قادیانیوں کی آمد یا مسلم قبرستانوں میں ان کی تجہیز و تکفین کو مسلمانوں نے ناپسند کیا اور مزاحمت شروع کی۔ بات آگے بڑھی اور قادیانیوں نے سیکولر عدالتوں میں مقدمات دائر کیے ۔ مادر برطانیہ اور امریکہ سے قادیانی مبلغین اور وکلاء طلب کئے گئے تاکہ وہ ان کے مقدمات کی پیروی کریں۔ اسی طرح جنوبی افریقہ کا معروف قادیانی مقدمہ منظر عام پر آیا اور ۱۹۸۲ء سے ۱۹۹۵ء تک چلتا رہا ۔

کیپ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں قادیانیوں نے مقدمہ دائر کیا کہ وہ من حیث احمدی لاہوری مسلم ہیں اور مسلم حقوق کے حقدار بھی ہیں ۔ انہیں مساجد میں داخل ہونے اور مقابر میں تدفین اور تجہیز و تکفین کی اجازت دی جائے اور ان کے مسلم حقوق بحال کیے جائیں ۔ سپریم کورٹ میں احمدی لاہوری من حیث مدعی اور مسلم جوڈیشل کونسل میں من حیث مدعاعلیہ Plaintiff حاضر ہوئے ۔ راقم الحروف بھی روز اول سے من حیث ایکسپرٹ ویٹنس مقدمہ میں شریک رہا۔ مقدمہ کی سماعت دو محوروں پر گردش کرتی رہی ۔ اول یہ کہ آیا احمدی اور لاہوری مسلم ہیں یا مرتد، دوم یہ کہ آیا سیکولر عدالت کو کسی مذہبی کمیونٹی کے عقائد کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ ایم جے سی کا موقف دونوں مسائل میں واضح تھا یعنی احمدی اور لاہوری بھی غیر مسلم ہیں۔ اور مذہبی عقائد کے معاملہ میں سیکولر عدالت کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے۔

جج برمن نے بڑی جسارت کے ساتھ یہ فیصلہ صادر کر دیا کہ سیکولر عدالت قطعی مجاز ہے کہ وہ مذہبی عقائد سے متعلق مسائل میں بھی اپنے فیصلے صادر کرے بلکہ ان معاملات میں سیکولر عدالت زیادہ باصلاحیت (Competent) ہے ۔ اس کا فیصلہ خالص انصاف پر مبنی ہو گا اور غیر جانبدارانہ بھی ۔

فیصلے کے اصل کلمات جسے سپریم کورٹ (عدالت عالیہ بلوم فاؤنٹین نے اپنے فیصلے (Judgement) کے صفحات ۳۰، ۳۱ پر نقل کیا ہے۔

صفحہ 76

It appears to me that the resolution of the question whether ahmadis are muslims or not may well be more fairly and dispassionately decided by a secular Court such as this than by some other tribunal composed of the ologians. Certainly when regard is had to the considerable number of experts to be called and the considerable volumes of testimony to be given by them, this court may well be the most suitable forum to deal with them and with their evidence.

ایم جے سی نے عدالت کے فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مقدمہ کو مشرک عدالت سے خارج کرنے کی درخواست کی۔ مقدمہ کی سماعت ثانیہ نومبر ۱۹۸۵ء میں شروع ہوئی۔ مسلم وکیل اسماعیل محمد نے اعلان کر دیا کہ مذہبی مسائل میں سیکولر کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ مشرک عدالت اس کی مجاز نہیں کہ وہ کسی کو مسلم اور کسی کو مرتد قرار دے۔

ایم جے سی نے مقدمہ کا بائیکاٹ کیا۔ ۲۰ نومبر ۱۹۸۵ء کو جج ولیم نے فیصلہ صادر کر دیا کہ احمدی لاہوری چونکہ مسلمان ہیں لہٰذا ان کے مسلم حقوق بحال کیے جائیں۔ مساجد میں داخل ہونے اور قبرستان میں تجہیز و تکفین کی اجازت دی جائے۔ حکم عدولی کی سزا سخت ہوگی اور اسے توہین عدالت (Contempt of Court) قرار دیا جائے۔

مسلمانوں نے عدالت کے فیصلہ کو مسترد کر دیا اور اعلان کر دیا کہ لاہوری احمدی بھی قادیانیوں کی طرح غیر مسلم ہیں۔ ایک کافر جج دوسرے کافر کو مسلم قرار نہیں دے سکتا۔ ایم جے سی نے تمام مساجد اور اراکین کمیٹی کو ہدایت جاری کر دی کہ وہ کسی بھی قادیانی، لاہوری یا ان کے حمایتی اور طرف دار کو مساجد میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔ اور

صفحہ 77

مسلم قبرستان میں ان کی تدفین کی مزاحمت کریں۔ یہ اعلان بھی کر دیا کہ ہر مسلمان عدالت کی حکم عدولی کی سزا بھگتنے اور جیل جانے کے لیے تیار ہے۔ جج ولیم کے فیصلہ کی روشنی میں قادیانی اور لاہوری احمدی جسارت کے ساتھ مساجد میں داخل ہونے لگے۔ اس سے فرقہ وارانہ کشمکش میں اضافہ ہوا اور تصادم کے خطرات بڑھنے لگے۔ مساجد اور مقابر میں ان کی مداخلت سے شہر میں فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

ملک کی عدالت عظمیٰ میں اپیل

مسلم جوڈیشل کونسل (ایم جے سی) نے ملک کی سب سے بڑی عدالت (بلوم فاؤنٹین) میں جج برمن اور جج ولیم کے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کی اور دعویٰ کیا کہ غیر مسلم عدالت (سیکولر کورٹ) کو کسی فرقہ کے مذہبی عقائد سے متعلق حکم صادر کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ فیصلے مسلم کمیونٹی کے لیے قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ مقدمہ (69ء، Case No 69) جو عدالت عظمیٰ کے جج میں پانچ عالمی ججوں کے سامنے پیش ہوا اور اس کی سماعت ۲۱‘ ۲۲‘ ۲۳‘ ۲۵‘ ۲۸ اور ۲۹ اگست ۱۹۹۵ء کو جاری رہی۔ ۲۶ ستمبر ۱۹۹۵ء کو ججوں نے ۱۷۱ صفحات پر مشتمل اپنا فیصلہ صادر کر دیا اور صفحات ۱۵۴ اور ۱۵۵ پر سابق ججوں کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اعلان کر دیا کہ :

کسی کمیونٹی کے مذہبی عقائد کے بارے میں فیصلہ خود اس کمیونٹی کے علماء اور ماہرین عقائد ہی‘ جو اس عقیدہ کے محافظ‘ امین اور مجاور ہیں‘ کر سکتے ہیں۔ صرف انہی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ یہ فیصلہ صادر کریں کہ کس فرد کے عقائد مذہب کے تسلیم شدہ عقائد کے مطابق ہیں اور کس فرد کے عقائد اس کے مخالف ہیں‘ اس حق کو کوئی عدالت یا فرقہ سلب نہیں کر سکتا ہے۔ سیکولر یا دنیاوی عدالت کے لیے غیر موزوں ہے کہ وہ فیصلہ صادر کرے کہ کون مسلمان ہے اور کون مرتد ہے۔ کسی فرد کو مذہب کے دائرہ سے خارج کرنے (Excommunicate) کرنے کا حق بھی علماء کو حاصل ہے۔ فیصلے کے اصل الفاظ حسب ذیل ہیں:

One cannot deny the right of those who are legitimately charged with the protection

صفحہ 78

of the Muslim faith to seek to safeguard what they consider to be the fundamental and critical tenets of their faith and to excommunicate someone whose convictions and beliefs are in opposition to, or not in conformity with those principles.

ججوں نے فیصلہ میں لارڈ ڈیوی (Lard Davy) کے تبصرے کو بھی اپنی حمایت میں پیش کیا ہے۔ (ص ۱۵۲) نیز اسکاٹ لینڈ کے فری چرچ کے مقدمہ سے متعلق لارڈ ہلسبری (Lard Halsbury) کے فیصلوں کو بھی اپنی تائید میں پیش کیا ہے۔ (ص ۱۵۵) ان فیصلوں کے مطابق بھی مذہبی عقائد کے سلسلہ میں سیکولر عدالتیں فیصلہ صادر نہیں کر سکتیں۔ ماورائی مسائل میں لادینی عدالتیں حکم نہیں بن سکتیں۔

جنوبی افریقہ کی عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اب ایک عالمی نظیر ہے۔ دنیا کی کسی عدالت میں قادیانی فرقہ یا احمدی اور لاہوری فرقہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ کوئی سیکولر عدالت ان فرقوں کو حق تحفظ دینے کی مستحق نہیں۔ ان کے بارے میں حتمی فیصلہ امت مسلمہ کے علمائے کبار اور مذہب و عقائد کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ اگر وہ انہیں غیر مسلم یا مرتد قرار دے چکے ہیں تو کوئی سیکولر عدالت انہیں مسلم قرار نہیں دے سکتی۔ قادیانی جو عام طور پر سیکولر عدالتوں کا سہارا لے کر اپنے حقوق کا تحفظ حاصل کر لیا کرتے تھے‘ اب وہ اس فیصلہ کن نظیر کی روشنی میں اس سے محروم ہو چکے ہیں۔ مادرِ برطانیہ‘ جس کی کوکھ سے اس فرقہ نے جنم لیا ہے‘ وہ بھی اپنی غیر محرم نسل کی حفاظت نہیں کر سکتی ہے۔ اس اعتبار سے جنوبی افریقہ کی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ عالمی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے اور عقائد کے مقدمات (Dooctrinal And Exclesiastica) کی سماعت کا حق نہ تو یورپ کی عدالتوں کو ہے نہ ہی امریکی یا غیر امریکی عدالتوں کو ہے۔ برصغیر ہند و پاک کے لیے یہ فیصلہ سب سے اہم ہے۔ کیونکہ یہاں یہ تحریک ہنوز سرگرم عمل ہے۔

مقدمات کے طویل ریکارڈ کا تحفظ

صفحہ 79

تقریباً پندرہ سالوں کے طویل مقدمات کے عدالتی کاغذات ‘ فائل اور متعلقہ ریکارڈ کیپ ٹاؤن کے نوجوان وکیل (اٹارنی) مسٹر احمد چوہان کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ محققین اور ریسرچ سکالر ز ان سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ موصوف اس مقدمہ میں روز اول سے آخر تک متعلق رہے ہیں۔ قادیانی تحریک اب جنوبی افریقہ میں درگور ہو چکی ہے۔ تحریک ارتداد کے کفن میں یہ فیصلہ آخری کیل تھی۔

دو اہم نظائر

پانچ ججوں نے اپنے فیصلوں کی تائید میں دو اہم نظائر پیش کیے ہیں۔ وہ بھی پیش نظر ہیں:

Significant in this connection are the following observations of Lord Davey in General Assembly of Free Church of Scotland and Others v Lord Overtoun and Others 1904 AC 515

صفحہ 80

from an imperfect and finite conception of a perfect and infinite Being. or any similar question.

See too lord Halsbury LC at 613)

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۱۴‘ شمارہ ۴۱)

از قلم: سید حبیب الحق ندوی

صفحہ 81

مرزا طاہر کے منہ پر جنرل حمزہ کا زناٹے دار تھپڑ

قادیانی فتنے کے سربراہ مرزا طاہر نے روزنامہ جنگ لندن کو ایک انٹرویو دیا جو ۲۷ ستمبر ۱۹۸۸ء کو پورے ایک صفحہ پر شائع کیا گیا۔ اس انٹرویو میں اس نے چند قادیانی جرنیلوں کو جو کسی خفیہ سازش کے تحت جنرل کے عہدے تک پہنچ گئے تھے، محب وطن وغیرہ کے الفاظ سے نوازا۔ مرزا طاہر کے الفاظ یہ ہیں:

”جنرل اختر ملک کا نام ایک عظیم جرنیل کے طور پر ساری دنیا میں شہرت پا گیا۔ کشمیر کے محاذ پر انہوں نے ہندوستان کو رگیدا ہے۔ پھر چونڈہ کے محاذ کے ہیرو عبدالعلی ملک تھے، فاضل کا سیکٹر پر حمزہ تھے۔ پھر سندھ میں رن کچھ کے علاقہ میں بریگیڈیئر افتخار تھے۔ یہ سارے احمدی ہیں۔ اچھے بادیانت لوگ ہیں کہ جب جان کی بازی لگانے، سر دھڑ کی بازی لگانے کا وقت آیا تو سب سے آگے ہوتے ہیں۔..... بہت سے جرنیل تھے۔ ان میں احمدی جرنیلوں کی تعداد تھوڑی ہے لیکن کیسا اتفاق ہے کہ جتنے تھے، سارے چمک اٹھے۔ ان کے دل میں جذبے تھے، اور وطن سے محبت کرنے والے تھے“۔

قادیانیوں کے نزدیک مرزا قادیانی ملعون و دجال کی جنم بھومی ”قادیان“ اسی طرح مقدس ہے جس طرح مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مقدس ہیں۔ مرزا محمود سے لے کر مرزا طاہر تک ان کے ہر لیڈر کی یہ خواہش ہے کہ کسی طرح قادیان ہمیں واپس مل جائے۔ چنانچہ مرزا محمود کی اور اس کی بیوی کی لاشیں ربوہ کے قادیانی مرگھٹ میں امانتاً دفن کی گئیں جن پر یہ کتبہ بھی لکھا گیا تھا کہ جونہی حالات سازگار ہوں، یعنی قادیان واپس مل جائے، لاشیں قادیان لے جاکر دفن کی جائیں۔ علاوہ ازیں مرزا محمود کی اکھنڈ

صفحہ 82

بھارت کی پیش گوئی تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ لہٰذا جنرل اختر ملک قادیانی ہو یا عبد العلی قادیانی‘ انہوں نے اگر پاکستانی جنگ میں حصہ لیا تو اس لیے نہیں کہ پاکستان سے انہیں محبت تھی بلکہ ان کے پیش نظر قادیان کا حصول تھا۔ اسی لیے سیالکوٹ کا محاذ عبدالعلی ملک نے سنبھالا تھا کہ وہاں سے قادیان نزدیک ہے۔ جنرل عبدالعلی ملک نے ایسا کھیل کھیلا کہ بہت سا پاکستانی علاقہ بھارت کے حوالے کر دیا۔

جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو مرزا محمود نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ کشمیر میرا پیروکار فتح کرے گا۔ اس میں بھی وہی راز پوشیدہ تھا کہ گورداسپور سے کشمیر کو راستہ جاتا ہے۔ اور وہ اس طرح کشمیر نہیں قادیان چاہتے تھے۔ چنانچہ کشمیر کا محاذ کھولنے کے لیے قادیانی جنرل اختر ملک نے نواب آف کالا باغ مرحوم سے کہلوایا کہ وہ ایوب خان کو مشورہ دیں کہ کشمیر حاصل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ نواب صاحب سے ملاقات کرنا چاہی تو نواب صاحب نے ملاقات سے انکار کر دیا اور کہا میں ایوب خان کو یہ مشورہ ہرگز نہیں دوں گا مگر اختر ملک کی سازش کامیاب ہو گئی اور ایوب خان کشمیر کا محاذ کھولنے پر آمادہ ہو گئے۔ آخر دنیا نے دیکھ لیا کہ کشمیر تو کیا ملتا‘ اکھنور کا پورا علاقہ بھارت کو دے دیا گیا۔

جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ قادیانی ”قادیان“ کو مکہ اور مدینہ کی طرح مقدس سمجھتے ہیں۔ اور ان کے دلوں میں ہر وقت یہ سودا سمایا رہتا ہے کہ کسی طرح ہمیں قادیان مل جائے جس کے چند شواہد بطور نمونہ ملاحظہ ہوں۔ قادیانیوں کا آنجہانی پیشوا مرزا محمود کہتا ہے۔

خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقام پاک کا
سوتے سوتے بھی یہ کہہ اٹھتا ہوں ہائے قادیان
آہ کیسی خوش گھڑی ہوگی کہ با نیل مرام
باندھیں گے رخت سفر کو ہم برائے قادیان

(”الفرقان“ ربوہ‘ اگست تا اکتوبر ۱۹۶۳ء)

قادیان کے سالانہ جلسہ کے موقع پر مرزا محمود نے ایک پیغام بھجوایا۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

”آج پھر مسجد اقصیٰ (مرزائڑہ) میں ہمارا سالانہ جلسہ ہو رہا ہے۔ اس لیے نہیں کہ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والے مشتاقوں کی تعداد کم ہو گئی ہے بلکہ شمع احمدیت کے

صفحہ 83

پروانے سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے قادیان نہیں آ سکتے۔ یہ حالات عارضی ہیں اور ....... ہمیں پورا یقین ہے کہ قادیان احمدیہ جماعت کا مقدس مقام ..... اور خدائے وحدہ لاشریک کا قائم کردہ مرکز ہے وہ ضرور پھر احمدیوں کے قبضہ میں آئے گا“۔

(حوالہ بالا‘ ص ۳۶)

مرزا محمود کے پیغام اور اشعار کو بغور پڑھیں اور پھر غور کریں کہ جن کے نزدیک قادیان کی اتنی عظمت ہے اور قادیان ان کے دل و دماغ پر اتنا مسلط ہے کہ سوتے ہوئے بھی ہائے قادیان پکار اٹھتے ہیں تو کیا وہ اس کے حصول کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ یقیناً وہ قدم اٹھائیں گے اور اٹھا بھی چکے ہیں۔ قادیانی جنرل اگر کشمیر یا چونڈہ کے محاذ پر پیش پیش رہے ہیں تو ان کے پیش نظر پاکستان کا دفاع ہرگز نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد قادیان کا حصول تھا تاکہ وہ سکھوں کے ساتھ مل کر اپنی ایک الگ سٹیٹ قائم کر سکیں۔

کشمیر کے محاذ پر لڑنے والا جنرل اختر ملک جسے مرزا طاہر نے عظیم جرنیل ہیرو اور پوری دنیا میں شہرت یافتہ قرار دیا‘ وہی عظیم جرنیل‘ ہیرو اور شہرت یافتہ ایک فضائی حادثہ میں ہلاک ہو گیا۔ (جو شاید اسے مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی کی وجہ سے پیش آیا کیونکہ اگر جنرل ضیاء الحق بقول قادیانیوں کے ہوائی جہاز کے حادثے میں اس لیے ہلاک ہوئے کہ وہ قادیانیوں کے مخالف تھے تو پھر قادیانی جرنیل کی ہلاکت پاکستان اور اسلام دشمنی کا نتیجہ ہو سکتی ہے) تو ایسے مخلص قادیانی کو بہشتی مقبرہ میں دو گز جگہ بھی نہ مل سکی اور اسے عام مرگھٹ میں مٹی تلے دبا دیا گیا۔

بہر حال یہ ایک جملہ معترضہ تھا۔ ہمارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ مرزا طاہر نے اپنے انٹرویو میں حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا جھوٹ یوں بھی ظاہر ہو گیا ہے کہ اس نے اپنے انٹرویو میں جنرل حمزہ کا نام قادیانی جرنلوں کی فہرست میں شائع کیا ہے جبکہ جنرل حمزہ نے اپنے بیان میں مرزا طاہر کے منہ پر ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ہے کہ وہ لندن کی رنگین محفلوں میں بھی اسے پڑھ کر تلملا کر رہ گیا ہو گا۔ جنرل حمزہ کا بیان یہ ہے:

”قادیانی جماعت کے امیر مرزا طاہر کا یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے کہ میں قادیانی ہوں۔ ان خیالات کا اظہار ۱۹۶۵ء کے جنگ کے ہیرو جنرل حمزہ نے روزنامہ جنگ میں مرزا طاہر احمد کے حوالے سے چھپنے والی ایک خبر کے جواب میں کیا ہے۔ انہوں نے مرزا طاہر کے

صفحہ 84

اس دعویٰ کو بھی غلط قرار دیا ہے کہ چونڈہ کے محاذ پر ایک قادیانی جرنیل عبدالعلی ملک نے جرات و شجاعت کا مظاہرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا جنرل عبدالعلی شکرگڑھ کے محاذ پر شکست کے ذمہ دار تھے جس کے باعث ۱۹۷۱ء میں سیالکوٹ سیکٹر میں دشمن نے بہت سا علاقہ قبضے میں لے لیا۔ انہوں نے کہا ایک اور قادیانی جرنیل اختر حسین ملک کی بہادری کے قصے بھی بے بنیاد ہیں۔ یاد رہے کہ مرزا طاہر احمد نے چند دن قبل جنگ لندن کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں قادیانی جرنیلوں کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے جنرل حمزہ کا نام بھی لیا تھا۔

("جنگ" لاہور، ۲۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء)

مرزا طاہر نے اپنے انٹرویو میں جو گپیں ہانکیں اور جو جھوٹ بکے ہیں جناب جنرل حمزہ کے اس بیان سے ہی یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ پورے کا پورا انٹرویو کذب بیانی کا پلندہ ہے۔ اس انٹرویو میں جنرل حمزہ کو قادیانی بتایا گیا جبکہ انہوں نے واضح طور پر نہ صرف اس کی تردید کی، بلکہ قادیانی جرنلوں کی اصل حقیقت بھی کھول کر رکھ دی۔

الغرض مرزا طاہر یا دوسرے قادیانیوں کا خود کو محب وطن ظاہر کرنا اسی طرح جھوٹ ہے جس طرح مرزا قادیانی علیہ اللعنہ کا دعوائے نبوت جھوٹ تھا۔ اور جس طرح وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا تھا، آج مرزا طاہر اور تمام قادیانی اسی راہ پر گامزن ہیں۔

(ہفت روزہ "ختم نبوت" کراچی، جلد ۷، شمارہ ۲۸، از قلم محمد حنیف ندیم)

صفحہ 85

قادیانی سازش بے نقاب

فاروق عادل

یہ کہانی بھی اتنی ہی پرانی ہے، جتنا پاکستان اور اس کی تاریخ ۔ ۱۹۴۷ء کے ان مہینوں میں جب پاکستان نے جغرافیائی وجود نہیں پایا تھا، لیکن اٹل حقیقت بن چکا تھا۔ غیر منقسم پنجاب کے ایک مذہبی گروہ نے انگریز حکمرانوں کو ایک خط ارسال کیا۔ جس میں درخواست کی گئی تھی کہ ہمیں مسلمانوں میں شمار نہ کیا جائے کیونکہ ہم ہندوستان میں بسنے والے تو ہیں لیکن مسلمانوں سے الگ ایک اکائی کے طور پر شناخت رکھتے ہیں۔ تحریک و تاریخ پاکستان کے شناور جانتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی کے خلیفہ اول نے یہ خط بعض ہندو رہنماؤں اور انگریز سرپرستوں کی خواہش پر تحریر کیا تھا۔ اس لیے یہ درخواست تسلیم کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ گورداسپور، فیروزپور اور امرتسر کے علاقوں میں، جہاں مسلمانوں کی آبادی ۵۱ فیصد تھی، کم ہو کر اقلیت میں بدل گئی۔ اسی وجہ سے پنجاب کی وہ غیر منصفانہ تقسیم ہوئی۔ جس کے سبب تاریخ کا بدترین قتل عام اور فقید المثال ہجرت کا واقعہ ہی رونما نہیں ہوا، بلکہ کشمیر کا قضیہ بھی اٹھ کھڑا ہوا، جو اب رستا ہوا ایک ناسور بن چکا ہے۔ تاریخ کے اس بدصورت واقعہ کے پس پشت یہ حقیقت بھی کار فرما تھی کہ بدقسمتی سے باؤنڈری کمیشن میں مسلمانوں کی نمائندگی سر ظفر اللہ خاں کر رہے تھے، جن کے روحانی رہبر نے انگریز حکمرانوں کو خط لکھ کر خود کو مسلمانوں سے الگ کرایا تھا۔

اس واقعہ کی کڑیاں چند برس قبل کی ایک سازش اور اس کے نتیجے میں برپا کی جانے والی ایک تحریک سے جڑی ہوئی تھیں۔ جس کے سربراہ جماعت احمدیہ کے (دوسرے نمبر پر بننے والے) سربراہ مرزا بشیر الدین محمود اور سیکریٹری حکیم الامت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ

صفحہ 86

علیہ تھے۔ تاریخ میں اس تحریک کو کشمیر کمیٹی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ۱۹۳۱ء کی بات ہے۔

قادیانی اپنے پیشوا مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ہی نہیں مسیح موعود بھی قرار دیتے ہیں اور ان کا ایک عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں دفن ہیں۔ اس لیے کشمیر ان کے لیے مذہبی اعتبار سے ایک اہم مقام ہے۔ یہ انکشاف حکیم نور الدین نے کیا تھا جو غلام احمد قادیانی کی موت کے بعد جماعت احمدیہ کے پہلے امیر بنے تھے۔ وہ مہاراجہ کشمیر کے سرکاری معالج تھے۔ انہوں نے تحقیق کر کے کتاب لکھی۔ جس میں ثابت کیا کہ سری نگر کے قریب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قبر ہے، اس لیے کشمیر پر ہمارا حق ہے۔ حالانکہ یہ ایک غلط دعویٰ تھا۔ جس کا بطلان عہد ساز تاریخی ناول نگار عبدالحلیم شرر نے اپنی کتاب ”ہفت چمن“ میں کیا جو خصوصی طور پر اسی مقصد کے لیے لکھی گئی تھی۔ انہوں نے تاریخی حوالوں سے ثابت کیا کہ سری نگر کے قریب عیسیٰ نامی جس شخص کی قبر ہے وہ وسط ایشیا کا ایک مجاہد کمانڈر تھا جو کسی جنگ میں شکست کھا کر اس علاقے میں آ نکلا اور یہیں آسودہ خاک ہوا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی فتنہ قادیان کی تباہ کاریاں اتنی عام نہ تھیں، نہ لوگ ان کے کافرانہ عقائد سے زیادہ واقف تھے، چنانچہ متذکرہ مقصد کے پیش نظر قادیانیوں نے بعض دیگر حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ”کشمیر چلو تحریک“ شروع کی تو عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے علامہ اقبال کو اس کی مرکزی قیادت میں شامل کر لیا گیا لیکن علامہ اقبال جیسے زیرک شخص سے یہ سازش اور اس کے پس پردہ عناصر زیادہ دیر تک چھپے نہ رہ سکے، چنانچہ انہوں نے فی الفور خود کو اس نام نہاد تحریک سے الگ کر کے اس کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ (واضح رہے کہ اس زمانے میں قادیانی خود کو مسلمانوں سے الگ نہیں قرار دیتے تھے۔ بلکہ وہ اندر ہی اندر ان کی جڑیں کھوکھلی کرتے تھے)

کشمیر چلو تحریک سے لے کر خود کو مسلمانوں سے الگ قرار دینے کی درخواست اور اس کے بعد باؤنڈری کمیشن میں پنجاب کی غیر منصفانہ تقسیم تک جماعت احمدیہ نے جو کردار ادا کیا۔ اس کی وجہ ان کے ساتھ کیا گیا ایک خوشنما وعدہ تھا۔ جس کو عملی روپ دلوانے کے لیے قادیانی تسلسل کے ساتھ ایک خاص کردار ادا کر رہے تھے۔ قادیانیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ خود کو مسلم اکثریت سے الگ قرار دے لیں تو انہیں پاکستان کے ساتھ جانے والے دو

صفحہ 87

علاقوں سیالکوٹ اور شکرگڑھ سے لے کر کشمیر تک ایک خطہ زمین دے دیا جائے گا جس کا مرکز قادیان ہو گا اور اس کی حیثیت ویٹی کن سٹی کی سی ہو گی جو عیسائی دنیا کا مرجع ہے۔

حالات پر کس کا بس چلتا ہے۔ 1947ء کی ہیجان انگیز فضا میں سکھوں کی سمجھ میں یہ باریک نکتہ نہ آسکا۔ انہوں نے جب مسلمانوں کو تہہ تیغ کرنے کے لیے بلم اور تلوار اٹھائی تو مسلمانوں کی سی وضع قطع اور اسی انداز میں عبادت کرنے والے قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی تمیز نہ کر سکے۔ اس طرح قادیان ' گورداس پور ' فیروز پور اور امرتسر سے قادیانیوں کو بھی مسلمانوں کے ساتھ ہی نکلنا پڑا۔ موٹے دماغ رکھنے والے سکھوں نے اپنی بے تدبیری سے مسلمانوں کے خلاف تیار کی گئی ایک منظم سازش ناکام بنادی تھی ' خیر میں شر برآمد ہونے کا مقولہ ایسے موقع پر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔

1947ء میں قادیان کے نام سے ایک نیا ویٹی کن سٹی بنانے کی سازش تو ناکام ہو گئی لیکن اس مذہبی فرقے پر بھارت کی مہربانیوں میں کبھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ان برسوں میں جب مشرقی پنجاب میں سکھ بغاوت عروج پر تھی ' بھارت نے کسی غیر ملکی کے ' خواہ وہ سکھ ہی کیوں نہ ہو ' پنجاب میں داخلے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ لیکن اس سارے زمانے میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے قادیانیوں کو قادیان جانے کی مکمل آزادی تھی جو مشرقی پنجاب ہی کا ایک قصبہ ہے۔ جسے غلام احمد قادیانی کے شوق نبوت نے شہرت دلا دی۔

قیام پاکستان اور اس کے بعد قرار داد مقاصد کی منظوری نے ہر اس قوت کی امیدوں پر اوس ڈال دی جو اولاً قیام پاکستان ہی کا مخالف تھا۔ لیکن پاکستان کو بننے سے نہ روک سکنے پر وہ اس ملک کو ایک خاص رنگ میں رنگنے کا خواہش مند تھا یا برباد کر دینے کا۔ ان قوتوں میں قادیانی بھی شامل تھے ' عیسائی بھی اور بعض دیگر سیاسی اور غیر سیاسی گروہ بھی۔ کیونکہ یہ عناصر کسی بھی طور پر ایسا پاکستان قبول نہیں کر سکتے تھے۔ جس کی شناخت اسلام ہو ' صرف اور محض اسلام۔

گزشتہ دہائی میں توہین رسالت کا قانون منظور ہوا تو دو مذہبی اقلیتوں نے اسے براہ راست خود پر حملہ تصور کیا۔ جن میں سرفہرست قادیانی اور دوسرے نمبر پر عیسائی تھے۔ اس موقع پر ان دونوں اقلیتوں کے مفادات مشترک ہو چکے تھے۔ پنجاب میں جن علاقوں میں عیسائی آبادی کا زیادہ ارتکاز ہے ' ان میں سیالکوٹ ' لاہور ' اوکاڑہ وغیرہ کے سرحدی

صفحہ 88

علاقے خاص طور پر شامل ہیں۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ ان ہی علاقوں میں قادیانی بھی کافی تعداد میں موجود ہیں کیونکہ یہ وہی علاقے ہیں جو قادیان کے قریب ترین ہیں۔ ان علاقوں میں قیام پاکستان سے پہلے ہی غلام احمد قادیانی کے اثرات رہے ہیں۔ توہین رسالت کے قانون نے ان دونوں اقلیتوں کے مفادات یکجا کر دیے اور انکے درمیان ایک غیر مرئی رشتہ اتحاد قائم کر دیا۔ اس غیر اعلانیہ اتحاد نے آگے چل کر پاکستان میں غیر معمولی صورت حال پیدا کر دی۔ کچھ عرصہ قبل انجام کو پہنچنے والے سیاسی، آئینی اور عدالتی بحران سے قبل ملک بھر میں اور بالخصوص پنجاب میں جاری فرقہ وارانہ دہشت گردی کا اس سے گہرا تعلق تھا۔

ان دونوں اقلیتی فرقوں نے اس سلسلے میں دو محاذوں پر کام کیا۔ منظم منصوبہ بندی کے ساتھ ملک میں غیر سرکاری انجمنوں (NGOs) کا ایک جال بچھایا۔ اس سلسلے میں سر ظفر اللہ خاں کے بھتیجے ظفر چوہدری نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ جبکہ جماعت احمدیہ کے موجودہ امیر مرزا طاہر احمد کی ہدایات پر سندھ کے سابق عبوری وزیر اور ریٹائرڈ بیوروکریٹ کنور ادریس بھی اہم خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ غیر سرکاری انجمنوں نے، جن میں قادیانی شوہر رکھنے والی معروف قانون داں عاصمہ جہانگیر کا ادارہ بھی شامل ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں اور ان تنظیموں کے سرپرست اداروں سے روابط استوار کیے اور انسانی حقوق اور پاکستانی قوانین کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جو کسی نہ کسی شکل میں اب بھی جاری ہے۔

دوسرا محاذ دہشت گردی کا تھا۔ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے جو واقعات ہوئے ان کا سرسری جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں سے بیشتر واقعات بالخصوص ان سرحدی علاقوں میں ہوئے جن میں یہ دو مذہبی اقلیتیں آباد ہیں۔

حال ہی میں چند ذمہ داروں نے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقی پنجاب (بھارت) کے قصبے قادیان میں بھارتی حکومت نے ایک کیمپ قائم کیا ہے۔ بھارتی خفیہ ادارے ریسرچ اینڈ انالیسز ونگ (را) کی زیر نگرانی چلنے والے اس کیمپ میں پاکستان سے آنے والے نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تربیت حاصل کرنے والے ان نوجوانوں کو جماعت احمدیہ کے توسط سے قادیان بھیجا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں میں احمدی یا قادیانی بھی ہوتے ہیں

صفحہ 89

اور عیسائی بھی۔ ان نوجوانوں کو قادیان جانے سے پہلے اور واپسی پر ان ہی سرحدی علاقوں میں قادیانیوں اور عیسائیوں کے گھروں میں پناہ دی جاتی ہے اور بنیادی نوعیت کی معلومات اور تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ یہ دہشت گرد جرائم کرنے کے بعد ان ہی علاقوں میں پناہ بھی لیتے ہیں۔ واضح رہے کہ شکر گڑھ سے قادیان کا فاصلہ ۲۰‘ ۲۵ میل سے زیادہ نہیں ہے۔

پاکستان میں کی جانے والی فرقہ وارانہ دہشت گردی کی ایک تکون شکر گڑھ (اور اس سے ملحقہ علاقے)‘ آکسفورڈ (برطانیہ‘ جس کے قریب جماعت احمدیہ کا مرکز ہے) اور قادیان ہے۔ ان تینوں علاقوں میں قادیانی رہنماؤں کی آمد و رفت کا ریکارڈ معلوم کیا جائے تو اس کے نتیجے میں ایک حیرت انگیز حقیقت وجود میں آتی ہے۔ رپورٹ میں اس سلسلے میں بعض نام بھی پیش کیے گئے ہیں۔ جن کے افشاء نے حکومتی حلقوں میں حیرت اور بے چینی پیدا کر دی ہے اور اس سلسلے میں غیر معمولی تیز رفتاری سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت‘ اسرائیل اور عیسائی دنیا کے جماعت احمدیہ سے روابط معمول کی بات رہے ہیں اس لیے ان پر کبھی حیرت ظاہر نہیں کی گئی۔ لیکن ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے اور اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کے دور میں توہین رسالت کا قانون منظور ہو جانے کے بعد ان روابط میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا اور جیسے جیسے یہ روابط بڑھتے گئے‘ اسی تیزی کے ساتھ پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی شیعہ سنی فسادات اور خونریزی میں بھی اضافہ ہوا۔ یہ رابطے اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گئے جب ۱۹۸۴ء میں مرزا طاہر احمد اچانک لندن روانہ ہوگئے۔ اس کے بعد رابطے استوار کرنے کے بعد منصوبے بنانے اور ان پر عمل درآمد میں تیزی اور بہتری پیدا ہوئی۔

رپورٹ میں پاکستان کی انتظامیہ اور سیاست میں جماعت احمدیہ کے اثر و نفوذ اور اس کے سربراہ مرزا طاہر احمد کی شخصیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

پاکستان قائم ہوا تو بیورو کریسی میں قادیانی بھاری تعداد میں موجود تھے۔ جبکہ مسلح افواج میں بھی ان کی تعداد قابل لحاظ تھی اور ایک حد تک موثر بھی۔ اس صورت حال سے خاص طور پر بیورو کریسی میں غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی۔ ملازمتیں اور ترقیاں صرف ان ہی لوگوں کو ملتیں جو قادیانی ہوتے یا جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کی سفارش

صفحہ 90

کی گئی ہوتی۔ جو اس جماعت میں سفارش حاصل نہ کر پاتے یا اس میں عار محسوس کرتے ملازمت و ترقی سے محروم رہتے۔ یہ وہی زمانہ تھا جب پاکستان میں احمدیوں کے خلاف پہلی تحریک چلی‘ یعنی ۱۹۵۳ء۔ رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ تحریک ختم نبوت شروع ہونے میں جہاں دیگر عوامل موجود تھے۔ وہیں ایک عنصر یہ بھی تھا جس نے ملک بھر میں بالخصوص پنجاب میں اقتصادی مسائل پیدا کر دیے تھے۔

مرزا طاہر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہی وہ شخصیت تھی جس کی وجہ سے جماعت احمدیہ نے سیاست میں عمل دخل شروع کیا ورنہ اس سے قبل وہ خود کو اس شعبے میں کمزور محسوس کرتی تھی۔ ۱۹۶۷ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادیں رکھ رہے تھے‘ مرزا طاہر احمد بھی ان کے دائیں بائیں ہی تھے۔ ان دنوں مرزا ناصر احمد جماعت احمدیہ کے سربراہ تھے۔ مگر ایک شرمیلے اور قدرے کم ہمت شخص تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ جماعت احمدیہ سیاست میں ٹانگ اڑا کر اپنے لیے مخالفت کا سامان کرے۔ لیکن مرزا طاہر احمد نے امیر جماعت کی مرضی کے علی الرغم پیپلز پارٹی میں اثر و رسوخ پیدا کیا۔ اسی زمانے میں مرزا طاہر اہم اداروں کی نظر میں آگئے اور ان کے بارے میں رائے بنی کہ یہ نوجوان جارح طبیعت‘ مسلح سرگرمیوں کا خواہش مند اور ایک ذہین آدمی ہے۔ نوجوان مرزا طاہر نے مرزا ناصر احمد کی زندگی میں ہی جماعت احمدیہ کا سیاسی رنگ اس قدر متحرک اور مضبوط بنا دیا کہ امیر جماعت احمدیہ بے بس ہوتے چلے گئے۔ مرزا طاہر بھٹو کے اس قدر قریب تھے کہ جب وہ اقتدار میں آگئے تو ان کی حیثیت اہم سیاسی مشیر اور عملاً حکمران کی سی ہو گئی۔ اب قادیانی مزید طاقتور ہو چکے تھے۔ اس سے قبل ۱۹۶۵ء میں یہ عنصر بھٹو کے ذریعے بھارت سے جنگ کرا کے پاکستان کا وجود ختم کرنے کی سازش کر چکا تھا۔ اس مرحلے پر بھی ان کا مطمع نظر ایک الگ ریاست کا قیام تھا جس کا خواب انہوں نے چالیس کی دہائی میں دیکھا تھا‘ اس وجہ سے ملک کی محب وطن مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ خود فوج میں تشویش پیدا ہوئی اور ملٹری انٹیلی جنس نے ان کی سرگرمیوں اور حساس عہدوں پر ان کے لوگوں کے بارے میں رپورٹ اور فہرستیں تیار کرائیں۔ اس کے کچھ عرصے بعد ان کے خلاف بھرپور عوامی تحریک چلی۔ جس کے نتیجے میں بھٹو کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اسی زمانہ میں حساس عہدوں پر متعین کئی قادیانی ملک سے فرار ہوئے‘ فوج

صفحہ 91

اور دیگر اداروں سے مستعفی ہوئے اور وہ لوگ جو مجبوریوں اور مالی فوائد کے سبب قادیانی ہو گئے تھے۔ از سر نو مسلمان ہو گئے جس کی ایک مثال ضلع جہلم کا معروف خاندان ہے۔ راجہ منور‘ جس کے چشم و چراغ ہیں۔ جنہوں نے اعلان کر دیا کہ وہ مسلمان ہیں۔ ان کے دو بھائی راجہ منصور اور راجہ باسط فوج میں تھے۔ ایک بھائی راجہ غالب پنجاب میں ڈائریکٹر ایجوکیشن تھے۔ اس جیسی دوسری کئی مثالوں کی وجہ سے اب بھی سمجھا جاتا ہے کہ اگر مسلمان علماء کرام حکمت اور دردمندی کے ساتھ بھرپور کوشش کریں اور اس میں سرکاری ذرائع ابلاغ بھی ان کا ساتھ دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اب بھی ہزاروں کی تعداد میں قادیانی دائرہ اسلام میں داخل ہوں کیونکہ یہ لوگ نہ اس مذہبی گروہ کے اصل عزائم سے باخبر ہیں اور نہ ان کی سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع رکھتے ہیں۔ تجویز کیا گیا ہے کہ اگر محبت اور اخلاص کے ساتھ انہیں مخاطب کیا جائے تو اس مقصد میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ان کی بڑی تعداد حق کی متلاشی اور محب وطن ہے۔ مگر ان سے آج تک درست انداز میں کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد جماعت احمدیہ اور اس کے سیاسی ونگ کے بارے میں حساس اداروں نے جو معلومات جمع کی تھیں۔ ان سے یہ بات ایک بار پھر منکشف ہوئی تھی کہ یہ عنصر قادیان یا کسی اور مناسب نام سے ایک ریاست بنانا چاہتا ہے جس کی ہیئت ترکیبی ویٹی کن سٹی کی طرز پر ہوگی۔ یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اس مقصد کے لیے بھارت نے ہمیشہ ان کی سرپرستی کی ہے اور بھارت کی طرف سے انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ اگر یہ اپنی جدوجہد اور حکمت عملی سے سیالکوٹ اور شکرگڑھ کا سرحدی علاقہ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آجائیں تو قادیان اور ملحقہ علاقوں سمیت کشمیر ان کو دے دیا جائے گا۔ جہاں ان کی مرضی کی خود مختار حکومت بلکہ ریاست قائم ہوگی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ قادیانیوں نے ۷۰ء اور ۸۰ء کی دہائیوں میں بالکل اسی طرح شیعہ اور اسماعیلی فرقے کی طرف بھی دست تعاون بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ جس طرح اب عیسائیوں کی طرف بڑھایا ہے مگر اس کوشش میں انہیں ناکامی ہوئی تھی۔

اب چند برسوں سے عاصمہ جہانگیر اور ان جیسے انسانی حقوق کے دیگر نام نہاد علمبرداروں کی مدد سے پاکستان کو انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے بدنام کرنے کی کوشش

صفحہ 92

کی، جس کی پشت پر ظفر چوہدری موجود رہے ہیں۔ اسی زمانہ میں پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کرائی گئی اور بعض قادیانیوں اور عیسائیوں کو قتل کرایا گیا تاکہ توہین رسالت کے قانون کی آڑ میں پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کیا جائے۔

رپورٹ میں بعض حوالوں کے ساتھ یہ بات ثابت کی گئی ہے کہ چند ماہ قبل قتل و غارت گری سے لے کر موجودہ آئینی، دستوری اور عدالتی بحران تک اس عنصر کی کار فرمائی رہی ہے۔ حالیہ عدالتی بحران پیدا کرنے کے لیے ۳۲ کروڑ امریکی ڈالر استعمال کیے گئے تھے، اس بھاری رقم کی تقسیم اور استعمال بھی انہی کے ذریعے عمل میں آیا۔

اس بحران کا سبب یہ تھا کہ ملک کے نظریاتی تشخص پر کاری ضرب لگائی جائے تاکہ یہ ایک اسلامی ریاست کے بجائے لادین ریاست میں تبدیل ہو جائے، اس صورت میں اس ملک کا عالمی کردار ہی نہیں، دفاعی صلاحیتیں بھی متاثر ہوں گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے:

اولاً: کوشش کی جائے کہ ۷۳ء کا دستور ہی ختم ہو جائے۔

ثانیاً: دستور ختم نہ کرایا جاسکے تو کم از کم آٹھویں ترمیم (پوری کی پوری) ہی ختم کرا دی جائے۔ اس کے بعد دوسری ترمیم (جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے) ختم کرانے کی کوشش کی جائے۔

اس مقصد کے لیے سیاسی اور عسکری، ہر دو شعبوں میں سیکولر قیادت کو ابھارنے اور کامیاب کرانے کی کوشش کی جائے جیسا کہ حالیہ بحران کا بنیادی مقصد تھا۔

اگلے دو برسوں کے لیے جس عبوری انتظام میں ایک بلند منصب کے لیے جس شخصیت کا نام تجویز کیا تھا وہ اپنے قول و عمل اور کردار کے حوالے سے خالصتاً سیکولر شخصیت ہے۔ اس کے بارے میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا کوئی ایسا شخص، جو نہ صرف نظریاتی اعتبار سے قابل قبول نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ متعدد اخلاقی عوارض لگے ہوئے ہیں وہ پاکستان جیسی ریاست میں کسی ذمہ دار منصب اور بالخصوص نظام عدل میں جگہ پانے کا آئینی اعتبار سے اہل ہو سکتا ہے؟ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ امر قطعی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے کہ ملک میں پیدا ہونے والے ہر بحران کے پس پردہ کسی نہ کسی اعتبار سے قادیانی موجود ہوتے ہیں اور اس بار بھی وہ تندہی سے سرگرم عمل رہے ہیں،

صفحہ 93

جس کا ثبوت مرزا طاہر احمد کے حالیہ بیان سے بھی ہوتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ بھارت انہیں قادیان نامی ریاست بنانے کے لیے مشرقی پنجاب کا قصبہ قادیان‘ ملحقہ علاقے اور کشمیر دے یا نہ دے وہ بہر حال ویٹی کن سٹی طرز کی ایک آزاد ریاست بنانے کے لیے کوشاں رہا ہے‘ ان کے اس موقف اور مقصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس سلسلے میں انہیں بھارت‘ اسرائیل اور عیسائی دنیا کی ٹھوس مدد و اعانت حاصل ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ :

ملاقاتوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔

کھرل (سابق وفاقی وزیر)‘ اعتزاز احسن‘ آفتاب احمد شیر پاؤ اور ناہید خان شامل ہیں۔ رابطوں اور سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جائے۔

کے معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور اس مسئلے کو نہایت باریک بینی اور احتیاط کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا جائے۔

اور ظفر چوہدری جیسے ان کے سرپرستوں کی سرگرمیاں واچ کی جائیں اور خاص طور پر ان کے مالی امور کی باقاعدگی اور سختی کے ساتھ چھان بین کی جائے۔

سرگرمیوں پر نظر رکھی جائے۔ ان علاقوں سے گزر کر ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کرنے کے لیے نوجوان بھارت جاتے ہیں اور وہاں سے واپس آتے ہیں۔ یہ راستے بند کیے جائیں اور ان خاندانوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے جو دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں اور ان کے لیے سہولتیں بہم پہنچاتے ہیں۔

سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی آمد و رفت بڑھ جاتی ہے۔ جرائم کرنے کے بعد دہشت گرد اس علاقے سے پڑوسی ملک فرار ہو جاتے ہیں۔ اس زمانے میں اس علاقے پر

صفحہ 94

کڑی نظر رکھی جائے تو دہشت گردوں پر آسانی کے ساتھ گرفت پائی جا سکتی ہے۔ جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے جال اور ان کے سرپرستوں کے بارے میں ہولناک انکشافات ہو سکتے ہیں۔

(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان۔

(جنوری ۱۹۹۸ء)

صفحہ 95

قادیانی ریشہ دوانیوں کا پس منظر

ملت کے لیے لمحہ فکریہ

جناب قاضی محمد اسلم سیف صاحب

”پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے، یہاں وہ اقلیت جو تین فیصد سے زیادہ نہیں، ملت کی شہہ رگ ان کے ہاتھوں میں تھمادی گئی ہے۔“

یہ خبر یقیناً قارئین کے مطالعہ میں آچکی ہو گی کہ بھارت میں عمومی طور پر مسلمانوں اور سکھوں کو فوج میں بھرتی نہیں کیا جارہا ۔ بلکہ فوج کی اہم پوسٹوں سے انہیں جبری ریٹائر کیا جارہا ہے جبکہ قیام پاکستان کے بعد بھارت کی آرمی، بحریہ اور فضائیہ میں تقریباً چالیس فیصد سکھ شامل تھے اور فوج کی اہم پوسٹیں ان کے پاس تھیں ۔ حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ بھارت میں ایک کروڑ سے زائد تعداد پر مشتمل سکھ اقلیت ہیں ۔ مشرقی پنجاب اور صوبہ ہریانہ کے نصف اضلاع میں سکھوں کی اکثریت ہے۔ ادھر بھارت میں مسلمان سب سے بڑی اقلیت ہے جو بقول سید عبداللہ شاہ بخاری ۲۰ کروڑ سے زائد تعداد رکھتی ہے ۔ کشمیر مسلمان اکثریت کی ریاست ہے ۔ کیرالہ اور جنوبی ہند کے بعض صوبوں میں مسلمانوں کی قوت سے انکار نہیں ہو سکتا ۔ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے دیہات اور شہروں میں مسلمان بہت بڑی تعداد اور قوت رکھتے ہیں ۔ بھارت میں بہت سی ایسی صنعتیں ہیں ۔ جن پر مسلمانوں کا قبضہ اور کنٹرول ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ان کو نہ صرف ملٹری میں بھرتی ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ان کو بڑی تیزی سے فوج سے نکالا جارہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا باوا

صفحہ 96

عالم ہی نرالا ہے۔ یہاں وہ اقلیت جو تین فیصد سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ ملت کی شہ رگ ان کے ہاتھ میں تھمادی گئی ہے اور ملک میں جو تباہی و بربادی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ان میں ٩۶٪ حصہ انہی ملت فروشوں اور ملک کے غداروں کا ہے۔ ہماری اس سے مراد قادیانی اور ان کے تربیت یافتہ افسران ہیں۔

قادیانیت کی خشت اول

سر فضل حسین بٹالوی آل انڈیا مرکزی کونسل کے رکن تھے۔ ان کے فوت ہو جانے کے بعد انگریز بہادر نے بڑی چابکدستی سے مسلمانوں کے سینوں پر مونگ دلتے ہوئے مشہور سکے بند قادیانی چوہدری سر ظفر اللہ خان آنجہانی کو اس کا ممبر نامزد کردیا۔ قیام پاکستان کے بعد انگریز کی ہوشیاری اور جناب محمد علی جناح کی مذہب سے ناواقفیت کی وجہ سے پاکستان کی ایک نہایت اہم وزارت پر سر ظفر اللہ کو براجمان کر دیا گیا یعنی سر ظفر اللہ خان کو پاکستان کا وزیر خارجہ بنا دیا گیا۔ اسی وقت سے ہماری خارجہ پالیسی غلط ہوگئی اور امریکہ اور برطانیہ کے محور کے ارد گرد گھومنا شروع ہوگئی اور امریکہ اور برطانیہ کی آشیرباد سے روس اور سوشلسٹ ممالک کو خواہ مخواہ اپنا دشمن بنالیا۔ پاکستان کی جمہوری گاڑی کو لائن سے اتارنے میں ظفر اللہ خان کا بڑا دخل ہے۔ یہ اس قدر پکا قادیانی ہے کہ بانی پاکستان کی وفات کے موقع پر یہ ان کے جنازے میں شامل نہیں ہوا کیونکہ تمام مرزائیوں کو مسلمانوں کے جنازے میں شرکت کرنے سے ان کے مذہبی راسپوٹینوں نے انہیں منع کر رکھا ہے۔ سر ظفر اللہ خان قادیانی سے بانی پاکستان کے جنازے میں شرکت کے لیے کہا گیا تو اس نے لگی لپٹی رکھے بغیر کہا کہ یا تو میں مسلمان حکومت کا کافر وزیر ہوں یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر۔ نہ کافر مسلمان کے جنازے میں شریک ہوتا ہے اور نہ مسلمان کافر کے جنازے میں شریک ہوتا ہے۔ پاکستان کے بہی خواہوں اور ملت اسلامیہ کے مخلصین کی آنکھیں کھولنے کے لیے سر ظفر اللہ خان کا یہ قول کافی تھا۔ لیکن کسی مسلم لیگی کو سر ظفر اللہ خان کا نوٹس لینے کی توفیق حاصل نہ ہوئی۔ یہیں سے ملت کی بربادی اور پاکستان کی تباہی کی خشت اول رکھ دی گئی اور سر ظفر اللہ خان نے اپنی وزارت خارجہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بے شمار قادیانی بزرجمہروں کو پاکستان کے اہم اور حساس عہدوں پر فائز کیا اور

صفحہ ۹۶

سفارت کاروں کے پردے میں سکے بند قادیانیوں کو دنیا بھر میں پھیلا دیا۔

سر ظفر اللہ خان کی سازشیں

سر ظفر اللہ خان نے اپنی وزارت خارجہ کو پاکستان کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ قادیانیت کے فروغ کے لیے استعمال کیا اور خاندانی قادیانیوں کو بڑے لطیف اور سازشی انداز میں افسر بنایا۔ تعلیم، نشر و اشاعت، مالیات، داخلی و خارجی امور میں فوج کی تینوں قسموں کی اہم پوسٹوں پر قادیانیوں کو براجمان کیا۔

لیاقت علی خان کے سانحہ شہادت کے بعد ایک مفلوج اور شرابی انسان کو گورنر جنرل بنانے میں بھی سر ظفر اللہ خان کی شاہ دماغی کو بڑا دخل تھا۔ پاکستان کی سیاسیات میں افسر شاہی کے مسلط کرنے میں سر ظفر اللہ خان نے ایک بھر پور کردار ادا کیا۔ سر ظفر اللہ خان نے مفلوج گورنر جنرل کے ذریعے ۱۹۵۴ء میں پاکستان کی اسمبلی تڑوائی اور مولوی تمیز الدین خان مرحوم کی اس کے خلاف دائر کردہ رٹ کو جسٹس منیر کے ذریعے ناکام کروایا اور سمجھ لیجئے کہ اسی وقت سے ہماری وفاقی اسمبلیاں چند چنے ہوئے سیاسی اپاہج مہروں کے رحم و کرم پر رہیں۔ اسکندر مرزا جو سرنگاپٹم کے مشہور غدار مرشد آباد کے نواب خاندان کے غدار سربراہ میر جعفر کی اولاد میں سے تھا۔ اس کو ملٹری سے سول سروس میں لایا گیا اور پھر اپنی ذہنی سازشوں سے سول سروس کے شاہ دماغوں سے ملی بھگت کر کے اس کو وزارت داخلہ دی گئی۔ پھر یہ اپنے سازشی اور مکارانہ ذہن کے مطابق آگے بڑھتا گیا تا آنکہ یہ گورنر جنرل پاکستان بن گیا۔ اسی کے زمانہ میں ۱۹۵۶ء کا دستور بنا اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے انتخابات کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ ۱۹۵۶ء کے دستور کے مطابق انتخابات میں اسے اپنی سیاسی موت نظر آئی، چنانچہ اس نے پاکستان کی سیاست میں اتھل پتھل شروع کر دی اور چار پانچ مہینوں میں چار پانچ وزارتیں بدلیں۔ سید حسین شہید سہروردی، چوہدری محمد علی، محمد علی بوگرہ، مسٹر ابراہیم اسماعیل چندریگر اور سر فیروز خان نون کو تھوڑے عرصہ کے لیے وزارت عظمیٰ دینا اور لینا ان کے سازشی ذہن کی عکاسی تھی۔ صدر غلام اسحاق خان کی طرح ون یونٹ اسمبلی میں مسلم لیگ کو سازش کے ذریعے شکست دینے اور ہارس ٹریڈنگ کی روشنی میں ری پبلیکن پارٹی کو اقتدار بخشنے میں ان کی سازشوں کو ہی عمل دخل حاصل تھا۔

صفحہ 98

۱۹۵۶ء کے انتخابات کو سبوتاژ کرنے اور ملک پر مارشل لاء کی لعنتوں بلکہ نحوستوں کو مسلط کرنے میں ان کے خاندانی غدارانہ بھرپور کردار کا نتیجہ تھا۔ ایوب خان نے ملک کے دفاع کو مستحکم کرنے اور صنعتی اور زرعی ترقی دینے میں ناقابل فراموش خدمات سرانجام دیں لیکن جمہوریت کی تباہی میں اس نے بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور یہ سارا سیاسی عمل سر ظفر اللہ کی باقیات سیئات ہے۔

بین الاقوامی عدالت

سر ظفر اللہ خان اپنے محسنوں، قادیانیت کے بہی خواہوں اور اسلام کے دشمنوں امریکہ اور برطانیہ کے ذریعے عالمی اور بین الاقوامی ہیگ کی عدالت پر براجمان ہو گیا اور وہاں بیٹھ کر قادیانیت کے فروغ اور پاکستان کی تباہی و بربادی کے لیے اس نے جو کردار ادا کیا وہ اسلامی تاریخ کا ایک ناپاک اور سیاہ باب ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ عالم اسلام کے مسلمان حکمرانوں نے سر ظفر اللہ خان کو نہ سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہی ان سے پیدا ہونے والے خطرات کو بھانپ سکے۔ ہم جیسے دیوانوں نے اس وقت بھی خطرے کی گھنٹی بجائی تھی۔ لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ ہماری کیفیت تو قہر درویش برجان درویش کی سی تھی۔ سر ظفر اللہ خان نے اس منصب سے بھی ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیوں کو عالمی طور پر حساس مقامات پر فٹ کرنے کی مذموم سعی فرمائی۔ حیرت ہے کہ جنرل ضیاء الحق جیسے اسلام کے دعویدار اس غیر مسلم، اسلام دشمن، پاکستان دشمن کی بار بار عیادت فرماتے رہے۔

بلوچستان کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کا منصوبہ

مرزا محمود اور قادیانی شاہ دماغوں اور پاکستانی قادیانی افسروں نے بلوچستان کو امریکہ اور برطانیہ کی آشیرباد سے قادیانی اسٹیٹ بنانا چاہا۔ اللہ بھلا کرے، احرار لیڈروں کا جن کے زور دار تعاقب نے ان کے خواب کی تعبیر کو پریشان کر دیا۔ بلکہ قادیانیوں کی سازش کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹ گیا۔ ۱۹۵۳ء کی زور دار تاریخی تحریک ختم نبوت انہی قادیانیوں کے ردعمل کا جواب تھا۔ یہاں بھی قادیانیوں نے تحریک کو پٹڑی سے اتارنے بڑا پٹڑی سے اتارنے اتارنے اتارنے میں سے

صفحہ 99

جارحانہ اور سنگدلانہ کردار ادا کیا۔ جسٹس منیر جیسے بے بصیرت انسان نے اسے فسادات پنجاب کا نام دیا۔

پاکستان کی غلط اقتصادی منصوبہ بندی

پاکستان کی غلط اقتصادی منصوبہ بندی‘ مشرقی اور مغربی پاکستان میں معاشی تفاوت کو فروغ دینے میں قادیانی شاہی گھرانے کے چشم و چراغ ایم ایم احمد نے بھرپور کردار ادا کیا۔ وزارت مالیات کی سب سے بڑی پوسٹ اس کے پاس تھی۔ معاشی اقتصادی اور صنعتی منصوبہ بندی کی تسوید و ترتیب میں اس نے اسلام دشمنی اور پاکستان دشمنی کو پیش نظر رکھ کر ایسا انداز اختیار کیا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں اختلافات کی خلیج بڑھتی چلی گئی۔ اس کا ایک ہی مقصد تھا کہ پاکستان کے حصے بخرے ہو جائیں۔ افراتفری عام ہو جائے‘ پاکستان اقتصادی بدحالی‘ معاشی ناہمواری اور صنعتی ناکامی میں مفلوج ہو کر رہ جائے تاکہ قادیانی اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھ سکیں اور اپنی میتوں کو پوری آزادی سے قادیان میں دفنائیں۔ انہی قادیانی سازشوں کے نتیجے میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ پیش ہوا۔ اس روز پوری ملت اسلامیہ و پاکستانیہ خون کے آنسو رو رہی تھی اور قادیانیوں کے گھروں میں گھی کے چراغ جل رہے تھے۔

سیاسی انتقام

قادیانی منصوبہ بندی یہ تھی کہ اقتصادی‘ معاشی‘ صنعتی اور سیاسی اعتبار سے پاکستان میں شدید انتشار پیدا کیا جائے۔ پاکستان کی اقتصادیات کو تباہ کرنے میں ایم ایم احمد اپنا کردار ادا کر چکا تھا اور سیاسی لائن سے پاکستان کے حکمرانوں کو اتارنے میں ایم این فاروقی نے ملت دشمنی اور پاکستان دشمنی کا وہ کردار ادا کیا کہ ہم صدیوں تک اس کے درد کی ٹیسیں محسوس کرتے رہیں گے۔ ایوب خان‘ یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو اسی کے نتیجے میں برسر اقتدار آئے اور ملک کی سیاسی افراتفری میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ایوب خان کا B.D نظام یحییٰ خان کا ون مین ون ووٹ اور ون یونٹ کی تباہی اور ذوالفقار علی بھٹو کا یہ کہنا کہ ادھر تم‘ ادھر ہم‘ اسی قادیانی کا کیا دھرا ہے۔

صفحہ 100

۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت

ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر چناب ایکسپریس پر آنے والے نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کی سنگدلانہ پٹائی اور خون خرابہ سے مرزائیوں کی جارحیت کا اندازہ بخوبی لگ سکتا ہے۔ مرزائی کس قدر منہ زور، بے لگام اور جارحانہ عزائم رکھتے تھے۔ اس کو وہی حضرات جانتے ہیں۔ جنہوں نے مجروح، مضروب اور زخمی طالب علموں کو دیکھا تھا۔ اس کے رد عمل میں ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت شروع ہوئی۔ جس میں ملت اسلامیہ کے تمام اعضاء جوارح، دینی اور فقہی جماعتوں نے بالاتفاق اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو بالاتفاق غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا لیکن اس وقت کے حکمرانوں نے یہ کہہ کر اسے اپنا عظیم کارنامہ قرار دیا کہ میں نے ۹۰ سال کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ لیکن اس کے تقاضے پورے نہ کیے۔ جس کی وجہ سے قادیانی زخمی سانپ کی طرح سے مزید خطرناک ہو گئے اور پہلے سے زیادہ جارحیت شروع کر دی۔ مردم شماری میں حصہ نہ لیا، نہ ووٹ بنائے۔ عملاً وفاقی اسمبلی کے فیصلے کو قادیانیوں نے تسلیم نہیں کیا۔

جنرل ضیاء الحق نے بھی قادیانیت کا آرڈیننس نافذ کر کے اسے مزید بہتر نتائج خیز بنانا چاہا لیکن وہ بھی اس کے تقاضے پورے نہ کر سکے۔ حالانکہ سب سے پہلی بات یہ تھی کہ ان کی مردم شماری ہوتی، ان سے تمام کلیدی اسامیاں چھین لی جاتیں۔ حساس محکموں سے ان کو الگ کر دیا جاتا۔ نشریاتی، مالیاتی، سائنسی اور تینوں فوجوں سے ان کو فی الفور خارج کیا جاتا۔ ان کی تعداد کے مطابق ان کو ملازمتیں دی جاتیں۔

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

سیاسی مفرور

اس کے مذہبی راسپوٹین اور سربراہ مرزا طاہر احمد پاکستان سے بھاگ کر اپنے آقایان ولی نعمت انگریز کے پاس انگلینڈ پہنچ گئے اور وہیں جا کر ڈینگیں مارنا شروع کیں لیکن ہماری حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سیاسی مفرور کو واپس لایا جاتا۔ اس پر بغاوت کا مقدمہ قائم کیا جاتا۔ قادیانیوں نے جنرل ضیاء الحق کی موت کے حادثہ کو قادیانی

صفحہ 101

دشمنی قرار دیا۔ ان کو بھی شامل تفتیش کیا جاتا۔ خصوصاً مرزا طاہر کو اس میں ایک ملزم کی حیثیت سے پیش کیا جاتا لیکن اس ملک میں دن دیہاڑے درجنوں کے لحاظ سے علماء کرام شہید کیے گئے۔ سب سے پہلے بھرے جلسے میں وزیر اعظم کو گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ سابق وزیر گولیوں سے بھون ڈالے گئے۔ لیکن آج تک ان کے قاتلوں کا سراغ نہیں ملا۔ البتہ صرف ایرانی سفارت کار صادق گنجی کے قاتلوں کو گرفتار کیا گیا۔ مرزا طاہر سیاسی مفرور دنیا بھر کی سازشی اسلام دشمن تحریکوں سے نہ صرف ساز باز رکھتا ہے۔ بلکہ ان سے ان کی گاڑھی چھنتی ہے اس نے وہاں جگہ حاصل کر کے وہاں پر اپنے دفاتر بنائے ہیں اور اس کا نام اسلام آباد رکھا ہے۔ اب ان کے سالانہ جلسے قادیان بھارت میں ہوتے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں نے قادیانیوں کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ان کو آلہ کار بنا رکھا ہے اور ان کے لیے زر مبادلہ کی تجوریوں کے منہ کھول رکھے ہیں۔ اب بھی اگر پاکستانی حکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور ان کو نوشتہ دیوار نظر نہیں آتا اور وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتے تو ہمیں اپنی بد نصیبی پر خون کے آنسو رونا چاہیے۔

سندھو دیش کا فتنہ

آٹھ دس سال سے سندھ میں جو افراتفری جاری رہی۔ سندھیوں اور غیر سندھیوں میں جو شدید بغض پیدا کیا گیا۔ ان کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنایا گیا۔ جس کے نتیجے میں ایک مسلمان نے مسلمان بھائی کا گلا کاٹا اور جس بھونڈے انداز سے وطنیت کی آگ کو بھڑکایا گیا اور علاقائی عصبیت کو فروغ دیا گیا۔ سندھی، پنجابی، پٹھان اور سندھی مہاجر کے فتنے کو جس طرح اچھالا گیا۔ یہ سب قادیانی شاہ دماغوں کا کیا دھرا ہے کیونکہ سندھ میں ڈیڑھ درجن کے قریب قادیانی آمر ہیں۔ وہ پاکستان سے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کے قومی اسمبلی کے فیصلے کا انتقام لے رہے ہیں۔ ہم اس وقت سے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ ضیاء الحق سے لے کر غلام اسحاق تک ہر حکمران کے دور میں یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ قادیانیوں کو سندھو دیش کے مقدمے میں شامل کیا جائے اور اس کا پس منظر، پیش منظر اور تہہ منظر بے نقاب ہو جائے گا اور اس کی کڑیاں کھل کر سامنے آجائیں گی۔ لیکن کسی حکومت نے ہماری آواز پر کان نہیں دھرا۔

صفحہ 102

پاکستان ایٹمی ری ایکٹر

ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں پاکستانی ایٹمی ری ایکٹر قائم ہوا۔ جنرل ضیاء الحق نے اسے مزید فروغ دیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر سے پہلے اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبد السلام قادیانی تھے۔ اس کی بعض مذہبی حرکات اور ملت فروشی کے پیش نظر دینی اور عوامی حلقوں میں خاصا اضطراب پیدا ہوا۔ جس کی وجہ سے اس کو اس کے منصب سے سبکدوش کر دیا گیا اور ڈاکٹر عبد القدیر اس کے ڈائریکٹر بنا دیئے گئے۔ اس نے امریکہ کو پاکستان کے ایٹم بم بنانے کی کامیاب مخبری کی۔ نتیجتاً امریکی صدروں نے اس وقت سے پاکستان کے خلاف پابندیاں لگانے، مالی تعاون روکنے اور اسلحہ کے سودے منسوخ کرنے اور طیاروں کے فالتو پرزے دینے سے انکار کر دیا۔ بلکہ ہمارے مقابلے میں بھارت جیسے ننگے سامراج کی ہمارے خلاف سرپرستی شروع کر دی۔ ضیاء الحق سے لے کر غلام اسحاق تک ذو الفقار علی بھٹو، محمد خان جونیجو، بے نظیر، غلام مصطفیٰ جتوئی، نواز شریف تک سب نے امریکہ بہادر کو یقین دلایا کہ ہمارا ایٹمی ری ایکٹر کوئی ایٹمی بم نہیں بنا رہا بلکہ ہم اس کے ذریعے ایندھن کی قلت دور کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن سب کی آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی اور کسی نے ان کی کوئی بات نہ مانی کیونکہ یہ ایک قادیانی ڈاکٹر کی پکی مخبری تھی۔ جس پر انہیں یقین تھا۔ حیرت ہے کہ ضیاء الحق نے ایسے ملت دشمن اور پاکستان کے غدار کو ایک ایوارڈ سے نواز دیا۔

نو آزاد مسلمان ممالک

وسط ایشیاء کی چھ مسلم ریاستیں جو ۷۰ سال تک روس کے ماتحت رہی ہیں، وہ آزاد ہو گئیں۔ امریکہ نے ان کو پاکستان اور مسلمان ممالک سے دور رکھنے کے لیے قادیانی دانشوروں، سائنس دانوں، انجینئروں اور مبلغوں کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں پھیلانے کی کوشش کی۔ تاکہ وہ مسلمانوں سے مل کر ملت واحد نہ بن سکے اور سیاسی اور اقتصادی طور پر امریکہ کے لیے چیلنج نہ بن سکے۔ ہم مدت سے یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ قادیانی کوئی مذہبی جماعت نہیں بلکہ اسے انگریز کی سیاسی مصلحتوں نے جنم دیا تھا اور یہ اسلام دشمن اور پاکستان دشمن قوتوں کا ایک ٹولہ ہے۔ جس نے مذہبی سوانگ رچا کر مسلمانوں کی آنکھوں

صفحہ 103

میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے۔ اب وہ امریکی گماشتے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے بلکہ ان مذہبی بہروپیوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے۔

قادیانی ہمیشہ کسی کی آڑ میں شکار کھیلنے کے عادی ہیں۔ پنجاب کے ایک سکے بند قادیانی چشم و چراغ مسلم لیگ کا لبادہ اوڑھ کر تین مرتبہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر بنے۔ مسلم لیگ کیونکہ کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی ملغوبے کا نام مسلم لیگ ہے۔ یہ مسلم سے زیادہ موسم لیگ ہے۔ مسلم لیگ نام اسلام کا لیتی ہے، دم امریکہ کا بھرتی ہے۔ نظام انگریز کا در آمد کرتی ہے۔ جھوٹ اور نفاق کا شکار ہے۔ قیام پاکستان پر بلا شرکت غیرے پاکستان کی حکمران بنی لیکن اس کے دور حکومت میں اسلام کے نفاذ کے بجائے یہ نفاق کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ دین کا مذاق اڑانا اور علماء پر پھبتیاں کسنا، بوقت ضرورت سیاسی جھوٹ بولنا۔ باشندگان ملک سے جھوٹے وعدے کرنا۔ سادہ لوح لوگوں کو ورغلانا دیندار لوگوں سے نفرت کرنا۔ دینی اقدار سے بیزاری کا اظہار کرنا۔ شراب، سود ایسے غیر اسلامی امور کا دفاع کرنا اور ان کو فروغ دینا، یہ ان کا سرمایہ حیات ہے۔

اہل وطن کے لیے لمحہ فکریہ

قادیانیوں کی مار دھاڑ، قتل و خون ریزی، غصب و نہب کی پالیسی قادیان میں پورے زوروں پر تھیں۔ قادیان کے آس پاس کے مسلم دیہات ان کی چیرہ دستیوں اور ان کے جبر و تشدد سے ہمیشہ خوف زدہ رہے۔ ان کی یہی پالیسی ربوہ میں بھی جاری ہے۔ اسی کے نتیجہ میں ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج کے طلباء کو مضروب و مجروح کیا گیا۔ لیکن اب ہمارا روئے سخن ان کی اس پالیسی سے قطع نظر ان کی ان پالیسیوں سے ہے۔ جو پاکستان کو کسی بھی وقت تباہ کر سکتی ہیں اور موجودہ حالات میں کسی طوفان کا پیش خیمہ ہیں۔ قادیانی جرنیل عبدالعلی ملک، اختر ملک، چھمب اور جوڑیاں میں اگر غداری نہ کرتے تو اکھنور اور جموں پر ہمارا قبضہ ہو جاتا۔ یہی اختر ملک ترکی میں فوت ہوا۔ اس کی وصیت کے مطابق اسے ربوہ میں دفن کیا گیا۔ اب بھی بعض محرمان راز اور واقفان حال سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی فوج میں چھ قادیانی جرنیل ہیں۔ کیپٹن، میجر، بریگیڈیئر اور کرنل کے رینک کے افسران نامعلوم کتنی

صفحہ 104

تعداد میں ہیں۔ خوف اور جرات کی بات یہ ہے کہ قادیانیوں کی وفاداریاں بھی پاکستان سے زیادہ بیرون ملک وابستہ ہیں۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ چھ سات ملکوں میں پاکستانی سفارت کار کے عہدوں پر قادیانی فائز ہیں۔ مختلف محکموں میں ان کے پاس کلیدی اسامیاں ہیں۔ ان کے لمبے ہاتھوں کا یہ عالم ہے کہ ایک غیرت مند مسلم خاتون مس ناہید جہاں لودھی جو کوئین میری کالج میں سائنس کی پروفیسر تھیں۔ اپنی غیرت ایمانی کی وجہ سے قادیانیوں کے ہاتھوں گھائل ہو گئیں اور انہیں جبری ریٹائرمنٹ دے دی گئی۔ ہمارے حکمران تو اپنے اقتدار اور کرسیوں کی جنگ میں مبتلا ہیں۔ ان کی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ زوروں پر ہے۔ سیاسی دھینگا مشتی اور دھول دھپہ میں سبقت لے جانے کی سعی مذموم میں مصروف ہیں۔ ملت کے بہی خواہوں، اسلام کے علم برداروں، دین کے حامیوں، دینی اور مذہبی جماعتوں کے پیروکاروں، وطن کے مخلص ہمدردوں کے لیے قادیانیت کی آکاس بیل نہ صرف خطرہ کی گھنٹی بلکہ لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ مستقل اور عارضی حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں سے بھی یہ پرزور مطالبہ ہے کہ قادیانی افسروں کو فارغ کر دیا جائے اور آئندہ فوجی بھرتی میں قادیانیت کے لیے مستقل پابندی لگادی جائے۔ دینی جماعتوں سے بھی ہم یہی عرض کریں گے کہ آپ بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ بھارت جو ایشیا میں جمہوریت کا چیمپئین بنا پھرتا ہے، وہ مسلمانوں اور سکھوں کو فوج سے نکال رہا ہے۔ یہ ۲ فیصد غیر مسلم ہماری کلیدی اسامیوں پر براجمان کیوں ہیں؟ ہمارے حساس محکمے ان کے سپرد ہیں۔

اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

نوٹ: مضمون نگار نے قادیانیوں کو ۲ فیصد لکھا ہے۔ قادیانی گزشتہ مردم شماری کے مطابق صرف ایک لاکھ چوالیس ہزار کے لگ بھگ ہیں۔ یعنی کل آبادی کا اعشاریہ صفر صفر ایک فیصد۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۱۲، شمارہ ۱۴)

صفحہ 105

بنن (افریقہ) سے قادیانیوں کو دیس نکالا مل گیا

عوامی جمہوریہ بنن کی وزارت داخلہ نے قادیانی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دینے کے متعلق ایک قرارداد منظور کی ہے اور تمام محکموں اور اہم اداروں کو اس قرارداد کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس قرارداد کے نتیجے میں جو ردعمل اور واقعات رونما ہوئے، ان کے بارے میں ہمارے نمائندے نے جو رپورٹ بھیجی ہے، اس کے مطابق بنن میں قادیانی سرگرمیوں پر پابندی اور ان کے خلاف شدید ترین کارروائی ایسا مبارک اقدام ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے کھلی مدد کا اعتراف ہے۔ حکومت کی اس کارروائی کی وجہ سے تمام قادیانی مراکز بند ہو گئے۔ خاص طور پر قادیانیوں کا بڑا، اصل اور خطرناک مرکز جو مسلمانوں کی غالب اکثریت والے شہر پورتو نوفو میں تھا، سربمہر ہو گیا اور گمراہی پھیلانے والے قادیانی کو جو ماریشس سے یہاں مبلغ بنا کر بھیجا گیا تھا، حکومت نے ذلیل کر کے بیک بینی و دو گوش بنن سے نکال باہر کیا۔ حکومت کے اس اقدام سے یہاں کے مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ کچھ سالوں سے مرزائیت کی فتنہ سامانی کی وجہ سے یہاں کے مسلمانوں کا آرام و سکون ختم ہو گیا تھا۔ چند سادہ لوح جاہل مسلمانوں کے عقیدے بھی متزلزل کیے مگر آخر کب تک۔ اللہ تعالیٰ نے آخر کار ان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ یاد رہے کہ بنن غیر اسلامی حکومت ہے۔ کچھ لوگوں نے خاص کر ان مسلمانوں نے جو اسلامی حکومتوں کے زیر سایہ آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں، انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ اس قسم کے فیصلے کا غیر اسلامی حکومت سے منظور ہو جانا آسان بات ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قادیانیوں کے

صفحہ 106

خلاف یہ جو حکومتی کار روائی کی گئی ہے، اس فیصلے کے پیچھے بنن کے مسلمانوں اور علماء کرام کی قربانیاں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وہ لٹریچر ہے، جو یہاں تقسیم ہوا اور جس نے قادیانیت کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔ یہاں کے مسلمانوں نے متحد ہو کر کئی سالوں تک ہر میدان میں قادیانیوں کے گمراہ کن پروپیگنڈے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ بستیوں، مضافات اور شہروں میں ان کا پیچھا کیا۔ ریڈیو، ٹیلیوژن کے ذریعے بھی ان کے تعاقب اور مقابلے سے دریغ نہیں کیا گیا۔ اس پے در پے مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ قادیانیوں کا یہاں سے دیس نکالا ہو گیا ہے اور آج بنن میں قادیانی کا لفظ گالی بن گیا ہے۔

یہاں کے علماء نے مرزائی جماعت کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا۔ مختلف تقاریر اور جمعہ کے خطبوں میں مرزائیوں کو بے نقاب کیا گیا اور مسلمانوں کو بتلایا گیا کہ مرزائی جو اپنے آپ کو ”احمدی“ کہتے ہیں، گمراہ، مرتد، کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ قادیانیوں کے خلاف یہ کام اس لیے کیا گیا تاکہ یہاں کے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت ہو۔ قادیانی یہاں بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ کبھی مسلمانوں کی غربت و فقر کے پیش نظر ان کو مال کا لالچ دیتے تھے، کبھی دھوکہ و فریب دیتے ہوئے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ ہم ”احمدی“ ہیں اور یہ مسلمانوں کے فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے۔ (جبکہ لفظ قادیانی پورے افریقہ میں گالی بن چکا ہے اور سب لوگ جانتے ہیں کہ مرزائیت فرقہ نہیں ہے بلکہ جھوٹے نبی کی امت ہے۔ جب اس نے اپنا نبی الگ بنا لیا تو وہ سچے نبی کی سچی امت محمدیہ اور اس کے فرقوں سے خارج ہو گئی) اور کبھی سیدھے سادے مسلمانوں کو ”فرقہ احمدیہ“ کے نام سے پھسلایا جاتا ہے اور بتلایا جاتا ہے کہ ”احمدیہ“ صوفیاء کا ایک سلسلہ ہے جیسے یہاں افریقہ میں دوسرے سلسلے ہیں۔ اور اکثر اوقات قادیانی ڈرانے دھمکانے کا طریقہ بھی اختیار کرتے تھے۔ چنانچہ یہ کسی وسیلے اور ذریعے سے پولیس اور فوج کے افراد سے راہ و رسم قائم کر لیا کرتے تھے اور بعض مرتبہ ان اداروں سے وابستہ بعض کمزور نفوس کے مالک افراد کو خرید لیا کرتے تھے۔ پھر (یہ حکومتی اداروں سے وابستہ لوگ) ان مسلمانوں کو جو اپنے دین پر پختہ اور اسلام کی طرف سے مدافعت کرنے میں پیش پیش ہیں، اور قادیانیوں سے نبرد آزما ہیں، کو اپنے دفتر میں بلا کر اس عنوان سے ڈرایا دھمکایا کرتے کہ وہ ملک میں گڑ بڑ کر رہے ہیں، مشکلات پیدا کر

صفحہ 107

رہے ہیں، امن عامہ میں خلل ڈال رہے ہیں اور (قادیانیوں کے خلاف کام کرنا) بنن کے ہر اس شہری کی دینی آزادی کے خلاف ہے جو ہر شخص کو اس کے مذہب کی پیروی کی اجازت دیتا ہے۔

ایسا ہی واقعہ رابطہ عالم اسلامی کے مبعوث امام ادریس یمانو کے ساتھ بوبیکون میں پیش آیا اور کیتو شہر میں قرآن کریم کے مدرسے کے مہتمم استاد مشہود ابوبکر کے ساتھ پیش آیا۔

۱۹۸۶ء کے آخر میں قادیانیت کے سلسلے میں مسلمانوں کی مشکلات زیادہ بڑھ گئیں۔ جب قادیانیوں نے بنن کے شہر کیتو میں ایک جگہ خرید کر اپنی عبادت گاہ (مرتد خانہ) اور مرکز بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس خبر کو سن کر یہاں کے مسلمانوں میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ قادیانیوں اور مسلمانوں میں آپس میں مارکٹائی شروع ہوئی۔ آخر کار معاملہ حکومت تک پہنچا، وزارت داخلہ نے اس سلسلہ میں بنن کے مسلمانوں کی جماعت اتحاد اسلامی، علماء کرام اور عمائدین شہر کو بلا کر ان سے پوچھا کہ تم کو قادیانیوں سے کیا شکایت ہے، تم قادیانیوں کو ان کی سرگرمیوں سے کیوں روکتے ہو تو سب نے یک زبان ہو کر ایسا قطعی فیصلہ کن طاقتور اور مدلل جواب دیا جس سے اہل حکومت اور قادیانی لاجواب ہو گئے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم اس ملک میں بسنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں کی آزادی کے قطعا مخالف نہیں ہیں اور نہ ہی کسی جماعت یا کسی بھی یہاں کے رہنے والے کے مذہب میں کسی قسم کی خلل اندازی چاہتے ہیں۔ اگر قادیانی یہاں اپنے نظریات و افکار کو پھیلانا چاہتے ہیں تو غیر مسلم گروہ بن کر خوشی سے پھیلائیں۔ ہماری طرف سے ان کو مطلق آزادی ہوگی۔ کسی قسم کی ہم روک ٹوک نہیں کریں گے۔ اس وقت ان کی حیثیت ایسی ہو گی جیسے بنن میں رہنے والے دوسرے غیر مسلم (ہندو، بدھ وغیرہ) لوگوں کی ہے۔ اس وقت بنن کے سارے لوگ اور مسلمان یہی سمجھیں گے کہ قادیانیت اسلام نہیں ہے بلکہ اسلام کے علاوہ کوئی علیحدہ مذہب ہے (لہٰذا اس کے شر سے بچے رہیں گے) مگر یہاں معاملہ برعکس ہے۔ قادیانی اپنے باطل مذہب (قادیانیت) پر اسلام کا ٹھپہ لگا کر اسلام کے نام سے لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ہم سب مسلمان اس کی کبھی بھی اجازت نہیں دیں گے۔ اس طرح قادیانیوں کو کھلی چھٹی دے کر اسلام کے حقائق کو زخمی کرنا ہے اور یہ اسلام کی توہین ہے جس کو ہم کسی

صفحہ 108

صورت برداشت نہیں کریں گے۔

حکومت کی سمجھ میں یہ بات آ گئی، قرارداد انہوں نے منظور کرتے ہوئے قادیانی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔ تمام مسلمانوں نے حکومت کے اس فیصلے کو سراہا ہے اور اطمینان و سکون کا سانس لیا ہے اور اس طرح سے بنن کے مسلمان زبردست مثالی نمونہ بن گئے ہیں۔ بنن کے مسلمانوں نے جس پختگی اور باہمی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، اس پر ہم ان کو اور تمام مسلمانوں کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ قادیانیت کے سلسلے میں تمام حکومتوں کو بنن حکومت کی تقلید کرنی چاہیے۔ خصوصاً اسلامی حکومتوں کو جن میں سے کچھ نے ابھی تک قادیانیت کے خلاف اس قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۶، شمارہ ۵، جون ۱۹۸۷ء)

(از قلم: ہدایت اللہ)

صفحہ 109

بنگلہ دیش میں قادیانی سرگرمیوں کا ایک جائزہ

جناب لطف الرحمن صاحب فاروقی

برصغیر پاک و ہند میں اٹھنے والی شاید ہی کوئی تحریک ہو جس نے بنگال کو متاثر نہ کیا ہو۔ پنجاب سے اٹھنے والی ایک تحریک یعنی قادیانی مذہب بھی بنگال تک اثر قائم کرنے میں کوشاں نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کامیابی کا ایک جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔

بنگلہ دیش میں احمدی مذہب کی تاریخ بہت دلچسپ ہے۔ اندازاً ۱۸۸۹ء‘ ۱۸۹۸ء کی بات ہے۔ ضلع برہمن بڑیا کے رہنے والے منشی محمد دولت خان نامی ایک وکیل نے لاہور کے حکیم محمد حسین قریشی کے ہاں سے ”مفرح عمری“ نامی ایک دوائی منگوائی تھی۔ حکیم صاحب نے دوائی کے ساتھ امام مہدی کی آمد اور ان کے دعوے کے متعلق کچھ اشتہار بھی بھیج دیئے۔ اتفاقاً یہ اشتہار مولانا سید محمد عبدالواحد نامی ایک شخص کے ہاتھ لگے۔ ان اشتہاروں کو پڑھنے کے بعد انہوں نے براہ راست بانی مذہب احمدی مرزا غلام احمد قادیانی سے خط و کتابت شروع کردی۔ یہ سلسلہ ۱۹۰۲ء سے ۱۹۰۸ء تک جاری رہا۔ بالآخر یکم نومبر ۱۹۱۲ء کو وہ بذات خود قادیان پہنچے اور ان کے خلیفہ اول کے ہاتھ پر بیعت کر کے احمدی تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔ واپس آنے کے بعد یہاں قادیانی تحریک کی بنیاد رکھی اور ۱۹۱۳ء سے ۱۹۲۶ء تک وہ خود ہی بنگال کی صوبائی انجمن احمدیہ کے امیر اور مبلغ رہے۔

بنگلہ دیش کے قادیانی اول مولانا سید محمد عبدالواحد ضلع برہمن بڑیا کے نصیر پور میں ۱۸۵۳ء میں پیدا ہوئے۔ احمدیہ جماعت میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے وہ ایک نکاح خواں (میرج رجسٹرار) رہے۔ اس جماعت میں شامل ہونے کے بعد زندگی بھر وہ ہزاروں انسانوں کو احمدی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ برہمن بڑیا شہر میں انہی کے نام سے

صفحہ 110

منسوب مولوی باڑہ کی مسجد احمدی کے ساتھ ان کی قبر موجود ہے۔

اس جماعت میں شامل ہونے والے چند اولین افراد کے نام یہ ہیں:

سید عبد الواحد کے انتقال کے بعد مختلف اوقات میں جو لوگ احمدی جماعت کے امیر رہے، ان کے نام یہ ہیں:

بنگلہ دیش میں سرگرمیاں

بنگلہ دیش میں احمدی تحریک کے بانی مولوی سید محمد عبد الواحد صاحب کی کوشش سے

صفحہ 111

احمدیت قبول کرنے والے اولین افراد پر مشتمل جماعت سب سے پہلے ۱۹۱۳ء میں برہمن بڑیا میں احمدی خلیفہ کے حکم سے انجمن احمدی کے نام سے قائم ہوئی۔ اس وقت پورے بنگلہ دیش میں ان کی ۹۳ انجمنیں یعنی مقامی جماعتیں موجود ہیں۔ صرف ڈھاکہ میں ۱۰ حلقے قائم ہیں۔ حلقہ کے صدر کو ناظم کہتے ہیں۔ کسی مقام پر کم از کم تیرہ احمدی ارکان موجود ہوں تو عموماً وہاں ایک جماعت قائم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں بڑی بڑی جماعتیں بھی قائم ہیں، جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

پنچ گڑھ، سندر بن، دیناج پور، بگڑا، رنگ پور، کشٹیا، برگونا، جمال پور، چاٹگام، راجشاہی، پٹواکھالی، نٹور، مانک گنج، بڑیسال، نارائن گنج وغیرہ۔

ڈھاکہ شہر میں تیزگام، میرپور اور نکھال پاڑہ میں احمدیوں کی جامع مسجدیں بھی قائم ہیں۔

مرکز

بنگلہ دیش میں قادیانیوں کا مرکزی آفس ۴ نمبر بخشی بازار روڈ ڈھاکہ میں قائم ہے۔ یہاں مسجد احمدیہ کے نام سے ایک دو منزلہ مسجد کے علاوہ احمدیہ پریس کے نام سے ایک چھاپہ خانہ، دارالتبلیغ ہال، احمدیہ لائبریری، مشن ہاؤس اور مختلف شعبہ جات کے دفاتر اور چند قابل رہائش کمرے موجود ہیں۔ مرکز میں تقریباً ۱۸ شعبے ہیں، ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

شعبہ تصنیف و تالیف، شعبہ نشر و اشاعت، شعبہ تعلیم و تربیت، شعبہ اصلاح و ارشاد، شعبہ امور عامہ، شعبہ ضیافت، شعبہ جائداد، شعبہ امور خارجہ، شعبہ مالیات، شعبہ تراجم، شعبہ ویڈیو اور شعبہ رشتہ ناطہ وغیرہ۔

ہر شعبہ کے لیے ایک ذمہ دار موجود ہے جسے معتمد کہتے ہیں۔ احمدی جماعت کی مختلف عمر کے لحاظ سے مرد اور عورتوں کے لیے مختلف نام سے الگ تنظیمیں قائم ہیں۔ بنگلہ دیش میں ان تنظیموں کے نام یہ ہیں:

صفحہ 112

احمدیہ۔

احمدیہ۔

ناصراۃ الاحمدیہ۔

اس قسم کی ہر تنظیم کے لیے الگ الگ مجلس عاملہ اور جھنڈا بھی موجود ہے۔

تقریبات

احمدی خلیفہ کی اجازت سے ہر سال مرکزی دفتر کے سامنے سالانہ اجتماع ہوتا ہے۔ اجتماع کے عموماً تین روز ہوتے ہیں۔ سالانہ اجتماع منعقد کرنے کا یہ سلسلہ انگریزوں کے دور سے ہے۔ ربوہ اور بھارت کے قادیان سے بھی مندوب اس جلسے میں شرکت کے لیے آتے ہیں۔ جلسہ کی تاریخ کا اعلان بنگلہ دیش ریڈیو ، ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

مرکزی سالانہ اجتماع کے علاوہ مقامی جماعتیں بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس قسم کے جلسوں کا اہتمام کرتی رہتی ہیں۔ ان جلسوں کی کارروائی بھی ریڈیو پر ریکارڈ کی جاتی ہے۔ ان تقاریب میں ان کے عبادت خانوں اور دیگر مذہبی اہمیت کے حامل مکانوں میں بھی چراغاں کیا جاتا ہے۔

قادیانی حضرات اس کے علاوہ بھی اور مختلف ایام مناتے رہتے ہیں ، جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

یکم جنوری سال نو ، ۲۰ فروری یوم مصلح موعود (اس دن مرزا بشیر الدین نے اپنے مصلح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تھا) ۲۳ مارچ یوم مسیح موعود (۱۸۸۹ء کے ۲۳ مارچ کو احمدی

صفحہ 113

جماعت کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ اس لیے اس دن کو یادگار کے طور پر منایا جاتا ہے، ۲۷مئی یوم خلافت اور یوم اصلاح مذہب۔

اس کے علاوہ انصار‘ لجنہ اور خدام کی طرف سے مختلف قسم کے تربیتی نشست و تربیتی کورس اور سالانہ اجتماعات منعقد کرتے رہتے ہیں۔ اطفال اور ناصرات کے لیے بھی دلچسپ پی ٹی شو۔ غبارے اڑانے کے مقابلے‘ تقریری مقابلے‘ مقابلہ حسن قرات و غزل‘ کھیل کود اور معلومات عامہ کے مقابلے کرائے جاتے ہیں۔

ادبی سرگرمیاں

مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر قادیانی اکابرین کی تصانیف وغیرہ دیگر زبانوں کی طرح بنگلہ زبان میں بھی ترجمہ ہو کر تبلیغی کاموں میں استعمال ہوتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی طور پر بھی تصانیف تیار کی جاتی ہیں۔ قادیانی حضرات اپنی تصانیف‘ احمدیہ آرٹ پریس سے چھپوا کر‘ انجمن احمدیہ ڈھاکہ سے شائع کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھی چند ایک کتابیں سلیم آباد ڈھاکہ‘ انٹرکون ایسوسی ایٹ ڈھاکہ اور منار پرنٹنگ پریس ڈھاکہ سے بھی چھپواتے ہیں۔

احمدی جماعت دنیا بھر سے تقریباً ۵۰ اخبارات‘ رسائل و جرائد شائع کرتی ہے۔ اس کے علاوہ انصار‘ لجنہ‘ خدام‘ اطفال اور ناصرات کی جانب سے بھی الگ الگ اخبارات و جرائد شائع ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں مسلمانوں میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بنگلہ کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔ احمدی جماعت کی جانب سے پندرہ روزہ ”احمدی“ اخبار باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ خدام کی جانب سے سالانہ اجتماعات کے مواقع پر یادگاری جرائد وغیرہ شائع ہوتے ہیں۔

یہ تھی مقامی طور پر اخبارات شائع کرنے کی بات۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک سے اردو‘ انگریزی اور دیگر زبانوں میں شائع ہونے والے اخبارات‘ رسائل و جرائد بھی بنگلہ دیش میں منگوائے جاتے ہیں‘ ان میں سے چند ایک یہ ہیں:

صفحہ 114

ربوہ سے شائع ہونے والا اردو روزنامہ "الفضل" انگریزی روزنامہ "Review of Religions" اردو ماہ نامہ "انصار اللہ" اردو انگریزی ماہنامہ "تحریک جدید"۔ ہندوستان کے قادیان سے شائع ہونے والا ہفت روزہ "بدر" کالی کٹ سے شائع ہونے والا انگریزی سہ ماہی "منارہ" کلکتہ سے شائع ہونے والا "بنگلہ" ماہنامہ "البشریٰ" لندن سے شائع ہونے والا اردو ہفت روزہ "النصر" انگریزی ماہنامہ The Muslim Herald ‘ جاپان سے شائع ہونے والا انگریزی سہ ماہی The Voice of Islam نیروبی سے شائع ہونے والا اردو پندرہ روزہ اخبار "احمدیہ گزٹ" اور لندن سے شائع ہونے والا انگریزی پندرہ روزہ "احمدیہ گزٹ" وغیرہ۔ بنگلہ دیش احمدی جماعت امدادی کام یعنی خدمت خلق میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ ان کے زیر اہتمام سندر بن اور پنچ گڑھ میں ایک طبی مرکز اور ایک جونیئر سکول قائم ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات میں رضا کارانہ طور پر قومی اور مقامی حد تک امدادی مہم چلاتے ہیں۔ صدارتی امدادی فنڈز میں شرکت‘ طوفان‘ سیلاب اور آفت زدہ علاقوں میں امدادی دستہ بھیجنا‘ لنگر کھولنا‘ سڑک کی مرمت وغیرہ امدادی و رفاہ عامہ کی سرگرمیوں کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

افرادی قوت

قادیانیوں کا دعویٰ ہے کہ دنیا میں ان کی تعداد ڈیڑھ کروڑ ہے۔ جب کہ پاکستان میں ۵۰ لاکھ کی تعداد میں قادیانی موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بنگلہ دیش میں قادیانیوں کی تعداد ۹۰ ہزار ہے۔ بنگلہ دیش میں برہمن‘ بڑیا‘ چاٹگام‘ سلہٹ اور پنچ گڑھ کے دو مقامات کے نام بھی احمدیوں کے نام سے منسوب کیے گئے ہیں۔ یہ دو مقامات بالترتیب "احمدی باڑہ" اور "احمد نگر" ہیں۔

صفحہ 115

نیشنل امیر

احمدی جماعت کے خلیفہ براہ راست امیر نامزد کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کے موجودہ نیشنل امیر مولوی محمد مصطفیٰ بی ایس‘ سی پی‘ اے جی ہیں۔

یہ سابقہ امیر مولوی محمد کی دست برداری کے بعد جون ۱۹۸۷ء کو اس عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کی پیدائش برہمن بڑیا ہی میں ہوئی اور عمر ۷۱ سال ہے۔ زمانہ ملازمت میں وہ حکومت کے زرعی شعبہ کے اضافی ڈائریکٹر اور ماہنامہ ”کرشی کتھا“ کے مدیر رہے۔ ان کے علاوہ دو نائب امیر بالترتیب الحاج ڈاکٹر عبد الصمد خان چوہدری اور محمد خلیل الرحمٰن ہیں۔

جناب خلیل الرحمٰن حکومت بنگلہ دیش کے اضافی اکاؤنٹنٹ جنرل رہے۔ آج کل وہ فارن ایڈ فنانس کنٹرولر ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر عبد الصمد خان چوہدری برہمن بڑیا صدر ہسپتال کے میڈیکل افسر رہے۔ انجمن احمدیہ کے معتمد عمومی کا نام ن ن محمود سالک ہے۔ اس کے علاوہ مختلف افراد مختلف ذمہ داریوں پر فائز ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں:

شیخ احمد غنی‘ مولوی محمد مطیع الرحمٰن‘ ڈاکٹر نذر الاسلام‘ الحاج احمد توفیق چوہدری‘ مقبول احمد خان‘ (مدیر پندرہ روزہ ”احمدی“) محمد عبد الجلیل‘ عبید الرحمٰن بھوئیاں‘ نذیر احمد بھوئیاں‘ پروفیسر شاہ مصطفیٰ الرحمٰن‘ محمد شمس الرحمٰن‘ اے کے رضا الکریم‘ مولوی عبد العزیز صادق‘ مولانا صالح احمد وغیرہ۔

احمدی جماعت کے باقاعدہ چندہ دینے والے ارکان میں سے ہر دس ارکان پر ایک رکن بذریعہ ووٹ رکن شوریٰ منتخب ہوتے ہیں۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جس رکن کا چندہ باقی ہے‘ یا چہرے پر داڑھی نہیں ہے۔ اس قسم کے افراد شوریٰ کے رکن رہنے کے قابل نہیں رہتے۔ بنگلہ دیش میں انصار کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر عبد الصمد خان چوہدری ہیں۔ کل بنگلہ دیش لجنہ اماء اللہ کی صدر الحاجہ محمودہ صمد اور معتمدہ عام رقیہ احمد ہیں۔ تمام بنگلہ دیش میں انصار کے نظم کی تقریباً ۳۵ شاخیں ہیں۔ بنگلہ دیش کے خدام کے نیشنل امیر اور نائب نیشنل امیر بالترتیب عبد الہادی اور تصدق حسین ہیں۔

اطفال کے موجودہ ناظم محمد سلیم خان ہیں۔ مقامی احمدی جماعتوں کے امراء کے نام یہ

صفحہ 116

ہیں۔

برہمن بڑیا میں صلاح الدین چوہدری۔

چاٹگام میں غلام احمد خان۔

ڈھاکہ میں محمد خلیل الرحمٰن۔ اس کے علاوہ راج شاہی جماعت کے صدر اے بی ایم عبدالستار۔

رنگ پور میں جماعت کے صدر ممتاز الدین احمد۔

سندر بن جماعت کے صدر شیخ شرف الدین احمد۔

ناٹور جماعت کے صدر ظہیر محمد عبدالرزاق۔

تووا جماعت کے صدر ڈاکٹر احمد علی۔

احمد نگر جماعت کے صدر شریف احمد۔

کروڑا جماعت کے صدر عبدالقیوم بھوئیاں اور جمال پور (میمن سنگھ) جماعت کے صدر ڈاکٹر بشیر احمد چوہدری ہیں۔

امیر اور صدر کی اصطلاح میں معمولی فرق پائے جاتے ہیں۔ یعنی جس جماعت میں کم از کم ۲۰ ارکان باقاعدگی سے چندہ ادا کرتے ہیں۔ اس جماعت کے سربراہ کو امیر اور جس جماعت کے باقاعدہ چندہ دینے والوں کی تعداد ۲۰ سے کم ہے، اس جماعت کے سربراہ کو صدر کہتے ہیں۔

بنگلہ دیش انجمن احمدیہ لندن کے مرکز کے ساتھ باقاعدہ رابطہ رکھتے ہیں اور خلیفہ کے حکم سے قومی نوعیت کے مختلف اہم امور سرانجام دیتے ہیں۔

بنگلہ دیش احمدی جماعت ان کے باقاعدہ پروگراموں کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر تبلیغی ٹیم تشکیل دے کر سرگرمی کو موثر بناتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ اپریل ۱۹۸۷ء سے مارچ ۱۹۸۸ء تک کل ۲۶۹ افراد کو قادیانی جماعت میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

بخشی بازار ڈھاکہ کے مرکزی دفتر کے سامنے پرکشش الفاظ میں سائن بورڈ آویزاں ہے۔ اس میں مزید معلومات کے لیے اندر آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ استقبالیہ میں نہایت خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنے والے کارکن مہمان کو قادیانی مذہب کے بارے میں مختلف قسم کی کتابیں، فائل کور اور دیگر تحائف سے نوازتے ہیں۔ آج کل احمدی جماعت

صفحہ 117

والے چار دیواری کے اندر اجتماعات ، جلسے ، کانفرنسیں ، پر کشش طریقے سے اخبارات ، کتب و رسائل ، فلم شو ، سوال و جواب کی نشست ، افطار پارٹیاں ، حلقہ چائے ، عمائدین شہر کے لیے استقبالیے ، گیسٹ پروگرام وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس مضمون میں دی گئی تمام معلومات شکیل ارسلان کی تحقیق ”بنگلہ دیش میں احمدیہ یا قادیانی شبکہ و دہانے“ سے ماخوذ ہیں ، یہ معلومات جنوری تا اپریل ۱۹۸۶ء کی ہیں۔

(ماہنامہ ”الحق“ اکوڑہ خٹک)

صفحہ 118

اسلام اور پاکستان کے خلاف

قادیانیوں کی گھناؤنی سازش

لندن میں مقیم قادیانیوں کی اعلیٰ قیادت نے مذہب اسلام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنی حکمت عملی اور مذموم پالیسیوں پر تیزی سے عمل کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے لیے اپنے ہر ممکن ذرائع بروئے کار لا رہی ہے۔ قادیانی اعلیٰ قیادت عالمی صیہونی آرگنائزیشن (ڈبلیو زیڈ او) کے ساتھ مل کر بھی کام کر رہی ہے، جو یہودی عوام کے خفیہ حکمرانوں ”زنجری“ (صیہونی عالمی جیوری) کے لیے ایک عوامی محاذ ہے۔ قادیانی اعلیٰ قیادت (.M.Q.L) کی طرح اس کا ہیڈ کوارٹر بھی لندن میں ہے۔ یہی تنظیم مسلم امہ کی مصدقہ بین الاقوامی دشمن طاقت ہے۔ دونوں کے اتحاد کار پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر ہم قادیانیوں کی تخریب کاری پر مبنی تحریک کا بنظر غائر جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ دروزیوں، اسماعیلیوں اور بہائیوں کی طرح قادیانیوں کے خالق بھی صیہونی عالمی تنظیم ”زنجری“ (Zinjry) ہے۔ چونکہ قادیانی اور یہودی اسلام اور مسلمانوں کو اپنا ازلی دشمن سمجھتے ہیں، اس لیے ان میں اتحاد قدرتی امر ہے۔

پاکستان کی قادیانی معاشرت میں قادیانی مسلک پر کلی طور پر ایمان لانے والوں کی تعداد ان افراد سے بہت زیادہ ہے جو مرزا غلام احمد کی پیغمبری پر یقین تو نہیں رکھتے لیکن معاشی اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے انہیں اس فرقہ میں رہنا پڑتا ہے۔ ضمنی طور پر کچھ

صفحہ 119

قادیانی ایسے ہیں جو مکمل طور پر اپنے مسلک پر عمل پیرا ہیں اور تبلیغ میں تو مصروف ہیں لیکن پاکستان کو نقصان پہنچانے والی اعلیٰ قادیانی قیادت کے منصوبوں اور مقاصد سے پوری طرح باخبر نہیں ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ کون سی قسم سے تعلق رکھتے ہیں انہیں اعلیٰ قادیانی قیادت کے ہر حکم کو ماننا پڑتا ہے۔ انہیں قادیانی معاشرت کے لیے بنائے گئے فرائض اور ذمہ داریوں سے بھی عہدہ برآ ہونا پڑتا ہے۔ اعلیٰ قادیانی قیادت پاکستان کے مفادات کے خلاف کاموں کے لیے کسی بھی وقت انہیں طلب کر سکتی ہے۔ ہم پاکستانی مسلمانوں کا یہ فرض ہے کہ اپنے ملک کو قادیانی معاشرت کے ابھرتے ہوئے خطرے سے محفوظ رکھیں۔

قادیانی اعلیٰ قیادت کے عمومی مقاصد

قادیانی قیادت کی مذموم مساعی اور مقاصد درج ذیل ہیں:

مشرق بعید کے ممالک کوریا ، جاپان ، فلپائن اور چین میں اسلام کے تیزی سے پھیلتے ہوئے رجحان کو روکنا اور مغربی پریس میں اسلام اور اس کے پیروکاروں کی بدنامی اور دنیا کو دھمکانے کے لیے اسلام کو بطور ”ہوا“ کے پیش کرنے کی پہلے سے جاری جنگ کو آگے بڑھانا۔

میں مدد مل سکے اور اس ملک میں قادیانی اعلیٰ قیادت کے تحفظ اور ان کے مفادات کے تحفظ کی خاطر پاکستان کے اہم معاملات میں قادیانیوں کا اثر و رسوخ بڑھانا۔

دینے والے اور قادیانی مسلک کو غلط قرار دے کر اس سے دور ہونے اور اسے چھوڑنے کے لیے تیار بیٹھے قادیانی معاشرت کے افراد کو دوبارہ اپنے مسلک کی طرف لے آنے کی کوششیں کرنا۔

کرنا اور قادیانی افراد کو تخریب کاری پر مبنی منصوبوں پر عمل کرنے کے لیے متحرک کرنا۔

صفحہ 120

اعلیٰ مہارت یافتہ ایجنٹ تیار کرنا بھی ایک لمبی مدت کا منصوبہ ہے۔

پالیسیاں اور منصوبے

اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اعلیٰ قادیانی قیادت نے مندرجہ ذیل پالیسیاں اور منصوبے جاری کیے ہیں:

مآب ﷺ کی مقدس شخصیت کے خلاف توہین آمیز کلمات استعمال کرنے کے واقعات آئے دن سننے میں آتے رہتے ہیں۔ کچھ کیسوں میں یہ ثابت ہوا ہے کہ گستاخ 'قادیانی ہیں اور کچھ میں اس بارے میں صرف شبہ ہے۔ وہ مقدمات جن میں عیسائی وغیرہ ملوث ہوتے ہیں' ان کے پیچھے بھی قادیانیوں کا ہاتھ نکلتا ہے۔ بہت سے واقعات ایسے ہیں جن میں نہ مقدمہ درج کیا گیا اور نہ کوئی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

گھروں میں ڈش انٹینا لگوائیں اور لندن سے قادیانی سربراہ مرزا طاہر احمد یا اس کے معتمد ساتھیوں کی نشریات دیکھیں۔ یہ ٹرانس مشن ہفتہ وار بنیادوں پر شروع کی گئی تھی لیکن حال ہی میں روزانہ کی بنیادوں پر پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ ہر قادیانی کو یہ حکم ہے کہ وہ لازمی معمول کے طور پر یہ نشریات دیکھے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے اعلیٰ قادیانی قیادت نے اب بلا شرکت غیرے ایک سیٹلائٹ ٹی وی چینل بھی خرید لیا ہے۔ اس چینل کو خصوصاً پاکستان میں بحران کے دوران اپنے ایجنٹوں تک کوڈ (خفیہ اشاروں پر مبنی) بیانات کی ترسیل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے اور اپنی شناخت کی توثیق یا تردید نہیں کرتے تھے' ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود کو قادیانی کے طور پر اجاگر کریں' ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ قادیانی قیادت کو پاکستان میں اپنے پیروکاروں کے شناخت چھپانے سے اپنی تحریک آگے بڑھانے میں دشواری محسوس ہو رہی ہے' قادیانی اعلیٰ قیادت کے اس اقدام کی مماثلت زنگری کی اس

صفحہ 121

پالیسی سے اس طرح قائم ہوتی ہے کہ زجری نے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ یہودیوں کو اپنی سابقہ چھپی ہوئی شناخت افشا کرنے کی ہدایت دی ہے، لیکن فوج اور سول انتظامیہ میں کلیدی یا بڑے مناصب پر فائز اور پاکستان کے اہم شعبوں اور قومی امور میں نمایاں افراد کو شاید اس پالیسی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

۴۔ زندگی بھر کی خدمات کے لیے بچوں کو وقف کر دینا: قادیانی اعلیٰ قیادت نے یہودیوں کی طرز پر زجری تحریک کے ان اقدامات پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے، جن پر وہ ۲۰۰ سال سے عمل پیرا ہے اور جن کے مطابق قادیانی جوڑے کے یہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خواہ وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے، زندگی بھر کی خدمات کے لیے اعلیٰ قادیانی قیادت کے لیے وقف کر لیا جاتا ہے۔ اس اسکیم کو ایک خاص کمیٹی چلا رہی ہے۔ بچے اور اس کے خاندان کے کوائف محفوظ کر لیے جاتے ہیں اور پھر اس کے تمام معاملات جن میں اسکول اور بچے کا مستقبل بھی شامل ہے، کمیٹی کی نگرانی میں اس کی ہدایت کے مطابق طے ہوتا ہے۔ خاص اندازے لگانے کے بعد کمیٹی سائنس یا آرٹس میں بچے کے مستقبل اور پھر اس کی ملازمت کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے جو یقیناً قادیانی مشن کی تکمیل اور آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

۵۔ زجری کے خود مختار کشمیر اور دفاع میں کمی کے منصوبے کی حمایت: قادیانیوں کی اعلیٰ قیادت نے قادیانیوں کو ”زجری“ کے خود مختار کشمیر کے منصوبہ کو ابھارنے اور اس کی حمایت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جس کا مقصد شمالی علاقہ جات کو پاکستان سے علیحدہ کرنا اور آزاد کشمیر بشمول مقبوضہ کشمیر کی جگہ تین آزاد ریاستیں بنانا ہے۔ قادیانی، صحافی، پروفیسر، فارن سروس آفیسر اور ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی آفیسر ظاہری طور پر لا تعلق رہتے ہوئے اس ”آزاد“ نقطہ پر رائے طلبی کر رہے ہیں۔ سول سروسز اکیڈمی لاہور میں عبوری مدت کے لیے تعینات ایک ریٹائرڈ میجر جنرل نے ایک بار روٹری کلب کی ایک میٹنگ میں باتوں کے دوران بڑے پر زور طریقے سے خود مختار کشمیر کی بات کی تھی لیکن جب اس سے سوال کیا گیا کہ کیا شمالی علاقہ جات کی علیحدگی سے پاکستان کی سیاسی ملکی سلامتی خطرے میں نہیں پڑ جائے گی؟ تو اس نے چپ سادھ لی۔ اسی طرح معاشرے میں دیگر اہم افراد کو امریکہ اور

صفحہ 122

یہودیوں کے اس مطالبے کی حمایت کرنے اور اسے پھیلانے کی ہدایت کی گئی ہے جس میں پاکستان کو یک طرفہ طور پر دفاعی بجٹ میں کمی کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ قادیانی صحافی اور خاص طور پر ”فرنٹیئر پوسٹ“ میں کام کرنے والے خالد احمد اس مطالبے کی حمایت میں مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔

رہی ہے کہ وہ پاکستان میں امریکی لابی کی حمایت کریں اور اس کے حامیوں کے لیے ہراول دستے کے فرائض انجام دیں۔ اس لابی کا مقصد پاکستان میں اس نقطہ نظر کو پھیلانا ہے کہ پاکستان امریکہ کی امداد کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس لیے اسے امریکہ کے اینٹی رول بیک‘ دفاعی بجٹ میں کمی‘ وفاقی حکومت کی مرکز گریزیت اور صوبوں کی خود مختاری میں وسعت جیسے مطالبات تسلیم کر لینے چاہئیں۔

کلیدی عہدوں پر بھی قادیانی قابض ہو چکے ہیں۔ معین قریشی کے دور میں جو خود بھی ذہنی طور پر قادیانیت نواز ہے‘ متعدد قادیانیوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا تھا۔ قادیانی قیادت پاکستان اور بیرون پاکستان علمی و نصابی عہدے حاصل کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں یہ پروفیسر اسلامی تعلیمات اور پاکستان کے مفادات کو غلط انداز سے پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماضی میں پاکستان کو پہنچائے جانے والے نقصانات

قادیانیوں کی طرف سے پاکستان کو کتنا نقصان پہنچا‘ اس کا اندازہ اور احساس ابھی تک کسی نے بھی نہیں کیا ہے۔ حتیٰ کہ حکومتی و غیر حکومتی تجزیہ نگاروں نے بھی نہیں کیا۔ یہ قادیانی ہی ہیں جنہیں پاکستان میں مغربی و صیہونی حکومتوں نے اپنے قابل اعتماد ایجنٹوں کے طور پر بھرتی کیا ہے۔ یہ غلام احمد قادیانی ہی تھا جسے اسکاٹ لینڈ کے اہم ایجنٹ کے طور پر شناخت کر لیا گیا تھا جو پاکستان میں برطانوی مفادات کی تلاش میں تھا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چودھری ظفر اللہ نے نوزائیدہ مملکت کے لیے ایک متوازن

صفحہ 123

اور غیر جانبدارانہ پالیسی بناتے ہوئے محب وطن عناصر سے اجتناب برتا اور اپنے مغربی آقاؤں کا حکم مانتے ہوئے ملک کو امریکہ اور برطانیہ کی گود میں دھکیل دیا۔

قادیانی ایجنٹوں میں ایم ایم احمد اور عزیز احمد نے ۱۹۵۰ء کی دہائی کے آخر میں مرکزی حکومت کمزور کرنے اور امریکی صہیونی منصوبے کے مطابق جنرل ایوب خان کو آگے لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ امریکہ کے ذریعے جنرل ایوب خان کی بطور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر تقرری کے بعد عزیز احمد کیبنٹ سیکریٹری اور ایوب خان کا پرسنل ایڈوائزر بن بیٹھا اور کچھ عرصے کے لیے ملک کے مطلق العنان حکمران کے طور پر کام کیا۔ ایم ایم احمد جو مرزا غلام احمد کا پوتا تھا، ایوب خان کا قریب ترین قابل اعتماد آدمی بن گیا تھا۔ اسی نے امریکی و صہیونی اسکیموں کو ملک میں لاگو کرنے میں جنرل ایوب کی مدد اور رہنمائی کی تھی۔ جنرل ایوب ان کے منحوس مقاصد کو کبھی نہ سمجھ سکا۔

۱۹۶۵ء کی جنگ پاکستان پر مسلط کرنے میں قادیانیوں کے کردار کے بارے میں اب تک سب کچھ واضح ہوچکا ہے۔ نواب امیر محمد خان، اس وقت مغربی پاکستان کے گورنر تھے اور ایوب خان کے انتہائی قریبی دوست سمجھے جاتے تھے، کے یہ الفاظ قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب میں درج کیے ہیں ”۱۹۶۵ء کی جنگ قطعی طور پر پاکستان کے مفادات پر مبنی نہ تھی۔ اس جنگ کا ارتکاب ذوالفقار علی بھٹو، عزیز احمد، میجر جنرل اختر ملک، ایم ایم احمد اور نذیر احمد نے کیا تھا“۔

سوائے بھٹو کے یہ منصوبہ تیار کرنے والے تمام کردار جانے پہچانے قادیانی تھے۔ اتفاق کی بات ہے ایک اور شخصیت این اے فاروقی بھی ہے جو قادیانی تھا اور جس نے اس گروہ کی اس خفیہ اسکیم میں حصہ لیا اور وہ ایوب خان کو گمراہ کرنے میں کارگر مہرہ ثابت ہوا، جسے شاید صرف اسی مقصد کے لیے صدر کا پرسنل سیکریٹری بنایا گیا تھا، خوش قسمتی سے اور اس سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے پاکستان امریکی و صہیونی اسکیم کے مطابق قادیانیوں کے جنگ کے منصوبے سے محفوظ رہا۔

۱۹۷۱ء کی جنگ میں قادیانیوں کا کردار تاحال پوشیدہ ہے۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ عزیز احمد نے بطور چیف سیکریٹری مشرقی پاکستان کے لوگوں کو مرکزی حکومت سے منحرف کرنے اور ان میں علیحدگی پسندی کے جذبات ابھارنے جیسی کئی تخریب کارانہ کارروائیاں کیں۔

صفحہ 124

رفیع رضا‘ ایک اور تخریب کار شخصیت‘ ایک قادیانی اور سی آئی اے کا ایجنٹ‘ ۱۹۷۱ء میں سقوطِ ڈھاکہ کی سازش میں پوری طرح ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ شامل تھا۔

حالیہ مزید نقصانات

فروری ۱۹۹۳ء سے اکتوبر ۱۹۹۳ء تک پاکستان‘ صدر غلام اسحاق اور وزیر اعظم نواز شریف کے مابین سیاسی چپقلش کی وجہ سے بحران کا شکار رہا۔ اس بحران کا سب سے بڑا سازش کار ایم ایم احمد تھا اور اس کا شریک سازش رفیع رضا تھا۔

آئندہ پاک بھارت جنگ میں قادیانیوں کا کردار

اتنی جلدی پتہ نہیں چلے گا کہ قادیانی کون سے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم ایک چیز حتمی ہے اور وہ یہ کہ پاکستان کے اندر اور باہر قادیانی ایجنٹ (مثلاً ایم ایم احمد اور رفیع رضا جو بیرون ملک مقیم ہیں) آئندہ پاک بھارت جنگ کے لیے مواقع کی تشکیل میں لگے ہوئے ہیں‘ جس کا مقصد پاکستان کے خلاف ان کے تخریب کارانہ منصوبوں کا تحفظ ہے۔ اس کام پر انہیں امریکی و صیہونی منصوبہ سازوں نے لگا رکھا ہے۔ یہ محسوس کرنا ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ اب ایک حقیقت بن چکی ہے۔ لیکن اس کے بالکل درست وقت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ زنجری کے پروگرام کے مطابق اگلی پاک بھارت جنگ ۱۹۹۵ء کے آخر میں ہونا تھی جو اس سال بھی کرائی جا سکتی ہے۔ آنے والی جنگ بھی گزشتہ دونوں پاک بھارت جنگوں کی طرح ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کرائی جائے گی۔ امریکی صیہونی ایڈمنسٹریشن کے قابل بھروسہ قادیانی ایجنٹ دونوں طرف کی فیصلہ کرنے والی اتھارٹیوں کو ڈس انفارم کرنے سمیت بہت سے دیگر طریقوں پر عمل کرنے پر مقرر ہیں۔ ۱۹۷۱ء اور ۱۹۶۵ء کی جنگوں سے پہلے کی طرح زنجری کے مختص کیے گئے قادیانی اور غیر قادیانی پہلے ہی اہم اور کلیدی عہدوں پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ پاکستان کو اگلی جنگ سے بچانے کے لیے جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے۔

صفحہ 125

قادیانی دھمکیوں کے خلاف تحفظ

ایک دفعہ جب اسلام آباد کی مقتدر انتظامیہ کو اعلیٰ قادیانی قیادت اور اس کے ایجنٹوں کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں سے آگاہی ہو جائے تو پھر وہ خود بخود جان جائیں گے کہ کون سے اقدامات کرنے ہیں۔ تاہم صرف دو تجاویز پیش کی جا رہی ہیں۔

خطرے کی سنگینی اور حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت ضروری ہے کہ ایک ایسا سیل قائم کیا جائے، جس کے ذمے ملک بھر میں ان خطرات کے خلاف جوابی کارروائیوں کے لیے پلاننگ کرنا اور پھر اس پر عمل درآمد کرنا ہو۔ ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے قادیانیوں کی آزادانہ کارروائیوں کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے استحکام کے خلاف قادیانی ایجنٹوں کی دھمکی کو خاطر میں نہیں لایا جا رہا۔ حتیٰ کہ وہ قادیانی جن کی تخریب کارانہ کارروائیاں ثابت ہوچکی ہیں، آزادانہ پاکستان کے اعلیٰ منصب داروں کے درمیان اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یوں سیل کے بنائے گئے دفاعی پلان میں بنیادی کارروائیوں کو بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ وہ قادیانی جو قادیانیت سے مایوس اور بددل ہو چکے ہیں، انہیں دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ کام انہیں سنجیدگی سے کڑی نگرانی میں رکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ ان مایوس افراد تک رسائی بڑے دانش مندانہ طریقے سے حاصل کی جانی چاہیے اور اسلامی تعلیمات سے ان پر اثر انداز ہونا چاہیے۔ یہ کام ایک تعلیم یافتہ مذہبی اسکالر ہی کر سکتا ہے یا وہ لوگ جنہیں مایوس قادیانی اپنا مخلص دوست گردانتے ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں کہ ایسے افراد کی مذہب اسلام میں دوبارہ بازیابی کے لئے ماضی میں باقاعدہ کوششیں کی گئیں یا نہیں، ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر عقل مندی سے کام لیا جائے تو اس منصوبے کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ شش و پنج کے شکار قادیانی معاشرت کے نوجوان مردوں اور عورتوں کو متاثر کرنے کے لیے یہ کوششیں بڑے پیمانے پر کی جانی چاہئیں۔ اس منصوبہ پر عمل درآمد کے لیے امت مسلمہ کے مناسب مبلغین کی موثر امداد کی اشد ضرورت ہوگی۔

قادیانیوں کے منصوبے سے بچاؤ ---- ثابت قدمی کی ضرورت

صفحہ 126

پاکستان مخالف قادیانیوں اور ان کے منصوبوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے پاکستانی حکومتوں نے کبھی بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس کی ایک وجہ تو یقیناً یہ ہے کہ قادیانی آفیسر اور سیاسی شخصیات بذات خود اس تنظیمی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ اس لیے حکومت کی کارروائیوں سے کامیابی سے بچ جاتے ہیں۔ ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ منصب دار دراصل یہ نہیں سمجھتے کہ قادیانی ذہنی طور پر اسلام کے باغی اور دشمن ہیں اور اب ان لوگوں میں شامل ہیں جو دائرہ اسلام سے باہر تصور کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف قادیانی مسلمانوں کے ساتھ بے دین افراد جیسا سلوک کرتے ہیں۔

۱۹۳۵ء میں پنڈت جواہر لال نہرو کی طرف سے قادیانیوں کی حمایت میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے جواب میں علامہ محمد اقبالؒ نے ایک جامع مقالہ لکھا تھا جو قادیانی خطرے کے بارے میں تھا۔ انہوں نے لکھا:

”اسلام میں عقیدہ قطعیّت کی تہذیبی حیثیت کا میں نے کسی اور جگہ بڑی وضاحت سے ذکر کیا ہے۔ اس کا سادہ ترین مطلب یہ ہے کہ رسول اکرمؐ جنہوں نے انسانی ضمیر سے قریب تر قابلِ عمل قانون دے کر اپنے پیروکاروں کو نجات دلائی‘ آپؐ کے بعد کسی شخص کو نبوت نہیں مل سکتی۔ معرفت حق کی رو سے عقیدہ یہ ہے کہ سماجی اور سیاسی تنظیم ہی اسلام ہے جو مکمل اور دائمی ہے۔ حضرت محمدؐ کے بعد کسی پر وحی نازل نہیں ہو سکتی اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جو کوئی بھی ایسی کسی وحی کا دعویٰ دار ہے‘ وہ اسلام کا باغی ہے۔ جب سے کچھ لوگوں نے اس بات کا یقین کیا ہے کہ احمدیہ تحریک کا بانی صاحبِ وحی ہے‘ تو دراصل انہوں نے پوری اسلامی دنیا کو بے دین قرار دے دیا ہے“۔

چودھری ظفر اللہ کی طرف سے ستمبر ۱۹۴۸ء میں قائد اعظمؒ کی نماز جنازہ میں شرکت کے حوالے سے کورے جواب سے قادیانی مذہب کے اس ناپاک عقیدے کا ثبوت ملتا ہے۔ قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کو بے دین کہنا ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے سرسری لیا جائے۔

اللہ تعالیٰ کی کتاب جو ہماری زندگی کے ہر مسئلے پر رہنمائی کرتی ہے‘ مسلمانوں کو ان الفاظ میں خبردار کرتی ہے‘ ان لوگوں سے جو دائرہ اسلام سے باہر ہیں۔

صفحہ 127

”اے ایمان والو! نہ بناؤ بھیدی کسی کو اپنوں کے سوا' وہ کمی نہیں کرتے تمہاری خرابی میں' ان کی خوشی ہے' تم جس قدر تکلیف میں رہو' نکلتی پڑتی ہے دشمنی ان کی زبان سے اور جو کچھ مخفی ہے' ان کے دل میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے' ہم نے بتا دیے تم کو پتے اگر تم کو عقل ہے“ (۱۱۸-۳)

صیہونی عالمی جیوری کے ساتھ مل کر اعلیٰ قادیانی قیادت کی طرف سے لڑی جانے والی تخریب کاری پر مبنی جنگ کی طرف سے ہم لا تعلق نہیں رہ سکتے اور قادیانی ایجنٹوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے صرف ایک نقطہ ہے اور وہ یہ کہ اس مقصد کے لیے ایک مذہبی باڈی تشکیل دی جائے اور قادیانی خطرے سے پاکستان کو بچانے کے لیے پوری ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جائے۔

(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۱۳، شمارہ ۱۹۹۴)

از قلم: چوہدری غلام حسین

صفحہ 128

قادیانی اور کھر تنازعہ

ملک غلام مصطفیٰ کھر پنجاب کا مقتدر اعلیٰ تھا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم سے ان کے اختلافات پیدا ہو گئے۔ کھر صاحب ایک شادی کے سلسلہ میں فیصل آباد آ رہے تھے تو چودھری نذیر فیصل آبادی کی کوہستان بس نے ان کی کار کو دانستہ طور پر سائیڈ ماری۔ مگر کھر صاحب بال بال بچ گئے۔ جب کھر صاحب شیخوپورہ روڈ پر واقع نشاط آباد ریلوے کراسنگ پر (جہاں آج کل پل ہے) پہنچے تو پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق موجود لوگوں کے ہجوم نے ان پر ٹماٹر، آلو، گندے انڈے، پرانے جوتے پھینکے اور ان کے خلاف نعرے لگائے، مظاہرہ کیا، مگر کھر صاحب اس ہلہ بازی سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور پیپلز کالونی میں شادی والے مکان پر پہنچ گئے۔ مولانا تاج محمود فرماتے ہیں کہ مجھے شہر کے ایک صاحب نے فون کیا اور بتایا کہ کھر صاحب کے ساتھ یہ تمام ہنگامہ قادیانی سازش کا نتیجہ ہے۔ رات سفینہ ملز فیصل آباد میں (جو قادیانی ملز ہے) قادیانیوں کا اجلاس ہوا۔ اس میں کھر صاحب کے خلاف ہنگامہ کرنے کی پلاننگ ہوئی۔ ربوہ، سرگودھا، جھنگ، فیصل آباد سے قادیانی طالب علم جمع تھے۔ رات ان کا اس ملز میں رہائش و خوراک کا انتظام تھا۔ آج انہوں نے اس پلاننگ کے تحت کھر صاحب کی بے عزتی کی اور ہنگامہ کیا۔ اس میں پیپلز پارٹی کے کچھ لوگ بھی شامل تھے مگر تمام تر بدتمیزی قادیانی نوجوانوں کا شاخسانہ ہے۔ حضرت مولانا فرماتے ہیں کہ مجھے پہلے اس ہنگامہ کا اور کھر صاحب کے فیصل آباد آنے کا علم بھی نہیں تھا۔ یہ فون سنتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا کہ قادیانی گروہ بھٹو صاحب اور کھر صاحب کے اختلافات سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ان کو

صفحہ 129

لڑا کر وہ ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا فون سنتے ہی پیپلز کالونی شادی والی کوٹھی پر چلے گئے۔ نہ دعوت، نہ پروگرام، نہ اطلاع مگر ایک جذبۂ ایمانی تھا کہ قادیانی شاطر قیادت دو مسلمان لیڈروں کو لڑا کر ملک میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اس کا بر وقت تدارک ضروری تھا۔

مولانا کو فیصل آباد کا کون شخص تھا، جو نہ جانتا ہو۔ آپ اس کوٹھی پر پہنچے، مالکان نے خیر مقدم کیا۔ مولانا نے فرمایا کہ مجھے کھر صاحب سے ضروری ملنا ہے۔ معلوم ہوا کہ ملک احمد سعید اعوان (آج کل لاہور ہائی کورٹ کے جج) کے ہمراہ کھر صاحب کھانا کھا رہے ہیں۔ صاحب دعوت نے مولانا سے کھانے کی درخواست کی، آپ نے عذر کر دیا۔ اطلاع کرائی گئی۔ تھوڑی دیر بعد کھر صاحب ملک احمد سعید اعوان کے ہمراہ باہر تشریف لائے۔ ملک احمد سعید صاحب نے حضرت مولانا کا کھر سے تعارف کرایا۔ مولانا نے کھر صاحب سے دو منٹ تنہائی میں ملاقات کے لیے فرمایا۔ چنانچہ یہ تینوں حضرات کوٹھی کے عقب میں چلے گئے۔ مولانا نے تمام تفصیلات کھر صاحب کے گوش گزار کیں۔ کھر صاحب نے واقعہ سن کر لمبا سانس لیا۔ آسمان کی طرف دیکھا، پیشانی پر پسینہ آگیا اور پھر کچھ دیر خاموشی کے بعد مولانا سے عرض کیا کہ آپ مجھے ملیں۔ اس عنوان پر میں آپ سے تفصیل سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد قادیانی حماقت و سازش سے ۲۹ مئی کے واقعہ کے خلاف تحریک ختم نبوت چل نکلی تو قادیانیوں نے ملک میں جج صاحبان، افسران، سیکرٹری صاحبان، بھٹو صاحب اور ان کی کیبنٹ کے ارکان میں ایک تصویر تقسیم کی، جس میں کھر صاحب، ملک سعید اعوان اور مولانا تاج محمود کو ایک ساتھ محو گفتگو دکھایا گیا۔ اس تصویر کے ذریعے بھٹو صاحب کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ تمام سازش ملک غلام مصطفیٰ کھر، ملک احمد سعید اعوان اور مولانا تاج محمود صاحب نے آپ کے خلاف تیار کی ہے۔ لیجئے یہ صاحبان اکٹھے کھڑے گفتگو کر رہے ہیں۔

اس گفتگو کے بعد سانحہ ربوہ ہوا۔ یہ سب کچھ کھر صاحب نے آپ کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے لیے کیا ہے۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میں حیران تھا یہ تصویر کس طرح تیار ہوئی، کس نے تصویر بنائی، کس طرح تقسیم ہوئی۔ اس دن تو ہمارے تین کے علاوہ کوئی شخص اس ملاقات میں موجود نہ تھا۔ گفتگو کیسے ہوئی، نتیجہ کیا نکالا گیا۔ دشمن کی عیاری کہ وہ

صفحہ 130

اپنی سازش کو دوسرا رنگ دے رہا ہے۔ میں نے کھر صاحب کو قادیانی ہنگامہ سے باخبر کیا، ان کی سازش سے باخبر کیا، اس لیے قادیانیوں نے اس ملاقات کو افسانہ بنا دیا ہے۔ کئی سالوں بعد جب بھٹو صاحب فوت ہو گئے، مولانا فرماتے ہیں کہ تقریب میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ فیصل آباد کے فوٹو گرافر صابری نے مجھے ایک تصویر پیش کی۔ یہ تصویر وہی تھی جو قادیانیوں نے تقسیم کی تھی۔ مولانا فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا صابری صاحب یہ کیا؟ اس نے کہا یہ تصویر میں نے اس کوٹھی والی ملاقات کی بنائی تھی۔ میں انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے متعین تھا۔ آپ کھر صاحب کو لے کر کوٹھی کے عقب میں گئے۔ میں فوراً سیڑھیوں سے چھت پر گیا اور تصویر لے لی۔ ۱۹۷۴ء کی تحریک میں آٹھ صد کاپیاں اس تصویر کی مجھ سے تیار کرائی گئیں۔ فی کاپی چھ روپے چارجز میں نے وصول کیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ تصاویر کس ایجنسی نے مجھ سے بنوائیں اور کس مقصد میں لائی گئیں۔ مولانا نے مسکرا کر فرمایا کہ اگلی تفصیلات مجھ سے سن لیں کہ یہ تصویریں آنجناب سے قادیانیوں نے حاصل کیں اور بھٹو گورنمنٹ کو باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ تحریک کھر کی پیدا کردہ ہے اور اسی تصویر کا افسانہ بنایا۔ حالانکہ وہ تحریک خود قادیانی حماقت سے چلی تھی۔ ربوہ اسٹیشن پر قادیانیوں نے طالب علموں کو پٹوایا اور نتیجہ میں خود قادیانیت پٹ گئی۔

کھر اور تحریک ختم نبوت

مولانا تاج محمود فرماتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں ایک دفعہ ملک غلام مصطفیٰ کھر کا لاہور میں مجھے پیغام ملا کہ آپ مجھے ملیں۔ مولانا نے حضرت اقدس مولانا سید محمد یوسف بنوری، سربراہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل سے اس پیغام کا ذکر کیا اور اجازت چاہی کہ اگر اجازت ہو تو ملاقات کر لی جائے۔ حضرت بنوری مرحوم مردم شناس تھے۔ فوراً فرمایا کہ ضرور ملیں هذا بينی وبينک کہ یہ آپ کے اور میرے درمیان رہے۔ کسی سے تذکرہ نہ کریں لیکن ملاقات فوری کریں۔

حضرت مولانا تاج محمود چل پڑے۔ ٹیکسی والے نے گلبرگ کھر صاحب کی کوٹھی سے ایک فرلانگ پہلے اتار دیا۔ مولانا کے پوچھنے پر ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ کھر صاحب، بھٹو صاحب کے معتوب ہیں۔ ان کی کوٹھی پر سی آئی ڈی والوں کا پہرہ ہے۔ ہر آنے جانے

صفحہ 131

والے کو وہ واچ کرتے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا ٹیکسی نمبر نوٹ ہو اور پھر میں جرمانے و چالان بھگتتا پھروں۔ مولانا کو اس بات سے حالات کا اندازہ ہو گیا۔ مولانا ٹیکسی سے اتر کر فوراً کوٹھی کے آگے سے دور تک سڑک پر چلتے گئے۔ جاتے جاتے محل وقوع کا جائزہ لے لیا۔ آگے جا کر کوٹھی کے عقب میں مسجد تھی۔ اس میں جا کر نماز پڑھی۔ مسجد کے صحن سے کوٹھی کی صحیح پوزیشن کو سمجھا۔ آپ مسجد میں رہے۔ تھوڑی دیر بعد سی آئی ڈی والوں نے گیٹ کو چھوڑ کر ادھر ادھر کا چکر لگانا شروع کیا۔ مولانا نے گیٹ کو خالی دیکھا۔ فوری طور پر جوتا سنبھالا اور کوٹھی میں پہنچ گئے۔ گن مین سے ملاقات ہوئی۔ مولانا نے فرمایا کہ کھر صاحب سے ملنا ہے۔ اس نے انکار کر دیا کہ صاحب گھر پر نہیں ہیں۔ مولانا نے اسے بتایا کہ میں ان کے بلانے پر آیا ہوں۔ آپ جا کر بتائیں کہ فیصل آباد سے مولانا تاج محمود تشریف لائے ہیں۔ پیغام پہنچا تو گن مین کو کھر صاحب نے کہا کہ کوٹھی کی پچھلی جانب لے آئیں۔ مولانا وہاں تشریف لے گئے تو کھر صاحب اپنی بھینسوں کا دودھ نکال رہے تھے۔ چادر اور بنیان پہن رکھی تھی۔ ایک چارپائی پر مولانا کو بٹھا دیا تو کھر صاحب نے کہا حضرت میں گورنمنٹ ہاؤس میں بھی اپنی بھینسوں کا خود دودھ نکالتا ہوں۔ یہ ہماری خاندانی روایت ہے جس کی میں پابندی کرتا ہوں۔

اب کھر صاحب نے گفتگو کا آغاز کیا۔ بحیثیت مسلمان میں نے آپ کو بلایا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ آپ نے مجھے فیصل آباد میں قادیانیوں کی سازش سے آگاہ کیا، مگر میں نہ سنبھل سکا۔ دشمن نے مجھے اور بھٹو صاحب کو لڑا دیا ہے۔ آپ کی تحریک دشمن خراب کرنا چاہتا ہے۔ چند باتیں عرض کر دیتا ہوں اس پر آپ سوچ لیں۔ میرے سر پر مرزا ناصر کا لڑکا مسلط ہے۔ وہ یہاں یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ ہر روز آکر الٹی سیدھی مجھے پڑھاتا رہتا ہے۔ اسی طرح مرزا طاہر احمد جو مرزا ناصر کا بھائی ہے، وہ بھٹو صاحب پر مسلط ہے۔ مرزا ناصر اپنے بیٹے کے ذریعے مجھے، اور طاہر کے ذریعہ بھٹو صاحب کو الگ الگ شیشے میں اتارتے رہے ہیں۔ دراصل رائے صاحب ان کا منظور نظر ہے۔ یہ سب لابنگ اس کے لیے ہو رہی تھی۔ آپ مجھ سے عبرت حاصل کریں۔ چار باتوں کا خیال رکھیں۔ آپ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ساتھی ہیں۔ میرے والد مرحوم، شاہ جی اور حضرت مولانا محمد شریف بہاول پوری کو اپنے ہاں سیرت کے جلسوں پر بلواتے تھے۔ فیصل

صفحہ 132

آباد کی ملاقات اور اس دینی تعلق کی بنیاد پر میں نے آپ کو تکلیف دی ہے۔ آپ چار چیزوں کا خیال رکھیں۔

تحریک کامیاب نہ ہو‘ سوشل بائیکاٹ ترک نہ کریں۔

رہیں‘ تحریک چلتی رہے۔ جناب بھٹو کی سمجھ میں آگیا تو وہ یہ کام کر جائیں گے۔ وہ جب کام کرنے پر آ جاتا ہے تو فوری فیصلہ کرتا ہے۔ قدرت نے بے پناہ قوت فیصلہ سے اس کو نوازا ہے۔

کرتا ہے‘ وہ رات بھٹو صاحب سے ملا ہے۔ وہ سخت قسم کا جاسوس ہے۔ آپ کا ہر راز بھٹو صاحب تک پہنچاتا ہے۔ آپ اس سے باخبر رہیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں میں نے آکر حضرت شیخ بنوری سے عرض کیں تو حضرت بنوری نے چھ رکنی کمیٹی بنا دی۔ حضرت بنوری‘ حضرت مفتی صاحب‘ مولانا محمد شریف جالندھری‘ مولانا تاج محمود‘ نواب زادہ نصراللہ خاں‘ آغا شورش کاشمیری پر مشتمل چھ حضرات کی کمیٹی میٹنگ سے قبل باہمی مشورہ کرکے جو طے کرتی تھی‘ میٹنگ میں فیصلہ اسی کے مطابق کرواتے تھے۔ ان تمام اراکین نے باہمی طے کر لیا تھا کہ اس سب کمیٹی کا کسی کو علم نہ ہو گا اور نہ ہی اس کے فیصلوں کا کسی کو پتہ چلے گا۔ تا آنکہ تحریک کامیاب نہ ہو جائے۔

مولانا نے فرمایا کہ کلیم اختر کاشمیری کی سر ظفر اللہ خان قادیانی سے ملاقات ہوئی تو ظفر اللہ خان نے کہا کہ مرزا ناصر اپنے باپ مرزا محمود کی گرد راہ کو نہیں پا سکتا۔ مرزا محمود نے علماء سے‘ احرار سے‘ کانگریس سے چومکھی لڑائی لڑی مگر مار نہیں کھائی۔ مرزا ناصر کی ایک دفعہ جناب بھٹو صاحب سے ملاقات ہو گئی تو غلط فہمی کا شکار ہو کر طالب علموں کو ربوہ اسٹیشن پر پٹوا کر خود پٹ گئے۔

(”تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء“ حصہ سوم‘ از مولانا اللہ وسایا)

صفحہ 133

بلوچستان میں ۹ مئی کا واقعہ اور

تحریک ختم نبوت پر ایک نظر

۹ مئی کو کوئٹہ میں قادیانی عبادت گاہ کے بارے میں قومی اخبارات میں مکمل خبر شائع نہیں ہوئی۔ اس روز کوئٹہ کے غیور مسلمانوں اور ختم نبوت کے شیدائیوں نے حکومت کے تمام حفاظتی انتظامات کو تہس نہس کر کے قادیانی عبادت گاہ کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ آنسو گیس اور لاٹھی چارج سے پندرہ مسلمان شدید زخمی ہوئے تھے۔

بلوچستان کے پُرامن صوبے میں اس اقدام کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ قادیانی جو پاکستان کے مذہبی طور پر مخالف ہیں، ان کا یہ الہامی عقیدہ ہے کہ پاکستان ختم ہو کر اکھنڈ بھارت بنے گا۔ قیام پاکستان کے وقت باؤنڈری کمیشن میں انہوں نے مسلمانوں سے الگ اپنا موقف پیش کیا۔ تقسیم کے دوران انہوں نے ضلع گورداسپور میں اپنی آزاد حکومت بحیثیت اقلیت قائم کرنے کی کوشش کی تھی، جس میں وہ کامیاب نہ ہو سکے۔

قیام پاکستان کے بعد دوسرے قادیانی خلیفہ مرزا محمود نے کہا کہ ”بلوچستان کی کل آبادی پانچ یا چھ لاکھ ہے۔ زیادہ آبادی کو احمدی بنانا

صفحہ 134

مشکل ہے‘ لیکن تھوڑے آدمیوں کو تو احمدی بنانا کوئی مشکل نہیں۔ پس جماعت اس طرف اگر پوری توجہ دے تو اس صوبے کو بہت جلد احمدی بنایا جا سکتا ہے۔ اگر ہم سارے صوبے کو احمدی بنا لیں تو کم از کم ایک صوبہ تو ایسا ہو جائے گا‘ جس کو ہم اپنا صوبہ کہہ سکیں گے۔ پس اس جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کے لیے یہ عمدہ موقع ہے‘ اس سے فائدہ اٹھائیں اور اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ پس تبلیغ کے ذریعے بلوچستان کو اپنا صوبہ بناؤ کہ تاریخ میں آپ کا نام رہے۔"

(مرزا محمود احمد کا بیان ”الفضل“ ۱۳ اگست ۱۹۴۸ء)

یہ خبر قادیانی جماعت کے سرکاری آرگن ”الفضل“ میں شائع ہوئی۔ مرزا بشیر الدین کے اس حکم کے بعد قادیانیوں نے بلوچستان کا سروے شروع کر دیا۔ کوئٹہ میں سیٹلمنٹ آفس سے ملی بھگت کے بعد بڑی متروکہ جائیدادیں حاصل کر لیں۔ دورانِ سروے مقامی قادیانی جماعت نے مرزا بشیر الدین کو رپورٹ دی کہ بلوچستان کے بلوچوں اور پٹھانوں کو قادیانی بنانا مشکل ہے‘ ہم کس طرح اپنی تحریک میں کامیاب ہوں گے‘ جبکہ قادیانی تعداد میں کم ہیں؟ جس پر مرزا بشیر الدین نے کہا کہ یہ اس طرح ہمارا صوبہ ہو گا‘ جس طرح ایسٹ انڈیا کمپنی کے چند انگریز سوداگروں نے کروڑوں کے ملک پر اپنی حکمرانی قائم کر لی۔

بشیر الدین محمود کی ہدایت پر اس وقت کا وزیر خارجہ ظفر اللہ قادیانی بھی بڑی شد ومد سے کام کر رہا تھا۔ اس نے انہی دنوں اپنے دورہ بلوچستان کے موقع پر خان آف قلات حضرت میر احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کی اور مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کرنے کی کوشش کی تو مرد حق خان آف قلات نے کہا کہ ظفر اللہ سن لو! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں‘ ان کے بعد نبوت ختم ہے۔ اگر جو دعویٰ کرے گا‘ وہ کذاب ہو گا۔ یہ بھی کہا کہ اگر حضور ﷺ دوبارہ تشریف لا کر کہہ دیں کہ مرزا کو نبی مان لو تو میں ایسے شخص کو نبی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گا۔

یہ خان آف قلات کے خوبصورت جملے حضرت مولانا قاضی عبد الصمد سربازیؒ نے اپنی فارسی کتاب میں منظوم طریق پر درج کیے ہیں۔

صفحہ 135

قادیانیوں کے خلیفہ ثانی بشیر الدین محمود نے کوئٹہ میں ڈیرہ لگا دیا اور بڑے پیمانے پر تبلیغ شروع کردی۔ اس تبلیغ میں وہ نوجوان لڑکیوں کو زیادہ استعمال کرتے۔ مسلمان نوجوان ان کے دام میں پھنس رہے تھے۔ اس وقت استاد العلماء حضرت مولانا عبدالوہاب لہڑی نے قادیانیوں کے خلاف اعلان جہاد شروع کر دیا۔ انہوں نے شہر سے پانچ میل دور اپنی کلی جینو میں مرکز قائم کیا اور اپنے طلباء سے کام لیا۔ مولانا عبدالوہاب لہڑی نے ایک عظیم اور تاریخی کارنامہ یہ انجام دیا کہ انہوں نے ایک بہت بڑا اشتہار شائع کیا جس پر ایک ہزار علمائے کرام کے دستخط موجود تھے جنہوں نے مرزا قادیانی کے کفر کی تصدیق کی۔ اس اشتہار کے شائع ہونے کے بعد قادیانی ایوان میں زلزلہ آگیا۔ مولانا عبدالوہاب لہڑی نے تبلیغی جلسے منعقد کیے۔ انہوں نے ختم نبوت کے عنوان سے ایک بہت بڑا جلسہ موجودہ کالٹیکس پٹرول ڈپو جوائنٹ روڈ کے مقام پر منعقد کیا۔ جلسے میں سٹیج پر حضرت مولانا عرض محمد بانی مدرسہ مطلع العلوم، حضرت مولانا عبدالعزیز خطیب جامع مسجد چمن پھاٹک، حضرت مولانا عبدالشکور خطیب جامع مسجد مرکزی، مولانا قاضی دوست محمد جعفر اور مولانا عبدالغفور موجود تھے۔ جلسے کے مہتمم مجاہد ختم نبوت مولانا عبدالوہاب لہڑی تھے۔ ممتاز عالم دین مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی مسئلہ ختم نبوت پر تقریر کر رہے تھے۔ قادیانی خانہ ساز نبوت کا ایک فرد میجر ڈاکٹر محمود جو سی۔ ایم۔ ایچ کوئٹہ سے ریٹائرڈ ہوا تھا، اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جلسے میں شریک ہوا۔

مولانا محمد ابراہیم کی تقریر کے دوران میجر محمود طنزیہ انداز میں مسکراتا رہا۔ ایک مرتبہ اس نے ٹوکا تو ہزاروں کے مجمع کو یہ علم ہو گیا کہ یہ قادیانی ہے۔ مسلمانوں نے نعرہ تکبیر لگایا۔ اس کو مارنے کے لیے دوڑے۔ بدبخت میجر محمود بھاگنے لگا۔ ایک ریلوے کوارٹر میں گھس گیا۔ ایک نوجوان نے اس کو وہیں جہنم رسید کر دیا۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے مولانا عرض محمد، مولانا عبدالعزیز، مولانا عبدالشکور، مولانا عبدالغفور اور مولانا محمد ابراہیم کو گرفتار کر لیا۔ مقدمہ درج کر لیا گیا، لیکن پولیس نے خود ہی تین ماہ بعد مقدمہ کو داخل دفتر کر دیا۔ تمام علماء کو رہا کر دیا گیا۔ پولیس نے مولانا عبدالوہاب لہڑی کو گرفتار کرنے کی جدوجہد کی، وہ شہر سے باہر

صفحہ 136

تھے۔ پولیس نے لیویز کو کہا کہ وہ گرفتاری کرے۔ لیویز نے رپورٹ دی کہ مولانا عبدالوہاب کو گرفتار کرنے سے سریاب کے قبائل اور علماء حکومت کے خلاف ہو جائیں گے، جس پر حکومت کو مولانا عبدالوہاب لہڑی کو گرفتار کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔

میجر محمود کے قتل کے بعد قادیانیوں کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں۔ ۱۹۵۰ء میں مجلس احرار کے ارکان چوہدری شوق محمد نے مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کر دی تھی۔ مجلس پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام رہا۔ مجلس کی کارکردگی سے قادیانی اس صوبے میں پاؤں نہ جما سکے۔

۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے خلاف شہید اسلام مولانا سید شمس الدین شہید نے ژوب میں تحریک چلائی۔ ژوب کو قادیانیوں کے وجود سے پاک کر دیا گیا۔ ملک کا یہ وہ واحد حصہ ہے جہاں قانوناً قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا لیکن قانون سازی نہ ہوئی تھی کہ مارشل لاء لگ گیا۔ ۱۹۸۳ء میں قادیانیوں نے مبلغ اسلام، مجاہد ختم نبوت مولانا اسلم قریشی کو اغوا کر لیا جس پر ملک بھر میں ایک بار پھر تحریک شروع ہو گئی، مگر حکومت نے ملت اسلامیہ کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے امتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ کر دیا، لیکن قادیانیوں نے اس آرڈیننس کو قبول نہ کیا۔ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا شروع کر دیا۔ اقلیت ہوتے ہوئے بھی اکثریت کو دبانے کی کوشش کی۔ ایک موقع پر مرزا طاہر نے کہا تھا کہ اب احمدیوں نے لوہے کی ٹوپی پہن لی ہے۔ قادیانیوں کو بعض بڑی طاقتوں کی بھی حمایت حاصل ہے جس کے بل بوتے پر انہوں نے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈال دیا۔ صدارتی آرڈیننس کے بعد قادیانیوں نے اپنی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ نہ ہٹایا، جس پر مجلس نے قراردادیں منظور کیں، لیکن حکومت نے عملی اقدام نہ کیا۔

اس پر تنظیم تحفظ ختم نبوت کے طلباء سید انور شاہ، نصر اللہ کاکڑ، سلیم خان، محمد کاظم مینگل، احسان اللہ شیرانی کی قیادت میں طلباء نے قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ ہٹا دیا، لیکن قادیانیوں نے چند گھنٹوں میں زیادہ پختہ طریقے سے کلمہ تحریر کر دیا،

صفحہ 137

جس پر مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ ۲۸ اپریل کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس صوبائی امیر یادگار سلف ترجمان علمائے حق حاجی محمد زمان خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ ۲۸ اپریل کے اجلاس کی کارروائی جو روزنامہ جنگ اور مشرق کوئٹہ میں شائع ہوئی۔

آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کی نو منتخب مجلس عاملہ کا اجلاس صوبائی صدر حاجی محمد زمان خان اچکزئی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلام، اتحاد المسلمین، جمعیت اہل حدیث، جمعیت طلباء اسلام، اسلامی جمعیت طلباء، مجلس تحفظ حقوق اہل سنت اور دیگر مذہبی اور سیاسی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ۹ مئی ۸۶ء کو بعد از نماز جمعہ صوبائی دارالحکومت کی تمام مساجد سے جلوس نکالے جائیں گے جو میزان چوک پر جمع ہوں گے۔ وہاں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اجتماع ہوگا۔ بعد ازاں مجلس عمل کے رہنماؤں کی قیادت میں بصورت جلوس روانہ ہو کر سنڈیمن سکول کے سامنے فاطمہ جناح روڈ پر ایک عظیم الشان جلسہ عام ہو گا جس سے تمام مکاتب فکر کے رہنما خطاب فرمائیں گے۔ جلسے کے اختتام پر نماز عصر وہیں ادا کی جائے گی۔ اس سے قبل صوبائی صدر نے اجلاس کو بتایا کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل فاطمہ جناح روڈ پر واقع قادیانی عبادت گاہ پر سے کلمہ طیبہ کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے طلباء نے مٹا دیا تھا لیکن چند گھنٹوں کے بعد غیر مسلم اقلیتی گروہ قادیانیوں نے صدارتی آرڈیننس کی دھجیاں اڑا کر دوبارہ اپنی عبادت گاہ پر کلمہ طیبہ تحریر کر دیا۔ اس مسئلے پر مجلس تحفظ ختم نبوت نے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ مٹانے کے لیے تین دن کی مہلت طلب کی لیکن پانچ دن گزرنے کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ بنا بریں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان نے عملی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ اگر انتظامیہ نے قادیانی عبادت گاہ کی ہیئت اور شکل مسجد سے تبدیل نہ کی تو مجلس عمل خود عملی اقدام کرے گی۔

قادیانی عبادت گاہ کے سامنے جلسہ کے انتظامات کرنے کے لیے کئی کمیٹیاں تشکیل کی گئیں جو ۸ مئی کے اجلاس میں اپنی رپورٹیں پیش کریں گی۔ دریں اثناء

صفحہ 138

مجلس عمل کے سالار عنایت اللہ خان بازئی نے مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں کو ہدایت کی کہ اس عظیم مظاہرے کے لیے اپنے رضا کاروں کی فہرست مہیا کر دیں۔ اجلاس کے شرکاء میں حاجی محمد امین اللہ خان، مولانا اللہ داد خیر خواہ، حافظ حسین احمد (جمعیت علمائے اسلام) عبدالمجید خان، مولانا عبدالغفور بلوچ، چوہدری محمد حسین (جماعت اسلامی)، مولانا محمد ادریس فاروقی (جمعیت اہل حدیث)، مولانا انوار الحق حقانی خطیب مرکزی جامع مسجد، مولانا حسین احمد شرودی خطیب مسجد الحبیب، اعجاز یوسف ایڈووکیٹ (مجلس تحفظ حقوق اہل سنت) مولانا نیاز محمد دوتانی، عنایت اللہ بازئی، حاجی عبدالمتین، محمد نعیم ترین (جمعیت علماء اسلام) مولانا محمد شفیق، حاجی سید شاہ محمد، فیاض الحسن سجاد، سید سیف اللہ آغا، مولانا عبداللہ جان بحرالعلوم، چوہدری محمد طفیل صاحب احرار، نصر اللہ خان کاکڑ، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی عبدالمنان اور راحت ملک شامل ہیں۔

مجلس عمل کے اعلان کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ۳۰ اپریل کو قادیانی عبادت گاہ سے کلمہ طیبہ ہٹا دیا۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے فیصلے کی تمام دینی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مجلس تحفظ حقوق اہل سنت، تنظیم اہل سنت، سواد اعظم، جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت اشاعت توحید اہل سنت، جمعیت اہل حدیث، انجمن اتحاد المسلمین، جمعیت طلبائے اسلام، اسلامی جمعیت طلباء اور دوسری تنظیموں نے اخباری بیانات کے ذریعے مکمل حمایت کا اعلان کر دیا۔ تنظیم تحفظ ختم نبوت طلباء کے صدر سید انور شاہ نے ۳۰ اپریل کو پریس کانفرنس میں قادیانیوں کے خلاف مجلس عمل کی کارروائی کی مکمل حمایت کی اور طلباء تنظیموں سے مل کر مظاہرے کی تیاری شروع کر دی۔

۲ مئی کو صوبہ بھر کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا گیا اور مسلمانوں کو مسئلہ کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اس دوران ضلعی انتظامیہ نے صوبائی حکومت کو صورتحال سے آگاہ کر دیا۔

ضلعی انتظامیہ نے صورت حال پر قابو پانے کے لیے مختلف طریقے اختیار

صفحہ 139

کیے۔ انہوں نے یہ خیال کر لیا کہ انتظامیہ نے کلمہ طیبہ ہٹا دیا ہے، اس لیے مجلس عمل مزید کارروائی نہیں کرے گی۔ اس گہما گہمی میں تنظیم تحفظ ختم نبوت پاکستان کے صدر حافظ محمد اسلم صاحب اور لاہور کے خالد متین نے کوئٹہ کا دورہ کیا جو بہت موثر ثابت ہوا۔ ۸ مئی کو وہ لاہور روانہ ہو گئے۔ ۸ مئی کو مجلس عمل کا اجلاس صوبائی امیر حاجی محمد زماں خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس کی خبر جو اخبارات میں شائع ہوئی، وہ یہ ہے۔

کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کا ایک اہم اجلاس صوبائی امیر جناب حاجی محمد زمان خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مجلس نے مرکزی امیر مولانا خان محمد صاحب (کنڈیاں شریف) سے اپنی ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا: حضرت امیر مرکزیہ کا حکم ہے کہ تمام ملک میں ملت کے دشمنوں کا ناطقہ بند کرایا جائے۔ مسلمان ناموس رسالت کے لیے اپنی تمام تر قوت اور مکمل وسائل بروئے کار لائیں تاکہ متفقہ قادیانیت کا سدباب ہو سکے۔ انہوں نے فرمایا کہ پورے ملک میں وہ حالات پیدا کیے جائیں کہ حکومت مسلمانوں کے بنیادی مطالبات کو ماننے پر مجبور ہو جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس کے سیکرٹری اطلاعات مولانا حسین احمد شرودی نے کہا کہ قادیانی عبادت خانہ اگر ”مسجد“ کہلانے کا مستحق ہے تو اسے قرآنی احکام کے مطابق مسلمانوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ اور اگر وہ ”مسجد“ نہیں اور کافروں کی عبادت گاہ ہے تو اس کی مشابہت مسجد سے فوری طور پر ختم کی جائے۔ مینارے، محراب اور منبر اور ہر وہ چیز جو ”خانہ خدا“ مسجد کی خاصیت ہوا کرتی ہے، اس ”خانہ ایمان“ سے ہٹا دی جائے۔ اس لیے کہ اس سے امت مسلمہ کے ایک ایک فرد کی دل آزاری ہوتی ہے اور کسی بھی وقت خون خرابے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا بلوچستان کے لاکھوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات و احساسات کو مجروح کرنا ارباب اقتدار کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ عظیم تر جلسے اور مظاہرے کے پیش نظر مجلس عمل کے کارکن صبح ہی سے تمام قندھاری بازار میں جابجا سپیکر نصب کریں گے تاکہ تمام شرکاء تک قائدین

صفحہ 140

کی آواز پہنچ سکے۔ مجلس عمل کے سالار اعلیٰ عنایت اللہ خان باڑئی نے تمام جماعتوں کے رضا کاروں کو ہدایات دیں کہ وہ صبح 9 بجے ان سے ملیں اور اپنے اپنے فرائض سنبھال لیں۔

8 مئی کی شام کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما حافظ محمد انور مندوخیل کی نگرانی میں 9 مئی کے مظاہرے کا اعلان لاؤڈ سپیکر پر شروع ہوا جس پر انتظامیہ گھبرا گئی۔ انتظامیہ نے دوسرے اضلاع سے پولیس طلب کرلی۔ پولیس ٹریننگ سکول کے زیر تربیت رنگروٹوں کو طلب کر لیا گیا۔ راتوں رات پولیس نے فاطمہ جناح روڈ پر واقع قادیانی عبادت گاہ کے اطراف میں ناکہ بندی کر دی۔ رائفلوں، آنسو گیس اور لاٹھیوں سے مسلح پولیس نے رات کی تاریکی میں ہی پوزیشن سنبھال لی تھی، حتیٰ کہ پولیس بڑی بڑی عمارتوں کی چھتوں پر موجود تھی۔ سٹی مجسٹریٹ نے مجلس عمل کے قائدین سے رابطہ قائم کیا کہ ڈپٹی کمشنر سے بات چیت کی جائے۔

صوبائی امیر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے انتظامیہ سے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے مجلس کے رہنماؤں کو علی الصبح نو بجے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت میں طلب کر لیا۔ اس اجلاس میں سٹی مجسٹریٹ رحیم شاہ عبداللہ زئی بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے اکابرین کو بات چیت کے لیے راضی کر لیا۔ مجلس عمل نے الحاج حاجی محمد زمان خان اچکزئی کی قیادت میں چار رکنی وفد بات چیت کے لیے نامزد کیا، جس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا محمد منیر الدین، ڈاکٹر محمد ابراہیم، ممتاز قانون دان چوہدری اعجاز یوسف ایڈووکیٹ اور فیاض حسن سجاد شامل تھے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی بجائے ایس۔ ڈی۔ ایم نے مظاہرہ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا جس پر قائد وفد حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے ایس۔ ڈی۔ ایم کی خبر لی اور کہا کہ آپ ہمارے ساتھ بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ ہماری پوزیشن صوبے کی سطح پر ہے اس لیے چیف منسٹر یا چیف سیکرٹری بات کریں۔ انتظامیہ نے صرف جلسہ کرنے کا مطالبہ کیا لیکن قائدین نے مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب پندرہ روز قبل اعلان ہوا، حکومت نے رابطہ قائم نہیں کیا۔ اب عین وقت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے، تاہم مجلس عمل کوئی درمیانی راستہ تلاش کرے گی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے

صفحہ 141

دفتر میں سینکڑوں کارکن جمع تھے۔ دوسری طرف میزان چوک پر سالار عنایت اللہ خان بازئی کی صدارت میں رضا کاروں کا اجلاس ہو رہا تھا جس میں انتظامات کو آخری شکل دی جا رہی تھی۔

شہر کی بڑی بڑی مساجد پر بھاری جمعیت میں پولیس تعینات تھی اور پولیس کا گشت شہر میں جاری تھا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں علماء کرام نے ولولہ انگیز خطاب کیے۔ جامع مسجد مرکزی سے مولانا قاری انوار الحق حقانی کی قیادت میں ہزاروں افراد پر مشتمل جلوس سوا دو بجے میزان چوک پر پہنچ گیا۔ دوسرا جلوس جامع العلوم سے حضرت مولانا عبدالواحد کی قیادت میں میزان چوک پہنچا۔ اس کے بعد جامع مسجد عثمانیہ سے مولانا آغا محمد کی قیادت میں جلوس پہنچا۔ جامع مسجد سنہری سے مولانا محمد منیرالدین، جامع مسجد اقصیٰ سے مولانا محمد نعیم ترین، مولانا محمد یوسف، جامع مسجد عمر سے مولانا محمد اکبر، جامع مسجد مدرسہ مفتاح العلوم سے مولانا عبدالباقی کی قیادت میں، جامع مسجد نور سے بحرالعلوم مولانا عبداللہ جان کی قیادت میں، جامع مسجد ترین روڈ سے مولانا عبدالقیوم کی قیادت میں، جامع مسجد ختم نبوت سے مولانا محمد شفیع کی قیادت میں، حاجی مسجد الحبیب سے مولانا حسین احمد شرودی، حافظ محمد انور مندوخیل کی قیادت میں، جامع مسجد عبدالصمد سے مولانا قاری احمد یار کی قیادت میں، جامع مسجد لالی سے مولانا محمد رفیق کی قیادت میں، جامع مسجد طوبیٰ سے جلوس مولوی عبدالمجید خان، حاجی فضل قادر شیرانی اور حاجی تاج محمد کی قیادت میں جلوس میزان چوک پہنچے۔ مختلف علاقوں سے چار بجے شام تک جلوس پہنچتے رہے۔ ایک بہت بڑا جلوس پشتون آباد سے شیخ الحدیث مولانا نور محمد کی قیادت میں پہنچا۔ جلوس تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت کا قبرستان بلوچستان بلوچستان، شہدائے ختم نبوت زندہ باد، مولانا اسلام قریشی کا قاتل بالکل ظاہر، مرزا طاہر مرزا طاہر کے نعرے لگا رہے تھے۔ شہر میں عجیب فضا تھی۔ ہر شخص میزان چوک پہنچ رہا تھا۔ میزان چوک میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس کی صدارت مجلس عمل کے امیر حاجی محمد زمان اچکزئی نے کی۔ سٹیج پر حضرت مولانا منیرالدین، حضرت مولانا عبدالباقی، حضرت مولانا عبداللہ جان بحرالعلوم، مولانا قاری انوار الحق حقانی، مولانا نیاز محمد دوتانی، شیخ الحدیث مولانا نور محمد، مولانا مجید

صفحہ 142

خان، خطیب بلوچستان مولانا عبدالواحد، مولانا محمد رفیق، مولانا محمد شفیق، مولانا آغا محمد، مولانا محمد دین، مولانا غلام سرور، مولانا قاری عبدالرحیم رحیمی، مولانا عبدالقیوم، ڈاکٹر ابراہیم، مولانا محمد ادریس فاروقی، حافظ محمد انور مندوخیل، مولانا محمد نعیم ترین، سید پیر عبدالحکیم شاہ، حاجی سید شاہ محمد، حاجی تاج محمد، حاجی فضل قادر شیرانی، حاجی سید سیف اللہ آغا، حاجی نعمت اللہ، چوہدری محمد طفیل احرار، چوہدری اعجاز یوسف ایڈووکیٹ، سکندر خان ایڈووکیٹ، زاہد مقیم انصاری ایڈووکیٹ موجود تھے۔

ممتاز قاضی شیر محمد نے تلاوت قرآن پاک سے جلسے کا آغاز کیا۔ پشتو کے مشہور شاعر سید رسول فریادی نے نظمیں پڑھیں۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض صاحبزادہ حافظ حسین احمد شرودی خطیب جامع مسجد الحبیب نے انجام دیئے۔ اسلامی جمعیت طلباء کے رہنما نصر اللہ خان کاکڑ، جمعیت طلبائے اسلام کے رہنما محمد اسحاق ہنوی، تنظیم تحفظ ختم نبوت کے صوبائی صدر سید انور شاہ، دکی کے ممتاز عالم دین مولانا دین محمد، مسلم لیگی رہنما ملک احمد شاہ لہڑی، شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی، بحرالعلوم مولانا عبداللہ جان، فاضل نوجوان محمد نعیم ترین، مولانا محمد ادریس فاروقی، شیخ الحدیث مولانا نور محمد، جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، خطیب بلوچستان شعلہ بیان پشتو کے خطیب جامع العلوم مولانا عبدالواحد، مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن مولانا قاری انوار الحق حقانی، مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے صدر مولانا محمد منیر الدین اور مجلس عمل کے صدر اور صدر جلسہ حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے خطاب کیا۔ رہنماؤں اور علماء نے حکومت کو انتباہ کیا کہ وہ مجلس عمل کے مطالبات تسلیم کر لے۔ قائدین نے کہا کہ امام المجاہدین مرشد العلماء حضرت خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی ہدایت کے مطابق آج صرف جلسہ کیا جائے گا۔ قادیانی عبادت گاہ پر مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔ اس اعلان پر جلسہ گاہ میں بار بار نعرہ تکبیر بلند ہوا۔ اکثریت قادیانی عبادت گاہ پر جا کر مینارے، محراب گرانے کے لیے تیار تھی۔ انہوں نے قائدین کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور مسلسل نعرے لگاتے رہے اور جلوس نکالنے پر بضد رہے۔ حضرت مولانا منیر الدین نے اختتامی دعا کی۔

دعا کے فوراً بعد قائدین کے روکنے کے باوجود چار جلوس مختلف اطراف سے

صفحہ 143

قادیانی عبادت گاہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جلوس کے منتظمین میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے جوشیلے رہنما حاجی عبدالمنان بڑیچ، حاجی سید اختر شاہ، مولانا آغا محمد خطیب جامع مسجد عثمانیہ، حافظ عبیداللہ فاروقی، سالار عنایت اللہ خان بازئی، فاضل نوجوان محمد نعیم ترین، حافظ محمد انور مندوخیل، نظام الدین پانیزئی، محمد اسحاق ہٹوی، جمعیت طلبائے اسلام کے رہنما نذر محمد سیاف عبدالعلی، کمال شاہ، اسلامی جمعیت طلباء کے نصراللہ خان کاکڑ، سلیم خان، محمد کاظم مینگل، تنظیم تحفظ ختم نبوت کے صدر سید انور شاہ، نصیب اللہ ناصر اور عمر فاروق شامل تھے۔

واضح رہے کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے ۲۸ اپریل کو جب قادیانی عبادت گاہ پر مظاہرہ کا اعلان کیا تو اس کے فوراً بعد تنظیم تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں نے سروے کیا کہ شہر میں قادیانیوں کی کتنی آبادی ہے۔ ان کی عبادت گاہ کے اطراف میں کتنے مکان ہیں جن میں مرد کتنے ہیں، ان کے پاس کیا کیا اسلحہ ہے اور مسلمانوں کے مکان کہاں کہاں ہیں۔ ان نوجوانوں نے مسلمانوں کے مکانوں پر مخصوص نشان لگا دیا تاکہ مظاہرے کے روز آسانی رہے۔ اس سروے سے کارروائی کے دوران بہت ہی سہولت حاصل رہی۔

علاوہ ازیں میزان چوک میں جب قائدین تقریر کر رہے تھے تو سینکڑوں افراد نے خفیہ مقام پر ڈنڈے اور کلہاڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ جلسہ کے خاتمہ کے فوراً بعد ہی چار جلوس قادیانی عبادت گاہ کی طرف روانہ ہوئے تو پولیس حیران رہ گئی کہ کس طرح جلوس کو روکے۔ ایک جلوس کی قیادت حاجی عبدالمنان، حاجی سید اختر محمد شاہ، نذر سیاف، کمال شاہ، سید انور شاہ، مولانا آغا محمد، عبدالعلی، عبید اللہ فاروقی، نصراللہ خان کاکڑ، سلیم خان، محمد کاظم مینگل، نصیب اللہ سیبک ناصر، عبدالخالق، عبدالرحمٰن اور عمر فاروق کر رہے تھے۔ یہ سب سے بڑا جلوس تھا جو شارع لیاقت، آرچر روڈ اور مسجد روڈ سے ہوتا ہوا قادیانی عبادت گاہ کی طرف پہنچ گیا۔ جب جلوس قادیانی عبادت گاہ سے بیس گز کے فاصلے پر تھا، پولیس نے اندھا دھند آنسو گیس پھینکی۔ اس دوران دوسرا جلوس مسجد روڈ سے فاطمہ جناح روڈ پر قادیانی عبادت گاہ کے مین دروازہ پر پہنچا۔ جیالے مجاہد محمد نعیم ترین نے دروازے پر ڈنڈے مارنے شروع کر دیئے جس پر

صفحہ 144

پولیس نے آنسو گیس پھینکی اور لاٹھی چارج کیا۔ اس دوران ایک جلوس مشن روڈ سے قادیانی عبادت گاہ کی طرف بڑھا۔ پولیس نے اس پر بھی آنسو گیس پھینکی۔ چوتھا جلوس پرنس روڈ کی طرف سے فاطمہ جناح روڈ پر قادیانی عبادت گاہ کی طرف پہنچ گیا۔ بڑا جلوس مسجد روڈ پر قادیانی عبادت گاہ کے بغلی گیٹ کے قریب ڈٹا رہا۔ پولیس نے بار بار آنسو گیس پھینکی۔ جلوس میں شامل شیدائیان ختم نبوت نے پتھراؤ کی یلغار کی، جس پر پولیس پسپا ہو کر بھاگ گئی۔ جیالے مجاہدین قادیانی عبادت گاہ کے بغلی گیٹ پر حملہ آور ہوئے۔ قادیانی عبادت گاہ میں اس وقت دو قادیانی موجود تھے، جنہوں نے عبادت گاہ کے اوپر ریت کی بوریوں سے مورچے بنائے ہوئے تھے۔ انہوں نے مسلمانوں پر شدید پتھراؤ کیا اور غلیل سے کانچ کی گولیاں ماریں۔ شیدائیان ختم نبوت زخمی ہونے کے باوجود آگے بڑھتے گئے۔ نصراللہ خان کاکڑ قادیانی عبادت گاہ کے بغلی گیٹ (گلی والے) پر پہنچ گئے۔ انہوں نے اس کو توڑنا شروع کر دیا۔ ایک قادیانی نے چھت پر سے بڑی اینٹ ان کے سر پر ماری، لیکن وہ زخمی ہونے کے باوجود ڈٹے رہے۔ سید انور شاہ نے اپنے زخمی ساتھی کو دیکھ کر ایک پتھر چھت پر بیٹھے ہوئے قادیانی کے سر پر مارا اور وہ پتھر لگتے ہی زمین پر گر پڑا۔ اس دوران نذر محمد سیاف اور عبدالعلی بھی پہنچ گئے۔ وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس نے اندھا دھند شیلنگ کی۔ ہر طرف گیس کے سیاہ بادل چھا گئے۔ شیلنگ سے تین افراد زخمی ہوگئے۔ متعدد بے ہوش ہوگئے۔ آنسو گیس ایک کلو میٹر اطراف میں پھیل گئی۔ شارع لیاقت عبدالستار روڈ، آرچر روڈ تک گیس کے اثرات سے راہگیر بھی متاثر ہوئے۔ قادیانی عبادت گاہ کے اطراف میں رہنے والے مسلمانوں نے فوری طور پر نڈھال نوجوان کو پانی فراہم کیا۔ بے ہوش ہونے والوں کو نمک، اچار، ترش اشیاء فراہم کیں حتیٰ کہ پردہ دار خواتین اور بچوں نے طبی امداد فراہم کی۔ اس دوران چاروں طرف سے دوبارہ قادیانی عبادت گاہ پر یلغار ہوئی۔ ہر طرف سے پتھراؤ ہوا۔ پولیس نے دوبارہ آنسو گیس پھینکی، جس پر مجاہدین کے گروپوں نے قادیانیوں کی دکانوں کو تہس نہس کر دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ مظاہرین نے کسی قادیانی کے گھر پر حملہ نہیں کیا، حالانکہ وہ ان کی زد میں تھے۔ مظاہرین نے ایک بار پھر

صفحہ 145

قادیانی عبادت گاہ پر دھاوا بول دیا۔ مزید تازہ دم پولیس فورس بھی پہنچ گئی۔ ہزاروں افراد دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت کے سامنے جمع ہو گئے جہاں مولانا عبدالواحد صاحب موجود تھے۔ وہ مجلس کے دوسرے قائدین سے مشورہ کر کے عملی اقدام کرنا چاہتے تھے کہ پولیس نے یہاں پر لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کی بکتر بند گاڑی سے آنسو گیس پھینکی گئی۔ قادیانی عبادت گاہ کو پولیس کی بکتر بند گاڑی (ٹینک) نے گھیرے میں لے لیا۔ بکتر بند گاڑی سے مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی جاتی رہی۔ جلوس دوبارہ جامع مسجد طوبیٰ کے سامنے منظم ہوا۔ یہاں پر نوجوانوں نے اینٹوں اور پتھروں کو ٹرالیوں اور ریڑھیوں میں ڈالا اور دوبارہ آگے بڑھے۔ جلوس دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک حصہ نے مغربی اور دوسرے نے مشرقی طرف سے یلغار کی۔ پولیس کی بکتر بند گاڑی پر شدید پتھراؤ کیا۔ دوسری طرف سے مکار قادیانی بھی غلیل سے مسلمانوں کو پتھر مارتے رہے۔ جب پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے، چند باہمت نوجوانوں نے ان گولوں کو دوبارہ پولیس کی طرف پھینک دیا جس سے پولیس پیچھے ہٹ گئی۔ مظاہرین نے قادیانی عبادت گاہ پر شدید پتھراؤ کیا جس سے بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں۔ پانچ قادیانی زخمی ہو گئے، پولیس نے مظاہرین کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور آنسو گیس پھینکنی شروع کی۔ یہاں پر مظاہرین نے ایک سرکاری افسر کو یرغمال بنا لیا۔ ایک کانسٹیبل بھی زخمی ہوا۔ مظاہرین ڈٹ گئے۔ انہوں نے قادیانی عبادت گاہ کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا۔ اس وقت ایک گھنٹہ سے زائد اس کارروائی کو ہو چکا تھا۔ دوسری طرف مجلس عمل کے قائدین میزان چوک پر موجود تھے۔ ان کو ایک کلومیٹر دور سے ہی آنسو گیس کے چلنے کی آوازیں آئیں اور بدبو محسوس کی۔ اس وقت انتظامیہ کے ایک افسر گھبرائے ہوئے پہنچے۔ انہوں نے ہاتھ جوڑ کر قائدین سے کہا کہ وہ خدا کے لیے چلیں اور مظاہرین کو کنٹرول کریں۔ قائدین نے مشورہ کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے رکن جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا قاری انوار الحق حقانی نے حاجی محمد زمان خان اچکزئی، مولانا نور محمد سے کہا کہ ہمیں اس وقت مظاہرین کی رہنمائی کرنی چاہیے۔ قائدین جب میزان چوک سے روانہ ہوئے تو ان کے پیچھے بھی بہت بڑا جلوس روانہ ہو گیا۔ انتظامیہ نے کوشش کی کہ مجلس کے

صفحہ 146

رہنما سرکاری گاڑی میں سوار ہو جائیں لیکن مجلس عمل کے رہنماؤں نے سرکاری گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت ضلع کے تمام افسران ڈپٹی کمشنر ایس ایس پی، ڈی آئی جی موقع پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے مجلس کے قائدین سے کہا کہ وہ صورت حال کو کنٹرول کریں۔ قائدین میں حاجی محمد زمان خان اچکزئی، مولوی عبدالمجید خان، مولانا قاری انوار الحق حقانی، شیخ الحدیث مولانا نور محمد، مولانا عبداللہ خان، مولانا عبدالباقی، مولانا عبدالواحد، حافظ حسین احمد شرودی، ملک احمد شاہ لنڈی، حاجی فضل قادر شیرانی، چوہدری اعجاز یوسف، ملک محمد عظیم بڑیچ، مولانا محمد اسحاق، ڈاکٹر ابراہیم، تاج محمد، حاجی سید شاہ محمد، سید سیف اللہ آغا، سید عبدالحکیم شاہ، مولانا نیاز محمد دوتانی، چوہدری محمد طفیل احرار اور مولانا محمد دین شامل تھے۔ مولانا قاری انوار الحق حقانی نے بتایا کہ وہ مسلمانوں کے جذبہ حریت سے انتہائی متاثر ہوئے۔ ہزاروں مسلمانوں نے قادیانی عبادت گاہ کو گھیرے میں لیا ہوا تھا اور ہر قسم کے خطرے سے بے نیاز ہو کر نعرے لگا رہے تھے۔ قائدین نے حکومت سے کہا کہ اب حالات خراب کرنے کی ذمہ داری اس پر ہے جس نے ہمارا مطالبہ تسلیم نہیں کیا۔ قائدین کے کہنے پر پولیس نے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد شیلنگ بند کر دی۔ قائدین کے ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات شروع ہو گئے۔ اسی دوران شہر میں یہ خبر پھیل گئی تھی کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی ہے اور قادیانیوں نے جلوس پر فائرنگ کی ہے۔ ہزاروں مسلمان مسلح ہو کر موقع پر پہنچنے لگے۔ پولیس نے ناکہ بندی کر کے ان کو دور رکھا۔ مغرب کی نماز مظاہرین نے قادیانی عبادت گاہ کے قریب بکتربند گاڑیوں کے سامنے ادا کی جس کی امامت مولانا قاری انوار الحق حقانی نے کرائی۔ رات گیارہ بجے انتظامیہ نے مجبور ہو کر قادیانی عبادت گاہ کو سر بمہر کرنے کا فیصلہ کیا اور قادیانیوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے خود کو حکام کے حوالے کر دیں۔ اس دوران چند قادیانی ملحقہ مکان میں کود گئے۔ انتظامیہ نے ۸۱ قادیانیوں کو تحویل میں لے لیا۔ انتظامیہ کے افسران جب قادیانی عبادت گاہ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں پر اینٹوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ تقریباً ایک سو غلیلیں اور ہزاروں کانچ کی گولیاں ملیں۔ ایک کمرہ میں فرسٹ ایڈ کا مکمل سامان ملا۔ واضح رہے کہ قادیانیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے

صفحہ 147

کے تحت بھاری تعداد میں اسلحہ جمع کیا جس کو نکال کر لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی یہ منصوبہ بندی تھی کہ جو مسلمان ان کی عبادت گاہ کے اندر داخل ہو، اس کو نشانہ بنایا جائے۔ مسلمان بھی چاہتے تھے کہ وہ ایک گولی چلائیں۔ جس دن انہوں نے ایک گولی چلائی، وہ دن بلوچستان میں ان کا آخری دن ہو گا۔

انتظامیہ نے ان کی عبادت گاہ کو سربمہر کر دیا، اور مجلس کے رہنما حاجی محمد زمان خان اچکزئی اور مولانا قاری انوار الحق حقانی کو سیلیں دکھائیں۔ ان رہنماؤں نے واپس آکر مختصراً خطاب کیا اور مسلمانوں کو بتایا کہ حکومت نے قادیانیوں کی عبادت گاہ کو سربمہر کر دیا اور یقین دلایا ہے کہ دو ماہ کے اندر اندر ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد پُرعزم مظاہرین نے پُرجوش نعرے لگائے۔ پانچ گھنٹے کے بعد محاصرہ چھوڑ دیا۔ محاصرے کے دوران سینکڑوں افراد روٹیاں اور پانی لے کر مظاہرین کی خدمت کرتے رہے۔ قریبی آبادی کی طرف سے منظور احمد جمالی، صابر جمیل، پیلس بیکری کے مالک محمد ظفر نے بڑی دلجوئی سے خدمت کی۔ محاصرہ ختم کرنے کے بعد رات گیارہ بجے عظیم الشان جلوس نکالا گیا جو شارع لیاقت سے ہوتا ہوا میزان چوک میں جلسہ میں تبدیل ہو گیا۔ ۱۲ بجے رات کو جلسہ ختم ہوا تو مظاہرین اپنے اپنے علاقوں میں جلوس کی صورت میں گئے۔

اس واقعہ میں زخمی ہونے والے مجاہدین کے نام مندرجہ ذیل ہیں: سید بدرالدین آغا، محمد قاسم مینگل، نفیس خان، عبدالجبار، امیر محمد سرپرہ، عبدالباسط، عبدالکبیر مغل، عبدالقدیر خان، نور محمد۔

علاوہ ازیں دوسرے زخمیوں کے نام معلوم نہیں ہوسکے جو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے چلے گئے تھے۔

۹ مئی کے واقعہ پر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے ۱۰ مئی کو بیان جاری کیا جو مندرجہ ذیل ہے:

کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے امیر حاجی محمد زمان خان اچکزئی نے کوئٹہ کے شہریوں کا پُر امن تحریک چلانے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر انتہائی مسرت کا اظہار کیا کہ مسلمانوں نے اپنی ذات کی قربانی دی، مصائب

صفحہ 148

جھیلے، مگر عام شہریوں کے لیے زحمت کا باعث نہیں بنے۔ کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی۔ یہاں تک کہ قادیانیوں کے عام گھروں پر حملے سے گریز کیا۔ صرف مبارزین کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ عین ہنگامے کے دوران ایسے اسلامی تعلیمات پر عمل خوشی و انبساط کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے قادیانیوں کو کہا ہے کہ وہ اپنے کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیں، تو مسلمان دیگر اقلیتوں کی طرح ان کی حفاظت کا ذمہ لیں گے۔ اگر وہ ملک و ملت سے بغاوت کے شدید ترین جرم کا ارتکاب کرتے رہیں گے تو اپنے لیے بھی مشکلات پیدا کریں گے، ہمارے لیے بھی۔ اگر قادیانیوں کو اس ملک میں رہنا ہے تو وہ ملکی قوانین کی پابندی کریں اور اگر انہوں نے اسلامی تعلیمات اور احکام کا مذاق اڑایا اور مسلسل شعائر اسلامی کی توہین کرتے رہے اور قانون سے کھیلنا ترک نہ کیا تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں مسلمانوں کے غیظ و غضب سے نہیں بچا سکے گی۔

حاجی محمد زمان خان نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے انتہائی تدبر کا ثبوت دیا اور انہوں نے اقدام کر کے حالات کو مزید خراب ہونے سے بچالیا، لیکن قادیانی عبادت خانے کا سربمہر ہونا ہماری منزل نہیں، ابتدائی قدم ہے۔ اگر اس عبادت گاہ سے مینارے، محراب وغیرہ نہیں ہٹائے گئے اور مسجد سے اس کی مشابہت ختم نہیں کی گئی تو پھر مسلمان دوبارہ میدان عمل میں اتریں گے۔ اس لیے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے مطالبات فوری طور پر تسلیم کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ مقاصد کے حصول تک پرامن تحریک جاری رہے گی۔ اگر حکومت نے بروقت اقدام کیا تو اچھی بات ہے، ورنہ وقت آنے پر مجلس عمل، عملی اقدام پر غور کرے گی۔

مجلس عمل کے رابطہ سیکرٹری کا بیان جو ۱۱ مئی کے اخبارات میں شائع ہوا۔ کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے سیکرٹری اطلاعات مولانا حسین احمد شرودی نے ایک اخباری بیان میں طلباء کو خراج عقیدت اور ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نوجوانوں نے اپنے خلوص اور عقیدہ ختم نبوت سے محبت کی وجہ سے فضائے بدر پیدا کی اور خالی ہاتھ پولیس اور کفار کے ساتھ بیک وقت تصادم

صفحہ 149

کر کے یہ ثابت کیا کہ اگر مجلس عمل نے باقاعدہ جہاد کا اعلان کیا اور مجلس سے منسلک تمام مسلمان متحد ہو کر میدان میں آئے تو دنیا کی کوئی طاقت اس سیلاب کو نہ روک سکے گی۔ ۹ مئی کو جو کچھ ہوا، یہ ہنگامہ صرف چند پُرعزم نوجوانوں نے کیا۔ اگر مجلس عمل نے باقاعدہ قبضے کا اعلان کیا ہوتا تو کوئی قادیانی زندہ نہ بچتا اور قادیانی عبادت گاہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی جاتی۔ مسلمان بھی شہید ہوتے۔ مولانا نے مجلس عمل کے قائدین اور خصوصاً مولانا خان محمد صاحب امیر مرکزیہ کی فراست کو داد تحسین پیش کی کہ انہوں نے خون خرابے کو اپنی دانشمندی سے روکا۔

مجلس عمل کے سیکرٹری اطلاعات نے قادیانی عبادت گاہ کے آس پاس رہنے والے مسلمانوں کو بھی مبارکباد دی ہے۔ اور ان کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہنگامے کے دوران طلباء کی مدد کی۔ خصوصاً وہ خواتین اور بچے جنہوں نے بے ہوش نوجوانوں کو طبی امداد فراہم کی۔ شیلنگ کے اثر سے بے ہوش ہونے والوں کو نمک، اچار، ترش اشیاء اور وافر مقدار میں پانی فراہم کیا۔ مولانا نے ان سب کو مجاہدین اور مجاہدات کا لقب دیا اور توقع ظاہر کی کہ وہ آئندہ بھی دینی تحریکات میں مساجد، علماء، طلباء اور نمازیوں کا ساتھ دے کر دین سے محبت کا ثبوت پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو شہریوں کی اخلاقی حمایت حاصل ہو، وہ ہمیشہ فتح حاصل کرتے ہیں۔ اس واقعے میں انتظامیہ کے لیے درس عبرت ہے کہ اگر ملک کو بیرونی دشمنوں سے بچانا ہے تو ملک کے اندر والوں کے ساتھ ایسا طرز عمل اختیار کریں کہ وقت آنے پر یہ لوگ ملک کا دفاع کرنے والوں کے ہاتھ مضبوط کر سکیں۔ مولانا نے نوجوان طلباء کے مجاہدے اور قربانی کو مستقبل میں ایک عظیم ترین اسلامی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے تمام دیندار نوجوانوں کو عسکری تربیت حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، کراچی، ج ۵ شمارہ ۵، بابت جولائی ۱۹۸۶ء از فیاض حسن سجاد)

صفحہ 150

مرزا طاہر احمد کی پچاس لاکھ بیعتیں

مرزا منور احمد ملک (سابق قادیانی)

جماعت قادیانیہ کی تعداد کے بارے میں اکثر علمائے کرام ایسے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں، جسے قادیانی فوراً رد کر دیتے ہیں۔ علمائے کرام کے بیان کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے۔ علماء اس تعداد کو بیان کر کے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی تیرہ کروڑ کی آبادی میں قادیانیوں کی جو نسبت بنتی ہے، اس کے مطابق ان کو شہری حقوق دیئے جائیں، مثلاً ملازمتوں میں ان کو ان کی تعداد کے مطابق سیٹیں دی جائیں۔ علماء کی بیان کردہ تعداد کے مطابق ۱۳ کروڑ یا ۱۳۰۰ لاکھ کے مقابل پر ایک لاکھ تعداد بنتی ہے جس کی نسبت ۱۳ سو پر ایک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر تیرہ سو سیٹیں ہوں تو ایک سیٹ قادیانیوں کو ملے گی۔ علماء اس بات پر شاکی ہیں کہ قادیانیوں کو ان کے حق سے بہت زیادہ دیا جاتا ہے۔ اسی نسبت کو سامنے رکھتے ہوئے قومی اسمبلی کی سیٹوں کی تعداد میں سے (جو کہ ۲۶۰ ہے) قادیانیوں کے لیے ایک سیٹ کا چوتھائی حصہ بھی نہیں بنتا، جبکہ قادیانیوں کو ایک سیٹ ملی ہوئی ہے۔ اسی طرح تمام صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی کل تعداد ۴۶۰ بنتی ہے، جس میں سے قادیانیوں کی آدھی سیٹ بھی نہیں بنتی جبکہ

صفحہ 151

قادیانیوں کو ۴ سیٹیں ملی ہوئی ہیں۔

دوسری طرف جماعت اپنی تعداد پاکستان میں ۴۵ لاکھ بتاتی ہے۔ یہ وہ تعداد ہے جو آج سے ۲۵ سال پہلے بتائی جاتی تھی۔ (جب ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا) جماعت قادیانیہ نے آج تک باضابطہ اپنی تعداد کا اعلان نہیں کیا۔ مذکورہ بالا تعداد جماعت کے مربی (مولوی) امیر جماعت و دیگر سرکردہ افراد ”بے ضابطہ“ طور پر جماعت کے حوصلے قائم رکھنے کے لیے بتاتے ہیں۔ جماعت کے افراد کے نزدیک مربی امیر جماعت یا جماعت قادیانیہ جھوٹ نہیں بول سکتے، لہٰذا وہ اس تعداد پر یقین رکھتے ہیں۔ خاکسار نے اس جماعت میں ۴۰ سال گزارے ہیں۔ اپنے بچپن اور جوانی کا سنہرا دور اس جماعت میں گزارا ہے۔ اپنی تمام توانائیاں اس جماعت کی بہتری کے لیے وقف کیے رکھیں اور ایک جنونی قادیانی کے طور پر ہر کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پنجاب یونیورسٹی میں ایم۔ ایس۔ سی کے دوران قادیانی طلباء کا قائد (زعیم) رہا۔ چکوال میں سروس کے دوران نگران کے طور پر رہا اور جہلم میں نائب امیر جماعت قادیانیہ ضلع جہلم کے عہدے پر بھی رہا، مگر جب جماعت قادیانیہ میں جھوٹ کی فراوانی، اسلامی اقدار کا فقدان، انصاف و عدل سے خالی، ظلم و بربریت کا دور دورہ دیکھا تو ۱۵ جنوری ۱۹۹۹ء بمطابق ۲۶ رمضان المبارک ۱۴۱۹ھ جمعتہ الوداع کے دن اپنے خاندان کے بارہ افراد کے ساتھ قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا (اب یہ تعداد ۱۹ ہو چکی ہے)

اس لیے خاکسار کی بیان کردہ باتیں اور اعداد و شمار ذاتی مشاہدے اور جماعتی عہدوں پر فائز رہنے کی وجہ سے ذاتی علم کی بنیاد پر ہیں۔ جماعت قادیانیہ کے ذمہ دار افراد جو تعداد اپنی بتاتے ہیں، وہ ابھی تک ۴۵ لاکھ کے قریب ہے۔ گویا پچیس سال پہلے جو تعداد تھی، اب بھی وہی ہے۔ البتہ چند غیر ذمہ دار ۵۰ سے ۶۰ لاکھ کے قریب بتا دیتے ہیں۔ اگر ہم اس تعداد کو ۵۰ لاکھ فرض کرلیں تو اس پر ایک جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ۵۰ لاکھ کی تعداد کے حساب سے پاکستان میں ان کی تعداد کے حوالے سے نسبت ۲۶ : ۱ بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر ۲۶ افراد پر ایک قادیانی ہو گا۔ یہ نسبت پاکستان کے کسی بھی ضلع میں موجود نہیں۔ ۲۶ : ۱ کی نسبت تقریباً ۴ فیصد بنتی ہے۔

صفحہ 152

تعلیمی میدان

ایک عام تاثر یہ ہے کہ قادیانی لوگ تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں۔ یہ درست ہے کہ جماعت بچوں کی تعلیم کے بارے میں بہت زور دیتی ہے۔ ایک عرصے تک بورڈ، یونیورسٹی سے پوزیشن لینے والوں کو انعام دیئے جاتے رہے ہیں۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ قادیانی بچوں کی کم از کم ۸۰ فیصد تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے جبکہ چناب نگر (ربوہ) کی خواندگی کی شرح ۹۵ فیصد بتائی جاتی ہے۔ اس بنیاد پر اگر ہم جائزہ لیں تو چناب نگر (ربوہ) کے تعلیمی اداروں کے علاوہ پاکستان میں کسی بھی تعلیمی ادارے میں ۴ فیصد قادیانی طلباء نہیں ہیں، حالانکہ پاکستان کی خواندگی کی شرح ۳۰ فیصد کے قریب ہے۔ اس طرح تو ہر تعلیمی ادارے میں قادیانیوں کی تعداد ۸ فیصد سے بھی زیادہ ہونی چاہیے۔

پنجاب یونیورسٹی کی ۱۰ ہزار کی تعداد کے حساب سے ۴ فیصد کے حساب سے ۴۰۰ قادیانی طلباء ہونے چاہئیں تھے، مگر وہاں پر تعداد ۴۵ تھی، جس میں سے ۱۰ مقامی اور ۳۵ پورے پاکستان میں سے تھے۔ (یہ جائزہ ۱۹۸۲ء کا ہے) چکوال کالج کی ۱۵۰۰ تعداد میں سے ۶۰ طلباء قادیانی ہونے چاہئیں تھے، مگر ۱۹۸۶ء میں ایک بھی نہیں تھا جبکہ ۱۹۸۸ء میں زیادہ سے زیادہ تین تھے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج تلیانوالہ جہلم میں ایک ہزار کی تعداد میں ۴۰ قادیانی طلباء ہونے چاہئیں تھے مگر ۱۹۸۸ء تا ۱۹۹۵ء دس سے تعداد نہیں بڑھی۔ گورنمنٹ کالج گوجر خان میں ۱۹۸۵ء تا ۱۹۹۶ء تک ہزار کی تعداد پر ۴۰ قادیانی طلباء ہونے چاہئیں تھے، جبکہ زیادہ سے زیادہ تعداد دو ہی ہے۔ اب وہ بھی نہیں ہے۔ (یہ سب ذاتی مشاہدے کے مطابق ہے۔)

پورے پاکستان کے ایم ایس سی فزکس اور پی ایچ ڈی کے افراد پر مشتمل ایک PiP (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف فزکس) سوسائٹی بنی ہوئی ہے۔ جس کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ اس میں قادیانیوں کی تعداد کم از کم چالیس ہونی چاہیے تھی، مگر اس میں کل تعداد ۴ تھی، جس میں سے ڈاکٹر عبدالسلام فوت ہو چکے ہیں اور خاکسار

صفحہ 153

جماعت چھوڑ چکا ہے۔ اب یہ تعداد دو رہ گئی ہے۔

پنجاب لیکچررز اینڈ پروفیسرز ایسوسی ایشن کے ممبران کی کل تعداد ۱۴ ہزار سے زائد ہے۔ اس میں ۵۶۰ قادیانی پروفیسر ہونے چاہئیں تھے، جبکہ ان کی تعداد ۲۵ سے بھی کم ہے۔

جماعت قادیانیہ جو کہ تعلیمی میدان میں بہت آگے ہے، اس میدان میں یہ حالت ہے کہ کسی بھی لیول پر اس کی آبادی والی نسبت موجود نہیں۔ اس جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تعلیمی میدان میں بھی ان کی شمولیت ۰ء۵ فیصد سے بھی کم ہے، اس کی بنیاد پر اگر تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو چھ لاکھ سے کم بنتی ہے۔

مالی میدان

جماعت قادیانیہ میں چندوں کی بھرمار ہے۔ ایک قادیانی پر اس کی ماہوار آمدن کا چھ فیصد چندہ عام لاگو ہے۔ اس کی ادائیگی لازمی ہے۔ عدم ادائیگی پر وہ چندہ اس آدمی کے کھاتے میں بطور بقایا نام ہو جاتا ہے۔ اگر ایک قادیانی چندہ دینے سے انکار کر دے تو وہ قادیانی نہیں رہ سکتا، حالانکہ چندہ ایک اختیاری مد ہے، جس کی شرح مخصوص نہیں ہوتی۔ آدمی حسب توفیق ادا کر سکتا ہے، جب کہ ٹیکس کی شرح مخصوص ہوتی ہے اور اس کی ادائیگی لازم ہوتی ہے، عدم ادائیگی پر بقایا نام رہ جائے گا، ختم نہیں ہو گا۔

چندہ عام کے ساتھ چندہ جلسہ سالانہ، چندہ تحریک جدید، چندہ وقف جدید، چندہ صد سالہ جوبلی (یہ اب ختم ہو چکا ہے)، چندہ خدام الاحمدیہ (چندہ مجلس، یہ نوجوانوں پر لاگو ہے)، چندہ تعمیر ہال (یہ ہال ۱۹۷۳ء کے قریب تعمیر ہوا تھا مگر چندے کی وصولی اب تک جاری ہے)، چندہ بوسنیا، افریقہ، چندہ ڈش انٹینا (قادیانی ٹی وی نیٹ ورک کا)، چندہ لجنہ اماء اللہ (یہ خواتین پر لاگو ہے)، چندہ اطفال (یہ بچوں پر لاگو ہے)، چندہ انصار (یہ ۴۰ سال سے زائد عمر کے افراد پر لاگو ہے) وغیرہ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایک قادیانی کو اپنی آمدن کا کم از کم ۱۰ فیصد ماہوار چندہ دینا پڑتا ہے۔ چندوں کی وصولی کا رضا کارانہ نظام موجود ہے، جس میں وصولی کرنے والے کا کوئی کمیشن نہیں۔

صفحہ 154

جماعت قادیانیہ کا یہ مالی نظام شاید ہی کہیں اور ہو۔ سال میں دو تین بار مختلف چندوں کے مختلف انسپکٹرز مرکز سے آ کر حساب وغیرہ چیک کرتے ہیں اور کل وصول شدہ رقم مرکز (چناب نگر) میں پہنچانا یقینی بناتے ہیں۔ اس مالی نظام کی بناء پر جماعت قادیانیہ پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ بڑی منظم جماعت ہے، حالانکہ اس کا نام نظام نہیں۔ قواعد و ضوابط، اصول وغیرہ نہیں ہیں، صرف چندہ اکٹھا کرنے کا نظام ہے۔ اگر اس منظم طریقہ سے چندہ وصول نہ ہوتا تو آج مرزا قادیانی کے خاندان کے ہر شہزادے کے نام کئی کئی مربع اراضی نہ ہوتی اور نہ ہی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ یہ سب اس مالی نظام کی ”برکات“ ہیں۔ خیر اس پر بعد میں کسی اور موقع پر بات کی جائے گی۔ جب قادیانی جذبات میں آکر ان ”برکات“ سے انکار کریں گے؟

چندہ تحریک جدید میں ہر مرد اور عورت، جوان، بوڑھا اور بچہ شامل کیا جاتا ہے۔ جماعت اس بات پر پورا زور لگاتی ہے کہ ہر ذی روح تحریک جدید میں شامل ہو بلکہ کچھ بے روح بھی اس میں شامل ہیں۔ یعنی فوت شدہ افراد کے نام کا چندہ ان کے لواحقین سے لیا جاتا ہے۔ اب اگر کسی بستی سے تحریک جدید میں شامل ۲۰۰ افراد ہوں، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ۲۰۰ افراد پر مشتمل ہے، حالانکہ اس میں فوت شدہ افراد بھی شامل ہیں۔

اب اس کی دلیل کے بعد یہ بتانا چاہوں گا کہ پورے پاکستان میں تحریک جدید کے کل ممبران ایک لاکھ سے کم ہیں۔ ممکن ہے کہ اب دو چار ہزار زیادہ ہو چکے ہوں اور جماعت فوراً اپنی جماعت میں یہ اعلان کر دے گی کہ ایک لاکھ والی بات بالکل غلط ہے اور جماعت کے افراد یہ سمجھنے لگیں کہ شاید ۱۵۔۲۰ لاکھ ممبران ہوں گے، حالانکہ ایک لاکھ سے دو چار ہزار زیادہ تو ہو سکتے ہیں، مگر دو لاکھ سے کسی بھی طرح زیادہ نہیں ہو سکتے۔ تحریک جدید کے انسپکٹر حضرات کی زبانی یہ معلوم ہوا تھا کہ ایک لاکھ کی تعداد پوری کرنی ہے۔ اب اگر علماء کی بیان کردہ تعداد کو لیا جائے تو وہ تحریک جدید کے ممبران کے ساتھ ملتی ہے، جبکہ قادیانیوں کی بیان کردہ تعداد ۵۰ لاکھ کسی طرح بھی ثابت نہیں ہوتی۔ یہ تعداد صرف اپنی جماعت کے افراد کے مورال کو قائم رکھنے کے لیے بتائی جاتی ہے۔

صفحہ 155

اب ۱۹۹۸ء میں مردم شماری ہوچکی ہے۔ اس میں قادیانیوں کو ہدایت ملی تھی کہ جو افراد بیرون ملک گئے ہوئے ہیں، اور وہاں عرصہ سے مقیم ہیں، وہاں کی شہریت حاصل کر کے وہاں کی جماعتوں میں شامل ہیں، ان کے بھی نام پاکستان میں شامل کیے جائیں۔ اس طرح ہزاروں افراد جو بیرون ممالک سیٹل ہیں، ان کی تعداد بھی یہاں شامل ہے۔ اس کے باوجود ان کی کل تعداد ۲ سے ۳ لاکھ کے درمیان ہوگی۔ مردم شماری کے تفصیلی نتائج سامنے آنے کے بعد حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ اس کے لیے چند ماہ کے انتظار کی ضرورت ہے۔ یہ واضح رہے کہ جماعت بغیر کسی وجہ کے ان نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔

راولپنڈی ڈویژن میں قادیانیوں کی تعداد

اگر ضلع جہلم کی جماعت کا جائزہ لیں تو اس وقت ضلع جہلم میں ۱۱-۱۲ جگہ جماعت موجود ہے۔ سب سے بڑی جماعت محمود آباد جہلم میں ہے۔ محمود آباد میں ۱۹۴۰ء کے قریب ۸۰ فیصد آبادی قادیانیوں کی تھی۔ ۱۹۴۴ء میں ایک قادیانی کے غیر قادیانی بھتیجے کا جنازہ قادیانیوں نے پڑھنے سے انکار کر دیا، جس پر ایک بہت بڑا خاندان جماعت چھوڑ گیا، پھر آہستہ آہستہ کوئی نہ کوئی خاندان جماعت چھوڑتا چلا گیا اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ۱۹۷۴ء سے قبل یہ تعداد ۵۰ فیصد رہ چکی تھی۔ ۱۹۷۴ء کے بعد ۳۵ فیصد کے قریب رہ گئی۔ اب ۳۰ فیصد سے بھی کم آبادی قادیانیوں کی ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں کوئی ایک بھی نیا خاندان قادیانی نہیں ہوا بلکہ تسلسل کے ساتھ جماعت چھوڑی جارہی ہے۔ باوجود اس کے کہ قادیانی، غیر قادیانی مسلمانوں میں رشتہ نہیں دیتے، پھر بھی گزشتہ ۲۵ سالوں میں ۳۰ کے قریب قادیانی خواتین کے رشتے مسلمانوں سے ہوئے، بعد میں وہ خود اور ان سے ہونے والی اولاد قادیانی نہیں ہیں۔ بس جو چند ایک مسلمان عورتوں سے قادیانی مردوں نے شادیاں کیں، وہ خاندان آہستہ آہستہ جماعت چھوڑ گیا۔ جماعت میں ایک ایسا سیٹ اپ بن چکا ہے جو ظالم ترین آمریت کا نظام ہے۔ اب یہ خود ہی ختم ہو جائے گی انشاء اللہ ۔ علماء کو اپنی

صفحہ 156

توانائی اس طرف استعمال کرنی چاہیے۔ جہلم شہر میں ایک بہت بڑی جماعت ہوا کرتی تھی، جس میں سب سے بڑا خاندان سیٹھی برادری کا تھا جو آہستہ آہستہ جماعت چھوڑتا چلا گیا۔ ۱۹۷۴ء میں خاصی تعداد جماعت سے علیحدہ ہو گئی۔ اب زیادہ سے زیادہ ۳۵ گھروں پر مشتمل ایک جماعت ہے، جس کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ تیسرے نمبر پر پاکستان چپ بورڈ فیکٹری ہے جو مرزا طاہر احمد کے بھائی مرزا منیر احمد کی ہے۔ یہ مرزا قادیانی کے خاندان کے شہزادوں کا بڑا مسکن ہے۔ مرزا منیر احمد کا بیٹا نصیر احمد طارق ضلع جہلم کا امیر جماعت ہے۔ اس کی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے جماعت علمائے کرام کی کوششوں کے بغیر ہی انجام کو پہنچ جائے گی انشاء اللہ۔ اس فیکٹری میں ۱۵-۱۶ قادیانی نوجوان ملازم ہیں، باقی سب مسلمان ہیں۔ ضلع جہلم کی جماعت کو کنٹرول کرنے والا محرک گروہ یہاں پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ کالا گوجراں میں ایک بڑی جماعت ہوا کرتی تھی۔ اب وہ بھی چند افراد پر مشتمل ہے۔ کل ۸ / ۱۰ گھر قادیانیوں کے ہوں گے، چک جمال میں بھی ایک جماعت ہوا کرتی تھی۔ اب وہاں جماعت ختم ہو چکی ہے۔ البتہ دو تین قادیانی ملازم کالا ڈیو میں موجود ہیں۔ منگلا میں چند ملازم پیشہ جو دوسرے شہروں سے آئے ہوئے ہیں، پر مشتمل ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو ۴ یا ۵ گھروں پر مشتمل ہو گی۔ روہتاس میں ایک گھرانے پر مشتمل جماعت ہے۔ کوٹلہ فقیر میں ایک بہت بڑی جماعت تھی جو کہ اب ختم ہو چکی ہے۔ جادہ میں ایک جماعت تھی جو اب ختم ہو چکی ہے اور قادیانیوں کی عبادت گاہ اب مسلمانوں کے پاس ہے۔ ہسپتال میں دو گھروں پر مشتمل ایک جماعت جو مستقبل میں ختم ہو جائے گی۔ کوٹ بصیرہ میں قادیانی ختم ہوچکے ہیں۔ تحصیل پنڈ دادن خان میں ڈنڈوت میں ۳-۴ گھروں پر مشتمل ایک جماعت ہے۔ یہ سارے افراد سیمنٹ فیکٹری میں ملازم ہیں۔ شاید اب وہ بھی نہ ہوں، کیونکہ سیمنٹ فیکٹری کے ختم ہونے کی خبر سنی گئی ہے۔ کھیوڑہ میں دو تین گھر ہیں، وہ بھی ملازم پیشہ جو دوسرے شہروں سے آئے ہیں۔ پنڈ دادن میں جماعت موجود ہے جو ۱۰ / ۱۵ گھروں پر مشتمل ہوگی۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ پورے ضلع میں قادیانیوں کی کل تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے۔ تحصیل سوہاوہ بالکل خالی ہے، کہیں ایک جماعت بھی نہیں۔ ایک ہزار کا

صفحہ 157

چاہیے۔ جہلم شہر میں ایک بہت بڑی جماعت ہوا کرتی خاندان سیٹھی برادری کا تھا جو آہستہ آہستہ جماعت تعداد جماعت سے علیحدہ ہو گئی۔ اب زیادہ سے زیادہ ت ہے، جس کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ فیکٹری ہے جو مرزا طاہر احمد کے بھائی مرزا منیر احمد کی کے شہزادوں کا بڑا مسکن ہے۔ مرزا منیر احمد کا بیٹا نصیر ت ہے۔ اس کی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے جماعت ی انجام کو پہنچ جائے گی انشاء اللہ۔ اس فیکٹری میں ا سب مسلمان ہیں۔ ضلع جہلم کی جماعت کو کنٹرول جود ہے۔ اس کے علاوہ کالا گوجراں میں ایک بڑی چند افراد پر مشتمل ہے۔ کل ۸ / ۱۰ گھر قادیانیوں ایک جماعت ہوا کرتی تھی۔ اب وہاں جماعت ختم رم کالا ڈبو میں موجود ہیں۔ منگلا میں چند ملازم پیشہ ہیں، پر مشتمل ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو ۴ یا ں ایک گھرانے پر مشتمل جماعت ہے۔ کوٹلہ فقیر ۔ اب ختم ہو چکی ہے۔ جادہ میں ایک جماعت تھی ں کی عبادت گاہ اب مسلمانوں کے پاس ہے۔ جماعت جو مستقبل میں ختم ہو جائے گی۔ کوٹ یل پنڈ دادن خان میں ڈنڈوت میں ۳-۴ گھروں ے افراد سیمنٹ فیکٹری میں ملازم ہیں۔ شاید اب کے ختم ہونے کی خبر سنی گئی ہے۔ کھیوڑہ میں دو سرے شہروں سے آئے ہیں۔ پنڈ دادن میں مشتمل ہوگی۔

ضلع میں قادیانیوں کی کل تعداد ایک ہزار سے ہے، کہیں ایک جماعت بھی نہیں۔ ایک ہزار کا

سن کر قادیانی خوش ہوں گے کہ چلو زیادہ ہی بتائی ہے، کچھ پردہ رہ گیا ہے۔ ضلع جہلم کی کل آبادی ۱۵ سے ۲۰ لاکھ کے قریب ہوگی۔ اس میں ایک ہزار کی نسبت ۱:۲۰۰۰ بنتی ہے۔

۱۹۰۳ء میں مرزا غلام احمد قادیانی جہلم کچہری میں مولوی کرم دین صاحب آف بھیں کے ساتھ ایک مقدمہ کے سلسلہ میں جہلم آئے، جہاں دو تین دن ٹھہرے۔ ان کے قیام و طعام کا سارا انتظام جہلم کی جماعت نے کیا۔ اس وقت جہلم میں کافی جماعت موجود تھی۔ محمود آباد بھی تقریباً سارا قادیانی تھا۔ زیادہ تر اخراجات راجہ پنڈے خاں آف دارا پور نے ادا کیے۔ تین دنوں میں جہلم میں ۱۳۰۰ افراد قادیانی ہوئے۔ ذرا غور فرمائیے کہ ۱۹۰۳ء سے قبل خاصی جماعت موجود تھی اور پھر ۱۳۰۰ نئے قادیانی بھی ہوئے۔ آج جب کہ اس بات کو ۹۶ سال ہو چکے ہیں۔ اگر صرف وہی خاندان قادیانیت پر قائم رہتے تو چوتھی نسل کے بعد اب ان کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ہوتی۔ اب جبکہ پورے ضلع کی آبادی ایک ہزار سے کم ہے تو جماعت کی ”ترقی“ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ گویا ۹۹ فیصد قادیانی جماعت چھوڑ گئے ہیں۔

ضلع چکوال میں شہر کے اندر ۵ / ۶ گھر قادیانیوں کے ہیں، جب کہ ایک درجن سے زائد گھر اب قادیانیت چھوڑ چکے ہیں۔ موضع بھون میں ۸-۱۰ گھر ہیں۔ کلر کہار میں ۵-۶ گھر، دھرکنہ میں ۶ گھر اور بوچھال کلاں میں ۴ گھر قادیانیوں کے ہیں۔ پنجند میں ۸ / ۱۰ گھر قادیانیوں کے ہیں۔ رتھوچھا میں بھی ۶-۷ گھر قادیانیوں کے موجود ہیں۔ سب سے بڑی جماعت دوالمیال کی ہے، جہاں پہلے نصف سے زائد گاؤں قادیانی تھا۔ اب ۲۵-۳۰ گھر قادیانیوں کے رہ گئے ہیں۔ یہ وہی گاؤں ہے جہاں ایک قادیانی خاتون کے تین بیٹے جنرل تھے۔ اب یہ جماعت بھی آخری سانسوں میں ہے۔ پورے ضلع چکوال میں قادیانیوں کی کل تعداد ۶۰۰ کے قریب ہوگی، جب کہ ضلع چکوال کی کل آبادی ۱۲-۱۳ لاکھ ہوگی۔ قادیانیوں کی کیا نسبت بنتی ہے، اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جن جماعتوں کا ذکر کر رہا ہوں، ہر جماعت سے بہت سے لوگ جماعت چھوڑ چکے ہیں۔ علاقے کے لوگ یہ جانتے ہیں کہ لوگ مسلمان ہوتے ہیں۔ قادیانی کبھی نہیں کوئی ہوتا۔ یہ بات قادیانیوں کو بھی بہت پریشان کرتی ہے۔ ان کی

صفحہ 158

نوجوان نسل کو مایوس کرنے والی سب سے بڑی یہ بات ہے۔

ضلع راولپنڈی

اس ضلع میں کل کتنی تعداد ہو گی، اس کا اندازہ تو مشکل ہے، البتہ اس بات سے جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ راولپنڈی شہر میں نماز جمعہ ادا کرنے والی دو جگہیں ہیں۔ ایک مری روڈ پر تین منزلہ عمارت ٹیلی محلہ کے سٹاپ کے قریب ہے، دوسری عید گاہ کے نام سے سیٹلائٹ ٹاؤن میں E بلاک کے پاس تھی مگر جب انہوں نے وہاں عید گاہ کے نام سے تعمیر شروع کی تو مسلمانوں نے احتجاج کر کے اسے بند کروا دیا۔ اب انہوں نے اسے فروخت کر دیا ہے اور E / 69 میں پیر انور الدین احمد (متوفی) کے مکان کو خرید کر اس کے پچھلے حصہ میں ڈبل سٹوری عبادت گاہ بنالی ہے۔ ان دونوں جگہوں پر زیادہ سے زیادہ دو ہزار افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔ قادیانیوں میں نماز جمعہ کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ مرد، خواتین، بچے، بوڑھے تمام جمعہ کے لیے جاتے ہیں۔ تقریباً ۹۰ فیصد آبادی جمعہ پر پہنچ جاتی ہے۔ اب اگر دونوں عبادت گاہوں میں ۲ ہزار افراد آسکتے ہیں تو راولپنڈی شہر میں قادیانیوں کی تعداد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ۲ ہزار کی تعداد تو صرف احتیاطاً لکھ رہا ہوں، ورنہ عید گاہ میں تو ۱۵۰ یا ۲۰۰ آتے تھے۔ مری روڈ پر ۵۰۰ یا ۶۰۰ کے قریب آتے تھے (یہ اپنے مشاہدے کی بات کر رہا ہوں کیونکہ راقم ۱۹۸۴ء سے ۱۹۸۹ء تک اکثر یہاں جمعہ پڑھتا رہا ہے بلکہ ۱۹۹۵ء تک اکثر و بیشتر جمعہ کے لیے ان دو عبادت گاہوں میں جاتا رہا ہے) علاقائی جماعتیں بھی برائے نام ہیں۔ تحصیل گوجر خاں میں گوجر خاں شہر میں ۱۰ یا ۱۱ گھروں پر مشتمل ایک جماعت ہے۔ گوجر خاں سے ۸ یا ۱۰ کلو میٹر دور ایک بہت پرانی جماعت چنگا بنگیال میں ہے جو اب آخری سانسوں میں ہے، چند گھر باقی رہ گئے ہیں۔ تحصیل گوجر خاں میں کل تعداد ۲۵۰ کے قریب ہو گی۔ پورے ضلع راولپنڈی کی تعداد ۳ سے ۴ ہزار تک ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد

اسلام آباد میں ایک عبادت گاہ ہے جو سنگل سٹوری ہے۔ اس میں زیادہ سے

صفحہ 159

زیادہ ۷۰۰ افراد جمعہ کو آتے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز نہیں کرتی، جبکہ دو چھوٹی چھوٹی جماعتیں دیہاتوں میں ہیں۔ اسی طرح راولپنڈی اور اسلام آباد کے اضلاع میں کل تعداد ۵ ہزار سے ۶ ہزار تک ہو سکتی ہے۔ یقیناً اسے پڑھ کر خوش ہوں گے کہ چلو ہماری اصل تعداد سے زیادہ ہی ظاہر کیا ہے، کچھ پردہ رہ گیا ہے۔ پورا صوبہ سرحد قادیانیوں سے خالی ہے۔ پورے صوبہ میں ایک ہزار کے قریب قادیانی ہوں گے۔ قادیانی اس تعداد پر بھی خوش ہوں گے۔ صرف چناب نگر (ربوہ) ایسا شہر ہے جہاں صرف قادیانی آباد ہیں۔ وہ تعداد ۳۰ یا ۳۵ ہزار افراد پر مشتمل ہو گی۔ ضلع بہاولپور، ضلع رحیم یار خاں، بہاول نگر یعنی پوری ریاست بہاول پور میں کل تعداد ۱۵۰۰ سے کم ہے۔ یہ اعداد و شمار راقم کے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر ہیں۔ مذکور بالا سات ضلعوں میں کل تعداد ۸ ہزار بنتی ہے۔ ۴۵ لاکھ کہاں آباد ہیں؟

پچاس لاکھ بیعتیں

۱۹۹۳ء سے جماعت نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جسے عالمگیر بیعت کا نام دیا گیا ہے۔ ۱۹۹۳ء فروری یا مارچ میں پوری جماعت کو یہ ٹارگٹ دیا گیا کہ جولائی ۱۹۹۳ء تک دو لاکھ نئی بیعتیں کروائی جائیں۔ اس کا اعلان جلسہ سالانہ لندن میں جولائی کے مہینے میں کیا جائے گا اور اس دن عالمگیر بیعت ہو گی۔ دو لاکھ کے ٹارگٹ کو پوری دنیا میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس میں سے جہلم کے حصہ میں ۵۰ کی تعداد آئی۔ یہ کیونکہ نئی تحریک تھی، پوری جماعت حرکت میں آگئی۔ ۵۰ کے مقابل پر ۷۲ افراد کی بیعت کروائی گئی۔ یہ سبھی تقریباً وہ افراد تھے جو یا پہلے قادیانی تھے اور بعد میں جماعت چھوڑ گئے یا پھر ان کے فارم پر کروا کر ۷۲ کی تعداد پوری کر دی گئی۔ ۱۹۹۳ء کے جلسہ میں مرزا طاہر احمد نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ ٹارگٹ پورا ہو گیا ہے۔ اس طرح دو لاکھ بیعتیں ہو گئی ہیں۔ جماعت میں تو خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اب مرزا طاہر نے اعلان کیا کہ اگلے سال کا ٹارگٹ ڈبل ہے، یعنی چار لاکھ۔ اس میں سے جہلم کے حصہ میں ۱۶۰ کا ٹارگٹ آیا، مگر پورے سال کی محنت کے بعد ۵/۷ افراد کے فارم پر ہو سکے۔ گویا

صفحہ 160

ٹارگٹ بالکل پورا نہ ہوا بلکہ ۱۰ فیصد بھی نہ ہوسکا، مگر ۱۹۹۴ء کے جلسہ سالانہ میں مرزا طاہر احمد نے اعلان کیا کہ چار لاکھ کا ٹارگٹ پورا ہوچکا ہے۔ اب اگلے سال ۱۹۹۵ء کے لیے ۸ لاکھ کا مقرر کیا گیا۔ جہلم کو تقریباً ۳۵۰ کا ٹارگٹ ملا، مگر ۳ / ۴ فارم پُر ہوسکے۔ یہی حال راولپنڈی اور چکوال کا تھا، مگر ۱۹۹۵ء میں جلسہ پر مرزا طاہر نے ٹارگٹ پورا ہونے کی نوید سنائی۔ اب ۱۹۹۶ء کے لیے ۱۶ لاکھ کا ٹارگٹ دیا گیا۔ جہلم کو ۷۰۰ سے زائد کا ٹارگٹ ملا۔ جواب میں دو تین فارم پُر ہوسکے۔ ۱۹۹۶ء کے جلسہ میں ۱۶ لاکھ کا ٹارگٹ پورا ہونے کا اعلان ہوا۔ ۱۹۹۷ء کے لیے ۳۲ لاکھ کا ٹارگٹ مقرر ہوا۔ جہلم کے لیے ۱۵۰۰ کا ٹارگٹ ملا، جبکہ فارم ۴ / ۵ افراد کے پُر ہوسکے، مگر ۱۹۹۷ء کے جلسہ میں ٹارگٹ پورا ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ ۱۹۹۸ء کے لیے ۶۴ لاکھ کا ٹارگٹ دیا گیا۔ جولائی ۱۹۹۸ء میں راقم اپنے گاؤں محمود آباد گیا۔ وہاں چند لوگوں سے باتیں کرتے ہوئے راقم نے کہا کہ اب ۶۴ لاکھ کا اعلان نہیں ہوگا کیونکہ اس سے شک پڑ سکتا ہے۔ اب ۵۰ کے قریب بتایا جائے گا، پھر یہی ہوا کہ ۱۹۹۸ء کے جلسہ میں ۵۰ لاکھ نئی بیعتوں کی نوید سنائی گئی۔ اس ٹارگٹ میں سے جہلم کو ۳۰۰۰ کا ٹارگٹ مل چکا ہے، مگر جواب میں ۲۰۰ سے بھی کم فارم پُر ہوئے۔ (اب اگر جائزہ لیں تو وہ دو سو افراد بھی جماعت سے منسلک نہ ہوں گے) مگر اعلان ہمیشہ ٹارگٹ کے پورا ہونے کا کیا گیا۔ اب ۱۹۹۹ء کے لیے ٹارگٹ ایک کروڑ کا ہوگا۔ ڈبل فارمولے کے مطابق ۶۴ کا ڈبل ۱۲۸ ہونا تھا، مگر ۵۰ لاکھ کی پچھلی بیعتوں کو ڈبل کرنے سے ٹارگٹ ۱۰۰ لاکھ کا رکھا ہوگا۔ اب یہ بھی احتیاط کی جائے گی کہ شک نہ پڑ جائے۔ لہٰذا ۸۰ سے ۹۰ لاکھ بیعتوں کی نوید سنائی جائے گی۔

عالمگیر بیعت

اب عالمگیر بیعت کا کیس ایسی سٹیج پر آگیا ہے کہ اس کا پول کھلنے والا ہے۔ اب زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ راقم ۱۹۹۷ء میں بہاولپور گیا۔ خدام الاحمدیہ (نوجوانوں کی تنظیم) کے قائد سے ملاقات ہوئی۔ پوچھا آپ کی بیعتیں کیسی جا رہی

صفحہ 161

ہیں؟ اس نے بتایا: صرف پچھلے سال ۱۲۰۰ بیعتیں ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ ان کی مرکزی عبادت گاہ میں ۲۰۰ سے زائد افراد کی گنجائش نہیں۔ اس سے پوچھا گیا کہ ۱۲۰۰ میں سے کتنے سو افراد جمعہ کی نماز کے لیے آتے ہیں۔ کہنے لگا ۳ / ۴ افراد۔ راقم نے کہا: باقی سارا کچرا ہے، گند ہے جو جمعہ کے لیے نہ آئے، اس کا کیا کرنا ہے؟ اس پر وہ خاصا پریشان ہوا اور کہنے لگا یہ بات تو درست ہے کہ ۱۲۰۰ میں سے کوئی بھی نہیں آتا، مگر ۱۲۰۰ بیعتیں کیسے ہوئیں؟ پھر پوچھا: اب ۱۹۹۷ء میں کیا ٹارگٹ ملا۔ لازماً ڈبل ہو گا یعنی ۲۴۰۰۔ اب تک کتنی بیعتیں ہوئی ہیں؟ کہنے لگا: ابھی تک تو کوئی نہیں ہوئی۔ یہ اپریل ۱۹۹۷ء کی بات ہے، یعنی متوقع اعلان سے تین ماہ قبل۔

اب ساری جماعت خصوصاً پاکستان میں آرام کر رہی ہے۔ ٹارگٹ مل جاتا ہے، کام کچھ بھی نہیں ہوتا۔ لندن میں اعلان ہو جاتا ہے کہ ٹارگٹ پورا ہو گیا اور پھر اگلے سال کا ٹارگٹ ڈبل ہے۔

اب اس کھیل کے اختتام کا وقت آگیا ہے۔ ۱۹۹۳ء سے ۱۹۹۸ء تک اعلان کردہ تعداد کے مطابق ایک کروڑ دو لاکھ افراد نئے قادیانی ہو چکے ہیں۔ ۱۹۹۹ء کے متوقع اعلان کے مطابق اس سال تک ۲ کروڑ قادیانی ہو چکے ہوں گے۔ اب احباب جماعت کی آنکھیں کھلنے کا وقت آگیا ہے کہ وہ دیکھیں دھڑا دھڑ بیعتیں ہو رہی ہیں۔ ہر ضلع کو ٹارگٹ ملتا ہے اور اعلان کر دیا جاتا ہے کہ پورا ہو گیا ہے۔ اب تک ہونے والی بیعتوں کی تعداد ہر ضلع کی اصل تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے تو کہاں ہیں وہ قادیانی؟

اگر ابھی آنکھیں نہیں کھلیں تو آگے پڑھئے۔ جماعت کے اس فارمولے کے مطابق ۲۰۰۰ء میں ۴ کروڑ قادیانی ہوں گے جبکہ ۲۰۰۱ء کا ٹارگٹ ۸ کروڑ ہو گا اور اسی میں احتیاطی پہلو سامنے رکھ کر اعلان کیا جاتا رہا۔ ۲۰۱۰ء میں صرف ایک سال میں ۵ ارب لوگ قادیانی ہو چکے ہوں گے، جبکہ دنیا کی کل آبادی چھ ارب ہے۔ اس فارمولے کے مطابق ۲۰۱۰ء تک کل ۱۱ ارب قادیانی ہو چکے ہوں گے۔ امریکہ یورپ اور باقی دنیا کے تمام دانشور اور تمام ادارے بے بس ہو جائیں گے کہ چھ ارب تو وہ آبادی ہے جس میں کروڑوں عیسائی ہیں، کروڑوں مسلمان ہیں، کچھ ہندو، کچھ بدھ

صفحہ 162

مت کے ماننے والے وغیرہ اور اب ۱۱ ارب قادیانی بھی ہو گئے۔ گویا اب تو دنیا کی آبادی ۱۷ ارب ہو گئی ہے۔ آبادی کو کنٹرول کرنے والے، حساب رکھنے والے اور ڈیٹا تیار کرنے والے تمام ادارے حیران رہ جائیں گے کہ جب ۱۲ سالوں میں دنیا کی آبادی تین گنا ہو گئی ہے، جبکہ ان لوگوں کو دور بین سے بھی وہ گیارہ ارب قادیانی نظر نہیں آئیں گے۔

اگر مرزا طاہر احمد نے کوئی لحاظ نہ کیا اور ڈبل کا فارمولا جاری رکھا تو ۲۰۱۰ء میں صرف ایک سال میں ۲۶ ارب لوگ قادیانی ہوں گے۔ یہ کسی بھی ایٹمی دھماکے سے زیادہ دنیا کو متاثر کرنے والا دھماکہ ہو گا، کیونکہ دنیا کی کل آبادی تو چھ ارب ہے، جبکہ آئندہ دس سالوں میں صرف قادیانی ہونے والے افراد ۵۰ ارب ہوں گے جبکہ چھ ارب بر قرار رہیں گے۔

اگر جماعت آئندہ اعداد و شمار کی الجھن سے بچنے کے لیے ۲ کروڑ پر اکتفا کرتی ہے اور ہر سال ۲ کروڑ کا ہی اعلان کرتی ہے تو یہ جماعت کی اساس اور نظریہ کے خلاف ہو گا کیونکہ جماعت کا بنیادی نظریہ ہے کہ یہ خدائی جماعت ہے جو بھی تحریک شروع کی جائے، وہ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔ دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے ”خدائی تحریک“ ضرور کامیاب ہوتی ہے۔ اب اگر دو کروڑ پر جماعت رک جاتی ہے تو جماعت پر حرف آتا ہے کہ اس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور تمام سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ اگر جماعت میں یا مرزا طاہر احمد کو مشورہ دینے والوں میں کوئی سائنس دان یا ماہر شماریات ہوا تو وہ انہیں بتا سکتا ہے کہ پہلے فارمولے (ڈبل والے) سے گراف تیزی سے اوپر کو اٹھتا ہے اور چند مرحلوں بعد بلندیوں کو چھونے لگتا ہے اور اب (۲ کروڑ پر اکتفا کرنے سے) یہ افقی لائن پر آگیا ہے جو جمود کو ظاہر کرتا ہے مثلاً اگر دو کروڑ سے ڈبل فارمولے کے ساتھ چلا جائے تو ۱۰ سال بعد ایک سال میں ۱۰۲۴ کروڑ قادیانی ہوں گے اور کل ۱۰ سالوں میں کل ۲۰۴۶ کروڑ قادیانی ہوں گے جو کہ اوپر والی تعداد کا ۰ء۰۹ فیصد بنتا ہے، گویا جماعت کی کارکردگی ۹۹ فیصد کم ہو گئی۔ ایسی صورت میں جماعت قادیانیہ کے خدائی جماعت ہونے کا دعویٰ غلط ثابت ہو جائے گا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ ہر ضلع یا جماعت کی کل تعداد سے ۱۵ گنا زیادہ کا

صفحہ 163

ٹارگٹ پچھلے چھ سالوں میں مل چکا ہے اور بقول مرزا طاہر احمد کے یہ ٹارگٹ پورا بھی ہوچکا ہے۔ اب احباب جماعت کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر چھ سال پہلے ان کی عبادت گاہ میں عید کے دن ۱۰۰۰ افراد آتے تھے تو کیا اب ۱۵۰۰ یا ۱۶۰۰ افراد آتے ہیں؟ اس پر غور کرنے کے بعد یقینا ان کو مایوسی ہوگی۔ وہ دیکھیں گے کہ ۱۵۰۰ تو کیا ۱۵ افراد بھی نہیں جن کا نیا اضافہ ہوا۔ اب وہ خیال کریں گے کہ جماعت تو جھوٹ نہیں بول سکتی۔ اصل میں ہمارے علاقے کی جماعتیں سست ہیں۔ ادھر تو قادیانی نہیں بڑھے۔ دوسرے شہروں میں ضرور ہوئے ہوں گے۔ اب جناب آپ کے کئی رشتے دار، دوست دوسرے شہروں میں ہوں گے۔ ان سے یہی سوال پوچھئے تو پتا چلے گا کہ وہ بھی یہی سمجھ رہے ہیں کہ دوسرے شہروں میں لوگ قادیانی ہو رہے ہیں۔ پورے پاکستان کا جائزہ لینے کے بعد بھی آپ جماعت کو جھوٹا نہیں سمجھیں گے کیونکہ آپ کے خون میں یہ شامل کر دیا گیا ہے کہ قادیانی جھوٹ نہیں بولتے، حالانکہ بات بالکل الٹ ہے۔

اب اگر آپ کے دوست رشتے دار لندن (انگلینڈ) میں ہوں تو ان سے پوچھیں کہ آپ کے علاقے میں کتنے انگریز (گورے) پچھلے سالوں میں قادیانی ہوئے ہیں تو یقینا آپ کو سخت مایوسی ہوگی۔ ان کا جواب ہوگا کہ دوسرے ملکوں میں ہو رہے ہیں۔ اب خود غور کریں کہ جہاں مرزا طاہر احمد پندرہ سال سے مقیم ہیں۔ جہاں جماعت کا ہیڈ کوارٹر بنا ہوا ہے، وہاں پر بھی اگر ٹارگٹ پورا نہیں ہوا اور جس ملک میں پہلے ہیڈ کوارٹر تھا یعنی پاکستان، اس میں بھی ٹارگٹ پورا نہیں ہوا تو پھر دو کروڑ نئی ہونے والی بیعتیں کہاں ہوئی ہیں؟ کسی ایک افریقی ملک میں تو ہو نہیں سکتیں، کیونکہ ان ملکوں کی تو اپنی آبادی ہی کم ہے اور اگر اس مقدار کو ۵ / ۶ ملکوں میں تقسیم کر دیا جائے تو یہ ایک حیران کن خبر بنتی ہے، جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دینا تھا کہ ان ملکوں کی ایک چوتھائی آبادی قادیانی ہوگئی ہے۔

جب پاکستان کی جماعتوں کو ہر سال ٹارگٹ مل رہا ہے اور وہ پورا بھی نہیں ہو رہا تو ٹارگٹ کے مکمل ہونے میں اچھی خاصی کمی ہوئی تھی، مگر اعلان تو ہوتا ہے کہ ٹارگٹ پورا ہوگیا ہے۔ یہ جماعت کا ایسا جھوٹ ہے جس کا پول کھلنے والا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس جماعت سے قادیانی حضرات کو ایک بڑا سہارا ملتا ہے۔ مورال بڑھتا

صفحہ 164

ہے اور قادیانیت کو چھوڑنے کے لیے پر تولنے والے حضرات کچھ دیر کے لیے پروگرام ملتوی کر دیتے ہیں، مگر جب جماعت کا تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ یہ دیکھے گا کہ ایک ایسی جماعت، جس کا دعویٰ ہے کہ اسلامی تعلیم کا حسین نمونہ اس جماعت میں ہے، اس کا یہ حال ہے کہ وہ بڑا ”سنجیدہ جھوٹ“ بول رہی ہے تو یقیناً پھر جوق در جوق قادیانی لوگ اسلام میں داخل نہیں ہوں گے؟

اگر آپ کسی ایسے گاؤں کا جائزہ لیں جہاں ۵ / ۷ گھر قادیانیوں کے ہوں تو آپ کو یہ بات ضرور ملے گی کہ فلاں فلاں گھر یا خاندان قادیانی ہوتا تھا، پھر بعد میں مسلمان ہو گیا۔ فلاں گھر میں قادیانی عورت آئی اور بعد میں مسلمان ہو گئی۔ فلاں عورت نے قادیانی مرد سے شادی کی مگر اس عورت کے اثر سے مرد بھی مسلمان ہو گیا۔ شاید ہی کسی گاؤں میں یہ بات سامنے آئے کہ فلاں خاندان مسلمان تھا اور بعد میں قادیانی ہو گیا۔

اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نیا ”شوشہ“ چھوڑتا ہے، مذہبی آئیڈیا دیتا ہے تو خاصے لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں، پھر جب حقیقت ان کے سامنے کھلتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے چلے جاتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جب امام مہدی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو دیہات کے لوگوں نے (جو یقیناً ان پڑھ تھے) اس پُرکشش نعرہ کو سنتے ہی بغیر کسی تحقیق کے فوراً قبول کر لیا، کیونکہ مسلمان تو امام مہدی کے منتظر تھے، جونہی پتا چلا کہ ایسا کوئی دعوے دار آ گیا ہے تو فوراً قبول کر لیا۔ مرزا قادیانی نے ۱۸۸۹ء میں باضابطہ بیعت کا آغاز کیا تو ۱۹۰۲ء تک اچھی خاصی جماعت پیدا کر لی۔ جہلم میں مولوی برہان الدین صاحب جہلمی جو نیا محلہ میں ایک مسجد کے امام تھے، ۱۸۹۱ء میں بیعت کر آئے اور آکر اپنے شاگردوں کو بھی قادیانیت میں شامل کر لیا۔ محمود آباد کے تمام بڑے اس مسجد میں قرآن وغیرہ پڑھنے جایا کرتے تھے۔ وہ سب مولوی برہان الدین صاحب کی وجہ سے قادیانی ہو گئے۔ نبوت کا دعویٰ تو مرزا قادیانی نے ۱۹۰۲ء میں کیا۔ جب مولوی برہان الدین صاحب اور دیگر لوگ مرزا قادیانی کو اپنا پیر مان چکے تھے تو انہوں نے اپنے پیر صاحب کے نئے دعویٰ کو عقیدت کی وجہ سے مسترد نہ کیا، پھر مرزا قادیانی کی ظلی و بروزی اصطلاحات نے کسی کو بھی انکار نہ

صفحہ 165

کرنے دیا کیونکہ ان کی نئی اصطلاحات نے علماء کو کنفیوز کر دیا۔ مرزا قادیانی کی وفات کے بعد جماعت کے افراد آہستہ آہستہ چھوٹتے چلے گئے، مگر اس دوران چندوں کے لامتناہی سلسلہ نے ایک ایسے نظام کو جنم دیا جو وقتاً فوقتاً مرکز سے انسپکٹر آکر چندہ جمع کرنے، حساب چیک کرنے اور جماعت کو منظم رکھنے اور جماعت سے دور افراد کو چندہ دہندگان میں شامل کرنے کے لیے ان کے گھروں تک بار بار چکر لگا کر جماعت کے قریب کرنے کا سبب بنا۔ ۱۹۱۴ء میں مرزا غلام احمد کے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد جو کہ اس وقت ۲۵ سال کے تھے، مرزا قادیانی کے دوسرے جانشین (خلیفہ) بنے۔ انہوں نے جماعت کو منظم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ نئی تنظیمیں، نئے ادارے، نئے چندے اور نئی نئی سکیمیں شروع کیں۔ ۱۹۶۵ء میں ان کی وفات تک منظم ہو چکی تھی۔ اس کے بعد مرزا ناصر احمد کے دور میں جماعت کم ہونا شروع ہو گئی۔ ۱۹۷۴ء میں پورے پاکستان میں جماعت کا حجم بہت سکڑ گیا۔ ۱۹۸۲ء میں مرزا طاہر احمد نے انتظام سنبھالا تو جماعت میں زبردست جوش پیدا کر دیا۔ انہوں نے جماعت کو یہ فلسفہ دیا کہ اگر صرف ۱۰ فیصد آبادی قادیانی ہو جائے تو حکومت جماعت کے ہاتھ آسکتی ہے۔ ۱۹۸۲ء تا ۱۹۸۳ء پوری جماعت میں تبلیغ کے لیے ایک زبردست جوش پیدا کر دیا۔ ہر جوان کو ایک ایک قادیانی کرنے کا ٹارگٹ دیا گیا۔ ہر فرد کو اپنے گھر میں غیر قادیانیوں کو چائے وغیرہ کی دعوت پر بلا کر تبلیغ کرنے کا پابند کیا اور جماعت نے بھی اس پر پوری طرح عمل کر کے خوب محنت کی مگر نتیجہ مایوس کن رہا۔ راقم اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے قادیانی طلباء کا قائد (زعیم) تھا اور علامہ اقبال ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن اور ماڈل ٹاؤن پر مشتمل جماعتی قیادت کا ایک اہم رکن تھا، لہٰذا یہ باتیں ذاتی علم اور مشاہدے پر مبنی تھیں۔

اب صورت حال یہ ہے کہ باقی ماندہ قادیانیوں کی چار نسلیں گزر چکی ہیں اور اب نئی نسل جو کہ نسل در نسل قادیانی ہے، اس کا جماعت چھوڑنا خاصا تکلیف دہ ہے۔ جس طرح ایک ہندو کے گھر میں پیدا ہونے والا ہندو مذہب کو ہی سچا سمجھتا ہے، بے شک وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر لے، دہریہ اپنے غیر مذہبی نظریہ پر قائم رہتا ہے۔ پارسی، سکھ، عیسائی اور یہودی گھرانوں میں پرورش پانے والے افراد اپنے اپنے

صفحہ 166

مذہب پر قائم رہتے ہیں۔

قادیانی یہ جانتے ہیں کہ جماعت میں چندوں کی بھرمار پر بڑا زور ہے مگر اسلام کا بنیادی رکن زکوٰۃ بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ تحریک جدید، وقف جدید، چندہ عام اور دیگر چندوں پر امام جماعت سے کئی خطبے مل جائیں گے، مگر زکوٰۃ پر کوئی خطبہ دریافت نہ ہوگا۔ جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لیے خطبات تو ملیں گے، مگر حج یا مناسک حج کے بارے میں کوئی خطبہ نہ ملے گا۔ جماعت کے تمام مرکزی عہدوں پر مرزا قادیانی کے خاندان کے افراد کا قبضہ ہے۔ ان کے لیے کسی قابلیت کی ضرورت نہیں، جبکہ ان کے نیچے کام کرنے والے جامعہ قادیانیہ سے سات سالہ کورس کرنے کے علاوہ ۲۰ یا ۲۵ سال فیلڈ کا تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ جماعت کے بنیادی عہدوں یعنی مقامی امیر جماعت اور اس کی مجلس عاملہ کے لیے عہدے کا حقدار وہی ہو گا جو چندے کا بقایادار نہ ہو۔ بے شک وہ اخلاقی و مذہبی تعلیم کے حوالے سے کیسا ہی کیوں نہ ہو، جبکہ ایک نیک متقی اسلامی شعار کا پابند اگر مالی کمزوری کی وجہ سے چھ ماہ سے زائد چندے کا بقایادار ہے تو وہ ووٹ دے سکتا ہے نہ عہدہ لے سکتا ہے۔ تقویٰ اور پرہیزگاری پر پیسے کو ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی دوسری جماعتی زیادتیاں زبان زد عام ہیں، جن کو مضمون کی طوالت کی وجہ سے کسی اور مضمون کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ ان سب خرابیوں کو جانتے ہوئے بھی وہ خاموش ہیں۔

جب سے پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے، مسلمانوں اور قادیانیوں میں خاصی دوری پیدا ہو گئی ہے۔ جہاں کوئی مسلمان قادیانی ہونے کی جرأت نہیں کرتا، وہاں قادیانی بھی اس دوری کو پار کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ خدا تعالیٰ قادیانی نوجوانوں کو ہمت دے کہ وہ اس دوری کو عبور کر کے مسلمان ہو جائیں۔ آمین!

صفحہ 167

پاکستانی شمسی توانائی کا

نظام تباہ کر دیا گیا

اسلام آباد (ضیاء اقبال شاہد خبر نگار خصوصی) حد درجہ ذمہ دار ذرائع نے پاکستان میں شمسی توانائی کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی ایک سازش کا انکشاف کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سازش میں کئی ملکی اور غیر ملکی عناصر شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان سارے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے اور عنقریب ہی سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سازش میں مرکزی کردار ایک ہندو تاجر اور ایک خاتون سائنس دان نے ادا کیا ہے۔ پاکستان کے خلاف اس عالمی سازش کا ابتدائی انکشاف اسلام آباد میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے سائنس دانوں کے ایک اجتماع میں اس وقت ہوا جب ایک وزیر مملکت کی موجودگی میں پاکستان کے ایک ممتاز سائنس دان نے اس سکینڈل کا ایک واضح اشارہ دیا۔ اسلام آباد میں وزیر مملکت سردار آصف احمد علی کی صدارت میں پاکستان نیوکلیئر سوسائٹی کا اجلاس جاری تھا کہ ممتاز سائنس دان ڈاکٹر عتیق مفتی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بڑے جذباتی لہجے میں کہا کہ ۸۴ کروڑ ڈالر کی اس سازش پر بھی غور کیا جائے جو سی

صفحہ 68

آئی اے کے ایک لیٹر پر ایک الیکٹرک کمپنی کو توانائی کے شعبے میں ایک ٹھیکہ دینے سے شروع ہوئی اور یہ سازش بھی ایک ہندو نے ترتیب دی تھی۔ وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے سب سے سینئر سائنس دان ڈاکٹر عتیق مفتی کے اس سوال پر اجلاس میں سناٹا چھا گیا، تاہم کسی نے ان کے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ بعد ازاں نمائندہ جنگ نے اس اہم سائنس دان سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ اس معاملے پر میری زبان نہ کھلوائیے، میں نے ایک لفظ بھی آپ کو بتا دیا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ مجھے منظر سے ہٹانے کے لیے مجھ پر پہلے ہی دو حملے کیے جاچکے ہیں، مجھے ابھی خاموش رہنے دیجئے۔ ان الفاظ کے ساتھ سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سلیکون ٹیکنالوجی اور موجودہ ممبر پاکستان سائنس فاؤنڈیشن ڈاکٹر عتیق مفتی کی آنکھوں سے آنسو چھلک گئے اور وہ اچانک کانفرنس ہال سے غائب ہو گئے۔ عالمی شہرت یافتہ سائنس دان اور حکومت پاکستان کے گریڈ 21 کے یہ افسر پاکستان کے ساتھ ہونے والی اس واردات کی مزید تفصیلات بتانے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت جلد صدر غلام اسحاق خان کو ایک تفصیلی خط میں توانائی کے شعبہ میں پاکستان کے خلاف ہونے والی اس سازش سے پردہ اٹھاؤں گا۔ اس اہم قومی معاملے پر جنگ کی آزادانہ تحقیق کے نتیجہ میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ حد درجہ ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سلیکون ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی) کے ذریعہ پاکستان میں سولر سیلوں اور فوٹو وولٹک سیلوں میں تجارتی پیمانے پر تیاری کو روکنے کی جس سازش کا ڈراپ سین اب سامنے آیا ہے، اس کا آغاز ایک عشرہ پہلے ایک عالمی اجارہ دار ملک کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اب ان عالمی اجارہ داروں کے مقاصد پورے ہوگئے ہیں، اب این آئی ایس ٹی کی تمام مشینیں اور سائنسی آلات تقریباً بے کار ہوگئے ہیں اور پاکستان شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی سے محروم ہوگیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ 1993ء میں اقوام متحدہ کے فنڈز کے ذریعہ سلیکون ٹیکنالوجی کے لیے تعمیر ہونے والی ایک عظیم الشان بلڈنگ کا افتتاح اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کرنا تھا مگر مبینہ طور پر وزارت سائنس کے اعلیٰ افسروں نے ڈیڑھ کروڑ روپے خورد برد کرلیے اور متعلقہ سائنس دان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ نامکمل بلڈنگ کو مکمل قرار

صفحہ 691

دینے کا سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ سائنس دان کے انکار پر اسے مختلف نوعیت کی انتظامیہ کی طرف سے اذیتیں پہنچائی گئیں، تاہم پاکستانی سائنس دانوں نے سلیکون ٹیکنالوجی سے متعلق اقوام متحدہ کے مالی تعاون سے کام جاری رکھا اور سولر سیل بنانے کے پیچیدہ طریقہ کار کو دس سے بارہ گنا آسان بناتے ہوئے پاکستان میں عالمی منڈی کے مقابلے میں ۳۰ فیصد کم اخراجات سے سولر سیل بنا کر دکھا دیئے۔ یہ سائنس دان انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سلیکون ٹیکنالوجی قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی امداد سے پہلے اپنے گھروں سے میز کرسیاں اٹھا لائے اور مانگ تانگ کر لیبارٹری قائم کی مگر پاکستانی سائنس دانوں کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے سابق صدر ضیاء الحق کے دور کے آخری دنوں سے ملک کے اندر اور باہر سازشوں پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا جو اب بھی جاری ہے۔

امریکہ میں مقیم ایک خاتون ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز نے اعلیٰ ترین پاکستانی حکام کے ساتھ رابطہ قائم کیا۔ اس خاتون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے، امریکہ میں ورجینیا پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کی سربراہ اس خاتون نے پاکستانی حکام کے سامنے ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا اور بتایا کہ وہ پاکستان میں سلیکون ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری لائے گی۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز کو پاکستان میں پہلی مرتبہ نتھیا گلی میں ہونے والی ایک پاکستان سائنس کانفرنس میں ممتاز سائنس دان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام اور ایٹمی توانائی کمیشن کے سابق چیئرمین منیر احمد نے پاکستانی سائنس دانوں سے متعارف کرایا تھا۔

ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز نے پاکستان آتے ہی سیاست دانوں اور اعلیٰ افسروں میں اپنے منصوبے کا جال پھیلا دیا۔ یہ خاتون سلیکون ٹیکنالوجی کے ممتاز ماہر ڈاکٹر عتیق مفتی کے گھر بھی گئیں اور ان کی اہلیہ کو ایک لاکھ روپے ماہانہ کے عوض اپنے ادارے کے بورڈ آف گورنرز میں خدمات سرانجام دینے کی پیشکش کی۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز اپنے ساتھ دو امریکی ماہرین کو بھی پاکستان لے آئی۔ یہ خاتون حکومت پاکستان کے ساتھ ۷۶ کروڑ روپے کے ایک ایسے منصوبے کو حتمی شکل دینے لگی جس پر عمل

صفحہ 170

درآمد کے بعد حکومت پاکستان سلیکون ٹیکنالوجی یا دیگر متعلقہ شعبہ میں پاکستان میں ڈاکٹر لطفی اعجاز کے گروپ کے علاوہ کسی دوسرے کو کام نہیں کرنے دے گی۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ اس خاتون کے ایماء پر پاکستان میں میکرز کنسورشیم قائم کر دیا گیا۔ اس خاتون نے حکومت پاکستان کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ پاکستان میں تجارتی پیمانے پر سولر سیل بنائے گی اور سرکاری سطح پر سولر سیل کی تیاری کا کام ختم کر دیا جائے۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے تین اہم سائنس دانوں نے اس خاتون کے منصوبے کی مخالفت کی اور یہ موقف اختیار کیا کہ اس طرح پاکستان میں مقامی سطح پر سائنس و ٹیکنالوجی کا عمل رک جائے گا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔ جب اس خاتون نے پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ کا سرکاری عمل رکوا دیا تو امریکہ میں اس خاتون کو ایک فراڈ کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا، تاہم اس وقت تک پاکستان کے سرکاری اداروں میں اس سلسلے میں سائنسی تحقیق کا عمل رک کر رہ گیا تھا۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ مقامی سطح پر سولر سیلوں کی تیاری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے سلسلے میں ایک اہم کارروائی سابق وزیر اعظم کے دور میں بھی ہوئی جبکہ کمار نامی ایک ہندو ایک عرب شہزادے کا مینجر بن کر پاکستان آیا اور اس نے اعلیٰ ترین پاکستانی حکام کو سولر سیل کے سلسلے میں یہ تجویز پیش کی کہ وہ ۳۰۰ میگاواٹ کے سولر درآمد کر کے پاکستان لائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایٹماک نامی ایک کمپنی کو متعارف کرایا گیا اور اس کمپنی نے بہت سے پاکستانی افسروں کے بیرون ملک دورے کرائے اور سولر سیل درآمد کرنے کے لیے لیٹر آف انٹینٹ کے حصول کے لیے راہ ہموار کر لی۔ یہ فرم پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے ایک سابق ملازم کو بھی بطور معاون اپنے ساتھ لائی تھی۔ کمپنی نے حکومت پاکستان کے ساتھ کاغذوں پر معاملہ کیا کہ چھ سال کے لیے ۸۴۰ ملین ڈالر کا قرضہ اس کمپنی کو عالمی ذرائع سے دلایا جائے گا۔ اس کمپنی نے پاکستان میں سولر سیل بنانے کی ایک فیکٹری قائم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ اس پیشکش کے بعد مقامی سطح پر سولر سیل بنانے کے لیے کوشش کرنے والے پاکستانی سائنس دانوں کے ساتھ زیادتیاں شروع ہو گئیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سلیکون ٹیکنالوجی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر

صفحہ 171

عتیق مفتی کو کھلے الفاظ میں کہا گیا کہ اگر آپ نے سولر سیل بنانے کی کوشش کی تو ہم آپ کو دنیا کے لیے عبرت ناک مثال بنا دیں گے۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ کمار نامی ہندو سعودی شہزادے کے مینجر کے طور پر حکومت پاکستان کے افسروں کو سولر سیل کی فیکٹری کے قیام کا جھانسہ دیتے رہے، اور بعد ازاں جب اس کمپنی کو ۱۰ میگاواٹ کے سولر سیل بنانے کی فزیبلٹی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا تو وہ کمپنی انکار کر کے واپس چلی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ عالمی اجارہ دار ایک ہندو کے ذریعہ پاکستان میں سولر سیل کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے اور اپنا کام سرانجام دے کر چلے گئے۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں سلیکون ٹیکنالوجی کے ماہر ڈاکٹر عتیق مفتی ان دنوں اسلام آباد کی پاکستان فاؤنڈیشن کے ایک گوشے میں بیٹھے ہیں۔ سائنس دانوں کی برادری میں انہیں شہید سائنس دان قرار دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو درجنوں عالمی فورموں میں شرکت کے دعوت نامے ملتے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں عالمی کانفرنسوں میں شرکت سے روکنے کی تدابیر کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے سلسلے میں ہونے والی عالمی سازشوں سے متعلق مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔

بہ شکریہ روزنامہ ”جنگ“ لاہور ۱۱ ستمبر ۱۹۹۲ء

صفحہ 172

تقسیم کشمیر

ایک خطرناک سازش

امریکہ، پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سرگرم ہو گیا ہے اور امریکہ میں قائم کشمیر سٹڈی گروپ نے کشمیر کی تقسیم اور لائن آف کنٹرول کی نئی حدبندی کے سلسلے میں تفصیلی رپورٹ تیار کر کے پاکستانی اور بھارتی حکام کے حوالے کر دی ہے۔ یہ منصوبہ جو تجاویز، نقشوں اور اعداد و شمار پر مشتمل ہے، اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کنٹرول لائن کی کوئی پیدائشی منطق نہیں ہے۔ اس منصوبے کے مطابق ریاست میں جغرافیائی تبدیلیوں کو علاقائی ایڈجسٹ منٹ (Adjustment) کا نام دیا گیا، جس میں ٹوٹل ۱۱۸۱۵ مربع کلومیٹر کے علاقے کو اور ۷ لاکھ ۳۰ ہزار کی آبادی کو شامل کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت بھارت کے زیر کنٹرول علاقے کا ۴۵۰۱ مربع کلومیٹر کا علاقہ اور اس کی ۵ لاکھ ۸۵ ہزار آبادی پاکستان کو منتقل کی جائے گی جبکہ پاکستان کے زیر کنٹرول علاقے میں سے ۷۳۶۶ مربع کلومیٹر کا علاقہ اور اس کی چودہ لاکھ پانچ ہزار کی آبادی بھارت کے حوالے کی جائے گی۔ اس رپورٹ میں جس کو

صفحہ 173

"کشمیر اے وے فارورڈ" (Kashmir a Way Forward) کا نام دیا گیا ہے، کہا گیا ہے کہ ان مجوزہ جغرافیائی تبدیلیوں سے پاکستان کا نیلم کشن دریائے گنگا اور پونچھ کے علاقے پر کنٹرول محفوظ ہو جائے گا۔ پانی کی بہترین منصفانہ تقسیم کے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہم ہے کہ بھارت کی شمالی نیشنل ہائی وے اور خصوصاً کارگل کے علاقے میں گزرنے والی شاہراہ کی سلامتی محفوظ ہو جائے گی، جبکہ بھارت اوڑی ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ کو محفوظ بنانے کے لیے بھی علاقے کی وسعت کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

کشمیر سٹڈی گروپ جسے امریکی اراکین کانگرس کی اکثریت اور امریکی محکمہ خارجہ کی حمایت حاصل ہے، مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے دو علیحدہ کشمیری ریاستوں کے قیام کے منصوبے پر ٹھوس کام کر رہا ہے۔ اندریں صورت حالات، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کا تنازعہ کشمیر کے حل کا موقف کیوں، کب اور کیسے کمزور ہوا؟ اقوام متحدہ کی قراردادیں برائے حق خودارادیت کشمیر، طاق نسیاں پر کیسے چلی گئی؟

اقوام متحدہ دو الفاظ ایسے ہیں کہ دنیا بھر کے سیاسی مدبر، ارباب علم و دانش اس مرکب کے معنی ذہن میں رکھ کر مسئلہ کشمیر کے بارے میں سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے۔ یہ کتنی مضحکہ خیز اور الفاظ کی کھلی توہین ہے کہ پچاس کے ہندسے کو چھونے والی اقوام متحدہ کا ادارہ، خود کو متحد کہے اور اپنے دو رکن ممالک کو برسوں سے باہم دست و گریباں ہوتا دیکھتا رہے۔ مستحق اور دعویدار رکن کے حقوق کو تسلیم کرنے کے بعد بھی اس کے حق میں صداقت کا نعرہ نہ لگائے، بلکہ اقوام متحدہ کے لیے مسلسل بدنامی کا باعث بنتا چلا جائے اور تمام تلخ حقائق کے باوجود اسے انہی دو مظلوم لفظوں سے یاد کیا جائے۔ اقوام متحدہ، فیا للعجب۔

گھات میں صیاد ہے

سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے اہل فکر و نظر کے لیے یہ راز، اب راز نہیں رہا

صفحہ 174

کہ مغربی طاقتیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے نام پر ایک ایسا منصوبہ تیار کیے بیٹھی ہے، جس کا اصل مقصد کشمیر کی تقسیم ہے۔ یہ تقسیم صرف اور صرف بھارت کے مفاد میں ہوگی۔ تقسیم کشمیر کا یہ منصوبہ نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے۔ اس پرانے منصوبے کو نئے رنگ و روغن کے ساتھ قابل عمل بنانے کے لیے کچھ ایسی طاقتیں بھی سرگرم عمل ہیں، جن کا بظاہر کشمیر سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ ایسی ہی ایک طاقت، قادیانی جماعت بھی ہے جو ان دنوں مقبوضہ کشمیر میں خاصی سرگرم ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سرگرم قادیانیوں کے اسرائیل سے روابط اب ڈھکے چھپے نہیں رہے۔

دجال قادیان مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی کتابوں میں دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور آنے والا مسیح میں ہوں۔ اپنے جھوٹے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے قادیانی دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتقال کشمیر میں ہوا اور ان کی قبر سری نگر کے قریب واقع ہے۔ قادیانی گزشتہ ایک سو سال سے کشمیر میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہیں اور اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ مسیح اول کشمیر میں دفن ہے جبکہ مسیح موعود کے دم سے کشمیر ایک مثالی ملک بنے گا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دور میں اپنے ایک پیروکار حکیم نور الدین کو ریاستی مشیر بنوایا اور کشمیر میں اپنا کام شروع کیا لیکن ۱۸۹۲ء میں مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے حکیم نور الدین کو ریاست سے نکال دیا کیونکہ وہ تمام اہم عہدوں پر قادیانیوں کو فائز کروا رہا تھا۔

قادیانیوں نے کشمیر میں گھسنے کی دوسری کوشش ۱۹۳۱ء میں کی جب مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین کشمیر کمیٹی کا سربراہ بن بیٹھا۔ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے لیے انگریزوں کا مقرر کردہ حد بندی کمیشن گورداسپور پہنچا تو قادیانیوں نے خود کو مسلمانوں سے علیحدہ ظاہر کیا اور مسلمانوں کا تناسب کم کروا دیا۔ گورداسپور بہت اہم ضلع تھا کیونکہ یہ بھارت اور کشمیر میں واحد زمینی رابطہ تھا۔ قادیانیوں کی ملی بھگت سے انگریزوں نے گورداسپور بھارت کے حوالے کر دیا۔

مجاہدین نے کشمیر کے کئی علاقے فتح کر لیے تو پاکستانی فوج کے انگریز کمانڈر

صفحہ 175

انچیف جنرل گریسی نے قادیانیوں پر مشتمل فرقان رجمنٹ تشکیل دے کر جموں کے محاذ پر بٹھا دی۔ یہ بٹالین ریاست جموں و کشمیر پر قادیانی جھنڈا لہرانے کے لیے قائم ہوئی۔ ۱۹۷۲ء میں انکشاف ہوا کہ اسرائیلی فوج سینکڑوں قادیانیوں کو تربیت دے رہی ہے۔ اسرائیل اور قادیانیوں کی قربت کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل میں قادیانیوں کے دفاتر کئی دہائیوں سے کام کر رہے ہیں۔ قادیانی کشمیریوں کو یہودی النسل قرار دے کر اسرائیل کی ہمدردی حاصل کر چکے ہیں اور لندن میں بیٹھے ہوئے قادیانی دانشور، اسرائیل کی مدد سے کشمیر میں خوب کام کر رہے ہیں۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق قادیانیوں کی سرگرمیوں کا مرکز سری نگر ہے اور وہ خود مختاری کے نظریئے کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس نظریے کا مقصد متحدہ جموں و کشمیر کی خود مختاری نہیں، بلکہ صرف اور صرف وادی کی خود مختاری ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر میں ضلع وار ریفرنڈم کی تجویز اقوام متحدہ کے ایک نمائندے مسٹر ڈکسن نے ۱۹۵۰ء میں بھی پیش کی تھی۔ اب ۵۰ سال بعد قادیانی دانشور ایک دفعہ پھر اس منصوبے کو سامنے لا رہے ہیں۔ ضلع وار ریفرنڈم سے لداخ اور جموں، بھارت کے پاس جائے گا۔ آزاد کشمیر، پاکستان کے پاس رہے گا اور سری نگر خود مختار بن جائے گا، جہاں قادیانی اقتدار میں شامل ہو کر بھارت کے ساتھ جا ملیں گے۔

یاد رہے کہ اگر کشمیر تقسیم ہو جائے تو اس تقسیم سے مسلمانوں کو کچھ نہ ملے گا، جو کچھ بھی لینا ہے، وہ سری نگر اور گرد و نواح میں موجود اسی فیصد قادیانی لیں گے۔ ہم محض قادیانیوں پر لعن طعن کر کے تقسیم کشمیر کی بین الاقوامی سازش کو ناکام نہ بنا پائیں گے، بلکہ اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ان مسلمان لیڈروں کا گریبان بھی پکڑنا ہو گا جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طریقے سے مغربی طاقتوں اور قادیانیوں کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ کشمیر تقسیم ہو گیا تو سری نگر کے ایئر پورٹ پر کھڑے اسرائیلی طیارے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے لیے ایک مستقل خطرہ بن جائیں گے۔

(ماہنامہ دعوت تنظیم الاسلام، اگست ۲۰۰۰ء از علامہ رب نواز خان اجمیری)

صفحہ 176

خلافت، ملوکیت یا انسانیت پر ظلم

ایک قادیانی جماعت قادیانیہ کی اندرونی کہانی سناتا ہے:

جب سے دنیا معرض وجود میں آئی ہے، اس وقت سے اچھے اور برے لوگ اس دنیا میں آتے رہے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ آیئے میں آپ کو آگاہ کروں کہ مرزا طاہر اور اس کے مفاد پرست ٹولے نے کس طرح انسانیت پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے ظلم و ستم سے تنگ آکر میں نے جماعت احمدیہ کے اندر ایک نئی تحریک ڈبل مظلوم کا آغاز کیا ہے تاکہ انسانیت کو ظلم سے بچایا جا سکے کہ جو افراد جماعت احمدیہ کے جال میں پھنس چکے ہیں، ان کی مدد کی جائے اور جو ابھی اس جماعت میں شامل ہونے کا خیال رکھتے ہیں، ان کو آگاہ کیا جائے کہ آپ اپنے پہلے عقائد پر ہی قائم رہیں، اسی میں آپ کی بہتری ہے۔ اگر پھر بھی کوئی جنونی جس پر جماعت احمدیہ کا اثر ہو چکا ہے اور میرے موقف سے متفق نہیں ہے، اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جو حال ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، وہی کل آپ کے ساتھ ہونا ہے بشرطیکہ آپ نیک سیرت اور سعید فطرت روح رکھتے ہوں۔ آپ کی آگاہی کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جناب اگر میں فوت ہو جاتا ہوں تو میرے جنازے کو کوئی انسان ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہیں۔ اگر اس سے

صفحہ 177

بڑا دنیا میں کوئی اور ظلم ہے تو مجھے بھی آگاہ فرمائیں۔ چونکہ میرے عقائد جماعت احمدیہ والے ہیں اور دوسری طرف ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے مجھے ان سے اختلاف ہوچکا ہے، جس کے میرے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے جب میں نے اپنی ظلم و ستم اور درد بھری داستان مرزا طاہر صاحب کو بڑے ادب و احترام کے ساتھ لکھی تو جواب آتا ہے کہ خبردار! آئندہ مجھے خط نہ لکھیں۔ کیا خلیفہ ایسا ہوتا ہے؟

اب کون احمدی ہے جو اپنے خلیفہ کی اس قسم کی تحریر پڑھنے کے بعد مجھ سے تعلقات رکھے گا۔ چونکہ جماعت احمدیہ کے افراد کی تربیت ہی اس طرح کی جاتی ہے کہ کوئی فرد بھی اپنے خلیفہ کے خلاف یا مثبت تنقید سننے کے لیے تیار نہیں۔ وہ ہر لفظ خلیفہ کے منہ سے نکلنے والا خدائی آواز سمجھتے ہیں۔

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک حاضر سروس ہیڈ ماسٹر صاحب کے گھر جماعتی خرچہ پر ڈش لگوا دی جاتی ہے جبکہ اس کے حقیقی بھائی کی غربت کا یہ عالم ہے کہ اس بیچارے نے گھر کی سلائی مشین بیچ کر اپنے بچے کا داخلہ بھجوایا ہے۔ ایک اور صاحب جس کے بچے بھی جرمنی گئے ہوئے ہیں اور اچھا بھلا زمیندار بھی ہے، اسے زنا کیس میں ۳۰، ۳۵ ہزار کی رقم ربوہ خزانے سے مدد دے دی گئی۔ جب کہ دوسری طرف ایک ہومیو پیتھی کا طالب علم جو سب کچھ چھوڑ کر ان میں شامل ہوا ہے، اس کی تعلیم کے لیے جماعت احمدیہ اسے نظر انداز کر دیتی ہے جو ضلع بھر میں اول پوزیشن حاصل کرتا ہے، جو زمانہ طالب علمی میں ہی ایک ایسی مجبور و بے کس بچی جس کو ہر طرف سے مایوس لوٹنا پڑا، یہ طالب علم اسے گیارہ گھنٹوں کے اندر اندر قوت گویائی واپس آنے کی پیش گوئی کر دیتا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔

(روزنامہ وفاق لاہور مورخہ ۱۳ اگست ۱۹۹۶ء)

ایسے طالب علم کی تعلیمی امداد کے لیے میری عزیز جماعت احمدیہ کے پاس کچھ بھی نہیں، جس کے وجود سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچ رہا ہے حالانکہ وہ طالب علم جب صاحب حیثیت تھا، ان کو اپنی آمدنی میں سے باقاعدگی کے ساتھ چندہ ادا بھی کرتا رہا۔ ستم ظریفی یہ کہ اس بیچارے کے دیئے ہوئے چندہ میں ہی سے کچھ اس کی مدد کر

صفحہ 178

دی جاتی، مگر ایسا نہیں ہوا، چونکہ ظلم کرنے والے کا دل پتھر ہو جاتا ہے اور عقل کے تمام خانے خالی ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف بیرونی ممالک میں جماعت احمدیہ نے مفت ہسپتال اور سکول کھول رکھے ہیں۔ ثابت یہ کیا جاتا ہے کہ ایسا انسانی ہمدردی کے تحت کیا جاتا ہے۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں ہوگی کہ جو جماعت احمدیہ میں شامل ہو چکے ہیں، ان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے بلکہ خدانخواستہ اگر کوئی لکھ کر مدد کے لیے فریاد کرتا ہے تو الٹا اس کا مذاق اڑانے میں لذت محسوس کی جاتی ہے۔ اصل ان کا مقصد پیسے کے زور سے لوگوں کو اپنے عقائد میں شامل کرنا ہے۔

ربوہ دارالضیافت میں لنگر خانہ جاری ہے جس میں ہر خاص و عام کھانا کھا سکتا ہے۔ یہ فیض عام ۲۴ گھنٹے جاری رہتا ہے، مگر مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اس جماعت میں شامل ہو چکے ہیں، ان میں سے بعض تو عید کے دن بھی ایک گوشت کی بوٹی کو ترس رہے ہیں۔ بعض تو فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ خود میری بے بسی کا یہ عالم تھا کہ بعض دفعہ میرے بچوں کو پانی کے ساتھ روٹی کھا کر سکول جانا پڑا۔ جس گڈریے کو اپنی بھیڑوں کا ہی علم نہیں، کیا وہ گڈریا کہلوانے کا حقدار ہو سکتا ہے؟

ربوہ سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کی داستان جس کی غربت کا یہ عالم تھا کہ وہ بیچارہ بنیان اور انڈرویئر پہنے ہوئے تھا، تیسرا کوئی اس کے پاس کپڑا نہیں تھا، جماعت احمدیہ کے کارکن چندہ لینے کے لیے اس کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ گھر والا سوال کرتا ہے کہ آپ چندہ لے کر کیا کرتے ہیں؟ جواب ملتا ہے کہ غرباء اور بیواؤں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ پھر آج مجھ سے زیادہ دنیا میں کوئی غریب نہیں۔ جھپٹ کر ان سے وصول شدہ چندہ چھین لیتا ہے، جو اس وقت تقریباً ۴۰ روپے بنتے تھے اور ان سے کہتا ہے کہ میرے گھر میں کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں۔

اگلے روز اسے جماعت کے ایک عہدیدار جناب بھانیڑی صاحب کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ وہ بیچارہ ان کے سامنے بنیان اور انڈرویئر میں پیش ہوتا ہے۔ اس انسان نے ان کی یہ کرتوتیں دیکھیں۔ اس نے جماعت احمدیہ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دیا ہے اور ربوہ شہر تک چھوڑ دیا ہے۔

صفحہ 179

ذرا سنجیدگی کے ساتھ سوچئے، مرزا طاہر کی بیٹی کی شادی جو ڈش انٹینا پر دو گھنٹے ٹیلی کاسٹ کی گئی، اس پر کتنا خرچہ آیا ہو گا۔ کیا خوب ہوتا کہ اس رقم سے ہزاروں غریب بچیاں بیاہی جاتیں۔

دراصل مرزا طاہر کو اپنی بچپن والی غربت بھول چکی ہے جب ان کا فزیکل ایجوکیشن والا ٹیچر اچکن اتار کر (پی۔ ٹی) کرنے کے لیے کہتا ہے تو مرزا طاہر خاموش کھڑا رہتا ہے۔ جب اچکن اتاری گئی تو نہ نیچے بنیان اور نہ ہی قمیص تھی۔ آج غریب اگر اسے خط لکھتا ہے تو کہتا ہے کہ خبردار! آئندہ مجھے خط ہی نہ لکھیں۔

جب میں نے غریب احمدیوں کے حق میں تحریک کا اعلان کیا تو مجھے مرزا طاہر اور اس کے مفاد پرست ٹولے کی طرف سے ۲۰ ہزار روپے کی رقم پیش کی گئی، مگر میں نے یہ رقم ٹھکرا دی۔ چونکہ یہ امداد انسانی ہمدردی کی خوشبو سے خالی تھی، بلکہ غریب و بے کس افراد کی ہمدردی میں اٹھنے والی آواز کو دبانا مقصد تھا۔

بطریق اختصار اگر یہ عاجز اپنے موقف میں جھوٹا ہوتا تو ہرگز مرزا طاہر اور اس کے مفاد پرست ٹولے کو مباہلہ کی دعوت نہ دیتا۔ اس مباہلہ کے نتیجہ میں مرزا طاہر کا پاکستان میں قائم مقام امیر (مر گیا) اور ان دنوں مرزا طاہر بھی ایک ایسی شدید بیماری (آرٹریوسکلیروسس) کے مرض میں مبتلا ہو چکا ہے جس کا انکشاف جماعت احمدیہ کے اخبار ”الفضل“ نے مورخہ ۹۸-۳-۵ کو کیا۔ دیکھیں خدا کس کے ساتھ ہے، اس عاجز کو مباہلہ کے نتیجے میں سرکاری سروس مل جاتی ہے اور صحت مند جسم کے ساتھ خوش و خرم زندگی بسر کر رہا ہے۔

میری تحریک کا مقصد پیسہ اکٹھا کرنا نہیں اور نہ ہی اقتدار حاصل کرنا ہے بلکہ میں چاہتا ہوں کہ صاحب ثروت اور صاحب حیثیت قادیانی افراد حقیقت کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں اور اپنی دولت چند لٹیروں کے ہاتھوں میں نہ دیں بلکہ اپنے ہاتھوں سے غریب و بے کس افراد پر صرف کریں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو یہ خود بخود شاہی محلات سے باہر نکل آئیں گے، پھر ان کی آنکھوں کے پردے کھل جائیں گے کہ غریب کس طرح زندگی بسر کرتا ہے۔

میرا مرنا جینا صرف اور صرف مخلوق خدا سے ہمدردی اور انسداد بے رحمی

صفحہ 180

انسانیت ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ اپنا نقصان کر کے بھی دوسروں کو فائدہ پہنچایا جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ کسی صاحب کو یہ احساس ہی نہ ہونے پائے کہ میں غریب ہوں۔ اس کے دروازے پر جا کر اس کی مدد کی جائے۔ کوئی غریب میری طرح عید کے دن گوشت کی ایک بوٹی کو نہ ترسے ۔ کسی غریب کا بچہ مالی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے تعلیم نہ چھوڑ دے ۔ کسی غریب کی بچی جہیز اور رشتہ نہ ملنے کی وجہ سے گھر کی دہلیز پر ہی نہ بیٹھی رہے ۔ ہم سب ایسے بن جائیں جیسے ایک ماں کے پیٹ سے دو بھائی ۔

۲۰-۳-۱۹۹۸ سربراہ تحریک ڈبل مظلوم احمدی ڈاکٹر عبدالستار گاؤں جھبراں ضلع شیخوپورہ

صفحہ 181

یہودی اخبار کی تصویر نے مجھے

حیرت زدہ کر دیا

ممتاز صحافی نذیر ناجی کے تاثرات

بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ میں نے ختم نبوت کی پہلی تحریک میں حصہ لیا اور قید کاٹی تھی۔ اس وقت تک میں نے خود مرزائی نہیں دیکھے تھے۔ استاد گرامی مولانا محمد حسن مرحوم سے سنا کرتا تھا کہ ایک گروہ ایسا ہے جس نے اپنا ایک نبی بنا رکھا ہے اور اس کے باوجود خود کو مسلمان کہلوانے پر بضد ہے۔ اس وقت हमारा سیدھا سادھا مطالبہ یہ تھا کہ ان لوگوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔ یہ جنگ طویل عرصے تک لڑی گئی اور جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ ان کے دور میں اس گروہ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس سے زیادہ مرزائیوں کے خلاف جو کچھ بھی کہا جاتا تھا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ علمائے کرام زیادتی کرتے ہیں، جو ان لوگوں کی علیحدہ سماجی پہچان اور کلیدی آسامیوں

صفحہ 182

سے علیحدگی کے مطالبے کرتے ہیں۔ میرا خیال تھا کہ یہ باتیں بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہیں اور یہ حقوق ان لوگوں کو ملنا چاہئیں، لیکن گزشتہ روز ”نوائے وقت“ نے ایک تصویر شائع کر کے مجھے حیرت زدہ کر دیا۔ یہ تصویر ”یروشلم پوسٹ“ کے ۲۲ نومبر کے شمارے سے لی گئی ہے۔ اس میں اسرائیل کے صدر کے سامنے دو افراد مودب بیٹھے ہیں۔ ایک کا نام شیخ شریف احمد امینی اور دوسرے کا شیخ محمد حمید کاپر ہے۔ شیخ امینی اسرائیل میں اپنے گروہ کے نئے سربراہ شیخ حمید کا اسرائیل کے صدر سے تعارف کرا رہے ہیں اور مرزائیوں کو اسرائیل میں جو آزادیاں حاصل ہیں، ان پر اسرائیلی حکومت کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ یہ بڑی معنی خیز تصویر ہے۔

جن لوگوں کو اسرائیل کی اصلیت معلوم ہے اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں کہ ایک ایسے گروہ کے ساتھ وہاں کی حکومت کے اتنے قریبی اور گہرے تعلقات کا مطلب کیا ہو سکتا ہے جن میں رخصت ہونے والے سربراہ کو اسرائیل کا صدر ذاتی طور پر الوداع کہے اور آنے والے کا خیر مقدم کرے۔ اسرائیلی حکومت دنیا کا سب سے بڑا مافیا ہے۔ اس کا ہدف دنیا بھر کے مسلمان ہیں۔ یہ محض ایک ریاست نہیں، ایک مرکز ہے۔ صیہونیت کا مرکز، عالمی سرمایہ دارانہ تنظیموں کا مرکز، افریقہ اور ایشیا کی غریب اور کمزور قوموں کے خلاف سازشوں کا مرکز، امریکہ اور مغربی یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں کے حکمران طبقوں کو اپنے زیر اثر رکھنے کے لیے منصوبہ بندی کا مرکز اور بدترین عالمی دہشت گردی کا اڈہ۔ یہ محض الزام تراشی نہیں، وہ حقائق ہیں جنہیں امریکہ اور یورپ کے اہل دانش بھی تسلیم کرتے ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا ابلاغ کی دنیا ہے۔ آپ کی رائے، خیالات، نظریات اور سوچیں سب کا انحصار اطلاعات پر ہوتا ہے۔ حکومتوں اور اداروں کی پالیسیاں مالیاتی نظام کے تابع ہوتی ہیں۔ یہودیوں نے انہی دو شعبوں پر قبضہ جما رکھا ہے اور جس طرح چاہتے ہیں، ان طاقتور حکومتوں کو استعمال کرتے ہیں۔ ان سے تمام فوائد اٹھانے کے باوجود یہ ان کے بھی دوست نہیں۔ آپ کو یاد ہو گا کہ چند ہفتے قبل امریکہ میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والے چند افراد پکڑے گئے تھے۔ یہ اپنے سرپرست امریکہ کے دفاعی راز حاصل کر رہے تھے۔ یہ اتنا بڑا واقعہ تھا کہ اگر امریکی پریس آزاد ہوتا تو

صفحہ 183

وہاں ہلچل مچ جاتی، لیکن یہودی پریس نے تیسرے دن اسے خبروں سے غائب کر دیا۔

آپ شاید امریکی پریس کے آزاد نہ ہونے کی بات پڑھ کر چونکے ہوں۔ وضاحت میں صرف اتنا عرض کروں گا کہ امریکہ کے ذرائع کا غالب حصہ ہی یہودیوں کی ملکیت نہیں، پیشہ ور صحافیوں میں بھی انہی کی اکثریت ہے اور یہ لوگ اخبارات و جرائد اور دیگر میڈیا میں کلیدی آسامیوں پر قابض ہیں۔ اس کے بعد تقسیم و ترسیل کا سارا نظام یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ یہ جب چاہیں بڑے سے بڑے اخبار کو اٹھانے سے انکار کر کے مارکیٹ سے غائب کر دیں۔ اپنی اس طاقت کا وہ خوب استعمال کرتے ہیں۔

کسی اشاعتی ادارے میں یہ جرات نہیں کہ اسرائیل کے مظالم کے بارے میں سچی رپورٹ شائع کر سکے۔ صابرہ اور شتیلہ کے قتل عام انسانی تاریخ کے بدترین سفاکانہ واقعات تھے۔ ابتدائی چند روزہ خبروں کے بعد انہیں دبا دیا گیا لیکن یورپ کے دو شہروں میں چند افراد کا قتل دنیا کو جنگ کے کنارے پر لے آیا اور کچھ بعید نہیں کہ یہ وارداتیں بھی خود یہودیوں نے کی ہوں تاکہ لیبیا پر دباؤ بڑھایا جائے جو افریقہ اور عرب دنیا میں مظلوم لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ خود پاکستان کے پُر امن ایٹمی پروگرام کو دنیا بھر میں متنازعہ بنانے والے یہودی ہیں۔ یہ کمال کی بات نہیں کہ ہم جو ابھی تحقیق کے مراحل میں ہیں، دنیا بھر کے سامنے صفائیاں دینے پر مجبور ہیں اور اسرائیل جو بارہ ایٹم بموں کا ذخیرہ رکھتا ہے اور اس کا جارحیت کا ریکارڈ بھی بدترین ہے، اس کا نام تک نہیں لیا جاتا۔

ایک ایسے ملک کی حکومت کے ساتھ اتنے قریبی، خوشگوار اور دوستانہ تعلقات رکھنے والا گروہ مسلمانوں کا دوست ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ نہیں کہ مرزائیوں پر شک کرتا ہوں، میں تو اسرائیلیوں پر یقین رکھتا ہوں۔ وہ اپنے مفاد کے سوا کسی پر مہربان نہیں ہوتا۔ یہ سوچنا مسلمانوں کا کام ہے کہ ان لوگوں سے اسرائیل کیا مفاد حاصل کر رہا ہو گا؟ قارئین یقیناً اس بات سے باخبر ہوں گے کہ اسرائیل پاکستان کو اپنے بنیادی دشمنوں کی صف میں شمار کرتا ہے۔ اسرائیل کے فوجی ماہرین نے اس موضوع پر بہت کام کیا ہے کہ پاکستان سے اسے کیا کیا خطرات پیش آسکتے ہیں اور ان خطرات کو کم کرنے کے لیے اسرائیل کو کیا کرنا چاہیے؟ دنیا بھر کے یہودی ادارے

صفحہ 184

پاکستان میں عدم استحکام کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی حکومت جب کسی گروہ کی پذیرائی کرتی ہے، اسے اپنے ہاں کام کرنے کی آزادی فراہم کرتی ہے تو کیا اس کے عوض وہ کچھ حاصل نہیں کر رہی ہوگی؟ یہ امر شک و شبہ کی گنجائش سے بالا ہے کہ یہودی گھاٹے کا سودا نہیں کرتا۔

علمائے کرام تو مرزائیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کرنے کے مطالبات عقائد کے حوالے سے کرتے ہیں لیکن پاکستان کے دفاع کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان لوگوں سے چوکس رہا جائے۔ یہ کچھ بھی نہ کرتے ہوں تو بھی ان سے محتاط رہنے کی یہی وجہ کافی ہے کہ ان پر اسرائیل اور بھارت کی حکومتیں مہربان ہیں۔ پاکستان میں ان کی تنظیم کا طریقہ کار بڑا پراسرار ہے۔ یہ لوگ جس ملک میں بھی ہوں، ایک مرکز کے تابع ہیں اور اس کی ہدایات کو ہر چیز پر ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کو میرے قلم سے یہ باتیں کچھ عجیب لگیں گی لیکن یاد کریں کہ اگر اس صدی کے اوائل میں فلسطین کے مسلمانوں نے اس طرح سوچ لیا ہوتا جس طرح میں آج مرزائیوں کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو شاید وہ اس طرح جلاوطن نہ ہوتے۔ وہ اکثریت میں تھے اور غافل تھے۔ یہودیوں نے آہستہ آہستہ معاشرے کے ہر شعبے میں اپنی جڑیں پھیلائیں اور پھر اقلیت میں ہونے کے باوجود ایک پوری قوم کا قتل عام کرا دیا۔ شروع میں کوئی خدشہ ظاہر کرتا تو وہ اتنا ہی معمولی نظر آتا جتنا آج آپ کو میری بات نظر آئے گی۔ ہمارے روشن خیال اور ترقی پسند لوگ اس قسم کی باتوں کو فیشن کے خلاف سمجھتے ہیں۔ فلسطین کے دانشوروں نے بھی یہی سمجھا ہوگا۔ ان کی قوم کا انجام سامنے ہے۔ جو گروہ اسرائیل کا دوست ہے، اسے معمولی اور کمزور تصور نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی سب سے منظم مالی، فوجی اور ذرائع ابلاغ پر قابض قوتیں ان کے ساتھ ہیں۔ یہ قوتیں پاکستانی عوام کی دشمن ہیں۔ جب وہ اس ملک کے ایک گروہ کی سرپرستی کر رہی ہوں تو یہ جاننے کے لیے زیادہ عقل کی ضرورت نہیں کہ وہ گروہ کیا خدمات انجام دے رہا ہوگا؟

(نوائے وقت، ۱۶ جنوری ۱۹۸۶ء)

صفحہ 185

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا مسئلہ

مغل سلطنت کے زوال کے بعد جب انگریزوں نے ہندوستان میں قدم جمائے تو ان کے سامنے ہندوستانی اقوام میں دو قومیں سامنے آئیں: (۱) مسلمان (۲) ہندو۔ مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی۔ مسلمانوں میں حکومت کا دبدبہ اور اس کا نشہ باقی تھا۔ انگریزوں نے ہر مرحلہ میں ہندو کو آگے بڑھانے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو قدم قدم پر پسماندہ رکھنے اور کمزور رکھنے کی کوشش کی۔ ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر کی کتاب ”ہندوستانی مسلمان“ میں اس کے تفصیلی کوائف دیکھے جاسکتے ہیں۔ مسلمان مذہب و اخلاق کے لحاظ سے ممتاز تھے۔ اکابر علمائے دین اور مصلحین ملت کی انفاس قدسیہ ہندوستانی مسلمانوں نے اپنے سینوں میں جذب کی تھیں۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا: قرآن عرب میں نازل ہوا، مصر میں پڑھا گیا، ہندوستان میں سمجھا گیا۔ شاہ ولی اللہ ابن عبدالرحیم الدھلوی جب ہندوستان کے علوم سے سیراب ہو کر عرب پہنچے تو ان کے استاد گرامی شیخ ابوطاہر کردی مدنی رحمتہ اللہ علیہ شاہ صاحب کے علوم و فنون سے متاثر ہو کر اور علوم عقلیہ و نقلیہ کی گہرائی و گیرائی دیکھ کر بے اختیار چیخ اٹھے ”ھو یصحح منی اللفظ وانا اصحح منہ المعنی“ یہ صاحبزادے مجھ سے الفاظ حدیث کی تصحیح کرتے ہیں اور میں ان سے معنی و مفہوم حدیث کی تصحیح کرتا ہوں۔ پھر مسلمانوں کے کان شروع ہی سے قرآن مجید کی آیات جہاد اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ ”الجنہ تحت ظلال السیوف“ سے آشنا تھے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ ہدایت کی تابناک زندگیاں ان کا مرکز و

صفحہ 186

محور تھا۔ انگریزوں نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اس کے لیے طویل منصوبہ بندی کی۔ انگریزوں کے ماتحت جو تعلیمی ادارے ہندوستان کے طول و عرض میں انگریزوں کی زیر سرپرستی کام کر رہے تھے، ان سے کتاب الجہاد خارج کی۔ ہدایہ سے ابواب الجہاد نصاب تعلیم سے خارج کیا۔ ان لوگوں کو شمس العلماء کا خطاب دیا، جنہوں نے انگریزوں کی کسی بھی نوع سے خدمت کی۔ راس کماری سے خیبر تک سارے مسلمان امت مسلمہ واحدہ تھے۔ ان میں وہابی اور غیر وہابی کا فتنہ کھڑا کیا تاکہ مسلمانوں کی صلاحیتیں اور جذبہ حریت و جہاد انگریزوں کے خلاف صرف ہونے کے بجائے آپس میں صرف ہوں۔ جن لوگوں نے یہاں تقلید و عدم تقلید کی بحث اٹھائی، ان لوگوں کی ہمت افزائی کی گئی کہ اس طرح مسلمان اصل تبلیغ سے ہٹ کر آمین، رفع یدین کے مسائل میں پڑے رہیں۔ یہاں تک کہ شاہ اسحاق کی گدی پر ایک شخص کو بٹھا دیا گیا اور اس کو شمس العلماء کے لقب سے نوازا گیا۔

ابھی انگریز کا جذبہ انتقام سرد نہیں پڑا کیونکہ مسلمانوں کا کعبہ عبودیت مکہ مکرمہ اور مرکز عقیدت مدینہ منورہ تھا۔ ان دونوں مقامات سے مسلمانوں کا روحانی تعلق تھا۔ ضرورت تھی، انگریز کے نقطہ نگاہ سے کہ عرب سے تعلق منقطع کیا جائے اس کیلئے مختلف مراحل سے گزر کر مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا گیا اور اس نے نبی موعود اور مسیح قادیان کے دعاوی کے سایہ میں خود کو پیش کیا۔ انگریز سمجھتا تھا کہ مسلمان اپنی تاریخ سے واقف ہیں۔ مسلمان نے اپنی تاریخ میں کبھی بھی کسی مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا، اس لیے مرزا کے قادیان کو ضرورت سے زیادہ تحفظ فراہم کیا۔ اس لیے وہ مسلمانوں کے غیظ و غضب سے بچ گیا، ورنہ اس کا حشر بھی مسیلمہ کذاب اور اس کے ساتھیوں سے مختلف نہیں ہوتا۔ مرزا قادیانی کو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے کبھی برداشت نہیں کیا۔ آخر کار علمائے ربانین کی محنت اور سعی پیہم نے اقلیت قرار دلوا دیا۔ البتہ قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں اور مذموم حرکتوں نے چین سے بیٹھنے نہیں دیا اور ان کی حرکتیں برابر جاری رہیں۔ آخر کار حکومت پاکستان نے مارشل لاء کے دوران ایک مفصل آرڈی نینس جاری کیا، جس میں ان کو اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے کی ممانعت کی گئی۔ تاحال ان کی یہودی ذہنیت اور مجوسی

صفحہ 187

حرکتیں جاری ہیں، چنانچہ اس سلسلہ کی کارروائی متعصب ترین حکومت اور نسلی امتیاز کی قوم جنوبی افریقہ کی حکومت میں ان کی طرف سے مقدمہ دائر کیا گیا۔ اس سے فیصلہ جیسا کچھ ہونا تھا، ہوا۔ مسلمانوں کو اپنے معاملات کے فیصلے کافروں کی عدالت میں لے جانا منع ہے۔ دنیا کو معلوم ہوگیا کہ قادیانیوں کا تعلق اسلام دشمن عناصر سے مضبوط ہے۔ اسرائیل جو عالم اسلام کیلئے ناسور ہے، ان سے قادیانیوں کا گہرا تعلق ہے۔ قادیانیوں اور بہائیوں کے ہیڈ کوارٹر اسرائیل میں ہیں۔ اسرائیل کے زیر سایہ قادیانیت اور بہائیت کے سنگاسن جمیں گے۔ قادیانیت اور بہائیت کے پھریرے اب اسرائیل کے زیر سایہ لہرائے جائیں گے۔ قاتلہم اللہ انی یوفکون۔ حکومت پاکستان کیلئے کرنے کا کام یہ ہے کہ سارے عالم اسلام کے علماء اور اہل الرائے کو جمع کر کے ان کے سامنے قادیانیت کے مسئلہ کو رکھے اور جس طرح یہ لوگ امت مسلمہ سے کٹے ہوئے ہیں، ان کو ہمیشہ کیلئے امت مسلمہ سے کاٹ دے اور سارے عالم اسلام کی پالیسی اس مسئلہ میں ایک ہی ہو۔ ہر ملک میں ایک ہی پالیسی ہو۔

ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کا مسئلہ بھی قابل غور ہے۔ یہ شخص بھی قادیانی ہے، پکا قادیانی ہے، پاکستان آتا ہے تو ”ربوہ“ سے براہ راست اس کا تعلق رہتا ہے۔ اب اس کو یہودی، قادیانی، عالم اسلام میں تفریق کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ پتا نہیں ہے، یہ شخص کیا گل کھلانے والا ہے۔ اس کے متعلق بھی فیصلہ کرنا چاہیے اور اس سے بھی ہمیشہ کے لیے گلو خلاصی کرنا چاہیے۔ اس کو یہودیوں نے ڈگری اس لیے دی ہے تاکہ اس سے کام لیا جائے۔ اگر کوئی اس کی سند سے متاثر ہے تو دنیا میں یہودی، عیسائی اس سے بھی زیادہ سند یافتہ پڑے ہوئے ہیں۔ ایک مسلمان کے نزدیک قادیانی زیادہ اکفر ہے۔ یہودی اور عیسائیوں کے مقابلہ میں پاکستان کے صدر ضیاء الحق خواہ مخواہ اس قادیانی شخص سے متاثر ہیں۔ صدر صاحب کو اپنے ایمان کی خیر منانا چاہیے۔ ایک قادیانی سے محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سارے اعمال صالحہ کو حبط کر سکتا ہے۔

اللہم انا نعوذبک من الحور بعد الکور۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، جلد ۴، شمارہ ۳۶، فروری ۱۹۸۶ء از مفتی ولی حسن ٹونکی)

صفحہ 188

کہوٹہ پر بھارت اسرائیل حملہ کا خطرہ

عالمی پریس میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ حملہ کی صدائے بازگشت سنی گئی ہے۔ لندن سے شائع ہونے والے ایک جریدہ کے مطابق اسرائیل نے پاکستان کے ایٹمی منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک وسیع سازش تیار کی ہے، جس کا پتا اس وقت چلا جب پاک فضائیہ میں زیر تربیت ایک ہواباز مبینہ طور پر اسرائیل کے لیے کام کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ برطانوی جریدہ کے مطابق کہوٹہ پلانٹ پر بھارت اور اسرائیل کے مشترکہ حملہ کا منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے اور کسی بھی وقت حملہ کا خطرہ موجود ہے کیونکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ پاکستان ایٹم بم بنانے کے قریب ہے، چنانچہ اس خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لیے کہوٹہ کے اردگرد حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔

پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر بھارت اور اسرائیل کی طرف سے حملہ کے خدشات کوئی نئی بات نہیں۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کی ایٹمی پالیسی پر بار بار نکتہ چینی اور پاکستان کی متعدد یقین دہانیوں کے باوجود شک و شبہ کا اظہار ہی نہیں کیا گیا بلکہ بیرونی ممالک اور پریس میں اسرائیل کے تعاون سے پاکستان کے خلاف زبردست مہم چلائی گئی۔ اس مہم کا مرکز امریکہ رہا، جہاں یہودی لابی بے حد مضبوط اور موثر ہے۔ امریکہ کو اس پاکستان مخالف مہم کا مرکز بنانے کا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان کے لیے امریکی فوجی امداد کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کی جائیں۔ اس امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کرنے میں تو کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اس لیے کہ پاکستان کو اسلحہ کی ترسیل اور فراہمی میں خود امریکہ کے سیاسی اور تجارتی مفادات کار فرما ہیں۔

صفحہ 189

امریکہ کی پاکستان کے لیے فوجی امداد افغانستان پر روسی حملہ کے بعد بحال ہوئی ہے اور اس حملہ سے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو جو سنگین خطرات لاحق ہوئے ہیں، امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اس راہ میں آخری موثر رکاوٹ ہے، اس لیے فوجی امداد کی بحالی اور اسلحہ کی ترسیل خود امریکہ کے اپنے مفاد میں ہے۔ البتہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے متعلق شکوک و شبہات نے امریکی انتظامیہ کو بھی متاثر کیا ہے اور اعلیٰ ترین سطح پر امریکہ کی طرف سے پاکستان کی ایٹمی پالیسی کے متعلق کئی مرتبہ سوال اٹھایا گیا اور ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی صورت میں امریکی فوجی امداد بند کرنے کی دھمکی بھی دی گئی، لیکن آج تک امریکہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی کی ایجنسی سمیت کوئی بھی یہ ثابت نہیں کر سکا کہ پاکستان ایٹمی اسلحہ کی تیاری میں مصروف ہے، بلکہ پاکستان میں پائے جانے والے توانائی کے بحران کے بعد تو خود امریکہ اور بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کے لیے ایٹمی توانائی کا حصول ناگزیر ہے۔

پاکستان پر بھارت اور اسرائیل کے جس مشترکہ حملہ کے مبینہ خدشہ کا اظہار اور جس سازش کی نشاندہی کی گئی ہے، پاکستان نہ اس سے آنکھیں بند کر سکتا ہے اور نہ اس خدشہ کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ اسرائیل برادر مسلمان ملک عراق کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے انہیں تباہ کر چکا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر بھارتی فضائیہ کے حملہ کی ناکام کوشش کی صدائے بازگشت عالمی پریس کے توسط سے بھی سنی گئی تھی۔ عربوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر پاکستان نے جس طرح ہر مرحلہ پر کھل کر عربوں کے موقف کی حمایت کی اور ان کی امداد کی ہے اس پر اسرائیل کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان عربوں سے بڑھ کر عرب ہے۔ اسرائیل کی طرف سے براہ راست پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کی دھمکی کے بعد بھارت اور اسرائیل کے مابین پاکستان کے خلاف جارحیت کے منصوبہ میں پاکستان دشمنی ایسی قدر مشترک ہے جو انہیں پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحیت کے ارتکاب پر متحد رکھتی ہے۔ عراق اور تیونس پر اسرائیل کے فضائی حملوں نے اسرائیلی ہوا بازوں میں جو خود اعتمادی پیدا کی ہے، وہ انہیں پاکستان پر بھی حملہ کی تحریص دلا سکتی ہے لیکن

صفحہ 190

اس کے لیے وہ بھارت کی سرزمین، ہوائی اڈوں اور فضاؤں کو استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔ مبینہ اطلاعات کے مطابق بھارت پاکستان کے خلاف اس سازش میں برابر کا شریک ہے۔

برطانوی جریدے کے توسط سے منظر عام پر آنے والی اطلاعات کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ مبینہ طور پر پاک فضائیہ کے ایک زیر تربیت ہواباز کو سازش کی ایک اہم کڑی قرار دیا گیا ہے۔ ملت اسلامیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ دشمنوں کے مقابلہ میں امت مسلمہ کو سب سے زیادہ ہزیمت اسی وقت اٹھانی پڑی جب امت کی اپنی صفوں میں ضمیر فروشوں، قوم فروشوں اور ملت فروشوں کو گھسنے کا موقع مل گیا۔ سقوط بغداد سے لے کر جنگ پلاسی، سقوط میسور، ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ہزیمت اور آخر سقوط ڈھاکہ تک میں قوم فروشوں کا کردار بڑا نمایاں نظر آتا ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ ہماری صفوں میں کہاں کہاں ایسے افراد گھسے ہوئے ہیں جو قوم کو کسی بھی المیہ سے دوچار کرنے میں دشمن کے ایجنٹ کا کردار ادا کرنے پر مامور ہیں۔ کہوٹہ کی ایٹمی تنصیبات پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئروں کی شب و روز کی محنت، لگن، تجربے اور کمال مہارت کا مظہر ہیں، اس لیے دشمنوں کی نگاہوں میں کھٹک رہی ہیں۔ ان کی کماحقہ حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے اور یہ توقع رکھنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ حکومت اس ذمہ داری سے بہر حال عہدہ برآ ہوگی۔

اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی رازوں سے آگاہ کرنے کی سازش میں مبینہ طور پر ملوث پاک فضائیہ کے ایک ہواباز کی خبر کے بعد قدرتی طور پر ذہن اس طرف جاتا ہے کہ پاکستان میں وہ کون سا طبقہ ہے جو اسرائیل کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہے اور اس کے لیے حیلے بہانے سے جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں اس طبقے کا کردار بھی بڑا واضح رہا ہے۔ حکومت کو اس پہلو سے بھی اس سارے معاملے کا جائزہ لینا چاہیے اور اگر ملکی و قومی مفادات اجازت دیں تو ایسے افراد کو طشت از بام کرنا چاہیے جو پاکستان کی سالمیت، بقا اور آزادی کے خلاف اس شرمناک سازش میں ملوث پائے جائیں۔

(اداریہ روزنامہ ”جنگ“ کراچی، ۲۴ مئی ۱۹۸۶ء)

صفحہ 191

پاکستان میں عظیم تر پنجاب تحریک اور

قادیانی ٹولہ

اندیشہ ہے کہ سکھ فوجی اور خالصتانی گوریلے پاکستان میں سیاسی پناہ گزین نہ بن جائیں جیسا کہ خود بھارتی حکومت کی ازحد خواہش اور کوشش بھی ہے کیونکہ صرف اسی طرح راجیو گاندھی حکومت معاہدہ شملہ ختم کر کے آزاد سندھو دیش، آزاد بلوچستان، آزاد پختونستان اور عظیم تر آزاد پنجاب کی تحریکوں کو اعلانیہ تیز تر کر سکتی ہے۔ سکھ گوریلوں کا تعاقب کرنے کے بہانے اسرائیل اور جنوبی افریقہ کی طرح بھارتی حکومت تعاقبی مہم بھی شروع کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پاک بھارت جنگ چھڑنے کے امکان کو بھی ہرگز مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ راجیو حکومت آزاد خالصتان کی تحریک کو از خود عظیم تر آزاد پنجاب کی تحریک میں بدلنے کی خاطر خاصی سرگرم ہے۔ پاکستان میں آزاد خالصتانی سکھ لابی کے لیے کام کرنے والوں میں مرزائی، احمدی اور لاہوری قادیانی فرقے کے لوگ زیادہ سرگرم ہیں۔ ایک قادیانی دانشور نے ”امرتسر جل رہا تھا“ کے زیر عنوان جو کتاب لکھی ہے، اس کا دیباچہ ایک ایسے شخص نے تحریر کیا ہے جو تقسیم کے خلاف ہے اور آزاد خالصتان کا حامی ہے، اور امریکہ

صفحہ 192

میں خالصتانی لابی کے ادیب کی حیثیت سے کام بھی کر چکا ہے۔ کتاب کے دیباچے میں امرتسر کو بیت المقدس کا نام دیا گیا ہے اور لکھا گیا ہے کہ ”امرتسر میرا بچھڑا ہوا یروشلم ہے اور میں اس کی دیوار گریہ ہوں“ یعنی جس طرح اسرائیل کے یہودی بیت المقدس پر سلطنت داؤدی کا ستارہ داؤد چمکتا ہوا دیکھنے کے خواہاں ہیں اور دیوار گریہ کے پاس روتے ہیں اور اپنے گناہوں اور سابقہ غلطیوں پر نادم ہوتے ہیں، اسی طرح عظیم تر آزاد پنجاب کی تحریک کے حامیوں نے اپنا راستہ اینگلو امریکی بلاک کے حامی بن کر اب آزاد خالصتان کی تحریک سے جوڑ لیا ہے۔ گزشتہ ۶ برسوں کے دوران، کینیڈا، آسٹریلیا، ہالینڈ، برطانیہ اور امریکہ جانے والے پاکستانی دانشوروں کی اکثریت، آزاد خالصتان کی حامی سکھ لابی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے جن میں اکثریت پیپلز پارٹی والوں، احمدی قادیانی مرزائیوں یا ان کے ہمدردوں اور بعض چین نواز کمیونسٹوں کی ہے۔ پاکستان کے باہر تمام احمدی اور قادیانی دفاتر خالصتان کی آزاد حکومت یا عظیم تر پنجاب کی تحریک کے سفارت خانے اور سفارتی مشن کا خاموش کردار ادا کر رہے ہیں۔ کم از کم آزاد خالصتان کے بارے میں نشر و اشاعت کا سارا کام مرزائیوں کے ہاتھ میں ہی ہے۔ ہانگ کانگ سے بھی آزاد سکھستان کے لیے سرمایہ براستہ کشمیر پہنچایا جا رہا ہے۔

(بہ شکریہ ”چٹان“ لاہور)

صفحہ 193

مرزائیوں کی خوفناک سیاسی چالیں

از قلم: مولانا عبدالرحیم اشعر

مرزائی کیا کر رہے ہیں؟

اس سوال کا جواب تو آپ کو آئندہ صفحات کے پڑھنے سے معلوم ہو جائیگا کہ مرزائی کس قسم کی سازشیں کر رہے ہیں اور ان کی یہ ”سیاسی چالیں“ کب سے ہیں؟ انگریزوں نے جس دن سے امت مرزائیہ کو جنم دیا ہے اسی دن سے یہ جماعت اپنے جھوٹے نبی (مرزا غلام احمد) کی پیروی کرتے ہوئے انگریزوں کی خیر خواہی پورے طور پر کر رہی ہے۔ ان چند اوراق کے پڑھنے سے جہاں آپ کو مرزائیوں کی سازشوں کا علم ان کے اپنے بیانات کی روشنی میں ہو جائے گا وہاں یہ بات بھی پورے طور سے منکشف ہو جائے گی کہ مرزائیوں کا یہ دعویٰ (کہ ہماری جماعت مسکین بے ضرر اور مذہبی جماعت ہے اور بیرون ملک میں صرف تبلیغ دین کے لئے جاتی ہے) کس قدر جھوٹا غلط اور فریب دہ ہے

آئندہ صفحات جن میں اکثر مرزائیوں کے اپنے بیانات (بلا تبصرہ و غیر مربوط ) درج کئے گئے ہیں۔ صاف بتا رہے ہیں کہ مرزائی فرقہ ایک خطرناک قسم کا سیاسی گروہ ہے جو اپنی حکومت کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اگر حکومت پاکستان نے اس فرقہ کی کڑی نگرانی نہ کی تو بہت ممکن ہے کہ یہ فرقہ آگے چل کر (خدا نخواستہ) پاکستان کے لئے کسی ایسی مصیبت کا سبب بن جائے جس کی تلافی پھر ناممکن ہو جائے۔

وما علینا الا البلاغ

”ملاحظہ ہو الفضل ۱۶ جنوری ۱۹۵۲ء

اگر ہم ہمت کریں اور تنظیم کیساتھ محنت سے کام کریں تو ۵۲ میں ہم انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔۔۔ لہٰذا ۱۹۵۲ء کو گذرنے نہ دیجئے جب تک کہ احمدیت و مرزائیت کا رعب دشمن (مسلمان) اس رنگ میں محسوس نہ کرے کہ اب احمدیت (مرزائیت) مٹائی نہیں جاسکتی اور مجبور ہو کر احمدیت کے آغوش میں آگرے۔

صفحہ 194

اصل عبارت دیکھیں ”جب تک سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں، اُن سے جماعت مرزائیہ پوری طرح کام نہیں لے سکتی مثلاً موٹے موٹے محکموں میں سے فوج ہے پولیس ہے۔ ایڈمنسٹریشن ہے۔ ریلوے ہے۔ فنانس (Finance) ہے۔ اکاؤنٹس ہے۔ کسٹمز ہے انجینئرنگ (Engineering) ہے یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں جنکے ذریعہ جماعت (مرزائیہ) اپنے حقوق محفوظ کراسکتی ہے۔ پیسے بھی اس طرح کمائے جاسکتے ہیں کہ ہر صیغے میں ہمارے آدمی موجود ہوں اور ہر طرح ہماری آواز پہنچ سکے۔

(الفضل ۱۱ جنوری ۵۲ء)

جب تک تمہاری اپنی حکومت نہ ہو تمہیں امن نہ ملے گا

(مرزائیوں کو خلیفہ کی تنبیہ)

تم (مرزائی) اس وقت تک امن میں نہیں ہو سکتے جب تک تمہاری اپنی بادشاہت نہ ہو۔

(الفضل ۲۵۔اپریل ۱۹۳۰ء)

(خلیفہ قادیانی کا مرزائیوں کو حکم)

احمدیوں (مرزائیوں) کے پاس چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا نہیں جہاں احمدی ہی احمدی ہوں جسمیں کوئی غیر (دوسرا مسلمان نہ ہو اس وقت تم اپنے مطالبہ کے امور جاری نہیں کر سکتے“

(الفضل مارچ ۱۹۲۲ء خطبہ محمود)

واضح رہے کہ الفضل کی کسی اور اشاعت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ قادیان کی نظر اس مقصد کے لئے صوبہ بلوچستان پر ہے۔

اصل عبارت ملاحظہ ہو ” (جو)ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جائے گا۔ کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے۔ اور حلال زادہ نہیں“ (انوارالاسلام ۷۳)

۱۰٪ حصہ تو کنجریاں بھی دیں گی (خلیفہ قادیانی)

صفحہ 195

”ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ جب 1/10 دسویں حصہ تو کنجریاں بھی داخل کرنے کو تیار ہو جاویں گی اس وقت حکومت احمدیت (مرزائیت) کی ہوگی۔ ارشادات خلیفہ قادیانی ضمیمہ الوہیت ۲۷

(خلیفہ قادیانی)

”ہمارے ہاتھ حکومت آ جاوے گی احمدی امرا اور بادشاہ ہوں گے تو اس وقت دسویں حصہ کی وصیت کافی نہ ہوگی“۔

(ضمیمہ الوہیت ۲۶)

ہم ایک دن کے اندر عبرتناک سزادیں۔

(خلیفہ قادیانی)

”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اس کو ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سنے اور عمل کرنے پر تیار نہ ہو اس کو عبرتناک سزادیں۔ اگر حکومت پاس ہوتی تو ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے

(تقریر خلیفہ قادیانی الفضل قادیان ۲ جون ۱۹۳۶ء جلد ۲۴ صفحہ ۲۷۶)

عنقریب مسلمان میرے سامنے مجرموں کی حیثیت سے پکڑے ہوئے پیش ہونگے۔

(خلیفہ محمود)

وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ (مسلمان) مجرموں کی حیثیت میں ہمارے سامنے پیش ہونگے۔

(تقریر خلیفہ محمود سالانہ جلسہ دسمبر ۱۹۵۱)

یہ (پاکستان اور ہندستان) کی تقسیم اصولا غلط ہے

(الفضل)

”ہم نے یہ بات پہلے بھی کئی بار کہی اور اب بھی کہتے ہیں کہ۔ ہمارے نزدیک یہ تقسیم (پاکستان بننا) اصولا غلط ہے“

(الفضل ۱۱ اپریل ۱۹۴۷ء ۱۶ اپریل ۱۹۴۷ء)

پنڈت نہرو ! ہم آپکی حکومت کے خیر خواہ (وفادار) ہیں

(خلیفہ محمود)

مسٹر گاندھی جب ہندوستان میں مارے گئے تو مرزائیوں کے امام نے پاکستان سے پنڈت نہرو کو پیغام بھیجا اس میں لکھا اور قسم کھا کر لکھا ”خدا جانتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ہمیں ہمارے مقدس مرکز (قادیان) سے زبردستی نکالا گیا ہے۔ ہم آپ کے اور آپ کی حکومت کے خیر خواہ ہیں“۔

(الفضل ۲ فروری ۴۸ء)

پنڈت نہرو سے خیر خواہی اس لئے ہے کہ مرزا محمود ابھی تک قادیان جانے کے لئے از حد بے تاب ہے۔ ملاحظہ ہو پیغام مرزا محمود بر موقعہ جلسہ سالانہ منعقدہ

صفحہ 196

دسمبر ۴۹ء (قادیان) پاکستان کے قادیانی قادیان آنے کے لئے بے تاب ہیں۔

جاویں

(مرزائیوں کا اخبار الفضل)

عبارت ملاحظہ ہو۔ ’’میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے لیکن قوموں کی منافرت کی وجہ سے عارضی طور پر الگ بھی کرنا پڑے یہ اور بات ہے۔ ہم ہندوستان کی تقسیم پر رضامند ہوئے تو خوشی سے نہیں مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں‘‘۔ (مرزا بشیر الدین الفضل ۱۶؍مئی ۱۹۴۷ء)

(مرزائیوں کا اخبار الفضل کا مطالبہ)

مرزائی اخبار الفضل خود کہتا ہے کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ نہیں مل سکتے کیونکہ ہم مرزا کو نبی مانتے ہیں اور مسلمان اسے نبی نہیں مانتے۔ اس لئے ہم مسلمانوں سے جدا اور علیحدہ فرقہ ہیں۔

اصل عبارت ملاحظہ ہو۔

جب کوئی مصلح آیا تو اس کے ماننے والوں کو نہ ماننے والوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔ اگر تمام انبیاء ماسبق کا یہ فعل قابل ملامت نہیں تو مرزا غلام احمد کو الزام دینے والے انصاف کریں کہ اس مقدس ذات مرزا غلام احمد پر الزام کس لئے؟

پس جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں موسیٰ علیہ السلام کی آواز اسلام کی آواز تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ان کی اور سیدنا مولانا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز اسلام کا صور تھا۔ اس طرح آج قادیان سے بلند ہونے والی آواز اسلام کی ہے (اخبار الفضل قادیان جلد نمبر ۷ ص ۶۰‘ ۲۷مئی ۱۹۲۰ء) الفضل کہتا ہے کہ قادیان میں ایک نبی (مرزا) نے آواز بلند کی ہے۔ مسلمانوں نے اسے نہیں مانا ہم (مرزائیوں) نے مان لیا ہے اس لئے ہم مسلمانوں سے علیحدہ فرقہ ہیں۔

عبارت ملاحظہ ہو’’اس ایجی ٹیشن (تحریک پاکستان) قانون شکنی اور اسٹرائک میں احمدیوں کو (مرزائیوں) مسلم لیگ کا ساتھ نہ دینا چاہیے۔

(خطبہ محمود یکم فروری ۱۹۴۷ء)

صفحہ 197

اصل عبارت ملاحظہ فرمادیں۔ ” (بشیر الدین) نے اپنے نمائندہ کی معرفت ایک بڑے ذمہ دار انگریز کو کہلا بھیجا تھا کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے حقوق بھی تسلیم کئے جاویں جس پر اس افسر نے کہا وہ تو اقلیت ہیں اور تم مذہبی فرقہ ہو۔ اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی بھی تو مذہبی فرقہ ہیں۔ جس طرح ان کے حقوق تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اس طرح ہمارے بھی تسلیم کئے جاویں۔ تم ایک پارسی پیش کر دو میں اسی کے مقابلے میں دو دو احمدی پیش کرتا جاؤں گا

(الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۴۶ء)

(۱۶) مرزائیوں کا انگریزوں کے ساتھ گٹھ جوڑ

مرزائیوں کا امام مرزا غلام احمد انگریزوں اور حکومت برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرتے ہوئے اپنی امت کو حکم دیتا ہے کہ انگریزوں کی اطاعت اور تابعداری میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ اور خدا تعالیٰ کی طرح انگریز کی اطاعت بھی فرض اور واجب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرظفر اللہ خاں ہمیشہ انگریزوں کی خاطر کرتا رہتا ہے اور مصر و ایران کے معاملے میں مسلمان حکومتوں کے مفاد کو ٹھکرا دیتا ہے۔ ملاحظہ ہو شہادت القرآن۔

تعالیٰ کی اطاعت کریں دوسرے اس سلطنت برطانیہ کا جس نے امن قائم کیا ہو۔ جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے۔

(اشتہار گورنمنٹ کی توجہ کے لائق)

(ص ۳ ج ۳ ملحقہ شہادت القرآن مصنفہ مرزا غلام احمد)

رسول سے سرکشی کرتے ہیں۔ (شہادت القرآن ص ۱۸)

ہر ایک (مرزائی) مسلمان کا فرض ہے۔

(تبلیغ رسالت جلد ششم ۶۵)

(برکات خلافت ۶۵)

(۱۷) مرزائی جماعت حکومت برطانیہ کی جاسوس جماعت ہے۔

(حکومت جرمنی بحوالہ الفضل)

ملاحظہ فرمادیں اخبار الفضل مرزائیوں کا اخبار۔

PDF 198

”ایک دن برلن (جرمنی) میں احمدیوں (مرزائیوں) نے ایک پارٹی کا انتظام کیا اور بڑے افسروں کو پارٹی میں شمولیت کے لئے دعوت نامے بھیجے اور ایک جرمن وزیر بھی اس پارٹی میں شامل ہوا تو حکومت جرمنی نے اس جرمن وزیر سے جواب طلبی کی کہ برطانیہ کی جاسوس جماعت (جماعت مرزائی) کی پارٹی میں کیوں شامل ہوئے؟

(الفضل قادیان ۱۳ اپریل ۱۹۳۴ء)

”حکومت افغانستان نے دو احمدیوں (مرزائیوں) پہ مقدمہ چلایا کہ وہ برطانیہ کے جاسوس ہیں۔“ (اخبار الفضل قادیان ۳ مارچ ۱۹۲۰ء

ہونا وہی ہے جو میں نے کہا ہے اور وہی ایک دن ہم کر کے رہیں گے۔

(مرزا محمود کا تازہ خطبہ)

الفضل لاہور۔ ۲۹ جولائی ۵۲ء ص ۶ میں تازہ خطبہ مرزا محمود کا ملاحظہ فرماویں اور آخری جملے غور سے پڑھیں۔

”اپنا یا بیگانہ کوئی اعتراض کر لے پرواہ نہیں ہوتا وہی ہے جو میں نے کہا ہے۔ اور وہی ایک دن ہم کر کے رہیں گے“ (خطبہ مرزا محمود)

بشیر الدین کو پاکستان کا بادشاہ ظاہر کرتا ہے۔

اخبار الفضل ۸ نومبر ۱۹۵۱ء کی مندرجہ ذیل خبر پڑھئیے

”لیکس ۶ نومبر عرب ڈیلیگیشن نے امریکہ سے بذریعہ تار حضرت امام جماعت (مرزائیہ) احمدیہ (مرزا بشیر الدین) کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان ڈیلی گیشن کے لیڈر چوہدری سر ظفر اللہ خان کو مسئلہ فلسطین کے تصفیہ تک یہیں ٹھہرنے کی اجازت دی۔“

مندرجہ بالا حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ سر ظفر اللہ مرزائی وزارت خارجہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مرزائیت کا پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ اور بیرونی ممالک میں یہ ظاہر کرنے کی ناپاک سازش کی گئی کہ پاکستان کا بادشاہ اور امیر مرزا بشیر الدین ہے اگر ایسا نہیں تھا تو شکریہ کا تار حکومت پاکستان کی بجائے مرزا بشیر الدین کو کس حیثیت میں ظفر اللہ نے دلوایا۔ یہ ایک سیدھا سادا

سوال ہے۔ جس کے جواب کے لئے سر ہے۔

امیر المومنین مرزا بشیر الدین کی ا معذور ہیں

مندرجہ ذیل خبر پڑھئیے او کس قدر رہیں اور ان کے دل میں ح حکم کے مقابلے میں حکومت پاکستا

عبارت ملاحظہ ہو۔

”آپ یہ پڑھ کر حیران ایک خط لکھا گیا کہ پاکستان کا ایک امریکہ میں ٹھہرنا چاہیے۔ لیکن ظفر اللہ اجازت کے بغیر امریکہ مزید قیام کر میں کچھ عرصہ امریکہ میں ٹھہروں تو اجازت لینی چاہیے۔ (زمیندار ۱۸

یعنی حکومت پاکستان ا میں سر ظفر اللہ کو مزید ٹھہرنے کا حکم مزید قیام نہیں کر سکتا۔

اندازہ لگائیے حکومت رہا ہے۔

ہے

۲۷ مئی ۱۹۵۲ء کو ج اللہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا (و پر وزیر اعظم پاکستان و دیگر ایک مگر وہ باز نہ آئے تھے)

صفحہ 199

سوال ہے۔ جس کے جواب کے لئے مسلمان مضطرب ہیں۔ وہ حیران ہیں کہ یہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔

(۲۱) حکومت پاکستان کے خط پر سر ظفر اللہ نے جواب دیا تھا کہ وہ امیر المومنین مرزا بشیر الدین کی اجازت کے بغیر امریکہ میں مزید قیام کرنے سے معذور ہیں

مندرجہ ذیل خبر پڑھئیے اور اندازہ لگائیے کہ ظفر اللہ خان پاکستان کے وزیر خارجہ کس قدر ہیں اور ان کے دل میں حکومت پاکستان کی وقعت کتنی ہے وہ خلیفہ بشیر الدین کے حکم کے مقابلے میں حکومت پاکستان کے حکم کو پس پشت ڈالنے کے لئے تیار ہیں۔ اصل عبارت ملاحظہ ہو۔

’’آپ یہ پڑھ کر حیران ہونگے کہ حکومت پاکستان کی طرف سے سر ظفر اللہ خاں کو ایک خط لکھا گیا کہ پاکستان کا ایک مقتدر افسر امریکہ آ رہا ہے۔ آپ کو اس کے امریکہ پہنچنے تک امریکہ میں ٹھہرنا چاہیے۔ لیکن ظفر اللہ نے جواب دیا کہ وہ امیر المومنین یعنی مرزا بشیر الدین محمود کی اجازت کے بغیر امریکہ مزید قیام کرنے سے معذور ہیں۔ اگر (حکومت پاکستان) چاہتی ہے کہ میں کچھ عرصہ امریکہ میں ٹھہروں تو اسے (حکومت پاکستان کو ) مرزا بشیر الدین محمود سے اسکی اجازت لینی چاہئے۔ (زمیندار ۱۸ جولائی ۵۲ء ص۱)

یعنی حکومت پاکستان اگر خلیفہ بشیر الدین سے اجازت مانگے اور خلیفہ قادیانی امریکہ میں سر ظفر اللہ کو مزید ٹھہرنے کا حکم دے تب تو میں ٹھہر سکوں گا ورنہ میں حکومت پاکستان کی التجا پر مزید قیام نہیں کر سکتا۔

اندازہ لگائیے حکومت پاکستان کا ایک ملازم پاکستان کو کیسا کورا اور صاف جواب دے رہا ہے۔

(۲۲) اگر تم مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے تو تمہارے اسلام کا درخت خشک ہے

(مفہوم تقریر ظفر اللہ)

۲۷ مئی ۱۹۵۲ء کو جہانگیر پارک کراچی میں مرزائیوں کی دو روزہ کانفرنس میں سر ظفر اللہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا (واضح رہے کہ یہی وہ کانفرنس ہے جس کے دوسرے روز کے اجلاس پر وزیر اعظم پاکستان و دیگر ایک مقتدر وزیر کی طرف سے سر ظفر اللہ خاں کو تقریر کرنے سے روکا گیا مگر وہ باز نہ آئے تھے)

صفحہ 200

’’اگر نعوذ باللہ آپ (مرزا غلام احمد) کے وجود کو درمیان سے نکال دیں تو اسلام کا زندہ مذہب ہونا ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ اسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا جائے گا اور اسلام کی برتری دیگر مذاہب سے ثابت نہیں ہو سکتی‘‘۔

(منقول از الفضل ۳۱ مئی ۱۹۵۲ء ص ۵ کالم ۲)

اندازہ لگائیے سر ظفر اللہ کے نزدیک اگر مسلمان غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتے تو ان کا اسلام زندہ مذہب نہیں بلکہ مردہ مذہب ہے گویا پاکستان کے تمام مسلمانوں کا مذہب تو مردہ ہے اور انگریزوں کے تابعداروں (مرزائیوں) کا مذہب زندہ ہے۔

(۲۳) امریکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کی اشاعت پر

پاکستانی سفارتخانہ کا احتجاج

مگر (ظفر اللہ خاں کی) وزارت خارجہ کا اس احتجاج پر سخت ناراضگی کا اظہار سر ظفر اللہ جو مسلمانوں کے مذہب کو تو مردہ کہتے ہیں۔ اور اپنے مذہب کو زندہ کہتے ہیں۔ آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ اس کی دشمنی ملاحظہ ہو کہ حال ہی میں امریکہ کے ایک ہفتہ وار رسالے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک فرضی تصویر شائع ہوئی ہے اور امریکہ میں پاکستان کا سفارت خانہ اس پر احتجاج کرتا ہے۔ مگر سر ظفر اللہ خاں کی وزارت خارجہ اس احتجاج پر از حد ناراض ہوتی اور اسے تنبیہ کرتی ہے کہ آئندہ بلا اجازت ایسے (نیک) کام نہ کیا کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سر ظفر اللہ اور مرزائیوں کی عقیدت آنحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تو کچھ بھی نہیں ہاں مرزا قادیانی پر جان نثار کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ملاحظہ ہو روزنامہ امروز لاہور ۱۹ جون ۱۹۵۲ء ص ۲۔

امریکہ کے کثیر الاشاعت ہفتہ وار رسالہ ’ٹائم‘ نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں رسول کریم کی تصویر چھاپی تھی اور پاکستان کے گوشہ گوشہ سے اس کی سخت مذمت کی گئی چونکہ اس سے پہلے بھی اس قسم کے واقعات پیش آ چکے ہیں اور پاکستان ان پر سفارتی احتجاج کر رہا ہے اس لئے اس مرتبہ بھی واشنگٹن کے (پاکستانی) سفارت خانے نے فوراً ہی امریکی حکومت سے احتجاج کیا لیکن ہماری وزارت خارجہ (سر ظفر اللہ خاں وغیرہ) کا رویہ چونکہ اب بدل چکا ہے اس لئے اسے جیسے ہی یہ پتہ چلا تو پاکستانی سفارت خانے کو فوراً ہی ایک سخت ہدایت نامہ بھیجا گیا کہ پاکستان اسلام کے وقار کا تنہا محافظ نہیں ہے۔ آئندہ اس قسم کے احتجاج نہ کئے جاویں۔‘‘

صفحہ 200

(۲۴) سر ظفر اللہ خاں (مرزائی) کا پاکستان کے وزیر اعظم بن جانے کا کھٹکا

(اخبار الفضل) سر ظفر اللہ خاں نے یہاں تک اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں کہ بہت سے حضرات کو یہ خطرہ ہے کہ کہیں یہ وزیر اعظم نہ ہو جاویں ۔ ملاحظہ ہو مرزائی اخبار الفضل مورخہ ۲۹ اگست ۵۲ء ص ۸ بحوالہ اخبار سنگرام

جناب چودھری ظفر اللہ خان صاحب بہترین وزیر خارجہ ثابت ہوئے ہیں انہوں نے بیرونی ممالک میں بہت نام پیدا کیا ہے اور پاکستان کے اندر بھی انہیں بہت بڑی عزت حاصل ہے اس وجہ سے خود کابینہ پاکستان کے بعض مقتدر ممبروں کو بھی یہ کھٹکا لگ رہا ہے کہ بین الاقوامی شہرت اور قومی عزت کی وجہ سے جلد یا بدیر چوہدری (ظفر اللہ خاں) صاحب پاکستان کے وزیر اعظم بن جائیں گے"۔ الخ

(۲۵) اگر مجھے وزارت سے علیحدہ کیا گیا تو میں پاکستان میں نہ ٹھہروں گا بلکہ

کسی اور ملک میں چلا جاؤنگا۔ (ظفر اللہ خاں وزیر خارجہ )

ظفر اللہ خان نے حال ہی میں ایک تقریر کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر مجھے وزرات سے علیحدہ کیا گیا تو میں پاکستان میں نہ ٹھہروں گا بلکہ کسی اور جگہ چلا جاؤنگا خدا معلوم وہ کونسا ملک ہے جہاں چودھری صاحب جانے کے لئے تیار ہیں۔ اور جہاں سے چوہدری صاحب کے دوست انہیں بلا رہے ہیں۔ تقریر ملاحظہ ہو۔ ”اگر یہ صورت ( وزارت سے علیحدہ ہونے کی) پیش آئی تو میں فوراً وزارت خارجہ سے کنارہ کش ہو جاؤں گا۔ اور پھر یہاں (پاکستان) میں ٹھہروں گا بھی نہیں میرے ایک دوست نے حال ہی میں مجھے ایک خط لکھا ہے کہ تم۔۔۔ یہاں چلے آؤ الخ ۔ (تقریر سر ظفر اللہ خاں اخبار زمیندار ۱۴اگست ۵۲ء) فرمائیے! گویا پاکستان میں چودھری ظفر اللہ خاں تب رہ سکتے ہیں اگر انہیں وزیر رکھا جائے ۔ اور اگر مسلمان ظفر اللہ خاں کی نااہلی کی وجہ سے اور اس کے غیر مسلم ہونے کے باعث وزارت سے ہٹائیں گے تو مسٹر منڈل کی طرح یہ بھی پاکستان کو چھوڑ دیں گے۔

(۲۶) خلیفہ قادیانی (سر ظفر اللہ خاں کے امام) کے تازہ خواب ہم قادیان

(ہندوستان) میں جانے والے ہیں (الفضل)

الفضل ۱۷ اگست ۵۲ء ص۳-۴ میں خلیفہ بشیر الدین کے خواب چھپے ہیں ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ خلیفہ صاحب کو ہر وقت قادیان (ہندوستان) جانے کی فکر لگی ہوئی ہے اس لئے تو بار بار

غلام احمد) کے وجود کو درمیان سے نکال دیویں ۔ تو اسلام کا واسلام بھی دیگر مذاہب کی طرح ایک خشک درخت شمار کیا ، سے ثابت نہیں ہو سکتی“۔ ۱۹۵۲ء ص ۵ کالم ۲) اندازہ لگائیے سر ظفر اللہ کے نزدیک نتے تو ان کا اسلام زندہ مذہب نہیں بلکہ مردہ مذہب ہے گویا و مردہ ہے اور انگریزوں کے تابعداروں (مرزائیوں) کا

م صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کی اشاعت پر

ارت خارجہ کا اس احتجاج پر سخت ناراضگی کا اظہار سر ظفر تے ہیں۔ اور اپنے مذہب کو زندہ کہتے ہیں ۔ آنحضور علیہ حظہ ہو کہ حال ہی میں امریکہ کے ایک ہفتہ وار رسالے تصویر شائع ہوئی ہے اور امریکہ میں پاکستان کا سفارت خاں کی وزارت خارجہ اس احتجاج پر از حد ناراض ہوتی ایسے (نیک) کام نہ کیا کرو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے تو کچھ بھی نہیں ہاں مرزا ہیں۔ ملاحظہ ہو روز نامہ امروز لاہور ۱۹ جون ۱۹۵۲ء

ہ وار رسالہ ٹائم “ نے اپنی ایک حالیہ اشاعت میں کے گوشہ گوشہ سے اس کی سخت مذمت کی گئی چونکہ اس چکے ہیں اور پاکستان ان پر سفارتی احتجاج کر رہا ہے ں) سفارت خانے نے فوراً ہی امریکی حکومت سے فر اللہ خاں وغیرہ) کا رویہ چونکہ اب بدل چکا ہے سفارت خانے کو فوراً ہی ایک سخت ہدایت نامہ بھیجا حفظ نہیں ہے ۔ آئندہ اس قسم کے احتجاج نہ کئے

صفحہ 202

اس قسم کے خواب دیکھتے رہتے ہیں ملاحظہ ہو (خواب نمبر ۱) دو چار دن کے بعد اس طرح دعا کر کے میں سویا تو میں نے دیکھا کہ گویا ہم قادیان میں الخ (خواب نمبر ۲) میں نے دیکھا کہ گویا ہم قادیان میں ہیں اور رات کا وقت ہے الخ (خواب نمبر ۳) آج رات میں نے رویا (خواب میں دیکھا کہ ہم کہیں ربوہ سے باہر کسی شہر میں ہیں۔۔۔۔ عزیزم چوہدری ظفر اللہ خاں سلمہ اللہ تعالیٰ بھی وہاں (میرے ساتھ) ہیں۔

(الفضل ۱۷ اگست

۵۲ء)

ہے

(مرزا محمود)

ملاحظہ ہو الفضل ۱۷ اگست ۵۲ء ص ۴ پہلی دو رؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ (مرزائیت) کیلئے بہت زیادہ قربانی کا وقت آگیا ہے۔“

اختر علیخان صاحب مرزائی ہو جاؤ ورنہ لیاقت علی خان کی طرح تم اور باقی مولوی قتل ہو جاؤ گے“

الفضل ۱۵ جولائی ۵۲ء میں مرزائیوں کی طرف سے مشہور مسلمان علماء کا نام لیکر قتل کی دھمکی دی گئی تھی۔ کہ خونی ملاؤں کے آخری دن آن پہنچے ہیں۔ اور ان سب (علماء) سے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ اب ایک اور خط مولانا اختر علی خان کو سالار فدائیاں قادیان و ربوہ کی طرف سے موصول ہوا ہے جسمیں حضرت مولانا اختر علی خان اور مولانا ظفر علی خاں کو صاف طور پر کہا گیا ہے کہ آپ مرزائی ہو جاویں ورنہ تمہارا اور باقی مولویوں کا حشر لیاقت علی خان مرحوم وزیر پاکستان کی طرح ہوگا۔ وہ خط ملاحظہ ہو اخبار زمیندار ۲۱ اگست ۵۲ء ص ۵ مولانا اختر علی و ظفر علی صاحب تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ فوراً جماعت احمدیہ (مرزائی جماعت) میں شامل ہو کر مرزا غلام احمد کو نبی مانو ورنہ تمہارا اور ان تمام بڑے بڑے مولویوں کا حشر لیاقت علی جیسا ہوگا۔ تمام وزیروں کو بھی اطلاع کر دی گئی ہے۔ سالار فدائیاں قادیان والفاروق لاہور و ربوہ اب ہوشیار ہو جاؤ ۱۹۵۲ء ختم نہ ہوگا۔

(سالار فدائیان قادیان لاہور و ربوہ)

چار من سکہ اور ایک من ۷ سیر بارود پچھلے دنوں ربوہ

(مرزائیوں کا دارالخلیفہ) میں کیوں پہنچ گیا ؟

ملاحظہ ہو اخبار زمیندار ۱۲ اگست ۵۲ء ص ۲

آخر میں آپ (شاہ صاحب) نے میاں ممتاز دولتانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

صفحہ 203

پچھلے دنوں ایک من سترہ سیر بارود کیوں گیا جب پولیس نے تحقیقات کی اسے مرزا بشیر نے بتایا کہ ہمارے رضا کاروں نے تربیت حاصل کرنا تھی۔ میں پوچھتا ہوں کہ رضا کاروں کی اس تربیت کے کیا معنی ہیں۔۔۔ چار من سکہ حال ہی میں چونیاں سے ربوہ لے جایا گیا آخر اس سکہ کی ضرورت کیا تھی میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس کی تحقیقات کی جائے کہ ان تیاریوں کے پس پردہ کیا جذبہ اور کیا پروگرام کار فرما ہے۔ تصویر کے نقاب کو ذرا تو سرکایئے۔“

صرف ایک سوال‘ آخر یہ کیا ہو رہا ہے؟

ناظرین حضرات! اس مختصر سے ٹریکٹ میں تفصیل کیساتھ مرزائیوں کی سیاسی چالیں اور جو وہ پاکستان کو نقصان دینے والی سازشیں کر رہے ہیں درج نہیں کی جاسکتیں لیکن پھر بھی اجمالی طور پر صفحات گذشتہ میں مرزائیوں کے سیاسی عزائم کا جو خلاصہ درج کیا گیا اس کے پڑھنے سے دل میں طبعاً ایک سوال اٹھتا ہے کہ آخر یہ مرزائی جماعت جو کہ اپنے آپ کو غریب جماعت کہلاتی ہے اس قسم کے عزائم اور سیاسی خیالات کیوں رکھتی ہے؟ ربوہ میں سکہ اور بارود کیوں جمع کیا جا رہا ہے۔ ۵۲ء میں کونسے انقلاب برپا کرنے کا ارادہ ہے؟ یہ پاکستان کے تمام تر محکموں پر قبضہ کس لئے؟ اور پھر پاکستان ہی میں ایک علیحدہ ٹکڑا اپنے لئے کیوں؟ یہ حکومت کے خواب کیسے؟ اور یہ مرزائی بادشاہوں کی پیش گوئی کیسی؟ نیز باہر کے ملکوں سے سرظفر اللہ خاں حکومت پاکستان کی بجائے مرزا محمود کو شکریئے کے تار کیوں دلاتے ہیں؟ مسلمان کو مرعوب کر کے مرزائی بنانے کے کیوں منصوبے ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کو مجرموں کی طرح اپنے سامنے پیش کرنے کا کیا معنی؟ اور پنڈت نہرو کی حکومت سے خیر خواہی کس قسم کی؟ سرظفر اللہ وزارت کے بعد کسی ملک میں جانا چاہتے ہیں؟ یہ مرزا محمود قادیان کے کیوں خواب دیکھ رہے ہیں اور پھر خواب کی تعبیر میں قربانی طلب کرنے کے کیا معنی؟ یہ اور اس قسم کے چند اور سوالات وشبہات ہیں جو مسلمانوں کے دلوں میں لا محالہ پیدا ہورہے ہیں۔ جن کا ازالہ حکومت کی طرف سے از حد ضروری ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر اس فتنہ عظیمہ کو ابھی سے نہ روکا گیا تو بہت ممکن ہے کہ پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے۔

وماعلینا الاالبلاغ واللہ المستعان دعا طلب:۔ احقر عبدالرحیم غفرلہ

PDF 204

قادیانی کرتوت

تاریخ تحفظ ختم نبوت سیریز 14

تحقیق و ترتیب محمد طاہر رزاق

قلب پاکستان میں گڑے ہوئے قادیانی پنجے...... کی اذیت سے.......

ہر اس شخص کو پکار رہے ہیں...... دہائی دے رہے ہیں جو اسلام، پیغمبرﷺ اسلام اور پاکستان سے محبت کا مدعی ہے