جمہوریہ شام، جمہوریہ مصر، سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور پاکستان میں
مرزائیت کا
عبرتناک انجام
مرتبہ
حضرت مولانا محمد ابراہیم مدظلہ سابق استاذ ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد
ناشر ٦
ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ (پنجاب) پاکستان
فون 332820-0466 - فیکس 331330-0466 E.Mail: chinioti@fsd.comsats.net.pk
Irshad Printing Press & J.S.Computers Chiniot Punjab Pakistan Ph.332820,334420 Mob.0320-4890351
کتاب مرزائیت کا عبرت ناک انجام مرتبہ مولانا محمد ابراہیم صاحب مطبع ارشاد پرنٹنگ پریس چنیوٹ ناشر ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ طبع چہارم 1100 گیارہ سو تاریخ اشاعت 27 جولائی 2000ء کمپوزنگ جے ایس کمپیوٹر کمپوزنگ سنٹر چنیوٹ 0466-334420-Mob-0320-4890351
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد لله وحده والصلوة والسلام على من لا نبى بعده
قارئین کرام! مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے تمام متبعین کو عالم اسلام کی بڑی بڑی حکومتوں (سعودی عرب، جمہوریہ مصر اور جمہوریہ شام، متحدہ عرب امارات ،اور پاکستان) نے ان کے قرآن و حدیث اور امت مسلمہ کے خلاف کفریہ عقائد رکھنے کی بناء پر کافر قرار دیتے ہوئے اپنے اپنے ملک میں ان کو خلاف قانون قرار دیا ہے۔ ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ ان کے دفاتر سر بمہر کر دیئے گئے۔ ان کی تمام املاک کو بحق سرکار ضبط کر لیا گیا۔ چنانچہ سعودی عرب میں قادیانیوں پر پابندی عائد کر دی گئی کہ وہ حج کے لئے بھی داخل نہیں ہو سکتے ۱۹۶۵ء میں جو قادیانی ہندو پاکستان سے جانا چاہتے تھے ان کے اجازت نامے منسوخ کر کے انکو ان کی بندرگاہوں سے ہی واپس کر دیا گیا۔ قادیانی حضرات اسلام کا لباس اوڑھ کر دنیا کو فریب دینے کی جو ناپاک کوشش کر رہے تھے۔ اب ان کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ اور انگریز کے اس (خود کاشتہ پودا ۱؎) کی پوری حقیقت دنیا پر روز روشن سے زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ راقم اپنی طرف سے بغیر کسی نوٹ اور تبصرہ کے قارئین کی خدمت میں ان دستاویزات کا اردو تر جمہ پیش کرتا ہے۔ جو قادیانی جماعت کو خلاف قانون قرار دیئے جانے کے سلسلے میں ہمیں جمہوریہ شام اور دوسرے ممالک سے حاصل ہوئی ہیں ان کی تفصیل قارئین کرام حضرات کی خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔
فقط والسلام
مولانا منظور احمد چنیوٹی عفا اللہ عنہ
پرنسپل جامعہ عربیہ چنیوٹ
۱۔ تبلیغ رسالت ص ۱۹ جلد ۷
فتویٰ شیخ ابوالیسر عابدین مفتی اعظم جمہوریہ شام
الحمد للہ تعالیٰ چونکہ فرقہ قادیانیہ سیدنا محمد ﷺ کو آخری نبی نہیں تسلیم کرتا جس سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد خاتم النبین کی مخالفت لازم آتی ہے۔
نیز دین اسلام کے بیشتر عقائد کا منکر ہے۔ لہذا جو شخص بھی ان کے عقائد اختیار کرے گا۔ میں اس کے کفر کا فتویٰ دیتا ہوں۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
دمشق دستخط مفتی اعظم جمہوریہ شام
۲۱۔۱۲۔۱۳۷۷ھ مطابق ۱۵۔۱۰۔۱۹۵۷ء عابدین
وزارت داخلہ شام کی کاروائی
اس کے علاوہ مفتی اعظم جمہوریہ شام کے نام ایک خط میں ان کے مراسلہ مورخہ ۱۰۔۱۰۔۵۷ء کا جواب دیتے ہوئے جو سفارشات پیش کیں ان کا اردو ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔
- مکتوب مفتی اعظم جمہوریہ شام
(حوالہ ۶۰۶۔۵۵ بتاریخ : ۲۱۔۱۲۔۷۷ھ مطابق ۱۵۔۱۰۔۱۹۵۷ء)
بنام صدر کابینہ
آپ کے نوٹ نمبر ۱۰۹۳ / ۲۵۹۷ مورخہ ۱۰۔۱۰۔۱۹۵۷ء کے جواب میں جو وزارت داخلہ کے خط پر مندرج تھا جس میں دمشق میں قادیانی
جماعت کے کوائف کے متعلق رائے طلب کی گئی تھی۔ اس سے پہلے ہم وزارت داخلہ سے بتاریخ ۲۸-۸-۵۶ بموجب عریضہ نمبر ۳۵۲/۳۸۹۰ جس کی کاپی معہ اس مراسلت کے جو ہمارے اور عدالت زیریں کے درمیان ہوئی ہے۔ منسلک ہذا ہے مطالبہ کر چکے ہیں کہ چونکہ قادیانی فرقہ دین اسلام کے احکام کے خلاف شعائر سرانجام دیتا ہے اس لئے قبل اس کے کہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے اس فرقے کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے اور ان کے تمام زاویوں (مرکزوں) کو محکمہ اوقاف کے سپرد کر دیا جائے۔
قادیانیوں کے عقائد وافکار کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کے عقائد سراسر باطل ہیں۔ لہٰذا ہم ہمراہ عریضہ قادیانیوں کے متعلق اپنا شرعی فتویٰ ارسال کر رہے ہیں۔ ہم متوقع ہیں کہ یہ عریضہ متعلقہ با اختیار اداروں تک پہنچا کر اس بارے میں ضروری قانون کا نفاذ عمل میں لایا جائے نیز ہمیں اس کاروائی کے نتیجے سے آگاہ کیا جائے۔
(دستخط مفتی اعظم جمہوریہ شام)
انسپکٹر جنرل پولیس کا اعلامیہ
وزارت داخلہ کی ضروری کاروائی کے بعد حکومت شام نے انسپکٹر جنرل پولیس کو بذریعہ تار اپنے فیصلہ سے مطلق کیا جس کی بنا پر انسپکٹر جنرل پولیس نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے۔ یہ اعلامیہ دمشق سے ۲۷ مارچ ۱۹۵۸ء کو جاری ہوا۔
حوالہ نمبر ۵۱۳۱ نوٹیفیکیشن نمبر ۵۸۱ بموجب تعمیل برقیہ نمبر ۲۳۳ ب س بتاریخ ۲۵۔۳۔۱۹۵۸ء برائے نوٹس ہذا لازم ہے کہ فرقہ احمدیہ (قادیانیہ) کی سرگرمیوں پر قدغن لگائی جائے۔ ان کے مراکز اور دفاتر پر چھاپے مار کر انکی تمام املاک پر قبضہ کر لیا جائے۔ اور انہیں اوقاف اسلامیہ کے محکموں کی تحویل میں دے دیا جائے۔ اور ان کے قبضے سے جو ایسے کاغذات برآمد ہوں جو فتویٰ شرعی کے صدور اور ہمارے اعلامیہ کے اجراء کے بعد کی سرگرمیوں کی نشان دہی کرتے ہوں تو وہ ہم تک پہنچائے جائیں۔
- بنام (۱) ضلعوں (محافظات) کے تمام ذیلی حکام العمید محمد الجراح
- (۲) عام پبلک اور تحفظ امن پولیس کے انسپکٹر جنرل پولیس دمشق
اخبارات میں اعلان
پولیس کی کاروائی سے قبل وزارت داخلہ کے احکام کے تحت محکمہ اوقاف نے جو کاروائی کی وہ اخبار ”النصر“ شمارہ ۳۹۴۸ مورخہ ۴؍ رمضان المبارک ۱۳۷۷ھ مطابق شمارہ ۳۹۴۸ مورخہ ۴؍ رمضان المبارک ۱۳۷۷ھ مطابق ۲۴ مارچ ۱۹۵۸ء میں شائع ہوئی وہ درج ذیل ہیں۔
قادیانی مرکز کو سر بمہر کر دیا گیا
۲۴ مارچ گذشتہ جمعرات کو محکمہ اوقاف نے قادیانی زاویہ کو جو محلہ شا غور گلی المزا میں واقع ہے بند کر دیا ہے۔ اور وزارت داخلہ کے فرمان کے بموجب
اس کی تمام املاک کو ضبط کر لیا گیا ہے۔ اس زاویہ کا انچارج ایک قادیانی مبلغ منیر الحسنی ہے۔ زاویئے میں قادیانی جماعت کے پیرو اپنے اجتماعات منعقد کرتے تھے اور اپنی مخصوص نمازیں ادا کرتے تھے اب اس زاویہ کی جملہ املاک ضبط کر کے اسے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دے دیا جائے گا۔
قادیانیوں کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کیلئے دمشق کے بعض علماء نے عدالت میں متعدد درخواستیں دائر کی تھیں جن میں اس جماعت کے بطلان اور اس کی مفسدانہ سرگرمیوں کی طرف توجہ دلائی۔
مفتی اعظم شام کا اظہار اطمینان
قادیانیوں پر اس پابندی کے بعد مفتی اعظم شام نے پریس کے نام ایک بیان جاری کیا جو اخبار ”الانشاء“ مورخہ ۱۳ جون ۱۹۵۸ء شمارہ ۱۱۔ ۵ میں بھی شائع ہوا جس کا اردو ترجمہ یہ ہے۔
ابو الیسیر عابدین۔ مفتی اعظم جمہوریہ شام نے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا ہے۔
احمدی مرکز۔ واقع محلہ شاغور کو بند کر دینے کے بعد اب شام میں تمام ایسے مذاہب کی جو دراصل اسلام سے کوئی واسطہ نہیں رکھتے مگر اپنے اوپر اسلام کا لیبل لگا کر اس کے اندر گھس آئے ہیں۔ کلیتاً بیخ کنی کی جا چکی ہے۔ مقام حر ستا میں طہ ابو الودود کا مذہب اور اسی طرح حرستا اور زبدانی کے ذیلی دیہات میں
شیخ طعمہ کے مذہب کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے مفتی اعظم نے اس اقدام کی توجیہہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مذہب محض اسلام کو منہدم کرنے اور اجماع کو پارہ پارہ کرنے کیلئے وضع کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں مؤخر الذکر دونوں مذاہب کے پیرو ایسی نازیبا حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں جن کی اسلام میں صریح حرمت ہے۔ مثلاً عورتوں کے ساتھ کھلم کھلا اختلاط رکھتے ہیں اور ننگ دھڑنگ پھرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ان کے بعض پیرو اپنی انہی فحش حرکات کی بنا پر جیلوں میں بھی جا چکے ہیں۔
توقع ہے کہ مفتی اعظم آئندہ ہفتے کے آغاز میں شام کے سارے علاقوں کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیں گے۔
مفتی اعظم مصر کا فتویٰ
حضرت علامہ الشیخ محمد مخلوف مفتی اعظم حکومت مصر نے ۱۳۷۰ھ مطابق ۱۹۵۰ء میں فتویٰ دیا کہ جو شخص بھی حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ کتاب اور سنت رسول اللہ کا منکر، پرلے درجے کا جھوٹا اور بہتان تراش ہے۔ اسی لئے ہم (جماعت علماء) نے مرزا غلام احمد مراقی قادیانی کی متبع تمام جماعت کے کافر ہونے کا فتویٰ صادر کیا ہے۔ اصل فتویٰ درج ذیل ہے۔
فمن زعم النبوة بعده فهو كذاب افاك مكذب بكتاب الله و سنت رسوله ولذا افتينا بكفر طائفة القاديانية اتباع المفتون غلام احمد القاديانی الزاعم
هو واتباعه انه نبى يوحى اليه و انه لا يجوز مناكحتهم ولا دفنهم في مقابر المسلمين ط ۔
(صفوۃ البیان لمعان القرآن ص ۱۸۶ ط مصر)
ترجمہ : آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں بنایا جائے گا۔ لہٰذا حضور اکرم ﷺ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ پرلے درجے کا جھوٹا۔ بہت بڑا بہتان باندھنے والا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کا منکر ہے۔ اس لئے ہم (علماء حق) نے مرزا غلام احمد قادیانی کی متبع تمام جماعت کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی تمام جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ نبی ہے۔ اور اس کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ اور ہم یہ بھی فتویٰ دیتے ہیں کہ نہ تو ان سے رشتہ ناطہ جائز ہے اور نہ ہی انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز ہے۔
(تفسیر از شیخ محمد مخلوف بحوالہ مذکور)
نیز اسی تفسیر کے ص ۱۰۹۔۱۱۰ پر مزید معلومات مذکور ہیں۔
پورے عالم اسلام کا متفقہ فیصلہ
قادیانی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اور اسلام کے نام پر اپنے باطل عقائد کی تبلیغ و اشاعت اور امت مسلمہ کے مفادات سے غداری کرتے ہیں۔ اور عالم اسلام میں استعمار اور اسرائیل کی ایجنٹی کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کی انہی ناپاک سازشوں اور اسلام دشمنی کی بنا پر مکہ مکرمہ میں ۸ اپریل ۱۹۷۴ء کو پورے عالم اسلام کی ایک سو آٹھ (۱۰۸) تنظیموں کا اجتماع ہوا۔ جس میں ۱۰
اپریل ۱۹۷۴ء کو تمام تنظیموں کے اجتماع میں قرارداد پاس کی گئی۔ جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور انہیں کلیدی اسامیوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔
چنانچہ حکومت پاکستان نے بھی ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر رابطہ عالم اسلامی کے فیصلہ کی تائید کی۔
مؤتمر عالم اسلام مکہ مکرمہ کی قرارداد
قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
قادیانیت وہ باطل مذہب ہے جو اپنے ناپاک اغراض و مقاصد کی تکمیل کیلئے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اس کی اسلام دشمنی ان چیزوں سے واضح ہے
- (ا) مرزا غلام احمد کا دعویٰ نبوت۔
- (ب) قرآنی نصوص میں تحریف کرنا۔
- (ج) جہاد کے باطل ہونے کا فتویٰ دینا۔
قادیانیت برطانوی استعمار کی پروردہ ہے اور اس کے زیر سایہ سرگرم عمل ہے۔ قادیانیوں نے امت مسلمہ کے مفادات سے ہمیشہ غداری کی ہے۔ اور استعمار و صہیونیت سے مل کر اسلام دشمن طاقتوں سے تعاون کیا ہے اور یہ طاقتیں بنیادی اسلامی عقائد میں تحریف و تغیر اور ان کی بیخ کنی میں مختلف طریقوں سے مصروف عمل ہیں۔
- (ا) معابد کی تعمیر جن کی کفالت اسلام دشمن طاقتیں کرتی ہیں۔
- (ب) اسکولوں، تعلیمی اداروں اور یتیم خانوں کا کھولنا جن میں قادیانی اسلام دشمن
طاقتوں کے سرمائے سے تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اور قادیانی مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تحریف شدہ ترجمے شائع کر رہے ہیں ان خطرات کے پیش نظر کانفرنس نے مندرجہ ذیل قرارداد منظور کی ہے۔
- ۱۔ تمام اسلامی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ قادیانی معابد، مدارس، یتیم خانوں اور
دوسرے تمام مقامات میں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں ان کا محاسبہ کریں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے عالم اسلام کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کیا جائے۔
- ۲۔ اس گروہ کے کافر اور خارج از اسلام ہونے کا اعلان کیا جائے۔
- ۳۔ مرزائیوں سے مکمل عدم تعاون اور اقتصادی، معاشرتی اور ثقافتی ہر
میدان میں مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ان کے کفر کے پیش نظر ان سے شادی بیاہ کرنے سے اجتناب کیا جائے اور ان کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے
- ۴۔ کانفرنس تمام اسلامی ملکوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ مدعی نبوت مرزا
غلام احمد قادیانی کے متبعین کی ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے۔ اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ نیز ان کے لئے اہم سرکاری عہدوں کی ملازمتیں ممنوع قرار دی جائیں۔
- ۵۔ قرآن مجید میں قادیانیوں کی تحریفات کی تصاویر شائع کی جائیں۔ اور ان
کے تراجم قرآن شائع کر کے لوگوں کو اس متنبہ کیا جائے اور ان تراجم کی ترویج کا سدباب کیا جائے۔
- ۶۔ قادیانیوں سے دیگر باطل فرقوں جیسا سلوک کیا جائے۔
روزنامہ ”الندوہ“ سعودی عربیہ ۴ اپریل ۱۹۷۴ء
متحدہ عرب امارات میں قادیانیوں پر پابندی
حکومت متحدہ عرب امارات کی طرف سے پاکستان کے اخبار ”نوائے وقت“ اور ”جنگ“ ۸ فروری ۱۹۸۴ء کو یہ خبر شائع ہوئی کہ ابو ظہبی کی اسلامی امور اور اوقاف کی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ قادیانیوں کے کسی کلب یا تنظیم کو ابو ظہبی میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خلیج ٹائمز نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ اعلان میں عوام کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ تنظیم اسلامی کانفرنس قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے چکی ہے۔ اور اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ قادیانی استعماری طاقتوں سے تعاون کرتے ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے اسلام کا نام لے کر اسلامی شریعت کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ابو ظہبی میں قادیانیوں کو دفن کرنے کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ قادیانیوں کی کسی بھی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ اور کسی بھی دستاویز کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
نوٹ: اس پابندی کی خبر صفحہ نمبر ۱۱۔ ۱۲ پر ملاحظہ فرمائیں
DAILY NAWA-I-WAQT LAHORE روزنامہ بانی حمید نظامی مرحوم ایڈیٹر مجید نظامی لاہور نوائے وقت لاہور، کراچی، راولپنڈی اور ملتان سے بیک وقت شائع ہوتا ہے جلد ۴۴ بدھ ۵ جمادی الاول ۱۴۰۴ھ ۸ فروری ۱۹۸۴ء ۲۴ ماگھ ۲۰۴۰ ب فون نمبر: ۳۰۲۰۵۰ تا ۵۴ قیمت: ایک روپیہ ۲۵ پیسے صفحات رجسٹرڈ نمبر ایل ۴۵۹۹ شمارہ ۱۶۵ WEDNESDAY 11 FEBRUARY 8, 1984
ابوظہبی میں قادیانیوں کی تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی
قادیانی غیر مسلم ہیں : انھیں دفن کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی : حکومت متحدہ عرب امارات
دبئی ۷ فروری (ن ر) ابوظہبی کی اسلامی امور اور اوقاف کی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ قادیانیوں کے کسی کیمپ یا تنظیم کو ابوظہبی میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خلیج ٹائمز نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ اعلان میں عوام کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ تنظیم اسلامی کانفرنس قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے چکی ہے اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ قادیانی استعماری طاقتوں سے تعاون کرتے ہیں اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے اسلام کا نام لے کر اسلامی شریعت کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ابوظہبی میں قادیانیوں کو دفن کرنے کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ قادیانیوں کی کسی بھی تنظیم کی طرف سے جاری کردہ کسی سرٹیفکیٹ اور کسی بھی دستاویز کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
با قاعدہ تصدیق شدہ اشاعت ABC CERTIFIED پاکستان کے اخبارات میں زیادہ THE DAILY JANG LAHORE روزنامہ جنگ لاہور جلد ۳۰ منگل ۴ ربیع الثانی ۱۴۰۰ھ بمطابق ۱۸ فروری ۱۹۸۰ء شمارہ ۸۲
ابوظہبی میں قادیانیوں کی تنظیموں پر مکمل پابندی لگادی گئی
کسی قادیانی کو دفن کرنے کی اجازت نہیں ہوگی یہ اسلامی آئین کے خلاف ہے محکمہ اوقاف کا فیصلہ
(ابوظہبی ۱۸ فروری) وزارت اوقاف و اسلامی امور ۔ ابوظہبی نے اعلان کیا ہے کہ ابوظہبی میں قادیانیوں کو دفن کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اعلان میں کہا گیا ہے کہ قادیانیوں کو اسلامی قبرستانوں میں دفن نہیں کیا جاسکتا کیونکہ حکومت انہیں غیر مسلم قرار دے چکی ہے یہ اسلام کے نام پر آئین اسلامی شریعت کے خلاف کام کرتے ہیں اعلان کے مطابق ابوظہبی میں قادیانیوں کی کسی تنظیم یا کلب کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی قادیانیوں کی کسی تنظیم کی سرپرستی یا معاونت کسی بھی طریقہ سے کوئی سرگرمی قبول کی جائے گی۔
قادیانیوں کے متعلق پاکستان کی مختلف عدالتوں کے
فیصلے!
- ۱۔ ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم
اقلیت قرار دے کر رابطہ عالم اسلامی کے فیصلہ کی تائید کی۔
- ۲۔ ۱۹ جون ۱۹۷۴ء کو صوبہ سرحد کی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرار داد
پاس کی کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔
- ۳۔ ۲۸ اپریل ۱۹۷۳ء کو آزاد کشمیر کی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم
اقلیت قرار دینے کی قرار داد پاس کی۔
- ۴۔ ۱۹۷۲ء میں چوہدری محمد نسیم صاحب سول جج رحیم یار خان نے فیصلہ
دیا کہ مسلمان آبادیوں میں قادیانیوں کو تبلیغ کرنے یا عبادت گاہ بنانے کی اجازت نہیں۔
- ۵۔ ۱۹۷۲ء میں جناب ملک احمد خان صاحب کمشنر بہاول پور نے فیصلہ دیا
کہ مرزائی مسلم امت سے بالکل الگ گروہ ہے۔
- ۶۔ ۱۳ جولائی ۱۹۷۰ء سول جج سمارو جیمز آباد ضلع میر پور خاص نے اپنے
فیصلے میں مرزائیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔
- ۷۔ ۲۲ مارچ ۱۹۶۹ء کو شیخ محمد رفیق گورایہ سول جج اور فیملی کورٹ نے فیصلہ
دیا کہ مرزائی خواہ قادیانی ہوں یا لاہوری غیر مسلم ہیں۔
- ۸۔ ۳ جون ۱۹۵۵ء کو جناب شیخ محمد اکبر صاحب ایڈیشنل جج ڈسٹرکٹ
راولپنڈی نے اپنے فیصلے میں مرزائیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔
- ۹۔ ۲۵ مارچ ۱۹۵۳ء کو میاں محمد سلیم سینئر سول جج راولپنڈی نے اپنے
فیصلہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔
- ۱۰۔ ۷ فروری ۱۹۳۵ء کو جناب منشی محمد اکبر خان صاحب ڈسٹرکٹ جج ضلع
بہاولنگر نے اپنے فیصلے میں قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے۔
باقاعدہ تصدیق شدہ اشاعت ABC CERTIFIED پاکستان کے ہر روزنامہ سے زیادہ THE DAILY JANG LAHORE *** روزنامہ جنگ لاہور ۱۶ صفحات جلد پیر ۱۵ ذیقعدہ ۱۴۰۴ھ ۱۳ اگست ۱۹۸۴ء ۲۱ ساون سمبت ۲۰۴۱ نمبر ۳۰
اس خبر کی تفصیل سامنے کے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔
پرویز کو کس نے حق دیا ہے کہ وہ ڈکٹیٹر بن کر ایک کروڑ دس لاکھ شہریوں کا بنیادی حق غصب کرلے؟ ہم اس نازک موقع پر تمام مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے عقائد کے تحفظ کے لیے بیدار ہو جائیں
قادیانی اقلیت ہیں، ان کے خلاف ہمارا محاذ قائم رہے گا
پرویز کی فتنہ پرور تقریر پر اہل حق کا تبصرہ، ہم حق کے اظہار میں کسی سے نہیں ڈرتے، ہم کسی ڈکٹیٹر سے مرعوب نہیں ہو سکتے، قادیانیوں کی پشت پناہی شرعی نقطہ نظر سے سخت گناہ ہے
مظلومیت کے نام پر قادیانی اقلیت کی پشت پناہی
حکومت کا شرعی و اخلاقی فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے
لاہور ۴ مارچ (نمائندہ) ۔ مرکزی جمعیت علماء پاکستان کے جنرل سیکرٹری اور ممبر قومی اسمبلی مولانا شاہ احمد نورانی نے صدر مملکت کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”مظلومیت“ کے نام پر قادیانی اقلیت کی پشت پناہی کرنا حکومت کے لئے کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔ صدر مملکت کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم کسی کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہم اقلیتوں کے حقوق غصب کرنا چاہتے ہیں لیکن کسی اقلیت کو ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کے عقائد سے کھیلے اور ان کی دل آزاری کرے۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ مسلمانوں کا ایک ایسا مطالبہ ہے جس سے ان کے عقائد وابستہ ہیں اور حکومت کا یہ شرعی اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کے اس مطالبہ کو تسلیم کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے۔
شرعی گناہ ہے
مجلس احرار اسلام پاکستان کے امیر سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا ہے کہ حکومت کو قادیانیوں کی سرپرستی سے باز آ جانا چاہئے ورنہ اس کا انجام بہت برا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو مسلمان سمجھنا اور ان کی حمایت کرنا شرعی نقطہ نظر سے سخت گناہ ہے۔ صدر مملکت کو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کی سرپرستی کرنے کی بجائے ان کو اقلیت قرار دے کر مسلمانوں کے جذبات کا احترام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حق کے اظہار میں کسی سے نہیں ڈرتے اور ہم کسی ڈکٹیٹر سے مرعوب نہیں ہو سکتے۔ ہم قادیانیوں کے خلاف اپنا محاذ ہر قیمت پر جاری رکھیں گے اور ان کو اقلیت قرار دلوا کر ہی دم لیں گے۔
قادیانیوں کے خلاف محاذ ہر قیمت پر جاری رہے گا
صدر مملکت کا بیان مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہے
لاہور (نمائندہ) ۔ تنظیم المشائخ پاکستان کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد حسین نعیمی اور مرکزی انجمن حزب الاحناف کے ناظم اعلیٰ علامہ ابوالبرکات سید احمد شاہ نے صدر مملکت کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت کا یہ بیان کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا اور کسی کو ان کے خلاف تحریک چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، سراسر مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث ہے۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے لئے مسلمانوں کا مطالبہ بالکل برحق ہے اور صدر مملکت کو اس پر غور کرنا چاہئے۔
ان رہنماؤں نے کہا کہ ہم صدر مملکت کے اس بیان کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ہم قادیانیوں کے خلاف اپنے محاذ کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔ ہم کسی صورت بھی قادیانیوں کو مسلمانوں کا حصہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ
حکومت پاکستان نے مرزائیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو روکنے کے لئے ایک آرڈیننس جاری کیا جو گزٹ آف پاکستان کی (غیر معمولی) اشاعت مورخہ ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ء میں شائع ہوا تھا۔ اور اس میں اسلامی اصولوں کے مطابق قادیانیوں کو (ربوی ہوں یا لاہوری) غیر مسلم قرار دیا گیا۔
اور انہیں مسلمانوں کی تمام اصطلاحات سے روک دیا گیا۔ اس آرڈیننس کے جاری ہونے پر قادیانی بہت سیخ پا ہوئے۔ بجائے اس کے کہ اپنے کفریہ عقائد کو تسلیم کر لیں۔ الٹا مزید اکڑ گئے اور کئی قسم کے غیر اخلاقی حربے استعمال کرنے لگے۔ یہاں تک کہ قادیانی اور لاہوری دونوں گروہوں نے پاکستان کی وفاقی اور شرعی عدالت میں درخواستیں دائر کر دیں اور حکومت پاکستان کو چیلنج کر دیا کہ اس آرڈیننس کے مندرجات غیر شرعی اور غیر مؤثر ہیں۔
چنانچہ ۱۵ جولائی ۱۹۸۴ء کو اس دائر کردہ کیس کی سماعت شروع ہو گئی مسٹر مجیب الرحمٰن اور کیپٹن عبد الواجد نے درخواست دہندگان کے حق میں دلائل دیئے۔ اور بالمقابل شیخ غیاث محمد ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر حیدر سید ریاض الحسن گیلانی نے حکومت کے حق میں دلائل دیئے۔ اور عدالت نے اس مسئلہ سے متعلق امور میں اپنی مدد کے لئے کئی مشیران قانونی اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام کو دعوت دی جنہوں نے اس مسئلہ پر مفصل بحث کی۔
بالآخر وفاقی شرعی عدالت نے اکیس روزہ سماعت کے بعد ۱۲ اگست ۱۹۸۴ء کو قادیانیوں کی دائر کردہ دونوں درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ اور عدالت نے سماعت کے بعد اپنے متفقہ فیصلہ میں تحریر کیا کہ
درخواست دہندگان کی طرف سے یہ الزام کہ حالیہ آرڈینینس کے ذریعے قادیانیوں کو ان کے مذہب پر عمل کرنے سے روکا گیا ہے۔ درست نہیں ہے۔ وہ قادیانی ازم کو اپنا مذہب مان سکتے ہیں۔ اور وہ اس سلسلہ میں آزاد ہیں کہ اپنے مذہب پر عمل کریں۔ اور اپنے مذہب کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کریں۔
لیکن مسلمانوں کی اصطلاحات مثلاً اپنے آپ کو مسلمان نہ کہیں۔ اپنی عبادت گاہ کو مسجد اور اپنی پکار کو اذان نہ کہیں۔ اور اسلامی شخصیات کیلئے مخصوص القاب، خطابات اور اصطلاحات استعمال نہ کریں۔ ان کیلئے امیر المؤمنین، خلیفۃ المومنين، خلیفۃ المسلمین اور مرزا قادیانی کی بیوی کیلئے ام المؤمنین کے القاب کا استعمال ممنوع ہے۔ صحابہ یا رضی اللہ عنہ کے الفاظ صرف رسول اکرم ﷺ کے ساتھیوں کیلئے مخصوص ہیں۔ اسی طرح اہل بیت کا لفظ صرف رسول اکرم ﷺ کے خاندان کیلئے مخصوص ہے قادیانی ان کو ہرگز استعمال نہیں کر سکتے۔
الحاصل مرزا قادیانی کی جھوٹی اور خانہ ساز نبوت کا پردہ چاک ہو چکا ہے۔ اب تمام عالم اسلام پر مرزا قادیانی اور اس کی متبع جماعت کا دجل و فریب عیاری،
مکاری اور بد کرداری روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے مگر پھر بھی ”کتے کی دندی“ والا معاملہ ہے کہ اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ اور سچے اسلام کو قبول نہیں کرتے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سادہ لوح اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے قادیانیوں کو راہ راست پر آنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
محمد ابراہیم
ادارہ ہٰذا
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات
نمبر شمار کتاب زبان تصنیف و تالیف قیمت
- ۱ القادیانی و معتقداتہ عربی مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰
- ۲ قادیانی اور ان کے عقائد اردو " " ۳۰
- ۳ انگریزی نبی اردو " " ۲۵
- ۴ عبرتناک انجام اردو " " ۳۵
- ۵ علماء کنونشن اردو " " ۲۰
- ۶ اور وہ اس کو مال نہ بنا سکے اردو " " ۲۵
- ۷ دورہ افریقہ اردو " " ۶۰
- ۸ مناظرہ نائیجیریا اردو " " ۶۰
- ۹ The Double Dealer انگلش " " ۶۰
- ۱۰ Al-Qadiani & His Faith انگلش " " ۳۰
- ۱۱ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد کا تعارف اردو " " ۳۰
- ۱۲ مرزا طاہر کی بوکھلاہٹ اردو " " ۳۰
- ۱۳ حصول الامانی فی الرد علی تلبیس القادیانی اردو " " ۲۴۰
- ۱۴ Africa Speakes The Truth انگلش " " ۵۰
- ۱۵ دورہ یورپ و افریقہ اردو " " ۵۰
- ۱۶ تصویر کے دو رخ اردو " " ۲۵
- ۱۷ برطانیہ میں مراسلت مباہلہ اردو " " ۳۰
- ۱۸ ربوہ کا نام تبدیل کرو اردو " " ۲۰
- ۱۹ الحقائق الاصلیہ فی جواب اللمحہ الفکریہ اردو " " ۴۰
بقیہ تفصیل اندر والے صفحہ پر
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کی چند اہم مطبوعات
نمبر شمار کتاب زبان تصنیف وتالیف قیمت
۲۰ چودہ میزائل اردو مولانا منظور احمد چنیوٹی ۱۷۰ ۲۱ مباہلہ کا چیلنج منظور ہے ارد و " " ۲۰ ۲۲ معرکہ حق وباطل اردو " " ۷۰ ۲۳ فتوی حیات مسیح اردو " " ۱۳۰ ۲۴ پنجابی نبی اردو " " ۳۰ ۲۵ مناظرہ ناروے اردو " " ۴۰ ۲۶ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا اردو " " ۴۰ ۲۷ معرکہ حق وباطل قادیانیت کے خلاف اردو " " ۴۰ ۲۸ ہائی کورٹ و سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے اردو " " ۷۰ ۲۹ حرف ناقدانہ جواب اک حرف ناصحانہ اردو " " ۲۰ ۳۰ ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانی سازشیں اردو " " ۲۵ ۳۱ نبوت کے نام پر شرمناک تحریف اردو عبدالرحیم منہاس سابق ڈیوڈ منہاس ۳۰ ۳۲ میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی؟ اردو قاضی خلیل احمد ۳۰ ۳۳ قرآن مجید اور عقیدہ ختم نبوت اردو عبدالرحیم منہاس سابق ڈیوڈ منہاس ۳۵ ۳۴ الحق الصریح بما تواتر فی حیاۃ المسیح اردو مولانا محمد ابراہیم ۳۵ ۳۵ ابن مریم زندہ ہیں حق کی قسم اردو مولانا محمد ابراہیم ۲۵ ۳۶ خاتم الانبیاء اور بزرگان دین اردو استاد گل محمد توحیدی ۳۰ ۳۷ تاریخ ساز تقریب اردو استاد اشفاق ناصر و ماسٹر محمد روز ۵۰ ۳۸ تقریب سنگ بنیاد اردو و عربی استاد اشفاق ناصر و ملک مختار احمد ۵۰ ۳۹ خسوف و کسوف اردو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۰
مصنف ایک نظر میں
مولانا منظور احمد چنیوٹی ۳۱ دسمبر ۱۹۳۱ء کو چنیوٹ کے راجپوت گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چنیوٹ سے حاصل کی۔ ۱۹۵۱ء میں مزید تعلیم کیلئے جامعہ اسلامیہ ٹنڈو الہ یار سندھ سے دورہ حدیث اور دیگر مدارس سے تفسیر ، دورہ رفض اور رد قادیانیت کے خصوصی کورس کئے۔ ۱۹۵۲ء سے تدریسی سلسلہ شروع کیا۔ ۱۹۵۴ء میں جامعہ عربیہ ، ۱۹۷۰ء میں ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ ، ۱۹۹۰ء میں ادارہ دعوت وارشاد امریکہ اور ۱۹۹۱ء میں انٹرنیشنل ختم نبوت یونیورسٹی چنیوٹ میں قائم کی۔ اور ۱۹۹۵ء میں مدرسہ عائشۃ للبنات کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے روح رواں تھے پہلی بار ۲۲ سال کی عمر میں چھ ماہ کیلئے گرفتار ہوئے۔ اب تک گیارہ مرتبہ قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ رد قادیانیت کیلئے آپکی خدمات کو پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ کو ۲۰ مرتبہ حج اور بیسیوں مرتبہ عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ ہزاروں غیر مسلموں کو مشرف بہ اسلام کرنے کی سعادت حاصل کی۔ رابطہ عالم اسلامی نے آپکی دینی خدمات کے اعتراف میں آپکو اپنے اخراجات پر کئی بار حج کرنے کی دعوت دی۔ عالم اسلام کے مقتدر مفتیان عظام سے فتویٰ حیات مسیح حاصل کیا۔ مختلف موضوعات پر متعدد ضخیم کتابیں اور ان گنت پمفلٹ شائع کئے۔ ۳۳ غیر ملکی دوروں کے علاوہ لاتعداد ملکی و غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت کی اور مقالہ جات پڑھے۔ اعلیٰ علمی قابلیت اور امت کے مسائل سے گہری دلچسپی کی بناء پر انجمن تبلیغ اسلام ، مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ، جمعیت علماء اسلام ، مجاہدین احرار ، حرکۃ الانصار ، متحدہ علماء کونسل کے قابل قدر عہدوں پر بیک وقت فائز رہے تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بلدیہ چنیوٹ کے چیرمین منتخب ہو کر اپنی دینی ، انتظامی وسماجی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوا چکے ہیں۔ اس وقت آپ پاکستان شریعت کونسل کے نائب امیر اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر فائز ہیں۔
ابو عمار زاہد الراشدی
ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ کا مختصر تعارف و اپیل
حضرات تقسیم ملک کے بعد چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے مغربی کنارے پر امت مرزائیہ (انگریز کے خودکاشتہ پودا) نے اپنا ایک مستقل مرکز ربوہ (مرزائیل) کے نام سے قائم کیا۔ یہ ان کی ارتدادی اور تخریبی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جس میں تعلیم، علاج، ملازمت، رشتہ وغیرہ کے لالچ اور دیگر مختلف ہتھکنڈوں سے مسلمانوں کو مرتد بنایا جاتا ہے اس میں ان کا ایک مستقل ادارہ نظارت اصلاح وارشاد کے نام سے قائم ہے جس کے تحت مرزاغلام احمد قادیانی کی نبوت باطلہ کی اشاعت و تبلیغ اور مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لیے مبلغ تیار کر کے اندرون ملک اور بیرون ملک بھیجے جاتے ہیں۔
مختلف زبانوں میں گمراہ کن لٹریچر چھاپ کر لاکھوں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کا سالانہ بجٹ لاکھوں روپے ہوتا ہے۔ چنانچہ شدید ضرورت تھی کہ قادیانیوں کے اس ادارے کے مقابلہ میں شہر چنیوٹ میں ایک مضبوط اور مستقل ادارہ قائم ہو جس کا مقصد وحید ان کا علمی، تبلیغی، سیاسی اور دینی محاسبہ کرنا ہو۔
الحمد للہ کہ محض اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر استاذ العلماء محدث العصر حضرت علامہ مولانا محمد یوسف بنوریؒ شیخ الحدیث جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کی زیر سرپرستی ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد ۱۹۷۰ء کو چنیوٹ میں قائم کیا گیا۔ اس ادارے کے تین بنیادی شعبے ہیں۔
شعبہ تعلیم شعبہ تصنیف شعبہ تبلیغ
ہر شعبہ اپنی اپنی خدمات باحسن طریق اندرون و بیرون ملک سر انجام دے رہا ہے۔ ادارہ کا سالانہ بجٹ تقریباً 24 لاکھ روپے ہے۔ تعمیراتی کام اس کے علاوہ ہے جس میں آپ کے ہر قسم کے بھر پور تعاون کی ضرورت ہے۔ تمام مسلمانوں سے درخواست ہے کہ وہ اس ادارے کے مستقل معاون بن کر خدام خاتم النبین ﷺ کی فہرست میں اپنا نام رجسٹرڈ کرائیں اور حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی روح مبارک کو خوش کریں اور استدعا ہے کہ زکوٰۃ، عشر، صدقات وغیرہ اور تعمیری سامان دے کر ثواب دارین حاصل کریں
ترسیل زر کیلئے
- 21 الائیڈ بنک سرگودہا روڈ برانچ چنیوٹ (زکوٰۃ مد)
- 1766 الائیڈ بنک سرگودہا روڈ برانچ چنیوٹ (عطیات مد)
- 2488-7 نیشنل بنک مین برانچ چنیوٹ (تعمیرات مد)
الداعی الی الخیر (خادم ختم نبوت) منظور احمد چنیوٹی ناظم اعلیٰ ادارہ مرکزیہ دعوت وارشاد چنیوٹ پاکستان