گستاخِ رسول کا عبرتناک انجام · ارسلان اختر میمن
Ghustakh-e-Rasool ka Ibrattnaak Anjam · Arsaln Akhtar Memon
PDF 1

بانی و

سرپرست اعلیٰ

تحریک

منہاج القرآن

شیخ الاسلام

پروفیسر

ڈاکٹر

محمد طاہر القادری

آسان مطالعہ

گستاخِ رسول

کا عبرتناک

انجام

PDF 2

گستاخ رسول

کا

عبرتناک انجام

مرتب

مولانا ارسلان بن اختر میمن

شعبہ تحقیق وتصنیف:

مکتبہ ارسلان

اردو بازار، کراچی۔

فون: 0333-2103655

جن احباب کو اس کتاب سے فائدہ ہو تو وہ احقر کے مرحوم بھائی

حافظ محمد اکبر (عمر ۲۶ سال) کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

مکتبہ ار

نام کتاب ____________________ ترتیب وتزئین ____________________ اشاعت اوّل ____________________

اسٹاکسٹ: نفیس اکیڈم

کراچی: کتب خانہ مظہری گلشن ا بیت القرآن اردو بازار، کراچی۔ اسلامی کتب خانہ نزد بنوری ٹاؤن لاہور: مکتبہ رحمانیہ غزنی م

راولپنڈی

پروفیسر ڈاکٹر طاہر قادری

پروفیسر محمد طاہر

آسان مطالعہ

PDF 3

توہین رسالت کی پروفیسر آسان مطالعہ پروفیسر عبدالرحمن مکتبہ

خ رسول

کا انجام

مرتب سلان بن اختر میمن

تحقیق وتصنیف:

تہ ارسلان

کراچی۔ 0333-210

دہ ہو تو وہ احقر کے مرحوم بھائی ) کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔

جملہ حقوق ملکیت برائے مکتبہ ارسلان محفوظ ہیں

مکتبہ ارسلان

اردو بازار، کراچی۔ فون: 2103655-0333

نام کتاب ........................................ گستاخ رسول کا عبرتناک انجام ترتیب وتزئین ................................. مولانا ارسلان بن اختر میمن اشاعت اوّل ........................................ مارچ 2010ء

اسٹاکسٹ: نفیس اکیڈمی اردو بازار، کراچی۔ فون: 2722080

ملنے کا پتہ:

کراچی: مکتبہ طہٰ مظہری گلشن اقبال نمبر 2، کراچی۔ فون: 4992176 نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی۔ بیت القرآن اردو بازار، کراچی۔ صدیقی ٹرسٹ نزد سبیلہ چوک۔ اقبال بک ڈپو (اقبال نعمانی صدر)۔ اسلامی کتب خانہ نزد بنوری ٹاؤن۔ دارالاشاعت اردو بازار، کراچی۔ علمی کتاب گھر اردو بازار، کراچی۔ لاہور: مکتبہ رحمانی غزنی اسٹریٹ اردو بازار، لاہور۔ ادارہ اسلامیات انارکلی بازار، لاہور۔ مکتبہ سید احمد شہید اردو بازار، لاہور۔ راولپنڈی: مکتبہ رشیدیہ مدینہ مارکیٹ، راجہ بازار، راولپنڈی۔

صفحہ 4

فہرست

فہرست

عنوان صفحہ نمبر موضوع.......1 ...... گستاخ رسول پر قرآنی آیات ...... 29 توہین رسالت کی ابتداء کس طرح ہوئی؟ ........................ 29 گستاخ رسول سے تعلقات پر وعیدیں ........................... 29 نبی کی مجالس کے آداب، صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم ..... 30 (گستاخی رسول کا شبہ بھی ختم) کر دیا گیا ...................... 30 گستاخ رسول اور مرتد کا شرعی حکم میں علماء کی آراء ........... 32 عند اللہ ازواج مطہرات کا مقام ............................... 34 گستاخ رسول کی دائمی سزا ................................... 37 توہین رسالت ہمیشہ کی ذلت وضلالت ........................ 37 شاتم رسول کی توبہ مہلت نہیں ................................ 40 قرآن کی نگاہ میں شاتم رسول کی سزائیں ...................... 41 خدائی فیصلہ شاتم رسول کے لیے .............................. 43 مقتداء گستاخ رسول کا انجام ................................... 43

موضوع......2 ...... گستاخان رسولؐ کی سزا احادیث کی روشنی میں ...... 45 حضرت زبیرؓ کا ایک گستاخ کو سزا دینا ........................... 47 شاتم رسول کی سزا بزبانِ نبویؐ سے سنیئے ....................... 47 کسی بھی نبی کی گستاخی کرنے والا شخص واجب القتل ہے ....... 47 شاتم رسولؐ کو قتل کرنے والے کے لئے انعام ................... 48 صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کی ممانعت ............ 49

فہرست

آپؐ کی اپنی امت کے ساتھ خاص حضرت معاویہؓ کی گستاخی کرنے والے

موضوع.......3 ...... تحفظ ناموس رسالت ختم نبوت کا تحفظ نہ کرنے والا نااہل تحفظ ختم نبوت کے لئے مسلمانوں کا مولانا ظفر علی خان کا مرزا قادیانی کو ایک علامہ اقبال کا باغی ختم نبوت کے ساتھ حضرت شاہ صاحب کے ارشادات

موضوع.......4 ...... سچے عاشقان رسول فرانسیسی استاذ کا گستاخی رسول پر معافی تحفظ ناموس رسالت پر ایک ٹوکیو اڑ سچے عاشق رسول کا انگریز جج کو للکار ناموس رسالت پر ایک بچے کے جذبات حضرت شاہ صاحب کا نبی کی گستاخی مولانا محمد علی جوہر کا انگریزی عدالت قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے فیصلے تحفظ ناموس رسالت کے جلسہ میں ایک مسلمان لوہار کا اپنے محبوب نبی اختر شیرانی کا تعجب خیز عشق رسول مردان میں عشق رسول اور غیرت

موضوع.......5 ...... تحفظ ناموس

صفحہ 5

مرکز تحقیق پروفیسر خورشید احمد آسان مطالعہ

4

فہرست

عنوان صفحہ نمبر

ں پر قرآنی آیات ...... 29 ہوئی ؟ ...... 29 یں ...... 29 ی کچھ اختیار کرنے کا حکم ...... 30 کیا ...... 30 ن علماء کی آراء ...... 32 ...... 34 ...... 37 ...... 37 ...... 40 ...... 41 ...... 43 ...... 43 ...... 45 کی روشنی میں ...... 47 ...... 47 ...... 47 ...... 47 ل ہے ...... 48 ...... 48 ...... 49

5

فہرست

آپؐ کی اپنی امت کے ساتھ خاص شفقت ...... 49 حضرت معاویہؓ کی گستاخی کرنے والے کا عبرتناک انجام ...... 50 موضوع ...... 3 ...... 51 ...... تحفظ ناموس رسالت پر اکابر کے ارشادات ...... ...... 51 ختم نبوت کا تحفظ نہ کرنے والا نااہل ہے ...... 51 تحفظ ختم نبوت کے لئے مسلمانوں کا جذبہ ...... 51 مولانا ظفر علی خان کا مرزا قادیانی کو ایک ہزار بار دجال کہنا ...... 51 علامہ اقبال کا باغی ختم نبوت کے ساتھ بیٹھنے سے انکار ...... 52 حضرت شاہ صاحب کے ارشادات ...... 52 موضوع ...... 4 ...... 54 ...... سچے عاشقان رسول کے واقعات ...... ...... 54 فرانسیسی استاذ کا گستاخی رسول پر معافی مانگنا ...... 54 تحفظ ناموس رسالت پر ایک تو کیا دس بیٹے ہوں تو وہ بھی قربان ہیں ...... 55 سچے عاشق رسول کا انگریز جج کو للکارنے کا واقعہ ...... 55 ناموس رسالت پر ایک بچے کے جذبات کا انوکھا واقعہ ...... 56 حضرت شاہ صاحب کا نبی کی گستاخی کا سن کر سر سے پگڑی اتار دینا ...... 58 مولانا محمد علی جوہر کا انگریزی عدالت میں گستاخ رسول کو للکار کر دھمکی دینا ...... 58 قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے فیصلے والے دن کی بے چینی کی انتہا ...... 59 تحفظ ناموس رسالت کے جلسہ میں جرأت اور بہادری کا واقعہ ...... 60 ایک مسلمان لوہار کا اپنے محبوب نبی سے محبت کے اظہار کا واقعہ ...... 61 اختر شیرانی کا تعجب خیز عشق رسول کا واقعہ ...... 62 مردان میں عشق رسول اور غیرت ایمانی کا ایمان افروز واقعہ ...... 64 موضوع ...... 5 ...... 66 ...... تحفظ ناموس رسالت کا غیبی حکم ...... ...... 66

صفحہ 6

آسان مطالعہ مرتب پروفیسر

فہرست

آپ ﷺ کا ختم نبوت کی حفاظت کرنے کا حکم ................................. 66 آپ ﷺ کا پیر مہر علی شاہ کو قادیانی کی سرکوبی کا حکم ................................. 66 سلطان نور الدین زنگی کے ذریعے تحفظ ختم نبوت کی خدمت کا واقعہ ................................. 67 موضوع ...... 6 ................................. 71 ....... عاشقان رسول کے ہاتھوں گستاخانِ رسول کے عبرت ناک انجام ................................. 71 برصغیر میں عاشقانِ رسول کا کمال ................................. 71 عاشقِ رسول عامر چیمہ کا مختصر تعارف ................................. 71 عامر چیمہ کا گستاخ رسول کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرنا ................................. 72 عامر چیمہ کا حرمتِ رسول پر بہترین ملازمت کا قربان کرنا ................................. 73 عامر شہید کے خون سے ختم نبوت کی آبیاری ................................. 74 نام نہاد عالمی اداروں کی اسلام دشمنی کی چند مثالیں ................................. 74 عامر شہید کی شہادت کا واقعہ ................................. 75 آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والی لڑکی کا عبرت ناک انجام ................................. 76 آپ ﷺ کے فرمان کی تحقیر کرنے پر ایک طالب علم کا انجام ................................. 77 پرچم نبوی کی توہین کرنے والے مقرر کے چہرے کا بگڑ جانا ................................. 78 گستاخ رسول ریاض احمد عرف گوہر شاہی کی عبرت ناک موت ................................. 78 انگریز کی حکومت ہند کی بنیاد توہین رسالت پر ................................. 79 ہے کوئی دفاع کرنے والا ................................. 80 غازی عبدالرحمٰن شہید کے ہاتھوں ایک گستاخ رسول سکھ کی موت ................................. 80 غازی عبدالرحمٰن کی شہادت کا عدالتی فیصلہ ................................. 82 نبی کا خواب میں گستاخ رسول کا حلیہ بتانا ................................. 82 آپ کی شان میں سکھ ڈاکٹر کی گستاخی ................................. 83 غازی مرید حسین کے ہاتھوں ایک سکھ ڈاکٹر کے عبرت ناک انجام ................................. 83 عاشق رسول کے ہاتھوں ایک عیسائی سیموئیل کی موت ................................. 86

فہرست

تحفظ ناموس رسالت کی خاطر ایک مجاہد سپاہی کے ہاتھوں سکھ میجر عبرت ناک موت ریلوے سے وابستہ محافظ ختم نبوت بابو معراج پاکپتن میں ظہور دجال بشکل مہدی امام مہدی کی جائے وقوع ........ میں نے پوچھا کہ کوئی معجزہ بھی عطا ہوا نوجوان کے ہاتھوں مہدی کا دعویٰ کرنے شاتم رسول ویر بھان کے پراسرار قتل کا محافظ ختم نبوت کے ہاتھوں لیکھر رام کا قتل غازی حنیف کا قرآن کی توہین کی مجرمہ غازی محمد منیر شہید کا شاتم رسول کو قتل کرنا غازی غلام محمد شہید کے ہاتھوں ایک سکھ بھری محفل میں مسلم نوجوان کے ہاتھوں مخالفین ختم نبوت کا دنیاوی عبرت ناک انجام تحریک ختم نبوت کا مخالف گورنر کی عبرت ناک دشمن رسول سکندر مرزا کا عبرت ناک انجام تحریک ختم نبوت کے لئے بھٹو کا ایک گستاخ رسول سلمان رشدی کی شیطانی بدترین توہین رسالت پر تحفظ ختم نبوت شہدائے تحفظ ختم نبوت ............ ملعون رشدی واجب القتل کیوں؟.. توہین رسالت سے اہل یورپ کے اصلی مرزا غلام احمد قادیانی کے چوراسی جھوٹے مرزا قادیانی کی مذہب سے چھیڑ چھاڑ

صفحہ 7

فہرست

تحفظ ناموس رسالت کی خاطر ایک عیسائی کاہن کو آگ لگانا ........................ 87 سپاہی کے ہاتھوں سکھ میجر عبرت ناک موت ........................ 87 پہلے سے وابستہ محافظ ختم نبوت بابو معراج دین کو شہادت کا پروانہ ........................ 89 پاکپتن میں ظہور دجال بشکل مہدی ........................ 90 امام مہدی کی جائے وقوع ........................ 91 میں نے پوچھا کہ کوئی معجزہ بھی عطا ہوا؟ ........................ 91 نوجوان کے ہاتھوں مہدی کا دعویٰ کرنے والے کا عبرت ناک انجام ........................ 92 شاتم رسول ویر بھان کے پراسرار قتل کا واقعہ ........................ 93 محافظ ختم نبوت کے ہاتھوں لیکھرام کا عبرت ناک انجام ........................ 93 غازی حنیف کا قرآن کی توہین کی مجرم خاتون کو قتل کرنے کا واقعہ ........................ 94 غازی محمد منیر شہید کا شاتم رسول کو قتل کر کے شہادت کا رتبہ پانا ........................ 94 غازی غلام محمد شہید کے ہاتھوں ایک سکھ کی عبرت ناک موت ........................ 95 بھری محفل میں مسلم نوجوان کے ہاتھوں سکھ کا بے دردی سے قتل ........................ 96 مخالفین ختم نبوت کا دنیاوی عبرت ناک انجام ........................ 96 تحریک ختم نبوت کا مخالف گورنر کی عبرت ناک موت کا تحفہ ........................ 97 دشمن رسول سکندر مرزا کا عبرت ناک انجام ........................ 97 تحریک ختم نبوت کے لئے بھٹو کا ایک ذلت انگیز جملہ ........................ 98 گستاخ رسول سلمان رشدی کی شیطانی خرافات کے غلیظ الفاظ ........................ 99 بدترین توہین رسالت پر تحفظ ختم نبوت کا عظیم الشان جلوس ........................ 100 شہدائے تحفظ ختم نبوت ........................ 100 ملعون رشدی واجب القتل کیوں؟ ........................ 101 توہین رسالت سے اہل یورپ کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ ........................ 101 مرزا غلام احمد قادیانی کے چوراسی جھوٹے دعوے ........................ 102 مرزا قادیانی کی مذہب سے چھیڑ چھاڑ کی اصل وجہ؟ ........................ 104

صفحہ 8

فہرست

الہامات کی آمد اور ابتدائے کذب.................................. 106 مرزا قادیانی کا منحوس علمی کارنامہ اور جوئے کی ابتدا............ 107 مرزا کا ہر پندرہ منٹ بعد رفع حاجت کے لئے جانا................ 108 مرزا قادیانی کی عبرت ناک زندگی کا عبرت ناک انجام......... 109 یوسف کذاب کا دعویٰ نبوت اور گھناؤنی غیر اخلاقی حرکات....... 110 ملعون کذاب کا اپنے معتقدین کو اپنی بیویوں کو چھوڑنے کی ترغیب... 111 ملعون یوسف کا اپنی پشت پر مہر نبوت کا دعویٰ..................... 112 یوسف کذاب کا کارنامہ بیک وقت ایک بیوی کا دو شوہر رکھنا..... 113 ملعون یوسف گانوں کے شوق کی انتہاء.............................. 114 ملعون یوسف کذاب کی مذہب کے نام پر اخلاقی بے ہودگیاں....... 114 ملعون یوسف کذاب کی خواتین کے ساتھ انتہائی شرمناک حرکات.. 115 ملعون یوسف کذاب کا بھابھی سے تعلقات کا نتیجہ................ 116 گستاخ رسول یوسف کذاب کی ذلت آمیز موت................... 117 یوسف کذاب کی نعش دھوکہ سے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا......... 118 مسلمانوں کے قبرستان سے یوسف کذاب کی نعش کا اخراج...... 119 پہنچی وہیں پہ خاک، جہاں کا خمیر تھا.............................. 120 یوسف کذاب کی قبر میں شدید بد بو اور تعفن....................... 121 ایک عظیم عاشق رسول صوفی عبداللہ کا تذکرہ..................... 121 صوفی عبداللہ کو خواب میں شاتم رسول کو قتل کرنے کا حکم نبوی... 122 صوفی عبداللہ کے ہاتھوں مرتد شاتم رسول کا عبرتناک انجام...... 123 شاتم رسول نور محمد جٹ نے عورت کے چکر میں ایمان کا سودا کیا........ 123 صوفی عبداللہ کا شاتم رسول کو بیوی سمیت جہنم واصل کرنا....... 124 صوفی صاحب کا بخوشی اقبال جرم کرنا............................. 125 عاشق رسول محمد صدیق کے ابتدائی حالات...................... 126

فہرست

پالامل نامی ہندو سنار کی شان رسالت... حب رسولؐ میں جان قربان کرنے... ناموس رسالت پر قربان ہونے کے... عاشق رسولؐ نے گستاخ رسول کو اس... ملعون کا جسم چاقو سے چھلنی کر دیا...... عصمت رسول پر جان دینا بھی اعزاز... غازی کی والدہ کا آپؐ سے محبت کا والہ... غازی محمد صدیق کی آخری وصیت...... بابا فضل کا عشق رسولؐ اور ہندو کے سوال... ایک ہندو کا نام محمدؐ کا مذاق اڑانا........... ہندو کی نام محمدؐ کی گستاخی پر عاشق رسول... عشق رسولؐ میں عبدالرشید کا سر سے خون... عشق رسول پر مار کھانے پر عبدالرشید کا... غازی عبدالقیوم کا مختصر تعارف.............. نتھو رام کی تحریک توہین رسالت میں مسلم... غازی عبدالقیوم کے ہاتھوں گستاخ رسول... محافظ ختم نبوت عدالت کے کٹہرے میں... غازی کو بچانے کے لیے وکیل صفائی کی... ناموس نبوت پر ہر مسلم کا جذبہ قربانی...... عاشق رسولؐ کو پھانسی کی سزا............ سزائے موت کے فیصلے پر غازی کا جرات... غازی کو بزدل انگریز کا اندھیرے میں... غازی کے جنازہ پر گوروں کی اندھا دھند... جیل میں غازی کی غیبی مدد دیکھ کر سکھ کا قبو...

صفحہ 9

آسان مطالعہ مرکز اہلسنت

جوے کی ابتدا ......................................... 106 ت کے لئے جانا ........................................ 107 کا عبرت ناک انجام ..................................... 108 اؤنی غیر اخلاقی حرکات ................................. 109 نی بیویوں کو چھوڑنے کی ترغیب .......................... 110 ت کا دعویٰ ............................................ 111 ایک بیوی کا دو شوہر رکھنا .............................. 112 نجاء ................................................... 113 ے نام پر اخلاقی بے ہودگیاں ............................ 114 ے ساتھ انتہائی شرمناک حرکات ........................ 114 تعلقات کا نتیجہ ........................................ 115 ت آمیز موت ............................................ 116 قانون کے قبرستان میں دفن کرنا ........................ 117 کذاب کی نعش کا اخراج ................................. 118 ....................................................... 119 ....................................................... 120 تکفین ................................................. 121 تذکرہ ................................................. 121 کو قتل کرنے کا حکم نبوی ............................... 122 رسول کا عبرت ناک انجام ............................... 123 ے چکر میں ایمان کا سودا کیا ........................... 123 ت جہنم واصل کرنا ...................................... 124 ....................................................... 125 ....................................................... 126

فہرست

پالامل نامی ہندو سنار کی شان رسالت میں گستاخی ................................... 127 حب رسول میں جان قربان کرنے کے بعد بھی بے قرار .............................. 128 ناموس رسالت پر قربان ہونے کے لئے ماں کا بخوشی اجازت دینا ..................... 128 عاشق رسول نے گستاخ رسول کو اس کے ناپاک خون میں نہلا دیا ...................... 129 ملعون کا جسم چاقو سے چھلنی کر دیا ................................................. 130 عصمت رسول پر جان دینا بھی اعزاز ہے ............................................ 130 غازی کی والدہ کا آپؐ سے محبت کا والہانہ انداز ...................................... 132 غازی محمد صدیق کی آخری وصیت .................................................. 133 بابا فضل کا عشق رسولؐ اور ہندو کے سوال کا جواب ................................. 134 ایک ہندو کا نام محمد کا مذاق اڑانا .................................................. 136 ہندو کی نام محمد کی گستاخی پر عاشق رسول کا ردعمل .................................. 137 عشق رسولؐ میں عبدالرشید کا سر سے خون بہنا ....................................... 137 عشق رسول پر مار کھانے پر عبدالرشید کا مقام اور مرتبہ .............................. 138 غازی عبدالقیوم کا مختصر تعارف ................................................... 139 نتھو رام کی تحریک توہین رسالت میں مسلمانوں کا ردعمل .............................. 139 غازی عبدالقیوم کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام ......................... 140 محافظ ختم نبوت عدالت کے کٹہرے میں ............................................ 142 غازی کو بچانے کے لیے وکیل صفائی کی انوکھی بحث ................................. 144 ناموس نبوت پر ہر مسلم کا جذبہ قربانی ............................................. 145 عاشق رسولؐ کو پھانسی کی سزا .................................................... 146 سزائے موت کے فیصلے پر غازی کا جرأت مندانہ اقدام ............................... 147 غازی کو بزدل انگریز کا اندھیرے میں پھانسی دینا ................................... 148 غازی کے جنازہ پر گوروں کی اندھا دھند فائرنگ .................................... 148 جیل میں غازی کی غیبی مدد دیکھ کر سکھ کا قبول اسلام ................................ 150

صفحہ 10

فہرست

گستاخ رسول پر عبدالمنان کے ہاتھوں عبرت ناک انجام.................................. 151 غازی عبدالمنان کا فخر سے اقبال جرم کرنا............................................ 153 گستاخ رسول کا مسلم نوجوان کے ہاتھوں عبرت ناک انجام کا احوال...................... 154 گستاخ کو قتل کر کے جنت کا متوالا غازی.............................................. 155 غازی منظور حسین شہید کے ہاتھوں ہندو کی عبرت ناک موت........................... 157 سچے عاشق رسول کے ابتدائی حالات اور جسمانی طاقت کا اندازہ........................ 158 مولانا موصوف کی کہانی ان کے والد کی زبانی........................................... 159 ماسٹر عبدالعزیز کا عشق رسول میں سرشار ہو کر تختہ دار پر لٹک جانا....................... 160 بزدل پولیس نے سرفروشوں کو نیند میں شہید کر دیا...................................... 160 جانثار غازی محمد کی سوانح عمری اور ابتدائی حالات..................................... 161 نعت خوانی میں توہین رسالت پر غازی کا شدید ردعمل کا اظہار............................ 162 غازی میاں محمد کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام............................. 164 ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے میاں غازی کو ذہنی مریض قرار دینا........................ 165 عدالت میں غازی کا جرات مندانہ اقبالی بیان اور سزائے موت کا حکم...................... 166 شہادت سے پہلے نماز عید میں مسلمانوں سے ایمان افروز خطاب.......................... 167 میاں محمد شہید کی اپنے بھائی اور بیوی کو آخری وصیت................................... 168 میاں غازی کی آخری خواہش......................................................... 168 غازی علم الدین شہید کی سوانح عمری اور ابتدائی حالات.................................. 169 غازی کے بڑے بھائی کا ایک سچا خواب اور باہمی محبت کا انداز.......................... 170 غازی علم الدین شہید کے والد اعلیٰ اخلاق کی ایک روشن مثال............................ 171 غازی علم کی قسمت کی سرفرازی کا وقت آخر آ ہی گیا................................... 173 غازی علم الدین پر عشق رسول سے لبریز تقریر کا اثر..................................... 174 عطاء اللہ شاہ بخاری کا گستاخ رسول کے خلاف ولولہ انگیز خطاب........................... 176 دو عاشقان رسول کا گستاخ رسول کو انجام سے دو چار کرنا................................ 178

فہرست

علم الدین کا گستاخ رسول کو ٹھکانے لگا غازی علم الدین کے ہاتھوں راجپال م ملعون کے قتل پر ہندوؤں کا واویلا علم الدین کے اہل وعیال کا حیرت وخو انگریز حکومت خاموشی سے توہین رسال ایک انصاف پسند ہندو رہنما کی تائید ف عاشق رسولؐ کی سزا سے متعلق عدال قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے غ غازی علم الدین کی جیل کی کوٹھری میں ح پیر سیال شریف صاحب کا غازی سے م جیل میں غازی صاحبؒ کی کرامتوں ک فتنہ ارتداد کا بانی اور شاتم رسول....... شاتم رسول کے مختصر حالات.......... شردھا نند کا جامع مسجد دلی میں تاریخی خ شردھا نند کا اسلام اور مسلمانوں کے خلا شدھی تحریک کی مسلمانوں کے خلاف گم شدھی تحریک کے بانی اور چیلوں کے خلا عاشق رسولؐ کے ہاتھوں گستاخ رسول ک قاضی صاحب کے اقبال جرم پر شہادت عاشق رسولؐ کے جنازے پر عوام کا س ایک درویش صفت گمنام عاشق رسول کی عاشق رسول کا گستاخ رسول کو انجام سے دشمن رسول سے انتقام کے لیے پشاور س شان رسالت میں گستاخی کرنے والے ب

صفحہ 11

پروفیسر تحریک کے

وں عبرتناک انجام)........................................ 151 م کرنا.......................................................... 153 اتھوں عبرتناک انجام کا احوال.............................. 154 ممتاز کی........................................................ 155 ہندو کی عبرتناک موت........................................ 157 ت اور جسمانی طاقت کا اندازہ............................. 158 لکھ کی زبانی.................................................. 159 ر نثار ہوکر تختہ دار پر لٹک جانا.............................. 160 یں شہید کر دیا.............................................. 160 بتدائی حالات............................................... 161 ذی کا شدید ردعمل کا اظہار................................ 162 رسول کا عبرتناک انجام.................................. 164 ن غازی کو ذہنی مریض قرار دینا............................ 165 لی بیان اور سزائے موت کا حکم............................. 166 وں سے ایمان افروز خطاب................................ 167 کو آخری وصیت............................................. 168 .................................................................. 168 اور ابتدائی حالات......................................... 169 ن اور باہمی محبت کا انداز................................ 170 ق کی ایک روشن مثال..................................... 171 پکڑا ہی گیا................................................. 173 تقریر کا اثر.................................................. 174 خلاف ولولہ انگیز خطاب.................................. 176 ہنے سے دو چار کرنا........................................ 178

نِشانِ رَاہ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

آسان مطالعہ

فہرست

علم الدین کا گستاخ رسول کو ٹھکانے لگانے کے لیے قرعہ اندازی کرنا....... 179 غازی علم الدین کے ہاتھوں راجپال ملعون کا عبرتناک انجام............. 180 ملعون کے قتل پر ہندوؤں کا واویلا.......................................... 181 علم الدین کے اہل وعیال کا حیرت وخوشی کا حسن امتزاج............... 181 انگریز حکومت خاموشی سے توہین رسالت کا تماشا دیکھتی رہی............ 182 ایک انصاف پسند ہندو رہنما کی تائید فریقین کے لیے نعمت عظمیٰ......... 183 عاشق رسولؐ کی سزا سے متعلق عدالت کی اسلام دشمنی.................. 183 قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے غازی علم الدین کا دفاع........... 184 غازی علم الدین کی جیل کی کوٹھری میں پرنور روشنی..................... 185 پیر سیال شریف صاحب کا غازی سے ملاقات کے دوران واقعہ............ 186 جیل میں غازی صاحبؒ کی کرامتوں کا ظہور.............................. 186 فتنہ ارتداد کا بانی اور شاتم رسول.......................................... 187 شاتم رسول کے مختصر حالات................................................ 187 شردھانند کا جامع مسجد دہلی میں تاریخی خطاب............................. 188 شردھانند کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھیانک رویے.................. 189 شدھی تحریک کی مسلمانوں کے خلاف گھناؤنی سازشیں.................. 190 شدھی تحریک کے بانی اور چیلوں کے خلاف بے چینی کا اشتعال........... 191 عاشق رسولؐ کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام.............. 192 قاضی صاحب کے اقبال جرم پر شہادت کا تحفہ............................ 193 عاشق رسولؐ کے جنازے پر عوام کا بے پناہ ہجوم.......................... 193 ایک درویش صفت گمنام عاشق رسول کی داستان عقیدت................ 195 عاشق رسول کا گستاخ رسول کو انجام سے دو چار کرنے کے لیے روانگی...... 197 دشمن رسول سے انتقام کے لیے پشاور سے کلکتہ کا سفر کرنا................ 198 شان رسالت میں گستاخی کرنے والے مصنف کی ہٹ دھرمی.............. 199

صفحہ 12

سل کی حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ تعلیم اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۴۱۴، خزائن ج ۳ ص ۳۳۲)

۶

فہرست

دونوں عاشقان رسولؐ نے ملعون کو انجام تک پہنچا دیا.................................. 200 آقا پر قربان ہونے کی تڑپ کو دیکھ کر جج اور وکلاء بھی حیران رہ گئے....... 201 دونوں غازیوں کی والداؤں کی ایمان افروز باتیں..................................... 201 غازیوں کا شہادت کے وقت اضطراب کی اصل وجہ................................ 202 مولانا لال حسین قادیانی کا چیلنج قبول کرنا............................................ 203 قادیانی مناظر کی سرکشی اور عوام میں خوف و ہراس................................. 204 غازی محمد کی والدہ کا بیٹے کو شاتم رسول کی گردن زدنی کا حکم دینا............ 205 حاجی محمد کے ہاتھوں شاتم رسول عبدالحق کا عبرت ناک انجام.................. 206 گستاخ رسول کے قتل کے بعد عاشق رسول کی خوشی کا عالم..................... 208 پولیس افسر کی بیوی بحکم نبی پاکؐ غازی کی خدمت پر مامور.................. 209 جیل کی پڑوسن سیّدہ کو غازی کی خدمت کی بشارت............................... 210 عدالت میں جرم کا بخوشی اقرار اور سزا کا فیصلہ..................................... 211 غازی صاحب کا تختہ دار پہ لٹک جانا اور آخری وصیت کرنا...................... 213 موضوع....... 7 .......آپؐ کے دور کے گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام...... 215 آپؐ کے زمانہ کا کذاب طلیحہ اسدی......................................................... 215 مدعی نبوت کذاب کی نظر میں نماز کا مفہوم........................................... 215 نبی پاکؐ کی خدمت میں کذاب کا قاصد............................................... 215 آپؐ کے حکم پر کذاب کے خلاف حضرت ضرارؓ کے لشکر کا جہاد اور فتح یابی... 216 آپؐ کے بعد مرتدین سے حضرت ابو بکر صدیقؓ کا قتال................................ 216 میدان جنگ میں حبال کا قتل اور طلیحہ کی فوج کو عبرت ناک شکست....... 218 نبوت کے جھوٹے دعویدار کا قبول اسلام................................................ 219 اسود عنسی جھوٹا شعبدہ باز مدعی نبوت....................................................... 220 اسود عنسی کا شہر باذان کی بیوہ سے زبردستی نکاح.................................. 220

فہرست

جھوٹے نبی اسود عنسی کا عبرت ناک انجام یمن میں ہلاک کئے جانے والے اسود یمن کذاب کے قتل کے بعد پھر اسلامی آپؐ سے مسیلمہ کذاب کا خلافت طلب مسیلمہ کذاب کا دعویٰ نبوت......... آپؐ کی پیشینگوئی مسیلمہ کذاب کے مسیلمہ کذاب کا آپؐ کا خط لانے والے مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ حضرت زید بن خطابؓ کے ہاتھوں مسلما مسیلمہ کا عبرت ناک انجام اور مسلمانوں کی ابو عفک یہودی کا سالم بن عمیرؓ کے ہا ابو عفک کی گستاخانہ نظم سن کر آپؐ کا صحا گستاخ رسولؐ یہودی تاجر کے قتل کا آپؐ کا شاتم رسول کے قتل کی بخوشی ا صحابیؓ کی ٹانگ کا ٹوٹنا اور لعاب مبارک کعب بن اشرف کا کافروں کو مسلمانوں کعب ابن اشرف کے قتل کیلئے محمد بن مسل کعب بن اشرف کو حیلہ سے قتل کرنا.. یہودیوں کا مسلمانوں سے خوفزدہ ہونا کعب بن اشرف کے گستاخانہ جرائم ب ابولہب کی مذمت میں اللہ تعالیٰ کا سور ابولہب کا آپؐ کو مختلف طریقوں س ابولہب کی آپؐ کو لعنت و ملامت.. ابولہب کی عبرت ناک موت.........

صفحہ 13

رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ ... اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴ خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

12 ...ی کو انجام تک پہنچا دیا۔ .................................... 200 ...کے جج اور وکلاء بھی حیران رہ گئے۔ ............................ 201 ایمان افروز باتیں۔ ............................................. 201 ...راب کی اصل وجہ ............................................ 202 قبول کرنا ..................................................... 203 ...ض خوف و ہراس ........................................... 204 رسول کی گردن زدنی کا حکم دینا .................................. 205 ...عبدالحق کا عبرت ناک انجام .................................. 206 عشق رسول کی خوشی کا عالم ..................................... 208 ...غازی کی خدمت پر مامور ...................................... 209 ...مت کی بشارت ............................................. 210 ...سزا کا فیصلہ ................................................ 211 ...لانا اور آخری وصیت کرنا ...................................... 213 ...اخان رسول کا عبرتناک انجام...... .......................... 215 ... ........................................................ 215 ...مفہوم .................................................... 215 ...مقاصد .................................................... 215 ...حضرت ضرارؓ کے لشکر کا جہاد اور فتح یابی ... .................... 216 ...صدیقؓ کا قتال ............................................. 216 ...کی فوج کو عبرتناک شکست ................................... 218 ... ........................................................ 219 ... ........................................................ 220 ...حق نکاح .................................................. 220

فہرست

جھوٹے نبی اسود عنسی کا عبرتناک انجام.................................. 221 یمن میں ہلاک کئے جانے والے اسود عنسی کی ہلاکت کی اطلاع.......... 222 یمن کذاب کے قتل کے بعد پھر اسلامی مملکت بن گیا...................... 223 آپؐ سے مسیلمہ کذاب کا خلافت طلب کرنا اور آپؐ کا جواب............. 223 مسیلمہ کذاب کا دعویٰ نبوت............................................ 224 آپؐ کی پیشینگوئی مسیلمہ کذاب کے بارے میں.......................... 224 مسیلمہ کذاب کا آپؐ کا خط لانے والے قاصدوں پر اظہارِ غصہ.......... 225 مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ.................................. 226 حضرت زید بن خطابؓ کے ہاتھوں مسیلمہ کے مشیر کا انجام.............. 227 مسیلمہ کا عبرتناک انجام اور مسلمانوں کی فتح............................. 228 ابوعفک یہودی کا سالم بن عمیرؓ کے ہاتھوں عبرتناک انجام............... 228 ابوعفک کی گستاخانہ نظم سن کر آپؐ کا صحابہؓ کو اسے قتل کرنے کا حکم....... 229 گستاخ رسولؐ یہودی تاجر کے قتل کا حکم بہ زبانِ نبوی.................. 229 آپؐ کا شاتم رسول کے قتل کی بخوشی اجازت دینا....................... 229 صحابیؓ کی ٹانگ کا ٹوٹنا اور لعابِ مبارک................................. 231 کعب بن اشرف کا کافروں کو مسلمانوں کے ابھارنا...................... 231 کعب ابن اشرف کے قتل کیلئے محمد بن مسلمہ کو حکم نبویؐ................... 232 کعب بن اشرف کو حیلہ سے قتل کرنا..................................... 234 یہودیوں کا مسلمانوں سے خوفزدہ ہونا.................................. 236 کعب بن اشرف کے گستاخانہ جرائم................................... 237 ابولہب کی مذمت میں اللہ تعالیٰ کا سورۃ نازل کرنا....................... 238 ابولہب کا آپؐ کو مختلف طریقوں سے اذیت دینا........................ 238 ابولہب کی آپؐ کو لعنت وملامت..................................... 239 ابولہب کی عبرتناک موت............................................. 239

صفحہ 14

رسل کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ قطعی اور الہامی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

فہرست

عتیبہ بن ابی لہب کا عبرتناک انجام............................... 240 آپؐ کے قتل کی سازش کرنے والے دو گستاخوں کا انجام.................. 240 عبداللہ بن انیسؓ کے ہاتھوں شاتم رسول کا انجام....................... 242 شاتم رسولؐ کو کعبۃ اللہ نے بھی امن نہ دیا........................... 243 عقبہ ابن ابی معیط کا آپؐ کی بے ادبی کی انتہاء......................... 244 حضرت عاصم بن ثابت کے ہاتھوں ابن ابی معیط کا انجام.................... 245 واقعہ قتل ابو جہل.............................................. 247 ابو جہل کا آپؐ کے قتل کا ناپاک منصوبہ............................... 249 آپؐ کی حفاظت پر مامور فرشتے کو دیکھ کر ابو جہل کا خوفزدہ ہونا............. 249 آپؐ کے مکتوب کو ریزہ ریزہ کرنے والے شہنشاہ.......................... 250 آپؐ کو ابتر کہنے والے مشرکین کا عبرت ناک انجام....................... 251 شاتمین رسولؐ کا صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں قتل....................... 252 حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھوں رسولؐ پر الزام لگانے والے کا عبرتناک انجام.......... 252 میدان جنگ میں شاتم رسول کا ایک صحابی کے ہاتھوں قتل................... 253 شاتم رسول باپ کا اپنے بیٹے صحابیؓ کے ہاتھوں قتل....................... 253 حضرت خالد بن ولیدؓ اور زبیر بن عوامؓ کے ہاتھوں گستاخ رسول کا انجام..... 253 توہین رسالت کے مرتکب نو بھائیوں کا قتل.............................. 254 دو شاتمین رسول جرین اسود اور نافع بن عبد کو قتل کرنے کا حکم نبوی........... 255 حضرت سعد بن معاذؓ کے ہاتھوں ایک شاتم رسول کی موت.................... 255 آپؐ کے خلاف سازش کرنے والے یہودی بحکم نبوی گھر سمیت نذر آتش....... 256 توہین رسالت کرنے والے مرتد کو قبر نے بھی قبول نہ کیا................... 256 آپؐ کی طرف مذموم ارادہ سے بڑھنے والے کا عبرتناک انجام................. 257 گستاخ قبیلہ بنو فرازہ کے ساتھ جہاد بالسیف............................... 257 گستاخ رسول جن کا عبداللہ نامی جن کے ہاتھوں عبرتناک انجام............... 258

فہرست

شاتم رسول سیف اللہؓ کی سیف... آپؐ کی نصیحت کی بے ادبی کرنے... آپؐ کو تکلیف دینے کے ارادہ سے... بنات رسول اللہؐ کو ایذا دینے پر حضرت... آپؐ کی دعوت کا مذاق اڑانے وال... حضرت عمرؓ کا آپؐ کے فیصلے کو نہ ما... آپؐ کا حلیہ بنا کر صحابہؓ کو گمراہ کر... صحابہؓ سے غداری کرنے والے شاتم... عبداللہ بن ابی کی منافقت پر سورہ منا... عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا عشق رسول... ابن ابی حدردؓ کو رفاعہ کے قتل کرنے... حضرت زبیرؓ اور عاصمؓ کے ہاتھوں معا... محیصہ بن مسعود کے ہاتھوں ابن سینہ... فتنہ قادیانیت کے چند گستاخانہ جملے... موضوع....... 8 ....... گستاخ رسول خواتین... توہین رسالت کی مرتکب مستورات... شاتمین رسول ابن خطل کی دو لونڈیوں... ایک صحابی کا اپنے ہی قبیلہ کی شاتم رسو... حضرت عمیرؓ کا شاتم رسول اپنی بہن... حضرت خالد بن ولیدؓ کا ایک شاتم... ابولہب کی بیوی ام جمیل کی عبرتناک مو... ایک صحابی کا اپنی گستاخ رسول بیوی کو... ایک نابینا صحابی کے ہاتھوں ایک یہو...

صفحہ 15

رسول کی حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ وحی حاصل کرے۔ اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴ خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

ستاخوں کا انجام ........................................................................ 240 ناک انجام .............................................................................. 240 ر دیا .................................................................................... 242 کی انتہاء ................................................................................ 243 ابی معیط کا انجام ........................................................................ 244 .......................................................................................... 245 .......................................................................................... 247 کر ابو جہل کا خوفزدہ ہونا ................................................................. 249 لے شہنشاہ .............................................................................. 249 ناک انجام .............................................................................. 250 ہاتھوں قتل .............................................................................. 251 نے والے کا عبرت ناک انجام ............................................................ 252 کے ہاتھوں قتل .......................................................................... 252 تھوں قتل ............................................................................... 253 تھوں گستاخ رسول کا انجام ............................................................. 253 .......................................................................................... 254 قتل کرنے کا حکم نبوی .................................................................. 255 رسول کی موت ......................................................................... 255 حکم نبوی گھر سمیت نذر آتش .......................................................... 256 رسول نہ کیا ............................................................................ 256 الے کا عبرت ناک انجام ................................................................ 257 .......................................................................................... 257 کا عبرت ناک انجام ..................................................................... 258

فہرست

شاتم رسول سیف اللہ کی سیف سے واصل جہنم ........................................... 259 آپ کی نصیحت کی بے ادبی کرنے والے کے ہاتھ کا شل ہو جانا ............................. 259 آپ کو تکلیف دینے کے ارادہ سے آنے والوں کا انجام ...................................... 259 بنات رسول اللہ کو ایذاء دینے پر حضرت علی کے ہاتھوں عبرت ناک انجام ................... 260 آپ کی دعوت کا مذاق اڑانے والے پر آسمانی بجلی کا گرنا .................................. 260 حضرت عمر کا آپ کے فیصلے کو نہ ماننے والے منافق کا سر قلم کرنا ....................... 262 آپ کا حلیہ بنا کر صحابہ کو گمراہ کرنے والے ابو جعدہ کا عبرت ناک انجام .................... 263 صحابہ سے غداری کرنے والے شاتم رسول یہودی کا عبرت ناک انجام ....................... 264 عبداللہ بن ابی کی منافقت پر سورہ منافقون کا نزول ......................................... 264 عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا عشق رسول ..................................................... 266 ابن ابی حدرد کو رفاعہ کے قتل کرنے پر 13 اونٹ بطور انعام ملنا ............................ 266 حضرت زبیر اور عاصم کے ہاتھوں معاویہ بن مغیرہ کی موت ................................ 267 محیصہ بن مسعود کے ہاتھوں ابن سینہ یہودی کی موت ....................................... 268 فتنہ قادیانیت کے چند گستاخانہ جملے ....................................................... 269 موضوع ....... 8 ....... گستاخ رسول خواتین کے عبرت ناک انجام ....... 271 توہین رسالت کی مرتکب مستورات کے بارے میں حکم نبوی ................................ 271 شاتمین رسول ابن خطل کی دولونڈیوں کا عبرت ناک انجام ................................. 271 ایک صحابی کا اپنے ہی قبیلہ کی شاتم رسول کو قتل کرنا ........................................ 271 حضرت عمیر کا شاتم رسول اپنی بہن کو قتل کرنا ............................................. 272 حضرت خالد بن ولید کا ایک شاتم رسول عورت کو قتل کرنا .................................. 272 ابولہب کی بیوی ام جمیل کی عبرتناک موت کا واقعہ .......................................... 273 ایک صحابی کا اپنی گستاخ رسول بیوی کو قتل کرنے کا واقعہ ................................... 273 ایک نابینا صحابی کے ہاتھوں ایک یہودی عورت کی عبرتناک موت ........................... 274

صفحہ 16

صل کی حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

فہرست

گستاخ رسول مروان کی بیٹی عصمہ کا انجام ...... 275 موضوع ...... 9 ...... 276 ...... صحابہ کرام کے دور کے گستاخان رسول کے واقعات ...... 276 حضرت عمرؓ کا ایک شاتم رسول کی گردن اڑانے کا حکم ...... 276 اہل اسلام کا مسیلمہ کذاب کی فوج سے مقابلہ ...... 276 حیلہ سے گستاخی کرنے والے کا حضرت عمر فاروقؓ کے ہاتھوں قتل ہونا ...... 277 جھوٹی نبیہ اور جھوٹا نبی کا ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہونا ...... 278 مسیلمہ اور سجاح کذابین کا فرضی نکاح اور بے حیائی کی انتہا ...... 279 جھوٹی نبیہ سجاح کی دعوائے نبوت سے توبہ اور قبول اسلام ...... 281 مختار ثقفی کی دوغلی پالیسی اور کوفہ پر قبضہ کی سازش ...... 282 قاتلان حسین سے انتقام لے کر اہل بیت کو جھوٹی محبت کا جھانسہ دینا ...... 283 مختار ثقفی کا جھوٹی نبوت کا اعلان کرنا ...... 284 مختار ثقفی کے جھوٹا ہونے کی پیشن گوئی لسان نبوی سے ...... 285 مختار ثقفی کے لشکر کی مصعب بن زبیرؓ کے ہاتھوں عبرتناک شکست ...... 286 مصعب بن زبیرؓ کے ہاتھوں مختار کذاب اور اس کی بیوی کا انجام ...... 288 موضوع ...... 10 ...... 289 ...... صحابہ کرام کے بعد کے دور کے گستاخان رسول کے واقعات ...... 289 مدینہ کی مٹی کو خراب کہنے والے کے بارے میں امام مالک کا فتویٰ ...... 289 سنت کی خلاف ورزی کرنے پر چہرے کا سیاہ ہوجانا ...... 289 آذان میں شہادتیں سن کر گستاخی کرنے والے کا عبرتناک انجام ...... 290 حضرت عائشہؓ کی توہین کرنے والے کو قتل کرنا ...... 290 اماں عائشہؓ کی توہین پر محمد بن زید کے ہاتھوں ایک شخص کا قتل ...... 290 فاطمہؓ کے گستاخ کا مامون الرشید کے ہاتھوں قتل ...... 290 شاتم رسول کے قتل کی مستند حدیث سنانے پر ایک ہزار درہم انعام پانا ...... 291

فہرست

ایوب بن اخی کا شاتم رسول نصرانی کو ملحد و زندیق کا حشر دنیا میں عذاب قبر گستاخ رسول حاتم طلیطلی کو پھانسی کی گستاخ رسول کو پھانسی کی سزا اور بعـ خلیفہ موسیٰ بن مہدی کا گستاخ رسول ہارون الرشید کا حب رسول کے ساتھ روضہ مبارک کی توہین کا ارادہ کرنے و سنت نبوی کا مذاق اڑانے پر عذاب صلیبیوں کو جنگ حطین میں عبرتناک شـ سلطان صلاح الدین کا عیسائی ریجی نـ حارث دمشقی کذاب کے شیطانی تصو حارث دمشقی کا قید ہو کر خلیفہ عبدالملک کذاب حارث کی موت کا حیرت انگیـ جھوٹے سوداگر یوحنا کے ساتھ عبرت شاتم رسول راہب اسحاق کی عبرت نـ موضوع ...... 11 ...... گستاخ رسول اللہ عمیر بن وہب کی گستاخی رسول سے تـ صحابیؓ کی شاتم رسول والدہ کا نبی کی فضالہ بن عمیر کا ارادہ قتل سے آنا اور ام جمیل کا آپؐ کے اخلاق سے متاثر آپؐ کو نقصان پہنچانے کے لئے جـ عمیر بن وہب بن خلف کا قبول اسلا شاتم رسول ابن اسود بن عبدالمطلب

صفحہ 17

رسل کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ القاء و الہام حاصل کریں اور یہ امر بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴ ، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

کا انجام ..................................................................... 275 ............................................................................. 276 گستاخان رسول کے واقعات ................................................. 276 گردن اڑانے کا حکم .......................................................... 276 سے مقابلہ .................................................................. 276 حضرت عمر فاروق کے ہاتھوں قتل ہونا ..................................... 277 کے خلاف صف آراء ہونا ................................................... 278 نکاح اور بے حیائی کی انتہا .................................................. 279 سے توبہ اور قبول اسلام ..................................................... 281 قبضہ کی سازش ............................................................. 282 اہل بیت کو جھوٹی محبت کا جھانسہ دینا ........................................ 283 کرنا ......................................................................... 284 کوئی لسان نبوی سے ........................................................ 285 بھیڑ کے ہاتھوں عبرتناک شکست ............................................ 286 کذاب اور اس کی بیوی کا انجام ............................................... 288 ............................................................................. 289 کے گستاخان رسول کے واقعات ............................................ 289 بارے میں امام مالک کا فتویٰ ................................................. 289 چہرے کا سیاہ ہو جانا ......................................................... 289 کرنے والے کا عبرتناک انجام ................................................ 290 کے کو قتل کرنا .............................................................. 290 کے ہاتھوں ایک شخص کا قتل ................................................ 290 کے ہاتھوں قتل ............................................................... 290 قتل کرنے پر ایک ہزار درہم انعام پانا ........................................... 291

فہرست

ایوب بن اخی کا شاتم رسول نصرانی کا قتل کروانا .................................... 291 ملحد و زندیق کا حشر دنیا میں عذاب شروع ......................................... 292 گستاخ رسول حاتم طلیطلی کو پھانسی کی سزا کا حکم .................................. 292 گستاخ رسول کو پھانسی کی سزا اور بعد میں کتے کا خون پی جانا ..................... 292 خلیفہ موسیٰ بن مہدی کا گستاخ رسول کے سر قلم کا حکم ............................ 293 ہارون الرشید کا حب رسول کے ساتھ والہانہ تعلق کا واقعہ ............................ 293 روضہ مبارک کی توہین کا ارادہ کرنے والے کا عبرتناک انجام ........................ 294 سنت نبوی کا مذاق اڑانے پر عذاب الہی میں گرفتار ہونا ............................ 295 صلیبیوں کو جنگ حطین میں عبرتناک شکست .................................... 296 سلطان صلاح الدین کا عیسائی رینالڈ کو گستاخی اور بد عہدی پر قتل کرنا ............. 297 حارث دمشقی کذاب کے شیطانی تصرفات ........................................ 298 حارث دمشقی کا قید ہو کر خلیفہ عبدالملک کے دربار میں پیش ہونا .................... 299 کذاب حارث کی موت کا حیرت انگیز واقعہ ....................................... 300 جھوٹے سوداگر یوحنا کے ساتھ عبرت ناک انجام ................................... 300 شاتم رسول راہب اسحاق کی عبرت ناک موت .................................... 301 موضوع 11 ...... گستاخ رسول اللہ کی توبہ کے واقعات ...... ................................... 302 عمیر بن وہب کی گستاخی رسول سے توبہ کا واقعہ .................................... 302 صحابی کی شاتم رسول والدہ کا نبی کی دعا سے مشرف بہ اسلام ہونا .................... 302 فضالہ بن عمیر کا ارادہ قتل سے آنا اور قبول اسلام .................................... 303 ام جمیل کا آپ کے اخلاق سے متاثر ہونا اور اسلام قبول کرنا ......................... 303 آپ کو نقصان پہنچانے کے لئے جانے والے کا قبول اسلام ........................ 305 عمیر بن وہب بن خلف کا قبول اسلام کا واقعہ ....................................... 306 شاتم رسول ابن اسود بن عبدالمطلب کا اسلام قبول کرنا .............................. 307

صفحہ 18

کی حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ وحی قطعی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع (ازالہ اوہام ص ۶۱۴ روحانی خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

فہرست

شاتم رسول عورت سائرہ کا توبہ کرکے اسلام قبول کرنا................................................................ 308 دو گستاخ رسول عورتوں کا بوقت قتل معافی مانگنا اور اسلام قبول کرنا.................................... 308 حضرت ہندہ کا دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا واقعہ................................................................ 308 مکہ کا شاعر گستاخ رسول ابن زبعری کا قبول اسلام کا واقعہ.................................................. 309 دشمن رسولؐ عکرمہ بن ابی جہل کی توبہ کا واقعہ......................................................................... 310 بدترین دشمن اسلام کا تائب ہوکر قبول اسلام کا واقعہ................................................................ 310 حبار بن اسود کا دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا واقعہ................................................................ 311 دو ممتاز شاعر بھائیوں کی توبہ کا واقعہ............................................................................................... 312 انس بن زنیم الدیلی کے قبول اسلام کا واقعہ................................................................................. 313 اہانت رسول کے مرتکبین کی توبہ اور قبول اسلام کا واقعہ......................................................... 315 گستاخ رسول عبداللہ بن ابی سرح کی معاف کرنے کا واقعہ.................................................. 316 موضوع...... 12 ................................................................................................................................................................. 317 ......قادیانی گستاخوں کا عبرت ناک انجام اور قادیانیت سے تائب ہونے والوں کے واقعات...... ایک شخص کا مرزا قادیانی کو خواب میں چوہڑے کی شکل میں دیکھنا...................................... 317 میاں شیر محمد شرق پوری کا مراقبہ میں مرزا کو کتے کی شکل میں دیکھنا.................................. 317 شاہ عبدالرحیم کا مرزا کے بارے میں استخارہ و جواب................................................................. 318 خواجہ توکل شاہ کی مرزا سے نفرت کی وجہ!........................................................................................... 318 کذاب مرزا کے پہلے خلیفہ حکیم نور الدین کا عبرتناک انجام.................................................. 318 گستاخ رسول قادیانی پر عذاب قبر کا دنیا میں مشاہدہ کا واقعہ................................................. 319 فتنہ قادیانیت کے پرچارک ظفر اللہ خان کا ہولناک انجام.................................................. 319 گستاخ رسول قادیانی کی قبر کا آگ سے بھر جانا.......................................................................... 320 عذاب الہی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر میں زلزلہ.............................................................. 321 گستاخ قادیانی کی قبر پر جلتی ہوئی آگ کا مشاہدہ....................................................................... 321

فہرست

عدالت میں قادیانی وکیل کے جھوٹی قسم کھانے پر ع منافق قادیانی امام الدین کا قبر میں چہرے کا پھر ج مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی کا قادیانیت سے توبہ کا و محمد صفدر بھٹی کے تایا کا قادیانیت سے تائب ہو ن قادیانی امیر مدن کی قبر کشائی پر بدبو کی میل تک م قادیانی مرتد عبدالرؤف کی بیل گاڑی سے عبرتنا ایک نابینا قادیانی کا قادیانیت سے تائب ہونے ک خواب میں قادیانیوں سے دور رہنے کی تنبیہ اور ق قبرستان کے تنازعے میں قادیانیوں کو شکست اور قادیانی مبلغ کا قرآن کی جھوٹی قسم کھانے پر عبرت قادیانی کی قبر پر آسمان سے آگ کے گولوں کا برسن قادیانی مردے کی نعش سے تعفن کا اٹھنا......... تبلیغی جماعت کی برکت سے ایک شخص کا قادیا مولانا لال حسین اختر صاحب کا مرزائیت سے ت مرزائی عبادت خانے کے امام کی عبرتناک موت مرزا غلام احمد قادیانی کو مانخولیا کی عبرت ناک قادیانیوں اور مسلمانوں میں تاریخ مباہلہ...... مباہلہ کرنے والے قادیانیوں کا عبرتناک انجام مرزا کی عبرتناک موت مرزائی آخر تک چھپات طاہر کی عبرتناک موت کا واقعہ....................... موضوع...... 13 ......عاشقانِ رسولؐ کے عشق سے...... ”محمدؐ“ کے نام کی برکات................................. حضرت عمرؓ کا آپؐ کو اپنی جان سے زیادہ...

صفحہ 19

کی حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ وحی الٰہی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

کے اسلام قبول کرنا ........................................ 308 مل معافی مانگنا اور اسلام قبول کرنا ........................ 308 داخل ہونے کا واقعہ ........................................ 308 ری کا قبول اسلام کا واقعہ .................................. 309 کی توبہ کا واقعہ .............................................. 310 قبول اسلام کا واقعہ ........................................ 310 صل ہونے کا واقعہ .......................................... 311 قصہ ....................................................... 312 لام کا واقعہ ................................................ 313 د قبول اسلام کا واقعہ ........................................ 315 کی معاف کرنے کا واقعہ ................................... 316 ............................................................. 317 ناک انجام اور قادیانیت سے تائب کے واقعات ...... ں چوہڑے کی شکل میں دیکھنا .............................. 317 مرزا کو کتے کی شکل میں دیکھنا ............................. 317 استخارہ و جواب .......................................... 317 !............................................................ 318 ین کا عبرتناک انجام ...................................... 318 امین مشاہدہ کا واقعہ ...................................... 318 ن کا ہولناک انجام ........................................ 319 پھر جانا .................................................... 319 قبر میں زلزلہ ............................................... 320 مشاہدہ .................................................... 321 ............................................................. 321

فہرست

عدالت میں قادیانی وکیل کے جھوٹی قسم کھانے پر نقد سزا ................. 322 منافق قادیانی امام الدین کا قبر میں چہرے کا پھر جانا ..................... 323 مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی کا قادیانیت سے توبہ و تائب ہونے کا واقعہ ...... 323 محمد صفدر بھٹی کے تایا کا قادیانیت سے تائب ہونے کا عجیب واقعہ ........ 324 قادیانی امیر مدن کی قبر کشائی پر بدبو کئی میل تک پھیل گئی ................ 325 قادیانی مرتد عبدالرؤف کی بیل گاڑی سے عبرتناک موت ................. 326 ایک نابینا قادیانی کا قادیانیت سے تائب ہونے کا واقعہ ................... 326 خواب میں قادیانیوں سے دور رہنے کی تنبیہ اور تلقین ....................... 327 قبرستان کے تنازعے میں قادیانیوں کو شکست اور مسلمانوں کی فتح ........ 328 قادیانی مبلغ کا قرآن کی جھوٹی قسم کھانے پر عبرتناک انجام .............. 329 قادیانی کی قبر پر آسمان سے آگ کے گولوں کا برسنا ........................ 330 قادیانی مردے کی نعش سے تعفن کا اٹھنا ................................... 331 تبلیغی جماعت کی برکت سے ایک شخص کا قادیانیت سے توبہ .............. 331 مولانا لال حسین اختر صاحب کا مرزائیت سے تائب ہونے کا واقعہ ....... 333 مرزائی عبادت خانے کے امام کی عبرتناک موت کا واقعہ ................. 334 مرزا غلام احمد قادیانی کو مالیخولیا کی عبرت ناک بیماری .................... 335 قادیانیوں اور مسلمانوں میں تاریخ مباہلہ ................................. 337 مباہلہ کرنے والے قادیانیوں کا عبرتناک انجام ............................ 338 مرزا کی عبرتناک موت مرزائی آخر تک چھپاتے رہے .................... 339 طاہر کی عبرتناک موت کا واقعہ ........................................... 342 موضوع ...... 13 ......................................................... 348 ...... عاشقان رسولؐ کے عشق سے لبریز واقعات ...... ................. 348 ”محمد“ کے نام کی برکات .................................................. 348 حضرت عمرؓ کا آپؐ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھنا ........................ 349

صفحہ 20

حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ قطعا ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۴)

فہرست

حضرت زیدؓ کا عشق رسولؐ میں سرشار ہو کر ابوسفیان کو جواب دینا ............. 350 حضرت مالک خدریؓ کا عشق رسولؐ ............. 350 حضرت انس بن نضرؓ کا آپؐ کی محبت میں جان دینا ............. 351 حضرت سعدؓ کا عشق رسولؐ اور اپنی قوم کے لئے پیغام ............. 351 حضرت ابودجانہؓ کا جنگ کے دوران آپؐ کے لئے ڈھال بننا ............. 352 آپؐ کی حفاظت کے لئے صحابہ کرامؓ کا جانیں پیش کرنا ............. 352 حضرت سواد بن غزیہؓ کی آپؐ سے والہانہ محبت کی ایک جھلک ............. 353 حضرت ربیعہؓ کا جنت میں آپؐ کی رفاقت کی خواہش کرنا ............. 354 حضرت عمرؓ کا عشق رسولؐ کے اشعار سن کر رونا ............. 355 ایک عورت کا آپؐ کی خیریت کے لیے بے چین اور بے قرار ہونا ............. 355 حضرت حارثہؓ کا عشق رسولؐ میں اپنا مکان قربان کرنا ............. 356 ایک عورت کا آپؐ کے روضہ اطہر پر زیارت کے دوران جان دیدینا ............. 357 حضرت ابوخثیمہؓ کا عشق رسولؐ میں گھر کے آرام کو چھوڑنا ............. 357 صحابہؓ کے جنت میں آپؐ کی رفاقت طلب کرنے کے واقعات ............. 358 صحابہؓ کے عشق رسولؐ کی کہانی عروہ بن مسعود ثقفی کی زبانی ............. 359 ایک برطانوی لڑکی کا آپؐ سے محبت کا بھرے مجمع میں اظہار محبت کرنا ............. 364 حضرت شاہ جی صاحب کا آپؐ سے اظہار محبت ............. 364 حضرت انور شاہ کشمیریؒ کا آپؐ سے اظہار محبت کا انداز ............. 365 آپؐ سے محبت کی علامات ............. 365 موضوع ...... 14 .......عاشق رسولؐ کی قربانیوں کے سحر انگیز واقعات....... حضرت ام عمارہؓ کی آپؐ کے ساتھ جنگ میں شرکت کرنا اور آپؐ سے اپنے اور گھر والوں کے لیے دعا کرانا ............. 367 حضرت ابوبکر صدیقؓ کا عشق رسولؐ میں مار کھانا ............. 368

فہرست

حضرت حبیبؓ کا آپؐ کی رسالت کے عاشق رسولؐ کا ختم نبوت کے دشمن سے سوال بوڑھے کا اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ تحفظ قادیانی غنڈوں کے ہاتھوں زخموں سے چور تحریک ختم نبوت کے دوران ایک اذان پر نو ختم نبوت کے مقدس جرم میں ہونے والے قیدیوں موت کے سامنے ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگا بھری عدالت میں عاشق رسولؐ کے فلک شگا تحفظ ختم نبوت کی خاطر دو سگے بھائیوں کا سینے ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لئے گرفتاری دین شہد کی مکھیوں کا بھر پور حملہ اور شاہ جیؒ کا آف تحفظ ناموس رسالت کے پاسداروں پر فائری پاک فضائیہ میں قادیانیت کا فارم پر نہ کرنے تحفظ ناموس رسالت کی خاطر ایک عورت کا تحفظ ختم نبوت پر تقریر کی پاداش میں نوجوان فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے فوج میں بغا مولانا شریف احمد کی انڈیا جیل سے رہائی ک جیل سے رہائی کے بعد تحریک ختم نبوت میں مسلمانوں کے ہاتھوں قادیانیوں کی مرمت قادیانی غنڈوں کی فائرنگ سے دونو جوانو مولانا تاج محمود کا ایک سحر انگیز جملہ اور پول موضوع ...... 15 ......ادب رسولؐ پر سحرا مسلمانوں کو آپؐ کے سامنے بلند آواز س

صفحہ 21

وحی کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ غیبی علوم کو بذریعہ الفاظ الہامی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(ازالۃ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

پر نثار ہو کر ابو سفیان کو جواب دینا ........ 350 سول .......................................... 350 کی محبت میں جان دینا؟ ...................... 351 اپنی قوم کے لئے پیغام ........................ 351 دوران آپؐ کے لئے ڈھال لینا ............. 352 ہ کرامؓ کا جانیں پیش کرنا ................... 352 سے والہانہ محبت کی ایک جھلک ................ 353 بؐ کی رفاقت کی خواہش کرنا ................... 354 شعار سن کر رونا ................................ 355 کے لیے بے چین اور بے قرار ہونا ............ 355 میں اپنا مکان قربان کرنا ....................... 356 عمرہ زیارت کے دوران جان دیدینا .......... 357 اہل گھر کے آرام کو چھوڑنا ................... 357 فاقت طلب کرنے کے واقعات ............ 358 روہ بن مسعود ثقفی کی زبانی ................. 359 ت کا بھرے مجمع میں اظہار محبت کرنا ...... 364 سے اظہار محبت .............................. 364 اظہار محبت کا انداز ........................ 365 .......................................... 365 .......................................... 367 بتوں کے سحر انگیز واقعات ....... ر جنگ میں شرکت کرنا اور آپؐ سے .......................................... 367 ن مار کھانا ................................. 368

فہرست

حضرت حبیبؓ کا آپؐ کی رسالت کے اقرار .......................... 369 عاشق رسولؐ کا ختم نبوت کے دشمن سے سوال ....................... 370 بوڑھے کا اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ تحفظ ختم نبوت پر قربانی ہونا .... 371 قادیانی غنڈوں کے ہاتھوں زخموں سے چور ہونے والے طلباء ....... 371 تحریک ختم نبوت کے دوران ایک اذان پر نو مسلموں کا شہید ہونا ...... 372 ختم نبوت کے مقدس جرم میں اسیر ہونے والے قیدیوں سے اظہار محبت ......... 372 موت کے سامنے ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانا ........................... 373 بھری عدالت میں عاشق رسولؐ کے فلک شگاف نعرہ رسالت کی دھوم ...... 373 تحفظ ختم نبوت کی خاطر دو سگے بھائیوں کا سینے پر گولی کھانا ............ 374 ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لئے گرفتاری دینے والے کا جذبہ عشق ...... 375 شہد کی مکھیوں کا بھر پور حملہ اور شاہ جیؒ کا اُف تک نہ کرنا .............. 376 تحفظ ناموس رسالت کے پاسداروں پر فائرنگ اور دس کی شہادت ........ 376 پاک فضائیہ میں قادیانیت کا فارم پُر نہ کرنے پر نوکری سے نکال دینا ........ 378 تحفظ ناموس رسالت کی خاطر ایک عورت کا اپنا گود کا بچہ عطیہ دینا ........ 379 تحفظ ختم نبوت پر تقریر کی پاداش میں نوجوان کی گرفتاری کا واقعہ ......... 380 فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے فوج میں بھرتی ہونا ................... 381 مولانا شریف احمد کی انڈیا جیل سے رہائی ............................ 383 جیل سے رہائی کے بعد تحریک ختم نبوت میں دوبارہ شمولیت ............. 384 مسلمانوں کے ہاتھوں قادیانیوں کی مرمت ........................... 384 قادیانی غنڈوں کی فائرنگ سے دو نوجوانوں کی شہادت ................ 385 مولانا تاج محمود کا ایک سحر انگیز جملہ اور پولیس کا جلوس پر لاٹھی چارج ........ 386 موضوع ...... 15 ............................................... 388 ....... ادب رسولؐ پر سحر انگیز واقعات ....... .................... 388 مسلمانوں کو آپؐ کے سامنے بلند آواز سے بات کرنے کی ممانعت ......... 388

صفحہ 22

حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

فہرست

صحابہ کا آپؐ سے بات کرتے ہوئے دل میں خوف پیدا ہونا........................ 389 آپؐ کو پکارنے اور بلانے کے لئے بھی تعظیمی پہلو اختیار کرنے کا حکم ربی 392 محمدؐ کو پکارنے کا طریقہ بزبان قرآنی........................................... 392 اللہ کی اطاعت کے ساتھ لازمی جزو قرار دیا گیا................................ 394 آپؐ کے فیصلے کو چھوڑ کر اپنا کوئی فیصلہ کرنے کی ممانعت.................... 395 اللہ تعالیٰ کا آپؐ کی عظمت کو بیان کرنا........................................ 395 آپؐ سے کسی بھی معاملے میں آگے نہ بڑھنے کا مسلمانوں کو حکم............ 397 عظمتِ رسولؐ کی پاسداری کرنا ہر مسلمان کے لئے باعث فخر ہے........ 398 آپؐ کی عظمت اور عزت وتوقیر کا حکم ربی...................................... 399 آپؐ کی عظمت کے تحفظ کے لئے زبان اور تلوار استعمال کرنے کا حکم...... 399 حضرت عباسؓ کا آپؐ کو اپنے سے بڑا کہنا....................................... 400 حضرت ابوبکر صدیقؓ کا منبر رسول پر باعث ادب نیچے ہو کر بیٹھنا........... 400 حضرت عمر بن العاصؓ کا باعث ادب آپؐ کو نظر بھر کر نہ دیکھنا.............. 401 آپؐ کا دست مبارک لگنے کی وجہ سے اپنے دراز بالوں کو کبھی نہ تراشا........... 401 آپؐ کے ذکر مبارک ہی سے امام مالکؒ کے چہرے کا رنگ بدل جانا......... 401 حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کا ادب رسول...................................... 402 سلطان ناصر الدین کا بغیر وضو آپؐ کا نام نہ لینا............................... 402 امام مالکؒ کا بے ادبی سے حدیث سننے کی فرمائش کرنے پر سرزنش کرنا... 403 گورنر کا حدیث کی بے ادبی کی وجہ سے اپنے اوپر حد جاری کروانا............. 404 آپؐ کا سرخ چادروں کو دیکھ کر ناراضگی کا اظہار................................ 406 آپؐ کی پھینکی ہوئی انگوٹھی کو صحابی کا اٹھانے سے انکار....................... 406 حضرت ام حبیبہؓ کا اپنے مشرک والد کو آپؐ کے بستر پر نہ بیٹھنے دینا........... 407 لباس کے رنگ سے آپؐ کی ناراضگی پر ایک صحابی کا اپنا لباس جلا دینا.......... 407 تعظیم رسول کی خاطر انتہائی سخت تکلیف برداشت کرنا......................... 408

فہرست

آپؐ کے حکم پر نئی دلہن کو چھوڑ کر میدان جہاد کفار مکہ کی پیشکش کے باوجود آپؐ کے بغیر طوا

موضوع...... 16

.......عاشقان رسولؐ پر انعامات کی با ختم نبوت کے شیدائی کی قبر سے تین دن تک ختم نبوت کے کام سے خوش ہوکر آپؐ کا سر ختم نبوت سے وابستگی پر مرنے کے بعد آپؐ کی ختم نبوت کے اجتماع کا انتظام کرنے والوں غازی عامر چیمہ شہید کو آپؐ کا ”مرحبا میرے موئے مبارک حاصل کرنے والے شخص کے

موضوع...... 17

.......عاشقان رسولؐ کے ساتھ اللہ کی ختم نبوت کے زور دار نعرہ سے ہاتھوں میں لگی سید امین گیلانی کا وارنٹ گرفتاری کے باوجو بغیر سر کے بدن کا گستاخ رسول کے پیچھے بھا قتل کے ارادے سے آنے والے تلاوت کر جیل میں قید کے دوران غیبی آواز کی طرف

موضوع...... 18

.......عشق رسولؐ پر اثر ان محبت کی کامل اور اکمل صورت صرف عشق مص رسول اللہؐ سے محبت سے ہی ایمان کی علام آپؐ کے روضہ مبارک کو دیکھ کر یہودی کا اللہ تعالیٰ کی آپؐ سے محبت کی ایک مثال عاشق رسولؐ کی حقیقی پہچان................

صفحہ 22

کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

وئے دل میں خوف پیدا ہونا................................... 389 کے لئے بھی تعظیمی پہلو اختیار کرنے کا حکم ربی 392 ت قرآنی.................................................... 392 ی جزو قرار دیا گیا........................................... 394 ئی فیصلہ کرنے کی ممانعت................................... 395 ہ بیان کرنا.................................................. 395 گے نہ بڑھنے کا مسلمانوں کو حکم............................... 397 کرنا ہر مسلمان کے لئے باعث فخر ہے.......................... 398 تکبیر کا حکم ربی.............................................. 399 کے لئے زبان اور تلوار استعمال کرنے کا حکم.................... 399 نے سے بڑا کہنا............................................. 400 سول پر باعث ادب نیچے ہو کر بیٹھنا........................... 400 ث ادب آپ کو نظر بھر کر نہ دیکھنا............................ 401 سے اپنے دراز بالوں کو کبھی نہ تراشا........................... 401 مام مالک کے چہرے کا رنگ بدل جانا........................... 401 ادب رسول................................................ 402 پ کا نام نہ لینا............................................. 402 ث سننے کی فرمائش کرنے پر کے سرزنش کرنا................ 403 سے اپنے اوپر حد جاری کروانا................................. 404 اراضگی کا اظہار............................................. 406 ی کا اٹھانے سے انکار......................................... 406 والد کو آپ کے بستر پر نہ بیٹھنے دینا............................ 407 ی پر ایک صحابی کا اپنا لباس جلا دینا............................ 407 یف برداشت کرنا.......................................... 408

فہرست

23 آپ کے حکم پر نئی دلہن کو چھوڑ کر میدان جہاد میں شرکت.............. 408 کفار مکہ کی پیشکش کے باوجود آپ کے بغیر طواف کرنا گوارہ نہ کیا......... 409 موضوع ..... 16 ....... عاشقان رسول پر انعامات کی بارشوں کے واقعات ...... ختم نبوت کے شیدائی کی قبر سے تین دن تک خوشبو کا آنا............... 411 ختم نبوت کے کام سے خوش ہو کر آپ کا سر پر دستار باندھنے کا حکم......... 411 ختم نبوت سے وابستگی پر مرنے کے بعد آپ کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت.... 411 ختم نبوت کے اجتماع کا انتظام کرنے والوں کیلئے آپ کی حوصلہ افزائی....... 412 غازی عامر چیمہ شہید کو آپ کا ”مرحبا میرے بیٹے“ کہہ کر بلانا............. 412 موئے مبارک حاصل کرنے والے شخص کے مالا مال ہو جانے کا واقعہ........ 414 موضوع ..... 17 ....... عاشقان رسول کے ساتھ اللہ کی مدد اور ان کی کرامات....... ختم نبوت کے زور دار نعرہ سے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑی کا ٹوٹ جانا......... 415 سید امین گیلانی کا وارنٹ گرفتاری کے باوجود گرفتار نہ ہونا................. 415 بغیر سر کے بدن کا گستاخ رسول کے پیچھے بھاگ کر اسے جہنم واصل کرنا..... 416 قتل کے ارادے سے آنے والے تلاوت سن کر چھت سے گر جانا.......... 417 جیل میں قید کے دوران غیبی آواز کی طرف سے غیبی دعوت................ 417 موضوع ..... 18 ....... عشق رسول پر اثر انگیز تحریرات ....... محبت کی کامل اور اکمل صورت صرف عشق مصطفیٰ سے ہی ممکن ہے......... 419 رسول اللہ سے محبت سے ہی ایمان کی علامت اور لذت حاصل ہوتی ہے.... 420 آپ کے روضہ مبارک کو دیکھ کر یہودی کا قبول اسلام.................... 421 اللہ تعالیٰ کی آپ سے محبت کی ایک مثال........................... 421 عاشق رسول کی حقیقی پہچان.................................. 422

صفحہ 24

شریعت اور طریقت میں یہ مراد حاصل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ وحی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تا قیامت منقطع

(الافادات المہمہ ص ۲۱۶، خزائن ج ۳ ص ۴۴۶)

فہرست

الله تعالیٰ کے ہاں مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب شخصیت ﷺ ......................... 423 اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے لئے اعزازات ........................................ 424 آپ ﷺ سے محبت ایمان کامل کی علامت ہے ................................................ 424 ایمان والوں کے ہاں رسول الله ﷺ کا مقام اور مرتبہ ...................................... 425 مومن کے ایمان کا تقاضا .............................................................. 425 نبی ﷺ کے امتیوں کی خواتین .............................................................. 427 صحیح معنوں میں عشق رسول ﷺ کے تقاضے .............................................. 427 الله تعالیٰ کا تمام مخلوقات میں اپنے نبی ﷺ کی محبت رکھنا .................................. 429 آپ ﷺ میں محبت کے سارے وصف کا بدرجہ اتم موجود ہونا ............................. 429 ہماری بے حسی کی انتہا ................................................................ 430 عشق رسول ﷺ کو مکمل طور پر اپنانا ...................................................... 431 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپ ﷺ سے بے مثال محبت .................................. 432 مسلمانوں کی آپ ﷺ سے لازوال محبت .................................................. 432 موضوع ...... 19 ..................................................................... 433 ...... تحفظ ناموس رسالت پر اکابر امت کی دل سوز تحریرات ...... ..................... 433 توہین رسالت اور بے حرمتی کے معنی .................................................. 433 اس زندگی کا کیا فائدہ جس میں نبی ﷺ پر گالیاں پڑتی ہوں ................................ 434 روز محشر ہم اپنے آقا ﷺ کو کیا جواب دیں گے؟ ............................................. 435 امام کعبہ الشیخ سدیس کی نظر میں گستاخ رسول ﷺ کی سزا ................................... 435 عشق رسول ﷺ کے دعوے داروں کی ستم ظریفی! ......................................... 436 محمد ﷺ کے غلامو! محمد ﷺ کی توہین کا بدلہ لینے کے لئے اٹھ کھڑے ہو ......................... 436 نبوت کے وفادار ابھی زندہ ہیں .......................................................... 438 مسلمانوں کے اتحاد سے ہی کفر کو منہ توڑ جواب ممکن ہے ............................... 438 اہانت رسول ﷺ پر ہر ماں، بہن اور بیٹی کا کردار ............................................ 439

فہرست

مغرب کی ہٹ دھرمی سے مسلمانو موضوع ...... 20 ...... تحفظ ناموس رسالت گستاخی رسول ﷺ پر مسلمانوں کی ذمہ د توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ....... اسلام کے دفاع کے لئے بچوں کی ق سیرت طیبہ پر تحقیقی کام کی ضرورت اسلامی کارناموں سے آگاہی کے ذرائع ابلاغ و انٹرنیٹ پر آپ ﷺ کی ش تحفظ ناموس رسالت پر احتجاج کر گستاخ رسول ﷺ کے لئے بددعا کریں پاکستان میں توہین رسالت کے قانو گستاخ رسول ﷺ ممالک کی اشیاء کا بائی ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے م موضوع ...... 21 ...... گستاخ رسول ﷺ یہود ونص مغربی دنیا کی مذموم دریدہ دہنی ...... گستاخ رسول ﷺ یہودی کا خاکے بنا شرمناک خاکوں کی باقاعدہ منصوبہ آپ ﷺ کی تصوراتی شبیہہ پر مبنی خاکو توہین آمیز خاکوں پر مسلمانوں کا پ ڈنمارک کی مصنوعات کا سب سے پر امن احتجاج میں وسعت اور گستا یہود و نصاریٰ کی بڑھتی ہوئی شرانگیزی

صفحہ 25

وحی کی حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ غیبی علوم کو بذریعہ پاوے اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

سے زیادہ محبوب شخصیت ........................................ 423 والے اعزازات ........................................ 424 محبت ہے ........................................ 424 کا مقام اور مرتبہ ........................................ 425 ........................................ 425 منے ........................................ 427 نبیؐ کی محبت رکھنا ........................................ 427 کا درجہ اتم موجود ہونا ........................................ 429 ........................................ 429 ........................................ 430 ........................................ 431 سے بے مثال محبت ........................................ 432 ت ........................................ 432 ........................................ 433 کابر امت کی دل سوز تحریرات ........................................ 433 یا ........................................ 433 پر گالیاں پڑتی ہوں ........................................ 434 ں گے؟ ........................................ 435 ستاخ رسول کی سزا ........................................ 435 تفریقی! ........................................ 436 نے کے لئے اٹھ کھڑے ہو ........................................ 436 ........................................ 438 جواب ممکن ہے ........................................ 438 ........................................ 439

فہرست

مغرب کی ہٹ دھرمی سے مسلمانوں کو فائدہ؟ ........................................ 440 موضوع ...... 20 ........................................ 442 ...... تحفظ ناموس رسالتؐ کا دفاع کیسے کریں ........................................ 442 گستاخی رسول پر مسلمانوں کی ذمہ داریاں ........................................ 442 توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ...... پر امت مسلمہ کا کردار؟ ........................................ 443 اسلام کے دفاع کے لئے بچوں کی ذہنی تربیت کی ضرورت ........................................ 444 سیرت طیبہ پر تحقیقی کام کی ضرورت ........................................ 444 اسلامی کارناموں سے آگاہی کے لئے اساتذہ کی بہت بڑی ذمہ داری ........................................ 445 ذرائع ابلاغ وانٹرنیٹ پر آپؐ کی شان وعظمت کو واضح کیا جائے ........................................ 446 تحفظ ناموس رسالت پر احتجاج کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے ........................................ 446 گستاخ رسول کے لئے بددعا کریں ........................................ 447 پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کو منسوخ کرنے کا نقصان ........................................ 447 گستاخ رسول ممالک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت ........................................ 447 ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مؤثر لائحہ عمل کی چند صورتیں ........................................ 448 موضوع ...... 21 ........................................ 450 ...... گستاخ رسول یہود و نصاریٰ کی دل سوز تحریرات ........................................ 450 مغربی دنیا کی مذموم دریدہ دہنی ........................................ 450 گستاخ رسول یہودی کا خاکہ بنانے کی ناپاک جسارت کرنا ........................................ 451 شرمناک خاکوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد اشاعت ........................................ 451 آپؐ کی تصوراتی شبیہہ پر مبنی خاکوں کے دل آزار عکس ........................................ 452 توہین آمیز خاکوں پر مسلمانوں کا پرامن احتجاج وغصہ ........................................ 453 ڈنمارک کی مصنوعات کا سب سے پہلے بائیکاٹ کرنے والا ملک ........................................ 454 پرامن احتجاج میں وسعت اور گستاخ ممالک کا بائیکاٹ ........................................ 455 یہود و نصاریٰ کی بڑھتی ہوئی شرانگیزی اور خاکوں کی بار بار اشاعت ........................................ 456

PDF 26

کی حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ سے بھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

فہرست

ناپاک جسارت کے اصل مجرم یہودی ہیں.............................. 457 توہین آمیز خاکوں پر مبنی ویب سائٹس کا اجرا........................ 458 آپؐ کی زندگی پر مبنی دل آزار فلمیں (نعوذ باللہ).................... 460 آپؐ کی تصویروں پر مبنی کتابچہ کی اشاعت........................... 460 آپؐ کی زندگی پر مبنی دل آزار کتب................................ 461 یورپی ہم وطنو! میری آواز سنو!.................................... 462 ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کو چھاپنے والے گروپ کی میٹنگ........... 462 خاکوں کے متعلق متعصب عیسائیوں کی دیدہ دلیری..................... 464 توہین آمیز خاکوں پر مسلمانوں کا احتجاج............................ 464 موضوع...... 22 466 ...... گستاخان رسول ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے واقعات...... 466 قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے!.................................. 466 ماڈرن عورت کا اپنے بچے کو ڈنمارک کی چاکلیٹ دلانے سے قطعی انکار...... 468 دشمنان رسولؐ کی مصنوعات کے خلاف جہاد........................ 471 دشمنان رسولؐ سے بدلہ لینے کے تین طریقے.......................... 472 کفار کی بنائی ہوئی چیزوں کا بائیکاٹ کریں............................ 473 ناموس رسالت عزیز ہے یا گستاخ ملک کی مصنوعات؟................... 473 ناموس رسالت کے تحفظ کا بہترین طریقہ............................. 474 نبی کریمؐ کی سنت کا مذاق بنانا چھوڑ دیں............................ 475 مصنوعات کا بائیکاٹ ایسا ہتھیار ہے جو اُن کی کمر توڑ سکتا ہے........... 478 پاکستان میں ڈنمارک کی مصنوعات کا استعمال......................... 479 موضوع...... 23 481 ...... گستاخ رسول کے لئے پاکستان کا قانون...... 481

فہرست

پاکستان میں برائے نام قانون توہین رسالت توہین رسالت کے مرتکب کے لیے سزا موضوع...... 24 ...... عیسائیت میں تحفظ ناموس برطانیہ میں توہین مسیح کا قانون......... برطانیہ میں توہین مسیح کے مجرم پر فرد جرم برطانیہ کی دوغلی پالیسی کی دو مثالیں.... حضرت عیسیٰ کی توہین آمیز فلم پر مسلمانوں توہین انبیاء پر پاپائے روم کا قانون... موضوع...... 25 ......"گستاخ رسول" کی سزا و گستاخ رسول کی شرعی سزا............ گستاخ رسول کے لئے عالمی مجلس تحفظ رسولؐ کی توہین کرنے والے کے واجب امام کعبہ محمد بن عبداللہ السبیل اور علماء حرمین گستاخ رسولؐ کے بارے میں علمائے امام اعظم کے نزدیک شاتم رسولؐ کی سزا دیگر علمائے امت کے فتاویٰ.......... امام ابن تیمیہ کے نزدیک شاتم رسول کی سزا قاضی عیاض رحمۃ اللہ کے نزدیک شاتم گستاخانہ کلام میں تاویل کی گنجائش.... گستاخانہ کلام میں توہین کی نیت کا اعتبار گستاخ رسول کی سزا پر ائمہ اربعہ کے فتاویٰ حضرت امام احمد اور دوسرے حنبلی علماء کا

صفحہ 27

کی حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ وحی الٰہی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع

(ازالۃ الاوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

ہی ہیں ........................................................................ 457 اس کا اجرا ................................................................... 458 ہیں (نعوذ باللہ) ............................................................ 460 اشاعت ................................................................... 460 ب ........................................................................... 461 چھاپنے والے گروپ کی میٹنگ ....................................... 462 کی دیدہ دلیری ......................................................... 462 احتجاج .................................................................... 464 ف کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے ................................... 466 مات ....... .................................................................. 466 ................................................................................ 466 ٹ کی چاکلیٹ دلانے سے قطعی انکار ..... 468 خلاف جہاد ................................................................ 471 ن طریقے .................................................................. 472 کریں ....................................................................... 473 ملک کی مصنوعات؟ ....................................................... 473 طریقہ ....................................................................... 474 یں ........................................................................... 475 جو اُن کی کمر توڑ سکتا ہے ................................................ 478 استعمال .................................................................... 479 ................................................................................ 481 لئے پاکستان کا قانون ....... 481

فہرست

پاکستان میں برائے نام قانون توہین رسالت ........................ 482 توہین رسالت کے مرتکب کے لیے سزائے موت کا بل اور اس کی منظوری ... 482 موضوع ...... 24 .............................................................. 483 .......عیسائیت میں تحفظ ناموس رسالت کے قوانین ....... 483 برطانیہ میں توہین مسیح کا قانون ......................................... 483 برطانیہ میں توہین مسیح کے مجرم پر فرد جرم عائد ........................... 484 برطانیہ کی دوغلی پالیسی کی دو مثالیں ..................................... 486 حضرت عیسیٰ کی توہین آمیز فلم پر مسلمانوں کا احتجاجی مظاہرہ .......... 487 توہین انبیاء پر پاپائے روم کا قانون ...................................... 487 موضوع ...... 25 .............................................................. 489 .......گستاخ رسولؐ کی سزاؤں پر ائمہ اربعہ کے فتاویٰ ...... 489 گستاخ رسول کی شرعی سزا ................................................ 489 گستاخ رسولؐ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا فتویٰ ................ 489 رسولؐ کی توہین کرنے والے کے واجب القتل پر اجتماعی عقیدہ ........ 490 امام کعبہ محمد بن عبداللہ السبیل اور علماء سعودی عرب کا فتویٰ ........... 491 گستاخ رسولؐ کے بارے میں علمائے امت کا فیصلہ .................... 491 امام اعظم کے نزدیک شاتم رسولؐ کی سزا ............................... 492 دیگر علمائے امت کے فتاویٰ .............................................. 492 امام ابن تیمیہ کے نزدیک شاتم رسول کی سزا ............................. 493 قاضی عیاض رحمۃ اللہ کے نزدیک شاتم رسول کی سزا ..................... 493 گستاخانہ کلام میں تاویل کی گنجائش .................................... 494 گستاخانہ کلام میں توہین کی نیت کا اعتبار ................................. 495 گستاخ رسول کی سزا پر آئمہ اربعہ کے فتاویٰ ............................. 497 حضرت امام احمدؒ اور دوسرے حنبلی علماء کا فتویٰ .......................... 497

صفحہ 28

کہ حقیقت اور ماہیت میں یہ مراد داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

فہرست

ابن تیمیہ کا امام احمد کے عقیدہ کی وضاحت کرنا ........................................................... 498 گستاخ رسول کے بارے میں امام مالکؒ اور مالکی فضلاء کا فتویٰ .................................... 499 امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا گستاخ رسول کی لاش کا جلانے کا حکم ................................. 500 گستاخ رسول کے بارے میں امام شافعیؒ اور دیگر شافعی علماء کا فتویٰ ............................. 500 موضوع ...... 26 ............................................................................................ 502 ....... گستاخانِ رسولؐ کی توبہ پر اکابرین کے فتاویٰ .................................................... 502 مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ شاتمانِ رسولؐ کی معافی قبول کریں ............................ 502 گستاخ رسول اور گستاخ صحابہ کو توبہ کے متعلق امام مالکؒ کا فتویٰ ................................ 503 امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا گستاخ رسول کو قتل کا حکم ................................................ 503 گستاخ رسول کی سزا اسلامی معاشرے میں صرف قتل ہے ........................................... 503 گستاخ رسول اور عام مرتدین کے احکام میں فرق ..................................................... 504 علامہ ابن نجیم حنفیؒ فرماتے ہیں .......................................................................... 504 شاتم رسول کی توبہ سنے بغیر اسے فوراً قتل کرنے کا حکم .............................................. 504 فقہ حنفی کے نزدیک گستاخ رسول کی سزا ............................................................... 505 شانِ رسالت میں گستاخی کرنے والے کے قتل پر چاروں ائمہ کا اتفاق ............................ 506 گستاخ رسول کی سزا میں دیگر علماء کے اقوال .......................................................... 507 گستاخ رسول کی توبہ کے بارے میں امام ابن تیمیہ کا موقف ....................................... 508 جو فقہائے حنفیہ اور فقہائے شافعیہ کے نزدیک گستاخ رسول کی توبہ ............................. 509 امام احمد کے نزدیک شاتم رسول کی سزا ................................................................. 511 علامہ شامیؒ کے نزدیک گستاخ رسول کی توبہ کا حکم ................................................... 512

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موضوع ...... 1

گستاخ رسول

توہین رسالت کی تـ

توہین حق و رسالت کا سلسلہ اس وقت حکم کو جھٹلایا اور یہ کہہ کر حضرت آدم ؑ آگ سے، اس لیے میں اس سے بہتر ہوں کے پہلے نبی کی توہین کا جو سلسلہ شروع کیا وہ

تکبر عزا ز
بہ زندان

یعنی غرور نے شیطان کو ذلیل کیا اور کو شیطان سے ہمیشہ کے لئے نفرت کرنی چا اولادِ آدم میں اپنے ایجنٹ پیدا کر لیے جنہو اور اس کی توہین کی۔ جب مشرکین مکہ اور ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا تو اللہ تبارک ہوئے فرمایا کہ ایسا صرف آپ ﷺ کے

ویسے تو قرآن مجید کی تمام آیات ہی ہیں۔ کہیں اللہ آپ ﷺ کی بعثت کو اپنـ اتباع کو اپنی محبت کا راستہ بتاتا ہے، کبھی آ وحی فرمایا جاتا ہے اور کبھی اپنے محبوب کی میں آپ ﷺ کے اخلاق و کردار کا حسـ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم، آپ صـ

صفحہ 29

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موضوع ...... 1

گستاخ رسول ﷺ پر قرآنی آیات

توہین رسالت کی ابتداء کس طرح ہوئی؟

توہین حق و رسالت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب شیطان نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم کو جھٹلایا اور یہ کہہ کر حضرت آدم علیہ السلام کی توہین کی کہ وہ ”مٹی سے پیدا ہوا ہے اور میں آگ سے، اس لیے میں اس سے بہتر ہوں۔“ تکبر کے باعث شیطان نے بنی نوع انسان کے پہلے نبی کی توہین کا جو سلسلہ شروع کیا وہ ہنوز جاری ہے۔

تکبر عزازیل را خوار کرد
بہ زندان لعنت گرفتار کرد

یعنی غرور نے شیطان کو ذلیل کیا اور لعنت کے طوق میں گرفتار کیا اور اولاد آدم علیہ السلام کو شیطان سے ہمیشہ کے لئے نفرت کرنی چاہئے تھی مگر زیادہ عرصہ نہ گزر پایا تھا کہ شیطان نے اولاد آدم میں اپنے ایجنٹ پیدا کر لیے جنہوں نے شیطان کی طرح اللہ کے ہر نبی کا مذاق اڑایا اور اس کی توہین کی۔ جب مشرکین مکہ اور مدینہ کے یہود و نصاریٰ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے آخری نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ایسا صرف آپ ﷺ کے ساتھ نہیں ہو رہا بلکہ ہر نبی کے ساتھ ہوا ہے۔

ویسے تو قرآن مجید کی تمام آیات ہی صاحب قرآن ﷺ کے مقام اور مرتبے کی گواہ ہیں۔ کہیں اللہ آپ ﷺ کی بعثت کو ایمان والوں پر اپنا احسان قرار دیتا ہے اور کہیں نبی کی اتباع کو اپنی محبت کا راستہ بتاتا ہے، کبھی آپ ﷺ کی زبان اقدس سے نکلی ہوئی ہر بات کو وحی فرمایا جاتا ہے اور کبھی اپنے محبوب کی عمومی نبوت اور رسالت کا اعلان ہوتا ہے۔ کسی آیت میں آپ ﷺ کے اخلاق و کردار کا حسین تذکرہ ملتا ہے تو دوسری آیت میں آپ ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم، آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اور آپ ﷺ

صفحہ 30

حقیقت اور ماہیت میں یہ امر داخل ہے کہ دینی علوم کو بذریعہ اور ابھی ثابت ہو چکا ہے کہ اب وحی رسالت تاقیامت منقطع

(ازالہ اوہام ص ۶۱۴، خزائن ج ۳ ص ۴۳۲)

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کے اہل بیت رضی اللہ عنہم کے اوصاف حمیدہ کا بیان ہوتا ہے، اگر ان تمام آیات کو جمع کیا جائے تو اس کے لئے ایک ضخیم کتاب بھی ناکافی ہوگی ہم صرف بطور نمونہ ان چند آیات مبارکہ کا ذکر کرتے ہیں جن میں خاص طور پر آپ ﷺ کے ادب و احترام اور آپ ﷺ کی حرمت و ناموس کو بڑے اہتمام سے بیان کیا ہے۔

گستاخ رسول سے تعلقات پر وعیدیں

اگر مسلمان دیکھیں ، سنیں یا پڑھیں کہ قرآن کریم کا تمسخر اڑایا جارہا ہے، ذات رسول اللہ ﷺ کو گالی دی جا رہی ہے یا نشانہ مذاق بنایا جا رہا ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ ایسی حرکتوں کے خلاف ردعمل کا مظاہرہ کریں اور ساتھ ہی ساتھ ایسے اہل محفل سے دوستی کے سب بندھن قطع کرلیں ایسا کرنے میں ناکامی کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان بھی ان جیسے ہوگئے ہیں اور چونکہ دونوں کا جرم ایک ہے اس لیے ان کی سزا بھی ایک ہی ہوگی ، اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ ۙ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ ۙ (سورۃ النساء: ۱۴۰)

”اور بلاشک فرمان ربانی کتاب میں تم پر نازل ہو چکا ہے (یعنی القرآن کی سورۃ الانعام آیت ۶۸ میں ) کہ جب تم سن پاؤ کہ اللہ کی وحی (یعنی قرآن) سے کفر کیا جارہا ہے یا بعض تضحیک کرنے والے اور کفر گو اس کا مذاق اڑا رہے ہیں تو ان کے پاس مت بیٹھو، اپنے غصے کا اظہار کرو اور ان کی محفل میں شامل نہ رہو ورنہ یقیناً تم بھی ان ہی جیسے ہوجاؤ گے۔“

(قرۃ العین علی تفسیر الجلالین ص ۱۷۳)

نبی کی مجالس کے آداب، صحابہؓ کو تعظیمی لہجہ اختیار کرنے کا حکم

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۗ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ O يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

اَصْوَاتِكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ

”اے ایمان والو! اللہ اور اس سے ڈرتے رہو بے شک اللہ ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی رسول سے بات کیا کرو جیسا کہ تمہارے اعمال برباد نہ ہوجائیں ان آیات مبارکہ میں رحمت دو عالم اتنی تاکید کی گئی کہ معمولی سی خلاف ورزی اور کوئی نیک کام فائدہ نہیں دے گا۔

ان آداب کی تشریح کرتے ہوئے ”جس معاملے میں اللہ اور اس ہو اس کا فیصلہ پہلے ہی آگے بڑھ کا انتظار کرو، جس وقت پیغمبر کان لگا کر سنو، ان کے بولنے حکم ادھر سے ملے اس پر عمل جاؤ، اپنی اغراض اور اہواء اور خواہشات اور جذبات کو ان کا آپ ﷺ کی مجلس میں شور مچانا چیخ کر یا تڑخ کر بات کرتے ہو، آپ سے خطاب کرو تو نرم آواز سے تعظیم و ادب مہذب بیٹا اپنے باپ سے، لائق شاگرد

صفحہ 31

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ﴿﴾

(الحجرات: ۱، ۲)

”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرو اور نہ بلند آواز سے رسول سے بات کیا کرو جیسا کہ تم ایک دوسرے سے بات کرتے ہو، کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“

ان آیات مبارکہ میں رحمت دو عالم ﷺ کی مجلس کے آداب سکھائے گئے اور ان کی اتنی تاکید کی گئی کہ معمولی سی خلاف ورزی پر بھی وعید ہے کہ تمام نیک اعمال برباد ہوجائیں گے اور کوئی نیک کام فائدہ نہیں دے گا۔

ان آداب کی تشریح کرتے ہوئے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں: ”جس معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حکم ملنے کی توقع ہو اس کا فیصلہ پہلے ہی آگے بڑھ کر اپنی رائے سے نہ کر بیٹھو۔ بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو، جس وقت پیغمبر ﷺ کچھ ارشاد فرمائیں خاموشی سے کان لگا کر سنو، ان کے بولنے سے پہلے خود بولنے کی جرأت نہ کرو، جو حکم ادھر سے ملے اس پر بے چوں و چراں اور بلا پس و پیش عامل بن جاؤ، اپنی اغراض اور اہواء اور آراء ان کے احکام پر مقدم نہ رکھو، بلکہ اپنی خواہشات اور جذبات کو احکام سماوی کے تابع بناؤ۔“

آپ ﷺ کی مجلس میں شور نہ کرو اور جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بے تکلف چہک کر یا تڑخ کر بات کرتے ہو، آپ کے ساتھ یہ طریقہ اختیار کرنا خلافِ ادب ہے، آپ سے خطاب کرو تو نرم آواز سے تعظیم و احترام کے لہجے میں ادب و شائستگی کے ساتھ، دیکھو ایک مہذب بیٹا اپنے باپ سے، لائق شاگرد استاد سے، مخلص پیرو مرشد سے اور سپاہی اپنے افسر

صفحہ 32

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

سے کس طرح بات کرتا ہے۔ پیغمبر کا مرتبہ تو ان سب سے کہیں بڑھ کر ہے، آپ ﷺ سے گفتگو کرتے وقت پوری احتیاط رکھنی چاہئے مبادا بے ادبی ہو جائے اور آپ کو تکدر پیش آئے تو آپ ﷺ کی ناخوشی کے بعد مسلمانوں کا ٹھکانہ کہا ہے؟ ایسی صورت میں تمام اعمال ضائع ہونے اور ساری محنت اکارت جانے کا اندیشہ ہے۔

تنبیہ :...... آپ ﷺ کی وفات کے بعد نبی کی احادیث سننے اور پڑھنے کے وقت بھی یہی ادب چاہئے اور جب قبر شریف کے پاس حاضر ہو وہاں بھی ان آداب کو ملحوظ رکھے، نیز آپ کے خلفاء، علماء، ربانیین اور اولوالامر کے ساتھ درجہ بہ درجہ اسی ادب سے پیش آنا چاہئے تاکہ جماعتی نظام قائم رہے، فرق مراتب نہ کرنے سے بہت سے مفاسد اور فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے۔

(تفسیر عثمانی)

اس آیت شریفہ کے ضمن میں حاشیہ جلالین پر یوں رقم ہے: ”نبی ﷺ کو اس طرح بلانا جس میں تعظیم نہ ہو، نہ ان کی زندگی میں جائز تھا اور نہ ان کی وفات کے بعد جائز ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو کم مرتبہ والا جانا، پس وہ کافر ہے اور دنیا و آخرت میں ملعون ہے۔“

(جلالین ص۳۰۲)

واضح ہوا کہ ملعون، لعن کیا ہوا ہوتا ہے اور ملعون اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ۔ سے محروم ہوتا ہے اسلامی ریاست میں کسی کے جان و مال کی حفاظت اللہ کی رحمت ہوتی ہے اور جو ملعون قرار پا جائے وہ اللہ کی رحمت سے کٹ جاتا ہے، اب اس کے جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں رہتا، پہلے وہ اللہ کی رحمت کی وجہ سے معصوم الدم تھا لیکن جب سے ملعون ہوا مباح الدم ہو گیا۔

(گستاخی رسول کا شبہ بھی ختم) کر دیا گیا

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا
وَلِلْكَفِرِيْنَ عَذَابٌ أَلِيْمٌ﴾

(البقرۃ: ١٠٤)

”اے ایمان والو! تم ”راعنا“ مت کہا کرو بلکہ ”انظرنا“ کہا کرو اور

صفحہ 33

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

خوب غور سے سنا کرو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔“ آپ ﷺ جب اپنے صحابہ سے کلام فرماتے تو اگر کوئی بات انہیں سمجھ نہ آتی تو وہ دوبارہ سننے کے لئے ان الفاظ کے ساتھ درخواست کرتے ”راعنا یا رسول اللہ“ (اے اللہ کے رسول ہماری رعایت فرمائیں) یعنی ہمیں سمجھانے کے لئے یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائیں۔ یہ الفاظ اپنے معنی کے لحاظ سے بالکل درست تھے اور ان میں بے ادبی کا کوئی پہلو نہ تھا لیکن یہودیوں نے اپنے خبث باطن کی وجہ سے اس لفظ کو ذرا کھینچ کر استعمال کرنا شروع کر دیا یعنی ”راعینا“ (ہمارے چرواہے ) ظاہر ہے کہ اس طرح یہ ایک بے ادبی اور گستاخی والا لفظ بن گیا اس آیت مبارکہ کے ذریعے اللہ نے مسلمانوں پر پابندی لگا دی کہ وہ ایسا لفظ استعمال نہ کریں جس سے یہودیوں کے لئے بے ادبی کا موقع نکل سکے البتہ اگر بات سمجھنی ہوا کرے تو یوں عرض کیا کریں ”انظرنا یا رسول اللہ“ اے اللہ کے رسول ہماری طرف نظر فرمائیں۔

علامہ آلوسیؒ تحریر فرماتے ہیں: ”اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے یہ آیت ایمان والوں کے لئے اتاری تاکہ مؤمنین کی طرف سے اہانت رسول کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے اور زبانیں ایسے الفاظ کو بالکل چھوڑ دیں اور بے ادبوں ، گستاخوں سے مشابہت بھی ختم ہو جائے۔“

(روح المعانی ۳۴۸/۱)

علامہ رشید رضا مصریؒ مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”اہانت رسول کے الفاظ اگرچہ غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ ہو لیکن ان کے ذریعے اس کا دروازہ کھل جائے گا، اس لئے اللہ نے ایسے الفاظ کو بھی منع کر دیا اور اس سلسلے کو بالکل بند کر دیا۔“

(المنار ۱۰۴/۱)

مولانا محمد علی صدیقی کاندھلویؒ نے اس میں مزید اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اس آیت سے پہلے براہ راست خطاب چلا آ رہا تھا یہود کو لیکن جب یہ مقام آیا تو قرآن نے اپنا انداز تخاطب بدل لیا اور شان رسالت میں اہانت کرنے کی بات کر کے کہا کہ واسطے کافروں کے عذاب الیم ہے

صفحہ 34

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

یعنی قرآن نے غائبانہ انداز میں بات کی، اس سے پتہ چلتا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ اللہ کے ہاں کتنا رذیل ہے کہ اللہ نے اسے مخاطب کرنا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ اس سے قطع نظر (بے رخی) کر کے مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مومنو! تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو اور واسطے کافروں کے عذاب الیم ہے۔ منافقوں کی گستاخی کیا تھی کہ اللہ نے انہیں قابل خطاب بھی نہ سمجھا کہ ان کے اس لفظ راعنا میں احتمال اہانت رسول (ﷺ) تھا اور مسلمانوں کو اس لئے مخاطب کیا کہ گستاخیٔ رسول (ﷺ) کے احتمال کا دروازہ بھی نہ کھل سکے اور اس لفظ راعنا پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے قدغن عائد کر دی۔‘‘

(معالم القرآن ۱/۴۶۳)

اس لئے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب کر کے یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایسے ذو معنی الفاظ سے قطعاً احتراز کریں تاکہ شان رسالت مآب ﷺ میں کسی قسم کی پنہاں اور پوشیدہ گستاخی کا احتمال بھی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔

علامہ شوکانی ”فتح القدیر“ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہو گیا کہ کوئی شخص ایسا لفظ استعمال کرے جس میں توہین رسالت ﷺ کا احتمال ہو تو وہ واجب القتل ہے۔ اس کی توثیق اس حدیث سے ہو جاتی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ معلوم ہوا کہ یہودی لفظ ”راعنا“ ﷺ کے بارے میں بطور طعن و تشنیع استعمال کرتے ہیں جس کی اوپر تشریح ہو چکی ہے تو آپ نے یہودیوں سے کہا: ’’اے یہودیو! تم پر اللہ کی لعنت ہو، آئندہ سے اگر میں نے تم میں سے کسی کو لفظ راعنا کہتے ہوئے سنا تو اس کی گردن اڑا دوں گا۔‘‘

گستاخ رسول اور مرتد کا شرعی حکم میں علماء کی آراء

﴿یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ...﴾

(سورۃ توبہ آیت ۶۴ تا ۶۶)

صفحہ 35

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ابوحیان اندلسیؒ اپنی تفسیر میں اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں:

” (تم نے ظاہر کیا کفر کو بعد ظاہر کرنے ایمان کے) اس لئے کہ وہ چھپاتے تھے اپنے کفر کو پس ظاہر کیا اس کو اپنی استہزاء کے ذریعے ۔“

(البحر المحیط ج ۵ ص ۶۷)

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں:

”اللہ تبارک و تعالیٰ اور رسول کا استہزاء اور احکام الہیہ کا استخفاف تو وہ چیز ہے کہ اگر محض زبان سے دل لگی کے طور پر کیا جائے وہ بھی کفر عظیم ہے، چہ جائیکہ منافقین کی طرح از راہ شرارت اور بد باطنی سے ایسی حرکت سرزد ہو۔“

(تفسیر عثمانی)

” تمہارا کفر ظاہر ہو گیا آپ ﷺ کو ایذا پہنچا کر اور آپ ﷺ کی شان عالی میں زبان طعن دراز کر کے۔“

(تفسیر مظہری ج ۴ ص ۲۶۱)

شیخ محمد اسماعیل حقیؒ اپنی تفسیر میں یوں رقمطراز ہیں:

”آپ ﷺ کو اذیت دینا اور زبان طعن دراز کرنا کفر ہے۔“

(تفسیر ”روح البیان“ ج ۳ ص ۴۵۹)

حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

”اس بات میں نص ہے قرآن مجید کی کہ بے شک اللہ سے اس کی آیتوں سے اور رسول ﷺ سے استہزاء کفر ہے جب استہزاء کفر ہے تو جو ’سب‘ (گالی) ہے تو وہ بطریق اولیٰ مقصود ہوگی، پس اب ”سب“ سے مراد کھلی گستاخی اور اہانت آگئی، چنانچہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص بھی آپ ﷺ کی تنقیص شان کرے، خواہ حقیقتاً، خواہ مذاقاً وہ شخص کافر ہو جائے گا۔“

(الصارم المسلول ص ۳۱، ۳۲)

حضرت ملا علی قاریؒ ان کے کفر کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

صفحہ 36

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

”اہل تفسیر بیان کرتے ہیں کہ ان کا کفر یہ تھا کہ انہوں نے آپ ﷺ کے بارے میں ایسے کلمات کہے جو آپ ﷺ کے شایان شان نہیں تھے۔“

(شرح الشفا ج ۲ ص ۴۰۴)

امام فخر الدین رازیؒ اس کی مزید تصریح فرماتے ہیں: آیت ﴿قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ﴾ دلالت کرتی ہے اس پر کہ ان کا قول جو ان سے صادر ہوا ہے، حقیقت میں کفر ہے، اگرچہ وہ اس سے قبل بھی منافق تھے اور بے شک ممکن ہے کہ کفر تازہ ہوتا رہے وقتاً فوقتاً۔

(تفسیر کبیر ج ۶ ص ۱۲۳، ۱۲۴)

امام رازیؒ نے بڑی خوبصورت وضاحت کی یعنی منافقین پہلے بھی کافر ہی تھے مگر اپنے کلمۂ کفر کی وجہ سے انہوں نے اپنے کفر کی تجدید کی، گویا منافقین کا کفر پہلے رات کے اندھیرے کی طرح تھا لیکن جب انہوں نے نبی کریم ﷺ کو ایذاء پہنچائی تو ان کا کفر نکھر کر سامنے آگیا اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کردی۔

مفسرین نے لکھا ہے کہ جب ان کا کفر بے نقاب ہوا تو انہوں نے اپنی خباثت کو چھپانے کے لئے یہ بہانہ گھڑ لیا کہ ہم نے تو بطور مذاق کہا تھا، اس پر اللہ رب العزت نے کہا لا تعتذروا بہانے مت بناؤ (تم تھے ہی دل کے کالے) ﴿قد کفرتم بعد ایمانکم﴾ تم نے کفر کیا ایمان لانے کے بعد چنانچہ مفتی بغداد علامہ محمود آلوسیؒ تحریر فرماتے ہیں: ”تم نے کفر ظاہر کیا، رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچانے سے اور آپ ﷺ کی شان میں طعنہ زنی کرنے سے۔“

(تفسیر روح المعانی ج ۱۰ ص ۱۳۱)

یہاں لفظ ”کفر ظاہر کیا“ نشاندہی کرتا ہے، منافقین کے اس کفر کی جو ان کے دلوں میں پوشیدہ تھا۔

آیت شریفہ قد کفرتم بعد ایمانکم کے الفاظ اور اظہرتم الکفر دونوں پر اگر یکساں تدبر کیا جائے تو ایک باریک اور لطیف مسئلہ سامنے آتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد عظمت رسول ﷺ کا دلوں میں جاگزیں نہ ہونا بھی کفر ہے۔

کیونکہ ﴿قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ﴾ دلیل ہے اس بات کی، کہ یہ منافق پہلے ایمان

صفحہ 37

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

لائے تھے اور پھر علامہ آلوسیؒ کا قول کہ کفر ظاہر کیا، اس امر کو متقضی ہے کہ کفر ظاہر کرنے یعنی آپ ﷺ کی شان اقدس میں الزام تراشی کرنے سے قبل کفر ان کے دلوں میں قرار پا چکا تھا، جسے بوقت الزام تراش کر فقط ظاہر کیا گیا۔

عنداللہ ازواج مطہرات کا مقام

رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کا جو مسلمانوں کی مائیں ہیں ہر ایک پر تعظیم کا حق ہے اور اپنی حقیقی ماؤں سے بڑھ کر ان کی عزت و تکریم کرنا مسلمانوں کا فرض ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُه اُمَّهٰتُهُمْ٥﴾

(الاحزاب ۶:۳۳)

”رسول اللہ ﷺ کو مومنوں کے ہاں ان کی اپنی ذات سے بہت زیادہ قریب و عزیز ہونا چاہئے اور ازواج نبی ﷺ ان کی اپنی ماؤں کی طرح ہیں۔“

اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے:

﴿وَلَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَه مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا﴾

(الاحزاب ۵۳:۳۳)

”اے مومنو! تمہیں اجازت نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو (کیونکہ وہ تمہاری مائیں ہیں)“

گستاخ رسول کی دائمی سزا

قرآن ایک اور زاویہ نظر سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کی گرفت کرتے ہوئے کہتا ہے:

﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه اُولٰٓئِكَ فِى الْاَذَلِّيْنَ٥﴾

(مجادلہ ۲۰:)

”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت

صفحہ 38

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کرتے ہیں وہ نیچے بہت گہری ذلت کے ہیں۔“

یہاں آگے چلنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مذکورہ آیت میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا مقابلہ اور مخالفت کرنے کا ذکر ہے جب کہ اللہ تو خالق ہے مخلوق کا، خالق سے مقابلہ کرنا تو بعید از قیاس ہے۔ معلوم ہوا اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت اور مقابلہ کرنا ہی ذلتوں کا منبع ہے اور مذکورہ آیت میں بھی انہی لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں۔ قرآن میں کئی جگہ، جہاں اللہ اور رسول اللہ کا ذکر ایک جگہ آیا ہے وہاں صرف رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مقصود ہوتی ہے:

﴿وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَا اٰتٰهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَيُؤْتِيْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَرَسُوْلُهٗ اِنَّآ اِلَى اللّٰهِ رَاغِبُوْنَ﴾

(توبہ ۵۹)

”اور اگر وہ اس پر راضی ہو جاتے جو انہیں اللہ نے اور اس کے رسول (ﷺ) نے دی اور کہتے ہیں کفایت ہے ہم کو اللہ دے گا ہم کو اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (ﷺ) تحقیق ہم طرف اللہ کی رغبت کرنے والے ہیں۔“

اس آیت مبارکہ میں من فضلہ کی ضمیر ، واحد استعمال کی گئی ہے اس میں شک نہیں کہ یہاں حقیقتاً نسبت اللہ ہی کی طرف ہے اور مجازاً شان مظہریت کے اعتبار سے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے، ان دو جہتوں کو اللہ نے دو جدا جہتیں تصور نہیں فرمایا بلکہ ایک ہی جہت قرار دیا ہے۔

خلاصہ اس کا یہ ہے کہ سورہ مجادلہ میں جو فرمایا کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے جو لوگ مقابلہ اور مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ترین ہیں۔

اس سے مراد حقیقتاً مقابلہ اور مخالفت ذات محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے جب کہ اس جنگ میں اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے خود کو شامل کر کے عظمت رسول اللہ ﷺ کے تصور کو وسعت عطا کی ہے۔ دراصل جو مرتبہ اور مقام رسولوں کو عطا کیا گیا تھا، وہ دراصل اللہ ہی کا عطا کردہ تھا، اس لئے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے بارہا قرآن میں فرمایا ”جو نبی کو تکلیف دیتا ہے وہ اللہ ہی کو

صفحہ 39

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام تکلیف دیتا ہے۔‘‘ اس لئے اس کی سزا بھی اسی سطح پر دی جائے گی۔ علامہ ابن تیمیہؒ مذکورہ آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں: ”نبی اکرم ﷺ کو اذیت دینا یہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت ہے۔...... نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والے، قرآن کی رو سے یہی لوگ محادّون ہیں۔ جب یہ بات اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے لئے محادّت ہوگئی پس اب جانو کہ اللہ نے فرمایا کہ (وہی آیت) جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں وہ اذلین ہیں۔“ آگے لکھتے ہیں: ”اذلین اذل کی جمع ہے (اذل کا معنی کیا ہے؟) یہ ذلیل سے ابلغ ہے آدمی اس وقت ذلیل ہوتا ہے جب اس کے خون اور مال کی حفاظت نہ رہے اگر اس کا جان و مال محفوظ ہے تو وہ اذل نہیں ہو سکتا۔“

(الصارم المسلول ص۲۲،۲۱)

علامہ ابن تیمیہؒ آگے لکھتے ہیں: ”کیوں کہ اذل وہ شخص ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس سے برا سلوک کرنا چاہے تو اس سے بچنے کے لئے اس کے پاس قوت نہ ہو۔ جب مسلمانوں نے اس سے معاہدہ کیا ہو تو اس کی وجہ سے اس کی تائید و نصرت اور اس کا دفاع ان پر واجب ہے، اس لئے وہ اذل نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتا ہے اس کے لئے کوئی عہد نہیں ہے جو اسے بچا سکے اور نبی کریم ﷺ کو ایذا دینے والا ان کا مخالف ہے، پس موذی کے لئے کوئی عہد نہیں جو اس کے خون کی حفاظت کر سکے۔“

(الصارم المسلول اردو ترجمہ از غلام احمد حریری ص۵۶)

PDF 40

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

توہین رسالت ہمیشہ کی ذلت و ضلالت

......................................

اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾

(مجادله آیت ۵)

”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ذلیل کیا جائے گا جس طرح ان لوگوں کو ذلیل کیا گیا جو ان سے پہلے تھے۔“

علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:

”اس آیت میں الکبت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ذلیل کرنے، رسوا کرنے اور گرانے کے ہیں۔ خلیل کہتے ہیں کہ کبت کے معنی منہ کے بل گرانے کے ہیں۔...... النضر بن شمیل اور ابن قتیبہ کے نزدیک اس کے معنی غم وغصے کے ہیں۔“

(الصارم المسلول اردو ترجمہ ص ۵۶، ۵۷)

علامہ ابن تیمیہؒ آگے لکھتے ہیں:

”مفسرین کہتے ہیں کہ کبتوا کے معنی ہیں کہ انہیں ہلاک کیا گیا، رسوا کیا گیا اور غم زدہ کیا گیا، پس ثابت ہوا کہ مخالفت کرنے والا ذلیل و خوار ہو گا اور غم اور غصہ سے ہلاک ہو جائے گا اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب مخالفت کرنے والا اس بات سے ڈرتا ہو کہ اسے قتل کیا جائے گا۔“

(الصارم المسلول اردو ترجمہ ص ۵۷)

علامہ ابن تیمیہؒ آیت کریمہ کی مزید تشریح یوں کرتے ہیں:

”آیت کریمہ کے الفاظ ﴿كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ یعنی جن لوگوں نے قبل ازیں رسولوں کی مخالفت کی تھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں یا تو خود عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک کر دیا یا اہل ایمان کے

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہاتھوں تباہ و برباد کر دیا۔“

اس کے علاوہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ار

مَّنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ا أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ﴾

جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ ال

ان آیات میں فعل حاد یحاد کا مطلب تراشی یا نازیبا رویے سے زخم پہنچاتے رہنا بد زبانی کرنا یا بے حرمتی کرنا۔

ایمان رکھتے ہوئے بھی ایسے ا اور اس کے رسول ﷺ کی م ہیں چاہے وہ ان کے اپنے ہوں۔“

کے رسول ﷺ کے لئے وَ ان کو ایذا دیتے یا زخم لگا جائیں گے اور یہ ان کے لئے

شاتم رسو

.......

امام ابن ہمامؒ لکھتے ہیں:

”جو بھی شخص رسول اللہ ﷺ

صفحہ 41

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہاتھوں تباہ و برباد کر دیا۔

(الصارم المسلول اردو ترجمہ ص ۵۷)

اس کے علاوہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا ہے:

مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ

(مجادله ۲۲:۵۸)

جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُO

(توبه ۹:۶۳)

ان آیات میں فعل حاد یحاد کا مطلب ہے دشمن ہونا، دکھ دینا، مسلسل چوٹ لگانا یا تہمت تراشی یا نازیبا رویے سے زخم پہنچاتے رہنا، مخالفت کرنا یا دشمنی دکھانا، رنجیدہ کرنا، بدسلوکی کرنا، بدزبانی کرنا یا بے حرمتی کرنا۔

ایمان رکھتے ہوئے بھی ایسے لوگوں سے محبت یا دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمن ہیں چاہے وہ ان کے اپنے والد، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔“

کے رسول ﷺ کے لئے دشمنی و عداوت کا اظہار کرتے ہیں یا مسلسل ان کو ایذا دیتے یا زخم لگاتے ہیں، آتش دوزخ میں جھونک دیئے جائیں گے اور یہ ان کے لئے ایک بہت بڑی ذلت اور رسوائی ہوگی۔“

شاتم رسول کی توبہ مہلت نہیں

امام ابن ہمام لکھتے ہیں:

”جو بھی شخص رسول اللہ ﷺ سے بغض رکھے، وہ مرتد ہو جاتا ہے۔“

(فتح القدیر ج ۳ ص ۲۰۷)

PDF 42

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ایک اور بات بھی یاد رکھئے کہ دیگر مرتدین سے اس کا حکم بھی جدا ہے، کیونکہ دیگر مرتدین پر اسلام پیش کیا جاتا ہے اگر وہ تین یوم کے اندر اسلام میں لوٹ آئیں تو انہیں معاف کر دیا جاتا ہے مگر بوجہ گستاخی رسول اللہ ﷺ کے مرتد ہونے والے شخص کے سامنے اسلام پیش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اسے توبہ کا موقع دیا جاتا ہے۔

امام ابن نجیم حنفیؒ لکھتے ہیں:

’’ہر ارتداد برابر ہوتا ہے۔ اگر اسلام کی طرف راغب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا مگر اس سے کچھ مسائل مستثنیٰ ہیں ان میں پہلا یہ کہ جو گستاخ رسول اللہ ﷺ ہو، اسے نہیں چھوڑا جائے گا اور ایسے مرتد شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

(بحر الرائق ج ۵ ص ۱۳۵)

امام شافعیؒ ایسے شخص کے جرم اور ارتداد کو دیگر مرتدین کے جرم سے زیادہ سنگین قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’شاتم رسول اللہ ﷺ کا ارتداد دوسرے ارتداد کی طرح نہیں کیونکہ دیگر ارتداد انفرادی عمل ہوتے ہیں اور ان میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا اس لئے اس کی توبہ قابل قبول ہوتی ہے۔ مگر شاتم رسول ﷺ ایسا کافر و مرتد ہوتا ہے کہ اس کا قتل لازم ہے اگر وہ توبہ نہ کرے تب بھی اس کا قتل ہوگا اور اگر توبہ کرے تو بھی صحیح مذہب کے مطابق بطور حد قتل کیا جائے گا۔‘‘

(تنقیح حامدیہ ص ۱۵۲)

علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:

’’رسول اللہ ﷺ کو سب و شتم اسلام سے اعراض (ارتداد) سے بدرجہا بدتر ہے۔‘‘

(الصارم المسلول عربی ص ۲۹۸)

محمد کاظم حبیب اس سلسلے میں یوں رقمطراز ہیں: درج ذیل صورتوں میں مرتد کی توبہ قبول نہیں کی جاتی:

’’اگر مرتد نے اللہ تبارک و تعالیٰ، محمد ﷺ، قرآن کریم یا کسی پیغمبر یا

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کتب سماوی، اللہ کا پیغام لانے وا ہے کو سب و شتم کا نشانہ بنایا ہو یا ا گھٹائی ہو اور ان کے تقدس کو پامال غیظ و غضب، مزاج یا زبان پھسل ج کہ جس مرتد کے ارتداد کا سب و شتم ارتداد میں اس نے گالیاں دی ہوں بھی (سابقہ) سب و شتم کی وجہ سے

قرآن کی نگاہ میں ش

قرآن کریم نے توہین رسالت کے مجرم کے رسول اللہ ﷺ سے مسلسل برسر جنگ ہیں۔ حالات کے مطابق ان میں سے کوئی ایک

خلاف او ينفو من الارض

خدائی فیصلہ شاتم رس

ایک اور جگہ ارشاد باری تبارک و تعالیٰ ہے

﴿وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ﴾

’’اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی

صفحہ 43

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کتب سماوی، اللہ کا پیغام لانے والے فرشتے، جن کا ذکر قرآن میں آتا ہے کو سب وشتم کا نشانہ بنایا ہو یا ان کا مذاق اڑایا ہو یا ان کی قدرومنزلت گھٹائی ہو اور ان کے تقدس کو پامال کیا ہو اور اس سلسلے میں جہالت، مدہوشی، غیظ وغضب، مزاح یا زبان پھسل جانے کا عذر بھی قبول نہیں کیا جائے گا حتیٰ کہ جس مرتد کے ارتداد کا سب وشتم کے علاوہ کوئی اور سبب بھی ہو لیکن زمانہ ارتداد میں اس نے گالیاں دی ہوں، پھر تائب ہو گیا اور ایمان لے آیا پھر بھی (سابقہ ) سب وشتم کی وجہ سے قتل کیا جائے گا۔

(ارتداد ماضی اور حال کے آئینے میں ص ۷۴)

قرآن کی نگاہ میں شاتم رسول کی سزائیں

قرآن کریم نے توہین رسالت کے مجرموں، کافروں اور مرتدوں کے لئے اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے مسلسل برسر جنگ رہنے والوں کے لئے چار قسم کی سزائیں مقرر کی ہیں۔ حالات کے مطابق ان میں سے کوئی ایک بھی دی جاسکتی ہے۔

خلاف اوینفو من الارض

خدائی فیصلہ شاتم رسول ﷺ کے لیے

ایک اور جگہ ارشاد باری تَبَارَكَ وَتَعَالٰی ہے:

وَإِنْ نَّكَثُوْا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ

(توبہ آیت ۱۲)

”اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین

صفحہ 44

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں طعن کریں تو ان کفر کے اماموں کے ساتھ جنگ کرو۔“

علامہ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد بن محمود نسفیؒ اور علامہ زمخشری اس کے ذیل میں یوں لکھتے ہیں:

”جب ذمی نے دین اسلام پر واضح طعن کیا تو اس کا قتل جائز ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ اس بات پر عہد کیا گیا تھا کہ وہ دین میں طعن نہ کرے گا پس جب اس نے طعن کیا تو وہ ذمے سے نکل گیا۔“

(تفسیر مدارک جلد اول، ۲۱۰، تفسیر کشاف جلد دوم پارہ ۱۰)

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفیؒ لکھتے ہیں:

”اس آیت کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ ذمیوں میں سے جس نے نبی ﷺ کو گالی دی تو اس کا عہد ٹوٹ گیا۔“

(احکام القرآن ج ۳ ص ۵۸)

حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کے ضمن میں واضح حکم لگاتے ہیں:

”جو آنحضرت ﷺ کی شان میں بدگوئی کرے، کوئی طعن یا عیب لگائے وہ قتل کیا جائے گا۔“

(تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۳۷)

اسی طرح عبداللہ بن احمد انصاری نے ”تفسیر قرطبی“ میں، احمد مصطفیٰ مراغی نے ”تفسیر مراغی“ میں اور محمد جلال الدین قاسمی نے ”تفسیر قاسمی“ میں بھی اس آیت کی شرح میں یہی لکھا ہے کہ اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور قتل واجب ہو جاتا ہے اسی طرح مواہب الرحمٰن میں بھی ہے۔

ارشاد باری تبارک و تعالیٰ ہے:

قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَ يَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَo

(توبہ ۱۴)

”لڑو ان سے کہ اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب کرنے اور رسوا کرے ان کو اور مدد دیوے تمہیں اوپر ان کے اور ایمان والوں کے سینوں کو شفا (تسکین) دیوے۔“

گستاخی رسول ﷺ پر مؤمنین کے سینوں کا داغدار ہو جانا عین ممکن ہے۔ اللہ

صفحہ 45

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کا حکم ہے: ”تم ان سے قتال کرو، میں تمہاری مدد کروں گا اور تمہارے ہاتھوں انہیں ذلیل و رسوا کروں گا اور انہیں عذاب دنیا میں تمہارے ہاتھوں دوں گا۔“

صاف ظاہر ہے جب تک مومن گستاخ رسول اللہ ﷺ کو جہنم رسید نہ کر لے، اس کے دل کو تشفی نہیں ہو سکتی۔ اللہ فرماتا ہے میں تمہارے دل کو تشفی بھی دوں گا، یہ آیت بھی گستاخ رسول ﷺ کی سزائے قتل پر استدلال کرتی ہے۔

مقتداء گستاخ رسول کا انجام

جب کفار نے رسول اللہ ﷺ کو بے اعتبار و مشکوک ٹھہرانے کی کوشش کی، ان کے ساتھ کئے ہوئے عہد ناموں کا پاس نہ کیا اور ان کو اور ان کے پیروکاروں کو قتل کرنے کی سازش تک کی اور مدینہ سے اسی طرح بزور طاقت نکال دینے کی کوشش کی جیسے کہ مکہ سے نکال دیا گیا تھا تو ایک فرمان الٰہی جاری ہوا۔ مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ وہ کافروں کے خلاف لڑیں، اس کا اطلاق یوں تو سب کفار پر ہوتا تھا لیکن یہ ان کے سرداروں کے لئے مخصوص تھا جو لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے اور پیغام حق کے خلاف برانگیختہ کرتے تھے۔ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی فرماتے ہیں:

﴿طَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ﴾

(توبہ ۱۲:۹)

”اگر وہ تمہارے دین سے گستاخی کرتے یا اسے گالی دیتے ہیں تو انہیں فی الفور فنا کر دو کیونکہ وہ بے حرمتی اور کفر کے سرغنے اور سردار ہیں ان کی مزید معافیاں اور توبہ قبول نہیں کی جائیں گی۔“

اس آیت میں لفظ طعن کا معنی ہے گالی دینا، بدزبانی کرنا، طعنہ دینا، اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ اور ان کے پیغام کو گالی دینا یا رسوا کرنا بدترین قسم کے کفر و بے حرمتی کے فعل ہیں۔ وحی کے ذریعے نازل شدہ تمام مذاہب کے مطابق کفر و بے حرمتی کی سزا موت ہے۔

اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے سورۃ انفال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کے لئے قتال کا حکم صادر فرمایا ہے:

صفحہ 46

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

﴿ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ o ذٰلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ وَمَنْ يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾

(انفال ۱۳،۱۲:۸)

”پس تم ان کی گردنوں پہ اور جوڑ جوڑ پر ضرب لگاؤ ( یہ حکم قتال ) اس لئے دیا گیا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کی اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا تو یاد رکھو اپنے فرائض سے غفلت نہ برتو۔ اسلام کے مقصد اعلیٰ کے لئے جہاد میں ثابت قدم رہو اور جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے مت کرو نہ ہی بچوں کو قتل کرو، تمہارے درمیان یہی اللہ کا قانون اور رسول اللہ ﷺ کا طریقہ ہے۔“

(سیرۃ ابن ہشام جلد دوم ص ۱۰۴۸)

یہ آیات سورۃ انفال کی ہیں جو ۲ھ میں مدینہ منورہ میں اس وقت نازل ہوئیں جبکہ اسلامی ریاست معرض وجود میں آ رہی تھیں اور دشمنان اسلام اللہ کے رسول کی مخالفت اور ایذاء رسانی پر کمر بستہ ہو گئے تھے، اس پاداش جرم میں ان کے لئے یہ سزا تجویز ہوئی۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع ...... 2

گستاخان رسول ﷺ کی سر

نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں گ سزادی گئی قاضی عیاض رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى نے الش میں ذکر کئے ہیں انہوں نے ایک واقعہ یہ بھی درج

حضرت زبیر رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ

کہ ایک شخص نے سرور دوعالم ﷺ کی بارگ کی اس حرکت پر فرمایا کون غیور ہے جو اس گست رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں انہوں نے اس گستاخ کو گستاخی کی سزادی۔ یوں تو سینکڑوں نہیں ہزاروں احادیث مرو صفحات میں قارئین حضرات صحابہ کرام رضوان ا پڑھیں گے جن کی حیثیت بذات خود احادیث کی ﷺ نقل کر رہے ہیں۔

شاتم رسول کی سزا بزبان

نے فرمایا:

من سبنی ف

جس کسی نے مجھے گ

صفحہ 47

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام موضوع....... 2

گستاخان رسولؐ کی سزا احادیث کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں گستاخی رسول ﷺ کے کئی مجرموں کو قتل کی سزا دی گئی قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق آٹھ واقعات اپنی کتاب ’’الشفاء‘‘ میں ذکر کئے ہیں انہوں نے ایک واقعہ یہ بھی درج کیا ہے۔

حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک گستاخ کو سزا دینا

کہ ایک شخص نے سرور دو عالم ﷺ کی بارگاہ میں گستاخی کی۔ نبی پاک ﷺ نے اس کی اس حرکت پر فرمایا کون غیور ہے جو اس گستاخ کو اس حرکت کا مزہ چکھائے؟ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میری خدمات اس کام لئے حاضر ہیں چنانچہ انہوں نے اس گستاخ کو گستاخی کی سزا دی۔

یوں تو سینکڑوں نہیں ہزاروں احادیث حرمت نبوی ﷺ پر پیش کی جاسکتی ہیں۔ انہی صفحات میں قارئین حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بیسیوں واقعات بھی پڑھیں گے جن کی حیثیت بذات خود احادیث کی ہے۔ اس جگہ ہم بطور تبرک چند فرامین رسول ﷺ نقل کر رہے ہیں۔

شاتم رسول کی سزا بزبان نبوی ﷺ سے سنیئے

نے فرمایا:

مَنْ سَبَّنِیْ فَاقْتُلُوْهُ۔

جس کسی نے مجھے گالی دی اس کو قتل کر دو۔

صفحہ 48

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کسی بھی نبی کی گستاخی کرنے والا شخص واجب القتل ہے

سب اصحابی فاضربوہ:“

جو شخص کسی نبی کو برا بھلا کہے اس کو قتل کر دو اور جو میرے صحابہ کو برا بھلا کہے اسے مارو۔

تشریح: یہ حدیث شریف قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اپنی مکمل سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے نقل کی ہے علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ اس حدیث کے ضمن میں یوں رقم طراز ہیں۔

یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کو گالی دینے والے کا قتل واجب ہے۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے نیز یہ کہ قتل اس کے لیے حد شرعی ہے۔

اس حدیث مبارکہ کی تائید دیگر بہت سی روایات اور آثار سے ہوتی ہے اسی لئے تمام علماء امت کا اس بات پر اتفاق اور اجماع ہے کہ گستاخ رسولؐ کی سزا قتل ہے۔

شاتم رسول ﷺ کو قتل کرنے والے کے لئے انعام

شاتم رسول ﷺ کفر گو بے حرمت شخص کو قتل کرنے والا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا معاون و مددگار ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کبھی بھی کسی شاتم رسول ﷺ کو کھلا نہیں چھوڑتے تھے جیسے ہی وہ سنتے کہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی بے عزتی کر رہا ہے یا ان سے بدزبانی کر رہا ہے تو وہ اس کا کام تمام کر دیتے اور رسول اللہ ﷺ انہیں اس بات کا اختیار عطا کرتے چند ایک کے بارے میں تو وہ اس قدر خوش ہوئے کہ انھوں نے ایسے شخص کو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے معاون ہونے کا اعلان کر دیا۔

آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں گستاخی کرنا براہ راست آپ

صفحہ 49

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ﷺ کو تکلیف پہنچانے کی مترادف ہے۔

صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی کی ممانعت

ﷺ نے ارشاد فرمایا:

میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو۔ ان کو میرے بعد اپنی تنقیدوں کا نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی میری محبت کی وجہ سے کی اور جس نے ان سے بغض رکھا میرے بغض کی وجہ سے رکھا اور جس نے ان کو ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے ایذاء دی اس نے اللہ کو ایذاء دی۔ اور جس نے اللہ کو ایذاء دی تو قریب ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے گا۔

تشریح : اس حدیث شریف میں واضح کر دیا گیا کہ آپ ﷺ چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے پیغمبر اور رسول ہیں اللہ کے حبیب ہیں اس لئے آپ ﷺ کی شان اقدس میں کسی قسم کی گستاخی در حقیقت اللہ تبارک و تعالیٰ کے انتخاب پر انگلی اٹھانے اور اس کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔

آپ ﷺ کی اپنی امت کے ساتھ خاص شفقت

ایک خاص قسم کی شفقت کا تعلق ہوتا ہے جس طرح کہ ہر شخص کو اپنی اولاد کے ساتھ شفقت اور محبت کا ایک خاص تعلق ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے ساتھ نہیں ہوتا اور اس تعلق کی وجہ سے ان کی قدرتی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے عذاب سے چھٹکارا پائیں اور اس شفقت و رحمت میں رسول اللہ ﷺ سب پیغمبروں سے بڑھے ہوئے ہیں اور اس لئے قدرتی طور پر آپ ﷺ کی یہ بڑی خواہش ہے جو مختلف موقعوں پر بار بار آپ ﷺ سے ظاہر ہوئی کہ آپ ﷺ کی امت دوزخ میں نہ جائے اور جن کی بدعملی اس درجہ کی ہو کہ ان کا دوزخ میں ڈالا جانا اور کچھ عذاب پانا ناگزیر ہو ان کو کچھ سزا پانے کے بعد نکال لیا جائے چنانچہ مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہو چکا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ ﷺ کی خواہش کو پورا فرمائیں گے اور آپ

صفحہ 50

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ﷺ کی شفاعت سے بہت لوگ جہنم سے بچ جائیں گے اور بہت سے ڈالے جانے کے بعد نکال لئے جائیں گے۔

حضرت معاویہؓ کی گستاخی کرنے والے کا عبرتناک انجام

مؤرخ ومفسر حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں:

کسی نے خواب میں آپ ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ کے پاس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف فرما ہیں۔ ایسے میں ایک شخص آیا۔ اس کا نام راشد الکندی تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے دیکھ کر کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ یہ آدمی ہمیں برا بھلا کہتا رہتا ہے۔ یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے اسے سختی سے ڈانٹا وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میں انہیں تو کچھ نہیں کہتا بلکہ میں تو معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا بھلا کہتا ہوں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ بربادی ہو تیرے لیے کیا یہ میرے صحابی نہیں ہیں؟

آپ ﷺ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے لوہے کا ایک ڈنڈا اٹھا کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا یہ لو اور اس کی پیٹھ پر ضرب لگاؤ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے مارا۔ صبح ہوئی تو میں نے سنا کہ وہ آدمی رات کو مر چکا ہے۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع ....... 3

تحفظ ناموس رسالت

ختم نبوت کا تحفظ

غیرت کو جھنجوڑتے ہوئے کہا ..... جو جناب سکتا وہ اپنی ماں، بہن کی عزت کی بھی حفاظت

تحفظ ختم نبوت کے

حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص بھی اس پر قہر الٰہی اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سزا دینا چاہتی ہے تو اس کی مرضی ۔ ہم اس مرتبہ آزمایا ہے۔ تحریک خلافت ہو یا مقام میکلیگن کالج کا قبضہ۔ جب بھی کسی بد بخت تھوکنے کی کوشش کی ہے ہم نے اس خبیث جذبہ مزاحمت میں کبھی کمی نہیں آئی جو قدم

مولانا ظفر علی خان کا مر

شروع کئے اور مرزا قادیانی کا ریمانڈ لی حفاظت کے لئے حرکت میں آگیا مولا

صفحہ 51

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موضوع....... 3

تحفظ ناموس رسالت پر اکابر کے ارشادات

ختم نبوت کا تحفظ نہ کرنے والا نا اہل ہے

غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا ...... جو جناب خاتم النبین ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت نہیں کر سکتا وہ اپنی ماں بہن کی عزت کی بھی حفاظت نہیں کر سکتا۔

تحفظ ختم نبوت کے لئے مسلمانوں کا جذبہ

حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص بھی ختم نبوت کے تخت کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا ہم اس پر قہر الہی اور صدیق اکبر رَضِیَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهُ کا انتقام بن کر ٹوٹ پڑیں گے اگر حکومت ہمیں کوئی سزا دینا چاہتی ہے تو اس کی مرضی ۔ ہم اس کے لیے بھی ہر گھڑی تیار ہیں۔ تم نے ہمیں بیسیوں مرتبہ آزمایا ہے، تحریک خلافت ہو یا مقامات مقدسہ کے احترام کا مسئلہ، راج پال ایجی ٹیشن ہو کہ میکلیگن کالج کا قبضہ ۔ جب بھی کسی بد بخت ازلی نے رسول اللہ کی عظمت و وقار کے ماہتاب پر تھوکنے کی کوشش کی ہے ہم نے اس خبیث کا منہ توڑا اور حکومت کے جبر و تشدد کے باوجود ہمارے جذبہ مزاحمت میں کبھی کمی نہیں آئی جو قدم اٹھا آگے تو بڑھا ہے پیچھے کبھی نہیں ہٹا۔

مولانا ظفر علی خان کا مرزا قادیانی کو ایک ہزار بار دجال کہنا

شروع کئے اور مرزا قادیانی کا ریمانڈ لینا شروع کیا تو انگریزی قانون اپنے خود کاشتہ پودے کی حفاظت کے لئے حرکت میں آ گیا مولانا اور ان کے ساتھیوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کی

صفحہ 52

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

گئیں اور پھر ان سے نیک چلنی کی ضمانت طلب کی گئی۔ جھوٹی نبوت کے خالق فرنگی کو عاشق رسول مولانا ظفر علی خان نے جو با غیرت جواب دیا اسے پڑھ کر آج بھی گلشن ایمان میں بہار آ جاتی ہے آپ نے فرمایا: جہاں تک مرزا غلام احمد کا تعلق ہے ہم اس کو ایک بار نہیں ہزار ہا بار دجال کہیں گے اس نے آپ ﷺ کی ختم المرسلین میں اپنی جھوٹی نبوت کا ناپاک پیوند جوڑ کر ناموس رسالت پر کھلم کھلا حملہ کیا ہے۔ میں اپنے اس عقیدہ سے ایک منٹ کے کروڑویں حصہ کے لئے بھی دستبردار ہونے کو تیار نہیں اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال تھا..... دجال تھا..... میں اس سلسلہ میں قانون انگریزی کا پابند نہیں میں قانون محمدی کا پابند ہوں۔

علامہ اقبال کا باغی ختم نبوت کے ساتھ بیٹھنے سے انکار

آغا حیدر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے لاہور کے عمائدین اور مشاہیر کو کھانے پر مدعو کیا۔ حضرت علامہ اقبال بھی مدعو تھے اتفاق سے اس محفل میں جھوٹے نبی مرزا قادیانی کا جھوٹا خلیفہ حکیم نور الدین بھی بلا دعوت آٹپکا جب عاشق رسول علامہ اقبال کی نظر اس پر پڑی تو ماتھے پر شکن پڑگئی فوراً اٹھے اور میزبان کو مخاطب کر کے کہا۔ آغا صاحب! آپ نے یہ کیا غضب کیا کہ باغی ختم نبوت اور دشمن رسالت مآب ﷺ کو بھی مدعو کیا ہے اور مجھے بھی ! اور کہا میں جاتا ہوں میں ایسی محفل میں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا۔ حکیم نور الدین چور کی طرح فوراً حالات کو بھانپ گیا اور نو دو گیارہ ہو گیا۔ اس کے بعد میزبان نے علامہ اقبال سے معذرت کی اور کہا میں نے اس کو کب بلایا تھا یہ تو خود ہی گھس آیا تھا۔

حضرت شاہ صاحب کے ارشادات

رخ تو یہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی میں یہ کمزوریاں اور عیوب تھے۔ اس کے نقوش میں توازن نہ تھا، قد و قامت میں تناسب نہ تھا، اخلاق کا جنازہ تھا، کریکٹر کی موت تھا، سچ کبھی نہ بولتا، معاملات کا درست نہ تھا، بات کا پکا نہ تھا، بزدل اور ٹوڈی تھا، تقریر و تحریر ایسی ہے کہ پڑھ کر متلی

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ہونے لگتی ہے، لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ حسن و جمال ہوتا، قوٰی میں تناسب ہوتا، چہرے چلتا، بہادر بھی ہوتا، مرد میدان ہوتا، کریکٹر کا ، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، ہوتا، انگریزی کا شکسپیئر ہوتا، اور اردو کا ابوالکلام مان لیتے؟۔

میں تو کہتا ہوں کہ خواجہ غریب نواز اجمیریؒ امام مالک، امام شافعی، ابن تیمیہ، غزالی یا حسن بصریؒ ان کو نبی مان لیتے؟۔

علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دعویٰ کرتے کہ جن کو ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہم بھی دعویٰ کرتے تو کیا بخاری انہیں نبی مان لیتا ہرگز نہیں آپ ﷺ کے بعد کائنات اور تاج امامت و رسالت جس کے سر پر ناز کر ختم نبوت سرفراز ہوئی۔

صفحہ 53

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہونے لگتی ہے، لیکن میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر اس میں کوئی کمزوری نہ بھی ہوتی وہ مجسمہ حسن و جمال ہوتا، قویٰ میں متناسب ہوتا، چھاتی ۴۵ انچ کہ ایسی کہ کسی سی آئی ڈی کو پتہ نہ چلتا، بہادر بھی ہوتا، مرد میدان ہوتا، کریکٹر کا آفتاب ہوتا، خاندان کا مہتاب ہوتا، شاعر ہوتا ، فردوسی وقت ہوتا، ابوالفضل اس کا پانی بھرتا، خیام اس کی چاکری کرتا، غالب اس کا وظیفہ خوار ہوتا، انگریزی کا شکسپئیر ہوتا، اور اردو کا ابوالکلام ہوتا، پھر نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم اسے نبی مان لیتے؟۔

میں تو کہتا ہوں کہ خواجہ غریب نواز اجمیری، سید عبدالقادر جیلانی، امام ابوحنیفہ، امام بخاری، امام مالک، امام شافعی، ابن تیمیہ، غزالی یا حسن بصری رحمہم اللہ بھی نبوت کا دعویٰ کرتے تو کیا ہم ان کو نبی مان لیتے؟۔

علی رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ دعویٰ کرتے کہ جن کو تلوار حق تعالیٰ نے دی اور بیٹی نبی نے دی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ ، سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی دعویٰ کرتے تو کیا بخاری انہیں نبی مان لیتا؟۔

ہرگز نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج امامت و رسالت جس کے سر پر ناز کرے وہ ایک ہی ہے جس کے دم قدم سے کائنات میں نبوت سرفراز ہوئی۔

صفحہ 54

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام موضوع....... 4

سچے عاشقان رسول کے واقعات

فرانسیسی استاذ کا گستاخی رسول پر معافی مانگنا

اور ہوشیار ہونے کی وجہ سے اچھی تعلیم کا موقع ملا جس کالج میں یہ تعلیم پاتے تھے اس میں اکثر اعلیٰ طبقہ کے طلبا پڑھتے تھے۔

ایک دن ان کی کلاس میں ایک فرانسیسی استاد نے رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس پر ایک رکیک حملہ کیا۔ اس نے آپ ﷺ کی شان میں کچھ گستاخانہ اور نازیبا الفاظ کہے۔ کلاس میں تقریباً سب ہی طلباء مسلمان تھے ان میں سے اکثر اعلیٰ افسروں کے لڑکے تھے۔ استاد کی بات کے مقابلہ پر کسی کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی سب کو سانپ سونگھ گیا اور کسی نے دم نہیں مارا۔

احمد بن بیلہ کا دل جوش عقیدت سے سرشار تھا ان سے نہ رہا گیا جوش اور غصہ میں کھڑے ہوئے اور کہا یہ الگ بات ہے کہ ایک استاد کی حیثیت سے میں آپ کا احترام کرتا ہوں لیکن ایک مسلمان کی حیثیت سے میں یہ گستاخی ہرگز برداشت نہیں کرسکتا جو زبان ہمارے محبوب ﷺ کی توہین کرے گی اس کو میں تالو سے کھینچ لوں گا اور جو منہ رسول اللہ ﷺ کی گستاخی کے لئے کھلے گا میں اس میں خاک جھونک دوں گا میں آپ ﷺ کی اس گستاخی کے خلاف سخت احتجاج کرتا ہوں آپ کو معافی مانگنی ہوگی اور یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ آئندہ نہ صرف ہمارے پیغمبر ﷺ کے بارے میں کچھ نہ کہیں گے بلکہ ہمارے کسی بھی بزرگ یا پیشوا کے خلاف زبان نہیں کھولیں گے۔

اس دہقان زادہ کی بات سن کر وہ فرانسیسی استاد حیران و دم بخود رہ گیا اس نے بھری کلاس میں معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ پیغمبر اسلام کی شان میں کوئی نامناسب بات نہیں کہے گا۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تحفظ ناموس رسالت پر ایک تو

ایک دن جیل کا سپاہی آیا اور مجھ سے ہیں۔ میں دفتر میں پہنچا تو دیکھا کہ میری وا کی عمر اس وقت سوا ڈیڑھ سال کی تھی، بچی سے لگایا ماتھا چومنے لگیں۔ حال احوال پوچھ وہ رو رہی ہیں۔ میرا بھی جی بھر آیا آنکھوں جی! آپ رو رہی ہیں بیٹے سے کہیں (ایک ساتھ لے جائیں ابھی معافی ہو جائے گی۔ میں ابھی خود کو سنبھال رہا تھا کہ اس دستخط کہاں کی معافی میں ایسے دس بیٹے آقا مادری ہے یہ سن کر سپرنٹنڈنٹ شرمندہ ہو

سچے عاشق رسول ﷺ

محمد عربی ﷺ کے دیوانے جمع تھے آقا ﷺ کا نام لیتا ہے لیکن کام ان کے ایسا خوش نصیب ہے جو یہ نظم پڑھ کر مدنی ایک نوجوان اٹھا اس نے بازو چ منافق کا پول کھولا گیا تھا وہیں انگریز نوجوان کو انگریز فوج نے گرفتار کر لیا نوجوان نے گرج کر جج سے کہا: بس اتنی سی سزا..... اتنی دیر میں ت

صفحہ 55

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

تحفظ ناموس رسالت پر ایک تو کیا دس بیٹے ہوں تو وہ بھی قربان ہیں

ایک دن جیل کا سپاہی آیا اور مجھ سے کہا کہ آپ کو دفتر میں سپرنٹنڈنٹ صاحب بلا رہے ہیں۔ میں دفتر میں پہنچا تو دیکھا کہ میری والدہ صاحبہ مع میری اہلیہ اور بیٹے سلمان گیلانی کے جس کی عمر اس وقت سوا ڈیڑھ سال کی تھی، بیٹھے ہوئے ہیں والدہ محترمہ مجھے دیکھتے ہی اٹھیں اور سینے سے لگایا ماتھا چومنے لگیں ۔ حال احوال پوچھا ان کی آواز گلو گیر تھی سپرنٹنڈنٹ نے محسوس کر لیا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میرا بھی جی بھر آیا آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے یہ دیکھ کر سپرنٹنڈنٹ نے کہا اماں جی ! آپ رو رہی ہیں بیٹے سے کہیں (ایک فارم بڑھاتے ہوئے ) کہ اس پر دستخط کر دے تو اسے ساتھ لے جائیں ابھی معافی ہو جائے گی ۔

میں ابھی خود کو سنبھال رہا تھا کہ اسے جواب دے سکوں ۔ والدہ صاحبہ تڑپ کر بولیں کیسے دستخط کہاں کی معافی میں ایسے دس بیٹے آپ ﷺ کی عزت پر قربان کردوں ۔ میرا رونا شفقت مادری ہے یہ سن کر سپرنٹنڈنٹ شرمندہ ہو گیا اور میرا سینہ ٹھنڈا ہو گیا۔

سچے عاشق رسول ﷺ کا انگریز جج کو للکارنے کا واقعہ

محمد عربی ﷺ کے دیوانے جمع تھے اچانک اسٹیج سے اعلان ہوا کہ ایک منافق جو نام تو مدنی آقا ﷺ کا لیتا ہے لیکن کام ان کے دشمنوں کے لیے کرتا ہے اس کے خلاف نظم لکھی گئی ہے کون ایسا خوش نصیب ہے جو یہ نظم پڑھ کر مدنی آقا ﷺ سے محبت کا حق ادا کر دے؟ ۔

ایک نوجوان اٹھا اس نے بازو چڑھائے اور نظم پڑھنا شروع کر دی ۔ اس نظم میں جہاں اس منافق کا پول کھولا گیا تھا وہیں انگریز کی سازشوں کو بھی بے نقاب کیا گیا تھا جلسہ کے بعد اس نوجوان کو انگریز فوج نے گرفتار کر لیا فوجی عدالت میں مقدمہ چلا جج نے تین ماہ قید کی سزا سنائی نوجوان نے گرج کر جج سے کہا:

بس اتنی سی سزا....... اتنی دیر میں تو محمد عربی ﷺ کی محبت کا نشہ نہیں اترتا۔

صفحہ 56

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

یہ سن کر جج نے سزا میں تین مہینے کا اضافہ کر دیا اس پر نوجوان ہنس کر کہنے لگا۔ بس ! اسی بل پر اکڑتے تھے چھ مہینے سزا بھی کوئی سزا ہوتی ہے؟۔ جج نے غصے میں آکر سزا میں مزید تین مہینے کا اضافہ کر دیا اس پر اس نے حقارت بھری نگاہ سے جج کی طرف دیکھا اور کہا میں نو ماہ کی قید کو اپنے پاؤں کی جوتی پر رکھتا ہوں۔ جج نے نو ماہ کی قید کو ایک سال کی قید میں بدل دیا اس پر نوجوان نے کہا: ایک سال کی قید کیا چیز ہے؟ میں تو محمد عربی ﷺ کی عزت کی خاطر سر کٹوانے کے لیے بھی تیار ہوں۔

اب جج نے کہا: اس شخص کے دماغ پر اثر ہے اس کے لئے ایک سال کی سزا ہی کافی ہے۔ یہ کہہ اس نے عدالت برخاست کرنے کا اعلان کر دیا۔

واقعی اس نوجوان کے دماغ پر اثر تھا لیکن یہ اثر اللہ کی توحید اور مدنی آقا ﷺ کی ختم نبوت کا تھا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے دماغوں پر بھی ایسا اثر ڈال دے۔

یہ نوجوان حکیم سید مہر علی شاہ تھے جو سید عطاء اللہ شاہ بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی کے خاص دوست تھے۔

ناموس رسالت پر ایک بچے کے جذبات کا انوکھا واقعہ

وہ افسر جو کراچی میں ان لاریوں پر ڈیوٹی دیتے تھے جو کراچی کے رضا کاروں کو لاری میں بھر بھر کر دور دراز سنسان علاقوں میں چھوڑ آتے تھے ان میں سے ایک افسر پر تحریک میں شامل ہونے والے دس بارہ سال کی عمر کے ایک بچے کے پاکیزہ جذبات کا بڑا گہرا اثر تھا۔

اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے پولیس افسر نے بتایا کہ جب ہم رضا کاروں کو آٹھ دس میل کے فاصلے پر اتار رہے تھے تو ان میں ایک چھوٹا سا بچہ بھی تھا وہ آخر دم تک ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا جب رضا کاروں کو اتار کر لاری واپس ہونے لگی تو افسر مذکور جو خود بھی صاحب اولاد تھے نے بچے کی طرف دیکھا اور کہنے لگا آؤ بیٹا تم لاری میں سوار ہو جاؤ۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

بچے نے جواب دیا وہ کیوں؟ افسر برداشت کرسکو گے تھک جاؤ گے؟ آؤ ہم تمہیں

بچے نے بڑی جرات سے جواب دیا کہ قید ہونے کے لئے آیا تھا میری اماں نے مجھے قربان ہو رہے ہیں تم بھی جاؤ میں تو اماں کی ہو بلکہ شہر سے باہر چھوڑ کر جارہے ہو۔ بچے نبوت زندہ باد۔"

پولیس افسر نے لاری ڈرائیور سے کہا چلی ہوگی کہ پولیس افسر کو پھر خیال آیا کہ معصوم اسلامی ہمدردی یا پدرانہ شفقت کے جذبات

پیدل واپس آ کر بچے سے پھر کہا آؤ بیٹا ضد کہ بیٹا تم واپس چلے جاؤ ہم تو تمہیں شہری م تھے اب تم واپس چلے جاؤ۔

بچہ بگڑ کر بولا صاحب! آپ زیادہ ایما واپسی کے لیے نہیں مانا۔

حضرت لاہوری کا شدت مرض م

اپنے قرآن کے لئے اور محمد رسول اللہ ﷺ سے قربانی کے لئے انہیں قبول فرمایا ہے یقی واضح علامت ہے۔

سرگودھا میں ختم نبوت کانفرنس تھی حضر ہوا تھا مگر اچانک صاحب فراش ہو گئے ادھر شرکت نہ فرماسکیں گے مگر حضرت جی کا یہ ر

صفحہ 57

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

بچے نے جواب دیا وہ کیوں؟ افسر نے کہا کہ تم بچے ہو اتنا لمبا سفر بھوک پیاس کیسے برداشت کرسکو گے تھک جاؤ گے؟ آؤ ہم تمہیں شہر میں اتار دیں گے۔

بچے نے بڑی جرأت سے جواب دیا کہ میرے ساتھ اتنا لمبا سفر کس طرح کریں گے میں تو قید ہونے کے لئے آیا تھا میری اماں نے مجھے اجازت دی کہ جاؤ آپ ﷺ کے نام پر مسلمان قربان ہورہے ہیں تم بھی جاؤ میں تو اماں کی اجازت سے آیا ہوں مگر تم ہمیں قید نہیں کررہے ہو بلکہ شہر سے باہر چھوڑ کر جارہے ہو۔ بچے نے بات ختم کرتے ہی پھر نعرہ لگایا ’’تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد۔‘‘

پولیس افسر نے لاری ڈرائیور سے کہا چلو بھئی یہ بچہ نہیں مانتا۔ ابھی لاری چالیس پچاس گز چلی ہوگی کہ پولیس افسر کو پھر خیال آیا کہ معصوم بچہ اتنا طویل سفر کیسے کرسکے گا انسانی ہمدردی ، اسلامی ہمدردی یا پدرانہ شفقت کے جذبات نے پھر مجبور کیا۔ پولیس افسر نے لاری رکوادی اور پیدل واپس آکر بچے سے پھر کہا آؤ بیٹا ضد نہیں کیا کرتے ساتھی رضا کاروں نے بھی بچے کو سمجھایا کہ بیٹا تم واپس چلے جاؤ ہم تو تمہیں شہر ہی میں منع کرتے تھے مگر تم اچھل کر لاری میں سوار ہوگئے تھے اب تم واپس چلے جاؤ۔

بچہ بگڑ کر بولا صاحب ! آپ زیادہ ایماندار ہیں اور مجھے آپ کمزور سمجھتے ہیں بہر حال وہ بچہ واپسی کے لیے نہیں مانا۔

حضرت لاہوری کا شدت مرض میں ناموس رسالت کانفرنس میں شرکت

اپنے قرآن کے لئے اور محمد رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے لئے ہر دور میں ہر حال میں ہر طرح سے قربانی کے لئے انہیں قبول فرمایا ہے یقیناً یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں سے شرف قبولیت کی واضح علامت ہے۔

سرگودھا میں ختم نبوت کانفرنس تھی حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی شرکت کا وعدہ فرمایا ہوا تھا مگر اچانک صاحب فراش ہوگئے ادھر کانفرنس شروع ہوگئی سب ساتھی مایوس تھے کہ حضرت شرکت نہ فرماسکیں گے مگر حضرت جی کار پر تشریف لے آئے تھوڑی دیر تقریر فرمائی اور فرمایا اگر

صفحہ 58

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں اس سے زیادہ بھی بیمار ہو جاتا تو سیکنڈ کلاس کی سیٹ ریزرو کرا کے لیٹ کر آتا اور آ کر اسٹیج پر لیٹا رہتا تا کہ میری حاضری شمار ہو جائے یہ آپ ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ ہے آپ ﷺ کی ناموس کا سوال ہے کسی حال میں بھی پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔

حضرت شاہ صاحب کا نبی کی گستاخی کا سن سر سے پگڑی اتار دینا

راج پال نے رنگیلا رسول جیسی غلیظ کتاب لکھی ہے۔ کسی نے پوچھا بخاری آج سر پر پگڑی نہیں رکھی آج اجڑے بال بکھرے بال عجیب حال آپ روتے ہوئے دیوانہ وار کیسے کھڑے ہیں؟ فرمایا سر پر پگڑی یا ٹوپی اسی وقت رکھوں گا جب میرے نانا محمد ﷺ کی پگڑی بچ جائے گی کہنے لگے آج میرے نانا کی پگڑی کو ہاتھ ڈالا گیا ہے بخاری کی پگڑی کیا ہے۔ میری پگڑی اس وقت اچھی لگے گی جب محمد ﷺ کی عزت بچ جائے گی۔

وہ دیکھو عائشہ رو رہی ہے۔ وہ دیکھو بتول رو رہی ہے۔ بتول کہہ رہی ہے کہ میرے ابا کی توہین کی گئی ہے سید عطاء اللہ شاہ بخاری میرے ابا روضے میں بے قرار ہیں۔ کوئی ہے جو میرے ابا کی عزت کی حفاظت کرے؟

دو جملے کہے....... کہنے لگے یا بھونکنے والی زبان نہ رہے یا سننے والے کان نہ رہیں گے۔ میں نے یہ عہد کر لیا ہے ختم نبوت کی عزت کی حفاظت کا۔

مولانا محمد علی جوہر کا انگریزی عدالت میں گستاخ رسول کو للکار کر دھمکی دینا

جانتا لیکن سرکار رسالت مآب ﷺ سے انہیں جو بے پناہ عقیدت تھی اس کی بدولت خاک اقدس نے اسلام کے اس بطل جلیل کو اپنی آغوش میں سمیٹ لیا اس عقیدت واحترام کے اظہار میں برٹش امپیریلزم کے سطوت وجلال اور اس کی قہرمان عدالتوں کا رعب ودبدبہ بھی اس شیدائی رسول کے جذبہ بے باک کے مانع نہ آسکا۔

مولانا محمد علی جوہر اور دیگر رہنماؤں کو برطانوی حکومت کے خلاف جرم بغاوت کی پاداش

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں گرفتار کر کے کراچی لایا گیا، جہاں مولانا محمد علی اراکین جیوری سے خطاب تھے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کر کے لائے ہوئے دین کا وفادار ہے ہے۔ اس تاریخی خطاب میں وہ اپنے چارٹر ہے حوالہ دینا چاہتے ہیں اس پر اور اس سے ان کا ذات رسالت مآب

مولانا: (طیش میں آکر) کہہ کہ واپس لو اپنے الفاظ کو (پوری قوت بھی میرے پیغمبر کی شان میں گستاخی مار ڈالوں گا۔

اس کے بعد تلخی اور بڑھ گئی مولا نٹنڈنٹ پولیس کو بلا کر حکم دیا کہ وہ مولا کی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان کے قری سے مغلوب ہو کر ان کا چہرہ آنسوؤں سے

قادیانیوں کو کافر قرار دی

نے تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے مولانا اکابرین کے ساتھ راولپنڈی ہ مولانا محمد رمضان علوی راہ فرمایا کہ میری وصیت سن لو آج ا پرواز کر جائے گی۔

اکابرین راولپنڈی میں جمع

صفحہ 59

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں گرفتار کر کے کراچی لایا گیا، جہاں ان کا مقدمہ ایک انگریز جج کی عدالت میں زیر سماعت تھا مولانا محمد علی اراکین جیوری سے خطاب کرتے ہوئے انگریزی قانون بغاوت کی دھجیاں اڑا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کرتے جا رہے تھے کہ ایک مسلمان سب سے پہلے اپنے پیغمبر کے لائے ہوئے دین کا وفادار ہے جس کی رو سے اس پر برطانوی فوج میں ملازمت حرام ہے۔ اس تاریخی خطاب میں وہ اپنے آقا و مولا کے خطبہ حجۃ الوداع کا جو انسانی آزادی کا اولین چارٹر ہے حوالہ دینا چاہتے ہیں اس پر مولانا اور عدالت میں جو مکالمہ ہوا وہ بڑا ہی ایمان افروز ہے اور اس سے ان کا ذات رسالت مآب ﷺ سے عشق و محبت احترام و عقیدت کا اندازہ ہوتا ہے۔

مولانا: (طیش میں آ کر) کروں گا اور ضرور کروں گا اپنے پیغمبر کی بات! ۔ انگریز جج کو کہا کہ واپس لو اپنے الفاظ کو (پوری قوت کے ساتھ) میں کہتا ہوں واپس لو اپنے الفاظ خبردار جو شخص بھی میرے پیغمبر کی شان میں گستاخی کرے گا میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا۔ اسے میں جان سے مار ڈالوں گا۔

اس کے بعد تلخی اور بڑھ گئی مولانا بپھرے ہوئے شیر کی طرح گرج رہے تھے جس پر جج نے سپر نٹنڈنٹ پولیس کو بلا کر حکم دیا کہ وہ مولانا کو وہاں سے ہٹا دے لیکن مولانا کے غیظ و جلال کو دیکھ کر اس کی بھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان کے قریب آئے مولانا بولتے چلے گئے اور آخر میں شدت جذبات سے مغلوب ہو کر ان کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا اور گھگھی بندھ گئی جس کے بعد وہ بول نہ سکے۔

قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے فیصلے والے دن کی بے چینی کی انتہا

نے تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے رات دن ایک کر دیا۔ آخر ۷ ستمبر (فیصلے کا دن) آ گیا مولانا اکابرین کے ساتھ راولپنڈی میں موجود تھے اور ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے تھے۔

مولانا محمد رمضان علوی راولپنڈی والے بیان کرتے ہیں کہ اسی دن مولانا نے مجھ سے فرمایا کہ میری وصیت سن لو آج اگر فیصلہ ہمارے خلاف ہوا تو میری روح قفس عنصری سے یقیناً پرواز کر جائے گی۔

اکابرین راولپنڈی میں جمع ہیں انہیں اطلاع نہ ہونے دینا میرا جنازہ راتوں رات فیصل

صفحہ 60

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

آباد پہنچانے کی کوشش کرنا میرے اکلوتے بیٹے طارق محمود کو پہلے فون کر دینا کہ تمہارے باپ کو لا رہا ہوں۔ میرے لخت جگر کو ہر طرح سے تسلی دینا اور میری بچیوں کو صبر کی تلقین کرنا۔ متواتر بولے جا رہے تھے میں نے بمشکل چپ کرایا۔ حوصلہ دیا اور کہا کہ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی ضرور مدد فرمائیں گے۔ ابھی آپ کی بہت ضرورت ہے پھر فرمایا جہاں میرے آقا کی ناموس کا تحفظ نہ ہو وہاں رہ کر کیا کرنا؟۔

نماز مغرب بمشکل نیچے اتر کر مرحوم نے ادا کی میں نے فکر کی وجہ سے کچھ مقوی اشیاء منگوالیں اور پیش خدمت کیں لیکن کچھ نہ کھایا۔ پھر فرمایا ریڈیو اوپر منگواؤ۔ خبروں کا وقت قریب ہے۔ سوئچ آن کیا سکوت طاری تھا جیسے ہی مرزائیوں، مرتدوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے الفاظ کان میں پڑے شیر کی طرح اٹھ کر بیٹھ گئے اور رات کو مرکزی جلسہ سے پرجوش خطاب فرمایا۔

تحفظ ناموس رسالت کے جلسہ میں جرأت اور بہادری کا واقعہ

علاقے میں مچھروں کی طرح اڑتے پھرتے تھے۔ سینکڑوں مسلمان مرتد ہو چکے تھے قادیانی زمینداروں اور ان کے پالتو غنڈوں کی وجہ سے مسلمان بے بسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ختم نبوت اور رد قادیانیت پر کچھ بیان کرنا اپنی موت کے پروانہ پر دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد علی جالندھری کو جب مسلمانوں کے ان ناگفتہ بہ حالات کا پتہ چلا تو تڑپ اٹھے اور فوراً کنری جانے کا ارادہ فرمایا۔ کنری پہنچتے ہی جلسہ کا اعلان کر دیا مسلمان اکٹھے ہو گئے جلسہ گاہ بھر گئی پولیس انسپکٹر بھاگا بھاگا مولانا صاحب کے پاس آیا اور کہنے لگا مولانا قادیانی خون خرابہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس لئے میں آپ کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ برائے مہربانی جلسہ نہ کریں۔

مجاہد ختم نبوت مولانا محمد علی جالندھری نے بڑے وقار سے جواب دیا بھائی زندگی اور موت صرف اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کے ہاتھ میں ہے مجھے کسی کی حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں جلسہ ضرور ضرور کروں گا۔ ادھر مولانا تقریر کرنے کے لئے اسٹیج پر تشریف لائے ادھر بیس پچیس قادیانی غنڈے بندوقوں سے مسلح اسٹیج پر چڑھ آئے اور اسٹیج کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور مولانا کو مخاطب کر کے کہا اگر آپ نے مرزا قادیانی کے بارے میں کچھ بھی کہا تو ساری بندوقیں گولیاں اگلیں گی

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

اور آپ کے سینے سے پار ہو جائیں گی۔ مولانا نے بڑی جرأت کے ساتھ نیچے اتر گئے اور اپنے ایک دوست کو زندہ ختم نبوت کے بارے میں باتیں کیں اور پر پہنچ گئے اور قادیانی غنڈوں کو مخاطب کر اپنی بندوقیں سیدھی کر لو۔ محمد عربی ﷺ قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ مرزا قادیانی وکرم سے کسی قادیانی غنڈے کو ہاتھ اٹھانے

ایک مسلمان لوہار کا اپنے

میں آباد ہیں اور علاقے میں کافی موثر موثر انداز میں وہاں قادیانیت کا تعاقب اور قادیانیت کا دجل وفریب اور ملعون اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ پھل تیار کر کے اس میں دستہ لگا رہا تھا کہ اپنے مذہب کی حقانیت اور مرزا قادیانی دکاندار خاموشی سے اس کی باتیں جیسے ہی کلہاڑی تیار ہو گئی تو لوہار نے اس قادیانی مبلغ کی گردن پر رکھ دیا اس او س کی گھگھی بندھ گئی اور وہ منت سماجت واسطہ دے کر جان بخشنے کی درخواستیں کر مسلمان لوہار نے کہا کہ تم جب لعنت نہیں بھیجو گے میں کلہاڑی نہیں

صفحہ 61

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اور آپ کے سینے سے پار ہو جائیں گی۔

مولانا نے بڑی جرات کے ساتھ ان کی دھمکی کو سنا اور پھر بڑی پھرتی کے ساتھ اسٹیج سے نیچے اتر گئے اور اپنے ایک دوست کو زندگی کی آخری وصیت لکھوائی بچوں رشتہ داروں اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے بارے میں باتیں کیں اور پھر جلال میں آتے ہوئے شیر کی طرح جست لگا کر اسٹیج پر پہنچ گئے اور قادیانی غنڈوں کو مخاطب کر کے کہا کہ میں مرزا قادیانی کی مرمت کرنے لگا ہوں۔ تم اپنی بندوقیں سیدھی کر لو۔ محمد عربی ﷺ کے غلام کا سینہ حاضر ہے۔ دو گھنٹے تقریر فرمائی۔ قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا۔ مرزا قادیانی کی خرافات عوام کو سنائیں لیکن رب العزت کے فضل وکرم سے کسی قادیانی غنڈے کو ہاتھ اٹھانے کی جرات تک نہ ہوئی۔

ایک مسلمان لوہار کا اپنے محبوب نبی سے محبت کے اظہار کا واقعہ

میں آباد ہیں اور علاقے میں کافی موثر سمجھے جاتے ہیں الحمد للہ ختم نبوت کے پروانے نہایت موثر انداز میں وہاں قادیانیت کا تعاقب کر رہے ہیں جس کے نتیجہ میں عوامی شعور بیدار ہو چکا ہے اور قادیانیت کا دجل وفریب اور ملعون قادیانی کا جھوٹ بہت اچھی طرح آشکارا ہو چکا ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک مسلمان لوہار اپنی دوکان پر کام کر رہا تھا، کلہاڑی کا پھل تیار کر کے اس میں دستہ لگا رہا تھا کہ اسی اثناء میں ایک قادیانی مبلغ اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور اپنے مذہب کی حقانیت اور مرزا قادیانی کی سچائی اور تقدس کے قصیدے پڑھنے لگا۔

دوکاندار خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا اور بغیر کسی اشتعال کے اپنے کام میں مصروف رہا جیسے ہی کلہاڑی تیار ہو گئی تو لوہار نے اچانک ہاتھ میں مضبوطی سے تھام کر اسے فضاء میں لہرایا اور قادیانی مبلغ کی گردن پر رکھ دیا اس اچانک افتاد پر اس مبلغ کا تبلیغ قادیانیت کا سارا نشہ کافور ہو گیا اس کی گھگھی بندھ گئی اور وہ منت سماجت کرنے لگا اور بوڑھے والدین اور چھوٹے چھوٹے بچوں کا واسطہ دے کر جان بخشنے کی درخواستیں کرنے لگا۔

مسلمان لوہار نے کہا کہ تم جب تک ختم نبوت کے باغی اور گستاخ رسول مرزا قادیانی پر لعنت نہیں بھیجو گے میں کلہاڑی نہیں ہٹاؤں گا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ بالکل نئی اور تیز دھار

صفحہ 62

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کلہاڑی ہے اور میرے ہاتھ کا ذرا سا اشارہ تمہاری گردن کو مولی ، گاجر کی طرح کاٹ کر رکھ دے گا قادیانی مبلغ کہنے لگا آپ جو کہو گے میں کہنے کے لئے تیار ہوں۔ مسلمان لوہار نے کہا بولو مرزا غلام قادیانی جھوٹا ، دجال ملعون اور جہنمی تھا۔ قادیانی مبلغ نے منمناتے ہوئے یہ الفاظ کہے تو اس نے کہا زور سے کہو جس پر اس نے با آواز بلند مرزا کو جھوٹا ، دجال ملعون اور جہنمی کہا۔

اس پر مسلمان لوہار نے کلہاڑی قادیانی مبلغ کے ہاتھ میں دے کر کہا کہ اب تم کلہاڑی میری گردن پر رکھ کر سرور عالم خاتم الانبیاء والرسل ﷺ کی شان میں کوئی گستاخانہ جملہ مجھ سے کہلواؤ یہ گردن تو کٹ جائے گی مگر گستاخی کا کوئی ادنیٰ جملہ بھی تم میری زبان سے ادا نہیں کر واسکو گے۔ اسی سے قادیانیت کا جھوٹا اور اسلام کا سچا ہونا ظاہر ہو جاتا ہے قادیانی مبلغ انتہائی شرمندگی اور خجالت کے ساتھ نگاہیں جھکائے ہوئے وہاں سے چلا گیا شاید وہ جملہ دہراتا ہوا گیا ہوگا۔

بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے۔

اس مسلمان لوہار عاشق رسول کے جذبات کی ترجمانی ایک شاعر نے خوب کی ہے:

تمنا ہے کہ اڑ کر جا پڑے دل تیر قاتل پر
نظر روئے نبی پر ہو، گلا شمشیر قاتل پر
یہ سر کٹ کر سوئے پائے محمد لوٹتا جائے
اسی کو موت کہتے ہیں تو ایسی موت آجائے

جس معاشرہ میں ادنیٰ درجہ کے مزدوروں اور لوہاروں کے ایسے عظیم الشان جذبات ہوں اور عوام کے شعور کی بیداری کا یہ عالم ہو وہاں کسی قیمت پر قادیانیت جیسا جھوٹا اور جعلی مذہب کبھی بھی پروان نہیں چڑھ سکتا انشاء اللہ۔

(از عائشہ عتیق الرحمٰن)

اختر شیرانی کا تعجب خیز عشق رسول ﷺ کا واقعہ

کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت نشہ کی وجہ سے ہوش میں نہ تھے تمام بدن پر رعشہ طاری تھا حتیٰ کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

زبان سے نکل رہے تھے۔

ادھر ان کا شروع سے یہ حال تھا تھا فرمایا مسلمانوں میں تین شخص ایسے ہـ پہلے ابوالفضل دوسرے اسد اللہ خاں غالـ اختر شیرانی شاعر وہ تو شاذ و نادر ہـ بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے ایک دے گئے جوش کے متعلق پوچھا کہا وہ بـ دو۔ ظہیر کاشمیری کے بارے میں پوچـ کیا؟ فرمایا میرا شاگرد ہے......

نوجوان نے دیکھا کہ ترقی پسند تحـ فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے میں کہا زبان پر قابو کرو شعر و شاعری کی پوچھا ان کے مکالمات کی بابت کیا خیاـ وقت وہ اپنے موڈ میں تھے فرمایا جی پوچـ ہمارے حلقے میں بیٹھتے ہمیں ان سے کیا

اس ظالم کمیونسٹ نے پوچھا کہ آـ اللہ اللہ ایک شرابی! جیسے کوئی برـ ”بدبخت ایک عاصی سے سوال کرتا ہے چاہتا ہے؟ تمام جسم کانپ رہا تھا یکا یک ایسی حالت میں تم نے یہ نام

باخدا دیوانہ باش و با محمد ﷺ ہوشیار

قہر و غضب کی تصویر ہو گئے اس نے بات کر چلے گئے تمام رات روتے رہے کہ سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ گنہگار ضرور

صفحہ 63

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

زبان سے نکل رہے تھے۔

ادھر ان کا شروع سے یہ حال تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے جانے کیا سوال زیر بحث تھا فرمایا مسلمانوں میں تین شخص ایسے پیدا ہوئے جو ہر اعتبار سے جینیس بھی ہیں اور کامل فن بھی۔ پہلے ابوالفضل دوسرے اسد اللہ خان غالب تیسرے ابوالکلام آزاد.....

اختر شیرانی شاعر وہ تو شاذ و نادر ہی کسی کو مانتے تھے ہمعصر شعراء میں جو واقعی شاعر تھا اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے ایک کمیونسٹ نوجوان نے فیض کے بارے میں سوال کیا طرح دے گئے جوش کے متعلق پوچھا کہا وہ ناظم ہے، سردار جعفری کا نام لیا مسکرائے ، فرمایا مشق کرنے دو، ظہیر کاشمیری کے بارے میں پوچھا! کہا نام سنا ہے، احمد ندیم قاسمی کے بارے میں سوال کیا؟ فرمایا میرا شاگرد ہے.....

نوجوان نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں تو بحث کا رخ پھیر دیا پوچھا حضرت فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں نشہ میں چور تھے پھر بھی جواب میں کہا زبان پر قابو کرو شعر و شاعری کی بات کرو کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رخ موڑ دیا پوچھا ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا؟ مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے فرمایا اجی پوچھو یہ کہ ہم کون ہیں یہ ارسطو ، افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔

اس ظالم کمیونسٹ نے پوچھا کہ آپ کا حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟

اللہ اللہ ایک شرابی ! جیسے کوئی برق تڑپی ہو ، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔

”بدبخت ایک عاصی سے سوال کرتا ہے، ایک سیاہ رو سے پوچھتا ہے، ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟ تمام جسم کانپ رہا تھا یکا یک رونا شروع کیا۔ گھگھی بندھ گئی۔

ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا؟ تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ بے ادب

باخدا دیوانہ باش و با محمد ﷺ ہوشیار۔ اس شریر سوال پر توبہ کرو تمہاری خباثت باطن سمجھتا ہوں خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے اسے اٹھوا دیا پھر خود اٹھ کر چلے گئے تمام رات روتے رہے کہتے تھے یہ لوگ اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں ۔ گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں۔ وہ غیرت وحمیت

صفحہ 64

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام جو اختر شیرانی میں تھی ہم ہوش و حواس میں ہوتے ہوئے بھی اپنے آخری سہارے کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔

مردان میں عشق رسول ﷺ اور غیرت ایمانی کا ایمان افروز واقعہ

حضرت مولانا نور الحق نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ سرحد میں اکثر مقامات پر علماء کے فیصلے کے مطابق عید الاضحیٰ ہفتہ کو منعقد ہوئی۔ لیکن مردان کے قادیانیوں نے اتوار کو اپنے مرزا واڑے میں عید منائی اور وہیں جانور ذبح کرنے کا پروگرام بنایا۔ قادیانیوں نے یہ فیصلہ ریٹائرڈ اکبر خان کے مکان پر کیا جس میں مردان میں مقیم پنجاب رجمنٹ کا انچارج مرزا منور احمد بھی موجود تھا۔

غیور مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو عالمی مجلس بکٹ گنج کے امیر مولانا محمد یونس نے غیرت اسلامی کا ثبوت دیتے ہوئے اس حرکت کا نوٹس لیا اور مقامی انتظامیہ کو اس کی اطلاع دی۔ انتظامیہ نے قادیانیوں کو اس اشتعال انگیز حرکت سے باز رہنے کی ہدایت بھی کی۔ مگر قادیانیوں کو پنجاب رجمنٹ کے مرزا منور کی پشت پناہی حاصل تھی۔ جس کے باعث قادیانیوں کے سرغنہ میجر مشتاق اور اکبر اپنے چند غیر مسلم قادیانیوں کے ہمراہ بکٹ گنج بازار سے اشتعال دلاتے ہوئے اور اعلان کرتے ہوئے گزرے وہ گندی زبان استعمال کر رہے تھے اور دھمکیاں دے رہے تھے کہ کوئی ہے مائی کا لال جو ہمیں روکے۔ قریب تھا کہ مسلم نوجوان ان پر ٹوٹ پڑتے لیکن علماء پر امن رہنے کی تلقین کرتے رہے۔

مولانا محمد یونس اس صورتحال کو مقامی پولیس کے نوٹس میں لائے اور کہا کہ یہ اشتعال انگیزی ہے۔ اگر حالات خراب ہوئے تو اس کی ذمہ داری قادیانیوں پر عائد ہوگی۔

اسی اثناء میں ۶۰ ۔ ۷۰ قادیانی مرزا واڑے میں جمع ہو چکے تھے اور بالکونی میں کھڑے ہو کر مسلمانوں کو اشتعال دلا رہے تھے کہ ایک اے ایس آئی پولیس نفری کے ہمراہ وہاں پہنچ گیا۔ قادیانیوں کی اشتعال انگیز حرکتوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہزاروں کی تعداد میں غیور مسلمان جمع ہونا شروع ہو گئے۔ ہزاروں کے اجتماع کے لیے پولیس کی نفری ناکافی تھی چنانچہ مزید پولیس طلب کر لی گئی۔ علاقہ مجسٹریٹ اور اے سی مردان بھی موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے قادیانیوں کو سمجھانے

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام کی بہت کوشش کی لیکن مرزا منور فوجی نف سے بھی غلط رویہ اختیار کیا اور انہیں دھکے دی

جب مسلمانوں نے یہ حالت دیکھی انتظامیہ اور پولیس درمیان سے ہٹ گئ تو مرزا واڑے میں موجود تمام قادیانیوں کی پولیس اسٹیشن پہنچایا گیا جس سے کوئی نا خو اور پٹھانوں کی روایتی غیرت کا پیمانہ لبریز انہوں نے مرزا واڑے پر ہلہ بول دیا اور لیکن وہ اسے خاطر میں نہ لائے۔

بعد میں عوام نے بتایا کہ ہم پر لاٹھی پھولوں کی بارش ہو رہی ہے۔ مرزا واڑے منہدم ہو گیا۔ جو عوام کے سروں پر منڈلا فریضہ انجام دیا۔ مکھیوں کی وجہ سے پولی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے قس ہزاروں مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے میر

مرزا واڑے کے انہدام کے بع ہے کہ اہل مردان نے اپنی دینی غیور سے انہیں مبارکباد اور سلام ہو۔

صفحہ 65

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کی بہت کوشش کی لیکن مرزا منور فوجی نشے میں اس قدر بدمست تھا کہ اس نے اے سی صاحب سے بھی غلط رویہ اختیار کیا اور انہیں دھکے دے کر مرزا وادے سے نکال دیا۔

جب مسلمانوں نے یہ حالت دیکھی تو بے قابو ہوگئے ہزاروں کے مجمع نے شور مچا دیا کہ انتظامیہ اور پولیس درمیان سے ہٹ جائے۔ انتظامیہ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو مرزا وادے میں موجود تمام قادیانیوں کی گرفتاری کا اعلان کیا چنانچہ مرزائیوں کو وہاں سے نکال کر پولیس اسٹیشن پہنچایا گیا جس سے کوئی ناخوشگوار واقعہ ظہور پذیر نہ ہوا تاہم مسلمانوں کی ایمانی غیرت اور پٹھانوں کی روایتی غیرت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا گو وہ نہتے اور خالی ہاتھ تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے مرزا وادے پر ہلہ بول دیا اور مرزا وادے کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ لاٹھی چارج ہوا لیکن وہ اسے خاطر میں نہ لائے۔

بعد میں عوام نے بتایا کہ ہم پر لاٹھیاں برس رہی تھیں۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے گلاب کے پھولوں کی بارش ہورہی ہے۔ مرزا وادے کے انہدام کے ساتھ ہی شہد کی مکھیوں کا ایک چھتہ بھی منہدم ہو گیا۔ جو عوام کے سروں پر منڈلا رہا تھا لیکن اس نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ حفاظت کا فریضہ انجام دیا۔ مکھیوں کی وجہ سے پولیس ہچکچاتی تھی ایک پولیس والے سے دریافت کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے قسم کھا کر کہا کہ جب میں نے ایک مسلمان پر لاٹھی لہرائی تو ہزاروں مکھیوں کی بھنبھناہٹ سے میرے اوسان خطا ہو گئے اور لاٹھی میرے ہاتھ سے گر گئی۔

مرزا وادے کے انہدام کے بعد ہزاروں لوگ انہدام کا منظر دیکھنے وہاں آتے رہے سچ ہے کہ اہل مردان نے اپنی دینی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے بازی جیت لی۔ ہم سب کی طرف سے انہیں مبارکباد اور سلام ہو۔

صفحہ 66

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع....... 5

تحفظ ناموس رسالت کا غیبی حکم

آپ ﷺ کا ختم نبوت کی حفاظت کرنے کا حکم

تھے۔ صوبہ بہار سے تعلق رکھتے تھے آپ کا زیادہ وقت وظائف، عبادات و مجاہدات میں گزرتا تھا۔ انہوں نے متعدد بار ذکر کیا کہ میں عالم رویاء میں آپ سرور کائنات ﷺ کے دربار عالی میں پیش ہوا نہایت ادب و احترام سے صلوٰۃ و سلام عرض کی۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’محمد علی تم وظیفے پڑھنے میں مشغول ہو اور قادیانی میری ختم نبوت کی تخریب کر رہے ہیں تم ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانیت کی تردید کرو، حضرت مولانا محمد علی مونگیری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی فرمایا کرتے تھے اس مبارک خواب کے بعد نماز فرض، تہجد اور درود شریف کے علاوہ تمام وظائف ترک کر دیئے دن رات ختم نبوت کے کام میں منہمک ہو گیا۔‘‘

(روئیداد مجلس ص ۱۴، ۱۹۸۲)

اس دوران یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مراقبہ میں مولانا کو یہ القاء ہوا کہ گمراہی (قادیانیت) تیرے سامنے پھیل رہی ہے اور تو ساکت ہے اگر قیامت کے دن باز پرس ہوئی تو کیا جواب دے گا۔

آپ ﷺ کا پیر مہر علی شاہ کو قادیانی کی سرکوبی کا حکم

قادیانی غلط تاویل کی قینچی سے میری احادیث کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو۔ چنانچہ پیر مہر علی شاہ فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے میدان میں نکل آئے اور مسلمانوں کو

صفحہ 67

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اس فتنہ کی شرانگیزیوں سے آگاہ کیا۔ آپ کی اس فتنہ کے خلاف دن رات کوششوں سے بدحواس ہو کر قادیانی جماعت کے ایک وفد نے حضرت پیر مہر علی شاہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آپ مرزا قادیانی سے مباہلہ کر لیں۔ ایک اندھے اور ایک لنگڑے کے حق میں آپ دعا کریں۔ دوسرے اندھے اور لنگڑے کے حق میں مرزا قادیانی دعا کرے جس کی دعا سے اندھا اور لنگڑا ٹھیک ہو جائے وہ سچا ہے۔ اس طرح حق و باطل کا فیصلہ ہو جائے گا۔

سید پیر مہر علی شاہ نے جواب دیا کہ مجھے منظور ہے اور جاؤ مرزا قادیانی سے بھی کہہ دو اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو آ جاؤ مہر علی شاہ مردے زندہ کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ سچ ہے کہ جو شخص آپ نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرتا ہے اس کی پشت پر نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہاتھ ہوتا ہے۔ قادیانی وفد یہ جواب پا کر واپس چلا گیا اور کچھ پتہ نہ چلا کہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری کہاں ہیں۔

سلطان نور الدین زنگی کے ذریعے تحفظ ختم نبوت کی خدمت کا واقعہ

3 ....... یہ ١١٦٢ء کا ذکر ہے اللہ کا ایک برگزیدہ بندہ اور اسلام کا عظیم جرنیل سلطان نور الدین زنگی اپنے دارالحکومت دمشق شہر میں تھا۔ ایک رات نماز تہجد ادا کر کے وہ کچھ دیر کے لئے اپنے بستر پر دراز ہوا تو اس کی آنکھ لگ گئی اسی دوران اس نے خواب دیکھا کہ سرکار دو عالم ﷺ اس سے مخاطب ہیں اور نیلی آنکھوں والے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے ہیں نور الدین! ہمیں ان دونوں کے شر سے بچاؤ یہ ہمارے در پے ہیں۔

یہ ارشاد عالی سنتے ہی نور الدین زنگی کی آنکھ کھل جاتی ہے وہ اٹھ بیٹھتے ہیں اور وضو کر کے نماز دوگانہ ادا کرتے ہیں اور پھر کچھ دیر بعد ان کی آنکھ لگ جاتی ہے پھر وہی منظر دیکھتے ہیں۔

پھر اٹھتے ہی نماز پڑھتے ہیں پھر آنکھ لگتی ہے اور تیسری مرتبہ وہی منظر خواب میں نظر آتا ہے۔ اب تو سلطان نور الدین کی نیند غارت ہوگئی۔

وہ بے تابی کے ساتھ اٹھے اور اسی وقت اپنے وزیر باتدبیر جمال الدین کو طلب کیا اور اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا وزیر بھی ہوشمند تھا۔ فوراً عرض کی کہ ہمیں بلا تاخیر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو جانا چاہئے تاکہ اصل صورت حال سے آگاہی ہو سکے چنانچہ آنے والے

صفحہ 68

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

چند لمحات میں ہی بیس سپاہیوں کی ہمراہی میں سلطان نور الدین زنگی اور ان کے وزیر حجاز مقدس کی طرف روانہ ہو گئے۔

مسلسل بارہ دن کے تھکا دینے والے سفر کے بعد سلطان نور الدین زنگی مدینہ منورہ پہنچے تو سیدھے مسجد نبوی ﷺ میں تشریف لے گئے وہاں روضہ رسول اللہ ﷺ پر حاضری دی دور کعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے بیٹھے اعلان کروا دیا کہ سلطان معظم کی دربار رسالت میں حاضری کے موقع پر تمام اہل مدینہ کے لیے مسجد نبوی میں ایک پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا جا رہا ہے شہر کے ہر بوڑھے و جوان کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ وقت مقررہ پر پہنچ جائے اور سلطان کی طرف سے میزبانی سے فیض یاب ہو۔

اس اعلان کے مطابق جب لوگوں کی آمد شروع ہوئی تو سلطان زنگی ایک ایسی جگہ کھڑے ہو گئے جہاں سے ہر آنے والے کا چہرہ ان کی نظروں کے سامنے سے ہو کر گزرتا تھا۔ صبح سے شام تک لوگ آتے رہے اور شاہی ضیافت کے ساتھ ساتھ سلطانی اعزاز واکرام کے مزے بھی لوٹتے رہے جب کہ سلطان خود مستقل اسی جگہ بیٹھے رہے اور بے تابی سے ان دو چہروں کا انتظار کرتے رہے جو خواب میں انہیں دکھائے گئے تھے اسی عالم میں دن پورا گزر گیا اور شام کے سائے پھیلنے لگے مگر سلطان کو وہ دو نیلی آنکھوں والے دکھائی نہیں دیئے۔

جب رات ہونے کو آئی تو سلطان نے پریشانی کے عالم میں مقامی حکام کو طلب کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہماری دعوت پر مدینہ کے سب لوگ حاضر ہوئے ہیں؟۔

تو پتہ چلا کہ واقعی سب آئے ہیں سوائے ان دو فقیروں کے جو دنیا و مافیہا سے بے غم و بے فکر ہو کر ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے ہیں اور کاروبار و سرکار سے کوئی لین دین نہیں رکھتے ان کی جھونپڑی کا دروازہ اکثر و بیشتر بند ہی رہتا ہے اور کہا یہی جاتا ہے کہ وہ اپنے بیشتر اوقات نماز اور عبادت میں گزار دیتے ہیں ان دونوں سے توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ سلطانی ضیافت کے بکھیڑوں میں پڑیں۔

ان حکام نے سلطان کے سامنے ان دونوں درویشوں کی صفات واخلاق کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کچھ عرصہ قبل جب مدینہ منورہ میں قحط سالی ہوئی تھی اور لوگ فقر وفاقے کے عالم میں بھوکوں مرنے لگے تھے تو ان دونوں فقیروں نے لوگوں کی دل کھول کر مالی مدد کی تھی اور ہر شخص

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کو اتنا دیا تھا کہ لوگ ان کو عطاء کئے جانے و

یہ سب باتیں سن کر ان دونوں کو مشکو کوشش پوری کرنا چاہتے تھے چنانچہ حکم دیا ک آنے سے انکار کر دیں تو زبردستی لایا جا دونوں حاضری پر آمادہ ہو گئے اور پھر جب انہوں نے ان دو فقیروں کو دیکھا تو انہیں یقین ہو گیا کہ یہ وہی بد بخت و بد باطن ہیں

چنانچہ ان دونوں کو فوراً گرفتار کر لی افراد کو بلا دلیل و حجت سزا بھی نہیں دی جا پوشوں کی جھونپڑی میں جانا چاہتے ہیں وہا کچھ برآمد نہ ہوا جس کی وجہ سے انہیں ملزم ٹ کر سلطان زنگی شدید اضطراب کا شکار ہو واضح اشارہ تھا اور دوسری طرف مدینہ بھر س

بالآخر سلطان نے ایک پرانے بوریے کو اٹھایا اور جب کسی نے ان دونوں کا مصلیٰ اٹھایا تو ی اس پتھر کو اٹھوایا تو سب لوگ یہ دیکھ کر حیران زنگی از خود آگے بڑھے اور اس سرنگ میں اندرونی حصے کے پاس جا پہنچے۔ یہ عین و ﷺ کا روضہ اقدس تھا اور وہ اس آ

بعض روایات میں تو یہاں تک آتا ہے کہ نبی محترم ﷺ کے اقدام مبارک آپ

یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان کانپ ا اور پوچھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور کیوں

ان دونوں نے پہلے تو حیل وحجت

صفحہ 69

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کو اتنا دیا تھا کہ لوگ ان کو عطاء کئے جانے والے غیبی خزانوں پر انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔ یہ سب باتیں سن کر ان دونوں کو مشکوک قرار دینا آسان نہ تھا لیکن سلطان زنگی پھر بھی اپنی کوشش پوری کرنا چاہتے تھے چنانچہ حکم دیا کہ ان دونوں کو بھی ضیافت میں حاضر کیا جائے اور اگر وہ آنے سے انکار کر دیں تو زبردستی لایا جائے۔ یہ بات جب ان گوشہ نشین فقیروں تک پہنچی تو وہ دونوں حاضری پر آمادہ ہو گئے اور پھر جب وہ سلطان زنگی کی نظروں کے سامنے سے گزرے تو انہوں نے ان دو تصویروں اور ان دو چہروں کے درمیان کچھ فرق نہ پایا۔ پہلی ہی نگاہ میں انہیں یقین ہو گیا کہ یہ وہی بدبخت و بد باطن ہیں جن کی جانب آقا ﷺ نے اشارہ فرمایا تھا۔

چنانچہ ان دونوں کو فوراً گرفتار کر لینے کا حکم صادر ہوا لیکن عوام میں اتنی مقبولیت رکھنے والے افراد کو بلا دلیل و حجت سزا بھی نہیں دی جاسکتی تھی لہٰذا سلطان نے فرمائش کی کہ وہ ان گدڑی پوشوں کی جھونپڑی میں جانا چاہتے ہیں وہاں پہنچ کر اندر باہر چہار اطراف کی تلاشی لی گئی لیکن ایسا کچھ برآمد نہ ہوا جس کی وجہ سے انہیں ملزم ٹھہرایا جاتا یا کم از کم مشکوک ہی سمجھا جاتا یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان زنگی شدید اضطراب کا شکار ہو گئے کہ ایک طرف سرکار مدینہ ﷺ کی طرف سے واضح اشارہ تھا اور دوسری طرف مدینہ بھر کے لوگوں کی جانب سے ان دونوں کے تقدس کی گواہی۔ بالآخر سلطان نے اپنے رب کے حضور دست بستہ دعا کی اور ازسر نو جھونپڑی کی تلاشی ہوئی اب کی بار کسی نے ان دونوں کا مصلیٰ اٹھایا تو نیچے زمین کے برابر ایک بڑا سا پتھر پایا گیا۔ سلطان نے اس پتھر کو اٹھوایا تو سب لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں غار نما ایک سرنگ کا دہانہ ہے۔ سلطان زنگی از خود آگے بڑھے اور اس سرنگ میں داخل ہو گئے پھر وہ اس میں چلتے رہے حتیٰ کہ ایک قبر کے اندرونی حصے کے پاس جا پہنچے۔ یہ عین وہی جگہ تھی جہاں زمین کے اوپر آقائے آخر الزمان محمد ﷺ کا روضہ اقدس تھا اور لوگ اس کی زیارت سے اپنی آنکھوں کا قرار حاصل کرتے تھے۔ بعض روایات میں تو یہاں تک آتا ہے کہ سلطان زنگی روضہ اقدس کے اس قدر قریب پہنچ گئے کہ نبی محترم ﷺ کے اقدام مبارک آپ کو صاف دکھائی دینے لگے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر سلطان کانپ اٹھے۔ فوراً واپس لوٹے اور ان دونوں بدبختوں کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور کیوں ہے؟۔

ان دونوں نے پہلے تو حیل و حجت کی لیکن رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کی وجہ سے کچھ نہ بن

صفحہ 70

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پڑی تو خود ہی بتایا کہ وہ دونوں عیسائی ہیں اور انہیں یورپی بادشاہوں نے بے شمار مال و دولت دے کر بھیجا ہے اور ان کے ذمے یہ کام سپرد کیا گیا ہے کہ وہ (نعوذ باللہ) پیغمبر اسلام ﷺ کے جسد اطہر کو ان کے روضہ مبارک سے نکال لائیں تاکہ مسلمان اس مرکز سے محروم ہو جائیں جو انہیں ایک دوسرے سے وابستگی اور وحدت عطا کرتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر ایسا ہو جاتا تو فتنہ پرور بدفطرت عیسائیوں کے لئے مسلمانوں کو یہ چیلنج کرنا بھی ممکن ہو جاتا کہ مسلمان جس نبی ﷺ کی زیارت کرنے کے لئے جوق در جوق چلے آتے ہیں وہ تو قبر میں ہیں ہی نہیں۔

یہ سب کچھ سن کر سلطان نور الدین زنگی کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ ان کا دل بے چین ہو گیا، رگ حمیت پھڑک اٹھی اور اپنے محبوب آقا ﷺ کی ایسی بھیانک گستاخی کا انتقام لینے کے لئے ان کا لہو جوش مارنے لگا تب ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ان دونوں بدبختوں کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ پھر تمام اہل مدینہ کے سامنے انہیں قتل کر دینے کے بعد ان کو اس وقت تک سکون نہ ملا جب تک ان دونوں کی لاشوں کو جلا کر راکھ نہ کر دیا گیا ہو۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام موضوع ..... 6

عاشقان رسولؐ کے

عبرت ناک

برصغیر میں عاشقان

دیکھا تھا کہ پاکستان کی فضا میں نعت ر دو عالم (ﷺ) کی مدح سرائی بھی کی بات ہی کیا ہے؟ جنہوں نے اس مقد اس لحاظ سے ملت اسلامیہ بجا طو بارگاہ رسالت میں ہمیشہ ہر طرح سے نعر عمل جس خلوص نیت ذوق وشوق اور ملتی ۔ ہندوستانی مسلمانوں نے ایسی والے کلمہ گو دربار رسالت مآب (ﷺ)

عاشق رسول

کچھ عرصہ سے یورپی اخبارات احتجاج بنا رہا لیکن گستاخی کے مرتکب اطلاعات کے مطابق رومن کیتھولک پ خاکے شائع کیے ہیں اب ان حالات ایمانی کا ثبوت پیش کرنے کے لئے او

صفحہ 71

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام موضوع....... 6

عاشقان رسولؐ کے ہاتھوں گستاخانِ رسولؐ کے

عبرت ناک انجام کے واقعات

برصغیر میں عاشقان رسول ﷺ کا کمال

دیکھا تھا کہ پاکستان کی فضائیں نعت رسول مقبول (ﷺ) سے معمور ہوں نوک قلم سے سرکار دو عالم (ﷺ) کی مدح سرائی بھی بڑے مقدر کی بات ہے مگر ان عاشقان مصطفیٰ (ﷺ) کی بات ہی کیا ہے؟ جنہوں نے اس مقدس فریضہ کی تکمیل خون جگر سے کی۔

اس لحاظ سے ملت اسلامیہ بجا طور پر فخر کر سکتی ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر (ﷺ) کی بارگاہ رسالت میں ہمیشہ ہر طرح سے نعتیہ نذرانے پیش کیے ہیں برصغیر پاک و ہند کی سرزمین پر یہ عمل جس خلوص نیت ذوق وشوق اور والہانہ شیفتگی کے ساتھ نبھایا گیا۔ اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ ہندوستانی مسلمانوں نے ایسی عظیم الشان اور ایمان پرور روایات قائم کیں کہ یہاں بسنے والے کلمہ گو دربار رسالت مآب (ﷺ) میں سند غلامی کے حقدار ٹھہر گئے۔

عاشق رسول ﷺ عامر چیمہ کا مختصر تعارف

کچھ عرصہ سے یورپی اخبارات مسلسل گستاخیاں کر رہے ہیں جس پر پورا عالم اسلام سراپا احتجاج بنا رہا لیکن گستاخی کے مرتکب بدتہذیب لوگ ٹس سے مس نہیں ہو رہے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق رومن کیتھولک رسالے Studi Cattolici نے اپنے سرورق پر متنازعہ خاکے شائع کیے ہیں اب ان حالات میں ایک پاکستانی طالب علم غازی عامر چیمہ نے غیرت ایمانی کا ثبوت پیش کرنے کے لئے اور آپ ﷺ کے ساتھ سچی محبت وعقیدت کے اظہار کے

صفحہ 72

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام لئے خنجر بدست ہو کر توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے بیورو چیف پر قاتلانہ حملہ کر دیا جس سے وہ بدبخت زخمی ہو گیا۔ عامر چیمہ نے ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر اپنے کامل ایمان ہونے کا ثبوت دے کر شہدائے ناموس رسالت کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لیا جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں عامر چیمہ کون تھا؟ آئیے اس کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

اس نے ۴ دسمبر ۱۹۷۷ء کو پنجاب کے علاقے حافظ آباد میں آنکھ کھولی۔ شریف النفس اور نیک نام باپ پروفیسر محمد نذیر چیمہ نے بیٹے کا نام عامر عبدالرحمن رکھا۔ عامر نے گورنمنٹ ہائی اسکول راولپنڈی سے میٹرک کیا۔ ۱۹۹۳ء میں اس نے فیڈرل گورنمنٹ سرسید کالج راولپنڈی سے پری انجینئرنگ میں ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ نیشنل کالج آف ٹیکسٹائل انجینئرنگ فیصل آباد سے بی ایس سی کرنے کے بعد عامر نومبر ۲۰۰۴ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی چلا گیا جہاں اس نے مشن گلیڈباخ کی یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز کے شعبہ ٹیکسٹائل اینڈ کلوتھنگ مینجمنٹ میں داخلہ لے لیا۔ چوتھا سمسٹر شروع ہونے سے قبل فروری کے وسط میں یونیورسٹی میں کوئی ایک ماہ کی چھٹیاں ہوگئیں وہ چھٹیاں گزارنے برلن چلا گیا۔

۱۱ مارچ کو یونیورسٹی کھل گئی لیکن عامر واپس نہ پہنچا مارچ کے آخری ہفتے میں ۶۰ سالہ پروفیسر نذیر احمد چیمہ نے برلن میں اپنے عزیزوں سے بات کی لیکن عامر کا نام آتے ہی فون بند ہو گیا۔ ۸ مارچ کو عامر نے آخری بار فون کر کے اپنے خالہ زاد بھائی کو شادی کی مبارکباد پیش کی تھی۔ ٹھیک ایک ماہ بعد ۱۸ اپریل کو برلن میں مقیم عزیزوں نے خبر دی کہ عامر ۲۰ مارچ کو گرفتار ہوگیا تھا اور وہ برلن پولیس کے زیر تفتیش ہے۔

عامر چیمہ کا گستاخ رسول کو عبرتناک انجام سے دوچار کرنا

ذرا ایک نکتے پر سوچئے! یورپ کے ماحول میں رہنے والے دنیاوی تعلیم یافتہ نوجوان کی وہ کون سی نفسیات ہیں کہ وہ اپنا مستقبل، جوانی کے خواب سب کچھ فنا کر کے ایک شکاری چاقو خریدتا ہے (جو اب کسی طرح یہ یادگار چاقو پاکستانیوں کو نہیں مل سکتا) اخبار کے دفتر کا پتہ معلوم کرتا ہے سیکیورٹی کا حصار توڑ کر ایڈیٹر کے کمرے میں جا گھستا ہے خنجر کی نوک سے بدبو کے اس بورے کو چیرتا پھاڑتا ہے عدالت میں سینہ تان چاروں طرف خونخوار بھیڑیئے نظر آ رہ رویہ وہ دوران تفتیش بخوبی دیکھ چکا او یہ فدائیانہ جذبات، یہ غیرت و شجاعت روایت ہے جو حب رسول (ﷺ) پہچان اور مایہ افتخار ہے اور جو اہل مغر سوچی نہیں جاسکتی۔

عامر چیمہ کا حرمت رس

آج کل کے نوجوان کے لیے آ عامر شہید نے اچھی بھلی نوکری کو کیوں تیار کرنے والی ایک مل میں ایک اچھی ٹائل تیار ہو رہی تھی جس کے بارے م ٹائل پر موجود نقش و نگار پر اسم پیغمبر باغیرت نوجوان کے تن بدن میں آگ کہ یہ ڈیزائن کس نے منظور کیا ہے او مالک نے لیت و لعل سے کام ل استعفیٰ لکھ کر مالک کے منہ پر دے مار کہ پرکشش ملازمت کا حصول کس ق سے مجبور ہو کر نوکری چھوڑ دینا کتنا دل جو نوجوانوں کے لیے عزیمت کی عجی نہ ہوئی تھی، وہ ذات محمد کو نشانہ بنانے و

صفحہ 73

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

چیرتا پھاڑتا ہے عدالت میں سینہ تان کر ایسی حالت میں فخر سے اقرار جرم کرتا ہے جبکہ اس کو چاروں طرف خونخوار بھیڑیے نظر آ رہے ہیں جن سے کسی لحاظ و مروت کی امید نہیں جن کا سفاکانہ رویہ وہ دوران تفتیش بخوبی دیکھ چکا اور جن کے خطرناک ارادے وہ اچھی طرح بھانپ چکا ہے۔ یہ فدائیانہ جذبات، یہ غیرت و شجاعت، یہ بے خوفی و جرأت ہی مسلمانوں کی وہ لافانی اور لازوال روایت ہے جو حب رسول (ﷺ) کی اعجاز آفریں برکت ہے۔ ہماری آبرو کی ضامن، ہماری پہچان اور مایہ افتخار ہے اور جو اہل مغرب کی ہزار کوششوں کے باوجود اہل اسلام کے دلوں سے کھر چی نہیں جا سکتی۔

. عامر چیمہ کا حرمت رسول پر بہترین ملازمت کا قربان کرنا

آج کل کے نوجوان کے لیے ایک اچھی نوکری کامیابی کی معراج ہے مگر غیرت مند غازی عامر شہید نے اچھی بھلی نوکری کو کیوں لات ماری؟ بڑا ایمان افروز قصہ ہے۔ غازی عامر کو ٹائلز تیار کرنے والی ایک مل میں ایک اچھی پوسٹ ملی ہوئی تھی۔ ان دنوں مل میں ایک ایسے ڈیزائن کی ٹائل تیار ہو رہی تھی جس کے بارے میں غازی کو شک تھا کہ ایک خاص زاویے سے دیکھا جائے تو ٹائل پر موجود نقش و نگار پر اسم پیغمبر ﷺ کا شبہ ہوتا ہے۔ اس بات کا ادراک ہوتے ہی اس باغیرت نوجوان کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ غصے میں کھولتا ہوا مل کے مالک کے سر پر جا پہنچا کہ یہ ڈیزائن کس نے منظور کیا ہے اور اب فی الفور اس ڈیزائن کے ٹائلز کی تیاری بند کی جائے۔

مالک نے لیت و لعل سے کام لیتے ہوئے اس کو سمجھانا بجھانا شروع کر دیا۔ مگر عامر شہید نے استعفیٰ لکھ کر مالک کے منہ پر دے مارا کہ میں ایسی مل میں ایک لمحہ نہیں گزار سکتا اب کون نہیں جانتا کہ پرکشش ملازمت کا حصول کس قدر مشکل کام ہے فقط غیرت ایمانی اور عشق رسول کے تقاضے سے مجبور ہوکر نوکری چھوڑ دینا کتنا دل گردے کا کام ہے مگر آفرین ہے اس غیرت و حمیت کے پتلے پر جو نوجوانوں کے لیے عزیمت کی عجیب تاریخ رقم کر گیا ہے جس سے اسم محمد کی بے توقیری برداشت نہ ہوئی تھی، وہ ذات محمد کو نشانہ بنانے والے بدبختوں کی جسارت کو کیسے معاف کر سکتا تھا۔

صفحہ 74

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

عامر شہید کے خون سے ختم نبوت کی آبیاری

غازی عامر محمود چیمہ کو چھڑانے کے لیے موجودہ حالات کی روشنی میں بھر پور سفارتی کوششیں ہونی چاہئیں تھیں جبکہ غازی عامر شہید کا کسی عسکری تنظیم سے کوئی تعلق بھی نہ تھا تو پھر عامر کی جان بچانے کے لیے بھر پور کوششیں کیوں نہ کی گئیں؟ کیا اس کے لیے بین الاقوامی عدالتی طریقہ کار نہیں تھا؟ ۲۴ دن تک کیوں کسی بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا؟ ٹارچر سیلوں میں رکھ کر اذیت ناک طریقے سے شہید کرنا انسانی حقوق کے عالمی اداروں کے منہ پر طمانچہ کے متراد ف نہیں ہے؟ اب یہ کمیشن کیوں نہیں چیختے؟ مغربی میڈیا کیوں خاموش ہے کیا یہاں اسلام اور آپ ﷺ کی ناموس کا مسئلہ تھا اس لیے سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ ۶۰ سالہ پروفیسر نذیر احمد نے سچ کہا کہ پاکستان میں اگر کسی گورے اور گوری کے کتے اور کتی کو کانٹا بھی چبھ جاتا ہے تو کمیشن بیٹھ جاتا ہے اور معافیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ پوری دنیا میں اپنے شہریوں بلکہ محض اپنے مفادات کی خاطر بھی سفارتی اور ابلاغی ذرائع کا بھر پور استعمال کیا جاتا ہے اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

نام نہاد عالمی اداروں کی اسلام دشمنی کی چند مثالیں

ایک امریکی شہری ڈینیل پرل کو جس پر صحافت کی آڑ میں جاسوسی کا الزام تھا چھڑانے کے لیے امریکا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اسی طرح بھارت نے سرجیت سنگھ جس پر کئی قتل اور بم دھما کوں کے مقدمے قائم تھے جس کی وجہ سے اس کو موت کی سزا ہو گئی تھی کی رہائی کے لیے ہر سطح پر کو ششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اسی طرح جب برازیل کا ایک شہری برطانوی پولیس کے ہاتھوں تشدد سے ہلاک ہوا تو برازیل نے برطانوی حکومت کو ہلا کے رکھ دیا۔ حال ہی میں افغانستان میں عبدالرحمن نامی ایک شخص نے مرتد ہو کر عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔ افغانستان میں اس پر شدید ردعمل ہوا لیکن ان کے احتجاج کو بھی دہشت گردی سے تعبیر کیا گیا اس کی رہائی کے لئے امریکی صدر نے اس قدر گہری دلچسپی لی کہ اسے صحیح سالم اٹلی بھجوا کے دم لیا۔ لیکن دوسری طرف پاکستانی عوام کا حال یہ ہے کہ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو لاشوں میں

صفحہ 75

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کھڑا کر کے چھلنی کر دیا جائے یا ہمسایہ ملکوں میں کلاشنکوفوں سے بھون ڈالا جائے یا سات سمندر پار دو درجن کے قریب پاکستانیوں کو خاک و خون میں نہلا دیا جائے تو بھی حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ! پاک وطن کے جوانوں کا لہو اتنا سستا کیوں ہو گیا ہے؟ حالانکہ ہم ایٹمی طاقت ہیں اور ہمارے جانبازوں نے ہر محاذ پر اپنی طاقت کا لوہا منوایا ہے اور اپنے دشمنوں کو لوہے کے چنے چبوائے ہوئے ہیں، کیا زندہ قوموں کا یہی معیار و شعار ہوتا ہے؟ کیا آزاد قومیں اسی طرح جیتی اور مرتی ہیں؟ کیا بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک ہمیشہ روا رکھا جاتا رہے گا؟

آپ ﷺ کا ارشاد ہے الا کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ تم اپنے عوام کے نگہبان ہو اور قیامت کے دن تم سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔

کیا ہمارے حکمرانوں سے سات سمندر پار جا کر تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طالب علم کے بارے میں پوچھ گچھ نہیں ہوگی جس نے آپ ﷺ کی محبت میں ایک گستاخ کو جہنم رسید کرنے کی کوشش کی تھی جس کی پاداش میں اس کو زندان خانے میں ڈال دیا گیا اور وہ ۴۴ دن تک اس میں قید رہا۔

عامر شہید کی شہادت کا واقعہ

اس دوران اس پر وہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے کہ الامان والحفیظ ...... پھر اچانک رات کے سناٹے میں ابھرنے والی ایک چیخ ایسی تھی کہ وہ سن کر ارد گرد کے قیدی بھی چونک اٹھے۔ صبح پتہ چلا کہ ایک ایسے شخص کی شہادت ہوئی ہے جس نے آپ ﷺ کی ناموس کی خاطر اپنے ہاتھ میں خنجر اٹھا کر کسی ملعون کا قلع قمع کرنا چاہا تھا۔

ناموس رسالت کی تحریک جو کمزور پڑ گئی تھی اس کو غازی عامر شہید نے خون کی قربانی دے کر زندہ کر دیا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قیامت تک ناموس رسالت کی حفاظت کرنے والے آتے ہی رہیں گے: دیکھنا یہ ہے کہ کون ناموس رسالت کی اس تحریک میں کتنا حصہ ڈالتا ہے؟

آپ ﷺ کا ارشاد ہے ”لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ

PDF 76

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

وولدہ والناس اجمعین ”تم میں سے کوئی کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک اسے میرے ساتھ ماں باپ اولاد اور باقی سب چیزوں سے بڑھ کر محبت نہ ہو جائے ۔

اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ناموس پر ادنیٰ سا حملہ بھی کسی مسلمان کے لئے ہرگز قابل برداشت نہیں ہونا چاہیے ۔ جب انسان اپنے والدین کی توہین اپنی زندگی میں برداشت نہیں کر سکتا تو پھر ایک ایسی عظیم ہستی جس سے محبت کرنے کا والدین اور دیگر تمام چیزوں سے زیادہ کا حکم دیا گیا ہے اس کی شان اقدس میں نازیبا باتیں اور الفاظ کوئی بھی مسلمان کیونکر برداشت کر سکتا ہے۔

اسی تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے غازی عامر چیمہ نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر آپ ﷺ کے قدموں اور اعلیٰ علیین میں جگہ پالی ۔ وہ اس امتحان میں سرخرو ہو گیا جس میں کامیابی پانا ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے مسلمان کی آخری خواہش ہوا کرتی ہے ۔ مغرب کو یقین کر لینا چاہیے کہ اگر اس نے یہ چھیڑ چھاڑ بند نہ کی تو اسے ایسے ہزاروں نہیں لاکھوں عامر چیمہ نظر آئیں گے جن میں سے ہر ایک کی خواہش ہو گی کہ میں کسی گستاخ رسول سے اس دھرتی کو پاک کروں ۔

آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والی لڑکی کا عبرتناک انجام

راوی ہیں ۔

۱۹۶۶-۶۷ء کی بات ہے میں لاہور کے سنٹرل ٹریننگ کالج میں B.Ed کا طالب علم تھا ۔ وہاں ہمارے ایک بزرگ پروفیسر تھے چودھری فضل حسین ، انہوں نے یہ واقعہ کلاس روم میں سنایا کہ میں بیروت کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا وہاں ہندوستان ( تقسیم سے قبل ) کے بہت سے طلبہ و طالبات زیر تعلیم تھے ان میں سے ایک لڑکی بہت شوخ و شنگ اور الٹرا ماڈرن قسم کی تھی ۔ اس کا تعلق ہندوستان کے کسی مسلمان نواب گھرانے سے تھا وہ خود شاید فیشن کے طور پر کمیونزم کا پرچار کر رہی تھی ۔

ایک دن ٹک شاپ پر اسلام اور کمیونزم کی بحث چل رہی تھی کہ اس ناہنجار لڑکی نے آپ ﷺ کی شان میں ایک آدھ نازیبا لفظ کہہ دیا میں نے اسے بے نقط سنائیں بہت برا بھلا

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کہا اور ہمیشہ کے لئے اس سے قطع تعل امارت اور حسن پر بہت نازاں تھی دورا کے لئے اس وقت کے اعلیٰ ترین ڈاکٹ خود بھی پھیلی چلی گئی ۔ یعنی بے اندازہ اپنی اس بری شکل کی وجہ سے اس نے سوسائٹی میں نسیاً منسیاً ہو گئی ۔

ادھر واپسی کے بعد میں نے چو فضل سے (چہرہ پر ایک آدھ داغ کے آپ ﷺ کی شان اقدس میں گس بوڑھے پروفیسر کے جواب نے نہ ص آنسوؤں سے رلا دیا۔ فرمایا مجھے اس اسے اسی دم قتل کیوں نہ کر دیا۔

آپ ﷺ کے فرمان پر

لید ۔ ہڈی سے استنجا نہ کیا کرو یہ آپ ﷺ کے اس قول مب معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے مگر درحق فراغت کے بعد متعلقہ حصہ جسم ایک حکیم صاحب کہتے ہیں کہ نو تعلیم یافتہ مسلمان نوجوان نے مجھ سے سے اس کے بعد کسی موقعے پر اس نے کے استعمال کرتے ہی پاخانے کے مقا بات یہ تھی کہ اس ہڈی میں چھو

صفحہ 77

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کہا اور ہمیشہ کے لئے اس سے قطع کلامی کر لی۔ پھر یوں ہوا کہ مجھ پر اور اس نابکار لڑکی پر جو اپنی امارت اور حسن پر بہت نازاں تھی دوران تعلیم ہی میں برص کا حملہ ہوا۔ اس نے اپنے حسن کو بچانے کے لئے اس وقت کے اعلیٰ ترین ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے رجوع کیا لیکن برص پھیلتا چلا گیا اور خود بھی پھیلتی چلی گئی۔ یعنی بے اندازہ موٹی ہو گئی ہندوستان واپسی پر اس کا کہیں رشتہ نہ ہو سکا اور اپنی اس بری شکل کی وجہ سے اس نے گھر سے نکلنا بھی چھوڑ دیا اور وہ جو کبھی جان محفل ہوا کرتی تھی سوسائٹی میں نسیاً منسیاً ہو گئی۔

ادھر واپسی کے بعد میں نے جہلم کے ایک معمولی سے ڈاکٹر سے علاج کروایا اور اللہ کے فضل سے (چہرہ پر ایک آدھ داغ کے سوا) شفا ہو گئی ساری کلاس نے سوال کیا جناب! اسے تو آپ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کے سبب یہ سزا ملی۔ آپ پر برص کیوں حملہ آور ہوا؟ بوڑھے پروفیسر کے جواب نے نہ صرف پوری کلاس کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ سب کو آنسوؤں سے رلا دیا۔ فرمایا مجھے اس وجہ سے برص ہوا کہ میں نے گالیوں پر اکتفا کیوں کیا؟ اور اسے اسی دم قتل کیوں نہ کر دیا۔

آپ ﷺ کے فرمان کی تحقیر کرنے پر ایک طالب علم کا انجام

لید ۔ ہڈی سے استنجا نہ کیا کرو۔

آپ ﷺ کے اس قول میں استنجا کے سلسلے میں ایک پابندی بھی ہے جو بظاہر بالکل معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے مگر درحقیقت ہے بڑی پُر حکمت۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ فراغت کے بعد متعلقہ حصہ جسم کی صفائی ہڈی اور گوبر سے ہرگز نہ کرنی چاہیے۔

ایک حکیم صاحب کہتے ہیں کہ میرے ایک بزرگ نے ایک واقعہ سنایا ایک آزاد خیال نو تعلیم یافتہ مسلمان نوجوان نے مجھ سے جب یہ بات سنی تو بڑی تحقیر سے اس پر ہنسی اڑائی۔ اتفاق سے اس کے بعد کسی موقعے پر اس نے بعد رفع حاجت صفائی کے لئے ہڈی استعمال کر لی۔ اس کے استعمال کرتے ہی پاخانے کے مقام پر اسے شدید سوزش شروع ہو گئی اور ورم ہو گیا۔ بات یہ تھی کہ اس ہڈی میں چھوٹی سرخ چیونٹیاں تھیں جو سخت زہریلی ہوتی ہیں اور جن پر

صفحہ 78

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اس کی نظر نہ پڑی۔ انہوں نے اسے کاٹ کھایا جب اس کی تکلیف بڑھ گئی تو میرے پاس آیا غلطی کا اعتراف کیا۔ اظہار ندامت کیا اور ساتھ ہی علاج دریافت کیا میں نے کہا جس محسن ہستی پر تم نے تمسخر کیا تھا اب اسی پر درود بھیجو اور توبہ کرو۔

چنانچہ توبہ اور درود شریف کی کثرت سے اس کی تکلیف جاتی رہی۔

ہڈی اور گوبر میں کئی قسم کے کیڑے اور جراثیم ہوتے ہیں جو خود غلیظ ہوتے ہوئے غلاظت کیسے دور کر سکتے ہیں۔

پرچم نبوی ﷺ کی توہین کرنے والے مقرر کے چہرے کا بگڑ جانا

تھی۔ بازار میں جلسہ ہو رہا تھا۔ میں ادھر سے گزرا تو ایک مولوی تقریر کر رہا تھا چونکہ وہ اس وقت ایک مذہبی سیاسی جماعت پر برس رہا تھا میں ذرا رک گیا وہ کہنے لگا لوگو! تم نے ان دیو بندیوں کا گالڑ دی کنڈورگا (گلہری کی پیٹھ کی طرح) جھنڈا دیکھا ہے۔ کہتے ہیں یہ پرچم نبوی ہے مجھ کو اس کے استہزاء پر سخت کوفت ہوئی۔ کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ آپ سرور کائنات ﷺ کا پر چم ایسی ہی شکل کا تھا۔ ( کالی اور سفید دھاریوں والا ) جب یہ الفاظ سنے تو میں بیزار ہو کر چل پڑا۔ کچھ ہی دن گزرے ہوں گے کہ وہ مولوی مجھے سر راہ مل گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کا منہ ٹیڑھا ہو چکا تھا۔

گستاخ رسول ریاض احمد عرف گوہر شاہی کی عبرتناک موت

ہر شاہی کی تابوت میں بند نعش دیکھنے والوں اور تصاویر بنانے والے فوٹو گرافرز نے بتایا کہ بڑا ہولنا ک اور عبرتناک منظر تھا۔ نعش کے چہرے پر بڑے بڑے چھالے تھے جن سے پیپ بہہ رہی تھی جس سے بدبو آ رہی تھی۔ چھڑکی جانے والی خوشبوئیں بھی اسے کم نہ کر سکیں۔

کراچی کے ایک موثر جریدے تکبیر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب گوہر شاہی کی نعش آئی تو اس کے پیروکار سجدے میں گر گئے اور ایمبولینس کی گزرگاہ کی مٹی چومنے لگے۔ مریدوں نے

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

قطار باندھ کر میت کا آخری دیدار کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا گوہر شاہی ایک جس نے پھر روحانیت کا لبادہ اوڑھ رسالت ﷺ توہین قرآن اور شعائر خصوصی عدالت نے اسے توہین رسالت جـ اور جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی مگر وہ اس اس کے خلاف آمنہ قتل کیس، عبدالـ والے افسر نے بتایا کہ اس نے ملک سے باہـ ابھار اس طرح بنوایا تھا جس سے لگتا تھا کہ امام مہدی یا نبوت کا دعویٰ کرنے والا تھا مگر اس افسر کے بھانجے شبیر نے جو ہیو سورج اور چاند پر گوہر شاہی کی تصویر کے د مطابق اس کے خادم خاص انوار احد نے آسمانوں پر اٹھائے جانے کے مثل قرار دے الملک کا لقب دے کر اللہ کا شریک ٹھہرایا گیا ا

انگریز کی حکومت ہند

کے برصغیر میں آنے سے پہلے ہندو مسلم با ہـ نافذ العمل تھا۔ ہندو بھی مسلمانوں کی رعایا اس وقت بھی اکثریت میں تھے، لیکن برطانو نے اپنی روایتی پالیسی پر عمل شروع کیا۔ چنانچہ پیغمبر خدا ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا پنڈت دیانند سرسوتی کی کتاب ”ستیارتھ پرکا

صفحہ 79

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

قطار باندھ کر میت کا آخری دیدار کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا گوہر شاہی ایک ڈیڑھ عشرہ قبل معمولی نوعیت کا مزدور تھا۔ جس نے پھر روحانیت کا لبادہ اوڑھ کر اربوں کی املاک بنالیں! اس پر اس وقت توہین رسالت ﷺ، توہین قرآن اور شعائر اسلام کے مقدمات چل رہے تھے میر پور خاص کی خصوصی عدالت نے اسے توہین رسالت ﷺ اور دیگر الزامات ثابت ہونے پر تین بار عمر قید اور جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی مگر وہ اس سے قبل ہی خفیہ طور پر لندن فرار ہو گیا۔ اس کے خلاف آمنہ قتل کیس، عبدالمجید خاصخیلی قتل اور دیگر مقدمات کی تحقیقات کرنے والے افسر نے بتایا کہ اس نے ملک سے باہر آپریشن کرا کے اپنی کمر کے اوپر کے حصے پر نسوں کا ابھار اس طرح بنوایا تھا جس سے لگتا تھا کہ (نعوذ باللہ) یہ کلمہ طیبہ ہے اور جیسے مہر لگائی گئی ہو۔ وہ امام مہدی یا نبوت کا دعویٰ کرنے والا تھا مگر یہ حسرت لئے ہی دنیا سے چل بسا۔ اس افسر کے بھانجے شبیر نے جو کمپیوٹر انجینئر ہے اس کی روحانیت کو نیا رخ دیا۔ حجر اسود، سورج اور چاند پر گوہر شاہی کی تصویر کے دعوے اسی کی کمپیوٹر مہارت کا نتیجہ تھے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے خادم خاص انوار احد نے گوہر شاہی کی موت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمانوں پر اٹھائے جانے کے مثل قرار دینے کی کفریہ جسارت کی۔ اسے (نعوذ باللہ) مالک الملک کا لقب دے کر اللہ کا شریک ٹھہرایا گیا اور موت کے بعد یہ عبرت ناک منظر دیکھنے میں آیا۔

انگریز کی حکومت ہند کی بنیاد توہین رسالت پر

کے برصغیر میں آنے سے پہلے ہندو مسلم باہم شیر و شکر تھے۔ فتاویٰ عالمگیری پورے برصغیر میں نافذ العمل تھا۔ ہندو بھی مسلمانوں کی رعایا تھے انہوں نے اس پر کبھی اعتراض نہ کیا تھا جبکہ ہندو اس وقت بھی اکثریت میں تھے، لیکن برطانوی نو آبادیاتی بن جانے کے بعد برطانوی سامراج نے اپنی روایتی پالیسی پر عمل شروع کیا۔ چنانچہ ہندؤوں میں بعض ایسے افراد پیدا کئے جنہوں نے پیغمبر خدا ﷺ کی شان اقدس میں نازیبا الفاظ استعمال کئے اور بعض کتابیں لکھیں جن میں پنڈت دیانند سرسوتی کی کتاب ”ستیارتھ پرکاش“ سر فہرست ہے۔ یہ کتاب ۱۸۷۵ء میں منظر

صفحہ 80

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام عام پر آئی تو ہندوستان میں جگہ جگہ ہندوؤں نے شان رسالت میں گستاخیوں کی جسارت شروع کر دی۔ اس وقت علمائے کرام اور مسلم عوام نے اپنے اپنے فرائض ادا کئے اور گستاخوں کا تعاقب کیا اور بہت سے گستاخان رسول ﷺ کو واصل جہنم کیا۔ یہ واقعات 1923ء میں آکر شدت اختیار کر گئے۔

ہے کوئی دفاع کرنے والا

اے مسلمانو! میں تمہاری سوئی ہوئی غیرت کو جھنجھوڑنے آیا ہوں۔ آج کفار کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ مسلمان مر چکا ہے۔ آؤ اپنی زندگی کا ثبوت دیں۔ عزیز نوجوانوں تمہارے دامن کے سارے داغ مٹانے کا وقت آ پہنچا ہے۔ گنبد خضریٰ کے مکین تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں ان کی آبرو خطرے میں ہے۔ ان کی عزت پر کتے بھونک رہے ہیں۔ اگر قیامت کے روز حضرت محمد ﷺ کی شفاعت کے طالب ہو تو پھر نبی کی توہین کرنے والی زبان نہ رہے یا سننے والے کان نہ رہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ برصغیر کے طول و عرض میں شمع رسالت کے پروانے اپنی جانوں پر کھیل کر ان زبان درازوں کی بیخ کنی کرنے لگے برطانوی حکومت کی طرف سے تمام تر سختیوں ، سزاؤں اور مقدمات کے باوجود شمع رسالت کے پروانوں کے جذبے اور ولولے نہ تو ختم ہو سکے اور نہ ہی سرد۔

غازی عبدالرحمن شہید کے ہاتھوں ایک گستاخ رسول سکھ کی موت

سے قبل ہندو کاروبار پر چھائے ہوئے تھے ایک آدھ دکان مسلمانوں کی تھی۔ اکثریت ہندوؤں کی تھی۔ آئے دن کوئی نہ کوئی واقعہ برصغیر میں ظاہر ہوتا۔ ہندو رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے اور یوں صورت حال میں خاصی گڑبڑ ہوتی۔ یہاں کشمیر روڈ پر بھی ایک سکھ تھا جو انتہائی خود سر اور گستاخ تھا۔ ۲۴ سال کا جوان تھا اکثر مسلمانوں کے ساتھ وہ بحث مباحثہ کرتا رہتا اور بڑی رعونت سے پیش آتا۔

غازی عبدالرحمن شہید نماز جمعہ پڑھنے کے لئے موضع صابر شاہ نزد بفہ سے پیدل چل کر

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام مانسہرہ تشریف لائے تھے حسب معمول خان اپنی زمین میں مال ومویشی چرا رہے میرے لئے دعا کرنا کہ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی سنگار خان کہنے لگے کہ میں اس مقصد ہے؟ جب غازی صاحب روانہ انہوں نے انکار کر دیا۔

غازی عبدالرحمن صاحب کے با کشمیر روڈ پر سودا لینے کے لیے گئے ج الدین شہید کے واقعہ کا تذکرہ ہو رہا تھا ا ایک احتجاجی جلوس نکلا تھا۔ جس میں مولا خلاف تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہم خود کریں گے۔

جب غازی عبدالرحمن صاحب جوش میں مسلمانوں کے خلاف کچھ باتی غازی عبدالرحمن صاحب نے ک جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی

اس سکھ نے کہا جو میرے بھائی ن ہم تمہاری بھی زبان گدی سے کھینچ لیں بارے میں کوئی نازیبا لفظ کہہ دیا۔ بس آگے آگے وہ سکھ بھاگ رہا تھا اور پیچھ ایس اڈے کے قریب اس سکھ کے بھائی اجیت سنگھ اس کا بھائی تھا اس نے بھی غا گتھے ہوئے سکھ پر کئی وار کیے اور واصل

یہ صورت حال دیکھ کر پورا بازار

صفحہ 81

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

مانسہرہ تشریف لائے تھے حسب معمول وہ جمعہ پڑھنے کے لیے گھر سے نکلے تو ان کے بھانجے سنگار خان اپنی زمین میں مال ومویشی چرا رہے تھے اس کو اپنے پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا بیٹا میرے لئے دعا کرنا کہ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی مجھے اپنے مقصد میں کامیاب فرمائے۔

سنگار خان کہنے لگے کہ میں اس وقت چونکہ چھوٹا سا تھا اس لئے پوچھ نہ سکا کہ آپ کا کیا مقصد ہے؟ جب غازی صاحب روانہ ہونے لگے تو میں نے کہا کہ مجھے بھی ساتھ لے جائیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔

غازی عبدالرحمن صاحب کے ہاتھ میں ہمیشہ چھوٹی سی کلہاڑی ہوتی۔ جب مانسہرہ آئے تو کشمیر روڈ پر سودا لینے کے لیے گئے جہاں سکھوں کی دکانیں تھیں۔ سکھوں کی دکان پر غازی علم الدین شہید کے واقعہ کا تذکرہ ہو رہا تھا اور سکھ تنقید کر رہے تھے اس سے دو چار دن پہلے مانسہرہ میں ایک احتجاجی جلوس نکلا تھا۔ جس میں مولوی غلام سرور صاحب نے تقریر کی اور گستاخان رسول کے خلاف تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حکومت سزا نہیں دے سکتی تو ایسے بدقماش لوگوں کا قلع قمع ہم خود کریں گے۔

جب غازی عبدالرحمن صاحب سکھوں کی دکان پر پہنچے تو اس نوجوان سکھ نے جوانی کے جوش میں مسلمانوں کے خلاف کچھ باتیں کیں۔

غازی عبدالرحمن صاحب نے کہا کہ اگر تمہارے بھائی ایسے واقعات کا ارتکاب نہ کریں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے تو ایسے حالات ہی پیدا ہوں۔

اس سکھ نے کہا جو میرے بھائی بند کرتے ہیں میں وہی کروں گا۔ غازی صاحب نے کہا پھر ہم تمہاری بھی زبان گدی سے کھینچ لیں گے اسی توتکار میں اس نے آقائے نامدار ﷺ کے بارے میں کوئی نازیبا لفظ کہہ دیا۔ بس پھر کیا تھا غازی عبدالرحمن نے اس سکھ پر لگا تار وار کئے۔ آگے آگے وہ سکھ بھاگ رہا تھا اور پیچھے پیچھے غازی صاحب تعاقب کر رہے تھے۔ پرانے جی ٹی ایس اڈے کے قریب اس سکھ کے بھائیوں کی سوڈا واٹر کی دکانیں تھیں وہ ان دکانوں میں داخل ہو ا گت سنگھ اس کا بھائی تھا اس نے بھی غازی صاحب کو نہ روکا غازی صاحب نے مشینوں کے نیچے گھسے ہوئے سکھ پر کئی وار کیے اور واصل جہنم کر دیا۔

یہ صورت حال دیکھ کر پورا بازار بند ہو گیا اور بھگدڑ مچ گئی۔ غازی عبدالرحمن خوشی سے کہہ

صفحہ 82

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

رہے تھے کہ میں نے اپنے آقا کا بدلہ لے لیا ...... میں نے اپنے آقا کا بدلہ لے لیا ...... غازی صاحب سکھ کو قتل کرنے کے بعد بھاگے نہیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات کی بلکہ بالکل پرسکون رہے ۔ جب غازی عبدالرحمن صاحب نے اپنا بیان پولیس کو دیا تو کہا میں نے ہوش وحواس میں اس سکھ کو جہنم رسید کیا ہے اگر وہ میرے آقا ومولیٰ ﷺ کی توہین کا ارتکاب نہ کرتا تو میں اسے سزا نہ دیتا ۔

غازی عبدالرحمن کی شہادت کا عدالتی فیصلہ

کیس عدالت میں پہنچا تو تین چار وکیل غازی عبدالرحمن صاحب کے دفاع میں پیش ہوئے ۔ وکلاء نے کہا غازی صاحب آپ کہہ دیں کہ میں اتنا مشتعل تھا کہ مجھے کوئی ہوش نہ تھا ہم آپ کو بچالیں گے لیکن غازی عبدالرحمن صاحب نے کہا میں جھوٹ بول کر اپنا ثواب ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ چنانچہ عدالت نے غازی عبدالرحمن کو پھانسی کی سزا سنا دی ۔

وکلاء نے غازی عبدالرحمن سے کہا کیا ہم ہائی کورٹ میں اپیل کریں؟ غازی صاحب نے صاف کہہ دیا میں اب اپیل نہیں کروں گا مجھے اس جان کی پرواہ نہیں ہے ۔ چنانچہ غازی عبدالرحمن کو پھانسی کی سزا دے دی گئی جب پھانسی کے بعد اس پروانے کی لاش صابر شاہ لائی گئی تو بھیڑ کنڈھ سے صابر شاہ تک راستہ کے دونوں کناروں پر عوام کا جم غفیر تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ برصغیر کے تمام مسلمان آج مانسہرہ کی سرزمین پر جمع ہو گئے ہیں ۔ نہایت تزک و احتشام سے غازی عبدالرحمن شہید کو سپرد خاک کیا گیا آج وہ صابر شاہ کے بڑے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔

نبی کا خواب میں گستاخ رسول کا حلیہ بتانا

صلوٰۃ تھے ۔ ان کے دل میں سرور کونین ﷺ کی بے پناہ محبت موجزن تھی ۔ اس کے نتیجے میں ایک رات خواب میں انہیں سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی ۔ نبی پاک ﷺ نے خواب میں ان کو ایک گستاخ زمانہ کافر کا حلیہ دکھایا جسے انہوں نے اپنی ڈائری میں اچھی طرح نوٹ کر لیا ۔ اس واقعہ کے بعد ان کے دل میں زبردست انقلاب آگیا اور وہ ماہی بے آب کی طرح بے تاب رہنے لگے ۔

صفحہ 83

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ کی شان میں سکھ ڈاکٹر کی گستاخی

آخر قدرت نے اس سچے عاشق کو امتحان کا موقع فراہم کر دیا۔ ایک دن زمیندار اخبار میں ایک خبر ”پلول کا گدھا“ کے عنوان سے شائع ہوئی کہ ہندوستان کے ایک قصبہ پلول ضلع گوڑ گانواں کے ایک ہندو رام گوپال نے جو شفاخانہ حیوانات میں ڈاکٹر ہے ہسپتال کے ایک گدھے کا نام محسن انسانیت ﷺ کے اسم گرامی پر رکھا ہوا ہے (نعوذ باللہ) اس بدذات کی اس شرمناک جسارت کی خبر پورے ملک میں آگ کی طرح پھیل گئی اور مسلمانوں نے آگ بگولا ہو کر صدائے احتجاج بلند کی۔ جب فساد امن کا خطرہ بڑھا تو اس ڈاکٹر کا تبادلہ وہاں سے ضلع حصار کے قصبہ نارنوند میں کر دیا گیا۔

غازی مرید حسین کے ہاتھوں ایک سکھ ڈاکٹر کا عبرتناک انجام

غازی مرید حسین نے اصرار کر کے ماں سے اجازت لی کہ وہ ایک اہم کام پر جا رہے ہیں۔ بھیرہ پہنچ کر بھائی کو خط لکھا کہ میں ایک ضروری کام پر جا رہا ہوں اس لئے سب کچھ اللہ اور تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ بھیرہ ہی سے ایک دودھارا خنجر خریدا اور چاچڑ شریف میں اپنے مرشد کے ہاں گئے عرض مدعا کیا، راز و نیاز کی باتیں ہوئیں۔ رخصت کے وقت پیر نے مرید کو گلے لگایا اور اس کے دل بسمل کی دھڑکنوں کو سنا اور دعا کے طور پر کہا بسلامت روی و باز آئی۔

غازی مرید حسین واپس گھر پہنچے وہ ایک فیصلہ کر چکے تھے۔ وہ اس مقام پر کھڑے تھے جہاں ایک طرف بیوہ ماں کی شفقت ، وفا شعار بیوی کی محبت ، برادری کے بندھن ، دنیاوی مصلحتیں ، سینکڑوں کنال زمین ، لہلہاتے کھیت اور تیار فصلیں تھیں اور دوسری طرف عشق رسول ﷺ کا امتحان تھا ...... عقل سوچتی رہ گئی مگر عشق نے امتحان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

غازی سیدھے چکوال گئے اور ڈاکخانہ سے اپنی جمع شدہ رقم میں سے سات سو روپے نکلوائے اور کسی کو بتائے بغیر اپنے مشن پر روانہ ہو گئے۔ چکوال سے آپ پہلے لاہور پہنچے پھر سیدھے دہلی چلے گئے وہاں سے حصار گئے وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ڈاکٹر رام گوپال پشاور چلا گیا ہے۔ آپ پھرتے پھراتے واپس پشاور پہنچ گئے لیکن ڈاکٹر پشاور سے نارنوند جا چکا تھا۔ آپ اس کے تعاقب

صفحہ 84

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں ۱۶ اگست ۱۹۳۶ء کو دوبارہ حصار پہنچ گئے پوچھتے پوچھتے آپ اس ہسپتال جا پہنچے جہاں وہ گستاخ زمانہ رام گوپال متعین تھا۔ اسے غور سے دیکھا اور مخبر صادق ﷺ کے بتائے ہوئے حلیے کو ڈائری میں دیکھا۔ اسے ہو بہو درست پا کر دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگا۔ ڈاکٹر کی رہائش گاہ دیکھی، حالات کا جائزہ لیا پھر کسی مسلمان کا گھر تلاش کیا ایک مسافر کی حیثیت سے نماز ظہر ادا کی اور دعا مانگی۔

اے میرے اللہ تیرے اس نحیف ونزار اور ناچیز بندے کو اپنے آبائی وطن سے سینکڑوں میل دور کافروں کی بستی نارنوند میں تیرے محبوب ﷺ کی محبت جس مقصد کے لئے کھینچ لائی ہے اس میں کامیابی و کامرانی عطا فرما۔ اگست کا مہینہ تھا۔ شدید گرمی پڑ رہی تھی۔ ڈاکٹر کی رہائش گاہ ہسپتال سے ملحق تھی صحن میں قدم رکھا تو سامنے درختوں کے گھنے سائے میں وہ ملعون سو رہا تھا جس نے کروڑوں مسلمانوں کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں۔ قریب ہی دوسری چارپائی پر اسی کی بیوی کشیدہ کاری میں مصروف تھی۔ بچے کچھ جاگ رہے تھے کچھ سوئے ہوئے تھے۔ ہسپتال کا عملہ سب کا سب ہندو تھا اور وہ بھی زیادہ دور نہ تھا۔

مرید حسین نے جان ہتھیلی پر رکھ کر بے خوف و خطر نعرہ لگایا اللہ اکبر...... پھر اس ملعون ڈاکٹر کو مخاطب کر کے پکارا۔ او گستاخ زمانہ کافر اٹھ...... آج محمد ﷺ کا پروانہ آ ہی گیا ہے۔

بیوی نے بھی شوہر سے کہا رام گوپال اٹھ کوئی مسئلہ آ گیا ہے۔ رام گوپال آنکھیں ملتا اور دھوتی سنبھالتا اٹھا بیوی اور نوکر چاکر مرید حسین کو پکڑنے کے لئے لپکے...... مگر انہوں نے آن کی آن میں خنجر موذی کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ وہ دھڑام سے ایسا گرا کہ پھر نہ اٹھا۔ غازی مرید حسین نے خنجر قریبی تالاب میں پھینک دیا اور خود بھی اس میں چھلانگ لگا کر تیرنے لگے۔

پولیس کی جمعیت نے تالاب کو گھیرے میں لے لیا غازی مرید حسین نے پوچھا تم میں کوئی مسلمان ہے؟

اتفاق سے مقامی تھانے دار مسٹر احمد شاہ کیوٹ تھا اس نے کہا میں مسلمان ہوں۔ مرید حسین تالاب سے باہر آئے اور خود کو گرفتاری کے لئے پیش کرتے ہوئے کہا میرا نام عاشق رسول ﷺ ہے میں نے ہی ڈاکو کو قتل کیا ہے جس نے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر ڈاکہ ڈال کر ان کا امن وسکون لوٹ لیا تھا۔

صفحہ 85

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

مقدمے کی پیروی کے لئے غازی مرید حسین کے بھائی لاہور سے ضلع حصار کے ایک مشہور وکیل بیرسٹر جلال الدین قریشی کے نام زمیندار اخبار کے ایڈیٹر مولانا ظفر علی خان کے فرزند اختر علی خان کا ایک خط لے کر گئے تھے۔ اس کے ذکر پر غازی نے کہا مجھے وکیل کی ضرورت نہیں میرا وکیل تو اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ہے۔

قریشی صاحب سے وکالت کی گفتگو ہو رہی تھی جو غالباً اپنی انتخابی مصروفیات کی وجہ سے مقدمہ کی پیروی کے لئے تیار نہ تھے اتنے میں ایک بزرگ صورت مولوی صاحب تشریف لائے۔ قریشی صاحب نے تعارف کراتے ہوئے کہا مولانا یہ چکوال سے آئے ہیں اور بدقسمت ملزم کے لواحقین ہیں جس نے ڈاکٹر رام گوپال کو نارنوند میں قتل کر دیا ہے۔

یہ سن کر مولوی صاحب سخت جلال میں آگئے اور کہا جلال الدین صاحب بدقسمت آپ ہیں، بدقسمت میں ہوں ...... بدقسمت ہمارا سارا علاقہ ہے ...... بدقسمت ہندوستان کے کروڑوں مسلمان ہیں جن کی موجودگی میں گستاخ زمانہ رام گوپال دندناتا پھرتا رہا ...... بدقسمت اور بے غیرت تو ہم ہیں ان کی خوش قسمتی میں کسے کلام ہو سکتا ہے جن کے نامور فرزند نے یہاں سے سینکڑوں میل دور علاقہ چکوال سے آ کر ناموس رسالت کی حفاظت کا حق ادا کر دیا ہے کیا یہ ہر مسلمان کا فرض نہیں کہ وہ حبیب کبریا حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا ڈالے؟۔

مولوی صاحب کی اس سرزنش کا نتیجہ یہ نکلا کہ قریشی صاحب نے بلا معاوضہ مقدمے کی پیروی کا ذمہ لے لیا۔ حصار کی ضلعی کچہری میں مقدمے کی سماعت ایک مجسٹریٹ پنڈت لکشمی دت کے ہاں شروع ہوئی لیکن ابتدائی سماعت کے بعد اس نے جلد ہی مقدمہ سیشن جج کے سپرد کر دیا تین دن کی سماعت کے بعد چوتھے دن فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا میں تمہیں سزائے موت دیتا ہوں لیکن ایک درخواست کے نتیجے میں دوبارہ سماعت کی گئی مگر سزائے موت برقرار رہی اس پر ہائی کورٹ میں اپیل کی سماعت کی گئی۔ اس نے بھی اپیل خارج کر کے سزائے موت بحال رکھی۔

آخری ملاقات پر ماں نے بیٹے سے کہا کہ پھانسی کا پھندا وہ خود اپنے گلے میں ڈالے کوئی بھنگی وغیرہ نہ ڈالے۔ غازی صاحب نے کہا ماں جی ٹھیک ہے۔

آخر خدا خدا کر کے ۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء بمطابق ۱۸ رجب ۱۳۵۶ ھ جمعتہ المبارک کی وہ صبح

صفحہ 86

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام آ پہنچی جس کا غازی مرید حسین بڑی بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ جیل سے باہر رسول ﷺ کے عاشقوں کا ایک جم غفیر جمع تھا اور جیل کے اندر پروانہ رسالت شمع رسالت پر جل مرنے کو بے تاب۔

جب شہادت کا وقت آیا تو آپ درود شریف پڑھ رہے تھے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے کہا آپ زبان کو حرکت نہ دیں انہوں نے کہا میں اپنا کام کر رہا ہوں آپ اپنا کام کریں چنانچہ غازی صاحب درود و سلام پڑھتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے جام شہادت نوش کر کے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ .....

ہو نام محمد لب سیفی پہ الہی
جب طائر جان گلشن ہستی سے رواں ہو

آخر کار بعد از نماز جمعہ آپ کو بھیرہ شریف کے نزدیک ”غازی محل“ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

عاشق رسول ﷺ کے ہاتھوں ایک عیسائی سیموئیل کی موت

دوران تبلیغ آپ ﷺ کی شان میں کچھ نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ زاہد حسین اور اس کے ساتھیوں نے سیموئیل کو سختی سے منع کیا کہ وہ اپنی ہرزہ سرائی بند کرے لیکن وہ شیطان اپنی شرارت سے باز نہ آیا۔ جس پر زاہد حسین نے مشتعل ہوکر اس گستاخ کا سر پھاڑ دیا جس کے نتیجہ میں وہ بدبخت ہلاک ہو گیا۔

زاہد حسین نے عدالت کے روبرو اعتراف قتل کر لیا۔ جس پر اس کو اشتعال انگیزی کی بناء پر صرف جرمانہ کی سزا دی گئی۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی جو خارج ہوئی۔ اس مقدمہ کی پیروی ڈاکٹر جاوید اقبال ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ نے کی جو اس وقت پیشہ قانون سے وابستہ تھے اور ان کی معاونت برادر عزیز میاں شیر عالم نے کی تھی۔

گستاخ رسول کا عبرتنا

تحفظ ناموس رسال

عیسائی مشنری کی مشہور دکان پا شیریں“ فروخت ہو رہی ہے ہے۔ اس پر یہ مرد غازی ایک کر اس نے بائبل سوسائٹی کی ا کے منیجر ہیکٹر گوہر مسیح پر الطاف گیا۔ عدالت کے سامنے جب پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو بحال رکھا۔

اس فیصلے کے خلاف لاہو جو اس مقدمے کی پیروی کر رہے کی جانب سے وکیل مقرر کریں سے مسٹر جرمی ریٹائرڈ پبلک پرا پیش ہوا تو فاضل جج نے مسٹر ج اور مذہبی رواداری کی حمایت ﷺ کے بارے جو قابل ا برداشت ہیں۔ جنہیں پڑھ کر میں رکھنے سے انکار کر دیا اور

سپاہی

محلہ چڑی ماراں میں پیدا ہو

صفحہ 87

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تحفظ ناموس رسالت کی خاطر ایک عیسائی کاہن کو آگ لگانا

عیسائی مشنری کی مشہور دکان پاکستان بائبل سوسائٹی انارکلی میں ایک رسوائے زمانہ کتاب ’اثمار شیریں‘ فروخت ہو رہی ہے جس میں رسول کریم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز مواد موجود ہے۔ اس پر یہ مرد غازی ایک بار پھر تڑپ اٹھا اور اپنے معتمد ساتھی الطاف حسین شاہ کے ساتھ مل کر اس نے بائبل سوسائٹی کی اس دکان میں جہاں یہ کتاب فروخت ہو رہی تھی آگ لگادی اور اس کے منیجر ہیکٹر گومز مسیح پر الطاف حسین شاہ نے پستول سے قاتلانہ حملہ کر دیا لیکن وہ بال بال بچ گیا۔ عدالت کے سامنے جب یہ مقدمہ پیش ہوا تو ان دونوں نے بلا پس و پیش اقبال جرم کیا جس پر علاقہ مجسٹریٹ نے دونوں کو تین تین سال سزائے قید سنائی اور ایڈیشنل جج لاہور نے اس سزا کو بحال رکھا۔

اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہوئی۔ زاہد حسین کے عزیزوں کو جو اس مقدمے کی پیروی کر رہے تھے خواب میں بشارت ہوئی کہ میاں شیر عالم ایڈووکیٹ کو ملزمان کی جانب سے وکیل مقرر کریں۔ چنانچہ ان کی جانب سے میاں شیر عالم اور استغاثے کی جانب سے مسٹر جرمی ریٹائرڈ پبلک پراسیکیوٹر پیش ہوئے۔ مقدمہ جب جسٹس شیخ شوکت علی کے سامنے پیش ہوا تو فاضل جج نے مسٹر جرمی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اگر چہ وہ خود ایک گنہگار مسلمان ہیں اور مذہبی رواداری کی حمایت میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے جو قابل اعتراض باتیں منسوب کی گئی ہیں وہ ان کے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں۔ جنہیں پڑھ کر ان کا خون بھی کھول رہا ہے اس لیے انہوں نے ملزمان کو مزید قید میں رکھنے سے انکار کر دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ وہ اس کتاب کو فوری طور پر ضبط کر لے۔

سپاہی کے ہاتھوں سکھ میجر عبرتناک موت

محلہ چڑی ماراں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم کا نام چوہدری اللہ دتہ تھا۔ اور آپ قوم کمبوہ

صفحہ 88

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ایک معزز گھرانے کے چشم و چراغ تھے اور بہت محنت کش لوگ تھے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ اسلامیہ لوہاری گیٹ سے حاصل کی۔ آپ کو ابتداء ہی سے اسلام سے گہرا لگاؤ تھا اور بہت حساس طبیعت کے مالک تھے۔ مذہبی لگاؤ آپ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

۱۹۲۰ء میں آپ نے فوج میں ملازمت اختیار کر لی آپ کو لکھنؤ چھاؤنی میں تعینات کیا گیا آپ نے فوج میں رہ کر بھی مذہبی سرگرمیوں کو جاری رکھا آپ نے چند مسلمان فوجیوں کو ساتھ ملا کر چھاؤنی میں ایک مسجد قائم کی اور اس مسجد میں نماز پنجگانہ ادا ہونے لگی۔ اس کے علاوہ شام کو مسجد میں درس دیا جاتا تھا یہ سارا سلسلہ ایک تنظیم کی شکل اختیار کر گیا۔

آپ تحریک پاکستان کے بھی بڑے حامی تھے۔ آپ نے چھاؤنی میں مسلمان فوجیوں کو پاکستان کی اہمیت کا احساس دلایا اس چھاؤنی کا کمانڈر ایک سکھ میجر ہر دیال سنگھ تھا یہ مسلمانوں کو بڑی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ بابو معراج الدین اور ان کے ساتھیوں نے عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ لوگ جب قربانی میں مصروف تھے تو وہاں پر میجر ہر دیال سنگھ آ گیا، اس نے مسلمانوں کے اس مقدس تہوار کا مذاق اڑایا اور قربانی کے گوشت کی بے حرمتی کی۔ بابو معراج الدین کو اس کی یہ بدتمیزی برداشت نہ ہوئی آپ نے اسی چھری کے ساتھ اس گستاخ سکھ کو اس کے کیفر کردار تک پہنچا دیا۔

حکومت برطانیہ نے آپ کے خلاف کورٹ مارشل کیا اور آپ کو موت کی سزا سنائی۔ یہ ۱۹۲۲ء لکھنؤ چھاؤنی کا ایک مشہور واقعہ تھا۔ یہ خبر پورے شہر لکھنؤ اور چھاؤنی میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ چونکہ اس واقعے سے لکھنؤ شہر اور چھاؤنی میں فرقہ وارانہ فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا چنانچہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے انگریز فوجی حکومت نے آپ کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ چونکہ اس وقعہ سے لکھنؤ میں حالات ٹھیک نہیں تھے اس لئے معراج الدین کو منٹگمری (ساہیوال) جیل میں بھیج دیا گیا۔

یہاں پر بھی آپ کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ ۱۹۲۴ء میں آپ کو لاہور سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا آپ صوم وصلوٰۃ کے بڑے پابند تھے اور دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ نے جیل ہی میں قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی اور زیادہ تر مذہبی رہنماؤں کا

صفحہ 89

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام لٹریچر پڑھا کرتے تھے۔

پاکستان کی آزادی کے فوراً بعد آپ کو رہا کر دیا گیا کیونکہ آپ کو جس جرم کی سزا ملی تھی وہ جرم نہیں تھا بلکہ عبادت تھی۔ یہ ان کا مذہبی لگاؤ تھا اس وقت آپ کا خاندان پیر غازی روڈ اچھرہ منتقل ہو چکا تھا۔ آپ رہائی پانے کے بعد ایک مکمل اور صالح مسلمان بن چکے تھے۔ ۱۹۴۹ء میں آپ کی شادی ہو گئی۔ خدا نے آپ کو دو بیٹیوں سے نوازا۔

۵۲۔۱۹۵۱ء میں ختم نبوت کی تحریک زوروں پر تھی آپ ایک سچے عاشق رسول تھے آپ نے اس تحریک میں بھر پور طریقے سے حصہ لینا شروع کر دیا۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا شمار اس تحریک کے بانیوں میں سے ہوتا تھا آپ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ بابو معراج الدین کو شروع ہی سے شاہ جی سے بڑی عقیدت تھی اور آپ جیل میں بھی ان کا لٹریچر پڑھا کرتے تھے آپ ان کے جلسے اور جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب بابو معراج الدین سے دلی محبت کرتے تھے۔

پہلے سے وابستہ محافظ ختم نبوت بابو معراج دین کو شہادت کا پروانہ

۶ مارچ ۱۹۵۲ء بروز جمعۃ المبارک کو معراج الدین نے جمعہ کی نماز کے بعد مسجد تکیہ لہری شاہ کے باہر لوگوں کو اکٹھا کیا۔ بابا فتح محمد نے اس اجتماع سے ایک ولولہ انگیز تقریر کی۔ بابا جی کی قیادت میں یہ اجتماع جلوس کی شکل اختیار کرتے ہوئے مسجد وزیر خان کی طرف روانہ ہوا۔ بابا جی نے چند قدم اس جلوس کی قیادت کی چونکہ آپ بہت کمزور تھے آپ نے جلوس کی قیادت معراج الدین کے سپرد کر دی۔ آپ برگزیدہ ہستی تھے اور آپ جان چکے تھے کہ معراج الدین کو بلند رتبہ ملنے والا ہے آپ نے معراج الدین کو دعا دیتے ہوئے الوداع کیا۔

بابا جی مسجد تکیہ لہری شاہ کے کونے میں آرام فرما رہے ہیں۔ چونکہ موجودہ حکومت اس تحریک ختم نبوت کو سختی سے کچل دینا چاہتی تھی چنانچہ مال روڈ پر جہاں آج اسٹیٹ بینک کی نئی عمارت قائم ہے فوج نے اس جلوس کا راستہ روک لیا ان کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس استعمال کی گئی اسی دوران فوج نے گولی چلا دی بابو معراج الدین کو دائیں بازو پر پہلی گولی لگی۔ آپ نے اپنے ساتھیوں کو لیٹ جانے کا حکم دیا اسی دوران دوسری گولی آپ کی چھاتی

صفحہ 90

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں لگی۔ اس وقت آپ کے چھوٹے بھائی چوہدری محمد زکریا بھی آپ کے ساتھ ہی تھے آپ نے چھوٹے بھائی کی گود میں اپنا سر رکھ کر جام شہادت نوش فرمایا۔ شہادت کے وقت آپ کی زبان پر کلمہ طیبہ کا ورد تھا۔ آپ کے جنازے میں لوگوں نے جوق در جوق شرکت کی۔ اچھرہ کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا جنازہ تھا آپ کو فیروز پور روڈ اچھرہ اڈا کے قبرستان میں پٹرول پمپ کے عقب میں سپرد خاک کیا گیا۔

پاکپتن میں ظہور دجال بشکل مہدی

۱۹۷۲ء جون کی غالباً ۴ تاریخ تھی۔ لاہور سے روزنامہ امروز نکلا کرتا تھا اس میں خبر تھی کہ پاکپتن میں ایک صاحب نئے مہدی بنے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق موصوف اسکول میں ہیڈ ماسٹر ہیں اور انگریزی پڑھاتے ہیں۔ امام مہدی ہونے کا دعویٰ بقائمی ہوش و حواس کرتے ہیں اور انہیں اپنی دماغی صحت پر کوئی شبہ نہیں۔

آتش ان دنوں جوان تھا اس لئے فوراً جائے ظہور کی طرف عازم سفر ہوا۔ پاکپتن پہنچ کر مدعی مہدویت کا گھر ڈھونڈا ملاقات ہوئی۔ حال احوال معلوم کیا موصوف ۵۰ ۔ ۵۵ کے سن میں ہوں گے۔ کھچڑی داڑھی لیکن صورت سنجیدہ اور متین ۔ ذہانت یا چالاکی کے کوئی آثار چہرے پر نہیں تھے۔ گفتگو ہوئی تو پتہ چلا کہ مہدی کے پردے میں نبوت کے دعوے دار ہیں۔

مرزا نے جو درجات برسوں طے کئے تھے ماسٹر صاحب دنوں میں پھلانگ گئے۔ کہنے لگے وحی بھی آتی ہے۔

میں نے پوچھا کیسے آتی ہے؟ تو کہنے لگے کیا بتاؤں! تم کیا سمجھو گے؟ تم اس کیفیت کا ادراک ہی نہیں کر سکتے۔

میں نے پوچھا اب تک کیا کیا احکام نازل ہو چکے ہیں؟ فرمایا کلمہ اور نماز جدید نازل ہو چکی ہے۔

میں نے عرض کیا ! کچھ نماز کی تفصیل ارشاد فرمائیں؟ کہنے لگے : ابھی بات بتانے کی نہیں چھپانے کی ہے الگ سے نماز پڑھتا ہوں کچھ ماننے والے ہو جائیں کچھ قوت ہو جائے پھر کھل کر پڑھیں گے۔ اتنے میں کچھ اور لوگ بھی خبر پڑھ کر

گستاخ رسول کا عبرتناک

آگئے اب سوالات چہار اطراف دعوے کر چکا ہے کوئی ایک تو جھوٹا کہنے لگے مرزا بھی سچا تھ ہندوستان کا نبی تھا اور میں سابقہ جس مہدی معہود اور مسیح موعود نے تھوڑی دیر کے بعد اسکول موصوف اپنی مالی حالت سدھار کا سبق پڑھاتے رہے طلبہ رخصت

امام

کسی نے پوچھا کہ مہدی مختل تو جواب میں آیت پڑھی ﴿ ہیں تو ان کے لئے کیا مشکل ہے کہ اپنی قدرت کا اظہار کر دیا ہے سوال کیا کہ احادیث میں تو ن آمنہ ہوگا؟ کہنے لگے ان ناموں سے کریں۔ میری بھی کریں گے عبدا آمنہ امانت دار عورت کو کہتے ہیں اور

میں نے پو

ہاں جو معجزہ عیسیٰ علیہ السلام کو بچا کے رکھا ہے؟ میں بھی بتا سکتا ہوں بدل دیا ہے سو آخری معجزے کو آزما

صفحہ 91

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

آگئے اب سوالات چہار اطراف سے ہونے لگے ایک بولا: آپ سے پہلے مرزا قادیانی بھی یہی دعوے کر چکا ہے کوئی ایک تو جھوٹا ہوگا؟

کہنے لگے مرزا بھی سچا تھا اور میں بھی سچا ہوں ..... فرق صرف اتنا ہے کہ مرزا صرف ہندوستان کا نبی تھا اور میں ساری دنیا کے لیے آیا ہوں اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

جس مہدی معہود اور مسیح موعود نے آنا تھا وہ میں ہی ہوں لیکن اب مجھ پر یہ سلسلہ ختم ہے۔

تھوڑی دیر کے بعد اسکول کے کچھ لڑکے ٹیوشن پڑھنے آگئے۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں موصوف اپنی مالی حالت سدھارنے کو ٹیوشن کا سلسلہ رکھے ہوئے تھے۔ کوئی گھنٹہ بھر انگریزی کا سبق پڑھاتے رہے طلبہ رخصت ہوئے تو محفل پھر جم گئی۔ ٹوٹا ہوا سلسلہ سوالات پھر جڑ گیا۔

امام مہدی کی جائے وقوع

کسی نے پوچھا کہ مہدی منتظر کا اعلان تو مکہ مکرمہ میں ہوگا اور آپ پاکپتن میں ہیں؟ تو جواب میں آیت پڑھی ﴿ان الله علی کل شیء قدیر﴾ جب اللہ ہر چیز پر قادر ہیں تو ان کے لئے کیا مشکل ہے کہ بجائے مکہ کے مہدی کا ظہور پاکپتن میں کر دیں تو اب قادر نے اپنی قدرت کا اظہار کر دیا ہے

سوال کیا کہ احادیث میں تو نبی آخر الزماں کا نام تو محمد آتا ہے باپ کا نام عبداللہ اور ماں کا نام آمنہ ہوگا؟

کہنے لگے ان ناموں سے مفہوم مراد ہے الفاظ نہیں۔ محمد جس کی لوگ خوب تعریف کریں۔ میری بھی کریں گے عبداللہ سے مراد اللہ کا بندہ ہے اور میرا باپ بھی اللہ ہی کا بندہ تھا آمنہ امانت دار عورت کو کہتے ہیں اور میری ماں بھی بہت امانت دار تھی۔

میں نے پوچھا کہ کوئی معجزہ بھی عطا ہوا؟

ہاں جو معجزہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیا تھا کہ وہ بتا دیتے تھے کہ گھر سے کیا کھا کے آئے ہو اور کیا بچا کے رکھا ہے؟ میں بھی بتا سکتا ہوں علاوہ ازیں میرے جسم میں ناپاک خون کو اللہ نے دودھ سے بدل دیا ہے سو آخری معجزے کو آزمانے کا فیصلہ کر کے آفس واپس لوٹ آیا۔

صفحہ 92

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

نوجوان کے ہاتھوں مہدی کا دعویٰ کرنے والے کا عبرتناک انجام

دیا جائے...... نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ امت مسلمہ نئے فتنے سے محفوظ ہو جائے گی۔

احباب میں سے ایک دو نے یہ رائے بھی دی کہ مسکین غریب آدمی ہے شہرت کا بھوکا ہے دو چار روز میں لوگ بھول بھال جائیں گے۔

مگر رپورٹ لانے والے نے لوگوں کی آمد و رفت کا ذکر کیا اور بتایا کہ مرزا بھی تو مخبوط الحواس آدمی تھا مگر کتنا بڑا فتنہ بنا۔ اس لئے نمٹانے میں دیر نہ کی جائے۔

قرعہ فال تین دیوانوں کے نام نکل پڑا کسی سیانے نے مشورہ دیا کہ ایسے ہتھیار لے جاؤ جو غیر قانونی بھی نہ ہوں اور وار کاری پڑے چنانچہ چارہ کاٹنے والے ٹوکے خریدے گئے اور اگلے دن یہ تینوں جانباز پاکپتن جا پہنچے۔ بھری محفل میں جھوٹے مدعی کو کاٹ ڈالا۔ گرفتار ہوئے اقرار کیا اور سارا واقعہ سنا دیا۔

اگلے دن عدالت میں پیش ہوئے تو لوگوں نے پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا...... قتل کا کیس تھا ملزم اقراری تھے اس لئے تیسرے دن ساہیوال سینٹرل جیل جا پہنچے ملزموں کے پہنچنے سے پہلے ان کا کارنامہ جیل کے قیدیوں تک پہنچ چکا تھا۔ ہاتھوں ہاتھ لئے گئے۔ لوگ سنتے اور شاباش دیتے۔ ڈیڑھ برس مقدمہ چلا۔ سیشن جج مسلمان آدمی تھا عمر قید کی سزا سنائی...... مگر فیصلہ ایسا لکھا کہ قانون کا دامن ہاتھ سے چھوڑا نہ ایمانی تقاضوں کو پس پشت ڈالا۔ سزا بھی سنائی اور رہائی کا راستہ بھی ہموار کر دیا اس فیصلے کا خلاصہ یہ ہے۔

مقتول مدعی نبوت تھا۔ اس لئے شریعت کی رو سے مرتد اور واجب القتل ٹھہرا۔ قاتل مذہبی جذبات رکھنے والے نوجوان ہیں ان کی مقتول سے کوئی ذاتی دشمنی نہ تھی مگر کسی بھی مجرم کو سزا دینے کا اختیار ریاست کو ہے افراد کو نہیں اس لئے میں قاتلوں کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر عمر قید کی سزا سناتا ہوں اور عدالت عالیہ سے سفارش کرتا ہوں کہ ملزمان سزا میں تخفیف کے مستحق ہیں۔

عدالت عالیہ نے اس نیک نفس جج کی سفارش کو سر آنکھوں پر رکھا اور تینوں ملزمان کو

صفحہ 93

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

باعزت بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے فیصلے میں لکھ دیا ایسا قتل جرم نہیں۔ ہائی کورٹ میں ملزموں کی مفت وکالت کرنے والا وکیل عدالت عالیہ کا جج بن گیا۔ وکیل کے بقول اس جج نے قبل اس کے کبھی قتل کے ملزم کو بری نہیں کیا تھا۔

اس نام نہاد مہدی اور مدعی نبوت کے قاتل تین سال جیل میں رہے دوران قید قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی۔ قومی اسمبلی میں معاملہ پیش ہوا قادیانی قانونی طور پر کافر ٹھہرے۔ سیشن جج کا لکھا ہوا فیصلہ پاکستانی آئین کا حصہ بن گیا تحریکوں کے پس منظر میں کتنے گمنام لوگ ہوا کرتے ہیں؟ سبحان اللہ

شاتم رسول ویر بھان کے پراسرار قتل کا واقعہ

کر دیا گیا:

۲۸ اپریل ۱۹۳۵ء کے اخبار میں ایک اور خبر نمایاں تھی کہ ملتان شہر میں ۱۴ اپریل کو شام سات بجے مسمی ”ویر بھان“ آریہ سماج نے آپ خاتم النبین آقائے دو جہاں (ﷺ) کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے۔ آج بعد دوپہر آریہ سماجی مذکور کو ساڑھے تین بجے گلی گردھاری لال اندرون پاک دروازہ میں کسی نامعلوم شخص نے پیٹ میں چھرا اتار کر ہلاک کر دیا۔ شبہ قتل میں محمد بخش چوب تراش، حاجی فیض بخش، حاجی عبداللہ اور الٰہی بخش کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں بعد عدم ثبوت کی بناء پر عدالت سے رہا ہوئے۔

محافظ ختم نبوت کے ہاتھوں لیکھرام کا عبرتناک انجام

دلچسپ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اس ملعون کی ہلاکت کی پیشین گوئی بعض مصلحتوں کے پیش نظر داغی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی تفتیش میں مرزا قادیانی پر تحریک قتل اور اعانت قتل کا شبہ ہوا اور اس کی خانہ تلاشی بھی لی گئی۔ مگر کوئی ثبوت بہم نہ پہنچ سکا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ اس مردود کا قاتل بھی کوئی مسلمان ہی ہو سکتا ہے۔ مرزائیوں کا تحفظ ناموس رسالت سے کیا واسطہ؟ وہ تو خود

صفحہ 94

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تحریک شاتم رسول کی ایک کڑی ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کی پیشین گوئی اس سوچ کا تجرباتی مظہر نظر آتی ہے کہ غیرت مند مسلمان اس ناپاک وجود کو برداشت نہیں کر سکیں گے لہٰذا کیوں نہ الہامی دعوے آزما لیں۔

غازی حنیف کا قرآن کی توہین کی مجرم خاتون کو قتل کرنے کا واقعہ

بھوپال میں رقم کیا۔ کہا جاتا ہے وسط ہند کے اس تہذیبی شہر میں ایک گرلز ہائی اسکول کی انگریز ہیڈ مسٹریس نے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت مدرسہ کی صفائی کے بہانے قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق ایک خاکروب کے ہاتھوں کوڑے دان میں ڈلوائے اور جب اس پر احتجاج کیا گیا تو اس بدزبان و بد نصیب عورت نے قرآن پاک، دین متین اور پیغمبر اسلام (ﷺ) کے بارے میں نازیبا اور اشتعال انگیز الفاظ کہے۔

بھوپال کے ایک غیرت مند نوجوان محمد حنیف نے جو پیشے کے اعتبار سے قصاب تھے انگریز عورت کو راستے میں روک لیا اور اس سے کہا کہ وہ اپنی اس ناپاک جسارت اور شیطانی حرکت پر شہر کے مسلمانوں سے معافی مانگے اور توبہ کا اعلان کرے۔ حکومت کے نشہ میں چور اس بنت ابلیس نے یہ مطالبہ ٹھکرا دیا اور مجاہد ملت کے ہاتھوں انجام کو پہنچی غازی محمد حنیف اس غلط کار عورت کو کیفر کردار تک پہنچا کر تھانے میں حاضر ہو گئے۔ اقبال جرم کیا اور تمام عدالتوں میں اعتراف حقیقت بیان فرمائی۔ کچھ عرصہ جیل میں گزارا۔ مقدمہ کی سماعت ہوئی اور محمد حنیف غازی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی۔

غازی محمد منیر شہید کا شاتم رسول کو قتل کر کے شہادت کا رتبہ پانا

ہسپتال میں بلحاظ پیشہ چپڑاسی تھے۔ جذبہ عشق رسول سے سرشار ایک موقع پر تحفظ ناموس نبی (ﷺ) کے لیے آگے بڑھے اور جان پر کھیل گئے شاتم رسول کو واصل فی النار کرنے کے بعد عدالتی فیصلے کی رو سے انہیں سزائے موت کا مستحق گردانا گیا وہ جام شہادت کے متمنی تھے اور تختہ

صفحہ 95

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

دار پر لٹک کر لافانی نسخہ حیات بتلا گئے۔

دنیائے صحافت میں شہید موصوف کا تعارف غالباً کیپٹن ممتاز ملک صاحب کے ایک مضمون بعنوان ”نوجوانان اسلام کی حرمت و شان“ سے ہوا۔ انہوں نے جنوری 1983ء کو نوائے وقت کے پرچوں سے شہیدان رسالت کا مختصر تذکرہ قلمبند کیا تھا۔ تاہم ان کے نقش قدم کا کھوج مجھے غازی میاں محمد شہید کے برادر حقیقی ملک نور محمد صاحب کی کمال مہربانی سے ملا۔

غازی غلام محمد شہید کے ہاتھوں ایک سکھ کی عبرتناک موت

کی سرگزشت بھی قابل ذکر ہے۔ ان کے مقدر جاگنے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ شہنشاہ دو عالم (ﷺ) کی ولادت با سعادت کا مبارک دن تھا۔ ہر طرف خوشیوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ کائنات کی نعمت کبریٰ پر کون شکر ادا نہ کرتا اس روز بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس احسان عظیم پر پوری ملت اسلامیہ سر بسجود تھی اظہار مسرت کے طور پر عید میلاد کا ایک جلوس تشکیل دیا گیا فرزندان توحید کا یہ قافلہ مذکورہ بالا شہر کے کسی چوراہے سے گزر رہا تھا قریب ہی سکھوں کی آبادی تھی سکھ مت کا ایک آوارہ پیروکار آوازے کسنے لگا یہ مجاہد اس کے نزدیک کھڑا نہ صرف تمام اوچھی حرکات دیکھ رہا تھا بلکہ زہر میں بجھے ہوئے اس کے بے باکانہ جملے بھی سنائی دے رہے تھے۔

اسی اثناء میں جلوس کے پیچھے گدھے پر سوار کوئی لڑکا دکھائی دیا۔ اب وہ سکھ گستاخ انتہائی گمراہ کن اور لرزہ خیز الفاظ بک رہا تھا۔ اس نے زور سے چلا کر کہا وہ دیکھو مسلمانوں کا نبی براق پر چڑھ کر آ گیا ہے یہ جملہ سن کر ان سے رہا نہ گیا بعجلت اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور کہا کہ بے غیرت کتے اپنی زبان کو قابو میں رکھ ورنہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دوں گا مگر وہ اپنی ذلیل حرکتوں سے باز نہیں آیا۔ غازی غلام محمد نے غصہ کی حالت میں اپنا چاقو اس کے سینے میں جھونک دیا اور پے در پے وار کیے۔ بجرم قتل آپ کی گرفتاری عمل میں آئی عدالت میں مقدمہ چلا اور سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا گیا آپ جنازہ گاہ جہلم کے قریب مشہور قبرستان میں مدفون ہیں۔

صفحہ 96

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

بھری محفل میں مسلم نوجوان کے ہاتھوں سکھ کا بے دردی سے قتل

ہندو جن سنگھیوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا تھا۔ اس میں آٹھ دس ہزار ہندو شریک تھے مذکورہ جلسے میں ملت اسلامیہ کو نہ صرف غلیظ گالیاں دی گئیں بلکہ ان کے ایک گرو نیوں مہاراج نے نبی اکرم ﷺ کی شان مبارک میں بھی گستاخانہ باتیں کیں۔

اس بات نے تین نمبر تالاب کے مسلمان نوجوانوں کو بے تاب کر دیا جب یہ پچیس نوجوان حرمت نبی ﷺ پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کا جذبہ لیے قلعہ پر حملہ آور ہوئے اور نعرہ تکبیر بلند کیا تو جلسے میں بھگدڑ مچ گئی۔ عاشقان مصطفےٰ ﷺ نے ہندو لوگوں پر بے تحاشہ ڈنڈے اور لاٹھیاں برسانا شروع کر دیں۔ اسی اثناء میں نیوں مہاراج ایک جوشیلے نوجوان عبدالخالق قریشی ولد محمد ابراہیم قریشی کے سامنے آ گیا۔ نوجوان نے اس بے غیرت ملیچھ کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا۔ وار کاری ثابت ہوا اور شاتم رسول اپنے ہی پیروکاروں کے درمیان تڑپ تڑپ کر جہنم رسید ہو گیا۔ جن سنگھی بدحواس ہو کر اپنی لاٹھیاں ، جوتیاں ، تلواریں اور دوسرے ہتھیار چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس واقعے میں حصہ لینے والے چند معلوم خوش قسمت اشخاص مندرجہ ذیل ہیں : حاجی محمد بخش عرف ممو شیدی، اللہ ورایو شیدی، محمد علی شیدی، علی مراد شیدی، لکھا نوالو ، صدیق گوڈر ، نبی بخش عرف نبو ، مہر محمد عرف مہرل ، اللہ ڈنو شیدی، رحیم بخش ، ابراہیم بپام، عبد الخالق قریشی۔

مخالفین ختم نبوت کا دنیاوی عبرتناک انجام

میں تڑپ کر شہید ہونا، چھوٹے چھوٹے بچوں کا سینوں پر گولیاں کھانا اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کے ہاں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہی قدرت نے ان لوگوں کو معاف کیا جنہوں نے معصوم و مظلوم مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے تھے سردار عبدالرب نشتر مرحوم نے ایک تقریب میں آغا شورش کا شمیری مرحوم سے فرمایا۔ شورش جو لوگ خوش ہیں کہ تحریک ختم نبوت کچل دی گئی وہ احمق ہیں ہم میں

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سے جس شخص نے اس مقدس تحریک کی م دے دی ہے اور ابھی عاقبت باقی ہے تحر یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک ختم نبو اور بیگناہوں کا خون بہانے والوں کو قدر

تحریک ختم نبوت کا مخا

کے سرغنہ تھے جو تحریک کا دشمن اور مخالف منیر کو انکوائری کمیشن کا چیئرمین بنا کر وہا کو فالج ہوا۔ مفلوج حالت میں نہایت ہ ایک ذلیل جانور سے بھی بدتر ہوگئی مر دیا آج کوئی مسلمان اس کی قبر پر نہ سلام

دشمن رسول سک

سیکریٹری تھا۔ مرزائی سیکریٹریوں سے مل حکومت لوگوں کے احتجاج اور قربانیوں کہ لوگوں کو صبر وتحمل سے کام لینا چاہیے ج مطالبات منوانے کے لیے جارہے ہیں ۔ سکندر مرزا نے اس وقت کے گ اجازت لے کر لاہور کو فوج کے حوا کر دی اور اس سے بھی بڑھ کر میجر ضیا کو فوجی جیپوں میں سوار اور مسلح کر کے دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا اجتماع دیک

صفحہ 97

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سے جس شخص نے اس مقدس تحریک کی جتنی مخالفت کی تھی اتنی سزا اسے قدرت نے اس دنیا میں دے دی ہے اور ابھی عاقبت باقی ہے تحریک کے سب مخالفین روح کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تحریک ختم نبوت کی مخالفت کرنے والے، اس کو کچلنے والے، ظلم کرنے اور بیگناہوں کا خون بہانے والوں کو قدرت نے دنیا ہی میں اس کی عبرتناک سزا دی۔

تحریک ختم نبوت کا مخالف گورنر کی عبرتناک موت کا تحفہ

کے سرغنہ تھے جو تحریک کا دشمن اور مخالف تھا۔ پھر انہوں نے تحریک کے بعد اپنے رشتہ دار جسٹس منیر کو انکوائری کمیشن کا چیئرمین بنا کر وہاں علماء اور اہل حق کی تذلیل کا سامان کیا اس سرغنہ غلام محمد کو فالج ہوا۔ مفلوج حالت میں نہایت ذلت کی زندگی کا آخری حصہ گزارا۔ اس کی آخری زندگی ایک ذلیل جانور سے بھی بدتر ہوگئی مرنے کے بعد لوگوں نے اسے بھنگیوں کے قبرستان میں دفن کر دیا آج کوئی مسلمان اس کی قبر پر نہ سلام کہتا ہے اور نہ دعائے مغفرت۔

دشمن رسول سکندر مرزا کا عبرتناک انجام

سیکرٹری تھا۔ مرزائی سیکرٹریوں سے مل کر تحریک کو تباہ کرنے کے درپے ہوا حتیٰ کہ جب پنجاب حکومت لوگوں کے احتجاج اور قربانیوں سے زچ ہوگئی تو حکومت پنجاب نے ریڈیو پر اعلان کر دیا کہ لوگوں کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے حکومت پنجاب کے دو نمائندے مرکزی حکومت کے پاس مطالبات منوانے کے لیے جارہے ہیں۔

سکندر مرزا نے اس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو مجبور کر کے اور اونی پونی اجازت لے کر لاہور کو فوج کے حوالے کر دیا اور کرفیو لگوا دیا۔ جنرل اعظم نے ظلم کی انتہاء کر دی اور اس سے بھی بڑھ کر میجر ضیاء الدین قادیانی نے تو یہاں تک کیا کہ مرزائی نوجوانوں کو فوجی جیپوں میں سوار اور مسلح کر کے فوجی وردی کے ساتھ شہر میں گشت کے لیے بھیج دیا اور حکم دیا کہ جہاں کہیں مسلمانوں کا اجتماع دیکھیں اس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دیں۔

صفحہ 98

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

سکندر مرزا پر بھی اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کی گرفت آئی اس کا جوان بیٹا جو ایئر فورس کا آفیسر تھا جہاز تباہ ہونے سے جل کر بھسم ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد ایوب خان کمانڈر انچیف نے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا اور اسے مال بردار جہاز میں سوار کر کے انتہائی ذلت کے ساتھ کوئٹہ اور وہاں سے لندن بھیج کر جلا وطن کر دیا۔ سکندر مرزا گئے کہاں؟ یہ ٹھاٹ کہ ڈیفنس سیکرٹری کے بعد گورنر جنرل بنے یا پھر یہ ذلت و بے بسی کہ لندن میں ایک معمولی سے ہوٹل کے معمولی ملازم کے طور پر بقیہ زندگی برتن دھو کر گزار دی۔ اسی بے کسی میں لندن میں مر گیا۔

اس کی بیوی نے امانتاً لندن میں دفن کیا۔ پھر شہنشاہ ایران سے رابطہ کر کے اسے ایران لا کر دفن کیا۔ کیونکہ سکندر مرزا کی بیوی ناہید ایرانی تھی۔ اس لئے ایران میں دفن کی اجازت مل گئی۔ لیکن شہدائے ختم نبوت کے خون کا رنگ دیکھئے اور قدرت کا انتقام ملاحظہ کیجئے، تھوڑے دنوں بعد شہنشاہ ایران کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا وہاں پر خمینی کی حکومت آ گئی اس کے رضا کاروں نے سکندر مرزا کی قبر اکھاڑ کر میت کا تابوت باہر پھینک دیا ہڈیاں وغیرہ سمندر میں ڈال دی گئیں۔

﴿فَاعْتَبِرُوْا يَا اُولِي الْاَبْصَارِ﴾

تحریک ختم نبوت کے لئے بھٹو کا ایک ذلت انگیز جملہ

بدنام کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا قدرت کا انتقام دیکھئے۔ پہلے وزارت گئی پھر مسلم لیگ سے رکنیت چھن گئی۔ گوشہ گمنامی میں چلا گیا اس کی ذلت کی انتہا یہ ہے کہ وہ ایک دفعہ ٹرین سے کراچی جا رہا تھا اس ٹرین میں ذوالفقار علی بھٹو بھی سفر کر رہے تھے۔ جب بھٹو صاحب کو علم ہوا کہ اس ٹرین کے کسی ڈبے میں ممتاز محمد خان دولتانہ بھی سوار ہیں تو کسی اسٹیشن پر بھٹو صاحب نے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹرین کے کسی اگلے ڈبے میں ایک چوہا بھی سفر کر رہا ہے اور پھر اس سے بڑھ کر دولتانہ کی ذلت دیکھئے کہ دولتانہ نے اپنے اسی حریف ذوالفقار علی بھٹو کا ملازم بن کر انگلستان کی سفارت قبول کر لی اور بھٹو صاحب کا کورنش بجا لانے لگا پھر وزارت کی طرح سفارت بھی گئی۔

صفحہ 99

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

گستاخ رسول سلمان رشدی کی شیطانی خرافات کے غلیظ الفاظ

کتاب شیطانی آیات میں جو کچھ لکھا ہے وہ رکاکت و ابتذال کا بدترین نمونہ ہے۔ نقل کفر اگرچہ کفر نہیں ہے۔ لیکن اسے دہرانے کی ہمت بھی آسانی سے نہیں ہوتی ہے اس نے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کی شان میں بھی بے ادبی کی ہے۔

اس بدبخت نے ابوالانبیاء حضرت ابراہیم عَلَيْهِ السَّلَام کے خلاف بھی دریدہ دہنی اور گستاخی کی باتیں لکھی ہیں۔ پھر اس نے ذات رسالت مآب صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کو ’ماہونڈ‘ لکھا ہے جسے پہلے قدیم مستشرقین اسم گرامی محمد صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی جگہ پر لکھتے آئے تھے۔

اس شیطان صفت انسان نے امہات المؤمنین کو نعوذ باللہ قحبہ کا پیشہ کرنے والی عورتوں میں شامل کیا ہے حضرت سلمان فارسی، حضرت بلال اور حضرت خالد رضی اللہ عنہم کے خلاف صریح بدزبانی کی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب سلمان رشدی جیسے ملعون اور ملحد نے شیطانی آیات نامی کتاب لکھی اور اس کتاب میں ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اور باعث فخر کائنات، سرور کائنات صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی شان میں غلیظ الفاظ استعمال کئے تو اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہر مسلمان کی قوت برداشت جواب دے گئی اور مسلمانوں میں غم وغصہ کی جو کیفیت طاری ہوئی وہ ناقابل بیان ہے۔

یہ کتاب وائی کنگ پبلی کیشنز کے یہودی ادارے نے اکتوبر ۱۹۸۸ء میں شائع کی اس کتاب کے ۵۴۷ صفحات ایسی گندی گالیوں سے بھرے پڑے ہیں جو زبان وقلم پر نہیں لائے جاسکتے جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈوکیٹ لکھتے ہیں۔

کہ یوں تو اس شیطانی کتاب نے دنیا کے تمام مسلمانوں کے جذبات کو سخت مجروح کیا تھا لیکن ایران اور اسلامیان پاک و ہند نہایت ہی اذیت ناک کرب وابتلاء سے گزر رہے تھے پاکستان کے بزرگ سیاستدان نواب زادہ نصر اللہ (مرحوم) خبیث رشدی کی اس کمینہ حرکت پر تڑپ اٹھے ۷ فروری ۱۹۸۹ء کو ان کی تحریک استحقاق پر قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر شیطانی خرافات اور اس کے مصنف کے خلاف قرارداد مذمت منظور کی اور یہ تجویز پاس کی کہ پاکستانی

صفحہ 100

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حکومت برطانیہ اور امریکہ سے اس کتاب کی ضبطی اور اس کی اشاعت کو رکوانے کے لئے سفارتی سطح پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

بدترین توہین رسالت پر تحفظ ختم نبوت کا عظیم الشان جلوس

اس سلسلہ میں مجلس تحفظ ناموس رسالت نے پروگرام بنایا کہ اسلام آباد میں ایک پر امن جلوس امریکن سینٹر تک جائے گا جس کی وساطت سے حکومت امریکہ کو اسلامیان پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت سے پیدا ہونے والے اندوہ ناک اضطراب اور گہری تشویش سے آگاہ کیا جائے گا اور اس سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے گا کہ وہ اس فحش کتاب کی اشاعت اور فروخت پر پابندی عائد کرے جو ساری دنیا میں مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بنی ہے۔

شہدائے تحفظ ختم نبوت

چنانچہ پروگرام کے مطابق یہ جلوس حکومت پاکستان سے اجازت حاصل کرنے کے بعد ۱۲ فروری ۱۹۸۹ء کو لال مسجد آب پارہ سے نکل کر بلیو ایریا امریکن سنٹر کے قریب پہنچا تو وہاں پر متعین پولیس نے نہتے معصوم شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سمن زار مصطفی کے سات نونہال خون شہادت سے رنگین قبا ہوئے۔ جن کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں۔

کے علاوہ بے شمار جان نثاران مصطفی ﷺ اس فائرنگ سے زخمی ہوئے۔

صفحہ 101

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ملعون رشدی واجب القتل کیوں؟

ہم جب رشدی کو واجب القتل قرار دیتے ہیں تو یہ فتویٰ محض ایک فرد، ایک آدمی اور ایک انسان کے خلاف نہیں بلکہ ہر وہ سوچ واجب القتل ہے جو دلوں سے احترام رسول فنا کرتی ہے، وہ ذہنیت واجب القتل ہے جو گستاخی رسول کا سوچتی ہے، واجب القتل ہے ہر وہ شخص جو پیغمبر کے خلاف لکھتا ہے، ہر وہ زبان واجب القتل ہے جو نبی کے خلاف بکتی ہے۔ یورپ رشدی کے واجب القتل ہونے کے فتوے کو حقوق انسانی کے منافی قرار دیتا ہے اس سے بڑھ کر لطیفہ کیا ہوگا کہ کون سا انسان جو ان کے نزدیک بندر کی اولاد ہے اور کیسا حق جن کے ہاں کالا اور گورا دیکھ کر حقوق متعین ہوتے ہیں۔

توہین رسالت سے اہل یورپ کے اصل مقاصد کیا ہیں؟

کتاب کا لب لباب یہی ہے کہ مسلمانوں کے دل سے حب نبوی کی تپش چھین لی جائے تو مسلمان خود بخود راکھ کا ڈھیر بن جائیں گے اور پھر اس راکھ پر پانی کے چند چھینٹے چھڑک کر اسے زمین کے برابر کر دیا جائے لیکن یہاں یورپ کو پھر ٹھوکر لگی اس نے حکمرانوں کے آئینے میں عام مسلمان کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی اس نے سمجھا کہ ان میں زندگی کی رمق نہیں رہی۔ ان کے اعصاب شل ہو گئے ہیں، ان کے دل بجھ گئے ہیں، ان کے جذبات سو گئے ہیں۔ اب صور اسرافیل پر بھی بڑی مشکل سے اٹھیں گے لیکن اسے یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ لاریب مسلمان اپنی تہذیب سے نا آشنا ہو گئے ہیں، اپنا نظام حکومت بھول بیٹھے ہیں۔ یورپ نے اس شیطانی کتاب کے ذریعے چاہا ہے کہ مسلمانوں کی سیاست عدم استحکام کا شکار ہے۔ حکمران استعمار کے اہلکار ہیں، معیشت مفلوج ہے اور دفاع کمزور ہے۔ لے دے کے ایک حب نبی ﷺ کا جذبہ ہے اگر وہ بھی کسی طرح ان کے دلوں سے نکال دیا جائے تو مسلمان ہمیشہ کے لئے غلام بن جائیں گے۔

یورپ ہم سے ہماری کائنات چھین لینا چاہتا ہے اہل اسلام اپنے ہر معاملے میں غافل واقع ہوئے ہیں لیکن ناموس رسول ﷺ اور حب نبی ﷺ ان کو اپنے مال، اپنے وطن، اپنی اولاد

صفحہ 102

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

اور اپنی جان سے بھی عزیز رہی ہے اور متاع عزیز فراموش کرنے والی چیز نہیں ہوتی اور یہی وہ متاع عزیز ہے جس کے سہارے مسلمان زندہ ہیں ورنہ زندگی کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔

اک عشق مصطفیٰ ہے اگر ہو سکے نصیب
ورنہ دھرا ہی کیا ہے جہان خراب میں

مرزا غلام احمد قادیانی کے چوراسی جھوٹے دعوے

کا رہنے والا تھا 1839ء یا 1840ء میں پیدا ہوا۔

اس کتاب میں جس قدر خود ساختہ نبیوں کے حالات قلم بند ہوئے ہیں ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا دعویٰ بھی درج کر دیا گیا ہے۔ قارئین کرام کو ان کے حالات کا مطالعہ کرتے وقت معلوم ہوگا کہ یہ لوگ عموماً ایک ایک منصب کے دعوے دار رہے ہیں۔ اور بہت کم مدعی ایسے گزرے ہیں جن کے دعووں کی تعداد دو یا تین تک پہنچی ہو البتہ ایک مرزا غلام احمد اس عمومیت سے مستثنیٰ ہے۔ سطحی نظر سے مرزا قادیانی کے جو دعوے اس کی کتابوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی تعداد تقریباً چوراسی ہے آپ بھی ذرا ان مضحکہ خیز دعووں کو ملاحظہ فرمائیں۔

ارشاد ہوتا ہے میں محدث ہوں، امام الزمان ہوں، مجدد ہوں، مثل مسیح ہوں، مریم ہوں، مسیح موعود ہوں، ملہم ہوں، حامل وحی ہوں، مہدی ہوں، حارث موعود ہوں، رجل فارسی ہوں، سلمان ہوں، چینی الاصل موعود ہوں، خاتم الانبیاء ہوں، خاتم الاولیا ہوں، خاتم الخلفاء ہوں، حسین سے بہتر ہوں، حسنین سے افضل ہوں، مسیح ابن مریم سے بہتر ہوں، یسوع کا ایلچی ہوں، رسول ہوں، مظہر خدا ہوں، خدا ہوں، مانند خدا ہوں، خالق ہوں، نطفہ خدا ہوں، خدا کا بیٹا ہوں، خدا کا باپ ہوں، خدا مجھ سے ظاہر ہوا اور میں خدا سے ظاہر ہوا ہوں، تشریعی نبی ہوں، آدم ہوں، شیث ہوں، نوح ہوں، ابراہیم ہوں، اسحاق ہوں، اسمعیل ہوں، یعقوب ہوں، یوسف ہوں، موسیٰ ہوں، داؤد ہوں، عیسیٰ ہوں، آنحضرت ﷺ کا مظہر اتم ہوں، ذوالقرنین ہوں، احمد مختار ہوں، بشارت اِسْمُهُ اَحْمَدُ کا مصداق ہوں، میکائیل ہوں، بیت اللہ ہوں، رُدرگوپال یعنی آریوں کا بادشاہ ہوں، کلنکی اوتار ہوں، شیر ہوں، شمس وقمر ہوں، حی ہوں، ممیت ہوں، صاحب اختیارات

صفحہ 103

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کن فیکون ہوں، اشجع الناس ہوں، معجون مرکب ہوں، داعی الی اللہ ہوں، سراج منیر ہوں، متوکل ہوں، آسمان اور زمین میرے ساتھ ہیں۔ وجیہ حضرت باری ہوں، زائد المجد ہوں، محی الدین ہوں، مقیم الشریعہ ہوں، منصور ہوں، مراد اللہ ہوں، اللہ کا محمود ہوں یعنی اللہ میری تعریف کرتا ہے، نور اللہ ہوں، رحمۃ للعالمین ہوں، وہ ہوں جس سے خدا نے بیعت کی۔ غرض دنیا جہان میں جو کچھ تھا مرزا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ:

یوں تو مہدی بھی ہو عیسیٰ بھی ہو سلیمان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

جھوٹے نبی کا بچپن اور اس کی ادھوری تعلیم

مرزا غلام احمد قادیانی کے ایام طفولیت میں اس کے والد حکیم غلام مرتضیٰ صاحب قصبہ بٹالہ میں مطب کرتے تھے اور غلام احمد بھی باپ ہی کے پاس بٹالہ میں رہتا تھا۔ اس نے چھ سات سال کی عمر میں قرآن پڑھنا شروع کیا قرآن مجید ادھورا چھوڑنے کے بعد چند فارسی کی کتابیں پڑھنے کا بھی اتفاق ہوا ابھی تیرہ چودہ سال کی ہی عمر تھی کہ باپ نے شادی کے بندھنوں میں جکڑ دیا۔ یہ پہلی بیوی قادیانی کے حقیقی ماموں کی بیٹی تھی۔ یہ وہی حرمت بی بی خان بہادر مرزا سلطان احمد کی والدہ تھیں جنہیں قادیانی نے معلقہ کر رکھا تھا نہ کبھی نان نفقہ دیا اور نہ طلاق دے کر ہی بیچاری کی گلو خلاصی کی۔

ابھی سولہ سال ہی کی عمر تھی کہ غلام احمد کے گھر میں مرزا سلطان احمد متولد ہوئے۔ سترہ اٹھا رہ سال کی عمر میں والد نے غلام احمد کو گل علی شاہ بٹالوی نام کے ایک مدرس کے سپرد کر دیا۔ جو شیعی المذہب تھے ان کی شاگردی میں منطق اور فلسفہ کی چند کتابیں پڑھنے کا اتفاق ہوا بس یہی قادیانی کی ساری علمی بساط تھی۔ تفسیر، حدیث و فقہ اور دوسرے دینی علوم سے قطعاً محروم رہا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بے چارہ ”نیم ملا خطرہ ایمان“ کے درجہ سے ترقی نہ کر سکا ورنہ اگر صحاح ستہ نہیں تو کم از کم مشکوٰۃ ہی باقاعدہ کسی استاد سے پڑھ لی ہوتی تو اس کے دین میں شاید اتنا فتور نہ پیدا ہو سکتا جس قدر کہ بعد میں مشاہدہ میں آیا۔

منطق و فلسفہ کی چند کتابوں کی تعلیم کے بعد والد نے طب کی چند کتابیں پڑھائیں مگر چوں

صفحہ 104

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کہ علم طب کی بھی تکمیل نہ کی ۔ اس فن میں بھی بمشکل نیم حکیم خطرہ جان ہی کی حیثیت اختیار کر سکا ورنہ اگر اسی فن میں اچھی دست گاہ حاصل کر لی ہوتی تو ایک معقول ذریعہ معاش ہاتھ آجاتا اور آئندہ تقدس کی دکان کھول کر خلق خدا کو گمراہ کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔

ان ایام میں قادیان کے مغل خاندان کو حکومت کی طرف سے سات سو روپیہ سالانہ وظیفہ ملتا تھا ایک مرتبہ مرزا غلام احمد اپنے عم زاد بھائی مرزا امام الدین کے ساتھ پنشن لینے کے لئے گورداسپور گیا سات سو روپیہ وصول کرنے کے بعد یہ صلاح ٹھہری کہ ذرا لاہور اور امرتسر کی سیر کر آئیں ۔ دونوں بھائی امرتسر اور لاہور آ کر سیر وتفریح میں مصروف رہے باوجود یہ کہ بڑا ارزانی کا زمانہ تھا سات سو روپیہ کی خطیر رقم چند روز میں اڑا دی حالانکہ متعدد گھرانوں کی معیشت کا مدار اسی پنشن پر تھا رقم تلف کرنے کے بعد غلام احمد نے سوچا کہ قادیان جا کر والدین کو کیا منہ دکھاؤں گا یہاں سے بھاگ کر سیالکوٹ کا رخ کیا ۔ یہ جھوٹے نبی کے بچپن کا حال تھا

مرزا قادیانی کی مذہب سے چھیڑ چھاڑ کی اصل وجہ؟

سیالکوٹ میں اس کا ایک ہندو دوست لالہ بھیم سین جو بٹالہ میں ہم سبق رہ چکا تھا موجود تھا ۔ مرزا لالہ بھیم سین کی سعی وسفارش سے سیالکوٹ کی ضلعی کچہری میں دس پندرہ روپیہ ماہانہ کی نوکری مل گئی ۔ چند سال منشی گری اور ملازمت میں بسر کیے آخر ایک دفعہ معلوم ہوا کہ اس کا دوست لالہ بھیم سین مختاری کے امتحان کی تیاری کر رہا ہے اس نے بھی مختاری کا امتحان دینے کا قصد کیا ۔ چنانچہ اسی دن سے تیاری شروع کر دی لیکن جب امتحان ہوا تو لالہ بھیم سین کامیاب اور مرزا غلام احمد نا کام رہا ۔

اس ناکامی کے بعد شاید خود بخود منشی گری کی نوکری چھوڑ کر قادیان کو مراجعت کی ۔ چوں کہ قانون کا مطالعہ کیا تھا باپ نے اہل پا کر اسے مقدمہ بازی میں لگا دیا ۔ آٹھ سال تک مقدموں کی پیروی میں کچہریوں کی خاک چھانتا پھرا ۔ بزرگوں کے دیہات خاندان کے قبضہ سے نکل چکے تھے ۔ اور مقدمہ بازی کے باوجود واپس نہ ملے تھے اس لئے حزن وملال ، رنج واضطراب ہر وقت مرزا غلام احمد کے رفیق زندگی بنے ہوئے تھے ۔ ان حالات کے پیش نظر مرزا غلام احمد رات دن اسی خیال میں غلطاں و پیچاں رہتا تھا کہ خاندانی زوال کا مداوا کیسے ہو سکتا ہے اور ترقی و عروج کی

صفحہ 105

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

راہیں کیونکر کھل سکتی ہیں۔ ملازمت سے وہ سیر ہو چکا تھا مختاری کے ایوان میں کامیابی نہ ہو سکی تھی فوج یا پولیس کی نوکری سے بھی بوجہ قلت مشاہرہ کوئی دلچسپی نہ تھی تجارتی کاروبار سے بھی قاصر تھا کیونکہ اس کوچہ سے نابلد ہونے کے علاوہ سرمایہ بھی موجود نہ تھا۔

اب لے دے کے تقدس کی دکان آرائی ہی ایک ایسا کاروبار رہ گیا تھا جسے غلام احمد زرطلبی کا وسیلہ بنا سکتا تھا اور یہی ایک ایسا مشغلہ تھا جس کی زر پاشیاں حصول عز وجاہ کی کفیل ہو سکتی تھیں۔ اس میں چند بزرگ ہستیوں کی طرف بڑا رجوع خلائق تھا۔ مثلاً قصبہ بٹالہ میں سلسلہ عالیہ قادریہ کے مشائخ پیر سید ظہور الحسن اور پیر سید ظہور الحسین صاحبان افادہ خلق میں مصروف تھے۔ موضع رتڑ چھتر میں پیر سید امام علی شاہ صاحب نقشبندی مسند آراء تھے۔ اسی طرح موضع مسائیاں میں بھی ایک بڑی گدی تھی ان حضرت کو مراجع انام دیکھ کر مرزا غلام احمد کے منہ سے بھی رال ٹپک رہی تھی کہ جس طرح بن پڑے مشیخیت اور پیری مریدی کا کاروبار جاری کرنا چاہئے۔

غلام احمد ابھی اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اتنے میں خبر آئی کہ اس کے بچپن کے رفیق و ہم مکتب مولوی محمد حسین ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی جو دہلی میں مولانا نذیر حسین صاحب (معروف بہ میاں صاحب) سے حدیث پڑھ کر چند روز پیشتر لاہور اقامت گزین ہوئے تھے بٹالہ آئے ہیں غلام احمد نے بٹالہ آکر ان سے ملاقات کی اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ قادیان چھوڑ کر کسی اور شہر میں قسمت آزمائی کروں۔

مولوی صاحب نے کہا کہ اگر لاہور کا قیام پسند ہو تو وہاں میں ہر طرح سے تمہاری مدد کر سکتا ہوں قادیانی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ غیر اسلامی ادیان کے رد میں ایک کتاب لکھوں۔ مولوی محمد حسین نے کہا ہاں یہ مبارک خیال ہے لیکن بڑی دقت یہ ہے کہ غیر معروف مصنف کی کتاب مشکل سے فروخت ہوتی ہے۔

مرزا نے کہا کہ حصول شہرت کونسا مشکل کام ہے؟ اصل مشکل کام یہ ہے کہ تالیف واشاعت کا کام سرمایہ کا محتاج ہے اور اپنے پاس روپیہ نہیں ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا کہ تم لاہور چل کر کام شروع کرو اور اس مقصد کو مشتہر کرو میں بھی کوشش کروں گا۔ اللہ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے لیکن یہ کام قادیان میں رہ کر نہیں ہو سکتا غرض لاہور آنے کا مصمم ارادہ ہو گیا۔ مرزا غلام احمد نے لاہور پہنچ کر مولوی محمد حسین کی صوابدید کے بموجب اپنے مستقبل کا جو لائحہ عمل تجویز کیا اس کی پہلی

صفحہ 106

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام کڑی غیر مسلموں سے الجھ کر شہرت و نمود کی دنیا میں قدم رکھنا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ پنڈت دیانند سرسوتی نے اپنی ہنگامہ خیزیوں سے ملک کی مذہبی فضاء میں سخت تموج و تکدر برپا کر رکھا تھا اور پادری لوگ بھی اسلام کے خلاف ملک کے طول و عرض میں بہت کچھ زہر اگل رہے تھے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اس وقت اہل حدیث کی مسجد چینیاں لاہور میں خطیب تھے۔ مرزا نے لاہور آ کر انہی کے پاس مسجد چینیاں میں قیام کیا۔ اور شب و روز تحفۃ الہند، تحفۃ الہنود، خلعت الہنود اور عیسائیوں اور مسلمانوں کے مناظروں کی کتابوں کے مطالعہ میں مصروف رہنے لگا جب ان کتابوں کے مضامین اچھی طرح ذہن نشین ہوگئے تو پہلے آریوں سے چھیڑ خانی شروع کی اور پھر عیسائیوں کے مقابلہ میں ہل من مبارز (کوئی مقابلہ کرے گا) کا نعرہ لگایا۔

ان ایام میں آریوں کا کوئی نہ کوئی پرچارک اور عیسائیوں کا ایک آدھ مشنری لاہوری دروازہ کے باہر باغ میں آ جاتا تھا اور آتے ہی قادیانی سے ان کی ٹکریں ہونے لگتی تھیں۔ غرض اسلام کا یہ نمائشی پہلوان ہر وقت کشتی کے لئے جوڑ کی تلاش میں رہتا تھا اور اسے مجمع کو اپنے گرد جمع کر کے پہلوانی کمال دکھانے کی دھن لگی رہتی تھی۔ قادیانی اپنے مجادلوں اور اشتہار بازیوں میں اپنے تئیں خادم دین اور نمائندہ اسلام ظاہر کرتا تھا اور نہ تو ابھی تک کوئی جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور نہ الحاد و زندقہ کے کوچہ میں قدم رکھا تھا اس لیے ہر خیال و عقیدہ کا مسلمان اس کا حامی و ناصر تھا۔ چند ماہ تک مجادلانہ ہنگامے برپا رکھنے کے بعد مرزا غلام احمد قادیان چلا گیا اور وہیں سے آریوں کے خلاف اشتہار بازی کا سلسلہ شروع کر کے مقابلے و مناظرے کے نمائشی چیلنج دینے شروع کیے۔ چونکہ بحث و مباحثہ مقصود نہیں تھا بلکہ حقیقی غرض نام و نمود اور شہرت طلبی تھی اس لئے آریہ لوگوں کی شرائط کے مقابلے میں بالکل چکنے گھڑے کا مصداق بنا ہوا تھا ان کی ہر شرط اور مطالبہ کو بلطائف الحیل ٹال جاتا تھا اور اپنی طرف سے ایسی ناقابل قبول شرطیں پیش کر دیتا تھا کہ مناظرے کی نوبت ہی نہ آتی تھی۔ یہ سب باتیں مرزا کے مجموعہ اشتہارات موسومہ بہ تبلیغ رسالت کی جلد اول کے ابتدائی ' اوراق میں موجود ہیں۔

الہامات کی آمد اور ابتدائے کذب

اب مرزا نے ان جھگڑوں قضیوں کو چھوڑ کر الہام بازی کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنے ملہم

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام مستجاب الدعوات ہونے کا پروپیگنڈ و رفت شروع ہو گئی مرزا جس بالا خا سوچنے کی جگہ ) سے موسوم کیا جاتا تھا اس لیے اپنے الہام ساتھ ہی ساتھ بڑے حجم کی کاپی بنالی اور ایک بارہ قادیانی اپنا الہام لکھوا کر اس پر شام ہونے کا گواہ رہے۔ یہ شام لال نہا ہندو لڑکے کا شاید اس لئے انتخاب دلائی جاسکے۔

ان دنوں لالہ شرپت رائے ا رات دن کے حاشیہ نشین تھے۔ اب میں ہاں ملانے والے بھی ہر طرف س سے کھا کر جائے اور شہرت و نمود کا با ع چونکہ مستجاب الدعوات ہونے اور اشتہار بازیوں نے پہلے سے بام شروع ہو گیا۔ رجوعات و فتوحات کا لوگوں نے بیعت کی درخواستیں کیں سے بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا۔ اس و

مرزا قادیانی کا مجو

مرزا کا سب سے بڑا علمی کارن یہ ۵۶۲ صفحات کی کتاب ہے جس کو میں اپنی کاوش طبع سے ایک حرف بھی سے اخذ کیا یا علمائے معاصرین کے

صفحہ 107

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

مستجاب الدعوات ہونے کا پروپیگنڈہ شروع کیا۔ شہرت تو پہلے ہی ہو چکی تھی اہل حاجات کی آمد ورفت شروع ہو گئی مرزا جس بالا خانہ میں بیٹھ کر یا لیٹ کر الہام سوچا کرتا تھا اس کو ( بیت الفکر سوچنے کی جگہ ) سے موسوم کیا جاتا تھا ان دنوں الہامات کی آمد بہت تھی اور ان کا یاد رکھنا دشوار تھا۔ اس لیے اپنے الہام ساتھ ہی ساتھ ایک پاکٹ بک میں نوٹ کر لیتا تھا کچھ دنوں کے بعد ایک بڑے حجم کی کاپی بنالی اور ایک بارہ سالہ ہندو لڑکے شام لال کو الہام نویسی کے لئے نوکر رکھ لیا۔ قادیانی اپنا الہام لکھوا کر اس پر شام لال کے دستخط کرالیتا تھا۔ تاکہ وہ بوقت ضرورت الہام نازل ہونے کا گواہ رہے۔ یہ شام لال نہایت سادہ لوح تھا۔ مسلمانوں کو چھوڑ کر ایک سادہ لوح نابالغ ہندو لڑکے کا شاید اس لئے انتخاب کیا کہ موم کی ناک بن کر رہے اور اس سے ہر قسم کی شہادت دلائی جاسکے۔

ان دنوں لالہ شرمپت رائے اور لالہ ملاوامل نام قادیان کے دو ہندو مرزا کے مشیر خاص اور رات دن کے حاشیہ نشین تھے۔ اب معتقدین کا بھی جمگھٹا ہونے لگا۔ خوشامدی مفت خورے ہاں میں ہاں ملانے والے بھی ہر طرف سے امنڈ آئے۔ لنگر جاری کر دیا گیا تاکہ ہر شخص الہامی کے مطبخ سے کھا کر جائے اور شہرت و نمود کا باعث ہو۔

چونکہ مستجاب الدعوات ہونے کے اشتہاروں نے اور اس سے پیشتر لاہور کے مناظروں اور اشتہار بازیوں نے پہلے سے بام شہرت پر پہنچا رکھا تھا۔ نذر و نیاز اور چڑھاوؤں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ رجوعات و فتوحات کا شجرہ بار آور ہوا اور تمناؤں کی کشت زار لہلاتی نظر آئی۔ اب لوگوں نے بیعت کی درخواستیں کیں۔ قادیان کا الہامی ہر ایک کو جواب دیتا تھا کہ ابھی ہم کو کسی سے بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا۔ اس وقت تک صبر کرو جب کہ اس بارے میں حکم خداوندی آپہنچے۔

مرزا قادیانی کا منحوس علمی کارنامہ اور جوئے کی ابتدا

مرزا کا سب سے بڑا علمی کارنامہ جس پر مرزائیوں کو بڑا ناز ہے کتاب براہین احمدیہ ہے۔ یہ ۵۶۲ صفحات کی کتاب ہے جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مرزا غلام احمد نے اس کتاب میں اپنی کاوش طبع سے ایک حرف بھی نہ لکھا بلکہ جو کچھ زیب رقم فرمایا وہ یا تو علمائے سلف کی کتابوں سے اخذ کیا یا علمائے معاصرین کے سامنے کاسہ گدائی پھرا کر ان کی علمی تحقیقات حاصل کر لیں اور

صفحہ 108

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

قادیان کے سلطان القلم نے انہی کو بحوالہ زینت قرطاس بنالیا۔ ابھی یہ کتاب زیر تالیف تھی کہ مرزا نے اس کی طباعت میں امداد دیئے جانے کے لئے بے پناہ پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ مرزا نے اپنے اشتہارات میں وعدہ کیا تھا کہ غیر مسلم اقوام میں سے جو کوئی اس کتاب کا جواب لکھے گا اس کو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا۔ اسلامی روایات میں جوئے کا یہ پہلا موقع تھا جو یورپ کی تقلید سے مذہب کے نام پر کھیلا گیا۔ البتہ اتنی ہوشیاری کی شرطی جوئے کو انعام کے نام سے موسوم کر کے بے خبروں کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ دس ہزار روپیہ انعام کا وعدہ پڑھ کر مسلمانوں نے یقین کیا کہ واقعی اسلام کی تائید میں یہ کوئی بہت بڑا توپ خانہ ہوگا جو اغیار کے مذہبی قلعوں کو پاش پاش کر دے گا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چاروں طرف سے روپیہ کی بارش شروع ہو گئی اور مرزا کا دل اپنی اسکیم کی کامیابی پر کنول کے پھول کی طرح کھل گیا۔

مرزا کا ہر پندرہ منٹ بعد رفع حاجت کے لئے جانا

یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ مرزا کو روزانہ سو مرتبہ پیشاب آتا تھا۔۔۔۔۔ یہ بات صرف ہم ہی نہیں جانتے تمام مرزائی بھی جانتے ہیں۔۔۔۔۔ اس لیے کہ یہ الفاظ خود مرزا کے ہیں۔۔۔۔۔ لہذا وہ یہ بات ماننے پر مجبور ہیں کہ مرزا قادیانی کو روزانہ سو مرتبہ پیشاب آتا تھا۔۔۔۔۔ اب کیوں نہ ہم ریاضی کے قاعدے سے اس بات کا جائزہ لیں۔۔۔۔۔ یعنی مرزائیوں کے جھوٹے نبی کا کتنا وقت صرف پیشاب کرنے میں گزرتا تھا۔

اگر ہم ایک محتاط اندازہ لگائیں تو ایک عام شخص ایک مرتبہ پیشاب کرنے میں کم از کم تین منٹ ضرور لگاتا ہے۔۔۔۔۔ لیکن پیشاب کا مریض اس سے زیادہ وقت لگاتا ہے۔۔۔۔۔ تاہم ہم اس کو پانچ منٹ مقرر کر لیتے ہیں۔۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ اسے ہر پندرہ منٹ بعد پیشاب آتا تھا۔

اس کا ایک مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ مرزا کے ایک دن میں پانچ سو منٹ تو صرف پیشاب کرنے میں گزر جاتے تھے۔ یعنی تقریباً آٹھ گھنٹے۔۔۔۔۔ جس شخص کے روزانہ آٹھ گھنٹے صرف پیشاب کرنے میں گزر جاتے تھے۔۔۔۔۔ وہ زندگی کے دوسرے کام کیسے بخیر و خوبی انجام دے پاتا ہوگا؟ ۔۔۔۔۔ اور پھر مرزا کو یہی ایک بیماری نہیں تھی ۔۔۔۔۔ اور بھی بے شمار بیماریوں نے مرزا کا گھیراؤ

صفحہ 109

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کیا ہوا تھا۔...... جن کا ذکر خود مرزا اپنی کتابوں میں جگہ جگہ کرتا ہے ....... ان سب بیماریوں کی موجود گی میں آٹھ گھنٹے پیشاب کرنے میں صرف کرنے کے بعد بھی مرزا یہ کہتا تھا کہ میں نبی ہوں اور حیرت اس پر کم اور اس کے ماننے والوں پر زیادہ ہے۔ جو ہر پندرہ منٹ بعد اسے پیشاب کرنے کے لیے جاتے ہوئے دیکھتے تھے ...... اور پھر اسے نبی مانتے تھے ...... جب کہ انبیاء کی شان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ نبی قطعاً بے عیب ہوتے ہیں ...... کردار کے لحاظ سے بھی شکل وصورت کے لحاظ سے بھی اور جسمانی صحت کے لحاظ سے بھی۔

اس وضاحت کے جواب میں اگر کوئی قادیانی یہ کہے کہ نہیں صاحب یہ غلط ہے ...... مرزا کو ہر پندرہ منٹ بعد پیشاب نہیں آتا تھا تو اسے یہ وضاحت کرنا پڑے گی کہ پھر دن میں سومرتبہ پیشاب مرزا کس طرح کرتا تھا۔ کتنے وقفے کے بعد کرتا تھا ...... اور اگر قادیانی یہ کہیں یہ غلط ہے ...... مرزا کو دن میں سو مرتبہ پیشاب نہیں آتا تھا تو پھر قادیانیوں نے خود مرزا کی کتابوں کو نہیں مانا ...... اس طرح ذریۃ البغایا ٹھہرتے ہیں ...... لہٰذا ہم یہ ان کی مرضی پر چھوڑتے ہیں کہ وہ کیا مانتے ہیں اور کیا نہیں مانتے ...... ہمیں کوئی اعتراض نہیں ...... وہ پوری طرح آزاد ہیں ...... ان باتوں میں سے کس بات کو درست مانتے ہیں اور کس کو غلط ۔

آپ نے دیکھا ...... مرزائی کس منجدھار میں پھنس گئے۔

مرزا قادیانی کی عبرت ناک زندگی کا عبرت ناک انجام

قانون قدرت ہے کہ جب کوئی شخص گناہ کے راستے پر چلتا ہے تو قدرت اس کے راستے میں ایک چھوٹی سی رکاوٹ رکھ دیتی ہے۔ اگر وہ اسے پھلانگ کر نکل جائے تو پھر اس سے بڑی رکاوٹ رکھ دی جاتی ہے۔ اگر وہ اسے بھی روندتا ہوا نکل جائے تو رکاوٹ اور بڑی کر دی جاتی ہے۔ اگر شاہراہ معصیت کا مسافر قدرت کی رکھی ہوئی چھوٹی بڑی رکاوٹوں کو توڑتا روندتا ہوا نکل جائے تو پھر اسے کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے مرزا قادیانی جب جھوٹی نبوت کے لئے دعوے بازی شروع کرتا ہے تو قدرت اس کے راستے میں سینکڑوں رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے لیکن وہ کلہ توڑ کر بھاگنے والی بھینس کی طرح شاہراہ کفر و ارتداد پر سرپٹ بھاگتا ہی گیا اور ان ساری رکاوٹوں کو توڑتا ہوا جہنم میں جا گرا۔

PDF 110

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

مرزا قادیانی کو انتہائی خوفناک ہیضہ ہوا منہ اور مقعد دونوں راستوں سے غلاظت بہنے لگی۔ اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین تک جاسکے۔ اس لیے چار پائی کے پاس ہی غلاظت کے ڈھیر لگ گئے۔ مسلسل پاخانوں اور الٹیوں نے اس قدر نچوڑ کر رکھ دیا کہ اپنی ہی غلاظت پر منہ کے بل گرا اور زندگی کی بازی ہار گیا۔

کائنات میں شاید ہی کسی کو ایسی ہولناک اور عبرت ناک موت آئی ہو۔ تدفین تک منہ سے غلاظت بہتی رہی جسے بڑی کوشش کے باوجود بند نہ کیا جاسکا۔ جس تابوت میں مرزا کا جنازہ لاہور سے قادیان گیا اس تابوت اور تابوت میں پڑے بھوسے (توڑی) کو حکومت نے آگ لگوا کر خا کستر کرا دیا تا کہ اس تابوت سے علاقہ میں کوئی بیماری نہ پھیل جائے۔

یوسف کذاب کا دعویٰ نبوت اور گھناؤنی غیر اخلاقی حرکات

یوسف ۱۹۷۰ء سے قبل آرمی میں تھا لیکن آرمی سے علیحدگی کے بعد وہ جدہ چلا گیا۔ تقریباً ۴ سال جدہ میں قیام کے بعد یوسف علی لاہور واپس آ گیا اس وقت یوسف علی لاہور کینٹ میں ڈیفنس پبلک اسکول کے قریب ۱۱۲/۸ سٹریٹ ۱۶ فیز ٹو میں رہائش پذیر ہے۔ یوسف علی اکثر ملتان روڈ پر واقع بیت الرضا مسجد میں اپنے مخصوص مریدوں سے خطاب کرتا ہے۔ اس نے کراچی سمیت پاکستان کے کئی مختلف شہروں میں کئی امیر گھرانوں کو گمراہ کر کے اپنا مرید بنا لیا ہے۔

محمد یوسف علی نے نبوت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد ﷺ کی پہلی شکل آدم اور موجودہ شکل میں ہوں ۲۸ فروری کو ملتان روڈ چوک یتیم خانہ کے قریب واقع بیت الرضا مسجد میں نبوت کے جھوٹے مدعی محمد یوسف علی کی صدارت میں ایک خفیہ اجلاس بنام ورلڈ اسمبلی منعقد ہوا۔ اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان بھر سے یوسف علی کے خاص معتقدین اور مقربین کو دعوت دی گئی جن میں کراچی میں واقع ڈیفنس اور گلشن اقبال کے بھی بعض لوگ شامل ہیں۔ سپاسنامہ پڑھتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ محمد یوسف علی ہی وہ ذات ہے جو اللہ اور محمد ﷺ ہے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یوسف علی نے حاضرین پر انکشاف کیا کہ اس محفل میں نعوذ باللہ سو سے زائد صحابہ کرام بیٹھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ یوسف علی نے ڈیفنس کراچی سے آئے

گستاخ رسول کا عبرتناک انجا

ہوئے ایک شخص کا دوران خطاب تعارف باوثوق ذرائع کے مطابق محمد یوس اللہ تبارک و تعالیٰ اور خاتم النبین حضر برسوں سے وہ اپنے خاص مقربین میں ہے کہ وہ اپنے حلقے میں شامل لوگوں کو محبوب سے ملنے کی ترغیبیں دیتا ہے۔ ہے جب اچھی طرح مطمئن ہو جاتا ہ ہے کہ ہم فلاں دن تمہیں ایک تحفہ دیں اس کے بعد مقررہ دن وہ اپن نبی اور رسول اللہ ہے۔ اس تحفے کو پو عمل کے بعد معتقد جوابی تحفہ دینے کا کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے۔

پچھلے چند برسوں میں وہ صرف سے کروڑوں روپے اینٹھ چکا ہے۔ ب مدعی یوسف علی نہایت گھناؤنی اخلاقی ترغیب دینے کے علاوہ مریدوں کی ب تعلقات رکھتا ہے۔ وہ ان نوجوان ل نہایت بھیانک اخلاقی حرکتوں پر ا اسی حوالے سے اس کے م ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق لڑکیوں چکے ہیں۔

ملعون کذاب کا اپنے م

کراچی میں ملعون یوسف

صفحہ 111

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہوئے ایک شخص کا دوران خطاب تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ صحابی ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق محمد یوسف نے ابتداء میں خود کو مرشد کامل، مرد کامل، امام وقت اور اللہ تبارک و تعالیٰ اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کا نائب و سفیر بنا کر پیش کیا لیکن پچھلے چند برسوں سے وہ اپنے خاص مقربین میں یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ خود ہی نبی ہے۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ اپنے حلقے میں شامل لوگوں کو عمومی طور پر مختلف تقریروں میں نبی ﷺ کے دیدار اور محبوب سے ملنے کی ترغیبیں دیتا ہے۔ اس دوران وہ ہر معتقد کی انفرادی طور پر چھان پھٹک کرتا ہے جب اچھی طرح مطمئن ہو جاتا ہے تو ایک روز انفرادی طور پر مخصوص افراد کو یہ خوشخبری دیتا ہے کہ ہم فلاں دن تمہیں ایک تحفہ دیں گے اور تم بھی ہمیں کوئی تحفہ دینا۔

اس کے بعد مقررہ دن وہ اپنے خاص معتقد کے سامنے یہ انکشاف کرتا ہے کہ دراصل وہی نبی اور رسول اللہ ہے۔ اس تحفے کو یوسف علی کے مقربین کے حلقے میں حقیقت پانا کہتے ہیں۔ اس عمل کے بعد معتقد جوابی تحفہ دینے کا پابند ہوتا ہے لیکن معتقد کی طرف سے یہ تحفہ صرف بھاری رقم کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے۔

پچھلے چند برسوں میں وہ صرف کراچی میں واقع ڈیفنس سوسائٹی کے بعض مخصوص مریدوں سے کروڑوں روپے اینٹھ چکا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ نبوت کا جھوٹا مدعی یوسف علی نہایت گھناؤنی اخلاقی حرکتوں میں ملوث ہے وہ خواتین کو آزاد جنسی تعلقات کی ترغیب دینے کے علاوہ مریدوں کی بہنوں، بیٹیوں سمیت کئی نوجوان لڑکیوں سے قابل اعتراض تعلقات رکھتا ہے۔ وہ ان نوجوان لڑکیوں کو مختلف عملیات کے ذریعے قابو میں رکھتا ہے اور انہیں نہایت بھیانک اخلاقی حرکتوں پر اکساتا ہے۔

اسی حوالے سے اس کے متاثرین میں ڈیفنس اور گلشن اقبال کراچی کی کئی خواتین شامل ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق لڑکیوں کے ساتھ اس جذباتی بلیک میلنگ سے اس وقت کئی گھر تباہ چکے ہیں۔

ملعون کذاب کا اپنے معتقدین کو اپنی بیویوں کو چھوڑنے کی ترغیب

کراچی میں ملعون یوسف علی اپنی معتقد خواتین کو مختلف طریقوں اور بار بار گفتگوؤں سے یہ

صفحہ 112

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

یقین دلا دیتا تھا کہ چونکہ ان کا درجہ بہت اونچا ہے اور نعوذ باللہ وہ نبی کی بیوی ہیں اس لئے ان کے شوہر حقیر اور بے مایہ ہیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے شوہروں سے قطع تعلق کر لیں۔ ایک مؤقر اخبار کے ایڈیٹر کے پاس دستاویزی ثبوت کے طور پر ملعون کے ہاتھ سے لکھے ہوئے ایسے خطوط موجود ہیں جن میں اس بدبخت نے بعض خواتین کو اس طرح کی ترغیب دی ہے اور ان کے شوہروں سے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا تو انہیں ایک مخصوص وقت پر نبی کا دیدار نصیب ہوگا۔ جو خواتین اس کے زیر اثر آجاتیں وہ اس سے ہر طرح کا تعلق رکھنا اپنے لئے اعزاز سمجھتیں ہیں اور اپنے شوہروں کو مجبور کرتیں کہ ان سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھیں کیونکہ وہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی بیوی ہیں۔

منحرفین کا کہنا ہے کہ جو شوہر اپنی بیوی کو چھوڑنے پر آمادہ ہو جاتے انہیں وہ اپنا دیدار کرا کے کہتا تھا کہ وہی نبی ہے چونکہ عقیدت مندوں کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوتا تھا کہ کوئی انسان گمراہی اور ضلالت کی اس انتہاء کو پہنچنے کی ہمت کر سکتا ہے کہ خود کو آنحضرت قرار دے اس لئے ان کے اعصاب شل ہو جاتے ہیں اور وہ گمراہی یا کفر کے خوف سے کچھ سوچے سمجھے بغیر اسے قبول کر لیتے ہیں۔ یوں ملعون یوسف پڑھے لکھے لوگوں کو اپنے علم سے متاثر کر کے ان کے گھروں کے اندر عورتوں تک رسائی حاصل کرتا ہے اور انہیں تیزی سے گمراہ کر کے اپنے مطلب پر لے آتا۔

اس دوران وہ طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ مثلاً ایک بار ایک معتقد لڑکی نے حج پر جاتے ہوئے ملعون یوسف علی سے دعا کی درخواست کی۔ تو اس نے کہا کہ آپ حج پر کیوں جا رہی ہیں کعبہ تو خود آپ کا طواف کر رہا ہے۔ جو یہاں موجود ہے آپ وہاں کیا کرنے جا رہی ہیں؟

ملعون یوسف کا اپنی پشت پر مہر نبوت کا دعویٰ

ملعون یوسف نے خواتین کو یہ بھی باور کرا رکھا تھا کہ اس کی پشت پر مہر نبوت ہے اس کے بقول جب یہ مہر اس کی بیوی نے دیکھی تو وہ بھی ایمان لے آئی۔ ایک معتقد خاتون نے ملعون کی بیوی سے اس کی تصدیق چاہی تو اس نے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ یوسف علی نے خود مجھے محمد کا نائب کہا ہوا ہے۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجا

ملعون یوسف اپنے دونوں ہا کو سیدھے ہاتھ کی درمیانی انگلی میں رسالت عطا ہونے پر مجھے ملی ہے جب دی؟ تو اس نے ہنستے ہوئے جواب د جائیں گی کیونکہ آپ خدا کی بہت محب

یوسف کذاب کا کار

نبوت کے جھوٹے مدعی یوسف لڑکیوں پر مختلف طریقوں سے ڈور خواتین کو کلفٹن کے ایک نجومی سرا بعض لڑکیوں سے متعلق ابتدائی معل شدہ لڑکیوں کو اس نجومی کے پاس لڑکیوں کو متاثر کر کے بعض پیشین گو کے بعد یوسف علی کے لئے ان لڑ اس طریقہ کار سے لڑکیاں بے حد م ہو جاتیں۔

اس معاملہ کا سب سے حیرا بعض ڈاکٹرز یا آغا خان میڈیک

ایک خاتون ڈاکٹر نے بتا حکم ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ خاتون ڈاکٹر کو جھوٹے ن گی۔ یوسف علی نے اس پور لڑکیوں کی اپنے مریدوں س حرکت لڑکی اور لڑکے کے والد

صفحہ 113

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ملعون یوسف اپنے دونوں ہاتھوں میں چار انگوٹھیاں پہنتا ہے۔ مخبرین کے مطابق خواتین کو سیدھے ہاتھ کی درمیانی انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی دکھاتے ہوئے ملعون کہتا ہے کہ یہ انگوٹھی رسالت عطا ہونے پر مجھے ملی ہے جب ایک خاتون معتقد نے اس سے سوال کیا کہ انگوٹھی کس نے دی؟ تو اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ آپ جیسے پیار کرنے والوں پر ساری باتیں رفتہ رفتہ کھل جائیں گی کیونکہ آپ خدا کی بہت محبوب بندی ہیں۔

یوسف کذاب کا کارنامہ بیک وقت ایک بیوی کا دو شوہر رکھنا

نبوت کے جھوٹے مدعی یوسف علی سے متاثرہ خواتین کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ وہ مختلف لڑکیوں پر مختلف طریقوں سے ڈورے ڈالتا رہتا ہے۔ ایک طریقہ یہ تھا کہ وہ کراچی کے بعض خواتین کو کلفٹن کے ایک نجومی سراج کے پاس لے جاتا تھا جو اس سے ملا ہوا تھا۔ وہ اس نجومی کو بعض لڑکیوں سے متعلق ابتدائی معلومات پہلے ہی فراہم کر دیتا پھر جب ملعون یوسف علی ان ہدف شدہ لڑکیوں کو اس نجومی کے پاس لے کر جاتا تو نجومی پہلے سے حاصل شدہ معلومات سے ان لڑکیوں کو متاثر کر کے بعض پیشین گوئیاں کرتا جو ایک بزرگ کی بشارت سے متعلق ہوتیں۔ ان کے بعد یوسف علی کے لئے ان لڑکیوں کو یہ باور کرانا نہایت آسان ہوتا کہ یہ بزرگ وہ خود ہے اس طریقہ کار سے لڑکیاں بے حد متاثر ہوتیں اور آنکھ بند کر کے اس کے احکامات ماننے پر آمادہ ہو جاتیں۔

اس معاملہ کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ تھا کہ یہ تمام لڑکیاں اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں۔ جن میں بعض ڈاکٹرز یا آغا خان میڈیکل کالج، ہوم اکنامکس کالج اور حب یونیورسٹی کی طالبات تھیں۔

ایک خاتون ڈاکٹر نے بتایا کہ ایک بار اس جھوٹے مرشد نے کہا کہ مجھے ننانوے شادیوں کا حکم ہے کیونکہ اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کے اسمائے حسنیٰ ننانوے ہیں۔

خاتون ڈاکٹر کو جھوٹے نبی نے یہ بھی کہا کہ اس کی یہ بیویاں ۱۶ سے ۲۵ سال کی عمر کی ہوں گی۔ یوسف علی نے اس پورے کاروبار کو نہایت مکاری سے چلایا۔ ضرورت پڑنے پر وہ بعض لڑکیوں کی اپنے مریدوں سے زبانی شادیاں بھی کرا دیتا جس کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔ یہ حرکت لڑکی اور لڑکے کے والدین کے علم میں لائے بغیر نہایت خاموشی سے کی جاتی تھی۔

صفحہ 114

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

طریقہ یہ ہوتا تھا کہ اپنے مرید لڑکے یا لڑکی کو بلا کر کہتا کہ آج کے بعد آپ دونوں میاں بیوی ہیں۔ چنانچہ وہ ساتھ رہنے لگتے۔ بس یہی اس کی طے کردہ شادی تھی ایسی ہی ایک شادی دو برس قبل کراچی میں ہوم اکنامکس کی ایک طالبہ کے ساتھ این ای ڈی یونیورسٹی کے ایک طالب علم کی کرائی گئی۔ میاں بیوی کا یہ رشتہ بغیر نکاح کے قائم ہوا اور تادیر چلتا رہا۔ ان شادیوں کی ایک شرط یہ بھی ہوتی تھی کہ مرید لڑکی جھوٹے نبی کے نکاح میں بھی رہے گی گویا ایک لڑکی کے دو شوہر ہوتے۔ مکار اور بدکار یوسف جب کسی ایسے مرید کے گھر قیام کرتا تو مذکورہ لڑکی کی حیثیت اس کی بیوی کی ہو جاتی۔ جس کی سب سے نمایاں مثال عبدالواحد کی بہو شبانہ تھی۔ عبدالواحد کے بیٹے شاہد کی بیوی اب بھی بیک وقت شاہد اور یوسف علی کی دلہن کہلاتی ہے۔

ملعون یوسف گانوں کے شوق کی انتہاء

ملعون یوسف علی بھارتی گانے شوق سے سنتا ہے ملعون نے اپنی ایک خاتون مرید سے ڈیک کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ جس پر خاتون نے ایک بیش قیمت ڈیک خرید کر اسے تحفتاً پیش کیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ملعون گانے سننے کے دوران جھوم جھوم جاتا ہے۔ بھارتی گانوں سے اس کے لگاؤ کا یہ عالم ہے کہ ملعون نے کراچی کے ایک خاندان (جو پوری طرح اس ملعون کا معتقد ہے) سے تعلق رکھنے والی ایک سنجیدہ خاتون کی کم گوئی سے چڑ کر اسے یہ ہدایت دی کہ وہ بھارتی گانے ضرور سنا کرے تا کہ وہ بھی زندگی سے لطف اندوز ہو سکے۔ وہ کراچی کی سڑکوں پر گھومتے ہوئے کار میں بھی یہی گانے سنتا رہتا۔

ملعون یوسف کذاب کی مذہب کے نام پر اخلاقی بے ہودگیاں

ملعون یوسف علی کی ہوسناک نگاہیں صرف خواتین معتقدین پر مرکوز رہتی ہیں۔ وہ اپنی کسی بھی محفل کے اختتام پر تمام عورتوں کو خلوت میں بلاتا اور انہیں زیورات، مال اور یہاں تک کہ ان کے شوہروں کو قربان کرنے کی ترغیبیں دیتا ہے۔ قبل ازیں وہ محفل میں کسی بھی مرید کو دوران تقریر کھڑا کر کے یہ سوال کر لیتا کہ کیا تم محمد سے محبت میں اپنی بیوی کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو؟ بے چارہ معتقد فوراً اپنی بیوی کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتا۔ ملعون کی مخلوط محفلوں میں

صفحہ 115

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

شوہروں کے یہ جوابات خود خواتین بھی سنتیں ہیں۔ ملعون اس صورت حال کا فائدہ خلوت میں خواتین سے اٹھاتا ہے۔ ابتداء میں ان سے زیورات اور مال بٹورتا ہے۔ ایک خاتون معتقد کو محمد سے ملوانے کے نام پر ہنڈا سوک کا تقاضا کیا۔ اسی طرح ایک دوسری خاتون سے اسی وعدے پر اس کے تمام زیورات ہتھیا لئے اور اسے کہا کہ وہ اب رابعہ بصری کے بلند مقام پر پہنچ چکی ہے۔ خاتون معتقد کے مطابق ملعون نے اس سے کہا کہ آپ ہمارے رب اور ہم آپ کے محمد ہیں۔ جس طرح عرشِ معلیٰ پر خلوتِ خاص میں محب اور محبوب یعنی اللہ اور محمد پیار کر رہے ہیں اسی طرح آپ کو بھی ہم سے پیار کرنا ہے۔ اس مثال کے ذریعے ملعون نے خاتون کو جس پیار کی ترغیب دی اس کی تفصیلات ناقابلِ بیان اور انتہائی شرمناک ہیں۔ خاتون معتقد کے مطابق اس موقع پر ملعون نے مجھے اپنے شوہر سے تعلقات ختم کرنے کا بھی حکم دیا اور کہا کہ آپ سراپا نور ہیں آپ کے شوہر اور آپ میں زمین آسمان کا فرق ہے اس لئے ان سے ناطہ توڑ لیں۔

مختلف خواتین نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملعون بعض مخصوص خواتین کو خلوت میں مخصوص تحفے دیتا ہے۔ جو خواتین کو اپنے مذموم عزائم کی طرف مائل کرنے کے لئے ہوتے جن میں مخرب الاخلاق کتابیں بھی ہوتیں۔ یہ کتابیں آزاد جنسی تعلقات کی ترغیب کے لئے بطور خاص خواتین کو دی جاتی تھیں اور انہیں تاکید کی جاتی کہ وہ اس تحفے کا ذکر اپنے شوہر تک سے نہ کریں ورنہ محمد ناراض ہو جائیں گے۔

خواتین ان کتابوں کو پڑھ کر متاثر ہونے لگتی ہیں تو ملعون انہیں اپنے مخصوص مقاصد کے لئے استعمال میں لاتا اور پھر انتہائی چالاکی سے اس بے ہودہ کھیل کو مذہبی رنگ میں پیش کرتا۔ جس سے خواتین بھی مطمئن ہو جاتیں۔ ایک متاثرہ خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ ایک بار جب ان کی اخلاقی بے ہودگیوں سے تنگ آکر میں نے ملعون سے پوچھا کہ آپ کیسے محمد ہیں؟ تو اس نے اپنی بد فعلی کی توجیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں، میں نہیں بلکہ میرا نفس ملوث تھا۔ نعوذ باللہ نفس سے ملعون کی مراد حضرت محمد ہیں۔

ملعون یوسف کذاب کی خواتین کے ساتھ انتہائی شرمناک حرکات

ملعون یوسف علی اپنی ذہنی بے راہ روی کا مظاہرہ اکثر ان محافل میں کرتا ہے جو وہ ذکر اللہ یا

صفحہ 116

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ذکر نبی کے نام پر منعقد کرتا تھا۔ ایسی مخلوط محافل میں شرکت کرنے والی بعض ماڈرن اور آستین کے بغیر لباس پہننے والی خواتین سے اس درجہ بے تکلفی کا مظاہرہ کرتا کہ کبھی کبھی اس کے انتہائی قریبی عقیدتمندوں کو بھی گراں گزرتا۔

ایسے ہی ایک عقیدت مند نے جو اب اس ملعون سے منحرف ہو چکا ہے، بتایا کہ ملعون اکثر آنے والی خواتین کو لوگوں کے سامنے گدگدیاں کرتا اور ان سے ذو معنی جملے کہتا۔ یہاں تک کہ بعض ماڈرن خواتین کو بازوؤں سے تھام کر گھومتا پھرتا ہے۔ وہ اپنے جن مریدوں سے ملنے ان کے گھر جاتا ان کے ہاں موجود ہر نوجوان لڑکی یا خاتون کو بند کمرے میں باری باری طلب کرتا اور تنہائی میں گھنٹوں ایسی حرکتیں کرتا جو نا قابل بیان ہیں۔ اس عرصے میں وہ کمرہ اندر سے مقفل کر لیتا۔

اس حوالے سے بعض منحرف خواتین نے زار و قطار روتے ہوئے انتہائی شرمناک تفصیلات بتائی ہیں۔ جسے وہ ملعون شخص اللہ اور اس کے رسول کے نام پر جائز قرار دیتا تھا۔ ملعون یوسف علی کی ایک کتاب بانگ قلندری ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ یہ کتاب صرف ان لوگوں کو پڑھنے کے لئے دی جاتی ہے جو پہلے سوا لاکھ مرتبہ درود شریف پڑھ لیں اور قارئین جانتے ہیں کہ وہ اپنی معتقد خواتین سے ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ جب کبھی درود پڑھیں تو میرا یعنی ملعون یوسف علی کا تصور کریں وہ بعض خواتین کو محض اس وجہ سے بھی متاثر کرتا رہا کہ اسے بے نظیر دور حکومت میں وزارت خارجہ نے وی آئی پی کا درجہ دے رکھا تھا۔

اطلاعات کے مطابق چونکہ ملعون محمد یوسف علی او آئی سی کے ہیڈ کوارٹر میں کام کرتا رہا ہے اسی لئے پاکستانی وزارت خارجہ نے اس شیطان کو وی آئی پی درجہ دینے کے ساتھ ساتھ ایک آفیشل پاسپورٹ بھی جاری کر رکھا تھا۔

ملعون یوسف کذاب کا بھابھی سے تعلقات کا نتیجہ

ملعون یوسف علی کے پنجے ہوس سے اس کی بھاوج بھی نہیں بچ سکی۔ ملعون آج سے بارہ سال قبل جدہ گیا تھا جہاں اس کا بھائی ناصر حیدر مقیم تھا۔ ایک دن ناصر حیدر نے گھر میں ملعون یوسف کو اپنی بیگم کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں پایا۔ مذکورہ واقعہ کے بعد ناصر حیدر نے اس معاملے کی چھان بین کی تو خود اس کی بیوی نے اقرار کیا کہ ملعون یوسف کے ساتھ اس کے

صفحہ 117

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تعلقات کافی عرصہ پہلے سے استوار ہیں۔ اس راز کے افشاء ہونے پر ناصر حیدر کا اپنے بھائی ملعون یوسف کے ساتھ تنازعہ رہنے لگا۔ کچھ عرصے بعد ملعون یوسف کے بھائی ناصر حیدر کا اچانک انتقال ہو گیا۔ موت کے اسباب تلاش کرتے ہوئے یہ انکشاف ہوا کہ مرحوم کو اس کی بیگم اور ملعون یوسف علی کے تعلقات علم میں آنے کے فوراً بعد سے کلورین دی جارہی تھی جس کے باعث اس کی آنتیں گل گئی تھیں ناصر حیدر کے انتقال کے چھ ماہ بعد اس کی بیوہ نے ایک بچہ بھی جنم دیا اور اس کے بعد سے آج تک ملعون کی بھاوج اور وہ بچہ لاپتہ ہے۔

گستاخ رسول یوسف کذاب کی ذلت آمیز موت

تاریخ عالم اس بات کی شاہد ہے کہ ہر مدعی نبوت اور گستاخ رسول کا آخری انجام بہت بھیانک، ہوا ہے تا کہ دوسرے لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔ یہ حقیقت ہے کہ شان رسالت میں گستاخی ایک ایسا بھیانک، گھناؤنا اور قبیح فعل ہے جسے غیرت اسلامی اور حمیت مسلمانی نے کبھی بھی برداشت نہیں کیا اس کا شرعی حل یہی ہے کہ گستاخی کرنے والی زبان نہ رہے یا سننے والے کان نہ رہیں۔ گستاخی تحریر کرنے والے ہاتھ نہ رہیں یا پڑھنے والی زبان نہ رہے۔

یہی وجہ ہے کہ گستاخ رسول کو بیت اللہ کے پردے بھی پناہ نہ دے سکے۔ حکم نبوی پر گستاخ رسول کو وہیں جہنم رسید کیا گیا۔ ایسی صورت میں پھر دنیا کا کوئی اور حصہ یا کوئی اور ٹکڑا اس کو کیسے پناہ دے سکتا ہے؟ حتیٰ کہ جیل کی کال کوٹھڑی بھی پناہ نہیں دے سکتی۔ شان رسالت میں گستاخی ایک ایسا جرم ہے کہ بعض علماء کے نزدیک اس گستاخ کی توبہ بھی قبول نہیں کی جاتی۔ موجودہ دور میں رسول عربی ﷺ کی عزت ناموس کا تحفظ بہت بڑا جہاد اور عشق رسول کا مظہر ہے۔ آپ ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ اور اس کی پاسبانی امت مسلمہ کا فرض اولین ہے جس میں نہ کسی تاخیر کی گنجائش ہے اور نہ اس کی قضاء ہے۔

گستاخ رسول یوسف کذاب ملعون جس کے بڑے بڑے دعوے تھے بڑا گروہ تھا۔ جس کی جرنیلوں تک رسائی تھی جس کے لئے وزراء بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہے کہ کسی طرح یہ گستاخ رسول بچ جائے مگر شاید ان کو شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کی تاریخیں یاد نہیں تھیں۔ وہ تاریخ سے نابلد تھے یا ان کی عقل پر پردے پڑ گئے تھے مگر سابقہ گستاخوں کی طرح

صفحہ 118

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام یوسف کذاب کا بھی آخر کار انجام بد آ پہنچا۔ ۱۲ جون کو اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی کہ توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت کا قیدی یوسف کذاب کوٹ لکھپت جیل میں اپنے انجام کو پہنچا اور یہ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی کہ گستاخ رسول جس طرح بیت اللہ میں محفوظ نہیں اسی طرح وہ جیل کی کال کوٹھڑی میں بھی محفوظ نہیں۔ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالَىٰ نے گستاخ رسول کی موت کی حالت اور موت کی جو جگہ مقرر کی ہوئی تھی اس جگہ جب وہ گھڑی آ پہنچی تو تمام حفاظتی انتظامات مفلوج ہوگئے اس گستاخ رسول کو اس کا وہم و گمان بھی نہ تھا کہ میرا ایسا حشر ہو سکتا ہے؟ یوسف کذاب کو ذلت آمیز و عبرتناک موت نے آلیا اور ذلت کی موت کے بعد بھی ذلت ہی اس کا مقدر بنی۔

یوسف کذاب کی نعش دھوکہ سے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا

اخبارات کے مطابق اسے دفن کرنے کے سلسلہ میں پہلی خبر یہ آئی کہ اس کو جڑانوالہ میں دفن کر دیا گیا۔ پھر دوسری خبر آئی کہ اسے راولپنڈی میں دفن کر دیا گیا ہے مگر جس شخص نے ساری زندگی لوگوں کو دھوکہ دینے میں گزاری ہو اس نے موت کے بعد بھی لوگوں کو دھوکہ دیا کیونکہ یہ سب خبریں دھوکہ تھیں اس کے ملعون مریدوں نے بھی وہی کام کیا جو ملعون اپنی زندگی میں کیا کرتا تھا چنانچہ ۱۷ جون کو اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ یوسف کذاب کو خاموشی کے ساتھ اسلام آباد میں دفن کر دیا گیا ہے اس کے مریدوں نے کفن دفن میں بڑی عجلت کی اور اس کی قبر بھی دھوکہ سے ایسی بنائی گئی کہ یہ معلوم ہو کہ یہ کسی عام آدمی کی قبر ہے اور قبرستان انتظامیہ کے ساتھ بھی دھوکہ کیا گیا مگر جس طرح اس کی زندگی میں اس کا کوئی دھوکہ اس کے کام نہ آسکا ایسے ہی مرنے کے بعد اس کے دھوکے بھی اس کے کام نہ آسکے۔

اس خبر کے بعد مسلمانوں میں اضطراب پھیل گیا خصوصاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد اور راولپنڈی کے ذمہ دار حضرات اور عہدیداران نے فوراً اسلام آباد میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں اس پورے واقعہ پر تفصیلی غور کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ قبرستان انتظامیہ سے رابطہ قائم کر کے اس واقعہ کی پوری تحقیق کی جائے۔ چنانچہ علماء کرام کے ایک وفد نے قبرستان انتظامیہ کے افسر حافظ محمد اکرام صاحب سے ملاقات کی۔

گستاخ رسول کا عبرتناک ا وفد میں قاری عبدالوحید قاسم مولانا عبدالرزاق حیدری شامل کذاب کو اسلام آباد کے مسلمانوں

مسلمانوں کے قبرست

اس کے بعد عالمی مجلس تحف مولانا مفتی محمود الحسن اور مولانا کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہم ہ کذاب کی نعش کو مسلمانوں کے ق ورنہ حالات کی ذمہ داری انتظا

اس کے بعد قبرستان انتظا قبرستان میں دفن کرنے کی اجاز اجازت نہ دی جاتی اور یوسف کذ مگر یوسف کذاب کے مر کے پاس مولانا عبدالستار نیاز انہوں نے قبرستان کی انتظامی دھوکہ دینے کی کوشش کی اور ی شریعت کورٹ میں جائیں گے میں آگ لگ جائے گی کیونک یوسف کذاب کے مریدوں مرعوب کرنے کی کوشش کی مگر کو معلوم نہ تھا کہ اسلام آباد علماء نے یوسف کذا طرف سے پیش رفت نہ ہو

صفحہ 119

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

وفد میں قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا میاں محمد نقشبندی، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف اور مولانا عبدالرزاق حیدری شامل تھے۔ تحقیقات سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ خبر صحیح ہے کہ یوسف کذاب کو اسلام آباد کے مسلمانوں کے قبرستان میں دھوکہ اور غلط بیانی سے دفن کر دیا گیا ہے۔

مسلمانوں کے قبرستان سے یوسف کذاب کی نعش کا اخراج

اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے سیکریٹری جنرل قاری عبدالوحید قاسمی، مولانا مفتی محمود الحسن اور مولانا مفتی خالد میر نے علمائے اسلام آباد کی طرف سے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہم حکومت اور اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ یوسف کذاب کی نعش کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکال کر غیر مسلموں کے قبرستان میں دفن کیا جائے ورنہ حالات کی ذمہ داری انتظامیہ اور یوسف کذاب کے مریدوں پر ہوگی۔

اس کے بعد قبرستان انتظامیہ نے اخبارات میں بیان دیا کہ یوسف کذاب کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت لاعلمی میں دی گئی ہے اگر اس کا پتہ چل جاتا تو کبھی بھی اس کی اجازت نہ دی جاتی اور یوسف کذاب کے ورثاء سے کہہ دیا گیا ہے کہ اس کی نعش کو لے جائیں۔

مگر یوسف کذاب کے مریدوں نے کہا کہ یوسف کذاب کو مسلمان قرار دیا گیا ہے کہ ان کے پاس مولانا عبدالستار نیازی، مفتی غلام سرور قادری اور دوسرے علماء کے فتوے ہیں یہ فتوے انہوں نے قبرستان کی انتظامیہ اور بعض اخبارات والوں کو دیئے اور اس طرح انہیں ایک مرتبہ پھر دھوکہ دینے کی کوشش کی اور ساتھ اخبارات میں بیان دیا کہ اگر یوسف کی نعش نکالی گئی تو ہم شریعت کورٹ میں جائیں گے اور اگر زبردستی نکالی گئی تو ملک میں بدامنی پھیلے گی اور پورے ملک میں آگ لگ جائے گی کیونکہ یوسف کذاب کے مرید کافی تعداد میں پورے ملک میں موجود ہیں یوسف کذاب کے مریدوں نے انتظامیہ اور اخبارات کے ذریعہ مسلمانوں کو دھمکیاں دے کر مرعوب کرنے کی کوشش کی مگر سابقہ دھوکوں کی طرح اس دھوکہ میں بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکے ان کو معلوم نہ تھا کہ اسلام آباد میں محمد عربی ﷺ کے غلام ابھی زندہ ہیں۔

علماء نے یوسف کذاب کے ان مریدوں کی طرف سے اس قسم کی دھمکیوں اور انتظامیہ کی طرف سے پیش رفت نہ ہونے پر دوبارہ ایک ہنگامی اجلاس شہید اسلام مسجد میں طلب کیا اور فیصلہ

صفحہ 120

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کیا اب انتظامیہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے کوئی ملاقات نہ کی جائے اور ایک درخواست لکھ اس کو متعلقہ حکام کو فیکس کیا جائے ۔ اس درخواست پر گیارہ علماء کرام کے دستخط کرا کر اسے وزیر داخلہ، آئی جی پولیس اسلام آباد، چیف کمشنر اسلام آباد ، ڈی سی اسلام آباد اور دوسرے حکام بالا اور اخبارات کو فیکس کیا گیا۔

دوسرے دن اخبار اساس نے اس درخواست اور علماء کی پریس کانفرنس اور ان کے مطالبات شائع کر دیئے اس سے اگلے روز روزنامہ اساس نے راولپنڈی اسلام آباد کے جید علماء کرام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی و اسلام آباد کے ذمہ داروں کو دعوت دی کہ وہ اس مسئلہ پر اظہار خیال کریں جس کے لئے اساس فورم کا انتظام کیا گیا۔

اس فورم کے ذریعہ تمام علمائے کرام نے کھل کر اس مسئلہ پر اظہار خیال کیا اور کہا کہ شرع اور قانونی اعتبار سے مسلمانوں کے قبرستان میں غیر مسلم دفن نہیں کیا جاسکتا اسلام آباد میں غیر مسلم افراد کا قبرستان موجود ہے لہٰذا شرعاً و قانوناً ہر صورت میں انتظامیہ یوسف کذاب کی نعش کو مسلمانوں کے قبرستان سے نکالنے کے انتظامات کرائے اور یہ اسلام آباد کے امن وامان کا بھی مسئلہ ہے۔

اس کے بعد انتظامیہ نے یوسف کذاب کی قبر پر پہرہ لگا دیا اور پولیس متعین کردی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد و راولپنڈی نے اپنا دباؤ بڑھانے کے لئے بھر پور کوشش کی ۔ آخر کار انتظامیہ کی طرف سے اعلان ہوا کہ انتظامیہ نے یوسف کذاب کی نعش نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور علماء سے مشورہ ہو گیا ہے۔ یوسف کذاب کی بیویوں نے بھی درخواست دی کہ یوسف کذاب کے ساتھ ان دونوں کے لئے بھی جگہ رکھی جائے۔

پہنچی وہیں پہ خاک ، جہاں کا خمیر تھا

بالآخر پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کے پہرے میں یوسف کذاب کے مریدوں نے رات ۱۲ بج کر ۳۵ منٹ پر یوسف کذاب کی قبر نمبر ۱۵۴ پلاٹ نمبر ۱۰۶ کو اکھاڑنا شروع کر دیا اور ایک بج کر ۲ منٹ پر نعش کو باہر نکالا اور اسے ایمبولینس میں لے جایا گیا۔ اس وقت پورے قبرستان میں اتنی بد بو اور تعفن پھیل گیا کہ دو گورکن بے ہوش ہو گئے جبکہ انتظامیہ کے اہلکار قابل برداشت تعفن کی وجہ سے موقع سے دور جانے پر مجبور ہو گئے۔

صفحہ 121

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یوسف کذاب کی نعش کو جن راستوں سے لے جا کر دوسری جگہ منتقل کیا گیا ان عام راستوں میں بدبو اور تعفن پھیلتا چلا گیا۔ آخر کار قادیانیوں کے قبرستان ایچ نائن میں جہاں پہلے ہی سے یوسف کذاب کے لئے قبر تیار تھی وہاں اسے حوالہ زمین کر دیا گیا اس نئی قبر پر بھی یوسف کذاب کے چیلوں کی درخواست پر پہرہ لگا دیا گیا اخبارات کی ٹیم شروع سے آخر تک اس واقعہ کی رپورٹنگ کرتی رہی۔

یوسف کذاب کی قبر میں شدید بدبو اور تعفن

مسلمانوں کے قبرستان میں جس قبر میں اس ملعون کذاب کو دفن کیا گیا تھا اور جہاں سے اس کی نعش کو نکالا گیا علماء نے قبرستان کی انتظامیہ سے کہا کہ یہ عذاب شدہ جگہ ہے اس لئے اس کو مٹی ڈال کر بھر دیا جائے اور آئندہ کسی مسلمان کو اس جگہ دفن نہ کیا جائے بعد میں قبرستان انتظامیہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ پہلے تو ہم نے اس قبر کو مٹی ڈال کر بند کر دیا مگر ایک لاوارث نعش کی تدفین کے لئے ہم نے چاہا کہ اس کو اسی جگہ دفن کر دیا جائے مگر جب ہم نے اس کذاب والی قبر سے مٹی ہٹائی تو اتنی بدبو اور تعفن تھا کہ آخر کار ہم نے مجبوراً اس کو واپس اسی طرح بند کر دیا اور لاوارث نعش کو دوسری جگہ دفن کر دیا۔

ظاہر ہے کہ یہ ایسی جگہ تھی جس میں گستاخ رسول پر اللہ کا عذاب نازل ہوا تھا۔ اس عذاب کے اثرات ابھی تک موجود تھے۔ اس پورے واقعہ سے جہاں اس گستاخ رسول یوسف کذاب کی موت سے ایک باب بند ہوا ہے وہاں غلامان محمد عربی ﷺ کے ایمان مضبوط ہوئے ہیں۔ اس گستاخ رسول کی ذلت آمیز موت جہاں دوسرے گستاخان رسول اور دشمنان رسالت کے لئے سامان عبرت ہے وہاں ہر مسلمان کے لئے تنبیہ ہے کہ اسے آپ ﷺ کی ختم نبوت و ناموس کے لئے عملاً میدان عمل میں کود جانا چاہئے۔

ایک عظیم عاشق رسول صوفی عبداللہ کا تذکرہ

برصغیر میں انگریزی عملداری کے آخر زمانے میں جن عاشقان و محبان حبیب خدا ﷺ نے جان کی بازی لگا کر ناموس رسالت کا تحفظ کیا اور جریدہ عالم پر اپنی سرفروشی کے انمٹ نقوش

صفحہ 122

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

چھوڑ گئے ۔ ان میں دو غازیوں غازی علم الدین شہید اور غازی عبدالقیوم کو بڑی ہی شہرت نصیب ہوئی ۔ خصوصاً غازی علم الدین کو جو شہرت دوام ملی پاک و ہند میں شاید ہی کوئی مسلمان اس سے بے خبر ہو مگر ایک نام ایسا بھی ہے جس کا ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے سلسلے میں کارنامہ تو بہت بڑا ہے لیکن بہت ہی کم لوگ اس عظیم عاشق رسول ﷺ کے نام اور کام سے واقف ہیں یہ جاں نثار ناموس رسالت صوفی عبداللہ تھے ۔

صوفی عبداللہ کو خواب میں شاتم رسول کو قتل کرنے کا حکم نبوی

کے رہنے والے تھے مولانا سید امین الحق صاحب ڈویژنل خطیب اوقاف نے ایک دفعہ دوران گفتگو پروفیسر علوی صاحب کے سامنے غازی عبداللہ کا آنکھوں دیکھا حلیہ اس طرح بیان کیا کہ اس کا چہرہ خوبصورت ، رنگ گورا اور بھری بھری سیاہ داڑھی تھی جو نہایت ہی بھلی لگتی تھی ۔ جس وقت اسے باعث صد افتخار مہم کے لئے پروانہ ماموریت ملا ، عمر تیس بتیس سے متجاوز نہ تھی ۔ گویا ایک لحاظ سے عین عالم شباب تھا۔ جب غازی عبداللہ کو اس امر ناگزیر پر مامور فرمایا گیا۔ چک نمبر ۲۴ تھانہ خانقاہ ڈوگراں تحصیل و ضلع شیخوپورہ میں اس کا پیر خانہ تھا اور مذکورہ چک کی ملحقہ آبادی چک نمبر ۲۴ چھوٹی میں حرماں نصیب و بد بخت و بدطینت و بد باطن جٹ نور محمد کاہلوں رہتا تھا جو قریب کے ایک گاؤں موضع ہرنالہ کی ایک عورت کے دام فریب میں پھنس کر دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا تھا اور پھر حضرت امام الانبیاء رحمتہ للعالمین ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی و اہانت کرتا اور مغلظات بکتا رہتا تھا۔

ہادی برحق فخر موجودات ﷺ نے خود غازی عبداللہ کو بذریعہ خواب و بوسیلہ رؤیا اپنے شاتم و گستاخ کو ختم کرنے کا امر فرمایا اس شخص کی سعادت مندی و خوش قسمتی کے کیا کہنے جسے اس عظیم کار خیر کے لیے حضرت رسول خدا سرور کائنات ﷺ نے خود منتخب فرمایا ہو۔

پروفیسر افضل حسین علوی لکھتے ہیں میرے اپنے ناقص علم کی حد تک سلطان نورالدین زنگی کے بعد صوفی عبداللہ شاید وہ دوسری خوش نصیب ہستی ہے جسے خود رسول کریم ﷺ نے اپنے شاتم کو واصل جہنم کرنے کے لیے مامور فرمایا ۔ یہ الگ بات ہے کہ زنگی ایک صاحب شوکت

صفحہ 123

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حشمت بادشاہ تھے اور عبداللہ ایک فقیر اور درویش جو کپڑا بن کر اپنی گزران کرتے تھے۔

صوفی عبداللہ کے ہاتھوں مرد شاتم رسول کا عبرت ناک انجام

صوفی عبداللہ بے شک پیشے کے لحاظ سے ایک معمولی جولاہے تھے مگر دنیائے صدق وصفا میں جس سکے کی مانگ ہے اس سے صوفی عبداللہ کا دامن بھی یقیناً اتنا ہی مالا مال تھا جتنا صدیوں پہلے بادشاہ وقت نورالدین زنگی کا۔ چنانچہ نبی پاکﷺ کی ایک ہی نظر التفات نے ایک فقیر بے نوا کو شاہ جاہ وجلال کے برابر لا کھڑا کیا جس طرح خواب میں سلطان نورالدین زنگی کو ارشاد فرمایا گیا تھا زنگی دیکھو دو کتے سرنگ کھود کر میری قبر کی طرف بڑھ رہے ہیں جلد مدینے پہنچو اور ان کتوں کی خبر لو۔ صدیوں بعد تقریباً ایسے ہی کام کے لیے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں سے ایک فقیر بے نوا کو چنا گیا اور خواب میں اسے بارگاہ رسالت مآب سے فرمان عائد کیا گیا کہ عبداللہ جاؤ فلاں گاؤں پہنچو اور میرے شاتم کی خبر لو۔

شاتم رسول نور محمد جٹ نے عورت کے چکر میں ایمان کا سودا کیا

۱۹۳۸ء میں رونما ہونے والا یہ واقعہ دسانجھ ضلع شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھتا ہے جو چک نمبر ۲۴ چھوٹی کے نام سے موسوم ہے وہاں کے ساکن مذکورہ مردود مسمی نور محمد جٹ کاہلوں کے ایک شادی شدہ مسلمان عورت سے ناجائز تعلقات ہو گئے جو قریب کے ایک موضع ہرنالہ کی رہنے والی تھی دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے اور کوشاں رہنے لگے کہ کسی طرح ان کی آپس میں شادی ہو جائے۔

لیکن عورت چونکہ پہلے ہی شادی شدہ تھی اس لئے انہوں نے مشورہ کیا کہ اگر اسلام سے منہ موڑ لیں اور عیسائیت اختیار کر لیں تو یہ مرحلہ طے ہو سکتا ہے چنانچہ انہوں نے سانگلہ ہل جا کر ایک عیسائی پادری کے ہاتھوں عیسائیت و مسیحیت اختیار کر لی۔ مگر پھر بھی ان کی خواہش کے مطابق مسئلہ حل نہ ہوا بالآخر دونوں بھاگ کر امرتسر چلے گئے اور سکھ مذہب میں داخل ہو گئے۔ بدقماش نور محمد نے اپنا نام چنچل سنگھ اور بدکار عورت نے دلجیت کور رکھ لیا اور کچھ عرصہ امرتسر میں قیام کر کے مذہب کے قواعد وضوابط کی تھوڑی بہت واقفیت حاصل کر لی۔ بعد ازاں چک نمبر ۲۴

صفحہ 124

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

چھونی میں آ کر آباد ہو گئے۔ جہاں بیشتر آبادی سکھوں کی تھی۔ سکھ ان کو ہمیشہ مشکوک نظروں سے دیکھتے اور باوجود ان کی یقین دہانی کے کہ وہ واقعی دل سے سکھ مذہب اختیار کر چکے ہیں۔ سکھوں نے انہیں تسلیم نہ کیا اور چند شرائط پیش کیں، جن میں سے ایک یہ تھی کہ وہ سر عام جھٹکے کا گوشت کھائیں۔ اس بدبخت و بدقسمت جوڑے نے جھٹکے کا گوشت کھا کر یہ شرط پوری کر دی۔ اس کے بعد سکھوں نے دوسری شرط یہ پیش کی کہ اب سور کا گوشت کھاؤ ان دونوں نے اعلانیہ سور کا گوشت بھی کھا لیا لیکن سکھوں کو اتنی سخت شرائط منوا لینے کے باوجود بھی ان کی طرف سے دلجمعی نہ ہوئی لہٰذا یہ طے پایا کہ ایک بڑا اجتماع جسے سکھ لوگ اکنڈا پاٹھ کے نام سے موسوم کرتے ہیں منعقد کیا جائے اور یہ دونوں اس اجتماع میں سر عام پیغمبر اسلام ﷺ کی بے حرمتی کریں (نعوذ باللہ من ذالک)۔

چنانچہ وہ دونوں یہ بھی کر گزرے مگر اس حرکت سے آس پاس کے دیہات کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری ہوئی ان کی غیرت اسلامی جاگ اٹھی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا جس پر سکھوں نے مسلمانوں کے مجمع عام سے اس بے ہودہ و ناپسندیدہ حرکت کی معافی مانگی۔ مگر مسلمانوں کی تسلی و تشفی نہ ہوئی۔ مسلمان بضد تھے کہ جس نابکار و ناہنجار جوڑے نے اس گستاخی و بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے وہ تو سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان لوگوں نے معافی مانگی ہے اور نہ ہی ان کو کوئی احساس ندامت ہوا ہے۔

سکھ مذہب اختیار کرنے والے مرتد مرد و عورت کی شان رسالت میں گستاخیاں اور صوفی عبداللہ کا فرمان نبی سے سرشار ہو کر انہیں جہنم واصل کرنا

صوفی عبداللہ کا شاتم رسول کو بیوی سمیت جہنم واصل کرنا

اس موقع پر غازی صوفی عبداللہ انصاری کی رگ حمیت پھڑکی عبداللہ پٹی تحصیل قصور کے رہائشی تھے ان دنوں چک نمبر ۲۴ شریف میں اپنے پیر خانے پر موجود تھے وہ پکے مسلمان اور سچے عاشق رسول تھے۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ ان مرتدین نے جو گناہ عظیم کیا ہے اس کی معافی تو اللہ پاک یا نبی کریم ﷺ کے سوا کوئی دوسرا شخص دینے کا مجاز و حقدار نہیں لیکن انہوں نے جو گستاخی آقائے کونین ﷺ کی بابت کی ہے اس کی سزا انہیں اسی دنیا میں ملنی چاہئے اور یہ

صفحہ 125

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سزا انہیں میں دوں گا میں بحیثیت ایک ادنیٰ غلام سرکار مدینہ ﷺ کے ان کو واصل جہنم کروں گا۔ اس کے بعد صوفی عبداللہ کو یہی فکر دامن گیر رہتی کہ کب اور کس وقت اور کس طرح اس کی دلی آرزو و تمنا پوری ہوتی ہے نماز پڑھتا اور خاموش بیٹھا یہی اسکیمیں سوچتا رہتا۔ غریب محنتی آدمی تھا۔ بالآخر اس نے کہیں سے ایک معمولی چھری حاصل کر لی اور اسے تیز کیا اور اس راز کو سینے میں چھپائے چک نمبر ۲۴ چھوٹی کی طرف چل دیا اتفاقاً اسے راستے میں چنچل سنگھ کا حقیقی بھائی نتھو مل گیا عبداللہ نہ چنچل سنگھ کو جانتا تھا اور نہ نتھو کو۔

بہر حال عبداللہ کے دریافت کرنے پر نتھو نے اشارے سے بتایا کہ وہ دیکھو سامنے چنچل سنگھ اپنے کھیت میں کام کر رہا ہے۔ غریب الوطن مرد مجاہد اس کی جانب سیدھا ہو گیا اور اسے دور ہی سے للکار کر کہا کہ تیار ہو جاؤ عاشق رسول آن پہنچا ہے۔ قوی ہیکل اور ہٹا کٹا چنچل سنگھ جو ہر وقت کرپان سے مسلح رہتا تھا کر پان سونت کر عبداللہ کی طرف بہ ارادہ پیکار بڑھا اور کرپان کا وار بھی کیا۔ مگر وار خالی گیا ادھر اللہ کے شیر نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے قوت ایمانی کے جوش اور عشق نبی ﷺ کے زور سے چھری کے ساتھ حملہ کیا اور پہلے ہی وار میں گستاخ رسول ﷺ چنچل سنگھ کا پیٹ چاک کر ڈالا وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔

قریب ہی کھیتوں میں اس کی چہیتی بیوی دلجیت کور کام کر رہی تھی عبداللہ نے اسے للکارا تو وہ بھاگ نکلی مگر عبداللہ نے اسے بھی کچھ ہی فاصلے پر جا لیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے چنچل سنگھ کے قریب لا کر اسے بھی جہنم واصل کر دیا۔ کثیر تعداد میں سکھ یہ جانگداز منظر اپنے کھیتوں میں کھڑے دیکھتے رہے مگر ان کے قریب آنے اور ان کو بچانے کی جرأت نہ کر سکے بلکہ اتنی ہمت بھی نہ پڑی کہ غازی عبداللہ کو پکڑ لیں۔

صوفی صاحب کا بخوشی اقبال جرم کرنا

یہ جری مجاہد اور مرد غازی اس کام سے فارغ ہو کر بڑے اطمینان کے ساتھ قریبی سیم نالہ کی طرف گیا وہاں اس نے غسل کیا کپڑے دھوئے اور نوافل شکرانہ ادا کئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے اس عظیم کارنامہ سے عہدہ برآں کیا اور کامیابی سے ہمکنار فرمایا۔ بعد ازاں غازی عبداللہ نے ہرنالہ جا کر خود ہی پولیس کے روبرو اقبال جرم کر لیا۔ لیکن چونکہ وہ تحصیل قصور کا رہنے والا تھا

صفحہ 126

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ضلع شیخوپورہ میں کوئی گواہ اس کی شناخت نہیں کرسکتا تھا۔ اس بات کی آڑ میں مقدمہ کے دوران بعض مسلمانوں نے اس کو مالی وقانونی امداد کی پیشکش کرنے کے علاوہ یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اقبال جرم نہ کرے تو با آسانی عدالت سے بری ہوسکتا ہے۔

مگر اس عشق رسول اللہ ﷺ کے متوالے اور ناموس رسالت ﷺ کے دیوانے نے کسی پیشکش کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں اس ثواب عظیم اور ثواب دارین سے محروم نہیں رہنا چاہتا۔ چنانچہ مقدمہ سیشن کورٹ کے سپرد ہوا تو وہاں بھی مرد مجاہد نے بخوشی اقبال جرم ہی کیا پھر اس جرم کی پاداش میں لاہور جیل میں اسے پھانسی دے دی گئی اور اس شہید ملت کی میت کو گمنامی کی حالت میں موضع پٹی حال تحصیل امرتسر (بھارت) میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

(از ڈاکٹر محمد اختر چیمہ)

عاشق رسول محمد صدیق کے ابتدائی حالات

ولادت با سعادت ۱۹۱۲ء کے درمیانی مہینوں میں ہوئی۔ پانچ سال ہو جانے پر انہیں مسجد میں بٹھایا گیا۔ ۱۹۲۵ء تک دینی تعلیم کے علاوہ آپ پانچویں جماعت بھی پاس کر چکے تھے چونکہ آپ کے والد ماجد شیخ کرم الہی فیروز پورہ چھاؤنی میں جو قصور سے قریباً پندرہ میل کے فاصلے پر ہے کچے چمڑے کا آبائی پیشہ اختیار کئے ہوئے تھے وہ اپنے اہل وعیال کو بھی ساتھ لے گئے غازی صاحب کو چھاؤنی کے قریب ہی ایک تعلیمی ادارے میں داخل کرایا گیا جہاں آپ تین سال تک زیر تعلیم رہے اور آٹھویں کا امتحان پاس کیا۔ اسی دوران آپ والد گرامی چند روز کی ناسازی طبیعت کے بعد جہان فانی سے کوچ فرما گئے۔ غازی محمد صدیق شہید کی والدہ محترمہ کا نام عائشہ بی بی تھا آپ بڑی نیک سیرت اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔ ان کی تربیت کا اثر موصوف کے تاریخی عمل سے ۱۹۳۵ء میں سامنے آیا جب شمع رسالت کے یہ پروانے تختہ دار کو رونق بخش گئے۔

نبی پاک ﷺ کے نام نامی سے ان کی محبت والفت والہانہ تھی لباس ہمیشہ سنت کے مطابق رکھتے۔ نماز کبھی قضا نہ ہونے دی۔ روزے کے بھی سختی سے پابند تھے۔ غازی ممدوح کے برادر اصغر شیخ محمد شفیع طاہر صاحب نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے چھوٹی عمر ہی میں

گستاخ رسول کا عبرت ناک

آپ نے شیخ محمد صاحب نقشبندی ر پر بیعت کر لی تھی اور حفظ قرآن کے

پالامل نامی ہند

پالامل سنار ایک صاحب ثروت تھی اس کی پشت پر ہندو ساہوکارو معاشی ناساز گاریوں پر بکواس کرتا پھرتے ہیں مسلمان۔

ایک مرتبہ اس نے کہا مسلما بے چاروں کو دو وقت کی روٹی بھی ن روز بروز بڑھتا گیا اور اولیائے ع ہندوؤں کو اکٹھا کر کے نماز کی تلقین گویا اس کا ہر روز کا مشغلہ تھا۔ بات

روزنامہ انقلاب لاہور کی ۶ کا یہ کھلم کھلا سلسلہ شروع کر رکھا ہے صرف نماز کا مضحکہ اڑایا بلکہ سرکار شان رسالت مآب ﷺ میں دوڑ گئی۔ مسلم معززین کے مشورے

مسٹر نیل مجسٹریٹ درجہ اول نظر رکھا۔ بالآخر فریقین کے دلائل نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے واقعی جذبات مشتعل ہوئے اور سخت ف جرمانہ کی سزا دی جارہی ہے۔

صفحہ 127

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

آپ نے شیخ محمد صاحب نقشبندی محلہ پیرانوالہ نزد دہلی دروازہ (فیروز پور) کے دست حق پرست پر بیعت کر لی تھی اور حفظ قرآن کے لیے بھی کوشاں رہنے لگے۔

(ماہنامہ ’نعت‘ لاہور جلد ۴ شمارہ ۴ ص ۶۲)

پالال نامی ہندو سنار کی شان رسالت میں گستاخی

پالال سنار ایک صاحب ثروت ہندو سنار تھا اس کی دکان درگاہ حضرت بلھے شاہؒ سے ذرا دور تھی اس کی پشت پر ہندو ساہوکاروں کا ہاتھ تھا۔ بنیوں کے ٹولے کی حمایت کی ابتدا وہ مسلمانوں کی معاشی ناسازگاریوں پر بکواس کرتا تھا اس نے کئی بار برملا کہا قرضہ تو یہ واپس دیتے نہیں اور بنے پھرتے ہیں مسلمان ۔

ایک مرتبہ اس نے کہا مسلمانوں کا خدا اپنے بندوں سے زکوٰۃ کی بھیک مانگتا ہے جبکہ ان بے چاروں کو دو وقت کی روٹی بھی کھانے کو نہیں ملتی ۔ مسلمانوں کو چپ سادھے دیکھ کر اس کا حوصلہ روز بروز بڑھتا گیا اور اولیائے عظام (رحمہم اللہ ) کے متعلق گالیاں بکنا اس کا معمول بن گیا ہندوؤں کو اکٹھا کر کے نماز کی نقلیں اتارتا اور اپنی عجیب و غریب حرکات سے انہیں ہنساتے رہنا گویا اس کا ہر روز کا مشغلہ تھا۔ بات فحش کلامی سے بہت آگے جا چکی تھی ۔

روزنامہ انقلاب لاہور کی ۷ ستمبر ۱۹۳۴ء کی اشاعت کے مطابق مسمی پالال نے بے ادبیوں کا یہ کھلم کھلا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ۱۶ مارچ کو جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو مردود مذکور نے نہ صرف نماز کا مضحکہ اڑایا بلکہ سرکار مدینہ ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات بکے۔ شان رسالت مآب ﷺ میں صریحاً گستاخی کی اس قبیح حرکت پر پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ مسلم معززین کے مشورے پر محمد کلیم پیر صاحب نے عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا ۔

مسٹر نیل مجسٹریٹ درجہ اول لاہور نے بڑے تندہی سے اس مقدمے کی موشگافیوں کو پیش نظر رکھا۔ بالآخر فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ مذکور نے اپنے فیصلے میں لکھا میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے واقعی توہین رسالت مآب ﷺ کی ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے اور سخت فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا اس لئے پالال کو چھ ماہ قید اور دو سو روپے جرمانہ کی سزا دی جارہی ہے ۔

صفحہ 128

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

۱۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کے روز نامہ سیاست لاہور میں اس کی تفصیل یوں درج ہے پالامل سنار کے خلاف توہین پیغمبر اسلام ﷺ کے الزام میں مقدمہ چلتا رہا۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف مسٹر بھنڈاری سیشن جج لاہور کی عدالت میں اپیل دائر کر دی یہاں سے اسے تا فیصلہ ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

حب رسول ﷺ میں جان قربان کرنے کے بعد بھی بے قرار

ان دنوں فیروز پور روڈ سے گزرنے والوں نے سنا کہ لاہور چوبرجی کے نزدیک واقع مشہور گورستان میانی صاحب سے غم ناک چیخیں بلند ہورہی ہیں۔ درد کی شدت اور آواز کا کرب مسلسل بڑھتا ہی چلا گیا۔ دل ہلا دینے والی یہ آہیں غازی علم الدین شہید کے مقبرے سے اٹھ رہی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا جیسے آپ کہہ رہے ہوں کہ میں قبر میں تڑپ رہا ہوں.... کون ہے جو میرے لئے سامان تسکین ڈھونڈ لائے۔ راجپال کا ہم ذوق قصور کی شاہراہوں پر دندناتا پھر رہا ہے کیا میرے چاہنے والے مرگئے ہیں، گرمیرا کوئی جواں سال وارث زندہ ہے تو وہ خدا کے لیے تختہ دار پر بزم رقص سجا کر مجھ سے ہم آغوش ہو جائے۔ وہ دیکھو سامنے آقا ومولیٰ ﷺ کوہِ طور کی چوٹیوں پر استقبال کے لیے تشریف فرما ہیں ہے کوئی شہید رسالت جو آپ ﷺ کے بازوؤں میں سمٹ جائے۔

ناموس رسالت پر قربان ہونے کے لئے ماں کا بخوشی اجازت دینا

انہی دنوں کا ذکر ہے ایک رات حافظ غازی محمد صدیق صاحب نیند میں تھے کہ مقدر جاگ اٹھا۔ نصف شب بیت چکی تھی جب آپ کو سرور بنی آدم روح رواں عالم جناب احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی سرکار ﷺ نے فرمایا۔ قصور میں ایک بدنصیب ہندو پے در پے ہماری شان میں گستاخیاں کرتا چلا جارہا ہے جاؤ اور اس ناپاک زبان کو لگام دو۔ قبلہ صدق ووفا فضائل و کمالات رحمتہ للعالمین خاتم النبیین ﷺ کی حرمت وعزت کا یہ جانباز محافظ کئی روز تک شدت غم وغصہ سے پیچ و تاب کھاتا رہا ان کے سینے میں جوش غضب کی چنگاریاں چیخ رہی تھیں ان کے دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا کہ وہ جلد از جلد قصور پہنچ کر اپنے آقا ومولا ﷺ کے دشمن کو جہنم رسید کریں۔

گستاخ رسول کا عبرتناک

۱۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کی بات ہے دریدہ دہن کافر دکھلا کر بتایا گیا ہے کا مزہ چکھاؤ تاکہ آئندہ کوئی شا جارہا ہوں۔ گستاخ موذی ولعین موت میرے ہی ہاتھوں واقع دعا فرمائیں بارگاہ سرکار ﷺ احسن نبھا سکوں۔ ماں نے بخوشی ہوسکتی ہے کہ اس کا بیٹا دین اسلام

عاشق رسول ﷺ

۱۷ ستمبر ۱۹۳۴ء کی شام کا و نیم کے درخت سے ٹیک لگائے رہی تھیں اتنے میں ایک ایسا آپ نے جھٹ اس کی راہ روکی اسے اپنا نام بتانے میں ہوا۔ وہ کہنے لگا مسلمانوں نے غازی موصوف نے اسے پہچا مامور کیا گیا ہے۔

غازی نے فرمایا کہ تھا اسے دہن دریدہ ملیچھ آ

یہ کہہ کر آپ نے ہوگئے۔ حافظ محمد صدیق کے مطابق پورے ساڑ شخص جسے لوگ لالہ پالار

صفحہ 129

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

۱۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کی بات ہے انہوں نے اپنی والدہ ماجدہ سے عرض کی کہ مجھے خواب میں ایک دریدہ دہن کافر دکھلا کر بتایا گیا ہے کہ یہ ناہنجار توہین نبوی ﷺ کا مرتکب ہو رہا ہے اسے گستاخی کا مزہ چکھاؤ تاکہ آئندہ کوئی شاتم اس امر کی جرأت نہ کر سکے میں قصور اپنے ماموں کے پاس جا رہا ہوں۔ گستاخ موذی وہیں کا رہنے والا ہے مجھے بتایا گیا ہے کہ اس گستاخ کی ذلت ناک موت میرے ہی ہاتھوں واقع ہوگی۔ نیز مجھے تختہ دار پر جام شہادت پلایا جائے گا۔ آپ دعا فرمائیں بارگاہ سرکار ﷺ میں میری قربانی منظور ہو اور میں اپنے اس عظیم فرض کو بطریق احسن نبھا سکوں۔ ماں نے بخوشی اجازت دے دی ایک مومنہ کے لیے اس سے بڑھ کر کیا مسرت ہو سکتی ہے کہ اس کا بیٹا دین اسلام کے کام آئے۔

عاشق رسول ﷺ نے گستاخ رسول کو اس کے ناپاک خون میں نہلا دیا

۱۷ ستمبر ۱۹۳۴ء کی شام کا واقعہ ہے حضرت قبلہ غازی صاحب دربار بابا بلھے شاہؒ کے نزدیک نیم کے درخت سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ عقابی نگاہیں آنے جانے والوں کا بغور جائزہ لے رہی تھیں اتنے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیا جس نے چہرے پر کسی حد تک نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ آپ نے جھٹ اس کی راہ روکی اور پوچھا تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ یہاں کیا کرتا ہے؟ اسے اپنا نام بتانے میں تامل تھا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی آپ کو تنہا دیکھ کر اسے بھی حوصلہ ہوا۔ وہ کہنے لگا مسلمانوں نے پہلے میرا کیا بگاڑ لیا ہے اور اب کون سی قیامت آجائے گی۔ الغرض غازی موصوف نے اسے پہچان لیا کہ یہی وہ گستاخ رسول ﷺ ہے جسے ٹھکانے لگانے پر اسے مامور کیا گیا ہے۔

غازی نے فرمایا کہ میں تاجدار مدینہ ﷺ کا غلام ہوں۔ کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا اے دہن دریدہ ملیچھ آج تو کسی طرح بھی ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا۔ یہ کہہ کر آپ نے تہبند سے رامپی (چمڑا کاٹنے کا اوزار) نکالی اور للکارتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو گئے۔ حافظ محمد صدیق متواتر وار کئے جا رہے تھے اور زور زور سے نعرہ تکبیر لگا رہے تھے۔ واقعات کے مطابق پورے ساڑھے سات بجے بارگاہ رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والا یہ خناس شخص جسے لوگ لالہ پالامل سنار کے نام سے جانتے تھے اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا۔

(ایضاً ص ۲۵۶۶)

صفحہ 130

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ملعون کا جسم چاقو سے چھلنی کر دیا

مقتول مردود کے واویلا اور آپ کے نعرہ ہائے تکبیر سے بڑی تعداد میں لوگ اس جانب متوجہ ہو چکے تھے عینی شاہدوں کا بیان ہے کہ غازی اس وقت تک ملعون ساہوکار کی چھاتی سے نہیں اتر ے جب تک موت کا پختہ یقین نہیں ہو گیا۔ غازی کا لباس ناپاک خون کے چھینٹوں سے آلودہ ہو چکا تھا۔ ارد گرد بھی گندے لہو کے داغ ہی داغ تھے۔ مقتول کا چہرہ نہ صرف بری طرح مسخ ہوا بلکہ ہیبت ناک شکل اختیار کر گیا تھا یہاں تک کہ ڈر کے مارے کوئی قریب نہ پھٹکتا تھا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس کے جسم پر چالیس زخموں کے واضح نشان تھے۔ موقع پر موجود افسروں کا بیان ہے کہ اگر غازی صاحب فرار ہونا چاہتے تو با آسانی ایسا کر سکتے تھے مگر انہوں نے اپنے فرض سے فارغ ہو جانے کے بعد دوگانہ نماز شکرانہ ادا کی اور قریبی مسجد کی سیڑھیوں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے اور وقفے وقفے سے زیر لب مسکراتے اور گنگناتے رہے اس وقت تمام ہندوؤں کے چہرے اترے اترے تھے مگر غازی صاحب نہایت مطمئن اور سرشار نظر آ رہے تھے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کی یہ ادا مسلمانوں کی سربلندی اور غیرت مند فطرت کا منہ بولتا ثبوت تھی۔

عصمت رسول پر جان دینا بھی اعزاز ہے

۲۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کو روزنامہ سیاست کے پرچہ میں ایک خبر ان الفاظ میں شائع ہوئی: قصور ضلع لاہور ۱۷ ستمبر گزشتہ شب گیارہ بجے کے قریب قصور سے یہ اطلاع موصول ہوئی کہ لالہ پالامل ساہوکار کو شام ساڑھے سات بجے قتل کر دیا گیا ہے۔ اس قتل کے سلسلے میں ایک مسلمان محمد صدیق کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پالامل کے خلاف توہین اسلام کے الزام میں مقدمہ چلتا رہا۔ مسٹر نیل مجسٹریٹ لاہور نے پالامل کو چھ ماہ قید اور ۲۰۰ روپے جرمانے کی سزا دی اس فیصلے کے خلاف اس نے مسٹر بھنڈاری سیشن جج لاہور میں اپیل دائر کی تھی اس کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ قتل بلھے شاہ کی خانقاہ میں ہوا اور قتل کے الزام میں محمد صدیق کو گرفتار کر لیا گیا ہے پولیس بڑی تندہی سے تفتیش کر رہی ہے۔

جب حضرت غازی صاحب سے پوچھا گیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا۔

صفحہ 131

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

بلاشبہ پالامل کو میں نے قتل کیا ہے کیونکہ اس ملعون نے رسول کریم ﷺ کی توہین کی تھی وہ دیدہ دانستہ اس جرم کا مرتکب ہوا۔ اسے راجپال اور غازی علم الدین شہید کے واقعہ کا بھی بخوبی علم تھا۔ اس نے سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے خود کو سزا کے لیے پیش کیا اگر اس واقعہ اور شان رسالت میں گستاخی پر بیس سال بھی گزر جاتے تب بھی اسے ضرور بالضرور واصل جہنم کرتا۔ ہمارے مذہب کے مطابق وہ ہرگز مسلمان نہیں بلکہ کوئی منافق ہے جو نبی پاک ﷺ کی توہین سن کر خاموش رہے اور عصمت رسول ﷺ پر جان قربان نہ کرے کسی اور شخص کی ذات کا مسئلہ ہو تو برأت ہو سکتی ہے دنیوی امور میں کسی بھی فرد کی شان میں بکواس پر چپ رہا جا سکتا ہے لیکن سرکار مدینہ ﷺ کے مقام و مرتبہ پر ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف غیظ و غضب، جوش ولولہ اور غصہ کسی حالت میں بھی کم نہیں ہو سکتا۔ میں نے جو کچھ کیا خوب غور وفکر کے بعد اور غیرت دینی کے سبب اپنے رسول ﷺ کی شان کو برقرار رکھنے کے لیے کیا ہے۔ اس پر مجھے قطعاً تاسف یا ندامت نہیں بلکہ میں اپنے اس اقدام پر بہت خوش اور نازاں ہوں عدالت زیادہ سے زیادہ جو سزا دے سکتی ہے جب چاہے دے دے مجھے قطعاً حزن و ملال نہ ہوگا۔ مگر جب تک ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ کی حرمت اور تقدس کے تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی کوئی نہ کوئی سرفروش نوجوان چراغ محبت جلاتا رہے گا یہ تو ایک جان ہے اس کی بات ہی کیا ہے؟ میں تو آپ ﷺ کی خاک قدم پر پوری کائنات بھی نچھاور کر ڈالونگا میرا عقیدہ ایمان اور عشق یہی وجدان یہی کہتا ہے کہ گویا ابھی حق غلامی ادا نہیں ہوسکا۔

سیشن کورٹ میں حافظ غازی محمد صدیق کے مقدمہ کی سماعت چھ دسمبر ۱۹۳۴ء کو سنٹرل جیل لاہور میں مسٹر نیل کے روبرو شروع ہوئی۔ استغاثہ کی طرف سے خان قلندر علی خان پبلک پراسیکیوٹر اور صفائی کے لیے میاں عبدالعزیز صاحب بیرسٹر اور شیخ خالد لطیف گابا ایڈووکیٹ پیروکار تھے۔

وکیل صفائی میاں عبدالعزیز صاحب بیرسٹر نے اپنی طرف سے بڑے مدلل اور جامع قانونی نکات فاضل جج کے سامنے بیان کئے انہوں نے اپنی طویل بحث کے دوران کہا:

”میرا مسئلہ یہ ہے کہ ملزم کو مقتول سے کوئی ذاتی عداوت نہ تھی اگر اس نے یہ فعل کیا ہے تو وہ مذہبی عقیدہ کے تحت کیا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان ملزم کا بیان کہ میں اسلامی روایات کے مطابق رسول کریم ﷺ

صفحہ 132

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کی تعظیم وتکریم خدا کے بعد دوسرے درجے پر ہے۔ پکے اور سچے مسلمان وہ ہیں جو اپنے آقا ومولیٰ ﷺ کی شان برقرار رکھنے کے لیے اپنی جانیں دیوانہ وار فدا کرتے ہیں محمد صدیق کے دل میں بھی اٹھارہ ماہ سے یہی جذبہ موجزن تھا اور اس نے جذبہ ایمان سے سرشار ہو کر محمد رسول اللہ ﷺ کی تعظیم وتکریم پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا..... لہٰذا بہت سے گزشتہ ایسے واقعات کی مثالیں موجود ہیں جن کے حوالے سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ حبس دوام کی سزادی جائے۔“

غازی کی والدہ کا آپ ﷺ سے محبت کا والہانہ انداز

سیشن کورٹ میں فیصلے کے دن حضرت قبلہ حافظ صاحب کی والدہ نے اپنے جواں سال بیٹے کی پیشانی چومتے ہوئے نہایت حوصلے کے ساتھ فرمایا میں خوش ہوں جس رسول ﷺ کی شان کے تحفظ کے لیے تم قربان گاہ پر جا رہے ہو اس محبوب سرکار ﷺ کی شان قائم رکھنے کے لیے مجھے تم جیسے بیس بیٹوں کی قربانی دینا پڑے تو رب کعبہ کی قسم کبھی دریغ نہ کروں۔

روزنامہ انقلاب لاہور اور دیگر معاصر مسلم اخبارات میں غازی صاحب کی والدہ کے اس جرأت مندانہ بیان کے علاوہ غازی موصوف کے بارے میں یہ بھی درج ہے کہ آپ نے ایمان پرور الفاظ کو سنتے ہی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا اور والدہ موصوفہ سے اپنے گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں نے پلامل کو قتل کر کے اپنے نبی ﷺ کی شان قائم رکھنے کے لیے جو قربانی پیش کی ہے اس کی خاطر اگر مجھے ہزار مرتبہ بھی جینا یا مرنا پڑے تو تب بھی ہر دفعہ ناموس رسالت پر پروانہ وار فدا ہوتا رہوں گا اور اسے صدق دل سے اپنا فرض عین سمجھتا رہوں گا۔

سیشن کورٹ میں غازی محمد صدیق کے لیے سزائے موت کا حکم سنایا گیا زندہ دلان قصور نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں اپیل کر دی۔

عدالت عالیہ میں ۳۱ جنوری ۱۹۳۵ء کو سماعت ہوئی۔ فیصلہ صادر کرنے کے لیے ایک ڈویژنل بینچ تشکیل دیا گیا اس میں چیف جسٹس اور جسٹس عبدالرشید شامل تھے۔ فیصلہ کے طور پر سیشن کورٹ کا حکم بحال ہوا۔

صفحہ 133

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

غازی محمد صدیق کی آخری وصیت

غازی محمد صدیق شہید کی آخری وصیت کہ میری قبر پر کوئی خلاف شرع عمل نہ کیا جائے:

غازی محمد صدیق نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا:

مجھے صرف قرآن اور صاحب قرآن (ﷺ) سے انس ہے۔ آپ بھی ہمیشہ انہی سے لو لگائے رکھیں میری قبر پر کبھی کوئی خلاف شرع عمل نہ کیا جائے اور نہ اس کی اجازت دینا۔ نیز قوالی بھی نہ ہو کہ سلسلہ نقشبندیہ میں اس کی ممانعت ہے۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ خدانخواستہ اگر پھر کبھی کہیں کوئی گستاخ رسول جنم لے تو میرے متعلقین میں سے ایک نہ ایک فرد باطل علامت کو ٹھکانے لگا دے۔

جیل حکام سے روایت ہے کہ تختہ دار پر آپ کی زبان پر آخری الفاظ یہ جاری تھے میرے اللہ تیرا ہزار شکر کہ تو نے اپنے حبیب پاک ﷺ کی عظمت کے تحفظ کے لیے مجھ ناچیز کو کروڑوں مسلمانوں میں سے منتخب فرمایا۔

قربان گاہ میں خون دل کی حدت سے مشعل وفا کو فروزاں رکھنے والے اس خوبرو مجاہد کی عمر اس وقت اکیس سال تھی۔

شہید رسالت کا عظیم منصب عطا ہونے پر غازی محمد صدیق کی والدہ صاحبہ نے دیگر خواتین کو بھی اس موقع پر چیخ و پکار سے سختی سے منع کر رکھا تھا۔ جب کوئی عورت تعزیت کی غرض سے ان کے پاس آتی تو آپ فرماتیں اس واقعہ پر غم و اندوہ کا کیا جواز ہے؟ آپ ﷺ پر قربان ہونا تو خوشی کا مقام ہے۔ جنازہ عید گاہ کے قریب اسلامیہ ہائی اسکول قصور (موجودہ بوائز ڈگری کالج) کے ہال میں رکھا گیا جہاں ان گنت مسلمان پرنم آنکھوں سے شہید کی زیارت سے فیض یاب ہو رہے تھے۔ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے۔

ٹھیک ایک بجے جنازہ اٹھایا گیا اور جلوس کی صورت میں نصف میل کا فاصلہ پورے تین گھنٹے میں طے ہوا۔ نماز جنازہ پریڈ گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ جس میں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی جنازے کو کندھا دینے کے لیے چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ لئے گئے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کو کندھا دے سکیں آپ کے جسد مبارک

صفحہ 134

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام کو قبرستان میں پہنچایا گیا اور فدائی حبیب کبریا ﷺ غازی محمد صدیق شہید کو پورے چھ بجے سپرد خدا جل شانہ اور رسول اللہ ﷺ کر دیا گیا۔

موت کو غافل سمجھتے ہیں اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

(از ایچ ساجد اعوان)

بابا فضل کا عشق رسول ﷺ اور ہندو کے سوال کا جواب

لاہور کے اندرونی علاقہ پرانی کوتوالی میں ایک تاریک و تنگ گلی ہوا کرتی تھی جس کا کوئی ہندوانہ نام تھا جو میری یادگاری کی پکڑ میں نہیں آ رہا۔ ۴۷ء کے ہندو مسلم انسانیت کش فسادات میں آتش زنی کی وارداتوں کے نتیجہ میں روشنی سے محروم یہ گلی ملبے کا ڈھیر بن کر رہ گئی تھی۔ آج کل اس جگہ اعظم کلاتھ مارکیٹ ملکی ترقی اور معاشی اور استحکام کے خوش آئند نغمات سنا رہی ہے۔

اس گلی میں زیادہ تر ہندو گھرانے آباد تھے۔ یہاں چند مسلمانوں کے گھر بھی تھے۔ یہ مسلمان راسخ العقیدہ اور تحریک پاکستان کے دل و جان سے حامی تھے۔ ان کا نعرہ حق ”لے کے رہیں گے پاکستان“ ان بھلے لوگوں کو مقامی ہندوؤں سے اکثر دست و گریبان کی شاہراہ پر کھڑا کر دیا کرتا تھا۔

اس گلی میں ایک فقیر منش سن رسیدہ بزرگ بابا فضلو بھی رہا کرتے تھے۔ بابا فضلو کے چہرے پر پروقار سفید داڑھی نے ان کے چہرے پر نور کی کرنوں سے جلوہ گری کر رکھی تھی۔ بابا جی بے حد عبادت گزار اور پرہیز گار قسم کے بزرگ تھے۔ ان کا روزانہ کا یہ معمول تھا کہ وہ فجر کی نماز سے فارغ ہو کر اپنی گلی کی نکڑ میں ایک چھوٹا سا کپڑا بچھا کر بیٹھ جاتے اور سارا دن قرآن پاک کی مختلف آیات کی تلاوت کرتے رہتے تھے۔ بیچ میں کبھی کبھار سرور کائنات ﷺ کی مدح سرائی کا پاکیزہ عمل بھی شروع کر دیتے تھے۔

جب کبھی نبی پاک ﷺ کا اسم مبارک ان کی زبان پر آتا ان پر ایک ایسی رقت انگیز جلالی کیفیت طاری ہو جاتی جس کی فضیلت کو الفاظ کی مالا میں پرونا کم از کم میرے لئے ناممکن

گستاخ رسول کا عبرت ناک ا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے خدام چھڑ جاتی تھی۔ یہ عقیدت و احتر بن کر ان کے رخساروں پر بکھر کر کر دیا کرتے تھے۔ اپنے نبی پاک نیاز ہو جایا کرتے تھے۔

بابا فضلو میرے خیال میں تھے۔ وہ پیری مریدی کے بکھیڑو ان کے پاس آیا کرتے تھے اور ازالہ کے لئے دعاؤں کے ملتجی بیمار اور لاچار لوگ ان لطف کی بات تو یہ ہے کہ بعض اپنے مال و متاع میں اضافہ کے

ایک دفعہ محلے کے پڑھے وقت تو آپ قابو میں رہتے ہیں پر طاری ہوتی ہے۔ لیکن جب آ زار و قطار رونا شروع کر دیتے کس دنیا میں پہنچ جاتے ہیں؟

بابا جی نے بھرائی ہوئی اور افادیت سمجھ میں نہیں آتے اور کہاں اونچی شانوں والے کائنات ﷺ کے ذکر پاک ہیں۔ یہ چند آنسو ہی تو میری آپ اپنے بت کدہ کے دیوتا آپ کو خود ہی پتہ چل جائے

صفحہ 135

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے مقدس ذکر سے ان کی چمکدار آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی چھڑ جاتی تھی۔ یہ عقیدت و احترام اور خود سپردگی کے جذبات کے ترجمان آنسو تھے جو موتی بن کر ان کے رخساروں پر بکھر کر ان کی سفید داڑھی کے جاہ و جلال کے چراغوں کو مزید روشن کر دیا کرتے تھے۔ اپنے نبی پاک ﷺ کا ذکر کرتے وقت وہ دنیا و مافیہا سے بالکل بے نیاز ہو جایا کرتے تھے۔

بابا فضلو میرے خیال میں اگر بالکل ان پڑھ نہیں تھے تو وہ یقیناً زیادہ پڑھے لکھے بھی نہ تھے۔ وہ پیری مریدی کے بکھیڑوں سے بھی بالکل آزاد تھے۔ اس کے باوجود لوگ دور دور سے ان کے پاس آیا کرتے تھے اور وہ اللہ کے اس نیک بندے سے اپنی مشکلات اور کلفتوں کے ازالہ کے لئے دعاؤں کے متمنی تھے۔

بیمار اور لاچار لوگ ان سے دم کروانے کے لئے ان کے ”ترلے“ کیا کرتے تھے اور لطف کی بات تو یہ ہے کہ بعض ہندو جو خون مسلم کے در پے تھے، بھی بابا کے چرن چھو کر ان سے اپنے مال و متاع میں اضافہ کے لئے ان کی ”آشیر باد“ پر اصرار کیا کرتے تھے۔

ایک دفعہ محلے کے پڑھے لکھے ایک ہندو مہاشے نے بابا سے پوچھا کہ قرآن پاک پڑھتے وقت تو آپ قابو میں رہتے ہیں، نہ آپ کے آنسو نکلتے ہیں، نہ ہی وجد و سرور کی حالت آپ پر طاری ہوتی ہے۔ لیکن جب آپ کی زبان پر محمد ﷺ کا نام آتا ہے تو آپ بچوں کی طرح زار و قطار رونا شروع کر دیتے ہیں اور آپ اپنے اردگرد کے ماحول سے بے نیاز ہو کر نہ جانے کس دنیا میں پہنچ جاتے ہیں؟ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟

بابا جی نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔ ”لالہ جی! آپ کو ان آنسوؤں کی اہمیت اور افادیت سمجھ میں نہیں آئے گی۔ یہ تو میری خوش نصیبی کے آنسو ہیں۔ کہاں میں ایک کمتر بندہ اور کہاں اونچی شانوں والے آقائے نامدار۔ یہ میری خوش نصیبی ہی تو ہے کہ مجھ گنہگار کو بھی محسن کائنات ﷺ کے ذکر پاک کی سعادت حاصل ہوتی رہتی ہے۔ یہ خوشی اور ممنونیت کے آنسو ہیں۔ یہ چند آنسو ہی تو میری کل پونجی ہیں اور میں اپنی اس پونجی پر کیونکر نازاں نہ ہوں۔ لالہ جی آپ اپنے بت کدہ کے دروازے سے باہر نکل کر ہمارے نبی ﷺ سے لو لگانے کا گر سیکھو تو آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ عشق رسول ﷺ کی معراج کیا ہوتی ہے؟۔

صفحہ 136

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ایک ہندو کا نام محمد ﷺ کا مذاق اڑانا

لیکن لوگ اسے شیدا گاڑی کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ وہ بیل گاڑی (گڈا) چلایا کرتا تھا۔ چنانچہ اس کا ذریعہ معاش اس کے نام کا حصہ بن گیا تھا۔

اس کے شخصی کردار کے چند خوشنما پہلو بھی تھے۔ وہ خود کسی خاتون کو قطعا تنگ کرتا تھا اور نہ ہی کسی کو بھی عورتوں سے بدتمیزی کی اجازت دیتا تھا۔ عورتوں کی عزت کرنا اس کی بہت بڑی خوبی تھی۔ ویسے بھی وہ زمانہ شرافت کا زمانہ تھا اور جس قسم کی بے حیائی اور راہ چلتی لڑکیوں کی تذلیل کے روح فرسا مناظر جو آج ہمارے ہاں دیکھنے میں آتے ہیں اس دور میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اور حق بات یہ ہے کہ شیدے جیسے لوگ بھی عوتوں کی چادر اور چاردیواری کے رضا کار اور چوکیدار ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی شیدے میں چند اور انفرادی خوبیاں بھی تھیں۔

ایک دن ہم تین چار دوست اس گلی میں سے گزر رہے تھے۔ ہم سب چھوٹی عمر کے لڑکے تھے۔ ہمارے پاس ربڑ کی ایک چھوٹی سی گیند تھی جو ہم ایک دوسرے کی طرف پھینک کر اسے کیچ کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ اس گلی کے عین وسط میں ایک چھوٹا سا مندر تھا جس میں رکھے ہوئے رنگ برنگے بت ہندوؤں کے ''خدا'' کا گمراہ کن پروپیگنڈہ کر رہے تھے۔ جب ہم مندر کے بدبودار دروازے کے سامنے سے گزر رہے تھے تو ایک لڑکے نے گیند میری طرف اچھالی، لیکن میں اسے کیچ نہ کر سکا اور گیند حادثاتی طور پر مندر سے باہر نکلتے ہوئے نیم عریاں پجاری کو جا لگی۔ اس کے ہاتھ میں ایک تھالی تھی جس میں کھانے پینے کی چند اشیاء تھیں۔ ان اشیاء کو پرشاد کہا جاتا ہے۔ تھالی کے بیچ میں دو تین مٹی کے دیئے بھی جل رہے تھے۔ گیند لگنے کی وجہ سے پرشاد گلی کی بیچوں بیچ بہنے والی گندی نالی کی پناہ میں چلا گیا اور بھگوان سے ''لو'' لگائے ہوئے دیپ بھی بجھ گئے۔

پجاری کو ہم پر غصہ تو بہت آیا لیکن اپنی روایتی بزدلی کے تناظر میں اسے ہم پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہوئی۔ تاہم اس نے بڑے تضحیک آمیز لہجے میں جس لڑکے نے گیند میری

صفحہ 137

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

طرف پھینکی تھی اپنی انگلی سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”اوئے محمدے! تمہیں شرم نہیں آتی تم نے مجھے پلید کر دیا اور مجھے پھر سے اشنان (غسل) کرنا پڑے گا۔“

یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ جس لڑکے نے گیند پھینکی تھی اس کا نام نذیر محمد جو کہ مسلمان تھا اور وہ اس گلی کا رہنے والا تھا۔ اس حوالے سے پجاری اسے جانتا تھا۔

ہندو کی نام محمد کی گستاخی پر عاشق رسول ﷺ کا ردعمل

حسن اتفاق سے اس وقت شیدا گاڑی بھی وہاں سے گزر رہا تھا اور اس نے پجاری کے منہ سے ”محمدے“ سن لیا تھا۔ شیدا گاڑی سمندر کی سرکش لہروں کی طرح پجاری کی طرف لپکا اور اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، پجاری مہاراج کو اپنے تابڑ توڑ گھونسوں کے نشانے پر رکھ لیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا ”ارے مردود! تمہیں پتہ نہیں یہ نام میرے رسول پاک ﷺ کا نام ہے۔ اسے عقیدت اور محبت سے لیا جاتا ہے۔ تم مردود کو اس پاک نام کو بگاڑنے کی جرات کیسے ہوئی۔ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا۔“

وہ تو خیر گزری کہ پجاری اپنی ڈھیلی دھوتی سنبھالتے ہوئے مندر کے اندر گھس گیا ورنہ شیدے کے ہاتھوں اس کے بولورام کی منزل واقعی قریب آتی دکھائی دے رہی تھی۔

عشق رسول ﷺ میں عبدالرشید کا سر سے خون بہنا

پجاری جی نے اپنی ٹھکائی کا بڑھا چڑھا کر تذکرہ گلی کے جوان ہندوؤں سے کیا اور انہیں بھڑکانے کے لئے کہنے لگا کہ مجھے اس بات کا اتنا دکھ نہیں ہے کہ شیدے نے مجھے خوب مارا پیٹا ہے بلکہ ہم سب کے مر مٹنے کا مقام یہ ہے کہ اس نے ہمارے بھگوان کو بھی گالیاں (یہ سراسر جھوٹی بات تھی) دی ہیں۔

چنانچہ یہ ہندو لونڈے اپنے بھگوان کی فرضی توہین کے غصے سے چنگاری سے شعلہ اندام بن گئے اور وہ سارا دن شیدے کو ڈھونڈتے رہے۔ جب شام ڈھلے وہ واپس آیا تو گھات میں بیٹھے ہوئے ہندو نوجوانوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ اگرچہ شیدے نے بھی بڑی دلیری اور مردانگی سے ان کا خوب مقابلہ کیا لیکن وہ آٹھ دس ہٹے کٹے ہندو سورماؤں کا کہاں تک مقابلہ کر سکتا

صفحہ 138

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

تھا۔ چنانچہ وہ زمین پر گر گیا اور اس کے سر کے تین چار مختلف حصوں سے خوں بہنے لگا۔ چند ایک قطرے زمین پر بکھر گئے اور خون دیکھ کر مارے خوف کے ہندو حملہ آور وہاں سے بھاگ اٹھے۔ شیدے کی گالیاں کافی دیر تک ان کا تعاقب کرتی رہیں۔ شیدا اٹھا اور کپڑے جھاڑ کر اپنے گھر کی طرف چل دیا۔

عشق رسول پر مار کھانے پر عبدالرشید کا مقام اور مرتبہ

ہندو نوجوانوں اور شیدے گاڈی کے درمیان یہ جنگ وجدل بابا فضلو کے بالکل قریب وقوع پذیر ہوئی تھی۔ بابا جی اس وقت مراقبہ کی حالت میں تھے۔ جب وہ یاد الٰہی اور یاد محمد ﷺ کے جنت آفریں عمل سے فارغ ہوئے تو وہ بھاگ کر اس جگہ سجدہ ریز ہو گئے جہاں شیدے کے سر سے بہنے والے خون کے چند قطرے زمین کو سرخ گلاب کی تصویر بنائے ہوئے تھے۔

بابا فضلو جب سجدہ سے اٹھے تو وہ روحانی کیف ومسرت سے پکار اٹھے۔

”اے لوگو! تم جس شیدے کو برا سمجھتے ہو، وہ تو ایک سچا عاشق رسول ﷺ ہے۔ اس نے عشق رسول ﷺ کی راہ میں اپنے مقدس خون کے چند قطروں کا نذرانہ پیش کر کے اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنی بخشش حاصل کر لی ہے۔ شیدا گاڈی چند لمحوں میں میدان پار کر گیا ہے۔ اے لوگو! اپنے بیمار بچوں کو آئندہ کبھی بھی مجھ سے دم مت کروانا۔ اس سے ہی اب اپنے لئے دعائیں کروایا کرو۔ شیدا سب کچھ ہے، میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ رسول پاک ﷺ سے اپنی سچی محبت کے مظاہرے سے وہ اللہ کا پسندیدہ بندہ بن گیا ہے۔“

اس وعظ کے بعد بابا فضلو شیدے کے گھر گئے اور بہ اصرار شیدے کے پاؤں چومنے کی خواہش ظاہر کی۔ لیکن شیدے نے انہیں گلے لگا لیا۔ بابا فضلو نے شیدے کی خوش بختی پر عقیدت کے چند آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ میں تو عشق رسول ﷺ میں صرف آنسو بہا سکتا ہوں۔ لیکن شیدے جیسے آدمی نے تو عشق رسول میں مار کھا کر پکا عاشق ہونے کا ثبوت دے دیا ہے۔

(از سلطان احمد)

صفحہ 139

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

غازی عبدالقیوم کا مختصر تعارف

کر کے گاؤں کے علماء کرام سے پڑھنا شروع کر دیا۔ اکثر قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے۔ اسکول چھوڑ کر قرآن مجید کی تعلیم کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو گئے۔ صوم وصلوٰۃ کی آخری وقت تک پوری پابندی کرتے رہے۔

۱۹۳۲ء میں ان کے والد عبداللہ خان صاحب انتقال کر گئے۔ ان کی چھ بہنیں تھیں جو اچھے گھرانوں میں بیاہی گئیں۔ ایک بھائی جو ان سے بڑے ہیں ان کا نام ہمایوں خان ہے جو محکمہ امداد باہمی میں بحیثیت ہیڈ کلرک، سپرنٹنڈنٹ ملازمت کر کے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

جب ان کی عمر ۲۱-۲۲ سال کی ہوئی تو ۱۹۳۴ء میں ان کی شادی کرادی گئی۔ شادی کے چند ماہ بعد ان کو کراچی جانے کا شوق پیدا ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے حقیقی چچا رحمت اللہ خان وہاں پہلے سے مقیم تھے اور وکٹوریہ میں گاڑیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ چنانچہ یہ کراچی چلے گئے اور اپنے چچا کے ہاں ٹھہرے۔ وہاں بھی ان کا زیادہ تر وقت صدر کی مسجد میں تلاوت قرآن، ذکر اللہ اور نوافل اور عبادات وغیرہ میں گزرتا تھا۔

نتھورام کی تحریک توہین رسالت میں مسلمانوں کا ردعمل

یہ ان دنوں کی بات جب شردھانند کی شدھی تحریک زوروں پر تھی اور بدزبان اور گستاخ ہندو ذات رسالت مآب ﷺ پر رکیک حملے کر رہے تھے۔ ۱۹۳۳ء کے اوائل میں آریہ سماج حیدرآباد (سندھ) کے سیکریٹری نتھورام نے ایک کتابچہ بعنوان ”ہسٹری آف اسلام“ شائع کیا۔ یہ پمفلٹ ”رنگیلا رسول“ اور اس جیسی دیگر کتابوں سے ماخوذ مواد پر مشتمل تھا اور اس میں ناموس رسالت ﷺ پر اسی انداز میں حملے کئے گئے تھے جیسا کہ گزشتہ گیارہ سال سے آریہ سماجی کر رہے تھے۔

اس وقت سندھ صوبہ بمبئی میں شامل تھا۔ لیکن سندھ کے تمام اضلاع میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ مسلمان اکثریت میں ہونے کے باوجود ملازمت، تجارت، تعلیم اور اقتصادی

صفحہ 140

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

شعبوں میں ہندوؤں سے بہت پیچھے تھے۔ تاہم وہ اپنے مذہب پر کسی حملے کو برداشت کرنے کے روادار نہ تھے۔

چنانچہ جونہی نتھورام کا ناپاک کتابچہ بازار میں آیا عبدالمجید سندھی، حاتم علوی اور دوسرے مسلمان لیڈر اٹھ کھڑے ہوئے۔ نتھورام کے خلاف استغاثہ دائر کیا گیا۔ حیدر آباد کی عدالت نے کتابچہ ضبط کر لیا اور ملزم کو ایک سال قید سخت اور جرمانے کی سزا دی۔ یعنی وہی کھیل کھیلا گیا جو راج پال کے مقدمے میں مسلمانوں نے دیکھا تھا۔

نتھورام نے عدالت (ان دنوں جوڈیشل کمشنری کہلاتی تھی ) میں اپیل کر دی۔ ضمانت پر وہ پہلے ہی رہا ہو چکا تھا۔ مارچ ۱۹۳۴ء میں اپیل کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ ہندو اور مسلمان بھاری تعداد میں کارروائی سننے آئے۔ جن میں، میں بھی شامل تھا۔ نتھورام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خوش گپیاں کرتا ہوا آیا اور عدالت میں ڈائس کے قریب ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔

غازی عبدالقیوم کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک مسلم نوجوان عدالت کے کمرے میں داخل ہوا۔ معذرت کرتے ہوئے نتھورام کو تھوڑا سا سرکایا اور پھر اس کے بالکل قریب بیٹھ گیا۔ پونے بارہ بجے کا وقت تھا اور پندرہ منٹ بعد نتھورام کی اپیل کی سماعت شروع ہونے والی تھی۔ میں پہنچا تو بارہ بجنے میں چھ سات منٹ باقی تھے۔ عدالت کے برآمدے میں، میں ایک دوست سے باتیں کرنے لگا۔ اچانک عدالت کے کمرے سے تیز تیز آوازیں آنے لگیں۔ جیسے کوئی نعرے لگا رہا ہو۔ ساتھ ہی بہت سے آدمی باہر کو بھاگے۔

میں لپک کر کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ نتھورام کی آنتیں نکلی پڑی ہیں اور وہ زمین پر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کی گدی سے خون کا فوارہ ابل رہا ہے۔ قریب ہی ایک مسلمان نوجوان ہاتھ میں بڑا سا خون آلود خنجر لئے کھڑا نظر آیا۔

انگریز ججوں میں سے ایک جج جس کا نام اوسان تھا، ڈائس سے اترا۔ مسلم نوجوان پر قہر آلود نگاہ ڈالی اور تحکمانہ انداز میں بولا ۔ ”تو نے اس کو مار ڈالا ؟“

”ہاں ...... اور کیا کرتا؟“ نوجوان نے بڑی بے باکی سے جواب دیا اور پھر کمرے میں

صفحہ 141

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”اگر یہ تمہارے اس بادشاہ کو گالی دیتا تو تم کیا کرتے؟ تم میں غیرت ہوتی تو کیا تم قتل نہ کر ڈالتے؟“ پھر انتہائی حقارت سے نتھورام کی لاش کی طرف انگلی اٹھائے ہوئے بولا ۔ ”اس خنزیر کے بچے نے میرے آقا اور شہنشاہوں کے شہنشاہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی اور اس کی سزا یہی تھی ۔“ پھر بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی نشست پر بیٹھ گیا ۔

اسی اثناء میں ایک سب انسپکٹر ریوالور تانے کمرہٴ عدالت میں داخل ہوا۔ آنکھیں چار ہوتے ہی غازی نے چھری پھینک دی ۔ کھڑا ہو گیا اور بڑی جوشیلی آواز میں کہا: ”ڈریئے نہیں ...... ریوالور ہولسٹر میں رکھ لیں ۔ مجھے جو کچھ کرنا تھا الحمد للہ کر چکا ہوں ۔“

سب انسپکٹر نے ریوالور والا ہاتھ نیچے کر لیا ۔ آگے بڑھ کر غازی کی کلائی پکڑ لی ۔ ساتھ والے کانسٹیبل نے فوراً ہتھکڑی پہنا دی ۔ میرا دل جو نتھو رام کی گندی کتاب سے مجروح ہو چکا تھا اس منظر کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیا ۔ غازی نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔ میں نے اپنا فرض ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔

میں نے غازی کے چچا کو تلاش کیا اور انہیں پیشکش کی کہ میں اس مقدمے کی پیروی مفت کروں گا ۔ انہوں نے تشکر آمیز الفاظ کے ساتھ میری پیشکش قبول کر لی ۔ دوسرے روز میں غازی کے قانونی مشیر کی حیثیت سے ان سے ملاقات کرنے جیل میں گیا ۔

اس سے پہلے بھی میں نے جیل میں قتل کے ملزموں سے ضابطے کی ملاقاتیں کی تھیں اور ان کی صورتیں مجھے یاد تھیں ۔ مگر جو اطمینان اور سکون غازی عبدالقیوم کے چہرے سے ہویدا تھا وہ کسی اور چہرے پر نظر نہ آیا ۔ جب میں نے بتایا کہ میں آپ کا مقدمہ لڑوں گا تو مرد مجاہد پکار اٹھا: ”آپ جو چاہیں کریں، مگر مجھ سے انکار قتل نہ کرائیں۔ اس سے میرے جذبہ جہاد کو ٹھیس پہنچے گی ۔“

صفحہ 142

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں نے نوجوان غازی کو تسلی دی اور کہا۔ بے شک آپ اقرار کریں اور میں اس اقبال کے ذریعے انشاء اللہ آپ کو پھانسی سے اتار لوں گا۔ مگر میری اس تسلی پر انہوں نے خوشی کا اظہار نہ کیا۔ میں نے دو چار باتیں کیں اور ایک کاغذ پر دستخط کرا کے لوٹ آیا۔

محافظ ختم نبوت عدالت کے کٹہرے میں

ہندو پیروکاری کی بوالعجبی ملاحظہ ہو کہ اینگلو انڈین قانون کا ضابطہ اپنی مخصوص اور روایتی چال کے بجائے اتنی تیزی سے حرکت میں آیا کہ مہینوں کا کام گھنٹوں میں طے ہونے لگا۔ پہلی رپورٹ کے بعد تفتیش چالان وغیرہ سب کچھ دو دن میں ہو گیا اور مقدمہ قتل عمد سماعت کے لئے ابتدائی عدالت میں پہنچ گیا۔

جب میں نے گواہان صفائی کی فہرست پیش کی تو اسے پڑھ کر مجسٹریٹ بہادر چونک اٹھے۔ میں نے دوسرے گواہوں کے علاوہ مولانا ظفر علی خان، خواجہ حسن نظامی، علامہ اقبال، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا شوکت علی، مفتی کفایت اللہ کے علاوہ دیو بند اور فرنگی محل کے متعدد مقتدر علماء کو طلب کیا تھا۔

عدالت نے اعتراض کیا کہ یہ گواہ مقدمے سے غیر متعلق ہیں اس لئے نہیں بلائے جاسکتے۔ میں نے جواب دیا کہ جس جذبے کے تحت استغاثہ عبدالقیوم کو قاتل قرار دیتا ہے اس جذبے کی نفسیاتی ترجمانی یہی حضرات کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے میری یہ دلیل جج کے فہم سے بالاتر تھی۔ چنانچہ اس نے میری درخواست خارج کر دی۔

میں نے فوراً جوڈیشل کمشنری کراچی میں اپیل دائر کر دی۔ جس کے دو جج اوسیلوین اور فیرس وقوعہ کے چشم دید گواہ تھے۔ اپیل دائر کرنے کے ساتھ ساتھ میں نے ان دو ججوں کے اختیار سماعت پر قانونی اعتراض کر دیا۔ کراچی جوڈیشل میں اس وقت چار جج تھے۔ دو چھوٹے اور دو بڑے۔ ان میں سے تین اس درخواست کی سماعت کے اہل نہ تھے۔ چوتھے سیشن جج تھے۔

چنانچہ عدالت عالیہ کے ججوں نے ایک جج مسٹر لوبو (Lobo) کو طلب کر کے بینچ ترتیب دیا۔ اپیل کی سماعت شروع ہوئی اور اس نے بھی یہی فیصلہ دیا کہ ان غیر متعلق گواہوں کو بلانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ گویا اپیل خارج ہو گئی۔ دو تین روز بعد مقدمہ سیشن جج کراچی کی

صفحہ 143

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

عدالت میں آ گیا۔ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظر عدالت نے اسے ”جیوری ٹرائل“ قرار دیا۔ جیوری 9 افراد پر مشتمل تھی جس میں چھ انگریز، ایک پارسی اور دو عیسائی تھے۔ یہ سب کے سب اچھی شہرت، معقول سمجھ بوجھ کے مالک اور باعزت شہری تھے۔

قتل کے عام مقدموں کے برعکس اس مقدمے کا کام بہت سیدھا سادا اور مختصر تھا۔ صفائی کا تو کوئی گواہ تھا ہی نہیں۔ سارا دار و مدار قانونی بحث پر تھا۔ ثبوت میں اول تو خود عدالت عالیہ کے دو انگریز جج تھے۔ دوسرے غازی عبدالقیوم نے اپنے اقبالی بیان میں تسلیم کر لیا تھا کہ میں نے جوتا مارکیٹ کی مسجد میں پیش امام کی زبانی نتھو رام کے فحش پمفلٹ کے مندرجات سنے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کل اس کی اپیل کی سماعت کے لئے عدالت میں پیشی ہو رہی ہے۔ چنانچہ اگلے روز میں نے اپنا کاروبار چھوڑا۔ بازار سے ایک خنجر خریدا، اسے تیز کرایا اور سماعت سے پہلے عدالت میں پہنچ گیا۔ ایک نامعلوم شخص کے ذریعے نتھو رام کو شناخت کیا اور پھر اس کے قریب ہی جا بیٹھا۔

میں نے اسے دیکھا۔ یکایک میرے سینے میں غیظ و غضب کا طوفان امڈ آیا۔ میں آپے سے باہر ہو کر اپنی نشست گاہ سے اٹھا اور شلوار کے نیفے میں چھپا ہوا خنجر نکالا اور چشم زدن میں نتھو رام کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ اس کی آنتیں نکل آئیں اور وہ منہ کے بل گر پڑا۔ دوسرا وار اس کی گدی پر کیا اور یہ ضرب پہلی سے زیادہ کاری ثابت ہوئی۔ خون کا فوارہ پھوٹ نکلا اور چند ہی منٹ میں اس کا قصہ تمام ہو گیا۔

اس اقبالی بیان کی تائید میں ضابطے کے بیانات ہوئے اور استغاثے کے چشم دید گواہ (عدالت کے دو جج) پیش ہوئے۔ جہاں تک واقعاتی پہلو کا تعلق تھا، بچاؤ کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ بس جذبے اور ارادے والی بات رہ جاتی تھی۔ مگر غازی موصوف کے اقبالی بیان سے صاف ظاہر تھا کہ اس نے یہ اقدام ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچ کر کیا تھا۔ اس میں فوری اشتعال اور فوری رد عمل کا کوئی ہاتھ نہ تھا۔ تاہم میں نے کیس کو تقریباً انہی خطوط پر تیار کیا اور قانون سے زیادہ نفسیات انسانی اور تاریخ سے بحث کی۔ جیوری اور جج کے سامنے میں نے جو بحث کی وہ شاید برطانوی ہند میں اپنی نوعیت کی واحد اور منفرد بحث تھی۔

صفحہ 144

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

غازی کو بچانے کے لیے وکیل صفائی کی انوکھی بحث

جس روز بحث ہونا تھی، میں قانونی پلندوں کے بجائے قرآن کریم کا نسخہ لے کر عدالت میں پیش ہوا۔ جج اور جیوری میرے ہاتھ میں قرآن پاک کا نسخہ دیکھ کر متحیر رہ گئے۔ عام وکلاء سے ذرا پیچھے ہٹ کر میں نے بلند آواز میں بحث کا آغاز کیا اور کہا:

حضور والا و معزز صاحبان جیوری! مجھے مقدمے کے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں کہنا، کیونکہ جہاں تک وقوعے کا تعلق ہے وہ ثابت ہو چکا ہے۔ مجھے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ میرا یہ اقدام اس قانون پر مبنی تھا اور یہ آئین جو آج چین کی سرحد سے لے کر مراکش تک جاری و ساری ہے جسے کئی حکومتیں اپنے پینل کوڈ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، ہماری تہذیب اور ہمارے کلچر کی بنیاد ہے۔

میں جانتا ہوں کہ اس کوڈ سے انکار کر کے اس کے تقدس کو ٹھیس پہنچے گی لہذا میں اسے کھول کر نہیں دکھاؤں گا۔ لیکن مجھے جو کچھ کہنا ہے اسی کے سہارے کہوں گا۔ اس میں بار بار مذہبی پیشواؤں کو برا کہنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا حادثہ نہیں ہے۔ گزشتہ چند سال میں ایسی متعدد وارداتیں ہوچکی ہیں۔ خصوصاً دلی اور لاہور میں بالکل اسی نوعیت کے دو قتل ہو چکے ہیں۔

حضور والا صاحبان جیوری! ہر شخص جانتا ہے کہ فطرت انسانی دوسرے کی بد زبانی برداشت نہیں کرسکتی۔ اس سے نفسیاتی طور پر جواب اور انتقام کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان اپنی استطاعت کے مطابق زبان، قلم یا ڈنڈے سے کام لے کر اپنی انا کی تسکین کرتا ہے۔ اگر گزشتہ واقعات کے فوراً بعد اس قسم کی حرکتوں کے انسداد کے لئے قانون کوئی مؤثر کارروائی کرتا تو نتھو رام کی واردات قتل ہرگز نہ ہو پاتی۔

مسلمان ایک عرصے سے ہندو اکثریت اور برطانوی حکومت کو سمجھا رہا ہے کہ حضرت محمد ﷺ اس کے جذبات وحسیات اور حیات کی شہ رگ ہیں۔ آپ ﷺ کے معاملے میں وہ اتنا ذکی الحس واقع ہوا ہے کہ معمولی سی معمولی گستاخی پر بھی اپنا دماغی توازن کھو بیٹھتا ہے۔

گستاخ رسول کا عبرت ناک ا

دوسرے کی جان تو ایک طرف وہ لیکن نہ ہندو اکثریت نے جوں رینگی۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ ماہر ن اگر اس مسئلہ کی طرف توجہ نہ دی انہیں نہ ہندو اکثریت روک سکے

ناموس ر

جج میری تقریر پر بہت جز تھی۔ مگر میرے پاس بھی اپ "عہد کی پاسداری" کے الفاظ "تم اپنے فہم وتدبر او سے اس کی توقع نہ تھی مجھے وکیل کی حجت کے "حضور والا! یوں پر چار اگست ۱۹۱۴ء ملک کے خلاف اعلا سے بڑے رکن کی خلاف ورزی کے لاکھوں عورتوں ہو گیا۔ میں نے جکڑے ہوئے گھاؤ سے ڈر کر "ناموس محمد ﷺ پس میری عرض صرف

صفحہ 145

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام دوسرے کی جان تو ایک طرف وہ خود اپنی جان کی کوئی قیمت نہیں سمجھتا۔ لیکن نہ ہندو اکثریت نے اس طرف دھیان دیا او نہ برطانوی حکومت کے کانوں پر جوں رینگی۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ ماہر نفسیات ہونے کی حیثیت سے میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس مسئلہ کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ایسے ہولناک واقعات آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ انہیں نہ ہندو اکثریت روک سکے گی اور نہ تعزیرات ہند کی کوئی دفعہ۔

ناموس نبوت پر ہر مسلم کا جذبہ قربانی

جج میری تقریر پر بہت جزبز ہوا۔ شاید یہ منطقی بحث اس کے مزاج کے لئے قابل قبول نہ تھی۔ مگر میرے پاس بھی اپنے دفاع کو مستحکم کرنے کے لئے کوئی اور دلیل نہ تھی۔ اس نے ”عہد کی پاسداری“ کے الفاظ دہرائے اور بڑبڑاتے ہوئے کہا: ”تم اپنے فہم و تدبر اور سطح سے نیچی بات کر رہے ہو۔ تمہارے جیسے بیرسٹر سے اس کی توقع نہ تھی۔“

مجھے وکیل کی جبلت کے برعکس تاؤ آ گیا۔ میں نے پینترا بدلا اور کہا: ”حضور والا! یوں سمجھ لیجئے کہ کچھ اس قسم کے عہد کی پاسداری نہ کرنے پر چار اگست ۱۹۱۴ء کو ہمارے شہنشاہ جارج پنجم نے ایک چھوٹے سے ملک کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ عظیم برطانیہ کو اس جنگ میں سب سے بڑے رکن کی صورت میں شامل ہونا پڑا۔ ایک چھوٹے سے عہد کی خلاف ورزی کے نتیجے میں وہ خونریزی ہوئی کہ لاکھوں بچے یتیم ہو گئے، لاکھوں عورتوں کے سہاگ لٹ گئے اور دنیا کا جغرافیہ کچھ کا کچھ ہو گیا۔ میں نے جس عہد کا ذکر کیا اس میں آج پچاس کروڑ مسلمان جکڑے ہوئے ہیں جو کسی قانونی دفعہ، پھانسی کے پھندے یا تلوار کے گھاؤ سے ڈر کر اس عہد سے روگردانی نہیں کر سکتے۔ لہذا جہاں تک ”ناموس محمد ﷺ“ کا سوال ہے ہر مسلمان عبدالقیوم ہے۔“

پس میری عرض صرف یہ ہے کہ ایک ایسے معصوم انسان کو جو ذہنی اور تربیتی طور پر بلائنڈ

صفحہ 146

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

فیتھ کی رسی میں جکڑا ہوا ہے جو ایک ان پڑھ دیہاتی نوجوان ہے اور اپنی افتاد طبع کے مطابق فوری اشتعال کے تحت اس فعل کا مرتکب ہوا ہے جس کو آج بھی وہ اپنا فرض عین سمجھ رہا ہے، اسے کسی سزا کا مستوجب نہیں ہونا چاہئے اور اگر عدالت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کر گیا ہے تو اسے تھوڑی بہت قید بامشقت سے زیادہ کوئی سزا نہیں دی جانی چاہئے۔ آپ کی عدالت جنسی رقابت کے معاملے میں رقیب کو دن دیہاڑے قتل کرنے والے اقبالی مجرم کو بری کر سکتی ہے اور اراضی کے قبضے اور بے دخلی کے سلسلے میں مالک کو ہلاک کرنے والے مزارع کے لئے صرف چھ سال کی سزا کافی سمجھتی ہے تو عبدالقیوم کے معاملے میں کیوں نرمی سے کام نہیں لے سکتی؟

عاشق رسول ﷺ کو پھانسی کی سزا

بیرسٹر صاحب بحث کی تفصیل سناتے سناتے سانس لینے کے لئے رکے۔ چند لمحے بعد میں نے پوچھا۔ پھر کیا ہوا بیرسٹر صاحب؟

بیرسٹر صاحب نے ایک جھرجھری لی۔ چائے کا ایک گھونٹ بھرا اور بولے۔

عدالت نے بحث کے بعد اسی دن فیصلے کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ مقررہ تاریخ پر دفتری اوقات شروع ہونے سے پہلے ہی ہندو اور مسلمانوں کے ہجوم عدالت کے باہر جمع ہوگئے۔ کراچی کے علاوہ حیدر آباد، ٹھٹھہ، نواب شاہ، بہاولپور اور پنجاب تک سے لوگ کشاں کشاں آئے تھے۔ نظم و نسق کے لئے پولیس کی بھاری تعداد موجود تھی مشہور ہندو لیڈر، وکیل اور صحافی آئے ہوئے تھے۔ مسلم اکابرین میں سے متعدد اصحاب تشریف لائے تھے۔

ہندو اور مسلمان امید و بیم میں تھے۔ البتہ جن مسلم اصحاب کو خفیہ ذرائع سے یہ معلوم ہو گیا تھا کہ جیوری کی اکثریت سزائے موت کے بجائے حبس دوام کے حق میں ہے۔ وہ اسی کو غنیمت جان کر قدرے مطمئن تھے۔ میں وکیلوں کی صف میں ایک کرسی پر بیٹھا یہ سب نقشہ دیکھ رہا تھا۔ اضطراب اور بے چینی کی کیفیت طاری تھی۔ اچانک ڈائس پر جج نمودار ہوا۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔

میں نے قبل ازیں قتل کے کئی مقدمات کی پیروی کی تھی جن میں سے بعض کو پھانسی ہوئی،

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

بعض رہا ہوئے۔ مگر دل کی یہ کیفیت رہی۔ پھر جج کے اشارے پر پیش کا بیڑیاں پہنے سر اٹھائے سنگین بردار مجاہ پھر ایک مہیب سناٹا چھا گیا۔ جج نے اپ اس نے ایک کاغذ کی طرف اشارہ کیا ”عبدالقیوم خان تمہیں س

سزائے موت کے ف

غازی عبدالقیوم کے منہ سے ا سنبھلا اور تن کر کھڑا ہو گیا۔ دیکھنے و ہو۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک کے لب ہلے۔ حاضرین نے سنا وہ ک

”جج صاحب میں اللہ مستحق سمجھا۔ یہ ایک جان بھی ایک ایک کرکے ا کر دیتا۔ اللہ اکبر۔“

یہ نعرہ مستانہ اس زور سے گو نے بھی سنی۔ وہ سمجھے کہ عبدالقیوم ب

ہاں بیرسٹر صاحب، پھر کیا ہ

آگے کا المیہ بڑا ہی دردناک ہوئے جیل چلا گیا اور مجھے تو (Misconduct) کا نوٹس دے الزام تھا۔ میں نے دوسری عدا کی جہالت پر مہر ثبت کی۔

صفحہ 147

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

بعض رہا ہوئے۔ مگر دل کی یہ کیفیت پہلے نہ تھی۔ تقریباً دو منٹ موت کی سی خاموشی طاری رہی۔ پھر جج کے اشارے پر پیش کار نے چپڑاسی سے کہا کہ ملزم حاضر کیا جائے۔ غازی بیڑیاں پہنے سر اٹھائے سنگین بردار محافظوں کے حلقے میں عدالت کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوا۔ پھر ایک مہیب سناٹا چھا گیا۔ جج نے اپیل فائل الٹ پلٹ کر دیکھی اور ریڈر سے کچھ سرگوشی کی۔ اس نے ایک کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔ جج نے وہی کاغذ اٹھایا اور دھیمی آواز میں پڑھ کر سنایا۔ ”عبدالقیوم خان تمہیں موت کی سزا دی جاتی ہے۔“

سزائے موت کے فیصلے پر غازی کا جرأت مندانہ اقدام

غازی عبدالقیوم کے منہ سے ذرا تھرتھرائی ہوئی آواز میں بے ساختہ نکلا الحمد للہ۔ پھر کچھ سنبھلا اور تن کر کھڑا ہو گیا۔ دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوا جیسے اس کا قد ایک فٹ اونچا ہو گیا ہو۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھر آئی۔ جس میں بے پایاں مسرت ملی ہوئی تھی۔ اس کے لب ہلے۔ حاضرین نے سنا وہ کہہ رہا تھا:

”جج صاحب میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اس سزا کا مستحق سمجھا۔ یہ ایک جان کیا چیز ہے میرے پاس لاکھ جانیں ہوتیں تو وہ بھی ایک ایک کر کے اسی طرح نبی کریم ﷺ کے نام پر قربان کر دیتا۔ اللہ اکبر۔“

یہ نعرہ مستانہ اس زور سے گونجا کہ اس کی گونج عدالت، گیلری، برآمدے اور باہر والوں نے بھی سنی۔ وہ سمجھے کہ عبدالقیوم بری ہو گیا۔ بیرسٹر صاحب رک گئے۔

ہاں بیرسٹر صاحب، پھر کیا ہوا؟ میں نے پوچھا۔

آگے کا المیہ بڑا ہی دردناک اور سنگین ہے۔ عبدالقیوم تو حکم سن کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے جیل چلا گیا اور مجھے حکومت نے پروفیشنل مس کنڈکٹ (Professional Misconduct) کا نوٹس دے دیا۔ جس میں حدود قانون سے تجاوز ہو کر بحث کرنے کا الزام تھا۔ میں نے دوسری عدالت میں اس الزام کو غلط اور بے بنیاد ثابت کر کے پہلی عدالت کی جہالت پر مہر ثبت کی۔

صفحہ 148

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

چند روز بعد میں نے اپنے تین رفیقوں حاجی عبدالخالق صاحب، مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولانا عبدالعزیز پر مشتمل وفد اپنے استاد علامہ اقبال کی خدمت میں بھیجا کہ سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے کے لئے وائسرائے تک سفارش پہنچائیں۔ مرحوم نے پنجابی زبان میں جواب دیا کہ اسیں گلاں ای کردے رئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا یعنی ہم باتیں ہی کرتے رہے اور مستریوں کا لڑکا بازی لے گیا۔ میں نے ایک طرف یہ وفد علامہ کے پاس روانہ کیا۔ دوسری طرف گورنر بمبئی کے نام رحم کی عرضداشت بھیج دی۔ اس کا جواب ملا کہ درخواست زیر غور ہے۔ دو ہفتے تک آپ کو نتیجے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

غازی کو بزدل انگریز کا اندھیرے میں پھانسی دینا

گورنر بمبئی کا جواب ملے تیسرا روز تھا کہ صبح کے وقت میں نے اپنے دفتر میں سنا کہ رات عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ میں مولانا عبدالعزیز کو لے کر جیل پہنچا تو پرائیویٹ ذریعہ سے پتہ چلا کہ صبح اذان کے وقت غازی کے لواحقین کو ان کی جائے قیام پر جگا کر بتایا گیا کہ عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ لاش کو پولیس سرکاری گاڑی میں رکھ کر میوہ شاہ قبرستان میں لے گئی ہے، جنازہ تیار ہے، منہ دیکھنا ہے تو جلد چلو۔

ہم لوگ جیل سے قبرستان پہنچے تو معلوم ہوا کہ میت قبر میں اتاری جاچکی تھی کہ مسلمانوں کا جم غفیر وہاں پہنچ گیا اور اس نے مٹی ڈالنے نہ دی۔ ایک جوشیلا قومی کارکن قلندر خان قبر میں کود گیا اور میت کو لحد سے نکالا۔ چار پائی کفن وغیرہ کا بندوبست پہلے سے ہو چکا تھا۔ فوراً لاش کو کفنایا اور جنازہ لے کر روانہ ہوگئے۔

غازی کے جنازہ پر گوروں کی اندھا دھند فائرنگ

یہ خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔ کراچی مسلم اکثریت کا شہر تھا اور صبح کا وقت۔ دیکھتے ہی دیکھتے دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے باوجود دس بارہ ہزار مسلمان جمع ہوگئے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے فوراً فوج طلب کر لی۔ ہم اس عرصہ میں راستہ کاٹ کر ہجوم چاکیواڑہ کے قریب

صفحہ 149

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ایک تنگ گلی سے گزر کر جنازے کے قریب پہنچ گئے۔

بے پناہ ہجوم۔ کندھا دینے والوں میں قلندر خان خاصا نمایاں نظر آتا تھا۔ اچانک ہجوم کا ریلا آیا اور پھر برابر والی پتلی گلی سے ”تڑ تڑ .....“ کی آواز گونجی۔ نظر اٹھا کر آگے جائزہ لیا تو قلندر خان کے بدن سے خون کا فوارہ ابلتے دیکھا۔ اس کے باوجود لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ جنازے کو کندھا دیئے جا رہا تھا۔ چند منٹ بعد وہ زخموں سے نڈھال ہو کر گر پڑا۔ نہتے اور پر امن جلوس پر گوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ سینکڑوں مسلمان شہید اور ہزاروں مجروح ہو گئے۔ اندھا دھند فائرنگ کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ مکانوں اور جھونپڑیوں میں بیٹھے بچے، بوڑھے اور عورتیں بھی اس کا نشانہ بن گئیں۔

حالات قدرے پرسکون ہوئے تو میں مولانا عبدالخالق، مولانا عبدالعزیز اور حاتم علوی زخمیوں کی عیادت کے لئے سول ہسپتال گئے۔ سول ہسپتال کے ارد گرد پولیس کی بھاری تعداد اور کچھ فوج بھی موجود تھی۔

ہم کسی نہ کسی طرح شہیدوں اور زخمیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ جہاں تک میری یادداشت کا تعلق ہے میں نے ۱۰۶ لاشیں گنیں اور بعد میں ان کی تعداد ۱۲۰ ہوگئی۔ ہسپتال میں کہرام مچا ہوا تھا۔ لاشیں علیحدہ کی جارہی تھیں۔ تڑپتے، سسکتے، کراہتے اور چیختے ہوئے زخمی الگ...... بڑی تعداد ایسے زخمیوں کی تھی جن کے ہاتھ پاؤں کی ہڈیوں کے ٹکڑے اڑ گئے تھے۔ حادثہ اتنا مہیب تھا کہ بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں تھے۔ پھر صبح کے وقت جب جوانوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے ہاتھ پاؤں کے ٹکڑوں سے بھری ہوئی ایک وین سول ہسپتال سے نکلی تو بے اختیار میری چیخ نکل گئی۔ بلکہ کئی دن تک تو حواس بجا نہ ہوئے۔ کھانا پینا حرام ہو گیا، بے شمار لاشیں ان کے وارثوں نے پولیس میں رپٹ دیئے بغیر چپکے سے دفن کر دیں۔

اتفاق سے ان دنوں دہلی میں مرکزی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا تھا۔ ہم نے وائسرائے کے نام ایک تار دیا۔ کراچی میں ہم نے مسلم ریلیف کمیٹی قائم کی جس کی امداد کے لئے دہلی اور لاہور دونوں نے چندے دیئے۔ ادھر قائد اعظم نے اسمبلی میں آواز بلند کی، پھر تو ہماری آواز برٹش پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی گونجی۔ سر ونسٹن چرچل تک نے اظہار تاسف کیا۔

شمع رسالت ﷺ کے پروانے کی ایمان پرور داستان ختم ہو چکی تھی۔ میں جب بیرسٹر

صفحہ 150

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام صاحب کے ہاں سے رخصت ہوا تو میرے ہاتھ میں ایک تاریخی دستاویز تھی جس کا نام ”عبدالقیوم“ تھا۔ یہ ایک پمفلٹ تھا جو بیرسٹر صاحب نے مجھے دیا تھا:

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

جیل میں غازی کی غیبی مدد دیکھ کر سکھ کا قبول اسلام

رات کا گہرا سناٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف پہرے دار کے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔ ایک سیل میں گہری نیند میں سونے والا قیدی اٹھ بیٹھا۔ اسے پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ ایک ہی مٹکا تھا جس کا پانی پینے اور حاجت کے لئے استعمال کرنا پڑتا تھا۔ قیدی نے مٹکے کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اسے خالی پا کر پہرے دار کو آواز دی۔ سردار جی، پانی پلوا دیں۔

سکھ پہرے دار تلخ لہجے میں گرجا۔ بہت رات ہو چکی ہے، صبح پانی پینا اور بیرک کا راؤنڈ مکمل کرنے کے لئے آگے بڑھ گیا۔ جیسے ہی وہ واپس لوٹا یہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا کہ پیاسے قیدی کے منہ سے ایک پیالہ لگا ہوا ہے اور سفید لباس میں کوئی شخص اسے تھامے پانی پلا رہا ہے۔ سکھ پہرے دار حواس باختہ ہو گیا۔ اس نے شور مچا دیا اور وسل بجانا شروع کر دی۔ جس پر جیل کے پہرے دار اور انتظامی افسران دیکھتے ہی دیکھتے جمع ہو گئے۔ انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ایمرجنسی کی کیا وجہ ہے؟

سکھ گارڈ خوف کی وجہ سے بے حال تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس قیدی کے سیل میں کوئی اور بھی گھس آیا ہے۔ جو قیدی کو پانی پلا رہا ہے۔ باہر سے سب کو سیل میں ایک ہی نوجوان نظر آ رہا تھا۔ اس لئے کسی اور کی موجودگی کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ اطمینان کے لئے سیل کے آہنی گیٹ کا تالا کھول کر اندر کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اندر کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا۔ لیکن تازہ پانی فرش پر گرا ہوا تھا۔

ہر کوئی حیران تھا کہ جب مٹکا خالی تھا اور اس میں قیدی کے پینے کے لئے بھی پانی موجود نہیں تھا تو یہ پانی کہاں سے آیا۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ قیدی بھی اطمینان سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ آخر سیل کا تالا بند کر کے سب چلے گئے۔ مگر سکھ گارڈ کی دنیا بدل چکی تھی بعد میں پتہ چلا کہ کچھ دنوں بعد وہ مسلمان ہو گیا۔

صفحہ 151

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

گستاخ رسول پر عبدالمنان کے ہاتھوں عبرتناک انجام

تھے کہ ناقابل اصلاح مہا سبھائی ذہنیت نے پھر ایک بار انگڑائی لی اور ضلع کیمبل پور جو اب اٹک کے نام سے موسوم ہے کے ایک بدباطن نے شان رسالت مآب ﷺ میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔

ہوا یہ کہ حضرو تھانہ سے تین میل مشرق کی جانب ایک گاؤں برہ زئی میں آلو پیاز کی پھیری لگانے والے ادھیڑ عمر ہندو بھیشو نے کسی خاتون گاہک کو سودا بیچتے ہوئے حد ادب کو پھلانگتے ہوئے بلاوجہ شان رسالت ﷺ میں گستاخانہ حملہ کیا۔

وقتی طور پر بات رفت گزشت ہو گئی۔ کیونکہ آس پاس کوئی مرد اس وقت موجود نہ تھا۔ بھیشو ہانک لگاتا گاؤں سے باہر نکل گیا۔ وہ ایک نواحی قصبہ زتوپہ کا رہنے والا تھا۔ اس کا اصل نام بھوشن اور عرفیت بھیش تھی۔ وہ برسوں سے آس پاس کے دیہات میں سبزی کی پھیری لگانے آتا تھا۔ ہر چند اسے معلوم تھا کہ مسلمان دیہاتی ہی اس کے گاہک اور رزق کا وسیلہ ہیں لیکن اس کی بے لگام زبان مسلمانوں کے بارے میں زہر اگلنے سے باز نہ رہتی۔ مسلمان صبر سے کام لیتے کہ کتے کی عف عف کا کیا جواب! آخر کار اس کے دل کی خباثت ابل کر ایک روز ہونٹوں تک آ گئی۔ یہ جولائی 1937ء کے پہلے ہفتے کا واقعہ ہے۔ جس کا گاؤں بھر میں چرچا ہوا۔

تیسرے چوتھے روز گاؤں کا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان دوپہر کی چلچلاتی دھوپ میں غورغشی کے مدرسہ سے صرف ونحو کا درس لے کر گھر پہنچا تو اس کے بڑے بھائی حافظ غلام محمود نے کہا کہ بعد دوپہر جب دھوپ ذرا ڈھل جائے تو مجھے سائیکل پر حضرو چھوڑ آنا۔ میں وہاں سے پنڈی کے لئے بس پکڑ لوں گا۔

عبدالمنان نے کہا: ٹھیک ہے۔ آپ ذرا دیر آرام کرلیں۔ میں بھی مسجد میں جاکر ستا لوں۔

وہ گھر سے باہر نکلا تو کسی نے اسے بتایا کہ بھیشو آج پھر گاؤں کی گلیوں میں ہانک لگاتا

صفحہ 152

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

پھرتا ہے۔ عبدالمنان مسجد کے اندر جاتے جاتے رک گیا۔ اسے کچھ خیال آیا۔ ایسا خیال کہ جس نے اس کی تقدیر بدل دی، وہ تقدیر جس پر فرشتوں کو بھی رشک آئے۔ وہ تیزی کے ساتھ اپنے ایک دوست کے یہاں پہنچا اور اس سے کمانی دار چاقو مانگا جو حال ہی میں اس نے خریدا تھا جو عبدالمنان کو بہت پسند آیا تھا۔

چاقو لے کر وہ اپنے شکار کی تلاش میں نکلا۔ بھیشو اس دوران گاؤں سے باہر کھلے کھیتوں سے ہوتا ہوا ڈیڑھ فرلانگ دور جاچکا تھا۔ عبدالمنان نے تعاقب کیا اور کھیتوں سے پرے گھنے درختوں سے متصل ایک کنویں پر جا لیا۔ جہاں بھیشو کچھ دیر ستانے کو رک گیا تھا۔ عبدالمنان اس کے پاس جا بیٹھا اور ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ بھیشو نے اس کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر پوچھا:

”یہ کیوں کھول رکھا ہے؟“

عبدالمنان نے جواب دیا:

”ابھی معلوم ہو جاتا ہے۔“

دشمن رسول کو اپنے انجام کا احساس ہو گیا اور وہ خوف سے تھر تھر کانپنے لگا۔

عبدالمنان نے پوچھا کہ:

”تو نے پچھلے روز شان رسالت ﷺ میں گستاخی کی جرأت کیونکر کی؟“

بھیشو کوئی معقول جواب نہ دے سکا تو عبدالمنان نے چاقو اس کے سینے میں پیوست کر دیا۔ وہ اٹھ کر بھاگنے لگا مگر اجل کہاں جانے دیتی ہے۔ عبدالمنان نے اسے گھٹنوں تلے دبوچ کر دو تین وار اور کئے۔ کافر کا ناپاک خون کنویں کے حوالی کی مٹی میں جذب ہونے لگا۔ بھیشو نے صرف اتنا کہا کہ مار تو چکا ہے اب تو بس کر۔

دشمن کو ابھی تک زندہ جان کر عبدالمنان نے اس کی شہ رگ کو چاقو کی دھار پر لیا اور اس کا کام تمام کر ڈالا۔ زمیندار جو کنویں سے چند گز ادھر اپنے کام میں مصروف تھے، شور سن کر آگئے۔

صفحہ 153

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

غازی عبدالمنان کا فخر سے اقبال جرم کرنا

کچھ دیر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے برہ زئی اور آس پاس کے دیہات سے مسلمان جمع ہو گئے۔ کسی نے حضرو تھانہ جا کر اطلاع کر دی اور پولیس آ گئی۔

ظہر کا وقت ہو چکا تھا۔ جب پولیس کے جھرمٹ میں عبدالمنان کو حضرو تھانہ لے جایا گیا۔ سینکڑوں آدمی تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں ساتھ ساتھ گئے۔ حضرو پہنچتے پہنچتے ہزاروں کا مجمع ہو گیا۔

تھانہ کے مسلمان انچارج نے عبدالمنان سے کہا کہ تم اپنا بیان میری ہدایت کے مطابق لکھواؤ۔

عبدالمنان نے کہا میں نے اللہ کے حبیب کی محبت میں اپنا فرض ادا کر دیا ہے اب جھوٹ بول کر اپنے اس عمل کو ضائع نہیں کر سکتا۔

بہر کیف حضرو تھانہ میں عبدالمنان کا اقبالی بیان درج ہو گیا۔ تھانہ والوں نے کیمبل پور اطلاع کر دی کہ یہاں ہزاروں مسلمان مشتعل کھڑے ہیں۔ اندیشہ ہے کہیں ہندو مسلم تصادم نہ ہو جائے۔ کیمبل پور سے سپرنٹنڈنٹ پولیس اور دو تین چھوٹے افسر حضرو پہنچ گئے اور عبدالمنان کو کار میں کیمبل پور لے آئے۔ یہاں بھی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے عبدالمنان کو ہمدردانہ مشورہ دیا مگر اس نے جھوٹ بولنے سے انکار کر دیا۔

دو تین روز میں استغاثہ مکمل ہو گیا۔ اقبالی بیان تو موجود تھا ہی۔ عبدالمنان سیشن کورٹ سپرد ہو گیا۔ ان دنوں مسٹر جی ڈی کھوسلہ کیمبل پور کے ڈسٹرکٹ سیشن جج تھے۔ فریقین نے اپنے اپنے گواہ پیش کئے۔ مقتول کی طرف سے دو تین جگادھری ہندو وکلاء نے پیروی کی۔ پیشی کے روز عدالت کے باہر ہزاروں کا مجمع تھا۔ دراز قامت اٹھارہ سالہ نوجوان عبدالمنان مجرموں کے کٹہرے میں بڑے وقار کے ساتھ کھڑا مقدمے کی کاروائی سنتا رہا۔ مقتول کی بیوی بھی گواہی کے لئے پیش ہوئی اور اس نے جرح کے دوران اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ بھیشو اکثر مسلمانوں کے خلاف زہر فشانی کرتا اور منع کرنے کے باوجود باز نہیں آتا تھا اور آخر وہی ہوا جو غیر متوقع نہیں تھا۔ بیوی کے بیان نے مقتول شوہر کے استغاثہ کا حصار توڑ کر رکھ دیا۔

صفحہ 154

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

جی ڈی کھوسلہ نے قتل کو فوری اشتعال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے عبدالمنان کو سات سال قید سخت کی سزا سنائی اور فیصلہ میں لکھا کہ مجرم اگر جواں سال نہ ہوتا تو اسے عمر قید کی سزا دی جاتی۔ جس وقت فیصلہ سنایا جا رہا تھا عدالت کے باہر ان گنت مسلمان والہانہ نعرے لگا رہے تھے اور حب رسول ﷺ کی بارش اہل ایمان کے دلوں پر رم جھم برس رہی تھی۔ عبدالمنان کو عدالت کے عقبی دروازے سے نکال کر عجلت کے ساتھ جیل پہنچا دیا گیا اور مجمع بہت دیر انتظار کرنے کے بعد منتشر ہو گیا۔ انہیں افسوس ہی رہا کہ اس روز وہ اس جیالے عاشق رسول ﷺ کی جھلک نہ دیکھ سکے۔

مسلمانوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کے لئے تگ و دو کی۔ ڈاکٹر محمد عالم بیرسٹر کا خیال تھا کہ اپیل ضرور کرنی چاہئے ۔ مگر کچھ دوسرے مقتدر مسلمان وکلاء نے مشورہ دیا کہ سزا میں اضافہ کا امکان ہے، اس لئے اپیل نہ کرنا ہی قرین مصلحت ہے۔ چنانچہ اپیل نہ کی گئی۔

سات برس کی مدت قید چھوٹ کے ایام کی رعایت سے صرف پانچ برس رہ گئی۔ جن میں سے عبدالمنان نے ایک برس ملتان اور چار برس پنڈی جیل میں گزارے۔

ایک محفل میں گزشتہ دنوں مجھے غازی عبدالمنان سے ملاقات کا موقع ملا۔ میں اس کی باوقار اور متین شخصیت سے متاثر ہوا۔ اس نے یہ سارا واقعہ دھیمے لہجے میں مجھے خود سنایا۔ اب اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے جو پنڈی میں بیاہی ہوئی ہے۔ بڑا لڑکا انگلینڈ میں ہے اور خاصا متمول ہے۔

گستاخ رسول کا مسلم نوجوان کے ہاتھوں عبرتناک انجام کا احوال

34...... ۱۹۹۴ء میں فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے دفتر میں عارضی طور پر تعینات ایک سینئر عیسائی ٹیچر (معروف ترقی پسند شاعر) نعمت احمر کو مبینہ طور پر سرکار دو عالم ﷺ کی گستاخی کرنے اور شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کی بناء پر ایک مسلمان نوجوان غازی فاروق احمد نے چھری کے پے در پے وار کر کے ہلاک کر دیا۔ میانی اور چک ۲۴۲ ر ۔ ب دسو ہہ کے گاؤں کے اسکول میں تعیناتی کے دوران نعمت احمر کے بارے میں شکایت پائی جاتی تھی کہ وہ گستاخ رسول ﷺ ہے اور طلباء کے سامنے عقائد اسلام اور اکابرین اسلام کے بارے

گستاخ رسول کا عبرتناک ا میں نامناسب ریمارکس دیتا ہے۔ چک ۲۴۲ ر ۔ ب دسو ہہ کے کو نعمت احمر عیسائی ٹیچر کے خلاف اس کے نامناسب ریمارکس کے کارروائی کی اور نہ ہی محکمہ تعلیم نے عارضی طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آ اس طرح علاقہ کے لوگوں گستاخی کرنے والے اور اسلام انضباطی کارروائی کرنے کے بجا سخت اشتعال پایا جاتا تھا۔ چنا کے دفتر میں آیا اور اسے اپنی برا غازی نے چھری کے تقریباً پانچ و امداد پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔ غازی فاروق خون آلود پکارنے لگا کہ مجھ سے ڈرنے گستاخی کرنے والے کو قتل کر کے لی ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس نے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ اطلا

گستاخ

عیسائی گستاخ رسول آر میں بھی اس بات کو تسلیم دوران جب وہ تعلیم و تدریس

صفحہ 155

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں نامناسب ریمارکس دیتا ہے۔

چک ۲۴۲ ر ۔ ب ڈسوہہ کے متعدد لوگوں اور بالخصوص اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو نعمت احمر عیسائی ٹیچر کے خلاف درخواستیں بھی دی تھیں۔ مقتول کے خلاف تھانہ ڈجکوٹ میں اس کے نامناسب ریمارکس کے خلاف پرچہ بھی درج ہوا تھا۔ افسوس کہ نہ تو پولیس نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے کوئی توجہ دی۔ البتہ حفظ ماتقدم کے طور پر اسے عارضی طور پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) میں تعینات کر دیا گیا۔ اس طرح علاقہ کے لوگوں میں غم و غصہ کی لہر مزید تیز ہوگئی کہ شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والے اور اسلام کے خلاف نازیبا ریمارکس دینے والے عیسائی ٹیچر کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کے بجائے اسے مزید تحفظ دیا گیا۔ علاقہ بھر میں موصوف کے خلاف سخت اشتعال پایا جاتا تھا۔ چنانچہ غازی فاروق جو چک نمبر ۲۴۲ ر ۔ ب ڈسوہہ کا رہائشی تھا، نعمت کے دفتر میں آیا اور اسے اپنی برانچ سے باہر بلوا کر دفتر کے احاطہ میں کھلی جگہ پر لے آیا۔ جہاں غازی نے چھری کے تقریباً پانچ وار کئے۔ جس سے وہ شدید زخمی ہو کر تڑپنے لگا اور کسی قسم کی طبی امداد پہنچنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔

غازی فاروق خون آلود چھری کے ساتھ وہیں کھڑا خوفزدہ ہو کر بھاگنے والے افراد کو پکارنے لگا کہ مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والے کو قتل کر کے جہاد کیا ہے اور میں نے اس کے بدلے اپنے لئے جنت خرید لی ہے۔

یہ کہتے ہوئے اس نے چھری پھینک دی اور لوگوں سے کہا کہ پولیس کو بلوا کر مجھے اس کے حوالے کر دیا جائے۔ چنانچہ اطلاع ملنے پر پیپلز کالونی پولیس نے موقع پر پہنچ کر اس کو گرفتار کر لیا۔

گستاخ کو قتل کر کے جنت کا متوالا غازی

عیسائی گستاخ رسول ﷺ کا قتل قطعی ذاتی عداوت یا رنجش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایف آئی آر میں بھی اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ چک ۲۴۲ ر ۔ ب ڈسوہہ کے اسکول میں تعینات کے دوران جب وہ تعلیم و تدریس کرتا تھا تو رسول اکرم ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کی

صفحہ 156

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تھی۔ تنظیم اساتذہ کے ایک وفد نے امجد حسین امجد کی سربراہی میں فیصل آباد کے علماء کے ایک اجلاس میں جو تفصیلات بیان کیں، اس سے کہیں یہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ مقتول نعمت احمر اور مسلمان فاروق کے درمیان کوئی ذاتی تنازعہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فاروق نے عیسائی ٹیچر کو قتل کرنے کے بعد سرعام اعلان کیا تھا:

”میں نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کو قتل کر کے جہاد کیا ہے اور میں نے اپنے لئے جنت خرید لی ہے۔“

عیسائی ٹیچر کے قتل کے بعد عیسائی رہنماؤں نے اس کیس کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی۔ عیسائیوں کی طرف سے جلوس نکالا گیا۔ عیسائی رہنماء خصوصاً جے سالک، سابق وفاقی وزیر مملکت برائے اقلیتی امور پیٹر جان سہوترا، جارج کلیمنٹ اور بشپ جان جوز نے فیصل آباد میں مختلف جگہوں پر جو اشتعال انگیز تقریریں کیں اور اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، اس کے ردعمل میں مسلمانوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا، ورنہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا ہو جاتا۔ عیسائی پاکستان میں اقلیت ہیں، جنہیں معاشرہ میں باوقار مقام حاصل ہے۔ انہیں آئینی اور قانونی طور پر تمام مراعات حاصل ہیں جو پاکستانی ہونے کے ناطے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ اگر کوئی مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت مریم علیہا السلام کی توہین کرے تو وہ قابل تعزیر ہے۔ محکمہ تعلیم اور پولیس کی روایتی تساہل پسندی اور غفلت کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ غازی فاروق کا اقدام قتل اس کے مذہبی جذبات کے مجروح ہونے کا نتیجہ تھا۔ اگر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے بروقت کارروائی کی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔

۴ جون ۱۹۹۴ء کو فیض احمد بھٹہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے گستاخ رسول نعمت احمر کے قاتل غازی فاروق احمد کو ۱۴ سال قید بامشقت کی سزا کا حکم سنایا۔

مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے لیکن سرکار دوعالم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتا۔ غازی فاروق نے جس جہت سے اپنے اس عمل کو دیکھا، اس میں وہ اپنے اس دعویٰ میں یقیناً حق بجانب نظر آتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے لئے اس دعویٰ کو سمجھنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن لگتا ہے کہ جن کی آنکھیں لندن و واشنگٹن کے جلوؤں سے خیرہ رہتی ہیں۔ مگر جو اپنی آنکھوں میں خاک مدینہ بسانے کی آرزو رکھتے ہیں، ان کے نزدیک

صفحہ 157

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

فاروق کا عمل نہ صرف مستحسن ہے بلکہ قابلِ رشک بھی ہے۔

غازی منظور حسین شہید کے ہاتھوں ہندو کی عبرتناک موت

35...... غازی منظور حسین شہید ایک معروف علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین صاحب مرحوم کی پنجاب میں بہت شہرت تھی۔ ان کا تعلق ضلع چکوال کی ایک بستی ”بھین“ سے تھا۔ مولانا موصوف اکثر حلقوں میں ایک حاضر دماغ اور کامیاب مناظر کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ ان کا روحانی تعلق سیال شریف سے تھا۔ شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سے بیعت تھی یا آپ کے کسی خلیفہ سے۔

آئیے پہلے آپ کو ایک گاؤں ”ڈلّی مروت“ لے چلوں۔ یہ ضلع بنوں میں میانوالی روڈ پر ہے۔ اس مقام پر ایک وسیع قبرستان ہے جس میں موجود ایک مسجد کے بالکل نزدیک مولانا قاضی منظور حسین شہید کی قبر ہے اور لوحِ مزار پر ان کا مختصر احوال کندہ ہے۔

1931ء کی بات ہے۔ تھانہ ڈوڈھن کے ڈاک بنگلہ میں ایک متعصب ہندو چوہدری کھیم چند ایس ڈی او چکوال مقیم تھا۔ یہ ریسٹ ہاؤس چکوال سے جہلم روڈ پر خانپور قصبہ کے قریب واقع ہے۔ اس بدطینت کو مہاشہ راجپال آریہ سماجی (جسے غازی علم الدین شہید نے واصل جہنم کیا تھا) کا قریبی رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔

طرزِ گستاخی کیا تھی؟ اور اس نے یہ وتیرہ کب سے اختیار کر رکھا تھا؟ اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ تاہم یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ اس کمینہ فطرت و دہن دریدہ ہندو نے شانِ رسالت مآب ﷺ میں بے ادبانہ الفاظ بکے ہوں گے۔ بہر حال اسے شاتمیت کا مزہ چکھانے کو قاضی صاحب اپنے ایک مخلص ساتھی ماسٹر عبدالعزیز (چکوال) کے ہمراہ رات کی تاریکی میں وہاں گئے اور اس کی پیشانی پر پستول کا فائر کیا۔

مقتول مردود کے نزدیک اس کی اہلیہ سوئی ہوئی تھی۔ انہوں نے اسے کچھ نہ کہا کہ وہ بے گناہ تھی۔ تاہم جاتے ہوئے کہہ گئے کہ ہم نے توہینِ رسول کا انتقام لے لیا ہے اور یہ کہ دشمنانِ رسول سے نمٹنے کو ابھی غازی مرید حسین شہید کے احباب زندہ ہیں۔

صفحہ 158

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

سچے عاشق رسول کے ابتدائی حالات اور جسمانی طاقت کا اندازہ

حضرت مولوی منظور حسین ۱۹۰۴ء میں تولد ہوئے۔ غازی مرحوم نے بی اے تک باقاعدہ انگریزی تعلیم حاصل کی۔ کالج کی زندگی میں آپ کو جسمانی قوت بڑھانے کا بہت شوق تھا۔ اس میں آپ نے مہارت حاصل کی۔ مولانا مظہر حسین صاحب کے بقول ”موٹر کار کو آپ سامنے سے سینہ لگا کر مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے اور پھر خواہ کتنی اسپیڈ میں چلائی جائے، روکے رکھتے تھے۔ لوہے کی دو نصف انچ موٹی سلاخوں کو جوڑ کر اپنے بازو پر لپیٹ لیتے تھے اور ایک انچ موٹی سلاخ گردن میں لپیٹتے تھے۔ کھڑے ہو کر ننگی چھاتی پر وزنی ہتھوڑوں کی ضربیں لگواتے تھے۔ اس قسم کی غیر معمولی قوت کے کرشموں کا آپ نے بہت دفعہ مظاہرہ کیا۔

گارڈن کالج راولپنڈی سے فارغ ہونے کے بعد بھی آپ نے پہلوانی کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن بعد میں قرآن حکیم کی تلاوت اور اسلامی تاریخ کے مطالعہ نے آپ کے قلب میں زبردست انقلاب پیدا کر دیا۔ انگریزی کی تہذیب سے سخت نفرت ہو گئی۔ فرنگی اقتدار کے کسی اثر کو آپ برداشت نہ کرتے تھے۔ اغیار کی غلامی میں رہنا آپ کے لئے سخت مشکل ہو گیا۔ آپ نے پہلے اپنی اصلاح کی اور شریعت کے سانچے میں ڈھل گئے۔ کالج میں چونکہ عربی پڑھی تھی اس لئے قرآن و حدیث سے استفادہ آسان تھا۔

والد مرحوم سے فقہ و حدیث کی بعض کتابیں پڑھ لیں۔ آپ نے تبلیغ دین بھی شروع کر دی۔ جہاد بالسیف کا جذبہ آپ پر غالب تھا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونا آپ کا مقصد بن گیا تھا۔

۱۹۳۸ء میں مجاہد اسلام مولوی منظور حسین شہید نے خاکساروں کی طرز پر ان کے مقابلے میں ایک نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ اس کا نام ”خدام اسلام“ قرار پایا اور لائحہ عمل کے طور پر ایک پمفلٹ بعنوان ”خدام اسلام میدان عمل میں“ شائع کیا۔ یہ ہر لحاظ سے رضا کار فورس تھی۔ اس کی باقاعدہ پریڈ ہوتی اور زیادہ زور اس بات پر دیا جاتا کہ معزز رکن کسی طور پر اپنے تنظیمی رازوں کا کہیں انکشاف نہ کریں۔ اس کے لئے باقاعدہ حلف وفاداری ہوا کرتا تھا۔

گو تنظیم مذکورہ دور دور تک تو نہ پھیل سکی، بہر کیف اس کا دائرہ اثر چکوال ، بھون کے قصبات اور ارد گرد کے دیہات میں نہایت وسیع تھا۔ یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ چکی تھی کہ قاضی

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجا

موصوف کے غازی مرید حسین شہ دل میں جوش و ولولہ کی ایک نئی آگ

مولانا موصوف

حضرت مولوی کرم الدین صا گردش دہر سے مجھ پر ایسا پرا میں مبتلا ہو گیا۔ میرا ایک نوجوان فر دست جفا سے بمقام عباسیہ متصل کی کے ساتھ ایک درخت کے سایہ میں دیا اور وہ تینوں وجیہہ نوجوان شہید ہو مرحوم بڑا شیر دل بہادر تھا اور بی اے (گریجویٹ) اور عربی وفارس بے طمع، صحیح معنوں میں مبلغ اسلام تھا

ہوا یہ کہ گستاخ رسول چوہدری سلامت نکل آئے اور آزاد علاقہ میں مجاہد اعظم حضرت حاجی ترنگزئی صا فقیر صاحب کے پاس بھی بسر کی۔ ا کو پولیس نے بغرض تفتیش اپنی حراس اقدام کا سارا بوجھ آپ کے والد محتر

اس بارے میں شہید موصوف نے کسی راز سے مطلع نہیں کیا تھا اور ضبط کر لئے گئے۔ ادھر مجھے تین دفعہ مقدمہ قتل کے سبب تھا) اور ہم کو سینٹ پر دفعہ ۱۸۲ کے تحت ایک مقدمہ دائر کر

صفحہ 159

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موصوف کے غازی مرید حسین شہید سے دوستانہ مراسم تھے اور ان کی شہادت نے آپ کے دل میں جوش و ولولہ کی ایک نئی آگ لگا دی۔

مولانا موصوف کی کہانی ان کے والد کی زبانی

حضرت مولوی کرم الدین صاحب آف بھین نے اس واقعہ کو مختصر الفاظ میں یوں لکھا ہے: گردش دہر سے مجھ پر ایسا پر آشوب وقت آگیا کہ میں طرح طرح کے مصائب و آلام میں مبتلا ہو گیا۔ میرا ایک نوجوان فرزند غازی محمد منظور حسین ایک شقی القلب کلمہ گو شخص کے دست جفا سے بمقام عباسیہ متصل لکی مروت ضلع بنوں میں شہید ہو گیا۔ جب کہ وہ اپنے دو رفقاء کے ساتھ ایک درخت کے سایہ میں میٹھی نیند سو رہا تھا۔ ظالم دشمن نے اسی حالت میں فائر کھول دیا اور وہ تینوں وجیہہ نوجوان شہید ہو گئے۔

مرحوم بڑا شیر دل بہادر تھا اور شہ زوری و شجاعت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ انگریزی میں بی اے (گریجویٹ) اور عربی و فارسی علوم میں فاضل اکمل تھا۔ بڑا زاہد و عابد، متقی، بے ریا اور بے طمع ، صحیح معنوں میں مبلغ اسلام تھا۔

ہوا یہ کہ گستاخ رسول چوہدری کھیم چند ہندو کو ٹھکانے لگا کر دونوں رفیق وہاں سے بہ سلامت نکل آئے اور آزاد علاقہ میں چلے گئے۔ جہاں آپ حضرت بادشاہ گل صاحب خلف مجاہد اعظم حضرت حاجی ترنگزئی صاحب کے ہاں مقیم ہو گئے۔ کچھ مدت ایک مجاہد حضرت فقیر صاحب کے پاس بھی بسر کی۔ ادھر یہ ہوا کہ آپ کے والد صاحب اور دیگر بعض اقرباء کو پولیس نے بغرض تفتیش اپنی حراست میں لے لیا اور غازی ممدوح کے اس جرات مندانہ اقدام کا سارا بوجھ آپ کے والد محترم قاضی محمد کرم الدین صاحب کے سر آگیا۔

اس بارے میں شہید موصوف کے برادر عزیز کا بیان ہے کہ حالانکہ آپ کو بھائی صاحب نے کسی راز سے مطلع نہیں کیا تھا اور نہ ہی پاکستان جانے کا آپ کو علم تھا۔ مکانات، اسباب ضبط کر لئے گئے۔ ادھر مجھے تین رفقاء کے ساتھ ۲۰، ۲۰ سال عمر قید کی سزا سنائی گئی (یہ ایک اور مقدمہ قتل کے سبب تھا) اور ہم کو سینٹرل جیل لاہور میں بھیج دیا گیا۔ نیز پولیس نے مولانا محترم پر دفعہ ۱۸۲ کے تحت ایک مقدمہ دائر کر دیا۔

صفحہ 160

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سب سے زیادہ آپ کو مولوی منظور حسین صاحب کی روپوشی کی فکر تھی لیکن بعد میں بہ سلامت آزاد علاقہ پہنچنے کی خبر آ گئی تو آپ کو کچھ اطمینان ہو گیا۔

ماسٹر عبدالعزیز کا عشق رسول میں سرشار ہو کر تختہ دار پہ لٹک جانا

ماسٹر عبدالعزیز چکوال کے باشندے تھے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد اسکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ باہمت اور دلیر نوجوان تھے۔ مولوی منظور حسین کی رفاقت و صحبت نے آپ کے اندر بھی جہاد فی سبیل اللہ کی روح پھونک دی اور ہمہ تن جہاد کی تیاریوں میں لگ گئے۔ چوہدری کھیم چند کے قتل میں شریک تھے۔ پاکستان میں بھی مولوی منظور حسین کے ہمراہ رہے۔

گرفتاری کے بعد ماسٹر صاحب موصوف کو چکوال میں لایا گیا اور ایس ڈی او مذکور کا مقدمہ چلا گیا۔ اس کے نتیجے میں آپ کو سزائے موت کا حکم ہوا۔ لاہور سینٹرل جیل میں چند ماہ تک پھانسی کی کوٹھری میں رہے۔ شب و روز ذکر و شغل میں مصروف رہے۔ اب آپ کی قلبی تمنا یہی تھی کہ زندہ دنیا میں واپس نہ جاؤں بلکہ اپنے رفقاء شہداء سے جاملوں۔ پھانسی ہونے سے پہلے روز اپنے اعزاء واقرباء سے بڑی بشاشت سے ملاقات کرتے رہے۔ ان کو صبر کی تلقین کی۔ صبح کو جب پھانسی کے لئے نکلے تو راستے میں سورہ یٰسین بلند آواز سے نہایت اطمینان سے تلاوت کرتے گئے اور نعرہ تکبیر بلند کر کے تختہ دار پر لٹک گئے۔

بزدل پولیس نے سرفروشوں کو نیند میں شہید کر دیا

مولوی منظور حسین صاحب کے ساتھ شہید ہونے والوں میں غازی محمد خان ، ساکن بڈھیال ضلع جہلم بھی تھے۔ جو آپ کے مخلص دوست تھے۔ فوج میں سپاہی تھے، وہاں سے چھٹی لے کر آئے تو گھر سے ہوتے ہوئے پاکستان میں آپ کے پاس پہنچ گئے اور آخری دم تک آپ کی رفاقت میں رہے۔ اب لکی مروت میں مدفون ہیں۔

مولانا غازی منظور حسین نے گستاخ نبی کو فی النار کرنے کے بعد اپنے پرانے پیشروؤں کی طرح خود کو گرفتاری کے لئے کیوں پیش نہ کیا؟ اس کا تو کوئی تشفی بخش جواب نہیں۔ بہرحال یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کے عزائم بہت بلند تھے اور چاہتے تھے کہ بزور طاقت

صفحہ 161

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کشمیر فتح کریں اور اس کے لئے انہوں نے ایک اسکیم بھی بنائی مگر بوجوہ ایک سال پاکستان میں قیام کرنے کے بعد بعض عزائم کے پیش نظر اپنے رفقاء کی معیت میں وطن کی طرف لوٹے۔

سرفروش غازیوں کی یہ قلیل جماعت رائفلوں سے مسلح تھی۔ وزیرستانی قبائل سے ہوتے ہوئے آپ نے بنوں کی سرحد کو عبور کیا اور موضع عباسیہ تحصیل لکی مروت کے قریب ایک جگہ آرام کے لئے ٹھہرے۔ ماسٹر عبدالعزیز اور ایک دوسرے رفیق کو قریب کی بستی سے کھانا لانے کے لئے بھیجا۔ پولیس کو خبر ہو گئی۔ ان دونوں کو وہاں سے گرفتار کر لیا گیا اور دو سب انسپکٹر پولیس کے مسلح گارڈ اور پبلک کی جمعیت ساتھ لے کر مولوی منظور حسین کے مقابلہ کے لئے نکلے۔

پہاڑ کا طویل سفر کرنے کی وجہ سے تھکان غالب تھی۔ گرمی کا موسم تھا۔ آپ ایک درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں رفقاء سمیت گہری نیند سو گئے تھے۔ پولیس نے ان کو بیدار ہونے کا موقع ہی نہیں دیا اور بے خبری میں ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی یوں ان مجاہدوں کی سعید روحیں عالم بالا کو پرواز کر گئیں۔ یہ واقعہ جولائی ۱۹۴۴ء کا ہے۔

(از ایچ ساجد اعوان)

جانثار غازی محمد کی سوانح عمری اور ابتدائی حالات

ضلع چکوال کی سرزمین اس لحاظ سے بڑی خوش قسمت ہے کہ اس صدی کے ربیع الاول میں اس نے دو عظیم جان نثاران رسول ﷺ پیدا کئے۔ پہلا عاشق رسول ﷺ غازی مرید حسین شہید ہے، جس نے ۱۸ اگست ۱۹۳۶ء کو ایک کمینہ خصلت گستاخ رسول رام گوپال کو اس کے انجام تک پہنچایا اور دوسرا فدائی مصطفیٰ ﷺ غازی میاں محمد شہید ہے۔ جس نے چرن داس نامی ایک مردود ڈوگرہ سپاہی کو کیفر کردار تک پہنچایا۔

میاں محمد ۱۹۱۵ء میں قصبہ تلہ گنگ میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کا نام نامی صوبیدار غلام محمد تھا جو اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلی جنگ عظیم چھڑی تو صوبیدار غلام محمد کو اپنی پلٹن کے ساتھ ملک سے باہر جانا پڑا۔ اسی دوران میاں محمد پیدا ہوئے۔ اس وقت ان کے والد عراق میں تھے۔ بیٹے کی ولادت کی خبر سنی تو جی چاہا کہ فوراً اڑ کر تلہ گنگ پہنچیں اور نومولود کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔ کیونکہ یہ بچہ شادی کے سات سال بعد بڑی دعاؤں کے بعد پیدا ہوا تھا۔

صفحہ 162

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

لیکن اللہ کا کرنا صوبیدار غلام محمد ۱۹۱۹ء تک جنگ کے اختتام تک وطن واپس نہ آسکے۔ اس عرصے میں وہ اپنی پلٹن کے ساتھ عراق ، شام، فلسطین اور استنبول وغیرہ میں فوجی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

میاں محمد پانچ سال کے تھے کہ ان کے والد ماجد گھر لوٹے اور پہلی بار اپنے جگر گوشے کو دیکھا۔ بار بار گود میں اٹھاتے اور پیار کرتے۔ پھر چند روز بعد انہیں پرائمری اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔ پرائمری کے بعد وہ ہائی اسکول میں داخل ہوگئے۔ لیکن ساتویں جماعت تک پڑھنے کے بعد ان کا جی تعلیم سے اچاٹ ہو گیا۔ ۱۵ سال کے ہوئے تو ڈرائیوری سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم ہو گئے اور تلہ گنگ سے میانوالی جانے والی ایک بس چلانے لگے۔ بہت جلد اس سے بھی جی بھر گیا۔

۱۹۳۱ء میں کوئٹہ چلے گئے اور ایک ٹھیکیدار کے پاس بطور منشی کام کرنے لگے۔ یہ کام بھی پسند نہ آیا تو ۱۹۳۲ء میں گاؤں واپس آ گئے۔ ۱۹۳۳ء میں انڈین نیوی میں بھرتی ہوگئے۔ اسی ملازمت کے دوران پھوپھی زاد ”نیک اختر“ کے ساتھ ان کی شادی ہو گئی۔ انڈین نیوی میں نوکری کرتے ابھی بمشکل ڈیڑھ برس ہی گزرا تھا کہ کھیل کے دوران ایک ساتھی کی بدکلامی کی وجہ سے بگڑ گئے اور ہاکی سے اسے پیٹ ڈالا، آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا اور وہ ملازمت سے برطرف کر دیئے گئے۔

۲ جنوری ۱۹۳۵ء کو وہ بلوچ رجمنٹ میں بطور سپاہی بھرتی ہوئے اور ابتدائی ٹریننگ کراچی میں مکمل کرنے کے بعد اسی سال اکتوبر میں مدراس چھاؤنی بھیج دیئے گئے۔ اصل میں یہی وہ جگہ تھی جہاں قدرت نے ان سے ایک غیر معمولی کام لینا تھا اور جس کے لئے وہ مختلف مقامات پر پھرتے پھراتے بالآخر یہاں پہنچے تھے۔

نعت خوانی میں توہین رسالت پر غازی کا شدید ردعمل کا اظہار

میاں محمد کو بچپن ہی سے آپ ﷺ کی ذات گرامی سے والہانہ لگاؤ تھا، انہیں بہت سی نعتیں یاد تھیں جنہیں وہ اکثر تنہائی میں یا دوستوں میں بیٹھ کر پڑھتے تھے، وہ بڑے خوبصورت جوان تھے اور ہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس زیب تن کئے رہتے۔ ان کو دیکھنے والوں نے ان کا حلیہ

صفحہ 163

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کچھ اس طرح بیان کیا ہے: لمبا قد، دلکش خدوخال، سرخ و سپید رنگ، باریک ہونٹ، گھنی بھنویں، ناک معیار حسن کے عین مطابق، پیشانی چوڑی، آنکھیں چمکدار، خوبصورت سی چھوٹی داڑھی اور خاص ادا کی مونچھیں، جن سے مردانہ وجاہت ٹپکتی تھی۔ سر پر کلاہ اور خوبصورت پگڑی۔ غرض پیکر حسن تھے۔

۱۶ مئی ۱۹۳۷ء کی شب کا ابھی آغاز ہوا تھا۔ مدراس چھاؤنی میں ڈیوٹی سے فارغ فوجی سپاہی مختلف گروپوں میں بیٹھے خوش گپیوں میں مشغول تھے۔ انہی میں ایک طرف چند مسلمان نعت رسول کریم ﷺ سننے میں محو تھے۔ اتفاق سے جو شخص نعت شریف سنا رہا تھا وہ ایک ہندو تھا، یہ بڑی خوش الحانی اور عقیدت مندی کے ساتھ نعت سنا رہا تھا۔ قریب ہی ایک ہندو ڈوگرہ سپاہی نے جب ایک ہندو کو اس طرح عقیدت مندی کے ساتھ نعت پڑھتے سنا تو وہ مارے تعصب کے جل کر کباب ہو گیا۔ اس نے با آواز بلند آپ ﷺ کی شان اقدس میں سخت گستاخی کرتے ہوئے نعت پڑھنے والے ہندو سے مخاطب ہو کر کہا:

”تو کیسا ہندو ہے؟ تو ہندو دھرم کا مجرم ہے ...... تیرا پاپ معاف نہیں کیا جاسکتا ......“

مسلمان سپاہیوں نے ڈوگرہ سپاہی کی یہ بد زبانی سنی تو صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئے۔ لیکن میاں محمد اپنے آقا ﷺ کی شان میں یہ گستاخی سن کر تڑپ اٹھے اور ڈوگرہ سپاہی سے کہا۔ تیرے ہم مذہب کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ وہ آپ ﷺ کے نام مبارک سے اطمینان قلبی حاصل کرے، اس لئے وہ گا کر سرکار ﷺ کی نعت پڑھ رہا ہے، تجھے اپنے خبیث باطن کی وجہ سے یہ بات پسند نہیں تو، تو یہاں سے چلا جا...... خبردار آئندہ ایسی بکواس نہ کرنا۔

یہ سن کر ڈوگرہ سپاہی بولا۔ میں تو بار بار ایسا ہی کہوں گا۔ تم سے جو ہو سکتا ہے کرلو۔

یہ بے ہودہ جواب سن کر میاں محمد کا خون کھول اٹھا۔ ایک ہندو ڈوگرہ نے ان کی حمیت ایمانی کو للکارا تھا۔ انہوں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ آئندہ اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کا جملہ کہنے کی جرأت نہ کرنا، ورنہ یہ بدتمیزی تجھے بہت جلد ذلت ناک موت سے دو چار کر دے گی۔

بدقسمت ڈوگرے سپاہی نے پھر ویسا ہی تکلیف دہ جواب دیا اور کہا کہ مجھے ایسی گستاخی

PDF 164

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سے روکنے کا تمہیں کوئی حق نہیں۔

یہ سن کر میاں محمد سیدھے اپنے حوالدار کے پاس گئے۔ یہ بھی ہندو تھا۔ آپ نے اس سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا کہ اگر چرن داس (ہندو ڈوگرہ) نے برسرعام معافی نہ مانگی تو اپنی زندگی سے کھیلنا مجھ پر فرض ہو جاتا ہے۔

ہندو حوالدار نے اس نازک مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہ دی اور صرف یہی کہا کہ میں چرن داس کو سمجھا دوں گا۔

غازی میاں محمد کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میاں محمد حوالدار کی یہ سردمہری دیکھ کر سیدھے اپنی بیرک میں پہنچے۔ اب وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کر چکے تھے۔ انہوں نے نماز عشاء ادا کی اور پھر سجدے میں جاکر گڑگڑاتے ہوئے دعا کی۔

”میرے اللہ! میں نے تہیہ کر لیا ہے کہ تیرے محبوب کی شان میں گستاخی کرنے والے کا کام تمام کردوں۔ یا اللہ! مجھے حوصلہ عطا فرما۔ ثابت قدم رکھ۔ مجھے بھی اپنے محبوب ﷺ کے عاشقوں میں شامل کرلے۔ میری قربانی منظور فرمالے۔“

نماز سے فارغ ہوکر میاں محمد گارڈ روم میں گئے۔ اپنی رائفل نکالی۔ میگزین لوڈ کیا اور باہر نکلتے ہی چرن داس کو للکار کر کہا۔ بدبخت اب بتاؤ، نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر میں باز پرس کا حق رکھتا ہوں یا نہیں؟

یہ سن کر شاتم رسول چرن داس نے بھی جو بندوق اٹھائے ڈیوٹی دے رہا تھا پوزیشن سنبھالی اور رائفل کا رخ میاں محمد کی طرف موڑا، لیکن اگلے ہی لمحے ناموس رسالت ﷺ کے شیدائی کی گولی چرن داس کو ڈھیر کر چکی تھی۔ رائفل کی دس گولیاں اس کے جسم کے پار کرنے کے بعد غازی میاں محمد نے سنگین کی نوک سے اس کے منہ پر پے در پے وار کئے۔ سنگین سے وار کرتے ہوئے وہ کہتے جاتے تھے کہ:

”اس ناپاک منہ سے تو نے میرے پیارے رسول ﷺ کی شان

گستاخ رسول کا عبرتناک ا

میں گستاخی کی تھی.....!

جب غازی کو مردود چرن د ہاتھ سے خطرے کی گھنٹی بجائی او ہوگئی تو غازی نے کمانڈنگ افسر کو گرفتاری کے لئے پیش کردوں آپ کی گرفتاری کے لئے گرفتاری کے بعد انگریز کمانڈنگ انہوں نے جواب دیا کہ گستاخی اور بدکلامی کی تھی۔ میں ہلاک کر دیا۔ اب آپ قانونی تقا

ہندوؤں کو خوش کرنے

۷ مئی ۱۹۳۷ء کو غازی پ گیا۔ ابھی آپ دس دن پولیس حکم آیا کہ میاں محمد پر فوجی قانو سول عدالت میں مقدمے کا فیص فوجی حکام کی خواہش تھی اطلاع نہ دی جائے۔ لیکن صوبہ ہوگئی اور وہ فوراً مدراس پہنچ گئے مدراس کے معروف مسلمان ایڈ نور حسین شاہ نے قانون کی تھی۔ انہوں نے بڑی دیا ابھی ابتدائی مراحل میں تھا کہ گھونپ دیا۔ زخم کاری اور مہلک

صفحہ 165

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام میں گستاخی کی تھی.......

جب غازی کو مردود چرن داس کے جہنم واصل ہونے کا یقین ہو گیا تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے خطرے کی گھنٹی بجائی اور بگلر سے کہا کہ وہ مسلسل بگل بجائے ۔ جب سب پلٹن جمع ہو گئی تو غازی نے کمانڈنگ افسر سے کہا کہ کسی مسلمان افسر کو بھجوا دو تا کہ میں رائفل پھینک کر خود کو گرفتاری کے لئے پیش کر دوں ۔

آپ کی گرفتاری کے لئے آپ ہی کے علاقے کے ایک مسلمان عباس خاں کو بھیجا گیا۔ گرفتاری کے بعد انگریز کمانڈنگ افسر نے غازی موصوف سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ چرن داس نے ہمارے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی اور بدکلامی کی تھی۔ میں نے اس کو روکا لیکن وہ باز نہ آیا اس لئے ۔ میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ اب آپ قانونی تقاضے پورے کریں۔

ہندوؤں کو خوش کرنے کے لیے میاں غازی کو ذہنی مریض قرار دینا

۱۷ مئی ۱۹۳۷ء کو غازی میاں محمد کو مقدمے کی تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ابھی آپ دس دن پولیس کی حراست میں رہے تھے کہ کمانڈرانچیف (جی ایچ کیو دہلی ) کا حکم آیا کہ میاں محمد پر فوجی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے ۔ غالباً حکام کو خدشہ تھا کہ شاید سول عدالت میں مقدمے کا فیصلہ حکومت کی منشاء کے خلاف ہو ۔

فوجی حکام کی خواہش تھی کہ مقدمے کے فیصلے تک غازی صاحب کے والدین کو کوئی اطلاع نہ دی جائے ۔ لیکن صوبیدار ملک غلام محمد کو کسی طرح فوجی حکام کی اس سازش کی اطلاع ہوگئی اور وہ فوراً مدراس پہنچ گئے ۔ عدالتی چارہ جوئی اور مقدمے کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لئے مدراس کے معروف مسلمان ایڈووکیٹ سید نور حسین شاہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔

نور حسین شاہ نے قانون کا امتحان لندن سے پاس کیا تھا اور عرصہ تک وہیں پریکٹس بھی کی تھی۔ انہوں نے بڑی دیانتداری اور فرض شناسی سے اس عظیم کام کا آغاز کیا۔ لیکن کیس ابھی ابتدائی مراحل میں تھا کہ کسی سنگ دل نے محافظ کی موجودگی میں ایڈووکیٹ موصوف کو چھرا گھونپ دیا۔ زخم کاری اور مہلک تھا جس سے وہ رحلت فرما گئے ۔

صفحہ 166

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ان کے بعد یہ مقدمہ اصغر علی ایڈووکیٹ نے اپنے ہاتھ میں لیا۔ یہ بھی لندن کے تعلیم یافتہ تھے۔ انہوں نے بھی بڑی جانفشانی اور لگن کے ساتھ کیس کی تیاری میں حصہ لیا اور پیشیوں کے معاوضے میں کبھی کسی رقم کا مطالبہ نہ کیا۔ فوجی حکام چاہتے تھے کہ غازی صاحب کو ذہنی مریض قرار دے کر سزا دی جائے تاکہ کیس کو مذہبی رنگ بھی نہ ملے اور ہندو بھی خوش ہو جائیں۔

اس مقصد کے تحت غازی صاحب کو گورنمنٹ مینٹل اسپتال مدراس میں داخل کر دیا گیا۔ ایک ماہ بعد ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ میں نے پورا مہینہ میاں محمد کو اپنی خصوصی نگرانی میں رکھا ہے۔ نفسیاتی جائزہ بھی لیا ہے، کئی بار چھپ کر بھی معائنہ کیا ہے۔ لیکن اس عرصہ میں ایک بار بھی میں نے انہیں فکرمند یا کسی سوچ میں گم نہیں پایا۔ (جیسا کہ پاگل اکثر گم صم رہتے ہیں) ایک ماہ میں ان کا وزن بھی بڑھ گیا ہے۔ اگر ان کو یہ فکر ہوتی کہ قتل کے مقدمہ میں میرا کیا حشر ہوگا تو ان کا وزن کم ہو جاتا۔ یہ کسی غم و فکر میں مبتلا نہیں۔

جب چرن داس ایک ہی گولی لگنے سے مر گیا تھا تو ساری گولیاں چلانے اور سنگین سے پے در پے زخم لگانے کی ضرورت نہ تھی۔ اور ایسی حالت میں جب کوئی دیکھنے والا بھی نہ تھا۔ یہ آسانی سے فرار بھی ہو سکتے تھے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ میرا میڈیکل تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ میاں محمد نے قتل کا ارتکاب مذہبی جذبات سے برانگیختہ ہونے کی وجہ سے کیا ہے۔

عدالت میں غازی کا جرأتمندانہ اقبالی بیان اور سزائے موت کا حکم

۱۶ اگست کو غازی صاحب کا جنرل کورٹ مارشل شروع ہوا۔ پانچ دن کارروائی ہوتی رہی۔ کل اٹھارہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے۔ تین ڈاکٹروں کی شہادت بھی ریکارڈ پر آئی۔ جرح کے دوران انہوں نے یہ متفقہ موقف اختیار کیا کہ غازی محمد نے جو کچھ کیا ہے ہماری رائے میں وقوعہ کے وقت وہ اپنے جذبات کو قابو نہیں رکھ سکا۔ لیکن غازی صاحب اپنے ابتدائی بیان پر ڈٹے رہے اور کہا:

”میں نے جو کچھ کیا ہے خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ یہی میرا فرض تھا۔ چرن داس نے میرے آقا و مولیٰ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کی تھی۔“

صفحہ 167

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کورٹ مارشل کے دوران ان کے وکیل نے رائے دی کہ وہ یہ بیان دیں کہ میں نے گولی اپنی جان بچانے کی غرض سے چلائی تھی، کیونکہ چرن داس بھی مجھ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن غازی نے سختی کے ساتھ اس تجویز کو مسترد کر دیا اور کہا کہ میری ایک جان تو کیا، ایسی ہزاروں جانیں بھی ہوں تو سرکار دوعالم ﷺ کی حرمت پر نچھاور کر دوں۔

۲۳ ستمبر ۱۹۳۷ء کو پلٹن میں غازی میاں محمد کو سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ جس کا جواب غازی نے مسکرا کر دیا۔

محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

۱۵ اکتوبر ۱۹۳۷ء کو وائسرائے ہند کے پاس اپیل کی گئی جو مسترد ہوگئی۔ پھر پریوی کونسل لندن میں اپیل دائر کی گئی جو مختصر سماعت کے بعد رد کر دی گئی۔ اپیلیں مسترد ہو جانے کے بعد فوجی حکام نے ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ء کو سزا پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا۔

شہادت سے پہلے نماز عید میں مسلمانوں سے ایمان افروز خطاب

ادھر دوران حراست غازی کا معمول تھا کہ نماز کے علاوہ ہمہ وقت قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہتے۔ اس دوران رمضان شریف کا مہینہ آیا جو انہوں نے جاگ کر گزارا۔ وہ رات دن نوافل اور درود شریف پڑھتے۔ عید کے روز غازی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ عید کی نماز عید گاہ میں مسلمانوں کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔

بڑی ردو قدح کے بعد جیل کے چند غیرت مند مسلمان فوجی افسروں کی ضمانت پر حکام نے اس کی اجازت دی۔ غازی کی سزائے موت کی خبر اب تک پورے ہندوستان میں مشہور ہو چکی تھی۔ حکام نے بہت کوشش کی کہ نماز عید کے موقع پر مسلمانوں کو غازی کی آمد کا علم نہ ہو۔ لیکن عید گاہ میں موجود نمازیوں کو اس کا علم ہو گیا۔ نقص امن کا خطرہ پیدا ہونے لگا تو غازی موصوف کھڑے ہو گئے اور مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

”پیارے بھائیو! اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو۔ آپس میں بھائیوں کی طرح اور پرامن رہو۔ میں پیارے رسول حضرت محمد ﷺ کا ایک

صفحہ 168

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ادنیٰ غلام ہوں۔ مجھ میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ میرے ہاتھوں سے شان رسول ﷺ پر ناروا حملہ کرنے والے ایک مردود کو قرار واقعی سزا ملی ہے۔ تاجدار مدینہ کی شان میں ذرا سی توہین بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ آئندہ بھی کسی گستاخ نے یہ حرکت کی تو ناموس رسالت ﷺ پر فدا ہونے کے لئے ہزاروں جان نثار مقتل کی طرف بڑھیں گے۔ تمام بھائی دعائیں کریں کہ اللہ کریم راضی ہو اور بارگاہ رسالت ﷺ میں مجھ ناچیز کی جان جیسی یہ حقیر قربانی قبول ہو جائے۔‘‘

میاں محمد شہید کی اپنے بھائی اور بیوی کو آخری وصیت

شہادت سے چار روز قبل (۷ اپریل ۱۹۳۸ء) کو غازی میاں محمد نے اپنے حقیقی بھائی ملک نور محمد کو ایک خط لکھا۔ اس میں بعض وصیتیں بھی لکھیں۔ آپ نے لکھا: خداوند کریم کی رضا پر راضی رہنا۔ ہر حال میں صبر کرنا۔ کسی پر تمہارا غم ظاہر نہ ہو۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا دل اس قدر خوش ہے کہ جس کا اندازہ کوئی دوسرا آدمی نہیں کر سکتا۔ میری دلی آرزو یہی تھی، جو اللہ کریم نے پوری کر دی۔ میں گناہ کے سمندر میں غرق تھا کہ میرے مالک نے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیئے۔ اس مالک کی مہربانی کا ہزار ہزار شکریہ۔ (پھر اپنی اہلیہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا) بندہ کی عیال (بیوہ) کو واضح ہو کہ میں آپ سے نہایت خوش اور راضی ہوں۔ تم نے کبھی کوئی ایسی غلطی نہیں جس کے لئے تمہیں معافی کا خواستگار ہونا پڑے۔ میری شہادت پر بجائے رونے دھونے کے اپنے رب کو یاد کرنا۔ نماز پڑھنا۔ اپنے رب کی بندگی کرنا اور میرے لئے بخشش کی دعا کرنا۔

میاں غازی کی آخری خواہش

پھانسی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے 3/10 بلوچ رجمنٹ کا ایک افسر کراچی سے مدراس پہنچا۔ اس نے غازی صاحب سے پوچھا، کوئی آخری خواہش ہو تو بتاؤ؟ فرمایا: ساقی کوثر کے ہاتھوں سے جام پی کر سیراب ہونا چاہتا ہوں۔

صفحہ 169

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

غازی صاحب کا باڈی گارڈ دستہ چھ سپاہیوں، ایک انگریز افسر اور ایک بیرے پر مشتمل تھا۔ جن لوگوں نے آخری وقت آپ کی زیارت کی ان کا کہنا ہے کہ چہرے پر سرور اور تازگی اور آنکھوں میں خمار کی چمک پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔ والدین سے آخری ملاقات میں ہنس ہنس کر باتیں کرتے رہے۔ والدہ اپنے بیس سالہ جواں بیٹے کا دیوانہ وار کبھی سر چومتیں، کبھی منہ۔ والد نے بہ ہزار مشکل اپنے آپ کو سنبھالے رکھا۔

اسی رات ۳۱ اکتوبر کو انہیں میانوالی سنٹرل جیل لے جایا گیا۔ رات بھر آپ عبادت میں مشغول رہے۔ تہجد کے بعد غسل فرمایا۔ سفید لباس زیب تن کیا۔ نماز فجر ادا کی۔ پھر آپ کو تختہ دار کی طرف لے جایا گیا۔ تختہ دار پر کھڑے ہوتے ہی آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ پھر مدینہ منورہ کی طرف رخ کر کے فرمایا : سرکار مدینہ ﷺ میں حاضر ہوں۔

پھانسی کا پھندہ آپ کے گلے میں ڈال دیا گیا۔ تختہ دار کھینچ دیا گیا۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے پر برستا ہوا نور کچھ اور فزوں ہو گیا۔ فضا کی عطر بیزی کچھ اور بڑھ گئی۔ ڈاکٹر نے معائنہ کر کے کہا: بے قرار روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

اگلے ہی لمحے ساقی کوثر کا دیوانہ حوض کوثر کے کنارے اپنی پیاس بجھا رہا تھا۔ یہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء کی صبح تھی۔ وقت پانچ بج کر پینتالیس منٹ۔

(از ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی)

غازی علم الدین شہید کی سوانح عمری اور ابتدائی حالات

36 ...... اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کا ارشاد ہے کہ مومن وہی ہے جو محمد ﷺ کو اپنی جان سے، اپنے مال سے، اپنی اولاد سے اور اپنے والدین سے...... عزیز سمجھتا ہو۔

مسلمانوں کے مرکز نگاہ اور محبوب و مقدس ترین شخصیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی بھی گستاخی کرتا ہے تو غیرت و حمیت سے سرشار ہر مسلمان کا خون کھول اٹھتا ہے اور اس کے رگ و پے میں لاوا سا دوڑنے لگتا ہے اور اسے اس وقت تک کسی پہلو قرار نہیں آتا جب تک وہ شاتم رسول کے ناپاک اور غلیظ وجود سے اس دھرتی کو پاک نہیں کر لیتا۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے اسلام کی عظمت کو چار چاند لگانے والوں میں ایک نام غازی علم الدین شہید کا بھی ہے۔ ہماری تاریخ کے ماتھے کا جھومر اس روشن

صفحہ 170

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام کردار کی داستان حیات پیش خدمت ہے۔

غازی علم الدین ۳ دسمبر ۱۹۰۸ء کو متوسط طبقے کے ایک شخص طالع مند کے گھر (لاہور) میں پیدا ہوئے۔ یہ ان کے دوسرے بیٹے تھے۔ نجاری پیشہ تھا، عزت سے دن گزر رہے تھے۔ ایسے نامور نہ تھے، اپنے محلے تک ان کی شہرت محدود تھی یا پھر لاہور سے باہر جا کر کہیں کام کرتے تو محنت، شرافت اور دیانت داری کی بدولت مختصر سے حلقے میں اچھی نظر سے دیکھے جاتے۔

کوچہ چابک سواراں میں طالع مند اپنے اہل خانہ کے ساتھ امن و آشتی سے رہتے تھے۔ اس دور میں دولت سے زیادہ عزت کی قدر کی جاتی تھی۔ ان کی تو ایک ہی آرزو تھی کہ علم الدین بڑا ہو کر انہی جیسا سعادت مند، محنتی، دیانتدار اور نیک کار یگر ہو، گھر بسائے اور اچھا نام پائے۔ خدا اسے برائی سے بچائے۔ کسے خبر تھی کہ علم الدین بڑا ہو کر گھر کی اوقات بدل دے گا۔ اسے زمین سے اٹھا کر اوج ثریا پر لے جائے گا۔ محلہ چابک سواراں کو تاریخ کا درخشاں ستارہ بنا دے گا۔ لاہور کو اس پر ناز رہے گا۔ لاہور کے ماتھے کا جھومر بن جائے گا۔

اس زمانے میں مسجد بچوں کی ابتدائی درسگاہ تھی۔ طالع مند نے اپنے بیٹے کو بھی مسجد میں بھیجا تاکہ قرآن مجید پڑھے۔ علم الدین نے کچھ دن وہاں گزارے۔ تعلیم حاصل کی۔ لیکن وہ زیادہ تعلیم نہ پا سکے۔ قدرت کا کوئی راز تھا۔ ان سے ایسا کام لیا جانا تھا جو عمل کی دنیا میں تعلیم سے بڑھ کر تھا بلکہ تعلیم کا مقصود تھا۔ ان میں من جانب اللہ ایسا جوہر مخفی تھا جس کی اس بچے کو خبر نہ تھی۔ لیکن اس جوہر نے آگے چل کر وہ کام کر دکھایا جس سے انہیں ”تب و تاب جاودانہ“ میسر آئی۔ اس کام کا کوئی بدل نہ تھا۔

طالع مند اعلیٰ پایہ کا ہنر مند تھا۔ وہ علم الدین کو گاہے بگاہے اپنے ساتھ لاہور سے باہر بھی لے جاتے۔ بڑا بیٹا محمد دین تو پڑھ لکھ کر سرکاری نوکر ہو گیا تھا، لیکن علم الدین نے موروثی ہنر ہی سیکھا۔

غازی کے بڑے بھائی کا ایک سچا خواب اور باہمی محبت کا انداز

محمد دین اور علم الدین میں بڑا پیار تھا۔ علم الدین والد کے ساتھ کبھی باہر جاتا تو محمد دین کو قلق ہوتا۔ ایک مرتبہ تو ایسا ہوا کہ محمد دین نے علم الدین کے بارے میں خواب پریشان دیکھا۔ علم الدین والد کے ساتھ سیالکوٹ گیا ہوا تھا۔ محمد دین بے چین ہوا اور چھوٹے بھائی کی خیریت

گستاخ رسول کا عبرت ناک معلوم کرنے سیالکوٹ پہنچا۔ دو والد کے ٹھکانے پر پہنچا تو علم الدی شدت جذبات سے دونوں ایک تھے۔ نجانے کتنی دیر تک وہ ایک کو کہا۔

محمد دین نے خواب میں م واقعی زخمی ہوئے تھے۔ ہاتھ پر اگلے روز محمد دین لاہور آ گئے۔

غازی علم الدین شہ

علم الدین والد کے ساتھ الدین نجار بنیں گے۔ اور نجار کی زخمی کر بیٹھے۔ ویسے تیز دھار اوزا

طالع مند کبھی بیکار نہ رہے کام کرتے، نیک نامی سے کر سے تعلق قائم نہ کرتے بلکہ انس محبت کرتے، ان کی عزت کر

علم الدین کا گھر پرانی و سے عزت اور شرافت کا سبق نے کتابی علم تو نہ ملا لیکن اس کی حصہ تھا۔ وہ اعلیٰ درجے کا انسا روشن کرے تو وہ نورانی ہو جاتا

گھر کے شریفانہ ماحول ہے جو دوسروں کے کام آئے

صفحہ 171

گستاخ رسول ﷺ کا عبرتناک انجام

معلوم کرنے سیالکوٹ پہنچا۔ دونوں بھائیوں کی باہمی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب محمد دین اپنے والد کے ٹھکانے پر پہنچا تو علم الدین چار پائی پر بیٹھا تھا۔ اسے دیکھتے ہی علم الدین اچھل پڑا۔ شدت جذبات سے دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ ایک عرصے بعد دونوں بھائی ملے تھے۔ نجانے کتنی دیر تک وہ ایک دوسرے سے بغلگیر رہے کہ طالع مند نے محمد دین کو بیٹھ جانے کو کہا۔

محمد دین نے خواب میں علم الدین کو زخمی ہوتے دیکھا۔ خواب کتنا سچا نکلا۔ علم الدین واقعی زخمی ہوئے تھے۔ ہاتھ پر پٹی بندھی تھی۔ شیشہ لگا تھا۔ ہاتھ زخمی تو ہوا لیکن زخم گہرا نہ تھا۔ اگلے روز محمد دین لاہور آ گئے۔

غازی علم الدین شہید کے والد اعلیٰ اخلاق کی ایک روشن مثال

علم الدین والد کے ساتھ رہتے، والد کا ہاتھ بٹاتے اور کام سیکھتے۔ اہل خانہ سمجھ گئے کہ علم الدین نجار بنیں گے۔ اور نجاری ہی کو ذریعہ معاش بنائیں گے۔ ابھی اناڑی تھے، جبھی تو ہاتھ زخمی کر بیٹھے۔ ویسے تیز دھار اوزاروں سے کام کرنے اور سیکھنے میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔

طالع مند کبھی بیکار نہ رہتے۔ لاہور میں کام کرتے۔ لاہور سے باہر بھی جاتے۔ جہاں کام کرتے، نیک نامی سے کرتے۔ اپنے مالکوں سے صرف بسولے اور رندے کے حوالے سے تعلق قائم نہ کرتے بلکہ انسانی ہمدردی کا رشتہ قائم کرتے۔ جس کی وجہ سے لوگ ان سے محبت کرتے، ان کی عزت کرتے۔

علم الدین کا گھر پرانی وضع کا تھا۔ جہاں وہ والدین کے زیر سایہ تربیت پا رہے تھے۔ گھر سے عزت اور شرافت کا سبق لیا۔ وہیں دیانتداری کی خو پائی۔ گھر ہی درسگاہ ٹھہری۔ جہاں سے کتابی علم تو نہ ملا لیکن اس کی روح جذب کی۔ اس کی غایت جانی پہچانی۔ علم تو ان کے نام کا حصہ تھا۔ وہ اعلیٰ درجے کا انسان بن رہے تھے۔ علم تو نور ہے۔ جب یہ بندے کے اندرون کو روشن کرے تو وہ نورانی ہو جاتا ہے۔

گھر کے شریفانہ ماحول میں ڈھل گئے۔ والد کی صحبت میں رہ کر معلوم ہوا کہ بندہ تو وہ ہے جو دوسروں کے کام آئے۔ ایثار اور احسان کو زندگی کا بنیادی عنصر قرار دے۔ خلوص سے

صفحہ 172

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پیش آئے، اس کا صلہ کسی نہ کسی شکل میں بندے کو مل جاتا ہے۔ علم الدین نے بچپن ہی میں بعض ایسے واقعات دیکھے جن کے نقوش ان کے دماغ پر ثبت ہوئے اور ان کی کردار سازی میں کام آئے۔

ایک سال والد کے ساتھ کوہاٹ میں رہے۔ یہ علاقہ غیور اور بہادر پٹھانوں کا ہے۔ علم الدین نے پٹھانوں کی اعلیٰ صفات کا بہ نفس نفیس مطالعہ کیا۔ والد نے کوہاٹ جا کر رہنے کے لئے مکان کرائے پر لیا۔ اس کا مالک اکبر خان پٹھان تھا۔ کام کے لئے گھر سے باہر جاتے۔ ایک دن روشن خان نامی ایک شخص کے گھر پر کام کرنے گئے۔ کام میں مصروف تھے کہ کسی نے آ کر بتایا کہ ان کے مالک مکان اکبر خان کا بھائی سے جھگڑا ہو گیا ہے۔ اس کا بھائی شدید زخمی ہو گیا ہے اور اس کی رپورٹ پر پولیس نے اکبر خان کو گرفتار کر لیا ہے۔

اکبر خان کی خبر سنتے ہی طالع محمد نے کام چھوڑا اور اکبر خان کی مدد پر جانے کو تیار ہو گئے۔ روشن خان حیران ہوا کہ یہ پردیسی پنجابی روزی چھوڑ کر پٹھان کی مدد کو جا رہا ہے۔ اس نے پوچھا۔

”تمہاری اس کے ساتھ کوئی رشتہ داری ہے جو یوں کام چھوڑ کر جا رہے ہو؟“

طالع مند نے کہا:

”میں اس کا کرایہ دار ہوں۔ وہ میرا محسن ہے۔ اگر خوشی کے وقت وہ مجھے نہیں بھول سکتا تو پھر میں مصیبت کی گھڑی میں اس کی خبر کیوں نہیں لے سکتا؟“

روشن خان پردیسی کے جواب سے بہت متاثر ہوا۔ وہ بھی ساتھ چل دیا اور دونوں کی کوشش سے اکبر خان پولیس کی گرفت سے چھوٹ گیا۔

اس واقعہ کا اکبر خان پر یہ اثر ہوا کہ طالع مند کی ضد اور اس کے اصرار کے باوجود اکبر خان نے ایک سال تک کے قیام میں طالع مند سے کرایہ وصول نہیں کیا۔ یہی نہیں بلکہ دونوں باپ بیٹے نے واپس لاہور آنے کا ارادہ کیا تو اکبر خان نے پیار کی نشانی کے طور پر باپ بیٹے کو ایک چادر دی۔

صفحہ 173

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

غازی علم کی قسمت کی سرفرازی کا وقت آخر آ ہی گیا

زندگی امن و چین سے گزر رہی تھی۔ بڑے بھائی کی شادی ہو چکی تھی۔ اب علم دین کی باری تھی۔ چنانچہ ماموں کی بیٹی سے منگنی ہو گئی۔ شادی کی طرف یہ پہلا قدم تھا۔ علم الدین کو گھر اور کام سے سروکار تھا۔ باہر جو طوفان برپا تھا اس کی خبر نہ تھی۔ اس وقت انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ گندی ذہنیت کے شیطان صفت راجپال نامی بدبخت نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی شان کے خلاف ایک دل آزار کتاب شائع کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

وہ سیدھے سادھے مسلمان تھے۔ باہر تو اور بھی کئی طوفان اٹھ رہے تھے، ہندو مسلم اتحاد زندہ باد! انقلاب زندہ باد! فرنگی راج مردہ باد! اور اسی نوع کے فلک شگاف نعرے رات دن گونج رہے تھے، ادھر اس سب کو تہس نہس کرنے کے لئے راجپال نے نفرتوں اور کراہتوں سے لدا پھندا طوفان برپا کر دیا تھا، اس طوفان بدتمیزی سے ہندو آپس میں بٹ گئے، مسلم دشمن ایک طرف ہو گئے ۔ عدل و انصاف کے پرستار اور ہندو مسلم کے اتحاد کے طلبگار دوسری طرف ہو گئے، ثانی الذکر کی تعداد کم تھی، چنانچہ ان کی دال نہ گل رہی تھی۔

اب تو علم الدین کے دل میں بھی طوفان برپا ہوا۔ جس نے یک دم ان کی سوچ ہی بدل دی۔ شاید ان کی گھریلو تعلیم و تربیت کا یہی نتیجہ تھا، علم الدین کی سرفرازی اور ان کے گھرانے کی سربلندی کا وقت آ گیا تھا۔ قدرت کو اسی گھڑی کا انتظار تھا۔ وقت نے انہیں اسی کے لئے تیار کیا تھا۔ انہوں نے امن و سکون سے چوبیس برس گزارے وہ اب زندگی کے نئے موڑ پر آ گئے، ہوا کا رخ بدل گیا۔ یہی نہیں بلکہ ہوا طوفان خیز ہو گئی۔

حکومت کو راجپال کے خلاف مقدمہ چلانے کو کہا گیا۔ مقدمہ چلا۔ لیکن الٹا چور سر خرو ہوا۔ اخبارات چیختے چلاتے رہے راجپال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے رہے جلسے، جلوس نکلتے رہے۔ لیکن حکومت اور عدل و انصاف کے کان بہرے رہے۔

مسلمان دل برداشتہ تو ہوئے لیکن سرگرم عمل رہے۔ دلی دروازہ سیاسی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ یہاں سے جو آواز اٹھتی پورے ہند میں گونج جاتی۔ وہ دور ہی ایسا تھا۔ دلی دروازہ اور

صفحہ 174

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موچی دروازہ میں ہر دم جوالا مکھی سلگتی رہی۔ آتش نفس مقرر انہیں ہوا دیتے رہے۔ یہ باکمال مقرر زندگی کو موت سے لڑا دیتے۔ زندگی دیوانہ وار موت کے گلے پڑ جاتی۔ لوگ سود و زیاں سے بالاتر ہو جاتے اور بے دریغ جانوں پر کھیل جاتے۔ راجپال کا معاملہ اتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا کہ دلی دروازے کے باغ میں اس کا ذکر لازم ہو گیا۔

غازی علم الدین پر عشق رسول سے لبریز تقریر کا اثر

علم الدین حالات سے بے خبر تھے ایک روز حسب معمول کام پر گئے ہوئے تھے۔ غروب آفتاب کے بعد گھر واپس جا رہے تھے تو دلی دروازے میں لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا۔ ایک جوان کو تقریر کرتے دیکھا تو کچھ دیر رکے۔ اور کھڑے ہو کر سنتے رہے۔ لیکن ان کے پلے کوئی بات نہ پڑی، قریب جاکر ایک صاحب سے انہوں نے دریافت کیا تو انہوں نے علم الدین کو بتایا کہ راجپال نے نبی کریم ﷺ کے خلاف کتاب چھاپی ہے۔ اس کے خلاف تقریریں ہورہی ہیں۔

وہ دیر تک تقریریں سنتے رہے۔ پھر ایک اور مقرر آئے جو پنجابی زبان میں تقریر کرنے لگے، یہ علم الدین کی اپنی زبان تھی جس کی تربیت گھر سے ملی تھی، اردو کی تعلیم مدرسے سے ملی تھی، مدرسے وہ گئے ہی نہیں۔ پنجابی تقریر اچھی طرح ان کی سمجھ میں آگئی۔ جس کا حاصل یہ تھا کہ راجپال نے ایسی کتاب چھاپی ہے جس میں ہمارے پیارے رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخی ہے اور نازیبا الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، راجپال واجب القتل ہے، اسے اس شرانگیز حرکت کی ضرور سزا ملنی چاہئے۔

علم الدین کی زندگی کے تیور ہی بدل گئے، پڑھے لکھے نہ تھے سیدھے سادھے مسلمان تھے اور کچھ نہ سہی کلمہ تو انہیں آتا تھا، یہی بہت بڑا سرمایہ حیات تھا ان کے لئے، کلمے میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا نام ایک سانس میں لیتے تھے۔ یہی دو سہارے، دو محور تھے ان کی سوچ کے۔

جب جہاد باللسان اور جہاد بالقلم سے کام نہ بنے تو پھر جہاد بالسیف ہی سے قضیہ نمٹتا ہے، علم الدین بیچارے کے پاس اس سلسلے میں لسان اور قلم کہاں سے آئے؟ تقریر کر سکتے تھے نہ لکھ پڑھ سکتے تھے، لیکن ان کے تھا میں وہ خوبی تھی، وہ ہنر تھا جس نے جہاد بالسیف کا راستہ

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہموار کیا، آسان کیا، ان کے پیچھے وہ میں آیا۔

انہوں نے راجپال کو اس کی شرار

غازی کا گستاخ رسول کو انجام

دلی دروازے کے باغ سے آ مند (والد) نے پوچھا، دیر سے کیوں راجپال کی حرکت کا ذکر کیا اور یہ بھی بتا

طالع مند بھی سیدھے سادھے ﷺ کی شان میں گستاخی گوارا نہ ﷺ کی ذات پر حملہ کرنے والے

یوں علم الدین کو گویا گھر سے بھ تقویت پہنچی، علم الدین کے دل میں تھا

وہ اپنے دوست شیدے سے م بازار میں ہر جگہ یہی موضوع زیر بحث آ تبادلہ خیال شروع ہو گیا، فرنگی کی جانب نشانہ بنانے کا تذکرہ ہوتا، مسلمانوں کی باتیں ہوتیں، رات دن یہی ہوتا، باقی

شیدا اچھا لڑکا تھا لیکن ایک محلے ہے، علم الدین کی اس سے دوستی ٹھیک

الدین کا یہی ایک نوجوان مزاج آش الدین کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ راجپال

انجام کار علم الدین کو شیدے پ دکان کرتا ہے، طالع مند کی سمجھ میں

صفحہ 175

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ہموار کیا، آسان کیا، ان کے پیچھے وہ شدید اور گراں قدر جذبہ تھا جو شر کو مٹانے کے لئے حرکت میں آیا۔

انہوں نے راجپال کو اس کی شرارت بلکہ شرانگیزی کی سزا دینا ضروری سمجھا۔

غازی کا گستاخ رسول کو انجام سے دوچار کرنے کیلئے معلومات اکٹھی کرنا

دلی دروازے کے باغ سے آتش نوا مقرروں کی تقریریں سن کر دیر سے گھر آئے تو طالع مند (والد) نے پوچھا، دیر سے کیوں آئے ہو؟ تو انہوں نے جلسے کی ساری کارروائی بیان کی، راجپال کی حرکت کا ذکر کیا اور یہ بھی بتایا کہ جلسے میں اسے واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔

طالع مند بھی سیدھے سادھے کلمہ گو تھے تمام مسلمانوں کی طرح انہیں بھی اپنے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی گوارا نہ تھی۔ انہوں نے بھی اس بات کی تائید کی کہ رسول اکرم ﷺ کی ذات پر حملہ کرنے والے بداندیش کو واصل جہنم کرنا چاہئے۔

یوں علم الدین کو گویا گھر سے بھی اجازت مل گئی اور دشمن کا کام تمام کرنے کے خیال کو تقویت پہنچی ، علم الدین کے دل میں تہلکہ مچا ہوا تھا اس کی کسی کو خبر نہ تھی۔

وہ اپنے دوست شیدے سے ملے، راجپال اور اس کی کتاب کا ذکر کیا۔ ان دنوں کوچہ، بازار میں ہر جگہ یہی موضوع زیر بحث آتا۔ جہاں دو بندے اکٹھے ہوئے، راجپال کی حرکت پر تبادلہ خیال شروع ہو گیا، فرنگی کی جانبداری، مجرم کو کھلی چھٹی دینے اور مسلمانوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنانے کا تذکرہ ہوتا ، مسلمانوں کی تاریخی رواداری اور غیر مسلم ہمسایوں سے حسن سلوک کی باتیں ہوتیں، رات دن یہی ہوتا، باقی تمام موضوع اس موضوع میں دب کر رہ گئے۔

شیدا اچھا لڑکا تھا لیکن ایک بھلے آدمی نے طالع مند کے دل میں شک بٹھا دیا وہ آوارہ ہے، علم الدین کی اس سے دوستی ٹھیک نہیں، طالع مند نے بیٹے کو سمجھایا لیکن بات نہ بنی، علم الدین کا یہی ایک نوجوان مزاج آشنا تھا، اسی کے ساتھ علم الدین گھومتے پھرتے تھے، علم الدین کو پتہ نہیں چل رہا تھا کہ راجپال کون ہے؟ کہاں ہے اس کی دکان؟ کیا حلیہ ہے اس کا؟

انجام کار علم الدین کو شیدے کے ایک دوست سے معلوم ہوا کہ شاتم رسول ہسپتال روڈ پر دکان کرتا ہے، طالع مند کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ علم الدین کو کیا ہو گیا ہے؟ کام پر باقاعدہ

صفحہ 176

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

نہیں جاتا، کھانے کا بھی ناغہ کر لیتا ہے، کیا عجب کہ علم الدین کے روز و شب کے معمولات میں جو بے قاعدگی آئی ہے اس کا سبب شیدا ہو جس کے باپ کی نسبت خبر ملی کہ وہ جواری ہے اور اپنی دکان جوئے میں ہار چکا ہے۔

طالع مند کی طبیعت غصیلی تھی۔ علم الدین جب دیر سے گھر آئے اور طالع مند کو پتہ چلا کہ شیدے لوفر کے ساتھ پھرتے رہے ہیں تو وہ غصے سے لال پیلے ہو گئے، باپ کے سامنے جوان بیٹا خاموش سر جھکائے کھڑا رہا، باپ کا ادب بھی تھا، ڈر بھی تھا۔ باپ نے انہیں پکڑ کر دھکیلا اور کہا چلا جا اس لوفر کے پاس۔

بڑے بھائی محمد دین کو اپنے چھوٹے بھائی سے بڑا پیار تھا۔ فوراً بیچ بچاؤ کے لئے آئے اور باپ کو منا لیا، بھائی کو اندر لے گئے اور ناصحانہ درس دیا، اونچ نیچ سمجھائی، بری صحبت سے بچنے کو کہا۔

علم الدین کو اپنی ذات پر یقین تھا اور جانتے تھے کہ وہ بری صحبت کا شکار نہیں، شیدے کے حوالے سے بری صحبت کا سن کر آبدیدہ بھی ہوئے اور برہم بھی۔

وہ پوری طرح واضح نہیں کر سکتے تھے، ان کے دل میں جو بھانبڑ مچا تھا اس کا وہ کیسے ذکر کرتے؟ موت اور زندگی کا سوال تھا، انہوں نے سر پر کفن باندھ لیا تھا، لیکن کسی کو نظر نہ آ رہا تھا، اپنے ارادے کا خفیف سا اشارہ بھی کسی کو نہ دے سکتے تھے، مبادا کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے اور شک کی بھول بھلیوں میں جا پہنچیں، البتہ اب اتنا ضرور ہو گیا کہ گھر میں راجپال کے قتل کی بات عام انداز میں ہونے لگی، اس گفتگو میں طالع مند اور علم الدین شریک ہوتے، یہ کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی، گھر گھر اس کا چرچا تھا۔

عطاء اللہ شاہ بخاری کا گستاخ رسول کے خلاف ولولہ انگیز خطاب

لوگوں کے دلوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی، ادھر باہر بھی آگ بھڑک رہی تھی، مسلمانوں کے لیڈر، رہنما، سیاسی اور مذہبی خطیب پوری قوت سے کہہ رہے تھے کہ زبان دراز راجپال کو عبرت ناک سزا دی جائے تا کہ ایسا فتنہ پھر کبھی سر نہ اٹھائے، اس موقع پر عاشق رسول ﷺ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے بڑی رقت انگیز تقریر کی، دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ تھا جس کی رو

صفحہ 177

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سے کسی قسم کا جلسہ یا اجتماع نہیں ہو سکتا تھا، لیکن مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع بیرون دہلی دروازہ درگاہ شاہ محمد غوث کے احاطے میں منعقد ہوا، وہاں اس عاشق رسول ﷺ نے ناموس رسالت پر جو تقریر کی وہ اتنی دل گداز تھی کہ سامعین پر رقت طاری ہو گئی ، کچھ لوگ تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگے، شاہ جی نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

آپ لوگ جناب فخر رسل محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں ، آج انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرے میں ہے، آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرض خطر میں ہے، جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے، اس جلسے میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

آج مفتی کفایت اللہ اور احمد سعید کے دروازے پر ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کھڑی آواز دے رہی ہیں، ہم تمہاری مائیں ہیں، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں، ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دروازہ پر تو کھڑی نہیں؟

یہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے اس جوش اور ولولے کے ساتھ ابل پڑے کہ سامعین کی نظریں معاً دروازے کی طرف اٹھ گئیں اور ہر طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں، پھر باقی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

تمہاری محبتوں کا تو یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو، لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج گنبد خضریٰ میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں۔ آج خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پریشان ہیں، بتاؤ! تمہارے دلوں میں امہات المومنین کے لئے کوئی جگہ ہے؟ آج ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں، وہی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنہیں رسول اللہ ﷺ ”حمیرا“ کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنہوں نے سید عالم ﷺ کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی، یاد رکھو کہ اگر تم نے خدیجہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن کے لئے جانیں دے دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں۔

شاہ جی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا۔

صفحہ 178

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے چین سے نہیں رہ سکتے، پولیس جھوٹی ،حکومت کوڑھی اور ڈپٹی کمشنر نا اہل ہے، وہ ہندو اخبارات کی ہرزہ سرائی تو روک نہیں سکتا، لیکن علمائے کرام کی تقریریں روکنا چاہتا ہے، وقت آگیا ہے کہ دفعہ ۱۴۴ کے یہیں پر بخیے اڑا دیئے جائیں، میں دفعہ ۱۴۴ کو اپنے جوتے کی نوک تلے مسل کر بتادوں گا۔

پڑا فلک کو دل جلوں سے کام نہیں
جلا کے راکھ نہ کر دوں تو داغ نہیں

دو عاشقان رسول کا گستاخ رسول کو انجام سے دوچار کرنا

داغ کا یہ شعر شاہ جی نے کچھ اس انداز سے پڑھا کہ لوگ بے قابو ہوگئے، اس تقریر نے مسلمانوں کے دلوں میں آگ لگادی، لاہور میں بدنام زمانہ کتاب، اس کے مصنف اور ناشر کے خلاف جا بجا جلسے ہونے لگے۔

انہی دنوں انجمن خدام الدین نے شیرانوالہ دروازہ میں راجپال کے قتل کا فتویٰ دے دیا۔

سارا ماحول شعلوں سے بھر پور ہوگیا، ملک کے طول وعرض میں احتجاجی جلسے ہونے لگے، آخر ایک مرد غازی اٹھا اور اس نے ایک صبح راجپال کی دکان پر جا کر چاقو سے حملہ کیا، تیس برس کا یہ مجاہد اندرون دلی دروازے کا شیر فروش خدا بخش اکو جان تھا، راجپال زخمی تو ہوا لیکن اس کی جان بچ گئی۔

مقدمہ چلا اور جلد ہی نمٹا دیا گیا، مجاہد خدا بخش کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا، ایک دو دن کی کارروائی کے بعد عدالت نے سات سال قید سخت کی سزا دی، جس میں تین ماہ قید تنہائی کے تھے، رہائی کے بعد پانچ ہزار روپے کی ضمانت کا بھی پابند کیا تھا۔

مسلمان اس عدالتی فیصلے کو کیونکر قبول کرتے ، سراسر بے انصافی ہورہی تھی اور مجرم کو پناہ دی جارہی تھی ، عدالت سے ملزم کو قرار واقعی سزا ملنے کی امید نہ رہی تو وہ خود ہی برائی کا قلع قمع کرنے کے لئے تیار ہوگئے ، بات ہند کی حدود سے باہر آچکی تھی ، چنانچہ افغانستان کے عبدالعزیز نامی غیور تاجر نے راجپال پر حملہ کیا، لیکن وہ سوامی ستیا نند تھا، اب پھر بسرعت فیصلہ کیا گیا، عبدالعزیز وکیل کے بغیر پیش ہوئے۔ عدالت اتنی جلدی میں تھی کہ وکیل بنانے کے

صفحہ 179

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

لئے وقت ہی نہ دیا۔ ۶ ستمبر ۱۹۲۷ء کو حملہ ہوا۔ ۱۱ اکتوبر کو عدالت میں مقدمہ پیش ہوا۔ ۱۲ اکتوبر کو عدالت نے سات سال قید سخت کی سزا دی۔ تین ماہ قید تنہائی۔ رہائی کے بعد پانچ پانچ ہزار روپے کی تین ضمانتیں دینا قرار دیا۔

شاید ہی کبھی عدالت میں قتل کے مقدمات اس عجلت سے پیش ہوئے اور وکیل کے بغیر نمٹا دیئے گئے ہوں۔ یہ صورتحال بیسویں صدی کے فرنگی عدالتوں کی تھی۔ کلیسائی عدالتوں کے صدیوں بعد بھی فرنگی کے تیور نہ بدلے۔ امن قائم نہ ہوا۔ اب غازی علم الدین حرکت میں آئے۔

علم الدین کا گستاخ رسول کو ٹھکانے لگانے کے لیے قرعہ اندازی کرنا

طالع مند نے علم الدین کے بارے میں سوچا کہ اس اکھڑ پن کا ایک ہی علاج ہے کہ اس کا بیاہ کر دیا جائے۔ ماں باپ کو اولاد کی پریشانی کے سلسلے میں یہی نسخہ یاد ہے۔ سب اسی کو آزماتے ہیں۔ طالع مند نے فیصلہ کرلیا کہ علم الدین کو جلد ہی سلسلہ ازدواج میں منسلک کر دیا جائے۔

ادھر علم الدین کی حالت ہی اور تھی۔ ایک رات اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک بزرگ ملے اور انہوں نے کہا، علم الدین ابھی تک سو رہے ہو۔ تمہارے نبی ﷺ کی شان کے خلاف دشمن کارروائیوں میں لگے ہیں۔ اٹھو جلدی کرو!

علم الدین ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔ ان کا تمام جسم پسینے میں شرابور تھا۔ پھر آنکھ نہ لگی۔ منہ اندھیرے اٹھے۔ اوزار سنبھالے اور سیدھے شیدے کے گھر پہنچے۔

شیدے کو لیا اور بھاٹی دروازے کی طرف چلے گئے۔ ایک جگہ بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ عجیب بات یہ تھی کہ علم الدین نے جیسا خواب دیکھا تھا ویسا ہی خواب شیدے نے رات کو دیکھا تھا۔ دونوں ہی کو بزرگ نے راجپال کا صفایا کرنے کو کہا۔ دونوں پریشان ہوئے۔ کون یہ کام کرے اور کون نہ کرے۔ دیر تک بحث چلتی رہی۔ دونوں ہی یہ کام کرنا چاہتے تھے۔ لیکن ان میں کوئی فیصلہ نہ ہو رہا تھا۔ دونوں ہی اپنے موقف پر ڈٹے تھے۔ آخر قرار پایا کہ قرعہ اندازی کی جائے۔ دونوں اس پر رضامند ہوگئے۔ دو مرتبہ قرعہ اندازی کی گئی۔ دونوں مرتبہ علم الدین کے نام کی پرچی نکلی۔

شیدے نے اصرار کیا کہ تیسری بار پھر قرعہ اندازی کی جائے۔ پرچی نکالنے والا اجنبی

صفحہ 180

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

لڑکا حیران تھا کہ یہ دونوں جوان کیا کر رہے ہیں۔ آخر تیسری بار پر علم الدین رضامند ہو گئے۔ اب پھر انہی کا نام نکلا۔

اب شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ علم الدین مارے خوشی کے پھولے نہ سمائے۔ قرعہ فال انہی کے نام نکلا۔ وہی باہمی فیصلے سے شاتم رسول کا فیصلہ کرنے پر مامور ہوئے۔ پھر دونوں وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔

غازی علم الدین کے ہاتھوں راجپال ملعون کا عبرتناک انجام

گھر والوں کو خبر ہی نہ ہوئی کہ علم الدین نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے اندر کب سے طوفان انہیں بے چین کر رہا ہے اور اس کا منطقی انجام کیا ہوگا۔ ان کی زندگی میں جو بے ترتیبی آئی ہے اس کا کیا سبب ہے؟

ایک مرتبہ پھر خواب میں آکر بزرگ نے اشارہ کیا۔ ”علم الدین اٹھو! جلدی کرو! دیر کی تو کوئی اور بازی لے جائے گا۔

ارادہ تو کر ہی چکے تھے۔ دوسری بار خواب میں بزرگ کو دیکھا تو ارادہ اور بھی مضبوط ہو گیا۔ آخری بار اپنے دوست شیدے سے ملنے گئے۔ اسے اپنی چھتری اور گھڑی یادگار کے طور پر دی، گھر آئے رات گئے تک جاگتے رہے، نیند کیسے آتی؟ وہ تو زندگی کے سب سے بڑے مشن کی تکمیل کی بات سوچ رہے تھے، اس کے علاوہ اب کوئی دوسرا خیال پاس بھی پھٹک نہ سکتا تھا۔

اگلی صبح گھر سے نکلے۔ ڈبی بازار کی طرف گئے اور آتما رام نامی کباڑیے کی دکان پر پہنچے، جہاں چھریوں اور چاقوؤں کا ڈھیر لگا تھا، وہاں سے انہوں نے اپنے مطلب کی چھری لے لی اور چل دیئے، اب ”نغمہ بیقرار ہو گیا، روح بے قابو ہو گئی۔

انارکلی میں اسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاؤس کے سامنے ہی راجپال کا دفتر تھا۔ معلوم ہوا کہ راجپال ابھی نہیں آیا، آتا ہے تو پولیس اس کی حفاظت کے لئے آ جاتی ہے، اتنے میں راجپال کار پر آیا، کھوکھے والے نے بتایا کہ کار سے نکلنے والا راجپال ہے، اسی نے کتاب چھاپی ہے۔

صفحہ 181

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

راجپال ہردوار سے واپس آیا تھا۔ دفتر میں جاکر اپنی کرسی پر بیٹھا اور پولیس کو اپنی آمد کی خبر دینے کے لئے ٹیلیفون کرنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ علم الدین دفتر کے اندر داخل ہوئے ، اس وقت راجپال کے دو ملازم وہاں موجود تھے ، کیدار ناتھ پچھلے کمرے میں کتابیں رکھ رہا تھا جبکہ بھگت رام راجپال کے پاس ہی کھڑا تھا، راجپال نے درمیانے قد کے گندمی رنگ والے جوان کو اندر داخل ہوتے دیکھ لیا، لیکن وہ سوچ بھی نہ سکا کہ موت اس کے اتنے قریب آچکی ہے...... پلک جھپکتے ہی چھری نکالی ...... ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور پھر راجپال کے سینے پر جالگا ...... چھری کا پھل سینے میں اتر چکا تھا، ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز آئی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جا پڑا۔

ملعون کے قتل پر ہندوؤں کا واویلا

علم الدین الٹے قدموں باہر دوڑے، کیدار ناتھ اور بھگت رام نے باہر نکل کر شور مچایا .....

پکڑو پکڑو..... مار گیا..... مار گیا..... مار گیا

راجپال کے قتل کی خبر آناً فاناً شہر میں پھیل گئی۔ پوسٹ مارٹم ہوا تو کئی ہزار ہندو اسپتال پہنچ گئے اور آریہ سماجی ہندو دھرم کی جے، ویدک دھرم کی جے کے نعرے سنائی دینے لگے۔

امرت دھارا کے موجد پنڈت ٹھاکر دت شرما ، رائے بہادر بدری داس اور پرمانند کا وفد ڈپٹی کمشنر سے ملا اور راجپال کی ارتھی کو ہندو محلوں میں لے جانے کی درخواست کی۔ لیکن ڈپٹی کمشنر نہ مانا۔ کیسے مانتا؟ اس کی منشاء کے عین مطابق حسب ضرورت ہندو مسلم اتحاد درہم برہم ہونے کی صورت پیدا ہوگئی تھی، وہ کسی کو اس حد کے آگے کیونکر جانے دیتا، اگلا مرحلہ تصادم کا تھا جس سے امن قائم نہ رہتا ، فرنگی کو اس سے نقصان پہنچتا ، چنانچہ جب لوگ زبردستی کرنے لگے اور ارتھی کا جلوس نکالنے پر تل گئے تو پولیس کو لاٹھی چارج کا حکم ملا ، پنجاب پولیس امن قائم کرنے کا بڑا تجربہ رکھتی ہے، پولیس نے لٹھ برسائے اور وہ گتھم گتھا ہوئی کہ توبہ ہی بھلی ۔

علم الدین کے اہل وعیال کا حیرت وخوشی کا حسین امتزاج

علم الدین کے گھر والوں کو علم ہوا تو وہ حیران ضرور ہوئے لیکن انہیں یہ پتہ چل گیا کہ ان

صفحہ 182

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کے چشم و چراغ نے کیسا زبردست کارنامہ سرانجام دیا ہے اور ان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، پولیس نے ان کے گھر پر پڑاؤ ڈال لیا اور ہجوم کو ہٹا دیا، اب کوئی ان کے گھر میں نہ جا سکتا تھا، وہ بھی گھر سے باہر نہ آسکتے تھے، شیدا باہر رہ کر انہیں ضرورت کی چیزیں پہنچانے لگا۔

طالع مند کو قرعہ اندازی کا علم ہوا تو شیدے کے بارے میں سارے شکوک و شبہات رفع ہو گئے، پھر اس نے جس لگن سے خدمت کی اس نے ان کا دل موہ لیا۔

انگریز حکومت خاموشی سے توہین رسالت کا تماشا دیکھتی رہی

مسلمان اب چاہتے تھے کہ حکومت غازی علم الدین کے اقدام کو درست سمجھے، کیونکہ انہوں نے بجا طور پر اپنے پیارے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی گوارا نہیں کی، ان کا دل مجروح ہوا جس کے نتیجے میں بد باطن راجپال کا خاتمہ کیا، علم الدین اپنے فعل میں حق بجانب تھے۔

غازی علم الدین کی بے گناہی میں نہ صرف ہند بلکہ افغانستان تک میں بھی آوازیں اٹھنے لگیں اور علم الدین کی بریت پر زور دیا جانے لگا۔

ادھر آریہ سماج والے چلا رہے تھے کہ مسلمان ان کے فرائض منصبی میں روڑے اٹکا رہے ہیں ۔ مطلب یہ کہ انہیں اسلام اور بانی اسلام ﷺ کی توہین کے لئے کھلی چھٹی دی جائے۔ وہ دل آزار تقریریں کرتے اور اشتعال انگیز کتابیں کھلم کھلا چھاپتے رہیں۔ مسلمان چپ چاپ یہ سب کچھ دیکھتے رہیں اور ان سے باز پرس نہ کریں۔

(فرنگی تماشا دیکھ رہا تھا اور طوفان بدتمیزی کو روک نہ رہا تھا۔)

دونوں طرف سے آگ کے شعلے پھیل رہے تھے۔ بالآخر دونوں قوموں کے رہنماؤں اور اخبار والوں نے سدباب کی تدبیر کی۔ باہمی افہام وتفہیم سے طے پایا کہ لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے تا کہ فساد نہ ہو جائے۔ ایسا ہوا تو گلی گلی ، کوچہ کوچہ خون کی ندیاں بہہ نکلیں گی اور بڑے پیمانے پر معصوم انسانی جانیں گنوا بیٹھیں گے۔ مولانا ظفر علی خاں سے استدعا کی کہ اپنے اخبار ”زمیندار“ میں اشتعال انگیز خبریں اور مضامین نہ چھاپیں۔ مولانا نے صاف صاف کہا۔ اگر راجپال کے خلاف پہلے ہی کارروائی کی جاتی تو یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ اب جو بویا ہے سو کاٹو۔ تاہم وہ اس شرط پر مان گئے کہ ہندو اخبارات کی زبان بندی بھی کی جائے۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ورنہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ ڈپٹی گا۔ تاہم معاملہ معمولی نہ تھا جسے لوگ شیخ شفیع ، مراتب علی شاہ اور میاں عم کروائی ۔ کتنے ہی دوسرے شہروں میں

ایک انصاف پسند ہندو

بخشی بشن داس نے کہا ، میں ب قدم آگے ، میں نے قرآن شریف اس میں تمام مسلمانوں کا قصور نہیں ۔ سوامی دیانند کو ایک ہندو برہم ہندوؤں کا ، مہاشے رام چند کو جموں میں قصور صرف ان ہندوؤں کا ہی تھا اس طرح ہندو مسلم کشیدگی میں انصاف سے کام لے، آخر عدالت نوبت آئی ، سب کی نظریں ایک نقطہ

عاشق رسول ﷺ کی

غازی علم الدین کی طرف ۔ پہلے بھی یہی صورت تھی ، مرد غازی میں مقدمہ چلا تو انہیں کوئی وکیل نہ پر قاتلانہ حملے کے الزام میں وکیل بہر حال تین مرتبہ ایسا ہی ہو پیش ہوئے ۔ بعد ازاں خواجہ فیرو اے آرخان تھے۔ فرخ حسین بھ

صفحہ 183

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ورنہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ ڈپٹی کمشنر نے یقین دلایا کہ ہندو پریس کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ تاہم معاملہ معمولی نہ تھا جسے لوگ دل سے اتار دیتے۔ لاہور میں علامہ اقبال، مولانا محمد علی، شیخ شفیع، مراتب علی شاہ اور میاں عبدالعزیز نے غازی علم الدین کے حق میں قرارداد پاس کروائی۔ کتنے ہی دوسرے شہروں میں بھی ایسی ہی قراردادیں منظور ہوئیں۔

ایک انصاف پسند ہندو رہنما کی تائید فریقین کے لیے نعمت عظمیٰ

بخشی بشن داس نے کہا، میں ہندو ہوں اور ہندو بھی کون؟ آریہ، بلکہ آریہ سے بھی دس قدم آگے، میں نے قرآن شریف پڑھا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ تم کسی بت کو بھی گالی نہ دو، اس میں تمام مسلمانوں کا قصور نہیں ہے بلکہ برا فعل کرنے والا اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے۔ سوامی دیانند کو ایک ہندو برہمن نے زہر دے دیا، اس میں قصور برہمن کا تھا نہ کہ تمام ہندوؤں کا، مہاشے رام چند کو جموں میں ہندوؤں نے ہی لاٹھیاں مار مار کر ہلاک کر دیا، اس میں قصور صرف ان ہندوؤں کا ہی تھا نہ کہ ہندوستان کے تمام ہندوؤں کا۔ اس طرح ہندو مسلم کشیدگی میں کمی آئی اور اب توجہ اس امر پر دی جانے لگی کہ عدالت انصاف سے کام لے، آخر عدالت کا دروازہ کھلا اور غازی علم الدین کی قسمت کے فیصلے کی نوبت آئی، سب کی نظریں ایک نقطے پر جمع ہو گئیں۔

عاشق رسول ﷺ کی سزا سے متعلق عدالت کی اسلام دشمنی

غازی علم الدین کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہوا، کیسی تعجب کی بات ہے کہ اس سے پہلے بھی یہی صورت تھی، مرد غازی خدا بخش اکو جہاں پر راجپال پر قاتلانہ حملہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلا تو انہیں کوئی وکیل میسر نہ آیا، اسی طرح افغانستان کے تاجر عبد العزیز بھی راجپال پر قاتلانہ حملے کے الزام میں وکیل کے بغیر ہی عدالت میں پیش ہوئے۔ بہر حال تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ بعد ازاں غازی علم الدین کی طرف سے چوٹی کے وکیل پیش ہوئے۔ بعد ازاں خواجہ فیروز الدین بیرسٹر نے یہ مقدمہ لے لیا۔ ان کے معاون ڈاکٹر اے آر خان تھے۔ فرخ حسین بیرسٹر تو پہلے سے شامل تھے۔ ان میں مسٹر سلیم اور دیگر وکلاء بھی

صفحہ 184

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

شامل ہو گئے۔

وکلاء نے جرح کی اور صفائی میں دلائل دیئے۔ لیکن یہاں دلائل سننے والا اور انہیں درخور اعتنا کرنے والا کون تھا؟ عدالت طوفان میل کی طرح مقدمے کی سماعت کرنے اور فیصلہ سنانے کے لئے بے چین تھی۔ صفائی کے وکلاء کی کوئی بات مانی نہیں گئی، کوئی دلیل قبول نہ کی گئی اور ۲۲ مئی کو سزائے موت سنادی۔ فرخ حسین بیرسٹر بمبئی گئے اور ہندوستان کے ذہین ترین نوجوان وکیل محمد علی جناح سے ملے تا کہ وہ ہائی کورٹ میں غازی علم الدین کی اپیل کی پیروی کریں۔

اس وقت ہائیکورٹ کی صورت یہ تھی کہ سر شادی لال چیف جسٹس تھا۔ جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں جو سر شادی لال سے سینئر تھے، انتقال کر چکے تھے۔ ان کے پوتے میاں منظر بشیر کے بقول میاں شاہ دین کے نام سے مال روڈ (شاہراہ قائد اعظم محمد علی جناح) پر شاہ دین بلڈنگ تعمیر ہوئی۔ قریب ہی ۲۳ لارنس روڈ پر وہ کوٹھی ہے جہاں شاہ دین ہمایوں کے فرزند ارجمند میاں بشیر احمد رہے اور قائد اعظم تحریک پاکستان کے دوران قیام فرماتے تھے۔

میاں شاہ دین کی موت کے باعث جونیئر سر شادی لال کو چیف جسٹس بننے کا موقع مل گیا۔ جس کی وجہ سے غازی علم الدین کے مقدمے میں عام عدالت سے لے کر ہائی کورٹ تک کوئی فرق نہ رہا تھا۔ ایک ہی راگ الاپا جارہا تھا کہ راجپال نے جو فتنہ کھڑا کیا، دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی، وہ درست ہے غازی علم الدین نے شاتم رسول کو قتل کیا، وہ لائق گردن زدنی ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی طرف سے غازی علم الدین کا دفاع

ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے دفاع میں دو نکات پیش کئے۔

کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی جس سے غصے میں آکر اس نے راجپال پر حملہ کیا۔ جرم اس پر ٹھونسا گیا۔

(بحوالہ مقدمہ امیر بنام کراؤن نمبر ۹۵۴ سال ۱۹۲۲ء)

صفحہ 185

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

لیکن فرنگی اور سر شادی لال کی موجودگی میں غازی علم الدین کو کیسے بخشا جا سکتا تھا۔ ۳۱، اکتوبر ۱۹۲۹ء کو سزائے موت دی گئی۔ غازی علم الدین کو پھانسی ہوگئی، آخر وقت تک وہ بالکل پرسکون رہے، وہ رسول اللہ ﷺ کی عزت اور ناموس کی خاطر تختہ دار پر چڑھ گئے، سید عطاء اللہ شاہ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی نے ان کے پھانسی پانے پر فرمایا:

”علم دین ہم سے بہت آگے نکل گیا۔“

غازی علم الدین کی جیل کی کوٹھری میں پرنور روشنی

کچھ عرصہ بعد ختم نبوت کی تحریک کے سلسلے میں حضرت قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی گرفتار ہوئے اور اتفاق سے انہیں اسی کوٹھری میں بند کیا گیا جس میں غازی علم الدین شہید رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی رہ چکے تھے، جیل کے وارڈن نے انہیں کوٹھری میں داخل کرتے ہوئے کہا: مولانا آپ بہت خوش قسمت ہیں۔

مولانا احسان احمد رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی نے حیران ہوکر جیل وارڈن کی طرف دیکھا اور پوچھا وہ کیسے؟

اس نے جواب دیا یہ وہی بابرکت کوٹھری ہے جس میں علم الدین کو رکھا گیا تھا۔ ایک رات میں نے کوٹھری کو اچانک روشن ہوتے دیکھا۔ کوٹھری یکدم نور کا ٹکڑا بن گئی، میں سمجھا کوٹھری میں آگ لگ گئی ہے۔ دوڑ کر نزدیک آیا۔ کوٹھری میں تو نور ہی نور پھیلا ہوا تھا اور اندر علم الدین مزے سے سو رہے تھے۔ میں ہکا بکا کھڑا رہا۔ کافی دیر گزرنے پر کوٹھری سے وہ روشنی ختم ہوگئی۔

میں نے علم الدین کو جگایا اور انہیں بتایا کہ میں نے کوٹھری میں کیا دیکھا تھا۔ پھر میں نے ان سے بار بار پوچھا۔ اس بارے میں آپ مجھے بتائیں، آخر میری منت سماجت کرنے پر غازی علم الدین شہید رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی نے بتایا:

”خواب میں، میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ علم الدین، ڈٹ

صفحہ 186

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

جاؤ، میں حوض کوثر پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔“ کتنے خوش قسمت تھے غازی علم الدین شہید رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰى سید عطاء اللہ شاہ بخاری رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰى صاحب نے ٹھیک کہا تھا ”علم الدین ہم سے بہت آگے نکل گیا ۔“

پیر سیال شریف صاحب کا غازی سے ملاقات کے دوران واقعہ

اس فیصلے کے بعد وہ انتہائی خوش وخرم رہنے لگے۔ ۱۲ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو صبح سویرے میانوالی ڈسٹرکٹ جیل میں منتقل کیا گیا ، وہاں کافی نامی گرامی لوگ ملاقات اور زیارت کے لئے حاضر ہوتے رہے سجادہ نشین سیال شریف نے بھی ملاقات کی ۔ پیر صاحب غازی کے جلال وجمال سے اس قدر مرعوب ہوئے کہ کوئی خاص بات تو نہ کر سکے ،البتہ سورہ یوسف پڑھنے لگ گئے ۔ پیر صاحب ایک اچھے قاری اور حافظ تھے۔ لیکن سورہ یوسف پڑھنے کے دوران جذبات پر قابو نہ پاسکے اور فرط جذبات سے بار بار رکنے لگے۔

اس پر غازی علم الدین نے حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ بسم اللہ شریف پڑھ کر ایک دفعہ پھر سے شروع کریں، پیر صاحب نے دوبارہ تلاوت کا آغاز کیا ۔ لیکن اس دفعہ بھی روانی نہیں تھی اکثر گلوگیر ہوکر رک جاتے اور کسی اور عالم میں پہنچ جاتے ، غازی علم الدین جو قرآن شریف نہیں پڑھے ہوئے تھے اور سورہ یوسف پہلے ہرگز نہیں آتی تھی ، پیر صاحب کو صحیح لقمے دیتے رہے اور سورہ یوسف پڑھنے میں پوری پوری مدد کی ۔ پیر صاحب ملاقات کر کے باہر آئے تو فرط حیرت و استعجاب سے بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اتنا ہی فرمایا، میں علم الدین کے لبادے میں کوئی اور ہستی پاتا ہوں۔ کون کہتا ہے کہ غازی علم الدین ان پڑھ اور جاہل ہے، انہیں علم لدنی حاصل ہے اور وہ کائنات کے اسرار و رموز سے واقف ہیں۔

جیل میں غازی صاحب رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰى کی کرامتوں کا ظہور

وارڈن جیل نواب دین کا بیان ہے کہ غازی علم الدین کو ۱۳ اکتوبر کو تختہ دار پر چڑھایا جانا تھا اور بارہ اکتوبر کی درمیانی شب کو میں ان کے کمرے کا نگراں تھا ، غازی نے وہ ساری رات

صفحہ 187

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

سجدوں اور تلاوت میں گزاری، صبح کے چار بجے میں نے دیکھا کہ کوٹھری بدستور مقفل ہے لیکن غازی اندر موجود نہیں ہیں، میں پریشان ہو گیا کہ انہیں اس کوٹھری سے کوئی نکال کر لے گیا ہے اور اب میں حکام جیل کو کیا جواب دوں گا۔

میں نے اپنے ساتھیوں کو اس امر سے مطلع کیا اور کہا کہ اگر کوئی سازش ہوئی ہے تو غازی کہیں دور نہیں جا سکتے کیوں کہ ابھی ابھی وہ سر بسجود تھے۔ میں جونہی ایک چکر لگا کر آیا تو انہیں غائب پایا۔ اس پر سب نے اندر غور سے جھانکا، لیکن کوٹھری خالی تھی۔ ہم انہیں ادھر اُدھر باہر تلاش کر رہے تھے کہ یکا یک ان کا کمرہ روشنی سے منور ہو گیا اور میں نے دیکھا کہ وہ مصلے پر بیٹھے ہیں، ایک نورانی صورت بزرگ ان کے سر پر ہاتھ پھیر رہے ہیں، اب ہم نے جونہی اندر جھانکا تو وہ بزرگ غائب تھے اور غازی علم الدین تسبیح پڑھ رہے تھے۔

فتنہ ارتداد کا بانی اور شاتم رسول

اسلامی کے جذبے سے سرشار ہو کر فتنہ ارتداد (شدھی) کے بانی اور غلامان بارگاہ رسالت کے شاتم سوامی شردھانند کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس سعادت عظمیٰ کے صلہ میں پھانسی کے تختے پر حیات ابدی حاصل کی تھی۔

شاتم رسول کے مختصر حالات

شردھانند، جالندھر (مشرقی پنجاب) کا رہنے والا تھا۔ اصلی نام لالہ منشی رام تھا۔ آریہ سماج کا بہت پرجوش و باعمل کارکن تھا۔ دیانند کا اینگلو ویدک کالج لاہور کے انتظامی معاملات میں پرنسپل ہنس راج سے اختلاف ہوا تو ڈی اے وی کالج کے مقابلہ میں ہردوار کے قریب موضع کانگڑی میں ایک گروکل قائم کر ڈالا، جسے آج بھی شمالی ہند میں آریہ سماج کے ایک اہم تعلیمی و تبلیغی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔

شردھانند نے عرصہ سے دلی میں سکونت اختیار کر رکھی تھی اور یہیں سے اس نے شدھی کی آگ بھڑکانے کے لئے اردو میں روزنامہ ”تیج“ اور اس کے بیٹے نے ہندی میں روزنامہ

صفحہ 188

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

”ارجن“ جاری کیا۔ لمبا قد تھا، گندمی رنگ، داڑھی مونچھ صاف، سر منڈا ہوا، بڑی بڑی آنکھیں، آواز بہت بلند، سادھوؤں کا رنگین لباس، قتل کے وقت عمر پینسٹھ (۶۵) سال کے لگ بھگ ہوگی۔ میرے سامنے شردھانند کی زندگی کے تین روپ ہیں۔ پہلا روپ میں نے خود نہیں دیکھا سنا اور اخبارات میں پڑھا ہے۔ دوسرے دو روپ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔

پہلا روپ ”قوم پروری“ کا روپ ہے۔ ۱۹۱۹ء میں جب آل انڈیا کانگریس کے سالانہ اجلاس پنڈت موتی لال نہرو کی زیر صدارت امرتسر میں منعقد ہوا تو شردھانند مجلس استقبالیہ کا چیئرمین تھا۔ اس نے اپنے خطبہ صدارت میں ترکوں کے مصائب سے گہری ہمدردی ظاہر کی تھی اور خلافت کی بحالی کے لئے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا تھا۔ مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی چھندواڑہ (سی۔ پی) جیل سے رہا ہوکر جب کانگریس کے اجلاس میں شریک ہونے کے لئے سیدھے امرتسر پہنچے تو اس منظر کو دیکھنے والے بہت لوگ زندہ ہیں کہ مجلس استقبالیہ کے صدر شردھانند بڑی بے تابی سے کانگریسی پنڈال میں دوڑ کر علی برادران سے بغل گیر ہوئے تھے اور اسے ہندو مسلم اتحاد کا ناقابل شکست مظاہرہ بتایا تھا۔

شردھانند کا جامع مسجد دلی میں تاریخی خطاب

شردھانند کا جو دوسرا روپ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ غالباً ۱۹۲۲ء کا ابتدائی حصہ تھا۔ مولانا محمد علی کے اخبار ”ہمدرد“ میں اعلان ہوا۔ شہر میں پوسٹر لگائے گئے کہ دلی کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ”شری سوامی شردھانند جی مہاراج“ ہندو مسلم اتحاد کے موضوع پر مسلمانوں سے خطاب فرمائیں گے۔

دلی کی جامع مسجد ...... دنیائے اسلام کی ایک حسین ترین و مقبول ترین عبادت گاہ میں ایک ہندو سنیاسی کی تقریر ..... بات تو انوکھی ہی تھی ...... مگر وہ زمانہ تحریک خلافت کے شباب کا تھا۔ اگرچہ ہندوؤں کے دلوں میں اس وقت بھی مسلمانوں کے خلاف بغض و نفرت کی چنگاری دبی ہوئی تھی ، مگر صاف دل مسلمانوں کو اپنے ”ہندو بھائیوں“ کے خلوص پر بہت اعتماد تھا۔ جامع مسجد میں یوں تو ہر جمعہ کو بالعموم نو دس ہزار مسلمان شریک نماز ہوتے تھے، لیکن آج کے

صفحہ 189

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جمعہ کا پوچھنا ہی کیا ...... حجۃ الوداع کا ہلکا سا نقشہ نگاہوں کے سامنے آ گیا، عظیم الشان صحن کے علاوہ ساری صحن چیاں، برجیاں اور چھتیں لوگوں سے اٹی پڑی تھیں، تینوں بڑے دروازوں کے باہر بھی لوگوں کے ٹھٹ لگے تھے۔

نماز ختم ہوتے ہی مولانا محمد علی نے شردھانند کی آمد کا اعلان کیا۔ تھوڑی دیر بعد پر جوش نعروں اور خلافتی رضا کاروں کے جلو میں شردھانند عالم اسلام کی اس مایہ ناز مسجد میں داخل ہوا۔

مسجد کے پیش طاق یا درمیانی در کے سنگ، سنگ باسی کا شاندار مکبر سلطنت مغلیہ کے آخری دور کی صناعی کا بہت دلکش نمونہ ہے۔ مولانا محمد علی کے ساتھ شردھانند اس بلند و بالا مکبر پر براجمان ہوا۔ مولانا کی مختصر تعارفی تقریر کے بعد اس مکبر سے جہاں ہمیشہ تکبیر کی آواز گونجتی تھی، تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہندو سادھو کی تقریر بن کر گونجی۔ میں اس وقت حوض کے آخری مشرقی کنارے پر تھا۔ شردھانند کی تقریر اصول و غایت کے اعتبار سے جیسی کچھ بھی ہو، لیکن منافقت کا شاہکار ضرور تھی۔ شردھانند نے دل کا بھید چھپانے میں کمال کر دیا۔ اس کے ہر لفظ سے مترشح ہوتا تھا کہ اسے مسلمانوں سے بے پناہ محبت ہے اور وہ ہندو مسلم اتحاد کو آزادی کی کنجی سمجھتا ہے۔ یہ بات کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آسکتی تھی کہ ہندو مسلم اتحاد کا یہی پرچارک سادھو صرف چند ماہ بعد اسلام اور مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن بن کر میدان میں آئے گا اور ہندوستان سے مسلمانوں کا نام ونشان مٹانے کے لئے شدھی اور سنگھٹن جیسی خطرناک تحریکیں جاری کرے گا۔

شردھانند کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بھیانک روپ

شردھانند کا جو تیسرا روپ میرے سامنے آیا وہ بہت ہی اشتعال انگیز، گھناؤنا اور قابل نفرت تھا، غالباً ۱۹۲۳ء کے آغاز میں اس کو دفعہ ۱۲۴ الف کے تحت قید سخت کی سزا ہوئی تھی، لیکن وہ معافی مانگ کر جیل سے رہا ہو گیا اور اس نے انگریز حکام کو خوش کرنے اور کچھ متعصب ہندوؤں کے جذبہ اسلام دشمنی کو تسکین دینے کے لئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تحریروں اور تقریروں کا لامتناہی سلسلہ شروع کیا، شردھانند نے جیل سے رہا ہونے کے بعد روزنامہ ”تیج“ کے ایک مضمون میں اسلام پر جو پہلا حملہ کیا، اس کے نجس الفاظ مجھے ابھی تک یاد ہیں۔

صفحہ 190

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

تحریک ترک موالات دم توڑ رہی تھی ، گاندھی ایک دو ماہ بعد ضلع گورکھ پور کے ایک چھوٹے سے گمنام گاؤں چورا چوری کے معمولی سے واقعہ کو آڑ بنا کر تحریک ترک موالات کا گلا گھونٹنے والے تھے تاکہ مسلمانوں کے روز افزوں اثر و رسوخ سے کانگریس اور ہندوستان کی سیاست کو محفوظ کیا جائے ، چنانچہ بڑے بڑے ہندو لیڈروں کے عملی اشتراک ، آشیر باد اور بھاری سرمائے سے مسلمانوں کے خلاف شدھی اور سنگٹھن کی تحریکیں شروع کی گئیں ، شدھی کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان جو ہندوؤں کے بیان کے مطابق ہندو نسل سے تعلق رکھتے ہیں ، اسلام سے منحرف کر کے دوبارہ ہندو بنا لیا جائے ، اور سنگٹھن کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان سے مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے لئے نہ صرف مختلف مکاتب فکر کے ہندوؤں بلکہ سکھوں اور بودھوں کو بھی عظیم تر ہندو قومیت کے نام پر متحد کیا جائے اور جارحانہ حملوں کے لئے فوجی لائنوں پر مسلح دستے مرتب کئے جائیں ۔

شدھی تحریک کی مسلمانوں کے خلاف گھناؤنی سازشیں

یو۔پی کے بعض اضلاع میں کئی لاکھ تعلیم یافتہ مسلمان راجپوت آباد تھے ، جنہیں ملکانہ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا ۔ شدھی کا پہلا سخت حملہ انہیں علاقوں پر ہوا ۔ ملکانہ راجپوتوں کو دین اسلام سے منحرف کرنے کے لئے لالچ اور تشدد کے سارے حربے استعمال کئے گئے ۔ تھوڑے بہت غریب راجپوتوں کا ایمان روپیہ کی طاقت سے خریدا گیا اور جو لوگ اسلام کا دامن چھوڑنے کو تیار نہ ہوئے ، ان کے گھروں کو لوٹا اور جلایا گیا اور ان کی ناموس پر حملے کئے گئے ۔

شدھی تحریک کے خطرناک فتنے کا مقابلہ کرنے کے لئے تمام قابل ذکر علماء و مشائخ اور اکابر و مشاہیر نے جس اتحاد اور عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا ، اسے اسلامی ہند کی تاریخ ہمیشہ فخر سے یاد رکھے گی ۔ شدھی اور سنگٹھن کا سلسلہ اگر سنجیدہ مباحث اور علمی دلائل تک محدود رہتا ، تب بھی غنیمت تھا ، لیکن شردھا نند اور اس کے آریہ سماجی بھگتوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلیظ گالیوں ، بہتان تراشیوں اور انتہائی اشتعال انگیزیوں کو اپنا مستقل شعار بنالیا ۔ روزنامہ ”تیج“ دہلی میں شردھانند کے قلم سے اسلام اور مسلمانوں کو گالیاں دی جاتی تھیں اور قرآن مجید کی آیتوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا ۔ ہندی اخبار ”ارجن“ میں ہندوؤں کو مشتعل کرنے

صفحہ 191

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کے لئے عہد سابق کے مسلم سلاطین کے فرضی مظالم کی کہانیوں کو بہت بڑھا چڑھا کر شائع کیا جاتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا جب ہندو عورتوں کے اغواء اور مسلمانوں کے ہاتھوں ان کے بے عزت کئے جانے کے دو چار جھوٹے قصے شائع نہ کئے جاتے ہوں۔

اخبار ”گرو گھنٹال“ جاری کیا گیا تھا۔ جس کا مقصد مسلمانوں اور ان کے مقدس رہنماؤں کو (جن میں اولیاء کرام بھی شامل تھے ) انتہائی شرمناک الفاظ میں گالیاں دینا تھا۔ شردھانند کے ایک چیلے نے ”جڑپٹ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں نبی پاک ﷺ اور دیگر انبیائے کرام، خاص کر حضرت ابراہیم خلیل اللہ ، حضرت لوط ، حضرت ایوب ، حضرت اسحاق علیہم السلام کی شان میں اس قدر سخت گستاخیاں کی گئی تھیں کہ اس خباثت کا تصور بھی مشکل ہے۔

شردھانند کا کلیجہ اس قدر سخت اشتعال انگیزیوں پر بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور اس نے خاندان مغلیہ کی بے گناہ شہزادیوں کے خلاف فحش ڈرامے لکھنے کی تحریک سارے ملک میں شروع کر دی۔ چنانچہ اس نوعیت کے کئی ڈرامے اردو اور ہندی میں لکھے گئے ۔ شہزادی زینت آرا بیگم کے متعلق ایک ڈرامہ اخبار ”ریاست“ میں میری نظر سے گزرا ہے اس میں اس پاک دامن شہزادی کو انتہائی بدچلن عورت کے روپ میں پیش کیا گیا تھا۔ بعد میں جب آریہ سماجیوں نے اس ناپاک ڈرامے کو اسٹیج پر پیش کرنے کی کوشش کی تو کئی شہروں میں ہنگامے بھی ہوئے۔

شدھی تحریک کے بانی اور چیلوں کے خلاف بے چینی کا اشتعال

مسلمانوں کے سینے میں بھی دل تھا۔ وہ غلامان بارگاہ رسالت ﷺ کی شان اقدس و اعلیٰ میں شرمناک گستاخیاں ، انبیائے کرام علیہم السلام پر خباثت حملے ، قرآن مجید کی آیتوں کا مذاق اور بے گناہ مغل شہزادیوں کے خلاف فحش ڈرامے ، جو سب کچھ شردھانند کی قیادت میں شردھانند کے اشارے سے ہو رہا تھا ، کب تک برداشت کرتے۔ قاضی عبدالرشید مرحوم پیشہ کے لحاظ سے خوش نویس تھے۔ لمبا قد ، بھرا جسم ، گندمی رنگ ، لمبا چہرہ ، کرتہ پاجامہ ، ترکی ٹوپی ، یہ ان کی عام پوشاک تھی۔ شردھانند کے زمانہ قتل کے قریب اخبار ”ریاست“ میں فرائض

صفحہ 192

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کتابت انجام دیتے تھے۔ دفتر کوچہ بلاقی بیگم دہلی میں تھا۔ گلی میں دروازہ اور سپلینڈر روڈ کے سامنے برآمدہ۔

دفتر میں آریہ سماجیوں کے جو اخبارات و رسائل اور دیگر پمفلٹ اور ڈرامے وغیرہ تبادلہ وریویو کی غرض سے دفتر میں آتے رہتے تھے، وہ بہت غور و سنجیدگی سے پڑھتے رہتے تھے۔ نماز کے بہت پابند تھے۔ دفتر کے اوقات میں ظہر و عصر کی نمازیں ہمیشہ دریبہ کی مسجد میں جماعت سے ادا کرتے تھے اور آریہ سماجیوں کی نجس و ناپاک حرکتوں سے ان کے جذبات بے انتہاء مجروح ہو چکے تھے۔

واقعہ قتل سے تین چار دن پہلے قاضی عبدالرشید مرحوم بہت گم سم رہتے تھے۔ کام میں دل نہ لگتا تھا۔ جب تک جی چاہتا کتابت کرتے اور جب چاہتے تو برآمدے سے بچھے ہوئے کھرے پلنگ پر پڑے رہتے تھے۔ ریاست کے پروپرائٹر سردار دیوان سنگھ ان دنوں نابھہ کے معزول آنجہانی مہاراجہ پردھن سنگھ کے کسی سیاسی و ذاتی کام سے دو ہفتوں کے لئے شملہ گئے ہوئے تھے۔ دفتر کے انتظامات درست رکھنے اور اخبار کو بروقت نکالنے کی ساری ذمہ داری میری اور سردار گجن سنگھ مینجر کے ذمے تھی۔ قاضی عبدالرشید مرحوم کو میں نے ان کی بے توجہی پر ایک دو مرتبہ ٹوکا لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔

عاشق رسول ﷺ کے ہاتھوں گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جمعرات (۲۳ دسمبر) کو اخبار کی آخری کاپی پریس بھیجنے کے لئے جوڑی جارہی تھی، دفتر کا وقت نو بجے مقرر تھا۔ دن کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے اور منشی عبدالرشید صاحب کا پتہ نہ تھا۔ چند اشتہاروں کے چربے اور مسودے انہی کے پاس تھے۔ قاضی صاحب کے اس قدر دیر سے آنے پر ہیڈ کاتب منشی نذیر حسین میرٹھی نے اعتراض کیا تو جھلا کر جواب دیا۔ ”چولہے میں گئی تمہاری کاپی۔“ یہ کہہ کر کام کرنے کے بجائے برآمدے میں پلنگ پر لیٹ گئے۔

میں نے اعتراض کیا۔ کچھ جواب نہ دیا۔ میں نے سردار گجن سنگھ مینجر سے شکایت کی۔ ان کے اصرار پر برہم ہوگئے اور بولے۔ ”مجھے نوکری کی پرواہ نہیں۔ لکھ دو اپنے سردار کو، میں کام نہیں کرتا۔“

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

یہ کہہ کر پلنگ سے اٹھے، قلم دان درمیان دریبہ کے ہندو علاقے میں زخمی بھی گزرے۔ اس زمانے میں تعداد میں تھے۔ ساڑھے پانچ بجے شردھانند کے قتل کی تفصیلات کے کی حراست میں کھڑے تھے اور صاحب مرحوم اسی چادر میں پستول چھپا لیا تھا۔

قاضی صاحب

قاضی صاحب نے عدالت پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ سیشن کرنے کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ آخری ہفتے یا اگست کے اوائل میں جام شہادت نوش کیا۔

عاشق رسول ﷺ

پھانسی کے دن سینٹرل جیل عورتوں کے علاوہ بہت سے مسلمان پڑے تھے۔ لاش کو جیل کے اندر کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن عوام لاش دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ اسے قبرستان میں نذر لحد کر دیا جائے لیکن جیل کا پھاٹک کھلتے

صفحہ 193

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

یہ کہہ کر پلنگ سے اٹھے، قلمدان بغل میں دبایا اور چل دیئے۔ چار پانچ بجے سہ پہر کے درمیان دریبہ کے ہندو علاقے میں سنسنی اور بے چینی سی محسوس ہوئی۔ سامنے سڑک پر ایک دو زخمی بھی گزرے۔ اس زمانے میں خبر رسانی کے ذرائع بہت محدود تھے۔ شہر میں ٹیلی فون تک کم تعداد میں تھے۔ ساڑھے پانچ بجے شام کے درمیان روزنامہ ”تیج“ کا ضمیمہ شائع ہوا جس میں شردھا نند کے قتل کی تفصیلات کے ساتھ قاضی عبدالرشید کی تصویر بھی تھی کہ ہتھکڑیاں پہنے پولیس کی حراست میں کھڑے تھے اور جسم پر چادر تھی۔ تفصیلات کے مطابق معلوم ہوا کہ قاضی صاحب مرحوم اسی چادر میں پستول چھپا کر شردھا نند کے دفتر گئے تھے اور اسے گولی کا نشانہ بنا دیا تھا۔

قاضی صاحب کے اقبال جرم پر شہادت کا تحفہ

قاضی صاحب نے عدالت میں اقبال جرم کیا۔ ۱۵ مارچ ۱۹۲۷ء کو سیشن کورٹ میں پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ سیف الدین کچلو نے سیشن کورٹ میں کسی معاوضہ کے بغیر پیروی کرنے کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل بھی دائر کی، مگر مسترد ہوگئی اور جولائی ۱۹۲۷ء کے آخری ہفتے یا اگست کے اوائل میں غازی عبدالرشید نے دلی سینٹرل جیل میں پھانسی کے تختے پر جام شہادت نوش کیا۔

عاشق رسول ﷺ کے جنازے پر عوام کا بے پناہ ہجوم

پھانسی کے دن سینٹرل جیل کے سامنے مسلمانوں کا بے پناہ ہجوم تھا۔ ہزاروں برقعہ پوش عورتوں کے علاوہ بہت سے بچے بھی غیرت اسلامی کے جذبہ سے مخمور ہو کر گھروں سے باہر نکل پڑے تھے۔ لاش کو جیل کے اندر ہی غسل وکفن دیا گیا اور حکام نے جیل کے احاطے میں دفن کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن عمائد شہر کے شدید اصرار پر شہید عبدالرشید کے وارثوں کو اس شرط پر لاش دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ جنازہ کا جلوس نہ نکالا جائے گا اور اسے جیل کے سامنے والے قبرستان میں نذر لحد کر دیا جائے گا۔ لیکن جیل کا پھاٹک کھلتے ہی جب عاشق رسول ﷺ کا جنازہ باہر نکلا تو مسلمانوں کا

صفحہ 194

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

زبردست ہجوم اللہ اکبر اور یا رسول اللہ کے نعرے لگاتا ہوا دیوانہ وار ٹوٹ پڑا۔ جنازے کو حکام سے چھین لیا اور جیل کے سامنے قبرستان لے جانے کے بجائے جامع مسجد روانہ ہو گیا۔

نعرۂ تکبیر کی معجزہ نما اثر انگیزی کا یہ کرشمہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خونی دروازے کے سامنے مسلح پولیس کے کئی سو آدمیوں نے صف بندی کر کے راستہ روک دیا تھا۔ جا بجا گورا فوج کے جوان متعین تھے۔ لیکن مسلمانوں کا ہجوم عاشق رسول عبدالرشید کے جنازے کو لے کر خونی دروازے کے سامنے پہنچا اور اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تو اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی جاننے والا ہے کہ پولیس کے مسلح جوانوں کی صف کائی کی طرح پھٹ گئی۔ گورا فوج کے جوان سنگینیں تانے کھڑے رہے اور جنازے کا جلوس اس صفائی سے آگے بڑھا کہ جیسے صابن سے تار نکلتا ہے۔ مسلح پولیس نے کئی بار راستہ روکنے کی کوشش کی مگر ناکام رہی۔

ناموس رسالت پر جان دینے والے عبدالرشید کی نماز جنازہ جامع مسجد میں پچاس ساٹھ ہزار مسلمانوں نے پڑھی (اس وقت دلی کی پوری آبادی تین لاکھ کے قریب تھی) نماز کے بعد شہر کے ممتاز مسلمانوں کی رائے تھی کہ لاش کو جیل کے سامنے والے قبرستان میں پہنچا دیا جائے جہاں قبر پہلے سے تیار تھی اور شہداء کے ورثاء متعلقہ حکام سے لاش کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لیکن غازی نور الحسن مرحوم (جو پہلے کانگریسی تھے، بعد میں انہوں نے دلی میں مسلم لیگ کے ایک بااثر رہنماء کی حیثیت سے شہرت حاصل کی تھی۔ افسوس ہے کہ چند سال پیشتر ان کا انتقال لاہور میں ہو گیا) کی قیادت میں پرجوش طبقے نے جنازے کو حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی کی درگاہ مبارک میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا جو جامع مسجد سے کم و بیش تین میل دور ہے۔

دلی کے مستقل کوتوال شہر دیوی دیال نے ان دنوں رخصت لے رکھی تھی۔ شیخ نذیر الحق قائم مقام کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ کئی گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد مسلح پولیس نے گورا فوج کی مدد سے جنازے پر نماز مغرب سے پیشتر قطب روڈ کے پل پر اس وقت قبضہ کر لیا جبکہ مسلمان حضور خواجہ باقی باللہ کی درگاہ مبارک کے قریب پہنچ چکے تھے۔ جنازہ قبرستان میں مرحوم کے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ عاشق رسول عبدالرشید کو ان کی ابدی خواب گاہ کی نذر کیا گیا۔

(از سردار علی صابری)

گستاخ رسول کا عبرتناک انجا

ایک درویش صفت گ

رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ اس کے آگے ہاتھ باندھے کھ محبت رسول ﷺ کے مقابلے میں ایک ایک ادا پر قربان ہونا چاہتا تھا بس گئی تھی کہ اب اس سے دست کش دلی کے ساتھ اپنے دل میں بسائے محبت کی پرورش کرتے رہنے کا تہیہ اسی محبت کی نذر کر دے۔

اس نے کسی دارالعلوم سے فز فضل میں زانوئے تلمذ طے کرنے کا کا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا کہ کم از کم ا مارک بھی نہیں تھا، کم از کم یہی ہوت اتفاق سے یہ بات بھی نہیں تھی، ا تھا۔ افشاں سے بھی محروم، سیندور اس کی عملی زندگی مفلس کی ریز گاریاں۔ اس کی علمی وجاہت وقار ایک دھوپ تھی جو سورج کے وہ یہ کہ وہ مسلمان تھا اور اس کی تھ بڑی احتیاط سے اس نے اپنے نہ صلاح و فلاح کا ضامن سمجھتا تھا ط

امیر احمد کے دل میں ایمان

صفحہ 195

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ایک درویش صفت گمنام عاشق رسول کی داستان عقیدت

رنگینیوں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع بھی اسے میسر تھے اور دنیا اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی بھی تھی۔ لیکن وہ مرد مومن تھا اور اس کی غیرت ایمانی محبّ رسول ﷺ کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز کو پرکاہ سمجھتی تھی۔ وہ اپنے رسول ﷺ کی ایک ایک ادا پر قربان ہونا چاہتا تھا۔ رسول ﷺ کی محبت اس کے دل میں اس طرح رچ بس گئی تھی کہ اب اس سے دست کش ہونا اس کے بس سے باہر تھا۔ وہ اس محبت کو بڑی فراخ دلی کے ساتھ اپنے دل میں بسائے ہوئے تھا، اس نے اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس محبت کی پرورش کرتے رہنے کا تہیہ کرلیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی کی ساری پونجی اسی محبت کی نذر کردے۔

اس نے کسی دارالعلوم سے دستار فضیلت حاصل نہیں کی تھی۔ کسی شیخ الحدیث کی بارگاہ علم و فضل میں زانوئے تلمذ طے کرنے کا بھی کوئی موقع اسے میسر نہیں آیا تھا۔ کسی بحرالعلوم سے اس کا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا کہ کم از کم اسی نسبت پر وہ فخر کرسکتا، اس کی پیشانی پر سجدوں کا کوئی ٹریڈ مارک بھی نہیں تھا، کم از کم یہی ہوتا کہ اس کے کرتہ کا دامن اس کے ٹخنوں کی بلائیں لیتا ہوتا تو اتفاق سے یہ بات بھی نہیں تھی، اس کے نامۂ اعمال بیوہ کی مانگ کی طرح صاف اور سپاٹ تھا۔ افشاں سے بھی محروم، سیندور سے بھی بے نیاز۔

اس کی عملی زندگی مفلس کی جیب کی طرح خالی تھی نہ کھنکتے ہوئے سکے تھے، نہ بجتی ہوئی ریزگاریاں۔ اس کی علمی وجاہت لاوارث میت کی طرح بے گور و کفن تھی اور اس کا خاندانی وقار ایک دھوپ تھی جو سورج کے ساتھ رخصت ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے پاس ایک ڈگری تھی، وہ یہ کہ وہ مسلمان تھا اور اس کی تحویل میں محبت رسول ﷺ نام کی ایک دولت تھی، جس کو بڑی احتیاط سے اس نے اپنے نہاں خانہ دل میں چھپا رکھا تھا۔ اس محبت کو وہ ہر قسم کے دنیاوی صلاح و فلاح کا ضامن سمجھتا تھا، اور اسی کو اخروی نجات کا ذریعہ۔

امیر احمد کے دل میں ایمان کی جو چنگاری دبی ہوئی تھی، وہ وقت کے ساتھ ساتھ شعلہ

صفحہ 196

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جوانہ بنتی گئی۔ امیر احمد اپنے خون جگر سے اس شجر محبت کو سینچتا رہا۔ قلب کے انتہائی خلوص اور دل کی شدید سچائی کے ساتھ اس کی امیدوں کا مرکز تنہا ایک ذات رسالت مآب ﷺ تھی۔ وہ اپنے دل میں اسی ذات شریفہ کے لئے والہانہ جذبہ رکھتا تھا۔ اس کی جبین نیاز میں ہزاروں سجدے اسی ایک چوکھٹ کے لئے تڑپا کرتے تھے۔ اس کی آنکھیں اسی کے صحیفہ رخ کا نظارہ جمال کرنا چاہتی تھیں۔ اس کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ ایک شمع نبوت پر پروانہ وار قربان ہو جائے۔ کسی طرح اس کا نام بھی اس محبوب دلنواز کے عاشقوں کی فہرست میں مندرج ہو جائے۔ کسی طرح وہ بھی ان کی ایک نگاہ لطف کا استحقاق حاصل کر سکے۔

زمانے نے ایک اور کروٹ لی۔ وقت کا قافلہ ایک قدم اور چلا اور اب امیر احمد زندگی کی اکیسویں منزل میں قدم رکھ رہا تھا۔

یہ عمر امنگوں کی بیداری کی ہوتی ہے۔ اس عمر میں تمنائیں جاگ اٹھتی ہیں اور ولولوں کو شہپر پرواز مل جاتا ہے۔ امیر احمد کو بھی امیدوں نے سبز باغ دکھائے۔ آرزوئیں جھولے جھلانے لگیں۔ دنیا ایک حسین پیکر میں اس کے سامنے بھی آئی اور کچھ دنیاوی دلفریبیوں نے اسے اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ کچھ گھریلو ضرورتوں نے اسے دنیا حاصل کرنے کی ترغیب دی۔

وہ سوچنے لگا ، اسے بھی حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی جوان صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دنیا میں بقدر حوصلہ و ظرف فیضیاب ہو۔ داعیات نفس اور تقاضائے شباب کا پورا کرنا بھی لازمہ حیات ہے۔ اس کی بوڑھی ماں اس امید پر اس کے جوان ہونے کی راہ دیکھ رہی ہے کہ وہ اس کے بڑھاپے میں عصائے پیری ہوگا۔ اس کی خدمت کا وقت آخر کب آئے گا؟ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے یتیم بھائی بہنوں کی تربیت سے کب تک پہلو تہی کرے گا؟ آخر وہ وقت کب آئے گا جب وہ اپنی جوان بہنوں کے ہاتھ پیلے کرے گا؟

لیکن ابھی وہ کچھ سوچ بھی نہ پایا تھا کہ کس طرح اپنے فرائض سے سبکدوش ہو؟ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآں ہونے کے لئے کونسا قدم اٹھائے؟ اور اپنی زندگی کو خوشحال اور بامراد بنانے کے لئے کونسی صورت اختیار کرے؟ کہ اچانک ایک عجیب تصویر اس کی آنکھوں سے گزری۔ ایک غیر متوقع منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ جس پیکر نور کو وہ مصور فطرت کا سب سے حسین شاہکار سمجھتا تھا ، کاغذ کے ایک ٹکڑے پر مرتسم ہے۔ گویا سمندر

صفحہ 197

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کوزے میں بند ہو گیا ہے اور بشریت کاغذ پر اتر آئی ہے۔ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی تھی کہ جس جسم لطیف کا سایہ تک نہ تھا، اس کی تصویر کاغذ پر کیسے اتر سکتی ہے؟

وہ محبوب ﷺ جو کائنات کی عظیم و جلیل شخصیت ہیں، وہ دنیا کے نجات دہندہ بھی ہیں اور فرمانروائے گیتی بھی...... جس نے انسانیت کی سب سے زیادہ خدمت کی اور جو دنیا والوں کو جینے کا سب سے اچھا سلیقہ سکھا گئے، انہی کی شان میں گستاخی کی گئی تھی، انہی کا مذاق اڑایا گیا تھا۔

امیر احمد غم سے نڈھال ہو گیا۔ وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہا تھا۔ آج اس کے دل پر ایک چوٹ لگی تھی۔ اس کے قلب کو ایک صدمہ پہنچا تھا اس کے دل کا سکون چھن گیا تھا۔ اس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ سلب ہو گئی ۔

عاشق رسول کا گستاخ رسول کو انجام سے دوچار کرنے کے لیے روانگی

کتاب اس کے سامنے تھی۔ اس پر چھپی ہوئی تصویر اسے برابر دیکھے جا رہی تھی، وہ شدت درد سے چیخ اٹھا۔ گھاؤ گہرا تھا۔ اس لئے اس کی تکلیف بھی ناقابل برداشت تھی۔ اس کی روح زخم کی اس ناقابل برداشت اذیت سے بلبلا اٹھی۔ اس کے ہاتھ سے پیمانہ صبر چھوٹ گیا۔ اس کی ہمت جواب دے گئی۔ غم غلط کرنے کی کوئی صورت اسے نظر نہیں آ رہی تھی۔ سکون کی تلاش میں وہ ادھر اُدھر بھٹکتا پھرا لیکن نہ خلوت کدہ اسے سکون بخش سکا، نہ جلوت میں اسے سکون میسر آیا۔

وہ پگڈنڈیوں پر بھی چلا، شاہراہوں پر بھی دوڑا۔ سکون وہاں بھی نہ تھا۔ وہ احباب کی بزم طرب میں بھی شامل ہوا اور اپنے شہر کی تفریح گاہوں کی بھی اس نے سیر کی۔ سکون کی تلاش وہاں بھی بے سود تھی۔ اس کی جراحت دل کا اندمال وہاں بھی نہ تھا۔ وہاں بھی اس کا غم غلط نہ ہو سکا اور اب اس نے طے کر لیا کہ وہ جلد سے جلد کلکتہ پہنچے گا جہاں سے وہ رسوائے زمانہ کتاب شائع ہوئی تھی۔ جہاں سکون اس کا انتظار کر رہا ہے۔ جہاں اسے ابدی راحت میسر آئے گی اور اس کا زخم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مندمل ہو جائے گا۔

تانگہ ہوا میں باتیں کرتا ہوا اسٹیشن کو جا رہا تھا۔ پشاور کی گلیاں آج ہمیشہ کے لئے چھوٹ رہی تھیں۔ لیکن امیر احمد کو اس کا غم نہیں تھا۔ اس کی جبیں ہمت پر شکن بھی نہ تھی۔ اس کے پائے

صفحہ 198

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

استقامت میں تزلزل بھی نہ تھا۔ وہ لڑکھڑایا بھی نہیں، ڈگمگایا بھی نہیں۔ وہ آگے ہی بڑھتا گیا۔ جیسے ندی دریا کی سمت دوڑتی ہے، جیسے چکور چاند کی طرف بھاگتا ہے۔

دشمن رسول سے انتقام کے لیے پشاور سے کلکتہ کا سفر کرنا

اس کا دوست عبداللہ اس کے ساتھ ہی تانگہ پر سوار تھا، امیر احمد اس سے کہہ رہا تھا کہ ”میں نے زندگی کی آخری سانس تک تم سے دوستی نبھانے کی قسم کھائی تھی۔ میں نے تمام عمر رفاقت کا وعدہ کیا تھا اور میں نے زندگی کے ہر موڑ پر تمہارا ساتھ بھی دیا۔ میں نے تم سے بے پناہ محبت کی اور میرا سارا پیار تمہارے لئے وقف رہا۔ لیکن آج میں پہلی بار تمہارا ساتھ چھوڑ رہا ہوں۔ میں نے طے کر لیا ہے کہ اپنے آقا ﷺ پر صدقے ہو جاؤں۔ ان کی عزت و حرمت پر کٹ مروں اور ان کی بارگاہ ناز میں نقد جان بھی نذر کر دوں۔ کلکتہ میں اسی مقصد سے جا رہا ہوں۔ شوق شہادت ہی مجھے وہاں لے جا رہا ہے۔ میرے بعد تم میری بوڑھی ماں کا خیال رکھنا اور اگر تم سے ہو سکے تو میرے یتیم بھائیوں اور بے سہارا بہنوں کی خبر گیری کرنا۔ یہ میری آخری خواہش ہے۔

سلسلہ کلام جاری تھا اور عبداللہ کے لبوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ جب امیر احمد اپنی گفتگو کر چکا تو عبداللہ نے کہا۔

اگر تم سمجھتے ہو کہ میں تمہیں اسٹیشن تک چھوڑنے جا رہا ہوں تو یہ تمہاری بھول ہے۔ میں زندگی کی آخری منزل تک تمہارے ساتھ ہوں۔ کلکتہ تم تنہا ہی نہیں جا رہے ہو، تمہارا عبداللہ بھی تمہارا رفیق سفر ہے۔ اپنے آقا ﷺ پر قربان ہو جانے کی تمنا تمہارے دل ہی میں نہیں مچل رہی، اس میں، میں بھی تمہارا شریک کار ہوں۔ شہادت کی تڑپ میرے دل میں بھی ہے۔ میں بھی اپنے آقا ﷺ پر قربان ہونے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ شمع پر جان دینا پروانوں کا پیدائشی حق ہے اور اس حق سے کوئی بھی انہیں محروم نہیں کر سکتا۔ تمہارے آقا صرف تمہارے آقا نہیں ہیں وہ ہم سب کے آقا ہیں۔ ان کے بار احسانات سے تنہا تمہاری ہی گردن خم نہیں ہے، ہم سب ان کے منت کش کرم ہیں۔

ان کا جمال دلفروز ہماری آنکھوں کو بھی فروغ بخش رہا ہے اور ان کی تجلیوں سے ہمارا

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجا

خانہ دل بھی معمور ہے میدان حشر ک کرنی ہے۔ قبر کی منزل اور پل صراط ان کے دامن رحمت میں ہمیں بھی پنا ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو سعا ہو جاؤں، میں تمہارے ساتھ ہی ا کریں گے۔ زندگی میں بھی ہمارا تمہا چاہتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہما اٹھیں۔ ساتھ ہی جنت کو چلیں اور فرمائیں اور ایک ہی ساتھ ہم دونوں

پھر عبداللہ کی بات پوری نہیں ہ گے تو ہم دونوں کی بوڑھی ماؤں ک ہوگی؟ کون ہمارے بھائیوں کی دیک

عبداللہ ایک مرتبہ پھر گرجا۔ تم کوئی اور ہے۔ بھلا سوچو تو جو خدارحم کیسے غافل ہو جائے گا! پھر جان دے کا کیا حال ہوگا؟ جان دینے وال اپنے پیچھے کس کو چھوڑ رہے ہیں؟

پشاور کا اسٹیشن آگیا تھا۔ اس پر کھڑی ہوئی گاڑی کی طرف چل پڑ

شان رسالت میں گس

•••••••••••••••• کلکتہ ایک عظیم شہر ہے، جہاں جہاں ہر وقت چاندی لٹتی ہے، کلکت اس کا موقع نہیں ملا تھا، آج ان ک

صفحہ 199

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

خانہ دل بھی معمور ہے میدان حشر کی تیز دھوپ میں ان کے سایہ رحمت کی تلاش تنہا تمہی کو نہیں کرنی ہے۔ قبر کی منزل اور پل صراط کے سفر میں ان کے سہارے کی ہمیں بھی ضرورت ہے۔ ان کے دامن رحمت میں ہمیں بھی پناہ لینی ہے اور انہی کی کرم فرمائیوں پر ہماری نجات بھی منحصر ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ جو سعادت تم تنہا حاصل کرنا چاہ رہے ہو، میں اس سے محروم ہو جاؤں، میں تمہارے ساتھ ہی کلکتہ چل رہا ہوں۔ ہم دونوں ایک ساتھ جام شہادت نوش کریں گے۔ زندگی میں بھی ہمارا تمہارا ساتھ رہا ہے، مرنے کے بعد بھی ہم تمہارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا تمہارا انجام بھی ایک ہو۔ قبر سے ہم دونوں ایک ساتھ ہی اٹھیں۔ ساتھ ہی جنت کو چلیں اور ہم دونوں کے آقا ﷺ ہم دونوں کی قربانیاں قبول فرمائیں اور ایک ہی ساتھ ہم دونوں کو اپنے دامن رحمت میں پناہ دے دیں۔

پھر عبداللہ کی بات پوری نہیں ہو پائی تھی کہ میر احمد نے اسے ٹوک دیا۔ تم بھی چلے جاؤ گے تو ہم دونوں کی بوڑھی ماؤں کا کیا ہوگا؟ کس کو ہماری بہنوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر ہوگی؟ کون ہمارے بھائیوں کی دستگیری کرے گا؟

عبداللہ ایک مرتبہ پھر گرجا۔ تمہاری عقل ماری گئی ہے تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ کار ساز مطلق کوئی اور ہے۔ بھلا سوچو تو جو خدا رحم مادر میں جنین کی پرورش کرتا ہے وہ جوانوں کی تربیت سے کیسے غافل ہو جائے گا! پھر جان دینے والوں کو یہ سوچنے کی کیا ضرورت ہے کہ ان کے بعد دنیا کا کیا حال ہوگا؟ جان دینے والے تو بس جان دینا جانتے ہیں۔ ان کو اس سے کیا غرض کہ وہ اپنے پیچھے کس کو چھوڑ رہے ہیں؟

پشاور کا اسٹیشن آگیا تھا۔ اس لئے گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور دونوں دوست پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی گاڑی کی طرف چل پڑے۔

شان رسالت میں گستاخی کرنے والے مصنف کی ہٹ دھرمی

کلکتہ ایک عظیم شہر ہے، جہاں دن رات مَن برستا ہے، جہاں روزانہ لڈو پھوٹتے ہیں، جہاں ہر وقت چاندی لٹتی ہے، کلکتہ دیکھنے کی آرزو ایک مدت سے ان دونوں کو تھی لیکن اب تک اس کا موقع نہیں ملا تھا، آج ان کی ٹیکسی کلکتہ کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھی، کلکتہ میں ان کے لئے کوئی

صفحہ 200

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

دلچسپی نہیں تھی، ان کے دل میں تو کچھ اور ہی لگن تھی، یہ اسٹیشن سے سیدھے لور چت پور روڈ آئے اور موسیٰ سیٹھ کے مسافر خانہ میں قیام پذیر ہوئے۔ انہوں نے یہاں اپنا سامان اتارا اور ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اس محلہ کی طرف چلے جہاں سکون ان کا انتظار کر رہا تھا اور طمانیت قلب ان کے لئے چشم براہ تھی۔ یہاں انہوں نے اس کتاب کے ناشر سے ملاقات کی جس نے ان کا سکون غارت کیا تھا اور وفا کشوں کے جذبہ محبت کو ٹھیس پہنچائی تھی اس کتاب کا ناشر ہی اس کا مصنف بھی تھا اور اسی کے زیر اہتمام اس کی طباعت بھی عمل میں آئی تھی۔

انہوں نے کہا۔ اپنی کتاب سے فلاں حصہ نکال دو، اس سے ہم مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور ایک معذرت نامہ بھی شائع کر دو تا کہ جن لوگوں کی تم نے دل آزاری کی ہے ان کی کچھ تسکین ہو جائے۔

کتاب کے ناشر نے کہا۔ کتاب میں ایک تصویر شائع ہو گئی تو کون سی قیامت آ گئی؟ تمہارے رسول کے خلاف ایک آدھ جملہ لکھ دیا تو کیا ہو گیا؟ تم کہتے ہو کہ میں نے غلطی کی ہے۔ لیکن میں غلطی ماننے کے لئے تیار ہی نہیں میں نے جو کچھ لکھا ہے ٹھیک ہی لکھا ہے۔ اگر میری تحریر پر کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تو ہو۔ میں ایسا کبھی نہیں کر سکتا کہ معافی نامہ شائع کروں۔ اگر میری غلطی تسلیم بھی کی گئی تو اس کی سزا اتنی سنگین نہیں۔ میں اپنی غلطی کا ڈھنڈورا نہیں پیٹ سکتا۔ تم جا سکتے ہو۔ تم میری دکان سے نکل جاؤ۔ میرا دماغ مت چاٹو۔

دونوں عاشقان رسول ﷺ نے ملعون کو انجام تک پہنچا دیا

امیر احمد کی آنکھیں شعلے اگلنے لگیں۔ اس کا چہرہ گلنار ہو گیا۔ اس کی رگیں تن گئیں اور وہ بے قابو ہو گیا۔ غلطی اور اس پر اصرار؟ گستاخی اور وہ بھی آقا ﷺ کی شان میں۔ اس نے ایک جست کی۔ عبداللہ بھی اپنی جگہ سے اچھلا۔ دونوں نامراد پر ٹوٹ پڑے۔ پھر ایک بجلی تھی جو چمک گئی۔ ایک خنجر تھا جو گستاخ کلیجہ میں اتر گیا اور یہ دونوں سڑک پر کھڑی ہوئی ٹریفک پولیس سے کہہ رہے تھے کہ ہم نے خون کیا ہے ہم قاتل ہیں، ہمیں گرفتار کر لو۔

پولیس مارے خوف و دہشت کے بھاگ کھڑی ہوئی اب انہوں نے قریب کے تھانے کو فون سے اطلاع دی۔ ہم فلاں مقام پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ہم نے خون کیا ہے۔ تم یہاں

صفحہ 201

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آجاؤ تا کہ ہم خود کو قانون کے حوالے کر سکیں۔ پھر دونوں گرفتار ہو گئے۔

آقا پر قربان ہونے کی تڑپ کو دیکھ کر جج اور وکلاء بھی حیران رہ گئے

عدالت میں آج ان دونوں کی پہلی پیشی تھی۔ آج ان کا مقدمہ کھلا تھا۔ ماہر قانون وکیلوں نے انہیں قانون کی زد سے بچا لینے کے لئے اپنی اپنی خدمات پیش کیں۔ رؤساء شہر نے ان کے مقدمہ کی پیروی کرنے کا بیڑا اٹھا لیا۔ بچوں نے کئی دنوں سے مٹھائی اور چاکلیٹ کے سارے پیسے بچا کر آج ہی کے لئے رکھ چھوڑے تھے۔ خواتین نے اپنے پاس کانوں کی بالیاں آج ہی کے لئے اتار رکھی تھیں۔ سارا نگر یہ چاہتا تھا کہ یہ دونوں عدالت کی نگاہ میں مجرم ثابت نہ ہوں۔ کسی طرح یہ قانون کی زد سے بچ جائیں۔ خود حاکم کو بھی ان دونوں کی معصومیت پر ترس آ رہا تھا۔ وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ یہ خلاصی پا جائیں۔

لیکن دشواری یہ تھی کہ خود یہ دونوں ایسا نہیں چاہتے تھے۔ شہادت کا شوق ان کے سروں میں سمایا ہوا تھا اور یہ جلد از جلد پھانسی کے تختے کی طرف بڑھنا چاہتے تھے۔ آقا پر قربان ہو جانے کی تڑپ انہیں بے چین کئے دے رہی تھی۔ ان سے کہا گیا کہ کم از کم اپنی زبان سے اقبال جرم نہ کریں۔ صرف ایک بار کہہ دیں کہ انہوں نے خون نہیں کیا۔ لیکن دونوں یہی کہتے رہے۔ ہم نے خون کیا ہے۔ ہم ہی قاتل ہیں۔ ہم نے ہی اس گستاخ کو اس کی گستاخی کی سزا دی ہے۔

دونوں غازیوں کی والداؤں کی ایمان افروز باتیں

آخر فیصلے کا دن آ ہی گیا۔ قانون کی نگاہوں میں دونوں مجرم ثابت ہوئے اور دونوں ہی کے لئے پھانسی کی سزا تجویز کی گئی۔

آج شہر کی ساری آبادی علی پور جیل کے گرد سمٹ آئی تھی۔ ہر کوئی اشکبار آنکھوں سے ان دونوں کے چہروں کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہ چہرے جن پر تقدس برس رہا تھا۔ معصومیت قربان ہو رہی تھی۔ تقدس برستا رہا، معصومیت لٹتی رہی اور لوگ ان کا آخری دیدار کرتے رہے۔ سارے لوگوں کی نگاہیں ان کی طرف تھیں لیکن یہ دونوں کسی اور طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کی

صفحہ 202

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

نگاہیں بار بار ایک طرف اٹھ جاتی تھیں۔ دفعتاً ان کے چہروں پر اضطراب کی ایک کیفیت نمودار ہوئی اور ان کا چہرہ اتر گیا۔

ان دونوں کا آخری دیدار کرنے کے لئے ان دونوں کی مائیں بھی پشاور سے آگئی تھیں اور اس وقت یہ دونوں بھی دیکھنے والوں کی صف میں کھڑی تھیں۔ جب انہوں نے ان دونوں کی اس حالت کا اندازہ کیا تو برس پڑیں۔

”اور کہا کہ آخری دم چہروں پر حزن و ملال کے آثار کیوں؟ زندگی جب اتنی ہی پیاری تھی تو موت کو دعوت کیوں دی تھی؟ کیا اللہ والوں کا یہی وطیرہ ہے؟ شیدائین رسول ﷺ کا ایسا ہی کردار ہوتا ہے؟ سر فروش اسی طرح جان دیتے ہیں؟ خبردار جو چہرے پر غم کی کیفیت پیدا ہونے دی۔ یاد رکھو! اگر تم نے ہنستے ہوئے جان نہیں دی، اگر دار و رسن کا پر تپاک خیر مقدم نہیں کیا، اگر مسکراتے ہوئے جام شہادت نہیں نوش کر سکے تو پھر تمہارا دودھ کبھی بھی نہیں بخشیں گی۔ تم کو خوش ہونا چاہئے کہ آج تم اس سعادت سے بہرہ ور ہورہے ہو جو ہر کسی کا مقسوم نہیں۔“

غازیوں کا شہادت کے وقت اضطراب کی اصل وجہ

امیر احمد اور عبداللہ ایک ساتھ بول اٹھے۔ چہروں پر جو اضطراب کی لکیر آپ کو نظر آرہی ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ ہم لوگ جان سے جارہے ہیں۔ ہمارے چہروں پر غم کی گھٹا اس لئے نہیں چھائی ہے کہ ہم تختہ دار پر چڑھنے والے ہیں۔ ہماری پریشانیوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ جام شہادت پیش کرنے میں یہ لوگ دیر کیوں کررہے ہیں؟ ہماری نگاہیں اس وقت جو کچھ دیکھ رہی ہیں اگر آپ دیکھ لیتے تو آپ بھی ہماری جگہ آنے کی کوشش کرتے۔ آپ کے اطمینان کے لئے ہم اتنا کہہ دینا کافی سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہماری منزل مل گئی ہے۔ ہمارے آقا کالی کملی اوڑھے ہمارے سامنے کھڑے اپنے ہاتھوں کے اشارے سے اپنے پاس بلا رہے ہیں۔ لیکن ہمارے اور ان کے درمیان شرط یہ ٹھہری ہے کہ جام شہادت نوش کرنے کے بعد ہی ان تک پہنچ سکیں گے۔

پھانسی کا پھندا آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا اور وہ ہنستے ہوئے جان دے رہے تھے۔ انہوں نے جان دے ڈالی ، وہ دونوں شہید ہوگئے ۔ رحمت کی گھٹائیں ان پر برس پڑیں

گستاخ رسول کا عبرتناک

اور وہ ان میں سر سے پاؤں تک جنت کے جانے والے! ابدی نعمتیں مبارک ہوں۔ ان شہیدان محبت کی آخری سے آج بھی نامرادوں کو مرادیں ہیں۔

مولانا لال

39 ...... موضع اکری سے (تحصیل فیض گنج ، سندھ) ہے قیام پذیر تھا، جو امرتسر سے یہاں جاتا تھا۔ اس کے سیاسی اثر ورسوخ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسے صلاحیت مرزا قادیانی کی نبوت کی کا جانشین نبی ہوں۔ بتایا جاتا ہے کے دم قدم سے کفر و ارتداد نے خوب ایک دفعہ مناظرے کی بات تھے۔ مولانا موصوف کا معاملہ بھی تعلیم و تربیت پر قادیانیوں کی شاہر مدرسوں میں پڑھایا گیا۔ کہتے ہیں وہ احمدیت کی تبلیغ میں جٹ گئے۔ ضلع“ میں کام کیا اور پھر شعبہ مال آبلہ فریبیاں منکشف ہونے لگیں چاک نہ ہوگا؟ بقول ان کے وہ

صفحہ 203

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اور وہ ان میں سر سے پاؤں تک ڈوب گئے۔ جنت کے جانے والے! جنت کا سفر مبارک ہو۔ اس کی سرمدی راحتیں مبارک ہوں۔ ابدی نعمتیں مبارک ہوں۔ ان شہیدان محبت کی آخری آرام گاہ کلکتہ کے گورا قبرستان میں ساتھ ساتھ ہیں۔ جہاں سے آج بھی نامرادوں کو مرادیں ملتی ہیں اور محروم مسرت و شادمانیوں سے ہمکنار کئے جاتے ہیں۔

(از ضیاء جالوی)

مولانا لال حسین قادیانی کا چیلنج قبول کرنا

39....... موضع اگری سے تین چار میل کے فاصلے پر واقع ایک بستی کا نام کرونڈی (تحصیل فیض گنج، سندھ) ہے۔ یہاں قادیانیت کا ایک کمینہ فطرت و شعبدہ باز مبلغ عبدالحق قیام پذیر تھا، جو امرتسر سے یہاں چلا آیا۔ علاقہ بھر میں ”شیخ“ نہایت عیار اور بدطینت خیال کیا جاتا تھا۔ اس کے سیاسی اثر و رسوخ اور معاشی حیلہ سازیوں سے کئی سادہ لوح کلمہ گو، دولت ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسے اپنی قوت مناظرہ پر بہت بھروسہ تھا۔ وہ کہتا تھا کہ میری یہ صلاحیت مرزا قادیانی کی نبوت کی ایک دلیل ہے۔ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ میں مرزا قادیانی کا جانشین نبی ہوں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کی انگوٹھی پر ”عبدالحق نبی اللہ“ نقش تھا۔ قادیانی مذکور کے دم قدم سے کفر و ارتداد نے خوب زور پکڑا۔

ایک دفعہ مناظرے کی بات چلی۔ مسلمانوں کی جانب سے مولانا لال حسین اختر نمائندہ تھے۔ مولانا موصوف کا معاملہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ یہ ابتداً مرزائیوں کے قریب رہے۔ ان کی تعلیم و تربیت پر قادیانیوں کی شاخ لاہوری گروپ کے سربراہ محمد علی نے خاص توجہ دی۔ مختلف مدرسوں میں پڑھایا گیا۔ کہتے ہیں انہیں چھ زبانوں سے واقفیت تھی۔ فارغ التحصیل ہو چکنے پر وہ احمدیت کی تبلیغ میں جُت گئے۔ پہلے پہل ”لاہوری جماعت“ کے آرگن ہفت روزہ ”پیغام صلح“ میں کام کیا اور پھر شعبہ مالیات کے محتسب مقرر ہوئے۔ تاہم آہستہ آہستہ ان پر مرزائی آبلہ فریبیاں منکشف ہونے لگیں۔ جھوٹ آخر جھوٹ ہوتا ہے ملمع کاریوں کا دامن کب تک چاک نہ ہوگا؟ بقول ان کے وہ تذبذب میں تھے کہ انہیں بذریعہ خواب حق کی پہچان نصیب

صفحہ 204

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہوئی۔ دوسری دفعہ تو واضح اشارہ ملا۔ میرا ضمیر مطمئن ہو گیا۔ میں نے جانا، مجھے منزل مل چکی ہے۔ بحمد اللہ اب میں مسلمان ہوں۔

قصہ کوتاہ مناظرے کے لئے وقت اور دیگر شرائط کا تعین ہورہا تھا کہ مولانا لال حسین اختر صاحب نے قادیانی مبلغ عبدالحق سے پوچھا۔ ”تم کس موضوع پر مناظرہ کرنا چاہتے ہو؟

جواب ملا۔ جس پہلو پر آپ کا جی چاہے۔

مولانا بولے۔ اگر یہ بات ہے تو میں مرزا کا جھوٹ ثابت کرنا چاہتا ہوں۔

یہ سن کر قادیانی مبلغ جل بھن کر رہ گیا اور غصے میں جو بکواس کی ، اسے نقل کرنے کا مجھ میں حوصلہ نہیں۔

قادیانی کی ناپاک جسارت پر اہل ایمان آتش غضب میں بھڑک اٹھے۔ یہ اتنا کاری زخم تھا کہ ہر ایک کا کلیجہ چھلنی ہو گیا۔ لوگ چاہتے تھے کہ اسے یہیں جہنم واصل کر دیا جائے۔ مگر بعض ایسی الجھنیں پیش آئیں کہ اس نے راہ فرار اختیار کر لی اور غضبناک مسلمان کف افسوس ملتے رہ گئے۔

قادیانی مناظر کی سرکشی اور عوام میں خوف و ہراس

قادیانی مذکور ہر دنیاوی وجاہت کے اعتبار سے انتہائی ذی اثر تھا۔ اس کے پاس مال و زر کی کوئی کمی نہ تھی۔ وہ اپنے مخفی مقاصد کی تکمیل کے لئے بے دریغ سرمایہ لٹایا کرتا۔ نہ جانے اس نے کتنے اور کس طرح کے گھناؤنے کاروبار رچائے رکھے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ عوام اس کے ابلیسی ہتھکنڈوں سے گھبراتے۔ مذکورہ بالا ملعون و مردود کے اثر و رسوخ کی ادنیٰ سی مثال ملاحظہ کریں۔ اس کے اشارے پر ایک غیور مسلمان کو موضع کرونڈی ضلع خیر پور میں اینٹیں مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ قصور یہ تھا کہ وہ ان کا مہرہ بننے پر رضامند نہ ہو سکا۔ جب اس بے گناہ کے لرزہ خیز قتل کی خبر پھیلی تو کوئی شخص نعش اٹھانے کو تیار نہ تھا۔ تھانے میں رپورٹ درج کروانا اور مقدمے کی پیروی تو دور کی بات ہے۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

غازی محمد کی والدہ کا بیان

الغرض حاجی محمد صاحب ان دنوں آپ کی سن رسیدہ والدہ محترمہ نے روتے کہ آپ کے ہوتے ہوئے ایسے لوگ ﷺ کی جناب میں گستاخی کرتے ان کے استفسار پر بوڑھی ماں نے مصروف تھے۔ یہ درد ناک واقعہ سن کر ۵۴ سالہ ایک شخص کا کلیجہ رنج و آنسو اور سینے میں شور قیامت۔ اس بے خیز لب بستگی بھی طرز فغاں ہے اور مجسمہ غیرت کا نام الحاج غازی محمد مالک ناروا حملے ہورہے ہیں۔ نبی کریم آقا ﷺ نہیں ہو سکتا۔ میں مرزائی شاتم رسول کرنا چاہتا ہوں۔ بالآخر آپ ملت مصطفوی ﷺ عوام الناس سے مردود قادیانی کی ناپاک مہر تصدیق ثبت ہوئی۔ پس اب ظالم چونکہ گستاخ قادیانی عبدالحق تھا ہو چکا تھا لہذا حاجی محمد مالک کئی روز جائے۔ آخر وہ ایک فیصلہ کر چکے اور المبارک ۲۱ دسمبر ۱۹۶۶ء کو عبدالحق تک

صفحہ 205

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

غازی محمد کی والدہ کا بیٹے کو شاتم رسول کی گردن زدنی کا حکم دینا

الغرض حاجی محمد صاحب ان دنوں بلوچستان میں تبلیغی دورے پر تھے۔ لوٹ کر آئے تو آپ کی سن رسیدہ والدہ محترمہ نے روتے ہوئے کہا۔ بیٹا میں آپ کو دودھ معاف نہ کروں گی کہ آپ کے ہوتے ہوئے ایسے لوگ موجود ہیں جو ہمارے ملجاء ماویٰ ، ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی جناب میں گستاخی کرتے ہیں۔

ان کے استفسار پر بوڑھی ماں نے پورا واقعہ کہہ سنایا۔ موصوف آٹھویں حج کی تیاری میں مصروف تھے۔ یہ دردناک واقعہ سن کر آپ نے حج کا پروگرام منسوخ کر دیا۔

۵۴ سالہ ایک شخص کا کلیجہ رنج والم کی آگ سے کباب ہو چکا ہے۔ آنکھوں میں خشک آنسو اور سینے میں شورِ قیامت۔ اس کے دن بے سکون اور راتیں حسرت انگیز ہیں۔ اس کی معنی خیز لب بستگی بھی طرزِ فغاں ہے اور مفہوم انگیز گویائی ایک نوحہ۔ معلوم ہوا اس پیکر حیرت اور مجسمہ غیرت کا نام الحاج غازی محمد مانکؒ ہے۔ ان کی وجہ غم یہ ہے کہ ناموس رسالت ﷺ پر ناروا حملے ہو رہے ہیں۔ نبی کریم آقا ﷺ کا کوئی دشمن زندہ ہو تو غلام کا عہد وفا کسی طور معتبر نہیں ہو سکتا۔ میں مرزائی شاتم رسول عبدالحق کو ...... ابدی ذلتوں کا مرکز بنا کر یہ فرض کفایہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

بالآخر آپ ملت مصطفوی ﷺ کو درس حریت دے گئے۔ سب سے پہلے انہوں نے عوام الناس سے مردود قادیانی کی ناپاک جسارت کا تفصیلی واقعہ سنا، پھر اس پر علمائے کرام کی مہر تصدیق ثبت ہوئی۔ پس اب ظالم کو گستاخیوں کا مزہ چکھانا باقی تھا۔

چونکہ گستاخ قادیانی عبدالحق مذکور مسلمانوں کے متوقع جوش وخروش کی وجہ سے چوکنا ہو چکا تھا لہٰذا حاجی محمد مانک کئی روز تک غور وخوض کرتے رہے کہ اس کو کس طرح تہ تیغ کیا جائے۔ آخر وہ ایک فیصلہ کر چکے اور پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے آپ ۷ رمضان المبارک ۲۱ دسمبر ۱۹۶۶ء کو عبدالحق تک جا پہنچے۔

صفحہ 206

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

حاجی محمد کے ہاتھوں شاتم رسول عبدالحق کا عبرتناک انجام

موت کا بھیانک سایہ لحظہ بہ لحظہ اس کمینہ فطرت درندے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ تقدیر کی گرفت اسے سیر کے بہانے مقام مرگ پر لے پہنچی۔ اب کسی لمحہ مسلم جانباز جھپٹ کر شکار کو اپنے مضبوط پنجوں میں جکڑنے والا تھا۔ آفتاب رحمت و استغناء مہتاب حسن و وفا، کے متوالے نے اس ارذل واجہل علامت کو کس طرح لقمہ اجل بنایا، یہ بڑی دلچسپ اور راحت انگیز داستان ہے۔ مناسب ہے کہ جہاد کی کہانی خود مجاہد کی زبانی سنی جائے۔ الحاج غازی مانک صاحب نے اپنے چاہنے والوں اور عزیز واقارب کو جیل میں اس کی تفصیل بتاتے ہوئے بیان کیا کہ:

”میرے پاس ایک ریوالور تھا اور چھوٹا سا چاقو بھی۔ باغ میں پہنچے تو عبدالحق قادیانی مزدوروں کے پاس آئندہ کام کے بارے میں ہدایات دینے چلا گیا۔ میں انہی سوچوں میں گم صم بیٹھا تھا کہ جانے کہاں سے آواز آئی، اے بیدار بخت! تمہیں کاہے کا انتظار ہے۔ جرأت ایمانی سے کام لے کر اسے ابھی حوالہ آتش کیوں نہیں کر دیتے۔“

یہ سن کر میں جوش غیرت سے اٹھ کھڑا ہوا۔ خدا معلوم مجھ میں اچانک اس قدر پھرتی اور قوت کیسے عود کر آئی؟ میں آج تک خود بھی اس معاملے کی گتھی نہیں سلجھا سکا۔ جب وہ مکروہ صورت قادیانی گستاخ رسول عبدالحق مزدوروں کی طرف سے لوٹتے ہوئے نشانے کی زد میں پہنچ گیا تو غصے سے میری حالت غیر تھی۔ دل چاہتا تھا کہ جلد از جلد قصہ نمٹا دوں۔ فوراً لبلبی دبا دی گئی۔ یکے بعد دیگرے آتشیں گولیاں نکلیں۔ ہر طرف اس خوفناک آواز سے سناٹا چھا گیا۔ جب فائر ختم ہو چکے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ملعون بسلامت موجود ہے۔ غالباً گولیاں اس کے ارد گرد سے گزر گئیں۔ میں دم بخود تھا کہ اب کیا کروں؟

دوسری طرف اس پر بدحواسی طاری تھی۔ میرے یہ انداز دیکھتے ہوئے یہ مسلسل چیخ رہا تھا کہ حاجی صاحب تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ ایسا کیوں کر رہے ہو؟ خدا کے لئے مجھے نہ مارو، میں تمہارا کوئی دشمن تو نہیں...... ہمارے درمیان کوئی زیادہ فاصلہ نہ رہا۔ میری صرف ایک خواہش

صفحہ 207

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

تھی کہ اسے بہر صورت مردہ حالت میں دیکھوں۔ قلابازی کھا کر اس پر جھپٹا اور گردن دبوچ لی۔ میں نے دیکھا کہ مجھ میں بجلی کی سی تیزی آگئی ہے۔ میں تو اسے غیبی امداد ہی کہوں گا کہ وہ باوجود ہٹا کٹا ہونے کے موت کے خوف سے کانپ رہا تھا۔ حالانکہ ہم گتھم گتھا تھے۔

ہوا یہ کہ بدبخت گھبراہٹ کے عالم میں از خود زمین میں گر پڑا۔ موقع غنیمت جانتے ہوئے میں بہ سرعت اس کے سینے پر بیٹھ گیا۔ وہ بے حس و حرکت تھا۔ جانے کیوں اس کی قوت مزاحمت ختم ہو چکی تھی۔ معلوم ہوتا تھا جیسے یہ تنِ مردہ ہے اور اس میں جان باقی نہیں۔ الغرض۔ میں نے بڑے اطمینان اور حوصلے کے ساتھ جیب سے چاقو نکال کر دانتوں سے کھولا۔ اس کی گردن پر لگایا اور زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔ جب اس کے ناپاک جسم سے سر کا بوجھ اتر چکا تو مقتول کی زبان کاٹی اور پھر جبڑوں کو چیر پھاڑ دیا۔ وہ انگلی جس سے اشارہ کر کے بات کیا کرتا تھا اسے بھی پنجے سے علیحدہ کر کے کہیں دور پھینکا۔ ساتھ ساتھ میری زبان سے بے ساختہ یہ جملے بھی ادا ہو رہے تھے کہ میرے نبی ﷺ کی گستاخی کرنے والوں کا حاجی مانک ہمیشہ یہ انجام کرتا رہے گا۔

حاجی محمد مانک کے تمام کپڑے خون آلود ہو چکے تھے۔ ایک نشہ تھا جس سے آپ جھوم جھوم گئے۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ کی چاندنی کھیلنے لگی۔ آنکھوں میں خوشی سے آنسوؤں کے چراغ جل اٹھے۔ یہ حالت کیوں نہ ہوتی؟ گستاخ زبان ان کے جوتوں کی ٹھوکروں میں ہے۔ - مردود قادیانی چیخ چیخ، چلا چلا اور تڑپ تڑپ کر واصل جہنم ہو چکا ہے۔

قتل کی اطلاع ذرا سے وقفے میں دور دور تک پھیل گئی۔ یہ خبر اہل ضلالت کے دلوں پر بجلی بن کر گری۔ جبکہ کلمہ گوؤں کو مسرت و شادمانی کا سلیقہ سکھا رہی تھی۔ حاجی صاحب جائے واردات سے سیدھے ”ناکری“ میں اپنے گھر تشریف لائے اور والدہ محترمہ کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا:

”میں نے قادیانی گستاخ رسول عبدالحق مردود کو نارِ جہنم میں جھونک دیا ہے۔ اب تو مجھ سے خوش ہو جانا۔“

یہ سنتے ہی وہ اچھل پڑیں۔ اپنے ہاتھوں سے دودھ کا کٹورا پلاتے ہوئے فرمایا:

”بیٹا تم نے میرا حق ادا کر دیا ہے۔“

صفحہ 208

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

گستاخ رسول کے قتل کے بعد عاشق رسول کی خوشی کا عالم

یہاں سے غازی صاحب سیدھے جامع مسجد گئے۔ اپنے کپڑوں سے لہو کی ناپاک غلاظت اتاری۔ غسل فرمایا، نفل شکرانہ ادا کئے اور قرآن شریف کی تلاوت میں محو رہے۔ اتنے میں رپورٹ درج ہونے پر پولیس بھی آپ کی گرفتاری کو آ پہنچی۔

پولیس اہلکار آپ کے برادر محترم گل بہار صاحب سے ملے (جو ابھی تک صورتحال سے بے خبر تھے) اور حاجی موصوف کے بارے میں پوچھا۔ اصل حقائق کا علم ہونے پر وہ دوڑے دوڑے آئے اور کہا:

”حاجی صاحب پولیس آپ کی تلاش میں ہے۔ کیا عبدالحق قادیانی کو آپ نے ہی قتل کیا؟“

انہوں نے بتایا

”ہاں! اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے یہ کام مجھ گناہگار سے ہی لیا ہے۔ آئیے پولیس کے پاس چلتے ہیں۔“

تھانے میں وقوعہ کی اطلاع مولوی عبدالحق قادیانی کے بیٹے مرزا یعقوب نے دی، جس پر زیر دفعہ ۳۰۲ باقاعدہ رپٹ درج ہوئی۔ جائے واردات سے پولیس اسٹیشن ”فیض گنج“ تین میل بجانب مشرق واقع ہے۔ ایف آئی آر میں واقعہ قتل کی وضاحت یوں درج ہے:

”سائل بیان کرتا ہے کہ عبدالحق میرا باپ ہے اور ہمارا آموں کا اپنا باغ ہے۔ جس میں ہم آموں کی پنیری بوتے ہیں۔ ہمارے پاس حاجی مانک آیا۔ ایک اور آدمی جس کا نام جان محمد بتایا گیا ہے بھی اس کے ساتھ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں آم کی پنیری چاہئے۔ آج (۲۱ ستمبر ۱۹۶۶ء) تقریباً گیارہ بجے دن مقتول (عبدالحق قادیانی) مذکورہ ملزموں کے ہمراہ باغ سے جنوب کی طرف گیا۔ تھوڑی دیر بعد اچانک میرے باپ کی چیخ بلند ہوئی۔ ہم نے دیکھا کہ حاجی مانک نے اسے پکڑ کر نیچے گرا دیا اور پھر چاقو نکال کر ذبح کرنے لگا۔ آلہ قتل حاجی مانک کے ہاتھ

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں تھا۔ ہمیں نزدیک آتا دی مشاہدہ کیا کہ مقتول کی گردن تھا۔“

(پولیس ریکارڈ کے مطابق ایف آ

اور سن سماعت ۱۹۶۷ء ہے۔)

غازی محمد مانک صاحب پولیس ک خوش دکھائی دیتے، جیسے کہہ رہے ہوں ک کیا جانو! میرا ذوق محبت کہتا ہے کہ اس کیا؟ پھولوں کے گجرے ہیں جو میں ن نے بھی میری طرح لطف آشنائی کا مزہ جب پولیس آپ کو موقع کی جان تانے اکڑ اکڑ کر چلتے ہوئے دکھائی د اپنے انجام کا وحشت ناک نظارہ پیش ک اس لئے ریوالور کے متعلق پولیس ن چاقو کی برآمدگی ہوئی۔ کاغذات تیار ہ غازی ملت کو تھانے پہنچا دیا گیا۔ مگر ی نشہ بھی کبھی اترتا ہے؟۔

پولیس افسر کی بیوی بجکہ

مصدقہ روایت ہے کہ متعلقہ گزار تھی۔ وہ نبی پاک ﷺ کے پنجاب کے ایک معزز خاندان سے م متقی عالم دین تھے۔ قصہ مختصر نصف ہو گیا۔ خواب میں رسول پاک نبی ک

صفحہ 209

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

میں تھا۔ ہمیں نزدیک آتا دیکھ کر ملزمان بھاگ گئے۔ ہم نے بچشم خود مشاہدہ کیا کہ مقتول کی گردن کٹ چکی تھی۔ پیچھے سے کچھ حصہ کٹنا باقی تھا۔“

(پولیس ریکارڈ کے مطابق ایف آئی آر کا نمبر ۸۷ جبکہ سیشن جج عدالت میں کیس نمبر ۳۵

اور سن سماعت ۱۹۶۷ء ہے۔)

غازی محمد مانک صاحب پولیس کی حراست میں آ چکے تھے۔ آپ ہتھکڑیاں پہنے یوں خوش دکھائی دیتے، جیسے کہہ رہے ہوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ان ہاتھوں کی خوش قسمتی تم کیا جانو! میرا ذوق محبت کہتا ہے کہ اس قید پر ہزار آزادیاں قربان کردوں۔ یہ بیڑیوں کا بوجھ کیا؟ پھولوں کے گجرے ہیں جو میں نے کامیابی پر شاداں و فرحاں ہو کر سجا رکھے ہیں۔ کاش تم نے بھی میری طرح لطف آشنائی کا مزہ چکھ لیا ہوتا۔

جب پولیس آپ کو موقع کی جانب لے جا رہی تھی تو عجب منظر تھا۔ عمر رسیدہ مانک سینہ تانے اکڑ اکڑ کر چلتے ہوئے دکھائی دیئے۔ ایک طرف مقتول مردود عبدالحق قادیانی کی میت اپنے انجام کا وحشت ناک نظارہ پیش کر رہی تھی۔ چونکہ مقتول کے جسم پر گولی کا کوئی زخم نہ تھا۔ اس لئے ریوالور کے متعلق پولیس نے زیادہ پوچھ گچھ کی اور نہ ہی آپ نے کچھ بتایا۔ الغرض چاقو کی برآمدگی ہوئی۔ کاغذات تیار کئے گئے اور دیگر ضروری کوائف کا اندراج ہوا۔ بعد ازاں غازی ملت کو تھانے پہنچا دیا گیا۔ مگر یہ پگلی دنیا نہیں جانتی کہ جسے جرمِ عشق پہ ناز ہو، بھلا اس کا نشہ بھی کبھی اترتا ہے؟۔

پولیس افسر کی بیوی بحکم نبی پاک غازی کی خدمت پر مامور

مصدقہ روایت ہے کہ متعلقہ پولیس افسر کی بیوی بڑی پاکباز، نیک سیرت اور عبادت گزار تھی۔ وہ نبی پاک ﷺ کے شہر کی ٹھنڈی ہوا کے لئے ہمیشہ تڑپا کرتی تھی۔ اس کا تعلق پنجاب کے ایک معزز خاندان سے تھا اور یہ کہ ان خوش بخت خاتون کے باپ ایک باعمل اور متقی عالم دین تھے۔ قصہ مختصر نصف شب کے قریب موصوفہ سورہی تھیں کہ یکا یک مقدر بیدار ہوگیا۔ خواب میں رسول پاک نبی کریم ﷺ تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ

صفحہ 210

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حوالات میں ہمارا ایک مہمان آیا ہوا ہے اس کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھنا۔ یہ نیک سیرت خاتون اسی لمحے اٹھ بیٹھیں۔ حد نظر تک اجالا ہی اجالا تھا۔ فضاؤں میں درود شریف کی وجد آفرین صدائیں گونج رہی تھیں۔ اب کہاں کی نیند اور کیسا اضطرار؟ انسپکٹر مذکور بغرض سحری گھر آئے تو ماحول بھینی بھینی خوشبوؤں سے رچا ہوا تھا۔ عجیب قسم کی راحت محسوس ہوئی۔ وہ کچھ نہ سمجھ سکے۔ جھٹ اپنی رفیقہ حیات سے پوچھا کہ ہمارے گھر میں بہار کی یہ رونقیں کیسے اور کب آئیں۔ شرم وحیا کی اس تصویر نے سجدہ شکر سے سر اٹھایا اور اشک مسرت اپنے رخساروں سے پونچھتے ہوئے بولی:

”آج ہمارے پاک نبی ﷺ نے کرم فرمایا ہے، ان آنکھوں نے جب سے وہ جلوہ دیکھا کبھی اور نظارے کی حسرت نہیں رہی، آپ ﷺ کی حرمت و ناموس کا کوئی محافظ آج تھانے میں پابند سلاسل ہے، ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہر طرح سے ان کی مدارت کا خیال رکھیں۔“

جیل کی پڑوسن سیّدہ کو غازی کی خدمت کی بشارت

اس ایمان پرور واقعہ کے بعد پولیس کے رویہ میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی۔ اب انسپکٹر حاجی صاحب کے ساتھ تفتیشی افسر کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک خادم کی طرح پیش آنے لگا۔ سحری و افطاری کا سامان بھی ادھر سے آجاتا۔ کپڑے دھلے ہوئے ملتے، نماز اور تلاوت کے لئے ہر طرح کی سہولت دی جانے لگی، اللہ کی اس نیک بندی کو یہی دھن تھی کہ تاجدار مدینہ ﷺ کے مہمان بہر حال خوش رہیں۔

یہ قید نہ تھی، ایک انعام تھا کہ آپ دنیوی جھمیلوں سے بے نیاز ہمہ وقت یاد الٰہی میں مگن رہتے اور صبح و شام محبوب خدا ﷺ کے تصور میں گزار دیتے۔

تھانے میں آپ کو دو ہفتے کے قریب ٹھہرایا گیا اور اس دوران آپ کو بفضلہ تعالیٰ ہر آسائش میسر رہی۔

جب تفتیش کا مرحلہ ختم ہو چکا تو افسر بالا کی ہدایت پر حاجی صاحب (محمد مالکؒ) کو ڈسٹرکٹ جیل خیر پور میں بھیج دیا گیا۔ یہاں ابر رحمت ایک بار پھر امنڈ آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جیل سے ملحقہ ایک سید گھرانے کی رہائشی تھی۔

سیدانی کو سرکار دو عالم ﷺ کی زیارت نصیب

”بیٹی! جیل میں آج شام سے ہما محبوس ہے۔ لوگ اسے حاجی مالک کھانے وغیرہ کی تکلیف نہ ہونے د

علی الصبح اس خاتون نے تمام روداد اپنے انہوں نے حاجی صاحب کے متعلق معلوم کروا لاحق ہوئی، دوسرے روز پھر جمال اقدس کا دید عظمتوں کے پاسبان ہیں۔

دوران اسیری ان کی طرف سے باقاعد جو من و سلویٰ تناول کرنے والوں کے لئے پا ﷺ نے اپنے مخلص غلام کی خاطر اس کا حکم

عدالت میں جرم کا بخو

پولیس کے قانونی تقاضے پورے ہو سماعت کورٹ میں شروع ہوئی، یہاں آپ س

بعد ازاں رپورٹ سیشن کورٹ میں پ عبدالرحمٰن صاحب تھے، انہوں نے کیس کو ب باعث تھا۔ ایک تفتیش پر فاضل جج نے آ تھی؟ یہ سن کر غازی صاحب پر کپکپاہٹ ط نہیں کر سکتا وہ اپنی زبان سے کیسے ادا کر سکتا

استغاثہ کے تمام گواہ قادیانی تھے۔ ا ٹھہرایا۔ تاہم بغرض صفائی عدالت کی اجاز امر کے ثبوت فراہم کئے کہ مقتول مذکورہ مر

صفحہ 211

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

جیل سے ملحقہ ایک سید گھرانے کی رہائش تھی۔ غازی صاحب کے ادھر آتے ہی ایک رات سیدانی کو سرکار دوعالم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی آپ ﷺ نے فرمایا:

”بیٹی! جیل میں آج شام سے ہماری عصمت و ناموس کا ایک نگہبان محبوس ہے۔ لوگ اسے حاجی مانک کے نام سے جانتے ہیں۔ اسے کھانے وغیرہ کی تکلیف نہ ہونے دینا۔“

علی الصبح اس خاتون نے تمام روداد اپنے بھائی سید امام علی شاہ صاحب کے گوش گزار کی۔

انہوں نے حاجی صاحب کے متعلق معلوم کروایا، پتہ چلا کہ وہ ایک قاتل ہے، اس پر پریشانی لاحق ہوئی، دوسرے روز پھر جمال اقدس کا دیدار نصیب ہوا اور تاکید فرمائی گئی کہ یہی تو ہماری عظمتوں کے پاسبان ہیں۔

دوران اسیری ان کی طرف سے باقاعدگی سے کھانا پہنچتا رہا، نان ونفقہ کا یہ ایسا اہتمام تھا جو من وسلویٰ تناول کرنے والوں کے لئے باعث رشک ہے، اس لئے کہ خود محسن انسانیت ﷺ نے اپنے مخلص غلام کی خاطر اس کا حکم فرمایا۔

عدالت میں جرم کا بخوشی اقرار اور سزا کا فیصلہ

پولیس کے قانونی تقاضے پورے ہوچکے تھے، اب حسب ضابطہ مقدمے کی ابتدائی سماعت کورٹ میں شروع ہوئی، یہاں آپ نے کوئی بھی بیان دینے سے انکار کیا۔

بعدازاں رپورٹ سیشن کورٹ میں روانہ کر دی گئی۔ اس وقت سیشن جج جناب محمد علی عبدالرحمن صاحب تھے، انہوں نے کیس کو بطریق احسن نمٹا دیا۔ مقدمہ سیشن عدالت میں زیر سماعت تھا۔ ایک پیشی پر فاضل جج نے آپ سے پوچھا کہ بتائیں مقتول کی طرز گستاخی کیا تھی؟ یہ سن کر غازی صاحب پر کپکپاہٹ طاری ہوگئی اور کہا ”جناب جو کلمات میں سننا گوارا نہیں کر سکتا وہ اپنی زبان سے کیسے ادا کر سکتا ہوں؟

استغاثہ کے تمام گواہ قادیانی تھے۔ انہوں نے اپنے بیانات میں غازی صاحب کو مجرم ٹھہرایا۔ تاہم بغرض صفائی عدالت کی اجازت سے مسلمان بھی پیش ہوئے۔ جنہوں نے اس امر کے ثبوت فراہم کئے کہ مقتول مذکورہ مرزائیوں کا ایک نمائندہ مبلغ تھا اور یہ کہ اس نے اہل

صفحہ 212

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اسلام کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا تھا۔ سیشن کورٹ میں مرافعہ کی ایک مدت تک سماعت ہوتی رہی۔ غازی صاحب کی طرف سے مشہور ماہر قانون جناب سید غوث علی شاہ صاحب ایڈووکیٹ (سابق وزیراعلیٰ سندھ) نے پیروی کی۔ جو ان دنوں خیر پور میں پریکٹس کر رہے تھے۔ آپ نے مقدمہ میں خاص دلچسپی کا اظہار کیا۔ بڑے وزنی دلائل اور اہم قانونی نکات عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک منفرد نوعیت کا مذہبی مقدمہ ہے۔ ملزم کے مذہبی جذبات کو بری طرح مجروح کیا گیا تھا۔ جس سے مشتعل ہوکر اس نے قتل کا فیصلہ کرلیا۔ لہٰذا حاجی صاحب کو باعزت طور پر بری کردینا چاہئے۔

وکلاء صاحبان کا خیال تھا کہ غازی ممدوح عدالت میں اپنے اقدام سے انکار کردیں گے مگر آپ نے یہ مؤقف تسلیم نہ کیا اور برابر بضد رہے کہ خواہ کوئی فیصلہ ہو، اس معاملے میں ہرگز جھوٹ نہ بولوں گا۔ مجھ میں انکار کی جرأت ہرگز نہیں۔ بالآخر جب پوچھا گیا تو آپ نے تمام احوال عدالت کے روبرو بیان کئے اور ہر کہیں اپنے فعل کا متواتر اقرار کیا۔

عزت ملت بیضا کی حفاظت کے لئے
دوش پر لاکھوں سر ہوں تو کٹاتے جاؤ

سیشن کورٹ خیر پور میں سماعت کے پہلے دن مقدمے کی سرگزشت فاضل جج کے گوش گزار کی گئی۔ الحاج غازی ممدوح صاحب کی جانب سے ایڈووکیٹ سید غوث علی شاہ صاحب پیروکار تھے۔ جبکہ مسٹر علی پبلک پراسیکیوٹر نے وکیل معاونت کا دم بھرا۔

بالآخر ۲۰ اپریل ۱۹۶۸ء کو سیشن جج نے فیصلہ صادر کیا، جس کی رو سے تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔

جیل سپرنٹنڈنٹ کا غازی صاحب سے عقیدت کا واقعہ

رہائی کے بعد جب حضرت قبلہ غازی صاحب کی ضیافتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحبان نے بالخصوص دعوت منظور کی۔ سپرنٹنڈنٹ جناب منظور حسین چانڈیو صاحب جو آئی جی جیل خانہ جات سندھ بھی رہے نے ہر طرح سے

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

جناب غازی ممدوح سے نیک برتاؤ کیا ایسے صاحب کردار افسر بہت کم دیکھنے رہے آپ سے وقتاً فوقتاً ملتے رہنا ان تشریف آوری ہوتی۔ محترم سپرنٹنڈنٹ گشت پر تھا۔ غازی محمد مالک صاحب ک ماحول خوشبوؤں سے رچا ہوا ہے اور مجھ غازی صاحب قبلہ رو سر بسجود ہیں وہاں روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی۔ اب آپ دعاؤں کی درخواست کیا کرتے۔

غازی صاحب کا تختہ دا

بالآخر اس عظیم المرتبت مجاہد کو ا۔ شاتمان نبی کی مادی قوتیں مٹاتے، یہ شمعیں جلاتے ہوئے سفر آخرت کے آپ کی مضطرب روح جلد از جل اکتوبر ۱۹۸۳ء مطابق ۲۲ ذی الحجہ بروز عزیز واقارب سے فرمایا کہ مجھے گاؤں جائے۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ آپ کا تحفظ کرتے رہیں اور آپ ﷺ مجھے انتظار ہے حاجی محمد صاحب کو بلواؤ اس کے ساتھ ہی آپ کی نبض آپ کا رخ مدینہ منورہ کی سمت تھا اور نے قفس عنصری سے اڑان لی اور گنبد خض نماز جنازہ دوبارہ پڑھی گئی۔ بچھ

صفحہ 213

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جناب غازی ممدوح سے نیک برتاؤ کیا۔ آپ کا ابتدائی تعلق حسین آباد ضلع خیر پور سے ہے۔ ایسے صاحب کردار افسر بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ جب تک الحاج موصوف بقید حیات رہے آپ سے وقتاً فوقتاً ملتے رہنا ان کا معمول تھا۔ بعض اوقات تو اسپیشل ملاقات کے لئے تشریف آوری ہوتی۔ محترم سپرنٹنڈنٹ جناب منظور صاحب بتاتے ہیں کہ ایک رات میں گشت پر تھا۔ غازی محمد مانک صاحب کی کوٹھڑی کے قریب سے میرا گزر ہوا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ماحول خوشبوؤں سے رچا ہوا ہے اور عجب قسم کی روشنی بھی دیکھی۔ قریب پہنچا تو دکھائی دیا کہ غازی صاحب قبلہ رو سر بسجود ہیں وہ پہلا دن تھا جب میرے دل میں عقیدت پیدا ہوئی اور پھر روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی۔ اب آپ سے ملتا تو دل مطمئن ہو جایا کرتا تھا۔ ہم لوگ ہمیشہ دعاؤں کی درخواست کیا کرتے۔

غازی صاحب کا تختہ دار پہ لٹک جانا اور آخری وصیت کرنا

بالآخر اس عظیم المرتبت مجاہد کو اپنے حبیب پاک ﷺ کی عظمت کا پرچم بلند کرتے، شاتمان نبی کی مادی قوتیں مٹاتے، بہ آواز بلند عشق رسول ﷺ کا نعرہ لگاتے اور اسلام کی شمعیں جلاتے ہوئے سفر آخرت کے لئے تیار پایا گیا۔

آپ کی مضطرب روح جلد از جلد محبوب خدا ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہتی تھی۔ ۲ اکتوبر ۱۹۸۳ء مطابق ۲۲ ذی الحجہ بروز ہفتہ چار بجے دن کی بات ہے کہ اس غازی مرد نے اپنے عزیز و اقارب سے فرمایا کہ مجھے گاؤں کے قبرستان میں ہی مسنون طریقے سے سپرد خاک کیا جائے۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ آپ لوگ ہمیشہ تاجدار ختم نبوت ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے رہیں اور آپ ﷺ کے ہر گستاخ کو ذلت ناک موت سے دوچار کریں۔ مجھے انتظار ہے حاجی محمد صاحب کو بلواؤ۔

اس کے ساتھ ہی آپ کی نبض ڈوبنے لگی۔ تار نفس کی آمد و شد کا سلسلہ اکھڑتا چلا گیا۔ آپ کا رخ مدینہ منورہ کی سمت تھا اور برابر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے جارہے تھے کہ اچانک طائر روح نے قفس عنصری سے اڑان لی اور گنبد خضرا پر بوسے لٹاتا ہوا نغمہ سنج ہو گیا۔

نماز جنازہ دوبارہ پڑھی گئی۔ پہلی بار مولوی نور احمد صاحب جو گاؤں کے رہائشی اور آپ

صفحہ 214

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کے عزیز تھے کی اقتداء میں ادا ہوئی جبکہ دوسری دفعہ مولانا رحیم بخش صاحب امام تھے۔ جنازے میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ مصدقہ اطلاع کے مطابق آخری رسومات میں کم از کم بیس ہزار نفوس شامل ہوئے۔

غازی محمد مانک صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے کہ اوائل عمری سے ہی میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہو۔ میں مدتوں اوراد و وظائف میں جتا رہا۔ سات حج کئے۔ باقاعدگی کے ساتھ نمازیں پڑھیں۔ مگر ہمیشہ اس عظیم شرف سے محروم رہا۔ آخر میری قسمت اس وقت جاگی جب میں نے اپنے نوک قلم سے نشان باطل (عبدالحق قادیانی) کو کھرچ ڈالا۔ اب کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں شہنشاہ مدینہ ﷺ نے دستگیری نہ فرمائی ہو۔ بس میری زندگی کے روز و شب ان (ﷺ) کی نگاہ کرم میں گزر رہے ہیں۔

صفحہ 215

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موضوع ...... 7

آپ ﷺ کے دور کے گستاخان رسول کا عبرت ناک انجام

آپ ﷺ کے زمانہ کا کذاب طلیحہ اسدی

آباد تھا۔ اس شخص نے رسالت مآب ﷺ ہی کے عہد سعادت میں مرتد ہو کر سمیرا میں اقامت اختیار کی اور وہیں نبوت کا دعویٰ کر کے خلق کو گمراہ کرنے میں مشغول ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں لوگ اس کے حلقہ ارادت میں داخل ہو گئے۔

مدعی نبوت کذاب کی نظر میں نماز کا مفہوم

اس خود ساختہ نبی نے اپنی خود ساختہ شریعت لوگوں کے سامنے اس شکل میں پیش کی کہ نماز میں صرف قیام کو باقی رکھا اور رکوع و سجود وغیرہ کو حذف کر دیا اور دلیل یہ دی کہ خدائے بے نیاز اس سے منزہ ہے کہ لوگوں کے منہ خاک پر رگڑے جائیں اور وہ لوگوں کی کمر رکوع میں جھکانے سے بھی بے نیاز ہے۔ اس معبود برحق کو صرف کھڑے ہو کر یاد کر لینا کافی ہے۔ اسی طرح اسلام کے دوسرے احکام اور عبادات کے متعلق بھی بہت سی باتیں اختراع کی تھیں۔ وہ کہا کرتا تھا کہ جبرائیل امین ہر وقت میری صحبت میں رہتے ہیں اور وزیر کی حیثیت سے تمام اہم معاملات میں میری مدد کرتے ہیں اور مجھے مشورہ دیتے ہیں۔

نبی پاک ﷺ کی خدمت میں کذاب کا قاصد

طلیحہ نے اپنے عم زاد بھائی حبال کو دنیا کے ہادی اعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس اپنی نبوت کی دعوت کے لئے مدینہ منورہ روانہ کیا۔ اس نے مدینہ آ کر نبی پاک ﷺ کو (نعوذ باللہ) طلیحہ پر ایمان لانے کی دعوت دی اور کہا کہ اس کے پاس روح الامین آتے ہیں اور لاکھوں لوگ اس کو اپنا ہادی اور نجات دہندہ مانتے ہیں۔ وہ کیسے جھوٹا ہو سکتا ہے؟

صفحہ 216

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ اس پر بہت ناخوش ہوئے اور فرمایا: ”خدا تمہیں ہلاک کرے اور تمہارا خاتمہ بخیر نہ ہو۔“ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ حبال حالت ارتداد ہی میں قتل ہو کر جہنم واصل ہوا۔

آپ ﷺ کے حکم پر کذاب کے خلاف حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لشکر کا جہاد اور فتح یابی

حبال کے جانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان سرداران قبائل کی طرف تحریک جہاد کی غرض سے روانہ کیا جو طلیحہ کے آس پاس رہتے تھے۔ ان سب نے آپ ﷺ کے ارشاد پر لبیک کہا اور حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ماتحت ایک بڑی جماعت کو جہاد کے لئے بھیج دیا۔ جس نے نہایت بے جگری اور بہادری سے طلیحہ کی فوج کا مقابلہ کیا اور جو سامنے آیا اس کو گاجر، مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا۔ ہزار کوشش کے باوجود طلیحہ کی فوج مسلمانوں پر غالب آنے میں ناکام رہی اور سخت بدحواسی کے ساتھ بھاگ کھڑی ہوئی۔ حضرت ضرار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس فتح کی خوشخبری دینے ابھی مدینہ بھی نہیں پہنچے تھے کہ اللہ کے رسول ﷺ انتقال فرما گئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتفاق رائے سے مسلمانوں کے امیر منتخب ہوئے ۔

آپ ﷺ کے بعد مرتدین پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قتال

طلیحہ نے اپنے بھائی حبال کو اپنا نائب مقرر کیا اور تمام اہم امور اس کو سونپ دیئے۔ آپ ﷺ کی وفات کی بعد بہت سے قبائل مرتد ہو گئے اور حبال کے ساتھ مل کر مدینہ شریف پر حملہ کا منصوبہ بنانے لگے۔ چنانچہ سب سے پہلے انہوں نے اپنا ایک قاصد حبال کے قاصد کے ساتھ مدینہ بھیجا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ ہم نماز تو ضرور پڑھیں گے مگر زکوٰۃ آئندہ سے بیت المال میں نہیں بھیجیں گے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صاف الفاظ میں کہا کہ تم اگر زکوٰۃ کے اونٹ کی ادنیٰ رسی بھی دینے سے انکار کرو گے تو میں تم سے قتال کروں گا۔

صفحہ 217

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

یہ صاف بات سن کر دونوں قاصد واپس چلے گئے اور تین ہی دن کے بعد حبال نے رات کے وقت مدینہ شریف پر حملہ کر دیا۔ حضرت اسامہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کے لشکر کے روانہ ہونے کے بعد بہت تھوڑے سے لوگ مدینہ میں رہ گئے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ بذات خود ان کو لے کر مقابلہ کے لئے نکلے اور حبال کے لشکر کو مدینے سے نکال دیا۔ لیکن واپسی میں حبال کے امدادی لشکر سے ٹکراؤ ہو گیا۔ اس لشکر نے مسلمانوں کے سامنے خالی مشکیں جن میں ہوا بھر کر ان کے منہ رسیوں سے باندھ دیئے تھے زمین پر بچھادیں ۔ جس سے مسلمانوں کے اونٹ جن پر وہ سوار تھے بھڑک گئے اور اپنے سواروں کو لے کر ایسے بھاگے کہ مدینہ ہی آکر دم لیا۔

حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے مدینہ آتے ہی دوبارہ حملے کا منصوبہ بنایا اور تازہ دم مسلمانوں کے ساتھ پیادہ پا دشمن کے سر پر جا پہنچے اور اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر مرتدین کو تہ تیغ کرنا شروع کر دیا۔ اس اچانک حملہ سے دشمن گھبرا گئے ۔ جبکہ مجاہدین نے ان کو اپنی شمشیر زنی کا خوب تختہ مشق بنایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن طلوع سے قبل ہی بھاگ کھڑا ہوا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔

طلیحہ کے لوگوں نے اس شکست پر جوش انتقام میں بہت سے مسلمانوں کو اپنے اپنے قبائل میں شہید کر دیا۔ یہ خبر جب حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کو ملی تو آپ کو بہت رنج ہوا اور قسم کھائی کہ اس کا بدلہ ضرور لوں گا۔

دو مہینے کے بعد حضرت اسامہ بن زید رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کا لشکر بھی فتح کے پھریرے اڑاتا ہوا مدینہ واپس آیا۔

حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے حضرت اسامہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کو اپنا نائب مقرر کیا اور خود مسلمانوں کے ساتھ طلیحہ کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوئے۔

مسلمانوں نے آپ کو بہت روکا اور قسمیں دیں کہ آپ خود جہاد کی مشقت گوارا نہ فرمائیں، مگر آپ نے ایک نہ سنی اور یہ فرمایا میں اس لڑائی میں بنفس نفیس اس لئے جانا چاہتا ہوں کہ مجھے دیکھ کر تمہارے دل میں جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ پیدا ہو۔

حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ اور دوسرے مسلمانوں نے میدان جنگ میں خوب اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے اور ارتداد کے حلقوں میں قیامت مچادی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مرتدین

صفحہ 218

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کے ایک مشہور سردار حلبہ کو قید کر کے بنی ذبیان کے سارے علاقے پر قبضہ جما لیا۔ دوسرے قبائل نے میدان جنگ سے فرار ہو کر اپنی جان بچائی۔ اس کے بعد امیر المومنین معہ اپنے لشکر کے فوراً مدینہ کی طرف اس خیال سے لوٹ گئے کہ کہیں مرتدین مل کر مدینہ میں کوئی تازہ فتنہ نہ کھڑا کر دیں۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ واپس آ کر تمام اسلامی لشکر کو گیارہ دستوں میں تقسیم کر دیا اور ہر ایک دستے کے لئے الگ الگ جھنڈے اور امیر مقرر فرمائے۔

چنانچہ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر بنا کر طلیحہ کی سرکوبی پر مامور فرمایا۔

حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی جہل کو امیر بنا کر مسیلمہ کذاب کی طرف روانہ کیا۔

اس قبیلہ نے بھی طلیحہ کی مدد کی تھی۔ اس کی گوشمالی بھی لازمی تھی۔

حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قبیلہ میں جا کر اسلام کی دعوت دی اور انحراف و سرکشی کے نتائج سے آگاہ کیا۔ چنانچہ قبیلہ طے نے سر تسلیم خم کر دیا اور دوبارہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے، اس طرح حضرت عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت اور تبلیغ سے دوسرے قبائل جو طلیحہ کے مددگار تھے دوبارہ مسلمان ہو گئے اور طلیحہ سے تعلق منقطع کر لیا۔

میدان جنگ میں حبال کا قتل اور طلیحہ کی فوج کو عبرت ناک شکست

اب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عکاشہ بن محصن اور ثابت بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو تھوڑی سی فوج دے کر طلیحہ کی خبر کے لئے روانہ کیا اور اس کا سامنا حبال کی فوج سے ہو گیا، اس جھڑپ میں عکاشہ نے حبال کو قتل کر دیا۔ اس کی خبر جب طلیحہ کو ملی تو وہ خود اپنی فوج لے کر تیزی سے آیا اور مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا۔ اس معرکے میں طلیحہ نے حضرت عکاشہ اور ثابت بن ارقم دونوں کو شہید کر دیا۔ یہ خبر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لشکر کو ملی تو مسلمانوں کو بہت افسوس ہوا۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اب بغیر وقت ضائع کئے طلیحہ سے فیصلہ کن جنگ کرنے کا ارادہ کر لیا اور فوج کو آراستہ کر کے طلیحہ کی لشکر گاہ کا رخ کیا۔

صفحہ 219

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

بزاخہ کے مقام پر دونوں فوجوں کا ٹکراؤ ہوا۔ بنی فزارہ کا سردار عیینہ بن حصین اپنی قوم کے سات سو آدمیوں کے ساتھ طلیحہ کا مددگار بنا ہوا تھا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے اس شدت سے ان پر حملہ کیا کہ مرتدین کے منہ پھر گئے۔ طلیحہ کا مددگار عیینہ بن حصین اپنے سات سو آدمیوں کے ساتھ مسلمانوں سے جنگ کر رہا تھا مگر اس کو احساس ہو گیا کہ مسلمانوں کا پلہ بھاری ہے اور طلیحہ کو شکست ہو جائے گی۔ وہ فوراً طلیحہ کے پاس گیا اور پوچھا آپ پر کیا وحی آئی؟ جبرائیل نے کوئی فتح کی خوشخبری سنائی یا نہیں؟

طلیحہ جو چادر اوڑھے بیٹھا ہوا تھا۔ بولا جبرائیل ابھی تک نہیں آئے ہیں۔ انہیں کا انتظار کر رہا ہوں۔ عیینہ واپس میدان جنگ میں جا کر جاں بازی سے لڑنے لگا۔ پھر دوسری اور تیسری مرتبہ جا کر طلیحہ سے وحی کے متعلق پوچھا تو طلیحہ نے کہا کہ ہاں جبرائیل آئے تھے اور رب جلیل کا یہ پیغام دے گئے ہیں:

"ان لک رحی کرحاہ وحدیثا لاتنساہ" "تیرے لئے بھی شدت جنگ ایسی ہو گی جیسے خالد کے لئے اور ایک معاملہ ایسا گزرے گا کہ تو اسے کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔"

عیینہ کو یہ سن کر اس بات کا یقین ہو گیا کہ طلیحہ جھوٹا اور خود ساختہ نبی ہے۔ چنانچہ اس نے میدان جنگ سے اپنے تمام ساتھیوں سمیت راہ فرار اختیار کی۔ اس کا اثر دوسرے لشکریوں پر بھی ہوا اور انہوں نے بھی فرار کو جنگ پر ترجیح دی۔ اس طرح طلیحہ کو فیصلہ کن شکست سے دوچار ہونا پڑا اور اس کی تمام امیدیں خاک میں مل گئیں۔ اس کی بساط نبوت ہمیشہ کے لئے الٹ گئی۔

طلیحہ نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فرار ہونے میں اپنی عافیت سمجھی اور ایک تیز رفتار گھوڑی پر سوار ہو کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا اور اس کے تمام بقایا لشکر نے دوبارہ اسلام قبول کر لیا۔

نبوت کے جھوٹے دعویدار کا قبول اسلام

کچھ عرصے کے بعد طلیحہ کو بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے توبہ کی توفیق عطا فرمائی اور وہ مشرف بہ

صفحہ 220

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اسلام لا کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں شام سے حج کے لئے آیا اور مدینے جا کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور عراق کی جنگوں میں بڑے کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ خصوصاً جنگ قادسیہ میں طلیحہ نے بڑی بہادری اور جوانمردی سے لشکر اسلام کا دفاع کیا۔

اسود نامی جھوٹا شعبدہ باز مدعی نبوت

اور اس زمانے میں یہی دو چیزیں کسی کے باکمال ہونے کی دلیل سمجھی جاتی تھیں۔ اس کا لقب ذوالحمار بھی بتایا جاتا ہے۔ اس کے پاس ایک سدھایا ہوا گدھا تھا۔ یہ جب اس کو کہتا خدا کو سجدہ کرو تو وہ فوراً سر بسجود ہو جاتا۔ اسی طرح جب بیٹھنے کو کہتا تو بیٹھ جاتا اور جب کھڑا ہونے کے لئے کہتا تو سروقد کھڑا ہو جاتا تھا۔ نجران کے لوگوں نے جب اسود کے دعوائے نبوت کو سنا تو امتحان کی غرض سے اس کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ یہ لوگ اس کی چکنی چپڑی باتوں اور مختلف شعبدوں سے متاثر ہو کر اس کے ہمنوا ہو گئے۔

اسود عنسی کا آپ ﷺ کے آخری ایام میں دعوت نبوت

اسود نے حضور سید کون و مکان علیہ التحیۃ والسلام کے آخری ایام سعادت میں یمن کے اندر دعوائے نبوت کیا۔ اہل نجران اور قبیلہ مذحج نے اس کی متابعت اختیار کی۔ اسود کا قبیلہ عنس قبیلہ مذحج ہی کی ایک شاخ تھا۔ جب اسود کی جمعیت بڑھی تو اس نے تھوڑے ہی دنوں میں پہلے نجران پر اور پھر یمن کے اکثر دوسرے حصوں پر قبضہ کر لیا، انجام کار یمن کے دارالحکومت صنعاء کا رخ کیا۔ وہاں کے عامل شہر بن باذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کا مقابلہ کیا، لیکن مغلوب ہو کر درجہ شہادت پالیا۔

اسود عنسی کا شہر باذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوہ سے زبردستی نکاح

شہر صنعاء کی حیثیت چونکہ مرکزی تھی، اس لئے اس کے سقوط کے ساتھ ہی مسلمانوں میں اضطراب پیدا ہو گیا اور وہ قضاء کو ناسازگار پا کر منتشر ہو گئے۔ بقول مؤرخ ابن اثیر کے اسود

صفحہ 221

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

عنسی کی شہرت آگ کی طرح پھیل گئی اور چند روز میں ہی یہ یمن کی سب سے بڑی طاقت بن گیا۔ شہر بن باذان کی شہادت کے بعد اس نے ان کی بیوہ سے نکاح بھی کر لیا تھا جس کا نام آزاد تھا، قدرت نے اسی بیوہ کے ہاتھوں اس کی ہلاکت مقدر کی تھی۔

جب آنحضرت ﷺ کو ان حالات کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے یہاں جو لوگ اپنے اسلام پر ثابت قدم تھے، ان کو پیغام بھیجا کہ وہ صاف طور پر کھلم کھلا یا چالاکی کے ساتھ جس طرح بھی ممکن ہو اسود عنسی کا مقابلہ کریں۔ ادھر ایران کے شاہی خاندان کے افراد اور اعیان وامراء جو یمن میں آباد تھے، اسود عنسی نے ان کے ساتھ انتہائی تحقیر و تذلیل کا معاملہ کرنا شروع کر دیا تھا، اس لئے یہ لوگ بھی اس شخص سے نالاں اور پریشان تھے، اب آنحضرت ﷺ کا یہ حکم پہنچا جس کو دَبْر بن مِخَس الازدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لے کر گئے تھے اور ادھر آپ ﷺ نے قیس بن ہبیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مکشوح کو بھی تھوڑی سی جمعیت کے ساتھ اسود سے جنگ کرنے کے لئے روانہ کر دیا تھا۔ تو ان لوگوں کی موجودگی سے اہل ایمان کے دل قوی ہوئے اور یمن کے مختلف علاقوں میں درپردہ حربی تیاریاں ہونے لگیں، لیکن دارالحکومت صنعاء کے مسلمان اسود کے مقابلہ میں اپنی حربی کمزوری محسوس کر رہے تھے، اس لئے انہوں نے مصلحت و صوابدید اسی میں دیکھی کہ عسکری اجتماع کے بجائے مخفی سرگرمیوں سے اس کی جان لیں۔

جھوٹے نبی اسود عنسی کا عبرتناک انجام

اسود عنسی نے یمن کے شہر صنعاء پر فتح پانے کے بعد اس کے مسلمان حاکم شہر بن باذان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی آزاد کو جبراً اپنے گھر میں ڈال لیا تھا۔ اس لئے وہ عورت اس سے سخت نفرت کرنے لگی تھی۔ ادھر اس عورت کا عم زاد بھائی فیروز دیلمی جو شاہ حبشہ کا بھانجہ تھا، آزاد کو اسود کے پنجہ استبداد سے نجات دلانے اور اس سے اس کا انتقام لینے لئے موقع کا منتظر تھا، اسی دوران رسالت مآب ﷺ کا ایک پیغام اہل یمن کے نام آیا۔ جس میں حکم تھا کہ اسود کی سرکوبی کی جائے، اس پیغام سے مسلمان بہت خوش ہوئے اور اسود کے خلاف لشکر کشی کے بجائے اس کے محل میں گھس کر اس کو قتل کرنے کے منصوبے بنانے لگے۔

فیروز دیلمی اپنی عم زاد بہن آزاد سے ملا اور اس سے کہا کہ تم جانتی ہو کہ اسود تمہارے والد

صفحہ 222

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اور شوہر کا قاتل ہے اور اس نے تمہیں جبراً اپنے گھر میں ڈال رکھا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح اسے ٹھکانے لگا دیا جائے اس میں تم ہماری مدد کرو۔ آزاد نے یقین دلایا کہ وہ ہر طرح اسود کے قتل میں فیروز کی مدد کرے گی۔ چنانچہ کچھ روز کے بعد آزاد نے فیروز اور اس کی ساتھیوں کو بتایا کہ اسود کے محل میں ہر جگہ چوکی اور پہرہ ہے اور وہ سخت محتاط ہو گیا ہے اور ہر شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ البتہ اگر تم محل کے عقب سے نقب لگا سکو تو وہاں تمہیں کوئی نہیں دیکھ سکے گا، میں ایک چراغ روشن کردوں گی اور اسلحہ بھی تم کو وہیں مل جائے گا۔

شام ہوتے ہی اس منصوبے پر عمل شروع ہوا اور فیروز اپنے ساتھیوں کے ساتھ نقب لگا کر اسود کے کمرہ تک پہنچ گیا، دیکھا کہ اسود زور زور سے خراٹے لے رہا ہے اور آزاد اس کے قریب بیٹھی ہوئی ہے۔ ابھی فیروز دو قدم اندر آیا ہوگا کہ اسود کے موکل شیطانی نے فوراً اسے جگا دیا۔ وہ فیروز کو دیکھ کر بولا کہ کیا کام ہے جو تو اس وقت یہاں آیا ہے؟ فیروز نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر ایک جست لگائی اور اسود کی گردن پکڑ کر اس زور سے مروڑی جیسے دھوبی کپڑے نچوڑتے وقت کپڑے کو بل دیتا ہے، اسود کے منہ سے اس طرح خرخر کی آواز آنے لگی جیسے کوئی بیل ڈکارتا ہو، محل کے پہرے دار یہ آواز سن کر اس کے کمرے کی طرف دوڑے تو آزاد نے آگے بڑھ کر انہیں روک دیا اور کہنے لگی۔ خاموش رہو، تمہارے پیغمبر پر وحی کا نزول ہورہا ہے۔ اس پر سب لوگ خاموش ہو کر چلے گئے۔

فیروز نے باہر نکل کر اسود کے قتل کی خبر سنائی اور فجر کی اذان میں موذن نے اشھد ان محمد رسول اللہ کے بعد یہ الفاظ بھی کہے۔ اشهد ان عبهله کذاب .

یمن میں ہلاک کئے جانے والے اسود عنسی کی ہلاکت کی اطلاع

اس قضیہ سے فارغ ہو کر ایک قاصد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا گیا۔ حالانکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بذریعہ وحی معلوم ہو چکا تھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے علی الصبح صحابہ سے فرمایا آج رات اسود مارا گیا۔ صحابہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اسود کس کے ہاتھوں ہلاک ہوا؟

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک مسلمان کے ہاتھ سے“ ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ”فیروز“۔ یہ واقعہ اگرچہ آنحضرت ﷺ کی وفات زبان وحی ترجمانی سے اس کا اظہار بھی فرما د کی وفات کے دس دن بعد پہنچی۔ چونکہ خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قدرتی

یمنی کذاب کے قتل کے ب

اسود کے قتل کے بعد جب مسلمانوں کا نجران کے درمیان صحرا نوردی اور بادیہ پیمائی ک وجود سے پاک ہو گیا اور آنحضرت ﷺ کر دیئے گئے۔ صنعاء کی امارت پر حضرت معاذ

آپؐ سے مسیلمہ کذاب کا خط و

جب فخر بنی آدم حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ قبیلہ بنو حنیفہ نے قبول اسلام کے بعد ایک وفد تھا، وفد کے دوسرے ارکان کی طرح مسیلمہ مسیلمہ ذاتی وجاہت اور قابلیت کے لحاظ سے ا انشاء پردازی میں اقران و امثال میں ضرب الم بارگاہ نبوت میں درخواست کی کہ آپ ﷺ درخواست آپ ﷺ پر شاق گزری۔ اس و پڑی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

صفحہ 223

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

آپ ﷺ نے فرمایا:

”ایک مسلمان کے ہاتھ سے جو ایک بابرکت خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اس کا نام کیا ہے؟ فرمایا ”فیروز“۔“

یہ واقعہ اگرچہ آنحضرت ﷺ کی وفات سے پانچ روز پہلے پیش آیا اور آپ نے اپنی زبان وحی ترجمانی سے اس کا اظہار بھی فرما دیا تھا لیکن اس کی اطلاع مدینہ میں آپ ﷺ کی وفات کے دس دن بعد پہنچی۔ چونکہ خلافت صدیقی کے عہد کی یہ پہلی خوشخبری تھی اس لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قدرتی طور پر اس کی بڑی مسرت ہوئی۔

یمن کذاب کے قتل کے بعد پھر اسلامی مملکت بن گیا

اسود کے قتل کے بعد جب مسلمانوں کا قرار واقعی تسلط ہو گیا تو اسود کے لوگ صنعاء اور نجران کے درمیان صحرا نوردی اور بادیہ پیمائی کی نذر ہو گئے اور صنعاء اور نجران اہل ارتداد کے وجود سے پاک ہو گیا اور آنحضرت ﷺ کے حکام دوبارہ اپنے اپنے علاقوں میں بحال کر دیئے گئے۔ صنعاء کی امارت پر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تقرر کیا گیا۔

آپ سے مسیلمہ کذاب کا خلافت طلب کرنا اور آپ کا جواب

جب فخر بنی آدم حضرت امجد مجتبیٰ ﷺ کی رسالت کا شہرہ اقصائے عالم میں بلند ہوا تو قبیلۂ بنو حنیفہ نے قبول اسلام کے بعد ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا۔ مسیلمہ بھی اس وفد میں شریک تھا، وفد کے دوسرے ارکان کی طرح مسیلمہ نے بھی آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی، مسیلمہ ذاتی وجاہت اور قابلیت کے لحاظ سے اپنے قبیلہ میں ممتاز اور طاقت لسانی اور فصاحت و انشاء پردازی میں اقران وامائل میں ضرب المثل تھا۔ اس لئے اس نے بیعت کرنے کے بعد بارگاہ نبوت میں درخواست کی کہ آپ ﷺ مجھے اپنا خلیفہ و جانشین مقرر فرمادیں، یہ درخواست آپ ﷺ پر شاق گزری۔ اس وقت کھجور کی ایک ٹہنی آپ ﷺ کے سامنے پڑی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

صفحہ 224

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

”دیکھو مسلمہ ! اگر تم خلافت کے بارے میں یہ شاخ خرما بھی مجھ سے طلب کرو تو میں تمہاری خواہش پوری نہیں کروں گا۔ مسلمہ متمنی تھا کہ آپ ﷺ اسے اپنی نبوت میں شریک بنالیں۔ لیکن آپ ﷺ کے اس حق پژوہانہ جواب نے اس کے نخلِ امید کو بالکل خشک کر دیا۔“

مسلیمہ کذاب کا دعوٰی نبوت

جب مسلمہ ادھر سے مایوس ہوا تو بوقت مراجعت اس کے دل میں خود نبی بننے کے خیالات موجزن ہوئے اور اپنے قبیلہ میں پہنچ کر لوگوں سے کہنے لگا کہ جناب محمد رسول اللہ (ﷺ) نے اپنی نبوت مجھے بھی شریک کر لیا ہے اور اپنی من گھڑت وحی والہام کے افسانے سنا سنا کر لوگوں کو راہ حق سے منحرف کرنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بعض کمزور اعتقاد لوگ سرور انبیاء ﷺ کی نبوت کے ساتھ مسلمہ کی نبوت کے بھی قائل ہوگئے۔

جب مسلمہ دعوٰی نبوت کی اطلاع آستانہ نبوت میں پہنچی تو نبی پاک ﷺ نے قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک ممتاز رکن رحال بن عنفوہ کو جو نہار کے لقب سے مشہور تھے اس غرض سے روانہ فرمایا کہ مسلمہ کو سمجھا بجھا کر راہ راست پر لائے۔ مسلمہ بڑا فصیح لسان اور خوش بیان تھا۔ رحال نے مسلمہ کو راہ راست پر لانے کے بجائے الٹا اس کا اثر قبول کر لیا اور سرور کائنات ﷺ کے ساتھ مسلمہ کی نبوت کا اقرار کر کے اپنی قوم سے بیان کیا کہ خود جناب محمد رسول اللہ (ﷺ) فرماتے ہیں کہ مسلمہ نبوت میں میرا شریک ہے۔ بنو حنیفہ نے اس کی شہادت پر وثوق کر کے مسلمہ کی نبوت تسلیم کر لی اور سارا قبیلہ اس کے دام ارادت میں پھنس کر مرتد ہو گیا۔

آپ ﷺ کی پیشینگوئی مسلمہ کذاب کے بارے میں

کچھ دنوں کے بعد بنو حنیفہ کا ایک اور وفد مدینۃ الرسول گیا، ان لوگوں کو مسلمہ کی تقدیس و طہارت میں بڑا غلو تھا، یہ لوگ مسلمہ کے شیطانی الہامات کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے سامنے بڑے فخر سے وحی الٰہی کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے۔ جب حضرت خیر الانام ﷺ کو ارکان وفد کی اس ماؤف ذہنیت کا علم ہوا اور آپ

صفحہ 225

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ﷺ نے یہ بھی سنا کہ بنو حنیفہ نے اسلام سے منحرف ہو کر مسیلمہ کا نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے تو آپ ﷺ نے ایک خطبہ دیا۔ جس میں حمد اور ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا کہ مسیلمہ ان تیس کذابوں میں سے ایک کذاب ہے جو دجالِ اعور سے پہلے ظاہر ہونے والے ہیں۔ اس دن سے اہل ایمان مسیلمہ کو کذاب کہنے لگے۔

مسیلمہ کذاب کا آپؐ کا خط لانے والے قاصدوں پر اظہار غصہ

کچھ مدت کے بعد مسیلمہ نے کمال جسارت و بے باکی کے ساتھ حضرت فخر الانبیاء ﷺ کے نام ایک خط روانہ کیا جس میں لکھا تھا کہ مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام، معلوم ہوا کہ امر نبوت میں، میں آپ کا شریک کار ہوں۔ عرب کی سرزمین نصف ہماری (یعنی بنو حنیفہ کی) اور نصف قریش کی ہے۔ لیکن قریش قوم زیادتی اور بے انصافی کر رہی ہے، اور یہ مکتوب اپنی قوم کے دو شخصوں کے ہاتھ مدینہ منورہ روانہ کیا۔ آپ نے ان دو قاصدوں سے پوچھا کہ مسیلمہ کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو ہمارے پیغمبر کا ارشاد ہے۔

یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر قاصد کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن مارنے کا حکم دیتا۔ اس روز سے دنیا میں یہ اصول مسلم اور زبان زد خاص و عام ہو گیا کہ قاصد کا قتل جائز نہیں۔ آپ کے اس ارشاد گرامی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جس طرح جھوٹے نبی واجب القتل ہیں، اسی طرح ان کو سچا ماننے والے بھی گردن زدنی کے مستحق ہوتے ہیں۔ حضرت سید موجودات ﷺ نے اس چٹھی کا یہ جواب لکھوایا۔ منجانب محمد رسول اللہ بنام مسیلمہ کذاب۔ سلام اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اس کے بعد معلوم ہو کہ زمین اللہ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا مالک بنا دیتا ہے اور عاقبت کی کامرانی متقیوں کے لئے ہے۔

حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فتنہ مسیلمہ کی سرکوبی پر روانہ کرنا

اس کے چند ہی روز بعد آفتاب رسالت رحمت الٰہی کے شفق میں مستور ہوگیا اور

صفحہ 226

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عنان خلافت ہاتھ میں لی۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب دیکھا کہ یہ فتنہ بہت بڑھ گیا ہے تو حضر ت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ مسلمہ کی سرکوبی کے لئے نکل جاؤ۔ جب شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ مجاہدین کو لے کر تم سے آملیں تو پھر دشمن پر چڑھ دوڑنا۔

حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس فتنے کو کچلنے کے لئے بے تاب تھے منزلوں پر منزلیں مارتے ہوئے اس کے سر پر جا دھمکے۔ دشمن کو مقابل دیکھا اور حضرت شرحبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آنے میں دیر ہوئی تو نہ جانے کیا حالات ہوئے کہ رکا نہ گیا اور دشمن پر چڑھ دوڑے، ادھر پوری تیاریاں تھیں۔ مسلمانوں کا حملہ بے کار ہو گیا، یہ سن حضرت شرحبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ راستے میں رک گئے، اتنے میں دربارِ خلافت سے بھی حکم آگیا کہ جہاں بھی ہو ٹھہرے رہو۔ خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمہاری مدد کو لشکر لے کر آرہے ہیں۔

مسلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ

مسلمہ کو جب یہ خبر پہنچی کہ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ آرہے ہیں تو اس نے سوچا کہ خالد کے آنے سے پہلے ہی شرحبیل سے نمٹ لیا جائے تا کہ مسلمانوں کا حوصلہ گر جائے، چنانچہ آگے بڑھ کر حملہ آور ہوا اور کامیاب ہوا۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بنو تمیم کی مہم سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ دربارِ خلافت سے حکم جاری ہوا کہ سیدھے یمامہ جاؤ اور مسیلمہ کے فتنے کو مٹاؤ۔ یمامہ کی آخری بستی ”عقربا“ کے آگے وادیِ ریاض میں دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ مسیلمہ کے پاس چالیس ہزار کا جنگجو اور تربیت یافتہ لشکر اور خوب ساز و سامان ہے۔ رحال اور مسیلمہ سمجھتے ہیں کہ یہ آخری وار ہے اس لئے ہر طرح تیار ہیں۔

دونوں لشکر ایک دوسرے کو تول رہے ہیں۔ صف بندی کی جارہی ہے۔ رجزیہ اشعار پڑھے جارہے ہیں کہ اتنے میں لڑائی چھڑ گئی۔ دونوں فوجیں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑیں۔ امیر لشکر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے آگے ہیں۔ زید بن خطاب دائیں بازو کی فوج کو لڑا رہے ہیں۔ بائیں بازو پر ابو حذیفہ کمان کر رہے ہیں۔ شرحبیل اور حضرت خالد رضی اللہ عنہم دونوں ساتھ ساتھ ہیں۔ اس جنگ میں ایسے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود ہیں جنہوں نے

صفحہ 227

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بار بار جنگوں میں حصہ لیا ہے۔ جوں جوں دن گزرتا گیا مقابلہ میں شدت آتی گئی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ کس کا پلہ بھاری ہے۔ اتنے میں مسیلمہ کا لڑکا آگے بڑھا۔ بنو حنیفہ کو مخاطب کر کے بولا۔ ”جوانمردو! لڑو، آج غیرت کا دن ہے۔ اپنے حسب و نسب کو یاد کرو اور اپنی عورتوں کو بچاؤ۔

یہ سننا تھا کہ بنو حنیفہ بڑے جوش سے آگے بڑھے اور مسلمانوں کو پیچھے ہٹانا شروع کیا تو ان کے پڑاؤ تک پہنچ گئے۔ خیموں کی رسیاں کاٹ دیں۔ چوب اکھاڑ دیئے۔ جو چیز سامنے آئی اکھاڑ کر تہس نہس کر دیا۔

حضرت زید بن خطاب کے ہاتھوں مسیلمہ کے مشیر کا انجام

”رحال“ ہوا کے کندھوں پر اڑ رہا تھا۔ کبھی ادھر کبھی اُدھر۔ اس کو دیکھ کر ان کے حوصلے بڑھ رہے تھے۔ حضرت زید بن خطاب رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ نے دیکھا کہ اس کے حوصلے بڑھ رہے ہیں تو انہوں نے سوچا کہ اس وقت بچاؤ کی یہی صورت باقی ہے کہ آگے بڑھ کر حملہ کیا جائے۔ میدان جنگ پر ایک نظر ڈالی۔ ”رحال“ بڑھتا چلا آ رہا ہے تو اسے للکارا۔ ”دشمن خدا!...... او مرتد !...... اب بھی اپنے گناہوں سے توبہ کر لے۔

رحال نے جواب دیا کہ: ”اب تو انہی کے ساتھ میرا مرنا جینا ہے۔“

رحال نے حضرت زید رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ کے تیور دیکھ لئے تھے۔ ہندی ساخت کی تلوار ہاتھ میں تھی۔ اس کا نرم فولادی پھل چمکایا اور کہا کہ زید دیکھ لے۔ زید بن خطاب بھی آخر فاروق اعظم رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ کے بھائی تھے۔ جواب دیا:

”کیا دکھاتا ہے۔ میری جرأت ایمانی کی چمک دیکھ۔“

دونوں سنبھلے۔ آگے بڑھے۔ تلواروں کی جنگ تک نوبت آئی۔ لیکن خاک و خون میں تڑپنا رحال کا مقدر تھا۔

ابو حنیفہ نے دیکھا کہ ان کے امیر کا مشیر مارا گیا تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بے قابو ہو گئے۔ آندھی کے تند و تیز جھکڑ چل رہے تھے۔ میدان جنگ گرد و غبار سے اٹ گیا۔

صفحہ 228

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

مسلمان سرداروں نے آپس میں مشورہ کرنا چاہا۔ مگر زید چلائے۔

"کوئی مشورہ نہیں ہوگا۔ کوئی گفتگو نہیں ہوگی۔ یہ وقت ہے کہ دشمن پر پل پڑو اور بڑھتے چلے جاؤ۔ اور اب میں یا تو دشمن کو مار بھگاؤں گا یا بارگاہ ایزدی میں پہنچ کر حالِ جنگ سناؤں گا۔"

یہ کہہ کر میدان جنگ میں کود پڑے۔ یوں چلے جیسے کمان سے تیر، بے خطا نشانہ، دشمن کی نعشوں کے ڈھیر، بے خوف تیور، یا اللہ مدد کا وردِ زبان پر، جس نے انہیں دیکھا سہم کر راستہ سے ہٹ گیا۔ وہ بڑھتے رہے اور ان کے ساتھ لشکر اسلام بھی بڑھتا رہا۔ ابو حذیفہ، ابو دجانہ، ثابت بن قیس، براء بن مالک، خالد بن ولید رضی اللہ عنہم اپنی اپنی جگہ دادِ شجاعت دے رہے تھے کہ دشمن چھوڑ بھاگا۔

مسیلمہ کا عبرت ناک انجام اور مسلمانوں کی فتح

یہ لڑائی بڑی خوفناک تھی، یہ اسلام اور کفر کی ایسی زبردست آویزش تھی کہ اس سے پہلے مسلمانوں کو ایسے شدید معرکے سے کبھی سابقہ نہ پڑا تھا، کئی دن کی صف آرائی کے بعد نسیمِ فتح مسلمانوں کی رایت اقبال پر چلی، مسیلمہ مارا گیا، اکیس ہزار مرتدین ہلاکت میں پڑے اور حسبِ بیان ابن خلدون ایک ہزار اسی مسلمان شہید ہوئے۔

حضرت خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مرتدین کے سردار مجاعہ سے سونے، چاندی، اسلحہ اور آدھے یا چوتھائی قیدیوں کی شرط پر مصالحت کر لی۔

ابوعفک یہودی کا سالم بن عمیرؓ کے ہاتھوں عبرت ناک انجام

اشعار کے ذریعہ کفار کو آپ ﷺ کے خلاف بھڑکانا:

جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ ہجرت فرمائی تو ابوعفک ۱۲۰ سال کا بوڑھا تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کے لئے شدید دشمنی کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو رسول اللہ ﷺ اور اسلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا تھا۔ بدر کی فتح عظیم کے بعد اس نے عداوت میں اور

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

تندی و تیزی پیدا کی اور نظمیں لکھنی شروع

ابوعفک کی گستاخانہ نظم سن ک

جب اسلام کے پکے دشمن الحارث نے ایک نظم لکھی جس میں رسول اللہ ﷺ استعمال کی۔ نیز اسلام اور مسلمانوں کا مذاق "تم میں سے کون اس غلیظ بدکا

سالم بن عمیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ا کے جگر میں تلوار اتنے زور سے بھونکی کہ بستر آئے بھی اس کو بچانے لیکن اس کو بچانے

گستاخ رسول ﷺ یہود

انتخاب فرمایا۔ جن میں عبداللہ بن عتیک ؓ ایذا دیتا تھا اور آپ ﷺ کے خلاف لوگو

ابورافع ایک بڑا مالدار یہودی تاج نام تھا۔ اسے سلام بن ابی الحقیق بھی کہتے ﷺ کا سخت دشمن تھا اور طرح طرح بن اشرف کا معین اور مددگار تھا۔ یہی شخص تھا اور ان کی بہت زیادہ مالی امداد کی اور ہ روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا۔

آپ ﷺ کا شاتم رس

کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن

صفحہ 229

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام تندی و تیزی پیدا کی اور نظمیں لکھنی شروع کر دیں۔ جن میں غلیظ اور گستاخانہ زبان استعمال کی۔

ابوعفک کی گستاخانہ نظم سن کر آپ کا صحابہؓ کو اسے قتل کرنے کا حکم

جب اسلام کے پکے دشمن الحارث بن سوید بن صامت کو موت کی سزا دی گئی تو ابوعفک نے ایک نظم لکھی جس میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں گالیوں بھری اور ہتک آمیز زبان استعمال کی۔ نیز اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اور ٹھٹھا اڑایا۔ رسول اللہ ﷺ نے نظم سنی تو کہا: ”تم میں سے کون اس غلیظ بدکردار آدمی کو ختم کرے گا؟“ سالم بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خدمات پیش کی ، وہ ابوعفک کے پاس گئے اور اس کے جگر میں تلوار اتنے زور سے بھونکی کہ بستر کے پار نکل گئی ، ابوعفک چیخا ، اس کے آدمی لپک کر آئے بھی اس کو بچانے لیکن اس کو بچانے کے لئے بہت دیر ہوچکی تھی۔

گستاخ رسول ﷺ یہودی تاجر کے قتل کا حکم بہ زبان نبوی

انتخاب فرمایا۔ جن میں عبداللہ بن عتیک کو امیر مقرر کیا گیا اور یہ ابورافع رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیتا تھا اور آپ ﷺ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔

(صحیح بخاری ۴۰۳۹)

ابورافع ایک بڑا مالدار یہودی تاجر تھا۔ ابورافع اس کی کنیت اور عبداللہ بن ابی الحقیق اس کا نام تھا۔ اسے سلام بن ابی الحقیق بھی کہتے تھے۔ خیبر کے قریب گڑھی میں رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا سخت دشمن تھا اور طرح طرح سے آپ ﷺ کو ایذا اور تکلیف پہنچاتا تھا۔ کعب بن اشرف کا معین اور مددگار تھا۔ یہی شخص غزوہ احزاب میں قریش مکہ کو مسلمانوں پر ابھار کر لایا تھا اور ان کی بہت زیادہ مالی امداد کی اور ہمیشہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی عداوت میں روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا۔

آپ ﷺ کا شاتم رسول کے قتل کی بخوشی اجازت دینا

کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن مسلمہ اور ان کے رفقاء چونکہ سب قبیلہ اوس کے تھے

صفحہ 230

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام اس لئے قبیلہ خزرج کو یہ خیال ہوا کہ قبیلہ اوس نے تو رسول اللہ ﷺ کے ایک جانی دشمن اور بارگاہ رسالت کے ایک گستاخ اور دریدہ دہن کعب بن اشرف کو قتل کر کے سعادت اور شرف حاصل کر لیا۔ لہٰذا ہم کو چاہئے کہ بارگاہ نبوت ﷺ کے دوسرے گستاخ اور دریدہ دہن ابورافع کو قتل کر کے دارین کی عزت و رفعت حاصل کریں۔ چنانچہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ابورافع کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ اور عبداللہ بن عتیک، مسعود بن سنان، عبداللہ بن انیس، ابوقتادہ، حارث بن ربعی اور خزاعی بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کے قتل کے لئے روانہ فرمایا اور عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان پر امیر بنایا اور تاکید فرمائی کہ کسی بچے اور عورت کو ہرگز قتل نہ کرنا۔ نصف جمادی الاخریٰ ۳ ہجری کو عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ مع اپنے رفقاء کے خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔

عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں یہودی کی عبرتناک موت

صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ غروب آفتاب کے بعد لوگ جب اپنے جانور لے کر چراگاہ سے واپس آچکے تھے تو یہ لوگ خیبر پہنچے۔ ابورافع کا قلعہ جب قریب آ گیا تو حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے رفقاء سے کہا کہ تم یہیں بیٹھو، میں قلعہ کے اندر جانے کی کوئی تدبیر نکالتا ہوں۔ جب بالکل دروازے کے قریب پہنچ گئے تو کپڑا ڈھانک کر اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی قضائے حاجت کرتا ہو۔ دربان نے یہ سمجھ کر یہ ہمارا ہی کوئی آدمی ہے لہٰذا آواز دی کہ اگر اندر آنا ہے تو جلد آؤ ورنہ دروازہ بند کرتا ہوں۔ میں فوراً داخل ہو گیا اور ایک طرف چھپ کر بیٹھ گیا۔ ابورافع بالا خانہ پر رہتا تھا اور شب کو قصہ گوئی ہوتی تھی۔ جب قصہ گوئی ختم ہوگئی اور لوگ اپنے اپنے گھر واپس ہوگئے تو دربان نے دروازہ بند کر کے چابیوں کا حلقہ ایک کیل پر لٹکا دیا۔ جب سب لوگ سو گئے تو میں اٹھا اور کھونٹی سے چابیوں کا حلقہ اتار کر دروازہ کھولتا ہوا بالا خانہ پر پہنچا اور جو دروازہ کھولتا تھا وہ اندر سے بند کر لیتا تھا تا کہ اگر میری خبر بھی ہو جائے تو میں اپنا کام کر گزروں۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام جب میں بالا خانہ پر پہنچا تو وہاں مجھ کو معلوم نہ تھا کہ ابورافع کہاں اور کدھر ابو رافع نے کہا: کون ہے؟ میں گیا۔ ابو رافع نے چیخ ماری۔ میں نے ابورافع یہ کیسی آواز ہے؟ ابورافع نے کہا کہ بھئی مجھ پر کسی دوسرا وار کیا۔ جس سے اسے کاری زخم کر اس زور سے دبائی کہ پشت تک پہنچ گئی واپس ہو گیا اور ایک ایک دروازہ کھولتا

صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

میں جب سیڑھی اترنے لگا تو اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ چاندنی ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا کہ تم چلو ہوں۔ اس کی موت اور قتل کا اعلان تو خبر دینے والے نے قلعہ کی فصیل اور ساتھیوں سے آملا اور کہا تیز چلو ہم وہاں سے چل کر رسول اللہ اور جو واقعہ گزرا تھا وہ سب بیان کیا ٹانگ پھیلا دی تو آپ ﷺ نے ہوا گویا کبھی تکلیف پیش نہ آئی تھی۔

کعب بن اشرف

5 ....... خطابی المعالم (ج

صفحہ 231

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جب میں بالا خانہ پر پہنچا تو وہاں اندھیرا تھا اور ابو رافع اپنے اہل و عیال میں سو رہا تھا۔ مجھ کو معلوم نہ تھا کہ ابو رافع کہاں اور کدھر ہے؟ میں نے آواز دی۔ ابو رافع! ..... ابو رافع نے کہا: کون ہے؟ میں نے اسی جانب ڈرتے ڈرتے تلوار کا وار کیا۔ مگر وار خالی گیا۔ ابو رافع نے چیخ ماری۔ میں نے تھوڑی دیر بعد آواز بدلی اور ہمدردانہ لہجے میں کہا۔ ابو رافع یہ کیسی آواز ہے؟ ابو رافع نے کہا کہ بھئی مجھ پر کسی شخص نے تلوار کا وار کیا ہے۔ یہ سنتے ہی میں نے تلوار کا دوسرا وار کیا۔ جس سے اسے کاری زخم آیا۔ بعد ازاں میں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ پر رکھ کر اس زور سے دبائی کہ پشت تک پہنچ گئی۔ جس سے میں سمجھا کہ اب اس کا کام تمام کر چکا اور واپس ہو گیا اور ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا تھا۔

صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ٹانگ کا ٹوٹنا اور لعاب مبارک

میں جب سیڑھی اترنے لگا تو یہ خیال ہوا کہ زمین قریب آ گئی۔ لیکن اترنے میں گر پڑا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ چاندنی رات تھی، میں نے عمامہ کھول کر ٹانگ کو باندھا اور اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا کہ تم چلو اور رسول اللہ ﷺ کو بشارت سناؤ۔ میں یہیں بیٹھا ہوں۔ اس کی موت اور قتل کا اعلان سن کر آؤں گا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی اور مرغ نے اذان دی تو خبر دینے والے نے قلعہ کی فصیل سے اس کی موت کا اعلان کیا۔ تب میں وہاں سے روانہ ہوا اور ساتھیوں سے آ ملا اور کہا تیز چلو۔ اللہ نے ابو رافع کو ہلاک کر دیا۔

ہم وہاں سے چل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خوشخبری سنائی اور جو واقعہ گزرا تھا وہ سب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی ٹانگ پھیلاؤ۔ میں نے ٹانگ پھیلا دی تو آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک پھیرا اور لعاب مبارک لگایا۔ ایسا معلوم ہوا گویا کبھی تکلیف ہی پیش نہ آئی تھی۔

کعب بن اشرف کا کافروں کو مسلمانوں کے ابھارنا

5 ....... خطابی المعالم (ج ۳ ص ۲۹۵) میں حضرت امام شافعیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ

صفحہ 232

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ذمی اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو اسے قتل کیا جائے۔ اس فعل سے مسلمانوں کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اس پر انہوں نے کعب بن اشرف کے واقعہ سے استدلال کیا ہے۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب و جوار میں یہود مدینہ کے سوا کوئی مشرک کتابی نہ تھا۔ یہ انصار کے حلیف تھے اور انصار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے آغاز میں اسلام لانے کا پختہ ارادہ کیا تھا۔ چنانچہ یہود نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصالحت کر لی اور جنگ بدر کے بعد یہودیوں نے اظہار عداوت کا آغاز کیا اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکانے لگے۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہود کے خلاف جنگ و پیکار کا ارادہ کیا۔

اس ضمن میں پہلا واقعہ کعب بن اشرف کا پیش آیا۔ مدینہ منورہ میں جب فتح بدر کی بشارت پہنچی تو کعب بن اشرف کو بے حد صدمہ ہوا اور یہ کہا کہ اگر یہ خبر صحیح ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار اور اشراف مارے گئے تو پھر زمین کا بطن (اندرون) اس کی ظہر (پشت) سے بہتر ہے۔ یعنی جینے سے مر جانا بہتر ہے تاکہ آنکھیں اس ذلت اور رسوائی کو نہ دیکھیں۔ لیکن جب اس خبر کی تصدیق ہوئی تو مقتولین بدر کی تعزیت کے لئے مکہ روانہ ہوا اور جو لوگ بدر میں مارے گئے ان پر مرثیے لکھے جن کو پڑھ پڑھ کر خود بھی روتا تھا اور دوسروں کو بھی رلاتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں لوگوں کو جوش دلا دلا کر آمادہ قتال کرتا تھا۔

ایک روز قریش کو حرم میں لے کر آیا تو سب نے بیت اللہ کا پردہ تھام کر مسلمانوں سے لڑائی کرنے کا حلف اٹھایا۔ پھر بعد ازاں مدینہ واپس آیا اور مسلمانوں کی عورتوں کے متعلق عشقیہ اشعار کہنے شروع کئے۔

کعب ابن اشرف کے قتل کیلئے محمد بن مسلمہ کو حکم نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کعب بن اشرف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کے بہانے سے بلایا اور کچھ آدمی متعین کر دیئے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو قتل کر ڈالیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آ کر بیٹھے ہی تھے کہ جبرئیل امین علیہ السلام نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم

صفحہ 233

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کو ان کے ارادے سے مطلع کر دیا۔ اور آپ ﷺ فوراً وہاں سے روح الامین کے پروں کے سائے میں باہر تشریف لے آئے اور واپسی کے بعد اس کے قتل کا حکم دیا۔

کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی فرماتے ہیں کہ کعب بن اشرف بڑا شاعر تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی برائی میں اشعار کہا کرتا تھا اور کفار مکہ کو رسول اللہ ﷺ کے مقابل کے لئے ہمیشہ بھڑکاتا رہتا تھا اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو صبر اور تحمل کا حکم فرماتے رہے۔ لیکن جب کسی شرارت سے باز نہ آیا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔

پہلے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے وحی میں رسول اللہ ﷺ کو حکم ہوا کہ وہ صبر سے کام لیں اور انتقام کی نہ سوچیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:

﴿وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ اُوتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ اَشْرَكُوْا اَذًى كَثِيْراً وَّاِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ﴾

(سوره آل عمران ۱۸۶:۳)

اور (اے محمد ﷺ!) جن پر تم سے پہلے کتاب نازل کی گئی (یہودی اور عیسائی) ان سے یقیناً بہت کچھ سنو گے جو تمہیں رنج اور تکلیف پہنچائے گا اور مشرکوں سے بھی۔ لیکن اگر تم صبر سے کام لو اور اپنے تقویٰ کو برقرار رکھو اور بدی کے خلاف اپنی حفاظت کرو تو یہ بلاشبہ محکم، با عزم اور ثابت قدم اعمال کے طریقوں میں سے ایک ہے۔

جب کعب بن اشرف رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے پر قائم رہا اور اس نے ہر ممکن طریقے سے آپ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نقصان اور دکھ پہنچانے کی کوشش کی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو راستے سے ہٹا دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے صحابہ کو بلا کر سوال کیا:

"مسلمانو! تم میں سے کون ہے جو اس دشمن خدا، کعب بن اشرف کی جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بے ادبی و بے حرمتی کر کے اس کے غضب کو پکارا ہے، گردن مار کر میرے حکم کی تعمیل کرے گا۔"

یہ سن کر محمد بن مسلمہ کھڑے ہوئے اور کہا:

صفحہ 234

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

”اے رسول اللہ ﷺ، انشاء اللہ میں آپ کا حکم بجا لاؤں گا۔“

گستاخ رسول کو جھوٹے حیلے سے قتل کرنے کے لئے اجازت طلب

صحیح بخاری میں حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

”تم میں سے کعب بن اشرف کے قتل کے لئے کون تیار ہے؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو بہت ایذا پہنچائی ہے۔“

یہ سنتے ہی حضرت محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ اس کا قتل چاہتے ہیں؟

آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔

تو محمد بن مسلمہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ پھر مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئے (یعنی اسے مبہم تعریفی کلمات اور ذو معنی الفاظ کہہ سکوں) جن کو سن کر وہ بظاہر خوش ہو جائے۔

آپ ﷺ نے فرمایا: اجازت ہے۔

کعب بن اشرف کو حیلہ سے قتل کرنا

محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک روز کعب سے ملنے گئے اور اثنائے گفتگو میں یہ کہا کہ یہ مرد (یعنی رسول اللہ ﷺ) ہم سے (فقراء و مساکین پر تقسیم کرنے کے لئے) صدقہ اور زکوٰۃ بہت مانگتا ہے اور اس شخص نے ہم کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔ میں اس وقت آپ کے پاس قرض لینے کے لئے آیا ہوں۔

کعب نے کہا: ابھی کیا ہے، آگے چل کر دیکھنا، خدا کی قسم تم ان سے اکتا جاؤ گے۔

محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ اب تو ہم ان کے پیرو کار ہو چکے ہیں۔ ان کو چھوڑنا ہم پسند نہیں کرتے۔ انجام کے منتظر ہیں (اور دل میں یہ تھا کہ انجام کار اللہ اس کے رسول ﷺ کی فتح اور دشمنوں کی شکست یقینی ہے اور جس میں شبہ کی ذرہ برابر گنجائش نہیں)۔ اس وقت ہم یہ چاہتے ہیں کہ کچھ غلہ بطور قرض دے دیں۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کعب نے کہا: بہتر ہے۔ مگر کوئی چیز

ان لوگوں نے کہا: آپ کیا چیز رہن

کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو میرے

ان لوگوں نے کہا: اپنی عورتوں کو نہیں کرتی۔ پھر یہ کہ آپ نہایت حسین و

کعب نے کہا: آپ اپنے لڑکوں

ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو ساری عمر وہی ہو جو دو اور تین سیر غلہ کے معاوضہ میں رہن رکھ سکتے ہیں۔

عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ایک مرسل معلوم ہے کہ ہم ہتھیاروں کے کس درجہ محتاج کہ آپ کے پاس رہن رکھ دیں۔ لیکن

کعب نے اس کو منظور کیا اور یہ وعدہ ٹھہرا جائیں۔

حسب وعدہ یہ لوگ رات کو پہنچے اترنے کا ارادہ کیا۔ بیوی نے کہا اس وقت

کعب نے کہا: محمد بن مسلمہ اور میرے نہ کرو۔ اسی اثناء میں محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ

آئے گا تو میں اس کے بال سونگھوں گا پکڑ لیا ہے تو فوراً اس کا سر اتار دینا۔

چنانچہ جب کعب نیچے آیا تو سرتا پا کہ آج جیسی خوشبو تو میں نے کبھی سونگھی

کعب نے کہا: میرے پاس عرب معطر عورت ہے۔

صفحہ 235

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کعب نے کہا: بہتر ہے۔ مگر کوئی چیز میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان لوگوں نے کہا: آپ کیا چیز رہن رکھوانا چاہتے ہیں؟ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان لوگوں نے کہا: اپنی عورتوں کو کیسے رہن رکھ سکتے ہیں۔ اول تو غیرت اور حمیت گوارا نہیں کرتی۔ پھر یہ کہ آپ نہایت حسین و جمیل اور نوجوان ہیں۔ کعب نے کہا: آپ اپنے لڑکوں کو رہن رکھ دو۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو ساری عمر کی عار ہے۔ لوگ ہماری اولاد کو یہ طعنہ دیں گے کہ تم وہی ہو جو دو اور تین سیر غلہ کے معاوضہ میں رکھے گئے تھے۔ ہاں ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ سکتے ہیں۔ عکرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ایک مرسل روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم ہتھیاروں کے کس درجہ محتاج اور ضرورت مند ہیں۔ لیکن بایں ہمہ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس رہن رکھ دیں۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ عورتوں اور بیٹیوں کو رہن رکھ دیں۔ کعب نے اس کو منظور کیا اور یہ وعدہ ٹھہرایا کہ شب کو آکر غلہ لے جائیں اور ہتھیار رہن رکھ جائیں۔

حسب وعدہ یہ لوگ رات کو پہنچے اور جا کر کعب کو آواز دی۔ کعب نے اپنے قلعہ سے اترنے کا ارادہ کیا۔ بیوی نے کہا اس وقت کہاں جاتے ہو؟ کعب نے کہا: محمد بن مسلمہ اور میرا دودھ شریک بھائی ابو نائلہ ہے۔ کوئی غیر نہیں۔ تم فکر نہ کرو۔ اسی اثناء میں محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے ساتھیوں کو یہ سمجھا دیا کہ جب کعب آئے گا تو میں اس کے بال سونگھوں گا۔ جب دیکھو کہ میں نے اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو فوراً اس کا سر اتار دینا۔

چنانچہ جب کعب نیچے آیا تو سر تا پا خوشبو سے معطر تھا۔ محمد بن مسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ آج جیسی خوشبو تو میں نے کبھی سونگھی ہی نہیں۔ کعب نے کہا: میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ حسین و جمیل اور سب سے زیادہ معطر عورت ہے۔

صفحہ 236

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:

کیا آپ مجھے اپنے معطر سر کو سونگھنے کی اجازت دیں گے۔

کعب نے کہا:

ہاں اجازت ہے۔

محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر خود بھی سر کو سونگھا اور اپنے رفقاء کو بھی سونگھایا۔ کچھ دیر کے بعد پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کیا آپ دوبارہ اپنا سر سونگھنے کی اجازت دیں گے؟

کعب نے کہا:

شوق سے۔

محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھے اور سر سونگھنے میں مشغول ہو گئے۔ جب سر کے بال مضبوط پکڑ لئے تو ساتھیوں کو اشارہ کیا۔ فوراً ہی انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا اور آناً فاناً اس کا کام تمام کر دیا۔

کعب بن اشرف کے قتل کی خبر سنکر آپ ﷺ کا اظہار مسرت

پھر اخیر شب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ آپ ﷺ نے دیکھتے ہی یہ ارشاد فرمایا:

’’ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔‘‘

ان لوگوں نے جواباً سارا واقعہ عرض کیا: اور بعد ازاں کعب بن اشرف کا سر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ ﷺ نے الحمدللہ کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔

یہودیوں کا مسلمانوں سے خوفزدہ ہونا

جب یہودیوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو یکلخت مرعوب اور خوفزدہ ہو گئے اور جب صبح ہوئی تو یہود کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہمارا سردار اس طرح مارا گیا۔

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ مش ہمارے خلاف قتال پر برانگیختہ کرتا اور آ یہود دم بخود رہ گئے اور کوئی جوا ایک عہد نامہ لکھوایا کہ یہود میں سے آئ

کعب بن اش

روایات حدیث سے کعب بن اشر حسب ذیل ہیں:

نکالنا۔

کرنا۔

کرنا۔

لیکن قتل کا سب سے قوی سبب آپ ک اور آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہن المسلول علی شاتم الرسول میں ص ۷۰ تا امام زہری رحمۃ اللہ تعالیٰ سے مروی ہے ک

﴿وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا﴾

صفحہ 237

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا تھا اور لوگوں کو ہمارے خلاف قتال پر برانگیختہ کرتا اور آمادہ کرتا تھا۔

یہود دم بخود رہ گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔ بعدازاں آپ ﷺ نے ان سے ایک عہد نامہ لکھوایا کہ یہود میں سے آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت نہ کرے گا۔

کعب بن اشرف کے گستاخانہ جرائم

روایات حدیث سے کعب بن اشرف کے قتل کی جو وجوہ اور اسباب معلوم ہو سکے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

نکالنا۔

کرنا۔

کرنا۔

لیکن قتل کا سب سے قوی سبب آپ ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی ، سب وشتم اور آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہنا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علی شاتم الرسول میں ص ۷۰ تا ۹۱ پر اس پر مفصل کلام کیا ہے۔

امام زہری رَحْمَۃُ اللهِ تَعَالٰی سے مروی ہے کہ:

وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ
اَشْرَكُوْا اَذًى كَثِيْرًا

(آل عمران ۱۸۶)

صفحہ 238

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام البتہ سنو گے تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت بدگوئی اور بد زبانی۔ (الیٰ آخرہ) کعب بن اشرف کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

ابولہب کی مذمت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا سورۃ نازل کرنا

اللہ کا علاتی بھائی تھا یعنی دونوں کا ایک ہی باپ تھا اعلان نبوت سے قبل وہ آنحضرت ﷺ کے دو بیٹوں عتبہ اور عتیبہ کا نکاح بھی آپ ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کیا لیکن اعلان نبوت سنتے ہی وہ بدترین دشمن بن گیا نبی کریم ﷺ کی دشمنی میں اس کا کردار اس حد تک شرمناک ہو گیا کہ عہد رسالت کے اعدائے اسلام میں ابولہب وہ واحد شخص ہے جس کا نام لے کر اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ اللھب میں اپنے غصہ کا اظہار فرمایا۔

ابولہب آپ ﷺ کے دوسرے چچاؤں کی نسبت مختلف تھا یہ شروع اسلام سے لے کر موت تک آپ ﷺ کا سخت مخالف تھا ابولہب اور اس کے بیٹے عتبہ اور عتیبہ رسول اللہ ﷺ کے سخت دشمن تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیاں رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ابولہب کے دونوں بیٹوں کے نکاح میں تھیں ابولہب نے اپنے بیٹوں کو ڈرا دھمکا کر طلاق دلوادی۔

ابولہب کا آپ ﷺ کو مختلف طریقوں سے اذیت دینا

عناد کی انتہا یہ ہو گئی کہ جب نبی کریم ﷺ کبھی بازار میں لوگو! قولو لا الہ الا اللہ کی دعوت دے رہے ہوتے تو یہ پیچھے سے آپ ﷺ پر پتھر برساتا اور کہتا لوگو! یہ شخص (معاذ اللہ) کذاب ہے۔ کتب تاریخ میں لکھا ہے کہ یہ شخص نبی کریم ﷺ کی توہین وتذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا ابولہب مکہ میں آپ ﷺ کا ہمسایہ بھی تھا دوسرا ہمسایہ عقبہ بن ابی معیط تھا۔ آپ ﷺ کا گھر ان دونوں کے درمیان تھا یہ لوگ گھر میں بھی نبی کریم ﷺ کو چین نہ لینے دیتے۔ آپ ﷺ کبھی نماز پڑھ رہے ہوتے تو یہ

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام آپ ﷺ کے اوپر بکری کی اوجھڑی ڈ

ابولہب کی آ

جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن م اپنے قریبی رشتے داروں کو (اللہ تبارک و تعالیٰ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اعلان فرمایا۔

اے لوگوں! اللہ تبارک و تعالیٰ کا ایمان اور توحید اختیار نہیں کرو گے تو اللہ ت اس مجمع میں آپ ﷺ کا حقیق بات سن کر اپنے ہاتھ جھٹکے اور کہا! لھذا بات کے لیے ہمیں بلایا تھا پھر گالیا اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ بات بہت ناپسند آ پوری سورۃ لہب نازل فرمائی اس میں ابول

ابولہب

قرآن نے تو پیشن گوئی فرمادی اللہ ﷺ کو پتھر مارتا ہے عنقریب تم ظالم ہاتھ بھی تباہ ہوں گے اور اس کا مال ابولہب کا انجام یہ ہوا کہ خود جنگ بدر م عاص بن ہشام کو بھیج دیا اور خود مکہ میں ر سے واپس نہ آئے تھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ بیماری لاحق ہوئی جسے مکہ والے عدسہ کہتے ہ چونکہ یہ موذی بیماری ہے اس لی

صفحہ 239

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ کے اوپر بکری کی اوجھڑی پھینک دیتے اور کبھی ہنڈیا میں غلاظت پھینک دیتے۔

ابولہب کی آپ ﷺ کو لعنت وملامت

جب رسول اللہ ﷺ پر قرآن کریم کی آیت مبارک (وانذر عشیرتک الاقربین) یعنی اپنے قریبی رشتے داروں کو (اللہ تبارک و تعالیٰ کے عذاب سے) ڈراؤ۔ نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے تمام کفار قریش کو کوہ صفا کے دامن میں جمع کر کے اعلان فرمایا۔

اے لوگوں! اللہ تبارک و تعالیٰ کا عذاب آنے سے پہلے میں تمہیں خبردار کرتا ہوں اگر ایمان اور توحید اختیار نہیں کرو گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے سخت عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے۔

اس مجمع میں آپ ﷺ کا حقیقی چچا ابولہب بھی موجود تھا اس نے آپ ﷺ کی بات سن کر اپنے ہاتھ جھٹکے اور کہا أَلْہٰذَا جَمَعْتَنَا تَبّاً لَّکَ تیرے لیے ہلاکت ہو کیا تو نے اس بات کے لیے ہمیں بلایا تھا پھر گالیاں دیتا ہوا اور برا بھلا کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا اللہ تبارک و تعالیٰ کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔ ابولہب کی اس ناشائستہ حرکت کے جواب میں پوری سورۃ لہب نازل فرمائی اس میں ابولہب کی ذہنیت کی مذمت بیان کی گئی۔

ابولہب کی عبرتناک موت

قرآن نے تو پیش گوئی فرمادی تھی کہ یہ بدبخت ابولہب جن ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺ کو پتھر مارتا ہے عنقریب تم دیکھ لو گے کہ وہ خود بھی ہلاک ہوگا اور اس کے یہ دونوں ظالم ہاتھ بھی تباہ ہوں گے اور اس کا مال و دولت اور بیٹے بھی کچھ کام نہیں آئیں گے۔ چنانچہ ابولہب کا انجام یہ ہوا کہ خود جنگ بدر میں شریک نہ ہوا بلکہ مکہ کے دستور کے مطابق اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیج دیا اور خود مکہ میں رہ کر لڑائی کے نتیجے کا انتظار کرتا رہا۔ ابھی تک لوگ بدر سے واپس نہ آئے تھے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابولہب کو ذلت کی موت دی کہ اسے طاعون کی بیماری لاحق ہوئی جسے مکہ والے عدسہ کہتے تھے اس کی نشانی یہ ہے کہ جسم پر ایک دانہ سا نکلتا ہے۔

چونکہ یہ موذی بیماری ہے اس لیے بیماری شروع ہوتے ہی ابولہب کے بیٹوں میں سے

صفحہ 240

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کوئی قریب نہیں جاتا تھا وہ اسی کربناک حالت میں پڑے پڑے مر گیا۔ مرنے کے بعد تین دن تک کوئی بھی اس کی لاش کے قریب نہ گیا۔ بالآخر حبشی غلاموں کو کرائے پر حاصل کیا گیا جو ا س کی لاش کو لکڑے کے سہارے ایک گڑھے تک لے گئے اس کے بعد گڑھے میں لڑھکا کر اوپر سے پتھر ڈال دیئے۔

عتیبہ بن ابی لہب کا عبرتناک انجام

اللہ ﷺ کو طلاق دی تھی اس نے بارگاہ رسالت میں گستاخی اور بدتمیزی کی انتہاء کر دی۔ ایک دن وہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور گستاخانہ لہجے میں قرآن حکیم کی بعض آیتوں کا انکار کیا پھر آپ ﷺ کی طرف تھوکا (جو آپ ﷺ پر پڑا نہیں) یہ حرکت آپ ﷺ کے لیے سخت رنج کا باعث ہوئی اور آپ ﷺ نے دعا کی الٰہی اس پر اپنے کتوں میں سے ایک کتے کو مسلط کردے۔ اس واقعہ کے چند دن بعد عتیبہ اپنے باپ کے ساتھ ایک تجارتی قافلے میں شام کی طرف روانہ ہوا راستے میں قافلے نے شب گزاری کے لیے ایک ایسی جگہ قیام کیا جہاں اس علاقے کے باشندوں نے بتایا کہ راتوں کو اکثر جنگلی درندے آتے ہیں اس پر قافلے والوں نے عمومی طور پر بھی قافلے کی حفاظت کا اچھی طرح انتظام کیا اور ابولہب کی خواہش پر عتیبہ کی حفاظت کا خاص اہتمام اس طرح کیا کہ اس کے اردگرد اپنے اونٹ بٹھا دیے اور پھر سب لوگ اطمینان سے سو گئے خدا کرنا رات کو ایک شیر آیا اور اونٹوں کے درمیان سے گزر کر عتیبہ کو چیر پھاڑ کر کھا گیا۔

آپ ﷺ کے قتل کی سازش کرنے والے دو گستاخوں کا انجام

والوں نے اسے اسلام قبول کر لینے کا مشورہ دیا کیونکہ اور بہت سے اسلام قبول کر چکے تھے لیکن عامر بضد رہا اس کا کہنا تھا اللہ کی قسم! میں لوگوں کو مسلمان ہونے سے منع کرنے کے لئے ان کے تعاقب سے کبھی بھی باز نہ آؤں گا تا آنکہ پورا عرب میری پیروی نہ کرے اور تم ہو کہ مجھے قبیلہ

صفحہ 241

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

قریش کے اس نوجوان (محمد ﷺ) کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دیتے ہو؟ تب اس نے رسول اللہ ﷺ کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی قسم کھائی ایک روز عامر نے اپنے دوست اربد بن قیس سے کہا اس آدمی یعنی رسول اللہ ﷺ سے نعوذ باللہ خلاصی حاصل کرنے کا وقت آ گیا ہے آؤ چلیں اور یہ کام کر آئیں عامر نے ایک منصوبہ بنایا اپنے دوست کو سمجھایا کہ عامر رسول اللہ ﷺ کو گفتگو میں مصروف رکھے گا جس دوران میں وہ (اربد) تلوار سے ان کے سر پر وار کریگا۔

جب وہ رسول اللہ ﷺ سے ملاقی ہوئے تو عامر نے پوچھا کہ کیا وہ ان سے تخلیہ میں بات کر سکتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے انکار کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ عامر مسلمان ہو جائے کیونکہ یہ رعایت خاص صرف مسلمانوں کو دی جاتی ہے اس کے باوجود عامر اپنی بات منوانے کی خاطر رسول اللہ ﷺ کو گفتگو میں الجھائے رکھنے کی کوشش میں رہا تاکہ اپنے دوست کو متفقہ منصوبہ عمل میں لانے کے قابل بنا سکے لیکن اربد نے کوئی اقدام ہی نہ کیا اور منصوبہ ناکام رہا مایوسی کے عالم میں عامر نے جاتے جاتے غصے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے دھمکی دی قسم اللہ کی! میں تمہارے خلاف تمام سوار اور پیادے جمع کر لاؤں گا اور تمہاری نبوت کی سب نشانیاں مٹادوں گا راستے میں وہ اربد پر غیض و غضب کی حالت میں تھا عامر شعلے برساتے ہوئے کہہ رہا تھا لعنت ہو تم پر اربد! تم نے متفقہ منصوبے پر عمل کیوں نہ کیا؟ اربد نے عامر کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور پھر جواز پیش کیا کہ جب بھی اس نے کوشش کی اسے صرف عامر کا چہرہ ہی نظر آیا بوکھلائے ہوئے اور بدحواس اربد نے عامر سے سوال کیا! کیا مجھے تمہارے سر پر تلوار سے وار کرنا تھا؟ لیکن رسول اللہ ﷺ عامر کے بدزبان سلوک سے بے حد دل برداشتہ تھے اور اللہ سے دعا کرتے تھے کہ وہ عامر کو سزا دے اور برباد کر دے پھر رسول اللہ ﷺ نے اس شریر آدمی سے اللہ کی پناہ مانگی اور اس دشمن دین سے دنیا کو خلاصی دلانے کے لیے اللہ القوی سے استدعا کی رسول اللہ ﷺ کی دعا فوری طور پر قبول ہوئی واپسی پر عامر کو طاعون نے آلیا اور وہ بدنامی میں مرا جب کہ اربد کو آسمانی بجلی نے غارت کر دیا۔

PDF 242

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں شاتم رسول کا انجام

کرتا اور لوگوں کو ان کے خلاف اکساتا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے مخالف مہم چلانے کی لیے نخلہ یا بقول دوسروں کے عرینہ جانے کے لیے روانہ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن انیس کو خالد الہذلی کا قصہ تمام کرنے کے لئے مامور فرمایا عبداللہ بن انیس بیان کرتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا اور کہا کہ انھوں نے خالد بن سفیان الہذلی کے نخلہ میں ایک لشکر جمع کر کے حملہ کرنے کی خبر سنی ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں جا کر اس کو ختم کر دوں میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا حلیہ بتانے کی درخواست کی۔ انھوں نے فرمایا اگر تم اس کو دیکھ پاؤ گے تو وہ تمہیں شیطان کی یاد دلائے گا مزید یہ کہ وہ ہر وقت کانپتا رہتا ہے۔

ایک تلوار سے لیس ہو کر میں اس کی تلاش میں نکلا جب میں نے اس کو دیکھا تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اس لیے میں نے پہلے عصر کی نماز ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا نماز ختم کرنے کے بعد جب میں نے اسے دیکھا تو ہو بہو جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ویسے کانپ رہا تھا۔ اس کے ارد گرد خواتین کا ایک گروہ تھا جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ جس کے جواب میں اپنی اصل شناخت چھپاتے ہوئے میں نے کہا کہ میں ایک عرب ہوں میں نے سنا ہے کہ خالد الہذلی ایک فوج جمع کر رہا ہے ایک ایسے شخص کے خلاف جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول ﷺ ہونے کا اعلان کر چکا ہے میں ایسی فوج میں شامل ہونے کے لیے آیا ہوں اس نے جواب دیا کہ فی الواقع وہ ایک ایسی فوج جمع کر رہا ہے میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلتا پھرتا رہا اور جیسے ہی موقع ملا میں نے تلوار سے وار کر کے اس کو موت سے ہمکنار کر دیا اپنے مامور مقصد کی تکمیل کے بعد میں نے تیزی سے راہ فرار اختیار کی جب کہ اس کی عورتیں اس کی لاش پر بین کر رہی تھیں جب میں رسول اللہ ﷺ کے حضور یعنی خدمت اقدس میں حاضر ہوا میں واپس ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے دیکھ کر کہا۔

عبداللہ جس نے اپنے مقصد مامور کی تکمیل کی زندہ باد!

میں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا کہ میں نے اسے موت کی نیند سلا دیا ہے اس کے

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا۔

تم فی الواقع سچ کہہ رہے ہو۔

پھر رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے گم مجھے سے فرمایا کہ میں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں میرے اور تمہارے درمیان روز جزا

پس عبداللہ نے چھڑی کو تلوار کے س رہی وہ چھڑی ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن ہ

عبداللہ بن خطل کا حضرت

ساتھیوں کا ع

عبداللہ بن خطل کو رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ فرائض منصبی کی ادائیگی کے دورا کے بعد اس نے ملازم سے دوبارہ کھانا مانگ خطل نے وار کر کے اس کو قتل کر دیا پھر وہ م حرمتی کرنی شروع کردی۔

اس پر رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن حضرت برزہ اسلمی یا عمار بن یاسر نے اس

شاتم رسول ﷺ

حضرت زہری نے حضرت انس بن

ایک روز اللہ کے رسول ﷺ داخل ہوئے جب رسول اللہ ﷺ نے

عبداللہ بن خطل غلاف کعبہ تھامے کھڑا

صفحہ 243

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا۔

تم فی الواقع سچ کہہ رہے ہو۔

پھر رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے گھر لے گئے اور مجھے ایک چھڑی عطا کی آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ میں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں اور ارشاد فرمایا۔

میرے اور تمہارے درمیان روز جزا یہ ایک نشانی ہوگی۔

پس عبداللہ نے چھڑی کو تلوار کے ساتھ باندھ لیا اور یہ ان کے آخری دم تک ان کے پاس رہی وہ چھڑی ان کے ساتھ ہی قبر میں دفن کی گئی۔

عبداللہ بن خطل کا حضرت سعید بن حارث کے ہاتھوں اور دو

ساتھیوں کا عبرت ناک انجام کا واقعہ

عبداللہ بن خطل کو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرنے پر مامور کیا ایک دفعہ فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران اس نے اپنے ملازم سے کھانا پکانے کو کہا تھوڑی دیر کے بعد اس نے ملازم سے دوبارہ کھانا مانگا لیکن ملازم جو مسلمان تھا کھانا نہ لا سکا اس پر عبداللہ بن خطل نے وار کر کے اس کو قتل کر دیا پھر وہ مرتد ہو گیا اور رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں بے حرمتی کرنی شروع کر دی۔

اس پر رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن خطل کو موت کی سزا سنائی حضرت سعید بن الحارث اور حضرت برزہ اسلمی یا عمار بن یاسر نے اس حکم کی تعمیل کی اور عبداللہ بن خطل کو صحن کعبہ میں ختم کر دیا۔

شاتم رسول ﷺ کو کعبۃ اللہ نے بھی امن نہ دیا

حضرت زہری نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی ہے انھوں نے فرمایا:

ایک روز اللہ کے رسول ﷺ سال فتح مکہ کے دوران سر پر خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے جب رسول اللہ ﷺ نے سر سے خود اتاری تو ایک آدمی نے آ کر ان سے کہا کہ عبداللہ بن خطل غلاف کعبہ تھامے کھڑا ہے رسول اللہ ﷺ نے فی الفور اس کی گردن مار دینے

صفحہ 244

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کا حکم دیا جس کی تعمیل ہوئی عبداللہ بن خطل کعبہ کے پاس مارا گیا۔

عقبہ ابن ابی معیط کا آپ ﷺ کی بے ادبی کی انتہاء

نام پر اونٹ ذبح کیا تھا۔ اس کی گوبر اور خون آلود اوجھڑی وہاں پڑی تھی ابو جہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج یہ اوجھڑی لا کر کون محمد کی پیٹھ پر رکھے گا ناہنجار کمینہ صفت عقبہ بن ابی معیط شیطانی انداز میں کندھے مٹکاتے ہوئے کہنے لگا آج یہ کام میں سر انجام دوں گا وہ اٹھا گوبر اور خون میں لت پت اوجھڑی اٹھائی رسول اقدس ﷺ جب سجدے کی حالت میں تھے ان کی پیٹھ پر رکھ دی یہ منظر دیکھ کر ابو جہل اور اس کے ساتھی کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔ ان شیاطین کی ہنسی ضبط ہی نہیں ہو رہی تھی قہقہے لگاتے ہوئے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے جب حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس اندوہناک واقعے کا علم ہوا تو دوڑتی ہوئی آئیں اوجھڑی اٹھا کر دور پھینکی اور اپنے معصوم ہاتھوں سے اپنے ابا جان کے بدن کو دھویا صاف کیا جوش محبت واحترام میں ان شیاطین کو خوب سنائیں جب رسول اقدس ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو اللہ تبارک وتعالیٰ کے حضور یہ التجا کی۔

الہی! ابو جہل بن ہشام شیبہ بن ربیعہ عقبہ بن ابی معیط اور امیہ بن خلف کو اپنے شکنجے میں جکڑ لے۔

یہ شیاطین غزوہ بدر میں موت کے گھاٹ اتار دیئے گئے تھے لیکن عقبہ بن ابی معیط کو قیدی بنا کر شاہ امم سلطان مدینہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا آپ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا اس نے کانپتے ہوئے پوچھا:

میرے بچوں کا انجام کیا ہو گا۔

فرمایا: جہنم۔

پوچھا کیا مجھے قریشی ہونے کے باوجود قتل کر دیا جائے گا۔

فرمایا: ہاں!

پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی طرف نگاہ اٹھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کیا تمہیں معلوم

صفحہ 245

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہے کہ اس ناہنجار کا جرم کیا ہے؟ اس نے ایک مرتبہ میری گردن پر پاؤں رکھ کر پورے زور سے دبایا جب کہ میں حرم مکہ میں سجدے کی حالت میں تھا مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری آنکھیں ابھی باہر آ جائیں گی۔ دوسری مرتبہ سجدے ہی کی حالت میں اُس بدبخت نے میری کمر پر خون اور گوبر سے لتھڑی ہوئی اونٹ کی اوجھڑی رکھ دی جسے فاطمہؓ بیٹی نے آ کر اٹھایا اور میرے جسم کو پانی سے صاف کیا۔

حضرت عاصم بن ثابت کے ہاتھوں ابن ابی محیط کا انجام

عقبہ بن ابی محیط کو حضرت عاصم بن ثابت نے واصل جہنم کیا رسول اللہ ﷺ نے عقبہ کی لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔

تم کتنے قبیح اور غلیظ تھے خدا کی قسم ! میں نے تم سے زیادہ کفر گو انسان نہیں دیکھا آج میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے تمہیں موت دے کر تمہاری کافرانہ کرتوتوں سے مجھے آزاد کیا۔

آپ ﷺ کو تنگ اور استہزاء کرنے والوں کا عبرتناک انجام

احمد مجتبیٰ ﷺ بیت اللہ شریف کے طواف میں مصروف ہیں سردار کائنات کی سردار ملائکہ سے ملاقات ہوئی آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام سے کافر لوگوں کے استہزاء اور تمسخر کی شکایت فرمائی اتنے میں ولید سامنے سے گزرا محبوب خدا ﷺ نے فرمایا یہ ولید ہے۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ولید کی شہ رگ کی طرف اشارہ کیا محبوب آقا ﷺ نے دریافت فرمایا جبرائیل تو نے کیا کیا؟

جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی۔ یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ ولید سے کفایت کیے گئے اتنے میں اسود بن مطلب وہاں سے گزرا محسن کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ اسود بن مطلب ہے۔

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا محسن انسانیت ﷺ

صفحہ 246

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام نے پوچھا یہ کیا کیا؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا۔ اللہ کے پاک پیغمبر ﷺ آپ ﷺ اسود بن مطلب سے کفایت کیے گئے اس کے بعد اسود بن عبد یغوث کا وہاں سے گزر ہوا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے سر کی طرف اشارہ کیا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جبرائیل یہ کیا کیا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی ۔ آقائے دو عالم ﷺ آپ ﷺ اس سے کفایت کیے گئے اس کے بعد حارث گزرا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا خاتم النبیین ﷺ نے ارشاد فرمایا جبرائیل یہ کیا کیا؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی۔ سرور عالم ﷺ آپ ﷺ اس سے کفایت کیے گئے ۔ اس کے بعد عاص بن وائل گزرا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیر کے تلوؤں کی طرف اشارہ کیا آپ ﷺ کے پوچھنے پر عرض کیا محبوب آقا ﷺ آپ ﷺ اس سے کفایت کیے گئے۔

چنانچہ ولید کا قصہ یوں ہوا کہ ولید ایک مرتبہ قبیلہ خزرج کے ایک شخص کے پاس سے گزرا جو تیر بنا رہا تھا اتفاق سے اس کے کسی تیر پر ولید کا پاؤں پڑ گیا جس سے خفیف سا زخم ہو گیا اس زخم کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ خون جاری ہو گیا ولید زخم کو روتا پیٹتا مر گیا۔

اسود بن مطلب کا حال یوں ہوا کہ ایک کیکر کے درخت کے نیچے جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اپنے لڑکوں کو زور زور سے بلانا شروع کر دیا کہ مجھے بچاؤ....... مجھے بچاؤ..... میری آنکھوں میں کوئی شخص کانٹے چبھا رہا ہے لڑکوں نے پریشان ہو کر کہا کہ ہمیں تو کوئی نظر نہیں آتا اسود بن مطلب بچاؤ بچاؤ چلاتے چلاتے اندھا ہو گیا۔

اسود بن یغوث پر یہ گزری کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا اس کے سر کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ سر میں پھوڑے اور پھنسیاں نکل پڑیں اور اسی اذیت میں تڑپ تڑپ کر مر گیا۔

حارث کا انجام تو بڑا عبرتناک ہوا کہ دفعتاً پیٹ میں ایسی بیماری پیدا ہوئی کہ منہ سے پاخانہ آنے لگا۔ جس طرح مرزا دجال کے دونوں راستوں سے نجاست نکل رہی تھی اسی حالت میں جہنم واصل ہوا عاص بن وائل کا حشر یہ بنا کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر طائف جا رہا تھا راستے میں گدھے نے کود کر کہا جا کم بخت دفع ہو مجھ پر کیوں چڑھ بیٹھا۔ گدھے نے اس کو نیچے پھینک دیا اور وہ کسی

صفحہ 247

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

خاردار گھاس پر جا گرا جس سے اس کے پاؤں میں ایک معمولی سے کانٹے کا زخم اس قدر شدید ہوا کہ جانبر نہ ہو سکا اور یونہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گیا۔

مرزائیو ! چشم کوری چھوڑ کر تعصب کا زہر تھوک کر بغور دیکھو محبوب خدا ﷺ سے گستاخیاں کرنے والوں کا انجام کتنا عبرتناک ہوا۔ ہم تحفظ ختم نبوت کے ادنیٰ سپاہی یہ عبرتناک داستان سنا کر عبرت پکڑنے کے اسباب مہیا کرتے ہیں انہیں قصے کہانیاں مت سمجھو۔ یہ عبرت کے انجام کا منظر کسی کا تعصب، کسی کی کم عقلی، کسی کا جاہل پن، کسی کی شقی القلبی کو دور کر کے نور ایمان بخش دے تو ہم سمجھیں گے کہ قلم کے اشکوں کا نذرانہ درگاہ عالی میں قبولیت کا شرف پا چکا ہے۔ مگر تمہیں تمہارے تعصب نے بزرگوں کی تحریر کردہ کتابوں سے نفرت دے کر گستاخیاں کرنا سکھا دیا ۔ یہ بہت برا ہے تم اپنے ہی گرو گھنٹال بے ایمان کی تحریروں کو پڑھ کر منصف مزاجی سے غور کرو کتنا تضاد ہے اس پر فریب بہروپئے کی بے ڈھنگی تحریروں میں۔ مگر میرا نظریہ یہ ہے کہ تعصب پسند انسان ہم سے تو کیا خود اپنی ذات سے بھی انصاف نہیں برت سکے خداوند کریم پوری انسانیت کو کامل ہدایت دے آمین )

دو نو عمر لڑکوں معوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں قتل

اور مسلمانوں کی تضحیک کرنے میں پیش پیش رہتا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کو جسمانی اذیت شدید درد اور ذہنی رنج پہنچانے والوں کا سرخیل تھا وہ ابو جہل ہی تھا جس کو رسول اللہ ﷺ پر غلاظت پھینکنے کا ناقابل یقین امتیاز حاصل تھا اس نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنیکی سازش بھی کی اس نے جنگ بدر میں بھی شرکت کی جس میں وہ ہلاک ہوا دو انصاری بھائیوں معوذ اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں انہوں نے اس شریر النفس انسان کو ختم کر دینے کی قسم کھا رکھی تھی۔

واقعہ قتل ابو جہل

یوم بدر کو میں مسلمان سپاہیوں کی صف میں کھڑا تھا میں بہت ہی چوکس تھا اور دائیں بائیں اچھی طرح نگاہ رکھ کر دونوں اطراف کو محفوظ رکھے ہوئے تھا دفعتاً انصار کے دونوں جوان میرے

صفحہ 248

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

دائیں بائیں کھڑے ہوئے مجھے تمنا ہوئی کہ کاش میں ان جیسا نوجوان ہوتا۔

اچانک ایک نے پوچھا چچا جان آپ جانتے ہیں ابو جہل کونسا ہے؟ میں نے جواب تو اثبات میں دیا لیکن مجھے جستجو تھی کہ یہ اسے کیوں تلاش کر رہے ہیں میں نے دریافت کیا تو ایک نے مجھے بتایا کہ ابو جہل نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیں اور ان کی شان میں گستاخی کی۔ اس لیے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی سے اس نے وعدہ کر رکھا ہے کہ اگر وہ ابو جہل کو دیکھ پائے تو وہ اسے کسی طور جانے نہ دے گا تاکہ یا تو وہ اس کو ہلاک کر دے یا پھر اس عمل میں خود ختم ہو جائے۔ میں نے نوجوان کے نیک عزائم کو سراہا دوسرے نے بھی اس ارادے کی قسم کھائی تھوڑی ہی دیر بعد مجھے ابو جہل نظر آ گیا اور میں نے اس کی طرف اشارہ کر کے ان دونوں کو بتا دیا۔ وہ دونوں اس کی جانب لپکے اپنی تلواروں سے اس پر وار کئے اسے زمین پر گرایا اور اس کو ہلاک کر دیا۔

بعد ازاں وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تیز قدموں سے گئے اور آپ ﷺ کو خوشخبری سنائی رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ ان میں سے کس نے ابو جہل کو ہلاک کیا ہے تو دونوں نے بیک آواز کہا کہ میں نے تب رسول اللہ ﷺ نے سوال کیا کہ آیا انھوں نے اپنی تلواروں کو خون آلودہ کرنے کے لیے آپس میں ملایا تھا؟ جب دونوں لڑکوں نے جواب نفی میں دیا تو آپ ﷺ نے انکی تلواروں کا معائنہ کیا اور کہا کہ دونوں کو ابو جہل کے ہلاک کرنے کا شرف حاصل ہے۔ اسکے بعد ابو جہل کی مملوکہ چیزیں ان دونوں نوجوانوں کو دیدی گئیں یہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ ان دونوں کے لیے بڑی تکریم و فخر کا باعث تھا وہ اس کے بعد میدان کارزار میں چلے گئے اور بہادری کے مزید کارنامے سرانجام دیئے۔

یہ بھی روایت ہے کہ معرکہ بدر کے بعد جس میں ابو جہل سمیت بہت سے سرداران قریش ہلاک ہوئے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو ابو جہل کی لاش تلاش کرنے کے لیے کہا انھوں نے حکم کی تعمیل کی اور لاشوں کے ڈھیر کے نیچے اس کی لاش کو پڑا پایا لیکن وہ ابھی زندہ تھا حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس سے پوچھا کہ آیا وہ ابو جہل ہے جس پر اس نے جواب دیا کہ اگر کوئی انسان اپنوں کے ہاتھوں ہی قتل ہوا تو اس میں فخر کی کوئی بات نہیں ابو جہل نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود کو سخت جسمانی اذیت دی تھی اس پر رسول اللہ ﷺ کے عالی ظرف صحابی نے ابو جہل کی گردن پر پاؤں رکھ کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا اور سر کو لا کر رسول اللہ

صفحہ 249

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ﷺ کے قدموں میں ڈال دیا۔

ابو جہل کا آپ ﷺ کے قتل کا ناپاک منصوبہ

ایک روز ابو جہل حرم میں بیٹھا اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر رہا تھا کہ نبوت کا دعویٰ کرنے اور ایک اللہ کو معبود برحق ثابت کرنے، ہمارے خداؤں کو بے اختیار قرار دینے کے جرم میں محمد ﷺ پر مشترکہ طور پر حملہ کر کے ان کا کام تمام کر دیا جائے۔ حضرت فاطمۃ الزہراء کا اس طرف سے گزر ہوا تو انہیں ان کے گھناؤنے منصوبے کا علم ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روتی ہوئی حاضر ہوئیں آنسو بہاتے ہوئے عرض کیا ابا جان ابو جہل اور اس کے ساتھی آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں انہوں نے لات و منات اور نائلہ کی قسمیں کھائی ہیں کہ جب آپ باہر نکلیں تو فوراً آپ پر مشترکہ حملہ کر دیا جائے۔

اور معصومانہ جذبات کا اظہار کرتے ہوئے عرض کی ابا جان اب کیا ہوگا ؟ یہ اپنے اس گھناؤنے ارادے سے باز نہیں آئیں گے رسول اقدس ﷺ نے اپنی بیٹی کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا بیٹا گھبراؤ نہیں اللہ تبارک و تعالیٰ تیرے باپ کا محافظ ہے۔ اس کے بعد وضو کر کے گھر سے باہر نکلے حرم میں تشریف لے گئے ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے سر اٹھائے اوپر دیکھا پھر اپنے سروں کو نیچے جھکا لیا (تمہارے چہرے خاک آلود ہوں) کہتے ہوئے آپ ﷺ نے مٹی بھر کر ان کی طرف اچھال دی آپ ﷺ نے تسلی سے نماز پڑھی وہ اس قدر مرعوب ہوئے کہ کسی کو اپنی جگہ سے اٹھنے کی نہ ہمت ہوئی اور نہ ہی بات کرنے کی کوئی جرأت خوف و ہراس نے ان کی زبانیں گنگ کر رکھی تھیں۔

"آپ ﷺ" کی حفاظت پر مامور فرشتے کو دیکھ کر ابو جہل کا خوفزدہ ہونا

ابن ہشام نے تحریر کیا ہے: ایک روز ابو جہل مکہ والوں کو خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے خلاف بڑے سنگین الزام لگا رہا تھا جن کے نتیجے میں وہ رسول اللہ ﷺ کو ختم کر دینے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ اس نے کہا میں نے ایک بھاری پتھر سے کام تمام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

صفحہ 250

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پھر وہ رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرنے لگا کہ کل جب وہ نماز کے لیے آئیں گے تو میں ا س سے ان کی کھوپڑی پاش پاش کر دونگا۔ لوگوں نے جواب دیا کہ وہ اس منصوبے کی تائید کرتے ہیں اور جو کچھ بھی ہو اول سے لے کر آخری آدمی تک اس کا ساتھ دیں گے دوسری صبح ابو جہل نے پتھر تھاما اور کعبے کے پاس رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرنے لگا۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے جب کہ قریش تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گئے۔ دکھاوا تو ان کا یہ تھا کہ وہ اپنے معمولات میں مصروف ہیں لیکن درحقیقت وہ اس فعل کو دیکھنے کے لیے انتظار کر رہے تھے کہ ابو جہل کیا کرے گا۔ جب رسول اللہ ﷺ سجدے میں گئے تو ابو جہل نے پتھر اٹھایا اور ان کی طرف گیا لیکن جب وہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک پہنچا تو اچانک خوف زدہ ہو گیا جیسے کہ اس نے کوئی غیر معمولی منظر دیکھا ہو وہ خوف سے کانپتے ہوئے واپس مڑا اور اس نے پتھر پھینک دیا۔

تب ابو جہل قریش کے مجمع کی طرف بھاگا جنھوں نے طے شدہ منصوبے کی اس اچانک تبدیلی کی جستجو میں اس سے پوچھا کہ کیا ہوا۔ اس نے بتایا کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک پہنچا تو ایک سانڈ کہیں سے نمودار ہوا اور اس کا راستہ روک لیا اس نے قسم کھائی کہ اس نے اس سے قبل کسی سانڈ کا ایسا سر کاندھے اور دانت دوسرے اعضاء کی طرح کی کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے چبا جائے گا بعد میں رسول اللہ ﷺ سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام سانڈ کے روپ میں آئے تھے اور اگر ابو جہل اور نزدیک آتا تو فرشتے نے اسے پوری طرح تباہ و برباد کر دیا ہوتا۔

آپ ﷺ کے مکتوب کو ریزہ ریزہ کرنے والے شہنشاہ

آپ ﷺ کے مکتوب گرامی کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینکنے والے شہنشاہ ایران خسرو پرویز کو اسکے اپنے بیٹے نے قتل کر دیا:

پرویز ایران کا بادشاہ تھا آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دینے کے لیے ۷ ہجری میں ایک خط لکھا جب رسول اکرم ﷺ کا مکتوب گرامی اسے ملا تو اس نے نہایت بدتمیزی کے ساتھ اسے پھاڑ ڈالا اور تکبر سے بولا میرا ایک غلام مجھے ایسا خط لکھنے کی جرأت کرتا ہے اور اپنا نام

صفحہ 251

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

میرے نام سے پہلے لکھتا ہے آپ ﷺ کو خط پھاڑنے کی خبر ہوئی تو فرمایا اس نے میرے خط کو پھاڑا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے ملک کو پارہ پارہ کرے اس بدبخت پرویز نے یمن کے ایرانی گورنر کو حکم دیا کہ مدعی نبوت (یعنی نبی کریم ﷺ) کو گرفتار کر کے میرے سامنے حاضر کرو۔ گورنر نے دو آدمیوں کو بھیجا وہ مدینہ آئے اور آپ ﷺ سے کہا کہ ہمارے ساتھ شاہ کسریٰ کے پاس چلیں اگر آپ نے ہمارے ساتھ چلنے سے انکار کیا تو کسریٰ آپ کو اور آپ کی ساری قوم کو ہلاک کر ڈالے گا اور آپ کے ملک کو بھی تباہ کر دے گا۔

آپ ﷺ نے ان کی باتیں سن کر فرمایا کل میرے پاس آنا اسی رات ایران میں انقلاب آگیا خسرو پرویز کا بیٹا اسے قتل کر کے خود بادشاہ بن گیا۔ اس طرح گستاخ رسول اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو گیا دوسرے روز آپ ﷺ نے دونوں آدمیوں کو پرویز کے قتل کی اطلاع دی وہ گورنر کے پاس آئے اطلاع کی تصدیق ہو گئی اس کے بعد گورنر نے اسلام قبول کر لیا۔

آپ ﷺ کو ابتر کہنے والے مشرکین کا عبرت ناک انجام

ﷺ کے دو بیٹے قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے دونوں ہی کم سنی میں فوت ہو گئے حضرت قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات پائی تو مشرکین مکہ نے انتہائی کمینگی کا مظاہرہ کیا اور تعزیت کرنے کے بجائے خوشی منائی اور ذہنی اذیت دینے کے لیے آپ ﷺ کو ابتر یعنی مقطوع النسل کہنا شروع کر دیا۔

مکہ کے ایک سردار عاص بن وائل سہمی نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کی خبر سن کر کہا محمد ﷺ ابتر ہو گیا ہے اس کا کوئی بیٹا نہیں جو اس کا قائم مقام بنے جب وہ مر جائے گا تو اس کا نام دنیا سے مٹ جائے گا۔ آپ ﷺ کا چچا ابولہب جو آپ ﷺ کا ہمسایہ تھا وہ تو آپ ﷺ کے صاحبزادے کے انتقال کی خبر سن کر دوڑتا ہوا مشرکین کے پاس گیا اور ان کو خوشخبری دی کہ آج رات محمد ابتر ہو گیا ہے ابو جہل اور عقبہ بن ابی معیط نے بھی ایسے ہی کمینے پن کا مظاہرہ کیا۔

اس کے جواب میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ کوثر نازل فرمائی۔

صفحہ 252

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اے نبی ہم نے تمہیں کوثر عطا کی پس تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو تمہارا دشمن ہی ابتر ہے آج ڈیڑھ ارب انسان نبی کریم ﷺ کے نام لیوا ہیں اور کرۂ ارض پر ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرتا جب آپ ﷺ پر درود و سلام نہ پڑھا جا رہا ہو اس کے برعکس آپ ﷺ کو ابتر کہنے والے بے نام ونشان ہو کر رہ گئے۔ اگر ان میں سے کسی کی اولاد دنیا میں باقی رہی بھی ہے تو کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ ابوجہل، ابولہب، عاص بن وائل، عقبہ بن ابی معیط وغیرہ کی اولاد میں سے ہے اور اگر جانتا بھی ہو تو وہ یہ کہنے کو تیار نہیں کہ اس کے اسلاف یہ لوگ تھے۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کہ ابتر آپ ﷺ نہیں بلکہ آپ ﷺ کے دشمن ہی تھے اور ہیں۔

شاتمین رسول ﷺ کا صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہاتھوں قتل

کہا کرتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا کون ہے جو اس کی خبر لے گا اس پر انصار میں سے دو صحابی اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہم یہ فرض انجام دیں گے چنانچہ وہ دونوں اس کی تلاش میں چل پڑے جب وہ انہیں مل گیا اور انہوں نے پوری طرح سے اس کی شناخت کر لی تو اس کو قتل کر دیا۔

جناب امام جعفر صادق نے اپنے والد گرامی کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ ان کی ذات پاک پر سب وشتم کرنے والا واجب القتل ہے:

حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھوں رسولؐ پر الزام لگانے والے کا عبرتناک انجام

جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے بنو العنبر کی دولت ایک جگہ جمع کی اور لوگوں کو اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے بلایا تقسیم کے اختتام پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر رسول اللہ ﷺ پر تقسیم میں انصاف وعدل نہ کرنے کا الزام لگایا نبی اکرم نے فرمایا اگر میں عادل نہیں ہوں تو اور کون ہوگا؟ جب وہ مجمع سے چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکر کو بلا کر حکم دیا کہ وہ جا کر اس آدمی کی گردن مار دیں جس نے رسول اللہ ﷺ کو نا انصافی کا قصور وار اور ملزم ٹھہرایا تھا۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میدان جنگ میں شاتم

رسول اللہ ﷺ نے کسی مہم پر سے دشمنوں کا آمنا سامنا ہوا تو ایک آ شروع کر دی ایک مسلمان لپک کر صف کوشش کی:

میں فلاں ابن فلاں ہوں میرا باپ چاہتے ہو تو میرے باپ اور میری ماں کو جب دشمن باز نہ آیا تو مسلمان فوج سے مار دینے کی دھمکی دی جب اس نے چیرتے ہوئے اس کفر گو پر تلوار کا وار کر کارگزاری کے بارے میں سن کر رسول ا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کی

شاتم رسول ﷺ بات

اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ دیتے اور آپ ﷺ کے لیے بدزبانی مار کر ہلاک کر دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے

حضرت خالد بن ولیدؓ اور زبیر

صفحہ 253

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میدان جنگ میں شاتم رسول کا ایک صحابی کے ہاتھوں قتل

رسول اللہ ﷺ نے کسی مہم پر ایک مسلم فوج روانہ کی جب میدان کارزار میں مسلمانوں سے دشمنوں کا آمنا سامنا ہوا تو ایک آدمی آگے بڑھا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی بکنی شروع کر دی ایک مسلمان لپک کر صف میں سے باہر آیا اور اس کو یہ کہتے ہوئے منع کرنے کی کوشش کی:

میں فلاں ابن فلاں ہوں میرا باپ فلاں ابن فلاں ہے اور میری ماں فلاں بنت فلاں اگر تم چاہتے ہو تو میرے باپ اور میری ماں کو گالی دے لو لیکن رسول اللہ ﷺ کو گالی دینا بند کر دو۔

جب دشمن باز نہ آیا تو مسلمان فوجی نے اس بات پر توجہ نہ دینے کی صورت میں اسے جان سے مار دینے کی دھمکی دی جب اس نے زبان درازی جاری رکھی تو مسلمان نے دشمن کی صف چیرتے ہوئے اس کفر گو پر تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا مسلمان عسکری کی اس شجاعت مندانہ کارگزاری کے بارے میں سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کتنا حیرتناک ہے یہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کی:

شاتم رسول ﷺ باپ کا اپنے بیٹے صحابی کے ہاتھوں قتل

اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنے باپ کو مشرکوں کی مجلس میں آپ کو گالی دیتے اور آپ ﷺ کے لیے بدزبانی کرتے ہوئے سنا میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور اس کو نیزہ مار کر ہلاک کر دیا۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کے بے حرمتی کرنے والے باپ کی ہلاکت کی منظوری دی۔

حضرت خالد بن ولیدؓ اور زبیر بن عوامؓ کے ہاتھوں گستاخ رسول کا انجام

صفحہ 254

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ایک مشرک کو جو عادتاً رسول اللہ ﷺ کی بے عزتی کرتا اور انھیں گالیاں دیتا رہتا تھا موت کا سزا وار ٹھہرایا گیا آپ ﷺ نے ایک بار اپنے صحابہ سے پوچھا میری خاطر اس آدمی کو کون ٹھکا نے لگائے گا۔ حضرت زبیر بن عوام نے کھڑے ہو کر کہا۔

اے رسول اللہ ﷺ میں یہ کام کروں گا۔

وہ تعمیل حکم لئے چلے گئے جب وہ کافر کتا ہلاک ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس مشرک کی تمام مملوکہ اشیاء حضرت زبیر کو دے دیں۔

ایک شخص رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا ایک روز آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے پوچھا تم میں سے کون دشمن کو موت کے گھاٹ اتارے گا؟

حضرت خالد نے کھڑے ہو کر کہا:

اے اللہ کے رسول ﷺ یہ کام میں کروں گا۔

پھر نبی کریم ﷺ نے انھیں اس حکم کی تعمیل کے لیے روانہ کیا اور وہ کامیاب ہوئے۔

حضرت نمیلہ بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں مرتد مقیاس کا قتل

نے بدلہ لیتے ہوئے اپنے بھائی کے قاتل کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد وہ مرتد ہو کر مکہ فرار ہو گیا اور دشمنان اسلام سے مل گیا اس نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف تند و تیز طعن و تشنیع کے حملوں کی مہم شروع کی جس کے نتیجے میں آپ ﷺ نے اس کو موت کا سزاوار ٹھہرا کر اس حکم کے جلد از جلد تعمیل ہونے کے لیے کہا حضرت نمیلہ بن عبداللہ نے جو مقیاس کے اپنے ہی قبیلے کے تھے آپ ﷺ کے حکم کی بجا آوری کی اور مرتد کو قتل کر دیا۔

توہین رسالت کے مرتکب نو بھائیوں کا قتل

بھائی تھے۔ وہ سب توہین رسالت جیسے مذموم جرم کے لئے معروف تھے انھوں نے حضرت ابو

گستاخ رسول کا عبرتناک ا

عامر پر حملے شروع کر دیئے لیکن وہ برسر پیکار ہوئے اور ساتھ ساتھ اللہ اے اللہ ! میری اس آخری د ابو عامر کی دعا سن کر آخری ز اے اللہ ! میرے خلاف قصد یہ سن کر ابو عامر نے اس کو خدمت کی۔ جب رسول اللہ ﷺ یہ ابو عامر کے خلاف کھلی گزاری کرے۔

دو شاتمین رسول جر

اللہ کے رسول اللہ ﷺ خلاف اپنے حکم کی تعمیل کے لیے بھیجا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو دونوں جب ہم روانہ ہونے کے لیے میں نے تمہیں ان افراد کے سزائے الٰہی ہے اس لیے اگر تم ان کو

حضرت سعد بن معا

منسوب کرتا اور ان کے جذبات کو بھ رسول اللہ ﷺ نے مسل

صفحہ 255

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

عامر پر حملے شروع کر دیئے لیکن وہ بہادری سے لڑے اور نو کو قتل کر دیا۔ جب وہ آخری بھائی سے برسر پیکار ہوئے اور ساتھ ساتھ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی سے مدد کی اس طرح دعا کی:

اے اللہ! میری اس آخری دشمن کے خلاف بھی ایسی مدد فرما جیسے باقی نو کے خلاف فرمائی۔

ابو عامر کی دعا سن کر آخری زندہ بھائی زور سے بولا:

اے اللہ! میرے خلاف تصدیق مت کر۔

یہ سن کر ابو عامر نے اس کو جانے دیا بعد میں وہ مسلمان ہو گیا اور اس نے اسلام کی خوب خدمت کی۔ جب رسول اللہ ﷺ اسے دیکھا کرتے تو فرماتے:

یہ ابو عامر کے خلاف کشمکش میں سے باقی ماندہ ہے کہ اسلام کی پاک تحریک کی خدمت گزاری کرے۔

دو شاتمین رسول جُریَن اسود اور نافع بن عبد کو قتل کرنے کا حکمِ نبوی

اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں دو کفر گو دشمنانِ اسلام جرین اسود اور نافع بن عبد کے خلاف اپنے حکم کی تعمیل کے لیے بھیجا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو دونوں کو جلا کر ختم کر دو۔

جب ہم روانہ ہونے کے لیے تیار تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں واپس بلایا اور کہا:

میں نے تمہیں ان افراد کے جلا دینے کا حکم دیا ہے لیکن اس کی تمہیں اجازت نہیں ہے یہ سزائے الٰہی ہے اس لیے اگر تم ان کو پاؤ تو فوراً قتل کر دو لیکن ان کو جلاؤ نہیں۔

حضرت سعد بن معاذ کے ہاتھوں ایک شاتمِ رسول کی موت

منسوب کرتا اور ان کے جذبات کو مجروح کرتا۔

رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو بلا کر دریافت کیا:

صفحہ 256

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تم میں سے کون ہے جو اس کفر گو سے جو میرے اہل بیت پر الزام لگا کر مجھے اذیت پہنچاتا ہے مجھے نجات دلائے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا: اے رسول اللہ ﷺ میں یہ کام کروں گا۔ چنانچہ انھوں نے اس آدمی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

آپ کے خلاف سازش کرنے والے یہودی بحکم نبوی گھر سمیت نذرآتش

میں یہ بحث کرنے کے لیے جمع ہوئی کہ تبوک کی مہم پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جانے والوں کی کس طرح حوصلہ شکنی کی جائے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اس سازش کے بارے میں سنا تو انھوں نے حضرت طلحہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کو طلب کیا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ہویلم کے گھر کو اور اس میں جمع تمام کفر گو منافقوں کو جلا دیں رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل کی گئی جیسے ہی گھر کو آگ لگائی گئی کچھ منافقوں نے مکان کی چھت پر سے اپنے آپ کو نیچے گرایا اور زخمی ہوئے جبکہ دوسرے بچ نکلے بعد میں دشمن کو زندہ جلانے کا حکم منسوخ کر دیا گیا لیکن موت کی سزا قائم رہی۔

توہین رسالت کرنے والے مرتد کو قبر نے بھی قبول نہ کیا

اس نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران پڑھ لی اور رسول اکرم ﷺ کے لیے وحی کی کتابت کرنے لگا۔ بعد میں مرتد ہو گیا اور کہنے لگا محمد (ﷺ) کو تو کسی بات کا پتہ ہی نہیں جو کچھ میں لکھ دیتا ہوں بس وہی کہہ دیتے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جب اسے موت دی تو عیسائیوں نے اسے دفن کر دیا صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ قبر نے اسے باہر نکال پھینکا ہے۔ عیسائیوں نے کہا یہ محمد اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے۔ کیونکہ وہ ان کے دین سے بھاگ کر آیا ہے لہذا انھوں نے اس کی قبر کھود کر لاش باہر

صفحہ 257

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پھینکی ہے۔

اگلے روز عیسائیوں نے نئی قبر کھود کر اسے پہلے کی نسبت زیادہ گہرا دفن کیا لیکن جب صبح ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ قبر نے پھر اسے باہر نکال پھینکا ہے عیسائیوں نے پھر الزام لگایا کہ یہ محمد (ﷺ) اور ان کے اصحاب کا کام ہے چونکہ وہ ان کے دین سے بھاگ کر آیا ہے لہذا انہوں نے اس کی قبر کھود کر لاش باہر پھینک دی عیسائیوں نے پھر اس کی قبر بنائی اور اسے اتنا گہرا کھودا جتنا کھود سکتے تھے اگلی صبح قبر نے پھر اسے باہر نکال پھینکا تب عیسائیوں کو یقین ہو گیا کہ یہ مسلمانوں کا فعل نہیں، اور انہوں نے اس کی لاش ایسے ہی چھوڑ دی۔

آپ ﷺ کی طرف مذموم ارادہ سے بڑھنے والے کا عبرتناک انجام

معتمر بن سلیمان رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی سے مروی ہے کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ بنو مخزوم کا ایک آدمی ہاتھ میں پتھر اٹھائے نبی پاک ﷺ کو مارنے کے لیے آیا۔ اس وقت آپ ﷺ حالت سجدے میں تھے کہ اس نے پتھر مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا کہ سجدے میں آپ ﷺ کا سر کچل دے۔

کہ اچانک اس کا ہاتھ پتھر کے ساتھ چمٹ گیا ہے بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی وہ جدا نہ ہو سکا۔

تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس گیا تو انہوں نے اس کو کہا کہ تم بزدل ہو کہ واپس آگئے ہو؟

تو اس نے کہا میں بزدل نہیں دیکھو میرا ہاتھ پتھر سے چمٹ گیا کوشش کرنے کے باوجود بھی علیحدہ نہیں ہوا۔

وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے کہ واقعی اس کی انگلیاں پتھر کے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں۔

گستاخ قبیلہ بنو فرازہ کے ساتھ جہاد بالسیف

بنی نوع انسان کے وہ کافر تھے جو اسلام کے خلاف مسلسل دشمنی دکھاتے تھے اور رسول اللہ ﷺ

صفحہ 258

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کے شاتم تھے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ وادی القریٰ میں نبرد آزما ہوئے اور ان میں سے بہت سوں کو ختم کر ڈالا باقی زخمی ہوئے یا قیدی ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس فیصلے کے لیے لائے گئے۔

گستاخ رسول جن کا عبداللہ نامی جن کے ہاتھوں عبرتناک انجام

27...... فاکہی نے اخبار مکہ میں عامر بن ربیعہ سے ابو نعیم نے ابن عباس سے اور دوسرے محدثین نے عبد الرحمن بن عوف اور دیگر صحابہ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ کے پہاڑ ابو قبیس سے بلند آواز کے ساتھ چند اشعار اسلام کی برائی میں سنے گئے یہ جن کی آواز تھی اس میں یہ مضمون بھی تھا کہ مسلمانوں کو مار ڈالو۔ شہر سے بت پرستی مت چھوڑو۔ کفار بہت خوش ہوئے اور اترا کر کہنے لگے کہ غیب سے بھی مسلمانوں کو قتل کرنے اور شہر بدر کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بڑا صدمہ ہوا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اطمینان رکھو یہ آواز مسعر نامی جن کی تھی بہت جلد اللہ اس کو سزا دے گا۔

تیسرے دن آپ ﷺ نے مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ آج بہت بڑا جن سمح نامی میرے پاس آ کر مسلمان ہوا اور میں نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ اس نے مجھ سے مسعر کو قتل کرنے کی اجازت چاہی اور میں نے اجازت دے دی۔ آج مسعر مارا جائے گا مسلمان خوش ہو کر انتظار میں تھے۔

شام کے وقت اسی پہاڑ سے چند اشعار بلند آواز کے ساتھ سنے میں آئے جن کا مضمون یہ تھا۔ ہم نے مسعر کو اس وجہ سے قتل کر دیا ہے کہ اس نے سرکشی کی حق کی توہین کی اور برائیوں کا راستہ بنایا اور رسول پاک ﷺ کی شان میں بے ادبی کی۔ میں نے ایک چمکتی ہوئی تیز تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا ہے۔

علامہ ابن تیمیہ یہ حدیث اس اضافہ کے ساتھ نقل کرتے ہیں: حضرت علی نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ اللہ اس سمح جن کو جزائے خیر دے۔

صفحہ 259

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

شاتم رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام سیف اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیف سے واصل جہنم

صحابہ سے پوچھا تم میں سے کون میرے اس دشمن سے خلاصی دلائے گا؟ حضرت خالد بن ولید نے کھڑے ہو کر کہا:

یا رسول اللہ ﷺ میں اس کا کام تمام کروں گا رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور انھیں اس حکم کی بجا آوری کے لیے بھیجا اور وہ یہ حکم بجا لائے۔

آپ ﷺ کی نصیحت کی بے ادبی کرنے والے کے ہاتھ کا شل ہو جانا

نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں ایک شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا آپ ﷺ نے نصیحت فرمائی کہ دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ میں سیدھے ہاتھ سے نہیں کھا سکتا۔ حالانکہ اس کے سیدھے ہاتھ میں کوئی خرابی نہیں تھی یہ بات اس نے بے باکی اور بے ادبی سے کہی تھی۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تو سیدھے ہاتھ سے نہ کھا سکے گا۔ آپ ﷺ کی بات کے اثر سے یہ حال ہوا کہ اس کا سیدھا ہاتھ بے کار ہو گیا منہ تک اٹھانے سے نہیں اٹھ سکتا تھا۔

آپ ﷺ کو تکلیف دینے کے ارادہ سے آنے والوں کا انجام

صاحب لولاک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مسجد الحرام شریف میں بلند آواز سے قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے اور قریش کے کچھ لوگ ان سے جلا کرتے تھے چنانچہ ایک دن وہ آپ ﷺ کو پکڑنے کے لیے آئے تو فوراً ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے چمٹ گئے اور آنکھوں کی بینائی بھی چلی گئی تو وہ اسی حالت میں آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور کہا اے محمد (ﷺ) ہم آپ سے اللہ تبارک وتعالیٰ اور رشتے داری کا واسطہ دیتے

صفحہ 260

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہوئے عرض گزار ہیں ہماری یہ مصیبت دور کرائیں۔ تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی تو ان کی مصیبت اور پریشانی دور ہو گئی۔

بنات رسول اللہ کو ایذا دینے پر حضرت علیؓ کے ہاتھوں عبرتناک انجام

ایک بار عباس بن عبد المطلب مکہ سے مدینہ جا رہے تھے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا دختران نبی ﷺ اونٹ پر سوار ہو کر انکے ساتھ ہو گئیں تاکہ مدینہ جا کر اپنے والد مکرم سے ملیں الحویرث نے اونٹ کو اس طرح ایڑھ لگائی کہ اس نے دونوں کو نیچے گرا دیا اور وہ زخمی ہو گئیں۔

رسول اللہ ﷺ نے اسے موت کی سزا سنائی فتح مکہ کے روز الحویرث نے اپنے آپکو مکان میں بند کر لیا رسول اللہ ﷺ کے حکم کی بجا آوری کے لیے حضرت علی بن ابی طالب اس کی تلاش میں تھے۔ ان کو بتایا گیا کہ وہ گھر پہ نہیں ہے تھوڑی ہی دیر کے بعد اس نے مکان سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے دیکھ لیا اور اس کا کام تمام کر دیا۔

آپ ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑانے والے پر آسمانی بجلی کا گرنا

چند صحابہ کرام (علیہم الرضوان) کو تبلیغ اسلام کے لیے بھیجا چنانچہ ان حضرات نے اس کے پاس پہنچ کر اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا پیغام سنا کر اسلام کی دعوت دی تو اس گستاخ نے از راہ تمسخر کہا کہ اللہ کون ہے؟ کیسا ہے اور کہاں ہے؟ کیا وہ سونے کا ہے؟ یا چاندی کا ہے؟ یا تانبے کا؟۔

اس کا یہ متکبرانہ اور گستاخانہ جواب سن کر صحابہ کرام (علیہم الرضوان) کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ان حضرات نے بارگاہ نبوت ﷺ میں واپس حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس شخص سے بڑھ کر کافر اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والا تو ہم لوگوں نے دیکھا ہی نہیں۔

صفحہ 261

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ دوبارہ اس کے پاس جاؤ۔

چنانچہ یہ حضرات دوبارہ اس کے پاس پہنچے تو اس خبیث نے پہلے سے بھی زیادہ گستاخانہ الفاظ زبان سے نکالے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اس کی گستاخیوں اور بدزبانیوں سے رنجیدہ ہو کر دربار نبوت میں واپس پلٹ آئے تو آپ ﷺ نے تیسری مرتبہ ان صحابہ کرام (علیہم الرضوان) کو اس کے پاس بھیجا۔ جہاں یہ لوگ پہنچ کر اس کو دعوت اسلام دینے لگے تو وہ گستاخ ان حضرات سے جھگڑا کرتے ہوئے بدزبانی اور گالم گلوچ پر اتر آیا۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان ارشادِ نبوی ﷺ کے مطابق صبر کرتے رہے۔ اسی دوران لوگوں نے دیکھا کہ ناگہاں ایک بدلی آئی اور اس بدلی میں اچانک گرج اور چمک پیدا ہوئی پھر ایک دم نہایت ہی مہیب گرج کے ساتھ اس کافر پر بجلی گری جس سے اس کی کھوپڑی اڑ گئی اور وہ لمحہ بھر میں جل کر راکھ ہو گیا۔

یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام (علیہم الرضوان) بارگاہ اقدس میں واپس آئے تو ان حضرات کو دیکھتے ہی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ جس گستاخ کے یہاں گئے تھے وہ تو جل کر راکھ ہو گیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے انتہائی حیرت و تعجب سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کو کیسے اور کس طرح اس کی خبر ہو گئی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی ابھی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔

﴿وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَآءُ وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِيْ
سَبِيْلِ اللّٰهِ وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ ﴾

(سورہ الرعد:۱۳، آیت:۱۳)

اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہے گرا دیتا ہے اور وہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں حالانکہ وہ بڑا شدید القوۃ ہے۔

درسِ ہدایت: باری تعالیٰ کی شان میں اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کو بارہا عذاب الٰہی نے اپنی گرفت میں لے کر ہلاک کر ڈالا لہٰذا خبردار! اس مقدس جناب میں ہرگز ہرگز کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالنا چاہیے جو شان الوہیت میں بے ادبی قرار پائے آج کل بہت سے لوگ بیماریوں اور مصیبتوں کے وقت اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کی شان میں ناشکری کے الفاظ بول کر خداوند قدوس کی بے ادبی کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے ان کا ایمان بھی جاتا رہتا ہے اور دنیا و آخرت میں

صفحہ 262

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

عذاب کے حقدار بھی بن جاتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)

حضرت عمرؓ کا آپؐ کے فیصلے کو نہ ماننے والے منافق کا سر قلم کرنا

33 ....... آپﷺ کے زمانے میں ایک یہودی اور ایک منافق میں کسی بات جھگڑا پیدا ہو گیا۔ یہودی چاہتا تھا کہ جس طرح بھی ہو میں اسے حضرت محمدﷺ کی خدمت میں لے چلوں چنانچہ وہ کوشش کر کے اس منافق کو آپﷺ کی بارگاہ عدالت میں لے آیا۔ اور آپﷺ نے واقعات سن کر فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا وہ منافق یہودی سے کہنے لگا کہ میں تو عمر کے پاس چلوں گا اور ان کا فیصلہ قبول کروں گا یہودی بولا عجب الٹے آدمی ہو کوئی بڑی عدالت سے ہو کر چھوٹی عدالت میں بھی جاتا ہے جب تمہارے پیغمبر محمد ﷺ فیصلہ دے چکے تو اب عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر وہ منافق نہ مانا اور اس یہودی کو لے کر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور حضرت عمر سے فیصلہ طلب کرنے لگا یہودی بولا۔

جناب پہلے میری بات سن لیجئے کہ ہم اس سے قبل محمد ﷺ سے فیصلہ لے آئے ہیں اور انھوں نے فیصلہ میرے حق میں فرما دیا ہے مگر یہ شخص اس فیصلہ پر مطمئن نہیں اور اب یہاں آپ کے پاس آ پہنچا ہے۔

حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ بات سنی تو منافق سے پوچھا کیا یہودی جو کچھ بیان کر رہا ہے درست ہے؟۔

منافق نے کہا ہاں سرکار مدینہ ﷺ اس کے حق میں فیصلہ کر چکے ہیں فاروق اعظم نے فرمایا اچھا ٹھہرو میں ابھی آیا اور ابھی تمہارا فیصلہ کرتا ہوں یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اندر تشریف لے گئے اور پھر ایک تلوار لے کر نکلے اور اس منافق کی گردن پر یہ کہتے ہوئے ماری کہ جو آپﷺ کا فیصلہ نہ مانے اس کا فیصلہ یہ ہے۔

جب آپﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپﷺ نے فرمایا! واقعی عمر کی تلوار کسی مومن پر نہیں اٹھتی پھر اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی یہ آیت بھی نازل فرمادی۔

﴿فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ﴾

صفحہ 263

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

تیرے رب کی قسم ! یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک اے اللہ کے رسول تمہارا حکم نہ مانیں اور تمہارا فیصلہ تسلیم نہ کریں۔

آپ کا حلیہ بنا کر صحابہؓ کو گمراہ کرنے والے ابو جدعہ کا عبرتناک انجام

عاشق ہو گیا۔ مگر وہ اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہ رکھتا تھا اس مقصد کے لیے وہ طرح طرح کے منصوبے بنانے لگا کہ کسی طرح اس عورت کو حاصل کیا جائے آخر اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور بازار گیا اور نبی کریم ﷺ کے لباس مبارک جیسے کپڑے خریدے اور ان کو پہن کر اہل قبا کی طرف چل پڑا۔

اس عورت کے گھر جا کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ اس عورت کے لواحقین نے اس کے آنے کا مدعا پوچھا تو کہنے لگا کہ مجھے سرور کائنات ﷺ نے بھیجا ہے اور یہ کپڑے ان کے میرے پاس بطور نشانی ہیں۔ انہوں نے مجھے اجازت مرحمت فرمائی ہے کہ میں تمہارے پاس قیام کروں اور تم لوگ میری مہمانداری کرو۔

مسلمانوں نے اس شخص کو بڑے عزت واحترام کے ساتھ اپنے پاس جگہ دی مگر اسے دیکھا کہ وہ عورتوں کو گھور گھور کر دیکھتا ہے۔ اس کی یہ حرکت اہل قبا کو بہت ناگوار گزری انہیں کچھ شک ہوا چنانچہ انہوں نے اپنے دو آدمی آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیجے تا کہ صحیح صورتحال کا علم ہو سکے۔

جب وہ دونوں آدمی آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں پہنچے تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ نے ابو جدعہ کو ہمارے گھر بھیجا ہے؟

آپ ﷺ نے فرمایا کون ابوجدعہ؟

انہوں نے بتایا کہ اس کے پاس آپ ﷺ کی چادر مبارک ہے اور وہ کہتا ہے کہ اسے آپ ﷺ نے عطا فرمائی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے یہ سنا تو بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے سے آپ ﷺ کی چشمان مبارک سرخ ہوگئیں ارشاد فرمایا جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کا ٹھکانہ

صفحہ 264

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

دوزخ ہے۔

پھر آپ ﷺ نے ابو جدعہ گستاخ کے لیے فیصلہ فرماتے ہوئے حکم فرمایا کہ دو آدمی فوراً جائیں اور اسے قتل کر کے آگ میں پھینک دیں اور فرمایا اللہ کرے آپ لوگوں کے پہنچنے سے پہلے ہی اس کا کام تمام ہو گیا ہو۔

چنانچہ جب وہ لوگ اہل قبا کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ ابو جدعہ قضائے حاجت کے لیے باہر گیا تھا کہ اسے سانپ نے ڈس لیا اور وہ وہیں مردہ پڑا تھا۔

صحابہؓ سے غداری کرنے والے شاتم رسول یہودی کا عبرتناک انجام

35 ....... خیبر کا ایک مشہور یہودی الیسر اسلام کا سخت ترین دشمن اور شاتم رسول ﷺ تھا۔ اس نے بنو غطفان کی ایک کثیر فوج مدینہ پر حملے کے لیے جمع کر رکھی تھی جیسے ہی مدینہ اطلاع پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے چند صحابہ کو الیسر کے پاس دین کی دعوت کے لیے بھیجا ان میں عبداللہ بن رواحہ اور عبداللہ بن انیس بھی شامل تھے انھوں نے الیسر کو پیغام پہنچایا کہ اگر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آجائے تو اسے عزت وتکریم کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے گا اور اس کی خدمات اسلام کے لیے فائدہ مند ہوں گی۔

الیسر اس پر رضا مند ہو گیا اور اپنے ساتھ دوستوں کی ایک تعداد بھی لے آیا وہ عبداللہ بن انیس کے ساتھ اونٹ پر سوار ہوا جب وہ خیبر سے چھ میل دور مقام قرقرہ پر پہنچے تو الیسر نے نیت بدل لی جب اس نے اپنی تلوار عبداللہ بن انیس پر وار کرنے کے لیے نکالی تو باقی مسلمانوں نے اس کی اصلی نیت بھانپ لی۔ وہ الیسر پر ٹوٹ پڑے اور اسے اور اس کے سب کفار ساتھیوں کو ماسوائے ایک کے جو بھاگ نکلا قتل کر دیا اس مقابلے میں عبداللہ بن انیس زخمی ہوئے۔

جب وہ مدینہ واپس پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا لعاب دہن عبداللہ بن انیس کے زخموں پر ملا جو معجزانہ طور پر بھر بھی گئے۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۱۰۳۶)

عبداللہ بن ابی کی منافقت پر سورہ منافقون کا نزول

36 ....... ۵ھ میں بنو المصطلق کی مشہور جنگ ہوئی اس میں ایک مہاجر اور ایک انصاری کی

گستاخ رسول کا عبرتناک انـ

باہم لڑائی ہو گئی معمولی بات تھی مگر مدد چاہی۔ اور دو فریق ہو گئے قریب تـ میں پڑ کر صلح کرا دی۔

عبداللہ بن ابی منافقوں کا سر مسلمان ظاہر کرتا تھا اس لئے اس کے کے ساتھ عام برتاؤ تھا اسکو جب اس لـ گستاخانہ الفاظ کہے اور اپنے دوستوں سـ

تم نے ان لوگوں کو اپنے شہروں بانٹ دیا اگر تم ان لوگوں کی مدد کرنا چھو ہم مدینہ پہنچ گئے تو ہم عزت والے مل کر

حضرت زید بن ارقم ابھی نو عمر لگے خدا کی قسم تو ذلیل ہے تو اپنے قوم میـ اور محمد ﷺ عزت والے ہیں، رحمٰن کی عزت والے ہیں۔

عبداللہ بن ابی نے کہا اچھا چپ جا کر آپ ﷺ کو اس نے نقل کر دیـ کافر کی گردن اڑا دی جائے مگر آپ ﷺ

عبداللہ بن ابی کو جب اس کی خـ خدمت ہو کر جھوٹی قسمیں کھانے لگا کہ دیا ہے۔

انصار کے بھی کچھ لوگ حاضر خدمـ عبداللہ قوم کا سردار ہے، بڑا آدمی شمار ہو نہیں۔ ممکن ہے کہ سننے میں کچھ غلطی ہوئـ آپ ﷺ نے اس کا عذر قبول

صفحہ 265

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

باہم لڑائی ہو گئی معمولی بات تھی مگر بڑھ گئی ہر ایک نے اپنی اپنی قوم سے دوسرے کے خلاف مدد چاہی۔ اور دو فریق ہو گئے قریب تھا کہ آپس میں لڑائی ہو جائے مگر بعض لوگوں نے درمیان میں پڑ کر صلح کرا دی۔

عبداللہ بن ابی منافقوں کا سردار اور مسلمانوں کا سخت مخالف تھا مگر چونکہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا تھا اس لئے اس کے ساتھ خلاف کا برتاؤ نہ کیا جاتا تھا اور یہی اس وقت منافقوں کے ساتھ عام برتاؤ تھا اسکو جب اس واقعے کی خبر ہوئی تو اس نے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کہے اور اپنے دوستوں سے خطاب کر کے کہا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا ہوا ہے۔

تم نے ان لوگوں کو اپنے شہروں میں ٹھکانہ دیا اپنے مالوں کو ان کے درمیان آدھوں آدھ بانٹ دیا اگر تم ان لوگوں کی مدد کرنا چھوڑ دو تو سب ابھی چلے جائیں اور یہ بھی کہا کہ خدا کی قسم اگر ہم مدینہ پہنچ گئے تو ہم عزت والے مل کر ان ذلیلوں کو وہاں سے نکال دیں گے۔

حضرت زید بن ارقم ابھی نو عمر بچے تھے یہ بھی وہاں موجود تھے یہ سن کر تاب نہ لا سکے کہنے لگے خدا کی قسم تو ذلیل ہے تو اپنی قوم میں بھی ترچھی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے تیرا کوئی حمایتی نہیں اور محمد ﷺ عزت والے ہیں، رحمٰن کی طرف سے بھی عزت دیئے گئے ہیں اور اپنی قوم میں بھی عزت والے ہیں۔

عبداللہ بن ابی نے کہا اچھا چپ کر میں تو ویسے ہی مذاق میں کہہ رہا تھا مگر حضرت زید نے جا کر آپ ﷺ اقدس سے نقل کر دیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درخواست کی کہ اس کافر کی گردن اڑا دی جائے مگر آپ ﷺ نے اجازت مرحمت نہ فرمائی۔

عبداللہ بن ابی کو جب اس کی خبر ہوئی کہ آپ ﷺ تک یہ قصہ پہنچ گیا ہے تو حاضر خدمت ہو کر جھوٹی قسمیں کھانے لگا کہ میں نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا ہے زید نے جھوٹ نقل کر دیا ہے۔

انصار کے بھی کچھ لوگ حاضر خدمت تھے انہوں نے بھی سفارش کی کہ یا رسول اللہ ﷺ عبداللہ قوم کا سردار ہے، بڑا آدمی شمار ہوتا ہے، ایک بچے کی بات اس کے مقابلے میں قابل قبول نہیں۔ ممکن ہے کہ سننے میں کچھ غلطی ہوئی ہو یا سمجھنے میں۔

آپ ﷺ نے اس کا عذر قبول فرما لیا حضرت زید کو جھٹلا دیا تو انہوں نے شرم کی وجہ سے

PDF 266

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

باہر نکلنا چھوڑ دیا بالآخر سورہ منافقون نازل ہوئی جس سے حضرت زید کی سچائی اور عبداللہ بن ابی کی جھوٹی قسموں کا راز کھل گیا۔ حضرت زید کی وقعت موافق و مخالف کی نظروں میں بڑھ گئی اور عبد اللہ بن ابی کا قصہ بھی سب پر ظاہر ہو گیا۔

عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا عشق رسول ﷺ

عبداللہ بن ابی کے بیٹے کا نام بھی عبداللہ تھا اور بڑے پکے مسلمان اور سچے عاشق رسول تھے جنگ سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ سے باہر تلوار کھینچ کر کھڑے ہو گئے اور باپ سے کہنے لگے اس وقت تک مدینہ میں داخل ہونے نہیں دوں گا جب تک تو اس کا اقرار نہ کرے کہ تو ذلیل ہے اور محمد ﷺ عزیز ہیں۔

اس کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ہمیشہ سے باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤ کرنے والے تھے مگر آپ ﷺ کے مقابلے میں باپ کی کوئی عزت و محبت دل میں نہ رہی آخر اس نے مجبور ہو کر اقرار کیا کہ واللہ میں ذلیل ہوں اور محمد ﷺ عزیز ہیں اس کے بعد مدینہ میں داخل ہوسکا۔

ابن ابی حدردؓ کو رفاعہ کے قتل کرنے پر 13 اونٹ بطور انعام ملنا

تھا۔ وہ اکثر رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدزبانی کیا کرتا اس کی اس سے بھی تسلی نہیں ہوتی تھی اپنی اندھی نفرت پر قابو نہ پاسکا تو بنو جشم کے کثیر تعداد خیل لے کر وہ مقام غابہ کے پاس خیمہ زن ہوا تا کہ مزید لوگوں کو جمع کرلے اور انھیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف بغاوت پر بھڑکائے۔

اس کا اصلی مقصد مدینہ پر حملہ کرنا تھا۔ یہ خبر جب رسول اللہ ﷺ نے سنی تو انھوں نے ابن ابی حدردؓ نیز دو اور مسلمانوں کو طلب کیا کہ وہ جائیں اور رفاعہ کا کام تمام کردیں یا اسے آپ کے پاس پکڑ لائیں۔ ابن ابی حدردؓ نے بیان کیا ہم رفاعہ کی لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں شام کو پہنچے جب ہم نے اس کے خیمہ کا احاطہ کر لیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جب وہ مجھے اللہ اکبر کا نعرہ لگائے ہوئے سنیں اور لشکر گاہ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھیں تو وہ بھی ایسا ہی کریں ہم دشمن پر دفعتاً حملہ کا منصوبہ بنارہے تھے۔

گستاخ رسول کا عبرتناک ا

اچانک ان کا سردار رفاعہ خیمے جانے کے لیے بہت کہا انہیں ڈر تھا لیکن وہ تنبیہ کو خاطر میں نہ لایا یا جو اس کے دل کے پار نکل گیا اور میں لشکر کی طرف اللہ اکبر کا نعرہ لگانے حسب ہدایت میرے دو ساتھی کہ وہ اپنے بیوی بچوں سمیت فرار ہو خاطر میری کارگزاری سے وہ ان عطا فرمائے۔

حضرت زبیرؓ اور عاصمؓ

اس نے معرکہ بدر میں بھی حصہ لیا جہا حلف اٹھایا کہ وہ آج کے بعد کبھی بھی خلاف دشمنانہ کارروائیوں میں حصہ کہہ چلا گیا لیکن جیسے ہی یہ کافر جنگی اللہ ﷺ کے بارے میں بدزبانی کر وہ پھر قید ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے رسول اللہ ﷺ نے یہ کہتے ہوئے ا ایک سچا مسلمان ایک ہی سانپ کبھی بھی مکہ نہیں جاسکو گے کہ کہو میں نے دوبار نہیں ڈسا جاسکتا اے زبیر اسے عا اور اس حکم کی فوری تعمیل ہوئی اور

صفحہ 267

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اچانک ان کا سردار رفاعہ خیمے میں سے تلوار لہراتا ہوا نکلا اس کے حامیوں نے اسے اکیلا نہ جانے کے لیے بہت کہا انہیں ڈر تھا کہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔

لیکن وہ تنبیہ کو خاطر میں نہ لایا جیسے ہی وہ میرے بہت قریب سے گزرا میں نے ایک تیر چلا یا جو اس کے دل کے پار نکل گیا اور اسے ہلاک کر گیا۔ میں نے لپک کر اس کا سر تن سے جدا کر دیا میں لشکر کی طرف اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے بھاگا۔

حسب ہدایت میرے دو ساتھیوں نے بھی ویسا ہی کیا اس سے لشکری اتنے خائف ہوئے کہ وہ اپنے بیوی بچوں سمیت فرار ہو گئے میں رفاعہ کا سر رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا اسلام کی خاطر میری کارگزاری سے وہ اتنے خوش ہوئے کہ انھوں نے مجھے بطور انعام ۱۳ اونٹ عطا فرمائے۔

حضرت زبیر اور عاصم کے ہاتھوں معاویہ بن مغیرہ کی موت

اس نے معرکہ بدر میں بھی حصہ لیا جہاں وہ قیدی ہوا اور مدینہ لایا گیا جب وہاں پہنچ گیا تو اس نے حلف اٹھایا کہ وہ آج کے بعد کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کو گالی نہیں دے گا اور نہ ہی اسلام کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں میں حصہ لے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے آزاد کر دیا اور وہ واپس مکہ چلا گیا لیکن جیسے ہی یہ کافر جنگلی حیوان مکہ پہنچا اس نے اپنا حلف توڑ دیا اور پھر سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بد زبانی کرنے لگا اور دشمنان اسلام کے ساتھ مل گیا اتفاق ایسا ہوا کہ وہ پھر قید ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا اس نے ایک بار اور معافی طلب کی لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ کہتے ہوئے اس کی بات رد کر دی۔

ایک سچا مسلمان ایک ہی سانپ سے دو بار کبھی بھی نہیں ڈسا جاتا۔ اے معاویہ بن مغیرہ ! تم کبھی بھی مکہ نہیں جا سکو گے کہ کہو میں نے محمد کو دو بار دھوکہ دیا ہے خوب غور سے سنو ایک سچا مسلمان دو بار نہیں ڈسا جا سکتا اے زبیر اے عاصم اس کا سر قلم کر دو۔

اور اس حکم کی فوری تعمیل ہوئی اور اس کا سر تن سے جدا ہو گیا۔

صفحہ 268

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

محیصہ بن مسعود کے ہاتھوں ابن سینہ یہودی کی موت

حکم دیا کہ اس قسم کے یہود کو جہاں کہیں پاؤ قتل کر ڈالو۔ چنانچہ حویصہ بن مسعود کے چھوٹے بھائی محیصہ بن مسعود نے ابن سینہ یہودی کو قتل کر ڈالا جو تجارت کرتا تھا اور خود حویصہ، محیصہ اور دیگر اہل مدینہ سے داد و ستد کا معاملہ رکھتا تھا۔

حویصہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور محیصہ پہلے سے مسلمان تھے حویصہ چونکہ عمر میں بڑے تھے تو انہوں نے محیصہ کو پکڑ کر مارنا شروع کیا اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن! تو نے اسے قتل کر ڈالا واللہ اس کے مال سے کتنی چربی تیرے پیٹ میں ہے محیصہ نے کہا مجھ کو اس کے قتل کا ایسی ذات نے حکم دیا ہے کہ اگر وہ ذات با برکت تیرے قتل کا بھی حکم دیتی تو واللہ تیری بھی گردن اڑا دیتا حویصہ نے کہا پکی بات ہے اگر محمد ﷺ تجھ کو میرے قتل کا حکم دیں تو واقعی تو مجھ کو قتل کر ڈالے گا محیصہ نے کہا ہاں اللہ کی قسم اگر تیری گردن مارنے کا حکم دیتے تو ضرور تیری گردن اڑا دیتا یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم کے بعد ذرہ برابر تیرے بھائی ہونے کا خیال نہ کرتا حویصہ یہ سن کر حیران رہ گئے ! اور بے ساختہ بول اٹھے کہ خدا کی قسم یہی دین حق ہے جو دلوں میں اس درجہ راسخ مستحکم اور رگ و پے میں اس درجہ جاری و ساری ہے اس کے بعد حویصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سچے دل سے اسلام قبول کیا۔

(استیعاب ۱۴۶۳/۴)

اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شاتم رسول کی سزا میں دوستی اور بھائی بندی کا کوئی خیال نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ دین کا معاملہ ہے۔

امت محمدیہ کے فتنہ پردازوں میں سے پہلے اور آخری شخص کے قتل کا حکم

بڑا ہی عابد و زاہد نوجوان تھا ہم نے ایک دن حضور ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا حضور ﷺ اسے نہ جان سکے پھر اس کے حالات و اوصاف بیان کیے جب بھی آپ ﷺ نہ پہچان سکے۔ یہاں تک کہ وہ ایک دن اچانک سامنے آ گیا جیسے ہی اس پر نظر پڑی ہم نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ

صفحہ 269

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

یہ وہی جوان ہے اسے دیکھ کر فرمایا میں اس کے چہرے پر شیطان کے دھبے دیکھتا ہوں اتنے میں وہ آپ ﷺ کے قریب آیا اور سلام کیا۔

آپ ﷺ نے اسے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کیا یہ بات صحیح نہیں ہے کہ تو ابھی اپنے دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ تجھ سے یہاں افضل کوئی نہیں ہے؟

اس نے جواب دیا ہاں اس کے بعد جیسے ہی وہ مسجد میں داخل ہوا آپ ﷺ نے آواز دی کہ کون اسے قتل کرتا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میں لیکن جب اس ارادے سے وہ مسجد کے اندر گئے تو اسے نماز پڑھتا دیکھ کر واپس لوٹ آئے اور اپنے دل میں خیال کیا کہ ایک نمازی کو کیسے قتل کروں جبکہ آپ ﷺ نے نمازی کے قتل سے منع کیا ہے۔

پھر آپ ﷺ نے آواز دی کون اسے قتل کرتا ہے؟

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ میں۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم اسے ضرور قتل کرو گے بشرطیکہ وہ تمہیں مل جائے لیکن

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسجد کے اندر داخل ہوئے تو وہ شخص جا چکا تھا حضور علیہ السلام نے فرمایا اگر تم اسے قتل کر دیتے تو میری امت کے جملہ فتنہ پردازوں میں سے یہ شخص پہلا اور آخری ثابت ہوتا یہاں تک کہ میری امت کے دو فرد بھی آپس میں نہ لڑتے۔ (کتاب تبلیغی جماعت مصنفہ ماہر القادری) (فتح الباری ۱۳ ص ۲۶۴، بزار شریف ص ۲۷۷ حجۃ اللہ علی العالمین ص ۵۵۵ جدید خصائل الکبری جلد ۲ ص ۱۴۷)

فتنہ قادیانیت کے چند گستاخانہ جملے

قارئین کرام غور فرمائیے وہ شخص نمازی تھا مگر اس کے چہرے پر شیطانی دھبے اس کے دل میں چھپی نبوت دشمنی کے عکاس تھے خود کو تمام عالم بشمول رحمت عالم ﷺ سے بہتر جاننا بلاشبہ شیطانی وصف ہے اس گستاخی پر آقا ﷺ ایک بار نہیں بار بار جلیل القدر صحابہ کرام کو اس ملعون کے قتل کا حکم دے رہے ہیں۔ تدبر کیجئے دل میں چھپی شیطانیت پر آپ ﷺ اس کے قتل کا حکم صادر فرما رہے ہیں۔ کیا بانگ دہل ایسی خباثت کا اعلان کرنے والوں پر آج محمد عربی ﷺ کا کوئی غلام ایسا حکم لاگو نہیں کر سکتا۔

ارباب اختیار کے انصاف کی دہلیز پر ہم قادیانی ظلم کے خلاف ایک بار پھر دہائی دے رہے

صفحہ 270

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہیں کہ حکمران قادیانی کفر کے خلاف نوٹس لیں جو نہ جانے کس نشے میں مست ابلیسی دھن پر رقص کرتے ہوئے دوزخیوں کا کلام یوں سناتے ہیں:

’’یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے۔‘‘

(قادیانی اخبار الفضل ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء)

آسمان سے کئی تخت اترے مگر میرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا:

(تذکرہ طبع دوم ص ۴۳۶ مصنفہ مرزا غلام قادیانی)

کل آقا ﷺ کے روبرو پیش ہو کر جام کوثر پینے کے طلبگارو! کیسا وہ ملعون شخص جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے جسے آپ ﷺ قتل کرنے کا حکم صادر فرما رہے ہیں اس شخص کے کفر اور گستاخی رسول اللہ ﷺ میں اور مرزائیوں کی گستاخیوں میں کوئی فرق ہے؟ اگر نہیں ہے اور یقیناً قادیانی کفر اور گستاخیاں اپنے اندر زیادہ شدت لیے ہوئے ہیں تو پھر دیر کیوں؟

احساس کے افق پہ جمی ہے بے حسی کی دھول
جذبے جو جاں گداز تھے برفاب ہو چلے!

مندرجہ بالا سطور میں میں نے چند گستاخان رسول کے انجام کا تذکرہ کیا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ رب کائنات نے گستاخان رسول کو ہمیشہ عبرتناک انجام سے دوچار کیا ہے اور قرآن میں متعدد جگہ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے انتباہ کیا ہے۔

یہی بات سورۃ الزمر کی آیت ۴۸ المومن کی آیت ۸۳ الجاثیہ کی آیت ۳۳ اور سورۃ الاحقاف کی آیت ۲۶ میں بھی کہی گئی ہے۔

نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

(الروم ۱۰)

Design by Noorulamin

صفحہ 271

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام موضوع...... 8

گستاخ رسول خواتین کے عبرت ناک انجام

توہین رسالت کی مرتکب مستورات کے بارے میں حکم نبوی ﷺ

عرب میں توہین رسالت کے مرتکب کفر گو بے حرمتی کرنیوالے مرد بھی تھے اور عورتیں بھی چند عورتیں طاقت ور سرداران قریش کی منکوحہ تھیں اور اس لیے ایسے ماحول کی پروردہ تھیں جہاں انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی مراعات یافتہ حیثیت کو اسلام سے خطرہ ہے۔ کچھ اور گانے والی لڑکیاں تھیں جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھیں ایک اور زمرے میں یہ وہ عورتیں تھیں جن کو اسلام اور رسول اللہ ﷺ سے نفرت نے اندھا کر رکھا تھا۔

شاتمین رسول ابن خطل کی دو لونڈیوں کا عبرتناک انجام

یہ دونوں ابن خطل کی لونڈیاں تھیں اور ہجویہ اشعار گا گا کر لوگوں کو نبی کریم ﷺ کے خلاف اکسایا کرتی تھیں۔ فتح مکہ کے روز دونوں قتل کر دی گئیں۔

عام طور پر غزوات اور جنگوں میں آپ ﷺ کا حکم ہوتا تھا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جائے لیکن توہین رسول ﷺ اسلامی شریعت میں اتنا سنگین جرم ہے کہ اس کی مرتکب عورت بھی قابل معافی نہیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ابن خطل کی مذکورہ دو لونڈیوں کے علاوہ دو اور عورتوں کے بارے میں بھی جو آپ ﷺ کے حق میں بدزبانی کی مرتکب تھیں قتل کا حکم جاری کیا تھا۔

ایک صحابی کا اپنے ہی قبیلہ کی شاتم رسول کو قتل کرنا

پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی رہتی تھی۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا اس بدزبان عورت سے کون انتقام لے گا۔ اس کے قبیلہ کے ایک شخص نے یہ ذمہ داری اٹھائی اور اسے قتل کر دیا۔

صفحہ 272

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام پھر وہ رسول پاک ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا اس قبیلہ میں دو بکریاں بھی نہیں لڑیں گی اور لوگ اتحاد اور یگانگت سے رہیں گے۔

حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شاتم رسول اپنی بہن کو قتل کرنا

دیکھ کر مسلمان ہو گئے اور آپ ﷺ کے سچے شیدائی بن گئے ان کی بہن رسول اللہ ﷺ کو بہت اذیت پہنچاتی تھی۔ کبھی آپ ﷺ پر کوڑا پھینکتی اور کبھی پتھر مارتی ، کبھی بدکلامی کرتی ۔

حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بات بہت ناگوار گزرتی تھی وہ اس کو بہت سمجھاتے تھے کہ وہ اپنی ان حرکتوں سے باز رہے مگر وہ کافرہ اتنی شقی القلب تھی کہ ان کی بات ہرگز نہ مانتی تھی

جب حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ یہ کسی بھی طرح مانتی ہی نہیں تو انہیں بہت غصہ آیا ایک دن اس کی ان حرکتوں سے تنگ آکر انہوں نے خاموشی سے اس کو قتل کر ڈالا۔

قتل کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ آج بہن کی محبت کو آپ ﷺ کی محبت پر قربان کر آیا ہوں میں نے اپنی اس بہن کو قتل کر دیا جو آپ ﷺ کو تکلیف پہنچایا کرتی تھی۔

اس عورت کے کئی بیٹے تھے۔ جب انہوں نے اپنی ماں کو مقتول پایا تو بہت غصہ ہوئے۔ چونکہ کسی نے بھی یہ نہیں دیکھا تھا کہ اس کا قتل حضرت عمیر بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کیا ہے اس لئے صحیح قاتل کا پتہ لگانا ممکن نہ تھا۔ لیکن ان لڑکوں نے صرف شک کی بنا پر ایک دوسرے شخص کو پکڑ لیا اور اس کو قتل کرنا چاہا۔

حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معاملہ سے رسول اللہ کو آگاہ کیا کہ اگر معاملہ سلجھایا نہ گیا تو ایک بے قصور آدمی کی بلاوجہ جان جانے کا اور نقص امن کا اندیشہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے لڑکوں کو بلا کر سمجھا دیا اور معاملہ کو رفع کر دیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک شاتم رسول عورت کو قتل کرنا

گستاخ رسول کا ع

سے کہتے ہیں) ایک عورت رسول پاک خلاف کون میری مدد کرے اسے قتل کر دیا۔

ابولہب کی

ظالم عورت تھی۔ اس نے ای کا باعث بنے وہ اس راستے چلا کرتے تھے۔ ایک بار اللہ ﷺ نکل گئے تو وہ اس نے ایک مختصر سی نظم گائی ہی وہ اپنے بد انجام کو پہنچی ب کے گرد حلقے سے گلا گھٹنے ۔ گوئی کی تھی اللہ تعالیٰ کا ارش

تَبَّتْ يَدَا اَبِ
سَيَصْلٰے
هَا حَبْلٌ مِّنْ

ایک صحابی ک

ایک نابینا شخص کی بات کرتی تو بدزبانی کرتی لیکن کامیاب نہ ہ

صفحہ 273

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سے کہتے ہیں)

ایک عورت رسول پاک ﷺ کو برا بھلا کہتی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس دشمن کے خلاف کون میری مدد کرے گا۔ اس پر خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے تعاقب میں گئے اور اسے قتل کر دیا۔

ابولہب کی بیوی ام جمیل کی عبرتناک موت کا واقعہ

ظالم عورت تھی۔ اس نے ایسے بہت سے فعل کئے جو رسول اللہ ﷺ کے لیے ذہنی الم اور تکلیف کا باعث بنے وہ اس راستے میں کانٹے پھینک دیا کرتی جس پر رات کے وقت رسول اللہ ﷺ چلا کرتے تھے۔ ایک بار جب وہ پتھر اٹھائے لیے جارہی تھی تو اس نے کہا کہ اگر اسے رسول اللہ ﷺ مل گئے تو وہ ان پتھروں سے ان کے روئے مبارک کو پاش پاش کردے گی بعد ازاں اس نے ایک مختصر سی نظم گائی جس میں آپ ﷺ کے لیے بدکلامی کی لیکن اس کے تھوڑی دیر بعد ہی وہ اپنے بد انجام کو پہنچی وہ اس طرح کہ کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی ایک رسی سے اس کی گردن کے گرد حلقے سے گلا گھٹنے سے اس کی موت بالکل اسی انداز سے واقع ہوئی جیسے کہ وحی نے پیشن گوئی کی تھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَهَبٍ وَّتَبَّ ◯ مَآ اَغْنٰی عَنْهُ مَالُهٗ وَمَا كَسَبَ ◯ سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ وَّامْرَاَتُهٗ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ فِیْ جِیْدِ هَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ ◯﴾

ایک صحابی کا اپنی گستاخ رسول بیوی کو قتل کرنے کا واقعہ

ایک نابینا شخص کی شادی ایک کنیز سے ہوئی تھی وہ جب کبھی رسول اللہ ﷺ کے متعلق بات کرتی تو بدزبانی کرتی اس کا خاوند اسے منع کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن کامیاب نہ ہوا سرزنش بھی اس کے گستاخانہ اور بے حرمتی کے رویے سے اسے باز نہ

صفحہ 274

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کرسکی۔ ایک رات جب اس نے رسول اللہ ﷺ کے لیے بدکلامی شروع کی تو اس کے نابینا خاوند نے اسے چاقو مار مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کے پاس لیٹا ہوا بچہ بھی خون میں لتھڑ گیا صبح کو جب رسول اللہ ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے لوگوں کو اپنے پاس جمع ہونے کے لیے کہا پھر آپ ﷺ نے باآواز بلند فرمایا:

خدا کی قسم! جس شخص نے یہ کام کیا ہے اس سے درخواست کرتا ہوں مجھ پر اس کا حق ہے کہ میں اسے کھڑا ہو جانے کے لیے کہوں۔

دوسرے لوگوں کے کندھوں سے پھاندتا ہوا اور خوف سے لرزاں نابینا اٹھا اور سب کے سامنے جہاں رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے چلا گیا اس نے عرض کیا:

یا رسول اللہ ﷺ میں اس عورت کا قاتل ہوں۔ کیونکہ وہ آپ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ میں نے اپنی طرف سے بہت کوشش کر دیکھی لیکن وہ باز ہی نہیں آتی تھی میں نے اس کی سرزنش بھی کی لیکن وہ اپنی عادت بد ترک نہیں کرتی تھی اس کے بطن سے میرے موتیوں جیسے دو بیٹے ہیں۔ وہ میری بہترین ساتھی تھی لیکن گزشتہ رات حسب معمول اس نے آپ ﷺ کو گالیاں بکنی شروع کر دیں اسی باعث میں نے اسے قتل کر دیا۔

نابینا کی سرگزشت سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اے لوگو! گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔

ایک نابینا صحابی کے ہاتھوں ایک یہودی عورت کی عبرتناک موت

ایک نابینا شخص ایک یہودیہ کے گھر بسیرا کیا کرتا تھا وہ ہمیشہ اسے کھانا مہیا کرتی وہ مہمان نواز تھی اور نابینا پر ترس کھاتی تھی لیکن وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے بدزبانی بھی کیا کرتی تھی ایک رات جب وہ اپنے معمول کے مطابق رسول اللہ ﷺ کو گالیاں بکنے میں مصروف تھی۔

تو نابینا شخص اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکا اس نے یہودیہ کا گلا گھونٹ دیا صبح جب رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ہوئی تو انھوں نے دریافت فرمایا کہ یہ کام کس نے کیا ہے نابینا سامنے پیش

صفحہ 275

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہوا اور پورا ماجرا سنایا جب رسول اللہ ﷺ کو یہودیہ کے نازیبا رویے کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کو جائز قرار دیا۔

گستاخ رسول مروان کی بیٹی عصمہ کا انجام

معاشرے میں تفرقہ پیدا کرنے کی خاطر منافقانہ کردار ادا کیا۔ اپنی ایک نظم میں اس نے نبی اکرم ﷺ کی تضحیک اور بے حرمتی کی۔ اسے اسلام اور اس کے پیروکاروں سے سخت نفرت تھی جب رسول اللہ ﷺ نے اس کا کلام سنا تو فی الفور اپنے صحابہ سے اس مروان کی ناخلف بیٹی سے چھٹکارا حاصل کرنے کو کہا۔ عمیر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُسی عصمہ کے اپنے ہی قبیلے کا ایک نو مسلم رسول اللہ ﷺ کا فرمان سن کر عصمہ کے گھر گیا اور اسی رات اس کا کام تمام کر دیا دوسری صبح اس نے آپ ﷺ کو تعمیلِ حکم کی خوشخبری سنائی کہ اس نے اللہ اور رسول ﷺ کی مدد کی ہے مزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ میں عمیر کی ان الفاظ میں تعریف کی:

اگر ایسا شخص دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور رسول اللہ کی مدد و معاونت کی ہو تو عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھ لو۔

جب عصمہ انجام کو پہنچی تو اس کے قبیلے والوں میں بڑا ہیجان و اضطراب ہوا اس لیے عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے قبیلے میں گئے اور ان سے خطاب کیا:

اے بنی خطمہ ! میں نے عصمہ بنت مروان کو قتل کیا ہے۔ اگر بدلے کی سوچ رہے ہو تو میرے ساتھ لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ۔

اس سے بنو خطمہ کو بڑا دھچکا لگا۔ ان کو احساس ہو گیا کہ ان کے قبیلے میں بھی اسلام نے قوت و طاقت حاصل کر لی ہے پھر تمام کے تمام قبیلے نے جب اسلام کے وقار و عظمت کو دیکھا تو اسے قبول کر لیا۔

صفحہ 276

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام موضوع ...... 9

صحابہ کرام کے دور کے گستاخان رسول کے واقعات

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک شاتم رسول کی گردن اڑانے کا حکم

رسول اللہ ﷺ کا ایک شاتم حضرت عمر بن الخطاب کے پاس حاضر کیا گیا اس بے حرمتی کرنے والے شخص کو انھوں نے فوراً اس کی گردن مارنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد انھوں نے حکم نامہ جاری کیا کہ جو کوئی بھی رسول اللہ ﷺ یا کسی اور نبی اللہ کو گالی دے اس کی گردن فی الفور اڑا دی جائے۔

اہل اسلام کا مسیلمہ کذاب کی فوج سے مقابلہ

سے فتنہ ارتداد کو ختم کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادی تھی اور مرتدین کے خلاف کئی معرکوں میں انہوں نے والہانہ جوش وخروش سے حصہ لیا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب مسیلمہ کی زبردست جنگی تیاریوں کی اطلاع ملی تو انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مسیلمہ سے معرکہ آرا ہونے کا حکم دیا اور ان کی کمک کے لئے تازہ دم فوج روانہ کی۔ اس فوج میں انصار کے سردار حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مہاجرین کے امیر حضرت زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔

یمامہ کے قریب عقرباء کے مقام پر مسلمانوں اور مسیلمہ کے لشکروں کا آمنا سامنا ہوا مسیلمہ کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی جبکہ مسلمانوں کی کل تعداد مل ملا کر دس ہزار کے قریب تھی۔ بعض روایتوں میں ہے کہ اس موقع پر اسلامی لشکر کے علمبردار حضرت زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جب دونوں جانب جنگ کی صفیں آراستہ ہوئیں تو سب سے پہلے مسیلمہ کی

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجا جانب سے نہار الرجال بن عنفوہ میدا دی۔ یہ ایک نہایت شریر النفس شخص یمامہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ م حاضر ہو کر آپ ﷺ سے قرآن ک حاصل کر چلا تو آپ ﷺ نے اس مسیلمہ کذاب سے مل گیا اور نہایت ب شہادت دی کہ میں نے خود رسول اللہ شریک ہے۔ چونکہ وہ سرور دو عالم ص کی جانب سے ہی معلم اور مبلغ بن کر ہو گئے اور انہوں نے مسیلمہ کا دعویٰ ن مبارزت طلب ہوا تو حضرت زید بن خ اور تیر کی طرح اس پر جھپٹے۔ نہار الرجا حضرت زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ ع کچھ تدبیر نہ چلی اور وہ حضرت زید ر بعد عام لڑائی شروع ہو گئی۔ مسیلمہ کے اکھڑ گئے لیکن اسلامی لشکر کے سردار و بازی لگا دی۔

حیلہ سے گستاخی کرنے وا

ایک منافق شخص ہے۔ وہ جب اپنی ن یہی سورت پڑھتا ہے ﴿عَبَسَ و ت اور مزید کسی تحقیق اور تفتیش کے بعد ا اس آیت کریمہ کا شان نزو

صفحہ 277

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

جانب سے نہار الرجال بن عنوہ میدان میں نکلا اور اس نے مسلمانوں کو للکار کر دعوت مبارزت دی۔ یہ ایک نہایت شریر النفس شخص تھا۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ وہ عہد رسالت ﷺ میں یمامہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلا گیا تھا اور سرور دو عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے قرآن حکیم اور مسائل دین کی تعلیم حاصل کی تھی جب ضروری تعلیم حاصل کر چکا تو آپ ﷺ نے اسے اہل یمامہ کی تعلیم پر مامور فرمایا۔ یہ بد بخت یمامہ پہنچ کر مسیلمہ کذاب سے مل گیا اور نہایت بے حیائی سے مسیلمہ کی جھوٹے دعوے کی ان الفاظ میں شہادت دی کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ مسیلمہ میری نبوت میں شریک ہے۔ چونکہ وہ سرور دو عالم ﷺ کی خدمت با برکت میں رہ چکا تھا اور آپ ﷺ کی جانب سے ہی معلم اور مبلغ بن کر آیا تھا اس لئے ہزاروں لوگ اس کی باتوں سے گمراہ ہوگئے اور انہوں نے مسیلمہ کا دعویٰ تسلیم کرلیا۔ اب وہ میدان میں نکل کر مسلمانوں سے مبارزت طلب ہوا تو حضرت زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جوش غضب سے بے قرار ہوگئے اور تیر کی طرح اس پر جھپٹے۔ نہار الرجال ایک آزمودہ کار جنگجو تھا اس نے نہایت ہوشیاری سے حضرت زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقابلہ کیا لیکن ان کے جوش ایمانی کے سامنے اس کی کچھ تدبیر نہ چلی اور وہ حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے بری طرح مارا گیا۔ اس کے بعد عام لڑائی شروع ہوگئی۔ مسیلمہ کے قبیلے بنو حنیفہ نے اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے لیکن اسلامی لشکر کے سرداروں نے مرتدین کے ریلے کو روکنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادی۔

حیلہ سے گستاخی کرنے والے کا حضرت عمر فاروق کے ہاتھوں قتل ہونا

ایک منافق شخص ہے۔ وہ جب اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہے تو وہ ہر (باجماعت) نماز میں صرف یہی سورت پڑھتا ہے ﴿عبس وتولی﴾ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس منافق شخص کو بلا بھیجا اور مزید کسی تحقیق اور تفتیش کے بعد اس کا سر قلم کردیا۔

اس آیت کریمہ کا شان نزول کچھ یوں ہے کہ رسالت مآب ﷺ مجلس شریف

صفحہ 278

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں بیٹھے محو گفتگو تھے کہ دریں اثناء حضرت عبداللہ ابن مکتوم تشریف لائے اور آداب محفل کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ چونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نابینا تھے محفل کا رنگ بھی نہ دیکھ سکے اور آتے ہی آپ ﷺ کی بات کاٹ کر کچھ پوچھ لیا جس پر آپ ﷺ کو کچھ ملال ہوا اور چہرہ مبارک پر شکن واضح ہو گئے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ آپ ﷺ کے عمل سے کسی ایماندار کی دل شکنی نہ ہونی چاہیے۔

لیکن مندرجہ بالا روایت میں وہ منافق شخص یہ آیت کریمہ ہر روز ہر نماز میں اس نیت سے پڑھتا تھا کہ اللہ کریم نے آپ ﷺ کو ڈانٹا اور جھڑکا (معاذ اللہ) چونکہ وہ شخص نسلاً یہودی اور منافق تھا اس لیے سرکار دو عالم ﷺ سے بغض و عناد کے باعث یہ آیات پڑھ کر آپ ﷺ سے بغض کا ثبوت مہیا کرتا تھا لیکن خلیفۂ وقت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عمل نے آپ ﷺ سے بغض اور عناد رکھنے پر اس ملعون کا سر قلم کردیا۔

جھوٹی نبیہ اور جھوٹا نبی کا ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہونا

کرنے کی سمائی۔ مالک بن ھبیرہ نے سجاح کو اس ارادے سے باز رکھا اور بنی تمیم پر حملہ کرنے کی رائے دی سجاح کا لشکر بنی تمیم پر ٹوٹ پڑا اور دونوں طرف کافی نقصان ہوا۔

ایک رات اس نے ایک نہایت فصیح وبلیغ عبارت تیار کی اور صبح سرداران فوج کو جمع کر کے کہنے لگی کہ اب میں وحی الٰہی کی ہدایت کے مطابق یمامہ پر حملہ کرنا چاہتی ہوں یمامہ میں مسیلمہ کذاب اپنی نبوت کی دکان لگائے بیٹھا تھا ادھر سجاح یمامہ پر حملہ کرنے کے لئے نکلی ادھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک لشکر حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرداری میں سجاح کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے تو معلوم ہوا کہ اسلام کے دو مشترکہ دشمنوں میں تصادم ہونے والا ہے تو حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہیں رک گئے۔

گستاخ رسول کا عبرتناک ا

مسیلمہ اور سجاح کا

کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ مسلمانو نے سجاح سے مقابلہ کرنے کے نفیس تحائف کے ساتھ سجاح سے بنظر غائر مطالعہ کیا اور گرد و پیش کے ذریعے فتح پانا دشوار ہے۔ س جاسکے گی۔ چنانچہ چلتے وقت اس لا کر مجھے سرفراز فرمائیں وہیں ہم سے عاری تھی راضی ہوگئی اور یہ بھی بات چیت راز میں رہے اس وعد مسیلمہ نے آتے ہی حکم د حکم کی فوراً تعمیل ہوئی مسیلمہ نے آراستہ کرایا۔ انواع و اقسام کے کی طرح سجا دیا۔

وقت موعود پر سجاح ملاقات کو نرم نرم ریشمی گدیلے پر بیٹھایا او سجاح کو مسحور کر دیا تھا اور مسیلمہ ا اگر جناب پر کوئی تازہ وحی نازل الفاظ سنائیں کیونکہ میں پھر بھی ع کے دعوی کی طرح جھوٹی اور خانہ اب مسیلمہ نے سجاح پر اٹھانا چاہا چنانچہ بولا مجھ پر یہ وحی

صفحہ 279

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

مسلمہ اور سجاح کذابین کا فرضی نکاح اور بے حیائی کی انتہا

کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کا ایک لشکر بھی اس کے مقابلے پر آ رہا ہے۔ اس لئے اس نے سجاح سے مقابلہ کرنے کے بجائے عیاری و مکاری سے کام لینا چاہا۔ چنانچہ بہت سے نفیس تحائف کے ساتھ سجاح سے ملاقات کی۔ اس کی سیرت، صورت فصاحت و بلاغت کا بنظر غائر مطالعہ کیا اور گرد و پیش کے حالات سے اس کو اندازہ ہو گیا کہ سجاح پر جنگ و جدل کے ذریعے فتح پانا دشوار ہے۔ عورت ذات عشق و محبت کے جال میں پھنسا کر ہی رام کی جاسکے گی۔ چنانچہ چلتے وقت اس نے سجاح سے درخواست کی کہ آپ میرے خیمہ تک تشریف لا کر مجھے سرفراز فرمائیں وہیں ہم اپنی اپنی نبوت کے متعلق گفتگو کریں گے سجاح جو دور اندیشی سے عاری تھی راضی ہو گئی اور یہ بھی وعدہ کر لیا کہ دونوں کے آدمی خیمہ سے دور رہیں گے تا کہ بات چیت راز میں رہے اس وعدے پر اس پیر فرتوت کی تو باچھیں کھل گئیں۔

مسلمہ نے آتے ہی حکم دیا کہ ایک نہایت خوش نما اور پر تکلف خیمہ نصب کیا جائے اس حکم کی فوراً تعمیل ہوئی مسلمہ نے اس خیمہ کو اعلیٰ قسم کے اسباب عیش اور سامان زینت سے آراستہ کرایا۔ انواع و اقسام کے عطریات اور مسحور کن خوشبوؤں سے اسے معطر کر کے حجلۂ عروسی کی طرح سجا دیا۔

وقت موعود پر سجاح ملاقات کے لئے آئی دونوں خیمہ میں داخل ہوئے مسلمہ نے سجاح کو نرم نرم ریشمی گدیلے پر بٹھایا اور اس سے میٹھی میٹھی باتیں بنانا شروع کیں خوشبو کی لپٹوں نے سجاح کو مسحور کر دیا تھا اور مسلمہ اس کے چہرے اور جذبات کا بغور مطالعہ کرتا رہا۔ مسلمہ بولا اگر جناب پر کوئی تازہ وحی نازل ہوئی ہو تو مجھے سنائیں سجاح بولی نہیں پہلے آپ اپنی وحی کے الفاظ سنائیں کیونکہ میں پھر بھی عورت ذات ہوں مسلمہ بھانپ گیا کہ سجاح کی نبوت بھی اس کے دعویٰ کی طرح جھوٹی اور خانہ ساز ہے۔

اب مسلمہ نے سجاح پر عشق و محبت کا جال پھینکا اور عورت کی فطری کمزوری سے فائدہ اٹھانا چاہا چنانچہ بولا۔ مجھ پر یہ وحی اتری ہے۔

صفحہ 280

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

﴿الم ترا کیف فعل ربك بالحبلی اخرج منها نسمته نسعی بین صفاق وحشی.﴾

ترجمہ: ”کیا تم اپنے پروردگار کو نہیں دیکھتے کہ وہ حاملہ عورتوں سے کیا سلوک کرتا ہے۔ ان سے چلتے پھرتے جاندار نکالتا ہے جو نکلتے وقت پردوں اور جھلیوں کے درمیان لپٹے رہتے ہیں۔“

یہ عبارت چونکہ بہ تقاضائے جوانی سجاح کی نفسانی خواہش سے مطابقت رکھتی تھی بولی اچھا کچھ اور سنائیے۔ مسیلمہ نے جب دیکھا سجاح برا ماننے کے بجائے خوش ہوئی تو اس کا حوصلہ اور بڑھا اور کہنے لگا کہ مجھ پر یہ آیتیں بھی نازل ہوئی ہیں۔

﴿ان لله خلق النساء افراجا وجعل الرجال لهن ازواجا فتولج فيهن ايلاجا ثم نخرجنا اذا انشاء اخراجا فيتجن لنا سخالا انتساجا.﴾

ترجمہ: ”اس عبارت کا مضمون چوں کہ انتہائی فحش ہے اس لئے ترجمہ نہیں کیا گیا۔“

اس شرمناک اور شہوت انگیز ابلیسی وحی نے سجاح پر پورا پورا اثر کیا مسیلمہ کی منہ مانگی مراد پوری ہوئی فوراً بولا سنو سجاح خدائے برتر نے عرب کی نصف زمین مجھے دی تھی اور نصف قریش کو مگر قریش نے نا انصافی کی اس لئے رب العزت نے قریش سے ان کا نصف حصہ چھین کر تمہیں عطا کر دیا۔ کیا اب یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم دنوں اس وقت نکاح کرلیں اور پھر ہم دونوں کے لشکر مل کر سارے عرب پر قبضہ کر لیں۔

سجاح پر مسیلمہ کا جادو چل چکا تھا بولی مجھے منظور ہے۔ یہ حوصلہ افزاء جواب سن کر مسیلمہ نے انتہائی فحش اشعار اس کو سنانے شروع کیے اور آخر میں منہ کالا کرنے کے بعد کہنے لگا مجھے ایسا ہی کرنے کا حکم ملا تھا۔

تین شب و روز سجاح اور مسیلمہ خیمہ کے اندر داد و عیش دیتے رہے اور باہر ان کے اندھے مرید چشم براہ اور گوش برآواز بنے ہوئے تھے۔ خوش اعتقاد امتی یہ گمان کر رہے تھے کہ ہر

صفحہ 281

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

مسئلہ پر بہت کچھ ردو قدح ہو رہی ہو گی اور بحث واختلاف کے لئے وحی ربانی کا انتظار کیا جارہا ہوگا وہاں دونوں پر شوق دولہا دلہن بساط نشاط پر بیٹھے بہار کامرانی کے مزے لوٹ رہے تھے۔

جھوٹے نبی نے اپنی فرضی دلہن اور جھوٹی نبیہ کے مہر میں فجر اور عشاء کی نمازیں معاف کر دیں۔

تین روز کے بعد سجاح اپنی عصمت و نبوت کو خاک میں ملا کر اپنے لشکر واپس آئی اور سب کو بلا کر کہا کہ مسلمہ بھی نبی برحق ہے میں نے اس کی نبوت تسلیم کر کے اس سے نکاح کر لیا ہے کیونکہ تمہاری مرسلہ کو ایک مرسل کی اشد ضرورت تھی۔ سب نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا مہر کیا قرار پایا۔ سجاح نہایت سادگی سے بولی یہ بات تو میں اس سے پوچھنا ہی بھول گئی۔ سرداران لشکر نے کہا کہ حضور بہتر ہو گا کہ ابھی واپس جا کر مہر کا تصفیہ کر لیجئے کیونکہ کوئی عورت بغیر مہر اپنے آپ کو کسی کی زوجیت میں نہیں دیتی۔ سجاح فوراً واپس مسلمہ کے پاس گئی ادھر مسلمہ واپس اپنے قلعہ میں جا کر دروازہ بند کر کے سہما ہوا بیٹھا تھا کہ کہیں سجاح کے سرداران لشکر اس عقد کو اپنی توہین سمجھ کر مجھ پر حملہ نہ کریں سجاح جب قلعہ پر پہنچی اور اپنے آنے کی اطلاع کرائی تو مسلمہ بہت خوفزدہ ہوا دروازہ بھی نہیں کھولا چھت پر آ کر اس نے پوچھا اب کیسے آنا ہوا ! سجاح بولی تم نے مجھ سے نکاح تو کر لیا لیکن میرا مہر تو بتاؤ۔ مسلمہ نے کہا کہ تم جا کر اعلان کر دو کہ محمد (ﷺ) خدا سے پانچ نمازیں لائے تھے رب العزت نے فجر اور عشاء کی دو نمازیں مومنوں کو سجاح کے مہر میں معاف کر دیں۔

جھوٹی نبیہ سجاح کی دعوائے نبوت سے توبہ اور قبول اسلام

سجاح کے بہت سے سرداران لشکر اور سمجھ دار امتی نکاح کے واقعے سے بہت دل برداشتہ ہوئے اور آہستہ آہستہ اس سے بد اعتقاد ہو کر الگ ہوتے گئے اور اس کی فوج میں بجائے ترقی کے انحطاط ہوتا چلا گیا۔ سجاح نے بھی یہ محسوس کر لیا کہ اس کی خود ساختہ نبوت اور فصاحت و بلاغت اب مزید کام نہیں آسکے گی چنانچہ وہ قبیلہ بنی تغلب میں جس سے وہ نانہیالی رشتہ رکھتی تھی رہ کر خاموشی کی زندگی بسر کرنے لگے۔

جب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک سال سخت قحط پڑا تو انہوں نے بنی تغلب کو بصرہ میں آباد کر دیا لہٰذا سجاح بھی ان کے ساتھ بصرہ آ گئی اور یہاں آ کر

صفحہ 282

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

نبوت سے توبہ کی اور اپنی پوری قوم کے ساتھ مسلمان ہوگئی اور پھر بڑی دینداری اور پرہیزگاری کی زندگی گزاری اور اسی ایمانی کی حالت میں اس کی وفات ہوئی۔ بصرہ کے حاکم اور صحابی رسول حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن جندب نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔

مختار ثقفی کی دوغلی پالیسی اور کوفہ پر قبضہ کی سازش

خارجیوں کے ہتھے چڑھ کر خارجی ہو گیا وہ اہل بیت سے سخت عناد رکھتا تھا لیکن سیدنا حضرت حسین کی شہادت کے واقعہ کے بعد جب اس نے دیکھا کہ مسلمان کربلا کے قیامت خیز واقعات سے سخت سینہ ریش ہو رہے ہیں اور استمالت قلوب کا یہ بہترین موقع ہے اور اس نے یہ بھی اندازہ لگایا کہ اہل بیت کا بغض اس کے بام ترقی پر پہنچے۔

۶۴ھ میں جب یزید بن معاویہ کا انتقال تو اہل کوفہ نے یزید کے عامل عمرو بن حریث نے یزید کے بعد حجاز اور عراق کی عنان فرمانروائی اپنے ہاتھ میں لی تھی مرگ یزید کے مہینہ بعد مختار کوفہ پہنچا۔ اور اہل کوفہ کو قاتلین حسین سے جنگ آزما ہونے کی دعوت دینی شروع کی اور بولا میں حضرت حسین کے سوتیلے بھائی محمد بن حنفیہ کی طرف سے وزیر اور امین ہو کر تمہارے پاس آیا ہوں مختار کوفہ کے گلی کوچوں اور مسجدوں میں جاتا اور حضرت حسین اور دوسرے اہل بیت اطہار کا ذکر کر کے آنسو بہانے لگتا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ تحریک پکڑنے لگی اور رجوع خلائق شروع ہوا یہاں تک کہ ہزاروں آدمی اس کے جھنڈے تلے جان دینے پر آمادہ ہو گئے۔

اب مختار اپنی حکومت قائم کرنے کے منصوبے سوچنے لگا چنانچہ اس نے ارادہ کیا کہ کوفہ پر قبضہ کر کے حکومت کی داغ بیل ڈالے چنانچہ اس نے ۱۴ ربیع الاول ۶۶ھ کی رات کو خروج کرنے کا عزم مصمم کر لیا عبداللہ بن مطیع جو حضرت عبداللہ بن زبیر کی طرف سے حاکم کوفہ تھا کو بتایا گیا کہ مختار عنقریب خروج کر کے کوفہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے حاکم کوفہ نے اس نے شرفائے شہر کی قیادت میں فوج اور پولیس کے آدمی لے کر شہر کی ناکہ بندی کر دی۔ اس انتظام کا یہ مقصد تھا کہ مختار اور اس کے پیرو خوف زدہ ہو کر خروج سے باز رہیں اس سے پہلے مختار نے مضافات کوفہ کے ایک مقام پر بڑی خاموشی کے ساتھ حربی تیاریاں مکمل کر لی تھیں اور وہ رزم

صفحہ 283

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پیکار کے لئے تیار تھا اس لئے ناکہ بندی کا اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔ مختار شب کی تاریکی میں طلوع فجر تک فوج کی ترتیب و درستگی میں مصروف رہا یہ اطلاع پا کر سرکاری جمعیت بھی مقابلے پر آمادہ ہوئی اور تڑکے ہی دونوں طرف سے حملہ ہوا دن بھر تلواریں چلتی رہیں آخر سرکاری فوج کو ہزیمت ہوئی اور مختار نے قصر امارت کا محاصرہ کر لیا تین دن کے بعد جب ابن مطیع کی قوت مدافعت جواب دے بیٹھی تو اس کے ایک فوجی افسر شبث ابن ربیع نے اس سے کہا کہ میری رائے میں مناسب ہے کہ آپ اپنے اور ہمارے لئے مختار سے امان طلب کیجئے۔ ابن مطیع نے جواب دیا کہ مجھے مختار سے امان مانگتے ہوئے نفرت ہوتی ہے خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ حجاز اور بصرہ ہنوز امیر المومنین عبداللہ بن زبیر )کے زیر نگیں ہیں۔ اس کے بعد ابن مطیع قصر امارت سے نکل کر ابو موسیٰ کے مکان میں جا چھپا ابن مطیع کے آدمیوں نے دروازہ کھول دیا مختار قصر میں داخل ہوا اور مطیع کے آدمیوں نے اس سے بیعت کر لی صبح کو شرفائے کوفہ اس سے مسجد اور قصر کے دروازے پر ملاقاتی ہوئے اور کتاب وسنت اور اہل بیت کے خون کے انتقام جوئی کی شرط پر بیعت کی۔ مختار نے کوفہ کے بیت المال میں نوے لاکھ کی رقم پائی جس کا ایک بڑا حصہ اس نے اپنی فوج میں تقسیم کر دیا ان ایام میں کوفہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا اور اس کے توابع دور دراز تک پھیلے ہوئے تھے اس فتح سے مختار حجاز مقد س اور بصرہ کی ولایت کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں پر قابض ہو گیا جو ابن زبیر کے زیر نگیں تھے۔

قاتلان حسین سے انتقام لے کر اہل بیت کو جھوٹی محبت کا جھانسہ دینا

کوفہ اور اس کے صوبہ جات پر عمل دخل کرنے کے بعد مختار نے ان اشقیاء کے خلاف دار و گیر کا سلسلہ شروع کیا جو کربلا میں حضرت حسین اور خاندان نبوت کے دوسرے ارکان کے قتل میں شریک تھے ان میں شمر بن ذی الجوشن، عمرو بن حجاج، شبث بن ربعی، مالک بن نسیر بدی، حکیم بن طفیل طائی، عثمان بن خالد جہنی، عمرو ابن صبیح، عبیداللہ وغیرہ خنجر خونخوار کے حوالے کر دئیے گئے۔ اسی طرح مختار نے بہت سے دوسرے دشمنان رسول کا بھی قلع قمع کیا اور تواریخ میں لکھا گیا ہے کہ مختار کو ابتداء میں اہل بیت نبوت سے کوئی محبت و ہمدردی نہ تھی بلکہ خارجی المذہب ہونے کے باعث اہل بیت کا دشمن تھا لیکن اس کے بعد مصلحتاً اپنے تئیں محب اہل بیت

صفحہ 284

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ظاہر کر کے مقاتلین حضرت حسین کے درپے انتقام ہوا پس یزیدیوں کا قلع قمع جو اس سے صورت پذیر ہوا اس کی تہ میں حب جاہ وریاست کا جذبہ کام کر رہا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ کسی نے اس سے کہا اے ابا اسحق تم ! کس طرح اہلبیت کی محبت کا دم بھرنے لگے تمہیں تو ان حضرات سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہ تھا کہنے لگا کہ جب میں نے دیکھا کہ مروان نے شام پر تسلط جما لیا اس طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکہ اور مدینہ میں حکومت قائم کر لی نجدہ یمامہ پر قابض ہو گیا ہے اور ابن خازم نے خراسان دبا لیا ہے تو میں کسی عرب سے گھٹیا نہیں تھا کہ چپ چاپ بیٹھا رہتا اور حصول مملکت کے لیے ہاتھ پاؤں نہ مارتا میں نے جدوجہد کی اور ان بلاد پر عمل دخل کر کے انکا ہم پایہ ہو گیا۔

(البدایہ وتاریخ ابن جریر طبری)

مختار ثقفی کا جھوٹی نبوت کا اعلان کرنا

جب مختار نے قاتلین اہل بیت کے تہس نہس کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اس قسم کی محبت افزا خبریں فضائے عالم میں گونج رہی تھیں کہ مختار نے دشمنان اہل بیت کے گلے پر چھری رکھ کر محبان اہل بیت کے زخم ہائے دل پر ہمدردی وتسکین کا مرہم رکھا ہے تو پیروان ابن سبا اور غلاۃ شیعہ نے اطراف واکناف سے سمٹ کر کوفہ کا رخ کیا اور مختار کی حاشیہ نشینی اختیار کر کے تملق و چاپلوسی کے انبار لگا دیئے ہر شخص مختار کو آسمانِ معلی پر چڑھاتا بعض خوشامدیوں نے تو اسے یہاں تک کہنا شروع کیا کہ اتنا بڑا کارِ عظیم وخطیر جو اعلیٰ حضرت کی ذات قدسی صفات لیکر ظہور میں آیا ہے نبی یا وحی کے بغیر کسی سے ممکن الوقوع نہیں ۔

اس تملق وخوشامد کا لازمی نتیجہ جو ہو سکتا تھا وہی ظاہر ہوا مختار کے دل ودماغ پر انانیت وادعا کے جراثیم پیدا ہوئے جو دن بدن بڑھتے گئے اور انجام کار اس نے بساط جرات پر قدم رکھ کر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔

(الفرق بین الفرق مطبوعہ مصر صفحہ ۳۳)

اس دن سے اس نے مکاتبات ومراسلات میں اپنے آپ کو مختار رسول اللہ لکھنا شروع کر دیا دعوائے نبوت کے ساتھ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ خدائے برتر کی ذات نے مجھ میں حلول کیا ہے۔ اور جبرائیل امیں ہر وقت میرے پاس آتے ہیں مختار نے احنف بن قیس نامی ایک رئیس کو یہ خط لکھا تھا۔

صفحہ 285

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

السلام علیکم ۔ بنو مضر اور بنو ربیعہ کا بڑا ہو احنف تم اپنی قوم کو اس طرح دوزخ کی طرف لے جارہے ہو کہ وہاں سے واپسی ممکن نہیں ہاں تقدیر کو میں بدل نہیں سکتا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم مجھے کذاب کہتے ہو مجھ سے پہلے انبیاء کو بھی اسی طرح جھٹلایا گیا تھا۔ میں ان میں سے اکثر سے فائق و برتر نہیں ہوں اس لئے اگر مجھے کاذب سمجھا گیا تو کچھ مضائقہ نہیں۔

(تاریخ ابن جریر طبری)

ایک دفعہ کسی نے حضرت عبداللہ بن عباس سے کہا کہ مختار نزول وحی کا مدعی ہے انہوں نے فرمایا مختار یہ بھی کہتا ہے خدائے برتر نے اس وحی کی اطلاع اس آیت میں دی ہے ”ان الشیطن لیوحون الی اولیائھم“ شیطان اپنے دوستوں پر وحی نازل کیا کرتے ہیں۔

مختار ثقفی کے جھوٹا ہونے کی پیشن گوئی لسان نبوی سے

مختار کے جھوٹے ہونے کے متعلق خود مخبر صادق ﷺ کی پیشن گوئی بھی کتب حدیث میں مروی ہے چنانچہ ترمذی نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ”فی ثقیف کذاب ومبیر قوم“ بنو ثقیف میں ایک کذاب ظاہر ہوگا اور ایک ہلاکو،

اس حدیث میں کذاب سے مختار اور ہلاکو سے حجاج بن یوسف مراد ہے چنانچہ صحیح مسلم میں مروی ہے کہ حضرت اسماء ذات النطاقین نے حجاج بن یوسف سے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا کہ قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب ظاہر ہوگا اور ایک ہلاکو ۔ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا یعنی مختار کو اور ہلاکو تو ہے۔

اسی طرح عدی بن خالد سے مروی ہے کہ حضرت خیر البشر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں تین دجالوں سے بچنے کی تاکید کرتا ہوں میں نے گذارش کی یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے تو ہمیں کانے دجال اور اکذب الکذابین مسیلمہ کے متعلق اطلاع دی تھی۔

اب یہ تیسرا دجال کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک فتنہ گر ہو گا جسے لوگ عارف باللہ کہیں گے حالانکہ وہ ایک ایسا دجال ہوگا جو سیاہ بھیڑیئے سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا آل محمد ﷺ کی محبت ظاہر کر کے بندگان خدا کو کھا جائے گا حالانکہ اسے میری سنت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہ ہوگا۔

(حاکم طبرانی ابن خزیمہ )

مختار کا بہت سا الہامی کلام بھی تھا جو اس نے وحی الہی کی حیثیت سے پیش کیا جو حضرات

صفحہ 286

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اس مقفی و مسجع کلام سے لطف اندوز ہونا چاہیں وہ علامہ عبد القاہر کی کتاب الفرق بین الفرق صفحہ ۱۳۴۔۱۳۵ اور کتاب الدعاۃ صفحہ ۶۴،۶۵ کی طرف رجوع فرمائیں۔

مختار ثقفی کے لشکر کی مصعب بن زبیر کے ہاتھوں عبرتناک شکست

ابراہیم بن اشتر گویا مختار کا دست راست تھا مختار کو جس قدر عروج نصیب ہوا وہ سب ابراہیم بن اشتر کی شجاعت، اولوالعزمی اور حسن تدبیر ہی کا رہین منت تھا۔ ابراہیم ہر میدان میں مختار کے دشمنوں سے لڑا اور اس کے علم اقبال کو ثریا تک بلند کر دیا لیکن جب ابراہیم کو معلوم ہو ا کہ مختار نے علی الاعلان نبوت اور نزول وحی کا دعویٰ کیا ہے تو وہ نہ صرف اس کی اعانت سے دست کش ہو گیا بلکہ بلاد جزیرہ پر قبضہ کر کے اپنی خود مختاری کا بھی اعلان کر دیا یہ دیکھ کوفہ کے ان اہل ایمان نے جو مختار کی ظالمانہ حرکتوں سے نالاں تھے بصرہ جا کر مصعب بن زبیر کو مختار پر حملہ آور ہونے کی تحریک کی کیونکہ مختار نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوفہ اور اس کے ملحقات کی حکومت چھین لی تھی اس کے علاوہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مخالفت میں بہت سی دوسری خون آشامیوں کا بھی مرتکب رہ چکا تھا اسلئے ان کے بھائی مصعب بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت دنوں سے انتقام کے لئے دانت پیس رہے تھے۔

جب رؤسائے کوفہ نے حملہ آور ہونے کی تحریک کی تو مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک لشکر جرار لے کر کوفہ کی طرف بڑھے جب مختار کو معلوم ہوا تو اس نے اپنے دو سپہ سالاروں کے ماتحت اپنی فوج روانہ کی جب لشکروں کی مڈ بھیڑ ہوئی تو مختار کے دونوں سپہ سالار احمر بن شمیط اور عبد اللہ بن کامل میدان جانستاں کی نذر ہو گئے اور بصریوں نے مختار کی فوج کو مار مار کر اس کے دھوئیں بکھیر دیئے جب مختار کو اپنے سپہ سالاروں کی ہلاکت اور اپنے لشکر کی بربادی کا علم ہوا تو کہنے لگا کہ موت کا آنا لازمی امر ہے اور میں جس موت میں مرنا چاہتا ہوں وہ وہی موت ہے جس پر ابن شمیط کا خاتمہ ہوا۔

جب مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوج نے خشکی اور تری کے دونوں راستے عبور کر کے پیش قدمی شروع کی تو مختار نے بھی بنفس نفیس کوفہ سے جنبش کی مختار نے سلحین کے سنگم پر ایک بند بندھوا کر دریائے فرات کا پانی روک دیا اس طرح فرات کا تمام پانی معاون دریاؤں میں

گستاخ رسول

چڑھ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ میں پھنس گئیں یہ حالت کر دی جب مختار کو اس کی اتنے میں مصعب بھی حر اب آتش حرب پڑا اور مقابلہ کی تاب نہ برسر مقابلہ رہی مختار نہایت ہوا تو مختار میدان جنگ مختار کی ہزیمت خوردہ فوج وحی آسمانی سے اطلاع پا بھگائیں گے مختار نے کہا حق تعالیٰ جس حکم کو قبضہ قدرت میں لوح محفو

محاصرہ میں محب

مختار اپنے میں ہزا واپس آ کر اپنے اپنے جا داخل ہوئی مصعب ر تک جاری رہا مختار ہر ر دو دو ہاتھ کر کے واپس بھی جو اس خود ساختہ محاصرین پر حملہ کرنے ....... ڈالا جاتا محاصرین سخت زبوں حال ہو گئی

صفحہ 287

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

چڑھ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصری فوج جو کشتیوں پر سوار ہو کر چلی آ رہی تھی انکی کشتیاں کیچڑ میں پھنس گئیں یہ حالت دیکھ کر بصریوں نے کشتیاں چھوڑ دیں اور پا پیادہ پیش قدمی شروع کر دی جب مختار کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے آگے بڑھ کر حرورا کے مقام پر مورچہ بندی کی اتنے میں مصعب بھی حرورا پہنچ گئے جو ولایت بصرہ و کوفہ کی حد فاصل ہے۔

اب آتش حرب شعلہ زن ہوئی اس لڑائی میں مختار کی فوج کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور مقابلہ کی تاب نہ لا کر سخت بدحالی کے ساتھ بھاگ کھڑی ہوئی جتنی دیر تک فوج برسر مقابلہ رہی مختار نہایت بے جگری سے لڑتا رہا آخر فوج کی ہزیمت پر وہ بھی پسپائی پر مجبور ہوا تو مختار میدان جنگ سے بھاگ گیا اور کوفہ پہنچ کر قصر امارت میں محصور ہو گیا دوسرے دن مختار کی ہزیمت خوردہ فوج بھی کوفہ پہنچ گئی مختار کی فوج کا ایک افسر اس سے کہنے لگا کیا آپ نے وحی آسمانی سے اطلاع پا کر ہم سے فتح و ظفر کا وعدہ نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ ہم دشمن کو مار بھگائیں گے مختار نے کہا کیا تم نے کتاب اللہ میں یہ آیت نہیں پڑھی جس کا ترجمہ ہے۔

حق تعالیٰ جس حکم کو چاہتا ہے محو کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بحال رکھتا ہے اور اس کے قبضہ قدرت میں لوح محفوظ ہے۔

محاصرہ میں بھوک و پیاس سے تنگ آ کر قلعہ سے باہر نکلنا

مختار اپنے بیس ہزار پیرو حرورا لے گیا تھا ان میں سے ایک بڑی تعداد ماری گئی کچھ کوفہ واپس آ کر اپنے اپنے گھروں میں روپوش ہو گئے اور آٹھ ہزار دام افتادہ مختار کے پاس قصر میں جا داخل ہوئے مصعب رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے کوفہ آ کر قصر کا محاصرہ کر لیا محاصرہ قریب چار مہینہ تک جاری رہا مختار ہر روز اپنے سالے کے ساتھ قصر میں سے برآمد ہوتا اور محاصرین سے دو دو ہاتھ کر کے واپس جاتا محصورین کی حالت دن بدن نازک ہونے لگی یہ دیکھ کر وہ اہل شہر بھی جو اس خود ساختہ نبی کے مخالف تھے دلیر ہو گئے نتیجہ یہ ہوا کہ جب کبھی مختار کے سوار محاصرین پر حملہ کرنے کو قصر سے نکلتے مکانوں کی چھتوں سے ان پر اینٹیں پتھر کیچڑ اور غلیظ پانی ...... ڈالا جاتا محاصرین نے سامان رسد کی آمد بالکل مسدود کر رکھی تھی اسلئے محصورین کی حالت سخت زبوں حال ہو گئی۔

صفحہ 288

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

مصعب بن زبیرؓ کے ہاتھوں مختار کذاب اور اس کی بیوی کا انجام

جب محاصرہ کی سختی ناقابل برداشت ہوئی تو مختار اپنے دام افتادوں سے کہنے لگا یاد رکھو کہ محاصرہ جس قدر طویل ہوگا تمہاری طاقت جواب دیتی جائے گی اس لئے بہتر ہے کہ باہر جا کر کھلے میدان میں داد شجاعت دیں اور لڑتے لڑتے عزت سے جانیں دے دیں اور اگر تم بہادری سے لڑو تو میں اب بھی فتح کی طرف سے مایوس نہیں ہوں لیکن انہوں نے باہر نکل کر مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا البتہ اٹھارہ آدمیوں نے رفاقت اور جانبازی پر آمادگی ظاہر کی اب مختار خوشبو اور عطر لگا کر باہر نکلا اور اٹھارہ آدمیوں کی رفاقت میں مقابلہ شروع کر دیا تھوڑی دیر میں تمام ساتھی لقمہ اجل ہو گئے آخر مختار خود بھی ان مقتولوں کے ڈھیر پر ڈھیر ہو گیا۔

اب بصری فوج نے مختاریوں کو پابجولاں باہر نکالا اور مصعبؓ نے سب کے قتل کا حکم دیا چنانچہ سب کے سب نہنگ شمشیر کے حوالے کئے گئے مقتولوں کی تعداد چھ ہزار تھی مصعبؓ کے حکم سے مختار کے دونوں ہاتھ کاٹ لئے گئے اور مسجد کے پاس کیلوں سے ٹھونک کر تشہیر کے لیے نصب کر دیئے گئے مصعبؓ نے مختار کی بیوی عزہ بنت نعمان سے پوچھا کہ مختار کے دعوائے نبوّت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اس نے کہا وہ خدا کا نبی تھا اس جواب پر مصعبؓ نے اسے قید خانہ میں بھیج دیا اور اس کے متعلق اپنے بھائی جناب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھ بھیجا کہ مختار کی بیوی کہتی ہے کہ وہ نبی تھا اس سے کیا سلوک کیا جائے۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خواہر زادہ تھے لکھ بھیجا کہ اگر اس کا یہی عقیدہ ہے تو موت کے گھاٹ اتار دی جائے چنانچہ رات کی تاریکی میں اسے حرورا اور کوفہ کے درمیان لے گئے پولیس کے ایک آدمی نے جس کا نام مطر تھا تلوار کے تین ہاتھ رسید کیے عزہ نے عرب کے دستور کے بموجب اپنے اعزہ کو پکارا عزہ کے بھائی ابان بن نعمان نے یہ فریاد سنی تو فوراً مطر کی طرف جھپٹا اور زور سے اس کے تھپڑ رسید کیا مطر اس کو پکڑ کر مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گیا انہوں نے حکم دیا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ اپنی ہمشیرہ کے قتل کا وحشت انگیز منظر دیکھ کر کسی طرح برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

(ابن جریر طبری وابن کثیر)

گستاخ رسول کا عبرتناک ا موضوع ..... 10

صحابہ کرام کے

اور گستاخان ر

مدینہ کی مٹی کو خراب کہ

ایک شخص نے کہا کہ مدینہ نے فتویٰ دیا کہ اسے تیس درے اور فرمایا کہ: ایسا شخص تو اس لائق ہے رسول اللہ ﷺ کا آرام فرما ہ

سنت کی خلاف

رکھا کرتا تھا۔ مگر روزہ دیر سے کھو اس کے بازو اور کپڑے پکڑ کر شد سے کہتا ہے ”مجھے اس میں کیوں خلاف کیا کرتا تھا آپ ﷺ اس خواب کے بعد جب چہرے پر نقاب ڈالے رہتا تھا کیا یہ حیرت انگیز بات

صفحہ 289

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع.......10

صحابہ کرام کے بعد کے گستاخان رسولؐ

اور گستاخان ازواج مطہرات کے واقعات

مدینہ کی مٹی کو خراب کہنے والے کے بارے میں امام مالک کا فتویٰ

ایک شخص نے کہا کہ مدینہ طیبہ کی مٹی خراب ہے۔ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فتویٰ دیا کہ اسے تیس درے مارے جائیں اور قید کیا جائے......

اور فرمایا کہ: ایسا شخص تو اس لائق ہے کہ اس کی گردن مار دی جائے وہ (مقدس) زمین جس میں رسول اللہ ﷺ آرام فرما رہے ہیں اس کی نسبت وہ گمان کرتا ہے کہ وہ خراب ہے۔

سنت کی خلاف ورزی کرنے پر چہرے کا سیاہ ہو جانا

رکھا کرتا تھا۔ مگر روزہ دیر سے کھولا کرتا تھا ایک دن اس نے خواب میں دیکھا کہ دو سیاہ فام آدمی اس کے بازو اور کپڑے پکڑ کر شعلے والے تنور میں اسے ڈالنے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ وہ ان سے کہتا ہے ”مجھے اس میں کیوں ڈالتے ہو؟“ کہتے ہیں کیونکہ تو رسول اللہ ﷺ کی سنت کے خلاف کیا کرتا تھا آپ ﷺ نے تو جلدی روزہ کھولنے کا حکم دیا تھا مگر تو دیر کر کے کھولا کرتا تھا۔ اس خواب کے بعد جب وہ اٹھا تو اس کا چہرہ آگ کے شعلوں سے سیاہ ہو گیا تھا اور وہ چہرے پر نقاب ڈالے رہتا تھا۔ کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ ایک شخص خواب میں سخت بھوک یا پیاس یا درد محسوس کرتا

صفحہ 290

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہے اور کوئی خواب ہی میں اسے پانی پلا دیتا ہے کھانا کھلا دیتا ہے یا دوا دے دیتا ہے۔ پھر اس کی آنکھ کھلتی ہے تو بھوک پیاس اور درد سب جاتا رہتا ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے اکثر لوگوں کے عجائبات دیکھے ہیں۔

اذان میں شہادتیں سن کر گستاخی کرنے والے کا عبرتناک انجام

نصرانی مدینے میں اذان میں جب اشھدان محمدا رسول اللہ سنتا تو کہتا کذاب جل جائے۔ ایک مرتبہ رات کو اس کی خادمہ نے گھر میں آگ سلگائی کوئی چنگار اڑا جس سے گھر میں آگ لگ گئی وہ شخص اور اس کا گھر بار سب جل کر خاک ہو گیا۔

(تفسیر ابن کثیر ۱۱۴/۱)

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی توہین کرنے والے کو قتل کرنا

ایک روز میں طبرستان میں داعی اسلام الحسن بن زید کے پاس تھا۔ ان کے پاس بیٹھے ہوئے ایک شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو گالی دی یہ سن کر الحسن بن زید نے اپنے ملازم کو آواز دی اور اسے اس کفر گو کی گردن مارنے کا حکم دیا اور پھر حکم فی الفور بجالایا گیا۔

اماں عائشہؓ کی توہین پر محمد بن زید کے ہاتھوں ایک شخص کا قتل

اور اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو گالی دی محمد بن زید کھڑے ہو گئے ایک موٹی چھڑی ہاتھ میں لی اور اس شخص کے سر پر دے ماری جس سے وہ فوراً مر گیا پھر انھوں نے کہا: یہ اسی سزا کا مستحق تھا۔

فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گستاخ کا مامون الرشید کے ہاتھوں قتل

میں نے قاسم بن محمد کو حضرت اسمعیل بن اسحاق سے یہ کہتے سنا:

گستاخ رسول کا عبرتنا ایک آدمی جو حضرت فا المامون نے قتل کر دیا۔

شاتم رسول کے قتل کی

رسول اللہ ﷺ کے بارے کیا ہے۔ علی بن المدینی ایک مر کیا تم کو کوئی ایسی حدیث معل المدینی نے اثبات میں جو حدیث سنائی جس میں حضر جس پر خلیفہ نے علی بن المد

ایوب بن

اسلامی ہوتا جا رہا تھا لیکن ک واقعہ صاحب المصنف ہی ایوب بن یحییٰ (جو عدن پہنچے تو ان کے سامنے کی تھی۔ ایوب نے اس پاداش میں اس کے قتل کا نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ م بارے میں عبدالملک کو ا

صفحہ 291

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ایک آدمی جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنت رسول اللہ ﷺ کو گالی دیا کرتا تھا اس کو المامون نے قتل کر دیا۔

شاتم رسول کے قتل کی مستند حدیث سنانے پر ایک ہزار درہم انعام پانا

رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ایک اور واقعے کا ذکر علی بن المدینی کے حوالے سے اس طرح کیا ہے۔

علی بن المدینی ایک مرتبہ خلیفہ ابن عبدالملک کے پاس آئے تو اس نے ان سے پوچھا کیا تم کو کوئی ایسی حدیث معلوم ہے جو شاتم رسول اللہ ﷺ کے بارے میں مستند ہو علی بن المدینی نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے عبد الرزاق بن ہمام صاحب المصنف کی وہ حدیث سنائی جس میں حضرت خالد بن ولید نے آپ ﷺ کے حکم پر شاتم رسول کو قتل کیا تھا جس پر خلیفہ نے علی بن المدینی کو خوش ہو کر ایک ہزار دینار بطور انعام دیئے۔

ایوب بن یحییٰ کا شاتم رسول نصرانی کا قتل کروانا

اسلامی ہوتا جا رہا تھا لیکن ملک کا قانون عام شریعت ہی کے تابع تھا۔ اس ضمن میں ہم ایک واقعہ صاحب المصنف ہی کے حوالہ سے یہاں نقل کر رہے ہیں جو اس طرح بیان ہوا ہے۔

ایوب بن یحییٰ (جو عبد الملک کے دور حکومت میں حاکم عدن مقرر ہوئے تھے) جب عدن پہنچے تو ان کے سامنے ایک نصرانی کو لایا گیا جس نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ ایوب نے اس کے بارے میں عبدالرحمٰن صنعانی سے مشورہ کیا جنہوں نے اس جرم کی پاداش میں اس کے قتل کا فتویٰ دیا تو اسے قتل کر دیا گیا عبدالرحمٰن صنعانی وہ بزرگ ہیں جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اکتساب علم کیا اور ان کے تربیت یافتہ ہیں پھر ایوب نے اس بارے میں عبد الملک کو اس کی اطلاع دی جس نے جواب میں کہا تم نے بالکل ٹھیک کیا ہے۔

صفحہ 292

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ملحد و زندیق کا حشر دنیا میں عذاب شروع

اس کے منہ سے چادر ہٹائی تو دیکھا کہ ایک بہت ہی کالے رنگ کا سانپ اس کے حلق کے اندر سے جھانک رہا ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ سانپ کو دیکھتے ہی میں نے اس سے کہا کہ اگرچہ تو خدا کی طرف سے مامور ہے مگر ہم مسلمانوں کے یہاں غسل وکفن بھی ایک ضروری مسئلہ ہے لہذا جب تک ہم لوگ اس کام سے فارغ نہ ہو جائیں تو یہاں سے ہٹ جا۔

یہ سنتے ہی سانپ فوراً اس کے حلق کے اندر سے باہر آ گیا اور قریب ہی کونے میں دبک کر بیٹھ گیا۔ پھر جونہی میت کے غسل وکفن سے فراغت ہوئی وہ جہاں سے آیا تھا وہیں تیزی کے ساتھ جا کر بیٹھ گیا۔ اس زمانے میں لوگوں نے اس شخص پر ملحد اور زندیق ہونے کا فتویٰ دے رکھا تھا۔

گستاخ رسول حاتم طلیطلی کو پھانسی کی سزا کا حکم

دیا تھا جس نے ایک مناظرے کے دوران نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ ﷺ کو یتیم اور علی کا خسر کہا تھا اور اس خیال کا اظہار کیا کہ آپ ﷺ کا زہد اختیاری نہیں تھا بلکہ اگر آپ ﷺ کو دنیوی نعمتیں میسر ہوتیں تو آپ ﷺ ان کو استعمال کرتے۔

گستاخ رسول کو پھانسی کی سزا اور بعد میں کتے کا خون پی جانا

طالب کی مجالس مناظرہ میں اکثر حاضر ہوا کرتا۔ اس پر یہ الزام عائد ہوا کہ اس نے اپنے بہت سے اشعار میں اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی انبیاء علیہم السلام اور سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔

اسے قاضی یحییٰ بن عمر کی عدالت میں پیش کیا گیا اس وقت عدالت میں دوسرے بہت سے نامور فقہاء تھے قاضی نے اس کی پھانسی اور قتل کا حکم دیا چنانچہ اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

صفحہ 293

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

بعض مؤرخین نے لکھا ہے کہ جب پھانسی کی لکڑی ہٹائی گئی تو وہ لکڑی خود بخود چکر کھانے لگی جب اس کا چہرہ قبلہ کی طرف سے پھر گیا تو لکڑی ٹھہر گئی لوگوں نے اس واقعہ کو اللہ کی ایک نشانی سمجھ کر بلند آواز سے تکبیر کہی اس کے بعد ایک کتا آیا اور ابراہیم کا خون پی گیا یحییٰ بن عمر نے کہا آپ ﷺ نے سچ ارشاد فرمایا ہے کہ کتا مسلمان کا خون نہیں پیتا۔

خلیفہ موسیٰ بن مہدی کا گستاخ رسول کے سر قلم کا حکم

کو قرآن وحدیث کی روشنی میں ہی تسلیم کیا اس زمانے میں طرح طرح کے (یونانی اور ایرانی) فلسفے اسلام میں داخل کئے جارہے تھے ہادی نے ان سب کی سرکوبی کے لئے بڑی کوشش کی۔ اس نے ملحدوں اور زندیقیوں کے خلاف سخت رویہ رکھا اس نے اپنی خلافت کے زمانے میں بدعقیدہ لوگوں ، ملحدوں اور زندیقیوں کی بھاری تعداد قتل کرائی ملحدانہ عقیدہ ’مانی‘ کا خلیفہ سخت دشمن تھا اس کو مٹانے کی بھی بڑی کوشش کی۔ اس کا یقین تھا کہ ایمان کی بنیاد رسول اللہ ﷺ سے محبت ہے جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخانہ لفظ کہے اس کا سر قلم کر دیا جائے۔

ایک مرتبہ ایک شخص خلیفہ ہادی کے دربار میں گرفتار کر کے لایا گیا کہ وہ قبیلہ قریش کے لوگوں کو گالیاں دیتا تھا ہادی نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے بلا استثناء ذات نبوی (ﷺ) کے تمام اہل قریش کو گالیاں دی ہیں۔

اس نے اپنے جرم کا اقبال کرتے ہوئے کہا کہ ہاں میں نے بلا استثناء سب کو برا بھلا کہا ہے۔ ہادی نے جلاد کو حکم دیا کہ چونکہ اس نے قریش کو گالیاں دینے میں رسول اللہ ﷺ کی پاک ذات کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا ہے اس طرح رسول اللہ ﷺ کی اہانت کا مرتکب ہوا اس لئے اس کا سر قلم کر دو چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا۔

(تاریخ خطیب ج ۲۲ مروج الذہب جلد ۲ ص ۱۶)

ہارون الرشید کا حب رسول ﷺ کے ساتھ والہانہ تعلق کا واقعہ

پہنچی ہے کبھی اس میں سلیمان بن عبدالملک جیسے نا عاقبت اندیش اور عبداللہ سفاح جیسے ظالم

صفحہ 294

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام خلیفہ ہوئے اور کبھی نادر شاہ درانی جیسے بے رحم بادشاہ ہوئے لیکن عمر بن عبدالعزیز، ہارون الرشید، ناصر الدین محمود اور نگزیب جیسے دیندار نیک صالح اور پابند شریعت حکمرانوں سے بھی خالی نہیں ہے۔

ہارون الرشید بڑے نیک، دیندار علم دوست اور شریعت کے پابند خلیفہ تھے، جہاد کا بڑا ولولہ رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ ابو معاویہ نے ان سے ایک حدیث بیان کی جس میں رسول اللہ ﷺ کی شہادت پانے کی تمنا کا اظہار تھا حدیث سن کر روتے روتے ہارون کی ہچکیاں بندھ گئیں اس کا یہ اثر ہوا کہ وہ ہر دوسرے سال جہاد میں خود شریک ہوتے تھے ہارون الرشید (۱۹۳ھ) رسول اللہ ﷺ کی محبت سے سرشار تھے حدیث رسول سننے کے بہت شوقین تھے اکثر حدیث سن کر رونے لگتے تھے کبھی کبھی اتنا روتے تھے کہ ہچکی بندھ جاتی تھی جب ان کے سامنے آپ ﷺ کا اسم مبارک آتا تو کہا کرتے صَلَّی اللہُ عَلٰی سَیِّدِی۔

ایک مرتبہ ابو معاویہ نے ایک حدیث بیان کی ایک شخص نے اس حدیث پر اعتراض کیا یہ اعتراض سن کر ہارون الرشید غضبناک ہوئے تھے جوش اور غصہ سے کانپنے لگے اور کہا یہ شخص زندیق ہے رسول اللہ ﷺ کی حدیث پر اعتراض کرتا ہے میری تلوار لا دو میں اس زندیق کا سر ابھی قلم کرتا ہوں۔

ابو معاویہ نے مشکل سے سمجھا بجھا کر ہارون الرشید کا غصہ ٹھنڈا کیا اور اس شخص کی جان بچائی۔

روضہ مبارک کی توہین کا ارادہ کرنے والے کا عبرت ناک انجام

حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے قبر انور کے حجرہ کی دیواروں کو منہدم کرنے کا حکم دیا۔ دیوار گرتے ہی قبر انور نظر آنے لگی ایک رومی معمار نصرانی تھا اس نے یہ دیکھ کر کہ اس وقت مسجد میں کوئی مسلمان موجود نہیں ہے اپنے نصرانی ساتھیوں سے کہا کہ پیغمبر اسلام (ﷺ) کی قبر پر پیشاب کروں گا۔ (معاذ اللہ) اس کے ساتھیوں نے اس کو اس ناپاک ارادہ سے ہر چند منع کیا مگر وہ ملعون نہیں مانا لیکن وہ ابھی اس ارادہ سے چلا ہی تھا کہ اوپر سے ایک پتھر اس کے سر پر گرا اور اس کا بھیجا پاش پاش ہو کر بکھر گیا یہ معجزہ دیکھ کر بہت سے

گستاخ رسول کا ع

نصرانی معمار اسی وقت مس

سنت نبوی ﷺ

کی فضیلت پر بیان کر رہا نے مسواک کرنے کی پاب مبارک پر قلم کی طرح ر گنا زیادہ ہو جاتا ہے، م خوشنودی کا باعث ہے ش کا یاد دلاتا ہے جس کی ہر م از ہیں فوائد رکھتی ہے۔ ب

لوگو! اس سے غاف ہے کہ آقائے دو جہاں ب سے تقریر سن رہے تھے ی

مجمع سے ایک بدب الاعلان اپنی گندی زبان مقعد (پاخانہ کی جگہ) می

اس بے حیا نے ی باہر نکال لیا۔ اس بے ح کی جگہ میں برابر تکلیف تھا۔ اس کی شکل وصور بالشت لمبی دم پچھلا ح

اس ہوش ربا ع کا منہ کچل ڈالا ابواس

صفحہ 295

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

نصرانی معمار اسی وقت مشرف بہ اسلام ہو گئے۔

(وفاء الوفا جلد۳ ص۵۱۹)

سنت نبوی ﷺ کا مذاق اڑانے پر عذاب الٰہی میں گرفتار ہونا

کی فضیلت پر بیان کررہا تھا کہ مسواک وضو میں مسنون ہے سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ نے مسواک کرنے کی بار بار تاکید فرمائی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ حالت تھی کہ مسواک کان مبارک پر قلم کی طرح رکھتے تھے جس وضو میں مسواک استعمال ہو اس وضو والی نماز کا ثواب ستر گنا زیادہ ہوجاتا ہے، مسواک پل صراط پر سے جلدی گزرنے میں معاون ہے، پروردگار کی خوشنودی کا باعث ہے شیطان کو ناراض کرتی ہے۔ سب سے بڑی خوبی موت کے وقت شہادتین کا یاد دلانا ہے جس کی ہر مسلمان مومن دلی آرزو رکھتا ہے ایسی ادائے محبوب ہے جو اپنے اندر بیش از بیش فوائد رکھتی ہے۔

لوگو! اس سے غافل نہ ہونا جبکہ ہمیں فخر عالم ﷺ کی محبت کی پر تاثیر عقیدت کا حکم ہے کہ آقائے دو جہاں کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرو عقل میں آئے یا نہ آئے تمام سامعین خاموشی سے تقریر سن رہے تھے۔

مجمع سے ایک بدبخت ابو اسلام نامی نے اٹھ کر سنت محبوب ﷺ کا مذاق اڑایا اور علی الاعلان اپنی گندی زبان سے بکواس کرتا رہا بڑی ڈھٹائی سے کہنے لگا کہ میں مسواک کو اپنے مقعد (پاخانہ کی جگہ) میں استعمال کروں گا (معاذ اللہ)

اس بے حیا نے بھری محفل میں مسواک کو اپنے پاخانے والی جگہ میں رکھ کر تھوڑی دیر بعد باہر نکال لیا۔ اس بے حیانہ حرکت کرنے پر نو مہینے گزرے اس دوران اس کے پیٹ اور پاخانے کی جگہ میں برابر تکلیف رہتی تھی نویں مہینے اس کے پیٹ سے ایک جانور نکلا جو چوہے سے مشابہ تھا۔ اس کی شکل وصورت یہ تھی کہ چار پاؤں تھے منہ مچھلی کی مانند چار دانت باہر کو نکلے ہوئے ایک بالشت لمبی دم پچھلا حصہ خرگوش کی مانند نکلنے کے بعد جانور زور سے چیخا۔

اس ہوش ربا چیز کو ابو اسلام کی لڑکی نے بھی دیکھا۔ اس لڑکی نے ایک پتھر سے اس جانور کا منہ کچل ڈالا ابو اسلام جانور کو جننے کے بعد دو دن زندہ رہا تیسرے دن یہ کہتے ہوئے مرا کہ

صفحہ 296

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

مجھے اس جانور نے قتل کر دیا ہے اس حیرت انگیز جانور کو اس اطراف کے بہت سے لوگوں دیکھا کتنوں نے اس جانور کو زندہ دیکھا اور بہت سوں نے مردہ دیکھا۔

صلیبیوں کو جنگ حطین میں عبرتناک شکست

ہا سال تک معرکہ آرائیاں جاری رہیں آخر مختلف جنگی کارروائیوں اور مقابلوں کے بعد وہ معر کہ پیش آیا جو تاریخ میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے اور جس نے فلسطین کی مسیحی سلطنت کا خاتمہ اور صلیبیوں کی قسمت کا فیصلہ کر دیا یہ حطین کی جنگ تھی جو ہفتہ کے دن ۲۴ ربیع الآخر ۵۸۵ھ ۱۱۸۷ء کو پیش آئی اور جس میں مسلمانوں کو فتح مبین حاصل ہوئی۔

مسیحی لشکر کے چیدہ اور منتخب جواں مرد قید کر لئے گئے گائی بادشاہ یروشلم اور اس کا بھائی چاٹیلون (حطین) کا ریجی نالڈ اور بڑے بڑے عیسائی شرفاء گرفتار کر لئے گئے ......باقی فلسطین کے تمام عیسائی بہادر اور شہسوار مسلمانوں کے پہرے میں تھے مسیحی لشکر کے معمولی سپاہی پیدل اور سوار جو زندہ بچے تھے سب مسلمانوں کے اسیر ہوگئے تھے ایک ایک مسلمان سپاہی تیس تیس عیسائیوں کو جنہیں خود اس نے گرفتار کیا تھا خیمے کی رسی میں باندھے جاتا دیکھا گیا ٹوٹی ہوئی صلیبوں اور کٹے ہوئے ہاتھ پاؤں میں مردوں کے ڈھیر اس طرح لگے تھے جیسے پتھر پر پتھر پڑے ہوں اور کٹے ہوئے سر زمین پر اس طرح بکھرے پڑے تھے جیسے خربوزوں کے کھیت میں خربوزے پڑے نظر آئیں ...... مدتوں تک جنگ کا یہ میدان جس میں یہ خونی لڑائی ہوئی تھی اور جہاں بیان کیا جاتا تھا کہ تیس ہزار آدمی مارے گئے تھے مشہور روایت کے مطابق ایک سال کے بعد سفید سفید ہڈیوں کے تو دے اور ڈھیر دور سے لوگوں کو نظر آتے تھے اور جانوروں کے کھانے کے بعد جو ٹکڑے لاشوں کے بچے تھے وہ بھی میدان میں جابجا پڑے دکھائی دیتے تھے۔

اس فتح کے ساتھ یہ واقعہ بھی تاریخ میں یادگار رہے گا جس سے سلطان کی دینی حمیت اور اس کی قوت ایمانی کا اندازہ ہوتا ہے مناسب ہے کہ واقعہ بھی ہم انگریز مؤرخ کی زبانی ہی سنیں۔

صفحہ 297

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سلطان صلاح الدین کا عیسائی ریجی نالڈ کو گستاخی اور بد عہدی پر قتل کرنا

سلطان صلاح الدین نے اپنا خیمہ لڑائی کے میدان میں نصب کرایا جب خیمہ نصب ہو گیا تو حکم دیا کہ قیدی سامنے حاضر کئے جائیں یروشلم کے بادشاہ گائی اور ریجی نالڈ چاٹیلون (حطین) دونوں اندر لائے گئے سلطان نے بادشاہ یروشلم کو اپنے پہلو میں بٹھایا اور اسے پیاسا دیکھ کر برف میں سرد کئے ہوئے پانی کا کٹورا دیا گائی نے پانی پیا اور پانی کا کٹورا بچا کر ریجی نالڈ کو دیا سلطان یہ دیکھ کر ناخوش ہوا اور ترجمان سے کہا کہ بادشاہ گائی نے اپنے بھائی کو پانی دیا ہے ہم روٹی اور نمک جسے دیتے ہیں وہ محفوظ سمجھا جاتا ہے مگر یہ آدمی اس قسم کی حفاظت میں بھی میرے انتقام سے نہیں بچ سکتا۔ صلاح الدین اتنا کہہ کر کھڑا ہوا اور ریجی نالڈ کے سامنے آیا ریجی نالڈ جب سے خیمہ میں داخل ہوا تھا برابر کھڑا رہا تھا سلطان نے اس سے کہا سن ! میں نے تجھے قتل کرنے کی قسم دو مرتبہ کھائی تھی ایک مرتبہ تو اس وقت جب تو نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر حملہ کرنا چاہا تھا دوسری مرتبہ اس وقت جب تو نے دھوکے اور دغابازی سے حاجیوں کے قافلہ پر حملہ کیا تھا قاضی ابن شداد کی روایت میں ہے کہ جب ان بے کس حاجیوں نے اس سے انسانیت و شرافت کی درخواست کی تو اس نے گستاخانہ لہجے میں کہا کہ اپنے محمد سے کہو کہ تمہیں رہائی دلائیں یہ فقرہ صلاح الدین کو پہنچا اور اس نے منت مانی کہ اگر یہ بے ادب اس کے ہاتھ آئے گا تو اپنے ہاتھ سے اس کو قتل کروں گا ...... دیکھ میں اب تیری بے ادبی اور توہین کا انتقام لیتا ہوں اتنا کہہ کر صلاح الدین نے تلوار نکالی اور جیسا کہ عہد کیا تھا ریجی نالڈ کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا جو کچھ رمق باقی تھی اسے پہرے والوں نے آ کر ختم کر دیا۔

بادشاہ گائی اس قتل کو دیکھ کر لرز اٹھا کہ اب اس کی باری آئے گی صلاح الدین نے اس کو اطمینان دلایا اور کہا کہ بادشاہوں کا دستور نہیں کہ وہ بادشاہ کو قتل کریں اس شخص نے بار بار عہد شکنیاں کی تھیں اب جو کچھ گزر گیا گزر گیا۔

ابن شداد نے لکھا ہے کہ سلطان نے ریجی نالڈ کو طلب کیا اور کہا ”ها انا انصر لمحمد عليه الصلاة والسلام“ لو میں محمد ﷺ کا انتقام لیتا ہوں۔

صفحہ 298

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حارث دمشقی کذاب کے شیطانی تصرفات

مرشد ریاضت کشوں کے پاس آتا ہے اور طرح طرح کے سبز باغ دکھا کے کسی سے کہتا ہے کہ تو ہی مسیح موعود ہے، کسی کے کان میں یہ پھونکتا ہے کہ آنے والا مسیح تو ہی ہے، کسی کو حلال و حرام کی پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ کسی کے دل میں یہ ڈالتا ہے کہ تو اللہ کا نبی ہے اور وہ بدنصیب سچ یقین بھی کرلیتا ہے اور شیطان کی اس نورانی شکل اور آواز کو سمجھتا ہے کہ خود خداوند قدوس کا جمال دیکھ رہا ہے اور اسی سے ہم کلام ہے اور اس نے اس کو نبوت یا مہدویت کا منصب جلیل عطا کیا ہے۔

بڑے بڑے اولیاء کرام شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ اور ابو محمد خفاف جیسے بزرگوں پر بھی شیطان نے ایسا ہی شعبدہ دکھایا تھا مگر وہ لوگ گمراہ ہونے سے محفوظ رہے کیونکہ ان کا مجاہدہ اور ریاضت اپنے مرشد کے سائے میں طے ہوا تھا لیکن جو بے مرشد عابد و زاہد ریاضتیں اور مجاہدے کرتے ہیں وہ اکثر اس شیطانی اغواء کا شکار ہوجاتے ہیں جیسے حارث دمشقی اور ہمارے زمانے میں غلام احمد قادیانی۔

جو شخص بھوکا رہے کم سوئے ، کم بولے اور نفس کشی اختیار کر لے اس سے بعض دفعہ ایسے افعال صادر ہوجاتے ہیں جو دوسروں سے نہیں ہو سکتے ۔ ایسے لوگ اگر اہل اللہ میں سے ہوں تو ان کے ایسے فعل کو کرامت کہتے ہیں اور اگر اہل کفر یا گمراہ بدعتی لوگ ہوں تو ان کے ایسے فعل کو استدراج کہتے ہیں۔ یہ تصرفات محض ریاضت اور نفس کشی کا ثمرہ ہوتے ہیں تعلق با اللہ اور قرب حق سے ان کو کوئی دور کا واسطہ نہیں الا یہ کہ کسی متبع شریعت بزرگ سے ایسے افعال صادر ہوں چنانچہ حارث دمشقی اپنی ریاضت و مجاہدات اور نفس کشی کی بدولت ایسے تصرفات کرتا تھا مثلاً کہتا کہ آؤ میں تمہیں دمشق سے فرشتوں کو جاتے ہوئے دکھاؤں چنانچہ حاضرین محسوس کرتے کہ نہایت حسین و جمیل فرشتے بصورت انسان گھوڑوں پر سوار جارہے ہیں۔ موسم سرما میں گرمیوں کے اور گرمیوں میں جاڑوں کے پھل لوگوں کو کھلاتا۔

گستاخ رسول کا

حارث دمشقی

جب حارث کے ہونے لگی تو ایک دمشقی ر دعویدار ہوا اور کیا چاہتے ہ جھوٹا ہے حضرت ختم المر وہاں سے اٹھ کر سیدھا خ کے دعوائے نبوت اور لوگو کر کے دربار میں پیش کیا نے وہاں باقاعدہ اپنی نبو بصرہ کے ایک مج خیال کیا جس سے اس کی بہت عرصہ تک حارث ب میں اب اپنے وطن بصرہ شخص سیدھا خلیفہ عبدالملک اگر کچھ آدمی میرے ساتھ کروں گا۔ خلیفہ نے چاہ وہ بصری رات ک دیا اور کہا جب آواز دوں ت بصری چونکہ حارث آواز دی اور اس طرح ب مرتبہ حارث نے اپنا ش بصری بالکل متاثر نہیں ہ

صفحہ 299

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

حارث دمشقی کا قید ہو کر خلیفہ عبدالملک کے دربار میں پیش ہونا

جب حارث کے استدراج اور شعبدوں نے شہرت اختیار کرلی اور خلق خدا زیادہ گمراہ ہونے لگی تو ایک دمشقی رئیس قاسم بن بخیرہ اس کے پاس آیا اور دریافت کیا، کہ تم کس چیز کے دعویدار ہو اور کیا چاہتے ہو۔ حارث بولا میں اللہ کا نبی ہوں قاسم نے کہا اے دشمن خدا یا تو بالکل جھوٹا ہے حضرت ختم المرسلین ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو چکا ہے قاسم وہاں سے اٹھ کر سیدھا خلیفہ وقت عبدالملک بن مروان کے پاس گیا اور ملاقات کر کے حارث کے دعوائے نبوت اور لوگوں کی بداعتقادی کا تذکرہ کیا عبدالملک نے حکم دیا کہ حارث کو گرفتار کر کے دربار میں پیش کیا جائے لیکن جب پولیس پہنچی تو وہ بیت المقدس فرار ہو چکا تھا۔ حارث نے وہاں باقاعدہ اپنی نبوت کی دکان کھولی اور لوگوں کو گمراہ کرنے لگا۔

بصرہ کے ایک سمجھدار شخص نے حارث سے ملاقات کی اور بہت دیر تک اس سے تبادلہ خیال کیا جس سے اس کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور خلق خدا کو گمراہ کر رہا ہے۔ یہ شخص بہت عرصہ تک حارث کے ساتھ رہا اور جب اس کا اعتماد حاصل کر لیا تو حارث سے یہ کہہ کر میں اب اپنے وطن بصرہ جارہا ہوں اور وہاں آپ کی نبوت کی طرف لوگوں کو دعوت دونگا پھر وہ شخص سیدھا خلیفہ عبدالملک کی خدمت میں پہنچا اور حارث کی شرانگیزیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اگر کچھ آدمی میرے ساتھ آپ کر دیں تو حارث کو میں خود گرفتار کر کے آپ کے سامنے پیش کروں گا۔ خلیفہ نے چالیس سپاہی اس کے ساتھ کر دئیے۔

وہ بصری رات کے وقت حارث کی قیام گاہ پر پہنچا اپنے ساتھیوں کو قریب ہی کہیں چھپا دیا اور کہا جب آواز دوں تو سب اندر آ جانا۔

بصری چونکہ حارث کا معتمد تھا اس لئے کسی نے نہیں روکا اندر جاتے ہی ساتھیوں کو آواز دی اور اس طرح حارث کو پابہ زنجیر کر کے دمشق کے لیے روانہ ہوئے راستے میں دوسری مرتبہ حارث نے اپنا شعبدہ دکھایا اور زنجیر ہاتھ سے ٹوٹ کر زمین پر گر پڑی ایسا دو مرتبہ ہوا مگر بصری بالکل متاثر نہیں ہوا اور اس کو لے جا کر خلیفہ عبدالملک کے سامنے پیش کر دیا۔

صفحہ 300

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کذاب حارث کی موت کا حیرت انگیز واقعہ

خلیفہ نے حارث سے پوچھا کیا واقعی تم نبی ہو؟ حارث بولا بے شک! لیکن یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ جو کچھ میں کہتا ہوں وحی الٰہی کے مطابق کہتا ہوں خلیفہ نے ایک قوی ہیکل محافظ کو اشارہ کیا کہ اس کو نیزہ مار کے ہلاک کر دے اس نے ایک نیزہ مارا لیکن حارث پر کوئی اثر نہیں ہوا حارث کے مریدوں نے کہا کہ اللہ کے نبیوں کے اجسام پر ہتھیار اثر نہیں کرتے۔ عبدالملک نے محافظ سے کہا شاید تو نے بسم اللہ پڑھ کر نیزہ نہیں مارا۔ محافظ نے بسم اللہ پڑھ کر دوبارہ نیزہ مارا جو حارث کے جسم کے پار ہو گیا وہ بری طرح چیخ مار کر گر پڑا اور گرتے ہی ہلاک ہو گیا اور اس طرح خانہ ساز نبی اور اس کی نبوت اپنے انجام کو پہنچی۔

حارث کے بدن سے زنجیر ٹوٹ کر گرنے کے متعلق علامہ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان میں لکھا ہے حارث کی ہتھکڑیاں اتارنے والا اس کا کوئی موکل یا شیطان تھا اور اس نے فرشتوں کو جو گھوڑوں پر سوار دکھایا تھا وہ فرشتے نہیں جنات تھے۔

جھوٹے سوداگر یوحنا کے ساتھ عبرت ناک انجام

تھا قسم ہے محمد (ﷺ) کی میرے مال سے بہتر کہیں مال نہ ملے گا چاہے کتنا ہی ڈھونڈو گے۔ اس کے ہم پیشہ مسلمان تاجروں نے اس سے کہا یوحنا! تو ہمارے پیغمبر خدا ﷺ کا مقدس نام ہر وقت لیتا رہتا ہے کہ جو لوگ تجھ سے ناواقف ہیں وہ تجھے مسلمان سمجھیں! ہم ہرگز اس بات کو برداشت نہیں کرتے کہ جھوٹی باتوں پر تو ہمارے رسول مقبول ﷺ کا پاک نام لے کر ان ﷺ کی جھوٹی قسمیں کھائے۔

یوحنا نے معذرت کی کہ اس کی نیت یہ نہ تھی کہ مسلمان کے دل کو کسی طرح تکلیف پہنچے جھگڑا زیادہ بڑھا تو اس نے کہا اچھا اب میں تمہارے پیغمبر (ﷺ) کا نام کبھی نہ لوں گا اور لعنت ہے اس پر جو نام لے۔

لوگ یوحنا کو پکڑ کر قاضی کے پاس لائے جس نے اسے چار سو درے لگانے کا حکم دیا اس

صفحہ 301

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سزا کے بعد یوحنا کو گدھے کی دم کی طرف منہ کر کے سوار کرایا گیا اور اس صدا کے ساتھ اس کی تشہیر کی گئی کہ دیکھو یہ ہے سزا اس کی جو ہمارے پیغمبر ﷺ کی جناب میں بے ادبی کرتا ہے اس کے بعد اس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر زنداں میں ڈال دیا گیا۔

(عبرت نامہ اندلس جلد ۸، ۷۷)

شاتم رسول راہب اسحاق کی عبرت ناک موت

19...... اسحاق قرطبہ کے عیسائی ماں باپ کا بیٹا تھا۔ عربی زبان خوب جانتا تھا ابھی نو عمر ہی تھا کہ امیر عبدالرحمن کے دربار میں اس کو کتابت کی جگہ مل گئی۔ لیکن ۲۴ برس کی عمر میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر حبانوس کی مسیحی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو گیا۔ جہاں متعصب پادریوں کی اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف بے ہودہ تصانیف کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے اس کے غلیظ دل میں جوش پیدا ہوا کہ وہ اپنی جان دے کر بزرگی حاصل کرے...... ایک دن وہ مسیحی خانقاہ سے نکل کر قرطبہ پہنچا اور قاضی کے سامنے آ کر کہا:

میں آپ کا دین قبول کرنا چاہتا ہوں مہربانی کر کے آپ مجھے اس کی ہدایات کریں۔

قاضی اس سے خوش ہو کر اسے دین اسلام متعلق بتانے لگا تو اس نے برملا نبی کریم ﷺ پر سب و شتم کیا۔ جب قاضی نے سمجھایا تو اس کو بھی برا بھلا کہا قاضی نے اسے جیل بھیج دیا...... امیر عبدالرحمن نے اس گستاخ رسول (ﷺ) کی بابت حکم جاری کیا کہ:

اسے پھانسی دے دی جائے اور اس کی لاش کو کئی دن تک پھانسی پر اس طرح لٹکا رہنے دیا جائے کہ سر نیچے ہو اور پاؤں اوپر ہوں...... اس کے بعد لاش جلا کر اس کی راکھ دریا میں بہا دی جائے۔ چنانچہ جون ۸۵۱ء میں ان احکام کی تعمیل ہوئی۔

(عبرت نامہ اندلس)

صفحہ 302

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع....... 11

گستاخ رسول اللہ ﷺ کی توبہ کے واقعات

عمیر بن وہب کی گستاخی رسول سے توبہ کا واقعہ

”عمیر بن وہب مکہ کی معزز شخصیتوں میں سے اور قریش کا سردار تھا جنگ بدر کے بعد اس نے اپنی تلوار لی اسے زہر میں بجھایا اور رسول اللہ ﷺ سے انتقام لینے کے لیے مدینہ کی طرف روانہ ہوا جیسے ہی وہ مدینہ میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو مسلمانوں نے اسے قابو کر لیا اور رسول اللہ ﷺ کے روبرو لے آئے اس کا جرم ثابت ہو گیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اسے آزاد کر دیا۔ اس سے عمیر اتنا متاثر ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا اور اسلام کی اچھی طرح خدمت گزاری کے لیے بہت سال زندہ رہا۔“

صحابیؓ کی شاتم رسول والدہ کا نبی کی دعا سے مشرف بہ اسلام ہونا

ﷺ میری والدہ نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے آپ ﷺ نے جب ان کی طرف دیکھا تو اس کی بات میں حقیقت کو کھرا پایا۔ آپ ﷺ کے دل میں شفقت و محبت نے جوش مارا فرمایا کیا تم اجازت لینا پسند کرتے ہو یا کہ میں تمہاری والدہ کے لئے ہدایت کی دعا کروں؟ اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اگر ہدایت کی دعا فرمائیں تو زہے نصیب نبی ﷺ نے اس وقت دعا فرمائی وہ صحابی فوراً گھر کی طرف بھاگے کہ دیکھتا ہوں کہ میں گھر پہلے پہنچتا ہوں یا نبی ﷺ کی دعا پہلے قبول ہوتی ہے جب گھر پہنچے تو والدہ کو مسکراتے

صفحہ 303

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ہوئے دیکھا تو کہنے لگیں کہ میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ میں مسلمان ہوتی ہوں۔

فضالہ بن عمیر کا ارادہ قتل سے آنا اور قبول اسلام

”فضالہ بن عمیر بن الملوح اللیثی نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ طواف کعبہ میں مصروف تھے فضالہ اپنا منصوبہ بد کو عمل میں لانے کے لیے آیا لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے منصوبے کے متعلق وحی فرمادی جیسے ہی فضالہ نزدیک آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے اس کے ارادہ بد کے بارے میں پوچھا وہ بھونچکا سا رہ گیا اصل بات سے گریز کیا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہنے لگا کہ وہ وہاں صرف طواف کے لیے آیا ہے رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور کہا اے فضالہ اللہ سے معافی مانگو پھر رسول اللہ ﷺ نے فضالہ کی چھاتی پر ہاتھ رکھا اور اس کو تسکین دی شرمندہ ہو کر فضالہ نے اپنا منصوبہ ترک کر دیا اور تائب ہوا۔ وہ کہا کرتا تھا جیسے ہی رسول اللہ ﷺ نے میری چھاتی پر سے ہاتھ ہٹایا تو اللہ کی مخلوقات میں سے ان سے زیادہ محبوب مجھے کوئی نہ لگا۔“

(سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۴۱۷ مطبوعہ دارالاتحاد العربی طبع قاہرہ ۱۹۷۱ء)

ام جمیل کا آپ ﷺ کے اخلاق سے متاثر ہونا اور اسلام قبول کرنا

ہو گئی اس کی بقیہ زندگی کا تکلیف دہ وقت گزار رہی تھی قریب کے لوگوں کے پاس فرصت ہی نہیں تھی کہ ان غریبوں کے کھانے یا دوائی کے بارے میں پوچھ لیتے۔ اسی کسمپرسی کے عالم میں کئی دن گزر گئے۔

ایک مرتبہ بیٹی اپنی بیمار ماں کے پاس بیٹھی کچھ باتیں کر رہی تھی مگر ماں نقاہت کی وجہ

صفحہ 304

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سے جواب بھی نہیں دے پاتی تھی۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی ماں نے کہا بیٹی جاؤ دیکھو کون ہے؟ بیٹی دروازے پر آئی اور دروازہ کھول کر باہر دیکھا تو باہر نبی کریم ﷺ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ کھڑے تھے وہ یہ دیکھ کر بڑی حیران ہوئی بھاگ کر ماں کے پاس گئی اور کہا کہ جن کے اوپر تو کوڑا کرکٹ پھینکتی تھی آج وہ بدلہ لینے کے لیے اپنے دوستوں کو لے کر آ گئے ہیں ہمارے پلے تو کچھ نہیں ہے وہ تو ہمیں گلا گھونٹ کر جان سے مار دیں گے اس بیمار بڑھیا کے دل پر بہت پریشانی گزری! چنانچہ کہنے لگی اب ہم کیا کر سکتے ہیں پوچھو وہ ہمیں کیا کہتے ہیں ہم رحم کی اپیل کرلیں گے بہرحال ان کو آنے دو ہم ان سے معافی طلب کر لیں گے۔

چنانچہ نبی کریم ﷺ اندر تشریف لائے آپ ﷺ نے دیکھا کہ ام جمیل پریشان حال ہو کر بستر پر بیٹھی ہے نگاہیں نیچی ہیں پوچھتی ہے اے محمد ﷺ آج آپ نے یہاں کیسے قدم رنجہ فرمایا آپ فرماتے ہیں کہ کئی دنوں سے تو نے میرے اوپر کوڑا کرکٹ نہیں ڈالا تھا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ جو عورت آپ ﷺ پر کوڑا کرکٹ ڈالتی تھی وہ اب بیمار ہو چکی ہے لہٰذا تمہاری خیریت دریافت کرنے آیا ہوں اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر وہ کوڑا کرکٹ ڈالنے والی عورت عین اسی وقت کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئی۔

قید کی سختیوں سے مجبور ہو کر ابو طیب کا دعویٰ نبوت سے تائب ہونا

اپنے فعل پر ندامت ہو کر توبہ کی توفیق نصیب ہوئی۔ ابو طیب بھی ان نیک بخت لوگوں میں سے تھا جس کو حق تبارک و تعالیٰ نے اس کو اپنے مکر و فریب پر نادم ہو کر تائب ہونے کی سعادت بخشی اور یہ اس طرح ہوا کہ جب اس نے ملک شام میں نبوت کا دعویٰ کیا اور ایک کثیر تعداد میں لوگ اس کے ہم نوا ہونے لگے تو اس کے معتقدین کی کثرت دیکھ کر حمص کے حاکم ابولؤلؤ کو اس کی طرف سے خدشہ پیدا ہوا اور نہایت خاموشی اور راز داری سے ابو طیب کے سر پر جا پہنچا اور اس کو گرفتار کر قید خانے ڈال دیا۔ اس کے معتقدین کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں ہوئی

گستاخ رسول کا عبرتناک

اور ابو طیب ایک طویل عرصہ درد بھرا قصیدہ لکھا جس میں ان اس قصیدے کو پڑھ کر توبہ کر تو میں تجھے آزاد کر دو ایک دستاویز لکھ کر امیر کے ہو میں اپنی نبوت کے د گرامی پر ختم ہو گئی اب میں اس دستاویز پر بڑے سے آزاد کر دیا گیا۔

ابوطیب نے تائب ہو ہوا اور اپنے بنائے ہوئے

آپ ﷺ کو نقصان

سردارانِ مکہ نے ان کی گر مالک بن جعشم گھوڑے پہنچا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ ﷺ ہم گرفتار ہو کی حفاظت فرمائے گا چنا اتو اسے ایک آواز سنائی انھیں کوئی چوٹ ن سراقہ نے اس عا زہر آلود تیر چھوڑنے ک زمین میں دھنس گئیں او

صفحہ 305

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اور ابوطبیب ایک طویل عرصے تک قید و بند کی تکلیفیں برداشت کرتا رہا اور وہیں اس نے ایک درد بھرا قصیدہ لکھا جس میں اپنی تکالیف اور مصیبتوں کا ذکر کیا تھا۔

اس قصیدے کو پڑھ کر امیر کو رحم آیا اور وہ ابوطبیب سے کہنے لگا اگر تو اپنی جھوٹی نبوت سے توبہ کر تو میں تجھے آزاد کر دوں گا۔ ابوطبیب نادم ہوا اور اپنی نبوت کے دعوے سے توبہ کی اور ایک دستاویز لکھ کر امیر کے سپرد کی اس دستاویز میں لکھا تھا:

میں اپنی نبوت کے دعوے میں جھوٹا تھا نبوت خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی پر ختم ہو گئی اب میں توبہ کر کے از سر نو اسلام کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

اس دستاویز پر بڑے بڑے سر برآوردہ لوگوں کی شہادتیں مہر کی گئیں اور ابوطبیب کو قید سے آزاد کر دیا گیا۔

ابوطبیب نے تائب ہونے کے بعد اقرار کیا کہ وحی کا ایک لفظ بھی مجھ پر کبھی نازل نہیں ہوا اور اپنے بنائے ہوئے قرآن کو خود ہی تلف کر دیا۔

آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کے لئے جانے والے کا قبولِ اسلام

سردارانِ مکہ نے ان کی گرفتاری یا قتل کے عوض ایک سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا سراقہ بن مالک بن جعشم گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے تعاقب میں چل نکلا جب نزدیک پہنچا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو آواز دیتے ہوئے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم گرفتار ہوئے لیکن رسول اللہ ﷺ بالکل پر سکون اور پر اعتماد رہے کہ اللہ ان کی حفاظت فرمائے گا جب سراقہ نے اپنا زہر آلود تیر رسول اللہ ﷺ کی طرف چھوڑنے لگا تو اسے ایک آواز سنائی دی جو کہہ رہی تھی:

انھیں کوئی چوٹ یا نقصان نہ پہنچاؤ۔

سراقہ نے اس آواز کی طرف بالکل دھیان نہیں دیا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنا زہر آلود تیر چھوڑنے کی کوشش کرتا رہا اس پر اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور اس کی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں اور وہ زمین پر آ رہا سراقہ کو احساس ہو گیا کہ کوئی قوتِ قاہرہ اسے رسول

صفحہ 306

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

اللہ ﷺ کے قتل کے منصوبے پر عمل کرنے سے منع کر رہی ہے وہ دہشت زدہ ہو گیا اور قبل اس کے کہ مزید مصیبت سے اس کا سابقہ ہو اس نے واپسی کا فیصلہ کر لیا لیکن اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ کسی پر اسرار روحانی تحفظ سے سرفراز ہیں سراقہ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے حفظ وامان کی ایک تحریری درخواست کی رسول اللہ ﷺ نے بطیب خاطر یہ تحریر امان اسے دیدی آپ ﷺ کی عطا کردہ امان کے تحت وہ مکہ واپس آگیا اس نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔

(محمد آئیڈیل نبی سلیمان ندوی صفحہ ۱۲۳)

عمیر بن وہب بن خلف کا قبول اسلام کا واقعہ

کعبہ کے پاس مقام حجر اسود میں بیٹھ کر بدر میں اپنے ہلاک ہونے والے لوگوں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ صفوان نے کہا اپنے آدمیوں کے قتل ہونے کے بعد زندگی کا مزہ جاتا رہا۔ عمیر نے کہ سچ ہے میں قرض دار ہوں میرے پاس ادا کرنے کو کچھ نہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ میرے بعد میری اولاد تباہ ہو جائے گی اگر یہ اندیشہ اور ڈر نہ ہوتا تو میں جا کر محمد (ﷺ) کو قتل کر دیتا میرا ایک بیٹا محمد (ﷺ) کی قید میں ہے اس بہانے میں وہاں تک پہنچ بھی سکتا ہوں صفوان نے یہ بات غنیمت سمجھی اور عمیر کا قرض چکانے اور اس کی اولاد کی خبر گیری کا وعدہ کرلیا۔ عمیر نے کہا میرے اس ارادے کا کسی سے نہ کہنا اور نہ کسی کو خبر کرنا عمیر نے تلوار زہر میں بجھائی اور مدینہ کو چل دیا مسجد نبوی کے پاس اونٹ کو بٹھایا تلوار گردن میں لٹک رہی تھی حضرت عمر رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ نے دیکھتے ہی کہا کہ یہ دشمن خدا کسی بری نیت سے آیا ہے آپ ﷺ تک اس کے آنے کی خبر پہنچائی آپ ﷺ نے فرمایا عمیر کو میرے پاس لے آؤ حضرت عمر رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اس کی تلوار اپنے قبضے میں لے کر کے اسے اپنے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں لے آئے۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کیوں آئے ہو؟ اس نے کہا اپنے قیدی بیٹے کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی سفارش کرنے آیا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ تلوار گردن میں لٹکانے کی کیا ضرورت تھی۔ اس نے کہا یہ تلوار کس کام کی ہے (یعنی اس نے بدر میں کون سے جوہر دکھائے تھے ) آپ ﷺ نے فرمایا سچ سچ بیان کر تو کس مقصد

صفحہ 307

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کے لیے آیا تھا اس نے پھر وہی قیدی کے ساتھ حسن سلوک کا مقصد بتایا۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے حقیقت کو بیان فرمایا تم اور صفوان مقام حجر اسود میں جمع ہوئے تھے اور یہ باتیں تم میں ہوئیں اور پھر تم صفوان کی ذمہ داری پر مجھے قتل کرنے آئے ہو جب یہ بات رسول اللہ ﷺ سے عمیر نے سنی تو فوراً پکار اٹھا۔

اشہد انک رسول الله

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

میرے اور صفوان کے سوا کسی تیسرے کو میرے اس ارادہ کی خبر نہ تھی خدا کی قسم اللہ ہی نے آپ ﷺ کو خبر دی ہے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اسلام کی طرف راہنمائی فرمائی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ اپنے بھائی عمیر کو دین کی باتیں اور قرآن سکھلاؤ اور اس کے قیدی بیٹے کو رہا کر دو۔

شاتم رسول ابن اسود بن عبدالمطلب کا اسلام قبول کرنا

امام سبکی نے السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ میں نقل کیا ہے کہ ہبار بن الاسود بن عبدالمطلب کے قتل کا حکم دیا تھا حبار آپ ﷺ کے سامنے آیا اور شہادتین کو پڑھا اور کہنے لگا:

”میں آپ ﷺ کو گالی دینے اور ایذاء دینے کو بہت پسند کرتا تھا اور میں ذلیل تھا مجھے معاف کر دیجئے زبیر فرماتے ہیں کہ ہبار رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھنے لگا ہبار نے جو عذر پیش کیا اس کی وجہ سے آپ ﷺ نے سر نیچے کر لیا اور پھر فرمانے لگے میں نے تجھے معاف کیا اور اسلام اپنے ماقبل کو مٹا دیتا ہے۔“

(رسائل ابن عابدین جلد ۱ ص ۳۴۶)

صفحہ 308

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

شاتم رسول عورت سائرہ کا توبہ کر کے اسلام قبول کرنا

”سائرہ عبدالمطلب کی آزاد کردہ کنیزہ تھی جب اس نے مکہ میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق بڑی ہتک آمیز بد کلامی شروع کر دی تو آپ ﷺ نے اس کو ختم کر دینے کا حکم صادر فرمایا لیکن حکم کی تعمیل سے پہلے ہی سائرہ نے رسول اللہ ﷺ سے قلب صمیم سے معافی مانگی اور پر خلوص توبہ کی اس کی توبہ قبول ہوئی اور اس کو معاف کر دیا گیا وہ خلیفۂ دوم حضرت عمر بن الخطاب کے دور تک زندہ رہی ایک روز ایک فوجی سوار نے اس پر سوئے اتفاق سے اپنی سواری چڑھا دی جس کی وجہ سے وہ جاں بحق ہو گئی۔“

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحات ۸۲۸، ۸۶۹ السیف الصارم صفحات ۱۲۵، ۱۳۶)

دو گستاخ رسول عورتوں کا بوقت قتل معافی مانگنا اور اسلام قبول کرنا

آپ ﷺ کے بارے میں ہجویہ گانے گا کر آپ ﷺ کے لیے بدزبانی کیا کرتی تھیں لیکن سزا کی تعمیل سے پہلے انھوں نے معافی مانگ لی اور توبہ کر لی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو معافی دے دی اور وہ اسلام لے آئیں۔

(حاشیہ جلاء الافہام جلد اول صفحہ ۴۲۳ حاشیہ ابوداؤد باب الاسیر یقتل صفحہ ۳۶۵۔ مزید تفصیلات کے لیے

دیکھیں سیرت حلبی زاد المعاد فتح الباری)

حضرت ہندہ کا دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا واقعہ

اللہ ﷺ کی اشد ترین دشمن اور ان کی شخصیت کی شاتم تھی وہ رسول خدا کو نازیبا الفاظ کہہ

صفحہ 309

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

دیتی۔ ہندہ نے معرکہ بدر میں حصہ لیا اور قریش کو رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف تادم آخر لڑتے رہنے کے لیے جوش دلاتی رہی معرکہ احد میں اس نے مسلمان شہداء کے کان اور ناک کاٹ لیے اس نے رسول اللہ کے چچا حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلیجہ کاٹ کر الگ کر لیا اور چبا لیا۔ ان کے جسم کے اس حد تک ٹکڑے ٹکڑے کیے کہ نبی نہایت رنجیدہ ہوئے۔ اس کے اس ہولناک اور انتہائی قابل نفرت کردار اور بد زبان رویے کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے اسے موت کا سزاوار قرار دیا اسی کے فوراً بعد سے صحابہ کرام جوش و جذبے سے منتظر رہے اور اس کافرہ کو قتل کرنے کی انتہائی کوشش کرتے رہے۔

فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ کوہ صفا پر تشریف لے گئے جہاں مکے کے شہریوں کا ایک انبوہ کثیر اسلام کے دامن میں آنے کے لیے جمع تھا باری باری ایک ایک کر کے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کے لیے آگے بڑھتا گیا۔ مردوں کے بعد عورتیں بیعت کی غرض سے آگے آئیں ان میں ایک ہندہ بنت عتبہ بھی تھی جس نے معرکہ احد میں حضرت حمزہ کے ساتھ اپنے فعل شنیع کی وجہ سے بھیس بدل رکھا تھا جب اس نے اپنا نقاب الٹا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے پہچان لیا تو اس سے پوچھا کیا تم ہندہ بنت عتبہ ہو؟ یا نبی اللہ ! جی ! میں ہی ہوں جو کچھ بیت چکا اس کے لیے مجھے معاف فرما دیں میں یہاں تائب ہونے اور اسلام قبول کرنے آئی ہوں۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کی معذرت خواہی قبول فرمائی اور اس کو معاف کر دیا۔ تب وہ مسلمہ بن گئی۔

(ابوداؤد باب الاسیر یقتل صفحہ ۳۶۵ زاد المعاد جلد ۱ صفحہ ۳۶۵ محمد الرسول اللہ سلیمان ندوی ۱۳۲۸ بن کثیر جلد ۳ صفحہ ۶۰۳)

مکہ کا شاعر گستاخ رسول ابن زبعری کا قبول اسلام کا واقعہ

تھا۔ آپ ﷺ کی شان میں اور مکہ کے مسلمان شاعروں کے بارے میں بدگوئی کیا کرتا تھا۔ حضرت سعید بن المسیب بیان فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے روز بھاگ گیا۔ بعد میں وہ مکہ واپس آ کر تائب ہوا اس نے بہ تمام اخلاص رسول اللہ ﷺ سے معافی مانگی۔ اس کے بعد

صفحہ 310

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

اس نے ایک صالح مسلمان کی طرح زندگی گزاری۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحات ۸۷۵۔۸۷۶ السیف الصارم صفحات ۱۳۴۔۱۳۵۔)

دشمن رسول ﷺ عکرمہ بن ابی جہل کی توبہ کا واقعہ

خلائق والد ابو جہل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام اور اللہ کے عظیم رسول ﷺ کی شخصیت کو نقصان پہنچانے اور تباہ و برباد کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگیا وہ رسول اللہ ﷺ کی بے عزتی کرتا اور انھیں تکلیف پہنچاتا وہ کئی موقعوں پر مسلمانوں سے جنگ آزما ہوا۔ عکرمہ اور اس کے باپ دونوں نے رسول اللہ ﷺ کو سخت شدائد میں مبتلا کیا۔

جب رسول اللہ ﷺ نے عکرمہ کو کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم دیا تو وہ یمن فرار ہو گیا۔

اس کی مسلمہ بیوی ام حکیم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لیے امان کی درخواست کی جو آپ ﷺ نے قبول کر لی وہ یمن گئی اور اپنے خاوند کو لا کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا عکرمہ نے اسلام قبول کر لیا اور اپنی بقیہ زندگی اس کی وفاداری سے خدمت کی۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحات ۸۶۸ اور ۸۷۵ السیف الصارم صفحہ ۱۲۲)

بدترین دشمن اسلام کا تائب ہو کر قبول اسلام کا واقعہ

اللہ ﷺ کی بے عزتی کرنے انھیں جسمانی گزند پہنچانے اور ذہنی اذیت دینے کا وہ کبھی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا رسول اللہ ﷺ نے اسے سزائے موت کا حقدار قرار دیا جیسے ہی اسے سزائے موت کا علم ہوا اور اسے یقین ہو گیا کہ اسلام کی بڑھتی ہوئی قوت سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا تو وہ جدہ چلا گیا وہاں یا تو وہ خودکشی کرنا چاہتا تھا یا بذریعہ سمندری جہاز یمن فرار ہو جانا چاہتا تھا۔ عمیر بن وہب جو پہلے صفوان کا گماشتہ رہ چکا تھا جسے رسول اللہ ﷺ کا کام تمام کرنے کے لیے اجرت بھی دی گئی تھی لیکن تب تک وہ اسلام قبول کر چکا تھا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور صفوان بن امیہ کی حالت زار بیان کی۔ اس نے بتایا کہ صفوان فرار ہو چکا ہے اور سمندر میں کود کر خود کشی کرنا چاہتا ہے۔ عمیر نے رسول اللہ ﷺ کو

صفحہ 311

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

اپنے پرانے آجر کی جان بخشی کی درخواست کی جسے آپ ﷺ نے قبول کر لیا۔ پھر عمیر فی الفور صفوان کے تعاقب میں روانہ ہو گیا اسے جالیا اور اس سے خود کشی نہ کرنے کی منت سماجت کی۔ اس نے صفوان کو یہ بھی بتایا۔

رسول اللہ ﷺ نے جو سب سے زیادہ نیک پاک اور رحمدل ہیں اور بہترین خلائق ہیں تمہیں معاف فرما دیا ہے اور تمہاری جان بخشی فرمادی ہے۔

تب صفوان کی مسلمہ بیوی فاختہ بنت الولید اسے رسول اللہ ﷺ کے حضور لے کر آئی جہاں اس نے اسلام قبول کیا اور باقی ماندہ زندگی میں اسلام کی وفاداری کے ساتھ خدمت انجام دی۔

حبار بن اسود کا دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا واقعہ

جب وہ لوگ جو آپ کو گالی گلوچ کرتے اور آپ ﷺ کو ذاتی تکالیف و شدائد سے دوچار کرتے مخلصانہ توبہ کرنے پر معاف کر دیئے گئے حبار بن الاسود کا معاملہ بالخصوص اس بات کو نمایاں کرتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کا سخت دشمن تھا وہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے اہل بیت کو بڑی ہی غلیظ زبان میں گالیاں دیا کرتا وہی اس حادثے کا ذمہ دار تھا جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کی بڑی عزیز بیٹی حضرت زینب کا اسقاط پیش آیا جب حضرت زینب اپنے والد ماجد کے پاس واپس مدینہ تشریف لا رہی تھیں اور حبار نے ان کی سواری کے اونٹ کو ایڑ لگائی جس سے وہ گر گئیں وہ اتنی شدید زخمی ہو گئیں کہ اپنی وفات تک اس سے شفایاب نہ ہو سکیں۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کی گردن زنی کا حکم سنایا۔ حکم سنتے ہی اس نے ایران فرار ہونے کا فیصلہ کر لیا لیکن جانے سے پیشتر وہ اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا اس نے معافی مانگی ، اپنے قبیح فعل سے توبہ کی اور کہا:

یا رسول اللہ ﷺ میں ایران جانا چاہتا تھا لیکن آپ ﷺ کے رحمدل اور عفو پرور مزاج کو جانتے ہوئے میں معافی مانگنے کے لیے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوا ہوں مجھ پہ عنایت فرمائیں اور معافی دے دیں۔

صفحہ 312

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

رسول اللہ ﷺ نے اس کی معذرت خواہی قبول کر لی یہ ایک ایسی صورت تھی جہاں ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کو انکی نہایت عزیز بیٹی کے باعث گہرے درد و رنج میں مبتلا کیا تھا لیکن اس کے صدق دل سے تائب ہونے کے بعد اسے معافی دے دی گئی۔

دو ممتاز شاعر بھائیوں کی توبہ کا واقعہ

جب پیغام اسلام سر زمین عرب اور سرحد پار میں پھیلنے لگا تو بجیر رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کے لیے مدینہ حاضر ہوا تب اپنے بھائی کعب سے مشورہ کئے یا بتائے بغیر بجیر مسلمان ہو گیا جب کعب کو خبر پہنچی تو وہ بہت پریشان ہوا اس نے فی الفور ایک ہجویہ نظم لکھی جس میں ا س نے اپنے بھائی پر تنقید اور رسول اللہ ﷺ کی ہجو اور مذمت کی جب بجیر نے نظم سنی تو اس نے آپ کو اطلاع دینا اپنا فرض سمجھا نظم سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کعب کے لیے سزائے موت کا حکم جاری کیا اس سے بجیر نہایت خوف زدہ ہو گیا اور اس نے اپنے بھائی کو پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ کی ہجو یا بے ادبی کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لئے وہب روانہ ہو چکے ہیں بجیر نے اپنے بھائی کو مشورہ دیا کہ یا تو وہ اپنے جرم سے تائب ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے کیونکہ آپ ﷺ کسی تائب ہونے والے کو نہیں مارتے ہیں یا پھر وہ کسی محفوظ جگہ میں فرار ہو جائے یہ پیغام وصول کرنے پر کعب نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا تا کہ مخلص اور حقیقی توبہ کر کے رسول اللہ ﷺ سے معافی اور پناہ چاہے ایک دوست کی معیت میں بھیس بدل کر وہ مدینہ پہنچا جب وہ مسجد نبوی میں داخل ہوا تو ابھی صبح صادق تھی اور رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز فجر ادا فرمارہے تھے نماز کے بعد کعب رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے پوچھنے لگا یا رسول اللہ ﷺ کسی سائل کی آرزو پوری کریں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ وہ محفوظ ہو جائے گا اس پر کعب نے اپنا چہرہ بے نقاب کیا اور کہا: اے رسول اللہ ﷺ یہ ہے وہ جگہ جہاں وہ آپ ﷺ کی پناہ چاہتا ہے میں کعب

صفحہ 313

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

بن زہیر ہوں۔

یہ سننا تھا کہ ایک صحابی کعب پر لپکا اور رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی کہ وہ دشمن کا سر تن سے جدا کر دے لیکن آپ ﷺ نے اسے روک دیا انھوں نے صحابی سے کہا کہ کعب نے توبہ کر لی ہے اور اپنے ماضی سے پوری طرح کٹ گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اس کی عفو خواہی قبول کر لی اور اس کو تحفظ بھی عطا فرمایا۔ اس سے ایک اچھی نظم سننے کے بعد آپ نے اسے اپنی بردہ بھی عطا فرمائی اور سو اونٹ بطور تحفہ دیئے۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۱۹۴ ، سیف الصارم صفحات ۱۴۳ تا ۱۴۵)

اَنس بن زُنَیم الدیلی کے قبول اسلام کا واقعہ

17...... واقدی نے لکھا ہے عمرو بن سالم خزاعی قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں کے ساتھ رسول کریم ﷺ سے مدد طلب کرنے کے لیے نکلا۔ انہوں نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا جو ان کو پیش آیا تھا اور اس قصیدے کا بھی ذکر کیا۔

اور جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ انس بن زنیم الدیلی نے آپ ﷺ کی ہجو کی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا جب انس بن زنیم کو پتہ چلا تو وہ معذرت طلبی کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں مدحیہ کہا اور آپ ﷺ کو سنایا۔

واقدی کہتے ہیں کہ حرام نامی شخص نے مجھے وہ قصیدہ سنایا رسول کریم ﷺ کے پاس وہ قصیدہ بھی پہنچا اور اس نے جو معذرت چاہی تھی وہ بھی پہنچی اور نوفل بن معاویہ الدیلی آپ ﷺ سے ہم کلام ہوا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ معاف کرنے کے اہل ہیں ہم میں سے کون ہے جس نے آپ ﷺ سے عداوت نہ رکھی ہو اور آپ ﷺ کو ستایا نہ ہو اور دور جاہلیت میں ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ کیا چیز لیں کیا نہ لیں حتیٰ کہ آپ ﷺ کے ذریعے اللہ نے ہمیں ہدایت سے نوازا اور آپ ﷺ کی وجہ سے ہمیں ہلاکت سے چھڑایا قافلہ والوں نے اس پر جھوٹ باندھا اور آپ ﷺ کے پاس مبالغہ آمیزی سے کام لیا آپ ﷺ نے فرمایا قافلہ کا ذکر چھوڑیئے ہم نے سرزمین تہامہ

صفحہ 314

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں کسی دور و نزدیک کے رشتہ دار کو نہیں دیکھا جو خزاعہ سے زیادہ اطاعت شعار ہو آپ ﷺ نے نوفل بن معاویہ کو خاموش کر دیا جب وہ خاموش ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اسے معاف کیا نوفل نے کہا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں۔

(کتاب المغازی)

اس واقعہ میں وجہ استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والے سال دس سال کے لیے قریش کے ساتھ مصالحت کر لی تھی قبیلہ خزاعہ آپ ﷺ کا حلیف بن گیا تھا ان میں سے اکثر مسلمان ہو چکے تھے ان کے مسلم اور کافر رسول ﷺ کے لیے ہمہ تن پیکر ہمدردی و خیر خواہی تھے بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے یہ سب لوگ آپ ﷺ کے معاہد بن گئے اور یہ بات ہے جو تواتر سے ثابت ہے اور اہل علم کے ہاں اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

انس بن زنیم کے بارے میں آپ ﷺ کو بتایا گیا تھا کہ معاہد ہونے کے باوجود اس نے آپ ﷺ کی ہجو کی ہے چنانچہ قبیلہ خزاعہ کے کسی آدمی نے اس کے سر پر چوٹ ماری اور رسول کریم ﷺ کو بتایا کہ اس نے آپ ﷺ کی ہجو لکھی ہے اس سے ان کا مقصد رسول اللہ ﷺ کو بنو بکر کے خلاف بھڑکانا تھا رسول کریم ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا اور کسی اور کے خون کو رائیگاں قرار نہ دیا اگر انہیں یہ بات معلوم نہ ہوتی کہ معاہد کی ہجو کہنے سے اس سے انتقام لینا واجب ہو جاتا ہے تو وہ ایسا نہ کرتے اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا حالانکہ اس نے معاہد ہوتے ہوئے ہجو گوئی کا ارتکاب کیا تھا لہٰذا یہ اس ضمن میں واضح دلیل ہے کہ ہجو گو معاہد کا خون مباح ہو جاتا ہے۔

بعد ازاں جب وہ حاضر ہوا تو اس نے اپنے اشعار میں اسلام کی خوبیاں بیان کیں اس لئے اسے آپ ﷺ کے صحابہ میں شمار کیا گیا کہ ان کے اشعار میں یہ الفاظ کہ تعلیم رسول اللہ اور نبی رسول اللہ ﷺ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ پہلے اسلام لا چکا تھا یا یہ کہ اس کا یوں کہنا ہی اس کا اسلام لانا ہے اس لئے کہ بت پرست جب محمد رسول اللہ ﷺ کہے تو اسے مسلم قرار دیا جائے گا اس نے ہجو گوئی سے انکار بھی کیا تھا اور ان لوگوں کی شہادت کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ وہ اس کے دشمن ہیں اس لئے کہ دونوں قبیلوں کے درمیان عرصہ سے حرب و ضرب کا سلسلہ چلا آ رہا تھا اگر اپنی اس حرکت سے وہ مباح الدم نہ ہو جاتا تو اسے اس بات کی ضرورت نہ تھی۔

پھر اسلام لانے معذرت خواہی، مخبرین کی تردید اور رسول کریم ﷺ کی مدح گوئی

گستاخ رسول کا عبرتناک

کے بعد اپنے خون کو رائیگاں قرا طلب کی حالانکہ معافی تب دی کے بعد بھی آپ ﷺ اسے نظر اس پر کرم نوازی فرمائی اور

اہانت رسول

تھے۔ دونوں رسول اللہ ﷺ اللہ ﷺ نے احکام جاری فر کر ان دونوں نے آپ ﷺ کرنے کی انتہائی کوشش کی ایک مقام عیق العقیب میں تھے تو دونو نے ان کی سفارش کی اور آپ ﷺ فرمایا۔

مجھے اب ان کی ضرورت ن گالیاں دے کر میری ناموس کو بہنوئی نے مکہ میں میرے بارے جب رسول اللہ ﷺ یا تو ان سے ملاقات کر کے ر اور پیاس سے مر جائیں جب ا دی دونوں نے معافی مانگی اور کر لیا دونوں نے اسلام قبول ک بن الحارث کا انتقال حضرت عم قتل ہوا۔

صفحہ 315

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کے بعد اپنے خون کو رائیگاں قرار دینے کے بارے میں اس نے رسول اللہ ﷺ سے معافی طلب کی حالانکہ معافی تب دی جاتی ہے جب جرم کی سزا دینے سے پہلے اور معذرت خواہی کے بعد بھی آپ ﷺ اسے سزا دے سکتے تھے مگر آپ ﷺ نے تحمل و بردباری کے پیش نظر اس پر کرم نوازی فرمائی اور اسے معاف کر دیا۔

اہانت رسول کے مرتکبین کی توبہ اور قبول اسلام کا واقعہ

تھے۔ دونوں رسول اللہ ﷺ کو گالی دیا کرتے اور ان کو تکلیف پہنچانے پر رسول اللہ ﷺ نے احکام جاری فرمائے کہ ان دونوں کفر بکنے والوں کو ختم کر دیا جائے۔ یہ جان کر ان دونوں نے آپ ﷺ سے معافی حاصل کرنے ، ان سے ملاقات کرنے اور توبہ کرنے کی انتہائی کوشش کی ایک دفعہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ اور مدینہ کے راستے میں مقام نیق العقاب میں تھے تو دونوں نے آپ ﷺ سے ملاقات کی کوشش کی حضرت ام سلمہ نے ان کی سفارش کی اور آپ ﷺ سے ان کے بارے میں بات کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

مجھے اب ان کی ضرورت ہی نہیں جہاں تک میرے چچیرے بھائی کا تعلق ہے تو اس نے گالیاں دے کر میری ناموس کو ٹھیس پہنچائی اور مجروح کی جب کہ میرے پھوپھی زاد اور میرے بہنوئی نے مکہ میں میرے بارے میں بے عزت کرنے والی باتیں کیں۔

جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے انکار کی اطلاع پہنچی تو انھوں نے قسم کھائی کہ وہ یا تو ان سے ملاقات کر کے رہیں گے یا ملک بھر میں آوارہ پھرتے رہیں گے تا آنکہ بھوک اور پیاس سے مر جائیں جب رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو ان پر رحم کھا کر ملاقات کی اجازت دی دونوں نے معافی مانگی اور ماضی کے غلط اعمال سے توبہ کی۔ آپ ﷺ نے اسے قبول کر لیا دونوں نے اسلام قبول کیا اور بقیہ حیات اچھے مسلمانوں کی طرح زندگی گزاری ابوسفیان بن الحارث کا انتقال حضرت عمر کی خلافت کے دوران میں ہوا اور عبداللہ بن ابو امیہ طائف میں قتل ہوا۔

(سیرت ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۸۶ ، السیف الصارم صفحات ۱۳۷ تا ۱۳۹)

صفحہ 316

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

گستاخ رسول عبداللہ بن ابی سرح کی معاف کرنے کا واقعہ

کے بعد مرتد ہو گیا اور آپ کے بارے میں کفر گوئی کرنے لگا اس نے ذات نبی کو گالیاں دیں اور ان پر کاذب ہونے کا الزام لگایا فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جو کوئی بھی عبداللہ بن ابی سرح کو ڈھونڈ پائے اسے قتل کر دے چاہے وہ غلاف کعبہ کے پاس ہی کیوں نہ ملے لیکن اس نے اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان بن عفان (بعد میں ہونیوالے خلیفہ سوم ) کے پاس پناہ لے لی جب رسول اللہ ﷺ نے عامتہ الناس کو اپنے گرد جمع ہونے کی دعوت دی تاکہ ان سے بیعت لے سکیں تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبداللہ بن ابی سرح کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے کر دیا اور عرض گزار ہوئے یا رسول اللہ ﷺ ! ..... مہربانی فرما کر عبداللہ بن ابی سرح کو معاف فرمادیں اور اس سے حلف بیعت لے لیں۔

رسول اللہ ﷺ ...... نے تین مرتبہ انکار فرمایا لیکن حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اصرار کرتے رہے حتی کہ آپ ﷺ نے بیعت لے لی عبداللہ بن ابی سرح پھر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کی اس بے حرمت کلمات کفر بکنے والے کو اس وقت تہہ تیغ نہ کرنے پر جب آپ ﷺ اس کو معاف کرنے سے انکار کر رہے تھے اور بیعت لینے سے پس و پیش کر رہے تھے سرزنش کی صحابہ نے جواب دیا اے رسول اللہ ﷺ ! جو کچھ آپ ﷺ کے دل میں تھا اس کا ہمیں علم نہیں تھا آپ ﷺ نے ہمیں آنکھ کے اشارے سے جتا کیوں نہ دیا؟ رسول اکرم ﷺ نے جواباً فرمایا ...... نبی کے لیے دغا باز آنکھوں کا مالک ہونا مناسب نہیں۔

(ابوداؤد باب الاسیر یقتل صفحہ ۳۶۵ نسائی باب الحکم فی المرتد جلد دوم صفحہ ۱۶۹ السیف الصارم صفحات ۱۱۸ تا ۱۲۶ اور ۱۳۲

تا ۱۳۵ تفصیلات الواقدی میں ملاحظہ ہوں طبقات محمد بن سعد مغازی محمد بن عمر طبری اور الاصابہ )

صفحہ 317

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موضوع ...... 12

قادیانی گستاخوں کا عبرت ناک انجام اور

قادیانیت سے تائب ہونے والوں کے واقعات

ایک شخص کا مرزا قادیانی کو خواب میں چوہڑے کی شکل میں دیکھنا

جماعت میں پڑھتا تھا ہمارے گھر کے قریب ہی ایک قادیانی مبلغ غلام رسول رہتا تھا ایک دن اس نے مجھے قادیانیت کی دعوت دی اور پڑھنے کے لیے قادیانی لٹریچر بھی دیا میری عمر بھی پختہ نہ تھی اور مذہبی تعلیم بھی واجبی سی تھی اس کی مذہبی گفتگو سننے اور گمراہ کن لٹریچر پڑھنے کے بعد شیطان نے میرے دل میں وسوسہ پیدا کر دیا کہ کہیں قادیانی جماعت سچی ہی نہ ہو عشا کی نما ز پڑھ کر بستر پر لیٹا یہ سوچتے سوچتے سو گیا رات میں نے خواب میں مرزا قادیانی کو انتہائی غلیظ اور کریہہ الصورت چوہڑے کی شکل میں دیکھا صبح بیدار ہوا تو زبان پر استغفار کے جملے جاری تھے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور قادیانی مبلغ کے گھر جا کر اس کا لٹریچر اس کے منہ پر دے مارا۔

میاں شیر محمد شرق پوریؒ کا مراقبہ میں مرزا کو کتے کی شکل میں دیکھنا

مرزا قادیانی کو قبر میں باؤلے کتے کی شکل میں دیکھا کہ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے اور وہ انتہائی خوفناک آوازیں نکال رہا ہے بڑی پھرتی سے گھوم گھوم کر منہ سے دم پکڑنے کی کوشش کر رہا ہے غصہ میں آ کر کبھی اپنی ٹانگوں کو کاٹتا ہے اور کبھی سرزمین پر پٹختا ہے۔ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی اس لعین کے عذاب میں مزید اضافہ فرمائے آمین۔

صفحہ 318

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

شاہ عبدالرحیم کا مرزا کے بارے میں استخارہ و جواب

ملاقات ہوئی شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں نے قادیانی کے متعلق استخارہ کیا تھا میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دم کی طرف ہے جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں زنار نظر آیا جس سے اس شخص کا بے دین ہونا ظاہر ہے۔

خواجہ توکل شاہ کی مرزا سے نفرت کی وجہ!

شاہ انبالوی رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالٰی سے عرض کیا کہ میں تو مرزا قادیانی کو برا جانتا ہوں آپ کے نزدیک وہ شخص کیسا ہے؟ ان دنوں مرزا کا دعویٰ مجددیت اور مہدویت سے متجاوز نہ ہوا تھا خواجہ صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا کوتوال کی حیثیت سے شہر لاہور کا گشت کر رہا ہوں ایک مقام پر مرزا غلام احمد کو دیکھا کہ کانوں اور گندگی میں پڑا ہوا ہے میں نے اس کے ہاتھ کو جنبش دی اور ڈانٹ کر کہا تیرے پاس مجددیت اور مہدویت کا کیا ثبوت ہے وہ سخت اداس اور غمزدہ دکھائی دیتا تھا میرے سوال کا کچھ جواب نہ دے سکا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کوئی عمل کیا تھا مگر پھر کسی بد پرہیزی کے باعث اس عمل سے گر گیا مولوی محبوب عالم لکھتے ہیں کہ یہ تو میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ اس کے اکثر خط خواجہ توکل شاہ کی خدمت میں آیا کرتے تھے جن کا یہ مضمون ہوتا تھا کہ حضور میرے حق میں دعا فرمائیں خط کے سنتے ہی خواجہ صاحب کے چہرے پر غصہ کے مارے شکن پڑ جاتے تھے مگر ضبط کر کے خاموش ہو جاتے تھے۔

کذاب مرزا کے پہلے خلیفہ حکیم نورالدین کا عبرتناک انجام

اور اس کے ہاتھ پر بیعت کی وہ حکیم نورالدین تھا قادیانی جماعت میں مرزا قادیانی کے بعد اس کا مقام ہے مرزا قادیانی کی موت کے بعد وہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا پہلا خلیفہ کہلایا

گستاخ رسول کا عبرتناک قادیانی اسے سیدنا حضرت ابوبکر ساری زندگی سائے کی ط سازی میں پیش پیش رہا ایک د زمین پہ پٹخا جس سے ٹانگ ٹوٹ کی بیوی کسی کے ساتھ فرار ہوگئی اور اسی قاتل نے خلافت حاصل کر بشیر ہو گیا اور چہرہ مسخ ہو گیا۔ اسی ح پانے کے لیے اس دار فانی میں پھنچ

گستاخ رسول قادیا

قیام پذیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دولت بھی اسے خوب دے رکھی تھی کھدائی کا کام کرتا تھا ایک دن کچھ کہ فلاں قادیانی مر گیا ہے میں نے نے لگے تو مجھ سمیت جنازے میں آہستہ سانپوں سے بھرنے لگی اور تھو مجھے دوسری جگہ قبر کھودنے کو کہا میں آنے لگیں اور آگ کی چنگاریاں قبر میں دفن کر دیا گیا۔ قادیانیوں کی زندگانی بھی عذ

فتنہ قادیانیت کے

صفحہ 319

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام قادیانی اسے سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)

ساری زندگی سائے کی طرح مرزا قادیانی کے ساتھ رہا اور بناسپتی نبوت کی منصوبہ سازی میں پیش پیش رہا ایک دن گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جا رہا تھا کہ گھوڑے کی پیٹھ سے زمین پہ پٹخا۔ جس سے ٹانگ ٹوٹ گئی زخم ٹھیک نہ ہوا اور بگڑ کر بے کار ہو گئی اس حالت میں اس کی بیوی کسی کے ساتھ فرار ہو گئی حکیم نور الدین کو اس کے جوان بیٹے بشیر الدین نے قتل کرا دیا اور اسی قاتل نے خلافت حاصل کرنے کے لئے انسٹیٹی سے شادی رچائی مرزا کا خلیفہ مرزا بشیر ہو گیا اور چہرہ مسخ ہو گیا۔ اسی حالت میں ختم نبوت کا غدار اس جہان فانی سے اپنی بقایا سزا پانے کے لیے اس دار باقی میں پہنچ گیا۔

گستاخ رسول قادیانی پر عذاب قبر کا دنیا میں مشاہدہ کا واقعہ

قیام پذیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیالکوٹ میں ایک بڑا گستاخ قادیانی رہتا تھا قدرت نے دولت بھی اسے خوب دے رکھی تھی جس نے اسے انتہائی متکبر بنا رکھا تھا میں اکثر قبروں کی کھدائی کا کام کرتا تھا ایک دن کچھ قادیانی میرے پاس آئے اور مجھے قبر کھودنے کو کہا اور بتایا کہ فلاں قادیانی مر گیا ہے میں نے اس قادیانی کی قبر کھودی مگر جب اس گستاخ رسول کو دفنا نے لگے تو مجھ سمیت جنازے میں شامل تمام مرزائیوں نے یہ منظر دیکھا کہ اس کی قبر آہستہ آہستہ سانپوں سے بھرنے لگی اور تھوڑی دیر میں قبر میں سانپ ہی سانپ بھر گئے قادیانیوں نے مجھے دوسری جگہ قبر کھودنے کو کہا میں نے جب دوسری جگہ قبر کھودی تو قبر سے ڈراؤنی آوازیں آنے لگیں اور آگ کی چنگاریاں نکلنے لگیں سب لوگ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے آخر اس مردود کو اس قبر میں دفن کر دیا گیا۔

قادیانیوں کی زندگانی بھی کتنی خراب دنیا میں بھی پھٹکار آخرت میں عذاب ۔

فتنہ قادیانیت کے پرچارک ظفر اللہ خان کا ہولناک انجام

صفحہ 320

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آنکھیں کھول کر اپنے ارد گرد کھڑے لوگوں کو ہلکی سی نظر دیکھ لیتا ہے کھانے پینے سے عاجز ہے غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے گلوکوز کی بوتلیں چڑھا رکھی ہیں لیکن گلوکوز کا پانی پیلے رنگ کا محلول بن کر منہ کے راستے باہر نکل جاتا ہے اور اس پیلے رنگ کے محلول سے پاخانے جیسی بدبو اٹھ رہی ہے ڈاکٹر ٹشو پیپر سے بار بار اس غلاظت کو صاف کر رہے ہیں لیکن غلاظت رکنے کا نام نہیں لیتی ظفر اللہ خان بستر پر پیشاب کر رہا ہے کمرے میں اس شدت کی بدبو کہ ٹھہر نا مشکل ہے بدبو اور دیگر حفاظتی تدابیر کو مد نظر رکھتے ہوئے قادیانی ڈاکٹروں نے اپنے منہ پر ماسک چڑھا رکھے ہیں عام ملاقات پر سخت پابندی ہے کیوں کہ ظفر اللہ کا یہ ہولناک انجام دیکھ کر کوئی بھی قادیانی قادیانیت سے تائب ہو سکتا ہے۔ اسی حالت میں ظفر اللہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے لیکن مرنے کے بعد بھی اس کے منہ سے غلاظت جاری رہتی ہے ...... جس سے بچنے کے لیے قادیانی ڈاکٹر اس کو بند کرنے کے لیے گلے میں روئی کا گولہ ٹھونس دیتے ہیں لیکن خدائی عذاب اس گولے سے کہاں رکتا ہے۔

گستاخ رسول قادیانی کی قبر کا آگ سے بھر جانا

قادیانی ماسٹر رہتا تھا۔ اس شاطر کو جہاں موقع ملتا وہ قادیانیت کی تبلیغ کرتا اور ختم نبوت کے بارے میں بک بک کرتا۔ آخر ایک دن وہ اسی طرح بک بک کرتا مر گیا قادیانیوں نے اسے مسلمانوں کے مقامی قبرستان میں دفن کرنے کا خفیہ پروگرام بنایا لیکن کسی ذریعہ سے یہ خبر مسلمانوں تک پہنچ گئی اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں اس ملعون کی تدفین نہ ہونے کا بندو بست کر لیا اور علاقہ پولیس کو بھی اطلاع کر دی قادیانی خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے مجبوراً اس کو اس کی اپنی زمین میں دفن کر دیا تدفین کے بعد قبر میں زبردست آگ لگ گئی اور یہ کیفیت تین دن تک مقامی لوگ دیکھتے رہے آخر قبر پھٹ گئی اور وہاں ایک بہت بڑا گڑھا بن گیا لوگ دور دور سے اس عبرت گاہ کو دیکھنے آتے قادیانیوں نے اپنی بے عزتی ہوتے دیکھ کر پتھروں سے اس گڑھے کو بھروا دیا اور اس کے اوپر قبر کا پختہ چبوترہ قائم کر دیا لیکن بدبختوں نے اس ہولناک واقعہ سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔

صفحہ 321

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

دیکھو گے برا حال محمد کے عدو کا
منہ پر ہی گرا جس نے چاند پہ تھوکا

عذاب الٰہی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر میں زلزلہ

مرزا قادیانی کی قبر میں تدفین ہوگئی ہے لوگ مٹی ڈال کر گھروں کو چل رہے ہیں قبر میں سخت اندھیرا اور خوف ہے۔

اسی وقت اللہ کے فرشتے سوال و جواب کے لیے آ پہنچے ہیں مرزا قادیانی سخت گھبرایا ہوا ہے اور تھر تھر کانپ رہا ہے۔ اللہ کے فرشتے اس سے سوال کر رہے ہیں اور جواب میں وہ اول فول بک رہا ہے قبر میں قریب ہی شیطان کھڑا ہے۔ وہ مرزا قادیانی کو کہہ رہا ہے کہ اے مرزا قادیانی تو میرا بہترین ساتھی تھا تو نے میرے مشن کے لیے بہت کام کیا شب و روز محنت کر کے لوگوں کو گمراہ کیا مجھے تیری موت کا بہت دکھ ہوا لیکن آج اس مشکل میں تیرے کسی کام نہیں آسکتا یہ عذاب تو اب تجھے سہنا ہی پڑے گا یہ کہا اور شیطان غائب ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی مرزا قادیانی سخت ترین عذاب میں مبتلا ہو گیا اور اس کی چیخوں سے قبر میں ایک زلزلہ بپا ہو گیا۔

گستاخ قادیانی کی قبر پر جلتی ہوئی آگ کا مشاہدہ

وہاں ۱۹۹۰ء میں تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کی تنظیم سازی کے لیے جماعتی رفقاء کے ہمراہ جانا ہوا جامع مسجد میں ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک جلسہ ہوا مولانا محمد ایوب الہاشمی نے خطاب فرمایا اجلاس سے فراغت کے بعد دوستوں کی طرف سے چائے کی دعوت تھی ایک دوست کی بیٹھک میں بیٹھے ہوئے تھے اور چائے چل رہی تھی وہاں ایک جماعتی ساتھی (جن کا نام اب ذہن میں محفوظ نہیں) نے ایک واقعہ سنایا۔

انہوں نے کہا ایبٹ آباد سے آتے ہوئے دائیں جانب ایک بڑا قبرستان ہے۔ سردیوں کے دن تھے بارش ہو رہی تھی رات خوب سرد تھی میں رات گئے ایبٹ آباد سے آیا تو گاؤں کی

صفحہ 322

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حدود میں داخل ہو کر ایک چبوترے تلے بارش سے بچنے کے لیے رک گیا یہ میانی قبرستان کی جانب تھا قبرستان میں ایک جگہ مجھے جلتی ہوئی آگ دکھائی دی میں نے سوچا کہ کوئی سردی سے بچاؤ کے لیے آگ جلا رہا ہے لیکن دوسرے ہی لمحے میں چونک اٹھا اس بارش میں کھلے آسمان تلے؟ جب میں نے غور سے دیکھا اور دیر تک دیکھتا رہا مگر مجھے وہاں کوئی نظر نہ آیا میں ڈر گیا بھاگم بھاگ گھر کی راہ لی گھر آ کر ذکر کیا صبح اپنے ایک عمر رسیدہ بزرگ کو لا کر وہ جگہ دکھائی جہاں رات آگ لگی ہوئی تھی مگر اب وہاں ظاہراً آگ اور راکھ وغیرہ کا کوئی ہلکا سا نشان بھی موجود نہ تھا میرا تجسس اور بڑھ گیا کہ الٰہی ماجرا کیا ہے؟

اس بزرگ نے مجھے بتایا گیا کہ یہ جگہ اور یہ قبر جس کی تم نشاندہی کر رہے ہو یہ ایک گستاخ قادیانی کی قبر ہے۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشہ کرے کوئی ہو دیکھنا تو دیدہ دل پیدا کرے کوئی ۔

عدالت میں قادیانی وکیل کے جھوٹی قسم کھانے پر نقد سزا

کوئٹہ ایڈیشنل سیشن جج جناب جمیل شیروانی کی عدالت میں مرزائیوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین کی سلسلے میں کیس زیر سماعت تھا اہل اسلام کے وکیل نے جب دلائل دیے تو قادیانیوں کی کتب کی رو سے قادیانیوں کے نزدیک محمد سے مراد مرزا قادیانی ہوتا ہے اس پر مرزائیوں کے وکیل کے چہرے پر اداسی چھا گئی سخت بدحواس ہوا یا در ہے کہ یہی مرزائی وکیل احسان مرزائیوں کی طرف سے کیس کی ہمیشہ پیروی میں پیش پیش تھا۔ مسلمان وکیل کے دلائل اور حوالہ جات کا اپنے پاس جواب نہ پا کر سخت بدحواسی کے عالم میں اس نے پینترا بدلا اور ایسا ڈرامہ اختیار کیا کہ مسلمان وکیل کا اثر ختم ہو سکے۔

ڈرامائی انداز میں اپنے اٹھارہ بیس سال کے لڑکے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا کہ خدا مجھے اس لڑکے سے محروم کرے اگر میں جھوٹ بولوں کہ ہماری مراد کلمہ طیبہ میں محمد سے مرزا قادیانی نہیں ہوتا اس کا عدالت نے یہ جواب دیا کہ تمہاری بات کی تمہاری اپنی کتابیں تردید کرتی ہیں مرزائیوں کی اپیل خارج ہوگئی فیصلہ اہل اسلام کے حق میں ہو گیا لیکن خدا کا کرنا ہوا یہ کہ چند

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ہفتوں بعد اس کا یہی لڑکا ایک اور قدرت نے مرزائی وکیل کی غلط قسم کا محمد فیروز نے مرزائی وکیل کو خط لکھا کہ عبرت ہے اب تو مسلمان ہو جاؤ اس

منافق قادیانی امام

جب ۱۹۷۴ء کی طوفانی تحریک ختم نبوت الدین قادیانی نے قادیانیت سے تائب قبول کرنے پر بڑی خوشی کا اظہار کیا امام مسلمانوں کی شادی غمی میں شرکت رابطے رکھتا اور انہیں مسلمانوں کی ساری پتہ نہ چلتا۔ ایک دن امام الدین قادیانی پہنایا نماز جنازہ پڑھائی لحد تک ساتھ گے میں اترے اور انہوں نے اس کا چہرہ مخال مردے کا منہ دوسری طرف پھر گیا مولوی نے دوبارہ اس کا منہ قبلہ رخ کیا لیکن صاحب کہتے ہیں جب تیسری دفعہ بھی ا یہ القاء ہو گیا کہ یہ شخص قادیانی ہے اور قبول کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا۔

مرقد کی وحشت بتا رہی

مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی کا ق

صفحہ 323

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہفتوں بعد اس کا یہی لڑکا ایک اور قادیانی لڑکے کے ساتھ جھیل میں ڈوب کر مر گیا اور یوں قدرت نے مرزائی وکیل کی غلط قسم کا نقد صلہ ان کو دے دیا کوئٹہ جماعت کے ناظم اعلیٰ حاجی تاج محمد فیروز نے مرزائی وکیل کو خط لکھا کہ تم نے غلط قسم اٹھائی تھی ختم نبوت کا معجزہ دیکھو یہ واقعہ دیدہ عبرت ہے اب تو مسلمان ہو جاؤ اس کا اس نے تا حال جواب نہیں دیا۔

منافق قادیانی امام الدین کا قبر میں چہرے کا پھر جانا

جب ۱۹۷۴ء کی طوفانی تحریک ختم نبوت اٹھی تو مسلمانوں کے غیظ و غضب کو دیکھتے ہوئے امام الدین قادیانی نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا مسلمانوں نے اس کے اسلام قبول کرنے پر بڑی خوشی کا اظہار کیا امام الدین مساجد میں نماز پڑھنے لگا۔

مسلمانوں کی شادی غمی میں شرکت کرنے لگا لیکن وہ منافق اندر ہی اندر قادیانیوں سے رابطے رکھتا اور انہیں مسلمانوں کی ساری خبروں سے آگاہ کرتا لیکن مسلمانوں کو اس جاسوس کا پتہ نہ چلتا۔ ایک دن امام الدین قادیانی بیمار ہوا اور چل بسا۔ مسلمانوں نے اسے غسل دیا کفن پہنایا نماز جنازہ پڑھائی لحد تک ساتھ گئے جب اسے قبر میں لٹایا گیا تو ایک مولوی صاحب قبر میں اترے اور انہوں نے اس کا چہرہ مخالف سمت سے قبلہ رخ کر دیا کہ ایک زور دار جھٹکا لگا اور مردے کا منہ دوسری طرف پھر گیا مولوی صاحب نے سمجھا کہ شاید میرا پاؤں لگ گیا ہے انہوں نے دوبارہ اس کا منہ قبلہ رخ کیا لیکن پھر ایک جھٹکا لگا اور منہ دوسری طرف ہو گیا مولوی صاحب کہتے ہیں جب تیسری دفعہ بھی اس کا چہرہ قبلہ کی طرف سے ہٹ گیا تو میرے دل میں یہ القاء ہو گیا کہ یہ شخص قادیانی ہے اور اس نے صرف مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہوئے اسلام قبول کرنے کا ڈرامہ رچایا تھا۔

مرقد کی وحشت بتا رہی ہے مدفن ہے یہ کوئی گستاخ رسول ﷺ کا

مولانا عتیق الرحمن چنیوٹی کا قادیانیت سے توبہ تائب ہونے کا واقعہ

صفحہ 324

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام مسلمان ہو گئے ۔ مولانا مرحوم اپنے مسلمان ہونے کا واقعہ سنایا کرتے تھے۔ ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میں قادیان میں مرزا قادیانی کے گھر سے چوک کی طرف آ رہا ہوں۔ چوک میں میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک دائرے کی صورت میں اس طرح کھڑے ہیں کہ گویا کسی مداری کا تماشا دیکھ رہے ہوں ان لوگوں کے درمیان میں کچھ لوگ کھڑے ہیں جن کے دھڑ تو انسانوں جیسے ہیں لیکن منہ کتوں جیسے ہیں اور وہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر چیخ چیخ کر رو رہے ہیں۔ میں نے ایک شخص کا کندھا ہلا کر اس سے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ مرزا قادیانی کے مرید ہیں پھر میں خواب سے بیدار ہو گیا خوف کے مارے میرا جسم پسینے سے شرابور تھا۔ میں نے فوراً توبہ کی اور اعلاناً مسلمان ہو گیا۔

محمد صفدر بھٹی کے تایا کا قادیانیت سے تائب ہونے کا عجیب واقعہ

کی وجہ سے قادیانیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے۔ قادیانی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ ایک رات وہ مرزا قادیانی کی ایک کتاب پڑھتے پڑھتے سو گئے اسی رات انہیں خواب آیا کہ رات کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے اور وہ ایک سنسان جنگل میں کھڑے ہیں کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ ان کے بالکل قریب سے ایک جنازہ گزر رہا ہے۔ جنازے کے ساتھ صرف چار آدمی ہیں جنہوں نے چار پائی کے ایک ایک پائے کو اٹھا رکھا ہے چاروں آدمی چہروں پر سیاہ نقاب اوڑھے ہوئے ہیں میت پر کوئی چادر نہیں لاکھوں مکھیاں میت پر بھنبھنا رہی ہیں میت سے انتہائی غلیظ مادہ ٹپک رہا ہے جس سے ناقابل برداشت بو اٹھ رہی ہے انہوں نے بڑی ہمت سے جنازہ اٹھائے ہوئے ایک شخص سے پوچھا کہ یہ کس کا جنازہ جا رہا ہے؟ اس شخص نے بڑے ترش لہجے میں جواب دیا کہ یہ مرزا قادیانی کا جنازہ ہے صفدر بھٹی صاحب کہتے ہیں کہ صبح اٹھتے ہی تایا جی زار و قطار رونے لگے سارے گھر والے یکدم اکٹھے ہو گئے تایا جی کو سنبھالا اور ماجرا پوچھا انہوں نے کانپتے ہوئے سارا خواب سنایا پھر تایا جی نے سارے اہل خانہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم سب گواہ رہنا کہ میں تائب ہو گیا ہوں اور مرزا قادیانی دجال پہ کروڑوں لعنتیں بھیجتا ہوں۔

گستاخ رسول کا عبر

قادیانی امیر

اس مردود کو قادیانیوں نے سے چیخ اٹھے ان غریبوں کی کی پکار پر عالمی مجلس تحفظ خت خانقاہ تونسہ کے چشم و سے مسلح ہو کر خم ٹھونک کر م سے مطالبہ کیا کہ قادیانی مر عوام کے طوفانی احتجاج کرنا ہی پڑا۔ بھنگیوں کے ذریعے ہوئے۔ اس شدت کی بدبو بھگدڑ مچ گئی۔ غلیظ اور کثی قادیانیوں کے حوالے کر میں دفن کر دیا لیکن چند قادیانیوں نے تنگ آ کر چشم دید گواہ کے ب میل دور تک گئی اور لوگ دیکھ کر کئی قادیانی مسلما

صفحہ 325

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

قادیانی امیر مدن کی قبر کشائی پر بدبو کئی میل تک پھیل گئی

اس مردود کو قادیانیوں نے مسلمانوں کی مسجد کے صحن میں دفن کر دیا مقامی مسلمان اس حادثہ سے چیخ اٹھے ان غریبوں کے احتجاج کو بااثر قادیانیوں نے دبانے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کی پکار پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کی مدد کے لیے بجلی کی سرعت سے پہنچی۔ خانقاہ تونسہ کے چشم و چراغ خواجہ مناف صاحب بھی عشق رسول اللہ ﷺ کے ہتھیار سے مسلح ہو کر خم ٹھوک کر میدان میں آ گئے جلوس نکالے گئے کانفرنسیں ہوئیں اور حکومتی حکام سے مطالبہ کیا کہ قادیانی مردے کو مسجد سے نکالا جائے حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا لیکن عوام کے طوفانی احتجاج کے سامنے حکومت بے بس ہو گئی اور اسے مسلمانوں کا مطالبہ تسلیم کرنا ہی پڑا۔

بھنگیوں کے ذریعے مردود کی قبر کشائی کی گئی۔ جونہی قبر کھلی بدبو کے طوفان اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس شدت کی بدبو کہ لوگوں کے سر چکرا گئے اور آنکھوں سے پانی نکل گیا لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ غلیظ اور کٹا پھٹا لاشہ باہر نکالا تو مارے خوف کے چوہڑے بھی کانپ گئے لاش قادیانیوں کے حوالے کر دی گئی جنہوں نے چوہڑوں کے ذریعے ہی اسے اپنے گھر کے صحن میں دفن کر دیا لیکن چند دنوں میں گھر میں ایسا تعفن پھیلا کہ گھر میں رہنا مشکل ہو گیا آخر قادیانیوں نے تنگ آ کر اسے وہاں سے اکھیڑ کر اپنے کھیتوں میں دفن کر دیا۔

چشم دید گواہ کہتے ہیں کہ جب دوسری مرتبہ قادیانی کی لاش کو نکالا گیا تو اس کی بدبو کئی میل دور تک گئی اور لوگ کئی دنوں تک اس بدبو کو محسوس کرتے رہے۔ اس عبرت ناک واقعہ کو دیکھ کر کئی قادیانی مسلمان ہو گئے جن میں سے کچھ مردے کے خاندان میں سے بھی تھے۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل پیدا کرے کوئی
صفحہ 326

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

قادیانی مرتد عبدالرؤف کی بیل گاڑی سے عبرتناک موت

نام سے واقع ہے۔ اس گاؤں میں فتنہ قادیانیت کے جراثیم وہاں بدقسمتی سے ایک شخص ملا عبدالرؤف ابڑو نے پھیلائے سب سے پہلے یہ شخص مرتد ہوا اور اس نے دولت کے لالچ میں قادیانیوں کے ہاتھ اپنا ایمان بیچ دیا اور ساتھ ہی قصبہ مذکورہ میں ارتداد و زندقیت کا بیج بھی بو دیا شاعر نے ایک بڑا خوبصورت شعر کہا:

نہ جا اس کے تحمل پر کہ بے ڈھب ہے گرفت اس کی
ڈر اس کی داروگیر کڑی سے کہ ہے سخت انتقام اس کا

اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہاں دیر ضرور ہو سکتی ہے لیکن اس کی پکڑ بڑی سخت ہے ایسے واقعات گمراہوں کی عبرت کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ ظاہر فرماتے ہیں تاکہ وہ عبرت حاصل کر کے سچائی کو قبول کر لیں اور گمراہی و ارتداد کے گہرے گڑھے سے نکل جائیں قصبہ انور آباد کے پہلے مرتد ملا عبدالرؤف ابڑو کے ساتھ بھی ایسا عبرت ناک واقعہ پیش آیا جو وہاں کے ہی نہیں بلکہ تمام قادیانیوں کے لیے سامان عبرت ہے۔

کہتے ہیں کہ مذکورہ قادیانی ایک بیل گاڑی پر جا رہا تھا کہ گاڑی کے بیل کا رسہ پہیہ میں پھنس گیا وہی رسہ اُچھل کر عبدالرؤف قادیانی کی گردن میں پھانسی کے پھندے کی طرح پھنس گیا۔ بیل چل رہا تھا پہیہ گھوم رہا تھا جوں جوں پہیہ گھومتا گیا پھندہ سخت ہوتا گیا یہاں تک کہ اس کی حالت غیر ہو گئی اس نے بیل کو رکنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا آخر وقت میں وہ اس قابل بھی نہ رہا کہ بیل کو روک سکے بالآخر وہ پھندہ اس کے لیے پھانسی کا پھندہ بن گیا وہ نیچے گرا اور بیل گاڑی کے پہیے کے نیچے آ گیا اور یوں انور آباد میں قادیانیت کے گندے جراثیم پھیلانے والا یہ قادیانی گستاخ رسول ایک بیل کے ذریعے جہنم رسید ہو گیا۔

ایک نابینا قادیانی کا قادیانیت سے تائب ہونے کا واقعہ

صفحہ 327

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

میں پہلے تو نہیں ...... اب باقاعدہ ختم نبوت کا رکن بن گیا ہوں میری دلی خواہش ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ادارہ کی کوششوں کو کامیاب فرمائے اور فتنہ قادیانیت کا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سے خاتمہ ہو جائے آمین۔ انشاء اللہ ایسا ہو کر رہے گا میں اپنے گاؤں کا ایک واقعہ بھیج رہا ہوں یہاں ایک حافظ قرآن ہیں وہ نابینا ہیں انہوں نے چار سال قبل ہی قادیانیت سے توبہ کی ۔

آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے والا یقینی بات ہے کہ جہنمی ہے۔ لیکن بعض سادہ لوح اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور کسی دوسرے شخص سے اپنا تعلق جوڑ لیتے ہیں اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس حقیقت کو دنیا میں بھی دکھانا شروع کر دیا ...... ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہیں بجز مبشرات کے۔

مبشرات وہ سچے خواب ہیں جو خود کوئی دیکھے یا اس کے بارے میں کوئی دیکھے ہمارے گاؤں بھوتہ ضلع گجرات کے حافظ صاحب جو اب حافظ قرآن ہو چکے ہیں اور ان کے سب عزیز واقارب اور اس کا والد اب بھی قادیانی ہے اس نے خواب دیکھا کہ اس کا دادا آگ میں جل رہا ہے اور خوب چلا رہا ہے اور اپنے پوتے (حافظ صاحب) کو نصیحت کرتا ہے کہ خدا کے واسطے اپنے باپ یعنی میرے بیٹے سے کہو کہ وہ قادیانیت سے توبہ کر لے اور دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے ورنہ میری طرح اس کا بھی برا حال ہوگا۔

یہ خواب اسے تین روز تک مسلسل آتا رہا پھر اس نے ایک دوسرے دوست کو بتایا کہ مجھے مسلسل یہ خواب آ رہا ہے وہ میری مدد کرے لیکن یہ خواب اس نے جب اپنے والد کو بتایا تو اس نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور کہا میں اس کی تعبیر پوچھوں گا بالآخر وہ نابینا شخص مسلمان ہو گیا اور اس کے بعد ہی قرآن پاک بھی حفظ کر لیا اللہ تبارک و تعالیٰ استقامت عطا فرمائے ۔ آمین ۔

خواب میں قادیانیوں سے دور رہنے کی تنبیہ اور تلقین

مجھے قادیانیت کی تبلیغ کرنے لگا۔ مرزا قادیانی کو نبی اور قادیانیت کو مذہب حق ثابت کرنے

صفحہ 328

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

لگا۔ میں اپنی علمی بساط کے مطابق اسے جواب دیتا رہا ڈیڑھ دو گھنٹے کی بحث کرنے کے بعد وہ چلا گیا میں نے اس واقعہ کا ذکر مولانا محمد نواز صاحب سے کیا انہوں نے بڑی تفصیل کے ساتھ مجھے قادیانیوں کے کفریہ عقائد کے متعلق بتایا اور مرزا قادیانی و مذہب قادیانیت کی سیاہ تاریخ سے آگاہ کیا اس واقعہ کو تقریباً ایک ہفتہ گزرا تھا کہ ایک دن میرے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ وہی ملعون قادیانی کھڑا ہے اس کے ہاتھوں میں قادیانی کتابوں کا ایک بنڈل تھا اس نے کتابیں میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرو تمہیں بہت فائدہ ہوگا میں نے اس سے کہا کہ میں ان کتابوں کو اپنے گھر نہیں رکھ سکتا اگر میری بیوی یا میرے والدین کو اس کی بات کا پتہ چل گیا تو وہ مجھے گھر سے نکال دیں گے اور پورا خاندان میرا بائیکاٹ کر دے گا اس پر وہ مجھے کہنے لگا کہ تم فکر نہ کرو میری جوان بھتیجی ہے میں اس کے ساتھ تمہاری شادی کردوں گا اور میں اپنی زمین بھی تیرے نام کردوں گا میں نے اس کو ڈانٹتے ہوئے کہا کہ بے غیرت تو زن اور زر کے عوض میرا ایمان خریدنا چاہتا ہے میری نظروں سے دور ہو جا میرا گرجتا جواب سن کر وہ منہ میں بڑبڑاتا ہوا دفع ہو گیا اسی رات مجھے خواب آیا کہ ایک بہت بڑا کالا ناگ میرے پیچھے بھاگتا ہے بھاگ بھاگ کر میرا سانس پھول جاتا ہے اور میں پسینے میں شرابور ہو جاتا ہوں کہ اچانک میری نظر مولانا محمد نواز پر پڑتی ہے میں لپک کر ان تک پہنچ جاتا ہوں اور ان سے لپٹ کر ان سے استدعا کرتا ہوں کہ مجھے اس ناگ سے بچائیں۔ اس افراتفری میں میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ دیکھا تو پسینے میں نہایا ہوا تھا دل اتنی تیزی سے دھک دھک کر رہا تھا گویا سینے سے ابھی باہر نکلا۔ حواس درست ہونے پر میں نے اپنے ایک دوست کے ذریعے قادیانی کو پیغام بھجوایا کہ اگر آئندہ مجھ سے ملاقات کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا یوں ایک خواب کے ذریعے اللہ پاک نے میری رہنمائی فرمائی۔

قبرستان کے تنازعے میں قادیانیوں کو شکست اور مسلمانوں کی فتح

نے کچھ عرصہ پہلے اپنے اثر و رسوخ سے ایک مسلمان کی زمین اپنے لیے بطور قبرستان الاٹ کر والی جب مسلمانوں کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا اس بارے

گستاخ رسول کا

میں کیس چل رہا ہے اور بھی تعمیر کر لی تھی۔ اب جبکہ ۵-۷-۸ چونکہ مسلمان نماز تراویح پ میں دفن کر دیں گے۔ لہذا انہوں نے اند انہوں نے سب سے پہلے ا آئے تو مجاہدین ختم نبوت سے بھاگ گئے۔ مسلمانو نماز عشاء وہیں میدان میں فدایاں ختم نبوت جن کی تعد کر کامیاب و کامران واپ ڈیرہ غازی خان میں جاکر میں اہلیان شادن لنڈ کاروائی پر مبارکباد دیتا ہوں اپنے پیارے حبیب ﷺ مسلمانوں کی اس محنت کو

قادیانی مبلغ

بچوں کو قادیانیت کی تعل کیا کرے لیکن وہ باز نہ سے سنا کہ غلام احمد قادیا کر کہا کہ آپ ﷺ

صفحہ 329

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام میں کیس چل رہا ہے اور آج تک فیصلہ نہیں ہوا جبکہ اس اراضی پر قادیانیوں نے چار دیواری بھی تعمیر کر لی تھی۔

اب جبکہ ۷-۸-۵ کو عبد القادر قادیانی مر گیا تو قادیانیوں نے سوچا کہ رات کے وقت چونکہ مسلمان نماز تراویح میں مصروف ہوں گے اس لیے چوری چھپے لاش کو متنازعہ اراضی میں دفن کر دیں گے۔

لہذا انہوں نے اندھیرے میں جا کر قبر کھودنا شروع کر دی ادھر مسلمانوں کو جب علم ہوا تو انہوں نے سب سے پہلے انہیں اطلاع دی کہ آپ ایسا نہ کریں لیکن قادیانی اپنی ضد سے باز نہ آئے تو مجاہدین ختم نبوت زندہ باد کے نعرے بلند کرتے ہوئے روانہ ہوئے تو مرزائی وہاں سے بھاگ گئے۔ مسلمانوں نے اپنے قائد مجاہد ختم نبوت مولانا محمد بخش کی قیادت وامامت میں نماز عشاء وہیں میدان میں ادا کی اور تراویح بھی اسی میدان میں پڑھی تقریباً ایک بجے شب یہ فدایاں ختم نبوت جن کی تعداد تقریبا دو ہزار کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے اس چار دیواری کو گرا کر کامیاب و کامران واپس ہوئے۔ صبح سویرے قادیانیوں نے عبدالقادر قادیانی کی لاش کو ڈیرہ غازی خان میں جا کر قادیانی مرگھٹ میں دفن کیا۔

میں اہلیان شاد لنڈ اور تحریک ختم نبوت کے مجاہد مولانا محمد بخش صاحب کو اس کامیاب کاروائی پر مبارکباد دیتا ہوں اور اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی سے دعا گو ہوں کہ رب کائنات اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے طفیل ختم نبوت کے عقیدہ پر ہمیں تادم زیست قائم رکھے اور مسلمانوں کی اس محنت کو منظور فرما کر آخرت میں اجر عظیم عطا فرمائے۔

قادیانی مبلغ کا قرآن کی جھوٹی قسم کھانے پر عبرت ناک انجام

بچوں کو قادیانیت کی تبلیغ کیا کرتا تھا اسٹاف نے اسے کئی دفعہ منع کیا کہ بچوں میں تبلیغ نہ کیا کرے لیکن وہ باز نہ آیا اس کے اس دوران سکول کے کلرک ظفر شاہ نے ہیڈ ماسٹر مبارک سے سنا کہ غلام احمد قادیانی آخری نبی ہے۔ اس کے بعد ظفر احمد شاہ نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رب العزت کے آخری اور سچے نبی ہیں دونوں نے قرآن پر ہاتھ رکھنے

صفحہ 330

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سے پہلے کہا تھا کہ جھوٹے کا انجام بد سامنے آ جائے گا قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر بیان دینے کے تھوڑی دیر بعد ہی مبارک احمد قادیانی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بچوں کو چھوڑ دیا اس کے بعد وہ فوراً لاہور چلا گیا وہاں سے لنڈا بازار سے کئی پینٹیں اور شرٹیں خریدیں واپس آنے پر ہر پانچ منٹ کے بعد ایک بدل کر دوسری پہن لیتا اس واقعہ سے پہلے اس نے داڑھی رکھی تھی۔ لیکن اب داڑھی اور مونچھیں بالکل صاف کروا دی ہیں ہر وقت یہ لفظ اس کی زبان پر ہوتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے یہ کہتے ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہے مناظرہ کے اگلے روز ڈی ای او سیکنڈری اسکول ملک ملازم حسین نے اسکول میں چھاپہ مار کر اسکی غیر حاضری کی رپورٹ تیار کر کے حکام بالا کو ارسال کر دی ہیڈ ماسٹر کے دو بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹی کی حال ہی میں جرمنی شادی ہوئی ہیڈ ماسٹر کو پاگل پن کے مسلسل دورے پڑ رہے ہیں اور ریلوے اسٹیشن پنڈ مکو کی طرف دوڑ کر جاتا ہے۔ اکثر ٹرینوں میں آتے جاتے لوگ بڑی حیرت زدہ آنکھوں سے اسے دیکھتے ہیں۔ اس وقت یہ ٹرین میں چھپ جاتا ہے اور یہ لفظ دہراتا ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ اب سکول سے مسلسل غیر حاضر ہے۔ ابھی تک کئی ماہ کی تنخواہوں کے لیے اساتذہ کے بلوں پر دستخط بھی نہیں کئے گئے اساتذہ نے حکام بالا سے مطالبہ کیا کہ اس کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ اور اگر وہ واقعی پاگل ہو چکا ہے تو اسے نوکری سے برخاست کر کے نیا ہیڈ ماسٹر تعینات کیا جائے۔ اس واقعہ کے بعد طلباء اساتذہ اور علاقے بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

قادیانی کی قبر پر آسمان سے آگ کے گولوں کا برسنا

وہ انتہائی فحش گالیاں بکتا۔ گلی کوچوں میں اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتا اس کی ناپاک زندگی کی صبحیں اور شامیں اسی غلاظت سے اٹی پڑی تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قادیانیوں کو ابھی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دیا گیا تھا قادیانی حج پر جاسکتے تھے۔ یہ رذیل بھی مسلمانوں کے ساتھ مکہ مکرمہ چلا گیا وہ وہاں بھی اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتا جگہ جگہ پر کھسیانی ہنسی ہنستا، قہقہے لگاتا اور بکواس کرتا کہ میں یہاں صرف سیر کرنے آیا ہوں کیونکہ اب حج تو صرف ربوہ میں ہوتا ہے۔ یہ گستاخ رسول جب مرا تو اسے الگ قادیانیوں کے قبرستان

گستاخ رسول کا

میں دفن کیا گیا سورج شروع ہوا۔ رات کو ارہ دید گواہ آج بھی اس وا آکر گرا اور غائب ہو گیا رہا۔ اپنی آنکھوں سے نہ ہوئی۔ شاید ان کے د

وہ براستہ ربوہ سیدھا کہ قادیانیوں نے لیکن تمام کوشش ناکا لاش نہیں بلکہ غلاظت اسے ربوہ لے گئے اور کے راہ ہدایت پر آ

تبلیغی جما

مصروف تھی۔ شام پڑھی اور رات و جماعت کی گفتگو تین دن چلنے کا اس علاقے کی جماعت کے

صفحہ 331

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں دفن کیا گیا سورج غروب کے بعد جلد ہی رات کا اندھیرا پہلے کی نسبت قدرے گہرا ہونا شروع ہوا۔ رات کو اردگرد کی آبادیوں نے یہ خوفناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور وہ چشم دید گواہ آج بھی اس واقعہ کے شاہد ہیں کہ آگ کا ایک بہت بڑا سرخ گولہ عین اس قبر کے اوپر آکر گرا اور غائب ہو گیا پھر پے در پے گولے برسنے لگے تو رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اپنی آنکھوں سے اس قادیانی مردار کی قبر پر آگ برستے دیکھ کر بھی قادیانیوں کو کوئی عبرت نہ ہوئی۔ شاید ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں۔

قادیانی مردے کی نعش سے تعفن کا اٹھنا

وہ براستہ ربوہ سیدھا جہنم میں جا پہنچا۔ اس گستاخ رسول ﷺ کی نعش نے ایسی بدبو پھیلائی کہ قادیانیوں نے قیمتی عطر اور سینٹ وغیرہ چھڑک کر بدبو اور تعفن کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن تمام کوشش ناکام ثابت ہوئی تابوت میں بند کرنے کے بعد بھی یوں محسوس ہو رہا تھا کہ لاش نہیں بلکہ غلاظت بھری ہوئی ہے۔ تابوت سے گندہ ریشہ بھی نکل رہا تھا۔ اسی حالت میں اسے ربوہ لے گئے اور اسے قادیانی مرگھٹ میں دبا دیا گیا۔ قادیانیوں سوچو اور عبرت حاصل کر کے راہ ہدایت پر آجاؤ۔

تبلیغی جماعت کی برکت سے ایک شخص کا قادیانیت سے توبہ

مصروف تھی۔ شام ہونے کو تھی جماعت نے مغرب کی نماز راستے میں آنے والی ایک مسجد میں پڑھی اور رات وہیں بسر کرنے کا ارادہ کیا عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد مسجد کے امام سے جماعت کی گفتگو ہوئی اور امام مسجد سے وقت لگانے کا مطالبہ کیا امام مسجد نے جماعت کے ساتھ تین دن چلنے کا وعدہ کیا صبح ہوئی تو پتہ چلا کہ مذکورہ مسجد تو قادیانی عبادت گاہ ہے اور امام مسجد اس علاقے کی قادیانی جماعت کا سربراہ ہے جب امام مسجد کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے جماعت کے امیر سے کہا کہ اگرچہ میں قادیانی ہوں لیکن میں دین کی باتیں سیکھنے کے لیے آپ

صفحہ 332

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کے ساتھ چلوں گا۔ چنانچہ وہ جماعت کے ساتھ تین دن کے لیے اسی وقت روانہ ہو گیا۔ اسے گھر سے نکلے یہ پہلی رات تھی کہ اسے خواب آیا خواب میں اس نے دیکھا کہ سرور دوعالم ﷺ تشریف فرما ہیں اور ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور کچھ فاصلے پر ایک خنزیر زنجیر سے بندھا ہوا ہے۔ آپ ﷺ اس قادیانی سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں۔

تم اس خنزیر کے پاس تو جاتے ہو ہمارے پاس کیوں نہیں آتے۔

خواب نے اسے ہلا کر رکھ دیا لیکن اس نے کسی سے ذکر نہ کیا۔ اگلی رات سویا تو پھر یہی خواب دیکھا لیکن اس نے خواب کے بارے میں کسی سے کوئی بات نہ کی تیسری رات اس نے پھر خواب یہی دیکھا کہ آپ ﷺ اسے غصہ اور ناراضگی سے کہہ رہے ہیں۔

تم خنزیر کے پاس تو جاتے ہو لیکن ہمارے پاس کیوں نہیں آتے۔

رات بھر وہ چین سے سو نہ سکا صبح ہوئی تو وہ سر جھکائے جماعت کے امیر کی خدمت میں حاضر ہوا ماتھے پہ ندامت کا پسینہ تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی وہ امیر صاحب سے کہنے لگا۔

امیر صاحب! مجھے کلمہ پڑھائیے اور مسلمان کیجئے۔

امیر صاحب خوشی سے اچھل پڑے اور اس سے پوچھا کہ اسے اس بات کی توفیق کیسے ہوئی۔ جواباً اس نے اپنا خواب سنایا۔ سب پہ کیف و مستی کی کیفیت طاری ہو گئی اور مبارک مبارک کی صدائیں بلند ہونے لگیں وہ نو مسلم ہاتھ باندھ کے جماعت کے امیر سے درخواست کرنے لگا کہ میں اپنے گھر میں آپ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں امیر صاحب نے ساتھیوں سے مشورہ کے بعد اس کی دلجوئی کے لیے دعوت قبول کر لی اس کا گھر قادیانیوں سے بھرا ہوا تھا اور نو مسلم جماعت کے امیر سے کہنے لگا۔

میں نے اپنا مبارک خواب ان سب کو سنایا تھا اور اب یہ سب کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونا چاہتے ہیں۔

تبلیغی جماعت اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی اور ہر سابق قادیانی بھی اسلام قبول کر کے اللہ کا شکر ادا کر رہا تھا۔

گستاخ رسول راقم کو یہ واقعہ اور انہیں یہ واقعہ مسلم جو جرمنی گئی ہوئی جماعت مولانا لال حسین 24 ...... مولا چلی کالج کو خیر باد کہ گورداسپور ضلع بھر میں پر مقدمہ چلا۔ ایک سو سماج اور شدھی کی گئے۔ مرزائیوں کی نا کالج میں داخل ہو ایشن ایڈیٹر پیغام صلح مرزائیوں کے مبلغ کی کرنے پر خود لکھتے ہیں اللہ رب العزت مرزا قادیانی کی نجا خوابوں سے متاثر مرزا قادیانی کی مش مرزا کی صداقت ان خوابوں شاگرد اور رفیق فرمایا کرتے تھے کہ ہاتھ میں اور دوس

صفحہ 333

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

راقم کو یہ واقعہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبداللطیف ایثار صاحب نے سنایا اور انہیں یہ واقعہ مسلم کالونی ربوہ کی مسجد میں ٹھہری ہوئی تبلیغی جماعت کے ایک شخص نے سنایا جو جرمنی گئی ہوئی جماعت میں شامل تھا۔

مولانا لال حسین اختر صاحب کا مرزائیت سے تائب ہونے کا واقعہ

چلی کالج کو خیر باد کہہ کر تحریک خلافت میں شامل ہو گئے خلافت کمیٹی بٹالہ کے زیر ہدایت گورداسپور ضلع بھر میں خوب تحریک کا کام کیا بالآخر گورداس پور کی عدالت میں تقریریں کرنے پر مقدمہ چلا۔ ایک سال کی سزا ملی جو گورداس پور کی جیل میں کاٹی پھر جب رہا ہوئے تو آریہ سماج اور شدھی کی تحریک کے مقابلہ پر کام کرنے کا عزم کیا۔ مرزائیوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ مرزائیوں کی نام نہاد تبلیغ اسلام کے دام تزویر میں پھنس گئے ان کی بیعت کی۔ انجمن کے کالج میں داخل ہو گئے سنسکرت وید وغیرہ بھی اسی دوران میں پڑھے سیکریٹری احمدیہ ایسوسی ایشن ایڈیٹر پیغام صلح لاہور وغیرہ کے اہم عہدوں پر فائز ہوئے اور آٹھ سال تک لاہور میں مرزائیوں کے مبلغ کی حیثیت سے مرزائی عقائد کی تبلیغ کرتے رہے بالآخر ترک مرزائیت کرنے پر خود لکھتے ہیں۔

اللہ رب العزت نے فضل فرمایا ۱۹۳۱ء کے وسط میں چند خواب دیکھے جن میں مرزا قادیانی کی نہایت گھناؤنی شکل دکھائی دی اور اسے بری حالت میں دیکھا آخر کار ان خوابوں سے متاثر ہو کر فیصلہ کیا کہ خداوند کریم کو حاضر و ناظر سمجھ کر محبت و عداوت کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کی مشہور تصنیفات کا مطالعہ کیا جائے۔ خالی الذہن ہو کر جوں جوں مطالعہ کرتا گیا مرزا کی صداقت مشتبہ ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ مجھے یقین کامل ہو گیا کہ مرزا قادیانی جھوٹا ہے۔

ان خوابوں کی تفصیل مولانا عبدالرحیم اشعر کی زبانی سنئے جو حضرت موصوف کے نامور شاگرد اور رفیق سفر اور مجلس کے مناظر اسلام ہیں۔ حضرت مولانا لال حسین اختر استاذی مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک رسی ہے جس کا ایک سرا میرے ہاتھ میں اور دوسرا مرزا قادیانی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے خواب میں

صفحہ 334

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام دیکھا کہ ایک بزرگ آئے اور انہوں نے کوئی چیز مار کر درمیان سے رسی کاٹ ڈالی۔ ایک دھڑام کی آواز آئی میں گھبرایا تو بزرگ نے کہا کہ وہ دیکھو مرزا قادیانی جہنم میں جل رہا ہے۔ میں نے دیکھا تو آگ کے الاؤ میں مرزا قادیانی جل رہا تھا۔ اور اس کی شکل خنزیر کی سی تھی۔ دوسری دفعہ خواب میں دیکھا کہ جہنم میں مرزا قادیانی خنزیر کی شکل میں رسیوں سے جکڑا ہوا جل رہا ہے میں ڈر گیا غیب سے آواز آئی کہ یہ شخص مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے سب اسی طرح جلیں گے۔ تم بچ جاؤ چنانچہ یکم جنوری ۱۹۳۲ء کو مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔

مرزائی عبادت خانے کے امام کی عبرتناک موت کا واقعہ

نہیں تھی، ایک کان نہیں تھا، ایک بازو نہیں تھا، بے ڈھبے چہرے پر چیچک کے داغ تھے، سر کے ایک طرف کے بال کچھ یوں اڑے ہوئے جیسے جل گئے ہوں، ایک پاؤں کی ہڈی تھوڑی سی ٹیڑھی نیم کور آنکھیں جنہیں دیکھ کے پتہ بھی نہیں چلتا تھا کہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے، پیٹ اس انداز سے پھولا ہوا جیسے بکرے کو افارہ ہو جائے اگر یہ نقوش اور خدو خال کسی مصور کو دے دیئے جائیں تو جو لا جواب تصویر بنے گی وہ عبدالکریم قادیانی کی ہوگی۔ مرزا قادیانی کے عبادت خانے کا پہلا امام تھا۔ اس کے شکل اور وجود کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ مرزا قادیانی کے جسم سے نکلنے والی لعنتی شعاعوں کو سب سے زیادہ اس نے اپنے وجود میں جذب کیا ہے۔ سیا لکوٹ کا رہنے والا تھا۔ حکیم نور الدین مرتد کی ارتدادی تبلیغ سے متاثر ہو کر مرتد ہوا اور حکیم نور الدین مرتد اس کے ایمان کا قاتل ٹھہرا بڑا جوشیلا مقرر تھا جب زیادہ جوش میں آتا تو منہ سے جھاگ اور تھوک کا سلسلہ جاری ہو جاتا جس سے قریبی سامعین خوب مستفید ہوتے جب زیادہ جوش آتا تو اپنے باقی ماندہ اعضاء کو یوں حرکت دیتا کہ ابھی اڑ کر سامنے والی دیوار پر جا بیٹھے گا۔ مرزا قادیانی پر یوں فدا تھا جیسے شیطان مرزے پر فدا تھا اپنے نام نہاد جمعہ کے خطبہ میں مرزا قادیانی کو اللہ کا نبی اور رسول کہتا (معاذ اللہ ) اور مکر و فریب کی کالی اور زہریلی زبان سے قرآن وحدیث سے اس کی نبوت ثابت کرنے کی ناپاک جسارت کرتا ایک دن عبدالکریم

گستاخ رسول کا عبرتناک قادیانی کے جسم پر ایک پھو زبان کی طرف بڑھتا ہی گیا بدن کو کاٹ کے رکھ دیا۔ مر منزل پر مرتد عبدالکریم اور ی ہوتے ہوئے بکرے کی طرح اوجود تڑپ تڑپ کر جا رہا کہ مرزا قادیانی کو ملنے کے لیے تمہاری یاد میں روتا ہے۔ مکاری میرا دل اسے ملنے کے لیے تڑپتا ہوں اور مجھ سے اس کی حالت لیے نہیں جاتا تھا۔ کہ کہیں اس جائے۔ جب مرتد عبدالکریم کی چیخ رہائشی کمرہ بدل کر اس کمرے میں رکھ لکریم مرزا قادیانی کو ملاقات کے حسرت دل میں لیے وہ تڑپتا تڑپتا چہرہ بھی ڈر کے مارے دیکھنے نہ گیا وہاں آتا ہے مرزا کا ایک مرید کفن صاحب چہرہ دیکھ لیں عیار مرزا قادیا جاتا۔ آخر جھوٹے نبی کا جھوٹا صحابی جاتا ہے۔ مرتد عبدالکریم وہ پہلا مرد قادیانی بہشتی مقبرہ کا بہترین افتتاح ا

مرزا غلام احمد قادیانی

صفحہ 335

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

قادیانی کے جسم پر ایک پھوڑا نمودار ہوا بڑا علاج معالجہ کرایا گیا لیکن پھوڑا مرزا عبدالکریم کی زبان کی طرف بڑھتا ہی گیا اور آخر اس کا پورا وجود پھوڑا بن گیا ڈاکٹروں نے چیر پھاڑ کر کے بدن کو کاٹ کے رکھ دیا۔ مرتد عبدالکریم اور مرزا قادیانی ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔ اوپر کی منزل پر مرتد عبدالکریم اور نیچے کی منزل میں مرزا قادیانی درد کی شدت سے مرتد عبدالکریم ذبح ہوتے ہوئے بکرے کی طرح چیخیں مارتا جس سے سارا مکان ہل جاتا اس کا کٹنا پٹنا اور چیرا پھاڑ وجود تڑپ تڑپ کر چارپائی سے نیچے گرتا جسے پھر چارپائی پر رکھ دیا جاتا وہ چیخ چیخ کر مرزا قادیانی کو ملنے کے لیے آوازیں دیتا لوگ مرزا قادیانی سے کہتے کہ تم اس سے مل لو وہ تمہاری یاد میں روتا ہے۔ مکار مرزا جواب دیتا کہ مجھے اس کی تکلیف کا انتہائی دکھ ہے اور میرا دل اسے ملنے کے لیے تڑپتا ہے لیکن میں اسے نہیں مل سکتا کیونکہ میں ایک کمزور دل کا آدمی ہوں اور مجھ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جائے گی درحقیقت مرزا اس سے ملنے صرف اس لیے نہیں جاتا تھا۔ کہ کہیں اس کے قریب جانے سے یہ مہلک بیماری اسے بھی نہ لگ جائے ۔ جب مرتد عبدالکریم کی چیخوں کی صدائیں زیادہ ہولناک ہوتیں تو مرزا قادیانی نے اپنا رہائشی کمرہ بدل کر اس کمرے میں رہائش اختیار کر لی جہاں چیخوں کی آواز کم آتی تھی۔ مرتد عبد لکریم مرزا قادیانی کو ملاقات کے لیے پکارتا رہا لیکن مرزا قادیانی اسے ملنے نہ آیا آخر یہی حسرت دل میں لیے وہ تڑپتا تڑپتا جہنم واصل ہو گیا۔ مرزا قادیانی مرے ہوئے عبدالکریم کا چہرہ بھی ڈر کے مارے دیکھنے نہ گیا مرتد عبدالکریم کا جنازہ میدان میں پڑا ہے مرزا قادیانی وہاں آتا ہے مرزا کا ایک مرید کفن سے عبدالکریم کا منہ نکال کر مرزا کو کہتا ہے کہ حضرت صاحب چہرہ دیکھ لیں عیار مرزا قادیانی رونے والی صورت بنا کر کہتا ہے کہ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا ۔ آخر جھوٹے نبی کا جھوٹا صحابی، جھوٹی مسجد کا جھوٹا امام جھوٹے بہشتی مقبرہ میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ مرتد عبدالکریم وہ پہلا مردہ تھا جو سب سے پہلے قادیانی بہشتی مقبرہ میں دفن ہوا یعنی قادیانی بہشتی مقبرہ کا بہترین افتتاح اس بہترین مردہ سے کیا گیا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کو مالیخولیا کی عبرت ناک بیماری

صفحہ 336

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کے خواب دکھلا رکھے تھے اور اس پر ہر وقت اپنے آقا انگریز کی اطاعت اور مسلمانوں کی مذہبی پیشوائی کا خیال سوار رہتا ہی تھا کہ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ اس کو مالیخولیا (مراق) کی عبرتناک بیماری نے اپنے شکنجہ میں لے لیا۔ اس بیماری میں مرزا غلام احمد کے مبتلا ہونے کی دلیل دینے سے پہلے اطباء کی زبانی مالیخولیا مراق کی تعریف اور اس کی علامات بھی ملاحظہ فرمالیں تا کہ آئندہ مضمون سمجھنے میں دقت نہ ہو۔

بعض مریضوں میں گاہے بگاہے یہ فساد اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو غیب دان سمجھتا ہے اور اکثر ہونے والے امور کی پہلے ہی خبر دے دیتا ہے...... اور بعض میں یہ فساد یہاں تک ترقی کر جاتا ہے کہ اس کو اپنے متعلق یہ خیال ہوتا ہے کہ میں فرشتہ ہوں اور کبھی اس سے بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگتا ہے۔

(ترجمہ شرح اسباب اردو ص ۱۰۵ امراض راس مالیخولیا مصنفہ حکیم برہان الدین نفیس)

رہا ہو مثلاً...... مریض صاحب علم ہو تو پیغمبری اور معجزات و کرامات کا دعویٰ کر دیتا ہے خدائی کی باتیں کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تبلیغ کرتا ہے۔

(ترجمہ اکسیر اعظم ج ۱ ص ۱۸۸ مصنفہ حکیم محمد اعظم خان صاحب)

اس مرض سے متعلق اگر کسی کو مکمل مصداق اور جامع شخصیت تلاش کرنی ہو تو اسے مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے مرزا غلام احمد قادیانی کو سب سے پہلا مراق کا دورہ اس کے بیٹے بشیر احمد کی موت کے بعد (۱۸۸۸ء کے بعد ) پڑا ہے سیرت المہدی میں ہے۔

بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود (یعنی والد صاحب ) کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹریا کا دورہ بشیر اول کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا۔ رات کو سوتے ہوئے آپ کو خواب آیا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہو گئی مگر یہ دورہ خفیف تھا...... والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس کے بعد آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے خاکسار نے پوچھا دوروں کا کیا اثر ہوتا تھا؟ والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اور بدن کے

صفحہ 337

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پٹھے کھنچ جاتے تھے خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ اپنے بدن کو سیدھا نہیں رکھ سکتے تھے شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہ رہی اور کچھ طبیعت عادی ہو گئی ۔

قادیانیوں اور مسلمانوں میں تاریخ مباہلہ

27 ...... آپ مانسہرہ سے اگر بالاکوٹ کی طرف جائیں گے تو عطر شیشہ کے قریب ایک گاؤں پھگلہ نامی ہے جس میں اکثر آبادی سادات کی ہے۔ اس قصبہ میں سب سے پہلے عبد الرحیم شاہ نامی ایک شخص نے مرزائیت قبول کی اور مرزائیت کا مبلغ بن کر مرزائیت کی تشہیر شروع کر دی لیکن علماء کرام نے ہر دور میں باطل کے خلاف زبان و سنان سے جہاد کیا۔ خدا کی شان ہے اس علاقہ میں علماء حق علماء دیو بند کثیر تعداد میں رہتے تھے۔ خاص کر پھگلہ میں بھی مولانا قاضی عبد اللطیف فاضل دیو بند سے اکثر وبیشتر مرزائیوں کا بحث مباحثہ چلتا رہتا تھا۔ شدہ شدہ معاملہ مباہلے تک جا پہنچا طے یہ پایا کہ تین تین آدمی دونوں طرف سے لے لیے جائیں مسلمانوں کی جانب سے تین علماء کرام تھے جو مندرجہ ذیل ہیں ۔

مرزائیوں کی جانب سے:

یہ تاریخی مباہلہ ۲۶ فروری ۱۹۷۳ء بروز جمعہ کو طے پایا اور اردگرد کے مضافات میں بھی اطلاعات بھیج دی گئیں ۔ عوام کا عظیم اجتماع حق و باطل کے اس معرکے کو دیکھنے کے لیے امنڈ آیا اور جگہ بھی ایسی منتخب کی گئی جو کہ علاقہ کا مشہور ترین مزار تھا جو غازی بابا کے نام سے مشہور ہے۔ مباہلہ شروع ہونے سے قبل حضرت مولانا کریم عبد اللہ صاحب نے مباہلہ کی حقیقت

صفحہ 338

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

بیان کی اور غرض و غایت سے عوام کو روشناس کرایا پھر قادیانیت کے بارے میں تفصیل سے روشنی ڈالی کی ہم نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہیں جب کہ مرزائی مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں جب کہ مرزائیوں کا عقیدہ ہے کہ وہ انتقال کر چکے ہیں اور مرزا قادیانی حضرت عیسیٰ کی جگہ مسیح بن کر آیا ہے۔ ہم اس لیے یہاں جمع ہوئے ہیں کہ سب مل کر عاجزی آہ وزاری اور خلوص سے دعا کریں کہ جس کا عقیدہ غلط ہے اور جو باطل پر ہے خداوند قدوس اس پر ہلاکت کی صورت میں (ایک سال کے اندر اندر عذاب نازل کرے اور سخت سزا دے۔

چنانچہ تمام حاضرین نے اپنے سر کو ننگا کر کے دعا شروع کر دی اور بیس منٹ تک لگا تار دعا ہوتی رہی اور مجمع سے آمین آمین کی آوازیں آتی رہیں۔ دعا کے درمیان غلام حیدر نامی قادیانی پر غشی کا دورہ پڑا اور بے ہوش ہو کر گر پڑا عبدالرحیم شاہ قادیانی نے اس کو ہوش میں لانے کے بعد کھڑا کیا اور حوصلہ دیا ایک دوسرا قادیانی عبدالرحیم جو دکاندار تھا پورے مباہلہ میں شریک تھا اسی دعا کے دوران کہنے لگا کہ میں تو دعا کرتا ہوں کہ خداوند قدوس جو ہم میں سے جھوٹا ہے اس کو پاگل کر دے تاکہ دیکھیں سچا کون ہے؟ اور جھوٹا کون ہے؟ اور دوسروں کو بھی عبرت ہو۔

راقم الحروف سے حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہ نے بیان فرمایا کہ مباہلہ سے قبل میں نے عبدالرحیم شاہ قادیانی سے جو وہاں مرزائیوں کا سرغنہ تھا کہا کہ آؤ تم اور میں ایک آسان طریقہ اختیار کرتے ہیں یہ جو چیڑ کے بلند و بالا درخت ہیں ان درختوں پر چڑھ کر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اوپر سے چھلانگ لگاتے ہیں جو سچا ہوگا وہ بچ جائے گا اور جو جھوٹا ہو گا وہ نیچے گرتے ہی مر جائے گا۔ لیکن عبدالرحیم شاہ قادیانی نے اس بات سے بالکل انکار کر دیا اور کہا کہ نہیں ہم مباہلہ ہی کریں گے۔

مباہلہ کرنے والے قادیانیوں کا عبرت ناک انجام

اب سنئے ! مباہلہ کرنے والے قادیانی لوگوں کے ساتھ کیا بیتی اور ان کا انجام کیا ہوا عبدالرحیم قادیانی نے دوران مباہلہ خود کہا تھا کہ خدا جھوٹے کو پاگل کر دے ایک ماہ کے بعد وہ

گستاخ رسول

پاگل ہو گیا اور اول فول داخل ہوا اور شور شرابہ شر حوالے کر دیا اور کافی ذل مرزا قادیانی کو سور کی شکل حیدر نامی قادیانی کو اس کو بالکل معمولی سی بات سپرد کر دیا گیا۔ چنانچہ دیا اور اس کے وہ بھتیجے سے حضرت مولانا عب میں بھی کبھی درود فرمادی۔

تیسرے قادیان میں مبتلاء کیا کہ اس ل کمرے میں داخل ہو کے بعد عبدالرحیم شاہ مباہلین علماء میں دو حضرات کچھ عرصہ قبل عبداللہ صاحب سے سن

مرزا کی عب

کے لحاظ سے ہر مرزائی مرزائی کی ہوتی ہے اور مخ

صفحہ 339

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پاگل ہوگیا اور اول فول بکنے لگا۔ قریب جابہ نامی بستی میں فوج کا کیمپ تھا وہ وہاں بغیر اجازت داخل ہوا اور شور شرابہ شروع کر دیا انگریز کمانڈر تھا اس نے عبدالرحیم قادیانی کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا اور کافی دنوں تک جیل میں رہا جب جیل سے رہا ہوا تو خود کہنے لگا کہ میں نے مرزا قادیانی کو سور کی شکل میں دیکھا ہے اور قادیانی عقیدے کو ترک کر کے اسلام قبول کیا غلام حیدر نامی قادیانی کو اس کے بھتیجوں نے ٹھیک ایک مہینہ کے بعد جمعہ کے دن ۲۶ مارچ ۱۹۷۳ء کو بالکل معمولی سی بات پر جہنم واصل کر دیا غلام حیدر کی کوئی اولاد نہ تھی بھتیجوں کو سیشن کورٹ کے سپرد کر دیا گیا۔ چنانچہ چند مہینے ہی گزرے تھے کہ پولیس نے بغیر کسی سزا اور جرمانہ کے بری کر دیا اور اس کے وہ بھتیجے تاحال زندہ ہیں راقم الحروف نے بالمشافہ ان سے بات بھی کی ہے۔ راقم سے حضرت مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہ نے فرمایا کہ اس سال سے ہم تینوں علماء کے سر میں بھی کبھی درد تک نہیں ہوا۔ بلکہ پہلے اگر کوئی تکلیف تھی تو وہ بھی اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے دور فرمادی۔

تیسرے قادیانی عبدالرحیم شاہ کو ۱۹۷۴ء میں اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے ایسی مہلک بیماری میں مبتلا کیا کہ اس کے جسم میں کیڑے پڑ گئے اور عام لوگ اس کے کمرہ میں نہ جاسکتے تھے کمرے میں داخل ہونے سے ہی بدبو آتی تھی۔ بالآخر باقی مدت ایسی ہی کیفیت میں رہنے کے بعد عبدالرحیم شاہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

مباہلین علماء میں سے صرف مولانا کریم عبداللہ صاحب مدظلہ بقید حیات ہیں بقیہ دو حضرات کچھ عرصہ قبل اس دنیا سے تشریف لے جاچکے ہیں۔ میں نے یہ روداد مولانا کریم عبداللہ صاحب سے سن کر قلم بند کی ہے۔

(مولانا منظور احمد شاہ قاسمی تذکرہ مجاہدین ختم نبوت ص ۳۰۷ تا ۳۱۰)

مرزا کی عبرتناک موت مرزائی آخر تک چھپاتے رہے

کے لحاظ سے ہر مرزائی باون گز کا ہی ہے لیکن خلافت مآب کی بارگاہ میں عزت وتوقیر اس مرزائی کی ہوتی ہے اور تنخواہ میں اضافہ بھی اسی کا ہوتا ہے جو مغالطہ دہی اور کذب بیانی میں

صفحہ 340

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام ید طولیٰ رکھتا ہے۔ اس دوڑ میں ہر قادیانی مبلغ، ہر مدرس ہر مفتی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ بڑھاپا، قبر میں لے جانے والی بیماری قیامت کی باز پرس اور جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کے شعلوں کا خیال بھی ان کی سدراہ نہیں ہوتے مرزائیوں کا ستر بہتر سالہ مفتی محمد صادق (برعکس نام نہاد زنگی کافور) قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے لیکن مرزا محمود کو خوش کرنے کے لیے اپنے نامہ اعمال کو افتراء وکذب بیانی کے باعث تاریک سے تاریک تر کرتا چلا جا رہا ہے۔ چنانچہ قادیانی نبوت کے سرکاری آرگن الفضل میں مفتی کاذب نے مخالفین احمدیت کی غلط بیانی کے عنوان سے ایک مضمون دھر گھسیٹا آپ رقم طراز ہیں۔

آج کل مخالفین سلسلہ حقہ نے جو دروغ گوئی کے ساتھ ہمارے خلاف باتیں پھیلانی شروع کی ہیں۔ ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ حضرت مرزا صاحب مرض ہیضہ سے فوت ہوئے تھے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا) کی وفات لاہور میں ہوئی تھی اور میں اور دیگر احباب اس وقت حضور کے پاس موجود تھے حضور جب کبھی دماغی محنت کیا کرتے تھے تو عموماً آپ کو دوار سر اور اسہال کا مرض ہو جاتا تھا۔ چنانچہ لاہور میں جب حضور لیکچر کا مضمون تیار کر رہے تھے تو کثرت دماغی محنت کے سبب آپ کی طبیعت خراب ہو گئی اور دوار سر اور اسہال کا مرض ہو گیا اور اس مرض کے علاج کے لیے جو ڈاکٹر بلایا گیا تھا وہ انگریز لاہور کا سول سرجن تھا اور چونکہ بعض مخالفین نے اس وقت بھی یہ شور مچایا تھا کہ آپکو ہیضہ ہو گیا ہے اس لئے ڈاکٹر صاحب سول سرجن نے یہ لکھ دیا کہ آپ کو ہیضہ نہیں ہوا اور وفات کے بعد آپ کی نعش مبارک ریل میں بٹالہ تک پہنچائی گئی اگر ہیضہ ہوتا تو ریل والے نعش مبارک کو بک نہ کرتے پس مخالفین کا یہ کہنا بالکل جھوٹ ہے کہ حضور ہیضہ سے فوت ہوئے۔

(مفتی محمد صادق، ربوہ ۲۲ جنوری ۵۱ء، الفضل ۱۱ فروری ۵۱ء ص ۵)

قادیانی مفتی نے کس قدر جسارت اور دیدہ دلیری سے ایک مسلمہ حقیقت پر خاک ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے وہ مرزائی ہی کیا ہوا جو حق کو کذب بیانی کے پردہ میں چھپانے کی کوشش نہ کرے۔ خود جھوٹ کا مرتکب ہونا اور الزام دوسروں پر لگانا قادیانیوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ان کی یہ چالبازیاں ان کے دجل وفریب اور کذب وافتراء کی غمازی کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ انگریزی نبوت کے گنبد ہی میں بیٹھ کر قادیانی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مستور

صفحہ 341

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ہیں۔ ہمیں کوئی نہیں دیکھتا جائز ہو ناجائز جو چاہیں کرتے چلے جائیں۔ انہیں کیا معلوم کہ مجلس احرار اسلام کے خدام مرزائیوں کے راز ہائے دروں پردہ کو مرزائیوں سے زیادہ جانتے ہیں۔

جلوے ترے نگاہ میں کون ومکاں کے ہیں
مجھ سے کہاں چھپیں گے وہ ایسے کج کلاہ ہیں

مرزا کی مرض موت ہیضہ کو چھپانے کے لیے مفتی کاذب نے دوران سر اور اسہال کا لبادہ اوڑھا دیا اور یہ نہ سمجھا کہ ان کے حضرت کے اسہال ہی ہیضہ کی نشان دہی کر رہے ہیں مفتی صاحب نے اسہال کا ذکر تو کر دیا لیکن ظلی و بروزی مصلحت کے پیش نظر اپنے مسیح موعود کی قے کو ہضم کر گئے حالانکہ مرتے وقت مراز صاحب کے گرد قے اور دست دونوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا جیسا کہ خود مرزا جی کی اہلیہ اور مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کی والدہ نے فرمایا مرزا بشیر احمد ایم ۔اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:

حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحب نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پاؤں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سوگئی لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے ...... اور میں آپ کے پاؤں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا تم اب سوجاؤ میں نے کہا نہیں میں دباتی ہوں اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جا سکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے اور پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پاؤں دباتی رہی مگر ضعف بہت ہو گیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔

(سیرت المہدی مرتبہ مرزا بشیر احمد ایم اے۔ طبع دوم ص ۱۱ جلد اول)

صفحہ 342

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

طاہر کی عبرتناک موت کا واقعہ

خاموش بیٹھا رہا جوابی قلمی جہاد کا اعلان تک نہیں کیا۔ ایم ٹی اے ٹی وی نے مرزا طاہر کے گرنے کا منظر ساری دنیا کو دکھایا۔ یہ ذلتیں اور شکستیں ذہن میں رکھیں اور اب اردو تذکرہ سے مرزا قادیانی کا یہ الہام پڑھیں ۔

"سیھزم فلایری بنامن اللہ الذی یعلم السر و اخفی" یہ الہام جون ۱۹۰۲ء کا ہے اس میں لفظ سیھزم کا ترجمہ اس کو گہرائی تک جاننے کے لئے ضروری ہے کہ مرزا محمود کی تفسیر میں سورۃ القمر کی آیت ۴۶ کے الفاظ سیھزم الجمع کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ان کی جماعت کو عنقریب شکست دی جائے گی ...... اس کے مطابق اس الہام کا ترجمہ یہ بنتا ہے کہ عنقریب وہ شکست کھا کر بھاگ جائے گا اور پھر دکھائی نہیں دے گا ۔ یہ پیشین گوئی خدا کی طرف سے جو نہاں در نہاں کو جاننے والا ہے۔

اسی کے ساتھ مرزا قادیانی کا ایک اور الہام دیکھیں اور مرزا طاہر کے خطبوں کی عبرتناک حالت سامنے رکھیں ۔ دیکھیں مرزا قادیانی نے متکبر شخص کے انجام کا کیسا نقشہ کھینچا تھا جو پورے ایک سو سال کے بعد پوری شان کے ساتھ مرزا طاہر کی عبرتناک حالت پر فٹ بیٹھا یہ الہام ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء کا ہے اور یہ مجموعہ الہامات تذکرہ انگریزی ترجمہ سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں سے من وعن پیش خدمت ہے۔ انگریزی تذکرہ صفحہ نمبر ۴۲۲ پر یہ الہام یوں درج ہے۔

Like a skinned goat at every Pointless sermon meaning that his مرزا طاہر کی اپنی حالت کھال اتری ہوئی بکری کی emotions are not under control ہو چکی تھی ۔ اس کا ہر خطبہ Sermon بے معنی اور بے مقصد تھا ۔ اس کی کنٹرول سے باہر حالت اس الہام کے الفاظ کی صداقت کا کھلا نشان بن گئی ۔

مرزا طاہر اپنی عمر کے آخری مہینوں میں عبرت کا نشان بنا رہا۔ اس کے کسی خطبہ کی سمجھ نہ آتی ۔ اس کے خطبات سے روز روشن کی طرح ظاہر ہو رہا تھا کہ مرزا طاہر قطعی طور پر اپنے ہوش

صفحہ 343

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

حواس کھو بیٹھا ہے۔ اس کی اقتداء میں پڑھی جانے والی ہر نماز باطل ہوئی مگر اندھے مریدوں نے ان مردودوں کو نہ صرف قبول کیا بلکہ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔

مرزا طاہر کبھی نماز میں دعائے قنوت پڑھ دیتا اور کبھی خطبہ میں اللہ اکبر کہہ کر رکوع میں چلا جاتا…… ایم ٹی اے اسے عبادت گاہ میں نہ آتے ہوئے دکھاتا اور نہ جاتے ہوئے۔ بعض اوقات ایسا معلوم ہوتا کہ قادیانی جماعت کے موجودہ ارباب اختیار جان بوجھ کر مرزا طاہر کی رسوائی چاہتے تھے اور اسے ایسے خطبوں میں لے آتے یا پھر خدائی تقدیر تھی۔ جو مرزا طاہر کی رسوائی کی صورت میں اس کے عبرتناک انجام کو ساری دنیا کے سامنے بیان کرتی رہی اور بتا رہی تھی وتذل من تشاء……!

مرزا طاہر کو شاید وہم بھی نہ تھا کہ وہ اچانک مر جائے گا۔ اس کی چار بیٹیوں میں سے صرف ایک بیٹی فائزہ لقمان اس کے پاس تھی دوسری بیٹی شوکت جہاں اپنے میاں سے لڑائی جھگڑے کے بعد مستقل پاکستان میں تھی۔ ایک دن پہلے اس کی طبیعت قدرے بہتر تھی۔ ۱۹ اپریل ۲۰۰۳ء کو ناشتہ کی میز پر اس کو دل کا دورہ پڑا اور ساتھ ہی جسم کے بائیں طرف فالج کا حملہ ہو گیا جو پہلے سے زیادہ شدید تھا۔ اس سے فوری طور پر مرزا طاہر کا منہ ٹیڑھا ہو گیا ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق یہ لقوہ تھا بائیں آنکھ بازو ٹانگ اور دیگر اعضاء بری طرح ساکت ہو کر رہ گئے۔ مرزا طاہر کچھ بولنے کی کوشش کرتا مگر مرزا قادیانی کی وحیوں کی طرح کچھ سمجھ میں نہ آتا وہ میز پر پڑی دوائیوں کے ڈھیر کو دیکھتا تو چیخنے لگتا۔

اس دوران وہ دائیں ہاتھ سے اپنی داڑھی کو بری طرح کھینچتا اور یکدم چپ ہو جاتا پھر بے تحاشہ ہنستا اور اچانک رونے لگتا۔ کمرے میں لٹکی مرزا قادیانی کی تصویر کو دیکھتا تو غصے سے اول فول بکنے لگتا۔ اسی اثناء میں ایک عجیب حادثہ یہ ہوا کہ مرزا طاہر کے جسم کے تمام بال گرنا شروع ہو گئے اور آناً فاناً پورا جسم بالوں سے حتیٰ کہ داڑھی اور بھنویں بہت حد تک صاف ہو گئیں۔

مرزا طاہر کی شکل بگڑ کر اتنی کریہہ اور مکروہ ہو گئی کہ دیکھتے ہی متلی آتی تھی اس کے کپڑے بول و براز سے لتھڑے پڑے تھے۔ جو شخص اس کے کپڑے تبدیل کرنے کے لیے آگے بڑھتا مرزا طاہر غصے سے اس کے منہ پر تھوکتا اور چلاتا ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے جسم کو فالج کے مزید اثرات سے بچانے کے لیے سرتوڑ کوشش کی مگر ناکام رہے صاف معلوم ہو رہا تھا کہ موت

صفحہ 344

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کا فرشتہ سر پر آن کھڑا ہے۔ ڈاکٹروں کے علاوہ موقع پر درجنوں قریبی عزیز اور جماعت کے اعلیٰ عہدیدار اس صورتحال کے عینی شاہد ہیں۔

بقول جناب شفیق مرزا اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے قادیانی امت پر ایسا عذاب نازل کیا ہے کہ اب ان کا ہر قابل ذکر مقتداء ایسی رسوا کن بیماری سے مرتا ہے کہ اس میں ہر صاحب بصیرت کے لئے سامان عبرت موجود ہے۔ فالج کی بیماری کو خود مرزا قادیانی نے دکھ کی مار اور سخت بلا جیسے الفاظ سے یاد کیا ہے۔ اور اب قادیانی امت کی گندی ذہنیت کی وجہ سے یہ بیماری اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے سزا کے طور پر قادیانیوں کے لئے کچھ اس طرح مخصوص کر دی ہے کہ ایک واقف حال قادیانی کا کہنا ہے اب تو حال یہ ہے کہ جو شخص فالج سے نہ مرے وہ قادیانی ہی نہیں۔

مرزا محمود احمد نے اپنے باوا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اکابر اور جید علماء دین کے وصال پر جشن مسرت منایا اور ان کا یہ دھندا اب تک چل رہا ہے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے قادیانیت کے گوسالہ سامری مرزا محمود کو فالج کا شکار بنا کر دس سال تک رہین بستر و بالش کر دیا اور اس عبرت ناک رنگ میں اس کو اعضاء جوارح اور حافظے سے محروم کر دیا کہ وہ مجنونوں کی طرح سر ہلاتا رہتا تھا اور اس کی ٹانگیں بیدلرزاں کا نظارہ پیش کرتی تھیں۔ گویا وہ لا یموت فیھا ولا یحییٰ کی تصویر تھا۔

مگر قادیانی مذہبی انڈسٹری کے مالکان اس حالت میں بھی الٹا اخبار اس کے ہاتھ میں پکڑ کر زیارت کے نام پر مریدوں سے پیسہ بٹورتے رہے اور پھر سات بجے شام مر جانے والے اس مصلح موعود کی دو بجے شب تک صفائی ہوتی رہی اور سرکاری اعلان میں اس کی موت کا وقت دو بج کر دس منٹ بتایا گیا اور اس عرصہ میں اس کی الجھی ہوئی داڑھی کو ہائیڈروجن یا کسی اور چیز سے رنگ کر اسے طلائی کلر چہرے پر نمودار کیا گیا۔ تاکہ مریدوں پر اس کی اولیائی ثابت کی جا سکے حیرت ہے کہ جب کوئی مسلمان دنیاوی زندگی کے دن پورے کر کے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کے نبی پاک ﷺ پیش ہوتا ہے تو قادیانی اس کی بیماری کو عذاب الٰہی قرار دیتے ہیں لیکن ان کے اپنے اکابر ذلیل موت کا شکار بنتے ہیں تو یہ ابتلاء بن جاتا ہے اور اس کے لئے دلائل دیتے ہوئے قادیانی تمام وہ روایات پیش کرتے ہیں جن کو وہ خود بھی تسلیم نہیں کرتے۔

چند گھنٹوں بعد دل کا دوسرا اٹیک ہوا۔ جو پہلے کی نسبت زیادہ شدید تھا رازدار درون خانہ

گستاخ رسول کے مطابق یہ کسی ذہنی مرزا طاہر کی چھوٹی بیٹی مقصد مرزا طاہر کو ذہنی طو بہر حال یہ ظاہر ہو گیا کہ کی موت واقع ہوئی۔

لندن میں جہاں گئی۔ وہاں برف اور ایئر شدید بد بو آ رہی تھی جس Embalming کروائی گئی یعنی حنوط کیا گیا۔ خاص دوائی دی جاتی ہے با وجود لاش تیزی سے گل س لہٰذا مشاورت ہوئی احمد مرزا نصیر احمد، مرزا ا مسعود الحسن نوری کی ہدایات تیار کروایا جس کے اوپر شیشے عذاب کی گرفت میں آ چنانچہ ایک اور تابوت خرید دیا گیا۔ بیوقوفی یہ کی گئی کہ اس پر چہرہ دیکھنے و زیارت کرتے جاؤ اور آگے انہیں اس بیوقوفی کا احساس تدفین سے پہلے تا رسیوں کی مدد سے گڑھے م

صفحہ 345

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کے مطابق یہ کسی ذہنی اذیت کا باعث تھا ذہنی اذیت یقیناً مرزا لقمان جو کہ مرزا طاہر کا داماد تھا مرزا طاہر کی چھوٹی بیٹی اور اپنی خوبرو سالی طوبیٰ کے ساتھ وہ اخلاق سوز حرکات تھیں جس کا مقصد مرزا طاہر کو ذہنی ٹارچر اور بلیک میلنگ کرنا تھا جیسا کہ مرزا لقمان وقتاً فوقتاً ایسا کرتا رہتا تھا بہر حال یہ ظاہر ہو گیا کہ ۱۶ اپریل ۱۹۰۲ء اپریل والے الہام کے مطابق اپریل کے مہینے میں اس کی موت واقع ہوئی۔

لندن میں جہاں اپریل میں بھی سردی ہوتی ہے۔ مرزا طاہر کی لاش جس کمرہ میں رکھی گئی۔ وہاں برف اور ائیر کنڈیشنر کا بھی انتظام کیا گیا تاکہ لاش مزید خراب نہ ہو لاش سے شدید بدبو آ رہی تھی جس سے آس پاس کا سارا ماحول متعفن ہو گیا فوری طور پر لاش کی Embalming کروائی گئی۔

یعنی حنوط کیا گیا تقریباً ۵ گھنٹے میں یہ مرحلہ طے ہوا۔ اس پر اس میں خون کی نالی میں خاص دوائی دی جاتی ہے جس سے جسم محفوظ رہتا ہے اور گلتا سڑتا نہیں۔ مگر ہزار کوششوں کے باوجود لاش تیزی سے گل سڑ رہی تھی اور سیاہی مائل ہونے کی وجہ سے چہرہ پہچانا نہ جاتا تھا۔

لہٰذا مشاورت ہوئی جس میں رفیق احمد حیات قادیانی امیر یو کے عطا المجیب، راشد منیر احمد مرزا نصیر احمد، مرزا لقمان احمد، کریم اسد خاں اور سلطان ہارون خاں شامل تھے۔ ڈاکٹر مسعود الحسن نوری کی ہدایت پر فوری طور پر رفیق احمد حیات قادیانی امیر یو کے نے ایک تابوت تیار کروایا جس کے اوپر شیشہ لگا ہوا تھا تاکہ لوگ چہرہ دیکھ سکیں مگر چہرہ متغیر ہونے بلکہ خدائی عذاب کی گرفت میں آنے کی وجہ سے فیصلہ ہوا کہ لوگوں کو مرزا طاہر کا چہرہ نہ دکھایا جائے۔

چنانچہ ایک اور تابوت خریدا گیا یہ تابوت ایلومینیم کا تھا جس میں لاش والا تابوت ڈال کر سیل کر دیا گیا۔ بیوقوفی یہ کی گئی کہ بند تابوت بھی دیدار اور زیارت کے لئے رکھا رہنے دیا گیا۔

اس پر چہرہ دیکھنے والے جب کہتے کہ چہرہ دیکھنا ہے! تو ان کو کہا جاتا کہ بس تابوت کی زیارت کرتے جاؤ اور آگے بڑھتے جاؤ یہ منظر ایم ٹی اے چینل پر صاف دیکھا جا رہا تھا چنانچہ انہیں اس بیوقوفی کا احساس ہوا تو ایم ٹی اے پر مزید دیدار بند کر دیا گیا۔

تدفین سے پہلے تابوت کو قبر کے قریب رکھا گیا اور اس پر پلاسٹک شیٹ لپیٹی گئی اور پھر رسیوں کی مدد سے گڑھے میں اتارا گیا۔ Wait, the last line is: رسیوں کی مدد سے گڑھے میں اتارا گیا۔ I will output it correctly.

صفحہ 346

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اس سے پہلے جتنے بھی قادیانی رہنما مرے انہیں دفنانے کے بعد موقع پر موجود ہر قادیانی اظہار عقیدت کے طور پر تھوڑی سی مٹی قبر میں ڈال کر اپنے دل کی پیاس بجھا لیتا تھا۔ مگر اس دفعہ نیا تماشا یہ ہوا کہ کسی بھی قادیانی کو مرزا طاہر کی قبر پر مٹی ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ حق مغلیہ خاندان نے لیڈی ڈیانا کی تدفین کی نقل کرتے ہوئے صرف اپنے خاندان اور چند منظور نظر افراد کو ہی دیا اور دور دراز سے آئے ہوئے غلام بے چارے دیواروں کے اوپر سے وفادار کتے کی طرح حسرت بھری نگاہوں سے اپنے محبوب کی آخری رسومات ادا کرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ یہ گویا نئے بادشاہ کا عام قادیانی کو اپنی اوقات میں رہنے کا پیغام تھا۔

قادیانی جماعت کے ٹی وی چینل ایم ٹی اے نے اس بات کا بہت پروپیگنڈا کیا کہ مرزا طاہر کے جنازے کو حکومت برطانیہ نے خصوصی اہمیت دی ہائی وے بند کر دی۔ پولیس مہیا کی ہیلی کاپٹر کا سکواڈ دیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ حکومت برطانیہ تو بعض مجرموں کو بھی ایسی اہمیت اور اس سے بڑھ کر اعزاز دے چکی ہے۔ اس کے لیے نیچے دیئے گئے واقعہ پڑھ کر ہر شخص اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔

جرائم کی دنیا کے تین بھائیوں کے جنازوں کے ساتھ مختلف اوقات میں حکومت برطانیہ نے کیسا سلوک کیا۔ آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ ان کے جنازوں کو پولیس ہیلی کاپٹر سکواڈ اور چھ اضلاع کی مزید پولیس منگوا کر اعزاز سے نوازا گیا۔ ایک بھائی کے جنازے کا جلوس ۹ میل لمبا تھا جس کے لئے حکومت نے خصوصی انتظام کئے تھے۔ اگر حکومت جرائم کی دنیا کے لوگوں کو مرزا طاہر سے بڑھ کر اہمیت دے سکتی ہے تو پھر مرزا طاہر کے جنازے کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے۔

مرزا طاہر کی تدفین جماعتی طور پر کسی فخر کے بجائے انتہائی شرمندگی کا باعث ہے۔ اگر قادیانی جماعت کا سربراہ وقت مرزا قادیانی کے بہشتی مقبرہ میں دفن نہیں ہو سکتا تو اس سے رسالہ الوصیت میں کی گئی مرزا قادیانی کی وہ دعا پوری ہوئی جس میں اس نے لکھ رکھا ہے کہ جو اس بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کے لائق نہیں قدرت اس کے لیے ایسے حالات بنا دے کہ وہ اس میں دفن ہونے سے محروم رہ جائے مرزا طاہر ایک جاہ پرست اور نفس پرست شخص تھا اس نے محض اپنی ذاتی شان و شوکت کے لئے ایک کاروبار چلا رکھا تھا اور ایسے ہی لوگوں کے لئے مرزا قادیانی بڑے واضح الفاظ میں رسالہ الوصیت میں دعا کی ہے کہ:

صفحہ 347

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اے میرے قادر خدا اس زمین کو میری جماعت میں سے ان پاک دلوں کی قبر بنا جو فی الواقع تیرے ہو چکے اور دنیا کی اغراض کی ملونی ان کے کاروبار میں نہیں آمین! یارب العالمین!

(رسالہ الوصیت بحوالہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ نمبر ۳۱۶ تا ۳۱۶)

خیال رہے کہ دنیا کی اغراض کی ملونی سے بھرے ہوئے مرزا طاہر کو بخوبی علم بھی ہے کہ ربوہ کا بہشتی مقبرہ حقیقت میں ایک کاروبار ہے۔ اسی لئے اس نے خود وصیت کی تھی کہ اسے ربوہ نہ لے جایا جائے اور دوسری یہ تھی کہ اسے قادیانی عبادت گاہ فضل لندن کے احاطہ میں دفن کیا جائے۔

اس کی یہ دونوں خواہشیں پوری نہیں ہوئیں اسے لندن کے اسلام آباد میں ایسی جگہ دفن کیا گیا ہے جہاں بس وہ ہے مرزا طاہر کی عبرتناک موت دراصل مرزا غلام احمد قادیانی، حکیم نور الدین، مرزا محمود، مرزا ناصر، امت الحفیظ سر ظفر اللہ خان قادیانی، اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو قدرت کی طرف سے ملنے والی خدائی مار اور سزا کا تسلسل ہے فاعتبروا یا اولی الابصار!

قادیانی شاعر ثاقب زیروی کے مندرجہ ذیل اشعار مرزا طاہر کے عبرتناک انجام پر بڑے موقع کی مناسبت سے منطبق ہوئے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

فرصت ہے کسے جو سوچ سکے پس منظر ان افسانوں کا۔ کیوں خواب کی طرح سب خاک ہوئے کیوں خون ہوا ارمانوں کا۔ تاریخ کے سینے میں اب تک ہیں جو دفن وہ سارے ہنگامے انا کے نشے میں چور تھے۔ جو توفیق نظر جن کو نہ ملی مفہوم نہ سمجھے جو ناداں قدرت کے لکھے فرمانوں کا۔ پستے ہیں بالآخر وہ اک دن اپنے ہی ستم کی چکی میں انجام یہی ہوتا ہے آیا فرعونوں کا ہامانوں کا!۔

صفحہ 348

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع ....... 13

عاشقان رسول کے عشق سے لبریز واقعات

”محمد“ کے نام کی برکات

”اہل مکہ کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ جس گھر میں محمد نام والا ہوتا ہے وہ گھرانہ پھلتا پھولتا ہے اور ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق زیادہ دیا جاتا ہے۔“

(الشفا، صفحہ ۱۰۵)

چنانچہ بعض خاندانوں میں تو مسلسل ”محمد“ ہی نام رکھا جاتا ہے اور رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ تیونس کے ایک عالم باعمل ایمن ابوالبرکات محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد (چودہ پشت تک محمد ہی نام رکھا) نے مدینہ میں کافی زمانہ گزارا۔ جب وہاں سے جانے کا ارادہ کیا تو سید دوعالم ﷺ نے خواب میں فرمایا کہ تو نے کس طرح ہماری جدائی گوارا کر لی؟ چنانچہ واپس لوٹے اور وہیں ۷۲۴ھ میں انتقال فرمایا۔

(رحمت، صفحہ ۲۵۶)

سمر قند کے شہر ”ماکردین“ میں ایک قبرستان ہے جس کا نام ”تربۃ المحمدین“ ہے۔ یعنی اس قبرستان میں صرف انہی اموات کو دفن کیا جاتا ہے جن کا نام محمد ہو۔ چنانچہ چھٹی صدی ہجری تک اس قبرستان میں چار سو سے زائد صاحب تصنیف و افتاء واہل علم مدفون تھے۔ جب ۵۹۳ھ میں شیخ اسلام برہان الدین مرغینانی ”صاحب ہدایہ“ کا انتقال ہوا تو ان کو بھی اس قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی گئی کہ ان کے نام میں محمد کا مبارک کلمہ نہیں۔ چنانچہ قریب ہی اس قبرستان کے باہر دوسرے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

(الجواہر، جلد ۱ صفحہ ۴)

حدیث شریف میں ہے کہ:

”جس کا نام محمد ہے وہ دوزخ میں نہیں جائے گا۔“

(مقدمہ الہدایہ، ص ۲)

صفحہ 349

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

قاضی عیاض رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ نے فرمایا:

”قیامت کے دن ایک اعلان ہوگا کہ جس کے نام میں ”محمد“ کا کلمہ موجود ہے وہ جنت میں چلا جائے ۔“

(الشفاء، جلد ۱ صفحہ ۱۰۵)

حضرت عمرؓ کا آپ ﷺ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھنا

صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میرا ایمان کامل ہے۔

کیونکہ:

”والله لانت يارسول الله احب الى من كل شئ الا من نفسى“

”یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔“

آپ ﷺ نے فرمایا:

”لا والذى نفسى بيدى حتى اكون احب اليك من نفسک“

نہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے (تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا ) جب تک کہ میں تمہیں تمہاری جان سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔

یہ سن کر حضرت عمر فاروق رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ تڑپ اٹھے اور فوراً عرض کی:

”والذى بعثك بالحق لانت احب الي من نفسي“

قسم ! اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق دے کر بھیجا! بے شک اب آپ ﷺ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

”الآن ياعمر“

صفحہ 350

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اے عمر! اب تمہارا ایمان مکمل ہوا ہے۔

یہاں ایک نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں یہ بات تھی کہ انسان کو چوٹ لگے تو جتنی تکلیف ہوتی ہے اتنی تکلیف دوسرے کو چوٹ لگنے پر نہیں ہوتی۔ لیکن جب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تک میں تمہاری جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غور کیا اور یہ بات سمجھ میں آئی کہ اگر کوئی دشمن نبی اکرم ﷺ پر حملہ کرے تو آپ ﷺ کو بچانے کے لئے تو میں اپنی جان بھی قربان کر دوں گا۔ لہٰذا فوراً جواب دیا۔ الحمدللہ! اب آپ ﷺ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں:

محمد ﷺ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اس میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

حضرت زیدؓ کا عشق رسولؐ میں سرشار ہو کر ابوسفیان کو جواب دینا

ہو گئے۔ ابوسفیان نے ان سے پوچھا کہ اے زید! میں تمہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، سچ سچ بتا کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم اپنے بیوی بچوں کے پاس ہوتے اور تمہاری جگہ تمہارے پیغمبر اسلام ہوتے؟

حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تڑپ کر کہا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کی قسم! مجھے تو یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میں اپنے اہل میں رہوں اور میرے آقا و سردار کو کانٹا چبھے۔

یہ سن کر ابوسفیان نے کہا کہ میں نے کہیں نہیں دیکھا کہ کسی سے اتنی محبت کی جاتی ہو جتنا کہ مسلمان اپنے رسول ﷺ سے کرتے ہیں۔

(سیرت ابن ہشام)

حضرت مالک خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسول ﷺ

حضرت مالک الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے زخموں کو چوس کر صاف کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ وہ خون تھوک دیں۔ لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ بخدا!

صفحہ 351

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں اسے زمین پر نہیں تھوکوں گا۔ میرے لئے یہ ناممکن ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کا خون زمین پر تھوکوں۔

(زاد المعاد، جلد ۲ صفحہ ۱۳۶)

حضرت انس بن نضرؓ کا آپ ﷺ کی محبت میں جان دینا

آپ ﷺ بھی شہید ہو گئے۔ اس وحشتناک خبر سے جو اثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر ہونا چاہئے تھا وہ ظاہر ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کے اور بھی زیادہ حوصلے ٹوٹ گئے۔ حضرت انس بن نضر رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ چلے جا رہے تھے کہ مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت میں حضرت عمر رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ اور حضرت طلحہ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ پر نظر پڑی کہ سب حضرات پریشان حال تھے۔ حضرت انس رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے کہ مسلمان پریشان سے نظر آ رہے ہیں۔

ان حضرات نے کہا کہ آپ ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔ حضرت انس رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے کہا کہ پھر آپ ﷺ کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کرو گے۔ تلوار ہاتھ میں لو اور چل کر مرجاؤ۔ چنانچہ حضرت انس رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے خود تلوار ہاتھ میں لی اور کفار کے جمگھٹے میں گھس گئے اور اس وقت تک لڑتے رہے کہ شہید ہو گئے۔

ان کا مطلب یہ تھا کہ جس ذات کے دیدار کے لئے جینا تھا جب وہی نہیں رہی تو پھر گویا جی کر ہی کیا کرنا ہے۔ چنانچہ اسی پر اپنی جان نثار کردی۔

حضرت سعدؓ کا عشقِ رسولؐ اور اپنی قوم کے لئے پیغام

شدید زخمی ہوئے۔ انہیں کم و بیش ستر زخم آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مبارکباد کہنے کے لئے ان کے پاس زید بن ثابت رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کو بھیجا۔ زید رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچانے کے لئے سعد رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کے پاس جلد ہی پہنچ گئے۔

پیغام وصول کرنے پر سعد رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے کہا: میرے محبوب رسول اللہ ﷺ کو میری تعظیمات پہنچانا اور کہنا کہ میں جنت کی بادِ شیریں کی خوشبو سونگھ سکتا ہوں۔ میری قوم انصار

صفحہ 352

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کو بتانا کہ اگر ان میں سے ایک کے بھی زندہ ہوتے تب رسول اللہ ﷺ کو کوئی حادثہ پیش آیا تو وہ اللہ کے غضب سے نہیں بچ سکیں گے ۔ ان الفاظ کے ساتھ ہی ان کی روح پرواز کر گئی ۔

(زاد المعاد، جلد ۲ صفحہ ۱۳۴)

حضرت ابو دجانہؓ کا جنگ کے دوران آپؐ کے لئے ڈھال لینا

تھی۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو اسلام کے ایک بہادر سپاہی تھے، بلا تامل اپنی پشت سامنے کر دی کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے ڈھال ثابت ہو ۔ تیر ان کے گوشت کے پار اتر گئے ۔ لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی خاطر اپنی جان قربان کر دی ۔

(زاد المعاد، جلد ۲ صفحہ ۱۳۰)

آپؐ کی حفاظت کے لئے صحابہ کرامؓ کا جانیں پیش کرنا

ہے ۔ غزوہ احد کے موقع پر جبل رماۃ پر متعین سواروں کی غلطی کی وجہ سے فتح شکست میں تبدیل ہو گئی ۔ دشمن کے شدید ہجوم کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تتر بتر ہو گئے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ سات انصاری اور دو قریشی باقی رہ گئے ۔ کفار بار بار اللہ کے رسول ﷺ پر حملہ کر رہے ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم مدافعت کر رہے تھے ۔ ساتوں انصاری رضی اللہ عنہم یکے بعد دیگرے اپنی جانیں قربان کر دیں ۔ اب صرف دو قریشی جوان سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رہ گئے ہیں ۔ حملہ میں مزید شدت آ گئی ۔ ادھر ان دونوں نے جواں مرد بہادروں نے ایسی مثال قائم کی کہ دشمنوں کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا ۔ طلحہ بن عبید اللہ کو (۳۹) زخم آئے ۔ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف بڑھتے ہوئے تیروں کو اپنے ہاتھ پر روک لیتے تھے جس سے ان کی انگلی شل ہو گئی ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی کا نہایت ہی نازک لمحہ ہے، مشرکین نے اس سے فائدہ

صفحہ 353

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اٹھانے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ عبداللہ بن قمئہ نے تلوار کا وار کیا۔ آپ ﷺ کے چہرے کے اندر دولوہے کی کڑیاں دھنس گئیں۔

ابوبکر صدیق آگے بڑھے تاکہ ان کڑیوں کو باہر نکالیں۔ اس دوران ابو عبیدہ بن جراح اور دیگر جانثار صحابہ دیوانہ وار پاس پہنچ گئے ہیں۔ ابو عبیدہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نہایت عاجزی سے درخواست کر رہے ہیں کہ ابوبکر بھائی! یہ سعادت مجھے حاصل کرنے دیں کہ میں کڑیاں نکالوں، انہیں قسم دے رہے ہیں اور پھر ان کی موافقت پا کر آگے بڑھے اور نہایت ہی محبت سے کڑی کو اپنے منہ سے کھینچنا شروع کیا۔

نہایت محبت اور آرام سے مگر پوری قوت سے آہستہ آہستہ لوہے کی کڑی کو نکالا اور اس دوران ابوعبیدہؓ کا سامنے کا ایک دانت ٹوٹ جاتا ہے۔ اب پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھتے ہیں کہ دوسری کڑی کو وہ نکالیں اور ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت کو دیکھئے پھر ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی منتیں ، سماجتیں کر رہے ہیں۔ آپ کو اللہ کی قسم مجھے اس سعادت سے محروم نہ کریں۔ میں دوسری کڑی بھی نکالنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتا ہوں اور پھر ان کی رضامندی سے آگے بڑھتے ہیں اور دوسری کڑی کو اپنے منہ کے ساتھ نکالنا شروع کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ مبادا کہ اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف ہو۔ کڑی باہر نکل جاتی ہے اور ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دوسرا دانت بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

اللہ اللہ ! یہ محبت ، یہ سعادت کہ دونوں دانت ٹوٹ گئے ہیں ان کی کوئی پرواہ نہیں مگر یہ سعادت حاصل ہوئی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے جسم سے لوہے کی کڑیاں نکال چکے ہیں۔

حضرت سواد بن غزیہؓ کی آپ ﷺ سے والہانہ محبت کی ایک جھلک

عنہم کی صف بندی کی جارہی ہے۔ جذبہ شہادت سے لبریز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سینے تان کر کھڑے ہیں۔ آپ ﷺ تیر کے اشارے سے ان کی صفوں کو سیدھا کر رہے ہیں۔

سواد بن غزیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نامی صحابی اپنا سینہ تانے صف سے باہر نکل کر کھڑے ہیں۔ ارشاد ہوا سواد برابر ہو جاؤ۔ صف میں سیدھے کھڑے ہو جاؤ اور ساتھ ہی ان کے پیٹ پر تیر کو

صفحہ 354

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

رکھ کر دبایا۔

انہوں نے بھی موقع غنیمت جانا اور کہنے لگے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے مجھے تکلیف دی۔ آپ ﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے حق اور انصاف کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے مجھے بدلہ دیجئے۔

آپ ﷺ کی تواضع دیکھئے، فوراً آپ ﷺ نے پیٹ سے کپڑا ہٹا دیا۔ فرمایا اپنا بدلہ لے لو۔

سواد رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو موقع کے منتظر تھے۔ فوراً آپ ﷺ سے چمٹ گئے اور آپ ﷺ کے جسم مبارک کو بوسہ دینے لگے۔

ارشاد ہوا سواد یہ حرکت کرنے پر تمہیں کس نے آمادہ کیا؟

سواد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت اور فکر و سوچ پر غور فرمائیں۔ اللہ کے رسول ﷺ سے کتنی شدید محبت ہے۔ کہنے لگے۔ اللہ کے رسول ﷺ جنگ کا معاملہ ہے۔ آپ ﷺ بھی دیکھ رہے ہیں۔ زندگی کا کیا بھروسہ۔ ایسے عالم میں میری خواہش یہ تھی کہ میرا یہ آخری معاملہ ہو۔ اس لیے میں نے چاہا کہ آپ ﷺ کے مبارک جسم سے میرا جسم لگ جائے۔ پیارے نبی ﷺ نے جب اپنے ساتھی کی یہ محبت اور جذبہ دیکھا تو ان کے لئے دعائے خیر فرمائی۔

حضرت ربیعہؓ کا جنت میں آپؐ کی رفاقت کی خواہش کرنا

میں رات گزارتا تھا اور تہجد کے وقت وضو کا پانی اور دوسری ضروریات مثلاً مسواک، مصلیٰ وغیرہ رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ نبی پاک ﷺ نے میری خدمات سے خوش ہو کر فرمایا: مانگ کیا مانگتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت اور ساتھ۔ آپ ﷺ نے فرمایا اور کچھ؟ میں نے کہا کہ بس یہی چیز مطلوب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا میری مدد کرنا سجدوں کی کثرت سے۔

صفحہ 355

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حضرت عمرؓ کا عشق رسولؐ کے اشعار سن کر رونا

گھر میں سے چراغ کی روشنی محسوس ہوئی اور ایک بڑھیا کی آواز کان میں پڑی جو اون کو دھنتی ہوئی اشعار پڑھ رہی تھی۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ محمد ﷺ پر نیکوں کا درود پہنچے اور پاک صاف لوگوں کی طرف سے جو برگزیدہ ہوں ان کا درود پہنچے۔ بے شک رسول اللہ ﷺ آپ راتوں کو عبادت کرنے والے تھے اور اخیر راتوں کو رونے والے تھے۔ کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ میں اور میرا محبوب کبھی اکٹھے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟۔ اس لئے کہ موت مختلف حالتوں میں آتی ہے۔ نہ معلوم میری موت کس حالت میں آئے اور آپ ﷺ سے مرنے کے بعد ملنا نصیب ہو سکے یا نہ ہو سکے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان اشعار کو سن کر رونے بیٹھ گئے۔

( حکایات صحابہ رضی اللہ عنہم ۔ ارتداد و توہین رسالت )

ایک عورت کا آپؐ کی خیریت کے لیے بے چین اور بے قرار ہونا

ہوئے۔ مدینہ طیبہ میں یہ وحشت اثر خبر پہنچی تو عورتیں پریشان ہو کر تحقیق حال کے لئے گھر سے نکل پڑیں۔

ایک انصاری عورت نے مجمع کو دیکھا تو بے تابانہ پوچھا کہ آپ ﷺ کیسے ہیں؟ اس مجمع میں سے کسی نے کہا کہ تمہارے والد کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے انا للہ پڑھی اور پھر بے قراری سے آپ ﷺ کی خیریت دریافت کی۔ اتنے میں کسی نے خاوند کے انتقال کی خبر سنائی اور کسی نے بیٹے کی اور کسی نے بھائی کی کہ یہ سب ہی شہید ہو گئے ہیں۔ مگر انہوں نے پوچھا کہ آپ ﷺ کیسے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ بخیریت ہیں اور تشریف لا رہے ہیں۔ اطمینان نہ ہوا۔ کہنے لگیں کہ مجھے بتا دو کہاں ہیں؟

صفحہ 356

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

لوگوں نے اشارہ کر کے بتایا کہ اس مجمع میں ہیں۔

یہ دوڑی ہوئی گئیں اور اپنی آنکھوں کو آپ ﷺ کی زیارت سے ٹھنڈا کر کے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ آپ کی زیارت ہو جانے کے بعد ہر مصیبت ہلکی اور معمولی ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کا کپڑا پکڑ کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں۔ جب آپ ﷺ زندہ و سلامت ہیں تو مجھے کسی کی شہادت کی پرواہ نہیں۔

اس قسم کے متعدد قصے اس موقع پر پیش آئے ہیں۔ اسی وجہ سے مورخین میں ناموں میں اختلاف بھی ہوا ہے۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ اس طرح کا واقعہ کئی عورتوں کو پیش آیا ہے:

نظر آیا کہ ہاں جلوۂ فگن نور تجلی ہے
پکار اٹھی کہ اب میری تسلی ہی تسلی ہے
تسلی ہے پناہ بے کساں زندہ سلامت ہے
کوئی پرواہ نہیں، سارا جہاں زندہ سلامت ہے

حضرت حارثہؓ کا عشق رسول میں اپنا مکان قربان کرنا

ایک مرتبہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا تھا تمہارا مکان تو قریب ہی ہو جاتا۔

حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کیا کہ حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مکان آپ ﷺ کے قریب ہے۔ ان سے فرما دیں کہ میرے مکان سے بدل لیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان سے پہلے ہی تبادلہ ہو چکا ہے۔ اب تو شرم آتی ہے۔

حضرت حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فوراً حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ﷺ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا مکان اپنے قریب چاہتے ہیں۔ یہ میرے مکانات موجود ہیں۔ ان سے زیادہ قریب کوئی مکان بھی نہیں۔ جو پسند ہو بدل لیں۔ یا رسول اللہ ﷺ میں اور میرا مال تو اللہ اور اس کے رسول ہی کا ہے۔ یا رسول اللہ ﷺ خدا کی قسم جو مال آپ لے لیں وہ مجھے زیادہ پسند ہے اس مال سے جو میرے پاس

صفحہ 357

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

رہے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سچ کہتے ہو اور برکت کی دعا دی اور مکان بدل لیا۔

ایک عورت کا آپ ﷺ کے روضہ اطہر پر زیارت کے دوران جان دیدینا

اور آ کر عرض کیا کہ مجھے نبی پاک ﷺ کی قبر مبارک کی زیارت کرا دو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حجرہ شریف کھولا۔ انہوں نے زیارت کی اور زیارت کر کے روتی رہیں اور روتے روتے انتقال فرما گئیں۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وارضاہا۔ کیا اس عشق کی نظیر بھی کہیں ملے گی کہ قبر کی زیارت کی تاب نہ لاسکیں اور وہیں جان دیدی۔

حضرت ابوخثیمہؓ کا عشق رسول میں گھر کے آرام کو چھوڑنا

وفادار صحابی حضرت ابوخثیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر۔ حضرت خثیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنگ میں جانے کے بجائے بعض وجوہات کی بناء پر پیچھے مدینہ میں ہی رہ گئے۔ ادھر سخت گرمی کا عالم ہے اور حضرت ابوخثیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گرمی سے گھبرا کر جیسے ہی گھر آئے تو گھر والوں نے ان کے آرام کا تمام بندوبست کیا ہوا تھا۔ لیکن اسی لمحے دل کی دنیا بدلتی ہے اور انہیں میدان جنگ میں رسول اللہ ﷺ کی یاد آتی ہے کہ وہ بھی تو اس جھلسا دینے والی گرمی میں اللہ کی راہ میں سفر کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں اور میں یہاں پیچھے زندگی کے مزے لوٹ رہا ہوں۔

بس اسی لمحے ضمیر میں ایک کشمکش سی برپا ہو گئی اور سب نعمتیں ان کے دل میں کھٹکنے لگیں۔ اونٹ پر سوار ہوئے اور بجلی کی سی تیزی سے میدان جنگ کی طرف روانہ ہوئے۔ قافلہ رسول ﷺ تو پہلے ہی میدان جنگ میں پہنچ چکا تھا۔ جب انہوں نے دور سے اس سوار کو آتے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ جیسے ابوخثیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں آپ ﷺ کے لئے سچی تڑپ تھی اسی طرح آپ ﷺ بھی یہ جانتے تھے کہ کون سے صحابی محض

صفحہ 358

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کسی مجبوری کی بناء پر پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ صحابی نظروں سے تو دور تھے لیکن آپ ﷺ کے دل کے بالکل قریب تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے خبر سنتے ہی فوراً ابوخثیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیا۔ جب وہ قریب آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوخثیمہ تم ہلاکت کی گود سے نکل آئے۔

صحابہؓ کے جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت طلب کرنے کے واقعات

کہ آپ ﷺ سے محبت مجھے میری جان و مال اور اہل وعیال سے زیادہ ہے۔ میں اپنے گھر میں ہوتا ہوں اور آپ ﷺ کا خیال آجاتا ہے تو صبر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ حاضر ہوں اور آکر زیارت نہ کرلوں۔ مجھے یہ فکر ہے کہ موت تو آپ ﷺ کو بھی اور مجھے بھی ضرور آنی ہی ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ تو انبیاء کے درجہ پر چلے جائیں گے تو مجھے یہ خوف رہتا ہے کہ پھر میں آپ ﷺ کو نہیں دیکھ سکوں گا۔

آپ نے اس کے جواب میں سکوت فرمایا کہ حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے اور یہ آیت سنائی:

تَرْجَمَہ: ”جو شخص اللہ اور رسول کا کہنا مان لے گا تو ایسے اشخاص بھی جنت میں ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں اور ان کے ساتھ رفاقت محض اللہ کا فضل ہے اور اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی خوب جاننے والے ہیں ہر ایک کے عمل کو۔“

اس قسم کے واقعات بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کو پیش آئے اور آنا ضروری تھے۔ آپ ﷺ نے ان صحابی کے جواب میں یہی آیت سنائی۔

چنانچہ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے آپ ﷺ سے ایسی محبت ہے کہ جب خیال آجاتا ہے کہ اگر اس وقت میں آکر زیارت نہ کرلوں تو مجھے غالب گمان ہوتا ہے کہ میری جان نکل جائے گی۔ مگر مجھے یہ خیال ہے کہ اگر میں جنت میں داخل بھی ہوگیا تب بھی آپ ﷺ سے تو نیچے درجہ میں ہوں گا۔ مجھے تو جنت میں بھی

گستاخ رسول کا عبرت آپ ﷺ کی زیارت یہی آیت سنائی۔ ایک اور حدیث میں نہایت غمگین تھے۔ آپ ﷺ عرض کیا یا رسول اللہ آپ ﷺ نے عرض کیا: یا رسول اللہ زیارت سے محظوظ ہوتے انبیاء کے درجے پر پہنچ جائ آپ ﷺ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک حدیث میں نے ان کے جواب میں ایک حدیث میں کہ نبی کو امتی پر فضیلت کی کیا صورت ہوگی آپ ﷺ آئیں گے۔ ان

صحابہؓ کے

عالم میں اس محب حدیبیہ کرنے کے لئے

صفحہ 359

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ کی زیارت کے بغیر بڑی مشقت ہوگی۔ آپ ﷺ نے ان کو بھی مندرجہ بالا یہی آیت سنائی۔

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر خدمت ہوئے اور نہایت غمگین تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا غمگین کیوں ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایک سوچ میں ہوں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا سوچ ہے؟ عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ہم صبح و شام حاضر خدمت ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کی زیارت سے محظوظ ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کی خدمت میں بیٹھتے ہیں۔ کل کو آپ ﷺ تو انبیاء کے درجے پر پہنچ جائیں گے۔ ہماری وہاں تک رسائی نہیں ہوگی۔ آپ ﷺ نے سکوت فرمایا اور جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے ان انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی بلایا اور ان کو اس کی بشارت دی۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ اشکال کیا۔ آپ ﷺ نے ان کے جواب میں مذکورہ بالا آیت ان کو سنائی۔

ایک حدیث میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو ظاہر ہے کہ نبی کو امتی پر فضیلت ہے اور جنت میں اس کے درجات اونچے ہوں گے۔ تو پھر اکٹھا ہونے کی کیا صورت ہوگی؟

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اوپر کے درجہ والے نیچے کے درجہ والوں کے پاس آئیں گے۔ ان کے پاس بیٹھیں گے۔ بات چیت کریں گے۔

صحابہؓ کے عشق رسولؐ کی کہانی عروہ بن مسعود ثقفی کی زبانی

عالم میں اس محبت کی مثال نہیں ملتی۔ بلاشبہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محبت درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔ حدیبیہ کے موقع پر اللہ کے رسول ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ عمرہ کرنے کے لئے مدینہ طیبہ سے نکلے ہیں۔ حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ یہ آج کل الشمیسی کا

صفحہ 360

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

علاقہ بنتا ہے۔ چونکہ آپ ﷺ مدینہ سے لڑائی کے لئے نہیں نکلے تھے۔ محض عمرہ کا ارادہ تھا۔ ادھر قریش نے مسلمانوں کو مکے میں داخل ہونے سے روکنے کا ارادہ کر لیا۔ اللہ کے رسول ﷺ جو امن کے سب سے بڑے نقیب اور علمبردار تھے قطعاً نہیں چاہتے تھے کہ باہم خون ریزی ہو۔ وہ تو صرف جد الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کردہ اللہ کے گھر کی زیارت، اس کے طواف کے لئے آئے تھے۔

دونوں طرف سے سفیر بھیجے گئے۔ قریش نے سب سے پہلے بدیل بن ورقاء کو بھیجا۔ آپ ﷺ نے اس سے کہا کہ میں صرف عمرہ کرنے کے لئے آیا ہوں، لڑائی کرنے کے لئے نہیں آیا۔

پھر قریش نے حلیس بن علقمہ کو بھیجا۔ آپ ﷺ نے پھر اسی بات کو دہرایا۔ پھر اور ایک ذہین و فطین شخص عروہ بن مسعود ثقفی مذاکرات کے لئے آتا ہے۔ اس وقت کے رواج کے مطابق اس نے دوران گفتگو اللہ کے رسول ﷺ کی داڑھی مبارک کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

ادھر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار سونتے پاس ہی کھڑے تھے۔ جیسے ہی اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تلوار کے قبضے کو اس کے ہاتھ پر مارا کہ اپنے ہاتھ کو پیچھے ہٹالو۔ یہ گستاخی ہے۔ وہ بھی عادت سے مجبور تھا۔ جب بھی ہاتھ آگے بڑھاتا مغیرہ پلک جھپکتے میں آگے بڑھتے اور داڑھی مبارک کی طرف بڑھے ہوئے ہاتھوں کو پیچھے ہٹا دیتے۔ جب عروہ بن مسعود ثقفی واپس مکہ جاتا ہے تو قریش مکہ منتظر ہیں کہ وہ کیا خبر لاتا ہے؟ اس نے واپس آ کر رسالت مآب ﷺ کے ساتھ مذاکرات کا حال بیان کیا۔ آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی عقیدت اور آپ ﷺ کی عظمت کے بارے میں قریش کو رپورٹ پیش کی۔ اس نے کہا کہ مکہ والو! میں بادشاہوں کے درباروں میں گیا۔ میں شہنشاہ ایران کے پاس حاضر ہوا۔ میں نے قیصر کا دربار دیکھا۔ مجھے نجاشی بادشاہ کے پاس بطور ایلچی بن کر جانے کا موقع میسر ہوا۔ اللہ کی قسم میں نے محمد ﷺ کے ساتھیوں کو اپنے نبی سے جو محبت، اظہار عقیدت اور عزت و احترام کرتے دیکھا ہے وہ کسی بادشاہ کے درباریوں اور وفاداروں کو بھی اپنے بادشاہ کے ساتھ نہیں کرتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ اگر وہ تھوکتے ہیں تو ان کے ساتھی اسے زمین پر

صفحہ 361

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

نہیں گرنے دیتے۔ بلکہ بطور تبرک اپنے ہاتھوں اور چہرے پر مل لیتے ہیں اور اگر وہ کسی کام کا اشارہ کرتے ہیں تو تعمیل ارشاد کے لئے لپکتے ہیں۔ ان کی آپس میں بازی لگ جاتی ہے کہ اس حکم کی بجا آوری میں کیسے سبقت حاصل ہو۔ اور اگر محمد ﷺ وضو کرتے ہیں تو وہ منظر تو دیکھنے والا ہوتا ہے۔ پانی کا قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں دیتے۔ بلکہ اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور اگر محمد ﷺ کوئی بات کرتے ہیں تو ادب اور احترام کے باعث ان کی آوازیں پست ہو جاتی ہیں۔ اپنی نگاہوں کو نیچا کر لیتے ہیں۔ کسی کو آنکھ اٹھا کر ان کے چہرہ انور کو دیکھنے کی جرأت نہیں ہوتی۔

قارئین کرام! عروہ بن مسعود نے جو منظر کشی کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ کس حد تک محبت اور پیار تھا۔ سیرت کی کتابیں ایسے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔

عشق رسولؐ میں والدین کے ساتھ جانے سے انکار کرنا

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ زمانہ جاہلیت میں اپنی والدہ کے ساتھ ننھیال جا رہے تھے۔ بنو قین نے قافلہ کو لوٹا جس میں زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ ان کو مکہ کے بازاروں میں لا کر بیچا۔ حکیم بن حزام نے اپنی پھوپھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے ان کو خرید لیا۔ پھر جب آپ ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا تو انہوں نے حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی پاک ﷺ کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر پیش کر دیا۔

زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد کو ان کے فراق کا بہت صدمہ تھا اور ہونا بھی چاہئے تھا کہ اولاد کی محبت فطری چیز ہے۔ وہ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فراق میں روتے اور اشعار پڑھتے پھرا کرتے تھے۔ اکثر جو اشعار پڑھتے تھے ان کا ترجمہ یہ ہے کہ میں زید کی یاد میں روتا ہوں اور یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے تاکہ اس کی امید کی جائے یا موت نے اس کو مٹا دیا۔ خدا کی قسم مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ تجھے اے زید نرم زمین نے ہلاک کیا یا کسی پہاڑ نے ہلاک کیا۔ کاش مجھے یہ معلوم ہو جاتا کہ تو عمر بھر میں کبھی بھی واپس آئے گا یا نہیں؟ ساری دنیا میں میری انتہائی

صفحہ 362

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

غرض تیری واپسی ہے۔ جب آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ جب بھی مجھے زید ہی یاد آتا ہے اور جب بارش ہونے کو ہوتی ہے جب بھی اسی کی یاد مجھے ستاتی ہے اور جب ہوائیں چلتی ہیں تو وہ بھی اس کی یاد کو بھڑکاتی ہیں۔ ہائے میرا غم اور میرا فکر کس قدر طویل ہو گیا۔ میں اس کی تلاش اور کوشش میں ساری دنیا میں اونٹ کی تیز رفتاری کو کام میں لاؤں گا اور دنیا کا چکر لگانے سے نہیں اکتاؤں گا۔ اونٹ چلنے سے اکتا جائیں تو اکتا جائیں۔ لیکن میں کبھی بھی نہیں اکتاؤں گا۔ اپنی ساری زندگی اسی میں گزار دوں گا۔ ہاں میری موت ہی آ گئی تو خیر کہ موت ہر چیز کو فنا کر دینے والی ہے۔ آدمی خواہ کتنی ہی امیدیں لگائے مگر میں اپنے بعد فلاں فلاں رشتہ داروں اور آل کو وصیت کر جاؤں گا کہ وہ بھی اسی طرح زید کو ڈھونڈتے رہیں۔

غرض یہ اشعار وہ پڑھتے تھے اور روتے ہوئے ڈھونڈتے پھرا کرتے تھے۔

اتفاق سے ان کی قوم کے چند لوگوں کا حج کو جانا ہوا اور انہوں نے زید کو پہچانا۔ باپ کا حال سنایا۔ شعر سنائے۔ ان کی یاد و فراق کی داستان سنائی۔

حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ہاتھ تین اشعار کہہ کر بھیجے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ میں یہاں مکہ میں ہوں۔ خیریت سے ہوں۔ تم غم اور صدمہ نہ کرو۔ میں بڑے کریم لوگوں کی غلامی میں ہوں۔

ان لوگوں نے جا کر زید کی خیر و خبر ان کے باپ کو سنائی اور وہ اشعار سنائے جو زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہہ کر بھیجے تھے اور پتہ بتایا۔ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باپ اور چچا فدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی نیت سے مکہ مکرمہ پہنچے۔ تحقیق کی، پتہ چلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور عرض کیا اے ہاشم کی اولاد اور اپنی قوم کے سردار! تم لوگ حرم کے رہنے والے ہو اور اللہ کے گھر کے پڑوسی۔ تم خود قیدیوں کو رہا کراتے ہو، بھوکوں کو کھانا دیتے ہو۔ ہم اپنے بیٹے کی طلب میں تمہارے پاس پہنچے ہیں۔ ہم پر احسان کرو اور کرم فرماؤ اور فدیہ قبول کر لو اور زید کو رہا کر دو۔ بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زیادہ لے لو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا بات ہے؟

عرض کیا زید کی تلاش میں ہم لوگ آئے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس اتنی سی بات ہے۔

صفحہ 363

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

عرض کیا کہ حضور بس یہی غرض ہے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو بلا لو اور اس سے پوچھ لو ۔ اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو بغیر فدیہ ہی کے وہ تمہارے ساتھ ہے اور اگر نہ جانا چاہے تو میں ایسے شخص پر جبر نہیں کر سکتا جو خود نہ جانا چاہے۔

انہوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے استحقاق سے بھی زیادہ احسان فرمایا ۔ یہ بات خوشی سے منظور ہے۔

حضرت زید رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کو بلایا گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم ان کو پہچانتے ہو؟

انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں پہچانتا ہوں ...... یہ میرے باپ ہیں اور یہ میرے چچا ۔

آپ ﷺ نے فرمایا میرا حال بھی تمہیں معلوم ہے ۔ اب تمہیں اختیار ہے کہ میرے پاس رہنا چاہو تو میرے پاس رہو، ان کے ساتھ جانا چاہو تو اجازت ہے۔

حضرت زید رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے عرض کیا کہ میں آپ ﷺ کے مقابلہ میں بھلا کس کو پسند کرتا ہوں ۔ آپ ﷺ میرے لئے باپ کی جگہ بھی ہیں اور چچا کی جگہ بھی۔

ان دونوں باپ چچا نے کہا کہ زید غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتے ہو اور باپ چچا اور سب گھر والوں کے مقابلہ میں غلام رہنے کو پسند کرتے ہو۔

زید نے کہا کہ ہاں ۔ میں نے ان میں ( آپ ﷺ کی طرف اشارہ کر کے ) ایسی بات دیکھی ہے جس کے مقابلہ میں کسی چیز کو بھی پسند نہیں کر سکتا ۔

آپ ﷺ نے جب یہ جواب سنا تو ان کو گود میں لے لیا اور فرمایا کہ میں نے اس کو اپنا بیٹا بنا لیا۔

زید رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کے باپ اور چچا بھی یہ منظر دیکھ کر نہایت خوش ہوئے اور خوشی سے ان کو چھوڑ کر چلے گئے ۔

حضرت زید رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ اس وقت بچے تھے۔ بچپن کی حالت میں سارے گھر کو عزیز و اقارب کو غلامی پر قربان کر دینا جس محبت کا پتہ دیتا ہے وہ ظاہر ہے۔

صفحہ 364

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ایک برطانوی لڑکی کا آپ سے محبت کا بھرے مجمع میں اظہار محبت کرنا

اہم اسکول LEVENSHULME HIGH SCHOOL کے ہال میں تقریری مقابلہ ہو رہا تھا۔ موضوع تھا FAMOUS RELIGIOUS PERSON (مشہور مذہبی شخصیت)۔ اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک بچی نے نبی کریم ﷺ کی شخصیت کو اپنی تقریر کا موضوع بنایا۔ اپنی تقریر کے دوران یہ بچی جب بھی لفظ ”محمد“ ادا کرتی تو غیر ارادی طور پر ”ﷺ“ نہ کہتی۔

ہال میں بیٹھی ایک بچی کو یہ حرکت انتہائی ناگوار گزری۔ اس غیر ارادی لغزش کو ایک دو دفعہ برداشت کرنے کے بعد اس بچی سے نہ رہا گیا۔ پھر وہ اچانک اپنی نشست سے اٹھی اور زور دار الفاظ میں بے اختیار پکار اٹھی۔ ﷺ ....... ﷺ ....... ﷺ ....... ﷺ .......

ہال میں سناٹا چھا گیا۔ اسکول کی تاریخ میں پہلی بار کسی نے نظم وضبط کی خلاف ورزی کی تھی۔ بچی کو فوری طور پر ہال سے باہر نکال دیا گیا۔ یہودی و عیسائی اساتذہ اور ماہرین نفسیات پر مشتمل بورڈ نے بچی سے متعدد سوالات کئے اور اس بے ساختہ حرکت کے بارے میں پوچھا۔

بچی نے ہچکیوں اور سسکیوں میں ایمان افروز جواب دیا کہ جب کوئی شخص ہمارے پیارے نبی ﷺ کا اسم گرامی زبان پر لاتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ﷺ ادا کرے۔ میں اس پر کوئی Compromise نہیں کر سکتی۔ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی سن کر ﷺ کے الفاظ کہنا میرا ایمانی اور دینی استحقاق اور فریضہ ہے۔ اس فریضہ اور استحقاق کی ادائیگی سے مجھے ڈسپلن کے نام پر نہیں روکا جاسکتا۔

(بحوالہ شہیدان ناموس رسالت ﷺ)

حضرت شاہ جی صاحب کا آپ سے اظہارِ محبت

خطبہ پر دفعہ ۱۵۳ کے تحت مجھ پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس کی سزا زیادہ سے زیادہ صرف دو سال قید ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ محمد الرسول اللہ ﷺ کا خادم ہوں۔ اس جرم میں یہ سزا بہت

گستاخ رسول کا عبرت

ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ وں اور چیتوں سے ٹکر نبی ﷺ تکلیفیں دیں ھ سالہ بچہ عطاء العصم اور اس نچھاور کردوں۔

روشنی ایسی ظلمات

حضرت انور شاہ

سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گزر رہے ہیں۔ وہ اپنی گلی و محلے کا رسالت ﷺ پر حملہ کرتے ہیں او ﷺ کا تحفظ کریں گے تو قیامت کر سکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے

آپ ﷺ

عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی فرماتے ہیں کہ ج ہے۔ یہی معنی محبت کے ہیں۔ ورنہ محب ساتھ محبت کی علامات میں سب سے ﷺ کے طریقہ کو اختیار کرے اور آ ﷺ کے احکامات کی بجا آوری کر ان سے پرہیز کرے۔ خوشی میں، غمی میں

صفحہ 365

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کم ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی ناموس پر ہزاروں مرتبہ قربان ہونے کو تیار ہوں۔ مجھے شیروں اور چیتوں سے ٹکڑے ٹکڑے کرادیا جائے اور پھر کہا جائے کہ تجھے بجرم عشق مصطفیٰ ﷺ یہ تکلیفیں دی جارہی ہیں تو میں خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کرلوں گا۔ میرا آٹھ سالہ بچہ عطاء المنعم اور اس جیسے خدا کی قسم ہزاروں بچے رسول اللہ ﷺ کی کفش پر سے نچھاور کردوں۔

(مختصر سوانح از خان کابل)

روشنی کے لئے دل جلانا پڑا
ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد

حضرت انور شاہ کشمیریؒ کا آپؐ سے اظہار محبت کا انداز

سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ”......ہم سے تو گلی کا کتا ہی اچھا ہے، ہم اس سے بھی گئے گزرے ہیں۔ وہ اپنی گلی و محلے کا حق نمک ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہوتے ہوئے لوگ ناموس رسالت ﷺ پر حملہ کرتے ہیں اور ہم حق غلامی و امتی ادا نہیں کرتے۔ اگر ہم ناموس پیغمبر ﷺ کا تحفظ کریں گے تو قیامت کے دن شفاعت کے مستحق ٹھہریں گے۔ تحفظ نہ کیا یا نہ کرسکے تو ہم مجرم ہوں گے اور کتے سے بھی بدتر۔“

(کمالات انوری رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی)

آپ ﷺ سے محبت کی علامات

عیاض رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی چیز کو محبوب رکھتا ہے اس کو ماسویٰ پر ترجیح دیتا ہے۔ یہی معنی محبت کے ہیں۔ ورنہ محبت نرا محض دعویٰ محبت ہے۔ پس نبی پاک ﷺ کے ساتھ محبت کی علامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ آپ ﷺ کی اقتداء کرے۔ آپ ﷺ کے طریقہ کو اختیار کرے اور آپ ﷺ کے اقوال و افعال کی پیروی کرے۔ آپ ﷺ کے احکامات کی بجا آوری کرے اور آپ ﷺ نے جن چیزوں سے روک دیا ہے ان سے پرہیز کرے۔ خوشی میں، غمی میں، تنگی میں، وسعت میں ہر حال میں آپ ﷺ کے

صفحہ 366

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

طریقے پر چلے۔

سر محمد شفیع کا آپؐ کی محبت میں بھری عدالت میں رونا

عوض ”سر“ کا خطاب دیا تھا۔ تحریک پاکستان کے نامور لیڈر تھے۔ کئی سال انگلستان میں تعلیم حاصل کرتے رہے۔ ۱۹۱۹ء میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن نامزد ہوئے۔ ”روشن خیال“ بھی تھے اور ماڈرن زندگی کے حامل بھی۔ انہیں ایک ایسے مقدمہ میں عدالت کے روبرو پیش ہونا پڑا جس میں ایک غریب مسلمان خانساماں نے آپ ﷺ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر انگریز میجر کی بیوی کو قتل کر دیا تھا۔

اس مقدمہ میں دوران بحث میاں محمد شفیع کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ جس پر مقدمہ کی سماعت کرنے والے ججوں نے حیرت سے پوچھا۔

”سر شفیع! کیا آپ جیسے ٹھنڈے دل و دماغ کا بلند پایہ وکیل بھی اس طرح جذباتی ہو سکتا ہے؟“

جس پر سر شفیع نے جواب دیا۔

”جناب! آپ کو نہیں معلوم ایک مسلمان کو اپنے پیغمبر کی ذات سے کتنی گہری عقیدت اور محبت ہوتی ہے۔ شفیع بھی اگر اس وقت وہاں ہوتا تو وہ یہی کر گزرتا جو اس نے کیا ہے۔“

(از مولانا شیخوپوری)

صفحہ 367

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع ...... 14

عاشق رسول ﷺ کی قربانیوں کے سحر انگیز واقعات

حضرت ام عمارہؓ کی آپ ﷺ کے ساتھ جنگ میں شرکت کرنا

اور آپ ﷺ سے اپنے اور گھر والوں کے لیے دعا کرانا

رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اپنے دو بیٹوں عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوئیں۔ جب کفار نبی کریم ﷺ پر حملہ آور ہوئے تو یہ نبی کریم ﷺ کے قریب آ کر حملہ روکنے والے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں شامل ہو گئیں۔ ابن قمیہ ملعون نے نبی ﷺ پر تلوار کا وار کرنا چاہا تو ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بیٹے نے اس کو اپنے کندھوں پر روکا جس سے بہت گہرا زخم آیا۔ ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پلٹ کر ابن قمیہ ملعون پر بھر پور وار کیا قریب تھا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ مگر اس نے دو زرہ پہن رکھی تھیں۔ لہٰذا بچ نکلا۔

ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کو باندھا اور اپنے بیٹے سے کہا بیٹا اٹھو اور اپنے نبی ﷺ کی حفاظت کرو۔ اتنے میں وہ کافر جس نے ان کو زخم لگایا تھا پھر قریب آیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہی کافر ہے۔ ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جھپٹ کر اس کافر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ وہ گر پڑا۔ پھر وہ چل نہ سکا اور سر کے بل گھسٹتے ہوئے بھاگا۔ نبی کریم ﷺ نے یہ منظر دیکھا تو مسکرا کر فرمایا۔ ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! تو اللہ تبارک وتعالیٰ کا شکر ادا کر جس نے تمہیں جہاد کرنے کی ہمت بخشی۔

ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے دل کی خواہش ظاہر کی کہ اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ دعا فرمائیں کہ ہم لوگوں کو جنت میں آپ ﷺ کی خدمت گزاری کا موقع مل جائے۔ نبی ﷺ نے اس وقت ان کے لئے، ان کے شوہر کے لئے اور دو بیٹوں

صفحہ 368

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کے لئے دعا کی کہ:

”اللهم اجعلهم رفقائي في الجنة“

”اے اللہ ! ان سب کو جنت میں میرا رفیق بنا دے۔“

ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زندگی بھر یہ بات علی الاعلان کرتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کے بعد میرے لئے دنیا کی بڑی سے بڑی مصیبت بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

(مدارج النبوۃ)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مار کھانا

پڑے تھے۔ انہوں نے اپنا گھر بار، اپنا مال و منال اور اپنا سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر لٹا دیا۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھئے۔ ابھی اسلام کا آغاز تھا۔ مکے کی بستی کافروں سے بھری ہوئی تھی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت سے سرشار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کی کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں لوگوں کو اعلانیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی خبر دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فیضیاب ہونے کی دعوت دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے ابوبکر ذرا صبر سے کام لو۔ ابھی ہم تعداد میں کم ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر غلبۂ حال طاری تھا۔ انہوں نے پھر اصرار کیا۔ حتیٰ کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بے خوف و خطر لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دعوت دی۔ البدایہ والنہایہ میں حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

”فكان اول خطيب دعا إلى الله وإلى رسوله“

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے خطیب ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا۔ مشرکین مکہ آپ پر ٹوٹ پڑے۔ آپ کو سخت پیٹا اور روندا۔ عتبہ بن ربیعہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے پر بے تحاشا تھپڑ مارے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبیلہ بنو تمیم سے تھے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبیلے کے لوگوں کو خبر ہوئی تو وہ دوڑے ہوئے آئے اور انہیں مشرکین سے چھڑا کر ان کے گھر لے آئے۔

صفحہ 369

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حضرت ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بے ہوش تھے اور لوگوں کا خیال تھا کہ وہ جانبر نہ ہوسکیں گے۔ وہ دن بھر بے ہوش رہے۔ جب شام ہوئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہوش آیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والد ابو قحافہ اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قبیلے کے لوگ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس کھڑے تھے۔ ہوش آتے ہی پہلی بات انہوں نے یہ کہی کہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

ان کے قبیلے کے لوگ سخت برہم ہوئے اور انہیں ملامت کی کہ جس کی وجہ سے یہ ذلت و رسوائی تمہیں اٹھانی پڑی اور یہ مار پیٹ تمہیں برداشت کرنا پڑی۔ ہوش میں آتے ہی تو پھر اسی کا حال پوچھتے ہو۔ ان اندھوں کو کیا خبر تھی کہ ان کی خاطر سختیاں جھیلنے میں جو لذت ہے وہ دنیا داروں کو پھولوں کی سیج پر اور بستر سنجاب پر بھی حاصل نہیں ہوتی۔

اے جفا ہائے تو خوش تر ز وفائے دیگراں

ان کے قبیلے کے لوگ مایوس ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور ان کی ماں سے کہہ گئے کہ جب تک محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی محبت سے یہ باز نہ آ جائے اس کا بائیکاٹ کرو اور اسے کھانے پینے کو کچھ نہ دو۔ وہ ماں تھی۔ جی بھر آیا۔ کھانا لا کر سامنے رکھ دیا اور کہا کہ دن بھر کے بھوکے ہو کچھ کھا لو۔

حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا: ماں! اللہ کی قسم کھانا نہیں چکھوں گا اور پانی کا گھونٹ تک نہ پیوں گا۔ جب تک آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی زیارت نہ کرلوں۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہن ام جمیل آگئیں اور بتایا کہ حضور خیریت سے ہیں اور دار ارقم میں تشریف فرما ہیں۔

حضرت ابو بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ زخموں سے چور تھے۔ چلنے کے قابل نہ تھے۔ اپنی ماں کے سہارے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ پر سخت گریہ طاری تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی زیارت کرلی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی محبت میں اپنے جسم اور جان کی سب تکلیفیں بھول گئے۔

(از ابو بکر غزنوی)

حضرت حبیبؓ کا آپؐ کی رسالت کا اقرار

صفحہ 370

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کھل گیا۔ اس نے اپنی شعبدہ بازیوں اور ستم رسانیوں کے بل پر لوگوں کو زبردستی اپنا معتقد بنانا شروع کیا۔ تقریباً چالیس ہزار جنگجو عرب مرتد ہو کر اس کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔ جو شخص اس کی نبوت سے انکار کرتا اس پر سخت ظلم کرتا۔

اسی زمانے میں ایک دن حضرت حبیب بن زید رَضِیَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ عمان سے مدینہ آ رہے تھے کہ اس ظالم کے ہتھے چڑھ گئے۔ اس نے پوچھا۔

محمد ﷺ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟

حضرت حبیب رَضِیَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے جواب دیا: وہ خدا کے سچے رسول ﷺ ہیں۔

مسیلمہ بولا: نہیں یہ کہو کہ مسیلمہ اللہ کا سچا رسول ہے۔

حضرت حبیب رَضِیَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے نہایت حقارت سے اس کی بات مسترد کر دی۔ ظالم مسیلمہ نے تلوار کے ایک وار سے ان کا ایک ہاتھ شہید کر ڈالا اور ان سے کہا: اب میری بات مانو گے یا نہیں؟ حضرت حبیب رَضِیَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے جواب دیا۔ ہر گز نہیں۔ مسیلمہ نے اب ان کا دوسرا ہاتھ بھی شہید کر ڈالا اور کہا اب بھی میری رسالت تسلیم کر لو۔

اس عاشق رسول ﷺ نے ام عمارہ جیسی ماں کا دودھ پیا تھا۔ بولے ہر گز نہیں، ہر گز نہیں۔

"اشہد ان محمداً رسول اللہ ﷺ"

اب مسیلمہ فرط غضب سے پاگل ہو گیا اور اس نے حضرت حبیب رَضِیَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ کے جسم کا ایک ایک حصہ کاٹنا شروع کیا۔ ظالم راہِ حق میں اس کا رقصِ بسمل دیکھ کر قہقہے لگاتا تھا۔ حضرت حبیب رَضِیَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ لیکن راہِ تسلیم و رضا سے ان کے قدم ایک لمحہ کے لئے بھی نہ ڈگمگائے۔

حضرت ام عمارہ رَضِیَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهَا نے اپنے مجاہد فرزند کی مظلومانہ شہادت کی خبر سنی تو ان کی ثابت قدمی پر خدا کا شکر بجا لائیں۔ لیکن دل میں عہد کر لیا کہ اللہ نے توفیق دی تو مسیلمہ سے اس کے ظلم کا بدلہ لے کر رہیں گے۔

عاشق رسول ﷺ کا ختم نبوت کے دشمن سے سوال

صفحہ 371

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

تھا۔ سامنے تحریک کے لوگوں پر گولیاں چل رہی تھیں۔ کتابیں رکھ کر جلوس کی طرف بڑھا۔ کسی نے پوچھا یہ کیا۔ جواب میں کہا کہ آج تک پڑھتا رہا ہوں۔ آج عمل کرنے جا رہا ہوں۔ جاتے ہی ران پر گولی لگی ۔ گر گیا ۔ پولیس والے نے آ کر اٹھایا تو شیر کی طرح گرجدار آواز میں کہا گولی ران میں کیوں ماری ہے۔ عشق مصطفیٰ ﷺ تو دل میں ہے۔ یہاں دل پر گولی مارو تاکہ قلب و جگر کو سکون ملے۔

بوڑھے کا اپنے پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ تحفظ ختم نبوت پر قربانی ہونا

رہے۔ لوگ دیوانہ وار سینوں پر گولیاں کھا کر آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس پر جان قربان کرتے رہے۔ عصر کے بعد جب جلوس نکلنے بند ہو گئے تو ایک اسی سالہ بوڑھا اپنے معصوم پانچ سالہ بچے کو کندھے پر بٹھا کر لایا ۔ باپ نے خود ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ معصوم بچے نے جو باپ سے سبق پڑھا تھا، اس کے مطابق زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ دو گولیاں آئیں ۔ اسی سالہ بوڑھے باپ اور پانچ سالہ معصوم بچے کے سینہ سے شائیں کر کے گزر گئیں۔ دونوں شہید ہو گئے مگر تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر گئے کہ اگر آقائے نامدار ﷺ کی عزت و ناموس پر مشکل وقت آئے تو مسلمان قوم کے اسی سالہ بوڑھے خمیدہ کمر سے لے کر ۵ سالہ معصوم بچے تک سب جان دے کر اپنے پیارے آقا ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرتے ہیں۔

قادیانی غنڈوں کے ہاتھوں زخموں سے چور ہونے والے طلباء

تاج محمود رحمۃ اللہ علیہ تھے ۔ قادیانی غنڈوں کے ہاتھوں زخموں سے چور طلبہ کی گاڑی جب ربوہ سے فیصل آباد ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو مولانا تاج محمود اسلام کے فرزندوں کے لئے چشم براہ تھے۔ ہزاروں کا مجمع تھا۔ پورا شہر امڈ آیا تھا۔ پلیٹ فارم کی دیوار پر چڑھ کر مولانا نے خون میں نہائے ہوئے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے پر جوش انداز میں کہا۔ میرے بچو! جب تک تمہارے جسم میں سے بہے ہوئے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب نہیں لیں گے۔ اس وقت

صفحہ 372

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام تک آرام سے بیٹھیں گے۔

تحریک ختم نبوت کے دوران ایک اذان پر نو مسلمانوں کا شہید ہونا

کر کے مسجد میں پہنچا۔ اذان دینا شروع کی۔ ابھی اللہ اکبر کہہ پایا تھا کہ گولی لگی ، شہید ہو گیا۔ دوسرا مسلمان آگے بڑھا، اس نے اشھد ان لا الہ الا اللہ کہا کہ اس کو بھی گولی لگی ، شہید ہو گیا۔ تیسرا مسلمان آگے بڑھا۔ ان کی لاشوں پر کھڑے ہو کر اشھد ان محمد رسول اللہ کہا اس کو بھی فوج نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ چوتھا آدمی آگے بڑھا، تینوں کی لاشوں پر کھڑے ہو کر کہا حی علی الصلوٰۃ۔ اس کو بھی گولی لگی۔ شہید ہو گیا۔ یوں باری باری نو مسلمان ہو گئے۔ لیکن اذان پوری کر کے چھوڑی۔

ختم نبوت کے مقدس جرم میں ہونے والے قیدیوں سے اظہار محبت

اس حالت میں لائے گئے کہ ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور ٹانگوں میں بیڑیاں تھیں۔ وہ زنجیروں سے جکڑے ہوئے مشکل کے ساتھ آ رہے تھے۔ میں نے حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں ان کا مقصد آمد عرض کیا تو حضرت شاہ صاحب دیوانہ وار لپک کر جیل کے دروازے کی جانب گئے اور عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر جیل میں لائے گئے۔ ان قیدیوں کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں چومتے ہوئے فرمایا:

”تم میرا سرمایہ نجات ہو، تم لوگ کسی سیاسی مقصد کی خاطر نہیں بلکہ محض اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لئے یہ مشقتیں برداشت کر رہے ہو۔ تم میرا سرمایہ نجات ہو۔ شاہ صاحب کے رقت آمیز لہجے میں ان کی حوصلہ افزائی پر تمام قیدیوں کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔“

صفحہ 373

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موت کے سامنے ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگانا

تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء اپنے جوبن پر تھی۔ جنرل اعظم کے حکم پر پولیس مجھے اور بہت سے ساتھیوں کو ہتھکڑیاں پہنا کر قیدیوں کی بس میں بٹھا کر شیخوپورہ کی طرف روانہ ہو گئی۔

اسیران ختم نبوت بس میں نعرے لگاتے ہوئے جب لاہور کی حدود میں داخل ہوئی تو ملٹری نے بس روک لی اور سب انسپکٹر کو نیچے اترنے کا حکم دیا۔ ایک ملٹری آفیسر نے اس سے چابی لے کر بس کا دروازہ کھول دیا اور بڑے رعب و جلال سے گرجا۔ تمہیں معلوم نہیں نعرے لگانے والے کو گولی مارنے کا حکم ہے۔ کون نعرے لگاتا تھا؟

اس اچانک صورتحال سے سب پر ایک سکوت سا طاری ہو گیا۔ معاً میرا ہاشمی خون کھول اٹھا۔ میں نے تن کر کہا۔ ”میں لگاتا تھا۔

اس نے بندوق میرے سینے پر تان کر کہا۔ ”اچھا اب لگاؤ نعرہ۔

میں نے پر جوش انداز سے نعرہ لگایا۔ میرا کالی کملی والا ﷺ.......

سب نے با آواز بلند جواب دیا۔ ”زندہ باد۔“

اس کی بندوق کی نالی نیچے ڈھلک گئی۔ منہ پھیر کر کہا۔ ”ہاں وہ تو زندہ باد ہی ہے۔“ اور بس سے اتر گیا۔ ایسا معلوم ہوا کہ جنت جھلک دکھا کر اوجھل ہو گئی۔ پھر اس نے سب انسپکٹر سے کچھ کہا۔ اس نے بس کا دروازہ مقفل کر دیا۔ چند منٹوں کے بعد ہم بورسٹل جیل لاہور میں تھے۔

بھری عدالت میں عاشق رسول کے فلک شگاف نعرہ رسالت کی دھوم

نعرے لاہور کی سڑکوں پر لگا رہا تھا۔ ایک پولیس والے نے پکڑ کر تھپڑ مارا۔ اس پر اس نے پھر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ پولیس والے نے بندوق کا بٹ مارا۔ اس نے پھر نعرہ لگایا۔ وہ مارتے رہے۔ یہ نعرہ لگاتا رہا۔ اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا۔ یہ زخموں سے چور پھر بھی ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ اسے گاڑی سے اتارا گیا تو بھی وہ نعرہ لگاتا رہا۔

صفحہ 374

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اسے فوجی عدالت میں لایا گیا۔ اس نے عدالت میں آتے ہی ختم نبوت کا نعرہ لگایا۔ فوجی نے کہا ایک سال سزا، اس نے سال کی سزا سن کر پھر ختم نبوت کا نعرہ لگایا، اس نے سزا دو سال کر دی۔ اس نے پھر نعرہ لگایا۔ غرض کہ فوجی سزا بڑھاتا رہا اور یہ مسلمان نوجوان نعرہ ختم نبوت بلند کرتا رہا۔ فوجی عدالت جب بیس سال پر پہنچی تو دیکھا کہ بیس سال کی سزا سن کر یہ پھر بھی نعرے سے باز نہیں آ رہا تو فوجی عدالت نے حکم دیا کہ باہر لے جا کر گولی مار دو۔

اس نے گولی کا نام سن کر دیوانہ وار رقص شروع کر دیا اور ساتھ ہی ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف ترانہ سے ایمان پرور وجد آفریں کیفیت طاری کر دی۔ یہ حالت دیکھ کر عدالت نے کہا کہ رہا کر دو۔ یہ دیوانہ ہے۔ اس نے رہائی کا حکم سن کر نعرہ لگایا۔ ختم نبوت زندہ باد۔

قارئین کرام! میں لکھتے ہوئے نعرہ لگاتا ہوں اور آپ بھی پڑھتے ہوئے نعرہ لگائیں۔ ”ختم نبوت زندہ باد۔“

تحفظ ختم نبوت کی خاطر دو سگے بھائیوں کا سینے پر گولی کھانا

ڈاکٹر میری تعیناتی میو ہسپتال میں تھی۔ ہم چند دوست ہسپتال کی چھت پر کھڑے تھے۔ اچانک دیکھا کہ نسبت روڈ چوک کی جانب سے ختم نبوت کے پروانوں کا ایک جلوس آ رہا ہے، جسے روکنے کے لئے فوج نے ہسپتال کے گیٹ کے آگے ریڈ لائن لگا دی اور انتباہ کر دیا کہ جو بھی اسے پار کرے گا اسے گولی مار دی جائے گی۔

یہ ایک ایسی انتباہ اور وارننگ تھی جسے عاشق مصطفیٰ ﷺ کی پوری تاریخ میں کبھی پرکاہ سی اہمیت بھی حاصل نہ رہی۔ یہاں بھی یہی ہوا۔ جلوس نام محمد ﷺ کی عظمتوں کے ترانے بلند کرتا ہوا اسی آن سے آگے بڑھتا رہا۔ ریڈ لائن پہ اک لمحے کو رکا۔

دوسرے ہی لمحے چشم فلک نے دیکھا کہ غلامی رسول پہ ناز کرنے والا خوبرو نوجوان آگے بڑھا۔ اس نے اپنا سینہ کھولا اور نعرہ لگایا۔ ختم نبوت زندہ باد اور سرخ لائن کراس کر گیا۔ دوسری طرف سے قادیانیت نواز کی بندوق سے گولی نکلی اور سرخ سرحد عبور کرنے والا جوان عشق مصطفیٰ ﷺ کے سفر میں اتنا تیز نکلا کہ ایک ہی جست میں زندگی کی سرحد عبور کر کے قدم بوسی

گستاخ رسول

آپ ﷺ کے لئے چنانچہ ہم نے مص کیا اور پوری قوت سے گولی آئی اور عشق و محبت اور لبوں پر فاتحانہ مسکراہ بڑھتا ہم چھت سے ن پہنچ چکے ہیں۔ دوران نزع

ناموس رسالت م

درویش نے ۱۹۵۳ء کی میں ایک جوش و ولولہ پید ہتھیلی پر رکھ کر میدان ع ہوئے۔ مسلمانوں نے بھر گئیں۔ حضرت لاہو تکالیف دی گئیں، آ استقلال میں رائی بھر ل

قطب العالم حض الاولیاء حضرت لاہور دراصل تحریک کی کامیا گرفتار ہوئے۔ کسی دیکھا تو بے ساختہ پکار ”یہ پیرانہ سا

صفحہ 375

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ کے لئے روانہ ہو گیا۔

چنانچہ ہم نے دیکھا کہ اسی رفتار سے دوسرا جوان آگے بڑھا۔ اس نے بھی گریبان چاک کیا اور پوری قوت سے نعرہ زن ہوا۔ ختم نبوت زندہ باد۔ جبر کی روایت کے مطابق ادھر سے گولی آئی اور عشق و محبت کی تاریخ کا ایک اور صفحہ رنگین کرتے ہوئے گزر گئی۔ وہ جوان لڑکھڑایا اور لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ لئے راہی فردوس بریں ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ تیسرا نوجوان آگے بڑھتا ہم چھت سے نیچے آچکے تھے اور ادھر خبر ملی کہ ان دونوں جوانوں کے لاشے بھی ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔ دوران زیارت معلوم ہوا کہ دونوں جوان سگے بھائی تھے۔

(بحوالہ ”جنہیں ختم نبوت سے عشق تھا“ صفحہ ۲۳)

ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لئے گرفتاری دینے والے کا جذبہ عشق

12....... لاہور کے گلی کوچے اور مغربی پاکستان کی فضا اب بھی گواہ ہے کہ جب اس مرد درویش نے ۱۹۵۳ء کی تحریک میں دیوانہ وار عشق رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے مسلمانوں میں ایک جوش و ولولہ پیدا کر دیا تو تحریک کا رنگ ہی بدل گیا۔ عاشقان ختم رسالت اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر میدان عمل میں آ گئے اور نوجوان آپ ﷺ کی ختم المرسلینی پر پروانہ وار نثار ہوئے۔ مسلمانوں نے لاتعداد گرفتاریاں پیش کیں اور مغربی پاکستان کی جیلیں مسلمانوں سے بھر گئیں۔ حضرت لاہوری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کو باوجود پیرانہ سالی کے جیل میں طرح طرح کی تکالیف دی گئیں۔ آپ کو زہر بھی دیا گیا۔ مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔..... آپ کے پایہ استقلال میں رائی بھر لغزش بھی نہ آئی۔

قطب العالم حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی فرماتے ہیں کہ امام الاولیاء حضرت لاہوری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کا تحریک میں شامل ہونا اور گرفتاری پیش کرنا ہی دراصل تحریک کی کامیابی تھی۔ ۱۹۵۳ء میں تحفظ ختم نبوت کی پاکستان گیر تحریک کے وقت آپ گرفتار ہوئے۔ کسی صاحب دل نے لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر آپ کو ہتھکڑی لگے ہوئے دیکھا تو بے ساختہ پکار اٹھا۔

”یہ پیرانہ سالی میں اپنے ہاتھوں میں عصا سنبھالے ہوئے مولانا احمد علی

صفحہ 376

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام تو نہیں بلکہ عصر حاضر کے امام احمد بن حنبل رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی ہیں۔“

شہد کی مکھیوں کا بھر پور حملہ اور شاہ جیؒ کا اُف تک نہ کرنا

راقم الحروف کو یہ واقعہ شاہ جی نے خود سنایا تھا۔ فرمایا ایک دفعہ جالندھر میں قادیانیت کے خلاف تقریر کر رہا تھا۔ اچانک کسی مخالف نے شہد کی مکھیوں کے چھتے کو چھیڑ دیا۔ فرمایا شہد کی مکھیوں کا ایک مکمل نظام ہے اور وہ اس نظام اور اپنے سردار کے تحت کام کرتی ہیں۔ فرمایا کہ میں دیکھ رہا تھا کہ مکھیوں کا سردار آگے آگے میری طرف تیزی سے آ رہا ہے اور پیچھے پیچھے مکھیوں کا لشکر ۔ وہ آتے ہی میرے ابروؤں کے درمیان بیٹھ گیا اور ساتھ ہی تمام لشکر نے میرے چہرے پر ڈیرہ جما لیا۔ اسی اثناء میں، میں نے دیکھا کہ بعض لوگ اٹھ کر بھاگنے لگے۔ میں نے فوراً للکارا کہ خبردار کوئی اٹھنے نہ پائے۔

فرمایا مجھے معلوم تھا کہ یہ بھاگتے کے پیچھے بھاگتی ہیں۔ اس لئے روک دیا کہ میں تختہ مشق بن گیا ہوں۔ دوسرے لوگ بھی ساتھ مارے نہ جائیں۔ فرمانے لگے کہ میرا چہرہ گرم ہوتا گیا۔ مجھے ان کے ڈنگ مارنے کا کچھ احساس نہیں تھا۔ صرف ایک مکھی نے کہیں میری آنکھ کے کونے میں ڈنگ مارا تو مجھے سوئی لگنے کی سی چبھن محسوس ہوئی۔ مگر میں اپنی جگہ پر جم کر کھڑا رہا۔ بالآخر لوگوں نے سعی کر کے مجھے وہاں سے بچ بچا کر ساتھ لیا۔ کئی دن تک میرے چہرے کا ورم نہ گیا۔ کئی کئی سیر برف کوٹ کوٹ کر میرے چہرے پر رکھی جاتی تھی۔ فرمایا مجھے ایک خطرہ تھا کہ کہیں میری بینائی کو نقصان نہ پہنچا ہو۔ جب ذرا میری آنکھیں کھلیں تو مجھے روشنی نظر آئی۔ تو میں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

(بخاری کی باتیں، صفحہ ۴۶۔۴۷۔ مصنف سید امین گیلانی)

تحفظ ناموس رسالت کے پاسداروں پر فائرنگ اور دس کی شہادت

راقم سے بیان کیا تھا کہ ہر روز مظاہروں کو سمیٹنے کے لئے تشدد کر کے تحریک کو ختم کیا گیا۔ چنانچہ حکام نے اپنے سفید پوش اہلکاروں کی معرفت پولیس پر پتھراؤ کرایا۔ اس طرح فائرنگ کی بنیاد

صفحہ 377

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

رکھی۔ بعض منچلے قادیانی اپنی جیپوں میں سوار ہو کر مسلمانوں پر گولیاں داغتے اور انہیں شہید کرتے رہے۔

راقم نے لاہور میں چائنیز لنچ ہوم مال روڈ پر اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ۱۵ سے ۲۰ سال کی عمر کے نوجوانوں کا ایک مختصر سا جلوس کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جارہا تھا۔ وہ ایک بے ضمیر سپرنٹنڈنٹ پولیس سی آئی ڈی ملک حبیب اللہ کے حکم پر کسی وارننگ کے بغیر فائرنگ کا ہدف بنا۔ آٹھ، دس نوجوان شہید ہو گئے۔ ان کی لاشوں کو ملک صاحب نے اپنے ماتحتوں سے ٹرکوں میں اس طرح پھنکوایا جس طرح شکاری جانوروں کو گاڑی میں ڈالا جاتا ہے۔

یہ نظارہ انتہائی دردناک تھا۔ لاہور چھاؤنی میں ایک قادیانی افسر نے گولیوں کی بوچھاڑ کی۔ لیکن گولی کھانے والوں نے انتہائی استقامت اور کردار کی پختگی کا ثبوت دیا۔ ایک نوجوان ملٹری ہسپتال میں زخموں سے چور چور بے ہوش پڑا تھا۔ جب اسے قدرے ہوش آیا تو اس نے پہلا سوال سرجن سے یہ کیا کہ میرے چہرے پر کسی خوف یا اضمحلال کے نشان تو نہیں ہیں۔ جب اسے کہا گیا کہ نہیں تو اس کا چہرہ نور مسرت سے تمتما اٹھا۔

جن لوگوں کو علماء سمیت گرفتار کر کے لاہور کے شاہی قلعہ میں تفتیش کے لئے رکھا گیا، ان کے ساتھ پولیس نے انتہائی اخلاق باختگی کا سلوک کیا۔ ایک انتہائی ذلیل ڈی ایس پی کو ان پر مامور کیا۔ وہ علماء کو اس قدر فحش و غلیظ گالیاں دیتا اور عریاں فقرے کستا کہ راقم خود خوف خدا سے تھرا رہا تھا۔

(تحریک ختم نبوت، صفحہ ۱۳۷)

تحفظ ختم نبوت کی خاطر جیل کی سختیوں کو برداشت کرنا

دن تھے جب ان کا بایاں بازو ایک سفر کے دوران ٹوٹ گیا تھا۔ جیل کی رات ان کی زندگی میں ایک کیف پرور رات تھی۔ اگرچہ اس سے قبل ۲۸ء میں مغل پورہ انجینئرنگ کالج لاہور کے پرنسپل وکٹر کے خلاف ایجی ٹیشن میں بھر پور حصہ لینے کی پاداش میں جہلم کی جیل میں چھ ماہ کی نظر بندی کی سزا کاٹ چکے تھے۔ تاہم کھاتے پیتے زمیندار گھرانے کے نوجوان عالم دین کو جب دوسری بار جیل کی پہلی رات میسر آئی اور انگریزی قانون نے قادیان کی حفاظت میں اپنے

صفحہ 378

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

مخالف کو ان رعایتوں سے محروم کر دیا جس کا وہ مستحق تھا۔

تو نصف رات جب قاضی صاحب نے پہلو بدلنے کے لئے کروٹ لی تو وہ کھڑی (مٹی کا تھڑا جس پر قیدی سوتا ہے ) سے نیچے گر گئے۔ اس سے ان کا بایاں بازو جو معالج نے درست کر دیا تھا پھر ٹوٹ گیا اور ایسا ٹوٹا کہ عمر بھر درست نہ ہوسکا۔ سی کلاس کی خوراک بھی قاضی صاحب کے لئے نئی خوراک تھی۔ لیکن نبی کریم ﷺ کی آبرو کے لئے انہوں نے اس خوراک پر کبھی ناک بھوں نہیں چڑھائی تھی۔ لیکن جیل کی دال ، سبزی اور آدھ پکی روٹی اور ایسی سبزی جو مویشیوں کو کھلانے کے قابل بھی نہ ہوتی تھی قاضی صاحب کو پیش کی جاتی تھی ، جسے وہ خندہ پیشانی سے کھاتے تھے۔

(قاضی احسان احمد شجاع آباد، صفحہ ۵۲، محمد نور الحق قریشی )

طوفان کر رہا تھا میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھنور میں ہے

پاک فضائیہ میں قادیانیت کا فارم پر نہ کرنے پر نوکری سے نکال دینا

ایک بہت ہی قریبی دوست نے مجھے بتایا کہ چند نوجوان فضائیہ میں ٹریننگ حاصل کرنے کے لئے کراچی کورنگی گئے۔ ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا کہ آرڈر ملا تم لوگ ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرو۔ جب وہ لوگ ہیڈ کوارٹر گئے تو انہیں بتایا گیا کہ تم لوگ ٹریننگ کے معیار پر پورے نہیں اترے۔ تم نے وہ لوازمات پورے نہیں کئے جو ٹریننگ سے پہلے پورے کئے جاتے ہیں۔ لہذا تم لوگوں کو نوکری سے نکالا جاتا ہے۔

ان نوجوانوں نے بہت سمجھایا کہ ہمیں ٹریننگ سے پہلے ان لوازمات کے بارے میں بالکل نہیں بتایا گیا۔ لیکن ہیڈ کوارٹر کا ذمہ دار کسی بات کو سننے پر تیار نہیں تھا۔ وہ نوجوان چھوٹا سا منہ لے کر باہر نکل آئے۔ جب یہ نوجوان باہر نکلے تو مین گیٹ پر ایک شخص کھڑا تھا۔ اس نے ان نوجوانوں سے کہا کہ یہ فارم پر کر دیں اور کراچی جا کر ٹریننگ حاصل کریں۔

ان نوجوانوں نے یہ فارم دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ قادیانیت میں شامل ہونے کا ”بیعت فارم“ ہے اور فارم دینے والا بھی قادیانی ہے۔ نوجوانوں نے فارم لینے اور پر کرنے سے انکار

صفحہ 379

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کر دیا۔ نوکری چھوڑنا گوارا کر لیا۔ یوں یہ لوگ قادیانیت سے بچ گئے۔

خیر یہ تو وہ لوگ تھے جو قادیانیوں کے ہاتھ نہ پھنسے۔ نہ معلوم اور کتنے لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے قادیانیت کو اختیار کر لیا ہو گا۔

نوٹ: ...... اس واقعہ کی تصدیق یا تکذیب ہم نہیں کر سکتے۔ اتنا ضرور ہے کہ حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی پہلے اپنے مشن کی تبلیغ کرتے ہیں بعد میں وہ سرکاری کام کرتے ہیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، جلد نمبر ۸ شمارہ ۳۸)

تحفظ ناموس رسالت کی خاطر ایک عورت کا اپنا گود کا بچہ عطیہ دینا

رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی جامع مسجد کچہری بازار (لائل پور) میں شمع رسالت کے پروانوں کے ایک بے انتہاء مجمع سے خطاب کر رہے تھے، وہ قادیانی امت اور اس کے تحفظ کے لئے حکومت وقت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے خلاف بھرے ہوئے اس مجمع سے خطاب کرتے ہوئے لوگوں کو سول نافرمانی کی ترغیب دے رہے تھے۔

مولانا تاج محمود رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی کے دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی یہ آواز مسجد کی سیڑھیوں کے نزدیک کھڑی ایک خاتون بھی ہمہ تن گوش ہو کر سن رہی تھیں۔ دفعتاً شدت جذبات سے مغلوب ہو کر ساری مسجد میں پھیلے ہوئے مجمع کو چیرتی ہوئی وہ آگے بڑھی اور اپنی گود کے بچہ کو منبر کے نزدیک جا کر (جہاں مولانا کھڑے تقریر کر رہے تھے) مولانا کی طرف اچھال دیا اور پنجابی میں کہا کہ ”مولوی صاحب میرے پاس ایک یہی سرمایہ ہے۔ اسے سب سے پہلے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی آبرو پر قربان کر دو۔“ یہ کہہ کر وہ عورت الٹے پاؤں باہر کی طرف چل پڑی۔

اس وقت سارا مجمع دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ خود مولانا کی آواز گلو گیر اور رندھی ہوئی تھی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ لوگو! اس بی بی کو جانے نہ دینا۔ اسے بلاؤ۔ چنانچہ اس خاتون کو بلایا اور مولانا نے کہا۔ بی بی! سب سے پہلی گولی تاج محمود کے سینے سے گزرے گی، پھر میرے اس بچے (اپنے قدموں میں بیٹھے اپنے معصوم اکلوتے بیٹے طارق محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کے سینے سے، پھر اس مجمع کے تمام افراد گولیاں کھائیں گے اور جب یہ سب

صفحہ 380

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

قربان ہو جائیں گے تو اپنے اس بچے کو لے آنا اور اللہ کے نبی ﷺ کی عزت پر قربان کر دینا۔ یہ کہا اور وہ بچہ اس عورت کے حوالے کر دیا۔

(ہفت روزہ 'لولاک' فیصل آباد۔ مولانا تاج محمود نمبر ، صفحہ ۸۲ از زاہد منیر عامر)

عشق کو دنیا کھیل نہ سمجھے
کام ہے مشکل نام ہے آساں

تحفظ ختم نبوت پر تقریر کی پاداش میں نوجوان کی گرفتاری کا واقعہ

میں جو کھاریاں کی مویشی منڈی کے میدان میں ہوا، صدر جلسہ اور صدر مجلس احرار اسلام ضلع گجرات مولانا محمد امان اللہ خان صاحب مرحوم کی اجازت سے انگریز فوج میں بھرتی ہونے کے خلاف احراری زبان میں بھر پور جذبات میں ۲۰ منٹ تقریر کی۔ اس جرم کی پاداش میں تیسرے دن انی شریف تحصیل پھالیہ سے مجھ کو گرفتار کر لیا گیا۔ تھانہ کھاریاں کی حوالات میں رکھا۔ مجسٹریٹ درجہ اول کی عدالت سے میرا جسمانی ریمانڈ ایک ہفتہ کا لیا گیا۔

ایک ہفتہ کے بعد سر بلند خان مجسٹریٹ دفعہ ۳۰ گجرات کی عدالت میں دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں پہنا کر پیش کیا گیا۔ مجسٹریٹ سر بلند خان بڑے مزے کے آدمی تھے۔ فیصلہ سناتے وقت پہلے نوافل ادا کرتے تھے۔ اگر انہوں نے دو نفل ادا کئے تو سمجھ لیجئے کہ ملزم کو ایک برس کی سزا ہو گئی۔ بہر حال عدالت میں جب مجھ کو پیش کیا گیا تو سر بلند خان نے دو رکعت نفل ادا کئے۔

میں نے اندازہ لگا لیا کہ سال سے کم سزا نہیں ہوگی۔ عدالت میں مجلس احرار اسلام گجرات کے صدر، بڑی تعداد میں کارکن اور رضا کار موجود تھے۔ بہر حال ایک برس کی سزا با مشقت سنا دی گئی۔ میں نعرے لگاتا ہوا عدالت سے جب باہر نکلا تو ہجوم نے میرے نعروں کا پر جوش انداز میں جواب دیا۔ میری عمر اس وقت غالباً ۱۷ برس ہوگی۔

یہ سزا میں نے جہلم ڈسٹرکٹ جیل میں کاٹی۔ جیل میں میری غیرت وحمیت کی وجوہات پر جو تشدد کیا جاتا رہا، وہ ایک الگ المیہ ہے۔ یہ بالکل مختصر قلم بند کر رہا ہوں۔ ایک برس کی سزا کاٹ چکنے کے بعد جب مرکزی گیٹ گویا جیل کے دروازے پر پہنچا تو مجلس احرار اسلام کے

صفحہ 381

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

مرکزی رہنما ماسٹر تاج الدین انصاری رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی ، ڈاکٹر نذر محمد مجلس احرار اسلام جہلم کے صدر اور کافی تعداد میں مجلس احرار کے کارکنوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔

جیل سے رہائی کے بعد کھاریاں ہائی اسکول کے سائنس ماسٹر عبدالغنی قادیانی سے میرا مناظرہ بھی ہوا۔ اجرائے نبوت اور حیات مسیح عَلَيْهِ السَّلَام پر میرا پہلا کامیاب مناظرہ تھا۔ حالانکہ یہ دور میرا طالب علمی کا تھا۔ لیکن اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کی نصرت ہمراہ ہو جاتی ہے۔ سچائی کے دلائل و براہین دل و دماغ رچے اور بسے ہوئے ہوں تو مومن کسی بھی محاذ پر شکست نہیں کھا سکتا۔ انشاء اللہ۔

۱۹۳۹ء گولڑیالہ ضلع گجرات کے ایک قصبہ میں ایک نہایت ہی گستاخ قادیانی مبلغ سے مناظرہ ہوا۔ دوران مناظرہ آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی ذات اقدس پر اس کے گستاخانہ الفاظ کا جواب میں نے غیرت وحمیت کے انداز میں ایسا دیا کہ ایک نوجوان نے عشق رسول صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں بے قابو ہو کر اس کو قتل کر دیا۔ اس نوجوان کی گرفتاری عمل میں آ گئی۔ آٹھ ماہ کے بعد سیشن جج گجرات کی عدالت سے خان نوازش علی سیشن جج نے مجھ کو باعزت بری کر دیا اور قتل کرنے والے نوجوان کو سات برس کی قید سنا دی۔ ۱۹۴۰ء میں لاہور انجمن نعمانیہ میں علم میراث کی کتابوں کے لئے داخلہ لیا تو حضرت مولانا محبّ النبی کی خدمت میں چند ماہ رہ کر دارالعلوم دیوبند میں حاضر ہوا۔ شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی کی خدمت میں ایک برس گزار کر دورہ حدیث کی تکمیل کی۔

فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے فوج میں بھرتی ہونا

۱۹۴۲ء میں مولانا گل شیر رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی کے ایک فوجی آفیسر رشتہ دار کی شاہ جی کی خدمت میں اس رپورٹ پر کہ ۷/۲ پنجاب رجمنٹ میں فلاں فلاں قادیانی افسروں نے ان پڑھ فوجیوں کو مرزائی بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس سلسلہ میں آپ سوچ لیں۔

حضرت شاہ جی رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی نے فوراً گھبراہٹ میں ڈاکٹر عبدالقادر ڈینٹل سرجن کے گھر میں ایک خصوصی میٹنگ میں احرار اسلام کے پانچ زعماء کو طلب کر لیا۔ احرار کے قانونی مشیر خواجہ غلام حسین وکیل لائل پور (فیصل آباد ) کو بلا لیا۔ غور و فکر کے بعد طے پایا کہ اسی

صفحہ 382

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

رجمنٹ میں کسی احراری مولوی کو جس کو قادیانیت پر عبور ہو، بحیثیت امام و خطیب بھرتی کرا دیا جائے اور قادیانیوں کی اس ناپاک سازش کا قلع قمع کر دیا جائے۔

بہر حال اس مقصد اور خطرناک مہم پر بھیجنے کے لئے صدر مجلس احرار اسلام ضلع گجرات نے میرا نام امیر شریعت رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى کے سامنے پیش کر دیا۔ زعماء احرار نے منظوری دے دی۔ حضرت مولانا گل شیر مرحوم کے قریبی عزیز کیپٹن محمد نواز خان کی سفارش اور کوشش سے مجھے حضرت شاہ جی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى نے حلف لے کر اس سفر پر روانہ کر دیا۔ جہاں میرے لئے یہ سفر اور منکرین ختم نبوت کے خلاف مہم نا قابل تصور آزمائش کا مرحلہ تھا۔ وہاں قدم قدم پر اللہ کی نصرت اور اس کا فضل و کرم اور رحمت میرے شامل حال تھی۔ بہر حال امیر شریعت کی تحریک پر میں فوج میں چلا گیا۔ مقاصد کی تکمیل میں رکاوٹیں آتی رہیں۔ بہر حال پندرہ نوجوان خفیہ طور پر ایسے تیار کر لئے جو میرے اشارے کا انتظار کر رہے تھے۔ ۲/۷ پنجاب رجمنٹ کو ۷ ڈویژن کے ساتھ اٹیچ کر کے برما کے محاذ پر بھیج دیا اور مجھ کو بھی رجمنٹ کے ساتھ جانے کا حکم دیا۔ ہمارا وہ ڈویژن اکیاب کے مورچہ پر جاپانی فوج کے گھیرے میں آ گیا۔

قادیانیوں کی نماز جنازہ نہ پڑھانے کی پاداش میں قید و بند کی

صعوبتیں برداشت کرنا

۲۲ یوم کے بعد گھر لوٹنا اور فوجی ڈسپلن اور قواعد کے مطابق مزید تیاری کے لئے رجمنٹ کو بہت لمبے چوڑے جنگل میں اسکیم پر کچھ دنوں کے لئے روانہ کر دیا گیا۔ جہاں ان پندرہ جوانوں نے فوجی حکمت عملی کے پیش نظر نشانہ بازی کی ٹریننگ کرتے ہوئے اسکیم کے دوران ان تینوں قادیانی افسروں کو ہلاک کر دیا۔ جن میں ایک میجر اور دو کیپٹن کے منصب پر فائز تھے۔ جس طرح کماد کی فصل کو سور لتاڑ رہے ہوں، یہ اسی طرح ختم نبوت کے قزاق، نوجوان فوجیوں کو مرتد بنانے کی سازش کے تحت مہم چلا رہے تھے۔

جب رجمنٹ کے کمانڈنگ آفیسر انگریز کو معلوم ہوا کہ اسکیم میں نشانہ بازی کے دوران فلاں فلاں آفیسر ہلاک ہو گیا تو اس کی انکوائری شروع ہو گئی۔ لیکن جن کے نشانہ سے وہ ہلاک ہوئے،

صفحہ 383

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ان کا پتہ لگانے میں مشکل آ رہی تھی۔ میں چونکہ پیچھے ہیڈ کوارٹر میں تھا۔ بہرحال ان کی لاشیں ہیڈ کوارٹر میں آئیں۔ کفن دفن کے مکمل انتظام کے بعد جنازہ پڑھانے کے لئے مجھ کو حکم دیا گیا۔

اب یہ مرحلہ میرے لئے جہاں نہایت کٹھن تھا وہاں میرے ایمان اور عقیدہ ختم نبوت کی زبردست آزمائش بھی تھی۔ میں نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ ہلاک ہونے والے مسلمانوں کے بنیادی عقائد کے مطابق مسلمان نہیں اور یہ سرور کائنات محمد رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں، لہٰذا ان کی نماز پڑھنا یا پڑھانا جائز نہیں۔

رجمنٹ نے میرے انکار پر شک کیا۔ ہو سکتا ہے کہ اسی نے ان کو ہلاک کر دیا ہو۔ انکوائری شروع ہو گئی۔ پہلے نرمی سے پوچھ گچھ کرتے رہے۔ پھر سختی آگئی۔ پھر بات آگے بڑھی۔ حراست میں لے کر ناقابل تصور تشدد کیا گیا۔ آخر کار مجھے گورکھا فوجی سپاہیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ ظلم کی آخری کڑی تک میرے ساتھ جو سلوک کیا گیا، اس کو میں ہی جانتا ہوں یا رب کی ذات دیکھ رہی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ رب کی عطا کردہ استقامت اور اس کی مدد سے میں برداشت کر رہا تھا۔ وہ فوجی ان نوجوانوں کے مجھ سے نام پوچھتے تھے جنہوں نے قادیانی افسروں کو فی النار کیا تھا۔ میں نے اپنی جان کو داؤ پر لگا دیا تھا اور حلف اٹھا لیا تھا کہ اگر میرے جسم کے پرخچے بھی اڑتے پھریں مگر میں پھر بھی ان بہادر نوجوانوں کے نام نہیں بتلاؤں گا۔

آخر کار میرا کورٹ مارشل کیا گیا۔ میں پرامید تھا کہ مجھ کو شہادت کا اعزاز نصیب ہوگا لیکن میری بدقسمتی کہ ایسا نہ ہوا۔ مجھ کو دو سال قید کی سزا دے کر بذریعہ ہوائی جہاز انڈیا کی مشہور ظالمانہ جیل، جبل پور میں بھیج دیا گیا۔ اس جیل میں جو تشدد آمیز سلوک میرے ساتھ کیا وہ گدھوں اور خچروں سے بھی نہیں کیا گیا ہوگا۔

مولانا شریف احمد کی انڈیا جیل سے رہائی

دو سال کی سزا کاٹ کر جب میں غالباً ۱۹۴۴ء کے آخر میں یا ۱۹۴۵ء کے اوائل میں لاہور دفتر مجلس احرار اسلام میں پہنچا تو حضرت شاہ جی رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اور مولانا عبدالمنان مرحوم ہزاروی اور حاجی دین محمد صاحب بادامی باغ والے اور مولانا عبدالرحمٰن میانوی بیٹھے ہوئے تھے۔

صفحہ 384

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میری بجو نما شکل کو دیکھ کر جو اس وقت بنی ہوئی تھی، کسی نے نہیں پہچانا۔ میں نے حضرت شاہ جی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰى کو خدا کا واسطہ دے کر باہر بلایا۔ انہوں نے سمجھا کہ یہ فقیر ہے۔ میں نے کہا کہ مانگنے والا نہیں ہوں۔ میں آپ کا بیٹا ہوں۔ شاہ جی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰى فوراً بھاگ کر باہر آئے۔ میں نے آہستہ سے کہا، میں شریف ہوں۔ شاہ جی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰى نے مجھ کو گلے لگالیا اور روتے ہوئے احباب سے کہا یہ میرا بیٹا ہے۔ کہاں سے آیا ہے؟ یہ ایک راز ہے، آپ کو ابھی نہیں بتاؤں گا۔

حمام میں غسل کرایا گیا۔ حجامت بنوائی گئی۔ نئے کپڑے سلائے گئے۔ پھر میں دوستوں کی پہچان میں آیا۔ شاہ جی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰى کا حکم تھا کہ ابھی اس راز کو راز ہی رکھنا ہوگا۔ شاہ جی کی رحلت کے ۳۱ برس کے بعد ۱۹۹۲ء میں مرزا غلام نبی جانباز مرحوم نے اپنی کتاب ”مسیلمہ کذاب سے دجال قادیان تک“ میں اس راز کو کھول دیا۔ تفصیل سے اس کو قلم بند کر دیا۔

جیل سے رہائی کے بعد تحریک ختم نبوت میں دوبارہ شمولیت

پاکستان کے قیام کے بعد ۱۹۴۹ء کے اوائل میں حضرت امیر شریعت رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰى نے مجھ کو سندھ میں مرزائیت کی اسٹیٹ میں بھیج دیا۔ آخری اسٹیشن ٹاہلی، قادیانیت کے گڑھ میں مرزائیت کا تعاقب کیا۔ معاشی حالت یہ تھی کہ سرخ مرچ پسی ہوئی میں نمک اور پانی ملا کر روٹی وہ بھی باسی تباسی، جو بھی میسر ہوتی کے ساتھ پیٹ میں ڈالتا رہا یہ سلسلہ چھ ماہ تک رہا۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت ضلع تھر پارکر سندھ ٹاہلی میں، میں نے ہی متحرک کی تھی۔ کئی دفعہ قادیانیوں نے حملے کئے اور مقدمات چلتے رہے۔

مسلمانوں کے ہاتھوں قادیانیوں کی مرمت

چودھراہٹ کے نیچے سنی مسلمان دبے ہوئے تھے کاروبار میں بھی مسلمان ان کے سامنے پسے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ خاناں والی مسجد میں مولانا محمد علی جالندھری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰى کی تقریر کے دوران کھڑے ہو کر مرزائیوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے قیام کے دوران

گستاخ رسول کا عبرتناک ان کے نام نہاد وقار کو جب تک خا ہمارے ایک باعزت معمر عبادت میں مشغول ان کے مندر کے ناپاک جسموں کی ہڈیوں کو توڑ کی قیادت میں مجھ کو گرفتار کرنے کرنا، جماعت والوں کا بھی گھبرا جا نبوت کے مبلغ صوفی عنایت صاحب

قادیانی غنڈوں کی آ

رشیدی کے عزیز الحاج حافظ بشیر احم گاہ میں اذان دیتے ہیں۔ چنانچہ سمیت تحقیق حال کے لئے موقع پر انسٹی ٹیوٹ کے طالب علم اظہر رفیق دیکھنا چاہا کہ کون اذان دے رہا قادیانیت) کی خلاف ورزی پر قانو فائرنگ کر کے قاری بشیر احمد حبیب نق

اس خونی واقعہ کی اطلاع پورے رشیدیہ میں جمع ہو گیا اور شہر میں مکمل جلسے ہوئے، انتظامیہ نے کئی ایک علما پابند کر دیا گیا کہ وہ اس خبر کو شائع نہ کری ملزموں کی گرفتاری اور اس کو کیفر کردار حال کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی مجلس

صفحہ 385

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ان کے نام نہاد وقار کو جب تک خاک میں نہیں ملا دیا، آرام نہیں کیا۔ ہمارے ایک باعزت معمر بزرگ کو انہوں نے مارا، ناک کی ہڈی کریک ہوگئی۔ رات کو عبادت میں مشغول ان کے مندر میں بہادر نوجوانوں سے جو میں نے ان کی پٹائی کرائی، ان کے ناپاک جسموں کی ہڈیوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ پھر ان کا ملتان کی اسپیشل پولیس کا ڈی ایس پی ان کی قیادت میں مجھ کو گرفتار کرنے کے لئے آیا۔ ہزاروں نوجوانوں کا دنیا پور کے تھانے کا محاصرہ کرنا، جماعت والوں کا بھی گھبرا جانا لیکن اللہ کی مدد پر میرا ڈٹ جانا۔ یہ سب کچھ دنیا پور کے ختم نبوت کے مبلغ صوفی عنایت صاحب سے ایک خط ڈال کر آپ دریافت کرلیں۔

قادیانی غنڈوں کی فائرنگ سے دو نوجوانوں کی شہادت

رشیدی کے عزیز الحاج حافظ بشیر احمد حبیب کو اطلاع ملی کہ مرزائی مشن روڈ پر واقع اپنی عبادت گاہ میں اذان دیتے ہیں۔ چنانچہ 26 اکتوبر کی صبح کو قاری صاحب مذکور اپنے چند ساتھیوں سمیت تحقیق حال کے لئے موقع پر گئے۔ جب صبح کی اذان کی آواز آئی تو مذکور اور پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ کے طالب علم اظہر رفیق نے قادیانیوں کی عبادت گاہ کے مین گیٹ سے جھانک کر دیکھنا چاہا کہ کون اذان دے رہا ہے تاکہ اس کے خلاف صدارتی آرڈی ننس (امتناع قادیانیت) کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کی جائے۔ اس اثناء میں قادیانی غنڈوں نے فائرنگ کر کے قاری بشیر احمد حبیب رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی اور اظہر رفیق کو موقع پر شہید کر دیا۔

انا لله وانا اليه راجعون۔

اس خونی واقعہ کی اطلاع پورے شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پورا شہر جامعہ رشیدیہ میں جمع ہوگیا اور شہر میں مکمل ہڑتال ہوگئی۔ نماز جنازہ کا عظیم اجتماع ہوا۔ جلوس نکلے، جلسے ہوئے، انتظامیہ نے کئی ایک علمائے کرام کو گرفتار کر لیا۔ اخبارات کے نمائندوں کو سختی سے پابند کر دیا گیا کہ وہ اس خبر کو شائع نہ کریں۔ اس عظیم حادثہ کے بعد پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ ملزموں کی گرفتاری اور اس کو کیفر کردار تک پہنچانے کے مطالبات شروع ہو گئے۔ اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی مجلس عمل کا ہنگامی اجلاس ساہیوال میں طلب کر لیا گیا۔

صفحہ 386

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی نے اپنے اداریہ میں مسئلہ ختم نبوت اور قادیانی جارحیت کے انسداد سے متعلق مندرجہ ذیل تجاویز اور مطالبات پیش کئے۔

کی روشن دلیل ہے ) یہ نہ صرف شعائرِ اسلامی کی توہین ہے بلکہ ملکی قانون کی بھی تضحیک ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کا احساس کریں۔

مراکز پر چھاپہ مار کر اسلحہ ضبط کیا جائے۔

ضبط کیا جائے۔

جائے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت، صفحہ ۱۸ جلد نمبر ۱۱ شمارہ نمبر ۴۵۔ ۷ تا ۱۳ مئی ۱۹۹۳ء)

مولانا تاج محمود کا ایک سحر انگیز جملہ اور پولیس کا جلوس پر لاٹھی چارج

ضعیف آدمی سے سنا، وہ بیان کرتا ہے کہ تحریک ختم نبوت زوروں پر تھی اور میں بڑا عیاش طبع آدمی تھا۔ عید کی نماز کے سوا کبھی مسجد میں نماز کے لئے گیا بھی نہیں۔ جمعہ کا دن تھا اور حضرت مولانا تاج صاحب کی مسجد کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا ہوا تھا۔ بعد نماز جمعہ جلوس کا پروگرام تھا۔ زبردست پہرہ اور ممانعت تھی۔

بقول اس شخص کے، ہم چند دوست سڑک پر کھڑے نظارہ دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مولوی کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ بے مقصد اپنے آپ کو موت میں ڈالتا ہے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ مولانا نے اس جذبے اور ولولے سے نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ ہمارے دل دہل گئے اور اس کے بعد مولانا نے بڑی حسرت، تڑپ اور جذبے سے ہماری طرف دیکھا اور صرف ایک جملہ

صفحہ 387

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کہا۔ بس اس جملے کا سننا تھا کہ اندر ایک تلاطم بپا ہو گیا۔ جذبات کا ایک طوفان امڈ آیا۔ آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو تھمنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ ندامت کا وہ احساس تھا جو زندہ دفن کئے جاتا تھا اور وہ جملہ یہ تھا ”یارو محمد رسول اللہ ﷺ میرے آقا و مولیٰ تو نہیں ...... کل حشر میں تم کیا منہ دکھاؤ گے۔“

بقول اس شخص کے، بس پھر کیا تھا ...... ہم سب ساتھی نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے پولیس کا گھیرا توڑتے ہوئے، لاٹھیوں پر لاٹھیاں کھاتے مولانا کی قیادت میں آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ بقول شاعر:

ثابت قدم جو رہتے ہیں ہر حق کی بات پر
سجدہ خدا کو کرتے ہیں خنجر کی دھار پر

بہر حال یہ تو ایک چھوٹا سا واقعہ تھا۔ حضرت کا موت سے بے خوفی، بہادری، جرأت اور اخلاص ایمان کا۔ ان کی پوری زندگی اس طرح کے واقعات سے پر ہے۔ جس کے لئے کوئی الگ مستقل موضوع درکار ہے۔ بہرحال بقول احسان دانش:

منزل کی جستجو ہو تو ان کی طرف چلو
جس کی ہوئی نصیب اطاعت نبی کی
دانش میں خوف مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
میں جانتا ہوں موت ہے سنت نبی کی

(ہفت روزہ ختم نبوت، جلد ۱۲ شمارہ ۲۴)

اللہ

صفحہ 388

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع....... 15

ادب رسول ﷺ پر سحر انگیز واقعات

مسلمانوں کو آپؐ کے سامنے بلند آواز سے بات کرنے کی ممانعت

ادب و احترام، گفتگو اور تخاطب کے آداب بھی قرآن مجید نے بیان فرمائے ہیں۔ آپ ﷺ کی مخالفت اور دشمنی تو صراحتاً کفر ہے۔ لیکن آپ ﷺ کی شان میں معمولی بے ادبی بھی غارت گر اعمال اور موجب کفر ہو سکتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوْا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَO﴾

”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اپنی آواز کو نبی (ﷺ) کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی (ﷺ) کے ساتھ اونچی آواز میں بات کیا کرو۔ جس طرح کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال غارت ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔“

(سورۂ حجرات آیت نمبر:۲)

اللہ تبارک و تعالیٰ بلند آواز سے بولنے سے منع کر رہے ہیں۔ عام لب و لہجے میں بات کرنے سے منع کر رہے ہیں۔ کیوں منع کر رہے ہیں؟ آپ ﷺ کے ادب کی وجہ سے۔ اور آپ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے کہ ان کا احترام بیت اللہ و خانہ کعبہ اور عرش و کرسی سے بھی زیادہ ہے۔ ان کی عزت، ان کا احترام، ان کی عظمت، ان کا ادب تمہارے

صفحہ 389

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

دلوں میں ہونا چاہئے۔

امام محمد بن احمد القرطبی اپنی شہرہ آفاق تفسیر ”الجامع لاحکام القرآن“ میں اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”اس آیت میں جس بلند آواز سے منع کیا گیا ہے وہ ایسی بلند آواز نہیں جس کا مقصد آنحضرت ﷺ کا استخفاف اور اہانت ہو، کیونکہ ایسی بلند آواز تو کفر ہے اور یہ خطاب ہی اہل ایمان سے ہے۔ جس کے لئے آپ ﷺ کی ذات گرامی اصل ایمان ہے۔“

امام ابن تیمیہ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اپنی کتاب ”الصارم المسلول“ میں اسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”جب ایسی تکلیف و استخفاف جو بلا قصد ہونے کے باوجود سوء ادب اور کفر میں داخل ہے تو پھر جو استخفاف اور تکلیف عمداً اور بالقصد کی جائے اس کے صریحاً کفر ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے؟ یہ تو بطریق اولیٰ کفر شمار ہوگا۔“

سورۂ حجرات کا موضوع ہی اہل ایمان کو دربار رسالت کے آداب کی تعلیم دینا ہے۔

صحابہ کا آپؐ سے بات کرتے ہوئے دل میں خوف پیدا ہونا

کہ اللہ کے رسول! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج کے بعد اس آیت کے اترنے کے بعد زندگی کی آخری سانس تک آپ ﷺ کے سامنے اس طرح بات کروں گا جس طرح کوئی کسی کے کان میں بات کرتا ہے۔

حضرت عمر رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ جن کی ہر ادا میں رعب و دبدبہ اور جلال ہوتا تھا وہ اس آیت کے اترنے کے بعد اتنے محتاط اور مؤدب ہو گئے تھے کہ آپ ﷺ سے بات کرتے ہوئے آپ ﷺ فرماتے کیا کہا عمر؟...... ذرا دوبارہ کہنا۔

ثابت بن قیس بلند آواز والے تھے۔ انصار کے خطیب تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو

صفحہ 390

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اتنا ڈرے، اتنا ڈرے اور اتنا روئے اور کہا کہ میں تو کئی مرتبہ آپ ﷺ کی مجلس میں آواز طبعاً اونچی ہونے کی وجہ سے ذرا بلند آواز سے بول لیتا ہوں۔ میرا ارادہ جان بوجھ کر بے ادبی اور توہین نہ ہوتا تھا۔ وہ اتنا ڈرے کہ اپنے گھر بیٹھ گئے اور آپ ﷺ کی مجلس میں آنا چھوڑ دیا کہ میں کہیں جہنمی تو نہیں ہو گیا۔ آپ ﷺ نے کئی دن تک دیکھا کہ ہماری مجلس میں ثابت بن قیس نہیں آ رہے۔ پوچھا کیا بات ہے؟ بیمار ہیں، نظر نہیں آ رہے، کئی دن گزر گئے ہیں؟۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پیغام پہنچایا اور واپس آ کر آپ ﷺ سے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! وہ تو اس وجہ سے نہیں آ رہے کہ میری آواز بلند ہے۔ کہیں مجلس میں اونچا نہ بولوں، گستاخی نہ ہو جائے اور میں گناہگار اور جہنمی نہ بن جاؤں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں جاؤ میرے ثابت بن قیس سے کہو کہ آئے میرے پاس هو من اهل الجنة وہ تو جنتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اتنا ادب واحترام تھا۔

روایت میں آتا ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے تو یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور علماء نے لکھا ہے کہ جو ادب واحترام آپ ﷺ کا اس آیت میں بیان کیا، کتنا ادب؟ کہ، میرے پیغمبر کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولنا، میرے پیغمبر کو عام آدمیوں کی طرح نہ بلانا...... کیوں؟ اگر تم نے ایسا کیا تو یاد رکھو تمہاری ساری نیکیاں، تمہاری ساری نمازیں، تمہارے سارے روزے، تمہاری ساری تلاوتیں، صدقہ وخیرات، تمام عبادتیں یہ سب بے کار اور ضائع ہو جائیں گی اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہیں چلے گا۔

تمام نیکیوں کا برباد اور ضائع ہو جانا یہ مرتد ہونے کی وجہ سے ہوا کرتا ہے کہ مسلمان ہو کر کوئی دوبارہ کافر بن جائے (نعوذ باللہ)۔ لیکن دیکھئے کہ اللہ کے پیغمبر کا مقام کتنا اونچا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کوئی شخص میرے پیغمبر کی بے ادبی کرے گا تو جس طرح مشرک کی، کافر کی اور مرتد کی تمام نیکیاں برباد ہیں تو اس گستاخ رسول کی بھی تمام نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔ وہی سزا جو کافر کی ہوگی وہی اس کی بھی ہوگی۔

آپ نے اندازہ لگایا کہ آپ ﷺ کا ادب کتنا اہم اور بے ادبی کتنا بڑا گناہ ہے کیوں؟ علماء نے لکھا ہے کہ وہ کافر تو نہیں ہوا پھر ساری نیکیاں کیسے برباد ہوئیں؟

صفحہ 391

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

فرمایا اس لئے کہ آپ ﷺ کی بے ادبی کر کے اس نے آپ ﷺ کا دل دکھایا۔ انہیں تکلیف پہنچائی اور آپ ﷺ کو تکلیف پہنچانا اللہ تبارک وتعالیٰ کو تکلیف پہنچانا ہے۔ تو جو اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتا ہے اللہ اس کو توبہ کی توفیق نہیں دیتا۔ پھر وہ کافر ہو جاتا ہے، اور اس کی نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔

روضہ اطہر پر صلوٰۃ و سلام پڑھتے وقت آواز بلند رکھنا بھی ادب

رسول ﷺ کے منافی عمل ہے

روضہ مبارک پر کھڑا ہو کر صلوٰۃ و سلام پیش کر رہا ہے تو وہاں بھی اس کا اونچی آواز میں صلوٰۃ و سلام پڑھنا، اونچی آواز میں بات کرنا اسی طرح گناہ ہے جس طرح آپ ﷺ کی زندگی میں ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنا گناہ تھا۔ کیوں؟ ...... ہمارا عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ اپنے روضہ اقدس میں اپنے اسی جسد عنصری کے ساتھ زندہ ہیں اور جب ہم صلوٰۃ و سلام پڑھتے ہیں تو اللہ کے پیغمبر خود سنتے ہیں اور اس کا جواب دیتے ہیں، تو جس طرح عالم دنیا میں آپ ﷺ کا ادب تھا وہ عالم برزخ میں ہوں تب بھی وہ ادب لازم ہے۔

آپ عمرے کے لئے جائیں، حج کے لئے جائیں تو مکے میں آپ اونچی آواز میں پڑھیں گے: لبیک اللہم لبیک ...... جتنا اونچا پڑھیں گے اتنا ہی زیادہ ثواب ہے، جتنی اونچی آواز سے نعرے لگاؤ گے اللہ اتنا ہی خوش ہوگا۔ لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں میرے گھر میں تو یہ حکم ہے۔ لیکن جب میرے پیغمبر کے شہر مدینہ میں جانا اور آپ ﷺ کی خدمت میں جانا تو پھر وہاں اونچی آواز سے نہیں بلکہ آہستہ آواز سے ادب اور احترام کے ساتھ صلوٰۃ و سلام پڑھو اور علماء نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ صرف روضہ اطہر میں نہیں بلکہ پوری مسجد نبوی ﷺ میں اونچی آواز سے بات نہ کرے۔

آپ ﷺ کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ پورے شہر مدینہ میں آپ آہستہ آہستہ بولیں اور بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ جو حکم آپ ﷺ کی مجلس میں تھا آج پوری دنیا میں جہاں بھی

صفحہ 392

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اور جس مجلس میں آپ ﷺ کی احادیث پڑھی جارہی ہوں آپ ﷺ کا فرمان سنایا جارہا ہو، آپ ﷺ کا ارشاد پڑھا جارہا ہو اس مجلس کا بھی وہی حکم ہے جو آپ ﷺ کی مجلس کا تھا۔ حدیث کی مجلس بھی گویا آپ ﷺ کی مجلس ہے۔

آپ ﷺ کو پکارنے اور بلانے کے لئے بھی تعظیمی پہلو اختیار کرنے کا حکمِ ربی

﴿اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاءِ الْحُجُرَاتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ O﴾

(سورۃ الحجرات، آیت ۴)

ترجمہ: ”جو لوگ حجروں کے باہر آپ ﷺ کو پکارتے ہیں ان میں اکثروں کو عقل نہیں۔“

اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو آپ ﷺ کے مکانوں کے باہر آپ ﷺ کو آوازیں دیتے اور پکارتے ہیں۔ جس طرح دیہاتیوں اور جاہلوں میں رواج تھا اور اب بھی ہے کہ ایک دوسرے کو بلند آواز سے حجرات کے باہر کھڑے ہو کر پکارتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے دربار نبوت میں اس سوء ادب سے منع فرمایا اور ایسوں کو بے عقل کہا۔

مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ کا نام لے کر پکارا: یا محمد (ﷺ) یا محمد (ﷺ) آپ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔

(ابن کثیر)

محمد ﷺ کو پکارنے کا طریقہ بزبان قرآنی

بَعْضًا﴾

(النور ۶۳)

”رسول (ﷺ) کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے جیسا نہ سمجھو۔“

یہ آیت مبارکہ رسول اللہ ﷺ کے ادب و احترام کا حکم دے رہی ہے اور مسلمانوں کو

صفحہ 393

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ کے مقام کا خیال رکھنے کی تاکید کر رہی ہے۔ اس آیت کی تشریح مفسرین کرام نے دو طرح کی ہے۔ اور دونوں ہی میں یہی سبق پوشیدہ ہے۔

رسول کے بلانے سے مراد یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ تم لوگوں کو بلائیں تو اس کو عام لوگوں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو کہ چاہو تو جاؤ اور نہ چاہو تو نہ جاؤ۔ بلکہ اس وقت آپ ﷺ کے بلانے پر لبیک کہنا فرض ہو جاتا ہے اور نہ جانے کا اختیار نہیں رہتا۔

جو لوگ آپ ﷺ کو بلاتے ہیں تو آپ ﷺ کا نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں تو اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ نام نہ لو۔ اس کی رو سے رسول اللہ ﷺ کو یا محمد یا احمد یا ابا القاسم کہہ کے ہرگز انہیں نہیں بلانا چاہئے بلکہ مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے لئے تعظیم کی موزوں اصطلاحات جن کا قرآن میں ذکر ہے، استعمال کرنی چاہئیں۔ ان میں سے چند ایک یہ ہیں: یا نبی اللہ، یا رسول اللہ، یا مزمل، یا مدثر، یا رحمۃ للعالمین۔ یہ وہ القاب ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے لئے خود خالق کائنات نے استعمال کئے ہیں۔

اس کا حاصل یہ ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا احترام مسلمانوں پر واجب ہے اور ہر ایسی چیز سے بچنا لازمی ہے جو ادب کے خلاف ہے۔

علامہ شبیر عثمانی رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ تفسیر عثمانی لکھتے ہیں: ”یعنی حضرت محمد ﷺ کے دربار میں حاضر ہونا فرض ہو جاتا ہے۔ آپ کا بلانا اوروں کی طرح نہیں کہ چاہے اس پر لبیک کہے یا نہ کہے۔ اگر آپ ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہو تو آپ ﷺ کی بددعا سے ڈرنا چاہئے، کیونکہ آپ ﷺ کی دعا معمولی انسانوں جیسی نہیں۔ نیز مخاطبات میں آپ ﷺ کے ادب وعظمت کا پورا خیال رکھنا چاہئے۔ عام لوگوں کی طرح یا محمد وغیرہ کہہ کر خطاب نہ کیا جائے بلکہ یا نبی اللہ اور یا رسول اللہ جیسے تعظیمی القاب سے پکارنا چاہئے ۔“

(تفسیر عثمانی صفحہ ۴۶۶)

صفحہ 394

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اللہ کی اطاعت کے ساتھ لازمی جزو قرار دیا گیا

اللہ کے رسول ﷺ کا مکمل طور پر اتباع کریں۔ آپ ﷺ کو دل و جان سے رہنما بنا کر آپ ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے اپنی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم کر دیا ہے اور اطاعت رسول کو اپنی ہی اطاعت قرار دیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

﴿يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ﴾

(محمد ۴۷ آیت: ۳۳)

”اے ایمان والو! اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کی اطاعت کرو اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو۔“

علماء نے لکھا ہے کہ جس طرح آنحضرت ﷺ کے اس دنیا میں تشریف فرما ہوتے ہوئے تعظیم وتکریم لازمی تھی اسی طرح آپ ﷺ کے وصال کے بعد بھی آپ ﷺ کی ذات اقدس تعظیم وتکریم کے لائق ہے۔ آپ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ کو آج بھی وہی حرمت وعظمت حاصل ہے جو انہیں آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں حاصل تھی۔

﴿يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَكُمْ﴾

(الحجر : ۲)

کی تفسیر کے سلسلے میں علماء نے لکھا ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں بھی آپ ﷺ کا کوئی حکم یا آپ ﷺ کی کوئی حدیث سنائی جائے اسے خاموشی اور احترام سے سنا جائے اور ایسی محفل میں جہاں حدیث پاک سنائی جارہی ہو تیز اور بلند آواز سے پرہیز کیا جائے۔

علامہ آلوسی رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی نے اپنی کتاب روح المعانی میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے:

”یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ آپ ﷺ کو کسی قول وفعل کے ذریعے تکلیف پہنچانا کفر ہے۔ اس سے تمام اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے اعمال بھی منع فرمایا گیا ہے جن سے آپ ﷺ کو اذیت پہنچنے کا احتمال ہو۔“

گستاخ رسول آپ ﷺ

ترجمہ: ”لوگو کی جنگ یا اپنی زندگیوں اللہ کے اس حکم کرنا اور اس کے فیصلے کوئی بھی سنت ہے، کو کرنا یہ بھی پیغمبر سے آ آپ نے دیک کوئی عمل میرے پیغمبر آگے بڑھ گئے ہو۔ آ چھوڑ کر یا ان کے کسی ح آپ ﷺ سے آ قرآن مجید کے نزدیک مستحق تکریم اور وہ شخص ہے جو اللہ تبار لوگ جو ادب و احترام سے محروم ہوجاتے ہیں ذلیل ورسوا ہوجاتے ہیں اللہ

صفحہ 395

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ کے فیصلے کو چھوڑ کر اپنا کوئی فیصلہ کرنے کی ممانعت

ترجمہ : ’’لوگوں کے لئے صحیح اور مناسب نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کی جنگ یا امن دونوں حالتوں میں حکم عدولی یا نافرمانی کریں۔ نہ ہی اپنی زندگیوں کو ان کی زندگی پر ترجیح دیں۔‘‘

(سورۃ التوبہ ۹: ۱۲۰)

اللہ کے اس حکم میں بھی یہ داخل ہے کہ میرا پیغمبر کوئی فیصلہ کرے تو اس کو چھوڑ کر اپنا فیصلہ کرنا اور اس کے فیصلے سے بڑھ جانا یہ بھی ناجائز اور بے ادبی میں داخل ہے۔ آپ ﷺ کی کوئی بھی سنت ہے، کوئی عادت اختیار کی ، کوئی انداز اپنایا تو اس کو چھوڑ کر اپنا ایک انداز اختیار کرنا یہ بھی پیغمبر سے آگے بڑھنا ہے۔

آپ نے دیکھا پوری زندگی اس میں آ گئی۔ اللہ نے بتایا کہ تمہاری کوئی بات اور تمہارا کوئی عمل میرے پیغمبر کے قول اور عمل کے خلاف ہو گا تو سمجھا یہ جائے گا کہ تم میرے پیغمبر سے آگے بڑھ گئے ہو۔ آج بھی یہ حکم موجود ہے۔ اگر کوئی مسلمان آپ ﷺ کا کوئی فیصلہ چھوڑ کر یا ان کے کسی حکم کی خلاف ورزی کرے تو اس آیت کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا کہ وہ آپ ﷺ سے آگے بڑھ گیا۔

قرآن مجید کے نزول کا مقصد اہل تقویٰ کی ہدایت ورہنمائی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے نزدیک مستحق تکریم اور لائق عزت صرف وہی شخص ہے جو صاحب تقویٰ ہے۔ صاحب تقویٰ وہ شخص ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے آخری رسول ﷺ کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتا ہے۔ وہ لوگ جو ادب و احترام رسول کو شعوری یا غیر شعوری طور پر ملحوظ نہیں رکھتے وہ متاع ایمان وتقویٰ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ وہ کسی عزت وتکریم کے مستحق نہیں ہیں بلکہ بارگاہِ ایزدی میں ذلیل ورسوا ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا آپ ﷺ کی عظمت کو بیان کرنا

صفحہ 396

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

انہوں نے فرمایا: میری نصیحت یہ ہے کہ جب کبھی سنو کہ اللہ کہہ رہا ہے ”اے ایمان والو......‘ تو فوراً کان لگاؤ ، دل کو حاضر کرو ۔ تمہیں اللہ کتنا بڑا اعزاز دے رہا ہے کہ وہ اللہ جس نے موسیٰ علیہ السلام سے ہم کلامی کی اور ان کو اپنے کلام کا شرف بخشا ہے، وہ اللہ آپ لوگوں کو آپ علیہ السلام کے صدقے میں اپنا شرف کلام بخش رہے ہیں۔ توجہ کرو اللہ کیا فرما رہے ہیں۔ ۸۸ مرتبہ اللہ نے مجھے اور آپ کو خطاب کیا۔ قیامت تک جتنے لوگ مومن ہوں گے اللہ نے ان سے بات کی ہے، مجھے اور آپ کو جو تلاوت اور کتابت کی ترتیب میں جو سب سے پہلا خطاب ہے وہ اللہ نے اپنے محبوب پیغمبر کی عظمت و احترام کے حوالے سے کیا۔ حالانکہ اللہ نے مجھے اور آپ کو یہی الفاظ کہہ کر تقویٰ اختیار کرنے کا ، یہی الفاظ کہہ کر روزوں کا فرض ہونا بھی بتایا اور انہی الفاظ سے اور بھی بہت سے احکام بتائے ۔

مگر سب سے پہلا خطاب جو اللہ نے یاایھا الذین کے ذریعے کیا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب اور عظمت کے حوالے سے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا﴾ کہ یہودی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے اور اپنی طرف متوجہ کرتے تو یہ لفظ استعمال کرتے کہ ”راعنا“ اس کا معنی عربی زبان کے اعتبار سے اگرچہ غلط نہیں بلکہ صحیح ہے اس کا معنی ہے ”ہماری رعایت کیجئے ..... ہمارا لحاظ کیجئے ۔“ مگر یہودیوں کی زبان اور ڈکشنری میں عبرانی میں یہ بے ادبی اور توہین کا لفظ تھا۔ اس کا معنی نعوذ باللہ منہ یہ ہے کہ ”اے احمق ، اے بے وقوف“ اور ایک معنی چرواہا بھی ہے۔

یہودی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے تو راعنا کہہ کر بات کرتے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے بھی یہ لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس لئے کہ ان کی زبان میں اس کا معنی اچھا تھا۔ یعنی ”نظر کرم فرمائیں“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے یہ سمجھا کہ اس لفظ کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ یہودی بولتے ہیں اور انہوں نے چونکہ پہلے انبیاء کے ساتھ گفتگو کا انداز سیکھا ہوا ہے اور چونکہ ان کے پیغمبروں پر کتابیں بھی اتری ہیں یہ ان کے ساتھ گفتگو کے آداب سے واقف ہیں۔ اس لئے مسلمان بھی کبھی بات کرتے ہوئے کہہ بیٹھتے ”راعنا“۔

یہودی خوش ہونے لگے کہ دیکھو ہمارا والا لفظ مسلمانوں نے بھی بولنا شروع کر دیا اور اب

صفحہ 397

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

یہ خود (نعوذ باللہ) اپنے نبی کی توہین کرنے لگے ہیں۔ وہ اپنی مجلسوں میں بیٹھتے تو مذاق اڑاتے اور ہنستے، خوش ہوتے۔ اس پر اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے یہ آیت اتاری: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَ قُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

(پ:۱، البقرۃ:۱۰۴)

اے ایمان والو! تم یہ نہ کہا کرو کہ ”راعنا“ اگرچہ جو ترجمہ اور معنی تم مراد لے رہے ہو تمہاری زبان میں وہ صحیح ہے، لیکن اس سے یہود والے معنی کا شبہ ہوسکتا ہے اور وہ اس لفظ کو بول کر میرے پیغمبر کی توہین کرتے ہیں۔ اس لئے تم ایسا لفظ بھی نہ بولو جس سے توہین کا تھوڑا سا بھی شبہ نکلے۔ تم اس کے بجائے یہ لفظ بولا کرو۔ ”انظرنا“ اے ہمارے پیغمبر، ذرا ہم پر نظر تو ڈالیں، ہمارا خیال کیجئے۔ ”انظرنا“ کا معنی بھی وہی ہے جو راعنا کا معنی عربی زبان میں ہے۔ لیکن اللہ نے وہ لفظ ہی بدل دیا اور فرمایا کہ تم ایسا لفظ بھی نہ بولو جس سے بولنے والے کا ارادہ تو توہین نہیں لیکن دشمن چونکہ اس کا غلط معنی لیتے ہیں۔ فرمایا خبردار! تم ایسا لفظ بھی نہ بولو جو یہودی بول کر غلط معنی مراد لیتے ہیں۔ جس سے میرے نبی کی توہین کا پہلو نکلتا ہو۔

آپ سے کسی بھی معاملے میں آگے نہ بڑھنے کا مسلمانوں کو حکم

ادب اور احترام بتلایا۔ اللہ اکبر! فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ ﴾

(پ:۲۶، الحجرات:۱)

یہاں بھی ایمان والوں کا نام لے کر خطاب کیا اور اللہ نے یہ بتایا کہ میں اپنے پیغمبر کے ادب و احترام کا حکم ان لوگوں کو دے رہا ہوں جو میرے پیغمبر کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ ان سے تو پیغمبر کی توہین ممکن ہو ہی نہیں سکتی۔ لیکن ایسی چیز جس سے تھوڑا سا بھی توہین کا پہلو نکلے میں اس کی بھی اجازت نہیں دے سکتا۔

ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو، پیش قدمی نہ کرو، مگر کس بات میں

صفحہ 398

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پیش قدمی نہ کرو، یہ نہیں بتایا۔ کیوں نہیں بیان کیا! اس لئے کہ تاکہ حکم عام رہے۔ کئی چیزوں میں ہمارے پیغمبر سے آگے نہ بڑھیں، اگر ہم بیان کرتے تو تم صرف انہی کی تخصیص کرتے اس لئے کہا کہ کسی چیز میں آگے نہ بڑھو۔ کیونکہ یہ ادب کی خلاف ہے۔

علماء نے لکھا ہے کہ کسی کے لئے آپ ﷺ کے آگے چلنا یہ جائز نہیں۔ اگر آپ ﷺ مجلس میں کھانا کھا رہے ہوں تو ان کے شروع کرنے سے پہلے ہاتھ بڑھانا اور پہل کرنا یہ بھی جائز نہیں۔ آپ ﷺ ایک مجلس میں موجود ہوں ، وہاں گفتگو اور بات کرنی ہے تو کوئی آپ ﷺ سے پہلے بولنے لگ جائے یہ بھی جائز نہیں۔ اللہ نے فرمایا میرے پیغمبر پہلے بولیں گے، ہاں اگر وہ کسی صحابی سے فرما دیں تو پھر وہ بولے وگرنہ میرے نبی سے پہلے بولنا جائز نہیں۔

’عظمت رسولؐ‘ کی پاسداری کرنا ہر مسلمان کے لئے باعث فخر ہے

ﷺ کی محبت کے جذبوں سے سرشار نظر آتے ہیں اور محبت رسول کے ساتھ ساتھ دوسری چیز عظمت رسول ہے۔ محبت بھی ہو، احترام بھی ہو۔ عزت بھی ہو اور عظمت بھی اور یہ دونوں چیزیں مسلمانوں کا امتیاز اور ان کا سرمایہ ہیں۔ وہ اپنے محبوب کا احترام بھی کرتے ہیں اور پیار بھی کرتے ہیں۔ محبت بھی بے پناہ رکھتے ہیں اور عظمت بھی بے پناہ۔ محبت اور عزت کی بھی کوئی حد نہیں اور ادب و عظمت و احترام کی بھی کوئی حد نہیں۔

مسلمانوں کے محبت و عظمت رسول کے جذبے کو کسی ترازو میں تولا نہیں جا سکتا اور یہ دونوں چیزیں اللہ کا حکم ہیں۔ آپ ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کا احترام۔

قرآن کریم جو اللہ کی آخری کتاب اور پیغام ہے، جو قومیں اللہ کے پیغام اور آخری کتاب کو مانتی ہیں تو وہ اس میں غور کریں کہ الف سے لے کر ی تک اللہ اپنے محبوب کی کتنی عزت اور کتنی توقیر فرما رہے ہیں اور صرف قرآن ہی نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابیں، تورات، انجیل و زبور اپنی اصل شکل میں اللہ کے آخری پیغمبر کی عظمت بیان کر رہی ہیں۔

صفحہ 399

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ کی عظمت اور عزت و توقیر کا حکم ربی

﴿لِّتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ وَتُسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا O﴾

(الفتح : ۹)

تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور ان کی مدد کرو اور ان کی عظمت کا خیال رکھو اور صبح شام اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے رہو۔

قرآن کریم کی ان آیات میں تین فعل استعمال کئے گئے ہیں۔ یہ ہیں نصر، وقر اور عزر۔ جن کے معنی ہیں: رسول اللہ ﷺ کی عزت کرنا، تعظیم کرنا، سب سے اعلیٰ قرار دینا، عظیم سمجھنا اور گرداننا، اعلیٰ تکریم سے پیش آنا، ان کی عظمت و بڑائی بیان کرنا اور اس پر فخر کرنا، تعریف کرنا، اعلیٰ مقام سمجھنا، انتہائی ادب کرنا کہ ان کا پیغام دور و نزدیک پھیلانا اور ان کی ہر بات میں مدد کرنا، قوت اور قلم اور زبان سے ان کے وقار اور عزت کی محافظت کرنا۔

آپ ﷺ کی عظمت کے تحفظ کے لئے زبان اور تلوار استعمال کرنے کا حکم

ﷺ پر ایمان لاؤ۔ رسول اللہ ﷺ کی انتہائی درجے تعظیم کرو، ان کی عظمت پر فخر کرو اور دوسروں پر ان کو فوقیت اور ترجیح دو، یہ تمہارا فرض ہے۔ ان کے پیغام کو پھیلانے اور مضبوط کرنے میں ہر طرح ان کی مدد کرو اور ان کے وقار اور عزت کی حفاظت اپنی زبان اور تلوار کے ذریعے کرو۔“

علامہ ابن تیمیہ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی تحریر فرماتے ہیں: ”بے شک اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے صرف دل سے تصدیق کرنے کے علاوہ بھی ہمارے نبی ﷺ کے بہت سے حقوق ہمارے دل، زبان اور بدن کے تمام اعضاء پر عائد کئے ہیں۔ چنانچہ اللہ نے آپ ﷺ کی حمایت

PDF 400

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کرنے اور آپ ﷺ کی عظمت کا خیال رکھنے کا حکم دیا۔ ”تعزیر“ کا لفظ یہ آپ ﷺ کی مدد، تائید اور ہر ایسی چیز کو آپ ﷺ سے روکنا جو آپ ﷺ کو تکلیف دیتی ہو، ان سب کو شامل ہے اور ”توقیر“ کا لفظ جامع ہے۔ ہر ایسے کام کو جس میں آپ ﷺ کی عظمت اور احترام کا پہلو ہو اور آپ کے ساتھ عزت، اکرام کا معاملہ ہو۔“

(الصارم المسلول ۲۲)

حضرت عباس کا آپ ﷺ کو اپنے سے بڑا کہنا

”آپ بڑے تھے یا رسول اللہ ﷺ عمر میں بڑے تھے؟“ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ”آپ ﷺ بڑے تھے اور ولادت میری پہلے ہوئی۔“

(کنزالعمال)

حضرت ابوبکر صدیقؓ کا منبر رسول پر باعث ادب نیچے ہو کر بیٹھنا

دینے لگے تو منبر کے جس درجے پر رسول اللہ ﷺ تشریف فرما کر خطبہ القا فرمایا کرتے تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے نیچے کے درجہ پر بیٹھتے:

بجائے بزرگاں نشستن خطا است

پھر جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایام خلافت میں اسی منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینا چاہا تو اس درجے سے بھی نیچے کے درجے پر بیٹھے۔ کیونکہ ان کے نزدیک مقام رسول ﷺ کے ادب کے ساتھ خلیفہ رسول ﷺ کے مقام کا ادب بھی واجب تھا۔

(نقوش رسول نمبر، صفحہ ۶۸۶)

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجا

حضرت عمرو بن العاصؓ

رسول اللہ ﷺ سے زیاد سے زیادہ باعظمت تھا اور میں طاقت نہ رکھتا تھا اور اگر مجھ سے میں بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھت دیکھا ہی نہیں۔

آپ کا دست مبارک

قدر دراز تھے کہ جب وہ بیٹھتے تو پوچھا کہ تم نے ان بالوں کو اتنا کیو انہوں نے کہا کہ میں اس دست مبارک لگا تھا۔ اس لئے م

آپؐ کے ذکر مبارک

سامنے رسول کریم ﷺ کا ذکر ان کے پاس بیٹھنے والوں پر یہ حا کہ اپنے اوپر اتنی مشقت نہ ڈالیں انہوں نے فرمایا: رسول ا پہچانتا ہوں اگر تم بھی پہچانتے تو

صفحہ 401

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

حضرت عمر بن العاصؓ کا باعث ادب آپؐ کو نظر بھر کر نہ دیکھنا

رسول اللہ ﷺ سے زیادہ نہ کوئی مجھے محبوب تھا اور نہ میری نظر میں کوئی آپ ﷺ سے زیادہ باعظمت تھا اور میں رسول اللہ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے نظر بھر کر دیکھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا اور اگر مجھ سے رسول کریم ﷺ کا حلیہ مبارک بیان کرنے کو کہا جائے تو میں بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نظر بھر کر کبھی دیکھا ہی نہیں۔

(ابن سعد)

آپؐ کا دست مبارک لگنے کی وجہ سے اپنے دراز بالوں کو کبھی نہ تراشا

قدر دراز تھے کہ جب وہ بیٹھتے اور ان بالوں کو چھوڑ دیتے تو زمین پر پہنچتے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ تم نے ان بالوں کو اتنا کیوں بڑھایا ہے؟۔

انہوں نے کہا کہ میں اس وجہ سے ان کو نہیں کٹواتا کہ ایک وقت ان پر آپ ﷺ کا دست مبارک لگا تھا۔ اس لئے میں نے تبرکا ان بالوں کو رکھا ہوا ہے۔

(شفاء شریف از قاضی عیاضؒ)

آپؐ کے ذکر مبارک ہی سے امام مالکؒ کے چہرے کا رنگ بدل جانا

سامنے رسول کریم ﷺ کا ذکر ہوتا تو ان کا رنگ تبدیل ہو جاتا۔ کمر جھک جاتی، یہاں تک کہ ان کے پاس بیٹھنے والوں پر یہ حالت سخت گزرتی۔ ایک روز ان سے اس کے بارے میں کہا گیا کہ اپنے اوپر اتنی مشقت نہ ڈالیں۔

انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے مقام عظمت اور جلال اور مرتبہ جمال کو جتنا میں پہچانتا ہوں اگر تم بھی پہچانتے تو میری حالت جو تم دیکھتے ہو بے محل نہ سمجھتے اور تعجب نہ کرتے۔

(حقوق مصطفی از مولانا مفتی محمد حسن گنگوہی، صفحہ ۱۴۸۔۱۴۹)

صفحہ 402

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

حضرت مولانا قاسم نانوتوی رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی کا ادب رسول

لے جاتے اور زیارت روضہ نبوی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے لئے مدینہ شریف جاتے تو مدینہ کی حدود سے باہر سواری سے اترتے اور جوتے اتار لیتے اور ننگے پاؤں در اقدس پر حاضری کے لئے چل پڑتے۔ جب ان سے اس کا سبب پوچھا جاتا تو ارشاد فرماتے:

”مدینہ کی گلیوں کے ان پتھروں میں سے جانے کس پتھر پر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ننگا پاؤں مبارک پڑا ہو اور اسی پتھر پر قاسم کا جوتی والا پاؤں پڑ جائے، یہ بے ادبی مجھے روا نہیں۔“

(ماخوذ از سوانح قاسمی)

سلطان ناصر الدین کا بغیر وضو آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا نام نہ لینا

رسول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے معمور تھا۔ تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے کہ وہ اپنے دل میں جذبہ احترام رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے پیش نظر بغیر وضو کے نبی پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا نام زبان پر نہیں لاتا تھا۔ اس کے

ایک خادم کا نام محمد تھا۔ ایک مرتبہ اس کی ضرورت پڑی تو اس کو تاج الدین کہہ کر پکارا۔

سلطان کے اس انداز سے مصاحب کو خیال پیدا ہوا کہ شاید کسی وجہ سے سلطان اس پر ناراض ہے۔ اس لئے اس کو اپنے اصل نام (محمد) سے نہیں پکارا۔ اس افسوس اور رنج کی وجہ سے وہ مصاحب تین روز تک دربار سے غیر حاضر رہا۔ سلطان نے ایک روز اس کو گھر سے بلا کر غیر حاضر رہنے کی وجہ دریافت کی تو مصاحب نے عرض کیا۔

بادشاہ سلامت! آپ مجھے محمد کے سوا کبھی کسی دوسرے نام سے نہیں پکارتے تھے۔ اس روز خلاف عادت تاج الدین کہہ کر مخاطب فرمایا۔ میں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ مزاج سلطانی میں خاکسار کی طرف کوئی تبدیلی پیدا ہو گئی ہے۔ سلطان نے اس پر اصل حقیقت واضح کی اور قسم کھا کر یقین دلایا کہ اس وقت میں بے وضو تھا۔ لہذا شرم آمد کہ بے وضو نام محمد بر زبان بر آرم ...... مجھے شرم آئی کہ بغیر وضو کے نام محمد زبان پر لاتا۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

امام مالکؒ کا بے ادبی سے حذ

کرتی ہے۔ یہ حجاز کا علاقہ گرم علاقہ ہے ابر رحمت میں نہانے کے لئے مدینہ سے وہاں بارش جب آئے گی اور پہاڑوں کا مزہ آئے گا۔

اوپر بھی پانی، نیچے بھی پانی ہوگا ایک دن بارش ہوئی تو اہل مدینہ

صاحب فقہ امام ہیں۔ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فرامین پڑھایا کرتے تھے۔ آپ بھی گورنر مدینہ کی نظر پڑی امام مالک پر تو سے ملاقات بڑی خوش نصیبی ہے، آ ہوں۔ راستے میں ہمیں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم

امام مالک رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی کہ تمہارے دل میں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے جارہے ہو، نہانے کے لئے اور راہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی حدیثیں آتی ہے تیرے دل میں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی ا جہاں میں حدیث پڑھاتا ہوں۔

ان لوگوں کے دلوں میں آ قیمت ہوتی ہے وہ اس کے پیچھے جا تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

امام ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللہِ تَعَالٰی

صفحہ 403

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

امام مالکؒ کا بے ادبی سے حدیث سننے کی فرمائش کرنے پر سرزنش کرنا

کرتی ہے۔ یہ حجاز کا علاقہ گرم علاقہ ہے اور جب مدینہ منورہ میں بارش ہوتی تو اہل مدینہ جب ابر رحمت میں نہانے کے لئے مدینہ سے باہر پہاڑوں کے درمیانی حصے میں چلے جاتے۔ کیونکہ وہاں بارش جب آئے گی اور پہاڑوں سے بھی پانی نشیبی علاقے میں جائے گا تو پانی میں نہانے کا مزہ آئے گا۔

اوپر بھی پانی، نیچے بھی پانی ہوگا۔

ایک دن بارش ہوئی تو اہل مدینہ باہر جانے لگے۔ امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالىٰ بڑے عالم، صاحب فقہ امام ہیں۔ آپ ﷺ کے روضے کے قریب بیٹھ کر آپ ﷺ کی احادیث و فرامین پڑھایا کرتے تھے۔ آپ بھی جارہے تھے۔ مدینہ منورہ کے گورنر بھی جارہے تھے۔ گورنر مدینہ کی نظر پڑی امام مالک پر تو اپنی سواری آپ کے قریب کر کے کہا۔ امام مالک! آپ سے ملاقات بڑی خوش نصیبی ہے، آپ بھی نہانے کے لئے جارہے ہیں اور میں بھی جارہا ہوں۔ راستے میں ہمیں آپ ﷺ کی احادیث بھی سنا دو۔

امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالىٰ کو غصہ آگیا، ناراض ہو گئے اور کہا۔ تمہیں شرم نہیں آتی، تمہارے دل میں آپ ﷺ کے کلام کا ادب و احترام اور عظمت نہیں ہے۔ تم راہ چلتے جارہے ہو، نہانے کے لئے اور راہ چلتے ہوئے کہتے ہو آپ ﷺ کی احادیث سنا دو۔ کیا آپ ﷺ کی حدیثیں اتنی بے قیمت ہوگئی ہیں کہ عام راستوں میں تجھے سنا دوں۔ اگر تیرے دل میں آپ ﷺ کی احادیث کی محبت اور سننے کا شوق ہے تو مسجد نبوی میں آ جاؤ جہاں میں حدیث پڑھاتا ہوں۔

ان لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کا ادب واحترام تھا، جس چیز کی انسان کے ہاں قیمت ہوتی ہے وہ اس کے پیچھے جاتا ہے اور جس کی قیمت نہ ہو وہ راہ چلتے ہوئے بھی مل جائے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

امام ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالىٰ کے بارے میں لکھا ہے وہ مدینہ منورہ میں جوتا پہن کر نہیں

صفحہ 404

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

جاتے تھے بلکہ پیدل چلتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے قدموں پر میرے پاؤں پڑ جائیں اور بعض کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ قضائے حاجت کے لئے مدینہ منورہ سے دور جاتے تاکہ کہیں بے ادبی نہ ہو جائے۔

ہمارے دین کی بنیاد ادب پر ہے۔ جس نے ادب کیا اس نے پایا۔ اللہ نے ہمیں ادب سکھایا ہے۔ اللہ کا ادب، اللہ کے پیغمبروں کا ادب، اللہ کے دین کا ادب، حتیٰ کہ قرآن اور اللہ کی کتاب کا ادب

قرآن کے ادب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ﴾

جس کا وضو نہیں وہ میرے قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔

مسجد کا احترام بتایا، جوتے اتار کر مسجد میں آؤ، ہمارے پورے دین میں ادب ہے اور جب قرآن کا اتنا ادب ہے تو جس ہستی پر قرآن اترا اس کا کتنا ادب ہوگا۔ جس کی برکت سے ہمیں قرآن ملا اور اللہ ملا ہے۔ اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو ہمیں اللہ کا بھی پتہ نہ چلتا۔ ہمیں اللہ کی ذات وصفات اور احکام کا تعارف بھی محمد الرسول اللہ ﷺ نے کرایا۔

امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ نے گورنر سے کہا اگر تمہیں شوق ہے تو چل کر میرے پاس آؤ۔ اپنے دل میں عظمت، طلب، ادب واحترام لے کر آؤ۔ مدینہ منورہ کا گورنر بھی گھبرا گیا کہ مجھ سے گستاخی، بے ادبی اور غلطی ہوگئی، اس کو احساس ہوا۔ میں سوچتا ہوں کہ اللہ کو کس آدمی کی کیا ادا پسند آ جائے اور اس بناء پر اللہ بخش دے۔

گورنر کا حدیث کی بے ادبی کی وجہ سے اپنے اوپر حد جاری کروانا

مدینہ منورہ کے گورنر کو جب غلطی کا احساس ہوا تو واپس آ کر اپنے آپ کو مدینے کی عدالت میں پیش کیا اور مدعا بیان کیا اور کہا کہ اس کی جو سزا ہو مجھے دیں تاکہ میں کل آپ ﷺ کے سامنے شرمندہ نہ ہوں کہ آپ ﷺ کے شہر کا گورنر اور آپ ﷺ کے کلام کی عظمت اس کے دل میں نہیں۔

مدینہ منورہ کے جج نے کہا تمہیں چالیس کوڑے لگائے جائیں گے۔ اس نے اپنے اوپر

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجا

سزا جاری کروالی۔ مدینے کے گورنر مسجد نبوی ﷺ میں امام مالک رَحْمَ سزا جھیل کر آیا ہوں۔ اب میں اراد سنا دیجئے۔

امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ نے جب چالیس احادیث پوری کل میں نے آپ سے ایک حدی سننے آیا تو آپ نے مجھے چالیس احا

تو امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ کھائی ہے، کوڑے کھائے ہیں، می سناؤں۔ چالیس کوڑے کھائے تو

تو گورنر کہتا ہے کہ کاش! مجھے میں چالیس سے زیادہ کوڑے کھات ہے تو آپ ﷺ کی ذات کی ک ﷺ کی محبت اور عظمت ہے ۔

مغربی دنیا کو یہ سمجھنا چاہئے توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ یورپ کی عظمت نہیں رکھتے تو وہ یہ نہ سمجھ ہوں گے۔ مسلمانوں کا دل، اللہ بلکہ تمام نبیوں اور تمام آسمانی کتابو کسی نبی اور کسی کتاب جو اللہ نے کٹ سکتا ہے، یہ اس کے لئے نظروں میں گر سکتا ہے، لیکن پیغمبر جانی چاہئیں کہ مسلمان جتنا بھی گن

صفحہ 405

رسول اللہ ﷺ کے قدموں پر میرے قضائے حاجت کے لئے مدینہ منورہ سے

ادب کیا اس نے پایا۔ اللہ نے ہمیں ادب اللہ کے دین کا ادب، حتی کہ قرآن اور اللہ نے فرمایا: مُطَهَّرُونَ﴾ قرآن کو ہاتھ نہ لگائے۔ تو، ہمارے پورے دین میں ادب ہے اور اس کا کتنا ادب ہوگا۔ جس کی برکت سے ہوتے تو ہمیں اللہ کا بھی پتہ نہ چلتا۔ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے کرایا۔ اگر تمہیں شوق ہے تو چل کر میرے پاس آؤ۔ کر آؤ۔ مدینہ منورہ کا گورنر بھی گھبرا گیا کہ مجھ ہوا۔ میں سوچتا ہوں کہ اللہ کو کس آدمی کی کیا

سے اپنے اوپر حد جاری کروانا

ی ہوا تو واپس آکر اپنے آپ کو مدینے کی ان کی جو سزا ہو مجھے دیں تاکہ میں کل آپ کے شہر کا گورنر اور آپ ﷺ کے کلام کی ے لگائے جائیں گے۔ اس نے اپنے اوپر

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سزا جاری کروائی۔ مدینے کے گورنر کو چالیس کوڑے لگائے گئے۔ کوڑے کھانے کے بعد گورنر مسجد نبوی ﷺ میں امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کی مجلس میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اب میں سزا جھیل کر آیا ہوں۔ اب میں ارادہ اور طلب لے کر آیا ہوں۔ مجھے آپ ﷺ کی حدیث سنا دیجئے۔

امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ نے کہا: بیٹھو! اور ایک، دو، تین، چالیس احادیث سنا ڈالیں۔

جب چالیس احادیث پوری ہوئیں تو گورنر مدینہ نے کہا کہ امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ! کل میں نے آپ سے ایک حدیث سننا چاہی تو آپ نے مجھے ڈانٹ دیا اور آج میں ایک سننے آیا تو آپ نے مجھے چالیس احادیث سنا دیں۔

تو امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم نے آپ ﷺ کی حدیث کی عظمت میں مار کھائی ہے، کوڑے کھائے ہیں، میرا دل چاہا کہ ہر کوڑے کے بدلے میں تجھے ایک حدیث سناؤں۔ چالیس کوڑے کھائے تو میں نے تمہیں چالیس احادیث سنائی ہیں۔

تو گورنر کہتا ہے کہ کاش! مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ہر کوڑے کے بدلے ایک حدیث ملتی ہے تو میں چالیس سے زیادہ کوڑے کھاتا۔ یہ سب کیا تھا۔ آپ ﷺ کی بات کی اتنی محبت وعظمت ہے تو آپ ﷺ کی ذات کی کتنی محبت و عظمت ہوگی۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا سرمایہ آپ ﷺ کی محبت اور عظمت ہے۔ وہ گناہگار تو ہو سکتا ہے مگر گستاخ رسول نہیں ہو سکتا۔

مغربی دنیا کو یہ سمجھنا چاہئے کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں مگر اپنے نبی کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ یورپین اپنے دلوں میں اپنے خدا کی ، اپنے پیغمبر کی اور اپنی کتاب کی عظمت نہیں رکھتے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ اگر ان کے دل خالی ہیں تو مسلمانوں کے دل بھی خالی ہوں گے۔ مسلمانوں کا دل، اللہ، رسول، اپنے دین اور اپنی کتاب کی محبت سے بھرا ہوا ہے، بلکہ تمام نبیوں اور تمام آسمانی کتابوں کی عظمت اور محبت سے مسلمانوں کے دل لبریز ہیں۔ یہ کسی نبی اور کسی کتاب جو اللہ نے اتاری اس کی توہین برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ اس کے لئے کٹ سکتا ہے، یہ اس کے لئے مرسکتا ہے، فاقے برداشت کرسکتا ہے، یہ پوری دنیا کی نظروں میں گر سکتا ہے، لیکن پیغمبر کی توہین برداشت نہیں کر سکتا اور اب مغرب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ مسلمان جتنا بھی گناہگار ہو، لیکن اپنے نبی کی توہین کا روادار نہیں ہو سکتا۔

صفحہ 406

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

آپ ﷺ کا سرخ چادروں کو دیکھ کر ناراضگی کا اظہار

عالم ﷺ کے ہم رکاب تھے اور ہمارے اونٹوں پر چادریں پڑی ہوئی تھیں، جن میں سرخ ڈورے تھے۔ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہوتی جا رہی ہے۔ معلم کائنات ﷺ کا یہ ارشاد فرمانا تھا کہ ہم لوگ ایک دم ایسے گھبرا کر اٹھے کہ ہمارے بھاگنے سے اونٹ بھی ادھر ادھر بھاگنے لگے اور ہم نے فوراً سب چادریں اونٹوں سے اتار لیں۔

(ابو داؤد شریف)

آپ ﷺ کی پھینکی ہوئی انگوٹھی کو صحابی کا اٹھانے سے انکار

ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی۔ آپ ﷺ نے اس کو نکال کر پھینک دیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ آگ کی انگاری اپنے ہاتھ میں ڈالے؟۔ رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد لوگوں نے اس شخص سے کہا کہ تو اپنی انگوٹھی اٹھا اور بیچ کر اس سے فائدہ اٹھا۔ اس نے جواب دیا۔ نہیں۔ اللہ عزوجل کی قسم میں اسے کبھی نہیں لوں گا۔ جب رسول اکرم ﷺ نے اسے پھینک دیا ہے تو میں اسے کبھی نہیں لوں گا۔

(مسلم شریف ، باب الخاتم)

رسول اللہ ﷺ کی تعظیم پر سورج کا دوبارہ طلوع ہو جانا

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر آرام فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز عصر نہ پڑھی تھی۔ اپنی آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جا رہا ہے مگر اس خیال سے کہ زانو سرکاتا ہوں تو نبی پاک ﷺ کی نیند میں خلل آ جائے گا۔ زانو نہ ہٹایا۔ یہاں تک آفتاب غروب ہو گیا۔ جب چشم اقدس کھلی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی نماز کا حال عرض کیا۔

گستاخ رسول کا عبر آپ ﷺ نے دعا فرمائی کی۔ پھر سورج ڈوب گیا۔ تعظیم رسول ﷺ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تبارک و تعالیٰ کے ایک بندے ایک فدائی نے محض تعظیم وتوقیر

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا

مدینہ منورہ میں اپنی بیٹی سے نے جلدی بستر الٹ دیا اور قرآن میں اللہ تعالیٰ ﴿إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ ترجمہ: بے شک مشرک لہٰذا تم بستر نبوت ﷺ مگر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کب برداشت کر سکتی تھی کہ نے اپنے باپ کی عظمت شان ہے کہ باپ چھوٹا ہے

لباس کے رنگ سے

تن کیا ہوا تھا۔ وہ فرماتے فرمایا۔ ماھذا یہ ہے ماھذا یہ کیا ہے

صفحہ 407

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔ آفتاب پلٹ آیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز عصر ادا کی۔ پھر سورج ڈوب گیا۔

تعظیم رسول ﷺ کی خاطر افضل العبادات نماز اور وہ بھی صلوٰۃ وسطیٰ (نماز عصر) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قربان کردی۔ چشم فلک نے ایسا منظر کبھی نہ دیکھا ہوگا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ایک بندہ کی درخواست پر اس کے ایک فدائی کے لئے سورج پلٹایا گیا ہو اور ایک فدائی نے محض تعظیم و توقیر رسول ﷺ کے پیش نظر اتنی عظیم قربانی دی ہو۔

حضرت ام حبیبہ کا اپنے مشرک والد کو آپ کے بستر پر نہ بیٹھنے دینا

مدینہ منورہ میں اپنی بیٹی سے ملنے آئے۔ جب بستر پر بیٹھنے لگے تو حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جلدی بستر الٹ دیا اور فرمایا کہ یہ اللہ کے محبوب ﷺ کا پاک بستر ہے اور تم مشرک ہو۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ﴾ ترجمہ: بے شک مشرک پلید ہے۔

لہٰذا تم بستر نبوت ﷺ پر بیٹھنے کے قابل نہیں ہو۔ ابو سفیان کو تو اس سے بڑا رنج ہوا۔

مگر حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دل میں جو عظمت و محبت اور تعظیم رسول ﷺ تھی وہ کب برداشت کر سکتی تھی کہ بستر نبوت پر ایک مشرک بیٹھے۔ گویا حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے باپ کی عظمت و محبت کو محبت رسول ﷺ پر قربان کر دیا۔ کیونکہ یہی تو ایمان کی شان ہے کہ باپ چھوٹتا ہے تو چھوٹ جائے مگر محبت رسول ﷺ کا دامن نہ چھوٹے۔

لباس کے رنگ سے آپ کی ناراضگی پر ایک صحابی کا اپنا لباس جلا دینا

تن کیا ہوا تھا۔ وہ فرماتے ہیں جب میرے آقا ﷺ نے مجھے یہ لباس پہنے ہوئے دیکھا تو فرمایا۔ ماھذا یہ کیا ہے؟

صفحہ 408

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا تھا کہ میں سمجھ گیا کہ میرا یہ لباس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں۔ میں فوراً گھر گیا اور اس گلابی رنگ والے لباس کو اتار کر جلا دیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے اپنے کپڑے کا کیا کیا ؟ میں نے عرض کیا میں نے اسے جلا دیا۔

(مشکوٰۃ:صفحہ ۳۷۶)

تعظیم رسول کی خاطر انتہائی سخت تکلیف برداشت کرنا

26 ....... ہجرت کے موقع پر یار غار حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو جانثاری کی مثال قائم کی ہے وہ بھی اپنی جگہ بے مثال ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں غار کے قریب پہنچے تو پہلے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر گئے، صفائی کی ۔ غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا ۔ ایک سوراخ کو بند کرنے کے لئے کوئی چیز نہ ملی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے پاؤں کا انگوٹھا رکھ کر اس کو بند کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زانو پر سر رکھ کر آرام فرمانے لگے۔ اتنے میں سانپ نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاؤں کو کاٹ لیا۔ مگر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شدت الم کے باوجود محض اس خیال سے پاؤں نہ ہٹایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل پڑنا بے ادبی ہے ۔ آخر جب پیمانہ صبر لبریز ہو گیا تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔

جب آنسو کے قطرے چہرہ اقدس پر گرے تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے واقعہ عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈسے ہوئے حصے پر اپنا لعاب دہن لگا دیا جس سے درد جاتا رہا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر نئی دلہن کو چھوڑ کر میدان جہاد میں شرکت

27 ....... حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جب ان کی شادی ہوئی اور جس رات دلہن کو گھر لائے اسی رات جنگ احد کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی

گستاخ رسول کا عبرتناک

کروائی کہ مشرکین مکہ ، مدینہ کے لئے چلو۔

حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میدان جہاد کی طرف چلنے لگے۔ رات اپنی بیوی کو چھوڑ کر جا رہے کہ میں نے آپ کی خاطر اپنے کہاں جا رہے ہو؟ تو آپ نے فرمایا : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس پر میں بہر حال آپ لشکر اسلام ہوگئے۔ جب لڑائی ختم ہوئی تو کی لاش نہ ملی۔ پھر سرکار دو عالم نورانی فرشتے حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غسیل الملائکہ مشہور ہو گیا۔

کفار مکہ کی پیشکش ۔

28 ....... حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارادے سے مکہ مکرمہ کے لئے ہراس طاری ہوا۔ اس لئے آپ اور ان کو یہ ہدایات دیں کہ صرف عمرہ کی ادائیگی کے لیے عورت جو مکہ میں ہیں ان کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابان بن سعید اموی پہلے جو

صفحہ 409

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کروائی کہ مشرکین مکہ، مدینہ منورہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ جہاد کرنے کے لئے چلو۔

حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سنا تو اپنی بیوی سے جدا ہو کر میدان جہاد کی طرف چلنے کے لئے کمر بستہ ہو گئے۔ جب حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلی رات اپنی بیوی کو چھوڑ کر جانے لگے تو بیوی نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور روتے ہوئے عرض کیا کہ میں نے آپ کی خاطر اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو چھوڑا اور آپ اب مجھے چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟

تو آپ نے فرمایا: اے بیوی! مجھے میدان جہاد میں جانے سے مت روکو۔ یہ فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس پر ساری دنیا قربان کی جائے تو بھی کم ہے۔

بہر حال آپ لشکر اسلام میں شامل ہو گئے اور کئی کافروں کو فی النار کرنے کے بعد شہید ہو گئے۔ جب لڑائی ختم ہوئی تو تمام شہداء کی لاشوں کو جمع کیا گیا تو حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاش نہ ملی۔ پھر سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف چشم نبوت اٹھائی تو کیا دیکھا کہ نورانی فرشتے حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غسل دے رہے ہیں۔ اسی دن سے آپ کا لقب غسیل الملائکہ مشہور ہو گیا۔

(مواہب لدنیہ جلد اول)

کفار مکہ کی پیشکش کے باوجود آپؐ کے بغیر طواف کرنا گوارہ نہ کیا

ارادے سے مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوئے۔ جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش پر خوف و ہراس طاری ہوا۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پہلے مکہ مکرمہ بھیجا اور ان کو یہ ہدایات دیں کہ تم قریش کو یہ بتانا کہ ہم جنگ کے ارادے سے نہیں آئے۔ ہم صرف عمرہ کی ادائیگی کے لئے آئے ہیں اور ان کو اسلام کی دعوت بھی دینا اور وہ مسلمان مرد و عورت جو مکہ میں ہیں ان کو فتح کی خوشخبری سنانا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھ رہے تھے کہ ان سے حضرت ابان بن سعید اموی ملے جو ابھی ایمان نہ لائے تھے۔ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ

صفحہ 410

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کو اپنی پناہ و ضمانت دی اور اپنے گھوڑے پر سوار کر کے ان کو مکہ مکرمہ لائے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں تک رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچایا۔

ادھر حدیبیہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خوش نصیب ہیں کہ ان کو طواف بیت اللہ نصیب ہو چکا ہوگا۔ یہ سن کر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے بغیر طواف نہ کریں گے۔

اسی دوران یہ افواہ اڑ گئی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ میں قتل کر دیئے گئے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت لی جو بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہے۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ اس وقت مکہ مکرمہ میں تھے اس لئے حضور اکرم ﷺ نے خود اپنے دائیں ہاتھ پر بائیں ہاتھ کو مار کر ان کو بیعت کے شرف میں داخل فرمایا۔

بیعت رضوان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس تشریف لائے تو مسلمانوں نے ان سے کہا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ آپ نے طواف بیت اللہ کر لیا۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا۔ تم نے یہ میرے بارے میں بدگمانی کی۔ اس کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر میں مکہ میں ایک سال تک بھی پڑا رہتا اور میرے آقا ﷺ حدیبیہ میں ہوتے، تب بھی آپ ﷺ کے بغیر طواف نہ کرتا۔ قریش نے مجھ سے طواف کرنے کے لئے کہا تھا میں نے انکار کر دیا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر رسول اکرم نور مجسم ﷺ کے تعظیم و ادب کا یہ پاس قابلِ ملاحظہ ہے کہ کفار بار بار پیشکش کر رہے ہیں کہ طواف کر لو۔ مگر آپ جواب دیتے ہیں غلام کی کیا مجال کہ اپنے آقا ﷺ کے بغیر طواف کر لے۔ مسلمانو! غلام ہو تو ایسا ہو۔

گستاخ رسول کا

موضوع....... 6

عاشقان رسو

ختم نبوت

تھے۔ حیات مستعار کی م بہترین خطیب تھے۔ تدفین کے بعد آپ کی

ختم نبوت کے

رسول خان ؒ دیکھا کہ آنحضرت پاک ﷺ کی خد گئی۔ آنحضرت ﷺ بیٹے عطاء اللہ شاہ کے لئے بہت سارا کام کیا

ختم نبوت سے

رسول ﷺ کا ہونا ہیں۔ جن میں انہوں

صفحہ 411

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام موضوع ....... 16

عاشقان رسولؐ پر انعامات کی بارشوں کے واقعات

ختم نبوت ﷺ کے شیدائی کی قبر سے تین دن تک خوشبو کا آنا

تھے۔ حیات مستعار کی ساری بہاریں تحفظ ختم نبوت کے لئے وقف کر دیں۔ سرائیکی زبان کے بہترین خطیب تھے۔ اس مجاہد ختم نبوت کا جنازہ بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر سے اٹھا۔ تدفین کے بعد آپ کی قبر سے تین روز تک خوشبو آتی رہی۔

ختم نبوت کے کام سے خوش ہو کر آپ کے سر پر دستار باندھنے کا حکم

رسول خان رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت بڑے محدث تھے، فرمایا کہ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ آنحضرت ﷺ جماعت صحابہ رضی اللہ عنہم میں تشریف فرما ہیں۔ نبی پاک ﷺ کی خدمت میں (ایک سنہری طشت میں آسمان سے) ایک دستار مبارک لائی گئی۔ آنحضرت ﷺ نے جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ اٹھو اور میرے بیٹے عطاء اللہ شاہ کے سر پر باندھ دو۔ میں اس سے خوش ہوں کہ اس نے میری ختم نبوت کے لئے بہت سارا کام کیا ہے۔

( تقاریر مجاہد ملت رحمہ اللہ تعالیٰ ص ۷ )

ختم نبوت سے وابستگی پر مرنے کے بعد آپؐ کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت

رسول ﷺ ہونا ہے۔ ان کی وفات کے بعد بعض مخالفوں تک نے اپنے خواب مجھ سے بیان کئے ہیں۔ جن میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں قاضی صاحب کی شخصیت کا اندازہ بعد از وفات ہوا۔

صفحہ 412

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ایک صاحب نے کہا کہ مجھے خواب میں قاضی صاحب ایک جگہ خوش و خرم بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ خواب میں ایسا معلوم ہوا کہ نورانی چہروں کا مجمع لگا ہے اور ایک صاحب درمیان میں بڑی شان کے ساتھ بیٹھے خطاب کر رہے ہیں تو قاضی صاحب بھی اسی مجمع میں بڑے پر تپاک طریق سے ملے۔ میرے استفسار پر قاضی صاحب نے کہا کہ نبی پاک ﷺ تشریف فرما ہیں اور ہمیں خطاب فرما رہے ہیں۔

(قاضی احسان احمد شجاع آبادی، صفحہ 35، محمد نور الحق قریشی)

ہر دو عالم میں تجھے مقصود گر آرام ہے
ان کا دامن تھام لو جن کا محمد ﷺ نام ہے

ختم نبوت کے اجتماع کا انتظام کرنے والوں کیلئے آپ کی حوصلہ افزائی

طارق محمود صاحب خانیوال کے ایک زاہد و متقی نوجوان ہیں۔ انہوں نے ختم نبوت کانفرنس ربوہ میں اپنا خوش قسمت واقعہ بیان کیا۔

ایک رات میں نے خواب میں دیکھا کہ مسلم کالونی ربوہ کی عظیم الشان مسجد کے باہر لوگوں کا کیف و مستی میں ڈوبا ہوا ایک بڑا اجتماع ہے اور کسی کا منتظر ہے۔ میں نے لپک کر کسی سے پوچھا، کون آ رہا ہے؟

مجھے بتایا گیا کہ دریائے چناب کی جانب سے خاتم النبیین محمد مصطفیٰ ﷺ کانفرنس کے پنڈال کی طرف تشریف لا رہے ہیں۔

میں پوری قوت سے اس جانب بھاگا۔ دیکھا تو آقا محمد ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے سلام کی سعادت حاصل کی۔ عرض کیا، آقا کدھر کا ارادہ ہے؟

فرمایا، میرے کچھ غلاموں نے میری عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے کانفرنس کا اہتمام کیا ہے۔ میں بھی شرکت کے لئے آیا ہوں۔

غازی عامر چیمہ شہید کو آپ کا ”مرحبا میرے بیٹے“ کہہ کر بلانا

صفحہ 413

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

گردش کر رہی ہیں۔ لیکن چونکہ مبشرات کا معاملہ انتہائی حساس، نازک اور احتیاط طلب ہے اس لئے بطور نمونہ ان میں سے صرف ایک ایسا خواب پیش خدمت ہے جس خواب کو دیکھنے کی سعادت حاصل کرنے والے نیک سیرت بزرگ سے مجھے خود شرف ملاقات حاصل ہوا۔

محمد یحییٰ علوی، عامر شہید کے استاذ گرامی ہیں۔ شہید نے چھٹی سے لے کر میٹرک تک اردو، عربی اور اسلامیات کی کتابیں ان سے پڑھیں۔ محمد یحییٰ علوی نیک، صالح آدمی ہیں۔ کئی علمائے کرام سے ان کا گہرا عقیدت مندانہ تعلق بھی ہے۔ انہوں نے مجھے خود بتایا کہ مجھے پروفیسر شریف کے ذریعے شب جمعہ کو عامر کی شہادت کی اطلاع ملی۔ یوں تو میرا روز کا معمول ہے کہ میں سوتے وقت کم از کم ۵۰۰ دفعہ درود شریف کا ورد کرتا ہوں۔ اس شب میرے اوپر عجیب کیفیت طاری تھی۔ میں دیر تک درود شریف کا ورد کرتا رہا اور درود شریف پڑھتے پڑھتے میری آنکھ لگ گئی۔ اس رات میں کیا سویا کہ میرا نصیب جاگ اٹھا۔

میں خواب کے عالم میں دیکھتا ہوں کہ ایک بڑی خوبصورت جگہ ہے، ہر طرف سبزہ پھیلا ہوا ہے۔ جنتی مناظر دیکھ دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو رہا ہے۔ اچانک مجھے دائیں جانب غیر معمولی روشنی سی محسوس ہوئی تو بے ساختہ میری نظریں اس طرف اٹھ گئیں۔ وہاں ایک اسٹیج سا بنا ہوا ہے جس پر سرکار دو عالم ﷺ اپنے جانثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جھرمٹ میں تشریف فرما ہیں۔ آپ ﷺ کے حسن و جمال کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ ﷺ سے ایسے اجالے پھوٹ رہے تھے کہ میں دل ہی دل میں سوچتا ہوں کہ یہ تو سورج سے بھی زیادہ روشنی ہے۔

یکایک سامنے سے سفید براق لباس میں ملبوس عامر چیمہ شہید آتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ میں سانسیں روکے، دل پر ہاتھ رکھے یہ منظر دیکھ رہا ہوتا ہوں۔ عامر چیمہ جب والہانہ انداز سے آپ ﷺ کی طرف بڑھتے ہیں تو آپ ﷺ خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”مرحبا میرے بیٹے!“

اتنے میں قریبی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہوتی ہے اور میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

صفحہ 414

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موئے مبارک حاصل کرنے والے شخص کے مالا مال ہو جانے کا واقعہ

وراثت تقسیم کی تو اس کے ترکہ میں نبی کریم ﷺ کے تین عدد موئے مبارک بھی تھے۔ ایک ایک دونوں نے لے لیا جو تیسرا موئے مبارک تھا بڑے بھائی نے کہا کہ اسے ہم کاٹ کر نصف نصف کر لیتے ہیں۔

چھوٹے بھائی نے کہا نبی کریم ﷺ کی تعظیم و توقیر کا لحاظ رکھتے ہوئے نہ کاٹیں۔

بڑا کہنے لگا۔ اچھا ایسا کرو کہ آپ سبھی مال لے لو اور جو تو نے دنیا کا مال وراثتًا حاصل کیا ہے وہ مجھے دے کر جنت کے مستحق بن جاؤ۔

چھوٹے نے کہا مجھے منظور ہے۔ آپ دنیاوی مال لے لو اور مجھے آپ ﷺ کے موئے مبارک دے دو۔

چنانچہ چھوٹے بھائی نے تینوں موئے مبارک حاصل کر کے اپنا تمام مال بڑے بھائی کو دے دیا۔ کچھ مدت بعد اس کا تمام مال جاتا رہا اور وہ فقیر ہو گیا۔ اس نے عالم غربت میں ایک دن نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا اور اپنی غربت کی شکایت کی۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ارے بدنصیب! تو نے میرے موئے مبارک سے بے رغبتی کی اور مال دنیا کو ان پر ترجیح دی! اور تیرے بھائی نے وہ حاصل کئے اور احترام کیا، وہ انہیں جب دیکھتا ہے مجھ پر بکثرت درود شریف پیش کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے اسے سعادت دارین سے نواز دیا۔

وہ جب بیدار ہوا تو اپنے چھوٹے بھائی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے خادموں میں شمولیت اختیار کر لی۔

اللّٰہُ اَکْبَر

صفحہ 415

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام موضوع....... 17

عاشقان رسول کے ساتھ اللہ کی مدد اور ان کی کرامات

ختم نبوت کے زور دار نعرہ سے ہاتھوں میں لگی ہتھکڑی کا ٹوٹ جانا

اس تحریک میں گرفتار ہوئے۔ آپ کی جوانی کا عالم تھا۔ آل رسول ﷺ مجاہد فی سبیل اللہ اور عالم دین تھے۔ ان کو ہتھکڑی لگائی گئی۔ جلال میں آکر ختم نبوت زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ بازوؤں کو جھٹکا دیا تو ہتھکڑی ٹوٹ گئی۔ ہتھکڑی بدلی تو پھر اسی طرح ہوا۔ بالآخر پولیس والے قدموں میں گر گئے اور بغیر ہتھکڑی کے آپ کو گرفتار کر لیا۔

(تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء صفحہ ۱۷ از مولانا اللہ وسایا)

کوئی اندازہ کرسکتا ہے اس کے زور بازو کا
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

سید امین گیلانی کا وارنٹ گرفتاری کے باوجود گرفتار نہ ہونا

میانوالی جیل سے صبح میں رہا ہونے والا تھا مگر مجھے خطرہ تھا کہ میری سرگرمیوں کے پیش نظر میری سزا جیل کے اندر ہی بڑھانے کا حکم نہ آجائے۔ داروغہ جیل بھلا آدمی تھا اور حافظ قرآن بھی تھا۔ وہ شام کو ہماری بیرک میں آیا۔ میں نے کہا حافظ صاحب صبح میری رہائی ہے یا کوئی نیا حکم آگیا ہے؟ کہنے لگا دو دفعہ لاہور سے ٹیلی فون آیا ہے مگر گڑبڑ بہت ہے۔ کچھ سنا سمجھا نہ گیا، فون کٹ جاتا تھا۔ خیر صبح ہوئی، مجھے دفتر بلایا گیا اور دفتری کارروائی کر کے رہا کر دیا۔ میں جب دوسرے دن شیخوپورہ پہنچا تو سب حیران ہو گئے۔ پتہ چلا کہ یہاں کے سی آئی

صفحہ 416

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ڈی انسپکٹر نے مجھے خطرناک ثابت کر کے سیشن سے سزا بڑھانے کا حکم نامہ میانوالی بھجوا دیا ہے اور فون پر داروغہ جیل میانوالی کو اطلاع پہنچ چکی تھی کہ امین گیلانی کو رہا نہ کیا جائے۔ تحریری حکم بذریعہ ڈاک آ رہا ہے۔ لیکن میں رہا ہو چکا تھا اور اب نئے وارنٹ تیار کر کے ہی دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ لیکن نیا خطرہ مول لینے کے ڈر سے ایسا نہ کیا گیا۔ یوں مرزائی آفیسر فخر الدین کے کئے دھرے پر پانی پھر گیا۔

جو وہ چاہتا ہے سو وہی ہوتا ہے۔

(عجیب و غریب واقعات، صفحہ ۲۰ سید امین گیلانی)

بغیر سر کے بدن کا گستاخ رسول کے پیچھے بھاگ کر اسے جہنم واصل کرنا

چاروں طرف سے گھیر لئے گئے تو ایک سکھ نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کے الفاظ کہے اور دوسرے نے ان کے اوپر تلوار تان لی۔ شاہ اسماعیل شہید رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کے دل میں عشق رسالت کی ایسی کیفیت تھی کہ آپ ان نازیبا الفاظ کو سن کر تڑپ اٹھے اور آپ نے قسم کھائی کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میں تیرا کام تمام نہیں کرلوں گا۔

یہ کہہ کر آپ نے اس کے اوپر خنجر لہرایا۔ مگر دوسرے سکھ نے آپ پر تلوار کا وار کیا اور آپ کا سر آپ کے تن سے جدا ہو کر گر گیا۔

عجیب بات ہے کہ بدن چونکہ حرکت میں آچکا تھا اور ہاتھ میں خنجر تھا۔ لہٰذا بدن بغیر سر کے اس کے پیچھے بھاگتا رہا۔ جب سکھ نے دیکھا کہ بغیر سر کے یہ بدن میری طرف بھاگ رہا ہے تو وہ ڈر کے مارے پیچھے گرا۔ آپ اس کے اوپر گرے اور آپ کا خنجر اس کے سینے میں پیوست ہو گیا۔ اس طرح آپ کی قسم اللہ رب العزت نے پوری فرمادی۔

حدیث پاک میں آتا ہے کہ کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے ہاں ان کا وہ مقام ہوتا ہے کہ جب وہ قسم کھا لیا کرتے ہیں تو اللہ رب العزت ان کی قسم کو پورا کر دیا کرتے ہیں۔

گستاخ رسول کا عبرتناک ان

قتل کے ارادے سے

تبارک و تعالیٰ نے انہیں دین و د میں سے تھے۔ میرے سننے میں از حد حسن سلوک کرتے تھے۔ سرما میں بطور عطیہ دیا کرتے تھے ملک کی تقسیم سے پہلے ای مارکیٹ تھی۔ مارکیٹ کی چھت کر رہے تھے۔ حجازی لہجے میں کنارے کی دیوار سے صحن پر گر ماہی بے آب کی طرح تڑپنے ل لوگوں نے اٹھایا تو اس نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ جب اسے ہوش آیا تو اس نے بھیجا گیا تھا۔ لیکن شاہ جی رحمۃ ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر اس کے ب

جیل میں قید کے

رحمۃ اللہ تعالیٰ کے فرزند ہیں سے مجاہد جنگ یمامہ کی یاد تازہ گئی۔ جب یہ خبر آپ کے رحمۃ اللہ تعالیٰ اور دیگر علماء

صفحہ 417

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

قتل کے ارادے سے آنے والے تلاوت سن کر چھت سے گر جانا

تبارک و تعالیٰ نے انہیں دین و دنیا دونوں بڑی فیاضی سے عطا کی تھی۔ شاہ جی کے مخلص دوستوں میں سے تھے۔ میرے سننے میں آیا ہے کہ فوت ہوگئے ہیں پرانے احراریوں سے خاص طور پر ازحد حسن سلوک کرتے تھے۔ میرے جیسے خانہ بدوش کو دو جوڑے موسم گرما اور دو جوڑے موسم سرما میں بطور عطیہ دیا کرتے تھے اور یہ سلسلہ پاکستان میں ایک عرصہ تک رہا۔

ملک کی تقسیم سے پہلے ایسا ہی کپڑے کا کاروبار آگرہ انڈیا میں تھا۔ ان کی اپنی بہت بڑی مارکیٹ تھی۔ مارکیٹ کی چھت پر منعقدہ جلسہ میں حضرت شاہ جی رحمۃ اللہ تعالیٰ خطاب کررہے تھے۔ حجازی لہجے میں قرآن مجید کی آیات پڑھیں تو ایک نوجوان تڑپ کر چھت کے کنارے کی دیوار سے صحن پر آن گرا۔ مرنے سے تو بچ گیا لیکن وجد اور جذب کی حالت میں ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگا۔

لوگوں نے اٹھایا تو اس کے پاس چھرا برآمد ہوا۔ اسے شاہ جی کے پاس لایا گیا۔ شاہ جی نے اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈال کر کچھ پڑھا اور پھونک ماری۔ محبت سے پاس بٹھایا جب اسے ہوش آیا تو اس نے انکشاف کیا کہ مجھ کو تو شاہ جی رحمۃ اللہ تعالیٰ کے قتل کے لئے بھیجا گیا تھا۔ لیکن شاہ جی رحمۃ اللہ تعالیٰ کا خطبہ اور تلاوت قرآن مجید سن کر بے تاب اور بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ پھر اس کے بعد کا مجھے کچھ ہوش نہیں۔

(از مولانا شریف احمد)

جیل میں قید کے دوران غیبی آواز کی طرف سے غیبی دعوت

رحمۃ اللہ تعالیٰ کے فرزند ہیں۔ 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے جو مجاہدانہ کردار ادا کیا، اس سے مجاہدین جنگ یمامہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ وفائے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے جرم میں آپ کو سزائے موت دی گئی۔ جب یہ خبر آپ کے والد گرامی تک پہنچی جو کراچی جیل میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ اور دیگر علماء کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے تو بہادر بیٹے کے

صفحہ 418

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

بہادر باپ نے فوراً سجدہ میں سر رکھ دیا اور فرمایا: میرے اللہ ! ناموس رسالت ﷺ پر ایک خلیل تو کیا میرے ہزاروں فرزند بھی ہوں تو اسوۂ حسینی پر عمل کرتے ہوئے سب کو قربان کردوں۔

مولانا خلیل احمد قادری فرماتے ہیں کہ دوران قید اندھیری کوٹھری میں میرے سامنے زہریلا سانپ چھوڑا گیا۔ نماز پڑھنے سے روکا گیا۔ سارا سارا دن کھڑا رکھا گیا۔ کئی کئی دن کھانا نہ دیا گیا۔ دوران تفتیش گالیوں سے نوازا گیا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے میرے سینے سے درد اٹھتا، اسی لمحہ میں خیال آیا کہ یہاں بھوکا مررہا ہوں، گھر میں ہوتا تو اپنی پسند کے کھانے کھاتا۔

لیکن دوسرے ہی لمحے ضمیر نے ملامت کی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قربانیوں کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ میں نے سر بسجود ہو کر توبہ کی۔ لیکن خدا کی قدرت دیکھئے کہ اندھیرے میں ایک ہاتھ آگے بڑھا اور آواز آئی۔ ”شاہ جی یہ لے لو.....“

ایک لفافہ مجھے دیا گیا۔ جس میں کچھ پھل اور مٹھائی تھی۔ میں حیران رہ گیا کہ اتنے سخت پہروں کے باوجود یہ سب کچھ مجھ تک کیسے پہنچ گیا۔ لیکن میرے دل کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ غیبی دعوت جناب خاتم النبیین ﷺ کے صدقہ میں ملی ہے۔ وہ پھل اور مٹھائی تین روز تک میں استعمال کرتا رہا۔

Design by Noorulamin

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام موضوع ...... 18

عشق رسول ﷺ

محبت کی کامل اور اکمل صورت

ایک اہم خصوصیت محبت بھی ہے۔ روز م ضرور محبت ہوا کرتی ہے۔ بصورت دیگر او اسلام ایک دین فطرت ہے جو انسا دار ہے۔ اسی لئے اسلام انسان کے فطری "لا دين له لمن لا محبه ل یعنی جس شخص میں محبت کا عنصر موج اسلام انسان کے دل میں محبت کا کیونکہ اس شجر تناور کا ثمر دنیا و عقبی کی تلخیو کی محبت کی کامل و اکمل صورت عشق مصطفی قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے کہ ﴿قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَ وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَ سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى الْفَاسِقِينَ﴾ اے حبیب ﷺ اپنی زبان م تمہارے آباؤ اجداد، ابناء و احفاد، خویش

صفحہ 419

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع...... 18

عشق رسول ﷺ پر اثر انگیز تحریرات

محبت کی کامل اور اکمل صورت صرف عشق مصطفیٰؐ سے ہی ممکن ہے

ایک اہم خصوصیت محبت بھی ہے۔ روزمرہ زندگی کا مشاہدہ ہے کہ ہر آدمی کو کسی نہ کسی چیز سے ضرور محبت ہوا کرتی ہے۔ بصورت دیگر وہ کوئی کام بھی سرانجام نہ دے سکے۔

اسلام ایک دین فطرت ہے جو انسان کی فطری صلاحیتوں کو مثبت انداز میں جلا بخشنے کا ذمہ دار ہے۔ اسی لئے اسلام انسان کے فطری خاصہ محبت کے بارے میں فرماتا ہے:

”لادین له لمن لا محبه له“

یعنی جس شخص میں محبت کا عنصر موجود نہیں وہ بے دین ہے۔

(حدیث)

اسلام انسان کے دل میں محبت کا بیج بو کر اس کی آبیاری و پاسداری کرنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس شجر تناور کا ثمر دنیا و عقبیٰ کی تلخیوں کو تسکین بخش صورتحال میں تبدیل کر دیتا ہے اور اس کی محبت کی کامل واکمل صورت عشق مصطفیٰ ﷺ ہے۔

قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے کہ:

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ

(پ ۱۰ التوبہ آیت نمبر ۲۴)

اے حبیب ﷺ! اپنی زبان حق ترجمان سے اعلان فرما دیجئے کہ اے لوگو! اگر تمہیں تمہارے آباؤ اجداد، ابناء واحفاد، خویش واقارب، اہل وعیال، خانوادے، تمہارے خون پسینے

صفحہ 420

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کا حاصل اور تمہاری وہ تجارت جس میں تمہیں نقصان کا خوف رہتا ہے اور تمہارے پسندیدہ مکانات، اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی، اس کے رسول ﷺ اور راہِ حق میں جان عزیز تک نثار کرنے سے عزیز تر ہیں تو پھر تم اپنے بارے میں حکم الٰہی کا انتظار کرو اور اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

رسول اللہ ﷺ سے محبت سے ہی ایمان کی علامت اور لذت حاصل ہوتی ہے

اتنا ہی زیادہ وہ آپ ﷺ کی محبت سے سرشار ہوتا ہے۔ آپ ﷺ کی محبت دراصل سچے ایمان کی علامت ہے اور ایمان کی لذت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب مسلمان اللہ کے رسول ﷺ سے سچی محبت کرنے لگتا ہے۔ ایمان کی لذت اور حلاوت کس شخص کو حاصل ہوتی ہے؟، اس بارے میں صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر کسی شخص میں پائی جاتی ہوں تو وہ ایمان کی لذت کو پالے گا۔

پہلی چیز یہ ہے کہ اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ دنیا جہاں سے زیادہ محبت ہو۔

دوسری یہ کہ آدمی کسی شخص سے محبت صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لئے کرے۔

اور تیسری چیز یہ ہے کہ جس طرح اسے آگ میں ڈالا جانا سخت ناپسند اور ناقابلِ برداشت ہے اسی طرح کفر کو دوبارہ اختیار کرنا اسے ناقابلِ برداشت ہو۔ ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک انسان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہر چیز، اس کے مال، اس کے والد، اس کی والدہ، اس کے منصب بلکہ اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو۔

بخاری و مسلم میں حضرت انس رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی اولاد، اس کے ماں باپ اور تمام لوگوں سے عزیز تر نہ ہو جاؤں۔

گستاخ رسول کا عبرتناک انجا

آپ ﷺ کے روضہ

"مالكم اذا نظرتم الی" تمہیں کیا ہو جاتا ہے جب کرتے ہو تو رو پڑتے ہو؟ "فقال اما اذا وقع" روان بکیت الزمن اس پر مسلمان نے کہا کہ تم ایک سو دینار انعام دوں گا اور اگر تم چنانچہ جیسے ہی اس نے روضہ مشرف ہو گیا!

اللہ تعالیٰ کی آ

رسول کریم ﷺ نے حض انگوٹھی پر محمد بن عبداللہ کندہ کر لائے اور کہا کہ یہ نقش اس پر کندہ طے کی تو اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے ف (ﷺ) کندہ کر دیا۔ اس پر حضرت علی رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ کندہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ نقاش نے کہا: بلاشبہ اللہ ت تھا مگر بے شعوری میں یہ کندہ ہو

صفحہ 421

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

آپ ﷺ کے روضہ مبارک کو دیکھ کر یہودی کا قبول اسلام

”مالکم اذا نظرتم الی قبر محمد ﷺ تبکون؟“

تمہیں کیا ہو جاتا ہے جب نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے روضہ مقدسہ کی زیارت کرتے ہو تو رو پڑتے ہو؟

”فقال اما اذا وقعت عینک ولم تبک فلک مائۃ دینا
ر وان بکیت الزمناک بالاسلام فلما راہ بکی واسلم“

اس پر مسلمان نے کہا کہ تم خود دیکھ لو، تم زیارت کرو، اگر تمہیں رونا نہ آئے تو میں تجھے ایک سو دینار انعام دوں گا اور اگر تم رو پڑے تو تم پر لازم ہے اسلام قبول کر لو۔

چنانچہ جیسے ہی اس نے روضہ پاک کو دیکھا بے اختیار رو پڑا اور اسلام کی دولت سے مشرف ہو گیا!

اللہ تعالیٰ کی آپ ﷺ سے محبت کی ایک مثال

رسول کریم ﷺ نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور فرمایا: میری اس انگشتری پر محمد بن عبداللہ کندہ کرا دو اور وہ انگشتری خالص چاندی کی تھی تو وہ نقاش کے پاس لائے اور کہا کہ یہ نقش اس پر کندہ کر دو۔ اس نے کہا: میں اسے کندہ کر دوں گا اور اس پر اجرت ملے گی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے نقاش کے ہاتھ کو اس طرح بدل دیا کہ اس نے محمد رسول اللہ (ﷺ) کندہ کر دیا۔

اس پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ کیا بات ہے میں نے تمہیں محمد بن عبداللہ کندہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

نقاش نے کہا: بلاشبہ اللہ نے میرے ہاتھ کو پھیر دیا تھا۔ خدا کی قسم میں یہی کندہ کرنا چاہتا تھا مگر بے شعوری میں یہ کندہ ہو گیا۔

صفحہ 422

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ نے ارشاد فرمایا: تم نے سچ کہا ہے۔ پھر حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْهُ اس انگشتری کو آپ ﷺ کی خدمت میں لائے اور آپ ﷺ سے سارا حال بیان کیا تو آپ ﷺ نے تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا: یقیناً میں اللہ کا رسول ہوں۔

(خصائص الکبریٰ، جلد دوم)

یہ واقعہ بھی آپ ﷺ کی غائبانہ خبر کی صداقت پر روشنی ڈالتا ہے اور آپ ﷺ کے مقام نبوت و رسالت پر کھلی دلیل ہے۔

عاشق رسول کی حقیقی پہچان

الجنة“

جس نے میرے ساتھ محبت کی وہ میری اطاعت ضرور کرے گا اور جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہی رہے گا۔

معلوم ہوا کہ محبت کا ثمرہ لازمی اطاعت ہے۔ اگر اطاعت اور اتباع سنت نہیں ہے تو دعویٰ محبت باطل ہے۔

نیز عاشق دعویٰ نہیں کرتا۔ عاشق تو عمل کرتا ہے جو کہتا پھرے کہ میں فلاں کا عاشق ہوں، لوگ کہیں گے جھوٹا ہے، مکار ہے۔ عاشق کہیں دعویٰ کرتے پھرتے ہیں؟۔ عشق کی اولین منزل ترک دعویٰ ہے کہ دعویٰ نہ رہے فنائیت محضہ ہو جائے اور جو مدعی بنا ہوا ہے تو مدعی اپنی بقاء کا قائل ہے اس میں فنائیت کہاں؟

غرض عاشق کے لئے دعویٰ کہاں؟ سب سے پہلی چیز عاشق کے لئے ترک دعویٰ ہے۔ اس لئے اگر کوئی عاشق رسول ہے تو اس کی علامت یہ ہے کہ دعویٰ نہ ہو کہ میں عاشق رسول ہوں۔ بلکہ نادم ہو کہ جتنا عشق کرنا چاہئے تھا نہ کرسکا اور اس عشق کو اطاعت سے پہچانا جائے، اس لئے کہ آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ:

”من احبنی فقد اطاعنی“ ”جو میرے ساتھ محبت کرے گا وہ میری اطاعت بھی کرے گا۔“

صفحہ 423

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

تو محبت کی علامت اور اس کے ظہور کا طریقہ فی الحقیقت اطاعت ہے، جیسا کہ ایمان کی علامت عمل صالح ہے تو ایمان نام محبت ہی کا تو ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ہاں مخلوقات میں سب سے زیادہ محبوب شخصیت

نے ارشاد فرمایا کہ جب آدم علیہ السلام سے خطا کا ارتکاب ہو گیا تو انہوں نے جناب باری تعالیٰ میں عرض کیا۔ اے پروردگار! میں آپ سے بواسطہ محمد ﷺ کے درخواست کرتا ہوں کہ میری مغفرت ہی کر دیجئے۔ سو حق تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے آدم! تم نے محمد ﷺ کو کیسے پہچانا، حالانکہ ہنوز میں نے ان کو پیدا بھی نہیں کیا۔

عرض کیا کہ اے رب میں نے اس طرح سے پہچانا کہ جب آپ نے مجھ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی (شرف دی ہوئی) روح میرے اندر پھونکی تو میں نے سر جو اٹھایا تو عرش کے پایوں پر یہ لکھا ہوا دیکھا:

"لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ"

سو میں نے معلوم کر لیا کہ آپ نے اپنے نام پاک کے ساتھ ایسے ہی شخص کے نام کو ملایا ہوگا جو آپ کے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارا ہوگا۔ حق تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:

اے آدم تم سچے ہو، واقعی وہ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارے ہیں اور جب تم نے ان کے واسطے سے مجھ سے درخواست کی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت کی اور اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا۔ روایت کیا اس کو بیہقی نے دلائل میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم کی روایت سے اور کہا کہ اس کے ساتھ عبدالرحمن متفرد ہیں اور روایت کیا کہ اس کو حاکم نے اور اس کی تصحیح کی اور طبرانی نے بھی اس کو ذکر کیا ہے اور اس میں اتنا اور زیادہ ہے کہ حق تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ تمہاری اولاد میں سب انبیاء سے آخری نبی ہیں۔

(نشر الطیب، صفحہ ۱۰، محبت ہی محبت، صفحہ ۶)

صفحہ 424

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کے لئے اعزازات

احسان جتلایا ، تمام انبیاء سابقین کا آپ کو امام بنایا۔ آپ کو مقام معراج اور قرب خاص عطا فرمایا۔ بہت سی غیب کی باتوں پر آپ کو مطلع فرمایا۔ تمام اولاد آدم کا آپ کو سردار بنایا۔ ایک ابدی معجزہ قرآن عطا فرمایا۔

آپ کی غایت شرافت کی وجہ سے آپ کا نام لے کر خطاب نہیں کیا۔ مومنین کو بھی آپ کا نام لے کر خطاب کرنے سے منع فرمایا۔ آپ کو خاتم النبیین بنایا۔ اور قیامت میں ساقی کوثر، شافع محشر بنا کر مقام محمود عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا۔ اپنی دائمی محبت و شفقت سے سرفراز فرمایا۔ مومنین کو بھی آپ سے محبت رکھنے، آپ کی اتباع کرنے اور ہر امر میں توقیر واحترام کے ساتھ پیش آنے کا امر فرمایا اور اس میں ذرا سی کمی و کوتاہی پر شدید وعیدیں سنائیں۔ حتیٰ کہ آپ کے افعال و عادات کو عبادت قرار دیا اور ان کو نقل کرنے والوں کے لئے اپنی رضا کی تصدیق کی۔

آپ ﷺ سے محبت ایمان کامل کی علامت ہے

ﷺ لايؤمن احدكم حتى اكون احب اليه من والده وولده والناس اجمعين.“

(بخاری و مسلم)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کو اس کے ماں باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔

محبت ایک قلبی کیفیت ہے جو حیات انسانی کا محور ہے۔ میلان قلب پر ہی انسانی حرکات وسکنات کا مدار ہے۔ دل کا جھکاؤ جس طرف ہوتا ہے، سر سے پاؤں تک تمام اعضاء اسی طرف مائل ہوتے ہیں۔ جس سے محبت ہوتی ہے، اس کی ہر بات اچھی اور اس کی ہر ادا بھلی معلوم ہوتی ہے۔

گستاخ رسول کا عبرتنا

محبوب جتنا اعلیٰ و ارفع محبوب حضرت محمد ﷺ ہیں حکمت ہو، فصاحت و بلاغت ہو سے محبت کرنے کا درجہ بھی ارفع

ایمان والوں کے

اُمَّهٰتُهُمْ ”نبی (ﷺ) مـ تعلق رکھتے ہیں اور اس آیت مبارکہ میں ر کہ ایمان والوں کا اپنی جان ہوتا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں

مومن کا ایمان اگر غور نبوت سے پھیلتا ہے۔ آپ ہونے کی حیثیت سے ) اگر ہستی سے پہلے اس کو پیغمبر ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود تعلق کی بناء پر کہہ دیا جائے بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔

صفحہ 425

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

محبوب جتنا اعلیٰ و ارفع ہوگا محبت کا درجہ اسی قدر ارفع اور دائمی ہوتا ہے جب ہمارے محبوب حضرت محمد ﷺ تمام کمالات کا مجموعہ ہیں جود و سخا یا عدل و داد ہو، شجاعت ہو یا علم و حکمت ہو، فصاحت و بلاغت ہو یا حسن و جمال ہو، ہیبت و جلال ہو یا عفو کرم ہو تو ظاہر ہے کہ ان سے محبت کرنے کا درجہ بھی ارفع ترین ہونا چاہئے۔

ایمان والوں کے ہاں رسول اللہ ﷺ کا مقام اور مرتبہ

اُمَّهٰتُهُمْ﴾

(الاحزاب ٦)

”نبی (ﷺ) ایمان والوں کے ساتھ تو ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“

اس آیت مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کا مقام بڑے واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ ایمان والوں کا اپنی جان سے اتنا تعلق نہیں ہوتا جتنا نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے ہوتا ہے۔ اسی لئے اہل ایمان ہر دور میں ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

مومن کے ایمان کا تقاضا

مومن کا ایمان اگر غور سے دیکھا جائے تو ایک شعاع ہے۔ اس نورِ اعظم کی جو آفتاب نبوت سے پھیلتا ہے۔ آفتاب نبوت پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام ہوئے۔ بناء بریں (مومن ہونے کی حیثیت سے) اگر اپنی حقیقت سمجھنے کے لئے حرکت فکری شروع کرے تو اپنی ایمانی ہستی سے پہلے اس کو پیغمبر ﷺ کی معرفت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ نبی کا وجود مسعود خود ہماری ہستی سے بھی زیادہ ہم سے نزدیک ہے اور اگر اس روحانی تعلق کی بناء پر کہہ دیا جائے کہ مومنین کے حق میں نبی بمنزلہ باپ کے بلکہ اسے بھی کئی مرتبے بڑھ کر ہے تو بالکل بجا ہوگا۔ چنانچہ سنن ابن ابی داؤد میں ”انما انا لكم بمنزلة الوالد“

صفحہ 426

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

(میں تمہارے لئے والد کی طرح ہوں ) اور ابی بن کعب رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ وغیرہ کی قرأت میں اس آیت کے ساتھ ’وہو اب لہم‘ (اور نبی ایمان والوں کے لئے باپ کی طرح ہیں ) کا جملہ اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ باپ بیٹے کے تعلق میں غور کرو تو اس کا حاصل یہی نکلے گا کہ بیٹے کا جسمانی وجود باپ کے جسم سے نکلا ہے اور باپ کی تربیت و شفقت طبعی اوروں سے بڑھ کر ہے۔ لیکن نبی اور امتی کا تعلق کیا اس سے کم ہے؟ یقیناً امتی کا ایمانی اور روحانی وجود نبی کی روحانیتِ کبریٰ کا ایک پرتو اور ظل (سایہ) ہوتا ہے اور جو شفقت اور تربیت نبی کی طرف سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ ماں باپ تو کیا تمام مخلوق میں اس کا نمونہ نہیں مل سکتا۔

باپ کے ذریعے سے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے ہم کو دنیا میں عارضی حیات عطا فرمائی تھی۔ لیکن نبی کے طفیل ابدی اور دائمی حیات ملتی ہے۔ نبی کریم ﷺ ہماری وہ ہمدردی اور خیر خواہانہ شفقت اور تربیت فرماتے ہیں جو خود ہمارا نفس بھی اپنی نہیں کر سکتا۔ اسی لئے پیغمبر کو ہماری جان و مال میں تصرف کرنے کا وہ حق پہنچتا ہے جو دنیا میں کسی کو حاصل نہیں۔

حضرت شاہ عبدالقادر صاحب رَحْمَۃُ اللّٰهِ تَعَالٰی لکھتے ہیں کہ نبی نائب ہے اللہ کا، اپنی جان و مال میں اپنا تصرف نہیں چلتا جتنا نبی کا چلتا ہے۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنا روا نہیں اور اگر نبی حکم دے دے تو فرض ہو جائے۔ انہی حقائق پر نظر کرتے ہوئے احادیث میں فرمایا کہ تم میں کوئی آدمی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک باپ، بیٹے اور سب آدمیوں بلکہ اس کی جان سے بھی بڑھ کر محبوب نہ ہو جاؤں۔

(تفسیر عثمانی ۵۴۲)

نبی کریم ﷺ سے محبت باعث نجات

کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ قیامت کب آئے گی؟۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تو نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے؟۔ اس نے عرض کی، میں نے بہت زیادہ نماز، روزہ، صدقہ کا ذخیرہ تو نہیں کیا (البتہ اتنی بات کی ہے) کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہوں۔

صفحہ 427

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، تو اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے۔ (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی )۔

(جمع الفوائد، جلد ۲، صفحہ ۱۴۸)

مذکورہ بالا حدیث شریف کے راوی حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمیں کبھی کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی آنحضرت ﷺ کے اس قول انت مع من احببت (تو اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے ) سے ہوئی ۔

(جمع الفوائد، جلد ۴، صفحہ ۱۴۸)

ہم میں سے کوئی اس موقع پر ہوتا تو یہی کہتا۔ نبی کریم ﷺ کی معیت و رفاقت تو ہے ہی مر مٹنے کی چیز ۔ پروردگار عالم ہر کلمہ گو ایماندار کو نصیب فرمائے ۔

نبی کے امتیوں کی خواہشیں

ارشاد فرمایا :

”میری امت میں مجھ سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے ، ان کی یہ تمنا ہوگی کہ وہ اپنے اہل و مال کے بدلے مجھے دیکھ لیں ۔“

(مشکوٰۃ شریف، صفحہ ۵۸۳)

صحیح معنوں میں عشق رسول ﷺ کے تقاضے

کشش ہمیشہ پسندیدہ چیزوں کی طرف ہوتی ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے ہماری محبت اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کے بعد اللہ کے پیارے رسول ﷺ سے ہونی چاہئے اور رسول ﷺ کی محبت ہم سے اتباع یعنی پیروی چاہتی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا ہم سے رشتہ سب رشتوں سے افضل ہے۔ اگر ہم سچے عاشق رسول ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کا دم بھرتے ہیں تو ہمیں آپ ﷺ سے محبت کا اظہار آپ ﷺ کی سنت کی پیروی کر کے ادا کرنا چاہئے ۔ کیونکہ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:

”نبی بھیجے ہی اطاعت کے لئے جاتے ہیں ۔“

صفحہ 428

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

﴿وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ﴾ اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لئے کہ اس کی اطاعت کی جائے۔

(سورۃ نساء، ۶۴)

ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ:

”تم میں سے کوئی ایماندار نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کی تمام خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہوجائیں۔“

جب کہ اتباع رسول ﷺ کے سلسلے میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کے ارادے و خواہشات اس شریعت کے تابع نہ ہوجائیں جو میں لے کر آیا ہوں۔

بحیثیت مسلمان ہمارے ایمان کا دعویٰ ہے کہ ہماری عملی زندگی اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ﷺ کی شریعت کے تابع ہو۔ ہماری خواہشات، ارادے، رجحانات سب شریعت کے ماننے والے ہوں۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو پھر ہم عشق رسول ﷺ کا صحیح معنوں میں دعویٰ کرسکتے ہیں۔

بحیثیت مسلمان اگر ہم رسول ﷺ کی تعلیمات سے عملی طور پر جڑیں گے تو ہی ہم صحیح معنوں میں عاشق رسول ﷺ ہوں گے۔ جب کہ دوسری طرف ہم صرف ذکر رسول کی مجالس کا اہتمام کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے شان رسالت ﷺ کا حق ادا کردیا اور عاشق رسول ﷺ کی فہرست میں اپنا نام لکھوا لیا۔ مگر ہمارا حال تو یہ ہے کہ:

توڑ کر سنتوں کا آئینہ
نئے انداز سے سنورتے ہیں
اس زمانے کے عاشق رسول
اپنی مرضی سے عشق کرتے ہیں

اپنے اسی طرز عمل کی وجہ سے ہم سنت رسول ﷺ کا ذرہ برابر بھی حق ادا نہیں کرسکتے۔

صفحہ 429

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اللہ تعالیٰ کا تمام مخلوقات میں اپنے نبی ﷺ کی محبت رکھنا

ہے ۔ مسلمان اور مومن اس وقت تک کہ مومن بن اور رہ نہیں سکتا جب تک اس کے دل میں جناب نبی کریم ﷺ کی محبت نہ ہو اور صرف محبت ہی نہیں بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے اپنے ماں باپ، اپنی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ مجھ (محمد ﷺ) سے محبت نہ ہو۔

مومن وہ ہے جسے سرکار دو عالم ﷺ کے ساتھ اپنے ماں باپ سے، اپنی اولاد سے اور دوست و احباب سے، اور تمام انسانوں سے زیادہ محبت ہو۔ محبت رسول پر ہی اسلام کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ کائنات کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح طور پر سامنے آجائے گی کہ دنیا میں سب سے زیادہ محبوب ہستی اللہ کے بعد جناب نبی اکرم ﷺ کی ہے، جس سے کائنات کا ذرہ ذرہ پیار کرتا ہے اور اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے سمندر میں، پہاڑوں میں، درختوں میں، جمادات میں، حیوانات میں، نباتات میں اور ہر قسم کی مخلوق میں اپنے محبوب کی محبت رکھی ہے۔ تو وہ انسان جس کے لئے آپ براہ راست نبی بن کر آئے ہیں، جس نے آپ ﷺ کا کلمہ پڑھا ہے جو آپ ﷺ کا امتی کہلاتا ہے، جسے آپ ﷺ کی برکت سے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کی توحید ملی ہے، اللہ کی پہچان و معرفت اور اللہ کی ذات وصفات کا پتہ چلا ہے، جسے آپ ﷺ کی برکت سے قرآن کریم جیسی عظیم دولت ملی ہے اور اسلام جیسا پیارا دین اور مذہب ملا ہے۔ اللہ کا پسندیدہ دین اس کو ملا ہے، جس پر دنیا و آخرت کی نجات کا مدار ہے۔ وہ انسان خود آپ ﷺ کے وجود کی برکت سے اللہ کی رحمتوں کا حقدار بنا ہے، وہ کس طرح آپ ﷺ سے محبت نہیں کرے گا؟۔

آپ ﷺ میں محبت کے سارے وصف کا بدرجہ اتم موجود ہونا

کسی سے محبت کے تین سبب ہو سکتے ہیں:

صفحہ 430

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

جناب رسول اللہ ﷺ کی ذات مقدسہ میں تینوں وصف علی سبیل الکمال مجتمع ہیں۔ ان تینوں اوصاف کا ایک ہی ذات میں جمع ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ امت کو اعلیٰ درجہ کی محبت ہو۔ قرآن مجید میں نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کو مومنین کی جانوں سے اہم قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:

﴿ اَلنَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ﴾

(الاحزاب: ٦)

آپ ﷺ کے عشق میں کاملیت نعروں اور مظاہروں سے نہیں عمل سے آتی ہے: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں سچے عاشق ہونے کی دعویدار تھیں۔ آج کے اس دور میں اگر ہمیں بھی آپ ﷺ کا فقر وفاقہ، امتحان، آزمائشیں، درد و کڑھن، زخم وقربانیاں اور ان کی تعلیمات یاد آ جائیں تو ہماری زندگی ہلاکت کی گود سے نکل کر جنت میں جانے کی حقدار ہوسکتی ہے۔

ہماری بے حسی کی انتہا

رکھا ہے۔ ہم نے سنت کی پیروی چھوڑ کر نفس کی غلامی شروع کر دی ہے۔ جب کہ عشق نبی ﷺ تقاضا کرتا ہے عاشق کی باتوں کو ماننے کا۔

آپ ﷺ سر سے پاؤں تک رحمت وشفقت، غم بانٹنے والے پر اثر نصیحت کرنیوالے تھے جبکہ آج ہمیں نہ تو امت کی پستی پر رونا آتا ہے نہ ہمیں دین کی فکر ہے۔ ہماری فکروں کا محور بس دنیا اور اس کی آسائشیں ہیں، نہ ہی ہم اپنے افعال سے عبرت پکڑتے ہیں۔ ہماری زبان میں وہ اثر ہی نہیں کہ ہم کسی کو اپنے طرز عمل سے متاثر کر سکیں۔

ہم اسلام کی حقیقی روح کو بھول کر بس قوالیوں کی لے میں، رنگ ونور کی بارش میں، مٹھائی کے ٹوکروں میں، میٹھی میٹھی باتوں میں، رنگ برنگ جھنڈیوں میں اور جلسوں کے شور میں مگن

صفحہ 431

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ہو کر رہ گئے۔

دین کس طرح ہمارے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے، ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں۔ ہمیں آج ضرورت ہے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ! جیسا اندازِ فکر اپنانے کی ، اللہ ہمارے دلوں میں، ہمارے ضمیر میں ان جیسی کشمکش پیدا کر دے تو پھر ہم سچے عاشق رسول ﷺ بن سکتے ہیں۔ اپنے دین کو قائم کر سکتے ہیں، دنیا کی سختیاں برداشت کر سکتے ہیں۔

جب کہ ہم صرف نعروں اور شیرینی کھانے پر ہی بھروسہ کر رہے ہیں اور اسے ہی نجات سمجھ رہے ہیں۔ یہ ہمارا تقاضائے شکم تو ہے، لیکن تقاضائے عشق نہیں۔ عشق جب مسلمان کے سینے میں بیدار ہوتا ہے تو وہ پھر مکمل طور پر اپنی زندگی کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔

عشق رسول ﷺ کو مکمل طور پر اپنانا

پہلے ہمیں آپ ﷺ کے اسوۂ کو اپنانا ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کا ہر لمحہ مزاج رسالت کے تابع تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر لمحہ آپ ﷺ کے قدموں تک نشان ڈھونڈتے اور ان کے مطابق اپنی زندگیاں گزارتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں عشق نبی ﷺ کی وہ شمع روشن تھی جس نے ان کی زندگیوں کا نقشہ ہی بدل دیا تھا۔

وہ آپ ﷺ کے ایک اشارے پر اپنی جان، مال اور دولت سب قربان کر دینے کو تیار رہتے تھے۔ آج اگر ہم صحیح عاشق رسول ﷺ ہیں تو ہمیں اپنی زندگیاں گزارنے کے لئے رنگ ڈھنگ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنے ہوں گے تو اس صورت میں ہمارا دل اس عیش و عشرت میں ڈوبی ہوئی فانی دنیا سے اچاٹ ہو جائے گا اور ابدی زندگی کی فکر کرے گا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں سر سے پاؤں تک سنتِ رسول سے مزین تھیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کا جلسہ، جلوس، شیرینی، چراغاں آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا تھا۔

صفحہ 432

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ان کا عشق عمل سے لے کر عمل پر ہی ختم ہوتا تھا۔ رسول ﷺ کے دور میں ظلمتوں کے اندھیرے صحابہ کی عملی پیروی پر ہی ختم ہوئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف باتوں ہی کے نہیں عمل کے غازی اور کردار کے سپاہی تھے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپ ﷺ سے بے مثال محبت

ﷺ کی محبت ہے۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کی محبت میں وہ قربانیاں دیں جن کی انسانی تاریخ میں مثال نہ پہلے کبھی ملتی ہے اور نہ آئندہ کبھی ملے گی۔ اپنی جان، اپنا مال، اپنا وطن، اپنا خاندان، اپنی اولاد، اپنا آرام و سکون، چین سب کچھ آپ ﷺ کی آنکھ کے ایک ہی اشارے پر قربان کر دیا اور اپنی زبانوں سے صحابہ رضی اللہ عنہم رسمی طور پر نہیں قلبی طور پر کہتے:

"فداک ابی وامی یارسول اللہ" "اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔"

انہوں نے کر کے دکھایا:

مسلمانوں کی آپ ﷺ سے لازوال محبت

کو کوئی نہیں نکال سکا۔ مسلمان بے نمازی ہو سکتا ہے، گناہگار ہو سکتا ہے، بد اخلاق اور بد کردار ہو سکتا ہے۔ لیکن اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کا گستاخ نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ کا غدار نہیں ہو سکتا۔ ایک عام آدمی جس نے شاید نماز نہ پڑھی ہو، روزہ نہ رکھا ہو۔ قرآن نہ پڑھا ہو، اس کے دل میں بھی آپ ﷺ کی محبت کی چنگاری اور شمع جل رہی ہے۔

گستاخ رسول کا معجز موضوع....... 19

تحفظ ناموس رس

توہین

اعمال، کلمات یا تحریرات پر کے سبب آتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت کے بارے م بد زبانی کر کے حملہ کرنا، ان کے اہل بیت، ان کے صحا اظہار کرنا، رسول اللہ ﷺ بری خبریں اڑانا۔ رسول ا اختیار یا فیصلہ کو کسی طور پ میں گستاخی کرنا، حقوق ا ﷺ سے بغاوت کرنا

درج بالا میں سے حرمتی کے ذیل میں آتا شریعت اسلامی کہ پہلے اس بات کو ذ کی تکریم وتعظیم کرتے ہ اللہ ﷺ کے پاک

صفحہ 433

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام موضوع....... 19

تحفظ ناموس رسالتؐ پر اکابر امت کی دل سوز تحریرات

توہین رسالت ﷺ اور بے حرمتی کے معنی

اعمال، کلمات یا تحریرات پر ہوتا ہے۔ اس زمرے میں مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک یا سب کے سب آتے ہیں:

رسول اللہ ﷺ کو تحریر میں یا زبان سے گالی دینا یا ان کی بے عزتی کرنا، ان کے یا ان کے اہل بیت کے بارے میں تحقیری یا ذلت آمیز کلمات کہنا، رسول ﷺ کے وقار و عزت پر بدزبانی کر کے حملہ کرنا، ان کو بدنام کرنا یا جب ان کا نام آئے تو برا منہ بنانا، ان کے لئے، ان کے اہل بیت، ان کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور مسلمانوں کے لئے عداوت یا نفرت کا اظہار کرنا، رسول اللہ ﷺ اور ان کے اہل بیت پر الزام یا تہمت لگانا اور ان کے بارے میں بری خبریں اڑانا۔ رسول اللہ ﷺ کو رسوا کرنے کی کوشش کرنا، رسول اللہ ﷺ کے دائرہ اختیار یا فیصلہ کو کسی طور نہ ماننا، سنت نبویہ سے انکار کرنا، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا، حقوق اللہ اور حقوق رسول اللہ ﷺ سے انکار کرنا یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بغاوت کرنا۔

درج بالا میں سے کسی ایک کا بھی مرتکب ہونا شریعت اسلامی میں توہین رسالت اور بے حرمتی کے ذیل میں آتا ہے۔

شریعت اسلامی کی نظر میں یہ جرم کتنا سنگین ہے، اس بات کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ پہلے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی کتنے اعلیٰ ترین درجے کی تحریم و تعظیم کرتے ہیں۔ یہ تعظیم اسلامی تعلیمات میں مرکزی حیثیت کی حامل ہے اور رسول اللہ ﷺ کے پاک کردار پر کسی قسم کا حملہ اسلام کی بنیاد ہی پر حملے کے برابر ہے۔ رسول اللہ

صفحہ 434

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل بیت کی بے عزتی محض مجرمانہ اور مسلمانوں کے لئے گہرے گھاؤ ہی نہیں....... جو وہ بلا شک ہیں....... بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر اس سے قرآن میں منع فرمایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت سی ایسی آیات نازل فرمائی ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ ترین شخصیت کی تصدیق کرتی ہیں۔

اس زندگی کا کیا فائدہ جس میں نبی ﷺ پر گالیاں پڑتی ہوں

تعلق ہے تو انہیں اس سازش کا احساس و ادراک کرتے ہوئے اس کو ناکام بنانا چاہئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی دلی وابستگی کا ثبوت دینا چاہئے۔ اگر مسلمان ایسا نہیں کر سکتے تو امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ کے بقول انہیں زندہ رہنے کا حق نہیں، کیونکہ:

”ما بقاء الامم يعيش شتم نبيها“

(احسن البیان فی تحقیق مسئلۃ الکفر والایمان، صفحہ ۶۰)

ترجمہ: ”اس امت کی کیا زندگی اور کیا جینا ہے؟ کہ جس کے نبی پر گالیاں پڑتی ہوں۔“

اے کاش آج کوئی محمد بن قاسم ہوتا! اے کاش! آج کوئی محمد بن قاسم جیسا نوجوان ہوتا، کاش آج غازی علم دین شہید جیسے سرفروش ہوتے تو انہیں سر اٹھانے کی جرأت نہ ہوتی۔ اے کاش! آج حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے فاتح ہوتے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی بہادر ہستیاں ہوتیں تو انہیں یہ ناپاک حرکت کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ لیکن افسوس صد افسوس جب مسلمانوں میں غیرت نہ رہی اور ان کے حکمران بش اور کافروں کے اتحادی بن گئے تو کافروں کو بھی ہمت ہوئی شان رسالت میں گستاخی کرنے کی۔ ہم اپنے نبی کی خاطر، اپنی جان بھی قربان کرنے کو تیار ہیں، اپنا سب کچھ لٹا دیں گے، لیکن اپنے نبی کی عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

صفحہ 435

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

روز محشر ہم اپنے آقا کو کیا جواب دیں گے؟

اور حیات ہوتے ہوئے میرے اوپر کیچڑ اچھالی گئی، میری عزت کو تار تار کرنے کی کوشش کی گئی، میری ناموس کو داغدار بنانے کی ناپاک جسارت کی گئی اور تم میرے دشمنوں سے انتقام لینے کے بجائے خاموش تماشائی بنے رہے، ان کے ہاتھ توڑنے کے بجائے مزید مضبوط کرتے رہے تو ہم آقا ﷺ کو کیا جواب دیں گے؟ کس زبان سے سفارش کی درخواست کرسکیں گے؟ کس منہ سے حوض کوثر کا جام پی سکیں گے؟ حالات کی مجبوری بتا سکیں گے؟ کچھ نہ کر سکنے کا بہانہ کر سکیں گے؟ اپنی حکمت ومصلحت پسندی کو ڈھال بنا سکیں گے؟

امام کعبہ الشیخ سدیس کی نظر میں گستاخ رسول کی سزا

کہ توہین رسالت کے مرتکبین معافی کے نہیں سزا کے مستحق ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ اگر ہم محبت رسول اللہ ﷺ کے سچے دعویدار ہیں تو پھر ان ملعون کارٹونسٹس کو پل بھر بھی جینے کا حق نہیں ہے، اگر ہم یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر کے ان کا معاشی ناطقہ تو بند کر سکتے ہیں۔

امام کعبہ کے اس غیر معمولی خطبے کے بعد سعودی عوام نے قرونِ اولیٰ کے اس دور کی یاد تازہ کر دی جب شراب کی حرمت کا اعلان کیا گیا تھا تو شراب مدینہ کی گلیوں میں پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔ آج بھی ان گلیوں، بازاروں میں مغربی مصنوعات کوڑے کا ڈھیر بن گئیں، جبکہ سعودی حکومت سب سے پہلے اس گستاخی کے مرتکب ممالک سے سفارتی تعلقات کو منقطع اور ان کی ہر مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر کے اس تحریک کی قیادت کا اعزاز حاصل کر چکی ہے۔

مسلمانو! ذرا سوچو! کہیں ہم کفار سے زیادہ توہین رسالت کے مرتکب تو نہیں ہو رہے؟

آج ہماری حکومت صرف زبانی جمع خرچ کر رہی ہے۔ مذمتوں سے آگے کوئی فیصلہ نہیں کر پارہی، اس سب کے باوجود ہم اپنے اوپر لیبل غلامان محمد ﷺ کا لگاتے ہیں تو سوچئے

صفحہ 436

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کہ کہیں ہم ان سے زیادہ توہین رسالت کے مرتکب تو نہیں ہورہے ہیں؟ آج کے دور میں ایک نہیں کئی راج پال پیدا ہو چکے ہیں۔

عشق رسول ﷺ کے دعوے داروں کی ستم ظریفی!

قصیدہ خوانی کے موضوع پر پی ایچ ڈی کے مقالات لکھنے والے کدھر گئے۔ ہائے میری قوم کے خطباء کیوں نہیں بولتے۔ وہ جو ساری ساری رات اللہ و رسول ﷺ کی محبت کی داستانیں سنا کر ماحول کو گرمایا کرتے تھے۔ آج ان کی زبانیں کیوں گنگ ہوگئیں۔ جمعہ کا سارا سارا دن نعتیں پڑھ پڑھ کر حلق خشک کرنے والے آج کوئی نغمہ جان افزاء کیوں نہیں کہتے؟

میری ملت بیضاء کے ادباء، فصحاء، بلغاء، آج کیوں ادب کا کوئی شاہکار تخلیق نہیں کرتے؟ کوئی فصاحت و بلاغت کا دریا کیوں نہیں بہاتے؟ کیا یہ موضوع کسی کو پسند نہیں آرہا؟ سمجھ نہیں آرہا؟ بولتے کیوں نہیں؟ یہاں موت کا سکوت کیوں ہے؟

محمدؐ کے غلامو! محمدؐ کی توہین کا بدلہ لینے کے لئے اٹھ کھڑے ہو

سرکاری عمارتوں پر سب سے اونچے مقام پر نصب کی جائے۔ علامہ اقبال کی توہین قابل حد اور تعزیر قرار پائے۔ افراد تو افراد قومی ترانہ بھی قابل احترام مانا جائے کہ صدر اور وزراء تک کھڑے رہیں۔ آج سب کی عزت ہے۔ ناموس ہے۔ احترام ہے، وقار ہے، نہیں ہے میرے اللہ کا نہیں ہے۔ میرے نبی ﷺ کا نہیں ہے۔

﴿مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًا.﴾ (پ ۲۹، نوح آیت نمبر ۱۳)

’’تمہیں کیا ہو گیا ہے تمہیں اپنے رب کے وقار کا کوئی پاس نہیں ہے۔‘‘

ہائے یہ آزادی اظہار رائے کی توپ کا رخ ہمارے پیغمبر کی طرف اٹھ سکتا ہے تو اے امت مسلمہ کے جیالو! یہ آزادی اظہار رائے کے گولے کا رخ کفر کے سرغنوں کی طرف کیوں نہیں اٹھتا۔ آج عالمی سیاست کے شاطر مہرہ بازوں کی طرف کیوں نہیں؟ کسی یہودی ربی کی طرف

گستاخ رسول کا جہنم

کیوں نہیں؟ قیامت والے کے جام کی تمنا رکھنے والو! اپنا مقام اپنا منصب پہچانو ﴿اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِا نبی ﷺ کی توہین آج اپنی جان بچانا چاہتے ہو ہے، جو کہ اصل میں حیات کھو گیا؟ میں آواز دوں، ہا غیرت مند سلطان ٹیپو کیسے جن

شہیدان ناموس

شکایت ہے کہ اب یہاں دا مدرسہ شاہین بچوں کو خاک سنت صدیق اکبر رضی اللہ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ر قادیانیت اور گستاخی رسول سے بے اعتنائی برت کر فر ملت روز محشر کس منہ سے اپنے نام کے ساتھ علوم شریعت، قطب زماں سگ مدینہ، زبدۃ ال اور فخر اہلسنت ایسے مخلوق کو دونوں ہاتھوں

صفحہ 437

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کیوں نہیں؟ قیامت والے دن نبی اکرم ﷺ کی سفارش کے طلب گارو! اے حوض کوثر کے جام کی تمنا رکھنے والو! محمد ﷺ کے جھنڈے تلے آنے کی آرزو رکھنے والو! کدھر ہو تم! اپنا مقام اپنا منصب پہچانو، جانو۔

﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ﴾ (الاحزاب: ٦)

نبی ﷺ کی توہین کا بدلہ نہ لے سکے تو تم اپنی جانوں کی حفاظت کبھی نہ کر پاؤ گے۔ آج اپنی جان بچانا چاہتے ہو تو اٹھو! جان بچانے کا سلیقہ سیکھو، عزت کی موت شہادت کی موت ہے، جو کہ اصل میں حیات جاودانی کا پیغام ہے۔ میرے دور کا صلاح الدین ایوبی کدھر کھو گیا؟ میں آواز دوں، بانجھ ایمانوں کی کوکھ سے کوئی ایوبی کیسے نکلے۔ بے حمیت والدین غیرت مند سلطان ٹیپو کیسے جنیں؟ ۔

شہیدان ناموس رسالت کی وارثان منبر ومحراب سے شکایت

شکایت ہے کہ اب یہاں دارورسن کی کوئی بات نہیں اٹھتی ۔محبت و معرفت سے تہی دامن ، مسجد و مدرسہ شاہین بچوں کو خاکبازی کا سبق دے رہے ہیں۔ منکرین ختم نبوت کی سرکوبی کے لئے سنت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ گستاخان رسول کے لئے ننگی تلوار! سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نقش قدم پر چلنے والے نجانے کہاں چلے گئے ہیں؟ قادیانیت اور گستاخی رسول کے مرتکب افراد کا سرکیوں نہیں کچلا جا رہا؟ ان اہم اور سلگتے مسائل سے بے اعتنائی برت کر فرقہ واریت جیسے تاجرانہ مباحث میں الجھ جانے والے حاملان دین و ملت روز محشر کس منہ سے نبی کریم ﷺ سے شفاعت کے طلب گار ہوں گے۔

اپنے نام کے ساتھ قطب الاقطاب، ولی کامل ، امین علم لدنی ، واقف رموز حقیقت ، ماہر علوم شریعت، قطب ربانی ، صوفی باصفاء، عاشق الوریٰ ، مرشد حق ، رہبر شریعت ، پیر طریقت، سگ مدینہ، زبدۃ العلماء، نابغہ عصر، مفکر اسلام، حضور قبلہ، حضرت علامہ، عظیم عاشق رسول اور فخر اہلسنت ایسے ہیوی ویٹ من گھڑت اور سرقہ شدہ القابات استعمال کر کے سادہ لوح مخلوق کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے آخر کس طرح شافع محشر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی

صفحہ 438

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

بارگاہ میں حاضر ہوں گے؟ غرور اور گھمنڈ کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ مرنے سے پہلے انہیں ایک بار سوچ لینا چاہئے کہ آخر وہ کس کو دھوکہ دے رہے ہیں اور کب تک دیتے رہیں گے؟۔

(بحوالہ شہیدان ناموس رسالت، صفحہ ۱۳)

نبوت کے وفادار ابھی زندہ ہیں

وقت بھی نبوت کی وفاداری کی تھی جب کہ انگریز کا دور تھا۔ مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی نے کہا کہ غلام احمد قادیانی کذاب، دجال ، مرتد ہے۔ کیس ہو گیا۔ پوچھا گیا کہ عطاء اللہ تم نے یہ کہا ہے؟ فرمایا کہا تھا، کہتا ہوں، کہتا رہوں گا ..... (نعرے ..... نعرہ تکبیر اللہ اکبر تاجدار ختم نبوت زندہ باد )

جاکر سید عطاء اللہ شاہ بخاری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کی قبر پر کہہ دو کہ بخاری قبر میں پریشان نہ ہونا۔ تیرے رضا کار تیرے جھنڈے کو لہرا رہے ہیں۔

مولانا مفتی محمود رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی سے کہہ دینا کہ جو فیصلہ آپ نے کیا وہ فیصلہ سنا رہے ہیں۔

جاؤ حضرت بنوری رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کی قبر پر جا کر کہہ دو بنوری! قبر میں آرام کرو، الحمد للہ تیرے غلام تیرے مشن کو زندہ کر چکے ہیں۔ (انشاء اللہ )

یہ ایمان کا مسئلہ ہے۔ جان جائے، خاندان جائے، ایمان نہ جائے ..... ایمان ہمیں سب سے عزیز ہے۔ ایمان پر ہمیں جنت اور انعامات ملیں گے۔ دعا کرو جان چلی جائے، ایمان بچ جائے نبی کا دامن بچ جائے، محمد ﷺ کی شان بچ جائے، پیغمبر کا فرمان بچ جائے۔ آمین

مسلمانوں کے اتحاد سے ہی کفر کو منہ توڑ جواب ممکن ہے

مسلمان مغربی رنگ میں ڈھل گئے۔ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام پر چلنا چھوڑ دیا تو باطل قوتیں مسلط ہوتی گئیں اور مسلمانوں کا رعب و ہیبت کفار کے دل سے اٹھ

صفحہ 439

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

گیا۔ گوانتانامو بے میں ہمارے قرآن پاک نذر آتش کئے گئے۔ ہم چپ رہے۔ ہمارے نصاب سے اسلامی اسباق کا اخراج کیا گیا ہم چپ رہے۔ ہماری اس خاموشی سے ہی تو انہوں نے فائدہ اٹھایا اور آج یہاں تک نوبت آ گئی کہ کفار آپ ﷺ کی ذات پر جری ہو گئے۔ غرض مسلمان رسوا و ذلیل ہوئے، ان کی عزت و ناموس (اسلام) کی سربلندی کو مجروح کیا گیا۔

مغرب نہ تو معافی مانگنے پر تیار ہے اور نہ ان کارٹونوں کو نذر آتش کرنے کے لئے ، سو ہمیں اس کو اس کام پر مجبور کرنا ہے۔ آج مغرب کی کی ہوئی توہین کو محض دیکھ کیوں رہے ہو۔ آج ان کا حوصلہ بلند ہوا ہے اور کل اور دوگنا ہوگا۔ آج جسے یہ اپنی ثقافت کا حصہ قرار دے رہے ہیں کل یہ اس کو اپنی ضرورت سمجھیں گے۔

اگر آج یہ اپنی غلطی تسلیم نہیں کرتے تو کل کی کیا ضمانت دی جا سکتی ہے۔ کچھ شک نہیں کہ اگر مسلمان متحد ہو جائیں اور مل جل کر ساتھ دیں اور حکومت بھی امداد کرے تو مسلمان ہر کڑی گھڑی کا مقابلہ ثابت قدمی سے کر سکتا ہے اور کفار کو منہ توڑ جواب دے کر ان کے حوصلے پست کر سکتا ہے، کیونکہ اللہ کی مدد و نصرت مومنوں کے ساتھ ہے جس کا اللہ نے قرآن میں وعدہ کیا ہے۔

کوئی پلٹ کے آئے میدانوں میں
مصطفیٰ آواز دیتے ہیں مذہب کے پاسبانوں کو

اہانت رسول پر ہر ماں، بہن اور بیٹی کا کردار

گستاخی کر کے امت مسلمہ کی غیرت کو للکارا ہے۔ اس پریشان کن صورتحال میں جہاں احتجاج ، ہڑتالوں اور بائیکاٹ کا جاری رہنا ضروری ہے، وہاں مسلم امہ کی ہر ماں، بہن اور بیٹی پر بھی ایک عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنی اس سوچ کو (کہ یہود و نصاریٰ ہمارے خیر خواہ ہیں) بدل ڈالیں اور اپنی کم ہمتی اور خاموشی کو توڑ ڈالیں۔ جس کی وجہ سے آج کفار کو توہین رسالت کی ہمت ہوئی ہے اور ایسی سوچ اپنائیں جو عالمگیر اور آفاقی ہو۔

بلاشبہ اہانت رسول ﷺ پر ہر مسلمان ماں، بہن اور بیٹی کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے تو آئیے ہم بھی وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے لئے ذمہ داریوں کا تعین کریں۔ تاکہ

صفحہ 440

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہم ناپاک کفار کو ”تحفے“ میں ایک ایسی ”نسل“ دے سکیں جو ان کی نیندیں حرام کردے۔

مغرب کی ہٹ دھرمی سے مسلمانوں کو فائدہ؟

بڑھ کر ہیں۔ جبکہ امریکا بھی اس سلسلہ میں دلی اور اندرونی طور پر ان کا ہمنوا ہے۔ مگر اس کا کردار خالص منافقانہ ہے۔ یہی وجہ ہے کبھی کبھی تو :

﴿قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِی صُدُورُهُمْ اَكْبَرُ .﴾

(آل عمران ۱۱۸)

کے مصداق وہ بھی اپنے خبث باطن کو اگلنے پر مجبور ہو جاتا ہے، تاہم آسمان پر تھوکنے سے آسمان کا کچھ نہیں بگڑتا، مگر تھوکنے والے کا منہ ضرور خراب ہو جاتا ہے۔

مسلمانوں کی چودہ سوسالہ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے آج تک دین، مذہب، اسلام، شعائر اسلام اور اپنے نبی ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کیا ہے اور جس بد بخت نے کبھی کوئی ایسی حرکت کرنے کی ناپاک کوشش کی، اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ چنانچہ اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب سے لے کر یوسف کذاب تک تمام مدعیان نبوت ، مسیحیت ، مہدویت کی تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ مسلمانوں نے ایسے گستاخوں کے ناپاک وجود سے اللہ کی زمین کو پاک کر دیا۔

آج اگر راج پال کے جانشین موجود ہیں تو بحمد اللہ غازی علم الدین شہید رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اور حاجی مالک رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی کے نام لیوا بھی موجود ہیں۔ اس لئے مغرب اور اس کے سرپرستوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اس ناپاک روش سے باز آجائیں، ورنہ دنیا کا امن تہہ و بالا ہوسکتا ہے۔ اگر مسلمانوں کی مقدس ہستیوں خصوصاً حضرات انبیاء کرام عَلَيْهِمُ السَّلَام کی عزت و ناموس محفوظ نہیں رہی تو دنیا کی کوئی شخصیت بھی محفوظ نہیں رہے گی۔

اس صورتحال کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان دفاعی اعتبار سے اتنے پیچھے چلے گئے کہ آئندہ بیس سال تک وہ اپنی سابقہ پوزیشن بحال نہیں کر سکیں گے، اور انہیں اپنے خلاف پھیلائے گئے اس منفی پروپیگنڈے کے گرد و غبار کو صاف کرنے میں خاصا وقت لگے گا۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان ۱۱ ستمبر کے ڈرامے کے بعد کچھ کرنے کے بجائے اپنی صفائیاں پیش کرنے اور

صفحہ 441

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اپنے دفاع پر مجبور ہوگئے تھے۔

لیکن ”ہر شر میں خیر ہوتی ہے“ کے مصداق مغرب کی اس گستاخی، گندہ ذہنی، متعصبانہ رویہ، معاندانہ انداز اور ہٹ دھرمی سے مسلمانوں کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ:

گردی، تشدد پسندی اور تنگ نظری کھل کر سامنے آ گئی۔ چنانچہ مسلمانوں کے اس دریدہ دہنی کے خلاف پرامن احتجاج، اس پر مغرب کی ڈھٹائی اور فرعونیت سے بحمداللہ! وہ دفاع سے اقدام کی پوزیشن میں آگئے، یوں کل کا فرعون امریکہ اس کے حواری مغربی ممالک اور یورپی یونین آج اپنے دفاع اور وضاحتوں پر مجبور ہیں۔

ندامت و شرمندگی کے نہ ہونے، اس گستاخی پر معذرت نہ کرنے اور دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے بھر پور احتجاج کو خاطر میں نہ لانے اور مغربی رویہ نے ثابت کر دیا کہ بنیاد پرست مسلمان نہیں بلکہ مغرب، بدقماش امریکہ اور اس کے حواری ہیں۔ لہذا اس صورتحال سے ہر شخص کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر سکتا ہے کہ بنیاد پرست، دہشت گرد، دنیا کے امن و امان کو خراب کرنے اور انتہاء پسندی کو ہوا دینے کے درپے مسلمان ہیں یا مغربی دنیا؟

ڈرے سہمے مسلم حکمرانوں میں یہ جرأت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ بھی ان کے خلاف زبان کھولنے لگے ہیں اور دبے لفظوں میں وہ بھی مسلمانوں کی ہمنوائی میں اپنے آقاؤں کی زیادتیوں کا اظہار کرنے لگے ہیں، خدا کرے ان کو اب یہ بات سمجھ میں آجائے کہ دہشت گرد مسلمان نہیں مغرب ہے اور مسلمانوں پر چڑھائی کے بجائے ان کے خلاف محاذ بنانے کی ضرورت ہے جو ہماری جان، مال، عزت، آبرو، دین، مذہب اور ہمارے نبی اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کے درپے ہیں۔

مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس وقت تک اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں جب تک کہ یہ بین الاقوامی دہشت گرد، بنیاد پرست اور مذہبی جنونی اپنی اس شرارت سے باز نہ آ جائیں اور کھلے عام اس گستاخی کی معافی مانگ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے توہین رسالت کے مرتکبین کے خلاف قانون سازی نہ کرلیں۔

(از مولانا سعید احمد جلال پوری)

صفحہ 442

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام موضوع...... 20

تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا دفاع کیسے کریں

گستاخی رسول پر مسلمانوں کی ذمہ داریاں

اسلام سے برائے نام رشتے کے بجائے ایسا رشتہ استوار کریں جو استقامت، استحکام، اخلاص، فکر و عمل اور صبر جیسی صفات پر مبنی ہو۔ اس مسئلے کے حل کے لئے دائمی فعال اور شریعت کے آئینہ دار بے باک، جرأت مندانہ اقدام کئے جائیں اور اس معاملے میں کسی قسم کے دباؤ یا مصلحت کا شکار ہونے سے بچا جائے۔

پسندانہ ماحول میں سنجیدگی سے غور کر کے ایسا متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے جو کہ موثر ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی جذبات کا بھی ترجمان ہو۔

شایان شان قائدانہ کردار ادا کرے تا کہ عالمی ادارے اس کی پیش کردہ قرارداد پر غیر معمولی سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہوں یا اس مسئلے کے لئے خصوصی پلیٹ فارم بنایا جائے جس کو اسلامی ممالک کے علاوہ دوسرے ممالک کی بھی حمایت حاصل ہو۔

بائیکاٹ کریں جو ممالک ان کو اپنی اشیاء برآمد کرتے ہیں وہ بھی اس تعلق کو ختم کریں۔ خصوصاً خلیجی ممالک اگر تیل روک دیں تو مغرب گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔

کونے میں ہر مسلمان کے دل میں عظمت رسول ﷺ بٹھائے۔ ہر فرد اپنی توانائیاں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لئے ہی صرف کرے اور ایسے تمام عناصر سے دامن بچائے جو اس

صفحہ 443

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام کی صلاحیتوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

قوانین وضع کئے جائیں جو ایسی تمام حرکات کا ایسا مضبوط احاطہ کریں کہ پھر کوئی ان میں نقب زنی نہ کر سکے اور یہ تب ممکن ہے جب مسلم امہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ اور ہر سطح پر پھیلے انتشار کو ختم کریں۔

اور نہ اس مسئلے کو سیاسی رنگ دیا جائے۔ اہل اسلام ایک مضبوط پالیسی کے تحت اہل کفر کے مقابلے میں سائنسی، فنی، عسکری غرض ہر میدان میں آگے بڑھے، علماء کرام اپنے واعظوں، خطبوں کے ذریعے جوانوں میں جہادی روح پھونکیں۔

میں تمام مسلمانوں خصوصاً نو جوانانِ اسلام سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ اس گرم لہو کو غیر ضروری مسائل میں صرف نہ کریں اور تمام قائدین بھی ان نوجوانوں کی قوت کو فقط ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی منصوبہ بندی کے لئے استعمال کریں۔ لہٰذا سیاسی جماعتیں عموماً اور مذہبی جماعتیں خصوصاً اس مسئلے پر بڑی اہمیت سے غور فرمائیں۔ اب ہم پر یہ فرض عائد ہو چکا ہے کہ ہم اپنے تمام تر اختیارات کو بروئے کار لا کر اس مسئلے کو بمطابق شریعت حل کریں۔ اگر نہیں تو سوچ لیں کہ آنے والی نسلوں کو کیا منہ دکھائیں گے اور ساقی کوثر ﷺ کے پاس حوض کوثر پر کس منہ سے جائیں گے اور یہ بھی سوچ لیں کہ جس سے رحمت عالم ﷺ نے رخ پر نور موڑ لیا تو اس کا ٹھکانہ کیا ہوگا۔

(راجہ بلال احمد سحاب اسلام آباد)

توہین آمیز خاکوں کی اشاعت...... پر امت مسلمہ کا کردار؟

خاکوں کی اشاعت اور وہاں کی حکومت کی طرف سے تسلسل کے ساتھ دل آزار حرکات کے ردِعمل کے طور پر مسلم ممالک کے عوام میں بے چینی اور غم وغصہ کے جو جذبات دیکھنے میں آئے ہیں ان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ روئے زمین پر رہنے والا ہر مسلمان اپنے دین اور پیغمبر ﷺ سے والہانہ محبت کے جذبات رکھتا ہے۔

صفحہ 444

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

پاکستان میں یہ ردعمل اور بھی زیادہ شدت سے سامنے آیا۔ جہاں ان مظاہروں میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ حکومت پاکستان نے ابتداء میں تو بہت سست روی کا مظاہرہ کیا۔ مگر عوام کا رویہ دیکھ کر انہیں بھی یہ کہنا پڑا کہ یہ ایک نہایت غلط اور دل آزار حرکت ہے۔ اور یہ کہ ایسی حرکات کے ذریعے پوری دنیا کے مسلمانوں کو دکھ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارے خیال میں حکومت پاکستان کے اقدامات ناکافی اور رسمی نوعیت کے ہیں۔ انہیں اسلامی اور دینی جذبات سے سرشار ہوکر اقوام عالم کے سامنے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہئے اور درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں۔

اسلام کے دفاع کے لئے بچوں کی ذہنی تربیت کی ضرورت

کرنی ہے تا کہ وہ بچپن ہی سے کفر کی سازشوں سے آگاہ ہو جائیں اور ان کے دلوں میں کفار کی نفرت جاگزیں ہو جائے۔ ہمیں اپنی روشن تاریخ میں عظیم ماؤں کی طرف سے اپنی اولاد کی ایسی تربیت کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ ہر ماں کو چاہئے کہ وہ یہ عہد کرلے کہ ہر رات سونے سے قبل کم از کم ۲۰ سے ۲۵ منٹ کے دورانیے میں وہ اپنے بچوں کی ذہنی تربیت کرے اور انہیں اسلام کی جہادی تاریخ کے سنہری کارناموں میں سے ایک واقعہ کہانی کی صورت میں سنائے تاکہ انہیں صلاح الدین ایوبی رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی، محمد بن قاسم رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اور غازی علم الدین شہید رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی جیسے اسلاف کے کارناموں سے روشناس کرایا جاسکے اور وہ جوانی کی حدود میں قدم رکھتے ہی ایک ایسے حقیقی مسلمان کی صورت اختیار کرلیں جس کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا تھا:

”رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن“

سیرت طیبہ پر تحقیقی کام کی ضرورت

جائے اور موجودہ حالات کے تناظر میں سب سے اچھی کتاب لکھنے والے مصنف کو گرانقدر

صفحہ 445

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

انعام سے نوازا جائے اور پھر اس کتاب کو دنیا کی تمام زبانوں میں ترجمہ کروا کے شائع کیا جائے۔

ناموس رسالت ﷺ کی خاطر گھروں سے نکلنے والے جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان سب لوگوں کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے تاکہ لوگوں کے جذبات پرسکون ہو جائیں، بلکہ حکومت خود احتجاج کو مدنظر رکھے اور مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کو جانے۔

اسلامی کارناموں سے آگاہی کے لئے اساتذہ کی بہت بڑی ذمہ داری

اساتذہ اپنے پیریڈ کے کم از کم آخری دس منٹ اس کے لئے مختص کر دیں۔ جس میں وہ اپنے طلبہ کو ایک مختصر حدیث با آواز بلند کہلوائیں اور پھر اس حدیث کا مطلب سمجھا دیں۔ آخر میں طلبہ سے پوچھیں کہ یہ حدیث ہم سے کیا تقاضا کرتی ہے؟

اساتذہ اپنے طلبہ کو کم از کم ۴۰ احادیث اور ادعیہ ماثورہ یاد کروا دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں اسلاف کے کارناموں سے بھی آگاہ کریں اور انہیں اسلاف کی کتابیں پڑھنے کی تلقین کریں۔ کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر بچے اساتذہ کی باتوں کا اثر دوسروں کی نسبت بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔

آج اگر ہم ماں، بہن اور بیٹی اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا عزم مصمم کر لیں تو یقیناً وہ وقت دور نہیں جب کفر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا اور غازی علم دین شہید کے مداح اور صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے شیر فتح یاب ہوں گے۔

آئیے۔ آج ہم عورتیں یہ ثابت کر دیں کہ ہم گھروں میں رہ کر بھی احتجاج میں حصہ لے سکتی ہیں۔ ایک ایسا خاموش احتجاج کہ جس کا انجام بے حد خوش کن ہوگا۔ ضرورت صرف اس ذمہ داری کے احساس کی ہے تا کہ ہم روز کے ۲۰ سے ۲۵ منٹ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لئے نکال سکیں۔ کیونکہ:

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ طیبہ کی عزت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
صفحہ 446

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اقوام متحدہ میں گستاخ رسول ممالک کے خلاف بل پیش کریں

جس میں یہ مطالبہ کیا جائے کہ عالمی سطح پر ذرائع ابلاغ کے لئے ایک ایسا قانون وضع کیا جائے جس میں دوسروں کے معتقدات اور دینی و مذہبی شخصیات کی توہین و تضحیک کو ممنوع قرار دیا جائے۔

ذرائع ابلاغ وانٹرنیٹ پر آپ ﷺ کی شان وعظمت کو واضح کیا جائے

اطلاعات ونشریات کو انٹرنیٹ اسلامی سائٹس کھول کر ان میں دین اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی شان وعظمت کو واضح کرنا چاہئے اور معترضین کے سوالات کے جوابات دینے چاہئیں۔

موجودہ عہد میں مغربی میڈیا کی جانب سے اسلام کے خلاف جو فکری اور ابلاغی جنگ شروع کی گئی ہے اس کا جواب حکومت کے زیر کنٹرول ذرائع ابلاغ کو بھر پور اور موثر طریقے سے دینا چاہئے اور مختلف جماعتوں کے علماء کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر آنے کی دعوت دینا چاہئے۔

تحفظ ناموس رسالت پر احتجاج کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے

عام کیا جائے اور پھر اس پر عمل کیا جائے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ حدیث کی کتابوں کی اشاعت اور تقسیم کی حوصلہ افزائی کرے۔

میرا تھن مخلوط ریس، کفار کے مطالبہ پر تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں اور توہین رسالت کے قانون کے خاتمہ جیسی حرکات کے ذریعے دشمنان اسلام کو خوش نہ کیا جائے۔ بلکہ دین اسلام کی سربلندی کے لئے عملی کوششیں کی جائیں۔

صفحہ 447

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

گستاخ رسول کے لئے بددعا کریں

ہر شخص سڑکوں پر آ کر اپنا احتجاج ریکارڈ نہیں کرا سکتا۔ لیکن ہر مسلم جو روزانہ پنج وقتہ نماز کی ادائیگی کا پابند ہے، ہر نماز کے بعد اور قبولیت دعا کے دیگر مواقع پر گستاخی کا ارتکاب کرنے والوں اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والوں کا یقین دلانے والوں اور ان کے لئے دل میں نرم گوشہ اور ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف بارگاہ رب العزت میں بددعا کر کے اللہ ذوالجلال کے رجسٹر میں اس کے دشمنان اور مخالفین کی فہرست میں اپنا نام ضرور لکھوا سکتا ہے۔

پاکستان میں توہین رسالت کے قانون کو منسوخ کرنے کا نقصان

بھی غور کرنا چاہئے بلکہ انہیں اب یہ بات سمجھ میں آجانی چاہئے کہ پاکستان میں نافذ قانون رسالت کس قدر مفید ہے؟ اور اس کی کس قدر شدید ضرورت ہے؟ لہذا اسے بالکل نہ چھیڑا جائے۔ اگر خدانخواستہ اس قانون کو منسوخ کیا گیا تو کوئی بھی ازلی بدبخت توہین رسالت کا ارتکاب کر کے ملکی امن وامان کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔

گستاخ رسول ممالک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کی ضرورت

تعلقات اس وقت تک لئے منقطع کر لئے جائیں اور ان کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے، جب تک کہ ان کی فرعونی گردنیں سرنگوں نہ ہو جائیں، اگر مسلمان اس حکمت عملی کو ہوش مندی اور پر امن طریقہ سے اپنائے رکھیں گے تو انشاء اللہ! یہ فرعون بہت جلد گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

برادران اسلام! ہم ان اقوام کی مصنوعات ترک کر کے کسی نقصان اور گھاٹے میں نہیں جائیں گے بلکہ کم از کم ان کے ہاتھ مضبوط کرنے والوں کی فہرست سے نکل جائیں گے۔ ذرا

صفحہ 448

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سوچئے! کہ جس نبی کی دنیا و آخرت کی فکر یارب امتی امتی تھی، کیا اس کی خاطر ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ کیا ہم اس کے لئے اپنا تعیش اور منہ کا چٹخارہ اور زبان کا وقتی اور عارضی ذائقہ بھی قربان نہیں کر سکتے۔

لہٰذا امت مسلمہ کے افراد پر انفراداً واجتماعاً لازم وضروری ہے کہ ان یہود ونصاریٰ کی تمام مصنوعات سے مکمل احتراز کریں اور انفراداً واجتماعاً معاشی بائیکاٹ کریں۔ اگر ہم سب ایسا کرلیتے ہیں تو انشاء اللہ العزیز امید ہے کہ ہم اپنے ایمان کا تحفظ بھی کرسکیں گے اور اپنے رب کو راضی کرکے نبی پاک ﷺ کے سامنے سرخرو ہوسکیں گے۔

اگر ہم اعدائے اسلام اور دشمنان اسلام کے خلاف تلوار اٹھانے کا حکم خداوندی پورا نہیں کرسکتے تو کم از کم اتنا تو ہمارے بس میں ہے کہ دین ومذہب اور سرور دو عالم ﷺ کے ناموس پر حملہ کرنے کے لئے ان کے ہاتھ مضبوط نہ کریں۔ اگر اہل اسلام اور اسلام کے تحفظ کے لئے ہم کچھ نہ کرسکیں تو کم از کم ان کے خلاف دانستہ یا نادانستہ ہتھیار تو نہ بنیں۔ اللہ اپنے محبوب ﷺ کے ناموس کی خاطر ہمیں بھی قبول فرمائیں۔ آمین۔

ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مؤثر لائحہ عمل کی چند صورتیں

خیالات، شبہات وپروپیگنڈے کا مقابلہ کیا جائے۔

کے نمائندوں کے ساتھ مذاکروں کا اہتمام کیا جائے۔

جائے۔

اور کردار اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اور اصحاب اور آپ ﷺ کے دشمنوں کی مکمل تفصیل پر مبنی ہو اور آپ ﷺ کی صفات سے مزین ہو۔

صفحہ 449

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سیرت۔

تاریخی و جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کریں۔

سے کریں۔

کرنا۔

جائیں۔

اور کیسٹیوں کے لئے جگہیں مختص کی جائیں۔

لائبریریوں میں تقسیم کیا جائے۔

رسائل کا اجراء کیا جائے۔

اجراء کے تعاون کے لئے شعبہ مالیات کا قیام عمل میں لایا جائے۔

شخصیت رسول ﷺ اور دین اسلام کے مطالعے کی دعوت دی جائے۔

اشاعت کی جائے۔

دعوت رسول اللہ ﷺ کو بیان کیا جائے۔

صفحہ 450

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موضوع ........ 21

گستاخ رسول یہود و نصاریٰ کی دل سوز تحریرات

مغربی دنیا کی مذموم دریدہ دہنی

ان کا بس نہیں چلتا، ورنہ وہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی طرح انسانیت کو نبی کریم ﷺ کے دامن رحمت سے کاٹ دیں؟ چنانچہ انہوں نے چودہ سو سال پہلے ہی یہ ہرزہ سرائی کی تھی کہ نعوذ باللہ! آپ ﷺ بے نام و نشان ہو جائیں گے۔ مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے طے فرما رکھا ہے کہ:

﴿اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُ﴾

آپ ﷺ نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے دشمن ہی بے نام و نشان ہوں گے۔

صرف یہی نہیں، بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے وعدہ فرما رکھا ہے کہ:

﴿وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ﴾

ہم آپ ﷺ کے نام اور مقام کو بلند سے بلند تر کریں گے۔

یوں تو دشمنان اسلام اور یہود و نصاریٰ کی انبیاء دشمنی، ان کی توہین و تنقیص کی تاریخ بہت طویل اور تکلیف دہ ہے، مگر گزشتہ چند مہینوں سے ان بد باطنوں نے حضرت خاتم النبین ﷺ کی شان میں جس بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ توہین، تنقیص اور گستاخی کا مظاہرہ کیا ہے، بلا شبہ وہ ان کی تاریخ کا سیاہ کارنامہ ہے۔ اس سے جہاں مغرب کا مکروہ اور سیاہ چہرہ بے

گستاخ رسول کا

نقاب ہو کر سامنے آ گیا والوں کی اعتدال پسندی و اطلاعات کے مطابق اس فتنہ

گستاخ رسول میـ

اس اخبار کا ایڈیٹر پڑھے لکھے اور صحافی اس کے ذاتی حلقے نبی اکرم ﷺ کی حیات اکرم ﷺ کے خاکے شائع آرٹسٹوں سے رابطے کئے تو ان آرٹسٹوں کا کہنا تھا ایسی حرکت کی تو ان کی زندگی جہاں ایک گستاخ فلم ساز ایک مسلمان نوجوان نے اس عدالت سے درخواست کی کہ رہا اور کسی دوسرے شخص نے ان آرٹسٹوں کا کہنا تھا ظاہر کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنے رضی اللہ عنہم کی ذات پر کسی رسک (خطرہ) لینے کے لـ

شرمناک خاکو

جب یہ مصنف ا

صفحہ 451

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

نقاب ہو کر سامنے آ گیا ہے، وہاں مسلمانوں کو بنیاد پرست، تنگ نظر اور مذہبی جنونی کہنے والوں کی اعتدال پسندی اور روشن خیالی کی حقیقت بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس اجمال کی تفصیل یہ ہے:

گستاخ رسول یہودی کا خاکہ بنانے کی ناپاک جسارت کرنا

اس اخبار کا ایڈیٹر پڑھے لکھے طبقے میں بہت مشہور ہے۔ ڈنمارک کے بے شمار لکھاری مصنف اور صحافی اس کے ذاتی حلقے میں شامل ہیں۔ ایڈیٹر کے لکھاری دوست نے پچھلے سال ستمبر میں نبی اکرم ﷺ کی حیات پر ایک گستاخانہ کتاب لکھی۔ وہ اس کتاب میں (نعوذ باللہ) نبی اکرم ﷺ کے خاکے شامل کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جب اس نے خاکے بنوانے کے لئے مختلف آرٹسٹوں سے رابطے کئے تو تمام آرٹسٹوں نے خاکے بنانے سے انکار کر دیا۔

ان آرٹسٹوں کا کہنا تھا کہ مسلمان اسے توہین رسالت سمجھتے ہیں اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ان کی زندگی خطرے کا شکار ہو جائے گی۔ وہ لوگ ہالینڈ کی مثال دیتے تھے جہاں ایک گستاخ فلم ساز نے ایک برہنہ عورت کے جسم پر آیت قرآنی لکھ دی تھی۔ بعد ازاں ایک مسلمان نوجوان نے اس فلم ساز کو قتل کر دیا۔ قتل کے بعد جب مقدمہ چلا تو اس نوجوان نے عدالت سے درخواست کی کہ مہربانی کر کے مجھے پھانسی کی سزا دی جائے۔ کیونکہ اگر میں زندہ رہا اور کسی دوسرے شخص نے میرے سامنے گستاخی کی تو میں اسے بھی قتل کر دوں گا۔

ان آرٹسٹوں کا کہنا تھا کہ اس قاتل نوجوان کا یہ بیان مسلمانوں کی ذہنیت اور طرز فکر کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنے مذہب، نبی اکرم ﷺ کی مقدس و مطہر شخصیت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ذات پر کسی قسم کا کمپرومائز (سمجھوتہ) نہیں کرتے۔ چنانچہ ہم لوگ اپنی جان کا رسک (خطرہ) لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

شرمناک خاکوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد اشاعت

جب یہ مصنف ہر طرف سے مایوس ہو گیا تو وہ جے لینڈ پوسٹن (Jyllands

صفحہ 452

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

(Posten) کے ایڈیٹر کے پاس آ گیا اور اس نے اس سے شکایت کی کہ ہمارے ملک کے تمام آرٹسٹ بزدل ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کے پیغمبر (ﷺ) کا خاکہ تیار کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

ایڈیٹر نے مصنف سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ”بزدلی“ کی ساری وجوہ بتادیں۔

ایڈیٹر نے اس کے جواب میں کہا: آرٹسٹ بلاوجہ پریشان ہیں، ڈنمارک ایک لبرل اور سیکولر ملک ہے اور اس میں آباد تمام مسلمان بھی ڈنمارک کے لوگوں کی طرح ہیں۔ یہ لوگ ڈنمارک کے لوگوں کے کلچر میں رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ہماری زبان بولتے ہیں، ہمارے کپڑے پہنتے ہیں، ہمارے جیسے کھانے کھاتے ہیں اور ان میں بھی وہ تمام بری عادتیں موجود ہیں جو ہمارے لوگوں میں ہیں۔ لہٰذا ڈنمارک کے مسلمان اس پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کریں گے۔

مصنف نے اس کے جواب میں کہا: مسلمان ذرا مختلف قسم کی قوم ہے۔ یورپ اور امریکا کا عیسائی آپس میں تقسیم ہے۔ وہ ناروے کا عیسائی، ڈنمارک کا عیسائی اور برطانیہ کا عیسائی ہے۔ چنانچہ ہم سب کے مسائل مقامی اور اپنے اپنے ملک تک محدود ہوتے ہیں۔ مسلمان بھی آپس میں تقسیم ہیں، لیکن بعض ایسی باتیں، بعض ایسے مسائل ہیں جن پر ان لوگوں کی سوچ ایک ہوتی ہے۔ جن پر ان کا ردعمل یکساں ہوتا ہے۔ یہ لوگ ان باتوں پر نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک ایک ہی قسم کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

مصنف کے جواب پر ایڈیٹر کو بڑی حیرت ہوئی۔ لہٰذا اس نے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اخبار کے کارٹونسٹ کو بلایا، اسے آئیڈیا دیا اور اس کارٹونسٹ نے گستاخی کا عمل شروع کر دیا۔ اس بدبخت نے نبی کریم ﷺ کے (نعوذ باللہ) بارہ خاکے بنائے اور یہ خاکے ایڈیٹر کے حوالے کر دیئے۔ ایڈیٹر نے ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء کو اخبار میں یہ خاکے شائع کر دیئے۔

آپ ﷺ کی تصوراتی شبیہہ پر مبنی خاکوں کے دل آزار عکس

والے ۱۲ عدد خاکوں میں دبے خُبثِ باطن کی طرف۔ ان بارہ خاکوں میں ایک جگہ نبی اکرم ﷺ کو ایک گدھے کی رسی پکڑے جاتے دکھایا گیا ہے۔ دوسرے میں بے ہنگم داڑھی

گستاخ رسول کا عبرتناک

مونچھوں اور پگڑی کے ساتھ جس م کے درمیان ادھوری سی تصویر، چو پانچویں اور چھٹے میں کارٹون بنا آنکھوں والی دوشیزاؤں کے درمی ہے۔ آٹھویں خاکے میں ہاتھ پھی میں دکھاتے تحریر لکھی گئی ہے: We ran out of Virgins! نویں خاکے میں بلیک بورڈ پر ہے، دسویں خاکے میں کرسی پر بیٹھا ا پڑھ رہا ہے: گیارہویں خاکے میں دیوار پ نیچے مختلف انداز کے لوگ کھڑے ہیں میں شاہی لباس میں ملکہ کے ساتھ دکھ

یہ خاکے سب سے پہلے ڈنمارک اس کے بعد بعض یورپی اور امریکی اخ اس حقیقت کے کہ دنیا کے کونے کو ہو رہی ہے۔ متعلقہ ممالک کی انتہائی راضی نہ ہی حکمران آمادہ، بلکہ اس شر

توہین آمیز خاکوں

ڈنمارک کے مسلمانوں نے احتجاج نے نہایت سلیقے سے اس احتجاج کا احتجاج اور مغرب کی ڈھٹائی کی تفصی

صفحہ 453

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موچھوں اور پگڑی کے ساتھ جس میں سامنے کلمہ طیبہ لکھا ہے، تیسرے خاکے میں چاند ستارے کے درمیان ادھوری سی تصویر، چوتھے خاکے میں اوپر یہود کا چھ کونے کا ستارہ نیچے چاند ہے، پانچویں اور چھٹے میں کارٹون بنائے گئے ہیں تو ساتویں میں دائیں بائیں دو برقعہ پوش ننگی آنکھوں والی دوشیزاؤں کے درمیان ہاتھ میں خنجر پکڑے اور آنکھوں پر پٹی لگائے دکھایا گیا ہے۔ آٹھویں خاکے میں ہاتھ پھیلائے ہوئے کچھ لوگوں (خواتین) کو کارٹونوں کی صورت میں دکھاتے تحریر لکھی گئی ہے:

Stop, Stop, We ran out of Virgins!

نویں خاکے میں بلیک بورڈ پر لکھی عربی تحریر کی طرف ایک شخص کو اشارہ کرتے دکھایا گیا ہے، دسویں خاکے میں کرسی پر بیٹھا ایک شخص ایک داڑھی والے کی تصویر بنارہا ہے اور کچھ تحریر پڑھ رہا ہے:

گیارہویں خاکے میں دیوار پر ایک سے سات نمبر تک لکھے دکھائے گئے ہیں۔ جن کے نیچے مختلف انداز کے لوگ کھڑے ہیں۔ درمیان میں ایک تحریر ہے۔ بارہویں خاکے میں دربار میں شاہی لباس میں ملکہ کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ نیچے تحریر ہے جو پڑھی نہیں جارہی۔

یہ خاکے سب سے پہلے ڈنمارک کے اخبار نے شائع کئے، پھر ناروے کے اخبار نے ۔ اس کے بعد بعض یورپی اور امریکی اخبارات نے انہیں کمال دیدہ دلیری سے شائع کیا۔ باوجود اس حقیقت کے کہ دنیا کے کونے کونے سے اس پر صدائے احتجاج بلند ہوئی اور تسلسل سے ہورہی ہے۔ متعلقہ ممالک کی انتہائی شرمناک ڈھٹائی ہے کہ معذرت کرنے پر نہ اخبارات راضی نہ ہی حکمران آمادہ، بلکہ اس شرمناک فعل پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

توہین آمیز خاکوں پر مسلمانوں کا پرامن احتجاج و غصہ

ڈنمارک کے مسلمانوں نے احتجاج کیا تو اس کو خاطر میں نہیں لایا گیا ، اس کے بعد مسلمانوں نے نہایت سلیقے سے اس احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا عزم کیا۔ ان خاکوں کی اشاعت ، ان پر احتجاج اور مغرب کی ڈھٹائی کی تفصیلات روز نامہ جنگ کراچی کے حوالے سے کچھ یوں ہیں:

صفحہ 454

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

جے لینڈ پوسٹن (JYlland Posten) ڈنمارک کا ایک محدود تعداد میں چھپنے والا مقامی اخبار ہے۔ جان ہیمنسن اس کے ایڈیٹر ہیں۔ اپنے اخبار کی معمولی شہرت کے لئے ایڈیٹر نے ۳۰ ستمبر کو نازیبا کارٹونز چھاپے، جن کی تعداد ۱۲ تھی۔ اخبار ڈینش زبان میں چھپتا ہے، اس لئے ڈنمارک میں رہائش پذیر بہت سے مسلمان اس کو نہیں پڑھتے۔

دس جنوری ۲۰۰۶ء کو ناروے کے ایک جریدے ”میگزینٹ“ نے یہ خاکے ”ری پرنٹ“ کر دیئے۔ یہ ایک محدود سرکولیشن کا جریدہ تھا۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اس گستاخی سے ناواقف رہے۔ لیکن اگلے دن ناروے کے ایک بڑے اخبار ”واک بلادت“ نے یہ خاکے اپنے انٹرنیٹ ایڈیشن میں شامل کر لئے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے یہ گستاخی پوری دنیا میں پھیل گئی جس کے بعد اسلامی دنیا کی طرف سے ردعمل شروع ہو گیا۔

یہ حج کے دن تھے۔ چالیس لاکھ کے قریب مسلمان سعودی عرب میں جمع تھے، وہاں لوگوں نے ان خاکوں کے بارے میں گفتگو شروع کر دی۔ بات چلتے چلتے امام کعبہ تک جا پہنچی۔ انہوں نے اس گستاخی کا شدید نوٹس لیا۔ حج کے بعد جمعہ آیا تو سعودی عرب کی تمام مساجد میں آئمہ کرام نے اس سانحے کا ذکر کیا اور تمام مسلمانوں سے عملی احتجاج کی درخواست کی۔

ڈنمارک کی مصنوعات کا سب سے پہلے بائیکاٹ کرنے والا ملک

خریدار ہے۔ ڈنمارک کی ایک کمپنی سعودی عرب کو ہر سال پانچ سو ملین ڈالر کی ڈیری مصنوعات بیچتی ہے۔ عوام نے ان مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا۔ لوگ ڈیپارٹمنٹل اسٹورز میں داخل ہوئے اور ڈینش ڈیری مصنوعات اٹھا کر باہر پھینک دیں۔ لوگوں نے اپنے ذاتی فریجوں سے بھی ڈینش مصنوعات نکال کر کوڑے دانوں میں پھینک دیں۔

صرف دو دن میں یہ کمپنی سعودی عرب میں دیوالیہ ہو گئی۔ عوامی احتجاج کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب نے ۲۶ جنوری کو ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔ اس کے بعد یہ احتجاج عرب امارات، ایران، لیبیا، مصر اور فلسطین سمیت پورے عالم اسلام میں پھیل گیا۔

صفحہ 455

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

پرامن احتجاج میں وسعت اور گستاخ ممالک کا بائیکاٹ

نوجوانوں نے ڈنمارک اور ناروے کے سفارتخانے جلا دیے۔ بیروت میں ڈینش ایمبیسی جلا دی گئی۔ نابلس میں فرانسیسی کلچرل سینٹر پر قبضہ ہو گیا۔ لندن میں ڈینش ایمبیسی کے باہر مارچ ہوا۔ برلن میں مسلمانوں اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں اور قاہرہ اور ایتھنز میں ہزاروں لوگ سڑک پر آگئے۔ غرض پورا عالم اسلام سراپا احتجاج بن گیا۔

فروری کے پہلے ہفتے تک بظاہر یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ خاکے محض اتفاق اور ایک ایڈیٹر کی بے وقوفی ہیں۔ لیکن ناروے کے میگزین نے ان بجھی چنگاریوں کو ہوا دی اور نارویجن اخبار نے یہ چنگاریاں اڑا کر پوری دنیا میں پھیلا دیں تو معلوم ہوا کہ یہ گستاخی محض بے وقوفی یا اتفاقی نہیں تھا۔ یہ عالم اسلام کے خلاف ایک گہری سازش تھی۔ اس سلسلے میں ہم یورپ کے دوسرے اخبارات کو بطور دلیل پیش کر سکتے ہیں۔

جس وقت پورا عالم اسلام چراغ پا تھا اس وقت فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین کے اخبارات نے بھی یہ خاکے شائع کر دیئے۔ یہ خاکے فرانس کے اخبار فرانس سوئیز، جرمنی کے اخبار ڈائی ویلٹ اور بلائیز ڈی ٹنگ اور اٹلی کے اخبار لاشٹامیا میں شائع ہوئے۔ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ یہ اتفاق نہیں تھا اور اس کے پیچھے ایک لمبی چوڑی سازش ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سازش ہے کیا؟

آج سے پانچ برس پہلے مجھ سے ایک یورپی اسکالر نے عجیب سوال پوچھا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ میں ایسے بے شمار روشن خیال اور لبرل مسلمانوں کو جانتا ہوں جو شراب پیتے ہیں، جوا کھیلتے ہیں، جو غیر فطری تعلقات کے حامی ہیں اور جو تیس تیس برس سے یورپ میں رہ رہے ہیں، جو ہم جیسے ہیں، لیکن جب ان کے سامنے نبی اکرم ﷺ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے ردعمل اور ایک کٹر مولوی کے ردعمل میں کوئی فرق نہیں ہوتا، ایسا کیوں ہے؟ ہم اس بات پر حیران ہیں۔

اس اسکالر کے سوال میں اس سازش کی جڑیں پیوست ہیں۔ یورپ اور امریکہ کے لبرل دانشور ہر پانچ دس برس بعد اس قسم کی حرکت کرتے ہیں۔ جس کے ذریعے یہ مسلمانوں کے لبرل

صفحہ 456

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام ازم کی سطح چیک کرتے ہیں۔ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہم اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے کس درجے پر فائز ہیں۔ لہٰذا اگر یہ محض اتفاق یا بے وقوفی ہوتی تو یہ بے وقوفی جے لینڈ پوسٹن تک محدود رہتی۔ یہ گستاخی میگزینٹ اور واک بلادت تک نہ جاتی۔

(جاوید چوہدری)

مسلمانوں کے ردعمل کا اثر

ڈنمارک میں مقیم تمام سفیروں کو طلب کر کے اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔ لیکن مسلمان سفیروں نے کہا کہ معاملہ اب حکومتی ذرائع سے دور نکل گیا اور عوام میں جا چکا ہے۔

اگر واقعات کی یہ ترتیب دیکھ لی جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے اپنا ردعمل انتہائی شائستہ اور مہذب انداز میں اور سفارتی اخلاقیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کیا۔ اور مسئلہ کا منصفانہ اور باعزت حل چاہا۔ لیکن ان کو دھتکار دیا گیا اور ان کے جذبات جان بوجھ کر بھڑکائے گئے اور اب بھی مختلف بیانات میں ایسا کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک فطری ردعمل تھا اور ہے، ایسی مذموم حرکت سے اسلام دشمنوں کے علاوہ کسی کو کوئی فائدہ نہیں۔

پھر بھی یورپی پارلیمنٹ اور یورپی کمیشن اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ آزادی اظہار کی بات کرتے ہیں۔ حالانکہ جرمنی میں ہٹلر سے ملتا جلتا اشتہار چھاپنے پر، جس سے اس کی تعریف جھلکتی ہو، سات سال قید ہے۔ واہ! ہٹلر سے ملتی جلتی تصویر چھاپنا تو قانوناً جرم ہے، لیکن مسلمانوں کی دل آزاری اور ان کے نبی کی توہین آزادی صحافت ہے۔ یہ ہیں مہذب، تعلیم یافتہ یورپ کی اقدار۔

(روزنامہ جنگ کراچی، ۸ فروری ۲۰۰۶ء)

یہود و نصاریٰ کی بڑھتی ہوئی شرانگیزی اور خاکوں کی بار بار اشاعت

تک محدود نہیں رہی۔ اگر بالفرض یہ خاکے لاعلمی میں شائع ہوئے تھے، یا آزادی اظہار کی غلط فہمی کی وجہ سے ایسا ہوا تھا، تو جب یہ معلوم ہو گیا کہ ان کی اشاعت سے ۵۷ اسلامی ممالک اور دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے تو نہ صرف یہ کہ ان کی اشاعت روک

گستاخ رسول کا دی جاتی بلکہ ان کی اشا ڈنمارک حکومت کا فرض کارروائی کرتی ۔ مگر افسوس کہ اس بلکہ دوسرے یورپی ممالک جنوری کو یہ خاکے نارو ناروے کے ایک بڑے ا ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ ا جبکہ یکم فروری ۲۰۰۶ء کو فر انہیں شائع کر کے ان گستاخ کو دوبارہ شائع کر کے مس انکوائرر‘ اور ’نیویارک سن‘ دشمنی کا مظاہرہ کیا۔ ۹ فروری میوزیم کے ڈائریکٹروں

ناپاک

تلاش کرنے سے پہلے اگر hind the media ہٹاتے جائیں تو ان تہوں کی ویسے ان خاکوں میں اسلام دشمنی میں یہود ہر دو کے کندھے استعمال کرتے

صفحہ 457

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

دی جاتی بلکہ ان کی اشاعت پر ایڈیٹر اور آرٹسٹ کو مسلمانوں سے معافی مانگنا چاہئے تھا، بلکہ ڈنمارک حکومت کا فرض تھا کہ وہ اس بد باطن آرٹسٹ، ایڈیٹر اور اخبار کے خلاف تادیبی کارروائی کرتی۔

مگر افسوس کہ اس کے برعکس اس نے اس کی پشت پناہی شروع کر دی۔ صرف یہی نہیں بلکہ دوسرے یورپی ممالک نے بھی اس بے حیائی و بے شرمی میں ان کا ساتھ دیا۔ چنانچہ ۱۰ جنوری کو یہ خاکے ناروے کے ایک جریدے ”کرسچین میگزین“ نے شائع کئے۔ اسی طرح ناروے کے ایک بڑے اخبار ”داگ بلاوت“ نے بھی انہیں انٹرنیٹ پر جاری کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ اور تھائی لینڈ کے اخبارات نے بھی ان دل آزار خاکوں کو شائع کیا، جبکہ یکم فروری ۲۰۰۶ء کو فرانسیسی میگزین ”چارلی ہیب دو“ اور روزنامہ ”سائر فرانس“ نے بھی انہیں شائع کر کے ان گستاخوں کا ساتھ دیا۔ اسی طرح ۸ فروری کو ان جریدوں نے ان خاکوں کو دوبارہ شائع کر کے مسلمانوں کے دل زخمی کئے اور ۸ فروری کو ہی امریکہ کے ”فلاڈلفیا انکوائرر“ اور ”نیو یارک سن“ نے بھی ان دل آزار خاکوں کو شائع کر کے اپنی بدبختی اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا۔ ۹ فروری کو یہ خاکے یمن کے ایک اخبار نے شائع کئے اور ۱۰ فروری کو روسی میوزیم کے ڈائریکٹروں نے ان خاکوں کی باقاعدہ اشاعت کا اعلان کیا۔

(از مولانا سعید احمد جلال پوری)

ناپاک جسارت کے اصل مجرم یہودی ہیں

تلاش کرنے سے پہلے اگر ہم بندوق کے پیچھے بندوقچی کے قاعدہ و کلیہ کی روشنی میں Man Behind the media تلاش کر لیں تو بات سمجھنا سہل ہو جائے گا۔ اگر ہم پردے ہٹاتے جائیں تو ان تہوں کی تہہ میں آپ یہود کو چھپا پائیں گے۔

ویسے ان خاکوں میں سے خاکہ نمبر ۴ بھی یہودی موجودگی پر شبہات پیش کر رہا ہے۔ اسلام دشمنی میں یہود ہر دور میں سرفہرست رہے ہیں اور ہمیشہ زیر زمین رہتے ہوئے دوسروں کے کندھے استعمال کرتے ہوئے دشمنی کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ ان کے طے شدہ منصوبے

صفحہ 458

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

میں یہ تحریر موجود ہے کہ ہم گوئم (غیر یہود) کے دلوں سے ایمانیات کو کھرچ دیں گے۔ ہم غیر یہود کے تصور خدا کی روح کی دھجیاں بکھیر کر اس کی جگہ مادی فوائد اور حسابی قاعدے لے آئیں گے۔

(Protocols:4,3)

طویل عرصے سے ہم نے یہ محنت کی ہے کہ غیر یہود میں پاپائیت اور مولویت کو بے وقار بنادیں گے اور سینہ دھرتی پر ان کے مشن کو تباہ و برباد کردیں گے ۔ جو ہمارے راستے کے لیے سنگ گراں سے کم نہیں ہیں۔

(Ptotocols:17:2)

توہین آمیز خاکوں پر مبنی ویب سائٹس کا اجرا

نیویارک ٹائمز بھی اس دریدہ دہنی میں کسی سے پیچھے نہیں رہے، بلکہ اخباری اطلاعات کے مطابق اب امریکہ میں اس کے لئے باقاعدہ ایک ویب سائٹ بنالی گئی ہے جس پر دنیا جہاں کے شقی، ازلی، توہین رسالت اور عداوتِ اسلام پر مبنی خاکے بھیج اور دیکھ سکتے ہیں۔

مسلمانوں کے ایمان کے لیول کو جانچنے کیلئے یورپی فارمولا

اسلام پر رکیک حملوں کا سلسلہ سلطان صلاح الدین رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى کے دور سے شروع ہوا تھا۔ اس دور میں یہودیوں اور عیسائیوں نے ایک سازش کے تحت شعائر اسلام اور مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کا مذاق اڑانا شروع کیا تھا۔ ان حرکتوں کے ردِعمل میں صلیبی جنگیں شروع ہوگئیں اور یہ سلسلہ مسلمانوں نے جیت لیا تھا لیکن سازشوں کا عمل اسی طرح چلتا رہا۔ شدت پسند عیسائی وقتاً فوقتاً گستاخی کے مرتکب ہوتے رہے اور اس کے جواب میں مسلمانوں کے ردِعمل کا مظاہرہ دیکھتے رہے۔

میں نے برسوں پہلے کسی نومسلم کی ایک کتاب پڑھی تھی یہ صاحب اسلام قبول کرنے سے پہلے یورپ کے کسی چرچ کے پادری رہے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا: مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی توہین ایک سازش کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ

صفحہ 459

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

مسلمان کس حد تک مغربی تہذیب میں رنگے جاچکے ہیں۔ اور ان کی برداشت کا لیول کیا ہے؟ یہ لوگ اس قسم کی توہین کے ذریعے مسلمانوں کی برداشت کا امتحان لیتے ہیں۔ میں نے جب یہ چیز پڑھی تو مجھے یورپ کی وہ تمام حرکتیں یاد آگئیں جن کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی تھی۔ مجھے اس وقت معلوم ہوا۔ یہ تمام حرکتیں ایک تجربہ، ایک ٹیسٹ ہوتی ہیں اور اسکا مرکز عموماً یورپ کے ماڈرن معاشرے ہوتے ہیں اور یہ لوگ اس قسم کی حرکتوں کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی غیرت کی کیا پوزیشن ہے؟ مسلمان کس حد تک ”روشن خیال“ اور ”اعتدال پسند“ ہوچکے ہیں؟

مجھے معلوم ہوا اس قسم کی حرکتیں ہر پانچ سات برس بعد ایک تواتر کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کبھی یہ سازش امریکہ سے ظاہر کی جاتی ہے، کبھی یہ مشرق بعید چلی جاتی ہے اور کبھی اس کا مرکز یورپ ہو جاتا ہے اور کبھی سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی شکل میں عالم اسلام میں بھی ایسے گستاخ پیدا کر دیئے جاتے ہیں اور ان کے بعد چرچ کے بے شمار ادارے ایسی گستاخیوں کے ردعمل کا مطالعہ کرتے ہیں۔

کارٹونوں کے اس سلسلے کا تعلق بھی اسی سازش سے ہے، لیکن پہلی مرتبہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ عالم اسلام اس سازش کے خلاف ڈٹ جائے گا اور وہ عملی طور پر یورپ کی طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرے گا۔ اس سے قبل بھی بے شمار مرتبہ ایسی گھناؤنی حرکتیں ہوئیں، لیکن اسلامی ممالک بالخصوص عربوں نے یورپی مصنوعات کے بائیکاٹ کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا، لیکن اس بار سب سے پہلے عرب سے بائیکاٹ کا اعلان ہوا اور اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہونا شروع ہو گیا۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا یہ اتحاد یورپ کو بہت جلد پسپائی پر مجبور کر دے گا۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی یورپ پسپا ہو جائے گا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ یورپ کے سفارتی اور سیاسی لشکر تو پسپا ہو جائیں گے لیکن مذہبی حلقے اپنی شکست تسلیم نہیں کریں گے۔ یہ لوگ آنے والے دنوں میں مزید منصوبہ بندی کے ساتھ عالم اسلام پر حملہ آور ہوں گے اور یہ اس جنگ میں اپنا سارا میڈیا جھونک دیں گے۔ میں جوں جوں ان حقائق پر غور کرتا ہوں، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ صلیبی جنگوں کے ایک بہت بڑے دہانے پر بیٹھے ہیں۔

صفحہ 460

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

مجھے محسوس ہوتا ہے بہت جلد صلیبی جنگوں کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

(از یاسر محمد خان)

آپ ﷺ کی زندگی پر مبنی دل آزار فلمیں (نعوذ باللہ)

بنائی۔ جس میں ایک بد بخت نے نعوذ باللہ نبی ﷺ کا کردار ادا کیا۔

دسمبر ۱۹۹۷ء میں برطانیہ کے ایک چینل S4C نے نبی ﷺ کی زندگی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق ایک فلم دکھائی۔

بی بی سی کے رسالے ”لندن کالنگ“ کے جنوری ۱۹۹۶ء کے شمارے کے سرورق پر نبی ﷺ کی مع فرشتوں کے تصویر شائع کی گئی۔

آپ ﷺ کی تصویروں پر مبنی کتابچہ کی اشاعت

Islam" Picture Reference-28 شائع ہوا۔ اسلام کے ”تعارف“ کے حوالے سے چھپنے والی کتابوں میں سے یہ ایک تھا، اس کتابچے میں نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کے مختلف مراحل کو قلمی خاکوں اور تصاویر سے ظاہر کیا گیا تھا۔

کتابچہ کے صفحہ ۱۲ اور ۵،۴ پر رسالت مآب ﷺ کی عملی زندگی سے متعلق قلمی خاکے بنائے گئے ہیں۔ مثلاً فرشتے کا آپ ﷺ کی والدہ کو خوشخبری اور بیٹے کا نام محمد رکھنے کی تاکید، واقعہ معراج، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح، غار ثور میں پناہ، مدینہ کے راستے میں بدوی کے خیمہ میں بکری کا دودھ دوہنا، مسجد نبوی کی تعمیر، مدینہ میں استقبال، مکہ کے لوگوں کا ہجرت کے وقت پتھر مارنا اور موت کے فرشتے کا آنا وغیرہ۔

صفحہ نمبر ۶ پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، صفحہ نمبر ۷ پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قلمی تصاویر ہیں۔ صفحہ ۱۷ پر مسلم دنیا کے نقشے کے ساتھ معراج پر جانے کا کارٹون دیا گیا ہے۔ جبکہ صفحہ ۱۸ پر عرب سرداروں کے مابین حجر اسود کے قضیے میں نبی اکرم ﷺ کی مصالحت کی تصویر کشی کی گئی ہے اور صفحہ ۱۹ پر غار ثور میں رحمۃ للعالمین ﷺ کو حضرت ابوبکر صدیق

صفحہ 461

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ کے ہمراہ بیٹھے اور ایک طرف حضرت اسماء رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهَا کو بکری کا دودھ نکالتے ہوئے دکھایا گیا۔

آپ ﷺ کی زندگی پر مبنی دل آزار کتب

کیا۔ اس کی چوبیسویں جلد میں صفحہ ۱۴۰۶ پر اسلام کے بارے میں درج باب میں نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تصاویر شائع کیں۔

اسی طرح ایک مذہبی دانشور ہوشٹن اسمتھ نے تقابل ادیان کے موضوع پر ”دی السٹریٹڈ ورلڈ ریلجنز“ اے گائیڈ ٹو آور وزڈم ٹریڈیشن نامی کتاب لکھی اس کتاب میں اسلام کے بارے میں مختص باب میں (صفحہ ۱۵۴ تا ۱۷۸) نبی کریم ﷺ کی پانچ فرضی تشبیہیں بھی شامل اشاعت تھیں۔

انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن کتاب کے مصنف بی ٹی بٹی نے اس کتاب کے صفحہ ۵۰۹ پر آپ ﷺ کی خیالی تصویر بنائی۔

لندن آبزرور نے اپنے جریدے میں For fulfillment the quest کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا۔ اس میں دنیا کی نامور شخصیات کے ضمن میں سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ کی شبیہ دی گئی تھی۔

اپریل ۱۹۹۸ء میں کرونیکل سافٹ ویئر کمپنی نے انسائیکلو پیڈیا آف ہسٹری نے ایک ڈسک بنائی۔ اس میں تاریخ عالم کی اہم شخصیات کی سوانح عمریاں بمع ان کی تصویروں کے ساتھ دکھائی گئیں۔

صفحہ 462

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

رسول عربی ﷺ کو بھی فرضی شبیہ کے ساتھ دکھا گیا۔ اس میں آپ ﷺ پر عمامہ باندھے کندھوں پر سرخ کپڑا ڈالے اور ہاتھ میں پرچم تھامے ہوئے تھے۔ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میں بھی نبی اکرم ﷺ کے تذکرے کے ساتھ ان کی خیالی تصویریں شائع کی گئی ہیں۔ اسی طرح امریکی سپریم کورٹ میں دنیا کے معروف قانون دانوں کے تصویری خاکے آویزاں کئے گئے۔ ان میں حضرت محمد ﷺ کا تصویری خاکہ بھی شامل تھا۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ خاکے ۱۹۲۰ء میں ایڈولف وائسن نامی شخص نے بنائے تھے۔

ان واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اعداء مسلم کی طرف سے یہ ناپاک سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ لیکن توہین رسالت کا اس قدر کھلے عام مظاہرہ اس سے قبل دیکھنے میں نہ آیا تھا۔ حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ناپاک اور گھناؤنی سازش دشمنان دین کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ وہ امت مسلم کو روشن خیالی، اعتدال پسندی اور تن آسانی کا عادی بنا کر ان کے مذہبی پیشواؤں کی تکذیب کرتے ہیں۔ پھر اندازہ لگاتے ہیں کہ ان میں کتنی دینی حمیت و غیرت باقی رہ گئی ہے۔

(شکریہ اسلام)

یورپی ہم وطنو! میری آواز سنو!

خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیا۔ میرے یورپی ہم وطنو! میری آواز توجہ سے سنو۔ مسلمان بیدار ہو چکا ہے۔ دیکھو اس نے چیخنا شروع کر دیا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے میں موجود ہوں، میں زندہ ہوں۔ میں ہرگز نہیں مرا، میں بیدار ہو چکا ہوں۔ میں کٹھ پتلی نہیں ہوں۔ میں جہاد کروں گا۔

اہل یورپ بھی اسلام کے خلاف نہ ختم ہونے والی اس جنگ میں شریک ہیں جو صیہونی و عیسائی گروپوں نے ببانگ دہل برپا کر رکھی ہے۔ یورپی ذرائع ابلاغ عرصہ دراز سے توہین رسالت کا ارتکاب کبھی فلمیں بنا کر اور کبھی اخبارات و جرائد میں خیالی تشبیہیں بنا کر کر رہے ہیں۔

ڈنمارک میں توہین آمیز خاکوں کو چھاپنے والے گروپ کی میٹنگ

صفحہ 463

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام منصوبہ کا حصہ ہے۔ ۵ تا ۸ مئی ۲۰۰۵ء جرمنی کی ریاست باوریا میں ٹیگرینسی نامی جھیل کے کنارے واقع ڈورنٹ سوفی ٹیل سی ہوٹل میں بحر اوقیانوس پار مقتدر امراء کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے شرکاء میں نیو آئی کون فاشسٹ، مائیکل لیڈین رچرڈ پرل اور ولیم لوتی جو عراق پر حملہ کے زبردست حامی تھے کے علاوہ ڈچ، بلجیم اور اسپین کے بادشاہان یورپ کے اعلیٰ ترین اور مقتدر رہنما اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل جاپ ہوپ ڈی شیفرڈ اور دیگر عہدیداران کے ساتھ ساتھ روتھ شیلڈ انٹرنیشنل کے بینکرز اور ہنری کسنگر کے ساتھ ڈنمارک کے انڈریس ایلڈریپ اور دیگر شامل تھے۔ یہ دراصل نیو آئی کون اور بائیلڈز برجر گروپ کا مشترکہ اجلاس تھا۔ بائیلڈز برجر گروپ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد برطانیہ کے شہزادہ فلیپس اور ڈچ شہزادہ برنارڈ نے منظم کیا تھا۔ ایک راز دار گروپ ہے جہاں ملکی مالدار مقتدر لوگ امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں ملتے ہیں اور عالمی معاملات پر اتفاق کرتے ہیں۔ اسی گروپ نے عرب تیل کے بائیکاٹ کا پروگرام منظور کیا تھا اور اسی گروپ نے امریکی ڈالر اور بینکنگ نظام کو استحکام بخشا تھا۔

ایک خاتون میریٹی ایلڈریپ اخبار جیلنڈز پوسٹن جس نے رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے کارٹون خاکے شائع کئے تھے کی منتظم اعلیٰ ہیں۔ ان کے شوہر انڈریس ایلڈریپ ڈنمارک کی آئل اور گیس کمپنی کے چیئرمین اور بائیلڈز برجر گروپ کے پچھلے پانچ برسوں سے متحرک اور سرگرم رکن ہیں۔ اور انہوں نے ۵ مئی ۲۰۰۵ء کے اجلاس میں بھی شرکت کی تھی۔ ایک امریکی دانشور ویبسٹر گریفتن ٹارپلے کے مطابق ان خاکوں کو چھاپنے کا فیصلہ نیو آئی کون اور بائیلڈز برجر گروپ کے ۵ تا ۸ مئی ۲۰۰۵ء کے اجلاس میں لیا گیا۔ جس کو ڈنمارک کے اخبار جیلینڈز پوسٹن نے عملی جامہ پہنایا۔

اس اخبار کے ایڈیٹر فلمنگ روز انتہائی متعصب اور گوروں کی حاکمیت پر یقین رکھنے والی مکارتھین ٹائپ کی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ ڈنمارک کوئی آزادی خیال کا بڑا علمبردار ملک ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈنمارک پچھلی دو صدیوں سے برطانیہ کا پٹھو ہے جہاں کی انٹیلی جنس PET اخبارات پر سخت کنٹرول رکھتی ہے اور وہ آمریت و بادشاہی نظام کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس لئے یہ کارٹون آزادی صحافت کے اظہار یا کسی غلطی یا نادانی سے شائع نہیں ہوا بلکہ انتہائی گھناؤنی سازش کے تحت شائع کیا گیا جس کے مذموم مقاصد

صفحہ 464

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ہیں ۔ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس کارٹون کی اشاعت سے مسلم دنیا میں شدید ردعمل ہوگا۔

خاکوں کے متعلق متعصب عیسائیوں کی دیدہ دلیری

ہیرالڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ خاکے دہشت گردی کو ذہن میں رکھ کر بنائے تھے۔ کیونکہ اسے روحانی اسلحہ اسلام سے ملتا ہے۔

ڈنمارک کے تعلیمی شعبے کے پبلشر نے کہا کہ خاکوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے گا اور میوزیم میں نمائش کے لئے رکھا جائے گا۔

اٹلی کے ایک وزیر نے خاکوں والی شرٹس پہننے اور تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے مسلمانوں کے احتجاجی مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈنمارک کا بائیکاٹ پورے یورپ کا بائیکاٹ سمجھا جائے گا۔

امریکی صدر بش نے ڈنمارک کے وزیر اعظم کو ٹیلی فون کر کے اظہار یکجہتی کیا۔ ڈنمارک میں کارٹون شائع کرنے والے اخبار جیلنڈز پوسٹن کو باقاعدہ ایوارڈ دیا گیا۔

مسلمانوں کے خلاف صلیبی ممالک میں جو یکجہتی دیکھی گئی ہے۔ مسلم دنیا میں وہ کہیں نظر نہیں آئی بلکہ پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں ریاستی تشدد کے ذریعے احتجاجی مظاہروں کو کچلا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران چرچ کے آلہ کار بن چکے ہیں۔

(بشکریہ ملک احمد سرور)

توہین آمیز خاکوں پر مسلمانوں کا احتجاج

خود ڈنمارک کا دستور کسی کی دل آزاری کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن اس کے باوجود ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ء کو یہ کارٹون شائع ہوا، جس پر وہاں کی مسلمان آبادی نے جو تقریباً دو لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ سخت احتجاج کیا اور ۱۴ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو تقریباً ۴ ہزار مسلمان مظاہرین نے کوپن ہیگن میں احتجاجی جلوس نکالا اور گیارہ ممالک کے سفراء نے ڈنمارک کے وزیر اعظم سے ملاقات کے لئے وقت مانگا مگر ڈنمارک کے وزیر اعظم نے نہ تو مظاہرہ کا نوٹس لیا اور نہ گیارہ مسلم ملکوں کے سفراء

صفحہ 465

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سے ملاقات کی جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ڈنمارک کی حکومت خود اس کارٹون کی اشاعت سے نفرت اور ردعمل کے فروغ میں دلچسپی رکھتی تھی۔

توہین آمیز خاکوں کے لئے جس طرح باقاعدہ مقابلہ کرایا گیا اور اس کے بعد مسلمانوں کے احتجاج پر یورپ نے جس ردعمل کا اظہار کیا، یہ اس بات کی شہادت کے لئے کافی ہے کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ کے تحت کیا گیا۔ ڈنمارک کے وزیر اعظم نے مسلم ممالک کے سفیروں سے ملنے تک سے انکار کر دیا اور معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا۔ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ میڈیا میں کیا ہوتا ہے۔

ڈنمارک وہ ملک نہیں ہے جس کا وزیر اعظم اخبار کی ادارتی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے فوراً فون اٹھائے اور اخبار کے نیوز روم میں انہیں ہدایت کرے۔ اخبار جیلنڈز پوسٹن کے ایڈیٹر نے کہا۔ احتجاج کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں ہماری سوسائٹی کی اقدار کا علم نہیں۔ مذہبی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ میں دوسرے مذاہب کا بھی احترام کروں۔

خاکوں کے پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے اس نے نیوز ویک کو بتایا۔ مجھے اس بات کی تشویش تھی کہ یورپ کے آرٹسٹ اور کلچرل دائروں میں خود اختیار کردہ سنسر شپ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے (یہ توہین آمیز) کارٹون شائع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس رجحان کی ماہیت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ یہ بھی خیال تھا کہ ان کارٹونوں کی اشاعت سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگا۔ میں نے یہ کام سنجیدگی سے کیا۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ میں نے ڈنمارک میں رہنے والے مختلف کارٹونسٹوں سے خود رابطہ کیا اور ان سے کہا محمد (ﷺ) کے بارے میں تم لوگوں کے ذہنوں میں جو خیالات ہیں اس پس منظر میں اس کی تصویر کشی کرو۔

اس نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسلام تنقید کو برداشت نہیں کرتا اور ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم عدم برداشت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ میرے اخبار کی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ اعتدال پسند مسلمانوں کو جرأت گویائی دے۔ اب بحث ڈنمارک کی حکومت اور مسلمانوں کے درمیان نہیں رہی بلکہ انتہا پسند اور اعتدال پسند مسلمانوں کے درمیان ہے۔

صفحہ 466

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع ........ 22

گستاخان رسول ﷺ ممالک کی مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ کے واقعات

شاتمین رسولؐ کی مصنوعات کا بائیکاٹ تقاضہ غیرت ایمانی ہے

اے ایمان والو! مت بناؤ ان لوگوں کو جو ٹھہراتے ہیں تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل وہ لوگ جو کتاب دیئے گئے تم سے پہلے اور نہ کافروں کو اپنا دوست۔

(سورۃ المائدہ،آیت ۵۷)

اس آیت میں اللہ رب العزت نے واضح اور دو ٹوک انداز میں دین کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ دوستی سے منع فرمایا ہے۔ ڈنمارک کے اخبار ”جیلنڈز پوسٹن“ (اور دیگر مغربی اخبارات) نے آپ ﷺ کے توہین آمیز خاکے (العیاذ باللہ) شائع کر کے نہ صرف دین کا مذاق اڑایا بلکہ اس شخصیت کا مذاق اڑایا جس کے طفیل سے ہمیں یہ مبارک دین نصیب ہوا۔

عزیزو! موجودہ صورتحال اور آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے نازل ہونے والی یہ آیت ہم سے تقاضا کر رہی ہے کہ ہم دین اسلام کے ان ناپاک دشمنوں سے مکمل بائیکاٹ کردیں۔ جنہوں نے یہ مذموم حرکت کی۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو قیامت کے روز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو کیا منہ دکھائیں گے۔

یاد رکھیں! اگر مسلمان اللہ رب العزت پر بھروسہ کر کے دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں تو ہمیشہ فتح یاب ہوتے ہیں۔ جبکہ اللہ رب العزت نے یہ فیصلہ بھی سنا دیا۔

﴿اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا﴾

گستاخ رسول کا عبرتناک

بے شک باطل مٹنے وال پر یہ وعدہ اور فیصلہ نہ ہوتا تب تقاضا ہے کہ ڈنمارک (اور ان طور پر اقتصادی بائیکاٹ کیا جا تبارک و تعالیٰ ہم سب کو دینی غیرت فرمائے۔ آمین۔ (امۃ اللہ)

قطرے

.......

ایک صاحب نے منہ بنا کر کہا اس سے بہت کچھ ہوگا۔

ایک آواز آئی۔ آخر کیا؟ ..... یہ بھی تو بتائیں نا۔

وہی صاحب بولے جنہوں نے

دوسرے نے پرسکون آواز میں ک

میں بتاتا ہوں ..... مجھے بچپن کی

لیجئے! اب آپ بچپن کی کہانی س بیٹھے۔

صفحہ 467

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

بے شک باطل مٹنے والی چیز ہے (حوالہ ۱۷/ ۸۱ بنی اسرائیل آیت نمبر ۸۱) اور اگر مثال کے طور پر یہ وعدہ اور فیصلہ نہ ہوتا تب بھی ہر مسلمان کی دینی غیرت اور سورۃ المائدہ کی مذکورہ آیت کا تقاضا ہے کہ ڈنمارک (اور ان کا ساتھ دینے والے ممالک ناروے، ہالینڈ اور امریکہ ) کا مکمل طور پر اقتصادی بائیکاٹ کیا جائے۔ دوستی کے تعلقات قائم کرنا تو دور کی بات ہے۔ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی ہم سب کو دینی غیرت کے جذبے سے سرشار ہو کر عملی اقدام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ (امۃ اللہ )

قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے!

صاحب پر زور انداز میں کہہ رہے تھے:

”عرب ممالک میں پیپسی کو گزشتہ سال میں ۲۵ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ...... یعنی لوگوں نے اس حد تک اس کا بائیکاٹ کیا ۔“

بالکل ٹھیک ...... تمام عالم اسلام کو چاہئے کہ مسلمانان پاکستان، مرد، خواتین، بچے اور بوڑھے ...... سب اپنے ملک کی مصنوعات استعمال کریں۔

لیکن اس سے کیا ہوگا ...... کچھ بھی نہیں۔ ایک صاحب نے منہ بنا کر کہا۔

اس سے بہت کچھ ہوگا۔ ایک آواز آئی۔

آخر کیا؟ ...... یہ بھی تو بتائیں نا۔ وہی صاحب بولے جنہوں نے کہا تھا اس سے ہوگا کیا ۔

دوسرے نے پرسکون آواز میں کہا۔ میں بتاتا ہوں ...... مجھے بچپن کی ایک کہانی یاد آگئی ۔

لیجئے ! اب آپ بچپن کی کہانی سنائیں گے ...... بات کیا ہورہی ہے ...... اور آپ کیا لے بیٹھے۔

صفحہ 468

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

وہ صاحب طنزیہ لہجے میں بولے۔

اوہو! آپ سن تو لیں...... ایک بادشاہ نے تالاب بنوایا اور اعلان کرایا کہ تمام رعایا اس کو دودھ سے بھر دے۔ اب ہر شخص نے سوچا کہ سب لوگ تو دودھ ہی ڈالیں گے، میں اگر دودھ کی جگہ پانی ڈال دوں گا تو کیا فرق پڑے گا....... دودھ میں شامل ہو جائے گا اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ میں نے پانی ڈالا ہے۔

تالاب میں دودھ کو ڈالنا تھا۔ دوسرے دن بادشاہ نے دیکھا کہ تمام تالاب پانی سے بھرا ہوا تھا۔ اس لئے کہ ہر شخص نے یہی سوچ کر صرف پانی ڈالنے سے کیا فرق پڑ جائے گا، تالاب میں دودھ کی جگہ پانی ڈالا تھا۔ بالکل اسی طرح ہم سوچتے ہیں کہ اگر میں نے غیر ملکی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا تو کیا ہو جائے گا...... ایک میرے اکیلے کے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات استعمال نہ کرنے سے کون سا فرق پڑ جائے...... لیکن بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔ سارا تالاب پانی سے بھر جاتا ہے....... جی ہاں!

ماڈرن عورت کا اپنے بچے کو ڈنمارک کی چاکلیٹ دلانے سے قطعی انکار

کے لئے گھر سے نکل رہا تھا کہ میرا فون بجنے لگا میں نے جیب سے فون نکال کر کال وصول کی۔

”السلام علیکم!“

”وعلیکم السلام! آپ اخبار کے صحافی ہیں؟“ دوسری طرف سے پوچھا گیا۔

”جی۔“

”آپ سے دو منٹ چاہتے ہیں۔“

”دوست اس وقت میں بہت جلدی میں ہوں، بعد میں بات نہ کر لیں۔“

”صرف دو منٹ دے دیں۔“

”میرے دوست مجھے دیر ہو رہی ہے۔ آپ کا نمبر میرے سیل پر آ گیا ہے میں خود کال کرلوں گا۔“

”لیکن اس نمبر پر آپ سے بات نہیں ہو سکے گی، یہی تو ہم آپ کو بتانا چاہتے

صفحہ 469

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہیں......“

”اس میں بتانے والی کیا بات ہے؟“

”میں اور میرے دوست احتجاجاً یہ نمبر بند کر رہے ہیں۔ آپ سے بات کرنے کے بعد ہم اپنے موبائل فون پاک کر لیں گے۔ شاتم رسول ملک ناروے کی کمپنی کی سم (SIM) واپس کر دیں گے اور یہی بات بتانے کے لئے فون کیا ہے کہ جلسے، جلوس، ریلیاں اپنی جگہ مگر یہ شاتمین پیٹ پر پڑنے والی لات ہی سے بلبلائیں گے، مصلحتوں اور خوف نے بے شک ہمارے ہاتھ باندھ رکھے ہیں لیکن ہم اتنا تو کر سکتے ہیں......“

یہ کہہ کر وہ نوجوان خدا حافظ کہنے کو تھا کہ میں نے اسے کھنگالنے کے لئے مخاطب ہوا۔

”میرے بھائی! اس کمپنی نے تو توہین رسالت کی جسارت نہیں کی۔“

”لیکن یہ اپنی حکومت کو ٹیکس تو دیتی ہے اور ان کے حکمران کون ہیں؟ وہی خبیث جو ملعونوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ان کی کمر ٹھوکتے ہیں۔ ہم اس کے ذریعے ایک روپیہ بھی ان شاتمین تک پہنچانے کا ذریعہ کیوں بنیں۔“

میرے اس دوست کی بات سو فیصد درست تھی۔ یہ دوست سامنے ہوتا تو میں اس کی پیشانی پر بوسہ لئے بنا نہ رہتا۔ بے شک بائیکاٹ وہ موثر ہتھیار ہے جس نے ڈینش حکمرانوں کا کلف جھاڑ کر اکڑی ہوئی گردن جھکا دی ہے، جو بد بخت توہین آمیز کارٹون چھاپنے والوں کو آزادی اظہار کے بنکر میں پناہ دے رہا تھا اور مسلم ممالک کے سفیروں سے ملنے پر تیار نہ تھا، چند ڈینش مصنوعات کے بائیکاٹ نے اس کا لب ولہجہ ہی بدل ڈالا تھا۔

میں نے اپنے اجنبی دوست کے حق میں دعا کرتے ہوئے فون جیب میں ڈالا اور کچھ سوچتے ہوئے پرفیوم کی بوتل الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ سبز بوتل کے پیندے پر میڈ ان پیرس تحریر تھا۔ یہ الفاظ پڑھنے کے بعد میں نے سبز بوتل کے ساتھ وہی سلوک کیا جس کی وہ مستحق تھی۔

میں آج کپڑے مہکائے بنا ہی گھر سے نکل پڑا۔ آج میرے کپڑوں سے ”بروٹ“ کی بھینی بھینی خوشبو کے بھبکے نہیں اٹھ رہے تھے۔ لیکن وہ خوش تھا۔ اس بچے کی طرح جو کیچڑ میں گرنے سے بچ گیا ہو۔ خوشی کے اس احساس کے ساتھ میں دفتر پہنچا۔ لیکن دس منٹ سے زیادہ نہ بیٹھ پایا تھا کہ سیل فون کی بندش نے مجھے کھڑا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ وقت پر بل جمع نہ

صفحہ 470

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کرانے کی پاداش میں مجھ سے پے فون سے کال کرنے کی سہولت واپس لے لی گئی تھی۔ میں اپنا بٹوہ چیک کر کے اٹھا اور عوامی مرکز کی جانب چل پڑا۔ بیس منٹ بعد میں عوامی مرکز کی سیڑھیوں پر تھا۔ سامنے ہی موبی لنک کا دفتر تھا۔ مجھے بل ادا کرنے میں پندرہ منٹ لگے۔ بل ادا کرنے کے بعد میں کچھ سوچتے ہوئے ساتھ ہی واقع سپر اسٹور کی طرف بڑھ گیا۔ مجھے خوش فہمی تھی کہ شاید اسٹور کے مالکان نے بھی عرب دکانداروں، تاجروں کی تقلید کرتے ہوئے شاتمین ممالک کی اشیاء ہٹالی ہوں گی۔ مگر اس کی خوش فہمی کی عمر بہت ہی مختصر تھی۔

کاسمیٹکس اور اسکینڈی نیوئن کہلائے جانے والے شاتمین ممالک کی مصنوعات سجی ہوئی تھیں۔ ڈنمارک کی چاکلیٹ اور بسکٹ بھی ایک جگہ ڈھیر دکھائی دیئے۔ میں افسردہ ہو گیا۔ میں تلخ لوگوں کے شیریں ڈھیر کے پاس سے ہٹنے کو تھا کہ ایک نو دس سال کا لڑکا اچھلتا ہوا اس سے آ ٹکرایا۔

”سوری......سوری انکل۔“ لڑکے نے فوراً معذرت کر لی۔ پر اس کی معذرت اسے اپنی والدہ کی سرزنش سے نہ بچاسکی۔ وہ اس کے پیچھے ہی ٹرالی دھکیلتی ہوئی آ رہی تھی۔

”مما ! سوری تو کر لیا ہے۔“ لڑکے نے منہ بسورا، اسے مما کی سرزنش نے بدمزہ کر دیا تھا۔ بدمزگی ختم کرنے کے لئے اس نے سامنے سے ایک چاکلیٹ کا ڈبا اٹھا کر ٹرالی میں ڈالا۔ "Just a Minute" شرارتی لڑکے کی انگلش میڈیم مما چاکلیٹ کا ڈبا اٹھا کر الٹ پلٹ کر دیکھنے لگی۔ یقیناً قیمت کا ٹیگ دیکھ رہی ہوگی، کنجوس لگتی ہے، ڈبا بھی تو اچھا خاصا مہنگا ہے۔ ساڑھے پانچ سو کم تو نہیں ہوتے...... میں نے کن انکھیوں سے دیکھتے ہوئے سوچا اور مسکرا دیا۔ مما چاکلیٹ واپس اپنی جگہ رکھ رہی تھیں۔

مما کے اس فیصلے پر وہ لڑکا مچل اٹھا ۔ ”مما مجھے یہ لینی ہے۔“

”No, No, No“...... مما نے قطعی لہجے میں نہیں، نہیں نہیں کی گردان کی اور بولیں۔

”بیٹا...... یہ ڈینش پروڈکٹ ہے۔ آپ کچھ اور دیکھ لو.....“

خاتون کے اس جملے نے یکدم ہی مجرم اور مجھے شرمندہ کر دیا۔ لیکن شرمندگی کے ساتھ ساتھ اسے خوشی بھی تھی کہ مسلمان صارف اپنے پاس موجود بائیکاٹ کے ہتھیار سے واقف

گستاخ رسول

ہو رہا ہے اور مجھے است ہتھیار ہے کہ اس کی ماں کویت سے کراچی موجود رہنے دیا جائے، کریں گے۔ میں یہ سمجھا تا دیکھتا رہا۔

دشمنان

میں یہودی ملوث ہیں، جن سمیت ایک عام مسلمان کے مانگنے سے انکار کرتے ہو شدید لہر دوڑ گئی ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہے کہ مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ج بیدار کرے اور ناموس رسا اپنے عشق مصطفیٰ (ﷺ) کریں۔

ذرا سوچئے!!! کہیں بات کی ہے کہ جب آپ اشیاء کے بجائے ملکی مصنو مسلم میں مدد نہ دے سکے ہمارا ایمانی شعور ہم قوم سے گزارش ہے کہ

صفحہ 471

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہو رہا ہے اور مجھے استعمال کر رہا ہے۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو ہر مسلمان کے ہاتھ میں ہے اور ایسا ہتھیار ہے کہ اس کی مار کے لئے دشمن کے پیچھے جانے کی ضرورت نہیں۔

کویت سے کراچی تک ہر دکان، ہر مارکیٹ اور بازار میں ہمارا دشمن موجود ہے۔ اسے موجود رہنے دیا جائے، گلنے سڑنے دیا جائے۔ کیا عشق مصطفیٰ ﷺ کے دعویدار اتنا بھی نہ کریں گے...... میں یہ سوچتے ہوئے اس محترم خاتون کو عقیدت بھری نگاہوں سے بیٹے کو سمجھاتا دیکھتا رہا۔

دشمنان رسولؐ کی مصنوعات کے خلاف جہاد

میں یہودی ملوث ہیں، جس میں انہیں عیسائیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ مسلمان حکمران سمیت ایک عام مسلمان کے لئے بھی یہ بہت سوچنے کا مقام ہے کیونکہ مغربی ممالک نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے اسے اپنے کلچر کا حصہ بتایا ہے۔ بلاشبہ عالم اسلام میں غم و غصہ کی شدید لہر دوڑ گئی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ محض زبانی اور احتجاجی ریلیوں تک ہی محدود ہے۔

یہی وہ وقت ہے کہ یہود و نصاریٰ کے خلاف ’’اعلان جہاد‘‘ کیا جائے اور ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ ہر ایمان والے مسلمان سے اپیل ہے کہ اپنی غیرت ایمانی کو بیدار کرے اور ناموس رسالت کی حفاظت اور اس گستاخی کا بدلہ لینے کے لئے اٹھ کھڑا ہو۔ اپنے عشق مصطفیٰ (ﷺ) کا ثبوت دیں اور یہود و نصاریٰ لابی کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔

ذرا سوچئے!!! کہیں میرا پیسہ گستاخان رسول کی جیب میں تو نہیں جا رہا؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ جب آپ خرید و فروخت کے لئے جائیں تو مسلمانوں کے قاتلوں کی تیار کردہ اشیاء کے بجائے ملکی مصنوعات طلب کریں۔ تا کہ اپنی محنت سے حاصل شدہ حلال کمائی خون مسلم میں مدد نہ دے سکے۔

ہمارا ایمانی شعور ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ دشمن کی سازشوں کو پہچانیں۔ ساری پاکستانی قوم سے گزارش ہے کہ وہ اس جہاد میں پورے ذوق و شوق سے حصہ لے کر دشمن کی

صفحہ 472

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اقتصادیات پر کاری ضرب لگائے اور اپنے رب کو راضی کرے۔ پاکستانی صنعتکاروں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی بہتری کے ذریعے اس جہاد میں حصہ لیں۔ تاکہ اپنے وطن کی مصنوعات کی طرف رجوع کرنے والے صارفین کا ان پر اعتماد بحال ہو اور پوری قوم اس جہاد میں یکجان ہو سکے۔

دکانداروں سے بھی گزارش ہے کہ اپنی دکانوں سے تمام دشمنوں کی مصنوعات کا صفایا کردیں۔ ڈاکٹر حضرات سے بھی درخواست ہے کہ ملٹی نیشنل دوا ساز اداروں کی ادویات کی بجائے مقامی ادویات کا نسخہ تحریر کریں۔ ہم محض درخواست کر رہے ہیں۔ فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اللہ ہماری یہ ادنیٰ سی کوشش قبول فرمائے۔

دشمنان رسول ﷺ سے بدلہ لینے کے تین طریقے

جس طرح بھی احتجاج کر سکتے ہیں کریں! متعلقہ ممالک کو خطوط تحریر کریں، اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو خطوط لکھیں ، حکام اور اخبارات کو خطوط تحریر کریں اور مجاہد فی سبیل اللہ ہونے کے ناتے آقائے دو عالم سیدنا حضرت محمد ﷺ سے اظہار عقیدت ومحبت کے لئے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کریں۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ اسلام ہمیں بے گناہ افراد کو نقصان پہنچانے اور ان کی معیشت تباہ کرنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ اس لئے پر امن احتجاج کریں۔

آخر میں یہ کہوں گا کہ اس معاملے میں تین باتیں یاد رکھیں اور ان کی مکمل پابندی کریں تو پھر تحفظ ناموس رسالت تحریک انشاء اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

بلکہ احتجاج کا یہ سلسلہ مقصد کے حصول تک جاری رہنا چاہئے۔

گستاخ رسول کا عبرت

کفار کی

ایک نوجوان نے ایک رنگین پا پڑھنا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر خوشی کے نتیجے میں امید کی ایک کرن کمپنیوں کے مختلف قسم کے نشانات کمپنیاں گستاخ رسول اور بدنام ز اس کاغذ پر ڈنمارک کا ”بائیکاٹ ڈنمارک“۔ اور ہماری چھپے تھے:

ناموس رسالت ع

یہ تحریر دیکھتے ہی دل خوشی اپنی غیرت کا مظاہرہ کر گزریں اور داڑھی کے بغیر تھا اور سر پر ٹوپی جانتے ہیں کہ وہ کسی سیاسی یا مذہبی اپنی جان ، اپنے مال اور اپنی عزت تقاضا چلا تو ہر مومن ”غازی علم دین ہے کہ کاش میری رسائی ڈنمارک گردن تن سے جدا کر کے اپنے نبی یہ رنگین کاغذ تقسیم کرنے والا ثبوت پیش کر رہا تھا۔ اللہ اس کی ا گھر پہنچ کر گھر والوں کو

صفحہ 473

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کفار کی بنائی ہوئی چیزوں کا بائیکاٹ کریں

ایک نوجوان نے ایک رنگین چھپائی والا کاغذ ہماری طرف بڑھا دیا۔ ہم نے اس کاغذ کو بغور پڑھنا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر خوشی کی انتہاء نہ رہی کہ آج ہمارے اسلاف کی محنت، فکر اور کوششوں کے نتیجے میں امید کی ایک کرن ہمارے ہاتھ آ گئی۔ اس کاغذ پر تقریباً ایک سو بارہ (112) کمپنیوں کے مختلف قسم کے نشانات اور ان کمپنیوں کی مصنوعات کی اقسام چھپی تھیں۔ یہ تمام کمپنیاں گستاخ رسول اور بدنام زمانہ ایک عیسائی ملک ڈنمارک کی ہیں۔

اس کاغذ پر ڈنمارک کا جھنڈا بھی بنا تھا اور بہت نمایاں طور پر یہ الفاظ درج تھے۔ ’’بائیکاٹ ڈنمارک‘‘۔ اور ہماری غیرت کو للکارنے والے الفاظ بہت جلی حروف میں سرورق پر چھپے تھے:

ناموس رسالت عزیز ہے یا گستاخ ملک کی مصنوعات؟

یہ تحریر دیکھتے ہی دل خوشی سے جھوم اٹھا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اب اس للکار پر اپنی غیرت کا مظاہرہ کر گزریں۔ کیونکہ یہ للکار بانٹنے والا نوجوان خود تو پتلون، قمیص میں ملبوس اور داڑھی کے بغیر تھا اور سر پر ٹوپی بھی نہ تھی۔ چونکہ وہ نوجوان ہمارا محلے دار ہے، اس لئے ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ کسی سیاسی یا مذہبی تنظیم کا کارکن نہیں ہے بلکہ ایک کالج کا اسٹوڈنٹ ہے۔ مگر اپنی جان، اپنے مال اور اپنی عزت سے بھی زیادہ پیارے نبی ﷺ سے محبت کے اظہار کا تقاضا چلا تو ہر مومن ’’غازی علم دین شہید‘‘ بننے کے لئے بے قرار ہو گیا۔ ہر ایمان والا بے چین ہے کہ کاش میری رسائی ڈنمارک کے اس گستاخ کارٹونسٹ تک ہو جائے تو میں اس مردود کی گردن تن سے جدا کر کے اپنے نبی ﷺ سے محبت کا ثبوت دے دوں۔

یہ رنگین کاغذ تقسیم کرنے والا نوجوان بھی بغیر کسی لالچ کے اپنے نبی ﷺ سے محبت کا ثبوت پیش کر رہا تھا۔ اللہ اس کی اس کوشش کو بھی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

گھر پہنچ کر گھر والوں کو یہ تحریر دکھائی اور بتایا کہ آئندہ گھر آنے جانے والی تمام

صفحہ 474

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

مستورات کو یہ فہرست دکھا کر تنبیہ کر دیں کہ اس فہرست میں دکھائی گئی تمام کمپنیوں کی مصنوعات (جو کسی بھی نوعیت کی ہوں) سے مکمل طور پر بائیکاٹ کر دیں اور اپنے پیارے نبی ﷺ سے سچی اور کھوٹ سے پاک محبت کا اظہار کریں۔

اس پر گھر والوں نے متجسس انداز میں بے ساختہ سوال کیا۔ ”کیا اس بائیکاٹ کے بعد ڈنمارک کی یہ مصنوعات درآمد ہونا بند ہو جائیں گی؟“

اس سوال پر ہم چونک گئے اور سوچ میں مبتلا ہو گئے کہ آنے والے وقت میں کیا کچھ ممکن ہے؟ پھر دل میں کئی ایک امکانات اور اندیشوں نے گھر کر لیا۔ ہم دیر تک یہ سوچتے رہے کہ اپنی جان و مال سے بھی زیادہ پیارے نبی ﷺ سے اس اظہار محبت کے آخر نتائج کیا ہوں گے؟ کیا اس طرح اپنی محبت کے اظہار کا کچھ حاصل ہوگا کہ ہم اپنی ترجیحات کو بھی چھوڑنے کے لئے تیار نہیں اور محبت کے دعوے دار بھی ہیں؟

ناموس رسالت کے تحفظ کا بہترین طریقہ

ہمیں اس مردود کافر پر تو بہت غصہ ہے کہ اس بدبخت نے ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی اور کارٹون بنا ڈالا۔ مگر ہم خود کلمے والے محمد ﷺ کو اپنا پیارا نبی کہنے والے، لباس میں، وضع قطع میں، گفتگو میں، کھانے پینے میں، لوگوں سے معاملات میں، کاروبار میں، رشتہ داریوں میں، دوست احباب میں، سیاست میں، تجارت میں، صنعت و حرفت میں، حکومت میں، حتیٰ کہ دین داری میں، اپنی مساجد میں، اپنی مجالس میں..... غرض ہر طرح سے ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے طریقوں کا مذاق بنوا رہے ہیں۔ باقی اکثر معاملات نبی کریم ﷺ کے طریقوں سے ہٹ کر غیروں کی تقلید میں ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ غیروں کی تقلید میں بھی ہم نے مختلف معاملات کی مکس بریانی بنا رکھی ہے کہ جو معاملہ دل کو اچھا لگا اسے کسی اور کے طریقے سے پورا کر لیا۔

ہم ایمان والے اس وقت ساری دنیا میں اپنے پیارے نبی ﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ ہمارے علمائے کرام کو اللہ اجر دے کہ وہ ہمیں متنبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کی ناموس کی حفاظت کرنی چاہئے، مگر کیا ہم نے واقعی

صفحہ 475

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ناموس رسالت کی حفاظت کرنا شروع کر دی؟ کیا اس دن سے ہم کلمہ والوں اور نبی کریم ﷺ سے محبت کرنے والوں نے خود اپنی شکل اور لباس میں، کاروباری طریقوں میں نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرنا شروع کر دیا۔

اگر ہم نے اب تک ایسا کچھ نہیں کیا اور محض دنیا میں آواز اٹھائی ہے تو پھر ہمارا یہ عمل لمحہ فکریہ ہے۔۔۔۔؟

تو پھر ایسے میں تحفظ ناموس رسالت آخر کیسے ہو۔۔۔۔؟ اس کی صرف یہی صورت نظر آتی ہے کہ آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات بھی بلند کئے جائیں۔ اپنی محبت کے درجات بھی بلند کئے جائیں۔ اپنی قربانیوں کی سطح بھی بلند کی جائے۔ بائیکاٹ کریں تو ایسا کہ جس کی ”کاٹ“ کوئی نہ کر سکے اور دنیا کو یہ باور کرا دیا جائے کہ ہم سچے عاشق رسول ﷺ ہیں۔

نبی کریم ﷺ کی سنت کا مذاق بنانا چھوڑ دیں

لباس کا مذاق بنانا چھوڑ دیں۔ اپنے رہن سہن کو یہود و نصاریٰ کے طرز پر اپنانے کے بجائے نبی کریم ﷺ کے طرز زندگی پر اپنانا شروع کر دیں۔ ورنہ تو ہمارے اس تحفظ ناموس رسالت سے صرف اتنا ہی ہوگا کہ وہ لوگ معافی مانگ لیں گے اور ہم انہیں اعتدال پسندانہ سوچ کی وجہ سے معاف کر دیں گے اور پھر خدانخواستہ وہ دوبارہ گستاخی کریں گے اور پھر ہمارے احتجاج پر دوبارہ معافی مانگ لیں گے۔ رفتہ رفتہ یہ عمل ایک معمول بن جائے گا اور ایک وقت ایسا بھی آ جائے گا کہ ہمارے اخبار ہمارے ضمیر کو جگانے کی کوشش کریں گے اور ہماری توجہ تحفظ ناموس رسالت کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کریں گے تو ہم کہیں گے ”بھلا یہ بھی کوئی پریشان ہونے کی بات ہے؟ یہ جسٹ ایک روٹین ورک ہے۔ وہ لوگ تو بہت براڈ مائنڈڈ ہیں۔ ہر تنقید کو ویل کم کہتے ہیں۔ خود اپنے انبیاء علیہم السلام کے (نعوذ باللہ) کارٹونز بھی تو بناتے ہیں اور اپنے پولیٹیکل ایشوز کو میڈیا فارمز میں پیش کرتے ہیں۔

صفحہ 476

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اقتصادی وعسکری ماہرین نے بھی توہین رسالت پر گستاخ ممالک

کے معاشی وسفارتی بائیکاٹ کا مطالبہ کر دیا

اقتصادی و عسکری ماہرین، صحافت کے پیشے سے وابستہ دانشوروں اور سیاست دانوں جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ، جنرل (ر) حمید گل، الطاف حسین قریشی، جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی، ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی، ڈاکٹر ذیشان حسن، اکرم شیخ، حافظ حسین احمد، پروفیسر عبدالغفور احمد، اوریا مقبول جان اور دیگر نے توہین رسالت پر گستاخ ممالک کی معاشی وسفارتی بائیکاٹ سمیت ۱۵ سے زائد تجاویز پر اتفاق کیا ہے۔

روزنامہ ’اسلام‘ کے زیر اہتمام ناموس رسالت اور ہماری ذمہ داریاں کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں اقتصادی ماہرین نے گستاخ ممالک کے خلاف اقتصادی وسفارتی بائیکاٹ اور تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر زور دیا۔

ماہرین نے کہا کہ مسلمانوں کے مغربی بینکوں میں ۱۱۰۰ ارب ڈالر جمع ہیں۔ جبکہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک پر ۸۵۰ ارب کا بیرونی قرضہ ہے۔ اس قرضہ کا نصف ہی مسلمان ممالک میں واپس آجائے تو اسلامی دنیا استعماری طاقتوں اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکل سکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ متفقہ اور فرداً فرداً فتویٰ دنیا بھر کے علماء کرام فوری طور پر جاری فرمائیں جس میں مسلمانوں سے کہا جائے کہ مغربی ممالک میں اپنا پیسہ جمع کرانا حرام ہے۔

ماہرین نے اسلامی ترقیاتی بینک اور اسلامک چیمبر آف کامرس سے بھی مشاورت کی تجویز دی۔

ماہرین نے کہا کہ یہ معاملہ او آئی سی کے ایجنڈے پر سرفہرست نہیں آیا۔ امت مسلمہ اور مسلمان حکمرانوں کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ مومنانہ بصیرت اور مشاورت سے فیصلے کئے جائیں۔

بعض ماہرین نے مذکورہ تجاویز پر عملدرآمد کے بجائے خاکوں کی اشاعت کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملے کو سرد خانے میں ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

صفحہ 477

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ماہرین نے کہا کہ خالق کائنات کی طرف سے دیئے گئے مادی و انسانی وسائل کو اگر توہین آمیز خاکے کو شائع کرنے والوں اور اس کے بعد ہٹ دھرمی کا رویہ اپنانے والے مغربی ممالک کے خلاف پوری امت مسلمہ کی جانب سے مؤثر بائیکاٹ کی مہم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ بات پورے اعتماد سے کہی جاسکتی ہے کہ مغرب جلد ہی گھٹنے ٹیک دے گا۔

ممتاز دانشوروں نے سیمینار سے خطاب میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ او آئی سی اور پاکستان سمیت اسلامی ممالک کی حکومتوں نے اس ضمن میں مؤثر کارروائی کا بروقت اشارہ بھی نہیں دیا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو احتجاجی مظاہروں میں پرتشدد عنصر کو شامل ہونے سے روکا جا سکتا تھا۔

بعض ماہرین نے کہا کہ مغرب کی مذمت نہیں کرنی چاہئے، بلکہ ہمارے احتجاج کا محور ڈنمارک ہونا چاہئے، تاکہ احتجاج مؤثر ہو سکے، اور احتجاج میں مغرب کو ساتھ ملانے کی اشد ضرورت ہے، مغرب کو قائل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ ان اخبارات کی حوصلہ افزائی کی جائے، جنہوں نے خاکے نہیں چھاپے، احتجاج کو مؤثر بنانے کے لئے سیاسی و مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر احتجاج کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ احتجاج میں تشدد کا عنصر شامل نہ کیا جائے، تشدد سے ہمارے کاز کو نقصان ہوگا۔

سیاسی و عسکری ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو توہین رسالت کے خلاف معرکے ساتھ ساتھ مستقبل کی بھی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔

قانونی ماہرین نے تجویز دی کہ اظہار رائے کی جامع تعریف مرتب کی جائے۔ جس طرح مغرب میں اپنے مذہبی پیشواؤں کی توہین کے خلاف قانون سازی کی گئی ہے، اسی طرح پوری دنیا کے لئے ایک قانون مرتب کیا جائے، جس کے تحت تمام مذاہب کے پیغمبروں اور پیشواؤں کی توہین کرنے والے کو سخت ترین سزا دی جائے۔

ماہرین نے تجویز دی کہ مختلف ممالک میں رائے عامہ کو ہموار کرنے اور اپنے موقف کی تائید اور حمایت کے لئے وفود بھیجے جائیں اور دنیا کو یہ باور کرایا جائے کہ مسلمانوں کے لئے یہ مسئلہ کتنا حساس ہے؟ اور اس کے کیا نتائج اور نقصانات ہو سکتے ہیں؟

صحافت کے شعبہ سے وابستہ مقررین نے کہا کہ سی پی این ای اور اے پی این ایس

صفحہ 478

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

سمیت دانشوروں اور دیگر مختلف شعبوں سے وابستہ افراد پر مشتمل وفود توہین رسالت پر اپنا موقف بیان کرنے کے لئے مغربی ممالک کے دورے کریں اور ان ممالک کو معاملے کی حساسیت سے آگاہ کریں۔

مقررین نے کہا کہ اسلامی دنیا میں میڈیا کی بہتری اور ترقی کے لئے ایک ادارہ قائم کیا جائے۔ مقررین نے ملک کے دیگر شہروں میں بھی کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کرنے پر اتفاق کیا تاکہ بیرونی دنیا خاص طور پر مغرب پر اپنا موقف واضح کیا جاسکے۔

(بشکریہ روزنامہ اسلام کراچی ۷؍ فروری ۲۰۰۶ء)

مصنوعات کا بائیکاٹ ایسا ہتھیار ہے جو اُن کی کمر توڑ سکتا ہے

جاتا ہے۔ یہ حقیقتاً ایک ایسا گاؤں ہے جس میں ہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہے۔ اس گاؤں میں ایک وقت میں ایک شخص خریدار بھی ہوتا ہے اور اسی وقت فروخت کنندہ بھی...... یہ حقیقت ہے۔ اس دنیا میں اب کوئی ملک دوسرے ملک کی مدد کے بغیر سلامت نہیں رہ سکتا۔ سب ملک ایک مارکیٹ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں جس میں ایک ملک دوسرے کو گندم بیچ رہا ہے اور اس کے بدلے میں اسے تیل خرید رہا ہے اور یہ دونوں ملک مل کر کسی تیسرے ملک سے پانی لے رہے ہیں۔ چنانچہ اس وقت یہ مجبوری احتجاج کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔

اس سلسلے میں ہم چین کی مثال دے سکتے ہیں۔ چین اس وقت سوئیاں بنانے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ آپ کپڑے سینے کی مشینوں سے لے کر سرنج کی سوئیوں اور گھڑیوں میں نصب سوئی تک کو لے لیں۔ یہ سب سوئیاں چین میں بنائی جاتی ہیں، اس کی بنیادی وجہ وہ مخصوص فولاد ہے جس کے ذریعے یہ سوئیاں بنتی ہیں۔ یہ فولاد صرف چین میں دستیاب ہے۔ لہٰذا اگر چین دنیا کی صرف سوئیاں بند کر دے تو دنیا کے ۱۸۲ ممالک مسائل کا شکار ہو جائیں گے۔

اسی طرح دنیا میں تیل پیدا کرنے والے صرف ۱۱ ممالک ہیں۔ ان گیارہ ممالک میں سے ۱۰ ممالک اسلامی ہیں۔ ان ممالک نے عرب اسرائیل جنگ کے دوران یورپ کو تیل کی سپلائی بند کر دی تھی، جس کے نتیجے میں پورے یورپ اور پورے امریکہ میں ٹریفک بند ہوگئی

گستاخ رسول کا عبرتناک تھی۔ لوگ پیدل دفتر جاتے اور تازہ ترین مثال عراق کی عراق پر اقتصادی پابندی لگا دی بچانے والی ادویات کی سپلائی بند ہوگئے۔ ان کے ہسپتال قبرستانوں آپ احتجاج کی تازہ ترین سعودی عرب اور اس کے بعد متحدہ بائیکاٹ کردیا۔ ”آرلے“ ہر سال تھی۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں کہنا ہے کہ یہ بائیکاٹ جاری رہا طرح ”ٹیلی نار“ ناروے کی موبائ کاروبار کر رہی ہے۔ خاکوں کی ا تنصیبات پر حملے شروع ہو گئے۔ لو کمپنی کا ریونیو نصف ہو گیا۔ جبکہ ا چھٹیاں لینا شروع کر دی ہیں۔

پاکستان میں ڈ

ڈنمارک کے گستاخ خاکوں عوام نے بھی ان پر شدید احتجاج ک ذات اقدس ہے جس پر کوئی مسلما لئے دو راستے رہ جاتے ہیں! وہ غاز آپ پاکستان کے کسی فائیو مکھن ملے گا۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ک ہونی چاہئے تھیں، وہ لوگ تو اطمینا

صفحہ 479

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

تھی۔ لوگ پیدل دفتر جاتے اور پیدل گھر آتے تھے۔

تازہ ترین مثال عراق کی ہے۔ ۱۹۹۲ء کی امریکہ عراق جنگ کے بعد اقوام متحدہ نے عراق پر اقتصادی پابندی لگا دیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں یورپ کی کمپنیوں نے جان بچانے والی ادویات کی سپلائی بند کر دی۔ جس کے بعد عراق میں صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو گئے۔ ان کے ہسپتال قبرستانوں کی شکل اختیار کر گئے۔

آپ احتجاج کی تازہ ترین لہر کو لیں۔ ڈنمارک میں گستاخ خاکوں کی اشاعت کے بعد سعودی عرب اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے ڈنمارک کی کمپنی ”آرلے“ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا۔ ”آرلے“ ہر سال ۳ ارب ڈالر کی ڈیری مصنوعات عرب ممالک کو فروخت کرتی تھی۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں یہ کمپنی شدید مالیاتی بحران کا شکار ہوگئی۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بائیکاٹ جاری رہا تو شاید کمپنی کو اپنے ملازمین کی تعداد نصف کرنا پڑے۔ اسی طرح ”ٹیلی نار“ ناروے کی موبائل فون کمپنی ہے۔ یہ کمپنی اس وقت ۱۲۱ اسلامی ممالک میں کاروبار کر رہی ہے۔ خاکوں کی اشاعت کے بعد اسلامی ممالک میں ٹیلی نار کے دفاتر اور تنصیبات پر حملے شروع ہو گئے۔ لوگوں نے اس کی سروسز بند کر دیں۔ صرف ایک ماہ میں اس کمپنی کا ریونیو نصف ہو گیا۔ جبکہ اسلامی ممالک میں موجود اس کے نمائندوں نے دھڑا دھڑ چھٹیاں لینا شروع کر دی ہیں۔

پاکستان میں ڈنمارک کی مصنوعات کا استعمال

ڈنمارک کے گستاخ خاکوں کے بارے میں اطلاعات جب پاکستان پہنچیں تو ہمارے عوام نے بھی ان پر شدید احتجاج کیا۔ ان میں کوئی شک نہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ذات وہ ذات اقدس ہے جس پر کوئی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ توہین رسالت کے بعد مسلمان کے لئے دو راستے رہ جاتے ہیں! وہ غازی بن کر زندہ رہے یا پھر شہید ہو کر ابدی زندگی پا جائے۔

آپ پاکستان کے کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں جا کر دیکھ لیں، آپ کو ناشتے میں ڈنمارک کا مکھن ملے گا۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ کیسا احتجاج ہے؟ جن لوگوں کی زندگیاں اس احتجاج سے متاثر ہونی چاہئے تھیں، وہ لوگ تو اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ احتجاج کرنے والوں کی

صفحہ 480

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

اپنی دکانیں، اپنے گھر اور اپنی گاڑیاں جل رہی ہیں۔ ہماری زندگی تعطل اور پریشانی کا شکار ہے۔ یہ غلط ہے۔ ہمیں بنیادی طور پر احتجاج کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔ ہمیں چاہئے ہم صرف خرید و فروخت کو احتجاج کا ذریعہ بنائیں۔ ہم گستاخ ممالک کی مصنوعات خریدنا اور انہیں اپنی مصنوعات بیچنا بند کر دیں۔

ہم آج فیصلہ کر لیں ہم ڈنمارک اور ناروے کو ایک قطرہ تیل نہیں دیں گے۔ ہم ناروے اور ڈنمارک کی کسی کمپنی کی کوئی پراڈکٹ نہیں خریدیں گے۔ اس کے بعد ہم ڈنمارک اور ناروے کے کاروباری حریف ممالک سے تجارتی معاہدے کریں۔ ہم ان کے دشمن ممالک سے وہ تمام مصنوعات خریدنا شروع کر دیں۔ جن میں ڈنمارک اور ناروے کو منافع ملتا تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ دونوں گستاخ ملک شدید معاشی اور تجارتی بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ کہا جاتا ہے ایک تاجر اپنے والد کو ناراض کر لیتا ہے۔ لیکن وہ گاہک کی ناراضگی برداشت نہیں کرتا۔

ہمیں تجارت کی اس نفسیاتی کمزوری کو اپنے احتجاج کا ذریعہ بنانا چاہئے۔ اس وقت دنیا میں ایک ارب ۴۵ کروڑ مسلمان ہیں۔ یہ تمام مسلمان صابن، ٹوتھ پیسٹ، ہیئر آئل، شیمپو، خوشبو اور ادویات استعمال کرتے ہیں۔ یہ کپڑے اور جوتے بھی پہنتے ہیں۔ ان میں سے نصف مسلمانوں کے پاس موبائل بھی ہیں۔ ان میں سے کم از کم تیس چالیس کروڑ مسلمانوں کے پاس گاڑیاں، ٹیلی ویژن، فریج اور مائیکرو ویو اون بھی ہیں۔ یہ ایک ارب ۴۵ کروڑ مسلمان یورپ اور امریکہ کے گاہک ہیں اور یہ حقیقت ہے دنیا کی کوئی قوم، کوئی ملک گاہکوں کی اتنی بڑی تعداد کو ناراض نہیں کر سکتا۔

اسی طرح ہمارے پاس تیل ہے اور تیل کو اس وقت وہی حیثیت حاصل ہے جو انسانی بدن میں خون کو حاصل ہے۔ لہٰذا جس طرح انسانی بدن خون کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا بالکل اسی طرح آج دنیا تیل کے بغیر نہیں چل سکتی۔ چنانچہ اگر ہم نے احتجاج کرنا ہے تو ہم ایک طرف یورپ کا تیل بند کر دیں اور دوسری طرف اپنے اپنے ملک میں یورپ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں۔ یقین کیجئے یورپ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ وہ اپنے ہی قدموں میں گر کر دم توڑ جائے گا....... لیکن خدا کے لئے احتجاج وہ کریں جس سے گستاخ ملکوں کو نقصان پہنچے۔ اپنے پاؤں پر ہتھوڑی نہ ماریں، خود کو قتل نہ کریں۔

(بشکریہ یاسر محمد خان)

صفحہ 481

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موضوع ...... 23

گستاخ رسول کے لئے پاکستان کا قانون

پاکستان میں برائے نام قانون توہین رسالت

نہیں تھا، البتہ ایک عام قانون تھا جس کے مطابق کسی جماعت یا مذہب کے عقائد کی توہین کرنے یا دوسروں کے مذہبی جذبات مشتعل کرنے پر دو سال قید اور جرمانے کی سزا تھی۔

چنانچہ ۱۸۶۰ء میں تعزیرات ہند کی دفعہ ۲۹۵الف میں درج تھا کہ:

"جو کوئی عمداً اور بدنیتی سے تحریر یا تقریر یا اعلانیہ طور پر ہر میجسٹی کی رعایا کی کسی جماعت کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرے یا توہین کرنے کی کوشش کرے تاکہ اس جماعت کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں تو اسے دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔"

قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۶ء میں اس قانون سے "ہر میجسٹی کی رعایا" کے الفاظ بدل کر "پاکستان کے شہریوں" کر دیا گیا۔ ۱۹۸۰ء میں دوسرے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے دفعہ ۲۹۸الف کا اضافہ کیا گیا جو حسب ذیل ہے۔

"جو کوئی تحریری یا تقریری یا اعلانیہ یا اشارتاً یا کنایۃً بالواسطہ یا بلاواسطہ امہات المومنین یا کسی اہل بیت یا خلفائے راشدین میں سے کسی خلیفہ راشد یا اصحاب رسول کی بے حرمتی کرے، ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے، اسے تین سال تک سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی یا وہ ان دونوں سزاؤں کا مستحق ہوگا۔"

توہین رسالت کے مرتکب کے لیے سزائے موت کا بل اور اس کی منظوری

اس دفعہ میں صرف امہات المومنین، اہل بیت، خلفاء راشدین یا اصحاب رسول کی بے

صفحہ 482

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

حرمتی اور ان کی شان میں گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا تھا، لیکن اس مقدس ترین ہستی جن کی نسبت سے انہیں عالی مقام حاصل ہوا۔ ان کی جناب میں گستاخی، توہین و تنقیص، طعنہ زنی اور بہتان تراشی جیسے سنگین اور ناقابل معافی جرم کے بارے میں کوئی سزا مقرر نہیں تھی۔ چنانچہ مجاہد تحریک تحفظ ناموس رسالت جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے اس کوتاہی کو ختم کرانے کے لئے ۱۹۸۴ء میں شرعی عدالت میں پٹیشن درج کرائی۔

اسی دوران عسماء یہودیہ کی پیروکار اور غیر ملکی این جی اوز کی آلہ کار عاصمہ جہانگیر نے شان رسالت مآب میں بالواسطہ طور پر توہین کی۔ اس پر قومی اسمبلی کی ایک خاتون رکن آپا نثار فاطمہ مرحومہ نے قومی اسمبلی میں توہین رسالت کے جرم کی سزا، سزائے موت کا بل پیش کیا جو فوجداری ایکٹ نمبر ۳ سال ۱۹۸۶ء کی صورت میں منظور ہوا۔ اس کی رو سے تعزیرات پاکستان میں دفعہ ۲۹۵C کا اضافہ کیا گیا جو حسب ذیل تھا:

"جو کوئی عمداً زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلاواسطہ اشارۃً یا کنایۃً نام محمد ﷺ کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہوگا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی۔"

چونکہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل میں توہین رسالت کے مجرم کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن اس دفعہ میں سزائے موت کے متبادل سزائے عمر قید بھی رکھی گئی جو قرآن و سنت کے منافی تھی۔ اس لئے جناب اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے دوبارہ پٹیشن دائر کر دی کہ توہین رسالت کی سزا صرف سزائے موت ہے۔ اسے سزائے عمر قید میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

چنانچہ اس اعتراض کو فیڈرل شریعت کورٹ نے تسلیم کر لیا اور قرار دیا کہ اہانت رسول کی سزا بطور حد صرف سزائے موت ہے ...... یادرہے کہ اہانت رسول کے جرم کی یہ سزا قانونی اور عملی طور پر صرف پاکستان میں نافذ ہے۔ دیگر مسلم ممالک میں یہ سزا نافذ نہیں ہے۔ مغربی این جی اوز خاص طور پر اس قانون انسداد توہین رسالت کے خلاف واویلا مچاتے رہتے ہیں اور ان کی کوشش رہتی ہے کہ کسی طور پر یہ سزا ختم کر دی جائے۔ اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی ان غیر ملکی ایجنٹوں کی تمام سازشوں کو خاک میں ملائے۔

صفحہ 483

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام موضوع ...... 24

عیسائیت میں تحفظ ناموس رسالت کے قوانین

برطانیہ میں توہین مسیح کا قانون

لیکن وہاں بھی اس جرم کی سزا کا قانون کامن لاء کے علاوہ بلاس فیمی ایکٹ (Blasphemy Act) کی صورت میں تبدیل ہو گیا۔ مناسب ہوگا کہ یہاں بلاس فیمی کے معنی کے ساتھ اس کی تعریف (Definition) کی بھی وضاحت کر دی جائے تاکہ اس کا صحیح مفہوم ذہن نشین ہو سکے۔

بلاس فیمی لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی اہانت کے ہیں۔ لاطینی اصطلاح میں خداوند خدا کے وجود اور دین مسیح کی صداقت سے انکار یا نجات دہندہ عالم یسوع مسیح کی شان میں اہانت اور انجیل مقدس کی تحقیر اور تضحیک کو بلاس فیمی کہا جاتا ہے۔ انگریزی زبان کی مستند قانونی لغت بلیکز لاء ڈکشنری (Black's Law Dictionary) کی رو سے بلاس فیمی ایسی تحریر و تقریر ہے جو خدا، یسوع مسیح، انجیل یا دعائے عام کے خلاف ہو اور جس سے انسانی جذبات مجروح ہوں یا اس کے ذریعہ قانون کے تحت قائم شدہ چرچ کے خلاف جذبات کو مشتعل کیا جائے اور اس سے بدکرداری کو فروغ حاصل ہو۔ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میں بلاس فیمی کی تعریف ذرا کچھ مختلف ہے، جس میں بتلایا گیا ہے کہ مسیحی مذہب کی رو سے بلاس فیمی گناہ ہے اور علمائے اخلاقیات بھی اس کی تائید کرتے ہیں، جبکہ اسلام میں نہ صرف خدا کی شان میں بلکہ پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی بھی بلاس فیمی کی تعریف میں آتی ہے۔

(انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا، ج ۲ ص ۷۴)

برطانیہ میں توہین مسیح کامن لاء کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔ جبکہ بلاس فیمی ایکٹ میں مجرم کے لئے جسمانی موت کے بجائے شہری موت کی سزا مقرر ہے۔ جس کی رو سے حکومت

صفحہ 484

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

ایسے مجرم کے سارے شہری حقوق سلب کرنے کی مجاز ہے۔ بلاس فیمی اگر تقریری ہو تو دو معتبر گواہوں کی شہادت لازمی ہو گی اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر ثبوت جرم میں پیش کی جائے گی۔

برطانیہ میں توہین مسیح کے مجرم پر فرد جرم عائد

موت کی سزا نہیں دی گئی۔ مگر برطانیہ ہی کے ایک دوسرے ممتاز جج برام ویل نے صحیح طور پر جج پولاک کی تردید کی ہے۔ ہم برام ویل جج کی تائید میں ڈینس لی مون ایڈیٹر گے نیوز کے ایک اہم مقدمہ کا حوالہ دیا کہ۔ لی مون پر ۱۹۷۷ء میں توہین مسیح کے الزام میں برطانیہ کی عدالت میں کیس دائر ہوا۔ ایڈیٹر لی مون پر یہ الزام تھا کہ اس نے حضرت مسیح پر ایک مزاحیہ نظم لکھی جس میں اس نے ان کو ہم جنس پرستی کی طرف مائل دکھلایا تھا۔ اس مقدمہ کی اہم ترین بات یہ ہے کہ صفائی کے وکلاء نے ملزم کی طرف سے دفاع میں یہ نکتہ اٹھایا کہ ملزم نے بلاس فیمی کا ارتکاب ارادتاً یا قصداً نہیں کیا تھا۔ یہ بات اس نے بطور تفریح کہی ہے جس سے اہانت یا توہین مقصود نہیں۔

یہ وہی عذر ہے جو گستاخان رسالت شروع سے کرتے چلے آئے ہیں۔ جس کا ذکر کلام الٰہی میں آج سے چودہ سو سال سے قبل ہی کر دیا تھا اور انہیں یہ بھی جتلا دیا تھا کہ یہ عذر قابل قبول نہیں ہو گا۔ دیکھئے قرآن حکیم کا یہ ارشاد:

﴿قُلْ اَبِاللّٰهِ وَاٰيَاتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ O لَا تَعْتَذِرُوْا

(التوبہ ۶۵)

قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ﴾

”تم اللہ کے ساتھ، ان کی آیات کے ساتھ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ استہزاء (ہنسی مذاق) کرتے ہو۔ تمہارا کوئی عذر نہیں سنا جائے۔ بلاشبہ تم نے ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے۔“

لی مون کے مقدمہ میں صفائی کے وکلاء کا تمام تر زور اسی نکتہ پر تھا کہ گے نیوز میں ملزم نے مسیح کے بارے میں ایسی بات تفریحاً یا دل لگی کے طور پر کی ہے۔ جس میں اس کی نیت یا ارادہ کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات بدنیتی سے کہی گئی ہے۔ لیکن جیوری نے متفقہ طور پر

گستاخ رسول کا عبرت ناک ا قرآن مجید کے بیان کردہ فیصلہ فیمی یا توہین مسیح کے کیس میں ”م بارے میں کہی گئی ہے اس کا برا پیروان مسیح کے جذبات مشتعل ہو اور بائبل کی تضحیک، استہزاء، توہین تحت لائق تعزیر جرم ہے۔ اس لی میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں جائے وہ قابل گرفت جرم نہیں لیکن کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اس طرح اہانت رسول ﷺ والوں کا کوئی عذر قابل قبول نہیں کر کے دکھلا دی گئی۔ فیصلہ کا اقتبا برطانیہ کے کثیر الاشاعت روزنام ڈیوڈ ہالو وائی نے رپورٹ کیا ہے ج

OTORY of reverence" are not a the 1978 conviction of or publishing a poem icuous homosexual otive, of an artist is istian religious feeling ication is said to be ontemptuous, reviling,

صفحہ 485

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

قرآن مجید کے بیان کردہ فیصلہ کے مطابق ملزم کے اس عذر کو مسترد کر دیا اور یہ قرار دیا کہ بلاس فیمی یا توہین مسیح کے کیس میں ”نیت“ یا ”ارادہ“ غیر متعلق ہیں۔ کیونکہ جو بات جناب مسیح کے بارے میں کہی گئی ہے اس کا براہ راست تعلق ایک واضح حقیقت سے ہے جس کی وجہ سے پیروان مسیح کے جذبات مشتعل ہوئے ہیں اس لئے کہ ہر وہ بات اور ہر وہ چیز جو خدا، یسوع مسیح اور بائبل کی تضحیک، استہزاء، توہین اور تنقیص کا باعث ہو وہ بلاس فیمی یا قانون توہین مسیح کے تحت لائق تعزیر جرم ہے۔ اس لئے لی مون کو بلاس فیمی لا کے تحت جیوری نے سزا سنائی۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں قانون تو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مذہب کا انکار کر دیا جائے وہ قابل گرفت جرم نہیں لیکن مذہب کے خلاف ناشائستہ اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اس طرح اہانت رسول ﷺ کے بارے میں قرآن مجید کی یہ وعید کہ استہزا کرنے والوں کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا بیسویں صدی میں خود منکرین ہی کے ذریعے پوری کر کے دکھلا دی گئی۔ فیصلہ کا اقتباس جو (Blasphemy and Bigotry) کے عنوان سے برطانیہ کے کثیر الاشاعت روز نامہ The Times London میں ۲۷ اگست ۱۹۸۸ء کو ڈیوڈ ہالو وانی نے رپورٹ کیا ہے جو کہ درج ذیل ہے:

BLASPHEMY AND BIGOTORY

"Sicetity" and an "atmosphere of reverence" are not a sufficient defence against blasphemy. The 1978 conviction of Denis Lemon, editor of "Gay News" for publishing a poem suggesting that Jesus was a promiscuous homosexual established that the interntion, or motive, of an artist is irrelevant. It is a question of fact: is Christian religious feeling "outraged and insulted"?

The law is clear : "Every publication is said to be blasphemous which contains ay conteptuous, reviling,

صفحہ 486

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

scurrilous of ludicrous matter relating to God, Jesus Christ, or the Bible." The law allows you to attack, subvert or deny tht christian religion, but not in a way that is "indecent" or "intemperate."

برطانیہ کی دوغلی پالیسی کی دو مثالیں

کفریہ کلمات کو قابل سزا جرم قرار دیتا ہے۔ مگر اس تعزیری قانون کے ہوتے ہوئے برطانیہ میں ایک فلم بنائی گئی جو سراسر قانون کے منشاء کے خلاف ہے اس فلم کا نام The Last Temptation of Christ.

اس فلم میں نعوذ باللہ مسیح کی جنسی زندگی کے مناظر دکھلائے گئے ہیں۔ یہ فلم برطانیہ میں کھلے طور پر دکھائی جارہی ہے۔ مگر مذکورہ قانون ہونے کے باوجود اس فلم پر آج تک کوئی پابندی نہیں لگائی گئی نہ اس کے بنانے والوں کو کوئی سزا دی گئی۔ اسی طرح برطانیہ کی ایک برعکس پڑھ لیجئے ”پیٹر رائٹ“ ایک انگریز ہے وہ ریٹائرڈ ہونے کے بعد اب آسٹریلیا میں رہتا ہے۔ وہ برطانیہ کے محکمہ انٹیلی جنس میں اعلیٰ آفیسر تھا۔ اس نے ریٹائر ہونے کے بعد اب اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام ”اسپائی کیچر“ ہے۔ اس کتاب میں برطانیہ کی محکمہ جاسوسی کے راز بتائے گئے ہیں۔ پیٹر رائٹ نے اپنی یہ کتاب لندن کے ایک پبلشر کے ہاتھ فروخت کی۔ مگر اس کی اشاعت سے پہلے ہی حکومت برطانیہ کو اس کا علم ہو گیا۔ اس نے فوراً یہ کہہ کر اس پر پابندی لگا دی کہ یہ کتاب سرکاری رازوں کی پردہ داری کے خلاف ہے۔

مصنف اور پبلشر کی تمام کوششوں کے باوجود یہ کتاب چھپ نہ سکی۔ ۱۹۸۸ء میں یہ کتاب ایک بیرونی ملک میں چھاپی گئی۔ تاہم برطانوی حدود میں اس کتاب کا داخلہ ممنوع ہے۔ تقابلی مثال پر غور کیجئے۔ ایک ہی ملک ہے۔ وہاں توہین مسیح کا واقعہ ہوتا ہے مگر قاعدہ قانون کے ہوتے ہوئے اس پر پابندی نہیں لگائی جاتی۔ دوسری طرف اسی ملک میں توہین ریاست کا واقعہ ہوتا ہے تو حکومت اس کے خلاف فوراً سرگرم ہو جاتی ہے اور پورا ملک تو اس کو

صفحہ 487

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کر دیتا ہے۔

”اس فرق کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ برطانیہ ”توہین ریاست“ کی اہمیت سے واقف ہے مگر ”توہین رسالت“ کی اہمیت کا اسے احساس نہیں۔“

توہین نبوت کے بارے میں وہ یہی ”بے حسی“ مسلمانوں، مسلمان رہنماؤں اور مسلمان ریاستوں کے اندر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ توہین نبوت جس پر ان کے ایمان اور اعتقاد کا دارومدار ہے اسے قطعی کوئی اہمیت نہ دیں اور چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی جس ”ریاست“ میں ہوں۔ انہیں صرف اس ریاست کی اہمیت کا احساس ہونا چاہئے تاکہ وہ برطانیہ کی طرح ریاست کو پوجنا اپنا مقدر تسلیم کر لیں۔

حضرت عیسیٰ کی توہین آمیز فلم پر مسلمانوں کا احتجاجی مظاہرہ

جنسی“ جو سال ۱۹۸۸ء میں لندن کے سینما گھروں میں دکھلائی جا رہی تھی، جس میں معاذ اللہ جناب مسیح کو ایک آبرو باختہ طوائف کے ساتھ سرگرم دکھلایا گیا تھا۔ میں ان دنوں لندن میں مقیم تھا۔ ہماری دینی حمیت اسے برداشت نہ کر سکی، چنانچہ ہماری اپیل پر کہ حضرت عیسیٰ صرف عیسائیوں ہی کے نہیں بلکہ مسلمانوں کے بھی واجب الاحترام پیغمبر ہیں اس فلم کی نمائش بند ہونی چاہئے۔ لندن میں مسلمانوں نے خاموش احتجاجی مظاہرے کئے، جس پر بالآخر وہ فلم فلاپ ہوگئی۔

توہین انبیاء پر پاپائے روم کا قانون

داری تھی۔ چونکہ انجیل میں کوئی قانونی احکام موجود نہ تھے۔ لیکن جب کلیسا نے اسٹیٹ پر غلبہ و اقتدار حاصل کر لیا تو پوپ کے منہ سے نکلے ہوئے ہر حکم کو قانون کی بالا دستی حاصل ہوگئی۔ توراۃ کے برعکس انجیل صرف پند و نصائح کا مجموعہ تھا۔ اس لئے یورپ اور ایشیاء میں جہاں جہاں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں، وہاں کاروبار حکومت چلانے کے لئے اہل کلیسا کو رومی قانون اور

صفحہ 488

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

یہودیوں کے تالمودی قانون ہی پر انحصار کرنا پڑا۔ موسوی قانون کے تحت قبل مسیح کے انبیاء کی اہانت اور توراۃ کی بے حرمتی کی سزا سنگسار مقرر تھی۔ رومن امپائر کے شہنشاہ جسٹینین کا دور حکومت طلوع اسلام سے چند سال قبل ۵۲۸ تا ۵۶۵ عیسوی پر محیط ہے۔ رومن لاء کی تدوین کا سہرا بھی اسی کے سر ہے اور اس کو عدل و انصاف کا مظہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس نے جب دین مسیحی قبول کر لیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیائے بنی اسرائیل کے بجائے صرف یسوع مسیح کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا سزائے موت مقرر کی گئی۔ اس کے دور سے قانون مسیح سارے یورپ کی سلطنتوں کا قانون بن گیا۔ روس اور اسکاٹ لینڈ میں اٹھارویں صدی تک اس جرم کی سزا سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔

صفحہ 489

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

موضوع...... 25

گستاخ رسولؐ کی سزاؤں پر ائمہ اربعہ کے فتاویٰ

گستاخ رسول کی شرعی سزا

بالاتفاق واجب القتل ہے اور اس کی توبہ قبول کرنے میں آئمہ مذاہب کے مختلف قول ہیں۔ خواہ توہین کا تعلق آپ ﷺ کی ذات کے ساتھ ہو یا آپ ﷺ کے نسب کے ساتھ ہو، آپ ﷺ کے دین کے ساتھ ہو یا آپ ﷺ کی کسی صفت کے ساتھ ہو اور یہ اہانت خواہ صراحتاً ہو یا کنایۃً ہو یا تعریضاً ہو یا تلویحاً ہو۔ اسی طرح کوئی شخص آپ ﷺ کو بددعا کرے، آپ ﷺ پر لعنت کرے یا آپ ﷺ کا برا چاہے، آپ ﷺ کے عوارض بشریہ یا آپ ﷺ سے متعلق اشیاء یا اشخاص کی آپ ﷺ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بطریق طعن یا مذمت ذکر کرے۔ غرض جس شخص سے کوئی ایسا کلام صادر ہو جس سے آپ ﷺ کی اہانت ظاہر ہو وہ کفر ہے اور اس کا قائل واجب القتل ہے۔

گستاخ رسول ﷺ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا فتویٰ

خلاف ہمارے جذبات اور ہماری کم از کم جدوجہد کیا ہونی چاہئے؟ اس کے لئے خانقاہِ رائے پور کے گل سرسبز، امام الاولیاء، حضرت اقدس مولانا سید انور حسین نفیس شاہ الحسینی دامت برکاتہم، نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا درج ذیل ارشاد ہمارے دل کی آواز ہے۔ حضرت مدظلہ فرماتے ہیں:

”نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کی جسارت کرنے والے یورپی اخبارات کے ذمہ داران صرف اور صرف قتل کے لائق ہیں، اس کے علاوہ ان کا

صفحہ 490

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کوئی علاج نہیں ۔ اگر اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی نے مجھے ہمت عطا کی ہوتی تو میرا طرز عمل یہی ہوتا، کسی بھی طریقہ سے احتجاج میں شرکت نبی اکرم ﷺ سے محبت کا جذباتی انداز ہے، اس لئے احتجاجی مظاہروں میں شرکت بھی سعادت ہے، مگر احتجاج پر امن ہونا چاہئے ۔“

(روزنامہ اسلام کراچی، ۱۲ فروری ۲۰۰۶ء)

اس لئے ہر مسلمان کو اپنی استعداد و حیثیت کے مطابق سعی و کوشش کر کے تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ میں بھر پور کردار ادا کرنا چاہئے۔ یوں محبت نبوی ﷺ کا اظہار اور شفاعت نبوی ﷺ کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے ۔

(از مولانا سعید احمد جلال پوری)

رسولؐ کی توہین کرنے والے کے واجب القتل پر اجتماعی عقیدہ

پر اجماع ہے کہ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی حد قتل ہے۔ امام مالک، لیث رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی، احمد رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی، اسحاق رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اور امام شافعی رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی کا قول یہی ہے۔“

(الصارم المسلول، صفحہ ۲۱۲ اردو ترجمہ)

حضرت ابن عباس رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ نے کہا: ”اہل بیت رسول اللہ ﷺ کو گالی بکنے والے کو موت کی سزا دینی چاہئے اور گردن مار دینی چاہئے ۔ ایسے شخص کی معافی قبول کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔“

(السیف الصارم، صفحہ ۵۷۱)

حضرت اسمعیل بن اسحاق فرماتے ہیں: ”کوئی شخص جو حضرت عائشہ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهَا، زوجہ رسول اللہ ﷺ یا حضرت فاطمہ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهَا بنت رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے، قتل کر دیا جانا چاہئے ۔“

(السیف الصارم، صفحہ ۵۷۱)

گستاخ رسول کا عبرتناک

امام کعبہ محمد بن عبدا

اگر مسلمان ہے تو اس سے مرتد ہو غیر مسلم یعنی ذمی ہے تو رسول اللہ واجب ہو جاتا ہے۔ اور گستاخ رسول کا حکم نے بیان کیا ہے۔ امام ابن تیمیہ الصارم المسلول فی حکم شاتم الرسول ”اہل علم کا اجماع ہے حد قتل ہے اور وہ جوا اور امام احمد رَحِمَهُ اللّٰهُ مذہب ہے امام شافعی

گستاخ رسول ﷺ

متفقہ فیصلہ ہے کہ انبیاء تمام چھو ہیں۔ ان سے گناہوں کا صدور م امام قرطبی رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی ”ائمہ اربعہ اور جمہور بڑے گناہوں سے مح امت کا فیصلہ یہ ہے کہ محمد بن سحنون فرماتے ہیں دینے والا اور آپ ﷺ کی تو

صفحہ 491

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

امام کعبہ محمد بن عبداللہ السبیل اور علماء سعودی عرب کا فتویٰ

اگر مسلمان ہے تو اس سے مرتد ہو جاتا ہے اور مرتد کی سزا بالاجماع قتل ہے اور گستاخ رسول اگر غیر مسلم یعنی ذمی ہے تو رسول اللہ ﷺ کی گستاخی سے اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے۔

اور گستاخ رسول کا حکم، سعودی عرب کے علماء کے نزدیک وہی ہے جو (دیگر) علماء نے بیان کیا ہے۔ امام ابن تیمیہ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی کی طرح جنہوں نے اپنی کتاب الصارم الصارم المسلول فی حکم شاتم الرسول وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ ابن منذر فرماتے ہیں:

”اہلِ علم کا اجماع ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی، اس کی حد قتل ہے اور وہ جو امام مالک رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی، امام لیث رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اور امام احمد رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی و اسحاق رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی نے فرمایا ہے، وہی مذہب ہے امام شافعی رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی کا۔“

گستاخ رسول ﷺ کے بارے میں علمائے امت کا فیصلہ

متفقہ فیصلہ ہے کہ انبیاء تمام چھوٹے بڑے گناہوں، لغزشوں اور خطاؤں سے محفوظ ومعصوم ہیں۔ ان سے گناہوں کا صدور ممکن نہیں۔

امام قرطبی رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اپنی مشہور ”تفسیر قرطبی“ میں فرماتے ہیں کہ:

”ائمہ اربعہ اور جمہور امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام انبیاء چھوٹے بڑے گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں۔ گستاخ رسول کے بارے میں علماء امت کا فیصلہ یہ ہے کہ گستاخ رسول مرتد اور واجب القتل ہے۔“

محمد بن سحنون فرماتے ہیں کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو گالی دینے والا اور آپ ﷺ کی توہین کرنے والا کافر ہے اور اس کے لئے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کے

صفحہ 492

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

عذاب کی وعید جاری ہے۔ اس کا حکم قتل ہے جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ کافر ہے۔ امام ابو بکر بن منذر فرماتے ہیں کہ علماء اسلام کا اجماع ہے کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا۔ اس مسلک میں امام مالک بن انس، لیث بن سعد، امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ شامل ہیں۔ امام شافعی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالَى کا بھی یہی مسلک ہے۔

امام اعظم کے نزدیک شاتم رسولؐ کی سزا

امام اوزاعی کا مجموعی قول یہ ہے کہ: ”ہر وہ شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی یا آپ ﷺ کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا، آپ ﷺ کی ذات مقدسہ یا آپ کے نسب و دین یا آپ کی کسی خصلت سے کسی نقص کی نسبت کی یا آپ ﷺ پر طعنہ زنی کی۔ آپ ﷺ کو کسی شے سے تشبیہ دی وہ آپ ﷺ کو براہ راست گالی دینے والا ہے، اسے قتل کر دیا جائے۔ ہم اس حکم میں قطعاً کوئی استثناء نہیں کرتے۔ نہ ہم اس میں شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحتاً توہین ہو یا اشارہ کنایہ میں۔“

دیگر علمائے امت کے فتاویٰ

آپ ﷺ کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا وہ کافر ہو جائے گا۔ علامہ ابوسلیمان الخطابی فرماتے ہیں، جب مسلمان کہلانے والا نبی اکرم ﷺ کی شان میں تنقیص اور اہانت کا مرتکب ہو تو میرے علم میں کوئی مسلمان ایسا نہیں جس نے اس کے قتل میں اختلاف کیا ہو۔ فتح القدیر میں ہے کہ جو شخص رسول اللہ ﷺ سے اپنے دل میں بغض رکھے وہ مرتد ہے۔ آپ ﷺ کو گالی دینے والا یقیناً مستحق گردن زدنی ہے۔ پھر یہ قتل ہمارے نزدیک

گستاخ رسول کا عبرتناک بطور حد ہوگا۔

امام ابن

میں شتم رسول پر مکمل اور مدلل المسلول علی شاتم الرسول۔ امام ”رسول اکرم ﷺ دینے کی طرح نہیں میں عام مومنوں کی محبت واجب ہے اور نیز یہ کہ اکرام و احتر آپ ﷺ پر صلوٰ متعلق عرض ہے کہ ا آپ ﷺ کو گالی امام ابن تیمیہ رَحْمَةُ اللهِ اکرام و احترام واجب ہے اور آ ہے۔ اگر ایسے آدمی کو قتل نہ کیا جا

قاضی عیاض ر

بات پر اجماع ہے کہ ”جس (عذاب) یا برے امر کی بددعا قاضی صاحب کا اپنا قول کہنے والے کو قتل کیا جائے گا۔

صفحہ 493

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

بطور حد ہوگا۔

امام ابن تیمیہ کے نزدیک شاتم رسول کی سزا

میں شتم رسول پر مکمل اور مدلل انداز میں گفتگو کی گئی ہے۔ ان کی کتاب کا نام ہے ”الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول۔“ امام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:

”رسول اکرم ﷺ کی شان میں دشنام طرازی ایک عام مومن کو گالی دینے کی طرح نہیں۔ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ عام حقوق و فرائض میں عام مومنوں کی طرح نہیں۔ مثلاً یہ کہ آپ ﷺ کی اطاعت و محبت واجب ہے اور آپ ﷺ کی محبت عام لوگوں سے مقدم ہے۔ نیز یہ کہ اکرام و احترام میں کوئی آپ ﷺ کا شریک و سہیم نہیں۔ آپ ﷺ پر صلوٰۃ و درود بھیجنا واجب ہے۔ رہا گالی دینے کے متعلق عرض ہے کہ اس سلسلے میں کم از کم بات جو کہی جاسکتی ہے وہ یہ کہ آپ ﷺ کو گالی دینا کفر و قتال کا موجب ہے۔“

امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ مزید لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نصرت و اعانت اور اکرام و احترام واجب ہے اور آپ ﷺ پر دشنام طرازی کرنے والوں کو قتل کرنا ضروری ہے۔ اگر ایسے آدمی کو قتل نہ کیا جائے تو یہ آپ ﷺ کی تائید و نصرت نہیں۔

قاضی عیاض رحمۃ اللہ کے نزدیک شاتم رسول کی سزا

بات پر اجماع ہے کہ ”جس شخص نے انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کے لئے ویل (عذاب) یا برے امر کی بددعا کی تو اسے بغیر توبہ کے قتل کرنا چاہئے ۔

قاضی صاحب کا اپنا قول یہ ہے کہ ”یہ بات شک و شبہ سے بالا ہے کہ توہین آمیز کلمات کہنے والے کو قتل کیا جائے گا۔ باوجود کہ اس نے اپنے قول سے رجوع کیا ہو اور توبہ کی ہو۔ کیونکہ

صفحہ 494

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ایسے کلمات کہنے والے کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی۔ توبہ کے باوجود بھی اسے قتل کیا جائے گا۔

شاتم رسول کے بارے میں مندرجہ ذیل کتب میں واضح احکام موجود ہیں۔ احکام القرآن، فتاویٰ شامی، الدر المختار، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، الشفاء، فتاویٰ قاضی خان، وغیرہ۔

علماء امت اور فقہاء اسلام کی ان تصریحات کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کی بے ادبی کا معمولی شائبہ بھی روا نہیں رکھا جاسکتا۔ ایسے بدبخت کا روئے زمین پر زندہ چلنا پھرنا ہرگز قابل قبول نہیں۔ علماء امت نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس کی معافی بھی قبول نہیں۔

گستاخانہ کلام میں تاویل کی گنجائش

احتمال اسلام کا ہو اس کلام کو اسلام پر محمول کیا جائے گا اور قائل کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ علامہ علائی لکھتے ہیں :

”در مختار وغیرہ میں ہے کہ جب کسی مسئلہ میں کچھ وجوہ کفر کو واجب کرتی ہوں اور ایک وجہ کفر سے روکتی ہو تو مفتی پر واجب ہے کہ اس کو منع عن الکفر پر محمول کرے، بشرطیکہ قائل کی نیت بھی وہی ہو، ورنہ مفتی کے منع عن الکفر پر محمول کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔“

(درمختار علی الرد، ج ۳ صفحہ ۳۹۹ مطبوعہ مکتبہ عثمانیہ استنبول)

علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں :

”خلاصہ وغیرہ یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں متعدد وجوہ سے لازم ہو اور ایک وجہ کفر سے روکتی ہو تو مفتی پر لازم ہے کہ اس وجہ کی طرف میلان کرے جو کفر سے روکتی ہو، کیونکہ مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا چاہئے اور بزازیہ میں ہے، البتہ جب قائل خود اس احتمال کا التزام کرے جس وجہ سے تکفیر ہو تب تاویل سے فائدہ نہیں ہوگا اور تاتارخانیہ میں ہے جس کلام میں کئی احتمال ہوں، اس پر تکفیر نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ کفر

صفحہ 495

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

انتہائی سزا ہے جو انتہائی جرم کا تقاضا کرتی ہے اور جب دوسرا احتمال موجود ہو تو یہ انتہائی جرم نہیں ہے۔“

(البحر الرائق ج ۵ صفحہ ۱۲۵، مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ، کوئٹہ)

علامہ علائی اور علامہ ابن نجیم کی ان عبارات سے واضح ہو گیا کہ جس لفظ یا جس جملہ میں متعدد احتمالات ہوں اور ان احتمالات میں سے کچھ کفریہ ہوں اور کچھ غیر کفریہ اس وقت یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مفتی کو چاہئے کہ وہ قائل کے کلام کو غیر کفریہ معنی پر محمول کرے، لیکن اگر کسی کلام کے متعدد احتمالات نہ ہوں بلکہ صرف ایک معنی ہو اور وہ معنی خدانخواستہ کفریہ ہو تو اب مفتی کے لئے قائل کی تکفیر کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں۔

گستاخانہ کلام میں توہین کی نیت کا اعتبار

اور جب اس کی تکفیر کی جائے تو وہ اپنے دفاع میں کہتا ہے کہ اس کلمہ سے میری نیت یہ نہیں تھی، آیا اس کا جواب صحیح ہے یا نہیں؟

اس سلسلہ میں تحقیق یہ ہے کہ جس لفظ کے متعدد معنی ہوں اس کے متعلق قائل یہ کہہ سکتا ہے کہ میری نیت میں فلاں گستاخانہ معنی نہیں تھا بلکہ فلاں معنی ہے لیکن جس لفظ کا از روئے لغت یا عرف یا شرع کے اعتبار سے صرف ایک ہی معنی ہو اور وہ معنی خدانخواستہ گستاخانہ اور کفریہ ہو تو اب قائل کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا اور اس تکفیر کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔

دیکھئے انت طالق (تم کو طلاق) کا لفظ عرف اور شرع میں طلاق کے لئے معین ہے، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو انت طالق کہہ دے تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی، اب اگر وہ یہ کہے کہ طالق سے میری نیت لغوی معنی تھا یعنی وہ کھلی ہوئی ہے بندھی ہوئی نہیں ہے یا میں نے یہ کلمہ یونہی کہہ دیا تھا میری نیت اس کلمہ سے طلاق دینا نہیں تھی تو اس کی نیت کا اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ لفظ صریح میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو انت امی (تو میری ماں ہے) کہتا ہے تو یہ لفظ چونکہ طلاق کے لئے معین نہیں ہے اس میں اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ اگر وہ طلاق کا ارادہ کرتا ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر

صفحہ 496

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

عزت اور کرامت کا ارادہ کرتا ہے تو اس معنی کا اعتبار ہوگا اور طلاق نہیں ہوگی۔ اسی طرح فقہاء نے لکھا ہے کہ کوئی شخص کسی کو ولد الحرام یا حرام زادہ کہتا ہے تو اس پر تعزیر لگائی جائے گی اور اگر قائل یہ کہے کہ حرام سے میری نیت ناجائز اولاد نہیں بلکہ حرمت اور کرامت تھی یا میری نیت اس شخص کی اہانت نہیں تھی تو اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ عرف میں یہ الفاظ ناجائز اولاد کے لئے معین ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کو غصہ میں کافر کہہ دے تو اس کو تعزیر لگائی جائے گی اور اگر قائل کہے کہ میری نیت کافر بالطاغوت تھی تو اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ عرف میں کافر، کافر باللہ کے لئے معین ہے۔ ان تصریحات کے پیش نظر جو شخص نبی ﷺ کی شان میں ایسا کلام کہتا ہے جو عرف میں توہین کے لئے متعین ہو تو اس کی تکفیر کی جائے گی خواہ اس نے توہین کی نیت نہ کی ہو۔

علامہ شامی لکھتے ہیں: ”جو چیز توہین کی متضمن ہو اس پر تکفیر کی جائے خواہ اس نے توہین کی نیت نہ کی ہو۔“

(ردالمحتار ج ۳ ص ۳۹۲ ،مطبوعہ مطبع عثمانیہ استنبول ۱۳۲۷ھ)

قاضی عیاض لکھتے ہیں: جو شخص نبی ﷺ کی شان میں کوئی بات کہے اور اس کا قصد نہ گالی دینے کا ہو نہ آپ ﷺ کی توہین کا اور نہ وہ اس کا اعتقاد کرتا ہو، لیکن وہ نبی ﷺ کی شان میں ایسا کفریہ کلمہ کہے جس میں لعنت ہو یا گالی ہو یا آپ ﷺ کی تکذیب ہو یا آپ ﷺ کی طرف کسی ایسی چیز کی اضافت کرے جو ناجائز ہو یا اس چیز کی نفی کرے جو آپ ﷺ کے لئے واجب ہو، یا وہ بات کہے جو آپ ﷺ کے حق میں نقص ہو یا آپ ﷺ کی طرف گناہ کبیرہ کی نسبت کرے یا تبلیغ رسالت میں مداہنت کی نسبت کرے یا آپ ﷺ کے مرتبہ اور شرف و نسب یا آپ ﷺ کے علم کی عظمت اور آپ ﷺ کے زہد میں کمی کرے یا آپ ﷺ کے جو اوصاف مشہور اور متواتر ہیں ان کی تکذیب کرے یا نبی ﷺ کی شان میں کوئی نازیبا بات کہے جو از قسم گالی ہو۔ اگرچہ اس کے حال سے یہ ظاہر ہو کہ وہ آپ ﷺ کی توہین کا قصد نہیں کرتا نہ اس پر اعتماد کرتا ہے یا اس نے جہالت کی وجہ سے کہا ہو یا رنج اور قلق کی بناء پر یا نشہ کی وجہ سے کہا یا سبقت لسانی سے ایسا کہا ہو، یا یونہی بے سوچے سمجھے یا جوش غضب میں ایسا

گستاخ رسول کا عبرت ناک کہہ دیا ہو تو ایسے شخص کا بلا توقف نہیں ہے نہ سبقت لسانی کا دعوی صحیح ہو۔ سوائے اس شخص کے جس ایمان ہو۔

قاضی عیاض رَحِمَهُ اللهُ

کی ذات یا آپ کی صفات مثلاً قصد اور نیت توہین نہ ہو اور نہ وہ پھر بھی اس نازیبا بات کی وجہ سے

گستاخ رسول

حنیفہ رَحِمَهُ ”ہر شخص جو اللہ کے ان کی طرف جھوٹ بہا دینا چاہئے۔“

حضرت امام احمد

”کوئی شخص جو رسول کے بارے میں بد سزاوار ہونا چاہئے جاسکتی۔“ دوسری جگہ فرماتے ہیں ”ہر آدمی جو ایسی

صفحہ 497

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

کہہ دیا ہو تو ایسے شخص کا بلا توقف یہ حکم ہے کہ اس کا قتل کر دیا جائے کیونکہ جہالت تکفیر میں عذر نہیں ہے نہ سبقت لسانی کا دعویٰ نہ مذکور الصدر اسباب میں سے کوئی اور سبب جبکہ اس کی عقل صحیح ہو۔ سوائے اس شخص کے جس کو ان کلمات کے کہنے پر مجبور کیا گیا ہو اور اس کے دل میں ایمان ہو۔

(الشفاء ج۲ ص ۲۰۳۔۲۰۴، مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ملتان)

قاضی عیاض رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی کی اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ جس شخص نے نبی ﷺ کی ذات یا آپ کی صفات مثلاً کمال علم یا کمال قدرت کے متعلق کوئی نازیبا بات کہی خواہ اس کا قصد اور نیت توہین نہ ہو اور نہ وہ اس کا اعتقاد رکھتا ہو بلکہ وہ آپ ﷺ کے کمالات کا قائل ہو پھر بھی اس نازیبا بات کی وجہ سے وہ کافر ہو جائے گا اور اس کو قتل کرنا واجب ہے۔

گستاخ رسول کی سزا پر آئمہ اربعہ کے فتاویٰ

حضرت امام ابو حنیفہ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی نے فرمایا:

”ہر شخص جو اللہ کے رسول ﷺ کو گالی دے یا بے ہودہ گوئی کرے یا ان کی طرف جھوٹ منسوب کرے، مرتد قرار دیا جائے گا جس کا خون بہا دینا چاہئے ۔“

(السیف الصارم صفحہ ۵۲۹ ، الشفاء جلد دوم صفحات ۱۸۹۔ ۲۰۵)

حضرت امام احمد رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی اور دوسرے حنبلی علماء کا فتویٰ

”کوئی شخص جو رسول اللہ ﷺ یا ان کی اہل بیت کو گالی دیتا ہے یا ان کے بارے میں بدگوئی کرتا ہے، چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، موت کا سزاوار ہونا چاہئے اور مار دیا جانا چاہئے۔ اس کی معافی طلبی قبول نہیں کی جاسکتی۔“

(السیف الصارم، صفحات ۵۲۷ ، ۵۲۷)

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

”ہر آدمی جو ایسی بات کرے جس سے اللہ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کی تنقیص شان

صفحہ 498

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

کا پہلو نکلتا ہو، وہ واجب القتل ہے۔ خواہ مسلم ہو یا کافر۔ یہی اہل مدینہ کا مذہب ہے۔ ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف گالی کا اشارہ کرنا ارتداد ہے، جو موجب قتل ہے۔ یہ اسی طرح جیسے صراحتاً گالی دی جائے۔ ہمارے اصحاب کے مابین اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ کو گالی دینا گالی کی اقسام میں سے ہے جو موجب قتل ہے بلکہ اس سے بھی شدید تر ہے۔ کیونکہ اس سے رسول کریم ﷺ کے حسب و نسب پر جرح و قدح لازم آتی ہے۔ بعض علماء علی الاطلاق کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی والدہ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے، خواہ مسلم ہو یا کافر۔ ممکن ہے گالی سے ان کی مراد بہتان ہو۔ جیسا کہ جمہور علماء نے تصریح کی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے پر مشتمل ہے۔“

(الصارم المسلول، ص ۴۷۴۔۴۷۵، اردو ترجمہ)

ابن تیمیہ کا امام احمد کے عقیدہ کی وضاحت کرنا

”امام احمد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتا ہو۔ فرمایا: اسے قتل کیا جائے، کیونکہ اس نے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دے کر اپنا عہد توڑ دیا۔“

حرب کہتے ہیں کہ:

”میں نے امام احمد رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی سے ایک ذمی کے بارے میں سوال کیا جس نے رسول کریم ﷺ کو گالی دی تھی۔ آپ نے جواب دیا: اسے قتل کیا جائے۔“

ہر دو آثار کو خلال نے روایت کیا ہے۔ ان جوابات کے علاوہ بھی امام احمد رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی نے ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کے بارے میں تصریح کی ہے۔

صفحہ 499

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

”امام احمد رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی نے جملہ اقوال میں ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کی تصریح کی ہے۔ اس لئے کہ اس نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ اس مسئلہ میں ان سے کوئی اختلاف منقول نہیں۔“

(الصارم المسلول ص ۱۲۷۔۱۲۸ اردو ترجمہ)

گستاخ رسول کے بارے میں امام مالک اور مالکی فضلاء کا فتویٰ

”ہم نے امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کو کہتے سنا: کوئی بھی شخص، چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر، جو رسول اللہ ﷺ کو گالی دے، برا بھلا کہے، الزام دے یا بے عزتی کرے، اس کو سزائے موت دی جانی چاہئے اور مار دینا چاہئے۔ ایسے شخص کی عفو طلبی یا توبہ قابل قبول نہیں۔“

(السیف الصارم صفحہ ۳۰۷، الشفاء جلد ۲ صفحہ ۱۹۰)

ابن قاسم نے فرمایا کہ: ”ہم نے امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی سے ایک نصرانی کے متعلق فتویٰ طلب کیا۔ ایک بدبخت گستاخ کے بارے میں یہ بات شہادت سے ثابت ہو گئی کہ اس نے (خاکم بدہن معاذ اللہ ) یہ بکواس کی کہ ”وہ مسکین محمد تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ وہ جنت میں ہے اور اس حالت میں ہے کہ وہ اپنی ذات کو بھی فائدہ نہ پہنچا سکا، اس لئے کہ کتے اس کی پنڈلیوں کو کھاتے تھے اور اگر وہ اس کو قتل کر ڈالتے تو لوگ اس سے راحت پاتے ۔“ معاذ اللہ۔

ان خرافات کو سن کر حضرت امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی نے فرمایا: ”اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ان کلمات کے بعد امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی نے یہ بھی فرمایا کہ اس سلسلے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن (میری غیرت و حمیت نے یہ کلمات سننا گوارا نہ کئے) اور مجھے

صفحہ 500

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

خیال ہوا کہ اس معاملہ میں خاموش رہنا غلط ہے۔“

(الشفاء از قاضی عیاض رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی مکی جلد ۲ ص ۴۵۲ ترجمہ اردو)

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا گستاخ رسول کی لاش کا جلانے کا حکم

طلب کیا گیا جس میں میرے فتویٰ کے بارے میں، جس میں کہ میں نے شاتم رسول ﷺ کے قتل کا حکم دیا تھا، تصدیق پائی گئی تھی۔ اس فتویٰ کے جواب میں امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی نے مجھ ہی کو اس فتویٰ کا جواب لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں یہ جواب لکھا کہ ایسے شخص کو عبرت ناک سزا دی جائے اور اس کی گردن اڑا دی جائے۔ یہ کلمات کہہ کر میں نے امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی سے عرض کی کہ اے ابو عبداللہ (کنیت امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی) اگر اجازت ہو تو یہ بھی لکھ دیا جائے کہ قتل کے بعد اس کی لاش کو جلا دیا جائے۔

یہ سن کر امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی نے فرمایا، یقینا وہ گستاخ اسی بات کا مستحق ہے اور یہ سزا اس کے لئے مناسب ہے۔ چنانچہ یہ کلمات میں نے امام موصوف کے سامنے ان کی ایماء پر لکھ دیئے اور اس سلسلہ میں امام صاحب نے کسی مخالفت کا اظہار نہ کیا اور نہ ان کلمات کے سلسلہ میں کچھ کہا۔ چنانچہ یہ کلمات لکھ کر میں نے فتویٰ روانہ کر دیا اور اس فتویٰ کی روشنی میں اس گستاخ کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلا دیا گیا۔

(الشفاء جلد ۲ ص ۴۵۳ اردو ترجمہ)

گستاخ رسول کے بارے میں امام شافعیؒ اور دیگر شافعی علماء کا فتویٰ

”کوئی شخص جو رسول اللہ ﷺ کو کسی طور پر بھی گالی دیتا ہے جس سے ان کی توہین ظاہر ہو، کافر متصور ہوگا اور مسلمانوں کو اس کا خون بہانے کی اجازت ہے۔“ (حاشیہ البجیرمی، جلد دوم، صفحہ ۲۶۵۔ اسنی المطالب جلد ۴ صفحہ ۱۱۷)

”اصحاب شافعی میں سے ابوبکر فارسی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی نے اس امر پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ کو گالی دے،

گستاخ رسول کا عبرت ناک اس کی حد شرعی قتل ہے مارتا ہے جو اجماع امت رضی اللہ عنہم و تابعین کریم ﷺ کو گالی

”اس بات پر مسلمانوں رسول ﷺ کو گالی نبی کو قتل کرے تو وہ اس کردہ تمام احکام کو باطل الخطابی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی فرما ”میرے علم کی حد تک میں اختلاف نہیں کیا

(فتح القدیر شرح الہدایہ، جلد ۴ ص ۲۷

صفحہ 501

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اس کی حد شرعی قتل ہے۔ جس طرح کسی اور کو گالی دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے جو اجماع انہوں نے نقل کیا ہے۔ اس سے صدر اول یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین کا اجماع مراد ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کو گالی دینے والا اگر مسلم ہو تو یہ واجب القتل ہے۔‘‘

(الصارم المسلول، اردو ترجمہ )

’’اس بات پر مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ جو شخص اللہ یا اس کے رسول ﷺ کو گالی دے یا خدا کے نازل کردہ کسی حکم کو رد کرے یا کسی نبی کو قتل کرے تو وہ اس کی بناء پر کافر ہو جاتا ہے۔ اگر چہ وہ خدا کے نازل کردہ تمام احکام کو مانتا ہو ۔‘‘

(الصارم المسلول، ص ۱۲۵ اردو ترجمہ )

الخطابی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی فرماتے ہیں:

’’میرے علم کی حد تک کسی مسلمان نے بھی اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف نہیں کیا ۔‘‘

(فتح القدیر شرح الہدایہ، جلد ۴ ص ۴۰۷، الشفاء جلد ۲ ص ۲۱۶، الصارم المسلول ، ص ۱۲۵ اردو ترجمہ، فتح الباری، جلد ۱۲)

صفحہ 502

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

موضوع ...... 26

گستاخان رسولؐ کی توبہ پر اکابرین کے فتاویٰ

مسلمانوں کو اجازت نہیں کہ وہ شاتمان رسولؐ کی معافی قبول کریں

ہمیشہ تعمیل ہوئی اور کفر گو کیفر کردار کو پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد آپ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین، فقہاء، محدثین، ائمہ اور علمائے اسلام ...... سب کے سب نے رسول اللہ ﷺ کی مقرر کردہ سنت پر عمل کیا۔ انہوں نے کبھی بھی کسی ایسے نوع انسان کے کفر گو کتے کو فنا کے گھاٹ اتارنے میں تامل نہ کیا۔ جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے کی جرأت کی کیونکہ ان کو پختہ یقین تھا کہ ایسا شخص موت کا ہی سزاوار ہے۔

انہوں نے کبھی بھی کسی شاتم کی معافی یا توبہ قبول نہیں کی۔ اس لئے مسلمانوں کا نہ صرف یہ حق ہے بلکہ ان کا فرض بھی ہے کہ وہ بے حرمتی کے ارتکاب کے خلاف متحد رہیں۔ چاہے یہ ارتکاب افراد، جماعتوں، تنظیموں، قوموں، طاقتوں یا حکومتوں نے کیا ہو یا ایسے بے حرمتی کے فعل کرنے والوں کی حمایت و مدد کرنے والوں نے۔ مسلمانوں پر لازم آتا ہے کہ وہ ایسے بدکرداروں کو سخت سزا دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اپنے جرموں کی سزا بھگتیں۔

یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے یہ قابل نفرت جرم معاف نہیں کیا جاسکتا۔ مسلمان کسی بھی معافی کی درخواست یا توبہ قبول نہیں کر سکتے۔ کیونکہ معافی قبول کرنے کا حق صرف رسول اللہ ﷺ کے پاس ہے جن کے وقار اور ناموس کو مجروح کیا گیا اور چونکہ جسمانی لحاظ سے وہ اس دنیا میں موجود نہیں ہیں کہ اس کو معافی دے دیں یا کافر کی معافی کی استدعا یا توبہ قبول فرمالیں اس لئے مسلمانوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، سوائے اس کے کہ اسلامی شریعت کے فتوے کا نفاذ کریں جو یہی ہے کہ بے حرمتی کرنے والے کفر گو شخص کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔

(السیف الصارم، صفحہ ۴۳۱)

گستاخ رسول کا

گستاخ رسول اور

اگر کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کے بعض فقہاء نے اس کو کوڑ غضبناک ہو گئے اور جلال امیر المومنین اس امت رواج پا جائے اور فرمایا جو افرا نبی کے اصحاب کی گستاخی کر

امام مالک ر

امام مالک رَحِمَهُ اللّٰهُ بد زبان اور اہانت کرنے والے بلکہ سزا کے طور پر حد جاری کی کیونکہ ایسے معاملات میں نہ بخش ہو گا۔

گستاخ رسول کی

کو باطل نہیں کرتی۔ جس نے شاتم نے ایک دین کو چھوڑ کر د اسلامی معاشرے میں قتل ہے

صفحہ 503

گستاخِ رسول کا عبرتناک انجام

گستاخ رسول اور گستاخ صحابہ کو توبہ کے متعلق امام مالکؒ کا فتویٰ

اگر کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کرے، اس کا حکم کیا ہے؟ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ عراق کے بعض فقہاء نے اس کو کوڑوں کی سزا دینے کا فتویٰ دیا ہے۔ اس پر امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی غضبناک ہو گئے اور جلال میں آ کر فرمانے لگے:

امیر المومنین اس امت کے باقی رہنے کا کیا جواز ہے جس میں اس کے نبی کی گستاخی رواج پا جائے اور فرمایا جو انبیاء میں سے کسی نبی کی گستاخی کرتا ہے، اس کو قتل کیا جائے اور جو نبی کے اصحاب کی گستاخی کرے، اس کو کوڑوں کی سزا دی جائے۔

(الشفاء، جلد ۲ صفحہ ۱۹۴ عربی از قاضی عیاض رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی مالکی)

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا گستاخ رسول کو قتل کا حکم

امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی ان کے ساتھیوں اور سلف کے علماء کا فرمانا یہ ہے کہ ایسے بد زبان اور اہانت کرنے والے کو جو آپ ﷺ پر سب و شتم کرے اس کے کفر کی وجہ سے نہیں بلکہ سزا کے طور پر حد جاری کی جائے اور اس کو قتل کیا جائے، باوجود یکہ اس نے توبہ بھی کر لی ہو، کیونکہ ایسے معاملات میں نہ تو اس کی توبہ قابل قبول ہوگی اور نہ اس کا رجوع اس کے لئے نفع بخش ہوگا۔

گستاخ رسول کی سزا اسلامی معاشرے میں صرف قتل ہے

کو باطل نہیں کرتی۔ جس نے بارگاہ رسالت میں گستاخی کی ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس شاتم نے ایک دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار نہیں کیا۔ البتہ اس نے وہ جرم کیا ہے جس کی سزا اسلامی معاشرے میں قتل ہے اور اس میں کسی معافی کی گنجائش نہیں۔

صفحہ 504

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

گستاخ رسول اور عام مرتدین کے احکام میں فرق

سبب کافر ہوا ہو، وہ قتل کیا جائے گا۔ وہ عام مرتدین کے احکام سے مستثنیٰ ہے۔ اس کی توبہ قبول نہیں ہے۔

(فتاویٰ شامی، ردالمحتار، جلد ۲ صفحہ ۳۱۷)

علامہ ابن نجیم حنفی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی فرماتے ہیں

ہے۔ تاہم اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی۔ کیونکہ وہ توبہ خالصتاً اللہ ہی نے قبول کرنی ہے۔ اس لئے قبول کر لی جائے گی اور جو شخص آپ ﷺ کی گستاخی کرنے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ اللہ کا حق تو معاف ہو سکتا ہے، مگر حق بشریت معاف کرنا شریعت کو گوارا نہیں۔

(بحرالرائق، جلد ۵ صفحہ ۱۳۵)

شاتم رسول کی توبہ سنے بغیر اسے فوراً قتل کرنے کا حکم

”آپ ﷺ کے گستاخ کو قتل کیا جائے، حداً اور واجباً اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔“

(تفسیر روح البیان، جلد ۳ صفحہ ۳۹۴)

امام ابو بکر فارسی الشافعی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی فرماتے ہیں: ”گستاخ رسول بعد توبہ کے مسلمان تصور کیا جائے گا لیکن (اس کے باوجود) حداً قتل کیا جائے گا۔“

(کتاب السراج المنیر، جلد ۳ صفحہ ۳۶۳)

علامہ ابن تیمیہ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی فرماتے ہیں: ”گستاخ رسول کی توبہ بغیر سنے اسے قتل کیا جائے گا۔“

(الصارم المسلول، صفحہ ۳۳۷، مطبوعہ بیروت)

صفحہ 505

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

فقہ حنفی کے نزدیک گستاخ رسول کی سزا

اور اصلاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور یہ مذہب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے اور یہی مذہب امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کا ہے اور یہی امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے اور یہی اہل کوفہ کا اور یہی مذہب مشہور ہے۔

(فتاویٰ بزازیہ)

فقہ حنفی کی ایک اور معتبر کتاب میں یوں مذکور ہے: ”اور توبہ قبول نہ کی جائے گی جس کی ردت بار بار ہو چکی ہو اور نبی ﷺ اور شیخین (حضرت ابوبکر و حضرت عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دینے والے کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی بلکہ قتل کئے جائیں گے۔“

(رد المحتار)

دوسری جگہ یوں مذکور ہے: ”یعنی شاتم رسول ﷺ کی سزا قتل بطور حد ہے، یہ اسی لئے ہے تا کہ اس کی توبہ قبول نہ کی جائے۔ کیونکہ حد، توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوگی۔ تو قتل کرنے کی تفسیر یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور توبہ کا قبول نہ ہونا، اس نے یہ دنیاوی حکم بتا دیا مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک توبہ قبول ہوگی۔ (جب بھی توبہ پیش کرے گا)۔“

(رد المحتار)

یعنی جب توبہ پیش کرے گا تو بھی حداً اسے قتل کیا جائے۔ توبہ عند الناس مقبول نہیں ہوگی۔ البتہ بعد قتل کئے جانے کے اس کے معاملات مسلمان مردوں کی طرح سرانجام دیئے جائیں گے اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ یہ ہے اللہ کے نزدیک توبہ کی مقبولیت۔

فقہ حنفی کی ایک اور معتبر کتاب ”فتاویٰ شامی“ میں ہے: گستاخ رسول ﷺ حداً قتل کیا جائے گا۔ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ

صفحہ 506

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

توبہ سے حد ساقط نہیں ہوتی...... اس پر حد لازماً قائم کی جائے گی۔ البتہ اس کی توبہ اللہ کے ہاں مقبول ہے۔

(فتاویٰ شامی، جلد ۳ صفحہ ۳۱۷)

شان رسالت میں گستاخی کرنے والے کے قتل پر چاروں ائمہ کا اتفاق

حاجت نہیں۔ ہم نے ذکر کیا تھا کہ حدیث نبوی ﷺ سے ثابت ہوتا ہے کہ گالی ایک گناہ ہے جو عام کفر سے الگ ہے بلکہ یہ محاربہ کی جنس سے ہے اور وہ توبہ جس کی وجہ سے مرتد کا خون محفوظ ہو جاتا ہے وہ کفر سے توبہ ہے کہ اگر کوئی شخص جنگ کر کے مثلاً کسی کو قتل کر کے یا مسلمان کا مال لے کر مرتد ہوا ہو جیسا کہ قبیلہ عرینہ والوں نے نیز مقیس بن صبابہ نے کیا تھا کہ اس نے ایک انصاری کو قتل کیا اور اس کا مال لے کر مرتد ہو کر لوٹ گیا تھا تو ایسے شخص کو قتل کرنا ایک مسلمہ بات ہے۔ جس طرح رسول کریم ﷺ نے مقیس بن صبابہ کو قتل کروایا تھا اور جیسا کہ عرینہ والوں کے بارے میں آپ ﷺ کو وحی کی گئی تھی۔

"ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے ۔"

اس لئے جو شخص عداوت اور محاربہ پر مبنی کلام کرے گا وہ اس کی طرح نہ ہو گا جو صرف مرتد ہے۔ شان رسالت میں گستاخی کرنے والے کی توبہ کسی صورت قبول نہیں، بلکہ اس کی سزائے موت لازم ہے۔

جس نے نبی کی شان میں گستاخی کی وہ قتل کیا جائے گا۔ امام مالک رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کا فتویٰ یہی ہے۔ امام احمد بن حنبل رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کا فتویٰ یہی ہے۔ امام اسحاق رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کا یہی ہے اور یہی مذہب امام شافعی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ کے قول کا مقتضاء بھی ہے اور ان تمام کے نزدیک اس شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور امام ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی کا قول بھی اسی طرح ہے۔

(فتاویٰ شامی، جلد ۳ صفحہ ۳۱)

نیز اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور وہ قتل کیا جائے گا۔ اسی پر سب کا اجماع ہے۔

(ردالمحتار، جلد ۳، صفحہ ۳۱۸، فتاویٰ شامی)

گستاخ رسو

گ......

”جس نے ہمارے ن اس کی تو امت میں موت کے

(فتح القد

امام برہان الد ”اگر کوئی کی ذات القتل ہے نزدیک اور

صدر الشہید حنفی ”گستاخ رس گا۔ ہم اس ہر کافر اگر توبہ کر کے جو آپ ﷺ کی پس ایسے شریر الفط اسلام لائیں یا نہ لائیں جائیں گے۔

امام خیر الدین ”گستاخ رس

صفحہ 507

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

گستاخ رسول کی سزا میں دیگر علماء کے اقوال

”جس نے نبی کریم ﷺ کو ایذاء پہنچائی، وہ شخص مرتد ہو گیا۔ ہمارے مذہب (فقہ حنفی) کے نزدیک وہ حد کے طور پر قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اسقاط قتل میں اور آپ ﷺ کی امت میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو گستاخ رسول ﷺ کی سزائے موت کے واجب ہونے میں اختلاف کرے۔“

(فتح القدیر، جلد ۵ صفحہ ۳۳۲، تفسیر المظہری، جلد ۷ صفحہ ۳۸۱-۳۸۲، البحر الرائق، جلد ۵، صفحہ ۱۳۵-۱۳۶)

امام برہان الدین محمود رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی فرماتے ہیں: ”اگر کوئی گستاخی اور عیب، خواہ آپ ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کی ذات کے امور دینیہ میں کیا جائے تو ایسا شخص کافر ہے اور واجب القتل ہے اور ایسے شخص کی توبہ کبھی بھی قبول نہیں کی جائے گی، نہ اللہ کے نزدیک اور نہ لوگوں کے نزدیک۔“

(خلاصۃ الفتاویٰ، جلد ۴، صفحہ ۳۸۶)

صدر الشہید حنفی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی لکھتے ہیں: ”گستاخ رسول شخص کی نہ توبہ قبول کی جائے گی، نہ اسلام قبول کیا جائے گا۔ ہم اس کو قتل کریں گے۔“

(البحر الرائق، جلد ۵ صفحہ ۱۳۶)

ہر کافر اگر توبہ کر لے، اُس کی توبہ دنیا و آخرت میں قبول کی جائے گی، سوائے اس کافر کے جو آپ ﷺ کی گستاخی کے سبب کافر ہو گیا ۔ پس ایسے شریر افراد کا قتل کرنا واجب ہے خواہ وہ توبہ کریں اور خواہ وہ توبہ نہ کریں۔ خواہ وہ اسلام لائیں یا نہ لائیں۔ انہیں قتل کیا جائے گا۔ مذہب مشہور پر وہ حد کے ذریعے قتل کئے جائیں گے۔

(الاشباہ والنظائر ، بحوالہ تنقیح حامدیہ، جلد اول، صفحہ ۱۰۴ حاشیہ )

امام خیر الدین حنفی رَحْمَةُ اللهِ تَعَالٰی لکھتے ہیں: ”گستاخ رسول ﷺ کو حداً قتل کیا جائے گا اور اصلاً اس کی توبہ قبول

صفحہ 508

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

نہیں کی جائے گی اور یہی مذہب حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ اور امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَةُ اللّٰهِ تَعَالٰی کا ہے۔ اس پر اجماع ہو گیا پوری امت کا کہ گستاخ رسول ﷺ کافر ہے اور اسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ نہیں اور جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔“

(فتاویٰ خیریہ، جلد اول، صفحہ ۱۷۰، ۱۷۱)

ہر وہ مسلمان جو مرتد ہو جائے (کسی بھی وجہ سے ) تو پھر ارتداد کے بعد اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ سوائے اس مرتد کے جو نبی اکرم ﷺ کی گستاخی کے باعث مرتد اور کافر ہوا ہو اور مطلقاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔

(تنویر الابصار، رد المحتار، جلد ۴، صفحہ ۳۱۷)

گستاخ رسول کی توبہ کے بارے میں امام ابن تیمیہ کا موقف

شاتم الرسول میں خوب روشنی ڈالی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ امام احمد رَحْمَةُ اللّٰهِ تَعَالٰی اور امام مالک رَحْمَةُ اللّٰهِ تَعَالٰی کے نزدیک شاتم رسول کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچا سکتی۔ جبکہ امام شافعی رَحْمَةُ اللّٰهِ تَعَالٰی سے اس سلسلہ میں توبہ کے قبول و عدم قبول کے دونوں قول منقول ہیں۔ البتہ امام ابو جعفر رَحْمَةُ اللّٰهِ تَعَالٰی کے نزدیک اگر وہ سزا سے پہلے توبہ کرے تو سزا سے بچ سکتا ہے۔ خود امام ابن تیمیہ رَحْمَةُ اللّٰهِ تَعَالٰی اکثر محدثین وفقہاء کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ شاتم رسول توبہ کے باوجود قتل کی سزا کا مستحق ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر جو زور دار دلائل دیئے ہیں اس کا خلاصہ اور وضاحت حسب ذیل ہے:

کی تلافی اور ازالہ نہیں ہوتا جو اس نے لوگوں دلوں میں پیدا کیا ہے۔

جب چاہیں توہین رسول کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کر کے اس کی سزا سے بچ جائیں۔ اس طرح غیروں کو موقع ملے گا کہ وہ مسلمانوں کی غیرت ایمان کو بازیچہ اطفال بنالیں۔

گستاخ رسول ک

العباد سے بھی۔ حقوق العـ تک معافی نہیں ہوتی حیات مبارکہ میں اگر کسی نہیں۔ امت مسلمہ یا مسلـ کا حق نہیں رکھتے۔

توبہ کرنے سے آخرت کی قاتل، زانی یا چور گرفتار ہو چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح سے نہیں بچ سکتا۔ اور اس ان دلائل کے پیش جھوٹی توبہ سے اس سزا تہذیبی اقدار سے مرعوب ہـ برطانیہ و امریکہ میں آزادی عَلَيْهِ السَّلَام اور ملکہ کی توہین جـ آقا ﷺ کی توہین کے جـ متاع ایمان کی بقاء کی ضمانت عظمت وتوقیر ہے۔

جو فقہائے حنفیہ اور فـ

کی توبہ مطلقاً قبول نہیں ہے تَبَارَكَ وَتَعَالٰی کو گالی دی تو ا نبی کو گالی دینا بندے کا حق

صفحہ 509

گستاخ رسول کا عبرت ناک انجام

العباد سے بھی۔ حقوق اللہ تو اللہ چاہے خود معاف کر دیتا ہے، حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک معافی نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسے معاف نہ کرے۔ نبی اکرم ﷺ اپنی حیات مبارکہ میں اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے۔ مگر اب اس کی کوئی صورت نہیں۔ امت مسلمہ یا مسلمان حاکم آپ ﷺ کی طرف سے نیابۃً اس جرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔

توبہ کرنے سے آخرت کی سزا سے تو بچ سکتا ہے۔ مگر دنیاوی سزا سے نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ قاتل، زانی یا چور گرفتار ہو جائے اور کہے کہ میں نے جرم تو کیا تھا مگر اب توبہ کر لی ہے تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح شاتم رسول بھی ارتکاب جرم کے بعد توبہ کا اظہار کرے تو دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا۔ اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سے بدتر اور زیادہ سنگین ہے۔

ان دلائل کے پیش نظر درست یہی ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے اور اس کی سچی یا جھوٹی توبہ اسے اس سزا سے نہیں بچا سکتی۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کو مغرب اور ان کی نام نہاد تہذیبی اقدار سے مرعوب ہو کر اپنے موقف میں کسی طرح کی لچک پیدا نہیں کرنی چاہئے۔ اگر برطانیہ و امریکہ میں آزادی تحریر و تقریر کے باوجود ملک اور اس کے آئین میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ملکہ کی توہین جرم ہے اور اگر روس میں لینن کو گالی دینا قابل تعزیر ہے تو ہمیں اپنا آقا ﷺ کی توہین کے جرم کی سزا کے ببانگ دہل اعلان سے کون روک سکتا ہے؟ ہماری تو متاع ایمان کی بقاء کی ضمانت ہی نبی کریم ﷺ کی ذات والا سے محبت اور آپ ﷺ کی عظمت و توقیر ہے۔

فقہائے حنفیہ اور فقہائے شافعیہ کے نزدیک گستاخ رسول کی توبہ

کی توبہ مطلقاً قبول نہیں ہے۔ (خواہ خود توبہ کرے یا اس کی توبہ پر گواہی ہو) اور اگر اس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو گالی دی تو اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی کیونکہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا حق اور نبی کو گالی دینا بندے کا حق ہے اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے گا وہ بھی کافر

صفحہ 510

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

ہو جائے گا۔‘‘

(درمختار علی الرد ج۳ صفحہ ۴۰۰، مطبوعہ مطبع عثمانیہ استنبول)

علامہ شامی حنفی عدم قبول توبہ کی تشریح کرتے ہیں: ’’کیونکہ حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم دنیا کے ساتھ خاص ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک اس کی توبہ مقبول ہوگی اسی طرح البحر الرائق میں ہے۔‘‘

(ردالمحتار ج۳ صفحہ۴۰۰ مطبوعہ مطبع عثمانیہ استنبول)

بعض فقہاء شافعیہ کا بھی یہی قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کی توبہ مطلقاً قبول نہیں ہے۔ علامہ عسقلانی لکھتے ہیں: ’’علامہ ابن منذر نے نقل کیا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص نے نبی ﷺ کو صراحتاً گالی دی اس کو قتل کرنا واجب ہے اور آئمہ شافعیہ میں سے علامہ ابوبکر فارسی نے کتاب الاجماع میں لکھا ہے کہ جس شخص نے نبی ﷺ کو قذف صریح کے ساتھ گالی دی اس کے کفر پر علماء کا اتفاق ہے۔ اگر وہ توبہ کرے گا تب بھی اس سے قتل ساقط نہیں ہوگا کیونکہ یہ حد قذف ہے اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔‘‘

(فتح الباری، ج۱۲ ص۲۸۱ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ لاہور)

احناف اور شوافع کا ایک قول یہ ہے کہ جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو گالی دی اس کو قتل کیا جائے گا، خواہ اس نے توبہ کر لی ہو۔

امام مالک کی مشہور روایت اور حنابلہ کا مشہور مذہب بھی یہی ہے اور جمہور احناف اور شوافع کا مذہب ہے کہ توبہ کے بعد اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں: ’’جس شخص نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو گالی دی وہ کافر ہوگیا، خواہ مذاق سے خواہ سنجیدگی سے اور جس شخص نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے استہزاء کیا یا اس کی ذات سے یا اس کے رسولوں سے یا اس کی کتابوں سے وہ کافر ہوگیا۔‘‘

(المغنی ج۳ ص۳۳ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱۴۰۵ھ)

صفحہ 511

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَايٰتِهٖ وَرَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ o لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ

(توبہ ۶۵، ۶۶)

”اگر آپ ان سے پوچھیں تو یہ کہیں گے کہ ہم تو صرف مذاق کر رہے تھے۔ آپ کہئے کیا تم اللہ تبارک وتعالیٰ کی ان آیات اور اس کے رسول کا استہزاء کر رہے تھے؟ اب عذر نہ پیش کرو، کیونکہ تم ایمان لانے کے بعد یقیناً کافر ہو چکے ہو۔“

امام احمد کے نزدیک شاتم رسول کی سزا

”میں نے ابو عبداللہ (امام احمد) سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ جس شخص نے نبی ﷺ کو گالی دی یا آپ ﷺ کی تنقیص کی، خواہ مسلمان ہو یا کافر، اس کو قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اس کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ نہ قبول کی جائے۔“

(الصارم المسلول ص ۴ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان)

قاضی عیاض مالکی لکھتے ہیں:

”جان لو کہ امام مالک، ان کے اصحاب، سلف صالحین اور جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ نبی ﷺ کو جس نے گالی دی اس کے بعد توبہ کر لی تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا نہ کہ بطور کفر۔ شیخ ابوالحسن قاضی رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی نے فرمایا۔ جب کسی شخص نے آپ ﷺ کو گالی دینے کا اقرار کیا اور اس کے بعد توبہ کر لی اور توبہ کا اظہار کر دیا تو اس کو گالی کے سبب سے قتل کیا جائے گا کیونکہ یہ اس کی حد ہے۔ ابو محمد بن ابی زید نے بھی یہی کہا ہے۔ البتہ اس کی توبہ اس کو آخرت میں نفع دے گی اور وہ

صفحہ 512

گستاخ رسول کا عبرتناک انجام

عند اللہ مومن قرار پائے گا ۔“ (الشفاء، ج ۲ صفحہ ۲۲۲۔۲۲۳، مطبوعہ ملتان)

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک گستاخ رسول کی توبہ کا حکم

قبول نہ کرنا ، امام مالک کا مشہور مذہب ہے اور امام احمد بن حنبل کا مشہور مذہب بھی یہی ہے اور ایک روایت ان سے یہ ہے کہ ان کی توبہ قبول کر لی جائے گی۔ لہٰذا ان کا مذہب امام مالک کی طرح ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس کا حکم مرتد کی طرح ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ مرتد کی توبہ قبول نہیں کی جاتی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو گالی دینے والے کا یہ حکم ہے تو حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما یا ان میں سے کسی ایک کو گالی دینے والے کا حکم بطریق اولیٰ یہی ہوگا کہ اس کی توبہ قبول کر لی جائے۔ بہر حال یہ بات ظاہر ہو گئی کہ احناف اور شوافع کا مذہب یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی اور امام مالک سے بھی یہ ایک ضعیف روایت سے ثابت ہے۔“

(رد المحتار، ج ۳ صفحہ ۴۰۱۔۴۰۴، مطبوعہ مکتبہ عثمانیہ استنبول)

خلاصہ یہ ہے کہ امام مالک اور امام احمد بن حنبل کا مذہب یہ ہے کہ گستاخ رسول کی (دنیاوی احکام میں) توبہ قبول نہیں ہوگی اور اس کو قتل کیا جائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول کر لی جائے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ اور امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ کا مذہب یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول کر لی جائے اور ایک قول یہ ہے کہ (دنیاوی احکام میں) اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور اس کو بہر حال میں قتل کیا جائے گا۔

المنّت Design by Noorulamin

PDF 513

گستاخ رسول ﷺ

کا

عبرتناک انجام

مرتب مولانا ارسلان بن اختر میمن

ارسلان مکتبہ MAKTABA-E-ARSALAN